تحریک ختم نبوّت
1998ء تا 2003ء
7
ترتیب و تحقیق
شاہین ختم نبوّت حضرت مولانا اللہ وسایا مدظلہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوّت
تحریک ختم نبوّت
1998ء تا 2003ء
۷
ترتیب و تحقیق
شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا مدظلہ
عالمی مجلس تحفّظ ختم نبوت
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تحریک ختم نبوت
(۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء)
(۷)
ترتیب وتحقیق:
مولانا اللہ وسایا
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
حضوری باغ روڈ ملتان فون نمبر: 4783486 (061)
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
نام کتاب : تحریک ختم نبوت (۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء) (جلد ہفتم)
ترتیب و تحقیق : مولانا اللہ وسایا
جلد اوّل ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء
جلد دوم ۱۹۵۴ء تا ابتداء ۱۹۷۴ء
صفحات : ۵۹۶ جلد سوم ۲۹ مئی ۱۹۷۴ء تا ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء
جلد چہارم ۸ ستمبر ۱۹۷۴ء تا ۳۱ دسمبر ۱۹۸۵ء
قیمت : ۳۰۰ روپے جلد پنجم ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء
جلد ششم ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۷ء
اشاعت اوّل : جنوری ۲۰۲۰ء جلد ہفتم ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء
جلد ہشتم ۲۰۰۴ء تا ۲۰۱۰ء
جلد نہم ۲۰۱۱ء تا ۲۰۱۶ء
مطبع : شمشاد پرنٹنگ پریس لاہور جلد دہم ۲۰۱۷ء تا ۲۰۱۹ء
ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان
Ph: 061-4783486
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
فہرست
تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ۱۹۹۸ء کے حالات و واقعات ۲۷ قادیانیوں کی سازشیں ۲۸ قادیان میں رائفل کیمپ ۲۸ قادیانی دہشت گردی میں ملوث ہیں ۲۹ قادیانی ریاست بنانے کے لئے پنجاب میں زمین کی خریداری کے منصوبے کا انکشاف ۲۹ مرزا طاہر نے اعلان جنگ کر دیا ۳۰ قاضی کی پھر آمد اور مرزا طاہر احمد ۳۱ قادیانی افسر حکومت کے لئے مشکلات پیدا کر رہے ہیں وزارت داخلہ نے نگرانی کا حکم دے دیا ۳۱ کپتان کی غلطیاں اور پاکستان کی جیت ۳۲ کیا چیف جسٹس آف پاکستان توجہ فرمائیں گے؟ ۳۲ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نئے صدر محترم جناب تارڑ صاحب ۳۳ فوج میں ترقی کے لئے قادیانیوں کی طرف سے اسلام کا جھوٹا سرٹیفکیٹ ۳۴ بلوچستان عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مجلس عاملہ کا اجلاس ۳۶ بلوچستان میں یوم مطالبات منایا گیا ۳۶ مردم شماری میں قادیانیوں کی حیثیت کا تعین اور مسلمانوں کی ذمہ داری ۳۷ جماعت احمدیہ کے ترجمان کی ہرزہ سرائی ۳۹ پی آئی اے میں قادیانیوں کی نئی شرارتیں، چیئرمین قادیانیوں کے نرغے میں ۳۹ قصور میں دفتر ختم نبوت پر حملہ ۴۲ مجلس علماء اسلام کا قیام اتحاد علماء کی ایک امید افزاء کوشش ۴۳ انڈیا میں مساعی جمیلہ بسلسلہ رد قادیانیت ۴۴ مجلس علماء اسلام کا کنونشن ۴۶ گولارچی میں قادیانی شرارت کی تفصیلی رپورٹ ۴۷ مردم شماری کے فارموں میں مسلمانوں کو قادیانی لکھنے پر ایک شخص کو دس سال سزا ۵۰ فوجی شوگر مل کھوسکی میں قادیانیوں کی شرارتیں ۵۰
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مردم شماری اور قادیانیت کا فریب ۵۱ قادیانی جی. ایم کا فوجی شوگر ملز کھوسکی سے تبادلہ ۵۱ تحصیل پسرور کے مجسٹریٹ کا مرزائی مردے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ کرنے کا فیصلہ ۵۲ مسلمانوں پر فائرنگ کرنے والا قادیانی گرفتار ۵۲ کوئٹہ کی عدالت سے توہین قرآن کے مجرم کو سزا عمر قید بامشقت ۵۳ مرزا طاہر کی حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش ۵۴ سوات میں قادیانیوں کی شرانگیزی، علماء کرام کا ردعمل ۵۷ مسلمانان ایبٹ آباد کے غیرت کو چیلنج کیا گیا ہے ۵۸ قادیانیوں کو عبرت ناک شکست ۵۹ مرزا طاہر پر دوبارہ مباہلہ کا دورہ ۵۹ قادیانیت نوازی اور اسلام دشمنی کی بدترین مثال، مجیب وکیل قادیانی کی تقرری ۶۱ وزیر اعلیٰ سرحد کے نام ایک اہم خط، ایبٹ آباد کالج کا واقعہ ۶۲ نوکوٹ سندھ میں قادیانیوں کے ہاتھوں مسجد کی شہادت ۶۴ ربوہ کے نام کی تبدیلی کی قرارداد ...... پنجاب اسمبلی کا ایک بہترین اقدام ۶۶ ربوہ کا نام قادیان ...... نامنظور ! ۶۸ ربوہ کا نام اور اس کے باشندوں کے مالکانہ حقوق ۶۹ عبدالمجید سالک قادیانی تھا ۷۱ ۱۹۹۸ء میں قادیانیت سے تائب ہونے والے افراد ۷۷ ایک گریجویٹ خاتون کی مرزائیت سے توبہ ۷۷ سلانوالی میں قادیانی کا قبول اسلام ۸۵ ایبٹ آباد میں چار قادیانیوں کا قبول اسلام ۸۵ وزیر علی پھل کی قادیانیت سے توبہ ۸۵ کوئٹہ میں قادیانی خاندان کا قبول اسلام ۸۷ ضلع قصور کی قادیانی جماعت کے امیر کا قبول اسلام ۸۷ قادیانیت سے توبہ ۸۸ ۱۹۹۸ء میں کانفرنس ہائے ختم نبوت و دیگر تبلیغی سرگرمیاں ۸۸ ٹنڈوآدم میں عظیم الشان ساتواں سالانہ ختم نبوت کنونشن اور وکلاء ختم نبوت کے اعزاز میں افطار ۸۸
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مبلغین حضرات کی میٹنگ، کارکردگی کا جائزہ اور آئندہ سہ ماہی کا تبلیغی پروگرام ۸۹ ملتان میں ختم نبوت کانفرنس سے مولانا محمد یوسف لدھیانوی، مولانا عبدالستار تونسوی اور دیگر علماء کے بیانات ۹۱ ساہیوال میں ختم نبوت کانفرنس، تربیتی اجلاس، خطبہ جمعہ ۹۱ فرانس میں جلسہ ختم نبوت ۹۲ شادی لارج میں پانچویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس ۹۲ تیسری عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس گمبٹ ۹۳ ختم نبوت کانفرنس قذافی ٹاؤن کراچی ۹۳ سالانہ ختم نبوت کانفرنس اسلام آباد ۹۴ تحفظ ناموس رسالت کانفرنس ساہیوال ۹۵ خطبہ جمعہ لاہور ۹۵ ختم نبوت کانفرنس ٹاؤن شپ لاہور ۹۵ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس دہلی ۹۵ ختم نبوت کانفرنس دروغہ والا لاہور ۱۰۵ ختم نبوت کانفرنس اوکاڑہ ۱۰۵ ختم نبوت کانفرنس گوجرانوالہ ۱۰۵ ختم نبوت کانفرنس شیخوپورہ ۱۰۵ ختم نبوت کانفرنس لاہور ۱۰۶ دیپال پور بار روم سے خطاب ۱۰۶ احمد آباد میں ختم نبوت کانفرنس ۱۰۶ خطبہ جمعہ عارف والا ۱۰۶ بہاول نگر بار روم سے خطاب ۱۰۶ سہ روزہ رد قادیانیت کورس ایبٹ آباد ۱۰۷ ختم نبوت کانفرنس فیروزہ ۱۰۸ ختم نبوت کانفرنس لیاقت پور ۱۰۸ ختم نبوت کانفرنس ظاہر پیر ۱۰۸ ختم نبوت کانفرنس خانپور ۱۰۹ رحیم یار خان بار روم سے خطاب ۱۰۹
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس رحیم یار خان ۱۰۹ ختم نبوت کانفرنس بستی مکھن ۱۰۹ ختم نبوت کانفرنس صادق آباد ۱۰۹ سیرت النبی کانفرنس چناب نگر ۱۱۰ مڈھ رانجھا میں سیرت النبی ﷺ کانفرنس ۱۱۰ تحفظ ناموس رسالت سیمینار سرگودھا ۱۱۰ ختم نبوت کانفرنس چنڈی گڑھ ۱۱۱ ٹنڈو آدم میں سالانہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۱۱۲ تیرہویں عالمی ختم نبوت کانفرنس برمنگھم ۱۱۳ ختم نبوت کانفرنس گلاسکو ۱۱۷ مولانا اللہ وسایا کا تبلیغی دورہ سندھ ۱۱۸ ختم نبوت کانفرنس میرپور خاص ۱۱۹ دسویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس ہری پور ۱۱۹ سالانہ ختم نبوت کانفرنس کوئٹہ ۱۱۹ ختم نبوت کانفرنس لورالائی ۱۲۰ ختم نبوت کانفرنس ژوب ۱۲۰ سالانہ ختم نبوت کانفرنس بہاول پور ۱۲۰ ختم نبوت کانفرنس ایبٹ آباد ۱۲۱ ختم نبوت کانفرنس کوٹ مٹھن ۱۲۱ ختم نبوت کانفرنس علی پور چٹھہ ۱۲۲ ختم نبوت کانفرنس حیدرآباد ۱۲۲ عالمی مجلس کے نائب امیر ۱۲۲ ختم نبوت کانفرنس چیچہ وطنی ۱۲۲ ختم نبوت کنونشن بھلوال ۱۲۳ ۱۷ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر (ربوہ) کا عمومی جائزہ ۱۲۳ پانچواں سالانہ رد قادیانیت و عیسائیت کورس مسلم کالونی چناب نگر ۱۳۰ مستونگ بلوچستان میں قرآن مجید کی توہین کرنے والے کو عمر قید کی سزا ۱۳۴ ختم نبوت کانفرنس نواب شاہ ۱۳۴
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ۱۹۹۹ء کے حالات وواقعات ۱۳۵
شاہ کوٹ اور کراچی میں قادیانیوں کی شرانگیز سرگرمیاں ۱۳۶ میر پور ماتھیلو سندھ لبرٹی پاور پلانٹ میں قادیانیوں کی شرانگیزیاں ۱۳۷ جماعت انجمن قادیانیہ ربوہ حال چناب نگر کے اخبارات، رسائل کے ڈیکلریشن ختم کیے جائیں ۱۳۸ ربوہ کا نیا نام چناب نگر ۱۳۹ سینٹرل جیل حیدرآباد میں قادیانیوں کی سرگرمیوں پر آئی.جی جیل خانہ جات سے ملاقات ۱۴۱ قادیانیوں کا مسلمان علماء کو مناظرہ کا چیلنج کرنے کے بعد فرار ۱۴۱ سماجی بہبود کے وزیر بن یامین کے نام کھلا خط ۱۴۲ راولپنڈی میں گلزار نامی لعین کی جانب سے جھوٹا دعویٰ نبوت ۱۴۲ توہین رسالت کے ملزم کو ۱۳ سال قید ، ایک لاکھ روپے جرمانہ ۱۴۴ گوہر شاہی کے پیرو کار اسحاق کو ۱۷ سال قید ایک لاکھ روپے جرمانہ کی سزا ۱۴۴ گوہر شاہی کیس کے فیصلہ کا مکمل متن ۱۴۴ کیبنٹ ڈویژن نے سرکاری کاغذات میں چناب نگر لکھنے کی ہدایت کر دی ۱۵۰ مسلمانوں کی فتح اور قادیانیوں کی شکست ۱۵۰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر پر پولیس گردی ۱۵۱ قادیانی بننے پر مجبور کیا جا رہا ہے ، علماء کے نام مسلمان قیدی کا خط ۱۵۲ دیپال پور میں قادیانی وکیل کو عبرت ناک شکست ۱۵۳ ربوہ کا نام صفحہ ہستی سے مٹ گیا ہے ۱۵۳ چناب نگر میں یوم تکبیر ۱۵۳ جرمنی میں انسانوں کی اسمگلنگ کرنے والے مرزائی کو ۹ سال قید کی سزا ۱۵۵ گوہر شاہی کی شرانگیزی ..... بعض صوبائی مسلم لیگیوں کی سرپرستی ۱۵۶ گوہر شاہی کے آستانے پر ٹنڈوآدم پولیس کا چھاپہ گوہر شاہی فرار ۱۵۷ گوہر شاہی کے خلاف کوٹری کے عوام کا بھر پور احتجاجی مظاہرہ ۱۵۸ ایس . ایچ . او کوٹری کے متعلق گورنر سندھ اور آئی . جی سندھ کے نام خط ۱۵۸ راجہ محمد ظفر الحق کا مکتوب ...... یقین دہانی لیکن ....! ۱۵۹ ریلوے میں مرزائیت نوازی ، رانا بشارت قادیانی کی شیطنت ۱۶۲ سرائے عالمگیر میں مرزائیت کی ناپاک سازش ۱۶۲
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تحصیل پھالیہ کے موضع اسد اللہ پور اور گولیکی میں قادیانیوں کی غنڈہ گردی ۱۶۲
ننکانہ صاحب میں قادیانیوں کی شرانگیزی اور اس کا سدباب ۱۶۳
اندرون سندھ میں قادیانیت اور اس کا سدباب ۱۶۴
فیصلہ لاہور ہائی کورٹ بہاول پور بینچ ۱۶۵
توہین قرآن کے مجرم کو عمر قید ۱۷۸
کٹاریاں ضلع بہاول نگر میں مرزائے کو مقفل کر دیا گیا ۱۷۸
کوٹلی جوشن چاہ جٹاں میں مرزائی کا فرار ۱۷۸
شیرے کا ٹھٹھہ جھنگ میں قادیانیوں کی اشتعال انگیزی ۱۷۹
مورو سندھ میں قادیانی مربی کا قبول اسلام ۱۷۹
پروفیسر منور احمد کا تیرہ قادیانیوں سمیت قبول اسلام ۱۷۹
قادیانی نوجوان کا قبول اسلام ۱۸۰
زیڈ اے سلہری قادیانیت سے تائب ۱۸۰
میں قادیانیت سے کیوں تائب ہوا؟ نائیجیرین پروفیسر ڈاکٹر اسماعیل کے تأثرات ۱۸۹
میں نے قادیانیت چھوڑی (رانا بشیر احمد، لیہ) ۱۹۶
کراچی کے ڈاکٹر عمران شیخ کی قادیانیت سے توبہ ۱۹۷
ضلع کشن گنج (بہار، انڈیا) میں تیرہ افراد کی قادیانیت سے توبہ ۱۹۷
صابر حسین (سابق قادیانی) کا تجدید ایمان ونکاح ۱۹۸
جھنڈو (سندھ) قادیانی جماعت کے امیر کا قبول اسلام ۱۹۹
بہاول نگر کے قادیانی خاندان کا قبول اسلام ۱۹۹
قادیانیت سے تائب ۱۹۹
قادیانی نوجوان کی قادیانیت سے توبہ اور قبول اسلام ۲۰۰
۷ افراد کی قادیانیت سے توبہ ۲۰۰
قادیانی کا قبول اسلام ۲۰۰
جاگیر گبول میں ختم نبوت کانفرنس ۲۰۰
جامع مسجد خاتم النبیین آفیسر کالونی میں درس ۲۰۱
ختم نبوت کانفرنس راجن پور ۲۰۱
جامع مسجد راجپوتاں میں درس قرآن ۲۰۱
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بار روم راجن پور میں خطاب ۲۰۱ سپارکو میں درس قرآن ۲۰۲ فاضل پور میں ختم نبوت کانفرنس ۲۰۲ ختم نبوت کانفرنس ڈیرہ غازی خان ۲۰۲ ختم نبوت کانفرنس کوٹ ہیبت ۲۰۳ ختم نبوت کانفرنس وسندے والی ۲۰۳ ختم نبوت کانفرنس خان گڑھ ۲۰۳ ختم نبوت کانفرنس یاکے والی ۲۰۳ ختم نبوت کانفرنس کچا پکا اور شہر سلطان ۲۰۳ ختم نبوت کانفرنس اوچ شریف ۲۰۴ گولارچی میں خطبہ جمعۃ المبارک ۲۰۴ ضلع قصور کا تبلیغی دورہ ۲۰۴ مولانا بشیر احمد صاحب اور مولانا خدا بخش صاحب کا دورہ سکھر، خیر پور ۲۰۵ چونڈہ میں رد قادیانیت کورس ۲۰۵ دوروزہ ختم نبوت کانفرنس اسلام آباد ۲۰۵ کارروائی اجلاس کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت ۲۰۷ کارروائی اجلاس تحفظ ختم نبوت کانپور انڈیا ۲۰۷ ٹنڈوالہ یار میں ختم نبوت کانفرنس ۲۰۹ ختم نبوت کانفرنس سائٹ ایریا کوٹری ۲۱۰ پھگلہ میں ختم نبوت کانفرنس ۲۱۱ ختم نبوت کانفرنس گلاسکو ۲۱۱ چودھویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس برمنگھم ۲۱۱ پانچویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس جرمنی ۲۱۳ پشاور میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۲۱۶ ختم نبوت کانفرنس بہاول پور ۲۱۶ کوئٹہ، مچھ، مستونگ، لورالائی اور ژوب میں ختم نبوت کانفرنسیں ۲۱۶ محمدیہ مسجد ڈاور میں فتح اسلام کانفرنس ۲۲۰
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
خان گڑھ میں ختم نبوت کانفرنس ۲۲۰ ۱۸ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر ۲۲۰ ختم نبوت کانفرنس کرونڈی ۲۲۳ عظیم الشان کانفرنس ٹنڈو آدم ۲۲۳ ختم نبوت کانفرنس چیچہ وطنی ۲۲۴ ختم نبوت کانفرنس کوٹ ہرا ۲۲۴ ۳۷ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس جابہ (ضلع خوشاب) ۲۲۵ ختم نبوت کانفرنس سانگلہ ہل ۲۲۵ پشاور میں چار روزہ رد قادیانیت کورس و دروس قرآن ۲۲۵ چھٹا سالانہ رد قادیانیت و عیسائیت کورس چناب نگر ۲۲۶ تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ۲۰۰۰ء کے حالات و واقعات ۲۲۹ مرزائیوں کا نصب العین قادیانی ریاست کا قیام ۲۳۰ قادیانیوں کی سازشوں اور ناپاک منصوبوں کو چاک کر دینے والی تحقیقی رپورٹ ۲۳۰ مسجد کی طرز پر قادیانی عبادت گاہ کی تعمیر جرم ہے، جناب محمود احمد شاکر جج مجسٹریٹ ہارون آباد کا فیصلہ ۲۳۵ قادیانی مسئلہ کی دستوری پوزیشن ۲۳۹ ایوب میڈیکل کالج ایبٹ آباد کے پرنسپل ڈاکٹر کریم سعید قادیانی کا تبادلہ ہو گیا ۲۴۱ قادیانی مردہ مسلمانوں کے قبرستان کامونکے میں دفن کرنے کی ناکام کوشش ۲۴۱ مولانا مفتی محمد خالد میر کا دورہ آزاد کشمیر ۲۴۲ چیچہ وطنی میں قادیانی غنڈہ گردی کے خلاف اہل اسلام کی فتح ۲۴۲ ڈاور میں قادیانیوں کی شرارت و فتنہ فساد، قادیانی عبادت گاہ کی تعمیر پر اشتعال ۲۴۳ قادیانی بدستور غیر مسلم ہیں، آئین کی اسلامی دفعات پی سی او سے متصادم نہیں ۲۴۳ اسلامی دفعات معطل نہیں ہوئیں، قادیانی غیر مسلم ہیں ۲۴۴ اقبال کے خطوط میں تحریف ۲۴۴ قانون تحفظ ناموس رسالت کے مسئلہ پر ہڑتال ۲۴۵ قادیانیوں کا اقوام متحدہ میں پاکستان اور اسلام کے خلاف زہریلا پراپیگنڈہ ۲۴۵ ریاض احمد گوہر شاہی سب سے بڑا جھوٹا، سب سے بڑا گمراہ اور سب سے بڑا دھوکہ باز ہے...... خانہ کعبہ و مسجد حرام کے امام اور خطیب شیخ محمد بن عبداللہ السبیل کا فتویٰ ۲۴۸ گوہر شاہی کی کتاب چھاپنے والے پریس پر چھاپہ، کتاب پر مقام اجراء آئر لینڈ لکھا ہے، حیدر آباد میں چھاپی جارہی تھی، صفحات برآمد ۱۶ افراد گرفتار ۲۵۰
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گوہر شاہی کو تین بار عمر قید اور جرمانے کی سزا ۲۵۰ مباہلہ میں ہارنے کے بعد قادیانی پاگل ہو گیا ۲۵۱ قادیانیوں کی جانب سے جھوٹی سیاسی پناہ حاصل کر کے ملک کو بدنام کرنا ۲۵۱ مرزائیت کو ایک دھچکا اور ۲۵۲ اوکاڑہ کے قصبہ ایل پلاٹ فوجیاں والا میں قادیانیوں کی فائرنگ ۲۵۳ ۲۷ سال کی طویل جدوجہد کے بعد ڈی آئی خان میں مسجد مسلمانوں کے حوالے ۲۵۴ عبدالسلام قادیانی کا نام مسلمان سائنس دانوں کی فہرست سے خارج کر دیا جائے ، وفاقی وزارت تعلیم ۲۵۴ پاکستان ایئرفورس میں ٹریننگ کے لئے داڑھی کٹوانے کا حکم ۲۵۵ جھوٹے مدعی نبوت یوسف کذاب کو سزا ۲۵۵ گستاخ رسول ﷺ یوسف کذاب کو سزائے موت ۲۵۷ یوسف کذاب کیس میں استغاثہ کے وکلاء کے اعزاز میں استقبالیہ ۲۶۴ جھوٹی نبوت کا دعویدار گرفتار ۲۶۵ جرمنی میں قادیانیوں کی شکست ۲۶۵ حکومت قادیانیوں کی سرگرمیوں کا نوٹس لے ۲۶۶ عمر کوٹ قادیانی سازش ناکام ۲۶۷ کیپٹل ہومیو پیتھک میڈیکل کالج اسلام آباد کے پروفیسر توہین رسالت کے مقدمے میں گرفتار ۲۶۷ قادیانی عبادت گاہ مسجد ختم نبوت میں تبدیل ۲۶۸ چناب نگر (ربوہ) کو کھلا شہر قرار دینے کے اقدامات کو ختم کرنے کا منصوبہ ۲۶۸ قادیانیوں کا تخت ہزارہ میں فساد، مجرم کون ہے؟ (رپورٹ: مولانا محمد اکرم طوفانی) ۲۷۰ قادیانیوں کی فائرنگ ختم نبوت کانفرنس چک بھڑو ۲۷۲ بہاول پور میں مجلس کے زیر اہتمام دروس قرآن ۲۷۲ بستی گھلواں علی پور میں ایک قادیانی کا قبول اسلام ۲۷۳ ضلع برپیٹا صوبہ آسام انڈیا میں ۵۵ قادیانی گھرانے مشرف باسلام ہوئے ۲۷۳ کراچی کے قادیانی کا قبول اسلام ۲۷۴ معروف قادیانی کا ”یوم ختم نبوت“ کے دن قبول اسلام ۲۷۵ بنوں میں قادیانی گھرانے کے دس افراد کا قبول اسلام ۲۷۵ ۶۲ افراد کا قادیانیت سے برأت اور قبول اسلام ۲۷۶
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ڈیرہ غازی خان کے باپ، بیٹے کا قبول اسلام ۲۷۷ قادیانی جماعت جھنڈو سندھ کے امیر کا خاندان سمیت قبول اسلام (شاہد مبشر گورایا، سابق قادیانی) ۲۷۷ لاہوری مرزائی کا قبول اسلام ۲۷۹ جرمنی میں تین قادیانیوں کا قبول اسلام ۲۷۹ آٹھ قادیانیوں کا قبول اسلام ۲۸۱ احمد آباد انڈیا کے قادیانی کا قبول اسلام ۲۸۱ قادیانیت سے توبہ اور قبول اسلام ۲۸۱ گولارچی میں نیک بخت نو مسلم محمد اکرم کا قبول اسلام ۲۸۲ جرمنی کے شہر کولن میں مناظرہ کی تفصیلات و ثمرات کے دستاویزی ثبوت ۲۸۳ پشاور میں قادیانی خاندان کا قبول اسلام ۲۹۵ لاہور میں ایک قادیانی کا قبول اسلام ۲۹۵ ختم نبوت کانفرنس چک ۱۵۵/۱۲ ایل چیچہ وطنی ۲۹۵ قائدین ختم نبوت پشاور کے وفد کا مردان کا تفصیلی دورہ ۲۹۶ مولانا اللہ وسایا کا اوکاڑہ و قصور کا تبلیغی دورہ ۲۹۶ ختم نبوت کانفرنس سکھر سے علماء کرام اور مشائخ عظام کا خطاب ۲۹۷ مولانا اللہ وسایا کا دورہ ضلع میر پور خاص، کنری، حیدر آباد ۲۹۷ ختم نبوت کنونشن خانیوال ۲۹۸ گوہر شاہی کو تین بار عمر قید، ڈیڑھ لاکھ روپے جرمانہ ۲۹۹ ختم نبوت کانفرنس لاہور ۲۹۹ ختم نبوت کانفرنس سرگودھا ۳۰۰ ختم نبوت کانفرنس ملتان ۳۰۰ بدو ملہی میں ختم نبوت کانفرنس ۳۰۱ بھکھو بھٹی سیالکوٹ میں ختم نبوت کانفرنس ۳۰۱ نارووال ڈیریانوالہ میں ختم نبوت کانفرنس ۳۰۱ ختم نبوت کانفرنس سنکھترہ ۳۰۱ ٹنڈو آدم میں شہید ختم نبوت کانفرنس ۳۰۲ عالمی مجلس کی مرکزی مجلس منتظمہ کا اجلاس ۳۰۲
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء ۱۳ ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا چونڈہ سیالکوٹ میں رد قادیانیت تربیتی کنونشن ۳۰۳ سیرت النبی ﷺ کانفرنس خوشاب ۳۰۳ گجرات اور منڈی بہاء الدین میں ختم نبوت کے اجتماعات ۳۰۳ کوٹ سبزل صادق آباد میں تاریخ ساز ختم نبوت کانفرنس ۳۰۴ یورپ میں ختم نبوت کانفرنسیں ۳۰۴ پندرھویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس برمنگھم ۳۰۸ ختم نبوت کانفرنس ڈنمارک ۳۱۰ ختم نبوت کانفرنس بولٹن ۳۱۰ ختم نبوت کانفرنس پیرس ۳۱۱ ختم نبوت کانفرنس سیالکوٹ ۳۱۱ ختم نبوت کانفرنس ہائے ڈیرہ غازی خان ڈویژن ۳۱۱ ختم نبوت کورس رحیم یار خان ۳۱۲ ختم نبوت کورس گمبٹ ۳۱۲ ختم نبوت کورس بہاول پور ۳۱۲ ختم نبوت کورس گوجرانوالہ ۳۱۲ ختم نبوت کورس لاہور ۳۱۳ ختم نبوت کورس بہاول نگر ۳۱۳ اسلام آباد میں ختم نبوت کورس ۳۱۳ رد قادیانیت کورس راولپنڈی ۳۱۴ تحسین القرآن نوشہرہ میں اجتماع ۳۱۴ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک ۳۱۴ ختم نبوت کانفرنس نوشہرہ ۳۱۴ مردان میں ختم نبوت کانفرنس ۳۱۴ ختم نبوت کانفرنس کوہاٹ ۳۱۵ ختم نبوت کانفرنس پشاور ۳۱۵ ختم نبوت کانفرنس بہاول پور ۳۱۵ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی قائدین کا دورہ بلوچستان ۳۱۶
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس چیچہ وطنی ۳۱۸
ختم نبوت کانفرنس ڈاور ۳۱۸
ختم نبوت کانفرنس شادی پلی ۳۱۹
ختم نبوت کانفرنس لاہور ۳۱۹
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مانسہرہ کے زیراہتمام تین روزہ ختم نبوت کانفرنسیں ۳۱۹
فتنہ قادیانیت و گوہر شاہی اور اس کا سد باب ۳۲۱
انیسویں ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کا آنکھوں دیکھا حال لمحہ بہ لمحہ ۳۲۱
ختم نبوت کانفرنس اٹک ۳۲۷
ختم نبوت کانفرنس ڈیرہ اسماعیل خان ۳۲۷
ختم نبوت کانفرنس مردان ۳۲۸
ساتواں سالانہ رد قادیانیت کورس چناب نگر ۳۲۸
مرزائیت سے توبہ ۳۳۱
تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ۲۰۰۱ء کے حالات و واقعات ۳۳۳
گورنر پنجاب سے قادیانی مسئلہ پر ملاقات ۳۳۴
چناب نگر میں قادیانیوں کو جلسہ کی اجازت افراتفری اور افتراق و انتشار کا باعث ہوگی ۳۳۴
مولانا سید نفیس الحسینی کے گھر پر چھاپہ حکومت کا ایک اور بزدلانہ اقدام مختلف دینی رہنماؤں کے خیالات کا اظہار ۳۳۴
صدر پاکستان چوہدری محمد رفیق تارڑ کے نام کھلا خط ۳۳۵
امیر الہند حضرت مولانا سید اسعد مدنی کی دفتر مرکزیہ ملتان تشریف آوری ۳۳۶
ہندوستان میں قادیانیوں کی شرانگیزیاں ۳۳۶
کروڑ میں قادیانی عبادت گاہ کی تعمیر اور چار قادیانی گرفتار ۳۳۸
مرزائیت کا میدان مناظرہ سے فرار! ۳۳۸
قادیانیوں کی بحیثیت غیر مسلم الیکشن میں شرکت، قادیانی ہائی کمان کا سخت اضطراب اور غم و غصہ ۳۴۰
اوکاڑہ کے کذاب صوفی شعبان کو سزا سنانے پر اظہار مسرت ۳۴۱
چونڈہ میں قادیانی عبادت گاہ کی ہیئت تبدیل کر دی گئی ۳۴۱
قادیانی مربی کا مناظرہ سے فرار ۳۴۱
مرزا طاہر کے متعلق مولانا شاہ احمد نورانی کی بروقت نشان دہی ۳۴۲
جناب صدر مملکت! اسلام اور مسلمانوں پر رحم کیجئے، پاکستان پر قادیانی عذاب مسلط نہ کیجئے!!! ۳۴۳
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سیدوالہ میں قادیانیوں کی ایک اور شکست فاش ۳۴۴
توہین رسالت کے مجرم ڈاکٹر یونس کو سزائے موت اور ایک لاکھ روپے جرمانہ ۳۴۶
تخت ہزارہ کیس کا فیصلہ ۳۴۶
ممتاز آباد ملتان کا دشمن اسلام ادریس ربانی گرفتار ۳۴۷
گوہر شاہی آنجہانی ہو گیا ۳۴۷
پارلیمانی تاریخ کا سنہری لمحہ، جمال کوریجہ کا انٹرویو ۳۴۷
سرگودھا توہین رسالت کے مجرم بوبا کو سزائے موت قید و جرمانہ ۳۴۸
میر پور خاص کیس کا فیصلہ ۳۴۸
ملتان ہائی کورٹ میں عبدالمجید قادیانی کی رٹ درخواست خارج کر دی ۳۴۸
ملتان میں مبلغین حضرات کی میٹنگ کی کارروائی اور تقریب حلف برداری ۳۴۹
قادیانی لڑکی کا قبول اسلام ۳۵۱
قادیانی خاندان نے اسلام قبول کر لیا ۳۵۱
قادیانی گھرانہ کا قبول اسلام ۳۵۲
انڈیا میں قادیانیوں کا قبول اسلام ۳۵۳
قادیانیت سے لاتعلقی کا اعلان ۳۵۴
بنگیال میں قادیانی خاندان کا قبول اسلام ۳۵۴
باگڑ سرگانہ میں ایک قادیانی کا قبول اسلام ۳۵۴
تلونڈی موسی خان میں قادیانی خاندان کا قبول اسلام ۳۵۵
بشیر ولد نظام الدین چیمہ کی قادیانیت سے توبہ اور قبول اسلام ۳۵۵
ٹنڈو جام میں تین قادیانیوں کا قبول اسلام ۳۵۵
کوٹ ہیبت کے رحیم بخش اور سکھر کے سعید احمد کی قادیانیت سے برأت کے بعد قبول اسلام ۳۵۶
مرزائی نوجوان کا قبول اسلام ۳۵۷
شادی لارج میں ایک قادیانی گھرانے کا قبول اسلام ۳۵۷
چک نمبر ۱۰ بہاول نگر کے ریاض احمد کا قبول اسلام ۳۵۷
پنوعاقل میں پندرہ روزہ ختم نبوت کانفرنسیں ۳۵۸
ختم نبوت کانفرنس ملتان ۳۵۹
گنمبٹ میں حضرت امیر مرکزیہ کی آمد اور روحانی تربیتی پروگرام ۳۶۰
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مجلس تحفظ ختم نبوت ورنگل انڈیا، ۸۰ سے زائد نوجوانوں کی تربیت اور اجلاس عام ۳۶۰
انڈیا مجلس کی سرگرمیاں ۳۶۰
جامع مسجد مدراسی میں بیان ۳۶۱
کریمیہ مسجد میں علماء کرام کی خصوصی میٹنگ ۳۶۱
شہر ورنگل میں رد قادیانیت کے موضوع پر پہلا تربیتی پروگرام ۳۶۲
ختم نبوت کانفرنس کراچی ۳۶۵
ٹنڈو آدم میں زیر صدارت امیر مرکزیہ مدظلہ ختم نبوت کانفرنس ۳۶۶
علی پور میں رد قادیانیت کورس ۳۶۶
تین روزہ رد قادیانیت کورس اور ختم نبوت کانفرنس میر پور خاص ۳۶۷
سیرت النبی ﷺ کانفرنس چناب نگر ۳۶۷
ختم نبوت کانفرنس جوہر آباد ۳۶۷
رد قادیانیت تربیتی کورس لاہور ۳۶۸
جامعہ مسجد عائشہ میں کنونشن ۳۶۸
منڈی بہاؤالدین میں دو روزہ رد قادیانیت کورس ۳۶۸
ختم نبوت کانفرنس پنجن کسانہ ۳۶۹
ختم نبوت کانفرنس قصور ۳۶۹
ختم نبوت کانفرنس شمس آباد ۳۶۹
ختم نبوت کانفرنس حویلی لکھا ۳۶۹
مسجد خلفاء راشدین میں پہلا سہ روزہ رد قادیانیت کورس ۳۷۰
ساتویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس گوجر خان ۳۷۰
تیسرا رد قادیانیت تربیتی کورس چونڈہ ۳۷۰
کنڈیارو میں ختم نبوت کنونشن ۳۷۱
مولانا فقیر اللہ اختر اور مولانا غلام مصطفیٰ کا تبلیغی دورہ حافظ آباد ۳۷۱
سالانہ ختم نبوت کانفرنس گلاسکو ۳۷۲
ختم نبوت کانفرنس شجاع آباد ۳۷۲
۱۶ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس برمنگھم ۳۷۲
ختم نبوت کانفرنس برمنگھم کی کامیابی پر اظہار تشکر ۳۷۳
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
رد قادیانیت کورس بہاول پور ۳۷۴ حضرت مولانا خدا بخش کا تبلیغی دورہ راولپنڈی ۳۷۴ حضرت امیر مرکزیہ کی وطن واپسی ۳۷۴ فتح اسلام کانفرنس بمقام قصبہ ڈاور نزد چناب نگر ۳۷۴ ختم نبوت کانفرنس میر پور خاص ۳۷۵ حضرت مولانا محمد اسماعیل کا تبلیغی دورہ سندھ ۳۷۵ رد قادیانیت کورس ژوب کے نتائج ۳۷۵ یوم ختم نبوت قبائلی علاقہ جات میں ۳۷۸ یوم ختم نبوت گوجرانوالہ ۳۷۸ صوبہ سندھ میں یوم ختم نبوت ۳۷۸ یوم ختم نبوت ۳۷۸ پشاور میں حضرت امیر مرکزیہ کی تشریف آوری ۳۷۹ پشاور کی چالیس مساجد میں ختم نبوت کی صدائیں ۳۷۹ پورے سندھ میں ۷ ستمبر کو ’یوم ختم نبوت‘ بھر پور انداز میں منایا گیا ۳۸۰ یوم ختم نبوت لاہور کی پروقار تقریب ۳۸۰ یوم ختم نبوت بہاول پور ۳۸۱ قادیانیت پر تربیتی نشست گوجرانوالہ ۳۸۱ سالانہ ختم نبوت کانفرنس چوک پرمٹ ۳۸۱ ۲۰ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر ۳۸۱ آٹھواں سالانہ رد قادیانیت و عیسائیت کورس چناب نگر اختتامی تقریب سندات ۳۸۳ تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ۲۰۰۲ء کے حالات و واقعات ۳۸۷ قادیانیت کی تبلیغ کے لئے ۱۶ کروڑ ڈالر کا سالانہ فنڈ مختص ۳۸۸ توہین رسالت کے قانون اور امتناع قادیانیت آرڈیننس کو ختم کرنے کا مطالبہ ۳۸۸ مذہب سے متعلق متنازعہ مواد کی تقسیم ۳۹۳ اوکاڑہ میں قادیانیوں کی شر انگیزی کا تدارک ۳۹۳ سوئٹزرلینڈ کے وزیر خارجہ اور توہین رسالت کا قانون ۳۹۳ آنحضرت ﷺ کی خیالی تصویر کی اشاعت ۳۹۴
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عقیدہ ختم نبوت کے حلف نامہ کے نوٹیفکیشن میں تاخیر ۳۹۵ الشیخ محمد بن عبداللہ السبیل حفظہ اللہ کا واضح فتویٰ ۳۹۵ پی.آئی.اے میں قادیانیوں کی ایک اور ناپاک جسارت ۳۹۶ سی.بی.آر کے قادیانی چیئرمین کی قادیانیت نوازی ۳۹۶ مرزائیت نوازی کی انتہاء ۳۹۷ توہین رسالت اور اقلیتی کمیشن ۳۹۸ فلسطین میں قادیانی کردار کی ایک جھلک ۳۹۹ توہین رسالت کے قانون کے خلاف نرالی اقلیتی منطق ۴۰۰ قادیانی مبلغین کا دھمکی آمیز رویہ ۴۰۲ بی.بی.سی کی قادیانیت نوازی (۱) ۴۰۴ بی.بی.سی کی قادیانیت نوازی (۲) ۴۰۵ بی.بی.سی کی قادیانیت نوازی (۳) ۴۰۹ قادیانی تعلیمی اداروں کی واپسی ۴۱۱ قادیانیوں کی جانب سے الیکشن کا بائیکاٹ ۴۱۳ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہرزہ سرائی ۴۱۴ متحدہ مجلس عمل کی قادیانیوں کو ٹکٹ دینے کی تردید ۴۱۶ محسن انسانیت ﷺ کی کردار کشی کی مذموم مہم ۴۱۶ عمرکوٹ میں قادیانی سازش ۴۱۷ کسوال میں قادیانی مردہ کی مسلم قبرستان میں تدفین ۴۱۷ ایک قادیانی کا صدر مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نام کھلا خط ۴۱۸ انجمن سرفروشان اسلام پر پابندی عائد کی جائے ۴۱۹ چناب نگر میں باپ بیٹا قادیانیت سے تائب ہوکر مسلمان ہوگئے ۴۲۱ قادیانی جوڑے کا قبول اسلام ۴۲۱ جیکب آباد کے چار قادیانیوں کا قبول اسلام ۴۲۱ حافظ آباد میں قادیانی کا قبول اسلام ۴۲۲ قصور میں قادیانی کا قبول اسلام ۴۲۲ قادیانی گھرانے کا قبول اسلام ۴۲۲
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ضلع قصور کے گاؤں میں قادیانی نوجوان کا قبول اسلام ۴۲۳ رپورٹ سہ ماہی اجلاس مرکزی مبلغین عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ۴۲۳ ختم نبوت کانفرنس سکھر ۴۲۳ چودھویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس ٹنڈوآدم ۴۲۴ ختم نبوت کانفرنس کنڈیارو ۴۲۴ ردقادیانیت کورس چونڈہ ۴۲۴ حضرت مولانا بشیر احمد کا ضلع لیہ، بھکر، میانوالی میں تبلیغی دورہ ۴۲۵ مرکزی مبلغین کا تبلیغی دورہ گوجرانوالہ ۴۲۶ چناب نگر میں سیرت النبی ﷺ کانفرنس ۴۲۷ ختم نبوت کانفرنس لیہ ۴۲۷ سترھویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس برمنگھم ۴۲۷ ختم نبوت کانفرنسوں کی رپورٹ ۴۲۸ ختم نبوت کانفرنس رحیم یارخان ۴۲۸ ختم نبوت کانفرنس بہاول پور ۴۲۹ ختم نبوت کانفرنس بہاول نگر ۴۲۹ ختم نبوت کانفرنس اوکاڑہ ۴۲۹ ختم نبوت کانفرنس قصور ۴۲۹ ختم نبوت کانفرنس کوہاٹ ۴۲۹ شیخوپورہ ۴۲۹ پشاور میں اجتماعات، جلسے، سیمینار، کانفرنسیں ۴۲۹ سیمینار ختم نبوت گوجرانوالہ ۴۳۰ ختم نبوت کانفرنس ڈیرہ اسماعیل خان ۴۳۰ ختم نبوت کانفرنس لاہور ۴۳۰ ختم نبوت کانفرنس کراچی ۴۳۰ ختم نبوت کانفرنس سیالکوٹ ۴۳۰ اکیسویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کی مفصل رپورٹ ۴۳۱ نواں ردقادیانیت و عیسائیت کورس چناب نگر ۴۳۳
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ووٹر فارم سے ختم نبوت کے حلف نامہ کی منسوخی اور بحالی کی سرگزشت ۴۴۲
جمعیت علماء اسلام کا اجلاس ۴۴۳
سرگودھا جھنگ اور فیصل آباد میں یوم احتجاج ۴۴۵
۷؍ مئی راولپنڈی میں علماء کنونشن ۴۴۶
۸؍ مئی ملتان میں آل پارٹیز اجلاس ۴۴۶
عالمی مجلس کے رہنماؤں کا احتجاجی بیان ۴۴۷
۱۰؍ مئی کو ملک بھر میں جمعہ پر یوم احتجاج ۴۴۷
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے جنگ کے تمام ایڈیشنوں میں ذیل کا اشتہار ۱۱؍ مئی کو شائع کرایا ۴۴۹
ادارتی نوٹ روزنامہ نوائے وقت لاہور ۴۵۰
۱۲؍ مئی کو کراچی میں علماء کرام کا اجلاس ۴۵۰
۱۳؍ مئی فیصل آباد میں کنونشن ۴۵۲
حضرت مولانا شاہ احمد نورانی کا اخباری بیان ۴۵۵
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن کا بیان ۴۵۵
۱۴؍ مئی بہاول پور ختم نبوت کنونشن ۴۵۶
چیچہ وطنی کے علماء کرام کا بیان ۴۵۶
روزنامہ اسلام کراچی کا اداریہ ۴۵۷
۱۷؍ مئی رحیم یار خان میں ختم نبوت کنونشن ۴۵۸
ادارتی نوٹ روزنامہ جنگ لاہور ۴۵۹
ادارتی نوٹ روزنامہ پاکستان ۴۵۹
خطوطی مہم ۴۶۰
کورنگ لیٹر ۴۶۱
گوجرانوالہ کی رپورٹ ۴۶۱
اسلام آباد میں اجلاس ۴۶۲
آزاد کشمیر ۴۶۲
واہ کینٹ، ٹیکسلا اور اکوڑہ خٹک میں اجتماعات ۴۶۲
لاہور میں کانفرنس ۴۶۳
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جھنگ ۴۶۳
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
خانیوال میں اجلاس ۴۶۴ چیچہ وطنی میں کل جماعتی اجلاس ۴۶۴ ضلع ساہیوال میں حلف کی بحالی کا سماں ۴۶۴ ضلع بہاولنگر ۴۶۵ کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت بہاولنگر کا احتجاجی اجلاس ۴۶۵ لوئر پکھل میں اجلاس ۴۶۵ آل پارٹیز ختم نبوت کانفرنس کے لئے قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن کا دعوت نامہ ۴۶۶ مانسہرہ میں اجلاس ۴۶۶ ایبٹ آباد ۴۶۷ منڈی بہاؤالدین کی مساجد دفاع ختم نبوت کے عہد سے گونج اٹھیں ۴۶۸ خوشاب ۴۶۹ جوہر آباد ۴۷۰ بھکر، لیہ ۴۷۰ رحیم یار خاں میں اجلاس ۴۷۰ حافظ آباد ۴۷۱ سیالکوٹ ۴۷۱ قصور، اوکاڑہ، پتوکی، دیپالپور میں اجلاس ۴۷۱ حیدرآباد ۴۷۲ ووٹر فارم کے سلسلہ میں دستخط مہم کو کامیاب کرانے کے لئے مولانا محمد نذر کا علماء کرام و دیگر حضرات سے رابطہ ۴۷۲ میر پور خاص، کنری، گولارچی ۴۷۳ سکھر ۴۷۳ سکھر میں مجلس عمل کا اجلاس ۴۷۴ کنری کی رپورٹ ۴۷۴ کنری میں یوم احتجاج ۴۷۵ گمبٹ میں جلسہ عام ۴۷۵ کوئٹہ ۴۷۵ بلوچستان میں یوم احتجاج ۴۷۶
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جمعیت علماء اسلام (س) ملتان کا اجلاس ۴۷۶ آل پارٹیز ختم نبوت کانفرنس کے لئے سیاسی و دینی جماعتوں کو دعوت نامے جاری کر دیئے گئے ۴۷۷ وفاقی وزیر قانون کی ہرزہ سرائی ۴۷۷ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان کا بیان ۴۷۷ جمعیت اہل حدیث کا اجلاس ۴۷۷ توہین رسالت میں ترمیم نامنظور، ڈسٹرکٹ بار ملتان کی قرارداد ۴۷۸ جمعیت علماء اسلام وہاڑی ۴۷۸ حضرو میں کنونشن ۴۷۸ اٹک میں کنونشن ۴۷۹ پشاور میں کنونشن ۴۷۹ کوہاٹ میں کنونشن ۴۷۹ ووٹر فارم سے ختم نبوت کے حلف نامہ کی منسوخی اور بحالی کی سرگزشت ۴۷۹ شرکاء اجلاس کے اسمائے گرامی اور دستخطوں پر مشتمل ان کا عکس ۴۸۰ آل پارٹیز ختم نبوت کانفرنس کا مشترکہ اعلامیہ ۴۸۱ قادیانیوں کے لئے ذلت کا سامان ۴۸۲ تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ۲۰۰۳ء کے حالات و واقعات ۴۸۷ مولانا غلام مصطفیٰ کے اغواء کرنے کی کوشش ۴۸۸ گوہر شاہی کی سزا کی منسوخی کی درخواست مسترد ۴۸۹ کلکتہ انڈیا امریکن سینٹر پر حملہ میں قادیانی دہشت گردی ۴۹۰ اقلیتی ارکان اسمبلی اسلامی قوانین میں مداخلت کا راستہ چھوڑ دیں ۴۹۱ سندھ یونیورسٹی کے لیکچرار کی جانب سے توہین رسالت پر مبنی کتاب کی اشاعت ۴۹۳ قادیانی تبلیغی فنڈ میں مرزا طاہر کے گھپلے ۴۹۳ چک بہوڑو ضلع شیخوپورہ میں قادیانی کے قتل کا فیصلہ ، تمام مسلمان باعزت بری کر دیئے گئے الحمد للہ ! ۴۹۴ اس سازش کا سدباب ضروری ہے ۴۹۶ مدعیان مہدویت میں ایک اور اضافہ ۴۹۷ قادیانیوں کا بلا جواز دفاع ، امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ رپورٹ ! ۴۹۸ پنجاب ٹیکسٹ بورڈ کا کارنامہ ، ڈاکٹر عبدالقدیر خان غائب ، قادیانی ڈاکٹر عبدالسلام نمایاں ۵۰۲
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ملک میں کلیدی عہدوں پر فائز قادیانی ۵۰۳ جھوٹے مدعی مہدویت شمس الحسن زیدی کی گرفتاری ۵۰۴ قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر آنجہانی ہو گئے ۵۰۵ قادیانی جماعت کی ابتر صورتحال ۵۰۷ قادیانی جماعت میں پھوٹ پڑ گئی ۵۰۸ جھوٹے مدعی مہدویت کی درخواست ضمانت مسترد ۵۱۰ کشمیر میں قادیانی سازشیں ۵۱۰ حضرت امیر مرکزیہ کا دورہ جنوبی افریقہ ۵۱۲ مسلمانوں کے قبرستان سے قادیانی مردہ کو نکال باہر کیا گیا ۵۱۵ گستاخ رسول بشیر احمد کو سزائے موت اور چھ لاکھ روپے جرمانہ ۵۱۶ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے نصاب میں عقیدہ ختم نبوت پر کتاب شامل ۵۱۶ مبلغین حضرات سے گزارش ۵۱۸ وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کے نام کھلا خط ۵۱۸ کینیڈا کی قادیانی جماعت میں پھوٹ پڑ گئی ۵۱۹ جرمن کے قادیانیوں کے قبول اسلام کی دستاویزی تفصیلات ۵۲۰ فتح اسلام کا دلکش نظارہ...... اندرون و بیرون ملک قادیانیوں کے قبول اسلام کی ایمان پرور داستانیں ۵۲۵ اٹلی کے شہر بلونیا کے قادیانی خاندان کا قبول اسلام ۵۲۵ کراچی میں ایک قادیانی کا قبول اسلام ۵۲۵ پشاور میں ۱۷ قادیانیوں کا قبول اسلام ۵۲۶ شہباز نامی قادیانی قبول اسلام ۵۲۸ ۱۴ افراد پر مشتمل قادیانی خاندان نے اسلام قبول کر لیا ۵۲۸ قادیانی لڑکی کا قبول اسلام ۵۲۸ نعیم احمد نائیک کے قبول اسلام کے موقع پر تاثرات ۵۲۸ پشاور میں مزید دس قادیانیوں کا قبول اسلام ۵۳۰ عبدالحکیم ضلع خانیوال میں غلام مرتضیٰ کا قبول اسلام ۵۳۰ نبی سر روڈ کنری کے چوہدری بشیر احمد گورایہ کا قبول اسلام ۵۳۱ میر پور خاص کے قادیانی محمد جاوید کا قبول اسلام ۵۳۱
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ایک قادیانی کا قبول اسلام ۵۳۱
راجہ بیدار احمد خان سکنہ بحالی ضلع مانسہرہ کا قبول اسلام ۵۳۲
ایک قادیانی کا قبول اسلام ۵۳۴
جسٹس چوہدری اعجاز یوسف کو مبارک باد ۵۳۴
داتہ کے رہائشی محمد فاروق نے قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کر لیا ۵۳۴
چناب نگر کی مبلغہ نے قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کر لیا ۵۳۴
چناب نگر میں قادیانی باپ بیٹے کا قبول اسلام ۵۳۵
قادیانی کا قبول اسلام ۵۳۵
طارق احمد قادیانی کا قبول اسلام ۵۳۵
غلام احمد قادیانی کا اپنے خاندان سمیت قبول اسلام ۵۳۶
حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی کا دورہ قصور ۵۳۶
ختم نبوت کانفرنس ملتان ۵۳۷
متحدہ مجلس عمل کے قائدین کا استقبالیہ ۵۳۸
ختم نبوت کانفرنس گمبٹ ۵۳۹
ختم نبوت کانفرنس ٹنڈو آدم ۵۴۰
ختم نبوت کانفرنس کنری ۵۴۰
ختم نبوت کانفرنس حیدرآباد ۵۴۰
ختم نبوت کانفرنس شادی پلی ۵۴۱
ختم نبوت کانفرنس مٹھی ۵۴۱
ختم نبوت کانفرنس ویسہ ۵۴۱
ختم نبوت کانفرنس لاہور ۵۴۱
نثار کالونی لاہور میں سیرت کانفرنس ۵۴۱
مرکز سراجیہ میں بیان ۵۴۲
رد قادیانیت کورس ۵۴۲
ختم نبوت کانفرنس سیدوالہ ۵۴۲
ختم نبوت کانفرنس بھمبر ۵۴۲
ختم نبوت کانفرنس جادہ جہلم ۵۴۲
انوار مدینہ ۵۴۳
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس سیالکوٹ ۵۲۳ رد قادیانیت کورس چونڈہ ۵۲۳ ختم نبوت کانفرنس مپے چٹھہ ۵۲۳ الشریعہ اکیڈمی ۵۲۳ ختم نبوت کانفرنس گوجرانوالہ ۵۲۴ ختم نبوت کانفرنس اسلام آباد ۵۲۴ ختم نبوت کانفرنس ٹیکسلا ۵۲۴ واہ کینٹ اور حسن ابدال میں خطبات جمعہ ۵۲۴ ختم نبوت کانفرنس بارہ کہو ۵۲۵ ختم نبوت کانفرنس مظفر آباد ۵۲۵ ختم نبوت کانفرنس میر پور ۵۲۵ ختم نبوت کانفرنس منڈیاں ۵۲۵ ختم نبوت کانفرنس شیخ البانڈی ایبٹ آباد ۵۲۵ ختم نبوت کانفرنس ہرا ٹھنڈا میرا ۵۲۵ مرکزی جامع مسجد ایبٹ آباد میں ختم نبوت کانفرنس ۵۲۶ بار روم ایبٹ آباد خطاب ۵۲۶ ختم نبوت کانفرنس نڑیاں ۵۲۶ ختم نبوت کانفرنس لیہ ۵۲۶ سیرت النبی کانفرنس چناب نگر ۵۲۷ ختم نبوت کانفرنس چونڈہ ۵۲۷ جامعہ اشرف العلوم بخش خان میں رد قادیانیت کورس ۵۲۷ مجلس تحفظ ختم نبوت کوئٹہ ۵۲۷ امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم کے اعزاز میں استقبالیہ ۵۲۸ ختم نبوت کانفرنس چونڈہ ۵۲۸ کوئٹہ، مچھ اور مستونگ میں ختم نبوت کانفرنسیں ۵۲۸ اٹھارویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس برطانیہ ۵۲۹ جامعہ محمدیہ اسلام آباد میں بیان ۵۵۰ گولڑہ شریف حاضری ۵۵۰
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کورس گوجرخان ۵۵۰ ختم نبوت کانفرنس کہوٹہ ۵۵۱ ختم نبوت کانفرنس گوجرخان ۵۵۱ ختم نبوت کانفرنس جہلم ۵۵۱ ختم نبوت کانفرنس جلالپور جٹاں ۵۵۱ ختم نبوت کانفرنس منڈی بہاؤالدین ۵۵۱ کنجاہ میں خطبہ جمعہ ۵۵۱ ختم نبوت کانفرنس کسوآنہ ۵۵۲ فقیروالی میں ختم نبوت کورس ۵۵۲ سالانہ ختم نبوت کانفرنس چوک پرمٹ ۵۵۲ بائیسویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر ۵۵۲ دسواں سالانہ رد قادیانیت وعیسائیت کورس ۵۵۸ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی شوریٰ کے اجلاسوں کی کارروائیاں ۵۶۵ عالمی مجلس کی مرکزی مجلس شوریٰ اور مجلس عمومی ومجلس عاملہ کے اجلاسات ۵۶۶ (۸۰ واں) اجلاس مجلس منتظمہ ۵۶۶ (۸۱ واں) اجلاس مجلس شوریٰ ۵۶۸ (۸۲ واں) اجلاس مجلس منتظمہ ۵۷۰ (۸۳ واں) اجلاس مجلس منتظمہ ۵۷۰ (۸۴ واں) اجلاس مجلس شوریٰ ۵۷۰ (۸۵ واں) اجلاس مجلس منتظمہ ۵۷۴ (۸۶ واں) اجلاس مجلس شوریٰ ۵۷۵ (۸۷ واں) اجلاس مجلس منتظمہ ۵۷۸ (۸۸ واں) اجلاس مجلس عمومی ۵۷۹ (۸۹ واں) اجلاس مجلس منتظمہ ۵۸۲ (۹۰ واں) اجلاس شوریٰ ۵۸۵ (۹۱ واں) اجلاس مجلس منتظمہ ۵۸۸ (۹۲ واں) اجلاس شوریٰ ۵۸۹ (۹۳ واں) اجلاس جنرل کونسل ۵۹۱
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تحریک ختم نبوت
کے سلسلہ میں
۱۹۹۸ء
کے
حالات و واقعات
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
قادیانیوں کی سازشیں
قومی اسمبلی کے اجلاس میں ملک کے حالیہ آئینی و عدالتی بحران میں قادیانیوں کا ہاتھ ہونے کی صدائے بازگشت منگل کے روز بھی سنی گئی، جب جاوید ابراہیم نے ایک توجہ دلاؤ نوٹس پر ایوان کو بتایا کہ یہ بحران ایک سازش کا نتیجہ تھا اور یہ سازش وزارت داخلہ میں موجود قادیانی افسروں نے کی ہے۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں حکومت کی توجہ اس جانب مبذول کرائی گئی تھی کہ حالیہ بحران کے دوران قادیانیوں نے ۳۰ کروڑ روپے صرف کئے، مگر وزارت داخلہ نے اس ضمن میں یہ کہہ کر کوئی جواب دینے سے انکار کر دیا کہ یہ معاملہ ان کی وزارت سے نہیں بلکہ مذہبی امور کی وزارت سے متعلق ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ پاکستان کے خلاف قادیانیوں کی سازشوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ دسمبر کے دوسرے ہفتہ میں بھی قادیانی فرقہ کے سربراہ مرزا طاہر احمد کی ایک تقریر پر جو سیٹلائٹ کے ذریعہ پاکستان میں بھی دیکھی گئی، خاصی لے دے ہوئی تھی اور وفاقی وزیر مذہبی امور راجہ ظفر الحق نے کہا تھا کہ قادیانی ملک توڑنے کی سازش کر رہے ہیں۔ ان دنوں بھی یہ بات کہی گئی تھی کہ حالیہ آئینی و عدالتی بحران میں قادیانیوں کا ہاتھ تھا۔ مسلم لیگ کے سرکاری صدارتی امیدوار جسٹس (ر) رفیق احمد تارڑ نے بھی اس بارے میں قادیانیوں کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ اس بحران کے ایک کردار کے نام ابوظہبی کے ایک تاجر نے دو کروڑ روپے کا چیک جاری کیا تھا۔ اس موقع پر وزیر مذہبی امور نے یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ حکومت مرزا طاہر احمد کے بیان کی تصدیق کے بعد کوئی پالیسی وضع کرے گی۔
یہ بات نہایت افسوس ناک ہے کہ تقریبا تین ہفتے گزر جانے کے باوجود حکومت نے اس معاملہ میں نہ تو کوئی تحقیقات کرائی اور نہ ہی بحران میں قادیانیوں کے کردار کے بارے میں کوئی بات عوام کو بتائی ہے۔ قومی اسمبلی میں بھی کوئی واضح بات نہیں بتائی گئی۔ وزارت داخلہ سے اس بارے میں استفسار کا جواب دینے سے جو انکار کیا ہے وہ بھی محل نظر ہے۔ ہم ایک بار پھر حکومت سے گزارش کریں گے کہ وہ قادیانیوں پر الزام اور ابوظہبی کے تاجر کے دو کروڑ کے چیک کے بارے میں تحقیقات کرائے، قوم کو تمام حالات سے باخبر کیا جائے اور اس کردار کو بھی قوم کے سامنے لایا جائے جس کے نام پر چیک کاٹا گیا تھا۔
(روزنامہ خبریں مورخہ یکم جنوری ۱۹۹۸ء)
قادیان میں را کیمپ
لاہور (جی۔ این۔ این) گزشتہ چند ماہ کے دوران وسطی پنجاب کے مختلف شہروں میں ہونے والی مذہبی دہشت گردی کے واقعات میں قادیانی ملوث تھے اس بات کا انکشاف وفاقی حکومت کو ایک خفیہ ادارے کی طرف سے بھیجی گئی ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے کہ جس میں یہ دعویٰ بھی شامل ہے کہ بھارتی پنجاب کے قصبے قادیان میں بھارتی خفیہ ادارے را کی زیر نگرانی چلنے والے کیمپ میں پاکستان سے خاص طور پر تیار کئے گئے قادیانی اور بعض حالتوں میں عیسائی نوجوانوں کو دہشت گردی کی تربیت کی جاتی ہے، ان نوجوانوں کی بڑی تعداد کا تعلق سیالکوٹ، لاہور اور اوکاڑہ کے علاوہ شکر گڑھ کے سرحدی علاقے سے ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ شکر گڑھ سے قادیان کا فاصلہ تقریباً ۲۲ میل ہے۔ رپورٹ کے پس منظر میں وسطی پنجاب کے شہروں لاہور، فیصل آباد، شیخوپورہ اور دیگر حصوں میں ہونے والی دہشت گردی کی وارداتوں میں ہلاک ہونے والے شیعہ اور سنی مسلمانوں کا حوالہ دیا گیا ہے نیز یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ ان وارداتوں میں سپاہ صحابہ اور سپاہ
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
محمد دونوں کا کوئی تعلق نہیں تھا خفیہ ادارے کی رپورٹ میں حکومت کو تجویز کیا گیا ہے کہ سیالکوٹ، شکر گڑھ اور دیگر ملحقہ سرحدی علاقوں میں قادیانیوں اور عیسائیوں کی سرگرمیوں کو مانیٹر کیا جائے۔
(روزنامہ خبریں یکم جنوری ۱۹۹۸ء)
قادیانی دہشت گردی میں ملوث ہیں
وسطی پنجاب میں ہونے والی دہشت گردی میں شیعہ اور سنی ملوث نہیں تھے: خفیہ رپورٹ
لاہور (جی. این. این) نواز حکومت اور عدالت عظمیٰ کے درمیان گزشتہ بحران کا مقصد ملک میں سیاسی اور عسکری ہر دو شعبوں میں سیکولر قیادت کو برسر اقتدار لانا تھا اور اس مقصد کے لئے اندرون ملک قادیانی عناصر کو ۳۲ کروڑ ڈالر کی رقم فراہم کی گئی تھی جو اس بحران میں مرکزی کردار ادا کرنے والوں تک پہنچائی گئی۔ اس امر کا انکشاف حکومت کو موصولہ ایک خفیہ ادارے کی رپورٹ میں کیا گیا۔ واضح رہے کہ ایک اہم شخصیت نے بھی خبردار کیا تھا کہ پاکستان میں بحران کے ذمہ دار شخصیات کو ابوظہبی کے ایک تاجر کی طرف سے کروڑوں ڈالر ادا کئے گئے ہیں اور رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملک میں بحران پیدا کرنے کا مقصد ایسے حالات پیدا کرنا تھا تاکہ پاکستان کے آئین کو فرسودہ قرار دیتے ہوئے آٹھویں ترمیم کا مکمل خاتمہ اور توہین رسالت کے قانون کا انقطاع تھا جس کے بعد قادیانی اپنے آپ کو مسلمان لکھنے کی آزادی حاصل کر لیتے۔ رپورٹ میں بعض انتہائی اہم ذرائع سے تصدیق کی گئی ہے کہ قادیانی عناصر نے بحران کے دنوں میں بعض اعلیٰ عہدیداروں کی سرگرمیوں کو مانیٹر کرنے کے علاوہ متعلقہ شخصیات کو بیرون ملک سے اہم پیغامات بھی مہیا کئے علاوہ ازیں گزشتہ چند ماہ کے دوران وسطی پنجاب کے مختلف شہروں میں ہونے والی مذہبی دہشت گردی کے واقعات میں قادیانی ملوث تھے اس بات کا انکشاف وفاقی حکومت کو ایک خفیہ ادارے کی طرف سے بھیجی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جس میں یہ دعویٰ بھی شامل ہے کہ بھارتی پنجاب کے قصبے قادیان میں بھارتی حکومت خفیہ ادارے را کی زیر نگرانی چلنے والے کیمپ میں پاکستان سے خاص طور پر تیار کئے گئے قادیانی اور بعض حالتوں میں عیسائی نوجوانوں کو دہشت گردی کی تربیت دی جاتی ہے، ان نوجوانوں کی بڑی تعداد کا تعلق سیالکوٹ، لاہور اور اوکاڑہ کے علاوہ شکر گڑھ کے سرحدی علاقے سے ہوتا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان نوجوانوں کو سرحدی علاقوں میں قادیانیوں اور عیسائیوں کے گھر میں پناہ دی جاتی ہے۔ واضح رہے کہ شکر گڑھ سے قادیان کا فاصلہ تقریباً ۲۲ میل ہے۔ رپورٹ کے پس منظر میں وسطی پنجاب کے شہروں لاہور، فیصل آباد، شیخوپورہ اور دیگر حصوں میں ہونے والی دہشت گردی کی وارداتوں میں ہلاک ہونے والے شیعہ اور سنی مسلمانوں کا حوالہ دیا گیا ہے۔ نیز یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ ان وارداتوں میں سپاہ صحابہ اور سپاہ محمد دونوں کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ خفیہ ادارے کی رپورٹ میں حکومت کو تجویز کیا گیا ہے کہ سیالکوٹ، شکر گڑھ اور دیگر ملحقہ سرحدی علاقوں میں قادیانیوں اور عیسائیوں کی سرگرمیوں کو مانیٹر کیا جائے۔
(روزنامہ خبریں ۲۱ دسمبر ۱۹۹۷ء)
قادیانی ریاست بنانے کے لئے پنجاب میں زمین کی خریداری کے منصوبے کا انکشاف
مرزا رفیع کو انچارج بنایا گیا ہے
لاہور (جی این این) جماعت احمدیہ انٹرنیشنل کے موجودہ امیر مرزا طاہر احمد کی خصوصی ہدایت پر قادیانی جماعت نے اندرون ملک بعض عیسائی انتہا پسند رہنماؤں اور ایک نئی عسکری تنظیم ”سپاہ مسیحا“ کے تعاون سے وسطی پنجاب میں خود مختار قادیانی سٹیٹ بنانے کے لئے سیالکوٹ، شکر گڑھ، نارووال، گجرات، حافظ آباد، خانقاہ ڈوگراں، چنیوٹ اور جھنگ کے علاقوں میں زرعی اور سکنی زمینوں کی خریداری کا
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ایک منصوبہ تشکیل دیا گیا ہے۔ وزیر اعظم پاکستان کو ایک حکومتی ادارے کی طرف سے ارسال کی جانے والی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جماعت احمدیہ نے اندرون ملک اپنی تحصیل اور ضلع کی سطح پر تنظیموں بالخصوص مجلس انصار اللہ پاکستان اور تحریک جدید کو کروڑوں روپے کے فنڈ مہیا کئے ہیں۔ اس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مرزا طاہر کے بھائی مرزا رفیع احمد کو منصوبے کا انچارج مقرر کیا گیا ہے رپورٹ کے مطابق تحصیل و ضلع جھنگ میں ایک قادیانی اسسٹنٹ کمشنر منور احمد مجوکہ متعین گوجرانوالہ کے اثر ورسوخ کی وجہ سے چک نمبر ۷ تھل نمبر ۲ میں وسیع زرعی رقبہ خریدا گیا جس پر ۶۳ لاکھ ۵۰ ہزار روپیہ خرچ آچکا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان میں قادیانیوں کے صدر مقام ربوہ میں کسی بھی مسلمان کو قادیانیوں کی پراپرٹی خریدنے کی اجازت نہیں ہے۔
مرزا طاہر نے اعلان جنگ کر دیا
قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے لئے برصغیر پاک و ہند میں جو تحریک چلی اس سے ہر کوئی آگاہ ہے۔ تحریک ختم نبوت اس وقت تک عروج پر رہی جب تک بھٹو دور میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار نہیں دیا گیا۔ انہیں غیر مسلم قرار دینے کے بعد تمام اسلامی ممالک کو ایک سرکلر جاری کر دیا گیا کہ قادیانی دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ جب ذوالفقار علی بھٹو نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا تب میرے ایک مہربان جو غیر سیاسی ہیں نے بتایا کہ وہ گورنر ہاؤس میں تھے۔ شام کے وقت شورش کشمیری مرحوم وہاں آئے اور انہوں نے دونوں ہاتھ اوپر اٹھائے ہوئے تھے، وہ وجد کے عالم میں خوشی سے جھوم رہے تھے۔ اس بارے اپنی قربانیوں سے ہٹ کر وہ بھٹو مرحوم کا شکریہ ادا کر رہے تھے جبکہ اس سے پہلے وہ ذوالفقار علی بھٹو کے بار بار بلانے کے باوجود ان سے ملاقات کے لئے نہیں گئے تھے۔ ان کے ساتھ اس تحریک میں شامل ہر شخص کا یہی حال تھا، پھر قادیانی اچانک خاموش ہوگئے۔ مرزا طاہر احمد کی کوئی آواز نہ آئی اور کچھ عرصہ پاکستان میں رہنے کے بعد وہ ملک چھوڑ کر چلے گئے لیکن قادیانیوں نے زیر زمین سرگرمیاں جاری رکھیں اور ایک اطلاع کے مطابق بہت سے اہم عہدوں پر قادیانی آگئے۔ جب ان کا انڈر گراؤنڈ ہوم ورک مکمل ہو گیا تب ڈش کے ذریعہ مرزا طاہر احمد کا خطاب شروع ہو گیا۔ ایک ہفتہ قبل انہوں نے ملک میں ہونے والے سیاسی بحران کا جس انداز میں ذکر کیا اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس میں کس حد تک ملوث تھے۔ ہفتے کو پھر انہوں نے اپنے خطاب میں اگر چہ پہلے وضاحت کی کہ ان کا موجودہ آئینی بحران سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ”میں قوم کو خبردار کرنا چاہتا ہوں کہ اب بھی وقت ہے ہوش کے ناخن لو عقل کرو اور راہ راست پر آجاؤ کیونکہ خدا تعالی کی تائید ونصرت ہمیشہ جماعت کے ساتھ اور اگر قوم نے سرزمین پاکستان کو بچانا ہے تو پھر امور مملکت سے ملاؤں کو دور رکھا جائے۔ حکومت سے ملاؤں کا عمل دخل ختم ہو جائے تو پھر میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان دنیا کا عظیم ترین ملک بن جائے گا۔“
جب پہلے مرزا طاہر نے ملکی بحران کے بارے بیان دیا تب بھی میں نے اس بارے اپنا کالم لکھا اور یہ کہا کہ اب سب کو خصوصا حکومت کو چاہئے کہ وہ اس بات کی وضاحت کرے کہ مرزا طاہر احمد کے یہاں ملک میں مراسم نہیں ہیں کیونکہ مرزا طاہر نے اپنے سابقہ بیان میں یہی تاثر چھوڑا تھا۔ جیسا کہ ان کے سب کے ساتھ مراسم ہوں لیکن کسی طرف اس کا جواب نہ آیا لیکن ہفتہ کو پھر مرزا طاہر احمد کا ایک اور بیان آگیا جو ایک طرح سے اعلان جنگ کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ انہوں نے اس بیان میں ملاؤں کا ذکر کر کے تمام اسلامی ممالک کو ایک طرح کا چیلنج کر دیا ہے۔ اس سے اس ملک میں ایک مرتبہ پھر ایک بڑی تحریک جنم لے سکتی ہے۔ میں نے پہلے کالم میں یہ تحریر کیا تھا کہ دینی جماعتیں قادیانیوں کے مسئلہ پر ایک ہیں اور اب یہ خطاب کر کے انہوں نے الٹا دینی جماعتوں کو للکارا ہے۔ اگر اب بھی اس فتنہ کو نہ روکا گیا
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تو ملک کے اندر پھر فساد ہو سکتا ہے۔ مرزا طاہر نے اپنے خطاب میں ایک تاثر یہ چھوڑ دیا ہے کہ ملک کے اندر موجود اہم عہدوں پر فائز قادیانیوں نے انہیں اس حد تک یقین دہانی کرا دی ہے کہ وہ ہر قسم کی جنگ لڑنے کے لئے تیار ہیں۔ مرزا طاہر نے ماضی میں ملک کے آئین وقانون کی بات کی تھی اور اب وہ جس تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ یقیناً وہ کسی کی یقین دہانی کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ میری حکومت سے پھر درخواست ہے کہ وہ اس بارے فوری وفاقی بیان جاری کریں کیونکہ یہ ملک مزید کسی خونریزی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اگر ہم ماضی میں جھانکیں تو دینی کتب میں ہمیں یہ رہنمائی ملتی ہے کہ پیر مہر علی شاہ آف گولڑہ شریف نے اجمیر شریف میں مرزے کا چیلنج قبول کیا اور مناظرہ کے لئے اجمیر سے لاہور آئے۔ تب دین محمد پریس والے نے اس کا اہتمام کرایا۔ راوی لکھتے ہیں کہ تب اس قدر لوگ لاہور پہنچ گئے کہ ٹرینوں میں جگہ نہیں تھی۔ تب مرزا نے کہا کہ مجھے جان کا خطرہ ہے لیکن آپ نے فرمایا کہ مرزا صاحب آپ کی حفاظت کا ذمہ میں لیتا ہوں ویسے بھی آپ اگر نعوذ باللہ نبی اور خلیفہ بھی کہتے ہیں تو پھر ڈرنے کی کیا بات ہے۔ میں رسول ﷺ کا ادنی غلام ہوں میں صرف قلم اور کاغذ رکھ دیتا ہوں آپ صرف یہ لکھ دیں کہ نعوذ باللہ آپ نبی یا خلیفہ ہیں، لیکن اس کے باوجود مرزا صاحب وہاں نہیں آئے۔
(جمیل چشتی)
(روزنامہ پاکستان لاہور اتوار ۱۴/ دسمبر ۱۹۹۷ء)
قاضی کی پھر آمد اور مرزا طاہر احمد
اس سے بھی زیادہ خوفناک صورت حال قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر کے اس بیان نے جس میں انہوں نے کہا کہ اگر قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے والا آئین نہ ٹوٹا تو ملک ٹوٹ جائے گا، پیدا کر دی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ آئین ردی کا کاغذ کا ایک پرزہ ہے اگر یہ آئین وقانون اس طرح ہمارے حقوق چاٹتا رہا تو یہ آئین ملک کو بھی اسی طرح چاٹ جائے گا۔ ایک جگہ انہوں نے کہا کہ سابق صدر فاروق لغاری اور جماعت اسلامی کے دیرینہ خوشگوار تعلقات اور مخفی معاہدہ کی بناء پر معلوم ہونے لگا تھا کہ وہ (قاضی) ملک پر دو سال کے لئے مسلط ہو جائیں گے مگر یہ سازش کامیاب نہ ہو سکی۔ کیونکہ اسے فوج کی حمایت حاصل نہ ہو سکی تھی۔ مرزا طاہر احمد کے اس بیان کے بعد یہ بات کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ وہ پاکستان جہاں ایک طویل تحریک کے بعد اس کے آئین میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا مرزا کو اس سے کس حد تک محبت ہو سکتی ہے، انہوں نے آخر میں جو جملے کہے وہ بہت خطرناک ہیں، کیونکہ انہوں نے ایسا تاثر چھوڑا ہے جس سے وہ ظاہر کر رہے ہیں کہ وہ ملک میں ہونے والے خفیہ معاہدوں کے بارے میں آگاہی رکھتے ہیں۔ انہوں نے دانستہ یا غیر دانستہ یہ تاثر بھی قائم کرنے کی کوشش کی ہے کہ جیسے وہ ملک میں موجود یا ختم ہو جانے والے بحران میں پوری طرح شریک تھے اور یہ کہ انکی کہیں رضامندی بھی شامل تھی۔ بعض حلقوں کے مطابق جماعت اسلامی کے بارے میں اس طرح کا بیان دیکر انہوں نے ملک میں انتشار کی سی صورتحال پھیلانے کی کوشش کی ہے۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام متعلقہ احباب اپنی پوزیشن واضح کریں سب سے زیادہ فرض حکومت کا ہے کہ وہ فوری طور پر اس فتنے کو اٹھنے سے قبل اپنی آہنی گرفت میں لے لے۔
(جمیل چشتی)
(روزنامہ پاکستان لاہور مورخہ ۸/ دسمبر ۱۹۹۷ء)
قادیانی افسر حکومت کے لئے مشکلات پیدا کر رہے ہیں وزارت داخلہ نے نگرانی کا حکم دے دیا
اسلام آباد (جی این این) وفاقی وزارت داخلہ نے اہم پوسٹوں پر تعینات قادیانی افسران اور دیگر مرزائی شخصیات کی کڑی نگرانی کرنے کے احکامات جاری کر دیئے ہیں۔ یہ احکامات مرزا طاہر کے لندن کے اس خطاب اور خفیہ ایجنسیوں کی ان رپورٹس کے بعد جاری کئے گئے ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں بدامنی کے واقعات، شیعہ سنی جھگڑے، تفرقہ بازی اور دہشت گردی کے پیچھے قادیانیوں کا
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہاتھ ہے اور اس کا مقصد ملک میں بدامنی پھیلانا ہے تا کہ ملک میں بھائی چارہ اور سرمایہ کاری کے لئے سازگار فضا قائم نہ رہ سکے اور ملک معاشی طور پر کمزور ہو جائے۔ ”جی این این“ کی اطلاع کے مطابق ملک میں تفرقہ بازی، بدامنی پیدا کرنے میں قادیانی پیسہ ہی استعمال ہو رہا ہے اور یہ پیسہ صرف اندرون ملک سے اکٹھا نہیں کیا جا رہا بلکہ بیرون ملک قادیانی اس ”جہاد“ کے لئے فنڈ فراہم کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق دہشت گردی کی وارداتوں میں قادیانیوں کے ایجنٹ ملوث ہیں۔ حکومت نے ان تمام کی کڑی نگرانی کے احکامات جاری کر دیئے ہیں اور کلیدی عہدوں پر فائز قادیانی افراد کی سرگرمیوں پر خصوصی چیک لگا دیا گیا ہے۔ حکومت کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ بیوروکریسی میں قادیانی ایجنٹ حکومت کے لئے مشکلات پیدا کرتے رہے ہیں۔ آئندہ چند روز میں رپورٹس مکمل ہونے پر حکومت حساس جگہوں سے قادیانی ملازمین کو تبدیل کر دے گی۔ حکومتی فیصلے کی اطلاع ملتے ہی سرگرم قادیانی احتیاطاً زیر زمین چلے گئے۔ قادیانی رہنماؤں کی طرف سے یہ حکم بھی دیا گیا ہے کہ وہ فی الحال اپنی سرگرمیاں معطل کر دیں یا احتیاط کریں اس دوران حالات سازگار کر لئے جائیں گے۔
کپتان کی غلطیاں اور پاکستان کی جیت
قارئین محترم! تین دن پہلے مجھے راولپنڈی بیورو سے طاہر مغل صاحب نے فون کیا، صوابی سے ایک ریٹائرڈ میجر مجھ سے ملنا چاہتے تھے۔ میں نے ان سے فون پر بات کی اور بتایا کہ میں کہیں ضروری کام سے جا رہا ہوں، آپ پورے اعتماد اور یقین سے طاہر مغل صاحب کو وہ کچھ بتا سکتے ہیں، جو آپ مجھے بتانا چاہتے ہیں، لہٰذا انہوں نے طاہر مغل صاحب کو ایک فہرست پیش کی۔ پاکستان کے بعض اہم عہدوں پر فائز اور اہم جگہوں پر فائز قادیانیوں کی تھی۔ معلومات بڑی دلچسپ تھیں اور ان کا دعویٰ تھا کہ وہ یہ باتیں پہلے بھی ذمہ دار شخصیات کے علم میں لا چکے ہیں۔ بہر حال وہ فہرست اور اس کی دوسری تفصیلات اتنی خوفناک ہیں کہ میں ابھی تک اسے شائع کرنے کی جرات نہیں کر سکا، لیکن اب مسلم لیگ کو احتیاط ضرور کرنا پڑے گی کیونکہ یہ بات تو عیاں ہے کہ مسلم لیگ کا اس معاملے میں کوئی مقابلہ نہیں، لیکن جماعت اسلامی نے جس طرف اشارہ کیا ہے وہ اگر کل صدر بن بھی جائے تو بھی اس پر اتنا کیچڑ اچھلے گا کہ مسلم لیگ خود کہہ اٹھے گی کہ یہ ہم نے کیا کیا۔ لہٰذا فیصلہ تمام پہلوؤں کو دیکھ کر کرنا ہوگا۔
(روزنامہ خبریں مورخہ ۱۵/ دسمبر ۱۹۹۷ء، ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۱۹۹۸ء ص ۲۴ تا ۲۸)
کیا چیف جسٹس آف پاکستان توجہ فرمائیں گے؟
قادیانی جج اور آئین پاکستان
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم۔ اما بعد!
روزنامہ نوائے وقت کراچی ۷/ دسمبر ۱۹۹۷ء کی اشاعت میں قادیانی جماعت کے لاٹ پادری مرزا طاہر کا بیان شائع ہوا ہے کہ: ”قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے والا آئین نہ ٹوٹا تو ملک ٹوٹ جائے گا۔ قادیانیوں کو توقع تھی کہ آئندہ جمعہ تک اہل دانش کو ہوش آجائے گا اور ظلم و تعدی پر مبنی موجودہ آئین سے چھٹکارا حاصل کر لیں گے۔ مگر خدا کی طرف سے تاخیر ہو گئی۔ اس آئین کا توڑا جانا ملکی سالمیت، بقاء، تعمیر و ترقی اور خوشحالی کے لئے ضروری ہے۔ بصورت دیگر ملک ٹوٹ جائے گا۔ اس آئین کو ہر حالت میں ٹوٹنا ہے۔ یہ آئین ردی کے کاغذ کا ایک پرزہ ہے۔“
قادیانی جماعت کے لاٹ پادری کا یہ بیان ان لوگوں کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے، جو قادیانیوں سے متعلق اپنے پہلو میں نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اسلامیان پاکستان وہ خبریں بھی پڑھ چکے ہیں، جن میں ۳۲ کروڑ ڈالر کا خطیر سرمایہ آئین کو توڑنے،
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ملک میں انارکی پھیلانے ، عدلیہ کو تباہ کرنے کے لئے قادیانی لابی نے باہر سے لاکر یہاں خرچ کیا۔ قادیانی جماعت کا خمیر انگریز نے سازش سے اٹھایا تھا۔ بقول مصور پاکستان علامہ اقبال ”قادیانیت یہودیت کا چربہ ہے ۔“ جس طرح یہودی سرشت میں فتنہ و فساد پھیلانے کا عنصر شامل ہے قادیانی بھی اس سرشت کے علمبردار ہیں۔
قادیانی جماعت کا ہر فرد اپنی جماعت کے سربراہ کا حکم ماننے کا عقیدتاً پابند ہے۔ حکومت کا حکم ، یا آئین کا تقاضا ایک طرف اور دوسری طرف جماعت کے سربراہ کا حکم ہو تو وہ حکومت ، آئین ، ملازمت کو بالا طاق رکھ کر جماعت کے سربراہ کے حکم کو مانتے ہیں۔ یہ اتنی واضح قادیانی پالیسی ہے جس پر دلائل کی چنداں ضرورت نہیں۔
لاہور ہائیکورٹ میں جسٹس اسلام بھٹی واضح طور پر جنونی قادیانی ہے۔ جسٹس لطف الرحمن کو بھی مبینہ طور پر قادیانی گردانا جاتا ہے۔ وضاحتیں طلب کرنے کے باوجود اس نے مرزا قادیانی کے کفر کا اعلان نہیں کیا۔
عقیدتاً تمام قادیانی مرزا طاہر کی طرح آئین کے نہ صرف باغی ہیں بلکہ اس کو توڑنے کے لئے کوشاں ہیں۔ آئین کو توڑنے کے لئے وہ ملک توڑنے سے بھی گریزاں نہیں، یہی وجہ ہے کہ کوئی قادیانی اپنا ووٹ نہیں بنواتا، الیکشن میں حصہ نہیں لیتا ، اگر کوئی قادیانی ووٹ بنوائے یا الیکشن میں حصہ لے تو وہ اسے جماعت سے خارج کر دیتے ہیں۔
ہم ملک عزیز کے چیف جسٹس جناب اجمل میاں سے درخواست کرتے ہیں کہ آئین کے باغی گروہ کے افراد کو آئین کا رکھوالا بنا کر جج کے عہدہ پر فائز کرنا کیا یہ دانش مندی اور ملک کی خدمت ہے؟ مرزا طاہر نے کثیر سرمایہ خرچ کر کے آئین کو توڑنے کے لئے اپنی لابی کے ذریعہ کوشش کی وہ پوری نہ ہونے کی صورت میں جذباتی ہو گیا۔ بلی تھیلے سے باہر آ گئی۔ مرزا طاہر نے اپنا خبیث باطن اگل دیا۔ ان حقائق کے ہوتے ہوئے کیا قادیانی ججز کے باقی رکھنے کا کوئی قانونی و اخلاقی جواز باقی ہے؟ جس طرح قادیانی لاٹ پادری کا کہنا ہے کہ پاکستان کو باقی رکھنا ہے تو آئین کو توڑا جائے گا۔ اس طرح اگر ہم بھی چیف جسٹس پاکستان سے استدعا کریں گے کہ اگر ملک کو باقی رکھنا ہے، آئین کو بچانا ہے تو قادیانی سازشی عناصر سے عدلیہ کو پاک کرنا ہوگا۔ اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو ملک عزیز کے مستقبل کو دشمنوں کے ہاتھوں کھلونا بنانے کے گناہ میں ہم شریک ہوں گے۔
چیف جسٹس آف پاکستان ! ملک عزیز کے اہم ترین منصب پر سرفراز ہیں اس منصب کی لاج رکھنا، آئین کو آئین دشمنوں کی دست برد سے بچانا، ان کے فرائض میں شامل ہے۔ یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ ہماری معلومات کے مطابق ایک جنونی متعصب ملک افضل نامی قادیانی کو بھی ہائیکورٹ کا جج بنانے کی خبر گردش کر رہی ہے۔ ایک اور مبینہ قادیانی منیر نامی کو بطور جج لایا جا رہا ہے، اگر ہماری یہ اطلاعات درست ہیں اور یقیناً درست ہیں تو کیا چیف جسٹس آف پاکستان توجہ فرمائیں گے؟
اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نئے صدر محترم جناب تارڑ صاحب
قادیانی جماعت کے لاٹ پادری مرزا طاہر کا ایک دن اخبارات میں بیان شائع ہوا کہ ملاؤں کو حکومت سے دور رکھا جائے۔
قدرت کا کرنا ہوا یہ کہ دوسرے روز حکمران جماعت مسلم لیگ نے چوہدری محمد رفیق تارڑ کو صدر پاکستان کے عہدہ کے لئے اپنا امیدوار نامزد کر دیا۔ یہ نامزدگی قدرت کی طرف سے مرزا طاہر کے منہ پر زناٹے دار تھپڑ تھا۔ قادیانیت اس نامزدگی سے بلبلا اٹھی۔ ربوہ کے قادیانی مرزا طاہر کو کوسنے لگے کہ اگر وہ یہ یاوہ گوئی نہ کرتا تو تارڑ صاحب نامزد نہ ہوتے۔ تارڑ صاحب کی نامزدگی سے قادیانی لابی ان کی کردارکشی کے لئے ہمہ تن مصروف عمل ہوگئی۔ قادیانی شوہر رکھنے والی عاصمہ جہانگیر تو آپے سے باہر ہوگئی۔ کیا کچھ کہا گیا ، کیا کچھ کہلوایا اور لکھوایا گیا۔ لیکن اللہ رب
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
العزت کی شان بے نیازی کہ قادیانی لابی نے جتنا شور و شر کیا اتنا ہی عوام مسلمانوں کے دلوں میں تارڑ صاحب کی محبت زیادہ ہوتی گئی۔ بالآخر ۳۱/دسمبر ۱۹۹۷ء کے صدارتی الیکشن میں وہ بھاری اکثریت سے کامیاب ہو گئے پاکستان کے لئے باعث صد افتخار ہے۔ چوہدری صاحب ہائیکورٹ لاہور کے چیف جسٹس رہے ہیں، سپریم کورٹ کے جج رہے ہیں، ان کا ماضی گواہ ہے کہ وہ ایک مخلص مومن، مرد مجاہد، اور آئین پاکستان کے پاسبان ہیں۔ ذاتی طور پر نیک سرشت، صوم وصلوٰۃ کے پابند اور سچے مسلمان کے طور پر ان کی جان پہچان ہے۔ ان کا بڑے سے بڑا دشمن بھی ان کے کردار کی پاکیزگی کا معترف ہے۔ اور ہمارے لئے سب سے زیادہ خوشی کا باعث یہ ہے کہ ان کی تقرری روح کے سرطان کی طرح قادیانیوں کے وجود کو چاٹ رہی ہے۔
اللہ رب العزت ہمارے ملک کو نیا صدر مبارک فرمائے۔ صدر مملکت کو یہ منصب مبارک ہو، توقع رکھنی چاہئے کہ وہ ملک کے قابل احترام منصب کے تقاضوں کو احسن انداز سے پورا کریں گے۔ ان کی خدمات سے ملک نظریاتی و جغرافیائی دشمنوں کی یلغار سے محفوظ ہوگا۔
جناب میاں محمد نواز شریف صاحب کے اس فیصلہ سے معلوم ہوتا ہے کہ میاں صاحب کے مقدر کا ستارہ ابھی عروج پر ہے، تب ہی تو انہوں نے قابل صد مبارک یہ فیصلہ کیا۔ حق تعالیٰ شانہ ہمارے حکمرانوں کو، پاکستان کو صحیح معنوں میں اسلامی ریاست بنانے کی توفیق ارزاں فرمائے۔ (آمین)
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۶ تا ۲۲/جنوری ۱۹۹۸ء ص ۲، ۵)
فوج میں ترقی کے لئے قادیانیوں کی طرف سے اسلام کا جھوٹا سرٹیفکیٹ
مصدقہ ذرائع کے مطابق پاکستانی فوج میں شامل قادیانی جماعت کے بعض اراکین جھوٹے سرٹیفکیٹ جمع کراتے ہیں جس کے ذریعہ وہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر کے ترقی حاصل کرتے ہیں اور جب وہ ترقی حاصل کر لیتے ہیں تو اس کے بعد اپنا قادیانی ہونا ظاہر کر دیتے ہیں اس سلسلے میں ہمیں بعض نام تک موصول ہوئے ہیں، ذرائع کے مطابق فوج میں طریقہ کار یہ ہے کہ اگر کسی شخص کے بارے میں پتہ چل جائے یا وہ خود ظاہر کر دے کہ وہ قادیانی ہے تو پھر دیگر غیر مسلموں کی طرح اس کے لئے ضابطہ یہ ہے کہ وہ ایک حد تک ترقی حاصل کر سکے گا جیسا کہ دنیا کے تمام ممالک کا دستور ہے کہ اقلیت کو ایک خاص عہدہ تک ترقی دی جاتی ہے۔ قادیانی جماعت کے افراد اس قانون کو غیر مؤثر بنانے کے لئے سادہ کاغذ پر ایک جھوٹا سرٹیفکیٹ لکھ کر دے دیتے ہیں جس سے فوج میں ان کو مسلمان سمجھ لیا جاتا ہے اور پھر ان کی ترقی مسلمانوں کی طرح ہو جاتی ہے اور وہ کلیدی آسامیوں پر پہنچ جاتے ہیں اور پھر کلیدی عہدہ پر پہنچ کر قادیانیت کی تبلیغ شروع کر دیتے ہیں ایسی ایک نہیں کئی مثالیں موجود ہیں۔
پاک فوج ملک کا سب سے منفرد ادارہ ہے، پاکستان کی بقا اور تحفظ کی ذمہ داری اس پر عائد ہوتی ہے اور پچاس سال میں پاکستانی فوج نے یہ ذمہ داری اس لئے بحسن و خوبی نبھائی ہے کہ فوج میں شرائط کو ملحوظ رکھا گیا ہے اور ہمیشہ نظریاتی طور پر فوج کی حفاظت کی گئی ہے۔ اس بنا پر فوج نے ہمیشہ ایمانی قوت کا مظاہرہ کیا ہے اور ہر موقع پر پاکستان کی سالمیت کو فوقیت دی ہے اب چور دروازے سے اس طرح قادیانیوں کے حساس عہدوں پر پہنچنے کا سلسلہ شروع ہو گیا تو پاکستانی فوج کی نظریاتی سرحدوں میں دراڑیں پڑ جائیں گی اور فوج میں گروپ بندی کا آغاز ہو جائے گا کیونکہ قادیانیوں کا ہمیشہ سے یہ طریقہ رہا ہے کہ کسی اہم عہدے پر پہنچ کر اس عہدے کو اپنے غلط نظریات کی ترویج کے لئے استعمال کرتے ہیں۔
سب سے پہلے قادیانی وزیر خارجہ ظفر اللہ نے اپنے دور وزارت میں وزارت خارجہ اور سفارت خانوں کو قادیانی مراکز بنایا اور دنیا بھر میں یہ محسوس ہونے لگا کہ پاکستان قادیانی اسٹیٹ ہے۔ مصر، سوڈان اور دیگر تمام مسلم ممالک کے معاملات میں قادیانی وزیر خارجہ نے
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ان ممالک کے خلاف فیصلہ کیا جس کے اثرات آج تک باقی ہیں کہ یہ مسلم ممالک پاکستان سے زیادہ بھارت کے قریب ہیں اور بھارت کو ترجیح دیتے ہیں۔
۱۹۷۴ء میں فضائیہ کے ایک سربراہ قادیانی تھے، انہوں نے مرزا ناصر کے حکم پر قادیانیوں کے سالانہ اجتماع کے موقع پر ربوہ میں مرزا ناصر کو طیاروں کے ذریعہ سلامی دلوائی، پی آئی اے میں چیف پائلٹ قادیانی ہے اور اس نے پی آئی اے کے شعبہ پائلٹ میں اکثریت قادیانیوں کی بھرتی کر دی ہے اور مسلمان پائلٹوں کو کسی نہ کسی بہانے ناکام کرتا رہتا ہے، پی آئی اے کے اسلامک شعبہ کا سربراہ قادیانی ہے، جس کا نام تبسم منہاس ہے۔ وہ مسجدوں میں جو شامیانے لگواتا ہے۔ اس کا ٹھیکہ بھی قادیانی جماعت کے افراد کو دیتا ہے، اس نے دو ایجنسیاں کھول رکھی ہیں۔ وہ ان کے ذریعہ پی آئی اے میں ٹھیکے داروں کے لئے افراد بھرتی کرتا ہے، جس کے لئے ظاہر ہے قادیانی ہی بھرتی کئے جاتے ہیں۔
غرض قادیانی جس محکمے میں بھی ہوں وہ پہلے قادیانی اور اپنے جھوٹے سربراہ کے پیروکار ہیں اس کے بعد پاکستان کا یا اس محکمہ کا وفادار ہے۔ ان تمام تجزیات کے بعد فوج جیسے اہم شعبہ میں ہمارے نزدیک تو اول قادیانیوں کو بھرتی کرنا ہی صحیح نہیں۔ اگر بین الاقوامی حالات کے تناظر میں قادیانیوں کو بھرتی کرنا ضروری ہے تو پھر اس کے لئے اہم شرائط طے کی جائیں اور ایسا ضابطہ بنا لیا جائے کہ کسی صورت میں حساس جگہوں پر ان کو نہ رکھا جائے اور جو افراد قادیانیت سے توبہ کرنا چاہیں ان کے لئے ایسا ضابطہ بنایا جائے جس کی وجہ سے معلوم ہو جائے کہ یہ توبہ عہدہ کے حصول کے لئے نہیں بلکہ توبہ کے جذبہ سے ہے اس لئے سب سے بہتر تو یہ ہے کہ قادیانیت کی توبہ کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی خدمات حاصل کی جائیں۔ عالمی مجلس ختم نبوت کے دفاتر اور تبلیغی ادارے ملک کے مختلف علاقوں میں ہیں اور ان کے مبلغین بھی کام کرتے ہیں، اگر کسی قادیانی کا اسلام قبول کرنے کا ارادہ ہو تو ان دفاتر سے رجوع کر کے ان کو پہلے اچھی طرح توبہ کرائی جائے اور اس کے بعد یہ ادارے ان کو سند اسلام جاری کریں۔ اگر اس میں فوج کے لئے مشکلات ہوں تو پھر علماء کرام کا ایک بورڈ تشکیل دیا جائے جو ان افراد کو پہلے کئی دن تک اپنی نگرانی میں رکھے، ان کو شرائط کے مطابق توبہ کرائے کیونکہ عام طور پر قادیانی اس کا آسانی کے ساتھ دعویٰ کرتے ہیں کہ میں حضور ﷺ کو خاتم النبیین مانتا ہوں اور اسی طرح کا دعویٰ کر کے وہ اسلام کی سند حاصل کر لیتے ہیں یا وہ سادہ کاغذ پر لکھ دیتے ہیں اور گزشتہ تین چار سال قبل ان کے سربراہ مرزا طاہر نے ان کو تلقین کی تھی کہ وہ اپنا مذہب چھپائیں اور اس قسم کی تحریر لکھ دیں۔ لیکن اگر علماء کرام کا بورڈ ہو اور وہ ان سے صحیح طریقے سے توبہ کرائے، مرزا غلام احمد قادیانی سے متعلق عقائد کو کریدے اور پھر ان سے اقرار لیا جائے کہ قرآن اور احادیث نبویہ ﷺ میں جھوٹے مدعیان نبوت سے متعلق جو جو الفاظ آئے ہیں وہ ان الفاظ کی روشنی میں مرزا غلام احمد قادیانی کو اس کا مصداق سمجھتے ہیں، مرزا غلام احمد قادیانی کو جھوٹا، دجال اور کذاب گردانتے ہیں اس کو کسی قسم کا مصلح یا مسلمان نہیں سمجھتے بلکہ اس پر لعنت بھیجتے ہیں۔ چند دن اس طرح کرنے سے ان کے دل میں پوری طرح ایمان راسخ ہو جائے گا کیونکہ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکار یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ حضور اکرم ﷺ کو آخری نبی مانتے ہیں لیکن اگر یہ کہا جائے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو جھوٹے دعویٰ نبوت کی وجہ سے کافر اور کذاب کہو تو وہ راہ فرار اختیار کر لیتے ہیں اس لئے ان کے ایمان کی تصدیق کے لئے قادیانیوں کو ان کے منہ سے مرزا غلام احمد قادیانی کے کفر اور دجل و فریب اور جھوٹے نبی کے دعویٰ کی وجہ سے اس کا لعنتی قرار دلوانا بہت ضروری ہے جیسا کہ اگر عیسائی یا یہودی کو اسلام قبول کرائیں گے تو ایمان کی تصدیق کے ساتھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت عزیر علیہ السلام اللہ کا بیٹا ہونے کا عقیدہ اور تثلیث کے عقیدہ سے برأت کا اظہار کروانا بھی ضروری ہے۔ اگر فوج نے ایسا طریقہ اپنا لیا تو ان شاء اللہ فوج میں جھوٹا
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اسلام کا سرٹیفکیٹ پیش کر کے قادیانیوں کا حساس عہدے پر تعیناتی کا سلسلہ رک جائے گا اور فوج کی نظریاتی سرحدیں محفوظ ہو جائیں گی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۷؍ فروری تا ۵؍ مارچ ۱۹۹۸ء ص۴، ۵)
بلوچستان عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مجلس عاملہ کا اجلاس
۲۸؍ فروری ۱۹۹۸ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بلوچستان کی مجلس عاملہ کا اجلاس صوبائی امیر مولانا منیر الدین کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں شوریٰ کے رکن اور مرکزی جامع مسجد کے خطیب مولانا انوار الحق حقانی، مفتاح العلوم کے شیخ الحدیث مولانا عبدالباقی، جامعہ مسجد طوبیٰ کے خطیب مولانا قاری محمد حنیف، مولانا امان اللہ مینگل، مولانا قاری عبدالرحیم رحیمی، مولانا حسین احمد اسٹیل مل کراچی، مولانا عبدالعزیز جتوئی، قاری محمد اکبر، حاجی تاج محمد فیروز، حاجی نعمت اللہ، حاجی خلیل الرحمن، ملک سعید حسن، حافظ خادم حسین گجر اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔
اجلاس میں ملک میں بالخصوص بلوچستان میں قادیانیوں کی جارحانہ سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کیا کہ وہ صوبہ کے پرامن حالات کو خراب کرنا چاہتے ہیں اور مسلمان نوجوانوں کو ارتداد کی طرف راغب کرتے ہیں اپنے گھروں میں ڈش انٹینا دیکھنے کی دعوت دیتے ہیں اور ہر جمعہ کو اپنی عبادت گاہ میں مسلمان نوجوانوں کو زبردستی لے جاتے ہیں اس لئے حکومت قادیانیوں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھے۔ اگر مسلمانوں نے ملی اور دینی حمیت کا ثبوت دیا تو اس کے نتائج کی تمام تر ذمہ داری قادیانیوں پر ہوگی۔
اجلاس میں ایک قرارداد میں حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ قادیانیوں کو ملکی آئین کا پابند بنائے قادیانیوں نے حالیہ مردم شماری میں خود کو الگ تھلگ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے یہ اقدام ملک کے آئین سے انحراف اور قانون سے غداری ہے اس کا محض مقصد یہ ہے کہ قادیانی دنیا سے اپنی تعداد مخفی رکھنا چاہتے ہیں اجلاس نے مردم شماری میں فرائض انجام دینے والے عملے سے اپیل کی کہ وہ قادیانیوں کا اندراج ضرور کریں اور قادیانی اور لاہوری کے خانہ میں کریں۔
اجلاس نے ایک قرارداد میں اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ موجودہ حکومت ۱۹۷۳ء کے آئین کی اوور ہالنگ کرنا چاہتی ہے۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ حکومت امریکہ، یہودی اور قادیانی لابی کے دباؤ کی وجہ سے آئین میں اسلامی دفعات کو یکسر ختم کرنا چاہتی ہے یا غیر مؤثر بنانا چاہتی ہے۔ بالخصوص قادیانیوں کے بارے میں ۱۹۷۴ء کے متفقہ آئینی ترمیم اور توہین رسالت کے قوانین کو ختم کرنا چاہتی ہے۔ اس لئے دینی جماعتوں اور علماء کرام کا فرض ہے کہ وہ حکومت کے اس اقدام کی کڑی نگرانی کریں اور عوام کو باخبر رکھیں۔ اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ شہدائے ختم نبوت ۱۹۵۳ء مولانا شمس الدین شہید کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے ۱۳؍ مارچ ۱۹۹۸ء کو صوبہ بھر میں یوم شہدا منایا جائے گا۔
بلوچستان میں یوم مطالبات منایا گیا
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بلوچستان کی اپیل پر صوبہ بھر کی مساجد میں قراردادوں کے ذریعہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ قادیانیوں کو آئین پاکستان کا پابند بنایا جائے اور مردم شماری میں حصہ نہ لینے پر ان کی شہریت منسوخ کر دی جائے۔ صوبائی دارالحکومت کی سینکڑوں مساجد کے علاوہ ژوب، لورالائی، چمن، پشین، زیارت، قلعہ سیف اللہ، مچھ، ڈھاڈر، سبی، ڈیرہ مراد جمالی، ڈیرہ اللہ یار، ہرنائی، مستونگ، قلات، خضدار، خاران، نوشکی، تفتان، پنجگور، تربت اور گوادر کی سینکڑوں مساجد میں نماز جمعہ المبارک میں مندرجہ ذیل قراردادیں منظور کی گئیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ایک قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ امریکہ اور مغرب کی خوشنودی کے لئے آئین میں موجودہ اسلامی دفعات کو نہ چھیڑا جائے کیونکہ موجودہ حکومت نے آئینی ترامیم کے پیکیج کے عنوان سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کی اوور ہالنگ کا کام شروع کیا ہے پاکستان کو سیکولر ریاست بنانے کے لئے بین الاقوامی دباؤ دن بدن بڑھ رہا ہے خدشہ ہے کہ کہیں آئینی ترامیم کے پیکیج کی آڑ میں ملک کے دستور میں شامل اسلامی دفعات کو ختم کرنے یا غیر مؤثر بنانے کی کوئی سازش کامیاب نہ ہو جائے۔ یہ اجتماع حکومت کو انتباہ کرتا ہے کہ آئین میں توہین رسالت کے قانون اور قادیانیت سے متعلق آئینی ترامیم کو ختم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ مسلمان چاہے کتنا ہی گناہ گار ہو وہ ختم نبوت اور حضور نبی کریم ﷺ کی ذات کے لئے ہر قسم کی قربانی دینے سے دریغ نہیں کرے گا۔ دوسری قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ مردم شماری میں حصہ نہ لینے والے قادیانیوں کی شہریت منسوخ کی جائے۔ ۱۹۷۴ء کو پاکستان کی منتخب اسمبلی نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ قادیانیوں نے اب تک اس فیصلے کو تسلیم نہیں کیا اور وہ اب تک مردم شماری اور ووٹرلسٹوں میں اپنا نام مسلمانوں کی فہرست میں درج کراتے ہیں۔ اس سے ایک تو ان کی آبادی کا تناسب معلوم نہیں ہوتا اور دوسرا مسلمان بن کر مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہیں جو آئین پاکستان کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ اس لئے عامۃ المسلمین کا فرض ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں کڑی نگاہ رکھیں کہ قادیانی کو مسلمانوں کی فہرست میں نام درج نہ کرانے دیں بلکہ ان کا اندراج غیر مسلموں کی فہرست میں کرائیں حکومت مردم شماری میں حصہ نہ لینے والے قادیانیوں کی شہریت منسوخ کرے۔
(لولاک ملتان ۱۹۹۸ء ص۴۰، ۴۱)
مردم شماری میں قادیانیوں کی حیثیت کا تعین اور مسلمانوں کی ذمہ داری
ملک میں مردم شماری کا آغاز کر دیا گیا ہے اور ملک کے طول وعرض میں مسلح افواج کی نگرانی اور تعاون سے تین لاکھ کے قریب افراد نے خانہ شماری کے آغاز کے ساتھ گھر گھر فارموں کی تقسیم شروع کر دی ہے۔ ۵؍ مارچ سے ان فارموں کی واپسی کا کام شروع ہو گا اور ۱۸؍ مارچ تک مردم شماری کے کام کی تکمیل ہو جائے گی اور پھر اس ماہ کے اندر نتائج کا اعلان کر دیا جائے گا۔ مردم شماری آج کی ایک اہم ضرورت ہے اور اس کی روشنی میں دنیا ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتی ہے اور اس کے نتیجے میں حکومتوں کی تشکیل ہوتی ہے۔ مردم شماری کی بدولت اکثریت اور اقلیت کا تعین ہوتا ہے۔ دنیا میں آج کی زیادہ تر حکومتوں کے کاموں کا مدار مردم شماری پر ہوتا ہے اس لئے آج دنیا میں اس کی بہت زیادہ حیثیت ہے۔ مردم شماری کے حساب سے ہی ملکوں کے تشخصات کا تعین ہوتا ہے جس ملک میں جس مذہب کے لوگ اکثریت میں ہوں اس ملک کا مذہب انہی افراد کے مذہب پر ہوتا ہے اور مردم شماری کے لحاظ سے اقلیتوں کی تعداد کا تعین کر کے ان کے حقوق کا تعین کیا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہر دس سال کے بعد ملکوں میں دوبارہ مردم شماری کرائی جاتی ہے۔ ہمارے ملک میں بدقسمتی سے ہر قدم سیاسی عناصر کی بدولت ہے اس لئے مردم شماری میں سیاسی حالت کو پیش نظر رکھا جاتا ہے اور ہر حکومت اس مسئلہ میں سنجیدگی اختیار نہیں کرتی۔ ۱۹۹۱ء میں اصولی طور پر مردم شماری ہونا چاہئے تھی لیکن ملتوی ہوتے ہوئے آج ۱۹۹۸ء میں بھی آخری مراحل تک التواء کی خبریں آتی رہیں۔ بہرحال آخری دن مردم شماری کا آغاز کر دیا گیا۔ مردم شماری کا آغاز ہوتے ہی چاروں طرف سے اس پر اعتراضات کی بوچھاڑ شروع ہو گئی اور آج تو اپوزیشن پارٹی کی سب سے بڑی لیڈر بے نظیر بھٹو صاحبہ نے مردم شماری کو ملک توڑنے کی طرف قدم کے مترادف قرار دیا۔ کوئٹہ میں مردم شماری کے عملے کو کام کرنے نہیں دیا جا رہا ہے۔ اس طرح کے اعلانات اندرون سندھ سے بھی آئے ہیں اور دیہی اور شہری علاقوں میں اس کو خلیج قرار دیا ہے۔ یہ تو تمام سیاسی اعتراضات تھے اور سیاسی حوالے سے اس کا جواب دیں گے۔ مردم شماری کے سلسلے میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی چند گزارشات پیش کرنا ضروری ہے:
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیانیوں نے انگریزوں کے زمانے میں وائسرائے کو خود خط تحریر کیا تھا کہ ان کا نام مسلمانوں سے الگ فہرست میں شامل کیا جائے اور اس بنا پر کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت میں کمی واقع ہوئی تھی۔ پاکستان بننے کے بعد قادیانیوں نے مسلمانوں کو کافر قرار دے کر خود مسلمان بن کر پاکستان پر قبضہ کرنے کی کوشش کی اور سر ظفر اللہ وزیر خارجہ نے اس سلسلے میں اہم کردار ادا کیا۔ پوری دنیا میں قادیانیت کی تبلیغ اسلام کے نام پر شروع کی۔ مرزا بشیر الدین نے کہا تھا کہ ۱۹۵۲ء گزرنے نہ پائے کہ بلوچستان قادیانی اسٹیٹ بن جائے۔ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے اعلان فرمایا کہ پاکستان کو قادیانی اسٹیٹ بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کا آغاز ہوا۔ پاکستان قادیانی اسٹیٹ بننے سے بچ گیا۔ لیکن دس ہزار مسلمانوں نے جان کا نذرانہ پیش کیا، ایک لاکھ سے زائد جاں نثاران ختم نبوت نے پس دیوار زنداں ہونا قبول کیا۔ بہر حال تحریک دب گئی لیکن پاکستان بچ گیا۔ ۱۹۷۴ء میں مرزا طاہر اور مرزا ناصر کے دماغ پر پھر پاکستان پر قبضہ کا دورہ پڑا، کیونکہ فضائیہ چیف قادیانی تھا، فوج کے کئی جرنیل قادیانی تھے، اہم عہدوں پر فائز تھے، بھٹو صاحب قادیانیوں کی حمایت سے اقتدار میں آئے تھے، ایم ایم احمد قادیانی کی سازش سے ملک دولخت ہوا تھا۔ ربوہ اسٹیشن پر ختم نبوت زندہ باد کی پاداش میں نشتر کالج کے مسلمان طلباء کو مارا پیٹا گیا، تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء کا آغاز ہوا، اور ۷ ستمبر کو قادیانی اقلیت قرار پائے۔ شہدائے ۱۹۵۳ء کا خون ۲۱ سال بعد رنگ لایا۔ اس وقت سے مسلمان مطالبہ کر رہے ہیں کہ پاسپورٹ اور شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ الگ کر کے قادیانی اور مسلمان کے درمیان حد امتیازی قائم کی جائے لیکن حکومت اس کے لئے تیار نہیں ہوئی، اس لئے قادیانی مسلمان بن کر دھوکہ دیتے رہے۔ گزشتہ کئی انتخابات میں ووٹر لسٹ تیار تو ہوگئی۔ قادیانیوں کی جانب سے باقاعدہ اشتہارات اخبارات میں چھپے کہ نہ ووٹرلسٹوں میں نام درج کرائیں اور نہ ہی اس میں حصہ لیں۔ اس کے ساتھ مرزا طاہر اعلان کرتے رہے کہ ہماری تعداد میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے اور ۱۹۹۰ء میں انہوں نے اعلان کیا کہ اس سال دس لاکھ افراد قادیانیت میں داخل ہوئے ان کے اس اعلان کی تردید یا تصدیق اس لئے نہیں کی جاسکتی تھی کہ اعداد و شمار میں کہیں قادیانیوں کا تذکرہ نہیں۔ اب مردم شماری شروع ہوگئی ہے ’’دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی‘‘ کے مصداق تعین اور فیصلہ ہو جانا چاہئے کہ پاکستان میں کتنے قادیانی بستے ہیں تا کہ اس کے حساب سے ان کے حقوق کا تعین کیا جاسکے اور ان کے جھوٹے پروپیگنڈوں کا جواب دیا جاسکے اس لئے حکومت پاکستان سے ہمارا مطالبہ ہے کہ وہ مردم شماری کے عمل میں اس بات کو خاص طور پر یقینی بنائے کہ قادیانی مردم شماری کے عمل میں حصہ لیں اور اس کے ساتھ اس بات کو بھی یقینی بنانا ضروری ہے کہ وہ مسلمان کی حیثیت سے مسلمانوں کی فہرست میں نام درج نہ کرائیں بلکہ قادیانیوں کی فہرست میں ان کا نام درج ہو اور یہ کوئی مشکل کام نہیں۔ ربوہ شہر کا ایک بہت بڑا حصہ قادیانی آبادی پر مشتمل ہے۔ کراچی اور دیگر شہروں میں بھی قادیانیوں کی کالونیاں ہیں، ان میں ان کا نام قادیانیوں کی فہرست میں شامل کرنے کا اہتمام کیا جائے۔ اگر کسی قادیانی کی جانب سے مسلمانوں کی فہرست میں نام درج کرایا جائے تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے، یہ تو حکومت سے گزارشات تھیں اب مسلمانوں سے گزارش ہے کہ وہ مردم شماری میں خاص اہتمام سے حصہ لیں، ایک ایک مسلمان کا نام اندراج کرائیں تا کہ ملک کی آبادی میں ۹۹ فیصد مسلمانوں کی اکثریت واضح ہو اور یہ ملک نبی اکرم ﷺ کے جاں نثاروں کے ملک کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر ابھرے، اسی طرح اپنے اپنے علاقوں اور محلوں میں اس کا اہتمام کریں کہ کوئی قادیانی مسلمانوں کی فہرست میں اپنا نام درج نہ کرائے بلکہ قادیانیوں کی فہرست میں قادیانیوں کا نام درج کرانے کے لئے کوشش کریں تا کہ قادیانیوں کی جانب سے مسلمانوں کو دھوکہ دینے کا مسئلہ ختم ہو اور قادیانیوں کی تعداد کا تعین ہو جائے۔ اگر اس مردم شماری کے موقع پر ہم نے یہ کام کر لیا تو ان شاء اللہ! اس کے بہت اچھے اثرات مرتب ہوں گے اور دنیا بھر میں قادیانیوں کا جھوٹا پروپیگنڈہ بھی زائل ہو گا اور ان کی تعداد کے اعتبار سے ان
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کے حقوق کا تعین بھی کیا جاسکے گا۔ اسی طرح مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے قادیانی امیدواروں کی کوششوں کو ناکام بنادیں اور کسی مسلمان کا نام قادیانیوں کی فہرست میں درج نہ کرانے دیں تاکہ قادیانیوں کی تعداد میں جھوٹا اضافہ نہ ہو۔
جماعت احمدیہ کے ترجمان کی ہرزہ سرائی
جماعت احمدیہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستانی قادیانیوں کے خلاف مہم چلا رہے ہیں حالانکہ قادیانی مردم شماری میں بھرپور حصہ لے رہے ہیں۔ جماعت احمدیہ کے ترجمان نے یہ وضاحت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی جانب سے جنگ اخبار میں ایک اشتہار اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی جانب سے دفتر ختم نبوت ملتان میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس میں علماء کرام کے خطاب پر کی ہے جو اخبارات میں شائع ہوئی ہے۔ ہم ترجمان جماعت احمدیہ سے یہ پوچھنا چاہیں گے کہ ”چور کی داڑھی میں تنکا“ کے مصداق وہ علماء کرام کے ان بیانات پر اخباری اشتہار پر سیخ پا کیوں ہو گئے؟ علماء کرام نے اشتہار میں کہیں یہ نہیں کہا کہ قادیانی مردم شماری میں حصہ نہیں لے رہے بلکہ حکومت سے یہ کہا گیا کہ وہ قادیانیوں کو آئین پاکستان کے مطابق مردم شماری میں حصہ لینے کا پابند بنائے اور ان کے ناموں کا اندراج قادیانیوں کی فہرست میں کرائے۔ اب ان سطور کے ذریعہ آپ سے یہ پوچھنا ہے کہ آپ مردم شماری میں قادیانیوں کی حیثیت سے حصہ لے رہے ہیں یا مسلمانوں کی حیثیت سے؟ اگر اس کی وضاحت فرما دیں تو بہت اچھا ہوگا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ آپ قادیانی کی حیثیت سے نام درج کرائیں۔ اگر یہ کرتے ہیں تو بہت خوش آئند بات ہے اور اگر مسلمان کی حیثیت سے نام درج کراتے ہیں تو یہ خلاف قانون ہے اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور علماء کرام کو اس پر احتجاج کا حق ہے۔ جماعت احمدیہ کے ترجمان پر واضح ہو کہ علماء کرام یہ احتجاج یا مذہبی بیانات مفروضات کی بنا پر نہیں بلکہ آپ کے اپنے اشتہار کی بنیاد پر جاری کر رہے ہیں۔ آپ نے تمام مریدین کو ہدایت جاری کی تھی کہ وہ ووٹر لسٹ میں نام درج نہ کرائیں اور جن کے نام درج ہو گئے، انہوں نے بھی چیف الیکشن کمشنر کو واپسی کے لئے کہہ دیا ہے۔ اگر آپ مسلمانوں کی فہرست میں نام درج کراتے ہیں تو ان تمام لوگوں کو جو مرزا غلام احمد قادیانی کو نہیں مانتے اور ان کا نام اس فہرست میں شامل ہے۔ ان کے بارے میں آپ کا عقیدہ کیا ہے۔ اگر آپ کا عقیدہ بدل گیا ہے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ اگر وہ مسلمان ہیں تو پھر مرزا غلام احمد قادیانی کے قول کو نہ ماننے کی وجہ سے اس فہرست میں نام درج کرانے والے قادیانی مرزا غلام احمد قادیانی کے منکر ہو گئے یا انہوں نے تصفیہ کر لیا ہے۔ بہر حال ہم تو آپ سے پوچھنا چاہیں گے کہ آپ مردم شماری میں اپنے ناموں کا اندراج کس حیثیت سے کرا رہے ہیں، مسلمان یا قادیانی؟ ویسے ہمارا مشورہ ہے کہ اب آپ قادیانیوں کی فہرست میں نام درج کرائیں تاکہ آپ کے خلیفہ صاحب کے جھوٹ کا پول کھل جائے کہ روزانہ ہزاروں کی تعداد میں قادیانیوں کا اضافہ ہو رہا ہے غالباً آپ اس جھوٹ کی قلعی نہ کھلنے کے پیش نظر قادیانیوں کی فہرست میں نام درج کرانے سے احتراز کرتے ہیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۳ تا ۱۹ / مارچ ۱۹۹۸ء ص۴، ۵)
پی آئی اے میں قادیانیوں کی نئی شرارتیں، چیئرمین قادیانیوں کے نرغے میں
پی۔ آئی۔ اے پاکستان کا قومی ادارہ ہے اس کے تحفظ اور استحکام کی ذمہ داری ہر مسلمان پر عائد ہوتی ہے۔ اسی اصول کے پیش نظر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پی آئی اے میں قادیانیوں کی سرگرمیوں پر نگاہ رکھتی ہے اور وقتاً فوقتاً پی آئی اے کی انتظامیہ کو اس سے باخبر رکھتی ہے کہ قادیانیوں کا ہمیشہ سے طریقہ کار یہ رہا ہے کہ وہ اپنے عہدے سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ظاہری طور پر وہ ادارہ کے خیر خواہ بنتے ہیں، پی آئی اے میں قادیانیوں نے جو ریشہ دوانیاں کیں اس کی ہلکی سی جھلک ملاحظہ فرمائیں:
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
”ہزاروں ٹن قادیانی لٹریچر بلا معاوضہ مختلف ممالک میں بھیج کر اسلام اور پاکستان کے خلاف تبلیغی سرگرمیاں انجام دیں، اسلامی شعبہ پر قبضہ کر کے سیرت النبی ﷺ کا جلسہ کرانے کی کوشش کی۔ قادیانی افسر تبسم منہاس نے مختلف شعبوں میں قادیانی افسران کو بھرتی کیا، دو ایجنسیاں کھول کر پی آئی اے میں قادیانی افراد کی تقرریاں کرائیں، پی آئی اے کی مساجد میں ایسے افراد کی بھرتی کی گئی جو قادیانیوں سے متعلق شدت پسند جذبہ نہ رکھتے ہوں، چیف پائلٹ کے عہدہ پر قادیانی پائلٹ کو مقرر کیا گیا جس کی وجہ سے شعبہ پائلٹ میں مسلمانوں کو کامیاب ہونے نہیں دیا جاتا۔ وی آئی پی فلائٹ پر قادیانی پائلٹوں اور افسران کو بھیجا جاتا ہے اس طرح قادیانی کافر ہونے کے باوجود بیت اللہ شریف اور روضہ اقدس ﷺ کو نجس بنانے کی کوشش کر چکے ہیں۔“
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں نے جناب شاہد خاقان عباسی کے چیئرمین بننے کے بعد ان سے ملاقات کی تھی اور ان کے سامنے تمام تفصیلات رکھی تھیں، چیئرمین نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس سلسلے میں تحقیقات کر کے علماء کرام کو اعتماد میں لیں گے اور اس عظیم ادارہ کو اس سازش سے بچائیں گے لیکن ہماری اطلاع کے مطابق ”ہر کہ دکان نمک رفت نمک شد“ اس کے مصداق پر چیئرمین کو بھی قادیانیوں نے اپنے نرغے میں لے لیا اور ”سب اچھا ہے“ کا خوشامدی ٹولہ چیئرمین کو اپنے گھیرے میں رکھتا ہے۔ اس لئے ان کو اب ان باتوں کی طرف توجہ نہیں۔ جناب شاہد خاقان عباسی صاحب آپ تو نوجوان ہیں۔ تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء آپ نے دیکھی نہیں ہوگی، ۱۹۷۴ء کی تحریک کا آپ کو کچھ اندازہ ہوگا۔ قادیانی یہ تو وہ بددیانت اور غدار قوم ہے، جس نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ وفاداری نہیں کی، اس قوم کے سب سے بڑے مخلص فرد نے قائد اعظم محمد علی جناح کا جنازہ نہیں پڑھا، اس محمد علی جناح کا جس نے ظفر اللہ کو خاک سے اٹھا کر آسمان تک پہنچایا، منہ بولا بیٹا بنایا، اس قوم کے فرد نے فضائیہ کا سربراہ بن کر اپنے سالانہ جلسے پر مرزا ناصر کو سلامی دلوائی اور جب اس وقت کے وزیر اعظم نے پوچھا تو اس نے کہا کہ میں پہلے اپنے سربراہ کے حکم کا پابند ہوں بعد میں پاکستان کے آئین کا پابند ہوں۔ اس قوم کے ایک فرد نے مشرقی پاکستان کے سقوط میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ قوم کسی صورت میں آپ کی یا پاکستان کی یا پی آئی اے کی وفادار نہیں ہو سکتی۔ اس کی بد دیانتی کی جھلک ملاحظہ فرمائیں:
”گیمبیا ایک غریب افریقی ملک ہے، عیسائیوں کی طرح قادیانیوں نے اس ملک میں ڈاکٹروں، شفاخانوں، اور اسکولوں کے ذریعہ قادیانیت کی تبلیغ شروع کی، شعبہ صحت تقریباً قادیانیوں کے ہاتھ میں تھا، یہ افریقہ کے مسلمانوں کو اسلام کی آڑ میں گمراہ کرتے تھے، ایک عالم دین نے جب ان کی سرگرمیوں کو اس انداز میں دیکھا تو تشویش ہوئی اور اس نے ان کے خلاف مسلمانوں کو اور حکومت کو متوجہ کیا جس پر موجودہ قادیانیوں کے سربراہ مرزا طاہر خفا ہو گئے اور انہوں نے دھمکی دی کہ اس عالم دین کو روکا جائے ورنہ ڈاکٹروں کو واپس بلا لیا جائے گا۔ مسلمان کس طرح دین کی حفاظت سے رک سکتے تھے؟ مرزا طاہر نے سب ڈاکٹر واپس بلا لئے اور ایک بحران ملک میں پیدا کر دیا لیکن سلام ہو گیمبیا کی حکومت پر وہاں کے مسلمانوں پر اور اس عالم دین پر کہ انہوں نے کہا کہ ہم مر جائیں گے لیکن نبی کریم ﷺ کی عظمت کو پامال نہیں ہونے دیں گے۔ مرزا طاہر بہت چیخا، اپنی کرامتیں ظاہر کیں لیکن آخر کار گھٹنے ٹیکنے پڑے کیوں کہ بے روزگار ڈاکٹروں نے ناطقہ بند کر دیا اس شرط پر واپس ہوئے کہ تبلیغ نہیں کریں گے، اطلاعات کے مطابق گیمبیا حکومت نے قادیانیوں کے غیر مسلم اقلیت ہونے کا فیصلہ کر دیا۔“
جناب شاہد خاقان عباسی صاحب! قادیانیوں کا علاج وہی ہے جو گیمبیا کی حکومت نے کیا، اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ان سے مروت کر کے ان کے دل نرم کر دیں گے تو یہ آپ کی خوش فہمی ہے۔ یہ اس مروت کو کمزوری سمجھتے ہیں اور سر پر چڑھتے ہیں اور تبلیغ کا سلسلہ شروع کر دیتے ہیں، آپ اپنے کام میں مگن ہوں گے اور یہ آپ کو اندر ہی اندر ڈستے ہیں، آپ کو جب پتہ چلے گا۔ جب آپ کے
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سر سے پانی اوپر ہو چکا ہوگا۔ آپ کو حسرت اور ندامت کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔ آپ کو تبسم منہاس کی شرارتوں سے مطلع کیا گیا تھا۔ آپ نے ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی، آپ کو مطلع کیا تھا کہ جدہ میں منیجر ایڈمن کی حیثیت سے قادیانی کا تقرر کر دیا گیا، آپ سے کہا گیا کہ شعبہ اسلامی میں قادیانیوں کی ریشہ دوانیاں بہت ہو گئی ہیں۔ ہماری اطلاع کے مطابق اس وقت غضنفر نامی ڈائریکٹر قادیانی شعبہ اسلام کا کرتا دھرتا ہے اور ان لوگوں نے شرارت کر کے شعبہ اسلامی کے سابق ڈائریکٹر مولانا ابوبکر کو مسجد سے بے دخل کر دیا۔ ان کے گھر سے زبردستی سامان نکال کر پھینکا، ان کے گھرانے کو ہراسان کیا۔ مولانا ایک منفرد عالم دین ہیں۔ پی آئی اے کے لئے ان کی بہت سی خدمات ہیں، شعبہ اسلامی کو قادیانیوں کی ریشہ دوانیوں سے بچانے کے لئے ان کا بہت بڑا کردار ہے۔ ائیر پورٹ مسجد انہوں نے تعمیر کرائی اس مسجد میں ان کا تقرر بحیثیت ملازم نہیں بلکہ ایک معزز عالم دین اور خطیب کی حیثیت سے ہوا۔ چند قادیانیوں کی شرارت پر ان کو نکال دینا صریح ناانصافی ہے۔ اللہ کے سامنے ہر شخص نے جواب دینا ہے، بحیثیت پی آئی اے کے چیئرمین کے، پی آئی اے میں ہونے والی ہر زیادتی کا حساب آپ کو دینا ہوگا کیونکہ نبی کریم ﷺ نے واضح طور پر فرمایا ’’تم میں سے ہر شخص مسئول ہے قیامت کے دن اس سے اس کے محکمے کے بارے میں سوال ہوگا ۔‘‘ خلیفہ ثانی حضرت عمرؓ نے ایک پریشان حال عورت کی شکایت کے جواب میں فرمایا: ’’عمر کو تیری تکلیف کا کیا پتہ تو اس نے بے ساختہ جواب دیا کہ اگر آپ کو اپنی رعایا کا پتہ نہیں تو خلیفہ کیوں بنے؟ حضرت عمرؓ رونے لگے اور فرمانے لگے: عمر ! تیرے لئے ہلاکت ہو اور پھر اس عورت کی پریشانی دور کر کے اس سے معافی مانگنے لگے۔ جب تک اس نے معاف نہیں کیا آپ واپس نہیں ہوئے۔‘‘
جناب شاہد خاقان عباسی صاحب! آپ بڑے باپ کے بیٹے ہیں، ہماری اطلاع کے مطابق آپ کے پاس اتنی دولت ہے کہ آپ کی نسلوں کے لئے کافی ہے۔ آپ دولت کے حصول کے لئے پی آئی اے میں نہیں آئے، بلکہ قومی جذبہ سے پی آئی اے کے چیئرمین بنے ہیں اگر آپ کے دور میں اور مال و دولت کے پجاریوں کے دور میں کوئی فرق نہیں تو پھر آپ سراسر نقصان اور خسارہ میں ہیں۔ آپ کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ اگر ایک قادیانی بھی آپ کے دور میں بیت اللہ شریف اور روضہ اقدس ﷺ پر حاضر ہو گیا تو قیامت کے دن نبی اکرم ﷺ آپ سے اپنا چہرہ مبارک پھیر لیں گے۔ اگر ایک قادیانی اپنی تعداد سے زیادہ پی آئی اے میں بھرتی ہو گیا تو قیامت کے دن آپ سے سوال ہوگا، اگر کسی مسلمان کی قادیانی نے پی آئی اے میں حق تلفی کی تو اس کی باز پرس بھی آپ سے ہوگی، اگر ایک کتابچہ بھی قادیانیت کا پی آئی اے کے ذریعے کسی ملک چلا گیا ۔ جب تک وہ کتابچہ مسلمانوں کو گمراہ کرتا رہے گا آپ کے نامہ اعمال میں گناہ لکھے جاتے رہیں گے۔ ایک مسجد میں اگر قادیانی شامیانہ نصب کیا تو اس کا گناہ آپ کے سر ہوگا، اگر کوئی مسلمان ملازم قادیانیوں کی زیادتی کی وجہ سے نکالا گیا تو اس کا خمیازہ قیامت کے دن آپ کو بھگتنا پڑے گا۔ مولانا ابوبکر پر جو زیادتی ہوئی ہے اس کا ازالہ اگر آپ نے نہیں کیا، امام صاحب کی حیثیت سے ان کو بحال نہیں کیا تو قیامت کے دن اس امام صاحب کا ہاتھ ہوگا اور آپ کا گریبان ہوگا۔ خدارا! ہماری باتوں کو اہمیت نہ دیں، ہمیں کوئی عزت اور مقام نہ دیں، لیکن حضور اکرم ﷺ کے دشمنوں کو اس طرح جگہ دینا، ان کے ساتھ مروت کرنا نبی اکرم ﷺ کے ساتھ وفاداری نہیں ہے۔ خدارا! تنہائی میں بیٹھ کر ہماری ان گزارشات پر غور کریں۔ پی آئی اے کے افراد سے تحقیقات نہ کرائیں، اپنے خاص بندوں یا عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ذمہ داروں سے ثبوت مانگیں اگر ثبوت فراہم نہ کر سکیں تو ہمیں جیل میں بند کرا دیں۔ خدارا! تبسم منہاس کو برطرف کر کے غیرت ایمانی کا ثبوت دیں ورنہ پی آئی اے کے ذریعے قادیانیت کی ساری تبلیغ کا سارا وبال آپ پر ہوگا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۶ تا ۱۲ / مارچ ۱۹۹۸ء ص ۲، ۵)
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قصور میں دفتر ختم نبوت پر حملہ
قصور میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ اور رہنما پر قادیانیوں نے اچانک حملہ کر دیا اور قتل کی کوشش کی۔ مسلمانوں کی بروقت مداخلت کی وجہ سے وہ ان کو شہید کرنے میں ناکام ہو گئے ، اخباری اطلاع کے مطابق مولانا قادیانیوں کے خلاف تقاریر کرتے تھے اور ان کی غیر آئینی سرگرمیوں کو عدالت میں چیلنج کرتے تھے، کبھی بھی انہوں نے قانون کو ہاتھ میں نہیں لیا، بلکہ جب بھی قادیانی اشکال پیدا کرنے کے لئے کوئی غیر قانونی حرکت کرتے تو وہ لوگوں کو مشتعل کرنے کی بجائے عدالت کا رخ کرتے اور قادیانیوں کو آئین کا پابند بنانے پر زور دیتے لیکن قادیانیوں کو یہ بھی برداشت نہیں تھا کہ کوئی ان کو قانون کا پابند بنانے کے لئے کہے اس لئے ہمیشہ قادیانی ان کی تاک میں رہتے ۔ گزشتہ روز ان کو اکیلا پا کر چار قادیانی نوجوانوں نے ان پر حملہ کر دیا۔ ایک ساتھی کے اچانک دیکھ لینے پر قادیانیوں کا یہ منصوبہ ناکام ہو گیا، اور وہ قادیانی گرفتار ہوئے۔
ایک اسلامی ملک میں یہ واقعہ اتنا سنگین ہے کہ اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ قادیانیوں کی اتنی جرات کہ وہ اکثریتی علاقے میں ایک مسلمان مبلغ کو قتل کرنے کی کوشش کریں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ کے تحمل کو داد دینی پڑتی ہے کہ باوجود اتنی سنگین حرکت کے اس نے تحمل کا مظاہرہ کیا۔ اگر وہ چاہتے اور قانون کو ہاتھ میں لیتے تو مشتعل ہجوم کے سامنے چند قادیانیوں کا ختم ہو جانا کوئی مشکل کام نہیں تھا۔ لیکن انہوں نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا۔ اس صبر و تحمل کے مظاہرہ کو کمزوری پر محمول نہیں کرنا چاہئے بلکہ اسلام کی دعوت اور عفو و درگزر کا معاملہ اور قانون کی پاسداری پر محمول کرنا چاہئے اور مجرمین کو قرار واقعی سزا دینی چاہئے تاکہ آئندہ کسی قادیانی کو ایسی جرات نہ ہو، ہمارے ملک کی بدقسمتی ہے کہ یہاں قانون کی حکمرانی نہیں بلکہ جو قانون کی طرف رجوع کرے اس کو کمزور سمجھا جاتا ہے اور انتظامیہ اس کی بات سننے کے لئے تیار نہیں ہوتی اور جو لوگ قانون کو ہاتھ میں لے کر توڑ پھوڑ کرتے ہیں۔ اس سے انتظامیہ ڈرتی ہے۔ قادیانی پوری دنیا میں جھوٹا پروپیگنڈہ کرتے ہیں۔ پاکستان کو بدنام کرتے ہیں، خود پورے پاکستان میں مسلمانوں پر ظلم کرتے ہیں۔ مسلمانوں کی جائیداد پر قبضہ کرتے ہیں۔ ربوہ، سرگودھا، اور بعض ایسے علاقوں میں جہاں قادیانیوں کی اکثریت ہے مسلمانوں کو آباد ہونے، تقریر کرنے نہیں دیتے۔ اگر کوئی قادیانی ربوہ میں مسلمان ہو جائے اس کو قتل کر دیتے ہیں۔ اگر کوئی قادیانی مسلمان ہو اس کو زبردستی قادیانی بناتے ہیں، بڑی بڑی سیٹوں پر قبضہ کرتے ہیں، کسی محکمے میں قادیانی ہوں تو وہاں کسی مسلمان کو ٹکنے نہیں دیتے ، سرکاری مراعات لالچ دے کر قادیانی بنانے کی کوشش کرتے ہیں، زبردستی اسلامی شعائر کا مذاق اڑاتے ہیں، کلمہ طیبہ اور قرآنی آیات کو غلط مفہوم میں آویزاں کر کے توہین کرتے ہیں، مسلمان اگر اس سے تنگ آ کر عدالت میں جائیں، ایف آئی آر کٹوائیں تو پوری دنیا میں شور مچا دیتے ہیں، قتل کرنے تک سے دریغ نہیں کرتے ، مبلغ ختم نبوت پر حملہ تازہ مثال ہے۔ آپ اندرون سندھ شادی لارج، بدین کے علاقوں میں چلے جائیں، سرگودھا کے علاقے میں چلے جائیں آپ کو یہ مناظر عام ملیں گے۔ ہم ان سطور کے ذریعہ مرزا طاہر سے پوچھنا چاہیں گے اور ایمنسٹی انٹرنیشنل پر واضح کرنا چاہیں گے کہ مسلمان مبلغین پر قاتلانہ حملے، مسلمانوں کو اپنے مذہب کے بارے میں تقریر کرنے سے روکنا بنیادی حقوق کے منافی ہے یا نہیں؟ پاکستان میں مسلمانوں کو جینے نہیں دیا جا رہا یا قادیانیوں کو؟ مسلمانوں پر ظلم ہو رہا ہے یا قادیانیوں پر؟ مرزا غلام احمد قادیانی سے لے کر مرزا طاہر تک کی تاریخ اٹھا لیں، کس کے افراد زیادہ نشانہ ستم ہوئے، کس کے لوگوں کو زیادہ مارا گیا، کس علاقے میں قادیانیوں کو جانے پر پابندی عائد کی گئی، کتنے پر مقدمے چلے، امیر شریعت کو قادیان جانے کی اجازت نہیں دی گئی تھی ، مسلمان مبلغین پر ربوہ میں جانے کی پابندی تھی، مسلمان
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مبلغ کو قادیان میں زخمی کیا گیا، تمام علماء مجلس تحفظ ختم نبوت کو جیلوں میں ڈالا گیا، قادیانیوں نے آئین کی دھجیاں بکھیریں ان کو تحفظ دیا گیا، کیا یہی انصاف ہے، یہی انسانی حقوق ہیں،؟ کچھ تو شرم کریں، کب تک جھوٹے پروپیگنڈہ کے ذریعے غیر مسلموں کی حمایت سے مسلمانوں کو نقصان پہنچاتے رہیں گے۔ یادرکھیں حق کا بول بالا ہوگا، یہ تو ایک حملہ ہے اگر انگریزوں کے مظالم عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بزرگوں کو اس مشن سے نہیں روک سکے تو مرزا طاہر اور اس کے گرگوں کے قاتلانہ حملوں سے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کا مشن کیسے رکے گا؟ حکومت سے مطالبہ ہے کہ فوری طور پر مجرموں کو عبرتناک سزا دے اور قادیانیوں کو آئین کا پابند بنائے ورنہ حالات کی خرابی کی ذمہ داری حکومت پر ہوگی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۲۰ تا ۲۶؍ مارچ ۱۹۹۸ء ص ۵)
مجلس علماء اسلام کا قیام اتحاد علماء کی ایک امید افزاء کوشش
حضرت مولانا زاہد الراشدی، حضرت مولانا سید عطاء المومن شاہ بخاری اور حضرت مولانا مفتی حبیب الرحمٰن درخواستی ایک عرصہ سے دیوبندی مسلک کی جماعتوں، اداروں اور شخصیات پر مشتمل ایک مشترکہ ”فورم“ کے لئے کوشاں تھے۔ اس کے لئے ۲۴؍ نومبر ۱۹۹۷ء کو گکھڑ میں، پھر ۲۰؍ دسمبر ۱۹۹۷ء کو گوجرانوالہ میں اور اب ۱۶؍ فروری ۱۹۹۸ء کو لاہور میں اجلاس منعقد کئے۔ یہ تمام اجلاس حضرت مولانا شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر مدظلہ کی صدارت میں منعقد ہوئے۔
لاہور کے اجلاس میں حضرت اقدس سید انور حسین نفیس رقم مدظلہ، مولانا فداء الرحمٰن، مولانا قاضی عصمت اللہ، مولانا محمد عبداللہ، مولانا قاری محمد سعید الرحمٰن، مولانا محمد نذیر، مولانا سید عطاء المومن بخاری، مفتی غلام قادر، مولانا عبدالرؤف فاروقی، مولانا قاری جمیل الرحمٰن، مولانا محمد ظفر احمد، قاسم، مولانا مفتی حبیب الرحمٰن، مولانا عبدالرؤف ربانی، مولانا محمد اشرف علی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا عبدالعزیز، مولانا اللہ وسایا قاسم، قاری عبید اللہ طاہر، مولانا ظفر اللہ شفیق شریک ہوئے۔
اجلاس میں گزشتہ اجلاسوں کے فیصلوں کی توثیق کرتے ہوئے طے پایا کہ:
- ۱...... ”مجلس علماء پاکستان“ مندرجہ ذیل مقاصد کے لئے کام کرے گی۔ (۱) پاکستان کی اسلامی نظریاتی حیثیت، وحدت، سالمیت اور
خودمختاری کا تحفظ۔ (۲) ملک کے داخلی معاملات میں امریکہ اور اس کے حواری ممالک اور اداروں کی بڑھتی ہوئی مداخلت کی روک تھام۔ (۳) مغرب کی ثقافتی یلغار کا مقابلہ۔ (۴) دینی مدارس کے آزادانہ کردار اور خودمختاری کا تحفظ۔ (۵) دہشت گردی کے اسباب وعوامل کی نشان دہی اور ان کا سدباب۔
- ۲...... باضابطہ انتخابات تک شیخ الحدیث حضرت مولانا سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم مجلس علماء کے امیر ہوں گے۔
- ۳...... مولانا سید عطاء المومن شاہ رابطہ سیکرٹری ہوں گے، جب کہ ان کے ہمراہ مندرجہ ذیل حضرات پر مشتمل کمیٹی کام کرے گی۔ مفتی محمد
جمیل خان کراچی، مفتی حبیب الرحمٰن خانپور، مولانا اشرف علی راولپنڈی، مولانا عبدالرؤف فاروقی لاہور، مولانا مفتی غلام قادر خیر پور، مولانا قاری نذیر فاروقی اسلام آباد، مولانا بشیر احمد شاد چشتیاں، مولانا محمد احمد لدھیانوی ٹوبہ ٹیک سنگھ، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی لاہور، اور مولانا ابوعمار زاہد الراشدی۔
- ۴...... ۲۳؍ مارچ ۱۹۹۸ء کو لاہور میں مجلس عمل پاکستان کے زیر اہتمام کل پاکستان علماء کنونشن منعقد ہوگا، جس میں مجلس عمل کے پروگرام
اور جدوجہد کے طریقہ کار کا اعلان کیا جائے گا اور مجلس عمل میں شامل جماعتوں کے قائدین خطاب کریں گے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۵...... پروگرام کی تفصیلات طے کرنے کے لئے ۲۲/ مارچ ۱۹۹۸ء کو لاہور میں مجلس عمل کا اجلاس ہوگا۔
رابطہ سیکرٹری مولانا سید عطا المومن شاہ بخاری کی مہیا کردہ فہرست کے مطابق اب تک جن جماعتوں نے ”مجلس عمل علماء اسلام پاکستان“ میں شرکت کا اظہار کیا ہے، ان کے نام درج ذیل ہیں۔
(۱) جمعیت علماء اسلام پاکستان، مولانا فضل الرحمٰن، (۲) جمعیت علماء اسلام پاکستان، مولانا سمیع الحق، (۳) پاکستان شریعت کونسل، (۴) سپاہ صحابہ پاکستان، (۵) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، (۶) مجلس احرار اسلام پاکستان، (۷) تنظیم اہل سنت پاکستان، (۸) جمعیت اشاعت التوحید والسنہ، (۹) جمعیت اہل سنت پاکستان، (۱۰) مجلس تحفظ حقوق اہل سنت پاکستان، (۱۱) انٹرنیشنل ختم نبوت مومنٹ، (۱۲) جمعیت علماء اسلام آزاد جموں و کشمیر، (۱۳) وفاق المدارس العربیہ پاکستان، (۱۴) مجلس علماء اہل سنت پاکستان، (۱۵) سواد اعظم اہل سنت پاکستان، (۱۶) حرکت الانصار، (۱۷) جمعیت المجاہدین۔
ضروری وضاحت: ”مجلس علماء“ کوئی مستقل جماعت نہیں ہے بلکہ ہم مسلک جماعتوں کے باہم مل بیٹھنے اور مشترکہ نکات پر مشترکہ جدوجہد کے مواقع فراہم کرنے کا ایک پلیٹ فارم ہے جسے آپ زیادہ سے زیادہ متحدہ محاذ کہہ سکتے ہیں۔ اس مجلس علماء کا جماعتوں کے داخلی معاملات اور باہمی سیاسی کشمکش سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہوگا اور مجلس علماء کی جدوجہد خالصتاً ان دینی نظریاتی اور مسلکی اہداف تک محدود رکھا جائے گا، جو باہمی مشاورت سے طے ہوں گے۔ اس لئے کاروان ولی اللہی تعلق رکھنے والی تمام جماعتوں، حلقوں، علمی و دینی مراکز، شخصیات اور کارکنوں سے گزارش ہے کہ وقت کی اس آواز پر لبیک کہیں اور شیخ الہند مولانا محمود الحسن کی اس جماعت کو خلفشار اور جمود و تعطل کی دلدل سے نکال کر عالم استعمار کے مقابلہ، اسلام کے غلبہ و نفاذ اور ملکی سالمیت و خود مختاری کے تحفظ کی جدوجہد میں ہراول دستہ کا تاریخی کردار واپس دلانے کے لئے تمام ذہنی تحفظات اور خدشات کو جھٹکتے ہوئے آگے بڑھیں، تاکہ ہم اپنی دینی ذمہ داریوں کے حوالہ سے بارگاہِ ایزدی کے ساتھ ساتھ اپنے عظیم اکابر و اسلاف کے سامنے سرخرو ہو سکیں۔ (آمین یا رب العالمین)
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۱۹۹۸ء ص ۱۲، ۱۴)
انڈیا میں مساعی جمیلہ بسلسلہ رد قادیانیت
چند ماہ قبل موضع سلیم پور قصبہ سعد آباد ضلع متھرا میں چند اللہ والوں کے مبارک ہاتھوں سے ایک مکتب کی عمارت کا سنگ بنیاد رکھا گیا، مگر وسائل کی کمی کی وجہ سے تعمیری اور تعلیمی سلسلہ ابھی شروع نہیں ہوسکا گاؤں کے ذمہ داران اور فکر مند حضرات اس تگ و دو میں تھے کہ تعمیر کا کام بعد میں ہوتا رہے گا۔ پہلے تعلیم کا سلسلہ کسی طرح شروع ہو جائے کیونکہ قادیانیوں کی نظریں کافی عرصہ سے اس گاؤں پر مرکوز ہیں اور ان کی برابر آمدورفت جاری ہے۔ گاؤں کے لوگ ابھی ان کوششوں میں مصروف تھے کہ قادیانیوں نے گاؤں کے ایک شخص مہدی حسن کو اعتماد میں لے کر انتہائی راز داری سے اپنی ریشہ دوانیاں شروع کر دیں۔ آہستہ آہستہ چار و ناچار گاؤں کے کچھ لوگ تو محض اپنے بچوں کی تعلیم کی خاطر اور کچھ لوگ گاؤں کے با اثر لوگوں کے دباؤ میں آکر قادیانی معلم کو اپنے یہاں رکھنے کے لئے تیار ہو گئے۔ مگر یہ سب کچھ ایک ڈرامائی انداز میں گاؤں کے ان افراد کے سہارے ہورہا تھا، جو یا تو دینی تعلیم سے ناواقف یا مغربی دنیاوی تعلیم سے متاثر تھے۔ انہیں خود اپنے عقائد اور دین کی حقیقت معلوم نہ تھی۔ تاہم جب کبھی دین اسلام کے مشہور و معروف عقائد کے خلاف قادیانی معلم کوئی بیان دیتا مثلاً مہدی، مسیح موعود کی پیدائش، وغیرہ کا تذکرہ ان کے سامنے آتا تو گاؤں کے اکثر و بیشتر افراد چونک پڑتے اور آپس میں کچھ دیر تبصرہ کر کے
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اپنی لاعلمی یا مجبوری کے سبب خاموش ہو جاتے، خدا کی قدرت! کہ انھیں میں ایک عمر رسیدہ شخص دین کے خلاف بیان کئے گئے عقائد و خیالات سن کر بدک گیا اور ۱۷؍ ذیقعدہ ۱۴۱۸ھ کو حافظ شبیر احمد شاہ صاحب سعد آبادی سے (جو فراہمی مالیہ کے لیے اس گاؤں میں تشریف لائے تھے) ان سب حالات کا تذکرہ کیا۔ حافظ صاحب چونکہ قادیان کے ایمانی لٹیروں سے اچھی طرح واقف تھے۔ موضع روہی تھانہ چندپا سے کچھ دنوں قبل حافظ صاحب ہی کے ذریعے قادیانیوں کو مار بھگایا گیا تھا۔ حافظ صاحب نے اپنا کام چھوڑ کر فوراً اس قادیانی معلم سے ملاقات کی اور کافی دیر تک بحث ہوتی رہی انجام کار دلائل سے تھک ہار کر قادیانی معلم نے کہا کہ ہم اپنے علماء کرام کو ۱۸؍ مارچ ۱۹۹۸ء کو بلائیں گے۔ آپ بھی اپنے علماء کرام کو بلالیں اور صبح آٹھ بجے مناظرہ ہوگا، جو صحیح ثابت ہو اس کو گاؤں والے مان لیں گے۔ اس بات پر گاؤں والے متفق ہوگئے اور پورے گاؤں میں ایک ہل چل مچ گئی کہ آئندہ کل حق کا فیصلہ ہو جائے گا وہ غریب اور ناخواندہ لوگ جو قادیانیوں کے ایک مدت سے سازشی جال اور گاؤں کے بااثر لوگوں کے دباؤ سے مجبور تھے ان کی تو عید ہوگئی کہ وہ بااثر لوگ جو محض روپے پیسے کے لالچ میں قادیانی پھندوں کا شکار ہو گئے اور غریبوں کے بھی ایمان کو بیچنے پر مجبور کر رہے تھے آئندہ کل دلائل و براہین کی روشنی میں بے اثر ہو جائیں گے اور ان ناخواندہ مفلسوں کا بول بالا ہو جائے گا جو اپنی غربت کے باوجود ایمان اور محمد ﷺ کی محبت کو اپنے سینے سے لگائے ہوئے ہیں۔
محترم جناب حافظ شبیر احمد صاحب نے ۱۷؍ مارچ ۱۹۹۸ء کی شب دس بجے بندہ ناچیز کو مدرسہ افضل العلوم کے ٹیلی فون پر اطلاع دی بندہ ۱۸؍ مارچ ۱۹۹۸ء کو صبح ۸ بجے سے قبل ہی مع دو احباب مدرسہ افضل العلوم سے چل کر سلیم پور پہنچ گیا۔ گاؤں کے لوگ مسجد میں جمع ہو گئے اور بندہ نے قادیانیوں کے دجل وفریب کا پردہ چاک کرنا شروع کیا کچھ وقت گزرنے کے بعد گاؤں والوں نے قادیانی معلم اور اس کی مدد کے لئے آنے والے دیگر قادیانی پنڈتوں کو تلاش کرنا شروع کیا، باہر سے آنے والے تو کیا گاؤں میں موجود قادیانی پنڈت کی بھی کوئی خبر نہ ملی کہ کہاں رفو چکر ہو گیا۔
الحمد للہ! ظہر تک مسجد میں پروگرام چلتا رہا جاء الحق و زھق الباطل کا کھلا نظارہ دیکھ کر گاؤں کے تمام ہی امیر وغریب نے قادیانیوں سے ہر طرح دور رہنے کا وعدہ کیا اور اسی وقت ایک مکان کرایہ پر لے کر مکتب کی شکل میں تعلیم کا کام شروع کر دیا گیا جو الحمد للہ مدرسہ افضل العلوم آگرہ کے زیر انتظام چل رہا ہے۔
اس پروگرام سے فارغ ہو کر شام کو مدرسہ افضل العلوم پہنچے ہی تھے کہ انجمن احیاء السنّت قنوج و فرخ آباد کی جانب سے مولوی تسلیم صاحب نے فون پر موضع پلکھانہ قصبہ نواب گنج ضلع فرخ آباد کے بارے میں بتایا کہ یہاں ۶ ماہ سے قادیانی معلم کام کر رہا ہے اور ۲۹؍ مارچ ۱۹۹۸ء کو آپ کا پروگرام ہے مدرسہ میں صدر مدرس صاحب اور نائب مدرس دونوں موجود نہ تھے۔ ان کی عدم موجودگی میں بندہ ہی دیکھ بھال کرتا ہے۔ اس لئے حاضر ہونے سے معذوری ظاہر کردی اور ۲۷؍ مارچ ۱۹۹۸ء کو وقت دے دیا، جس کی وجہ سے بندہ ۲۶؍ مارچ کو انجمن احیاء السنۃ پہنچ گیا اور نواب گنج سے مولانا انعام صاحب بھی پہنچ گئے ۲۷؍ مارچ کی صبح ہی کو مولانا علیم الدین صاحب مظاہری صدر انجمن احیاء السنۃ کی قیادت میں چہار رکنی وفد جس میں مولوی تسلیم صاحب بھی حاضر تھے۔ نواب گنج کے لئے روانہ ہو گیا۔ نواب گنج ہی جمعہ کی نماز کے بعد راقم کا بیان ہوا، جس میں قادیانیت کے مکروہ خدوخال کو اجاگر کیا۔ بحمد اللہ! تمام سامعین نے ہر طرح سے ساتھ دینے کا وعدہ کیا خاص طور پر ڈاکٹر محمد اسلام صاحب قابل مبارک باد ہیں، جنھوں نے قدم بہ قدم پر ہم سب کی رہنمائی فرمائی اور ہر وقت ساتھ رہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ڈاکٹر صاحب کی وساطت سے انجمن نے ایک بس کرایہ پر لی اور عشاء کے قریب ہم لوگ گاؤں پہنچ گئے گاؤں والوں نے تقریر کا انتظام کر رکھا تھا وفد میں شریک مولانا انعام صاحب کا اللہ کی وحدانیت پر بیان ہوا اس کے بعد راقم نے مرزا غلام احمد قادیانی کی زندگی پر لوگوں سے گفتگو کی حضرت مولانا علیم الدین صاحب نے دعا فرمائی۔ گاؤں والوں نے قادیانی معلم کو گاؤں میں نہ رکھنے کا وعدہ کیا بعض لوگ تو اتنے برہم تھے کہ ہم اس کی پٹائی کریں گے لیکن ان کو سمجھا دیا گیا تقریر کے بعد گاؤں والوں سے دریافت کیا گیا کہ یہ یہاں کیسے آیا اور کب آیا تو انہوں نے کہا کہ ہمارے یہاں کے لوگ بالکل جاہل ہیں نماز روزہ تو بہت دور کی بات کلمہ بھی ٹھیک سے نہیں جانتے جس کی بنا پر ہم اپنے مردوں کو بھی بغیر جنازہ کے دفنایا کرتے تھے۔ کافی عرصہ سے ہمارے یہاں موضع دھبیا قصبہ بھوگاؤں میں پوری کے بنجارے آتے جاتے تھے انہوں نے ہماری حالت کو دیکھ کر کہا کہ ہم تم لوگوں کو مولوی لا کر دیں گے جو تمہارے بچوں کو مفت تعلیم دے گا ہم گاؤں والے تیار ہو گئے دو تین مہینہ کے بعد وہ اس مولوی کو لے کر آیا اور یہاں رکھ دیا، اب تقریباً چھ ماہ سے وہ یہاں کام کر رہا ہے حمی نامی شخص نے بتایا کہ یہ نماز وغیرہ نہیں پڑھاتا رمضان میں جب تک میں نماز پڑھاتا تھا تو ساتھ میں یہ پڑھ لیتا تھا۔ اب میں بیمار ہو گیا تو اس نے بھی نماز چھوڑ دی۔ اس سال دسمبر میں دو چار لڑکے قادیان بھی لے گیا۔ ان لڑکوں سے راقم نے گفتگو کی اور ان سے کہا کہ تمہیں کوئی اب بھی قادیانی کے مردود ہونے میں شک وشبہ ہو تو بتاؤ ان لڑکوں نے بیک زبان ہو کر کہا کہ ہمیں اس کے غلط ہونے میں کوئی شک وشبہ نہیں رہا۔ آخر میں گاؤں والوں نے درخواست کی کہ ہمارے بچوں کے پڑھانے کے لئے کوئی آدمی ہمیں دو۔ خدا جزائے خیر دے انجمن کے ذمہ داران کو اور ڈاکٹر سلام صاحب کو ان لوگوں نے وعدہ کر لیا اور پورا پورا انتظام کرنے کی پوری کوشش میں ہیں اور دیگر دیہاتوں پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۴ تا ۱۰ ستمبر ۱۹۹۸ء ص ۲۱، ۲۲)
مجلس علماء اسلام کا کنونشن
اہل سنت والجماعت دیوبندی مکتب فکر سے تعلق رکھنے والی تمام دینی وسیاسی جماعتیں ”مجلس عمل علماء اسلام پاکستان“ کے نام سے ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوگئی ہیں اور بزرگ عالم دین شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر کو متفقہ طور پر امیر منتخب کر کے انہوں نے ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ، مغرب کی ثقافتی یلغار کے مقابلہ اور دینی مدارس کی آزادی وخودمختاری کے تحفظ کے لئے مشترکہ جدوجہد کا اعلان کر دیا ہے۔
مجلس عمل کا پہلا ملک گیر کنونشن ۲۳/ مارچ ۱۹۹۸ء کو جامع مسجد نیلا گنبد لاہور میں منعقد ہوا جس میں ملک کے چاروں صوبوں اسلام آباد، آزاد کشمیر اور شمالی علاقہ جات سے تین ہزار کے لگ بھگ علماء کرام اور دینی کارکنوں نے شرکت کی۔ کنونشن کی پہلی نشست کی صدارت شیخ الحدیث مولانا شفیق الرحمن درخواستی اور دوسری نشست کی صدارت شیخ الحدیث مولانا سرفراز خان صفدر نے کی۔ جب کہ اس سے قبل ۲۲/ مارچ ۱۹۹۸ء کو بعد نماز عشاء مرکزی جامع مسجد شادمان لاہور میں تمام جماعتوں کے نمائندوں کا مشترکہ اجلاس مولانا محمد سرفراز خان صفدر کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں پروگرام اور لائحہ عمل کی منظوری دی گئی۔
مشترکہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مجلس علماء کوئی مستقل جماعت نہیں ہوگی، بلکہ شریک جماعتوں کے متحدہ محاذ کے طور پر کام کرے گی اور اس اہداف میں (۱) اسلامی نظام کا نفاذ، (۲) مغربی ثقافت کا مقابلہ، (۳) امریکی مداخلت کی روک تھام، (۴) دینی مدارس کی آزادی کا تحفظ، (۵) دہشت گردی کا سدباب شامل ہوگا۔
اجلاس میں مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر کو مجلس علماء کا امیر اور دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
خٹک کے شیخ الحدیث مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ، جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی کے سربراہ مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر کو نائب امیر منتخب کیا گیا اور طے پایا کہ اس کے علاوہ مجلس عمل کے عہدہ دار نہیں ہوں گے۔ جب کہ تمام جماعتوں کے تین تین نمائندوں اور اہم علمی شخصیات پر مشتمل مرکزی مجلس شوریٰ اور مولانا سید عطاء المومن شاہ بخاری کی سربراہی میں مرکزی رابطہ کمیٹی ہو گی جس میں جماعتوں کے سرکردہ حضرات شامل ہوں گے۔
اجلاس میں طے پایا کہ صوبائی اور ضلعی سطح پر بھی مجالس عمل قائم کی جائیں گے اور ملک بھر میں مجلس عمل کے اہداف اور مطالبات کے لئے علاقائی کنونشن منعقد کئے جائیں گے اور مرکزی رہنما ملک کے مختلف حصوں کے دورے کریں گے۔
مجلس عمل علماء اسلام پاکستان کے سربراہ شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر نے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور دیگر عالمی قوتیں اسلام کی مخالف اور دیندار مسلمانوں کو کچلنے کے لئے ایک ہو گئی ہیں۔ اس لئے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ متحد ہو کر ان کا مقابلہ کریں گے اور اسلام اور اسلامی قوتوں کے خلاف کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں طالبان نے ایک عرصہ کے بعد اسلامی نظام کا مکمل نقشہ پیش کیا ہے اس لئے ہم ان کے ساتھ ہیں اور دنیا کی تمام مسلمان حکومتوں کو ان کے نقش قدم پر چلنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری جدوجہد پر امن ہو گی اور اکابر و اسلاف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہم اپنی تحریک کو آگے بڑھائیں گے۔ مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر نے کہا کہ مسلمان حکومتوں اور عوام کو دینی مدارس اور علماء کا احسان مند ہونا چاہئے کہ انہوں نے اسلام کو اصلی حالت میں محفوظ رکھا اور اسلامی تعلیمات کو صحیح طریقوں سے ان تک پہنچا رہے ہیں۔ اس لئے خود ان حکومتوں کا مفاد بھی اس میں ہے کہ مدارس کی آزادی اور خود مختاری قائم رہے اور وہ اس میں مداخلت نہ کریں۔ مجلس عمل کے رابطہ سیکرٹری مولانا سید عطاء المومن شاہ بخاری نے کہا کہ علماء جن کا قافلہ مدت کے بعد ایک بار پھر متحد ہو گیا ہے اور ہم نے بزرگ علماء کی قیادت میں کفر و الحاد کی یلغار کے سامنے بند باندھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے علماء اور کارکنوں پر زور دیا کہ وہ باہمی رابطہ و مفاہمت کو فروغ دیں اور عالمی استعمار کے خلاف فیصلہ کن جنگ کے لئے تیار ہو جائیں۔ سپاہ صحابہ پاکستان کے صدر شیخ حاکم علی نے کہا کہ ہم نے بزرگوں کی قیادت اور رہنمائی میں چلنے کا فیصلہ کیا ہے اور مجلس عمل کے قائدین ہمیں جو حکم دیں گے ہم ان کے سپاہی کی حیثیت سے اس پر عمل کریں گے۔ کنونشن میں متعدد علماء کرام اور رہنماؤں نے خطاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۱۹۹۸ء ص ۴۱ تا ۴۳)
گولارچی میں قادیانی شرارت کی تفصیلی رپورٹ
شہر گولارچی ضلع بدین کی ایک تحصیل ہے یہ شہر تقسیم ملک سے پہلے کا آباد ہے لیکن دور دراز اور پسماندہ ہونے کی بنا پر آبادی بہت کم تھی ۔ جناب محمد ایوب خان مرحوم نے پنجاب سے خاص کر اور سرحد بلوچستان سے عمومی طور پر یہاں لوگوں کو آباد کیا ۔ اس طرح شہر کے قریب چکوک کا ایک جال بچھ گیا یوں شہر کی رونق دوبالا ہو گئی اور پھر اس رونق کو تیل اور گیس کے ذخائر نے مزید تقویت بخش دی۔ جب گولارچی اور چکوک کی آبادی ہو رہی تھی اور مختلف اقوام کے لوگ یہاں آباد ہو رہے تھے اسی طرح قادیانی جماعت کے لوگ بھی شہر اور چکوک میں آباد ہوئے جن میں چک نمبر ۵ خصوصاً قابل ذکر ہے۔ جس کا نام انہوں نے احمد آباد رکھا۔ حالات زندگی معمول کے مطابق چلتے رہے ۱۹۷۴ء میں تحریک ختم نبوت پورے ملک چلی تو پورے ملک کی طرح یہاں بھی ایمانی جذبہ قابل دید تھا اور جب نیشنل اسمبلی نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا تو تمام مسلمانوں کی طرح یہاں بھی اظہار تشکر منایا گیا۔ یوں زندگی ایک بار پھر معمول پر آگئی۔ مسلمان
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ۴۸ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اپنے کاموں میں مشغول ہو گئے اور قادیانی اپنے کاموں میں اور اس کے ساتھ قادیانیوں نے اپنے جھوٹے مذہب میں کوئی خاص سرگرمیاں ظاہر نہ کیں۔
مگر چند سال قبل گولارچی شہر میں نام نہاد دو بھائی ڈاکٹر رشید انور قادیانی اور ڈاکٹر نصیر انور قادیانی کنری سے آکر آباد ہوئے اور ایک نے فرید کلینک اور دوسرے نے کامی کلینک کے نام پر شہر میں کام شروع کیا اور اس کے ساتھ ایک بات مشہور کی گئی کہ ہم غریبوں کا سستا علاج کرتے ہیں۔ جب علاقہ کے غریب لوگوں نے ان سے علاج کے لئے رجوع کیا تو انہوں نے معمولی فیس کے ساتھ مذہب اور دین دار خصوصاً علمائے کرام کے خلاف بھڑکانا شروع کیا اور اس کو اپنا مشن بنالیا اس کی وجہ سے مسلمانوں میں اشتعال پھیلنے لگا تو مذہبی قیادت نے ہر ممکن کوشش کی کہ تصادم نہ ہو اور لوگوں کی رہنمائی کی لیکن جب ان کی سرگرمیاں کم نہ ہوئیں تو تمام مسلمانوں نے اس پر صدائے احتجاج بلند کیا۔ شہر میں جلسہ و جلوس ہوا لیکن اس کے باوجود ان دونوں بھائیوں کے عزائم میں کوئی کمی نہ آئی اور ان کی شہ پر دوسرے قادیانی بھی سر اٹھانے لگے۔
ان حالات کے پیش نظر شہر کے احباب نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سے درخواست کی کہ ہمیں کوئی مبلغ دیا جائے جو ان سرگرمیوں کے مقابلہ میں ڈٹ کر کام کرے، تو کچھ عرصہ مولانا محمد اسحاق و مولانا عبد الغفور جتوئی نے جماعت کی طرف سے کام کیا۔ اب عید الفطر کے مجلس نے مولانا محمد علی صدیقی کی بطور مبلغ تقرری کی۔
اس کے بعد ۲ / مارچ ۱۹۹۸ء کو پورے ملک میں مردم شماری کا کام شروع ہوا تو مجلس تحفظ ختم نبوت کے تمام احباب نے قادیانی عزائم کو بھانپتے ہوئے انتظامیہ اور فوجی افسران کو اس بات سے آگاہ کیا کہ ملک میں عمومی طور پر اور تحصیل گولارچی میں خصوصی طور پر قادیانیوں پر نظر رکھی جائے کہ وہ اپنا اندراج مسلمانوں کے خانہ میں نہ کرائیں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گولارچی کے احباب مولانا حکیم محمد عاشق ، مولانا عبد الخبیر ، صوفی حمید اللہ خان ، راقم ، مسلم لیگ کے رہنما محمد اقبال راشد مسجد مدینہ کے ناظم اعلیٰ حاجی ولی محمد ، سواد اعظم کے ناظم اعلیٰ سید حیدر شاہ ، نوجوانان ختم نبوت کے عبد المجید ، محمد اسلم مجاہد، فقیر محمد ، محمد صفدر گجر اور دیگر مذہبی اور سیاسی دوستوں کے مشورہ سے مبلغ ختم نبوت مولانا محمد علی صدیقی نے ایک خطبہ جمعہ مردم شماری اور قادیانیوں کے عزائم اور سازشوں کے بارے میں مسجد مدینہ میں دیا اور لوگوں کو مردم شماری میں بھر پور حصہ لینے اور قادیانیوں کی سازشوں سے خصوصاً مردم شماری میں اپنے آپ کو مسلمان لکھوانے کا خیال رکھنے پر زور دیا۔
لیکن اس کے ساتھ ایک اور مسئلہ پیدا ہو گیا کہ ڈاکٹر نصیر قادیانی کے بیٹے وحید قادیانی نے شہر کے قریب ایک دیہات میں رہنے والے ان پڑھ مسلمانوں کو اپنی دوکان میں بلا کر ان کے فارم مردم شماری پر کئے اور مذہب کے خانہ میں ان کو قادیانی لکھا۔ اس کے بعد جب وہ ان فارموں کی تصدیق کرانے کی خاطر ایک ڈاکٹر کے پاس گئے تو ڈاکٹر موصوف نے فارم پڑھ کر ان سے پوچھا کہ کیا آپ قادیانی ہیں؟ انہوں نے جواب میں کہا کہ ہم مسلمان ہیں۔ ڈاکٹر موصوف نے ان سے پوچھا کہ آپ کے فارم کس نے پر کئے ہیں تو انہوں نے فرید کلینک کا ذکر کیا ڈاکٹر موصوف نے انہیں اس بات سے آگاہ کیا کہ اس میں تو آپ کو یہاں قادیانی لکھا ہے اس پر انہوں نے شہر کے علمائے کرام سے رابطہ کیا تو علمائے کرام اور معززین شہر نے جناب ایس ڈی ایم سب ڈویژن سے رابطہ کر کے فوری درخواست دائر کی اور شہر کے کچھ احباب نے ان قادیانیوں سے معلوم کیا تو انہوں نے برملا اس بات کا اظہار کیا ہم نے جان بوجھ کر ان کو قادیانی لکھا ہے۔ مقامی انتظامیہ نے ابھی اس پر کوئی کاروائی نہیں کی تھی کہ شہر کے چند معزز حضرات اس سلسلہ میں ڈاکٹر رشید انور قادیانی کو ملے اور اس سے کہا آپ کے بھائی کے لڑکے نے بہت غلط کام کیا ہے اس کو سمجھائیں ایسا نہ کرے۔ اس سے شہر میں اشتعال پھیل سکتا ہے اس پر اس کو چاہئے تھا کہ وہ
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حوصلے سے کام لیتا، الٹا ان احباب کے ساتھ تلخ کلامی پر اتر آیا اور ان پر پستول سے فائر کیا لیکن قدرت خداوندی کہ اس کا فائر مس ہو گیا۔
اس واقعہ پر پورے شہر میں اشتعال پھیل گیا تمام مسلمانوں نے بالاتفاق جمعرات ۱۲/ مارچ ۱۹۹۸ء کو ہڑتال عام اور جلسہ اور جلوس کا اعلان کر دیا۔ مقامی انتظامیہ بدھ ۱۱/ مارچ ۱۹۹۸ء کے دن جناب منسٹر اسماعیل راہو کے گولارچی آنے کی وجہ سے مصروف تھی کوئی خاص نوٹس نہ لیا جب معاملہ حد سے بڑھ گیا تو رات گئے مقامی انتظامیہ نے جامعہ مسجد مدینہ میں علمائے کرام اور دیگر معززین شہر جن میں مولانا ہزاروی، حکیم محمد عاشق، حمید اللہ خان، مبلغ ختم نبوت مولانا محمد علی صدیقی، محمد اسلم مجاہد، عبدالمجید، غلام نبی اور راقم کے علاوہ اور بہت سے احباب شامل تھے۔ مذاکرات کئے جس میں علمائے کرام نے قادیانیوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ اس پر انتظامیہ نے رات گئے ان کو گرفتار کر لیا۔
اور پھر جمعرات ۱۲/ مارچ ۱۹۹۸ء کی صبح شہر گولارچی میں ایک عجیب سماں تھا پورا شہر بند تھا مسلمان گولارچی جامع مسجد مدینہ کے سامنے جمع تھے ہر طرف ختم نبوت زندہ باد، قادیانیت مردہ باد کے نعرے لگ رہے تھے شہر مکمل طور پر بند تھا۔ اس سلسلہ میں مرکزی جامع مسجد مدینہ میں ایک بہت بڑا جلسہ ہوا جس میں مبلغ ختم نبوت مولانا محمد علی صدیقی، مولانا عبدالرزاق میمن، مولانا محمد عاشق، مولانا عبد الخبیر ہزاروی نے خطاب کیا۔ مسلمانوں کو پرامن رہنے کی درخواست کی اس موقع پر مقامی انتظامیہ اور ایس ڈی ایم نے یقین دہانی کرائی کہ ملزموں کو ہر صورت قانون کے مطابق سزا دی جائے گی اور قادیانیوں کی گرفتاری کا اعلان کیا۔ اس طرح بارہ بجے دن تک شہر میں مکمل ہڑتال رہی۔ اس کے بعد لوگوں نے علماء کرام اور معززین شہر کی اپیل پر دوکانیں کھولیں۔
بعد میں جناب ڈپٹی کمشنر ضلع بدین، ایس. پی ضلع بدین سے ملاقات کے لئے گولارچی تشریف لائے تو علمائے کرام نے ان کے سامنے مطالبات پیش کئے۔ مذاکرات میں بیس سے زائد علماء کرام اور معززین شہر نے شرکت کی پانچ احباب کو گفتگو کے لئے مقرر کیا گیا۔ جناب ڈپٹی کمشنر صاحب کو تمام مطالبات پیش کئے جن میں سرفہرست ان قادیانیوں کی ضلع بدری کا مطالبہ تھا۔ شہر میں قادیانی عبادت گاہ سے کلمہ طیبہ کو محو کیا جائے۔ چک نمبر ۵، احمد آباد میں قادیانی اذان دیتے ہیں، اس پر پابندی عائد کی جائے۔ ان کی عبادت گاہیں مسجد کی شکل میں ہیں، ان کو تبدیل کیا جائے۔ ڈی سی صاحب نے ڈاکٹر رشید قادیانی اور وحید قادیانی کیس کو فوری مکمل کرنے کا حکم دیا۔ یوں پورے شہر کے قادیانی جو اپنے آپ کو فرعون خیال کرتے تھے اور مذہب کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے تھے آج جیل میں ہیں۔ اس کام میں مسلم لیگ کے رہنما محمد اقبال صاحب نے مسلمانوں کا بھرپور ساتھ دیا۔
بعد میں ضلعی انتظامیہ نے ایس ڈی ایم سب ڈویژن گولارچی محمد صادق راجڑ کو انکوائری آفیسر مقرر کیا جنہوں نے رشید قادیانی پر کیس داخل کر کے ان پر دفعہ ۵۰۲، ایچ۔ آئی۔ آئی ۳۳۷، ۳۲۴ پی۔ پی۔ سی ۳۴ کے تحت گرفتار کر کے جیل بھیج دیا۔ جب کہ اس کا بیٹا کامران قادیانی فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا اور وحید قادیانی جس نے مسلمانوں کے ڈیٹا فارم میں قادیانی لکھا تھا اسے گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا اور اس کیس کو خصوصی عدالت حیدر آباد میں چلایا جائے گا۔
اس کے بعد جامع مسجد مدینہ گولارچی میں معززین شہر کا ایک خصوصی اجلاس ۱۸/ مارچ ۱۹۹۸ء بعد نماز ظہر ہوا، جس کی صدارت مولانا حکیم محمد عاشق نے کی۔ تلاوت کلام پاک خطیب جامع مسجد مدینہ مولانا عبد الخبیر ہزاروی نے کی۔ جس میں حاجی بلال آرائیں، حاجی اللہ بچایا، حافظ محمد انور، سید عبدالرحمن عرف نتھن، حاجی نذیر احمد، نور خان پٹھان، انوار الحق چوہدری، محمد اشرف ارائیں، محمد حنیف، ختم
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نبوت یونٹ گولارچی کے عہدیداران، ممبران اور ضلعی مبلغ مولانا محمد علی صدیقی اور بڑی تعداد میں شہریوں نے شرکت کی اور حکومت سندھ اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ گرفتار قادیانیوں کو کوئی رعایت دی گئی تو امن وامان کی ساری ذمہ داری ان پر عائد ہوگی اور مفرور ملزم کامران قادیانی کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔
مردم شماری کے فارموں میں مسلمانوں کو قادیانی لکھنے پر ایک شخص کو دس سال سزا
قادیانی ڈاکٹر وحید پر مسلمانوں کو دھوکہ دہی سے قادیانی لکھنے کا جرم ثابت۔
گولارچی کے مسلمانوں میں خوشی کی لہر، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے علماء نے اہم کردار ادا کیا۔
حیدرآباد میر پور خاص ڈویژن کی خصوصی عدالت نے انسداد دہشت گردی ایکٹ مجریہ ۱۹۹۷ء کے تحت مردم شماری کے فارموں میں مسلمانوں کو قادیانی لکھنے اور قادیانی ظاہر کرنے کے جرم میں ڈاکٹر وحید نامی قادیانی کو دس سال قید کی سزا سنائی جبکہ دس ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا جس کی عدم ادائیگی کی صورت میں ایک سال قید مزید سزا سنائی۔ تفصیلات کے مطابق گولارچی میں غریب مسلمانوں کو دھوکہ دہی کے ذریعے قادیانی لکھنے کی اطلاع پر انتظامیہ نے کارروائی کرتے ہوئے ڈاکٹر وحید نامی قادیانی کو گرفتار کیا اور اس کے خلاف خصوصی عدالت میں انسداد دہشت گردی ایکٹ مجریہ ۱۹۹۷ء کے تحت مقدمہ دائر کیا۔ دفعہ ۲۹۵۔الف عدالت نے ایک ہفتہ سماعت کے بعد اپنے فیصلے میں ڈاکٹر وحید قادیانی کی مذکورہ جرم میں رنگے ہاتھوں گرفتاری پر فیصلہ دیتے ہوئے مجرم کو دس سال قید دس ہزار جرمانے کی سزا اور عدم ادائیگی جرمانہ پر ایک سال مزید قید کا حکم سنایا۔ مسلمانوں میں اس فیصلہ سے انتہائی مسرت کی لہر دوڑ گئی اور گولارچی شہر میں مسلمانوں نے اس فیصلہ پر خوشی کا اظہار کیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ذمہ داران مولانا احمد میاں حمادی مولانا محمد علی صدیقی نے اس کیس کے دوران خصوصی کام کیا۔
(روزنامہ نوائے وقت کراچی ص ۷، مورخہ ۲۳؍اپریل ۱۹۹۸ء، ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۱۹۹۸ص ۳۸ تا ۴۲)
فوجی شوگر مل کھوسکی میں قادیانیوں کی شرارتیں
بدین فوجی شوگر مل کھوسکی میں مبینہ قادیانی منیجر کی تقرری کے بعد قادیانیوں کی سرگرمیوں میں بے پناہ اضافہ ہوگیا ہے اور علاقے کے قادیانیوں نے بال و پر نکالنے شروع کر دیئے ہیں اور خصوصاً مل کی تمام مشینری کو قادیانیت کی تشہیر کے لئے وقف کر دیا گیا ہے۔ علاقے کے زمینداروں میں صرف اور صرف قادیانیوں کی سفارش ہی سے کھاد، قرض، چینی اور ڈیزل دیا جاتا ہے اور مسلمانوں کو اپنے جائز کاموں کے لئے بھی قادیانیوں کی سفارش پر مجبور کیا جاتا ہے اور حتیٰ کہ کسی کی تقرری، ترقی تنزلی اور قرض کھاد چینی اور ڈیزل کی ادائیگی کے لئے صرف کسی قادیانی کی سفارش ہی حرف آخر ہے اور معمولی بہانے پر مسلمانوں کو نکال کر قادیانیوں کی راہ ہموار کی جاتی ہے اور خصوصاً انڈسٹری کی گاڑیاں جو کہ قانوناً صرف مل ہی کے کاموں میں استعمال کی جاتی ہیں۔ قادیانیت کی تبلیغ کے لئے وقف کر دی گئی ہیں اور جو قادیانی کسی بھی وقت چاہے مل کی گاڑی استعمال کر سکتا ہے اور عید اور جمعہ کے ایام میں مل کی گاڑیاں غیر قانونی طور پر قادیانیوں کی عبادت گاہوں تک لوگوں کو دور دراز سے لاتی ہیں اور ستم بالائے ستم کہ مل کے ٹرانسپورٹ میجر راجہ سردار احمد نے اس کفریہ تبلیغ کے لئے گاڑیاں غیر قانونی طور پر دینے سے انکار کر دیا تو اس کو فوراً تبدیل کر کے اس کی جگہ اپنے چہیتے کو بھرتی کر دیا۔ اب ضلع تھر کا علاقہ جو قادیانیت کے لئے غیر تعلیم یافتہ ہونے کی وجہ سے انتہائی موزوں ہے اور وہاں آمدورفت کا کوئی ذریعہ نہیں۔ مل کی گاڑیوں کو پندرہ پندرہ دن تک قادیانیت کی تشہیر کے لئے وہاں بھیج کر سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کیا جاتا ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مردم شماری اور قادیانیت کا فریب
قادیانی مسلمانوں کو ڈسنے گمراہ کرنے اور زندقہ کی راہ پر لگانے کا کوئی حربہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتے اور مردم شماری میں ان کا دجل اکثریت جتلانے کے لئے مذہب کے خانے پر قادیانی لکھوانے کے لئے خصوصی ٹیمیں تشکیل دیں اور بالکل غیر تعلیم یافتہ علاقوں کا انتخاب کر کے مسلمانوں کو دھوکہ دیا کہ ہم تمہارا فارم پر کئے دیتے ہیں۔ ان پڑھ کو تو کسی پڑھے لکھے آدمی کی تلاش تھی اور وہ فارم لئے پھرتے تھے کہ کوئی پر کر دے تو قادیانیوں نے مذہب کے خانہ میں قادیانی پر نشان لگوا دیا اور نہ جانے کتنے ان پڑھ مسلمانوں کو قادیانی ظاہر کیا گیا اور ستم یہ کہ مسلمان بھی ان کے ہمنوا بنے رہے۔ اسی طرح کھوسکی میں جو تقریباً ۵ ہزار کی آبادی پر مشتمل ہے۔ میں صرف ایک ۱۷ گریڈ کے افسر ڈاکٹر ابراہیم بھومت کا ہیلپر جو خود بھی غیر مسلم ہے، دن بھر مسلمانوں کے شناختی فارموں پر قادیانی لکھتا رہا اور مذکورہ ڈاکٹر ابراہیم بغیر سوچے سمجھے اس کے قادیانی ہونے کی تصدیق کرتے رہے اور مہر لگاتے رہے اور اپنی عاقبت برباد کرتے رہے۔ شام کو چند لوگوں نے شک کی بناء پر اپنے فارم مقامی خطیب حضرت مولانا عبداللہ صاحب سندھی کو دکھائے تو اس عظیم دجل پر حیران رہ گئے اور علاقے کے لوگوں میں سخت اشتعال پھیل گیا۔ یہ تو صرف کھوسکی کا ایک واقعہ تھا۔ نہ جانے ملک بھر میں قادیانی کتنے مسلمانوں کو کافر لکھوا چکے ہوں گے اور یہ صرف اور صرف قادیانی اپنی اکثریت ثابت کرنے کی خاطر یہ دجل و فریب کر رہے ہیں اور اپنے دجال (مرزا قادیانی) کے نقش قدم پر من وعن عمل پیرا ہیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۳ تا ۱۶؍اپریل ۱۹۹۸ء ص ۲۵)
قادیانی جی۔ایم کا فوجی شوگر ملز کھوسکی سے تبادلہ
کھوسکی فوجی شوگر ملز کے متعصب قادیانی جی ایم عبدالغفور احسان کو جی۔ایم کے عہدہ سے ہٹا کر اسلام آباد مرکزی آفس طلب کر لیا گیا ہے اور نئے مسلمان جی۔ایم نے چارج سنبھال لیا ہے۔
یہ فیصلہ ضلع بدین کے مسلمانوں اور خصوصی طور پر کھوسکی شادی لارج کے مسلمانوں کے مسلسل احتجاج پر کیا گیا۔ عبدالغفور احسان بلوچ ایک انتہائی متعصب قادیانی افسر تھا۔ اس کے سامنے صرف اور صرف قادیانیت کی تبلیغ تھی۔ اس سے پہلے یہ مذکورہ قادیانی شخص پنوں عاقل چھاؤنی اور بدین میں فوج کے ایک اعلیٰ عہدے پر متمکن رہا۔ اس وقت بھی یہ اپنے تمام سرکاری ذرائع قادیانیت کے لئے ہی بروئے کار لایا کرتا تھا اور ضلع بدین کے علاقوں میں قادیانیوں کے پروگراموں میں شریک ہوتا تھا اور اسی طرح ضلع بدین میں بریگیڈیئر ہوتے ہوئے اس نے شادی لارج کے قریب ایک پروگرام میں شرکت کی۔ فوج اور خفیہ ادارے پہلے اس کے ان کاموں سے پریشان تھے۔ اب ان کو ثبوت مل گیا۔ ادھر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت شادی لارج کے مجاہد جناب صوفی محمد خان نے یہ رپورٹ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر ملتان اور کراچی پہنچائی۔ اس کے ساتھ جناب عبدالتواب صاحب کے ہفت روزہ تکبیر نے مکمل رپورٹ اور اس جلسہ کی تصاویر حاصل کیں۔ اس پر جناب عبدالتواب صاحب نے ہفت روزہ تکبیر اور عالمی مجلس کے ترجمان ہفت روزہ ختم نبوت میں صدائے احتجاج بلند کی۔ اس وقت فوج کے سربراہ جناب عبدالوحید کاکڑ صاحب تھے۔ جب پوری مصدقہ رپورٹ ان تک پہنچی تو جناب کاکڑ صاحب نے عبدالغفور احسان بلوچ کو فوری طور پر برطرف کر دیا۔ سابق صدر جناب فاروق لغاری کا زمانہ تھا اور یہ قادیانی لغاری صاحب کے علاقہ ڈیرہ غازی خان کا رہنے والا ان کا قومی بھائی تھا تو جناب لغاری صاحب نے پھر ایک بار اس شخص کو فوجی شوگر ملز کھوسکی میں مسلمانوں کے زخموں پر نمک پاشی کرنے کے لئے جی۔ایم بنا کر بھیج دیا۔ اب پھر اس شخص نے اس عہدے کو بھی قادیانیت کی تبلیغ میں مصروف عمل رکھا اور ملز میں
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مسلمانوں کو تنگ کرنا اور اس کے ساتھ ملز میں اہم عہدوں پر قادیانیوں کو بھرتی کرنا خاص کر اپنے رشتہ داروں کو اور کوئی کام ہو تو اس نے یہ اعلان کیا تھا کہ چوہدری سلیم قادیانی کی سفارش لے کر آئے۔ اس کے ان کاموں کی وجہ سے پورے سندھ میں عمومی اور کھوسکی میں خصوصی طور پر اضطراب پایا جاتا تھا اور اس سلسلہ میں مولانا محمد عبداللہ سندھی کی قیادت میں کئی بار احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے تحت کئی ایک ختم نبوت کانفرنسیں بھی ہوئیں۔ جناب مولانا عبداللہ سندھی اور مولانا عبدالحمید حیدری نے خوب احسن انداز سے قادیانیوں کا اور اس جی۔ایم کا مقابلہ کرنے کے لئے کمر کس لی اور اس دوران مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے مولانا محمد علی صدیقی ضلع بدین کے لئے مبلغ بن کر آئے اور پھر حکمت عملی کے ساتھ کام شروع کیا۔ شادی لارج میں ختم نبوت کانفرنس اور کھوسکی میں مختلف جمعہ کے بیانات میں صدائے احتجاج بلند کی اور اس کے ساتھ ساتھ صوفی محمد خان، محمد صفدر صدیقی اور مولانا عبدالحمید حیدری نے اخبارات اور ٹیلی گرام حکومت کو روانہ کئے تو اس مسلسل احتجاج پر مئی ۱۹۹۸ء میں عبدالغفور خان بلوچ کے اسلام آباد کے تبادلے کے آرڈر ہو گئے۔ نئے جی۔ایم نے فوجی شوگر ملز کھوسکی کا چارج سنبھال لیا۔ یوں ضلع بدین میں قادیانیوں کی مزید سرگرمیاں ماند پڑ گئیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اس شخص کے ساتھ کیا کرتی ہے۔ ہم حکومت پاکستان سے توقع رکھتے ہیں کہ حکومت پاکستان خصوصاً صدر پاکستان جناب رفیق تارڑ صاحب اس مسئلہ میں خصوصی دلچسپی لیتے ہوئے اس شخص کے اوّل سے لے کر آخر تک ریکارڈ کو چیک کیا جائے اور اس ریکارڈ کی روشنی میں اس کو فوری طور پر نوکری سے برطرف کر کے اس کو اس کے شہر ڈیرہ غازی خان روانہ کیا جائے۔ دریں اثنا عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سندھ کے رہنماؤں نے قادیانی جی۔ایم کے تبادلہ پر حکومت کا شکریہ ادا کیا اور مطالبہ کیا کہ قادیانیوں کو تمام کلیدی عہدوں سے ہٹایا جائے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۱۹۹۸ء ص ۵۴، ۵۵)
تحصیل پسرور کے مجسٹریٹ کا مرزائی مردے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ کرنے کا فیصلہ
(پنڈی بھاگو سیالکوٹ) پنڈی بھاگو جو کہ تحصیل پسرور میں واقع ہے۔ مسلمانوں کے قبرستان میں مرزائی مردے دفن کرتے تھے۔ مولانا فقیر اللہ اختر مرکزی مبلغ گوجرانوالہ کی دیرینہ کوششوں سے مقامی مسلمان مرزائیوں کے کفریہ عقائد سے آگاہ ہوئے۔ پیر سید شبیر احمد گیلانی صدر عالمی مجلس تحفظ سیالکوٹ اور پنڈی بھاگو کے مسلمانوں کے بھرپور تعاون سے مولانا موصوف نے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور قادیانیوں کے کفریہ عقائد اور حکومت پاکستان کے آئینی فیصلوں سے لوگوں کو آگاہ کیا اور رسول آخرین محمد عربی ﷺ سے سچی محبت کے تقاضوں کو پورا کرنے پر زور دیا۔ مسلسل جمعہ کے بیانات ہوئے۔ مسلمانوں کے قبرستان میں مرزائی مردے دفن کرنے کا مسئلہ عدالت تک پہنچا۔ بالآخر تحصیل پسرور کے مجسٹریٹ صاحب نے آئین پاکستان کے مطابق مسلمانوں کے قبرستان میں مرزائی مردے دفن نہ کرنے کا فیصلہ دیا۔ بعد ازاں مقامی لوگوں نے ۲۱؍ مارچ ۱۹۹۸ء کو ختم نبوت کانفرنس کے انعقاد کا اعلان بھی کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۳ تا ۱۶؍ اپریل ۱۹۹۸ء ص ۲۴)
مسلمانوں پر فائرنگ کرنے والا قادیانی گرفتار
گولارچی میں مسلمانوں پر فائرنگ کرنے والا قادیانی نام نہاد ڈاکٹر رشید انور کو گرفتار کر کے نارہ جیل بھجوا دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق گولارچی شہر کے چند معزز احباب ڈاکٹر رشید قادیانی کو اس بات سے متنبہ کرنے کے لئے گئے کہ آپ کے بھائی کے لڑکے وحید نے چند ان پڑھ مسلمانوں کو مردم شماری کے فارم میں مسلمان کی جگہ قادیانی لکھا ہے، اس کو سمجھائیں اس پر اس نے مسلمانوں کو گالیاں دیں اور
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
فائرنگ کرنے کی کوشش کی قدرت خداوندی دیکھئے کہ فائر مس ہو گیا اس پر انتظامیہ نے اس کو گرفتار کر کے جیل بھجوا دیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۷ تا ۲۳ / اپریل ۱۹۹۸ء ص ۲۶)
کوئٹہ کی عدالت سے توہین قرآن کے مجرم کو سزا عمر قید بامشقت
۲۴؍ اپریل ۱۹۹۸ء کو مسلمان نماز جمعہ ادا کر کے واپس اپنے گھروں کو جا رہے تھے کہ حاجی محمد نسیم خان کاکڑ کی نظر حاجی غلام حسین پر پڑی جو نیل ہوٹل کے عقب میں گندی نالی میں ہاتھ مار رہا تھا۔ پوچھا تو معلوم ہوا کہ نالی میں قرآن پاک کے شہید شدہ اوراق بہہ رہے ہیں۔ حاجی نسیم خان نے کچھ اوراق ہاتھ میں اٹھائے اور سامنے مسجد عثمانیہ میں مولوی جمعہ خان سے پوچھا کہ یہ مسجد سے تو نہیں آ رہے ۔ مولوی جمعہ خان نے کہا کہ ایسا نہیں ہے۔ دونوں حضرات واپس حاجی غلام حسین کے پاس پہنچے تو معلوم ہوا کہ نیل ہوٹل کے پائپ سے آ رہے ہیں۔ حاجی نسیم ، خان مولوی جمعہ خان اور حاجی غلام حسین کو لے کر نیل ہوٹل کے منیجر کے پاس پہنچے، تمام معاملہ منیجر سے کہا اور منیجر کو ساتھ لے کر کمرہ نمبر ۵ پہنچے تو کمرہ اندر سے بند تھا۔ دروازہ کھٹکھٹا کر کھلوایا تو اندر سے ایک شخص برآمد ہوا جس نے اپنا نام عبدالعزیز ولد عبدالقادر بتایا۔ کمرہ کی تلاشی سے قرآن پاک کے شہید اوراق ملے۔ حاجی نسیم خان نے فلش کا دروازہ کھول کر دیکھا تو پلاسٹک کی بالٹی میں شہید شدہ اوراق موجود تھے اور فلش میں دیکھا گیا تو وہاں بھی اوراق قرآن پاک موجود تھے جو حاجی نسیم خان نے نکال لئے پولیس کو اطلاع ہوئی سردار طارق منظور ایس آئی نے شہید شدہ قرآن قبضہ میں لے کر ملزم عبدالعزیز ولد عبدالقادر کو گرفتار کر کے تھانہ سٹی لے گئے۔ واقعہ کا علم عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو ہوا تو جماعت کا ہنگامی اجلاس ہوا جس کی صدارت صوبائی امیر مولانا منیر الدین نے کی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جماعت توہین قرآن کیس کی پیروی کرے گی ۔ چنانچہ دفعہ ۲۹۵-بی کے تحت ایف آئی آر درج کرائی گئی۔ حاجی نسیم خاں کاکڑ مدعی بنے اور تفتیش شروع ہو گئی ۔ تقریباً دو ماہ کی جدوجہد کے بعد چالان عدالت میں پیش ہوا ۔ ایڈیشنل سیشن جج جناب محمد حنیف خان سمالانی نے ۲۳؍ جون ۱۹۹۸ء کو مقدمے کی سماعت شروع کی۔ ملزم کو متعدد پیشیوں پر وکیل کرنے کی تاکید کی گئی۔ آخر کار ۱۷؍ جولائی ۱۹۹۸ء کو ملزم پر فرد جرم عائد کر دی گئی اور ۸؍ جولائی ۱۹۹۸ء کو عدالت نے گواہوں کو شہادت کے لئے طلب کیا اور یکے بعد دیگرے استغاثہ کے نو گواہ پیش ہوئے، جن کے نام یہ ہیں: حاجی نسیم خان کاکڑ ، حاجی غلام حسین ، محمد نسیم ہوٹل منیجر ، مولوی مطیع اللہ ، مولوی جمعہ خان ، مشتاق مسیح ، امیر محمد دشتی اے ایس آئی ، اظہر حسین اے ایس آئی ، سردار طارق منظور ایس آئی۔ مقدمے کی سماعت ۹ پیشیوں میں مکمل ہوئی ۔ ۷؍ اگست ۱۹۹۸ء کو فاضل جج جناب محمد حنیف سمالانی نے فیصلہ سنایا کہ ملزم عبدالعزیز ولد عبدالقادر کو توہین قرآن کے جرم میں دفعہ ۲۹۵-بی عمر قید بامشقت دی جاتی ہے۔ مقدمہ کی پیروی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کوئٹہ نے کی۔ علاقہ کے علماء کرام اور تمام دینی حلقوں کا تعاون جاری رہا۔ جماعت کی طرف سے وکلاء کا ایک پینل تشکیل دیا گیا تھا۔ جس نے اپنا خصوصی وقت اس کیس کی تیاری میں دیا۔ ان کے نام یہ ہیں ۔
- ۱...... جناب چوہدری محمد رفیق صاحب ایڈووکیٹ
- ۲...... جناب چوہدری محمد ممتاز یوسف صاحب ایڈووکیٹ
- ۳...... جناب زاہد مقیم انصاری صاحب ایڈووکیٹ
- ۴...... جناب سید اشفاق محمود صاحب ایڈووکیٹ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے عہدیداران واراکین جنہوں نے صوبائی امیر حضرت مولانا منیر الدین صاحب کی نگرانی میں کیس کی پیروی کی اور ہر پیشی پر حاضر ہوئے۔ جناب حاجی شاہ محمد آغا صاحب امیر عالمی مجلس تحفظ کوئٹہ، جناب حاجی تاج محمد فیروز سیکرٹری جنرل ، جناب حاجی خلیل الرحمن جوائنٹ سیکرٹری ، جناب حاجی نعمت اللہ نگران دفتر ، جناب حاجی طفیل محمد احرار ، جناب فیاض حسن سجاد
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
روزنامہ جنگ، مولانا عبدالعزیز جتوئی مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کوئٹہ، قاری عبدالرحیم رحیمی ناظم نشر واشاعت کوئٹہ، حضرت مولانا قاری انوار الحق حقانی، جناب غازی عبدالرحمٰن، حافظ خادم حسین گجر، جناب غلام یاسین آصف، حضرت مولانا قاری عبداللہ، جناب محمد حنیف سلائی مشین والے، سید ریحان زیب، پروفیسر محمد عبداللہ، پروفیسر فیض محمد ربانی، جناب حافظ شریف، جناب محمد شریف منگلا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۱۹۹۸ء ص ۵۱، ۵۲)
مرزا طاہر کی حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش
مرزا غلام احمد قادیانی جھوٹے مدعی نبوت کے جھوٹے جانشین مرزا طاہر (جو اپنے نام کی ضد ہے) اپنے دادا کے جھوٹ کے ریکارڈ توڑنے کے لئے گزشتہ کئی سال سے مسلسل کوشش میں ہیں۔ ۱۲؍ جون ۱۹۹۸ء کو جمعہ کا خطبہ جو انہوں نے اپنے پیروکاروں کو گمراہ کرنے کے لئے دیا وہ ڈش انٹینا اور انٹرنیٹ کے ذریعہ تمام کفریہ علاقوں میں سنایا گیا۔ اس خطبہ کی نمائندہ جنگ نے خبر جاری کی جو ۱۴؍ جون ۱۹۹۸ء کے اخبار جنگ لاہور نے شائع کی۔ خبر ملاحظہ کریں:
”پاکستان کی ایٹمی ترقی میں قادیانی سائنس دانوں نے بنیادی کردار ادا کیا: مرزا طاہر ڈاکٹر عبدالسلام سمیت قادیانی سائنس دانوں نے ایٹمی پروگرام کے لئے نہایت خفیہ انداز سے کام کیا۔ قادیانی سائنس دان تعاون نہ کرتے تو آج پاکستان ایٹمی طاقت نہ بنتا، تاریخ کو مسخ نہ کیا جائے۔
ربوہ قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر احمد نے کہا کہ ان کی جماعت نے تحریک پاکستان اور پاکستان کی تعمیر میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ اس کی تاریخ شاہد ہے جو لوگ تاریخ کو مسخ کر رہے ہیں آنے والی نسلیں ان پر پھٹکار ڈالیں گی۔ بیت الفضل لندن سے ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایٹمی دھماکہ کرنے کا سہرا کبھی ڈاکٹر عبدالقدیر کے سر، کبھی ضیاء الحق، کبھی بھٹو، کبھی نواز شریف کے سر باندھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ حالانکہ اس کی ایٹمی ترقی میں ابتدائی بنیادی کردار ڈاکٹر عبدالسلام اور دیگر قادیانی سائنس دانوں نے ادا کیا اور اس کا سہرا سابق صدر محمد ایوب کے سر پر ہے۔ کیونکہ ان کے دور میں ایٹمی اٹامک انرجی کمیشن کی بنیاد رکھی گئی۔ صدر ایوب کے بیٹے گوہر ایوب پتہ نہیں اپنے باپ کے بارے میں حقائق بیان کرنے سے کیوں ڈررہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ قادیانی سائنس دان تعاون نہ کرتے تو آج پاکستان ایٹمی طاقت نہ بنتا۔ مرزا طاہر نے کہا کہ قادیانی سائنس دانوں پروفیسر شیخ عبداللطیف، مرزا منور احمد، محمود احمد شاہ اور ڈاکٹر محمد افضل نے نہایت خفیہ انداز میں کام کیا اور اس بات کے ڈاکٹر منیر احمد بھی گواہ ہیں۔ مرزا طاہر احمد نے اپنی جماعت کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بڑے افسوس کا مقام ہے کہ آج موجودہ حکومت کی طرف سے بعض پاکستان دشمنوں کے مطالبہ پر یہ کہا جارہا ہے کہ چونکہ قادیانی ملک کے غدار ہیں اس لئے انہیں کوئی کلیدی عہدہ نہیں دیا جاسکتا اور اس طرح تاریخ کو مسخ کیا جارہا ہے۔“
(روزنامہ جنگ لاہور مورخہ ۱۴؍ جون ۱۹۹۸ء)
اس خبر کے جواب میں مختصر طور پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر مرکزیہ حضرت اقدس مولانا محمد یوسف لدھیانوی دامت برکاتہم کی طرف سے مختصر طور پر اس کا جواب دیا گیا۔ جنگ لاہور کی خبر ملاحظہ فرمائیں:
”قادیانی سائنس دانوں نے کچھ نہیں کیا، پاکستانی ایٹمی راز امریکہ پہنچا دیئے ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی پاکستان کے ایٹمی قوت بننے کے سخت مخالف تھے، ڈاکٹر منیر کے زمانے میں معمولی کام بھی نہیں ہوا، قادیانی گروپ کے اثرات ختم ہونے کے بعد ایٹمی ترقی ہوئی، مرزا طاہر جھوٹے بیان نہ دیں، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ملتان عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی نائب امیر ممتاز محقق مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر کے اس بیان کو جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کے ایٹمی قوت بننے میں قادیانی سائنس دانوں اور ڈاکٹر عبدالسلام نے بنیادی کردار ادا کیا ہے، جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مرزا طاہر نے حقائق کو جھٹلانے کی کوشش کی ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے میں قادیانی جماعت اور اس کے سائنس دانوں کا بہت بڑا ہاتھ ہے اور اسرائیل کو پاکستان کے ایٹمی راز قادیانی جماعت کے سائنس دانوں نے پہنچائے ۔ ڈاکٹر منیر کے زمانے میں اٹامک انرجی کمیشن قائم ہونے کے باوجود ایٹمی شعبہ میں معمولی سا کام بھی نہیں ہوا ۔ ایوب خان کو جھوٹی رپورٹوں کے ذریعہ طفلی تسلیاں دی جاتی رہیں ۔ بھٹو دور میں سائنسی کانفرنس میں ڈاکٹر عبدالسلام کو شرکت کی دعوت دی گئی تو اس نے جواب لکھا جو آج تک ریکارڈ میں موجود ہے کہ ’’میں اس لعنتی ملک پر قدم نہیں رکھنا چاہتا جب تک آئین میں کی گئی ترمیم واپس نہ لی جائے ۔‘‘
ڈاکٹر عبدالقدیر نے جب کہوٹہ میں ایٹمی قوت بننے کے لئے کام شروع کیا تو ڈاکٹر منیر نے جو کہ عبدالسلام کا شاگرد تھا ڈاکٹر عبدالقدیر کی زبردست مخالفت کی حالانکہ وہ نہ نیوکلیئر انجینئر تھے اور نہ ہی ڈاکٹریٹ کی تھی صرف ایم ایس سی تھے۔
ڈاکٹر عبدالقدیر اور اسلامی بم کے صفحہ ۳۱ پر سابق وزیر خارجہ یعقوب خان کے حوالے سے تحریر ہے کہ امریکی محکمہ دفاع میں سی آئی اے کو پاکستان کے تمام ایٹمی راز و بم کا ماڈل ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی نے مہیا کیا تھا۔ زاہد ملک کی اسی کتاب میں تحریر ہے کہ ڈاکٹر عبدالسلام پاکستان کے ایٹمی قوت بننے کے مخالف تھے۔
اور شواہد سے خود یہ بات واضح ہے کہ ۱۹۷۴ء تک جب تک اس شعبہ میں قادیانیوں کے اثرات تھے ایٹمی قوت بننے کے سلسلے میں معمولی سا بھی کام نہیں ہوا حالانکہ صدر ایوب چاہتے تھے کہ ہندوستان کے مقابلہ میں دفاعی قوت مضبوط کی جائے ، لیکن قادیانیوں نے ان کی کوششوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا، ڈاکٹر عبدالقدیر کے بعد جب قادیانی گروپ کے اثرات ختم کر دیئے گئے تو پھر پاکستان نے اس شعبہ میں ترقی کی ۔ مرزا طاہر جھوٹا بیان دے کر دنیا کو گمراہ کرنے کی کوشش نہ کریں۔
مرزا طاہر نے اپنے بیان میں اور خطبہ میں اپنے دادا مرزا غلام احمد قادیانی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے جھوٹ گھڑے ہیں اور تاریخی حقائق کو مسخ کرنے اور جھٹلانے کی کوشش کی ہے اور بدقسمتی ملاحظہ فرمائیں کہ چوری اور سینہ زوری اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جھوٹ بولنے کی اس سے بڑی مثال اس صدی میں اور کوئی نہیں ہوسکتی اور اس جھوٹ کو سن کر شیطان بھی کہنے لگا ہوگا کہ اس دیدہ دلیری سے میں بھی جھوٹ نہیں بول سکتا۔
مرزا طاہر نے تین جھوٹ بولے ہیں:
- (۱) تحریک پاکستان میں قادیانیوں نے اپنا بھر پور کردار ادا کیا۔
- (۲) تعمیر پاکستان میں قادیانیوں کا اہم کردار ہے۔
- (۳) پاکستان کے ایٹمی قوت بننے میں قادیانی سائنس دانوں خصوصاً ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی نے بنیادی کردار ادا کیا۔
ان تینوں دعوؤں میں سے آخری دعویٰ کے بارے میں مرزا طاہر نے وزیر خارجہ جناب گوہر ایوب صاحب کو مخاطب کر کے کہا کہ وہ اپنے والد صاحب کا نام اس سلسلے میں کیوں نہیں لیتے اور تاریخ کو مسخ کرنے کی کیوں اجازت دے رہے ہیں؟ آخر میں انہوں نے حسب
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
معمول تاریخ مسخ کرنے والوں کے لئے اپنے دادا کے طرز پر بددعائیں دی ہیں، ان ہی بددعاؤں سے جھوٹ سچ کا اندازہ ہوجاتا ہے کہ حضور ﷺ اور آپ کے پیروکار تو اپنے دشمنوں کی ہدایت کے لئے دعا مانگتے ہیں اور جھوٹا مدعی نبوت اور اس کے پیروکار اور خلفا بددعاؤں اور گالیوں کے علاوہ اپنے مخالفین پر کسی اور طرح غصہ نہیں نکالتے۔
آئیے! ہم مرزا طاہر کے ایک ایک دعوی کا تجزیہ کر کے تاریخی حقائق اور واقعات آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں تاکہ آپ خود اندازہ لگا لیں کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔ تحریک پاکستان کا آغاز انگریزوں کے عیارانہ اور مکارانہ انداز میں برصغیر پر قبضہ کے دن ہوا۔ مسلمانوں نے سب سے پہلے آزادی وطن کے لئے جہاد شروع کیا اور انگریزوں کے خلاف صف آراء ہوئے۔ انگریزوں نے سب سے زیادہ مسلمانوں کو تختہ مشق بنایا اور ایک ایک دن میں ہزاروں علماء کرام کو شہید کیا۔ تختہ دار پر چڑھایا، ہزاروں مدارس دینیہ کو تہس نہس کیا اتنا بڑا ظلم کیا کہ خود انگریز مورخ چیخ اٹھے۔ ایک ایک درخت پر دس دس علمائے کرام کو لٹکا کر شہید کیا گیا۔ اس وقت اسلام دشمن طاقتیں انگریزوں کی مدد کر رہی تھیں اور مسلمان مجاہدین کا کردار ادا کر رہے تھے۔ اس نازک دور میں ملاحظہ فرمائیے۔ تحریک پاکستان میں حصہ لینے کے دعویدار مرزا طاہر قادیانی کے دادا اور جھوٹے مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی کی اپنی تحریریں جو انگریز سرکار کی وفاداری اور جہاد کی ممانعت کا اعلان کر کے مرزا طاہر کے منہ پر طمانچہ مار رہی ہیں:
مرزا قادیانی اور انگریز: ”میں ایک ایسے خاندان سے ہوں کہ جو اس گورنمنٹ کا پکا خیر خواہ ہے۔ میرا والد مرزا غلام مرتضیٰ گورنمنٹ کی نظر میں ایک وفادار اور خیر خواہ آدمی تھا، جن کو دربار گورنری میں کرسی ملتی تھی اور جن کا ذکر مسٹر گریفن صاحب کی تاریخ رئیسان پنجاب میں ہے اور ۱۸۵۷ء میں انہوں نے اپنی طاقت سے بڑھ کر سرکار انگریز کو مدد دی تھی۔ یعنی پچاس سوار اور گھوڑے بہم پہنچا کر عین غدر کے وقت سرکار انگریز کی امداد میں دیئے تھے۔ ان خدمات کی وجہ چٹھیات خوشنودی حکام ان کو ملی تھیں۔ مجھے افسوس ہے کہ بہت سی ان میں سے گم ہو گئیں مگر تین چٹھیات جو مدت سے چھپ چکی ہیں، ان کی نقلیں حاشیہ میں درج کی گئی ہیں۔ پھر میرے والد صاحب کی وفات کے بعد میرا بڑا بھائی مرزا غلام قادر خدمات سرکار میں مصروف رہا اور جب تموں کے گزر پر مفسدوں کا سرکار انگریز کی فوج سے مقابلہ ہوا تو وہ سرکار انگریز کی طرف سے لڑائی میں شریک تھا۔
(کتاب البریہ ص ۳ تا ۵ اشتہار مورخہ ۲۰ ستمبر ۱۸۹۷ء مندرجہ روحانی خزائن جلد ۱۳ ص ۴ تا ۶)
”میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریز کی تائید و حمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریز کی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔ میں نے ایسی کتابوں کو تمام ممالک عرب، مصر، شام، کابل اور روم تک پہنچا دیا ہے۔ میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیر خواہ ہو جائیں اور مہدی خونی اور مسیح خونی کی بے اصل روایتیں اور جہاد کے جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں۔“
(تریاق القلوب ص ۲۷، ۲۸، خزائن جلد ۱۵ ص ۱۵۵، ۱۵۶)
مرزا قادیانی نے تقریبا ۹۰ کے قریب کتب تحریر کی ہیں۔ لیکن اس کا دعوی ہے کہ اس نے انگریز کی اطاعت اور جہاد کی ممانعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھیں کہ اس سے ۵۰ الماریاں بھر سکتیں ہیں۔ ہمارا دنیا کے تمام قادیانیوں کو چیلنج ہے کہ وہ ہمیں مرزا قادیانی کی پچاس الماریوں پر مشتمل کتابوں کی فہرست فراہم کریں، ہم انہیں منہ بولا انعام دیں گے۔ ہمارا دعوی ہے کہ قیامت تک کوئی قادیانی ہمارا چیلنج قبول کرنے کی جرات نہ کر سکے گا۔ مرزا قادیانی کے اس جھوٹ کو ثابت کرنا کسی قادیانی کے بس میں نہیں۔ قادیانیوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۶؍ جون تا ۲؍ جولائی ۱۹۹۸ء ص۴، ۵)
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سوات میں قادیانیوں کی شرانگیزی، علماء کرام کا ردعمل
قادیانی مرکز پر چھاپہ گیارہ سو گمراہ کن قادیانی کتب کی ضبطی، قادیانی مربی کرامت اور سہیل کی گرفتاری، مولانا نور الحق نور، مولانا عبیدالرحمٰن، قاری عبدالباری، مولانا خلیل اللہ، سید بدرالزمان، حاجی سردار علی اور دیگر بیس علماء کرام پر مشتمل ایکشن کمیٹی کا قیام دینی، عوامی، سیاسی، صحافتی حلقوں کا انتظامیہ کو انتباہ! حالات کے خراب ہونے کی ذمہ داری حکومت پر ہوگی۔
سولہویں صدی عیسوی میں انگریز ایسٹ انڈیا کمپنی کے بہانے برصغیر میں داخل ہوئے اور تقریباً ساڑھے سات سو سال کی مسلمان حکومت کو تاخت و تاراج کر کے اپنے قدم جمالئے، اب گوری اقلیت کو خطرہ صرف مسلمانوں کے جذبہ جہاد سے تھا کہ کہیں مسلمان اپنی کھوئی ہوئی عظمت کے حصول کے لئے جہاد کا راستہ اختیار نہ کرلیں، چنانچہ مسلمانوں کے جذبہ جہاد کو مفقود کرنے کے لئے اس نے جھوٹی نبوت کا اجراء کا فتنہ کھڑا کر کے مسلمانوں کو انتشار و افتراق کی کڑی دھوپ میں لاکھڑا کیا۔
قادیان کے دہقان زادے مرزا غلام احمد قادیانی جو اس وقت سیالکوٹ کی کچہری میں پندرہ روپے ماہوار کا منشی تھا کو اس کام کے لئے منتخب کیا اور پیسے کی آبیاری سے انگریز نے اس سے مختلف دعوے کروائے یہاں تک کہ اس نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کر کے مسلمان قوم پر ایسا وار کیا جو میر صادق اور میر جعفر سے بھی بڑھ کر تھا۔ یہ داستان درد انتہائی اندوہ ناک اور طویل ہے۔
مرزا قادیانی کی معنوی ذریت بھی دین دشمنی اور ملک وملت دشمنی میں باپ دادا سے کسی طرح کم نہیں۔ آج بھی مرزا طاہر اپنے باپ انگریز کی گود لندن میں بیٹھ کر ملک وملت کے خلاف زہریلے پروپیگنڈہ میں شب و روز اکارت کر رہا ہے۔ قادیانی سادہ لوح مسلمانوں کے ایمانوں پر ڈاکہ ڈال کر مرتد بناتے ہیں۔ عین اس شکاری کی طرح جو جال کے نیچے چند دانے ڈالتا ہے پرندہ جب دانے کے لالچ میں جال میں آتا ہے، جب اڑنے لگتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ پھنس چکا ہے۔ تفصیل میں جانے کا وقت نہیں سردست میں آپ کو مملکت خدادا پاکستان کی ایک خوبصورت وادی سوات میں قادیانیوں کی شرانگیزی اور دینی، سیاسی، عوامی اور صحافتی حلقوں کے ردعمل، انتظامیہ کا بروقت اقدام اور قادیانی کتب کی ضبطی اور قادیانی مربی کی گرفتاری کے بارے میں ایک مختصر رپورٹ پیش کروں گا۔
تو آئیے! سب سے پہلے مورخہ ۱۸؍ جون ۱۹۹۸ء کے روزنامہ ’’اوصاف‘‘ اسلام آباد کی خبر ملاحظہ کریں:
قادیانیوں نے سوات میں ہیڈ کوارٹر بنا لیا دعوتی مہم شروع: قادیانی فرقہ سوات میں متحرک ہو گیا، سوات کے عوام کو مختلف قسم کا لالچ اور ترغیب دے کر قادیانی مذہب اختیار کرنے کی کوشش تیز ہو گئی۔ ضلعی انتظامیہ کوئی نا خوشگوار واقعہ سے پہلے نوٹس لے۔ قابل اعتماد باخبر ذرائع کے مطابق قادیانی فتنہ نے ایشیا کے چھوٹے سوئٹزرلینڈ اور پاکستان کی حسین ترین وادی سوات میں اپنی دعوتی مہم تیز کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق وہ دو ماہ سے سرگرم عمل ہے اور سوات کے ایک مقام رحیم آباد کو انہوں نے اپنا ہیڈ کوارٹر بنا دیا ہے اور تمام کام خفیہ طریقے سے چلا رہے ہیں۔ ہیڈ کوارٹر کے طور پر رحیم آباد میں ایک سلک مل کو استعمال کر رہے ہیں۔ علاوہ ازیں رحیم آباد میں ان کا ایک تبلیغی مرکز بھی ہے جو کہ ایک بلڈنگ کی دوسری منزل پر واقع ہے۔ اس مرکز میں قادیانی لٹریچر کی ایک بڑی لائبریری ہے جس میں گیارہ سو کے قریب کتب ہیں جو قادیانی مربی مذہب کی طرف راغب کرنے کے لئے فراہم کی جاتی ہیں۔ ذرائع کے مطابق مرکز کا انچارج مسمی (ک) مہینے میں دو مرتبہ پنجاب میں قادیانیوں کے مرکز ربوہ میں جاتا ہے جہاں سے وہ سرمایہ ، لٹریچر اور دیگر احکامات لاکر ان پر عمل کراتا ہے۔ مگر انتظامیہ آج تک بے خبر ہے اگر ضلعی انتظامیہ نے قادیانیوں کے خلاف نوٹس لے کر ان کی تبلیغی مہم کو نہ روکا تو سوات کے عوام جو کہ اسلام کے شیدائی ہیں کے سیلاب پر قابو پانا مشکل ہو جائے گا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیانی مذہب کی تو پہچان ہی دھوکہ دہی بن گئی ہے۔ یہ لوگ پوری دنیا میں خود کو مسلمان ظاہر کر کے کفر کی تبلیغ کرتے ہیں اور اپنے اس رہنما (مرزا غلام احمد قادیانی) کو نعوذ باللہ پیغمبر کے طور پر پیش کرتے ہیں جس شخص کی انگریز سے پکی نوکری شک وشبہ سے بالاتر تھی۔
سوات زمانہ قدیم سے امن کا گہوارہ ہے یہاں صرف ایک ہی قسم کے سیدھے سادھے اور راسخ العقیدہ مسلمان رہتے ہیں۔ جو نہ تو چھوٹی موٹی باتوں پر کسی کو کافر قرار دیتے ہیں نہ ہی تعصب اور تنگ نظری کی بنیاد پر یہاں کبھی کوئی جھگڑا اور فساد ہوا ہے لیکن گزشتہ ایک عرصہ سے نہ جانے یہاں کی ہم آہنگی کو کس کی نظر لگ گئی ہے کہ کبھی پرویزیت کا فتنہ سر اٹھاتا ہے اور کبھی قادیانیت کا۔ اس صورت حال میں خوش آئند بات یہ ہے کہ ایک طرف عوام نے اس بارے میں زبردست احساس اور بیداری کا مظاہرہ کیا ہے تو دوسری طرف انتظامیہ نے زبر دست حکمت اور دانشمندی اور اسلام دوستی کا مظاہرہ کیا اور عوام کے دینی جذبات کی صحیح ترجمانی کرتے ہوئے ہمیشہ بروقت اقدامات کئے ہیں۔ اس موقع پر بھی ایک طرف قانون کے تقاضے پورے کئے گئے اور دوسری طرف عوامی جذبات کو برانگیختہ ہونے سے قبل ہی ایسا عملی اور ٹھوس اقدام کیا گیا جس پر شہر کے عوامی، سیاسی، مذہبی اور صحافتی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ اور بالخصوص ڈپٹی کمشنر سوات کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ امید ہے مذہبی معاملات میں مداخلت کرنے والوں کے خلاف آئندہ بھی اس طرح بروقت کاروائی ہوگی، لیکن اللہ کرے کہ آئندہ کوئی ایسا موقع پیش ہی نہ آئے۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مجلس شوری کے رکن جناب حضرت مولانا نور الحق نور صاحب نے سوات میں قادیانیوں کی شرانگیزی کے رد پر، عوامی، سیاسی اور صحافتی حلقوں کے تعاون کا شکریہ ادا کیا۔ اللہ تعالیٰ تمام اہل خیر کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ (آمین)
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۴ تا ۲۰؍اگست ۱۹۹۸ء ص۲۰، ۲۴)
مسلمانان ایبٹ آباد کے غیرت کو چیلنج کیا گیا ہے
ایبٹ آباد (نمائندہ خصوصی) ایبٹ آباد گرلز کالج میں ہونے والے مذموم ڈرامہ کی خبر ملتے ہی ختم نبوت یوتھ فورس ایبٹ آباد نے ہزارہ ڈویژن کے غیور اور باشعور راسخ العقیدہ مسلمانوں کو آگاہ کیا۔ شنکیاری کی مرکزی جامع مسجد میں قرارداد مذمت منظور کی گئی۔ ۲۱ جولائی کو وزیر اعلیٰ سرحد کے دورہ شنکیاری کے موقع پر جمعیت علماء اسلام کے کارکن محمد سعید صابر نے امن عامہ کو چیلنج کرنے سے گریز کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سرحد جناب سردار مہتاب خان عباسی کو ایک تحریری عرض داشت میں پورے واقعہ سے آگاہ کیا اور اسی موقعہ پر موجود مانسہرہ سے رکن قومی اسمبلی سردار محمد یوسف ارکان سرحد اسمبلی عاشق رضا سواتی اور طارق خان سواتی اور میاں وجیہ الرحمن کو اس عرضداشت کی نقول فراہم کیں۔ جب کہ میاں وجیہ الرحمن نے معاملہ سرحد اسمبلی میں اٹھانے کا وعدہ بھی کیا۔ اس طرح ختم نبوت مانسہرہ نے اپنی سی کوشش کی۔ بعد ازاں قاضی خلیل احمد ڈسٹرکٹ خطیب مانسہرہ نے اس عرض داشت کے پیش نظر بالاکوٹ میں تمام مذہبی جماعتوں کا اجلاس بلایا۔ جس میں واقعہ کی مذمت، ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی اور مسلمانوں کے جذبات ایمانی سے حکومت کو آگاہ کیا گیا۔ بعد ازاں مجلس عمل علماء اسلام کے مرکزی ناظم اطلاعات مولانا عطاء الرحمن شاہ بخاری نے ملک بھر کے پروانہ ہائے ختم نبوت کو عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے سر گرم ہونے کی ہدایت کی اور ۱۳ جولائی کو ختم نبوت یوتھ فورس ایبٹ آباد کے صدر وقار احمد جدون کی طرف سے تھانہ کینٹ ایبٹ آباد کو دی گئی درخواست نقول بھی مذکورہ ہدایت کے ہمراہ بھیجی گئی۔ ملک کے ممتاز عالم دین اور تحریک فیض القرآن پاکستان کے بانی وصدر قاری فیض الدین ہزاروی نے بنہ بٹ گرام میر پور آزاد کشمیر اور ڈھوڈیال ضلع مانسہرہ میں مختلف اجتماعات میں مسلمانوں کی توجہ مبذول کرائی۔ واقعہ کے
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
خلاف مسلمانوں کا رد عمل شدید ہوتا جارہا ہے۔ مگر افسوس ہے کہ ڈی سی ایبٹ آباد ، وزیر اعلیٰ سرحد یا کسی نام نہاد عوامی نمائندہ نے اپنے فرض کو نبھایا نہ اپنے ووٹروں کے جذبات و عقائد کا خیال رکھا۔ ستم ظریفی یہ کہ آج تک واقعہ کی ابتدائی رپورٹ تک درج نہیں کی جاسکی۔ ضروری ہے کہ ایبٹ آباد انتظامیہ ایف آئی آر درج کرائے اور تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر لائی جائے۔ کیونکہ ڈی سی ایبٹ آباد نے ایک لیڈی اسٹنٹ کمشنر سے واقعہ کی انکوائری کرائی جس میں تمام تر واقعہ کی تصدیق کی گئی ہے اور ضروری ہے کہ واقعہ میں ملوث کالج پرنسپل کرداروں وغیرہ کی بیرون ملک فرار کی راہ مسدود کی جائے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت ۲ تا ۸ / اکتوبر ۱۹۹۸ء ص ۲۰، ۲۶)
قادیانیوں کو عبرت ناک شکست
بہاول نگر گزشتہ دنوں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بہاول نگر کے مبلغ مولانا محمد طیب فاروقی اپنے تبلیغی دورے پر ڈاہرانوالہ پہنچے تو وہاں مولانا اجمل کے پاس درس قرآن کا پروگرام طے پایا۔ مولانا نے عشاء کے بعد مفصل بیان میں پہلے سیرت نبوی ﷺ اور پھر مرزا قادیانی کے کذب اور کردار پر روشنی ڈالی ۔ واضح رہے کہ ڈاہرانوالہ کے ارد گرد قادیانی آباد ہیں جب انہوں نے مرزا کے متعلق باتیں سنیں تو بوکھلاہٹ میں بیان کے بعد مولانا طیب کو چیلنج کر دیا کہ آپ نے حوالہ جات غلط پیش کئے ہیں اس کے ثبوت فراہم کریں ۔ جب یہ بات دوسرے مسلمانوں تک پہنچی تو اردگرد کے مسلمان کافی تعداد میں رات گئے اکٹھے ہوگئے ۔ آخر طے پایا کہ کل صبح آٹھ بجے تک مرزائی اسٹام پیپر پر لکھ کر دیں کہ اگر حوالہ جات درست ہوئے تو وہ مرزا قادیانی پر لعنت بھیج کر مسلمان ہو جائیں گے ۔
اس دوران مولانا محمد طیب نے بہاول نگر سے رات فون کر کے ضروری کتب منگوالیں ۔ جامعہ قاسمیہ فقیر والی کے مہتمم حضرت مولانا محمد قاسم قاسمی سے رات کو رابطہ کر کے ساری صورت حال سے آگاہ کیا ۔ دوسرے دن مولانا قاسمی صاحب بھی بہت سی کتابیں اور دیگر علمائے کرام کے ہمراہ ڈاہرانوالہ پہنچ گئے ۔ وقت مقررہ پر تو کیا دن کے ۱۲ بجے تک کوئی قادیانی نہ آیا۔ وہاں پر اعلانات کئے گئے ، اردگرد کے تمام مسلمان دس بجے تک جمع ہو چکے تھے ۔ ہر طرف ختم نبوت زندہ باد کے نعرے اور مرزائیت مردہ باد کے نعرے گونج رہے تھے ۔ اس موقع پر مولانا محمد طیب اور جامعہ قاسم العلوم فقیر والی کے شیخ الحدیث مولانا حبیب اللہ صاحب نے خطاب فرمایا ، اور آئندہ خطبہ جمعہ غلہ منڈی ڈاہرانوالہ میں طے ہوا۔ لہذا ۲۱ / اگست کو مولانا محمد طیب نے جمعہ غلہ منڈی میں پڑھایا کسی قادیانی کی جرات نہ ہو سکی کہ سامنے آئے ۔ اللہ تعالیٰ نے مرزائیت کو شکست دی اور مسلمانوں کے حوصلے بلند ہوئے ۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۱۹۹۸ء ص ۵۳ ، ۵۴)
مرزا طاہر پر دوبارہ مباہلہ کا دورہ
لندن میں مرزا طاہر کے ترجمان چوہدری رشید نے مباہلہ کے سلسلہ میں ایک بیان جاری کیا جس میں حسب سابق لایعنی گفتگو کا اعادہ کیا ہے جب کہ حضرت اقدس مولانا محمد یوسف لدھیانوی اور دیگر علماء کرام اس سلسلے میں تفصیلی جوابات دے چکے ہیں ۔ چوہدری رشید کہتے ہیں کہ : ”جب سے مرزا طاہر نے مباہلہ کا چیلنج دیا ہے قادیانیت کو ترقی حاصل ہوئی اور مسلمانوں میں اور مباہلہ دینے والے علماء کرام میں پھوٹ پڑی ۔ مرزا طاہر عالمی جماعت کے رہنما ہیں جب کہ مباہلہ کا چیلنج دینے والے اس سطح کے نہیں ۔ ان کی حیثیت تو ایک معمولی سی کمیٹی کے نمائندے کی نہیں“، اس طرح کی دیگر کچھ باتیں لکھ کر لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی ہے ۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ مباہلہ کی ایک تعریف اور ایک حقیقت ہے ، نبی کریم ﷺ نے وفد نجران کو مباہلہ کی دعوت دی جس کا تذکرہ قرآن مجید میں سورہ آل عمران میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
”پھر جو کوئی تجھ سے اس واقعہ میں جھگڑا کرے اس کے بعد کہ تیرے پاس صحیح علم آ چکا ہے تو کہہ دے آؤ ہم اپنے بیٹے اور تمہارے بیٹے اور اپنی عورتیں اور تمہاری عورتیں اور اپنی جانیں اور تمہاری جانیں بلائیں۔ پھر التجا کریں اور اللہ تعالیٰ کی لعنت ڈالیں ان پر جو جھوٹے ہوں۔“
روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور اکرم ﷺ وقت مقررہ پر اپنے اہل وعیال کے ساتھ تشریف لائے۔ لیکن عیسائیوں کو ان کے راہبوں نے کہا کہ اگر تم گئے تو تمہاری نسل مٹ جائے گی اور تباہ و برباد ہو جاؤ گے۔ اس لئے وہ نہیں گئے اور خود بخود حق و باطل کے درمیان فرق واضح ہو گیا۔ اس آیت کریمہ اور حضور اکرم ﷺ کے اس عمل کی وجہ سے فقہاء کرام نے تصریح کی ہے کہ مباہلہ کا مطلب یہی ہے کہ فریقین ایک جگہ جمع ہو کر اللہ تعالیٰ سے حق کے ظاہر ہونے کی التجا کریں یہاں تک کہ حق ظاہر ہو جائے۔ یہ تو اسلامی طریقہ ہے۔ مرزا طاہر نے جب مباہلہ کا چیلنج دیا تو علماء کرام نے اس کے مطابق اس چیلنج کو قبول کیا اور وقت مقرر کرنے کو کہا۔ مرزا طاہر نے جب وقت مقرر نہیں کیا تو علماء کرام نے خود وقت مقرر کر کے اس کو اطلاع دی لیکن وہ وقت مقرر پر نہیں آیا۔ علماء کرام نے حضور اکرم ﷺ کی اور مرزا طاہر نے عیسائیوں کی سنت پر عمل کیا اس لئے علماء کرام نے قرآن مجید کے طرز عمل کے مطابق اعلان کیا کہ جو فریق مباہلہ سے فرار ہو وہ حق پر نہیں۔ جہاں تک مرزا طاہر کے مباہلہ کا تعلق ہے اس کا شریعت یا سنت سے کوئی تعلق نہیں۔ خود مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھا ہے کہ فریق مخالف کا میدان مباہلہ میں آنا شرط ہے اور اسی وقت میری دعا کا اثر ہوگا۔ (انجام آتھم ، خزائن ج ۱۱) میں مرزا لکھتا ہے:
”میں یہ بھی شرط کرتا ہوں کہ میری دعا کا اثر صرف اسی صورت میں ہو گا جب تمام وہ لوگ جو مباہلہ کے میدان میں بالمقابل کھڑے ہوں گے ایک سال تک بلاؤں میں سے کسی بلا میں گرفتار ہو جائیں گے، اگر ایک بھی باقی رہا تو میں اپنے تئیں کاذب سمجھوں گا اگر چہ وہ ایک ہزار ہوں یا دو ہزار اور پھر ان کے ہاتھ پر توبہ کروں گا اور اگر میں مر گیا تو ایک خبیث کے مرنے سے دنیا میں ٹھنڈ اور آرام ہو جائے گا۔“
ہم مرزا طاہر یا ان کے ترجمان رشید چوہدری سے پوچھنا چاہیں گے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے جو مندرجہ بالا مباہلہ کا طریقہ لکھا ہے وہ درست ہے یا نہیں اور پھر بالمقابل میدان مباہلہ میں آئے تو کیا فیصلہ ہوا۔ کیا ان میں سے سب مر گئے یا مرزا غلام احمد قادیانی خبیث ہو کر اپنے بقول خود ہی مردار ہو گیا؟ اگر وہ اس کی بھی وضاحت فرما دیتے تو اچھا ہوتا۔
مرزا طاہر نے جنوری ۱۹۹۷ء-۹۸ء میں چیلنج دیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے علماء کرام خاص کر مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے چیلنج قبول کیا۔ ان کو کیا ہوا؟ مرزا طاہر کی بددعا سے کیا اثرات مرتب ہوئے؟ مرزا طاہر نے چند سال پہلے رمضان میں اپنے تمام پیروکاروں کو تلقین کی کہ وہ علماء کرام اور پاکستان کے مسلمانوں کے حق میں بد دعاؤں میں مصروف ہو جائیں۔ پورے رمضان میں تو وہ روتے رہے سوائے حسرت اور ندامت کے کچھ نہیں ملا۔ پاکستان کو قادیانی اسٹیٹ بنانے کا خواب دیکھنے والے مرزا بشیر الدین محمود کے فرزند تم تو ذلیل و خوار ہو کر راتوں رات ربوہ سے بھاگے۔ وہ جمعہ یاد ہو گا جب تم امتناع قادیانیت آرڈی نینس کے اجراء کے بعد روتے رہے کہ ہمیں تو جمعہ سے روک دیا گیا ہے اگر حق پر تھے تو کیوں جمعہ پڑھا کر شہید نہیں ہوئے؟ جیل میں نہیں گئے، حضور اکرم ﷺ اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام کی قربانیوں کا ذکر نہیں پڑھا، کیا امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے حضور اکرم ﷺ کی عظمت کے لئے اپنی زندگی جیلوں میں گزاری ظلم برداشت کیا حق بات سے باز نہ آئے۔ اگر ہمت ہے تو میدان میں آؤ۔ کوئی شرط نہیں یہ شرطیں تو کوئی جھوٹا پیغمبر مرزا غلام احمد قادیانی عائد کرتا تھا، علماء کرام تو جواب دیتے تھے۔ تمہاری بددعائیں اور لعنتیں تو مرزا غلام احمد قادیانی کے دور سے جاری ہیں، ایک ایک کر
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کے وہ چلے گئے اور اب آپ پانچویں امیر مرزا طاہر تم ہو! مرزا طاہر کو مغربی ذرائع کے مطابق جھوٹ کا بہت بڑا سہارا ڈش انٹینا اور ٹی.وی مل گیا۔ وہ ہر جمعہ کو خطاب کر کے یہ کہنے لگا ہے کہ ان کی جماعت ترقی پر ہے اور عالمی سطح کے لیڈر ہیں۔ ان کے ترجمان کی یہ دلیل کہ وہ مرزا طاہر ان کی جماعت کے عالمی لیڈر ہیں خود ہی ان کے کاذب ہونے کی دلیل ہے۔ کیونکہ مسلمان تو ایک ارب بیس کروڑ ہیں، اسی طرح عیسائیوں، یہودیوں اور ہندوؤں کی ایک بڑی تعداد ہے اور آبادی کے لحاظ سے ان کا رہنما اور لیڈر ہے جو ان کی رہنمائی کرتا ہے لیکن قادیانی جماعت چونکہ ایک اقلیتی فرقہ ہے جس میں محدود لوگ داخل ہیں، اس لئے ان کی قیادت ایک فرد کے ہاتھ میں ہے۔ مرزا طاہر! آپ کے مقابلے میں تو مسلمانوں کی کسی ایک جماعت کو رکھ لیا جائے تو اس کے ارکان آپ سے کئی گنا زیادہ ہوں گے۔ آپ سے زیادہ تو پاکستان کی ایک چھوٹی سی جماعت بڑا اجتماع کر لیتی ہے۔ آپ تو ایک کمرے سے نکلتے نہیں اور رشید چوہدری جیسے ترجمان ڈش انٹینا وغیرہ کی رپورٹ دکھا کر تمہیں خوش کر دیتے ہیں۔ پچاس لاکھ سے زائد ہر سال آپ کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں اور آپ کا سالانہ اجتماع پندرہ ہزار سے زائد نہیں ہوتا۔ گزشتہ کئی سال سے یہی تعداد آپ کے ترجمان نے رٹی ہوئی ہے۔ بیت اللہ شریف اور مسجد نبوی سے محروم، اسلامی تحریکات سے محروم شخص کیسے مسلمان ہو سکتا ہے؟ ہمت ہے تو طریقہ سے مباہلہ کریں، شیطان آپ کو سبز باغ دکھا کر گمراہیوں میں مضبوط کر رہا ہے، کسی اہل دل سے رابطہ قائم کریں آپ کو حقیقت معلوم ہو جائے گی۔ عیسائیوں اور یہودیوں سے زیادہ نہ آپ کے پاس دولت ہے اور نہ دنیاوی ترقی اور نہ ہی ذرائع ابلاغ۔ اگر یہی حقانیت ہے تو آپ سے زیادہ عیسائی اور یہودی حق پر ہیں۔ عیسائیوں کی مشنریوں کا آپ سے زیادہ لوگوں کو عیسائیت میں داخل کرنے کا دعویٰ ہے اگر وہ حق پر نہیں تو آپ بھی حق پر نہیں، آپ عیسائیوں کی ناجائز اولاد ہیں جو دجل اور فریب، مکاری کے ذریعہ لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ اگر آپ حق پر ہیں تو احمدیت اور اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اپنے دادا مرزا غلام احمد قادیانی کی عبارتوں کو کیوں چھپاتے ہو؟ اس کے جھوٹے دعویٰ نبوت، دعویٰ مسیح موعود میں کیوں تاویل کرتے ہو۔ اسلام کے نام پر کیوں دھوکہ دیتے ہو، الحمد للہ! مسلمان اپنے ایمان کی حقانیت پر اتنے مضبوط ہیں کہ دنیا کے ہر گوشہ میں اس کا اعلان کرتے ہیں۔ آپ سے تو سکھ اچھے ہیں کہ کھلم کھلا اپنے مذہب کا اعلان تو کرتے ہیں اگر ممکن ہے تو قادیانیت کے نام پر تبلیغ کرو، پھر پتہ چل جائے گا کہ تمہاری تبلیغ کی طرف کتنے لوگ متوجہ ہوتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ نے تمہیں ڈھیل دی ہے تو اس سے غلط فہمی کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں۔ شیطان کو قیامت تک ڈھیل دی گئی، عیسائیت، یہودیت کو ڈھیل دی گئی جیسا کہ کفار قریش کو ڈھیل دی گئی مسیلمہ کذاب سے زیادہ قادیانیت کو عروج نہیں ملا، لیکن عروج کی وجہ سے مسلمہ کذاب کو کسی نے حق پر نہیں کہا۔ اس سے زیادہ بھی ترقی ہو جائے تو قادیانیت کفر ہی رہے گی، اسلام نہیں بن سکتی، اسلام کا تعلق حضور اکرم ﷺ کی ذات سے ہے، ایک فرد بھی باقی ہے تو اسلام کی حقانیت ثابت ہے، حقانیت کا تعلق کثرت اور اقلیت سے نہیں۔ حضور اکرم ﷺ کے ساتھ وابستگی سے ہے اور امت مسلمہ کو اس پر فخر ہے، انشاء اللہ مسلمان ہر جھوٹے مدعی نبوت اور اس کے پیروکاروں کو مسترد کرتے رہیں گے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۸ تا ۲۴؍ستمبر ۱۹۹۸ء ص۴، ۵)
قادیانیت نوازی اور اسلام دشمنی کی بدترین مثال، مجیب وکیل قادیانی کی تقرری
بخدمت جناب صدر پاکستان، بخدمت جناب وزیر اعظم پاکستان، بخدمت جناب وفاقی وزیر مذہبی امور
السلام علیکم! پاکستان حکومت نے احتساب کے نام پر جو احتساب سیل بنایا ہے اس نے کیسوں کی سماعت کے لئے غیر سرکاری وکلاء کا ایک پینل بنایا ہے۔ اس میں متعصب، جنونی، قادیانی مجیب الرحمن ایڈووکیٹ راولپنڈی کو بھی لیا گیا ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- مجیب الرحمٰن قادیانی نہ صرف قادیانی ہے بلکہ قادیانی جماعت کا سرکاری وکیل ہے۔ وفاقی شرعی عدالت، چاروں ہائیکورٹس اور
سپریم کورٹ میں قادیانی جماعت کے کیسوں کی پیروی کرتا رہا ہے۔ آنجہانی ظفر اللہ قادیانی کے بعد اس مجیب الرحمٰن کو قادیانی جماعت کا نفس ناطقہ سمجھا جاتا ہے۔
- یہ پہلے صرف قادیانی جماعت کا سرکاری وکیل تھا۔ اب حکومت پاکستان کا بھی سرکاری وکیل ہے۔ حکومت سے ایک ایک کیس
کے لاکھوں روپے لے کر یہ قادیانیت کی تبلیغ پر خرچ کرے گا۔ گویا اب قادیانیت کو آب دانہ سرکاری خزانہ سے دیا جائے گا۔
- گمان یہ ہے میاں محمد نواز شریف صاحب کے ذاتی معالج قادیانی بریگیڈیئر عظمت رشید قادیانی نے میاں صاحب کے ذریعے یا ان
سے تعلقات کا فائدہ اٹھا کر احتساب سیل پر اثر و رسوخ استعمال کر کے یہ ڈرامہ اسٹیج کیا ہے۔
- وفاقی شرعی عدالت نے اپنے فیصلہ میں لکھا ہے کہ مرزا قادیانی دھوکہ باز۔ جھوٹا اور بددیانت تھا۔ اب اس بددیانت دھوکہ باز
کے پیروکار سے احتساب کرایا جارہا ہے؎
کیا صدر مملکت ، وزیر اعظم ، وزیر قانون ، وفاقی وزیر مذہبی امور و کار پردازان احتساب سیل ، حکومت کے بدترین قادیانیت نوازی کے اس اقدام پر توجہ فرما کر مداوا کی کوشش فرمائیں گے؟ والسلام ! (مولانا) اللہ وسایا رابطہ سیکرٹری: آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان ملتان
وزیر اعلیٰ سرحد کے نام ایک اہم خط، ایبٹ آباد کالج کا واقعہ
جناب وزیر اعلیٰ حکومت سرحد ! السلام علیکم !
شاید آپ کے علم میں ہو کہ ۱۹۵۳ء میں اسلام کے بنیادی عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے مطالبہ پر دس ہزار بے گناہ مسلمانوں کا انتہائی بے دردی سے خون بہایا گیا اور انہیں شہید کیا گیا۔ پورے ملک کی انتظامیہ اور محکمہ دفاع تک حالات کنٹرول نہ کر سکے، امن وامان مفقود ہو گیا اور اس وقت کے ظالم و بے دین حکمران اپنے ایمان اور مذہبی فرض ادا کرنے سے گریزاں رہے تو خداوند تعالیٰ نے خود ہی انہیں سزادی۔
بعد ازاں ۱۹۷۴ء میں قادیانیوں نے نشتر میڈیکل کالج کے نہتے طلبا پر ربوہ ریلوے اسٹیشن میں کھڑی ٹرین پر حملہ کیا۔ مرزائیوں کی اس لاقانونیت اور مسلمانوں کو عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت کے فریضہ سے باز رکھنے کی ناپاک جسارت پر پوری قوم ان مظلوم طلباء کی حمایت اور ان کی اس قربانی کی بدولت متحد و منظم ہوئی۔ بالآخر اس وقت کی حکومت کو مرزائیت کو ایک الگ کفریہ مذہب قرار دیتے ہوئے، مسلمانان پاکستان کا مطالبہ تسلیم کر کے دستور پاکستان میں ترمیم پر مجبور ہونا پڑا۔
اب کچھ عرصہ سے قادیانی پاکستان بھر میں خصوصاً صوبہ سرحد میں بہت سرگرم ہو چکے ہیں اور ہر طرح سے عقیدہ ختم نبوت کا مذاق اور دستور پاکستان کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ملکی قوانین کو چیلنج کرنے لگے ہیں۔
چنانچہ گزشتہ دنوں ایبٹ آباد گرلز کالج میں ایک ڈرامہ پیش کیا گیا۔ جس میں ایک لڑکی دولہا اور دوسری دلہن بنتی ہے جو ”سہاگ رات“ کو دولھا سے پوچھتی ہے کہ:
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
”آپ حضور“ کا نام کیا ہے؟ لفظ ”حضور“ پر غور فرمائیں ...... جواب: ”محمد“ اسم (محمد) قابل اعتراض اور توجہ ہے۔ والد کا نام؟ جواب: ”عبداللہ“ (عبداللہ حضرت محمد ﷺ کے والد ماجد کا اسم گرامی ہے) دادا کا نام پوچھا؟ جواب: ”عبدالمطلب“ (عبدالمطلب حضور ﷺ کے دادا کا نام ہے) پھر ڈرامہ کے کردار اس ”محمد“ (نعوذ باللہ من ذالک) پر کپکپی طاری ہوئی ہے۔ سوال کیا جاتا ہے یہ کپکپی کیوں اور کیا ہے؟ جواب دیا جاتا ہے کہ : ” وحی نازل ہورہی ہے۔“
قرآن عظیم اور احادیث رسول ﷺ کے مطابق ”وحی“ صرف ”انبیاء کرام“ پر نازل ہوتی تھی۔ چونکہ نبوت اور رسالت کا سلسلہ حضرت محمد ﷺ ابن عبداللہ پر ختم ہے۔ اس لئے مذکورہ ڈرامہ جہاں قرآن کریم کے عقیدہ ختم نبوت کا انکار ظاہر کرتا ہے۔ اس طرح وحی اور نبوت کا مذاق بھی۔ آئین کی دفعہ ۲۹۵ کی خلاف ورزی اور مسلمانان پاکستان کے ایمانی جذبات، عقائد کو چیلنج کرتے ہوئے صوبہ سرحد میں بدامنی، اشتعال اور لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال خراب کرنے کی سازش بھی ہے اور مسلمان طالبات کے مذہبی عقائد کے خلاف ایک سازش بھی۔
ڈپٹی کمشنر ایبٹ آباد نے انکوائری کرائی اور درج بالا واقعہ کو درست تسلیم کیا اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ یہ ”شریف زادیاں تھیں“ اور یہ حرکت غیر ارادی طور پر سرزد ہوئی۔
جناب عالی! اگر کوئی امیر مرد و عورت یا کوئی بااثر فرد قوانین کا مقابلہ کرے، بدامنی پھیلانے کا منصوبہ بنائے، عوام اور حکومت کو ذاتی یا سیاسی مفادات کی خاطر ایک دوسرے کے مقابلہ پر اکسائے تو کیا ”شریف زادے“ کا ”لیبل“ انہیں قانون کی گرفت یا قانونی ضابطوں کے تحت سزا سے مستثنیٰ کر سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔
پھر کوئی ڈرامہ بھی اچانک ہی اسٹیج پر نہیں آتا، بلکہ کہانی لکھی جاتی ہے ڈائریکشن ہوتی ہے۔ ریہرسل ہوتی ہے اور کئی روز کی تیاریوں کے بعد ہی پیش کیا جاتا ہے۔ اس لئے ڈی سی ایبٹ آباد کا یہ کہنا کہ یہ حرکت غیر ارادی طور پر سرزد ہوئی۔ خلاف حقیقت ہی نہیں بلکہ مجرموں کو تحفظ دینے کے مترادف ہے۔ صوبہ کے حالات کو خراب کرنے کا باعث بھی۔
چونکہ بحمد اللہ آپ مسلمان ہیں اور عقیدہ ختم نبوت پر آپ کا ایمان بھی ہے۔ نیز آپ مسلمانوں ہی کے نمائندے اور حاکم ہیں۔ اس لئے آپ سے خدا کے واسطہ کی اپیل ہے کہ آپ درج بالا واقعہ کا نوٹس لیں۔ ان نام نہاد شریف زادوں، کالج پرنسپل، کالج اسٹاف، کہانی نویس، ہدایت کار سب کو شامل تفتیش کریں۔ نیز ان کے ملک سے فرار کو بھی ناممکن بنائیں اور شعائر اسلام، پاکستان کے سرکاری
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مذہب اسلام اور مقننہ کی عزت و استحقاق کی پامالی کے تحفظ کا حق ادا کریں۔ اس کے ساتھ ہی قوم میں پائی جانے والی بے چینی اور اشتعال کا ازالہ بھی فرمائیں۔ اللہ آپ کو جزائے خیر سے نوازیں۔ آمین!
نوٹ: حفظ امن کی خاطر ہی آپ کو یہ عرض پیش کی جارہی ہے۔ والسلام! آپ کا خیر اندیش: محمد سعید صابر
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۲ تا ۸ / اکتوبر ۱۹۹۸ء ص ۱۹، ۲۰)
نوکوٹ سندھ میں قادیانیوں کے ہاتھوں مسجد کی شہادت
نوکوٹ (منور علی راجپوت) انگریزوں نے سندھ میں قادیانیوں کو اپنا بنانے کی خاطر تقریباً ۱۸ ہزار ایکڑ جاگیر عطا کی اور اس کا زیادہ تر حصہ سندھ کے ضلع میر پور خاص میں آتا ہے۔ فضل بھمبر، نفیس نگر، کنری کے گردو نواح میں موجود ہے۔ اسی طرح نوکوٹ کے قریب ایک نصرت آباد فارم ہے۔ اس کے علاقہ دیہہ کوٹہ چک نمبر ۴ کے قریب آج سے تقریباً چالیس سال پہلے ایک مسلمان رحیم بخش گجر نے ایک زمین مقاطعہ پر لی اور تقریباً پچیس سال اس زمین کا مقاطعہ دار رہا۔ اس پر اس نے ایک مسجد تعمیر کی اور جب تک وہ اس جگہ پر رہا مسجد بھی آباد رہی۔ آج سے چار پانچ سال قبل ایک قادیانی اللہ رکھا نے اس زمین کو مقاطعہ پر لیا۔ اللہ رکھا قادیانی نے ۲۲؍ اگست ۱۹۹۸ء کی شام مغرب سے قبل ٹریکٹر کے ذریعہ اس مسجد کو شہید کر دیا اور اس میں موجود قرآن مجید بھی جو اس وقت مسجد میں تھے۔ اس کی بے حرمتی ہوئی اور وہ بھی عمارت کے ملبے میں دب گئے۔ یہ علاقہ اگر چہ قادیانیوں کا تھا لیکن چیدہ چیدہ ہاری مسلمان تھے وہ اس بات کو لے کر نوکوٹ آئے نوکوٹ کے سرکردہ مسلمانوں نے مقامی انتظامیہ کے نوٹس میں لاتے ہوئے مسجد کی شہادت کا کیس داخل کرانے کے لئے مقامی تھانہ پہنچے، تو انتظامیہ نے اس بات کا کوئی نوٹس نہیں لیا بلکہ سنی ان سنی کردی۔ اس سے نوکوٹ کے سکول کے طلباء کرام نے پر امن احتجاجی جلوس ۲۲ اگست کو صبح نو بجے کے بعد نکالا جلوس انتہائی پر امن تھا اور اپنے مطالبات کے لئے مٹھی روڈ نوکوٹ کا مشہور روڈ ہے اس سے گزر رہا تھا اس روڈ پر قادیانیوں کی عبادت گاہ ہے، جلوس جب قادیانیوں کی عبادت گاہ سے گزر گیا تو قادیانی عبادت گاہ سے مسلمانوں کے جلوس پر قادیانیوں نے فائرنگ کر دی جس سے دو مسلمان شدید زخمی ہوئے۔ اس سے مزید اشتعال پھیلا اور اس سے شہر میں بلوہ ہوا۔ چار قادیانی مسلح گرفتار کر لئے گئے۔ مسلمان اس سانحے کے بارے میں پھر مقامی انتظامیہ کے پاس گئے لیکن مقامی انتظامیہ کے ایس، ایچ، او، ڈی، ایس، پی، ایس، ڈی، ایم نے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ ہم نے قادیانی گرفتار کر لئے ہیں۔ نوکوٹ کے اس واقعہ کے بعد شہر میں ہڑتال ہو گئی۔ نوکوٹ کے احباب نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں مولانا احمد میاں سے رابطہ کیا مولانا نے وہاں کے دوستوں کو تسلی دی۔
مولانا احمد میاں حمادی، مولانا محمد نذر، مولانا محمد علی صدیقی اور کنری کے احباب موقع پر پہنچے تو جامع مسجد میں ایک اجلاس ہو رہا تھا۔ صبح کو انتظامیہ سے ملاقات ہوئی۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں نے جہاں مسجد شہید ہوئی تھی۔ وہاں جانے پر زور دیا لیکن مقامی انتظامیہ اس طرف آنے کو تیار نہیں تھی۔ مجلس کے رہنماؤں کے اصرار پر موقعہ کا مشاہدہ کیا گیا۔ وہاں جانے سے قبل ایک نوجوان میاں داد نے آکر مزید رپورٹ دی کہ یہ مسجد اللہ رکھا قادیانی نے شہید کرائی ہے۔ نبی احمد قادیانی کا ٹریکٹر تھا اور نبی احمد کا لڑکا نذیر اس ٹریکٹر کو چلا رہا تھا اور اس وقت یہ قادیانی نشے میں تھے جب میں نے قادیانی اللہ رکھا سے کہا تو نے مسجد کیوں شہید کرائی؟ اس میں تو قرآن مجید بھی موجود تھے اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ میاں داد نے حلفیہ بیان عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے لیٹر پیڈ پر لکھ کر دیا اس سلسلہ میں حضرت مولانا احمد میاں حمادی کے حکم پر مولانا محمد علی صدیقی مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے کیس درج کرانے کی خاطر ایک درخواست جمع کرادی۔ اس موقع
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پر پہنچ کر معلوم ہوا کہ انتظامیہ اس کیس کو دبانے کے چکر میں ہے حالات جو انتظامیہ بیان کر رہی ہے اس کے برعکس ہیں۔ انتظامیہ کا دعویٰ یہ تھا کہ مسجد بوسیدہ تھی لیکن ایسا نہیں تھا۔ مولانا احمد میاں حمادی نے حیدر نامی آدمی سے پوچھا کہ یہ مسجد تو نے گرائی ہے اس نے کہا ہاں ، میں نے گرائی ہے۔ پوچھا: کس لیے؟ کہنے لگا کہ نئی تعمیر کرنے کے لئے ۔ مولانا محمد علی صدیقی نے پوچھا کہ یہ مسجد کتنی پرانی ہے کہنے لگا، تقریباً چالیس سال پرانی ہے مولانا حمادی نے پوچھا بے آباد کب سے؟ کہنے لگا چار پانچ سال سے۔ آپ نے پہلے کیوں نہیں گرائی؟ اب کیوں گرائی آپ اس میں نماز پڑھتے تھے؟ اس نے کہا نہیں ، پوچھا کبھی اس کی صفائی کی، پانی کا انتظام کیا کبھی پمپ چلایا ، سب کا جواب نفی میں تھا۔ پوچھا کہ مسجد تو بڑی تھی چھوٹی کیوں بنائی؟ کہنے لگا رات کو بنائی، رات کو کیوں بنائی ؟ کہنے لگا ڈی ایس پی صاحب کے حکم پر رات کو ٹریکٹر کی روشنی میں بنائی ۔مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں نے انتظامیہ سے کہا کہ ابھی ہماری تسلی نہیں ہوئی ۔ لہٰذا اس حیدر علی کو نوکوٹ لے چلیں۔ وہاں باتیں کریں گے ۔ اس پر انتظامیہ خاموش رہی اور اس دوران پولیس افسران خود ایک طرف الگ تھلگ کھڑے رہے جیسے اس واقعہ سے ان کا کوئی تعلق بھی نہ ہو کیونکہ انتظامیہ قادیانیوں کے سربراہ چوہدری محمود کے کہنے اور کئی لاکھ رشوت لینے کے بعد اس معاملہ کو دبا رہی تھی۔ نوکوٹ پہنچ کر مجلس کے رہنماؤں نے دیکھا کہ مقامی انتظامیہ پوری طرح واقعہ میں ملوث ہے۔ لہٰذا ہم میر پور خاص جائیں اور مولانا فیض اللہ صاحب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو لے کر ڈی سی صاحب کو ملیں اور حالات سے آگاہ کریں ۔ بعد نماز جمعہ مقامی مسجد سے ایک احتجاجی جلوس نکالا گیا ، بعد نماز عصر مولانا فیض اللہ صاحب کی صدارت میں مقامی علماء کرام کا اجلاس ہوا جس میں مجلس کے رہنماؤں نے تمام حالات سامنے رکھے اور اور اس کے بعد تمام احباب نے ڈی سی صاحب سے ملاقات کا مشورہ دیا ۔ رات کو مولانا فیض اللہ کی قیادت میں ڈی سی صاحب سے ملاقات ہوئی اور حالات سے آگاہ کیا ، ڈی سی سید ممتاز شاہ صاحب نے حالات کو غور سے سنا اور ایس ڈی ایم میر پور خاص جناب راشد محمود کو جوڈیشل انکوائری آفیسر مقرر کیا۔
۲۹؍ اگست ۱۹۹۸ء بروز ہفتہ کنری میں مسجد کی شہادت کے سلسلہ میں جلوس نکالا گیا جس کی قیادت حمادی صاحب نے کی اور وہاں مجلس کے رہنماؤں کو اطلاع ملی کہ نبی سر شہر میں مسلمانوں پر ضلع عمرکوٹ کے ڈی سی نے بلا اشتعال لاٹھی چارج کرائی ۔ مجلس کے رہنماؤں نے ۳۰؍ اگست ۱۹۹۸ء کو نبی سر جانے کا اعلان کیا رات کنری میں قیام کیا کنری مجلس کے رہنماؤں کو اطلاع ملی کہ تحصیل ڈگری انتظامیہ نے قادیانی عبادت گاہ کو نقصان پہنچانے پر ۱۲ مسلمانوں پر کیس درج کر لیا ہے اور جو مسلمان زخمی میر پور خاص ہسپتال میں تھے ان کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔
۳۰؍ اگست ۱۹۹۸ء کی صبح یہ حضرات نبی سر ہو کر نوکوٹ پہنچے وہاں جماعتی ساتھیوں سے ملاقات ہوئی۔ ۳۱۔ اگست ۱۹۹۸ء کو میر پور خاص سے مولانا فیض اللہ صاحب ، مولانا بشیر احمد اور ڈی ایس پی شیر خان حالات کا جائزہ اور مسلمانوں سے مذاکرات کے لئے نوکوٹ آئے۔ مولانا حمادی ، مولانا محمد علی صدیقی ، مولانا نذر کے کہنے پر وہاں مسلمان کمشنر صاحب سے ملاقات کے لئے تیار تھے ۔ یوں یکم ستمبر ۱۹۹۸ء کو ایک بیس رکنی وفد کمشنر صاحب سے مولانا فیض اللہ ، مولانا احمد میاں حمادی کی قیادت میں ملا۔ جس میں نوکوٹ کے سرکردہ مسلمان موجود تھے ۔ کمشنر نے ڈی سی، ڈی آئی جی اور ایس پی کو بھی اپنے دفتر میں بلایا، حالات کمشنر صاحب اور دیگر افسران نے سنے تو کمشنر صاحب اور ڈی سی صاحب نے واضح کہہ دیا کہ ہمیں وہاں کی انتظامیہ نے حالات سے بالکل بے خبر رکھا اور کہا کہ حالات پر امن ہیں ۔ ہم اس لئے اس طرف نہیں آئے۔ اس کے ساتھ ہی جناب ڈی سی صاحب نے فوراً قادیانیوں کے خلاف پرچہ درج کرنے اور
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مسلمانوں کے خلاف جو کیس درج ہو چکا تھا۔ اس کو واپس لینے کا اعلان کیا اور علاقہ کے ایس.ایچ.او کو فوری طور پر جھڈو تھانہ سے تبدیل کر کے پرچہ درج کرنے کا حکم دیا، جو رات گئے قادیانیوں کے خلاف ۲۹۵-سی کے تحت مقدمہ درج کیا گیا اور اس کے ساتھ چودہ قادیانیوں کو فائرنگ میں گرفتار کیا اور مسجد کی شہادت کے سلسلہ میں ایک قادیانی گرفتار ہوا اور باقی قادیانی فی الحال مفرور ہیں اور ان کا سرکردہ چوہدری محمود اور اللہ رکھا اور نبی احمد ان کی گرفتاری کے سلسلہ میں انتظامیہ پوری کوشش کر رہی ہے۔
۲؍ ستمبر ۱۹۹۸ء کو ریسٹ ہاؤس فضل بھمبر میں جناب راشد محمود صاحب ایس ڈی ایم میر پور خاص نے وہاں کے مسلمانوں کے مسجد کی شہادت اور نوکوٹ کے واقعہ کے بارے میں بیانات ریکارڈ کئے اور ایک قادیانی اس موقع پر بیان ریکارڈ کرانے نہیں آیا۔ اس موقع پر نصرت خداوندی یہ ہوئی کہ وہ شخص حیدر علی جو اس مسجد کے خلاف گواہی دے رہا تھا، اس نے آ کر ایس ڈی ایم کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کرایا کہ یہ مسجد قادیانیوں نے گرائی ہے اور مجھے مجبور کیا ہے۔ میں اس کو اپنے ذمہ لے کر قادیانیوں کو بچالوں اور اس کے ساتھ جناب غلام نبی ایس.ایچ.او نے موقع واردات کا معائنہ کیا تو محراب کی طرف ملبہ سے شہید قرآن مجید برآمد ہوئے۔ جن کی بے حرمتی ہوئی تھی جو متعلقہ ڈگری کے مختار کی سربراہی میں برآمد کئے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں اور دیگر مسلمانوں کی انتھک محنت رنگ لائی اور اس علاقہ نصرت آباد فارم جو قادیانیوں کی اسٹیٹ خیال کی جاتی تھی اور پورے سندھ جہاں قادیانیوں کو کوئی خطرہ نہ ہوتا تھا۔ اس چوہدری محمود قادیانی کی پناہ میں آ جاتے تھے۔ آج اس چوہدری محمود کو خود پناہ کی ضرورت ہے۔ مسجد کی شہادت کے سلسلہ میں جو کیس تیار کیا اس کیس کے مدعی جناب حاجی محمد اشرف قائم خانی ہیں اور نوکوٹ فائرنگ اور توہین رسالت کے سلسلہ میں جو کیس درج ہوا۔ اس کے مدعی جناب محمد سرور آرائیں ہیں اور اس کیس کی پیروی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے انتھک مبلغ مولانا محمد علی ،مولانا محمد نذر کر رہے ہیں اور تمام واقعہ اور کیس کی نگرانی حضرت مولانا احمد میاں حمادی کر رہے ہیں۔ اس واقعہ کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب نے ۲۵؍ ستمبر ۱۹۹۸ء نوکوٹ، جھڈو اور ۲۶ کو کنری اور میر پور خاص میں ختم نبوت کانفرنسوں سے خطاب کیا تمام جگہ پروگرام انتہائی کامیاب رہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ۱۹۹۸ء ص۲۶تا۴۹)
ربوہ کے نام کی تبدیلی کی قرارداد....... پنجاب اسمبلی کا ایک بہترین اقدام
پنجاب اسمبلی نے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی ہے، جس میں قادیانیوں کے پاکستانی مرکز ’’ربوہ‘‘ کا نام تبدیل کرنے کی سفارش کی ہے۔ قیام پاکستان سے پہلے قادیانیوں کا مرکز مرزا غلام احمد کی جنم بھومی قادیان تھا۔ مرزا غلام احمد قادیان کی اتنی زیادہ تعریف کی کہ نعوذ باللہ! مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ سے افضل قرار دیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی اور مرزا بشیر الدین قادیانی کی درج ذیل تحریریں ملاحظہ فرمائیں:
’’اس روز کشفی طور پر میں نے دیکھا کہ میرے بھائی صاحب مرزا غلام قادر میرے قریب بیٹھ کر بآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے ہیں اور پڑھتے پڑھتے انہوں نے ان فقرات کو پڑھا کہ ’’انا انزلنہ قریبا من القادیان‘‘ تو میں نے سن کر تعجب کیا کہ قادیان کا نام بھی قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے؟ تب انہوں نے کہا کہ یہ دیکھو، لکھا ہوا ہے۔ تب میں نے نظر ڈال کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ فی الحقیقت قرآن شریف کے دائیں صفحہ پر شاید قریب نصف کے موقع پر یہی الہامی عبارت لکھی ہوئی موجود ہے۔ تب میں نے اپنے دل میں کہا کہ ہاں واقعی طور پر قادیان کا نام قرآن میں درج ہے اور میں نے کہا کہ تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن میں درج کیا گیا ہے مکہ، مدینہ اور قادیان۔‘‘
(ازالہ اوہام حاشیہ حصہ اوّل ص۴۰، خزائن ج۳ ص۱۴۰)
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
”لوگ معمولی اور نفلی طور پر حج کرنے کو بھی جاتے ہیں مگر اس جگہ (قادیان میں آنا، ناقل) نفلی حج سے ثواب زیادہ ہے اور غافل رہنے میں نقصان اور خطر کیونکہ سلسلہ آسمانی اور حکم ربانی۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص۳۵۲، خزائن ج ۵ ص ۳۵۲)
(درثمین ص ۵۲)
”حضرت مسیح موعود نے اس کے متعلق بڑا زور دیا ہے اور فرمایا ہے کہ جو بار بار یہاں نہیں آتے، مجھے ان کے ایمان کا خطرہ ہے، پس جو قادیان سے تعلق نہیں رکھے گا، وہ کاٹا جائے گا، تم ڈرو، کہ تم میں سے نہ کوئی کاٹا جائے۔ پھر یہ تازہ دودھ کب تک رہے گا، آخر ماؤں کا دودھ بھی سوکھ جاتا ہے۔ کیا مکہ اور مدینہ کی چھاتیوں سے یہ دودھ سوکھ گیا کہ نہیں۔“
(حقیقۃ الرؤیا ص ۴۶)
ان بکواسات کے علاوہ جب مرزا غلام احمد قادیانی نے مسیح موعود کا دعویٰ کیا تو ان پر اعتراض ہوا کہ مسیح موعود تو ایک مینارہ سے اتریں گے تو اس اعتراض کو دور کرنے کے لئے فوری طور پر منارۃ المسیح کے نام سے ایک مینارہ بنا دیا۔ الغرض قادیان کو اپنا روحانی مرکز بنانے کی پوری کوشش کی۔ تحریک آزادی میں قادیانیوں نے بھر پور کوشش کی کہ پاکستان نہ بن سکے اور اکھنڈ بھارت رہے تا کہ قادیان کی روحانی حیثیت بحال رہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے مرزا غلام احمد قادیانی کی ذریت کو رسوا کرنا تھا۔ مرزا بشیر الدین کا یہ خواب پورا نہ ہو سکا۔ سر ظفر اللہ قادیانی کی کوششیں ناکام ہوگئیں اور پاکستان مسلمانوں کا ملک بن گیا لیکن سر ظفر اللہ قادیانی شرارت سے وزیر خارجہ بن گیا، انگریزوں کی سر پرستی کام آئی اور پاکستان میں قادیانیوں کا اثر و نفوذ بڑھنے لگا اور انہوں نے چنیوٹ سرگودھا کے درمیان دریائے چناب کے ایک کنارہ پر ایک بہت بڑا قطعہ اراضی جس پر ایک بہت بڑا شہر بن سکتا تھا۔ ایک روپے ایکڑ کے حساب سے حاصل کر لیا اور اس کا نام ربوہ رکھ کر پاکستان میں قادیانیوں کا روحانی مرکز بنانے کی کوشش کی۔ ربوہ نام تجویز کر کے اس کو ثابت کرنے کی کوشش کی کہ یہ نام قرآن مجید میں آیا ہے اور دھوکہ دیتے ہیں کہ یہ بھی قرآن مجید سے ثابت ہے حالانکہ قرآن مجید چودہ سو سال قبل نازل ہو چکا تھا جب کہ ربوہ شہر کا قیام پاکستان کے بعد قادیانیوں نے تعمیر کیا۔ بہر حال ربوہ شہر کو قادیانی اسٹیٹ کی شکل دی گئی اور اس جگہ سے قادیانیت کے تبلیغی کام کا آغاز کیا گیا۔ یہاں تک کہ اس شہر میں مسلمانوں کا داخلہ بند کر دیا گیا۔ پولیس انتظامیہ اور دیگر سرکاری افراد صرف قادیانی بھرتی کئے گئے۔ زمین جماعت احمدیہ کے نام پر رجسٹرڈ کرائی گئی اور قادیانیوں کو زمین فروخت کی جاتی، لیکن ان کے نام انتقال نہیں کیا جاتا۔ قادیانیوں کے اس مرکز سے ۱۹۵۲ء میں بلوچستان کو قادیانی اسٹیٹ بنانے کی کوشش کی گئی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اس کو ناکام بنایا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ابتداء سے اس کوشش میں ہے کہ کسی طرح ربوہ شہر کو کھلا شہر قرار دیا جائے، لیکن حکومت اس مطالبہ کو تسلیم نہیں کرتی تھی تا آنکہ ۱۹۷۴ء سے پہلے قادیانیوں کی جانب سے دیدہ دلیری اتنی بڑھی کہ قادیانیوں کے سالانہ اجتماع کے موقع پر فضائیہ کے جہازوں نے مرزا ناصر کو سلامی دی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے بھٹو صاحب کو اس طرف متوجہ کیا لیکن اقتدار کے تحفظ کے لئے بھٹو نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ ۱۹۷۴ء میں ربوہ ریلوے اسٹیشن پر مرزا طاہر کے غنڈوں نے نشتر میڈیکل کالج کے طلباء کو ختم نبوت کے نعرے لگانے پر سخت مظالم کا نشانہ بنایا اور آخر کار اس طرح ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کو قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا تو ربوہ کو بھی کھلا شہر قرار دیا گیا، لیکن ربوہ شہر کا نام تبدیل نہیں کیا، اب پنجاب اسمبلی نے ایک متفقہ قرار داد کے ذریعہ ربوہ کے نام کی تبدیلی کی سفارش کی ہے۔ ہم اس قرار داد پر پنجاب اسمبلی کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور اسکی مکمل تائید اور منظوری پر تمام اراکین اسمبلی کو عمومی طور پر اور مولانا منظور احمد چنیوٹی کو خصوصی طور پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ پنجاب اسمبلی کے ممبران نے قرار داد منظور کر کے حضور اکرم ﷺ سے اپنی بے مثال محبت کا ثبوت دیا ہے ان کا یہ کارنامہ پاکستان کی تاریخ میں سنہری
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حروف سے لکھا جائے گا۔ پنجاب اسمبلی کی یہ قرارداد ان شاء اللہ قادیانیت کے خلاف سنگ میل ثابت ہوگی۔ ربوہ کے نام کا تبدیل ہونا مذہبی اور پاکستان دونوں لحاظ سے ضروری تھا، ایک تو اس نام کے تبدیل ہونے سے قادیانیوں کی جانب سے مسلمانوں کو دھوکہ دینے کا سلسلہ ختم ہو جائے گا۔ کیونکہ ہر حال یہ نام قرآن کریم میں موجود ہے۔ اگرچہ کسی دوسرے مفہوم سے، اب لوگوں کو کیسے سمجھایا جائے کہ قرآن کریم والے ربوہ کے لفظ کا تعلق پاکستان کے ربوہ سے نہیں۔ یہ بالکل اس طرح ہے جس طرح بعض روافض سے پوچھا گیا کہ علی کا نام قرآن مجید میں نہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا آیا ہے ’لعلی حکیم‘ دیکھو اس میں علی ہے۔ یا کسی کا نام مزمل یا مدثر ہو اور وہ کہے کہ میرا تذکرہ قرآن کریم میں آیا ہے۔ اس نام کی تبدیلی سے قادیانیوں کی طرف سے گمراہی کا سلسلہ رکے گا۔ اس کے علاوہ کسی جگہ کے نام کی کوئی نہ کوئی مناسبت ہوتی ہے۔ ربوہ کے نام کی اس شہر کے ساتھ کوئی مناسبت نہیں یا تو چناب کی مناسبت سے یا چنیوٹ کی مناسبت سے اس کا کوئی نام تجویز کیا جائے اور یہ نام پنجاب اسمبلی خود طے کرے تا کہ مکمل کریڈٹ پنجاب اسمبلی کو جائے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب، نائب امیر مرکزیہ حضرت اقدس مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب، ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری صاحب، ناظم حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب پنجاب اسمبلی کے اس اقدام پر تمام اراکین اسمبلی کو مبارکباد پیش کرتے ہیں اور توقع کرتے ہیں کہ حکومت پنجاب، پنجاب اسمبلی کی اس قرارداد پر فوری عمل کرے گی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۲۷؍ نومبر تا ۳؍ دسمبر ۱۹۹۸ء ص ۴، ۵)
ربوہ کا نام قادیان...... نامنظور!
پنجاب اسمبلی نے متفقہ طور پر ربوہ کے نام کی تبدیلی کی سفارش کی ہے جس پر پوری پنجاب اسمبلی مبارک باد کی مستحق ہے اور ایک ایک رکن اسمبلی قابل مبارک ہے کہ اس سلسلہ میں اپنا ووٹ دیا۔ انشاء اللہ العزیز اس کی برکت سے اراکین اسمبلی کو حضور اکرم ﷺ کی شفاعت نصیب ہوگی۔ ایک اطلاع کے مطابق ربوہ کا نیا نام ”نیو قادیان“ یا نیا قادیان تجویز کیا جا رہا ہے۔ اگر یہ اطلاع درست ہے تو یہ بہت قبیح اور برا اقدام ہے اور نام کی تبدیلی کے اقدام کو ختم کرنے کی سازش ہے۔ ربوہ کا نام کوئی بہتر یا مقدس نہیں تھا لیکن چونکہ یہ لفظ قرآن کریم میں استعمال ہوا ہے اس لئے قادیانیوں نے اس نام کو اس آیت کی طرف منسوب کر کے کہا کہ یہ نام قرآن کریم میں آیا ہے حالانکہ قرآن کریم چودہ سو سال پہلے نازل ہوا اور ربوہ نام پاکستان بننے کے بعد تجویز ہوا لیکن مرزا غلام احمد قادیانی کی طرح ہر قادیانی جھوٹ بول کر ربوہ کو قرآن مجید سے ثابت کرنے کی کوشش کرتا تھا، اس لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور مجلس عمل ختم نبوت کا مطالبہ تھا کہ ربوہ کا نام تبدیل کیا جائے۔ الحمدللہ! یہ مطالبہ پورا ہوا لیکن اگر نیو قادیان نام رکھا گیا تو یہ بہت غلط ہے کیونکہ قادیان نام قادیانیوں کے نزدیک مقدس اور مبارک ہے۔ ان بدبختوں کے نزدیک قادیان مکہ اور مدینہ سے افضل ہے (نعوذ باللہ)
امت مسلمہ اس حقیقت کو بدل و جان تسلیم کرتی ہے کہ حرمین شریفین (مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ) زادہما اللہ شرفاً وتعظیماً۔ کائنات اراضی کے سب سے محترم، مبارک اور مقدس قطعات ہیں۔
رب العزت کی تجلیات کا مرکز ارض حرم ہے تو اس کی رحمتوں کے نزول کی جگہ ارض مدینہ ہے، جہاں کائنات کا سب سے عظیم انسان محو استراحت ہے۔
حج بیت اللہ، اسلام کے ارکان خمسہ میں سے ایک ہے جو عشق و جنون کا سفر ہے اور جس میں حضرت حق کے بندے اپنی نیاز مندی کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
محمد عربی ﷺ کے سچے امتیوں کے لئے ارض مدینہ کی زیارت بھی گویا اس مبارک سفر کا ایک حصہ ہے۔ لیکن دیکھئے کہ مرزا شاطر ، فریبی اور دولت انگلشیہ کے ایجنٹ نے کس طرح ان پاک شہروں کی توہین کی ۔ اپنی جنم بھومی قادیان کا ان سے کس طرح جوڑ جوڑا بلکہ اسے قرآن میں مندرج قرار دے کر اسے مکہ اور مدینہ سے بھی افضل قرار دیا اور قادیان ہی کی زیارت کو حج سے تعبیر کر کے بیت اللہ اور مناسک حج کی توہین کی ۔
کیا کوئی مسلمان برداشت کر سکتا ہے کہ ربوہ کا نام قادیان ہو؟ اس نام کے بعد تو قادیانی اس کو اپنے مذہب کی حقانیت کی دلیل بنائیں گے۔ مرزا طاہر نے بکواس کی ہے کہ جھوٹے مرزا غلام احمد قادیانی کی پیشین گوئی صحیح ثابت ہوئی کہ قادیان مل گیا۔ اب اگر یہ نام منظور ہوا تو قادیانی جشن منائیں گے۔ اس لئے مجلس عمل تحفظ ختم نبوت نے مطالبہ کیا ہے کہ اس نام کو تجویز نہ کیا جائے۔ مجلس عمل اور مسلمان کسی صورت میں اس کو قبول نہیں کریں گے اور نہ اس نام سے پکاریں گے۔ اس کا نام چناب نگر یا چک ڈھکیاں رکھا جائے۔ امید ہے کہ پنجاب اسمبلی اور متعلقہ محکمہ مسلمانوں کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے قادیان نام نہیں رکھیں گے۔ مسلمان ربوہ کا نام ”قادیان“ کی نامنظوری کا اعلان کرتے ہیں۔
ربوہ کا نام اور اس کے باشندوں کے مالکانہ حقوق
ربوہ کے باشندوں کو اگر مالکانہ حقوق مل جائیں تو ایک بھی قادیانی ، قادیانی نہیں رہے گا بلکہ اسلام قبول کر کے رسول آخرین ﷺ کی ختم نبوت پر ایمان لے آئے گا۔
پنجاب اسمبلی نے گزشتہ دنوں ایک قرار داد متفقہ طور پر منظور کی ہے جس میں ربوہ کے نام کی تبدیلی کی سفارش کی گئی ہے اور قادیانی جماعت کے ترجمان نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے ناروا اور انسانی حقوق کے منافی قرار دیا ہے جبکہ ربوہ کی بعض تاجر تنظیموں نے بھی اس قرارداد پر نکتہ چینی کی ہے اور کچھ عالمی ذرائع ابلاغ نے کہا کہ اس قرارداد پر عمل درآمد سے پاکستان میں بنیاد پرست مسلمان کے ہاتھ مضبوط ہوں گے۔
ربوہ دریائے چناب کے کنارے ایک نیا آباد ہونے والا شہر ہے جو قیام پاکستان کے بعد قادیانی جماعت نے بسایا ہے تقسیم ہند میں قادیانیوں کا ہیڈ کوارٹر ” قادیان “ (ضلع گورداسپور ) بھارت میں رہ گیا اور قادیانی جماعت کی رائل فیملی اور ہزاروں ارکان مشرقی پنجاب سے منتقل ہو کر پاکستان میں شامل ہونے والے مغربی پنجاب میں آگئے اور چنیوٹ کے قریب دریائے چناب کے دوسرے کنارے پر ہزاروں ایکڑ سرکاری اراضی پنجاب کے گورنر سر موڈی کی منظوری سے معمولی داموں پر حاصل کر کے اپنا نیا ہیڈ کوارٹر بنا لیا اور اسے ربوہ کے نام سے منسوب کیا جس پر ملک کے دینی حلقوں کو مسلسل اعتراض ہے اور انہی کے اعتراض اور مطالبے کے باعث پنجاب اسمبلی نے یہ قرارداد منظور کی ہے۔ اس مطالبے کا پس منظر جماعت کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے دعویٰ کی بنیاد اس پر رکھی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں اور جناب نبی کریم ﷺ نے اپنے متعدد ارشادات میں جس مسیح کی آمد کی پیش گوئی فرمائی ہے اس سے مراد (نعوذ باللہ ) مرزا غلام احمد قادیانی ہے جبکہ اہل اسلام کا اجماعی عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ پر ابھی موت وارد نہیں ہوئی وہ زندہ آسمانوں پر اٹھا لئے گئے تھے۔ وہ جناب نبی کریم ﷺ کے ارشادات کے مطابق قیامت سے قبل دوبارہ نازل ہوں گے اور اسلام کے غلبہ اور خلافت کے قیام
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
میں امام مہدی کے ساتھ مل کر مسلمانوں کی رہنمائی فرمائیں گے۔ اس سلسلہ میں نبی کریم ﷺ نے حضرت عیسی ابن مریم اور امام مہدی کی دو الگ الگ شخصیتوں کے حوالہ سے اس قدر تفصیل اور صراحت کے ساتھ علامات بیان فرمادی ہیں کہ کوئی طالع آزما اس حوالہ سے باخبر مسلمانوں کو کسی طرح دھوکہ نہیں دے سکتا۔ مگر مرزا غلام احمد قادیانی نے دعوی کر دیا کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں اور احادیث نبویہ میں جس عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ نزول کا ذکر ہے اس سے مراد وہ خود یعنی مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔ اس پر لوگوں نے بہت سے اعتراضات کئے جن میں ایک یہ تھا کہ احادیث میں ذکر ہے کہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام جامع دمشق کے مینارہ پر نازل ہوں گے تو مرزا غلام احمد قادیانی نے قادیان میں ’’مینارۃ المسیح‘‘ کے نام سے ایک مینار کی تعمیر شروع کر دی اور اس کے لئے ملک کے طول وعرض سے چندہ کیا گیا مگر وہ مینار مرزا قادیانی کی زندگی میں مکمل نہ ہوسکا اور مرزا کی وفات کے بعد اس کے جانشینوں نے اس کی تکمیل کی۔ اس مینار کی تعمیر کا اصل مقصد یہ تھا کہ بعد میں آنے والے لوگ جو اس کی تعمیر کے وقت اور پس منظر سے آگاہ نہیں ہوں گے۔ کم از کم وہ تو مینارۃ المسیح کو دیکھ کر دھوکہ کھائیں گے۔
یہ قادیانی جماعت کا مخصوص طریقہ واردات ہے کہ اشتباہ اور فریب کی فضا کو جان بوجھ کر قائم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ اس کی آڑ میں سادہ لوح اور بے خبر لوگوں کو شکار کیا جا سکے۔ چنانچہ ربوہ بھی قادیانی جماعت کی اس تکنیک کا شاہکار ہے کیونکہ ربوہ کا لفظ قرآن کریم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ محترمہ حضرت مریم علیہا السلام کے حوالہ سے سورۃ المومنون کی آیت ۵۰ میں اس طرح آیا ہے کہ: ’’اور ہم نے عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی ماں کو اپنی قدرت کی نشانی بنایا اور انہیں ایک ٹیلہ (ربوہ) پر رہنے کی جگہ دی جو قرار کی جگہ تھی اور پانی بھی موجود تھا۔‘‘
اب قرآن کریم میں ربوہ کا لفظ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حوالہ سے مذکور ہے اور ان کی قرارگاہ قرار دیا گیا ہے، جب کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا دعوی ہے کہ وہ خود عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہے اس لئے ربوہ کے آباد ہونے کے وقت اور اس کے پس منظر سے بے خبر جو شخص بھی قرآن کریم میں ربوہ کا لفظ پڑھے گا اور مرزا غلام احمد قادیانی کا دعوی اس کی نظر میں ہوگا اور اس کی بے خبری اسے قادیانیوں کے دام ہم رنگ زمین میں پھنسا دے گی، جیسا کہ اس قرارداد کے محرک مولانا منظور احمد چنیوٹی ایم۔ پی۔ اے نے ایک واقعہ بتایا کہ کچھ عرصہ قبل افریقہ کے کسی ملک کے تبلیغی دورے کے موقع پر ایک جلسہ کے بعد کچھ نوجوان ان سے جھگڑ پڑے کہ وہ ربوہ والوں کے خلاف اس شدت کے ساتھ کیوں بیان کرتے ہیں جبکہ ربوہ کا ذکر تو قرآن کریم میں موجود ہے۔
اس وجہ سے تحریک ختم نبوت کے مطالبات میں یہ بات ہمیشہ شامل رہی ہے کہ ربوہ کا نام تبدیل کر دیا جائے تا کہ قرآن کریم کے حوالہ سے لوگوں کو فریب کا شکار کرنے کا یہ مکروہ عمل ختم ہو سکے اور پنجاب اسمبلی نے یہ قرارداد منظور کی ہے جس پر ملک کے دینی حلقے اطمینان کا اظہار کر رہے ہیں اور سیکولر لابیوں کی پریشانیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اس موقع پر دو گزارشات اس قرارداد کا خیر مقدم کرتے ہوئے ہم پیش کرنا چاہتے ہیں۔ ایک یہ کہ جہاں ربوہ کا نام تبدیل کرنے کا اصولی فیصلہ ہو گیا وہاں ربوہ کے باشندوں کو ان کے مکانات کے ملکیتی حقوق دینے کا فیصلہ بھی ہو جانا چاہئے کیونکہ ربوہ کی زمین انجمن احمدیہ کی ملکیت ہے جو لوگوں کو مکان بنانے کے لئے عارضی طور پر دی گئی ہے اور اس دائرے میں رہنے والے کسی بھی رہائشی کو اپنے مکان یا دکان کے مالکانہ حقوق نہیں ہیں۔ ہمارے خیال میں یہ صورت حال نظر ثانی کی محتاج ہے۔ اس کا متعلقہ اداروں کو سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لینا چاہئے اور کم و بیش نصف صدی سے رہنے والے رہائشیوں کو ان کے مکانات اور دکانوں کے مالکانہ حقوق دلوانے کے لئے قانون سازی کرنی چاہئے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دوسری گزارش یہ ہے کہ قادیانی جماعت کے ترجمان نے اس قرارداد کو انسانی حقوق کے منافی قرار دیا ہے جو اصل معاملہ کے برعکس بات ہے کیونکہ ایک فریق قرآن کریم کے ایک لفظ کو غلط استعمال کر کے دنیا بھر کے لوگوں کو دھوکہ دے رہا ہے جبکہ دوسرے فریق نے دھوکہ کی اس فضا کو ختم کرنے کے لئے پیش رفت کرنا چاہتا ہے۔ اب انصاف پسند لوگ فیصلہ خود کریں کہ ان میں سے کونسا فریق انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور کون سا فریق انسانی حقوق کی پاسداری میں مصروف ہے۔ بلکہ اگر انصاف کی نظر سے دیکھا جائے تو ربوہ کے نام کی تبدیلی کا مسئلہ نہیں بلکہ اس شہر کے باشندوں کو مکانات اور دکانوں کے مالکانہ حقوق کا مسئلہ ہے اس لئے اگر انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیمیں اپنے کاز میں مخلص اور سنجیدہ ہیں تو ان کی ذمہ داری ہے کہ نام کی تبدیلی پر واویلا کرنے کی بجائے ربوہ کے شہریوں کو مالکانہ حقوق دلوانے کے لئے آگے بڑھیں۔
(مولانا زاہد الراشدی)
(ہفت روزہ ختم نبوت ۲۵ تا ۳۱ دسمبر ۱۹۹۸ء ص ۴ تا ۷)
عبدالمجید سالک قادیانی تھا
آج سے کوئی چھ ماہ قبل کی بات ہوگی۔ قبلہ مرشدی حضرت سید نفیس الحسینی دامت برکاتہم کے ہاں لاہور میں حاضری ہوئی۔ پروفیسر ظفر اللہ شفیق صاحب نے مولانا سید انور شاہ کشمیری کا ایک واقعہ سنایا کہ سودی بینک، سودی کاروبار، سودی لین دین پر عبدالمجید سالک نے مولانا محمد سید انور شاہ کشمیری سے بالاصرار کہا کہ اس کے جواز کی کوئی شکل نکالیں۔ مولانا سید انور کشمیری صاحب پہلے تو سود کی ابدی حرمت پر دلائل دیتے رہے۔ جب دیکھا کہ سالک حرام کو حلال کرنے پر ادھار کھائے بیٹھا ہے تو شاہ صاحب نے فرمایا سالک صاحب جہنم جانا چاہتے ہو تو شوق سے جاؤ جہنم جانے کے لئے ہمارے کندھے کیوں استعمال کرتے ہو؟ یہ سن کر سید نفیس شاہ صاحب مدظلہ نے فرمایا کہ سالک جہنمی تھا اس پر ہم چونکے تو شاہ صاحب نے متعدد واقعات بیان کئے۔ کتابوں کے نام بتلائے کہ سالک قادیانی تھا۔ یہ ادب کی آڑ میں مسلمانوں سے دوستیاں قائم کر کے قادیانیت کی تبلیغ کرتا تھا۔ بظاہر ایک غیر جانب دار لیکن فی الحقیقت قادیانیت کی خدمت وحمایت کا موقعہ ہاتھ سے نہ جانے دیتا تھا۔ فقیر نے کتابوں کے نام نوٹ کر لئے وہ کتابیں حاصل کر لیں۔ مطالعہ کیا حوالے لگائے مضمون لکھنے کا خیال تھا لیکن مصروفیت نے مہلت نہ دی۔ آج ۱۷ نومبر ۱۹۹۸ء کو جمعیۃ علماء پاکستان کے شبیر احمد ہاشمی کا عبدالمجید سالک کی کتاب ’’یارانِ کہن‘‘ کے حوالہ سے مولانا ابوالکلام آزاد کے خلاف ایک بیان شائع ہوا ہے تو ضروری سمجھا کہ سالک اور قادیانیت کے حوالہ سے چند ضروری گزارشات عرض کر دی جائیں۔
سالک کی سرگزشت: عبدالمجید سالک نے اپنی سوانح و آپ بیتی کو سرگزشت کے نام سے مرتب کیا تھا۔ یہ ان کے زمانہ حیات میں چھپ گئی تھی۔ اب ایک نشریاتی ادارہ الفیصل غزنی سٹریٹ لاہور نے اسے دوبارہ شائع کیا ہے۔ اس میں موصوف نے قادیانیت پر جگہ جگہ ریمارکس دیئے ہیں وہ سالک ہی کے الفاظ میں مختصراً پیش خدمت ہیں۔
سالک کے چچا قادیانی مبلغ: دوسرے چچا جو احمدی ہو چکے تھے اپنے بڑے بھائی (سالک کے والد) کو مرزا قادیانی کی کچھ کتابیں بھیج دی تھیں اور اخبار ’’بدر‘‘ قادیان ان کے نام جاری کر دیا تھا۔
(سرگزشت ص ۱۷)
سالک کے چچا نہ صرف قادیانی تھے بلکہ قادیانیت کی تبلیغ کے لئے اپنے بھائیوں کو کتابیں بھجواتے تھے۔ صفحہ ۱۶، ۱۷ پر سالک صاحب نے پہلا مطالعہ کے عنوان سے لکھا ہے کہ دیگر کتب ورسائل کے علاوہ قادیانی کتب ورسائل سے ان کے مطالعہ کا آغاز ہوا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سالک کا فانوس خیال قادیان: موصوف تحریر فرماتے ہیں کہ میں نے ماہانہ ادبی رسالہ ’’فانوس خیال‘‘ جاری کیا تو اس کی کتابت قادیان کے کاتب سے کراتے تھے۔
(سرگزشت ص۴۲)
تبلیغ اسلام اور قادیانی: سالک تجویز کرتے ہیں کہ ملکانہ راجپوتوں میں انسداد ارتداد اور تبلیغ اسلام کا کام شروع ہوا، بریلوی، دیوبندی، شیعہ، احمدی، لاہوری، نیز اہل حدیث، جمعیۃ العلماء کے مبلغ غرض ہر فرقے اور جماعت کے کارکن آگرہ اور نواحی علاقوں میں پھیل گئے۔ صرف احمدی مبلغین تو کچھ کام کرتے تھے اور باقی تمام فرقوں کے لوگ یا آپس میں مصروف پیکار تھے یا احمدیوں کے خلاف کفر کے فتوے شائع کرتے تھے۔ غرض ان لوگوں کی غیر مآل اندیشی اور نفسانیت نے انسداد ارتداد کو ناممکن بنا دیا اور کفر کی مشین پوری قوت سے چلتی رہی۔
(سرگزشت ص ۱۸۵)
دیکھئے یہاں پہنچ کر عبدالمجید سالک کی قادیانیت نے ننگا ناچ ناچنا شروع کر دیا ہے۔
- ۱...... قادیانیوں کو مسلم فرقوں میں شمار کیا۔
- ۲...... پھر تمام دینی جماعتوں کی ارتداد کے انسداد کے لئے کاوشوں و محنتوں پر پانی پھیر کر صرف قادیانیوں کی تبلیغ کی حمایت کی۔
- ۳...... قادیانی اپنے کفر کو اسلام کے نام پر پیش کر رہے تھے۔ دینی جماعتوں نے ان کے کفر کو ننگا کر دیا تو سالک صاحب اس پر سیخ پا ہو کر
ان تمام جماعتوں کو بے نقط سنا رہے ہیں۔
والئی افغانستان کے خلاف: امیر امان اللہ خان مغربی لغویات میں اس قدر انہماک رکھتے تھے کہ انہوں نے اپنی فوجی طاقت کی بالکل غفلت اختیار کر لی۔
(سرگزشت ص ۲۳۳)
قارئین افغانستان میں قادیانیوں کو بجرم ارتداد سنگسار کیا گیا تھا۔ تمام قادیانیوں کی طرح سالک بھی اور کچھ نہیں تو جتنی الزام تراشی کر سکتے تھے کر کے اپنے ضمیر کو مطمئن کر رہے ہیں۔
مسلمانوں کی نمائندگی: دہلی کی ایک کانفرنس کا ذکر کرتے ہوئے سالک صاحب اپنے قادیانیوں کو مسلمانوں کی صف میں شامل کرنے کے لئے وجد میں نظر آتے ہیں۔
(سرگزشت ص ۲۳۸)
آل انڈیا کشمیر کمیٹی: سالک صاحب اس کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: شملہ میں مقتدر اور نمائندہ مسلمانوں کا ایک اجلاس ہوا....... یہاں ایک انڈیا کشمیر کمیٹی قائم کی گئی۔ جس کے صدر مرزا بشیر الدین محمود احمد امام جماعت احمدیہ منتخب کئے گئے۔
(سرگزشت ص ۲۷۱)
کس چابک دستی سے سالک صاحب اپنے قادیانیوں کو مسلمانوں کا نمائندہ ثابت کرنے کے لئے زور قلم صرف کر رہے ہیں اور پھر برا ہو بد دیانتی کا کہ علامہ اقبال کے اس کمیٹی کو توڑنے یا مستعفی ہونے کو شیر مادر سمجھ کر ہضم کر گئے ہیں۔
ظفر اللہ خان قادیانی: ظفر اللہ قادیانی کا ذکر کرتے ہوئے اسے مسلمانوں کا نمائندہ قرار دیا۔
(سرگزشت ص ۲۷۲)
انقلاب کی ضمانت اور مرزا محمود: سالک صاحب اخبار انقلاب کے کرتا دھرتا تھے اس سے حکومت نے ضمانت طلب کی تو جن لوگوں نے پوری ضمانت جمع کرانے کی پیشکش کی ان میں مرزا محمود قادیانی بھی شامل ہیں۔
(سرگزشت ص ۲۷۵)
دنیا جانتی ہے کہ سرسید احمد خاں نے مسلمان قوم کی ترقی کے لئے مرزا قادیانی سے چندہ مانگا۔ مرزا قادیانی نے ایک پیسہ دینے سے بھی انکار کر دیا تھا۔ لیکن اس مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا محمود اس سالک پر دنیا نچھاور کرنے کے لئے کیوں بے قرار ہے؟
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سالک صاحب کا مکان : اپنی اس کتاب میں لکھتے ہیں کہ مسلم ٹاؤن لاہور میں عبدالمجید سالک کو مکان کے لئے زمین وغیرہ، رہنمائی و سہولت ڈاکٹر سید محمد حسین احمدیہ بلڈنگ لاہور والوں نے مہیا کی۔
(سرگزشت ص ۲۸۶)
کشمیر ایسوسی ایشن : جب احرار نے احمدیوں کے خلاف بلاضرورت ہنگامہ آرائی کی۔ چنانچہ ہم نے کشمیر کمیٹی کے ساتھ ہی ساتھ ایک کشمیر ایسوسی ایشن کی بنیاد رکھی جس میں سالک ...... مرزا بشیر الدین محمود اور ان کے احمدی و غیر احمدی رفقاء شامل تھے۔ ایسوسی ایشن کے قیام کا مقصد یہ تھا کہ مبادا کشمیر کمیٹی آگے چل کر احرار کی ایک شاخ بن جائے اور وہ متانت و سنجیدگی رفو چکر ہو جائے جس سے ہم آج تک کشمیر میں کام لیتے رہے ہیں۔
(سرگزشت ص ۳۱۵)
مرزا محمود آنجہانی جو احرار رہنماؤں کے لئے زبان استعمال کرتا تھا اور جس طرح اس کا شیطان دماغ نئی سازشوں کے لئے جال بنتا تھا جناب سالک اس میں برابر کے شریک کار و شریک سفر نظر آتے ہیں۔
خواجہ کمال الدین : دنیا جانتی ہے کہ خواجہ کمال الدین لاہوری قادیانی مرتد تھا سالک صاحب اپنی اس کتاب کے صفحہ ۳۱۹ پر اسے مشہور مبلغ اسلام قرار دے رہے ہیں۔ یہاں یاد رہے کہ قادیانیوں کو کافر نہ کہنے والا بھی کافر ہے چہ جائیکہ کوئی ان کو مسلمان قرار دے۔ جو ایسا کرے وہ بدتر کفر کا مرتکب ہوگا جیسا کہ سالک صاحب کر رہے ہیں۔
آموں کی داستان : سالک صاحب اپنی اس کتاب کے صفحہ ۳۲۴ پر آموں کی داستان تحریر کرتے ہیں کہ کہاں کہاں سے اسے آم آتے تھے تو قادیان نواب محمد علی قادیانی، مرزا بشیر الدین محمود قادیانی، کے آموں کا بھی تذکرہ کرتے ہیں کہ وہ بھی آم بھیجا کرتے تھے۔
مسجد چراغ شاہ : لاہور کا تذکرہ کرتے ہوئے سرور شاہ قادیانی اور زین العابدین قادیانی کو مسلمانوں میں شامل کر گئے۔
(سرگزشت ص ۳۵۲)
سالک کے والد قادیانی : چونکہ والد مرحوم (ملعون) احمدی عقائد رکھتے تھے اس لئے احمدیوں کی فرمائش پر پٹھان کوٹ سے ایک میل دور موضع دولت پور میں دفن کئے گئے جہاں احمدیوں کا قبرستان تھا۔
(سرگزشت ص ۳۷۲)
سالک صاحب کے والد قادیانی تھے یہ خاندان اتنا متعصب اور جنونی قادیانی تھا کہ پٹھان کوٹ کے مسلمانوں نے سالک کے قادیانی باپ کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں ہونے دیا تھا ورنہ تو قادیانی مسلمانوں کے قبرستان میں دفن ہونے پر اصرار کرتے ہیں تاکہ ان کو مسلمان سمجھا جائے۔ غرض سالک کے قادیانی والد کو مسلمانوں نے اپنے قبرستان میں دفن نہیں ہونے دیا۔ جیسا کہ واقفان حال بتاتے ہیں سالک صاحب اس کو کمال صفائی سے کیا رنگ دے رہے ہیں یہ ہے قادیانی دیانت۔
سالک قادیان میں : مولانا عبید اللہ بسمل احمدی ہو گئے اور آخر عمر میں قادیان پہنچ گئے۔ میرے ساتھ بھی آخری ملاقات قادیان میں ہوئی جب میں اپنے عزیز دوست اور بھائی مولوی حکیم عبدالوہاب عمر (نور الدین قادیانی کا بیٹا) کی شادی پر وہاں گیا تھا۔
(سرگزشت ص ۳۹۶)
سالک پر قادیانی شفقت : نواب محمد علی خان رئیس مالیر کوٹلہ ...... یہ عقائد کے اعتبار سے قادیانی تھے اور مدت دراز سے قادیان میں سکونت رکھتے تھے، انتقال سے پہلے لاہور تشریف لائے مجھ سے اور مہر صاحب سے اکثر مسائل پر تبادلہ خیال کرتے اور بے حد شفقت سے پیش آتے تھے۔ مجھے کئی سال سے برسات کے موسم میں آم بھیجا کرتے تھے۔
(سرگزشت ص ۴۷۱)
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیان کا عجائب گھر اور سالک: طبی عجائب گھر قادیان کے مالک حکیم عبدالعزیز خان سے میرے مخلصانہ و برادرانہ تعلقات تھے۔
(سرگزشت ص ۲۸۰)
قارئین مندرجہ بالا اقتباسات سے آپ نے معلوم کر لیا کہ سالک صاحب کا قادیان اور قادیانیت سے جسم و جان کا رشتہ تھا۔ تمام تر رشتہ دار قادیانی، خود قادیان کی دہلیز پر دریوزہ گری کرنے والے اور قادیانی لیڈران سے راہ و رسم و مفادات حاصل کر کے ہر جگہ قادیانیوں کو مسلمان ثابت کرنے کے درپے تھے۔ عبدالمجید سالک اپنے آپ کو مولانا کہلوائیں یا ادیب و اخبار نویس، سیاسی لیڈر بنیں یا قومی رہنما، واقعہ یہ ہے کہ منافقت کا لبادہ اوڑھ کر یہ مسلمانوں کی صف میں قادیان کا قادیانی مار آستین تھا ممکن ہے کہ ہمارے بعض دوست اس پر چیں بہ جبیں ہوں۔ لیجئے اب ذیل کا یہ حوالہ ملاحظہ فرمائیں۔
عبدالمجید سالک قادیانی: انیس جیلانی نے اپنے نام آنے والے عبدالمجید سالک کے خطوط کو نوازش نامے کے نام سے عرصہ ہوا شائع کیا تھا۔ اس کتاب کے ص ۱۵، ۱۶ پر یہ اقتباس فیصلہ کن ہے۔ سالک صاحب لکھتے ہیں: ”اس میں کوئی شبہ نہیں کہ میرے والدین اور میرے بھائی احمدی تھے اور اس پورے کنبے میں صرف میں ایک شخص ہوں جو ابتدائے عمر میں تو طبعاً اپنے گھر والوں کا ہم زبان رہا لیکن ہوش سنبھالنے کے بعد احمدیت سے میرا دور کا تعلق نہ رہا۔ میں نہ قادیانی مرزائی ہوں نہ لاہوری۔ میرے عقائد ایک سیدھے سادھے مسلمان کے ہیں لیکن تکفیر کا سخت دشمن ہوں مرزائیوں کو بھی مسلمانوں کا ہی ایک فرقہ سمجھتا ہوں۔ میں مرزا صاحب اور آپ کے پیروکاروں کو کافر نہیں سمجھتا۔“
خلاصہ بحث:
- ۱...... سالک کا خاندان باپ، چچا، بھائی وغیرہ پورا کنبہ قادیانی تھا۔
- ۲...... خود ابتدائے عمر میں قادیانی رہا۔
- ۳...... بعد میں قادیانی ہونے کی تردید کی لیکن ساری عمر قادیانیوں کی وکالت کرتا رہا۔
- ۴...... عمر بھر قادیانیوں سے مراسم رہے۔
- ۵...... عمر بھر قادیانیوں کو مسلمان ثابت کرتا رہا۔
- ۶...... عمر بھر قادیانیوں کو مسلمان سمجھتا رہا۔
- ۷...... مرزا قادیانی اور اس کے ماننے والوں کو کافر نہیں سمجھتا تھا۔
- ۸...... شرعی مسئلہ یہ ہے کہ جھوٹا مدعی نبوت اور اس کے ماننے والے کافر ہیں۔ جو ان کو مسلمان سمجھتا ہے وہ بھی کافر ہیں۔ عبدالمجید سالک
ان حوالہ جات کی روشنی میں نہ صرف قادیانی تھا بلکہ مفادات کے لئے ان کا مبلغ تھا۔ منافقت سے مسلمانوں میں شامل رہ کر قادیانی مفادات کے لئے کام پر مامور تھا۔ اب عبدالمجید سالک کے حوالہ جات سے قادیانی یہ ثابت کریں کہ مسلمان زعماء قادیانیوں کو مسلمان سمجھتے تھے تو اس سے قادیانیوں کا مجرم ضمیر تو دھوکہ کھا سکتا ہے لیکن مسلمان اس سے کبھی بھی دھوکہ نہیں کھا سکتے۔
عبدالمجید سالک اور مولانا غلام رسول مہر: عبدالمجید اور مولانا غلام رسول مہر کے آپس میں گہرے تعلقات تھے اور مولانا غلام رسول مہر ایک علمی ادبی مسلمان شخصیت تھے۔ اس سے بعض رفقاء دھوکہ کھا جاتے ہیں کہ عبدالمجید سالک اگر قادیانی ہوتا تو مولانا غلام رسول مہر سے اس کے ایسے تعلقات کیوں کر تھے۔ تو ان صاحبان سے عرض ہے کہ جس طرح قطب دوران خواجہ غلام فرید پر قادیانیوں نے
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
غلام محمد (اوچ شریف) کے قادیانی کو لگا رکھا تھا۔ اسی طرح عبدالمجید سالک بھی مولانا غلام رسول مہر پر قادیانیوں نے مسلط کر رکھا تھا۔ چنانچہ پروفیسر فضل حق قریشی زندہ سلامت ہیں لاہور میں رہتے ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی کے اعلیٰ عہدہ پر فائز ہیں ان کے حوالہ سے ایک دوست نے بتایا، وہ فرماتے ہیں کہ مولانا غلام رسول مہر فرماتے تھے سالک مجھے مرزائی بنانے کے لئے مرزائیوں کی کتابیں میرے پاس لاتا تھا۔ مجھے یہ روایت ایک دوست نے بتائی مزید تفصیل قریشی صاحب سے پوچھی جاسکتی ہے۔
انصاف کا خون : سامعین گرامی! اب اس عبدالمجید سالک قادیانیت کے داعی ونقیب نے مولانا ابوالکلام آزاد کے متعلق تحریر کیا کہ: مولانا ابوالکلام آزاد مرزا (قادیانی ملعون) کے دعویٰ مسیحیت سے سروکار نہ رکھتے تھے لیکن ان (مرزا) کی غیرت اسلامی اور حمیت دینی کے قدردان ضرور تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جن دنوں مولانا امرتسر کے اخبار ”وکیل“ کی ادارت پر مامور تھے اور مرزا صاحب کا ا نتقال انہی دنوں ہوا تو مولانا نے مرزا صاحب کی خدمات پر ایک شاندار شذرہ لکھا۔ امرتسر سے لاہور آئے اور یہاں سے مرزا صاحب کے جنازے کے ساتھ بٹالہ تک گئے۔
(یاران کہن ص ۴۲)
اس میں سالک صاحب نے مولانا ابوالکلام آزاد پر جو الزامات لگائے ان کی نوعیت یہ ہے:
- ۱...... مرزا کی خدمات اسلامی سے متاثر تھے۔ (مرزا کی غیرت اسلامی اور حمیت دینی ثابت کرنے کے لئے سالک کی قادیانی چال ہے )
- ۲...... اخبار وکیل میں مرزا کی وفات پر شذرہ لکھا۔
- ۳...... مرزا کے جنازے کے ساتھ بٹالہ تک گئے۔
جب ان الزامات پر مشتمل کتاب ”یاران کہن“ چھپ کر آئی تو مولانا ابوالکلام آزاد نے فوراً اس کتاب کے ناشر ادارہ کے نام تردیدی خط بھجوایا کہ یہ بے بنیاد باتیں ہیں۔ سالک کو چاہئے کہ وہ خود ان کی تردید کریں۔ چنانچہ حضرت مولانا ابوالکلام آزاد کے پرائیویٹ سیکرٹری خان محمد اجمل اپنے مکتوب میں رقم طراز ہیں۔ مولانا عبدالمجید سالک نے ایک کتاب ”یاران کہن“ کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے جس میں بعض بے بنیاد باتیں مولانا آزاد کے متعلق درج ہیں۔ مثلاً یہ کہ مولانا آزاد مرزا غلام احمد کی کتب سے بہت متاثر ہوئے یا جنازہ کے ساتھ قادیان گئے وغیرہ۔ مناسب ہے کہ سالک صاحب خود اس کی تردید کر دیں۔ اخبار وکیل میں مرزا غلام احمد کی وفات پر جو مقالہ افتتاحیہ چھپا تھا وہ منشی عبدالمجید کپورتھلوی کا تھا۔ مولانا کا اس (اداریہ) سے کوئی تعلق نہ تھا۔
(ہفتہ وار چٹان ۱۳؍فروری ۱۹۵۶ء)
اس خط کے شائع ہونے پر سالک صاحب نے مولانا ابوالکلام آزاد کے پرائیویٹ سیکرٹری اجمل خان کو خط لکھا کہ جو ۲۰؍ فروری ۱۹۵۶ء کے چٹان میں شائع ہوا۔ اس میں لکھا کہ مجھے ”یاران کہن“ میں بیان کردہ واقعات کی صحت پر اصرار نہیں اور میں آپ کی تردید کے آگے سرتسلیم خم کرتا ہوں۔ میں دہلی کلاتھ مل کے مشاعرہ پر ۲۵؍ فروری کو دہلی آ رہا ہوں ان شاء اللہ آستانہ عالیہ پر حاضر ہو کر اعتذار پیش کروں گا۔ حضرت مولانا ابوالکلام کی خدمت میں آداب نیاز۔ چنانچہ سالک دہلی گئے تو مولانا سے ملنے بھی گئے۔ چنانچہ اپنے ایک ۷؍ مارچ ۱۹۵۶ء کے مکتوب میں انیس جیلانی کے نام سالک نے لکھا ہے کہ:
”دہلی میں مولانا ابوالکلام آزاد سے ملاقات ہوئی چونکہ مولانا کی طبیعت ناساز تھی ، اس لئے ملاقات مختصر رہی۔ ورنہ تندرستی کی حالت میں تو دو دو گھنٹے میرے ساتھ گفتگو کیا کرتے ہیں۔ دوران ملاقات انہوں نے فرمایا آپ میرے مدۃ العمر کے عزیز ہیں اس لئے مجھے شکایت ہوئی کہ خلاف واقعہ بات آپ کے قلم سے کیوں نکلی۔ کہنے لگے اب اس کی تردید کر دیجئے۔ میں نے کہا کہ تردید کر چکا ہوں۔ آپ چاہیں تو مزید تردید کر دوں گا۔
(نوازش نامے ص ۲۰)
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ۷۶ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بددیانتی کی انتہا: سالک نے ”یاران کہن“ میں قادیانی مؤقف کی حمایت کا جو الزام مولانا پر قادیانی لگاتے تھے وہی الزام سالک نے نہ صرف دہرایا بلکہ اسے سند جواز بخشنے کے لئے اپنی کتاب میں چھاپا جو ادارہ چٹان سے شائع ہوئی۔ کتاب کے چھپتے ہی مولانا ابوالکلام آزاد نے یہ بات پڑھی تردید کر دی ، لاتعلقی کا اعلان کیا اور اسے بے بنیاد قرار دیا۔ سالک نے کہہ دیا کہ سر تسلیم خم میری معذرت اور زبانی معذرت کے لئے دہلی آ رہا ہوں آ کر ملوں گا۔ وہاں گیا تو مولانا نے خود سالک کے سامنے اسے خلاف واقعہ قرار دیا۔ مولانا کے متعلق یہ الزام تھا انہوں نے اس کی تحریری اور تقریری اس کی تردید کی۔ اب سالک کی قادیانیت والی ضد ہٹ دھرمی اور قادیانیت کی وکالت اور کذب و افترا کی آبیاری کو ملاحظہ کیجئے۔
اسی خط میں انیس جیلانی کو لکھتے ہیں کہ آئینہ صداقت مفتی صادق کا (ربوہ) سے مجھے ملا ہے جو ۱۹۰۸ء میں شائع ہوا۔ اس میں ہے کہ مولانا آزاد ہمدردی کے اظہار میں اسٹیشن تک تشریف لائے۔
اب سالک کی قادیانیت سے نیاز مندی کو دیکھئے کہ مولانا آزاد کی تردید جو خلاف واقعہ ہے وہ ان کے لئے سود مند نہیں البتہ مرزائی کذابوں اور افتراء بازوں کی روایت سالک کے لئے حرز جان کا درجہ رکھتی ہے۔ اس سے بڑھ کر اور کون سی خدمت ہے جو قادیانیت کی سالک صاحب کو کرنی چاہئے تھی۔
سالک کا بیہودہ استدلال: سالک نے انیس جیلانی کو اپنے خط میں لکھا کہ اب میں کیا عرض کروں ۔ مرزائیوں نے آج سے ۴۸ سال پہلے بیان کیا تھا کہ مولوی محی الدین احمد آزاد کلکتہ والے جو وکیل کے ایڈیٹر ہیں۔ انہوں نے بے حد ہمدردی کا اظہار کیا، اور ہمارے ساتھ امرتسر سے بٹالہ تک گئے ۔ جب ہم مرزا کا جنازہ لئے جارہے تھے ۔ اب اگر مولانا نصف صدی کے بعد اس سے انکار کرتے ہیں تو میرے پاس اس کے سوا کیا رہ جاتا ہے کہ سر تسلیم خم کردوں ۔ دوسری بات شذرہ کے متعلق ۴۸ سال کے دوران میں مرزائیوں نے سینکڑوں بار اس شذرہ کو شائع کر کے مولانا ابوالکلام آزاد سے منسوب کیا۔ لیکن اس طویل مدت میں مولانا یا ان کے کسی قریبی نیاز مند نے اس کی تردید نہ کی۔
(نوازش نامہ ص ۱۸)
- ۱...... ”یاران کہن“ کا حوالہ آپ ملاحظہ کر چکے ہیں۔ اس میں سالک صاحب نے لکھا کہ مولانا امرتسر سے لاہور آئے ، لاہور سے
بٹالہ مرزا کے جنازہ کے ساتھ گئے ۔
اب اس خط میں تحریر کرتے ہیں کہ امرتسر سے بٹالہ تک ساتھ گئے۔ جب کہ قارئین (قادیانی مفتی صادق کے آئینہ صداقت) کے دیئے ہوئے سالک کے قلم سے حوالہ کو پڑھ چکے ہیں کہ مولانا صرف اسٹیشن تک ساتھ آئے۔ اب اس سے جو نتیجہ نکلتا ہے وہ یہ ہے کہ قادیانیوں نے مولانا پر صرف اتنا الزام لگایا ہے کہ اسٹیشن تک ساتھ آئے۔ لیکن سالک نے امرتسر سے لاہور اور لاہور سے بٹالہ تک پھیلا دیا۔ جب کہ یہ بات ہی در حقیقت بے بنیاد ہے۔ مولانا آزاد اس کی تحریری و زبانی تردید کر رہے ہیں لیکن سالک صاحب قادیانی موقف کو قبول کرتے ہیں اور مولانا کے موقف کو رد کر دیتے ہیں، یہی سالک صاحب کی قادیانیت والی رگ ہے جس پر نشتر رکھنا ضروری تھا۔
- ۲...... امرتسر وکیل اخبار کے مولانا ایڈیٹر تھے لیکن جو شذرہ شائع ہوا وہ مولانا کا نہیں بلکہ عبدالمجید کپور تھلوی کا تھا۔ مولانا پر اس کی کیسے
ذمہ داری عائد کی جاسکتی ہے؟ مولانا ایڈیٹر ضرور تھے مگر ملازم تھے ۔ اخبار کی پالیسی مالک کی ہوتی ہے ایڈیٹر کی نہیں ۔ پھر مولانا پر الزام کیسے عائد کیا جاسکتا ہے۔ سوائے اس کے کہ خوف خدا سے عاری ہو کر قادیانیت کی حمایت پر کمر بستہ ہو کر جس مسلم رہنما پر چاہیں الزام لگادیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۳...... یہ بات کہ مرزائی الزام لگا رہے اور ان باتوں کو شائع کر رہے تھے تو مولانا نے تردید کیوں نہیں کی۔ قارئین جو مولانا کے مزاج سے واقف ہیں انہیں معلوم ہوگا کہ مولانا آزاد بڑے سے بڑے آدمی کے اعتراض کا بھی جواب نہ دیتے تھے۔ وہ ان جھگڑوں میں نہ پڑتے تھے کہ تردید و تائید کے چکر میں پڑیں۔
قادیانی بکواس کرتے رہے اور وہ صرف مولانا آزاد پر نہیں، رحمت عالم ﷺ کی ذات اقدس، حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، تابعین، آئمہ کرام، پھر شاہ ولی اللہ محدث دہلوی سے خواجہ غلام فرید تک کون سی شخصیت ہے جس پر انہوں نے جھوٹا الزام نہیں لگایا کہ وہ سب اجرائے نبوت کے قائل تھے۔ قرآن مجید، احادیث شریف، تاریخ، کون سی کتاب ہے جس میں انہوں نے اپنی ملحدانہ کمال بددیانتی سے الزام تراشی نہیں کی، اگر مولانا پر انہوں نے الزام لگا دیا تو یہ کوئی مستبعد نہیں۔ ان کی اس یاوہ گوئی پر مولانا کو واقعی نوٹس نہیں لینا چاہئے تھا۔ کتے بھونکتے رہے قافلہ چل رہا ہے۔ قافلہ کو سفر جاری رکھنا چاہئے، یہ کاروان، اگر لٹھ لے کر کتوں کے پیچھے پڑ جائے تو پھر سفر ہو گیا؟ اس لئے مولانا نے قادیانی الزام کو پرکاہ سے زیادہ وقعت نہیں دی۔ ہاں جب اپنے ملنے والے محبت کا دم بھرنے والے کی منافقت کا پردہ چاک ہوا اس نے بھی قادیانیوں والی راگنی الاپی وہ بات پھر اپنے ایک عزیز کے نشریاتی ادارہ چٹان کی شائع شدہ کتاب میں شائع ہوگئی تو مولانا نے اس کی تردید کردی۔ ان حقائق کے ہوتے ہوئے کوئی شخص یہ کہے کہ مولانا آزاد مرزا قادیانی یا اس کے ماننے والوں سے متعلق نرم گوشہ رکھتے تو سمجھا جائے گا کہ یہ قادیانیوں کے منہ سے اگلے ہوئے نوالہ کی جگالی ہے اور بس۔
سالک کے ظاہر و باطن کا فرق: خود سالک نے اپنے نجی خطوط جو اس بحث سے متعلق انیس جیلانی کو تحریر کئے اس میں:
- ۱...... قادیانیت کی خوب وکالت کی۔
- ۲...... قادیانیوں کو مسلمان قرار دیا۔
- (۳) مرزاغلام احمد قادیانی کو مسلمان قرار دیا۔
- (۴) اپنے پورے خاندان کے قادیانی ہونے کو تسلیم کیا۔
- (۵) مولانا آزاد پر قادیانی متذکرہ الزام کو صحیح قرار دیا۔
پھر سوچا کہ اگر یہ باتیں شائع ہو گئیں تو پھر کیا ہوگا۔ کہ منافق چہرے سے نقاب الٹ جائے گا۔ مجھے قادیانی صف میں ہی پناہ ملے گی تو لکھا : ”اگر آپ چاہتے ہیں کہ میں بے تکلف اپنے خیالات کا اظہار کرتا رہوں تو اشاعت کا خیال بھی نہ کیجئے ورنہ میری آپ کی تحریر منافقانہ ہو جائے گی اور ہر ہر لفظ احتیاط سے لکھنا پڑے گا۔
(نوازش نامے ص ۱۹)
سالک تو مر گیا اپنے رب کے حضور پیش ہے وہ ذات ہم سے زیادہ تیرے حال کو جانتی ہے لیکن آپ کی یہ بات صحیح ہے کہ آپ زندگی بھر منافقت کرتے رہے اور بس۔ (جادو وہ جو سر چڑھ کے بولے)
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۱۹۹۸ء ص ۴۰ تا ۵۰)
۱۹۹۸ء میں قادیانیت سے تائب ہونے والے افراد
ایک گریجویٹ خاتون کی مرزائیت سے توبہ
یہ ایک تعلیم یافتہ خاتون کی داستان عبرت ہے جو قادیانیت کے جال میں پھنس چکی تھی اور مرزا غلام احمد قادیانی کے دھوکہ باز پیروکاروں کی چکنی چپڑی باتوں میں آچکی تھی لیکن اللہ رب العزت کی بے پایاں رحمت نے آغوش میں لے لیا، خوش بختی نے دامن تھاما، ایک
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عالم دین مولانا محمد زکریا مدرس جامعہ مدنیہ لاہور کی پرخلوص کوشش سے وہ خاتون قادیانیت سے تائب ہوگئی اور رسول آخرین محمد عربی ﷺ کی ختم نبوت پر پختہ یقین کر کے نیک بختی کو سمیٹ لیا۔ انہی مولانا نے اس لڑکی کی داستان قلم بند کی جو یہ ہے۔
نحمده و نصلی علیٰ رسوله الکریم!
اس دورِ پرفتن میں جہاں دیگر بہت سے فتنے جنم لے رہے ہیں وہیں ایک خطرناک فتنہ مذہبی آزادی اور بے راہ روی کا تیزی کے ساتھ لوگوں میں پھیل رہا ہے۔ باطل قوتیں اجتماعی طور پر مسلمانوں کے در پئے ایمان ہیں اور مختلف انداز سے ان کا ایمان برباد کر رہی ہیں، المیہ یہ ہے کہ اچھے اچھے دیندار گھرانے اس کی زد میں آ رہے ہیں اور اس میں جہاں ہمارے تعلیمی اور معاشرتی ماحول کا قصور ہے وہیں والدین کی بے اعتنائی اور بے پروائی کا بھی دخل ہے۔
راقم الحروف کے ساتھ چند روز پیشتر ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ یہ واقعہ چونکہ عبرت انگیز بھی ہے اور اس میں والدین کے لئے بھی دعوتِ فکر ہے اس لیے مناسب معلوم ہوا کہ قارئین کے گوش گزار کیا جائے، شاید کوئی اس واقعہ سے سبق حاصل کر کے اپنا رخ صحیح کر لے۔
واقعہ یہ ہے کہ راقم الحروف مؤرخہ ۱۷؍نومبر ۱۹۹۷ء بروز پیر شام کو جب گھر پہنچا تو اپنی مسجد کے قاری صاحب کو انتظار کرتے ہوئے پایا، وہ مجھے دیکھتے ہی پاس آئے اور فرمانے لگے کہ آپ سے ایک ضروری کام ہے، وہ یہ کہ جو صاحب جمعہ کی نماز کے لئے سب سے پہلے ہماری مسجد میں آتے ہیں اور اکثر ذکر اذکار میں مشغول رہتے ہیں وہ دو پہر کو میرے پاس آئے تھے اور بہت پریشان تھے۔ وہ اس لئے آئے تھے کہ ان کی ایک ہی بیٹی ہے اور تین بیٹے ہیں انہوں نے اپنی بیٹی کا رشتہ اپنی سالی کے لڑکے (لڑکی کے خالہ زاد بھائی) سے کیا ہے اور ۲۲؍نومبر ۱۹۹۷ء کو رخصتی ہے۔ وہ بتانے لگے کہ رات کو لڑکے والے یعنی لڑکا اور اس کی والدہ پھوپھی اور دو بہنوئی اور دو ایک افراد اور بھی سب مل کر آئے اور آکر کہنے لگے کہ نکاح پڑھانے کے لئے ہم اپنا مولوی لائیں گے، میں نے کہا کہ ہوتا تو یوں ہے کہ مولوی صاحب کو لڑکی والے لاتے ہیں اور ان کی فیس وغیرہ بھی وہی ادا کرتے ہیں اگر آپ چاہتے ہیں مولوی صاحب کو آپ لائیں گے تو لے آئیں، جو فیس وغیرہ ہوگی وہ ہم ادا کر دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ لڑکا احمدی (مرزائی) ہے اس لئے مولوی صاحب بھی خود لائے گا، وہ صاحب کہنے لگے کہ میرے تو ہوش اڑ گئے کہ لڑکا مرزائی ہے اور میں اس کو اپنا داماد بناؤں؟ میں نے کہا کہ آپ نے یہ بات پہلے کیوں نہیں بتائی کہ لڑکا مرزائی ہے؟ مرزائی تو کافر ہوتے ہیں اور میں تو اپنی لڑکی کسی کافر کو نہیں دے سکتا، اس پر لڑکے نے کہا کہ آپ اپنی لڑکی سے پوچھ لیں وہ بھی احمدی ہے، وہ صاحب کہنے لگے کہ میرے تو اوسان خطا ہو گئے کہ میری لڑکی جو میری تربیت میں رہی وہ مرزائی ہو! میں نے فوراً اسے بلا کر پوچھا تو میری وہ لڑکی جس نے کبھی میرے سامنے آنکھ اٹھا کر بات نہیں کی تھی وہ صاف بولی کہ ہاں میں احمدی ہوں اور آپ کو کافر سمجھتی ہوں میرے اور میرے بیٹوں اور اہلیہ کے لئے یہ قیامت تھی، میرا جی چاہ رہا تھا کہ زمین پھٹے اور میں اس میں دفن ہو جاؤں۔ الغرض میں نے ان آنے والوں کو تو اس جھگڑے میں رفع دفع کیا اور اپنی بیٹی سے پوچھا کہ تو نے یہ کس طرح کہہ دیا؟ تو اس نے بتایا کہ مجھے میرے منگیتر (خالہ زاد بھائی جس سے نکاح ہونا تھا اس نے) مرزائیوں کا لٹریچر لاکر دیا اور میری رہنمائی کی۔ میں نے اسے بہت سمجھایا، لیکن وہ مطمئن نہیں ہوئی۔ ہمارے لئے وہ رات تو انتہائی غم کی رات تھی۔ ہم بالکل نہیں سوئے اور اس کا بھائی بھی پھوٹ پھوٹ کر روتا رہا، اور کھانا بھی ہم نہیں کھا سکے، اس لئے آپ میرے ساتھ چلیں اور اسے سمجھائیں قاری صاحب کہتے ہیں میں نے کہا کہ خطیب صاحب عالم ہیں وہ رات کو آٹھ بجے آتے ہیں۔ میں ان کو ساتھ لے کر آؤں گا، لہٰذا اب آپ میرے ساتھ چلیں، جلدی سے کھانا کھا لیں، چنانچہ میں نے جلدی سے کھانا کھایا اور دو رکعت صلوٰۃ الحاجت پڑھ کر اس لڑکی کے لئے ہدایت کی دعا کی اور نو ساڑھے نو بجے کے قریب ان کے گھر گئے اور جا کر
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
لڑکی کے والد سے ملاقات کی انہوں نے ساری صورت حال بتائی۔ پھر لڑکی کو بلایا اس کی والدہ اور والد اور بھائی بھی موجود تھے۔
میں نے لڑکی سے سوال کیا کہ ساری امت مسلمہ اس بات پر متفق ہے کہ آنحضرت ﷺ آخری نبی ہیں آپ کے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہو گا اور جو شخص کسی بھی نبوت کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا ہے آپ کو اس عقیدہ میں کوئی اشکال ہے؟ اس لڑکی نے کہا کہ میں آپ سے سوال کرتی ہوں آپ مجھے جواب دیجئے۔
سوال: نبی اور رسول میں کیا فرق ہے؟
جواب: نبی اور رسول میں فرق یہ ہے کہ رسول کو نئی شریعت اور نئی کتاب دی جاتی ہے، جبکہ نبی اپنے پہلے والے رسول ہی کی شریعت کو لیکر مخلوق کی ہدایت کا کام کرتا ہے، دوسرے معنی میں یہ کہ ہر رسول نبی ہوتا ہے لیکن ہر نبی رسول نہیں ہوتا اور یہ بھی تغلیبی قاعدہ ہے۔ ورنہ بسا اوقات نبی کو رسول بھی کہہ دیا جاتا ہے۔
اس لڑکی نے کہا کہ میں مرزا صاحب کو رسول نہیں مانتی بلکہ نبی مانتی ہوں وہ بھی غیر تشریعی نبی کہ وہ بھی حضور اکرم ﷺ پر ایمان لاکر آپ ہی کا کام کرتے ہیں۔
میں نے جواب دیا کہ آپ کی بات کا مطلب یہ ہوا کہ جو بھی دین کا کام کرے وہ نبی ہو جائے گا؟ لہٰذا پھر تو بہت سے علماء کرام اور تبلیغی جماعت والے نبی ہوں گے؟ میں نے یہ بھی کہا کہ پھر آپ ﷺ کے اس فرمان کا مطلب کیا ہوگا ’’انا خاتم النبیین لا نبی بعدی‘‘؟
(رواہ مسلم)
وہ کہنے لگی کہ اس حدیث شریف میں تشریعی نبی کی نفی ہے، مرزا تو غیر تشریعی نبی ہے۔
میں نے کہا کہ تشریعی نبی کو تو رسول کہتے ہیں۔ اس کا صحیح جواب یہ ہے کہ لا نبی بعدی میں لا نفی جنس کے لئے ہے (جیسا کہ لا الہ الا اللہ میں ) جس سے ہر قسم کی نبوت کی نفی ہو جاتی ہے خواہ وہ تشریعی ہو یا غیر تشریعی، ضمنی ہو یا غیر ضمنی، ظلی یا بروزی اس صورت میں حدیث شریف کا مطلب یہ ہوگا کہ میرے بعد کسی بھی قسم کا نبی تشریعی ، غیر تشریعی، ظلی ، بروزی کوئی بھی پیدا نہیں ہوگا، اس موقع پر احقر کو حضرت مفتی کفایت اللہ کا ایک واقعہ یاد آ گیا۔ موقع کی مناسبت سے ذکر کیا جاتا ہے۔ حضرت مفتی صاحب کے صاحبزادہ مولانا حفیظ الرحمٰن واصف مرحوم رقم طراز ہیں : ’’ ایک مرتبہ راقم الحروف (واصف) ریل کے سفر میں حضرت والد ماجد کے ہمرکاب تھا ، جس ڈبے میں ہم دونوں تھے اسی ڈبے میں دہلی کے سوداگروں میں سے دو دولت مند حضرات بھی ہم سفر تھے اور ان کے قریب دو تین بھاری بھر کم قادیانی مولوی بھی بیٹھے ہوئے تھے اور مرزا غلام احمد کی صداقت اور نبوت پر گفتگو ہو رہی تھی۔ ان میں سے ایک بڑا مولوی بڑے زور شور سے بول رہا تھا بڑا لسان اور طرار معلوم ہوتا تھا۔ حضرت والد ماجد کچھ فاصلے پر تھے اور ان لوگوں کی گفتگو سن رہے تھے۔ قادیانیوں کے مخاطب کبھی کبھی جواب دیتے تھے، مگر پھر لاجواب ہو جاتے تھے آخر حضرت والد ماجد نے فرمایا میں آپ لوگوں کی گفتگو میں دخل انداز نہیں ہونا چاہتا تھا ، مگر یہاں معاملہ دین کا ہے اس لئے خاموش نہیں رہ سکتا۔
میں صرف یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ نے جو ابھی فرمایا کہ آنحضرت ﷺ خاتم النبیین ہیں اور مرزا صاحب کی نبوت سے ختم نبوت میں کوئی نقصان واقع نہیں ہوتا۔ کیونکہ مرزا صاحب کی نبوت حضور کی ہی نبوت کا ایک جزو اور ضمیمہ ہے تو یہ فرمائیے کہ حضور ﷺ کے اس قول لا نبی بعدی میں کسی خاص قسم کی نبوت کی تخصیص نہیں ہے ، مطلق نبوت کی نفی ہے، ضمنی غیر ضمنی اور ظلی بروزی کی تخصیص کا ثبوت کہیں نہیں ملتا۔ لائے نفی جنس نے نبوت کے تمام اقسام واصناف کی نفی کر دی ہے۔ پھر بیچ میں نبوت ضمنی کیسی؟
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیانی مولوی نے جواب دیا کہ جس طرح سچا خواب نبوت کا چالیسواں حصہ ہوتا ہے اسی طرح ضمنی نبوت بھی ہوتی ہے اور چونکہ آنحضرت ﷺ کا دائرہ نبوت کامل قیامت تک ہے اور آپ خاتم النبیین ہیں اس لئے آپ ہی کے دین کی تجدید کے لئے نبی آ سکتا ہے اور اس سے آپ کی ختم نبوت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
حضرت مفتی اعظم نے فرمایا نبوت کا چالیسواں حصہ اگر کسی کو عطا ہو جائے تو وہ شخص نبی نہیں بن جائے گا۔ انسان کی ایک انگلی کو انسان کا لقب نہیں دیا جا سکتا۔
اور آنحضرت ﷺ تو آپ کے دعوے کے مطابق قیامت تک کے لئے نبی ہیں پھر حضور ﷺ کا یہ فرمانا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ قیامت کے بعد کوئی نبی آئے گا؟ بولئے جواب دیجئے؟
حضرت مفتی صاحب نے کئی مرتبہ فرمایا کہ بولئے جواب دیجئے ، مگر ادھر ایسا سناٹا چھا گیا کہ صدائے برنخاست قادیانی اک دم مبہوت ہو گئے بالکل جواب نہ دے سکے۔
پھر فرمایا کہ آپ لوگوں کا یہ کہنا کہ حضور قیامت کے لئے نبی ہیں خود اس امر کا اقرار ہے کہ حضور ﷺ کی بعثت کے بعد نبوت کا عہدہ کبھی کسی کو عطا نہیں کیا جائے گا۔ دوران نبوت کسی اور نبی کی بعثت کے کیا معنی؟ اور اس کی ضرورت کیوں؟ بولئے جواب دیجئے ! مگر صدائے برنخاست ۔
قادیانیوں پر اوس پڑ گئی اور شکست خوردگی کی وجہ سے چہرہ زرد اور ہونٹ خشک ہو گئے اور بالکل ساکت اور صامت ہو گئے تو حضرت والد ماجد نے تقریباً ایک گھنٹے تک قادیانیت کے رد پر مسلسل تقریر کی۔
اس کے بعد دلی کے ہم سفر حضرات نے دریافت فرمایا کہ حضرت اپنا تعارف تو کرائیں۔ فرمایا کہ مجھے کفایت اللہ کہتے ہیں ، مدرسہ امینیہ کا مدرس ہوں ۔
اس وقت کا منظر بڑا عجیب تھا۔ ڈبے کے تمام ہم سفر مسلمانوں نے بھی یہ گفتگو سنی تھی ، بہت شکریہ ادا کیا اور ان دولت مند حضرات نے کہا کہ ہم تو مذبذب ہو گئے تھے۔ آپ نے بروقت ہماری دستگیری فرمائی اور اپنی کوتاہی پر نادم ہوئے کہ دلی میں رہتے ہوئے ہم شرف ملاقات سے محروم تھے۔
ادھر قادیانی مولویوں کا یہ حال تھا کہ آپس میں ادھر ادھر کی باتیں کرنا بھی بھول گئے تھے۔ اس وقت غالباً راقم الحروف کی عمر تیرہ چودہ سال کی تھی۔ (اور اب غفلت اور معصیت کی اٹھاون منزلیں طے ہو چکی ہیں) افسوس کہ والد ماجد کی بحث اور محققانہ تقریر نہ تو میں سمجھ سکتا تھا نہ وہ یاد رہ سکتی تھی۔ اتنا خوب یاد ہے کہ بحث تو کچھ زیادہ ہوئی ہی نہیں دو چار جملوں میں ہی قادیانی مولویوں کا کام تمام ہو گیا۔ البتہ بعد میں تقریر خاصی طویل اور مفصل تھی۔ واقعہ کا ایک خاکہ ذہن میں محفوظ تھا جو اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں تحریر کر دیا ہے۔
(مفتی اعظم کی یاد ص ۱۰۲)
ان سب سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے بعد ہر قسم کی نبوت کا دروازہ بند ہو چکا ہے۔
وہ کہنے لگے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں آپ کا کیا عقیدہ ہے؟
میں نے کہا کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے نبی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کے شر سے بچانے کے لئے زندہ سلامت آسمانوں پر اٹھا لیا تھا ، اب قرب قیامت میں نازل ہوں گے اور دجال کو قتل کریں گے ۔ وغیرہ وغیرہ ۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
وہ کہنے لگی کہ مرزا ہی عیسیٰ ہے۔
میں نے کہا کہ مرزا قادیان میں پیدا ہوا وہیں پرورش پائی اور وہیں زندگی گزاری جب کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں صحیح احادیث میں آتا ہے کہ وہ شام کے شہر دمشق کی جامع مسجد کے مشرقی منارے کے پاس نازل ہوں گے۔ نماز کا وقت ہوگا۔ نیچے تشریف لائیں گے۔ لوگ کہیں گے آپ نماز پڑھائیے وہ فرمائیں گے ”امامکم منکم“ (تمہارا امام تم میں سے ہے) پھر اس کے بعد وہ دجال کو قتل کریں گے، شادی کریں گے، ان کی وفات ہوگی مدینہ منورہ میں آپ ﷺ کے پہلو میں مدفون ہوں گے۔
دجال کی ساری علامات احادیث میں مذکور ہیں کہ وہ مشرق سے مغرب تک کا چکر لگائے گا بہت سے یہودی اس کے ساتھ ہو جائیں گے۔ اس کے ساتھ جنت و جہنم ہوگی۔ غرض بہت سی علامات گنوائی گئی ہیں۔ مرزا قادیانی میں ان میں سے ایک بات بھی نہیں پائی جاتی۔
کہنے لگی وہ دجال جس کا عیسیٰ علیہ السلام مقابلہ کریں گے، وہ ایک سپر پاور کے روپ میں ہے اور ایک آنکھ سے کانا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ حق سے آنکھ بند کئے ہوئے ہے۔
میں نے جواباً کہا کہ عربی کا مسلمہ ضابطہ ہے کہ جب تک کسی لفظ کے حقیقی معنی مراد لئے جاسکتے ہوں اس وقت تک اس لفظ کے مجازی معنی مراد لینا جائز نہیں ہوتا؟ نیز مرزا نے کونسی سپر پاور کا مقابلہ کیا؟ بلکہ وہ تو خود انگریز کا خود ساختہ پودا تھا، انگریز کی حکومت کو رحمت الہیہ کہتا رہا اور اس کے خلاف جہاد کو حرام کہتا رہا، ساری زندگی انگریز کی وفاداری میں گزاری۔
کہنے لگی وہ مہدی ہے۔
میں نے کہا کہ حضرت امام مہدی کے بارے میں بھی احادیث معتبرہ میں مروی ہے کہ وہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اولاد میں سے ہوں گے اور والد کا نام عبداللہ ہوگا۔ مدینہ منورہ کے رہنے والے ہوں گے اور اس خوف سے کہ مدینہ منورہ کے لوگ انہیں خلیفہ بننے پر مجبور نہ کریں وہاں سے مکہ مکرمہ چلے آئیں گے، وہاں طواف کر رہے ہوں گے کہ اس زمانے کے اولیاء کرام انہیں پہچان لیں گے اور غیب سے ایک آواز آئے گی ”ھٰذا خلیفۃ اللہ المہدی“ (یہ اللہ کے خلیفہ مہدی ہیں) وغیرہ وغیرہ۔ جب کہ مرزا مغل ہے۔ قادیان میں پیدا ہوا وہیں رہا مکہ مکرمہ کبھی دیکھنا بھی نصیب نہیں ہوا، نہ کسی یہودی سے اس کا مقابلہ ہوا۔
کہنے لگی کہ حدیث میں آتا ہے کہ مسیح موعود کی عمر چھ سو سال ہوگی۔ یعنی ان کی خلافت چھ سو سال تک رہے گی، اب ان کا خلیفہ چہارم چل رہا ہے اور سب علامتیں بھی آہستہ آہستہ پوری ہوں گی۔
میں نے جواباً کہا کہ یہ حدیث سرے سے ثابت ہی نہیں۔
پھر اس لڑکی نے کچھ کتابیں لا کر دکھلائیں جو اس قسم کی بہت سی خرافات پر مشتمل تھیں، غرض بات چلتی رہی حتی کہ آخر میں اس نے یہ طے کیا کہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور امام مہدی کے بارے میں پیش کردہ احادیث اصل کتابوں سے باحوالہ دکھادی جائیں اور قادیانیوں کی طرف سے چھاپے گئے پمفلٹ ”ختم نبوت اور بزرگان امت“ کا جواب دے دیا جائے تو میں قادیانیت سے تائب ہو کر مسلمان ہو جاؤں گی، ہم نے اس کی حامی بھر لی اور کہا کہ ہم اس کے لئے تیار ہیں۔ رات کے بارہ بج چکے تھے، اس لئے ہم واپس چلے آئے، ہم نے لڑکی کے والد سے یہ بات کی کہ لڑکی تائب ہو یا نہ ہو آپ نے اس کا رشتہ اب اس لڑکے سے نہیں کرنا لڑکی کے والد نے اس سے اتفاق کیا۔
صبح کو میں اپنی کتابیں دیکھنے لگا کہ قادیانیت کے بارے میں کوئی کتاب ہو تو اس کا مطالعہ کروں ان کے متعلق مستقل کتاب تو کوئی
تحریک ختم نبوت جلد(۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نہ ملی۔ البتہ انوار مدینہ میں گزشتہ پانچ ماہ سے حضرت اقدس مولانا سید حسین احمد مدنی کی کتاب ”الخلیفۃ المہدی فی الاحادیث الصحیحہ“ مع ترجمہ کے شائع ہو رہی تھی، میں نے وہ سارے شمارے لا کر قاری صاحب کو دیئے کہ یہ اس لڑکی تک پہنچا دیں اور میں جامعہ چلا آیا۔ یہاں میں نے اپنے استاذ محترم مولانا نعیم الدین صاحب سے اس بات کا تذکرہ کیا وہ بھی بہت فکر مند ہوئے اور اس سلسلہ میں ہر طرح سے میری معاونت کی، میں نے ان سے کہا کہ عشاء کے بعد اس لڑکی سے فیصلہ کن بات ہونی ہے آپ بھی چلیں۔ اوّلاً تو انہوں نے کہا کہ میں تمہیں تیاری کرا دیتا ہوں، لہٰذا بات تم خود کر لینا، لیکن جب میں نے اصرار کیا تو آپ نے چلنے کی حامی بھر لی، چنانچہ آپ میرے ساتھ عشاء کے بعد مکتبہ سے سیدھے گھر تشریف لائے کھانے وغیرہ سے فارغ ہو کر ہم قاری صاحب کی معیت میں حسب وعدہ ان صاحب کے گھر پہنچے گھنٹی بجائی تو وہ صاحب باہر آئے اور بڑی خوشی سے ملے اور میرے ہاتھ میں کتابیں دیکھ کر کہنے لگے کہ اب ان کی ضرورت نہیں وہ تو رات ہی کو ساری بات سمجھ گئی اور مان گئی تھی، مزید آپ کی صبح کی بھیجی ہوئی کتابوں سے اس کو تسلی ہو گئی ۔ اب وہ مطمئن ہے اب صرف اس کو مشرف بہ اسلام کر دیجئے، ہمیں اس کے والد سے یہ خوشخبری سن کر بہت خوشی ہوئی ۔
ہمیں ان صاحب نے بیٹھک میں بٹھایا اور وہ صاحب مع اپنے کنبے کے بیٹھے، استاذ محترم نے انتہائی جامع اور مختصر طور پر اور مشفقانہ انداز میں بات فرمائی۔ مضمون کی طوالت کے خوف سے ان کا پورا بیان تو نہیں لکھتا مختصراً یہ کہ آپ نے پہلے عقیدہ کے مدارِ نجات ہونے کا ذکر کیا، پھر موجودہ پرفتن دور میں عقیدہ کی حفاظت کی اہمیت بیان کر کے فتنہ مرزائیت پر تفصیلی بات فرمائی جس میں یہ نکتہ خاص طور پر ذکر فرمایا کہ ہمیں حیات عیسیٰ اور ختم نبوت کی تشریح جو کہ علمی باتیں ہیں ان سے صرف نظر کرتے ہوئے پہلے اس بات کو سمجھنا چاہئے کہ کتاب و سنت سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی بھی شخصیت کے پہچانے کا معیار اس کے حالات زندگی ہوا کرتے ہیں۔ چنانچہ حضور اکرم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے کفار مکہ کے سامنے اپنی زندگی کو پیش کر کے فرمایا تھا: ”فقد لبثت فیکم عمراً من قبلہ افلا تعقلون“ دیکھو میں دعویٰ نبوت سے پہلے تم میں اپنی زندگی کا ایک طویل ترین عرصہ گزار چکا ہوں (میرے سارے حالات تم پر کھلے ہوئے ہیں) ان حالات کو جاننے کے باوجود بھی تم نہیں سمجھتے (تو تم پر حیرت ہے) ہمیں اس معیار کے مطابق علمی بحثوں کو چھوڑ کر مرزا کے حالات زندگی کو دیکھنا چاہئے۔
چنانچہ جب ہم ان کے حالات زندگی کا جائزہ لیتے ہیں تو ان کا نبی یا مہدی و مسیح و مجدد ہونا تو بہت دور رہا ان کا معمولی درجہ کا مسلمان ہونا بھی نظر نہیں آتا وجہ یہ ہے کہ وہ جھوٹ بولنے کے عادی تھے جھوٹے دعوے اور جھوٹی پیشین گوئیاں کرنا ان کا معمول تھا، وہ دھوکہ دینے سے بھی گریز نہیں کرتے تھے، چنانچہ براہین احمدیہ کی پچاس جلدیں لکھنے کے لئے مریدوں سے چندہ لیا اور صرف چار لکھ کر بس کر دیا، جب ان کے مریدوں نے مزید تقاضا کیا تو پانچویں جلد لکھ کر اس نے کہا کہ پانچ سے پہلے صفر لگاو پچاس ہو جائے گا۔ وہ گالیاں دینے کے عادی تھے، انہوں نے اپنے مخالفین کو ایسی ایسی غلیظ گالیاں دی ہیں کہ کسی بازاری آدمی سے بھی انکا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ مرزا صاحب نے اللہ تعالیٰ کی سخت توہین کی ہے اسی پر بس نہیں، انہوں نے جناب نبی کریم ﷺ اور دیگر انبیاء کرام اور صالحین کی بھی توہین کی ہے اور نہایت نازیبا کلمات سے ان کا تذکرہ کیا ہے۔ قرآن وحدیث کے معنی اور مفہوم میں تحریف کی ہے وغیرہ وغیرہ دیکھئے یہ مرزا صاحب کے حالات پر ایک کتاب میں ساتھ لایا ہوں، یہ ان کے بیٹے مرزا بشیر احمد نے لکھی ہے اور اس کا نام ”سیرت المہدی“ ہے اس میں سے چند مقامات میں جناب کو پڑھ کر سناتا ہوں:
مرزا بشیر احمد لکھتے ہیں: ”بیان کیا مجھ کو حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود کو پہلی دفعہ دوران سر اور ہسٹریا کا دورہ بشیر اوّل کی وفات کے چند دن بعد ہوا تھا۔“
(سیرت المہدی ج ۱ ص ۱۶)
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
موصوف آگے لکھتے ہیں: ”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے کئی دفعہ حضرت مسیح موعود سے سنا ہے کہ مجھے ہسٹریا ہے بعض اوقات آپ مراق بھی فرمایا کرتے تھے۔“
(سیرت المہدی ج ۲ ص ۵۵)
ان حوالوں سے معلوم ہوا کہ مرزا صاحب ہسٹریا کے مریض تھے، آپ جانتے ہیں کہ ایسے مریض کی دماغی کیفیت کیا ہوتی ہے؟ اور اس سے کیسی کیسی حرکتیں سرزد ہوتی ہیں۔ چنانچہ اس کے چند نمونے اسی کتاب میں سے آپ کو پڑھ کر سناتا ہوں، دیکھئے مرزا بشیر احمد لکھتے ہیں: ”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود اپنی جسمانی عادات میں اتنے سادہ تھے کہ بعض دفعہ جب حضور جراب پہنتے تھے تو بے توجہی کے عالم میں اس کی ایڑی پاؤں کے تلے کی طرف نہیں بلکہ اوپر کی طرف ہو جاتی تھی بلکہ بارہا ایک کاج کا بٹن دوسرے کاج میں لگا ہوا ہوتا تھا اور بعض اوقات کوئی دوست حضور کے لئے گرگابی ہدیتاً لاتا تو آپ بسا اوقات دایاں پاؤں بائیں میں ڈال لیتے اور بایاں پاؤں دائیں میں، چنانچہ اسی تکلیف کی وجہ سے آپ ویسی جوتی پہنتے تھے، اسی طرح کھانے پینے کا یہ حال تھا کہ خود ہی فرمایا کرتے تھے کہ ہمیں تو اس وقت پتہ لگتا ہے کہ کیا کھا رہے ہیں جب کوئی کنکر وغیرہ کا ریزہ دانت کے نیچے آ جاتا ہے۔
(سیرت المہدی ج ۲ ص ۵۸)
ڈاکٹر محمد اسماعیل تو اسے عقیدت میں مرزا صاحب کی جسمانی سادگی سے تعبیر کر رہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مرزا صاحب کی اسی دماغی کیفیت کے اثرات ہیں کہ ان سے صحیح طرح جراب پاؤں میں نہیں ڈالی جاتی انہیں الٹے سیدھے جوتے کا پتہ نہیں چلتا اسی طرح انہیں یہ بھی پتہ نہ چلتا کہ کھا کیا رہے ہیں۔
مرزا صاحب کے ایک مرید معراج الدین عمر قادیانی مرزا صاحب کے حالات میں لکھتے ہیں کہ ”آپ کو میٹھا کھانے کا بہت شوق تھا اور مرض بول بھی تھا تو آپ گڑ کے ڈھیلے اور مٹی کے ڈھیلے ایک ہی جیب میں رکھا کرتے تھے۔“
(مرزا صاحب کے حالات مرتبہ معراج الدین عمر قادیانی تتمہ براہین احمدیہ ج ۵ ص ۴۷)
اور سنئے مرزا بشیر احمد لکھتے ہیں : ”کپڑوں کی احتیاط کا یہ عالم تھا کہ کوٹ، صدری، ٹوپی، عمامہ، رات کو اتار کر تکیہ کے نیچے ہی رکھ لیتے اور رات بھر تمام کپڑے جنہیں محتاط لوگ شکن اور میل سے بچانے کے لئے الگ الگ جگہ کھونٹے پر ٹانگ دیتے ہیں وہ بستر پر سر اور جسم کے نیچے ملے جاتے تھے اور صبح کو ان کی ایسی حالت ہو جاتی کہ اگر کوئی فیشن کا دلدادہ اور سلوٹ کا دشمن ان کو دیکھ لے تو سر پیٹ لے۔“
(سیرت المہدی ج ۲ ص ۱۲۸)
غور کیجئے مرزا صاحب کی حالت تو یہ تھی اور دعوے تھے مہدویت، مسیحیت اور نبوت کے اسے ہم مالیخولیائی کیفیات کے اثرات نہ کہیں تو اور کیا کہیں؟ ایسا شخص نبی و مہدی تو بہت دور رہا معمولی درجہ کا بزرگ کہلانے کا مستحق بھی ہو سکتا ہے؟
مرزا صاحب کو افیون مرغوب تھی، اسی لئے وہ اس کی تعریف کرتے تھے اور ہینگ والی دوائیاں کھاتے تھے، چنانچہ مرزا بشیر احمد ڈاکٹر اسماعیل صاحب کے حوالہ سے مرزا صاحب کی دوائیوں کی فہرست لکھتے ہوئے جن میں ہینگ بھی شامل ہے رقم طراز ہیں: ”فرمایا کرتے تھے کہ ہینگ غرباء کی مشک ہے اور فرماتے تھے کہ افیون میں عجیب و غریب فوائد ہیں اسی لئے حکماء نے تریاق کا نام دیا ہے ان میں سے بعض دوائیں اپنے لئے ہوتی تھیں اور بعض دوسرے لوگوں کے لئے ۔“
(سیرت المہدی ج ۳ ص ۴۴)
مرزا صاحب کو قرآن کی بڑی سورتیں تک یاد نہ تھیں چنانچہ مرزا صاحب کے صاحبزادے لکھتے ہیں: ”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود کو قرآن مجید کے بڑے بڑے مسلسل حصے یا بڑی سورتیں یاد نہ تھیں۔ بے شک آپ کو قرآن
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کے جملہ مطالب پر...... مگر حفظ کے رنگ میں قرآن شریف کا اکثر حصہ یاد نہیں تھا۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ ۳ ص ۴۴)
مرزا صاحب کی یہ حالت تھی کہ ان سے رمضان کے روزے رکھنا مشکل تھا، وہ روزہ رکھنے کی بجائے فدیہ دیا کرتے تھے۔
مرزا بشیر احمد لکھتے ہیں: ’’بیان کیا مجھ کو حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جب حضرت مسیح موعود کو دورے پڑنے شروع ہوئے تو آپ نے اس سال سے رمضان کے روزے نہیں رکھے اور فدیہ ادا کر دیا۔ دوسرا رمضان آیا تو آپ نے روزے رکھنے شروع کئے مگر آٹھ نو روزے رکھے تھے کہ پھر دورہ ہوا۔ اس لئے باقی چھوڑ دیئے اور فدیہ ادا کر دیا۔ اس کے بعد جو رمضان آیا تو اس میں آپ نے دس گیارہ روز رکھے کہ پھر دورہ کی وجہ سے ترک کرنے پڑے اور آپ نے فدیہ ادا کیا اس کے بعد جو رمضان آتا تو آپ کا تیرھواں روزہ تھا کہ مغرب کے قریب آپ کو دورہ پڑا اور آپ نے روزہ توڑ دیا اور باقی روزے نہیں رکھے اور فدیہ ادا کر دیا۔‘‘
(سیرت المہدی ج ۱ ص ۶۵)
مرزا صاحب نے زندگی بھر نہ حج کیا اور نہ اعتکاف کیا نہ زکوٰۃ دی دیکھئے مرزا بشیر احمد لکھتے ہیں: ’’ڈاکٹر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود نے حج نہیں کیا، اعتکاف نہیں کیا، زکوٰۃ نہیں دی، تسبیح نہیں رکھی۔‘‘
(سیرت المہدی ج ۲ ص ۱۱۹)
غور کیجئے کیا مہدی ومسیح کی یہ شان ہوتی ہے؟
مرزا صاحب کی نماز کا حال سنیں ان کی نماز کیسی تھی؟ مرزا بشیر احمد لکھتے ہیں: ’’ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت صاحب کو سخت کھانسی آئی، ایسی کہ دم نہ آتا تھا، البتہ منہ میں پان رکھ کر قدرے آرام معلوم ہوتا تھا، اس وقت آپ نے اس حالت میں پان منہ میں رکھ کر نماز پڑھی تاکہ آرام سے پڑھ سکیں۔‘‘
(سیرت المہدی ج ۳ ص ۱۰۳)
مرزا بشیر احمد لکھتے ہیں: ’’ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ کسی وجہ سے مولوی عبدالکریم صاحب نماز نہ پڑھا سکے، حضرت خلیفۃ المسیح اوّل بھی موجود نہ تھے، حضرت صاحب نے حکیم فضل الدین صاحب کو نماز پڑھانے کے لئے کہا، انہوں نے کہا کہ حضور تو جانتے ہیں کہ مجھے بواسیر کا مرض ہے اور ہر وقت ریح خارج ہوتی رہتی ہے میں نماز کس طرح سے پڑھاؤں؟ حضور نے فرمایا: حکیم صاحب! آپ کی نماز با وجود اس تکلیف کے ہو جاتی ہے یا نہیں؟ انہوں نے عرض کیا، ہاں! حضور، فرمایا کہ پھر ہماری بھی ہو جائے گی آپ پڑھائیے۔‘‘
(سیرت المہدی ج ۳ ص ۱۱۱)
ملاحظہ فرمائیے؟ مہدی ومسیح کی نماز کی یہی شان ہوتی ہے؟
مرزا صاحب کو غیر محرم خاتون سے خدمت لینے اور تنہائی میں رہنے سے بھی عار نہ تھا، چنانچہ مرزا بشیر احمد لکھتے ہیں: ’’ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ مجھ سے میری لڑکی زینب بیگم نے بیان کیا کہ میں تین ماہ تک حضرت اقدس کی خدمت میں رہی ہوں گرمیوں میں پنکھا وغیرہ اور اسی طرح کی خدمت کرتی تھی۔ بسا اوقات ایسا ہوتا کہ نصف رات یا اس سے زیادہ مجھ کو پنکھا ہلاتے گزر جاتی تھی، مجھ کو اس اثناء میں کسی قسم کی تھکان وتکلیف محسوس نہیں ہوتی تھی، بلکہ خوشی سے دل بھر جاتا تھا، دو دفعہ ایسا ہوا کہ عشاء کی نماز سے لے کر صبح کی اذان تک ساری رات خدمت کرنے کا موقعہ ملا، پھر بھی اس حالت میں مجھ کو نہ نیند نہ غنودگی اور نہ تھکان معلوم ہوتی بلکہ خوشی اور سرور پیدا ہوتا تھا، اسی طرح جب مبارک احمد صاحب بیمار ہوئے تو مجھ کو ان کی خدمت کے لئے بھی کئی راتیں گزارنی پڑیں۔‘‘
(سیرت المہدی ج ۳ ص ۲۷۳)
یہ تو تھے مرزا صاحب کے حالات جو ان کے صاحبزادے کی لکھی ہوئی کتاب میں درج ہیں، اب اسی کتاب کے حوالے سے مرزا صاحب کی موت کی حالت بھی سن لیں، مرزا بشیر احمد لکھتے ہیں: ’’اتنے میں آپ کو ایک اور دست آیا، مگر اب اس قدر ضعف تھا کہ آپ
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پاخانہ نہ جاسکتے تھے ، اس لئے میں نے چارپائی کے پاس ہی انتظام کردیا اور آپ وہیں بیٹھ کر فارغ ہوئے اور پھر اٹھ کر لیٹ گئے اور میں پاؤں دباتی رہی ، مگر ضعف بہت ہوگیا۔ اس کے بعد ایک اور دست آیا اور پھر آپ کو قے آئی ، جب آپ قے سے فارغ ہو کر لیٹنے لگے تو اتنا ضعف تھا کہ آپ لیٹتے لیٹتے پشت کے بل چارپائی کی لکڑی پر گر گئے اور آپ کا سر چارپائی سے جاٹکرایا اور حالت دگرگوں ہوگئی ۔‘‘
(سیرت المہدی ج ۱ ص ۱۱)
اس سے معلوم ہورہا ہے کہ مرزا صاحب ہیضہ کے مرض میں ایسی بری حالت میں مرے تھے۔ العیاذ باللہ ! استاذ محترم مولانا نعیم الدین صاحب بڑے تسلسل کے ساتھ یہ حوالے لڑکی اور اس کے گھر والوں کو سنا رہے تھے اور وہ سب یہ حوالے سن کر حیران ہورہے تھے اور مرزا پر لعنت بھیجتے جاتے تھے ، آخر میں استاذ محترم نے اس لڑکی سے پوچھا کہ اب آپ کا کیا خیال ہے؟ وہ بولی کہ اب میری تسلی ہوگئی ہے ، مجھے قطعاً ان باتوں کا علم نہیں تھا میں مرزائیت سے توبہ کرتی ہوں ، اس کے بعد استاذ محترم نے اس لڑکی کو مشرف بہ اسلام کیا اور اس سے وعدہ لیا کہ وہ آئندہ ختم نبوت کی مبلغہ بنے گی اور چند کتابیں ہدیتاً دیں اور آخر میں دعا فرمائی ، ہم لوگ خوشی خوشی ان کے گھر سے واپس آئے ، اس لڑکی کے والدین اور بھائیوں نے ہمارا انتہائی شکریہ ادا کیا ، اس سارے واقعہ کے بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ والدین اپنی اولاد کی طرف توجہ دیں اور انہیں ایسی آزادی نہ دیں جس سے ان کے اخلاق خراب ہونے کے ساتھ ساتھ دین بھی برباد ہوجائے ۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۳ تا ۱۹/ مارچ ۱۹۹۸ء ص ۱۲ تا ۱۷)
سلانوالی میں قادیانی کا قبول اسلام
سلانوالی کے رہائشی محمد یونس ولد چراغ دین قوم مغل نے قادیانی مذہب سے تائب ہو کر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت تحصیل سلانوالی کے صدر جناب افضل الحسینی اور مرکزی جامع مسجد فتحیہ غلہ منڈی سلانوالی کے خطیب قاری عبد الستار کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا ۔ محمد یونس نے کہا کہ میں قادیانی مذہب چھوڑ کر ’’دین محمدی ﷺ‘‘ قبول کرتا ہوں اس بارے میں مجھ پر کسی قسم کا کوئی جبر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں مرزا غلام احمد قادیانی کو کافر ، دجال ، کذاب مانتا ہوں میرا ایمان ہے کہ حضرت محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں اور ان کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والا اسلام سے خارج ہے ۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۱۹۹۸ء ص ۳۹)
ایبٹ آباد میں چار قادیانیوں کا قبول اسلام
ختم نبوت یوتھ فورس ایبٹ آباد کی تبلیغی مساعی سے نصیر یعقوب ، ناظرہ یعقوب ، سعادت سلطانہ ، اور ناصر یعقوب نے قادیانیت سے توبہ کر کے اسلام قبول کرلیا۔ ۲/ مارچ کو ایبٹ آباد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر ممتاز عالم دین حضرت مولانا شفیق الرحمن صاحب مدظلہ کی صدارت میں علماء کرام اور مجلس کے رہنماؤں کا اجلاس منعقد ہوا ۔ جس میں ان افراد نے حلف نامہ پڑھا اور اجلاس میں اس پر دستخط کئے ۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۱۹۹۸ء ص ۴۲)
وزیر علی پھل کی قادیانیت سے توبہ
گمبٹ سندھ میں مشتاق نامی قادیانی اور صوبوڈیرو گمبٹ کا ناصر قادیانی تیزی سے خفیہ طور پر قادیانیت کی تبلیغ کرتے ہیں ۔ ان دو قادیانیوں نے وزیر علی پھل کو قادیانیت کے جال میں پھانس لیا۔ جب کہ وہ ایف ایس سی کا طالب علم تھا ۔ گزشتہ دنوں وزیر علی پھل کے برملا قادیانی ہونے کی بات پر مقامی سنجیدہ اور مثبت سوچ وفکر رکھنے والے مسلمانوں نے وزیر علی پھل سے گفتگو کی اور سمجھانے کی کوشش کی تو وزیر
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
علی نے کہا کہ : ”قادیانی ہی سچے مسلمان ہیں، میں سچا قادیانی ہوں ، میرے والد کی مغفرت میری وجہ سے ہوگی۔“ مقامی مسلمانوں نے وزیر علی کے ایمان کو بچانے کی بھر پور کوشش کی پھر بھی وہ نہ مانا۔ اس نے بیوی اور دو بھائیوں کو بھی قادیانی بنانے کی کوشش کی۔ جب اس ساری صورتحال کی اطلاع ٹنڈو آدم کے علامہ احمد میاں حمادی ( کنوینر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سندھ ) کو ملی تو علامہ حمادی مدظلہ اور دیگر علماء کرام گمبٹ مدرسہ عربیہ کی مسجد میں وزیر علی پھل سے مغرب سے لے کر رات ساڑھے دس بجے تک گفتگو کی اور مرزا غلام احمد قادیانی کی اصل کتاب سے حوالہ جات دکھائے کہ:
- ☆ ...... اس نے ہمارے پیارے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کی توہین کی۔
- ☆ ...... مرزا قادیانی نے اپنے آپ کو عین محمد رسول اللہ کہا ہے۔ نعوذ باللہ
- ☆ ...... حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی توہین کی۔
- ☆ ...... حضرت حسینؓ کے بارے میں مرزا قادیانی نے کہا کہ ”کربلا ہر وقت میری سیر گاہ اور سو حسین میرے گریبان میں ہیں۔“
(نزول المسیح صفحہ ۹۹، خزائن ج ۱۸ ص ۴۷۷)
- ☆ ...... دوسری جگہ مرزا قادیانی نے کہا ہے کہ: ”تم نے خدا کے جلال اور مجد کو بھلا دیا اور تمہارا ورد صرف حسین ہے، کیا تو انکار کرتا ہے،
پس یہ اسلام پر ایک مصیبت ہے، کستوری کی خوشبو کے پاس گوہ کا ڈھیر ہے۔“ نعوذ باللہ!
(ضمیمہ نزول المسیح ص ۸۲، خزائن ج ۱۹ ص ۱۹۲)
علاوہ ازیں مرزا قادیانی نے تمام انبیاء کرام، صحابہ کرام، امہات المومنین، تمام اولیاء امت اور علماء حق کی توہین کی ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی اپنی تحریروں کے آئینے میں ایک مکار، غدار، کذاب، اور دجال تھا، وہ نعوذ باللہ اپنے آپ کو عین محمد رسول اللہ بلکہ ان سے بھی بڑھ کر کہتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک شریف انسان بھی نہ تھا۔
وزیر علی پھل سے گفتگو کے دوران علامہ احمد میاں حمادی کے ساتھ حضرت مولانا نعمت اللہ صاحب اور مولانا محمد صدیق صاحب کے علاوہ دیگر علماء کرام بھی شامل تھے، بالآخر وزیر علی پھل نے کہا آج رات مجھے قادیانیت پر غور کرنے کا موقع دیا جائے جو دیا گیا۔
وزیر علی پھل کو اس سے قبل گرفتار کر لیا گیا تھا اس لئے کہ قادیانیت کو سچا اسلام اور خود کو مسلمان کہلواتا تھا۔ دوسرے روز جلوس نکالا گیا، پیر سید شفقت علی شاہ جیلانی اور صفدر علی سہتہ نے بریلوی مکتب فکر کے لوگوں کی قیادت کی اور مولانا محمد صدیق جامع مسجد سید عطاء اللہ شاہ بخاری اور مولانا نعمت اللہ صاحب، و دیگر حضرات نے دیوبندی مکتب فکر کی قیادت کی، جلوس تھانے پہنچا تا کہ ناصر قادیانی اور مشتاق قادیانی کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی جائے۔ تو جلوس میں یہ افواہ پھیلائی گئی کہ ناصر قادیانی عدالت میں وزیر علی قادیانی ( جو بعد میں مسلمان ہو گیا ) کی ضمانت کروانے کے لئے آیا کہ ان کو فی الفور جرمنی روانہ کر دیا جائے گا پاسپورٹ اور ویزہ تیار ہے۔ اس افواہ پر جلوس کے تمام شرکاء نے عدالت کا رخ کیا اور عدالت میں جا کر ان کو عدالت سے باہر نکلوایا، اس کے بعد وزیر علی پھل نے کہا کہ میں نے رات بھر قادیانیت کی اصل کتابوں سے حوالہ جات دیکھے ہیں، مرزا قادیانی نے واقعی رسول ﷺ اور دیگر صلحاء امت کی توہین کی ہے۔ لہٰذا میں مرزا قادیانی کو جھوٹا سمجھتا ہوں اور محمد عربی ﷺ کو سچا اور آخری نبی اور رسول تسلیم کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے اپنے کئے کی معافی چاہتا ہوں۔ بہر حال وزیر علی نے صدق دل سے قادیانیت سے توبہ کر کے دامن اسلام میں پناہ لے لی۔ وزیر علی پھل کی بیوی جو سسرال میں تھی علماء کرام کے مشورہ سے بذریعہ عدالت اس کے حوالہ کر دی گئی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نوجوان وزیر علی پھل کے ایمان کو بچانے اور قادیانیوں کے تعاقب میں علامہ احمد میاں حمادی کے ساتھ جناب عبدالسمیع شیخ ، مولانا نعمت اللہ، مولانا محمد صدیق صاحب ، سلیم نورالدین اور صفدر علی شانہ بشانہ کوششوں میں مصروف رہے۔ علاوہ ازیں پیر آف گمبٹ سید شفقت علی شاہ صاحب نے بھر پور تعاون کیا۔ بعد ازاں وزیر علی پھل کے استقبال کا پروگرام بنایا گیا۔ بہر حال اس مثبت سرگرمی اور ایک مسلمان کا ایمان بچانے کے لئے مسلمانوں کا جوش وخروش دیدنی تھا۔ اس کے بعد وزیر علی پھل کو قادیانیت سے تائب ہو کر مسلمان ہونے پر علامہ احمد میاں حمادی اور دیگر علماء ختم نبوت نے مبارک باد پیش کی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۴ تا ۳۰ اپریل ۱۹۹۸ء ص ۲۴، ۲۵)
کوئٹہ میں قادیانی خاندان کا قبول اسلام
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بلوچستان ہمیشہ رسول اللہ ﷺ کی ختم نبوت کے تحفظ کے لئے کوشاں رہی ہے اور اللہ تعالیٰ نے کامیابیاں بھی عطا فرمائی ہیں۔ جماعت کی محنت اور کوشش سے جماعت کے رکن جناب محمد حنیف صاحب ۲ / جون ۱۹۹۸ء کو ایک قادیانی محمد رفیق کو جو کہ جدی قادیانی تھا۔ دفتر ختم نبوت کوئٹہ لے کر آئے اور کہا کہ رفیق اسلام قبول کرنا چاہتا ہے ۔ چنانچہ جماعت کے عہدیداران کو اطلاع کی گئی تو حاجی شاہ محمد آغا صاحب نائب امیر دوئم ختم نبوت کوئٹہ حاجی تاج فیروز ۔ جنرل سیکرٹری ،سیکرٹری نشر واشاعت قاری عبدالرحیم رحیمی، جوائنٹ سیکرٹری خلیل الرحمن ، حاجی نعمت اللہ ، چوہدری محمد طفیل احرار ، فیاض حسن سجاد ، غلام یاسین آصف ، پروفیسر فیض محمد ربانی ، حافظ محمد شریف ، خادم حسین گجر ، اور دیگر حضرات تشریف لائے ۔ ان تمام حضرات کی موجودگی میں محمد رفیق ولد محمد صدیق ، قوم راجپوت امین آباد بروری روڈ کوئٹہ نے مرزائیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کر لیا اور حلف نامہ پر کر کے مرزا قادیانی اور اس کے ماننے والوں پر ہزاروں لعنتیں بھیج کر قاری عبدالرحیم رحیمی کے دست مبارک پر اسلام قبول کیا اور عہد کیا کہ باقی افراد خانہ کو بھی اسلام کی طرف لاؤں گا۔ چنانچہ محمد رفیق اور محمد حنیف نے جماعت کے ساتھ رابطہ کیا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے ۱۵ / جون کو محمد رفیق کی دو بچیوں نے اسلام قبول کیا اور ۱۶ / جون ۱۹۹۸ء کو اور دو بچیوں اور ایک لڑکے نے اسلام قبول کیا اور ۳۰ / جون ۱۹۹۸ء کو رفیق کی زوجہ نے بھی مولانا عبدالعزیز جتوئی کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا ۔ اس طرح ایک پورا خاندان جو کہ ۷ افراد پر مشتمل ہے تمام عاقل اور بالغ ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اسلام قبول کر کے جہنم کی آگ سے بچ گئے۔ اسلام قبول کرنے والے تمام افراد نے کہا کہ اسلام کی روشنی نے ہمارے قلوب کو منور کر دیا ہے اور مرزا قادیانی کے دجل اور فریب سے ہم آگاہ ہوگئے ہیں اب ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم دیگر لوگوں کو بھی مرزائیوں کے کذب سے آگاہ کریں اور دین حق کی طرف آنے کی دعوت دیں تاکہ وہ بھی جنت کے مستحق بن جائیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۱۹۹۸ء ص ۲۴)
ضلع قصور کی قادیانی جماعت کے امیر کا قبول اسلام
پتوکی قادیانی جماعت ضلع قصور کے امیر نے خاندان سمیت اسلام قبول کر لیا ہے اسلام قبول کرنے والوں میں قادیانی جماعت ضلع قصور کے امیر اقبال احمد اسٹامپ فروش ان کے بیٹے ندیم اقبال ایڈوکیٹ ، بیٹی اور بیوی شامل ہیں ۔ نیک بخت نومسلموں نے نبی کریم ﷺ کی ختم نبوت پر ایمان لاتے ہوئے قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام کے دامن رحمت میں پناہ لے لی ۔ بار ایسوسی ایشن پتوکی نے مسلمان ہونے والے نوجوان وکیل ندیم اقبال ایڈووکیٹ کے اعزاز میں چائے کی دعوت دی اور انہیں مبارکباد پیش کی دریں اثنا عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری اور تحریک ختم نبوت کے رہنماؤں نے قادیانیت سے تائب ہونے والے خاندان کو مبارکباد پیش کی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت ۲۱ اگست تا ۳ ستمبر ۱۹۹۸ء ص ۱۴)
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیانیت سے توبہ
مردان کے علاقہ بگٹ گنج کے ایک قادیانی خاندان کے ۲۰ سالہ نوجوان تھرڈ ائیر کے طالب علم پیدائشی قادیانی عظیم اقبال نے ہزاروں مسلمانوں کی موجودگی میں خطیب جامع مسجد ایک مینار والی بگٹ گنج مولانا فیض الرحمٰن کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے جملہ پیروکاروں پر لعنت بھیجتے ہوئے قادیانیت سے بیزاری کا اعلان کیا اور اپنے قادیانی والدین اور جملہ قادیانی غیر مسلم رشتہ داروں سے لاتعلقی کا اعلان کر کے آپ کو علاقہ کے مسلمان کے سپرد کر دیا اور باقی زندگی ان کے ہمراہ گزارنے کا اظہار کیا اس موقع پر خطیب صاحب کے علاوہ جناب ڈاکٹر خالد محمود صاحب، حاجی شاہ نسیم خان، حاجی عبدالوہاب، حاجی ضمیر گل، جناب نصیر تاجک و دیگر کی موجودگی میں پروانہ ختم نبوت جناب اختر جاوید بیگ صاحب نے نو مسلم عظیم اقبال کو اپنا چھوٹا بھائی قرار دیتے ہوئے اس کی ہر قسم کی کفالت علاقہ کے معززین کے تعاون سے پوری کرنے کی ذمہ داری قبول کی۔ اس موقع پر فضا اللہ اکبر، تاج و تخت ختم نبوت زندہ باد، قادیانیت مردہ باد کے نعروں سے گونج اٹھی۔ ہزاروں مسلمانوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے فرداً فرداً عظیم اقبال کو گلے لگا کر مبارکباد دی اور جلوس کی شکل میں سارے علاقہ میں جگہ جگہ گل پاشی کر کے مسلمانوں نے گرم جوشی سے اس کا استقبال کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۱۹۹۸ء ص۵۲، ۵۳)
۱۹۹۸ء میں کانفرنس ہائے ختم نبوت و دیگر تبلیغی سرگرمیاں
ٹنڈو آدم میں عظیم الشان ساتواں سالانہ ختم نبوت کنونشن اور وکلاء ختم نبوت کے اعزاز میں افطار
مؤرخہ ۲۷؍ رمضان المبارک، مطابق ۲۶؍ جنوری ۱۹۹۸ء بعد نماز عشاء و تراویح جامع مسجد ختم نبوت ٹنڈو آدم میں شبان ختم نبوت ٹنڈو آدم کے زیر اہتمام ساتواں سالانہ ختم نبوت کنونشن منعقد ہوا۔
کنونشن کا آغاز حافظ محمد طارق کی تلاوت قرآن کریم سے کیا گیا۔ تلاوت کے بعد مجاہد ختم نبوت علی نواز خاص خیلی اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ٹنڈو آدم کے ناظم اعلیٰ جناب حکیم حفیظ الرحمٰن صاحب نے نعتیں اور نظمیں پیش کیں۔
نعتوں اور نظموں کے بعد مجاہد ختم نبوت جناب محمد اکرم کا بیان ہوا ان کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ٹنڈو آدم کے خازن جناب ماسٹر محمد سلیم مدنی صاحب نے مقالہ پیش کیا اور پھر شبان ختم نبوت یونٹ علی گڑھ کے کنوئیر جناب عابد حسین پنھور نے ”ناموس رسالت اور قیام پاکستان کی گولڈن جوبلی“ کے عنوان پر مقالہ پیش کیا ان کے بعد محمد طاہر مکی نے سیرۃ النبی ﷺ کے عنوان پر خطاب کیا اور ان کے بعد دارالعلوم ختم نبوت کے مدیر حضرت مولانا حفیظ الرحمٰن صاحب رحمانی نے ایمان افروز خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب وہ وقت جا چکا کہ قادیانی کسی مسلمان کو دجل کے ذریعہ مرتد بنائیں۔ ان کے بعد مولانا راشد مدنی مرکزی مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اپنے مخصوص انداز میں شکوہ جواب شکوہ کے انداز میں ناموس رسالت اور ختم نبوت کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کی تفصیلات بیان کیں اور قادیانی عقائد و نظریات پر تفصیلی روشنی ڈالی آخر میں علامہ احمد میاں حمادی مرکزی رہنما عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا ایمان افروز بیان ہوا۔
مؤرخہ ۲۷؍ رمضان ہی کو وکلاء ختم نبوت ٹنڈو آدم بالخصوص مجاہد ختم نبوت وکیل ناموس رسالت عاشق رسول جناب امام بخش بلوچ ایڈووکیٹ صاحب کے اعزاز میں افطار پارٹی کا اہتمام کیا گیا اور افطار پارٹی کے شرکاء کو علامہ احمد میاں حمادی نے بتایا کہ جناب امام بخش صاحب بغیر فیس کے ناموس رسالت کے مقدمات ماتحت عدالت سے لے کر عدالت عالیہ تک فی سبیل اللہ ان کی پیروی کر رہے ہیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
آخر میں جناب بلوچ صاحب کو مبارک باد دی کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے تحفظ ناموس رسالت کا کام لیا ہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۱۹۹۸ء ص ۳۹، ۴۰)
مبلغین حضرات کی میٹنگ، کارکردگی کا جائزہ اور آئندہ سہ ماہی کا تبلیغی پروگرام
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے شعبہ تبلیغ سے وابستہ حضرات علماء کرام ومبلغین حضرات کا سہ ماہی اجلاس دفتر مرکزیہ ملتان میں ۸، ۹؍ شوال، بمطابق ۶، ۷؍ فروری ۱۹۹۸ء کو منعقد ہوا۔ اجلاس کی مختلف نشستوں کی صدارت حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری مرکزی ناظم اعلیٰ، حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی ناظم نشریات، حضرت مولانا بشیر احمد ناظم تبلیغ نے فرمائی۔
اجلاس میں مولانا خدا بخش، مولانا اللہ وسایا، مولانا فقیر اللہ، مولانا حافظ محمد ثاقب، مولانا اسماعیل شجاع آبادی، مولانا غلام حسین، مولانا غلام مصطفےٰ، مولانا عبدالخالق رحمانی، مولانا عبدالعزیز، مولانا طیب فاروقی، مولانا اسحق ساقی، مولانا حفیظ الرحمن، مولانا احمد بخش، مولانا جمال الحسینی، مولانا راشد مدنی، مولانا محمد نذر، مولانا محمد علی صدیقی، مفتی حفیظ الرحمن، مولانا قاضی احسان احمد، مولانا عبدالرزاق مجاہد، مولانا نذیر احمد تونسوی، مولانا محمد حسین ناصر، جناب اورنگ زیب اعوان، حافظ محمد حیات اور دوسرے رفقاء نے شرکت کی۔
میٹنگ میں گزشتہ سہ ماہ کی تبلیغی رپورٹیں رفقاء نے پیش کیں اور آئندہ سہ ماہ کے لئے تبلیغی پروگرام طے کئے گئے۔ کارروائی کے اہم فیصلے یہ ہیں۔
- ۱...... ملتان میں عرصہ سے ختم نبوت کانفرنس نہیں ہوئی۔ یہ فیصلہ ہوا کہ یکم؍ مارچ کو ملتان میں ختم نبوت کانفرنس دفتر مرکزیہ میں رکھی
جائے۔ جس میں حضرت امیر مرکزیہ جناب حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ، مولانا محمد یوسف لدھیانوی، حضرت مولانا عبدالستار تونسوی، مولانا فضل الرحمن، مولانا سید عبدالمجید ندیم، مولانا مفتی جمیل احمد خان، مولانا عبدالغفور حقانی، مولانا عبدالکریم ندیم، مولانا عبداللہ بھکر، مولانا شفیق الرحمن درخواستی، مولانا لقمان علی پوری کو مدعو کیا جائے گا۔
کانفرنس کی دعوت دینے انتظام کے لئے حضرت مولانا بشیر احمد مرکزی ناظم تبلیغ کی سربراہی میں مبلغین حضرات کی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ جس میں مولانا خدا بخش، مولانا غلام مصطفےٰ، مولانا حافظ احمد بخش، مولانا عبدالرزاق شامل ہوں گے۔
- ۲...... علاقائی دفاتر کی کارکردگی کا جائزہ، تربیتی اجتماعات، مقامی مجالس کے اجلاسوں میں شرکت کے لئے مرکزی ناظم تبلیغ حضرت
مولانا بشیر احمد صاحب کے مندرجہ ذیل پروگرام ترتیب دیئے گئے۔ ۷، ۸، ۹؍ مارچ ضلع بہاول نگر، ۱۰، ۱۱، ۱۲؍ مارچ ضلع ساہیوال، ۱۳، ۱۴، ۱۵؍ مارچ اوکاڑہ، ۱۶، ۱۷، ۱۸؍ مارچ لاہور، ۱۹، ۲۰، ۲۱؍ مارچ ضلع گوجرانوالہ، ۲۲، ۲۳؍ مارچ سیالکوٹ، ۲۴، ۲۵، ۲۶؍ مارچ اسلام آباد، راولپنڈی، ۲۷، ۲۸، ۲۹، ۳۰؍ مارچ ہری پور ہزارہ، ایبٹ آباد، مانسہرہ، ۱۸، ۱۹، ۲۰، ۲۱؍ اپریل ضلع بہاول پور۔
حضرت مولانا خدا بخش صاحب مہینہ میں ایک ہفتہ ضلع بہاول نگر کے مبلغ مولانا طیب فاروقی کے تعارف اور علاقہ میں تبلیغ کے لئے دیا کریں گے اور باقی دفتر مرکزیہ کی طرف سے متعین پروگرام بھگتائیں گے۔
مولانا اللہ وسایا کے پروگرام:
۱۷، ۱۸؍ فروری بہاول پور میں تربیتی کورس میں شرکت۔ ۱۹، ۲۰؍ فروری لولاک کی ترتیب۔ ۲۱، ۲۲؍ فروری خوشاب، جوہر آباد، سرگودھا۔ ۲۳؍ فروری کوریوہ میں تربیتی نشست۔ ۲۴، ۲۵، ۲۶؍ فروری کو لاہور میں تربیتی اجتماعات۔ (۲۵؍ فروری کو گوجرانوالہ کانفرنس
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
میں شرکت ) ۲۸؍ فروری، یکم؍ مارچ ملتان کانفرنس ۔ ۲؍ مارچ باگڑ سرگانہ میں ضلعی کانفرنس ۔ ۷؍ مارچ روجھان ضلع راجن پور کے جامعہ محمد یہ کے سالانہ جلسہ میں شرکت ۔ ۸؍ مارچ سانگڑھ میں ضلعی کانفرنس ۔ ۹ تا ۱۱؍ مارچ ملتان تربیتی کلاس ۔ ۱۲؍ مارچ ساہیوال کانفرنس ۔ ۱۳؍ مارچ ساہیوال میں جمعہ ۔ ۱۴؍ مارچ باب العلوم کہروڑ پکا میں تربیتی بیان ۔ ۱۵ تا ۱۹؍ مارچ تک ملتان تربیتی کلاس ۔ ۲۰، ۲۱؍ مارچ سیالکوٹ ۔ ۲۳ تا ۲۵؍ مارچ تک ملتان میں تربیتی کلاس ۔ ۲۶؍ مارچ مروٹ ۔ ۲۷؍ مارچ فورٹ عباس ۔ ۲۸؍ مارچ سے یکم؍ اپریل تک ملتان میں تربیتی کلاس ۔ ۳؍ اپریل بقیہ ۔ ۴ تا ۱۲؍ اپریل ملتان تربیتی کلاس ۔ ۱۳ تا ۱۷؍ اپریل تک سندھ ۔ ۱۸، ۱۹؍ اپریل جہلم ۔ ۲۰، ۲۱؍ اپریل راولپنڈی ۔ ۲۳؍ اپریل کو مبلغین کی میٹنگ میں شرکت اور اگلے پروگرام اس سہ ماہی میٹنگ میں ترتیب دیئے جائیں گے ۔
- ۳...... خوشاب، جوہر آباد، سرگودھا، لاہور، شیخوپورہ، بہاول پور، ساہیوال میں تربیتی اجتماعات کا فیصلہ کیا گیا ۔
- ۴...... باگڑ سرگانہ میں ۶؍ ذیقعدہ کو مولانا اللہ وسایا ، ۵؍ ذی الحجہ مولانا غلام مصطفیٰ، ۴؍ محرم مولانا بشیر احمد، ۲؍ صفر حضرت مولانا محمد اکرم
طوفانی خطبہ ارشاد فرمائیں گے ۔
- ۵...... حضرت مولانا عبدالعزیز صاحب کا جماعتی تقاضوں کے پیش نظر بہاول نگر سے کوئٹہ اور حضرت مولانا محمد طیب فاروقی کا منڈی
بہاءالدین سے بہاول نگر میں تبادلہ کیا گیا، ذی الحجہ کی میٹنگ میں منڈی بہاءالدین میں مبلغ کا تقرر عمل میں لایا جائے گا ۔
- ۶...... حضرت مولانا فقیر اللہ اختر ہر مہینہ کا پہلا عشرہ سیالکوٹ اور حضرت مولانا عزیز الرحمن ہر ماہ کا پہلا ہفتہ نارووال کے لئے مستقل دیا
کریں گے ۔
- ۷...... مولانا محمد علی صدیقی ضلع بدین سندھ میں تبلیغی خدمات انجام دیں گے ۔
- ۸...... آئندہ سہ ماہی میٹنگ ۲۵، ۲۶، ۲۷؍ ذی الحجہ کو ملتان میں ہوگی ۔
- ۹...... حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی لاہور کے لئے حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم سے وقت لے کر شہدائے ختم نبوت
کانفرنس کا اہتمام کریں گے ۔
- ۱۰...... ۱۳؍ اپریل سے ۱۷؍ اپریل تک ٹنڈو آدم، کنری، گمبٹ میں کانفرنسوں کا اختیار حضرت مولانا حفیظ الرحمن رحمانی اور حضرت
مولانا محمد راشد مدنی کو دیا گیا ۔ وہ مولانا احمد میاں حمادی سے مشاورت کے بعد کانفرنسوں کا اہتمام کریں گے ۔
- ۱۱...... مبلغین حضرات کی معلومات میں اضافہ اور علمی ترقی کے لئے ہر ماہ دفتر مرکزیہ سے قادیانی سوالات پر مشتمل پرچہ مبلغین حضرات
کو بھجوایا جائے گا ۔ جسے حضرت مولانا خدا بخش، مولانا حفیظ الرحمن رحمانی ترتیب دیں گے ۔ مبلغین حضرات اس پرچہ کا حل اپنی رپورٹ کے ساتھ ارسال فرمایا کریں گے ۔
- ۱۲...... شعبہ نشر واشاعت اور شعبہ مدارس زیر اہتمام عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی رپورٹیں اور آئندہ کی ضروریات سے متعلق فیصلے اگلی
میٹنگ میں زیر بحث لائے جائیں گے ۔
- ۱۳...... اجلاس کے پہلے روز جمعہ تھا ۔ ملتان کی مختلف مساجد میں مبلغین حضرات نے خطبات جمعہ ارشاد فرمائے ۔ یوں دو روزہ وشب
وروزہ کا اجلاس بخیر وخوبی ۱۰؍ شوال کی شام کو اختتام پذیر ہوا ۔ رفقاء نیا عزم لے کر اپنے اپنے تبلیغی سفر پر روانہ ہو گئے ۔
حق تعالیٰ شانہ تمام دینی کام کرنے والے افراد اور اداروں کو اخلاص بھر محنت سے بھر پور کام کرنے کی توفیق نصیب فرمائیں ۔ آمین !
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۱۹۹۸ء ص ۲۴ تا ۲۶)
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ملتان میں ختم نبوت کانفرنس سے مولانا محمد یوسف لدھیانوی، مولانا عبدالستار تونسوی اور دیگر علماء کے بیانات
ملتان: ۲؍ مارچ ۱۹۹۸ء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علماء اسلام کے حضرت مولانا محمد لقمان علی پوری، تنظیم اہل سنت کے مولانا عبدالستار تونسوی،، مجلس اہل سنت کے مولانا شفیق الرحمٰن درخواستی، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر مرکزیہ مولانا محمد یوسف لدھیانوی، مولانا عبدالکریم ندیم، مولانا امیر حسین گیلانی، مولانا عبدالغفور حقانی، مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا اللہ وسایا، قاری محمد ادریس اور دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان قادیانیوں کو پابند کرے کہ مردم شماری میں اپنا نام غیر مسلموں کی فہرست میں درج کرائیں تاکہ قادیانیوں اور مسلمانوں کے درمیان امتیاز قائم ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ حکومت نے اگر قادیانیوں کے معاملے میں کوئی رعایت کی تو علماء کرام موجودہ مسلم لیگ کی حکومت کے خلاف تحریک چلانے سے گریز نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور مغرب کے اشارے پر توہین رسالت کے قانون اور قادیانیت کے متعلق آئینی ترمیم ختم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ پاکستان قادیانیوں نے نہیں، مسلمانوں نے بنایا تھا لیکن یہاں قادیانیوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جارہا ہے اور کلیدی آسامیوں پر قادیانیوں کو فائز کر کے ملک کی سالمیت کو خطرہ میں ڈالا جارہا ہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت یہ صورتحال برداشت نہیں کرے گی۔ امریکہ اور مغرب سن لے کہ اس کی اسلام کو مٹانے کی سازشیں کسی صورت کامیاب نہیں ہوں گی۔ قادیانیوں نے عیسائیت کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے اسلام کے خلاف منظم تحریک کا آغاز کیا ہے۔ علمائے کرام اس تحریک کے خلاف سینہ سپر ہو جائیں گے۔ آج قومی اسمبلی میں کہا جارہا ہے کہ قادیانی پاکستان کے خیر خواہ ہیں۔ قومی اسمبلی کی اس سے بڑی توہین کیا ہوگی۔ ملک کی سب سے محترم شخصیت صدر تارڑ صاحب واضح اعلان کرچکے ہیں کہ قادیانیوں نے ملک میں بحران پیدا کرنے میں کروڑوں روپے خرچ کئے ہیں۔ مرزا طاہر مسلسل برطانیہ میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ میں مصروف ہے۔ اس وجہ سے ہمارا حکومت سے مطالبہ ہے کہ مرزا طاہر کو پاکستان لاکر آئین پاکستان کی خلاف ورزی کا اس پر مقدمہ چلایا جائے اور قادیانیوں کو کلیدی آسامیوں سے ہٹایا جائے، دینی مدارس کے خلاف پروپیگنڈہ بند کیا جائے انگریز اور مغرب کی خوشنودی کے لئے اسلامی دفعات کو نہ چھیڑا جائے۔ قادیانیوں کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے مؤثر اقدامات کئے جائیں۔ مردم شماری میں حصہ نہ لینے والے قادیانیوں کی شہریت منسوخ کی جائے۔ الیکشن کا مسلسل بائیکاٹ کرنے والے قادیانیوں کی قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں نشستیں ختم کی جائیں۔ قادیانیوں کو کلیدی عہدوں سے ہٹایا جائے۔ طالبان کی حکومت کو تسلیم کر کے پاکستان میں بھی شریعت کا نظام نافذ کیا جائے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۱۹۹۸ء ص ۴۳)
ساہیوال میں ختم نبوت کانفرنس، تربیتی اجلاس، وخطبہ جمعہ
۱۲؍ مارچ جمعرات کو مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامعہ علوم شرعیہ میں علماء وطلباء کرام کا رد قادیانیت پر تربیتی اجلاس کا اہتمام کیا گیا۔ حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، حضرت مولانا خدا بخش، نے صبح ۹ بجے سے ۱۲ بجے تک تربیتی اجتماع سے خطاب فرمایا۔ بعد میں شرکاء سے سوالات کئے گئے۔ ممتاز و نمایاں کامیابی حاصل کرنے والوں کو کتب کے انعامات دئے گئے۔ انعامات کا اہتمام جامعہ علوم شرعیہ کے نائب مہتمم مولانا محمد طارق مسعود نے کیا۔
اس دن ظہر کی نماز کے بعد جامع مسجد عید گاہ میں شہر کے علماء اور خطباء کا خصوصی اجلاس منعقد ہوا اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور ترویج واشاعت کے لئے متعدد فیصلے کئے گئے۔ حضرت مولانا قاری عبدالجبار، حضرت مولانا محمد عبدالستار، حضرت مولانا محمد امین اور
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دوسرے حضرات نے اجلاس کی کامیابی کے لئے سرپرستی فرمائی۔ اس روز عشاء کی نماز کے بعد جامع مسجد نور میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ مولانا اللہ وسایا، مولانا خدا بخش، مولانا عبدالرزاق مجاہد، مولانا عبدالخالق رحمانی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، مولانا عبدالرشید، مولانا محمد دین شوق اور دوسرے علماء کرام نے خطاب فرمایا۔ کانفرنس رات ۲ بجے اختتام پذیر ہوئی۔ کانفرنس کی صدارت مولانا مفتی محمد زکاء اللہ نے کی۔ کانفرنس میں حضرت مولانا سید انعام اللہ شاہ بخاری، مولانا قاری بشیر احمد ، مولانا منظور احمد اور دوسرے حضرات نے شرکت کی۔ ۱۳؍ مارچ کو جمعہ کا خطبہ جامع مسجد غلہ منڈی میں مولانا محمد امین رشیدی صاحب کے ہاں مولانا اللہ وسایا صاحب نے ارشاد فرمایا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۱۹۹۸ء ص ۴۲)
فرانس میں جلسہ ختم نبوت
فرانس کے شہر کرائی میں گزشتہ اتوار کو پاکستان اسلامی ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام پہلا شاندار جلسہ ختم نبوت منعقد ہوا جس میں شرکت کے لئے فرانس کے مختلف شہروں سے کئی وفود کرائی پہنچے۔ جب کہ بلجیم کے امیر مولانا عبدالحمید کی قیادت میں ایک بڑا وفد کرائی پہنچا۔ مولانا عبدالحمید نے کہا کہ بنی نوع انسان کی نجات حضور ﷺ کے اسوہ حسنہ کو اپنانے میں ہے، حضور اکرم ﷺ کے بعد قیامت تک کوئی ایسی شخصیت پیدا نہیں ہوگی جس کی اتباع نجات کے لئے ضروری ہو۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں اس امت میں سے کوئی شخص کھڑا ہو کر یہ دعویٰ کرے کہ میری اتباع میں نجات ہے تو ایسا شخص دائرہ اسلام سے خارج ہے مولانا عبد المالک نے کہا کہ دنیا بھر کے مسلمان ختم نبوت کی اہمیت سے آگاہ ہیں اس جلسے سے تنظیم اسلامی پیرس کے حاجی محمد اشرف، بلجیم کے چوہدری محمد طفیل، پاکستان اسلامی ایسوسی ایشن کرائی کے صدر نے خطاب کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۷ تا ۲۳؍ اپریل ۱۹۹۸ء ص ۲۶)
شادی لارج میں پانچویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس
شادی لارج سندھ میں ضلع بدین کا ایک چھوٹا سا شہر ہے۔ یہاں پر قادیانیت کافی عروج پر تھی اور ہر سال یہاں کے نواحی چک پی اے ایف میں یہاں کا زمیندار سلیم قادیانی قادیانیوں کا جلسہ کرواتا تھا۔ لیکن الحمد للہ ! یہاں پر مولانا عبداللہ سندھی صاحب اور ان کے چھوٹے بھائی مولانا عبدالحمید حیدری صاحب نے زمانہ طالب علمی میں ہی کوششیں شروع کر دیں تھیں اور ان کی محنت کے سلسلے میں شادی لارج میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا یونٹ اور دفتر قائم ہو گیا۔ یونٹ کے مخلص ساتھیوں اور مولانا عبدالستار چاوڑا اور دیگر علماء کرام نے مقامی ساتھیوں اور مولانا عبداللہ سندھی صاحب سے مل کر بھاگ دوڑ کی اور قادیانیوں کا سالانہ جلسہ بند کروا دیا اور اس سال شادی لارج میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام سالانہ سیرت خاتم الانبیاء کانفرنس کا اعلان کیا۔ الحمد للہ ! گزشتہ چار سال سے یہ کانفرنس ہوتی چلی آ رہی ہے اس سال بھی منعقد ہوئی۔
جوں جوں کانفرنس کے دن قریب آ رہے تھے ساتھیوں میں جوش بڑھتا جا رہا تھا۔ کانفرنس جامع مسجد میں ہی کرانے کا پروگرام تھا اور اشتہارات میں بھی جامع مسجد کا ہی لکھا تھا لیکن پھر ساتھیوں کے مشورے سے کانفرنس چوک میں منعقد کرنے کا فیصلہ ہوا۔
ساتھیوں نے کانفرنس کے انتظامات شروع کر دیئے، تمام ساتھیوں نے کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ کانفرنس میں شرکت کے لئے ظہر سے ہی قافلے آنا شروع ہو گئے۔ کانفرنس جس کا آغاز نماز عشاء کے بعد قاری محمد یوسف بروہی اور قاری عبدالخالق کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ تلاوت کلام پاک کے بعد مجاہد ختم نبوت جناب مولانا عبدالستار چاوڑا نے خطاب کیا اور فتنہ قادیانیت کے بارے میں لوگوں کو
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
روشناس کرایا ان کے بعد ٹنڈو باگو سے آئے ہوئے مہمان جناب حافظ عبدالواحد صاحب نے سیرت رسول ﷺ پر بیان کیا۔ ان کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع بدین کے مولانا محمد علی صدیقی صاحب نے خطاب کیا انہوں نے کہا کہ بقول علامہ اقبال قادیانی اسلام اور ملک کے غدار ہیں۔ ان کے بعد مقرر شیریں بیان مولانا عیسیٰ سموں صاحب نے خطاب کیا انہوں نے اپنے خطاب میں قادیانیت کے کفریہ عقائد اور نظریات پر سیر حاصل گفتگو کی اور اپنے انوکھے انداز میں عوام کو محظوظ فرمایا۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی اور ان کے گماشتوں کے ساتھ کسی صورت میں نرمی نہیں برتی جاسکتی ان کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا نذر نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضور ﷺ کی ختم نبوت کا انکار کر کے مرزا غلام احمد قادیانی کے ماننے والوں کو اللہ تعالیٰ نے رسوا کیا اور عالم اسلام کو سرخرو فرمایا۔ ان کے بعد مولانا محمد عبداللہ سندھی صاحب نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ ہم تحفظ ختم نبوت کے لئے جان کی قربانی دینا سعادت سمجھتے ہیں اور جیل اور ہتھکڑی قادیانی یا قادیانی نوازوں کی دھونس اور دھمکیاں ہمیں اس مشن سے نہیں ہٹاسکیں گی۔ انہوں نے قائدین ختم نبوت کو اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ تحفظ ختم نبوت اور تردید مرزائیت کے مشن میں آپ کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ ان کے بعد مجاہد ختم نبوت علامہ احمد میاں حمادی نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ حضور ﷺ خاتم النبیین ہیں آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ آپ ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والا کذاب اور دجال ہے مرز اغلام احمد قادیانی دھوکہ باز اور انگریز کا دلال تھا جو لوگ قادیانیت کے چکر میں پھنسے ہوئے ہیں انہیں ہم دعوت دیتے ہیں کہ حضور ﷺ کے دامن رحمت سے وابستہ ہوجائیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۱۷ تا ۲۳؍ اپریل ۱۹۹۸ء ص۲۲، ۲۳)
تیسری عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس گمبٹ
الحمدللہ! عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان مرکز کی جانب سے صوبہ سندھ کے مختلف شہروں میں ختم نبوت کانفرنسوں کا سلسلہ ماہ اپریل ۱۹۹۸ء میں شروع ہوا۔ ضلع خیر پور میرس کی تحصیل گمبٹ میں مورخہ ۱۶؍ اپریل ۹۸ء کو تیسری عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد کی گئی۔ کانفرنس کے آغاز سے پہلے پبلسٹی کا کام مؤثر انداز سے کیا گیا تھا، گمبٹ تحصیل اور اس کے گردونواح میں اشتہار لگائے گئے تھے، مختلف دیہاتوں کے وڈیروں سے رابطہ کر کے دعوتیں دی گئیں۔ دینی مدارس کے مہتمم صاحبان کو کانفرنس کے پروگرام کی اطلاع دی گئی۔
مورخہ ۱۶؍ اپریل ۱۹۹۸ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنماؤں کے استقبال کے لئے موٹر سائیکل اور کاروں کا ختم نبوت کے جھنڈوں سے مزین جلوس گمبٹ اسٹیشن پہنچا اس جلوس کی قیادت حضرت مولانا محمد صدیق، حضرت حافظ ظہور احمد شیخ، حضرت قاری امیر احمد سومرو نے کی۔ ان کے ہمراہ نوجوانان ختم نبوت اعجاز اللہ شیخ، حاجی محمد امین شیخ اور دیگر ساتھی تھے۔ جیسے ہی ٹرین اسٹیشن کی حدود میں داخل ہوئی فضا نعرہ تکبیر اور ختم نبوت زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھی، مرکزی رہنماؤں میں مولانا اللہ وسایا، مولانا احمد میاں حمادی تشریف لائے۔ مرکزی رہنما جلوس کی شکل میں گمبٹ اسٹیشن سے شہر گمبٹ پہنچے، شہر پہنچنے پر تمام رہنماؤں کا والہانہ استقبال کیا گیا۔
اسی وقت جلوس کی صورت میں واعظ لاثانی حضرت مولانا میر محمد ہنجراہ، مولانا عبدالرب لنڈ، محمد شیر علی صاحب، جنرل سیکرٹری ضلع خیر پور جمعیت علماء اسلام حضرت مولانا محمد رمضان، شیریں زبان نعت خوان مولانا امداد اللہ اور حضرت قاری انور نے خطاب کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۲۲ تا ۲۸؍ مئی ۱۹۹۸ء ص ۱۳)
ختم نبوت کانفرنس قذافی ٹاؤن کراچی
جامع مسجد الہدیٰ قذافی ٹاؤن کراچی میں ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ممتاز علمائے کرام مولانا مفتی محمد یوسف
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
لدھیانوی، مولانا نذیر احمد تونسوی، مولانا سعید احمد جلال پوری، مولانا محمد طیب، حافظ محمد عتیق الرحمٰن، مولانا نعیم امجد سلیمی، علامہ محمد سعید اسعد نے عوام الناس کو قادیانیت کے دجل اور فریب اور اسلام میں عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ آنحضرت ﷺ کو آخری نبی ماننا مسلمانوں کے ایمان کا جزو ہے اور عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ ایمان کی علامت ہے۔ مسلمان حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے دور سے لے کر آج تک عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے قربانیاں دیتے چلے آ رہے ہیں، آج قادیانی بیرونی دنیا میں پاکستان میں اپنے اوپر ہونے والے فرضی مظالم کا جھوٹا پروپیگنڈہ کر کے سیاسی پناہ حاصل کر رہے ہیں ۔ جب کہ صورتحال یہ ہے کہ قادیانی، عیسائی، ہندو سمیت کسی بھی اقلیت پر پاکستان میں اس کے مذہب کی بنیاد پر کوئی تعصب نہیں برتا جاتا۔ قادیانیوں کو پاکستان میں وہی حقوق حاصل ہیں جو دیگر اقلیتوں کو حاصل ہیں ۔مسلمان عمومی طور پر سو سال اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بینر تلے پچاس سال سے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور قادیانیت کے سد باب کے لئے جدو جہد کرتے چلے آ رہے ہیں ۔لیکن یہ جدو جہد امن سے عبارت ہے۔ آج تک کسی قادیانی عبادت گاہ کو نہیں جلایا گیا اور کسی قادیانی کو عقیدہ کی بنیاد پر قتل نہیں کیا گیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۱۹ تا ۲۵؍ جون ۱۹۹۸ء ص ۲۵)
سالانہ ختم نبوت کانفرنس اسلام آباد
امسال بھی سالانہ ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد جامع مسجد خلفائے راشدین کراچی کمپنی ۲-۹-جی اسلام آباد میں ہوا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ختم نبوت کانفرنس ۴؍جون ۱۹۹۸ء کو بعد نماز مغرب منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں مرکزی قائدین کے علاوہ مقامی علماء کرام نے بھی کثیر تعداد میں شرکت کی ۔ کانفرنس عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد دامت برکاتہم کی زیر صدارت ہوئی ۔ حضرت نے محض اس عظیم مسئلہ کی خاطر با وجود ضعیف ہونے کے کانفرنس میں شرکت فرمائی ۔ کانفرنس کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام مجید سے ہوا۔ تلاوت کلام مجید کی سعادت حضرت مولانا قاری محمد زرین صاحب نے حاصل کی ۔ اس کے بعد مدرسہ جامعہ محمدیہ کے طالب علم جناب محترم خالد محمود صاحب نے ہدیہ نعت رسول مقبول پیش کیا۔
کانفرنس کا آغاز حضرت مفتی خلیل الرحمٰن سے ہوا جنہوں نے اپنے نہایت ادیبانہ انداز میں مسئلہ ختم نبوت کو بیان اور عوام الناس پر زور دیا کہ یہاں سے اٹھنے کے بعد ہر آدمی ختم نبوت کا محافظ، ختم نبوت کا سپاہی اور ختم نبوت کا چلتا پھرتا مبلغ ہونا چاہئے ۔ اس کے بعد بقیۃ السلف حضرت مولانا محمد عبد اللہ صاحب صدر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد مائیک پر تشریف لائے اور مختصر وقت میں اپنے خیالات کا اظہار فرمایا کہ ہم میں سے ہر آدمی کو اس پروگرام میں شرکت کرنی چاہئے خواہ تقریر کا موقعہ ملے نہ ملے ۔ یہاں آ جانا ہی فائدہ سے خالی نہیں ہے جو یہاں مبارک مجلس میں آ گیا وہ نواز دیا گیا۔ اس کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری دامت برکاتہم نے مفصل خطاب کیا ۔ مولانا کے بعد مولانا اللہ وسایا قاسم صاحب نے خطاب فرمایا اور لوگوں کے جذبات کو گرمایا۔ اس کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں خطبہ پڑھ کر تقریر کا آغاز فرمایا اور جو لوگ غفلت اور لاپروہی سے بیٹھے ہوئے تھے ان کو جگایا اور پھر مولانا نے مرزائیت کا پوسٹ مارٹم کرنا شروع کیا اور تقریباً پون گھنٹہ تک یہ پوسٹ مارٹم جاری رہا۔
کانفرنس کے اختتام پر حضرت امیر مرکزیہ نے دعا فرمائی اور اس کے ساتھ ہی کانفرنس اپنے اختتام کو پہنچی ۔ کانفرنس کی تیاریوں میں شب و روز مصروف عمل رہنے والوں میں جناب نفیس آغا صاحب، جناب مولانا جہانگیر صاحب، اورنگ زیب اعوان ، ملک نوید اور راقم (قاضی احسان احمد ) نے حصہ لیا۔ اللہ تعالیٰ ہماری ان کاوشوں کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت عطا فرمائیں ۔ آمین !
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۱۹۹۸ء ص ۵۰، ۵۱)
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تحفظ ناموس رسالت کانفرنس ساہیوال
۱۸؍جون ۱۹۹۸ء بعد نماز عصر تا عشاء جامعہ رشیدیہ ساہیوال میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام تحفظ ناموس رسالت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد مدظلہ نے کی۔ جمعیت علما اسلام کے امیر حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب، جمعیت پنجاب کے امیر مولانا عبداللہ، سیکرٹری جنرل پنجاب مولانا رشید احمد لدھیانوی، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب، مجلس احرار اسلام کے سیکرٹری اطلاعات جناب خالد لطیف چیمہ، قاری عبد الہادی نے خطاب کیا۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض عالمی مجلس ساہیوال کے روح رواں حضرت قاری عبدالجبار صاحب نے انجام دیئے کانفرنس میں حاضری مثالی تھی۔ ضلع بھر کی دینی شخصیات نے بطور خاص شرکت فرمائی۔
خطبہ جمعہ لاہور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے زیر اہتمام ۱۹؍جون ۱۹۹۸ء جامع مسجد عید گاہ آرا بازار میں جمعہ کا خطبہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا اللہ وسایا نے دیا۔ بھر پور حاضری تھی۔
ختم نبوت کانفرنس ٹاؤن شپ لاہور
۱۹؍جون ۱۹۹۸ء بعد نماز عشاء جامع مسجد قبرستان والی ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی صدارت مولانا عبدالرحمٰن شاہ جمالی مناظر اسلام نے کی۔ مہمان خصوصی حضرت خلیل الرحمٰن تھے۔ کانفرنس سے حضرت مولانا ظفر اللہ شفیق، حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور مولانا اللہ وسایا نے خطاب کیا کانفرنس مغرب کے بعد شروع ہو کر رات گئے تک جاری رہی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۱۹۹۸ء ص ۴۷، ۴۸)
عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس دہلی
الحمد للہ کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند ملک بھر میں قادیانی فتنہ کی سرکوبی اور مسلمانوں کو اس کے مکر و فریب سے بچانے کے لئے اپنی جدوجہد مسلسل جاری رکھے ہوئے ہے اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے کہ ہر جگہ مجلس کو مسلمانوں کے مختلف طبقات کا تعاون ملتا ہے۔ خصوصاً جمعیت علماء ہند سے وابستہ علماء کرام اور دینی حمیت رکھنے والے غیور مسلمانوں کو اسوہ صدیقی کے مطابق توفیق ملی ہے کہ ملک کے جس صوبے میں بھی قادیانی فتنہ سر اٹھانے لگے تو سب سے پہلے صوبائی و مقامی جمعیتیں سینہ سپر ہو کر میدان میں آجاتی ہیں اور قادیانی ٹولہ کو للکارتی ہیں، اور فتنہ قادیانیت کے محاسبہ اور تعاقب کے لئے صوبائی مجلسوں کی تشکیل، تربیتی کیمپوں کا انعقاد، تحفظ ختم نبوت کی کانفرنسیں، ضرورت پڑنے پر قادیانیوں سے براہ راست بحث و مباحثہ اور مناظروں کا اہتمام کرتی ہیں پھر رفتہ رفتہ دیگر دردمندان ملت فضلائے مدارس عربیہ اور دانشوران قوم بھی اس مبارک قافلہ میں شریک ہو جاتے ہیں یہ محض حسن اتفاق نہیں بلکہ جمعیت علمائے ہند کے اغراض و مقاصد اسلام اور شعائر اسلام کی حفاظت کے پیش نظر جمعیت کی اپنی ذمہ داری بھی ہے تاہم کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند کے مرکزی دفتر نے اپنے پیغام اور کام کو ملک بھر میں عام کرنے کی جو کوشش کی ہے، اس میں پرخلوص تعاون دینے والے فضلائے مدارس عربیہ و دانشوران قوم کا شکریہ ادا کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
خصوصیت سے جمعیت علماء ہند اور اس کی شاخوں کا بے حد ممنون ہے، کیونکہ پنجاب، ہماچل، ہریانہ، یوپی، راجستھان، بہار بنگال، آسام، کرالہ، کرناٹک، تامل ناڈو، آندھرا پردیش وغیرہ جہاں بھی تربیتی کیمپ برائے رد قادیانیت لگائے گئے۔ کانفرنسوں یا مناظروں کا اہتمام کیا گیا ان سب کا اہتمام کل ہند مجلس کی خصوصی نگرانی اور رہنمائی میں مقامی جمعیتوں نے کیا اور وہ صوبائی مجالس تحفظ ختم نبوت کی تشکیل کرا کے مسلسل قادیانی تعاقب کی تحریک میں ان کا تعاون کرتی رہتی ہیں۔
چنانچہ دہلی میں جب قادیانی فتنہ نے پیر پھیلانے شروع کئے اور اپنے ہیڈ کوارٹر تغلق آباد سے نکل کر ۱۹۹۶ء سے مالنکر ہال دہلی میں سالانہ کھلے اجلاس کر کے اپنے اسلام اور خدمت اسلام کا ڈھنڈورا پیٹنے لگے تو صدر جمعیت علماء ہند امیر الہند حضرت مولانا سید اسعد مدنی مدظلہ نے جمعیت کی مجلس عاملہ میں اس مسئلہ پر ارکان کی توجہ مبذول کی اور کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند کو صورتحال سے آگاہ کر کے دہلی میں قادیانی تعاقب کے لئے پروگرام مرتب کرنے کی ضرورت ظاہر کی اور جمعیت علماء کی طرف سے بھر پور تعاون کی پیشکش کی۔ اسی تحریک کے بعد ۱۴/ جون ۱۹۹۷ء کو جامع مسجد شہ جہانی دہلی کے وسیع وعریض پارک میں تقسیم ملک کے بعد پہلی فقید المثال تحفظ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی تھی جس میں محتاط اندازہ کے مطابق ۵۰ ہزار سے زیادہ مسلمانوں نے شرکت کی اور وہ قادیانی دجالوں کے مکر و فریب سے آگاہ ہوئے اس آگاہی کو برقرار رکھنے کے لئے کانفرنس کے بعد وقفہ وقفہ سے سال بھر دہلی کے مختلف علاقوں میں تحفظ ختم نبوت کے سلسلے میں میٹنگیں اور جلسے ہوتے رہے۔ لیکن حضرت امیر الہند مولانا سید اسعد مدنی دامت برکاتہم نے جمعیت کی مجلس عاملہ میں امسال بھی بڑے اجلاس کی ضرورت ظاہر کی جس کو بالاتفاق منظور کیا گیا اور کل ہند مجلس کو ضروری کارروائی کے لئے متوجہ کیا گیا۔
کانفرنس کی تیاری: چنانچہ حضرت مولانا مدظلہ نے اس سال ۳۱/ مئی ۱۹۹۸ء کو دہلی کے عمائدین و علماء کرام کی ایک اہم میٹنگ طلب فرمائی جس میں باتفاق رائے ۲۰/ جون ۱۹۹۸ء کو بعد نماز مغرب بمقام عید گاہ ویلکم جعفر آباد دہلی میں دوسری تحفظ ختم نبوت کانفرنس طے ہوگئی اور حضرت کی نگرانی میں مجلس استقبالیہ کی تشکیل بھی عمل میں لائی گئی۔ جس کے صدر الحاج قاضی اکرام الحسن صاحب اور جنرل سیکرٹری جناب فیاض الدین (عرف حاجی میاں مالک، حاجی ہوٹل والے) اور خزانچی جناب مولانا قاری حماد اعظمی ناظم جمعیت دہلی منتخب کئے گئے اور نشر و اشاعت کی ذمہ داری جناب مولانا معز الدین صاحب ناظم امارت شرعیہ ہند کے سپرد کی گئی۔ ارکان مجلس استقبالیہ نے زور شور سے اجلاس کی تیاریاں شروع کر دیں اور کل ہند مجلس کی رہنمائی حاصل کرتے رہے، کانفرنس کی اہمیت کے پیش نظر سال گزشتہ کی طرح دفتر کل ہند مجلس کے رفقاء بھی دہلی آ کر دفتر میں مقیم ہو گئے، جن میں راقم الحروف محمد عثمان منصور پوری ناظم مجلس اور جناب مولانا شاہ عالم صاحب نائب ناظم اور جناب مولانا محمد یامین صاحب، جناب مولانا راشد صاحب مبلغین دارالعلوم دیوبند جناب مولانا محمد خالد گیاوی، مبلغ شعبہ تحفظ ختم نبوت مظاہر العلوم سہارنپور دار جدید اور جناب مولانا بدرالہدیٰ صاحب دربھنگوی، جناب مولانا محمد عیاض صاحب، جناب مولانا محمد سلیم بارہ بنکوی متخصصین شعبہ تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند کے اسمائے گرامی شامل ہیں۔
مسلمانوں نے قادیانی فتنہ کی سنگینی واضح کرنے کے بعد کانفرنس میں شرکت کی دعوت دینے کے لئے جمعوں کے عربی خطبات سے پہلے مختصر تقریروں کے پروگرام ۲۹ مئی سے شروع کر دیئے گئے پھر مسلسل ۵/ جون، ۱۲/ جون، ۱۹/ جون ۱۹۹۸ء کے پروگراموں کی تشکیل کے لئے رات دن محنت کی گئی، اور چاروں جمعوں میں مجموعی طور پر چار سو مسجدوں میں یہ پروگرام ہوئے اس طرح تقریباً دس لاکھ مسلمانوں نے قادیانی فتنہ کی مکاری اور عیاری کو سنا علاوہ مسجدوں کے پروگراموں کے پارکوں وغیرہ میں بھی اس سلسلہ میں اجلاس ہوئے کانفرنس کی تشہیر وغیرہ کے لئے پوسٹر چسپاں کئے گئے۔ اہل علاقہ کی طرف سے کانفرنس کی تائید میں پوسٹر الگ شائع ہوئے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مساجد وغیرہ کے پروگراموں میں تقریروں کے لئے دہلی و بیرون دہلی کے مدارس کے حضرات نے کل ہند مجلس کی دعوت پر اپنا قیمتی وقت عنایت فرمایا اور سخت گرمی کے باوجود دوپہر کی چلچلاتی ہوئی دھوپ میں دہلی کی دور دراز کالونیوں میں پہنچ کر تقریریں کیں۔ فجزاهم الله تعالى !
بیرون دہلی کے مدارس کے نام درج ذیل ہیں: دارالعلوم دیوبند، مظاہرالعلوم سہارنپور، دارجدید، مظاہرالعلوم سہارنپور (وقف)، جامعہ قاسمیہ مدرسہ شاہی مراد آباد، مدرسہ اعزاز العلوم ویٹ غازی آباد، مدرسہ خادم الاسلام، مدرسہ امدادیہ مراد آباد، مدرسہ جامع الہدیٰ، مدرسہ رحمانیہ، مدرسہ دارالعلوم ٹانڈہ بادلی، مدرسہ جامعہ محمودیہ نوگڑہ میرٹھ، مدرسہ حسینیہ، مدرسہ فیض ہدایت رحیمی، مدرسہ کاشف العلوم، مدرسہ اسلامیہ رامپور، مدرسہ منبع العلوم گلاوٹھی بلندشہر۔
اور شہر دہلی کے مدارس کے یہ نام قابل ذکر ہیں: مدرسہ امینیہ، مدرسہ عبدالرب، مدرسہ حسین بخش، مدرسہ باب العلوم، مدرسہ بیت العلوم، مدارس اسلامیہ مصطفےٰ آباد، جناب مولانا قاری عبدالغفار صاحب، جعفر آباد، جناب احسان صاحب تغلق آباد جناب سلیم الدین، جناب شیخ علیم الدین صاحب۔
اس موقع پر رفیق محترم جناب مولانا شوکت علی صاحب مہتمم مدرسہ اعزاز العلوم ویٹ کے پرخلوص تعاون کا ذکر نہ کرنا ناسپاسی ہوگی۔ موصوف نے اپنی علالت کے باوجود اس عرصہ میں بار بار دہلی کا سفر کیا اور کئی کئی روز قیام فرما کر مساجد کے پروگراموں کی تشکیل و ترتیب میں مدد دی اور ان بیانات کے لئے دہلی کے مختلف علاقوں میں گئے اور موقع بموقع اپنے مفید مشوروں سے نوازتے رہے دہلی کی یہ کانفرنس جمعیت علماء ہند کی تحریک پر ہی ہو رہی تھی پھر بھی دفتر جمعیت کے بھر پور تعاون کا تذکرہ کئے بغیر چارہ نہیں۔ ناظم جمعیت علمائے ہند جناب مولانا سید محمود مدنی اور جناب مولانا قاری حماد صاحب اعظمی نے باحسن وجوہ اپنی ذمہ داری پوری فرمائی یہ حضرات ایک جانب رفقا مجلس جو دفتر میں مستقل قیام پذیر تھے اور وقت بے وقت اپنے کام انجام دے کر دفتر واپس آتے ، ان کے کھانے وغیرہ کا بندوبست کرتے تھے۔ بالخصوص چار جمعوں کو باہر کے جو علماء کرام کثیر تعداد میں بیان کے لئے تشریف لائے تھے۔ ان کے قیام وطعام کا مناسب انتظام کرنے کی فکر فرماتے اور خود ضیافت کے فرائض انجام دیتے۔ ان کی ہدایت کے مطابق دفتر میں موجود آرگنائزرز اور دوسرے کارکنان کانفرنس سے متعلق امور مفوضہ بڑی خوش اسلوبی سے انجام دیتے رہے۔ بالخصوص کانفرنس سے دو روز قبل اور دو روز بعد مہمانوں کی راحت رسانی میں شب روز مصروف رہے۔
ادھر وسیع وعریض جلسہ گاہ کے جملہ انتظامات جمنا پار مشرقی دہلی کے حضرات نے اپنے ذمہ لے لئے تھے اس سلسلہ میں مولانا ظفر الدین صاحب، مولانا شمیم صاحب، مولانا محمد اسماعیل صاحب و غیر ہم نے علاقہ کے اہل خیر حضرات سے رابطہ قائم فرما کر ان انتظامات کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ چنانچہ اسٹیج، فرش، روشنی، لاؤڈ اسپیکر کے جملہ مصارف جناب الحاج اکرام الحسن صاحب نے ادا فرمائے۔ نماز کی صفیں جناب نسیم الدین صاحب نے مہیا فرمائیں اور ٹھنڈے پانی کا انتظام جناب حاجی محبوب الٰہی صاحب نے فرمایا اور تقریباً دوہزار مہمانوں کے ایک وقت کے طعام کا انتظام جناب حاجی مہتاب صاحب کھلونا والوں نے کیا اور میونسپلٹی کے ذریعہ ٹینکر مہیا کرنے اور علاقہ میں صفائی ستھرائی کے لئے جناب ضمیر احمد صاحب کونسلر، اور جناب متین احمد صاحب ایم ایل اے نے جدوجہد فرمائی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کانفرنس کا آغاز:
کانفرنس کا آغاز بعد نماز مغرب تھا مگر حب نبوی اور بغض گستاخ رسول کے ایمانی جذبے سے معمور شمع رسالت کے پروانے ہزاروں کی تعداد میں عصر کے وقت ہی جلسہ میں پہنچنا شروع ہو گئے، اور مغرب کی نماز تک ہزاروں کی تعداد میں جمع ہو گئے، اور مغرب کی نماز عید گاہ میں ادا کی اور نماز کے فوراً بعد کانفرنس کا افتتاح ہو گیا۔ سب سے پہلے مولوی حافظ عفان صاحب نے تلاوت کلام پاک فرمائی۔ اس کے بعد مولانا شوکت علی صاحب نے تحریک صدارت پیش فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اس تاریخ ساز جلسے کی صدارت کے لئے میں امیر الہند حضرت مولانا سید اسعد مدنی صاحب کا نام نامی پیش کرتا ہوں حضرت موصوف کی ملکی اور دینی خدمات کی ایک طویل فہرست ہے، آج کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند کی شکل میں قادیانی تعاقب کی جو تحریک چل رہی ہے۔ اس کے شروع کرنے اور اس کو عام کرنے میں حضرت کا تاریخی کردار ہے، مختلف صوبوں میں تربیتی کیمپوں اور کانفرنسوں کا انعقاد حضرت کی محنتوں کا ثمرہ ہے۔
لہٰذا اس کانفرنس کی صدارت کے لئے سب سے زیادہ موزوں شخصیت حضرت امیر الہند کو سمجھتا ہوں۔ امید ہے کہ آپ حضرات تائید فرمائیں گے۔
تحریک صدارت کی تائید میں مدرسہ باب العلوم کے مہتمم جناب مولانا ظفر الدین صاحب نے فرمایا کہ میں خود اور تمام رفقاء کی طرف سے اس تحریک کی حرف بحرف تائید کرتا ہوں۔ بالخصوص اس وجہ سے کہ آج کی اس کانفرنس کا انعقاد بھی حضرت امیر الہند کی بے پایاں توجہات کا نتیجہ ہے۔
حضرت نے از راہ کرم منصب صدارت قبول فرماتے ہوئے پروگرام کی کاپی اپنے ہاتھ میں لے لی اور حضرت کی ہدایت کے مطابق کانفرنس کی کارروائی کو آگے بڑھاتے ہوئے احقر نے دارالعلوم دیوبند کے استاذ تجوید جناب قاری شفیق الرحمٰن صاحب بلند شہری کو تلاوت کی دعوت دی۔ انہوں نے سورہ احزاب کی آیت خاتم النبیین پر مشتمل چند آیات کی تلاوت فرمائی۔
تلاوت کلام اللہ کے بعد دارالعلوم دیوبند کے طالب علم محمد صالح نے نعتیہ کلام پیش کیا۔
خطبہ استقبالیہ: اس کے بعد احقر نے خطبہ استقبالیہ پیش کرنے کے لئے صدر مجلس استقبالیہ جناب الحاج اکرام الحسن صاحب کو دعوت دی، مگر موصوف کو عین وقت پر کانفرنس کی نگرانی سے متعلق ایک ضروری کام کی وجہ سے جانا پڑ گیا۔ اس لئے موصوف کی نمائندگی کرتے ہوئے مولانا محمد انیس صاحب نے خطبہ استقبالیہ پڑھا۔
خطبہ استقبالیہ میں شرکاء اجلاس کو خوش آمدید کہتے ہوئے موصوف نے دینی جدوجہد میں دہلی کی شاندار تاریخ کا تذکرہ فرمایا اور بتایا کہ اسلامیان ہند کے لئے یہ شہر عرصہ دراز تک رشد و ہدایت کا مرکز اور علمی پیاس بجھانے کا چشمہ فیاض رہا ہے۔
ماضی بعید میں خواجہ بختیار کاکی، حضرت محدث دہلوی، وغیرہم اور ماضی قریب میں حضرت مفتی کفایت اللہ، حضرت مولانا احمد سعید دہلوی وغیرہم جیسے اساطین علم و فضل نے اس میں علم نبوت کے چشمے بہائے۔
نیز صدر استقبالیہ نے واضح کیا کہ تحفظ ناموس رسالت شہر دہلی کے مسلمانوں کے لئے کوئی نیا کام نہیں ہے، جب بھی گستاخ نے پیغمبر اسلام کی شان اقدس میں زبان درازی کی تو اس کو چھٹی کا دودھ یاد دلایا اور تاریخ میں ایسے گستاخوں کا انجام بد عبرت کا سامان بن گیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
آج بھی دہلی کے مسلمان اور اپنے اسلاف کے سچے جان نشین اس عظیم الشان کانفرنس تحفظ ختم نبوت کے ذریعہ تمام اسلام دشمنوں اور گستاخ رسول ﷺ قادیانیوں کو چیلنج کرتے ہیں کہ تمہاری دھوکہ بازی کو کسی قیمت پر برداشت نہیں کیا جائے گا اور دہلی کے مسلمان مکمل بیداری کا ثبوت دیں گے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ خطبہ استقبالیہ کے بعد جناب مولانا شاہ عالم صاحب نے رد قادیانیت پر ایک نظم پڑھی۔ اس کے بعد راقم الحروف نے حضرت امیر الہند سے درخواست کی کہ خطبہ صدارت پیش فرمائیں۔
خطبہ صدارت : حضرت موصوف نے تقریباً ۵۰ منٹ میں خطبہ صدارت کی خواندگی مکمل فرمائی جو بطرز خطاب نہایت واضح تھی ۔ حضرت موصوف نے اپنے پر مغز خطبہ صدارت میں عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت کتاب وسنت کی روشنی میں بیان فرماتے ہوئے مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر کی جانب سے قادیانیوں کی تکفیر کے فتاوی کی عبارتیں بحوالہ پیش فرمائیں ۔ ساتھ ہی مرزا غلام احمد قادیانی کے کفریہ دعاوی، کذب بیانی اور مغلظ گالیاں، قادیانی کتب کے حوالوں سے پیش فرمائیں اور مرزا قادیانی کے جان نشینوں کی صریح عبارتوں سے ثابت فرمایا کہ جو لوگ مرزا غلام احمد قادیانی پر ایمان نہیں رکھتے خواہ وہ حضور ﷺ پر ایمان رکھتے ہوں، قادیانی گروہ نے ان سب کو کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج کہا ہے۔ جس کا صاف مطلب ہے کہ حضور ﷺ کے بعد مرزا قادیانی کو مستقل نبی تسلیم کیا گیا ہے، جو اسلام کے عقیدہ کے خلاف ہے۔ لہٰذا قادیانی اپنے مذہب کا نام کچھ اور رکھ لیں تو ہمیں ان سے کوئی سروکار نہیں ہوگا۔ اس سلسلہ میں صدر محترم نے علامہ اقبال کی یہ تحریر پیش فرمائی : ”میری رائے میں قادیانیوں کے لئے صرف دو راستے ہیں یا تو وہ بہائیوں کی طرح اپنے آپ کو اسلام اور مسلمانوں سے الگ کر لیں یا پھر عقیدہ ختم نبوت میں تحریف و تاویل کرنا چھوڑ کر اس اصول کو پورے مفہوم کے ساتھ قبول کر لیں۔“
(حرف اقبال)
ان حقائق کو سن کر ختم نبوت زندہ باد، قادیانی مردہ باد کے فلک شگاف نعروں سے علاقہ گونج اٹھا۔ خطبہ صدارت کے بعد مولوی نعیم الدین بھاگلپوری نے رد قادیانیت پر نظم پیش کی۔
حضرت مولانا ارشد مدنی کی تقریر : پھر ناظم اجلاس نے دارالعلوم دیوبند کے ناظم تعلیمات و استاذ حدیث جگر گوشہ شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی نور اللہ مرقدہ، حضرت مولانا محمد ارشد صاحب مدنی کو دعوت دی۔
موصوف کرسی خطابت پر رونق افروز ہوئے اور خطبہ مسنونہ کے بعد ارشاد فرمایا کہ آپ حضرات بار بار ختم نبوت کا لفظ سن رہے ہیں اس لفظ کا مطلب کیا ہے؟ اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
حضرات ! آپ جانتے ہیں کہ دنیا میں کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام تشریف لائے ۔ ہر نبی اپنے ماننے والوں کو پروانہ جنت دیتا رہا مگر صرف اپنے زمانہ تک یعنی جب اس کے بعد دوسرا نبی آجاتا تو اب پچھلے نبی کا پروانہ نہیں چلے گا بلکہ دوسرے نبی کو مان کر اس سے پروانہ جنت لینا ضروری ہو گا۔ لیکن ہمارے آقا اور سردار حضرت محمد ﷺ نے مبعوث ہو کر اپنے ماننے والوں کو جو پروانہ جنت عطا فرمایا وہ قیامت تک کام آنے والا ہے اب کوئی اور نبی نہیں آئے گا جس کے پروانہ پر جنت ملنا موقوف ہو حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی جب قیامت کی بڑی علامت کے طور پر نازل ہوں گے ۔ وہ بھی حضور اکرم ﷺ والا پروانہ جنت لوگوں کو عطا فرمائیں گے ۔
اور حضور اکرم ﷺ کی شریعت پر ہی خود چلیں گے اور پوری امت کو چلائیں گے ۔ یہ مطلب ہے ختم نبوت کا ۔
حضرات! اس کے برخلاف جھوٹا مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی بکواس کرتا ہے کہ میرے آجانے کے بعد حضور اکرم ﷺ کا عطا فرمایا ہوا پروانہ جنت کافی نہیں ہے۔ بلکہ نجات کے لئے مجھ پر ایمان لانا اور پروانہ جنت حاصل کرنا ضروری ہے اس کا صاف مطلب یہ
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہے کہ ، نعوذ باللہ خاتم النبیین مرزا قادیانی ہوا۔ ہمارا قادیانیوں سے یہی اختلاف ہے۔ آپ نے متنبہ فرمایا کہ جس طرح سچے نبی کا انکار کفر ہے اسی طرح جھوٹے نبی کو تسلیم کرنا بھی کفر ہے۔
حضرت موصوف مرزا قادیانی کے کردار کی بعض مثالیں بھی فرما کر سمجھاتے رہے کہ ایسا آدمی تو شریف انسان کہلانے کا بھی مستحق نہیں ، نبی ہونا تو بہت دور کی بات ہے۔ موصوف کی تقریر ۴۵ منٹ تک ہوئی۔
حضرت مولانا عبدالعلیم صاحب فاروقی کی تقریر : اس کے بعد دارالمبلغین لکھنؤ کے مہتمم حضرت مولانا عبدالعلیم صاحب فاروقی جنرل سیکرٹری جمعیت علماء ہند سے گزارش کی گئی کہ اپنے فاضلانہ خطاب سے سامعین کو محظوظ فرمائیں۔
حضرت نے خطبہ مسنونہ کے بعد آیت کریمہ پڑھی جس کا مفہوم یہ ہے کہ :
ترجمہ : اور اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہوگا جو اللہ پر بہتان لگائے یا کہے کہ مجھ پر وحی آتی ہے ، حالانکہ اس کے پاس کسی بات کی بھی وحی نہیں آئی۔
(بیان القرآن)
اس آیت کریمہ کی روشنی میں موصوف نے واضح فرمایا کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کا گروہ اللہ تعالیٰ پر افترا کرنے والا اور وحی کا مدعی کاذب ہونے کی وجہ سے اس زمانہ کا سب سے بڑا ظالم ہے، پھر عجیب بات ہے کہ کچھ لوگ طفلانہ سوال کرتے ہیں کہ آپ لوگ قادیانیوں کا تعاقب کیوں کر رہے ہیں۔ حالانکہ یہ تو انبیاء کرام کا اسوہ حسنہ ہے جو اپنے زمانہ میں شرک کا مقابلہ کرتے ہوئے لوگوں کو خیر کی طرف بلاتے رہے آج قادیانی گروہ ، خیر ( ختم نبوت ) کے خلاف شر پھیلانے میں مصروف عمل ہے تو اہل حق کا فرض ہے کہ حضور اکرم ﷺ کی شان خاتم النبیین کو خوب اچھی طرح بار بار مسلمانوں کو سمجھائیں اور قادیانی گروہ کی تحریفات و تلبیسات سے آگاہ کریں چنانچہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے دارالعلوم دیوبند اور جمعیت علماء ہند قادیانی شر کا سر کچلنے کے لئے پیش پیش ہیں۔ شاعر نے خوب کہا ہے ؎
موصوف کی تقریر ۵۰ منٹ تک جاری رہی۔
ناظم کل ہند مجلس کی معروضات : اس کے بعد خاکسار راقم الحروف ( حضرت مولانا قاری محمد عثمان منصور پوری ) ناظم کل ہند مجلس نے اجمالی طور پر مجلس تحفظ ختم نبوت کی خدمات جو مختلف صوبوں میں انجام دے رہی ہے ان کا تذکرہ کرتے ہوئے سامعین کو بتایا کل ہند مجلس کا مرکزی دفتر دہلی میں ۱۹۹۱ء سے قادیانی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور جب بھی جس کالونی میں ضرورت پیش آئی اور ذمہ داران نے دارالعلوم دیوبند سے رابطہ فرمایا تو وہاں سے موضوع کے ماہر علماء کو روانہ کیا گیا۔ جنہوں نے حسب ضرورت کئی کئی دن ان علاقوں میں قیام فرما کر مسلمانوں کو قادیانی گروہ کی چالبازی سے محفوظ رکھنے کی کوششیں فرمائیں اور جب قادیانی فتنہ نے دہلی میں اور زیادہ پیر پھیلانے کے لئے ماولنکر ہال میں کانفرنسیں شروع کیں تو ذمہ داران نے ضرورت محسوس کی کہ قادیانی فتنہ کی سرکوبی کے لئے بڑے اجلاس کئے جائیں اسی سلسلہ میں آج کی دوسری عظیم الشان تحفظ ختم نبوت کانفرنس عید گاہ ویلکم جعفر آباد کے وسیع و عریض میدان میں منعقد ہو رہی ہے دارالعلوم دیوبند ، جمعیت علمائے ہند اور اس کے نہج پر کام کرنے والے صاحبان امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اور فتنہ پردازوں سے مقابلہ آرائی کو اپنا خصوصی مشن بنائے ہوئے ہیں ، جس پر ان حضرات کو نبی کریم ﷺ کی عظیم بشارت ہے کہ ان کو امت مسلمہ کے اولین حضرات (صحابہ کرام ؓ ) جیسا ثواب ملے گا حدیث پاک ہے ، جس کا مفہوم یہ ہے کہ
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ترجمہ: ”اس امت (امت محمدیہ) کے اخیر زمانہ میں ایک جماعت ایسی پیدا ہوگی، جس کا ثواب اس امت کے ابتدائی دور کے لوگوں (صحابہ) کی مانند ہو گا یہ جماعت اچھی باتوں کا حکم کرے گی اور بری باتوں سے منع کرے گی اور فتنہ پردازوں کا مقابلہ کرے گی۔“
قادیانی فتنہ کی سرکوبی کی جدوجہد کرنے والے خوش قسمت ہیں یقیناً اس بشارت کے مستحق ہیں لیکن زمانہ کی ستم ظریفی ہی ہے کہ عقیدہ ختم نبوت کی وضاحت اور اس کے خلاف اٹھنے والے قادیانی فتنہ کی تردید کے مضامین مساجد میں بیان کرنے سے کچھ لوگ روکتے ہیں اور قادیانی فتنہ کا مقابلہ کرنے والوں کو امت کے اندر اختلاف پھیلانے کا مجرم گردانتے ہیں۔ لا حول ولا قوۃ الا باللہ !
ارے مسلمانو! کیا مسجدوں میں قرآن کریم کی تشریح سے بھی روکا جائے گا جس کا ایک اہم مضمون علم المخاصمہ ہے۔ جس سے باطل فرقوں کے عقائد جان کر ان کی تردید سکھلائی جاتی ہے اور مجھے بتایا جائے کہ کیا مسجدوں میں ذخیرہ احادیث شریفہ کے ان ابواب کے ترجموں و تشریحات سے بھی روکا جائے گا جن میں نبی کریم ﷺ نے آنے والے فتنوں کی خبر دی ہے اور ان سے بچنے کی تاکید فرمائی ہے۔ اگر جواب نفی میں ہے اور یقیناً ہر مسلمان کا جواب نفی میں ہی ہو گا تو مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے فتنہ کے تردیدی مضامین و بیانات سے ناگواری کیوں ہوتی ہے۔
بہر حال کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم بلا خوف لومۃ لائم اپنا مشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ آج کی کانفرنس کی تیاری کے لئے چار جمعوں میں مجموعی طور پر چار سو مساجد میں ختم نبوت و رد قادیانیت کے بیانات ہوئے جن کو مسلمانوں نے بڑے انہماک و دردمندی کے ساتھ سنا، اور آج مسلمانوں کا یہ جم غفیر دہلی کے کونہ کونہ سے انہی مضامین کو اکابر علماء کی زبانی مفصل طور پر سننے کے لئے آیا ہے جو اس بات کا چیلنج ہے کہ قادیانی فتنہ کو دہلی میں پنپنے نہیں دیا جائے گا ان شاء اللہ تعالیٰ ہماری پوری کوشش ہو گی اور اسی کے ہم مکلف ہیں، قادیانیوں کو ہدایت دینا اللہ تعالیٰ کی قدرت میں ہے اس لئے ہم سے یہ سوال کرنا بالکل بے معنی ہے کہ آپ کی تحریک سے قادیانی مٹے کیوں نہیں؟
حضرات انبیاء کرام کا کام بھی پیغام خداوندی کو پہنچانا اور کوشش کرنا تھا، ہدایت دینا ان کے بس میں نہیں تھا اس لئے آج تک کفر اور کفار دنیا میں موجود ہیں۔
آخر میں راقم الحروف نے مجمع کو آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی کذاب کے پوتے مرزا طاہر قادیانی کا ایک سفید جھوٹ سنایا جس پر مجمع نے زور دار قہقہہ لگایا، جھوٹ یہ تھا کہ مرزا طاہر نے لندن میں ٹیلی ویژن پر تقریر کرتے ہوئے سال کی گزشتہ تحفظ ختم نبوت کانفرنس جامع مسجد دہلی کے بارے میں دروغ گوئی کی تھی کانفرنس کی دو نشستیں ہوئیں پہلی تو کسی طرح ہو گئی مگر دوسری نشست میں زور دار آندھی اور بارش آ گئی جس کی وجہ سے کانفرنس درہم برہم ہو گئی۔ جبکہ واقعہ یہ ہے کہ کانفرنس کی صرف ایک نشست ہوئی تھی اور کسی طرح کی آندھی اور بارش بالکل نہیں آئی تھی ہزاروں مسلمان اس کے گواہ ہیں جو آج کے اجلاس میں بھی تشریف لائے ہیں۔
حضرت مولانا مرغوب الرحمٰن صاحب کی پیش کردہ قرارداد:
دارالعلوم دیوبند کے مہتمم اور کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت کے صدر حضرت مولانا مرغوب الرحمٰن صاحب نے عظیم الشان کانفرنس کا پیغام بصورت قرارداد پڑھ کر سنایا جس کا متن درج ذیل ہے۔
حامدا و مصلیا و مسلما اما بعد ! مسلمانان دہلی کی یہ دوسری عظیم الشان تحفظ ختم نبوت کانفرنس اس بات کو نہایت تشویش کی نگاہ سے دیکھتی ہے کہ ملک کے مختلف علاقوں میں قادیانی مرتدوں کی ارتدادی سرگرمیاں منصوبہ بند طریقے سے جاری ہیں۔ یہ لوگ
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جہاں عیسائی مشنریوں کی طرز پر پبلک اسکول قائم کر کے معصوم بچوں کے ذہنوں کو خراب کر رہے ہیں، وہیں پسماندہ اور جہالت زدہ علاقوں میں رفاہی اداروں کے قیام اور مالی امداد وغیرہ کے ذریعہ سادہ لوح عوام کو دام فریب میں مبتلا کر رہے ہیں۔ نیز قادیانیوں نے انٹرنیٹ اور ٹیلی ویژن پر سیٹلائٹ پروگراموں کے ذریعہ اپنے باطل مذہب کی اشاعت کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ جس کے توسط سے آج یہ ارتدادی فتنہ شہر شہر اور گھر گھر تک پہنچ گیا ہے۔ اس لئے :
- ☆...... کانفرنس تمام مسلمانوں پر واضح کر دینا چاہتی ہے کہ قادیانی جماعت کے لوگ اپنے عقائد باطلہ کی بنا پر مرتد، زندیق اور کافر
ہیں ۔ ان سے مسلمانوں جیسے تعلقات رکھنا ، مسلمانوں کے قبرستان میں ان کے مردے دفن کرنا اور ان سے رشتہ جوڑنا حرام ہے اور ان کا سماجی اور معاشرتی بائیکاٹ واجب ہے۔
- ☆...... یہ عظیم الشان کانفرنس قادیانیوں کو آگاہ کرتی ہے کہ وہ اپنے عقائد باطلہ سے توبہ کر کے صدق دل سے حلقہ اسلام میں آجائیں اور
مرزا قادیانی کو جھوٹا مدعی نبوت اور کافر تسلیم کر لیں۔
- ☆...... یہ عظیم کانفرنس حکومت ہند سے مطالبہ کرتی ہے کہ چونکہ قادیانی دھوکہ اور فریب دے کر حقیقتاً غیر مسلم ہونے کے باوجود اپنے آپ
کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں جو دستور ہند میں دی گئی مذہبی آزادی کی دفعہ ۲۵ کے خلاف ہے اس لئے حکومت ہند دستور کی خلاف ورزی کی بنا پر قادیانیوں کو مسلمانوں کے شعائر اسلام استعمال کرنے پر پابندی لگائے اور انہیں باضابطہ طور پر غیر مسلم قرار دے۔
- ☆...... یہ کانفرنس تمام مسلم جماعتوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اپنے حلقہ اثر میں قادیانی جماعت کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھیں اور اپنے
پروگراموں میں عقیدہ توحید اور ختم نبوت کی مثبت انداز میں قابل اطمینان تشریح کر کے قادیانیوں کی تحریفات وتلبیسات سے مسلم عوام کو آگاہ کریں۔
- ☆...... یہ کانفرنس بالخصوص دینی مدارس کو توجہ دلاتی ہے کہ وہ اپنے طلباء کو رد قادیانیت کے متعلق ضروری معلومات فراہم کرنے کا اہتمام
کریں اور اساتذہ کو اس موضوع پر تیار کرنے کے لئے جابجا تربیتی کیمپوں کا انعقاد کریں اور خاص کر قادیانیت سے متاثرہ علاقوں میں مکاتب کے قیام کی کوشش کریں۔ اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو زیغ و ضلال سے محفوظ رکھے۔ آمین!
تائیدات : تاریخی و شرعی قرارداد کی تائید میں جناب مولانا محمد شمیم صاحب امام عید گاہ ویلکم دہلی نے ببانگ دہل اعلان کیا کہ اس قرارداد کو عملی جامہ پہنانے کے لئے دہلی کا مسلمان ان شاء اللہ تعالیٰ ہر اقدام کے لئے تیار ہے۔ جناب ضمیر احمد صاحب کونسلر اور جناب متین احمد صاحب ایم ۔ایل۔اے نے بھی پر زور الفاظ میں تائید فرمائی اور ہر قسم کے تعاون کا یقین دلایا۔ دکشن پوری کے جناب قاری ربیع الحسن صاحب نے بھی تائیدی کلمات فرمائے ، سپریم کورٹ کے وکیل سید شکیل احمد صاحب نے قرارداد کی تائید کرتے ہوئے فرمایا کہ آئین ہند کی دفعہ نمبر ۲۵ کا سہارا لے کر کچھ لوگ کہا کرتے ہیں اس ملک میں ہر شخص کو اپنے عقیدہ وخیال کے بارے میں آزادی حاصل ہے، پھر قادیانیوں پر اعتراض کیوں کرتے ہیں، حالانکہ یہ آزادی مشروط نہیں ہے بلکہ یہ شرط لگی ہوئی ہے کہ آپ کو دوسرے مذہب کے اصولوں کو توڑ کر پیش کرنے کی اجازت نہیں ہے قادیانی گروہ یہی حرکت کرتا ہے اگر وہ اپنے مذہب کے اصول بنا کر ان کا نام کچھ بھی رکھ لیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن ان کو اسلام کا نام دینا صریح دھوکہ دہی ہے جو قابل تعزیر جرم ہے۔ آخر میں صدر اجلاس نے عمومی طور پر تمام مجمع سے ہاتھ اٹھوا کر قرارداد کی تائید حاصل فرمائی۔
حضرت مفتی سعید احمد صاحب پالنپوری کی تقریر: دارالعلوم دیوبند کے ممتاز استاذ حدیث، رد قادیانیت کے مربی خصوصی،
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ناظم عمومی کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت حضرت مولانا مفتی سعید احمد صاحب پالنپوری کرسی خطابت پر جلوہ افروز ہوئے۔ حضرت موصوف نے خطبہ مسنونہ کے بعد ارشاد فرمایا کہ ختم نبوت اور رد قادیانیت کے متعلق بہت کچھ مواد آپ کے سامنے آ چکا ہے البتہ قرارداد کی دفعہ ۴ میں کہا گیا ہے کہ قادیانیوں کی تحریفات اور تلبیسات سے مسلم عوام کو آگاہ کیا جائے ، اس موضوع پر تفصیلی گفتگو باقی رہ گئی ہے، میں اس کے بارے میں اپنی معروضات پیش کرنا چاہوں گا۔ لیکن اس سے پہلے میں یہ واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ بارہ سال قبل جب ہندوستان میں قادیانی سرگرمیاں شروع ہوئیں تو ان کے تعاقب کرنے کی فکر سب سے پہلے رکن مجلس شوری دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا سید اسعد مدنی صاحب مدظلہ کو ہوئی اور موصوف کی خصوصی تحریک و تجویز پر ہی ۱۹۸۶ء میں دارالعلوم دیوبند میں عالمی اجلاس تحفظ ختم نبوت منعقد کیا گیا تھا۔ اس وقت اس کو بظاہر غیر ضروری سمجھا گیا تھا ، لیکن بعد کے حالات نے ثابت کر دیا کہ حضرت مولانا مدنی مدظلہ کی نگاہ دور بین تھی اور حضرت نے بڑی دور اندیشی سے کام لے کر ہم سب کو رد قادیانیت کی مہم میں لگا دیا جس کے نتیجہ میں جگہ جگہ قادیانی ارتدادی فتنہ کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے والے علماء کرام اور دردمندان ملت تیار ہورہے ہیں۔ آج کی یہ کانفرنس بھی اسی سلسلہ کی ایک اہم کڑی ہے، حضرت مولانا مفتی سعید احمد صاحب نے اصل موضوع شروع کرتے ہوئے فرمایا کہ قادیانی گروہ کس طرح دھوکہ دیتا ہے اس کی ایک مثال یہ ہے:
قادیانی فریب نمبر ۱: قادیانی گروہ کہتا ہے کہ نبوت اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے۔ لہذا حضرت محمد ﷺ کے بعد یہ رحمت جاری رہنی چاہیے۔
- ٭...... اس کا جواب یہ ہے کہ بارش بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے مگر اس وقت جب موسم میں ہو اور حسب ضرورت ہو ورنہ وہ زحمت بن
جاتی ہے۔ اسی طرح سمجھئے کہ حضور اکرم ﷺ کی بعثت سے پہلے انبیاء کی آمد کا سلسلہ جاری تھا۔ لہذا نبوت کی شکل میں نئی نئی رحمت خداوندی اپنے موسم میں آتی رہی ۔ جب حضور اکرم ﷺ کی بعثت نبوت تا قیامت ہو گئی اور آپ کو خاتم النبیین بنا دیا گیا ، تو اب نئی نبوت کا موسم نہ رہا نہ اس کی ضرورت رہی ۔ لہذا آج نئی نبوت اور اس کا دعوی رحمت نہیں زحمت ہے۔ اب تو صرف حضور اقدس ﷺ کی نبوت کی رحمت سب کے لئے رہے گی۔
حضرت مفتی صاحب نے قادیانی دھوکہ بازی کی دوسری مثال سمجھاتے ہوئے فرمایا:
قادیانی فریب نمبر ۲: قادیانی گروہ کہتا ہے کہ خاتم النبیین میں خاتم کے معنی مہر کے ہیں۔ مگر اس سے ظاہری مہر مراد نہیں بلکہ معنوی مہر مراد ہے ، یعنی حضور اکرم ﷺ کے اتباع کامل سے انسان میں یہ صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ نبی کہلائے، جیسے آپ کی اتباع کامل سے صدیق ، شہید اور صالح بن جانا ممکن ہے اور مرزا قادیانی کو فنا فی الرسول ہو جانے سے ظلی نبوت ملی ہے۔
جواب اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں خاتم کے لغوی معنی مراد نہیں بلکہ مجازی معنی ”آخر“ مراد ہیں جیسے کہا جاتا ہے کہ میرا کاروبار برباد ہو گیا تو اس کا یہ ترجمہ نہیں ہوتا کہ وہ کاروبار ہوا پر چلا گیا بلکہ یہ مطلب لیا جاتا ہے کہ ضائع ہو گیا۔ چاہے پانی میں ڈوب کر یا آگ میں جل کر ضائع ہو گیا اسی طرح خاتم النبیین کے معنی آخری نبی کے ہیں جیسے مہر تحریر کے آخر میں ہوتی ہے۔ یہ کہنا بالکل باطل ہے کہ حضور اکرم ﷺ کی ذات میں فنا ہو جانے کی اور متابعت کاملہ کی وجہ سے کسی کو نبوت مل سکتی ہے اور اگر بالفرض ان وجوہ سے نبوت ملا کرتی تو سب سے زیادہ حق دار حضرت ابوبکر اور حضرت عمر اور دیگر جلیل القدر صحابہ کرام ؓ ہوتے چودھویں صدی کے کذاب مرزا غلام احمد قادیانی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ حضرت مفتی صاحب نے قادیانی فریب کاری کی تیسری مثال سمجھاتے ہوئے فرمایا :
قادیانی فریب نمبر ۳: قادیانی گروہ بڑی معصومیت سے سادہ لوح مسلمانوں سے اپنی پریشانی کا اظہار کرتا ہے کہ ہم تو مسلمانوں والا کلمہ ”لا اله الا الله محمد رسول الله“ پڑھتے ہیں۔ اپنی مسجدوں ، دکانوں ، مکانوں پر جلی حرفوں میں کلمہ لکھ کر لگاتے
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہیں ۔ پھر بھی علماء ہمیں کافر کہتے ہیں بلکہ ہمیں کلمہ پڑھنے اور لکھنے کی اجازت نہیں دیتے اس کا جواب یہ ہے قادیانیوں کا کفریہ عقیدہ یہ کہ حضور اکرم ﷺ کی دوسری بعثت مرزا غلام قادیانی بعینہ محمد ہے۔ (نعوذ باللہ ) اس لئے جب مرزائی قادیانی کلمہ پڑھتے ہیں تو ان کی مراد محمد سے مرزا قادیانی ہوتی ہے۔ لہٰذا کلمہ ’’لا الہ الا اللہ‘‘ پڑھنے کے باوجود قادیانی گروہ کافر ہے اور علماء ان کو حق نہیں دیتے کہ مسلمانوں کا کلمہ خود اپنے کفریہ مذہب کے لئے استعمال کریں ۔ حضرت مفتی صاحب کی تقریر سوا گھنٹہ جاری رہی ۔ اس کے بعد مجلس استقبالیہ کے جنرل سیکرٹری جناب الحاج فیاض الدین صاحب ( حاجی میاں ) نے کلمات تشکر پیش فرمائے اور تمام علمائے کرام محترم سامعین اور منتظمین کانفرنس کا شکریہ ادا کیا۔
کانفرنس کی اجازت پولیس محکمہ سے رات کے بارہ بجے تک ملی تھی مگر مجمع کا جوش وخروش اور نظم وضبط دیکھ کر اس کے ذمہ دار نے اجازت دے دی کہ آپ ایک بجے تک کانفرنس کا پروگرام چلا سکتے ہیں ۔ چنانچہ کارروائی مکمل ہوتے ہوتے رات ڈیڑھ بج گئے تھے، مگر مجمع سراپا گوش بنا ہوا تھا۔ عید گاہ وسیع وعریض احاطہ کے علاوہ مین روڈ پر مکانوں کی چھتوں پر جم غفیر تھا۔ کیونکہ دور دور تک لاؤڈ اسپیکر لگے ہوئے تھے۔ یہ کل مجمع ایک لاکھ کے قریب تھا۔ اگر منتظمین کو نماز عشاء اور مہمانوں کو کھانا کھلانے کی فکر نہ ہوتی تو صبح نماز تک یہ کانفرنس چلتی رہتی ۔ پولیس کے عملے کو بڑی حیرت ہو رہی تھی کہ چھ بجے سے تقریباً آٹھ گھنٹے کی یہ کانفرنس انتہائی مصروف علاقہ میں اتنے بڑے مجمع کا پہنچنا اور واپس ہونا اور کسی قسم کا کوئی حادثہ پیش نہ آنا بڑی انوکھی بات ہے۔
بہر حال اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے مکمل خیر وعافیت اور انتہائی کامیابی کے ساتھ ڈیڑھ بجے دعا پر کانفرنس اختتام پذیر ہوئی۔ فالحمد للہ اولاً و آخراً ! شرکاء کانفرنس کو اکابر علماء کی تقاریر سے استفادہ کا موقع فراہم کرنے کے ساتھ منتظمین نے رد قادیانیت کے پمفلٹ اور کتابچے اور پوسٹر بھی ہزاروں کی تعداد میں اردو ، انگلش اور ہندی میں طبع کرائے تھے، جو عید گاہ کے تینوں دروازوں پر آغاز سے اختتام تک مفت تقسیم کئے جاتے رہے تاکہ شرکاء واپسی کے بعد بار بار ان کو پڑھیں اور اپنے احباب واہل خانہ کو پڑھوائیں اور استفادہ کا سلسلہ برقرار رہے۔ متعدد ارباب خیر نے بھی اپنے خرچ پر مختلف کتابیں طبع کروا کر تقسیم کیں ۔ اس لٹریچر کی طباعت وغیرہ کے سلسلہ میں جناب مولانا معز الدین ناظم امارت شرعیہ نے انتھک محنت فرمائی ، علاوہ ازیں کانفرنسوں کی تیاری کے دوران روزانہ کے کاموں میں مسلسل تعاون فرماتے رہے۔
کانفرنس کے بعد حضرت امیر الہند مولانا سید اسعد مدنی مدظلہ نے مختلف کالونیوں کے ان ائمہ کرام و دیگر حضرات کو بتاریخ ۲۸/جون ۱۹۹۸ء کو دفتر جمعیت میں مدعو فرمایا۔ جنہوں نے کانفرنس کی کامیابی کے سلسلہ میں خاصی دلچسپی لی تھی تاکہ قرارداد کو عملی جامہ پہنانے کے لئے لائحہ عمل طے کیا جاسکے۔
مجلس تحفظ ختم نبوت دہلی کی تشکیل:
اس میٹنگ میں صوبہ دہلی کی مجلس تحفظ ختم نبوت کی تشکیل عمل میں آئی ۔ جس کو کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند کی شاخ قرار دیا گیا۔ اس مجلس کے صدر جناب الحاج ڈاکٹر سید محمد فاروق صاحب (ہما ڈرگ کمپنی ) اور جنرل سیکرٹری جناب الحاج قاضی اکرام الحسن صاحب ( صدر آل انڈیا مسلم ایکتا کمیٹی ) منتخب کئے گئے ۔ جب کہ خزانچی کے طور پر جناب الحاج عیسیٰ شفیق صاحب پیتل والے منتخب ہوئے ۔ نیز چار نائبین صدر اور چار سیکرٹری مقرر ہوئے ۔ ان کے علاوہ ۲۵/ اراکین منتخب ہوئے ۔ اس میٹنگ میں دہلی کے چھ مدارس عربیہ
تحریک ختم نبوت جلد(۷) ۱۹۹۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نے اس عزم کا اظہار فرمایا کہ وہ اپنے اپنے مدرسہ میں رد قادیانیت وعیسائیت کے لئے ایک مستقل مبلغ کا تقرر کریں گے۔ یہ بھی طے ہوا کہ دہلی کے مختلف علاقوں میں سال بھر میں چار جلسے کئے جائیں گے۔
دہلی مجلس کے دفتر کا افتتاح:
حضرت مولانا سید اسعد مدنی مدظلہ نے ۵؍ جولائی ۱۹۹۸ء کو مجلس تحفظ ختم نبوت دہلی کے عہدیداران واراکین کی میٹنگ بلائی۔ جس میں مجلس کے دفتر کے لئے مرکزی دفتر جمعیۃ علمائے ہند دہلی کا ایک کمرہ تجویز ہوا اور مجلس کا سالانہ بجٹ طے ہوا۔ ایک پارٹ ٹائم محرر اور ایک مبلغ کی تقرری کا فیصلہ ہوا۔ بفضلہ تعالیٰ ۱۴؍ جولائی ۱۹۹۸ء کو مجلس تحفظ ختم نبوت دہلی کے دفتر کا افتتاح بذریعہ حضرت مولانا اسعد صاحب مدنی مدظلہ عمل میں آیا۔ اس پروقار وسادہ افتتاحی تقریب میں اراکین مجلس کے علاوہ دیگر ذمہ داران دہلی نے بھی شرکت فرمائی۔ خداوند کریم بسلسلۂ تحفظ ختم نبوت ان کوششوں کو شرف قبولیت سے نوازے اور آئندہ بھی استقامت کے ساتھ مسلسل یہ خدمت انجام دیتے رہنے کی توفیق ارزاں فرمائے۔ آمین!
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۵؍ستمبر تا یکم اکتوبر ۱۹۹۸ء ص۱۰ تا ۱۷)
ختم نبوت کانفرنس دروغہ والا لاہور
۲۰؍ جون ۱۹۹۸ء بعد نماز عشاء دروغہ والا بند روڈ لاہور کی جامع مسجد میں عظیم الشان سیرت وختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ مولانا سید منور حسین صدیقی نے صدارت فرمائی۔ پروفیسر جناب محمد اسلم، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور مولانا اللہ وسایا نے خطاب فرمایا۔
ختم نبوت کانفرنس اوکاڑہ
۲۱؍ جون ۱۹۹۸ء بعد نماز عشاء مرکزی گول چوک جامع مسجد اوکاڑہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ اوکاڑہ شہر وضلع بھر کی تمام دینی جماعتوں اور مدارس عربیہ اور مجلس کے رہنماؤں نے بھر پور شرکت سے کانفرنس کو کامیاب بنایا۔ عالمی مجلس کے رہنماؤں مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اسماعیل، مولانا عبدالرزاق مجاہد، مجلس علمائے اہل سنت کے سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حقانی، مولانا عبدالکریم ندیم نے خطاب فرمایا کانفرنس رات ۲ بجے تک جاری رہی۔
ختم نبوت کانفرنس گوجرانوالہ
۲۲؍ جون ۱۹۹۸ء بعد نماز عشاء جامع مسجد عثمانیہ باغبان پورہ گوجرانوالہ میں ایک روزہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث تمام مکاتب فکر کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ کانفرنس رات گئے بخیر وخوبی اختتام پذیر ہوئی۔ دعا حضرت مولانا عبدالقدوس قارن نے فرمائی۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا حافظ گلزار احمد آزاد نے انجام دیئے۔ کانفرنس کے منتظم اعلیٰ مولانا محمد یوسف صاحب، مولانا حافظ محمد ثاقب صاحب اور مولانا فقیر اللہ اختر تھے۔ کانفرنس مولانا اللہ وسایا، مولانا عبدالغفور حقانی، مولانا عبدالکریم ندیم، مولانا قاری جمیل الرحمن اختر اور دیگر رہنماؤں نے خطاب فرمایا، کانفرنس مثالی طور پر کامیاب رہی۔
ختم نبوت کانفرنس شیخوپورہ
۲۳؍ جون ۱۹۹۸ء بعد نماز عشاء جامع مسجد عید گاہ شیخوپورہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جمعیت علمائے اسلام شیخوپورہ کے امیر مولانا عبداللطیف انور نے صدارت فرمائی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مولانا
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا اللہ وسایا، مولانا منور حسین صدیقی، مولانا فقیر اللہ اختر، مولانا عبدالغفور حقانی، مولانا عبدالکریم ندیم اور دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا، ضلع بھر سے وفود نے کانفرنس میں شرکت کی۔
ختم نبوت کانفرنس لاہور
۲۴؍ جون ۱۹۹۸ء بعد نماز مغرب جامع مسجد عائشہ مسلم ٹاؤن میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام پیر طریقت حضرت قبلہ سید انور حسین نفیس الحسینی دامت برکاتہم کی سرپرستی، الحاج بلند اختر نظامی، قبلہ حضرت قاری محمد یوسف عثمانی کی صدارت میں کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ لاہور کے ممتاز قانون دان جناب اسماعیل قریشی، جناب نذیر احمد غازی، اہل حدیث مکتب فکر کے رہنما جناب ابتسام الٰہی ظہیر، مولانا منور حسین صدیقی، مولانا اللہ وسایا، مولانا عبدالغفور حقانی، مولانا عبدالکریم ندیم نے خطاب کیا اسٹیج سیکرٹری پروفیسر ظفر اللہ شفیق صاحب تھے۔ قراردادیں مولانا محمد اسماعیل نے منظور کرائیں تلاوت قاری محمد علی نے کی۔ مولانا عزیز الرحمٰن صاحب مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور و شیخوپورہ کانفرنس کے نگران تھے۔ کانفرنس بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوئی۔
دیپال پور بار روم سے خطاب
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما مولانا اللہ وسایا نے دیپالپور ضلع اوکاڑہ کے بار روم میں ۲۵؍ جون ۱۹۹۸ء بروز جمعرات ۱۱ تا ۱۲ بجے خطاب فرمایا۔ بار روم میں وکلاء و عہدیداران و اراکین کی خاص تعداد موجود تھی۔ تحفظ ناموس رسالت ﷺ اور دفعہ ۲۹۵-سی پر آپ نے بھر پور دلائل سے روشنی ڈالی۔ بار روم کے صدر و سیکرٹری نے آپ کا خیر مقدم کیا بیان کے اختتام پر سوال و جواب کی محفل منعقد ہوئی اور شرکاء کی مشروبات سے تواضع کی گئی۔ شرکائے مجلس میں انگلش لٹریچر تقسیم کیا گیا۔
احمد آباد میں ختم نبوت کانفرنس
۲۵؍ جون ۱۹۹۸ء بعد نماز عشاء احمد آباد کی جامع مسجد میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جمعیت علماء پاکستان ادارہ منہاج القرآن کے رہنما کانفرنس کے میزبان تھے۔ کانفرنس سے مولانا اللہ وسایا، مجاہد ختم نبوت جناب عباس تمنا ایڈووکیٹ، مولانا عبدالرزاق مجاہد اور دوسرے رہنماؤں نے خطاب کیا۔ کانفرنس میں سرحدی علاقہ کے دیہات سے لوگوں نے وفود کی شکل میں شرکت کی۔ کانفرنس میں مثالی حاضری تھی کانفرنس رات گئے بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوئی۔
خطبہ جمعہ عارف والا
۲۶؍ جون ۱۹۹۸ء جمعہ کا خطبہ جامع مسجد فاروقیہ عارف والا میں مولانا اللہ وسایا نے ارشاد فرمایا۔ حضرت مولانا عبدالوہاب مہتمم جامعہ فاروقیہ اور مولانا محمد صدیق صاحب رشیدی کے حکم پر دوسرے دن بعد از صبح آپ کا بیان جامع مسجد تبلیغی مرکز میں ہوا۔
بہاول نگر بار روم سے خطاب
۲۷؍ جون ۱۹۹۸ء بروز ہفتہ بہاول نگر کے بار سے عالمی مجلس کے رہنما مولانا اللہ وسایا نے خطاب کیا۔ آپ نے اندرون و بیرون ملک قادیانی سرگرمیوں پر روشنی ڈالی۔ تقریباً دو سو وکلاء نے شرکت فرمائی اور بھر پور دلچسپی سے پروگرام میں حصہ لیا۔ شرکاء میں انگلش لٹریچر تقسیم کیا گیا۔ بار روم کے عہدیداران نے پروگرام کو کامیاب بنانے کے لئے وکلاء کا شکریہ ادا کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۱۹۹۸ء ص ۲۸ تا ۵۰)
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سہ روزہ رد قادیانیت کورس ایبٹ آباد
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع ایبٹ آباد کے امیر حضرت مولانا شفیق الرحمٰن صاحب کی زیر سر پرستی عظیم الشان سہ روزہ رد قادیانیت کورس ۲۵ تا ۲۷ / جون ۱۹۹۸ء مرکزی جامع مسجد ایبٹ آباد میں منعقد کیا گیا۔ اس کورس میں ایبٹ آباد اور مضافات کے علاوہ حویلیاں، ہری پور، مانسہرہ، بالاکوٹ، بٹل، بٹگرام، صوابی، نتھیا گلی، پشاور، چلاس، کوہستان گلگت اور آزاد کشمیر کے ۸۲ طلباء کرام نے شرکت کی۔ طلباء کے جذبات دیدنی اور عزائم بلند تھے، جس لگن اور جستجو کے ساتھ طلباء نے اس رد قادیانیت کورس میں شمولیت کی اس میں جذبات صدیقی کی صدائے بازگشت سنائی دیتی رہیں۔
لیکچرار نے جس اعلیٰ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے کورس کو چار چاند لگا دیئے اس کا سبب بھی طلبائے کرام کی لاجواب دلچسپی تھی۔ پہلے روز وقار گل جدون صدر ختم نبوت یوتھ فورس نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی اور طلباء کو قادیانی فتنہ کے خلاف آمادہ جہاد کیا۔
مولانا پروفیسر سید افسر علی شاہ نے مسیلمہ کذاب سے مسیلمہ پنجاب کے تعاقب تک امت کے جہاد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امت نے ختم نبوت کے تحفظ میں کبھی تساہل اور غفلت کا مظاہرہ نہیں کیا اور بڑی سے بڑی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ختم نبوت کا تحفظ ہی دراصل اسلام کا تحفظ ہے، ختم نبوت ہی وہ بنیاد ہے جس پر اسلام کی عالیشان عمارت استوار ہے اور مسلمانوں کے خون کی سرخی میدان یمامہ سے لے کر لاہور تک گواہی دیتی رہی کہ سب کچھ برداشت کیا جاسکتا ہے لیکن کوئی آنکھ حضور اکرم ﷺ کے بعد نبوت کی طرف خیرہ چشمی کرے یہ ہرگز برداشت نہیں کیا جاسکتا۔
ایچ ساجد اعوان نے پہلے دن حیات عیسیٰ علیہ السلام پر بیان کیا اور قادیانی اعتراض جسم عنصری کا آسمانوں پر جانا محال ہے کے جواب میں قرآن وحدیث سے دلائل بیان کئے اور رفع وحیات ونزول عیسیٰ علیہ السلام پر سیر حاصل بحث کی۔
دوسرے دن عقیدہ ختم نبوت قرآن وحدیث سے بیان کیا گیا اور اجرائے نبوت کے قادیانی ڈھکوسلوں کے اطمینان بخش جواب دیئے۔
تیسرے روز کذبات مرزا، مرزا قادیانی کی پیشین گوئیاں اور اس کا انجام اور مرزا قادیانی کے مباہلے اور اس کے نتیجے میں ہونے والی اس کی موت کو تفصیلاً بیان کیا۔ آخر میں مجاہدین ختم نبوت کی بارگاہ الوہیت اور بارگاہ نبوت میں مقبولیت تاریخی حوالوں سے بیان کی گئی اور یوں طلباء کرام کو اس راستہ پر ڈال دیا گیا جو انہیں محبان خدا کی جماعت میں شامل کردے۔ ۸۲ طلباء کرام میں جن طلباء نے اسناد حاصل کیں ان کے اسماء گرامی درج ذیل ہیں:
مولانا حمید الدین خطیب کابلی مسجد ایبٹ آباد، حافظ عبید الرحمٰن، انجم نواز خان ایبٹ آباد، جہانزیب خان ایبٹ آباد، محمد داؤد ایبٹ آباد، محمد شفیق ایبٹ آباد، خالق داد ایبٹ آباد، مقبول الرحمٰن مظفر آباد آزاد کشمیر، محمد اسماعیل صوابی، محمد ابراہیم ایبٹ آباد، عطاء اللہ خان ایبٹ آباد، محمد میر چلاس، عبد الغنی بالاکوٹ، مشتاق احمد بٹل، سلمان خان ایبٹ آباد، اعجاز احمد البدر ایبٹ آباد، اعجاز فاروقی نتھیا گلی، ظہیر احمد بالاکوٹ، محمد توفیق ایبٹ آباد، اقبال حسین ایبٹ آباد، طاہر محمود حویلیاں، عبد الرزاق ایبٹ آباد، حافظ احسان اللہ بٹگرام، رسول خان پشاور، وصی الدین ایبٹ آباد، عمران جاوید ایبٹ آباد، تصور ادریس بٹ ایبٹ آباد، عقیل احمد ایبٹ آباد، مظہر خان جدون ایبٹ آباد، محمد مقتدی کوہستان، آصف الٰہی ، ایبٹ آباد، عبد الصمد ایبٹ آباد، محمد لیاقت ایبٹ آباد، ضیاء الرحمٰن ایبٹ آباد، شیخ
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
خالد ایبٹ آباد ، شاہد خان ایبٹ آباد، طارق خان ایبٹ آباد، محمد الیاس ایبٹ آباد، عمر فاروق ایبٹ آباد، سید مجتبیٰ ایبٹ آباد ، مجاہد علی شاہ ایبٹ آباد ، قاری خاقان ایبٹ آباد ، مولانا قاری عبدالرحمن، قاری محمد صابر ایبٹ آباد ، قاری عبداللہ بٹگرام ، ساجد ایبٹ آباد ، بیدار احمد ہری پوری ، محمد شعیب ایبٹ آباد، عبدالغنی بٹل ، عبدالعزیز بٹل ، اعتبار گل ایبٹ آباد، فیصل خان ایبٹ آباد، میاں داد جان ہری پور ، وارث علی ایبٹ آباد ، سید جواد حیدر شاہ ایبٹ آباد ، ناصر محمود ایبٹ آباد ، جہانگیر خان ایبٹ آباد، محمد نثار عالم ایبٹ آباد، محمد اقبال گلگت ، محمد زبیر ایبٹ آباد، سید افتخار ایبٹ آباد، محمد ریاض ایبٹ آباد، محمد نیاز ایبٹ آباد، عامر محمود مانسہرہ، زخشیر ایبٹ آباد، اختر ایبٹ آباد، سلطان شاہ گلگت اور عبد الحفیظ گلگت نے شرکت کی۔
شرکاء اجلاس کو اسناد حضرت مولانا شفیق الرحمن خطیب ہزارہ نے پیش کیں اس موقع پر انہوں نے کہا آج ہم بحمداللہ رد قادیانیت کورس اخبارات میں اعلان کر کے ڈنکے کی چوٹ پر کر رہے ہیں اور مرزا قادیانی اور اس کے پیروکاروں کو کافر بتا رہے ہیں اس کے پیچھے علماء کرام کی ایک سو سال کی محنت ہے۔ انہوں نے کارکنان ختم نبوت کو تلقین کی کہ وہ علماء حق کے ساتھ وابستہ رہیں اور ان کی سرپرستی میں اس مقدس مشن کا پھریرا لہراتے رہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی ختم نبوت کے سلسلہ میں بھر پور قربانیاں دی تھیں اور آئندہ بھی وہ آپ کے شانہ بشانہ چلنے کے لئے تیار ہیں۔ مولانا شفیق الرحمن نے کہا کہ اب قادیانی فتنہ کے دن گنے جا چکے ہیں جس قدر آج بیداری اس سلسلہ میں پائی جاتی ہے آج سے پہلے ہم نے عوام میں یہ جوش وخروش اور جذبات نہ پائے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک مرزائیت صفحہ ہستی سے مٹا نہیں دی جاتی آنکھوں کی یہ سرخی اور دلوں کی یہ گرمی ٹھنڈی نہیں ہونی چاہئے۔ مولانا شفیق الرحمن نے ہی دعا کرائی اس کے ساتھ ہی تحفظ ختم نبوت یوتھ فورس سٹی ایبٹ آباد یونٹ کے زیر اہتمام ہونے والا یہ سہ روزہ رد قادیانیت کورس اختتام پذیر ہوا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۴ تا ۳۰ / جولائی ۱۹۹۸ء ص ۲۶)
ختم نبوت کانفرنس فیروزہ
ضلع رحیم یار خان عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام چار روزہ پروگرام منعقد ہوئے۔ پروگرام کے تحت ۲۸ جون بعد از ظہر جامع مسجد مرکزی مدرسہ مدینۃ العلوم فیروزہ میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ مولانا سید حامد علی شاہ صاحب دامت برکاتہم نے صدارت فرمائی۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا شفیق الرحمن درخواستی ، مولانا خالد محمود دین پوری ، مولانا حقانی ، عالمی مجلس کے رہنما مولانا خدا بخش ، مولانا اللہ وسایا ، مولانا حافظ احمد بخش کے بیانات ہوئے۔
ختم نبوت کانفرنس لیاقت پور
۲۸ / جون ۱۹۹۸ء بعد نماز عشاء مدرسہ قاسم العلوم لیاقت پور میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ حضرت مولانا حماد اللہ درخواستی ، حضرت مولانا عبدالقادر ملکانی، حضرت مولانا شفیق الرحمن درخواستی اور مولانا اللہ وسایا کے بیانات ہوئے۔ مدرسہ قاسم العلوم کے مہتمم نے کانفرنس کی صدارت فرمائی۔
ختم نبوت کانفرنس ظاہر پیر
۲۹ / جون ۱۹۹۸ء بعد از ظہر جامع مسجد مدرسہ احیاء العلوم ظاہر پیر ضلع رحیم یار خان میں جمعیت علماء اسلام ضلع رحیم یار خان کے امیر حضرت مولانا منظور احمد نعمانی کی صدارت میں کانفرنس منعقد ہوئی۔ جامع مسجد کھچا کھچ بھری ہوئی تھی۔ جانشین حضرت دین پوری مولانا
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
خالد محمود دین پوری، مولانا محمد حنیف حقانی، مولانا حافظ احمد بخش اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما حضرت مولانا خدا بخش، مولانا اللہ وسایا کے بیانات ہوئے۔ کانفرنس حضرت مولانا منظور احمد نعمانی کی دعا پر اختتام پذیر ہوئی۔ حضرت مولانا منظور احمد نعمانی نے اپنے صدارتی بیان میں فرمایا کہ ظاہر پیر نے تحریک ختم نبوت میں ہمیشہ بھر پور طریقے سے حصہ ڈالا ہے۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں خود مولانا منظور احمد نعمانی نے کراچی جا کر آرام باغ سے گرفتاری دی اور ۳ ماہ تک سینٹرل جیل کراچی میں گزارے۔ ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت میں مدرسہ کے تقریباً دس افراد نے گرفتاری دی۔ ۱۹۸۶ء میں اسی علاقہ میں شیزان قادیانی مشروبات ساز فیکٹری کی مصنوعات کے بائیکاٹ کی تحریک چلائی گئی۔ ظاہر پیر، سردار گڑھ، رکن پورہ وغیرہ علاقہ میں آج تک شیزان کی مصنوعات کا بائیکاٹ جاری ہے۔ مولانا نے سامعین سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ قادیانیوں کا مکمل بائیکاٹ کریں۔ آپ نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو اپنے بھر پور تعاون کا یقین دلایا۔
ختم نبوت کانفرنس خانپور
۲۹/ جون ۱۹۹۸ء بعد از عشاء خانپور ضلع رحیم یار خان کی عظیم دینی درس گاہ جامعہ عبداللہ بن مسعود میں عالمی مجلس کے زیر اہتمام ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ حضرت مولانا شفیق الرحمن درخواستی، مناظر اسلام مولانا خدا بخش، مولانا اللہ وسایا اور دوسرے رہنماؤں نے ایمان پرور بیانات کئے۔
رحیم یار خان بار روم سے خطاب
۳۰/ جون ۱۹۹۸ء دوپہر کو بار روم میں رحیم یار خان کے قانون دانوں وکلاء حضرات سے مولانا اللہ وسایا نے خطاب فرمایا بار روم کھچا کھچ حاضرین سے بھرا ہوا تھا۔ وکلاء و عدلیہ کے اراکین نے شرکت کی، حضرت قاری محمد اکمل صاحب غلہ منڈی، حضرت اقدس قبلہ مولانا قاضی عزیز الرحمن صاحب مہتمم جامعہ قاسمیہ نے اس پروگرام کو کامیاب بنانے میں خصوصی دلچسپی لی۔ بار روم کے عہدیداران نے بھر پور کامیاب پروگرام پر شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔
ختم نبوت کانفرنس رحیم یار خان
۳۰/ جون ۱۹۹۸ء بعد نماز عشاء جامعہ قادریہ کی جامع مسجد میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ حضرت مولانا قاضی حفظ الرحمن نے اسٹیج سیکرٹری کے فرائض انجام دیئے۔ مہمانان خصوصی حضرت مولانا شفیق الرحمن درخواستی، حضرت مولانا خدا بخش، مولانا اللہ وسایا، مولانا عبدالرؤف ربانی نے ایمان پرور بیانات کئے۔
ختم نبوت کانفرنس بستی لکھن
یکم/ جولائی ۱۹۹۸ء دن کو صادق آباد بستی لکھن کے معروف دینی ادارہ مدرسہ مدینۃ العلوم میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ حضرت مولانا عبدالقیوم ہالیچوی نے صدارت فرمائی۔ مولانا حقانی، مولانا شفیق الرحمن درخواستی، مولانا خدا بخش، مولانا احمد بخش، مولانا اللہ وسایا اور مولانا خالد محمود دین پوری کے بیانات ہوئے۔
ختم نبوت کانفرنس صادق آباد
یکم/ جولائی ۱۹۹۸ء بعد نماز عشاء فیصل اکیڈمی جامع مسجد قبرستان والی صادق آباد میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حضرت مولانا محمد ادریس انصاری کے جانشین حضرت میاں سعید احمد نے صدارت فرمائی۔ کانفرنس کے نگران ومنتظم حضرت مولانا مشتاق احمد صاحب کی دعوت پر تمام شہر کے علماء، خطباء، وکلاء، تجار اور دینی وسیاسی رہنماؤں نے کانفرنس میں شرکت کی۔ مجاہد ملت مولانا عبدالرؤف ربانی، مولانا شفیق الرحمن، مولانا اللہ وسایا کے تفصیلی بیانات ہوئے۔
سیرت النبی کانفرنس چناب نگر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۳؍جولائی ۱۹۹۸ء بروز جمعہ صبح دس بجے محمدیہ مسجد ریلوے اسٹیشن چناب نگر میں سیرت النبی ﷺ کانفرنس منعقد ہوئی۔ سرگودھا مجلس کے امیر قاری عبدالستار رندھاوا نے صدارت فرمائی۔ ملک کے معروف نعت خوان محمد شریف منچن آبادی نے نعتیہ کلام پیش کیا۔ جامع مسجد محمدیہ کے خطیب مولانا محمد محبوب نے اسٹیج سیکرٹری کے فرائض انجام دیئے۔ کانفرنس کے نگران اعلیٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت چناب نگر کے منتظم اعلیٰ جناب مولانا غلام مصطفیٰ صاحب تھے۔ مولانا عبدالواحد مخدوم، حضرت مولانا مغیرہ خطیب احرار، حضرت مولانا احمد چاریاری، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بزرگ رہنما مولانا خدا بخش، حضرت مولانا اللہ وسایا کے بیانات ہوئے۔ ڈاور، مخدوماں، احمد نگر، کالووال، لالیاں اور گردونواح سے عوام نے قافلوں کی صورت میں شرکت کی۔ کانفرنس کے انتظامات کے لئے حضرت حافظ محمد یوسف صاحب و ڈاکٹر شیر محمد مخدوم نے دوسرے رفقاء سمیت بھر پور حصہ لیا۔
مڈھ رانجھا میں سیرت النبی ﷺ کانفرنس
۴؍ جولائی ۱۹۹۸ء بعد نماز عشاء جامع مسجد شکرانی مڈھ رانجھا میں سیرت النبی ﷺ کانفرنس منعقد ہوئی۔ جامع مسجد شکرانی کے خطیب حضرت مولانا عطاء اللہ نے صدارت فرمائی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما مولانا اللہ وسایا نے خطاب فرمایا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۱۹۹۸ء ص ۱۵ تا ۵۳)
تحفظ ناموس رسالت سیمینار سرگودھا
۸؍ مئی ۱۹۹۸ء جمعہ کو ختم نبوت اکیڈمی لکڑ منڈی شبان ختم نبوت کی طرف سے ”تحفظ ناموس رسالت“ سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ سیمینار کی صدارت امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد مدظلہ نے فرمائی۔ بحمد اللہ آپ صبح دس بجے بروز جمعہ دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لکڑ منڈی میں تشریف لے آئے۔ اشتہار میں یہ اعلان بھی واضح تھا کہ جمعۃ المبارک حضرت الامیر پڑھائیں گے لوگ جوق در جوق ختم نبوت اکیڈمی میں پہنچنا شروع ہوگئے اور مجمع اس قدر امڈ آیا کہ مسجد بھی بھر گئی اور اکیڈمی کا صحن اور درسگاہ بھی نمازیوں اور نوجوانوں سے بھر گئی گویا کہ حضرت الامیر کا جمعہ پڑھانے کا اعلان سونے پر سہاگہ ہو گیا۔ ایک بجے مولانا اللہ وسایا نے بیان شروع کیا آپ نے ناموس رسالت کے عنوان کے حوالے سے حضور اکرم ﷺ کی مشہور حدیث کی تلاوت فرمائی اور اپنے مخصوص انداز میں حضور اکرم ﷺ کی سیرت طیبہ پر روشنی ڈالی، مجمع میں غالباً کوئی شخص ہوگا جو حضور ﷺ کے حالات عجیبہ سن کر نہ رویا ہو۔ ان کے بعد مولانا محمد اکرم طوفانی نے ناموس رسالت اور مسلمانوں کی ذمہ داریوں کے حوالہ سے خطاب فرمایا۔
مجمع سے ہاتھ کھڑے کر کے وعدہ لیا گیا ہم ان شاء اللہ حضور اکرم ﷺ کی ناموس کے لئے ہر قسم کی قربانی دیں گے۔ اس کے بعد حضرت الامیر نے دعا فرمائی اور مولانا اکرم طوفانی نے خطبہ جمعہ پڑھا اور یہ تقریب تقریباً تین بجے حضرت الامیر کی دعا سے اختتام پذیر ہوئی۔ آپ یقین کریں ڈھائی سو آدمی کے لئے روٹی کا انتظام کیا گیا تھا کہ اچانک مجمع بڑھ جانے کی وجہ سے خیال آیا کہ کیا بنے گا۔ حضرت
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
الامیر کی دعا سے کھانا شروع کرایا گیا اور تقریباً پانچ سو آدمیوں نے کھانا کھایا اور بحمد اللہ پھر بھی بچ گیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۹ تا ۲۵ / جون ۱۹۹۸ء ص ٹائٹل پیج نمبر ۳)
ختم نبوت کانفرنس چنڈی گڑھ
گزشتہ کچھ عرصہ سے قادیانیوں نے پنجاب میں اپنی ریشہ دوانیاں تیز کر دی ہیں۔ تقسیم ہند کے بعد وہ بھولے بھالے مسلمان جو پنجاب کے مختلف شہروں اور دیہاتوں میں نہایت قلیل تعداد میں رہ کر اپنے دین و ایمان کو محفوظ رکھے ہوئے ہیں۔ اب قادیانیوں نے انکی غفلت سے فائدہ اٹھا کر خود کو مسلمان ظاہر کر کے انہیں دین اسلام سے ہٹانے کی اور مرزائی مذہب میں داخل کرنے کی مہم تیز کر دی ہے۔ کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند کی کوششوں سے چنڈی گڑھ شہر میں مرکزی دفتر کے زیرنگرانی ایک کمیٹی بنام مجلس تحفظ ختم نبوت چنڈی گڑھ، ہریانہ، وہماچل پردیش قائم کی گئی۔ جو باوجود بے سروسامانی کے متعدد کارہائے نمایاں انجام دے چکی ہے۔ الحمد للہ ! مجلس کی مساعی جمیلہ سے تینوں صوبوں کے متعدد دیہاتوں میں بے شمار افراد کو جو قادیانیت سے متاثر یا قادیانیت کی لعنت کا طوق گلے میں ڈال چکے تھے، ہدایت نصیب ہوئی ہے۔
مجلس کی مساعی جمیلہ میں سے یہ ایک عظیم کارنامہ ہے کہ اس سال ۱۲/ربیع الاوّل مطابق ۹/ جولائی ۱۹۹۸ء کے موقع پر چنڈی گڑھ کی جامع مسجد کے وسیع وعریض پارک میں تحفظ ختم نبوت کانفرنس بلانے کا اہتمام کیا اور جس جگہ دو افراد کا جمع ہونا مشکل تھا وہاں ڈیڑھ ہزار سے زائد شیدائیان ختم نبوت دیکھنے میں آئے اور بعد نماز مغرب ساڑھے سات بجے پروگرام شروع ہوا اور رات کے ساڑھے بارہ بج گئے پھر بھی مجمع سے کوئی ایک فرد اٹھنے کے لئے تیار نہ تھا، کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے دارالعلوم سے راقم الحروف وحضرت قاری شفیق الرحمن، صوبہ ہریانہ سے جناب حضرت مولانا مفتی محمد طیب مہتمم مدرسہ بدرالعلوم، یمنا نگر ہریانہ، ہماچل سے جناب مولانا محمد ممتاز احمد، جناب مولانا محمد ظہیر صاحب، جناب مولانا محمد طاہر صاحب قاسمی آرگنائزر جمعیت علماء ہند برانچ پنجاب و ہماچل و ہریانہ کو دعوت دی گئی تھی، جب کہ اسٹیج پر مقامی علماء کرام کے علاوہ بعض اخباری نمائندے اور جلسے میں بعض صوبائی وزراء بھی موجود تھے۔ طے شدہ پروگرام کے مطابق ٹھیک ساڑھے سات بجے جناب مولانا محمد شکیل احمد ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت چنڈی گڑھ نے مائک سنبھالا تلاوت قرآن مجید ونعت شریف کے بعد جناب مولانا محمد اجمل خاں صاحب خطیب جامع مسجد کو دعوت سخن دی موصوف نے زیر صدارت حضرت مولانا ظہیر عالم صاحب بدر قاسمی اجلاس کی کارروائی آگے بڑھانے کی عوام وخواص سے تائید پا کر مختصر لفظوں میں جلسہ کے اغراض ومقاصد بیان کئے۔
موصوف نے بتایا کہ چنڈی گڑھ اور اس کے اطراف وجوانب میں عوام کی جہالت سے قادیانیوں نے فائدہ اٹھانا شروع کر دیا ہے۔ اس لئے وقت کا تقاضا ہے کہ امت مسلمہ کے ہر فرد کو اس فتنہ کی زہر آلودگی اور خطرناکی سے آگاہ کیا جائے تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارا کوئی مسلمان بھائی ناواقفیت کیوجہ سے اسلام کے نام پر اسلام سے نکل کر قادیانی اور مرتد بن جائے اور اسے خبر بھی نہ ہو۔ مولانا اجمل خان صاحب کے بیان کے بعد صدر جلسہ مولانا ظہیر عالم قاسمی صاحب نے مجمع سے خطاب کیا اور ہماچل و ہریانہ اور پنجاب میں ہونے والی قادیانی ریشہ دوانیوں کی مختصر روداد سناتے ہوئے ہر عام وخاص کو اس صورتحال سے بیدار رہنے کی تاکید فرمائی۔ مولانا کے بعد جناب مولانا قاری شفیق الرحمن صاحب مدظلہ نے تقریباً ایک گھنٹہ تک مقررانہ انداز بیان سے مجمع کو مسحور کئے رکھا۔ جناب قاری صاحب کا موضوع سیرت النبی تھا۔ موصوف نے اس موضوع میں اس پہلو کو بھی اپنایا، جس سے باطل فرقوں اور بالخصوص مدعیان نبوت کی خوب خوب قلعی کھلی۔
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء
ان کے بعد جناب مولانا شکیل احمد صاحب نے مجلس کی کارگزاری پڑھ کر سنائی جو تقریباً ۱۲ صفحات پر مشتمل تھی اور بتایا کہ اب تک مجلس کے پاس مستقل کوئی فنڈ نہیں بس اہل خیر حضرات کے بذل ہمت سے سارے کام انجام دئے جا رہے ہیں۔
مختصر مدت میں اور اس بے سروسامانی کے عالم میں مجلس کی مساعی جمیلہ دیکھ کر مجمع کا دل باغ باغ ہو گیا۔
الحمدللہ! جلسہ کی یہ کاروائی چلتی رہی ادھر دشمنان اسلام قادیانیوں کا کلیجہ جلتا رہا۔ ”کھسیانی بلی کھمبا نوچے“ کے مصداق کچھ نہ ہو سکا تو اس سیکٹر کی بجلی غائب کرادی گئی، مگر گھنٹوں بجلی اور مائک نہ ہونے کے باوجود مجمع سے ایک فرد بھی نہ ہلا۔ جب کہ جلسہ طے شدہ پروگرام کے مطابق صرف ۹ بجے تک چلنا تھا اور دس بج گئے تھے، پھر بھی مجمع پرسکون تھا۔ دریں اثنا اناؤنسر راقم سطور کو دعوت دی۔ بیٹھتے ہی بندہ نے اخباری نمائندوں کو مرزا قادیانی کے ان دعاوی کے حوالے نوٹ کرا دینا ضروری سمجھا جن کا ذکر پہلے مقررین کے بیان میں آچکا تھا تاکہ بات پکی ہوجائے اور مجمع میں جو متاثرین ہوں انہیں بھی کوئی شک وشبہ نہ رہ جائے۔
حوالہ جات نوٹ کرانے کے بعد بندہ نے ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ اور موجودہ زمانہ میں اس کی ضرورت پر روشنی ڈالی کیونکہ یہی موضوع بندہ کے لئے منتخب کیا گیا تھا۔ اس ضمن میں مختصر سی باتیں ناچیز نے مجمع کے سامنے رکھیں کہ الحاد و بے دینی کا دور ہے جو چاہتا ہے ہمارے قرآن مجید کے خلاف اسلامی تعلیمات کے خلاف اٹھتا ہے اور دھڑلے سے اس کی بے حرمتی کرتا ہے اور ہم خاموش تماشائی بنے بیٹھے رہتے ہیں کیا ہماری غیرت وحمیت کا یہی تقاضا ہے؟ ہمارے اکابر نے جان وخون کا نذرانہ دے کر ہم تک یہ دین پہنچایا ہے ہونا تو یہ چاہئیے کہ ہم بھی تن من دھن کی قربانی پیش کریں اور اسلامی تعلیمات کو اپنے سینے سے لگائے رکھیں۔
قادیانیوں نے اسلام کے خلاف بغاوت کا جھنڈا بلند کر رکھا ہے اسلام کے نام پر اسلام کی بیخ کنی میں لگے ہوئے ہیں اسلامی تعلیمات کو مسخ کر کے اسلام ہی کے نام پر پیش کر رہے ہیں اور یہیں چنڈی گڑھ اور اس کے اطراف وجوانب میں یہ سب کچھ ہو رہا ہے، مسلمانوں کے ایمان کو خریدا جا رہا ہے۔ اس فتنہ کے سدباب کے لئے مجلس تحفظ ختم نبوت کا قیام لازمی تھا۔ راقم سطور کے بیان کے بعد جناب مفتی محمد طیب صاحب نے بیان فرمایا موصوف نے اپنے مختصر مگر جامع بیان میں قادیانیوں کی اسلام دشمن طاقتوں سے بالخصوص انگریزوں سے پرانی اور نئی دوستی کا پردہ فاش کیا اور سوا بارہ بجے حضرت مفتی صاحب ہی کی دعا پر اجلاس اختتام پذیر ہوا، دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو نافع بنائے اور معاونین بالخصوص مولانا محمد عمران صاحب اور ان کے رفقاء کار کو اجر عظیم عطا فرمائے۔ (مولانا قاری محمد سلیمان منصور پوری)
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۷؍نومبر تا ۳؍دسمبر ۱۹۹۸ء ص۱۹ تا ۲۱)
ٹنڈوآدم میں سالانہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس
ٹنڈوآدم شہر شمع ختم نبوت کے پروانوں کا شہر ہے یہاں ہر سال عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت وشبان ختم نبوت کے زیر اہتمام ختم نبوت کانفرنس ہوتی ہے۔ حسب سابق اس سال بھی ۱۰؍ جولائی ۱۹۹۸ء بروز جمعتہ المبارک کو ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔
کانفرنس کی پہلی نشست کا آغاز صبح گیارہ بجے ہوا۔ پہلی نشست میں حضرت مولانا محمد نذر صاحب حیدرآباد اور مرکزی جنرل سیکرٹری حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری صاحب نے خطاب فرمایا۔ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ ہر مسلمان کی غیرت کا تقاضا ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کے بدترین دشمن اور گستاخ ٹولہ قادیانیت کا مکمل بائیکاٹ کرے۔ اگر مسلمان صرف اور صرف بائیکاٹ ہی کر لیں تو قادیانی یا تو مسلمان ہو جائیں گے یا ملک چھوڑ کر بھاگ جائیں گے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دوسری نشست کا آغاز بعد نماز جمعہ حافظ عبدالوحید رحمانی کی تلاوت قرآن سے ہوا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ٹنڈو آدم کے رہنما جناب محمد اعظم قریشی نے نظم پیش کی۔ ان کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ حضرت مولانا محمد علی صدیقی صاحب نے فتنہ قادیانیت پر سیر حاصل خطاب کیا۔ ان کے بعد کانفرنس کے اسٹیج سیکرٹری عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا راشد مدنی نے خطاب کیا اور انہوں نے کہا کہ موجودہ بدامنی لاقانونیت قتل و قتال درحقیقت خدا کا عذاب ہے۔ اس جرم میں کہ ہم فخر موجودات وجہ تخلیق کائنات حضرت محمد ﷺ کی ختم نبوت و عزت و ناموس سے چشم پوشی کر رہے ہیں اور آپ کے دشمنوں سے نرمی کا برتاؤ کر رہے ہیں۔
کانفرنس کی تیسری نشست بعد نماز عصر شروع ہوئی، جس میں حضرت مولانا عبدالقیوم عباسی نے سیرت النبی ﷺ پر خطاب کیا۔ اس کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ حضرت مولانا مفتی حفیظ الرحمن صاحب رحمانی نے سوال و جواب کی نشست میں مختلف سوالات کے جوابات دیئے اور قانون توہین رسالت پر عیسائی اور دیگر اسلام دشمن گروہوں کے اعتراضات کے جوابات دیئے۔
چوتھی اور آخری نشست عشاء کی نماز کے بعد چھتری چوک ٹنڈو آدم پر ہوئی۔ آغاز دارالعلوم ختم نبوت کے مدرس قاری شیر محمد بلوچ کی تلاوت قرآن سے ہوا۔ تلاوت کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے حضرت مولانا خان محمد جمالی نے نظم پیش کی۔ اس کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ٹنڈو الہ یار کے رہنما مولانا محمد راشد صاحب، نواب شاہ کے رہنما مولانا ارشد مدنی صاحب، مولانا اسجد مدنی صاحب نے تقاریر کیں۔ ان کے بعد مولانا نذیر احمد تونسوی نے عقیدہ ختم نبوت پر تفصیلی خطاب کیا۔ حیدر آباد کے خطیب قاری محمد کامران صاحب نے سیرت النبی ﷺ کے عنوان پر قاری محمد حنیف ملتانی مرحوم کے انداز و آواز میں خطاب کر کے ایمان تازہ کر دیا۔ مولانا بشیر احمد مرکزی ناظم تبلیغ نے تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء، ۱۹۷۴ء، ۱۹۸۴ء کے حالات و واقعات بیان کئے۔ اس کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ نے عقیدہ ختم نبوت پر مفصل خطاب فرمایا۔ حضرت لدھیانوی کے خطاب کے بعد مولانا اللہ وسایا صاحب نے سیرت النبی ﷺ پر تفصیلی خطاب فرمایا۔
آخر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما حضرت علامہ احمد میاں حمادی صاحب نے علماء کرام، معززین شہر اور عوام کا شکریہ ادا کیا۔ کانفرنس میں تمام مقررین نے حکومت کو متنبہ کیا کہ اگر حکومت نے قانون توہین رسالت میں ترمیم یا تبدیل کیا گیا تو سخت مزاحمت کی جائے گی اور مطالبہ کیا کہ عیسائیوں کو پابند کیا جائے کہ وہ اشتعال انگیزیوں سے باز آ جائیں۔ حاضرین جلسہ نے تحفظ ختم نبوت و ناموس رسالت کے لئے علماء کرام قائدین تحریک ختم نبوت کی قیادت میں ہر قسم کی قربانی دینے کا وعدہ کیا۔ اس طرح یہ کانفرنس رات ڈیڑھ بجے علامہ احمد میاں حمادی صاحب کی دعا کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۱۹۹۸ء ص ۵۲، ۵۳)
تیرھویں عالمی ختم نبوت کانفرنس برمنگھم
مولانا خواجہ خان محمد، امیر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت : قادیانی اسلام کے متوازی ایک ایسا مذہب ہے جس کو سامراجی طاقتوں کی سیاسی سرپرستی حاصل ہے اس کا بنیادی مقصد اسلام کی بنیادوں کو منہدم کرنا اور عالم اسلام کے مسلمانوں کو کمزور کرنا ہے اور اس کا واضح ثبوت اس وقت آسانی سے مل جاتا ہے جب ابتدا سے تحریک قادیانیت کا مطالعہ کیا جائے۔ گزشتہ سو سالہ تاریخ میں کوئی ایک فرد بھی ایسا نہیں بتایا جا سکتا جو غیر مسلم سے قادیانی ہوا ہو بلکہ آج تک کسی غیر مسلم کو قادیانیت کی تبلیغ کا ثبوت بھی نہیں ملتا۔ جس جگہ مسلمان علمی یا عملی طور پر کمزور نظر آتے ہیں قادیانی ان کو پہلے اسلام کے بارے میں شکوک وشبہات میں مبتلا کرتے ہیں اور پھر اسلام کے نام پر اپنے
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ساتھ وابستہ کر کے نبی اکرم ﷺ سے اس کا رشتہ منقطع کر دیتے ہیں۔ دنیا میں کوئی فرقہ یا مکتب فکر ایسا نہیں جو ان کے عقائد سے آگاہ ہونے کے بعد ان کو مسلمان سمجھتا ہو۔ لوگوں کو دھوکہ میں مبتلا کرنے کے لئے یہ علماء کرام کی بدعملی کا رونا روتے ہیں یا فرقہ واریت کی بات کر کے مسلمانوں کو دین سے برگشتہ کرنا چاہتے ہیں۔
الحمد للہ! برصغیر کے مسلمانوں نے علماء کرام خصوصاً حضرت مولانا سید انور شاہ کشمیری، امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی قیادت میں ان کی ارتدادی سرگرمیوں کا بھر پور مقابلہ کیا پہلے عدالتی اور پھر قومی اسمبلی اور پھر عوامی سطح پر ان کے عقائد واضح کر کے ان کو غیر مسلم اقلیت قرار دلایا۔ اس کا نتیجہ ہے کہ یہ اب چھپ کر اسلام کے نام پر نوجوان نسل کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اس وقت ان کا سب سے بڑا ہدف یورپ کی نوجوان مسلمان نسل اور افریقی ممالک کے غریب مسلمان ہیں ایک طرف یہودیت اور عیسائیت مسلمانوں کے درپے ہیں۔ دوسری طرف یہ آستین کے سانپ بن کر مسلمانوں کو نقصان پہنچاتے ہیں اس صورتحال کے پیش نظر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مسلمانوں کو اس جماعت کی ارتدادی سرگرمیوں سے بچانے کے لئے ملک اور بیرون ملک جو فریضہ انجام دے رہی ہے وہ بہت ہی سعادت ہے۔ اس سعادت کے حصول میں ہر مسلمان کا حصہ لینا مذہبی فریضہ ہے۔ میں مسلمانان یورپ سے اپیل کروں گا کہ وہ حضور اکرم ﷺ کی عظمت کے لئے اس کانفرنس کو ہمیشہ بھر پور طور پر کامیاب بنائیں اور جوق در جوق اس میں شریک ہوں۔ کانفرنس کی کامیابی عقیدہ ختم نبوت سے مسلمانوں کی وابستگی کی بڑی دلیل ہے۔
مولانا محمد یوسف لدھیانوی کالم نگار ”آپ کے مسائل اور ان کا حل“: نبی کریم ﷺ کے آخری دور ہی سے جھوٹے مدعیان نبوت نے اسلام کو نقصان پہنچانے کا سلسلہ شروع کیا۔ اس فہرست میں اسود عنسی اور مسیلمہ کذاب ابتدائی نام ہیں۔ جب کہ مرزا غلام احمد قادیانی گزشتہ صدی کا جھوٹا مدعی نبوت ہے جس کے پیروکار دنیا بھر میں اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر کے غریب و کم علم مسلمانوں کو اسلام سے دور کر کے اسلام کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ امت مسلمہ کا ہمیشہ سے یہ عقیدہ رہا ہے اور امت کا اس پر پہلا اجماع بھی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس میں اس طرح شراکت جائز نہیں، جس طرح توحید میں شراکت جائز نہیں اسی بنا پر سیدنا صدیق اکبر ؓ نے باوجود تمام مشکلات کے جھوٹے مدعیان نبوت کے خلاف جہاد کیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے ایسے وقت کا انتخاب کیا جب مسلمان انگریزوں کی غلامی میں جکڑے ہوئے تھے، ان پر مظالم کے پہاڑ توڑے جا رہے تھے، علماء کرام انگریزوں کے خلاف جہاد آزادی میں مصروف تھے، ایسے وقت میں مرزا غلام احمد قادیانی نبوت کا دعویٰ کر کے جہاد کو حرام قرار دیتا ہے، انگریزی حکومت کو خدا کا سایہ قرار دیتا ہے، اور ملکہ برطانیہ کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے تعبیر کرتا ہے۔ مسلمانوں کو اس صورت حال میں جو پریشانی ہوئی ہوگی اس کا تصور آج کے دور میں کرنا مشکل ہے اس کے باوجود مسلمان نہ صرف اس کو مسترد کرتے ہیں بلکہ اس کی ارتدادی سرگرمیوں کی روک تھام کرتے ہیں۔ سو سالہ اس جہاد کی طویل کہانی ہے پاکستان میں غیر مسلم اقلیت قرار پانے کے بعد قادیانی جماعت یورپ کو اپنا مرکز بنا کر پاکستان کے خلاف اور مسلمانوں کے خلاف زہریلے پروپیگنڈے میں مصروف ہو جاتی ہے۔ امریکہ اس بات کا شاہد ہے کہ قادیانی جماعت پاکستان اور اسلام کے خلاف مصروف عمل ہے۔ ایسی صورتحال میں مسلمانوں پر دہری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں کہ ایک تو اپنے ایمان کی حفاظت کرنا اور دوسرے عام مسلمانوں کو قادیانیوں کی ارتدادی سرگرمیوں سے بچانا اور اس کے ساتھ ساتھ اسلامی ممالک کو ان کی مخالفانہ کارروائیوں سے محفوظ کرنا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت دنیا بھر میں کانفرنسوں، جلسوں، ہفت روزہ ”ختم نبوت“ اور انٹرنیٹ پر www.zumzum.com/khatme-nubuwwat کے نام سے اس فریضہ کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ تیرہویں عالمی ختم نبوت
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ۱۱۵ ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کانفرنس میں یورپ کے مسلمانوں کو اسی کام کی طرف متوجہ کیا جائے گا۔ نبی کریم ﷺ کی عظمت کے اظہار کے لئے اس کانفرنس میں شرکت ہر مسلمان کا فریضہ ہے۔
مولانا سید محمد اسعد مدنی ، صدر جمعیت علماء ہند: گزشتہ صدی کے اواخر میں علماء کرام خصوصاً علماء دیوبند کی تحریک آزادی کو کچلنے کے لئے مختلف حربے استعمال کئے گئے ان میں سے ایک حربہ عقیدہ ختم نبوت پر ضرب لگانی تھی۔ دارالعلوم اور جمعیت علماء ہند جس کے قیام کا مقصد ہی ہندوستان کے مسلمانوں کو غلامی سے نجات دلانا تھا اس کے رہنماؤں اور علمائے کرام نے عقیدہ ختم نبوت کے لئے بھر پور کام شروع کیا اور ملک کے گوشے گوشے میں مسلمانوں کو قادیانیوں کی ارتدادی سرگرمیوں سے آگاہ کیا۔ قیام پاکستان کے بعد قادیانیوں نے اپنی سرگرمیوں کا محور پاکستان کو بنایا اور ربوہ میں مرکز قائم کر کے پاکستان کے مسلمانوں کو مرتد بنانے کی مہم شروع کی۔ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری اور مولانا سید محمد یوسف بنوری کی قیادت میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے ۱۹۵۳ء اور ۱۹۷۴ء میں تحریک چلا کر اس جماعت کو غیر مسلم قرار دلوایا اور ۱۹۸۴ء میں امتناع قادیانیت آرڈیننس کے ذریعہ ان کی سرگرمیوں پر اہم ضرب لگائی۔ اس کے بعد اس جماعت نے اپنی سرگرمیوں کا مرکز جہاں یورپ اور افریقی ممالک کو بنایا، وہیں اس نے ہندوستان کی طرف دوبارہ رخ کیا۔ وسائل کی کثرت ان کا سب سے بڑا ہتھیار ہے، نوکریوں اور تعاون کے نام سے یہ گاؤں گاؤں کام کا آغاز کرتے ہیں اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر کے پہلے مسلمانوں کو تبلیغ کرتے ہیں اور اس کے بعد مرزا غلام احمد کی بیعت مرزا طاہر سے کرا کر ان کا رشتہ حضور انور ﷺ سے توڑ دیتے ہیں اس وقت وہ معاشی طور پر ان کے گھیراؤ میں اس قدر پھنس چکا ہوتا ہے کہ اس کا نکلنا مشکل ہوتا ہے اس صورتحال کے پیش نظر دارالعلوم دیوبند میں شعبہ ختم نبوت کا دوبارہ اجرا کر دیا گیا ہے اور ان کی ارتدادی سرگرمیوں پر قدغن لگانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا اس سلسلے میں سب سے زیادہ کردار ہے۔ خصوصاً پاکستان، بنگلہ دیش، انگلینڈ، جرمنی، یورپ، مالی، ازبکستان، اور افریقی ممالک میں اس جماعت نے بے شمار مسلمانوں کو مرتد ہونے سے بچایا ہے۔ میں یورپ کے مسلمانوں سے درخواست کروں گا کہ قرآن کریم کے حکم کے مطابق دشمنوں کے حربوں کا جواب انہی کے حربوں کے مطابق دیا جائے۔ اس وقت خستہ حال مسلمانوں کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اہل خیر مسلمان غریب علاقوں کی سرپرستی کریں، سکول قائم کریں، شفا خانے بنائیں اور ٹیکنیکل ادارے قائم کریں تا کہ اس راستہ سے عیسائی، یہودی، قادیانی اور ہندو بنانے کا راستہ بند کیا جا سکے۔
مولانا فضل الرحمن امیر جمعیت علماء اسلام پاکستان: آج کے جمہوری دور میں کسی بات کا فیصلہ کرنے کے تین ادارے ہیں۔ عوام، اسمبلیاں، عدلیہ۔ پاکستان کے مسلمانوں نے ان تینوں طریقوں سے مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کی جماعت کے عقائد کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کیا کہ ان کا اسلام اور مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں پاکستان کی عوام نے ایک مرتبہ نہیں، کئی مرتبہ متفقہ رائے دی کہ مرزا غلام احمد قادیانی جھوٹے دعویٰ نبوت کی وجہ سے دائرہ اسلام سے خارج ہے اور اس کے خلاف جہاد فرض ہے۔ پاکستان کی قومی اسمبلی نے ۷/ستمبر ۱۹۷۴ء کو ترمیم کے ذریعہ ان کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ تمام ہائیکورٹس اور سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے کہ قادیانی غیر مسلم ہیں۔ اس کے باوجود قادیانیوں کا اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنا کسی صورت درست نہیں۔ اسی طرح امریکہ اور مغرب کا یہ دباؤ کہ قادیانیوں کے ساتھ مسلمانوں والا معاملہ کیا جائے کسی صورت درست نہیں، بلکہ مذہبی معاملات میں مداخلت ہے اور مسلمان نے غلامی کے دور میں بھی جب ان کو مذہب میں مداخلت کی اجازت نہیں دی تو آج کس طرح اس کی اجازت دے سکتے ہیں؟ مغرب اور امریکہ کی بہتری اسی میں ہے اور خود قادیانیوں کا اسی میں فائدہ ہے کہ وہ ان تینوں اداروں کے فیصلوں کو تسلیم کر لیں تا کہ مغرب اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کا ایک سبب ختم
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہو ۔ جمعیت علماء اسلام ، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی ایک رضا کار جماعت ہے اور ختم نبوت کے موضوع پر اس کو رہنما سمجھتی ہے اس کے کارکن عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے قائدین مولانا خواجہ خان محمد ، مولانا محمد یوسف لدھیانوی ، مولانا عزیز الرحمن صاحب کے ہر فیصلہ پر ہر وقت لبیک کہنے کے لئے تیار ہیں ۔ میں مسلمانان یورپ سے اپیل کروں گا کہ وہ اس کانفرنس میں جوق در جوق شرکت کریں ۔
مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر رئیس جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی : الحمد للہ ! جامعہ بنوری ٹاؤن کو یہ فخر حاصل رہا ہے کہ اس کے رئیس حضرت مولانا محمد یوسف بنوری وہ پانچویں فرد ہیں ، جنہوں نے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے ہاتھ پر بیعت کی تھی اور الحمد للہ ! ان کے پانچویں امیر کی حیثیت میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی تحریک ختم نبوت کامیابی سے ہم کنار ہوئی اور قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا ۔ اس جامعہ کے مہتمم مولانا مفتی احمد الرحمن نے انگلینڈ میں دفتر ختم نبوت قائم کر کے یورپ کے مسلمانوں کو قادیانیوں کی ارتدادی سرگرمیوں سے محفوظ کیا ۔ اب یورپ کے مسلمانوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ تیرہویں عالمی ختم نبوت کانفرنس برمنگھم کو بھر پور طور پر کامیاب بنائیں ۔
مولانا زاہد الراشدی ورلڈ اسلامک فورم : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی سالانہ ختم نبوت کانفرنس برمنگھم کا انعقاد مسلمانان یورپ کے لئے ایک نعمت سے کم نہیں ۔ اس کانفرنس کی وجہ سے صرف انگلینڈ ہی میں نہیں پورے یورپ میں مسلمان ، قادیانیوں کی ارتدادی سرگرمیوں سے واقف ہو کر عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے سرگرم ہوتے ہیں ۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی قیادت اس پر خراج تحسین کی مستحق ہے ۔ اس وقت ضرورت ہے کہ انسانی حقوق کے حوالے سے قادیانیوں کے پروپیگنڈوں کا مؤثر جواب دیا جائے اور تیرہویں ختم نبوت کانفرنس کو ہر ممکن کامیاب بنایا جائے ۔
مولانا صوفی ایاز خان نیازی جمعیت علماء پاکستان : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا پلیٹ فارم وہ مشترکہ پلیٹ فارم ہے ، جس سے تمام مکاتب فکر کے علماء کرام اور مسلمانوں اور جاں نثاران ختم نبوت نے ۱۹۵۳ء اور ۱۹۷۴ء میں تحریک ختم نبوت چلا کر عقیدہ ختم نبوت کا جھنڈا بلند کیا اور مسلمانوں کو قادیانیوں کی ارتدادی سرگرمیوں سے بچایا ۔ اس وقت قادیانیوں نے پھر مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لئے عیسائیوں کے ساتھ مل کر مہم چلائی ہے ۔ اس لئے تمام مکاتب فکر کے علماء کرام اور مسلمانوں کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے متفقہ پلیٹ فارم سے بھر پور جدوجہد کرنی چاہئے اور قادیانی سرگرمیوں کا تعاقب کرنا چاہئے ۔ تیرہویں عالمی ختم نبوت کانفرنس بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے تمام مسلمان اس میں بھر پور شرکت کریں ۔
مولانا مفتی محمد اسلم سیکرٹری جنرل جمعیت علماء برطانیہ : تمام مسلمانان یورپ اس پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ممنون ہیں کہ ان کے قائدین نے قادیانیوں کی ارتدادی سرگرمیوں سے ان کو بچانے کے لئے انگلینڈ ، بلجیم اور جرمنی میں مرکز قائم کیا اور پورے ملک میں دورہ کر کے ایک ایک مسجد میں مسلمانوں کو عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت سے آگاہ کرتے ہیں اور سالانہ ایک عظیم الشان کانفرنس کا انعقاد کر کے مسلمانوں کی عظمت اور شوکت کے اظہار کے ساتھ عقیدہ ختم نبوت کی عظمت کو بلند کرتے ہیں ۔ جمعیت علماء برطانیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا ہر اول دستہ ہونے کی سعادت پر اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہے ۔ جمعیت علماء برطانیہ کے قائدین مولانا محمد موسیٰ پانڈرو ، مولانا عبدالرشید ربانی ، مولانا عبدالرحمن ، حافظ اکرام ، قاری اسماعیل انگلینڈ کے مسلمانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس کانفرنس کی تیاری اور کامیابی کے لئے بھر پور تعاون کریں ۔
مولانا عبدالرحمن سلفی امیر جمعیت غرباء اہل حدیث : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے تحت تیرہویں ختم نبوت کانفرنس وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ اس وقت پوری لادین قوتیں اسلام کو مٹانے کے درپے ہیں ۔ یہ کانفرنس یورپ کے مسلمانوں کے لئے امید کی سب سے
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بڑی کرن ہے۔ نوجوان نسل کے ایمان اور عقائد کی حفاظت کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس کانفرنس میں شرکت کریں۔ میں تمام مکاتب فکر کے مسلمانوں سے اپیل کروں گا کہ وہ اس کانفرنس میں متحدہ طور پر عقیدہ ختم نبوت کی عظمت کے اظہار کے لئے شریک ہوں۔
مولانا عزیز الرحمن جالندھری ناظم اعلیٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا مقصد نبی کریم ﷺ کے عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ اور حضور اکرم ﷺ کی عظمت کو بیان کرنا ہے اور مسلمانوں کو قادیانیوں کی ارتدادی سرگرمیوں سے بچانا ہے۔ اس جماعت کی سو سالہ تاریخ گواہ ہے کہ اس نے قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے اس موضوع پر بڑی اہم خدمات انجام دی ہیں۔ یورپ کے مسلمانوں کی ضرورت کے پیش نظر انگلینڈ میں مرکز قائم کر کے اس عظیم مقصد اور مشن کے لئے مسلمانوں کے تعاون سے کام شروع کیا ہے۔ یورپ کے مسلمان خراج تحسین کے مستحق ہیں کہ انہوں نے حضور اکرم ﷺ کی عظمت کی خاطر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سے بھر تعاون کیا۔ میں ان کو سلام محبت پیش کرتا ہوں ۔ اس توقع کے ساتھ کہ وہ حضور اکرم ﷺ کی عظمت کے لئے تیرہویں عالمی ختم نبوت کانفرنس کو بھر پور کامیاب بنائیں گے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۴ تا ۲۰؍اگست ۱۹۹۸ء ص ۹ تا ۱۱)
ختم نبوت کانفرنس گلاسکو
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامع مسجد گلاسکو میں ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد زیر صدارت حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب ہوا۔ قاری عبد المالک کی تلاوت سے کانفرنس کا آغاز ہوا، تحفہ قادیانیت کے مؤلف مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا مسلمانوں اور قادیانیوں کے درمیان جھگڑا حضور اکرم ﷺ کی ذات اقدس پر ہے، مسیلمہ کذاب سے لے کر مرزا غلام احمد قادیانی تک ہر جھوٹے مدعی نبوت نے کوشش کی ہے کہ وہ حضور ﷺ کی مسند پر قبضہ کر لے اور حضور اکرم ﷺ کا رشتہ مسلمانوں سے منقطع کر دے۔ مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتابوں میں لکھتا ہے کہ : ’’محمد کی دو بعثتیں ہوئیں۔ ایک مکہ اور ایک قادیان میں میری شکل میں ۔‘‘ ایک جگہ لکھتا ہے: ’’ قرآن مجید میں جو محمد رسول اللہ کا لفظ آیا ہے اس کا مصداق میں ہوں ۔ ‘‘ اس کے علاوہ کئی جگہوں پر اس نے اپنے آپ کو انبیاء کرام علیہم السلام اور محمد رسول اللہ ﷺ سے افضل قرار دیا ہے۔ اس صورت میں یہ کہنا کہ جھوٹے مدعی نبوت کے پیرو کار مسلمان ہیں، اس سے زیادہ کھلا جھوٹ اور دھوکہ کیا ہو گا ؟
نبی اکرم ﷺ کی ذات کو اگر ہٹا دیا جائے تو دنیا کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہتی ۔ نبی اکرم ﷺ کے علاوہ کسی نبی یا رسول یا ظلی بروزی نبی ماننے والوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں تو پھر ان کی نمازیں ، ذکر الٰہی ، روزے کیسے قبول ہو سکتے ہیں بلکہ تمام ان کے منہ پر مار دیئے جائیں گے ۔ ’’تحریک ختم نبوت ‘‘ کے مؤلف مولانا اللہ وسایا نے کہا کہ ایک شخص ساری رات عبادت کرتا ہو ، سارا دن روزہ رکھتا ہو ہر سال حج کرتا ہو ، دن رات اس کی زبان ذکر اللہ سے تر رہتی ہو لیکن حضور اکرم ﷺ کو آخری نبی تسلیم نہیں کرتا اور آپ کے بعد کسی اور شخص کو نبی کہتا ہے ایسے شخص کے لاکھوں پیرو کار ہو جائیں تب بھی اس کو حق پر نہیں کہا جا سکتا۔ مسیلمہ کذاب کے ساتھ لاکھوں افراد تھے وہ سب کے سب جہنم رسید ہوئے ، دنیاوی وجاہت یا ٹی وی اور ڈش انٹینا کے ذریعہ لوگوں کو گمراہ کرنا حقانیت کی دلیل نہیں ۔ عیسائیوں اور یہودیوں کے اس سے بڑے بڑے چینل ہیں ۔ مسلمانوں کی کامیابی کی سب سے بڑی دلیل حضور اکرم ﷺ سے وابستگی اور محبت ہے اور آپ کی محبت کے بغیر اسلام کی کوئی حقیقت نہیں ۔ جس طرح توحید میں شرک جائز نہیں رسالت ونبوت میں بھی شرک جائز نہیں۔ حضور اکرم ﷺ نے مسیلمہ کذاب سے کہا تھا کہ نبوت کے سلسلے میں ایک رتی برابر تیری بات گوارہ نہیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مولانا نذیر احمد تونسوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت اسلام کا وہ بنیادی عقیدہ ہے کہ جس کے بارے میں معمولی سا شک کرنا بھی کفر ہے اس لئے حضور اکرم ﷺ کے آخری دور میں جب اسود عنسی نے جھوٹا نبوت کا دعوی کیا تو حضور اکرم ﷺ نے اس کے قتل کا حکم دیا۔ مولانا محمد اکرم طوفانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج دنیا کو منکرین ختم نبوت اور قادیانی جماعت ، اسلام کے نام پر دھوکہ دے رہی ہے ۔ جب کہ سپریم کورٹ ، ہائی کورٹ ، قومی اسمبلی وغیرہ نے تمام عقائد پر بحث ومباحثہ کر کے صاف فیصلہ دے دیا کہ قادیانیوں کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ ختم نبوت کانفرنس سے مولانا مفتی منیر اخون ، مولانا مفتی خالد محمود ، حافظ عابد ، وسیم غزالی ، قاری عبدالمالک ، مفتی مقبول ، حاجی محمد صابر ، حافظ محمد شفیق ، حافظ محمد ایوب ، حاجی محمد صادق ، حافظ محمد ازہر نے بھی خطاب کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۲۱؍اگست تا ۳؍ستمبر ۱۹۹۸ء ص ۲۵)
مولانا اللہ وسایا کا تبلیغی دورہ سندھ
ضلع میر پور خاص کے علاقہ ڈیہہ اکھوڑہ نزد چک ۴ کی قادیانیوں کے ہاتھوں مسجد کی شہادت کی اطلاع راقم کو ۲۶؍اگست ۱۹۹۸ء کو پونے تین بجے کراچی میں ملی تھی ۔ اسی سلسلہ میں راقم نے شاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایا صاحب کو جو ان دنوں برطانیہ اور دیگر ممالک کا کامیاب دورہ کر کے تشریف لائے تھے ، عرض کر دیا تھا کہ اس سلسلہ میں ہمیں احتجاجی پروگرام ترتیب دینے پڑے گے تو آپ تشریف لائیں گے۔
۱۴؍ستمبر کو جھڈو کے دوستوں نے جناب قاری محمد شریف صاحب، جناب منور علی راجپوت، کنوینر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت تحصیل ڈگری جناب بابو شوکت علی نے کہا کہ اس سلسلہ میں جھڈو و نوکوٹ میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ہونی چاہئے ۔ مولانا اللہ وسایا صاحب نے فون پر بات ہوئی مولانا نے شفقت فرمائی ضلع میر پور خاص کے لئے ۲۵، ۲۶؍ستمبر ۱۹۹۸ء عنایت فرمائی ۔ ۲۵؍ستمبر کو جمعہ تھا ۔ دوستوں کے مشورہ سے مولانا صاحب کا جمعہ نوکوٹ کی جامع مسجد میں اور شام کو جھڈو شہر میں ختم نبوت کانفرنس رکھی ۔ ۲۶؍ستمبر کو ظہر کی نماز کے بعد کنری میں اور ۲۶؍ستمبر شام بروز ہفتہ میر پور خاص سیٹلائٹ ٹاؤن میں ختم نبوت کانفرنس ہوئی ۔ ان پروگراموں میں حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب کے علاوہ مولانا احمد میاں حمادی ، مولانا اکرام الحق ، مولانا مفتی حفیظ الرحمٰن رحمانی ٹنڈو آدم ، مولانا نذر اور راقم کا خطاب ہوا ۔
۲۴؍ستمبر کو شام بذریعہ زکریا ایکسپریس ملتان سے حیدرآباد کے لئے عازم سفر ہوئے ۔ ٹنڈو آدم ریلوے اسٹیشن سے مولانا احمد میاں حمادی ساتھ تھے ۔ صبح سوا پانچ بجے حیدرآباد پہنچے اور اس کے بعد پونے آٹھ بجے تک نوکوٹ کا سفر ہوا ، حضرت حمادی صاحب اور مولانا محمد نذر نے جمعہ جھڈو میں پڑھایا ، اور مولانا اللہ وسایا صاحب راقم بھی ہمراہ نوکوٹ پہنچے اور نوکوٹ کی جامع مسجد میں مولانا کا خطاب عام ہوا جو ڈیڑھ گھنٹہ تک جاری رہا جس میں مولانا نے مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی اور اس علاقہ میں قادیانیوں کی سرگرمیوں کے بارے میں حکومت کو آگاہ کیا کہ حکومت قادیانیوں کو آئین کا پابند کرے بعد نماز عصر نوکوٹ کے نوجوان ساتھیوں نے ایک تربیتی پروگرام رکھا ہوا تھا۔ اس میں مولانا نے کام کے طریقہ کار سے آگاہ کیا ۔ مغرب کی نماز جھڈو میں ادا کی اور عشاء نماز کے بعد کانفرنس کا آغاز قاری عبدالعزیز صاحب کی تلاوت کلام پاک سے ہوا ، قاری محمد زمان اور حافظ محمد طاہر نے نعت پیش کی ۔ مولانا اللہ وسایا سے قبل حضرت حمادی صاحب ، مولانا محمد نذر ، مفتی حفیظ الرحمٰن ، اور راقم کا بیان ہوا ، آخری خطاب مولانا صاحب کا تھا جس میں مولانا نے قادیانیت کے ڈھول کا پول واضح انداز میں علاقہ کے مسلمانوں کے سامنے رکھا ۔ کانفرنس ۲ بجے شب اختتام پذیر ہوئی ۔ کانفرنس میں ڈگری ، نوکوٹ ، فضل بھمبھرو نفیس نگر ، ٹاہلی کنری ، نبی سر اور سانگھڑ اور بہت دور دور سے قافلے آئے ہوئے تھے ۔ (مولانا محمد علی صدیقی)
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس میرپور خاص
میرپور خاص کی کانفرنس سیٹلائٹ ٹاؤن میں رکھی ہوئی تھی جو کہ میرپور کا خاص علاقہ ہے اور اس میں قادیانی بھی رہتے ہیں۔ کانفرنس کی صدارت حضرت مولانا احمد میاں حمادی صاحب نے کی مقامی قاری صاحب نے تلاوت کی اس کے بعد جناب حافظ محمد طاہر صاحب نے نعتیہ کلام پیش کیا مولانا محمد عبید اللہ صاحب میر پور خاص کے عالمانہ بیان سے کانفرنس کا آغاز ہوا، اس کے بعد مولانا حفیظ الرحمن اور مولانا اکرام الحق ، مولانا احمد میاں حمادی کا بیان ہوا۔ آخری بیان حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب کا تھا جب مولانا کا بیان شروع ہوا تو تاحد نگاہ مجمع تھا، مولانا کا بیان تقریباً پونے دو گھنٹے ہوا جس میں آپ نے احسن انداز میں قادیانیت کا پوسٹ مارٹم کیا، مولانا نے فرمایا کہ نبی کی ہر بات سچی ہوتی ہے اور جس کی بات جھوٹی ہو وہ نبی نہیں ہوتا اس پر مولانا نے سرکار دو عالم ﷺ کی سیرت پر سیر حاصل خطاب کیا۔ مولانا فیض اللہ کی نگرانی میں مولانا عبید اللہ انور، مولانا محمد عبد اللہ ، مولانا نور اکبر راشد اور دیگر ساتھیوں نے خوب محنت کر کے اس کانفرنس کو کامیاب بنایا۔ کانفرنس جھنڈو میں اسٹیج سیکرٹری جناب منور علی راجپوت تھے اور یہاں میرپور خاص میں یہ ذمہ داری راقم نے نبھائی۔ (مولانا محمد علی صدیقی)
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۳ تا ۲۹ /اکتوبر ۱۹۹۸ء ص ۲۲، ۲۳)
دسویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس ہری پور
گزشتہ روز شیرانوالہ گیٹ چوک ہری پور میں عظیم الشان دسویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب کی زیر صدارت منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں شمع ختم نبوت کے ہزاروں پروانوں نے شرکت کر کے کانفرنس کو کامیاب بنایا۔ کانفرنس سے مولانا قاری عبدالمالک عباسی ، قاری محمد بشیر، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا اللہ وسایا اور مولانا عطاء اللہ بندیالوی نے خطاب کیا۔ جب کہ معروف شاعر محمد حنیف رامپوری نے ہدیہ نعت پیش کیا۔ مولانا اللہ وسایا نے اپنے خطاب میں کہا کہ مرزائی ، نبی کریم ﷺ کے باغی ہیں اور شب و روز ان کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ اہل اسلام کو دامن مصطفیٰ سے علیحدہ کر کے مرزا قادیانی سے وابستہ کیا جائے۔ مسلمانوں کو نبی کریم ﷺ کے دامن سے علیحدہ کر کے جہنم کا ایندھن بنایا جائے۔ جو محمد مصطفیٰ ﷺ کا باغی ہے وہ کسی بھی صورت ملک وملت کا وفادار نہیں ہوگا۔ ان غداران ملک وملت سے مسلمانوں کو محفوظ رکھنے کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ان کا پوری دنیا میں تعاقب کر رہی ہے۔ افریقہ کے صحراؤں سے لے کر برطانیہ کے کلیساؤں تک ہماری جماعت نے ان کا تعاقب کیا ہے۔ پاکستان اور بیرون ممالک میں اب قادیانیت آخری ہچکولے کھا رہی ہے۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اور بیرونی دنیا کے مسلمان مکمل اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔ مولانا اللہ وسایا نے کہا کہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے واقعات کے پیچھے قادیانی لابی ملوث ہے اور اس پر ہمارے پاس ناقابل تردید حقائق و شواہد موجود ہیں۔
کانفرنس کی تیاری کے لئے جناب حفیظ الرحمن ، قاری عمر خان فاروقی ، خالد اقبال، سیف الرحمن ، حاجی منور، ارشد محمود، صابر علوی ، فیصل مقصود ، ندیم محمود ، حافظ عبدالقیوم ، قمر غفور نے بھر پور محنت کی اور یوں کانفرنس کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۱۹۹۸ء ص ۵۱، ۵۲)
سالانہ ختم نبوت کانفرنس کوئٹہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کوئٹہ کے زیر اہتمام دو روزہ تحفظ ناموس رسالت کانفرنس مؤرخہ ۱۰، ۱۱ / ستمبر ۱۹۹۸ء زیر صدارت امیر
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد مدظلہ منعقد ہوئی۔ جس میں حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا اللہ وسایا، مولانا شفیق الرحمن، مولانا جمال اللہ الحسینی، مولانا عبدالعزیز جتوئی، مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا حفیظ الرحمن، مولانا نور الحق نور، مولانا عبدالواحد، مولانا عبدالباقی اور قاری عبدالرحیم رحیمی نے سیرت النبی ﷺ اور رد قادیانیت پر مفصل خطابات فرمائے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۲۳ تا ۲۹؍اکتوبر ۱۹۹۸ء ص ۱۷)
استقبالیہ: ۱۱؍ستمبر ۱۹۹۸ء کیفے بلدیہ کوئٹہ میں حضرت امیر مرکزیہ کے اعزاز میں استقبالیہ دیا گیا۔ جس میں علماء کرام اور مشائخ، شیوخ الحدیث، تاجر، وکلاء، سیاست دان، مذہبی و سیاسی رہنما اور طالبان حکومت کے نمائندگان نے شرکت کی۔
خطبات جمعہ: جامع مسجد مرکزی میں مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو، جامع مسجد قندھاری میں مولانا اللہ وسایا، جامع مسجد گول میں مولانا شفیق الرحمن، جامع مسجد عمر میں مولانا جمال اللہ الحسینی، جامع مسجد اقصیٰ میں مولانا حفیظ الرحمن نے خطبات جمعہ ارشاد فرمائے۔ امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب نے جامع مسجد قندھاری میں جمعہ کی نماز کی امامت فرمائی۔
ختم نبوت کانفرنس لورالائی
۱۲؍ستمبر ۱۹۹۸ء بروز ہفتہ مرکزی جامع مسجد لورالائی میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بلوچستان کے رہنماء مولانا عبدالواحد نے پشتو زبان میں خطاب فرمایا۔ مولانا مفتی حفیظ الرحمن، مولانا اللہ وسایا، صوبائی وزیر مولانا اللہ داد خیر خواہ اور دیگر رہنماؤں کے ایمان پرور بیانات ہوئے۔ یادرہے کہ ژوب کی طرح لورالائی میں بھی قادیانیوں کا عملاً داخلہ بند ہے۔
ختم نبوت کانفرنس ژوب
۱۳؍ستمبر ۱۹۹۸ء بروز اتوار بعد نماز عصر مرکزی جامع مسجد میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ مولانا اللہ داد خیرخواہ، مولانا شفیق الرحمن درخواستی، مولانا عبدالواحد، مولانا اللہ داد کاکڑ اور دوسرے رہنماؤں نے خطاب فرمایا۔ غرض یہ کہ ۹؍ستمبر سے ۱۳؍ستمبر تک جاری رہنے والا حضرت امیر مرکزیہ کا دورہ بلوچستان انتہائی کامیاب رہا۔ جگہ جگہ آپ کے مثالی استقبال ہوئے۔ عقیدت مندوں کی بڑی تعداد نے آپ سے بیعت کی۔ ۱۴؍ستمبر کو ژوب کے شیخ التفسیر مولانا ضیاء الدین صاحب کے مدرسہ میں ختم بخاری شریف اور تقسیم اسناد کی تقریب میں آپ نے شرکت کی اور اسی روز عصر کے قریب ڈیرہ اسماعیل خان کے لئے عازم سفر ہو گئے۔ جماعتی کارکنوں وعلماء کرام کی بڑی تعداد آپ کو ائیر پورٹ پر رخصت کرنے آئی۔
(لولاک ملتان نومبر ۱۹۹۸ء ص ۲۹، ۵۰)
سالانہ ختم نبوت کانفرنس بہاول پور
مورخہ ۱۵؍ستمبر ۱۹۹۸ء کی شب بعد نماز عشاء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی سالانہ کانفرنس زیرصدارت حاجی سیف الرحمن، امیر ضلع بہاول پور، مرکزی جامع مسجد الصادق میں منعقد ہوئی۔ جس میں مہمان خصوصی حضرت اقدس علامہ ڈاکٹر خالد محمود سومرو تھے۔ امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد مدظلہ علالت کی وجہ سے شرکت نہ فرماسکے۔ کارروائی اجلاس تلاوت کلام پاک سے ہوئی۔ متعدد مبلغین مجلس تحفظ ختم نبوت کے علاوہ دیگر علماء کرام وخطباء عظام نے کانفرنس سے خطاب کیا۔ جنہوں نے امام الانبیاء ختم المرسلین ﷺ کی سیرت طیبہ اور مسئلہ ختم نبوت پر سیر حاصل روشنی ڈالی مگر اس کانفرنس میں اہم خطابات حضرت مولانا احمد بخش، حضرت مولانا فضل الرحمن، دھرم کوٹی، مناظر اسلام حضرت مولانا اللہ وسایا اور آخری بیان خطیب بے بدل حضرت اقدس علامہ ڈاکٹر خالد محمود سومرو کا ہوا۔ کانفرنس پونے دو بجے شب
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حضرت علامہ صاحب کی دعا کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔ جس میں پاکستان کے استحکام، قبلہ اوّل کی یہودیوں کے پنجہ سے آزادی، کشمیریوں کی فتح و کامیابی، طالبان کی سلامتی، افغانستان، پاکستان میں اسلامی شریعت کے مکمل نفاذ، اسلام کی سربلندی اور اتحاد بین المسلمین کے لئے دعائیں مانگی گئیں۔ ہزاروں سامعین کے مجمع نے حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود سومرو کے روبرو اللہ رب العزت سے اپنی سابقہ معصیت، سستی و کاہلی سے توبہ کی اور ختم نبوت کے پلیٹ فارم سے مرزائیوں کی سرکوبی، ملک میں آئین شریعت کے نفاذ اور اللہ حق سبحانہ و تعالیٰ کی وحدانیت، جناب امام الانبیاء نبی کریم ﷺ کی صحیح اور سچے دل سے اتباع اور صحابہ کرام کے نقش قدم پر چل کر اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو آئندہ رسول اللہ ﷺ کی سنت مطہرہ کے مطابق ڈھالنے اور پاکستان کو صحیح معنوں میں اسلام کا قلعہ بنانے کا عہد کیا۔ مزید برآں حضرت اقدس خواجہ خان محمد صاحب امیر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی صحت یابی کے لئے دعا کی گئی۔ اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے دور دراز کا سفر طے کر کے رات گئے تک علماء کرام کے بیانات سنے اور ہر قسم کی قربانی و امداد کا حلف دیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۳ تا ۲۹؍ اکتوبر ۱۹۹۸ء ص ۱۵)
ختم نبوت کانفرنس ایبٹ آباد
ایبٹ آباد ہزارہ کے غیرت مند مسلمانوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر مرکزی جامع مسجد اپنی تمام تر وسعتوں اور چار منزلہ عمارت کے باوجود تنگی داماں کا نقشہ پیش کر رہی تھی۔ امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب کی صدارت میں مکمل روحانی ماحول تھا۔ ۱۸؍ ستمبر ۱۹۹۸ء کو جمعۃ المبارک کے خطبہ میں شیخ الحدیث دارالعلوم حقانیہ مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ صاحب نے لوگوں کے قلوب کو خوب خوب عشق مصطفیٰ ﷺ سے گرمایا اور قادیانیت کے عملی محاسبہ پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے خود اپنے ہاتھوں سے لاہور میں ایک قادیانی کے مرزا غلام احمد قادیانی کی تعریف کرنے پر دانت توڑے ۔ حضرت مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ صاحب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ قادیانیوں کا وہی علاج کیا جانا چاہئے، بلکہ ان شاء اللہ عنقریب وہی علاج کیا جائے گا، جو سیدنا صدیق اکبر ؓ نے کیا تھا۔
نمازِ جمعہ میں بلا مبالغہ دس ہزار فرزندان توحید نے مخدوم العلماء حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد دامت برکاتہم کی امامت میں ادا کی۔ نمازِ جمعہ کے بعد حضرت مولانا شفیق الرحمٰن صاحب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ایبٹ آباد نے مہمان علماء کرام اور مدعوین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ قادیانیت کے خاتمے تک مولانا خواجہ خان محمد دامت برکاتہم کی قیادت میں ہماری تحریک جاری رہے گی اور کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ نعت صادق برادران نے پیش کی۔ اس کے بعد مولانا عبدالقیوم حقانی نے لازوال خطاب کیا۔ آخر میں حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب کی بابرکت دعا سے کانفرنس کا اختتام ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۱۹۹۸ء ص ۵۴ تا ۵۵)
ختم نبوت کانفرنس کوٹ ھرا
شہید کے خون کی سرخی سے کائنات سے ظلم و بربریت کے سیاہ بادل چھٹ جاتے ہیں اور علم و عرفان کی کرنوں کو راستہ مل جاتا ہے۔ اس سے دین اسلام کی حقانیت دنیا پر عیاں ہو جاتی ہے۔ تحریک ختم نبوت کا مقصد دین اسلام کی سربلندی ہے اور اسے عجمی اور سامراجی آلائشوں سے پاک رکھنا ہے۔ ان خیالات کا اظہار مرکزی مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے شہید مجاہد ختم نبوت ٹیپو سلطان شہید کی یاد میں منعقدہ ختم نبوت کانفرنس کوٹ ھرا میں کیا۔ جس کی صدارت حافظ محمد ثاقب نے کی۔ کانفرنس سے مولانا فقیر اللہ اختر، مولانا حافظ گلزار احمد آزاد ماسٹر ذوالفقار علی نے خطاب کیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس علی پور چٹھہ
علی پور میں بھی دوسری سالانہ ختم نبوت کانفرنس ہوئی، جس سے پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی، حافظ محمد ثاقب، مولانا فقیر اللہ اختر، سائیں پیر محمد اسلم، مولانا محمد سعید نقشبندی، مولانا محمد نعمانی، مولانا محمد اسلم کھٹانہ، مولانا شفقت احمد، حافظ عبدالستار نے خطاب کیا۔ کانفرنس کے انتظامات خالد چشتی، سجاد احمد تونسوی، یاسین عابد اور دیگر کارکنوں نے کئے تھے۔
ختم نبوت کانفرنس حیدر آباد
۲۹؍ اکتوبر ۱۹۹۸ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حیدر آباد کے زیر اہتمام ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ مولانا عبدالسلام قریشی، مولانا نذر، محمد اکرم قریشی، مولانا عبدالسمیع خطیب جامع مسجد خلفائے راشدین، جمعیت علماء اسلام کے امیر مولانا تاج محمد، مولانا محمد علی صدیقی اور مفتی حنیف حنفی خطیب ستارہ شاہ مسجد نے کانفرنس کے انتظامات مشترکہ طور پر کئے۔ ختم نبوت کانفرنس کی ابتدا جامعہ ریاض العلوم لیاقت کالونی کے قاری عبدالغفار کی تلاوت کلام پاک سے ہوئی۔ شاعر ختم نبوت جناب محمد طاہر نے نعت رسول مقبول پیش کی۔ حیدرآباد کے مقامی علماء کرام مولانا تاج محمد ناھو، مولانا سیف الاسلام، مولانا ڈاکٹر سیف الرحمن آرائیں، مولانا عبدالمتین قریشی اور دیگر نے ختم نبوت کے مسئلہ پر روشنی ڈالی۔ مجلس تحفظ ختم نبوت ٹنڈو آدم کے مبلغ مولانا راشد مدنی نے نہایت مدلل انداز میں بیان کیا جس میں انہوں نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت بیان کی اور قادیانیوں کی اسلام دشمن سرگرمیوں کا پردہ چاک کیا۔
عالمی مجلس کے نائب امیر
حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی اسٹیج پر تشریف لائے تو حاضرین جلسہ نے کھڑے ہوکر ان کا استقبال کیا۔ خطیب اسلام حضرت مولانا تنویر الحق تھانوی صاحب نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ قادیانیوں کے کفریہ عقائد ونظریات ناقابل برداشت ہیں۔ یہ دنیا کا بدترین ٹولہ ہے، جو کفریہ عقائد کو اسلام کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کا کردار تردید مرزائیت کے اہم مشن میں قابل تحسین ہے، جو دنیا کے کونے کونے میں قادیانیوں کی گمراہ کن سازشوں کو بے نقاب کر کے مسلمانوں کے ایمان کا تحفظ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قادیانیت دنیا کا بدترین کفر ہے، جس کو معاف نہیں کیا جاسکتا۔ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ اسلام دین فطرت ہے اور رسالت مآب ﷺ تمام جہانوں کے لئے رحمت اور تمام انسانوں کے لئے نبی بنا کر بھیجے گئے ہیں، جو شخص کسی بھی طریقے سے آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت کا انکار کرتا ہے، وہ نہ صرف کافر ہے، بلکہ مرتد اور زندیق ہے۔ حکومت قادیانیوں کی کھلی غنڈہ گردی کا نوٹس لے جو نوکوٹ میں مسجد کو اور قرآن پاک کو شہید کیا گیا ہے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے مرکزی مبلغ مولانا نذیر احمد تونسوی صاحب باوجود علالت کے کانفرنس میں شریک ہوئے۔ آپ نے خطاب میں فرمایا مسلمان اپنی تمام تر صلاحیتیں ناموس رسالت ﷺ کے تحفظ کے لئے صرف کریں۔ اس لئے کہ مسلمانوں کی نجات اسی میں ہے۔ آخری خطاب حضرت مولانا اللہ وسایا کا ہوا۔
ختم نبوت کانفرنس چیچہ وطنی
ختم نبوت کانفرنس کی صدارت آل پارٹیز مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے سربراہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم نے کی۔ جب کہ کانفرنس سے جمعیت علماء اسلام کے مرکزی رہنما مولانا محمد لقمان علی پوری، مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عزیز الرحمن جالندھری، ناظم تبلیغ مولانا اللہ وسایا ، مولانا محمد احمد لدھیانوی ،مفتی محمد اویس،مولانا عبدالباقی،مولانا محمد شریف ماہی ، قاری محمد حنیف شاہد،محمد مشتاق ، قاری محمد ریاض، مولانا عبدالباری، قاری محمد سرور اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔
ختم نبوت کنونشن بھلوال
یکم نومبر ۱۹۹۸ء کو شبان ختم نبوت بھلوال کے زیر اہتمام بلدیہ گراؤنڈ میں عظیم الشان ختم نبوت کنونشن منعقد ہوا۔ مجاہد ختم نبوت حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا محبوب الحسن طاہر، جامعہ قاسم العلوم ملتان کے مفتی مولانا مسعود الحسن تحسین، مولانا ملک خلیل احمد ، بلدیہ بھلوال کے کونسلر خواجہ محمود احمد، انجمن تاجران کے سیکرٹری خواجہ مسعود احمد نے خطاب فرمایا۔ ادھرمہ، بھابڑہ اور دیگر کئی شہروں سے وفود نے شرکت کی۔ حاضری ، تقاریر اور ڈسپلن کے لحاظ سے یہ کنونشن انتہائی کامیاب ہوا۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض ڈاکٹر محمود الحسن نے انجام دیئے۔ جماعتی کارکنوں اور شہریوں کی بہت بڑی تعداد نے شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۱۹۹۸ء ص ۵۱ تا ۵۴)
۱۷ ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر (ربوہ) کا عمومی جائزہ
الحمد للہ! امسال ۱۵، ۱۶؍ اکتوبر ۱۹۹۸ء جمعرات، جمعہ کو ۱۷ویں سالانہ کل پاکستان ختم نبوت کانفرنس شب و روز حسب سابق تزک واحتشام کے ساتھ منعقد ہوئی۔ کراچی سے لے کر خیبر تک، ملک عزیز کے کونہ کونہ سے ختم نبوت کے پروانوں نے دیوانہ وار کانفرنس میں شرکت کی۔ سندھ، سرحد، بلوچستان اور پنجاب کے عوام و خاص نے اس پلیٹ فارم پر جس طرح رحمت عالم ﷺ کی ذات اقدس کو خراج تحسین پیش کیا، اس پر رب کریم کا جتنا بھی شکریہ ادا کیا جائے کم ہے۔
کانفرنس میں امسال اتنی حاضری تھی کہ سابقہ تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ درمیان میں موسم خراب ہوا، لیکن بایں ہمہ باری تعالیٰ کا کرم کہ کانفرنس کی کارروائی رکنے نہ پائی۔ جمعہ کے روز مسجد کے محراب سے مین گیٹ تک مسجد، مدرسہ، صحن، برآمدہ لائبریری تمام بھرے ہوئے تھے۔ الحمد للہ! کھانے کا نظم ٹھیک رہا۔ ایک آدھ بار بجلی نے گڑبڑ کی، لیکن وہ وقتی اور عارضی تھی۔ پھر اسی طرح نظم شروع ہو جاتا تھا۔ آپ اندازہ فرمائیں کہ امسال پروگرام کس قدر قدرت نے پورا کرایا۔ ذیل میں تمام اجلاس کی ترتیب وار فہرست شائع کی جاتی ہے۔
پہلا اجلاس ۱۵؍ اکتوبر ۱۹۹۸ء صبح گیارہ بجے تا نماز ظہر:
زیر صدارت: حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم تلاوت: قاری محمد افضل صاحب نعت: مولوی امیر الدین سرگودھا افتتاحی خطاب: حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ خطاب عام: حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی صاحب
دوسرا اجلاس ۱۵؍ اکتوبر ۱۹۹۸ء بعد نماز ظہر تا عصر:
سرپرست: حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد دامت برکاتہم مہمان خصوصی: حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ صدارت: صاحبزادہ طارق محمود صاحب
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تلاوت: قاری محمد یوسف عثمانی گوجرانوالہ
نعت: جناب شہادت علی طاہر جھنگوی
خطاب: حضرت مولانا زاہد الراشدی، حضرت مولانا محمد عبداللہ خطیب جامع مسجد اسلام آباد، خطیب پاکستان بن خطیب اسلام حضرت مولانا محمد امجد خان صاحب، مناظر اسلام امام اہل سنت حضرت مولانا عبدالستار تونسوی صاحب۔
اجلاس خصوصی: بعد از عصر محفل سوال و جواب حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ، بعد مغرب مجلس ذکر حضرت مولانا میاں محمد اجمل قادری صاحب۔
تیسرا اجلاس ۱۵؍اکتوبر ۱۹۹۸ء بعد نماز عشاء:
صدارت: حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم
تلاوت: قاری نصیر احمد
نعت: محمد شریف ماہی، جناب حنیف شاہد رامپوری، طاہر جھنگوی
خطاب: حضرت مولانا عبدالواحد، مولانا فتح محمد صاحب منصورہ، مولانا عبدالمالک منصورہ، قاری سعید احمد اسعد خوشاب، محمد الیاس گھمن، حضرت مولانا محمد فیروز خان صاحب، حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب بھکر، حضرت مولانا احمد میاں حمادی، حضرت میاں محمد فضل جمعیت اہل حدیث، مولانا زبیر احمد ظہیر، محمد افضل چنیوٹی، سردار محمد خان لغاری، حضرت مولانا شفیق الرحمن درخواستی، حضرت مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو۔ (رات دو بجے کے بعد اجلاس اختتام پذیر ہوا)
۱۶؍اکتوبر ۱۹۹۸ء بعد نماز فجر مناظر اسلام مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی نے درس قرآن مجید ارشاد فرمایا۔
چوتھا اجلاس ۱۶؍اکتوبر ۱۹۹۸ء دس بجے تا اذان جمعہ:
تلاوت: قاری محبوب الٰہی صاحب، قاری محمد عبداللہ صاحب
خطاب: مولانا عبدالرحیم لیہ، مولانا محمد علی بدین، مولانا غلام اکبر ڈیرہ غازی خان، حضرت مولانا قاری عبدالرحیم رحیمی کوئٹہ حضرت مولانا نور الحق نور پشاور، مولانا ضیاء الدین آزاد، مولانا عبدالواحد ڈاور، حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی، حضرت مولانا امیر محمد اکرم اعوان، خطبہ جمعہ وامامت قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمن۔
پانچواں اور آخری اجلاس ۱۶؍اکتوبر ۱۹۹۸ء بعد نماز جمعہ تا عصر:
صدارت: حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم
تلاوت: حضرت قاری محمد صدیق صاحب فیصل آباد
نعت: شاعر اسلام سید امین گیلانی صاحب
خطاب: حضرت مولانا سید عبدالمجید ندیم، حضرت مولانا محمد لقمان علی پوری۔
عصر کی نماز سے قبل الوداعی اختتامی دعا مخدوم المشائخ حضرت مولانا خواجہ خان محمد دامت برکاتہم نے فرمائی۔ نماز کے بعد بخیر
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
خوبی قافلوں کی واپسی شروع ہوگئی۔ ۱۵/اکتوبر کی صبح شروع ہونے والا اجلاس ۱۶/اکتوبر کی نماز عصر پر اختتام پذیر ہوا۔ فالحمد لله اولاً وآخراً ! کانفرنس کے سٹیج سیکرٹری و منتظم اعلیٰ ایڈیٹر لولاک صاحبزادہ طارق محمود تھے۔ حضرت مولانا مفتی محمد جمیل خان، حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، حضرت مولانا محمد یعقوب برہانی نے معاونت کی۔ کھانا پکوانے کے انچارج حضرت مولانا غلام حسین اور ان کے معاون حضرت مولانا احمد بخش تھے۔ سامان کی فراہمی حضرت مولانا بشیر احمد، حضرت حاجی عبدالرشید اور مولانا محمد اسحاق ساقی کے ذمہ تھی۔ باہر کے پنڈال میں کھانا کھلانے کا اہتمام حضرت قاری محمد ابراہیم صاحب کی سرپرستی میں قاری محمد ابوبکر، قاری محمد اشفاق کی نگرانی میں جامعہ طیبہ فیصل آباد، جامعہ محمودیہ جھنگ، مفتاح العلوم سرگودھا کے طلباء و علماء نے اس کام کو سر انجام دیا۔ پانی کی نگرانی مولانا محمد طیب اور مولانا محمد اختر کے ذمہ تھی۔ خاص مہمانوں کی خدمت کا نظام مولانا فقیر اللہ اختر، مولانا عبدالعزیز، مولانا عزیز الرحمٰن ثانی اور قاری محمد رمضان کے سپرد تھا۔ حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی نے سیکورٹی کے نظام کی سرپرستی فرمائی۔ مولانا محمد علی، مولانا عبدالرزاق مجاہد نے مہمانوں کو ان کی رہائش گاہوں تک پہنچانے کا نظم سنبھالا ہوا تھا۔ حضرت قبلہ ناظم اعلیٰ صاحب، مولانا خدا بخش، مولانا غلام مصطفیٰ تمام امور کی نگرانی فرماتے رہے۔ مولانا ضیاء الدین آزاد، مولانا قاضی احسان احمد، قاضی رضوان احمد، رانا محمد طفیل جاوید نے کھانے کے پنڈال کے تمام امور کی نگرانی کی۔ استقبالیہ پر قاری محمد عثمان، قاضی امتیاز، قاضی انوار کی ڈیوٹی تھی۔ مکتبہ پر قاری محمد حفیظ اللہ اور مولانا عبدالخالق تھے۔ غرض یہ کہ جس ساتھی کے ذمہ جو ڈیوٹی تھی اس نے کمال ذمہ داری سے اس کو پورا کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۱۹۹۸ء ص ۱۷ تا ۲۳)
اس دفعہ ۱۷ ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر ۱۹۹۸ء کی تقاریر کو ماہنامہ لولاک کی اشاعت جنوری ۱۹۹۹ء میں ایک ساتھ نمبر کی شکل میں شائع کیا گیا۔
اس موقعہ پر اس کے ابتداء میں یہ لکھا گیا کہ: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بانی اور بزرگ رہنما حضرت مولانا تاج محمود کی زندگی اور بعد میں ”لولاک“ نے کئی قابل قدر نمبر شائع کئے۔ حضرت مولانا محمد یوسف بنوری نمبر، حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری نمبر، سیرت النبی ﷺ نمبر، حضرت مولانا تاج محمود نمبر، اب ختم نبوت کانفرنس تقاریر نمبر آپ کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔ لولاک میں کانفرنس کی تقاریر اکثر و بیشتر ہمیشہ شائع ہوتی رہی ہیں۔ تمام تقاریر کو یکجا شائع کرنے کی یہ پہلی روایت ہے۔ دعا ہے کہ اللہ رب العزت اسے اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت سے نوازیں۔
پہلے دن مولانا اللہ وسایا کا صبح کا درس، مولانا نور الحق نور پشاور، مولانا قاری رحیمی صاحب کوئٹہ، مولانا زبیر احمد ظہیر اور دوسرے چند حضرات کی تقاریر دستیاب نہیں ہو سکیں۔ جن کے لئے معذرت خواہ ہیں کہ وہ شریک اشاعت نہیں ہو سکیں۔ باقی جو کچھ ہو سکا وہ پیش خدمت ہے۔ اس نمبر میں جن حضرات کی تقاریر شامل اشاعت تھیں ان کے نام بمع صفحہ کے یہ ہیں:
خطاب صفحہ نمبر حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری مدظلہ ۴ حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی صاحب ۱۴ حضرت صاحبزادہ طارق محمود صاحب ۲۸ حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب ۲۹
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حضرت مولانا محمد امجد خان صاحب ۳۶ حضرت مولانا عبدالستار تونسوی صاحب ۴۰ حضرت مولانا عبدالواحد صاحب ۵۶ حضرت مولانا فتح محمد صاحب ۵۷ حضرت مولانا عبدالمالک صاحب ۵۹ حضرت مولانا محمد الیاس گھمن صاحب ۶۲ حضرت مولانا عبدالغفور جھنگوی صاحب ۶۵ حضرت مولانا فیروز خان صاحب ۶۶ حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب بھکر ۷۰ حضرت مولانا احمد میاں حمادی صاحب ۷۲ حضرت مولانا میاں محمد افضل صاحب ۷۵ جناب سردار محمد خان لغاری صاحب ۷۷ حضرت مولانا شفیق الرحمٰن درخواستی صاحب ۸۱ حضرت مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو صاحب ۸۹ حضرت مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی صاحب ۱۰۱ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب ۱۱۹ حضرت مولانا امیر محمد اکرم اعوان صاحب ۱۲۵ حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب ۱۳۳ حضرت مولانا عبدالمجید ندیم شاہ صاحب ۱۴۰ حضرت مولانا محمد لقمان علی پوری صاحب ۱۵۲
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۱۹۹۹ء ص۳،۲)
شکست قادیانیت کا مقدر....... حکیم العصر مولانا محمد یوسف لدھیانوی کا خطاب:
الحمد لله وسلام علیٰ عباده الذين اصطفیٰ. اما بعد!
سب حضرات رسول اللہ ﷺ پر درود شریف پڑھیں۔
آپ حضرات کی خدمت میں میں نے کھل کر دو چار باتیں عرض کرنی ہیں اور میرا کوئی خاص موضوع نہیں ہے۔ وہ جو عام طور پر اس جلسہ میں آئے ہیں۔ چونکہ رد قادیانیت ہمارا موضوع ہے۔ اس لئے میرا بھی یہی موضوع سمجھیں۔ لیکن قادیانیت سے ہٹ کر پہلے میں تمہیں اپنے نبی کریم ﷺ کی چند باتیں سناتا ہوں۔ اس کے بعد تم خود ہی اندازہ کر لو گے کہ سچا کون ہے اور جھوٹا کون ہے؟ حق پر کون ہے اور باطل
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پر کون ہے؟ میرے تمام بھائی جو مرزا غلام احمد قادیانی کے ماننے والے ہیں، میں ان کو کوئی گالی نہیں نکالتا۔ دوسری کسی قسم کی فحش کلامی بھی نہیں کرتا کہ حضرت محمد ﷺ کا ذکر حسین سنیں اور مرزا غلام احمد قادیانی کا آپ مقابلہ کرلیں اور میری اور تمام حاضرین کی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے لئے ہدایت کے دروازے کھول دے۔
تمہیں اللہ تعالیٰ نے بہت مہلت دی۔ پورے سو سال ہوگئے ہیں، تمہیں مہلت ملے ہوئے اور تمہارا خیال یہ تھا کہ پوری دنیا میں ہماری حکومت ہوگی اور مسلمانوں کی حیثیت چوڑھے چماروں کی سی ہوگی۔ یہ غلط بات میں نہیں کہہ رہا، یہ مرزا محمود کے الفاظ ہیں۔ لیکن سو سال میں تم نے دیکھ لیا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے ساتھ کیا معاملہ کیا ہے؟ اور جو آخرت میں اور قبر میں ہونے والا ہے وہ تو ابھی تم دیکھو گے۔ دنیا دارالجزا نہیں ہے۔ یہاں کافر بھی کھاتے ہیں، مومن بھی کھاتے ہیں، بلکہ کافروں کو زیادہ دیتے ہیں اور مومنوں کو کم دیتے ہیں۔ قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ہے: ”لولا ان یکون الناس امة واحده“ یعنی اگر یہ خطرہ نہ ہوتا کہ یہ سارے لوگ کافروں کی ایک ہی جماعت بن جائیں گے اور جو لوگ کہ اللہ تعالیٰ سے کفر کرتے ہیں، اللہ کے منکر ہیں ۔ ہم ان کے مکانوں کی چھتیں سونے کی بنا دیتے اور آگے بھی بات فرمائی ہے کہ ان کے مکانوں کی چھتیں سونے کی ہوتیں اور ان کی سیڑھیاں سونے کی ہوتیں، دیواریں سونے کی ہوتیں اور یہ ساری چیزیں چاندی کی ہوتیں اور ”ذلک لَمَّا متاع الحیٰوۃ الدنیا“ یہ تو بالکل معمولی برتنے کی چیزیں ہیں۔ میں جو بات کہنا چاہتا ہوں وہ تو آگے ہے، لیکن درمیان میں ایک ضروری بات کرنے لگا ہوں۔
میرے قادیانی بھائیو! ذرا غور کرو۔ ساری روئے زمین کی بادشاہت دو تین آدمیوں کو دی گئی ہے۔ دو مسلمانوں کو اور دو کافروں کو۔ اگر پوری دنیا کی بادشاہت فرض کرو مجھے عطا کر دی جائے اور بادشاہت بھی آجکل جیسی نہیں کہ لوگوں کے چہروں کی طرف دیکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ عورتوں کو ہم کچھ نہیں کہیں گے۔ گو حکومتوں کی سرداری ہے۔ ایسی حکومت نہیں بلکہ جس کو بادشاہت کہتے ہیں۔ کامل اور مکمل حکومت اور عقیدت کے ساتھ حکومت، امریکہ والے بھی حکومت کرتے ہیں، انگلینڈ والے بھی حکومت کرتے ہیں۔ حضرت عمر فاروق ؓ نے بھی حکومت کی تھی۔ حضرت عثمان غنی ؓ اور حضرت حیدر کرار علی المرتضیٰ ؓ نے بھی حکومت کی۔ لیکن کیسی؟ وہ جو حکم فرماتے ان کے منہ سے جو لفظ نکل جاتا تھا لوگ اس کی تعمیل کو اپنے لئے سعادت سمجھتے تھے اور وہ اپنے منہ سے بات نہیں نکالتے تھے۔ ایسی کہ جس میں کسی کا نفع نہ ہو بلکہ وہ ایسی بات کہتے تھے کہ جس میں دنیوی نفع بھی ہو اور اخروی نفع بھی ہو۔ یہ صحیح حکومت ہوتی ہے۔ انبیاء کرام علیہم السلام نے بھی حکومتیں کی ہیں۔ حضرت داؤد علیہ السلام نے حکومت کی، حضرت سلیمان علیہ السلام نے حکومت کی اور دوسرے انبیاء کرام علیہم السلام نے بھی حکومتیں کیں اور حضرت محمد ﷺ کے غلاموں نے بھی حکومت کی جن کو خلفاء راشدین کہتے ہیں، ان کی حکومت میں کسی قسم کی جھول نظر نہیں آئے گی۔
میرے آقا محمد مصطفیٰ ﷺ ایک دن فرمانے لگے کہ بھائیو! جس کا میرے ذمہ کوئی حق نکلتا ہے وہ مجھ سے آج وصول کرلے قیامت پر معاملہ نہ رکھے۔ ایک صحابی کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے کہ آپ ﷺ نے مجھے ایک دن چھڑی ماری تھی۔ فرمایا حاضر ہوں، تم مار لو۔ عرض کی یا رسول اللہ ﷺ میرے بدن پر کرتا نہیں تھا بدن ننگا تھا آپ نے لباس پہنا ہوا ہے۔ حضور ﷺ نے کرتا اتار دیا اور فرمایا اب مار لو۔ وہ دوڑ کر آئے اور حضور اکرم ﷺ کی کمر مبارک کا بوسہ لینے لگے اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ میں یہی چاہتا تھا۔ دنیا میں کوئی تاریخ ایسی ہو تو بتاؤ! کہ حق مانگنے والا حق مانگ نہیں رہا اور حق دینے والا حق دے رہا ہے اور رسول اللہ ﷺ دنیا سے اس حالت میں تشریف لے جاتے ہیں کہ کسی اللہ کے بندہ کا کوئی حق آپ ﷺ کے ذمہ نہیں ہے اور یہی حال حضرات خلفاء راشدین کا تھا۔ اللہ تعالیٰ سے مانگو، اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے وہ دنیا میں ہدایت پھیلانے کے لئے آئے تھے، شر پھیلانے کے لئے نہیں آئے تھے اور میرے
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیانی بھائیو! میں تم سے کہتا ہوں کہ تم محمد رسول اللہ ﷺ کو مان لو، غلام احمد کو چھوڑ دو، تمہارا بھلا ہو جائے گا، تمہاری بھلائی کی خاطر کہہ رہا ہوں اپنے نفع کے لئے نہیں۔ مجھے تو ثواب مل ہی جائے گا۔
ایک بات اور کہتا ہوں، یہ بھی تمہیدی بات ہے، ابھی ہمارے مولانا آزاد صاحب نے قصہ سنایا کہ ختم نبوت کے دو نوجوان رضا کاروں کو محض اس جرم میں گرفتار کرلیا گیا کہ وہ چاکنگ کے ذریعہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کا اشتہار لکھ رہے تھے، تم یہاں آگئے ہو اور وہ جیل میں چلے گئے ہیں۔ میرے بھائی! جرم کیا تھا؟ کتنے بڑے بڑے پوسٹر سینماؤں کے لگے ہوئے ہیں۔ فاحشہ عورتوں کی تصویریں جگہ جگہ لگی ہوئی ہیں، لیکن قانون کے اعتبار سے شاید یہ جائز ہے اور ان نوجوانوں کا اشتہار لکھنا ناجائز ہے۔ تمہیں اس پر ایک واقعہ سناتا ہوں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر اوّل امیر شریعت حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری نور اللہ مرقدہ کا ایک واقعہ ہے ( کہو کہ اللہ ان کی قبر کو منور کرے اور میرے تمام بھائی جو ختم نبوت کا کام کرنے والے ہیں اللہ تعالیٰ ان سب کی قبروں کو منور کرے) اور اپنی رحمتوں کی بارشیں برسائے۔ منیر انکوائری رپورٹ میں سید عطاء اللہ شاہ بخاری بیان قلم بند کرا رہے تھے تو انہوں نے فرمایا کہ مرزا کافر ہے۔ منیر انکوائری عدالت میں یہ بات فرمائی اور ساتھ یہ کہا کہ فلاں فلاں آدمیوں کو دعوائے نبوت کے جرم میں قتل کیا گیا تو منیر پوچھتا ہے کہ اگر غلام احمد قادیانی تمہارے سامنے یہ دعویٰ کرتا تو اسے قتل کر دیتے؟ حضرت شاہ جی نے فرمایا کہ میرے سامنے اب کوئی دعویٰ کر کے دیکھ لے! جب شاہ جی نے یہ کہا تو پوری عدالت نعرہ تکبیر سے گونج اٹھی، منیر کہتا ہے توہین عدالت ! یعنی اس سے عدالت کی توہین ہوتی ہے تو شاہ جی فرمانے لگے توہین رسالت ، یعنی جس طرح تم عدالت کی توہین برداشت نہیں کر سکتے ۔ اسی طرح عطاء اللہ شاہ بخاری رسالت کی توہین کو قبول نہیں کر سکتا ۔ وہ چپ ہو گیا آگے کوئی جواب نہ دے سکا۔ کسی جلسہ میں شاہ جی نے کہہ دیا تھا کہ مرزا کافر ہے۔ حضرت پر مقدمہ بن گیا۔ مولانا محمد شریف جالندھری فرماتے تھے کہ جج کوئی مرزائی تھا، جب تاریخ پڑ جاتی تو نئی تاریخ دے دیتا۔ حضرت شاہ صاحب تاریخ بھگتنے کے لئے تشریف لے جاتے میں ساتھ ہوتا ، ایک چھوٹی سی چٹائی ساتھ لے جاتا ، جس طرف سے دھوپ آتی تھی اس طرف سے ہٹا کر دوسری طرف ہو جاتے ، سارا دن اس طرح بیٹھے رہتے ، عدالت کا وقت ختم ہو جاتا تو اگلے دن کی تاریخ دے دیتا، اس طرح اس نے بہت پریشان کیا لیکن تم نے نتیجہ دیکھ لیا! شاہ جی تو اللہ کے پاس چلے گئے اور پیچھے مرزا غلام احمد کو کافر کہنے والی وہی عدالت تھی ، عدالتوں نے بھی کہا ، چھوٹی عدالتوں نے بھی کہا، بڑی عدالتوں نے بھی کہا سپریم کوٹ نے بھی کہا اور پوری دنیا کے مسلمانوں نے بھی مرزا غلام احمد کو کافر کہا، میں ان نوجوان دوستوں کے بارے میں جن کو رسول اللہ ﷺ کی ختم نبوت کے جلسہ کے اشتہار لکھنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا ہے مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ ان کو تھوڑی سی نسبت حضرت امیر شریعت کے ساتھ ہو گئی ہے ، بس یہ تمہیدی باتیں میری ختم ہو گئیں اب میں اصل بات شروع کرتا ہوں۔
مکہ کا ایک کافر تھا اس کا نام تھا ابو صفوان (امیہ بن خلف) اور مدینہ شریف کے ایک سردار تھے ان کا نام تھا حضرت سعد بن معاذؓ آنحضرت ﷺ مکہ شریف سے ہجرت کر کے مدینہ طیبہ تشریف لے جا چکے تھے حضرت سعد بن معاذؓ حضور اکرم ﷺ سے اجازت لے کر مکہ مکرمہ عمرہ کے لئے تشریف لے گئے۔ ان کی جاہلیت کے زمانے میں عادت تھی کہ وہ اپنے دوست ابو صفوان (امیہ بن خلف) کے پاس ٹھہرتے تھے۔ بخاری شریف کی دوسری جلد کی روایت میں ذکر کر رہا ہوں ۔ الفاظ کی کوئی کمی بیشی ہوگی ، لیکن مفہوم یہی ہے جو میں عرض کر رہا ہوں۔ بخاری شریف کی دوسری جلد کے پہلے صفحہ پر ہے کہ حضرت سعد بن معاذؓ امیہ بن خلف سے کہنے لگے کہ یار کوئی ایسا وقت تلاش کرو جس میں بیت اللہ شریف میں کوئی اور نہ ہو، اس وقت کوئی نہ جاتا ہو تاکہ میں تنہائی میں اپنے رب سے باتیں کر سکوں ۔ وہ کہنے لگا بہت اچھا دو پہر کے وقت دونوں چلے گئے۔ دوپہر اور وہ بھی وہاں کا دو پہر اب تو پکی اینٹیں لگی ہوئی ہیں، سفید پتھر لگے ہوئے ہیں، گرم ہی نہیں ہوتے ، ابن
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بطوطہ نے لکھا ہے کہ ایک دفعہ دوپہر کو میں بیت اللہ شریف کا طواف کرنے کے لئے چلا گیا، چلا تو گیا، جب میں نے مطاف میں قدم رکھا تو میرا پاؤں وہیں چپک گیا۔ بڑی مشکل سے پاؤں چھڑایا اور پیچھے کو لوٹ آیا، اس وقت کی بات ہے، ابو صفوان امیہ بن خلف نے ان کے طواف کے لئے وقت تجویز کیا بارہ بجے کا کیونکہ اس وقت کوئی نہیں ہوگا۔ وہاں جاتے ہوئے راستہ میں ابو جہل مل گیا۔ ابو جہل کہنے لگا یہ کون ہے؟ ابو صفون امیہ بن خلف نے کہا کہ میرے دوست ہیں یثرب کے رہنے والے سعد ابن معاذؓ ہیں۔ ابو جہل اونچا اونچا کوئی لفظ کہنے لگا کہ تم نے ہمارے باغیوں کو پناہ دے رکھی ہے اور آرام سے بیت اللہ کا طواف بھی کر رہے ہو۔ حضرت معاذؓ مدینے کے سردار تھے اور یہ مکہ کا سردار تھا۔ دو سرداروں کی جنگ تھی۔ حضرت سعدؓ نے ڈانٹ کر کہا کہ تمہارا غلہ آتا ہے شام سے اور میں ایک دانہ بھی مکہ نہیں پہنچنے دوں گا۔ ابو جہل یہ سن کر چپ ہو گیا اور ابو صفوان امیہ بن خلف حضرت سعد بن معاذؓ کو کہنے لگا کہ تم اس وادی کے چوہدری کو اس طرح جھڑکتے ہو، لوہا گرم تھا وہ بھی فرمانے لگے کہ زیادہ باتیں نہ کر، میں نے رسول اللہ ﷺ کی زبان سے سنا ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ وہ تجھے قتل کریں گے، ان دونوں کی دوستی عہد جاہلیت سے چلی آ رہی تھی، لیکن ایمان اور کفر کا مسئلہ اپنی جگہ! دوسری طرف مرزا قادیانی آتھم کے لئے دعا کرتے رہے بمعہ اپنی امت کے کہ یا اللہ آتھم مر جائے! یا اللہ آتھم مر جائے! وہ نہیں مرا۔ اندھے کنویں میں چنے پڑھوا کر پھینکوائے پھر بھی نہیں مرا۔ مرزا محمود کہتا ہے کہ میں نے کبھی محرم کا ماتم ایسا نہیں دیکھا تھا جیسا کہ اس رات قادیان میں ماتم برپا تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ غلام احمد کا اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ پر بھی یقین نہیں تھا اور محمد رسول اللہ ﷺ کے کافروں کو بھی حضور ﷺ پر یقین تھا۔ ان کی بدقسمتی ہے کہ وہ مسلمان نہیں ہوئے۔ کوئی کافر ایسا نہیں تھا جو رسول اللہ ﷺ کو جھوٹا سمجھتا ہو۔ ایک دفعہ یہی ابو صفوان امیہ بن خلف اور ابو جہل تنہائی میں جمع ہوئے۔ ابو صفوان، ابو جہل سے کہنے لگا کہ بھائی ایک دل کی بات بتاؤ کوئی سنتا نہیں کوئی دیکھتا نہیں، میں ہوں اور تم ہو۔ سچ بتاؤ محمد ﷺ سچے ہیں یا جھوٹے؟ ابو جہل مسکرایا اور مسکرا کر کہنے لگا تو نے ان کو جھوٹ بولتے کب دیکھا ہے؟ بچپن سے لے کر اب تک تریپن سال ہو گئے ہیں، کبھی ان کے منہ سے غلط بات بھی سنی ہے؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ ہمارے ساتھ جھوٹ بولیں؟ اس لئے میں کہہ رہا ہوں کہ مکہ کا کوئی کافر ایسا نہیں تھا جو حضور اکرم ﷺ کو سچا نہ مانتا ہو، لیکن ان کی بدقسمتی ان کے آڑے آئی، جیسا کہ مرزائیوں کا ایک فرد ایسا نہیں جو مرزا طاہر کو اور اس کے باپ کو اور اس کے دادا کو جھوٹا نہ سمجھتا ہو۔ لیکن ان کی بھی بدقسمتی آڑے آ گئی، میں نے لندن کے جلسے میں کہا تھا اب بھی کہتا ہوں اور یہ ربوہ ہے۔ امید ہے کہ مرزا طاہر اور اس کی ذریت کو میری یہ رپورٹ پہنچ جائے گی۔ میں نے کہا تھا کہ دوسرے لوگ تو دلائل کے ساتھ، قرآن اور قیاسات کے ذریعہ غلام احمد کو، اس کے بیٹے مرزا محمود کو اور مرزا طاہر تجھے جھوٹا سمجھتے ہوں گے، لیکن میں قسم کھا کر اور منبر رسول ﷺ پر بیٹھ کر کہتا ہوں کہ مرزا طاہر تو حق الیقین کے ساتھ جانتا ہے کہ تو جھوٹا ہے، تیرا باپ جھوٹا تھا، تیرا دادا جھوٹا تھا، سچوں کی علامتیں اور ہوتی ہیں۔ قادیانیو! جس طرح کفار مکہ کی بدقسمتی ان کے آڑے آ گئی تھی اور وہ ان کو ایمان لانے سے روک رہی تھی، تمہاری بھی بدقسمتی آڑے آ گئی ہے، ورنہ اللہ تعالیٰ تمہیں توفیق دے تو تم سب ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ پڑھ کر مسلمان ہو جاؤ اور مرزا غلام احمد پر لعنت بھیجو۔
میری ایک بات ختم ہو گئی اور وقت بہت تھوڑا ہے۔ مولانا محمد علی جالندھری فرماتے تھے کہ جب میں تقریر کرنے بیٹھتا ہوں تو گھڑی چھلانگیں لگاتی نظر آتی ہے اور یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ جب میری تقریر کی تاریخ رکھنی ہو تو کسی اور کی نہ رکھا کرو، تاکہ میں اپنی بات کھلی کہہ سکوں، تم نے میرے محمد ﷺ کا جلال بھی دیکھا، تم نے میرے آقا کا جمال بھی دیکھا، کبھی اشتہار نہیں دیا، کبھی ڈھنڈورا نہیں پیٹا کہ امیہ (ابو صفوان بن امیہ) میں تجھے قتل کروں گا۔ ایک بات سرسری ہو گئی تھی اور غلام احمد قادیانی نے ساری عمر ڈھنڈورا پیٹا، اشتہار چھاپے اور بات ایک بھی سچی نہیں نکلی۔ قادیانیو! میں یہاں منبر پر بیٹھا ہوں، کتابیں لے آؤ اور ایک بات مرزا کی سچی ثابت کر دو۔ تم مرزا کی ایک
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بات سچی ثابت نہیں کرسکتے۔ تم بھی جھوٹے، تمہارا پیر بھی جھوٹا۔ الحمدللہ! میں بھی سچا، میرا پیر بھی سچا اور میرے آقا ﷺ بھی سچے۔ ہم گالیاں نہیں نکالتے، تمہاری ہدایت کے لئے کہتے ہیں اور یہ بھی مجبورا کہتے ہیں، ہمارے منہ سے مجبورا نکلتا ہے کہ غلام احمد قادیانی سچا نہیں تھا، جھوٹا تھا جھوٹوں کا پیر تھا۔ اس نے اسی پچاسی کتابیں لکھیں ہیں اور تم نے اس کی کتابوں کے مجموعہ کا نام رکھا روحانی خزائن۔ لاحول ولا قوة الا باللہ! میں جب حوالہ لکھتا ہوں اور روحانی خزائن لکھتا ہوں تو مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے۔ بہر حال تئیس جلدوں میں روحانی خزائن کے نام سے اس کے ملفوظات کا مجموعہ ہے اور دس جلدوں میں اس کے ملفوظات ہیں۔ اس کے ملفوظات کے ایک حصہ کا ایک ملفوظ سنا دیتا ہوں، کہتا ہے کہ: ”ہمارا وجود دو باتوں کے لئے ہے ایک شیطان کو مارنے کے لئے اور ایک نبی کو مارنے کے لئے۔“ (نعوذ باللہ) یہ کونسا نبی ہے، یہ وہی نبی ہے جس کے بارے میں یہودی آج تک کہتے ہیں کہ ہم نے ان کو قتل کردیا۔ اب کس نے قتل کیا؟ ادھر یہودیوں کا دعویٰ ہے، ادھر قادیانیوں کا دعویٰ ہے، لیکن یہ دونوں دعویٰ جھوٹ ہیں، نہ یہودیوں کے ہاتھوں یہ واقعہ ہوا نہ عیسائیوں کے ہاتھوں، قرآن کریم میں ہے ”وقولهم اناقتلنا المسيح ابن مريم“ ان کے کہنے کی وجہ سے ہم نے مسیح عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو قتل کر دیا ہے۔ یہودی کافر ہوگئے، قتل نہیں کیا تھا جھوٹ بولتے ہیں، لیکن اپنے اس قول کی وجہ سے کافر ہو گئے۔ غلام احمد نے بھی عیسیٰ علیہ السلام کو قتل نہیں کیا، لیکن دعویٰ ہے کہ ہم نے قتل کر دیا۔ وہ بھی اس وجہ سے کافر ہو گیا۔ مرزا قادیانی تو قبر میں چلا گیا۔ وہاں اس کا انجام بھگت رہا ہوگا۔ اس کے پیچھے اس کے جو چیلے چانٹے ہیں اور دجال جب نکلے گا۔ اس کے ساتھ ہوں گے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کو قتل کریں گے اور مسلمان دجال کے چیلوں کو قتل کریں گے۔ عیسیٰ علیہ السلام کے آنے سے تمام کی تمام ملتیں اور تمام کے تمام مذاہب ختم ہو جائیں گے، سوائے اسلام کے۔ یہ برطانیہ والے بھی نہیں رہیں گے۔ یہ ہندو، بودیوں والے بھی نہیں رہیں گے اور باقی تمام کے تمام کافر ختم ہو جائیں گے۔ یہ عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کی برکت ہوگی۔ ”و آخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين“
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۴ تا ۱۰؍ دسمبر ۱۹۹۸ء ص ۷ تا ۱۰)
پانچواں سالانہ رد قادیانیت وعیسائیت کورس مسلم کالونی چناب نگر
سالانہ رد قادیانیت وعیسائیت کورس پوری شان وشوکت کے ساتھ جامع مسجد ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں منعقد ہوا۔ سالانہ کورس عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے زیر اہتمام ۱۰ تا ۲۸؍ شعبان ۱۴۱۹ھ، بمطابق ۳۰؍ نومبر تا ۱۸؍ دسمبر ۱۹۹۸ء جوش وجذبات کے آلاؤ اور فکر ونظر کی وسعتوں کے ساتھ انعقاد پذیر ہوا۔
سالانہ رد قادیانیت وعیسائیت کورس میں ملک عزیز کے چاروں صوبوں بشمول آزاد کشمیر کے شرکاء کرام نے سابقہ سارے ریکارڈ توڑ کر شرکت کی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کا شعبہ دارالمبلغین اب تک ہزاروں مناظر اور علماء کرام فتنہ قادیانیت کے خلاف میدان میں اتار چکا ہے۔ جامعات اسلامیہ، کالجز، یونیورسٹیز اور تمام شعبہ زندگی سے متعلق افراد اس کورس میں عبادت سمجھ کر شرکت کرتے ہیں۔
امسال ۴۵۱ طلباء کرام نے شرکت کی۔ کورس میں علماء کرام نے لیکچرز دیئے۔ ان میں حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ، مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ، مولانا اللہ وسایا مدظلہ، مولانا بشیر احمد مدظلہ، مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی مدظلہ، مولانا عبداللطیف مسعود، مولانا زاہد الراشدی، مولانا حفیظ الرحمن، مولانا خدا بخش، مولانا صاحبزادہ طارق محمود اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی شامل ہیں۔
سالانہ رد قادیانیت وعیسائیت کورس میں علماء کرام نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور افادیت، حیات عیسیٰ علیہ السلام، کذبات مرزا عیسائیوں کا عقیدہ تثلیث اور ابنیت کے مسائل کھول کھول کر بیان کیا۔ طلباء کرام نے جس شوق اور جوش سے اپنی گرمجوشی کا مظاہرہ کیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء
۱۶؍ دسمبر ۱۹۹۸ء بروز بدھ امتحان لیا گیا۔ ایک سو تینتیس طلباء کرام امتحان میں شامل ہوئے نتائج کے اعتبار سے پہلی پوزیشن جناب عبدالناصر صاحب رول نمبر ۹۲ نے حاصل کی۔ ان کا تعلق جھنگ سے ہے۔ دوسری پوزیشن مظفر گڑھ کے غلام مصطفیٰ رول نمبر ۱۶ نے حاصل کی۔ تیسری پوزیشن چکوال کے خبیب احمد رول نمبر ۱۱۷ نے حاصل کی۔ ان کے بعد بخت محمد نے پشین سے، حفیظ اللہ نے لیہ سے، عبدالقدوس نے راولپنڈی سے، اعجاز احمد نے ایبٹ آباد سے، محمد عظمت اللہ نے خوشاب سے، محمد آفاق نے بہاول نگر سے اور محمد آصف نے جھنگ سے بالترتیب چوتھی سے دسویں پوزیشن حاصل کی۔
شعبہ امتحان حضرت مولانا عبداللطیف صاحب کی زیر صدارت قائم تھا۔ جمعہ ۱۸؍ دسمبر کو شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانوی صاحب باب العلوم کہروڑ پکا نے اختتامی تقریر سے ایمان کو جلاء بخشی اور ان کی معیت میں مفتی ظفر اقبال صاحب بھی تشریف لائے۔ حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد امیر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی آمد پر تقریب تقسیم اسناد وانعامات شروع ہوئی۔ جمعہ سے پہلے مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ نے ایمان افروز خطاب کیا۔ آپ کے خطاب کے بعد اسناد وانعامات تقسیم ہوئے۔ نماز جمعہ کے بعد رفقاء باہم گرم جوشی سے ملتے ہوئے پرنم آنکھوں سے ایک دوسرے سے اس عزم کے ساتھ رخصت ہوئے کہ جو پڑھا ہے اپنے اپنے علاقوں میں جاکر اس پر عمل درآمد کرنا ہے اور فتنہ قادیانیت کی بیخ کنی کے لئے اپنی صلاحیتوں اور جوانیوں کو صرف کر دینا ہے۔
اس سالانہ رد قادیانیت کورس میں جن شرکاء کرام اور طلباء کرام نے شرکت کی۔ ان کے اسماء گرامی درج ذیل ہیں:
نمبر شمار نام مع ولدیت ضلع نمبر شمار نام مع ولدیت ضلع ۱ امین اللہ بن حمایت اللہ ژوب ۲ غلام اللہ عباسی بن مبارک حسین ایبٹ آباد ۳ محمد عثمان معاویہ بن مولانا اللہ داد لیہ ۴ محمد بلال بن اللہ بخش لیہ ۵ حق نواز بن حاجی نور مظفر گڑھ ۶ اورنگزیب بن عبدالکریم مانسہرہ ۷ عامر الرحمن بن امتیاز خان صوابی ۸ عبدالمومن بن محمد یونس بالاکوٹ ۹ عثمان یاسر بن محمد سلطان بالاکوٹ ۱۰ ظہور اقبال بن عبدالغفور میرپور آزاد کشمیر ۱۱ سیف الحق بن فضل حق نوشہرہ ۱۲ محمد اشفاق بن عبداللہ راولاکوٹ آزاد کشمیر ۱۳ محمد زبیر بابر بن تاج محمود لاہور ۱۴ عبدالواحد بن محمد شریف مانسہرہ ۱۵ فخر القرنین بن بشیر احمد میانوالی ۱۶ غلام مصطفیٰ بن حاجی محمد حسین مظفر گڑھ ۱۷ ضیاء الرحمن بن حافظ حبیب الرحمن جھنگ ۱۸ محمد شاہد بن سلیم الرحمن چارسدہ ۱۹ سمیع الرحمن بن سلیم الرحمن چارسدہ ۲۰ محمد زبیر اقبال بن محمد اقبال ملک بہاول پور ۲۱ محمد ابرار بن امیر خان کرک ۲۲ عبدالرحمن بن حافظ عبدالشکور بھکر ۲۳ عبدالعزیز بن حاجی ظہور احمد لاہور ۲۴ محمد امین بن صوبے خان قصور ۲۵ محمد صدیق حقانی بن صوبے خان قصور ۲۶ محمد افضل شاکر بن حافظ عبدالرزاق شیخوپورہ
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۲۷ عبدالرشید بن عبداللطیف سیالکوٹ ۲۸ محمد اشفاق بن قطب الدین نارووال ۲۹ محمد عبداللہ بن عبدالرشید قصور ۳۰ خالد محمود بن لیاقت شہداد پور ۳۱ منصور الٰہی بن مولوی مسعود الحسن خانیوال ۳۲ انتظار احمد بن اسلام الدین میانوالی ۳۳ احمد سعید بن جناب محمد رمضان بھکر ۳۴ محمد طاہر بن مولانا ارشد مدنی نواب شاہ ۳۵ شبیر احمد بن حافظ غلام قادر بہاول پور ۳۶ ظفر اقبال بن غلام سرور لودھراں ۳۷ عبدالرزاق بن محمد شفیع لودھراں ۳۸ محمد اسلم بن حافظ جان محمد میلسی ۳۹ محمد صدیق بن اللہ بخش کہروڑ پکا ۴۰ محمد یار بن عبدالجبار میلسی ۴۱ محمد اعظم بن رحمت خان کہروڑ پکا ۴۲ واجد علی بن غلام نبی چراغ ملتان ۴۳ محمود الحسن بن ڈاکٹر دین محمد بھکر ۴۴ عبدالرشید بن محمد اسحاق مروٹ ۴۵ محمد آفاق بن نذیر احمد ہارون آباد ۴۶ اعجاز حسین بن حافظ عبداللہ ڈی جی خان ۴۷ رفیق الرحمٰن بن محمد رانجھا بہاول نگر ۴۸ محمد خالد جاوید بن نذیر احمد کامونکی ۴۹ الفت زمان بن زمرد خان ہری پور ہزارہ ۵۰ اسد جاوید بن عبدالکریم کھاریاں ۵۱ حق نواز بن خوشی محمد خانیوال ۵۲ ذوالفقار احمد بن علی افسر ایبٹ آباد ۵۳ محمد فیروز بن منیر احمد مظفر گڑھ ۵۴ عبدالستار بن غلام رسول شورکوٹ ۵۵ محمد عثمان بن قاری محمد ارشد شیخوپورہ ۵۶ محمد یوسف بن حافظ محمد ادریس بہاول پور ۵۷ محمد طلحہ بن ممتاز قریشی شیخوپورہ ۵۸ محمد نعمان بن مفتی رشید احمد پسرور ۵۹ افتخار احمد بن روشن عباسی آزاد کشمیر ۶۰ ارشاد الحق بن محمد گلزار آزاد کشمیر ۶۱ کرامت صدیقی بن محمد اکبر آزاد کشمیر ۶۲ محمد فاروق بن عبدالغفور خانیوال ۶۳ محمد شہزاد بن ملک محمد حنیف خانیوال ۶۴ حفیظ اللہ بن محمد نواز کروڑ لعل عیسن ۶۵ ضرار بن ریاض احمد ڈسکہ ۶۶ شاہد محمود بن تاج محمود کھاریاں ۶۷ فیصل متین بن محمد ظفر باگڑ سرگانہ ۶۸ اعجاز احمد بن عبدالرحمٰن ایبٹ آباد ۶۹ اشفاق احمد بن شیر محمد کوٹ ادو ۷۰ محمد صدیق بن قاری اللہ دتہ کہروڑ پکا ۷۱ محمد اکرم بن عبدالرحمٰن میلسی ۷۲ رشید احمد بن شیر محمد کوٹ ادو ۷۳ سجاد احمد بن قربان علی لودھراں ۷۴ محمد آصف بن عبدالغنی ملتان ۷۵ محمد عظمت اللہ بن حاجی محمد صدیق خوشاب ۷۶ نذیر احمد بن غلام نبی میاں چنوں ۷۷ بخت محمد بن علی محمد پشین ۷۸ امتیاز احمد بن اللہ دتہ بھلوال ۷۹ غلام شبیر بن گل محمد مظفر گڑھ ۸۰ افتخار احمد بن ملک صدیق جھنگ
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۸۱ ظہیر احمد بن لال دین سیالکوٹ ۸۲ طاہر محمود بن گلزار احمد اوکاڑہ ۸۳ محمد طارق بن حاجی احمد بہاول پور ۸۴ محمد عارف بن اللہ دتہ سمہ سٹہ ۸۵ محمد یوسف بن نذیر احمد گوجرانوالہ ۸۶ محمد عبدالغفور بن محمد عرش حیدر آباد ۸۷ زاہد الیاس بن محمد الیاس فیصل آباد ۸۸ محمد حنیف بن نور محمد شور کوٹ ۸۹ محمد خالد بن صابر ڈوڈھ ۹۰ محبوب الرحمن بن شفیق الرحمن مانسہرہ ۹۱ محمد اقبال بن جان محمد لاہور ۹۲ عبد الناصر بن محمد یار چنیوٹ ۹۳ خالد محمود بن مشتاق احمد گوجرہ ۹۴ صغیر احمد بن فقیر احمد ڈسکہ ۹۵ ندیم احمد بن عتیق اللہ حیدر آباد ۹۶ احمد جان بن محمد حسین قصور ۹۷ ضیاء الرحمن بن محمد مقصود آزاد کشمیر ۹۸ ملازم حسین بن اللہ دتہ جھنگ ۹۹ عبدالواحد بن کانشی رام سرگودھا ۱۰۰ عبدالقدوس بن محمد اقبال لودھراں ۱۰۱ عتیق الرحمن بن محمد یعقوب کمالیہ ۱۰۲ خلیل الرحمن بن عبدالجبار ہارون آباد ۱۰۳ وحید اسد بن محمد اشرف سمندری ۱۰۴ خالد محمود بن مولانا عبدالرحمن کمالیہ ۱۰۵ غضنفر علی بن فداء محمد مانسہرہ ۱۰۶ محمود الحسن بن منظور شاہ مانسہرہ ۱۰۷ محمد عابد آسی بن...... مانسہرہ ۱۰۸ نوید اختر بن محمد اختر ڈسکہ ۱۰۹ شہزاد احمد بن عبدالستار ڈسکہ ۱۱۰ محمد ناصر بن محمد صدیق ڈسکہ ۱۱۱ مشتاق احمد بن بشیر احمد احمد پور شرقیہ ۱۱۲ محمد عاشق بن واحد بخش احمد پور شرقیہ ۱۱۳ محمود تیمی بن مفتی عطاء الرحمن بہاول پور ۱۱۴ محمد عبداللہ بن محمد اسماعیل ڈیرہ اسماعیل خان ۱۱۵ محمد رسول احمد بن محمد بخش کوئٹہ ۱۱۶ محمد اکرم بن نور محمد ننکانہ ۱۱۷ خبیب احمد بن قاری عبدالحق تلہ گنگ ۱۱۸ نوید احمد بن عبدالکریم ڈسکہ ۱۱۹ نور محمد بن محمد عمر کوٹ ادو ۱۲۰ محمد قاسم بن غلام رسول میلسی ۱۲۱ محمد وسیم بن عبدالحمید فیروزہ ۱۲۲ عبدالقدوس بن ربیع احمد صادق آباد ۱۲۳ محمد رفیق بن عزیز احمد ایبٹ آباد ۱۲۴ مبارک شاہ بن گوہر علی مانسہرہ ۱۲۵ محمد ارشد بن انور دیپال پور ۱۲۶ محمد لقمان بن محمد صدیق ملتان ۱۲۷ بہادر بن محمد بڈھل گمبٹ ۱۲۸ نائب علی بن بخش علی گمبٹ ۱۲۹ غلام سرور بن محبوب علی گمبٹ ۱۳۰ راشد بن حکیم عبدالکریم لاہور ۱۳۱ محمد شاکر بن خالد خان ملتان ۱۳۲ ریاض احمد بن خیر اللہ تونسہ ۱۳۳ ناصر یاسین بن غلام حسین لیہ ۱۳۴ عتیق الرحمن بن سمیع اللہ لیہ ۱۳۵ محمد افتخار بن انور لیہ ۱۳۶ مجاہد اقبال بن اللہ بخش میلسی
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۱۳۷ عبدالرحمن بن احمد بخش لیہ ۱۳۸ اصغر نیاز بن محمد بخش کوٹ ادو ۱۳۹ حماد احمد بن محمد صدیق پسرور ۱۴۰ حفیظ اللہ بن حافظ بشیر احمد فیصل آباد ۱۴۱ طارق بن محمد رفیق چیچہ وطنی ۱۴۲ مفتی محمود الحسن بن مولانا عبداللہ خالد مانسہرہ ۱۴۳ محمد اقبال بن ظہیر احمد شورکوٹ ۱۴۴ محمد فاروق بن عطاء محمد لیہ ۱۴۵ زین العابدین بن احمد کوٹ ادو ۱۴۶ محمد بلال بن معصوم شاہ مانسہرہ
مستونگ بلوچستان میں قرآن مجید کی توہین کرنے والے کو عمر قید کی سزا
(کوئٹہ) ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد یوسف کھوسو کی عدالت نے مستونگ میں قرآن شریف کی اور حدیث پاک کی بے حرمتی کے مجرم کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ تفصیلات کے مطابق ملزم نے کلی شادینی کی مسجد کے بیت الخلاء میں قرآن پاک اور بخاری شریف کے اوراق ڈال دیئے تھے۔ نائب تحصیل دار نے چھاپہ مار کر ملزم عبد الہادی کو گرفتار کر لیا۔ ملزم عبد الہادی نے اقبال جرم کر لیا۔ ۷؍ اگست ۱۹۹۸ء کو حاجی نذر محمد وغیرہ کے نام سے مقدمہ درج ہوا۔ مقدمہ کی سماعت دو ماہ بیس دن جاری رہی۔ ۸؍ دسمبر ۱۹۹۸ء کو مجرم عبد الہادی کو جرم ثابت ہونے پر عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ استغاثہ کی طرف سے ۱۹ گواہ پیش ہوئے۔ استغاثہ کی پیروی ڈسٹرکٹ اٹارنی جناب عجب خان ناصر نے کی۔ درمیان میں ایک دفعہ ڈسٹرکٹ اٹارنی جنرل کوئٹہ غلام عباس بھی پیش ہوئے تھے۔ مجرم کی طرف سے خدا بخش ایڈووکیٹ پیش ہوتے رہے۔
مقدمہ کی پیروی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کوئٹہ نے کی اور مستونگ کی عوام اور علماء کرام نے بھر پور کردار ادا کیا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے نائب امیر حاجی سید شاہ محمد آغا، سیکرٹری جنرل حاجی تاج محمد فیروز، ڈپٹی سیکرٹری حاجی خلیل الرحمن، نگران دفتر حاجی نعمت اللہ، جناب فیاض حسن سجاد، مرکزی مبلغ حضرت مولانا عبد العزیز جتوئی اور دوسرے ساتھی ہر پیشی پر کوئٹہ سے مستونگ حاضر ہوتے رہے۔
ختم نبوت کانفرنس نواب شاہ
۹؍ دسمبر ۱۹۹۸ء بروز بدھ بعد نماز عشاء جامع مسجد مدینہ نواب شاہ میں حسب سابق دوسری سالانہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس مذہبی جوش وخروش کے ساتھ منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں نواب شاہ اور گرد ونواح کے مسلمانوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ کانفرنس کی صدارت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما علامہ احمد میاں حمادی صاحب نے کی۔ مہمان خصوصی جمعیت علماء اسلام کے رہنماء علامہ ڈاکٹر خالد محمود سومرو صاحب تھے۔
کانفرنس کی کارروائی کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا۔ تلاوت کے بعد علامہ احمد میاں حمادی صاحب نے صدارتی خطاب شروع کیا تو فضا نعرۂ تکبیر اور ختم نبوت کے نعروں سے گونج اٹھی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں مسئلہ ختم نبوت اور رفع ونزول عیسیٰ علیہ السلام پر قرآن وسنت سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے قادیانیت کے باطل نظریات سے بھی آگاہ کیا۔ ان کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا خان محمد نے مطالبات قرارداد کی شکل میں پیش کئے۔ جس پر لوگوں نے کھڑے ہو کر اس کی تائید اور حمایت کی۔
کانفرنس کے آخری مقرر حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود سومرو تھے۔ انہوں نے مدلل اور مفصل خطاب میں شان رسالت ﷺ کا تذکرہ ایسے دل نشین انداز میں کیا کہ مجمع میں ہر آنکھ اشکبار تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ انہی حضرات کی قربانیوں اور مسلسل جدوجہد کا نتیجہ ہے کہ آج قادیانیت پوری دنیا میں ذلت اور رسوائی کی موت مر رہی ہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۱۹۹۹ء ص ۴۷ تا ۵۶)
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تحریک ختم نبوت
کے سلسلہ میں
۱۹۹۹ء
کے
حالات و واقعات
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شاہ کوٹ اور کراچی میں قادیانیوں کی شرانگیز سرگرمیاں
مملکت خداداد پاکستان کا حصول مسلمانان برصغیر کی بے شمار قربانیوں کے بعد ممکن ہوا اور اس کی بنیاد میں مسلمانوں کے نونہال بچوں سے لیکر بوڑھوں تک کا خون صرف ہوا اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان حصول ”لا الہ الا اللہ“ کے نظریئے کے تحت معرضِ وجود میں آیا۔ اسی نظریے کے تحت مسلمانان برصغیر نے اپنے بچوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے شہید ہوتا دیکھا۔ ماؤں نے اپنے جگر گوشوں کو قربان کیا۔ بہنوں نے اپنے جواں سال بھائیوں کی قربانی دی اور دلہنوں نے اپنے سہاگ لٹا دیے۔ صرف اور صرف اس لئے کہ نو آزاد پاکستان میں وہ اپنے دین اسلام کے مطابق زندگیاں گزار سکیں گے۔ ان کا ایمان، عزت و آبرو محفوظ ہوگی اور وہ اپنے دینی تقاضوں کے مطابق زندگی گزار کر دارین کی فوز و فلاح کو سمیٹ سکیں گے۔ آج قیام پاکستان کو پچاس سال سے زائد کا عرصہ بیت چکا، لیکن اس کے باوجود حکمرانوں اور ارباب اختیار کے کھوکھلے دعوؤں کے سوا قوم کو کچھ نہ دیا گیا۔ نظریہ پاکستان کے ساتھ غداری کی گئی اور ہمیشہ زمام اقتدار ان لوگوں کے ہاتھوں میں دی گئی جو نظریہ پاکستان کے سراسر مخالف تھے اور ہیں۔ آج بھی قادیانی جو دین اسلام کے متوازی دین کے پیروکار ہیں۔ رسول آخرین محمد عربی ﷺ کے متوازی، انگریز کے خود کاشتہ پودے مرزا قادیانی کو نبی اور رسول کا درجہ دیتے ہیں جو شعائرِ اسلام کا کھلا مذاق اڑاتے ہیں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے متوازی مرزا غلام احمد قادیانی کی جنم بھومی کا احترام کرتے ہیں، جو تمام امت مسلمہ کو کافر اور رنڈیوں کی اولاد سمجھتے ہیں۔ آج بھی پاکستان کے اعلیٰ عہدوں پر قابض ہیں۔ جس کی وجہ سے ملک میں چوری، ڈکیتی، رہزنی اور افراتفری پھیلانے کی بیسیوں مثالیں موجود ہیں جن میں سے چند تازہ واقعات ملاحظہ فرمائیں:
”باوثوق ذرائع کے مطابق شاہ کوٹ ( شیخوپورہ ) کے قریب کوئلہ کاہواں اسٹاپ پر کافی ملز موجود ہیں جن میں سے تین سورج انڈسٹری کی ملیں ہیں جن کی انتظامیہ میں جنرل منیجر ( تنویر احمد خان ) گریڈ منیجر ( ودود احمد خان ) اور ڈرائیور مبارک احمد خان تینوں کٹر قسم کے قادیانی ہیں۔ غریب و نادار مسلمانوں کو مرتد بنانے اور مسلمانوں کے ایمانوں پر ڈاکہ ڈالنے میں شب و روز مصروف ہیں۔ یہ قادیانی قریبی گاؤں ”بہوڑو“ جہاں اکثر قادیانی رہتے ہیں وہاں جا کر نماز پڑھتے ہیں اور آئین پاکستان کے ساتھ کھلے مذاق کا ارتکاب کرتے ہیں۔
ان مذکورہ قادیانیوں کی ڈاک میں قادیانی لٹریچر اور قادیانی اخبار وغیرہ آتے ہیں۔ ان قادیانی غنڈوں نے غریب مسلمانوں کو مرتد بنانے کے لئے عجیب طریقہ اختیار کیا ہوا ہے کہ غریب ورکرز کو ملز سے نکال دیتے ہیں۔ ڈرائیور مبارک احمد ان غریب مسلمانوں سے مل کر کہتا ہے کہ تم قادیانی ہو جاؤ میں تمہیں بحال کرا دیتا ہوں اور اگلے دن غریب مسلمان مرتد ہو کر مل میں ڈیوٹی کر رہا ہوتا ہے۔ ہماری اطلاع کے مطابق یہ سلسلہ ایک عرصے سے جاری ہے اور مذکورہ بالا قادیانی اپنی سرگرمیوں سے باز نہیں آ رہے ہیں۔
قادیانیوں کی شرانگیز سرگرمیوں کا ایک اور واقعہ ملاحظہ فرمائیں: ”خرم آباد لانڈھی ( کراچی ) میں نو آباد علاقہ ہے وہاں قادیانی ایک رہائشی مکان میں نماز جمعہ کے بہانے قادیانیت کی کفریہ تبلیغ کر کے اہل علاقہ میں اشتعال پھیلا کر حالات کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ علاقہ کی انتظامیہ کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ( کراچی ) نے مطلع کیا تو وہ قادیانیوں کی بے جا حمایت کر کے سستی اور لاپروائی سے کام لے رہی ہے اور حالات کو مزید خراب کرنا چاہتی ہے۔“
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اسی طرح گزشتہ ماہ سفائر ٹیکسٹائل ملز نمبر ۱ سائٹ ایریا کوٹری (سندھ) میں ظفر احمد ولد ناصر قادیانی نیز مبارک قادیانی نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ترجمان ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کو پھاڑ کر نذر آتش کیا۔ اس رسالہ میں قرآن مجید کی ۱۸ آیات، احادیث رسول اکرم ﷺ، درود شریف، کلمہ طیبہ اور رسول اکرم ﷺ کا اسم گرامی (محمد ﷺ) تقریباً ”۱۶۰“ مرتبہ لکھا ہوا تھا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت (حیدرآباد) سندھ کے ایک وفد نے ڈی۔ایس۔پی کو واقعہ سے مطلع کیا اور فوری طور پر ملزمان کو گرفتار کرنے کی درخواست دی، لیکن انہوں نے واقعہ کا سنجیدگی سے نوٹس نہ لیا۔ مل انتظامیہ کے فورمین مرزا سلیم بیگ اور تین افراد منور احمد، اکبر علی اور کامران نے حلفیہ بیان دیا کہ ان دو افراد نے ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کو جلایا ہے۔ مذکورہ مجرمان نے مل انتظامیہ کے سامنے رسالہ نذر آتش کرنے کا اقرار بھی کیا۔ انکوائری مکمل ہو جانے کے بعد چاہئے تو یہ تھا کہ ڈی۔ایس۔پی صاحب ایف۔آئی۔آر درج کرنے کا فوری حکم دیتے، مگر اس واقعے کو دبانے کے لئے ٹال مٹول، سستی اور لاپرواہی سے کام لیا جا رہا ہے۔ علاقے میں اس واقعے پر انتہائی اشتعال پایا جاتا ہے۔ بعد ازاں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ایک وفد نے ہوم سیکریٹری سندھ سے کراچی میں ملاقات کر کے صورتحال سے آگاہ کیا۔ مجرمان کی فوری گرفتاری احکامات جاری کرنے کے باوجود کوٹری انتظامیہ تاحال سستی اور لاپرواہی سے کام لے کر مرزائیت نوازی کا ثبوت دے رہی ہے۔ کیا قادیانی قانون سے بالاتر ہیں؟
مملکت خداداد میں قانون موجود ہے کہ کوئی قادیانی اپنے باطل اور ارتدادی نظریات کی تبلیغ و تشہیر نہیں کر سکتا۔ نہ ہی اسلامی اصطلاحات اور اسلامی شعائر کا استعمال کر سکتا ہے۔ لیکن قادیانی ہیں کہ اپنی شیطانی حرکتوں سے باز نہیں آتے اور ملک کی پرامن فضاء کو شب و روز مسموم کرنے میں اپنا وقت اکارت کر رہے ہیں۔
ہم حکومت پاکستان سے بھرپور مطالبہ کرتے ہیں کہ قادیانیوں کو آئین و قانون کا پابند بنائے۔ اگر سورج انڈسٹریز کے قادیانی افسران کی مذموم سرگرمیوں اور سفائر ٹیکسٹائل ملز سے فرار ہونے والے قادیانیوں کو فوری طور پر گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دینے میں سستی اور لاپرواہی سے کام لیا گیا تو نہ صرف سورج انڈسٹریز، شاہ کوٹ (شیخوپورہ) اور خرم آباد لانڈھی کراچی میں حالات کی خرابی کی ذمہ داری حکومت پر ہوگی بلکہ اگر قادیانیوں کی شرانگیز سرگرمیوں کا فوری نوٹس نہ لیا گیا تو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اپنا آئینی اور قانونی حق استعمال کر کے قادیانیوں کی مذموم سرگرمیوں کا از خود نوٹس لے گی اور حالات کی خرابی کی تمام تر ذمہ داری حکومت پاکستان پر عائد ہوگی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ یکم تا ۶؍ جنوری ۱۹۹۹ء ص ۴، ۵)
میرپور ماتھیلو سندھ لبرٹی پاور پلانٹ میں قادیانیوں کی شرانگیزیاں
میرپور ماتھیلو لبرٹی پاور پلانٹ اور گردونواح میں قادیانیوں نے سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لئے اپنا لٹریچر تقسیم کرنا شروع کر دیا اور سرعام مسلمانوں کو اپنے جھوٹے مذہب کی تبلیغ شروع کر دی۔ ارشد اور عبدالحکیم نامی قادیانی لڑکے مسلمانوں میں لٹریچر تقسیم کرتے اور تبلیغ کرتے ہوئے پکڑے گئے لیکن انتظامیہ نے کوئی کارروائی نہیں کی۔
لہٰذا مسلمانوں نے حضرت مولانا محمد اسحاق صاحب لغاری اور دوسرے مقامی علمائے کرام کے تعاون سے لبرٹی پاور پلانٹ کے قریب گاؤں میں ایک عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس کا اہتمام کیا۔ جس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما حضرت مولانا مفتی حفیظ الرحمٰن، حضرت مولانا قاری خلیل احمد سکھر اور حضرت مولانا محمد حسین ناصر نے شرکت کی۔ ان حضرات نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ میرپور
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ماتھیلو میں قادیانیوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کا سدباب کرے۔ ورنہ میرپور ماتھیلو کے غیور مسلمان مجبور ہوں گے خود ان کا ناطقہ بند کر دیں اور ملک دشمن عزائم رکھنے والے قادیانیوں کو لگام دیں۔ حضرت مولانا مفتی حفیظ الرحمن نے اپنے خطاب میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول اور امام مہدی علیہ الرضوان کا ظہور قرآن وحدیث کی روشنی میں نہایت تفصیل سے بیان فرمایا اور قادیانیوں کی واردات اور تکذیب کے بارے مسلمانوں کو آگاہ کیا کہ قادیانی ٹولہ قرآن وحدیث کو جھٹلاتا ہے۔ مرزا قادیانی ختم نبوت کا انکار کر کے خود کبھی مسیح موعود بنتا ہے کبھی مہدی موعود بنتا ہے اور یہ انگریز کا خودکاشتہ پودا نبوت کا دعویٰ کر کے ہم مسلمانوں کی غیرت ایمانی کو چیلنج کرتا ہے اور ہم مسلمان غفلت کی نیند سورہے ہیں۔ قادیانی ہمارے ایمان کے بھی دشمن ہیں اور ہمیں طرح طرح کے دھوکے دیتے ہیں اور ملک کے بھی دشمن ہیں۔ مسلمانوں سے وعدہ لیا کہ وہ قادیانیوں کا مکمل بائیکاٹ کریں گے۔
مولانا نے فرمایا کہ چودہ سو سالہ تاریخ گواہ ہے کہ آج تک کبھی منکر ختم نبوت اور جھوٹے مدعی نبوت کو معاف نہیں کیا۔ حضور ﷺ کے فرمان عالی شان کے مطابق مسیلمہ کذاب کو صحابہ کرام ؓ نے خود جہنم واصل کیا۔ اس حکم پر عمل کرنا اسلامی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ان حضرات نے نعیم ڈار قادیانی، راجہ خالد داؤد قادیانی اور دوسرے قادیانیوں کو خبردار کیا کہ آئندہ اگر انہوں نے کسی مسلمان کو اپنے دجل اور فریب کے ذریعہ دھوکہ دینے کی کوشش کی تو مسلمان سنت صدیقی پر عمل کرنے پر مجبور ہوں گے۔ یہ کانفرنس جو صبح دس بجے شروع ہوئی تھی، شام پانچ بجے حضرت مولانا قاری خلیل احمد خطیب جامعہ مسجد بندر روڈ سکھر کی دعا کے ساتھ ختم ہوئی۔ اس کانفرنس سے جو ۱۳؍ دسمبر ۱۹۹۸ء کو ہوئی، قادیانی بہت زیادہ پریشان ہوئے اور مسلمانوں کے خلاف قتل کے منصوبے بنانے لگے۔ لہٰذا ۱۶؍ دسمبر ۱۹۹۸ء انہوں نے اس کا ثبوت اس وقت دیا کہ جب کانفرنس کا انتظام کرنے والے بشیر احمد بھیو بھاول بھیو محمد پنھل بھیو کی ایک سیکورٹی افسر سے تلخ کلامی ہوئی۔ نعیم ڈار قادیانی جو لبرٹی پاور پلانٹ میں بڑا آفیسر ہے، اس کو جب اس کی اطلاع ہوئی تو اس نے اندر سے حکم دیا کہ فوراً گولی چلا دو اور ان کو ختم کر دو۔ لہٰذا تینوں مسلمانوں کو گولیاں مار کر شدید زخمی کر دیا گیا۔ سیکورٹی افسر سلیم اور نعیم ڈار قادیانی کے خلاف ایف آئی آر کرائی اور مولانا محمد اسحاق لغاری اور دوسرے مسلمانوں نے مطالبہ کیا کہ ان کو گرفتار کیا جائے، لیکن انتظامیہ نے روایتی بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کو گرفتار کرنے کی بجائے تحفظ فراہم کیا۔ اس وقت انتظامیہ کا پورا پورا تعاون قادیانیوں کو حاصل ہے۔ میرپور ماتھیلو کے تمام مسلمانوں نے ڈی سی عبدالستار مانیکا اور ایس پی سے مطالبہ کیا کہ مذکورہ مجرمان کو گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۱۹۹۹ء ص ۵۳،۵۴)
جماعت انجمن قادیانیہ ربوہ حال چناب نگر کے اخبارات، رسائل کے ڈیکلریشن ختم کیے جائیں
جماعت انجمن قادیانیہ چناب نگر کو ۸۳ لاکھ روپے کے انکم ٹیکس میں گھپلا کرنے کی سزا دی جائے
فیصل آباد (نمائندہ خصوصی) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سیکریٹری اطلاعات مولانا فقیر محمد نے چیف سیکریٹری پنجاب اور کمشنر فیصل آباد سے مطالبہ کیا کہ ربوہ کا نام تبدیل کر کے چناب نگر رکھنے کے بارے میں گورنر پنجاب کی طرف سے ۴؍ فروری ۱۹۹۹ء کو جاری شدہ نوٹیفکیشن کے مطابق قادیانی جماعت انجمن احمدیہ ربوہ سے قادیانی ڈپٹی کمشنر جھنگ کے ذریعہ متعلقہ نوٹیفکیشن پر عملدرآمد کرایا جائے۔ بصورت دیگر قادیانی اخبارات ورسائل کے ڈیکلریشن منسوخ کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے مطالبہ پر ربوہ کا نام تبدیل کرنے کے بارے میں ۱۷؍ نومبر ۱۹۹۸ء کو پنجاب اسمبلی نے متفقہ قرارداد منظور کی تھی اور صوبائی وزیر مال چوہدری شوکت داؤد کا نیا نام
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
رکھنے کا اختیار دیا گیا تھا جس پر ایک مولانا صاحب نے نیا نام ’’نواں قادیان‘‘ کا نوٹیفکیشن ۱۲/دسمبر ۱۹۹۸ء کو جاری کروا دیا۔ جس پر عالمی مجلس نے سخت احتجاج کیا اور نواں قادیان نام تبدیل کر کے ’’چناب نگر‘‘ رکھنے کا نوٹیفکیشن ۴/فروری ۱۹۹۹ء کو جاری کیا گیا۔
علاوہ ازیں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت فیصل آباد کے سیکرٹری اطلاعات مولانا فقیر محمد نے نئی حکومت اور چیئرمین سی بی آر و سیکرٹری خزانہ اسلام آباد سے مطالبہ کیا ہے کہ قادیانی جماعت انجمن احمدیہ چناب نگر سابقہ ربوہ کو ۸۳ لاکھ انکم ٹیکس و جرمانہ اپلیٹ کمشنر انکم ٹیکس سرگودھا کی طرف سے معاف کرنے کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کرائی جائے اور اس فیصلہ کے خلاف فوری طور پر انکم ٹیکس ٹربیونل میں اپیل دائر کی جائے اور قادیانی غیرمسلموں سے ایک ایک پیسہ انکم ٹیکس وصول کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فقیر محمد کی تحریری شکایت ۲۵/جون ۱۹۹۸ء بنام اسسٹنٹ کمشنر انکم ٹیکس سرکل چنیوٹ پر قادیانی انجمن احمدیہ سابقہ ربوہ حال چناب نگر کے خلاف تحقیقات شروع ہوئی اور ثبوت کے طور پر شکایت کے ساتھ تین چالان فارم جن پر مرزا منصور احمد آنجہانی قادیانی کے مہر و دستخط تھے، جن کی رقم ۲۸/اکتوبر ۱۹۹۶ء کو نیشنل بینک ربوہ میں جمع کرائی گئی۔ جو ۳۷ لاکھ ۵۶ ہزار ۶۳۰ روپے اور ۴۳ لاکھ ۲۷ ہزار ۷۳۴ روپے کی تفصیل پیش کی گئی۔ چناب نگر پر انکم ٹیکس چوری کیا گیا تھا۔ اس کیس کو ری اوپن کیا گیا اور شکایات درست پائی گئیں۔ جس پر اسسٹنٹ کمشنر انکم ٹیکس چنیوٹ نے قادیانی جماعت کو ۴۳ لاکھ روپے سے زائد انکم ٹیکس اور ۴۰ لاکھ روپے جرمانہ کل ۸۳ لاکھ روپے انکم ٹیکس لگایا۔ لیکن تاحال قادیانیوں کو انکم ٹیکس میں گھپلا کرنے کی سزا نہیں دی گئی۔ لہٰذا فی الفور انکم ٹیکس وصول کر کے ان کو سزا دی جائے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۱۲ تا ۱۸/نومبر ۱۹۹۹ء ص۲۲،۲۳)
ربوہ کا نیا نام چناب نگر
حکومت پنجاب نے خرابی بسیار کے بعد ایک اور نوٹیفکیشن کے ذریعہ ربوہ کا نیا نام چناب نگر رکھنے کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔ پنجاب اسمبلی میں ربوہ کا نام تبدیل کرنے سے متعلق قرارداد کی منظوری کے بعد حکومت نے ’’نواں قادیان‘‘ کے نئے نام کا نوٹیفکیشن تیار کر لیا تھا جو ابھی جاری نہیں ہوا تھا کہ اختلاف کے باعث روک لیا گیا۔ قادیانی جماعت نے صوبائی وزارت مال کو ’’نیو قادیان‘‘ جب کہ مولانا منظور احمد چنیوٹی نے ’’نواں قادیان‘‘ کے علاوہ بعض دینی تنظیموں کی جانب سے مصطفےٰ آباد، صدیق آباد، چناب نگر اور سابقہ نام چک ڈھکیاں نام تجویز کئے گئے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گزشتہ دس برس سے ہر سالانہ کانفرنس کے موقع پر یہ قرارداد پیش کرتی چلی آئی ہے کہ ربوہ کا نام تبدیل کر کے پہلے جھوٹے مدعی نبوت کو واصل جہنم کرنے والے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے نام پر صدیق آباد رکھا جائے۔ ربوہ کے نام پر نزاع سے بچنے کے لیے مجلس تحفظ ختم نبوت نے مؤقف اختیار کیا کہ ربوہ کا کوئی سا نیا نام رکھنے میں مضائقہ نہیں۔ لیکن ’’نیو قادیان‘‘ یا ’’نواں قادیان‘‘ قطعی مناسب نہیں۔ صوبائی وزیر مال نے واضح یقین دہانی کروائی تھی کہ نام کے اختلاف کی وجہ سے نوٹیفکیشن روک دیا گیا ہے۔ تاہم محکمہ مال کے کاغذات کے مطابق نام چک ڈھکیاں ہی بحال کیا جائے گا۔
حکومتوں کو حماقتیں کرنے کی عادت ہوتی ہے۔ صوبائی وزیر مال نے واضح یقین دہانی کے باوجود ’’نواں قادیان‘‘ کے نام سے ۱۲/دسمبر ۱۹۹۸ء کا روکا جانے والا نوٹیفکیشن ہی جاری کر دیا گیا۔ اس صریحاً بددیانتی کے بعد دینی حلقوں کی جانب سے احتجاجی غم وغصہ کا اظہار ایک فطری امر تھا۔ چنانچہ ۹/فروری ۱۹۹۹ء کو اخبارات کے ذریعے حکومت پنجاب نے ربوہ کا نیا نام ’’چناب نگر‘‘ رکھنے کا باضابطہ اعلان کر دیا۔ اس حکومت کے ایک نامعقول اقدام کے بعد دانشمندانہ فیصلہ کو بہرطور سراہا جائے گا۔ ہمیں خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ (ربوہ) کے نئے نام کے حوالے سے قادیانی جماعت کی سازش ناکام ہوئی۔ حکومت کی پالیسیاں ایمان پر نہیں نظریہ ضرورت پر چلتی ہیں۔
تحریک ختم نبوت جلد(۷) ۱۹۹۹ء ۱۴۰ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ربوہ کے نام کی تبدیلی کے ضمن میں شروع دن سے محسوس ہوتا تھا کہ حکومت ربوہ کا ایسا نام منظور کرنا چاہتی ہے جو قادیانیوں کو بھی قابل قبول ہو۔ صدیق آباد، نام قادیانیوں کی موت کا پیغام تھا۔ چک ڈھکیاں انہیں اس لئے قابل قبول نہیں تھا کہ اس نام سے شہر کی بجائے گاؤں کا تصور ابھرتا تھا ”نواں قادیان“ یا نیو قادیان، مسلمانوں کی دینی حمیت اور ملی غیرت کے لئے چیلنج کے مترادف تھا۔ ہمارے خیال کے مطابق ”نواں قادیان“ کے نام کے حوالہ سے حکومت اور تجویز کنندہ ہمارے کرم فرما دینی سیاسی رہنما نے غور ہی نہیں کیا تھا۔ قادیانی اپنے آبائی روحانی مرکز ”قادیان“ واقع بھارت کو مکہ مدینہ سے افضل قرار دیتے ہیں۔ قادیان کے سالانہ اجتماع کو وہ لوگ حج کا درجہ دیتے ہیں۔ بہشتی مقبرہ قادیان کو جنت المعلیٰ اور جنت البقیع سے زیادہ مقدس خیال کرتے ہیں۔ مذہبی عقائد سے قطع نظر قادیان ہمارے ازلی ابدی دشمن بھارت کا شہر ہے۔ کیا محب وطن پاکستانی یہ پسند کریں گے کہ وطن عزیز کے کسی شہر کا نام بھارت کے کسی شہر کے نام پر رکھا جائے؟ کیا لاہور کا نام نیو امرتسر اور فیصل آباد کا نام نواں چندی گڑھ رکھنا پسند کیا سکتا ہے؟ پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے۔ اگر بھارتی شہر کے نام پر پاک وطن کے کسی شہر کا نام رکھا جائے تو یہ صریحاً دو قومی نظریہ کی نفی ہو گی۔ ہماری قومی و ملی غیرت کا تقاضا یہ تھا کہ اس نام کے بارے میں سوچا بھی نہ جاتا، باقی مسئلہ رہا اقلیت کے جذبات کی پاسداری کا...... اور شہری ہونے کے ناطے ان کے حقوق کا...... تو قادیانیوں نے ۱۹۷۴ء کی اس آئینی ترمیم کو تسلیم ہی کب کیا ہے؟ جو ان کے جذبات کے پیش نظر ربوہ کا نیا نام رکھا جاتا۔ قادیانی جماعت اکھنڈ بھارت الہامی عقیدے پر اسی طرح یقین رکھتی ہے جیسے معمولی کلمہ گو عقیدہ توحید پر ایمان رکھتا ہے۔ جو اقلیت پاک سر زمین کی مٹی میں دفن ہونا پسند نہیں کرتی اور اپنے مردوں کو امانتاً دفن کرتی ہے۔ کیا انہیں یہ حق دینا ضروری ہے کہ ربوہ کے نام کی تبدیلی میں ان کی رائے شامل کی جائے۔
اہل اقتدار عشق سے نہیں مصلحت سے کام نکالتے ہیں۔ وارثان منبر و محراب کا یہ شیوہ نہیں کہ وہ بھی مصلحت پسندی کا شکار ہو جائیں۔ نیت پر شک اس لئے اچھا نہیں کہ دلوں کے بھید اللہ ہی بہتر جانتے ہیں۔ لیکن یہ کیا حسن اتفاق ہے کہ ربوہ کے نام کے حوالے سے مولانا منظور احمد چنیوٹی اور قادیانیوں کے تجویز کردہ ناموں میں کس قدر مماثلت پائی گئی۔ چونکہ قادیانی فتنہ انگریز سامراج اور انہیں کا خود کاشتہ پودا ہے۔ لہٰذا قادیانی جماعت نے اپنے آقا کی زبان کو فراموش نہیں کیا۔ البتہ مولانا منظور احمد چنیوٹی نے (NEW) نیو کا پنجابی ترجمہ کر کے نام کو عام فہم بنانے میں خاصی مہربانی کا ثبوت فراہم کیا تھا۔
ہم حیران ہیں کہ مولانا منظور احمد چنیوٹی کو یہ نام کیونکر سوجھا؟ کہ مسیلمہ کذاب کے جانشین کے شہر کا نام قادیان تجویز فرما دیا۔ اس حسن کرشمہ سازی پر کچھ کہنے سے راقم اس لئے بھی قاصر ہے کہ ہم ان کے نیاز مندوں میں شامل ہیں اور یہ کہ اس محاذ پر ان کی خدمات کو بہر طور فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ اگر قادیانیوں کے جدا گانہ تشخص کو نمایاں کرنے کے لئے مذکورہ بالا نام تجویز کیا گیا تھا تو پھر ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے کے مطالبہ کی کیا ضرورت تھی؟
ریکارڈ کی بات جھٹلائی نہیں جاسکتی۔ مولانا موصوف اس اعتراف سے انکار نہیں کر سکتے کہ نواں قادیان نام حکومت پنجاب نے انہی کی تجویز پر رکھنے کا فیصلہ کیا تھا جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا۔ قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر کے اس طنزیہ بیان پر تبصرہ کیا جائے کہ ”بعض مولوی ہماری مخالفت کے باوجود ہماری مدد کر رہے ہیں۔“ یہ بات ہم پورے وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ ربوہ نام کی تبدیلی سے متعلق پنجاب اسمبلی میں متفقہ طور پر منظور ہونے والی قرار داد پر قادیانی جماعت کو جتنا افسوس ہوا تھا۔ نواں قادیان کے نوٹیفکیشن پر انہیں اس سے کہیں زیادہ خوشی ہوئی تھی۔ کیونکہ انہیں بیٹھے بٹھائے اپنے روحانی مرکز کا نام مل گیا تھا۔ جس کے بارے میں وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
چناب نگر کے نئے نام کے بعد ربوہ کے نام کے ضمن میں کچھ مدت سے جاری ہونے والی بحث یقیناً اب ختم ہو جائے گی۔ لیکن ہمیں دکھ اور افسوس اس بات کا ہے کہ مسئلہ ختم نبوت کے تحفظ کی تحریک میں پہلا موقع ہے کہ باہمی اتحاد و اتفاق کی بجائے مختلف دینی تنظیموں اور قائدین نے الگ الگ مؤقف اختیار کیا۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ عقیدہ ختم نبوت کی غیر معمولی اہمیت اور تحریک ختم نبوت کے پس منظر میں ماضی کی طرح روایتی اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کیا جاتا۔ دینی جماعتوں اور ان کے قائدین کو اس بات کا نوٹس لینا چاہئے کہ قادیانیوں کے پیچھے کون سی وہ طاقت ہے جس کی ایما پر نواں قادیان نام کا نوٹیفکیشن واضح یقین دہانی کے باوجود جاری کیا گیا۔ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ مردہ گھوڑے میں ابھی جان باقی ہے۔ قادیانی ہمارے باہمی اختلاف اور انتشار کے باعث نوٹیفکیشن جاری کروانے میں کامیاب رہے۔ ہمیں نوشتہ دیوار پڑھ لینا چاہئے۔ آئندہ تحفظ ختم نبوت اور قادیانی مسئلہ پر دینی جماعتوں، مجلس عمل تحفظ ختم نبوت اور قائدین کو مشترکہ اور متفقہ لائحہ عمل مرتب کرنا چاہئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۱۹۹۹ء ص ۳ تا ۵)
سینٹرل جیل حیدر آباد میں قادیانیوں کی سرگرمیوں پر آئی. جی جیل خانہ جات سے ملاقات
حیدر آباد (نمائندہ خصوصی) سینٹرل جیل حیدر آباد میں قادیانیوں کی اشتعال انگیز سرگرمیوں اور شعائر اسلام استعمال کرنے اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنے کے اقدام کے خلاف مجلس کے ایک نمائندہ وفد نے جمعیت علماء اسلام کے مولانا سید اسعد تھانوی کی سربراہی میں آئی. جی جیل خانہ جات سے ملاقات کی وفد میں مجلس تحفظ ختم نبوت سندھ کے کنوینر علامہ احمد میاں حمادی، کراچی کے ناظم اعلیٰ رانا محمد انور اور حیدر آباد کے مولانا محمد نذر شامل تھے۔ وفد نے آئی. جی کو قادیانیوں کی جیل میں سرگرمیوں سے آگاہ کیا۔ سینٹرل جیل کی ظالم انتظامیہ جیل میں قید مسلمانوں کو عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور قادیانیت کے خلاف بات کرنے پر ظلم و تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے۔ جیل میں قرآنی تعلیم دینے والے اساتذہ کو درس قرآن دینے سے روک دیا گیا ہے۔ سرکل نمبر ۱ کالا چکر میں مسلمانوں کی مسجد کو غیر آباد کر دیا گیا ہے۔ جب کہ راشی اور کرپٹ افسران نے قادیانیوں کو جیل میں اذان دینے اور قادیانیت کی تبلیغ کرنے کا کھلا پرمٹ دے رکھا ہے۔ مجلس کے وفد نے آئی. جی صاحب کو یہ بھی باور کرایا کہ قادیانی تو جیل کے باہر بھی کھلے عام اذان اور تبلیغ نہیں کر سکتے، یہ قیدی بن کر قانون کی چھتری کے سہارے ان کی سرگرمیاں خود ان کے لئے اچھی نہیں ہوگی۔ وفد نے آئی. جی سے مطالبہ کیا کہ مسلمان علماء پر تشدد کرنے اور قادیانیت کی تبلیغ کی اجازت دینے والے جیل سپریٹنڈنٹ نصرت حسین منگن جیلر مرزا فتح علی بیگ و دیگر افسران کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے۔ آئی. جی جیل خانہ جات صوبہ سندھ نے اس اشتعال انگیز واقعے کی انکوائری کا حکم دے دیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۱۲ تا ۱۸ / مارچ ۱۹۹۹ء ص ۲۴)
قادیانیوں کا مسلمان علماء کو مناظرہ کا چیلنج کرنے کے بعد فرار
جھنگ (نمائندہ خصوصی) نیکوکارہ ایک گاؤں کا نام ہے جو کچا احمد پور روڈ پر واقع ہے۔ وہاں ڈاکٹر عبدالغفار صاحب کے پاس قادیانی بنیامین نامی اپنے مربی کے ہمراہ کئی دفعہ آیا اور ڈاکٹر صاحب سے بات چیت شروع کی مگر ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ میں قادیانیوں کے مکر وفریب سے ناواقف ہوں تو قادیانیوں نے کہا کہ آپ مسلمان علماء کو بلائیں چنانچہ ایک ماہ قبل دو مارچ ۱۹۹۹ء بروز منگل بعد نماز مغرب کا وقت طے ہوا کہ قادیانی، مسلمان علماء سے مناظرہ کریں گے۔ طے یہ ہوا کہ اگر درمیان میں کوئی مجبوری پیش آجائے تو مناظرہ سے دس دن قبل اطلاع دینا ہوگی ورنہ جو فریق میدان مناظرہ میں نہ آیا تو وہ جھوٹا تصور ہوگا۔ ڈاکٹر عبدالغفار صاحب نے مولانا غلام حسین مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سے رابطہ قائم کیا۔ چنانچہ مذکورہ تاریخ کو جھنگ سے علماء کا وفد جس میں مولانا عبدالرحیم صدر مدرس جامعہ
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ۱۴۴ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
محمودیہ، مولانا محمد الیاس بالاکوٹی، مولانا غلام مصطفےٰ خطیب جامع مسجد ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر (ربوہ)، مولانا غلام حسین مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جھنگ ،مفتی محمد صدیق صاحب شامل تھے۔ علماء کا وفد ظہر کے وقت جائے مذکورہ پر پہنچ گیا وقت مقررہ پر قادیانی جب نہ آئے تو علماء نے علاقہ کے لوگوں کے پر زور مطالبہ پر قادیانیوں کے عقائد ،نظریات کھل کر بیان کئے۔ مفتی محمد صدیق نے مناظرہ کی غرض وغایت بیان کی اور مسلمانوں کو قادیانیوں کے کفریہ نظریات سے بچنے کی تلقین کی اور قادیانیوں سے مکمل بائیکاٹ کرنے کا بیان فرمایا۔ مولانا عبد الرحیم صاحب نے مرزا قادیانی کی جھوٹی نبوت کے دجل وفریب سے مسلمانوں کو آگاہ کیا۔ مولانا غلام مصطفےٰ صاحب نے حضرت امام مہدی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق قادیانیوں کا عقیدہ اور دونوں شخصیتوں کا فرق اور نشانات حدیث کی رو سے بیان کیں اور قادیانیوں کو مباہلہ کا چیلنج دیا اور کہا کہ قادیانی اب بوکھلا چکے ہیں کیونکہ ربوہ کا نام اب بدل چکا ہے اور ملک کے قادیانی کثیر تعداد میں اسلام قبول کر رہے ہیں اور اب قادیانیوں کی ذلت اور رسوائی کے دن آچکے ہیں۔ آخر میں مولانا غلام حسین نے قادیانی کتابوں سے حوالہ جات دکھا کر مرزا قادیانی کا پوسٹ مارٹم کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۱۹۹۹ء ص ۵۰)
سماجی بہبود کے وزیر بن یامین کے نام کھلا خط
السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
غیر ملکی ،اسلام اور پاکستان دشمن، این جی اوز کے خلاف آپ کا جہاد اور پنجاب میں دو ہزار این جی اوز پر پابندی، میری طرف سے اور میرے ساتھیوں کی طرف سے آپ دلی مبارک باد کے مستحق ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اسلام اور پاکستان دشمنوں کے خلاف آپ کی جدوجہد کو قبول فرمائے۔ (آمین)
جناب والا! آپ نے سماجی بہبود کی وزارت کے اختیارات کا جو صحیح استعمال کیا ہے وہ لائق تحسین ہے، اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ان غیر ملکی ایجنٹوں نے این جی اوز کے پردے میں جو تخریب کاری کی ہے آپ نے اس پر صحیح کاروائی کی ہے۔
جناب والا! آپ کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد شیطان کی خالہ ”بی بی سی“ نے جو مہم شروع کی ہے اور پاکستان میں نام نہاد حقوق انسانی کی علمبردار عاصمہ جہانگیر کا جو بھونڈا انٹرویو براڈ کاسٹ کیا۔ ہم اس کی پرزور مذمت کرتے ہیں بلکہ امید کرتے ہیں کہ آپ کی وزارت میں عاصمہ جہانگیر کے کرتوتوں کا بھی پردہ فاش ہو جائے گا۔ آپ کے توسط سے یہ بھی عدالت کے کٹہرے میں کھڑی نظر آئے گی۔
جناب والا! آپ پر بہت اچھی طرح واضح ہے کہ عاصمہ جہانگیر پاکستان کی جڑیں جس طرح کاٹ رہی ہے۔ ۳؍مارچ ۱۹۹۹ء کا اوصاف میں انٹرویو ہی ثبوت کے لئے کافی ہے۔ ایک مرتبہ پھر تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں اور دعا گو ہیں کہ خدا آپ کو مزید قوت بھی عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین!
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۱ تا ۱۷؍ جون ۱۹۹۹ء ص ۲۶)
راولپنڈی میں گلزار نامی لعین کی جانب سے جھوٹا دعویٰ نبوت
راولپنڈی کے علماء کرام قاری سعید الرحمن، مفتی ابرار احمد، قاری عبدالرشید ایڈووکیٹ اور بعض اخباری اطلاعات کے مطابق گلزار نامی ایک شخص نے ایک کتاب تحریر کی ہے جس میں اپنے آپ کو والعیاذ باللہ (اللہ تعالیٰ اس کے وجود سے اس سرزمین کو پاک کرے) نبی ظاہر کیا ہے اور ایسی باتیں لکھی ہیں جس سے بغیر شک وشبہ کے نبی ہونے کے دعویٰ کا پتہ چلتا ہے۔ اس سے قبل یوسف نامی شخص نے
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا پیری مریدی کی آڑ میں اسی قسم کی بکواس شروع کی تھی۔ یہی صورتحال گوہر شاہی کی ہے کہ وہ پیری مریدی کے ذریعے اپنے مریدوں کو ایسے مقام پر لے آتا ہے جہاں اس کی ہر بات مانی جاتی ہے۔ اس کے بعد وہ ان مریدوں کے ذہنوں میں اپنے بارے میں جو بکواس چاہے راسخ کر دیتا ہے یہی وجہ ہے کہ کراچی سے خیبر تک کے درودیوار پر اس کے مریدوں نے امام مہدی کی بشارت کے ساتھ اس کا نام تحریر کیا ہے اور نوبت یہاں تک آ گئی ہے کہ اپنے اخبار سے اور بعض جھوٹے اخبارات کے ذریعہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے امریکہ کے ایک ہوٹل میں ملاقات اور حجر اسود میں اپنی شبیہ کے نظر آنے کے دعوے تحریر کرا کر لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ غلام احمد قادیانی، یوسف ملعون، گوہر شاہی کے بعد اب یہ سلسلہ گلزار نامی شخص نے راولپنڈی اور اسلام آباد کے علاقوں میں شروع کر دیا ہے جو بہت ہی تشویش کی بات ہے۔ ہم مسیلمہ کذاب سے لے کر اب تک ہونے والے جھوٹے مدعیان نبوت کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں جو کتاب ائمہ تلبیس نے تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے تو یہی پتہ چلتا ہے کہ یہ سب جھوٹے مدعیان نبوت ابتداً میں بہت ہی نیک قسم کے، اسلام کے بارے میں حساس ذہن رکھنے والے تھے اور ان کا مقصد اسلام کی سربلندی تھا لیکن جب وہ آگے بڑھے اور ان کے مریدین کی تعداد میں اضافہ ہوا تو دماغ خراب ہو گیا اور اپنے آپ کو مخلوق سے بلند تر سمجھنے لگے اور پھر آہستہ آہستہ بزرگ، ولی، قطب، مہدی اور نبوت کے دعوے دار بن گئے۔ سوائے مسیلمہ کذاب اور حسن بن صبا اور مرزا غلام احمد قادیانی کہ ان کا ابتداء ہی سے پروگرام نبوت کی دعوے داری کا تھا۔ جیسا کہ مسیلمہ کذاب نے حضور اکرم ﷺ سے بیعت کرتے وقت کہا کہ مجھے خلافت میں سے کچھ حصہ دے دیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ کھجور کی ایک ٹہنی کے برابر بھی خلافت میں کسی کا کچھ حصہ نہیں۔ اسی طرح حسن بن صبا کا مقصد ہی اسلام کو نقصان پہنچانا تھا اور اس نے محبت اہل بیت کی آڑ میں اسلام میں تفریق پیدا کی۔ اسی طرح مرزا غلام احمد قادیانی کو دیکھتے ہیں کہ اس کا مقصد انگریزی حکومت کے خلاف مسلمانوں کے جہاد کا راستہ روکنا اور انگریزی حکومت کی امداد کرنا تھا اس لئے اس کا آلہ کار بن کر اس نے کام شروع کیا اور اپنی حیثیت کو معتمد بنانے کے لئے اس نے مناظر اسلام کی حیثیت اپنائی اور جب لوگوں میں اعتماد ہو گیا تو اس نے تدریجی طور پر نبوت کا دعویٰ کر دیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کا یہ فتنہ آج سو سال گزرنے کے باوجود امت کے لئے فتنہ اور مصیبت بنا ہوا ہے۔ ہزاروں افراد اس فتنہ کی سرکوبی کے لئے شہید ہو چکے ہیں۔ برطانیہ اور امریکہ کی سرپرستی میں یہ فتنہ مسلمانوں کے لئے ناسور ہے۔ ابھی امت اس فتنہ کی شرانگیزیوں سے بچنے کے لئے تدابیر پر غور کر رہی ہے اور امت کو اس سے بچانے کی کوشش کر رہی ہے کہ پاکستان گوہر شاہی، یوسف ملعون اور گلزاروں کی شکل میں مرتد جھوٹے مدعیان مسلمانوں میں افتراق پیدا کرنے کے لئے کھڑے کئے جا رہے ہیں اور حیرت کی بات یہ ہے کہ ایسے لوگوں کی پتہ نہیں کون سرپرستی کرتے ہیں کہ یہ لوگ دولت میں کھیلتے ہیں۔ ان کو ہر قسم کا تحفظ فراہم ہوتا ہے اور اب گلزار کی کتاب ہزاروں کی تعداد میں شائع ہو رہی ہے۔ اب معلوم ہوتا ہے کہ بے دینی قوتیں ان کو سرمایہ فراہم کرتی ہیں۔ حکومت بھی ایسے لوگوں کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔ گوہر شاہی یوسف ملعون اور اب گلزار کی کتابوں میں کھلے عام بکواس لکھی ہوئی ہے۔ گوہر شاہی اخبارات کے ذریعہ اعلان کرتا ہے لیکن مسلمان اس کے خلاف کچھ آواز اٹھائیں تو ان کو گرفتار کروایا جاتا ہے۔ نواز شریف، رفیق تارڑ حضور اکرم ﷺ کی محبت کے دعوے دار ہیں، لیکن ان کی حکومت میں یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔ کیا یہ ملک اس لیے بنایا گیا تھا کہ یہاں پر حضور اکرم ﷺ کی ختم نبوت پر ڈاکہ ڈالا جائے گا؟ اس لئے ہم حکومت سے یہ مطالبہ کریں گے کہ وہ فوری طور پر گوہر شاہی، یوسف ملعون، گلزار اور اس جیسے تمام لوگوں کی تبلیغ پر مکمل پابندی عائد کرے اور ان لوگوں کو ارتداد کی سزا دے، تاکہ پاکستان فتنوں سے نکل سکے۔ ورنہ لوگ خود مجبور ہوں گے کہ ایسے لوگوں کو جہنم رسید کریں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۶؍ مارچ تا ۸؍ اپریل ۱۹۹۹ء ص ۴، ۵)
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
توہین رسالت کے ملزم کو ۱۳ سال قید، ایک لاکھ روپے جرمانہ
ڈیرہ غازی خان (نامہ نگار) خصوصی عدالت برائے انسداد دہشت گردی کے جج بی اے فخری نے توہین رسالت کے ملزم (قادیانی) کو مجموعی طور پر ۱۳ سال قید سخت اور ایک لاکھ روپے جرمانہ کی سزا کا حکم سنایا۔ عدم ادائیگی جرمانہ ملزم کو مزید ایک سال قید بھگتنا ہو گی۔ تفصیلات کے مطابق ملزم غلام مصطفےٰ قادیانی پر الزام تھا کہ وہ قادیانی (مرزائی) مذہب سے تعلق رکھتا ہے اور تھانہ صدر ڈیرہ غازی خان کے نواحی علاقہ میں سادہ لوح مسلمانوں کو چکر دے کر مرزائیت کی تبلیغ کر رہا ہے اور لوگوں کا مفت علاج کر کے متاثر کر رہا ہے۔ جس پر مدعی نے گواہان کے ہمراہ جا کر اس کی اصلیت معلوم کی ملزم لوگوں کے جذبات مجروح کئے۔ جس پر تھانہ صدر پولیس نے فوری کارروائی کر کے مقدمہ نمبر ۹۸-۸۸ بجرم ۲۹۵-اے، ۲۹۸-سی ت۔پ درج رجسٹر کر لیا اور خصوصی عدالت برائے انسداد دہشت گردی میں چالان سماعت کے لئے پیش کیا۔ استغاثہ کی پیروی شیخ محمود، اسحاق فاضل وکیل سرکاری نے کی خصوصی عدالت نے آج یہاں مقدمہ کی مکمل سماعت اور وکلاء کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ استغاثہ کے گواہان، مدعی اور دستاویزی شہادت سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ ملزم نے اس جرم کا ارتکاب کیا ہے۔ لہٰذا عدالت نے جرم ۲۹۵-اے میں ملزم کو دس سال قید سخت اور پچاس ہزار روپے جرمانہ کی سزا کا حکم سنایا۔ عدم ادائیگی جرمانہ چھ ماہ قید مزید سخت بھگتنا ہو گی۔ دونوں سزائیں اپیل کی میعاد جو کہ سات دن ہے گزرنے کے بعد بیک وقت نافذ العمل ہوں گی۔ جب کہ ملزم کے قبضہ سے برآمد ہونے والی کتابی اور دوسرا مواد ضبط کر لیا گیا ہے۔
(نوائے وقت ملتان ۲۱ / مارچ ۱۹۹۹ء)
گوہر شاہی کے پیروکار اسحاق کو ۱۷ سال قید ایک لاکھ روپے جرمانہ کی سزا
ڈیرہ غازی خان (نامہ نگار) خصوصی عدالت برائے انسداد دہشت گردی کے جج بی اے فخری نے ریاض احمد گوہر شاہی جو کہ نبوت کا جھوٹا دعویدار ہے، کے پیروکار اسحاق کو مجموعی طور پر ۱۷ سال قید سخت اور ایک لاکھ جرمانہ کی سزا کا حکم سنایا ہے۔ عدم ادائیگی جرمانہ ملزم کو مزید ایک سال قید بھگتنا ہو گی۔
تفصیلات کے مطابق چاند سورج اور حجر اسود میں اپنی تصویر اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے جھوٹی ملاقات اور نبوت کا جھوٹا دعویٰ (نعوذ بااللہ) کرنے والے ریاض احمد گوہر شاہی کے پیروکار ملزم اسحاق پر الزام تھا کہ وہ ملعون نے ریاض احمد گوہر شاہی کے نظریات کا پرچار کرنے کے علاوہ اس نے مبینہ کلمہ کے سٹیکر، پوسٹر اور دیگر مواد سر عام لوگوں میں تقسیم کر کے ان کے جذبات سے کھیلنے کی کوشش کی۔ جس پر ملزم کے خلاف تھانہ رنگ پور پولیس نے مقدمہ درج کر کے چالان خصوصی عدالت برائے انسداد دہشت گردی میں پیش کیا۔ خصوصی عدالت برائے انسداد دہشت گردی کے جج بی اے فخری نے استغاثہ کی شہادت، ملزم کی طرف سے صفائی کی شہادت اور وکیلوں کے دلائل سننے کے بعد آج یہاں ملزم کو تعزیرات پاکستان دفعہ ۲۹۵ کے تحت دس سال قید سخت اور پچاس ہزار روپے جرمانہ کی سزا کا حکم سنایا ہے۔ جب کہ دہشت گردی دفعہ ۸ کے تحت سات سال قید سخت اور پچاس ہزار روپے جرمانہ کی سزا کا حکم سنایا۔ جرمانہ کی رقم ادا نہ کرنے کی صورت میں ملزم کو چھ چھ ماہ قید مزید بھگتنا پڑے گی۔
(نوائے وقت ملتان ۱۸ / مارچ ۱۹۹۹ء، ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۱۹۹۹ء ص ۶۲، ۶۳)
گوہر شاہی کیس کے فیصلہ کا مکمل متن
ریاض احمد گوہر شاہی راولپنڈی علاقہ کا رہنے والا تھا۔ گزشتہ عشرہ سے یہ کوٹری سندھ میں براجمان ہے۔ اس کے عقائد و نظریات خالصتاً ایک بے دین کے ہیں۔ اس کا رہن سہن، طرز معاشرت، طور و طریق یہ بتلاتا ہے کہ یہ کسی ایجنسی کا شاخسانہ ہے۔ مال و دولت کی ریل
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پیل نے اسے ایمان، عقیدہ اخلاق وعمل سے تہی دست کردیا ہے۔ اس نے اب فتنہ کی حیثیت اختیار کر لی ہے۔ اس کے گروہ کے اثرات پورے ملک میں سرایت کر رہے ہیں۔ تمام مسالک کے علماء نے اس کے خلاف فتویٰ دیا ہے۔ دیوبندی، بریلوی اکابر کے فتاویٰ جات ہمارے پاس جمع ہو گئے ہیں۔ مزید ان کو جمع کیا جارہا ہے۔ جو ان شاء اللہ وقتاً فوقتاً قارئین لولاک تک پہنچائیں گے۔
دسمبر ۱۹۹۸ء میں اس کے گروہ کے کچھ افراد نے تھانہ رنگ پور ضلع مظفر گڑھ میں اپنے پر پرزے نکالے اور گوہر شاہی نظریات کی اشاعت کے لئے حرکت کی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت چناب نگر کے دارالمبلغین سے تازہ فارغ ہو کر ایک عزیز (وہاں کے رہنے والے تھے) کو معلوم ہوا تو انہوں نے کوشش کی ۱۱؍ دسمبر کو رنگ پور میں تمام مکاتب فکر کے رہنماؤں نے اس بے دینی کے خلاف مظاہرہ کیا جس کی اخباری خبر یہ ہے:
مظفر گڑھ (نامہ نگار) نواحی قصبہ رنگ پور میں کلمہ طیبہ میں تحریف کرنے والے ملعون ریاض گوہر شاہی اور اس کے پیروکاروں کے خلاف جمعہ کے روز زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ جس میں اہل سنت، دیوبندی، اہل حدیث، تحریک جعفریہ، انجمن تاجران رنگ پور، انجمن فدایان مصطفےٰ رنگ پور، انجمن طلباء اسلام رنگ پور، جمعیت علماء پاکستان رنگ پور اور اہل حدیث یوتھ فورس کی کال پر لوگوں نے بھاری تعداد میں شرکت کی۔ احتجاجی مظاہرہ میں نہ صرف گوہر شاہی کے خلاف زبردست نعرہ بازی کی گئی بلکہ اس کا پتلا بھی جلایا گیا۔ مقررین نے عوام کو تحریف کلمہ کے مجرم ریاض گوہر شاہی کے ناپاک عزائم سے آگاہ کیا اور مطالبہ کیا کہ اس فتنہ کو ختم کرنے کے لئے فوری اور سخت اقدامات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاض گوہر شاہی اور اس کے پیروکار کافر، مرتد ہیں۔ مسلمان نہ تو انہیں مساجد میں داخل ہونے دیں۔ بلکہ ان کے جنازے میں بھی شریک نہ ہوں اور انہیں مرنے کے بعد اپنے قبرستانوں میں دفن نہ کرنے دیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسحاق کھیڑا کے علاوہ اس کے دس ساتھیوں کو جن کی درخواست میں نشاندہی کی جا چکی ہے۔ فی الفور گرفتار کیا جائے۔ تنظیم پر سرکاری طور پر پورے ملک میں پابندی لگائی جائے۔ ریاض گوہر شاہی اور اس کے پیروکاروں کے خلاف تحریف کلمہ کا مقدمہ درج کر کے انہیں سر عام پھانسی دی جائے تا کہ آئندہ کسی کو مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے کی جرأت نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ رنگ پور میں اس کے دیگر پیروکاروں کو گرفتار نہ کیا گیا تو یہ ہڑتال اور احتجاجی مظاہرے جاری رہیں گے۔ اس موقع پر مجسٹریٹ جی ایم ریاض خاں اور ان کے معاون چوہدری شفقت بشیر نے مظاہرین کو یقین دلایا کہ ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی نے اسحاق کھیڑا کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لئے پولیس کو احکامات جاری کر دیئے ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ مجرموں سے کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ ان کی یقین دہانی پر مظاہرین پر امن طور پر منتشر ہو گئے۔
(نوائے وقت ملتان ۱۲؍دسمبر ۱۹۹۸ء)
حافظ محمد اقبال صاحب کی درخواست لیگل ایڈوائزر کو بھجوادی گئی۔ انہوں نے اپنی رپورٹ میں ۲۹۵-اے کیس کے اندراج کی سفارش کی۔ کیس درج ہوا ملزم گرفتار ہوا۔ اس کی نشان دہی پر لٹریچر، سٹیکر آڈیو، وڈیو کیسٹیں برآمد ہوئیں۔ رنگ پور کے مسلمانوں نے بھر پور دینی غیرت کا مظاہرہ کر کے کیس کے لئے شب و روز محنت کی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر مرکزیہ نے ان کی قانونی معاونت کی۔ ڈیرہ غازی خان کی دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں کیس پیش ہوا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ڈیرہ غازی خان کے مولانا صوفی اللہ وسایا صاحب نے اپنے رفقاء سمیت اس کیس کے لئے شب و روز ایک کر دیئے۔ ڈیرہ غازی خان کے معروف قانون دان وکیل ختم نبوت جناب ملک محمد حسین صاحب کی اس کیس کے لئے خدمات حاصل کی گئیں۔ انہوں نے کوشش کی، عدالت سے اجازت لے کر ملزم کو ملے۔ اس پر اسلامی تعلیمات پیش کیں۔ اس کی رہنمائی کی اسے تبلیغ کر کے گوہر شاہی نظریات کا بطلان اس پر واضح کیا۔ لیکن ملزم اتنا جنونی تھا کہ بدستور
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ان کفریہ نظریات پر ڈٹا رہا۔ مجبوراً کیس کی سماعت شروع ہوئی۔ ڈیرہ غازی خان انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج بی۔اے فخری نے قابل فخر فیصلہ دیا۔ فتنہ گوہر شاہی کے خلاف باقاعدہ یہ پہلا تاریخی فیصلہ تھا۔ وکیل ختم نبوت ملک محمد حسین صاحب نے اس کا ترجمہ کیا۔ مکمل فیصلہ کا متن (ترجمہ) قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔
بعدالت جناب بی ۔اے فخری جج خصوصی عدات انسداد دہشت گردی ایکٹ ۱۹۹۷ء حکومت پاکستان:
ڈیرہ غازی خان ڈویژن / ڈیرہ غازی خان / انسداد دہشت گردی / ATSC مقدمہ نمبر ۶/۹۸ / ایف۔آئی۔آر نمبر ۱۲۸/۹۸ بجرم ۲۹۵۔اے تعزیرات پاکستان / تھانہ رنگ پور ضلع مظفر گڑھ۔ نام ملزم محمد اسحاق ولد کرم خان ذات کھیترا سکنہ بہرام پور تھانہ رنگ پور ضلع مظفر گڑھ۔ منجانب سرکار مسٹر محمود اسحاق شیخ اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ اٹارنی۔ منجانب مدعی ایف۔آئی۔آر مسٹر ملک محمد حسین ایڈووکیٹ۔ منجانب ملزم مسٹر ناصر حسین چوہدری ایڈووکیٹ۔ تاریخ دائرگی: ۲۷/جنوری ۱۹۹۹ء تاریخ فیصلہ: ۱۷/مارچ ۱۹۹۹ء
فیصلہ:
بمطابق مؤقف استغاثہ مورخہ ۲/دسمبر ۱۹۹۸ء اہلیان رنگ پور نے بذریعہ حافظ محمد اقبال مدعی ایک درخواست ایس۔ایچ۔او تھانہ رنگ پور کو پیش کی۔ وہ درخواست برائے قانونی رائے ڈی۔ایس۔پی لیگل کو بھجوائی گئی۔ جس نے یہ رائے دی کہ جرم دفعہ ۲۹۵۔الف کے زمرہ میں آتا ہے۔ تب یہ مقدمہ ایف۔آئی۔آر 1 / EX.PB کی صورت میں درج کیا گیا۔
ملزم جس کا نام محمد اسحاق ہے اس مقدمہ میں گرفتار کیا گیا۔ جس کے خلاف الزام یہ ہے کہ یہ شخص ایسا تحریری مواد تقسیم کر رہا تھا جو خوفناک حد تک غلط، توہین آمیز، برخلاف مسلمانان تھا اور اسلام کی نص کے بھی خلاف تھا اور اس قسم کا مواد ملزم سے برآمد (پکڑا گیا) ہوا اور اسی طرح کا مواد اس کے قائم کردہ دفتر واقع رنگ پور سے برآمد ہوا۔ وہ جگہ جہاں ملزم مواد تقسیم کر رہا تھا گورنمنٹ ہائی سکول رنگ پور اور اس کے ساتھ ہی ساتھ ٹیوب ویل محمد شفیع ہیں۔ اس (ملزم) نے اس قسم کا لٹریچر، کتابچے، سٹیکر، وڈیو کیسٹ اور ریاض احمد گوہر شاہی کے فوٹو مختلف قسم کے بورڈ اور بینرز برآمد کرائے۔
ملزم کو مقدمہ میں زیر دفعہ ۲۹۵۔اے تعزیرات پاکستان چالان کیا گیا جو مؤرخہ ۲۷/جنوری ۱۹۹۹ء کو عدالت میں پیش کیا گیا۔ ملزم کو زیر دفعہ (۲۶۵۔ج) فوجداری نقول تقسیم کی گئیں۔
مؤرخہ ۳/فروری ۱۹۹۹ء کو ملزم پر جرم عائد کی گئی، جو زیر دفعہ ۲۹۵۔الف تعزیرات پاکستان اور دفعہ ”۸“ قانون انسداد دہشت گردی عائد ہوئی۔ جس کا ملزم نے انکار کیا تب مقدمہ کی سماعت ملتوی کر دی گئی۔ شہادت استغاثہ کے لئے استغاثہ نے چھ گواہان پیش کئے۔ تائید استغاثہ میں پھر شہادت ختم کی گئی۔
مؤرخہ ۱۵/مارچ ۱۹۹۹ء روزنامہ جرأت کراچی مؤرخہ ۲۴/فروری ۱۹۹۹ء اور روزنامہ نوائے وقت مؤرخہ ۱۱/مارچ ۱۹۹۹ء بھی وکیل استغاثہ کی جانب سے پیش کی گئیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گواہ استغاثہ نمبر ۱ حافظ محمد اقبال ہے جو رنگ پور ضلع مظفر گڑھ کا امام مسجد ہے۔ اس نے بیان کیا کہ مؤرخہ ۲/دسمبر ۱۹۹۸ء کو قریب دو اڑھائی بجے بعد دو پہر محمد شفیع کے ٹیوب ویل پر موجود تھا۔ اس نے دیکھا کہ محمد اسحاق ملزم پوسٹر EX.PA تقسیم کر رہا تھا۔ یہ پوسٹر جو ایک سٹیکر تھا اس پر کلمہ اس طرح چھپا ہوا تھا: ”لااله الا الله ریاض احمد گوھر شاهی“ اور اگر لفظ گوہر شاہی اس میں سے حذف کر دیا جائے تو لفظ اللہ مکمل نہیں رہتا جو کہ کفر ہے اور کلمہ طیبہ کی مخالفت بھی۔ گوہر شاہی کی تصویر چاند میں دکھائی گئی تھی۔ اس متذکرہ سٹیکر میں وہ مخصوص نشان ۱/ پی ہے۔ ریاض احمد گوہر شاہی اس تصویر میں سورج میں دکھائی دے رہا ہے۔ نشان ۲/ پی ہے وہ ریاض احمد گوہر شاہی حجر ”اسود“ میں دکھایا گیا ہے۔ مزید اس نے ظاہر کیا اپنے آپ کو فضاء ( خلا ) میں متذکرہ سٹیکر میں ریاض احمد گوہر شاہی کا کلمہ: ”لا اله الا الله رياض احمد گوھرشاهی“ چاند میں نشان مخصوص ۵/ پی سٹیکر پر دکھلایا گیا۔ ایک شعر جو اس سٹیکر کے اوپر سامنے تحریر ہے صاف ظاہر کر رہا ہے گوہر شاہی اب ظاہر ہوا ہے تمام پوشیدہ مقام میں سے۔ یہ شعر مخصوص نشان ۶/ پی ، ای ، ایکس (6PEX) ہے۔ گواہ نے مزید بیان کیا کہ اس ( گواہ) نے احتجاج کیا اور ملزم اسحاق متذکرہ بالا کو سٹیکر تقسیم کرنے سے روکا لیکن ملزم نے اسرار کیا کہ ریاض احمد گوہر شاہی اس ( ملزم) کا نبی ہے اور وہ (ملزم) اس کے لئے اپنی جان تک دینے کے لئے تیار ہے اور کوئی شخص اس ( ملزم) کو سٹیکر پر چھپا ہوا پیغام تقسیم کرنے سے نہیں روک سکتا۔ دوسرے لوگ بشمول ڈاکٹر غلام مشتاق نے بھی ملزم کو لٹریچر ، سٹیکر ، تقسیم اور چسپاں کرتے ہوئے دیکھا۔ پھر ایک درخواست تحریر کی گئی ۔ جو لوگوں کے مطالبے پر (اہلیان رنگ پور ) ایس، ایچ، او تھانہ رنگ پور کو پیش کی گئی ۔ پھر ۶/ دسمبر ۱۹۹۸ء کو ایس، ایچ، او نے مدعی کو بشمول خواجہ مشتاق، چوہدری الطاف، ملک فرید، حاجی محمد یار اور عاشق وغیرہ کو بلایا اور ملزم نے آگے آگے چل کر جو کہ ملزم ہتھکڑی میں تھا۔ اس لئے ( ملزم) نے اپنے دفتر واقع رنگ پور کا دروازہ کھولا۔ لائٹ جلائی اور مندرجہ ذیل کتابیں اور لٹریچر برآمد کرایا۔
کتاب نشان صفحہ تعداد روشناس ۷ ۵ مینارہ نور ۸ ۱۵ روحانی سفر ۹ ۹ تریاق قلب ۱۸ ۱۰ یادگار لمحات ۱۱ ۲ نور ہدایت ۱۲ ۱ تصویر حضرت عیسیٰ علیہ السلام ۱۶
سٹیکر پی ۱۴ تعداد ۸ ، وڈیو کیسٹ پی ۱۵ تعداد ۸ ، ۵۰ ہینڈ بل ، پی ۱۷ تعداد ۵۰ ، ۴۰ فوٹو ریاض احمد گوہر شاہی پی ۱۸/ تعداد ۴۰ ، تین بینرز اور آٹھ مختلف تصاویر برآمد ہوئیں۔
تمام مندرجہ بالا چیزیں پولیس نے بذریعہ فرد مقبوضگی اس کی (Ex.PC) اس کی ( مدعی ) اور دیگر گواہان کی موجوگی میں قبضہ میں لیں اور انہوں نے فرد پر دستخط کئے۔ اگلا گواہ ملازم حسین جو بطور گواہ نمبر ۲ کی حیثیت سے پیش ہوا۔ اس ( گواہ نمبر ۲) نے بیان کیا کہ وقوعہ کے روز ملزم محمد شفیع کے ٹیوب ویل کے نزدیک سٹیکر تقسیم کر رہا تھا۔ جو سخت قابل اعتراض تھے۔ کلمہ ان پر اس طرح چھپا ہوا تھا: ”لا اله الا الله
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ریاض احمد گوھر شاہی‘‘ وہ (گواہ) ان کو پڑھ کر آپے سے باہر ہو گیا اور اس لٹریچر سے بحیثیت مسلمان ہونے کے اس (گواہ) کے جذبات شدید مجروح ہوئے۔ استغاثہ نمبر ۳ محمد محسن مشتاق ہے۔ اس گواہ نے بھی استغاثہ کے مؤقف کی تائید مکمل کی۔ گواہ نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ ملزم محمد اسحاق سٹیکر تقسیم کر رہا تھا۔ جس پر ”لا اله الا الله رياض احمد گوھرشاہی“ چھپا ہوا تھا اور الفاظ محمد رسول اللہ تحریر نہیں تھے۔ گواہ استغاثہ نمبر ۴ خواجہ مشتاق احمد نے کہا وہ چوک رنگ پور کے نزدیک محمد اسحاق کے دفتر کے نزدیک موجود تھا کہ پولیس ملزم کو لے آئی۔ وہ ہتھکڑی میں تھا۔ اس (ملزم) نے دروازہ کھولا۔ لائٹ جلائی۔ لکڑی کی الماری جنوبی طرف کمرہ میں تھی، کھولی۔ اس میں کتب روحانی سفر ۹ / پی روشناس ۷ / پی تحفۃ المجالس تریاق قلب ۱۸ / پی اور اسی طرح کی دوسری کتابیں پولیس کو پیش کیں۔ اس ملزم نے سٹیکر جس پر ”لا اله الا الله رياض احمد گوھرشاہی“ چھپا ہوا تھا، ۸، ۹ ویڈیو کیسٹ بھی تھیں۔ فوٹو گراف حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور گوہر شاہی اور پمفلٹ بھی پولیس کو پیش کئے۔ ایس۔ ایچ۔ او نے تمام چیزوں کی فہرست بنائی اور فرد مقبوضگی پر میں نے دستخط کئے۔ عبدالرحیم حوالدار محرر نمبر ۲۸۰ گواہ استغاثہ نمبر ۲۸۰ کی حیثیت سے پیش ہوا اور اس نے ایف آئی آر جو ڈی۔ ایس۔ پی قانونی کی بھیجی ہوئی تھی، درج کی۔ فتح محمد خان سب انسپکٹر گواہ استغاثہ نمبر ۶ کی حیثیت سے پیش ہوا۔ جس نے مقدمہ کی تفتیش کی۔ جب مورخہ ۲/دسمبر ۱۹۹۸ء کو بطور ایس۔ ایچ۔ او رنگ پور تعینات تھا۔ متذکرہ تاریخ کو حافظ محمد اقبال گواہ استغاثہ نمبر ۱ نے درخواست (شکایت) Ex.PB اور سٹیکر Ex.PA ایس۔ ایچ۔ او (مجھے) پیش کی۔ اس کے بعد ایس۔ ایچ۔ او نے روزنامچہ واقعاتی میں رپٹ درج کی۔ ڈی۔ ایس۔ پی قانونی کی رائے حاصل کرنے کے لئے رپورٹ کی۔ مورخہ ۴/دسمبر ۱۹۹۸ء کو ڈی۔ ایس۔ پی قانونی کی رائے موصول ہوئی۔ جو ایف۔ آئی۔ آر کی بنیاد ہے۔ بی۔ پی۔ ایکس۔ اے درج ہوئی۔ اللہ دتہ سب انسپکٹر ایڈیشنل ایس۔ ایچ۔ او تھانہ رنگ پور نے کیس گواہان کے بیانات تحریر کئے۔ جن کے نام حافظ محمد اقبال گواہ نمبر ۱ ملازم حسین اور محسن مشتاق۔ اس نے یہ بھی کہا کہ اس نے (گواہ) متذکرہ بالا کو سب انسپکٹر کی تحریر کو بھی شناخت کرنا ہے جو اس نے تحریر کی اور دستخط کئے۔
گواہ نے مزید کہا کہ مورخہ ۶/دسمبر ۱۹۹۸ء کو اس نے تفتیش کا آغاز کیا۔ جائے وقوعہ پر جا کر موقعہ ملاحظہ کیا۔ نقشہ Ex.PD تیار کیا۔ اس نے نقشہ جائے برآمدگی بھی تیار کیا۔ گواہان کے بیانات قلمبند کئے۔ بعد ازاں تکمیل تفتیش ملزمان کو حوالات جوڈیشل بھیجا گیا۔
فاضل وکیل صفائی نے تمام گواہان استغاثہ پر طویل جرح کی اور مؤقف اختیار کیا کہ ملزم سے کوئی قابل اعتراض مواد برآمد نہیں ہوا اور لٹریچر جس کی برآمدگی ملزم سے دکھلائی گئی ہے، جعلی ہے اور ملزم کو محض گواہان سے مذہبی اختلافات کی بنیاد پر ملوث کیا گیا ہے۔ ملزم اہل سنت والجماعت سے تعلق رکھتا ہے۔ جب کہ مدعی اور گواہان دیوبندی خیالات کے ہیں۔ ملزم کا بیان زیر دفعہ ۳۴۲ ضابطہ فوجداری قلمبند ہوا۔ جس میں اس نے تمام الزامات سے انکار کرتے ہوئے غلط مقدمہ میں ملوث کیا جانا بیان کیا اور اپنے آپ کو بے گناہ ظاہر کیا۔ ملزم نے اپنی صفائی میں دو گواہ پیش کئے۔ جن میں سے محمد عظیم نے بیان دیا کہ مورخہ ۴/دسمبر ۹۸ء کو ملزم اسحاق اپنے کھیت کو پانی لگا رہا تھا۔ اس کا بھائی احسان احمد (گواہ) اس کے پاس آیا اور کہا کہ وہ پولیس کو مطلوب ہے۔ وہ (ملزم) پولیس کے پاس گیا تو پولیس نے اسے حراست میں لے لیا۔ گواہ نے کہا کہ وہ اس ملزم کے پیچھے تھانہ پر گیا اور ایس۔ ایچ۔ او فتح محمد نامی سے التجاء کی کہ ملزم بے گناہ ہے، اس کو چھوڑ دیں۔ ایس۔ ایچ۔ او نے اسے ہدایت کی کہ مدعی مقدمہ کو قائل کرلے۔ اس نے (گواہ) نے ایس۔ ایچ۔ او سے کہا کہ معاملہ قرآن پر طے کریں۔ ایس۔ ایچ۔ او نے اس (گواہ) سے کہا کہ بیس ہزار روپے رشوت دے تب وہ ملزم کو رہا کرے گا۔ اس نے مزید کہا کہ ملزم اس کا چچا زاد بھائی ہے اور وہ بے گناہ ہے۔ گواہ نے مزید بیان کیا کہ ملزم ریاض احمد گوہر شاہی کا پیروکار ہے۔ گواہ صفائی نمبر ۲ محمد امین نے بیان کیا کہ تین چار
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ۱۴۹ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ماہ قبل تقریباً پانچ بجے شام وہ ہوٹل پر موجود تھا۔ اس کا ہوٹل (چائے کا) شفیع والا ٹیوب ویل کے ساتھ ہے۔ جو رنگ پور سے تین چار کلو میٹر کے فاصلہ پر ہے اس نے مزید کہا کہ اس نے کوئی وقوعہ نہیں دیکھا۔ جیسا کہ وہاں بجلی نہیں ہے گواہ نے دوپہر ہی کو اپنا چائے خانہ بند کر دیا تھا۔ ملزم خود بر حلف زیر دفعہ (۲) ۳۴۰ ضابطہ فوجداری گواہ کے کٹہرے میں پیش ہوا۔ وکیل صفائی نے ملزم کی جانب سے بحث کرتے ہوئے کہا کہ تفتیشی افسر کی جانب سے تیار شدہ نقشہ غلط ہے۔ کیونکہ اس نقشہ میں ٹیوب ویل شفیع والا ظاہر نہیں کیا گیا۔ ملزم کو مدعی اور گواہان نے محض فرقہ ورانہ اختلافات کی بنیاد پر ملوث کیا ہے۔ کیونکہ ملزم اہل سنت والجماعت سے تعلق رکھتا ہے۔ جب کہ مدعی اور گواہان دیو بندی مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں۔ ملزم نے کوئی سٹیکر تقسیم نہیں کیا اور نہ ہی اس نے گوہر شاہی نظریات کا پرچار کیا۔ کوئی آزاد گواہ استغاثہ نے پیش نہیں کیا۔ تفتیشی افسر نے دفعہ ۱۰۳ ضابطہ فوجداری کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جائے برآمدگی کا کوئی گواہ نہیں رکھا۔ جہاں سے لٹریچر اور دوسری چیزیں ملزم کے قبضہ سے اس کے دفتر میں قبضہ میں لیں۔ انہوں نے (وکیل صفائی) نے کہا استغاثہ اپنا کیس ثابت کرنے میں ناکام ہو گیا ہے اور ملزم بے گناہ ہے۔ آخر میں گواہ صفائی نے بحث کرتے ہوئے کہا کہ گواہان صفائی نمبر ۱، نمبر ۲ نے ملزم کے مؤقف کی تائید کی ہے۔ فاضل وکیل نے صفائی میں کچھ دستاویزات بھی پیش کئے۔ ان میں سے ایک جریدہ ”امت کراچی“ ایک نقل فوٹو کاپی مراسلہ مورخہ ۱۱/مارچ ۱۹۹۷ء انچارج شعبہ نشر و اشاعت جاری شدہ انجمن سرفروشان اسلام ضلع مظفر گڑھ، رقم کی وصولی مورخہ ۲۶/اگست ۱۹۹۸ء اور ۴/ستمبر ۱۹۹۸ء نشان DB.DB /۱/ ۲DB /۳ BD ۴ جو پراسیکیوٹر کے اعتراض داخل کئے گئے اسی پر ہی شہادت صفائی کا اختتام ہوا۔
اس کے برعکس فاضل اسٹیٹ ڈسٹرکٹ اٹارنی جن کی معاونت ملک محمد حسین ایڈووکیٹ کونسل مدعی نے کی۔ بحث کرتے ہوئے کہا کہ سٹیکر Ex.PA سے صاف ظاہر ہے کہ نیت گوہر شاہی کی ۔ اس نے اپنا نام اس سٹیکر پر لااله الا الله آگے ریاض احمد گوہر شاہی چھپوایا۔ جس کا معنی یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو اللہ تبارک وتعالیٰ کا نبی ظاہر کرنا چاہتا ہے۔ متذکرہ سٹیکر صاف طور سے ظاہر کر رہا ہے کہ ریاض احمد گوہر شاہی اپنے آپ کو نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ غلام احمد قادیانی نے کلمہ طیبہ میں اپنا نام شامل کرنے کی جرأت نہیں کی۔ جس کو پوری دنیائے اسلام نے کافر قرار دیا ہے۔ انہوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ریاض احمد گوہر شاہی نے اپنے آپ کو متذکرہ سٹیکر میں اللہ تعالیٰ کا پیغمبر ظاہر کیا ہے۔ انہوں مزید بحث کی کہ مذکورہ ریاض احمد گوہر شاہی نے اس سٹیکر کے ذریعہ اپنے آپ کو چاند، سورج، اور اس قسم کی چیزوں میں ظاہر کیا۔ مزید کہا کہ یہ تعجب کی بات ہے کہ وہ چاند اور سورج میں کس طرح پہنچ گیا ہے اور پھر حجر اسود میں ۔ جب کہ اللہ کے آخری پیغمبر اور رسول ﷺ بھی معراج النبی ﷺ کے موقع پر براق پر تشریف لے گئے۔ اس طرح ریاض احمد گوہر شاہی نے اپنے آپ کو پیغمبر ﷺ سے بھی برتر ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ (نعوذ باللہ) انہوں تمام کتب اور لٹریچر جو محمد اسحاق ملزم کے دفتر سے برآمد ہوا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، جس میں ریاض احمد گوہر شاہی نے قابل اعتراض، توہین آمیز اور غلط مواد ہے اور اسلام کی صریح نص کے بھی خلاف ہے۔ شہادت جو صفائی میں پیش کی گئی ہے وہ مؤقف دفاع کی کوئی مدد نہیں کرتی۔ ایک گواہ صفائی ملزم کا چچا زاد اور بہنوئی ہے۔ جب کہ گواہ صفائی نمبر ۲ کا جہاں تک تعلق ہے۔ اس نے کوئی چیز ملزم کے دفاع میں پیش نہیں کی۔ عدالت نے فریقین کے دلائل تفصیل سے سنے اور ریکارڈ کو بھی بغور ملاحظہ کیا۔ بالخصوص لٹریچر، ویڈیو کیسٹ، سمعی کیسٹ، سٹیکر وغیرہ جو ملزم کے قبضہ سے برآمد ہوئے اس کے دفتر سے جو اس نے گوہر شاہی کے غیر اسلامی توہین آمیز اور غلط نظریات اور افکار کو پھیلانے کے لئے کھولا ہوا ہے۔ وہ اہم ترین گواہان مقدمہ جو اس کیس کی گہرائی تک گئے ہیں۔ گواہ استغاثہ نمبر ۱ حافظ محمد اقبال گواہ استغاثہ نمبر ۲ ملازم حسین اور محسن مشتاق، گواہ استغاثہ نمبر ۳ جو کہ چشم دید گواہان ہیں۔ علاوہ ازیں گواہ استغاثہ نمبر ۴ خواجہ محسن مشتاق احمد جو اس قابل اعتراض اور خلاف اسلام لٹریچر، ویڈیو کیسٹ اور آڈیو کیسٹ اور سٹیکرز وغیرہ کی برآمدگی کا گواہ
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہے۔ تمام مندرجہ بالا گواہان نے استغاثہ کے مؤقف کو ہر پہلو سے مطابق قانونی تقویت دی ہے۔ ان کی شہادت ایک دوسرے کی بھی تائید کرتی ہے اور یہ بات شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ ملزم نے جرائم زیر دفعہ ۸ دہشت گردی اور زیر دفعہ ۲۹۵۔ الف کا ارتکاب کیا ہے۔ علاوہ ازیں ملزم کی جانب سے پیش کردہ صفائی ملزم کے مؤقف کی کوئی امداد نہیں کرسکتی۔ گواہ صفائی نمبر ۱ ملزم کا چچازاد بھائی اور بہنوئی ہے اور ایک ہی گھر میں ملزم کے ساتھ رہائش رکھتا ہے۔ وہ استغاثہ کی جانب پیش کردہ مؤقف اور ثبوت کی تردید میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ جب کہ گواہ نمبر ۲ نے ایک لفظ بھی ملزم کے حق میں نہیں کہا۔ ملزم نے زیر دفعہ ۸ قانون انسداد دہشت گردی کا ارتکاب کیا جو خلاف اسلام غلط اور توہین آمیز ہے اور اس قسم کا مواد شہادت استغاثہ میں پوری تفصیل کے ساتھ موجود ہے کہ ملزم اس قسم کے عقائد کو پھیلانے کے لئے دفتر چلا رہا تھا۔ مزید برآں ملزم نے اپنے بیان زیر دفعہ ۳۴۲ ضابطہ فوجداری میں کہا کہ وہ (ملزم) ریاض احمد گوہر شاہی کا پیروکار ہے۔ سٹیکر (EXPA) غیر اسلامی، جذبات کو مجروح کرنے والا اور اسلام کی نظر میں قابل اعتراض ہے۔ پس محمد اسحاق کو ارتکاب جرم دفعہ ۸ قانون انسداد دہشت گردی میں سات سال قید بامشقت اور پچاس ہزار روپے جرمانہ کی سزا دی جاتی ہے۔ عدم ادائیگی جرمانہ کی صورت میں چھ ماہ قید محض بھگتنی ہوگی۔ ملزم کو ارتکاب جرم زیر دفعہ ۲۹۵۔ الف تعزیرات پاکستان دس سال قید بامشقت اور پچاس ہزار روپے جرمانہ کی سزا سنائی جاتی ہے۔ عدم ادائیگی جرمانہ کی صورت میں چھ ماہ قید محض بھگتنی ہوگی۔ ملزم کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ میعاد اپیل ۷ یوم ہے۔ مال مقدمہ بعد گزرنے میعاد اپیل و نگرانی ضبط سمجھی جائے گی۔ ہر دو سزائیں ایک ساتھ شروع ہوں گی۔ دفعہ ۳۸۲۔ ب ضابطہ فوجداری کی رعایت ملزم کو دی جاتی ہے۔ نقل فیصلہ ملزم کے حوالہ کیا گیا اور فیصلہ بغیر کسی اجرت کے کھلی عدالت میں سنایا گیا۔
بی اے فخری جج خصوصی عدالت انسداد دہشت گردی، ڈیرہ غازی خان
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۱۹۹۹ء ص ۳۶ تا ۴۴)
کیبنٹ ڈویژن نے سرکاری کاغذات میں چناب نگر لکھنے کی ہدایت کردی
فیصل آباد (نمائندہ خصوصی) کیبنٹ ڈویژن اسلام آباد نے سرکاری کاغذات میں ربوہ کی بجائے چناب نگر لکھنے کے بارے میں ایک مراسلہ کے ذریعہ سیکرٹری وزارت داخلہ کو مطلع کیا ہے کہ وفاقی سرکاری اداروں کو مطلع کر دیا جائے۔ یہ اطلاع کیبنٹ سیکرٹریٹ کیبنٹ ڈویژن کے سیکشن آفیسر محمد دین ناز نے ایک یادداشت کے ذریعہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سیکرٹری اطلاعات مولوی فقیر محمد کو دی ہے۔ اس سلسلہ میں پاسپورٹ دفتر فیصل آباد کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور جھنگ شناختی کارڈ دفتر کے ڈسٹرکٹ رجسٹرار نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو آگاہ کیا ہے کہ نئے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ جاری کرنے کے موقع پر ربوہ کی بجائے چناب نگر لکھا جارہا ہے۔ سوئی ناردرن کمپنی فیصل آباد بھی آئندہ ماہ کے بلوں پر چناب نگر لکھا کرے گی۔ ریلوے اسٹیشن ربوہ کی عمارت اور ٹکٹوں پر چناب نگر لکھنے کے بارے میں جنرل منیجر ایف۔ ٹی۔ آر نے یقین دہانی کرائی ہے۔ ڈاک خانہ ربوہ اور بجلی کے بلوں، بینکوں کی خط و کتابت پر ربوہ کی بجائے چناب نگر لکھنے کے بارے میں تحریر کیا جا چکا ہے۔ الفضل پر بھی چناب نگر لکھا جائے گا۔
(روزنامہ نوائے وقت لاہور مورخہ ۱۴؍اپریل ۱۹۹۹ء)
مسلمانوں کی فتح اور قادیانیوں کی شکست
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم تبلیغ مولانا بشیر احمد، مبلغ ختم نبوت مولانا محمد اسحاق ساقی نے تحصیل حاصل پور کا دورہ کیا۔ چک نمبر ۱۹۲ مراد ضلع بہاول پور میں گئے جہاں قادیانیوں کی عبادت گاہ (مرزاڑے) کے متعلق ۷؍اپریل ۱۹۹۹ء کو ایک مشترکہ علماء،
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تاجران اور وکلاء کا ایک وفد اے سی اور ڈی ایس پی حاصل پور کو ملا اور انہیں ساری تفصیلات سے آگاہ کیا۔ جس کا انتظامیہ نے فوراً نوٹس لے کر پولیس کی بھاری نفری ساتھ بھیج دی۔ انسپکٹر مطلوب احمد باجوہ کی قیادت کے اندر یہ قافلہ روانہ ہوا۔ عبدالطیف قادیانی کی بیٹھک کے اندر ۲۴؍ اپریل ۱۹۹۹ء کو تحریری معاہدہ ہوا۔ انتظامیہ کی موجودگی میں مرزائیوں نے کہا کہ تمام لوگ ومبلغین ختم نبوت مذکورہ چک میں آجائیں۔ یہ جیسے کہیں گے ہم ویسے اپنی تعمیر گرادیں گے۔ معاہدہ کے مطابق علماء اور تاجر حضرات کا وفد جب چک میں پہنچا تو قادیانی مشتعل ہو گئے۔ کہنے لگے اگر لاشیں لے جانی ہیں تو لے جاؤ۔ ہم اپنی عبادت گاہ میں کوئی تبدیلی نہیں کرنے دیں گے۔ یہ وفد دوبارہ اے سی حاصل پور کے پاس پہنچا۔ صورتحال سے آگاہ کیا تو انتظامیہ نے مداخلت کرتے ہوئے قادیانیوں سے کہا کہ اگر تم نے ۳؍ مئی ۱۹۹۹ء تک (مرزاڑے) کی شکل نہ بدلی تو پھر تمہارے خلاف پاکستان کے قانون کے مطابق کاروائی کی جائے گی۔ ۴؍ مئی کو جناب انسپکٹر مطلوب احمد باجوہ کے ساتھ مبلغ ختم نبوت اور وفد کے ارکان جب موقع پر گئے تو قادیانیوں نے (مرزاڑے) کے میناروں، مین دروازہ اور محراب کو مسمار کر کے اس تعمیر کو کمرے کی شکل دیدی۔ وفد میں جماعت ختم نبوت حاصل پور کے امیر قاری محمد ادریس صاحب، حافظ سعید احمد صاحب، مولانا فیض اللہ صاحب، امان اللہ صاحب، محمد صدیق شاہ صاحب نے اس کامیابی پر مقامی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی تاریخی دستاویز انتظامیہ کے افسران کو پیش کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۱۹۹۹ء ص ۲۰، ۲۱)
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر پر پولیس گردی
۳۰؍ اپریل ۱۹۹۹ء کو پورے ملک میں حکومت کی مرزائیت نواز پالیسی اور مرکزی دفتر تحفظ ختم نبوت واقع حضوری باغ روڈ ملتان پر پولیس گردی کے خلاف یوم احتجاج منایا گیا۔ مختلف شہروں میں جمعۃ المبارک کے اجتماعات میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر پر پولیس کے غیر قانونی چھاپے اور بے جا خوف وہراس پھیلانے کے واقعہ پر شدید غم وغصہ کا اظہار کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق ۶ محرم الحرام علیٰ الصبح پولیس نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ہیڈ آفس کو گھیرے میں لے کر دھاوا بول دیا۔ کوئی سا حکم نامہ دکھائے اور وجہ بتائے بغیر پولیس مجلس کے مرکزی دفتر میں دندناتی داخل ہوئی۔ ڈیڑھ گھنٹے کی تلاشی کے بعد جب پولیس کو کچھ حاصل نہ ہوا تو وہ کھسیانی بلی کی طرح آئیں بائیں شائیں کر کے جاتی رہی۔ بعد ازاں صوبائی وزیر خوراک اقبال خان خاکوانی صاحب دفتر مرکزیہ تشریف لائے۔ مولانا اللہ وسایا صاحب سے مل کر انہوں نے اس ناخوشگوار واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا اور کوئی سا مرہم دیئے بغیر زبانی جمع خرچ کرنے کے بعد لوٹ گئے۔ مرکزی دفتر پر پولیس غنڈہ گردی کے واقعہ کی صدائے بازگشت پارلیمنٹ میں سنائی دی گئی۔ جو صحراء میں بولتی طوطی کی صدا ثابت ہوئی۔ حکومت اور انتظامیہ نے اس واقعہ پر کوئی نوٹس نہیں لیا۔ یہ حقیقت ہے کہ اقتدار کے مزے لوٹنے والے لب شیریں اور زبان طاقت کو سمجھتے ہیں۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ایک ایسی دینی جماعت ہے جو نصف صدی سے دین کے بنیادی، اساسی عقیدہ کے تحفظ اور قادیانی فتنہ کے خلاف تبلیغی، قلمی، علمی، احتساب میں مصروف عمل ہے۔ اتحاد بین المسلمین اس جماعت کا طرۂ امتیاز ہے۔ ملک بھر کی دینی جماعتوں میں یہ شرف مجلس تحفظ ختم نبوت کو حاصل ہے کہ اس کے پلیٹ فارم پر تمام مکاتب فکر اکٹھے ہو کر اتحاد واتفاق کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ مجلس تحفظ ختم نبوت نے ہمیشہ مختلف مسالک اور مکاتب فکر راہنماؤں کو ملانے اور باہمی جوڑ میں بلاشبہ رابطہ پل کا کام دیا ہے۔ ماضی بعید اور ماضی قریب میں ختم نبوت کی تحریکوں میں تحفظ ختم نبوت کے اسٹیج پر دیو بندی، بریلوی، اہل حدیث کے علاوہ اہل تشیع نے مل کر عقیدہ ختم نبوت سے قلبی وابستگی اور ایمانی حرارت کے جو فقید المثال مظاہرے کئے تھے، انہیں مدتوں یاد رکھا جائے گا۔ یہ بات لکھتے ہوئے ہمیں شرم آتی ہے کہ آج
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ایک مکتب فکر کے افراد کو ایک جگہ بٹھانا مشکل ہے۔ جماعت کے مرحوم رہنماؤں پر خدا تعالیٰ کی کروڑوں رحمتیں ہوں جن کے اخلاص اور جذبہ ایمانی نے تمام مکاتب فکر کو اتحاد کے گلدستہ کی صورت میں یکجا کیا تھا۔ موجودہ حالات میں گو اتحاد کا کام خاص مشکل ہو گیا ہے۔ لیکن ناممکن نہیں۔ جماعت کے موجودہ رہنماؤں کا مشن اور مقصد اتحاد بین المسلمین ہے۔ کیونکہ ملک اور قوم کے وسیع تر مفاد اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کی تحریک مسلمانوں کے مستقل اتحاد کی مرہون منت ہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا دامن فرقہ واریت کی دھول اور سیاسیات کی گرد سے ہمیشہ محفوظ رہا ہے۔ جماعت کی لغت میں دونوں چیزوں کا سرے سے وجود نہیں ہے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت ہر اس فرقے کی ممنون احسان ہے۔ جماعت ہر اس تنظیم کی شکر گزار ہے۔ جماعت ہر اس ادارہ اور فرد کو قدرومنزلت کی نگاہ سے دیکھتی ہے جو عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ تردید مرزائیت اور مسلمانوں کے باہمی اتحاد کے لئے عملاً حصہ ڈال کر جماعت کی ہم نوائی کر رہا ہے۔
مجلس تحفظ ختم نبوت کو اپنی خدمات گنوانے کا شوق ہے نہ ضرورت ۔ کیونکہ مقدس مشن صلہ کی اور ستائش کی پرواہ سے بے نیاز ہیں۔ مجلس کے بانی امیر شریعت حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری اور ان کے رفقاء نے قیام پاکستان کے بعد سیاست کو خیر باد کہہ کر محض عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے اپنے آپ کو وقف کیا تھا۔ پاکستان میں اقتدار پر عملاً قبضہ کی قادیانی سازش کو ناکام بنانے کے لئے ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت چلائی گئی۔ ۱۹۷۴ء کی تحریک میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا تاریخ ساز فیصلہ ہوا۔ ۱۹۸۴ء میں قادیانیوں کے خلاف امتناع قادیانیت آرڈیننس کا اجرا عمل میں آیا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت نے ہر اس تحریک ختم نبوت میں دوسری جماعتوں کے رہنماؤں کو قیادت اور سیادت سونپ کر نیازمندی حاصل کی اور کسی قسم کی اعانت سے دریغ نہیں کیا۔
اس ساری تفصیل کا مقصد یہ تھا کہ ایک ایسی دینی جماعت جو مسلمانوں کے باہمی اتحاد کی داعی اور علمبردار ہے۔ جس کے رہنماؤں نے کبھی نمودونمائش اور پبلسٹی کو پسند نہیں کیا۔ ایسی بے ضرر جماعت کے دفتر پر پولیس کی یلغار اور روا رکھا گیا ظلم کسی طور بھی مناسب نہیں۔ پولیس کے ایسے اقدامات حکومت کے لئے باعث بدنامی ہیں۔ کیا سرگودھا میں پولیس نے جو گل کھلائے اور بے گناہ شہریوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اس سے حکومت کی ساکھ کس قدر متاثر ہوئی ہے؟ کبھی حکومت کے بست و کشاد اس کا اندازہ لگائیں گے؟ مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر پر پولیس کی غنڈہ گردی کے بعد ہم یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ کیا جماعت کو اس بات کی سزا دی گئی کی وہ فرقہ واریت میں کیوں ملوث نہیں؟ اسے مسلمانوں کو جوڑنے اور باہمی اتفاق اتحاد کے عملی کردار کے حوالہ سے ذہنی کوفت پہنچائی گئی ہے۔ چاہئے تو یہ تھا کہ صوبائی حکومت اس واقعہ کا فوری نوٹس لیتی اور متعلقہ نا اہل افسران کے خلاف تادیبی کارروائی کی جاتی۔ وزیر اعلیٰ کی خاموشی اور صوبائی حکومت کی سردمہری پولیس افسران کے لئے حوصلہ افزائی کا باعث بنے گی۔ آج یہ واقعہ اور کل کوئی اور واقعہ حکومت کی شرمندگی کا باعث بنے گا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۱۹۹۹ء ص ۳،۵)
قادیانی بننے پر مجبور کیا جا رہا ہے، علماء کے نام مسلمان قیدی کا خط
عمر کوٹ (نمائندہ خصوصی) عمر کوٹ جیل سے ایک غریب مسلمان نوجوان قیدی خادم حسین بن محمد اسحاق نے ملک بھر کے علماء کے نام خط میں اپیل کی ہے کہ میں مسلمان ہوں اور مجھے زبردستی قادیانی بننے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ مذہب تبدیل کرنے سے انکار پر مجھے جھوٹے مقدمات میں ملوث کر دیا گیا ہے۔ جب کہ اب میری جان کو خطرہ ہے۔ تفصیلات کے مطابق خط میں علماء سے کہا گیا ہے کہ قادیانی خفیہ اور انوکھے طریقوں سے نوجوان نسل کو قادیانیت اپنانے پر مجبور کر رہے ہیں۔ خادم حسین نے لکھا کہ میرا والد محمد اسحاق پہلے مسلمان تھا لیکن میری والدہ
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
وفات پا گئیں تو انہوں نے قادیانی عورت سے دوسری شادی کر لی اور قادیانیت اختیار کر لی۔ جس کے بعد سارے خاندان کی طرح مجھے بھی مجبور کیا جا رہا ہے کہ اسلام سے تائب ہو کر قادیانیت اختیار کر لوں لیکن میرے انکار پر جھوٹے مقدمات میں ملوث کر کے جیل بھیج دیا گیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۱۴ تا ۲۰ مئی ۱۹۹۹ء ص ۲۳)
دیپال پور میں قادیانی وکیل کو عبرت ناک شکست
گزشتہ ماہ قادیانیوں نے دیپال پور بار روم میں سیکرٹری شپ کی سیٹ کے لئے قادیانی وکیل مرزا خاور حیات کو نامزد کیا۔ جس کا وکیل ختم نبوت جناب غلام عباس ایڈووکیٹ اور مولانا عبدالرزاق مجاہد مبلغ ختم نبوت اوکاڑہ نے بر وقت نوٹس لیا اور بار کے تمام وکلاء کو فتنہ قادیانیت کے عقائد و عزائم سے آگاہ کیا اور انہیں ختم نبوت کا لٹریچر پہنچایا۔ تمام وکلاء نے عہد کیا کہ قادیانی وکیل کو ووٹ نہیں دیں گے۔ قادیانی وکیل شکست سے دو چار ہوا۔ وکیل ختم نبوت جناب غلام عباس اور مولانا عبدالرزاق مجاہد نے تمام وکلاء کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہم آئندہ بھی قادیانی عزائم کو ناکام کرتے رہے گے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۱۹۹۹ء ص ۶۲)
ربوہ کا نام صفحہ ہستی سے مٹ گیا ہے
ربوہ ریلوے اسٹیشن کا نام ’’چناب نگر‘‘ رکھ دیا گیا: ”جاء الحق وزھق الباطل“ فیصل آباد (نمائندہ خصوصی) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سیکرٹری اطلاعات مولانا فقیر محمد کی تحریری یاداشت پر پاکستان ریلویز کے جنرل منیجر میاں محمد اسلم نے ربوہ ریلوے اسٹیشن کا نام تبدیل کر کے چناب نگر رکھنے کی آخری منظوری ۲۶ مئی ۱۹۹۹ء کو دی گئی۔ اگلے روز ۲۷ مئی کو عمل درآمد ہو گیا۔ مولانا فقیر محمد نے اپنی نگرانی میں ربوہ ریلوے اسٹیشن پر ربوہ مٹا کر ”چناب نگر“ لکھوایا اور پلیٹ فارم کے بورڈ پر بھی چناب نگر لکھا گیا۔ اس طرح ربوہ کا نام ۴۸/ سال بعد صفحہ ہستی سے مٹ گیا ہے۔ جس پلیٹ فارم پر ۲۹ مئی ۱۹۷۴ء کو نشتر کالج کے مسلمان طلباء کو ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۹ تا ۱۵؍ جولائی ۱۹۹۹ء ص ۲۵)
چناب نگر میں یوم تکبیر
۲۸ مئی ۱۹۹۹ء کو ملک بھر میں یوم تکبیر منایا جا رہا تھا۔ اسی نسبت سے حضرت مولانا میاں محمد اجمل قادری سجادہ نشین خانقاہ قادریہ راشدیہ شیرانوالہ باغ لاہور امیر عالمی انجمن خدام الدین نے اعلان فرمایا کہ وہ ۲۸ مئی جمعہ کو محمدیہ ریلوے اسٹیشن چناب نگر پر اجتماعی جمعہ ادا فرمائیں گے۔ مسجد محمدیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام چناب نگر میں رشد و ہدایت کا مرکز ہے۔ میاں صاحب مدظلہ انتظامات کی تفصیلات طے کرنے کے لئے دفتر مرکزیہ ملتان میں تشریف لائے۔ عالمی مجلس کے ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری سے آپ کی ملاقات ہوئی۔ محترم میاں صاحب مدظلہ نے ملک بھر میں بالخصوص گوجرانوالہ، لاہور، سرگودھا، فیصل آباد ڈویژن میں اشتہاروں کی تنصیب کا کارکنوں کو حکم دیا۔ میٹنگوں، فون، خطوط کے ذریعہ شیخ التفسیر ولی کامل حضرت مولانا احمد علی لاہوری، ولی کامل امام الہدیٰ حضرت مولانا عبید اللہ انور کے حلقہ کے خلفاء مریدین و متوسلین نے اس کے لئے بھر پور تیاری شروع کر دی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے مسجد محمدیہ ریلوے اسٹیشن چناب نگر کو رنگ روغن کرانے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کر دیا۔ مولانا فقیر محمد صاحب مدظلہ کوشش کر رہے تھے کہ ریلوے اسٹیشن پر ربوہ کے نام کی تبدیلی پر عملدرآمد ہو جائے، اس پر چناب نگر لکھا جائے۔ اللہ رب العزت نے کرم کیا کہ ۲۶ مئی کو آرڈر مل گئے۔ ۲۷ مئی کی صبح ریلوے اسٹیشن ربوہ پر سے ربوہ کا نام مٹا کر چناب نگر لکھ دیا گیا۔ جب ربوہ کا نام مٹایا جا رہا تھا، اس پر سفیدی پھیری
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جارہی تھی، اس وقت قادیانیوں کے چہروں پر کالک کا کوٹ ہو رہا تھا۔ قادیانی نوجوانوں کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ ربوہ کے نام کو مٹتا اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔ مولانا فقیر محمد صاحب نے فیصل آباد سے ۲۷ مئی کو ظہر کے وقت تشریف لائے۔ اسٹیشن پر دعا کرائی اور ربوہ کی بجائے چناب نگر کے نام کے بورڈوں کا افتتاح ہو گیا۔ میاں محمد اجمل قادری کی تشریف آوری سے ایک روز قبل کے اس واقعہ کو نیک شگون قرار دیا گیا۔ ۲۸ مئی کی صبح محمدیہ مسجد ریلوے اسٹیشن کے صحن کو سائبانوں سے ڈھانپ دیا گیا۔ ٹھنڈے پانی کے لئے ٹینکیاں رکھ دی گئیں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا محمد اکرم طوفانی سرگودھا سے اپنے رفقاء سمیت تشریف لائے۔ چنیوٹ ، چناب نگر کی انتظامیہ و پولیس انتظامات کے لئے کمر بند ہوگئی۔ ساڑھے بارہ بجے مولانا عبد اللطیف مجاہد ختم نبوت شاہ کوٹ سے بسوں ویگنوں کا بہت بڑا قافلہ لے کر اسٹیشن چناب نگر پہنچے۔ حضرت مولانا غلام مصطفےٰ خطیب و انچارج و مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت چناب نگر ، مولانا محبوب الرحمان خطیب مسجد محمدیہ نے اسٹیج کے انتظامات کو سنبھالا۔ تلاوت ونظم مولانا عبد اللطیف شاہ کوٹی ، مولانا سید احمد شاہ کوٹی ، حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی کے ایمان پر ور بیانات ہوئے۔
پونے ایک بجے کے قریب محترم مہمان گرامی ذی وقار اس پروگرام کے میزبان حضرت میاں محمد اجمل قادری مسلم کالونی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکز تشریف لائے۔ مدرسہ تعلیم القرآن ختم نبوت چناب نگر کے اساتذہ طلباء حضرت حافظ محمد یوسف عثمانی گوجرانوالہ کی قیادت میں کارکنان علاقہ سرگودھا، گوجرانوالہ، چنیوٹ، ڈاور، فیصل آباد کی بہت بڑی تعداد نے نعروں کی گونج میں حضرت میاں اجمل قادری کا استقبال کیا۔ نعروں کی ارتعاش اور گونج سے چناب نگر مسلم کالونی کے درودیوار جھوم اٹھے۔ محترم میاں صاحب نے لائبریری میں تھوڑی دیر قیام کیا۔ اتنی دیر میں لاہور شیخو پورہ، فیصل آباد کے قافلے بسوں اور کاروں پر مشتمل پہنچ گئے۔ میاں صاحب نے حاضرین سے مختصر خطاب فرمایا۔ اخباری نمائندوں سے خطاب کیا۔ وضو اور دیگر تیاری سے کارکن فارغ ہوئے تو مسلم کالونی سے بیسیوں بسوں، ویگنوں، کاروں پر مشتمل قافلہ روانہ ہوا، کالونی، کالج اور ریلوے روڈ سے ہوتا ہوا قافلہ جب اسٹیشن پر پہنچا تو سامعین نے ایمان پرور نعروں سے محترم میاں صاحب کا استقبال کیا۔ نعرۂ تکبیر، تاج وتخت ختم نبوت زندہ باد، حضرت لاہوری جانشین حضرت لاہوری کے فلک شگاف نعروں سے کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ اس وقت اجتماع کی ایمانی وجدانی کیفیت قابل دید تھی۔ اس نورانی اجتماع کی کیفیت کا الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ میاں صاحب نعروں کی گونج میں منبر پر تشریف لائے۔ مولانا اللہ وسایا نے عالمی مجلس کی طرف سے استقبالیہ و خیر مقدمی بیان کیا۔ بعد محترم میاں صاحب نے ایمان پرور اور ایمان افروز بیان کیا۔ جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک کے شیخ الحدیث مولانا عبدالحلیم صاحب نے خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔ امامت کے فرائض حضرت میاں صاحب نے انجام دیئے۔ محمدیہ مسجد کی تاریخ میں اتنا بڑا اجتماع ”العظمت لله ولرسولہ“ حد نگاہ تک عوام ہی عوام تھے۔ مسجد کا حال، برآمدہ، صحن بھر کر اسٹیشن پر بھی صفیں بنانی پڑیں۔ اس موقعہ پر اجتماع کو دیکھ کر نعرہ لگایا کہ مرشد کل بھی زندہ تھا اور آج بھی زندہ ہے۔ نماز کے بعد دعا سے قبل میاں صاحب نے قراردادیں منظور کرائیں۔ نماز کے بعد میاں صاحب نے سلسلہ قادریہ کے مطابق مجلس ذکر کرائی۔ اس ایمان پرور مجلس ذکر پر فرشتے بھی رشک کرتے ہوں گے۔
دعا کے بعد میاں صاحب کی قیادت میں اسٹیشن سے کالونی کے لئے جلوس روانہ ہوا۔ میاں صاحب کی قیادت میں ایکڑوں پر پھیلے ہوئے عظیم الشان جلوس کی شان آن و بان دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔ چناب نگر کی تاریخ میں اتنا بڑا جلوس کبھی نہیں دیکھا گیا۔ اقصیٰ چوک پر مولانا اللہ یار ارشد ، مولانا عبد الرشید انصاری ، مولانا محمد صابر سرہندی اور مولانا محمد الیاس چنیوٹی کے بیانات ہوئے۔ میاں صاحب نے ایمان افروز دعا بھی کرائی، جلوس پھر منزل مقصود کی طرف روانہ ہوا۔ راستہ میں دوستوں نے جس طرح اپنے ایمانی جذبے سے نعروں کی
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گونج میں سفر کو جاری رکھا، اس پر جتنا بھی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جائے کم ہے۔ کالونی میں محترم میاں صاحب نے انجمن خدام الدین کی جانب سے مہمانوں کے خوردونوش کا اہتمام کیا تھا، عصر کی نماز پڑھ کر قافلے اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہوئے، سب سے آخر میں میاں صاحب مہمانوں کو رخصت کرنے کے بعد تشریف لے گئے، میاں محمد اجمل قادری مدظلہ کے چناب نگر میں یوم تکبیر منانے کے چرچے مدتوں زندہ رہیں گے۔ میاں صاحب مختصر وقت کے لئے تشریف لائے، مگر انجمن خدام الدین کے اکابر کی روایات کے عین مطابق تاریخ میں نئے باب کا اضافہ کر گئے۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس مساعی جمیلہ کو قبول فرمائیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۹ تا ۱۵؍ جولائی ۱۹۹۹ء ص ۸ تا ۱۰)
جرمنی میں انسانوں کی اسمگلنگ کرنے والے مرزائی کو ۹ سال قید کی سزا
ڈارمسٹاٹ انسانوں کی اسمگلنگ کے جرم میں گزشتہ چار ماہ جاری مقدمے کی کاروائی بالآخر مکمل ہو گئی اور جرمنی کے شہر ڈارمسٹاٹ کی عدالت نے بینز ہائم کی غیر ملکیوں کی مشاورتی کونسل کے رکن اور پاکستان ویلفئیر ایسوسی ایشن کے صدر چالیس سالہ پاکستانی سہیل حسن بھٹی کو انسانوں کی اسمگلنگ کے جرم میں نو سال قید کی سزا سنائی ہے۔ سہیل حسن بھٹی پر چھ مقدمات میں فرد جرم عائد کی گئی، اس کی اہلیہ کو بھی شریک جرم قرار دیتے ہوئے ڈھائی سال کی سزا سنائی گئی تاہم دو چھوٹے بچوں کی وجہ سے عدالت نے حکم دیا ہے کہ جس قدر جلد ممکن ہو وہ ملک چھوڑ کر چلی جائے۔ اس کی اہلیہ پر ایک الزام یہ بھی ہے کہ اس نے سب کچھ جانتے ہوئے بھی اپنے شوہر کی مدد کی اور اس کو اپنے شوہر کی تمام تر کارروائیوں کا علم تھا۔ سہیل حسن بھٹی ۱۹۸۵ء میں لاہور سے جرمنی آیا تھا اس وقت اس کا تعلق جماعت احمدیہ سے تھا اور اسی بنیاد پر اس نے سیاسی پناہ ملنے کے بعد اس نے پاکستانی پاسپورٹ لے لیا تھا اس کا تعلق ایک منظم گروہ سے تھا جس کا سرغنہ حنیف کراچی میں مقیم ہے، مئی ۱۹۹۶ء سے اپریل ۱۹۹۸ء تک وہ ان سرگرمیوں میں ملوث رہا۔ بظاہر اس کام میں کراچی کا محمد حنیف، فرینکفرٹ کا ایک شخص جو پاکستانی ہے اور سہیل بھٹی ملوث تھا اس گروہ نے پاکستان سے درجنوں افراد جرمنی اور یورپ کے دوسرے ملکوں میں اسمگل کئے اور ہر شخص کے لئے بارہ تیرہ ہزار مارک تک لئے جاتے تھے، جسے یہ افراد آپس میں تقسیم کر لیتے تھے ان کے جرائم کی تفصیلات عدالت میں سنائی جانے والی ریکارڈنگز اور حساب کتاب کی ڈائریوں سے سامنے آئی ہیں۔ انہیں جو رقم ملتی تھی اسے ایک اور شخص کی معرفت یا خود سہیل حسن بھٹی پاکستان بھجوا دیتا تھا، پاکستان سے لوگوں کو یا تو دعوت دے کر یا پھر جعلی پاسپورٹوں اور دستاویزات پر منگایا جاتا تھا۔ اس کام میں فرینکفرٹ میں پاکستانی قونصلیٹ کا بدعنوان عملہ مدد کرتا تھا، عموماً لوگوں کو دبئی، پیرس یا ایمسٹرڈیم کے راستے لایا جاتا تھا واضح رہے کہ پچھلے دنوں ٹی وی کی معروف فنکارہ دردانہ بٹ کو پانچ لڑکیوں کی اسمگلنگ کے واقعہ میں گرفتار کیا تھا ان کی گرفتاری کے بعد اور ان کی نشان دہی پر سہیل حسن بھٹی اور گروہ کے دیگر افراد کو پکڑا گیا تھا۔ کہا جاتا ہے دردانہ بٹ کے کراچی میں ہالینڈ کے سفارتی دفتر سے اچھے تعلقات تھے اور انہوں نے ویزا دلوانے میں مدد کی تھی۔ بہر حال دردانہ بٹ واپس چلی گئیں اور اس گروپ پر مقدمہ چلتا رہا ادھر غیر ملکیوں کی مشاورتی کونسل کا نائب صدر ہونے کی وجہ سے اس کے جرمن حلقوں سے اچھے تعلقات تھے اور وہ کام کروا لیا کرتا تھا اور سیاسی پناہ گزینوں کے کاغذات وغیرہ بنوا لیتا تھا۔ مقدمے کی کاروائی کے دوران یہ الزام بھی سامنے آیا کہ سہیل حسن بھٹی نے جعلی ناموں سے دو فلیٹ کرائے پر لے کر وہاں ٹیلیفون لگوائے، جن سے وہ کم نرخوں پر فون کی سہولت فراہم کرتا تھا۔ اس طرح محکمہ ٹیلیفون کو ہزاروں مارک کا نقصان پہنچایا۔ مقدمے کی سماعت کے دوران سہیل حسن بھٹی کا موقف یہ رہا کہ وہ اس طرح انسانوں کی خدمت کر رہا تھا۔ اس کا یہ بھی کہنا تھا کہ کراچی میں محمد حنیف کی طرف سے اسے جان کا خطرہ تھا۔ عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ تم غیر ملکیوں اور پاکستانی قوم پر بدنما داغ ہو تم کو شرم آنی چاہئے اور
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تمہاری حرکتوں سے ان لوگوں کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے جو غیر ملکیوں کے خلاف ہیں۔ خبر ایجنسیوں کی اطلاع کے مطابق سہیل حسن بھٹی اس فیصلے کے خلاف اپیل کا ارادہ رکھتا ہے۔ (ڈیلی ”جنگ لندن“ ۲۳ جولائی ۱۹۹۹ء، ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۲ تا ۲۸ اکتوبر ۱۹۹۹ء ص ۲۶)
گوہر شاہی کی شرانگیزی..... بعض صوبائی مسلم لیگیوں کی سرپرستی
گوہر شاہی فتنہ نے جس طرح سر اٹھایا تھا اس وقت سے علماء کرام اور ارباب اقتدار کو متوجہ کرتے رہے کہ یہ فتنہ مسلمانوں کے لئے بہت زیادہ نقصان کا باعث بنے گا لیکن نہ صرف علماء کرام بلکہ ارباب اقتدار بھی اس کے جال میں پھنس گئے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ دولت اور پیسوں کے بل بوتے پر یہ فتنہ ہر جگہ شرانگیزی پر اتر آیا ہے۔ گزشتہ سال اس فتنہ نے عید میلاد النبی ﷺ کے جلوس میں شرارت کی۔ اب نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ گوہر شاہی اور اس کے پیروکار کھلے عام کفریہ عقائد کا پرچار کرتے ہیں۔ اخبارات میں بڑے بڑے مضامین شائع کراتے ہیں اور ان میں ایسی باتیں لکھتے لکھواتے ہیں کہ انسان تک اس کا تصور نہیں کر سکتا۔ اس کے ہاتھ ایسی غلط تصاویر کی اشاعت کی جارہی ہے جس کو دیکھ کر مسلمانوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ان میں ایک تصویر کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے امریکہ کے ایک ہوٹل میں ملاقات کی ہے۔ (نعوذ باللہ) اسی طرح ایک تصویر میں خانہ کعبہ میں نصب حجر اسود کو اس طرح اجاگر کیا گیا جس میں ایک تصویر کا عکس نظر آرہا ہے جو (نعوذ باللہ) گوہر شاہی کی ہے اور پھر اس کے ساتھ اخبارات میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ حرمین شریفین کے ائمہ علماء کرام اور بہت سے دیگر ممالک کے علماء نے اس کی تصدیق کی ہے۔ اس کے علاوہ جلسوں میں جو خرافات کی جاتی ہیں اس کا تو تصور تک نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح کی ایک پریس کانفرنس گوہر شاہی کے ایک انٹرویو کی شکل میں شائع ہوئی۔ یہ انٹرویو یا پریس کانفرنس گوہر شاہی نے اپنے علاقے ”خدا کی بستی“ کوٹری ضلع دادو میں دیا تھا۔ ۸؍ دسمبر ۱۹۹۶ء روزنامہ ”امت کراچی“ اور ”کاوش“ حیدرآباد نے اپنے نمائندے کے حوالے سے شائع کیا۔ جس میں گوہر شاہی نے اپنے غلط عقائد کا کھلے عام پرچار کیا ہوا تھا۔ اس پر ہمارے مخدوم محترم بزرگ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما علامہ احمد میاں حمادی ٹنڈو آدم نے ایف۔ آئی۔ آر ان الفاظ میں درج کرائی۔
”فریاد ہے کہ میں مندرجہ ذیل ایڈریس پر رہتا ہوں جامعہ مسجد ختم نبوت کا خطیب اور مجلس تحفظ ختم نبوت کا صوبائی کنوینر ہوں۔ مورخہ ۸؍ دسمبر ۱۹۹۸ء کو میں جامع مسجد کے اپنے دفتر میں موجود تھا تو وقت تقریباً ۱۰:۹ پر روزنامہ اخبارات ”امت کراچی“ اور ”کاوش“ حیدرآباد منگوائے۔ جس میں ریاض احمد گوہر شاہی مقیم خدا کی بستی نزد کوٹری ضلع دادو شائع شدہ انٹرویو پڑھا۔ جس نے کہا اگر (جو کچھ) مجھے محمد ﷺ پڑھائیں تو میں وہی بتاتا ہوں۔ حضور پاک ﷺ سے کافی ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں۔ جس سٹیکر پر لا الہ الا اللہ کے بعد اور محمد رسول اللہ کی جگہ میرا نام ریاض احمد گوہر شاہی لکھا ہے اور کہا کہ شائع کرانے میں کوئی حرج نہیں۔ قرآن مجید کی سورتوں نمبر ۱۰، ۱۱، ۱۲، ۱۳، ۱۴، ۱۵ کے شروع والے جملے (الر) کی بابت اپنے مریدوں کے حوالے سے کہا کہ اس میں ”الف“ اللہ ”ل“ سے ”لا الہ اللہ“ اور ”ر“ سے ریاض احمد مراد لیا ہے۔ اس کے مریدوں نے اس کو امام مہدی کہا ہے اور اس کی تصویر چاند پر، بیت اللہ کے حجر اسود میں موجود ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ ریاض احمد گوہر شاہی نے ان باتوں کی تردید نہیں کی ہے۔ قیمتی گاڑیوں میں نوجوان لڑکیوں کے ساتھ سفر کرنے اور عیش کرنے والی زندگی گزارنے کو رسول پاک کے جہادی سفر اور اعلیٰ قسم کے گھوڑوں پر سواری کرنے سے ملا کر جائز قرار دیا ہے۔ اسلام کے بنیادی پانچ ارکان میں سے دو ارکان نماز اور روزے ظاہری عبادت کہہ کر انہیں غیر اسلامی کارروائی کو اہم قرار دے کر اسلام کے بنیادی ارکان کو حقارت آمیز انداز میں بیان کر کے حضور پاک ﷺ کی بے حرمتی ، قرآن پاک کی بے حرمتی، مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو صدمہ رسید کیا ہے۔ بعد میں میں نے ایسی درخواستیں ضلعی انتظامیہ کو کی
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہیں ۔ فریادی ہوں کہ قانونی کارروائی کی جائے۔ ان الزامات کے متعلق میں ویڈیو کیسٹیں پیش کروں گا۔‘‘ اصولی طور پر تو چاہئے تھا کہ فوری طور پر ۲۹۵۔سی، ۲۹۵۔اے کے تحت مقدمہ درج کرلیا جاتا اور ایف.آئی.آر کاٹ کر ملزم کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کرلیا جاتا، لیکن ہماری انتظامیہ اور پولیس باطل فرقوں کے متعلق تو بہت حساس ہے۔ مسلمانوں کے جذبات کا کوئی احترام نہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ ملک عیسائیوں، قادیانیوں، یہودیوں، ہندوؤں باطل فرقوں کے لئے بنایا گیا۔ پوری انتظامیہ ان کے تحفظ کے لئے اٹھ کھڑی ہوئی ہے۔ پولیس نے اس ایف آئی آر کو قانونی برانچ کے حوالے کر دیا۔ علامہ احمد میاں حمادی صاحب نے کمشنر وغیرہ سے ملاقات کی تو انکوائری شروع ہوئی۔ آج چھ ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود ابھی تک ایف.آئی.آر نہیں کاٹی گئی۔ ۱۰/ جولائی ۱۹۹۹ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی کوٹری میں ختم نبوت کانفرنس ہوئی اور مسجد کا افتتاح ہوا تو گوہر شاہی کے پیروکاروں نے مسلح ہو کر مولانا حمادی صاحب کو ختم کرنے کی کوشش کی، جس کو ناکام بنا دیا گیا۔ اب شنید ہے کہ مسلم لیگ کے بعض صوبائی عہدیدار پتہ نہیں کس وجہ سے گوہر شاہی کی حمایت کر رہے ہیں اور انہوں نے کمشنر اور اعلیٰ حکام کو تحقیقات کرنے سے منع کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے ایف.آئی.آر میں تاخیر ہو رہی ہے۔ ادھر گوہر شاہی کے پیروکاروں نے شرانگیزی کا راستہ تیز کر دیا ہے۔ مؤرخہ ۲۴/ جولائی کو جامع مسجد باب الرحمت دفتر ختم نبوت پرانی نمائش پر مولانا حمادی صاحب اور دیگر علماء تشریف فرما تھے کہ گوہر شاہی کے پیروکاروں کا ایک جلوس گزرا جو مسجد کے قریب رکا اور اس نے نعرے لگائے۔ مولویوں کی موت آئی، گوہر شاہی گوہر شاہی۔ مولویوں کی شامت آئی، گوہر شاہی گوہر شاہی اور مکوں سے مسجد کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔ فوری طور پر تھانے وغیرہ کو اطلاع دی گئی اور تمام افسران کو خط لکھے گئے۔ ہم مشیر اعلیٰ سندھ، گورنر سندھ، ہوم سیکرٹری، کمشنر کراچی اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر ڈی ایس پی سانگھڑ کو حکم دیں کہ ایف.آئی.آر درج کریں۔ مقدمہ عدالت میں پیش کریں اور حضور اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے اس فرد اور کارکنوں کے خلاف کارروائی کریں۔ اس سے پہلے کہ یہ فتنہ مرزا غلام احمد قادیانی کی طرح جڑیں پکڑے اس کا قلع قمع کریں۔ اسی طرح یوسف ملعون، عتیق الرحمن گیلانی وغیرہ کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔ حضور اکرم ﷺ کی عظمت کی خاطر کسی بڑی سے بڑی شخصیت کی کوئی حیثیت نہیں۔ ہم مسلم لیگ کے عہدیداروں اور نیم سرکاری افسران سے بھی مطالبہ کریں گے کہ وہ حضور اکرم ﷺ کی عظمت کا خیال کرتے ہوئے ان بے دینوں اور باطل فرقوں کی سرپرستی چھوڑیں۔ ورنہ ان کا ایمان بھی ضائع ہو جائے گا اور عوامی نفرت کا بھی ان کو شکار ہونا پڑے گا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۶ تا ۱۲ / اگست ۱۹۹۹ء ص ۴، ۵)
گوہر شاہی کے آستانے پر ٹنڈو آدم پولیس کا چھاپہ گوہر شاہی فرار
”مجھے گرفتار کرنے کے لئے آنے والا اندھا ہو جائے گا“ کا دعویٰ کرنے والے گوہر شاہی کے خلاف ٹنڈو آدم پولیس نے گوہر شاہی کے آستانے پر چھاپہ مار کر اس کے جھوٹے دعویٰ کی دھجیاں بکھیر دیں، تفصیلات کے مطابق گوہر شاہی کے کفریہ عقائد اور نظریات کے خلاف احمد میاں حمادی نے ٹنڈو آدم پولیس اسٹیشن پر تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۵A / ۲۹۵C / ۲۹۵B دفعہ ۹ کے تحت ایف.آئی.آر درج کرائی ہے۔ پولیس بعض صوبائی مسلم لیگی عہدیداروں کی مداخلت کی وجہ سے تاخیر سے اس کا چالان خصوصی عدالت میر پور خاص ڈویژن میں داخل کرایا۔ خصوصی عدالت کے جج جناب عبدالغفور میمن نے گوہر شاہی کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کئے۔ ٹنڈو آدم پولیس کی بھاری نفری محمد اسحاق سنگراسی (اے.سی.پی) کی سربراہی میں کوٹری تھانہ اور بستی خدا کی تھانہ کی معیت میں گوہر شاہی کے آستانے (شیطان
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
خانے) پر چھاپہ مارا لیکن گوہر شاہی جس نے یہ دعویٰ کر رکھا ہے کہ جو مجھے پکڑنے آئے گا اندھا ہو جائے گا۔ پولیس کی بھاری نفری نے اس کے اس دعویٰ کی دھجیاں بکھیر دیں۔ گوہر شاہی اپنے آستانے سے فرار ہو گیا ہے اپنی روحانی طاقت سے نواز حکومت کو ختم کرنے کی دھمکی دینے والے گوہر شاہی آج کل خود اپنی حفاظت نہیں کر سکتے۔ احمد میاں حمادی نے ضلع سانگھڑ و ضلع دادو کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ توہین رسالت ﷺ کے مجرم گوہر شاہی کو فوراً گرفتار کیا جائے۔ جب کہ ہائیکورٹ حیدر آباد بینچ نے ضمانت قبل از گرفتاری کی گوہر شاہی کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حیدر آباد گوہر شاہی کی سرکوبی کے لئے تمام مسالک کی مشترکہ کانفرنس کے انعقاد کے لیے کوشاں ہے۔ اللہ تعالیٰ کامیاب فرمائے۔ آمین !
گوہر شاہی کے خلاف کوٹری کے عوام کا بھر پور احتجاجی مظاہرہ
الحمد للہ ! گوہر شاہی کے کفریہ عقائد کو کسی بھی مسلک کا مسلمان برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں یہی وجہ تھی کہ جب گوہر شاہی کے خلاف مشترکہ احتجاجی مظاہرہ کی کال دی گئی تو تمام مسالک کے مسلمان بھر پور انداز میں اس احتجاجی مظاہرہ میں شریک ہوئے۔ احتجاجی مظاہرہ بہار کالونی ، عید گاہ ، گراؤنڈ سے شروع ہو کر ایس ڈی ایم کی عدالت کوٹری پر ختم ہوا۔ بریلوی مسلک کے نامور عالم دین مولانا قاری محمد حنیف حقانی ، بریلوی مسلک کے پیر شاہ محمد رفیع الدین ، دعوت اسلامی کے جناب محمد دلاور ، جماعت اسلامی کے جناب عبد اللطیف ، مجلس تحفظ ختم نبوت کوٹری کے ناظم اعلیٰ غلام محمد بھٹہ ، اہل سنت کے مولانا ابراہیم ، جماعت اہل حدیث کوٹری کے امیر ڈاکٹر قربان علی شیخ نے اس احتجاجی مظاہرے سے خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ گوہر شاہی کے کفریہ عقائد اور نظریات کے خلاف تمام مسلمانوں نے متحد ہو کر یہ بات ثابت کر دی ہے کہ کسی بھی گستاخ رسول ، دشمن اسلام کی سرگرمی کو ہم برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں۔ ایس ڈی ایم کوٹری نے مظاہرین کے مطالبے پر مختصر خطاب کیا کہ ہم گوہر شاہی کو غیر قانونی اور غیر اسلامی سرگرمیوں کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔ کوٹری سائٹ ایریا کی تاریخ میں یہ پہلا بھر پور احتجاجی مظاہرہ تھا۔ مقررین نے انتظامیہ اور صوبائی حکومت سندھ سے مطالبہ کیا کہ گوہر شاہی کی حمایت کرنے والے نام نہاد بعض صوبائی مسلم لیگی عہدیداروں کو روکا جائے۔ وگرنہ حالات کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر ہوگی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۱۰ تا ۱۶؍ ستمبر ۱۹۹۹ء ص ۲۴، ۲۵)
ایس ایچ او کنری کے متعلق گورنر سندھ اور آئی جی سندھ کے نام خط
گزارش ہے کہ آپ کو یاد ہوگا کہ اگست ۱۹۹۸ء میں علاقہ نوکوٹ ضلع میر پور خاص میں قادیانیوں نے مسلمانوں کی ایک مسجد شہید کی تھی۔ اس پر جناب کمشنر صاحب نے انکوائری کے لئے ایس ڈی ایم میر پور خاص حال ڈگری کو انکوائری آفیسر مقرر کیا۔ اس انکوائری میں بھی اور تمام مسلمانوں کی طرف سے بھی ایک بات سامنے آئی تھی کہ اس واقعہ میں جہاں قادیانی ملوث ہیں ، وہاں اس واقعہ میں تھانہ جھڈو کے ایس ایچ او زوار حسین نے بھی حصہ لیا اور خوب قادیانیت نوازی کا ثبوت دیا۔ مسلمانوں کے احتجاج اور جناب گورنر سندھ صاحب کے حکم پر اس کو ہٹا دیا گیا تھا۔
جناب والا ! اب پھر اس کو کنری کا ایس ایچ او مقرر کیا گیا ہے۔ میں آپ کی خدمت میں کنری کے حالات پیش کرتا ہوں کہ کنری کے علاقہ میں کثیر تعداد قادیانیوں کی رہتی ہے اور تین چار قادیانی اسٹیٹس نسیم آباد ، ناصر آباد ، خلیل آباد قادیانیوں کے موجود ہیں اور موصوف ایس ایچ او، قادیانیوں سے گہرے مراسم رکھتا ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جناب والا ! آپ اس کے ساتھ ساتھ اس ایس. ایچ. او کا ریکارڈ دیکھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ جب یہ میر پور خاص میں تھا تو اس نے شیعہ سنی فسادات کرایا اور جب جھڈو میں تھا تو قادیانیوں کی بھر پور انداز میں سر پرستی کی اور اس کے جواب میں نوکوٹ شہر چار دن بند رہا۔ اب اس کو پھر ایسے علاقہ میں تعینات کیا ہے جہاں قادیانی ہیں۔ آخر میں جناب والا سے ایک بات کی وضاحت کروں کہ آپ حضرات نے اس کو کنری میں تعینات کیا ہے۔ اب تک کنری کی فضا میں امن ہے، اب اگر کوئی مذہبی فساد رونما ہوا تو اس کا ذمہ دار ایس. ایچ. او ہوگا۔ لہٰذا آنجناب سے درخواست ہے کہ موصوف ایس. ایچ. او کنری سے فوری طور پر ہٹایا جائے ۔ ( مولانا محمد علی صدیقی )
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۱ تا ۲۷ مئی ۱۹۹۹ء ص ۲۶)
راجہ محمد ظفر الحق کا مکتوب ...... یقین دہانی لیکن ....!
وفاقی وزیر مذہبی امور راجہ محمد ظفر الحق نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے جنرل سیکرٹری مولانا عزیز الرحمن جالندھری کی طرف لکھے گئے ایک خط کے جواب میں یقین دلایا ہے کہ توہین رسالت کے قانون اور اس کے طریقہ کار میں کوئی تبدیلی نہیں لائی جا رہی۔ راجہ صاحب نے ایک تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے اس امر کا اظہار کیا کہ غیر مسلم اقلیتیں خواہ وہ عیسائی ہوں، مقامی آبادی کے ساتھ ان کا تنازعہ ہو تو اسے مصالحت کے ذریعہ سے طے کروانے کی کوشش کی جائے۔ وفاقی وزیر مذہبی امور کا مکتوب ملاحظہ فرمائیں :
محترم جناب مولانا عزیز الرحمن جالندھری صاحب
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
آپ کا گرامی نامہ موصول ہوا۔ جس کے لئے میں آپ کا شکرگزار ہوں۔ میں سب سے پہلے اس بات کی واضح الفاظ میں تردید کرنا چاہتا ہوں کہ توہین رسالت کے قانون اور طریقہ کار میں کوئی تبدیلی نہیں لائی جارہی ہے۔ نہ تو بیورو کریسی نے ایسا مشورہ دیا اور نہ کسی اور طرف سے اس بارے میں کوئی تجویز سامنے آئی ۔ لیکن پچھلے دنوں فیصل آباد سے مسلمان علماء کرام اور مسیحی راہنماؤں کا ایک مشترکہ وفد ملا تھا۔ انہوں نے عمومی طور پر یہ تجویز پیش کی کہ غیر مسلم اقلیتیں خواہ وہ عیسائی ہوں یا ہندو، مقامی مسلمان آبادی کے ساتھ اگر ان کا کوئی تنازعہ ہو تو اسے مصالحت کے ذریعہ طے کرانے کی کوشش کی جائے۔ تا کہ یہ انفرادی مسائل بعد میں پاکستانی معاشرے کی بالعموم اور پاکستان سے باہر ممالک میں بدنامی کا باعث نہ بنیں۔ میں نے اس تجویز کو سامنے رکھتے ہوئے ملک بھر میں ضلع کی سطح پر مسلمان علماء کرام وہاں کے غیر مسلم راہنماؤں کی کمیٹیاں بنانے کی تجویز سے اتفاق کیا۔ جو اس ضلع کے تمام مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان مقامی تنازعات کو پر امن طریقے سے حل کرانے کی کوشش کریں ۔ جہاں تک توہین رسالت کے موجودہ قانون اور اس کے طریقہ کار کا تعلق ہے۔ میں وزارت سے پہلے اور وزارت کے دوران متعدد بیان دے چکا ہوں کہ اس قانون کی موجودگی نہ صرف مسلمانوں کے دلی جذبات کی عکاسی کرتا ہے بلکہ ایک انتہائی شر انگیز فتنے کو روکنے کے لئے ضروری ہے۔ جس کا اظہار میں نے ملک کے اندر اور ملک کے باہر مسیحی راہنماؤں کے سامنے عالمی مذاہب کے مشترکہ اجلاسوں میں کیا۔ اس قانون کی موجودگی سے ملزموں کو عدالت کے ذریعہ قانونی تحفظ حاصل ہے وہ اس قانون کی عدم موجودگی کی وجہ سے اس سے محروم رہیں گے اور انہیں اپنی بے گناہی ثابت کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔ مجھے امید ہے کہ نہ صرف آپ کی ذاتی تشفی ہوگی بلکہ جہاں کہیں اور بھی غلط فہمی پیدا ہوگی اسے بھی رفع فرمائیں گے ۔ والسلام! خیر اندیش : (راجہ محمد ظفر الحق)
وفاقی وزیر مذہبی امور راجہ ظفر الحق کے خط میں واضح یقین دہانی پر دینی حلقوں نے یقیناً اطمینان کا اظہار کیا ہو گا ۔ راجہ صاحب کے
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مکتوب پر ہم اپنی ذاتی رائے کا حق محفوظ رکھتے ہوئے یہ عرض کرنا چاہیں گے کہ راجہ صاحب کے خط میں بعض حصے وضاحت طلب ہیں۔ جن جن معاصرین نے ان کے خط کا خیر مقدم کیا ہے۔ محسوس ہوتا ہے کیا انہوں نے بعض حصوں کا بغور مطالعہ نہیں کیا۔ راجہ ظفر الحق صاحب کی یہ تردید کہ تحفظ ناموس رسالت کے قانون میں یا طریقہ کار میں کوئی تبدیلی نہیں لائی جارہی ۔ بلاشبہ قابل تحسین ہے۔ لیکن طرفہ تماشہ یہ کہ ایک حکومتی نمائندہ تردید کر رہا ہے۔ دوسرا نمائندہ توہین رسالت کے قانون کے طریقہ کار میں تبدیلی کا اعلان کر رہا ہے۔ پارلیمانی سیکرٹری اطلاعات ونشریات میاں انوار الحق رامے نے امریکہ کا دورہ ختم کر کے لندن میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ مذہبی امور کے وزیر راجہ ظفر الحق نے اس سلسلہ میں ایک سمری وزیر اعظم کو بھیج دی ہے۔ جس کی منظوری کے بعد توہین رسالت کے قانون میں طریقہ کار کے ضمن میں تبدیلی لائی جائے گی۔ لندن (سٹاف رپورٹر ) پاکستان کے پارلیمانی سیکرٹری اطلاعات ونشریات میاں انوار الحق رامے نے کہا ہے کہ پاکستان میں توہین رسالت کے سلسلہ میں آئندہ جو بھی شکایات آئے گی۔ کیس رجسٹرڈ کرنے سے قبل ایک کمیٹی موقع پر جا کر حقائق کا جائزہ لے گی۔ اگر شکایت درست ثابت ہوئی تو کیس رجسٹرڈ کیا جائے گا۔ اس کمیٹی میں ڈپٹی کمشنر، عدلیہ کا نمائندہ، مسلم، کریشچن اتحاد کے نمائندے اور بعض مقامی معززین شامل ہوں گے۔ کمیٹی کے قیام کا مقصد توہین رسالت کے قانون کے غلط استعمال اور دشمنی یا عداوت کی بنیاد پر کیسوں کے اندراج کو روکنا ہے۔ یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزارت مذہبی امور کے وزیر راجہ محمد ظفر الحق نے اس سلسلہ میں ایک سمری وزیر اعظم کو بھیج دی ہے۔ جس کی منظوری کے بعد یہ سلسلہ شروع ہو جائے گا۔
(روزنامہ جنگ لندن ۱۰/جون ۱۹۹۹ء)
راجہ صاحب کی تردید اور پارلیمانی سیکرٹری کی تصدیق کس پر یقین کیا جائے، کیا راجہ صاحب یہ وضاحت کر سکتے ہیں کہ ان کی جانب سے کی گئی تردید حکومتی پالیسی کا حصہ ہے...... یا محض ان کے ذاتی جذبات...... ادھر پارلیمانی سیکرٹری میاں رامے کس کی راگنی الاپ رہے ہیں۔ وفاقی وزیر مذہبی امور راجہ ظفر الحق نے اپنے خط میں فیصل آباد سے متعلق علماء اور مسیحی رہنماؤں کے مشترکہ وفد کا ذکر بھی کیا ہے۔ محسوس ہوتا ہے کہ راجہ صاحب کو غیر مسلم اقلیتوں کو مقامی آبادی سے مصالحت کے ذریعہ اپنے تنازعات حل کرنے کی تجویز خاصی پسند آئی ہے۔ چنانچہ راجہ ظفر الحق نے اس تجویز کو سامنے رکھتے ہوئے ملک بھر میں ضلع کی سطح پر مسلمان علماء اور وہاں کے غیر مسلم رہنماؤں کی مشترکہ کمیٹیاں بنانے کی تجویز پر بھی اتفاق کیا۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ محترم راجہ صاحب فیصل آباد سے آنے والے علماء کا حدود اربعہ بھی جاننے کی کوشش کرتے۔ جن کا روزگار ایسی کمیٹیوں سے وابستہ ہے۔ غیر مسلم اقلیتوں کے مسلمانوں کے ساتھ کیسے تنازعات ہیں؟ گو پیشہ ور مولوی اور نام نہاد مسیحی راہنما مصالحاتی کمیٹیوں کے ذریعہ تنازعات طے کرنا چاہتے ہیں۔ راجہ محمد ظفر الحق نے اپنے خط میں اس کی وضاحت نہیں کی کہ کس نوعیت کے تنازعات کمیٹیوں کے سپرد ہوں گے۔ آیا یہ تنازعات زمین، جائیداد یا لین دین سے متعلق ہوں گے۔ یا ان میں مذہبی نوعیت کے تنازعات بھی شامل ہوں گے۔ مسیحیوں کی طرح قادیانی بھی غیر مسلم اقلیت ہیں۔ مسلمانوں اور قادیانیوں کے مابین بھی تنازعات ہیں۔ قادیانی خود کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں اور مسلمان کہلوانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اپنے آپ کو غیر مسلم اقلیت تسلیم ہی نہیں کیا۔ قادیانی جماعت کے رہنماؤں کے بیانات اعلانات اور اشتہارات آئین وقانون سے بغاوت کا منہ بولتا ثبوت ہوتے ہیں۔ قادیانی اس آرڈیننس کی دھجیاں بکھیر رہے ہیں جو محترم راجہ صاحب کی ذاتی کاوشوں سے بنایا گیا تھا۔ اب راجہ صاحب ہی بتائیں کہ آئین وقانون سے متعلق تنازعات کو بھی کیا مسلمان قادیانیوں کے ساتھ مل بیٹھ کر ایسی وضع کردہ کمیٹیوں میں حل کریں؟ یہ بات ہماری سمجھ سے بالاتر ہے کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے مابین کون سے ایسے تنازعات ہیں جن کے لئے مصالحاتی کمیٹیوں کا اہتمام کیا جانا ضروری ہے۔ گذشتہ چند برسوں
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
میں مسیحیوں کی جانب سے توہین رسالت کے بعض واقعات بلاشبہ کشیدگی کا باعث بنے ہیں۔ دفعہ ۲۹۵۔سی کے خاتمہ کا مطالبہ اور مسیحی اقلیت کے احتجاجی مظاہرے بذات خود نزاع اور کشیدگی کا باعث ہیں۔ اگر توہین رسالت کے افسوس ناک واقعات کو بھی مصالحت کے ذریعہ حل کرنا ہے تو پھر تحفظ ناموس رسالت کے قانون کی ضرورت ہی کیا باقی رہ جاتی ہے؟ ہم پورے وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ ایسی نام نہاد مصالحتی کمیٹیاں رائے عامہ کے احتساب اور عتاب سے نہ بچ سکیں گے۔ وفاقی وزیر مذہبی امور راجہ ظفر الحق کی جانب سے تحفظ ناموس رسالت کے قانون کے طریقہ کار کو نہ بدلنے کی تردید اس لحاظ سے درست ہے کہ طریقہ کار تو دو سال سے بدل چکا ہے۔ اب اس میں کیا تبدیلی لائی جائے گی۔ ملک بھر کے تمام ڈپٹی کمشنروں کو پابند کیا گیا ہے کہ توہین رسالت کے واقعہ کی ایف۔آئی۔آر کے اندراج سے قبل مکمل چھان پھٹک اور تفتیش کریں۔ حکومت باضابطہ ایسی کمیٹیوں کا قیام چاہتی ہے جن کی تفتیش اور تحقیقات کے بعد ایف۔آئی۔آر درج کی جائے گی۔ اس کمیٹی میں ضلعی سربراہ، عدلیہ کا نمائندہ، مسلم علماء، کرسچن راہنما اور بعض معززین بھی شامل ہوں گے۔ اس کمیٹی کو یہ اختیار بھی سونپا جا رہا ہے۔ اگر مدعی وقوعہ ثابت کرنے میں ناکام ہو تو اس کے خلاف تعزیری کارروائی عمل میں لائی جائے۔ ہمارے نزدیک تحفظ ناموس رسالت کے قانون کے طریقہ کار میں ایسی تبدیلی کو مؤثر بنانے کی طرف پہلا قدم ہے۔ طریقہ کار میں تبدیلی توہین رسالت کے قانون میں ترمیم سے زیادہ خطرناک ہے۔ ایسی کمیٹیوں کی تشکیل کے ذریعہ حکومت جو ضابطہ لانا چاہتی ہے اس طریقہ کار سے وہی مقاصد حاصل ہوں گے جو قانون میں ترمیم سے حاصل ہو سکتے ہیں۔ ہمیں بھولنا نہیں چاہئے کہ تحفظ ناموس رسالت کا قانون ”شرعی قانون“ ہے، جس کی سزا موت ہے۔ شرعی قانون کسی خصوصی کمیٹی یا نئے نرالے طریقہ کار کا محتاج نہیں ہوا کرتا۔ اگر اس قانون میں ترمیم کی گئی یا اس کے طریقہ کار کو بدلا گیا تو پھر اس قانون کی شرعی حیثیت ہی ختم ہو جائے گی۔
حکومت میاں نواز شریف کی ہو یا بے نظیر کی، دونوں حکومتیں تحفظ ناموس رسالت کے قانون کو ختم کرنے کے اور اسے غیر مؤثر بنانے کے ضمن میں امریکی دباؤ کا شکار رہی ہیں۔ امریکی حکومت اس قانون کا خاتمہ چاہنے کے علاوہ بالخصوص مسیحی اقلیت کے لئے مراعات میں تجاویز کی طلب گار بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سینٹ میں اقلیتوں کو نمائندگی دینے کے لئے آئین میں ترمیم کرنے پر غور و خوض کیا جا رہا ہے۔ پاکستانی قوم کا دینی مذہبی جذبہ اور سرکار دوعالم ﷺ کی ذات اقدس سے والہانہ عقیدت امریکی خوشنودی کے حصول میں رکاوٹ نہ ہوتی تو کوئی سی حکومت بھی اس قانون کا خاتمہ کرنے سے گریز نہ کرتی۔ ماضی قریب میں پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں تحفظ ناموس رسالت کے قانون کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔ رائے عامہ کے شدید ردعمل پر حکومت کو اس قانون میں ترمیم نہ کرنے کا اعلان کرنا پڑا۔ ورنہ سابق وزیر قانون اقبال حیدر نے واضح طور پر توہین ناموس رسالت کے قانون ۲۹۵۔سی میں ترمیم کا اعلان کر دیا تھا۔ مسلمانوں کی طرف سے احتجاجی مظاہروں اور ملک گیر ہڑتال کے باعث حکومت اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہ ہوسکی۔ بعد ازاں حکومت نے حکومتی و غیر حکومتی ارکان اسمبلی پر مشتمل ایک خصوصی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ جس نے تحفظ ناموس رسالت کے قانون کے غلط استعمال کی روک تھام میں سفارشات مرتب کرنا تھیں۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ دونوں حکومتوں کا اس قانون کے بارے میں اب تک یکساں طرزِ عمل رہا ہے۔ مسیحی اقلیت کے راہنماؤں، حقوق انسانی کی تنظیموں کی جانب سے احتجاجی بیانات مظاہروں سے متاثر ہو کر حکومت توہین رسالت کے قانون کے غلط استعمال کی روک تھام کے ضمن میں ترمیم اور طریقہ کار کی تبدیلی کا اعلان کرتی ہے۔ لیکن دوسری جانب اکثریت کے جذبات کے پیش نظر اور عوامی ردعمل کو دیکھتے ہوئے حکومت ایسا کرنے کا حوصلہ نہیں کر پاتی۔ چنانچہ کچھ مدت سے حکومت کے نمائندوں نے ڈپلومیٹک پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔ وہ اقلیت میں جاتے ہیں تو ان کے جذبات اور اکثریت کے روبرو ہوتے ہیں تو ان کی زبان میں ترجمانی کرتے ہیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ریلوے میں مرزائیت نوازی، رانا بشارت قادیانی کی شیطنت
رانا بشارت قادیانی بہاول نگر ریلوے اسٹیشن کا اسٹیشن ماسٹر ہے۔ بدترین متعصب قادیانی ہے۔ بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی کی جھوٹی نبوت کا نفس ناطقہ اور ترجمان ہے۔ دن رات قادیانیت کی تبلیغ اس کا مشغلہ ہے۔ اپنے سرکاری منصب سے ناجائز فائدہ اٹھا کر مسلمانوں کو تنگ کرنا اس کی گھٹی میں شامل ہے۔ کئی بار مسلمانوں کی شکایت پر اس کے تبادلے کے احکامات جاری ہوئے۔ مگر عمل درآمد نہیں ہوا۔ ریلوے میں کوئی ایسا شیطان قادیانی آفیسر بیٹھا ہے جو اس بدمعاش کی سرپرستی کر رہا ہے۔ ہمیں تلخی اور گرم نوائی پر معاف رکھا جائے۔ لیکن آخر کار اس کا بھی کوئی جواز ہے کہ مسلمانوں کی ایک جائز شکایت کو اعتناء کے قابل کیوں نہیں سمجھا جارہا؟ سیف الرحمٰن قیصرانی قادیانی نامی ریلوے کا آفیسر اسلام آباد میں متعین ہے۔ اس کے بشارت سے روحانی و جسمانی روابط ہیں۔ یہ سیف الرحمٰن ہی ہے جسے خانیوال کے حادثے میں معطل کیا گیا تھا۔ آج پھر اس کو مسلمانوں کے جذبات کا خون کرنے کا انچارج بنادیا گیا۔ کیا وفاقی وزیر ریلوے و چیئرمین ریلوے کمیٹی جناب محترم جاوید ابراہیم پراچہ ہماری اس مشکل کو دور کرانے میں توجہ فرمائیں گے کہ بارہا آپ کی توجہات کے باوجود اس مجسمہ فساد بشارت کا ابھی تک تبادلہ نہیں ہوا آخر کیوں؟
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۱۹۹۹ء ص ۳ تا ۷)
سرائے عالمگیر میں مرزائیت کی ناپاک سازش
۵؍ اگست ۱۹۹۹ء کو مغربی قبرستان سرائے عالمگیر کے قریب سے گزرتے ہوئے سیٹھ حاجی حبیب اللہ صاحب نے دیکھا کہ مرزائی مسلمانوں کے قبرستان میں اپنے مردہ کی تدفین کے لئے قبر تیار کروا رہے ہیں۔ انہوں نے فوراً علماء شہر مولانا جمیل احمد بالاکوٹی، مولانا عبدالمنان و دیگر حضرات کو مطلع کیا۔ چنانچہ کارروائی کرنے کے لئے معززین شہر اور جامعہ حنفیہ تعلیم القرآن سرائے عالمگیر کے طلبہ کو جمع کیا گیا اور ایک جلوس قبرستان پہنچا، لوگوں میں جذبہ ایمانی اور حمیت دینی کا غیر معمولی مظاہرہ دیکھا گیا۔ دوکانوں کو کھلا چھوڑ کر ختم نبوت کے پروانے سیدھا قبرستان پہنچے۔ مولانا جمیل احمد بالاکوٹی نے مرزائیوں کو اس حرکت پر روکا تو انہوں نے کہا کہ ہم بھی مسلمان ہیں، نبی کریم ﷺ کو خاتم النبیین مانتے ہیں اور وہی کلمہ پڑھتے ہیں جو تم پڑھتے ہو۔ مولانا نے کہا کہ یہ بحث کا وقت نہیں تمہارا کفر تو طے شدہ ہے اور پاکستان کے قانون میں اقلیت قرار دیئے جاچکے ہو اور تمہیں یاد ہے کہ یہ معاہدہ مجسٹریٹ کے روبرو ہوچکا ہے کہ تم اپنے مردوں کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں کرسکتے۔ مسلمانوں نے ان کی کھودی ہوئی قبر کو فوراً مٹی سے بھر دیا، ان کی اینٹیں اٹھا کر قبرستان سے باہر پھینک دیں اور انہیں خبردار کیا کہ آئندہ ایسی حرکت کی گئی تو قادیانیوں کو خطرناک نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۱۰ تا ۱۶؍ ستمبر ۱۹۹۹ء ص ۲۶)
تحصیل پھالیہ کے موضع اسد اللہ پور اور گولیکی میں قادیانیوں کی غنڈہ گردی
قادیانیت، دہشت گردی، قبضہ گروپ، سینہ زوری اور عیاری و چالاکی کا دوسرا نام ہے۔ قادیانی دہشت گردی خود کرتے ہیں لیکن الزام مسلمانوں کو دے کر دنیا بھر میں نام نہاد مظلومیت کا ڈھنڈورا پیٹنے لگتے ہیں۔ یہ کیفیت موضع اسد اللہ پور تحصیل پھالیہ ضلع منڈی بہاء الدین کی ہے۔ جس میں کچھ گھرانے قادیانی ہیں۔ جب کہ گردونواح کے گاؤں سدوکی، گولیکی وغیرہ میں بھی کچھ قادیانی گھرانے ہیں۔ ان کی جارحیت کا عالم یہ ہے کہ اپنے گھروں پر قانوناً ممانعت کے باوجود کلمہ طیبہ لکھوا رکھا ہے اور گورنمنٹ کے قائم کردہ ڈاک خانہ پر مرزائی بیعت نامہ بھی لٹکایا ہوا ہے۔ یوں بزور قوت قادیانیت کی تبلیغ جاری ہے۔ اس گاؤں میں تین قبرستان ہیں۔ ان میں سے ایک پر قادیانیوں
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نے جبراً قبضہ کر رکھا ہے۔ جو کہ سرکاری کاغذات میں مقبوضہ اہل اسلام ہے۔ جب کہ باقی دونوں قبرستانوں میں بھی مسلمانوں کے درمیان اپنے مردے دفن کرتے ہیں۔ اس صورتحال پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا محمد طیب فاروقی کی سربراہی میں ایک وفد نے ڈپٹی کمشنر منڈی بہاء الدین سے ملاقات کی اور سنگین صورتحال سے آگاہ کیا۔ جنہوں نے اسسٹنٹ کمشنر جناب مقصود احمد لک کو کارروائی کرنے کے احکامات صادر کئے۔ وفد میں اہل دیہہ کے نمایاں افراد کے علاوہ ختم نبوت منڈی بہاء الدین کے نائب امیر غلام نور، جنرل سیکرٹری ملک محمد یامین قادری، مولانا لال شاہ، اکرام اللہ خان، ماسٹر محمد صادق، ملک بشیراحمد، ملک محمد ارشد، ڈاکٹر محمد طارق، ڈاکٹر محمد عارف، ڈاکٹر محمد امجد شکور اور سیف اللہ شامل تھے۔ ۲۳؍اگست ۱۹۹۹ء کو وفد ڈی سی سے پھر ملا، جب کہ ۲۴؍اگست کو گاؤں کے سینکڑوں افراد پر مشتمل وفد نے مولانا قاری عبدالحئی اور مولانا محمد طیب کی سرکردگی میں اے سی صاحب سے ملاقات کی اور انہیں صورتحال سے آگاہ کیا۔ جنہوں نے اپنے بھر پور تعاون کا یقین دلایا۔ مسلمانوں کے وفد نے دوبارہ اے سی صاحب سے ملاقات کی اس موقع پر علاقہ کے ایس. ایچ. او سید نثار علی شاہ اور متعلقہ پٹواری کو بھی ملاقات میں سرکاری سطح پر شریک کیا گیا۔ اس پر اے سی جناب مقصود احمد لک نے یہ اعلان کیا کہ وہ اس تنازع کا جلد فیصلہ کر دیں گے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا مطالبہ ہے کہ: (۱) متذکرہ بالا قبرستان مسلمانوں کے حوالہ کیا جائے۔ (۲) باقی دونوں قبرستانوں میں قادیانی مردوں کو دفن کرنے پر پابندی عائد کی جائے۔ نیز مرزائیوں کے لئے الگ قبرستان مختص کیا جائے۔ مرزائیوں کے گھروں اور ڈاک خانہ پر کلمہ طیبہ لکھا جانا کلمہ طیبہ کی توہین اور قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس لئے ان مقامات سے کلمہ طیبہ کو محفوظ کیا جائے۔ قادیانیوں کے بیعت نامے کو مٹایا جائے اور قادیانیوں کی تبلیغی سرگرمیوں کو روکا جائے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۱۹۹۹ء ص ۶۲، ۶۱)
ننکانہ صاحب میں قادیانیوں کی شرانگیزی اور اس کا سدباب
گزشتہ دنوں ننکانہ صاحب کے محمود احمد بٹ قادیانی کی بارہ سالہ پوتی انتقال کر گئی، ننکانہ صاحب کے قادیانیوں نے رات کے اندھیرے میں مردے کو قریبی گاؤں کوٹ دیال داس میں مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر دیا۔ کوٹ سادھو رام کے افتخار احمد کی اطلاع پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ننکانہ صاحب کا ایک وفد حاجی عبدالحمید رحمانی اور شوکت علی شاہد کی قیادت میں اے سی اور ڈی. ایس. پی ننکانہ صاحب سے ملا اور انہیں تمام حالات سے آگاہ کیا اور بتایا کہ قادیانی جان بوجھ کر حالات کو خراب کرنے کے لئے قادیانی مردے کو کوٹ دیال داس میں دفن کیا گیا۔ وفد نے ایک درخواست بھی ڈی. ایس. پی ننکانہ کو پیش کی۔ جس میں ملزموں کی گرفتاری اور قادیانی مردہ کو فوری طور سے مسلمانوں کے قبرستان سے نکالنے کا مطالبہ کیا۔
ڈی. ایس. پی ننکانہ اور ایس. ایچ. او تھانہ صدر نے کارروائی کرتے ہوئے داؤد احمد، صادق بٹ، عبدالجبار اور شوکت علی قادیانیوں کو فوری طور پر گرفتار کرتے ہوئے قادیانیوں کو مسلمانوں کے قبرستان سے قادیانی مردہ نکالنے کا حکم دیا۔ رات بارہ بجے ایس. ایچ. او تھانہ صدر نے حاجی عبدالحمید رحمانی امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو اطلاع دی کہ قادیانی مردہ مسلمانوں کے قبرستان سے نکال دیا گیا ہے۔ امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ننکانہ حاجی عبدالحمید رحمانی نے اپنے ایک بیان میں مقامی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا ہے کہ انہوں نے قانون کے تقاضے پورے کرتے ہوئے مسلمانوں کے قبرستان کو قادیانی ناسور سے پاک کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۳ تا ۹؍ ستمبر ۱۹۹۹ء ٹائٹل پیج نمبر ۳)
اندرون سندھ میں قادیانیت اور اس کا سدباب
ملک عزیز کے صوبہ سندھ میں سانگھڑ، نواب شاہ، اور حیدرآباد کے اضلاع میں انتہائی قلیل تعداد میں قادیانی آباد ہیں، مگر
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء
قادیانیوں نے اپنے کافرانہ عقائد کے پھیلاؤ کے لئے خصوصی طور پر میر پور خاص ڈویژن اور بدین ضلع کا انتخاب کیا۔ کنری، نوکوٹ، ٹالہی، فضل، بھمبرو سے متصل انگریزوں کی جانب سے اسلام سے مرتد و منکر ہونے کے عوض میں بخشی گئی اسٹیٹس قائم ہیں، جنہیں نسیم آباد، ناصر آباد، محمود آباد، محمد آباد، خلیل آباد، کریم آباد، نصرت آباد اور بشیر آباد کے نام سے پکار جاتا ہے۔ یہاں کی زمینوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کا ایک بڑا حصہ قادیانیت کے کافرانہ عقائد کی ترویج میں لگایا جاتا ہے، یہ افسوس کا مقام ہے کہ حالیہ حکومت کی جانب سے زمینوں کو واپس لینے کے فیصلے کے اعلان کے بعد یہ زمینیں حکومت کی نگاہ سے اوجھل کیوں ہیں۔ ضلع بدین میں کھوسکی اور شادی لارج میں بھی قادیانیوں کی معمولی تعداد ہے اور ضلع بدین میں قادیانی سرگرمیوں کا گڑھ شہید فاضل راہو ( سابقہ گولارچی ) کو بنایا گیا، اس کا سب سے بڑا سبب یہ بھی تھا کہ فاضل راہو شہر میں مختلف علاقوں کے لوگ آباد ہیں، ضلع بھر میں قادیانیوں نے انتہائی خاموشی سے قادیانیت کی تبلیغ شروع کر دی مگر ۱۹۹۴ء میں پہلی مرتبہ انہوں نے ایک بڑی اور منظم تحریک چلائی، اس سلسلہ میں انہوں نے جمعہ کے روز نماز جمعہ پی ٹی وی کی نشریات جام کر کے مرزا طاہر قادیانی کا خطبہ نشر کرنے لگے، جو لندن سے سیٹلائٹ پر ٹیلی کاسٹ کیا جاتا تھا۔ اپنے اس مقصد کی تکمیل کی خاطر انہوں نے ڈش انٹینا پر خصوصی بوسٹر لگوائے جس سے ایک مخصوص علاقہ تک پی ٹی وی کی نشریات جام کی جاسکتی ہیں۔ عوامی شکایت کے بعد قادیانیوں کی اس مذموم کارروائی نے دینی حلقوں میں بے چینی پھیلا کر رکھ دی۔ ضلع بدین میں قادیانیت کی بڑھتی ہوئی خرمستیوں کی اطلاعات پانے کے بعد ۱۹۹۴ء میں ہی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اپنے مرکزی نائب امیر مرکزیہ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی اور حضرت مولانا مفتی محمد جمیل خان کی قیادت میں علماء کرام کا ایک وفد تشکیل دیا، جنہوں نے فوری طور پر قادیانیوں کے اس ناپاک عمل کو بند کرایا۔ وفد نے ضلع کا دورہ کیا اور بدین کی جامع مسجد میں ایک عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کرایا گیا، جس میں مولانا محمد یوسف لدھیانوی، مفتی محمد جمیل خان، مولانا اللہ وسایا، مولانا عبدالغفور قاسمی، مولانا احمد میاں حمادی اور مولانا محمد علی صدیقی نے اپنے خطابات کے ذریعے یہاں کے مسلمانوں میں مرزائیت کے مکروہ اور کافرانہ عقائد سے لوگوں کو آگاہ کیا۔ قادیانیت کے ناپاک فتنہ کے سد باب کے لئے جماعت کی جانب سے پہلی مرتبہ مولانا محمد اسحاق کا بطور مبلغ تقرر بھی کیا گیا، مذکورہ کانفرنس کے بعد بدین میں مسلمانوں کا مذہبی جوش وخروش دیکھتے ہوئے قادیانیوں نے اپنی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لئے فاضل راہو (گولارچی) میں بڑی خاموشی سے اپنے منصوبے پر عمل درآمد شروع کیا۔ اوّل انہوں نے افسران بالا سے اپنے تعلقات استوار کرنا شروع کئے۔ دوم اپنے ظاہری اخلاق کے ذریعے عام اور سادہ لوح مسلمانوں میں اپنے لئے اچھا تاثر پیدا کرنا شروع کیا۔ سوم قادیانیت سے متعلق کافرانہ عقائد سے مکمل انکار کر کے لوگوں میں گھل مل جانے کے پروگرام پر عمل کیا۔ مذکورہ طریقہ کار پر عمل کرتے ہوئے ایک وقت میں قادیانی گولارچی میں مسلم معاشرے کا حصہ بن گئے۔ انہوں نے علاقہ میں گنتی کے چند سادہ لوح و جاہل مسلمانوں کو مرتد بھی کر لیا۔ گولارچی کے وارڈ نمبر ۴ میں اپنی عبادت گاہ کو مسجد کا نام وشکل قائم کیا تا کہ بھولے سے آنے والے مسلمانوں کو مختلف ہتھکنڈوں سے پھانس لیا جائے۔ گولارچی میں قادیانیوں کے اس غیر محسوس طریقہ کو جامعہ مسجد مدینہ کے خطیب اور ختم نبوت کے ایک سپاہی مولانا محمد قاسم جمالی بھانپ لیا اور جمعہ کے دوران اس ناپاک سازش کا پردہ چاک کیا، جس پر مسلمانوں نے جذبہ ایمانی سے سرشار قادیانیوں کی عبادت گاہ کو مسمار کر دیا۔ مگر افسوس کہ پاکستان میں قادیانیوں کو اقلیت قرار دیے جانے اور انہیں شعائر اسلامی استعمال کرنے پر پابندی کے باوجود الٹا مسلمانوں پر مقدمہ بنا کر انہیں پابند سلاسل کر دیا گیا اور مولانا محمد قاسم جمالی، مولانا حافظ عبدالکریم اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی جانب سے مبلغ مولانا محمد علی صدیقی کے ایمان افروز کردار نے آج مسلمانوں اور قادیانیوں کے درمیان زمین و آسمان کا فاصلہ پیدا کر دیا ہے، انہوں نے علاقہ میں قادیانیوں کے اثر و رسوخ اور مقامی
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
معاشرے میں ضم ہونے کے عمل کو بھانپ کر اپنے خطابات اور گھر گھر جا کر مسلمانوں کے دینی شعور کو بیدار کیا۔ انہوں نے اپنی دن رات کی محنت اور علم وعمل کے ذریعہ فتنہ قادیانیت کے ظاہری اجلے اور اخلاقیات کے مرصع چہرے کے پیچھے چھپے نجس و ناپاک صورت کا آشکار کر کے مقامی مسلمانوں کو اس سے قطع تعلق پر مجبور کر دیا۔ اس مرحلہ پر ہمت مرداں مدد خدا کے قول کو خداوند قدوس نے بھی سچ کر دکھایا اور اللہ تبارک وتعالیٰ اس فتنے کو ذلیل و خوار کرنے کے اسباب پیدا کرتا رہا۔ اس دوران عبدالوحید نامی شخص علاقہ کے دیہی علاقوں کے سادہ لوح مسلمانوں کو قومی ڈیٹا فارم پر کرنے کا جھانسہ دے کر ان کے مذہب کے خانہ میں اسلام کی بجائے قادیانی درج کرتا رہا، مگر قادیانیوں کی اس ناپاک سازش کا علم ہو جانے کے بعد تمام مسلمان تحفظ ناموس رسالت ﷺ اور تحفظ دین کے لئے متحد ہو گئے۔ قادیانی گرفتار ہوا اور اسے خصوصی عدالت سے دس سال کی سزا سنائی گئی۔ گولارچی میں اس واقعہ کے بعد نوکوٹ کے قریب چک ۴ دیہہ اکوٹہ میں قادیانیوں کی جانب سے مسلمانوں کی ۳۵ سالہ قدیم مسجد کی شہادت کے واقعہ نے بھی قادیانیت کو بے نقاب کر دیا۔ ان واقعات سے سندھ کے عام آدمی پر بھی یہ بات واضح ہو گئی کہ قادیانی اسلام اور مسلمان دونوں کے دشمن ہیں۔ گولارچی میں ہر سال مجلس تحفظ ختم نبوت کی جانب سے عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوتی ہے۔ اس سلسلہ میں اب تک اس شہر میں پانچ عظیم الشان کانفرنسیں منعقد ہو چکی ہیں۔ مجلس کے رہنماؤں کی جانب سے قادیانیت کے کفر کو واضح کر دیا گیا ہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۴ تا ۳۰؍ ستمبر ۱۹۹۹ء ص ۲۲، ۲۳)
فیصلہ لاہور ہائی کورٹ بہاول پور بنچ
چک نمبر ۱۱ فورڈ چشتیاں ضلع بہاول نگر میں ایک قادیانی نے اسلامی اصطلاحات کو استعمال کیا۔ قادیانی عبادت گاہ کو مسجد کی طرز پر بنایا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی درخواست پر اس کے خلاف کیس دائر ہوا۔ لاہور ہائی کورٹ بہاول پور بنچ کے جسٹس میاں نذیر اختر صاحب نے ضمانت کی درخواست پر فیصلہ تحریر فرمایا۔ جس کی خبر لولاک کے کسی پہلے شمارہ میں شائع ہو چکی ہے۔ ذیل میں جسٹس میاں نذیر اختر صاحب کے فیصلے کے مکمل متن کا ترجمہ پیش کرنے کی ادارہ لولاک سعادت حاصل کر رہا ہے۔ یاد رہے کہ اب اس قادیانی ملزم کو مقامی عدالت بھی سزا سنا چکی ہے۔ ذیل میں ہائی کورٹ کے فیصلے کا مکمل اردو متن ملاحظہ فرمائیں:
بعدالت جناب جسٹس میاں نذیر اختر صاحب 858.B.99/BWP عطاء اللہ ولد چوہدری عمر دین ذات جٹ وڑائچ سکنہ چک نمبر ۱۱ فورڈ تحصیل چشتیاں ضلع بہاول نگر (مقیّد ڈسٹرکٹ جیل ضلع بہاول نگر پٹیشنر) بنام سرکار (ریسپانڈنٹ) درخواست ضمانت بعد از گرفتاری زیر دفعہ ۴۹۸ ضابطہ فوجداری مقدمہ نمبر ۳۰۴/۹۹ مؤرخہ ۸؍ ستمبر ۱۹۹۹ء زیر دفعہ ۲۹۸۔بی، ۲۹۸۔سی تعزیرات پاکستان پولیس تھانہ صدر چشتیاں حکم مؤرخہ ۱۲؍ اکتوبر ۱۹۹۹ء رانا سردار احمد ایڈووکیٹ منجانب پٹیشنر (درخواست گزار) عبدالرحمن طیب، محمد اختر قریشی، شبیر احمد بھٹہ اور غلام رسول ایڈووکیٹ (منجانب مستغیث) سلیم نواز عباسی اے اے جی بہ معاونت اسلم راشدی ایڈووکیٹ منجانب سرکار بہ ہمراہ محمد اشفاق اے. ایس. آئی، ایم. ایس بلال احمد قاضی اور حق نواز قمر ایڈووکیٹ (بحیثیت دوست معاون عدالت) مولانا عزیز الرحمن (دوست معاون عدالت)
- ۱...... درخواست گزار نے مقدمہ نمبر ۳۰۴/۹۹ مؤرخہ ۸؍ ستمبر ۱۹۹۹ء زیر دفعہ ۲۹۸۔بی تعزیرات پاکستان پولیس تھانہ صدر چشتیاں ضلع
بہاول نگر درج شدہ میں ضمانت کی درخواست دی ہے۔
- ۲...... اس کیس میں مؤرخہ ۴؍ ستمبر ۱۹۹۹ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع بہاول نگر نے اسٹنٹ کمشنر چشتیاں کو ایک درخواست پیش کی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جس میں الزام لگایا کہ پٹیشنر نے مسجد کی طرز پر عبادت گاہ تعمیر کر کے زیر دفعہ ۲۹۸۔بی کے جرم کا ارتکاب کیا ہے۔ درخواست ضروری کارروائی کے لئے ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر مجسٹریٹ درجہ اوّل چشتیاں کو بھجوا دی گئی۔ ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر نے پولیس پارٹی ، مولانا عبدالقادر کشمیری ، مولانا عزیز الرحمٰن ساکنان چشتیاں اور چک نمبر ۱۱ کے متعددرہائشی افراد کے ہمراہ موقعہ ملاحظہ کیا اور پٹیشنر کا ڈیرہ، گھر، مسجد طرز پر تعمیر پایا۔ عمارت میں مینار ، محراب اور ایک (Crest) مسجد کی طرز پر تھا۔ علاقے کے لوگوں کی موجودگی میں متنازعہ جگہ سے برآمد ہونے والا قرآن پاک مولانا عزیز الرحمٰن خطیب جامع مسجد تحصیل والی کے حوالے کر دیا گیا۔ فرد مقبوضگی پر دستخط کئے گئے ، جن میں دیگر کے علاوہ پٹیشنر کا بیٹا مختار احمد بھی شامل ہے۔ جس نے بتایا کہ پٹیشنر قادیانی فرقے کی تبلیغ کے لئے متنازعہ جگہ پر مبلغین کو عموماً لاتا ہے۔ دوران تفتیش پولیس نے مولانا عبدالقادر کشمیری ، مولانا عزیز الرحمٰن ، بشیر احمد نمبردار چک نمبر ۱۱ FW ، امجد رشید، سردار اور محمد شفیق یونس کے بیانات ریکارڈ کئے جو چک نمبر ۱۱ FW کے رہائشی ہیں ، جہاں پر متنازعہ عمارت واقع ہے۔
۳...... درخواست کی سماعت ۴؍ اکتوبر ۱۹۹۹ء کو شروع کی گئی تھی۔ دلائل کے دوران استغاثے کے فاضل وکیل نے نشان دہی کی کہ ملزم نے متنازعہ جگہ عبادت گاہ کو مسلمانوں کی روایتی مسجد کی شکل میں تعمیر کیا ہے۔ پٹیشنر کے فاضل وکیل نے قوی طور پر بیان کیا کہ اگر (متنازعہ عمارت) کا ڈھانچہ (تعمیر) مسلمانوں کی روایتی مسجد سے مشابہت رکھتی تھی تو اس میں تبدیلی کی جاسکتی ہے اور مینار گرا دیئے جائیں گے۔ اس بات کا تعین کرنے کے لئے کہ آیا موجودہ ڈھانچہ (عمارت) مسلمانوں کی مسجد سے مشابہت رکھتے ہیں ، مستغیث کو اجازت دی گئی کہ متنازعہ عمارت کی تصاویر ریکارڈ پر پیش کرے۔ مقدمہ کی سماعت ۲۰/۹۹/ تک ملتوی کر دی گئی۔ جب استغاثے کے فاضل وکیل نے چھ تصاویر ریکارڈ پر پیش کیں، جو ضمیمہ E سے ۵/ F تک ہیں۔ پٹیشنر (ملزم) کے فاضل وکیل نے دو تصاویر ریکارڈ پر پیش کیں، جو ضمیمہ F اور ۱/ F ہے۔ مذکورہ تصاویر واضح طور پر ظاہر کرتی ہیں کہ ڈھانچہ (تعمیر) متنازعہ کو ختم کرنے کے لئے تبدیل کر دیا جائے گا۔ پٹیشنر کے فاضل وکیل نے بیان کیا کہ پٹیشنر (ملزم) ایسا کرنے کے لئے تیار نہیں تھا۔ یہ کہ ۴؍ اکتوبر ۱۹۹۹ء کی پیشکش صرف اس تاریخ کے لئے مؤثر تھی اور مزید کہا کہ پٹیشنر (ملزم) ذاتی طور پر فیصلہ کرنے کا مجاز نہیں تھا اور یہ کہ موجودہ متنازعہ عمارت کے ڈھانچہ (تعمیر) میں تبدیلی کا فیصلہ جماعت احمدیہ کر سکتی ہے۔
۴...... مزید سماعت سے قبل یہ بیان کیا جاسکتا ہے کہ ۴؍ اکتوبر ۱۹۹۹ء کو پٹیشنر کے فاضل وکیل نے اصرار کیا کہ ملزم کی عمر ۶۵ سال ہے اور کمزور ضعیف شخص ہے۔ پٹیشنر کی عمر اور اس کی صحت کے بارے میں جیل ڈاکٹر سے رپورٹ طلب کی گئی۔ ڈاکٹر نے رپورٹ کی کہ پٹیشنر کی عمر ۶۰ سال کے قریب ہے اور صحت نارمل ہے۔ اس رپورٹ کی روشنی میں پٹیشنر کے فاضل وکیل نے پٹیشنر کی مذکورہ ضعیف العمری اور کمزوری کی بنیاد پر درخواست ضمانت پر زور نہیں دیا۔
۵...... استحقاق پر پٹیشنر کے فاضل وکیل نے بڑی محنت سے دلائل دیئے کہ یہ ایک عام نوعیت کی ایف آئی آر ہے جو زیر دفعہ ۲۹۸۔بی تعزیرات پاکستان درج کی گئی۔ ضابطہ فوج داری کی دفعہ ۴۹۷ کی امتناعی شق میں نہ آتی ہے۔ یہ کہ فریق کے انوکھے اعتقاد کی بنیاد پر معاملے کو تصفیہ نہیں کیا جانا چاہئے۔ یہ کہ ایف آئی آر کی تحریر سے ملزم کے خلاف کوئی جرم نہیں پایا گیا کہ پٹیشنر کے ذریعہ نہ تو عبادت گاہ ”مسجد“ رکھا گیا اور نہ ہی اس نام سے پکارا گیا۔ یہ کہ جگہ (عمارت) کے دروازے پر ”الاحمدیہ“ کے الفاظ لکھے گئے جیسا کہ تصاویر ضمیمہ F اور ۱/ F سے ظاہر ہے۔ یہ الزام کہ عبادت گاہ کی جگہ کی تعمیر سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں (بے بنیاد) غلط ہے۔ کیونکہ تعمیر کے دوران مقدمہ کی رجسٹریشن تک کسی نے کوئی اعتراض نہیں اٹھایا۔ یہ رپورٹ ایک تنظیم ”عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بہاول نگر“ کے ذریعے درج کرائی
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گئی تھی اور چشتیاں کے کسی باشندے نے اس پر اعتراض نہیں کیا۔ یہ کہ پٹیشنر (ملزم ) قادیانی گروپ کی جماعت احمدیہ سے تعلق رکھتا ہے۔ جس نے کبھی اپنا ایمان (اعتقاد) چھپایا نہ مسلمان ہونے کا دعویٰ کیا۔ یہ کہ اراضی جس پر متنازعہ عمارت تعمیر کی گئی۔ پٹیشنر سے تعلق رکھتی ہے (ملکیت ہے) اور قادیانی ہونے کی حیثیت میں اس کی تعمیر میں بھی حصہ لیا ہے۔ یہ ایف۔آئی۔آر غلط طور پر درج کی گئی اور آئین پاکستان کے آرٹیکل ۴، ۲۰ اور ۲۵ کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ یہ کہ موجودہ مقدمے کی طرح (سابقہ مقدمہ میں ضمانت لی گئی جو ضابطہ فوجداری کے دفعہ ۴۹۷ کی امتناعی شق میں نہیں آتا تھا۔ اس مؤقف کی تائید میں اس نے درج ذیل فیصلوں پر انحصار کیا۔
- (۱) محمد اسلم بنام سرکار ۱۹۹۸ء پاکستان کریمنل لاء جرنل ۵۲۲
- (۲) اصغر محسن وغیرہ بنام سرکار ۱۹۹۵ء پاکستان کریمنل لاء جرنل ۵۴۴
- (۳) سکندر اے کریم بنام سرکار این ایل آر ۱۹۹۵ ایس سی جے ۲۸۸
- (۴) سید احمد علی رضوی وغیرہ بنام سرکار این ایل آر ۱۹۹۵ ایس سی جے ۶۰۱
- ۶...... دوسری طرف سے فاضل اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے ضمانت کی مخالفت کی اور موقف اختیار کیا کہ پٹیشنر (ملزم) نے واضح
طور پر زیر دفعہ ۲۹۸۔بی کے ساتھ ساتھ ۲۹۸۔سی تعزیرات پاکستان کا ارتکاب بھی کیا۔ یہ کہ قادیانی اپنی عبادت گاہ ایک روایتی مسلم مسجد کی طرز پر تعمیر کرنے کے حق دار نہیں۔ یہ کہ ایسا کرنے سے انہوں نے قصداً ملک کے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔ تفتیش کے دوران پایا گیا ہے کہ عبادت گاہ کی متنازعہ جگہ پر قادیانی فرقے کی تبلیغ کے لئے مبلغین کو لایا گیا۔ یہ کہ اس طرح کے طرز عمل کو جاری رکھنے کی اجازت دی گئی تو امن وامان کی گھمبیر صورتحال پیدا کر سکتی۔ یہ کہ پٹیشنر (ملزم) کو محض اس بناء پر ضمانت کی اجازت نہیں دی جاسکتی کیونکہ جرم ضابطہ فوجداری کی دفعہ ۴۹۷ کی امتناعی شق میں نہیں آتا۔ جیسا کہ اس نے جان بوجھ کر قانون کی خلاف ورزی کی ہے اور اپنے طرز عمل سے ظاہر کیا ہے کہ وہ متنازعہ عمارت میں تبدیلی نہ کر کے ایسے جرم کا ارتکاب جاری رکھ سکتا ہے۔ یہ کہ مسجد شعائر اسلام میں شامل ہے اور مسلمانوں کے لئے عبادت۔ ان کے مذہبی ثقافت اور تعلیم کے لئے اہم جگہ ہے۔ یہ کہ تفتیش کے دوران کافی مواد اکٹھا کیا گیا۔ یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ پٹیشنر علاقے کے باشندگان کو عبادت گاہ لاتا ہے تاکہ وہ قادیانی مبلغین کو سن سکیں۔ یہ کہ قرآن پاک مسلمانوں کی مقدس کتاب ہونے کی حیثیت سے قادیانیوں یا دیگر غیر مسلموں سے جو پاک صاف ”طاہر“ نہ ہوں کے ذریعے نہیں چھوئی جانی چاہئے۔ یہ کہ محض یہ حقیقت کہ عبادت گاہ کے دروازے یا محراب کے اندرونی دروازے پر الفاظ ”بیت الاحمدیہ“ لکھے گئے ہیں۔ مسلمانوں کو فریب دینے کے امکان کے تدارک کے لئے کافی نہیں ہے کیونکہ علاقے کے باشندگان کی ایک بڑی تعداد ان پڑھ ہے جو مذکورہ بالا الفاظ نہیں پڑھ سکتے اور حتیٰ کہ بصورت دیگر عام طور پر پڑھے لکھے افراد بھی توجہ نہیں دیتے کہ گیٹ یا محراب وغیرہ پر کیا لکھا ہوا ہے۔ اس سے مسلمانوں کو فریب دینے کا ہر امکان ہے جو غلطی سے عبادت گاہ میں جاسکتے ہیں اور اپنی نماز ایک غیر مسلم قادیانی امام کے پیچھے پڑھ سکتے ہیں۔ اپنے اس مؤقف کی تائید میں اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے مقدمہ ”ظہیر الدین وغیرہ بنام سرکار وغیرہ (۱۹۹۳ ایس سی ایم آر ۱۷۱۸) کے فیصلہ پر انحصار کیا۔ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۸۔بی کا حوالہ دیتے ہوئے فاضل اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ الفاظ ”refer to“ استعمال شدہ دفعہ ۲۹۸۔بی ذیلی دفعہ (۱) کی شق (D) تعزیرات پاکستان کا مطلب سیاق وسباق سے ہے کہ بطور مسجد عبادت گاہ پر توجہ دلانا اور یہ عام طور پر مسلم مسجد کے معروف ڈیزائن پر عبادت گاہ کی تعمیر سے ملزم (پٹیشنر) نے توجہ مبذول کرائی کہ جیسے متنازعہ ڈھانچہ (عمارت) ایک مسجد تھی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۷...... مستغیث کے فاضل وکیل مسٹر اے آر طیب ایڈووکیٹ نے عام طور پر فاضل اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کے دلائل اختیار کئے اور مزید کہا کہ پٹیشنر (ملزم) کی طرف سے ارتکاب کردہ جرم ۲۹۸-بی اور ۲۹۸-سی تعزیرات پاکستان کے ساتھ ساتھ دفعہ ۱۹ انسداد دہشت گردی ایکٹ ۱۹۹۷ء کے زمرے میں آتا ہے۔ انہوں کہا کہ مسلم مسجد کی طرز پر عبادت گاہ کی دیدہ دانستہ تعمیر سنگین جرم ہے۔ جس پر مسلمانوں میں اشتعال پیدا ہوا ہے۔ مسلمانوں اور قادیانیوں میں کشیدگی کی فضاء پیدا کی ہے لہٰذا ملزم ”دہشت گردی اقدام“ کے ارتکاب میں ملوث ہے انہوں نے مزید دلیل دی کہ قرآن پاک ”صحف المطہرہ“ اللہ تعالیٰ کی مقدس وحی ہے اور جب عربی زبان میں لکھی گئی ہو تو صرف پاک صاف مسلمان اسے چھو سکتا ہے۔ یہاں تک کہ جب مسلمان غیر طہارت کی حالت میں ہو تو شریعت کے اصول کے تابع وہ قرآن کو ہاتھ نہیں لگا سکتا۔ اس سے بہت کم ایک غیر مسلم جیسے قادیانی جو کہ وراثتاً پاک صاف نہیں ہیں۔ (قرآن پاک کو ہاتھ نہیں لگا سکتا) اس سلسلے میں انہوں نے قرآن پاک کی متعلقہ آیات اور مولانا محمد شفیع صاحب کی تفسیر قرآن کا حوالہ دیا۔ اسی اثناء میں عدالت میں موجود مولانا عزیز الرحمن اس نقطہ کی وضاحت کے لئے آگے بڑھے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ عربی زبان میں قرآن پاک کو کوئی غیر مسلم نہیں چھو سکتا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے مقدس الفاظ جو کہ عربی زبان میں ہوں۔ اگر یہ کسی اور زبان میں مترجم ہوں پھر وہ ترجمہ تمام غیر مسلم رہنمائی کے لئے استعمال کر سکتے ہیں۔ اے آر طیب ایڈووکیٹ نے مزید بتایا کہ متنازعہ جگہ ”مسجد ضرار“ کی طرح ہے اور اسے مسمار کر دیا جانا چاہیے۔ کیونکہ یہ فرقہ ورانہ کشیدگی اور منافرت کو ہوا دینے کے مترادف ہے۔ آخر میں انہوں نے دلیل پیش کی کہ پٹیشنر بطور استحقاق ضمانت کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ خاص طور پر جب یہ مجرمانہ عمارت میں ترمیم کرنے کو تیار نہیں ہے۔ انہوں نے درج ذیل فیصلوں پر انحصار کیا:
- (۱) محمد آزاد خان بنام سرکار ۱۹۸۸ء پاکستان کریمنل لاء جرنل ۱۲۲۵
- (۲) سرکار بنام محمد نذر وغیرہ پی ایل ڈی ۱۹۹۱ لاہور ۴۳۳
- (۳) طارق بشیر و پانچ دیگران بنام سرکار پی ایل ڈی ۱۹۹۵ ایس سی ۳۴
- (۴) کنور خالد یونس وغیرہ بنام سرکار پی ایل ڈی ۱۹۹۵ کراچی ۴۷
- (۵) محمد افضل وغیرہ بنام سرکار پی ایل ڈی ۱۹۹۷ ایس سی ایم آر ۲۸۷
- (۶) امتیاز احمد وغیرہ بنام سرکار پی ایل ڈی ۱۹۹۷ ایس سی ۵۲۵
- (۷) پیر بخش و چار دیگران بنام سرکار ۱۹۹۹ پاکستان کریمنل لاء جرنل ۱۱۱
- (۸) محمد سعید بنام سرکار پی ایل ڈی ۱۹۹۹ کراچی ۳۲۵
۸...... مسٹر بشیر احمد بھٹہ اور غلام رسول ایڈووکیٹس برائے مستغیث نے مسٹر اے آر طیب ایڈووکیٹ کے اٹھائے گئے نکات کی تائید کی اور اضافہ کیا کہ حرم کعبہ کی حدود میں غیر مسلموں کے داخلے پر ممانعت ہے کیونکہ وہ ”نجس“ یا غیر صاف ہوتے ہیں۔
۹...... مسٹر محمد اختر قریشی ایڈووکیٹ بھی مستغیث کی طرف سے پیش ہوئے اور دلائل دیئے کہ یہ کہنا غلط تھا کہ مقدمہ میں جرم کا ارتکاب عام تعزیراتی جرم ہے۔ یہ کہ قادیانی اور جماعت احمدیہ کے لاہوری گروپس کی غیر اسلامی سرگرمیوں سے متعلقہ قانون کا نفاذ ۲۶/اپریل ۱۹۸۴ء کو کیا تھا۔ یہ کہ اس وقت سے قادیانی مختلف طریقوں سے قانون کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور ملک میں امن و امان کی صورتحال پیدا کر رہے ہیں۔ یہ کہ اسی وجہ سے ان کی صد سالہ تقریبات پر پابندی عائد کی گئی۔ جس پر انہوں نے لاہور ہائیکورٹ میں ایک رٹ
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پٹیشن دائر کی جو خارج کر دی گئی۔ یہ ظہیر الدین کے مقدمہ میں (پی ایل جے ۱۹۹۴ ایس سی ۱) میں قرار دیا گیا کہ ملک میں اسلام سپریم اور موثر قانون ہے اور یہ کہ قادیانی اپنے عقیدے کو اسلام کہہ کر دنیا کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ یہ کہ مذہبی جذبات سے متعلق جرائم بہت سنگین ہوتے ہیں اور قومی کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔ یہ کہ اس سطح پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ مقدمے میں مزید تحقیق اور تفتیش مطلوب ہے کیونکہ یہ یقین کرنے کے لئے کہ پٹیشنر (ملزم) نے مسجد کی طرز پر عبادت گاہ تعمیر کر کے جان بوجھ کر جرم کا ارتکاب کیا ہے۔ یہ کہ ایف آئی آر کسی بھی اطلاع دہندہ کی رپورٹ پر درج کی جا سکتی ہے جس کا جائے وقوعہ کا رہائشی ہونا ضروری نہیں ہے۔ یہ کہ موجودہ مقدمے میں علاقے کے باشندگان بھی گواہ ہیں۔ جنہوں نے استغاثہ کے مقدمہ کی صحیح طور پر تائید کی ہے۔ یہ کہ اسسٹنٹ کمشنر چشتیاں کے احکامات کے تابع ابتدائی انکوائری کے بعد ایف آئی آر درست طور پر درج کی گئی تھی۔ یہ کہ ابتدائی تفتیش انکوائری ضابطہ فوجداری کی دفعہ ۱۹۶۔بی کے تحت کی جا سکتی تھی یہ کہ اگر پٹیشنر متنازعہ (ڈھانچہ) میں تبدیلی اور مسلمان مسجد سے مشابہت ختم کرنے پر اتفاق کرتا ہے۔ پھر انہیں ضمانت دیئے جانے پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ یہ کہ موجودہ صورتحال میں مسلمان گمراہ ہو سکتے ہیں اور جگہ کو اپنی مسجد کے طور پر استعمال کرنے کے لئے آسکتے ہیں۔ جو مستقبل تنازعات اور جھگڑے پر منتج ہو سکتے ہیں۔ یہ چالان ۱۱/ ستمبر ۱۹۹۹ء کو عدالت میں پیش کیا جاچکا ہے اور عدالت سماعت کو مختصر وقت میں سماعت مکمل کرنے کی ہدایت کی جاسکتی ہے۔
- ۱۰...... مسٹر بلال اے قاضی ایڈووکیٹ (دوست معاون عدالت) نے موقف اختیار کیا کہ قادیانیوں، احمدیوں کا مستقل مزاج رویہ
ظاہر کرتا ہے کہ انہیں ملک کے قانون کی کوئی پرواہ نہیں ہے اصل مسلمان کے طور پر دعویٰ اپنے عقائد کی تبلیغ اور اپنی عبادت گاہ مسلمان مساجد کی طرز پر تعمیر کر کے جان بوجھ کر آئین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ یہ کہ اپنے عمل سے ملک کے آئین اور قانون کے اقتدار کی جڑیں کھوکھلی کر رہے ہیں۔ یہ کہ وہ اس طرح ملک کے آئین کی خلاف ورزی میں ملوث ہیں۔ یہ موجودہ کیس کوئی ایسا کیس نہیں ہے جس میں کسی نے سہو یا غلطی سے ایک مرتبہ جرم کا ارتکاب کیا بلکہ ایک مسلسل اور عمداً جرم کا ارتکاب کیا ہے۔ یہ کہ پٹیشنر نے ایک مسلمان مسجد سے مختلف شکل دینے کے لئے ڈھانچہ (عمارت) میں تبدیلی کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ لہٰذا اس کا یہ کردار بھی اسے ضمانت کی صوابدیدی رعایت کے لئے غیر مستحق کرتا ہے۔
- ۱۱...... مسٹر محمد حق نواز قمر ایڈووکیٹ (دوست معاون عدالت) نے بحث کی کہ قادیانیوں کے خلاف سب سے پہلا قابل ذکر فیصلہ محمد اکبر
خان ڈسٹرکٹ جج بہاول پور نے ۲/ فروری ۱۹۳۵ء کو دیا تھا اور اس وقت سے قادیانیوں نے اپنی توجہ اس علاقے پر مرکوز کی ہوئی ہے اور اپنے مخصوص عقیدے کو پھیلانے کی جان بوجھ کر کوشش کر رہے ہیں۔ یہ کہ اس مقصد کے لئے وہ اس علاقہ میں مبلغین کو بھیجتے رہے ہیں۔ یہ کہ انہوں نے اس علاقے میں عام بولی جانے والی سرائیکی زبان میں قرآن پاک کا ترجمہ حاصل کیا۔ یہ کہ عبادت گاہ کی متنازعہ جگہ کی تعمیر اس علاقے میں قادیانی فرقے کو پھیلانے کا سوچا سمجھا منصوبہ ہے۔ یہ کہ مسلم امہ کو نقصان پہنچانے کے لئے اسے مسجد ضرار کی طرح استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یہ کہ پٹیشنر کو جس نے جان بوجھ کر قانون کی خلاف ورزی کی ہے ضمانت نہیں دی جاسکتی۔ یہ کہ ضمانت پٹیشنر کی رہائی مسلمانوں کو مشتعل کرے گی اور یہاں تک کہ پٹیشنر کی زندگی کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔
- ۱۲...... پٹیشنر کے وکیل نے جواب میں مؤقف اختیار کیا کہ مستغیث کے فاضل وکیل سرکار اور دوست عدالت کے طور پر پیش ہونے
والے فاضل وکلاء کی طرف سے پیش کردہ تمام دلائل ماورائے آئین اور غیر متعلقہ ہیں۔ یہ کہ ایف آئی آر میں ایسا کوئی الزام نہیں ہے کہ
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پٹیشنر (ملزم) نے خود کو بھی مسلمان ظاہر کیا ہے۔ یا عبادت گاہ کی متنازعہ جگہ کو مسجد کے طور پر کہا ہے۔ یہ کہ آئین پاکستان کی رو سے پٹیشنر غیر مسلم ہے۔ یہ کہ متنازعہ جگہ یقینی طور پر مسلمانوں کی مسجد نہیں ہے جس طرح کی جگہ عام طور پر مسلمانوں کے لئے مسجد کی تعمیر کی خاطر مختص نہیں کی گئی تھی۔ یہ کہ جہاں تک محراب کا تعلق ہے امام صوفی کے نزدیک یہ ایک بدعت (BIDaa) یا ایک نئی اختراع ہے جو ایک مسجد کا عام حصہ نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے اس سلسلے میں فتاویٰ دارالعلوم دیوبند جلد دوم صفحہ ۷۸۷ کا حوالہ دیا۔ یہ کہ اس سطح پر ضمانت (پر رہائی) کو سزا کے طور پر نہیں روکا جاسکتا۔ یہ کہ فریب غلط فہمی سے بچنے کے لئے متنازعہ جگہ کے صدر دروازے پر ”بیت الاحمدیہ“ کے الفاظ لکھے گئے ہیں۔ عدالت کے سوال پر فاضل وکیل نے بیان کیا کہ الفاظ بیت الاحمدیہ کے بعد الفاظ ”قادیانی گروپ“ شامل کرنے کے لئے پٹیشنر (ملزم) رضامند نہیں تھا۔ انہوں نے مزید درخواست کی کہ مقدمہ میں ایف آئی آر کچھ ابتدائی تحقیقات کے بعد درج کی گئی تھی۔ پھر اسے میرٹ پر کالعدم کیا جانا تھا۔ ان کے دلائل کے اختتام پر پٹیشنر کے فاضل وکیل سے پھر سوال کیا کہ آیا پٹیشنر تنازعہ کو ختم کرنے کے لئے موجودہ متنازعہ عمارت کے ڈھانچہ (تعمیر) میں تبدیلی کے لئے تیار کیا جاسکتا ہے جس کے لئے انہوں نے نفی میں جواب دیا۔
۱۳....... درج بالا معاملہ نزاع جو میرے سامنے پیش کیا گیا کا بغور جائزہ لیا ہے اور صفحہ مثل پر موجودہ ریکارڈ کا بغور مطالعہ کیا ہے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نام سے تنظیم کے عہدیداروں کی تحریک پر ایف آئی آر کا اندراج اور ایف آئی آر کے باضابطہ اندراج سے قبل کچھ تحقیقات پر اعتراضات کوئی زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔ قانونی مشینری کو کوئی بھی شخص متحرک کر سکتا ہے۔ اس لئے اس کے لئے اس علاقہ کا باشندہ ہونا ضروری نہیں ہے۔ جہاں وقوعہ رونما ہوا ہو۔ ریاض احمد بنام سرکار کے مقدمے میں فل بینچ فیصلے نے (پی ایل ڈی ۱۹۹۲ لاہور ۴۸۵) ایف آئی آر کی رجسٹریشن سے قبل کچھ تفتیش کے خدشات کو دور کر دیا گیا تھا۔ یہ قرار دیا گیا تھا کہ قابل دست اندازی جرائم کے مقدمات میں ابتدائی رپورٹ کی وصولی اور اس کا اندراج مجرمانہ تفتیش کے لئے لازمی جزو نہیں تھا اور اس سلسلے میں بے ضابطگی کے ارتکاب میں ملزم کی گرفتاری یا اس کے ٹرائل کو بالکل بے اثر نہیں کیا۔
۱۴....... موجودہ مقدمہ سریع التاثر بشمول مذہبی جذبات واحساسات ہے۔ عام طور پر مسلمانوں کے عقائد جماعت احمدیہ کے لاہوری گروپ یا قادیانی گروپ کے عقائد سے بالکل مختلف ہیں ان کے عقائد میں اختلافات کی طویل تاریخ ایک سو سال سے زائد عرصہ پر محیط ہے۔ ماضی میں متعدد مرتبہ یہ قتل و غارت اور امن وامان کی سنگین صورتحال پر منتج ہوا۔ قادیانی گروپ اور لاہوری گروپ سے تعلق رکھنے والے مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکار اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین ۱۹۷۳ء کے آرٹیکل (۳) ۲۶۰ (بی) کے تحت غیر مسلم (مرتد) قرار دیئے گئے۔ آئین کے مقاصد حاصل کرنے کے لئے قادیانی گروپ لاہوری گروپ اور جماعت احمدیہ کی غیر اسلامی سرگرمیوں کے لئے انسداد اور سزا آرڈیننس ۱۹۸۴ء کے نام سے قانون ۲۶؍ اپریل ۱۹۸۴ء کو نافذ کیا گیا۔ اس قانون کے ذریعے مذکورہ اقلیتوں کو ان کی مخصوص حدود میں رکھنے اور پاکستان کے شہریوں کی ایک بہت بڑی اکثریت کے حقوق کا تحفظ کرنے کے لئے دفعات ۲۹۵-بی اور ۲۹۵-سی قانون کی کتاب میں شامل کی گئیں۔ موجودہ مقدمہ زیر دفعہ ۲۹۸-بی تعزیرات پاکستان درج کیا گیا ہے جو درج ذیل ہے۔
(۱) قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ کا کوئی فرد (جو خود کو احمدیہ یا کسی اور نام سے پکارتا ہو) جو الفاظ کے ذریعے خواہ بولے گئے ہوں یا لکھے گئے ہوں یا نظری اظہار کے ذریعے۔
(الف) خلیفہ یا اصحاب رسول ﷺ کے علاوہ کسی اور کو بطور ”امیر المومنین“ پکارنا خلیفۃ المومنین، خلیفۃ المسلمین، صحابی، یا رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ کسی اور کو قرار دیتا یا پکارتا ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- (ب) زوجہ حضرت محمد ﷺ کے علاوہ کسی اور کو ام المومنین قرار دے یا پکارے۔
- (ج) اصحاب (ارکان) خاندان ”اہل بیت“ کے علاوہ کسی اور کو پکارے یا قرار دیتا ہے۔ اپنی عبادت گاہ کو مسجد کے طور پر نام
رکھتا ہے، بلاتا ہے یا قرار دیتا ہے لازمی طور پر کسی بھی طرح کی سزا دی جائے گی جو تین سال کے عرصہ تک ہو سکتی ہے اور لازمی طور پر جرمانے کا بھی مستوجب ہوگا۔
- (۲) قادیانی یا لاہوری گروپ کا کوئی شخص (جو خود کو احمدی یا کسی اور نام سے کہلاتا ہو) جو الفاظ کے ذریعے خواہ بولے گئے یا تحریر
شدہ یا نظری اظہار کے ذریعے اپنے عقیدہ کے پیروکار نمازیوں کو اس طرح سے اشارہ کرتا ہے یا ایسے بلاتا ہے جیسے ”اذان“ یا اذان کا حوالہ دے جیسا کہ مسلمان استعمال کرتے ہیں لازمی طور پر جرمانے کا بھی مستوجب ہوگا۔
قانون کی شق کا بنیادی مقصد اہل بیت، رسول پاک ﷺ ان کی ازواج مطہرات و رفقاء کی شان و عزت و تقدس کا تحفظ اور بچاؤ ہے اور قادیانی یا لاہوری گروپ کا مذکورہ مقدس شخصیات کے لئے القاب، وضاحت اور نام (عنوان) کے غلط استعمال سے روکنا یا ان کی عبادت گاہ کو بطور ”مسجد“ نام رکھنے یا پکارنے سے باز رکھنا ہے۔ پٹیشنر کے فاضل وکیل نے زور دیا کہ پٹیشنر نہ تو اپنی عبادت گاہ کو بطور مسجد قرار دے رہا ہے اور نہ ہی اس کا نام رکھ رہا یا بلا رہا ہے۔ انہوں نے بحث کی کہ یہ ایک بدعت (Bidaa) ہے اور مسلمان مسجد کا لازمی حصہ نہیں ہے۔ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۸-بی (۱) (ڈی) کے تحت جرم عائد کرنے کے لئے شرعی مسجد کی تخلیق ثابت نہیں کی جاسکتی۔ یہ کافی ہے کہ چاہے الفاظ بولے گئے، یا لکھے گئے ہوں یا محض نظری، ظاہری اظہار کے ذریعے دوسروں کو باور کرایا جائے کہ قادیانی عبادت گاہ ”مسجد“ ہے۔ سیاق و سباق میں الفاظ ”بطور مسجد“ کا مطلب ہو سکتا ہے جیسے یہ مسجد ہی تھی۔ اس لئے اگر قادیانی یا لاہوری گروپ کا کوئی شخص ایک عمارت تعمیر کرتا ہے خواہ وہ چوکور شکل میں ہو یا عیسائی گرجا گھر یا مندر کی طرح ہو اور اس کا نام مسجد رکھا جائے (اس نام سے) پکارا جائے وہ قانون کی درج بالا شق کے تحت گناہ گار (مجرم) ہو سکتا ہے۔ (اس کے) برعکس اگر روایتی مسلم مسجد کی طرح تعمیر کی گئی عمارت حاصل کرتا ہے یا تعمیر کرتا ہے بادی النظر میں یہ نظری طور پر واضح ظاہر کرے گی کہ یہ ”مسجد“ ہے۔ اس کے لئے امکانی صورت ہے، کوئی فرق کرنے کے لئے اسے ”بیت الاحمدیہ“ کا نام دیا جائے گا؟ کیا یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ دوہرے فریب، دھوکہ کے مترادف ہے؟ یہ سوالات آخر کار عدالت سماعت کے ذریعے فیصل کئے جاسکتے ہیں لیکن میں آزمائشی طور پر (ظاہری طور پر) محسوس کرتا ہوں کہ اس طرح کا اقدام بادی النظر میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۸-بی (۱) (ڈی) جان بوجھ کر نقصان پہنچانے (خلاف ورزی کرنے) کے زمرے میں آتا ہے۔
مستغیث کے فاضل وکیل اور فاضل اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کے پیش کردہ دلائل میں وزن ہے۔ بلالحاظ اس کے کہ متنازعہ عمارت کے صدر دروازے کے بالکل اوپر الفاظ ”بیت الاحمدیہ“ لکھے گئے ہیں۔ مسلمان قوم کو دھوکہ، فریب کا امکان رہے گا کیونکہ غیر تعلیم یافتہ افراد، مسلمان مذکورہ الفاظ پڑھنے کے قابل نہیں ہو سکیں گے اور باقی اگرچہ پڑھے لکھے (خواندہ) تحریر پر توجہ نہ دے سکیں یا اس کا صحیح مفہوم نہ سمجھ سکیں اور غلطی سے جگہ میں داخل ہو کر ایک غیر مسلم قادیانی امام کے پیچھے نمازیں پڑھ لیں۔ مزید برآں تحریر کسی بھی وقت مٹائی یا دھولی جاسکتی ہے یا وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مدھم ہو سکتی ہے۔ بادی النظر میں جرم تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۸-سی میں بھی آتا ہے کیونکہ غیر مسلم کی طرف سے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔ تفتیش کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ پٹیشنر (ملزم) قادیانی مبلغین کو بھی متنازعہ عمارت میں لاتا ہے اور مسلمانوں کو بحث و مباحثے یا ”مناظرے“ کا چیلنج کرتا ہے اس لئے بادی النظر میں یہ یقین کرنے کے لئے معقول وجوہات ظاہر ہوئی ہیں کہ پٹیشنر (ملزم) نے زیر دفعہ ۲۹۸-بی اور ۲۹۸-سی تعزیرات پاکستان جرم کا ارتکاب کیا ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۱۵...... یہ دلیل کہ پٹیشنر نے ’’دہشت گردانہ اقدام‘‘ کا ارتکاب کیا ہے جیسے زیر دفعہ ۶ انسداد دہشت گردی ایکٹ ۱۹۹۷ء میں صراحت
ہے نے مجھے متاثر نہیں کیا۔ ایکٹ کی دفعہ ۶ کا اطلاق (وہاں) ہوتا ہے جہاں افراد یا افراد کے کسی گروہ میں دہشت گردی، خوف اور عدم تحفظ کے احساس کے لئے یا افراد کے کسی گروہ کو منحرف (منتشر) کرنے یا افراد کے مختلف گروہوں کو نقصان پہنچانے کے لئے بموں کے استعمال، طاقتور بم دھماکے، دیگر دھماکہ خیز یا آتش گیر مواد کے ’’اعلان کئے گئے‘‘ آتشیں اسلحہ یا دیگر مہلک ہتھیاروں وغیرہ (کے ذریعے) کوئی اقدام کیا گیا ہو۔ اس طرح کے طریقے سے جیسے کسی شخص کی موت یا مضرت کا باعث یا احتمال ہونا یا بڑے پیمانے پر جائیداد کے نقصان یا وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی ضروریات زندگی کی فراہمی کو منقطع کرنا یا اس کی دھمکی دینا، طاقت کے استعمال کے ذریعے سرکاری ملازمین کو ان کے قانونی فرائض کی انجام دہی سے باز رکھنا یا اعلان کئے گئے جرم کا ارتکاب کرنا ہے جس کا اثر ہو سکتا ہو یا ہونے کا احتمال ہو، دہشت گردی کرنے، افراد یا افراد کے کسی گروہ میں خوف یا عدم تحفظ کا خوف پیدا کرنے یا افراد کے مختلف گروہوں کے درمیان ہم آہنگی کو بری طرح متاثر کرنے کے لئے ایک اقدام کیا گیا ہو۔ مستغیث کے فاضل وکیل نے زور دیا کہ پٹیشنر کی طرف سے ارتکاب کیا گیا اقدام افراد کے مختلف گروہوں میں ہم آہنگی کو بری طرح متاثر کرنے کے مترادف ہے۔ یہ آسانی سے نظر انداز کر گئے کہ قانون کی دفعہ ۶۔بی کے تحت تصور (اقدام) کا اثر اعلان کئے گئے جرم سے متعلقہ ہونا چاہئے اور دفعہ ۲۹۸۔بی اور ۲۹۸۔سی قانون کے ’’اعلان‘‘ (شیڈول) میں شامل نہیں کئے گئے اس لئے دلائل کہ پٹیشنر نے ’’دہشت گردانہ اقدام کا ارتکاب کیا ہے‘‘ مسترد کئے گئے۔ مسجد یا (مسلمانوں کی) عبادت گاہ مسلمانوں کا انتہائی اہم اور مقدس ادارہ ہے۔ ہر مسجد اللہ کا گھر ہے جہاں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کی جاتی ہے اور جہاں مسلمان اپنی نماز ادا کرتے ہیں۔ مکہ مکرمہ کے مقدس شہر میں واقع ’’کعبہ‘‘ (بیت اللہ) کو قرآن پاک میں اللہ کا گھر قرار دیا گیا ہے اور تمام دیگر مساجد مقدس کعبہ کی بیٹیاں تصور کی جاتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے گھر کہی جاتی ہیں۔ جن کو بڑی احتیاط سے رکھنا چاہئے اور دیگر شعائر اسلام کی طرح احترام و عزت کی جانی چاہئے، غیر مسلموں کو ان کے عقائد ترک کرنے اور اسلام کی طرف راغب ہوئے بغیر مسلمانوں کے شعائر اسلام اختیار کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ اگر مسجد کے عام اور ملتے جلتے طرز پر عمارت تعمیر کی گئی ہو اور (وہاں) لوگ جمع ہوتے ہوں اور مسلمانوں کے طریقے پر نماز ادا کرتے ہوں تو یہ بتایا جا سکتا ہے کہ وہ مسلمان ہیں۔ مسلم امہ کو فریب دھوکہ سے بچانے کے لئے تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۸۔بی کے تحت قادیانیوں کو انتہائی برگزیدہ (محترم) شخصیات کے لئے مخصوص القاب کے غلط استعمال ’’اذان کے ذریعے اعلان نماز کے لئے بلانے یا مسجد کی طرح اپنی عبادت گاہ بلانے کی ممانعت کی گئی ہے۔ ظہیر الدین کے کیس میں (۱۹۹۳ء ایس سی ایم آر ۱۷۱۸) میں عدالت عظمیٰ پاکستان نے قرار دیا کہ قادیانیوں اور ان کی برادری کی طرف سے ممنوعہ القاب اور شعائر اسلام کے استعمال پر اصرار کسی شک و شبہ سے بالاتر ہے۔ یہ کہ وہ دانستہ ایسا کرنا چاہتے ہیں اور یہ صرف متقی شخصیات کی بے حرمتی بلکہ دوسروں کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ یہ کہ اگر ان کی مذہبی برادری اپنے بنیادی حق کے طور پر دھوکہ دہی پر اصرار کرے اور ایسا کرتے ہوئے عدالتوں کی معاونت کرنا چاہیں تو پھر اللہ اس سے بچائے۔ مزید قرار دیا گیا نتیجتاً انہیں (قادیانی یا لاہوری گروپ سے تعلق رکھنے والے افراد) القاب وغیرہ اور شعائر اسلام استعمال کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے جو خاص طور پر (یقینی) طور پر مسلمانوں کے لئے ہیں۔ ان کے استعمال سے انہیں قانون میں درست طور پر منع کیا گیا ’’مزید قرار دیا گیا‘‘ ان کی طرف سے شعائر اسلام وغیرہ کا استعمال اس طرح مسلمانوں کے طور پر ظاہر کرنے یا دوسروں کو دھوکہ دینے یا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے آرڈیننس ۲۰ مجریہ ۱۹۸۴ء کی دفعات کا حوالہ دیتے ہوئے یہ فیصلہ قرار دیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
متنازعہ آرڈیننس، دوسرے ہاتھ پر (دوسری طرف) اصل القاب دیتا ہے۔ وضاحت اور عنوانات بھی اور دیگر لوازمات جو تحفظ کئے جانے والے اور نفاذ کے لئے رکھے گئے مزید بتایا گیا کہ وہ جن ہستیوں اور موقع کے لئے مخصوص کئے گئے ہیں۔ ان کے علاوہ کسی اور کے لئے استعمال نہیں کیے جاسکتے۔ احمدی ان کی تضحیک کرتے اور اپنے ذاتی لیڈروں اور مشقوں وغیرہ کے لئے استعمال کرتے رہے ہیں۔ لوگوں کو دھوکہ دینے کے لئے کہ وہ بھی بالکل اسی طرز کی حیثیت اور وجاہت کے ہیں۔ اس طرز عمل نے نہ صرف معصوم، سادہ اور بہت معلومات نہ رکھنے والے لوگوں کو دھوکہ دیا بلکہ پورے دور میں امن وامان کی صورتحال بھی پیدا کی ہے اس لئے قانون سازی ضروری تھی۔ جو احمدیوں کی مذہبی آزادی میں کسی بھی طرح مداخلت نہیں کر سکتی۔ اس لئے ایسے القاب وغیرہ جن پر انہیں کسی قسم کا کوئی دعویٰ نہیں ہے ان کے استعمال کی ممانعت ہے یہ انہیں اپنے نئے نام رکھنے سے منع نہیں کر سکتی۔
عدالت نے زور دیا کہ قادیانیوں کو آئین اور قانون کا احترام کرنا چاہئے۔ متعلقہ حصہ درج ذیل پڑھا جاتا ہے: احمدی دوسری اقلیتوں کی طرح اس ملک میں اپنے مذہب کے اعتراف ماننے میں آزاد ہیں اور کوئی ان کا یہ حق قانون سازی یا انتظامی حکم کے ذریعے نہیں چھین سکتا۔ تاہم انہیں لازمی طور پر آئین اور قانون کا احترام کرنا چاہئے اور انہیں نہ تو اسلام سمیت کسی بھی مذہب کی برگزیدہ شخصیات کی تضحیک اور بے حرمتی کرنی چاہئے اور نہ ان کے مخصوص القاب، تصریحات اور عنوانات انہیں استعمال کرنا چاہیا اور مخصوص نام جیسے مسجد اور عمل جیسے ”اذان“ کے استعمال سے بھی اجتناب کرنا چاہئے تاکہ مسلم امہ کے جذبات مجروح نہ ہوں اور لوگ ایمان کے حوالے سے گمراہ نہ ہوں اور دھوکہ نہ کھائیں۔
قانون کی مندرجہ بالا تشریح اور ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے نظریات (خیالات) آئین اسلامی جمہوریہ پاکستان کی آرٹیکل ۴ بسلسلہ انفرادی حقوق قانون کے مطابق روا رکھے جانے چاہئیں۔ آرٹیکل ۲۰ بسلسلہ مذہب کی آزادی اور مذہبی اداروں کے انتظام اور آئین کے آرٹیکل ۲۵ بسلسلہ شہریوں کی مساوات کے متعلق پٹیشنر (ملزم) کے فاضل وکیل کے اٹھائے گئے دلائل کا جواب دینے کے لئے کافی ہے۔
- ۱۷....... پٹیشنر کے فاضل وکیل نے یہ بھی دلائل دیئے کہ مسلمان مسجد میں محراب کی تعمیر ’بدعت‘ اور مسجد کا لازمی حصہ نہیں ہے۔ انہوں نے
علامہ جلال الدین سیوطی کے نظریہ مرتبہ ان کی کتاب ”اعلام الاوانیب فی بدعت للمحاریب“ پر انحصار کیا۔ یہ کتاب میرے سامنے پیش نہیں کی گئی لیکن اس کا نام فتاویٰ دارالعلوم دیوبند جلد ۲ صفحہ ۷۹ پر درج ہے۔ مولانا مسعود احمد نے اس نظریہ سے اختلاف کیا اور رائے دی ”اقول و بالله التوفیق“ مساجد میں محراب بنانا یا اگر محراب کے وسط میں پتھر نصب کیا جاوے تو یہ دونوں چیزیں بدعت نہیں ہیں۔
مفتی محمد شفیع ، مولانا مسعود احمد کے نظریہ سے متفق تھے اور اضافہ کیا ..... ”لیکن بدعت ہونا اس کے اصول وقواعد سے ثابت نہیں ہے“ اس لئے یہ قرار دینا ممکن نہیں کہ مسجد میں محراب کی تعمیر بدعت ہے اور اسلامی قانون میں ممنوع کی گئی ہے۔
- ۱۸....... سورۃ الواقعہ کی آیت نمبر ۷۹: ”لا یمسہ الا المطہرون“ کے حوالے سے میرے سامنے دلیل دی گئی کہ غیر مسلم بشمول
قادیانی ”طاہر“ یا صاف (وپاک) نہ ہونے کے باعث قرآن کریم کو ہاتھ لگانے ”چھونے“ کی اجازت نہیں دی جاسکتی اور یہ کہ عبادت گاہ کی جگہ میں قرآن پاک کے نسخے رکھے ہوئے قادیانیوں نے مسلمانوں کے مذہبی جذبات اور احساسات کو مجروح کیا ہے۔ کیا قرآن کریم کی آیت ایک موزوں اصول بحیثیت ”افضل عمل“ تشکیل دیتی ہے اور مسلمانوں پر قابل نفاذ ہیں۔ یا مسلمانوں کے ساتھ ساتھ غیر مسلموں کو منضبط کرنے کے اصول قانون کا حامل ہے؟ اس سوال کا جواب اتنا آسان نہیں ہے اور جامع تحقیق اور بحث وتمحیص کے بعد دیا جاسکتا ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
یہ کام عدالت سماعت کے ذریعے ابتدائی سطح پر کیا جاسکتا ہے۔ ایک مذہبی سکالر مولانا عزیز الرحمٰن کے ذریعے میرے سامنے کہا گیا کہ انگریزی، جرمن یا کسی اور زبان میں قرآن مجید کا مترجم نسخہ غیر مسلموں کے ذریعے پڑھا اور ہاتھ لگایا جاسکتا ہے۔ پھر ان غیر مسلموں کے بارے میں کیا ہے جو صرف عربی زبان بول اور سمجھ سکتے ہیں؟ کیا ان کے لئے اصول مختلف ہوسکتا ہے، ان سے جو دیگر زبانیں بول اور سمجھ سکتے ہیں؟ آخر کار قرآن مجید بنی نوع انسان کی رہنمائی کے لئے آخری قدسی پیغام کا سرچشمہ ہے۔ معاملے پر اس جانب کوئی رائے قائم کئے بغیر اسے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں عدالت سماعت کے ذریعے فیصل (سماعت) کئے جانے پر چھوڑتا ہوں۔
۱۹...... اب میں چند فیصلوں کا حوالہ دے سکتا ہوں جن پر فریقین کے فاضل وکلاء صاحبان نے انحصار کیا۔ پٹیشنر (ملزم) کے فاضل وکیل نے محمد اسلم بنام سرکار کے مقدمہ کے فیصلہ (۱۹۹۸ پاکستان کریمنل لاء جرنل ۵۲۲) پر بہت انحصار کیا۔ اس مقدمہ میں قادیانیوں پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ اپنے مذہب کی تبلیغ کر رہے تھے اور مسلمانوں کو گمراہ کر رہے تھے۔ یہ کہ قادیانیوں کی عبادت گاہ کی جگہ کا نمونہ مسلمان مسجد کی طرح تھا اور عام مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لئے بنایا گیا ۔ یہ کہ عمارت کی دیواروں پر ”کلمہ طیبہ“ اور دیگر قرآنی آیات کندہ کی گئی تھیں۔ درج ذیل کے پیش نظر ملزم کو ضمانت دی گئی۔
- (۱) قادیانی شاذ و نادر ہی اپنی عبادت گاہ کی شناخت کو چھپاتے ہیں اور گردونواح کے لوگوں کو کھلم کھلا معلوم تھا کہ وہ ایک مخصوص
جگہ قادیانیوں کی عبادت کا مرکز ہے اور مسلمانوں کا نہیں ہے۔
- (۲) کسی ایسی عمارت کے متعلق مسلمانوں کے گمراہ غیر یقینی ہونے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ یہ کہ قرآنی آیات کندہ کرنا اللہ کی
کتاب کے خلاف اور بے حرمتی کے مترادف نہیں ہے۔ اگر دیگر مذاہب کے پیروکار روحانی روشن خیالی اور رہنمائی حاصل کرنے کے لئے ایسا کرتے ہیں۔
- (۳) یہ کہ اگر مستغیث اور دیگر مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے تو وہ ساڑھے پانچ ماہ کے قریب خاموش کیوں رہے۔
- (۴) یہ کہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۵-بی اور ۲۹۸-سی کے تحت جرائم ضابطہ فوجداری کی دفعہ ۲۹۷ کی امتناعی شق میں نہیں آتے۔
- (۵) یہ کہ ملزم شخص سے کوئی برآمدگی نہیں کی جانی۔
- (۶) یہ کہ یہ نہیں معلوم کہ ٹرائل (سماعت) کب شروع اور مکمل ہوگا۔
انتہائی احترام کے ساتھ میں خود کو اس نظریہ کی تائید کے ناقابل سمجھتا ہوں کہ مسلمانوں کو فریب دغا کا کوئی امکان نہیں ہے۔ صرف اس لئے کہ قادیانی اپنی عبادت گاہ کی شناخت کو نہیں چھپاتے۔ اگر قادیانیوں کو بطور عبادت گاہ استعمال کیا جانے والا ڈھانچہ عمارت مسلمان مسجد کی طرح مشابہت رکھتا ہے۔ قرآنی آیات اس کی دیواروں یا محرابوں کے اوپر کندہ ہیں اور مسلمانوں کے طرز پر اضافی مسلمانوں کو دعوت دی جاتی ہے، پھر مسلمانوں کے گمراہ ہونے کا امکان ہے۔ پٹیشنر کے فاضل وکیل نے دلیل دی کہ مسلمانوں کے گمراہ ہونے سے بچنے کے لئے الفاظ ”بیت الاحمدیہ“ متنازعہ عمارت کے صدر دروازے پر لکھے گئے تھے۔ جیسے کہ اوپر بحث کی گئی۔ یہ مسلمانوں کے فریب (دھوکہ) کے امکان کو یکسر رد (دور) نہیں کر سکتا۔ کیونکہ نا خواندہ افراد مذکورہ الفاظ نہیں پڑھ سکتے۔ تاہم باقیوں کو اسکا علم نہ ہوسکے یا اس کی صحیح روح (معنی) کو (نہ) سمجھ سکیں۔ جب سوال کیا گیا کہ آیا پٹیشنر الفاظ ”بیت الاحمدیہ“ کے بعد الفاظ ”قادیانی گروپ“ شامل کرنے پر تیار تھا تو نفی میں جواب دیا گیا۔ محمد اسلم کے مقدمہ میں عدالت عظمیٰ کے فیصلے شائع شدہ بطور ”منظور احمد بنام سرکار“ (۱۹۹۳ ایس سی ایم آر ۱۵۳) کا حوالہ بھی دیا گیا
تحریک ختم نبوت جلد(۷) ۱۹۹۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جس میں ضمانت سے انکار کے عدالت عالیہ کے حکم کو کالعدم کیا گیا۔ مذکورہ کیس قادیانیوں کے ذریعے شادی کے دعوتی کارڈ میں ایسے اظہار الفاظ کے استعمال کا حامل تھا جیسے ”بسم اللہ الرحمن الرحیم، السلام علیکم اور ان شاء اللہ“ وغیرہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے ذریعے ضمانت کی اجازت دی گئی۔ جیسے کہ عدالت تاثر لے چکی تھی کہ الفاظ اظہار کے سرسری، ظاہری استعمال نے کسی ایک مسلمان یا اس معاملے کے لئے اور کسی میں جذبات مجروح کرنے کا جرم یا اشتعال وغیرہ پیدا نہیں کیا۔ یہ قرار دیا گیا یہ صرف اس وقت جب شخص اسے سنتے یا پڑھتے ہوئے اسے استعمال کرنے والے شخص کے پس منظر کی گہرائی میں جاتا ہے اور ایمان، عقیدے کے اپنے خصوصی علم اور ایک ایسے ملزم کی پوشیدہ نیت کو ( ذہن میں ) لاتا ہے کہ مبینہ نتائج پیروی کے قرین قیاس ہیں۔ یہ محسوس کیا گیا کہ سماعت میں شہادت قلم بند کرنے کے بعد یہ عمل کیا جاسکتا ہے۔ تاہم موجودہ مقدمہ میں بالکل مسلمان مسجد کی طرح متنازعہ عمارت کی تعمیر بادی النظر میں جرم تشکیل کرتا ہے۔
- ۲۰...... اصغر مسیح وغیرہ بنام سرکار کے مقدمہ میں (۱۹۹۵ پاکستان کریمنل لاء جرنل ۵۴۴ ) یہ قرار دیا گیا کہ ضمانت کے وقت عدالت
شہادت کا صرف سرسری اندازہ (تعین) کرسکتی ہے جس میں نہ تو استغاثہ کے مقدمہ کو اور نہ ہی ملزم کو نقصان ہونا چاہئے۔ سکندر اے کریم بنام سرکار کے مقدمہ این ایل آر ۱۹۹۵ ایس سی جے ۲۲۸ ) میں قابل احترام سپریم کورٹ نے یہ قرار دینا منظور کیا کہ ضابطہ فوجداری دفعہ ۴۹۷ کی امتناعی شق میں نہ آنے والے مقدمہ میں ضمانت اس بنیاد پر نہیں کی جاسکتی کہ جرم معاشرے کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتا ہے، یہ کہ عدالت کو رائے قائم کرنے سے پہلے اجتناب کرنا چاہئے جو ملزم کو دفاع مقدمہ میں میلان خاطر (پہلے سے رائے قائم کرنا ) کرسکتی ہے۔ سید احمد علی رضوی بنام سرکار (این ایل آر ۱۹۹۵ ایس سی ۶۰۱ ) میں قرار دیا گیا کہ ضمانت دیئے جانا حمایت یا رعایت نہیں بلکہ ملزم کا حق ہے جو قانون سے منضبط شدہ ہے۔ یہ کہ عدالتیں شہریوں کی آزادی کی محافظ ہونے کے طور پر (بڑے) دھیان اور احتیاط سے مقدمے کا جائزہ لینے کی پابند ہیں اور صرف فنی نکات انصاف کرنے کی راہ میں حائل نہیں ہونے چاہئیں۔
- ۲۱...... مستغیث کے فاضل وکیل کی طرف سے حوالہ دیئے گئے فیصلوں (نظائر) کی طرف آتے ہوئے سب سے پہلا فیصلہ مقدمہ محمد
آزاد خان بنام سرکار (۱۹۸۸ پاکستان کریمنل لاء جرنل ۱۲۴۵) سے متعلقہ ہے۔ جس میں قرار دیا گیا کہ حتی کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ ۴۹۷ کی امتناعی شق میں نہ آنے والے مقدمہ میں بھی ایک ملزم بربنائے حق ضمانت کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور یہ کہ ہر مقدمہ اس کے لئے اپنے حقائق پر فیصل کیا جانا چاہئے تھا۔ مقدمہ سرکار بنام محمد نذیر وغیرہ (پی ایل ڈی ۱۹۹۱ لاہور ۴۳۳) میں یہ غور اختیار کیا گیا کہ اگرچہ اعلیٰ عدالتوں کا یہ نظریہ رہا کہ دس سال قید سے کم قابل سزا (ملوث) جرائم کے مقدمات میں عدالتوں کو عام طور پر ضمانت کی طرف مائل راغب رہنا چاہئے، لیکن اس کا کبھی بھی یہ مطلب نہیں لینا چاہئے کہ ملزم شخص بطور حق ضمانت کا دعویٰ (طلب) کر سکتا ہے۔ یا یہ کہ عدالتوں کو صرف معمول کے طور پر انہیں ضمانت پر رہا کرنا چاہئے اور یہ کہ قابل ضمانت اور ناقابل ضمانت جرائم کے درمیان امتیاز عدالت ہائے قانون کے ذریعے نبھایا جانا چاہئے تھا اور کالعدم نہیں کیا جاسکتا۔ مزید قرار دیا گیا۔
متعلقہ عدالت سے دراصل مبینہ ارتکاب کئے گئے جرم کی کشش سنگینی پر عدالتی ذہن کا اطلاق مطلوب ہے۔ حالات جو ایسے ایک مجرم کے ارتکاب کی نشان دہی (رہنمائی) کرتے ہوں، نتیجتاً ہونے والا نقصان یا فرد واحد یا عوام الناس، معاشرے پر اثرات ہونے کا احتمال ہونا، ملزم شخص کا مرتبہ، اس کے ذہن کی کیفیت، ارتکاب کئے گئے جرم کی نوعیت اور اس کے ارتکاب کے طریقہ سے کی گئی منظر کشی، ملزم شخص کا سابقہ کردار، ملزم کی مفروری کا امکان اور اس کے جرم کرنے کا اعادہ کا امکان یا
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
شہادت پر اس کے اثر انداز ہونے (تبدیل کرنے) کا خطرہ اور اس کے بعد انصاف کے اصولوں کے مطابق اسے تفویض شدہ (حاصل شدہ) صوابدید کا استعمال، اخلاقی احکامات اور دیگر قبول کردہ، تسلیم کردہ (Norms) عدالتوں کو منضبط کرتے ہوئے ۔‘‘
طارق بشیر اور پانچ دیگران بنام سرکار کے مقدمہ (پی ایل ڈی ۱۹۹۵ء ایس سی ۳۴) قابل احترام عدالت عظمیٰ نے قرار دیا کہ نا قابل ضمانت جرائم جو امتناعی شق میں نہ آتے ہوں میں ضمانت صرف غیر معمولی اور استثنائی مقدمات میں انکار کی جاسکتی ہے۔ مثال کے طور پر:
- A ...... جہاں ملزم کے مفرور (فرار) ہونے کا امکان ہو۔
- B ...... جہاں ملزم سے استغاثہ شہادت کی تحریف کا خطرہ ہو۔
- C ...... جہاں جرم کے اعادہ کئے جانے کا خطرہ ہو۔ اگر ملزم کو ضمانت پر رہا کر دیا جائے اور۔
- D ...... جہاں ملزم ایک سابقہ سزا یافتہ ہو۔
موجودہ مقدمہ میں جیسے اوپر محسوس کیا گیا ہے۔ جرم ایک جاری رہنے والا ہے اور پٹیشنر متنازعہ عمارت کے بظاہر مجرمانہ ڈھانچہ میں تبدیلی یا ترمیم سے انکار کر چکا ہے۔ محمد افضل اور دیگر بنام سرکار (۱۹۹۷ء ایس سی ایم آر ۲۷۸) میں قابل احترام عدالت عظمیٰ نے قرار دیا کہ زیر دفعہ جرم ۱۷ آرڈیننس ۱۱ وی سال ۱۹۷۹ء امتناعی شق میں نہیں آتا۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ ملزمان حسب معمول ضمانت پر رہا کئے جانے کے مستحق تھے۔ اس مقدمہ میں سیشن جج کے جاری کردہ ضمانت کے حکم کو عدالت عالیہ (ہائی کورٹ) کے ذریعے منسوخ کیا گیا اور قابل احترام عدالت عظمیٰ (سپریم کورٹ) پاکستان نے عدالت عالیہ کا جاری کردہ حکم برقرار رکھا۔ امتیاز احمد بنام سرکار کے مقدمہ میں (پی۔ایل۔ڈی ۱۹۹۷ء ایس سی ۵۲۵) ضابطہ فوجداری کی امتناعی شق میں نہ آنے والے جرائم کے سلسلے میں یہ قرار دینا منظور کیا کہ عدالت ایک ملزم کی ضمانت منظور کرنے سے انکار کر سکتی ہے۔ اگر تسلیم شدہ استثنائی حالات موجود ہوں حکم کے پیرا ۱۷ کا متعلقہ حصہ حاضر حوالہ کے لئے ذیل میں دوبارہ پیش کیا جا رہا ہے۔
میں محسوس کر سکتا ہوں کہ ایک ایسا جرم جو ایک فرد کے خلاف کیا گیا ہو جیسے ایک چوری اور ایک جرم جو بحیثیت مجموعی معاشرے کے خلاف کیا گیا ہو۔ میں ضمانت کے مقصد کے لئے ایک فرق روا رکھا جانا چاہئے۔ اسی طرح ایک فرد واحد کا اس کی ذاتی حیثیت میں ایک جرم کا ارتکاب اور ایک عوامی سرکاری اہلکار کا اس لحاظ سے یا اس کے عوامی (سرکاری) دفتر کی حیثیت میں ایک جرم کا ارتکاب کے درمیان ضمانت کے متذکرہ بالا مقصد کے لئے ذہن میں ایک فرق روا رکھا جانا چاہئے۔ سابقہ مقدمات میں استثنائی حالات کی عدم موجودگی میں ضابطہ فوجداری کی امتناعی دفعہ ۴۹۷ کی امتناعی شق میں نہ آنے والے مقدمات میں ضمانت دیئے جانے کا رجحان جاری رکھا جاسکتا ہے۔ لیکن مؤخر اقسام میں ضمانت کی صوابدید کے استعمال میں عدالتوں کو سخت رہنا چاہئے۔
کنور خالد یونس وغیرہ بنام سرکار کے مقدمہ میں (پی ایل ڈی ۱۹۹۵ء کراچی ۳۴۷) ایک ڈویژن بینچ نے قرار دیا تھا کہ صرف یہ حقیقت کہ جرم میں دس سال قید سے کم قابل سزا ہونا بذات خود ملزم کو ضمانت دئے جانے کا مستحق نہیں کرتا۔ پیر بخش اور چار دیگران بنام سرکار (۱۹۹۹ء پاکستان کریمنل لاء جرنل ۱۱۱) اور محمد سعید بنام سرکار (پی ایل ڈی ۱۹ کراچی ۳۴۵) کے مقدمات میں ایسے ہی نظریات ظاہر کئے گئے تھے۔
- ۲۲ ...... دفعات ۲۹۸-بی اور ۲۹۸-سی کے تحت جرائم ضابطہ فوجداری کی دفعہ ۴۹۷ کی امتناعی شق میں نہیں آتے لیکن صرف یہ حقیقت
ملزم کو ضمانت بطور حق طلب کرنے کا مستحق نہیں ٹھہراتی۔ جیسا کہ اوپر حوالہ دیئے گئے متعدد فیصلوں میں قرار دیا گیا ہے۔ ایک نا قابل ضمانت
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جرم کے ارتکاب میں ملوث ہونے کی صورت میں ضمانت انکار کی جاسکتی ہے۔ اگر ملزم کے ذریعے ایک اور جرم کے ارتکاب کا خطرہ ہو یا امکان میں موجود ہو (ملاحظہ ہو محمد اقبال بنام سرکار پی ایل ڈی ۱۹۶۳ (ڈبلیو پی) لاہور ۲۷۹ اور طارق بشیر اور پانچ دیگران بنام سرکار (پی ایل ڈی ۱۹۹۵ ایس سی ۳۴) دوبارہ امتیاز احمد وغیرہ کے مقدمہ میں قابل احترام عدالت عظمیٰ (سپریم کورٹ) قرار دے چکی ہے کہ مجموعی طور پر معاشرے کے خلاف ایک جرم کے ارتکاب میں ملوث ہونے کے مقدمات میں ضمانت کی صوابدید کے استعمال میں عدالت کو سخت ہونا چاہئے۔ موجودہ مقدمہ ایک یا زائد (انفرادیت) افراد کے خلاف ایک عام تعزیری جرم کے ارتکاب کا حامل معاملہ ہے جس کا قومی کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی (سطح پر) ردعمل ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ اوپر بتلایا گیا، ایک موقعہ پر پٹیشنر (ملزم) کے وکیل نے صاف انداز میں بیان کیا تھا کہ قابل اعتراض مینارہ وغیرہ منہدم کئے جاسکتے ہیں (گرائے جاسکتے) مگر پٹیشنر سے ہدایت حاصل کرنے کے بعد انہوں نے بیان دیا کہ پٹیشنر مجرمانہ ڈھانچہ (عمارت) میں تبدیلی کے لئے رضامند نہیں تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمارت میں ترمیم کا فیصلہ ”جماعت احمدیہ“ کے ذریعے کیا جاسکتا ہے۔ کیا یہ ظاہر کرتا ہے کہ پٹیشنر کے ذریعے ارتکاب کیا گیا عمل جرم ”جماعت احمدیہ“ کی منظوری حاصل کئے ہوئے تھا؟ ملزم کے ذریعے ارتکاب کئے گئے عمل نے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کی بے حرمتی (مجروح) کی ہے اور امن عامہ کی سنگین صورتحال پیدا کی جاسکتی ہے۔ اگر پٹیشنر کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ اس لئے (لہٰذا) جرم کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کا اثر جو جاری ہے پٹیشنر کا اپنا عمل، معاشرے کے امن اور سکون اور ایک ناقابل ضمانت جرائم میں ضمانت دیئے جانے کے اصولوں (کے پیش نظر) میں پٹیشنر ملزم کو ضمانت دیئے جانے پر قائل نہیں ہو سکا۔ مزید برآں ملزم کی ذاتی حفاظت (تحفظ) نظر انداز نہیں کی جاسکتی۔ پٹیشنر ملزم کے ذریعے ارتکاب کئے گئے عمل نے بڑی شہرت حاصل کی ہے اور علاقے کی فضا (ماحول) جذبات سے بھر پور ہے۔ برکت علی بنام سرکار (۱۹۹۶ ایس سی ایم آر ۱۹۵۶) کے مقدمہ میں زیر دفعہ ۲۹۵ سی تعزیرات پاکستان کے ایک مقدمہ میں ایک ملزم کی ضمانت پشاور ہائی کورٹ کے ذریعے انکار کی گئی۔ دیگر وجہ کے علاوہ کہ ضمانت پر رہائی کے بعد اسے کسی ایک کے ذریعے ضرر نہ پہنچ جائے۔ مذکورہ حکم کے خلاف اپیل کے لئے خاص پٹیشنر کو ضمانت دیئے جانے کے عذر کو مسترد کرتے ہوئے فاضل جج کی طرف سے دی گئی وجوہات کسی کمزوری کو برداشت نہیں کرسکتیں۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ اگر عدالت سماعت کو ہدایت کی جائے کہ مقدمے کی سماعت ایک مختصر وقت میں مکمل کرے تو انصاف کے تقاضے درست طور پر حاصل کئے جاسکتے ہیں۔
۲۲....... (الف) مذکورہ مباحثہ کی وجہ سے عدالت سماعت کو اس ہدایت کے ساتھ ترجیحی طور پر مستعدی سے تین ماہ کی مختصر وقت میں سماعت مکمل کرے۔ درخواست خارج کی جاتی ہے۔ اس مقصد کے لئے عدالت روز بروز بنیاد پر سماعت کرسکتی ہے۔
۲۳....... حکم سے علیحدگی سے قبل میں احتیاط کی ایک یادداشت (نوٹ) شامل کر سکتا ہوں۔ محمود احمد وغیرہ بنام سرکار ۱۹۹۵ ایس سی ایم آر ۱۲۲۴) کے مقدمہ میں قابل احترام عدالت عظمیٰ (سپریم کورٹ) کے مقولہ کی روشنی میں کہ درج بالا قائم کی گئی رائے نوعیت کے لحاظ سے سرسری اور ابتدائی ہیں۔ یعنی درخواست ضمانت نمٹانے کے لئے عدالت سماعت کے سامنے سماعت کے دوران پیش کئے گئے مواد اور فریقین کی پیش کی گئی شہادت کی روشنی میں اس کے اپنے آزاد نتیجہ پر آنے میں کسی طرح عدالت سماعت کو پابند نہیں کرے گی۔
سنایا گیا: ۳۰ نومبر ۱۹۹۹ء (میاں نذیر اختر) جج
(بشکریہ روزنامہ صدائے پاکستان بہاول پور، مورخہ ۷؍ اپریل ۲۰۰۰ء، ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۰ء ص ۴۰ تا ۵۹)
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
توہین قرآن کے مجرم کو عمر قید
(کوئٹہ) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا اجلاس زیر صدارت صوبائی امیر حضرت مولانا محمد منیر الدین صاحب منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سبی جناب نذیر احمد کی عدالت سے توہین قرآن کے مجرم کو عمر قید کی سزا سنانے پر فخر و مسرت کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ اٹارنی جنرل جناب مسٹر عبد الخالق اور مدعی مقدمہ صوفی احمد یار صاحب کی خدمت کو سراہا گیا اور علماء کرام حضرت مولانا عبدالحق ، مولانا تاج محمد اور مولانا عطاء اللہ صاحب کے مقدمہ پر نظر رکھنے اور توجہ دینے پر خوشی کا اظہار کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ ان سب حضرات کو جزائے خیر عطاء فرمائے ۔ اجلاس میں مولانا عبد احد ، حاجی سید محمد آغا ، مولانا قاری انوار الحق حقانی ، قاری عبد الرحیم رحیمی ، مولانا عبد العزیز جتوئی ، حاجی تاج محمد فیروز ، حاجی خلیل الرحمان ، حاجی نعمت اللہ ، چوہدری محمد طفیل احرار ، ڈاکٹر محمد ابراہیم کاکڑ ، حافظ خادم حسین گجر ، حاجی طارق محمود ، محمد حنیف ، غلام یٰسین آصف ، حافظ محمد سعید و ریحان زیب نے شرکت کی ۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۱۹۹۹ء ۵۶،۵۵)
کٹاریاں ضلع بہاول نگر میں مرزاڑے کو مقفل کر دیا گیا
کٹاریاں ضلع بہاول نگر میں مرزائیوں نے مرزاڑہ تعمیر کر کے چناب نگر (ربوہ) سے مربی بلوایا تبلیغ شروع کر دی ۔ مولانا محمد قاسم رحمانی کو جب پتہ چلا تو انہوں نے چک نمبر ۱۱ جٹاں والہ کٹاریاں کا دورہ کیا اور حالات معلوم کئے ۔ مولانا محمد قاسم رحمانی کے ساتھ مولانا سعید احمد جنرل سیکرٹری بھی تھے۔ دورہ کرنے کے بعد مولانا محمد قاسم رحمانی نے درخواست لکھی اور قانون ۲۹۸ سی کی فوٹو کاپی درخواست کے ساتھ لگا کر ڈپٹی کمشنر کے پاس پہنچے ۔ ڈی سی نے اے سی چشتیاں کو کارروائی کرنے کا حکم دیا ۔ پولیس کے ہمراہ مولانا عزیز الرحمٰن ، مولانا عبد القادر کشمیری موقعہ پر پہنچے ۔ مرزاڑے کو سیل کیا۔ منتظم کو گرفتار کیا ۔ کیس چلا ۔ چشتیاں سول جج کی عدالت سے درخواست ضمانت منسوخ ہوئی ۔ پھر ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت سے بھی درخواست ضمانت منسوخ ہوئی اور ہائی کورٹ بہاول پور میں مقدمہ چلا ۔ چھ پیشیوں کے بعد ہائی کورٹ کے جج نے مرزائیوں کی درخواست ضمانت خارج کر دی اور سول جج چشتیاں کو حکم نامہ جاری کیا کہ تین ماہ کے اندر اندر اس کیس کی سماعت کریں اور فیصلہ کریں ۔ ملزم تقریباً دو ماہ سے گرفتار ہے ۔ چشتیاں میں اس کیس کی سماعت کے دوران چشتیاں کے علماء نے بھر پور کردار ادا کیا ۔ بخشن خان سے مولانا رشیدی صاحب ، قاری بشیر احمد ، قاری نور محمد ، مولانا بشیر احمد شاد ، مولانا عزیز الرحمٰن اور جماعت اسلامی کے علماء نے مجلس کے ساتھ بھر پور تعاون کیا ۔ وکلاء کی کثیر تعداد نے بحث میں حصہ لیا ۔ بہاول پور میں کیس کی سماعت کے دوران ڈاکٹر غلام مصطفیٰ صاحب ، ریاض احمد چغتائی صاحب ، مولانا عزیز الرحمٰن صاحب ، مولانا محمد اسحاق ساقی مبلغ بہاول پور بھی شریک رہے ۔ اب کیس کی سماعت چشتیاں سول جج کی عدالت میں ہوگی ۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۱۹۹۹ء ص ۵۸)
کوٹلی جوشن چاہ جٹاں میں مرزائی کا فرار
چونڈہ کے نواح کوٹلی جوشن چاہ جٹاں میں ایک عنایت نامی شخص جو مقامی مسجد کا مؤذن تھا۔ اس نے اپنے مرتد ہونے کا اعلان کر دیا۔ جس سے پورا گاؤں حیرانی کے عالم میں ڈوب گیا۔ لوگوں نے اسے بہت سمجھایا مگر وہ الٹا لوگوں کے سمجھانے پر بپھر گیا اور لوگوں کو چیلنج دینے لگا ۔ مقامی حضرات کے علاوہ گاؤں منڈیالہ کے نوجوان محمد منیر اور محمد بشیر نے چیلنج کو قبول کرتے ہوئے علماء سے رابطہ کیا ۔ مولانا عارف ندیم ، مولانا فقیر اللہ اختر ، مولانا بشیر احمد قاسمی ، مولانا شفیق ربانی اور مولانا افتخار شاکر وہاں پہنچے ، مگر قادیانی ہمیشہ کی طرح راہ فرار اختیار کر گئے ۔ علماء نے مقامی لوگوں کو ختم نبوت کی اہمیت کے بارے میں آگاہ کیا اور قادیانیوں کو خبردار کیا کہ وہ اپنی سرگرمیوں کو مت
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پھیلائیں اور عنایت مرتد کو خبردار کیا۔ مسلمانوں کی مسجد میں نماز ادا نہ کرے۔ ورنہ اس کے خلاف دفعہ ۲۹۸-سی کے تحت مقدمہ درج کرایا جائے گا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۱۹۹۹ء ص ۶۰)
شیرے کا ٹھٹہ جھنگ میں قادیانیوں کی اشتعال انگیزی
جھنگ (نمائندہ خصوصی) شیرے کا ٹھٹہ چنڈ بھروانہ ضلع جھنگ میں قادیانی کافی تعداد میں موجود ہیں اور وہ اکثر اوقات اشتعال پھیلانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ گزشتہ دنوں ھتھوانہ ولد محمد بخش نامی لڑکا فوت ہوا تو اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر کے اشتعال پھیلا کر پر امن حالات کو مسموم کرنے کی کوشش کی گئی۔ جسے مہر وقار صاحب جو کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مقامی سرپرست بھی ہیں نے مولانا غلام حسین مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جھنگ اور مولانا اللہ یار صاحب کو مطلع کر کے قادیانیوں کی شرانگیزی کا سدباب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۱۹۹۹ء ص ۵۶)
مورو سندھ میں قادیانی مربی کا قبول اسلام
قمر الدین چانڈیو (مورو سندھ) کے رہائشی منیر احمد میمن نے جو کٹر قسم کا قادیانی مربی تھا ربوہ اور قادیان کے بڑے بڑے قادیانیوں سے قریبی تعلقات رکھتا تھا، ضلع لاڑکانہ، خیر پور میرس اور تحصیل فیض گنج میں بڑے زوروشور سے قادیانیت کی تبلیغ کرتا تھا نے قادیانیت کے دجل وفریب سے تنگ آکر ہمیشہ کے لئے توبہ کر لی اور خاتم الانبیاء محمد رسول اللہ ﷺ کی ختم نبوت پر ایمان لے آیا ہے۔
نیک بخت نو مسلم جناب منیر احمد میمن صاحب سے جب سوال کیا گیا کہ مرزا قادیانی کے دجل وفریب ، دھوکہ دہی، تعلی آمیز دعوئوں اور پیشین گوئیوں میں سے کس نے قادیانیت سے آپ کو بیزار کر کے دامن مصطفیٰ ﷺ میں پناہ لینے کی راہ ہموار کی تو منیر احمد میمن نے کہا کہ : ” مرزا غلام احمد قادیانی کی تحریرات کو بغور پڑھنے اور اس کے جھوٹے دعاوی نے مجھے قبول اسلام سے قریب کر دیا اور میں نے الحمد للہ ! اسلام کے دامن رحمت میں پناہ لے لی ہے ۔“ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے قائدین حضرت مولانا خواجہ خان محمد (امیر مرکزیہ ) حکیم العصر حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی، مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا اللہ وسایا، مولانا بشیر احمد، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا مفتی محمد جمیل خان، مولانا نذیر احمد تونسوی ، مولانا سعید احمد جلال پوری، مولانا محمد اشرف کھوکھر اور جناب محمد انور رانا نے ایک مشترکہ بیان میں نو مسلم منیر احمد میمن کو قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کرنے پر مبارک باد پیش کی اور اسلام پر استقامت کی دعا کی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۲۲؍ جنوری تا ۴؍ فروری ۱۹۹۹ء ٹائٹل پیج نمبر ۳)
پروفیسر منور احمد کا تیرہ قادیانیوں سمیت قبول اسلام
محمود آباد جہلم کے معروف قادیانی خاندان کے پروفیسر منور احمد قادیانی نے گزشتہ دنوں جامعہ حنفیہ جہلم میں حضرت قاری حبیب احمد صاحب کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا اور جمعہ کے اجتماع عام میں (جامع مسجد گنبد والی ) قبول اسلام اور قادیانیت ترک کرنے کا اعلان کیا۔ ان کے والد صاحب اور خاندان کے دوسرے افراد نے گجر خان کے مولانا غلام یاسین صاحب کی جامع مسجد میں جمعتہ الوداع پر قادیانیت سے توبہ کر کے اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گجر خان کے سرپرست جامع مسجد خلفائے راشدین کے خطیب و مدرسہ کے مہتمم ، بزرگ عالم دین حضرت مولانا عبد المتین صاحب سے ملنے کے لئے پروفیسر منور احمد تشریف لائے۔ انہوں نے مولانا کو بتایا کہ قادیانیت پر میں نے ریسرچ کی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیانی جماعت جہلم کا میں نائب صدر تھا۔ مگر سوال و جواب بحث و مباحثہ پر قادیانی جماعت مجھے مطمئن نہ کر سکی۔ چنانچہ میں اپنے خاندان کے ۱۳؍ افراد کے ساتھ قادیانیت پر لعنت بھیج کر مسلمان ہو گیا۔ مولانا عبدالمتین صاحب کی خواہش پر انہوں نے درج ذیل تحریر بھی ہفت وار ختم نبوت اور ماہنامہ لولاک میں اشاعت کے لئے لکھ کر دی۔ تحریر یہ ہے:
میرا تعلق محمود آباد جہلم شہر سے ہے۔ ہم چار پشتوں سے جماعت احمدیہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہمارا خاندان ایک مذہبی خاندان ہے۔ جماعت احمدیہ کے لئے ہر مرحلہ پر قربانیوں اور خدمات میں ہمارا خاندان پیش پیش رہا ہے۔ میں ۱۹۸۴ء میں ایم ایس سی فزکس کی اور ۱۹۸۶ء سے مختلف کالجوں میں فزکس پڑھا رہا ہوں۔ سائنس کے میدان میں اور خصوصاً شمسی توانائی کے میدان میں کافی ریسرچ کی ہے اور خدا نے مجھے کئی ایجادات سے نوازا ہے، جن میں سے چار بطور patent رجسٹر ہو چکی ہیں۔ اس کے علاوہ ٹی وی اخبارات کے ذریعہ خاص عزت وشہرت ملی ہے۔ جس طرح سائنس کے میدان میں ریسرچ کی ہے اسی طرح مذہب کے میدان میں جماعت احمدیہ پر بھی ریسرچ کی ہے۔ ۱۹۹۰ء سے شروع کی جانے والی ریسرچ کے نتیجہ میں میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ احمدیت میں مذہب کی بجائے صرف پیسے کو اہمیت ہے۔ یہ صرف چندہ اکٹھا کرنے کا ایک نظام ہے۔ مذہب کو صرف چھتری کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ نہ ہی اس میں توحید ہے اور نہ ہی اس میں زکوٰۃ کا نظام نہ ہی عدل و انصاف ہے اور نہ ہی اسلامی روح۔ آخر ریسرچ کے نتیجہ میں میں نے امسال جمعتہ الوداع ۱۵؍ جنوری ۱۹۹۹ء کے موقع پر اپنے اہل خانہ اپنے بڑے بھائی ملک حفیظ احمد اور ان کے اہل خانہ، اپنے والد ملک محمد سلیم ولد ملک اللہ دین اور ملک عبدالرحیم ولد ملک محمد ابراہیم سمیت ۱۳؍ افراد کے ساتھ احمدیت کے تمام عقائد سے بیزاری کا اعلان کرتے ہوئے اسلام قبول کر لیا ہے اور اس بات کا اقرار بھی کر لیا ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ خاتم النبیین ہیں اور ان کے بعد کسی بھی مدعی نبوت کو نبی یا مذہبی مصلح تسلیم نہیں کرتا اور نہ ہی اب میرا جماعت احمدیہ کی لاہوری یا قادیانی شاخ سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی ان شاء اللہ آئندہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دین اسلام پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۱۹۹۹ء ص ۴۸)
قادیانی نوجوان کا قبول اسلام
قصبہ کلاسوالہ تحصیل پسرور ضلع سیالکوٹ کے امجد نامی نوجوان جو کچھ عرصہ قبل قادیانی غنڈوں کی چکنی چپڑی باتوں اور ترغیب وترہیب سے متاثر ہو کر قادیانیت کے جال میں پھنس گیا تھا، نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے پرخلوص کارکنان کی کوششوں سے جامع مسجد کلاسوالہ میں مسلمانوں کے ایک عظیم اجتماع میں قادیانیت پر لعنت بھیج کر قبول اسلام کا غیر مشروط اعلان کیا تو مسلمانوں نے نوجوان امجد کو قادیانیت کے دجل وفریب پر لعنت بھیج کر قبول اسلام پر دلی مبارک باد پیش کی اور اسلام پر ثابت قدم رہنے کی دعاء کی گئی۔ اس خوشخبری پر علاقہ کے مسلمانوں نے خوشی کے اظہار میں مٹھائی بھی تقسیم کی اور نعرہ ہائے تکبیر سے عملی اظہار اور نومسلم نوجوان امجد کی حوصلہ افزائی بھی کی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۶؍ مارچ تا ۸؍ اپریل ۱۹۹۹ء ص ۲۶)
زیڈ اے سلہری قادیانیت سے تائب
”دی نیوز“ کے سینئر ایڈیٹر اور تحریک پاکستان کے سرگرم رکن زیڈ اے سلہری قادیانیت سے کیسے تائب ہوئے؟ ایک ایمان افروز روداد!
جناب ضیاء الدین احمد سلہری (معروف زیڈ اے سلہری) پاکستان کے معروف صحافی اپریل ۱۹۹۸ء کے آخری عشرے میں رحلت فرما گئے، موصوف ملک عزیز پاکستان کے ساتھ والہانہ محبت رکھتے تھے، انہوں نے قادیانیت میں آنکھ کھولی بچپن قادیان میں
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گزارا لیکن سن شعور کو پہنچے تو قادیانیت کی حقیقت آشکار ہوئی اور مشرف بہ اسلام ہو گئے۔ دینی غیرت وحمیت کے پیش نظر اپنے والد، والدہ اور بھائی کا جنازہ نہ پڑھا۔ ذیل میں ہم ان کی قادیانیت سے تائب ہونے کی ایمان افروز روداد قارئین کے استفادے اور منکرین ختم نبوت کے غور وفکر کے لئے شائع کر رہے ہیں۔ (مرتب)
میں سیالکوٹ میں ایک نچلے متوسط گھرانے میں ۶ جون ۱۹۱۳ء کو پیدا ہوا سیالکوٹ میں جو سال میں نے گزارے وہ کسی طور پر غیر معمولی نہ تھے۔ ہاں پھر میری ایک بہن کی شادی قرار ہونی پائی، تو میں نے لفظ قادیان سنا۔ معلوم ہوا کہ میرے والد سالانہ جلسے پر قادیان گئے تھے اور وہاں کسی صاحب سے میری بہن کی نسبت کر آئے ہیں۔ مجھے شادی کا اچھی طرح یاد نہیں لیکن کچھ عرصہ بعد میری بہن سیالکوٹ چلی گئیں۔ اس سے اگلا واقعہ یہ ہوا کہ ہم سب خود قادیان چلے آئے۔ ہوا یوں کہ والد صاحب غالباً حیدر آباد دکن جا رہے تھے اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ ہم سیالکوٹ میں رہنے کی بجائے قادیان چلے جائیں، وہاں ہماری بہن بھی ہوگی، چنانچہ ہم قادیان چلے آئے اور میں تعلیم الاسلام ہائی سکول کی تیسری جماعت میں داخل ہو گیا۔
اب مجھے معلوم ہوا کہ والد صاحب ”احمدی“ (قادیانی) ہیں۔ یہی نہیں بلکہ انہوں نے میری والدہ کے خاندان کو بھی ”احمدیت“ (قادیانیت) سے منسلک کروا دیا ہے۔ میں نے قادیان ہی سے میٹرک کا امتحان پاس کیا، اس کا مطلب ہے میں قریباً آٹھ سال تک قادیان میں رہا۔ میرا یہ وقت کم وبیش نیم مدہوشی میں گزرا۔ مجھے سوائے تعلیم اور کھیل کے کسی اور چیز سے دلچسپی نہ تھی۔
اب جو قادیان کی زندگی پر غور کرتا ہوں تو وہ عجب عالم بے خبری میں گزری، معلوم ہوتی ہے۔ بے شک جیسے جیسے میری عمر بڑھتی گئی، مجھے محسوس ہوتا گیا کہ قادیان کوئی معمولی قصبہ یا گاؤں نہیں۔ وہاں بعض اوقات سالانہ جلسے کے دنوں میں، جو دسمبر کی آخری تاریخوں میں منعقد ہوتا خاص گہما گہمی ہوتی۔ باہر سے ہزاروں لوگ آتے، ہم لڑکے مہمانوں کی خدمت پر مامور ہوتے، ان دو مشاغل تعلیم اور کھیل نے میرے ذہن میں کسی اور شوق واستغراق کے لئے جگہ نہیں چھوڑی، میں دوسرے لڑکوں کے ساتھ مذہبی ارکان بجا لاتا لیکن میں قادیان کے انوکھے مفہوم سے ناواقف رہا۔ میں نے اکثر خلیفہ محمود احمد کا خطبہ جمعہ سنا، ان کی باتوں سے مترشح ہوتا تھا کہ قادیانی کوئی خاص مخلوق ہیں۔ ”ہم زندہ مسلمان ہیں، غیر احمدی مسلمان مردہ ہیں“ ان کا خاص موضوع ہوتا اور کبھی قادیان سے باہر جانے کا اتفاق ہوتا تو اس نعرے کی صدائے بازگشت سنائی دیتی اور میں دوسرے مسلمانوں کو دیکھتا کہ وہ کس اعتبار سے ہم سے پیچھے ہیں لیکن جہاں مذہبی طور پر مجھ میں قادیانیت کے متعلق خاص یقین نہ پیدا ہوا تھا وہاں ادبی طور پر میرا ذوق پختہ ہورہا تھا۔ مجھے انگریزی کے علاوہ اردو سے بہت شغف تھا۔ اسی دوران مجھے علامہ اقبال کے کلام سے شناسائی ہوئی۔ سچی بات تو یہ ہے کہ کلام اقبال نے میری زندگی کی کایا پلٹ کر رکھ دی۔ ان کے فلسفہ حیات کے جس نکتے نے مجھ پر خاص اور گہرا اثر کیا۔ وہ یہ تھا:
اس کے بعد میری منزل کی خاص وقعت نہ رہی لیکن یہ بعد کی پیش رفت ہے۔ قادیان میں طالب علمی کے زمانے میں اردو ادب اور کلام اقبال کا مجھ پر ضرور اثر تھا کہ مجھے کچھ زبان کا چسکا پڑ گیا تھا۔ کسی بات کی تو ضرور اہمیت ہوتی ہے لیکن طرز ادائیگی اور اسلوب بیان بھی کوئی چیز ہے۔ اب اس معیار پر جو آہستہ آہستہ خاموش اور غیر محسوس طور پر ادب کا مطالعہ مجھ میں استوار کر رہا تھا ..... قادیانی خطبات، تحریریں، شاعری، استدلال اور بحث ومباحثہ پورا اترتا نہ لگتا تھا۔ اس لئے قادیانی ماحول میرے اندر ایک ذہنی تحفظ اور قلبی رخنہ پیدا کر رہا
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تھا، لیکن یہ ایک ذوقی اور وجدانی راہ انحراف تھی، اس میں وہ فکری جذبہ بغاوت نہ تھا جو بعد ازاں عمر کی زیادہ ارتقائی منزل میں متولد ہوا۔ لیکن کیا یہ ذوقی وجدانی راہ انحراف میرے تبدیلی عقیدہ کے لئے کافی تھی؟ آبائی مذہب چھوڑنا اتنا آسان نہیں۔ خصوصاً جب کہ مجھے اپنے والد سے گہرا قلبی لگاؤ تھا تو پھر میرے خیالات اتنے بنیادی طور پر کیسے بدلے؟ یہاں یہ سوال اس لئے ضروری ہے کہ میں نے جوانی کے شروع میں ہی بلکہ لڑکپن کے ایام میں ہی قادیانیت کو ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ یہ گتھی یوں سلجھ سکتی ہے کہ انسان قرآن کریم کے اس نکتے پر غور کرے کہ رشد و ہدایت کا منبع صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، وہ جسے چاہے ہدایت کرتا ہے، جسے چاہے گمراہی میں پڑا رہنے دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو قلب سلیم لے کر آئے، اسے ہم سچائی کا راستہ دکھاتے ہیں لیکن یہ قلب سلیم کون عطا کرتا ہے؟ یہ بھی اس کی دین ہے، بعد کے تجربات زندگی نے مجھے اس عقیدے پر پختہ کر دیا کہ اللہ تعالیٰ کے کرم کے بغیر زندگی کی کسی جہت اور معاملے میں بھی ہدایت حاصل نہیں ہوتی، سب امور کتاب میں درج ہیں، اس لئے میں تجربے کی حد تک تو یہ کہتا ہوں کہ میں ذوقی و وجدانی طور پر ایک ایسے مقام فہم پر پہنچا جو قادیانیت سے جدا کرتا تھا لیکن حقیقت ہے کہ ؎
قادیان میں آٹھ سال مستقل رہائش کے بعد لوح قلب کو اس سادہ صورت میں لے کر نکل آیا، جس حالت میں اسے لے کر وہاں داخل ہوا تھا۔ تعلیم قادیان میں ضرور حاصل کی لیکن قادیان کی روح سے غیر متأثر رہا۔
لیکن نقطہ انحراف تک پہنچنا ایک جزو تھا اور جذباتی ورثے سے نجات حاصل کرنا بالکل جدا۔ اس کے لئے محسوس جدوجہد کی ضرورت پڑی۔ اس جدوجہد میں کئی اور عوامل شامل ہوئے جن کا میں بعد میں ذکر کروں گا۔ یہ میری زندگی کا بہت صبر آزما دور تھا، ابھی میری عمر سترہ سال ہی تھی اور میرے دل و دماغ میں پختگی نہ آئی تھی کہ میں اپنے مذہبی عقیدے کو شک وشبہ کی نگاہ سے دیکھ رہا تھا۔ میرے لئے اس کی بنیاد متزلزل ہو چکی تھی۔
یہ پانچ سال کی داستان ہے، ان سالوں میں میرے مذہبی خیالات کی نشوونما کے ساتھ ان کی تطہیر وتزکیہ بھی ہوئی۔ جب تک میں اسکول کے زمانے میں قادیان میں رہا، میں کسی دنیا کو نہ جانتا تھا۔ میرے لئے ذاتی طور پر قادیان کا ماحول پرسکون تھا۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا مجھے تعلیم اور کھیل کے سوا کچھ اور چیز سے غرض نہ تھی لیکن کبھی کبھی میرے کان میں عجیب وغریب افواہیں پڑتیں۔ عبدالرحمن مصری کا قصہ سننے میں آیا وہ غالباً مدرسہ احمدیہ کے پرنسپل تھے، انہیں نکال دیا گیا۔ اسی طرح فخرالدین کتب فروش اور مستری عبدالکریم کے نام سننے میں آئے۔ پس منظر میں جنسی اسکینڈل منڈلاتے تھے۔ بعض اوقات دیواروں پر فحش زبان میں پوسٹر چسپاں نظر آتے تھے، زیادہ تر خلیفہ بشیرالدین محمود کی ذات الزامات کا مرکز تھی لیکن میں نے کبھی ان معاملات میں دلچسپی نہیں لی۔ سزائیں یقیناً سنگین ہوں گی کیونکہ مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ کئی لوگوں نے قادیانی فرقے کو چھوڑ کر لاہوری جماعت سے وابستگی اختیار کر لی ہے۔ ان لوگوں میں ان کے خلیفہ اول حکیم نور الدین کے لڑکے مولوی عبد المنان بھی شامل ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ بھی انہی حالات میں ربوہ سے علیحدہ ہوئے جن حالات نے مولوی محمد علی کو ۱۹۱۴ء میں قادیان چھوڑ کر لاہور کی انجمن احمدیہ کا سنگ بنیاد رکھنے پر مجبور کیا تھا، یعنی وہ بھی قادیانی فرقے کے تیسرے خلیفہ مرزا ناصر احمد کے مقابل خلیفہ محمود احمد کے جانشین بننے کے دعویدار تھے اور کہتے ہیں کہ اس جماعت کے کافی لوگ ان کے حق میں تھے۔ بہر
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بہر حال جو لوگ قادیان یا ربوہ ( چناب نگر ) چھوڑ کر لاہوری جماعت سے وابستہ ہوئے ، ان کے محرکات ذاتی تھے ، اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ قومی اسمبلی نے قادیانیت کو خارج از اسلام قرار دینے کے ضمن میں قادیانی یا لاہوری فرقوں کے درمیان تخصیص کو نا قابل اعتناء قرار دینے میں بالکل ٹھیک فیصلہ کیا۔
لیکن ان واقعات کا میرے تشکیل جذبات کے عمل میں کوئی دخل نہیں جس چیز نے میری آنکھیں کھولیں وہ بالکل مختلف ہے ، پہلے تو جیسا میں نے کہا کہ میں وجدانی اور ذوقی لحاظ سے اپنے آپ کو قادیانی انداز استدلال سے غیر متأثر پاتا تھا۔ مجھے ان کی تحریر و تقریر میں کوئی جاذبیت اور کشش محسوس نہ ہوتی تھی ، لیکن چونکہ میں ابھی بہت نو عمر تھا اور میں نے قادیانیت کے بنیادی دعاوی کو تجزیئے کی روشنی میں نہ دیکھا تھا، میں ایک قسم کی غیر مرئی غیر جانبداریت کے سوا اور کوئی طرز عمل اختیار نہ کر سکتا تھا۔ چونکہ ہر طرف قادیانی ہی قادیانی تھے، میں ان کے طور و طریق میں کوئی نمایاں پہلو نہ دیکھا تھا لیکن جب میں شملہ اور دہلی آیا تو وہاں کی قادیانی جماعت مجھے ایک نئی اور ممتاز صورت میں نظر آئی۔ اس کا امتیاز یہ تھا کہ مسلمانوں کے درمیان رہ کر بھی اس نے اپنی ڈیڑھ اینٹ کی الگ مسجد بنائی ہوئی تھی۔
اب میں نے دیکھا کہ قادیانی نہ صرف مسلمانوں سے مذہبی و جماعتی طور پر الگ تھلگ رہتے تھے، بلکہ وہ سیاسی طور پر بھی مسلمانوں کے معاملات میں کوئی دلچسپی نہ رکھتے تھے، ان کا انداز عمل کچھ ایسا تھا کہ گویا مسلمانوں کے جسد قومی کے جزو لا ینفک ہی نہ تھے کہ ان کا مرنا اور جینا ان کے ساتھ مقدر ہو۔
قادیانی جماعت مسلمانوں کے بحران سے کوئی سروکار رکھتی معلوم نہ ہوتی تھی بلکہ میں قادیانی زعما سے یہ سن کر ہکا بکا رہ جاتا تھا اور یہ الفاظ میں نے خود خلیفہ بشیر الدین محمود کی زبانی بھی سنے کہ ”انگریز احمدیوں کو قابل اعتماد سمجھتے ہیں اور ملازمتوں میں دوسرے مسلمانوں پر ترجیح دیتے ہیں“ شاید اسی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے حکومت برطانیہ نے چوہدری ظفر اللہ قادیانی کو وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل کا رکن بنایا تھا۔ ان کی تقرری پر خلیفہ صاحب نے کہا تھا کہ : ” لوگ متعجب ہیں کہ ایک احمدی ( قادیانی ) کو اس اعلیٰ عہدے کے لئے کیوں منتخب کیا گیا ؟ آخر احمدیوں ( قادیانیوں ) کو بھی تو ان کا حصہ ملنا ہے، خواہ وہ کتنا ہی قلیل کیوں نہ ہوں ، حصہ بخشی اکثریت کی بجائے اقلیت سے کیوں شروع نہیں ہو سکتی ؟“ میں نے دیکھا کہ قادیانی حکومت کی ملازمتوں کو حاصل کرنے کی خاص کوشش کرتے تھے اور ظفر اللہ خان کے زمانہ اقتدار میں انہیں نوکریاں ملنے میں سہولتیں بھی حاصل ہو گئیں تھیں ، وہ سرکاری افسر ہونے کو اس سیاسی طاقت کے حصول سے تعبیر کرتے جن کا ان کے ساتھ ”الٰہی“ وعدہ کیا گیا ہے۔ ظفر اللہ خان قادیانی نے اپنی پوزیشن کا ناجائز فائدہ اٹھا کر کئی نوجوانوں کو قادیانی بھی بنایا ۔ جب کوئی پڑھا لکھا ان کے پاس سفارش کے لئے جاتا تو اس پر تبلیغ شروع کر دیتے۔ جب لوگوں نے یہ دیکھا کہ حصول ملازمت کا طریقہ ہی یہ رہ گیا ہے تو بعض تو جاتے ہی احمدیت ( قادیانیت ) میں اپنی دلچسپی کا اظہار شروع کر دیتے۔ شملہ میں ظفر اللہ خان قادیانی کی مشہور سرکاری کوٹھی ریٹریٹ میں ہوتی تھی اور امیدواران ملازمت کے لئے سنہری موقع مہیا کرتی ، وہاں ظفر اللہ خان جس نئے چہرے کو دیکھتے اس پر مہربان ہو جاتے ان باتوں سے مجھے یقین ہو گیا تھا کہ قادیانیوں کو برصغیر کی آزادی سے کوئی رغبت نہیں۔ اگر وہ مسلمانوں سے ہمدردی جتاتے ہیں تو محض ان میں اپنا اثر و رسوخ جمانے کے لئے، لیکن اصلاً وہ ٹھیٹھ مسلم مفاد سے بے اعتنائی برتتے اور اس بنیادی رجحان کا بھرم تحریک پاکستان کے دوران کھل گیا۔ وہ برصغیر کی آزادی کے تو قائل نہ تھے، لیکن مسلمانوں کے حق خود ارادیت کے مخالف نکلے، چنانچہ انہوں نے جہاں مسلمانوں کی جنگ آزادی سے پہلو تہی اختیار کی تھی ، وہاں مسلم لیگ کی قیادت سے بھی قطعی تجارتی طرز عمل اختیار کیا۔ مرزا محمود قادیانی خلیفہ
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نے قائد اعظم کو کہا کہ ”ان کی جماعت بہت اثر و رسوخ کی مالک ہے اور اس کی طاقت روز افزوں ترقی پر ہے۔ اگر مسلم لیگ اس کے تعاون کی خواہشمند ہے تو اس سے شرکت عمل کی شرطیں طے کرے، ورنہ کانگریس کا ساتھ دے گی“ اس سے ظاہر ہے کہ وہ مسلمانوں کے مفاد کو اپنا مفاد نہ سمجھتے تھے، تا وقتیکہ ان سے کوئی عہد معاہدہ نہ ہو جائے، میں نے مسلمانوں کے معاملات سے قادیانی غیر جانبداری کی ذہنیت کا مظاہرہ پاکستان بننے کے بعد دیکھا۔
قادیانیوں کو میں نے شروع ہی سے مسلمانوں سے الگ پایا تھا۔ مثلاً قادیان کی زندگی میں ہمارا ان معدودے چند مسلمانوں سے کوئی واسطہ نہ تھا جو وہاں رہتے تھے۔ قادیان کا ایک بازار، بڑا بازار، کہلاتا تھا اور اس میں زیادہ تر ہندوؤں اور مسلمانوں کی دکانیں تھیں۔ جب میں اس بازار سے گزرتا تو کبھی کبھی ایک سبزی کی دکان پر کھڑا ہو جاتا ، جس کے مالک کا لڑکا ہمارا ہم جماعت تھا۔ مجھے میری اس حرکت پر سرزنش کی گئی کہ میں کسی ”غیر احمدی“ (قادیانی) سے اسکول سے باہر کیوں تعلق رکھتا ہوں؟ پھر قادیانی مردوں کے لئے لڑکیاں تو جائز تھیں لیکن قادیانی لڑکی کا کسی مسلمان لڑکے سے رشتہ قطعی ناجائز تھا۔ جب کبھی خاندانی تعلقات کی بنا پر ایسا ہو جاتا تو مجرم کا بائیکاٹ ہوتا۔ قادیانیوں کے لئے مسلمانوں کے پیچھے نماز پڑھنے کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا وہ مسلمانوں کی نماز جنازہ تک پڑھنے کے روادار نہ تھے۔ چنانچہ چوہدری ظفر اللہ خان نے بانی پاکستان کا جنازہ نہیں پڑھا اور لاکھوں کے مجمع میں الگ بیٹھے رہے، جب چوہدری صاحب سے پوچھا گیا کہ وہ مسلمانوں کا جنازہ کیوں نہیں پڑھتے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ”جو ہمیں کافر کہیں، ان کا ہم جنازہ نہیں پڑھتے، اسی سانس میں انہوں نے بڑے فخر سے بتایا کہ محمد علی جناح ہندوستان کی مرکزی اسمبلی کے دنوں میں (جب ظفر اللہ خان وہاں ریلوے ممبر تھے) ان کے مداح تھے اور انہیں مسلمان سمجھتے تھے۔ (اگر سچ مان لیا جائے) تو سوال اٹھتا ہے کہ پھر آپ نے محمد علی جناح کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا؟ وہ آپ کو کافر بھی نہ کہتے تھے اور آپ کے محسن بھی تھے کہ ان کے علاوہ پاکستان میں کس کو جرأت ہو سکتی تھی کہ ظفر اللہ خان قادیانی کو وزیر خارجہ بنادے۔ مسلمانوں سے الگ تشخص قائم کرنے کی دھن میں وہ اتنی دور گئے کہ اپنا ایک کیلنڈر بھی اختراع کرلیا، لیکن اس زمانے میں، میں قادیانی زندگی کی ان خصوصیات کی وجہ کو سمجھ نہ سکا تھا۔ اب قادیان سے باہر وسیع تر میدان میں جب میں نے قادیانیوں کے مسلمانوں سے غیر جانبدارانہ بلکہ معاندانہ طرز عمل کو دیکھا تو اس کی وجوہات پر غور کرنے پر مجبور ہوا۔ مسلمانوں میں فرقہ بازی نئی چیز نہیں، کئی فرقے ہیں۔ لیکن قادیانیوں کا باوا آدم ہی نرالا تھا، ان کا الگ مذہبی وجود ہی نہ تھا، وہ اپنے آپ منفرد سیاسی وجود پر مصر تھے۔
جب میں نے ان کے عقائد کا مطالعہ کیا تو بنیادی خرابی ان کے عقائد میں یہ نظر آئی کہ مرزا غلام احمد قادیانی نبی ہیں ... کیونکہ نبوت لامحالہ الگ امت کی متقاضی ہوتی ہے۔ اگر مرزا غلام احمد قادیانی دعویٰ نبوت کر کے مسلمانوں سے الگ امت کے بانی بن جاتے، لوگوں کو اختیار تھا کہ اس دعویٰ کو اپنے اپنے معتقدات کی روشنی میں پرکھ لیتے۔ مسلمانوں کے لئے تو رسول اللہ ﷺ کے بعد جو خاتم النبیین ہیں اور جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان پر اپنی نعمت دین کو مکمل کر دی ہے۔ کسی اور رسول کی گنجائش نہ تھی لیکن غیر مسلم جو چاہیں وطیرہ اختیار کرتے۔ ایران میں بہاء اللہ ایرانی نے یہی طرز عمل اختیار کیا لیکن قادیانیت کی جس خصوصیت نے مسلمانوں میں خلفشار پیدا کیا۔ وہ یہ تھی کہ اسے حقیقی اسلام کے طور پر پیش کیا جاتا تھا، گو میں نے اس وقت مذہبی استدلال نہیں کیا لیکن یہ امر مجھ پر بالکل صاف ہو گیا تھا کہ اگر مجھے مسلمانوں کے امور سے تعلق منظور ہے تو میں قادیانی جماعت کا فرد نہیں رہ سکتا۔ مجھے ان سے آزاد پوزیشن اختیار کرنی پڑے گی۔ مجھے مداہنت سے طبعی نفرت ہے اور میں جب اس دو ٹوک نتیجے پر پہنچا تو میں نے اپنے گھر والوں اور دوستوں سے اس کا برملا ذکر کیا۔ اب قادیانیوں نے
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ایک صنعت کو بہت پروان چڑھایا ہوا ہے اور وہ ہے تاویل کی صنعت، ان کی تاویل تراشی پر علامہ اقبال کا یہ شعر صادق آتا ہے ؎
یہ اسی تاویل کا کرشمہ ہے کہ قادیانیوں نے حکومت انگلشیہ کو (نعوذ باللہ) حاکم برحق کا درجہ دیا، گویا یہ کرشمہ انہوں نے تاویل کے ساتھ اصطلاح قرآنی کو مسخ کرنے سے حاصل کیا، یعنی بجائے اولی الامر منکم (کہ تم مسلمانوں میں سے جو حکمران ہو اس کی اطاعت کرو) کے صرف اولی الامر (جو حکمران ہو، اس کی اطاعت کرو) کہا، کسے باشد، ان کی بلا سے، مسلمانوں پر جو چاہے حکومت کرے۔ صرف شرط یہ ہے کہ قادیانی (انگریزوں) کے مقربین کی صف میں شامل ہوں۔ انگریزوں کو حاکم تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ جہاد کا منسوخ قرار دیا جانا، قادیانی مذہب کے لئے ناگزیر تھا کیونکہ ایک طرف مسلمانوں کو انگریزوں کے اتباع کی تلقین کی جائے اور دوسری طرف وہ ان کے خلاف جہاد پر آمادہ ہو جائیں تو خدمت سرکار کا اہتمام نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ بھی فرماتا ہے کہ بات سیدھی کہو، ادھر ان کی تاویل آمیز تفاسیر میں الجھاؤ تھا، موقع ملے تو بال کی کھال اتارنے سے دریغ نہیں کرتے اور منطق کام نہ آئے تو ”الہامی“ حوالے دیئے جاتے ہیں، جس کا اس کے سوا اور کیا جواب دیا جاسکتا ہے ؎
لیکن یہ بہت بعد کی باتیں ہیں۔ مرزا محمود احمد نے دعویٰ کیا کہ انہیں قرآن کریم کی تفسیر خوابوں میں سجھائی گئی۔ اب انسان کسی عام نکتے پر تو بحث کر سکتا ہے لیکن اس نکتے پر کیا اظہار رائے کرے، جو خوابوں کے ذریعے کسی کی طبیعت رسا پر ”وا“ اور منکشف ہوا ہو، ان کے خوابوں میں کسی اور کا کیسے گزر ہو سکتا ہے؟ مجھے عمر کے ساتھ ساتھ قادیانیت کے محرکات اور مضمرات پر سوچ بچار کا موقع ملا اور میں اپنی تحقیق کے نتائج کسی مناسب جگہ پیش کروں گا لیکن اس وقت بھی مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس امت کا مقصد اولیٰ، امت مسلمہ کی وحدت وتنظیم کی جڑیں کاٹنا ہے، وہ مسلمانوں سے ایسی صورت میں وابستہ رہنے پر اصرار کر رہے تھے، جب ان کی جماعتی مفادات ان کے قطعی خلاف تھے۔ اول تو وہ برصغیر میں انگریزوں کے زوال کے تصور کو ہی ناممکن سمجھتے تھے، ان کی تمام سیاست کا تکیہ انگریزی تسلط کا مستقل قیام تھا، وہ اگر مسلمانوں کے ساتھ نظر آتے تھے تو اس لئے کہ مسلمانوں کے سیاسی حقوق پر اپنا حق جما سکیں۔ آخر ظفر اللہ خان وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل میں مسلمان کہلانے کی بنا پر پہنچے، یہ امر انگریزوں اور قادیانیوں دونوں کو راس تھا، اس طرح انگریزوں کو وفادار نائب ملتے تھے اور قادیانیوں کو تقسیم انعامات میں خصوصی حصہ۔ دوسری طرف وہ کانگریس سے بھی رابطہ میں تھے کہ داخلی طور پر انتقال اقتدار ہوا تو وہ بہت بڑی جماعت کی حیثیت سے اکثر صوبوں کے حاکم ہوں گے اور وہ یقیناً انگریزوں کی طرح ایسی جماعت کو استعمال کرنا چاہیں گے، جس کا ایمان ہی ”اولی الامر“ کی اطاعت ہے لیکن جب یہ سیاسی گومگو کی حالت زیادہ عرصہ قائم نہ رہ سکی اور افق پر جنگ کے آثار سے یہ ظاہر ہونا شروع ہو گیا کہ انگریز کو ہندوستان کے متعلق فیصلہ کرنا پڑے گا، تو قادیانی اصلیت اظہر من الشمس ہو گئی اور انہوں نے صاف طور پر برصغیر کی تقسیم کے خلاف اکھنڈ بھارت کے تصور کو ترجیح دی۔ بات یہ تھی کہ جب تک انگریز کا سایہ عاطفت قائم تھا، ان کے دوغلے پن کی گنجائش تھی، وہ اپنے آپ کو مسلمانوں کا ہمدرد بھی ظاہر کر سکتے تھے اور ہندوؤں سے سیاسی لین دین بھی کر سکتے تھے۔ لیکن انگریز کے بعد کی صورت حالات میں انہیں دو میں سے ایک متبادل کا انتخاب کرنا لازمی ہو گیا۔ اکھنڈ بھارت میں ان کے پنپنے کے زیادہ امکانات ہیں یا پاکستان میں؟ اب انہیں صاف نظر آیا کہ ایک خالص اسلامی مملکت میں ان کا گزارا نہیں ہو سکتا اور اس کے مقابل اکھنڈ بھارت میں جہاں کانگریس سیکولر طرز کی
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حکومت قائم کرنا چاہتی ہے، انہیں اپنی جمعیت کو مضبوط کرنے کا خاصا موقع ملے گا۔ پھر وہ ازلی وفادار ہیں، کانگریس انہیں (قادیانیوں کو تقسیم کے بعد بھارت میں رہ جانے والے) مسلمانوں پر بہر حال ترجیح دے گی جن (ہندوستان میں رہ جانے والے مسلمانوں) کی سرشت میں غیر مسلمانوں کے خلاف بغاوت لکھی ہوئی ہے اور جن کی اکثریت تحریک پاکستان کی مؤید ہونے کی وجہ سے راندہ درگاہ ہو گئی۔ سو قادیانیوں نے اپنا پورا وزن برصغیر کی سیاست کے ترازو مسلم لیگ کے مخالف پلڑے میں ڈال دیا۔
بے شک یہ پیش رفت اس زمانے سے تعلق نہیں رکھتی جب میں قادیانیوں کے متعلق سوچ رہا تھا، لیکن ان کی باتیں سن کر طرز عمل دیکھ کر میرے دل میں کوئی شک وشبہ نہ رہا تھا کہ بالآخر وہ کس طرف جائیں گے؟ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔ ہم عموماً اپنے فہم کی تسکین دلیلوں اور لفظوں کے استعمال میں ڈھونڈتے ہیں، لیکن قرآن کریم مشاہدہ پر زور دیتا ہے، پوچھا کہ ہم مرنے کے بعد دوبارہ کیسے اٹھیں گے؟ جواب ملا تو آپ پیدا کیسے ہوئے تھے؟ جو خالق ایک بار پیدا کر سکتا ہے وہ دوسری بار بھی اٹھا سکتا ہے۔ علم کا اصل منبع ہی مشاہدہ ہے اور میرے مشاہدہ نے میرے اندر بدرجہ اتم یہ ایقان پیدا کر دیا کہ قادیانیوں کا مسلمانوں سے کوئی علاقہ نہیں اور میں اپنے لئے مسلمانوں کا راستہ انتخاب کر چکا تھا۔
قادیانیت کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس کے پیروکار مرزا صاحب کی پیشین گوئیوں پر بہت انحصار کرتے ہیں۔ بات بات پر ان کی پیشن گوئیوں کا حوالہ دیتے ہیں اور اس کے پورا ہونے کی تشہیر کرتے ہیں، ضمناً ان کی ایک پیشین گوئی قطعی مسلمانوں کے حق میں نہ تھی، جب بنگال کے ہندو تقسیم بنگال، جو عین مسلمانوں کے فائدے میں تھی کے خلاف تحریک چلا رہے تھے تو مرزا صاحب کو الہام ہوا کہ ”دلجوئی کی جائے گی ۔“
اب جب ۱۹۱۱ء میں تقسیم کے فیصلے کو منسوخ کر دیا گیا تو حقیقتاً دلجوئی ہندوؤں کی ہوئی۔ قادیانی حضرات کہہ سکتے ہیں کہ اس سے غرض نہیں پیشین گوئی کس کے حق میں پوری ہوئی، انہیں تو اس کے اہتمام سے غرض ہے قادیانی پیشین گوئیوں کی صداقت کے اس قدر قائل ہیں کہ وہ انہیں بروئے کار لانے کی بھی کوشش کرتے ہیں، چنانچہ ایک پیشین گوئی کے مطابق حضرت مسیح علیہ السلام کی بعثت ثانی دمشق کے ایک منارے پر ہو گی۔ چنانچہ ایک طرف تو قادیان میں مینارۃ المسیح بنوایا گیا۔ رہتی کسر مرزا محمود نے پوری کر دی کہ جب وہ سفر یورپ پر جا رہے تھے یا آ رہے تھے دمشق ٹھہرے اور وہاں کی مسجد کے مینار پر چڑھے۔ وہ خود تو ”مسیح موعود“ نہ تھے ان کا دعویٰ صرف ”مصلح موعود“ ہونے کا تھا، لیکن جس حد تک وہ مرزا صاحب کے فرزند اور خلیفہ ہونے تک ان کی نمائندگی کر سکتے تھے، انہوں نے اس پیشن گوئی کو اپنے باپ کی طرف سے پورا کر دیا۔
میرا پیشین گوئیوں کے متعلق تفصیل بتانے کا مقصد یہ اتمام حجت ہے کہ قادیانی انہیں اپنے مستقبل کا دارومدار سمجھتے ہیں۔ اب ایک اہم معاملے میں مرزا صاحب کی پیشین گوئی سے الٹ نتیجہ پیدا ہوا۔ جس کے متعلق ان کا ایک شعر ہے ۔
قادیان جس قدر قادیانیوں کو محبوب ہو سکتا ہے، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ قادیان کے متعلق مرزا صاحب نے پیشین گوئی کی تھی کہ : ”وہ اتنی ترقی کرے گا کہ اس کا ایک سرا دریائے بیاس تک جا ملے گا اور اس کی شان وشوکت دیکھ کر لوگ کہیں گے کہ کبھی لاہور ہوتا تھا۔“ مطلب یہ ہے کہ اس وقت اس کی عظمت کے سامنے لاہور مات ہوگا، اب خدا کا کرنا کیا ہوا کہ تقسیم برصغیر سے قادیان غالباً متروکہ
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
شہروں میں سب سے زیادہ متاثر و ماوف ہوا کہ مشرقی پنجاب کے دوسرے شہر تو مسلمانوں کے نکل آنے پر ہندوؤں اور سکھوں نے آباد کر دیئے لیکن قادیان کی کوئی تجارتی یا دوسری اہمیت نہ تھی۔ اس کی اہمیت یہی تھی کہ وہ مرزائیوں کا مرکز ہے، جس تک ریلوے لائن بھی اس لئے بچھائی گئی کہ چوہدری ظفر اللہ خان وائسرائے کی کونسل کے ریلوے ممبر تھے ورنہ مسافروں کی آمد و رفت اس کے لئے کوئی جواز مہیا نہ کرتی تھی۔ اس لئے تقسیم پر قادیانی تو اسے چھوڑنے پر مجبور ہو گئے کہ جان کا خطرہ تھا لیکن ہندوؤں، سکھوں نے اسے آباد کرنے کے لائق نہ جانا اور میں نے سنا کہ اب وہاں ہمارے مکانوں میں گدھے بندھے ہیں، گویا قادیان کی صرف رونق ہی ضائع نہیں ہوئی بلکہ وہ ویران ہو گیا۔ اس سے زیادہ پیشین گوئی کے غلط ہونے کا اہتمام نہ ہو سکتا تھا، چونکہ میں ۱۹۴۹ء سے لندن میں تھا اور مجھے تقسیم کے بعد قادیان کی مکمل تباہی کے بارے میں قادیانیوں کے ردعمل کا علم نہ تھا اس لئے جب ۱۹۵۰ء میں واپس آیا تو یہ معلوم کرنے کے لئے بہت متجسس ہوا تھا کہ اس المیے کا ان کے دلوں میں کیا اثر ہوا؟ لوگوں کے قدم تو اس پیشین گوئی کی تعبیر معکوس سے ڈگمگائے ہوں گے، لیکن میری حیرانی کی انتہا نہ رہی جب میں نے دیکھا کہ اس حادثے سے ان کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔ یہ احساس کا فقدان تھا یا تاویلوں کی تاثیر۔ ان کے ایمانوں میں کوئی فرق نہ پڑا تھا۔ یہ تاریخی حقیقت ہے کہ ایک کوشش بھی نہیں ہوئی، اسلام میں کسی اور نبوت کے اجراء کے لئے دروازہ نہ کھولا گیا۔ یہ جسارت صرف ہندوستان میں انگریزوں کی علمبرداری میں ہوئی۔ قادیانیت، انگریزوں کی سنگینوں کے تلے پروان چڑھی، قادیانی نبوت سراسر دور از کار تاویلات کی تصنیف ہے۔ کہیں مسیح علیہ السلام کی بعثت ثانیہ کا سہارا لیا گیا ہے۔ کہیں ضعیف حدیثوں پر انحصار کیا گیا ہے۔ کہیں پوچ استدلال پر مثلاً یہ دلیل کہ انعامات خداوندی کبھی بند نہیں ہوتے تو نبوت کا دروازہ کیسے بند ہو سکتا ہے؟ جسے ایک شاعر نے گھڑی سے تشبیہ دی ہے ۔
لیکن جب اللہ تعالیٰ نے نوع انسانی پر رسول اللہ ﷺ کے ذریعے اپنی نصیحت پوری کر دی تو آپ کو خاتم النبیین قرار دیا۔ اسلام نیا مذہب نہیں، یہ وہی پیغام ہے جو ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام پر وحی کیا گیا، لیکن رسول اللہ ﷺ پر اس پیغام کی تکمیل ہوئی اور اس تکمیل اور اتمامِ نعمت کا خاصہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی حفاظت کا ذمہ لیا، جب کہ تورات اور انجیل کے متعلق اس قسم کی ذمہ داری نہیں اٹھائی اور اسی وجہ سے ان میں تحریف ہوئی۔ ان صریح احکامات میں کسی تاویل کی گنجائش نہیں، چونکہ اسلام میں یہ نکات بنیادی تھے۔ ان پر پوری امت کا اجماع ہوا تا آنکہ قادیان سے مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی صدا لگائی، اگر یہ کہا جائے کہ ہندوستانی ”نبوت“ کی اس لئے ضرورت پڑی کہ فی زمانہ مسلمانوں کی حالت بہت گر چکی تھی تو امت پر اس سے پہلے بھی بڑے بڑے بحران آئے کسی ”نبوت“ کا بندوبست کیوں نہ ہوا؟ اور آج تو اس لحاظ سے مسلمان زیادہ بحرانوں کا شکار ہیں) پھر قادیانیوں نے اول کام ہی یہ کیا کہ وہ مسلمانوں سے کٹ گئے اور انہوں نے اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ تعمیر کی، پھر انہوں نے صرف مسلمانوں سے سروکار ہی نہ رکھا بلکہ ان کے خلاف کام کیا۔
قادیانیوں نے اپنی ”نبوت“ کے جواز میں عجیب دلیلیں دی ہیں، ایک یہ کہ مرزا قادیانی کی ”نبوت“ سے رسول اللہ ﷺ کا مقام اور بلند ہوتا ہے کہ ان کے امتی بھی ”نبی“ بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں، یہ ایک دفاعی دلیل ہے کہ کہیں یہ نہ کہا جائے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کی ہے ورنہ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اگر انہوں نے ایک طرف یہ کہا تو دوسری طرف ان سے اپنی حقانیت میں یہ بیان بھی سنایا گیا کہ اگر چوہدری ظفر اللہ خان جیسا لائق آدمی (یہ بات ان دنوں خاص طور پر کہی جاتی تھی، جب چوہدری صاحب وائسرائے کونسل کے رکن تھے) مرزا صاحب کو ”نبی“ مانتا ہے تو اس سے زیادہ ان کی ”صداقت“ کا اور کیا ثبوت ہوسکتا ہے؟ انہی پوچ باتوں نے مجھے قادیانی موقف سے بیزار کیا۔ مجھے یقین ہو گیا کہ قادیانیوں نے سنجیدگی سے نبوت کے متعلق سوچا نہیں یا ان میں سنجیدہ فکر کی اہلیت ہی نہیں۔ پھر مجھے خیال آیا کہ اگر وہ اپنے عقیدے سے وابستہ ہیں تو دنیا میں لوگ طرح طرح کی بوالعجبیوں کو مانتے ہیں، انسانی ذہن ہر عقیدے کا جواز ڈھونڈ لیتا ہے، لیکن بہر حال قادیانیت کو اسلام کے اس عالم گیر مقصد سے کوئی غرض نہیں اور اس کا کوئی درک نہیں جو ”ان الدین عند اللہ الاسلام“ میں مضمر رکھا گیا ہے کہ اسلام کل انسانیت کے لئے ہے اور اس لئے رسول اللہ ﷺ پوری نوع انسانی کے لئے مبعوث فرمائے گئے تھے وہ کسی خاص قوم کے لئے نہیں آئے جیسا کہ عیسیٰ علیہ السلام کا مقصد بنی اسرائیل کے دین کی تجدید تھی۔ وہ خاتم النبیین ﷺ تھے جس کا مطلب ہے اسلام دنیا کے اخیر تک انسانیت کو راہ ہدایت دکھاتا رہے گا اور وہ اس کے سوا اور کوئی نجات اخروی کا ذریعہ نہ پائے گی۔ اس عظیم الشان مشن کا تقاضا تھا کہ قرآن کریم محفوظ رہے اور اس کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے لے رکھی ہے اور تاریخ کی شہادت ہے کہ وہ چودہ سو سال بعد بھی حرف بحرف وہی ہے جو رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں تھا اور تا قیامت اسی طرح رہے گا اور ادھر امت مسلمہ کا وجود ثابت و سالم رہے گا کیونکہ اگر وہ منقسم ، متفرق اور منتشر ہو گئے تو اسلام کی قوت نفوذ ختم ہو جائے گی۔ اسلام کی سرمدی تعلیم مسلمانوں کے ٹھوس جسد سیاست کی مقتضا تھی۔ وہ ایک دوسرے کے لئے لازم وملزوم تھے۔ اب تاریخ اس امر پر بھی شاہد ہے کہ باوجود اس حقیقت کے مسلمانوں پر ہر قسم کی فکری و جماعتی اور سیاسی آفتیں آئیں۔ ان کا قلب صحیح اور زندہ رہا۔ بے شک درجنوں فرقے پیدا ہوئے۔ مسلمانوں پر عروج کیساتھ زوال آیا اور اغیار کے دست نگر بھی بنے لیکن ان میں اپنی وحدت کا جذبہ کبھی سرد نہ پڑا اور صداقت یہی ہے کہ وہ ہر امتحان اور آزمائش کے بعد ابھرے۔
اس ناقابل شکست زندہ احساس وحدت کا، جو ہر زمانے میں مسلمانان عالم میں جاری وساری رہا۔ رکن اعلیٰ اور عامل اعظم وہ گہرا تعلق ہے جو مسلمانوں کو رسول اللہ ﷺ کی ذات بابرکات سے رہا اور جو اسی طرح قائم رہ سکا کہ وہ خاتم النبیین تھے اور کوئی نبی یا پیغمبر مسلمانوں اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان حائل نہیں ہوا۔ یہ ناقابل تردید نفسیاتی حقیقت ہے کہ اگر خدانخواستہ کوئی تیسرا عامل کسی شخص یا ادارے کی صورت میں رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کے درمیان حائل ہو جاتا تو یہ قلبی تعلق جو مسلمانوں کو رسول اللہ ﷺ سے محسوس ہوتا ہے اور جس پر ہر دوسرا تعلق قربان کیا جاسکتا قائم نہ رہ سکتا۔ کہنے کو تو وہ رسول اللہ ﷺ سے بہت عشق ومحبت کا اظہار کرتے ہیں لیکن عملی صورت کیا ہے؟ ان کے گھروں ہر وقت مرزا صاحب کا ذکر ہوتا ہے۔ مرزا صاحب سے ان کے پیروؤں کے تعلق کے متعلق وہ خود ایک لطیفہ بیان کرتے ہیں کہتے ہیں کہ: ایک آدمی کے متعلق مرزا صاحب کو معلوم ہوا کہ وہ ان کے متعلق بحث کے سلسلے میں کسی مسلمان سے لڑ پڑا۔ مرزا صاحب نے اسے کہا کہ تمہیں نہیں لڑنا چاہئے تھا، تو اس شخص نے جواب دیا کہ آپ تو اپنے آقا (یعنی محمد رسول اللہ ﷺ) کے بارے میں ہر ایک سے لڑتے ہیں۔ میں اپنے آقا (مرزا صاحب) کے بارے میں کیوں نہ لڑوں؟ اس قادیانی کے لئے ”آقا“ کا مفہوم بدل گیا، رسول اللہ ﷺ اس کی نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ رسول اللہ ﷺ کے لئے خاتم النبیین کے مقام کا تعین محض ان کی عظمت کے اظہار کے لئے نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی اس تدبیر کے ماتحت ہے کہ اسلام ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دین انسانیت بنا دیا گیا ہے اور اس تدبیر کو عملی جامہ پہنانے کے لئے نہ صرف قرآن کریم ابد تک محفوظ رہے گا بلکہ امت مسلمہ کا وجود سالم و ثابت رہے گا اور جس کا سراسر انحصار رسول اللہ ﷺ سے مسلمانوں کے تعلق پر ہے۔ اللہ تعالیٰ کی یہ تدبیر اتنی ہی غیر مبدل ہے۔ جیسے کائنات کا نظام، سورج مشرق سے چڑھے گا اور مغرب میں غروب ہو گا۔ زمین
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سورج کے گرد گردش کرتی رہے گی اور چاند زمین کے گرد چکر لگاتا رہے گا اور دن رات کے تعاقب میں لگا رہے گا اور رات دن کے۔ جب مردہ شہر پر پانی برسے گا تو اس سے ہر قسم کی سبزیاں اگیں گی۔ تا آنکہ یوم موعود آ جائے اور زمین اپنے رب کے نور سے منور ہو جائے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۸؍ مئی تا ۳؍ جون ۱۹۹۹ء ص ۱۴ تا ۲۰)
میں قادیانیت سے کیوں تائب ہوا؟ نائیجیرین پروفیسر ڈاکٹر اسماعیل کے تاثرات
میں اللہ کے سامنے بہ قسم یہ اقرار کرتا ہوں کہ میں قادیانی فرقہ اور ان کے مذہب قادیانیت کے خلاف کسی قسم کا ذاتی بغض و کینہ نہیں رکھتا، میرا یہ پختہ ایمان ہے کہ ہر شخص ذاتی طور پر اپنے دین اور اپنے اختیار کردہ مذہب کے لئے اللہ کے سامنے خود ذمہ دار اور جواب دہ ہے۔ قادیانیت سے توبہ کے سلسلے میں میری تحریر کا اصل مدعا، بالکل واضح الفاظ میں صرف یہ اعلان کر دینا ہے کہ میری تحقیق کے مطابق (قادیانیت) اسلام نہیں ہے۔ یہ اعلان اس لئے بھی ضروری ہو گیا ہے کہ اکثر و بیشتر موقع پر میں نے محسوس کیا کہ قادیانیت کے ساتھ میری وابستگی، دوسروں کو قادیانی مذہب اپنانے میں معاون ثابت ہو رہی ہے۔ اس لئے جب قادیانیت کی اصل حقیقت مجھ پر منکشف ہوئی تو میں نے اپنے ذمہ داری اور بوجھ سے سبکدوش ہونے کی کوشش کی اور دل میں یہ بات آئی کہ اس حقیقت سے انہیں بھی باخبر کروں جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے مجھے منکشف کیا ہے۔
”ادع الى سبيل ربك بالحكمة والموعظة الحسنة وجادلهم بالتى هى احسن ان ربك هو اعلم بمن ضل عن سبيله ...... (النحل)“
موجودہ کاوش سے میرا مقصد دراصل یہ ہے کہ جو لوگ خلوص دل کے ساتھ قادیانیت کی حقیقت کے متلاشی ہیں۔ ان کو صحیح صورتحال سے آگاہ کر دوں۔ اگر اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ان کو عقل سلیم عطا کرے اور صراطِ مستقیم دکھا دے میں ان کے حق میں یہ دعا کرتا ہوں کہ اللہ انہیں اس کی توفیق عطا فرمائے کہ وہ غلط راستے کو ترک کرنے اور جھوٹ سے کنارہ کشی کرنے کے معاملہ میں شجاعت اور جرأت مندی سے کام لیں۔
ترجمہ: ”اور اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہوگا، جس کو اس کے رب کی آیتیں یاد دلائی جائیں وہ ان سے اعراض کرے، ہم ایسے مجرموں سے بدلہ لیں گے۔“ (السجدہ:۲۲)
ترجمہ: ”آپ (ان سے) کہئے کہ کیا ہم تم کو ایسے لوگ بتائیں جو اعمال کے اعتبار سے بالکل خسارہ میں ہیں یہ لوگ ہیں جن کی دنیا میں کی کرائی محنت سب گئی گزری ہوئی اور وہ (بوجہ جہل کے) اسی خیال میں ہیں کہ وہ اچھا کام کر رہے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو رب کی آیتوں کا (یعنی کتب الہیہ کا) اور اس کے ملنے کا (یعنی قیامت کا) انکار کر رہے ہیں، سو (اس لئے) ان کے سارے کام غارت ہوگئے تو قیامت کے روز ہم ان کے (نیک اعمال) کا ذرہ بھی وزن قائم نہ کریں گے (بلکہ) ان کی سزا وہی ہوگی یعنی دوزخ اس سبب سے کہ انہوں نے کفر کیا تھا اور (یہ کہ) میری آیتوں اور پیغمبروں کا مذاق بنایا تھا۔“ (الکہف:۱۰۳، ۱۰۶)
ان دنوں ہندوستان کے مرزا غلام احمد قادیانی کے متبعین کے خلاف عالمی سطح پر ایک زور دار شورش برپا ہے۔ آنجہانی مرزا صاحب نے ۱۹۰۸ء میں اپنی وفات سے قبل خود کو اور اپنے متبعین کو ”احمدی“ کے نام سے ممتاز کیا تھا (جو بعد میں دو فرقوں میں تقسیم ہو گئے) یہ شورش خاص کر ان مسلمانوں میں پھیلی ہوئی ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ قادیانی اسلام کے نام پر خفیہ طور پر ان کے حقوق پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں،
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اس وجہ سے دوسرے مقامات کے مقابلہ میں پاکستان میں یہ تنازعہ اور اس کی تلخی زیادہ محسوس کی جا رہی ہے یہ صورتحال انہیں صرف مذہبی طور پر ہی نہیں بلکہ سیاسی طور پر متاثر کر رہی ہے۔
جیسا کہ پاکستان کے نام سے ظاہر ہے یہ ملک اسلام کے نام پر عالم وجود میں آیا۔ اسی وجہ پاکستان کے دستور کی دفعات میں ایک دفعہ یہ بھی رکھی گئی کہ ملک کے اعلیٰ سیاسی منصب پر صرف مسلمان ہی فائز ہو سکتا ہے۔ یہ دفعہ کسی مذہبی تعصب کے تحت شامل نہیں کی گئی، اس کا منشاء صرف اسلام کی مصلحتوں کا تحفظ تھا جو ہمیشہ سے پاکستان کا سرکاری مذہب رہا ہے۔
حصول آزادی کے بعد ہی سے پاکستان کے مسلمان، اپنی حکومتوں سے یہ مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ قادیانیت کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے اور یہ مان لیا جائے کہ قادیانیوں کا تعلق ایسی اقلیت سے ہے جس میں سے نہ وزیر اعظم منتخب ہو سکتا ہے اور نہ ہی صدر مملکت اور اس کا مطلب یہی تھا کہ پاکستان کی نظریاتی حدود کا بھی تحفظ ہو سکے۔
ساری دنیا میں مسلمانوں کی ایک زبردست اکثریت نہ قادیانیت کو اسلام سمجھتی ہے اور نہ ان کو مسلمان مانتی ہے۔ آئیے دیکھیں کہ قادیانیوں کے خلاف دنیا کے مسلمانوں کے اس مؤقف کی حمایت یا مخالفت میں کیا کیا دلیلیں پیش کی جاسکتی ہیں:
بچپن میں میری تربیت کچھ ایسے ماحول میں ہوئی تھی کہ ہند و پاکستان کے قادیانی تبلیغی مشنوں کو میں عزت کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔ یہ مشن ہماری دینی سرگرمیوں کی نگرانی اور رہنمائی کرتے تھے، جب یہ جماعتیں ہمارے بزرگوں اور ان کی وساطت سے ہم تک پہنچیں تو اسی اعتماد کی وجہ سے ہم ان کی تمام باتوں پر پورا پورا یقین کر لیتے تھے۔
ان کے وعظ بظاہر قابل عمل معلوم ہوتے تھے اور ان کے استدلال کو ہم نیک نیتی کے ساتھ قبول کر لیا کرتے تھے۔ وہ لوگ مسائل میں اپنے دعوؤں کو ثابت کرنے کے لئے اسلامی کتابوں کا حوالہ دیتے تھے اور ہم اپنے اعتماد کی وجہ سے ان حوالوں کی چھان بین کئے بغیر ہی بے چوں چرا قبول کر لیا کرتے تھے۔
ان کا طریقہ کار یہ تھا کہ وہ ہمیں مسلمانوں کے سوادِ اعظم سے بیگانہ کر دیں جن کی اسلامی طرز زندگی میں وہ کیڑے نکالا کرتے تھے۔ اس طرح اپنے زعم میں وہ قادیانیت کے نام پر ہمارے سامنے حقیقی اسلام پیش کرتے تھے۔
وہ اکثر ہمیں یہ تأثر دیتے کہ تقسیم ملک سے قبل ہندوستان میں اور اس کے بعد پاکستان میں قادیانیوں کو جس شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا وہ قادیانیت کی صداقت کا حتمی ثبوت ہے، کیونکہ کوئی نبی کسی بستی یا اپنے ہی ملک میں آسانی سے قبول نہیں کیا جاتا، یہ دلیلیں بھی ہمیں قابل فہم نظر آتی تھیں۔ اس لئے کہ پر خلوص اعتماد کے ساتھ ہم ان کے پیچھے چلتے رہے۔
اسی اعتماد کے ساتھ ہم نے قادیانی نوجوانوں کی کانفرنس سے ۱۹۷۲ء میں خطاب کیا تھا۔ بعد ازاں کچھ ایسے واقعات رونما ہوئے جن کی روشنی میں مجھے قادیانیوں کے ان دعوؤں کا جو اس وقت تک مقبول ہو چکے تھے از سر نو جائزہ لینا پڑا تا کہ ان کے حوالوں کی مزید چھان بین کی جاسکے۔
میرا مقصد دراصل یہ تھا کہ قادیانیوں کے خلاف روز افزوں مخالفت کے مقابلے کے لئے خود کو مضبوطی کے ساتھ تیار کروں۔ یونیورسٹی کے ایک استاد کی حیثیت سے مجھے اس بات کا پورا پورا احساس تھا کہ قادیانیت کی حمایت میں جو اعلانات کرتا رہتا ہوں ان کیلئے یہ ضروری ہے کہ وہ مستند اسلامی کتب حوالہ جات پر مبنی ہوں، مگر قادیانی تبلیغی مشن کے حوالہ جات کی اس چھان بین کے مایوس کن نتائج برآمد ہوئے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اللہ تعالیٰ اور انسانوں دونوں کے سامنے مجھے اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ ان کے دعوؤں اور ان کی مفروضہ مقاصد کی خود انہیں کی خاطر میں نے جتنی زیادہ چھان بین کی اتنی ہی وضاحت سے مجھ پر منکشف ہوا کہ قادیانی تبلیغی مشن دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک رہا ہے اور اپنے بہت سے متبعین کی لاعلمی سے ناجائز فائدہ اٹھا رہا ہے۔
اکثر ایسے مصنفین کا حوالہ دیتے ہیں جو کھل کر قادیانی عقائد کے خلاف ہیں۔ مگر یہ حوالے چالاکی کے ساتھ ایسے طور پر پیش کئے جاتے ہیں کہ محسوس ہو کہ یہ مصنفین قادیانی عقائد ہی کی حمایت کر رہے ہیں۔ ایک قاری اور حقیقت حال کا متلاشی یہ بات صرف اسی وقت محسوس کر سکتا ہے۔ جب وہ حوالہ جات کی بنیادی کتابوں کا خود مطالعہ کرے اور ان کے سیاق وسباق کو ذہن میں رکھ کر انہیں پڑھے۔ مثال کے طور پر دعوائے نبوت کی حمایت میں اکثر و بیشتر قادیانی اس حدیث کا حوالہ دیتے ہیں جو محمد رسول اللہ ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے منسوب کی جاتی ہے کہ ”کہو کہ آپ ﷺ نبیوں کی مہر ہیں یہ نہ کہو کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔“
یہ بات قابل ذکر ہے کہ رسول خدا ﷺ اور آپ ﷺ کی زوجہ مطہرہ رضی اللہ عنہا کی طرف منسوب یہ حوالہ صحاح ستہ یعنی، بخاری، مسلم، ابوداؤد، ابن ماجہ، ترمذی، نسائی، امام مالک کی موطا یا مسند امام ابن حنبل یا مشکوٰۃ المصابیح وغیرہ حدیث کی ایسی کتابوں میں موجود نہیں ہے جو عالمی سطح پر مانی ہوئی حدیث کی کتابیں ہیں۔
قادیانیوں کے یہاں غیر مستند حدیث بڑی گرانقدر سمجھی جاتی ہے۔ اس لئے مستند احادیث کو سامنے رکھ کر ہمیں اس کا جائزہ لینا چاہئے، یہ بات ذہن میں رہے کہ قادیانی جماعت غیر مستند حدیث کا حوالہ صرف یہ ثابت کرنے کے لئے دیتی ہے کہ ”خاتم النبیین“ سے مراد نبی آخر الزمان نہیں ہیں۔
ان کلمات کی تشریح رسول اللہ ﷺ نے مثال کے ذریعے واضح فرمائی ہے جو مسلم، فضائل ۲۶ میں موجود ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میری مثال مجھ سے پہلے انبیاء کے ساتھ ایسی ہے جیسے کسی شخص نے گھر بنایا اور اس کو بہت عمدہ بنایا اور آراستہ و پیراستہ کیا مگر اس کے ایک گوشہ میں ایک اینٹ کی جگہ تعمیر سے چھوڑ دی۔ پس لوگ اس کے دیکھنے کو جوق در جوق آتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں اور کہتے جاتے ہیں کہ یہ ایک اینٹ بھی کیوں نہ رکھ دی گئی تاکہ (مکان کی تعمیر مکمل ہو جاتی ) چنانچہ میں نے اس جگہ کو پر کیا اور مجھ سے قصر نبوت مکمل ہوا اور میں ہی خاتم النبیین ہوں (یا) مجھ پر تمام رسل ختم کر دیئے گئے۔“
مذکورہ حوالہ جات اور دوسری مستند احادیث سے یہ بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ خاتم النبیین کا مفہوم خود رسول اللہ ﷺ کے نزدیک بھی یہی تھا کہ آپ افضل الانبیاء اور اللہ کے سارے نبیوں میں سب سے آخری نبی تھے اور آپ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے۔ یہی وہ سبب ہے جس کی وجہ سے قرآن کریم نے محمد ﷺ کو خاتم النبیین کے لقب سے یاد کیا ہے اور اس پر قرآن مجید کا واضح اعلان موجود ہے: ”محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے ختم پر ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔“
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آپ کے خاتم النبیین ہونے کا ذکر اس بات سے کیا تعلق رکھتا ہے کہ آپ ﷺ کا کوئی فرزند باقی نہ رہے گا۔ مفسرین نے یہ بیان کیا ہے کہ آپ کے سید الانبیاء ہونے کے باوجود آپ کے فرزند کا منصب نبوت پر فائز نہ ہونا آپ ﷺ کی عظمت شان کے مناسب نہ تھا اور ادھر اللہ تعالیٰ کو آپ ﷺ کے بعد کوئی اور نبی بھیجنا نہیں تھا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کی یہی مرضی تھی کہ آپ کی کوئی نرینہ اولاد باقی نہ رہے۔ چنانچہ آپ ﷺ کے یہاں کسی فرزند کا زندہ نہ رہنا بھی اس بات کی بین دلیل ہے کہ آپ خاتم النبیین ہیں۔ (مترجم)
چونکہ قادیانیوں کے ذہن پر ہمیشہ سے یہ خیال مسلط رہا ہے کہ ہر قیمت پر مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت ثابت کی جائے، اس لئے
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
یہ لوگ نہایت عجیب وغریب طور پر اور بے شرمی اور ڈھٹائی کے ساتھ اپنے اس مقصد کی حمایت میں قرآن پاک کی بعض آیتوں کے معنی اور تفسیر، توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں۔ اس قسم کی ہیر پھیر انہوں نے قرآنی آیت ’’ومن يطع الله والرسول‘‘ کے ترجمہ میں کی ہے وہ کہتے ہیں ’’اور جو کوئی اللہ اور اس کے اس نبی کی اطاعت کرتا ہے۔‘‘ اس آیت کے جن کلمات کا ترجمہ قادیانی مشن ’’اور اس کے اس نبی‘‘ کی شکل میں کرتے ہیں وہ قرآن کے عربی متن میں ’’والرسول‘‘ ہیں جن کے معنی ہر اعتبار سے صرف ’’اور رسول‘‘ ہی ہو سکتے ہیں۔ ان کے کوئی اور معنی ہو ہی نہیں سکتے۔ قرآن کے سیاق و سباق سے انحراف کرتے ہوئے (قادیانی) تبلیغی مشن نے جو ترجمہ فی الواقع کیا ہے وہ ان عربی کلمات کے ہو سکتے ہیں۔ ’’ورسوله هذا‘‘ یعنی اس کا یہ رسول اگر نام نہاد تبلیغ مشن کی اس کرتوت کا اس کے منطقی نتیجہ تک پیچھا کیا جائے تو اس کے معنی یہی نکلیں گے کہ قرآن میں اپنی طرف سے اضافہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور بلاشبہ اسلامی نقطہ نظر سے یہ ایک سنگین جرم ہے۔ اس لئے کہ اگر صرف قادیانیوں کے ترجمہ کو شائع کیا جائے تو ان کلمات کی حد تک یہ ترجمہ متن سے بالکل مختلف ہو جائے گا۔
کیا ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ نائیجیریا اور دوسرے افریقی ممالک کے مسلمان جو قادیانی مشن کی رفاقت کا دم بھرتے ہیں اپنی اس رفاقت پر نظر ثانی کریں۔ اگر وہ واقعی دل سے اس اسلام سے دلچسپی رکھتے ہیں، جس سے رسول اللہ ﷺ نے دنیا کو روشناس کرایا۔
قادیانی مشن نے اس آیت شریفہ کے صرف ابتدائی حصہ میں اس لئے اضافہ کیا ہے کہ اپنے غلط ترجمہ کے ذریعہ پوری آیت سے اس کی چول ملا کر اسے اپنی غرض سے ہم آہنگ کر دیں پوری آیت کا ترجمہ یوں ہے : ’’اور جو شخص اللہ اور رسول ﷺ کا کہنا مانے گا تو ایسے اشخاص بھی ان حضرات کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا ہے یعنی انبیاء کرام اور صدیقین اور شہداء اور صلحاء اور یہ حضرات بہت اچھے رفیق ہیں۔‘‘
(النساء: ۶۹)
اس آیت کی غلط تفسیر پیش کر کے قادیانی کہتے ہیں کہ خدا اور رسول کی اتباع کر کے کوئی شخص نبوت کے اعلیٰ منصب پر فائز ہو سکتا ہے، وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ایسے جو بھی نبی محمد ﷺ کے بعد مبعوث ہوں گے ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ آپ ﷺ کی شریعت پر اور قرآن پر عمل کریں، کیونکہ ان کو یہ روحانی مرتبہ براہ راست نہیں ملے گا۔ بلکہ محمد ﷺ کی اتباع کے طفیل میں ہی ملے گا۔
اس غلط تفسیر کرنے کا سبب صرف یہ ہے کہ اس متفقہ رائے کے خلاف، جس پر مسلمانوں کی زبردست اکثریت کا اجماع ہے اور جس میں خود محمد ﷺ کی رائے مبارک بھی شامل ہے۔ یہ ثابت کیا جا سکے کہ مرزا غلام احمد قادیانی بھی اللہ کے ایک رسول اور نبی تھے (نعوذ باللہ) یہ بات عجیب معلوم ہوتی ہے کہ قادیانی مشن نے دنیا والوں کو اس تفسیر سے آگاہ کیوں نہیں کیا جو قرآنی الفاظ کی مستند قاموس کی روشنی میں کی گئی ہے، مثلاً مفردات راغب یا اس کی روشنی میں جو قرآن و حدیث مفسرین ومحدثین کی مشہور و معروف کتابوں میں منقول ہے۔ قادیانی یقیناً اس تفسیر سے انکار نہیں کر سکتے جس کو اسلامی علوم اور تفسیر قرآن کے مستند علماء اس آیت کے بارے میں آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے احاطہ تحریر میں لا چکے ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پر بحث کرتے ہوئے ابن کثیر (بیروت ایڈیشن ۱۹۶۹ء جلد اول ص ۵۲۲) پر لکھتے ہیں: ’’جو کوئی بھی اللہ اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے احکام پر چلتا ہے اور ان چیزوں سے بچتا ہے جس سے اللہ اور اس کے رسول نے منع کیا ہے تو اللہ سبحانہ تعالیٰ اس کو اپنے عالی شان محل میں ان لوگوں کے ساتھ رکھے گا جن پر اس نے انعام فرمایا اور ان کو رفاقت عطا فرمائے گا نبیوں کی، پھر ان کے بعد مذکورہ صدیقین کی، پھر شہدا کی اور مومنوں کی جو متقی ہیں اور جو چھپ چھپ کر اور اعلانیہ نیک عمل کرتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ ان کی تعریف یوں بیان فرمائے گا : ’’یہ بڑی اچھی رفاقت میں ہیں۔‘‘
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حدیث کی بہت سی کتابیں مثلاً : مسلم، مسند احمد بن حنبل وغیرہ کی روایات میں اس واقعہ کا ذکر موجود ہے جو اس آیت کا شان نزول ہے۔ مدینہ کے انصار میں سے ایک شخص محمد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے جن کا چہرہ اداس تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے اداسی کا سبب دریافت فرمایا:
- ۞ ...... اے رفیق میں کیوں تمہیں اداس دیکھتا ہوں؟
- ۞ ...... اے اللہ کے رسول میں ایک سوچ میں پڑ گیا ہوں؟
- ۞ ...... وہ کیا ہے؟
ہم لوگ رات دن آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے رہتے ہیں، آپ کے روئے مبارک کو دیکھتے ہیں اور آپ کی صحبت سے مشرف ہوتے ہیں شاید کل قیامت کو آپ نبیوں کے پاس اٹھ جائیں اور آپ تک ہماری رسائی نہ ہو سکے۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں کوئی جواب نہ دیا، پھر جبرئیل علیہ السلام وحی میں آیت لائے اور فرمایا کہ : ”وہ لوگ جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرتے ہیں روز قیامت انبیاء وغیرہم کے ساتھ ہوں گے۔“ یہ ہے آیت کا شان نزول اور اس کی سیدھی سادھی تفسیر۔ یہ اتنی واضح ہے کہ کسی مزید تشریح کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔
میری صرف یہی خواہش ہے کہ قادیانی حضرات مناسب انداز میں اس پر غور و خوض کریں اور ان مذہبی عقائد کو مسترد کر دیں جن کے جال میں ان کے مبلغین نے بڑی کامیابی کے ساتھ انہیں پھنسا رکھا ہے۔
یہ امر مسلم ہے کہ کوئی شخص یا ایک جماعت جمہور کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دھوکہ میں نہیں رکھ سکتی ، کسی نہ کسی دن اس فریب کی قلعی کھل جائے گی، نائیجیریا کے قادیانیو ! ذرا غور کرو اور نظر ثانی کرو ( اپنے گمراہ کن عقائد پر ) اب رہی بات اس قرآنی آیت کی : ” یٰبنی آدم اما یاتینکم رسل منکم یقصون علیکم آیتی فمن اتقی واصلح فلا خوف علیہم ولا ہم یحزنون (الاعراف: ۳۵) “
قادیانی مشن نے اپنے حوالہ میں جو اس کا ذکر کیا ہے تو وہ بھی سیاق و سباق سے بالکل ہٹ کر غلط تفسیر بیان کی ہے ایک کہانی ہے جس مقصد صرف یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے اس غلط نظریہ کی پشت پناہی کریں کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد بھی سلسلہ نبوت جاری ہے۔
قرآن کی تکذیب اور معنوی تحریف کے ساتھ ساتھ قادیانیوں کا ایک دوسرا عقیدہ یہ بھی ہے کہ وہ مسلمانوں کی نماز جنازہ میں شریک نہ ہوں ، قرآن کی مخالفت کے علاوہ یہ عقیدہ محمد رسول اللہ ﷺ کے ایک حکم کی بھی مخالفت کرتا ہے۔ ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا یہ قول جو ابن ماجہ، الفتن ۲۸۷۲، ۲۸۷۴، ۳۵۷۱ اور ۳۸۲ میں مروی ہے یوں آیا ہے کہ : ”میری امت کا اجماع غلطی پر نہیں ہو گا تم معشر المسلمین پر سواد اعظم کے فیصلوں پر عمل کرنا واجب ہو گا جس شخص نے ایک بالشت کے برابر بھی امت سے کنارہ کشی اختیار کی تو اس نے گویا اسلام کے حلقے کو اپنی گردن سے اتار پھینکا۔“ یہ حدیث بھی حقیقتاً اس قدر واضح ہے کہ کسی تشریح کی ضرورت نہیں ہے۔ قادیانیوں کا ایک عقیدہ یہ بھی ہے کہ اپنی لڑکیوں کی شادی مسلمانوں میں نہ کریں، یہ بھی اسی ضمن میں آتا ہے، اپنے اس عقیدہ کی حمایت میں وہ اسلام کے اس حکم کا حوالہ دیتے ہیں کہ مسلمان عورتوں کی شادی غیر مسلموں کے ساتھ نہیں کرنی چاہئے۔ اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ قادیانی لوگ مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہیں ۔ اس عقیدہ کا جواز صرف اسی صورت میں پیش کیا جاسکتا ہے جب کہ قادیانیت کو ( غیر احمدی ) اسلام سے بالکل ہی مختلف مذہب قرار دیا جائے ورنہ بصورت دیگر یہ عقیدہ بالکل ہی ناجائز اور نا قابل دفاع ہو جاتا ہے۔ ایسی صورت میں اگر سعودی عرب کی حکومت یا کوئی اور حکومت قادیانیت کو غیر اسلام اور قادیانیوں کو غیر مسلم سمجھتی ہے تو کون ہے جو اس حقیقت کو مان لینے کے بعد بھی آسانی سے ان حکومتوں کو مورد الزام ٹھہرائے گا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیانیوں کی ایک دوسری خصوصیت جو انہیں مسلمانوں سے الگ تھلگ کر دیتی ہے ان کی وہ چال بازی ہے جس کے ذریعہ سے وہ اپنے آپ کو مسلمانوں پر مسلط کرتے ہیں۔ یہ جانتے ہوئے کہ مسلمان ان کو منہ نہیں لگاتے وہ اپنی جماعت کے تعلیم یافتہ ارکان حکومت کی کلیدی اسامیوں پر فائز کرانے کی کوشش کرتے ہیں اور ایسے افراد کی وساطت سے اسلام کے نام پر قادیانیت کے مفاد میں پوشیدہ طور پر بالواسطہ سرگرم عمل رہتے ہیں۔
میرا خیال ہے کہ قادیانی حضرات کے لئے اب وہ وقت آگیا ہے کہ دنیا کے سامنے اپنا موقف ظاہر کر دیں کہ وہ مسلمان نہیں ہیں۔ اگر وہ خود کو مسلمان سمجھتے ہیں تو ان کو مسلمانوں کی اجماعی رائے پر عمل کرنا ہوگا اور محمد ﷺ کے بعد کسی نبی تابع کے خیال سے دست بردار ہونا پڑے گا اور دیگر باطل جھوٹے عقائد کو بھی یکسر چھوڑنا ہوگا۔ انہیں اسلام کو مستحکم اور متحد کرنے کے لئے دوسرے مسلمانوں کے دوش بدوش کام کرنا ہوگا۔ وہ اس فریضہ کو دوسرے مسلمانوں سے مل جل کر ہی بخوبی انجام دے سکتے ہیں، بجائے اس کے کہ وہ اپنے گمراہ کن عقیدوں اور طرز عمل کے ذریعہ انہیں الگ تھلگ کر دیں۔ بخلاف اس کے اگر قادیانی کسی مخصوص جماعت سے تعلق رکھتے ہیں اور یورپ کی پیداوار ہیں تو انہیں چاہئے کہ دوسرے مسلمانوں سے الگ رہیں اور اپنے امتیازی نشان کا اعلان کر دیں تاکہ جو لوگ قادیانیت اختیار کریں ان کو شروع سے ہی اس بات کا علم ہو جائے کہ وہ ایک نئے مذہب میں داخل ہورہے ہیں، بجائے اس کے کہ وہ غلط فہمی میں مبتلا رہیں کہ وہ مسلمان ہیں۔
قادیانیت کے نام کو چمٹائے رکھنے کے لئے یہ عذر کافی نہیں ہے کہ ایک طبقہ غلام احمد کو صرف مجدد مانتا ہے، اس کا سبب یہ ہے کہ (اگر انہیں مجدد فرض بھی کر لیا جائے تو) اسلام میں صرف یہی ایک صاحب مجدد نہیں ہوئے ہیں۔ مختلف اوقات میں بہت سے مصلحین اسلام غلام احمد سے قبل آچکے ہیں اور ان میں سے ہر ایک نے اسلام کی مجموعی ترقی کے لئے خصوصی فرائض انجام دیئے ہیں۔ مگر ان میں سے کسی نے بھی نبوت کا دعویٰ نہیں کیا، اسلام نے ایسی کوئی شرط عائد نہیں کی ہے کہ کوئی مصلح اپنی ایک خاص جماعت بنا کر اس کا کوئی خاص نام رکھ دے۔ غلام احمد سے قبل کبھی کسی سابق مجدد نے ایسا نہیں کیا، مثلاً اسلام کے سب سے رفیع الشان مصلح حضرت امام غزالی تھے، انہوں نے کبھی کسی خاص نام سے کوئی خاص جماعت نہیں بنائی (اس کے علاوہ اسلام کے کسی مجدد یا مصلح نے کبھی خود یہ دعویٰ نہیں کیا کہ اللہ نے اسے مجدد یا مصلح بنا کر بھیجا ہے یہ لقب تو ان کی زندگی میں یا وفات کے بعد دینی خدمات کے اعتراف میں جمہور اسے دیتی ہے، جو شخص خود اس قسم کا دعویٰ کرے اور اپنی مجددیت کا ڈھنڈورا پیٹے وہ یقیناً کوئی فریبی ہی ہو سکتا ہے۔ مترجم)
میں اس سے بخوبی واقف ہوں کہ جہاں تک نائیجیریا اور دوسری جگہ مثلاً لاہوری قادیانیوں کا تعلق ہے۔ وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ غلام احمد صرف ایک مجدد یا مصلح تھے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ مسلمان، دونوں جماعتوں میں کوئی فرق نہیں کرتے یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب کی حکومت بھی ان دونوں کے ساتھ یکساں معاملہ کرتی ہے، اور اپنے اس موقف کی یہ دلیل پیش کرتی ہے کہ اگر ان دونوں جماعتوں کے درمیان کوئی معتد بہ فرق ہے تو یہ دونوں ایک ہی مشترک نام یعنی ”احمدیت“ سے کیوں موسوم ہیں، سارے قادیانیوں کے نزدیک ”احمدیت (یا احمدی) کا نام بانی قادیانیت یعنی غلام احمد کے نام پر ہی رکھا گیا ہے تاہم ایک دوسرے نام ”قادیانی“ سے بھی یاد کرتے ہیں جو مرزا غلام احمد کی جائے ولادت ہندوستان کے قصبہ قادیان سے منسوب ہے۔“
قادیانی اسے پسند کریں یا نہ کریں قادیانیت یا تو معدوم ہو کر صرف تاریخ کی کتابوں میں باقی رہ جائے گی یا کسی مذہب کی شکل میں تبدیل ہو جائے گی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
(لاہوری جماعت یہ دعویٰ کرتی ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے کبھی دعوائے نبوت نہیں کیا بلکہ قادیانی جماعت نے غلام احمد کی تحریروں میں تحریف کر کے انہیں مدعی نبوت بنا دیا۔ اگر اسے صحیح فرض کر لیا جائے تو ایک جماعت دوسری جماعت کے نزدیک کافر ہوگئی۔ بایں ہمہ کسی جماعت نے دوسری جماعت کے خلاف کفر کا فتویٰ نہیں صادر کیا، اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں جماعتیں اپنی اپنی جگہ ایک ہی مقصد کی خدمت کر رہی ہیں.... (مترجم)
اگر یہ سچ ہے کہ (بقول قادیانیوں کے) کہ قادیانیت عین اسلام ہے تو کیا وجہ ہے کہ قادیانی مسلمانوں کے درمیان قادیانیت کی تبلیغ کرتے پھرتے ہیں، کیا اس تبلیغی مہم سے ظاہر نہیں ہوتا کہ قادیانیت بذات خود ایک الگ مذہب ہے؟ اگر قادیانیت کوئی نیا مذہب نہیں ہے تو ان کے مبلغ اپنے قادیانیوں کو یہ سبق کیوں پڑھاتے ہیں کہ ”جب کبھی کوئی احمدی کسی نئی جگہ جائے اور آس پاس کوئی دوسرا احمدی نہ پائے تو اس وقت تک اکیلا ہی نماز پڑھتا رہے جب تک کہ دوسروں کو احمدی نہ بنالے، اور پھر بعد میں ایسے ”نو احمدیوں“ کے ساتھ باجماعت نماز کا اہتمام کرے“۔ یہ ہیں وہ سوالات جو قادیانیت کے بارے میں ذہن میں ابھرتے ہیں۔
میری تمنا ہے کہ نائیجیریا اور دیگر ممالک کے قادیانی غور و فکر کریں اور قادیانیت کے ساتھ اپنی وابستگی پر نظر ثانی کریں اگر وہ واقعی حقیقی اسلام سے دلچسپی رکھتے ہیں تو گرہ باندھ لیں کہ اس سوال کا جواب ”قادیانیت“ نہیں ہے۔
اگر میرا مؤقف غلط ثابت ہو جائے تو میرے والد مجھے مردود اور عاق کردیں، اجتماعی طور پر قادیانی مجھ پر لعنت بھیجیں اور مجھے سولی پر چڑھا دیں۔ بخلاف اس کے اگر میرا موقف درست ثابت ہو جائے تو نائیجیریا کے سارے قادیانیوں پر جن میں میرے خونی رشتہ دار بھی شامل ہیں، واجب ہوتا ہے کہ (قادیانیت کے ساتھ) اپنے تعلق پر نظر ثانی کریں اور جیسا کہ میں نے خود کیا ہے، اللہ عزوجل کے حضور خشوع و خضوع کے ساتھ دست بدعا ہوں کہ اللہ انہیں سچے اسلام کی راہ دکھائے اور اس پر گامزن ہونے کی انہیں توفیق دے۔ ”والسلام على من اتبع الهدى (طہ:۴۷)“
اخیر میں نہایت سنجیدگی اور خلوص کے ساتھ میں ان سب لوگوں سے جو اسلام کی سچی محبت اور تلاش میں اب تک قادیانیت سے چمٹے ہوئے ہیں اپیل کرتا ہوں کہ وہ اچھی طرح یہ سمجھ لیں کہ کسی اعتبار سے بھی قادیانیت اسلام نہیں ہے، یہ حقیقت ہے کہ اس کے بانی نے اس کو (قادیانیت) کا نام دیا اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ شروع سے (اسلام سے جدا) یہ ایک نیا مذہب رہا ہے۔ علاوہ بریں قادیانیوں کے چند بنیادی عقائد اور اعمال قادیانیت کو اسلام سے بالکل جدا کر دیتے ہیں۔ مجھے اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ ہر شخص اس معاملہ میں آزاد ہے کہ وہ اپنی پسند کے مطابق عمل کرے، بلاشک و شبہ یہ قانونی قواعد و ضوابط اور بنیادی انسانی حقوق کی قرارداد کے عین مطابق ہے۔ بایں ہمہ یہ بات بھی اہم ہے کہ ایک شخص کا ذہن اس کام کے بارے میں بہت صاف ہونا چاہئے جیسا کہ وہ کر رہا ہے، اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ قادیانیت اسلام سے الگ کوئی اور ہی مذہب ہے۔ اس لئے اس کے کٹر پیروؤں کو قرآن کے اس ارشاد کو یاد رکھنا چاہئے اور اس پر غور و فکر کر لینی چاہئے کہ ”جو بھی اسلام کے علاوہ کسی اور مذہب کا طالب ہو تو اس سے وہ مذہب قبول نہیں کیا جائے گا اور آخرت میں وہ خسارہ پانے والوں میں ہوگا۔“
”ومن يتبع غير الاسلام دينا فلن يقبل منه (آل عمران)“ ”قل جاء الحق وزهق الباطل ان الباطل كان زهوقا (بنی اسرائیل)“
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۴ تا ۱۰ / جون ۱۹۹۹ء ۶ تا ۱۱)
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
میں نے قادیانیت چھوڑی (رانا بشیر احمد ، لیہ)
میں ضلع کرنال تحصیل پانی پت کے گاؤں کے مہاجر خاندان کا ایک فرد ہوں۔ ہمارا خاندان ہجرت کے بعد کندیاں ضلع میانوالی میں آباد ہو گیا تھا۔ میں نے وہیں ہوش سنبھالا اور میٹرک تک تعلیم حاصل کی ۔ یہاں ہمیں ایک دکان، مکان الاٹ ہوئے جو ہمارے بھائی بندوں نے ہتھیا لئے جس کے بعد ہم شور کوٹ چلے گئے ۔ میں نے یہاں ۱۹۶۶ء میں محکمہ افواج کی ایم ایم بٹالین میں ملازمت اختیار کر لی۔ میں بطور ایم ٹی ڈرائیور بھرتی ہوا، میں نے اس وقت تک قرآن شریف نہیں پڑھا تھا اور نہ ہی مجھے کچھ مذہب کے متعلق معلومات تھیں، بھرتی ہو کر کوئٹہ سینٹر گیا، قسم پریڈ کے بعد پہلی پوسٹنگ کھاریاں چھاؤنی میں ہوئی، یہاں کے کمپنی کمانڈر میجر زیڈ اے خان قادیانی تھے۔ میں ان کا بٹ مین بن گیا۔ یہ صاحب وہاں نزدیک قادیانی عبادت گاہ میں جاتے اور مجھے بھی ساتھ لے جاتے وہ مجھے آہستہ آہستہ قادیانی لٹریچر دیتے رہے میں پڑھتا رہا آخر کار ۶۰۱ کمبائنڈ ملٹری ورکشاپ میں تعیناتی ہوئی تو کراچی صدر کے قادیانی ہال میں بیعت ہو گیا یہ ۱۹۶۸ء کا واقعہ ہے دن گزرتے گئے، آخر کار میں چھٹی پر گھر آیا، ایک رشتہ دار سے میری شادی ہو گئی میں نے کوارٹر منظور کرالیا اور اہلیہ کو ساتھ لے آیا، میری بیوی گو ان پڑھ تھی، لیکن مذہب کے متعلق پکی تھی اسے پتہ چلا کہ میں قادیانی ہوں تو اس نے میرے ساتھ رہنے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ میں مسلمان ہوں مسلمان کے گھر پیدا ہوئی نہ تمہیں مرزائی رہنے دوں گی اور نہ خود مرزائیت قبول کروں گی ، معاملہ بڑھتا گیا تو میں اسے گھر چھوڑ آیا، میرے والدین پر میری قادیانیت کا بھید کھل گیا۔ وہ ان پڑھ ضرور ہیں لیکن مذہب میں وہ بھی پکے ہیں، انہوں نے مجھے گھر سے نکال دیا، مجھ پر قادیانیت کا بھوت بری طرح سوار تھا۔ اتنا کچھ ہونے کے بعد بھی ضد پر اڑا رہا آخر مجبور ہو کر میری بیوی بچے میرے پاس واپس آگئے ، تاہم والدین بدستور ناراض ہی رہے ادھر میں فوج سے سبکدوش ہو گیا۔ آخر کار ضلع مظفر گڑھ قادیانی جماعت کے امیر کیپٹن ڈاکٹر محمد اقبال کو میں نے خط لکھا اور ساری صورت حال سے آگاہ کیا۔ انہوں نے مجھے کرایہ بھیج کر اپنے پاس مظفر گڑھ بلا لیا، مکان کا بندوبست بھی کر دیا اور ملازمت کے لئے محکمہ جیل میں سپاہی بھرتی کرانے میں کیپٹن ڈاکٹر محمد اقبال لائن سپرنٹنڈنٹ واپڈا چوہدری عبدالغنی اور ایس ڈی او واپڈا محمد طارق جو لیہ میں ایس ڈی او رہے ہیں، خصوصی دلچسپی لی، میرا ملازمت میں اچھا ریکارڈ ہے یہاں تک کہ صوبہ پنجاب کی جیلوں میں گورنر سلامی پریڈ ہوئی تو مجھے سرٹیفکیٹ ملے، جو میرے پاس موجود ہیں، جیل کا عملہ مسلمان تھا میری راجپوت برادری کے بھی بہت سے لوگ موجود تھے ، ان سب کا اصرار تھا کہ بشیر اتنی اچھی سروس ہے لیکن ایک قادیانی والی خامی تیرے اندر موجود ہے خاص طور پر لائن سپرنٹنڈنٹ چوہدری یعقوب بھی مجھے یہی کہتے کہ اس قادیانیت والے غلط راستے سے بچو، میں مجبور تھا کہ اگر قادیانیت چھوڑتا ہوں تو قادیانی مجھے مارتے اور کوئی تحفظ نہ ملتا۔ تاہم قادیانیت سے متعلق آرڈی نینس آیا میں نے جیل سے چار دن کی رخصت لی اور دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور آیا میں نے حاجی بلند اختر نظامی کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا۔ یہ خبر اخبارات میں شائع ہوئی لاہور ” شاہو گڑھی“ میں قادیانیوں کا مرکز ہے یہاں قادیانیوں کے نائب امیر فتح محمد اور بدر صاحب اور ان کے کارکنوں سے ہمارا جھگڑا ہو گیا ، وہاں کے کچھ مسلمان دوستوں نے ہمیں مظفر گڑھ پہنچایا۔ یہاں جس قادیانی ڈاکٹر نے مجھے بھرتی کرایا تھا چوہدری محمد یعقوب سے کچھ بات کر کے مجھے ملازمت سے ان فٹ قرار دے کر ڈسچارج کرا دیا۔ میں نے ملازمت کی بحالی کے لئے بہت کوشش کی لاہور مرکزی دفتر گیا، لیکن کامیابی نہ ہوئی۔ رہائش کا مسئلہ پیدا ہوا تو میں نے بادامی باغ میں جھگی بنالی، یہاں پھر لاہور کے قادیانی مجھے پریشان کرنے لگے، آخر لاہور (کے اس وقت
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کے ) ختم نبوت کے مبلغ مولانا کریم بخش مجھے علی پور لے گئے، یہاں روزگار کی وجہ سے زیادہ دیر قیام نہ کر سکا اور لیہ میں آکر مستری کا کام شروع کر دیا۔ چالیس دن کے بعد یہاں کے قادیانیوں نے میرے ساتھ شرارتیں کرنا شروع کر دیں اور زدوکوب کرنا شروع کر دیا، میں اپنے مسلمان بھائیوں سے عرض کرتا ہوں کہ میری طرح ہزاروں افراد قادیانیت پر لعنت بھیجنے کے لئے میدان میں آ سکتے ہیں لیکن انہیں تحفظ ملنا چاہئے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۱۱ تا ۱۷/ جون ۱۹۹۹ء ص۱۷)
کراچی کے ڈاکٹر عمران شیخ کی قادیانیت سے توبہ
قادیانیت سراسر جھوٹ ہے۔ میں پیدائشی طور پر قادیانی تھا، میرے والد بھی قادیانی تھے۔ میری عمر چھتیس سال ہے۔ میں نے بچپن سے آج تک قادیانیت کو اندر سے دیکھا ہے جس کی بنیاد ہی جھوٹ، فریب اور دھوکہ دہی پر ہے قادیانیت قول و فعل کے تضاد کا نام ہے۔ بظاہر چکنی چپڑی اور مصنوعی اخلاق سے مسلمانوں کو ورغلا کر قادیانی بنایا جاتا ہے، قادیانیت اندر سے کھوکھلی ہو چکی ہے۔ میں نے بغیر جبر واکراہ کے بخوشی دین اسلام کو حق جانتے ہوئے اور نبی محمد عربی ﷺ کو آخری نبی سمجھتے ہوئے، دین اسلام قبول کیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار نومسلم ڈاکٹر عمران شیخ نے کیا۔ جنہوں مورخہ ۲۹/ مئی ۱۹۹۹ء کو دفتر عالمی مجلس ختم نبوت پرانی نمائش کراچی میں حضرت مولانا نذیر احمد تونسوی صاحب کے دست حق پرست پر اسلام قبول کیا۔ اس موقع پر حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ نے نومسلم کے لئے دعائے استقامت کی اور مبارک باد دی جب کہ حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی، حضرت مولانا بشیر احمد، مولانا محمد اشرف کھوکھر، مولانا محمد علی صدیقی، مولانا عبدالعزیز لاشاری، جناب محمد انور رانا، حاجی عبداللطیف اور حاجی سید اطہر عظیم وقار اور دیگر دفتر ختم نبوت کراچی کے عملہ کے افراد نے نو مسلم کو قادیانیت سے تائب ہو کر قبول اسلام پر مبارکباد پیش کی اور موصوف کے لئے اسلام پر قائم رہنے کی دعا کی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۹ تا ۱۵/ جولائی ۱۹۹۹ء ص۲۱)
ضلع کشن گنج (بہار، انڈیا) میں تیرہ افراد کی قادیانیت سے توبہ
فروری ۱۹۹۹ء میں دارالعلوم بہادر گنج بہار میں چار روزہ تربیتی کیمپ اور کانفرنس زیر اہتمام مجلس تحفظ ختم نبوت قدیم پورنیہ کا انعقاد ہوا تھا۔ اس کے مفید نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ چنانچہ موضع سرائے کوری ضلع کشن گنج میں ۸/ افراد نے قادیانیت سے تائب ہو کر دوبارہ اسلام قبول کیا ہے جن کے نام یہ ہیں: ”محمد تصنیف حسین، محمد یونس، شمشاد عالم، محمد مسلم، مجیب الرحمن، عبدالقیوم، محمد قربان علی، مہربان علی۔“ موضع بنگواں لوہا گاڑا ضلع کشن گنج میں پانچ افراد بھی قادیانیت سے تائب ہوئے ان کے نام یہ ہیں: ”اصل الدین، محمد انوار عالم، سفو میاں، اسرار الحق، محمد فراز۔“
موضع بارہ متی کے غیاث الدین صاحب کے لڑکے اس ماہ میں قادیان سے واپس آنے والے ہیں، تربیتی کیمپ اور کانفرنس سے الحمدللہ پورے علاقہ میں قادیانیت کا مکروہ چہرہ مسلمانوں کے سامنے آ گیا ہے اور بیداری کی اس مہم کو باقی رکھنے کے لئے اکثر علماء جمعہ کی تقریروں میں اس موضوع پر بھی گفتگو کرتے ہیں۔ ضلع ارریہ، کشن گنج، پورنیہ اور کٹیہار کا پروگرام بنایا ہے اور ایک مرتبہ چاروں اضلاع میں پروگرام کر چکا ہے۔ علماء کرام رد قادیانیت کے کام میں تعاون کر رہے ہیں۔ ان حضرات کی ایک میٹنگ جلد ہی کرنے کا ارادہ ہے۔ برسات کے بعد چند مقامات پر تحفظ ختم نبوت کے عنوان پر اجلاس منعقد ہوں گے، جن میں کل ہند تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند کی طرف سے علماء کرام کی تشریف آوری ضروری ہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۲۰ تا ۲۶/ اگست ۱۹۹۹ء ص ۲۶)
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
صابر حسین (سابق قادیانی) کا تجدید ایمان ونکاح
قادیانی غیر مسلم اقلیت کے افراد ارتداد کے جال میں مسلم نوجوانوں کو گرفتار کرنے کی کوششوں میں اپنے پرانے حربوں زن، زر زمین اور نوکری، چھوکری کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں، اسی ارتدادی سرگرمیوں کے سلسلہ میں پشاور کے علاقہ ہشت نگری کا سعید نامی دکاندار جس نے دکانداری کی آڑ میں قادیانیت کے پرچار کا اڈہ کھول رکھا ہے علاقہ کے نوجوانوں کو سیر کے بہانے چناب نگر کی قادیانی چڑیلوں کو درشن کرانے اپنے ہمراہ لے کر گیا، چناب نگر میں مسلم نوجوانوں نے کیا دیکھا اور کیا کیا؟ اس کے متعلق جانے والوں یا پھر لے جانے والوں کو علم ہوگا ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔ لیکن ”تاریخ محمودیت“ کے صفحات اس کے گواہ ہیں کہ چناب نگر کے مرزائی خلیفہ کے قصر غلاظت کی طرح وہاں دن سوتے اور راتیں جاگتی ہیں۔ بقول ایک مرزائی کے جس کا ذکر آنجہانی مرزا محمود نے اپنے خطبہ میں کیا اور الفضل نے اسے شائع کیا اور مسلمانوں کو خبر ہوئی کہ مرزائی کہتا نہیں بلکہ لکھتا ہے کہ: ”مرزا غلام احمد کبھی کبھی زنا کرتا تھا اور مرزا محمود ہر وقت زنا کرتا ہے“ اس ہر وقت کے زنا پر تجھ پر اعتراض ہے واہ مرے مرزائی عقل کے اندھے بڑے کے زنا پر اعتراض نہیں؟ چھوٹا تو اس ہی سے سیکھ کر اس پر عمل کرے گا۔ آنجہانی مرزا قادیانی سے اس کے بیٹے نے مرزا محمود آنجہانی نے یہی تو سیکھا تھا۔ ”تذکرۃ المہدی“ میں بڑے کی بات ایک مرزائی نے جو لکھی ہے جلی حروف کو چھوڑیئے وہ تو اتنے غلیظ ہیں کہ توبہ ہی بھلی، جو عام رسم الخط میں ہیں وہ کچھ یوں ہیں کہ: ”ایک دفعہ مرزا غلام احمد قادیانی نے زنا کیا اور اس کا......آگے الفاظ کے متعلق قومی اسمبلی کے ۷۴ء کو اسپیکر نے یہ کہہ کر پڑھنے سے انکار کیا کہ ان مرزائیوں کی ذہنیت ہی گندی ہے دفع کرو اور چھوڑو اس کے سوال کو۔“
(تذکرۃ المہدی)
شہر سدوم ”تاریخ محمودیت“ سے اچھی طرح معلومات ملتی ہیں۔ بات پشاور کے قادیانی سعید کی نوجوانوں کو ہمراہ لے کر چناب نگر کی ہے۔ چناب نگر مسلم نوجوانوں میں صابر حسین بھی تھا جو بقول اس کے وہ قادیانیت کے ارتدادی جال میں گرفتار ہو گیا، سعید کے ساتھ مرکز عبادت کے لئے بھی جاتا، ان کے اجلاسوں کی رونقیں بھی بڑھاتا، مرزائیت کا پرچار بھی کرتا، اس طرح پکا قادیانی ہو گیا جس کا اعلان اس نے خود تحریری اسٹامپ پر مجمع عام میں مرزائیت سے تائب ہو کر تجدید ایمان کے موقع پر حاجی ملک غلام صابر خطیب مسجد تقویٰ علاقہ ہشت نگری میں کیا اور تجدید نکاح کے موقع پر بھی تحریراً یہی کچھ کہہ کر مرزائیت کے گندے عقائد سے توبہ کی جس پر ایک سادہ تقریب میں امیر مجلس پشاور جناب مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی نے اس کو مسلمان کیا۔ معززین علاقہ اور گواہوں کی موجودگی میں نکاح پڑھایا، تجدید نکاح کے شرعی فتویٰ کے متعلق بھی صابر حسین نے اپنے مرتد ہونے کا اقرار کرتے ہوئے تائب ہونے کا اعلان تحریر کیا۔ ان تمام تحریری ثبوتوں کے ساتھ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پشاور ناظم اور مرکزی شوریٰ کے رکن مولانا نور الحق نور نے علاقہ پولیس کو تحریری درخواست دی کہ مرزائیت کے پرچار اور مسلمانوں کو قادیانی بنانے کے مجرم سعید احمد قادیانی کے خلاف تعزیرات پاکستان کے مطابق فوری کارروائی کی جائے علاقہ پولیس نے حکام بالا سے مشورہ کے بعد ملزم سعید کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ کرتے ہوئے سعید احمد کو گرفتار کیا اور موقع پر ملزم سے قادیانی لٹریچر، کانے بھینگے مرزا غلام احمد قادیانی، نورالدین اور مرزا محمود وغیرہ کے فوٹو، قرآنی آیات، کلمہ طیبہ لگے ہوئے چارٹ، مرزائی ترجمہ قرآن وغیرہ برآمد ہوئے۔ اس موقع پر علاقہ کے مسلمانوں نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے قائدین ملک حاجی صابر صاحب ان کے رفقاء کا شکریہ ادا کیا کہ ان کی سعی اور کوششوں سے پھر ایک مسلمان نوجوان کو دامن رسول عربی ﷺ سے وابستگی نصیب ہوئی،
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مسلمانوں نے پولیس کی بروقت فوری کارروائی پر علاقہ پولیس کو زبردست خراج تحسین پیش کیا، وکلاء کے ایک وفد نے ایک پینل تشکیل دیتے ہوئے عالمی مجلس پشاور کے قائدین کو بلا معاوضہ ہر قسم کے قانونی تعاون کی پیشکش کی ، اس موقع پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پشاور نے ان تمام مسلمانوں کو مبارک باد دی ، جن کے تعاون سے یہ تمام کارروائی عمل میں لائی گئی تھی۔ مجلس نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان سے اپیل کی کہ مرزائی غیر مسلم اقلیت کی ارتدادی سرگرمیوں سے خبردار ہونے کی اطلاع فوری طور پر مجلس کو پہنچائیں یا پھر فوری طور پر پولیس اسٹیشن پر اطلاع کریں، یہ کام جس قدر جلد کرسکیں کریں، اس میں قطعاً غفلت نہ کریں، نبی کریم ﷺ ہم سب مسلمانوں کے نبی ہیں اور آپ ﷺ کے ناموس اور تاج ختم نبوت کی حفاظت ہم سب کا دینی فریضہ ہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۲۰ تا ۲۶ اگست ۱۹۹۹ء ص ۲۴)
جھڈو (سندھ) قادیانی جماعت کے امیر کا قبول اسلام
جھڈو (نمائندہ خصوصی) گزشتہ دنوں جھڈو ضلع میر پور خاص میں قادیانی جماعت کے امیر مبشر احمد نے اپنے اہل خانہ سمیت حافظ محمد شریف صاحب سرپرست عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جھڈو مہتمم دارالعلوم اسلامیہ کے ہاتھ پر اسلام قبول کرلیا، موصوف مبشر احمد ایک عرصہ سے قادیانی جماعت جھڈو کے امیر چلے آرہے تھے۔ گزشتہ سال سے انہوں نے اسلام کے بارے میں مطالعہ شروع کیا عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہنما مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد علی صدیقی کے درس سننے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے کہ قادیانیت ایک جھوٹا مذہب ہے، اس لئے اپنے پورے خاندان سمیت جن کی تعداد آٹھ ہے اسلام قبول کرلیا۔ (الحمد اللہ) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا محمد علی صدیقی نے ان کو اسلام قبول کرنے پر مبارک باد دی اور اس سلسلہ میں مدرسہ دارالعلوم اسلامیہ جھڈو میں ایک جلسہ بھی ہوا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۱۰ تا ۱۶ ستمبر ۱۹۹۹ء ص ۲۵)
بہاول نگر کے قادیانی خاندان کا قبول اسلام
بہاول نگر کے ایک نیک بخت خاندان نے قادیانیت سے تائب ہوکر اسلام قبول کرلیا ہے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے راہنماؤں نے مبارک باد اور اسلام پر استقامت کی دعا کی۔ بستی سوڈا بہاول نگر کے ایک خاندان کو قادیانیوں نے دو سال قبل اپنے دام تزویر میں پھانس لیا تھا۔ بعد از تحقیق مولانا محمد قاسم رحمانی مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ان کے ہاں پہنچے، قادیانیت کے کفریہ عقائد و عزائم سے آگاہ کیا تو مولانا محمد سعید، حاجی محمد یعقوب اور جناب محمد شفیق صاحب کی موجودگی میں پورے خاندان نے قادیانیت سے توبہ کی اور اللہ کے آخری پیغمبر حضرت محمد ﷺ کی ختم نبوت پر غیر مشروط ایمان لے آئے۔ اس سعادت کے حصول پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں نے نیک بخت خاندان کو مبارک باد دی اسلام پر استقامت کی دعا کی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۲۴ تا ۳۰ ستمبر ۱۹۹۹ء ص ۲۵، ۱۵)
قادیانیت سے تائب
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغین مولانا خدا بخش اور مولانا بشیر احمد نے خان گڑھ کا تبلیغی دورہ کیا۔ پروفیسر محمد ابراہیم صاحب کی معیت میں مبلغین حضرات کی بستی سگو میں قادیانیوں سے گفتگو ہوئی۔ ایک نوجوان بشیر احمد ولد حافظ غلام یاسین گادڑ سکنہ کبیر پور خان گڑھ کے شکوک شبہات کا ازالہ کیا جس کے نتیجہ میں نوجوان بشیر احمد کو قبول اسلام کی سعادت نصیب ہوئی۔ مبلغین حضرات اور اہلیانِ حلقہ نے نوجوان کو مبارک باد پیش کی اور اس کے لئے استقامت فی الدین کی دعا کی گئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۱۹۹۹ء ص ۵۹)
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیانی نوجوان کی قادیانیت سے توبہ اور قبول اسلام
لاہور صہیب احمد عطاء اللہ ۱۸ جی گلبرگ III لاہور کا رہائشی ہے۔ جو پہلے قادیانی تھا اب حضرت مولانا مفتی شیر محمد علوی (جامعہ اشرفیہ لاہور ) کے دست حق پرست پر اسلام قبول کر لیا ہے۔ موصوف نو مسلم نے اپنے ایک بیان میں نے کہا کہ آج کے بعد میرا مرزائیوں کی کسی جماعت (لاہوری، قادیانی) سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ میں مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے پیروکاروں کو کافر مرتد اور دائرہ اسلام خارج سمجھتا ہوں اور محمد رسول اللہ ﷺ کی ختم نبوت پر غیر مشروط ایمان لاتا ہوں۔ وہاں پر موجود مسلمانوں نے جناب صہیب احمد صاحب کو قبول اسلام پر مبارک باد اور اسلام پر استقامت کی دعا کی۔
۷ افراد کی قادیانیت سے توبہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بھکر کے ممتاز رہنما ڈاکٹر دین محمد فریدی کی کامیاب مساعی کو اللہ رب العزت نے شرف قبولیت سے نوازا۔ چک نمبر ۴۹ / ایم .ایل دریا خان کی مغل برادری کا ایک خاندان جو ۷ / افراد پر مشتمل تھا۔ مرزا غلام احمد قادیانی پر لعنت بھیج کر اسلام میں داخل ہو گیا۔ دریا خان کے معروف عالم دین حضرت مولانا غلام فرید کے ہاتھ پر ۳ /ستمبر ۱۹۹۹ء کو اس خاندان نے اسلام قبول کیا۔ جن کے نام مندرجہ ذیل ہیں۔ محمد سلیمان ولد فضل الرحمٰن قوم مغل شناختی کارڈ نمبر 261-89-318857، حلیمہ بی بی زوجہ محمد سلیمان، نعیمہ اختر دختر محمد سلیمان، طاہر محمود پسر محمد سلیمان، صفیہ دختر محمد سلیمان، طارق محمود پسر محمد سلیمان، ایزن دختر محمد سلیمان۔ ان کے اسلام قبول کرنے کی پاداش میں ان پر ظلم و ستم کیا لیکن یہ نومسلم خاندان اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے ایمان و اسلام پر قائم رہا۔ قادیانی ظلم و ستم کے خلاف حضرت مولانا غلام فرید کی بروقت جدوجہد نے قادیانی عزائم کو ناکام بنا دیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۱۹۹۹ء ص ۵۶، ۵۷)
قادیانی کا قبول اسلام
چک نمبر ۱- ایچ موضع بھکی ملتان میں قادیانیوں نے ایک مسلمان غلام اکبر کو چالا کی سے اپنے جال میں پھنسایا اور اس کو قادیانیت کی طرف مائل کر لیا۔ اس واقعہ کے پتہ چلتے ہی خطیب جامع مسجد بھکی حضرت مولانا سید منور حسن شاہ جیلانی نے جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام مکتب فکر کے علماء کرام کا ایک اجلاس مدرسہ دارالعلوم مدنیہ بھکی میں بلایا۔ اس میں تمام مکاتب فکر کے علماء کرام اور عوام نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ اجلاس کی صدارت مرکزی مبلغ حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے فرمائی۔ اس موقع پر محمد اکبر جٹ نے قادیانیت سے توبہ کر کے اسلام قبول کیا اور ذیل کی تحریر ۱۹ / علماء کرام کی موجودگی میں تحریر کر کے دی ”محمد اکبر ولد محمد عاشق، قوم جٹ سیال، سکنہ چک اہانس، تحصیل و ضلع ملتان، خداوند قدوس کو حاضر و ناظر جان کر اعلان کرتا ہوں کہ میں حضرت محمد مصطفے ﷺ کو خاتم النبیین مانتا ہوں۔ نیز میں جھوٹے مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی ملعون کو دجال، کذاب، مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔ میرا آئندہ کے لئے قادیانی گروہ کے ساتھ کسی قسم کوئی تعلق نہ ہوگا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۱۹۹۹ء ص ۶۱)
جاگیرگبول میں ختم نبوت کانفرنس
راجن پور کے قریب بستی جاگیر گبول میں پچھلے دنوں قادیانیوں نے چوروں کی طرح چپکے سے یہاں پر اپنا پروگرام منعقد کیا۔ جونہی مسلمانوں کو اس کی اطلاع ملی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت راجن پور کے ضلعی امیر مولانا علی محمد کے پاس آئے۔ آپ نے دفتر مرکز یہ سے
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
رابطہ قائم کیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم تبلیغ مولانا بشیر احمد نے راجن پور، ڈیرہ غازیخان کا تفصیلی دورہ کیا۔ چنانچہ فیصلہ کے مطابق یکم جون ۱۹۹۹ء کو جاگیر گبول میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ علاقہ بھر کے دیہاتوں سے لوگ، ٹریکٹر، ٹرالیوں اور اپنی اپنی سواریوں پر وفود کی شکل میں شریک ہوئے۔ جامع مسجد اپنی تمام تر وسعتوں کے باوجود کھچا کھچ بھری ہوئی تھی۔ راجن پور، فاضل پور اور گرد و نواح کے جمعیت علماء اسلام کے رہنماؤں نے خطاب کیا۔ ظہر کی نماز کے بعد کانفرنس کا دوسرا اجلاس شروع ہوا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ناظم تبلیغ مولانا بشیر احمد نے تفصیلی معرکۃ الاراء خطاب کیا۔ آپ کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا اللہ وسایا نے عصر کی نماز تک جامع و مانع فاضلانہ خطاب کیا۔ عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور قادیانیت کے کفر بواح کو آپ نے تفصیل سے بیان کیا۔ لوگوں نے دل کھول کر داد دی۔ قادیانیوں سے بائیکاٹ کا عوام نے اعلان کیا۔ علاقہ کے تمام قادیانی ایک مکان میں جمع ہو کر مولانا کے بیان کو سنتے رہے۔ غرض کانفرنس ہر اعتبار سے کامیاب رہی۔
جامع مسجد خاتم النبیین آفیسر کالونی میں درس
راجن پور کی آفیسر کالونی میں آج سے سالوں پہلے ایک غیر آباد مسجد تھی۔ قادیانی اوباش ٹولہ نے اس میں جمعہ شروع کرا دیا۔ مسلمانوں کو پتہ چلا۔ جمع ہوئے قادیانی دم دبا کر بھاگ گئے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا عبدالخالق رحمانی اس میں خطبہ و درس قرآن کے ذریعہ خدمت و تحفظ اسلام کا فریضہ انجام دیتے رہے۔ گزشتہ دس بارہ سالوں سے اللہ کا فضل ہے کہ کالونی آباد ہو گئی ہے۔ یکم جون ۱۹۹۹ء کو مغرب کے بعد مولانا اللہ وسایا صاحب نے سیرت النبی ﷺ پر مختصر جامع خطاب کیا۔ محکمہ انہار اور تحصیل و ضلع کے دیگر افسران نے اس میں بطور خاص شرکت کی۔
ختم نبوت کانفرنس راجن پور
مدرسہ عربیہ مسافر خانہ راجن پور میں جناب مولانا فاروق احمد قریشی نے کانفرنس کا اہتمام کیا ہوا تھا۔ عشاء کی نماز کے بعد کانفرنس کا آغاز ہوا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما مولانا علی محمد صاحب نے صدارت فرمائی۔ تلاوت و نعت کے بعد عالمی مجلس کے مرکزی ناظم تبلیغ مولانا بشیر احمد نے کانفرنس کی غرض و غایت عالمی مجلس مظفر گڑھ کے مبلغ مولانا امام الدین قریشی نے سیرت النبی ﷺ اور مولانا اللہ وسایا نے رد قادیانیت پر خطاب فرمایا۔ شہر اور دیہات کے عوام کی بڑی تعداد نے کانفرنس میں شرکت کی۔ رات گئے کانفرنس بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوئی۔
جامع مسجد راجپوتاں میں درس قرآن
۲/ جون صبح اور ظہر کی نماز کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما مولانا اللہ وسایا صاحب نے جامع مسجد راجپوتاں راجن پور میں درس قرآن مجید ارشاد فرمایا۔
بار روم راجن پور میں خطاب
۲/ جون ۱۹۹۹ء کو ساڑھے بارہ بجے راجن پور بار روم میں مولانا اللہ وسایا کا عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور قادیانیت کی ریشہ دوانیوں پر وکلاء سے خطاب کے لئے راجن پور کے معروف قانون دان جناب نصر اللہ قریشی ایڈووکیٹ نے درخواست دے کر منظوری حاصل
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کی۔ اطلاع نامہ بار روم کے وکلاء میں دستخطوں کے لئے بھیجا گیا۔ قادیانی اور قادیانیت زدہ لابی متحرک ہو گئی۔ لاکھوں جتن کئے، پاپڑ بیلے، حربے آزمائے، دھمکیوں اور گیدڑ بھبکیوں سے کام لیا۔ مگر راجن پور بار روم کے مجاہد مسلم ممبران نے متفقہ طور پر کفر کی اس حرکت کو خاطر میں نہ لا کر اپنے طور پر اس پروگرام کو کامیاب بنانے کا نعرہ لگایا۔ ٹھیک ساڑھے بارہ بجے وکلاء وقانون دان حضرات وممبران سے بار روم کی رونقیں دوبالا ہو گئیں۔ آن ہی آن میں بار روم بھر گیا۔ صدر بار روم جناب ملک منظور احمد ایڈووکیٹ نے مہمان گرامی مولانا اللہ وسایا کا استقبال کیا۔ تعارفی و خیرمقدمی کلمات کہے۔ جناب نصر اللہ قریشی نے تلاوت کی اور اس کے بعد مولانا اللہ وسایا نے بیان شروع کیا سٹیج پر بار روم اور شہر راجن پور کی دینی قیادت تشریف فرما تھی۔ مولانا اللہ وسایا نے قرآن وسنت وتاریخ کے حوالہ سے عقیدہ ختم نبوت کا تاریخی اور شرعی اور مطالعاتی تجزیہ کیا۔ مولانا کی تقریر کے دوران بار روم میں ایسا سناٹا تھا جیسے قدرت کی طرف سے سکینہ نازل ہو رہا ہو۔ تمام تر سامعین نے دل کی دھڑکنوں سے مولانا کے بیان کو جانچا، ناپا تولا اور پرکھا۔ جوں جوں مولانا کا بیان آگے بڑھتا رہا قادیانیت کے منحوس چہرے سے کفر کے نقاب ہٹتے گئے اور قادیانیت کا کفر الف خالی ہوتا گیا۔ سامعین حیران وششدر تھے کہ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور۔ بار روم میں مولانا کا مجاہدانہ بیان جاری تھا باہر قادیانیت کا نمائندہ خائب وخاسر اپنی حسرت کے زخم چاٹ رہا تھا۔ گھنٹہ سے زائد وقت مولانا کا بیان ہو چکا۔ صدر بار نے وکلاء کو سوالات کرنے کی دعوت دی۔ مگر مولانا کے بیان نے کوئی ایسا گوشہ چھوڑا ہی نہ تھا جس پر کوئی اشکال ہوتا۔ مہمان اور شرکاء کی ٹھنڈے مشروب سے تواضع کی گئی اور مولانا کی دعا پر یہ پروگرام اپنے اختتام کو پہنچا۔ راجن پور کے ممتاز قانون دان وکلاء نے جس طرح اس پروگرام کی کامیابی پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں کو خراج تحسین پیش کیا وہ قدرت کا انعام ہے۔
سپارکو میں درس قرآن
تیل کی سپلائی کے محکمہ سپارکو نے فاضل پور کے قریب اپنا عظیم الشان اسٹیشن قائم کیا ہے۔ عصر کی نماز کے بعد یہاں مولانا اللہ وسایا نے بیان فرمایا۔
فاضل پور میں ختم نبوت کانفرنس
۲؍ جون ۱۹۹۹ء عشاء کی نماز کے بعد جامع مسجد قباء فاضل پور میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس تھی۔ مولانا اللہ وسایا کے بعد جمعیت علماء اسلام کے ممتاز رہنما حضرت امیر شریعت کے رفیق کار حضرت مولانا محمد لقمان صاحب کا تاریخی وتفصیلی بیان ہوا رات پونے دو بجے کانفرنس اختتام پذیر ہوئی۔ گردنواح کی آبادی اور شہر کی بہت بڑی تعداد نے کانفرنس میں شرکت کی۔ کانفرنس اتنی کامیاب تھی کہ اس کے مدتوں تذکرے رہیں گے۔
ختم نبوت کانفرنس ڈیرہ غازی خان
مدرسہ قاسم العلوم کی جامع مسجد پیارے والی میں ۳؍ جون ۱۹۹۹ء عشاء کے بعد ختم نبوت کانفرنس کا اہتمام کیا گیا تھا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بزرگ رہنما صوفی اللہ وسایا اپنی علالت کے باوجود صبح سے کانفرنس کے انتظامات کی نگرانی کے لئے شہر تشریف لائے۔ شہر میں سپیکر پر منادی کی گئی۔ مولانا محمد حسین کی للکار نے شہر میں ارتعاش پیدا کر دیا۔ رات کو مسجد اپنی تمام تر وسعتوں کے باوجود ناکافی ثابت ہوئی۔ سڑک پر بھی عوام کا ٹھٹھ تھا۔ ختم نبوت کے مجاہد وممتاز وکیل جناب ملک محمد حسین ایڈووکیٹ کی زیر صدارت کانفرنس شروع ہوئی۔ مولانا امام الدین قریشی، مولانا بشیر احمد، مولانا صوفی اللہ وسایا، مولانا اللہ وسایا کے مجاہدانہ بیانات کے بعد صدر گرامی قدر ملک محمد حسین نے
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
فاضلانہ صدارتی خطبہ ارشاد فرمایا اور آخر میں مجاہد اسلام مولانا محمد لقمان علی پوری کا ایمان افروز بیان ہوا۔ اس کانفرنس نے تحریک کے زمانہ کی کانفرنسوں کی یاد تازہ کر دی۔ دو بجے رات کانفرنس اختتام پذیر ہوئی۔ عالمی مجلس ڈیرہ کے رہنماؤں مولانا عبدالرحمان، حافظ نور محمد، چوہدری خالد، مولانا عبدالمالک، صدر مدرس قاسم العلوم مولانا محمد حسین فاضل پوری ناظم قاسم العلوم اور مہتمم قاسم العلوم کی مجاہدانہ کاوشوں کو قدرت نے شرف قبولیت سے نوازا اور کانفرنس مثالی طور کامیاب رہی۔
ختم نبوت کانفرنس کوٹ ہیبت
۴؍ جون ۱۹۹۹ء کو مدرسہ عربیہ کوٹ ہیبت میں مولانا محمد اسماعیل اور مجاہد ختم نبوت محمد حسین کھلول کی کاوش سے دس بجے صبح کا نفرنس شروع ہوئی جو عصر کی نماز تک جاری رہی۔ مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد لقمان علی پوری کے بیانات ہوئے۔ خطبہ جمعہ مولانا بشیر احمد نے ارشاد فرمایا۔ دور دراز سے وفود اور قافلوں نے شرکت کی۔ جملہ مہمانان شرکاء کے لئے بھر پور دعوت شیراز کا اہتمام کیا گیا تھا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۱۹۹۹ء ۵۶ تا ۵۷)
ختم نبوت کانفرنس وسندے والی
۵؍ جون ۱۹۹۹ء ظہر کے بعد وسندے والی کے قریب دیہات میں ایک قادیانی شرارت کے انسداد کے لئے کانفرنس کا اہتمام کیا گیا۔ وسندے والی جامع مسجد کے قاری محمد صادق دینی درسگاہ خان گڑھ کے مہتمم مولانا رشید احمد بلال، جامعہ عثمانیہ خان گڑھ کے مہتمم مولانا احمد یار خان، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مولانا امام الدین قریشی، مولانا بشیر احمد، مولانا اللہ وسایا اور جمعیۃ علماء اسلام کے مولانا محمد لقمان علی پوری نے خطاب کیا۔ عصر تک کانفرنس جاری رہی۔
ختم نبوت کانفرنس خان گڑھ
۵؍ جون ۱۹۹۹ء عشاء کے بعد خان گڑھ کے معروف دینی ادارہ جامعہ عثمانیہ میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ مثالی اجتماع تھا۔ مجاہدانہ و فاضلانہ ایمان پرور جہاد آفرین حقائق افروز بیانات ہوئے۔
ختم نبوت کانفرنس یاکے والی
جامعہ امدادیہ حبیب المدارس کے مہتمم پروفیسر مولانا محمد مکی صاحب نے عید گاہ یاکے والی میں ۶؍ جون بعد از ظہر عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس کا اہتمام کیا ہوا تھا۔ وفد میں شریک چاروں متذکرہ خطباء کے علاوہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بہاول پور کے مبلغ مولانا محمد اسحاق ساقی نے بھی خطاب فرمایا۔ جامعہ امدادیہ حبیب المدارس میں چار صد سے زائد طلباء دین کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ نو کتابی اور چھ قرآنی مدرس ہیں۔ جامعہ کے سہ ماہی نتائج کا اعلان بھی کانفرنس میں کیا گیا اور جامعہ کے ممتاز نمبرات لے کر کامیاب ہونے والے طلباء کرام نے مولانا محمد لقمان علی پوری اور مولانا اللہ وسایا کے دست مبارک سے انعامات حاصل کئے۔ مدرسہ کے منتظمین و مدرسین اور تحصیل علی پور کی پوری دینی قیادت سٹیج پر جمع تھی۔ حد نگاہ تک عید گاہ سامعین سے بھری ہوئی تھی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۱۹۹۹ء ص ۵۶ تا ۵۸)
ختم نبوت کانفرنس کچا پکا اور شہر سلطان
۷؍ جون ۱۹۹۹ء بعد ظہر کچا پکا اور بعد از عشاء شہر سلطان جامع مسجد لوہاراں والی میں ختم نبوت کانفرنسیں منعقد ہوئیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس اوچ شریف
۸؍جون ۱۹۹۹ء صبح دس بجے سے عصر کی نماز تک شکرانی اوچ شریف میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ حضرت مولانا محمد لقمان علی پوری، مولانا بشیر احمد، مولانا اللہ وسایا، مولانا امام الدین قریشی، مولانا محمد اسحاق ساقی، مولانا رشید احمد عباسی، مولانا قاری محمد صادق اور دوسرے رہنماؤں نے خطاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۱۹۹۹ء ص ۵۷)
قراردادیں
ان تمام پروگراموں میں حکومتی قادیانیت نوازی کی شدید مذمت کی گئی۔ کذاب یوسف کی رہائی پر حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ان اسلام اور ختم نبوت دشمنوں پر پابندی عائد کرے اور ختم نبوت دشمنی کی حوصلہ افزائی کی بجائے حوصلہ شکنی کرے۔ ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی مرتد کے یادگاری ٹکٹ منسوخ کرے۔ مجیب الرحمن قادیانی کو احتساب سیل کی وکالت سے باز رکھا جائے، ارتداد کی شرعی سزا نافذ کی جائے اور اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر قانون سازی کی جائے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۱۹۹۹ء ص ۵۸)
گولارچی میں خطبہ جمعتہ المبارک
۴؍جون ۱۹۹۹ء کا جمعہ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے گولارچی جامع مسجد مدینہ میں پڑھایا اور بعد نماز عشاء مسجد اقصیٰ میں درس قرآن ہوا۔ ۵؍جون ۱۹۹۹ء کو مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا محمد علی صدیقی نے ضلع ٹھٹھہ، بدین، میر پور خاص، ضلع عمر کوٹ کا دورہ کیا۔ مدرسہ دار الفیوض ہاشمیہ سجاول میں بعد نماز ظہر طلباء، علماء کے ایک اجتماع سے خطاب کیا۔ رات کو ٹنڈو غلام علی میں مدرسہ تعلیم القرآن میں ختم نبوت کانفرنس سے مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور مولانا محمد علی صدیقی نے خطاب کیا۔ ۷؍جون کو میر پور خاص میں مولانا فیض اللہ کے مدرسہ مدینۃ العلوم میں علماء اور طلباء سے مولانا شجاع آبادی نے خطاب کیا۔ رات کو بسم اللہ مسجد سیٹلائٹ ٹاؤن میں ایک جلسہ عام ہوا۔ جس سے مولانا شجاع آبادی اور مولانا محمد علی صدیقی نے خطاب کیا۔ ۸؍جون کو ٹالہی میں ایک اجلاس سے مولانا شجاع آبادی نے خطاب کیا۔ ۹؍جون سے کنری میں تین روزہ تربیتی کنونشن تھا۔ پہلا پروگرام ۹؍جون بعد نماز ظہر ہوا۔ جس سے مولانا اللہ وسایا نے خطاب کیا۔ دوسرا اجلاس نماز عشاء کے بعد تھا۔ تیسرا بیان ۱۰؍جون بعد نماز ظہر تھا، جس میں مولانا اللہ وسایا نے قادیانیت کے مختلف سوالات کے جوابات دیئے۔ ۱۰؍جون کو بعد نماز عشاء فضل بھمبرو میں ختم نبوت کانفرنس تھی۔ جس سے مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا محمد علی صدیقی، قاری عبد الستار، قاری راشد اللہ کا بیان ہوا۔ ۱۱؍جون کا جمعہ کنری جامع مسجد بخاری میں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے پڑھایا۔ مولانا اللہ وسایا نے عمر کوٹ کی جامع مسجد مدینہ میں ایک عظیم الشان جمعہ کے اجتماع سے خطاب کیا۔ یہ تمام پروگرام عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سندھ کے مبلغ مولانا محمد علی صدیقی کی نگرانی میں ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۱۹۹۹ء ص ۶۰)
ضلع قصور کا تبلیغی دورہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت قصور کے مبلغ مولانا عبد الرزاق مجاہد نے جامعہ رحیمیہ ترتیل القرآن بھسر پورہ میں تبلیغی دورہ کیا اس دوران ایک اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت و تلاوت قاری مشتاق احمد رحیمی نے کی۔ اجلاس میں قاری حبیب اللہ قادری، مولانا محمد زبیر شاہ ہمدانی، قاری محمد اسحاق، قاری محمد رمضان، قاری شاہ محمد، محمد یونس بھٹی، حاجی اللہ دتہ مجاہد، حافظ عبد اللطیف، قاری محمد بلال، چوہدری محمد
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
معصوم انصاری، چوہدری حافظ محمد حنیف ظفر ایڈووکیٹ ، حاجی شبیر احمد کے علاوہ کثیر تعداد میں کارکنوں نے شرکت کی۔ اجلاس کی غرض وغایت قصور کے مبلغ مولانا عبدالرزاق شجاع آبادی نے بیان کی۔ مولانا نے بارڈر ایریا کے نزدیک گھرپڑ ہٹھار ، گنڈا سنگھ ، چوڑی والا ، للیانی و دیگر کئی قصبات کا دورہ کیا۔ درس دیئے ، لٹریچر تقسیم کیا۔ مولانا نے کہا کہ نور پور قصبہ میں قادیانی فتنہ مرزائیوں کے جاگیرداروں کی وجہ سے جنم لے رہا ہے اور قادیانی توہین رسالت کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ مولانا نے حکمرانوں سے مطالبہ کیا کہ مرزائیوں کو اسلامی قوانین کا پابند کیا جائے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۱۹۹۹ء ص ۶۱)
مولانا بشیر احمد صاحب اور مولانا خدا بخش صاحب کا دورہ سکھر، خیر پور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم تبلیغ مولانا بشیر احمد اور مولانا خدا بخش شجاع آبادی ۸؍جون کی شام کو سکھر دفتر میں تشریف لائے۔ ۹؍جون صبح آٹھ بجے جامعہ دارالہدیٰ ٹھیڑی گئے۔ جہاں جامعہ کے اساتذہ سے ملاقات ہوئی اور جامعہ کے مہتمم حضرت مولانا قاضی حمد اللہ نے اساتذہ کرام کا تعارف کرایا۔ مولانا بشیر احمد نے اساتذہ کرام کو قادیانیوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں سے آگاہ کیا۔ حضرت مولانا قاضی حمد اللہ ، حضرت مولانا مفتی غلام قادر اور تمام علماء کرام نے قادیانیوں کی سرگرمیوں کے سدباب کے لئے مکمل تعاون کا وعدہ فرمایا۔ اس کے بعد یہ وفد خیر پور روانہ ہو گیا۔ رات بارہ بجے سے لے کر ڈیڑھ بجے تک خیر پور جامعہ مسجد حمادیہ میں علماء کرام کے بیانات ہوئے اس کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سکھر کے امیر محترم آغا سید محمد ، ناظم اعلیٰ قاری خلیل احمد ، مولانا عبدالمجید ، قاری عبدالحفیظ اور دیگر علماء کرام سے ملاقاتیں ہوئیں۔ ۹؍جون کو جامعہ حمادیہ منزل گاہ میں مولانا بشیر احمد اور مولانا خدا بخش کا بیان ہوا۔ اس کے بعد جامعہ اشرفیہ میں ان علماء کرام کا خطاب ہوا۔ وفد نے سکھر کی مشہور و معروف دینی اور روحانی شخصیت حاجی فاروق کے انتقال پر حاجی صاحب کے والد اور بھائی سے تعزیت کی اور مرحوم و مغفور کی بلندی درجات کے لئے دعا کی۔ ۱۰؍جون کو مولانا خدا بخش نے پہلے مدینہ مسجد کپڑا مارکیٹ میں ساڑھے بارہ بجے سے لیکر ایک بجے تک بیان فرمایا۔ اس کے بعد ڈیڑھ سے لے کر دو بجے تک جامع مسجد بندر روڈ میں خطاب فرمایا۔ بعد نماز جمعہ قاری جمیل احمد کی عیادت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۱۹۹۹ء ص ۶۲)
چونڈہ میں رد قادیانیت کورس
مرکزی جامع مسجد شاہ فیصل چونڈہ میں رد قادیانیت کے تربیتی کورس کی چھ نشستوں میں علاقہ کے تعلیم یافتہ طبقہ کے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ کورس کی مختلف نشستوں سے حضرت مولانا اللہ وسایا، مولانا عبد اللطیف مسعود، مولانا خدا بخش شجاع آبادی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ، مولانا فقیر اللہ اختر ، مولانا محمد عارف ، عالمی مجلس کے ضلعی امیر پیر سید شبیر احمد گیلانی ، مولانا عزیز الرحمٰن قاسمی، مولانا خلیل الرحمٰن راشدی ، مولانا قاری محمد انور انصر، مولانا قاری محمد شفیق ربانی ، حافظ عبدالکبیر ، پروفیسر شجاعت علی مجاہد اور مولانا محمد شفیع نعمانی نے خطاب کیا۔ کورس کے انتظام وانصرام کے لئے چوہدری محمد ارشد، میاں عبدالغنی ، میاں تاج دین اور دیگر احباب نے حصہ لیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۱۹۹۹ء ص ۶۳)
دو روزہ ختم نبوت کانفرنس اسلام آباد
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد کے زیر اہتمام ۱۸، ۱۹ جون ۱۹۹۹ء بمقام جامعہ فاروقیہ ”بہارہ کہو“ حضرت مولانا قاری ایاز عباسی صاحب کے ہاں دو روزہ ختم نبوت کانفرنس اور تربیتی پروگرام منعقد ہوا۔ جس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ شاہین ختم
تحریک ختم نبوت جلد(۷) ۱۹۹۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا اور مناظر ختم نبوت حضرت مولانا خدا بخش صاحب شجاع آبادی بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے۔ مرکزی قائدین جس وقت اسلام آباد دفتر پہنچے تو ان کا پر جوش نعروں سے استقبال کیا گیا۔ استقبالیہ میں حضرت مولانا مفتی خالد میر، صاحبزادہ جناب آغا نفیس الدین آزاد، قاضی رضوان احمد اور ناظم دفتر جناب محمد اکرم اعوان شامل تھے۔ پروگرام کا آغاز ۱۸؍ جون بروز جمعۃ المبارک صبح ۹ بجے تلاوت قرآن سے ہوا اور مقامی حضرات نے حضور سرور کائنات ﷺ کی سیرت اور ختم نبوت کے موضوع پر اپنے اپنے انداز میں تفصیلی خطاب کیا۔ مقامی حضرات کے علاوہ راولپنڈی کے مبلغ حضرت مولانا مفتی محمود الحسن اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد کے مبلغ جناب حضرت مولانا مفتی خالد میر نے بھی تفصیلی خطاب فرمائے۔ اس کے بعد کانفرنس کو جاری رکھتے ہوئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد کے مرکزی مبلغ حضرت مولانا قاضی احسان احمد نے جمعہ کے اجتماع سے حضور اکرم ﷺ کی سیرت اور ختم نبوت کے عقیدہ کی اہمیت پر تفصیلی خطاب فرمایا۔
نماز جمعہ سے قبل شیر اسلام حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب کے صاحبزادہ اور جانشین حضرت مولانا عبد العزیز نے خطاب فرمایا اس کے بعد خطبہ جمعہ حضرت مولانا قاری ایاز عباسی نے دیا اور نماز پڑھائی۔ نماز جمعہ کے بعد جناب راجہ نرگس کیانی نے اپنے مخصوص انداز میں قادیانیت کا رد فرمایا اور ان کے بعد وزیر مذہبی امور راجہ ظفر الحق نے نہایت اچھے اور علمی انداز میں مسئلہ قادیانیت لوگوں کے سامنے رکھا اور اس فتنہ کی شرانگیزیوں سے عوام الناس کو مطلع کیا اور کہا کہ ان اکابر علماء سے رابطہ تمام دشمنوں سے محفوظ ہونے کا راستہ ہے۔ اس کے بعد نماز عصر تک جلسہ کی پہلی نشست کا اختتام ہوا۔
نماز مغرب کے بعد کانفرنس کی روح رواں شخصیات مرکزی قائدین مجلس تحفظ ختم نبوت جلسہ گاہ میں تشریف لائے۔ فلک شگاف نعروں کے ساتھ ان کا استقبال کیا گیا اور نئی آبادی بھارہ کہو کے غیور مسلمانوں نے ناموس رسالت ﷺ کا پاس رکھتے ہوئے نہایت دلجمعی اور دلچسپی کے ساتھ اکابرین کے بیانات کو سنا اور شعور ختم نبوت اور قادیانیت سے شناسائی حاصل کی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ حضرت مولانا اللہ وسایا نے بہت عمدہ اور جاندار بیان کیا انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں میاں محمد نواز شریف کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ: جناب میاں صاحب آخر کب تک قادیانیت نوازی جاری رہے گی؟ ایک نہ ایک دن فتح حضور ﷺ کے غلاموں اور دیوانوں کی ہوگی (انشاء اللہ) حکومت نے قادیانیت نوازی کی انتہا کر دی ہے ملعون عبدالسلام قادیانی کے ڈاک ٹکٹ شائع کئے ہم نے مطلع کیا مجیب الرحمن قادیانی کو احتساب سیل کا وکیل مقرر کیا۔ پھر تمہارے دروازے پر تحفظ ناموس رسالت ﷺ کی صدا لگائی لیکن خاموشی!!! اس کے بعد مرکزی دفتر پر چھاپہ مارا گیا، لیکن تمہیں کوئی تکلیف نہیں ہوئی اور اس سے بڑھ کر یہ ہوا کہ گستاخ رسول لعین کذاب یوسف علی کی ضمانت بھی کرادی گئی۔ صد افسوس اسلامی نظام کے دعوے کرنے والے، اسلام کے نام پر ملک و قوم کو لوٹنے والے، تجھے ذرا بھی افسوس نہ ہوا کہ تو نے کس کی رہائی کروائی ہے؟ آپ کے دشمن جیل کے اندر ہوں تو موت کے گھاٹ اتار دیئے جائیں اور حضور ﷺ کا دشمن آزاد پھرے؟ یاد رکھنا ایک دن آئے گا تمہارا انجام برے سے برے لوگوں سے بھی برا ہوگا، کیونکہ اب براہ راست گنبد خضریٰ پر ہاتھ ڈالا ہے۔ اگلے روز یعنی ۱۹؍ جون بروز ہفتہ کو بھی پروگرام جاری رہا اور حضرت مولانا خدا بخش صاحب اور مولانا اللہ وسایا نے تربیتی کلاس سے خطاب فرمائے اور ان کی ذہن سازی کی۔ اس کے بعد دو روزہ ختم نبوت کانفرنس اور تربیتی پروگرام کی اختتامی دعا سے پہلے حضرت مولانا قاری ایاز عباسی اور حضرت مولانا قاری محمد اجمل اور مجلس منتظمہ نے اکابرین کی آمد کا شکریہ ادا کیا اور دعائے خیر پر پروگرام اختتام پذیر ہوا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اس کے بعد ۱۹/ جون کو بھی بعد از نماز مغرب اکابرین کے بیانات ہوئے۔ حضرت مولانا خدا بخش نے حضرت مولانا محمد شریف دامت برکاتہم کی جامع مسجد دارالسلام جی۔ ۲۶ میں مفصل خطاب فرمایا اور لوگوں کو عقیدہ ختم نبوت اور قادیانیوں کی شرانگیزیوں سے آگاہ کیا۔ حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب نے حضرت مولانا غلام محمود کی جامع مسجد امیر معاویہ میں انتہائی سوز کے ساتھ سیرت حضور ﷺ اور مسئلہ ختم نبوت پر مفصل خطاب کیا۔ الحمد للہ ! لوگوں کی کثیر تعداد نے پروگرام میں شرکت کر کے محبت رسول ﷺ کا حق ادا کیا۔ اللہ رب العزت ان تمام حضرات کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۲۳ تا ۲۹/جولائی ۱۹۹۹ء ص ۲۲، ۲۳)
کارروائی اجلاس کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت
کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند کی نگرانی میں مجلس تحفظ ختم نبوت کانپور نے اکتوبر ۱۹۹۸ء میں جامع العلوم پنکا پور کانپور میں سہ روزہ تربیتی کیمپ لگایا تھا اور ۱۱/اکتوبر ۱۹۹۸ء کو حلیم مسلم کالج کانپور کے وسیع وعریض میدان میں تحفظ ختم نبوت کانفرنس منعقد کی تھی ان پروگراموں سے علاقہ بھر میں قادیانی فتنہ کے خلاف علماء کرام اور عامۃ المسلمین کے طبقہ میں زبردست بیداری آئی۔ متعدد قادیانی افراد کانفرنس کے موقع پر اور اس کے بعد تائب ہو کر مشرف باسلام ہوئے۔ دیگر مسلم تنظیموں نے بھی رد قادیانیت کے موضوع کی اہمیت کو محسوس کیا۔ چنانچہ امسال ۱۹/ جون ۱۹۹۹ء انجمن فروغ سنت کانپور نے حلیم کالج روڈ پر ایک عظیم الشان اجلاس تحفظ ختم نبوت کا اہتمام کیا اور کل ہند مجلس کے ناظم اعلیٰ حضرت مولانا سعید احمد پالن پوری استاذ الحدیث دارالعلوم دیوبند سے تاریخ کی منظوری لے کر اجلاس کی تیاری بہترین انداز میں شروع کی۔ بفضلہ تعالیٰ شاندار طریقہ پر یہ اجلاس کامیابی سے ہم کنار ہوا۔ ناظم نشر واشاعت اجلاس جناب مفتی اقبال احمد صاحب کی ارسال کردہ رپورٹ شریک اشاعت کی جارہی ہے۔
کارروائی اجلاس تحفظ ختم نبوت کانپور انڈیا
منعقدہ : ۱۹/ جون ۱۹۹۹ء، بمطابق ۴/ ربیع الاوّل ۱۴۲۰ھ، بروز : شنبہ، بعد نماز عشاء، بمقام : حلیم کالج کانپور
کانپور ۲۰/ جون انجمن فروغ سنت کانپور کے زیر اہتمام چمن گنج حلیم کالج روڈ پر ایک اہم اجلاس بعنوان تحفظ ختم نبوت منعقد ہوا تھا، جلسہ کو سماعت کرنے کے لئے کانپور واطراف کے غیور مسلمان ہزاروں کی تعداد میں وقت مقررہ پر (بعد از نماز عشاء) جمع ہوگئے تھے۔ اجلاس کی اہمیت کے پیش نظر سامعین کی کثرت تعداد توقع کے مطابق تھی اجلاس کے منتظمین نے اپنے انتظامات وسیع تر کر لئے تھے، لیکن اس کے باوجود فرش اور کرسیوں پر مجمع نہ سما سکا اور مجمع کی ایک تعداد کھڑے ہی کھڑے پروگرام سنتی رہی۔ اجلاس کے کنوینر جناب الحاج قمر الدین انصاری بڑی فکر مندی سے اجلاس کے نظم ونسق میں ہمہ تن مصروف تھے، ساتھ ہی جناب نواب نیتا و بابو اکرم، منشی اظہر صاحب بھی پیش پیش تھے۔ جلسہ کی صدارت صدر انجمن حضرت مولانا الحاج مفتی منظور احمد صاحب مظاہری مفتی شہر کانپور انجام دے رہے تھے۔ جب کہ جلسہ کی نقابت کے فرائض مولانا محمد سمیع اللہ قاسمی مدرس مدرسہ اسلامیہ مظہر العلوم (مسجد نکھؤ شاہ) نے انجام دیئے۔ جلسہ کا باضابطہ آغاز حضرت مولانا قاری عبدالباری صاحب امام مسجد خیر (زیر تعمیر مسجد رویم چورہا) کی سوز وگداز سے بھی بھر پور قرأت سے ہوا، تلاوت کلام کے بعد عزیزم سہیل سلمہ متعلم مدرسہ جامعہ العلوم نے عشق ومحبت میں ڈوبی ہوئی نعت رسول ﷺ سے سامعین کو محظوظ کیا۔
حضرت مولانا محمد یامین صاحب کی تقریر: اجلاس کو خطاب کرنے کے لئے حضرت مولانا محمد یامین صاحب مبلغ دارالعلوم دیوبند کو دعوت دی گئی، موصوف نے ایک گھنٹہ کی اپنی تقریر میں سامعین کے سامنے ختم نبوت کی پوری تشریح کے ساتھ ساتھ قادیانیت کو پوری
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
طرح بے نقاب کر دیا ۔ آپ نے فرمایا کہ سارے انبیاء علیہم السلام کے سلسلہ میں تو صرف یہی عقیدہ رکھنا ضروری ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نبی ہیں ، لیکن سرور کائنات محمد رسول اللہ ﷺ کے بارے میں اس عقیدہ کے ساتھ کہ وہ اللہ کے نبی و رسول ہیں ، یہ بھی عقیدہ رکھنا فرض ہے کہ وہ خاتم النبیین بھی ہیں ، آپ ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہو چکا ہے ، اب کوئی نیا نبی دنیا میں پیدا نہیں ہوگا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو آپ ﷺ سے پہلے کے نبی گزرے ہیں وہ قیامت کے قریب آسمان سے بحیثیت امتی تشریف لائیں گے ، یعنی آپ اپنی شریعت کی دعوت نہیں دیں گے، بلکہ دین اسلام کے خود بھی تابع ہوں گے اور دوسروں کو بھی اسی شریعت اسلامیہ پر چلائیں گے ۔ اسی کے مطابق فیصلے فرمائیں گے ۔ اس مسئلہ کی پوری وضاحت کے بعد نبوت کے دعویدار مرزا غلام احمد قادیانی کے مختلف دعاوی اور متضاد حالات اور وحیوں کو تذکرہ کر کے بتایا کہ قادیانی فتنہ انگریزی سازش کا نتیجہ ہے جو ہندوستان میں پھر سے اپنے بال و پر نکال رہا ہے ، اہل اسلام کو باخبر رہنے کی ضرورت ہے ۔
حضرت مولانا مفتی منظور احمد صاحب کا وضاحتی بیان: آپ کے بیان کے بعد صدر انجمن و صدر جلسہ حضرت مولانا الحاج مفتی منظور احمد مظاہری قاضی شہر کانپور نے اجلاس کی غرض و غایت پر روشنی ڈالتے ہوئے ایک اصولی گفتگو فرمائی ، آپ نے فرمایا کہ ہندو ستان جو سیکولر اسٹیٹ ہے اس میں ہر شخص کو مذہب کی آزادی ہے لیکن دوسرے مذہب کی آڑ میں کسی مذہب کی غلط تشریح کرنا اور مذہب کو اپنے باطل عقائد کے پرچار کے لئے استعمال کرنے کا کسی کو حق نہیں ہے ۔ ہندوستان میں بہت سے مذاہب کے ماننے والے ہیں ہم کسی کے خلاف مجلسیں منعقد نہیں کرتے لیکن قادیانیت جو درحقیقت اسلام کے مطابق ایک مستقل مذہب ہے اور ہر چیز اسلام کے مقابلہ میں ان کے یہاں مسلم ہے ، لیکن چونکہ وہ اپنے مذہب کے پرچار نئے مذہب کے نام سے نہیں کرتے بلکہ اپنے مذہب کو اسلام کے نام سے پھیلاتے ہیں اور اسی کو حقیقی اسلام کا نام دیتے ہیں ، اسلام کا کلمہ پڑھ کر اس کا مطلب یعنی محمد رسول اللہ کا مصداق وہ نعوذ باللہ قادیانی ملعون کو قرار دیتے ہیں ، اس طرح سیدھے سادھے مسلمانوں کو اسلام کے نام پر قادیانیت کی طرف لے جاتے ہیں ، اس لئے ہم کو اپنے بھائیوں کے اسلام کے تحفظ کی خاطر اس اجلاس وغیرہ کی ضرورت پڑتی ہے اگر وہ کھلم کھلا اپنے نئے مذہب کا اعلان کر دیں ، اسلام کا لیبل اپنے باطل عقائد پر لگانا چھوڑ دیں تو ہمارا ان سے کوئی لینا دینا نہیں وہ آزادی سے اپنی باتیں پھیلائیں ۔ آپ نے ۱۱؍ اکتوبر ۱۹۹۸ء کے موقع پر کانپور میں تحفظ ختم نبوت کے عنوان سے جو مہم چلی تھی اس کی مفید کارگزاری اور بہتر نتائج کی طرف بھی اشارہ کیا اور بتایا کہ گزشتہ سال ۱۱؍ اکتوبر کو حلیم کالج گراؤنڈ کے اجلاس تحفظ ختم نبوت کے نتیجہ میں ہمارے کئی مسلمان بھائی جو قادیانیوں کے چنگل میں چلے گئے تھے وہ اس مسئلہ کو جب سمجھ گئے تو انہوں نے سچی پکی توبہ کی اور دوبارہ اسلام میں داخل ہو گئے ۔ اس قسم کے متعدد واقعات پیش آئے ۔ ’’اور آپ نے بتایا کہ آئے دن اس قسم کے مسائل ہمارے سامنے آتے رہتے ہیں ، جس کی وجہ سے ہم کو اس مسئلہ کا احساس ہے ۔‘‘ آپ نے قادیانیوں کو کچھوے سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ جب ان کو مسلمانوں کی طرف سے سرگرمی کی بھنک لگتی ہے تو وہ اپنے ہاتھ پاؤں چہرہ سمیٹ لیتے ہیں اور جب سناٹا محسوس ہوتا ہے تو اپنے بال و پر نکال لیتے ہیں ۔ آپ نے قادیانیوں کو متنبہ کیا کہ وہ تائب ہو جائیں اور اپنی مذموم حرکات سے باز آجائیں اور یہ سمجھ لیں کہ ان شاء اللہ وہ کبھی اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوں گے ۔
حضرت مولانا مفتی سعید احمد صاحب کا پرمغز خطاب: صدر محترم کی صدارتی تقریر کے بعد حضرت مولانا مفتی سعید احمد صاحب پالن پوری استاذ حدیث دارالعلوم دیوبند ناظم کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت نے حاضرین کو مفصل خطاب فرمایا ۔ آپ نے اپنے خطاب میں ابتدا اللہ تعالیٰ کی صفت ربوبیت کی ایسی علمی تشریح فرمائی ، جس سے وحدانیت کا بھی ثبوت ہو گیا ساتھ ہی نبوت و رسالت کی بھی انسانیت کو ضرورت ہونا واضح ہو گیا اور سلسلہ انبیاء پر کام کرتے ہوئے خاتم النبیین ﷺ کی ذات مبارکہ میں رسالت و نبوت کے سلسلہ سمٹ آنے کو
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
علمی لیکن عام فہم انداز میں حل فرمایا پھر آپ نے کسی نئے نبی کی ضرورت نہ ہونے کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ جب قیامت تک کے لئے خاتم النبیین کا آفتاب جگمگا رہا ہے تو اب نیا نبی اپنا چھوٹا سا چراغ لے کر اس آفتاب کے ہوتے ہوئے کیا کرے گا؟ اس لئے عقلی اعتبار سے بھی کسی نئے نبی کی ضرورت کا سوال ہی نہیں اٹھتا پھر آپ نے قادیانی وسوسوں کا بھی جواب دیا اور بتایا کہ آپ کی نبوت کا پیغام قرآن وحدیث کو لے کر صحابہؓ اور آپ کے جانشینوں نے سارے عالم میں پھیلا دیا ہے اور قیامت تک یہ دین محفوظ رہے گا، اس لئے بھی نئے نبی کا تصور ہی بے معنی ہے، آپ نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے انبیاءؑ کی عصمت اور صحابہؓ کی عظمت وحفاظت کا بھی ذکر کیا اور بعض حضرات کی صحابہؓ کے بارے میں غلط روش کی نشان دہی فرمائی۔ آپ کی پوری تقریر انتہائی علمی جامع اور پرمغز تھی آپ نے خطاب کے آخر میں قادیانی فتنہ کے مقابلہ کو پوری امت مسلمہ کی ذمہ داری بتایا۔ آپ کی تقریر ۱۲ بجے سے ڈھائی بجے تک جاری رہی اور بیان کے بعد آپ ہی کی دعا پر جلسہ اختتام پذیر ہوا۔
اس اہم اجلاس میں کثیر تعداد میں مقامی علماء کرام شریک تھے، بعض علماء کے اسمائے گرامی یہ ہیں حضرت مولانا افتخار احمد صاحب قاسمی، حضرت مولانا عبدالقیوم صاحب مظاہری، حضرت مولانا وکیل احمد صاحب قاسمی، حضرت مولانا فرید نائب صاحب لکھنوی، مولانا فخر الدین قاسمی، مولانا سید مختار احسن جامعی، مولانا مفتی اقبال احمد قاسمی، مولانا انعام اللہ قاسمی وغیرہ شامل تھے۔ اس اجلاس کے دوران بعض اہم لوگوں کو تحفظ ختم نبوت کے عنوان پر دارالعلوم دیوبند کا مطبوعہ لٹریچر بھی مفت تقسیم کیا گیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۲۰ تا ۲۶؍ اگست ۱۹۹۹ء ص ۲۵، ۲۶)
ٹنڈو الہ یار میں ختم نبوت کانفرنس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حیدرآباد کے زیر اہتمام ٹنڈو الہ یار میں ایک روزہ ختم نبوت کانفرنس کا اہتمام کیا گیا، کانفرنس کے منتظم مولانا محمد راشد صاحب مہتمم مدرسہ صدیق اکبر، مولانا محمد مبین صاحب صدر مدرس مدرسہ صدیق اکبر نے کانفرنس کی تشہیر کے لئے اشتہارات شائع کئے مدرسہ کے دیگر اساتذہ کرام نے خوب محنت فرمائی، ان کی کاوشیں قابل دید تھیں، رات بعد نماز عشاء شاہی بازار کی مسجد میں جلسہ شروع ہوا۔ تلاوت قرآن پاک اور نعت رسول مقبولﷺ کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گلارچی کے مبلغ مولانا محمد علی صدیقی نے خطاب فرمایا۔ آپ نے خطاب میں قادیانیت کے گمراہ کن عقائد ونظریات پر روشنی ڈالی اور اس بات پر زور دیا کہ تمام مسلمان اپنے عقائد کے بارے میں معلومات رکھیں، دوسرے مقرر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حیدرآباد کے مبلغ مولانا محمد نذر نے سیرت رسولﷺ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تمام انبیاء کو اللہ نے مرتبہ سے نوازا ہے لیکن جو مقام رسالت مآبﷺ کو ملا کسی نبی کو نہیں ملا، اب جب کہ رسول حضور اکرمﷺ کے ہم پلہ نہیں ہو سکتے تو قادیان کا بدنصیب کیسے مقابلہ کر سکتا ہے؟ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ٹنڈوآدم کے مبلغ پروفیسر مفتی حفیظ الرحمٰن رحمانی نے اپنے عالمانہ خطاب میں ختم نبوت کے عقیدے پر تفصیلی بیان فرمایا آپ نے کہا کہ قرآن واحادیث اور اجماع امت، صحابہ کرامؓ تمام کے تمام حضورﷺ کی ختم نبوت پر شاہد ہیں۔ آج کے دور کے کسی معترض کی ہمیں پرواہ نہیں، آخر میں مجلس کے بزرگ رہنما حضرت علامہ احمد میاں حمادی صاحب نے خطاب فرمایا اور عوام الناس کو قادیانی فتنہ کے بارے میں مفید معلومات فراہم کیں۔ آپ نے عوام الناس سے وعدہ لیا کہ وہ حضورﷺ کی ختم نبوت کے تحفظ کے لئے تمام تر اختلافات اور جھگڑے ختم کر کے جدوجہد کریں گے۔ رات ایک بجے جلسہ ختم ہوا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۱۶ تا ۲۲؍ جولائی ۱۹۹۹ء ٹائٹل پیج نمبر ۳)
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس سائٹ ایریا کوٹری
دریائے سندھ کے کنارے واقعہ کوٹری ضلع دادو کا ایک صنعتی شہر ہے۔ اس کا سائٹ ایریا جہاں پر غریب ومزدور طبقہ اپنے روزگار کی تلاش کے لئے رہائش پذیر ہے۔ قادیانی اور کفر والحاد پھیلانے والے روحانیت اور تصوف کے جھوٹے دعویدار گوہر شاہی کے پیروکاروں نے اس علاقہ کو خصوصی طور پر نشانہ بنایا ہوا ہے۔ آج سے ۶/ سال قبل بھٹائی کالونی میں قادیانیوں نے اپنے کفریہ عقائد کو پھیلانے کے لئے اپنی عبادت گاہ بنانے کی کوشش کی۔ یہاں کے غیور مسلمانوں نے بلا تفریق مسلک متفق ہوکر ان کا مقابلہ کیا۔ آج بھی سیشن کورٹ کوٹری میں ان مرزائیوں کے خلاف کیس چل رہا ہے۔ اب ایک نیا فتنہ گوہر شاہی جو اب تک صرف روحانیت اور تصوف کا پرچار کرنے اور اللہ اللہ کا درس دینے کا ایک ڈھونگ رچائے ہوئے تھا اس کی اصلیت کا پردہ بھی چاک ہونے لگا ہے، علماء کرام اور عوام اس کے گمراہ کن عقائد سے باخبر ہونے لگے ہیں۔ مجلس تحفظ ختم نبوت نے اس گمراہ اور اہانت رسول ﷺ کے مجرم کے خلاف اعلان جہاد کیا اور اس کے خلاف قانونی راست اختیار کرتے ہوئے توہین رسالت ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرایا۔ علاقہ کوٹری سائٹ ایریا میں مسجد ختم نبوت اور دفتر کے قیام کا فیصلہ ہوا۔ ختم نبوت کانفرنس کوٹری بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی تھی، بروز ہفتہ ۱۰/ جولائی ۱۹۹۹ء بعد نماز عشاء کانفرنس ہونا تھی کہ گوہر شاہی کے درجن بھر غنڈوں نے مسجد ختم نبوت پر جمعہ کے دن بعد نماز فجر ایک منصوبہ کے تحت دھاوا بول دیا، اسلحہ کی نمائش کی اور کانفرنس نہ کرنے کی دھمکیاں دیں، خصوصاً گوہر شاہی کے خلاف کیس کے مدعی علامہ احمد میاں حمادی کو قتل کرنے کی دھمکیاں دیں۔ جس کے بعد حیدر آباد جماعت کوٹری کے تمام رفقاء کے مشورے کے بعد ایس ڈی ایم کے نام ایک درخواست تحریر کی جس میں گوہر شاہی کے غنڈوں کی غنڈہ گردی کی شکایت کی گئی، درخواست ابھی ہو رہی تھی کہ گوہر شاہی کے بارہ غنڈوں نے دوبارہ مسجد ختم نبوت کے ارد گرد چکر لگانا شروع کر دیا اور جماعت کے رفقاء کے موٹر سائیکلوں کو چرا کر لے جانے کی کوشش کی جس پر جماعت کے مذکورہ احباب نے گوہر شاہی کے غنڈوں کے ارد گرد گھیرا ڈال کر ۹/ افراد کو پکڑ لیا اور باقی فرار ہو گئے۔ غلام محمد بھٹہ، حاجی زمان خان نے فوراً ایس ڈی ایم سے ملاقات کی اور مذکورہ واقعہ کے بارے میں آگاہ کیا، ایس ڈی ایم نے ایس ایچ او تھانہ کوٹری کو فوراً ان کو گرفتار کرنے کا آرڈر دیا۔ نام نہاد روحانیت اور تصوف کے جھوٹے دعویدار گوہر شاہی کے مریدوں نے انتظامیہ پر دباؤ ڈالنے کی بھر پور کوشش کی کہ ختم نبوت کانفرنس ہونے سے خون خرابہ ہوگا یہاں کے حالات خراب ہوں گے لیکن جماعت ختم نبوت نے مقامی و ضلعی انتظامیہ پر یہ بات واضح کر دی کہ ختم نبوت کانفرنس ہر صورت ہو کر رہے گی۔ بروز ہفتہ ۱۰/ جولائی بعد نماز عصر نائب امیر مرکزیہ مولانا محمد یوسف لدھیانوی اپنے رفقاء مولانا سعید احمد جلال پوری، مولانا طیب لدھیانوی، بھائی عبدالرحمن، رانا محمد انور، مولانا محمد اشرف کھوکھر سمیت دفتر ختم نبوت لطیف آباد نمبر ۲ میں تشریف لے آئے۔ علاقہ کے علماء کرام نے حضرت لدھیانوی کا استقبال کیا۔ اس کے بعد حضرت کانفرنس والی جگہ تشریف لائے۔ جس کے بعد کانفرنس کا باقاعدہ آغاز ہوا جناب قاری الہی بخش کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ جناب ملک شبیر احمد نے نعت رسول مقبول ﷺ پیش کی اور اسٹیج سیکرٹری کے فرائض جماعت ختم نبوت ضلع بدین کے مبلغ مولانا محمد علی صدیقی نے ادا کئے۔ مقررین حضرات جن میں مفتی محمد امیر مجلس حیدر آباد، مولانا ڈاکٹر عبد السلام قریشی، مفتی حفیظ الرحمن، مجلس تحفظ ختم نبوت سندھ کے کنوینر علامہ احمد میاں حمادی، مولانا قاری کامران، مولانا راشد مدنی نے خطاب کیا۔ حضرت لدھیانوی کے حکم پر حضرت کے رفیق خاص مولانا سعید احمد جلال پوری نے مختصراً عالمانہ خطاب کیا۔ آخری خطاب مہمان خصوصی حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی کا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ مرزا قادیانی کی طرح گوہر شاہی آج کل مختلف مراحل طے کر رہا ہے، امام مہدی کا پاکستان میں ہونے کا اقرار، کلمہ طیبہ کے اسٹیکر میں تحریف، قرآن مجید کے چالیس پارے ہونے کا اقرار، روحانی سفر نامی کتاب
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
میں حضور اکرم ﷺ کی ذات اقدس کی توہین، یہ ساری باتیں نشان دہی کرتی ہیں کہ گوہر شاہی کفر و الحاد کی تمام حدیں پھلانگ چکا ہے اور میں فتویٰ دیتا ہوں کہ گوہر شاہی کافر ہے، اس سے میل جول اور اس سے تعلقات رکھنا حرام ہے۔ رات ایک بجے ختم نبوت کانفرنس حضرت لدھیانوی کی دعا پر اختتام پذیر ہوئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۱۹۹۹ء ص ۵۵، ۵۶)
پھگلہ میں ختم نبوت کانفرنس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مانسہرہ کے زیر اہتمام ۲۳؍ جولائی ۱۹۹۹ء کو مانسہرہ کے علاقہ پھگلہ میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں حضرت مولانا سید منظور احمد شاہ آسی اور مولانا مفتی محمود الحسن صاحب مبلغ ختم نبوت راولپنڈی نے شرکت کی۔ حضرت مولانا منظور احمد صاحب نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ پھگلہ میں مرزائی اپنی عبادت گاہ تعمیر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مرزائیوں کی عبادت گاہ کی تعمیر کو روکیں، ورنہ مانسہرہ کے غیور مسلمان قادیانیوں کی عبادت گاہ کو نہیں بننے دیں گے۔ جس کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ پر ہوگی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۱۹۹۹ء ص ۶۳)
ختم نبوت کانفرنس گلاسکو
برطانیہ سے آمدہ اطلاعات کے مطابق اسکاٹ لینڈ کے مرکزی شہر گلاسکو کی جامع مسجد میں جمعیت اتحاد بین المسلمین کے زیر اہتمام ایک روزہ ختم نبوت کانفرنس عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم کی زیر صدارت ۳۰؍ جولائی ۱۹۹۹ء کو منعقد ہوئی۔ جس سے حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی، صاحبزادہ طارق محمود، مولانا محمد اکرم طوفانی، مفتی منیر احمد اخون زادہ، صاحبزادہ سعید احمد، طہٰ قریشی، قاری محمد ابراہیم نے خطاب کیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر مرکزیہ مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا، عقیدہ ختم نبوت ضروریات دین کا حصہ ہے۔ اس کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہو سکتا، انہوں نے کہا کہ قادیانیت کسی مذہب کا نام نہیں بلکہ اس کی بنیاد دجل و فریب پر رکھی گئی ہے، انہوں نے کہا کہ جھوٹے مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکار اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اور غلط تشریحات کر کے نئی نسل کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے کہا قادیانیت کا احتساب اور عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ کرنا ہر مسلمان کا دینی فریضہ ہے۔
طہٰ قریشی نے انگریزی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت واحد جماعت ہے جو مستقل بنیادوں پر قادیانی فتنہ کے خلاف سرگرم عمل ہے، انہوں نے کہا کہ سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے اس جماعت کی بنیاد رکھی اور قادیان میں داخل ہو کر قادیانی ذریت کو للکارا، شاہ جی کا سب سے بڑا کارنامہ تمام مکاتب فکر کے دینی رہنماؤں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا تھا۔ مفتی منیر احمد اخون نے سیرت رسول ﷺ کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کا عالم گیر ہمہ گیر ہونا ختم نبوت کی دلیل ہے۔ حاجی محمد صادق نے سرور کائنات ﷺ کے حضور نذرانہ عقیدت پیش کیا۔ حاجی محمد صابر نے سٹیج سیکرٹری کے فرائض سرانجام دیئے، کانفرنس کا اختتام شیخ المشائخ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم کی دعا سے ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۱۹۹۹ء ص ۶۰، ۶۱)
چودھویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس برمنگھم
برمنگھم (رپورٹ مفتی جمیل خان) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۸؍ اگست ۱۹۹۹ء کو برمنگھم کی مرکزی مسجد میں ایک روزہ بین الاقوامی ختم نبوت کانفرنس شیخ المشائخ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم امیر مرکزیہ کی زیر صدارت میں منعقد ہوئی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جس میں مختلف ملکوں سے آئے ہوئے دینی سکالروں ، دانشوروں اور علماء کرام نے خطاب کیا۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ عقیدہ ختم نبوت اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے جس پر پورے دین کی عمارت استوار ہے۔ مقررین نے کہا کہ محبت اور عقیدت کا مرکز ومحور جناب رسالت مآب ﷺ کی ذات گرامی ہے۔ آپ ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ پیغمبر اسلام کی تضحیک اور اہانت ہے۔ انہوں نے کہا قادیانی جماعت اسلام دشمن طاقتوں کا آلہ کار بن کر اسلام اور بالخصوص پاکستان کے خلاف سازشوں اور ریشہ دوانیوں میں مصروف ہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر مرکزیہ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے قادیانیوں کو دعوت اسلام دیتے ہوئے کہا کہ اب بھی موقع ہے کہ وہ جھوٹے نبی کو چھوڑ کر سچے نبی آخر الزماں ﷺ کے دامن رحمت سے وابستہ ہو کر اپنی آخرت سنوار لیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم جبر و تشدد کے قائل نہیں۔ ہم اخلاص اور دل کی گہرائیوں سے خیرخواہ ہونے کی حیثیت سے قادیانیوں کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ موت سے پہلے اپنے ایمان کا معاملہ درست کر لیں ، سرور دوعالم ﷺ کا بتایا ہوا راستہ ہی دینی، دنیوی اور اخروی مقاصد کی کامیابیوں کا راستہ ہے۔ مولانا عبدالغفور حیدری جنرل سیکرٹری جمعیت علماء اسلام نے کہا کہ آج پوری دنیا قادیانیوں کے کفر پر مہر تصدیق ثبت کرچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قادیانیوں کو راتوں رات غیر مسلم قرار نہیں دیا گیا ، بلکہ ان کا مؤقف سن کر اور انہیں مکمل صفائی کا موقع دے کر ان کے ناپاک عقائد کی بنیاد پر انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اگر تحفظ ناموس رسالت ایکٹ میں یا اس کے طریق کار میں تبدیلی کرنے کی کوشش کی تو قوم یہ کبھی برداشت نہیں کرے گی۔ حضرت مولانا اللہ وسایا نے کہا کہ قادیانیوں کے خلاف عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مستقل بنیادوں پر کام کرنے والی جماعت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے اکابرین کی طرح عدم تشدد کے قائل ہیں۔ قادیانیوں سے متعلق آئینی اور قانونی ضابطوں کے مطابق احتساب کرنا ہمارا طریق کار رہا ہے۔ حضرت مولانا سید اسعد مدنی مدظلہ صدر جمعیت علمائے ہند نے کہا کہ دنیا میں جتنے بھی انبیاء مبعوث ہوئے۔ صداقت و امانت ان کا طرۂ امتیاز تھا۔ انہوں نے کہا مرزا غلام احمد قادیانی اپنے تمام تر دعوؤں اور پیشین گوئیوں میں جھوٹا تھا۔ اس کے ہاں صداقت نام کی کوئی چیز نہ تھی۔ انہوں نے برطانیہ کے مسلمانوں سے استدعا کی کہ وہ اپنی اولادوں کے ایمان کے تحفظ کے لئے فکر اور عملی کوشش کریں۔ صاحبزادہ طارق محمود ایڈیٹر لولاک نے کہا مسلمانوں اور قادیانیوں کے مابین متنازعہ فیہ مرزا غلام احمد قادیانی کی ذات ہے، انہوں نے کہا کہ جس کو گھڑی پر ٹائم دیکھنا نہیں آتا تھا اسے کیسے نبی مان لیا جائے، انہوں نے کہا انگلستان قادیانیت کا قبرستان بن کر رہے گا ، صاحبزادہ طارق محمود نے اعلان کیا جب تک آقائے نامدار ﷺ کا آخری امتی باقی ہے قادیانیت کا تعاقب جاری رکھا جائے گا۔ علامہ ڈاکٹر خالد محمود سومرو سیکرٹری جمعیت علماء اسلام سندھ نے اپنے خطاب میں مختلف حوالہ جات سے بتایا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے خدا تعالیٰ، حضور ﷺ، صحابہ کرامؓ، اہل بیتؓ کی اہانت کا ارتکاب کر کے مسلمانوں کے دینی جذبات کو مجروح کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان جذبہ جہاد سے ہی زندہ رہ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کے خلاف کارروائی مسلمانوں کے خلاف کارروائی تصور کی جائے گی۔ مولانا محمد اکرم طوفانی نے کہا قادیانیت کسی مذہب کا نام نہیں بلکہ دجل وفریب کا نام ہے، جسے مخصوص مقاصد کے لئے پیدا کیا گیا تھا۔ انہوں نے برطانیہ کے مسلمانوں سے قادیانی فتنہ کے قلع قمع کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی۔ معروف دینی سکالر مولانا زاہد الراشدی نے کہا قادیانی فتنہ کو تنسیخ جہاد کے لئے پیدا کیا گیا تھا، انہوں نے کہا کہ اسامہ بن لادن پوری مسلمان برادری کا ہیرو ہے، جسے امریکہ دہشت گرد قرار دے رہا ہے، انہوں نے کہا سب سے بڑا دہشت گرد امریکہ ہے جو پوری دنیا میں اپنی چوہدراہٹ قائم کرنے کا خواب دیکھ رہا ہے۔ مولانا حافظ احمد عثمان ایڈووکیٹ نے کہا نوجوان نسل کو قادیانی فتنہ کے عقائد وعزائم سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔ لارڈ نذیر نے کہا آج انگلینڈ میں تمام مذہبی اور دینی جماعتیں عقیدہ ختم نبوت اسلام اور پاکستان کے معاملے
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
میں متحد ہیں۔ مسلمان کسی ایسی تنظیم کو برداشت نہیں کر سکتے جو عقیدہ ختم نبوت کی منکر ہو، انہوں نے برطانیہ کے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ دفاعی اور فلاحی کاموں میں حکومت کا ہاتھ بٹائیں۔ برمنگھم میں ہونے والی بین الاقوامی ختم نبوت کانفرنس سے مولانا مفتی محمد جمیل خان، مولانا منظور احمد الحسینی، طہ قریشی، مولانا محمد خلیل بندھانی، مولانا نور الاسلام بنگلہ دیش، مفتی منیر احمد اخون، مولانا اشرف علی جانشین شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان، مولانا ریاض الحق، مولانا عبد الحمید بلجیم، مولانا مشتاق الرحمٰن مغربی جرمنی اور مولانا فدا الرحمٰن درخواستی کے علاوہ مولانا فضل داد بریڈ فورڈ، مولانا بہاؤ الدین صدام مسجد نے انگریزی زبان میں خطاب کیا۔ کانفرنس میں قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کے پیغامات پڑھ کر سنائے گئے۔ ایک روزہ ختم نبوت کانفرنس میں برطانیہ کے مسلمانوں کا جوش و خروش دیدنی تھا۔ حاضری کے لحاظ سے اب تک ہونے والی کانفرنسوں میں ختم نبوت کانفرنس میں ریکارڈ حاضری تھی۔ کانفرنس میں مختلف قراردادیں بھی پیش کی گئیں جنہیں اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۱۹۹۹ء ص ۵۳ تا ۵۵)
پانچویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس جرمنی
اس لحاظ سے گزشتہ چار سالوں سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جرمنی ۴ کانفرنسیں منعقد کیں۔ جو نہایت کامیاب رہیں پہلی تین کانفرنسیں آفن باغ میں منعقد ہوئیں۔ پچھلے سال اگست ۱۹۹۸ء میں دو شہروں میں یکے بعد دیگرے بالترتیب دو بڑی کانفرنسیں منعقد ہوئیں، پہلے دن ہمبرگ اور دوسرے دن منہائیم میں۔ یہ دونوں کانفرنسیں نہایت کامیاب رہیں۔ اللہ تعالیٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جرمنی کے امیر مولانا قاری مشتاق الرحمٰن ان کے احباب من ہائم کے رفقاء کرام ہمبرگ کے دوستوں کی کوششوں کو قبول فرمائے کہ انہوں نے دونوں کانفرنسوں کے لئے بڑی محنت کی۔
اس سلسلے میں تیاریاں شروع کر دی گئیں، لندن سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا دو رکنی وفد جو مولانا منظور احمد الحسینی اور جناب طہ قریشی پر مشتمل تھا۔ ۲۱ اگست صبح بلجیم کے مرکزی دارالحکومت برسلز پہنچا۔ جناب الحاج ملک محمد افضل نے میڈی اسٹیشن پر وفد کا استقبال کیا۔ وفد کا قیام برسلز میں جناب ملک صاحب کے گھر پر رہا۔ حاجی عبد الحمید امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بلجیم نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عصر کے بعد مقامی طور پر جلسے کا اعلان کر دیا، تمام مقامی احباب جمع ہونا شروع ہو گئے اور عصر کی نماز پر برسلز اور مقامی احباب کا ایک بڑا مجمع جمع ہو گیا۔ ادھر حاجی محمد افضل ملک کی قیادت میں ختم نبوت کا وفد تقریباً پانچ بجے دفتر ختم نبوت اینٹ ورپن پہنچا۔ وہاں تمام احباب نے وفد ختم نبوت کا خیر مقدم کیا۔ عصر کے بعد جلسے کی کارروائی شروع ہوئی۔ حاجی عبد الحمید نے کہا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بلجیم نے گزشتہ کئی سالوں سے منکرین ختم نبوت کی ارتدادی سرگرمیوں سے بچانے کے لئے جدید خطوط پر کام کرنا شروع کر دیا گیا ہے جس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ مولانا منظور احمد الحسینی نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت ایک سو سے زائد قرآنی آیات اور دو سو سے زائد احادیث کریمہ سے ثابت ہے۔ کانفرنس سے قاری محمد یوسف خطیب مسجد مدنی لج نے بھی خطاب کیا جب کہ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض چوہدری محمد خلیل نے انجام دیئے۔ مغرب تک یہ جلسہ پایہ تکمیل کو پہنچا۔ مغرب کے بعد تمام حاضرین جلسہ کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اینٹ ورپن کی طرف سے کھانے کی دعوت تھی۔ عشاء کے بعد پروگرام طے ہوا کہ اسی وقت ہمبرگ جرمنی روانہ ہوا جائے۔ پانچ رکنی وفد جس میں مولانا منظور الحسینی کے علاوہ جناب طہ قریشی، حاجی عبد الحمید، قاری محمد یوسف اور الحاج ملک محمد افضل تھے۔ ٹھیک نو بجے اینٹ ورپن سے ہمبرگ کے لئے روانہ ہوا۔ ساری رات سیارہ ختم نبوت چلتی رہی راستے میں کافی کچھ فاصلہ ہالینڈ کی سرزمین سے طے کرنا پڑا۔ بتوفیقہ تعالیٰ وقفے وقفے سے
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
راستے میں تمام احباب کا ورد نعرہ تکبیر اللہ اکبر، تاج وتخت ختم نبوت زندہ باد اور کلمہ تمجید رہا، صبح ۵ بجے فجر کی اذان کے وقت یہ وفد ہمبرگ پاک عالمی مرکز پہنچا۔ نماز کے بعد احباب نے کچھ دیر آرام کیا۔ تقریباً دس بجے آفن باغ سے مولانا قاری مشتاق الرحمٰن کی قیادت میں دوسرا وفد پاک عالمی مرکز ہمبرگ پہنچا۔ بعد ازاں مشورہ ہوا مشورے کے مطابق ظہر کے بعد کانفرنس کی کارروائی کا آغاز جناب قاری محمد یوسف صاحب کی تلاوت سے ہوا۔ صدارت جناب ملک محمد افضل صاحب نے کی۔ نعت جناب طہٰ قریشی نے پیش کی اور اسٹیج سیکرٹری کے فرائض بھی انہوں نے انجام دیئے۔ کانفرنس سے بلجیم عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر حاجی عبدالحمید نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علماء کرام انبیاء علیہم السلام کے وارث ہیں وہ حضور اکرم ﷺ کے گلشن اسلام کے مالی ہیں، وہ باغ محمدی کے پہریدار اور چوکیدار ہیں، جس طرح ایک چوکیدار کے لئے لازم ہے کہ وہ اپنی ڈیوٹی ادا کرے اسی طرح علماء اسلام بھی تحفظ ختم نبوت کے سلسلے میں اپنی ذمہ داری ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے پولیٹیکل اسائلم کے ذریعہ یہاں بلیک میلنگ کا گھناؤنا کاروبار قائم کر رکھا ہے۔ یہ مرزائی ۷۰ فیصد ہر اسائلم والے سے لیتے ہیں اور ان کو یہ صاف کہتے ہیں کہ پیسے دو ورنہ اسائلم ختم کرتے ہیں۔ اس طرح سے یہ دھندا کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ قادیانی یورپ کے قانون کو پامال کر رہے ہیں۔ ہم یہاں کے ارباب حل وعقد کو بتلانا چاہتے ہیں کہ اس ملک میں قانون کی صحیح عمل داری ہونی چاہئے۔ کسی شخص سے بھتہ وصول نہ کیا جائے کسی سے جگا ٹیکس وصول نہ کیا جائے، یہ قادیانی دیمک کی طرح اندر ہی اندر ان ملکوں کو کمزور کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرزائی امریکہ یورپ اور دیگر ممالک میں جھوٹی اور من گھڑت کہانیاں پیش کر کے سیاسی پناہ حاصل کر رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرزائی مسلمان نہیں ہیں، وہ اسلام کا نام اور لیبل استعمال نہ کریں اس طرح یورپ کے لوگوں کے سامنے اپنے آپ کو بطور مسلمان پیش کر کے اسلام کو بدنام کر رہے ہیں، جس طرح دنیا میں کوئی جعلی چیز نہیں چل سکتی ( جیسے جعلی نوٹ، جعلی سکہ، جعلی فوجی، جعلی سپاہی وغیرہ ) اسی طرح ان کی یہ چال اور دھوکہ ایک دن کھل کر رہے گا اور دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ انہوں نے قادیانیوں کو سیاسی پناہ دینے والے ملکوں سے درخواست کی کہ وہ قادیانیوں کو سیاسی پناہ نہ دیں۔ کیونکہ ان پر پاکستان میں کوئی ظلم نہیں ہو رہا، وہ دھوکہ سے سیاسی پناہ حاصل کرتے ہیں۔ پاک محمدی مسجد فرینکفرٹ کے خطیب وامام مولانا احسان الرحمٰن نے کہا کہ آپ ﷺ کی سیرت کا ایک بڑا حصہ آپ ﷺ کے اخلاق عالیہ ہیں۔ آپ ﷺ کے صحابہ ؓ نے انہی اخلاق کو اپنایا، خلیفہ بلا فصل حضرت ابوبکر صدیق ؓ جب افواج کو روانہ فرماتے تو باقاعدہ ہدایت جاری فرماتے کہ سرسبز کھیتوں کو ویران نہ کرنا، بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کو قتل نہ کرنا، رہبان ربی پروہت وغیرہ سے مزاحمت نہ کرنا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام اعلیٰ اخلاق کی تعلیم دیتا ہے۔ مسلمانوں کو اخلاق واعمال کے اعتبار سے مضبوط ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ آج دین سے تعلق کمزور ہو گیا ہے جس کی وجہ سے بہروپیئے پیدا ہو رہے ہیں اور وہ اپنا کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا عقلمند کسان وہ ہوتا ہے جو فصل اٹھانے سے پہلے اپنی کھیتی پر محنت کرتا ہے، جھاڑ جھنکار کو نکالتا ہے، گوڈی کرتا ہے زہریلے پودے کو اکھاڑ پھینکتا ہے، موذی حشرات الارض پر اسپرے کرتا ہے۔ یہ سب اس لئے کرتا ہے، اصل پیداوار فصل زیادہ سے زیادہ ہو۔ ہمیں بھی دین کی حفاظت کے لئے فتنوں کا خوب مقابلہ کرنا ہوگا۔
جناب طہٰ قریشی نے کہا کہ پاکستان میں الحمد للہ ! ختم نبوت کے موضوع پر کافی کام ہو چکا ہے اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم امریکہ اور یورپ کے ممالک میں اکابر کی ہدایات کی روشنی کے مطابق کام کو آگے بڑھائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم انٹرنیٹ پر کافی کام کر چکے ہیں یونیورسٹی کے نوجوانوں کو اس طرف آپ حضرات متوجہ کریں کہ وہ انٹرنیٹ کے ذریعہ معلومات حاصل کر کے قادیانیت کا مقابلہ کریں انہوں نے کہا کہ ہم مسلمانوں کو منکرین ختم نبوت کی سرگرمیوں سے بچانے کے لئے پہلے ہی کئی زبانوں میں لٹریچر تیار کر چکے ہیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جرمنی کے امیر اور جامع مسجد توحید کے خطیب مولانا قاری مشتاق الرحمٰن نے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں اس مسجد ہمبرگ کی انتظامیہ کا مشکور ہوں کہ انہوں نے یہاں سیرت اور ختم نبوت کانفرنس منعقد کرائی۔ مولانا نے کہا کہ پہلے انبیاء کرام علیہم السلام سے یہ اعلان کرایا گیا کہ میں اللہ کا نبی ہوں، میں اللہ کا رسول ہوں مگر حضور اکرم ﷺ سے خصوصی اعلان کرایا گیا کہ جہاں میں رسول اور نبی ہوں وہاں میں آخری نبی و رسول بھی ہوں۔ مجھ پر سلسلہ رسالت ونبوت دونوں ختم ہیں۔ میرے بعد قیامت تک کسی کو نہ رسالت کا عہدہ ملے گا نہ نبوت کا منصب کسی کو بخشا جائے گا، میرا لایا ہوا دین قیامت تک رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ دشمن جب اپنے قدموں پر کھڑا نہیں ہو سکتا تو اسے کوئی بیساکھی چاہئے ، سہارا چاہئے ۔ یہی حال مرزائیوں کا ہے وہ پوری دنیا میں جہاں کہیں بھی ہیں باطل سہارے کے ذریعے کام کر رہے ہیں ، ان کی اپنی کوئی حقیقت نہیں مجھ سے یہاں دومرتبہ انٹرویو لیا گیا اور سوال کیا گیا کہ آپ کی تنظیم قادیانیوں کے خلاف تشدد پر اکساتی ہے؟ میں نے کہا کہ ہر گز نہیں اسلام انسان تو انسان جانوروں کے حقوق کے تحفظ کا بھی ضامن ہے ، جہاں تک اختلاف کی بات ہے تو دلائل سے قائل کرنا ہے اسلام ظلم و جبر، تشدد کا درس نہیں دیتا پوری اسلامی تاریخ اس کی گواہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں انٹرویو لینے والوں سے کہا کہ اس وقت آپ ائیر پورٹ جا کر دیکھیں تو آپ کو کثرت سے مرزائی ملیں گے جو اپنے ملک پاکستان جا رہے ہیں ، اگر انہیں کوئی تکلیف ہوتی تو ایک بھی مرزائی پاکستان سفر نہ کر سکتا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم مسلمانوں کو ان کے دین کی معلومات فراہم کرتے ہیں اور یہ عالم دین کی ڈیوٹی ہے انہوں نے کہا کیونکہ مرزائی مسلمان نہیں ہیں، ان کے عقائد مسلمانوں کے عقائد سے جدا ہیں۔ لہٰذا مسلمانوں کو ان کے باطل عقائد سے خبردار کیا جانا ضروری ہے اور یہ ہم کر رہے ہیں۔
اس کانفرنس کے آخری مقرر مولانا منظور احمد الحسینی نے کہا کہ سیرت النبی ﷺ کا سب سے اہم پہلو عقیدہ ختم نبوت ہے اس لئے کہ حضور اکرم ﷺ نے اس پر سب سے زیادہ زور دیا اور واضح کیا کہ میرے بعد کوئی نبوت کا دعویٰ کرے تو اسے مسترد کر دو اس لئے مسلمانوں نے نبوت کا دعویٰ کرنے والوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ آج منکرین ختم نبوت یورپ اور امریکہ میں جھوٹے پروپیگنڈے کر کے سیاسی پناہ اور دنیاوی مفاد حاصل کر رہے ہیں اور جب ان کا مستقل ویزا لگ جاتا ہے تو پاکستان آمد و رفت شروع کر دیتے ہیں۔
عصر تک یہ کانفرنس جاری رہی ہمبرگ شہر کا پاک عالمی مرکز جاں نثاران ختم نبوت سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا ۔ یہ کانفرنس تیسری منزل کے وسیع ہال میں ہو رہی تھی جب کہ دوسری منزل میں مستورات کے لئے انتظام کیا گیا تھا۔ آخر میں حضرت مولانا احسان الرحمٰن کی دعا پر کانفرنس اختتام پذیر ہوئی۔ عصر کے بعد علماء کرام اور تمام حاضرین نے ماحضر تناول کیا۔ بعد ازاں دونوں وفد اپنی اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گئے۔
تمام حاضرین جلسہ نے علماء کرام کو پر تپاک طریقہ سے رخصت کیا اور الوداع کہا سوموار کی رات برسلز بلجیم میں قیام رہا سوموار کے دن صبح مولانا منظور احمد الحسینی جناب حاجی عبدالحمید کے ہمراہ لئیج شہر پہنچے اس شہر میں جناب قاری محمد یوسف نے ایک جگہ کرائے پر لے کر مصلیٰ بنایا ہے ۔ یہاں پنجگانہ نماز جمعہ کے علاوہ بچوں کی پڑھائی کا انتظام ہے۔ یہاں ظہر کے بعد مختصر سی تقریب تھی جس میں کچھ مقامی احباب جمع ہوئے۔ مولانا منظور احمد الحسینی نے تحفظ ختم نبوت کے موضوع پر مختصر خطاب کیا ۴ بجے کے قریب وفد کی واپسی ہوئی ۔سوموار کی شام جناب ملک محمد افضل کی قیادت میں مولانا محمد منظور احمد الحسینی اور جناب ظفر قریشی کی فرانس روانگی ہوئی۔ فرانس کے مشہور شہر لیل وے کے قریبی شہر میں جناب تجمل حسین کے یہاں وفد ٹھہرا۔ رات قیام وہیں رہا۔ مولانا منظور احمد الحسینی نے ۲۴ ستمبر فجر کی نماز کے بعد درس
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قرآن دیا بعد ازاں تقریباً ۱۵ منٹ مجلس ذکر منعقد ہوئی۔ اسی دن وفد ختم نبوت واپس لندن پہنچا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۲۲ تا ۲۸ / اکتوبر ۱۹۹۹ء ص ۲۳ تا ۲۵)
پشاور میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس
۷ ستمبر ۱۹۹۹ء کو ستمبر ۱۹۷۴ء کے قومی اسمبلی پاکستان کے تاریخی فیصلے یعنی قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی سلور جوبلی کے سلسلہ میں عظیم الشان ختم نبوت سیمینار زیر صدارت امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم بمقام چوک قصہ خوانی منعقد ہوا۔ جس میں مناظر اسلام مولانا اللہ وسایا مہمان خصوصی تھے۔ اس موقع پر قادیانیت کے متعلق سوال جواب کا مقابلہ ہوا۔ صحیح جواب دینے والوں میں دتہ سویٹ ہاؤس نمک منڈی والوں کی طرف سے انعامات تقسیم کئے گئے۔ تقریب سے مفتی شہاب الدین، مولانا نور الحق نور، مولانا اکرام اللہ جان قاسمی، مولانا سید امام شاہ، مولانا اللہ وسایا نے خطاب کیا۔ انہوں اپنی تقریر میں کہا کہ ہنود اور یہود و نصاریٰ کی شہ پر قادیانی غیر مسلم اقلیت پاکستان کی سالمیت اور عالم اسلام کے خلاف سازشوں میں سرگرم عمل ہیں۔ جس کا سب سے بڑا ثبوت پاکستان کو دو لخت کرنے میں مرزا قادیانی کے پوتے ایم ایم احمد قادیانی کا کردار ہے جو کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۱۹۹۹ء ص ۵۴)
ختم نبوت کانفرنس بہاول پور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس گلزار صادق میں منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد المجید لدھیانوی نے کی۔ کانفرنس کے مہمان خصوصی قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن تھے۔ کانفرنس کا افتتاح عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری کے خطاب سے ہوا۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عالمی مجلس کے مرکزی ناظم تبلیغ مولانا بشیر احمد نے تحریک ختم نبوت کے ماضی کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا۔ شاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایا نے مسئلہ ختم نبوت، حیات مسیح علیہ السلام اور رفع اور نزول مسیح علیہ السلام پر قادیانیوں کے اشکالات کے جوابات ارشاد فرمائے۔ مولانا فضل الرحمن دھرم کوٹی نے فرمایا کہ ختم نبوت کی برکت سے اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہاد جیسی عظیم نعمتیں ہمیں عطا فرمائی ہیں۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے کہا کہ ناموس رسالت ﷺ کے تحفظ کے لئے بڑی سے بڑی قربانی بھی برداشت کی جاسکتی ہے۔ لیکن گستاخ رسول کو ہرگز برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ جمعیت علماء اسلام پنجاب کے امیر مولانا محمد عبداللہ نے فرمایا کہ قادیانیت ایک سیاسی تحریک ہے۔ مولانا محمد لقمان علی پوری نے اپنے مخصوص انداز میں بیان کیا۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا کامل و مکمل دین کامل و مکمل شخصیت پر نازل فرمایا۔ جب دین کامل ہو گیا تو اب کسی دین و شریعت اور وحی کی ضرورت نہیں۔ کانفرنس سے مولانا محمد اسحاق ساقی، مولانا حافظ احمد بخش، قاری مشتاق احمد، مولانا یار محمد عابد، مولانا محمد یوسف اور دوسرے حضرات نے بھی خطاب کیا۔ کانفرنس رات گئے تک جاری رہی۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے سرانجام دیئے۔ جب کہ مقامی جماعت کے رہنماؤں حاجی سیف الرحمن، چوہدری محمد علیم، محمد ریاض چغتائی، محمد سلیم انصاری، محمد افضل قریشی سمیت بہت سے کارکنوں نے کانفرنس کی کامیابی کے لئے بھر پور محنت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۱۹۹۹ء ص ۶۱)
کوئٹہ، مچھ، مستونگ، لورالائی اور ژوب میں ختم نبوت کانفرنسیں
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کوئٹہ بلوچستان کے زیر اہتمام کوئٹہ، مچھ، بولان، مستونگ، لورالائی اور ژوب میں ایک ایک روزہ ختم
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نبوت کے عنوان سے عظیم الشان کانفرنسیں منعقد ہوئیں۔ ان پروگراموں میں عالمی مجلس کے امیر مرکزیہ مخدوم العلماء حضرت خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ، مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ، شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا، مولانا بشیر احمد مرکزی ناظم تبلیغ، مولانا نذیر احمد تونسوی، بلوچستان کے مبلغ مولانا عبدالعزیز جتوئی، خطیب جامع مسجد قندھاری حضرت مولانا عبدالواحد، مولانا عبدالرحیم رحیمی، مولانا انوار الحق حقانی کے علاوہ دیگر مقامی علماء کرام نے بھی عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور ضرورت جہاد کے موضوع پر خطاب کیا۔
ان پروگراموں میں شرکت کے لئے عالمی مجلس کے امیر مرکزیہ حضرت اقدس خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ اور صاحبزادہ نجیب احمد کانفرنس سے ایک دن قبل جب کوئٹہ تشریف لائے تو ائیر پورٹ پر مولانا انوار الحق حقانی اور مولانا عبدالواحد، حاجی سید شاہ محمد آغا، فیاض حسن سجاد، حاجی تاج محمد فیروز، حاجی نعمت اللہ خان، حاجی نسیم احمد خان، حاجی خلیل الرحمن، چوہدری محمد طفیل احرار، مولانا عبدالعزیز جتوئی، مولانا عبدالرحیم رحیمی، مولانا عبداللہ منیر، مولانا گل حبیب، مولانا محب اللہ، مولانا آغا محمد سعید حسن، نادر خان، قاری محمد شریف تونسوی، خادم حسین گجر، غلام یاسین اور دیگر جماعتی علماء کرام اور معززین شہر نے حضرت امیر مرکزیہ کا استقبال کیا اور جلوس کی شکل میں حضرت الامیر کو ان کی قیام گاہ محترم جناب فیاض حسن سجاد واقع شہباز ٹاؤن لایا گیا۔ اسی دن شام کو حضرت امیر مرکزیہ حرمزئی ضلع پشین میں ایک مدرسہ کے سالانہ جلسہ دستار بندی میں شرکت کے لئے تشریف لے گئے۔
کوئٹہ میں خطبات جمعہ: مورخہ ۱۷ ستمبر ۱۹۹۹ء کو کوئٹہ جماعت نے مختلف مساجد میں نماز جمعہ کے اجتماعات میں مہمان علماء کرام کے بیانات کا پروگرام ترتیب دے رکھا تھا۔ جس کے مطابق حضرت امیر مرکزیہ نے نماز جمعہ جامع مسجد مرکزی میں ادا فرمائی اور یہاں پر نماز جمعہ سے قبل مفکر ختم نبوت عالمی مجلس کے ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری کا تفصیلی خطاب ہوا اور نماز خطیب جامع مسجد حضرت مولانا انوار الحق حقانی نے پڑھائی۔ جامع مسجد قندھاری میں شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا نے نماز جمعہ سے قبل خطاب کیا۔ جامع مسجد عمر ملتانی محلہ میں مولانا نذیر احمد تونسوی نے خطاب کیا۔ جامع مسجد اسلامیہ ہائی سکول میں جماعت کے ناظم تبلیغ مولانا بشیر احمد نے خطاب کیا۔ جامع مسجد سنہری میں مولانا عبدالقادر ڈیروی نے خطاب کیا۔ جامع مسجد طوبیٰ میں مولانا عبدالعزیز جتوئی نے خطاب کیا۔ علماء کرام نے نماز جمعہ کے اجتماعات میں عقیدہ ختم نبوت اور قادیانیت کے کفریہ عقائد پر روشنی ڈالی اور امت مسلمہ کے اتفاق و اتحاد پر زور دیا۔
کوئٹہ میں استقبالیہ: بعد از نماز جمعہ چار بجے سہ پہر عالمی مجلس کے امیر مرکزیہ اور دیگر مہمانوں کے اعزاز میں کوئٹہ جماعت کی طرف سے ایک بڑے استقبالیے کا انتظام کیا گیا تھا۔ جس میں کوئٹہ شہر کے نامور علماء کرام معززین شہر اور جماعتی احباب نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ استقبالیہ تقریب سے مولانا عبدالعزیز جتوئی، مولانا عبدالواحد، مولانا انوار الحق حقانی نے اپنے خطاب میں بلوچستان میں جماعت کی کارکردگی اور عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت پر خطاب کیا اور حضرت امیر مرکزیہ اور دیگر مہمانوں کو خوش آمدید کہا۔ آخر میں عالمی مجلس کے ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انگریزوں نے ایک سازش کے تحت مرزا غلام احمد قادیانی سے نبوت و رسالت کا دعویٰ کرایا اور فتنہ قادیانیت انگریز گورنمنٹ کی سرپرستی میں پھیلتا رہا۔ یہاں تک کہ انگریز جب اس ملک سے چلے گئے تو جاتے ہوئے اس فتنہ کی آبیاری یہاں کے حکمرانوں کے سپرد کر گئے اور قادیانی فتنہ اہل اسلام کے لئے چیلنج بن گیا۔ چنانچہ ہمارے اکابر نے قادیانی فتنے کا دجل و فریب اور اس کے کفریہ عقائد کا پردہ چاک کر کے اہل اسلام کے ایمانوں کو اس فتنہ کی زد میں آنے سے بچایا۔ آخر میں حضرت امیر مرکزیہ کی دعا پر اس پروقار تقریب کا اختتام ہوا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس کوئٹہ : مؤرخہ ۱۷؍ستمبر ۱۹۹۹ء بعد از نماز عشاء جامع مسجد طوبیٰ میں ایک روزہ ختم نبوت اور جہاد کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی صدارت حضرت امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد مدظلہ نے ۔ کانفرنس کے عظیم اجتماع سے مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری، شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قادیانیت نام ہے حضور اکرم ﷺ کی ختم نبوت سے بغاوت کا اور ختم نبوت کا یہ باغی گروہ مسیلمہ کذاب کی روحانی اولاد بن کر جب گورنمنٹ برطانیہ کی بیساکھیوں کا سہارا لے کر میدان میں آیا تو اہل اسلام نے اس کے کفریہ عقائد وعزائم کو اسلام کے لئے زہر قاتل سمجھتے ہوئے سروں پر کفن باندھ کر خلیفہ اوّل سیدنا ابو بکر صدیق ؓ کے دور کی یاد تازہ کرتے ہوئے جذبہ شہادت سے سرشار ہوکر اپنے خون سے عقیدہ ختم نبوت کی آبیاری کی ان شہداء کے خون کی برکت ہے کہ آج پوری دنیا میں قادیانیت ایک گالی بن چکی ہے اور عالمی مجلس کے مرکزی مبلغ مولانا نذیر احمد تونسوی نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت دین اسلام کی بنیاد اور ایمان کی روح ہے۔ پورے دین اسلام کی عمارت اس عقیدہ کی بنیاد پر قائم ہے۔ اس لئے ہر دور میں مسلمانوں نے بے پناہ قربانیاں پیش کر کے اس عقیدے کے تحفظ کا فریضہ سرانجام دیا۔ مولانا عبدالباقی ہڑی نے کہا کہ ختم نبوت کا حفاظت کے لئے ہم اپنے جان، مال، عزت، آبرو کو قربان کر کے ختم نبوت کی تحفظ کریں گے۔ کانفرنس سے مولانا عبدالعزیز جتوئی، مولانا عبدالواحد، مولانا عبدالرحیم رحیمی، مولانا انوار الحق حقانی، مولانا قاری محمد حنیف نے خطاب کیا۔ ہزاروں افراد نے کانفرنس میں شرکت کی۔ رات گئے حضرت امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب کی پرسوز دعا پر کانفرنس کا اختتام ہوا۔
مچھ بولان میں ختم نبوت کانفرنس : مؤرخہ ۱۸؍ستمبر ۱۹۹۹ء بروز ہفتہ کو بعد از نماز عشاء جامع مسجد مرکزی مچھ شہر میں مولانا سید عبدالمالک شاہ خطیب جامع مسجد ہذا کی صدارت میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عزیز الرحمن جالندھری، شاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایا نے کہا کہ مرزا قادیانی ایک مجہول النسب انسان تھا۔ انگریز نے ایسے بے وقوف سے نبوت ورسالت کا دعویٰ کرا کے در حقیقت منصب نبوت کا انتہائی گھٹیا مذاق اڑایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر شخص سے رعایت ہوسکتی ہے لیکن گستاخ رسول کسی رعایت کا مستحق نہیں ہے۔ مولانا بشیر احمد نے کہا کہ ہمارے اکابرین نے قادیانیت کا بھر پور انداز میں مقابلہ کر کے انگریز کی خطرناک سازش کو بے نقاب کیا اور انگریز اپنے اسلام دشمن عزائم میں ناکام ہوا۔ مولانا نذیر احمد تونسوی نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت ہر مسلمان کا مذہبی فریضہ ہے۔ مولانا عبدالعزیز جتوئی نے کہا کہ قادیانیوں کی ہر سازش کو ناکام کر کے دم لیں گے۔ مولانا عبدالواحد نے کہا کہ آنحضرت کی محبت کا تقاضہ ہے کہ قادیانیوں کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے اور ان کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہر قسم کے تعلقات ختم کر کے غیرت ایمانی کا ثبوت دیا جائے۔ کانفرنس سے مولانا عبدالصمد، مولانا سید عبدالمالک شاہ صاحب نے بھی خطاب کیا۔
مستونگ ختم نبوت کانفرنس : مستونگ میں مؤرخہ ۱۹؍ستمبر ۱۹۹۹ء بروز اتوار کو بعد از نماز مغرب ایک عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے کہا کہ بلوچستان کے غیور مسلمان مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے قادیانیوں کی سرتوڑ کوشش کے باوجود اپنے صوبے میں فتنہ قادیانیت کو قدم نہیں جمانے دیئے اور آج پاکستان کا واحد یہ صوبہ ہے جہاں قادیانی اپنے کفریہ عزائم کو سرعام ظاہر نہیں کر سکتے ۔ شاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے عقیدہ ختم نبوت کو قرآن مجید میں تقریباً ۱۰۰ مرتبہ بیان فرمایا ہے اور آنحضرت ﷺ نے دوسو سے زائد مرتبہ اپنی زبان مبارک سے اس مسئلہ کو بیان فرما کر واضح فرمایا اور امت مسلمہ کا سب سے پہلا اجماع عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ پر قائم ہوا۔ مولانا بشیر احمد نے کہا کہ آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت کے لئے کام کرنا در حقیقت شفاعت نبوی کو حاصل کرنا ہے۔ میدان حشر میں محافظین ختم
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نبوت کو آنحضرت ﷺ کا خصوصی قرب نصیب ہوگا۔ مولانا نذیر احمد تونسوی نے کہا کہ مسلمانوں نے ہر فتنہ کی سرکوبی جذبہ جہاد سے کی ہے، اس لئے کفر ہمیشہ مسلمانوں کے جذبہ جہاد سے خوف زدہ رہا ہے۔ مولانا عبد العزیز جتوئی نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے کام کرنا بہت بڑا اعزاز اور انعام خداوندی ہے مولانا عبد الواحد نے کہا کہ آج کفر کی تمام تر طاقتیں مسلمانوں کے خلاف صف آراء ہو کر سازشوں میں مصروف ہیں ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ کانفرنس میں مولانا عبد السلام، مولانا عبد الباقی، مولانا مولا بخش، قاری محمد شریف اور دیگر علماء کرام نے بھی خطاب کیا اور بلوچستان کے مشہور نعت خوان حافظ علی محمد مینگل نے انقلابی نظمیں پڑھ کر مسلمانوں کے خون کو گرمایا۔ آخر میں یہ عظیم الشان کانفرنس مولانا عبد الستار کی دعا پر ختم ہوئی۔ اسی دن حضرت امیر مرکزیہ خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ زیارت میں ایک دینی مدرسہ کے پروگرام میں تشریف لے گئے اور سینکڑوں افراد نے آپ کے دست حق پرست پر بیعت کر کے اپنی اصلاح کا عزم کیا اور دوسرے دن آپ واپس پنجاب تشریف لے گئے۔
لورالائی ختم نبوت کانفرنس: مؤرخہ ۲۰؍ستمبر ۱۹۹۹ء بروز پیر کولورالائی شہر کی مرکزی جامع مسجد میں مولانا ممتاز احمد خطیب جامع مسجد ہذا کی صدارت میں بعد از نماز ظہر ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس سے خطاب کرتے ہوئے شاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایا مولانا نذیر احمد تونسوی نے کہا کہ قادیانیت وجود عالم اسلام کے لئے ایک سنگین فتنہ ہے، جس کا تعاقب علماء کرام ایک سو بیس سال سے کر رہے ہیں کفریہ عزائم کے خلاف جدوجہد کرنا بلاشبہ جہاد ہے۔ مولانا بشیر احمد نے کہا کہ قادیانیت اسلام کے لئے ایک ناسور ہے۔ مولانا عبد العزیز جتوئی نے کہا کہ لورالائی کے غیور مسلمان، علماء کرام اور علاقہ کے سردار تمام حضرات مبارکباد کے مستحق ہیں جن کی کوشش سے یہ شہر قادیانیوں سے پاک ہوا۔ جمعیت علماء اسلام کے رہنما مولانا عصمت اللہ نے کہا کہ انگریز نے مرزائی فتنہ کو حرمت جہاد کی تحریک پیدا کرنے کے لئے وجود بخشا تھا اور عنقریب دنیا سے قادیانیت کا وجود ختم ہو جائے گا۔ کانفرنس سے مولانا ممتاز احمد، مولانا عبد اللہ جان، مولانا نیاز الرحمان، خواجہ محمد اشرف، خواجہ خیل نے بھی خطاب کیا۔
ژوب ختم نبوت کانفرنس: مؤرخہ ۲۱؍ستمبر ۱۹۹۹ء بروز منگل کو چار بجے مرکزی جامع مسجد ژوب شہر میں ژوب جماعت کے امیر حاجی شیخ غلام حیدر کی صدارت میں ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ جس سے مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری اور شاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے حکمران امریکہ، برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک کے اشارے پر فتنہ قادیانیت کی مردہ لاش میں روح ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ناموس رسالت کے تحفظ کے قانون کو مختلف بہانوں سے ختم کرنے کی سازش میں مصروف ہیں۔ مولانا نذیر احمد تونسوی، مولانا بشیر احمد نے کہا کہ ہمارے حکمرانوں کو چاہئے کہ وہ تمام قادیانیوں کو کلیدی عہدوں سے برطرف کر کے اسلام دوستی کا ثبوت دیں۔ خطیب بلوچستان مولانا عبد الواحد نے ولولہ انگیز خطاب کیا۔ کانفرنس سے مولانا اللہ داد کاکڑ، مولانا شمس العارفین، حاجی غلام اکبر، حاجی غلام حیدر اور دیگر علماء کرام نے بھی خطاب کیا۔ کانفرنس سے قبل عالمی مجلس کے قائدین و مبلغین نے دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ژوب میں قائم مدرسہ تعلیم القرآن ختم نبوت کا جائزہ لیا۔ بچوں سے قرآن پاک سنا۔ حاجی محمد اکبر نے مدرسہ کی تعلیمی رپورٹ پیش کی۔ مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری اپنے دست مبارک سے تعلیمی اعتبار سے اوّل دوم سوم آنے والے بچوں میں انعامات تقسیم کئے۔
حاجی غلام حیدر امیر ژوب نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ مولانا اللہ داد کاکڑ کی دعا پر اس تقریب کا اختتام ہوا۔ اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے کام کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین!
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۸ تا ۱۴؍اکتوبر ۱۹۹۹ء ص۲۴، ۲۵، ٹائٹل پیج نمبر ۳)
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
محمدیہ مسجد ڈاور میں فتح اسلام کانفرنس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت چناب نگر کے زیر اہتمام محمدیہ مسجد ڈاور میں ایک ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس میں مولانا محمد حسین چنیوٹی ،مولانا احمد یار چاریاری ، مولانا عبدالواحد اور مولانا غلام مصطفیٰ نے خطاب کیا۔ مقررین نے اپنے خطاب میں مرزا قادیانی کی کذب بیانی ،اسلام کے خلاف اس کی بد زبانی پر روشنی ڈالی ۔ اس کے علاوہ مولانا غلام مصطفیٰ نے لالیاں ، احمد نگر، ڈاور ، مخدوماں ، برجی ، کوٹ پٹھا ن ، جبانہ اور چک ۴۶ کا دورہ کیا اور قادیانیت کے متعلق لٹریچر تقسیم کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۱۹۹۹ء ص ۶۲)
خان گڑھ میں ختم نبوت کانفرنس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام اکیڈمی سلیمان والا میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت جناب عبدالشکور مونڈ نے کی۔ جب کہ مہمان خصوصی حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب صدر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مظفر گڑھ تھے۔ کانفرنس سے مولانا محمد لقمان علی پوری ، مولانا محمد بشیر احمد ، مولانا مفتی محمد شریف صدر جماعت اہل سنت مظفر گڑھ ، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ، مولانا امام الدین قریشی ، مولانا احمد یار خان ، مولانا قاری محمد صادق سمیت کئی ایک علماء کرام نے خطاب کیا۔ علماء کرام نے علاقہ خان گڑھ کے قادیانی ڈاکٹر مشتاق احمد سگو کی اشتعال انگیز سرگرمیوں پر گرفتاری اور کیس کی خصوصی عدالت ڈیرہ غازی خان میں منتقلی پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی مذکور کی تبلیغی ، ارتدادی سرگرمیوں سے ایک نوجوان بشیر احمد ولد حافظ غلام یاسین گادڑ سکنہ کبیر پور خان گڑھ نے قادیانیت قبول کر لی۔ اس کا جب دفتر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو علم ہوا تو ملتان سے مولانا خدا بخش صاحب اور مولانا بشیر احمد صاحب خان گڑھ پہنچے اور پروفیسر محمد ابراہیم صاحب کی معیت میں بستی سگو میں قادیانی سے گفتگو کی اور اس نوجوان کے شکوک وشبہات کا ازالہ کیا۔ جس سے اسے دوبارہ اسلام قبول کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ علماء کرام نے اپنے خطابات میں قادیانیوں کے عقائد وعزائم پر روشنی ڈالتے ہوئے مسلمانوں کو فتنہ قادیانیت ، فتنہ گوہر شاہی ، فتنہ یوسف کذاب اور فتنہ ابوالخیر اسدی سے بچنے کی تلقین کی۔ کانفرنس میں قرب وجوار سے سیکڑوں مسلمان شریک ہوئے۔ کانفرنس میں ایک قرارداد پیش کی گئی، جس میں قادیانیوں کی شر انگیز سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنے اور قانون پر عمل در آمد کرانے کا مطالبہ کیا گیا۔ ایک قرارداد میں فرید احمد قادیانی رینج آفیسر شجر کاری پراجیکٹ علی پور کے فوری تبادلہ کا مطالبہ کیا گیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۱۹۹۹ء ص ۵۸، ۵۹)
۱۸رویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر
الحمدللہ! عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۸رویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر ۷، ۸؍ اکتوبر ۱۹۹۹ء کو مرکز ختم نبوت جامع مسجد و مدرسہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس سے چار روز قبل پنڈال کی تیاری کا کام شروع ہو گیا تھا۔ بدھ کی شام عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ اور کانفرنس کے صدر گرامی مخدوم المشائخ خواجہ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ پنڈال میں تشریف لائے۔ منتظمین و رفقاء نے آپ کا استقبال کیا۔ بدھ دوپہر کو جناب جاوید صاحب، جناب امجد صاحب اور دوسرے رفقاء سمیت کھانا پکانے والی ٹیم نے اپنا نظم سنبھال لیا۔ جناب حاجی معراج دین صاحب نے پانی کا نظام ہمیشہ کی طرح مکمل چالو کرا دیا۔ مولانا بشیر احمد صاحب، مولانا حافظ خدا بخش صاحب، جناب حاجی رشید احمد (سکھر والے) مولانا محمد اسحاق ساقی صاحب، چوہدری محمد شفیع صاحب نے گوشت کے جانوروں کی خریداری کا عمل مکمل کر لیا۔ بدھ و جمعرات کی درمیانی شب ملک بھر سے قافلے
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
آنا شروع ہو گئے۔ ۷؍ اکتوبر ۱۹۹۹ء جمعرات صبح کی نماز جامع مسجد کا ہال مکمل طور پر بھر چکا تھا۔ نماز کے بعد حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے قرآن مجید کے درس سے کانفرنس کے بیانات کا آغاز فرمایا۔ درس کے بعد مہمانوں کو ناشتہ دیا گیا۔ صبح ۹ بجے حضرت المکرم قاری ابراہیم صاحب فیصل آبادی دامت برکاتہم کی قیادت و سرپرستی میں جناب قاری محمد اشفاق صاحب امام و مدرس بخاری مسجد فیصل آباد مکرم جناب قاری ابوبکر صاحب اور ان کے رفقاء کی ٹیم نے کھانا کھلانے کے نظم کو ہمیشہ کی طرح سنبھالا اور کانفرنس کے اختتام تک انتہائی خوبصورتی اور احسن انداز سے اس نظام کو چلایا۔ اس پر ان کو جتنا بھی خراج تحسین پیش کیا جائے کم ہے۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما مولانا مفتی محمد جمیل خان نے ناظم استقبالیہ، صاحبزادہ طارق محمود، فاتح چناب نگر مولانا خدا بخش کی نگرانی و سرپرستی میں سٹیج کا انتظام حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا محمد یعقوب، حضرت مولانا ضیاء الدین آزاد نے سرانجام دیئے۔
پہلا اجلاس: مؤرخہ ۷؍ اکتوبر ۱۹۹۹ء بروز جمعرات صبح دس بجے امیر مرکزیہ دامت برکاتہم کی زیر صدارت پہلا اجلاس شروع ہوا۔ تلاوت قاری محمد الیاس نے کی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ممتاز رہنما حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی، حضرت مولانا غلام حسین مبلغ فیصل آباد، مولانا امام الدین قریشی مبلغ مظفر گڑھ، مولانا عبدالکریم مبلغ ساہیوال کے بیانات ہوئے۔ ایک بجے اجلاس اختتام پذیر ہوا۔ حضرت المکرم قاری محمد ابراہیم صاحب دامت برکاتہم کی خواہش پر امیر مرکزیہ دامت برکاتہم کھانے کے پنڈال میں تشریف لائے۔ وسیع وعریض پنڈال میں ہزاروں مہمانوں کا کھانا شروع کرنے سے پہلے آپ نے پرسوز دعا فرمائی۔
دوسرا اجلاس: ظہر کی نماز کے بعد شروع ہوا۔ جامعہ امدادیہ فیصل آباد کے مہتمم و شیخ الحدیث اور ملک کے نامور عالم دین حضرت مولانا نذیر احمد صاحب دامت برکاتہم اس اجلاس کے مہمان خصوصی تھے۔ صدارت کے فرائض عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر مرکزیہ حکیم العصر حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ نے سرانجام دیئے۔ تلاوت سید قاری ضیاء الحسن لاہوری نے فرمائی۔ جناب احمد بخش چشتی و محترم حافظ محمد شریف مچن آبادی نے نعتیہ کلام پیش کیا۔ دارالعلوم مدنیہ ڈسکہ کے شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد فیروز خان صاحب، پنجاب بار کونسل کے ممتاز رہنما ملک ربنواز ایڈووکیٹ، شریعت کونسل کے رہنما مولانا زاہد الراشدی، اتحاد العلماء کے صدر مولانا عبدالمالک خان، جمعیت علماء اسلام لاہور کے رہنماء مولانا سیف الدین سیف، جمعیت علماء اسلام پنجاب کے صدر حضرت مولانا محمد عبداللہ بھکر، جامعہ اشرفیہ شاہ کوٹ کے مہتمم مجاہد ختم نبوت مولانا عبداللطیف انور، کل پاکستان جمعیت علماء اسلام کے سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری کے بیانات ہوئے۔
سوالات و جوابات کی محفل: عصر کی نماز کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بزرگ رہنما فقیہ العصر حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ نے سوالات کے جوابات ارشاد فرمائے یہ مجلس مغرب تک جاری رہی۔
تیسرا اجلاس: عشاء کی نماز کے بعد تیسرا اجلاس حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم کی صدارت میں شروع ہوا۔ قاری نصیر اللہ نے تلاوت کی، جھنگ کے جناب فلک شیر، جناب احمد بخش چشتی، جناب عبدالرحمن تنظیمی، جناب محمد شریف ماہی اور گجرانوالہ کے جناب شاہد رامپوری کی ایمان پرور نعتیں و نظمیں مختلف مواقع پر ہوتی رہیں۔ مولانا محمد علی صدیقی مبلغ سندھ، بریلوی مکتب فکر کے ممتاز رہنما مولانا رحمت اللہ نوری، مولانا مفتی حفیظ الرحمن، مولانا احمد میاں حمادی، مولانا سیف الرحمن درخواستی، مولانا اللہ وسایا، مولانا عبدالکریم ندیم خانپوری،
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
صاحبزادہ طارق محمود ، مولانا خلیل احمد بندھانی خطیب جامع مسجد مرکزی سکھر ، شیخ القرآن حضرت مولانا غلام اللہ خان مرحوم کے جانشین حضرت مولانا اشرف علی ، بلوچستان کے صوبائی وزیر اور جمعیت علماء اسلام کے ممتاز رہنما حضرت مولانا اللہ داد خیر خواہ ، جمعیت علماء اسلام کے رہنما مولانا بشیر احمد ، جمعیت اہل حدیث کے مرکزی رہنما اور ترجمان ابتسام الٰہی ظہیر ، راولپنڈی کے ممتاز عالم دین مولانا سید چراغ الدین شاہ ، مرکزی جمعیت اہل حدیث کے سیکرٹری جنرل اور ممتاز عالم دین حضرت مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری ، خان زادہ شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری کے جانشین و خانقاہ قادریہ راشدیہ لاہور کے گدی نشین مولانا میاں محمد اجمل قادری کے بیانات ہوئے ۔ کانفرنس کا تمام تر پنڈال بھرا ہوا تھا ۔ اجلاس عشاء کے بعد شروع ہو کر رات تین بجے اختتام پذیر ہوا ۔
درس قرآن : مورخہ ۸ /اکتوبر ۱۹۹۹ء جمعہ کو صبح کی نماز کی امامت حضرت مولانا مفتی محمد جمیل خان نے فرمائی ۔ نماز کے بعد محترم قاری حافظ محمد یوسف عثمانی کی ایمان پرور تلاوت کے بعد ڈیڑھ گھنٹہ مناظر اسلام و درویش منش ممتاز مذہبی سکالر حضرت مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی نے حیات عیسیٰ علیہ السلام کے عنوان پر اظہار خیال کیا ۔
انعام گھر : ننکانہ ضلع شیخوپورہ کی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رفقاء نے اپنے امیر حضرت الحاج عبدالحمید رحمانی اور جنرل سیکرٹری محمد متین خالد صاحب کی سربراہی میں انعام گھر کا اہتمام کیا ۔ چنانچہ مسجد و مدرسہ کے ساتھ ملحقہ پلاٹ میں انہوں نے مختلف سوالات جو عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور فتنہ قادیانیت کے استیصال پر مبنی تھے ، حاضرین سے پوچھے گئے ۔ صحیح جوابات دینے والوں کو قیمتی انعامات دینے کا یہ پروگرام بھی انتہائی فائدہ مند اور معلومات افزاء کامیاب رہا ۔
چوتھا اجلاس : جمعہ صبح دس بجے چوتھا اجلاس حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی کی زیر صدارت شروع ہوا ۔ مدرسہ ختم نبوت چناب نگر کے طالب علم عبد الرحمن نے تلاوت و نعت پیش کی ۔ مولانا محمد راشد مدنی ، مولانا لطف اللہ ، مولانا خدا بخش شجاع آبادی ۔ حضرت مولانا ضیاء الدین آزاد ، رحیم یار خان کے مبلغ حضرت مولانا حافظ احمد بخش ، چونڈہ کے قاری محمد انور ، بکھر ، خانقاہ سراجیہ کے مولانا عبد الرحیم ، مانسہرہ کی مرکزی جامع مسجد کے خطیب مفتی وقار احمد ، بلوچستان عالمی مجلس کے رہنما مرکزی جامع مسجد قندھاری کے خطیب اور شعلہ نوا مقرر حضرت مولانا عبدالواحد کے ایمان پرور بیانات ہوئے ۔ جمعۃ المبارک کی اذان کے بعد خطبہ سے قبل حکیم العصر حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی کا ایمان افروز بیان ہوا ۔ نماز جمعہ و خطبہ کے فرائض حضرت مولانا مفتی محمد جمیل خان نے سرانجام دیئے ۔ مسجد کا ہال ، برآمدہ کی چھت ، مسجد کا صحن ، مدرسہ کا صحن ، مدرسہ کے تمام تر کمرہ جات حتیٰ کہ اس دفعہ مدرسہ کی چھت پر بھی صفیں تھیں ، اتنا بڑا اجتماع ہوا کہ اس پر جتنا بھی اللہ رب العزت کے حضور سجدہ شکر کیا جائے کم ہے ۔
آخری اجلاس : جمعہ کے بعد آخری اجلاس شروع ہوا ۔ امیر مرکزیہ دامت برکاتہم کرسی صدارت پر رونق افروز ہوئے ۔ مولانا مفتی محمد جمیل خان نے سٹیج سیکرٹری کے فرائض سرانجام دیئے ۔ وادی مہران کے نامور خطیب اور مبلغ اسلام حضرت مولانا حضرت مولانا عبد المجید لنڈ اور خطیب اسلام حضرت مولانا عبدالمجید شاہ کے بیانات ہوئے ۔ قبلہ شاہ صاحب اس سال کانفرنس کے آخری مقرر تھے ۔ عصر کی نماز پر حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم نے دعا فرمائی اور نماز کے بعد شرکاء کو جانے کی اجازت مرحمت فرمائی ۔ حاضری ، جوش وخروش ، تقاریر و بیانات ہر لحاظ سے کانفرنس مثالی طور پر کامیاب رہی ۔ تمام مبلغین حضرات کارکنان ، مدرسین و طلباء نے اپنی اپنی تفویض شدہ ڈیوٹی بخوبی سرانجام دی ۔ یوں دو روزہ کانفرنس اپنی خوبصورت یادیں چھوڑ کر اختتام پذیر ہوئی ۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۱۹۹۹ء ص ۵۰ تا ۵۳)
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس کرونڈی
مؤرخہ ۲۴؍ اکتوبر ۱۹۹۹ء بروز اتوار عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کرونڈی ضلع خیر پور میرس کے زیر اہتمام ایک روزہ ختم نبوت کانفرنس شیخ الحدیث حضرت مولانا نور محمد کی صدارت میں منعقد ہوئی، جس سے عالمی مجلس کے رہنماؤں علامہ احمد میاں حمادی، مولانا نذیر احمد تونسوی، مولانا مفتی حفیظ الرحمن، مولانا محمد طیب لدھیانوی، قاری امتیاز احمد، مولانا خادم حسین شر، مولانا میر محمد میرک، مولانا خان محمد، مولانا عبدالوحید نے خطاب کیا۔ کانفرنس صبح ۹ بجے شروع ہوئی اور شام ۴ بجے تک جاری رہی اور بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوئی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۵ تا ۱۱؍ نومبر ۱۹۹۹ء ص ٹائٹل پیج نمبر ۳)
عظیم الشان کانفرنس ٹنڈوآدم
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ایک روزہ سالانہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۲۹؍ اکتوبر ۱۹۹۹ء کو ٹنڈو آدم میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی چار نشستیں ہوئیں، جن میں علماء کرام نے عقیدہ ختم نبوت، ناموس رسالت ﷺ اور فتنہ قادیانیت و گوہر شاہی کے عنوان پر تفصیلی خطابات ہوئے۔
پہلی نشست صبح ۱۱ بجے شروع ہوئی حافظ حسین احمد مدنی نے تلاوت قرآن مجید سے آغاز کیا۔ جناب سیف اللہ صاحب نے نعت پیش کی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بدین کے مبلغ حضرت مولانا محمد علی صدیقی صاحب نے ختم نبوت کے موضوع پر فاضلانہ خطاب کیا پھر حافظ محمد طاہر صاحب (ڈگری) نے نعت و نظم پیش کر کے سامعین کو گرمایا عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمن صاحب جالندھری نے خطبہ جمعہ اور نماز جمعہ کی امامت بھی فرمائی۔
دوسری نشست نماز جمعہ کے بعد ساڑھے تین بجے حافظ عبدالوحید صاحب کی تلاوت قرآن سے شروع ہوئی جس میں حافظ محمد طاہر اور حافظ نعمت اللہ سولنگی نے نعت اور نظمیں پیش کیں۔ مولانا محمد نذر صاحب نے گوہر شاہی کے متعلق عوام کو اپنے خطاب میں آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت گوہر شاہی کا بھی احتساب کرے کہ جو پانچ سال قبل سندھ ٹیکسٹ بورڈ کی عمارت کے پیچھے جھونپڑی میں رہتا تھا اور رکشہ ڈرائیور تھا آج اس کے پاس سات سو ایکڑ زمین کہاں سے آئی۔
تیسری نشست بعد نماز عصر ہوئی جس میں حضرت مولانا مفتی حفیظ الرحمن صاحب رحمانی مہتمم دارالعلوم ختم نبوت نے سوال و جواب کی نشست میں سوالات کے جوابات دیئے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے مرکزی نائب امیر حضرت اقدس حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب شام ساڑھے چھ بجے ٹنڈوآدم پہنچے ختم نبوت کے رضا کاروں نے حضرت اقدس کا استقبال کیا۔ مغرب سے عشاء تک کانفرنس میں شرکت کے لئے آئے ہوئے مہمانوں کو کھانا کھلایا گیا۔
چوتھی نشست بعد از نماز عشاء رات ۸ بجے شروع ہوئی۔ تلاوت قرآن قاری بہاء الدین زکریا ہالیجوی نے کی ان کے بعد عالمی مجلس تحفظ یونٹ الہ یار گوٹھ ٹنڈوآدم کے ناظم اعلیٰ بھائی محمد عزیز احمد صاحب نے اپنا کلام پیش کیا۔ حاضرین نے پرجوش نعروں کے ساتھ داد دی۔ ان کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما حضرت مولانا احمد میاں حمادی صاحب نے ریاض احمد گوہر شاہی کی تحریریں اور اس کے کفریہ نظریات عوام کے سامنے پیش کئے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ حضرت مولانا نذیر احمد تونسوی صاحب نے ’’عقیدہ ختم نبوت قرآن وحدیث کی روشنی‘‘ میں کے عنوان پر بیان کیا۔ اسی دوران حضرت اقدس مولانا محمد یوسف لدھیانوی
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
صاحب مسجد میں تشریف لائے تو حاضرین نے کھڑے ہو کر حضرت کا استقبال کیا۔ پوری مسجد اللہ اکبر، ختم نبوت زندہ باد، امیر شریعت زندہ باد، گوہر شاہی مردہ باد کے پرجوش نعروں سے گونج اٹھی۔ عالمی مجلس ختم نبوت کے مرکزی خازن حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب نے اپنے خطاب میں کہا کہ مرزا غلام احمد قادیانی دنیا کی تمام برائیوں اور بے حیائیوں کا مجموعہ اور زانی شرابی انسان تھا اس کو نبی تو کیا ایک شریف انسان کبھی ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ مولانا کے بعد سندھ کے مشہور معروف نعت خوان جناب نعمت اللہ سولنگی صاحب نے قائدین ختم نبوت کے عنوان پر اور ایک سندھی میں نعت پیش کی۔ ان کے بعد جامعہ حمادیہ منزل گاہ سکھر کے مہتمم اور شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد مراد صاحب ہالیجوی نے خطاب فرمایا۔ ان کے بعد حضرت اقدس مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب نے خطاب فرمایا کہ مرزا قادیانی سے لے کر مرزا ناصر تک قادیانیوں کے تمام روحانی پیشواؤں کی موت عبرتناک ہوئی ہے اور موجودہ قادیانی لیڈر مرزا طاہر احمد بھی فالج کے حملہ سے موت کے بستر پر پڑا ہے۔ حضرت نے فرمایا کہ میں اپنے رب سے ملاقات کے لئے ہر وقت تیار ہوں لیکن ایک دعا ہے کہ مرزا طاہر میری زندگی میں مرجائے۔
حضرت کے بعد حافظ محمد طاہر صاحب نے نظم پیش کی پھر قاری کامران صاحب نے خطاب کیا۔ ان کے بعد شیریں بیان مقرر حضرت مولانا خادم حسین صاحب شر بلوچ نے معراج النبی ﷺ کے موضوع پر خطاب کیا۔ ان کے بعد مولانا عبدالغفور حقانی صاحب نے سیرت النبی ﷺ کے موضوع پر بیان کیا۔
آخری خطاب حضرت مولانا عبدالحمید لنڈ صاحب نے کیا۔ رات چار بجے کانفرنس بخیر وخوبی اختتام پذیر ہوئی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۹ تا ۲۵ نومبر ۱۹۹۹ء ص ۲۴، ۲۵)
ختم نبوت کانفرنس چیچہ وطنی
۳۰؍ اکتوبر ۱۹۹۹ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مکی مسجد چیچہ وطنی میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس خواجہ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی زیر صدارت منعقد ہوئی۔ مہمان خصوصی شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمجید صاحب تھے۔ کانفرنس سے مولانا اللہ وسایا، مولانا اسماعیل شجاع آبادی، مولانا عبدالحکیم، مولانا ضیاء الدین، مولانا عبدالمجید، قاری محمد سرور، قاری محمد اقبال اور مولانا عبدالباری نے خطاب کیا۔ کانفرنس کا اختتام امیر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب کی دعا سے ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۱۹۹۹ء ص ۵۷)
ختم نبوت کانفرنس کوٹ ہرا
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کوٹ ہرا کے زیر اہتمام مجاہد ختم نبوت ٹیپو سلطان شہید کی یاد میں تیسری سالانہ ختم نبوت کانفرنس اکتوبر ۱۹۹۹ء کو کوٹ ہرا میں محمد افضل مخدوم کی زیر صدارت ہوئی۔ جس سے خطیب پاکستان مولانا عبدالحمید وٹو، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا فقیر اللہ اختر، مجاہد ختم نبوت مولانا حافظ محمد ثاقب کے علاوہ مولانا محمد افضال احمد کھٹانہ، مولانا منصور احمد رانجھا، صوفی اصغر علی اور دیگر نے خطاب کیا۔ کانفرنس کے انتظام وانصرام میں مجلس کوٹ ہرا کے رہنما ماسٹر ذوالفقار علی اور ان کے ساتھیوں ندیم حسین باجوہ، علی حیدر چٹھہ، ڈاکٹر امان اللہ، سید حفیظ اللہ شاہ، الطاف حسین چیمہ، مولانا محمد اشرف مخدوم، حاجی محمد انور، نجیب اللہ، مقبول احمد، گلزار احمد، سمیع اللہ نمبر دار، زاہد عباس، ملک شاہد، امان اللہ، ملک محمد قاسم، شہباز احمد، سجاد احمد، حسنین زمان، مستری نصر اللہ، کاشف زمان گوندل، مظہر
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حسین، غلام رسول، حبیب اللہ چٹھہ، شبیر احمد چٹھہ، غضنفر علی گھمن۔ افتخار احمد قصاب، ماسٹر عارف محمود اور محمد عارف عدیل نے بھر پور تعاون کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۰ تا ۱۶ / دسمبر ۱۹۹۹ء ص ۲۳)
۳۷ ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس جابہ (ضلع خوشاب)
مؤرخہ ۱۹ / نومبر ۱۹۹۹ء بروز جمعتہ المبارک یک روزہ ختم نبوت کانفرنس ۱۰ بجے دن تا قبل از نماز جمعہ مسجد ختم نبوت جابہ میں منعقد ہوئی۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض حافظ محمد حیات صاحب نے سرانجام دیئے۔ کانفرنس کی باقاعدہ کارروائی کا آغاز تلاوت قرآن مجید سے ہوا اور حافظ حسین احمد آف تلہ گنگ اور صوفی ارشاد احمد چار یاری صاحب سرگودھا نے نعتیہ کلام پیش کیا۔ اس کے بعد مولانا عبدالرحمن صاحب تلہ گنگ، صاحبزادہ طاہر محمود عثمانی صاحب تلہ گنگ، مولانا قاضی محمد طیب صاحب آف نلی، مولانا محمد عثمان صاحب آف بھلو مار، مولانا قاضی محمد طیب صاحب آف نلی، مولانا خدا بخش صاحب خطیب جامع مسجد ختم نبوت چناب نگر اور مولانا محمد اسماعیل صاحب شجاع آبادی نے عقیدہ ختم نبوت کے مقدس عنوان پر بہت ہی ایمان افروز تقاریر فرمائیں۔ کانفرنس کے آخری مقرر مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری صاحب مدظلہ نے مقام مصطفےٰ ﷺ اور عظمت صحابہ کرام ؓ کے موضوع پر خطاب ارشاد فرمایا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۴ تا ۳۰ / دسمبر ۱۹۹۹ء ص ۲۴)
ختم نبوت کانفرنس سانگلہ ہل
۲۴ / نومبر ۱۹۹۹ء کو سانگلہ ہل کے نواحی گاؤں چک نمبر ۴۵ نزد فوجی شوگر ملز سانگلہ ہل میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی صدارت مولانا محمد صدیق نقشبندی نے کی۔ کانفرنس میں مولانا قاری عمر، مولانا شوکت علی، اور مفتی اظہار القیوم نے خطاب فرمایا۔ مقررین نے اپنے خطابات میں مرزائیوں کی سرگرمیوں کو محدود کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ آخر میں ایک قرارداد کے ذریعے چیف ایگزیکٹو سے مطالبہ کیا گیا کہ آئین میں موجود اسلامی دفعات کو عبوری حکم میں تحفظ فراہم کیا جائے۔ کانفرنس کے انعقاد میں مجلس تحفظ ختم نبوت سانگلہ ہل کے رہنماؤں جاوید احمد اعوان، رانا جماعت علی معصومی، محمد طارق محمود، مولانا غلام مرتضیٰ، مولانا قاری عمر نے بھر پور حصہ لیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۰۰ء ص ۵۹، ۶۰)
پشاور میں چار روزہ رد قادیانیت کورس و دروس قرآن
دسمبر ۱۹۹۹ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام صوبہ کے امیر مفتی شہاب الدین پوپلزئی کی سرپرستی میں مرکزی دارالقرآن نمک منڈی پشاور میں رد قادیانیت تربیتی کورس کا اہتمام کیا گیا۔ کورس میں خصوصی اسباق شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب کے ہوئے۔ پہلے دو روز مسئلہ ختم نبوت پر قرآن وحدیث اور اجماع امت کی روشنی میں دلائل پیش کئے۔ تیسرے روز حیات عیسیٰ علیہ السلام اور ظہور مہدی علیہ الرضوان کی وضاحت فرمائی اور چوتھے روز کفریات مرزا پر دلائل دیتے ہوئے مرزائیت کا پوسٹ مارٹم کیا۔ تقریباً دوسو طلباء نے شرکت کی۔ کورس کے دوران ان چار روز میں مختلف مساجد میں دروس قرآن کا سلسلہ بھی جاری رہا، جن میں جامع مسجد قبا نوتھیہ، جامع مسجد گنج علی خان، جامع مسجد گل بہار، جامع مسجد ہشت نگری اور جامع مسجد سول کوارٹر کے نام نمایاں ہیں۔
(ملخص رپورٹ ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۰۰ء ص ۵۴)
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
چھٹا سالانہ رد قادیانیت و عیسائیت کورس چناب نگر
اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام سالانہ رد قادیانیت و عیسائیت کورس بمقام مدرسہ ختم نبوت جامع مسجد مسلم کالونی چناب نگر مؤرخہ ۱۴/ نومبر ۱۹۹۹ء سے شروع ہو کر ۵/ دسمبر ۱۹۹۹ء کو بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوا۔ اختتامی تقریب میں عالمی مجلس ختم نبوت کے امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ، مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری، حضرت صاحبزادہ طارق محمود، حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی، حضرت مولانا عبد اللطیف مسعود، حضرت مولانا مفتی محمد ظفر اقبال ناظم اعلیٰ جامعہ باب العلوم کہروڑ پکا نے شرکت فرمائی۔ دار المبلغین عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت تاریخ کا ایک تسلسل ہے۔ پاکستان بننے کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ملتان، چنیوٹ، ملتان میں اس دار المبلغین کے تحت رد قادیانیت کورس کا سلسلہ چلتا رہا ۱۴۱۵ھ میں اس کورس کو ملتان دفتر مرکزیہ سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے قائم کردہ مدرسہ تعلیم القرآن ختم نبوت جامع مسجد مسلم کالونی چناب نگر میں منتقل کیا گیا۔ غرض بحمدہ تعالیٰ اس سات سالوں میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام صرف چناب نگر سے فارغ ہونے والے حضرات کی تعداد سات سو سے زیادہ ہے۔ ملتان دفتر مرکزیہ اور ملک بھر میں جہاں کہیں دار المبلغین کے زیر اہتمام کورس ہوتے رہتے ہیں ان کی تعداد ان کے علاوہ ہے جو اس دورانیہ (سات سال) میں دس ہزار سے یقیناً کم نہ ہوگی۔ اس سال چناب نگر کے کورس کے شرکاء کے امتحان کی رپورٹ یہ ہے:
کل داخل شدہ طلباء ۱۲۱۔ امتحان دینے والے طلباء ۱۰۷۔ پہلی پوزیشن سرگودھا کے ابوبکر صدیق نے کل نمبر ۲۰۰ سے ۱۹۱ نمبر لے کر حاصل کی۔ دوسری پوزیشن رحیم یار خان کے راشد مدنی نے ۱۷۷ نمبر لے کر حاصل کی۔ تیسری پوزیشن راولپنڈی کے محمد شعیب نے ۱۶۲ نمبر لے کر حاصل کی۔ چوتھی پوزیشن نارووال کے عبد المتین نے ۱۵۹ نمبر لے کر حاصل کی۔ پانچویں پوزیشن وہاڑی کے سجاد ظفر نے ۱۵۹ نمبر لے کر حاصل کی۔ چھٹی پوزیشن جھنگ کے اعجاز احمد نے ۱۵۹ نمبر لے کر حاصل کی۔ ساتویں پوزیشن ٹوبہ ٹیک سنگھ کے عتیق الرحمٰن نے ۱۵۸ نمبر لے کر حاصل کی۔ آٹھویں پوزیشن ڈیرہ اسماعیل خان کے محمد طیب عثمانی نے ۱۵۶ نمبر لے کر حاصل کی۔ نویں پوزیشن اوکاڑہ کے محمد حسن نے ۱۵۶ نمبر لے کر حاصل کی۔ دسویں پوزیشن جھنگ کے مولانا محمد علی نے ۱۵۵ نمبر لے کر حاصل کی۔
اب ذیل میں اس سال شرکت کرنے والے حضرات کے اسماء گرامی ملاحظہ فرمائیں:
نمبر شمار نام ضلع نمبر شمار نام ضلع ۱ مولانا سلطان محمود کراچی ۲ ثاقب شہزاد جہلم ۳ قاضی محمد اویس لاہور ۴ گل فردوس مانسہرہ ۵ سجاد گل ہری پور ۶ صدیق اللہ خان مانسہرہ ۷ قاری فیصل احمد خوشاب ۸ عبدالجبار کوہاٹ ۹ فضل حمید سوات ۱۰ اعجاز الحسن سرگودھا ۱۱ ضیاء الرحمٰن ایبٹ آباد ۱۲ حافظ عبداللہ عادل خوشاب ۱۳ حبیب اللہ مالاکنڈ ۱۴ محمد جاوید رحیمی لاہور
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۱۵ محمد عطاء الرحمن شاہ شیخوپورہ ۱۶ محمد انور خانیوال ۱۷ محمد شاہد کریم خانیوال ۱۸ شہزاد احمد مانسہرہ ۱۹ محمد شعیب ایبٹ آباد ۲۰ محمد ابوبکر مطیع الرحمن راولپنڈی ۲۱ اظہر محمود راولپنڈی ۲۲ عبداللطیف بہاول پور ۲۳ عبدالقادر آزاد کشمیر ۲۴ محمد ایوب شاہ پشاور ۲۵ اظہر اقبال راولپنڈی ۲۶ سید سمیع اللہ گلگت ۲۷ خلیل الرحمن لاہور ۲۸ سید نقیب اللہ پشین ۲۹ سجاد احمد قصور ۳۰ سیف اللہ وہاڑی ۳۱ نثار احمد مستونگ ۳۲ محمد اسلم سیالکوٹ ۳۳ اسرار الحق اسلام آباد ۳۴ محمد تضمین معاویہ شیخوپورہ ۳۵ محمد علی چنیوٹ ۳۶ ڈاکٹر منیر احمد طاہر ملتان ۳۷ محمد رضوان فیصل آباد ۳۸ طارق پرویز جاوید فیصل آباد ۳۹ سمیع الرحمن رحیم یار خان ۴۰ جلیل احمد رحیم یار خان ۴۱ مولانا نیک محمد عمر کوٹ ۴۲ محمد راشد مدنی رحیم یار خان ۴۳ وجیہ الدین رئیس میر پور خاص ۴۴ محمد ذیشان خوشاب ۴۵ عزیز الرحمن چنیوٹ ۴۶ شہباز احمد چنیوٹ ۴۷ محمد ناصر حافظ آباد ۴۸ مسعود اختر فیصل آباد ۴۹ مولانا اختر علی بنوں ۵۰ محمد اقبال لاہور ۵۱ محمد شبیر لاہور ۵۲ صہیب ظفر کہروڑ پکا ۵۳ عبدالقدیر چیچہ وطنی ۵۴ محمد زاہد کبیر والہ ۵۵ ناصر رشید مانسہرہ ۵۶ بشارت حسین شاہ مانسہرہ ۵۷ مختار حسین شاہ مانسہرہ ۵۸ محمد کاشف مانسہرہ ۵۹ یاسر منظور مانسہرہ ۶۰ محمد سعود الحسن وہاڑی ۶۱ محمد طاہر احمد پور شرقیہ ۶۲ سیف اللہ احمد پور شرقیہ ۶۳ محمد طیب احمد پور شرقیہ ۶۴ محمد اختر لودھراں ۶۵ عبدالرحمن لودھراں ۶۶ تسنیم الرحمن مانسہرہ ۶۷ مولانا مشتاق احمد ملتان ۶۸ محمد عابد احمد پور شرقیہ ۶۹ محمد ظفر احمد پور شرقیہ ۷۰ محمد شاہد گھوٹکی
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۷۱ عبدالمتین شکرگڑھ ۷۲ عتیق الرحمن ٹوبہ ٹیک سنگھ ۷۳ ظفر اقبال ملتان ۷۴ سیف اللہ خالد پاکپتن ۷۵ محمد اسحاق مردان ۷۶ جلیل احمد راجن پور ۷۷ رستم خورشید مانسہرہ ۷۸ عبدالقیوم ملک مظفر گڑھ ۷۹ محمد عظیم خان کوئٹہ ۸۰ عصمت اللہ پشین ۸۱ محمد امین لیہ ۸۲ میجر عبدالباسط اوکاڑہ ۸۳ محمد شفیق فیصل آباد ۸۴ اظہر اقبال فیصل آباد ۸۵ محمد معاویہ حسن فیصل آباد ۸۶ محمد طیب ڈیرہ اسماعیل خان ۸۷ سجاد حسین وہاڑی ۸۸ محمد شہزاد کھاریاں ۸۹ محمود احمد چنیوٹ ۹۰ غلام یاسین مظفر گڑھ ۹۱ محمد ارشد چنیوٹ ۹۲ محمد مظہر ملتان ۹۳ محمد حسن اوکاڑہ ۹۴ غلام عباس جھنگ ۹۵ سید جمال الدین ہرات ۹۶ محمد یاسین گوجرانوالہ ۹۷ اعجاز احمد جھنگ ۹۸ محمد طیب فاروقی سرگودھا ۹۹ محمد ابوبکر صدیق سرگودھا ۱۰۰ محمد بلال جھنگوی شورکوٹ ۱۰۱ مفتی غلام جیلانی کراچی ۱۰۲ محمد سلیمان لیہ ۱۰۳ عبداللطیف لیہ ۱۰۴ ظفر اقبال قصور ۱۰۵ محمد امین قصوری قصور ۱۰۶ مولانا عتیق الرحمن جہلم ۱۰۷ محمد محمود خان خوشاب ۱۰۸ غلام مصطفےٰ گوجرانوالہ ۱۰۹ گلفام یعقوب شیخوپورہ ۱۱۰ بن یامین ڈیرہ اسماعیل خان ۱۱۱ محمد اسماعیل ڈیرہ اسماعیل خان ۱۱۲ عبدالغفار لیہ ۱۱۳ خلیل احمد لودھراں ۱۱۴ حفیظ اللہ فاروقی فیصل آباد ۱۱۵ قمر الزمان خانیوال ۱۱۶ امان اللہ حافظ آباد ۱۱۷ مفتی محمد صابر بہاول پور ۱۱۸ محمد شفیق کھاریاں ۱۱۹ حافظ حماد اللہ پسرور ۱۲۰ محمد احمد انور ملتان ۱۲۱ عبدالرؤف مانسہرہ ۱۲۲ محمد امیر الدین مظفر گڑھ
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۰۰ء ص ۵۱ تا ۵۲)
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تحریک ختم نبوت
کے سلسلہ میں
۲۰۰۰ء
کے
حالات و واقعات
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
مرزائیوں کا نصب العین قادیانی ریاست کا قیام
قادیانیوں کی سازشوں اور ناپاک منصوبوں کو چاک کر دینے والی تحقیقی رپورٹ
قادیانی ہفت روزہ ”لاہور“ جلد :۴۹ شمارہ :۴،مؤرخہ ۲۲؍ جنوری ۲۰۰۰ء کے اداریہ میں ”خوفزدگی کی بجائے آہنی ہاتھوں کی ضرورت“ کے زیر عنوان حسب معمول ”قادیانی ایڈیٹر“ نے قادیانیت کے عفت مآبی کا خوب پرچار کیا اور قادیانیوں کے کرتوتوں کے باعث مملکت خداداد پاکستان کی قومی اسمبلی کے ۱۹۷۴ء کے قانونی و آئینی متفقہ فیصلہ کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے ”عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت“ کے علماء پر الزامات عائد کئے اور علماء اسلام سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے پر زور دیا۔ ذیل میں ہم جناب ارشاد اللہ کمال صاحب کا ایک مضمون بشکریہ روزنامہ ”انصاف“ لاہور شائع کر رہے ہیں جس میں مؤلف نے مسلمان قوم کے متفقہ فیصلہ ”قادیانی کافر ہیں“ کو تاریخی حقائق کی روشنی میں واضح کیا ہے اور قادیانیت کے برص زَدہ چہرہ سے نقاب سرکایا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں: (مدیر)
لاہور سے بجانب مغرب سرگودھا روڈ پر ایک معروف قصبہ ربوہ واقع ہے۔ یہ قادیانی امت کا دوسرا بڑا مرکز ہے۔ اسے ضلع جھنگ کے شہر چنیوٹ سے چند فرلانگ آگے سڑک کے کنارے پہاڑیوں کے دامن میں بڑے سلیقہ سے آباد کیا گیا۔ ربوہ کی ۱۰۳؍ ایکڑ سات کنال آٹھ مرلے اراضی انگریز گورنر سر فرانس موڈی کی خاصی دلچسپی سے قادیانی جماعت کو عطا کی گئی۔ ایک آنہ فی مرلہ سودا طے ہوا تھا۔ یہ ۱۴؍ستمبر ۱۹۴۸ء قائد اعظم کے سانحہ ارتحال سے فقط تین یوم بعد کی بات ہے، جب باقاعدہ آباد کاری ہوئی۔ تب اس جگہ کا نام موضع ڈھکیاں تھا۔ اس کے جنوب میں کوٹ امیر شاہ، مشرق کی طرف دریائے چناب، جنوباً موضع چھنی قریشی اور جانب مغرب چھوٹا سا گاؤں احمد نگر موجود ہے۔ یہ تھا ربوہ کا محل وقوع جو دریائے چناب کے ساتھ سلسلہ کوہ کے بیچ میں بسا۔ بالفاظ دیگر اسے قادیانی ریاست کا ہیڈ کوارٹر کہا جاسکتا ہے، جس میں چند برس پہلے تک کوئی مسلمان داخل ہو سکتا تھا اور نہ ہی اسے اپنا مکان خریدنے کی اجازت تھی۔ نیز وہاں کے جماعتی حکام کی اجازت خاص کے بغیر قیام بھی قانوناً جرم تھا۔ یہاں کے شاہراہ عام سے دائیں جانب مرزائیوں کے بہشتی قبرستان کی ملمع کاریاں بڑی دلفریب ہیں۔ قطار اندر قطار قبریں، لوح قبور پر مکمل تعارف، رکنیت، عہدہ اور حوالہ وصیت کے علاوہ خدمات کی طویل فہرست بھی مندرج نمونوں میں ہمہ رنگی، سائز میں یکسانیت، یہاں فن تعمیر کے لحاظ سے سنگ مرمر، مینا کاری اور پختہ مصالحے کے نادر شاہکار پائے جاتے ہیں۔
مناسب معلوم ہوتا ہے کہ چلتے چلتے قادیانی جماعت کے دوسرے سربراہ مرزا بشیر الدین محمود کی قبر دیکھ آئیں، چند برس پہلے تک اس کے سرہانے نصب کتبہ پر یہ عبارت کندہ تھی: ”جب حالات سازگار ہو جائیں تو میری میت کو یہاں سے نکال کر قادیان میں دفن کیا جائے، جماعت پر فرض ہے کہ وہ میری اس وصیت پر ہر لحاظ سے پورا پورا عمل کریں۔“
دراصل مرزائی ملت کے امیر ثانی کی لوح کا یہ اقتباس اسلام کے خلاف انگریزوں کی گہری سازش کا پورا خلاصہ ہے۔ تلخیص سے مکمل آگاہی کے لئے ہمیں طوالت میں جھانکنا پڑے گا کہ اس کاری زخم سے جبین تاریخ آج تک خون آلود کیوں ہے؟ یہ ناٹک کس غرض
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سے رچایا گیا تھا؟ ہم نے ”مرزائیت کا شناختی کارڈ“ ترتیب دینا ہے۔ جس میں ان کے مکمل مستند اور مصدقہ کوائف درج ہوں۔ راقم چاہتا ہے کہ حکومت پاکستان پر ان کی ذہنیت آشکارہ ہو۔ اب اہل وطن کے سامنے اس گروہ کی سیاسی و عسکری پلاننگ کو بے نقاب ہونا چاہئے۔
قادیانیوں کے بھیانک کردار کو جامہ الفاظ فقط اس لئے پہنا رہا ہوں کہ لیلیٰ اقتدار کے مجنوں کی آنکھیں کھل جائیں، شیریں صدارت و سوہنی وزارت کے چاہنے والوں کو معلوم ہو جائے کہ یہ صرف مولویوں کا قصہ نہیں، خود فرہاد اور مہینوال بھی اپنے اپنے قیدو کی زد میں ہیں۔ رانجھا اگر بانسری بجاتا رہ گیا تو بیچاری ہیر، کھیڑوں کے حجلہ عروسی میں سسک سسک کر دم توڑ گئی ...... پنوں کو خبر چلے کہ اب سسی کی زلفوں کے سائے میں بیٹھ کر شراب پینے کا موسم نہیں۔ اس لئے اگر مرزا اپنے دشمنوں کے قدموں کی چاپ سے بیگانہ رہے تو نازک اندام ”صاحباں“ حملہ آوروں کا راستہ بھلا کیسے روک سکتی ہے؟
کالی بھیڑیں اور پاکستان: پاکستان اس معصوم بچے کی مانند ہے جسے دست قدرت نے زمانہ شیرخواری میں ہی حقیقی ماں کی آغوش شفقت سے اٹھا کر سوتیلی ماں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا اور وہ آج تک ماضی کے ان ایام محبت کی یاد میں تڑپ رہا ہے، جس طرف بھی نگاہ اٹھتی ہے بیگانے ہی بیگانے نظر آتے ہیں۔ یقیناً اسلام کا یہ قلعہ خلوتیان راز کی ذاتی خواہشات کے نرغہ میں ہے۔
قائد اعظم اور مرزائیت: بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اپنی آخری سانسوں تک مسلمانوں کے حقوق کی جنگ لڑتے رہے، ایک بار آپ نے فرمایا کہ: ”اگر اسلامی حکومت کے قائم کرنے کے لئے ایک میز کے برابر بھی جگہ ملی تو مجھے قبول ہو گی انہیں جناب رسول عربی ﷺ سے خاص عقیدت اور والہانہ لگاؤ تھا۔ انہوں نے دین میں سوجھ بوجھ حاصل کی۔ تاہم ان کا اصل میدان سیاست اور قانون تھا، وہ زندگی بھر مذہبی اختلافات میں نہیں الجھے، خاندانی ناطے سے بابائے قوم کا تعلق خواہ کسی فرقے سے تھا لیکن کسی بھی موڑ پر انہوں نے آبائی مسلک سے دلچسپی نہ جتائی یہ مرد آہن فقط ایک پکا اور سچا مسلمان تھا اور ہمیشہ اسلام کی بات کرتا رہا ......“
اب سوال یہ پوچھا جا سکتا ہے کہ اس نظریاتی مملکت کا پہلا وزیر خارجہ ایک قادیانی کیوں مقرر کیا گیا؟ جواباً پہلا حصہ یہ ہے کہ بانی پاکستان کو حصول آزادی کی خاطر بعض ناگوار معاہدات اور سخت شرائط پر بھی مجبوراً دستخط کرنا پڑے، آپ کے پاس وقت کم تھا اور کام زیادہ انہوں نے غلامی پر لولے لنگڑے پاکستان کو ترجیح دی، ان کے نزدیک پروانہ خود مختاری مل جانا ہی محرومیوں کا مداوا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ انگریز وائسرائے نے اس کی تقرری پر بہت اصرار کیا اور دھمکی دی کہ جب تک یہ اعلان نہیں کیا جاتا، اختیارات کی منتقلی نہ ہو سکے گی ...... انہی مسائل کے سبب قائد اعظم نے علاوہ اس کے پاکستان کا پہلا وزیر قانون بھی سردار جوگندر ناتھ منڈل کو مقرر کیا تھا۔
اس حوالے سے آپ کو مورد الزام ٹھہرانے والے خود قصور وار نکل آتے ہیں۔
دوسرے جزو کی رو سے سیاسی تاریخ کا مطالعہ کرنا پڑے گا، بعض مسلم لیگی کارکنوں کا کہنا ہے کہ سر میاں فضل حسین کی سفارش پر چوہدری ظفر اللہ خاں کو وائسرائے کونسل میں لیا جانا ایک باقاعدہ سازش تھی، ایک مدت تک اسے سیاسی تربیت دی جاتی رہی اور ماقبل آزادی ایسے حالات پیدا کئے گئے کہ سر ظفر اللہ خان کو چاروناچار وزارت خارجہ کا قلم دان سونپنا پڑا۔
اس باب کا تیسرا پہلو یہ ہے کہ قبل ازیں مرزائیوں کی منافقت کا کوئی عملی تجربہ نہ تھا اور قائد اعظم ان کے خطرناک عزائم سے مطلقاً لاعلم تھے۔ اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو آپ جیسے مخلص لیڈر اور عظیم شخصیت کی نیت پر شبہ کیا جانا درست نہیں، انہوں تو ہر دوراہے پر اپنی عظمت کردار سے جذبہ خیر خواہی ثابت کیا اور مسلمانان ہند نے روشن مستقبل کی خاطر اپنی جدوجہد کے عملی ثبوت دیئے، جب کہ یہ حقیقت بھی
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہمارے سامنے کھلی کتاب کی مانند ہے کہ جب تک آپ بقید حیات رہے اس گروہ کو کھیل کھیلنے کی اجازت نہ تھی اور یہ بھی ایک ناقابل تردید واقعہ ہے کہ قائد اعظم نے ۱۹۴۸ء میں راجہ صاحب محمود آباد کی کراچی آمد کے موقع پر ان کو آگاہ کیا تھا کہ قادیانی وزیر خارجہ کی وفاداریاں مشکوک ہیں ، میں ان پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہوں اور عملی اقدامات اٹھانے کے لئے مجھے مناسب وقت کا انتظار ہے۔ شومئی قسمت کہ قافلہ وقت تیزی سے رواں رہا اور قائد اعظم کو موذی مرض اور فرشتہ قضا نے اس کی مہلت نہ دی وگرنہ آپ اس خطرے کا ابتدا میں ہی حل ڈھونڈ لیتے اور قوم آئندہ تباہیوں سے محفوظ ہو جاتی۔
شہید ملت سے بھٹو مرحوم تک: ربوہ کا سنگ بنیاد قائد اعظم کی وفات کے تین دن بعد رکھا گیا اور یہاں کی اراضی باقاعدہ انتقال انجمن احمدیہ کے نام ۲۹ نومبر ۱۹۴۹ء کو ہوا۔ یہ لیاقت علی خان مرحوم کے عہد کی نہایت ہی تلخ روداد ہے۔ میجر (ریٹائرڈ) میر افضل پاکستان کے پہلے وزیر اعظم نوابزادہ لیاقت علی خان صاحب کے بارے میں بہت سے مضامین لکھ چکے ہیں۔ اس سے متعلق ”نوائے وقت“ ۱۹۷۹ء میں ان کے متعدد آرٹیکل شائع ہوئے، جن سے سیاسی حلقوں میں تہلکہ مچ گیا تھا، حال ہی میں انہوں نے ”لیاقت علی کا قتل تصویر کا دھندلا پہلو“ کے عنوان سے ایک اور انکشاف کرتے ہوئے اپنے کالم میں لکھا۔
”اب آئیں مل کر لیاقت علی کے دور حکومت سے یہ نتائج نکالیں کہ لیاقت علی خان نے ہمیں کتنی اسلامی غیرت دی۔ اللہ تعالیٰ اور رسول اکرم ﷺ کے نام پر بنائے گئے ملک میں اللہ اور رسول اکرم ﷺ کے احکام کی کتنی پابندی کی۔ اپنے محسن قائد اعظم محمد علی جناح کے ساتھ جب زیارت میں آخری ملاقات کی تو بقول مس فاطمہ جناح اس کے بعد قائد اعظم پھوٹ پھوٹ کر کیوں روئے؟ اور وہ کیوں زندہ رہنا چاہتے تھے؟ لیاقت علی کی سفارش پر ممتاز دولتانہ نے قادیانیوں کو دریائے چناب کے کنارے زمین دی۔ جہاں انہوں نے ایک جھوٹے نبی کا مرکز (ربوہ) بنایا۔“ فاضل صاحب مضمون نے زیر نظر سلسلے کی بہت سی کڑیاں گنوائیں ہیں جن کی یہاں گنجائش نہیں اردو ادب کی دو اہم کتب میں بھی بالوضاحت بعض راز ہائے سربستہ سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔
جب پاکستان کی باگ ڈور خواجہ ناظم الدین جیسے لوگوں کے ہاتھوں میں آ گئی تو برطانیہ عہد کے مہروں کی قسمت جاگی، خواجہ صاحب عوامی احتجاج کو مسلسل یہ بہانہ بنا کر ٹالتے رہے کہ ہمیں گندم درکار ہے اور قادیانیوں پر پابندی عائد کرنے کی صورت میں امریکہ سے اس کی خیرات نہ مل سکے گی...... ملک غلام محمد صاحب اور جناب فیروز خان نون کو دین سے دلچسپی تھی نہ ملک سے کوئی غرض۔ وہ نفس کے گھوڑے پر سوار تھے جو ہمیشہ بھوکا رہتا ہے...... سابق صدر میجر جنرل سکندر مرزا جو ملک کے ڈیفنس سیکرٹری بھی رہ چکے تھے۔ ان کا شجرہ نسب چند پشتوں کے واسطے سے بنگال کے غدار اعظم میر جعفر سے جاملتا ہے۔ یہ کس قدر ستم ظریفی ہے، جن کی ایمان فروشیوں سے اسلامی حکومت کا چراغ گل ہوا، غلامی کی زنجیریں کٹ جانے پر زمام اقتدار انہی لوگوں کے ہاتھ آئی۔ یہ شخص بھی اپنے آباء کے چال چلن اور عادات وخصائل سے کچھ مختلف نہ تھا۔
جب ۱۹۵۳ء کی تحریک راست اقدام سرد پڑ گئی تو مرزا صاحب کو اکثر یہ فرماتے سنا گیا کہ کابینہ کی غلطی ہے کہ اس نے ان ملاؤں کو پھانسی نہیں دی۔ ہمارے مشورہ کے مطابق پندرہ بیس علماء کو دار پر کھنچوا دیا جاتا یا گولی سے اڑا دیا جاتا تو اس قسم کے جھمیلوں سے ہمیشہ کے لئے نجات ہو جاتی۔ جس صبح دولتانہ وزارت برخاست کی گئی اس رات گورنمنٹ ہاؤس میں سکندر مرزا کا ایک ہی بول تھا: ”مجھے یہ نہ بتاؤ فلاں جگہ ہنگامہ فرو ہو گیا یا فلاں جگہ مظاہرہ ختم کر دیا گیا۔ مجھے یہ بتاؤ فلاں جگہ کتنی لاشیں بچھائی ہیں کوئی گولی بیکار تو نہیں گئی۔“
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ایوبی دور میں مرزائیت کو پر پھیلانے کا سنہری موقع ملا۔ سرظفر اللہ خان عالمی عدالت انصاف کا جج بن چکا تھا۔ فیلڈ مارشل محمد ایوب خان پر شب وروز آمریت کا بھوت سوار رہا چونکہ وہ فوج سے متعلق تھے، اس لئے وہ ”نو“ سننا ہر گز گوارا نہ کرتے اس پر ایک اور حادثہ ہوا۔ ایوب خان کے چہیتوں کا ربوہ کے قصر خلافت میں آنا جانا ہو گیا یہاں سے انہیں ضرورت کی ”ہر شے“ مل جاتی تھی۔ ان کی راتیں عیاشیوں کے ریلے میں ڈوب گئیں، یوں پریذیڈنٹ ہاؤس اور قصر خلافت کے درمیانی فاصلے سمٹ کر رہ گئے، زیادہ قربت ہوئی تو حکومت نے ڈیفنس آف پاکستان رولز کے تحت اخبارات کے نام اس امر کا سرکلر جاری کر دیا کہ اشارتاً و کنایۃً یا تفصیلاً واجمالاً کسی بھی طرح قادیانی فرقے پر خفی و جلی تنقید نہ کی جائے۔ خلاف ورزی کا مرتکب قانون کی رو سے مستوجب سزا ہوگا۔ دوسرے موقع پر صدر ایوب کی حکومت نے ایڈووکیٹ جنرل کی معرفت لاہور ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ کو پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ بیان دیا کہ قادیانی بھی مسلمانوں کا ایک فرقہ ہیں۔ ایوبی صدارت کے دور میں زرعی اصلاحات اور محکمہ اوقاف کا قیام عمل میں لایا گیا، لیکن قادیانی سربراہ کی زمین اس قانون سے مستثنیٰ کر دی گئی اور کہا کہ یہ زمین جو ان کے نام ہے، دراصل جماعت کی ملکیت ہے جو زرعی اصلاحات کے دائرہ میں نہیں آتی۔
جناب آغا یحییٰ خان اپنے پہلو میں ایک بے قرار دل رکھتے تھے، اگر کوئی نوجوان مہ جبیں سینے پر ہاتھ رکھ دیتی تو انہیں چین سا آ جاتا۔ صدر صاحب کو آشوب چشم کی بھی شکایت تھی، اس لئے وہ اکثر اپنی نگاہیں حسینوں کے گرم سانسوں کی لو سے سینکتے۔ قادیانی امت خوش آمدید نہ کہتی، کیونکر ممکن تھا۔ لہٰذا یحییٰ صاحب شب و روز رنگ رلیاں مناتے رہے، سنا ہے صدارتی محل کے دروازے پر مرزائی خدمت گار باری باری کھڑے ہوتے تھے اور صنف نازک کے تحفے برابر پیش کئے جاتے کہ کہیں صدر صاحب کبیدہ خاطر نہ ہوں۔ ابھی یہ مکروہ کھیل جاری تھا کہ ہمارا مشرقی بازو کٹ گیا۔ مرحوم وزیر اعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے ۴؍ ستمبر ۱۹۷۰ء کو میجر عزیز بھٹی کے مقام شہادت پر شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے فرمایا تھا۔ ”لیفٹیننٹ جنرل اختر ملک (قادیانی) کی یادگار بننی چاہئے۔ اگر یہ اب نہ ہوا تو جب پیپلز پارٹی برسر اقتدار آئے گی، ان کی یادگار ضرور قائم کرے گی“ آئندہ صفحات میں جنرل مذکورہ کا تفصیلی تذکرہ آنے والا ہے، مگر چونکہ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جانے کا فیصلہ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے عہد حکومت میں ہوا تھا، اس لئے ان کی ذات پر کوئی تلخ تبصرہ احسان فراموشی و ناقدری ہے گو ابتداً وہ قادیانیوں کے خیر خواہ تھے لیکن وقت کے ساتھ خیالات بھی بدل جاتے ہیں۔ ۱۱؍ جون ۱۹۷۴ء کی رات ان کے خطاب نے عوام کو بے حد متاثر کیا ان کی یہ جذباتی تقریر بہت پسند کی گئی۔ وزیر اعظم نے فرمایا: ”جو شخص ختم نبوت پر ایمان نہیں رکھتا وہ مسلمان نہیں اور قادیانیوں کا مسئلہ حل کرنے کا شرف ان شاء اللہ انہیں حاصل ہوگا اور یہی اعزاز انہیں خدا کے حضور سرخرو کرے گا۔“ یہ کہا جا سکتا ہے کہ بھٹو صاحب نے اس مذہبی فیصلے سے سیاسی مفادات اٹھانا چاہے، مگر پہلوں نے ایسا کیوں نہ کیا؟ تاہم اس خیال میں صداقت کے پہلو موجود ہیں کہ عوام کے فکری انقلاب اور زبردست احتجاج نے انہیں سوچنے پر مجبور کر دیا۔ یہ آئینی اقدام نہ صرف بروقت تھا بلکہ پاکستان بھی متعدد خطرات سے بچ گیا۔
ہم کالی بھیڑوں کی ذہنیت کا ماتم کر چکے دیکھنا ابھی باقی ہے کہ سیاسی نکتہ نظر سے قادیانیوں کے کردار و افکار کیا تھے۔ مرزا صاحب تمام زندگی انگریزوں کی کفش برداری پر نازاں رہے ایک ایک لمحہ ان کی مدح وثناء میں گزرا۔ ایسی صورت میں ان کے امتی یہ کب گوارا کر سکتے تھے کہ سفیران مغرب اس سرزمین سے چلے جائیں۔ اس کا تذکرہ گزشتہ باب میں نہایت شرح وبسط کے ساتھ آچکا ہے۔ ان صفحات
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
میں دلائل و براہین کے ساتھ ہم صرف یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ گروہ مذکورہ مختلف ادوار میں کیا سیاسی عزائم رکھتا تھا؟ یاد رکھنا چاہئے۔ جماعت احمدیہ اور دیگر سیاسی و مذہبی پارٹیوں میں نمایاں فرق ہے۔ یہ درست ہے کہ اکثر مسلم سیاسی جماعتیں قیام پاکستان کی مخالف تھیں لیکن ان میں کسی ایک کی فکر وسوچ کو پوری تنظیم کا منشور نہیں کہا جاسکتا وہاں اختلاف رائے کا حق محفوظ ہے۔ گاہے بگاہے لوگوں کے سیاسی نکتہ نظر میں تبدیلیاں رونما ہوتی رہی ہیں۔ پاکستان کے معرض وجود میں آجانے کے بعد متعدد مخالف رہنماؤں نے اپنا مستقبل پاک سرزمین سے ہی وابستہ کیا۔ انہیں اپنی غلط پالیسیوں کا اعتراف تھا۔ اب ان کی نیت پر شبہ کیا جانا جائز نہیں، گو ایک ایسی مذہبی وسیاسی جماعت بھی موجود ہے جس کے افراد علامہ اقبال اور قائد اعظم سے فکری رہنمائی حاصل کرنے کی بجائے ہر بات میں اپنے مخصوص قائدین کی آراء کے منتظر رہتے ہیں۔ تاہم قادیانیت سے منسلک اشخاص کا رنگ جدا ہے۔ یہ مرزا صاحب کو مجدد وقت، مہدی معہود، مسیح موعود، کرشن رام اور ایک رسول تسلیم کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک قادیانی ممدوح کی زباں کا ایک ایک حرف وحی الٰہی اور ان کے نوک قلم سے ٹپکا ہوا لفظ لفظ نوشتہ تقدیر ہے۔
قادیانیت کے عقیدہ میں: ’’مرزا صاحب کے جانشین زمین پر نائب خدا ہیں۔ انہیں ہر بات الہامی سند کی صورت میں عطا ہوئی ہے۔ ان کے تمام افعال خدائی حکومت قائم کرنے کا ذریعہ ہیں۔ نیز قادیانی خلفاء کو ہر وقت مشیت ایزدی کی تائید حاصل رہتی ہے۔‘‘
اس لئے وہ فطرتاً اس کے خواہشمند ہوتے ہیں کہ ہمارے مذہبی آقاؤں کے ارشادات حرف بحرف سچ ثابت ہوں، یہ بات اچھی طرح ان کے اذہان میں جاگزیں ہے کہ الہامات کی صداقت منوانا ہر قادیانی کا دینی فرض اور وہ اس کے لئے ہمہ وقت کوشاں بھی رہا کرتے ہیں۔ لہٰذا ان کے دعاوی، قادیانی جرائد کے تبصرے اور مذہبی رسالوں کی عبارات کو عام حالات پر قیاس کرنا دانائی نہیں، حماقت ہے۔ اگر مبینہ نکتے کو مدنظر نہ رکھا گیا تو میں اس وقت سے ڈرتا ہوں کہ بدقسمتی سے کوئی بھارتی سورما، قائد اعظم کے مقبرے پر پاؤں کی ٹھوکریں لگانے نہ آجائے۔ جب وہ بابائے قوم کے مزار پر کھڑے ہو کر حقارت سے کہہ رہا ہوگا: ’’مجھے بتا تو سہی کہاں ہے اب وہ تیرا پاکستان ۔‘‘
منیر انکوائری رپورٹ جو ایم آر کیانی اور جسٹس منیر کی ۱۹۵۳ء کے واقعات سے متعلق مسلمانوں اور مرزائیوں کے نزاع پر تحقیقاتی دستاویزات کا نام ہے۔ (حالانکہ جسٹس منیر قادیانیوں کے لئے دل میں رواداری کے نام پر نرم گوشہ رکھتا تھا) اس میں مندرج ہے: ’’۱۹۴۵ء سے لے کر ۱۹۴۷ء کے آغاز تک احمدیوں کی بعض تحریروں سے منکشف ہوا ہے کہ وہ برطانیہ کا جانشین بننے کا خواب دیکھ رہے تھے وہ نہ تو ایک ہندو دنیاوی حکومت یعنی ہندوستان کو اپنے لئے پسند کرتے تھے اور نہ پاکستان کو منتخب کر سکتے تھے۔‘‘
یہ جذبہ ان کے دلوں میں واقعتاً کارفرما تھا، وہ ہر قیمت پر حکومت کی باگ ڈور خود سنبھالنا چاہتے تھے۔ یہ خواہش ابھی تک سینوں میں بیدار ہے۔ ’’الفضل‘‘ کی اشاعت خاص میں اس گمراہ ٹولے کے خلیفہ جی کی ایک تقریر کا یہ جزو خاص طور پر مدنظر رکھنا چاہئے۔
’’ہم احمدی حکومت کرنا چاہتے ہیں۔‘‘
آگے چل کر جب یہ ناتمام آرزو روگ بن جاتی ہے تو بیان ہوا: ’’اس وقت تک کہ تمہاری بادشاہت قائم نہ ہو جائے، تمہارے راستے سے یہ کانٹے ہرگز دور نہیں ہو سکتے۔‘‘
’’یہ کانٹے‘‘ کیا بلا ہے؟ ایک اصطلاح ہے جو ابھی آپ کو ذہن نشین ہو جائے گی ...... مزید ملاحظہ ہو اس سے تین برس قبل حور وقصور کے دلدادہ خلیفہ صاحب اپنے انداز میں یہ بڑھکیں ہانک چکے تھے: ’’ملکی سیاست میں خلیفہ وقت سے بہتر اور کوئی رہنمائی نہیں کر سکتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی تائید ونصرت اس کے شامل حال ہوتی ہے۔‘‘
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۳ تا ۹/ مارچ ۲۰۰۰ء ص ۹ تا ۱۲)
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مسجد کی طرز پر قادیانی عبادت گاہ کی تعمیر جرم ہے، جناب محمود احمد شاکر جج مجسٹریٹ ہارون آباد کا فیصلہ
عطاء اللہ مرزائی کو سول جج ہارون آباد جناب محمود احمد شاکر جج نے ۳۱؍ جنوری ۲۰۰۰ء کو دو سال قید بامشقت اور دو ہزار روپے جرمانہ کی سزا سنائی۔ واضح رہے کہ عطاء اللہ مرزائی نے چک نمبر ۱۱ فورڈ کنٹاریاں میں مسجد کی طرز پر عبادت گاہ تعمیر کی اور چناب نگر سے مربی بلوا کر مرزائیت کی تبلیغ شروع کر دی۔ ان کے مربی نے مناظرے کا چیلنج کیا۔ مولانا محمد قاسم مبلغ ختم نبوت بہاول نگر کو پتہ چلا تو مولانا نے چک نمبر ۱۱ فورڈ کا دورہ کیا۔ صورتحال معلوم کی۔ مناظرہ کا چیلنج قبول کیا۔ مگر مرزائی میدان میں نہ آئے۔ مولانا نے واپس آکر درخواست لکھی۔ مولانا عبدالحفیظ خطیب ریلوے جامع مسجد، مولانا سعید احمد جنرل سیکرٹری ختم نبوت بہاول نگر، مولانا محمد قاسم رحمانی نے ڈپٹی کمشنر سے ملاقات کی۔ ساری صورتحال بتائی۔ ڈی سی نے اسی وقت اے سی چشتیاں کو حکم دیا کہ کارروائی کرو۔ اے سی چشتیاں نے ای اے سی چشتیاں جام بقاء محمد کو کارروائی کا حکم دیا۔ جام بقاء محمد نے فوراً کارروائی کی۔ مولانا عزیز الرحمن، مولانا عبدالقادر کشمیری پولیس کے ہمراہ چک نمبر ۱۱ فورڈ پہنچے۔ عبادت گاہ کو سیل کیا، لٹریچر وغیرہ اپنے قبضہ میں لیا ۲۹۸-بی کے تحت ایف آئی آر درج ہوئی۔ کیس چلا، سول جج چشتیاں، ایڈیشنل سیشن جج چشتیاں۔ حتیٰ کہ ہائی کورٹ بہاول پور بنچ سے درخواست ضمانت مسترد ہوئی۔ ان دنوں میں بخشن خان سے مولانا رشید احمد، قاری بشیر احمد، قاری نور محمد، مولانا بشیر احمد شاد اور جماعت اسلامی کی نمائندگی بھی شامل رہی۔ بہاول پور کیس کے دوران جناب ریاض احمد چغتائی، جناب ڈاکٹر غلام مصطفیٰ صاحب، مولانا محمد اسحاق ساقی مبلغ بہاول پور نے بھرپور حصہ لیا۔ بہاول نگر کی تاریخ میں یہ پہلا فیصلہ ہے جس کی مثال نہیں ملتی۔ کیس کی پیروی کے لئے وکلاء نے چشتیاں، بہاول پور اور ہارون آباد میں بھرپور کردار ادا کیا۔ اللہ تعالیٰ ان تمام حضرات کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین!
بعدالت جناب محمود احمد شاکر جج مجسٹریٹ دفعہ ۳۰ ہارون آباد۔
کریمنل مقدمہ نمبر ۱/۲/۲۰۰۰ء ، ۱/۱ سرکار بنام عطاء اللہ، ولد عمر دین، قوم جٹ (وڑائچ) سکنہ چک نمبر ۱۱ ایف ڈبلیو بجرم
۲۹۸-بی ت پ مقدمہ نمبر ۳۰۲/۹۹ تھانہ صدر چشتیاں۔
حاضری کونسل فریقین منجانب سرکار انسپکٹر لیگل، ملزم بحراست پولیس حاضر۔
فیصلہ:
۱۔ ....... مؤرخہ ۸؍ ستمبر ۱۹۹۹ء کو مسٹر بقاء محمد ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر نے اسسٹنٹ کمشنر چشتیاں کی ہدایت پر بر درخواست منجانب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بہاول نگر ملزم عطاء اللہ، ولد عمر دین، قوم جٹ وڑائچ کے ڈیرہ پر ہمراہ پولیس و مولانا عبدالقادر کشمیری، مولانا عزیز الرحمن ساکنائے چشتیاں اور اہل دیہہ چھاپا مارا تو وہاں پر ایک تعمیر شدہ عبادت گاہ پائی جو کہ مسجد کی طرز پر تعمیر کی گئی تھی۔ جس میں محراب، تاج اور مینارے بنے ہوئے تھے۔ اہلیان دیہہ کی موجودگی میں متذکرہ جگہ پر جا کر عبادت گاہ کی تلاشی لینے پر وہاں سے دو قرآن پاک، دیگر کتابیں اور قادیانی لٹریچر دستیاب ہوا۔ متذکرہ بالا کتابیں بذریعہ فرد قبضہ میں لے لی گئیں۔ فرد پر مختار احمد ولد عطاء اللہ نے دستخط کئے۔ جس نے بتلایا کہ ان اشیاء کا کسٹوڈین عطاء اللہ ہے جو کہ اس وقت موجود نہ ہے۔ اہل دیہہ نے مزید بتلایا کہ ملزم قادیانی مذہب کی تبلیغ کے لئے مبلغ منگواتا ہے جو کہ قادیانی مذہب کی تبلیغ کرتے ہیں۔ ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر نے عبادت گاہ کو سیل کر دیا اور اس نے اہل دیہہ کے بیانات قلم بند کئے اور ان پر ان کے دستخط اور فوٹوجات حاصل کئے۔ فرد برآمدگی پر مولانا عبدالقادر کشمیری اور مولانا عزیز الرحمن کے دستخط حاصل کئے۔ ایکسٹرا
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اسسٹنٹ کی رپورٹ پر ایس ایچ او تھانہ صدر نے ملزم کے خلاف ۲۹۸۔بی کے تحت مقدمہ درج کیا۔ ملزم کو مورخہ ۵ /اکتوبر ۱۹۹۹ء کے لئے ری طلب کیا گیا اور اسی روز اس کو نقولات تقسیم کی گئیں۔ ملزم کے خلاف مورخہ ۱۹ /اکتوبر ۱۹۹۹ء کو مندرجہ ذیل فرد جرم مرتب کی گئی۔
- ۱....... مورخہ ۹/ستمبر ۱۹۹۹ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی درخواست چوہدری بقاء محمد ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر مجسٹریٹ ا کلاس چشتیاں نے
ہمراہ خطباء آپ کے ڈیرہ پر چھاپا مارا اور یہ پایا گیا کہ آپ نے ایک عبادت گاہ مسجد کی طرز پر تعمیر کر رکھی ہے۔ جس میں تاج ، محراب اور مینار تعمیر کئے ہیں اور کلمہ طیبہ بھی تحریر کیا ہے۔ قرآن پاک کے علاوہ قادیانی لٹریچر بھی رکھا ہوا تھا اور آپ قادیانی مذہب کی تبلیغ کے لئے مبلغ بلاتے ہیں جو کہ قادیانیت کی تبلیغ کرتے ہیں۔ ہر طرح تم نے جرم ۲۹۸۔بی ت. پ کا ارتکاب کیا ہے۔ جو کہ اس عدالت کی سماعت کے قابل ہے۔ ملزم نے جرائم کا اقرار نہ کیا۔
- ۲....... گواہان کو پہلے مجسٹریٹ نے طلب کیا۔ مگر مقدمہ کی تبدیلی کے لئے ملزم نے درخواست گزاری تھی۔ جس پر مقدمہ عدالت ہذا میں
جناب ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج بہاول نگر کے حکم پر مورخہ ۱۷ / دسمبر ۱۹۹۹ء کے تحت چوہدری غلام رسول سول جج مجسٹریٹ دفعہ ۳۰ چشتیاں کی عدالت سے عدالت ہذا میں منتقل ہوا۔ مقدمہ ہذا عدالت میں مورخہ ۳/جنوری ۲۰۰۰ء کو موصول ہوا۔ یہاں پر یہ بات تحریر کرنا مناسب ہوا کہ عدالت عالیہ لاہور ہائی کورٹ (بہاول پور بنچ) نے اس مقدمہ کی سماعت تین ماہ میں مکمل کرنے کا حکم دیا۔ جو کہ مدت ۳/ فروری ۲۰۰۰ء کو ختم کرنی تھی۔ اس عدالت میں مقدمہ ہذا کی کارروائی ۳/جنوری ۲۰۰۰ء سے شروع ہوئی۔ ملزم بحراست پولیس حاضر، عدالت نے گواہان استغاثہ کو ۴ / جنوری ۲۰۰۰ء کے لئے طلب کیا۔ استغاثہ کو ہدایت کی گئی کہ وہ گواہان پیش کر کے مقدمہ ہذا میں عدالت عالیہ لاہور ہائیکورٹ (بہاول پور بنچ) کی ہدایت کے پیش نظر روزانہ سماعت کا سلسلہ شروع کیا گیا۔
- ۳....... استغاثہ نے اپنے موقف کی تائید میں بقاء محمد ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر گواہ نمبر ۱ محمد شفیق یونس ولد محمد یونس ، گواہ نمبر ۲ غلام مرتضیٰ اے
ایس آئی تھانہ صدر چشتیاں ، گواہ نمبر ۳ مولانا عزیز الرحمن ولد حافظ ظہیر احمد ، گواہ نمبر ۴ مولانا عبدالقادر کشمیری ولد خان بہادر ، گواہ نمبر ۵ بشیر احمد نمبردار ولد نور محمد ، گواہ نمبر ۶ پیش کئے۔ استغاثہ نے اصل درخواست منجانب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ایگزیبٹ پی اے عبادت گاہ کی تصویر ایگزیبٹ پی بی قرآن مترجم محمد اسحاق ، ایگزیبٹ پی سی تفسیر قرآن مرزا بشیر الدین ، ایگزیبٹ پی ڈی روحانی خزائن مصنفہ بانی جماعت مرزا غلام احمد قادیانی ، ایگزیبٹ پی ای ماہنامہ تشحیذ الاذہان (تین عدد) ایگزیبٹ پی ایف پی جی پی ایچ حالات زندگی حضرت عمر ، ایگزیبٹ پی آئی تقریر جمعہ فضل مسجد لندن ، ایگزیبٹ پی جے ماہنامہ الخالد ربوہ ، ایگزیبٹ کے نماز کا پوسٹر ، ایگزیبٹ پی ایل سپارہ نمبر ۲ ، ایگزیبٹ پی ایم ہماری تعلیمات ، ایگزیبٹ پی این ماہنامہ انصار اللہ ، ایگزیبٹ پی او پیغام احمدیت ، ایگزیبٹ پی پی روزنامہ الفضل ربوہ (ایک تا بارہ) ایگزیبٹ پی کیو کچھ متفرق کاغذات ، ایگزیبٹ پی آر ایس ایچ او کی رپورٹ ، ایگزیبٹ پی ایس نقشہ موقعہ ایگزیبٹ پی ٹی فرد سپرداری میمو ایگزیبٹ پی یو اور رسید سپرداری پی وی۔
- ۴....... ملزم نے اپنا بیان زیر دفعہ ۳۴۲ کریمنل پروسیجر کوڈ کے تحت قلم بند کرایا۔ ملزم کو صفائی پیش کرنے کا موقع دیا گیا مگر اس نے کوئی
صفائی پیش نہ کی۔
- ۵....... ملزم کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ملزم نے مسجد کی تعمیر نہ کی ہے اور نہ ہی یہ مسجد اس کی زمین میں تعمیر ہوئی ہے۔ ملزم ان پڑھ
ہے اور وہ قادیانیت کی تبلیغ نہ کر سکتا ہے اور نہ وہ مسجد کا نگران تھا۔ مقدمہ ہذا عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دباؤ کی وجہ سے اس کے خلاف بنایا گیا ہے گواہان نے اس کے خلاف شہادت مذہبی اور مولوی صاحبان کے دباؤ کی وجہ سے دی ہے۔ ملزم مقدمہ ہذا میں بالکل بے گناہ ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۶....... میں نے فریقین کا موقف سماعت کیا۔ شہادت آمدہ مثل کا جائزہ لیا۔ عائد کردہ فرد جرم کے سلسلہ میں میری مندرجہ ذیل وجوہات ہیں۔
- ۷....... استغاثہ نے بقاء محمد ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر چشتیاں کو بطور گواہ نمبر ۱ پیش کیا۔ جس نے بیان دیا کہ اسے ایک درخواست اسسٹنٹ
کمشنر چشتیاں کی جانب سے موصول ہوئی جو کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے گزاری تھی۔ گواہ نے اصل درخواست ایگزبیٹ پی اے عدالت میں پیش کی۔ اس نے حسب الحکم ڈپٹی کمشنر بہاول نگر و اسسٹنٹ کمشنر چشتیاں درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے جگہ متدعاویہ پر چھاپہ مارا۔ بحکم کمشنر و ڈپٹی کمشنر مارک اے بی صفحہ مثل پر ہیں۔ گواہان اور اہل دیہہ بھی اس وقت اس کے ساتھ موجود تھے۔ اس نے دیکھا کہ ایک عبادت گاہ موجود تھی جو کہ مسجد کی طرز پر تعمیر کی گئی تھی۔ اس کے محراب و مینارے موجود تھے، فوٹو ایگزبیٹ پی بی ہے۔ اس وقت ملزم موجود نہ تھا۔ اس کا بیٹا مختار احمد موجود تھا۔ جس نے بتلایا کہ عبادت گاہ کا نگران اس کا والد عطاء اللہ ہے۔ اہل دیہہ نے بتلایا کہ ملزم عطاء اللہ عبادت گاہ میں مرزائیت کی تبلیغ کرتا ہے اور وہ باہر سے مبلغ بھی بلاتا ہے۔ عبادت گاہ کی تلاشی لینے پر وہاں سے قادیانیت کے متعلق لٹریچر برآمد ہوا تھا۔ ایک نسخہ قرآن پاک بھی تھا جو کہ مولانا عزیز الرحمن خطیب جامع مسجد چشتیاں کے حوالہ کیا گیا تھا۔ جملہ لٹریچر بذریعہ فرد قبضہ میں لیا گیا تھا۔ فرد مقبوضگی گواہ کے اہل مد نے اس کی ہدایت پر بنایا تھا، جس پر گواہ نے اپنے دستخط کئے تھے۔ اس نے برائے اندراج مقدمہ رپورٹ ایگزبیٹ پی ایس کی تھی جو کہ اس کی دستخطی و تحریری ہے۔ مقدمہ درج ہونے پر جملہ ریکارڈ تحصیل مال خانہ میں رکھوایا گیا اور عبادت گاہ کو سیل کر دیا گیا۔
- ۸....... استغاثہ نے گواہ نمبر ۲ محمد شفیق ولد محمد یونس کو پیش کیا۔ جس نے بیان کیا کہ گواہ نمبر ۱ نے تین چار ماہ قبل پولیس کے ساتھ ملزم کے
ڈیرہ پر چھاپہ مارا۔ اس وقت ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر کے ساتھ تین چار پبلک کے آدمی بھی تھے۔ میں ہمراہ احمد، بشیر، محبوب اور دیگر بہت سے لوگوں کے موقع پر پہنچا وہاں سے دو قرآن پاک اور دیگر کتب و قادیانی لٹریچر قبضہ میں لیا گیا۔ فرد مقبوضگی ایگزبیٹ پی آر تیار ہوئی جس پر میں نے دستخط کئے۔ متنازعہ مسجد کے دو مینار و محراب تھے اور اسے مسجد کی طرز پر تعمیر کیا گیا ہے۔ استغاثہ نے اسسٹنٹ سب انسپکٹر غلام مرتضیٰ کو بطور گواہ نمبر ۳ پیش کیا اور اس نے کہا کہ مؤرخہ ۸ ستمبر ۱۹۹۹ء کو اس نے جام بقاء محمد ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر کی نگرانی میں ہمراہ گواہان مولانا عزیز الرحمن، مولانا عبد القادر کشمیری بر درخواست عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملزم کے ڈیرہ پر چھاپہ مارا تھا۔ وہاں پر عبادت گاہ پائی گئی جس کے مینار اور محراب تھے۔ اس کے علاوہ وہاں دو قرآن پاک کے نسخے اور دیگر قادیانی لٹریچر قبضہ میں لیا گیا تھا۔ جس پر چھے گواہان نے دستخط کئے تھے۔ مجھے ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر نے ایک تحریر دی جس پر مقدمہ درج ہوا تھا۔ میں نے مقدمہ کی تفتیش کی، موقعہ ملاحظہ کیا۔ نقشہ موقعہ ایگزبیٹ پی ٹی تیار کیا جس پر ایک نوٹ میرا قلمی دستخطی ہے۔ گواہان کے بیانات تحریر کئے۔ اگلے روز ملزم کو گرفتار کر کے تفتیش کی اور اسے گنہگار پا کر چالان کیا۔ مولانا عزیز الرحمن ولد حافظ ظہیر احمد گواہ نمبر ۴ پیش ہوا۔ اس نے بیان کیا کہ لوگوں نے اس کے سامنے احتجاج کیا کہ چک نمبر ۱۱ ایف ڈبلیو میں قادیانیوں نے تبلیغ کرنا شروع کر رکھی ہے اور ملزم عطاء اللہ نے مسجد کی طرز کی عبادت گاہ تعمیر کر رکھی ہے۔ جس کے مینار و محراب بھی ہیں اور وہ علاقہ کے مسلمانوں میں مرزائیت کی تبلیغ کرتا ہے اور مسلمان علماء کو مناظرہ کا چیلنج کرتا ہے۔ اس نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو اس صورتحال سے آگاہ کیا جس پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے ڈپٹی کمشنر بہاول نگر کو درخواست گزاری جس نے درخواست اسسٹنٹ کمشنر چشتیاں کو بھجوا دی۔ اسسٹنٹ کمشنر نے برائے کارروائی درخواست جام بقاء محمد ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر کو بھیج دی۔ جام بقاء محمد ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر ہمراہ اپنے اہل مد پولیس و مولانا عبد القادر کشمیری ملزم کے ڈیرہ پر گئے اور وہاں پر دیکھا کہ مسجد تعمیر شدہ ہے۔ جو کہ مسلمانوں کی مسجد کی طرز پر ہے۔ وہاں پر امجد ، بشیر احمد نمبردار ، سردار شفیق اور دیگر کافی لوگ بھی اکھٹے ہو گئے تھے۔ مجسٹریٹ نے وہاں سے قادیانی لٹریچر،
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ۲۳۸ ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کتابیں برآمد کی تھیں۔ اس کے علاوہ قرآن پاک بھی جو کہ گواہ کو دے دیا گیا تھا اور وہ قرآن پاک گواہ نے عدالت میں پیش کیا ہے۔ میں نے فرد مقبوضگی پر دستخط کئے۔ مجسٹریٹ نے عبادت گاہ کو سیل کر دیا۔ ملزم غائب ہو گیا جب کہ اس کا بیٹا مختار احمد موجود تھا جس نے تسلیم کیا کہ وہ اپنے مذہب کی تبلیغ کرتے ہیں اور مبلغ بلاتے ہیں اور اس نے فرد مقبوضگی پر دستخط کئے تھے۔ استغاثہ نے مولانا عبدالقادر کشمیری کو بطور گواہ نمبر ۵ پیش کیا۔ جو کہ ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر کے ساتھ موقع پر گیا اور فرد مقبوضگی پر دستخط کئے۔ اس نے گواہ نمبر ۴ کی پوری طرح تائید کی ہے۔ گواہ نمبر ۶ بشیر احمد نمبردار ولد نور محمد ہے۔ اس نے بیان کیا کہ چار ماہ قبل وہ مالیہ لینے گیا تو اسے لوگوں نے بتایا کہ ملزم عطاء اللہ اپنے مذہب قادیانیت کی تبلیغ کرتا ہے اور اس نے یہ بات مولانا عزیز الرحمن کو بتلائی تھی۔ جب ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر تین چار پولیس افسران مولانا عزیز الرحمن اور ایک دیگر مولوی صاحب کے ہمراہ موقعہ پر آئے تھے تو میں بھی ان کے ساتھ تھا۔ ہم ملزم کے ڈیرہ پر پہنچے وہاں پر عبادت گاہ دیکھی جو کہ مسجد کی طرز پر بنائی گئی تھی۔ وہاں سے قرآن پاک اور دیگر قادیانی لٹریچر برآمد ہوا تھا۔ قرآن پاک مولانا عزیز الرحمن کو دے دیا گیا تھا۔ جب کہ دیگر لٹریچر، کتابیں بذریعہ فرد قبضہ میں لے لی گئی تھیں۔ جس پر میں نے دستخط کئے۔ شہادت استغاثہ ختم ہوا۔
- ٩...... ملزم زیر دفعہ ۳۴۲ کریمنل پروسیجر کوڈ بیان قلم بند کراتے ہوئے جرائم سے انکار کیا۔ اس نے عدالت کے سوال پر جواب میں کہا
کہ وہ بے گناہ ہے اور اس نے مسجد تعمیر نہ کی ہے اور نہ ہی مسجد اس کی جگہ میں ہے اور نہ ہی وہ اس جگہ کا نگران ہے اور یہ پرانی تعمیر شدہ ہے اور وہ ایک ان پڑھ کسان ہے اس نے کسی کو تبلیغ نہ کی ہے۔ بوقت آمد پولیس وہ موجود نہ تھا۔ اسے دوسرے دن گرفتار کیا گیا ہے۔ اس کے خلاف مقدمہ مولوی صاحبان اور افسران کے دباؤ پر درج کیا گیا ہے۔ گواہان نے دباؤ کے تحت دشمنی اور بدنیتی کی بناء پر اس کیخلاف شہادت دی ہے۔ ملزم نے حلف پر گواہی دینے اور صفائی پیش کرنے سے انکار کیا۔
- ١٠...... شہادت آمدہ کا بغور جائزہ لینے سے معلوم ہوا ہے کہ استغاثہ نے جرم ثابت کرنے کے لئے گواہ نمبر ۱ جام بقاء محمد ایکسٹرا اسسٹنٹ
کمشنر چشتیاں کو پیش کیا۔ جس نے موقعہ ملاحظہ کیا۔ دو نسخے قرآن پاک اور پندرہ دیگر کتب وقادیانی لٹریچر قبضہ میں لیا۔ فرد مقبوضگی بنائی اور گواہان کے دستخط حاصل کئے۔ اس نے اہل دیہہ کے بیانات قلم بند کئے۔ اسی طرح استغاثہ نے مولانا عزیز الرحمن، مولانا عبدالقادر کشمیری اور بشیر احمد نمبردار کو بطور گواہ پیش کیا ہے۔ جو کہ بوقت برآمدگی قرآن پاک وقادیانی لٹریچر موقعہ پر موجود تھے اور انہوں نے فرد مقبوضگی پر دستخط کئے۔ گواہ ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر نے عبادت گاہ کی تصویر بھی پیش کی جو کہ ایگزیبٹ پی بی ہے۔ اس تصویر سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ متدعاویہ عبادت گاہ کو مسجد کی طرز پر بنایا گیا ہے۔ اس میں مینار اور محراب موجود ہیں۔ دوسرے گواہان نے بھی بلاشک وشبہ بیان کیا ہے کہ ملزم نے عبادت گاہ کو مسجد کی طرز پر تعمیر کیا ہے اور اس میں محراب، تاج و مینار موجود ہیں۔ محمد شفیق یونس ولد محمد یونس اور غلام مرتضیٰ اسسٹنٹ سب انسپکٹر پولیس تھانہ صدر نے بھی استغاثہ کی تائید کی ہے۔ غلام مرتضیٰ اسسٹنٹ سب انسپکٹر کی سربراہی میں موقع پر پولیس آئی اور اس نے مقدمہ کی تفتیش کی اور اس نے ملزم کا جرم ۲۹۸-بی کا ارتکاب کرنا پایا۔ اس کی رپورٹ پر ایس ایچ او تھانہ صدر چشتیاں نے عدالت میں چالان بھجوایا۔ استغاثہ کی طرف سے زبانی اور دستاویزی شہادت سے یہ بات بلاشک وشبہ ثابت ہو گئی ہے کہ ملزم نے عبادت گاہ مسجد کی طرز پر تعمیر کی ہے کیونکہ اس میں محراب تاج اور مینار بنائے گئے ہیں۔ اگرچہ ملزم پارٹی نے عبادت گاہ کی ایک جانب سامنے لفظ ”بیت احمدیہ“ تحریر کر رکھا تھا۔ تاہم یہ الفاظ عبادت گاہ کی تعمیر کے وقت لکھے جاتے تو پھر یہ الفاظ درمیان میں لکھے ہوئے ہونے چاہئے تھے۔ مگر وہ درمیان میں ہونے کی بجائے اس کے دائیں جانب لکھے ہوئے ہیں۔ اس حقیقت کو کسی طور بھی نہ جھٹلایا جا سکتا ہے کہ وہاں سے دو قرآن پاک برآمد ہوئے۔ ایک ترجمہ والا اور دوسرا بلا ترجمہ تھا۔ دونوں قرآن پاک بطور ایگزیبٹ پی سی اور ایگزیبٹ پی ڈی
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پیش عدالت کئے گئے۔ ملزم نے ان کتابوں اور لٹریچر کی برآمدگی سے انکار نہ کیا ہے۔ مزید برآں برآمدگی ملزم کے لڑکے مختار احمد کی موجودگی میں ہوئی۔ جس نے فرد مقبوضگی پر دستخط کئے۔ ان حالات میں استغاثہ نے ملزم کے خلاف شک وشبہ سے بالاتر شہادت پیش کی ہے۔
- ۱۱....... اگرچہ ملزم نے زیر دفعہ ۳۴۲ کریمنل پروسیجر کوڈ کے تحت سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بے گناہ ہے اور اس کے خلاف
مقدمہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دباؤ پر قائم کیا گیا ہے۔ لیکن اس نے اپنی صفائی میں کوئی شہادت پیش نہ کی ہے۔ اسے صفائی پیش کرنے کا موقعہ دیا گیا۔ مگر اس نے اپنی صفائی پیش کرنے سے انکار کر دیا۔ لہٰذا میں بلا تامل اس بات کا قائل ہوا ہوں کہ ملزم کے خلاف یہ جرم پایہ ثبوت کو پہنچا کہ اس نے عبادت گاہ تعمیر کی اور وہ مسجد کی طرز پر تعمیر کی اور اس میں اس نے قرآن پاک کے دو نسخے وہاں پر رکھے۔ جن میں سے ایک مترجم مرزا بشیر الدین محمود تھا اور دیگر قادیانی لٹریچر وہاں پر رکھا۔ اس طرح ملزم نے جرم ۲۹۸-بی (ڈی) کا ارتکاب کیا ہے۔ چونکہ ملزم first off ہے اور وہ ان پڑھ کسان ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس نے یہ عبادت گاہ دفعہ ۲۹۸-بی مجریہ میں ترمیم سے قبل تعمیر کی ہو۔ تاہم اسے چاہئے تھا کہ وہ ترمیم کے بعد اس کی شکل میں تبدیلی لاتا جو کہ اس نے نہ کی ہے۔ لہٰذا ملزم کو دو سال قید سخت وجرمانہ دو ہزار روپیہ کیا جاتا ہے۔ جرمانہ کی عدم ادائیگی پر وہ مزید ایک ماہ قید بھگتے گا۔ تاہم ملزم کو دفعہ ۳۸۲ بی کا فائدہ دیا جاتا ہے۔ فائل بعد از ترتیب و تکمیل جنرل ریکارڈ روم میں داخل ہو۔
سنایا گیا: ۳۰/جنوری ۲۰۰۰ء محمود احمد شاکر جج
مجسٹریٹ دفعہ ۳۰ سول جج درجہ اوّل ہارون آباد
تصدیق کی جاتی ہے کہ فیصلہ ۱۳ صفحات پر مشتمل ہے۔ ہر صفحہ میری ہدایت پر تحریر ہوا۔ پڑھا اور تصحیح ہوا۔ جس پر میں نے دستخط کئے۔
مجسٹریٹ دفعہ ۳۰ سول جج درجہ اوّل ہارون آباد ۳۱/جنوری ۲۰۰۰ء
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۰۰ء ص ۲۶ تا ۳۲)
قادیانی مسئلہ کی دستوری پوزیشن
دنیا کی کوئی طاقت قادیانیوں سے متعلق آئینی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکے گی۔ ان شاء اللہ تعالیٰ!
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی مجلس عاملہ کا ۷/ فروری ۲۰۰۰ء کو ملتان دفتر مرکزیہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم کی زیر صدارت اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں نائب امیر حکیم العصر حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ، ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری، حضرت مولانا بشیر احمد، حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی، حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، حضرت مولانا مفتی محمد جمیل خان، حضرت مولانا اللہ وسایا اور صاحبزادہ سعید احمد نے شرکت کی۔ مجلس عاملہ کے اجلاس میں ’قادیانی مسئلہ کی دستوری پوزیشن‘ پر طویل غور وخوض کیا گیا۔ قارئین کی آگاہی کے لئے عرض ہے کہ:
- ۱....... قادیانی گروہ اپنی شاطر قیادت کی دھوکہ دہی کے باعث سخت گمراہ کن پروپیگنڈہ میں مصروف عمل ہے کہ آئین معطل ہونے کے
باعث ان کے متعلق آئینی ودستوری فیصلے غیر مؤثر ہو گئے ہیں۔
- ۲....... قادیانیوں کے چیف گرو ولائٹ پادری مرزا طاہر محض شکستہ دل قادیانیوں کو ایسے سبز باغ دکھانے، فوج کے خلاف فضا بنانے اور
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اپنا چندہ کا دھندہ برقرار رکھنے کے لئے ایسا تاثر قائم کرنے کی مذموم پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ حالانکہ: (الف) موجودہ صورتحال میں آئین پاکستان کی وہ دفعات جو چیف ایگزیکٹو کے کسی حکم سے متصادم ہوں تو چیف ایگزیکٹو کے احکامات کو ترجیح ہوگی۔ باقی تمام تر عدالتی نظام میں آئین پاکستان سے رہنمائی لی جارہی ہے۔ (ب) نیز یہ کہ قادیانی گروہ کے کفر کا مسئلہ اب صرف آئین کی بات نہیں۔ اب وہ تعزیرات پاکستان کا حصہ ہے۔ جب تک پاکستان باقی ہے (اللہ رب العزت اسے قیامت کی صبح تک محفوظ و مستحکم رکھے۔ آمین!) اس وقت تک تعزیرات پاکستان باقی ہیں۔ جب تک تعزیرات پاکستان باقی ہیں اس وقت تک قادیانی مسئلہ سے متعلق آئینی ترمیم کے نتیجہ میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۸ سی میں جو پابندیاں ہیں وہ باقی ہیں اور ان کی سزائیں بحال ہیں۔ اس لئے قادیانی گروہ نوٹ کرلے کہ ملک عزیز میں چاہے ہزار تبدیلیاں ہوں لیکن دنیا کی کوئی طاقت اب قادیانیوں کو مسلمانوں کی صف میں شامل کرنے کی احمقانہ جرأت نہیں کرسکے گی۔ (ان شاء اللہ ) اگر قادیانی سازش سے ایسی احمقانہ کوشش کی گئی تو اس کے ردعمل میں جو تحریک چلے گی وہ قادیانیت کے خاتمہ پر منتج ہوگی۔ (ج) آئین میں پاکستان کے نام کے مسئلہ کا واضح اور ٹھوس حل موجود ہے اس کا سرکاری نام ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ ہے جس سے پاکستان کے اسلامی ہونے کے تشخص کا برملا اعلان موجود ہے اور بڑی کوششوں وکاوشوں سے اسلامیان پاکستان نے یہ منظور کرایا تھا۔ اب حلف میں اسلامی کے الفاظ کو عمداً یا سہواً ترک کر کے پاکستان کے آزاد خیال یا سیکولر ہونے کا تاثر قائم کیا جارہا ہے۔ جن شخصیات یا اداروں نے یہ ناٹک رچایا ہے انہوں نے ملک اور خود اپنے ساتھ بہت بڑی زیادتی کی ہے۔ حکومت کو اس کا بروقت ازالہ کرنا چاہئے۔ ایسی باتوں سے حکومت کے خلاف جو تاثر قائم ہو رہا ہے وہ موجودہ حکمرانوں کے لئے ”لمحہ فکریہ“ ہے۔ الیس منکم رجل رشید
ان تمام حالات کو سامنے رکھ کر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی مجلس عاملہ نے موجودہ حالات پر نپی تلی رائے کا اظہار کیا وہ یہ ہے: ”موجودہ حکومت کے برسر اقتدار آنے کے بعد آئین کی معطلی کا جو اعلان ہوا ہے اس سے قادیانی گروہ یہ سمجھنے لگا ہے کہ قادیانیت سے متعلق ترامیم ختم ہوگئی ہیں اور وہ اس ملک میں ارتدادی سرگرمیوں کے لئے آزاد ہیں۔ اس لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت قادیانیوں کو خبردار کرنا ضروری سمجھتی ہے کہ قادیانیوں سے متعلق تمام قوانین بحال ہیں مگر بایں ہمہ قادیانی یاد رکھیں کہ ناموس رسالت ﷺ کے تحفظ اور عقیدہ ختم نبوت کی عظمت کے لئے کسی قانون یا آئین کی ضرورت نہیں۔ مسلمان مرزا غلام احمد قادیانی کے جھوٹے دعوؤں کے آغاز سے لے کر آج تک ان کو کافر سمجھتے ہوئے ان کی سرگرمیوں پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں اور آئندہ بھی وہ اس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ پاکستان جیسے اسلامی ملک میں عقیدہ ختم نبوت کے خلاف ارتدادی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں اور اگر اس سلسلے میں کسی قسم کی بھی قربانی دینی پڑی تو اس سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔ اجلاس میں واضح کیا گیا کہ ۱۹۷۴ء میں قادیانیت سے متعلق آئینی ترامیم ۹۰ سالہ جدوجہد اور قربانیوں کے بعد پاس ہوئیں۔ ۱۹۸۴ء میں امتناع قادیانیت آرڈیننس کا اجراء اس سلسلے کی اہم کڑی ہے۔ اس کے بعد سیشن کورٹ سے لیکر عدالت عظمیٰ تک تمام عدالتوں نے قادیانیوں کے غیر مسلم ہونے کا فیصلہ دیا اور وہ اب تعزیرات پاکستان کا حصہ ہیں۔ دنیا بھر کے تمام اسلامی ممالک کے علماء کرام، قادیانیوں کے کافر ہونے پر متفق ہیں اور دنیا کے ایک ارب بیس کروڑ مسلمان قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت گردانتے ہیں۔ اس لئے قادیانیوں کو یا تو غلط عقائد سے توبہ کرنی چاہئے یا اپنے آپ کو غیر مسلم اقلیت سمجھنا چاہئے۔ اجلاس میں جنرل پرویز مشرف سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ قادیانیوں کی پیدا کردہ غلط فہمی کو دور کرنے کے لئے واضح اعلان کردیں کہ قادیانیت سے متعلق ترامیم اور اسلامی دفعات معطل نہیں ہیں۔ اسی طرح فوری طور پر جمعہ کی تعطیل بحال کرنے کا اعلان کریں۔ سودی نظام کے خاتمہ کے لئے سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیا ہے اس پر
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عمل درآمد کرائیں اور قادیانیوں کو حساس اور کلیدی اسامیوں پر متعین نہ کرنے کی سابقہ پالیسی اور آئینی تقاضوں کو برقرار رکھیں۔ قادیانیوں کو حساس عہدوں سے الگ کریں اور قادیانیوں کو شعائر اسلام استعمال کرنے اور خاص کر مساجد کی شکل پر عبادت گاہیں بنانے سے روکا جائے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اس سلسلے میں دیگر دینی جماعتوں سے مشاورت کر کے اگر ضرورت محسوس کی گئی تو مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے تحت تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کا اجلاس بلایا جائے گا۔ اس سلسلے میں مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا مفتی محمد جمیل خان پر مشتمل کمیٹی بنائی گئی جو تمام مکاتب فکر کے مقتدر علماء کرام سے ملاقات کر کے مشاورت کرے گی۔ اجلاس میں قرارداد کے ذریعہ مطالبہ کیا گیا کہ آئین میں کسی بھی قسم کی کوئی ترمیم بالخصوص اسلامی دفعات اور قادیانیوں سے متعلق آئینی شقوں کو نہ چھیڑا جائے۔ ایسی کسی بھی کوشش کو اسلامیان پاکستان قطعاً قبول نہیں کریں گے۔‘‘
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۰۰ء ص ۴، ۵)
ایوب میڈیکل کالج ایبٹ آباد کے پرنسپل ڈاکٹر کریم سعید قادیانی کا تبادلہ ہو گیا
۱۵؍ فروری ۲۰۰۰ء کو گورنر سرحد نے ایوب میڈیکل کمپلیکس کالج کا پرنسپل ڈاکٹر کریم سعید کو بنایا۔ ڈاکٹر کریم سعید مشہور بدنام زمانہ قادیانی ڈاکٹر سعید احمد قادیانی کا بیٹا ہے اور آج کل یہ (لاہوری گروپ) کا مرکزی صدر ہے۔ جب کہ یہ اطلاع بذریعہ اخبار علماء کرام کے نوٹس میں آئی تو فوراً جمعیت علماء اسلام کے امیر مولانا سید ہدایت اللہ شاہ نے مرکزی جامع مسجد مانسہرہ میں ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا۔ جس میں ہزارہ ڈویژن کے پندرہ سو سے زائد علماء کرام اور معززین شہر جمع ہوئے۔ جس میں یہ قرارداد منظور ہوئی کہ گورنر سرحد فوراً ڈاکٹر کریم سعید کو پرنسپل کے عہدے سے برطرف کریں۔ کیونکہ اس سے مسلمانوں میں اشتعال پیدا ہوتا ہے کہ ایک گستاخ رسول کو ایشیاء کے بڑے کمپلیکس کا پرنسپل کیوں بنایا گیا ہے۔ یہ ڈاکٹر کریم سعید پہلے بھی مسلمانوں کو اشتعال دلانے کے لئے شعائر اسلام استعمال کرتا تھا۔ اب اسے مزید موقع مل جائے گا اور یہ اتنی اہم پوسٹ پر اسلام اور ملک کے خلاف سازشیں کرے گا۔ ڈاکٹر کریم سعید کو پرنسپل بنانے کے خلاف تحریک آناً فاناً پورے ہزارہ ڈویژن میں پھیل گئی۔ ایبٹ آباد میں مولانا شفیق الرحمن اور قاری محبوب الرحمن نے اجلاس بلائے اور گورنر سرحد کے فیصلے کے خلاف جلوس نکالے۔ ہری پور میں بھی تمام مساجد کے علماء کرام کا اجلاس ہوا۔ جس میں قرارداد مذمت پاس ہوئی۔ جب یہ اطلاع گورنر سرحد کو پہنچی کہ ڈاکٹر کریم سعید کو پرنسپل بنائے جانے پر مسلمانوں میں اشتعال پایا جاتا ہے تو انہوں نے فوراً مسلمانوں کے مطالبے کا احترام کرتے ہوئے اور حب رسول ﷺ کا اظہار کرتے ہوئے مرتد قادیانی جو کہ لاہوری گروپ کا سربراہ ہے کو فوراً برطرف کر کے اس کی جگہ ڈاکٹر خورشید خٹک کو پرنسپل نامزد کر دیا۔ اس پر علماء کرام اور عوام الناس نے گورنر سرحد کا شکریہ ادا کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۰۰ء ص ۶۱)
قادیانی مردہ مسلمانوں کے قبرستان کامونکے میں دفن کرنے کی ناکام کوشش
کامونکے کے نواحی گاؤں میہہ چٹھہ میں قادیانی مردے کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے کی قادیانی سازش کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مداخلت سے ناکام بنا دیا گیا اور مرزائیوں نے ناکامی پر مردے کو اپنے ڈیرہ ہی میں دفن کیا۔ میہہ چٹھہ کے نوجوان محمد انور چٹھہ نے قادیانیوں کی اس ناپاک جسارت کی اطلاع مجلس کے ضلعی دفتر میں دی۔ جس پر مجلس کے مبلغ مولانا فقیر اللہ اختر تشریف لے گئے اور انہوں نے تمام معاملہ اپنی نگرانی میں طے کرایا۔ قبل ازیں لوگوں کی عدم واقفیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مرزائی اپنے مردے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا کرتے تھے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی رکنیت سازی کے بعد مقامی یونٹ کا انتخاب بھی کرایا گیا۔ جس میں چوہدری
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
محمد اشرف امیر، محمد اجمل چٹھہ، افتخار احمد چٹھہ نائب امیر، نوید احمد ناظم اعلیٰ، امانت علی ناظم، محمد سیف اللہ خازن ۔ سرمد علی ناظم اطلاعات، حامد علی، شفقت علی، محمد یعقوب، مختار احمد، محمد عابد، گلفام، علی، سفیان علی، محمد سلیمان، محمد اشفاق، محمد علی، محمد اشرف، فیصل علی، محمد ادریس، اللہ دتہ، شعبان بٹ، عرفان علی، کاشف علی اور راجہ محمد یعقوب مجلس عمل کے ارکان چنے گئے ۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا فقیر اللہ اختر نے میہے چٹھہ کی جامع مسجد میں جمعتہ المبارک کے اجتماع سے بھی خطاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۰۰ء ص ۶۲)
مولانا مفتی محمد خالد میر کا دورہ آزاد کشمیر
آزاد کشمیر کے مبلغ مولانا مفتی محمد خالد میر نے آزاد کشمیر کا تبلیغی دورہ کیا۔ کوٹلی میں قرآن مجید کے درس، جمعہ کے اجتماع سے خطاب کیا اور لٹریچر تقسیم کیا۔ ڈسٹرکٹ ہسپتال میں ڈاکٹر شاہ محمد جاوید نے ڈسٹرکٹ ہسپتال میں قادیانیت کی تبلیغ شروع کر رکھی ہے۔ مفتی خالد میر جمیل مغل اور دوسرے حضرات کی کوششوں سے ماسٹر عبدالجبار اور اس کی اہلیہ نصرت جہاں نے سب جج کوٹلی کے سامنے قادیانیت سے برأت اور بیزاری کا اعلان کیا اور مرزا غلام احمد قادیانی کو کافر اور مرتد اور لعنتی لکھ کر دیا۔ ان کے علاوہ اعجاز احمد ولد عبدالرشید گارڈ شاہی محلہ کوٹلی نے مولانا مفتی محمد خالد میر، قاری ساجد الرحمن، مولانا محمد کبیر اور قاری زبیر احمد صاحب کے روبرو قادیانیت سے برأت اور بیزاری کا اعلان کیا۔ آزادی کے بیس کیمپ سے جہاد کے منکرین قادیانیوں کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھی جائے۔ حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرے اور ان قادیانیوں کو گرفتار کرے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۰۰ء ص ۶۰)
چیچہ وطنی میں قادیانی غنڈہ گردی کے خلاف اہل اسلام کی فتح
۹/ مارچ ۲۰۰۰ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مولانا عبدالحکیم صاحب نے ۱۱/ ۶- ایل کا تبلیغی دورہ کیا اور مسلمانوں میں لٹریچر تقسیم کر رہے تھے کہ کاشف، لقمان، فیاض اور لطیف ان قادیانیوں نے متعدد دوسرے ہمراہیوں کے ساتھ مولانا عبدالحکیم کو گالیاں دیں۔ کپڑے پھاڑے اور ختم نبوت پر مبنی لٹریچر چھین کر اس کی بے حرمتی کی۔ قادیانیوں کی اس غنڈہ گردی، اشتعال انگیزی اور دہشت گردی کیخلاف تھانہ میں ایف آئی آر درج کرانے کی درخواست دی گئی تو تھانہ ہڑپہ کے ایس ایچ او نے قادیانیوں کی وکالت میں ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کر دیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے حاجی محمد ایوب، حافظ حبیب اللہ چیمہ، مجلس احرار اسلام کے چوہدری عبداللطیف خالد چیمہ، قاری محمد قاسم، جمعیت علماء اسلام کے مولانا عبدالباقی، مفتی محمد عثمان اور دیگر حضرات نے فوری طور پر قادیانیوں کی اس غنڈہ گردی کے خلاف ۲۴/ مارچ کو وہاں جمعہ کا پروگرام رکھا۔ ضلع بھر سے دینی جماعتوں کے رہنماء وہاں پر تشریف لائے۔ چیچہ وطنی، ہڑپہ اور گرد و نواح کے وفود اور قافلے وہاں پہنچے۔ لیکن اجتماع شروع ہونے سے ۱۵ منٹ قبل ضلعی حکام نے عبداللطیف چیمہ اور مولانا عبدالباقی کو اطلاع دی کہ مجلس عمل کے تمام مطالبات تسلیم کر لئے گئے ہیں اور ایس پی ساہیوال نے ایس ایچ او تھانہ ہڑپہ کو فوری طور پر ٹرانسفر کر دیا اور اس سے تھوڑی دیر پہلے سرکاری اہلکاروں نے قادیانی عبادت گاہ پر درج اسلامی علامات کو ہٹا دیا۔ خالد چیمہ نے اجتماع کے شرکاء کو صورتحال سے آگاہ کیا۔ جس کے بعد اعلان کیا گیا کہ اجتماعی احتجاج اظہار تشکر میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا اللہ وسایا، جمعیت اہل حدیث کے رہنما مولانا عبدالرشید، مجلس احرار اسلام کے رہنما عبداللطیف خالد چیمہ، جمعیت علماء اسلام کے رہنماء مولانا عبدالباقی، مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما مولانا عبدالحکیم، قاری عبدالجبار، جمعیت علماء پاکستان کے ضلعی صدر چوہدری محمد طفیل، علماء کونسل کے قاری منظور احمد سمیت دیگر علماء کرام نے خطابات کئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۰۰ء ص ۶۰، ۶۱)
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ڈاور میں قادیانیوں کی شرارت و فتنہ فساد، قادیانی عبادت گاہ کی تعمیر پر اشتعال
چناب نگر کے قریب موضع ڈاور میں قادیانیوں کی دیرینہ کوشش تھی کہ وہاں قادیانی عبادت گاہ تعمیر ہو جائے۔ وہاں پر مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ لیکن چناب نگر (ربوہ) کے قرب کی وجہ سے قادیانی بے لگام گھوڑے کی طرح آئے دن وہاں کوئی نہ کوئی شرارت کرتے رہتے ہیں۔ بیس تیس سال قبل انہوں نے وہاں عبادت گاہ تعمیر کرنے کی کوشش کی۔ ان دنوں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما حضرت مولانا تاج محمود کی بروقت کوشش و کاوش، علاقہ کے مسلمانوں کے لئے رحمت فضل ربی ثابت ہوئی اور قادیانی شرارت کامیاب نہ ہوسکی۔ درمیان میں ایک بار پھر کوشش کی تو مسلمانوں کی بروقت بیداری نے ان کی سازش ناکام بنادی۔ اب پھر حضرت مولانا عبد الواحد مخدوم مرحوم کی وفات کے بعد میدان خالی دیکھ کر پھر شیطان کی آنت کی طرح قادیانی پھیلنے لگے اور قادیانی عبادت گاہ کی تعمیر شروع کردی۔ علاقہ کے لوگوں نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما مولانا غلام مصطفےٰ کو دعوت دی۔ آپ نے ڈاور جا کر جمعہ پڑھایا، حالات کا جائزہ لیا، چناب نگر و چنیوٹ انتظامیہ کو باخبر کیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت فیصل آباد کے ممتاز رہنما فقیر محمد صاحب نے ڈویژنل و ضلعی انتظامیہ کے نوٹس میں یہ بات لائی۔ فوری طور پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکز، مدرسہ و جامع مسجد ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں علاقہ بھر کے علماء کرام و خطباء عظام کا اجلاس طلب کیا گیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا محمد اکرم طوفانی، چناب نگر کے خطیب مولانا غلام مصطفےٰ، چنیوٹ کے رہنما مولانا محمد یعقوب برہانی، جمعیت علماء اسلام کے رہنما مولانا عبد الوارث، احرار رہنما محمد مغیرہ اور دیگر حضرات نے پوری صورت حال سے خطباء علاقہ کو آگاہ کیا۔ پورے علاقہ میں یوم احتجاج منایا گیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا رد قادیانیت پر لٹریچر تقسیم کیا گیا۔ چنیوٹ کے اے سی صاحب، چناب نگر کے آر ایم صاحب نے پولیس کو ہدایت کی۔ انہوں نے غیر قانونی طور پر تعمیر ہونے والی قادیانی عبادت گاہ کو گرا دیا اور قادیانی شاطر اوباشوں کو خبردار کیا کہ وہ اس شرارت سے باز رہیں۔ ان کی اشتعال انگیزی و دہشت گردی سے علاقہ کا امن تہہ و بالا ہو سکتا ہے۔ مگر قادیانی نامعلوم کس کے اشارے پر سرگرم عمل ہیں۔ ان کے تیور دیکھ کر ایک شام ڈاور کے نوجوانوں، سکولوں اور کالجوں کے طلباء نے باقی ماندہ منہدم دیواروں کو حرف غلط کی طرح نام و نشان مٹا دیا۔ یوں ایک بار پھر قادیانیوں کو ذلت آمیز رسوائی اور ندامت کے زخم چاٹنے پڑے۔
(ماہنامہ لولاک اپریل ۲۰۰۰ء ص ۶، ۷)
قادیانی بدستور غیر مسلم ہیں، آئین کی اسلامی دفعات پی سی او سے متصادم نہیں
یہ تاثر قطعی غلط ہے کہ آئین معطل ہونے کے بعد قادیانیوں سے متعلق یہ دفعات نافذ نہیں رہیں
اسلام آباد (ا.پ.پ) قادیانیوں کے بارے میں آئین کے آرٹیکل ۲۶۰ کی کلاز تھری بدستور نافذ العمل ہے۔ جس کے تحت قادیانی گروپ اور خود کو احمدی کہنے والے لاہوری گروپ کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہے۔ یہ بات وزارت قانون کے ایک ترجمان نے گزشتہ روز بتائی۔ ترجمان نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے متعلقہ اسلامی دفعات بشمول آرٹیکل ۲۶۰ کے کلاز تھری کی دفعات ۱۲؍ اکتوبر ۱۹۹۹ء کے آرڈر اور عبوری آئینی حکم نمبر ایک ۱۹۹۹ء سے ہرگز متصادم نہیں بلکہ یہ تمام دفعات اس وقت بھی نافذ العمل ہیں۔ وزارت قانون کے ترجمان نے بعض حلقوں کی طرف سے پھیلائے جانے والے اس تاثر کو قطعی غلط قرار دیا کہ ۱۲؍ اکتوبر ۱۹۹۹ء کو ہنگامی حالت کے نفاذ اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کو معطل قرار دینے کے بعد قادیانیوں سے متعلقہ آئینی دفعات نافذ العمل نہیں رہیں۔ ترجمان نے کہا کہ اس بارے میں پھیلائے گئے شکوک و شبہات بلا جواز ہیں۔ ترجمان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ۱۹۹۹ء کے عبوری
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
آئینی حکم نمبر ایک کے آرٹیکل ۲ میں واضح الفاظ میں کہا گیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کی دفعات معطل ہونے کے باوجود پاکستان کو ہر ممکن طور پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے مطابق ہی چلایا جائے گا۔
(روزنامہ نوائے وقت ملتان مورخہ ۲۵/ فروری ۲۰۰۰ء)
اسلامی دفعات معطل نہیں ہوئیں ، قادیانی غیر مسلم ہیں
عبوری حکم کے تحت آئین کو التواء میں ڈالا گیا۔ تمام اسلامی دفعات کی حیثیت برقرار ہے، اس لئے قادیانیوں کے خلاف فیصلہ نافذ ہے
اسلام آباد (اے. پی. پی) اسلامی نظریاتی کونسل نے کہا ہے کہ قادیانیوں سے متعلق اسلامی دفعات اسی طرح رو بہ عمل ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایسے افراد جن کا تعلق قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ یا جو اپنے آپ کو احمدی کہلاتے ہیں ، وہ آئین کی معطلی کے بعد بھی غیر مسلم ہیں اور عبوری آئینی حکم کے تحت بھی وہ غیر مسلم ہی ہیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے ترجمان نے بتایا کہ آئین میں موجود قادیانیوں سے متعلق اسلامی دفعات پر پی سی او کا کوئی اثر نہیں پڑا اور ان کی حیثیت اسی طرح برقرار ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ ۱۲؍ اکتوبر ۱۹۹۹ء کے عبوری آئینی حکم کے تحت آئین پاکستان کو معطل کیا گیا تھا۔ لیکن آئین میں موجود قادیانی غیر مسلم قرار دیئے گئے۔ ترجمان نے یہ وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ عبوری آئینی حکم میں یہ وضاحت کر دی گئی ہے کہ آئین پاکستان کو تعطل میں نہیں ڈالا جا رہا بلکہ جتنا جلد ممکن ہوسکا آئین پاکستان کے تحت ملک کو چلایا جائے گا۔ اس طرح آئین کی دفعہ ۲۶۰ پر عبوری حکم کا کوئی اطلاق نہیں ہوگا اور قادیانی غیر مسلم ہی کہلائیں گے۔
(روزنامہ خبریں ملتان مورخہ ۵؍ اپریل ۲۰۰۰ء)
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۰۰ء ص ۷)
اقبال کے خطوط میں تحریف
لاہور کے ایک اشاعتی ادارہ فکشن ہاؤس نے ”جدوجہد آزادی پر ایک نظر“ کے عنوان سے پنڈت جواہر لال نہرو کی کتاب a punch of oidletters کا اردو ترجمہ شائع کیا ہے۔ اس کتاب میں مفکر پاکستان علامہ اقبال کے ایک خط کا ترجمہ بھی شائع کیا گیا ہے۔ علامہ اقبال نے اس خط میں قادیانیت کے بارے میں اپنی رائے کھل کر دی اور لکھا کہ : ”قادیانی اسلام اور ہند، دونوں کے غدار ہیں۔“
مترجم ملک اشفاق نے اس خط میں تحریف کر کے مفہوم یکسر الٹ دیا اور لکھا: ”احمدیوں اور مسلمانوں میں زیادہ اختلافات نہیں ہیں، نہ ہی احمدی اسلام اور نہ ہی ہندوستان کے لئے دہشت گرد ہیں۔“ مستزاد یہ کہ مترجم نے اس خط کے چند اہم حصے جن میں قادیانیت کے بارے میں علامہ کے عقائد کی صحیح ترجمانی ہوتی ہے حذف کر دیئے ہیں۔ ہم نے فکشن ہاؤس کے ترجمے علامہ اقبال کے انگریزی خط کے متن اور ممتاز صحافی اقبال احمد صدیقی کے ترجمہ کا ”جو اقبال اکادمی لاہور سے ۱۹۹۰ء میں شائع ہوا اور لاہور میں دستیاب ہے ۔“ موازنہ کیا ہے اور یہ بالکل عیاں ہے کہ اس اشاعتی ادارہ اور پنڈت نہرو کی کتاب کے مترجم ملک اشفاق نے نہ صرف علامہ اقبال کے خط میں تحریف کی ہے بلکہ قادیانیت کے بارے میں علامہ اقبال کا نرم گوشہ رکھنے کا احساس دلانے کی کوشش بھی کی ہے۔ اس ارادی دھاندلی کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ یہ جسارت دانستہ اور شعوری ہے۔ جس سے نہ صرف علامہ کا امیج خراب کیا گیا ہے بلکہ علامہ کے ارادتمندوں کے جذبات کو بھی مجروح کیا گیا ہے۔ متذکرہ بالا کتاب کھلے بندوں فروخت ہو رہی ہے۔ حیرت ہے کہ حکومت کے پریس ڈیپارٹمنٹ نے اس کا نوٹس تک نہیں لیا۔ امکان یہ ہے کہ سکولوں اور کالجوں کے بچوں کا ذہن خراب کرنے اور فروغ قادیانیت کے مقصد کے تحت یہ کتاب
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کالجوں اور سکولوں کی لائبریریوں تک پہنچا دی ہوگی۔ حکومت پنجاب کو اس کا فوری نوٹس لے کر اس کتاب کی فروخت کو ممنوع قرار دینا چاہئے اور اس کی تمام کاپیاں ضبط کرنے لائبریریوں سے واپس لینے کے علاوہ مترجم و ناشر کے خلاف بھی ایکشن ہونا چاہئے۔ علامہ اقبال کے خط کے متن میں تحریف ناقابل معافی جرم ہے۔
(روزنامہ نوائے وقت لاہور، مؤرخہ ۶ مئی ۲۰۰۰ء)
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۰۰ء ص ۱۲، ۱۳)
قانون تحفظ ناموس رسالت کے مسئلہ پر ہڑتال
۱۹؍ مئی ۲۰۰۰ء بروز جمعتہ المبارک کو تحفظ ناموس رسالت کے قانون میں تبدیلی، ختم نبوت کی آئینی ترمیم، جمعہ کی تعطیل اور اسلامی دفعات کو تحفظ دینے کے ضمن میں پورے ملک میں ہڑتال کی گئی۔ ملکی اخبارات، بین الاقوامی نشریاتی اداروں اور خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق ۱۹؍ مئی کی ہڑتال کامیاب رہی۔ اس کامیابی پر اللہ تبارک و تعالیٰ کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے۔
۸؍ مئی ۲۰۰۰ء کو لاہور میں تمام مکاتب فکر کی ۱۹ دینی جماعتوں کا خصوصی اجلاس ہوا تھا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نمائندے اس اجلاس میں موجود تھے۔ جنرل پرویز مشرف نے ۲۱؍ اپریل ۲۰۰۰ء کو تحفظ ناموس رسالت کے قانون کے طریقہ کار میں تبدیلی کا اعلان کیا تھا جس کے باعث پورے ملک میں تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی۔ اجلاس میں قانون تحفظ ناموس رسالت کے علاوہ قادیانیوں کی بڑھتی ہوئی غیر آئینی اور غیر قانونی سرگرمیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ چنانچہ اس خصوصی اجلاس میں حکومت کو تحفظ ناموس رسالت کے قانون کے طریقہ کار میں تبدیلی سے روکنے اور طے شدہ مسائل چھیڑنے کی حکومتی پالیسی کے خلاف ۱۹؍ مئی ۲۰۰۰ء کو پورے ملک میں ہڑتال کی اپیل کی گئی تھی۔ حالات واقعات، اخبارات اور جماعتی خبروں کے مطابق ۱۹؍ مئی کے روز کی ہڑتال بہت کامیاب رہی۔ کوئٹہ، پشاور، لاہور، اسلام آباد جیسے بڑے شہر مکمل بند رہے۔ ۱۹؍ مئی کی ہڑتال کی کال جو دینی جماعتوں نے دی تھی اور اس دن بالخصوص تحفظ ناموس رسالت کے ضمن میں مسلمانوں نے غیرت دینی کا مظاہرہ کرنا تھا، سو انہوں نے کامیاب ہڑتال کے ذریعہ حکومت پر واضح کر دیا کہ ناموس رسالت کے مسئلہ پر تمام مسلمانوں کے جذبات یکساں ہیں۔ چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف بیرون ملک کے دورے سے واپس آئے تو انہوں نے اسلام آباد ائیر پورٹ پر اخباری نمائندوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے توہین رسالت قانون سے متعلق واضح اعلان کیا کہ وہ قانون کے طریق کار میں تبدیلی کو واپس لیتے ہیں اور یہ کہ ایف آئی آر کے اندراج سے متعلق سابقہ طریق بحال رہے گا۔ کسی ڈپٹی کمشنر کی تفتیش یا منظوری لینے کی ضرورت نہ ہوگی۔ جنرل پرویز مشرف کے اس اعلان کا خیر مقدم کیا گیا۔ تاہم ملی یکجہتی کونسل کے رہنماؤں کی جانب سے ۱۹؍ مئی کی ہڑتال کا فیصلہ برقرار رکھنے کا اعلان کیا اور مطالبہ کیا کہ حکومت تحفظ ناموس رسالت کے قانون ختم نبوت کی آئینی ترمیم اور اسلامی دفعات کو پی سی او کا حصہ بنائے تاکہ تمام شکوک و شبہات ختم ہوسکیں جس کا مان لینا خوش آئند ہے۔ اس لئے حکمت تدبر اور فراست کا تقاضا یہ ہے کہ حکومت طے شدہ مسائل کو چھیڑنے کی بجائے عبوری آئین میں تحفظ دے۔ اس سے یقیناً حکومت کا وقار بلند ہوگا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۰۰ء ص ۱۱، ۱۲)
قادیانیوں کا اقوام متحدہ میں پاکستان اور اسلام کے خلاف زہریلا پراپیگنڈہ
(حضرت مفتی نظام الدین شامزئی کا خطاب)
جب سے پاکستان میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا ہے اس وقت سے پوری دنیا میں قادیانی جماعت نے انسانی
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اور بنیادی حقوق کے حوالے سے پراپیگنڈہ مہم شروع کی ہوئی ہے کہ پاکستان میں قادیانیوں پر بہت زیادہ مظالم ہورہے ہیں، ان کا جینا دو بھر ہے، ان پر ظلم وستم کے پہاڑ ڈھائے جارہے ہیں۔ حال ہی میں قادیانیوں نے اقوام متحدہ میں پاکستان کے خلاف اپیل دائر کردی۔
ذیل میں اخباری خبر ملاحظہ ہو: ”قادیانیوں نے اقوام متحدہ میں پاکستان کے خلاف اپیل دائر کردی۔“
نیویارک (آن لائن) قادیانیوں نے حکومت پاکستان کے خلاف اقوام متحدہ میں اپیل دائر کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ عالمی ادارہ ان کے حقوق کے تحفظ اور ان کے خلاف ڈھائے جانے والے مظالم کی روک تھام کے لئے پاکستان پر دباؤ ڈالے۔ برطانیہ ایسوسی ایشن کے صدر افتخار ایاز نے ایک وفد کے ہمراہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کمیٹی میں پیش ہوکر مطالبہ کیا کہ عالمی ادارہ ان کے حقوق کے تحفظ کے لئے اقدامات کرے اور حکومت پاکستان کو ان کے حقوق کی فراہمی پر مجبور کرے۔
(روزنامہ خبریں مؤرخہ ۲۹ مئی ۲۰۰۰ء)
ان الزامات کا سہارا لے کر وہ برطانیہ، فرانس، جرمنی، جنوبی افریقہ، امریکہ اور دیگر یورپی ممالک میں سیاسی پناہ حاصل کررہے ہیں۔ گزشتہ سالانہ اجتماع میں مرزا طاہر نے دھمکی دی کہ اگر پاکستان میں قادیانیوں پر ظلم بند نہ ہوا تو پاکستان پر اللہ کا عذاب آئے گا۔ مرزا طاہر یا قادیانی جماعت کا یہ غلیظ اور جھوٹا پراپیگنڈہ نیا نہیں ہے۔ بلکہ جب سے قادیانیت وجود میں آئی ہے جھوٹ فریب اور دھوکہ بازی اس کا وطیرہ رہا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی جانب سے جھوٹ در جھوٹ کا اتنا بڑا پلندہ ہے کہ اگر اس کو مرتب کیا جائے تو سینکڑوں صفحات سیاہ ہو جائیں۔ قادیانیوں کے اس پراپیگنڈہ کے حوالے سے مرزا غلام احمد قادیانی جھوٹے دعویٰ نبوت سے لیکر اب تک کے حالات کا جائزہ لے کر تجزیہ کرتے ہیں کہ ظلم وستم قادیانیوں کی طرف سے ہوا ہے یا مسلمانوں کی طرف سے۔
مرزا غلام احمد قادیانی کی طرف سے نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس کے مقابلے میں اپنی شخصیت بنانے کا خیال ۱۸۸۲ء میں پیدا ہوا اور اس نے پہلے محدث، مجدد، مہدی، مسیح موعود اور آخر کار ۱۹۰۱ء میں نبوت کا دعویٰ کیا اور یہ دعوے توہین آمیز اور اسلام کے بنیادی عقائد سے متصادم اور نبی آخر الزمان ﷺ کے دین سے بغاوت تھے۔ بقول یحییٰ بختیار اٹارنی جنرل اس طرز عمل کا فطری نتیجہ تھا کہ مسلمان مشتعل ہوں اور یہ بات بھی بعید از امکان نہیں تھی کہ مسلمان ایسے شخص کو صفحہ ہستی سے مٹادیں۔ کیونکہ ان کی غیرت ایمانی کو چیلنج کیا گیا تھا۔ لیکن علمائے امت نے اسی پراپیگنڈے کے پیش نظر دلائل کا ہر وہ طریقہ اختیار کیا جو دنیا میں رائج ہے تقریروں کے ذریعے ثابت کیا کہ اس کا دعویٰ جھوٹا ہے۔ تحریروں کے ذریعے وضاحت کی کہ اس دعوے کے بعد وہ اور اس کے پیروکار ملت اسلامیہ سے خارج ہوگئے ہیں۔ مناظروں میں آمنے سامنے حق وباطل کے درمیان فرق ظاہر کرکے حق کو واضح اور غالب کیا، مباہلوں کا ہر طریقہ اختیار کیا تا کہ حق وباطل کا امتیاز ہوتا جائے اور مباہلوں میں بار بار شکست دی لیکن نہ تقریروں اور نہ تحریروں اور نہ مناظروں اور نہ ہی مباہلوں میں دھمکی دی۔ لوگوں کو قتل وغارت پر اکسایا اور نہ ہی کسی پر حملہ کیا۔ یہ بات کوئی ڈھکی چھپی نہیں کہ ابتداء میں مرزائیوں کی تعداد چند سو پر مشتمل تھی اور جب علماء اسلام نے قادیانیت کا تعاقب شروع کیا تو یہ تعداد ہزاروں تک پہنچی تھی اور امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کا یہ دور تقریر کے لحاظ سے عروج کا دور تھا۔ آپ کے ایک ایک جلسے میں کئی کئی لاکھ سے زائد افراد شرکت کرتے تھے اور جس وقت شاہ صاحب تقریر کرتے تو پورے مجمع پر ان کا کنٹرول ہوتا تھا۔ وہ جس بات کا ایسے وقت میں حکم دیتے مجمع بلاچون وچرا اس پر عمل کرتا شاہ صاحب نے ایک دفعہ نہیں کئی دفعہ قادیان (جو قادیانیوں کا مرکز تھا اور جہاں ابتداء میں قادیانی آباد تھے ) میں جلسوں سے خطاب کیا۔ جس میں لاکھوں افراد شریک ہوتے۔ اگر مجلس احرار اسلام یا مجلس تحفظ ختم نبوت تشدد یا ظلم و جبر کا راستہ اپنانے والی جماعت ہوتی تو شاہ صاحب مجمع کو حکم دیتے کہ چلو رات کے اس آخری پہر ہم سب ملکر قادیان کو بمع جھوٹے پیغمبر اور اس کے پیروکاروں کو صفحہ ہستی سے مٹادیں بلکہ حیرت کی بات یہ ہے کہ بعض قادیانی بھی
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
امیر شریعت کی تقریر سنتے اور کہتے تھے کہ تقریر کا لطف تو شاہ صاحب کی زبان میں ہے اور بارہا معلوم ہوا کہ شاہ صاحب کے جلسے میں قادیانی موجود ہیں لیکن کبھی شاہ صاحب اس کی طرف اشارہ بھی نہ کیا کہ جلسے میں شریک قادیانی یا میرے کسی مخالف کو قتل کر دو۔ قیام پاکستان کے بعد چناب نگر (سابقہ ربوہ) میں قادیانیوں نے اپنا مرکز تبدیل کیا۔
امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے چناب نگر سے متصل آبادی چنیوٹ میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے تحت عظیم الشان ختم نبوت کانفرنسوں سے خطاب کیا۔ کئی کئی لاکھ افراد ان کانفرنسوں میں شریک ہوتے۔ چناب نگر کی آبادی چند ہزار نفوس پر مشتمل تھی۔ شاہ صاحب چاہتے مجمع کو حکم دیتے کہ ربوہ کی آبادی کو تہس نہس کر دو مگر کوئی ایک تقریر نہیں بتائی جاسکتی جس میں شاہ صاحب نے تشدد کی دعوت دی ہو۔ ہاں نبی کریم ﷺ کے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت جوش جذبہ اور ولولہ سے بیان کرتے تھے اور جھوٹے مدعی نبوت اور اس کے پیروکاروں سے نفرت کا اظہار ایمانی غیرت وحمیت سے کرتے تھے۔ قیام پاکستان سے لے کر اب تک عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت عدم تشدد کی پالیسی کے ساتھ قانونی دائرہ کے اندر رہتے ہوئے اپنے اس دعوٰی پر قائم ہے کہ قادیانی گروہ یا توبہ کر کے دامن ختم نبوت میں آ جائے یا اپنے آپ کو مسلمان کہلوانا چھوڑ دے۔ جھوٹی نبوت پر ایمان اور اسلام ایک ساتھ نہیں چل سکتے اور الحمد للہ پاکستان کی چھوٹی عدالت سے لے کر سپریم کورٹ تک مسجد کے پلیٹ فارم سے لے کر قومی اسمبلی اور ایوان بالا کے پلیٹ فارم پر ان دلائل کو ثابت کیا اور ان تمام ایوانوں نے متفقہ فیصلہ دیا کہ قادیانی دائرہ اسلام سے خارج اور جھوٹے نبی کے پیروکار ہیں۔ یورپ، جرمنی، فرانس، امریکہ، افریقہ، مشرق بعید، تاشقند، ثمرقند، بخارا، روس، قازقستان، جہاں بھی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے قادیانیت کی سرگرمیوں کا تعاقب کیا عدم تشدد کی پالیسی کے ساتھ محبت و رحمت کا درس دیتے ہوئے دعوت اسلام دی۔
شہید ختم نبوت مولانا محمد یوسف لدھیانوی مولف تحفہ قادیانیت نے قادیانیوں کو دعوت اسلام، مسٹر ظفر اللہ خان کو دعوت اسلام، مرزا طاہر پر آخری اتمام حجت رسائل تصنیف کر کے قادیانیوں کو دلائل کے ذریعے اسلام کی دعوت دی۔ تحفہ قادیانیت کتاب کا نام اس لئے تجویز کیا کہ قادیانی اس کتاب کو پڑھ کر ہدایت حاصل کریں۔ کسی کتاب یا رسالے میں اس بات کی ترغیب نہیں دی گئی کہ قادیانیوں کو ختم کرو، ان کے گھروں کو جلا دو، ان کو پاکستان سے نکال دو، ایک ہی مطالبہ ہوتا ہے کہ یا تو عقیدہ ختم نبوت پر ایمان لے آؤ یا اپنے آپ کو مسلمان کہلانا چھوڑ دو۔ دوسری طرف قادیانیوں کا طرز عمل ملاحظہ ہو:
قادیان جھوٹے مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی کا مرکز بنتا ہے تو کسی اور شخص کو اس خطے میں رہنے کی اجازت نہیں۔ کوئی مرزائی اگر مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت سے منحرف ہو جائے تو اس کا رہنا دوبھر کر دیا جاتا ہے۔ خود مرزا غلام احمد قادیانی کے ایک بیٹے مرزا فضل احمد نے مرزا کا دعوٰی نبوت تسلیم نہیں کیا تو اس کو نہ صرف عاق کیا گیا بلکہ اس کو قادیان بدر کر دیا گیا۔
قیام پاکستان کے بعد قادیانیوں نے چناب نگر (ربوہ) کو مرکز بنایا۔ قادیانیوں کے غیر مسلم اقلیت قرار دینے تک یہ شہر صرف قادیانیوں کے لئے مخصوص تھا۔ کسی غیر قادیانی کو یہ حق حاصل نہیں تھا کہ وہ یہاں زمین خرید سکے۔ ۱۹۷۴ء تک کے چوبیس سال کے عرصہ میں کسی مسلمان کو چناب نگر (ربوہ) میں داخل ہونے کی اجازت نہ تھی۔ زمین خریدنا، دوکان یا مکان بنانا تو اب بھی ممکن نہیں۔ اسی طرح کوئی طالب علم اگر سکول یا کالج میں داخل ہو جاتا تو اس کے لئے وہاں جینا دوبھر کر دیا جاتا تا کہ وہاں سے بھاگ جائے۔ کئی مقامات پر جہاں قادیانیوں کا اثر و رسوخ تھا مسلمانوں کے گھروں کو جلایا گیا، مارا پیٹا گیا، جس محکمہ میں قادیانی افسران ہوں وہاں وہ مسلمان ماتحتوں کا یا تو تبادلہ کرا دیتے ہیں یا اس کو پریشان کرتے ہیں۔ تا کہ وہ ان کے احکامات پورے کرے۔ بڑے بڑے کلیدی عہدوں پر قادیانی فائز ہیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بڑی بڑی تجارت پر ان کا قبضہ ہے۔ پورا چناب نگر اور کراچی اور دیگر بڑے بڑے شہروں میں ان کی عمارتیں ہیں۔ کوئی ایک عمارت نہیں دکھائی جاسکتی کہ اس کو گرایا یا جلایا ہو۔ جھوٹی فلمیں دکھا کر جھوٹے مدعی نبوت کے پیروکار جھوٹا پراپیگنڈا کرتے ہیں۔ رحمت دو عالم ﷺ کے غلام محبت اخوت کے ساتھ تبلیغ کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔
آج معمولی مفادات اور شہریت کے حصول کے لئے قادیانی جھوٹ بول کر دنیا کے عیش وعشرت حاصل کر سکتے ہیں لیکن قیامت کے دن اللہ تبارک وتعالیٰ خود بہترین فیصلہ فرمادیں گے۔ دنیا کا جو ملک سروے کرنا چاہے آ کر تحقیق کرے۔ کسی ایک قادیانی پر کسی قسم کا ظلم بھی نہیں ہوا۔ یہ مرزا طاہر اور قادیانی جماعت کا نرا جھوٹ اور پاکستان اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کا زہریلا پراپیگنڈہ ہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۰۰ء ص ۲۳ تا ۲۶)
ریاض احمد گوہر شاہی سب سے بڑا جھوٹا، سب سے بڑا گمراہ اور سب سے بڑا دھوکہ باز ہے
خانہ کعبہ ومسجد حرام کے امام اور خطیب شیخ محمد بن عبداللہ السبیل کا فتویٰ
خانہ کعبہ ومسجد حرام کے امام وخطیب اور سعودی عرب کے ممتاز عالم دین شیخ محمد بن عبداللہ السبیل نے اپنے ایک فتویٰ میں ریاض احمد گوہر شاہی (بانی انجمن سرفروشان اسلام) کو سب سے بڑا جھوٹا، سب سے بڑا گمراہ، سب سے بڑا دھوکہ باز اور دجالوں میں سے ایک دجال قرار دیا ہے۔ شیخ سبیل کے فتویٰ کا ترجمہ درج ذیل ہے:
تمام تعریفیں اللہ وحدہ لاشریک کے لئے ہیں۔ صلوۃ والسلام اس ذات اقدس پر جن کے بعد کوئی نبی نہیں اور آپ ﷺ کی آل اور آپ ﷺ کے تمام اصحاب پر۔ اما بعد!
’’ہمیں بعض پاکستانی جرائد کے ذریعہ یہ خبر پہنچی ہے کہ انجمن سرفروشان اسلام کا بانی وسربراہ جو ریاض احمد گوہر شاہی نامی شخص ہے، اس نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ مہدی ہے اور اپنے دعویٰ پر اس نے یہ استدلال پیش کیا ہے حجر اسود پر اس کی شبیہ نظر آتی ہے اور بقول اس کے امام حرم حماد بن عبداللہ نے اس بات کی تصدیق بھی کی ہے۔ میں حقیقت کی وضاحت اور اظہار حق کے لئے یہ بات مسلمانوں کے نام لکھ رہا ہوں کہ کسی بھی شخص کی کوئی تصویر حجر اسود میں ظاہر نہیں ہوئی اور نہ حرمین شریفین کے اماموں میں سے کسی نے اس بات کی تصدیق کی ہے بلکہ حرمین شریفین میں حماد بن عبداللہ نام کا کوئی امام ہی سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ یہ شخص ریاض احمد گوہر شاہی امام مہدی نہیں ہے بلکہ یہ شخص سب سے بڑا جھوٹا، سب سے بڑا گمراہ، لوگوں کو گمراہ کرنے کا سب سے بڑا دھوکہ باز اور دجالوں میں سے ایک دجال ہے۔‘‘
بسم الله الرحمٰن الرحيم
المملكة العربية السعودية الرقيم: ............. الرئاسة العامة لشئون المسجد الحرام والمسجد النبوى التاريخ: ............. مكتب الرئيس المشفوعات: ........
”رسالة امام الحرم المکی الشریف الی عموم المسلمین“
الحمد لله وحده والصلاة والسلام علیٰ من لا نبی بعده وعلىٰ آله وصحبه اجمعین. اما بعد!
فلقد بلغنا الخبر الذی تناقلته بعض الجرائد الباكستانية بأن رئيس منظمة سر فروشان اسلام
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
المدعو / رياض احمد جوهر شاهى قد ادعى أنه المهدى، واستدل على دعواه بأن صورته ظهرت فى الحجر الأسود، وأن امام الحرم المكى / حماد بن عبد الله قد صادق على ذلك:
وانى توضيحا للحقيقة واظهاراً للحق واداء للواجب أكتب هذه الأحرف بياناً للواقع للإخوة المسلمين، بأنه لم تظهر قطعاً أية صورة لأى أحد فى الحجر الأسود، ولم يصادق أحد من أئمة الحرمين الشريفين على ذلك، بل إنه لايوجد فى الحرمين الشريفين أى امام باسم (حماد بن عبدالله)
وان هذا المدعو(رياض احمد جوهر شاهى) مدعى المهدوية المذكور ما هو الا كذاب ضال مضل ودجال من الدجاجلة. والله الهادى الى سواء السبيل
محمد بن عبد الله بن سبيل الرئيس العام لشؤون المسجد الحرام والمسجد النبوى وامام وخطيب المسجد الحرام
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۲ تا ۱۸ مئی ۲۰۰۰ء ص ۱۲، ۵۱)
بسم الله الرحمن الرحيم
المملكة العربية السعودية الرئاسة العامة لشؤون المسجد الحرام والمسجد النبوي مكتب الرئيس
الرقم : .............................................. التاريخ : .............................................. المشفوعات : ..............................................
" رسالة إمام الحرم المكي الشريف إلى عموم المسلمين "
الحمد لله وحده والصلاة والسلام على من لا نبي بعده وعلى آله وصحبه أجمعين أما بعد :
فلقد بلغنا الخبر الذي تناقلته بعض الجرائد الباكستانية بأن رئيس منظمة سرفروشان اسلام المدعو / رياض أحمد جوهر شاهي قد ادعي أنه المهدي ، واستدل على دعواه بأن صورته ظهرت في الحجر الأسود ، وأن إمام الحرم المكي / حماد بن عبد الله قد صادق على ذلك .
وإني - توضيحاً للحقيقة وإظهاراً للحق وأداء للواجب - أكتب هذه الأحرف بياناً للواقع للإخوة المسلمين ، بأنه لم تظهر قطعاً أية صورة لأي أحد في الحجر الأسود ، ولم يصادق أحد من أئمة الحرمين الشريفين على ذلك ، بل إنه لا يوجد في الحرمين الشريفين أي إمام باسم ( حماد بن عبد الله ) .
وإن هذا المدعو (رياض أحمد جوهر شاهي) مدعي المهدوية المذكور ما هو إلا كذاب ضال مضل ودجال من الدجاجلة . والله الهادي إلى سواء السبيل .
محمد بن عبد الله بن سبيل الرئيس العام لشؤون المسجد الحرام والمسجد النبوي وإمام وخطيب المسجد الحرام
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گوہر شاہی کی کتاب چھاپنے والے پریس پر چھاپہ، کتاب پر مقام اجراء آئرلینڈ لکھا ہے
حیدرآباد میں چھاپی جارہی تھی، صفحات برآمد ۱۶؍ افراد گرفتار
حیدرآباد (نمائندہ خصوصی) توہین رسالت اور توہین قرآن پاک کے جرم میں عمر قید کی سزا پانے والے مفرور مجرم اور انجمن سرفروشان اسلام کے سرپرست اعلیٰ ریاض احمد گوہر شاہی کی کتاب ’’دینِ الٰہی‘‘ غیر قانونی طور پر چھاپنے والے پریس پر سخی پیر پولیس کا چھاپہ، ہزاروں کی تعداد میں کتاب کے چھپے ہوئے صفحات برآمد ۱۶؍ ملازمین گرفتار کرلئے گئے۔ جب کہ پریس کے مالک محمد عابد کی تلاش جاری ہے۔ زیرِ طباعت کتاب پر ناشر کا پتہ آئرلینڈ لکھا گیا ہے۔ یہ اطلاع ملنے پر کہ سخی پیر فردوس کالونی میں بشیر آئل مل گلی میں واقع ایک خفیہ پریس پر توہین رسالت اور توہین قرآن کے مجرم ریاض احمد گوہر شاہی کی کتابیں اور لٹریچر غیر قانونی طور پر چھپ رہا ہے۔ علماء کرام نے سخی پیر پولیس تھانے کے ایس ایچ او آغا عبدالمجید کو اطلاع دی، جن کی ہدایت پر سب انسپکٹر محمد شفیق راجپوت کی سرکردگی میں ہفتے کے روز صبح دس بجے پولیس کی ایک ٹیم نے اچانک پریس پر چھاپہ مارا اور ۱۶؍ افراد کو گرفتار کرلیا۔ ’’دینِ الٰہی‘‘ کے نام سے گوہر شاہی کی تازہ کتاب کی یہاں ۵۰ ہزار سے زائد کاپیاں چھاپی جارہی تھیں پولیس نے ہزاروں کی تعداد میں چھپے ہوئے صفحات، تیار پلیٹیں اور دیگر لوازمات کو بھی تحویل میں لے لیا۔ اس کتاب پر آئرلینڈ کے ناشر اور پریس کا نام چھپ رہا تھا تا کہ ثابت کیا جاسکے کہ یہ کتاب پاکستان میں نہیں آئرلینڈ سے شائع ہوئی ہے۔ چھاپے کے موقع پر علماء کرام اور علاقے کے معززین کی بڑی تعداد بھی موجود تھی جن میں علامہ احمد میاں حمادی، مولانا شبیر احمد خان، مولانا محمد نذر، مولانا ڈاکٹر عبدالسلام قریشی، مولانا فاروق آزاد، مولانا سعید احمد جدون، قاری مشتاق، محمد راشد چوہان، مشتاق احمد فاروقی بھی شامل تھے۔ اس گلی میں رہنے والوں نے بتایا کہ انہیں علم ہی نہیں تھا کہ یہاں کوئی پریس بھی موجود تھا، کیونکہ بظاہر پریس گودام نظر آتا تھا۔ گودام نما دو بڑے ہال ایک دوسرے سے چند گز کے فاصلے پر تھے اور ان میں جدید ترین کلر آفسٹ پرنٹنگ مشینیں لگی ہوئی تھیں۔ حیدرآباد میں شاید ہی کوئی اتنا بڑا اور جدید پریس موجود ہو۔ گوہر شاہی کی کتاب ’’دینِ الٰہی‘‘ اعلیٰ قسم کے آفسٹ پیپرز پر یہاں چھپ رہی تھی۔ پریس پر کام کرنے والے کچھ ملازمین نے بتایا کہ وہ ۱۵؍ سال سے پریس پر کام کر رہے تھے اور اس پریس کا مالک لطیف آباد نمبر ۱۰ کا رہنے والا محمد عابد ولد حاجی عبدالرشید خانزادہ ہے اور پریس پر کام کرانے کے لئے محمد قاسم نامی شخص آتا تھا۔ پریٹ آباد کے نوجوان عدنان نے بتایا کہ قاسم نے ہی اسے چار روز پہلے اس پریس میں ملازمت دلائی تھی۔ پریس کے انچارج کی حیثیت سے کام کرنے والے محمد اسماعیل ولد محمد یٰسین ملک کو بھی پولیس نے گرفتار کیا ہے جو کہ پریٹ آباد مدینہ کپڑا مارکیٹ حیدرآباد کا رہنے والا ہے۔ پولیس نے مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مئی ۲۰۰۰ء ص ۲۳)
گوہر شاہی کو تین بار عمر قید اور جرمانے کی سزا
انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میر پور خاص نے انجمن سرفروشان اسلام کے نام نہاد، اسلام سے برگشتہ سرپرست ریاض احمد گوہر شاہی کے خلاف توہین رسالت، توہین قرآن اور مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کا جرم ثابت ہونے پر تین بار عمر قید اور جرمانے کی سزا سنائی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سندھ کے رہنما علامہ احمد میاں حمادی نے ۲؍ مئی ۱۹۹۹ء کو ٹنڈوآدم پولیس اسٹیشن میں مذکورہ گمراہ کے بارے میں ایف آئی آر ۱۰۸/۹۹ کٹائی تھی، جس کے نتیجے اور عدالتی فیصلے میں گوہر شاہی کو ۲۹۵-اے اور ۲۹۵-سی کے تحت تین بار عمر قید اور پچاس ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی جرمانے کی عدم ادائیگی کی صورت میں مزید ایک سال قید بھگتنا ہوگی۔ انسداد
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دہشت گردی کی دفعہ ۹،۸ کے تحت مجرم کو سات سال قید اور پندرہ ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔ جرمانے کی عدم ادائیگی کی صورت میں مزید آٹھ ماہ قید کی سزا بھگتنا ہوگی ۔ انسداد دہشت گردی کی دفعہ ۶/بی، ۱۹۹۷ء کے تحت مجرم کو عمر قید اور پچاس ہزار جرمانے کی سزا سنائی گئی جرمانہ نہ ادا کرنے پر مجرم کو مزید ایک سال سزا بھگتنا پڑے گی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۹ تا ۱۵ / جون ۲۰۰۰ء ص ۲۴)
مباہلہ میں ہارنے کے بعد قادیانی پاگل ہوگیا
ملکوال کے علاقہ پنڈ مکو کے گورنمنٹ ہائی سکول کا قادیانی ہیڈ ماسٹر مباہلہ میں ہارنے کے بعد پاگل ہوگیا ۔ بیوی بچوں کو چھوڑ دیا ۔ گورنمنٹ ہائی سکول پنڈ مکو کا ہیڈ ماسٹر مبارک احمد باجوہ سکول میں اساتذہ اور بچوں کو قادیانیت کی تبلیغ کیا کرتا تھا ۔ سٹاف نے اسے کئی بار منع کیا کہ بچوں میں تبلیغ نہ کیا کرے لیکن وہ باز نہ آیا ۔ اس کے اس رویہ پر سکول کے کلرک ظفر شاہ نے ہیڈ ماسٹر مبارک احمد قادیانی کو مباہلہ کا چیلنج کر دیا ۔ ہیڈ ماسٹر نے قرآن پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ مرزا غلام احمد قادیانی آخری نبی ہے ۔ اس کے بعد ظفر احمد شاہ نے قرآن مجید پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ حضور ﷺ اللہ رب العزت کے آخری اور سچے نبی ہیں ۔ دونوں نے قرآن پر ہاتھ رکھنے سے پہلے کہا تھا کہ جھوٹے کا انجام خود سامنے آجائے گا ۔ قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر بیان دینے کے تھوڑی دیر بعد ہی مبارک احمد نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور بچوں کو چھوڑ دیا ۔ اس کے بعد فوراً وہ لاہور چلا گیا ۔ وہاں سے لنڈا بازار کی کئی پینٹیں اور شرٹیں خریدیں ۔ واپس آنے پر ہر پانچ منٹ کے بعد ایک بدل کر دوسری پہن لیتا ہے ۔ اس واقعہ سے پہلے اس نے داڑھی رکھی ہوئی تھی لیکن اب داڑھی مونچھیں بالکل صاف کروادی ہیں ۔ ہر وقت یہ لفظ اس کی زبان پر ہوتے ہیں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے ۔ یہ کہتے ہی بھاگ کھڑا ہوتا ہے ۔ مناظرہ کے اگلے روز ڈی ای او سیکنڈری سکول ملک ملازم حسین نے سکول میں چھاپہ مار کر اس کی غیر حاضری کی رپورٹ تیار کر کے حکام بالا کو ارسال کر دی ہے ۔ ہیڈ ماسٹر کے دو بیٹے اور بیٹیاں ہیں ۔ ایک بیٹی کی حال ہی میں جرمنی میں شادی ہوئی ہے ۔ ہیڈ ماسٹر کو پاگل پن کے مسلسل دورے پڑ رہے ہیں اور ریلوے اسٹیشن پنڈ مکو کی طرف دوڑ جاتا ہے ۔ اکثر ٹرینوں میں آتے جاتے لوگ بڑی حیرت زدہ آنکھوں سے اسے دیکھتے ہیں ۔ اس وقت یہ ٹرین میں چھپ جاتا ہے اور یہ لفظ دہراتا ہے کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے ۔ اب سکول سے مسلسل غیر حاضر ہے ۔ ابھی تک اس ماہ کی تنخواہوں کے لئے اساتذہ کے بلوں پر دستخط بھی نہیں کئے گئے ۔ اساتذہ نے حکام بالا سے مطالبہ کیا کہ اس کا طبی معائنہ کرایا جائے ۔ اگر وہ واقعی پاگل ہو چکا ہے تو اسے نوکری سے برخاست کر کے نیا ہیڈ ماسٹر تعینات کیا جائے ۔ اس واقعہ کے بعد طلباء اساتذہ اور علاقہ بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے ۔
(روزنامہ جنگ لاہور، مؤرخہ ۲۵ / جون ۲۰۰۰ء، ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۰۰ء ص ۸، ۹)
قادیانیوں کی جانب سے جھوٹی سیاسی پناہ حاصل کر کے ملک کو بدنام کرنا
۲۲ / جولائی ۲۰۰۰ء کو بلجیم میں حاجی عبد الحمید کی کاوشوں اور ۲۳ / جولائی کو مولانا مشتاق الرحمن کی محنتوں سے آفن باخ جرمنی میں ختم نبوت کانفرنسوں کا انعقاد ہوا، جس میں جاں نثاران ختم نبوت نے بھر پور انداز میں شرکت کی ۔ اجلاس میں علماء کرام نے تقاریر میں کہا کہ قادیانی گروہ جرمنی، فرانس، انگلینڈ اور دیگر یورپی ممالک میں جھوٹے مقدمات اور اپنے اوپر مظالم کی غلط داستانیں سنا کر سیاسی پناہ حاصل کر کے ان ممالک میں مسلمانوں کے خلاف ریشہ دوانیوں میں مصروف ہو جاتے ہیں اور ان کے خلاف جھوٹی شکایت کر کے مسلمانوں کو ان ممالک سے بدر کرانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ علاوہ ازیں ان کو قادیانیت کی تبلیغ کرتے ہیں ، ان علماء کرام نے متنبہ کیا کہ اگر قادیانیوں کی یہی روش جاری رہی تو حالات کی خرابی کی ذمہ داری قادیانیوں پر ہوگی ۔ ان علماء کرام نے یورپی ممالک سے اپیل کی کہ وہ
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اسلام دشمنی میں اتنا آگے نہ بڑھیں کہ غلط بیان کرنے والوں کو پناہ دے دیں وہ تحقیقات کریں اگر واقعی کوئی مظلوم ہو تو اس کو پناہ دیں،مگر پاکستان میں کوئی ایسا واقعہ آج تک نہیں ہوا کہ قادیانیوں پر ظلم کیا گیا ہو بلکہ قادیانی مسلمانوں پر مظالم کرتے ہیں۔ چناب نگر میں جو لوگ قادیانیت سے تائب ہوجاتے ہیں ان کو تنگ کرتے ہیں۔ کئی لوگوں کو قتل کر دیا گیا۔ اس طرح سرگودھا اور سندھ وغیرہ میں قادیانی سادہ لوح کسانوں پر ظلم کر کے قادیانی بنارہے ہیں۔ یہ تمام باتیں آئین کے بھی خلاف ہیں اور انسانی حقوق کے بھی اس لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جرمنی ، بلجیم کا یہ مطالبہ حق بجانب ہے کہ قادیانیوں کو سیاسی پناہ دیتے ہوئے الزامات کی تحقیقات کی جائے اور مسلمانوں کے حقوق تلف نہ کئے جائیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۴ تا ۱۰ /اگست ۲۰۰۰ء ص ۵)
مرزائیت کو ایک دھچکا اور
چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف نے ۱۵؍جولائی ۲۰۰۰ء کو اسلامی دفعات کو پی سی او میں شامل کرنے کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔ پریس ریلیز کے مطابق چیف ایگزیکٹو نے مذہبی تنظیموں اور عوام کے پرزور مطالبے کو تسلیم کرتے ہوئے معطل شدہ آئین میں شامل تمام اسلامی دفعات کو عبوری آئینی حکم کے تحت پی سی او میں شامل کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ چیف ایگزیکٹو نے عبوری آئینی حکم مجریہ ۲۰۰۰ء کے تحت آئین پاکستان میں شامل اسلامی دفعات جن میں آرٹیکل ۲۔۲اے، ۳۱۔۲۰۳اے، ۲۰۷، ۲۲۷، ۱۲۳۱ اور ۲۶۰، ۱۳۔اے اور بی کو پی سی او میں شامل کرنے کا حکم جاری کیا ہے اور ساتھ ہی وضاحت کی گئی کہ یہ دفعات ہمیشہ سے نافذ العمل رہی ہیں۔ ان میں کوئی شق نہ تو التواء میں تھی اور نہ کبھی التواء میں رکھی گئی ۔
ملک بھر میں جنرل مشرف کے عبوری آئینی حکم کا خیر مقدم کیا گیا ہے۔ اس حکم کے تحت اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں شامل قرارداد مقاصد ، وفاقی شرعی عدالت، قادیانیوں سے متعلق آئینی ترمیم، مسلمان کی تعریف سمیت دیگر تمام اسلامی دفعات کو تحفظ دیا گیا ہے۔ ۱۲؍اکتوبر ۱۹۹۹ء کو نواز شریف حکومت کے خاتمہ کے بعد جنرل مشرف نے عنان حکومت سنبھالا ۔ ۱۴؍اکتوبر کو سینئر کور کمانڈروں کے اجلاس میں حکومتی نظام کو چلانے کے لئے نئے ڈھانچے کا اعلان کیا گیا اور ملکی آئین کو معطل کر دیا گیا۔ عبوری آئین میں اسلامی دفعات کے عدم تحفظ کے باعث شکوک وشبہات نے جنم لیا۔ ادھر فوجی مداخلت کے ہر موقع پر قادیانی آئین کی منسوخی کے لئے درپردہ کوشاں رہے تاکہ وہ تاریخ ساز آئینی ترمیم ختم ہو سکے جس کے ذریعہ وہ قادیانی غیر مسلم اقلیت قرار پائے ۔
۱۹۷۷ء میں جب جنرل ضیاء الحق نے اقتدار سنبھالا تو قادیانیوں نے خوشی کا جشن منایا تھا۔ انہیں یقین تھا کہ وہ آئین جس میں ان کے کفر پر مہر تصدیق ثبت کی گئی تھی وہ منسوخ ہو جائے گا۔ خدا تعالیٰ کی قدرت کہ جنرل ضیاء الحق نے آئین کو منسوخ کرنے کی بجائے معطل رکھا اور عبوری آئین میں نہ صرف اسلامی شقوں کو تحفظ دیا بلکہ امتناع قادیانیت آرڈیننس مجریہ ۱۹۸۴ء جاری کر کے قادیانیت کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دیا۔ قبل ازیں قادیانیوں نے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو سے امیدیں وابستہ کیں اور انہی کے ہاتھوں گھائل ہوئے ۔
جنرل مشرف کی آمد پر قادیانی جماعت نے ایک مرتبہ بغلیں بجانا شروع کر دیں۔ آئین کی معطلی پر قادیانی جماعت نے اندرون و بیرون ملک ۱۹۷۴ء کی آئینی ترمیم کے خاتمہ کی نوید سنانا شروع کر دی۔ حکومتی تبدیلی کے ساتھ ہی قادیانیوں کی غیر آئینی اور غیر قانونی سر گرمیوں میں اضافہ ہو گیا۔ ستم ظریفی کی بات یہ کہ قادیانیوں نے روائیتی کذب وافتراء کے بل بوتے پر جنرل مشرف کے بارے میں ”اپنا “ہونے کا پراپیگنڈہ شروع کر دیا۔ قادیانیوں کی غیر معمولی سرگرمیوں اور جنرل صاحب کی خاموشی پر عوام میں شکوک وشبہات کا پیدا ہونا
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ایک فطری امر تھا۔ چنانچہ لاہور میں مولانا شاہ احمد نورانی کی دعوت پر تمام اہم دینی و سیاسی جماعتوں کا ایک اجلاس ہوا۔ جس میں اسلامی دفعات کو پی سی او میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ دیگر صورت تحریک چلانے کا انتباہ کیا گیا۔ مولانا فضل الرحمن نے جنرل مشرف سے حالیہ ملاقات میں اس مطالبہ کو دہرایا تاہم خرابی بسیار کے بعد حکومت نے اسلامی دفعات کو پی سی او میں شامل کر کے ایک مستحسن قدم اٹھایا ہے۔
قارئین کو یاد ہوگا۔ ہم نے قادیانیوں سے متعلق پیشگی کہا تھا کہ وہ جنرل مشرف سے بھی مات کھائیں گے۔ حکومت منتخب شدہ ہو یا فوجی ...... دینی فکر کی ہو یا سیکولر ...... قادیانیوں کی آئینی حیثیت تبدیل ہو سکتی ہے نہ ہوگی۔ قانون کا نفاذ اور عملداری حکومت کا فرض ہے۔ قادیانی جب بھی غیر آئینی حرکت اور غیر قانونی جرم کا ارتکاب کریں گے قابل گرفت اور قابل تعزیر ہوں گے۔ اسلامی دفعات کو پی سی او میں شامل کرنے کا حالیہ حکومتی اقدام اس لئے بھی قابل ستائش ہے کہ اس سے موجودہ حکومت پر لگے لا دینیت، ماڈرن ازم کے لیبل کی نفی ہوتی ہے۔ مغربی ذرائع ابلاغ نے جنرل مشرف کو سیکولر ثابت کرنے کے لئے ابتداً پراپیگنڈہ کیا۔ اس پراپیگنڈہ کو تقویت اس وقت ملی جب چیف ایگزیکٹو نے تحفظ ناموس رسالت کے قانون کے طریق کار کی تبدیلی کا اعلان کیا۔ ساتھ ہی ساتھ اہم حکومتی مناصب اور عہدوں پر ایسے مغرب نواز این جی اوز افراد کو تعینات کیا گیا جو اسلامی تشخص اور آئیڈیالوجی کے خلاف رہے ہیں۔ ادھر رہی سہی کسر وزیر داخلہ معین الدین حیدر نے پوری کر دی جب انہوں نے نیویارک ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے ملک کو سیکولر بنانے کا اعلان کیا۔
حکومت نے عوامی امنگوں اور خواہشات کے مطابق مستحسن قدم اٹھایا ہے۔ لیکن دینی طبقوں اور دینی سیاسی رہنماؤں کے احتجاج کے بعد ..... ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کو دینی حلقوں کی قوت کا بخوبی اندازہ ہو گیا ہے۔ ہم امید رکھتے ہیں کہ حکومت آئندہ دینی معاملات میں مداخلت سے گریز کرے گی۔ ایسے تمام نازک اور حساس مسائل میں عوامی جذبات کا خیال رکھے گی۔ اسلامی دفعات کو پی سی او میں شامل کرنے اور قادیانیوں کی سابقہ حیثیت (غیر مسلم) برقرار رکھنے کے حکومتی اقدام پر ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں۔ جنرل مشرف کی طرف سے اٹھائے جانے والے اقدام کو تائید غیبی قرار دیتے ہیں۔ قادیانی جماعت کی امیدیں خاک میں مل گئیں۔ ان کی توقعات کے پھول جھڑ کر کانٹے بن گئے۔ قادیانی جب بھی بے جا امیدیں وابستہ کریں گے قدرت انہیں اسی طرح رسوا کرے گی۔ ان شاء اللہ !
تاج و تخت ختم نبوت زندہ باد
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۰۰ء ص ۳ تا ۵)
اوکاڑہ کے قصبہ ایل پلاٹ فوجیاں والا میں قادیانیوں کی فائرنگ
ضلع اوکاڑہ کے قصبہ ایل پلاٹ فوجیاں والا میں مرزائیوں نے اسلامی شعائر کا کھلم کھلا استعمال، مسلمانوں کی مسجد کے پلاٹ پر قبضہ، دوکانوں پر کلمہ طیبہ کے بورڈ آویزاں کرنے، اپنی عبادت گاہ کو مسلمانوں کی عبادت گاہ کے طرز پر تعمیر کر کے مسلمانوں کو مشتعل کرنا شروع کر دیا۔ مسلمانوں نے مسجد کے پلاٹ سے قبضہ ختم کرانے کی کوشش کی تو مسلمانوں پر دفعہ ۳۰۲ کے تحت پرچہ درج کرا دیا۔ رانا وکیل ایس آئی کے ذریعے دوکانوں پر بلڈوزر پھرانے کی دھمکی دیتے رہے۔ چک ایل پلاٹ فوجیاں والا کے مسلمانوں نے دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اوکاڑہ اور دفتر مرکزیہ ملتان کو حالات سے آگاہ کیا۔ مولانا عبد الرزاق مجاہد نے قصبہ ایل پلاٹ فوجیاں والا کا دورہ کیا اور ایل پلاٹ کے مسلمانوں کو تسلی دی کہ قادیانیوں کی سرگرمیوں کو انشاء اللہ روکا جائے گا۔ مولانا نے علاقہ کے معززین کیساتھ مل کر مجسٹریٹ اور ڈی سی اوکاڑہ کو حالات کی نزاکت سے آگاہ کیا۔ شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا کو بلایا گیا اور قصبہ ایل پلاٹ فوجیاں والا میں ختم نبوت کانفرنس منعقد کرائی گئی۔ قادیانیوں کی دوکانوں سے کلمہ طیبہ کو محفوظ کرایا گیا۔ مسجد کے پلاٹ پر سے قادیانیوں کا قبضہ ختم کرایا گیا اور
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مرزائیوں کی عبادت گاہ سے محراب کو گرا دیا گیا۔ بعد ازاں قادیانیوں نے شرارت کے طور پر ایک درخواست قصبہ ایل پلاٹ کے معززین اور عمر رسیدہ لوگوں کے خلاف ”ٹربائن پمپ“ کی چوری کا الزام لگا کر رینالہ خورد تھانہ میں دے دی۔ اس کے بعد جمعہ کے اجتماع کے موقع پر مسلمانوں پر فائرنگ کر کے انہیں زخمی کر دیا۔ رینالہ خورد پولیس نے قادیانیوں سے مل کر الٹا مسلمانوں کو تنگ کرنا شروع کر دیا۔ پولیس عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت قصبہ ایل پلاٹ کے نائب صدر جناب ظفر اقبال کو گریبان سے پکڑ کر گھسیٹتی رہی۔ اس واقعہ کی ایف آئی آر درج کرانے تھانہ رینالہ خورد جب رابطہ کیا گیا اور تحریری طور پر درخواست دی گئی تو تھانہ انچارج چوہدری مشتاق نے مدعیوں کی درخواست کو پھاڑ کر اپنی مرضی کی جعلی درخواست تیار کی اور جعلی دستخط کر کے تین ملزموں کے نام کی ایف آئی آر کاٹی اور چار ملزموں کے نام ایف آئی آر میں درج نہیں کئے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اوکاڑہ کے مبلغ مولانا عبدالرزاق مجاہد نے جمعیت علماء اسلام اوکاڑہ دفتر میں مولانا سید امیر حسین گیلانی کی زیر صدارت ایک اجلاس منعقد کیا۔ جس میں ایک وفد تشکیل دیا گیا جو قصبہ ایل پلاٹ فوجیاں والا کے حالات پر نظر رکھے گا۔ جمعیت علماء اسلام اوکاڑہ کے امیر مولانا عبدالاحد، مولانا عبدالشکور بہاول نگری، مولانا قاری محمد الیاس، مولانا قاری غلام محمود انور، قاری سید اقبال اختر بخاری، مولانا نور احمد چشتی، مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا عبدالرزاق مجاہد نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ بے گناہ معصوم نمازیوں پر قاتلانہ حملہ کے مرتکب ملزموں کو گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے اور مقدمہ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں چلایا جائے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۰۰ء ص ۵۶، ۵۷)
۲۷ سال کی طویل جدوجہد کے بعد ڈی آئی خان میں مسجد مسلمانوں کے حوالے
پشاور (مولانا نور الحق) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی، مولانا نور الحق نور، مولانا سید امام شاہ، مولانا اکرام اللہ، حاجی فضل حسین نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ ۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کے قومی اسمبلی کے متفقہ فیصلہ کے مطابق حکومتی سطح پر مرزا قادیانی اور اس کے جملہ پیروکاروں کو پاکستان کی ایک غیر مسلم اقلیت تسلیم کر لیا گیا جس کی بناء پر اس اقلیتی گروہ پر وہ تمام احکامات نافذ ہوتے ہیں جو کسی غیر مسلم فرقہ کے متعلق ہیں، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ قادیانی اسلامی شعائر اور مسلمانوں کی اصطلاحات استعمال کرنے کے مجاز نہیں ہیں اس سلسلہ میں ۱۹۷۴ء کے بعد ماتحت عدالتوں سے لے کر پاکستان کی سپریم کورٹ کے واضح فیصلے اس امر کے ثبوت ہیں، علماء کرام نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ ”مسجد“ اسلامی شعائر میں ایک امتیازی حیثیت رکھتی ہے، لغت میں مسجد کے معنی سجدہ گاہ کے ہیں اور اسلام کی اصطلاح میں مسجد اس مقام کا نام ہے جو اہل اسلام کی نماز کے لئے وقف ہو چکی ہو اسلامی تاریخ بھی اس امر کی شاہد ہے چودہ سو سال میں کسی بھی غیر مسلم کو اپنی عبادت گاہ مسجد کے نام سے بنانے کی اجازت نہیں دی گئی۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پشاور کے زعماء نے ڈیرہ اسماعیل خان کے علماء کرام، مسلمانوں اور مقامی مجلس کے قائدین کو ان کی ۲۷ سالہ قانونی جدوجہد کے بعد قادیانیوں سے مسجد واگزار کرنے پر زبردست خراج تحسین پیش کیا، نیز ڈیرہ کی انتظامیہ کے اس اقدام کو سراہا کہ عدالتی فیصلوں کے مطابق مسجد مسلمانوں کے سپرد کر کے قادیانی غیر مسلم اقلیت کی اس کوشش کو ناکام بنا دیا جس کے ذریعہ وہ ڈیرہ اسماعیل خان جیسے حساس علاقے میں فساد پھیلانا چاہتے تھے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۱ تا ۱۷؍ اگست ۲۰۰۰ء ص ۲۴)
عبدالسلام قادیانی کا نام مسلمان سائنس دانوں کی فہرست سے خارج کر دیا جائے، وفاقی وزارت تعلیم
فیصل آباد (نمائندہ خصوصی) وفاقی وزارت تعلیم نے طبعیات کلاس نہم کی درسی کتاب کے نئے ایڈیشن میں غیر مسلم سائنسدان
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
آنجہانی عبدالسلام قادیانی کا نام مسلمان سائنس دانوں کی فہرست سے خارج کرنے کے لئے چیئرمین پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ لاہور کو ضروری احکامات جاری کر دیئے ہیں۔ اس امر کی اطلاع وزارت تعلیم کے ڈپٹی ایجوکیشنل ایڈوائزر ڈاکٹر این اے سیال نے ایک مراسلہ کے ذریعہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سیکرٹری اطلاعات مولانا فقیر محمد کو دی ہے جنہوں نے ایک یادداشت کے ذریعہ وفاقی وزیر تعلیم پنجاب سے مطالبہ کیا تھا کہ آنجہانی قادیانی عبدالسلام مرتد کا نام جماعت نہم دہم کی کتاب طبعیات کے صفحہ نمبر ۸ سے خارج کیا جائے۔ اگر درج ہی کرنا ہے تو اس کافر کو غیر مسلموں کے ساتھ لکھا جائے اور اس کے نام کے ساتھ عبدالسلام قادیانی لکھا جائے تاکہ مسلمان طالب علم کو دھوکہ نہ دیا جاسکے، جب کہ نومبر ۱۹۹۶ء میں سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ، پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کے علاوہ پشاور ٹیکسٹ بک بورڈ نے الگ الگ یاد داشتوں میں عالمی مجلس کو یقین دلایا تھا کہ طبعیات کی کتاب کے نئے ایڈیشن میں عبدالسلام قادیانی کے نام کو غیر مسلم سائنسدانوں کے ساتھ لکھا جائے گا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۱۱ تا ۱۷ اگست ۲۰۰۰ء ص ۲۴)
پاکستان ائیر فورس میں ٹریننگ کے لئے داڑھی کٹوانے کا حکم
”صدائے اسلام“ پشاور اگست ۲۰۰۰ء کا شمارہ ہماری نظروں کے سامنے ہے مولانا محمد یوسف قریشی کا انکشاف دینی حلقوں کے لئے باعث اضطراب ہے۔
”متحدہ شریعت محاذ کے صدر اور تاریخی جامعہ مسجد مہابت خان کے خطیب مولانا محمد یوسف قریشی نے آج ایک بیان میں کہا کہ مجھے بعض حضرات نے بتایا کہ اگست ۲۰۰۰ء میں جو ائیر فورس میں ٹریننگ کے لئے پی ٹی ٹی ایس کوہاٹ جائیں گے اس کے ذہنی امتحانات، تحریری امتحانات اور طبی امتحانات ہو گئے ہیں۔ ان امتحانات میں جن امیدواروں کے چہرے سنت رسول ﷺ سے مزین تھے یعنی جن کے چہروں پر داڑھی تھی انہیں ائیر فورس کے انفارمیشن اینڈ سلیکشن سنٹر پر کال لیٹر دیتے وقت - willingness / un willingness سرٹیفکیٹ پر کرنا تھا۔ ان کو کہا گیا کہ وہ ٹریننگ پر جانے سے پہلے داڑھیاں کٹوائیں گے۔ ورنہ ٹریننگ میں ان کو شریک نہیں کیا جائے گا اور وہ ملازمت سے محروم رہیں گے۔
اسلامی ملک پاکستان میں اس قسم کی بات کا مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ اسلامیہ پاکستان میں ایسا کافرانہ حکم کیسے جاری کیا جا سکتا ہے۔ میں نے ائیر فورس کے بعض افراد سے رابطہ کیا۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ ہاں ایسا حکم جاری کیا گیا۔ لیکن یہ ہماری طرف سے نہیں مرکز سے آیا ہے۔
میں یہ سن کر دنگ رہ گیا کہ پاکستان میں ایسا حکم بھی جاری ہو سکتا ہے۔ یہ مجھے کسی قادیانی جنرل کی اسلام اور پاکستان کے خلاف سازش معلوم ہوتی ہے۔ مسلم جرنیل فوراً اس کا نوٹس لیں۔ جنرل مشرف فوراً اس ظالمانہ اور کافرانہ آرڈر کا نوٹس لے کر ایسی ہدایت جاری کرنے والوں کے خلاف کارروائی کریں۔ تمام دینی جماعتیں و قوتیں اس کے خلاف پر زور احتجاج کریں“، بشکریہ ”صدائے اسلام“ پشاور
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۰۰ء ص ۳ تا ۵)
جھوٹے مدعی نبوت یوسف کذاب کو سزا
لاہور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج میاں محمد جہانگیر نے توہین رسالت کے مقدمہ میں ملوث گستاخ رسول، جھوٹے مدعی نبوت یوسف کذاب کو سزائے موت، ۳۵ سال قید اور دو لاکھ جرمانے کی سزا کا حکم سنایا ہے۔ ملزم یوسف کذاب کے خلاف عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے
تحریک ختم نبوت جلد(۷) ۲۰۰۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سینئر مبلغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے ۲۹؍مارچ ۱۹۹۷ء کو تھانہ ملت پارک لاہور میں ۲۹۵۔سی کے تحت مقدمہ درج کرایا تھا۔ یہ کیس تقریباً تین سال مختلف عدالتوں میں زیر سماعت رہا۔ بالآخر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج میاں محمد جہانگیر پرویز کے حصے میں یہ سعادت آئی کہ انہوں نے قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے ۱۵؍ اگست ۲۰۰۰ء کو ایسا تاریخی فیصلہ دیا جسے مدتوں یاد رکھا جائے گا۔
فاضل عدالت نے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے ملزم یوسف کذاب کو دفعہ ۲۹۵۔سی کے تحت سزائے موت، ۲۹۵۔اے کے تحت ۱۰سال قید اور ۵۰ہزار روپے جرمانہ، دفعہ ۲۹۸ کے تحت ایک سال قید سخت اور دس ہزار روپے جرمانہ، دفعہ ۲۹۸۔اے کے تحت ۳سال قید اور ۲۰ہزار روپے جرمانہ دفعہ (۲) ۵۰۵ کے تحت سات سال قید اور ۳ہزار روپے جرمانہ اور دفعہ ۲۰۶ کے تحت سات سال قید اور ۲۰ ہزار روپے جرمانہ کی سزا کا حکم سنایا ہے، جرمانے کی عدم ادائیگی پر ملزم کو مزید ۲۲ماہ قید بھگتنا ہو گی۔ تمام دفعات میں دی گئی سزائیں یکے بعد دیگرے شروع ہوں گی۔ فاضل عدالت نے ۳روز قبل ملزم کی ضمانت منسوخ کر دی تھی، جس پر اسے گرفتار کر لیا تھا۔ یہ کارروائی ڈسٹرکٹ اٹارنی کی درخواست پر عمل میں لائی گئی تھی۔ جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ملزم ۳۱؍جولائی ۲۰۰۰ء کو ضمانت پر ہونے کی وجہ سے مقدمہ کی سماعت کے لئے عدالت میں حاضر نہیں ہوا تھا۔ اس لئے خطرہ ہے کہ کہیں وہ فیصلے سے قبل فرار نہ ہو جائے۔ فاضل عدالت نے اس درخواست پر فریقین کے دلائل سننے کے بعد ملزم کو جیل بھجوا دیا تھا۔ ملزم کی جانب سے محمد سلیم، عبدالرحمن اور رخسانہ لون ایڈووکیٹ نے پیروی کی۔ جب کہ مدعی کی جانب سے محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ نے عدالت کی معاونت کی۔ یادرہے کہ جرم ۲۹۵۔سی قانون توہین رسالت کی سزائے موت کا قانون مسٹر محمد اسماعیل قریشی سینئر ایڈووکیٹ اور ظفر علی راجہ ایڈووکیٹ کی معاونت سے فیڈرل شریعت کورٹ میں ۵سال تک مقدمہ لڑنے کے بعد منظور ہوا جو سپریم کورٹ میں بحال رہا۔ اس پٹیشن میں سابق وزیرقانون ایس ایم ظفر، سپریم کورٹ کے سابق جج زیڈ بی کے کاؤس، سابق اٹارنی جنرل شیخ غیاث محمد، جسٹس (ر) بشیر الدین اور جسٹس (ر) چوہدری محمد صدیق بھی بطور درخواست گزار شامل تھے۔
ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ تحفظ ناموس رسالت کے مقدس مشن میں اس ذات بابرکات نے مجلس تحفظ ختم نبوت کو ایک اور شاندار کامیابی سے نوازا ہے۔ کچھ عرصہ قبل ریاض احمد گوہر شاہی کے خلاف عدالتی فیصلہ منظر عام پر آیا ہے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت ٹنڈو آدم کے ممتاز رہنما مولانا احمد میاں حمادی نے اس مقدمہ میں مدعی کی حیثیت سے پیروی کی۔ یوسف کذاب کے خلاف حالیہ عدالتی فیصلہ سے دینی قیادت کو یقیناً نیا عزم اور حوصلہ ملے گا۔ پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی کا پراپیگنڈہ کرنے والی بین الاقوامی تنظیموں کی حوصلہ شکنی کے لئے حالیہ عدالتی فیصلہ کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ جھوٹے مدعیان نبوت اور گستاخان نبوت کے خلاف دونوں عدالتی فیصلوں کے بعد اس الزام کی قلعی کھل جاتی ہے کہ مذہبی انتہا پسند طبقہ قانون کو ہاتھ میں لینے کی کوشش کرتا ہے۔ دینی قیادت قانون کو ہاتھ میں لینے کی بجائے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کو ترجیح دیتی ہے۔ گوہر شاہی اور یوسف کذاب کے خلاف قانونی چارہ جوئی اور عدالتی انصاف اس بات کا بیّن ثبوت ہیں۔
یوسف کذاب کے خلاف فیصلہ دینے والے مذکورہ بالا جج، مسلم وکلاء، مبلغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما اور بالخصوص حضرت امیر مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم سبھی مبارک باد کے مستحق ہیں جن کی دعاؤں اور مخلصانہ کاوشوں سے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عظیم نصیب فرمائی۔ عدالت کٹہرے میں جھوٹی نبوت کا غرور خاک میں ملا۔ گستاخ رسول کا تکبر ملیا میٹ ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کی عظمت ورفعت کا پرچم بلند فرمایا۔ ہم اس عظیم کامیابی پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہیں۔
(لولاک ملتان ستمبر۲۰۰۰ء ص۴،۳)
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب وتحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا
گستاخ رسول ﷺ یوسف کذاب کو سزائے موت
کذاب یوسف کو ۳۵ سال قید با مشقت کے بعد پھانسی ہوگی ، دولاکھ جرمانہ ، مجرم نے خود کو نبی کریم کا تسلسل ، اہل خانہ کو اہل بیت ، ساتھیوں کو اصحاب سے تشبیہ دینے، عورتوں کو ورغلانے،عوامی جذبات کو مشتعل کرنے ، جائیدادیں ہتھیانے ، دھوکہ کرنے پر سزائیں دی گئیں،سات مختلف دفعات کے تحت سزائیں یکے بعد دیگرے شروع ہوں گی، مجرم کو دفعہ ۳۸۲-بی کا فائدہ بھی نہیں ملے گا، فیصلہ تین سال چار ماہ اور چھ دن بعد دیا گیا۔
(لاہور) ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج میاں محمد جہانگیر پرویز نے نبوت کے جھوٹے دعویدار گستاخ رسول ابوالحسنین یوسف علی کذاب کو توہین رسالت کے جرم میں سزائے موت اور مجموعی طور پر ۳۵ سال قید با مشقت اور دولاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے اور عدم ادائیگی جرمانہ کی صورت میں مزید ایک سال دس ماہ کی قید بھگتنا ہوگی ، استغاثہ کے مطابق مجرم یوسف کذاب نے مورخہ ۲۸؍فروری ۱۹۹۷ء کو مسجد بیت الرضا یتیم خانہ میں خطبہ جمعہ کے دوران پہلے اپنے آپ کو انسان کامل پھر امام وقت ، اس کے بعد خود کو نعوذ باللہ حضور اکرم ﷺ کا تسلسل اور اپنے اہل خانہ کو اہل بیت اور اپنے معتقدین کو اصحاب رسول سے تشبیہ دی۔
شادی شدہ اور کنواری لڑکیوں کو ورغلا کر ان سے بدکاری کی کوشش کی اور اپنے گمراہ معتقدین سے نذرانے کے طور پر لاکھوں روپے وصول کئے، بعض لوگوں کو دھوکہ دے کر لاکھوں روپے بٹور کر ان کی جائیدادیں اپنی بیوی کے نام منتقل کرالیں ، مجرم کو ۳ سال، چار ماہ اور چھ دن کی سماعت کے بعد فاضل عدالت نے توہین رسالت کے جرم دفعہ ۲۹۵ سی کے تحت سزائے موت اور ۵۰ ہزار روپے جرمانہ ، عدم ادائیگی پر مزید چھ ماہ قید، لوگوں کے مذہبی عقائد کو ٹھیس پہنچانے کے جرم میں دفعہ ۲۹۵ اے کے تحت ۱۰ سال قید اور ۵۰ ہزار روپے جرمانہ، عدم ادائیگی پر مزید چھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔
حضور اکرم ﷺ کے خاندان علیہم السلام اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں گستاخی اور توہین کے جرم میں دفعہ ۲۹۸ کے تحت ایک سال قید اور ۱۰ ہزار روپے جرمانہ، عدم ادائیگی پر مزید ایک سال قید، اپنے عزیز واقارب کو اہل بیت اور صحابہ کرام سے تشبیہ دینے کے جرم میں دفعہ ۲۹۸ کے تحت ۳ سال قید اور ۲۰ ہزار روپے جرمانہ ، عدم ادائیگی پر مزید دو ماہ قید، عوام کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے جرم میں دفعہ (۲) ۵۰۵ کے تحت سات سال قید اور ۳۰ ہزار روپے جرمانہ عدم ادائیگی پر مزید تین ماہ قید ، لوگوں کو دھوکہ دینے اور جعل سازی کے جرم دفعہ ۴۲۰ کے تحت سات سال قید اور ۲۰ ہزار روپے جرمانہ عدم ادائیگی پر مزید دو ماہ قید، مجرمانہ نیت سے کسی کو دھوکہ دینے کے جرم میں دفعہ ۴۰۶ کے تحت سات سال قید اور ۲۰ ہزار روپے جرمانہ ، عدم ادائیگی پر مزید دو ماہ قید کا حکم سنایا ہے۔
فاضل عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ مجرم کو دی گئی سات مختلف دفعات کے تحت سزائیں یکے بعد دیگرے شروع ہوں گی اور مجرم تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۳۸۲-بی کا فائدہ بھی حاصل نہیں کر سکے گا۔
مقدمہ میں کیس کے مدعی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی تھے استغاثہ کی جانب سے محمد اسماعیل قریشی ، غلام مصطفےٰ چوہدری ، اسلم اویس ، سردار احمد خان ، محمد یعقوب قریشی ، ایم اے حمید اعوان ، اقبال چیمہ اور میاں صابر علی نشتر ایڈووکیٹس جب کہ مجرم یوسف کذاب کی طرف سے رخسانہ لون ، سلیم اے رحمان اور صفدر چوہدری پیش ہوتے رہے۔
(روزنامہ ”خبریں“ کراچی ، مورخہ ۶؍ اگست ۲۰۰۰ء بروز اتوار)
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
یوسف کذاب یکم اگست ۱۹۴۹ء فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ کے ایک شخص وزیر علی کے گھر پیدا ہوا، اس کے دو بھائی اور پانچ بہنیں ہیں، یوسف کذاب اپنے بہن بھائیوں میں سب سے بڑا ہے۔ پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ایم اے اسلامیات کیا، پاکستان آرمی میں شمولیت اختیار کی۔ ۱۹۷۱ء کی پاک بھارت جنگ میں حصہ لیا۔ بعد ازاں کیپٹن کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ تقریباً پندرہ سال قبل اس کے ایک بھائی ناصر، نصر اللہ وحید نے سعودی عرب میں کوئی زہریلی چیز کھا کر خودکشی کر لی تھی۔ اس کی خودکشی کا سبب بھی یوسف کذاب کی حرکات بتائی جاتی ہیں۔ یہ شخص سعودی عرب بھی مقیم رہا اور ایران بھی گیا۔ یوسف کذاب کی شادی طیبہ نامی ایک خاتون سے ہوئی جو گلبرگ گرلز کالج میں لیکچرار تھی۔ اس کی ایک بیٹی فاطمہ نامی ڈاکٹر ہے، جب کہ ایک بیٹا حسنین انجینئرنگ یونیورسٹی کا طالب علم ہے اور دوسرا بی۔اے کا طالب علم تھا، کئی سال تک یوسف کذاب جدہ میں مقیم رہا اور اس دوران ترکی کے کسی ادارے کا ملازم رہا، بظاہر کوئی ڈیوٹی نہیں تھی، ہر ماہ تنخواہ مل جاتی تھی۔
یورپ، مڈل ایسٹ، امریکہ، کینیڈا، سمیت دنیا کے چند ایک ممالک میں علوم اسلام کے مبلغ کے طور پر مختلف فورمز میں شمولیت کی، شعبہ ہائے زندگی کے مختلف پہلوؤں پر چند ایک آرٹیکلز، کتابچے تحریر کئے۔
۱۹۸۸ء کے آخری ایام میں یوسف کذاب پاکستان آ گیا اور گلبرگ کے ایک سرکاری مکان میں اس نے درس قرآن کی آڑ میں لوگوں کو گمراہ کرنے کا منصوبہ بنایا اور بعض اخبارات و رسائل کو مختلف دینی موضوعات پر مضمون لکھ کر بھیجنا شروع کئے، پہلے یوسف علی کے نام سے لکھتا رہا، پھر اس نے اپنا تخلص ابوالحسنین رکھ لیا۔ ۱۹۹۲ء میں اس نے لاہور کے ایک مشہور روزنامے میں ”تعمیر ملت“ کے نام سے دینی کالم لکھنا شروع کیا، اس کالم میں اکثر اوقات یہ شخص نبی کریم ﷺ کی شان مختلف طریقوں سے بیان کرتا اور کچھ اس انداز سے تحریر کرتا کہ پڑھنے والے کو تشنگی رہ جاتی اور وہ مزید وضاحت مانگتا، اسی وضاحت کے چکر میں بعض لوگ، یوسف کذاب سے رابطہ کرتے اور وہ انہیں گھر آنے کی دعوت دیتا کہ وہاں آئیں اور آ کر دین سیکھیں، یوسف کذاب اپنی مجلسوں میں واشگاف الفاظ میں پاکستان کے تمام مکاتب فکر کے علماء پر کڑی تنقید کرتا اور ان کی شان میں گستاخی کرتا، انہیں جاہل، کم علم اور دین دشمن قرار دیتا، واضح طور پر کہتا کہ پاکستان میں اس وقت کوئی ایسا شخص موجود نہیں ہے جو قرآن مجید کو سمجھ سکا ہو اور رسول کریم ﷺ کی تعلیمات کو جان سکا ہو، سوائے میرے ۔
پھر یوسف کذاب نے شادمان کی مسجد میں خطبہ دینا شروع کر دیا، مگر وہاں بھی بعض اوقات ذومعنی قابل اعتراض جملے اپنی تقریر کے دوران ادا کر دیتا۔ جس پر اسے شادمان کی مسجد سے ہٹا دیا گیا، پھر اس نے ملتان روڈ (لاہور) کی مسجد بیت الرضا کا انتخاب کیا اور ڈیفنس میں کوٹھی خرید کر شفٹ ہو گیا۔ اس مسجد کے ملحقہ دربار کے گدی نشین سید محمد یوسف رضا اس کو جمعہ کی نماز کے لئے بلاتے، نماز جمعہ کے بعد اس نے اسی جگہ محفل لگانا شروع کر دی، جس میں دین اسلام سے ناواقف اور اسلامی احکامات سے نابلد بڑے بڑے افسر اور مشہور تاجر اپنی بیگمات اور بہو بیٹیوں سمیت اس کی مجلس میں شریک ہونے لگے۔ یہ مکار شان رسول ﷺ بیان کرتے کرتے لوگوں کو بشارت دیتا کہ آپ اس وقت تک نہیں مریں گے جب تک آپ رسول کریم ﷺ سے باقاعدہ ملاقات نہیں کر لیں گے ۔ جاہل لوگ یہ سن کر خوش ہو جاتے اور اس مکار کے جال میں پھنس جاتے، پھر یہ مختلف لوگوں سے ان کی حیثیت کے مطابق مختلف قسم کے مطالبات کرتا، پھر حاضرین میں سے جو دیدار رسول ﷺ کا سب سے زیادہ جذباتی ہو کر اظہار کرتا، اسے پہلے درود شریف پڑھنے پر لگا دیا جاتا اور پھر پیغام دیا جاتا کہ فلاں تاریخ کو اتنے بجے تمہاری حضور اکرم ﷺ سے ملاقات کا وقت طے ہو گیا ہے، ادب سے رہنا، درود شریف پڑھنا، گستاخانہ بات زبان پر نہ لانا، ذہن سے ہر قسم کے وسوسے نکال دینا، ملاقات کے بعد حب رسول ﷺ کے تقاضوں کو پورا کرنا، ملاقات کے لئے یہ مکار تین شرطیں رکھتا اور
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کہتا کہ صرف تین قسم کے لوگ حضور اکرم ﷺ کا دیدار کرسکتے ہیں:
- ۱...... شیر خوار بچے کی طرح پاک شخص۔
- ۲...... مجذوب جسے دنیا و مافیہا کی خبر نہ ہو۔
- ۳...... ایسا شخص جو حضور اکرم ﷺ کے نام پر تن من دھن قربان کردے۔
تمام لوگ تیسری شرط پر ہی پورا اترتے کیونکہ پہلی دوشرطوں پر پورا اترنا ان کے بس میں نہیں تھا، پھر یہ لوگوں سے مختلف قسم کے مطالبات کرتا اور کہتا کہ یہ آپ کا ٹیسٹ ہے، کسی سے گاڑی مانگ لیتا اور کسی سے اس کے گھر کی رجسٹری مانگ لیتا اور کسی سے لاکھوں روپے مانگتا، کسی کے سامنے یہ شرط رکھی جاتی کہ تمہیں اپنی بیوی کو طلاق دینا ہوگی۔ آنحضرت ﷺ کے دیدار کے لالچ میں سادہ لوح لوگ اس مکار و عیار اور بے غیرت کے سامنے اپنا سب کچھ قربان کرتے رہے۔ جب یہ لعنتی دیکھ لیتا کہ لوہا گرم ہے تو اچانک اسے علیحدگی میں کمرے میں لے جا کر کہتا کہ آنکھیں بند کرو اور پھر خود ہی کہنا شروع کردیتا : ”انا محمد“ آنکھیں کھولو میں ہی محمد ہوں (نعوذ باللہ) سننے والا ہکا بکا رہ جاتا کوئی خاموشی سے واپس چلا آتا، کوئی علماء کرام سے رجوع کر کے فتویٰ لینا شروع کردیتا کہ کیا رسول اکرم ﷺ کی دوبارہ آمد ہوسکتی ہے؟ اس طرح دیدار نبوی (ﷺ) کے شوق میں اس کے جال میں پھنسنے والے لوگ آہستہ آہستہ اس سے ٹوٹتے رہے اور اللہ تعالیٰ نے دنیا ہی میں اس کذاب و دجال کو اور لوگوں کی عزتوں سے کھیلنے والے بدکردار شخص کو گستاخیٔ رسول کے جرم میں اتنی رسوائی دی کہ خیبر سے کراچی تک یوسف کذاب کا نام نفرت کی علامت بن گیا۔
یوسف کذاب کے حواری اس کو بین الاقوامی سطح کا مسلم سکالر اور مبلغ اسلام کے طور پر پیش کرتے ہیں او آئی سی مجلس شوریٰ اور ورلڈ اسمبلی سے اس کی وابستگی کو بھی بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔ سابق فوجی ہونے کی وجہ سے فوج میں اس کے اثر نفوذ کو بھی خوب اچھالتے ہیں، جو سب مبالغہ آمیزی ہے، حقیقت اس کے برعکس ہے، جہاں تک اس کے مذہبی اسکالر ہونے کا تعلق ہے، اس کا کوئی علمی کام نہیں ہے، جس کی بناء پر اسے اسکالر کہا جاسکے۔ اس سلسلہ میں اس کی جن دو کتابوں کا ذکر کیا جاتا ہے وہ دونوں پمفلٹ ہیں (تعلق) ۳۸ صفحے کا پمفلٹ ہے اگر ٹائٹل اور تقریظ وغیرہ کے ۱۲ صفحات نکال دیں تو کتاب کا اصل متن عام سائز کے ۲۶ صفحات ہیں۔ یہی حال دوسری کتاب کا ہے۔ یہ ہے یوسف کذاب کی کل علمی پونجی جس کی بنیاد پر اس نے اور اس کے پیروکاروں نے بین الاقوامی سطح کے اسکالر ہونے کی عمارت استوار کر رکھی ہے اور رہی ورلڈ اسمبلی، تو یوسف کذاب خود تسلیم کرچکا ہے کہ یہ محض کاغذی تنظیم ہے، وہ خود ہی اس کا صدر اور ڈائریکٹر جنرل ہے اور اس کا گھر ہی اس کا دفتر ہے، اس کے علاوہ اس کا نہ کوئی عہدیدار ہے اور نہ کہیں دفتر ہے، او آئی سی میں اس کی سفارت کاری کی صورت اس سے بھی زیادہ بھیانک ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ انگریزی نبی غلام احمد قادیانی اور یوسف کذاب دونوں کے عقائد و نظریات اور طریقہ واردات میں مکمل مماثلت پائی جاتی ہے۔ مرزا قادیانی بھی بتدریج اپنے مصلح، مجدد، مہدی موعود، مسیح موعود، ظلی نبی، بروزی نبی اور آخر کار مکمل نبی کا مدعی بن کر مسلمانوں کو گمراہ کرتا رہا اور یہی حال یوسف کذاب کا ہے، اس نے بھی ابتدا میں خود کو صرف مرشد کامل، اسکالر اور مبلغ اسلام کے طور پر پیش کیا بعد میں مرشد کامل، مرد کامل، امام وقت، نائب خدا اور رسول اور انسان کامل کا پرتو ہونے کے دعوے کئے آخر کار خود کو محمد قرار دے دیا۔ چنانچہ اس ملعون کی ڈائری کا ایک اقتباس درج ذیل ہے جس میں یہ کذاب خود کو محمد ﷺ کا تسلسل قرار دیتے ہوئے لکھتا ہے: ”محمد ہمیشہ جسمانی طور پر موجود رہے ہیں، اپنے جسمانی وجود کی ظاہری وفات کے بعد وہ واپس محمد مصطفےٰ کے حقیقی جسم میں چلے گئے، اس طرح نور اپنی
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اصل کی طرف لوٹ گیا۔ اس کے فوراً بعد وراء الوراء محمد جسمانی محمد کا نور سب سے چیدہ شخص پر نازل ہوتا ہے۔ اپنے وقت کا نبی، رسول، مرد کامل ہوتا ہے۔ یوں محمد کی آئندہ شکل سابقہ شکل سے ظاہری اور حقیقی طور پر مماثل بلکہ شاندار ہوتی ہے اس طرح یہ کہا جا سکتا ہے کہ محمد جسمانی طور پر اب تک زندہ ہیں ان کی پہلی شکل آدم تھے اور موجودہ شکل محمد یوسف علی ہے۔‘‘ (نعوذ باللہ )
یوسف کذاب کی ڈائری دراصل اس کے کفریہ عقائد کی خفیہ بیاض ہے، جس کے منظر عام پر آنے سے اس کے کفریہ فلسفہ کا سارا طلسم ٹوٹ گیا ہے اور اس کے عقائد ونظریات کی کھوکھلی عمارت نیست نابود ہوگئی ہے۔ اصل ڈائری انگریزی میں ہے، یہ ڈائری (بیاض) تمہید اور چار حصوں پر مشتمل ہے۔ تمہید کا عنوان ہے اور چار حصے (اللہ، محمد، رسول یا مرد کامل) انسان کے بارے میں ہیں۔ یہ ڈائری یوسف کذاب کے فلسفہ اور عقائد ونظریات کا نچوڑ ہے جس کے مطالعہ سے اس کے کفریہ عقائد کھل کر سامنے آجاتے ہیں۔ جس میں اس نے جا بجا دجل و فریب سے کام لیتے ہوئے، قرآن مجید کی تحریف کی ہے اور قرآنی آیات کے حوالے دے کر اپنے کفریہ نظریات کا پرچار کیا ہے۔
یوسف کذاب کا ایک مرشد بتایا جاتا ہے، جس کا نام عبدالوحید میر ساجد ہے۔ یہ شخص بھی یوسف کذاب کی طرح گمراہ ہے، بانگ قلندری اس کی کتاب ہے، جو کفریات سے بھری ہوئی ہے۔ مذکورہ کتاب کے پیش لفظ میں یوسف کذاب لکھتا ہے: ’’حضرت عبدالوحید عشق ہی عشق ہیں، کائنات کے جتنے بھی ٹائٹل انسانوں نے استعمال کئے ہیں۔ وہ ان کی ذات کی تحدید کریں گی توضیح نہیں۔ الحمد للہ! یہ مرد قلندر ہمارے خاص الخاص دوست ہیں اور ایسے دوست جن پر کائناتیں قربان کی جاسکتی ہیں، ہمارے سامنے ان کی لازوال محبت اور عشق کی شدت نے ایک اعلیٰ افسر اور ماڈرن تعلیم یافتہ نوجوان کو انسان کامل کا پرتو (انسان) فرد وحید، مرد کامل، صاحب وقت اور محبوب بنا دیا ہوا ہے۔ انسان ہونا سب سے اعلیٰ مقام ہے حضرت وحید ایک انسان ہیں ، ذات بھی ہیں اور ذات ساز بھی اور ان سب عطاؤں کے باوجود زیر نقاب بھی اور اپنا سب کچھ اپنے محبوب کو عطا کر کے محبوب کے ذریعے کار نبوت ورسالت جاری رکھے ہوئے ہیں، ان کے محبوب انہیں دیکھ کر فرماتے ہیں ؎
یوسف کذاب کے اس اقتباس کے سارے مفہوم اظہر من الشمس ہیں، یوسف کذاب کو المحبوب الوحید کا لقب جس مرشد کی طرف سے دیا گیا ہے وہ یہی عبدالوحید ہے اور انسان جب انسان لکھا جاتا ہے تو انسان کامل مراد ہوتا ہے۔ یوسف کذاب نے اس تحریر میں جہاں خود کو کامل انسان کا پرتو، مرد کامل، صاحب قوت اور محبوب وغیرہ قرار دیا ہے، وہاں اپنے گرو عبدالوحید کو ذات قرار دیتے ہوئے لکھتا ہے: ’’ذات بھی ہیں اور ذات ساز بھی ہیں اور سب عطاؤں کے باوجود زیر نقاب بھی۔‘‘ اور آخر پر جو شعر ہے اس سے مزید وضاحت ہو جاتی ہے۔
یہ شعر عبد الوحید میر ساجد کا ہے اور بانگ قلندری میں موجود یوسف کذاب کے اس گرو عبدالوحید میر ساجد کی کتاب ’’بانگ قلندری‘‘ کفریہ عقائد سے بھری پڑی ہے اور کتاب کا ماحصل یہی ہے کہ پروردگار ہستی نے عبد الوحید میں حلول کیا ہوا ہے اور خدا نے خود کو عبد الوحید میں سما دیا ہے، چنانچہ اسی کتاب میں ایک جگہ عبدالوحید کا یہ شعر درج ہے:
میں تیرے حضور جھکا رہا تو نے مجھ میں خود کو سما دیا
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اسی بناء پر یوسف کذاب اس کتاب کے پیش لفظ میں لکھتا ہے کہ حضرت وحید ذات بھی ہیں اور ذات ساز بھی ہیں اور اس کلام اور صاحب کلام کے بارے میں یوسف کذاب لکھتا ہے: ”یہ کلام ایک زندہ ہستی کا کلام ہے اس کلام کو زریں اوراق پر ہیرے موتیوں سے تحریر کر کے آب زم زم سے باوضو ہو کر پاک نگاہ ، پاک دل اور پاک نیت سے نہایت ادب کے ساتھ پڑھنا نصیب ہو جائے تو پڑھنے والے آپ علیہ السلام کے صدقے ولی بن جائے ۔“
یہ تو یوسف کذاب کے گرو عبد الوحید کی بات تھی۔ اب ذرا یوسف کذاب کے چیلے اس کذاب کے جانشین مسعود رضا کی تصنیف ”علی نامہ“ کی کفریہ عبارت ملاحظہ فرمائیں جو اس نے اپنے گرو یوسف کذاب سے منسوب کی ہے ”علی نامہ صفحہ ۲۵ پر ”سر جاناں“ کے عنوان سے ایک طویل نظم لکھی ہے :
ہے زلیخاں وجد میں ماہ کنعاں بے ہوش ہیں دیکھ کر جان جہاں جان قرآن یوسف علی
حاصل مے خانہ مستی و ناز خستگی اک بشر کے روپ میں رب جہاں یوسف علی
یہاں یوسف کذاب کو مقام نبوت پر ہی نہیں بلکہ مقام الوہیت پر بھی براجمان کیا ہوا ہے ، یوسف کذاب کے یہی خفیہ کوڈ ہیں ، جن کو وہ اسرار الہی کہتا ہے اور جس کے تانے بانے سے اس نے اپنی شخصیت اور اپنی تنظیم کو پر اسرار اور خفیہ بنایا ہوا ہے۔
یوسف کذاب کے بقول اس کے مرشد عبد الوحید نے صرف دو آدمیوں کو بیعت کیا ہے، ایک میں ہوں اور دوسرے کا مجھے بھی علم نہیں ہے۔ یوسف کذاب کے بقول جب میری عمر چالیس ہو گئی تو میرے مرشد نے مجھے حقیقت محمدیہ کے اظہار کی اجازت دی ہے، یوسف کذاب کی اصطلاح میں حقیقت محمدیہ کا اظہار در حقیقت نبوت کا اظہار ہے۔ جسے اس اصطلاح پردہ میں چھپایا ہوا ہے۔ ”علی نامہ“ یوسف کذاب کے مرید سید مسعود رضا کی تصنیف ہے، جس کا نام اس نے یوسف کذاب کے نام پر رکھا ہے۔ مذکورہ کتاب کے پیش لفظ میں یوسف کذاب اپنے مرید (چیلے ) مسعود رضا کے حوالے سے لکھتا ہے: ”ان شاء اللہ ایک وقت آئے گا کہ کلام اور صاحب کلام میں کوئی فرق نہیں رہے گا۔“
فرق تو اب بھی دکھائی نہیں دیتا۔ لیکن اب اعلان رسالت کے تحت شعور کی پختگی کے لئے چالیس سالہ سند کا انتظار ہے۔ اس وقت مسعود رضا کی موجودہ عمر تقریباً ۲۴ ، ۲۵ سال ہی ہے، جس طرح یوسف کذاب کے گرو عبد الوحید نے بائیس سال کی طویل مدت میں یوسف کذاب کو اعلان نبوت کے لئے یا اپنے آلہ کار کے طور پر تیار کیا تھا۔ اسی طرح یوسف کذاب نے اپنے چیلے مسعود رضا کو بیس بائیس سال بعد اعلان نبوت یا اپنے آلہ کار کے لئے تیار کر رہا ہے۔ اس سے یہ بات اظہر من الشمس ہو جاتی ہے کہ ملعون عبد الوحید یوسف کذاب اور مسعود رضا کا یہ خفیہ گروہ ایک لمبی اور گہری منصوبہ بندی کے تحت کام کر رہا ہے اور اس کے پس پردہ گہری سازش کارفرما ہے۔ جسے بے نقاب کر کے سادہ لوح مسلمانوں کو ان کی کفریات سے بچانا حکمرانوں کا فریضہ بنتا ہے۔
یوسف کذاب نے بانگ قلندری کے پیش لفظ میں اپنے گرو عبد الوحید کے بارے میں لکھا کہ : ”حضرت وحید ذات بھی ہیں اور ذات ساز بھی ہیں اور ان سب عطاؤں کے باوجود زیر نقاب بھی ہیں ۔“
یہاں یوسف کذاب نے تسلیم کیا ہے کہ اس کا گرو زیر نقاب اور پردہ اخفاء میں ہے۔ یوسف کذاب کہتا ہے کہ : ”المحبوب الوحید کا خطاب اسے اس کے مرشد کی طرف سے ملا ہے، جو بقول اس کے مدینہ منورہ میں مقیم ہے۔“
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
یہ بات بھی بالکل غلط اور گمراہ کن ہے، جب کہ یوسف کذاب اور اس کا مرشد عبدالوحید دونوں اس وقت ڈیفنس لاہور میں رہائش پذیر تھے۔ یوسف کذاب کا یہ کہنا کہ اس کا مرشد مدینہ منورہ میں قیام پذیر ہے۔ دراصل عبدالوحید جو کہ زیر زمین اور زیر نقاب ہے کے چہرہ پر ایک اور نقاب ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے۔
جنوری ۱۹۹۶ء کو لاہور کے ایک مشہور روزنامہ کے کالم ”تعمیر ملت“ میں یوسف کذاب اس اخفاء کا فلسفہ لکھتے ہوئے تحریر کرتا ہے:
”کاملین کو اللہ تعالیٰ نے مخفی رکھا ہوا ہے، اس خفا کا مقصد یہ ہے کہ ابلیس کا شکار، حسد میں مبتلا اور دنیا میں گرفتار لوگ کاملین کی مخالفت کر کے تباہ نہ ہو جائیں، مرد کامل کو جب مخلوق سے ملنے کا حکم دیا جاتا ہے تو بھی وہ اپنے کمال کو چھپا کر رکھتے ہیں، پہچاننے والے انہیں پہچانتے ہیں اور صراطِ مستقیم حاصل کرتے ہیں، شک و اعتراض کرنے والے محروم رہتے ہیں۔“
یوسف کذاب اپنے نام نہاد سلسلہ حقیقت محمدیہ میں جب کسی کو بیعت کرتا تھا تو اس سے منجملہ دیگر باتوں کے دو باتوں کا حلف لیتا تھا کہ یہ بیعت خفیہ ہے، اس کا کسی حال میں اظہار نہیں ہو گا اور یہ بیعت کسی حال میں ٹوٹ نہیں سکتی، اس کذاب نے نبی کریم ﷺ سے بالمشافہ ملاقات کرانے کا ڈرامہ رچا کر لاکھوں روپے سادہ لوح لوگوں سے بٹورے اور سینکڑوں لوگوں کی عزتیں برباد کیں۔ اس بدبخت نے دجل وفریب اور مکاری سے کام لیتے ہوئے سینکڑوں گھر اجاڑ دیئے۔ کراچی، لاہور، اسلام آباد اور پشاور تک اپنے مکر وفریب کا جال بچھایا ہوا تھا۔
یوسف کذاب کے چند کفریہ عقائد و دعاوی:
- یوسف کذاب نے مرد کامل ہونے کا دعویٰ کیا اور اس کا عقیدہ ہے کہ مرد کامل درحقیقت محمد کی شاندار شکل ہوتی ہے۔
- یوسف کذاب نے امام وقت ہونے کا دعویٰ کیا اور اس کا عقیدہ ہے کہ جب اللہ اور محمد کسی فرد پر نزول کرتے ہیں وہ رسول یا امام
وقت ہو جاتا ہے۔
- یوسف کذاب نے انسان کامل کا پرتو ہونے کا دعویٰ کیا اور اس کا عقیدہ ہے کہ وہ انسان کامل کا عکس ہے۔
- اس کذاب نے دعویٰ کیا کہ محمد جسمانی طور پر اب تک زندہ ہیں، ان کی پہلی شکل حضرت آدم تھے اور موجودہ شکل یوسف
کذاب ہے۔
- یوسف کذاب کا عقیدہ ہے کہ رب اس کے اندر آ کر بول رہا ہے اور یوسف کذاب کے چیلوں کا یہ عقیدہ ہے کہ یوسف کذاب ہی
رب دو جہاں ہے۔
- یوسف کذاب کا عقیدہ ہے کہ محمد ہر لحاظ سے عین اللہ کے مثل ہیں اور اللہ محمد ایک ہی ہیں۔
- یوسف کذاب کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ کا ایک جسم ہے۔
- یوسف کذاب کو یہ عقیدہ ہے کہ محمد کا نزول صرف انبیاء کے لئے مخصوص نہیں ہے یہ کہیں بھی کسی پر بھی قطع مذہب نسل کے اور رنگ
وغیرہ کے ہو سکتا ہے۔
- یوسف کذاب کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ، محمد اور انسان کے درمیان قطعاً کوئی فرق نہیں ہے، جو اپنے آپ کو اللہ اور محمد کے علاوہ سمجھ رہا
ہے وہ مشرک ہے۔
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء
- ❁...... یوسف کذاب کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ خود رسول اور اس کے مصاحب صحابہ ہیں اور اس کے اہل خانہ اہل بیت ہیں۔
- ❁...... یوسف کذاب کا یہ دعویٰ ہے کہ اس کی قیام گاہ غار حرا ہے۔
- ❁...... یوسف کذاب کا یہ عقیدہ ہے کہ مکہ اور مدینہ میں تو خالی مکان ہیں، مکیں (یوسف کذاب) تو یہاں ہے اور اس کا عقیدہ کہ حج اور
عمرہ کے لئے وہاں جانے کی کیا ضرورت ہے، یہاں کرا دیتے ہیں۔
- ❁...... یوسف کذاب کا یہ دعویٰ ہے کہ پاکستان کو مرد کامل (یوسف کذاب) کی سربراہی کا شرف حاصل ہونے والا ہے اور یہ دعویٰ کہ
پاکستان کی ہاں یا نہ میں فیصلے ہوا کریں گے۔
- ❁...... یوسف کذاب کا یہ دعویٰ ہے کہ قرآن مجید کے تمام ترجمے اور تمام تفسیریں غلط ہیں۔
- ❁...... یوسف کذاب کا یہ عقیدہ ہے کہ رسول تک پہنچنے کا فارمولا یہ ہے کہ (یوسف کذاب) کو اپنی آمدنی کا پانچواں حصہ دیں۔
- ❁...... یوسف کذاب کا یہ دعویٰ ہے کہ اسے ۹۹ شادیوں کا حکم ہے، بیویاں ۱۶ سے ۲۵ سال کی ہوں گی۔
یوسف کذاب کے مندرجہ بلا دعاوی اور عقائد جو بلاشبہ کفر و الحاد کے سوا کچھ نہیں ہیں، اس بدبخت نے لبادہ نبوت میں فراڈ اور مقدس ہستیوں کی آڑ میں گھناؤنے کاروبار کو جاری رکھا، اس کے عقائد و نظریات کی طرح اس کے فراڈ در فراڈ کی سیاہ وارداتوں کے بھی چشم دید گواہ موجود ہیں جو اتنے ثقہ صاحب حیثیت اور کثیر تعداد میں ہیں کہ ان کا جھٹلانا ناممکن ہے۔
اس گستاخ رسول کے کفریہ عقائد و نظریات اور اس کے کرتوت منظر عام پر آئے تو پاکستان کے تمام جید علماء کرام اور تمام مذہبی اور دینی جماعتوں نے اسے کافر اور مرتد، واجب القتل قرار دے کر اس کو عبرتناک سزا دینے کا مطالبہ کیا اور قومی پریس اخبارات ورسائل نے اس کی خفیہ سرگرمیوں پر مبنی رپورٹیں شائع کیں، جس کے نتیجہ میں کراچی سے خیبر تک یوسف کذاب کے خلاف ایک نفرت کی آگ بھڑک اٹھی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اس کذاب کے خلاف تقریر و تحریر کے ذریعہ پر امن جدوجہد شروع کر دی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ترجمان ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی اور ماہنامہ ”لولاک“ ملتان میں اس کے کفریہ عقائد کا پردہ چاک کرتے ہوئے بروقت اہل اسلام کو اس فتنہ کی سنگینی سے آگاہ کیا۔
یوسف کذاب کے کفریہ عقائد اور اس کے پس پردہ عوامل کا جائزہ لے کر مضامین اور علماء کرام کے فتاویٰ جات شائع کئے گئے، پاکستانی پریس، علماء کرام اور عوام کی مربوط جدوجہد کا نتیجہ تھا کہ یوسف کذاب کے خلاف پوری مسلم برادری سراپا احتجاج بن گئی اور ہر طرف سے ایک ہی مطالبہ تھا کہ یوسف کذاب کو توہین رسالت کے جرم میں گرفتار کر کے پھانسی دی جائے اور اس گستاخ رسول کو عبرت کا نشان بنا دیا جائے، تاکہ آئندہ کوئی دریدہ دہن اور بدبخت ایسی ناپاک جسارت کی جرات نہ کر سکے۔ حکمرانوں نے حالات کی نزاکت کا اندازہ کرتے ہوئے ۲۶؍ مارچ ۱۹۹۷ء کو یوسف کذاب کو ۱۶ ایم پی او کے تحت نظر بند کر دیا۔
اس نظر بندی کے دوران ہی ۲۹؍ مارچ ۱۹۹۷ء کو یوسف کذاب کے خلاف عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کی درخواست پر تھانہ ملت پارک لاہور میں مقدمہ نمبر ۷۰/۹۷ درج ہو گیا، یوسف کذاب کے خلاف یہ مقدمہ توہین رسالت، مذہبی جذبات کو مجروح کرنے، شر انگیزی، دھوکہ دہی اور ملکی سالمیت کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے وغیرہ کے الزام میں درج کیا گیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مؤرخہ ۸؍ اپریل ۱۹۹۷ء کو ایم پی او کی واپسی کے فوراً بعد ہی اس مقدمہ کے تحت یوسف کذاب کی باقاعدہ گرفتاری عمل میں آگئی، ورنہ خدشہ تھا کہ حکومت کے ۱۶؍ ایم پی او واپس لینے کے بعد یوسف کذاب کہیں ملعون گوہر شاہی کی طرح ملک سے فرار نہ ہو جائے۔ مؤرخہ ۱۴؍ جولائی ۱۹۹۷ء کو جناب غلام مصطفےٰ شہزاد ایڈیشنل سیشن جج لاہور نے یوسف کذاب کی درخواست ضمانت مسترد کر دی۔ یوسف کذاب نے اس فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر دی، ہائی کورٹ نے یہ اپیل بھی ۱۹؍ ستمبر ۱۹۹۷ء کو مسترد کر دی۔ یہ مقدمہ مختلف مراحل سے گزرتا ہوا سیشن جج میاں محمد جہانگیر کی عدالت میں چل رہا تھا، کیس کے مدعی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کی طرف سے جناب محمد اسماعیل قریشی سینئر ایڈووکیٹ مقدمہ کی پیروی کر رہے تھے اور ان کے مسلم وکلاء کی ایک ٹیم اس کیس میں حصہ لے رہی تھی۔ یوسف کذاب کے کفریات وخرافات پر مبنی لٹریچر اور حیاسوز حرکات وسکنات پر مبنی آڈیو ویڈیو کیسٹیں عدالت میں پیش کیں۔ چنانچہ مذکورہ عدالت نے جرأت ایمانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس گستاخ رسول کو مذکورہ سزا دی کہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات کی قدر اور ترجمانی کی ہے۔ ملعون یوسف کذاب کو مذکورہ سزا ہونے پر مسلمانوں میں کسی حد تک مذہبی بے چینی کا ازالہ ہوا ہے اور بڑی تعداد میں اہلِ اسلام نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی خدمات کو سراہتے ہوئے مبارکباد دی ہیں اور فیصلہ سنانے والے مذکورہ جج اور مسلمان وکلاء کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ہے اور تادم تحریر یہ سلسلہ جاری ہے۔
اللہ تعالیٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی جانب سے تحفظ ناموس رسالت (ﷺ) کے سلسلہ میں اس ادنیٰ سی کوشش وجدوجہد کو شرف قبولیت بخشے اور اس کیس میں حصہ لینے والے تمام افراد کو جزائے خیر عطا فرمائے اور ان کے اس عمل کو شفاعت نبوی ﷺ کا ذریعہ بنائے۔ (آمین)
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حکمران طبقہ سے یہ مطالبہ کرتی ہے کہ گستاخ رسول یوسف کذاب کے پیروکاروں اور چیلوں کے خلاف بھی فوری کارروائی کی جائے اور ان کی نقل وحرکت اور ان کی اسلام دشمن سرگرمیوں کا نوٹس لیا جائے تاکہ آئندہ کسی بدبخت کو وطن عزیز میں اسلام کے خلاف ہرزہ سرائی کی جرأت نہ ہو سکے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۸ تا ۲۴؍ اگست ۲۰۰۰ء ص ۶ تا ۱۱)
یوسف کذاب کیس میں استغاثہ کے وکلاء کے اعزاز میں استقبالیہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما اور یوسف کذاب کیس کے مدعی حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے اپنے وکلاء جناب محمد اسماعیل قریشی، جناب محمد اقبال چیمہ، جناب غلام مصطفےٰ چوہدری، جناب حمید اعوان، جناب محمد یعقوب قریشی کے اعزاز میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر لاہور میں استقبالیہ دیا۔ استقبالیہ میں تحریک ختم نبوت میں شامل دینی جماعتوں کے رہنماؤں حافظ محمد ریاض درانی جمعیت علماء اسلام، سردار محمد خان لغاری جمعیت علماء پاکستان، مولانا ظفر اللہ شفیق، قاری محمد زبیر، سید ضیاء الحسن شاہ، مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا مجیب الرحمن سمیت کئی ایک علماء کرام نے شرکت کی۔ استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے سینئر وکیل محمد اسماعیل قریشی نے کہا کہ گستاخ رسول کی سزا کے قانون کے لئے انہیں کئی سال تک محنت کرنا پڑی۔ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی جھوٹے مدعی نبوت کو اس قانون کے تحت سزائے موت ہوئی ہے۔ اس فیصلہ کے دور رس نتائج برآمد ہوں گے۔ جناب محمد اقبال چیمہ نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ مجھے کسی گستاخ رسول کو کیفر کردار تک پہنچانے میں وکالت کرنے کا موقع ملا۔ ان شاء اللہ! یہ فیصلہ میری اور میرے رفقاء کی مغفرت کا باعث ہوگا۔ کیس کے لئے شب وروز محنت کرنے والے وکیل جناب غلام مصطفےٰ چوہدری نے کہا کہ یہ فیصلہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے لئے اس صدی کا
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب وتحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا
تحفہ ہے۔ انہوں نے یوسف کذاب کیس میں دلچسپی رکھنے والے علماء کرام خصوصاً مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کو مبارک باد پیش کی کہ انہوں نے آگے بڑھ کر جھوٹے مدعی نبوت کو کیفر کردار تک پہنچانے میں قانونی راستہ اختیار کیا۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے وکلاء کو مبارک باد دی جن کی محنت سے یہ فیصلہ معرض وجود میں آیا۔ انہوں نے اس فیصلہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے وکلاء کے ذریعے یوسف کذاب کو تختہ دار تک پہنچا کر رہیں گے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان، ستمبر ۲۰۰۰ء ص ۶۲)
جھوٹی نبوت کا دعویدار گرفتار
اوکاڑہ تھانہ شاہ بھور کی انتظامیہ نے نواحی گاؤں ۱۴/۳ایل میں چھاپہ مار کر نبوت کا دعویٰ کرنے کے الزام میں ۷۰ سالہ صوفی شعبان ولد جمیل قوم چوغطہ کو گرفتار کر کے اس کے قبضہ سے تحریر کی گئی دستاویزات اور کفریہ عبارتوں پر مشتمل لٹریچر قبضہ میں لے لیا جو قالین سازی کا کاروبار کرتا ہے دوروز قبل لاؤڈ سپیکر کے ذریعے سے مختلف دیہات میں جا کر اپنے نبی ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے بیان کیا کہ میں نبی ہوں اور اس کا بر ملا اعلان کیا جائے۔ یہ واضح توہین رسالت ہے اور تحریروں میں اس نے لکھا ہے کہ جبرائیل کے ذریعہ اس پر وحی کا نزول ہوتا رہا ہے اور مستقبل میں قیامت کے نزدیک دنیا میں ظہور پذیر ہونے والے امام مہدی اس کے سالار اعظم ہوں گے۔ ۱۷/ اگست ۱۹۸۸ء کو اس نے سابق صدر ضیاء الحق کی پالیسیوں سے تنگ آ کر اس کا طیارہ فرشتوں کو حکم دے کر گرایا، مگر ضیاء الحق کے ساتھ سوار دیگر لوگوں کو بھی ہلاک کر دیا۔ مولانا عبدالرزاق مجاہد مبلغ ختم نبوت نے انتظامیہ کو کہا کہ صوفی شعبان انتہائی مکار اور جھوٹا ہے اگر وہ اتنا سادہ ہوتا تو خفیہ لٹریچر دو زبانوں میں مشتہر نہ کرتا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور جمعیت علماء اسلام کے اکابرین علماء اور کارکنوں کی کثیر تعداد تھانہ شاہ بھور میں پہنچ گئی اور گستاخ رسول کے خلاف دفعہ ۲۹۵-سی اور ۲۹۵-اے کا پرچہ درج کرایا مگر بعض اخبارات نے نامعلوم وجوہ کی بنا پر ملزم کی گرفتاری کے لئے حقائق کو توڑ مروڑ کر شائع کر کے نا صرف پیشہ ورانہ بد دیانتی کا مظاہرہ کیا بلکہ توہین رسالت کے مرتکب ملزم کو سپورٹ کرنے کی کوشش کر کے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی۔
اصل حقائق کو مسخ کرنے اور فرقہ واریت کو ہوا دینے کی کوشش کے خلاف گول چوک اوکاڑہ میں زبردست احتجاجی مظاہرہ ہوا جس میں مظاہرین نے ان اخبارات کی کاپیاں نذر آتش کیں اور ان اخبارات کے خلاف زبردست نعرہ بازی کی گئی۔ الحمد للہ ! بر وقت گستاخ رسول کی گرفتاری سے لوگوں نے اطمینان کا سانس لیا اور ملزم کو ریمانڈ کے لئے جیل بھیج دیا گیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۰۰ء ص ۶۱)
جرمنی میں قادیانیوں کی شکست
جرمنی کے شہر کولون میں پھولوں کا کاروبار کرنے والے نو مسلم محمد مالک کو دھوکے سے قادیانی بنانے کا معاملہ طشت از بام ہونے پر قادیانی جماعت کے ذمہ داروں نے دعویٰ کر دیا کہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کو قرآن وحدیث سے ثابت کریں گے۔ اس پر جرمنی میں قادیانیوں کے مربی ڈاکٹر جلال شمس کا مسلمان علماء مولانا منظور احمد الحسینی اور مولانا مشتاق الرحمٰن کے ساتھ چار گھنٹے پر محیط مناظرہ ہوا۔ جس میں قادیانی اپنے موقف کی سچائی ثابت نہ کر سکے۔ لہٰذا محمد مالک نے قادیانیت کو ترک کر کے دوبارہ اسلام قبول کر لیا۔
واضح رہے کہ قادیانیوں نے محمد مالک کو یہ کہہ کہ دھوکہ دیا تھا کہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہیں امام مہدی مانتے ہیں۔ لیکن بعد ازاں جب اسے اصل حقیقت معلوم ہوئی تو قادیانیوں نے کہا کہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کو قرآن وحدیث سے ثابت کریں گے۔
جھوٹ، فریب اور دھوکہ دہی کے ذریعے مالی اور دنیاوی منفعت حاصل کرنے کے واقعات تو ہم آئے روز سنتے ہی رہتے ہیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
لیکن جھوٹ اور دھوکہ دہی کے ذریعے عقیدہ تبدیل کروانے کا شرمناک دھندہ صرف اور صرف قادیانیوں سے مخصوص ہے جب کہ دنیا کا کوئی بھی مذہب اور عقیدہ اپنے ایمانیاتی اور اخلاقیاتی ڈھانچے کی بنیاد جھوٹ ، فریب اور دھوکہ دہی پر ہرگز نہیں رکھ سکتا۔ لہٰذا جرمنی کے مناظرے میں قادیانیوں کا جھوٹ اور دھوکہ بے نقاب ہونے سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ قادیانیت کو کسی بھی طرح سے اعلیٰ و ارفع ایمانی ، اخلاقی اصولوں پر مبنی عقیدہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ کیونکہ جھوٹ اور دھوکہ دہی پر مبنی قادیانی فتنہ کسی بھی اعتبار سے عقیدے کی تعریف پر پورا نہیں اترتا۔
جب کہ اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ انگریز نے برصغیر میں تحریک آزادی کا راستہ روکنے اور مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے کے لئے اس فتنے کا بیج بویا تھا اور آج بھی اس فتنے کی سرپرستی اور پشت پناہی کرنے والی طاقتیں مسلمانوں کو تقسیم کرنے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں تاکہ وہ اعلیٰ ترین ایمانیاتی و اخلاقیاتی ضابطہ حیات کے حامل اس حقیقی اسلام کی روح سے استفادہ کرنے کے قابل نہ ہو سکیں جو اپنی متحرک اور فعال فطرت کے اعتبار سے تمام مذاہب کے مقابلے میں سب سے زیادہ ترقی پسندانہ اور روشن خیال ہے اور جو نظام زر کو شرف انسانی کی توہین قرار دیتا ہے یہی وجہ ہے کہ اگر کل برطانیہ قادیانی فتنے کی سرپرستی کر رہا تھا تو آج نظام زر کا سب سے بڑا محافظ امریکہ اس فتنے کو اپنے غیر انسانی نظام کی بقاء کے لئے استعمال کر رہا ہے۔ اسی لئے نظام زر اور فتنہ قادیانیت کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور یہ دونوں اپنے مشترکہ اہداف کو حاصل کرنے کے لئے جھوٹ، فریب اور دھوکہ دہی سے کام لیتے ہیں۔ لہٰذا کسی بھی سچے الہاماتی عقیدے میں جھوٹ، فریب اور دھوکہ دہی کی گنجائش موجود ہو سکتی ہے نہ نظام زر اور فتنہ قادیانیت کی کوئی جگہ۔
اندریں حالات ہم پاکستان سمیت پورے عالم اسلام کے علماء اور دانشوروں سے توقع کریں گے کہ وہ اس فتنے کو اسلام اور عالم اسلام کے خلاف بین الاقوامی سامراجی سازش کے تناظر میں دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کریں۔ علاوہ ازیں ہم کم و بیش دو سال سے اس عمل کی نشان دہی کر رہے ہیں کہ بعض قادیانی تقسیم کشمیر سے سامراجی منصوبے کو مکمل جامہ پہنانے کے لئے سرگرم ہیں ان سازشوں پر نظر رکھی جائے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۰۰ء ص ۶، ۷)
حکومت قادیانیوں کی سرگرمیوں کا نوٹس لے
قادیانی غیر ملکی آقاؤں کے اشاروں پر ملک عزیز کے امن کو تہہ و بالا کرنے کے درپے ہیں۔ این ، جی ، اوز میں گھسے ہوئے قادیانی موجودہ حکومت کو ناکام کرنے پر ادھار کھائے بیٹھے ہیں۔ حکومت ان شر پسند عناصر کی سرگرمیوں پر فوری قدغن لگائے۔ ان خیالات کا اظہار عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ نے سرائے سدھو کے بلال شہید کے ایصال ثواب کے لئے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ قادیانیوں نے سوچی سمجھی سکیم کے تحت سرائے سدھو میں بلال شہید کو رات میں سوتے میں قتل کیا۔ قادیانی گرفتار ہوئے اور انہوں نے اعتراف جرم بھی کر لیا ہے۔ اسی طرح کبیر والا میں قادیانیوں نے ایک مسلمان نوجوان کی مار پیٹ کی بالمقابل اکرم بیکری وائے بلاک نیوملتان کے قریب عبدالجبار قادیانی اور غلام نبی قادیانی کی شب و روز اشتعال انگیز سرگرمیوں کے باعث حالات ابتر ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انتظامیہ میں جہاں کہیں قادیانی سرکاری ملازمین ہیں ان کے اشارہ پر این ، جی ، اوز کے پروگرام کے مطابق تمام قادیانی اشتعال انگیز سرگرمیوں سے موجودہ حکومت کو ناکام کرنا چاہتے ہیں۔ بلال شہید کیس میں ایک قادیانی سے اعتراف جرم کرا کر باقی قادیانیوں کو ریلیف دینے کی سازش ہو رہی ہے۔ حالانکہ ملزم اشفاق قادیانی اس کا والد ، ماموں سب قتل کی اس سازش میں و اقدام قتل میں برابر کے شریک ہیں۔ مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
صدر مملکت اور حکومت قادیانیوں کی اشتعال انگیز سرگرمیوں پر نظر رکھے ملزمان کو قرار واقعی سزا دے تاکہ قادیانی فتنہ و فساد کی آگ نہ بھڑکا سکیں ۔ مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے ملک بھر کے مجاہدین ختم نبوت سے اپیل کی کہ وہ قادیانیوں کی سرگرمیوں سے حکومت و عوام کو باخبر رکھیں تاکہ این ۔ جی ۔ اوز کا یہ منصوبہ ناکام ہو ۔
عمر کوٹ قادیانی سازش ناکام
عمر کوٹ سندھ کے شفیع محمد راہموں نامی شخص کو قادیانیوں نے دھوکہ میں رکھ کر سازش سے بیعت فارم پر کرایا جس کا علم پیر محمد ابراہیم ، مولانا نور محمد ، مولانا عبدالرحمن ، کو ہوا تو انہوں نے شفیع محمد راہموں کو قادیانیت کی ریشہ دوانیوں سے آگاہ کیا ۔ جس سے شفیع محمد دوبارہ دائرہ اسلام میں داخل ہو گیا ۔ بیعت فارم پر کرانے کے جرم میں قادیانیوں کو جیل ہوئی ۔ قادیانیوں کی اس سازش کا علم ہونے کی وجہ سے علاقہ بھر میں تحفظ ختم نبوت کا جذبہ پیدا ہوا اور قادیانیوں کے خلاف بھر پور جد و جہد کرنے کا عزم کیا گیا ۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۰۰ء ص ۶۲)
کیپٹل ہومیو پیتھک میڈیکل کالج اسلام آباد کے پروفیسر توہین رسالت کے مقدمے میں گرفتار
۴/ اکتوبر ۲۰۰۰ء کو کیپٹل ہومیو پیتھک کالج واقع کراچی کمپنی اسلام آباد میں پروفیسر شیخ محمد یونس نے اپنے لیکچر کے دوران حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی شان کے خلاف ریمارکس دیئے ۔ جن پر کالج کے طلباء نے شدید احتجاج کیا اور کالج کے پرنسپل ناصر احمد چوہدری کو پروفیسر کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے درخواست دی ۔ پرنسپل نے فی الفور کارروائی کرتے ہوئے گستاخ رسول کو معطل کر دیا ۔ اس کے ساتھ ہی طلباء نے دفتر ختم نبوت اسلام آباد کے مبلغ مفتی خالد میر کو آگاہ کیا ۔ ختم نبوت اسلام آباد کے مبلغ مفتی خالد میر نے مولانا عبدالرؤف ، قاری عبد الوحید قاسمی ، مولانا محمد شریف ہزاروی ، قاری احسان اللہ فاروقی ، مولانا محمد صادق صدیقی ، مولانا نذیر احمد فاروقی ، علامہ میاں محمد نقشبندی اور ختم نبوت پنڈی کے مبلغ مفتی محمود الحسن سے رابطہ کیا ۔ عبداللہ بن مسعود کراچی کمپنی میں ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا جس میں علماء کرام کے علاوہ ہومیو پیتھک کالج کے طلباء نے بھی شرکت کی ۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ شاتم رسول کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی جائے ۔ چنانچہ تھانہ مارگلہ میں پرچہ درج کرایا گیا ۔ ایس ایچ او زبیر شیخ نے پرچہ درج کر کے شاتم رسول کو فی الفور گرفتار کرنے کا حکم دیا ۔ پولیس نے گستاخ رسول کو گرفتار کر کے ابتدائی تفتیش کے بعد حوالات میں بند کر دیا ۔ ۵/ اکتوبر کو پولیس نے عدالت میں پیش کیا ۔ عدالت نے چودہ روزہ ریمانڈ دے کر گستاخ رسول کو اڈیالہ جیل منتقل کر دیا ۔ اسلام آباد کے علماء نے مجلس کی اپیل پر جمعہ کو یوم احتجاج منایا ۔ علماء کرام نے اپنے خطابات میں حکومت سے مطالبہ کیا کہ شاتم رسول کو فی الفور سزائے موت دی جائے ۔ اس کے بعد کراچی کمپنی مسجد عبداللہ بن مسعود سے ایک بہت بڑا احتجاجی جلوس نکالا گیا ۔ جس کی قیادت قاری عبد الواحد قاسمی ، علامہ میاں محمد نقشبندی ، مولانا نذیر احمد فاروقی ، ختم نبوت اسلام آباد کے مبلغ مفتی خالد میر ، ختم نبوت پنڈی کے مبلغ مولانا مفتی محمود الحسن اور ہومیو پیتھک کالج کے پرنسپل ناصر احمد چوہدری نے کی ۔ مقررین نے کہا کہ اگر حکومت شاتم رسول کو سزا دینے میں لیت ولعل سے کام لے گی تو پورے ملک میں مظاہرے کئے جائیں گے ۔ کالج کے پرنسپل ناصر احمد چوہدری نے اپنے متعلق بعض اخبارات میں قادیانی ہونے کے متعلق الزامات کی بھی تردید کی ۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۰۰ء ص ۶۱)
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیانی عبادت گاہ مسجد ختم نبوت میں تبدیل
گولارچی: قادیانیت سے تائب ہونے والے محمد اکرم جٹ نے ۱۹۹۱ء میں ایک قادیانی عبادت گاہ مسجد کی طرز پر تعمیر کی تھی۔ ۳۰؍ستمبر ۲۰۰۰ء کو یہ مسلمان ہوا اور ۲۱؍اکتوبر کو یہ عبادت گاہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان حوالے کر دی جناب محمد اکرم صاحب نے ۲۱؍اکتوبر کو ایس ڈی ایم گولارچی کی عدالت میں ۱۰۰ روپے کے اسٹام فارم پر یہ بیان حلفیہ درج کرتے ہوئے کہا کہ یہ عبادت گاہ میں نے خود تعمیر کی تھی قادیانی جماعت کا اس میں کوئی خرچ نہیں۔ اس لئے میں چاہتا ہوں کہ اس جگہ اب مسلمان عبادت کیا کریں اور میں یہ مسجد ختم نبوت جماعت کے سپرد کر رہا ہوں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا محمد علی صدیقی ضلعی یونٹ گولارچی کے امیر حکیم مولوی محمد عاشق نقشبندی، حاجی محمد ابراہیم، حاجی حمید اللہ خان، مولانا عبدالخبیر ہزاروی، ملک لطف خان اعوان، حکیم محمد سعید انجم راجپوت، محمد نذر انجم، سید علی حیدر شاہ اور دیگر دوست موجود تھے۔
ایس ڈی ایم گولارچی نے ڈی ایس پی گولارچی سے مشورہ کر کے اسسٹنٹ مختار کار کو موقع پر ہی مسجد مسلمانوں کے حوالہ کردی۔ جناب محمد اکرم صاحب نے پہلی اذان دی اور حکیم مولوی محمد عاشق نقشبندی نے امامت کے فرائض انجام دیئے بعد ازاں مولانا محمد علی صدیقی صاحب نے انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا اور نمازیوں کو حالات سے آگاہ کیا۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گولارچی کے امیر حکیم مولوی محمد عاشق نقشبندی، حکیم محمد سعید انجم، جناب محمد اکرم جٹ نے مولانا عزیز الرحمن جالندھری سے حیدر آباد میں ملاقات کی مولانا نے فی الحال حکیم مولوی محمد عاشق کو امامت کرانے کا حکم دیا۔
الحمدللہ! پانچ وقت مسجد ختم نبوت میں باجماعت نماز اور اذان ہو رہی ہے۔ بعد نماز عشاء اور فجر درس قرآن مجید ہوتا ہے۔
اس موقع پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے مسجد ختم نبوت گولارچی کی نگرانی کے لئے گولارچی یونٹ کے امیر حکیم محمد عاشق، ناظم اعلیٰ حکیم محمد سعید انجم راجپوت، خازن محمد زاہد انجم پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو کہ مسجد ختم نبوت گولارچی کی نگرانی کرے گی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۴ تا ۳۰؍نومبر ۲۰۰۰ء ص ۲۴)
چناب نگر (ربوہ) کو کھلا شہر قرار دینے کے اقدامات کو ختم کرنے کا منصوبہ
۲۹؍مئی ۱۹۷۴ء کو چناب نگر (ربوہ) ریلوے اسٹیشن پر نشتر میڈیکل کالج کے طلبا پر قادیانیوں کی وحشیانہ درندگی کے ردعمل میں تحریک چلی، پنجاب حکومت نے ’’سانحہ ربوہ‘‘ کی تحقیقات کے لئے عدالتی کمیشن جسٹس صمدانی کی سربراہی میں مقرر کیا۔ وفاقی حکومت نے قادیانی مسئلہ کو قومی اسمبلی کے سپرد کیا قومی اسمبلی وسینٹ نے متفقہ طور پر ۱۹۷۴ء کے آئین میں دوسری ترمیم کے ذریعہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا اور جسٹس صمدانی کمیشن کی رپورٹ کی روشنی میں
- ۱...... ربوہ کی بلدیاتی حدود میں توسیع کرکے بعض مسلم گاؤں اس میں شامل کئے گئے۔
- ۲...... ربوہ میں چوکی کے ساتھ ساتھ تھانہ بھی قائم کیا گیا۔
- ۳...... ربوہ کو سب تحصیل قرار دے کر وہاں آرایم کی عدالت قائم کی گئی۔
- ۴...... ربوہ کے مشرق میں لو انکم ہاؤسنگ اسکیم کے تحت (۵۰) ایکڑ پر مشتمل کالونی قائم کی گئی جس میں کنال کے (۶۹) پلاٹ،
(۱۰) مرلہ کے ’’۱۷۷‘‘ پلاٹ اور (۵) مرلہ کے (۳۱۳) پلاٹ کل (۵۰۹) رکھے گئے۔ (یہ کالونی اب مسلم کالونی چناب نگر (ربوہ) کے
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نام سے موسوم ہے۔
- ❁...... اس رہائشی کالونی کے لئے حکومت نے (۲۹) ایکڑ قادیانی جماعت ”صدر انجمن احمدیہ پاکستان“ اور (۲۱) ایکڑ رقبہ علاقہ کے
زمینداروں سے ایکوائر کیا۔ ۱۹۷۶ء میں لو انکم اسکیم کے تحت مسلمانوں کو ۲۵۰ روپے فی مرلہ کے حساب سے ۵ مرلہ اور ۱۰ مرلہ کے پلاٹ قرعہ اندازی میں دیئے گئے، جو سینکڑوں کی تعداد میں ہیں اور ان میں اکثر و بیشتر پر تعمیرات مکمل ہو گئی ہیں یا زیر تعمیر ہیں۔ اس میں ۹ کنال پر مشتمل جامع مسجد و مدرسہ کے لئے پلاٹ ”عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت“ کو الاٹ ہوا وہاں پر عظیم الشان جامع مسجد و مدرسہ تعمیر ہو چکے ہیں۔ سیکڑوں مقامی اور مسافر طلباء قرآن مجید کی تعلیم سے بہرہ ور ہو رہے ہیں۔ نماز پنج گانہ، عیدین، جمعہ اور عظیم الشان ”آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس“ منعقد ہوتی ہے۔ باقی ماندہ پلاٹوں کو اکتوبر، نومبر ۲۰۰۰ء میں نیلام عام کے ذریعہ فروخت کیا جا رہا ہے۔ جس سے پندرہ ہزار سے اوپر فی مرلہ حکومت کو خطیر رقم مہیا ہو رہی ہے۔
- ❁...... ربوہ شہر جس کا نیا نام اب ”چناب نگر“ ہے۔ اسے آباد کرنے کے لئے ”قادیانی جماعت“ کو پنجاب حکومت (لینڈ گرانٹ) زمین
بطور عطیہ کے دی تھی یہ کل جگہ ۱۰۳۴ ایکڑ تھی۔ ایک آنہ فی مرلہ کے حساب سے (رجسٹری اخراجات) ۱۰۴۴ روپے ادا کر کے ۲۶ جون ۱۹۴۸ء کو یہ زمین صدر انجمن احمدیہ پاکستان کو الاٹ کی گئی۔ ۱۹۷۶ء میں مسلم کالونی اور تھانہ کے قیام کے لئے قادیانی جماعت سے زمین ایکوائر کی تھی۔ اس زمانہ سے مختلف عدالتوں میں قادیانیوں نے مقدمہ بازی کا مشغلہ اختیار کر رکھا ہے۔
جب صدر انجمن احمدیہ سے حکومت نے یہ زمین لی تو ان کو ۸ ہزار فی ایکڑ کا ایوارڈ دیا گیا۔ قادیانی جماعت نے وہ وصول کرنے سے انکار کر دیا۔ زمین کا معاوضہ کو طے کرنے کے لئے یہ کیس اب ہائی کورٹ کا فل بینچ سماعت کرے گا۔ اس دوران قادیانیوں کے دوسری علیحدہ ریٹس دائر کیں۔ ”اولڈ کیس“ کی جلد سماعت کے لئے چیف جسٹس کمیٹی کے فیصلہ کے مطابق ان قادیانی دو مقدمات (مسلم کالونی و تھانہ) کی سماعت کے لئے اکتوبر ۲۰۰۰ء میں تاریخ لگی تو قادیانیوں نے ۴ دسمبر کی تاریخ لے لی کہ گورنمنٹ سے ہمارا سمجھوتہ طے پا رہا ہے اور اب ۴ دسمبر کو بھی یہی کہا کہ ہمارا حکومت سے سمجھوتہ ہو رہا ہے۔ اس لئے سماعت تاریخ کے تعین کے بغیر ملتوی ہو گئی۔
پریشان کن صورت حال: اب حکومت اور قادیانیوں میں جو سمجھوتہ طے پا رہا ہے وہ یہ ہے:
- ۱...... جتنی جگہ میں تھانہ کی عمارت ہے اس کے علاوہ خالی جگہ قادیانی جماعت کو واپس کر دی جائے۔ حکومت میں چھپی ہوئی قادیانی لابی
حکومت کو ناکام بنانے کے لئے اس اقدام پر تلی بیٹھی ہے کہ ہر قیمت پر قادیانیوں کو یہ جگہ واپس کرنی ہے۔ تا کہ دوبارہ چناب نگر (ربوہ) پر قادیانیوں کی گرفت مضبوط ہو، حالانکہ یہ جگہ مین روڈ پر واقع ہے، بیش قیمت سرکاری جائیداد ہے۔ حکومت نے جن شرائط پر قادیانی جماعت کو ۱۹۴۸ء میں زمین دی تھی، وہ حکومت کو واپس لینے کا جائز طور پر پورا حق حاصل تھا، اس لئے کہ شرائط میں طے تھا کہ حکومت جب چاہے گی زمین واپس لے سکے گی اور عطیہ وصول کنندہ فریق صدر انجمن احمدیہ پاکستان کو اس پر کوئی اعتراض نہ ہو گا مگر اب بعض حکومتی کارندے قادیانیوں کو نوازنے کے لئے کروڑوں کی جائیداد کا حکومت کو ٹیکہ لگانا چاہتے ہیں۔ (جب کہ پارکنگ اور بڑھتی ہوئی ضروریات کے لئے یہ زمین تھانہ کی ضرورت ہے)
- ۲...... دوسرا قادیانی/ حکومتی منصوبہ یہ ہے کہ مسلم کالونی میں جو پلاٹ مسلمانوں کو الاٹ ہو چکے ہیں ان کو چھوڑ کر باقی پلاٹ قادیانی
جماعت کو واپس دے دیئے جائیں۔ اربوں روپے کی جائیداد قادیانیوں کو واپس دینے کے لئے حکومت میں چھپے قادیانی/ قادیانی نواز عناصر متحرک ہیں حتیٰ کہ قادیانی کھلے عام یہ پروپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ یہ کالونی ہمیں واپس مل جائے گی۔ چناب نگر (ربوہ) شہر میں
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۱۰۰۵ ایکڑ کی زمین پر ایک بھی گھر مسلمانوں کا نہیں، تمام تر رہائشی قادیانی ہیں۔ جس طرح اسرائیل نے دنیا بھر سے یہودیوں کو فلسطین میں اکٹھا کیا اور خالص یہود آبادی پر مشتمل شہر قائم کئے۔ اسی طرح قادیانیوں نے بھی اس شہر میں ایک مسلمان کو بھی جگہ نہیں دی اور ظلم یہ کہ قادیانی جماعت نے حکومت سے یہ تمام زمین عطیہ میں لے کر قادیانیوں کو یہ پلاٹ فروخت کئے اور اربوں کی جائیداد انجمن احمدیہ نے بنائی اور پھر قادیانی عوام کو مالکانہ حقوق نہیں دیئے۔ بلکہ ان کو زمین لیز پر دی تا کہ کوئی قادیانی اگر جماعت سے بغاوت کرے یا اسلام قبول کرے تو لیز ختم کر کے ان کو چناب نگر (ربوہ) سے نکال دیا جائے۔ شہر میں تمام آبادی قادیانیوں پر مشتمل ہونے کی وجہ سے توازن برقرار رکھنے کے لئے حکومت نے نئی رہائشی کالونی مسلمانوں کے لئے مختص کی۔ اب اگر خالی پلاٹ قادیانیوں کو دیئے جاتے ہیں۔ (جیسا کہ راہیں ہموار کی جارہی ہیں) تو اس طرح امن وامان کا مسئلہ پیدا ہوگا اور تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء کے نتیجہ میں ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے کے جو اقدامات ہوئے تھے وہ بھی عملاً ناکام ہو جائیں گے۔
اب ان حالات میں ہمارا حکومت سے مطالبہ ہے کہ:
- عدالتی عمل میں قادیانی تاخیری حربوں کے خلاف حکومت زور دار طریقہ پر اپنا موقف پیش کرے۔
- قادیانیوں کو جائز معاوضہ جو عدالت طے کرے محکمہ ادا کرے ان کو خالی پلاٹ نہ دیئے جائیں بلکہ وہ نیلام عام کے ذریعہ
مسلمانوں کو دیئے جائیں۔
- تھانہ ومسلم کالونی کے ان پلاٹوں کو واپس کرنے کے لئے جو حکومتی ارکان و قادیانی جماعت سازش کر رہی ہے ان کے خلاف
انکوائری کرائی جائے اور اس سازش میں شریک حکومتی ارکان کو حکومت سے علیحدہ کیا جائے۔
قادیانیوں کی اشتعال انگیز سرگرمیاں:
گزشتہ کچھ سالوں سے عمومی طور پر اور موجودہ حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد خصوصی طور پر این جی اوز ہر پاکستانی پر غیر ملکی مذہب مسلط کرنے اور مسلمانوں کو اسلام سے برگشتہ کرنے کے لئے تیزی سے میدان عمل میں اترے اور ایسا محسوس ہونے لگا کہ کسی خاص مہم کے ذریعہ پاکستان کا اسلامی تشخص ختم کرنے اور قادیانی یا عیسائی اسٹیٹ بنانے کی مہم کا بھر پور آغاز کر دیا ہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے حکومت کی توجہ اس طرف مبذول کرانے کی کوشش کی مگر حکومت میں وزارتوں پر فائز این جی اوز کے نمائندے حکومت کو بلاوجہ خوف زدہ کر تے ہیں اور اب قادیانیوں نے اشتعال انگیز سرگرمیاں شروع کر دی ہیں۔ اپنی عبادت گاہوں کو مساجد کی شکل میں تبدیل کرنا، جہاں ان کی آبادی ہو مسلمانوں کو تنگ کرنا، ہراساں کرنا، مسلمانوں پر حملہ کرنا، کھلے عام کالجوں اور دیگر علاقوں میں قادیانیت کی تبلیغ کرنا، اندرون سندھ اور اندرون پنجاب اپنے علاقے مخصوص کرنا وغیرہ شامل ہیں۔ ہم حکومت پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ قادیانیوں کو آئین کا پابند بنائے بصورت دیگر ہم مجبور ہوں گے کہ ان قادیانیوں کی ان سرگرمیوں کو خود روکیں۔ انتظامیہ قادیانیوں کی حمایت کی بجائے ان کو آئین کا پابند بنائے تا کہ ان کی اشتعال انگیز سرگرمیوں کی وجہ سے مسلمانوں میں اشتعال پیدا نہ ہو اور ایسے حالات پیدا نہ ہوں جن کا ملک عزیز پاکستان متحمل نہیں ہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۱۷ تا ۲۳؍ دسمبر ۲۰۰۰ء ص ۴، ۵)
قادیانیوں کا تخت ہزارہ میں فساد، مجرم کون ہے؟ (رپورٹ: مولانا محمد اکرم طوفانی)
(رپورٹ: مولانا محمد اکرم طوفانی) تخت ہزارہ میں قادیانی مدت سے شرارتوں میں مبتلا تھے اور جب بھی کوئی موقع ہاتھ آتا ہے
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
شرارت کرنے سے باز نہ آتے۔ چنانچہ ایک مسلمان محمد اشرف لوہار جو تخت ہزارہ کا رہائشی ہے قادیانیوں نے اس کے گھر کے ساتھ آٹا پیسنے کی ڈیزل مشین لگانے کی کوشش کی تو محمد اشرف لوہار نے عدالت سے سٹے لے کر ان کی چکی مشین کو لگوانے سے رکوا دیا۔ خدا کا کرنا کہ ہفتہ پندرہ دن کے بعد اشرف لوہار کے بیٹے عمران کا ہاتھ چارہ کاٹنے والی مشین میں آ کر کٹ گیا۔ بس ہاتھ کٹنا تھا کہ قادیانیوں نے شور مچانا شروع کر دیا کہ اس مسلمان کا ہاتھ صرف اس لئے کٹا ہے کہ اس کو ہمارے حضرت کی بددعا لگ گئی ہے اور اس واقع کو اس قدر عام کیا کہ تخت ہزارہ میں ہر چھوٹے بڑے نے کہا کہ بھائی یہ تو کس قدر سوچنے کی بات ہے کہ اس نے سٹے لیا اور بیٹے کا ہاتھ کٹا بیٹھا، یہ مرزائیوں کے حضرت کی کرامت ہے اب کوئی ذی شعور آدمی۔ مسلمان، سکھ، عیسائی یہ تصور کر سکتا ہے کہ کسی کو بھی خواہ وہ کافر ہو تکلیف پہنچے تو کیا یہ مرزا طاہر کی بددعا ہے۔ قادیانیوں نے یہی بھونڈا طریقہ اختیار کیا جب کسی مخالف پر کوئی مصیبت آئی یہ فوراً چلا اٹھے کہ یہ سب ہماری بددعا سے ہوا ہے اور ہماری مخالفت سے ہوا۔ بھٹو مرا تو تب، ضیاء الحق مرا تو تب اور اگر کوئی عالم دین شہید ہوا تب انہوں نے چلانا شروع کر دیا کہ ہماری مخالفت اور بددعا کا نتیجہ ہے۔ تخت ہزارہ میں بھی یہی زہریلی فضا پھیلا دی گئی۔ چنانچہ سید اطہر شاہ تخت ہزارہ کی جامع مسجد سے اپنے گھر جاتے ہوئے چند بچوں کے ہمراہ یہ نعرہ لگاتے ہوئے ان کی عبادت گاہ سے گزرنے لگے جو راستہ میں واقع ہے تو قادیانی جو کئی دنوں سے اس تاک میں تھے کہ کوئی شرارت ہو تو اطہر شاہ کو مزید مزہ چکھائیں ساتھ قادیانی عبادت گاہ سے باہر نکلے تو شاہ صاحب چھوٹے بچوں کے ساتھ یہ نعرہ لگا رہے تھے کہ ”ختم نبوت زندہ باد، مرزائیت مردہ باد“ قادیانیوں نے شاہ صاحب کو پکڑا اور مکے اور ڈنڈوں سے مارتے پیٹتے اپنی عبادت گاہ میں لے گئے اور ساتھ ہی چند نوعمر بچے بھی داخل ہو گئے قادیانیوں نے عبادت گاہ کا دروازہ بند کر لیا اور ان بچوں کے سامنے مکوں اور کلہاڑیوں سے اطہر شاہ کو اس قدر مارا کہ وہ بے ہوش ہو گئے یہاں تک کہ شاہ صاحب کی زبان کاٹنے کی جرأت کر ڈالی اور شاہ صاحب کی زبان شدید زخمی ہوگئی۔ بچوں نے جب دیکھا کہ اطہر شاہ کو مار دیا گیا ہے تو وہ پریشان ہو کر سہم گئے اور قادیانی خود بھی سہم گئے کہ ہم نے یہ کیا کر دیا؟ یہاں تک کہ بچوں کو باہر نکال کر عبادت گاہ کا دروزہ پھر بند کر کے اندر انتظار کرنے لگے۔ بچوں نے گھر جا کر اپنے والدین کو بتایا، خبر دی کہ اطہر شاہ کو قادیانیوں نے مار ڈالا ہے۔ چنانچہ پولیس کو اطلاع دینے کی بجائے اسپیکر پر اعلان کر دیا کہ قادیانیوں نے اطہر شاہ مجاہد ختم نبوت کو اپنی عبادت گاہ میں مار ڈالا ہے۔ چنانچہ مسلمانوں نے گھروں سے نکل کر ان کی عبادت گاہ کا رخ کر لیا پہلے مرحلے میں بیس پچیس مسلمان آئے اور انہوں نے قادیانیوں سے مطالبہ کیا کہ دروازہ کھولو اور شاہ صاحب کی لاش ہمارے حوالے کر دو لیکن قادیانیوں نے دروازہ کھولنے میں لیت ولعل سے کام لیا یہاں تک کہ دس پندرہ منٹ کے بعد ڈھائی تین سو مسلمان مرد و زن جمع ہو گئے اور آخری وارننگ دی کہ دروازہ کھول دو ورنہ ہم دروازہ توڑ کر اندر داخل ہو جائیں گے۔ جب قادیانیوں نے یہ سنا کہ مسلمان دروازہ توڑ کر اندر آنے کی کوشش میں ہیں تو چند قادیانی عبادت گاہ کی چھت پر چڑھ کر اوپر سے اینٹیں مارنا شروع کر دی تا کہ مسلمان ڈر کر بھاگ جائیں اور دو تین ہوائی فائر بھی کئے تا کہ مسلمان بھاگ جائیں لیکن بدبخت یہ بھول چکے تھے کہ انہوں نے جو حرکت کی ہے ان کی یہ حرکت مسلمانوں کو واپس بھاگنے نہیں دے گی۔ ان کی اس حرکت سے مسلمان اور مشتعل ہو گئے اور دروازہ توڑ دیا اور دیوار کو دھکا لگا کر گرا دیا اور اندر داخل ہو گئے تو تقریباً پندرہ بیس آدمی اندر ادھر ادھر بھاگنے لگے۔ مسلمانوں نے جب دیکھا کہ شاہ صاحب مردہ پڑے ہوئے ہیں، ان کا خون بہہ رہا ہے۔ قادیانی مسلمانوں کے ساتھ دست بدست جنگ میں محو ہو گئے لیکن قادیانیوں کے اوسان خطاء ہو چکے تھے اور اشتعال کی تمام صورتیں استعمال کر چکے تھے اور جو آگ لگاتا ہے کبھی خود بھی اس میں جھلس جاتا ہے۔ چنانچہ کوئی مسلمان اوپر چھت پر چڑھے کوئی نیچے۔ ڈھائی تین سو کا مجمع تھا کسی کے ہاتھ میں اینٹ کسی کے ہاتھ میں روڑا۔ خدا جانے کسی کی ضرب سے کس کے روڑے سے اشتعال پھیلانے کا
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سبب بننے والے قادیانیوں میں سے پانچ اپنے انجام کو پہنچ گئے ۔ اب فیصلہ آپ ہی کریں ! ایسے حالات واقعات میں مجرم کون ہے؟ قادیانی یا مسلمان ۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۳ تا ۹؍دسمبر ۲۰۰۰ء ص ۱۷، ۱۸)
قادیانیوں کی فائرنگ ختم نبوت کانفرنس چک بھوڑو
شیخوپورہ ضلع میں شاہ کوٹ کے قریب چک بھوڑو ہے ۔ یہاں پر چند قادیانی گھرانے رہتے ہیں ۔ جو جٹ برادری سے تعلق رکھتے ہیں ۔ کھاتے پیتے اور امیر گھرانے ہیں ۔ ان کے کچھ افراد جرمنی اور اٹلی وغیرہ میں رہتے ہیں ۔ دنیا کی ریل پیل نے ان کو اتنا سرکش بنا دیا ہے کہ وہ ہر آنے والے پولیس آفیسر کو اپنے شیشہ میں اتارنے کے لئے ہر حربہ استعمال کرتے ہیں اور پھر مسلمانوں پر مظالم کرتے رہتے ہیں ۔ مگر ہمیشہ مسلمانوں نے صبر و تحمل و بردباری کا ثبوت دیا ۔ اسی اعتدال اور نرم پالیسی کے باعث اب اللہ رب العزت کا کرم ہے اس چک میں مجلس تحفظ ختم نبوت کی شاخ قائم ہوگئی ہے ۔ ختم نبوت کے موضوع پر کئی اجتماع منعقد ہو چکے ہیں اور اب پورے گاؤں کے مسلمانوں نے قادیانیوں کا بائیکاٹ کر رکھا ہے ۔ ۹ رمضان المبارک ۶ ستمبر ۲۰۰۰ء کو راولپنڈی سے واپسی پر حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب شاہ کوٹ تشریف لائے ۔
مجاہد فی سبیل اللہ ، مرد حق حضرت مولانا عبد اللطیف انور ، حضرت مولانا اللہ وسایا ، حضرت مولانا عزیز الرحمٰن ثانی مبلغ مجلس لاہور ڈویژن ، مولانا مفتی سید احمد شاہ کوٹی اپنے رفقاء کے ہمراہ چک بھوڑو تشریف لائے ۔ نماز تراویح کے بعد مسجد میں جلسہ شروع ہوا ۔ بھوڑو اور قرب و جوار کے دیگر علاقوں کے مسلمانوں نے کثرت سے شرکت کی ۔ جامع مسجد کا ہال ، صحن کھچا کھچ بھرے ہوئے تھے ۔ مفتی سید احمد اور حضرت مولانا عبد اللطیف انور کے ایمان پرور بیانات ہوئے سٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا عزیز الرحمٰن ثانی نے سرانجام دیئے ۔ جلسہ خیر و خوبی سے جاری تھا مگر جونہی مولانا اللہ وسایا کا مجاہدانہ بیان شروع ہوا قادیانیوں نے گاؤں میں مسلسل فائرنگ شروع کر کے دہشت پھیلا دی ۔
مگر ان کی فائرنگ کے ساتھ ہی مولانا اللہ وسایا صاحب نے ان کو ایسا للکارا کہ گاؤں کے در و دیوار جھوم اٹھے ۔ سامعین و حاضرین میں جوش قابل دید تھا ۔ مولانا کے ایک ایک جملہ پر نعرہ ہائے تحسین بلند ہو رہے تھے ۔ مولانا کی اس ایمانی جرأت اور للکار کے سامنے قادیانی نہ ٹھہر سکے ۔ ان کی فائرنگ بند ہو گئی مگر مولانا اللہ وسایا صاحب نے ڈیڑھ گھنٹہ تک اپنا بیان جاری رکھا ۔ مولانا کا بیان دلائل و جذبات کا مرقعہ تھا ۔ آخر میں حضرت مولانا عبد اللطیف انور نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور مولانا اللہ وسایا صاحب کو خراج تحسین پیش کیا کہ انہوں نے گولیوں کی تڑتڑاہٹ میں حق بیان کر کے اکابر کی یاد تازہ کردی ۔ مولانا عبد اللطیف انور کی دعا پر جلسہ بخیر خوبی اختتام پذیر ہوا ۔ باہر سے آنے والے مسلمانوں نے ٹرالیوں پر سوار ہو گاؤں میں اتنی نعرے بازی کی کہ عقیدہ ختم نبوت کی عظمتوں سے پورا گاؤں گونج اٹھا ۔
عوام کی درخواست پر مولانا اللہ وسایا صاحب نے عید کے بعد تفصیلی دورہ کی تاریخیں مقرر کرنے کا وعدہ کیا ۔ جلسہ کے اختتام پر ایس ایچ او سانگلہ ہل سے مولانا عبد اللطیف انور نے مطالبہ کیا کہ قادیانیوں کی شرارت کا نوٹس لے کر ان پر کیس درج کیا جائے ۔ ایس ایچ او صاحب نے قانونی کارروائی کا وعدہ کیا ۔ حق آگیا اور باطل بھاگ گیا ۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۰۰ء ص ۶۱)
بہاول پور میں مجلس کے زیر اہتمام دروس قرآن
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام عرصہ سے یہ روایت چلی آ رہی ہے کہ یکم رمضان المبارک سے ۱۶ رمضان المبارک تک
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مرکزی جامع مسجد الصادق بہاول پور میں صبح کی نماز کے بعد درسِ قرآن مجید ہوتا ہے۔ مختلف علماء کرام تشریف لا کر مختلف عنوانات پر اظہار خیال کرتے ہیں اور بہاول پور کے عوام کی بڑی تعداد ان درسوں میں شریک ہوتی ہے۔
چنانچہ اس سال بھی یکم تا ۱۶؍ رمضان المبارک بمطابق ۲۸؍ نومبر تا ۱۳؍ دسمبر ۲۰۰۰ء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری، مرکزی ناظم تبلیغ حضرت مولانا بشیر احمد، مرکزی خازن حضرت مولانا اللہ وسایا، صدر المبلغین حضرت مولانا خدا بخش، بہاول کے مبلغ مولانا محمد اسحاق ساقی، جامعہ مدنیہ کے شیخ الحدیث حضرت مولانا عطاء الرحمٰن، حضرت مولانا فضل الرحمٰن دھرم کوٹی، جامعہ مسجد اشرف کے خطیب حضرت مولانا محمد عبداللہ، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا امام الدین قریشی کے بیانات ہوئے۔ حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری، مولانا خدا بخش اور حضرت مولانا اللہ وسایا نے جمعہ کے خطابات بھی ارشاد فرمائے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری، فروری ۲۰۰۰ء ص۶۲)
بستی گھلواں علی پور میں ایک قادیانی کا قبول اسلام
مسمی حق نواز، ولد غلام حسن، قوم مغل، سکنہ بستی گھلواں تحصیل علی پور نے گواہان کی موجودگی میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا بشیر احمد کے سامنے قادیانیت سے اظہار بریت کر کے اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا۔ الحمد للہ !
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری، فروری ۲۰۰۰ء ص۶۴)
ضلع برپیٹا صوبہ آسام انڈیا میں ۵۵ قادیانی گھرانے مشرف باسلام ہوئے
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان تمام حضرات کو دینِ مستقیم پر قائم و دائم رہنے کی توفیق نصیب فرمائے اور پوری امت مسلمہ کو قادیانی فتنہ سے بالخصوص وبالعموم دیگر فتنوں سے بھی محفوظ فرمائے۔ آمین ! محمد عثمان منصور پوری ناظم کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند
انڈیا (نمائندہ خصوصی) جناب مولانا عطاء الرحمٰن صاحب قاسمی نے اپنے دیگر رفقا (جن میں جناب مولانا کرامت علی قاسمی و عبدالصمد قاسمی) کے ساتھ آسام کے مختلف علاقوں میں قادیانی فتنہ کے سدباب کے لئے کامیاب دورہ کیا۔ ماشاء اللہ ! موصوف کی محنتوں کا ثمرہ ہے کہ ۵۵ گھرانوں کے (۱۲۸) افراد قادیانیت بنام احمدیت سے تائب ہو کر صدق دل سے مسلمان ہوئے۔ مولانا موصوف کے حسب تحریر کالگامیہ، باگھیر، شلوسی، سترہ کنر اگاؤں میں جتنے بھی افراد قادیانیت کے جال میں پھنس کر مرتد ہو گئے تھے، سب کے سب تائب ہو کر حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔ نارا بھٹیا، جہاں قادیانیوں کا مرکز ہے، وہاں بھی محنت جاری ہے۔ ان شاء اللہ ! جلد ہی وہاں بھی اچھے نتائج برآمد ہوں گے۔
قادیانیت سے تائب ہونے والے اشخاص کی فہرست مع ولدیت اور سکونت حسب ذیل ہے:
ضلع برپیٹا کے بالی کوری، کالگاسیہ، برپیٹا، باگھیر، شلوسی وغیرہ علاقوں کے قادیانیت سے توبہ کرنے والوں کی فہرست :
نام مع ولدیت ساکن تعداد نام مع ولدیت ساکن تعداد محمد دلو خان ولد چانو خان برلی ...... ممیرلج خان ولد چانو خان برلی ۲ ابوطالب ولد چانو خان برلی ...... محتاج خان ولد چانو خان برلی ...... قربان خان ولد سلطان خان برلی ...... تاج الدین خان ولد قربان خان برلی ......
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ذاکر حسین ولد اکبر خان برلی ...... معین الحق ولد دراغ علی برلی ...... نالو خان ولد دبو خان برلی ...... کالو خان ولد دبو خان برلی ...... مانک علی خان ولد عزیز خان برلی ...... ضمیر علی ولد آسان علی برلی ...... مجید علی ولد ارجو میاں شلوسی ...... جاوید علی ولد ارجو میاں شلوسی ...... بشیر علی بن ایمان علی شلوسی ...... نائب علی بن صورت علی شلوسی ...... میسر علی بن عبدالعزیز شلوسی ...... قابل علی بن عبدالقادر شلوسی ...... ظاہر علی بن محمد علی شلوسی ...... امین الحق بن صدیق علی شلوسی ...... عبدالغنی بن رجب علی شلوسی ...... رجب علی بن رمضان علی شلوسی ...... عباس علی بن حلیم علی شلوسی ...... جلیل میاں بن صبور علی سترہ کنزہ ...... جاوید علی کلگاسیہ ۱ ایمان علی کلگاسیہ ۳ ڈاکٹر سہراب علی کلگاسیہ ۱۰ عبدالقادر کلگاسیہ ۱ ڈاکٹر فضل الرحمٰن بالی کوری ۱ محمد ایمان علی بالائی پتھار ۱ محمد چاند میاں ولد منصر علی ٹاپو جولی پتھار ۸ مسمیۃ گلجان بیگم زوجہ نور الاسلام ٹاپو جولی پتھار ۱ محمد مانک علی ٹاپو جولی پتھار ۲ مجید علی بن عمر علی ٹاپو جولی پتھار ۵ قاضی نظر الاسلام ٹاپو جولی پتھار ۱ مسمیۃ مرضیانہ خاتون زوجہ مجید علی ٹاپو جولی پتھار ۱ کریمن بیگم ٹاپو جولی پتھار ۱ نیرن خاتون ٹاپو جولی پتھار ۱ محمد بہار الاسلام ٹاپو جولی پتھار ۳ ذوالحاش ملا ٹاپو جولی پتھار ۳ میگومیاں ٹاپو جولی پتھار ۴ چاند میاں ٹاپو جولی پتھار ۲ ماسٹر مجیب الرحمٰن بن ابوالقاسم رام پور ۸ محمد مجید خان بن برام خان بالی کوری ۸ ڈاکٹر شمس انعام بن الٰہی میاں بالی کوری ۵ مسمیۃ نہار بیگم شمس العالم بالی کوری ۱ محمد عبدالمبارک بن ولایت حسین بالی کوری ۵ ڈاکٹر فضل الرحمٰن بالی کوری ۱۰ محمد لطف الرحمٰن روہکھی ۷ بلال حسین بن رانج الدین دھان باندھا ۸ محمد حضرت علی ایم.اے دھان باندھا ۴ محمد ابوالحسن بن حاجی کانگال میاں ٹاپا جولی ۴ عبدالقادر ٹاپا جولی ۳
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۱ تا ۱۷ فروری ۲۰۰۰ء ص ۹)
کراچی کے قادیانی کا قبول اسلام
۷؍ اپریل ۲۰۰۰ء کو ریاض احمد لیاقت اشرف کالونی کراچی کے رہائشی سابق قادیانی نے دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پرانی
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نمائش ایم اے جناح روڈ کراچی میں حضرت مولانا نذیر احمد تونسوی کے دستِ حق پرست پر ایک کثیر تعداد لوگوں کی موجودگی میں بغیر کسی دباؤ جبر واکراہ کے پوری آزادی کے ساتھ اسلام قبول کر لیا ہے۔ موصوف نے قبول اسلام سے بہرہ ور ہونے کے بعد اپنے تاثرات میں کہا کہ قادیانیت بے حیائی، عریانی وفحاشی کا مرکب ہے۔ جھوٹ اور زندیقیت وارتداد کا پلندہ ہے۔ مرزا قادیانی ملعون، کذاب، دجال، کافر، مرتد، زندیق تھا۔ آخر میں موصوف کے لئے اسلام پر استقامت کی دعا کی گئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۰ء ص ۶۱)
معروف قادیانی کا ”یوم ختم نبوت“ کے دن قبول اسلام
کراچی (نمائندہ خصوصی) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی اپیل پر جمعہ کو کراچی کی سینکڑوں مساجد میں منائے گئے ”یوم ختم نبوت“ کے دوران جامع مسجد بلال ڈرگ روڈ میں ایک معروف قادیانی مبشر احمد عادل بن چوہدری نصیر احمد نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا نذیر احمد تونسوی کے ہاتھ پر نماز جمعہ کے لئے آئے ہوئے ہزاروں افراد کی موجودگی میں اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا۔ موصوف قادیانیوں میں ایک اہم شخصیت شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے اس بات کا برملا اعلان کیا کہ قادیانیت ایک باطل مذہب ہے اور اسلام کے لئے فرقہ ورایت سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ انہوں نے تمام قادیانیوں کو اسلام کی دعوت دیتے ہوئے اسلام کو سچا مذہب قرار دیا اور قادیانیت کو اسلام کے متوازی ایک الگ مذہب قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی مذہب کا بانی مرزا غلام احمد قادیانی نبی تو کجا ایک شریف انسان کہلانے کا بھی حق دار نہیں تھا۔ قادیانی مذہب کا لٹریچر عریانی اور فحاشی کا لافانی شاہکار ہے۔ بانی قادیانی مذہب مرزا غلام احمد قادیانی کی تحریر کردہ کتابیں اللہ اور اس کے رسول کے بارے میں توہین آمیز کلمات سے بھری ہوئی ہیں، لیکن نہ معلوم کیا وجہ ہے کہ حکومت ان کتابوں پر پابندی عائد نہیں کرتی؟ انہوں نے کہا کہ فرقہ ورایت پر مبنی کتابوں کی طرح مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابوں پر پابندی عائد ہونی چاہئے اور قادیانی مذہب کی تشہیر پر پابندی پر بھی سختی سے عملدرآمد ہونا چاہئے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۱۹ تا ۲۵ مئی ۲۰۰۰ء ص ٹائٹل پیج نمبر ۳)
بنوں میں قادیانی گھرانے کے دس افراد کا قبول اسلام
بنوں شہر سے تقریباً بائیس میل دور عظیم کلہ وزیر میں محمد شبلی اور ان کا پورا خاندان جو کہ عرصہ دراز سے مرزائی / لاہوری گروپ سے منسلک تھے۔ حضرات علماء کرام کی شب و روز کی محنت اور دعاؤں سے مورخہ ۳۰؍ اپریل ۲۰۰۰ء کو ہزاروں افراد کے عظیم اجتماع اور علاقے کے جید علماء کرام کی موجودگی میں مرزائی عقیدے سے تائب ہو کر حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد گھرانے کے سربراہ محمد شبلی صاحب جو حقیقتاً ایک معزز، قابل قدر اور با رسوخ شخصیت ہیں نے اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا اور کہا کہ حقیقت میں آج ہمیں ایک نئی زندگی ملی ہے، انہوں نے کہا کہ اسلام ایک سچا دین ہے اور حضرت محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری رسول اور خاتم النبیین ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے ماننے والے کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔
اس موقع پر محمد شبلی نے اور ان کے بیٹے بھتیجے جن کے نام مندرجہ ذیل ہیں، بہت مطمئن اور نہایت ہی خوش تھے۔ علاقے کے لوگ مسلسل ان کو مبارک باد دینے کے لئے آ رہے ہیں۔
(۱) محمد شبلی (سربراہ) سابقہ محکمہ تعلیم، (۲) محمد قوی بن محمد شبلی، (۳) محمد مسلم بن محمد شبلی ہیڈ ماسٹر، (۴) محمد محسن بن محمد شبلی ہیڈ کلرک، (۵) محمد اسرائیل بن محمد شبلی سپروائزر، (۶) محمد میکائیل بن محمد شبلی سب انجینئر، (۷) محمد یاسین بن محمد شبلی کنزرویشن آفیسر، (۸) عبدالحسن بن محمد شبلی ماسٹر، (۹) ڈاکٹر شمس الہادی، (۱۰) محمد انیس پسران عبدالباقی (آنجہانی)
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دعاء ہے کہ اللہ تعالیٰ ان تمام حضرات کو دین اسلام پر استقامت نصیب فرمائے اور پوری امت مسلمہ کو قادیانی فتنہ سے بالخصوص اور بالعموم دیگر تمام فتنوں سے محفوظ فرمائیں۔ آمین !
علماء کرام جن کی موجودگی میں یہ خاندان مشرف باسلام ہوا۔ ان کے نام مندرج ذیل ہیں:
(۱) بزرگ عالم دین سید مولانا نور شاہ صاحب فارغ التحصیل دیوبند ڈمنڈی کلہ، (۲) مولانا شیر محمد صاحب ڈمنڈی کلہ، (۳) مولانا محمد اسحاق صاحب مہتمم احسن المدارس احسن آباد عیسیٰ خیل بنوں، (۴) مولانا خلیل الرحمٰن صاحب کمر کلہ، (۵) مولانا شیر نواز صاحب سیفل خیل، (۶) مولانا عبدالرحمٰن صاحب بازید مچن خیل، (۷) مولانا قمر الزمان صاحب لنڈپواہ، (۸) مولانا عمر زمان صاحب لنڈپواہ اور دیگر معززین حضرات نے دعاء کی کہ اللہ تعالیٰ ان کو دین اسلام استقامت نصیب فرمائے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۲۳ تا ۲۹ جون ۲۰۰۰ء ص ۲۵)
۶۲ / افراد کا قادیانیت سے برأت اور قبول اسلام
قادیانیت سے تائب ہونے والے نیک بخت خواتین وحضرات کی مختصر فہرست پیش خدمت ہے۔ جنہوں نے بقائمی ہوش وحواس بغیر کسی دباؤ، لالچ، جبر واکراہ کے اپنی رضا ورغبت اور پوری آزادی کے ساتھ حلفیہ بیان دیتے ہوئے واضح اعلان کیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی، ملعون، کذاب، دجال، کافر مرتد اور زندیق تھا اور اپنے دعوائے مجددیت، مہدویت، مسیحیت، نبوت ورسالت میں سراسر جھوٹا تھا۔ ہمارا مرزا قادیانی اور اس کے ماننے والوں سے قطعاً کوئی تعلق نہیں اور نہ رہے گا۔ اللہ رب العزت نو مسلم خواتین وحضرات کو دین اسلام پر استقامت نصیب فرمائے۔ آمین!
نام مع ولدیت ساکن نام مع ولدیت ساکن مشکور احمد بن افتخار کراچی آمنہ رشید فاروقی بن عبدالرشید فاروقی کراچی محمد اکرم بن ایم فضل لاہور مسماۃ سمیرا عامر رفیق بن مبشر احمد کراچی محمد آصف بن محمد یوسف کراچی محترم ڈاکٹر تبسم علوی بن اختر حسین کراچی ریاض احمد بشیر بن بشیر احمد کراچی مسماۃ سعیدہ رضیہ ولد سید ریاض حسین کراچی محمد حنیف بن محمد ایوب کراچی محمد داؤد بن محمد ایوب کراچی حبیب احمد عطاء اللہ لاہور مختار احمد بن منظور احمد رحیم یار خان محمد ارشد بن محمد اسلم کراچی رومیہ خان بن محمد قدیر کراچی تنزیلہ نایاب بن محمد عارف کراچی محمد رفیق بن محمد صدیق راجپوت کوئٹہ منیزہ خانم زوجہ محمد رفیق کوئٹہ افشاں رفیق بن محمد رفیق کوئٹہ عادل رفیق بن محمد رفیق کوئٹہ عابدہ خان ناز بن محمد رفیق کوئٹہ فریدہ خان بن محمد رفیق کوئٹہ فرخ رفیق بن محمد رفیق کوئٹہ نذیر احمد ولد عبدالعزیز قوم شیخ کراچی عقیل احمد بن نذیر احمد کراچی
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مسماۃ عرب خاتون زوجہ منصور احمد کراچی عائشہ ثوبیہ بن منصور احمد کراچی محمد امجد بن جلال خان کراچی ڈاکٹر عمران بن محمد لطیف احمد کراچی مبارک احمد بن محمد صادق قوم ارائیں کنری غزالہ بشیر بن بشیر احمد کراچی مسماۃ آمنہ حفیظ بنت جمیل کراچی ناصر رضوان ایڈووکیٹ بن رضوان خان کراچی دولت خان بن عجب خان پشاور عظیم اقبال عرف جمی مردان پروفیسر منور احمد محمود آباد جہلم وزیر علی بن علی محمد پھل گمبٹ اقبال احمد قصور ندیم اقبال ایڈووکیٹ بمعہ بیٹی و بیگم قصور
اس طرح کل ۶۲ خواتین و حضرات قبول اسلام کی سعادت سے بہرہ ور ہوئے۔
قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام کی پناہ میں آنے والے لوگوں کو قادیانی ہر طرح نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ دعاء فرمائیں کہ اللہ رب العزت نو مسلم خواتین و حضرات کو قادیانیت کے دجل و فریب سے محفوظ فرما کر دین اسلام پر استقامت نصیب فرمائے۔ آمین !
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۹ تا ۱۵ / جون ۲۰۰۰ء ص ۲۲، ۲۳)
ڈیرہ غازی خان کے باپ، بیٹے کا قبول اسلام
ڈیرہ غازی خان (نمائندہ خصوصی) تھانہ خان گڑھ کے قادیانی مشتاق احمد اور اس کے بیٹے ناصر احمد نے اسلام قبول کر لیا ہے اور عہد کیا ہے کہ وہ آئندہ زندگی قرآن و سنت کے مطابق گزاریں گے، یہ دونوں باپ بیٹا اس سے پہلے قادیانیت کا باقاعدہ پرچار کرتے تھے، جس پر تھانہ خان گڑھ کے مشتاق احمد خان نے ان کے خلاف مقدمہ درج کرایا تھا۔ یہ مقدمہ جج خصوصی عدالت برائے انسداد دہشت گردی ڈیرہ غازی خان محمد زوار قریشی کی عدالت میں زیر سماعت تھا۔ ملزم مشتاق احمد اور اس کے بیٹے ناصر احمد نے عدالت میں پیش ہو کر حلفی بیان داخل کیا ہے جس میں انہوں نے توبہ کر کے سچے دل سے اسلام قبول کر لیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ وہ اہل سنت والجماعت کا مسلک اختیار کر چکے ہیں۔ خود اور اہل خانہ اسلام کے مطابق زندگی گزاریں گے۔ امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ڈی جی خان مولانا صوفی اللہ وسایا، حاجی رمضان جڑھ، مدعی مقدمہ مشتاق احمد خان، گواہ اظہر اسماعیل، محمد افضل وغیرہ نے بھی اس کی تصدیق کر دی ہے۔ لہذا انہیں رہا کر دیا جائے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ جس پر خصوصی عدالت کے جج نے باپ بیٹے کو باعزت بری کرنے کا حکم سنایا ہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۶ تا ۲۲ / جون ۲۰۰۰ء ص ۱۵)
قادیانی جماعت جھڈو سندھ کے امیر کا خاندان سمیت قبول اسلام (شاہد مبشر گورایا ، سابق قادیانی)
لولاک کے قارئین نے کئی ماہ قبل جھڈو قادیانی جماعت کے امیر کی خاندان سمیت قبول اسلام کی خبر پڑھی ہوگی۔ بحمدہ تعالیٰ پچھلے سفر پر انہوں نے ختم نبوت کانفرنس جھڈو میں نہ صرف شرکت کی بلکہ کانفرنس کے مقررین کے اعزاز میں عشائیہ کا بھی اہتمام کیا۔ اب ان کے بیٹے شاہد مبشر نے ذیل کی تحریر میں فتنہ قادیانیت سے متعلق اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے۔ ہم ان کی تحریر کو من وعن شائع کر رہے ہیں۔ مطالعہ فرمائیں: ہمارا تعلق پنجاب کے ضلع شیخوپورہ تحصیل نارنگ منڈی پرانا پنڈ جیون گورایا سے ہے۔ چک نمبر ۴۰ جنوبی سرگودھا میں بھی ہماری زمینیں تھیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
میرے پڑدادا چوہدری غلام حیدر گورایا نے چک نمبر ۴۰ جنوبی سرگودھا میں زمین خریدی تو اس کے تقریباً چار پانچ سال بعد قادیانی جماعت میں شمولیت اختیار کی۔ علاقہ کے لوگ ان کی بڑی عزت کیا کرتے تھے۔ قادیانیوں کو ایسے افراد کی ضرورت تھی۔ ان کی تین شادیاں تھی۔ شروع میں قادیانی ان کی دعوتیں کرتے اور پھر ایک دن قادیانیوں نے بیعت فارم پر ان سے دستخط کروالئے۔ جب یہ خبر انہوں نے اپنی بہن کو آ کر سنائی جو کہ حافظ قرآن تھیں۔ اس وقت لوگوں کو قادیانیت کے بارے میں اتنا علم نہیں تھا۔ اس بات کا علم تو علماء کرام کی محنتوں سے ہوا ہے۔ ورنہ قادیانی گروہ کا فتنہ نجانے کہاں سے کہاں تک پہنچ جاتا۔ لیکن اس وقت بھی ان کی بہن نے ان سے قطع تعلق کر لیا۔
جھڈو شہر میں پہلے قادیانیوں کی کوئی جماعت نہیں تھی۔ میرے ابا نوکوٹ کی جماعت کے ساتھ تعلق رکھتے تھے۔ پھر صغیر کالونی وارڈ نمبر ۷ میں چار گھر آباد ہوئے۔ جن میں ایک آرائیں تھا اور دوسرے میں چچا۔ تھوڑے ماہ بعد میرے ماموں نے بھی گھر خرید لیا۔ جہاں جماعت قائم ہوئی۔ ڈش انٹینا لگا اور پھر والد صدر جماعت جھڈو منتخب ہوئے۔ قادیانیوں کے جلسوں میں شرکت کرنے لگے۔ یہ لوگ نعرے مارتے تھے کہ مرزا غلام احمد کی جے۔ مجھے اچھا نہ لگتا تھا۔ میں کہتا کہ لوگ احمدی ہیں یا ہندو۔ گھر میں بھی اس بات پر آ کر لڑتا۔ صدر جماعت کا بیٹا ہونے کی وجہ سے قادیانی لوگ میری بڑی عزت کیا کرتے۔ ڈاکٹر عبدالمنان قادیانی مجھے اپنا دوست کہتا اور میرا بڑا خیال رکھتا۔ اس کی ایک گاڑی تھی جس پر موبائل ڈسپنسری لکھا ہوا تھا۔ وہ تبلیغ کے لئے اسے استعمال کرتا۔ کولہی، بھیل، میگھواڑ (ہندو) یا دین سے ناواقف مسلمان اس کا ٹارگٹ ہوتے تھے۔ ہندو قرآنی آیات جو بیعت فارم پر لکھی ہوتی ان کی بے حرمتی کرتے۔ وہ فارم انہیں دیتا۔ وہ اس پر دستخط کرتے چاہے وہ قادیانی بنیں یا نہ بنیں۔ یہ فارم لندن اپنے آقاؤں کو بھیجتا۔ جہاں جا کر یہ رونا روتے کہ ہم پاکستان میں اتنے قادیانی رہتے ہیں۔ ہمارے ساتھ بڑا ظلم ہو رہا ہے۔ جعلی دستخط کر کے فارم بھیجنا، دوسروں سے جھوٹ بولنا تو الگ۔ اپنی جماعت والوں سے بھی جھوٹ بولنا۔ مجھے بالکل اچھا نہ لگتا۔ یہ بات والد صاحب کو بھی ناگوار گزرتی۔ جس کی وجہ سے والد صاحب کی قادیانی جماعت سے لڑائی ہو گئی۔ نفیس نگر کے قریب قادیانیوں نے مسلمانوں کی مسجد شہید کی۔ جس میں قرآن مجید شہید کئے۔ کیا اس حقیقت کا مرزا طاہر قادیانی کو علم نہیں۔ وہ سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کو کیوں نہیں کہتا۔ اصل کردار اللہ رکھیو کو کیوں نہیں پکڑواتا۔
کر بند کفر دیاں باباں نوں کر صاف دلاں دیاں خاناں نوں
گل ایسے گھر وچ ڈھکدی اے اک نقطے وچ گل مکدی اے
اتنے عرصے ہم لوگ قادیانی جماعت میں شامل تھے قادیانیوں نے اصل کتاب مرزا غلام احمد قادیانی کی کبھی نہیں دی۔ سوائے پمفلٹ یا درثمین کے۔ کافی قادیانیوں کی حقیقت کا علم ہو گیا ہے ان کا مسلمان ہونے کو جی چاہتا ہے مگر لالچ کی وجہ سے، رشتہ داروں کی وجہ سے، جو کہ نزدیکی ہیں ان کو چھوڑنا مشکل اور قربانی دینا انہیں مشکل نظر آتا ہے۔
قادیانی نو جوانو! ساری الاٹمنٹیں مرزا غلام احمد قادیانی کے خاندان والوں کو کیوں ملیں۔ انہیں کارخانے کیوں ملے۔ کیا دوسرے یا مقامی لوگوں کا حق نہیں ہے۔ نصرت آباد فارم، محمود آباد فارم، ناصر آباد فارم وغیرہ وغیرہ عیش وعشرت کی زندگی مرزا قادیانی کے خاندان والے گزار رہے ہیں۔ یہ سب کچھ چندوں کی مہربانی ہے۔ بیس ہزار سے زائد سالانہ چندہ ہر سال جماعت جھڈو کی طرف سے جاتا ہے۔ یہ سب انگریزوں کی چال ہے۔ ذرا سوچیں کہ انگریزوں کو خبر تھی کہ پنجابی قوم نڈر ہے۔ اس وجہ سے پنجاب سے قادیانی جماعت کا پودا لگایا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جیسے سندھ میں کھوسہ، مڈرانی، بلوچ، ابڑنگ، رند، چانڈیو وغیرہ جیسی قوموں پر نظر ہے۔ میرے جٹ بھائی ہی سوچ لیں کہ قادیانی تمہیں پاگل بنا رہے ہیں۔
مرزا غلام احمد قادیانی کہتا ہے کہ: ”محمد کا وجود گویا میرا (مرزا غلام احمد قادیانی) وجود ہے۔“
مرزا غلام احمد قادیانی اپنے آپ کو ظِل بتاتا ہے۔ قادیانی اپنی کتابوں میں لکھتے ہیں کہ جھوٹا نبی ہلاک کیا جاتا ہے۔ ہمارا مرزا غلام احمد قادیانی قتل نہیں ہوا۔ گویا اس سے ظاہر ہوا کہ یہ لوگ (قادیانی) نبی مانتے ہیں۔ اس کی موت نہیں دیکھتے کہ خدا تعالیٰ نے اسے کیسی سزا دی کہ ہیضہ کی حالت میں قے اور پاخانہ کرنے کی حالت میں اس کی موت واقع ہوئی۔ کیا یہ مرزا غلام احمد قادیانی کے نبی ہونے کی دلیل ہے؟ قادیانیو! غور کرو اور مسلمان ہو جاؤ!
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۰۰ء ص ۵۰ تا ۵۲)
لاہوری مرزائی کا قبول اسلام
آج مورخہ ۹ ربیع الاوّل ۱۴۲۱ھ، بمطابق ۱۳/جون ۲۰۰۰ء، مسمی: واجد احمد ولد عبدالمالک، شناختی کارڈ نمبر: ۱۶۵۸۱۱-۷-۲۹۴، ساکن: مکان نمبر ۱۱ جوڑاپل لاہور کینٹ۔
میں یہ اقرار کرتا ہوں کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آئے گا اور میں اس بات کا بھی اقرار کرتا ہوں کہ آپ ﷺ کے بعد جو نبوت کا دعویٰ کرے وہ کافر اور مرتد ہے۔ بنابریں میں مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے ماننے والوں کو کافر، مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔ خواہ وہ قادیانی ہوں یا لاہوری۔ آج کے بعد میرا ان سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ میں اس سے قبل مرزا قادیانی کو مجدد مانتا تھا، مگر اس کی کتابیں دیکھنے اور مولانا شیر محمد علوی مفتی جامعہ اشرفیہ سے تفصیلی دلائل سننے کے بعد یہ حقیقت واضح ہوگئی ہے کہ وہ جھوٹا اور کذاب ہے اور اس کو مسلمان سمجھنا بھی کفر ہے۔ چہ جائیکہ اس کو مجدد مانا جائے۔ لہٰذا میں مرزا قادیانی اور اس کے ماننے والوں کو کافر و مرتد سمجھتے ہوئے ان سے ہر قسم کی برأت کا اظہار و اعلان کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ مجھ کو استقامت نصیب فرمائے۔ آمین!
گواہ نمبر ۱: محمد خاں ولد نادر محمد خان ..... گواہ نمبر ۲: واجد احمد ولد عبدالمالک دستخط و مہر: حضرت مولانا مفتی شیر محمد صاحب جامعہ اشرفیہ لاہور
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۲۵ تا ۳۱ /اگست ۲۰۰۰ء ص ۲۰)
جرمنی میں تین قادیانیوں کا قبول اسلام
جرمنی (نمائندہ خصوصی) آفن باغ جرمنی ۱۵/اگست ۲۰۰۰ء کو محمد مالک کے گھر واقع فیشن (کولن) شہر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت یورپ کے امیر حضرت مولانا منظور احمد الحسینی دامت برکاتہم کا قادیانیوں کے مشہور مربی ومبلغ ڈاکٹر جلال شمس شاہد سے مناظرہ ہوا، اس مناظرہ میں مربی قادیانی جماعت کے علاوہ ان کی طرف سے امیر جماعت کولن ڈاکٹر بشارت احمد، منیر احمد طور، حبیب احمد اور اعجاز احمد خان تھے جب کہ مسلمانوں کی طرف سے حضرت مولانا منظور احمد الحسینی دامت برکاتہم کے علاوہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جرمنی کے امیر مولانا قاری مشتاق الرحمٰن، مشتاق احمد بٹ، افضال محمود رانجھا، خاور کیانی تھے۔ اس مناظرہ میں حق تعالیٰ نے مسلمانوں کو شاندار فتح نصیب فرمائی۔ اس میں محمد مالک اپنی فیملی سمیت قادیانی مذہب سے تائب ہوکر مسلمان ہوگئے، اس مناظرے کے پورے جرمنی پر کافی مثبت اثرات مرتب ہوئے۔ جس کے نتیجے میں ۱۳/اکتوبر ۲۰۰۰ء کو مولانا قاری مشتاق الرحمٰن کے ہاتھ پر افتخار احمد اپنی اہلیہ اور چار بچوں کے ساتھ
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیانیت کو چھوڑ کر مسلمان ہو گئے۔ بعد ازاں وہاں کولن جامع مسجد نور میں مسلمانوں نے اس خوشی کی رونق کو دوبالا کرنے کے لئے ایک شاندار تقریب منعقد کی جس میں علماء کرام کے علاوہ کافی تعداد میں مسلمانوں نے شرکت کی۔ ظہر کی نماز سے عصر تک یہ پروگرام جاری رہا۔ جس میں مولانا قاری مشتاق الرحمن کے علاوہ مولانا محمد احمد ، حاجی عبدالحمید امیر جماعت بلجیم مشتاق احمد بٹ اور افتخار احمد نے خطاب کیا۔ افتخار احمد نے کہا کہ میں اپنے آپ کو مسلمانوں میں پا کر بہت خوشی محسوس کر رہا ہوں۔ کچھ عرصہ پہلے محمد مالک نے اسلام قبول کیا تھا آج اللہ تعالیٰ نے مجھے توفیق بخشی ہے میں، میری جرمن اہلیہ اور میرے بچے قادیانیت چھوڑ کر اسلام میں داخل ہونے پر اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتے ہیں ، جس ہمیں قادیانیت سے نجات بخشی۔
آخر میں شرکاء مجلس مولانا قاری مشتاق الرحمن ، مولانا محمد احمد ، مولانا عبدالحمید، مولانا نثار، مشتاق احمد بٹ، ارشد بٹ، تیمور، عبدالستار فضلی ، سیف اللہ ، حاجی ارشد ملک ، بشیر احمد اعوان ، جناب کیانی ، صاحبزادہ رحمت علی اور دیگر احباب نے محمد مالک اور محمد افتخار کو مبارک باد دی۔ مولانا مشتاق الرحمن نے حوصلہ افزائی فرماتے ہوئے دونوں کے لئے استقامت کی دعا کی ، اس مشن کو آگے بڑھانے کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۲۰ رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی یادرہے کہ افتخار احمد پیدائشی قادیانی تھے۔ وہ عرصہ اکیس سال سے جرمن میں آباد ہیں، وہ مختلف اوقات میں قادیانی جماعت کی طرف سے زعیم انصار اللہ زونل جس میں چار شہر آتے ہیں سیکرٹری جائیداد ریجن کولن ( تقریباً ۵۰ جماعتوں کا ریجن ہے ) جنرل سیکرٹری حلقہ اونی سینٹر کولون اور دیگر بڑے عہدوں پر کام کرتے رہے ہیں، جب کہ ان کی بیوی جو کہ جرمن نژاد ہے عرصہ دراز سے بطور انچارج جرمن ڈیسک ریجن ناردرائین ، انچارج ہومیو پیتھک ڈسپنسری کولون کے فرائض انجام دیتی رہی ہیں۔
اس مناظرہ کے اثرات دور دور تک پہنچ گئے ہیں اور اس کے ثمرات بھی مسلمانوں کو بحمدہ تعالیٰ ملنا شروع ہو گئے ہیں۔ چنانچہ ۱۳؍ اکتوبر کے مسرت آمیز واقعہ کے بعد ۲۸؍ اکتوبر ۲۰۰۰ء جرمنی کے مسلمانوں کو ایک اور خوشخبری ملی ، کولون سے ڈیڑھ سو کلو میٹر دور بورکن شہر میں محمد اکرم ولد نصر اللہ خان جو پیدائشی قادیانی تھے وہ قادیانیت کو چھوڑ کر مسلمان ہو گئے۔ انہوں نے اپنے مسلمان ہونے کے موقع پر ایک حلفیہ بیان دیا وہ یہ ہے:
”میں مسمی محمد اکرم ولد نصر اللہ خان ساکن شادیوال۔ گجرات، حال مقیم بورکن جرمنی مندرجہ ذیل گواہان کے سامنے حلفیہ بیان دیتا ہوں کہ میں قادیانی جماعت سے تعلق رکھتا تھا، میری اس قادیانی مذہب کے بارے میں اکثر جناب طارق صدیق صاحب کی زیر نگرانی جناب حاجی بشیر احمد اعوان صاحب گفتگو ہوتی رہی تھی۔ ان حضرات نے قادیانی مذہب کی اپنی کتابوں میں جن کا لکھنے والا مرزا غلام احمد قادیانی ہے کے حوالہ جات دیئے ، میں نے ان کو بغور پڑھا، سنا اور بڑے غور وخوض کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ قادیانیت جھوٹا مذہب ہے، میں اس جھوٹے مذہب کو خیر باد کہتا ہوں اور اللہ تعالیٰ کے سچے نبی خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ کو خاتم الانبیاء تسلیم کرتا ہوں اور ان کے بعد کسی جھوٹی نبوت کے دعویدار پر ایمان نہیں رکھتا، مستقبل میں میرا قادیانی جماعت سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں رہے گا اللہ تعالیٰ کے حضور ماضی میں قادیانی مذہب میں رہنے کی توبہ کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے دین اسلام پر قائم رکھے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور قادیانی مذہب میں شامل ہر ایک کو اس جھوٹے مذہب سے تائب ہو کر قبول اسلام کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین !“
گواہان: طارق صدیق العبد: حاجی بشیر اعوان محمد اکرم ولد نصر اللہ خان
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عمر فاروق، غضنفر علی بورکن جرمنی عارف حسین، بشیر احمد بتاریخ: ۲۸؍اکتوبر ۲۰۰۰ء
اس واقعہ کے بعد مسلمانوں کی ہمت مزید بڑھ گئی اب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جرمنی کے تحت ختم نبوت کمیٹی ہر ۱۵ دن بعد اپنا اجلاس منعقد کرتی ہے جس میں خصوصیت کے ساتھ مولانا قاری مشتاق الرحمٰن خطیب جامع مسجد آفن باغ و امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جرمنی شرکت فرماتے ہیں۔ رمضان المبارک میں مسجد نور میں ان حضرات نے دیگر مسلمانوں کے ساتھ تراویح پڑھیں، روزے رکھے عید الفطر کے موقع پر مسلمانوں کا جوش وخروش دیدنی تھا۔ ۳۱؍دسمبر ۲۰۰۰ء کو عید ملن پارٹی ہوئی جس میں محمد مالک، افتخار احمد، مشتاق احمد بٹ اور دیگر احباب جمع ہوئے، حضرت قاری صاحب کا مفصل خطاب ہوا۔ اسی طرح مین ہائم جرمنی میں پہلی مرتبہ رمضان میں قرآن مجید سنانے کا نظم ہوا، جناب مولانا حافظ محمد احمد نے قرآن مجید سنایا اور وہاں بھی عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت پر بیانات ہوئے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۶ تا ۲۲؍فروری ۲۰۰۱ء ص ۲۵،۲۴)
آٹھ قادیانیوں کا قبول اسلام
کوٹ سبزل ضلع رحیم یار خان میں رانا محمد شہباز اور ان کی اہلیہ فضیلت بی بی بمعہ دو بچوں کے اور رانا محمد اشفاق ان کی اہلیہ رفعت بی بی بمعہ دو بچوں کے کل آٹھ افراد نے قادیانیت پر لعنت بھیج کر اسلام قبول کر لیا ہے۔ جناب ماسٹر محمد شوکت صاحب، جمعیت طلباء اسلام کے سیکرٹری نشر واشاعت شاہد ندیم، جامع مسجد کوٹ سبزل کے امام مولانا حافظ بلال احمد مدرسہ عربیہ کوٹ سبزل کے مہتمم مولانا نیاز احمد اور ختم نبوت رحیم یار خان کے مبلغ حضرت مولانا احمد بخش مدظلہ نے ان کے قبول اسلام پر مسرت کا اظہار کیا اور ان کو مبارک باد پیش کی۔ اس موقع پر قادیانیت ترک کرنے والے حضرات نے دعوت کا اہتمام کیا اور علاقہ کے مسلمانوں کے سامنے مرزا غلام احمد قادیانی کے کفر کا اعلان کر کے اسلام قبول کر لیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۰۰ء ص ۳۴)
احمد آباد انڈیا کے قادیانی کا قبول اسلام
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اوجھل جنوبی احمد باد کے امیر حکیم قاضی منیر احمد کے ساتھ قادیانی مربی مظہر اقبال کی حیات مسیح پر بحث ہوئی۔ جناب حکیم صاحب نے قادیانی مربی مظہر اقبال کے سوالوں کے تسلی بخش جوابات دیئے اور مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابوں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ تشریف آوری کے حوالہ جات پیش کئے۔ انہوں نے اپنے دلائل میں کہا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے براہین احمدیہ میں لکھا ہے کہ جس غلبہ کامل دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے۔ وہ مسیح کے ذریعے ظہور میں آئے گا۔ مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے ان کے ہاتھ سے اسلام جمیع آفاق واطراف میں پھیل جائے گا۔ جب یہ ثبوت دکھائے تو مربی مظہر اقبال نے مجمع عام میں اعلان کر دیا کہ واقعۃً مرزا غلام احمد قادیانی جھوٹا دجال اور مکار تھا میں اقرار کرتا ہوں کہ حضورﷺ آخری نبی ہیں۔ ان کے بعد جو بھی دعویٰ نبوت کرے وہ جھوٹا ہے۔ دعاء ہے اللہ رب العزت مظہر اقبال کو دین پر استقامت نصیب فرمائے۔ آمین !
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۰۰ء ص ۱۹)
قادیانیت سے توبہ اور قبول اسلام
میں مسماۃ : آمنہ، ولدیت: محمد قدیر، ۳۲۸۵ این بلاک ۱ میٹروول، ساکن: بلیز پیراڈائز ۶۲۵ آئی آئی ڈی گلستان جوہر، بدست: مولانا نذیر احمد تونسوی صاحب، بتاریخ: ۴؍اکتوبر ۲۰۰۰ء۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جانتے ہوئے مندرجہ ذیل گواہان کے روبرو بقائمی ہوش وحواس، بغیر کسی دباؤ لالچ، جبر واکراہ کے اپنی رضا ورغبت اور پوری آزادی کے ساتھ حلفیہ بیان دیتے ہوئے کھلا اعلان کرتی ہوں کہ میں اپنے سابقہ مذہب قادیانیت سے توبہ کر کے اسلام قبول کرتی ہوں اور میں قبولِ اسلام کے ساتھ اس بات کی حلفیہ شہادت دیتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے وہ اپنی ذات اور صفات میں وحدہ لا شریک لہ ہے اور وہی معبود برحق ہے اور حضرت محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں اور ان کے بعد تا قیامت کسی کو تشریعی، غیر تشریعی اور ظلی بروزی کسی قسم کی نبوت نہیں ملے گی۔ میں عقیدہ ختم نبوت پر مکمل ایمان اور یقین صادق کے ساتھ یہ اعلان کرتی ہوں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد جو شخص عقیدہ ختم نبوت کا انکار یا دعویٰ نبوت کرے خواہ بلا واسطہ ہو یا بالواسطہ یا تاویل کے ساتھ ایسا شخص ، زندیق، کافر، مرتد خارج از اسلام ہے۔
میں قادیانیت سے برأت کے بعد اس عقیدے کا اظہار کرنا ضروری اور اپنے ایمان کا اہم جزو سمجھتی ہوں کہ مرزا غلام احمد قادیانی ، ملعون، کذاب، دجال، کافر ، مرتد اور زندیق تھا اور وہ اپنے دعوائے مجددیت، مہدویت ، مسیحیت، نبوت ورسالت میں سراسر جھوٹا تھا اور اس کو ماننے والے خواہ لاہوری ہوں یا قادیانی، جو خود کو احمدی کہتے ہیں کافر ، زندیق، مرتد اور خارج از اسلام ہیں۔ آج کے بعد میرا مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے ماننے والوں سے قطعاً کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ رہے گا اور یہ بات بھی میرے ایمان کا حصہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے قریب آسمان سے نازل ہوں گے اور آنحضرت ﷺ کی شریعت کے مطابق امت محمدیہ کی رہنمائی فرمائیں گے۔ لہٰذا مرزا غلام احمد قادیانی اپنے دعوائے مسیحیت میں بالکل جھوٹا تھا۔ آخر میں پھر اس بات کی وضاحت ضروری سمجھتی ہوں کہ میں اپنی مرضی اور رغبت سے اور مکمل ہوشمندی کے ساتھ بغیر کسی جبر واکراہ لالچ اور دباؤ کے آج اس حلفیہ اقرار نامہ پر دستخط کر کے قادیانیت سے مکمل برأت کا اعلان کرتی ہوں۔ اللہ تعالیٰ مجھے دین اسلام پر استقامت نصیب فرمائے۔ آمین! دستخط: نو مسلم اور گواہان
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۲۰ تا ۲۶؍اکتوبر ۲۰۰۰ء ص ۲۶)
گولارچی میں نیک بخت نومسلم محمد اکرم کا قبول اسلام
گولارچی گزشتہ روز عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گولارچی کے رکن ملک حاجی لطف خان اعوان، حاجی یار محمد اعوان کی بھر پور کوشش سے اور شہری اتحاد گولارچی کے صدر ملک اختر علی اعوان، جنرل سیکرٹری عبدالغفور میمن اور دیگر عہدیداروں کی کاوش سے گولارچی شہر کے مشہور ٹریکٹر مستری محمد اکرم قادیانی نے اسلام قبول کر لیا۔ انہوں نے گولارچی کے قاری خلیق اللہ کے سامنے اسلام قبول کیا اور اس موقع پر سینکڑوں افراد کے سامنے اقرار کرتے ہوئے کہا کہ: ”حضرت محمد ﷺ آخری نبی ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آئے گا اور میں اس بات کا بھی اقرار کرتا ہوں کہ آپ ﷺ کے بعد جو نبوت کا دعویٰ کرے وہ کافر اور مرتد ہے۔ بنابریں میں مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے ماننے والوں کو کافر مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔“
محمد اکرم نے کہا کہ آج کے بعد میرا قادیانیت سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہوگا، میں اس سے قبل مرزا غلام احمد قادیانی کو مجدد مانتا تھا مگر میرے دوست ملک حاجی لطف خان اعوان اور دیگر دوستوں کے دلائل سننے کے بعد یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ وہ جھوٹا اور کذاب ہے اور اس کو مسلمان سمجھنا بھی کفر ہے۔ لہٰذا میں مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے ماننے والوں کو کافر اور مرتد سمجھتے ہوئے ان سے ہر قسم کی برأت کا اظہار و اعلان کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ مجھے اسلام پر استقامت نصیب فرمائے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اس موقع پر حاجی ولی محمد آرائیں، مولانا عبدالخبیر ہزاروی، ملک حاجی لطف خان اعوان، ملک حاجی یار محمد اعوان، ملک اختر علی، حاجی عبدالغفور میمن، عبدالرشید، غلام مصطفیٰ میمن، ناظم اعلیٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گولارچی حکیم محمد سعید انجم راجپوت سمیت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی جانب سے نو مسلم محمد اکرم جٹ کو مکمل تعاون کا یقین دلایا گیا اور نو مسلم کو مبارکباد پیش کی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۷؍ اکتوبر تا ۲؍ نومبر ۲۰۰۰ء ص ۲۴)
جرمنی کے شہر کولن میں مناظرہ کی تفصیلات و ثمرات کے دستاویزی ثبوت
الحمدللہ ! عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے پلیٹ فارم سے خادمان اسلام و مبلغین ختم نبوت کی مساعی جمیلہ اندرون و بیرون ملک کو اللہ رب العزت نے اپنے فضل و احسان سے شرف قبولیت سے سرفراز فرمایا۔ جرمنی کے شہر کولن میں ۱۵؍ اگست ۲۰۰۰ء کو ایک مناظرہ ہوا۔ اس کی تفصیلات ذیل میں ملاحظہ فرمائیں۔
(کولن) جرمنی مؤرخہ ۲۵؍ اگست ۲۰۰۰ء بروز منگل ساڑھے بارہ تا تین بجے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما حضرت مولانا منظور احمد الحسینی اور کولن کے قادیانی مربی ڈاکٹر جلال شمس شاہد (پی۔ایچ۔ڈی) کے درمیان مناظرہ ہوا۔ اس مناظرہ میں قادیانی مربی کے علاوہ امیر مرزائی جماعت کولن ڈاکٹر بشارت احمد، منیر احمد طور قادیانی، حبیب اللہ خان قادیانی اور اعجاز احمد قادیانی ۔ جب کہ مسلمانوں کی طرف سے مناظر اسلام حضرت مولانا منظور احمد الحسینی کے علاوہ ان کے معاون خصوصی حضرت مولانا قاری مشتاق الرحمٰن خطیب جامع مسجد توحید آفن باغ، جناب مشتاق احمد بٹ، جناب افضال محمود رانجھا، جناب خاور، جناب ناصر کیانی اور جناب اللہ دتہ موجود تھے۔
مناظرہ شروع ہونے پہلے جناب محمد مالک ولد جناب لال خان مالک مکان (۳۶ ننگر ہٹ ویگ فریشین کولن) جہاں مناظرہ ہو رہا تھا۔ انہوں نے حاضرین سے مخاطب ہو کر کہا کہ آج سے دو سال پہلے میں قادیانی ہوا تھا اور مجھے قادیانیوں نے بتایا تھا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے صرف مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ مگر کچھ دنوں پہلے مجھے معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی نے نبی، رسول اور خدا ہونے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ لہٰذا میں نے یہ مجلس اسی لئے منعقد کرائی ہے تا کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔ میں مسلمان کے نمائندے حضرت مولانا منظور احمد الحسینی سے درخواست کروں گا کہ وہ قادیانی کتب کے حوالے سے بتلائیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے یہ دعاوی ہیں یا نہیں۔ چنانچہ مولانا موصوف نے تمام حاضرین کے سامنے بالتفصیل قادیانی کتب سے یہ ثابت کیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے ۲۰۰ سے زائد دعاوی ہیں۔ جن میں ایک دعویٰ نبوت و رسالت کا ہے۔ دوسرا دعویٰ اس نے یہ کیا کہ نعوذ باللہ! قادیانی خود محمد رسول اللہ بن گیا ہے اور تیسرا دعویٰ اس نے خدا ہونے کا کیا ہے اور انہوں نے ان دعاوی کو مرزا غلام احمد قادیانی کی روحانی خزائن وغیرہ کتابوں سے جو ساری ان کے پاس اس وقت موجود تھیں سے ثابت کیا۔ علم و دلائل کی روشنی میں قادیانی مربی اور ان کے رفقاء لاجواب اور مبہوت ہوئے۔ چنانچہ ان تمام حوالہ جات کو سن کر جناب محمد مالک کھڑے ہوئے اور مرزائیوں کو مخاطب کر کے کہا کہ : ’’مجھے تم نے دو سال تک دھوکہ دیا۔ آج تمہاری کتابوں سے ثابت کر دیا گیا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے مذکورہ دعاوی کئے تھے۔ آج مجھ پر یہ حقیقت حال واضح ہو گئی ہے۔ لہٰذا میں سب حاضرین کے سامنے اعلان کرتا ہوں کہ میرا آج سے قادیانی مذہب سے تعلق ختم ہے۔ یہ جھوٹا مذہب چھوڑ کر میں توبہ کر کے اسلام میں داخل ہوتا ہوں۔‘‘
یہ منظر قابل دید تھا اس وقت مرزائیوں کے چہروں پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ گردنیں جھکیں ہوئی تھیں۔ جب کہ مسلمانوں کے چہرے خوشی سے تمتما رہے تھے۔ اس مناظرے کی کامیابی کا سہرا جناب مشتاق احمد بٹ، جناب افضال محمود و دیگر کولن کے مسلمانوں کے سر پر
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہے اور یہ جرمنی کے مسلمانوں کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ جناب محمد مالک کو ہر طرف سے مبارک باد کے پیغام مل رہے ہیں۔ خصوصیت کے ساتھ پاکستان میں اس کے رشتہ دار بہت خوش ہوئے۔ اس مناظرے کے اثرات وسیع اور دیر پا ہوں گے اور بہت سے راہ گم گشتہ لوگوں کو ہدایت ملے گی۔ ان شاء اللہ!
اس مناظرے کے نتیجہ میں ایک خاندان قادیانیت سے تائب ہو کر مسلمان ہوا۔ ذیل میں ان خاندان کے سات افراد کے مسلمان ہونے کی دستاویز کا عکس ملاحظہ کریں:
(۱)
جرمنی کولن میں چھ قادیانیوں کا قبول اسلام:
محمد مالک کا توبہ نامہ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
منکہ : محمد مالک ولد لال خان ، آج بروز منگل مورخہ ۱۵؍اگست ۲۰۰۰ء کولن (فیشن) جرمنی۔ مولانا مشتاق الرحمن امام جامع مسجد توحید اور دیگر گواہان کی موجودگی میں اپنی رضا و رغبت سے اپنی فیملی کے ساتھ مولانا منظور احمد الحسینی کے ہاتھ پر مسلمان ہو گیا ہوں۔ میں مرزا قادیانی اور اس کے متبعین کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔ یہ تحریر لکھ دی ہے تا کہ بوقت ضرورت کام آئے۔
محمد مالک، زرینہ مالک، مدثر مالک، زاہدہ مالک، سلیمہ مالک، روبینہ مالک۔
گواہان: مشتاق الرحمن امام مسجد توحید آ فین باغ، افضال محمود، مشتاق احمد بٹ، مولانا منظور احمد الحسینی۔
محمد مالک کا توبہ نامہ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
منکہ محمد مالک ولد لال خان آج مورخہ منگل ۱۵ اگست ۲۰۰۰ کولن (فیشن) جرمنی مولانا قاری مشتاق الرحمٰن امام جامع مسجد توحید اور دیگر گواہان کی موجودگی میں اپنی رضا و رغبت سے اپنی فیملی کیساتھ مولانا منظور احمد الحسینی کے ہاتھ پر مسلمان ہوگیا ہوں میں مرزا قادیانی اور اُس کے متبعین کو کافر اور دائرہ سے خارج سمجھتا ہوں ۔ یہ تحریر لکھ دی ہے تاکہ بوقت ضرورت کام آئے ۔
محمد مالک زرینہ مالک مدثر مالک زاہدہ مالک سلیمہ مالک
روبینہ مالک
گواہ شد افضال محمود
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اس پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بلجیم نے ایک اشتہار شائع کیا۔ اس کا عکس ملاحظہ فرمائیں:
(۲)
اشتہار عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بلجیم، یورپ کی فضاؤں میں فتح اسلام کا دلکش نظارہ:
مناظرہ کولن
۱۵ اگست ۲۰۰۲ء بروز منگل، آغاز ساڑھے بارہ بجے، اختتام تین بجے۔
جرمنی میں مرزائیوں کے منہ پر اپنوں کا زبردست طمانچہ! محمد مالک اور فیملی کا اعلان اسلام
مسلمانوں کی طرف سے مناظر
- (۱) مولانا منظور احمد الحسینی امیر یورپ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
- (۲) مولانا مشتاق الرحمٰن خطیب مسجد توحید
قادیانیوں کی طرف سے مناظر
- (۱) قادیانیوں کے امام مرزا طاہر احمد کا تربیت یافتہ مربی خاص ڈاکٹر جلال شمس
- (۲) امیر جماعت کولن سید بشارت احمد
اس مناظرہ میں مسلمانوں کو بحمد اللہ! شاندار کامیابی کے ساتھ رفعت اور عزت ملی ادھر قادیانیوں کے مربی خاص ڈاکٹر جلال شمس کو اپنے خاص رفقاء کے سامنے لاجواب ہونے پر ایسی ذلت کا سامنا کرنا پڑا کہ دیکھنے کا عبرتناک منظر تھا کہ لفظوں میں سمویا نہیں جاسکتا، مزید برآں شکست کا آخری منظر مسلمانوں کے لئے فرحت، مسرت، رفعت آمیز تھا۔ جب کہ قادیانیوں کے لئے اور ندامت آمیز اور ندامت خیز تھا۔ اس وقت محمد مالک جس کو دو برس قبل دھوکہ سے ارتداد کی زنجیر میں جکڑا گیا۔ بالآخر اس نے اپنی تسلی کے لئے مناظرہ کا انتظام کیا۔ اڑھائی گھنٹے گفتگو سننے کے بعد محمد مالک نے کھڑے ہوکر مربی خاص کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کے مناظر نے غلام احمد قادیانی کی کتب سے مرزا کے مسیح، مہدی، نبی، رسول، خدا ہونے کا دعویٰ دکھایا۔ جس کا آپ سے کوئی جواب نہ بن پڑا۔ لہٰذا ایسا مذہب جس میں مرزا مہدی بھی ہو، مسیح بھی ہو، نبی بھی ہو، رسول بھی ہو اور خدا بھی۔ یہ تمہیں نصیب ہو۔ میں اس سے برأت کا اعلان کرتا ہوں اور ایسے عقیدہ رکھنے والے کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں اور لعنت بھیجتا ہوں۔ میں حاضرین کو گواہ بنا کر محمد عربی ﷺ کا کلمہ پڑھ کر چھ افراد کی فیملی سمیت مسلمان ہونے کا اعلان کرتا ہوں۔ بعدازاں دوسری فیملی مسلمان ہوئی۔ علاوہ ازیں فیمیلیاں متوقع ہیں۔
یہ بالخصوص جرمنی کے مسلمانوں کے لئے بہت بڑی فتح ہے اور قادیانیوں کے منہ پر ایسا طمانچہ ہے کہ جس کے بعد رتی بھر حیا والا گھر بیٹھا رہے یا کم از کم گردن جھکا کر چلے یا پھر توبہ تائب ہوکر عزت والوں کا دامن تھام لے۔ کیونکہ ’وَلِلّٰهِ العِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ‘ ترجمہ: ﴿اللہ ہی کے لئے عزت ہے اور اس کے رسول اور ایمان والوں کے لئے۔﴾
شرکاء مسلم: محمد مشتاق احمد بٹ، افضال محمود رانجھا، خاور، ناصر کیانی اور ملا اللہ دتہ۔
شرکاء قادیانی: ڈاکٹر جلال الدین شمس، ڈاکٹر بشارت احمد، منیر احمد، حبیب احمد اور صوفی اعجاز۔
جاری کردہ: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بلجیم
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ۲۸۶ ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
یورپ کی فضاؤں میں فتح اسلام کا دلکش نظارہ ۱۵۔ اگست بروز منگل مناظرہ کولن آغاز ۱۲:۳۰ اختتام ۳ بجے جرمنی میں مرزائیوں کے منہ پر اپنوں کا زبردست طمانچہ محمد مالک اور فیملی کا اعلان اسلام
مسلمانوں کی طرف سے مناظر قادیانیوں کی طرف سے مناظر (۱) مولانا منظور احمد الحسینی (۱) قادیانیوں کے امام مرزا طاہر احمد کا تربیت یافتہ مربی خاص جناب امیر یورپ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوۃ ڈاکٹر جلال شمس (۲) مولانا مشتاق الرحمٰن (۲) امیر جماعت کولن سید بشارت احمد خطیب مسجد توحید جرمنی
اس مناظرہ میں مسلمانوں کو بحمد اللہ شاندار کامیابی کے ساتھ رفعت اور عزت ملی ادھر قادیانیوں کے مربی خاص ڈاکٹر جلال شمس کو اپنے خاص رفقاء کے سامنے لاجواب ہونے پر ایسی ذلت کا سامنا کرنا پڑا کہ دیکھنے کا عبرتناک منظر تھا کہ لفظوں میں سمویا نہیں جاسکتا۔ مزید براں شکست کا آخری منظر مسلمانوں کیلئے فرحت، مسرت، رفعت آمیز تھا جبکہ قادیانیوں کیلئے ذلت آمیز اور ندامت خیز تھا۔ جسوقت محمد مالک جسکو دو برس قبل دھوکہ سے ارتداد کی زنجیر میں جکڑا گیا بالآخر اس نے اپنی تسلی کے لیئے مناظرہ کا انتظام کیا۔ ڈھائی گھنٹے گفتگو سننے کے بعد محمد مالک نے کھڑے ہو کر مربی خاص کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کے مناظر نے غلام احمد قادیانی کی کتب سے مرزا کے مسیح، مہدی، نبی، رسول، خدا ہونے کا دعویٰ دکھایا۔ جسکا آپ سے کوئی جواب نہ بن پڑا لہذا ایسا مذہب جسمیں مرزا مہدی بھی ہو مسیح بھی ہو نبی بھی ہو رسول بھی ہو اور خدا بھی یہ تمہیں نصیب ہو میں اس سے براءت کا اعلان کرتا ہوں اور ایسے عقیدہ رکھنے والے کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں اور لعنت بھیجتا ہوں۔ میں حاضرین کو گواہ بنا کر محمد عربی ﷺ کا کلمہ پڑھ کر چھ افراد کی فیملی سمیت مسلمان ہونے کا اعلان کرتا ہوں۔ بعد ازاں دوسری فیملی مسلمان ہوئی علاوہ ازیں بیسیوں متوقع ہیں۔
یہ بالخصوص جرمنی کے مسلمانوں کیلئے بہت بڑی فتح ہے اور قادیانیوں کے منہ پر ایسا زور دار طمانچہ ہے کہ جس کے بعد رتی بھر حیا والا گھر بیٹھا رہے۔ یا کم از کم گردن جھکا کر چلے یا پھر توبہ تائب ہو کر عزت والوں کا دامن تھام لے کیونکہ وللہ العزۃ ولرسولہ وللمؤمنین شرکاء مسلم : محترم مشتاق احمد، افضال محمود، انجم، خاور، ناصر، کیانی اور ثناء اللہ دتہ، ترجمہ : ساری عزت اللہ اور اسکے رسول اور شرکاء قادیانی : ڈاکٹر جلال شمس، ڈاکٹر بشارت احمد، منیر احمد طور، حبیب احمد اور صوفی اعجاز ایمان والوں کی ہے۔
منجانب: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بیلجیم Khatme nubuwwat Center Oranje Straat Tel. 00-32-03-23 43 095 92 Antwerpen 02 - 512 52 78 2060 BBL-310-1293141-23 BELGIUM CITIBANK-953-024390112
روزنامہ جنگ لندن میں اس کی یہ خبر شائع ہوئی ملاحظہ فرمائیں: (۳)
جماعت احمدیہ اور مسلمان علماء کا مناظرہ، ایک قادیانی خاندان مشرف بہ اسلام ہوگیا:
کولون (نمائندہ جنگ) جرمنی کے شہر کولون میں ۱۵/ اگست کو جماعت احمدیہ اور مسلمانوں کی طرف سے ایک مناظرہ منعقد ہوا جس میں مسلمانوں کی طرف سے امیر یورپ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مولانا منظور احمد الحسینی اور مولانا مشتاق الرحمٰن نے شرکت کی۔ جب کہ قادیانیوں کی طرف سے مربی خاص ڈاکٹر جلال شمس اور سید بشارت احمد شریک ہوئے۔ مسجد توحید کے راشد محمود غوری کے مطابق یہ مناظرہ دوپہر ساڑھے بارہ بجے سے تین بجے تک جاری رہا اور اس کے اختتام پر وہاں موجود ایک قادیانی گھرانہ محمد مالک مشرف بہ اسلام ہو گیا۔ تقریب کے آرگنائزر سید شکیل احمد، شاہد لقمان اور محمد افضل تھے۔ آفن باغ جرمنی سے مسجد توحید و دیگر مساجد کے ارکان اور مسلمانوں نے کولون میں قادیانیوں کی شکست پر امیر یورپ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مولانا منظور احمد الحسینی اور خطیب مسجد توحید مولانا مشتاق الرحمٰن کو مبارک باد دی اور جب کہ راشد محمود غوری، محمد افضل، قاضی وحید، ارشد بٹ، غلام شبیر بٹ، طفیل بٹ، حاجی عبدالستار فضلی، فیض الرحمٰن، مشتاق احمد، بلال خان، ریاض خان، محمد افضال، گوہر بشیر اور چوہدری اعجاز نے علمائے اسلام کے اس اقدام کا خیر مقدم کیا۔
(روزنامہ جنگ لندن، مورخہ ۲۱/ اگست ۲۰۰۰ء)
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اخبار ”نیشن“ میں ذیل کی خبر شائع ہوئی:
(۴)
جرمنی میں مناظرے کے بعد قادیانی خاندان مسلمان ہو گیا :
قادیانی مذہب جھوٹا ، محمد مالک کا مجلس ختم نبوت اور قادیانی رہنماؤں کے سامنے اعلان
کولن (پ. ر) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما یورپ کے امیر مولانا منظور احمد الحسینی اور قادیانی کولن کے مربی ڈاکٹر جلال شمس شاہد کے درمیان مناظرہ ہوا۔ اس مناظرہ میں قادیانی مربی کے علاوہ امیر مرزائی جماعت کولن ڈاکٹر بشارت احمد، منیر احمد قادیانی، حبیب احمد خان قادیانی اور اعجاز احمد قادیانی ۔ جب کہ مسلمانوں کی طرف سے مناظر اسلام مولانا منظور احمد الحسینی کے علاوہ ان کے معاون خصوصی قاری مشتاق الرحمن خطیب جامع مسجد توحید آفن باغ، مشتاق احمد بٹ ، افضال محمود رانجھا ، خاور ، ناصر کیانی اور اللہ دتہ تھے ۔
مناظرہ شروع ہونے سے پہلے محمد مالک ولد لال خان ۳۶ ہنگر ہٹ ویک فیشن کولن نے سب حاضرین سے مخاطب ہو کر کہا کہ آج سے دو سال پہلے میں قادیانی ہوا تھا اور مجھے قادیانیوں نے بتلایا تھا کہ مرزا قادیانی نے صرف مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ مگر کچھ دنوں پہلے مجھے یہ معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی نے رسول خدا اور خدا ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ لہٰذا میں نے یہ مجلس اس لئے منعقد کرائی ہے تا کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔ میں مسلمانوں کے نمائندے مولانا منظور احمد الحسینی سے درخواست کروں گا کہ وہ قادیانی کتب کے حوالے سے بتلائیں کہ مرزا قادیانی کے یہ دعوے ہیں یا نہیں ۔ چنانچہ مولانا نے تمام حاضرین کے سامنے بالتفصیل قادیانی کتب کے حوالے سے یہ ثابت کیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے دوسو سے زائد دعوے ہیں۔ جن میں سے ایک دعویٰ نبوت اور رسالت کا ہے۔ دوسرا دعویٰ اس نے یہ کیا ہے کہ نعوذ باللہ! قادیانی خود محمد رسول اللہ بن گیا ہے اور تیسرا دعویٰ اس نے خدا ہونے کا کیا ہے۔ انہوں نے ان کے دعوؤں کو مرزا قادیانی کی روحانی خزائن کتابوں سے ثابت کر دیا۔ علم اور دلائل کی روشنی میں قادیانی مربی اور ان کے رفقاء لاجواب اور مبہوت ہو گئے ۔ اس موقع پر محمد مالک نے کہا کہ مجھے تم نے دو سال تک دھوکہ دیا۔ آج تمہاری کتابوں سے ثابت کر دیا گیا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے یہ مذکورہ دعوے کئے تھے۔ آج مجھ پر حقیقت حال واضح ہو گئی ہے۔ لہٰذا میں سب حاضرین کے سامنے اعلان کرتا ہوں کہ میرا آج سے قادیانیوں کے ساتھ تعلق ختم ہے۔ یہ جھوٹا مذہب ہے۔ توبہ کرتا ہوں اسلام میں داخل ہوتا ہوں۔ اس مناظرے کی کامیابی کا سہرا جناب مشتاق احمد بٹ، فضل احمد، افضال محمود اور کولن کے مسلمانوں پر ہے۔
مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں کو مبارک باد : برمنگھم (پ. ر) جمعیت علماء برطانیہ کے امیر ڈاکٹر اختر الزمان غوری، سیکرٹری جنرل قاری تصور الحق ، مولانا ضیاء الحسن طیب سیکرٹری اطلاعات ، مولانا محمد قاسم، ڈاکٹر محفوظ الرحمان، مولانا محمد سلیم شاہ گیلانی ، مولوی لیاقت علی ڈڈیالوی ، مولانا ارشد محمود، قاری حق نواز حقانی، حاجی محبت علی نے اپنے مشترکہ بیان میں جرمنی میں قادیانیوں سے مناظرہ میں کامیاب ہونے پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنماؤں مولانا منظور احمد الحسینی ، مولانا مشتاق الرحمن اور دیگر رہنماؤں کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی خدمات کو سراہا۔ جمعیت کے رہنماؤں نے اس مناظرہ کی بدولت قادیانیت سے تائب ہو کر دائرہ اسلام میں داخل ہونے والے خاندان کا بھی زبردست خیر مقدم کیا ہے۔
۲۹ اگست اسلام آباد روزنامہ ”اوصاف“ اور ۳۱ اگست روزنامہ ”نوائے وقت“ ملتان میں یہ خبر شائع ہوئی۔ طوالت سے بچنے کے لئے ان کو شائع نہیں کر رہے ۔ البتہ روزنامہ ”اوصاف“ اسلام آباد نے ذیل کا اداریہ تحریر کیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جرمنی میں قادیانیوں کی شکست: جرمنی کے شہر کولون میں پھولوں کا کاروبار کرنے والے نومسلم محمد مالک کو دھوکے سے قادیانی بنانے کا معاملہ طشت از بام ہونے پر جماعت احمدیہ کے ذمہ داروں نے دعویٰ کر دیا کہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کو قرآن وحدیث سے ثابت کریں گے۔ اس پر جرمنی میں قادیانیت کے مربی ڈاکٹر جلال شمس کا مسلمان علماء مولانا منظور احمد الحسینی، مولانا مشتاق الرحمن کے ساتھ چار گھنٹے پر محیط مناظرہ ہوا۔ جس میں قادیانی اپنے مؤقف کی سچائی ثابت نہ کر سکے۔ لہٰذا محمد مالک نے قادیانیت کو ترک کر کے دوبارہ اسلام قبول کر لیا۔
واضح رہے کہ قادیانیوں نے محمد مالک کو یہ کہہ کر دھوکہ دیا تھا کہ وہ مرزا قادیانی کو نبی نہیں بلکہ امام مہدی مانتے ہیں لیکن بعد ازاں جب اسے اصل حقیقت معلوم ہوئی تو قادیانیوں نے کہا کہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کو قرآن وحدیث سے ثابت کریں گے۔
جھوٹ، فریب اور دھوکہ دہی کے ذریعے مالی اور دنیاوی منفعت حاصل کرنے کے واقعات تو ہم آئے روز سنتے ہی رہتے ہیں لیکن جھوٹ اور دھوکہ دہی کے ذریعہ عقیدے تبدیل کروانے کا شرمناک دھندا صرف اور صرف قادیانیوں سے مخصوص ہے۔ جب کہ دنیا کا کوئی بھی سچا مذہب اور عقیدہ اپنے ایمانیاتی اور اخلاقیاتی ڈھانچے کی بنیاد جھوٹ، فریب اور دھوکہ پر نہیں رکھتا۔ یہ حقیقت بے نقاب ہونے سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ قادیانیت کو کسی بھی طرح سے اعلیٰ وارفع ایمانی و اخلاقی اصولوں پر مبنی عقیدہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ کیونکہ جھوٹ اور دھوکہ دہی پر مبنی قادیانی فتنہ کسی بھی اعتبار سے عقیدے کی تعریف پر پورا ہی نہیں اترتا۔ جب کہ اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ انگریز نے برصغیر میں تحریک آزادی کا راستہ روکنے اور مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے کے لئے اس فتنے کا بیج بویا تھا اور آج بھی اس فتنے کی سرپرستی اور پشت پناہی کرنے والی طاقتیں مسلمانوں کو تقسیم کرنے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں، تاکہ وہ اعلیٰ ترین ایمانیاتی اور اخلاقیاتی ضابطہ حیات کے حامل اس حقیقی اسلام کی روح سے استفادہ کرنے کے قابل نہ ہوسکیں، جو اپنی متحرک اور فعال فطرت کے اعتبار سے تمام مذاہب کے مقابلے میں سب سے زیادہ ترقی پسندانہ اور روشن خیال ہے اور جو نظام زر کو شرف انسانی کی توہین قرار دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کل برطانیہ قادیانی فتنے کی سرپرستی کر رہا تھا، تو آج نظام زر کا سب سے بڑا محافظ امریکہ اس فتنے کو اپنے غیر انسانی نظام کی بقاء کے لئے استعمال کر رہا ہے۔ اس لئے نظام زر اور فتنہ قادیانیت کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور یہ دونوں اپنے مشترکہ اہداف کو حاصل کرنے کے لئے جھوٹ، فریب اور دھوکہ دہی سے کام لیتے ہیں۔ لہٰذا کسی بھی سچے الہاماتی عقیدے میں جھوٹ، فریب اور دھوکہ دہی کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہوسکتی۔ نہ نظام زر اور فتنہ قادیانیت کی کوئی جگہ۔
اندریں حالات ہم پاکستان سمیت پورے عالم اسلام کے علماء اور دانشوروں سے توقع کریں گے کہ وہ اس فتنے کو اسلام اور عالم اسلام کے خلاف بین الاقوامی سامراجی سازش کے تناظر میں دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کریں۔ علاوہ ازیں ہم کم و بیش دو سال سے اس امر کی نشان دہی کر رہے ہیں کہ بعض قادیانی دانشور تقسیم کشمیر کے سامراجی منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے سرگرم عمل ہیں۔ لہٰذا امریکی سرگرمیوں اور سازشوں پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
(۵)
ذیل میں جناب محمد مالک صاحب کا اپنا تحریر کردہ بیان جو اس نے روزنامہ ”جنگ“ لندن کے جرمنی میں نمائندہ کو بھجوایا:
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
مکرمہ ثریا شہاب صاحبہ (نمائندہ ”جنگ“ جرمنی) السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
خاکسار کا نام محمد مالک ہے۔ عرصہ دراز سے جرمنی میں مقیم ہوں۔ میری جرمن بیوی ہے۔ جس سے چار بچے ہیں۔ پھولوں کی دو دکانیں ہیں۔ یہاں ذاتی مکان ہے۔ شکر الحمدللہ ! کہ اچھی زندگی گزر بسر ہو رہی ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
میرے احمدی دوست بلکہ اب قادیانی کہنا مناسب ہوگا۔ کافی تھے۔ ان ہی سے امام مہدی کا ذکر سنا اور قادیانی ہوگیا۔ مجھے بتایا گیا کہ وہی امام مہدی ہیں کہ جس کا ذکر آنحضرت ﷺ نے کیا تھا۔ یہ ۲۶؍ دسمبر ۱۹۹۸ء کا واقعہ ہے۔ مجھ پر گھر والوں اور دوستوں، رشتہ داروں کا بہت دباؤ پڑا، مگر میں ثابت قدم رہا۔ میں نے سو مساجد سکیم کے تحت بیس ہزار مارک کا وعدہ بھی کیا۔ جس میں تقریباً ۱۶؍ ہزار کی ادائیگی کردی۔ ماہانہ چندہ بمع فیملی کے تقریباً چار سو مارک دیتا رہا۔ تقریباً ایک سال میں مجلس انصاراللہ جماعت پل ہائم کا زعیم بھی رہا۔ چند ماہ قبل ایک قادیانی دوست نے ہی مجھے بتایا کہ ہم مرزا غلام احمد قادیانی کو صرف امام مہدی ہی نہیں بلکہ نبی اور رسول بھی مانتے ہیں اور ایک جگہ یہ بھی کہتے ہیں کہ میں نے کشف میں دیکھا کہ خدا تعالیٰ میرے جسم میں داخل ہوگیا اور مجھ میں تحلیل ہوگیا اور میں نے محسوس کیا کہ اب میں ہی خدا ہوں اور اس کے بعد ساری دنیا میں نے بنائی۔ وغیرہ وغیرہ!
میں نے اسی وقت جماعت سے رابطہ کیا اور کہا کہ مجھے دھوکہ میں رکھا گیا ہے۔ مجھے بتایا گیا کہ ہم قرآن اور حدیث کی روشنی میں یہ سب کچھ ثابت کرسکتے ہیں۔ میں نے کہا کہ محترم مربی جلال شمس صاحب تشریف لائیں اور میں مسلمان علماء سے رابطہ کرتا ہوں۔ دونوں آمنے سامنے بیٹھیں جو بھی سچا ہوگا، میں مان لوں گا۔ چنانچہ وقت اور دن طے کرلیا گیا۔ جو ۱۵؍ اگست بروز منگل دن کے بارہ بجے مقرر ہوا۔ میں نے ”گھسی باغ“ کے دو پرانے دوستوں مکرم جناب مشتاق بٹ صاحب اور جناب افضال صاحب سے رابطہ کیا۔ انہوں نے آفن باغ میں مسجد توحید کے خطیب حضرت مولانا مشتاق الرحمٰن صاحب سے رابطہ کیا۔ قدرت خداوندی کہ محترم جناب حضرت مولانا منظور احمد الحسینی صاحب برطانیہ سے تشریف لائے ہوئے تھے۔ انہوں نے بھی شرکت کرنا منظور فرمایا۔ یوں خاکسار کے گھر مقررہ وقت پر حضرت مولانا منظور احمد الحسینی صاحب، حضرت مولانا مشتاق الرحمٰن صاحب، جناب مشتاق بٹ صاحب، جناب افضال صاحب چند دوست اور دوسری طرف سے امیر قادیانی جماعت ناردر ائین ڈاکٹر سید بشارت احمد شاہ، مربی سلسلہ ڈاکٹر جلال شمس صاحب، صدر جماعت پل ہائم صوفی اعجاز صاحب، سیکرٹری مال جماعت پل ہائم طور صاحب، حبیب خان صاحب شامل تھے۔
جناب مشتاق بٹ صاحب نے مربی اور امیر صاحب سے ویڈیو فلم بنانے کی اجازت چاہی تو انہوں نے بخوشی دے دی۔
ہمارے پاس ویڈیو فلم موجود ہے۔
خاکسار نے درخواست کی کہ قرآن وسنت سے مرزا غلام احمد قادیانی سچا ثابت کیا جائے۔ قادیانی جماعت کی کتابوں کا سیٹ روحانی خزائن سامنے موجود تھا۔ چار گھنٹوں کے سخت مباحثے کے بعد قادیانی جماعت جب اپنے آپ کو سچا ثابت نہ کرسکی تو میں نے وہیں کھڑے ہوکر قادیانیت سے تائب ہونے کا اعلان کردیا اور الحمدللہ! مسلمان ہوگیا۔
خاکسار کے ساتھ فیملی کے تمام ممبران جن کی تعداد آٹھ ہے، مسلمان ہوگئے۔ اس کے بعد سب کو کھانے کی دعوت دی گئی تو قادیانی جماعت کے تمام افراد بغیر کھانا کھائے تشریف لے گئے۔ سب کے منہ اترے ہوئے تھے۔ مجھے اسی شام یہ سن کر حیرت ہوئی کہ جماعت کے ان دو بڑوں نے اپنی عبادت گاہ میں جاکر یہ بات اڑائی کہ جماعت سے پیسے ٹھگنے کے لئے شامل ہوا تھا۔ جب کامیابی نہ ملی تو واپسی چلا گیا۔ اس جھوٹ سے مجھے بہت صدمہ پہنچا۔ خدا جانتا ہے کہ میں نے اپنے سب چھوڑ دیئے تھے۔ مجھے کوئی بھی اپنے ایمان سے نہیں ہلاسکتا تھا۔ میں قادیانیت چھوڑنے تک اپنی آمدنی کے ایک ایک پیسہ پر شرح کے مطابق چندہ دیتا رہا۔ جس کی رسیدیں میرے پاس موجود ہیں۔ یہ اعلان سن کر میں نے لندن میں مرزا طاہر احمد کو بھی ایک خط لکھا جس میں مناظرے کا تفصیلاً ذکر کیا اور اپنی علیحدگی کا بھی بتا دیا اور ساتھ یہ بھی بتایا کہ جب پیسوں کے لئے مجھے بے عزت کیا جارہا ہے تو میرے ادا شدہ چندوں پر آپ کا کوئی حق نہیں رہا۔ لہٰذا مجھے میری رقم
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
واپس کی جائے جو میں اسے خدا کی راہ میں استعمال کروں گا۔ جھوٹے لوگوں پر اس کا کوئی حق نہیں رہا۔ اگر اس بارے میں جھوٹ بولوں یا کوئی دوسرا بولے تو فیصلہ اوپر والے پر ہی چھوڑتا ہوں اور صرف یہی کہتا ہوں کہ : ”لعنت اللہ علی الکاذبین“ والسلام !
خاکسار: محمد مالک MOHD MALIK
(۶)
قادیانیوں نے جناب محمد مالک کو بدنام کرنے کے لئے جھوٹا پروپیگنڈا کیا۔ ذیل میں صرف دو رسیدوں کا عکس دیا جا رہا ہے جس سے معلوم ہو گا کہ جناب محمد مالک نے قادیانی جماعت سے رقم لی یا قادیانی جماعت کو چندہ دیا؟ بیسیوں رسیدوں سے صرف دو رسیدوں کا عکس ملاحظہ ہو:
AHMADIYYA MUSLIM JAMAAT DEUTSCHLAND e.V. Zentrale für Deutschland · Mörfelweg 43 · 60318 Frankfurt am Main Tel.: (069) 65 45 01 & 65 45 17 · Fax: (069) 65 43 81 D 123511 Hrn/Frau MOHD. MALIK Wassiyat No. Jamaat PULHEIM DM Pf 1. Chanda Wasiyat 2. Chanda Aam 307 - 3 Jalsa Salana 38 - 4. Tehrik-e-Jadid 5. Waqf-e-Jadid 6. Sadqa 7. 100 Mosque 500 - 8. MTA 10 - 9 Zakat 10. 11. 12. 13. 14. Chanda Majlis 15. Rema 16. 17. 18. 19 20. 21. 22 23. 24 25. 26. TOTAL 855 - TOTAL Gesamtbetrag 855 - DM dankend erhalten. Ort, Datum 14 -06 -2000 Unterschrift سید احمد تنویر Bankverbindungen: Postbank Ffm Nr. 244029-604 (BLZ 500 100 60) BHF-Bank Ffm. Nr. 17133-9-00 (BLZ 501 301 00)
AHMADIYYA MUSLIM JAMAAT DEUTSCHLAND e.V. Zentrale für Deutschland · Mörfelweg 43 · 60318 Frankfurt am Main Tel.: (069) 65 45 01 & 65 45 17 · Fax: (069) 65 43 81 D 123516 Hrn/Frau MOHD. MALIK Wassiyat No. Jamaat PULHEIM DM Pf 1. Chanda Wasiyat 2. Chanda Aam 313 - 3 Jalsa Salana 42 - 4. Tehrik-e-Jadid 5. Waqf-e-Jadid 6. Sadqa 7. 100 Mosque 500 - 8. MTA 10 - 9 Zakat 10. 11. 12. 13. 14. Chanda Majlis 15. Rema 16. 17. 18. 19 20. 21. 22 23. 24 25. 26. TOTAL 865 - TOTAL Gesamtbetrag 865 - DM dankend erhalten. Ort, Datum 8 . 7 . 2000 Unterschrift سید احمد تنویر Bankverbindungen: Postbank Ffm Nr. 244029-604 (BLZ 500 100 60) BHF-Bank Ffm. Nr. 17133-9-00 (BLZ 501 301 00)
الحمد للہ ! اس مناظرہ کے دور رس نتائج برآمد ہونے شروع ہوئے۔
(۷)
جرمنی کے افتخار احمد کے خاندان کا قبول اسلام
اس پر جرمنی مسجد توحید کی انتظامیہ نے ۳ / اکتوبر کو خبر شائع کی۔ ملاحظہ ہو:
خوشخبری ...... مناظرہ کولن کے ثمرات
۱۵ / اگست بروز منگل کولن مناظرہ میں مسلمانوں کو فتح ہوئی جس میں محمد مالک فیملی سمیت مسلمان ہوئے۔ آج بروز ۱۳ / اکتوبر حضرت مولانا مشتاق الرحمن صاحب خطیب مسجد توحید آفن باخ کے ہاتھ پر جناب افتخار احمد صاحب اور ان کی اہلیہ جن دونوں نے قادیانیوں کی مختلف یونٹوں کی سربراہی کے فرائض انجام دیئے ہیں۔ آج مولانا کے ہاتھ پر بڑی چاہت اور تڑپ سے گھر دعوت دے کر چار بچوں سمیت گواہوں کی موجودگی میں اشکبار مناظر کے ساتھ سسکیوں بھرے لہجے میں توبہ تائب ہو کر اپنے سب عہدوں کو قربان کرتے ہوئے جدی پشتی قادیانیت کا طوق گلے سے اتار کر اپنی نجات کی خاطر اور عزیز واقربا اور عام قادیانی کی رہنمائی کے لئے تحفظ ختم نبوت کا سہرا اپنے سر پر سجا کر محمد ﷺ کے روبرو روز محشر سرخ رو ہونے کا عزم کر لیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بعد ازاں کھلم کھلا اعلان کے لئے مسجد نور میں پررونق شاندار تقریب کا انتظام کیا ، جس میں مشتاق احمد بٹ، ارشد بٹ، جناب تیمور صاحب، عبدالستار صاحب فضلی، سیف اللہ، حاجی ارشد، مولانا نثار میر، ملک بشیر اعوان، جناب کیانی صاحب، رحمت علی ، صاحبزادہ اور دیگر مقامی احباب نے کثیر تعداد میں شرکت کی ۔ نماز ظہر سے پہلے حضرت مولانا مشتاق الرحمن صاحب نے ڈیڑھ گھنٹہ سوالات کے جوابات دیئے۔ نماز کے بعد حضرت حاجی عبدالحمید صاحب امیر بلجیم اور مولانا احمد صاحب نے خطاب فرمایا۔ حضرت مولانا مشتاق الرحمن صاحب نے تحفظ ختم نبوت کے موضوع پر مدلل بیان فرمایا۔ اس کے بعد محمد مالک اور جناب افتخار احمد صاحب کی حوصلہ افزائی فرماتے ہوئے استقامت کی دعا کی اور اس مشن کو آگے ۲۰ رکنی کمیٹی تشکیل دی ۔ جناب مشتاق احمد صاحب نے کام کو آگے بڑھانے کے لئے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ بعد ازاں سب شرکاء نے جناب محمد مالک اور افتخار احمد صاحب کو پرجوش گلے لگا کر مبارک باد پیش کی ۔
دعاء کے بعد مسلمان پرکیف مسرت کے ساتھ رخصت ہوئے ۔ ادارہ مسجد توحید سب مسلمانوں کو بالخصوص اہل جرمن کو ایسی بے بہا خوشی پر مبارک باد دیتا ہے اور ان شاء اللہ ! آئندہ جلد اس طرح کی خوشخبریاں سنائی جائیں گی ۔ اس طرح کی خوشیوں میں حصہ دار بننے کے لئے اپنی دلی دعاؤں میں اور ہر طرح کے تعاون میں ادارہ کو نہ بھولیں۔
الداعی الی الخیر انتظامیہ مسجد توحید آفن باغ جرمنی
جناب افتخار احمد صاحب کے مسلمان ہو جانے پر بھی قادیانیوں نے ان کو بدنام کرنے کے لئے حسب عادت پروپیگنڈہ کیا۔ اس پر جناب افتخار صاحب نے ذیل کا خط اخبارات کو جاری کیا:
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
مکرمی جناب ایڈیٹر صاحب السلام علیکم ورحمة الله وبركاته
اللہ تعالیٰ آپ کو حق اور سچ لکھنے کی توفیق دیتا رہے۔ آمین ! خاکسار کا نام افتخار احمد ہے ۔ عرصہ اکیس سال سے جرمن کے شہر کولن میں مقیم ہوں ۔ جرمن نیشنیلٹی رکھتا ہوں اور پھولوں کی دوکان کے علاوہ اچھی سروس بھی کر رہا ہوں ۔ پیدائشی احمدی تھا۔ جماعت احمدیہ جرمنی میں مندرجہ ذیل عہدوں پر کام کرتا رہا ہوں : سیکرٹری تبلیغ حلقہ اونی سنٹر کولن ، جنرل سیکرٹری حلقہ اونی سنٹر کولن، زعیم الانصار اللہ حلقہ عبادت گاہ کولن ، جنرل سیکرٹری حلقہ عبادت گاہ کولن، زعیم الانصار اللہ (زونل) جس میں چار شہر تھے ۔ سیکرٹری جائیداد ریجن کولون، ( تقریباً پچاس جماعتوں کا ریجن تھا) اسسٹنٹ نیشنل سیکرٹری جائیداد، معاون ہومیو پیتھک ڈسپنسری کولون، اسی طرح خاکسار کی اہلیہ جو جرمن نژاد ہے۔ اس کا نام صائمہ احمد ہے۔ وہ بھی عرصہ دراز سے جماعتی اعلیٰ عہدوں پر ذمہ داریاں فرائض انجام دیتی رہی ہے ۔ مثلاً انچارج جرمن ڈیسک ریجن ناردرائین ، انچارج ہومیو پیتھک ڈسپنسری کولون ۔
الحمد للہ ! مورخہ ۳/ اکتوبر ۲۰۰۰ء کو ہم قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کر چکے ہیں ۔ حضرت مولانا مشتاق الرحمن صاحب خطیب مسجد توحید جرمنی کے ہاتھوں ہم حلقہ بگوش اسلام ہوئے ۔ میری دعاء ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دوسرے بھائی اور دوستوں کو بھی ہدایت نصیب فرمادے ۔ آمین!
اگر مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے ایسی کوئی خبر آپ تک پہنچی ہے تو وہ خبر صداقت پر مبنی ہے اور خاکسار اس کی تصدیق کرتا ہے۔ میں اپنے سابقہ قادیانی ہونے اور چند عہدوں کی منظوری کی کاپی بھیج رہا ہوں اور چند چندوں کی رسیدیں بھی ۔ آپ میرے ایڈریس اور فون پر رابطہ کر کے بھی مجھ سے تصدیق کر سکتے ہیں ۔ شام کو عموماً میں گھر پر ہی ہوتا ہوں ۔ اس کے علاوہ ”آپ کے رائے“ میں جو کالم نیشن میں ہوتا
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہے۔ خاکسار کوشش کرے گا کہ باقاعدہ اس میں لکھا کروں۔ جس طرح رشید احمد چوہدری صاحب ترجمان جماعت احمدیہ کے خطوط اس کالم میں اکثر شائع ہوتے ہیں۔ اسی طرح ہمارا بھی حق ہے کہ ہمیں اس صفحہ پر جگہ ملے: آپ کی پالیسی ماشاء اللہ! بہت اچھی ہے جو کہ ہر ایک کو اپنا مؤقف بیان کرنے کی کھلی اجازت ہے۔ خدا تعالیٰ آپ کو اس بات پر قائم رہنے کی توفیق دے جو کہ اخبار نیشن کے لوگوں پر لکھی ہوتی ہے۔ ﴿سچ کو جھوٹ کے پردوں میں نہ چھپاؤ اور اگر تمہیں سچائی کا علم ہو جائے تو اس کو جان بوجھ کر اپنے تک نہ روکے رکھو۔﴾ (القرآن) والسلام! افتخار احمد
قادیانی جماعت کا جھوٹ ثابت کرنے کے لئے قادیانی جماعت کا افتخار احمد صاحب کو سیکرٹری کے عہدے پر فائز کرنے کا تقرر نامہ اور افتخار احمد کی طرف سے قادیانی جماعت کو چندہ دینے کے عکس ملاحظہ ہوں:
(۸)
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بخدمت جناب ڈاکٹر سید بشارت احمد شاہ صاحب ریجنل امیر ناردرائین السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ گزارش ہے کہ آپ نے مکرم افتخار احمد صاحب کا نام برائے اسسٹنٹ نیشنل سیکرٹری جائیداد برائے ریجن تجویز فرمایا تھا۔ محترم امیر صاحب جماعت جرمنی نے ان کی منظوری دے دی ہے اور دعاء بھی کی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو تقویٰ اور حکمت کے ساتھ اس خدمت کو بجالانے کی توفیق دے۔ آمین!
خاکسار کی بھی دعاء ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو قبول خدمت کی توفیق دے اور یہ احسن رنگ میں اپنے ریجن میں شعبہ جائیداد کا کام سنبھال سکیں۔ آمین! والسلام! خاکسار: اسماعیل نوری نیشنل سیکرٹری جائیداد جماعت جرمنی مؤرخہ ۲۳؍ جولائی ۱۹۹۸ء
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۱۸ NATIONAL SHOBA JAIDAD نیشنل شعبہ جائیداد AHMADIYYA MUSLIM JAMAAT GERMANY MITTELWEG 43, D-60318 FRANKFURT AM MAIN TELEFON: 069-59 40 87 TELEFAX: 069-59 41 81
بخدمت مکرم ڈاکٹر سید بشارت احمد شاہ صاحب ریجنل امیر ناردرائن السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ گزارش ہے کہ آپ نے مکرم افتخار احمد صاحب کا نام برائے اسسٹنٹ نیشنل سیکرٹری جائیداد برائے ریجن تجویز فرمایا تھا محترم امیر صاحب جماعت جرمنی نے ان کی منظوری دیدی ہے اور دعا بھی کی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو تقویٰ اور حکمت کے ساتھ اس خدمت کو بجا لانے کی توفیق دے آمین!
خاکسار کی بھی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو قبول خدمت کی توفیق دے اور یہ احسن رنگ میں اپنے ریجن میں شعبہ جائیداد کا کام سنبھال سکیں۔ آمین والسلام خاکسار اسماعیل نوری نیشنل سیکرٹری جائیداد جماعت جرمنی 23.07.98
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
(۹)
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ AHMADIYYA MUSLIM JAMAAT DEUTSCHLAND Zentrale für Deutschland, Mittelweg 43, 60318 Frankfurt am Main Tel. (069) 554501 & 554517, Fax (069) 554381 C 409215 Herr/Frau افتخار احمد صاحب Wasiyyat No Jamaat R-Moschee 1. Moosi Ahmad 14. Chanda Majlis Ansarullah 2. Chanda Aam 350,- 15. Khuddam-ul-Ahmadiyya 3. Jalsa Salana 80,- 16. 4. Tehrik-e-Jadid 17. 5. Waqf-e-Jadid 18. 6. Sadqa 19. 7. 100 Mosque 20. 8. MTA 20,- 21. 9. 22. 10. 23. 11. 24. 12. 25. 13. 26. TOTAL 450,- TOTAL Gesamtbetrag چار سو پچاس مارک DM dankend erhalten. Ort, Datum 19-11-98 Unterschrift Shaly Bankverbindungen: Postbank Ffm Nr. 244623-604 (BLZ 500 100 50) BHF-Bank Ffm, Nr. 17133-9-00 (BLZ 501 201 00)
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ AHMADIYYA MUSLIM JAMAAT DEUTSCHLAND Zentrale für Deutschland, Mittelweg 43, 60318 Frankfurt am Main Tel. (069) 554501 & 554517, Fax (069) 554381 C 341108 Herr/Frau افتخار احمد صاحب Wasiyyat No Jamaat R-Moschee 1. Moosi Ahmad 14. Chanda Majlis Ansarullah 2. Chanda Aam 200,- 15. Khuddam-ul-Ahmadiyya 3. Jalsa Salana 40,- 16. 4. Tehrik-e-Jadid 17. 5. Waqf-e-Jadid 18. 6. Sadqa 19. 7. 100 Mosque 20. 8. MTA 10,- 21. 9. 22. 10. 23. 11. 24. 12. 25. 13. 26. TOTAL 250,- TOTAL Gesamtbetrag دو صد پچاس مارک DM dankend erhalten. Ort, Datum 5-2-99 Unterschrift Shaly Bankverbindungen: Postbank Ffm Nr. 244623-604 (BLZ 500 100 50) BHF-Bank Ffm, Nr. 17133-9-00 (BLZ 501 201 00)
(۱۰)
محترم جناب افتخار احمد کی اہلیہ محترمہ صائمہ بھی توفیق الہی سے مسلمان ہوئیں۔ ان کے خلاف بھی قادیانیوں نے پروپیگنڈہ کیا۔ ذیل میں قادیانیوں کی تردید میں ایک دستاویزی ثبوت کا عکس پیش خدمت ہے کہ پہلے محترمہ قادیانی جماعت کے ذمہ دار عہدہ پر تھیں۔ مسلمان ہوئی تو قادیانی عفریت نے ان کے خلاف معاندانہ پروپیگنڈہ کیا۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ AHMADIYYA MUSLIM JAMAAT AHMADIYYA JAMAAT ZENTRALE FÜR DEUTSCHLAND MITTELWEG 43 6000 FRANKFURT/M 1 TELEFON 069-554517 FAX 069/554381 HAUPTSITZ: RABWAH, PAKISTAN
To.. Mrs Saima Ahmad Sahiba Hirschhofweg - 16 50765 KÖLN
May these lines reach you in good health and in high spirits for the services of Islam. (Amin) After having obtained the consent of NATIONAL INCHARGE HOMOEOPATHY FRANKFURT, you are hereby appointed as Assistant Incharge Homoeopathy FOR THE Region Nordrhein-Westfalen The new Jamaati responsibilities entrusted upon you now demands much more sacrifice of your time and other sources. Hopefully you shall be able to devote more time for your new assignments. Please remain closely in touch with your INCHARGE HOMOEOPATHY and extend all possible services to him. From time to time you will keep on getting certain instructions from concerned INCHARGE shoba for necessary guidance. Please make all out efforts to comply with these instructions. May Allah Taala give you the strength to perform your new assignments in most fitting manner. (Amin)
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء
(۱۱)
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
۳ /اکتوبر ۲۰۰۰ء کو جناب افتخار احمد صاحب کے مسلمان ہونے کی بشارت کی تفصیلات آپ نے پڑھیں ۔ مورخہ ۲ /اکتوبر ۲۰۰۰ء کو ایک اور خوشخبری جرمنی کے مسلمان نے سنی۔ اس کا عکس ملاحظہ ہو:
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
میں مسمی محمد اکرم ولد نصر اللہ خان ساکن شاد یوال ۔ گجرات حال مقیم بورکن ، جرمنی روبرو گواہان حلفیہ بیان کرتا ہوں کہ میں قادیانی جماعت سے تعلق رکھتا تھا ۔ میری اس قادیانی مذہب کے بارے میں اکثر جناب طارق صدیق صاحب سے زیر نگرانی حاجی بشیر احمد اعوان سے گفتگو ہوتی رہتی تھی ۔ ان حضرات نے قادیانی مذہب کی اپنی کتابوں جن کا لکھنے والا مرزا غلام احمد قادیانی خود ہے سے حوالہ جات دیئے ، میں نے ان کو خود پڑھا ، سنا اور بڑے غور خوض کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ مذہب جھوٹا ہے ۔ میں اس جھوٹے مذہب کو خیر آباد کہتا ہوں اور اللہ کے سچے نبی خاتم الانبیاء محمد ﷺ کے اصل دین اسلام میں داخل ہو گیا ہوں ۔ رسول اللہ محمد ﷺ کو ہی خاتم الانبیاء تسلیم کرتا ہوں اور ان کے بعد کسی قسم کی جھوٹی نبوت کے دعویدار پر ایمان نہیں رکھتا ہوں ۔ مستقبل میں میرا قادیانی جماعت سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ اللہ کے حضور ماضی میں قادیانی مذہب میں رہنے کی توبہ کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ مجھے دین اسلام پر قائم اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور قادیانی مذہب میں شامل ہر ایک کو اس جھوٹے مذہب میں سے نکلنے کی توفیق اور ہمت عطا فرمائے ۔ آمین!
العبد: محمد اکرم ولد نصر اللہ خان ، بورکن جرمنی
گواہان: طارق صدیق صاحب ، حاجی بشیر احمد اعوان صاحب ، عمر فاروق صاحب ، غضنفر علی صاحب ، عارف حسین صاحب۔
اخبارات کیلئے پریس میں اشاعت کیلئے بھیجا ہے EINHEIT DES ISLAM e.V. Karlstraße 60 63065 Offenbach am Main Telefon (069) 81 46 20, FAX 81 46 29
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
مورخہ ۲ اکتوبر ۲۰۰۰ء مقام بوخولٹ جرمنی (Bocholt)
میں مسمی محمد اکرم ولد نصر اللہ خان ساکن شاد یوال ۔ گجرات حال مقیم بوخولٹ جرمنی حلفیہ بیان کرتا ہوں کہ میں قادیانی جماعت سے تعلق رکھتا تھا۔ میری اس قادیانی مذہب کے بارے میں اکثر جناب طارق صدیق صاحب سے زیر نگرانی حاجی بشیر احمد اعوان سے گفتگو ہوتی رہتی تھی۔ ان حضرات نے قادیانی مذہب کی اپنی کتابوں جن کا لکھنے والا مرزا غلام احمد قادیانی خود ہے سے حوالہ جات دیئے، میں نے ان کو خود پڑھا، سنا اور بڑے غور و خوض کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ مذہب جھوٹا ہے۔ میں اس جھوٹے مذہب کو خیر آباد کہتا ہوں اور اللہ کے سچے نبی خاتم الانبیاء محمد ﷺ کے اصل دین اسلام میں داخل ہو گیا ہوں۔ رسول اللہ محمد ﷺ کو ہی خاتم الانبیاء تسلیم کرتا ہوں اور ان کے بعد کسی قسم کی جھوٹی نبوت کے دعویدار پر ایمان نہیں رکھتا ہوں۔ مستقبل میں میرا قادیانی جماعت سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
اللہ کے حضور ماضی میں قادیانی مذہب میں رہنے کی توبہ کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ مجھے دین اسلام پر قائم اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور قادیانی مذہب میں شامل ہر ایک کو اس جھوٹے مذہب میں سے نکلنے کی توفیق اور ہمت عطا فرمائے ۔ آمین!
العبد: MAKRAM محمد اکرم ولد نصر اللہ خان بورکن جرمنی (Borken)
گواہان: AN EINHEIT DES ISLAM E. V. IN طارق صدیق صاحب حاجی بشیر احمد اعوان صاحب عمر فاروق صاحب غضنفر علی صاحب عارف حسین صاحب
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اس واقعہ کے بعد مسلمانوں کی ہمت مزید بڑھ گئی ہے۔ اب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جرمنی کے تحت ختم نبوت کمیٹی ہر ۱۵ دن کے بعد اپنا اجلاس منعقد کرتی ہے۔ جس میں خصوصیت کے ساتھ حضرت مولانا قاری مشتاق الرحمن خطیب جامع مسجد توحید آفن باغ و امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جرمنی تشریف لے جاتے ہیں اور کبھی حضرت مولانا مفتی محمد احمد صاحب۔ رمضان المبارک میں مسجد نور میں ان نو مسلم حضرات نے دیگر مسلمانوں کے ساتھ تراویح پڑھیں۔ روزے رکھے۔ عید الفطر کے موقع پر مسلمانوں کا جوش و خروش دیدنی تھا۔ ۳۱؍ دسمبر ۲۰۰۰ء کو عید ملن پارٹی ہوئی۔ جس میں جناب محمد افتخار احمد، جناب مشتاق احمد بٹ، اور دیگر کافی احباب جمع ہوئے۔ حضرت قاری مشتاق الرحمن صاحب کا مفصل خطاب ہوا۔ اسی طرح سے من ہائم جرمنی میں پہلی مرتبہ رمضان المبارک میں تراویح میں قرآن مجید سنانے کا نظم ہوا۔ جناب مولانا مفتی حافظ محمد احمد نے قرآن مجید سنایا اور وہاں بھی عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت پر بیانات ہوئے۔
پشاور میں قادیانی خاندان کا قبول اسلام
پشاور کے موضع بازید خیل کے علاقے کا مشہور قادیانی خاندان کا سربراہ فضل نعیم ولد غلام شریف، عبدالغفار، فضل شاہ، ظفر اقبال، پسران فضل نعیم نے علاقہ کے علماء اور مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد کی موجودگی میں قادیانیت سے تائب ہونے کا اعلان کیا اور کہا کہ ہم مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے ماننے والوں کو دائرہ اسلام سے خارج، مرتد، زندیق، کذاب، دجال اور کافر سمجھتے ہیں۔ آخر میں اسلام قبول کرنے والے نو مسلم احباب کی دین اسلام پر ثابت قدمی کی دعا کی گئی۔ جس میں مجلس پشاور کے امیر مفتی شہاب الدین پوپلزئی، مولانا نور الحق اور دیگر رفقاء بھی موجود تھے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۰۱ء ص ۶۰)
لاہور میں ایک قادیانی کا قبول اسلام
مسمی ناصر احمد بن نذیر احمد نے حضرت مولانا مفتی شیر محمد جامعہ اشرفیہ لاہور والوں کے ہاتھ پر مسلمان ہونے کا شرف حاصل کیا، ناصر احمد نے مرزائیت اور مرزا غلام احمد قادیانی کے نظریات سے برأت کا اعلان کرتے ہوئے اس بات کا اقرار کیا کہ حضور ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد جو شخص بھی نبوت کا دعویٰ کرے گا۔ بشمول مرزا غلام احمد قادیانی کے وہ کذاب، دجال، زندیق، مرتد، کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۰۱ء ص ۶۱)
ختم نبوت کانفرنس چک ۱۵۵/۱۲ ایل چیچہ وطنی
چیچہ وطنی کے نواحی گاؤں ۱۵۵/۱۲ ایل میں کافی عرصہ سے قادیانیوں کی سرگرمیاں جاری تھیں اور قادیانیوں کے بااثر ہونے کے ناطے گاؤں کے غریب مسلمان اپنے ایمان کی حفاظت کے لئے پریشان تھے۔
اس سلسلہ میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا عبد الحکیم نے مذکورہ گاؤں کا دورہ کیا اور گاؤں کی مسجد میں ختم نبوت کے عنوان سے خطاب کیا۔ مولانا عبد الحکیم کے خطاب کے بعد قادیانی گروہ کے بااثر زمینداروں کو زبردست دھچکا لگا تو قادیانیوں نے تھانہ غازی آباد کے ایس ایچ او ملک اسلم سے ملی بھگت کر کے گاؤں کے مسلمانوں بالخصوص امام مسجد کو پولیس کے ذریعے ہراساں کرنا اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔ قادیانیوں کی اس حرکت پر مجلس تحفظ ختم نبوت چیچہ وطنی کے ناظم قاری زاہد اقبال، حافظ حبیب اللہ چیمہ نے پولیس تھانہ غازی آباد کے ایس ایچ او کے خلاف احتجاج کیا اور قومی اخبارات میں صورتحال کی سنگینی اور آنے والے حالات کا ذمہ دار پولیس تھانہ غازی آباد کو قرار دیا اور واضح کیا کہ اگر مذکورہ گاؤں میں امام مسجد یا دیگر مسلمانوں کو پریشان کیا گیا تو پھر حالات کی ذمہ داری
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ضلعی انتظامیہ پر ہوگی ۔
اس واقعہ کے بعد مذکورہ گاؤں میں جنوری ۲۰۰۰ء کو ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ۔ جس میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما حضرت مولانا اللہ وسایا، مجلس احرار کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات عبداللطیف خالد چیمہ، جمعیت علماء اسلام کے مولانا عبدالباقی، مولانا طالب حسین، مولانا ریاض احمد اور مفتی عثمان غنی نے عقیدہ ختم نبوت پر مدلل خطاب کیا ۔ مقررین نے قادیانیوں اور مقامی انتظامیہ پر واضح کیا کہ اگر گاؤں کے امام مسجد یا دیگر مسلمانوں کو پریشان کیا گیا تو پھر قادیانیوں کا ناطقہ بند کر دیا جائے گا۔
قبل ازیں دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت چیچہ وطنی سے قاری زاہد اقبال اور حاجی محمد ایوب اور دفتر مجلس احرار سے عبداللطیف خالد چیمہ اور قاری محمد قاسم کی قیادت میں کارکنوں کے قافلے ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کے لئے روانہ ہوئے ۔ اس کانفرنس کے انعقاد کے سلسلہ میں گاؤں کے حافظ سعید احمد، خلیل احمد اور محمد طاہر نے بھر پور تعاون کیا ۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۰۰ء ص ۵۸)
قائدین ختم نبوت پشاور کے وفد کا مردان کا تفصیلی دورہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ایک وفد نے فروری ۲۰۰۰ء میں مردان شہر کا تبلیغی دورہ کیا ۔ وفد کی قیادت پشاور کے امیر مفتی شہاب الدین پوپلزئی نے کی ۔ جامع مسجد بکٹ گنج ، جامع مسجد پلازہ ، جامع مسجد ڈپٹی فرمان علی ، جامع مسجد صحابہ ، جامع مسجد مندروی ، جامع مسجد مسلم کالونی کے اجتماعات سے مفتی شہاب الدین پوپلزئی ، مولانا نورالحق ، مولانا حاجی وارث خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ۱۲؍ اکتوبر ۱۹۹۹ء کی حکومتی تبدیلی اور آئین کی معطلی کے اعلان کے بعد مختلف مقامات سے پاکستان کی ایک غیر مسلم اقلیت قادیانیوں کی ارتدادی سرگرمیوں میں تیزی آنے کی اطلاعات آ رہی ہیں اور اس سلسلے میں قادیانی لٹریچر کی تقسیم اور قادیانیت کے پرچار کے متعلق بھی شواہد ملے ہیں ۔ اطلاعات کے مطابق علماء کرام نے حکومت سے پر زور الفاظ میں مطالبہ کیا کہ قادیانی غیر مسلم اقلیت کی سرگرمیوں کو روکے اور قادیانیوں کو لگام دے ہم حکومت اور قادیانیوں پر واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ ناموس رسالت اور عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ آئین اور قانون کا پابند یا محتاج نہیں یہ مسئلہ اہل اسلام کے ایمان کا بنیادی اور اہم مسئلہ ہے ۔ ہماری تاریخ گواہ ہے کہ اس مسئلہ کی حفاظت میں ہم اپنی جانوں کا نذرانہ بھی پیش کر سکتے ہیں ۔ وفد نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ قادیانیوں کی ارتدادی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں ۔ مقامی انتظامیہ اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو اس سلسلے میں مطلع کریں ۔ مجلس کی طرف سے بہت بڑی تعداد میں لٹریچر مفت تقسیم کیا گیا ۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۰۰ء ص ۵۸)
مولانا اللہ وسایا کا اوکاڑہ و قصور کا تبلیغی دورہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام قصور شہر میں ۱۷؍ فروری ۲۰۰۰ء بروز جمعرات کو بار روم میں وکلاء ایسوسی ایشن سے شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب کا خطاب ہوا ۔ خطاب کے بعد وکلاء کے سوالوں کے جوابات نہایت عمدہ طریقے سے دیئے ۔ بعد وکلاء قصور کے صدر چوہدری محمد یونس کیانی ایڈووکیٹ ، چوہدری محمد اسحاق ، چوہدری فضل حسین ، قاری محمد یحییٰ ہمدانی ، جناب میاں معصوم انصاری ، اللہ دتہ مجاہد کے علاوہ کثیر تعداد نے شرکت کی ۔ رات کو عشاء کی نماز کے بعد اڈہ نور پور میں ختم نبوت کانفرنس چوہدری محمد اشرف قادری کی زیر صدارت منعقد ہوئی ۔ کانفرنس کا آغاز قاری محمد مشتاق احمد رحیمی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا ۔ کانفرنس سے مولانا اللہ وسایا اور اہل حدیث مسلک کے مولانا منظور احمد نے خطاب کیا ۔ آخر میں مولانا عبدالرزاق شجاع آبادی مبلغ ختم نبوت قصور نے شرکاء اجلاس کا
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
شکریہ ادا کیا۔ شرکاء میں لٹریچر بھی تقسیم کیا گیا۔ دوسرے دن ضلع اوکاڑہ کے وکیل ختم نبوت چوہدری غلام عباس تمنا ایڈووکیٹ کی والدہ مرحومہ کے لئے قرآن خوانی کا وعدہ کیا اور دعا کی کہ اللہ رب العزت انہیں جوار رحمت میں جگہ نصیب فرمائے ۔ حافظ محمد شبان صاحب و دیگر رفقاء سے ملاقات کی ۔ حویلی لکھا جامع مسجد میں جمعۃ المبارک کا خطاب کیا۔ نماز جمعہ کے بعد سوال جواب کی نشست ہوئی۔ بعد ازان مدرسۃ البنات کوٹ کرامت اللہ میں طالبات سے خطاب اور دعا کی ۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۰۰ء ص ۵۹)
ختم نبوت کانفرنس سکھر سے علماء کرام اور مشائخ عظام کا خطاب
قادیانیوں کی نجات اسی میں ہے کہ وہ جھوٹے مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی کا دامن چھوڑ کر حضور ﷺ کے دامن سے وابستہ ہو جائیں ۔ مسلمان کٹ تو سکتے ہیں لیکن حضور ﷺ کے عقیدہ ختم نبوت پر آنچ نہیں آنے دیں گے ۔ جنرل پرویز مشرف یہ بات سن لیں کہ کتنے آئین معطل ہو جائیں قادیانیوں سے متعلق ترامیم کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ اس مسئلہ کے حل کرنے میں مسلمانوں کی عظیم قربانیاں ہیں ۔ امتناع قادیانیت آرڈیننس کے تحت قادیانیوں کی عبادت گاہوں کی مساجد جیسی شکلیں تبدیل کی جائیں اور انہیں کلیدی عہدوں سے ہٹایا جائے ۔ بصورت دیگر مسلمان مجبور ہوں گے کہ ان مسائل کو خود حل کریں ۔ ان خیالات کا اظہار مولانا محمد یوسف لدھیانوی ، مولانا تنویر الحق تھانوی ، ڈاکٹر خالد سومرو ، مولانا عبد القادر پنہور، مولانا محمد مراد ہالیجوی ، مولانا اسعد تھانوی ، مولانا عبدالعزیز ، مولانا سراج احمد امروٹی ، مولانا محمد عالم ، مولانا عبدالحمید لنڈ ، مولانا اللہ وسایا ، مفتی جمیل احمد خان ، مولانا بشیر احمد ، قاری خلیل احمد ، مولانا عبدالرحمن ، مولانا جمیل احمد نے ۴ / مارچ ۲۰۰۰ء ختم نبوت کانفرنس سکھر سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ علماء کرام نے کہا کہ قادیانی اگر یہ سمجھتے ہیں کہ آئین معطل ہونے کی صورت میں وہ من مانی کر کے پاکستان کی اسلامی حیثیت کو تبدیل کر دیں گے تو یہ ان کی بھول ہے ۔ اس ملک میں اسلام کے علاوہ کسی نظام کو قبول نہیں کیا جائے گا ۔ جنرل مشرف اور حکومت کی عافیت اسی میں ہے کہ وہ ملک کی اسلامی حیثیت کو ختم کرنے کی کوشش نہ کریں ۔ قادیانیوں پر واضح ہو کہ مسلمان آئین کی وجہ سے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت نہیں سمجھتے بلکہ عقیدہ کی بنیاد پر اس شخص کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں جو کسی بھی انداز میں نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرے ۔ مسیلمہ کذاب سے لے کر مرزا غلام احمد قادیانی تک اور یوسف ملعون سے لے کر گوہر شاہی تک ہر جھوٹا مدعی نبوت مرتد ہے اور مرتد کی سزا قتل ہے ۔ اس لئے حکومت فوری طور پر ارتداد کی شرعی سزا نافذ کرے ۔ پاکستان کے غدار اور ملت کے غدار کے لئے سزائے موت ہے تو حضور ﷺ کے دشمن کے لئے سزائے موت کیوں نہیں؟ وزارت قانون کی وضاحت کے ساتھ عبوری آئین میں قادیانیت سے متعلق ترامیم اسلامی دفعات کو شامل کیا جانا قوم کا مطالبہ ہے اور حکومت کو فوری طور پر اس مطالبہ کو پورا کرنا چاہئے ۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۰۰ء ص ۵۵)
مولانا اللہ وسایا کا دورہ ضلع میر پور خاص ، کنری ، حیدر آباد
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب نے ۵ / مارچ تا ۹ / مارچ ضلع میر پور خاص ، کنری ، حیدر آباد کا دورہ کیا جس میں مختلف ختم نبوت کانفرنسوں سے خطاب کیا ۔ یہ پروگرام عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سندھ کے مبلغ مولانا محمد علی صدیقی نے ترتیب دیئے تھے ۔ پہلا پروگرام ۵ / مارچ کو جامع مسجد مدنی جھڈو میں بعد نماز عشاء ختم نبوت کانفرنس کے نام سے ہوا ۔ کانفرنس کی صدارت حافظ عبد العزیز نے کی جس میں مولانا اللہ وسایا ، مولانا احمد میاں حمادی ، مولانا محمد علی صدیقی ، مولانا محمد نذر نے خطاب کیا ۔ کانفرنس کا اہتمام جناب حافظ محمد شریف صاحب اور جناب منور احمد راجپوت نے کیا تھا ۔ دوسرا پروگرام ۶ / مارچ بعد نماز ، ظہر مکہ مسجد ٹنڈو
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جان محمد میں ہوا جس سے مولانا اللہ وسایا اور مولانا محمد علی صدیقی نے خطاب کیا۔ پروگرام کا اہتمام جناب صوفی نصیر احمد ، شیخ محمد یاسین، پروفیسر محمد جاوید صاحب نے کیا تھا۔ تیسرا پروگرام ۶؍ مارچ بعد نماز عشاء ختم نبوت کانفرنس کی شکل میں فضل بھمبرو میں ہوا۔ کانفرنس کی صدارت جمعیت علماء اسلام ضلع میر پور خاص کے امیر مولانا عبدالحفیظ سیال نے کی۔ کانفرنس سے مولانا اللہ وسایا، مولانا احمد میاں حمادی، مولانا محمد علی صدیقی، مولانا محمد نذر نے خطاب کیا۔ کانفرنس کا اہتمام مولانا محمد ایوب صاحب مدرسہ ختم نبوت فضل بھمبرو، مولانا حسین احمد مدنی اور مولانا حسن احمد نے کیا تھا۔ چوتھا پروگرام بعد نماز ظہر جامع مسجد بخاری کنری میں ہوا جس سے مولانا اللہ وسایا نے خطاب کیا۔ پانچواں پروگرام ختم نبوت کانفرنس کی شکل میں کوٹ غلام محمد (جیمس آباد) کی جامع مسجد محمدی میں ہوا۔ کانفرنس کی صدارت مولانا محمد احمد نے کی۔ کانفرنس سے مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد علی صدیقی، مولانا محمد نذر، مولانا محمد منشاء نے خطاب کیا۔ کانفرنس کا اہتمام مولانا محمد احمد، حافظ عبدالعزیز، ماسٹر محمد اسلم، محمد شفیع آزاد نے کیا۔ چھٹا پروگرام عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت میر پور خاص حمید پورہ کالونی نمبر ۲ مسجد بسم اللہ میں ہوا۔ کانفرنس کی صدارت فاضل دیوبند مولانا شمس الدین صاحب نے کی۔ کانفرنس سے خطاب مولانا اللہ وسایا، مولانا احمد میاں حمادی، مولانا محمد نذر، مولانا محمد علی صدیقی نے کیا۔ کانفرنس کا اہتمام مولانا شبیر احمد کرنالوی، مولانا مفتی عبیداللہ انور، مولانا محمد حنیف، مولانا عبداللہ، حافظ محمد یامین، مولانا منیر احمد کرنالوی، مولانا حفیظ الرحمن، مولانا فیض اللہ نے کیا تھا۔ ساتواں پروگرام مدرسہ مفتاح العلوم سائٹ ایریا حیدرآباد میں کنونشن کی شکل میں ہوا جس سے مولانا اللہ وسایا کا بیان ہوا۔ پروگرام کی صدارت حضرت مولانا مفتی شمس الدین صاحب نے کی اور نگرانی مولانا محمد نذر، مولانا عبدالسلام، مولانا سیف الرحمن نے کی۔
ان تمام پروگراموں میں عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ، حیات ونزول عیسیٰ علیہ السلام، سیرت النبی ﷺ، کذبات مرزا غلام احمد قادیانی، قادیانیوں کا دجل وفریب سے عوام الناس کو آگاہ کیا گیا۔ نیز حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ حکومت فوری طور پر اسلامی دفعات کو تحفظ دے اور قادیانیوں کی سرگرمیوں کا سختی سے نوٹس لے اور علاقہ سندھ کے ضلع میر پور خاص میں جو قادیانی اسٹیٹس ہیں ان میں قادیانیوں نے اپنی عبادت گاہیں مسجد کی طرز پر بنا رکھی ہیں اور ان میں کلمہ طیبہ آویزاں ہے ان کو محفوظ کیا جائے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۰۰ء ص ۵۶، ۵۷)
ختم نبوت کنونشن خانیوال
قادیانی خانیوال شہر میں کچھ متحرک ہوئے تو ان کے احتساب کے لئے فوری طور پر خانقاہ مالکیہ صدیقیہ کے سجادہ نشین مولانا خواجہ عبد المالک صدیقی، جامع مسجد غلہ منڈی کے حضرت مولانا عبد الکریم نیاز، لوکوشیڈ جامع مسجد کے خطیب حضرت مولانا محمد عباس، حضرت مولانا عطاء المنعم صاحب نے اپنے خطبات جمعہ میں قادیانی سرگرمیوں کا نوٹس لیا۔ چنانچہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے فوری طور پر ۲۶؍ مارچ بروز اتوار بعد نماز عشاء خانیوال جامع مسجد صدیقیہ ایک مینار والی میں ختم نبوت کنونشن کا اہتمام کیا گیا۔ مولانا خدا بخش شجاع آبادی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا عبدالحکیم نعمانی نے خطبات جمعہ اور مختلف مساجد میں بیانات کے ذریعے لوگوں کو ختم نبوت کے مسئلہ سے روشناس کرایا۔ چنانچہ ۲۶؍ مارچ بعد از نماز عشاء جامع مسجد صدیقیہ میں بھرپور اجتماع منعقد ہوا۔ ختم نبوت کنونشن کی حضرت مولانا خواجہ عبد المالک صاحب نے صدارت فرمائی۔ حافظ عطاء المنعم صاحب نے اسٹیج سیکرٹری کے فرائض سرانجام دیئے۔ تلاوت ونظم کے بعد مولانا عبد الحکیم نعمانی، مولانا خدا بخش، مولانا محمد اسماعیل اور مولانا اللہ وسایا کے بیانات ہوئے۔ آخر میں سوال وجواب کی نشست ہوئی۔ شرکاء میں ختم نبوت کا لٹریچر تقسیم کیا گیا۔ پونے ایک بجے شب خواجہ صاحب کی دعا پر اجتماع اختتام پذیر ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۰۰ء ص ۶۲)
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گوہر شاہی کو تین بار عمر قید، ڈیڑھ لاکھ روپے جرمانہ
امیر ختم نبوت علامہ احمد میاں حمادی نے انجمن سرفروشان اسلام کے سربراہ کے خلاف ۲ مئی ۱۹۹۹ء کو ٹنڈو آدم پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کرایا۔
اے. بی سی دفعہ ۲۷۵-اے کے تحت دس سال قید، پانچ ہزار جرمانہ، ۲۹۵-بی کے تحت عمر قید، ۲۷۵-سی کے تحت عمر قید اور جرمانہ ہوگا۔
ٹنڈو آدم (نمائندہ خبریں) انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے انجمن سرفروشان اسلام کے سربراہ گوہر شاہی کو توہین رسالت اور قرآن مجید کی بے حرمتی پر مختلف مقدمات میں تین بار عمر قید اور مجموعی طور پر ڈیڑھ لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی ہے۔ تفصیل کے مطابق امیر ختم نبوت علامہ احمد میاں حمادی نے ٹنڈو آدم پولیس اسٹیشن میں ۲ مئی ۱۹۹۹ء کو ریاض احمد گوہر شاہی کے خلاف توہین رسالت کا مقدمہ درج کرایا تھا۔ پولیس نے اس مقدمہ کا چالان خصوصی عدالت میر پور خاص میں ۱۲ جولائی ۱۹۹۹ء کو ملزم کی غیر موجودگی میں پیش کیا تھا۔ خصوصی عدالت کے جج عبدالغفور میمن نے گوہر شاہی کو مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے پر اے، بی، سی دفعہ ۲۷۵-اے کے تحت دس سال قید، پانچ ہزار جرمانہ اور عدم ادائیگی پر مزید چھ ماہ کی سزا سنائی ہے۔ جب کہ دفعہ ۲۹۵-بی قرآن پاک کی بے حرمتی کے الزام میں عمر قید، پچاس ہزار روپے جرمانہ کی سزا دی۔ جرمانہ ادا نہ کرنے پر مزید ایک سال سزا ہوگی۔ اس طرح توہین رسالت کا ارتکاب کرنے پر دفعہ ۲۹۵-سی کے تحت پچاس ہزار روپے جرمانہ اور عمر قید سزا دی۔ جرمانہ کی عدم ادائیگی پر مزید ایک سال سزا ہوگی۔ جب کہ ۷-اے، ٹی، اے، ۸-اے، ٹی، اے کے تحت عمر قید اور پچاس ہزار روپے جرمانے کی سزا دی گئی۔ جرمانہ نہ دینے کی صورت میں مزید ایک سال سزا کاٹنا ہوگی۔ اس طرح ۸، ۹-اے، ٹی، اے کے تحت سات سال قید اور پندرہ ہزار روپے کی سزا سنائی گئی۔ جرمانہ ادا نہ کرنے پر آٹھ ماہ قید ہوگی۔
(روزنامہ خبریں ملتان، مورخہ ۱۳؍ مارچ ۲۰۰۰ء، ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۰۰ء ص ۵۵ تا ۶۲)
ختم نبوت کانفرنس لاہور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے زیر اہتمام جامع مسجد عائشہ میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی، حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا محمد اعظم طارق، مولانا اللہ وسایا، مولانا مفتی جمیل خان، مولانا محمد امجد خان، مولانا سید عبدالقادر آزاد، لیاقت بلوچ، سردار محمد خان لغاری، مولانا محمد اجمل قادری، مولانا ضیاء اللہ شاہ بخاری، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور دیگر علماء کرام نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں آئین معطل ہونے کی وجہ سے قادیانیوں کی سرگرمیوں میں اضافہ ہو گیا ہے اور انہوں نے برملا اس کا اظہار کرنا شروع کر دیا ہے کہ اب پاکستان میں قادیانیوں کی سرگرمیوں پر کوئی قدغن نہیں۔ اس لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حکومت پاکستان سے یہ مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہے کہ عبوری آئین میں دیگر اسلامی دفعات، امتناع قادیانیت آرڈی نینس، قادیانیوں کے غیر مسلم ہونے کی آئینی ترمیم کو عبوری آئین کا حصہ بنایا جائے۔ کلیدی عہدوں کی وجہ سے قادیانی گروہ ملک اور بیرون ملک فوائد حاصل کر کے اسلام اور ملک کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس لئے کلیدی عہدوں سے قادیانیوں کو فوری طور پر برطرف کیا جائے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۰ء ص ۶۰)
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس سرگودھا
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۲، ۳؍ اپریل ۲۰۰۰ء کو دو روزہ ختم نبوت کانفرنس کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی، حضرت مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اعظم طارق، مولانا محمد اسماعیل محمدی، مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا عبدالقدوس، مولانا مفتی جمیل خان، شیخ الحدیث مولانا محمد رمضان نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت مسلمانوں کے عقائد کی اساس ہے اور عظمت رسالت اور ناموس صحابہ کے لئے مسلمانوں نے ہر دور میں قربانیاں دی ہیں۔ اس لئے اگر قادیانی یہ سمجھتے ہیں کہ آئین کے معطل ہونے کی صورت میں وہ اپنی لادینی اور ارتدادی سرگرمیوں کو جاری رکھ کر مسلمانوں کو مشتعل کرنے کی کوشش کریں گے تو یہ ان کی بھول ہے۔ مسلمان عقیدہ ختم نبوت کے لئے کسی آئین یا قانون کا محتاج نہیں۔ مسلم ملک ہو یا غیر مسلم ملک، فوجی حکومت ہو یا سول حکومت، ناموس رسالت اور عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ، مسلمان اپنا فریضہ سرانجام دیتے رہیں گے۔ ہم فوجی حکومت پر واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ اسلامی دفعات قادیانیوں سے متعلق آئینی ترمیم اور توہین رسالت قانون میں تبدیلی کی کوشش کی گئی تو حکومت کے خلاف تحریک چلانے سے گریز نہیں کیا جائے گا۔ علماء کرام نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ قادیانیوں کو آئین کا پابند بناتے ہوئے ڈش انٹینا کے ذریعہ ان کی تبلیغ پر پابندی عائد کی جائے۔ مساجد کی شکل میں قادیانیوں کو عبادت گاہ بنانے سے روکا جائے۔ این۔جی۔اوز کے ذریعے یہودیت اور عیسائیت کی تبلیغ بند کی جائے۔ کانفرنس کے دوسرے روز ڈاکٹر علامہ خالد محمود سومرو، مولانا عبدالغفور حقانی، مولانا عبدالکریم، مفتی عبدالسمیع، مفتی عبدالمعید، مفتی محمد طیب سلیمی، مفتی طاہر مسعود نے بھی خطاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۰ء ص ۶۱)
ختم نبوت کانفرنس ملتان
ملتان (نمائندہ خصوصی) ۶؍ مئی کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے تحت ختم نبوت کانفرنس میں ہزاروں جاں نثاران ختم نبوت کے عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علماء اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمن نے جنرل مشرف کو متنبہ کیا کہ وہ امریکہ کی خوشنودی کی بجائے پاکستان کے مسلمانوں کے جذبات کا احترام کریں کیوں کہ عقیدہ ختم نبوت، توہین رسالت کے قانون اور اسلامی دفعات کے سلسلہ میں وہ کسی قسم کی سودے بازی کے لئے تیار نہیں اور آئین پاکستان کے تحت ان دفعات کے تحفظ کا مطالبہ انتہاء پسندی نہیں بلکہ آئینی حق ہے۔ آج ہم امن اور شرافت کی زبان سے اپنا یہ آئینی حق مانگ رہے ہیں۔ کل اگر علماء کرام نے جہاد کا راستہ اختیار کر لیا تو وہ فوج اور ملک کے لئے اچھا نہیں ہوگا، اس لئے ہمیں لڑائی پر مجبور نہ کیا جائے۔ قوم نے یہ وردی دشمنوں کو فتح کرنے کے لئے دی ہے پاکستانی عوام کو فتح کرنے کے لئے نہیں۔ پاکستان امریکہ کی کالونی نہیں کہ وہ ہمیں جہاد کا فلسفہ سمجھائے۔ آج وہ ہمیں فلسفہ جہاد کی تشریح سکھا رہا ہے کل ہمیں نماز روزے کے احکامات سکھائے گا۔ ہم مذہب کے معاملہ میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے سوا کسی کے پابند نہیں۔ پاکستان کو قادیانیوں اور یہودیوں کے حوالہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ وزارت خزانہ اور احتساب بیورو اور دیگر کلیدی عہدوں سے قادیانیوں کو برطرف نہ کیا گیا تو حکومت کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ مولانا مسعود ازہر نے کہا کہ آج اسلام کو مٹانے کے لئے قادیانی، عیسائی، یہودی اور دیگر لادین قوتیں جمع ہو چکی ہیں اور جہاد کو دہشت گردی قرار دے کر مسلمانوں کو ختم کرنے کے ہتھکنڈے اختیار کر رہی ہیں، اس لئے مسلمانوں کے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ وہ جہاد کے ذریعے اسلام کی سربلندی کے عمل کا آغاز کریں۔ مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو حکومت حضور ﷺ کی عظمت کی حفاظت نہیں کر سکتی اور پاکستان کو دینی مملکت کی بجائے سیکولر سٹیٹ بنانا چاہتی ہے۔ اس کو حکومت میں رہنے
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کا کوئی حق نہیں۔ مولانا سید عبدالمجید ندیم شاہ نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ موجودہ حکومت نے گزشتہ حکومت سے سبق حاصل نہیں کیا۔ شہباز شریف کی علماء کرام کو آخری وارننگ خود اس کے لئے وارننگ بن گئی اور اس کو بوریا بستر گول کرنا پڑا۔ کانفرنس سے مولانا اللہ وسایا، مولانا ضیاء الدین آزاد اور مولانا محمد اکرم طوفانی نے بھی خطاب کیا۔ کانفرنس کی صدارت شیخ المشائخ خواجگان حضرت مولانا خان محمد صاحب نے فرمائی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت ۱۹ تا ۲۵ مئی ۲۰۰۰ء ص ٹائٹل پیج نمبر ۳)
بدو ملہی میں ختم نبوت کانفرنس
مرکزی جامع مسجد شفاء میں بازار بدوملہی میں یکم/ جون ۲۰۰۰ء کو ختم نبوت کانفرنس سے اہل حدیث رہنما چوہدری نصیر احمد ملہی، خطیب نارووال مجاہد ختم نبوت قاری محمد شفیق ربانی، مولانا ماسٹر رشید احمد ملہی، مولانا محمد الیاس، مولانا فقیر اللہ اختر مرکزی مبلغ اور پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی، مولانا اللہ وسایا نے خطاب کیا۔ کانفرنس کی صدارت مجاہد ختم نبوت حضرت مولانا قاری دین محمد ثاقب نے کی۔ یادرہے کہ قصبہ بدوملہی مرزائیت کا گڑھ ہے، یہ پاکستان ہندوستان بارڈر کا علاقہ ہے اور یہاں کی چودھراہٹ اور طاقتور افراد کی تمام تر ہمدردیاں بھی مرزائیوں کے ساتھ ہیں۔ قبل ازیں اس علاقہ میں ختم نبوت کانفرنس منعقد نہیں کی جاسکی ہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا فقیر اللہ اختر کی شبانہ روز محنت، خلوص و لگن اور حضرت مولانا ماسٹر رشید احمد ملہی کی کاوش سے بدوملہی کے علاقہ کی فضاء تبدیل ہوئی اور حضرت مولانا ماسٹر رشید احمد ملہی اور حضرت مولانا قاری دین محمد ثاقب کی وساطت سے علاقہ میں ختم نبوت کا کام شروع ہوا اور الحمد للہ! یہ بہت بھر پور اور کامیاب کانفرنس رہی، جس میں ہزاروں فرزندان توحید اور ختم نبوت کے پروانوں نے شرکت کی۔
بھکھو بھٹی سیالکوٹ میں ختم نبوت کانفرنس
بھکھو بھٹی ضلع سیالکوٹ کی مرکزی جامع مسجد میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم نشر واشاعت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مرکزی مبلغ مولانا فقیر اللہ اختر، مجاہد ختم نبوت مولانا بشیر احمد قاسمی، حضرت مولانا قاری محمد شفیق ربانی، حضرت مولانا افتخار اللہ شاکر، حضرت مولانا صالح محمد عثمانی اور حضرت مولانا محمد انور انصر نے خطاب کیا اور عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور افادیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ مرزائی انگریزوں کے ایجنٹ اور ملک دشمن ہیں، ان کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنی ہوگی۔
نارووال ڈیریا نوالہ میں ختم نبوت کانفرنس
۲/جون ۲۰۰۰ء ضلع نارووال کے قصبہ ڈیریا نوالہ کی جامع مسجد بلال میں ختم نبوت کانفرنس سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی سیکرٹری نشر واشاعت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا فقیر اللہ اختر، خطیب ختم نبوت مولانا بشیر احمد قاسمی نے خطاب کیا اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے جب قادیانیوں کی اخلاق سوز سرگرمیوں پر روشنی ڈالی تو مرزائیوں نے اندھا دھند فائرنگ شروع کردی اور خطاب رکوانے کے لئے پورا زور لگایا۔ لیکن پولیس نے فوری کارروائی کر کے مرزائیوں کی غنڈہ گردی پر قابو پالیا۔
ختم نبوت کانفرنس سنکھترہ
شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا نے مرکزی جامع مسجد سنکھترہ میں جمعتہ المبارک کا خطاب کیا۔ مولانا نے عقیدہ ختم نبوت
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اور مرزائیت کی ارتدادی سرگرمیوں پر روشنی ڈالی۔ بعدازاں سوال و جواب کی نشست ہوئی، جس میں عوام نے بھر پور شرکت کی۔ اس موقع پر حضرت مولانا محمد قاسم صدیقی خطیب مرکزی جامع مسجد اور عالمی مجلس کے مرکزی مبلغ مولانا فقیر اللہ اختر نے بھی خطاب کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۳۰ /جون تا ۶ /جولائی ۲۰۰۰ء ص۲۴)
ٹنڈو آدم میں شہید ختم نبوت کانفرنس
عالم اسلام کے مایہ ناز مفکر اسلام فقیہ العصر حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی کی یاد میں ۶ /جون ۲۰۰۰ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ٹنڈو آدم کے زیر اہتمام حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم کی زیر صدارت شہید ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ محمد اعظم قریشی اور جناب عزیز احمد آفریدی نے خراج منظوم پیش کیا۔ بعد میں حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا احمد میاں حمادی، مولانا محمد راشد مدنی اور دیگر علماء کرام نے اپنے اپنے انداز میں شہید ختم نبوت حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ حضرت لدھیانوی جیسی شخصیات صدیوں بعد پیدا ہوتی ہیں۔ مقررین نے کہا کہ حکومت حضرت لدھیانوی کے قاتلوں کی گرفتاری میں بہت لیت ولعل سے کام لے رہی ہے اور جان بوجھ کر تفتیش کا رخ موڑ رہی ہے۔ مقررین نے حضرت لدھیانوی کے قاتلوں کی فی الفور گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ بعدازاں کافی تعداد میں لوگوں نے حضرت کے ہاتھ پر بیعت کی۔ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم جلسہ گاہ میں تشریف لائے تو لوگ والہانہ کھڑے ہو گئے۔ کانفرنس حضرت اقدس دامت برکاتہم کی دعا سے اختتام پذیر ہوئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۰۰ء ص۷۵)
عالمی مجلس کی مرکزی مجلس منتظمہ کا اجلاس
مؤرخہ ۱۰ /جون ۲۰۰۰ء بروز ہفتہ بعد از عصر دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مسجد عائشہ لاہور میں مرکزی مجلس منتظمہ کا ہنگامی اجلاس زیر صدارت حضرت امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم منعقد ہوا۔ جس میں اراکین منتظمہ کے علاوہ لاہور اور ٹوبہ کے اراکین شوری نے بھی شرکت فرمائی۔ حسب ذیل کارروائی ہوئی:
- ☆...... اجلاس میں تلاوت کے بعد سب سے پہلے حضرت حکیم العصر نائب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضرت اقدس مولانا محمد یوسف
لدھیانوی کے لئے چشم پرنم سے حضرت امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد دامت برکاتہم نے دعائے ترقی درجات فرمائی۔
- ☆...... اجلاس میں مولانا محمد اکرم طوفانی ومولانا اللہ وسایا نے بھوڑہ ضلع شیخوپورہ میں قادیانی فتنہ کی شرانگیزی کی رپورٹ پیش کی، فیصلہ
ہوا کہ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری کی قیادت میں مولانا محمد عبداللہ لدھیانوی، مولانا عبداللطیف انور، مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا عزیز الرحمن ثانی حکام سے ملاقاتیں کریں اور پھر کیس کی تفتیش کی مکمل نگرانی مولانا عبداللطیف انور کریں۔
- ☆...... شہید ختم نبوت حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر تھے، حضرت لدھیانوی کی شہادت کے بعد
عہدہ نائب امیر مرکزیہ کی ذمہ داریاں حضرت امیر مرکزیہ نے مخدوم الصلحاء حضرت قبلہ سید نفیس الحسینی دامت برکاتہم کے سپرد فرمائیں۔
- ☆...... کراچی دفتر کے نظم کے سلسلے میں مولانا مفتی محمد جمیل خان رکن مرکزی شوریٰ، حضرت مولانا نذیر احمد تونسوی مبلغ وانچارج
(دفتر) کراچی، جناب رانا محمد انور (ناظم دفتر کراچی) پر مشتمل سہ رکنی کمیٹی قائم کی گئی جو کراچی دفتر کے انتظامی امور کو باہم مشورہ سے چلائیں گے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ۳۰۴ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ☆...... بیرون ممالک (برطانیہ وغیرہ) کے تمام کام کی نگرانی کے لئے حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری دامت برکاتہم کی سربراہی
میں کمیٹی قائم کی گئی، جس کے اراکین مولانا مفتی محمد جمیل خان، مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا اللہ وسایا ہوں گے۔
- ☆...... کراچی ولندن دفتر کے تمام تر مالیاتی امور حسب سابق مرکزی مجلس شوریٰ ومرکزی مجلس منتظمہ کے زیر کنٹرول رہیں گے جس کی
نگرانی دفتر مرکزیہ ملتان کرے گا۔
- ☆...... حضرت امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خاں محمد دامت برکاتہم نے تین حضرات علماء کرام کو رکن شوریٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نامزد
فرمایا: (۱) شہید ختم نبوت حضرت لدھیانوی کی جگہ حضرت اقدس مولانا عبدالمجید صاحب شیخ الحدیث باب العلوم کہروڑ پکا۔ (۲) شہید اسلام حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب اسلام آباد کی جگہ حضرت مولانا محمد شریف ہزاروی اسلام آباد۔ (۳) مخدوم زادہ حافظ محمد عابد صاحب خانقاہ سراجیہ کی جگہ حضرت مولانا خلیل احمد صاحب خطیب مرکزی مسجد سکھر۔
مغرب کے قریب امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خاں محمد دامت برکاتہم کی دعا پر اجلاس بخیر وخوبی اختتام پذیر ہوا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۳۰/ جون تا ۶/جولائی ۲۰۰۰ء ص ۱۰)
چونڈہ سیالکوٹ میں رد قادیانیت تربیتی کنونشن
جامع مسجد شاہ فیصل چونڈہ میں ۱۸/جولائی ۲۰۰۰ء کو ایک روزہ سالانہ رد قادیانیت تربیتی کنونشن منعقد ہوا۔ کنونشن کی پہلی نشست بعد نماز عصر حافظ عبد الکبیر کی تلاوت کلام پاک اور حافظ رفاقت علی کی نعت رسول مقبول ﷺ سے شروع ہوئی۔ پہلی نشست سے ضلع سیالکوٹ کے مبلغ مولانا محمد عارف نے سیالکوٹ، ہڑپہ، دریا پور، بکھو بھٹی میں جماعتی سرگرمیوں سے سامعین کو آگاہ کیا۔ قاری محمد شفیق ڈوگر نے مرزا غلام احمد قادیانی کی غلیظ زندگی کا خاکہ پیش کیا۔ دوسری نشست بعد نماز عشاء شروع ہوئی۔ جس میں مولانا محمد عارف نے چند قراردادیں پیش کیں۔ کنونشن کے آخری مقرر ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے مسئلہ حیات عیسیٰ، مرزا غلام احمد قادیانی کی کذب بیانی اور دیگر موضوعات پر خطاب کیا۔ کنونشن میں بھاری تعداد میں چونڈہ اور گرد نواح کے مسلمانوں نے شرکت کی۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض قاری محمد انور انصر نے انجام دیئے۔ کنونشن کے انتظامات کے فرائض ختم نبوت کے ارکان نے محمد اشرف بٹ کی نگرانی میں انجام دیئے۔
سیرت النبی ﷺ کانفرنس خوشاب
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت و جمعیت علماء اسلام خوشاب کے زیر اہتمام سیرت النبی ﷺ کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں مبلغ ختم نبوت مولانا غلام مصطفیٰ، مولانا قاری سعید احمد، مولانا مطیع الرحمن، مولانا محمد حسین چنیوٹی، قاری محمد اشرف، رشید احمد ربانی اور ختم نبوت کے مبلغ مولانا محمد اختر نے خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت مسلمانوں کے عقائد کی اساس ہے۔ قادیانی اپنی لادینی اور ارتدادی سرگرمیوں کو بند کریں۔ آخر میں مقررین نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ ضلع خوشاب کے علاقہ تھل میں قادیانی امتناع قادیانیت آرڈیننس کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ قادیانیوں کو مساجد کی شکل میں عبادت گاہ تعمیر کرنے سے روکا جائے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۰۰ء ص ۶۹)
گجرات اور منڈی بہاء الدین میں ختم نبوت کے اجتماعات
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۲۱/جولائی ۲۰۰۰ء کو جامع مسجد ختم نبوت گجرات میں اور ۲۸/جولائی کو جامع مسجد
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نور الہدیٰ منڈی بہاء الدین میں ختم نبوت کے اجتماعات منعقد ہوئے ۔ جس میں اس علاقہ کی ایک بہت بڑی عوام کی تعداد نے شرکت کی ۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغین مولانا محمد طیب فاروقی ، مولانا فقیر اللہ اختر ، مولانا ارشاد اللہ صدیقی کے علاوہ مولانا اللہ وسایا نے ان اجتماعات سے خطاب کیا ۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۰۰ء ص ۱۶)
کوٹ سبزل صادق آباد میں تاریخ ساز ختم نبوت کانفرنس
جولائی ۲۰۰۰ء میں دو گھر قادیانیوں کے مسلمان ہوئے ، جس پر مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔ اس خوشی میں نو مسلم افراد نے ایک تقریب منعقد کی ، جس میں بہت سے مسلمانوں کو مدعو کیا گیا اور اس تقریب میں بڑی تعداد میں مسلمانوں نے شرکت کر کے ان کی حوصلہ افزائی کی ۔ بعد ازاں یکم اگست ۲۰۰۰ء کو ”ختم نبوت کانفرنس“ کا انعقاد ہوا اور اس کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لئے اراکین ختم نبوت کوٹ سبزل نے یادگار اسلاف جناب حافظ بلال احمد اور مولانا نیاز احمد کو ذمہ داری سونپی جس کو انہوں نے حضرت میاں سراج احمد صاحب دین پوری کی سرپرستی میں بخوبی سرانجام دے کر بفضلہ تعالیٰ کامیابی سے ہمکنار کیا اور مسلمانوں کی کثیر تعداد نے اس خوشی میں اور کانفرنس کو کامیاب کرنے کے لئے دور دراز علاقوں سے قافلوں کی شکل میں شریک ہو کر نبی کریم ﷺ سے سچی محبت کا ثبوت دیا ۔
کانفرنس کا آغاز صبح آٹھ بجے تلاوت کلام پاک اور صدر پوری برادران نے حمد و نعت سے کیا نبی کریم ﷺ کی ختم نبوت اور اخلاق حسنہ پر روشنی ڈالی اور مرزا غلام احمد قادیانی کے دجل وفریب سے عوام کو آگاہ کیا ، ان علماء کرام میں شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا ، حضرت مولانا بشیر احمد حصاروی اور حضرت مولانا عزیز گل عالمانی مدیر جامعہ دارالعلوم محمود ، جنرل سیکرٹری جمعیت علماء اسلام کوٹ مٹھا قابل ذکر ہیں ۔ جن کے بیان و وعظ سے پوری عوام الناس نے بھر پور استفادہ کیا ۔ واقعی یہ ختم نبوت کانفرنس اپنی مثال آپ تھی ۔ علاوہ ازیں حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی اور مبلغ ختم نبوت حضرت مولانا احمد بخش صاحب رحیم یار خان ، حضرت مولانا مفتی عبد اللطیف صاحب رحیم یار خان ، حضرت مولانا عبد الصبور صاحب بندور عباسیان ، حضرت مولانا محمد احمد صدیقی صاحب خطیب وردگ جامع مسجد کوٹ سبزل ، حضرت مولانا مفتی زین العابدین زبیر ، حضرت جناب حافظ عبد الوہاب ، مولانا عبد الرحیم صاحب بھٹہ ، جناب محمد ناصر صاحب ، جناب محترم طارق صاحب ، جناب محترم عبدالستار صاحب نے بھی کانفرنس میں شرکت کی ۔
بعد ازاں نو مسلم افراد نے یہ کہا کہ ہم ان شاء اللہ اپنے سب رشتہ دار قادیانیوں کو دعوت اسلام دیں گے اور ان شاء اللہ انہیں بھی نبی کریم ﷺ کی رحمت کے سایہ میں پناہ لینے کے لئے حصول سعادت کی کوشش کریں گے اور یہ کانفرنس بخیر و خوبی شام پانچ بجے حضرت میاں سراج احمد صاحب دین پوری دامت برکاتہم کی دعائے خیر پر بخیر خوبی اختتام پذیر ہوئی ۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۵ تا ۳۱ اگست ۲۰۰۰ء ص ۲۱)
یورپ میں ختم نبوت کانفرنسیں
بحمدہ تعالیٰ و توفیقہ امسال ۲۰۰۰ء میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے یورپ میں سات بڑی کانفرنسیں ۲۱ تا ۳۱ / جولائی ۲۰۰۰ء منعقد ہوئیں ۔ اکتوبر ۱۹۹۹ء جب مولانا منظور الحسینی عمرہ کے لئے حرمین شریفین تشریف لائے تو انہوں نے مسجد نبوی علی صاحبہا الف الف تحیۃ روزانہ مغرب اور عشاء کے بعد یورپ سے تعلق رکھنے والے وہ طلباء جو مدینہ یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں ، ملاقات کا اہتمام فرمایا ۔ اسی دوران ان کی ملاقات اوسلو کے نوجوان عالم مولانا ذوالقرنین سکندر سے ہوئی اور دو چار ملاقاتوں کے بعد طے کر لیا گیا کہ آئندہ سال
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بھی ۲۰۰۰ء میں یورپ میں دیگر کانفرنسوں کے علاوہ ناروے اور ڈنمارک میں بھی کانفرنسیں منعقد ہوں گی۔ چنانچہ ۲۹/ جولائی ۲۰۰۰ء کو کوپن ہیگن اور ۳۰/ جولائی اتوار اوسلو کے لئے تاریخیں مقرر ہوئیں اور مسجد نبوی میں دعائے خیر کر لی گئی ۔ ان تاریخوں کے تعین کے فوری بعد ۲۱/ جولائی ۲۰۰۰ء جمعہ کو اینٹ ورپن جمعہ کے بعد تا شام ۷ بجے اور ۲۳/ جولائی کو اتوار برلن مسجد بلال میں کانفرنسوں کے لئے جانے کا اعلان کر دیا گیا ۔ بلجیم میں کیونکہ جمعہ ۲۱/ جولائی مقامی طور پر چھٹی تھی ، اس لئے یہ دن کانفرنس کے لئے مقرر کیا گیا ۔ گلاسکو کے مسلمانوں کے بار بار کے مطالبہ پر ۲۳/ جولائی اتوار کو اعلان کر دیا گیا ۔ گلاسکو میں بھی کانفرنس کا انعقاد کیا اور خصوصاً جون ، جولائی ، اگست کے مہینوں میں ان اجتماعات کا سلسلہ مسلسل چلتا رہتا ہے ۔ باقی مہینوں میں موسم اور وقت کے عدم توازن کی وجہ سے جلسوں وغیرہ کا سلسلہ کم ہی ہوتا ہے ۔
مولانا منظور احمد الحسینی ، جناب طہٰ قریشی ، حافظ احمد عثمان ایڈووکیٹ نے سالانہ پندرھویں ختم نبوت کانفرنس برمنگھم کے لئے مئی ۲۰۰۰ء سے جدوجہد کا آغاز کر دیا تھا ۔ جون کے آخر میں مولانا محمد اکرم طوفانی برطانیہ تشریف لے آئے اور انہوں نے ایک ماہ تک مسلسل اس کانفرنس کی کامیابی کے لئے برطانیہ کے مختلف شہروں میں اجتماعات سے خطاب کیا اور مسلمانوں کو کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی ۔
ادھر مولانا قاری مشتاق الرحمن اور مولانا محمد احمد نے جرمنی ، حاجی عبدالحمید اور ملک محمد افضل نے بلجیم میں مولانا فاروق سلطان نے ڈنمارک اور مولانا ذوالقرنین سکندر نے ناروے میں اپنی اپنی ذمہ داریاں نبھائیں ۔ ادھر اسکاٹ لینڈ میں احباب ختم نبوت نے اپنا اپنا فریضہ ادا کیا ۔
۲۱/ جولائی کو لندن سے مولانا منظور احمد الحسینی کی قیادت میں تین رکنی وفد بلجیم اینٹ ورپن پہنچا قافلے کے دوسرے احباب جناب مولانا عزیز الرحمن ہزاروی اور قاری محمد ہاشم تھے ۔ جمعہ مولانا منظور احمد الحسینی نے اسلامک سینٹر برسلز میں پڑھایا اور وہاں احباب کو اینٹ ورپن کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی ۔ چنانچہ وہاں چھ کاروں کا قافلہ اینٹ ورپن پہنچا جب کہ اینٹ ورپن مرکز ختم نبوت میں جمعہ مولانا عزیز الرحمن ہزاروی نے پڑھایا ۔
ختم نبوت کانفرنس اینٹ ورپن بلجیم اور سیرت النبی ﷺ کانفرنس آفن باخ:
جمعہ کے فوراً بعد دفتر ختم نبوت ۹۲ اورنج اسٹریٹ اینٹ ورپن میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس کا آغاز جناب قاری محمد یوسف کی تلاوت کلام پاک سے ہوا ۔ بعد ازاں جناب حاجی عبدالحمید امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بلجیم نے بلجیم میں ختم نبوت کے کام پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آج سے کچھ سال قبل یہ مرکز ۳۰ ہزار پونڈ میں خریدا گیا ۔ اس ابتدائی مرحلہ میں اس کی مرمت پر کافی رقوم خرچ ہوئیں مگر اب الحمد للہ! اس چار منزلہ بلڈنگ میں ختم نبوت کے تحفظ کا کام بطریق احسن انجام دیا جا رہا ہے ۔ پہلی منزل میں وضو خانہ، استنجا خانے اور ایک غسل خانے کے ساتھ ساتھ ایک بڑا ہال بھی ہے ، جس میں تقریباً ۱۰۰ مہمان بیک وقت کھانا کھا سکتے ہیں ۔ دوسری منزل نماز کے لئے مختص کر دی گئی ہے ۔ تیسری منزل میں ایک بڑی خوبصورت لائبریری ، امام صاحب کا کمرہ اور ایک بڑا ہال اور کچن ہے جب کہ چوتھی منزل میں مہمانوں کے لئے ایک کمرہ اور ایک بڑا ہال ہے ۔ آج کانفرنس کے موقع پر چاروں منزلیں الحمد للہ! شرکاء سے پر تھیں ۔ حاجی عبدالحمید نے مرکز ختم نبوت بلجیم کی کارکردگی پر تفصیلی روشنی ڈالی ۔ بعد ازاں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت یورپ کے امیر مولانا منظور احمد الحسینی کو دعوت خطاب دی گئی ۔ انہوں نے تحفظ ختم نبوت کے عقیدہ کی اہمیت اور اس سلسلے میں کانفرنسوں کے انعقاد کے اہتمام پر تفصیلی طور پر روشنی ڈالی ۔ انہوں نے کہا کہ اس سال عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سات کانفرنسیں منعقد کر رہی ہے اور ان شاء اللہ! اس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے ۔ بعد ازاں حضرت مولانا عبدالمجید ندیم شاہ نے سیرت النبی ﷺ کے موضوع پر تفصیلی خطاب کیا ۔ ختم نبوت کانفرنس ۷ بجے ختم
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہوئی۔ اس کانفرنس کی صدارت جناب ملک محمد افضل نائب صدر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بلجیم نے کی جب کہ سٹیج سیکرٹری کے فرائض بلجیم مجلس کے جنرل سیکرٹری نے انجام دیئے۔ نماز عصر کے بعد شرکاء کو مجلس کی طرف سے عشائیہ دیا گیا۔ فرانس، ہالینڈ اور بلجیم کے شہروں سے مسلمانوں نے نہایت جذبے اور ذوق وشوق کے ساتھ کانفرنس میں شرکت کی۔ دوسرے روز صبح قافلہ ختم نبوت دو حصوں میں تقسیم ہوا۔ مولانا عبدالمجید ندیم اور ملک محمد افضل صاحب بذریعہ ریل سفر کیا اور باقی اراکین وفد نے حاجی عبدالحمید اور قاری محمد یوسف کی قیادت میں بذریعہ کار ۲۲؍ جولائی آفن باخ پہنچے۔ وہاں مولانا قاری مشتاق الرحمن نے عصر تا عشاء سیرت النبی ﷺ کے نام سے کانفرنس کا نظم کیا تھا۔ یہ کانفرنس مولانا منظور احمد الحسینی کی صدارت میں ہوئی۔ مولانا قاری مشتاق الرحمن، حاجی عبدالحمید، مولانا منظور احمد الحسینی، مولانا عبدالمجید ندیم شاہ نے ختم نبوت کے موضوع پر تفصیلی خطابات فرمائے۔ مولانا عزیز الرحمن ہزاروی اور قاری محمد ہاشم نے بھی بیان کیا۔
دوسری ختم نبوت کانفرنس برلن:
اتوار ۲۳؍ جولائی ۲۰۰۰ء کو ۹ بجے صبح برطانیہ، بلجیم اور جرمنی کے علماء کرام پر مشتمل ایک بڑا وفد بڑی وین اور ایک کار کے ذریعے برلن روانہ ہوا۔ وہاں جامع مسجد بلال میں ظہر تا عصر دوسری سالانہ ختم نبوت کانفرنس کا اہتمام جامع مسجد بلال کے منتظمین جناب آصف مولا داد، جناب عبدالرزاق اور ان کے احباب نے کیا تھا۔
اس کانفرنس میں شرکاء کی تعداد مثالی تھی اور اس میں تمام مکتبہ فکر کے احباب شامل تھے جب کہ مستورات کے لئے پردے کا انتظام بھی تھا۔ مولانا منظور احمد الحسینی نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور مولانا عبدالمجید ندیم شاہ صاحب نے سیرت النبی ﷺ کے موضوع پر تفصیلی روشنی ڈالی جب کہ مولانا قاری مشتاق الرحمن، مولانا محمد احمد، حاجی عبدالحمید، مولانا عزیز الرحمن ہزاروی، قاری محمد ہاشم، آصف مولا داد اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ شام کو مسجد بلال کی انتظامیہ کی طرف سے عشائیہ دیا گیا اور رات گئے تک دوست احباب علماء کرام سے ملاقاتیں کرتے رہے وفد ختم نبوت تین حصوں میں تقسیم ہوا، مولانا قاری مشتاق الرحمن اور مولانا محمد احمد برلن سے آفن باخ روانہ ہوئے، قاری محمد یوسف حاجی عبدالحمید، مولانا منظور احمد الحسینی، مولانا عزیز الرحمن ہزاروی اور قاری محمد ہاشم بذریعہ کار برسلز، بلجیم روانہ ہوئے اور پھر وہاں سے وفد جو برطانیہ سے آیا تھا اس کی واپسی بذریعہ یورو اسٹار ریل لندن واپسی ہوئی۔
ختم نبوت کانفرنس کوپن ہیگن:
مؤرخہ ۲۹؍ جولائی ۲۰۰۰ء بروز ہفتہ کوپن ہیگن میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس کی تیاری کے لئے مولانا محمد فاروق سلطان جناب خواجہ اللہ دتہ اور دیگر احباب نے ملکر بہت محنت کی۔ اس سلسلے میں انہوں نے اسلامک مرکز کے قریب ایک بڑا ہال کرائے پر لیا اور مستورات کے لئے مسجد کے متصل قریبی ہال میں بذریعہ فونک خطاب کا بندوبست کیا۔ ظہر کے فوراً بعد کانفرنس کا آغاز ہونا تھا فدایان ختم نبوت جوق در جوق ظہر کے فوراً بعد بیلا ہائی کانفرنس ہال میں جمع ہونا شروع ہو گئے، ڈھائی بجے ہال بھر گیا۔ پونے تین بجے سہ پہر حافظ قاری عبدالقیوم کی تلاوت قرآن حکیم سے کانفرنس کا آغاز ہوا۔ نعت جناب حافظ عبدالرزاق نے پیش کی۔ کانفرنس کی غرض وغایت اور افتتاحی کلمات جناب مولانا محمد فاروق سلطان امام کوپن ہیگن نے ارشاد فرمائے۔ دین میں ”عقیدہ ختم نبوت کا مقام“ کے عنوان سے حاجی عبدالحمید نے خطاب کیا۔ جناب طہ قریشی کا موضوع تھا ”نوجوان نسل میں تحفظ ختم نبوت کا کام کیسے کیا جائے“۔ شیخ احمد مدیر الوقف الاسلامی ڈنمارک نے ”ایمان کے تقاضے“ کے عنوان پر بیان کیا۔ حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر نے ”قادیانیت اور حقوق انسانیت“ کے عنوان پر خطاب کیا۔ جناب مولانا احمد خان ڈائریکٹر ڈسکور اسلام بحرین کا موضوع تھا ”مسلمانوں کا جہادی رول اور احساس
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء
ذمہ داری‘‘ مولانا منظور احمد الحسینی کو موضوع دیا گیا تھا۔ ’’مجھے اپنے رسول ﷺ سے محبت ہے۔‘‘ انہوں نے اس پر تفصیلی بیان کیا آخر میں مولانا عبدالمجید ندیم شاہ نے سیرت کے موضوع پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ اس طرح یہ کانفرنس بوقت عصر مولانا منظور احمد الحسینی کی دعائے خیر پر اختتام پذیر ہوئی۔ عصر کے بعد تمام مہمانان گرامی و فدایان ختم نبوت کو عشائیہ دیا گیا۔ اس دوران مولانا محمد فاروق سلطان کے ساتھ مجلس بھی رہی اور مختلف امور پر تبادلہ خیال ہوا۔ عشاء کے بعد سویڈن سے آنے والے وفد نے وفد ختم نبوت سے ملاقات کی اور عندیہ دیا کہ اگلے سال ختم نبوت کانفرنس سویڈن میں بھی منعقد کرائی جائے۔ اس پر غور خوض کیا گیا۔ مغرب تا عشاء مولانا منظور احمد الحسینی اور طہ قریشی نے قادیانیت کے موضوع پر محفل سوال و جواب سے خطاب کیا۔ اس میں مسلمانوں کو کافی معلومات ہوئیں اور آئندہ انہوں نے ختم نبوت پر تربیتی پروگرام کے لئے اپنے نام لکھوائے۔ یہ اجلاس نہایت اہم رہا۔ ان شاء اللہ! اس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔
دوسرے روز ۳۰؍جولائی کی صبح کو وفد ختم نبوت بذریعہ ہوائی جہاز اوسلو روانہ ہوا کچھ احباب کار کے ذریعے رات ہی کو اوسلو روانہ ہو گئے تھے۔ ایئر پورٹ پر وہاں کے مقامی علماء کرام اور احباب نے وفد ختم نبوت کا شاندار استقبال کیا اور پھولوں کے گلدستے پیش کئے۔ وسط شہر ایک مدرسہ میں سب حضرات ٹھہرائے گئے اور وہیں ان کو ظہرانہ دیا گیا۔ مولانا ذوالقرنین اسکندر نے یہ سارا نظم بنایا تھا اور کانفرنس کی تیاری میں وہ پیش پیش تھے۔
ختم نبوت کانفرنس اوسلو، ناروے:
ظہرانہ کے بعد مہمانان گرامی اور ختم نبوت کانفرنس کی انتظامیہ کے درمیان ایک میٹنگ ہوئی کہ پروگرام کا نظم کس طرح بنایا جائے۔ طے پایا کہ بڑے مقرر حضرت مولانا عبدالرزاق اسکندر، مولانا منظور احمد الحسینی اور مولانا عبدالمجید ندیم شاہ کو آخر میں زیادہ وقت دیا جائے۔ ان سے قبل مختصر بیانات کرائے جائیں۔ کانفرنس شہر کے وسط میں ایک بڑے خوبصورت اور بڑے ہال میں تھی۔ ۳ بجے کانفرنس کا آغاز ہوا۔ ہال میں ۴۰۰ سے زیادہ احباب کی گنجائش تھی جو کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ تلاوت کلام پاک کے بعد مولانا ذوالقرنین سکندر نے کانفرنس اور اس کی ضرورت پر خطاب فرمایا۔ انہوں نے کہا کہ ناروے میں ضرورت تھی کہ ختم نبوت کا کام باقاعدہ طور پر کیا جائے۔ چنانچہ میں اور میرے احباب نے اس سلسلے میں یہ پہلی کوشش کی ہے اور آپ دیکھ رہے ہیں کہ حق تعالیٰ شانہ نے اس کو پذیرائی بخشی ہے۔ پورے ملک اور اوسلو کے تمام حصوں سے جاں نثاران ختم نبوت تشریف لائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قادیانیوں کی ارتدادی سرگرمیوں سے مسلمانوں کو بچانا ہر مسلمان کی ڈیوٹی ہے۔ مولانا کے بعد بالترتیب مولانا بشیر احمد، مولانا حاجی عبدالحمید، جناب طہ قریشی نے خطاب کیا۔ بعد ازاں مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر کو دعوت خطاب دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ فتنوں کا دور ہے۔ اس وقت پوری دنیا کی کفریہ طاقتیں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف متحد ہیں اور یہ ایسی تحریکات کی سرپرستی کر رہی ہیں، جس سے مسلمانوں کی نئی نسل کو اسلام سے دور کیا جاسکے۔ لہٰذا جگہ جگہ برصغیر کی طرز پر دینی مدارس کے قیام کی شدید ضرورت ہے۔ جب مسلمانوں سے جہل ختم ہوگا تو یہ فتنے اپنی موت آپ ہی مرجائیں گے۔ بعد ازاں مولانا منظور احمد الحسینی کو دعوت خطاب دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ مرزا قادیانی نے قرآن پاک اور احادیث رسول اللہ ﷺ کی غلط تاویلیں کر کے سلسلہ نبوت کو جاری رکھنے کی ناپاک جسارت کی۔ جو لوگ نبوت و رسالت کے مقام کو نہیں سمجھتے تھے، وہ مرزا کے دام فریب میں پھنس گئے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنم کا ایندھن بن گئے۔
بعد ازاں آخری خطاب حضرت مولانا سید عبدالمجید ندیم شاہ صاحب کا ہوا اور ۸ بجے مولانا منظور احمد الحسینی کی دعاء پر یہ عظیم الشان کانفرنس اختتام پذیر ہوئی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بعد نماز عصر مقامی علماء کرام اور احباب جمع ہوئے انہوں نے کانفرنس کی کامیابی پر مبارک باد دی۔ مغرب کے بعد باہر سے آنے والے مہمانوں کو عشائیہ دیا گیا۔
دوسرے دن شام کو مولانا ذوالقرنین سکندر کے گھر تمام علماء کرام کو استقبالیہ دیا گیا۔ اس میں علماء کرام کے علاوہ مقامی کارکنوں نے بھی شرکت کی اور آئندہ ایک سال کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ناروے کے لئے انتخاب عمل میں لایا گیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام یہ پہلی کانفرنس تھی جو بحمدہ تعالیٰ وتوفیقہ خوب کامیاب رہی۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ۸ رکنی وفد کا ہنگامی دورہ:
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں مولانا مفتی نظام الدین شامزئی، مفتی جمیل احمد خان، مولانا منظور احمد الحسینی، مفتی خالد محمود، حاجی عبدالرزاق خان، حافظ محمد ایوب، محمد نعمان، اعتماد الحق بلجیم، ہالینڈ، فرانس اور جرمن کا دورہ کیا۔ وہ ۱۰ اگست کو رات ۳ بجے اینٹ ورپن پہنچے۔ وہاں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بلجیم کے جنرل سیکرٹری نے ان کے اعزاز میں عشائیہ دیا۔ وفد کے اراکین نے روز رابطہ عالم اسلامی بلجیم کے مرکز میں ڈائریکٹر الاستاذ عبدالرحمن اور امام الاستاذ جاد الرب عبدالقدوسوتی سے ملاقات کی۔ ہالینڈ میں جناب حافظ محمد انس اور دیگر احباب سے تحفظ ختم نبوت کے امور پر میٹنگ کی۔ مسجد رحمت پیرس میں جمعہ کے موقع پر مولانا مفتی نظام الدین شامزئی نے خطاب فرمایا اور جرمنی آفن باخ میں مولانا قاری مشتاق الرحمن اور مولانا محمد احمد سے ملاقاتیں کیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۱۳ تا ۱۹/اکتوبر ۲۰۰۰ء ص ۱۲ تا ۱۴)
پندرھویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس برمنگھم
پہلی نشست: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام سنٹرل جامع مسجد برمنگھم میں ۶ اگست ۲۰۰۰ء کو پندرھویں سالانہ انٹرنیشنل ختم نبوت کانفرنس کے پہلے سیشن سے خطاب کرتے ہوئے دنیا کے مختلف ممالک سے آئے ہوئے علماء کرام، اسکالرز اور مندوبین ڈاکٹر مفتی نظام الدین شامزئی، مولانا عزیز الرحمن جالندھری، ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، ڈاکٹر فیض علی شاہ (کیلیفورنیا)، مولانا عبدالغفور حیدری، ڈاکٹر خالد محمود سومرو، مولانا خان محمد شیرانی، مولانا محمد اکرم طوفانی، قاری خلیل احمد بندھانی، حافظ عبدالقیوم نعمانی، مولانا عزیز الرحمن رحمانی اور دیگر حضرات نے کہا کہ اس وقت دنیائے کفر اسلام کو مٹانے کے درپے ہیں۔ نبی کریم ﷺ کے مقابلہ میں یوسف کذاب جیسے جھوٹے مدعی نبوت کو کھڑا کیا جارہا ہے۔ این جی اوز امدادی کاموں کی آڑ میں قادیانیت، عیسائیت، یہودیت کے تبلیغی ادارے بن چکے ہیں۔ مرزا طاہر اسلام اور پاکستان کے خلاف ببانگ دہل کفریہ دعوے کر رہا ہے۔ کروڑوں افراد کے بیعت ہونے کے جھوٹے دعوؤں اور خاتم النبیین کی غلط تشریح کے ذریعہ امت مسلمہ کو گمراہ نہیں کیا جاسکتا۔ ایک طرف قادیانی گروہ دعویٰ کرتا ہے کہ جھوٹا مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی سچا اور برحق تھا۔ جب کہ دوسری طرف قادیانی اپنے آپ کو قادیانی اور مرزائی کہنے سے کتراتے ہیں اور اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن قادیانی جماعت کو معلوم ہونا چاہئے کہ مسلمان کسی صورت میں عقیدہ ختم نبوت کی کوئی غلط تشریح قبول نہیں کر سکتے۔ تمام مسلمانوں کا یہ متفقہ عقیدہ ہے کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آسکتا اور نہ کسی نئے آدمی کو نبوت یا رسالت مل سکتی ہے۔ البتہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو اس وقت آسمانوں پر مسلمانوں اور عیسائیوں کے متفقہ عقیدے کے مطابق زندہ اور موجود ہیں۔ وہ قیامت سے قبل تشریف لائیں گے لیکن وہ حضور ﷺ کے امتی کی حیثیت سے آئیں گے اور آپ ﷺ کی شریعت اور تعلیمات کی پیروی کریں گے۔ مسیلمہ
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کذاب سے لے کر مرزا غلام احمد قادیانی تک مسلمانوں نے تمام جھوٹے مدعیان نبوت کو نہ صرف ٹھکرا دیا بلکہ ان کے خلاف جہاد کا اعلان کیا۔ مسلمان حضور ﷺ کے مقابلے میں کسی شخص یا جماعت کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ اس لئے ایک ارب بیس کروڑ مسلمانوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کے تمام دعووں کو ٹھکرا دیا۔ دنیا بھر کی تمام عدالتوں نے قادیانی گروہ کو غیر مسلم قرار دیا ہے۔ قادیانی اپنے آپ کو حق پر سمجھتے ہیں تو اسلام کا لبادہ کیوں اوڑھتے ہیں؟ آج سیٹلائٹ اور انٹرنیٹ کے ذریعے تبلیغ کو قادیانی گروہ کا موجودہ سربراہ مرزا طاہر اپنی حقانیت کی دلیل سمجھ رہا ہے حالانکہ عیسائیوں اور یہودیوں کے پاس اس سے زیادہ تشہیری وسائل ہیں۔ اس دلیل کی رو سے تو وہ بھی حق پر ہوئے۔ حالانکہ ان کے کفر میں اسی طرح کوئی شبہ نہیں۔ جس طرح قادیانیوں کے کفر میں کوئی شبہ نہیں۔ قادیانی جماعت نے برصغیر کی تحریک آزادی کے وقت جہاد کو حرام قرار دیا تا کہ مسلمانوں کی جدوجہد آزادی کو ناکام بنا دیا جائے۔ آج جب کہ مظلوم مسلمان افغانستان، کشمیر، فلسطین اور چیچنیا میں آزادی کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں تو مرزا طاہر اور اس کے ہمنواء جہاد کو خونریزی اور دہشت گردی قرار دے کر مسلمانوں کو آزادی کی نعمت سے محروم کر کے نسل کشی کے ذریعے مسلمانوں کو ختم کرانے کے امریکی منصوبے پر عمل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دریں اثنا پندرہویں سالانہ انٹرنیشنل ختم نبوت کانفرنس میں حسب سابق امریکہ، جرمنی، بلجیم، ناروے، ڈنمارک، جنوبی افریقہ، ہندوستان، بنگلہ دیش، پاکستان سمیت متعدد ممالک کے مندوبین اور اسکالرز نے شرکت کی۔ واضح رہے کہ یہ کانفرنس یورپ میں مسلمانوں کے سب سے بڑے مذہبی اجتماع ہونے کی وجہ سے بین الاقوامی شہرت کی حامل ہے۔ کانفرنس میں بیس ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی۔ کانفرنس کی صدارت یونیورسٹی آف اسلامک سائنسز کے چانسلر اور جامعہ الازہر قاہرہ کے فاضل ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر نے کی۔ قبل ازیں کانفرنس کا آغاز جامعہ دارالعلوم کراچی کے استاد القراء قاری عبدالمالک کی تلاوت سے ہوا۔ کانفرنس کے انتظامات عالمی مجلس تحفظ برطانیہ کے رضاکاروں نے انجام دیئے۔
دوسری نشست: پندرہویں سالانہ انٹرنیشنل ختم نبوت کانفرنس کے دوسرے سیشن سے خطاب کرتے ہوئے دنیا کے مختلف ممالک سے آئے ہوئے علماء کرام، اسکالرز، مندوبین اور مختلف دینی جماعتوں کے رہنماؤں رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر صالح عبداللہ العبید، جمعیت علماء ہند کے امیر مولانا سید اسعد مدنی، جمعیۃ علماء برطانیہ کے سیکرٹری جنرل مفتی محمد اسلم، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت یورپ کے امیر مولانا منظور احمد الحسینی، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت امریکہ کے امیر مولانا فیض علی شاہ، (کیلیفورنیا امریکہ) قاری خلیل احمد بندھانی، مفتی محمد جمیل خان، قاری اسماعیل رشیدی، حافظ عبدالقیوم نعمانی، مفتی خالد محمود، مولانا سلیم دھورات، قاری احمد عثمان ایڈووکیٹ، طہ قریشی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلم حکمرانوں نے اگر این جی اوز کی آڑ میں قادیانیت، عیسائیت کا راستہ نہ روکا تو تاریخ ان کو کبھی معاف نہیں کرے گی اور وہ وقت دور نہیں جب انڈونیشیا کی طرح دیگر ممالک میں بھی قادیانی اور عیسائی ریاستیں قائم کر دی جائیں۔ بنگلہ دیش میں تقسیم پاکستان کے وقت صرف چند ہزار عیسائی تھے لیکن آج این جی اوز کی تبلیغی سرگرمیوں کی بدولت ان کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ امریکہ اور مغرب صرف جہاد کے مخالف نہیں بلکہ وہ جہاد کے ذریعے اسلام کی بالادستی سے بھی خوفزدہ ہیں۔ اس لئے ان کی خواہش ہے کہ وہ روئے زمین پر سے اسلام کے وجود کو ہی مٹا دیں۔ مگر اب امت مسلمہ کے نوجوان بیدار ہوچکے ہیں۔ جب تک ایک مسلمان نوجوان بھی باقی ہے ان کی یہ خواہش پوری نہیں ہوگی۔ مولانا یوسف لدھیانوی کو شہید کر کے اگر قادیانی اسلام دشمن قوتیں یا منافقین کا ٹولہ یہ سمجھنے لگا ہے کہ اب پاکستان یا دنیا بھر میں قادیانیت کو فروغ ملے گا تو یہ ان کی بھول ہے۔ مولانا محمد یوسف لدھیانوی کے کروڑوں پیروکار قادیانیوں کی ہر سازش کو ہر سطح پر ناکام بنا دیں گے۔ اب گلی گلی عقیدہ ختم نبوت کی باتیں ہوں گی۔ اگر حکومت پاکستان نے مولانا محمد یوسف لدھیانوی کے قاتلوں کو
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گرفتار نہ کیا تو ہم سمجھیں گے کہ حکومت نے ان کو شہید کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت برطانیہ اگر مولانا فضل الرحمن کو اس لئے ویزہ نہیں دیتی کہ وہ امریکہ کے ناپاک عزائم اور این جی اوز کی ارتدادی سرگرمیوں سے مسلمانوں کو بچا رہے ہیں تو یہ فعل قابل مذمت۔ ایسی صورت میں علماء کرام مجبور ہوں گے کہ وہ برطانیہ سے آنے والے پادریوں کے گروپوں کو ویزہ نہ دینے کے لئے حکومت پاکستان پر دباؤ ڈالیں۔ مقررین نے قادیانیوں کے موجودہ سر براہ مرزا طاہر کی جانب سے قادیانیوں کے سالانہ اجتماع کے موقع پر کئے گئے جھوٹے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایک ارب بیس کروڑ مسلمان قادیانیوں کو مسترد کر چکے ہیں اور ان شاء اللہ ! اگلی صدی اسلام کے غلبہ کی صدی ہوگی۔
ختم نبوت کانفرنس ڈنمارک
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں مولانا سید عبدالمجید ندیم، ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، مولانا منظور احمد الحسینی، مولانا محمد فاروق، طہ قریشی، حاجی عبدالحمید، مولانا احمد خان اور مولانا مشتاق الرحمن نے اسلامک سنٹر کوپن ہیگن میں ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت امت مسلمہ کی وحدت کی بنیاد ہونے کے ساتھ ساتھ اس عقیدہ کے محور پر امت مسلمہ کی شیرازہ بندی قائم رہ سکتی ہے۔ سب سے پہلے اس عقیدہ کی شادابی کے لئے ۱۲ سو سے زائد حفاظ، قراء، محدثین اور مفسرین صحابہ کرام ؓ نے شہادت کا نذرانہ پیش کیا اور گزشتہ سو سال سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے علماء کرام اور قافلہ امیر شریعت کے جاں نثاران ختم نبوت قربانیوں کے ذریعہ اس شجرہ طیبہ کی آبیاری کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔ شہید ختم نبوت کی شہادت عقیدہ ختم نبوت کے اس شجرہ طیبہ کو مزید سر سبز و شاداب کرے گی اور آپ کا مبارک خون مسلمانوں کے بہتر مستقبل کی تمہید ہے۔ آج دنیا بھر میں قادیانی گروہ مسلمانوں کے اس عقیدہ ختم نبوت پر زد لگانے کے لئے در پردہ سازشوں میں مصروف ہے اور پاکستان میں دہشت گردی کی پشت پر یہودی اور عیسائیوں کے تعاون سے قادیانیت کا بہت بڑا کردار ہے۔ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر یہ گروہ پسماندہ علاقوں میں امداد کی آڑ میں مسلمانوں کو دین سے ہٹانے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔
الحمد للہ ! ختم نبوت کانفرنسوں کے ذریعے مسلمانوں کے عقیدہ ختم نبوت کی آگاہی کے ساتھ ساتھ غیر مسلموں اور منکرین ختم نبوت کی ارتدادی سرگرمیوں سے بچانے کے لئے لائحہ عمل دیا جاتا ہے۔ بلجیم، مغربی جرمنی اور ڈنمارک کے بعد اب ناروے، پولینڈ، پرتگال اور امریکہ میں ختم نبوت کانفرنسوں کا آغاز نیک شگون ہے۔
ختم نبوت کانفرنس بولٹن
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا عبدالرشید، مولانا علی بھائی نے جامع مسجد زکریا بولٹن میں ختم نبوت سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو گروہ عقیدہ ختم نبوت کا منکر ہو اور حضور ﷺ کے بعد کسی جھوٹے مدعی نبوت کا پیروکار ہو، اس کے باوجود قرآن پر یقین اور رسالت پر ایمان کا دعویدار ہو تو اس کا دعوی جھوٹ اور دھوکہ کے سوا کچھ نہیں۔ کیونکہ عقیدہ ختم نبوت اسلام کا وہ بنیادی عقیدہ ہے، جس کے منکر کے خلاف حضرت ابو بکر صدیق ؓ سے لے کر آج تک علماء کرام نے اجتماعی طور پر جہاد کا فتوی دیا اور اس پر عمل کیا۔ آج دنیا بھر میں عمومی طور پر اور یورپ میں خصوصی طور پر قادیانی اور منکرین ختم نبوت انسانی حقوق کے حوالے سے مسلمانوں اور پاکستان کے خلاف پروپیگنڈوں میں مصروف ہیں اور کوشش کی جارہی ہے کہ اسلام کو خواہشات کا تابع بنا دیا جائے۔ ایسی صورت میں دعوت و تبلیغ اور جہاد کے ذریعہ مسلمان اپنا تشخص برقرار رکھتے ہوئے اسلام کے غلبہ کے لئے جدوجہد کریں تاکہ دنیائے کفر کے منصوبوں کو ناکام بنایا جاسکے۔ اجتماعات سے حافظ احمد عثمان ایڈووکیٹ، سید عمران ذکی، مولانا مفتی محمد فاروق، قاری محمد
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہاشم ، مولانا محمد شعیب ، محمد منیب بیگ ، مولانا لقمان ، مولانا یحییٰ لدھیانوی نے خطاب کیا۔
ختم نبوت کانفرنس پیرس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامع مسجد ترک پیرس میں ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مجلس شوری کے رکن مولانا سید عبدالمجید ندیم شاہ نے کہا کہ قادیانی گروہ اور اس کے سربراہ اپنے دل و دماغ سے یہ بات نکال دیں کہ وہ دنیاوی ترقیات، سیاسی پناہوں، نوکریوں اور دنیاوی لالچ کے بل بوتے پر مسلمانوں کو قادیانیت کے نرغے میں لے لیں گے اور مسلمان حضور ﷺ کے دامن سے رشتہ توڑ لیں گے۔ کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے کبھی بھی بڑے سے بڑے دنیاوی مفاد کے مقابلہ میں حضور ﷺ کی محبت کو ترجیح دی ہے۔ مسیلمہ کذاب سے لے کر مرزا غلام احمد قادیانی تک ہر جھوٹے مدعی نبوت نے دنیاوی مفادات کے ذریعہ ہی مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی، لیکن غریب سے غریب مسلمان نے ان کی پیشکشوں کو ٹھکرا دیا۔ اگر مرزا طاہر حق پر ہے تو وہ اپنے مذہب کے لئے الگ تشخص کا اعلان کیوں نہیں کرتا۔ اب یورپ اور دنیا بھر میں عقیدہ ختم نبوت کا پرچم بلند ہو چکا ہے۔ اگر عیسائیت اور یہودیت ڈش انٹینا اور انٹرنیٹ اور ذرائع ابلاغ کے بل بوتے یا لاکھوں کی تعداد میں انجیل اور تورات چھپوا کر مسلمانوں کو دین سے نہیں ہٹا سکے تو قادیانی کس طرح مسلمانوں کی غلط تراجم اور انٹرنیٹ اور ڈش انٹینا کے ذریعے گمراہ سکیں گے۔ ان شاء اللہ ! مسلمان ہر مقام پر قادیانیت کی ارتدادی سرگرمیوں کی راہ میں بھر پور مزاحمت کریں گے۔ کانفرنس سے حاجی عبدالحمید صدر ختم نبوت بلجیم اور حاجی محمد اشرف نے بھی خطاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۰۰ء ص ۵۲ تا ۵۶)
ختم نبوت کانفرنس سیالکوٹ
جامع مسجد فاروقیہ سیالکوٹ میں ایک روزہ ختم نبوت کانفرنس کا حضرت پیر شبیر احمد گیلانی ، مولانا محمد مصدق ، پروفیسر شجاعت علی مجاہد اور مولانا محمد عارف ندیم نے ۲۴ اگست بعد از نماز مغرب اہتمام کیا۔ حضرت مولانا سمیع الحق ، حضرت مولانا محمد اسعد تھانوی ، مولانا یحییٰ خان، حضرت مولانا بشیر احمد شاد، حضرت مولانا محمد سیف الرحمن درخواستی، حضرت مولانا عبدالرحیم نقشبندی، مولانا عبدالرؤف فاروقی، مولانا ڈاکٹر غلام محمد، مولانا فقیر اللہ اختر اور دوسرے حضرات کے بیانات ہوئے۔ یوں مغرب سے رات گئے تک عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ضلعی امیر پیر شبیر احمد گیلانی کی صدارت میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۰۰ء ص ۶۰)
ختم نبوت کانفرنس ہائے ڈیرہ غازی خان ڈویژن
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۲۸ اگست کو جاگیر گبول ضلع راجن پور، اسی دن بعد نماز عشاء مدرسہ مفتاح العلوم راجن پور، ۲۹ اگست بعد از نماز ظہر جامعہ اسلامیہ ڈیرہ غازی خان، بعد نماز عشاء جامعہ مسجد شیلانی تونسہ، ۳۰ اگست بعد نماز ظہر ریتڑہ، بعد از نماز عشاء مدرسہ بحر العلوم ڈیرہ غازی خاں شہر میں ختم نبوت کانفرنسیں منعقد ہوئیں۔ جن میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم تبلیغ مولانا بشیر احمد، بزرگ رہنما مولانا صوفی اللہ وسایا، مولانا امام الدین قریشی، مولانا اللہ وسایا، مولانا حافظ علی محمد، قاری محمد صدیق، مولانا غلام فرید، مولانا عبدالعزیز لاشاری، مولانا محمد رفیق، قاری محمد اکمل، مولانا جمال عبدالناصر، مولانا غلام اکبر اور دوسرے رہنماؤں نے خطاب کیا۔ بحمدہ تعالیٰ تمام کانفرنسیں مثالی طور پر کامیاب ہوئیں۔ جگہ جگہ مجلس کا لٹریچر تقسیم کیا گیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۰۰ء ص ۵۸)
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کورس رحیم یار خان
دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت و سرکلر روڈ رحیم یار خان میں ۲۷، ۲۸، ۲۹؍ جولائی و یکم؍ اگست ۲۰۰۰ء کورس کا اہتمام کیا گیا۔ حضرت مولانا بشیر احمد مرکزی ناظم تبلیغ نے اس کے افتتاحی اجلاس سے ایمان افروز خطاب فرمایا۔ بقیہ ایام میں مولانا اللہ وسایا ، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطابات کئے۔ سوال و جواب کی محافل منعقد ہوئیں۔ پہلا اجلاس دفتر میں ہوا لیکن جگہ ناکافی ہونے کے باعث بقیہ تمام پروگرام جامعہ مدنیہ کی جامع مسجد میں منعقد ہوئے۔ بلاشبہ سینکڑوں حضرات نے اس میں شرکت کی۔ اس موقع پر کوٹ سبزل میں ختم نبوت کانفرنس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں سراج السالکین حضرت میاں سراج احمد دین پور کی صدارت میں مولانا اللہ وسایا اور دیگر علماء کرام نے بیانات فرمائے۔ مولانا نے جامع مسجد غلہ منڈی میں حضرت قاری محمد اکمل ، خطیب جامعہ ہذا کی دعوت پر جمعہ کے اجتماع سے خطاب کیا۔ اس طرح استاذ العلماء حضرت مولانا محمد یوسف صاحب کی دعوت پر جامعہ عثمانیہ گلشن اقبال میں سینکڑوں علماء ، وطلباء کے اجلاس سے بھی مولانا اللہ وسایا نے خطاب کیا۔ حضرت قاضی عزیز الرحمن صاحب، حضرت مولانا بشیر احمد ، حضرت مولانا مفتی عبداللطیف ، حضرت مولانا قاضی شفیق الرحمن ، حضرت مولانا احمد بخش اور دوسرے حضرات کی دعاؤں وتوجہ سے گویا چار روزہ کانفرنسوں سے بھی زیادہ فائدہ ہوا۔
ختم نبوت کورس گمبٹ
گمبٹ ضلع خیر پور سندھ میں یکم سے ۳؍اگست تک دو روزہ ختم نبوت کورس کا اہتمام کیا گیا۔ سینکڑوں حضرات نے شرکت کی۔ حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے پرمغز لیکچرز دیئے۔ حضرت مولانا خان محمد مبلغ اور جماعت کے رفقاء اور دینی قیادت نے اسے مثالی طور پر کامیابی سے ہمکنار کیا۔
ختم نبوت کورس بہاول پور
دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ۳۹ ماڈل ٹاؤن میں ۱۳، ۱۴، ۱۵، ۱۶؍اگست ۲۰۰۰ء کو چار روزہ کورس کا اشتہار شائع کیا گیا۔ مولانا محمد اسحاق ساقی نے مقامی جماعت کی سرپرستی میں بھر پور محنت کی۔ چنانچہ چاروں روز عصر تا عشاء شرکاء کی اتنی زیادہ حاضری تھی کہ بجائے دفتر کے غلہ منڈی کی جامع مسجد حاجی اشرف میں یہ منعقد کیا گیا۔ مناظر اسلام حضرت مولانا خدا بخش شجاع آبادی اور حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کے لیکچرز ہوئے۔ سوالات وجوابات کی محفل منعقد ہوئی۔ جامعہ مدنیہ اور دوسرے مدارس میں مناظرین ختم نبوت کے لیکچرز ہوئے۔
ختم نبوت کورس گوجرانوالہ
دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ میں ۲۲، ۲۳؍اگست ۲۰۰۰ء کو دو روزہ کورس کا اعلان کیا گیا۔ عصر تا مغرب اور پھر بعد نماز عشاء پہلے دن اتنی حاضری تھی کہ دوسرے دن جامع مسجد ختم نبوت میں اہتمام کرنا پڑا۔ حضرت مولانا حافظ محمد ثاقب، حضرت مولانا فقیر اللہ اختر ، مولانا حافظ محمد یوسف عثمانی ، پروفیسر محمد اعظم ، پروفیسر محمد انور، محترم حافظ احسان الواحد ، حافظ محمد الیاس، جناب قاری امان اللہ اور دوسرے رفقاء کی محنت سے بحمدہ تعالیٰ بہت ہی زیادہ تعداد میں رفقاء نے شرکت کی۔ دونوں دن مولانا اللہ وسایا کے بیانات ہوئے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کورس لاہور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر مسجد عائشہ مسلم ٹاؤن میں ۲۳، ۲۴، ۲۵؍اگست ۲۰۰۰ء کو سہ روزہ تحفظ ختم نبوت کورس منعقد ہوا۔ جس میں مولانا اللہ وسایا نے تینوں دن اسباق پڑھائے۔
ختم نبوت کورس بہاول نگر
۲۴، ۲۵، ۲۶؍ اگست کو سہ روزہ رد قادیانیت کورس کا دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت قاسم روڈ بہاول نگر میں اہتمام کیا گیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مناظر اسلام حضرت مولانا خدا بخش صاحب کے تین روزہ مناظرانہ خطابات سے علماء اور طلباء اور عوام نے بھر پور فائدہ اٹھایا۔ حضرت مولانا محمد قاسم رحمانی، حضرت مولانا قاری سعید احمد جنرل سیکرٹری، حضرت مولانا فیض احمد اور دوسرے حضرات کی مساعی سے حق تعالیٰ شانہ نے مقامی طور پر اس پروگرام کو کامیاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۰۰ء ص ۵۸ تا ۶۰)
اسلام آباد میں ختم نبوت کورس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد کے زیر اہتمام اسلام آباد میں ’’رد قادیانیت‘‘ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ اس کورس کو مفید بنانے کے لئے اور لوگوں کو بہتر معلومات فراہم کرنے کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا خدا بخش صاحب سے وقت لیا گیا۔
حضرت مولانا مدظلہ کی آمد پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد کے رہنما مولانا خالد میر، جناب اکرم اعوان اور جناب قاضی رضوان احمد، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع راولپنڈی کے حضرت مولانا محمود الحسن نے پرجوش انداز میں پروگرام کو کامیاب بنایا۔ اپنی ضعیفی اور علالت کے باوجود حضرت مولانا مدظلہ نے عقیدہ ختم نبوت اور ناموس رسالت ﷺ کے لئے اپنی تمام تر توانیاں صرف کیں۔
حضرت مولانا نے ختم نبوت ایجوکیشنل سوسائٹی اسلام آباد میں درس قرآن پاک دیا۔ یہ سوسائٹی الحمدللہ! عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد کے زیر اہتمام عقیدہ ختم نبوت کی سربلندی اور ناموس رسالت ﷺ کے لئے شب و روز مصروف عمل ہے۔ وہاں مولانا کا پرجوش خطاب ہوا۔ بعد ازاں مقامی علماء کرام اور دیگر مندوبین سے ملاقاتیں ہوئیں۔
اسلام آباد کی مشہور علمی درسگاہ جامعہ محمدیہ میں بھی حضرت مولانا مدظلہ کے مسلسل کئی پروگرام ہوئے اور درجہ ثانیہ سے لے کر درجہ مشکوٰۃ تک کے طلباء کرام کو روزانہ نماز عصر سے ایک گھنٹہ قبل فتنہ قادیانیت اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے متعلق درس دیئے اور طلباء کرام کی قادیانیت کے خلاف عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی جدوجہد سے آگاہ کیا۔ علاوہ ازیں مجلس کے دفتر ہی میں جو پروگرام رکھا گیا تھا، اللہ کریم نے اپنے خاص فضل و کرم سے اس کو بہت کامیاب بنایا اور علماء کرام، طلباء اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے حضرات نے مسلسل ایک ہفتہ کورس میں شرکت فرمائی۔ ان کے نام حسب ذیل ہیں:
مولانا سراج الدین، محمد عتیق، محمد ابراہیم، عبدالقیوم، سعید احمد، عبدالمجید، قاری احمد شاہ، عرفان احمد، عدیل اقبال، غفران، محمد شاہد، ولی احمد شاہ، رحیم الدین، اعجاز احمد، توقیر حیات، محمد اکرم اعوان، مولانا محمد عظیم، محمد خالد، یاسر شفیق، مسعود اکرم، محمد ہارون، محمد ارشد، محمد طاہر، محمد ادریس، ذکی الرحمن، جمال ناصر، مولانا حبیب اللہ، محمد ابراہیم، حضرت مولانا عبدالرحمٰن جامی کے علاوہ شہزاد احسن نصیر اور دیگر حضرات نے بھی بطور خاص شرکت فرمائی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حضرت مولانا خدا بخش دامت برکاتہم کا جمعہ کا بیان چک شہزاد اسلام آباد کی مرکزی جامع مسجد جناب حضرت مولانا قاری افضل صاحب کے ہاں ہوا۔ اس جمعہ کے اہتمام میں برادر مکرم جناب حضرت مولانا عبدالرزاق صاحب نے بہت تعاون کیا۔ اللہ کریم ان کی مساعی جمیلہ کو قبول فرمائیں اور ہم سب کی نجات کا ذریعہ بنائیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۸؍ جولائی تا ۳؍اگست ۲۰۰۰ء ص ۲۲)
رد قادیانیت کورس راولپنڈی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام یکم تا ۳؍ ستمبر ۲۰۰۰ء کو رد قادیانیت کورس راولپنڈی دفتر میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا، لیکن طلباء اور علماء کرام اور عوام کی اتنی کثیر تعداد میں شرکت کے باعث یہ کورس جامع مسجد امیر معاویہ میں منعقد کرنا پڑا۔ تینوں دن سینکڑوں حاضرین سے مولانا خدا بخش شجاع آبادی نے مختلف عنوانات پر ایمان افروز لیکچر دیے۔ کورس سے عوام میں بیداری کی ایک نئی لہر پیدا ہوئی۔ دریں اثنا شیخ القرآن مولانا غلام اللہ مرحوم کے مدرسہ تعلیم القرآن راجہ بازار میں ظہر سے عصر تک مولانا خدا بخش نے جامعہ کے طلباء سے خطاب کیا۔ یوں ہفتہ بھر راولپنڈی اور اسلام آباد کا ماحول عقیدہ ختم نبوت کی صداؤں سے گونجتا رہا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۰۰ء ص ۶۰)
تحسین القرآن نوشہرہ میں اجتماع
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۵؍ ستمبر ۲۰۰۰ء کو بعد از ظہر مدرسہ تحسین القرآن حکیم آباد نوشہرہ میں مدرسہ کے مہتمم قاری محمد عمر کی زیر صدارت اجتماع منعقد ہوا، جس میں علاقہ کے علماء اور طلباء کی بہت بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مولانا نور الحق نور، مولانا اللہ وسایا کا ختم نبوت کی اہمیت پر بیان ہوا۔
دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک
معروف دینی درس گاہ جامعہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں قائد جمعیت مولانا سمیع الحق کی اجازت سے ۵؍ ستمبر ۲۰۰۰ء کو بعد نماز عصر اجتماع منعقد ہوا۔ جامعہ کے استاد مولانا محمد یوسف شاہ نے اسٹیج سیکرٹری کے فرائض سرانجام دیئے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا اللہ وسایا کی ختم نبوت کی اہمیت اور علماء کرام کی ذمہ داریوں پر بیان ہوا۔ بعد میں مجلس کے وفد نے جامعہ کے شیخ الحدیث مولانا شیر علی کی خدمت میں حاضری دی۔ حضرت موصوف نے وفد کو اپنی دعاؤں سے نوازا اور ختم نبوت کے تحفظ کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی خدمات پر خوشی کا اظہار فرمایا۔
ختم نبوت کانفرنس نوشہرہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۵؍ ستمبر ۲۰۰۰ء بعد از عشاء جامع مسجد نوشہرہ صدر میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جامع مسجد کے خطیب مولانا عبدالقیوم نے صدارت فرمائی۔ مولانا قاضی عبدالرحمن، مولانا مفتی عبدالقیوم، مولانا نور الحق نور، مولانا اللہ وسایا، قاری محمد اسلم، قاری محمد اکمل کے علاوہ دوسرے علماء نے خطاب کیا۔
مردان میں ختم نبوت کانفرنس
۶؍ ستمبر ۲۰۰۰ء کو عصر کے بعد جامع مسجد مردان میں عظیم الشان اجتماع منعقد ہوا۔ جمعیت علماء اسلام مردان، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مردان و پشاور، تمام دینی مدارس کے اساتذہ و شیوخ حدیث غرض پوری دینی قیادت نے کانفرنس میں شرکت کی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس کوہاٹ
۷؍ستمبر ۲۰۰۰ء کو ظہر کے بعد جامع مسجد مرکزی مین بازار کوہاٹ میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ شیخ المشائخ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم نے کانفرنس کی صدارت فرمائی۔ کانفرنس سے جمعیت علماء اسلام اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی تمام تر دینی قیادت جمع تھی۔ علماء کرام کے بیانات ہوئے۔ بعد ازاں مین بازار کوہاٹ میں دفتر ختم نبوت کا امیر مرکزیہ نے افتتاح فرمایا۔
ختم نبوت کانفرنس پشاور
۷؍ستمبر ۲۰۰۰ء بعد از نماز عشاء قصہ خوانی بازار پشاور میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ شیخ المشائخ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم نے کانفرنس کی صدارت فرمائی۔ تلاوت قرآن قاری فیاض الرحمٰن نے فرمائی۔ مولانا نور الحق نور اسٹیج سیکرٹری تھے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا اللہ وسایا کے علاوہ دوسرے حضرات نے خطاب فرمایا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۰۰ء ص ۵۹، ۶۰)
ختم نبوت کانفرنس بہاول پور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۶؍ستمبر ۲۰۰۰ء کو اسلامی مشن بہاول پور میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم نے صدارت فرمائی۔ جامعہ باب العلوم کہروڑ پکا کے شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانوی صاحب اور صاحبزادہ خلیل احمد صاحب مہمان خصوصی تھے۔ کانفرنس کے انعقاد کا سہرا بہاول پور کی مجلس کے امیر حضرت حاجی سیف الرحمٰن اور ان کے رفقاء کے سر ہے۔ جنہوں نے اپنی شبانہ روز محنت سے کانفرنس کو کامیاب کیا۔ کانفرنس سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری، مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو، مولانا بشیر احمد، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا اللہ وسایا، مولانا یار محمد عابد، اسلامی مشن کے خطیب مولانا خیر اللہ، جامعہ مدنیہ کے شیخ الحدیث مولانا مفتی عطاء الرحمٰن، ناظم اعلیٰ مولانا زبیر احمد، حاصل پور کے مولانا گلزار احمد، خانقاہ شریف کے مولانا فضل الرحمٰن دھرم کوٹی، عالمی مجلس بہاول نگر کے مبلغ مولانا محمد قاسم رحمانی کے علاوہ رحیم یار خان کے مولانا احمد بخش صاحب نے خطاب کیا۔ ملک کے معروف نعت خوان قاری محمد حنیف شاہد رام پوری اور جناب مرید احمد سلیمانی نے نعتیہ کلام پیش کیا۔ بہاول پور مجلس کے مبلغ مولانا محمد اسحاق ساقی نے اسٹیج سیکرٹری کے فرائض سرانجام دیئے۔ عشاء سے رات ایک بجے تک کانفرنس جاری رہی۔ کانفرنس میں مندرجہ ذیل قراردادیں منظور ہوئیں۔
- ۱...... عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بہاول پور کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی ختم نبوت کانفرنس کا یہ اجلاس بہاول پور کے ڈپٹی کمشنر کے دینی
اداروں کے ساتھ معاندانہ رویہ کہ پرزور مذمت کرتے ہوئے کہتا ہے کہ مجلس کے زیر اہتمام قیام پاکستان سے لے کر گزشتہ سالوں تک جامع مسجد الصادق میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوتی چلی آرہی ہے۔ انتظامیہ نے کانفرنس پر پابندی لگا کر مسلمانان بہاول پور کی دل آزاری کی ہے۔ یہ اجتماع صوبائی گورنمنٹ سے مطالبہ کرتا ہے کہ ڈپٹی کمشنر کا تبادلہ کر کے کانفرنس کی سابقہ رویات کے مطابق جامع مسجد الصادق میں اجازت برقرار رکھی جائے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ......۲ یہ اجلاس مولانا قاضی رشید احمد کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے انتظامیہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ مولانا قاضی رشید احمد سے معافی
مانگی جائے۔
- ......۳ سرائے سدھو میں قادیانیوں کے خلاف کیس کے مدعی جناب بلال شہید کے قاتلوں کو جو کہ قادیانی ہیں قرار واقعی سزا دی جائے۔
- ......۴ جھوٹے مدعی نبوت یوسف کذاب کی سزائے موت کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کرتا ہے کہ اس فیصلے سے
دنیا بھر میں قادیانیوں کی طرف سے پھیلائی جانے والی سازشیں دم توڑ جائیں گی کہ گستاخ رسول ﷺ کی سزا کا قانون اقلیتوں کے سر پر لٹکتی ہوئی تلوار ہے۔
- ......۵ یہ اجلاس این جی اوز کی آڑ میں قادیانیوں اور عیسائیوں کی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کرتا ہے
کہ اگر این جی اوز کی سرگرمیوں پر پابندی عائد نہ کی گئی تو ملک میں امن وامان برقرار رکھنا حکومت کے بس میں نہ ہوگا۔
(ماہنامہ لولاک اکتوبر ۲۰۰۰ء ص ۵۷، ۵۸)
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی قائدین کا دورہ بلوچستان
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی قائدین ہر سال بلوچستان کا تفصیلی دورہ کرتے ہیں، اس سال بھی ۲۱؍ ستمبر ۲۰۰۰ء سے ۲۸؍ ستمبر تک مختلف اضلاع میں ختم نبوت کانفرنسوں سے خطاب کیا۔ ان پروگراموں میں شرکت کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی شوریٰ کے رکن خطیب العصر حضرت مولانا سید عبدالمجید ندیم شاہ صاحب ۲۱؍ ستمبر کو ایک بجے دن بذریعہ ہوائی جہاز ڈیرہ اسماعیل خان سے کوئٹہ پہنچے۔ ایئر پورٹ پر جماعت کے مقامی رہنماؤں نے ان کا استقبال کیا۔ سید عبدالمجید ندیم شاہ صاحب کے استقبال کے فوری بعد تمام ساتھی ریلوے اسٹیشن پہنچے، جہاں دو بجے چلتن ایکسپریس کے ذریعے جماعت کے مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری۔ لاہور کے مبلغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور سرگودھا کے مبلغ مولانا محمد اکرم طوفانی پہنچے، ان حضرات کا بھی شاندار انداز میں استقبال کیا گیا اور گاڑیوں کے جلوس کی شکل میں دفتر لایا گیا۔ رات کو جماعت کے مقامی رہنما اور روزنامہ ”جنگ کوئٹہ“ کے سینئر اسٹاف رپورٹر جناب فیاض حسین سجاد نے اپنی رہائش گاہ واقع شہباز ٹاؤن میں مرکزی حضرات کے اعزاز میں عشائیہ دیا، جس میں جماعت کے مقامی رہنماؤں کے علاوہ بڑی تعداد میں علماء کرام نے بھی شرکت کی۔
کوئٹہ میں نماز جمعہ کے پروگرام : ۲۲؍ ستمبر بروز جمعہ کو مجلس کے مقامی ساتھیوں نے مختلف مساجد میں مہمان علماء کرام کے بیانات کا پروگرام ترتیب دے رکھا تھا، چنانچہ جامع مسجد مرکزی میں حضرت مولانا سید عبدالمجید ندیم شاہ، جامع مسجد قندھاری میں مولانا عزیز الرحمن جالندھری، جامع مسجد سراج میں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور جامع مسجد گول میں مولانا محمد اکرم طوفانی نے خطاب کیا۔ علماء کرام نے جمعہ کے اجتماعات سے عقیدہ ختم نبوت، قادیانیوں کے کفریہ عقائد اور ضرورت جہاد پر روشنی ڈالی اور امت مسلمہ اتحاد اور اتفاق پر زور دیا۔
ختم نبوت کانفرنس کوئٹہ : ۲۲؍ ستمبر ۲۰۰۰ء کو بعد نماز مغرب جامع مسجد طوبیٰ مسجد روڈ کوئٹہ میں ایک روزہ سالانہ عظیم الشان ”ختم نبوت کانفرنس“ منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بلوچستان کے امیر حضرت مولانا منیر الدین مدظلہ نے کی۔ جماعت
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کے مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری اور مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا محمد اسماعیل، مولانا عبدالمجید ندیم شاہ نے خطاب فرمایا۔ کانفرنس سے مقامی علماء کرام مولانا عبدالواحد، مولانا انوار الحق، مولانا عبدالرحیم رحیمی نے بھی خطاب کیا۔ جب کہ سٹیج سیکرٹری کے فرائض مبلغ جتوئی مولانا عبدالعزیز جتوئی نے سرانجام دیئے۔ رات گئے حضرت اقدس مولانا منیر الدین مدظلہ کی پرسوز دعا پر کانفرنس کا اختتام ہوا۔
جامعہ تجوید القرآن میں طلباء سے خطاب: ۲۳؍ ستمبر ۲۰۰۰ء کو صبح ۱۰ بجے جامعہ عربیہ تجوید القرآن کوئٹہ میں دینی مدارس کے طلبہ کے لئے ایک مختصر سی تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا، جس سے خطاب کرتے ہوئے حضرت مولانا سید عبدالمجید ندیم شاہ صاحب اور حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ دینی مدارس کے طلبہ نے ہر دینی تحریک میں مجاہدانہ کردار ادا کیا ہے۔ تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء ہو یا ۱۹۷۴ء، تحریک نظام مصطفیٰ ہو یا کوئی اور تحریک، غرض ہر تحریک میں طلباء نے صف اول میں کردار ادا کیا ہے۔
ختم نبوت کانفرنس مچھ: ۲۳؍ ستمبر ۲۰۰۰ء بعد نماز مغرب جامع مسجد مرکزی مچھ میں ایک عظیم الشان ”ختم نبوت کانفرنس“ منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت حضرت مولانا سید عبدالمالک شاہ نے فرمائی۔ جب کہ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا عبدالصمد صاحب خطیب رحمانیہ مسجد نے ادا کئے۔ کانفرنس سے حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا محمد اکرم طوفانی نے اپنے خطاب میں قادیانیوں کے خلاف مجلس کی ۵۰ سالہ جدوجہد پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ کانفرنس سے مولانا عبدالعزیز جتوئی، مولانا عبدالواحد اور دیگر مقامی علماء کرام نے بھی خطاب کیا۔ تقریباً رات ۱۲ بجے مولانا سید عبدالمالک شاہ صاحب کی دعا پر کانفرنس اختتام کو پہنچی۔
پریس کلب کوئٹہ میں پروگرام ”حال احوال“ میں شرکت: ۲۴؍ ستمبر کو مجاہد ختم نبوت اور ”روزنامہ جنگ“ کوئٹہ اسٹاف رپورٹر جناب فیاض حسن سجاد صاحب نے پریس کلب میں پروگرام ”حال احوال“ میں مرکزی حضرات کی شرکت کا پروگرام ترتیب دیا تھا۔ اس پروگرام میں صحافی برادری نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ نے کہا کہ ”کسی بھی قوم کے لئے صحافی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ صحافی برادری کو چاہئے کہ وہ اپنا قلم حضور ﷺ کی ختم نبوت کے لئے وقف کر کے قیامت میں حضور ﷺ کی شفاعت کے مستحق بنیں اور اپنی ایمانی غیرت کا ثبوت دیں۔“
کوئٹہ دفتر میں استقبالیہ: ۲۴؍ ستمبر کو سہ پہر ۴ بجے دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت آرٹ اسکول روڈ کوئٹہ میں مقامی جماعت کی طرف سے مجلس کے مرکزی قائدین اور ان وکلاء کرام کے اعزاز میں ایک استقبالیہ دیا گیا، جنہوں نے اسلامی جذبہ سے سرشار ہو کر توہین قرآن کے مقدمے کی پیروی کی اور بحمد اللہ کامیابی حاصل ہوئی اور توہین قرآن کے ملزم کو کیفر کردار تک پہنچایا۔ استقبالیہ میں وکلاء کرام جناب چوہدری رفیق ایڈووکیٹ، جناب چوہدری ممتاز یوسف ایڈووکیٹ، جناب زاہد مقیم انصاری، جناب محمد ناصر کاسی، جناب سید محمد اشفاق محمود ایڈووکیٹس اور مرکزی قائدین حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی کے علاوہ شہر کے نامور مقامی علماء کرام، معززین شہر، پروفیسرز، ڈاکٹرز اور جماعتی احباب نے شرکت کی۔ استقبالیہ تقریب سے مولانا عبدالعزیز جتوئی، مولانا انوار الحق حقانی، مولانا عبدالواحد نے اپنے خطاب میں بلوچستان میں جماعت کی کارکردگی اور عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور جماعت کے مرکزی قائدین کو بلوچستان آمد پر خوش آمدید کہا اور توہین قرآن کے مقدمے کی کامیابی پر وکلاء کو مبارکباد پیش کی۔ آخر میں مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے خطاب کیا اور کہا کہ آج الحمدللہ! عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے پلیٹ فارم سے قادیانی فتنہ کی سرکوبی کے لئے جدوجہد جاری ہے اور جب تک دنیا سے اس فتنے کا خاتمہ نہیں ہو جاتا تو ان شاء اللہ یہ جہد مسلسل جاری رہے گا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس مستونگ : ۲۴؍ستمبر کو بعد نماز مغرب مستونگ میں ’’ختم نبوت کانفرنس‘‘ منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت جامعہ فاروقیہ مستونگ کے مہتمم حضرت مولانا عبدالباقی صاحب نے کی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے کہا کہ قادیانیت اسلام کے لئے ایک ناسور ہے۔ عالم اسلام کو اتحاد کا مظاہرہ کر کے اس کے خلاف جہاد کرنا چاہئے۔ مولانا محمد اکرم طوفانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قادیانیت کا اصل علاج جہاد ہے اور جہاد ہی کے ذریعہ قادیانیت سمیت تمام فتنوں کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت دین اسلام کی بنیاد اور ایمان کی روح ہے۔ پورے دین اسلام کی عمارت اس عقیدے کی بنیاد پر کھڑی ہے۔ کانفرنس سے مقامی علماء کرام مولانا عبدالسلام، مولانا مولا بخش، مولانا عبدالواحد، مولانا عبدالعزیز جتوئی، نے بھی خطاب کیا اور بلوچستان کے مشہور شاعر حافظ علی محمد مینگل نے انقلابی نظمیں پڑھ کر مسلمانوں کے خون کو گرمایا۔ جمعیت علماء اسلام کے ضلعی امیر مولانا عبدالستار کی دعا پر کانفرنس اختتام پذیر ہوئی۔
ختم نبوت کانفرنس لورالائی : ۲۵؍ستمبر کو بعد نماز ظہر مرکزی جامعہ مسجد لورالائی میں ’’ختم نبوت کانفرنس‘‘ منعقد ہوئی، جس کی صدارت مولانا فضل دین نے کی۔ کانفرنس سے مولانا محمد اکرم طوفانی اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کیا۔ کانفرنس سے مقامی علماء کرام مولانا ممتاز احمد، مولانا عبداللہ جان، مولانا نیاز الرحمن، خواجہ محمد اشرف اور دیگر علماء کرام نے خطاب کیا۔
ختم نبوت کانفرنس ژوب : ۲۶؍ستمبر کو بعد نماز ظہر مرکزی جامع مسجد ژوب میں ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس کی صدارت مولانا اللہ داد کاکڑ نے فرمائی۔ کانفرنس سے مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا عبدالعزیز جتوئی، مولانا عبدالواحد، مولانا حاجی محمد اکبر، مولانا شمس العارفین، حاجی غلام حیدر کے علاوہ جمعیت علماء اسلام کے رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔ آخر میں مولانا اللہ داد کاکڑ نے دعا کرائی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۰ تا ۲۶؍اکتوبر ۲۰۰۰ء ص ۱۵ تا ۱۷)
ختم نبوت کانفرنس چیچہ وطنی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت چیچہ وطنی کے زیر اہتمام چک نمبر ۱۲-ایل کی جامع مسجد میں بعد از نماز عشاء ایک عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں تمام مکاتب فکر کے علماء کرام نے شرکت کی۔ علماء کرام نے کہا قادیانیت کی نشوونما نہیں ہونے دیں گے۔ ان خیالات کا اظہار عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا عبدالحکیم نعمانی، جنرل سیکرٹری قاری محمد زاہد اقبال، ناظم تبلیغ علامہ عبدالباقی، حاجی محمد یعقوب، ختم نبوت یوتھ فورس چیچہ وطنی کے جنرل سیکرٹری قاری محمد اصغر عثمانی اور محمد امان اللہ چیمہ نے اپنے خطابات میں کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۰۰ء ص ۷۵)
ختم نبوت کانفرنس ڈاور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ستمبر ۲۰۰۰ء میں ڈاور نزد چناب نگر میں ایک عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا غلام مصطفیٰ، مولانا اللہ یار ارشد کے علاوہ دیگر حضرات نے خطاب فرمایا۔ علماء کرام نے اپنے خطابات میں فرمایا کہ وہ دن دور نہیں جب پوری دنیا سے قادیانیت کا نام و نشان مٹ جائے گا۔ آخر میں مولانا عبدالواحد مخدوم کی مغفرت اور ترقی درجات کے لئے دعا خیر کی گئی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس شادی پلی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں حضرت مولانا خان محمد کندھانی مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سندھ اور مولانا محمد انور نے خطاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۰۰ء ص ۶۱)
ختم نبوت کانفرنس لاہور
۷؍ ستمبر ۲۰۰۰ء کو لاہور مسجد عائشہ میں ختم نبوت کانفرنس سے مولانا عزیز الرحمن جالندھری، سید عطاء المومن شاہ بخاری، مولانا احمد لدھیانوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قادیانی این جی اوز کی آڑ میں ملکی قانون کو ہاتھ میں نہ لیں ورنہ ہم این جی اوز اور قادیانیوں سے نمٹنا جانتے ہیں۔ یہ کانفرنس رات گئے تک جاری رہی اس کی صدارت حضرت سید نفیس الحسینی مدظلہ نے فرمائی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۱۳ تا ۱۹؍ اکتوبر ۲۰۰۰ء ص ۲۳)
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مانسہرہ کے زیر اہتمام تین روزہ ختم نبوت کانفرنسیں
ختم نبوت یوتھ فورس ضلع مانسہرہ کے زیر اہتمام ۸، ۹، ۱۰؍ ستمبر ۲۰۰۰ء کو تین روزہ ختم نبوت کانفرنسوں کا اہتمام کیا گیا۔ جن میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم کے علاوہ شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ حضرت مولانا خدا بخش صاحب تشریف لائے۔
۸؍ ستمبر نماز جمعہ سے قبل ہوئی جس میں مولانا خدا بخش صاحب نے مرکزی جامع مسجد مانسہرہ میں خطاب فرمایا۔ اس میں قادیانیوں کی ریشہ دوانیوں کے بارے میں تفصیلات پیش کیں اور حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب نے مرکزی جامع مسجد داتہ میں قادیانیت کا شجرہ نسب پیش کیا اور حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب اندرون اور بیرون ملک قادیانی سازشوں کی تفصیل بیان کی۔ ۸؍ ستمبر کو امیر مرکزیہ دامت برکاتہم نے بھی جمعہ مرکزی جامع مسجد مانسہرہ میں ادا فرمایا اور رات بلہگ بالا میں تشریف لے گئے، بلہگ بالا میں رات کو امیر مرکزیہ دامت برکاتہم کی زیر صدارت علماء کی تقریریں ہوئیں۔ ۹؍ ستمبر ہفتہ کو صبح ساڑھے آٹھ بجے مانسہرہ پبلک اسکول کے وسیع و عریض ہال میں پروگرام کا افتتاح راقم الحروف (سید منظور احمد آسی) نے کیا۔ قادیانیت کا سیاسی پس منظر تفصیل کے ساتھ پیش کیا کہ مرزائیوں نے آج تک امت مسلمہ کے خلاف کیا کردار ادا کیا ہے؟ ۱۸۵۷ء سے لے کر آج تک کا جائزہ پیش کیا کہ جنگ آزادی کے بعد انگریز کو ضرورت پڑی اور اس نے اپنا نمک خوار تلاش کیا اور جہاد کی منسوخی کا اس سے اعلان کرایا۔ مرزائیت کا خمیر ہی مسلم دشمنی اور انگریز کی اطاعت پر اٹھایا گیا۔ اس کا جائزہ حقائق کی روشنی میں راقم نے پیش کیا۔ بعد ازاں مولانا خدا بخش صاحب نے تقریر فرمائی اور ختم نبوت یوتھ فورس کے صدر عبدالرؤف روفی نے ہال میں موجود طلباء سے سوال کئے۔ جواب دینے والے طلباء کو نقد اور کتابوں کی شکل میں انعام دیا گیا۔ اسی اثناء میں امیر مرکزیہ دامت برکاتہم بھی تشریف لے آئے اور مولانا اللہ وسایا صاحب نے بھی ہال میں موجود تمام حضرات کے سوالوں کے تفصیلی جوابات دیئے۔ آخر میں بارہ بجے امیر مرکزیہ دامت برکاتہم نے دعا فرمائی اور یوں پہلی نشست ختم ہوئی۔
ختم نبوت کانفرنس بفہ : ۹؍ ستمبر رات نماز عشاء کے بعد بفہ میں ہوئی اجلاس سے خطاب مولانا خدا بخش صاحب نے فرمایا اور ان کے بعد حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب نے مجاہد ملت مولانا غلام غوث ہزاروی کو خراج تحسین کیا پیش کیا اور کہا کہ مولانا ہزاروی نے مجلس
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
احرار کے اسٹیج سے برصغیر کے طول و عرض میں مرزائیت کا تعاقب کیا اور امیر شریعت کے رفیق کار رہے اور جب مجلس تحفظ ختم نبوت کی تاسیس ہوئی تو بطور مبلغ کام کیا اور ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کی قیادت روپوشی کے عالم میں کی۔ آخر میں اجلاس کا اختتام امیر مرکزیہ کی دعا پر ہوا اور رات کو قافلہ بفہ سے امیر مرکزیہ کی قیادت میں واپس پہنچا اور مولانا محمد یوسف صاحب کے ہاں قیام فرمایا۔
۱۰؍ستمبر کو پروگرام کے مطابق قافلہ شاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایا کی قیادت میں پھگلہ کے لئے روانہ ہوا۔ جب کہ امیر مرکزیہ دامت برکاتہم ترنہ بالاکوٹ تشریف لے گئے۔ مولانا اللہ وسایا صاحب پہلے منڈہار تشریف لے گئے، جو عطر شیشہ کے قریب ہے۔ مولانا محمد ابراہیم صاحب آج کل وہاں امام ہیں۔ استاذ العلماء حضرت مولانا کریم عبداللہ صاحب کے صاحبزادے ہیں۔ مولانا کریم عبداللہ صاحب فاضل دیوبند تھے۔ صوفی منش بزرگ تھے۔ ان کی بیعت کا تعلق امیر مرکزیہ دامت برکاتہم سے تھا۔ مولانا کریم عبداللہ صاحب پھگلہ کے مشہور قادیانی عبدالرحیم شاہ اور دو دوسرے قادیانیوں عبدالرحیم اور ایک قادیانی سے مباہلہ کیا۔ مسلمانوں کی طرف سے مولانا کریم عبداللہ صاحب کی قیادت میں مفتی عبداللطیف صاحب اور مولانا عبدالجلیل صاحب شامل تھے۔
امیر مرکزیہ دامت برکاتہم کی زیرصدارت جلسہ شروع ہوا۔ تلاوت کلام پاک کے بعد محمد عزیز صاحب نے اور محمد عمر معاویہ نے نعت پڑھی۔ آخر میں مولانا اللہ وسایا صاحب نے مرزائیوں سے سوشل بائیکاٹ کے بارے میں شرعی اور عرفی حیثیت کی تفصیلات بتائی اور عوام سے کہا کہ قادیانیوں کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرو۔ کیونکہ ہر قادیانی اپنی آمدنی کا مخصوص حصہ چناب نگر بھیجتا ہے۔ اس طرح قادیانیت کی تبلیغ میں ہمیں شامل نہیں ہونا چاہئے۔ لہٰذا قادیانی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ ہونا چاہئے۔ آخر میں حضرت الامیر کی دعا پر اجلاس اختتام پذیر ہوا۔ نماز عصر ادا کرنے کے بعد فوراً تمام ساتھی داتہ کے لئے روانہ ہوئے۔ نماز مغرب کے وقت داتہ پہنچ گئے۔ نماز عشاء کے بعد داتہ کی مرکزی جامع مسجد میں امیر مرکزیہ کے زیر صدارت سہ روزہ کانفرنسوں کی آخری نشست شروع ہوئی۔ تلاوت اور نظم کے بعد مولانا اللہ وسایا صاحب کا بیان ہوا۔ مولانا نے کہا کہ داتہ تاریخی اہمیت کا شہر ہے، اس کو کسی دور میں ربوہ ثانی کہا جاتا تھا اور مرزائیوں کی اجارہ داری تھی۔ ایک ہی مسجد میں مرزائی اور مسلمان اکٹھی نمازیں پڑھتے تھے لیکن ۱۹۷۴ء میں اسمبلی کے فیصلہ کے بعد عوام کو ختم نبوت کا مسئلہ سمجھ آیا۔ اب یہاں میں چند گھرانے مرزائیوں کے باقی ہیں۔ میں انہیں دعوت دیتا ہوں کہ حضور ﷺ کی غلامی میں آجائیں۔ ہم ان کی چاکری بھی کرنے کے لئے تیار ہیں۔ مولانا اللہ وسایا صاحب نے بائیکاٹ کی شرعی حیثیت بیان کی اور مسلمانوں پر زور دیا کہ قادیانی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے۔ مولانا اللہ وسایا صاحب نے فرمایا کہ قادیانی سربراہ پروپیگنڈہ کرتا ہے کہ قادیانی جماعت دن بدن اضافہ ہورہا ہے اور مرزائیت پھیل رہی ہے۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ پاکستان کے مختلف شہروں میں قادیانی افراد اسلام قبول کر رہے ہیں۔ مولانا نے بتایا کہ مردان میں ۱۴ مرزائیوں نے اسلام قبول کیا۔ جب کہ ہندوستان میں ۵۵ گھرانوں نے مرزائیت سے توبہ کی۔ جب کہ جہلم میں ۲۱؍افراد، نارنگ منڈی میں ۳، رحیم یار خان میں مولانا میاں سراج احمد صاحب کے دست حق پرست پر ۸ قادیانیوں نے اسلام قبول کیا ہے اور مرزائی قادیانیوں کے فریب سے نکل رہے ہیں۔ پاکستان کے طول وعرض سے مرزائی مرزا قادیانی پر لعنت بھیج رہے ہیں۔ تقریر کے بعد مولانا اللہ وسایا صاحب نے حاضرین کے مختلف سوالات کے جوابات دیئے اور آخر میں امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم کی دعاء پر آخری نشست کا بخیر وخوبی اختتام ہوا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۳ تا ۱۹؍اکتوبر ۲۰۰۰ء ص ۲۶ ٹائٹل پیج نمبر ۳)
فتنہ قادیانیت و گوہر شاہی اور اس کا سد باب
کوٹری سندھ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حیدرآباد کے زیر اہتمام دوسری سالانہ ختم نبوت کانفرنس عیدگاہ گراؤنڈ بہار کالونی کوٹری سائٹ ایریا میں منعقد ہوئی، جس میں تمام مسالک کے علماء کرام نے شریک ہو کر قادیانی اور گوہر شاہی فتنوں کی سرکوبی کے لئے اتحاد بین المسلمین کا مظاہرہ کیا۔ کانفرنس کے انعقاد کے لئے جماعتی کارکنوں نے خوب محنت کی۔
سیکورٹی انچارج جناب نیاز حسین وسینئر قاری الہی بخش، حاجی محمد عثمان، سید الطاف حسین تھے۔ مہمان علماء کرم کے استقبال کے لئے مولانا محمد نذر کوٹری کے ناظم اعلیٰ غلام محمد بھٹی عبدالجلیل خان موجود تھے۔ علاقے بھر میں ختم نبوت کانفرنس کی تشہیر بذریعہ اشتہار اور بذریعہ لاؤڈاسپیکر خوب کی گئی تھی۔ حضرت علامہ احمد میاں حمادی دامت برکاتہم کانفرنس کی سرپرستی کے لئے حج سے تشریف لے آئے تھے۔ مولانا محمد راشد مدنی ٹنڈوآدم سے ایک بس بھر کر جلسہ گاہ میں تشریف لائے۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض جماعت ختم نبوت بدین کے مرکزی مبلغ مولانا محمد علی صدیقی نے ادا کئے۔ تلاوت قاری عبدالمعید اور نعت رسول مقبول ﷺ جناب شبیر احمد ملک نے پیش کی، مقامی علماء کرام نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا جن میں مولانا غضنفر صاحب، مولانا محمد عمر، مولانا بشیر احمد تونسوی، بریلوی مسلک کے نامور عالم دین قاری محمد حنیف حقانی شامل تھے۔
حضرت اقدس شہید ختم نبوت کے رفیق کار خلیفہ خاص اخبار جنگ اقراء صفحہ کے انچارج مولانا مفتی جمیل خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک میں قادیانی اور گوہر شاہی سازشوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر حکومت کو متنبہ کیا کہ وقت آنے سے پہلے اس کا تدارک کرے۔ جماعت اسلامی صوبہ سندھ کے امیر مولانا عبدالوحید قریشی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان تمام فتنوں کی سرگرمیوں کا خاتمہ اتحاد میں ہے۔ تمام مسلمان متحد ہو کر دشمنان اسلام کا ڈٹ کر مقابل کریں۔ ان شاء اللہ! فتح اسلام کی ہوگی۔ جماعت اسلامی کے مولانا اسد اللہ بھٹو صاحب نے اپنے خطاب میں ختم نبوت کے مرکزی اور صوبائی رہنماؤں کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اس عظیم مقصد کے لئے انہیں یاد کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم جماعت ختم نبوت کے ساتھ قادیانی، گوہر شاہی فتنوں کی سرگرمیوں کے خاتمے کے لئے ہر ممکن تعاون کے لئے تیار ہیں اور جماعت ختم نبوت جو فریضہ سرانجام دے رہی ہے وہ لائق تحسین ہے۔ لاہور کے یوسف کذاب، کوٹری کے گوہر شاہی کو دنیا میں ذلیل ورسواء کر کے سزا دلوانا، یہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا اہم کارنامہ ہے۔ آخر میں حضرت مولانا احمد میاں حمادی نے خطاب فرمایا۔ انہوں نے گوہر شاہی کے خلاف مقدمات کی مکمل سرگزشت عوام کو سنائی۔ انہوں نے کہا کہ علماء اہل سنت، بریلوی کے اکیس سے زائد بڑے دینی مدارس کے مفتیان کرام نے گوہر شاہی کو کافر، مرتد ضال اور مضل ودوزخی قرار دیا ہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۲۰ تا ۲۶ / اکتوبر ۲۰۰۰ء ص۱۹، ۲۰)
انیسویں ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کا آنکھوں دیکھا حال لمحہ بہ لمحہ
اس سال انیسویں سالانہ آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس بڑی آب وتاب سے حسب سابق تزک و احتشام کے ساتھ مورخہ ۱۲، ۱۳/اکتوبر ۲۰۰۰ء بروز جمعرات جمعہ کو مسلم کالونی چناب نگر میں منعقد ہوئی۔
کانفرنس کی ہر سال حاضری بڑھ رہی ہے۔ مسلمانوں کی کثرت کے پیش نظر ان کی سہولت کے لئے امسال کانفرنس سے چار ماہ قبل نئی عظیم الشان وسیع عریض ٹینکی، ۱۴ عدد غسل خانے اور ۳۰ نئے فلش لگوانے کا کام شروع کر دیا گیا تھا۔ اللہ رب العزت نے کرم کیا، یہ تمام
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تعمیراتی کام کانفرنس سے قبل بخیر خوبی مکمل ہو گئے تھے۔ یکم اکتوبر کو مبلغین حضرات کی میٹنگ مسلم کالونی چناب نگر میں ہوئی۔ جس میں کانفرنس کے انتظامات کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لئے مشاورت ہوئی۔
مبلغین حضرات کے دورے: چنانچہ مولانا غلام حسین جھنگ / ٹوبہ ٹیک سنگھ، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا عزیز الرحمٰن ثانی شیخوپورہ / لاہور، مولانا محمد عارف ندیم سیالکوٹ / نارووال، حافظ محمد ثاقب گوجرانوالہ، مولانا محمد طیب گجرات / منڈی بہاؤالدین، مولانا فقیر اللہ اختر فیصل آباد، مولانا امام الدین قریشی مظفرگڑھ / لیہ / مضافات چناب نگر، مولانا احمد بخش رحیم یارخان / چنیوٹ ومضافات، مولانا محمد اختر خوشاب / میانوالی، مولانا محمد اکرم طوفانی سرگودھا، مولانا عبدالرزاق مجاہد اوکاڑہ / قصور، مولانا بشیر احمد، مولانا محمد اسحاق ساقی نے مضافات چناب نگر کے ہنگامی دورے کئے۔ دن رات رفقاء کو کانفرنس کی دعوت دی اور چناب نگر کے قرب و جوار کے تقریباً تمام اضلاع میں بھر پور تیاری کا عمل نئے ولولہ وجوش سے شروع ہو گیا۔ سندھ میں مولانا راشد مدنی، مولانا محمد علی صدیقی، مولانا محمد نذر، مولانا محمد حسین ناصر، مولانا خان محمد، مولانا احمد میاں حمادی نے رفقاء کو تیار کرنے کے لئے بھر پور توجہ دی۔ کراچی میں مولانا محمد نذیر احمد تونسوی، مولانا مفتی جمیل خان، رانا محمد انور نے دعوتی عمل کا اجرا کیا۔ بلوچستان میں اس کانفرنس سے قبل اہم مقامات پر ضلع ڈویژنل وصوبائی کانفرنسوں کا اہتمام کیا گیا۔ مولانا عبد العزیز صاحب نے حضرت مولانا عبدالواحد، حضرت مولانا منیر الدین، حضرت مولانا انوار الحق حقانی، جناب فیاض حسن سجاد، جناب حاجی آغا محمد صاحب، جناب حاجی تاج محمد صاحب اور دوسرے جماعتی بزرگوں کے مشورہ سے دعوت کے عمل کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں صوفی ریاض الحسن گنگوہی، پشاور میں مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی، مولانا نور الحق نور اور دوسرے رفقاء نے ہمت کی۔ مانسہرہ میں جناب عبدالرؤف روفی، ایبٹ آباد میں جناب وقار گل جدون، سید مجاہد شاہ صاحب، جناب ساجد اعوان، جناب انور صاحب اور دوسرے رفقاء نے احباب کو تیار کیا۔ آزاد کشمیر و اسلام آباد میں مولانا خالد میر، مولانا محمود الحسن نے محنت کی۔ غرض پورے ملک میں ایک بار پھر ختم نبوت کانفرنس چناب نگر میں شمولیت کے لئے تیاری کے مناظر نظر آنے لگے۔ مرکز سے اشتہارات کے علاوہ مقامی جماعتوں نے سٹیکرز وغیرہ بھی چھپوائے۔ لاہور و گوجرانوالہ سے مختلف شخصیات اور اداروں نے سٹیکرز چھپوا کر کانفرنس کی کامیابی میں حصہ ڈالا۔
کانفرنس کی تیاری: مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری دامت برکاتہم نے یکم اکتوبر سے کانفرنس کے اختتام تک بذات خود انتظامات کی سرپرستی کے لئے چناب نگر میں طویل قیام فرمایا اور صبح شام دن رات تمام انتظامات کرنے والی ٹیم آپ کی ہدایات سے مستفید ہوتی رہی۔ اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے اتوار کے روز سائبان قناتیں اور دوسرا سامان لے کر پنڈال تیار کرنے والی پارٹی پہنچ گئے۔ مسجد و مدرسہ کا پورا صحن، مدرسہ کی سب سے قدیم عمارت کی پوری چھت پر سائبان لگا کر مہمانوں کی رہائش کانفرنس کے لئے پنڈال بنا دیئے گئے۔ مسجد و مدرسہ کے ساتھ ملحقہ دو ایکڑ کے گراسی پلاٹ پر قناتیں لگا کر اسے پنڈال بنا دیا گیا۔ اس کا عمومی حصہ مہمانوں کے کھانے کے لئے مختص کر دیا گیا۔ اس میں کئی خیمے کھانا کھلانے والی ٹیم کے لئے مختص کر دیئے گئے۔ اس کے ساتھ ملحقہ شرقی پلاٹ میں باگڑ سرگانہ کی جماعت کے لئے پنڈال رہائش بنا دیا گیا۔ غرض اتوار سے لے کر بدھ کی شام تک تقریباً دن رات ایک کر کے یہ کام مکمل ہوا۔ مسجد و مدرسہ کی عقبی سڑک پر کھانا پکانے کا پنڈال بنایا گیا جس میں سوئی گیس، پانی، بجلی کی سہولت کا خاطر خواہ انتظام کر دیا گیا تھا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مہمانوں کی آمد: اللہ رب العزت کے فضل وکرم واحسان پر رفقاء وجماعتوں کے قربان جائیں اس بار تین چار روز پہلے مہمانوں کی آمد کا سلسلہ رب کی رحمتوں کے جلو میں شروع ہو گیا۔ کانفرنس کی ابتداء سے اب تک ہمیشہ کانفرنس کے پنڈال پر بینر وغیرہ لگانے اور اسٹیج بنانے کا کام حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی نے اپنے ذمہ لے رکھا تھا۔ انہوں نے اسے بڑی خوبصورتی سے اتنا طویل عرصہ سرانجام دیا۔ امسال مانسہرہ وسرحد کی جماعت نے پیشکش کی کہ سٹیج و پنڈال کی خوبصورتی کی ڈیوٹی ہماری لگا دی جائے۔ چنانچہ مولانا محمد اکرم طوفانی کی سرپرستی میں یہ کام ان کے ذمہ لگایا گیا۔ پیر کے دن شام کو محترم شجاعت علی گیلانی، مکرم عبد الرؤف روفی ، مکرم یاسر خٹک، محترم شاہد پینٹرز اور دوسرے رفقاء کی دس بارہ افراد کی ٹیم پہنچ گئی۔ انہوں نے پورے پنڈال میں بینرز لگا کر اس کانفرنس کی رونق کو دوبالا کر دیا۔ سرگودھا۔ جھنگ، لاہور، چیچہ وطنی، خانیوال کی جماعتوں کے بھی بینر لگے۔
منگل شام کو مولانا امام الدین، مولانا محمد طیب، مولانا عبدالحکیم، مولانا محمد عارف ندیم، مولانا عبد العزیز، مولانا محمد قاسم رحمانی، مولانا احمد یار اور دوسرے حضرات نے چنیوٹ، لالیاں، احمد نگر، چناب نگر کے گردونواح میں اٹھارہ سالہ روایات کے مطابق ویگن پر سپیکر لگا کر منادی شروع کرادی۔ یوں بحمدہ تعالیٰ کانفرنس سے دو روز قبل پورا علاقہ ختم نبوت زندہ باد کی صداؤں سے گونجنے لگا۔
اس دوران گزشتہ اٹھارہ سال سے ہمیشہ کھانے کا نظم سنبھالنے والے مجلس تحفظ ختم نبوت کے مخلص بزرگ رہنما حضرت قاری محمد ابراہیم مہتمم جامعہ طیبہ فیصل آباد انتظامات کا جائزہ لینے کے لئے تشریف لائے۔ قاری محمد الیاس صاحب بھی ان کے ہمراہ تھے۔ منگل کی شام ہی باگڑ سرگانہ کی جماعت کے رفقاء اپنے انتظامات کی تکمیل کے لئے پہنچ گئے۔ رحیم یارخان جامعہ قادریہ کے مہتمم اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی شوریٰ کے رکن حضرت مولانا قاضی عزیز الرحمن صاحب کانفرنس سے دو روز قبل تشریف لائے اور کانفرنس کے رفقاء کو اپنی دعاؤں ومشوروں سے نوازا۔ حضرت مولانا فقیر اللہ اختر ، مولانا عبد العزیز، قاری عبد الرحمن ، مولانا محمد حسین، قاری احمد جان، قاری محمد رمضان، مولانا عزیز الرحمن ثانی نے کمروں کی تقسیم اور خصوصی مہمانوں کی خدمت اپنے ذمہ لے لی۔
پانی کا شعبہ محترم جناب حاجی معراج الدین صاحب، مولانا محمد اختر ، قاری محمد عابد اور دوسرے رفقاء کے سپرد تھا۔
استقبالیہ کے لئے محترم جناب راؤ محمد طفیل جاوید، جناب محترم ابوبکر ، سید شجاعت علی گیلانی، محترم حافظ محمد ثاقب نے خدمات سر انجام دیں۔ سٹیج ، پنڈال کانفرنس کی سیکورٹی کا کام ہمیشہ کی طرح حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی کے سپرد تھا۔
کھانا کھلانے کے لئے حضرت قاری محمد ابراہیم کے صاحبزادہ قاری محمد ابوبکر، بخاری مسجد کے محترم قاری محمد اشفاق صاحب نے اپنی پوری ٹیم کے ہمراہ خدمات سرانجام دیں۔
جھنگ سے محترم جاوید صاحب کی سربراہی میں ان کی پوری ٹیم دیگیں پکانے کے لئے تشریف لائی۔ اللہ رب العزت ان رفقاء کو دنیا و آخرت میں اس کی بہتر جزا دیں۔ ابتداء کانفرنس سے ہمیشہ بلا ناغہ اس نظام کو چلا رہے ہیں۔ حضرت مولانا بشیر احمد ، محترم حاجی شیر محمد قریشی ، مولانا محمد اسحاق ساقی، حاجی رشید احمد گوشت و دیگر خورد ونوش کے سامان کی فراہمی ان کے سپرد ہوتی ہے۔
بدھ شام عصر کے قریب باگڑ سرگانہ سے کئی بسوں پر قافلہ پہنچ گیا۔ غرض بدھ شام کو تمام حضرات نے مکمل اپنی اپنی ڈیوٹی کو سنبھال لیا اور بدھ شام کو ہی اتنے مہمان جمع ہوگئے جتنے عموماً پہلی کانفرنسوں میں جمعرات کی صبح نماز میں ہوتے تھے۔ اس منظر کو دیکھ کر کانفرنس کے منتظمین پر روشن تھا کہ اللہ رب العزت کے فضل وکرم سے اس بار کانفرنس مثالی طور پر کامیاب ہو گی ۔ رات گئے لاہور ، ایبٹ آباد، مانسہرہ، ہری پور، پشاور، ڈیرہ اسماعیل خان، بہاول پور، لودھراں ، ملتان، خانیوال سے قافلوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جمعرات صبح کا درس: جمعرات کو صبح کی نماز کے بعد حضرت مولانا قاضی عزیز الرحمن رحیم یار خان والوں نے درس قرآن مجید دیا۔ مسجد کا ہال، برآمدہ اور صحن میں صفیں تھیں۔ درس کے بعد مہمانوں نے حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری سے زیارت و مصافحہ کیا آپ تمام مہمانوں کو فرداً فرداً گلے لگا کر ڈھیروں دعاؤں سے نوازتے رہے۔ رفقاء کی بھر پور حاضری، پنڈال کی دلہن کی سجاوٹ وسیع و عریض انتظامات پر تمام ساتھی رب کریم کے حضور شکر گزار تھے۔ مہمانوں کے ناشتہ کا عمل شروع ہوا۔ جو نو بجے تک جاری رہا۔
جمعرات صبح حضرت امیر مرکزیہ شیخ المشائخ خواجہ خواجگان حضرت مولانا خان محمد صاحب دامت برکاتہم تشریف لائے۔ تمام منتظمین و شرکاء نے فلک شگاف نعروں سے آپ کا استقبال کیا۔ انتظامات کو دیکھ کر آپ پر رقت طاری ہوگئی۔ بڑی محبت اور شفقت سے آپ نے دوستوں کے لئے دعا کرائی۔ آپ کی اجازت سے نو بجے کانفرنس کے آغاز کے لئے تیاری شروع کر دی گئی۔
پہلا اجلاس: جمعرات تقریباً صبح نو بجے سے ظہر تک پہلا اجلاس ہوا۔ حضرت امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب نے دعا سے اجلاس کا آغاز فرمایا۔ ابتدائی تلاوت جمعیت علماء اسلام و مجلس تحفظ ختم نبوت پشاور کے رہنما ملک عزیز کے نامور قاری خوش نوا پشاور کی معروف دینی درسگاہ دارالقراء نمک منڈی کے مہتمم حضرت مولانا قاری فیاض الرحمن نے لحن داؤدی و صوت حجازی سے تلاوت کی۔ ایسے محسوس ہوتا کہ صرف سامعین ہی نہیں پورا ماحول ہی جھوم رہا ہے۔ جامعہ محمدیہ چوبرجی لاہور کے مہتمم دامت برکاتہم کی قیادت با سعادت میں تشریف لانے والے جامعہ کے ایک طالب علم حافظ غلام اللہ نے نعت پڑھی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے اپنے افتتاحی خطاب سے کانفرنس کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی اور پوری تحریک کا جامع و مختصر انداز میں خلاصہ پیش کیا۔ لاہور کے مولانا منور حسن صدیقی خطیب عائشہ مسجد، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پشاور کے ناظم نشر و اشاعت دارالعلوم دیوبند کے فاضل حضرت مولانا اکرام اللہ جان، منچن آباد کے خوش نوا خطیب جناب لیاقت علی طارق، منصورہ لاہور کے شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد المالک خان اور مجلس تحفظ ختم نبوت پشاور کے امیر قدیم جامع مسجد کے خطیب مدینہ یونیورسٹی کے فاضل اور پروفیسر حضرت مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی کے ایمان پرور بیانات ہوئے۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا محمد یعقوب برہانی نے سرانجام دیئے۔
مہمانوں کی آمد جمعرات دوپہر تک مہمانوں کی آمد نے اس زمین پر ایک نئی تاریخ کو رقم کیا۔ کراچی سے خیبر تک ہر قابل ذکر شہر سے رفقاء نے شرکت فرمائی۔ اسی اثناء میں تنظیم اہل سنت کے سربراہ مناظر اسلام مولانا عبدالستار تونسوی صاحب تشریف لائے اور پاکستان کی ممتاز روحانی شخصیت شیخ المشائخ پیر طریقت خانوادہ رائے پور کی روایات کے امین و ترجمان، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر حضرت اقدس سید نفیس الحسینی دامت برکاتہم جمعرات قبل از ظہر تشریف لائے۔ آپ کی رہائش و خدمت کا انتظام چوہدری غلام مرتضیٰ مسلم کالونی چناب نگر نے اپنے ذمہ لے رکھا تھا۔ حضرت قبلہ شاہ صاحب و حضرت تونسوی صاحب اور ان کے خدام کی میزبانی کا شرف انہوں نے حاصل کیا۔ ظہر تک حضرت مولانا مفتی جمیل خان اور جامعہ العلوم الاسلامیہ کراچی کے شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی نظام الدین شامزئی، حضرت مولانا نذیر احمد تونسوی۔ رانا محمد انور، جمعیت علماء اسلام کے رہنما حضرت مولانا عبدالقیوم اور حضرت مولانا عبدالمجید لنڈ، پنوں عاقل و سکھر کے وفود، گوجرانوالہ، قصور، ساہیوال سے اکابر علماء کرام کی قیادت میں وفود کی شرکت کا سلسلہ جاری رہا۔
دوسرا اجلاس بعد از ظہر: صدارت حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم، تلاوت قاری نصیر احمد، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما اور قندھاری مسجد کوئٹہ کے خطیب، خطیب بلوچستان حضرت مولانا عبدالواحد صاحب دامت برکاتہم، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما جامعہ اشرفیہ سکھر کے ناظم اعلیٰ اور جامع مسجد بندر روڈ سکھر کے خطیب خوشنوا حضرت مولانا قاری خلیل احمد بندھانی، وادی مہران کے بے تاج بادشاہ
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
خطیب خوشنوا پرجوش نظریاتی مقرر حضرت مولانا عبدالمجید لندھڑ مرکزی رہنما جمعیت علماء اسلام سندھ، تنظیم اہل سنت پاکستان کے سربراہ مناظر اسلام یادگار اسلاف حضرت مولانا عبدالستار تونسوی کے ایمان پرور بیانات ہوئے۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے سرانجام دیئے۔
مجلس سوال جواب: قارئین جانتے ہیں کہ ہر سال عصر کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے محبوب رہنما اور بزرگ شخصیت عارف باللہ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی سوال و جواب کی مجلس سے خطاب فرمایا کرتے تھے۔ اس سال آپ کے خلیفہ اور جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کے شیخ الحدیث مولانا مفتی نظام الدین شامزئی نے اس مجلس سے خطاب کیا اور سامعین کے سوالات کے جوابات دیئے۔
مغرب کی نماز: پوری مسجد و مدرسہ و کانفرنس کے پنڈال بھرے ہوئے تھے۔ مدرسہ تعلیم القرآن ختم نبوت کے صدر مدرس قاری عبدالرحمن نے نماز پڑھائی۔ نماز کے بعد حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوری، قطب الارشاد کے جانشین حضرت اقدس شاہ نفیس الحسینی دامت برکاتہم حسب معمول ذکر میں مشغول ہوئے تو ملک بھر سے آئے ہوئے خانقاہ رائے پور کے متعلقین و متوسلین عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے خدام بھی اپنے اپنے طور پر ذکر میں مشغول ہوگئے۔ عشاء سے قبل حضرت شاہ صاحب دامت برکاتہم نے رب کریم کے برستے ہوئے انوار ات کی بارش میں دعا کرائی۔ پورا پنڈال آمین کی صداؤں سے گونج اٹھا۔
یادرہے کہ یہ مجلس ذکر روایتی اجتماعی طور پر نہ تھی۔ بس اتفاق سے حسب معمول ہر روز کی طرح آج بھی بعد از مغرب حضرت سید نفیس الحسینی اپنے ذکر میں مشغول ہوئے تو دوسرے حضرات بھی ساتھ ہی بیٹھ گئے۔ ہر ایک نے اپنے اپنے طور پر ذکر کیا۔ یہ اجتماعی مجلس ذکر نہ تھی۔
تیسرا اجلاس جمعرات بعداز عشاء: حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم کی زیر صدارت میں تیسرا اجلاس شروع ہوا۔ اللہ رب العزت کی قدرت کے قربان آج کے اجلاس میں تاریخی ریکارڈ حاضری تھی۔ پشاور کے استاذ القراء حضرت قاری فیاض الرحمن نے ایمان پرور تلاوت اور اچھوتے انداز میں اس کا ترجمہ کیا۔ دوسری تلاوت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بزرگ رہنما حضرت قاری محمد یوسف عثمانی گوجرانوالہ نے کی۔ نظم مرحوم احمد بخش چشتی کے بیٹے جناب طاہر بلال چشتی نے پیش کی۔ جمعیت علماء اسلام پاکستان کے نائب امیر، جمعیت علماء اسلام کی فقہی کمیٹی کے صدر جامعہ حمادیہ سکھر کے شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد مراد کا ایمان پرور علمی معلوماتی بیان ہوا۔ حیدرآباد کے قاری کامران صاحب نے مرحوم قاری محمد حنیف کی یاد تازہ کی۔ جمعیت علماء اسلام پاکستان کے رہنما، خطیب ابن خطیب حضرت مولانا محمد امجد خان نے مجاہدانہ ایمان پرور خطاب سے کانفرنس میں ایک نظارہ پیدا کر دیا۔ جماعت اسلامی کے رہنما حافظ محمد ادریس نے پرمغز خطاب کیا۔ جماعت اسلامی کے سربراہ حضرت قاضی حسین احمد نے ملکی و بین الاقوامی تناظر میں فتنہ قادیانیت، یہودیت اور این جی اوز کی کارروائیوں کا تجزیہ کیا۔ گھنٹہ بھر آپ کا مجاہدانہ بیان جاری رہا۔ جمعیت اہل حدیث کے رہنما میاں محمد افضل، مولانا محمد ریاض الرحمن یزدانی، مجاہد ختم نبوت جمعیت علماء اسلام کے مولانا عبداللطیف انور کے بیانات سے لوگوں کے ولولوں کی آبیاری ہوئی۔ جمعیت اہل حدیث کے مرکزی رہنما اور شعلہ نوا خطیب حضرت مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری کی للکار نے قادیانیت سوز بجلی کا کام کیا۔ جمعیت علماء پاکستان کے سربراہ قائد اہل سنت حضرت مولانا شاہ احمد نورانی کی کانفرنس میں پہلی بار تشریف آوری تھی۔ جمعیت علماء پاکستان کا بھرپور وفد محمد خان لغاری، قاری محمد زوار بہادر وغیرہ بھی ہمراہ تھے۔ آپ پنڈال میں تشریف لائے تو سامعین نے فلک شگاف نعروں سے آپ کا استقبال کیا۔ فتنہ قادیانیت کے خلاف امت مسلمہ کی جدوجہد کی تاریخ پر آپ نے ایمان پرور جہاد آفرین خطاب فرمایا۔ محترم جناب قاضی حسین
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ۳۲۶ ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
احمد، حضرت مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، مولانا امجد خان کے بیانات اس اجلاس کی جان تھے۔ رات گئے جمعیت علماء اسلام کے رہنما مولانا بشیر احمد شاد اور حضرت لدھیانوی کے جانشین مولانا سعید احمد لدھیانوی کے بیان پر کانفرنس کا یہ اجلاس اختتام پذیر ہوا۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مدیر لولاک صاحبزادہ طارق محمود نے انجام دیئے۔
جمعہ کا درس: اس سال جمعہ صبح کی نماز کے بعد گھنٹہ بھر سے زائد وقت کا درس قرآن مجلس علماء اہل سنت کے ناظم اعلیٰ اور پاکستان کے معروف خطیب مولانا عبدالغفور حقانی کا ہوا۔
نیلام گھر: گزشتہ سال کی طرح امسال بھی ننکانہ صاحب ضلع شیخوپورہ کی جماعت نے نیلام گھر کا اہتمام کیا ہوا تھا۔ جامع مسجد کے جنوب میں وسیع وعریض پنڈال کا اہتمام کیا گیا۔ ساڑھے نو بجے تک بڑی کامیابی سے محترم محمد خالد متین صاحب نے اسے کامیابی سے ہمکنار کیا۔
مجلس کے سہ سالہ مرکزی انتخابات: ساڑھے نو بجے محترم قاری محمد یوسف عثمانی نے تلاوت قرآن مجید فرمائی۔ دوصد سے زائد مجالس عمومی کے ارکان نے شرکت کی۔ اجلاس کی صدارت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم نے فرمائی۔ گزشتہ کارروائی کا خلاصہ مولانا اللہ وسایا صاحب نے پیش کیا۔ مجلس کی کارکردگی اور اجلاس کی غرض وغایت بیان کرنے کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے آئندہ تین سال کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی امارت کے لئے پیر طریقت شیخ المشائخ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم اور نائب امیر کے لئے حضرت مولانا سید نفیس الحسینی شاہ دامت برکاتہم کے اسمائے گرامی پیش کئے۔ پورے اجلاس نے متفقہ طور پر تائید وتصویب کی۔ اس اجلاس کے مہمان خصوصی ملک عزیز پاکستان کے ممتاز شیخ الحدیث وفاق المدارس کے رہنما جامعہ باب العلوم کہروڑ پکا کے شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمجید صاحب لدھیانوی نے اختتامی خطاب سے سامعین کو نوازا۔ حضرت امیر مرکزیہ کی دعاء پر یہ اجلاس بخیر وخوبی اختتام پذیر ہوا۔
چوتھا اجلاس قبل از جمعہ: صدارت شہید ختم نبوت مولانا سید شمس الدین کے برادر اصغر سید صاحب، تلاوت قاری محمد یوسف صاحب عثمانی، نعت خالد محمود اوکاڑہ وحضرت سید امین گیلانی شیخوپورہ، خطاب جمعیت علماء اسلام کے رہنما مولانا سید امیر حسین گیلانی، جناب ڈاکٹر دین محمد فریدی بھکر، حضرت مولانا محمد علی صدیقی گولارچی، مولانا نور الحق نور، مولانا علامہ احمد میاں حمادی ٹنڈو آدم، احمد شعیب ایڈووکیٹ ڈیرہ اسماعیل خان، حضرت مولانا عبدالرحیم رحیمی کوئٹہ، قاری محمد انصر چونڈہ، مولانا امام الدین قریشی مظفرگڑھ، مولانا احمد بخش رحیم یار خان، مولانا خدا بخش صاحب ملتان، مولانا محمد یعقوب ربانی فاروق آباد، مولانا نذیر احمد تونسوی، طالب علم رہنما محمد افضل برہانی، قبل از جمعہ آخری خطاب مولانا اللہ وسایا صاحب کا ہوا۔ اسی دوران قائد جمعیت علماء اسلام حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب تشریف لائے۔ پورا پنڈال آپ کے لئے چشم براہ تھا۔ سامعین کے فلک شگاف نعروں سے ان کا استقبال ہوا۔ مولانا مفتی محمد جمیل خان نے مائیک پر امیر ملت قائد جمعیت کے استقبالی نعرے لگوائے۔ حضرت امیر مرکزیہ اور حضرت نائب امیر مرکزیہ دامت برکاتہم نے آپ کو خوش آمدید کہا۔ آپ سٹیج پر تشریف لائے۔ سامعین کے استقبالی نعروں کا ہاتھ ہلا کر جواب دیا۔ پنڈال میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ با اصرار وتکرار مولانا اللہ وسایا نے اپنا بیان مکمل کیا۔
خطبہ جمعہ: اللہ رب العزت کی قدرت کا نشان کہئے یا مسئلہ ختم نبوت کا اعجاز کہ آج ہزاروں لوگ چناب نگر کی زمین پر بلا امتیاز دیو بندی، بریلوی، اہل حدیث، شیعہ، سب کے سب عقیدہ ختم نبوت کے لئے ایک ساتھ صف بستہ تھے۔ چشم فلک نے اتفاق واتحاد کا یہ منظر
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دیکھا تو اہل سماء بھی مسحور ہو گئے ہوں گے۔ جمعہ کی اذان ہوئی۔ سنتوں کے بعد حسب پروگرام پاکستان کے ممتاز مذہبی رہنما جمعیت علماء اسلام کے امیر حضرت مولانا فضل الرحمن نے خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا اور نماز جمعہ کی امامت کی۔ لحن حجازی سے ایسا خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا کہ سماں قائم کر دیا۔ آپ کی تلاوت سے مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود کی یاد تازہ ہو گئی۔ آپ نے جمعہ کے بعد کل کائنات کے مظلوم مسلمانوں کے لئے دعا کرائی۔ عالم اسلام کی خیر و بھلائی اپنے رب کریم سے طلب کی۔ آمین ثم آمین ! کی صداؤں سے چناب نگر کے درودیوار گونج اٹھے۔ آمین !
آخری اجلاس بعد از جمعہ : زیر صدارت حضرت امیر مرکزیہ خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم، مہمان خصوصی حضرت مولانا قبلہ سید نفیس الحسینی دامت برکاتہم نائب امیر ، تلاوت مولانا قاری مشتاق احمد قصور ، نظم شاعر ختم نبوت سید امین گیلانی ، خطاب لاجواب مقرر خوش الحان یادگار بخاری حضرت مولانا محمد لقمان علی پوری، استقبالی کلمات وقراردادیں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما مفتی محمد جمیل خان نے پیش کیں۔
کانفرنس کے آخری مقرر قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمن کا مجاہدانہ، معلوماتی ، ایمان افزا ، جہاد پرور ، حقائق افروز خطاب لاجواب وتقریر بے نظیر پر کانفرنس کا اختتام ہوا۔ حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم نے دعا فرمائی۔ دعاء کے بعد پورے ملک سے آئے ہوئے مہمان اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہوئے۔ جمعہ شام سے اتوار شام تک مہمانوں کی واپسی کا سلسلہ جاری رہا۔ حق تعالیٰ اس کانفرنس کو اپنی بارگاہ میں قبولیت سے سرفراز فرمائیں۔ جنہوں نے اخلاص سے حاضری دی ان کی حاضری قبول فرمائیں۔ دشمن کو ہدایت نصیب ہو۔ حاسدین کے شر سے اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو محفوظ رکھیں۔ آمین ثم آمین !
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۰۰ء)
ختم نبوت کانفرنس اٹک
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اٹک کے زیراہتمام ۲۵؍ اکتوبر ۲۰۰۰ء کو مرکزی جامع مسجد میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس سے مولانا عبدالغفور حقانی ، مولانا اللہ وسایا ، صاحبزادہ طارق محمود اور مولانا عبدالرحمن ہزاروی نے خطاب کیا۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا محمد انور شاکر نے سرانجام دیئے۔ کانفرنس مولانا سید منظور حسین شاہ کی سرپرستی میں منعقد ہوئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۰۰ء ص ۶۲)
ختم نبوت کانفرنس ڈیرہ اسماعیل خان
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام یکم ؍ نومبر ۲۰۰۰ء کو ڈیرہ اسماعیل خان میں جامع مسجد ختم نبوت میں عظیم الشان خاتم الانبیاء کانفرنس زیر صدارت شیخ المشائخ خواجہ خواجگان حضرت مولانا خان محمد صاحب دامت برکاتہم منعقد ہوئی۔ کانفرنس سے مولانا قاری فیاض الرحمن ، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ، مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی ، مولانا نور الحق نور اور مولانا عبدالقیوم نعمانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ این جی اوز کے ذریعے ملک میں قادیانیوں کی ارتدادی سرگرمیاں بڑھتی جارہی ہیں ۔ قادیانیوں کے مردہ گھوڑے میں روح پھونکنے اور اس ملک کو قادیانی اسٹیٹ بنانے کی ہر کوشش کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا ۔ موجودہ دور میں قادیانیوں کو اہم عہدوں پر تعینات کرنا ملک کی سالمیت کے لئے انتہائی خطرناک ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ نگران وزیر اعظم معین قریشی نے توہین رسالت میں ترمیم ، مدارس پر پابندی کے حوالہ سے جو بیان دیا وہ مضحکہ خیز اور قادیانیت نوازی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف کو خبردار کرتے ہیں کہ وہ حکومتی اداروں پر این جی اوز کے نمائندوں کو بٹھا کر پاکستان کے اسلامی تشخص کو ختم کرنے کی کوشش نہ کریں ۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس مردان
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مردان کے زیر اہتمام کسی مسجد میر افضل خان بازار میں شیخ الحدیث مولانا مطلع الانوار کی زیرصدارت منعقد ہوئی۔ جس میں علماء کرام کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں عوام نے شرکت کی۔ علماء کرام نے اپنے بیانات میں کہا کہ جب بھی مسلمان نے اپنے مذہبی روایات کو چھوڑا دوسروں کی روایات کو اپنانے کی کوشش کی تو یہ ان کے لئے رسوائی کا سبب بنی ہے۔ آخر میں مقررین نے پر زور الفاظ میں دیندار انجمن کو غیر مسلح اور مردان سے بے دخل کرنے کی اپیل کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۰۰ء ص ۶۲)
ساتواں سالانہ رد قادیانیت کورس چناب نگر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۵ تا ۲۷ شعبان المعظم ۱۴۲۱ھ بمطابق ۳ تا ۲۴ نومبر ۲۰۰۰ء سالانہ رد قادیانیت کورس مسلم کالونی چناب نگر جامع مسجد و مدرسہ ختم نبوت میں منعقد ہوا۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانوی، حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری، حضرت مولانا اللہ وسایا، مولانا عبداللطیف، مولانا خدا بخش، حضرت مولانا محمد اسماعیل، مولانا بشیر احمد الحسینی، مولانا مفتی حفیظ الرحمن، مولانا محمد اکرم طوفانی حضرت صاحبزادہ طارق محمود، الحاج اشتیاق احمد، مولانا بشیر احمد قاسمی کے لیکچر ہوئے۔ ۱۵۶ طلباء کرام نے داخلہ لیا۔ ۱۵۴ طلباء امتحان میں شریک ہوئے۔ ۱۵۱ طلباء نے کامیابی حاصل کی۔ امتحان کی نگرانی و انتظام حسب سابق جناب ساجد اعوان کے سپرد تھا۔ محترم پروفیسر شجاعت علی مجاہد نے ان کی معاونت کی۔ طلباء کے داخلہ کا کام جناب راؤ محمد طفیل جاوید نے سرانجام دیا۔ صبح کا درس حضرت مولانا فقیر اللہ اختر ارشاد فرماتے رہے۔
مہمانوں کے کھانے کا نظام قاری عبدالرحمن، قاری احمد جان، قاری محمد عابد، قاری محمد رمضان، جناب غلام یاسین صاحب نے سنبھالا۔ صبح آٹھ بجے سے ۱۲ بجے دن، ظہر سے عصر، عشاء سے رات گئے تک تعلیم ہوتی رہی۔ اس دوران میں طلباء کو مناظرہ اور تقریر کرنے کی تربیت بھی دی گئی۔ آخری دو دن مرکز کی طرف سے شریک طلباء کے لئے نصف قیمت پر کتابوں کا سٹال لگایا گیا۔ قاری محمد حفیظ اللہ نے اس کی ذمہ داری سنبھالی۔ ۲۷ شعبان کو جمعہ کی نماز حضرت امیر مرکزیہ مخدوم المشائخ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم کی اقتداء میں ادا کی گئی۔ جمعہ کے بعد طلباء کو اسناد کتب دی گئیں۔ حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم کے ساتھ حضرت مولانا مفتی محمد ظفر اقبال ناظم جامعہ باب العلوم کہروڑ پکا بھی سٹیج پر تشریف فرما تھے۔
یوں الحمد للہ ! پاکستان کے چاروں صوبوں، آزاد کشمیر سے علماء و طلباء کی ایک کثیر جماعت نے اس سے فائدہ حاصل کیا۔ نوشہرو فیروز سندھ کے جناب عبدالجبار نے کل ایک سو پچاس نمبروں سے ۱۴۴ نمبر لے کر پہلی پوزیشن اور صوابی کے جناب امان اللہ صاحب نے ۱۲۳ نمبر لے کر دوسری پوزیشن حاصل کی اور شورکوٹ کے جناب جاوید فاروقی نے ۱۲۱ نمبر لے کر تیسری پوزیشن حاصل کی۔ ذیل میں شرکاء کی فہرست ملاحظہ فرمائیں:
رول نمبر نام علاقہ رول نمبر نام علاقہ ۱ مہر عبدالستار بہاول پور ۲ افتخار پشاور ۳ عمر فاروق چناب نگر ۴ نور الدین میر پور خاص ۵ طارق اسماعیل میں چنوں ۶ سکندر ذوالقرنین سکھر
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۷ غلام محمد افغانی ایبٹ آباد ۸ محمد اسحاق اٹک ۹ حافظ اللہ دتہ چنیوٹ ۱۰ محمد آصف کھاریاں ۱۱ عبدالرحمن افغانی افغانستان ۱۲ محمد رضوان جڑانوالہ ۱۳ احسان الحق تلہ گنگ ۱۴ ظہور احمد شاہ پور ۱۵ محمد افضل میلسی ۱۶ محمد امان اللہ صوابی ۱۷ محمد فیصل اٹک ۱۸ منظور حسین مظفر گڑھ ۱۹ ذوالفقار مانسہرہ ۲۰ محمد اعظم بالاکوٹ ۲۱ انور خان چارسدہ ۲۲ سعید اللہ چارسدہ ۲۳ رضاء اللہ راولپنڈی ۲۴ محمد اسرائیل مظفر آباد ۲۵ عبدالجلیل کرک ۲۶ ضیاء الاسلام مالاکنڈ ۲۷ محمد عمر ہری پور ۲۸ حق نواز مانسہرہ ۲۹ سید محمد عرفان مردان ۳۰ محمد آفاق مری ۳۱ انوار الحق ندیم ٹوبہ ٹیک سنگھ ۳۲ نور محمد زنگو چنیوٹ ۳۳ عبدالمتین زیارت ۳۴ عبدالناصر زیارت ۳۵ عبیداللہ زاہد خوشاب ۳۶ محمد رمضان مظفر گڑھ ۳۷ انیس الرحمن رحیم یار خان ۳۸ مسعود احمد رحیم یار خان ۳۹ عامر شہباز ڈیرہ غازی خان ۴۰ رانا آفتاب احمد بھکر ۴۱ محمد یامین حمید لاہور ۴۲ محمد جمیل رحیمی قصور ۴۳ عبدالرؤف میلسی ۴۴ عبدالشکور آزاد کشمیر ۴۵ شوکت الاسلام دیر ۴۶ ضیاء الرحمن مظفر آباد ۴۷ محمد اقبال بہاول نگر ۴۸ محمد یوسف باغ آزاد کشمیر ۴۹ سلیمان خان ایبٹ آباد ۵۰ یوسف عمران مظفر گڑھ ۵۱ سلطان محمود خانیوال ۵۲ غیر حاضر ...... ۵۳ ندیم شکور گوجرانوالہ ۵۴ قاری نجم الدین ایبٹ آباد ۵۵ عبدالصبور لودھراں ۵۶ طارق محمود لودھراں ۵۷ خالد محمود بہاول پور ۵۸ محمد عابد بہاول پور ۵۹ خالد بہاول پور ۶۰ محمد صادق بہاول پور
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۶۱ محمد منیر بہاول پور ۶۲ محمد اقبال بہاول پور ۶۳ خالد محمود بہاول پور ۶۴ بشیر احمد ٹوبہ ٹیک سنگھ ۶۵ محمد حنیف گوجرہ ۶۶ خلیل احمد سمندری ۶۷ محمد عرفان فیصل آباد ۶۸ غلام یاسین خان گڑھ ۶۹ محمد شفیق دنیا پور ۷۰ محمد شریف ملتان ۷۱ حافظ امیر جان ڈیرہ اسماعیل خان ۷۲ حافظ لطف الرحمن ٹانک ۷۳ حبیب الرحمن ٹانک ۷۴ محمد شریف میلسی ۷۵ محمد طاہر احمد پور شرقیہ ۷۶ محمد شریف نعمانی میلسی ۷۷ محمد ظفر اقبال بھلوال ۷۸ غلام اکبر ...... ۷۹ عبد اللطیف بھکر ۸۰ سمیع اللہ صدیقی تونسہ شریف ۸۱ اللہ دتہ جھنگ ۸۲ بلال احمد جتوئی ۸۳ طاہر فاروق بالاکوٹ ۸۴ منظور احمد شکار پور ۸۵ محمد بلال نوشہرو فیروز ۸۶ محمد قاسم خیر پور میرس ۸۷ عبد الخالق شکار پور ۸۸ دلاور حسین حیدرآباد ۸۹ عبد الرؤف نوشہرو فیروز ۹۰ مولا بخش نواب شاہ ۹۱ نعیم اللہ خیر پور ۹۲ عبد القدوس شکار پور ۹۳ عبد اللہ عابد خیر پور ۹۴ حفیظ اللہ خیر پور ۹۵ امداد اللہ میر پور خاص ۹۶ عبد الماجد نوشہرو فیروز ۹۷ محمد ندیم نوشہرو فیروز ۹۸ عبد الشکور نوشہرو فیروز ۹۹ عبد الباسط نوشہرو فیروز ۱۰۰ نصیر احمد نوشہرو فیروز ۱۰۱ غیر حاضر ...... ۱۰۲ عبد الوحید نوشہرو فیروز ۱۰۳ عبد الباسط نوشہرو فیروز ۱۰۴ عبد الجبار نوشہرو فیروز ۱۰۵ عزیز الرحمن نوشہرو فیروز ۱۰۶ عبد السمیع نوشہرو فیروز ۱۰۷ عطاء اللہ نوشہرو فیروز ۱۰۸ عبد العزیز سانگھڑ ۱۰۹ عبد السمیع سانگھڑ ۱۱۰ ندیم اختر خیر پور ۱۱۱ محمد حنیف سانگھڑ ۱۱۲ عبد الکریم سانگھڑ ۱۱۳ وارث علی اوکاڑہ ۱۱۴ جاوید اقبال مظفر آباد ۱۱۵ محمد آصف ڈسکہ ۱۱۶ محمد نعیم ڈسکہ
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۱۱۷ خلیل احمد کہروڑ پکا ۱۱۸ خالد محمود شہداد کوٹ ۱۱۹ محمد اختر لودھراں ۱۲۰ محمد یعقوب اٹک ۱۲۱ عبدالستار میرپور ۱۲۲ سجاد حسین مانسہرہ ۱۲۳ محمد انور ڈسکہ ۱۲۴ محمد اکرم میلسی ۱۲۵ عبدالغفور کہروڑ پکا ۱۲۶ محسن شاہ بخاری پشاور ۱۲۷ محمد یونس قاسمی کبیروالا ۱۲۸ عبداللطیف عثمانی عارف والا ۱۲۹ اللہ بخش میلسی ۱۳۰ عبدالرزاق لیہ ۱۳۱ جاوید اختر فاروقی شورکوٹ ۱۳۲ عبدالمجید صفدر گوجرانوالہ ۱۳۳ محمد علی خانیوال ۱۳۴ محمد عبدالشکور کبیروالا ۱۳۵ عبدالخالق تلہ گنگ ۱۳۶ محمد طارق مظفرآباد ۱۳۷ کرامت صدیقی آزادکشمیر ۱۳۸ عبدالخالق کبیروالا ۱۳۹ شمس الحق مظفرگڑھ ۱۴۰ محمد اسلم ڈیرہ اسماعیل خان ۱۴۱ محمد اقبال ڈیرہ اسماعیل خان ۱۴۲ عبدالمجید میلسی ۱۴۳ سید احمد ٹوبہ ٹیک سنگھ ۱۴۴ عبدالمالک مکران ۱۴۵ محمد اسحاق میلسی ۱۴۶ محمد نعیم آزادکشمیر ۱۴۷ محمد طارق ٹوبہ ٹیک سنگھ ۱۴۸ حبیب اللہ لورالائی ۱۴۹ محمد شاہد لاہور ۱۵۰ عقیل احمد جھنگ ۱۵۱ غلام عباس ساجد لیہ ۱۵۲ غلام عباس طاہر لیہ ۱۵۳ محمد صدیق حقانی قصور ۱۵۴ محمد احمد ایرانی ایران ۱۵۵ محمد امین قصور ۱۵۶ محمد ندیم اختر قصور
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۰۰ء ص ۵۴ تا ۵۹)
مرزائیت سے توبہ
- ☆ ...... عظیم کلہ بنوں میں دس قادیانیوں نے مرزائیت سے تائب ہوکر اسلام قبول کیا۔
- ☆ ...... حافظ آباد میں ایک قادیانی نے مبلغ ختم نبوت حافظ عبدالوہاب کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔
- ☆ ...... مباہلہ میں ہارنے والا ایک قادیانی پاگل ہوگیا۔
- ☆ ...... قادیانی جماعت جھنڈو کے امیر نے فیملی سمیت اسلام قبول کیا۔
- ☆ ...... کوٹ سبزل میں گیارہ آدمیوں نے اسلام قبول کیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۰ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ...... ☆ جامعہ اشرفیہ لاہور کے مفتی مولانا شیر محمد کے ہاتھ پر ایک قادیانی نے اسلام قبول کیا۔
- ...... ☆ چک ۵۹-ایم بی چک ۶ ضلع خوشاب تین عیسائی خاندانوں نے اسلام قبول کیا۔
- ...... ☆ اوتھل جنوبی احمد آباد میں ایک قادیانی نے اسلام قبول کیا۔
- ...... ☆ پشاور کے علاقہ بازید پور کے ایک قادیانی خاندان نے اسلام قبول کیا۔
- ...... ☆ جرمنی میں تین قادیانی خاندانوں نے اسلام قبول کیا۔
- ...... ☆ چھنی قریشیاں چناب نگر میں آٹھ افراد نے اسلام قبول کیا۔
- ...... ☆ خان گڑھ ضلع مظفرگڑھ کے قادیانی مشتاق احمد اور اس کے بیٹے ناصر احمد نے قادیانیت سے توبہ کی۔
- ...... ☆ واجد احمد ولد عبدالمالک لاہوری مرزائی نے مفتی شیر محمد علوی کے ہاتھ پر لاہور میں اسلام قبول کیا۔
- ...... ☆ مسماۃ آمنہ بنت محمد قدیر گلستان جوہر نے کراچی میں مولانا نذیر احمد تونسوی کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔
- ...... ☆ گولارچی کے مستری محمد اکرم نے حافظ خلیق اللہ کی موجودگی میں قادیانیت سے تائب ہوکر اسلام قبول کیا۔
- ...... ☆ ہندوستان کے صوبہ کیرالا کی مشہور ادیبہ مادھوری کوٹی عرف کملا داس نے اسلام قبول کیا۔
- ...... ☆ ۱۵/اگست آفن باخ جرمنی میں محمد مالک قادیانی کے گھر مولانا منظور احمد الحسینی کا جلال شمس قادیانی سے مناظرہ ہوا۔ مولانا کے دلائل سے متاثر ہوکر محمد مالک اپنی فیملی سمیت مسلمان ہو گیا۔
- ...... ☆ ۲۸/اکتوبر بورکن جرمنی میں محمد اکرم ولد نصر اللہ جو پیدائشی قادیانی تھا مسلمان ہوا۔
- ...... ☆ آئی اینڈ ٹی سیکٹر جی ۱/۸، اسلام آباد کی فوزیہ شاہد نے اپنے شوہر کی موجودگی میں اسلام قبول کیا۔
فیصلے:
میر پور خاص کی خصوصی عدالت کے جج عبدالغفور میمن نے گوہر شاہی کو مختلف دفعات کے تحت ۹۲ سال کی سزا سنائی۔ اس کیس کے مدعی علامہ احمد میاں حمادی تھے۔
لاہور کی سیشن کورٹ عدالت نے یوسف کذاب کو سزائے موت، ایک لاکھ روپے جرمانہ کی سزا اور ۳۵ سال قید بامشقت کی سزا سنائی۔ اس کیس میں مدعی مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی تھے۔
وزارت قانون نے وضاحت کی کہ قادیانیت سے متعلق دفعات برقرار رہیں گی۔
مجلس کی درخواست پر اے سی چنیوٹ نے ڈاور میں قادیانیوں کی ناجائز تعمیر شدہ عبادت گاہ کو گرا دیا۔
لاہور ہائی کورٹ بہاول پور بینچ کے جج جناب جسٹس میاں نذیر اختر نے قادیانیوں کے خلاف ۳۵ صفحات پر مشتمل فیصلہ سنایا۔
(مدعی مجلس تھی)
اوکاڑہ میں جھوٹے مدعی نبوت صوفی شعبان کے خلاف کیس اور گرفتاری ہوئی۔ یوسف کذاب کیس کے فیصلہ کے بعد اس کے چیلے نے مولانا محمد اسماعیل کے خلاف قذف کا کیس کیا سیشن جج نے دفعہ ۳۰ مجریہ کے مجسٹریٹ کی ڈیوٹی لگائی کہ وہ تفتیش کر کے رپورٹ کریں۔ چنانچہ متعلقہ مجسٹریٹ نے استغاثہ خارج کر کے اور مستغیث کے خلاف توہین عدالت کا کیس دائر کرنے کی سفارش کی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۲۵ تا ۳۱ مئی ۲۰۰۱ء ص ۹ تا ۱۱)
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تحریک ختم نبوت
کے سلسلہ میں
۲۰۰۱ء
کے
حالات و واقعات
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
گورنر پنجاب سے قادیانی مسئلہ پر ملاقات
تحریک ختم نبوت اور ملی یکجہتی کونسل کا ایک وفد جناب لیاقت بلوچ کی قیادت میں گورنر پنجاب سے ملا، وفد میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے ممتاز رہنماء حضرت مولانا عزیز الرحمن ثانی، اتحاد العلماء پاکستان کے صدر مولانا عبدالمالک خان، صاحبزادہ سعیدالرحمن جمعیت علماء پاکستان کے سردار محمد خان لغاری، پیر اعجاز ہاشمی، سید محفوظ مشہدی اور میاں مقصود احمد جماعت اسلامی شریک تھے۔
وفد نے دیگر امور کے علاوہ گورنر پنجاب کو چناب نگر (ربوہ) کی مسلم کالونی کی خالی زمین، تھانہ چناب نگر کی مقبوضہ خالی قطعہ اراضی، گورنمنٹ تعلیم الاسلام کالج کی خالی زمین، قادیانیوں کو واپس کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتلایا کہ اگر یہ قطعات اراضی قادیانیوں کو واپس کئے جاتے ہیں تو جہاں حکومت کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوگا، وہاں امن وامان کے مسائل بھی پیدا ہوں گے اور تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء کے نتیجہ میں ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے کی پوزیشن بھی کمزور ہوگی اور ملک بھر میں بے چینی پیدا ہوگی۔ گورنر پنجاب نے کہا کہ ایسی کوئی صورت کم از کم میرے نوٹس میں نہیں اور نہ ہی قطعات اراضی قادیانیوں کو واپس کر کے طے شدہ امور کو چھیڑا جائے گا، انہوں نے وفد کو اطمینان دلایا کہ حکومت قادیانیوں کے متعلق آئین سے ہٹ کر کوئی نرم گوشہ نہیں رکھتی اور نہ ان کی آئینی حیثیت کو چھیڑنے کا ارادہ رکھتی ہے اور نہ مذکورہ بالا قطعات اراضی انہیں واپس کئے جائیں گے۔
چناب نگر میں قادیانیوں کو جلسہ کی اجازت افراتفری اور انتشار کا باعث ہوگی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں الحاج بلند اختر نظامی، قاری محمد زبیر، میاں عبدالرحمن، سید ضیاء الحسن شاہ، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا عزیز الرحمن ثانی نے ایک مشترکہ اخباری بیان میں کہا کہ قادیانیوں کی تبلیغ، جلسہ و جلوس امتناع قادیانیت ایکٹ کی رو سے ممنوع ہے، لہٰذا انہیں چناب نگر میں جلسہ کی اجازت نہ دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی ملک میں افراتفری، افتراق و انتشار پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، حکومت انہیں کنٹرول کرے۔ تحریک ختم نبوت کے رہنماؤں نے کہا کہ اگر قادیانیوں کو چناب نگر میں جلسہ کی اجازت دی گئی تو ملک بھر سے مسلمانوں کو چناب نگر میں جانے کی کال دی جائے گی اور مقابلہ میں ختم نبوت کا جلسہ منعقد کیا جائے گا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۵ تا ۱۱؍ جنوری ۲۰۰۱ء ص ٹائٹل پیج نمبر ۳)
مولانا سید نفیس الحسینی کے گھر پر چھاپہ حکومت کا ایک اور بزدلانہ اقدام مختلف دینی رہنماؤں کے خیالات کا اظہار
حکومت حضرت نفیس شاہ الحسینی کے ساتھ ہونے والے واقعہ کا ازالہ کرے۔ حضرت شاہ صاحب ایک پرامن جماعت مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر ہیں، ان کا کام صرف اور صرف امن کا درس دینا ہے۔ پولیس نے ۲۲، ۲۳؍ مارچ ۲۰۰۱ء کی درمیانی شب کو ان کے گھر پر ریڈ کر کے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے، جس کا خمیازہ حکومت کو بھگتنا پڑے گا۔ احباب نے سید نفیس شاہ الحسینی صاحب کے گھر پر پولیس کے ناجائز چھاپہ کی شدید مذمت کی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے حکومت فوری طور پر اس واقعہ کا ازالہ کرے اور اگر حکومت کی اس میں مرضی شامل نہیں تھی تو جس قادیانی یا قادیانی نواز افسر کے ایما پر یہ واقعہ ہوا اس کو فی الفور معطل کرے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۶ تا ۱۲؍ اپریل ۲۰۰۱ء ص ۲۶)
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
صدر پاکستان چوہدری محمد رفیق تارڑ کے نام کھلا خط
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بخدمت جناب عزت مآب چوہدری محمد رفیق تارڑ صدر مملکت اسلامیہ جمہوریہ پاکستان السلام علیکم ورحمة الله وبركاته مزاج گرامی!
پاکستان کی ممتاز دینی شخصیت، عالم اسلام کے مذہبی رہنما، شیخ طریقت، صوفی مشرب، درویش صفت، آل نبی ﷺ و اولاد علی فخر السادات، پیر کامل حضرت نفیس الحسینی شاہ صاحب دامت برکاتہم کے مکان واقع کریم پارک راوی روڈ لاہور ۲۳، ۲۲؍ مارچ ۲۰۰۱ء جمعرات و جمعہ کی درمیانی شب ایک بجے پولیس کی بھاری نفری نے دھاوا بول دیا۔ علاقہ کا ایس ایچ او اور ایس پی (غالباً حنیف نامی) اس فوج ظفر موج کی قیادت کر رہے تھے۔ دروازہ پیٹا گیا، گھنٹیاں دی گئیں۔ پولیس کے شیر جوان گھر کی دیوار پر چڑھ گئے۔ طوفان بدتمیزی کا ایسا مورچہ قائم کیا کہ شرافت سر پیٹ کر رہ گئی۔ ہندوستان کی متعصب ہندو پارٹی نے بابری مسجد کے انہدام کے لئے وہ طور نہیں اپنائے ہوں گے جو شیخ المشائخ ، سید، آل رسول ﷺ فخر السادات کے گھر کی چار دیواری کا تقدس پامال کرنے کے لئے پنجاب کی یزید صفت پولیس کے ابلیس طبیعت ایس پی کی سربراہی میں ڈرامہ رچایا گیا۔
اتنی بڑی دینی شخصیت جس کے کروڑوں نیاز مند، لاکھوں مرید دنیا کے کونہ کونہ میں دین اسلام کی سربلندی اور اپنی آخرت کی فلاح و بہبود کے لئے دل کی دنیا کو اللہ تعالیٰ کے ذکر سے منور کئے ہوں۔ اس شخصیت کے ساتھ پنجاب پولیس کا برتاؤ تاتاری فتنہ سے کم نہیں۔ جنرل اروڑا نے مشرقی پاکستان کے انہدام کے لئے اتنی رعونت نہیں برتی ہوگی جتنی ایک صوفی المشرب پیر طریقت کی خانقاہ شریف کی عزت کو پامال کرنے کے لئے پولیس کے مورچہ بند جتھہ نے کی۔ خوف خدا سے عاری یہ پولیس کے بدطینت افسران پاکستان کے لئے بدنما داغ ہیں۔
حضرت نفیس الحسینی دامت برکاتہم کے صاحبزادہ سید انیس شاہ صاحب نیند سے بیدار ہو کر بنیان پہنے آئے۔ دروازہ کھولا۔ پولیس اندر داخل ہو گئی۔ ایس پی حنیف کے حکم پر مورچے سنبھال لئے۔ کمروں کی اور چھتوں کی تلاشی اس سرعت سے لی گئی کہ جیسے پھٹنے والے بم کو ناکارہ کرنے کے لئے جلدی کی جاتی ہے۔
جب کچھ نہ ملا اور ظاہر ہے کہ اس خانقاہ سے سوائے تسبیح و دانہ اور قرآن مجید و کتب کے اور کیا ملنا تھا۔ اب سید انیس حیران و ششدر کھڑے ہیں۔ تفتیش شروع ہے۔ تابڑ توڑ ایک سانس میں سوالات ہو رہے ہیں۔ یہاں کون رہتے ہیں۔ پیر صاحب کہاں ہیں۔ سید انیس شاہ صاحب نے بتایا کہ میں اور میرے والد یہاں رہتے ہیں۔ قبلہ والد صاحب سید نفیس الحسینی مدظلہ، شیرانوالہ خدام الدین حضرت مولانا احمد علی لاہوری کی مسجد میں دینی جلسہ کی صدارت کے لئے تشریف لے گئے ہیں۔ ان کے ساتھ عالم اسلام کی ممتاز شخصیت حضرت سید ابوالحسن علی ندوی کے نواسے سید سلمان ندوی ہندوستان سے تشریف لائے ہیں، وہ بھی ساتھ ہیں۔ ابھی ڈیڑھ بج رہا ہے۔ آدھ پون گھنٹہ تک وہ تشریف لائیں گے۔ پولیس آفیسر ہدایات دے کر چلا گیا۔
پولیس کا عملہ تعینات رہا۔ انیس شاہ صاحب کو کرتہ پہننے کی اجازت نہیں دی گئی۔ حضرت سید نفیس الحسینی بمع مہمان علماء کرام تشریف لائے۔ دروازہ کھولا گیا آپ نے گھر میں قدم رکھا پولیس نے پوزیشنیں سنبھال لیں۔ آپ نے وضو کیا حجرہ میں تشریف لائے چار حضرات کمرہ میں بیٹھ گئے۔ پولیس والوں نے باقی تمام خدام و ذاکرین کو لائن میں لگا کر زنجیر سے باندھ دیا۔ کچھ دیر بعد ان کو نامعلوم مقام
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پر لے گئے۔ چار بجے تک حضرت سید صاحب بمعہ مہمانوں کے اپنے حجرہ میں سراپا حیرت بنے رہے۔ چار بجے رات ایس پی کا فون آیا اور حضرت کے خدام کو واپس گھر بھیج دیا گیا۔
ایک دینی قومی رہنما پیر طریقت، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر کے ساتھ پولیس کا یہ رویہ عذاب خداوندی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ بڑے سے بڑا حکمران پاکستان کا اتنا محب وطن نہیں جتنا آپ کی ذات گرامی ہے۔ ہمیشہ خلق کو خالق سے جوڑنے کے لئے ذکر وفکر کی محفلوں کو آباد کرنے والے پاکستان کی آبرو جن کی شخصیت سے وابستہ ہے جو حریم نبوت کے پاسبان ہیں۔ ان سے یہ رویہ اسلامیان پاکستان کے لئے کربلا قائم کرنے کے مترادف ہے۔ کیا اس دکھ کا مداوا کیا جائے گا۔
یقین بلکہ حق الیقین ہے کہ جو لابیاں موجودہ حکومت کو نیچا دکھانے کے لئے تلی ہوئی ہیں یہ سب کچھ ان کا کیا کرایا ہے۔ حکومت کا ان ظالموں کو قرار واقعی سزا نہ دینا یقیناً عذاب خداوندی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ براہ کرم اس کا تدارک کیا جائے۔
فقط (مولانا) اللہ وسایا خادم عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۳۰؍ مارچ تا ۵؍ اپریل ۲۰۰۱ء ص ۲۳، ۲۴)
امیر الہند حضرت مولانا سید اسعد مدنی کی دفتر مرکزیہ ملتان تشریف آوری
جمعیت علماء ہند کے سربراہ امیر الہند حضرت مولانا سید اسعد مدنی ۱۴؍ اپریل ۲۰۰۱ء بروز ہفتہ ملتان تشریف لائے۔ ظہر کی نماز آپ نے دفتر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی جامع مسجد میں ادا فرمائی اور حاضرین سے ایمان پرور خطاب فرمایا۔ سامعین و حاضرین کو اپنی زیارت اور دعا سے سرفراز فرمایا۔ تھوڑی دیر دفتر کے کمرہ میں قیام فرما کر عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے اپنے گرانقدر مشوروں سے ممنون فرمایا۔ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری سے کام کی تفصیلات سن کر خوشی و انبساط کا اظہار فرمایا۔
آپ نے اپنے ملتان کے ایک روزہ قیام میں جامعہ خیر المدارس، جامعہ رحیمیہ اور جمعیت علماء اسلام کے اجتماعات میں شرکت فرمائی اور اسی روز شام کو لاہور تشریف لے گئے۔ اگلے روز جامعہ مدنیہ میں خطاب فرما کر واہگہ کے راستے واپس تشریف لے گئے۔ آپ کو الوداع کہنے کے لئے اس سفر کے میزبان قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن صاحب، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر مخدوم المشائخ حضرت سید نفیس الحسینی دامت برکاتہم، مولانا محمد امجد خان، مولانا سید رشید میاں، مولانا سید محمود میاں کی قیادت میں علماء کرام کی کثیر جماعت نے آپ کو الوداع کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۱ء ص ۴)
ہندوستان میں قادیانیوں کی شر انگیزیاں
دارالعلوم دیوبند کانفرنس پشاور میں شرکت کے لئے جمعیت علماء ہند کے امیر حضرت مولانا اسعد مدنی صاحب دامت برکاتہم اور دارالعلوم دیوبند کے مہتمم حضرت مولانا مرغوب الرحمن صاحب، نائب مہتمم حضرت مولانا محمد عثمان اور استاذ حدیث مولانا سعید احمد پالنپوری سمیت ۲۲؍ افراد نے تشریف لا کر پاکستان کے مسلمانوں کو خصوصی اعزاز سے سرفراز فرمایا۔ مولانا محمد عثمان صاحب نے افتتاحی اجلاس میں جو مقالہ پڑھا، اس میں قادیانیوں کی ہندوستان میں ہی نہیں پوری دنیا میں شر انگیزیوں سے بیس لاکھ سے زائد شرکاء کو آگاہ کیا۔ جامعہ مدنیہ
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
لاہور میں جب انٹرویو لیا گیا تو اس میں بھی انہوں نے قادیانیوں کی شرانگیزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ حضرت مولانا اسعد مدنی صاحب ملتان دفتر تشریف لے گئے تو وہاں پر انہوں نے حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ، مولانا اللہ وسایا صاحب سے اس سلسلہ میں تفصیلی گفتگو کی۔ جامعہ مدنیہ جدید رائیونڈ روڈ پر مولانا سید محمود میاں کی زیرنگرانی مسجد میں بھی نماز کے اختتام کے موقعہ پر راقم الحروف سے جو تفصیلی بات ہوئی اس میں بھی انہوں نے تفصیل سے قادیانیوں کی ارتدادی سرگرمیوں پر روشنی ڈالی، جو کہ انتہائی تشویش کا باعث ہوگی۔
خلاصہ یہ کہ پاکستان میں غیر مسلم اقلیت قرار پانے کے بعد قادیانیوں نے اپنا رخ ہندوستان کی طرف دوبارہ موڑ لیا ہے اور طریقہ کار این جی اوز کے انداز میں اپنا لیا۔ ہندوستان میں غربت اور پسماندگی بہت زیادہ ہے، ایسے بھی علاقے ہیں جہاں مدارس نہیں ہیں۔ قادیانی ان جگہوں پر خود مسلمان ظاہر کر کے مساجد اور ہسپتال وغیرہ قائم کرتے ہیں۔ لوگوں کو قرضے فراہم کرتے ہیں۔ پھر ان کو آہستہ آہستہ قادیان جانے کی دعوت دیتے ہیں اور وہاں لے جا کر سبز باغ دکھاتے ہیں۔ دین کی آڑ میں مسلمانوں کو مرتد بنا دیا جاتا ہے۔
یہی صورتحال قادیانیوں نے افریقی ممالک اور یورپی ممالک میں کی ہوئی ہے۔ ہمیں گزشتہ دنوں جرمنی میں بتایا گیا کہ قادیانی مسلمان بن کر سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دارالعلوم دیوبند اور اس کا شعبہ مجلس تحفظ ختم نبوت انڈیا اور جمعیت علماء ہند اپنی مشترکہ کوششوں سے قادیانیوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں اور کئی علاقوں میں قادیانیوں نے راہ فرار اختیار کی۔ دارالعلوم دیوبند کے استاذ اور ختم نبوت کے نائب ناظم مولانا شاہ عالم صاحب کے مطابق قادیانیوں کو ہر جگہ مناظروں میں شکست ہوئی ہے۔ علمی طور پر ان کو مغلوب کر دیا جاتا ہے۔ مگر اقتصادی طور پر وہ مسلمانوں کو جکڑ کر قادیانی بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں اہل خیر سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ ان علاقوں میں مدارس کا قیام عمل میں لائیں تاکہ گمراہی کے اس راستہ کو بھی روکا جاسکے۔ ہم ان سطور کے ذریعہ دارالعلوم دیوبند کے اساتذہ کرام، جمعیت علماء ہند کے اکابرین اور ہندوستان کے مسلمانوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے دارالعلوم دیوبند کے مشن کے مطابق قادیانیوں کی ارتدادی سرگرمیوں کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا اور جس انداز میں کام جاری ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان شاء اللہ ہندوستان میں اس فتنہ کی سرکوبی دارالعلوم دیوبند اور جمعیت علماء ہند کے حصے میں آئے گی، اس کے ساتھ ساتھ ہم اپنی حکومت کی توجہ بھی اس طرف دلانا ضروری سمجھتے ہیں کہ قادیانی جس طرح دنیا بھر میں اس قسم کی سرگرمیوں کے ذریعہ پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اس کا سدباب حکومت پاکستان کا فرض ہے۔ قادیان میں پاکستان کے لوگ کس طرح جاتے ہیں؟ دراصل خرابی کی سب سے بڑی وجہ شناختی کارڈ اور پاسپورٹ پر قادیانی کے لفظ نہ ہونے کی وجہ ہے، اگر شناختی کارڈ پر لفظ قادیانی بڑھ جائے تو قادیانی مسلمان بن کر دھوکہ نہیں دے سکیں گے۔
ہم اس موقع پر مرزا طاہر سے پھر کہیں گے کہ وہ اگر اپنے کو حق پر سمجھتا ہے تو اس کو مرزائی کہلانے میں شرم کیوں آتی ہے؟ الحمدللہ ہمارا تعلق دارالعلوم دیوبند سے ہے اور ہم دارالعلوم دیوبند کے اکابرین کو اپنا رہنما تسلیم کرتے ہیں، اور اس کا برملا اظہار کرتے ہیں۔ پھر تم کیوں دھوکہ دے کر مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہو؟ معلوم ہوتا ہے کہ تم بھی کفار کی طرح دل سے سمجھتے ہو کہ مسلمان حق پر ہیں۔ اس لئے مسلمانوں کے نام سے لوگوں کو دھوکہ دیتے ہو۔ جرات ہے تو کھل کر سامنے آؤ مسلمانوں کا ردعمل تمھیں خود ہی معلوم ہو جائے گا۔ اب بھی جب تمہارے کرتوت ظاہر ہوتے ہیں عیسائیوں کی سرپرستی میں امداد کے نام پر گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہو تو شکست کا سامنا کرتے ہو اور آئندہ بھی انشاء اللہ دارالعلوم دیوبند کے جاں نثار ہر جگہ تمہارا راستہ روکنے میں کامیاب رہیں گے۔
(مفتی جمیل خان)
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۲۷ اپریل تا ۳ مئی ۲۰۰۱ء ص ۴)
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کروڑ میں قادیانی عبادت گاہ کی تعمیر اور چار قادیانی گرفتار
کروڑ لعل عیسن عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی درخواست پر اے سی کروڑ نے قادیانیوں کی سرگرمیوں کا نوٹس لیتے ہوئے چار قادیانی افراد کو گرفتار کر لیا۔ تفصیل کے مطابق چک ۹۳ ٹی ڈی اے میں کافی عرصہ سے قادیانی اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے مسلمانوں میں اشتعال پایا جاتا ہے۔ گزشتہ روز عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ڈاکٹر دین محمد فریدی، قاری محمد عبداللہ، مولانا محمد حسن عثمانی، قاری فداء الرحمن، میاں محمد اکبر نے اے ڈی سی جی لیہ، ایس پی لیہ اور اسسٹنٹ کمشنر کروڑ سے ملاقاتیں کیں اور چک ۹۳ ٹی ڈی اے میں قادیانیوں کی ریشہ دوانیوں اور اسلام دشمن سرگرمیوں پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ آئین پاکستان کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے مسلمانوں کی مسجد کے مشابہ ایک عبادت گاہ کی تعمیر کی طرف تحریری درخواست کے ذریعہ توجہ مبذول کرائی گئی جس پر اے سی کروڑ نے مجسٹریٹ اور تحصیل دار کو موقع پر بھیجا۔ انتظامیہ نے چار افراد اعجاز احمد ولد محمد یاسین، اشفاق احمد ولد منیر احمد، عبد اللطیف ولد عبد المجید، نصیر احمد ولد عبد الغفور کو گرفتار کر کے حوالات میں بند کر دیا۔ انتظامیہ نے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ کسی شخص یا گروہ کو امن عامہ میں خلل ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ۲۰۰۱ء ص ۶۱، ۶۲)
مرزائیت کا میدان مناظرہ سے فرار!
مرزائیت سفید کپڑے میں لپٹی ہوئی غلاظت کا نام ہے، دجل، فریب دھوکہ عیاری، مکاری ان کا کام ہے، یہ جب بھی کبھی اہل حق کے سامنے آتے ہیں اور ان کے کفر کا پردہ چاک ہوتا ہے تو عوام الناس مرزائیت پر لعنت بھیجتے ہیں اور پروردگار عالم کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایمان کی دولت سے مالا مال کیا ہے اور حضور اقدس ﷺ کی ختم نبوت کا تحفظ کرنے کی توفیق دی ہے۔
قارئین کرام! مرزائیت ایک ایسا فتنہ ہے کہ جس سے اسلام اور مسلمانوں کے ایمانوں کو بہت نقصان پہنچا ہے، مررائیوں نے ہمیشہ مکاری، عیاری سے کام لیا ہے سادہ لوح مسلمانوں کو نوکری اور چھوکری کا لالچ دے کر ان کے ایمان عقیدہ پر حملہ کیا ہے، حال ہی میں ضلع بہاولنگر میں ایک مرزائی نے جو کہ مرزائیت کے اس گھرانے کا فرد ہے جس کی ماں مرزائیت کی مربیہ ہے اور اس کا سارا خاندان مرزائیت کی تبلیغ کرتا ہے، اس مرزائی نے سادہ لوح مسلمانوں کو ورغلا کر ان کے ایمان پر حملہ کیا اور ان سے یہ کہا کہ مسلمانوں اور مرزائیوں میں فرق صرف یہ ہے کہ مسلمان کہتے ہیں حضرت مہدی علیہ الرضوان اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت سے پہلے آئیں گے اور ہم یعنی مرزائی یہ کہتے ہیں کہ مہدی اور عیسیٰ علیہ السلام دو شخصیتیں نہیں بلکہ دونوں ایک شخصیت ہیں اور ان سادہ لوح مسلمانوں کو کہا کہ ”لا مہدی الا عیسیٰ“ اور آگے چل کر یہ کہا کہ عیسیٰ علیہ السلام تو فوت ہو گئے ہیں، دیکھیں قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ”انی متوفیک“ اور عیسیٰ علیہ السلام خود فرما رہے ہیں کہ ”فلما توفیتنی“ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں تمہیں موت دوں گا اور عیسیٰ علیہ السلام بھی فرما رہے ہیں کہ جب تو نے مجھے موت دی، مسلمان نوجوان اس مکار کے سامنے خاموش رہتے کہ قرآن کی آیتیں پڑھ رہا ہے تو اس مرزائی نے چیلنج کیا کہ آپ اپنے کسی آدمی کو بلائیں اور وہ عام فہم الفاظ میں یہ مسئلہ واضح کرے اور میرے ساتھ بحث کرے تو ان نوجوانوں نے دفتر ختم نبوت میں مبلغ ختم نبوت محمد قاسم سے رابطہ کیا اور صورت واقعہ سے آگاہ کیا تو مولانا محمد قاسم شجاع آبادی نے کہا کہ آپ اس سے وقت لیں اور جب وہ آپ کے پاس آجائے تو مجھے اطلاع دیں۔ میں ان کی کتابیں لے کر آ جاؤں گا اور مناظرہ ہوگا۔ چنانچہ آئندہ روز صبح دس بجے دوستوں نے اطلاع دی کہ آپ آجائیں وہ مرزائی بھی آ چکا ہے تو حضرت مولانا محمد قاسم نے مرزائیوں کی کتابیں حقیقت الوحی، ازالہ اوہام وغیرہ ساتھ لیں اور وہاں پہنچ گئے، جب مرزائی نے اپنی مکر و فریب
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دھوکہ اور جھوٹ سے بھری ہوئی کتابیں دیکھیں تو کہنے لگا کہ کتابوں کے حوالہ جات کی بات بعد میں کریں گے پہلے قرآن کریم کی آیت مبارکہ سے بات شروع کرتے ہیں تاکہ یہ لوگ بھی ہماری گفتگو سمجھ سکیں مسلمان کافی تعداد میں اکھٹے ہو گئے تھے اب بحث شروع ہوئی اس نے وہی پہلے والی گفتگو شروع کی اور کہنے لگا کہ لوگو دیکھو میں قرآن کی آیت پڑھ رہا ہوں ، اس کا جواب بھی قرآن کی آیت سے دوں گا ، سب سے پہلے اس مرزائی نے کہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے اور قرآن میں ”انی متوفیک“ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں آپ کو موت دوں گا اور عیسیٰ علیہ السلام بھی اقرار کر رہے ہیں کہ ”فلما توفیتنی“ کہ جب تو نے موت دی تو قرآن سے ثابت ہو گیا کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں۔
مولانا محمد قاسم صاحب نے عوام الناس کو مخاطب کر کے کہا کہ اسی سورت میں اس آیت مبارکہ سے آگے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”وقولهم انا قتلنا المسيح عيسىٰ ابن مريم رسول الله وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم“
اور اس سے آگے والی آیت میں اللہ تعالیٰ واضح فرماتے ہیں: ”بل رفعہ الله اليه“ ان آیات مبارکہ میں اللہ تعالیٰ فرماتے کہ اور ان کا قول ہے کہ ہم نے ( یہود و نصاریٰ نے) عیسیٰ بن مریم اللہ کے رسول کو قتل کر دیا اور نہ وہ قتل کئے گئے ہیں اور نہ سولی پر لٹکائے گئے ہیں بلکہ ان کو شبہ لگ گیا تھا بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا ہے۔“
قرآن پاک واضح اعلان کر رہا ہے: متوفیک کا معنی موت بھی نہیں ہوتا اور فلما توفیتنی کا معنی بھی موت نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ آسمانوں پر اٹھا لیا ہے اور قیامت سے پہلے نازل ہوں گے۔ اس بات پر مرزائی غصے میں آ کر بولا کہ قرآن میں آسمان کا لفظ دکھاؤ کہ آسمان سے نازل ہوں گے۔ مولانا محمد قاسم نے کہا کہ اس کا جواب میں دوں یا تیرا مرزا قادیانی دے۔ مرزا قادیانی اپنی کتاب براہین احمدیہ (ص ۳۶۱، خزائن ج ۱ ص ۵۹۳) پر لکھتا ہے: ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام انجیل کو ناقص چھوڑ کر آسمانوں پر جا بیٹھے۔“
اور براہین احمدیہ (ج ۴ ص ۴۹۸، ۴۹۹، خزائن ج ۱ ص ۵۹۳) پر لکھتا ہے کہ: ”حضرت مسیح دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق واقطار میں پھیل جائے گا۔“ مبلغ ختم نبوت نے کہا کہ اب انکار کریں ان حوالہ جات کا مرزائی نے کہا کہ یہ حوالے ہماری کتابوں میں ہیں؟ مبلغ ختم نبوت نے کہا کہ جی ہاں ہیں آپ اصل کتابیں لائے ہیں مرزائی نے آئندہ اور کتابیں لے کر آنے کا وعدہ کیا۔ مبلغ ختم نبوت نے کہا کہ ”متوفیک“ کا ترجمہ موت نہیں ہے۔ آپ مسلمانوں کی بات نہیں مانتے ، مرزے کی بات تو مان لیں۔
مرزا قادیانی نے اپنی کتاب براہین احمدیہ مطبوعہ ربوہ ص: ۲۶۴ پر لکھتا ہے: ”متوفیک کا کامل اجر بخشوں گا۔“
اب مرزائی کی بولتی بند ہو گئی اور کہنے لگا میں کل اپنے کسی اور مربی کو بھی لے آؤں گا اور لائبریری سے کتابیں بھی لاؤں گا۔ مبلغ ختم نبوت نے کہا کہ آپ نے مسلمانوں کو دھوکہ دیا ہے کہ حضرت مہدی اور حضرت عیسیٰ ایک ہی شخصیت ہیں ، ان کی وضاحت قرآن ، حدیث کی رو سے سن لیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ کا نام قرآن پاک میں بی بی مریم ہے اور آپ بغیر والد کے پیدا ہوئے۔ حضرت مہدی کے بارے میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”اس کے والد کا نام میرے والد کے نام پر ہوگا اور اس کا اپنا نام میرے نام پر ہوگا۔ یعنی حضرت مہدی کا نام محمد والد کا نام عبداللہ اور بی بی فاطمہ کے خاندان سے ہوگا“
اب ان دونوں شخصیات کو کس طرح آپ اکٹھا کر سکتے ہیں؟ تو مرزائی کہنے لگا کل اسی جگہ پر بحث ہوگی، آپ نے نزول عیسیٰ علیہ السلام پر حدیثیں پیش کرنی ہیں اور مجھے ہمارے کتابوں سے یہ حوالہ جات دکھانے ہیں، چنانچہ دوسرے دن کچھ مسلمان نوجوانوں کے ساتھ وہ دفتر ختم نبوت آیا اور کہنے لگا کہ میں نے اپنے ایک دو آدمیوں سے بات کی ہے تو وہ کہتے ہیں چھوڑیں آپ کس چکر میں پڑھ گئے ہیں اور مربی صاحب نے کتابیں دینے سے انکار کیا کہ ہم پر پابندی ہے۔ مبلغ ختم نبوت نے مشکوۃ شریف اٹھائی اور باب نزول عیسیٰ علیہ السلام
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کی پوری حدیثیں بمعہ ترجمہ سنائیں اب مرزائی کہنے لگا کہ ہمیں حدیثیں نہیں بتائی گئیں۔ کل میں کتابیں لے کر آؤں گا، مبلغ ختم نبوت نے کہا کہ اگر آپ کا مربی کتابیں نہیں دیتا تو میرے ساتھ ہمارے مرکزی دفتر ملتان چلو میں تمہیں تمام حوالہ جات دکھاؤں گا ، اس نے کہا نہیں میں کل لاہور جارہا ہوں اور وہاں سے کتابیں اور اپنے بڑے مربی کو ساتھ لاؤں گا۔ پھر مناظرہ ہوگا ، اس دن کے بعد سے آج تک وہ نہیں آیا، مسلمان نوجوان بہت خوش ہوئے ، مرزا قادیانی کی پوری زندگی جھوٹ ، فریب ، دھوکہ سے پر ہے۔ مبلغ ختم نبوت نے ان نوجوانوں کو مزید حوالہ جات دکھائے اور ایسے ایسے سوالات کئے کہ مرزائی زہر کا پیالہ تو پی سکتے ہیں لیکن جواب نہیں دے سکتے ۔ اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو مرزائیت کے مقابلے میں تیار رہنے کی توفیق دے۔ (آمین)
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ یکم تا ۷؍ جون ۲۰۰۱ء ص ۱۵، ۱۶)
قادیانیوں کی بحیثیت غیر مسلم الیکشن میں شرکت، قادیانی ہائی کمان کا سخت اضطراب اور غم وغصہ
پاکستان میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کے موقع پر قادیانی جماعت کی مرکزی ہائی کمان نے یکدم پینترا بدلتے ہوئے ۱۹۷۴ء کی قومی اسمبلی میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جانے والے امت مسلمہ کے متفقہ فیصلے کو بالآخر قبول کر لیا اور اس سے قبل وہ ایسے موقع پر ہمیشہ اس متفقہ فیصلے کو تسلیم نہ کرتے ہوئے اپنی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر کے الیکشن وغیرہ سے لاتعلقی کا واضح اعلان کر دیتے تھے اور اگر کوئی قادیانی ان کی مخصوص نشست پر الیکشن لڑنے کا اعلان کرتا تو قادیانی جماعت بظاہر اس سے بھی لاتعلقی کا اظہار کر دیتی۔ قادیانیوں کی یہ منافقت اور دورنگی چال اسلامیانِ پاکستان اور خود قادیانیوں کے لئے بہت سارے مسائل پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے۔ اب ۲۷ سال طویل تجربے کے بعد شاید یہ بات ان کی سمجھ میں آگئی ہے کہ ۱۹۷۴ء میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جانے والے امت مسلمہ کے متفقہ فیصلے کو ختم کرنا ان کے بس سے باہر ہے، لہٰذا اس فیصلے کو قبول کر کے ہی کچھ حاصل کیا جائے۔ چنانچہ حالیہ الیکشن کے موقع پر چناب نگر شہر کی نشستوں پر قادیانیوں نے بروقت کاغذات جمع نہیں کرائے ، جس کے نتیجہ میں عیسائی بلا مقابلہ کامیاب ہو گئے بعد میں عیسائیوں کی بلا مقابلہ کامیابی کے خلاف قادیانیوں نے رٹ دائر کر دی، رٹ منظور ہو گئی، جس کے نتیجہ میں ۳۱؍ مئی ۲۰۰۱ء کو چناب نگر کی دونوں یونین کونسلوں کا الیکشن روک دیا گیا ، اس طرح رٹ دائر کر کے قادیانیوں نے اپنے آپ کو غیر مسلم تسلیم کرنے کا واضح اعلان کر دیا ہے۔ اس مسئلہ پر قادیانیوں کے سیاسی ، سماجی حلقوں میں اختلافات شروع ہوگئے ہیں۔
اخباری اطلاعات کے مطابق ۱۹۹۸ء کی مردم شماری کی رو سے چناب نگر شہر کی اکثریتی آبادی قادیانیوں پر مشتمل ہے، حکومت پنجاب کے سیکرٹری لوکل گورنمنٹ رورل اینڈ ڈویلپمنٹ نے کاغذات نامزدگی جمع کروانے کے دوران ایک خصوصی نوٹیفکیشن کے ذریعہ شہر میں بنائی جانے والی دو یونین کونسلوں ’۴۱ اور ۴۲‘ میں آبادی کی بنیاد پر قادیانیوں کو علی الترتیب سات اور چھ کونسلرز کی نشستیں الاٹ کر دیں۔ وقت کی تنگی اور نوٹیفکیشن تاخیر سے جاری ہونے کی وجہ سے قادیانی جماعت اپنے امیدواروں کے کاغذات بروقت داخل نہ کرواسکے لہٰذا جماعت کے سرکردہ مرکزی رہنما محمد قاسم کی نگرانی میں سیاسی سیل تشکیل دیا گیا ، جس کا انچارج ملک عبدالباسط کو مقرر کیا گیا ، ۔ نگران اعلیٰ کی ہدایات پر انچارج سیاسی سیل نے سرکردہ قادیانی رہنما مسعود احمد خان ایڈووکیٹ کی طرف سے مبشر لطیف ایڈووکیٹ کی وساطت سے مذکورہ نوٹیفکیشن تاخیر سے جاری ہونے اور ریٹرننگ آفیسر کے قادیانی مذکورہ سیٹوں پر عیسائیوں کو بلا مقابلہ کامیاب قرار دیئے جانے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں رٹ دائر کر دی ، جس پر مسٹر جسٹس انوار الحق نے قادیانی مؤقف کو درست قرار دیتے ہوئے ریٹرننگ آفیسر چنیوٹ کے اقدام کو کالعدم قرار دے دیا، جس کی توثیق چیف الیکشن کمشنر پاکستان نے کر دی ہے اور قادیانیوں کو حتمی انتخاب میں الیکشن میں
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
شرکت کا موقعہ فراہم کر دیا ہے۔ اسی طرح دونوں یونین کونسلوں میں مسلم جنرل کونسلرز کی سیٹوں پر بھی ۳۱؍مئی کو انتخاب روک دیا گیا ہے چونکہ قادیانی آبادی اور ووٹروں کی کثرت تعداد کی بنا پر قواعد کے مطابق مسلم جنرل کونسلرز اور مزدور کسان مخصوص نشستوں کی تعداد بمع مخصوص خواتین کونسلرز کم کی جاچکی ہیں، جن پر اکثریت کی بنا پر قادیانی غیر مسلم کی حیثیت سے الیکشن میں شمولیت اختیار کریں گے، جن کے لئے قادیانی جماعت کے سیاسی سیل نے اپنے فدائین جس میں بابانور دین ، راجہ منصور احمد ، شبیر باجوہ وغیرہ بتائے جاتے ہیں کو ضمنی انتخابات میں کاغذات نامزدگی داخل کروانے کا گرین سگنل دے دیا ہے، قادیانی عوامی وسماجی حلقوں میں مرکزی ہائی کمان کے ۲۷ سال بعد قومی اسمبلی کے متفقہ فیصلہ کو قبول کرتے ہوئے بحیثیت غیر مسلم الیکشن میں شرکت کرنے پر سخت اضطراب، غم وغصہ بے چینی پھیل گئی ہے۔ بازاروں، دکانوں، دفاتر، قہوہ خانوں اور گھر گھر میں قادیانی ہائی کمان کا اقدام ہی زیر بحث بنا ہوا ہے۔ کثیر تعداد میں بذریعہ فیکس مرزا طاہر قادیانی کو اپنا احتجاج بھجوا رہے ہیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۹؍جون تا ۵؍جولائی ۲۰۰۱ء ص۴)
اوکاڑہ کے کذاب صوفی شعبان کو سزا سنانے پر اظہار مسرت
گزشتہ دنوں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اوکاڑہ کے تبلیغی دورہ پر تشریف لائے۔ کارکنوں نے شاندار استقبال کیا۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے صوفی شعبان کذاب کو سزا ہونے پر مولانا عبدالرزاق مجاہد اور دوسرے احباب کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ اوکاڑہ کے کذاب کو آپ حضرات کی محنتوں سے قابل اعتراض لٹریچر شائع کرنے پر بیس سال قید اور پچاس ہزار روپے جرمانہ کیا گیا ہے۔ مولانا نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج محمود اقبال باجوہ نے توہین رسالت کیس میں مجرم صوفی شعبان کو سزا سنا کر عالم اسلام کے مسلمانوں کی نمائندگی کا حق ادا کر دیا ہے۔ الحمد للہ! ختم نبوت کے رضا کاروں کی محنت رنگ لائی ہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۰۱ء ص۵۹)
چونڈہ میں قادیانی عبادت گاہ کی ہیئت تبدیل کر دی گئی
چونڈہ بڈیانہ روڈ پر قادیانیوں کی ایک انصاف رائس مل ملکیتی محمد یوسف واقع ہے۔ مذکورہ قادیانی نے اپنی مل میں عبادت گاہ کی تعمیر کی اور اس پر محراب بھی بنالیا۔ جب اس کی اطلاع حضرت مولانا قاری محمد انوار نصر، میاں عبدالغنی امیر جماعت اسلامی پسرور، محمد اشرف بٹ صدر ختم نبوت چونڈہ کو ہوئی تو انہوں نے قاری محمد شفیق ڈوگر، حضرت مولانا مفتی رشید احمد اور مولانا فقیر اللہ اختر مبلغ ختم نبوت کے ساتھ مل کر پسرور کی انتظامیہ کی توجہ اس کی طرف دلائی۔ مقامی انتظامیہ نے خصوصاً آر. ایم پسرور ملک عابد حسین اعوان نے دلچسپی لی اور اپنی نگرانی میں محراب کو گرا دیا۔ دینی اور مذہبی حلقوں نے انتظامیہ کے اس تعاون پر شکریہ ادا کیا اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مقامی رہنماؤں کی کوششوں کو سراہتے ہوئے انہیں دلی مبارک باد دی۔
قادیانی مربی کا مناظرہ سے فرار
ختم نبوت کی حقانیت قادیانی مربی مناظرہ سے فرار ہو گیا۔ تفصیلات کے مطابق نواحی گاؤں مجا سنگھ سیالکوٹ میں ایک قادیانی مربی مقامی چوہدری کو اپنے جال میں پھنسانے کے لئے چکر لگاتا رہا۔ اطلاع پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں مولانا فقیر اللہ اختر، مولانا غلام مصطفیٰ اور یاسین عابد وہاں پہنچے۔ قادیانی مربی کو دلائل کے لئے بلایا لیکن وہ گاؤں سے یہ کہتا ہوا بھاگ گیا کہ میں ان علماء سے دلائل کی کوئی بات نہیں کرنا چاہتا۔ دریں اثناء وہاں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مذکورہ رہنماؤں نے کہا کہ مسلمانوں کے ایمان اور
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۱ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عقیدے کا تحفظ کرنے کے لئے ہم مرزائیوں کا آخر تک تعاقب کریں گے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۰۱ء ص ۵۸ تا ۵۹)
مرزا طاہر کے متعلق مولانا شاہ احمد نورانی کی بروقت نشان دہی
جمعیت العلمائے پاکستان کے سربراہ مولانا شاہ احمد نورانی نے کہا ہے کہ لارنس آف پاکستان لندن میں بیٹھ کر پاکستان کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سنی تحریک کے قائد سلیم قادری کا قتل مسلمانوں کے دو اہم فرقوں دیوبندی بریلوی لڑائی کی ایک سازش ہے۔ جمعیت کے سربراہ نے کہا حکومت دہشت گردوں کا نیٹ ورک توڑنے میں ناکام رہی ہے۔
مولانا شاہ احمد نورانی ملک کی اہم دینی سیاسی جماعت کے رہنما ہیں۔ انہیں مختلف دینی حلقوں میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ قادیانی فتنہ کے خلاف علمی احتساب کی سعادت انہیں ورثے میں ملی ہے۔ ۱۹۷۴ء میں قومی اسمبلی کے فورم پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا تاریخ ساز فیصلہ ہوا۔ مولانا نورانی نے مولانا مفتی محمود، مولانا غلام غوث ہزاروی، مولانا عبدالحق، مولانا مصطفیٰ الازہری کے ساتھ مل کر قابل تحسین کردار ادا کیا تھا۔ مولانا موصوف قادیانی فتنہ کی باغیانہ سرگرمیوں، ناپاک عزائم اور قانون شکن کارروائیوں سے کبھی غافل نہیں رہے۔ ۱۲؍ اکتوبر کے اقدام کے بعد جب جنرل پرویز مشرف نے عنان حکومت سنبھالا تو ملک بھر میں قادیانیوں کی خلاف قانون سرگرمیوں میں یکا یک اضافہ ہو گیا۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے جماعتی سطح پر آواز اٹھائی۔ اسلامی دفعات اور قادیانیوں سے متعلق ترامیم کے بارے میں طرح طرح کے خدشات ابھرنے لگے۔ قادیانی جماعت جنرل مشرف کو اپنا آدمی قرار دینے کے دعوے کرنے لگی۔ مرزا طاہر لندن میں بیٹھ کر اپنی ذریت کو بشارتیں اور طرح طرح کی نویدیں سنانے لگے۔ اس سنگین صورتحال کے پیش نظر مولانا نورانی نے لاہور میں آل پارٹیز کا خصوصی اجلاس طلب کر کے حکومت کو متنبہ کیا کہ بشمول عقیدہ ختم نبوت اسلامی دفعات کی منسوخی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
حکومت نے مذہبی جذبات کے پیش نظر واضح اعلان کر دیا کہ قادیانیوں کی سابقہ حیثیت بحال رہے گی۔ عبوری آئین میں اسلامی دفعات اور قادیانیوں سے متعلق ترامیم کو نہیں چھیڑا جائے گا۔
مولانا شاہ احمد نورانی ایک اہم دینی سیاسی جماعت کے سربراہ کی حیثیت سے یقیناً ثقہ معلومات رکھتے ہیں۔ حالیہ بیان میں ان کا اشارہ قادیانیوں کے سربراہ مرزا طاہر احمد کی طرف ہے۔ جو لندن میں بیٹھ کر پاکستان کی وحدت و سالمیت کو نقصان پہنچانے کی مسلسل سازشوں اور ریشہ دوانیوں میں مصروف عمل ہے۔ پاکستان کے سیاسی معاشی و اقتصادی بحرانوں میں قادیانی جماعت کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ مختلف بین الاقوامی مالیاتی اداروں میں گھسے ہوئے قادیانی پاکستان کے اقتصادی ڈھانچے کی بنیادیں کھوکھلی کرنے میں کیونکر بخل سے کام لیں گے۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ بیرونی امداد اور ورلڈ بینک کے قرضے اقلیتوں کے بنیادی حقوق کے حوالے سے مشروط رکھے جاتے ہیں؟ یہ بات تاریخی حقائق کے تناظر میں دعوی کے ساتھ کی جاسکتی ہے۔ قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر جب سے بیرون ملک اپنے قدیمی آقاؤں کے ہاں مورچہ زن ہوئے ہیں مسلمانوں کے مختلف فرقوں کو آپس میں لڑانا، بھڑانا، ٹکرانا ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ مذہبی نوعیت کے ایسے واقعات رونما ہو رہے ہیں جس کا مقصد سپاہ صحابہ اور بریلوی مکتب فکر میں مسلح تصادم کروانا مقصود نظر آتا ہے۔ ماضی میں کئی مواقع پر دیوبندی بریلوی اختلافات کو ہوا دے کر کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی بارہا ایسا بھی ہوا کہ دونوں فرقوں کی طرف سے ایک دوسرے کے خلاف اشتعال انگیز پمفلٹ شائع کئے گئے۔ لطف یہ کہ دو پمفلٹوں کی کتابت و طباعت حتی کہ کاغذ کی کوالٹی ایک
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہونے کے باعث پتہ چلتا ہے کہ یہ کارستانی کسی تیسری قوت کی تھی۔ شیعہ سنی کشیدگی کو ہوا دینے میں قادیانی جماعت نے جو مذموم کردار ادا کیا ہے وہ اب ڈھکا چھپا نہیں رہا۔ افسوس کہ دونوں متحارب گروپوں کی قیادت نے اس پہلو پر نہ غور کیا اور نہ ہی حکمت و تدبر اور اعلیٰ فراست کا مظاہرہ کیا۔ خدا کرے کہ دشمن اہل سنت کے دو اہم فرقوں کو آپس میں لڑانے میں کامیاب نہ ہو۔
مولانا شاہ احمد نورانی نے بلاشبہ قادیانی سازش کو بھانپ کر کراچی میں رونما ہونے والے واقعات کے بعد جو قابل قدر کردار ادا کیا ہے قوم کو ان کا احسان مند ہونا چاہئے۔ مولانا شاہ احمد نورانی نے بیان دے کر قوم پر واضح کر دیا ہے کہ ملک میں دیوبندی فرقوں کو آپس میں لڑانے کی سازش قادیانی جماعت کی ہے۔ جس کا سربراہ مرزا طاہر برطانیہ میں بیٹھ کر ریشہ دوانیوں میں مصروف ہے۔ مولانا نے اسے لارنس آف پاکستان قرار دیا ہے۔ مرزا طاہر پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے دیکھنا چاہتا ہے۔ وطن عزیز کی وحدت کو پامال کرنا چاہتا ہے۔ ہم مولانا شاہ احمد نورانی کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے نہ صرف مسلمانوں کے دو اہم فرقوں کو باہمی تصادم اور خون ریزی سے بچا لیا بلکہ انہوں نے پس پردہ ایک خطرناک سازش کی نشان دہی کر کے اپنے منصب کا حق بھی ادا کیا ہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۰۱ء ص ۳ تا ۵)
جناب صدر مملکت! اسلام اور مسلمانوں پر رحم کیجئے، پاکستان پر قادیانی عذاب مسلط نہ کیجئے
جناب جنرل پرویز مشرف کے صدر مملکت پاکستان کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سینٹرل بورڈ آف ریونیو (سی بی آر) میں تبدیلی لائی گئی ہے۔ اس میں سی بی آر کے پہلے چیئرمین ریاض صاحب نقوی کو ہٹا کر ان کی جگہ ریاض ملک قادیانی کو چیئرمین بنا دیا گیا ہے۔
ریاض ملک مبینہ طور پر سکہ بند، جنونی قادیانی ہے۔ وہ حکومت و ملک کا وفادار ہونے کی بجائے قادیانی مفادات کا علمبردار ہے۔ اس کا والد عبدالحی ملک اور والدہ دونوں قادیانی تھے۔ اس کی پہلی بیوی سکہ بند قادیانی تھی۔ کراچی کے ہفت روزہ ”تکبیر“ ۵ / جولائی ۲۰۰۱ء کی رپورٹ کے مطابق سی بی آر میں پہلے سے قادیانی افسروں کی ایک ڈار کی ڈار براجمان ہے۔ ایڈیشنل کلکٹر ایکسپورٹ ظہیر الدین ڈار قادیانی ہے۔ لاہور سی بی آر میں ڈاکٹر سعید قادیانی تھے۔ جو بعد میں فیصل آباد میں ایڈیشنل کلکٹر بنے جن کے ہاتھوں تشدد سے مسلمان تاجر قتل ہو گیا تھا۔ اسے سزا دینے یا معطل کرنے کی بجائے ڈرائی پورٹ کی پرائز پوسٹنگ پر بھیج دیا گیا۔ زاہد محمود چیف ایکسپورٹ قادیانی افسر تھا۔ کوئٹہ و پشاور میں تعیناتی کے دوران اسمگلنگ میں ملوث تھا۔ اسے ریاض ملک قادیانی نے امریکہ بھجوا دیا۔ سی بی آر میں ایڈیشنل کلکٹر محمد یحییٰ قادیانی ہے۔ جو آج کل پورٹ قاسم کراچی میں تعینات ہے۔ ڈاکٹر منظور قادیانی جو مانسہرہ کا رہنے والا ہے یہ بھی سی بی آر کا ممبر ہے۔ اسد عارف ڈاکٹر منظور قادیانی کا سالا ہے۔ یہ پورٹ قاسم اتھارٹی کا چیئرمین ہے۔
ان سب امور کے باوجود ریاض ملک قادیانی کو سی بی آر کا چیئرمین بنانا پورے محکمہ کو قادیانی نرغے میں دینے کے مترادف ہے۔ یہاں پر قادیانی لابی ناٹک رچائے گی۔ قادیانی تاجروں کی من مانی ہوگی۔ قادیانی تاجر ملک بھر کے مسلمان تاجروں کو بلیک میل کر کے سی بی آر سے جان چھڑوانے کے لئے قادیانی بننے پر مجبور کریں گے۔ جو مسلمان تاجر جھانسے میں نہیں آئیں گے وہ پھنسا دیئے جائیں گے۔ ملک بھر میں افراتفری ہوگی اور ہڑتالیں ہوں گی۔ لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ پیدا ہوگا اور ملک عزیز اور حکومت کو ایک نئے بحران میں مبتلا کر دیا جائے گا۔ قادیانی ریاض ملک چیئرمین سی بی آر کو وزیر خزانہ شوکت عزیز کی آشیر باد حاصل ہے۔ وہ ان کے ناک کا بال ہیں۔ وزیر باتدبیر کے قادیانیوں سے رابطے اور قادیانی افسروں کی ناز برداری کی پہلے سے صدا بلند ہوتی رہی ہے۔ جب سی بی آر سے ایک ہزار کرپٹ افسر نکالنے کی فہرست بنی تو اس میں جتنے کرپٹ قادیانی افسران تھے ان سب کو فہرست سے خارج کر کے مسلمان افسروں کو شامل کر دیا گیا۔ ان کے
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مستقبل پر قادیانی تلوار چلا دی گئی۔
جناب صدر مملکت! آخر یہ ہو کیا رہا ہے؟ چن چن کر تمام بے دینوں کو آگے لایا جا رہا ہے اور ملک قادیانی گروہ کے پاس گروی رکھا جا رہا ہے۔ ایک اسلامی ملک دستوری طور پر جس کا مذہب اسلام ہے ایسے ملک میں مذہب کے دشمنوں کو نوازنا اور کلیدی عہدوں پر براجمان کرنا کیا یہ دستور سے انحراف نہیں؟ ریاض ملک جنونی قادیانی، قادیانیت کے جنون میں چن چن کر قادیانیوں کو آگے لائے گا۔ مسلمان افسروں کو اپنے ناک کا بال بنائے گا جو انکار کریں گے وہ ادھر ادھر کر دیئے جائیں گے۔ ہمیں یقین کامل ہے کہ یہ قادیانی خناس جتنے دن چیئرمین رہا اتنے سال سی بی آر کا محکمہ قادیانی شکنجہ سے نہیں نکل سکے گا۔ اس محکمہ کا قادیانی چیئرمین مستقل بنیادوں پر قادیانیت کو محکمہ میں اتنا مضبوط کر جائے گا کہ آنے والی مسلمان نسلیں اس کرب سے رہائی نہ پاسکیں گی۔
صدر مملکت! آپ سے درخواست ہے کہ اسلام پر رحم کیجئے۔ مسلمانوں اور ملک عزیز پاکستان پر رحم کیجئے۔ اس قادیانی عذاب کے مسلط ہونے میں قادیانیوں کے دست بازو نہ بنئے۔ اپنے وفاقی وزیر خزانہ شوکت عزیز کے چہیتے قادیانی چیئرمین کو نہ صرف بے دست و پا کیجئے بلکہ اسے یک بین و دو گوش نکال باہر کیجئے۔ یقین فرمائیے مسلمان قوم رحمت عالم ﷺ کی عزت و ناموس کے دشمن قادیانی گروہ کو اپنے سروں پر مسلط کرنا اپنی ایمانی غیرت کے منافی سمجھتی ہے۔ مسلمان قوم کی غیرت کا امتحان نہ لیجئے۔ اللہ رب العزت آپ کو صحیح فیصلہ کرنے کی توفیق بخشے۔ آمین!
سی بی آر کے قادیانی چیئرمین نے چارج سنبھالتے ہی جو پرپرزے نکالے ہیں اس کی ایک جھلک ملاحظہ کیجئے۔
باخبر ذرائع کے مطابق سینٹرل بورڈ آف ریونیو میں اہم تبدیلیاں کی جائیں گی۔ سی بی آر کے کم از کم دو ممبر نئے مقرر کئے جائیں گے۔ متعدد چیف تبدیل کئے جائیں گے۔ بعد ازاں ریجنل کمشنر، کمشنر آف انکم ٹیکس کسٹمز سیلز ٹیکس سنٹرل ایکسائز کے کلکٹر، ڈپٹی کلکٹر، اسسٹنٹ کلکٹروں کے تبادلے عمل میں لائے جائیں گے۔ نمائندہ جنگ کو معلوم ہوا ہے کہ وفاقی وزیر خزانہ شوکت عزیز اور ریونیو ڈویژن کے سیکرٹری و چیئرمین سی بی آر ریاض احمد ملک باہمی مشورے سے سی بی آر کے نئے ممبروں کی تقرری کے لئے سمری ایک دو روز میں صدر و چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف کو بھجوا دیں گے۔ ان اہم عہدوں کے لئے کسٹمز سیلز ٹیکس سینٹرل ایکسائز کے بنیادی پے اسکیل نمبر ۲۱ کے جن سینئر عہدیداروں کے نام زیر غور ہیں ان میں کسٹمز سیلز ٹیکس سینٹرل ایکسائز ٹربیونل اسلام آباد کے ممبر محمد سلیمان، ڈائریکٹر جنرل کسٹمز انٹیلی جنس محسن اسد، کراچی ٹربیونل کے ممبرز میر فواد، صفدر علی، ڈاکٹر ظفر اقبال، لاہور ٹربیونل کے ممبر ظفر المجید کے علاوہ پے اسکیل نمبر ۲۰ کے تین سینئر افسر سی بی آر کے کسٹم چیف ولی خان سی بی آر کے چیف سیلز ٹیکس ممتاز حیدر رضوی اور وزارت صنعت کے سینئر جوائنٹ سیکرٹری یاسین طاہر شامل ہیں۔ سی بی آر کے ممبر سیلز ٹیکس کا عہدہ ریاض احمد ملک کے چیئرمین بننے سے خالی ہوا ہے۔ یہ اضافی چارج ڈائریکٹر جنرل کسٹم انٹیلی جنس محسن اسد کے سپرد ہے۔ سی بی آر کے نئے چیئرمین باقی لائن ممبروں اور سی بی آر کے دوسرے عہدیداروں کی کارکردگی کا جائزہ لے کر ماہ رواں میں سی بی آر ہیڈ کوارٹر اور فیلڈ افسروں کے تبادلے شروع کر دیں گے۔
(بشکریہ روزنامہ جنگ کراچی ۵ / جولائی ۲۰۰۱ء، ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۰۱ ص ۳ تا ۵)
سیدوالہ میں قادیانیوں کی ایک اور شکست فاش
قادیانی آئے دن امن وامان کو خراب کرنے کے لئے کوئی نہ کوئی شرارت کرتے رہتے ہیں تاکہ ملک میں بدامنی پھیلی رہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مورخہ ۲۶؍اگست ۲۰۰۱ء کو موضع سید والہ تحصیل ننکانہ میں قادیانیوں نے تبلیغ کرنے اور مرزا طاہر احمد کی تقریر جس میں اس نے اسلام کے خلاف ہرزہ سرائی کی تھی، بلند آواز میں ڈش کے ذریعہ اپنی عبادت گاہ میں دکھانے کا انتظام کیا مسلمانوں کو اطلاع ملنے پر ان میں اشتعال پیدا ہو گیا، انہوں نے تھانہ سید والہ میں اس کی شکایت کی۔ ایس ایچ او تھانہ نے دونوں فریقین کو بلا کر امن وامان سے رہنے کی تلقین کی اور قادیانیوں کو خلاف قانون کوئی کام نہ کرنے کی ہدایت کی۔
قادیانیوں پر اس بات کا کوئی اثر نہ ہوا، بشارت زرگر نامی قادیانی نے عبادت گاہ سے ڈش، گھر میں لے جا کر بلند آواز میں مرزا طاہر کی تقریر چلا دی اور اس کے بیٹے ظفر اللہ نے کھلے عام مسلمانوں کو رات کے آٹھ بجے گالیاں دینا شروع کر دیں، قادیانیوں کی اس حرکت پر مسلمانوں میں غصہ کی لہر دوڑ گئی اور وہ مشتعل ہو گئے۔ حافظ صفدر معلم درس مسجد اور محمد افضل نے تمام واقعات سے مسلمانوں کو آگاہ کیا۔ انہوں نے قادیانیوں کی طرف سے اسلام دشمنی، شعائر اسلام کی خلاف ورزی پر غصے میں گھروں سے باہر نکل آئے اور احتجاج کرتے ہوئے قادیانیوں کی غیر قانونی بنائی گئی عبادت گاہ کو گرا دیا۔
پولیس نے حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے آدم، اللہ یار، شوکت، شاہد، لطف اللہ، منظور، عبدالحمید نامی قادیانیوں کو اپنی تحویل حفاظت کی غرض سے لے لیا۔ مجاہدین ختم نبوت رات بھر احتجاج کرتے رہے اور قادیانیوں کو سزا دینے کا مطالبہ کرتے رہے۔
مورخہ ۲۷؍اگست کو امن وامان کو بحال کرنے کے لئے بریگیڈیئر ندیم کمانڈر ایڈیشنل ایس پی اور ڈی ایس پی ننکانہ ہمراہ سردار احسان اللہ خاں ناظم (بچیکی) سید والہ میں آئے، لیکن وہ مجاہدین ختم نبوت کے سامنے کچھ نہ کہہ سکے اور حالات کنٹرول نہ ہو سکے، تمام سید والہ میں دکانیں بازار بطور احتجاج بند رہے، ادھر ننکانہ صاحب میں جب اطلاع ملی تو مجاہدین ختم نبوت ننکانہ سراپا احتجاج بن گئے۔ شام کو جامع مسجد نور میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ننکانہ صاحب کے امیر حاجی عبدالحمید رحمانی کی زیرصدارت شہر بھر کی سیاسی، سماجی اور مذہبی تنظیموں کا اجلاس ہوا جس میں قصبہ سید والہ کے حالات و واقعات پر غور کرتے ہوئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں محمد عارف سیفی صاحب، مولانا سیف علی خطیب مسجد نور، مولانا محمد عباس خطیب مسجد نوری کیارہ صاحب، عبدالحمید کوکب انجمن طلبہ اسلام، عتیق الرحمن جمعیت، نصیب الہی گوجر جمعیت علماء اسلام، رانا عبدالمجید صاحب صدر جماعت اہل سنت، مہر محمد اسلم ناصر ایڈووکیٹ، ملک انعام الحق کونسلر، لیاقت علی کچھی ایڈووکیٹ، مہر شوکت علی شاہد ناظم مجلس تحفظ ختم نبوت ننکانہ صاحب شامل تھے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ یہ کمیٹی فوری طور پر ڈی ایس پی ننکانہ سے ملے اور انہیں حالات کی سنگینی کی اطلاع دے کر قادیانیوں کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی درخواست کرے۔ اگر ڈی ایس پی ننکانہ مناسب کارروائی کا یقین نہ دلائیں تو فوری طور پر ختم نبوت کانفرنس، احتجاجی جلوس اور جمعۃ المبارک کو شہر بھر کی تمام مساجد میں احتجاجی خطبے دیئے جائیں اور قادیانیوں کی مذمت کی جائے۔ ڈی ایس پی ننکانہ نے وفد سے ملاقات کے دوران مجلس تحفظ ختم نبوت ننکانہ کے اراکین کے ساتھ اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے خود سید والہ جانے کا اعلان کیا۔
سید والہ میں ۲۸؍اگست ۲۰۰۱ء کو رانا مقصود خاں ناظم (بڑا گھر) ایڈیشنل ایس پی صاحب سردار احسان اللہ خان ناظم (بچیکی) محمد امین بھٹی ایڈووکیٹ ناظم ننکانہ، مہر محمد اسلم ناصر ایڈووکیٹ، قاری محمد عباس، حافظ مشتاق احمد صدر مجلس تحفظ ختم نبوت سید والہ، محمد یاسین ایڈووکیٹ، حافظ احمد علی چک ۱۷۰/۲ رائے محمد اسلم خان کھرل، آغا جمیل، نعیم رحمانی، حاجی ارشد، شیخ عبدالخالق، مہر شوکت علی شاہد ناظم مجلس، محمد اکرم ناظم مجلس تحفظ ختم نبوت ننکانہ اور حاجی عبدالحمید رحمانی امیر مجلس کے علاوہ مجاہدین ختم نبوت سید والہ کی کثیر تعداد موجود تھی، جب کہ قادیانیوں کی طرف سے بشارت وغیرہ کے علاوہ اٹھائیس افراد جو تھانہ میں موجود تھے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حاجی عبدالحمید رحمانی امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ننکانہ نے تھانہ میں قادیانیوں کی طرف سے کی جانے والی زیادتیوں کے بارے میں بتایا اور قادیانیوں کے عقائد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہماری قادیانیوں سے کوئی صلح نہیں ہو سکتی۔ یہ گستاخ رسول ہیں، ان کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ انتظامیہ کو قادیانیوں کو ملکی قانون پر عملدرآمد کروانے پر مجبور کرنا چاہئے۔ قادیانی ملکی قانون کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے امن و امان کا مسئلہ پیدا کرتے رہتے ہیں۔ اس پر انہیں لگام دینی چاہئے اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ کوئی فریق ایک دوسرے کے خلاف قانونی چارہ جوئی نہیں کرے گا، قادیانی اپنی عبادت گاہ خاص طور پر مسجد کی شکل مینار و محراب نہیں بنائیں گے اور اپنے عقیدہ کا پرچار کھلے عام نہیں کریں گے اور اس فیصلے سے مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی انہوں نے عزم کیا کہ ملک پاکستان ہمارا ہے اور ہم اس میں امن و امان قائم رکھیں گے اور کسی غیر مسلم خصوصاً قادیانی کو ملکی قانون توڑنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۱ تا ۲۷ ستمبر ۲۰۰۱ء ص ۲۱)
توہین رسالت کے مجرم ڈاکٹر یونس کو سزائے موت اور ایک لاکھ روپے جرمانہ
اسلام آباد ایڈیشنل جج اسلام آباد صفدر حسین ملک کی عدالت نے اڈیالہ جیل میں سماعت کے دوران کیپٹل ہومیو پیتھک کالج جی نائن ون میں لیکچر کے دوران توہین رسالت کے مرتکب ڈاکٹر شیخ محمد یونس کو سزائے موت اور ایک لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی گئی۔ عدم ادائیگی جرمانہ کی صورت میں اسے چھ ماہ قید بامشقت کی سزا بھگتنا ہوگی۔ سزا پانے والے شاتم نے ۲؍ اکتوبر ۲۰۰۰ء کو مذکورہ کالج میں لیکچر کے دوران اچانک توہین رسالت کا ارتکاب کیا اور حضور نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخانہ الفاظ استعمال کئے جس پر مارگلہ پولیس نے اسے گرفتار کرلیا۔ ایس ایچ او زبیر شیخ نے ملزم کے خلاف توہین رسالت ایکٹ کے تحت اس کے خلاف تھانہ مارگلہ میں ایف آئی آر درج کی اور اس کے مقدمہ کا چالان ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد صفدر حسین ملک کی عدالت میں منتقل کردیا۔ موقع کے گواہان شاتم رسول ﷺ کے خلاف شہادتیں ریکارڈ کرائیں۔ عدالت نے اڈیالہ جیل میں سماعت کے دوران توہین رسالت کے مرتکب ڈاکٹر شیخ یونس کو سزائے موت سنائی اور اسے ایک لاکھ روپے جرمانہ کا حکم دیا۔ عدم ادائیگی جرمانہ کی صورت میں اسے چھ ماہ قید سخت کاٹنا ہوگی۔
(نوائے وقت راولپنڈی ۱۹؍اگست ۲۰۰۱ء، ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۰۱ء ص ۵۸)
تخت ہزارہ کیس کا فیصلہ
سرگودھا انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج دلشاد حسن علوی نے تخت ہزارہ کے پانچ قادیانیوں کے مشہور مقدمہ قتل کا فیصلہ سناتے ہوئے چھ مسلمان ملزموں گلزار عرف گلالک، خالد ولد امیر، ارشاد ولد غفور، افضال ولد نانو، سلطان ولد محمد حسین اور تاج ولد سلطان کو دو دو مرتبہ عمر قید اور ایک ایک لاکھ بیس ہزار جرمانہ کی سزا کا حکم سنایا ہے جب کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولانا محمد اکرم طوفانی، قاری احمد علی ندیم اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سید اطہر حسین شاہ سمیت ۳۸ ملزمان کو بری کردیا۔ اسی مقدمہ کے دوسرے حصے کا فیصلہ سناتے ہوئے فاضل جج نے ختم نبوت کے مبلغ سید اطہر حسین شاہ کے اغوا اور قاتلانہ حملہ کے الزام میں قادیانی جماعت سرگودھا کے مربی ارشد احمد سمیت چار ملزموں کو مجموعی طور پر ۶۰ سال قید اور ایک لاکھ بیس ہزار روپے جرمانہ کی سزا کا حکم سنایا ہے۔ اس مقدمہ میں ملوث ۳۲ قادیانیوں کو بری کر دیا گیا جن میں سے پانچ قادیانی موقع پر ہلاک ہوگئے تھے اور ایک ملزم نصیر احمد اس دوران دشمنی کی وجہ سے قتل کر دیا تھا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مقدمہ کا فیصلہ فاضل جج نے رات نو بجے سنانا شروع کیا اور تقریباً دس بجے رات فیصلے کی اطلاع عدالت سے باہر ملی۔ فیصلہ سننے کے لئے دور دراز سے مسلمان اور قادیانی عدالت کے باہر صبح ہی سے جمع تھے اور رات تک فیصلے کے انتظار میں بیٹھے رہے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ واقعہ ۱۰؍اکتوبر ۲۰۰۰ء کو تقریباً نو بجے رونما ہوا تھا۔ اس طرح واقع کے پورے ایک سال بعد ۱۳؍شعبان کو ہی فیصلہ سنایا گیا۔ گزشتہ سال ۱۳؍شعبان کی رات کو جملہ قادیانی ملزمان نے مولانا سید اطہر شاہ کو اغوا کر لیا اور اپنی عبادت گاہ میں لے جا کر شدید تشدد کیا۔ جس سے علاقہ کے مسلمانوں میں اشتعال پیدا ہوا اور انہوں نے حملہ کر دیا۔ جس سے پانچ قادیانی ہلاک ہو گئے تھے۔ جن میں ناصر احمد ، بزرگ علی ، عارف محمود ، مدثر احمد ، اور مبارک احمد شامل تھے فیصلے کے موقع پر پولیس اور ایلیٹ فورس نے احاطہ عدالت کو گھیرے میں لے رکھا تھا اور سخت سیکورٹی کے انتظامات تھے۔
(نوائے وقت ملتان ۲؍نومبر ۲۰۰۱ء)
ممتاز آباد ملتان کا دشمن اسلام ادریس ربانی گرفتار
ملتان پولیس تھانہ ممتاز آباد نے کچی آبادی ممتاز آباد کے رہائشی ادریس ربانی کو شعائر اسلام کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے اور اپنے لٹریچر میں اسلام کی برگزیدہ ہستیوں کے بارے میں مبالغہ آمیز مواد شائع کرنے پر گرفتار کر لیا۔ ملزم کے خلاف علاقے کے رہائشی محمد انیس رومانی کی رپورٹ پر زیر دفعات ۲۹۵اے اور سی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس کو مدعی نے ملزم کی جانب سے شائع کرائی جانے والی کتب بھی ثبوت کے طور پر فراہم کر دی ہیں۔ جن میں مبینہ طور پر کلمہ پڑھنے والوں کو مشرک قرار دیا گیا ہے پولیس کے مطابق ملزم ادریس ربانی کو چند روز قبل حراست میں لیا تھا جس کے بارے میں علاقے کو لوگوں نے اس کے پراگندہ خیالات سے آگاہ کیا تھا۔ گزشتہ روز انیس رحمانی نے درخواست دیتے ہوئے ملزم سے ملنے والا لٹریچر بھی فراہم کر دیا۔ جس سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ مقدمہ درج ہو گیا ہے اور اب ملزم جیل میں ہے۔
(نوائے وقت ملتان ۲۲؍نومبر ۲۰۰۱ء)
گوہر شاہی آنجہانی ہو گیا
ریاض احمد گوہر شاہی نے ایک نئے فتنہ کی بنیاد ڈالی۔ اسلامی عقائد کے خلاف بد زبانی کی۔ متعدد بے سروپا ملحدانہ دعوئے کئے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بزرگ رہنما حضرت مولانا احمد میاں حمادی نے اس کے خلاف کیس درج کرائے۔ گرفتاری کے خوف سے لندن اور امریکہ میں سیاسی پناہ کے لئے ملک سے مجرمانہ فرار اختیار کیا۔ اس کی عدم موجودگی میں کیس چلا۔ میر پور خاص کی دہشت گردی کی عدالت نے اسے سزا سنائی۔ مجلس تحفظ ختم نبوت نے کیس کی پیروی کی۔ ۵؍دسمبر ۲۰۰۱ء کے اخبار نوائے وقت ملتان کے مطابق لندن میں آنجہانی ہو گیا۔ خس کم جہاں پاک!
پارلیمانی تاریخ کا سنہری لمحہ، جمال کوریجہ کا انٹرویو
لیاقت پور کی ممتاز سیاسی و مذہبی شخصیت سابق ایم این اے جناب جمال کوریجہ نے نوائے وقت ملتان کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ان کی زندگی کا وہ تاریخی اور سنہری موقع تھا جب انہوں نے ایم این اے ہونے کی حیثیت سے مولانا مفتی محمود اور مولانا شاہ احمد نورانی سے مل کر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوانے کے لئے اسمبلی ہال میں چند جملوں پر مشتمل تقریر کی۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں اسمبلی میں قرا داد بحث جاری تھی۔ بالاخر وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے مجھے کچھ بولنے کو کہا تو میں نے کہا کوئی مسئلہ جس میں منطقی طور پر گنجائش ہو اس پر بحث کی جاتی ہے۔ جب کہ میری نگاہ میں اس پر بحث کرنے والا بھی مجرم ہے۔ کیونکہ ختم نبوت پر کسی بھی بحث ومباحثے کی ضرورت
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نہیں ۔ جس کے بعد اسمبلی کا اجلاس کچھ دیر کے لئے ملتوی ہوا اور دوبارہ شروع ہونے پر وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بلا تمہید قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا بل پاس کرنے کا اعلان کر دیا۔
(روزنامہ نوائے وقت ملتان مؤرخہ ۲۵ نومبر ۲۰۰۱ء)
سرگودھا توہین رسالت کے مجرم بوبا کو سزائے موت قید و جرمانہ
سرگودھا کی خصوصی عدالت برائے انسداد دہشت گردی کے جج گل بادشاہ حسن علوی نے توہین رسالت کے مجرم محبوب عرف بوبا کو ۱۰ سال قید پچاس ہزار روپے جرمانہ ، عدم ادائیگی جرمانہ پر مزید دو سال قید سخت اور سزائے موت کی سزا کا حکم سنایا ہے۔ تھانہ خوشاب میں درج مقدمہ کے مطابق ملزم محمد محبوب عرف بوبا نے ۲۱ ستمبر ۱۹۹۹ء کو جامع مسجد مین بازار خوشاب کی دیواروں پر دستی تحریر شدہ اشتہارات چسپاں کئے ۔ جن میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضور نبی کریم ﷺ کی توہین کے الفاظ شامل تھے ۔
(روزنامہ جنگ ۲۵ نومبر ۲۰۰۱ء)
میر پور خاص کیس کا فیصلہ
انسداد دہشت گردی کی عدالت برائے حیدر آباد و میر پور خاص ڈویژن کے جج جناب عبدالغفور میمن کی عدالت میں ٹریکٹر کے ذریعے مسجد کو گرانے کلام پاک کی بے حرمتی کرنے ، مذہبی نفرت اور دہشت گردی پھیلانے کا جرم ثابت ہونے پر قادیانی نذیر احمد کھوسو اور روپوش اشتہاری ملزم اللہ رکھا راجپوت کو مجموعی طور پر ایک سو اٹھارہ سال فی کس علیحدہ علیحدہ قید بامشقت ، چالیس چالیس ہزار روپے جرمانہ اور عدم ادائیگی پر مزید ڈیڑھ سال کی سزا سنائی گئی ۔
فاضل عدالت نے تین روپوش اشتہاری ملزمان قادیانی بنی احمد کھوسو ولد جعفر کھوسو ، قادیانی چوہدری محمود ولد عبدالغنی ، قادیانی جاوید احمد عرف موٹا ولد اللہ رکھا راجپوت کو جرم ثابت نہ ہونے پر بری کر دیا ۔
(روزنامہ نوائے وقت مؤرخہ ۱۱ دسمبر ملتان ۲۰۰۱ء)
ملتان ہائی کورٹ میں عبدالمجید قادیانی کی رٹ درخواست خارج کر دی
لاہور ہائی کورٹ ملتان بنچ کے مسٹر جسٹس میاں محمد جہانگیر نے قرار دیا ہے کہ آئین میں قادیانیوں کو دائرہ اسلام سے خارج کر دیا گیا ہے ۔ اس لئے ان کا مسلمانوں کے طرز پر مساجد بنانا ، اذانیں دینا اور کسی بھی قسم کی ایسی سرگرمی میں حصہ لینا جس سے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہو سراسر غیر قانونی ہے ۔
عدالت عالیہ نے قرار دیا ہے کہ ایسا طرز عمل ناخوشگوار واقعات کو جنم دے سکتا ہے ۔ جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ قادیانی اسلامی شعائر اپنا کر دین اسلام کی توہین کے مرتکب ہو رہے ہیں ۔ اس موقعہ پر عدالت عالیہ قادیانی درخواست گزار کی طرف سے درخواست ضمانت کو خارج کر دیا اور ریمارکس دیئے کہ مذکورہ درخواست کسی بھی طرح میرٹ پر پوری نہیں اترتی اور یہ بات ثابت ہے کہ درخواست گزار نے قرآن مجید کی ترجمہ شدہ آیات پر مبنی دیوار پر لگے ایک اشتہار پر اپنا لٹریچر چسپاں کیا اور مسلمانوں کی مساجد کی طرز پر اپنے گاؤں میں ایک عبادت گاہ تعمیر کی جس سے مسلمانوں میں گمراہی پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
اس سے قبل درخواست ضمانت دائر کرتے ہوئے چک نمبر 93/T/D/A تحصیل کروڑ ضلع لیہ کے عبدالمجید نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزار قادیانی مذہب سے تعلق رکھتا ہے ۔ درخواست گزار کے خلاف علاقہ کے رہائشی میاں محمد اکبر نے تھانہ کروڑ میں مقدمہ درج کراتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ میں نے علاقہ میں ایسی عبادت گاہ تعمیر کی ہے جس کے محراب اسلامی مساجد کی طرح ہیں ۔ اسی طرح قرآن مجید کی ترجمہ شدہ آیات پر درخواست گزار نے اپنا لٹریچر لگا دیا ۔ اس طرح گاؤں میں موجود کم پڑھے لکھے افراد گمراہ ہو رہے ہیں ۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۱ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
درخواست گزار پر الزام ہے کہ سائل نے مسلمانوں جیسا طرز عمل اختیار کیا ہے اور قادیانی ہونے کے باوجود ایسی عمارت تعمیر کی ہے جو اسلامی طرز کی تھی۔ جہاں کئی مسلمانوں نے نماز ادا کی۔ اس دوران تبلیغی جماعت کے ارکان دو ماہ تک غلطی سے اس میں نماز ادا کرتے رہے اور بعد میں قریبی مسجد میں پہنچ کر اہل علاقہ کو بتایا کہ درخواست گزار بالکل اسی طرح اذان دیتا ہے جیسی مسلمان دیتے ہیں۔ سائل نماز بھی مسلمانوں کی طرح پڑھتا ہے۔ جس کے باعث پولیس نے مقدمہ درج کرتے ہوئے سائل سمیت انور احمد اور چوہدری شوکت کو گرفتار کر لیا۔ اس دوران سائل کے خلاف 295A اور 295B اور 298B کی دفعات درج کرائیں۔ مگر بعد میں 295A کی دفعہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج نے خارج کر دی۔ مگر درخواست ضمانت بھی خارج کر دی۔ درخواست ضمانت کے لئے سائل نے مجبور ہو کر عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔
(روزنامہ خبریں ملتان ۱۱/دسمبر ۲۰۰۱ء، ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۰۱ء ص ۵۶ تا ۵۹)
ملتان میں مبلغین حضرات کی میٹنگ کی کارروائی اور تقریب حلف برداری
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بانی حضرات میں سے مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھری نے جماعتی نظم و نسق کے لئے جو جانگسل خدمات سرانجام دیں وہ تاریخ کا سنہری باب ہیں۔ ان کے قواعد و ضوابط جماعتی زندگی کے جسم میں روح کا درجہ رکھتے ہیں۔ آپ ایک نظم و ضبط کے مجاہد فی سبیل اللہ تھے۔ ایک نظم سے زندگی گزارنا ان کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ آپ نے اپنی زندگی میں جماعت کے مبلغین کے لئے ہدایات ایک کاغذ پر تحریر فرمائیں۔ محفوظ پرانے تبرکات میں سے وہ کاغذ مل گیا۔ ۸، ۹/شوال ۱۴۲۲ھ بمطابق ۲۴، ۲۵/دسمبر ۲۰۰۱ء دفتر مرکزیہ ملتان میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغین کا اجلاس منعقد ہوا۔ حضرت مرحوم کی مرتب کردہ ہدایات پڑھی گئیں۔ تمام احباب نے چشم پر نم سے ان کو سنا اور ان کی اشاعت پر اصرار کیا۔ رفقاء کے حکم کی تعمیل میں پیش خدمت ہیں۔
ہدایات مبلغین:
- ۱...... مبلغ حضرات اپنے حلقے میں اپنا نگران مقرر کر کے اطلاع دیں تاکہ مرکز اس نگران سے کام کی نوعیت میں مشورہ اور اطلاع
حاصل کرتا رہے۔
- ۲...... تمام مبلغین حضرات رد قادیانیت پر پورا عبور حاصل کریں۔ ہر سہ ماہی میٹنگ پر دفتر مرکزیہ ملتان آ کر امتحان دیں۔
- ۳...... بغیر اجازت کے مبلغین حضرات رخصت پر نہ جائیں۔ رخصت کی درخواست پر نگران کی سفارش ضروری ہے۔ رخصت پر جانے
کا وقت اور واپسی کی اطلاع دفتر کو دینا ضروری ہو گی۔ رخصت سے زائد وقت غیر حاضری تصور ہو گی۔
- ۴...... مبلغین حضرات جن کا خط عمدہ نہ ہو لکھنے کی مشق کریں۔ اس میں شرمانا اچھا نہیں۔ جتنا زیادہ لکھیں گے تحریر میں درستگی آئے گی۔
- ۵...... تمام مبلغین حضرات روزانہ کسی مسجد میں درس یا تقریر کا اہتمام ضرور کریں۔
- ۶...... تقریر میں موضوع کی پابندی لازمی امر ہے۔ اسی طرح تقریر بہتر ہوتی جاتی ہے۔ تقریر میں انداز بیان شیریں ہو اور بات
سمجھانے کی کوشش کی جائے اس سے تقریر میں نکھار آ جائے گا۔
- ۷...... ہر مبلغ اپنے تبلیغی حلقہ میں ہر ہفتہ قرب و جوار کے قصبات کا دورہ ضرور کرے تاکہ دوسرے قصبات میں بھی کام ہو۔
- ۸...... تمام مبلغین حضرات اپنے حسابات ماہ بماہ بر وقت ارسال کریں تاکہ دفتر کو حسابات رکھنے میں سہولت ہو۔ جماعتی زندگی میں یہ
کام انتہائی ضروری ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۹...... حیات عیسیٰ علیہ السلام عقیدہ ختم نبوت پر قرآن وسنت سلف صالحین کی تشریحات کی روشنی میں اس پر دلائل دیئے جائیں اور قادیانیت
کی تردید قادیانی کتب سے کی جائے۔
- ۱۰...... جس طرح صدر، گورنر وزراء حلف دیتے ہیں مبلغین حضرات بھی اسی طرح چھوٹے سے بڑے تک حلف دیں اور ہر سال اس کی
تجدید ہوتی رہے کہ میں جماعت کے کاز کے لئے سرتوڑ کوشش کروں گا اور مالی معاملات میں امانت و دیانت کے شرعی اصولوں پر ہر لمحہ نظر رکھوں گا۔
- ۱۱...... حلقہ میں مرزائیت کہاں کہاں ہے اور کتنی ان کی آبادی ہے اس کی فہرست تیار کرتے رہیں۔
- ۱۲...... جماعت ختم نبوت صرف اور صرف تبلیغی ہے ملکی سیاست میں حصہ لینے کی اجازت نہیں اس سے مکمل پرہیز کیا جائے۔
ملتان کی متذکرہ میٹنگ میں ان ہدایات کو پڑھا گیا اور ان اصولوں پر کام کرنے کے لئے مشاورت ہوئی۔ جن رفقاء کے خط بہتر نہیں انہیں ہر ماہ فل سکیپ کے دس دس صفحات لکھنے ضروری قرار پائے گئے۔ ہر سہ ماہ ایک کتاب کا مطالعہ اور اس کا امتحان دینا ضروری قرار دیا گیا۔
متذکرہ ہدایات کی روشنی میں حلف نامہ کی عبارت تیار کی گئی۔ آخری اجلاس میں حلف سے قبل حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری دامت برکاتہم نے تربیتی خصوصی خطاب فرمایا جس میں آپ نے فرمایا کہ اب ہم حلف اٹھائیں گے اس حلف کو رسمی کارروائی نہ سمجھا جائے بلکہ اپنے پروردگار کے حضور عہد و پیمان سمجھا جائے اور اس عہد کے تمام تقاضوں کو اپنے ایمان و عمل کا حصہ سمجھا جائے۔ ہمارے اکابرین نے جس طرح جان جوکھوں میں ڈال کر تبلیغ اسلام کو عین دین و ایمان سمجھ کر نبھایا تھا اسی طرح اسے نبھانے کا عزم کیا جائے۔ یہ حلف بینا و بین اللہ عہد ہے جسے پورا کرنا دین و آخرت میں ہماری شرعی ذمہ داری ہے۔ اس کے بعد حلف کی عبارت کا ایک ایک جملہ آپ پڑھتے گئے اور رفقاء اسے دہراتے گئے۔ اس وقت ایک عجیب سماں تھا۔ آہوں سسکیوں اور آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑیوں نے رفقاء کو عجیب روحانی و نورانی بنا دیا تھا۔
حلف کی عبارت:
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
- ۱...... ناچیز بندہ ...... بحیثیت مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حلقہ ...... خداوند قدوس کو حاضر و ناظر جانتے ہوئے قسم کھاتا ہوں کہ میں ہمیشہ
جماعتی کاموں میں اپنی تمام علمی و عملی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر انتہائی دل جمعی اور لگن سے کام کروں گا۔
- ۲...... عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ ناموس رسالت کی پاسبانی کے لئے ایثار و قربانی سے کام لوں گا اور منکرین ختم نبوت کی تردید کے لئے
(آئینی حدود میں) اپنی آواز عوام تک پہنچانے کے لئے بھر پور کوشش کروں گا۔
- ۳...... رحمت دو عالم ﷺ کے ارشاد گرامی: ’’لَا اِیْمَانَ لِمَنْ لَّا اَمَانَةَ لَهٗ‘‘ روشنی میں مجلس کے مالی معاملات دیانت، امانت اور
صداقت سے سرانجام دوں گا۔
- ۴...... مجلس کے اکابرین کی پچاس سالہ دینی جدوجہد کے مطابق کام کروں گا۔ مجلس کے ہر دو اکابرین حضرت امیر مرکزیہ دامت
برکاتہم اور حضرت نائب امیر مرکزیہ دامت برکاتہم کے ارشادات و فرمودات کی دل و جان سے تعمیل کروں گا۔ اللہ تعالیٰ ہر لمحہ ہر آن اپنی حفاظت میں رکھیں اور تا زیست عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت کی توفیق دیں۔ (آمین ثم آمین)
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حلف برداری کی ایمان پرور مجلس میں مندرجہ ذیل حضرات شریک تھے: حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری، حضرت مولانا بشیر احمد صاحب، حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی، حضرت مولانا خدا بخش شجاع آبادی، حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا قاضی احسان احمد اسلام آباد، مولانا خالد میر آزاد کشمیر، مولانا محمود الحسن راولپنڈی، مولانا غلام حسین جھنگ، مولانا عبد الرزاق مجاہد اوکاڑہ، مولانا محمد عارف ندیم سیالکوٹ، مولانا محمد قاسم رحمانی بہاول نگر، مولانا فقیر اللہ اختر ، مولانا حافظ محمد ثاقب گوجرانوالہ، مولانا امام الدین قریشی ڈیرہ غازی خان، مولانا محمد طیب فاروقی گجرات، مولانا عبد الکریم مظفر گڑھ، مولانا محمد اسحاق ساقی بہاول پور، مولانا عزیز الرحمن ثانی لاہور، مولانا حافظ احمد بخش شجاع آبادی رحیم یار خان، مولانا غلام مصطفیٰ چناب نگر، مولانا عبد الحکیم نعمانی ساہیوال، مولانا محمد حسین ناصر سکھر، مولانا عبد الستار لیہ، بھکر، مولانا خان محمد کندھانی خیر پور، مولانا محمد علی صدیقی گولارچی، مولانا محمد نذیر حیدر آباد، مولانا اللہ وسایا ملتان، مولانا عبد العزیز بلوچستان، جناب الحاج رانا محمد طفیل جاوید ملتان، جناب محمد جاوید مغل ملتان، جناب قاری محمد حفیظ اللہ ملتان۔
اجلاس دو دن جاری رہا۔ ۸؍ شوال صبح ۹ بجے سے ظہر تک دفتری امور نمٹائے گئے۔ بعد از ظہر سے عشاء تک (نمازوں کے وقفہ کے علاوہ ) اجلاس جاری رہا۔ ۹؍ شوال دوسرے دن صبح ۹ بجے سے مغرب تک (نمازوں کے وقفہ کے علاوہ ) جاری رہا۔ مغرب کی نماز پر بخیر و خوبی دعاء پر اجلاس اختتام پذیر ہوا۔ مختلف اجلاسوں کی صدارت مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا خدا بخش، مولانا بشیر احمد، مولانا محمد اکرم طوفانی نے فرمائی۔ مختلف اجلاسوں میں مولانا حافظ محمد ثاقب، مولانا محمد نذیر، مولانا عبد الکریم، مولانا محمد قاسم رحمانی نے تلاوت فرمائی۔ آئندہ سہ ماہی اجلاس ۲۲، ۲۳؍ ذی الحجہ کو ہوگا۔ پہلے دن اجلاس کے علاوہ تحریری امتحان بھی ہوگا۔ دوسرے دن اجلاس کے علاوہ تیس جامع مساجد میں مبلغین حضرات خطبہ جمعہ بھی ارشاد فرمائیں گے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۰۲ء ص ۵۲ تا ۵۷)
قادیانی لڑکی کا قبول اسلام
اسلام آباد آئی اینڈ ٹی سینٹر ۱-۸- جی سیکٹر کی رہائشی فوزیہ شاہد نے دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد میں اپنے شوہر محمد شاہد کے ہمراہ اسلام قبول کر لیا اور قادیانیت سے برأت و بیزاری کا اعلان کیا ہے۔ فوزیہ شاہد نے دفتر ختم نبوت اسلام آباد میں مولانا قاری عبد الوحید قاسمی صاحب، ڈاکٹر عبد الحمید، مولانا قاضی احسان احمد اور مفتی محمد خالد میر کی موجودگی میں قادیانیت سے بیزاری کا اعلان کیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد کے رہنماؤں شیخ الحدیث مولانا عبد الرؤف، قاری عبد الوحید قاسمی، مولانا شریف ہزاروی، قاری احسان اللہ، قاری عبد الرزاق، قاضی احسان احمد، مفتی خالد میر اور مفتی محمود الحسن نے نو مسلم خاتون کی دین اسلام پر استقامت کی دعا کی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۶ تا ۲۲؍ فروری ۲۰۰۱ء ص ۲۵)
قادیانی خاندان نے اسلام قبول کر لیا
چناب نگر کے نواحی گاؤں چھنی قریشیاں کے آٹھ افراد نے قادیانیت چھوڑ کر اسلام قبول کر لیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق اسلام قبول کرنے والے نیک بخت افراد میں چار مرد اور چار خواتین شامل ہیں۔ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جانتے ہوئے مندرجہ ذیل گواہوں کے روبرو بقائمی ہوش و حواس، بغیر کسی لالچ، جبر و اکراہ کے اپنی رضا و رغبت اور پوری آزادی کے ساتھ فرداً فرداً اعلان کیا کہ ہم اپنے سابقہ مذہب قادیانیت سے توبہ کر کے اسلام قبول کرتے ہیں اور حلفیہ شہادت دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے وہ اپنی ذات و صفات
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
میں وحدہ لاشریک لہ ہے اور وہی معبود برحق ہے اور حضرت محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں اور ان کے بعد تا قیامت کسی کو تشریعی یا غیر تشریعی اور ظلی بروزی کسی قسم کی نبوت نہیں ملے گی۔ ہم ختم نبوت پر مکمل ایمان اور یقین صادق کے ساتھ یہ اعلان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد جو شخص عقیدہ ختم نبوت کا انکار یا دعوائے نبوت کرے خواہ بلا واسطہ یا بالواسطہ یا تاویل کے ساتھ ایسا شخص، زندیق، کافر، مرتد اور خارج از اسلام ہے۔ ہم قادیانیت سے برأت کے بعد اس عقیدے کا اظہار کرنا اہم جزو سمجھتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی، ملعون، کذاب، دجال، کافر، مرتد اور زندیق تھا اور وہ اپنے دعوائے مجددیت، مہدویت، مسیحیت، نبوت ورسالت میں سراسر جھوٹا تھا اور اس کو ماننے والے لاہوری ہوں یا قادیانی جو خود کو احمدی کہتے ہیں کافر زندیق مرتد اور خارج از اسلام ہیں۔ آج کے بعد ہمارا مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے ماننے والوں سے قطعاً کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ رہے گا اور یہ بات ایمان کا حصہ ہے کہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام قیامت کے قریب آسمان سے نازل ہوں گے اور آنحضرت ﷺ کی شریعت کے مطابق امت محمدیہ کی رہنمائی فرمائیں گے۔ لہٰذا مرزا غلام احمد قادیانی اپنے دعوائے مسیحیت میں بالکل جھوٹا تھا، آخر میں پھر اس بات کی وضاحت ضروری سمجھتے ہیں کہ ہم فرداً فرداً اپنی مرضی، رضا و رغبت، مکمل ہوشمندی کے ساتھ بغیر کسی جبر واکراہ لالچ اور دباؤ کے آج اس حلفیہ اقرار نامہ پر دستخط کر کے قادیانیت سے مکمل برأت کا اعلان کرتے ہیں۔ نومسلم خواتین حضرات میں جناب اظہر حسین ولد اکبر، محمد یوسف ولد اکبر حسین، امتیاز حسین، محمد آصف ولد اکبر حسین (نمبردار) ان کے علاوہ چار خواتین بھی شامل ہیں جنہوں نے مدرسہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں حضرت مولانا غلام مصطفیٰ مرکزی مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت وخطیب جامع مسجد ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر، حضرت مولانا محمد یعقوب، غلام حسین اور جناب ناصر حسین قریشی کی موجودگی میں اسلام قبول کیا۔
ازاں بعد مولانا غلام مصطفیٰ نے جامع مسجد تقویٰ میں خطاب بھی کیا۔ جس میں پورے علاقے کے مسلمانوں نے بھرپور شرکت کی۔ نومسلم خواتین و حضرات کو مبارک باد پیش کی اور مولانا خان عابد حسین کی دعائے خیر پر خطاب اختتام پذیر ہوا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۲ تا ۲۵ / مارچ ۲۰۰۱ء ص ۲۶)
قادیانی گھرانہ کا قبول اسلام
بھکر محمد سلیمان مغل چک نمبر ۴۹/ایل۔ایم تحصیل دریا خان ضلع بھکر کا رہائشی ہے، سابق قادیانی تھا۔ الحمدللہ! عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بھکر کے رہنما ڈاکٹر دین محمد فریدی کی کوششوں سے اپنے پورے گھرانے یعنی بیوی بچوں سمیت مسلمان ہوا، جب کہ اس کے والدین، بہن بھائی اور سسرالی رشتہ دار قادیانی ہیں۔ محمد سلیمان مغل کے مسلمان ہوتے ہی اس کے والدین، بہن، بھائیوں اور سسرالی قادیانی رشتہ داروں نے اس پر عرصہ حیات تنگ کر دیا۔ اس کے اسی چک نمبر ۴۹۔ایل۔ایم کا ایک کٹر قادیانی حاضر سروس پولیس مین ایس ایس پی ابوبکر خدا بخش نتھوکہ کے ساتھ مل کر پہلے تو محمد سلیمان مغل کو مختلف لالچ دیئے گئے لیکن جب دیکھا کہ نو مسلم محمد سلیمان اسلام پر قائم ہے اور مرزا غلام احمد قادیانی کی جھوٹی نبوت کا پیروکار نہیں رہا تو پھر فرعونیت پر اتر آئے اور ہر قسم کا ظلم و ستم کیا گیا، زدوکوب کیا اور پولیس کی مکمل پشت پناہی میں جھوٹے مقدمات درج کئے اور سول عدالت میں محمد سلیمان کے والدین نے عاق کرنے کی عدالتی کارروائی شروع کی لیکن یہ مرد درویش پھر بھی ثابت قدم رہا اور ختم نبوت بھکر کے رہنما ڈاکٹر دین محمد فریدی، راؤ محمد اسلم ایڈووکیٹ کے ساتھ مل کر ان تمام کیسوں کی پیروی کی اور قادیانی کے ناروا ظلم و ستم سے بچالیا۔ سلیمان مغل کے والد فضل الرحمٰن قادیانی نے ظلم کی انتہا کر دی کہ اپنے ہی بیٹے سے زمین اور مکان چھین
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
لیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بھکر نے ۱۶ مرلہ چک نمبر ۴۹۔ایل ایم میں محمد سلیمان کے نام الاٹ کروا کر مکان تعمیر کر دیا اور اس احاطہ کے مالکانہ حقوق محمد سلیمان مغل کو دے دیئے ۔
اب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بھکر نے محمد سلیمان کے روزگار کے لئے مناسب بندوبست کر دیا ہے اور اسی چک میں رہ کر مرزائیوں کے خلاف ڈٹا ہوا ہے اور مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکاروں کے خلاف جہاد میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ساتھ مصروف عمل ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ محمد سلیمان مغل کو دین اسلام پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطاء فرمائے اور مرزائیوں کو بھی درس عبرت حاصل کرنے کی توفیق دے۔ (آمین ثم آمین)
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۳۰؍مارچ تا ۵؍اپریل ۲۰۰۱ء ص ۲۵)
انڈیا میں قادیانیوں کا قبول اسلام
رپورٹ (قاری خورشید عالم انڈیا) شہر انبالہ، جیند، حصار، سرسہ وغیرہ کے اطراف میں عوام کی غفلت اور جہالت کا فائدہ اٹھا کر قادیانیوں نے اپنی ریشہ دوانیاں تیز کر دی تھیں۔ لیکن الحمد للہ! کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت اور جمعیت علماء صوبہ ہریانہ کی کامیاب کوششوں سے جوں جوں عوام و خواص پر قادیانی لٹیروں کی حقیقت واضح ہو رہی ہے لوگ تائب ہو کر دوبارہ حلقہ بگوش اسلام ہو رہے ہیں اور قادیانیت پر لعنت برسا رہے ہیں۔ اس کی کچھ مختصر سی رپورٹ جمعیت علماء صوبہ ہریانہ کے ذمہ دار جناب قاری جمشید صاحب نے مجلس کو ارسال کی ہے جو بغرض افادہ قارئین شریک اشاعت ہے۔
ایک کشمیری قادیانی مبلغ ضلع انبالہ میں مسلمانوں کو بہکا کر قادیانی مرتد بنانے کی کوششوں میں مصروف تھا۔ احقر نے آپ بزرگوں کی دعاؤں سے مسلم کالونی انبالہ و سیپڑہ سے اسے ہٹایا۔ وہاں کے لوگوں نے اس قادیانی پنڈت سے قطع تعلق کر لیا ہے۔ مسلم کالونی میں یاسین ٹھیکیدار جو کہ ہریانہ مسلم ویلفیئر سوسائٹی کا نائب صدر ہے اس کو قادیانیوں نے اپنے صرفہ سے میاں بیوی کو حج کرانے کا لالچ دے رکھا تھا مگر اب بظاہر اس کے گھر قادیانیوں کی آمدورفت بند ہے۔ صوبہ ہریانہ میں جہاں سے مسلمان ۱۹۴۷ء میں اکثر پاکستان منتقل ہو گئے تھے اور جو کچھ مزدور قسم کے مسلمان رہ گئے تھے وہ بھی مرتد ہو گئے تھے۔ الحمد للہ اب وہ تبلیغی جماعت اور جمعیت علماء ہند کے اکابر کی جدوجہد و مساعی سے دوبارہ اسلام میں واپس آ رہے ہیں۔ جیند شہر جہاں کل ایک لاکھ آبادی میں پانچ ہزار مسلمان ہیں ان کے اپنے مکانات اور کاروبار بھی ہیں وہاں بہت سے مسلمانوں نے اپنے نام بھی بدل رکھے ہیں۔ قادیانیوں نے وہاں موقع کا فائدہ اٹھا کر بے چارے بھولے بھالے مسلمانوں کو گمراہ کرنا شروع کر دیا تھا۔ الحمد للہ حضرت مولانا سید ارشد مدنی مدظلہ اور مولانا شاہ عالم نائب ناظم کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت کے حالیہ دورہ کی برکت سے رامپال نامی شخص کا پورا گھرانہ جماعت کے ساتھیوں کی دعوت پر صدق دل سے مسلمان ہو گیا ہے۔ چنانچہ عیدالفطر کی نماز ادا کرنے کے لئے اپنے پورے خاندان کے ہمراہ شہر کی عید گاہ میں حاضر ہوا۔
علاوہ ازیں شیشپال نامی ایک اور شخص بھی قادیانیت سے تائب ہوا ہے۔ ایک موقع پر قادیانیوں نے اپنے جلسہ جیند میں مستری روشن قادیانی کو بیان کرنے کو کہا تو اس نے ہریانوی زبان میں قادیانیوں کے کچھ راز ہائے سربستہ کا اس انداز میں انکشاف کیا کہ جلسہ میں موجود غیر مسلم لوگ بھی چوکنے ہو گئے ہیں۔ قادیانیوں نے اب مستری کو اپنی جماعت سے نکال دینے کی سزا دی ہے۔
الحمد للہ جیند کے مسلمانوں میں کافی حد تک اب بیداری آ چکی ہے۔ جیند، بھوانی، سرسہ، فتح آباد وغیرہ کے علاقوں میں دینی
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مدارس کی سخت ضرورت ہے۔ مدارس نہ ہونے کی وجہ سے لوگ اپنے بچوں کو دینی تعلیم دینے سے محروم ہیں اور احساس کمتری کا شکار ہورہے ہیں۔ امید ہے کہ کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند اور جمعیت علماء ہند کے اکابر اس طرف توجہ فرمائیں گے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۰۱ء ص ۵۸، ۵۹)
قادیانیت سے لاتعلقی کا اعلان
جناب جاوید اقبال خان ڈاکٹر ہومیوپیتھی کا پورا خاندان ماں ، باپ ، بہن، بھائی قادیانی ہیں۔ خود بھی قادیانی جماعت کی مختلف تنظیموں کے عہدوں پر رہا اور قادیانیت کا پرجوش داعی تھا۔ قدرت حق نے دستگیری فرمائی۔ قادیانیت پر لعنت بھیج کر اسلام قبول کیا۔ اب وہ عقیدہ ختم نبوت کے بے لوث مبلغ ہیں ذیل کی تحریر انہوں نے خاص و عام کی اطلاع کے لئے لکھ دی ہے۔
منکہ جاوید اقبال ولد ڈاکٹر اقبال احمد خان ذات پٹھان پیشہ ہومیو ڈاکٹر بعمر ۴۰ سال ساکن مکان نمبر ۱۳۶/۲۳ محلہ دوسے والہ ڈیرہ غازی خان روڈ مظفر گڑھ شہر تحصیل وضلع مظفر گڑھ قومی شناختی کارڈ نمبر ۰۲۰۲۶-۸۸-۳۱۵ کا ہوں۔ حلفاً بیان کرتا ہوں کہ من محلف ایک راسخ العقیدہ مسلمان ہے اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور حضرت محمد ﷺ کی رسالت اور آپ کے آخری رسول اور خاتم النبیین ہونے کا کامل یقین رکھتا ہوں ۔ حلفاً بیان کرتا ہوں کہ من محلف کے والدین اور بھائی بہن مرزائی ، قادیانی ہیں ۔ من محلف کا اپنے والدین اور بھائی بہن کے عقائد سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ من محلف انہیں دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہے اور ان کے عقائد سے لاتعلقی اور بے زاری کا اظہار کرتا ہے۔ حلفاً بیان کرتا ہوں کہ من محلف اسلامی عقائد اور تعلیمات کے مطابق زندگی بسر کر رہا ہے اور من مقر کا حتمی فیصلہ ہے کہ من محلف کی وفات کے بعد من محلف کی تجہیز و تکفین اور تدفین اسلامی تعلیمات کے مطابق اور مسلمان بھائیوں کے ہاتھ ہو ۔ من محلف کے تجہیز وتکفین اور تدفین ہرگز مرزائیت ، قادیانیت کے طور طریقوں کے مطابق نہ ہو اور نہ مرزائیوں ، قادیانیوں کے ہاتھ سے ہو اور نہ ہی اس عمل میں کوئی مرزائی ، قادیانی شامل ہو ، کیونکہ من محلف کو مرزائیت ، قادیانیت سے شدید نفرت ہے۔ حلفاً بیان کرتا ہوں کہ من محلف کا مندرجہ بالا بیان حلفی محلف کے علم ویقین سے بالکل درست ہے اور کوئی امر پوشیدہ نہیں رکھا گیا ہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۰۱ء ص ۶۰ ، ۶۱)
بنگیال میں قادیانی خاندان کا قبول اسلام
فضل کریم ولد فضل داد ساکن جھنڈ ہارن تحصیل گوجر خان ، دل پذیر ولد فضل کریم ، سجاد الرحمن ولد فضل کریم ، رضوان سجاد ولد سجاد الرحمٰن ، اہلیہ محترمہ سجاد الرحمن نے مرزا غلام احمد قادیانی اور قادیانی جماعت پر لعنت بھیج کر اسلام قبول کر لیا ۔ جناب فضل کریم صاحب قادیانی چنگا بنگیال کے سرکردہ حضرات میں سے تھے ۔ ان کے اسلام قبول کرنے سے قادیانی جماعت ڈانواں ڈول ہورہی ہے ۔ اللہ رب العزت ان تمام حضرات کو دین اسلام پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔
باگڑ سرگانہ میں ایک قادیانی کا قبول اسلام
باگڑ سرگانہ میں توقیر احمد سرگانہ جو کہ پیدائشی قادیانی تھے نے گزشتہ ماہ حضرت امیر مرکزیہ شیخ المشائخ مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم کے ہاتھ پر مرزائیت پر لعنت بھیجتے ہوئے اسلام قبول کر لیا ۔ حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم نے اس کے دین اسلام پر قائم رہنے کی دعا فرمائی ۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تلونڈی موسیٰ خان میں قادیانی خاندان کا قبول اسلام
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ کے مبلغ حافظ محمد ثاقب کے ہاتھ پر تلونڈی موسیٰ خان کے قادیانی خاندان نے اسلام قبول کر لیا۔ خاندان کے سربراہ سرور ولد لال دین، اہلیہ سلیم بی بی، بیٹوں عابد حسین، ساجد حسین، نزاکت علی، شفاعت علی، بیٹیوں عابدہ بی بی، سمرین بی بی نے قبول اسلام کا اعلان کیا ہے۔ اللہ رب العزت ان تمام کو دین حق پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۰۱ء ص ۶۳)
بشیر ولد نظام الدین چیمہ کی قادیانیت سے توبہ اور قبول اسلام
گوجرانوالہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغین کی کوششوں سے بشیر ولد نظام الدین چیمہ آف کوٹ مرزا جان نے بلال مسجد کوٹ مرزا جان میں حضرت مولانا محمد نواز بلوچ کے ہاتھ پر قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کر لیا اور آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی کو جھوٹا اور جعلی قرار دیتے ہوئے اس کی جھوٹی نبوت پر لعنت بھیجی ہے۔
مسجد میں علاقہ کے مسلمانوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔ اس موقع پر اجتماع سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ حافظ محمد ثاقب اور مولانا محمد نواز بلوچ نے مرزائیت کے عقائد پر روشنی ڈالی۔ یاد رہے کہ بشیر چیمہ تقریباً ایک سال قبل مرزائیوں کے دجل وفریب کا شکار ہو کر مرتد ہو گیا تھا۔ اس سال کے دوران مجلس کے مبلغین مولانا فقیر اللہ اختر اور حافظ محمد ثاقب کے بشیر چیمہ سے مذاکرات جاری رہے اور بالآخر چیمہ صاحب کو قادیانیت سے تائب ہو کر قبول اسلام کی توفیق ملی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۵ تا ۲۱ / جون ۲۰۰۱ء ص ۲۳)
ٹنڈو جام میں تین قادیانیوں کا قبول اسلام
ٹنڈو جام محبوب کالونی میں تین قادیانیوں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق مرزا نور احمد کا خاندان جو کہ کافی عرصہ سے اسی شہر میں مقیم ہیں، نور احمد حالت کفر میں اس دنیا سے چلے گئے، ان کے تین بیٹے مرزا طاہر احمد، ناصر احمد، ظفر احمد اسلام قبول کرنے کے لئے تیار ہو گئے تو جمعیت علماء اسلام کے رہنما حاجی عبد المالک تالپر نے مولانا محمد نذر، علامہ احمد میاں حمادی کو اطلاع دی اور درخواست کی کہ اس موقع پر آپ حضرات تشریف لائیں۔
مولانا محمد نذر اس موقع پر ٹنڈو جام پہنچے حاجی عبد المالک تالپر کی جامع مسجد میں جمعہ کے خطبہ میں کہا کہ اسلام اور قادیانیت دو متوازی مذہب ہیں، انہوں نے کہا کہ اسلام زندگی ہے اور کفر قادیانیت موت ہے۔
نماز کے بعد معززین شہر علماء و خطبا کا بہت بڑا اجتماع ہوا جس میں صحافی حضرات بھی مدعو تھے، اس موقع پر مولانا محمد نذر نے اسلام کی حقانیت پر مفصل خطاب کیا اور قادیانیت کے عقائد و نظریات سے عوام کو آگاہ کیا۔ آخر میں طاہر احمد، ناصر احمد اور ظفر احمد نے قادیانیت پر لعنت بھیجتے ہوئے کلمہ طیبہ پڑھ کر اسلام قبول کر لیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ہم مرزا غلام احمد قادیانی کو اس کے دعوائے مہدویت، مجددیت، مسیح موعود اور نبوت میں جھوٹا دجال کذاب سمجھتے ہیں۔ انہوں نے یہ اعلان کیا کہ آج کے بعد ہمارا کسی بھی قادیانی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں اور ہم اپنے بچوں سمیت اسلام قبول کرتے ہیں۔ آخر میں مولانا محمد نذر نے ان کے دین و ایمان پر استقامت کی دعا کی۔ اللہ تعالیٰ نو مسلم خاندان کو اسلام پر استقامت بخشے۔ آمین
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۵ تا ۲۱ / جون ۲۰۰۱ء ص ۲۲)
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۱ء ترتیب وتحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا
کوٹ ہیبت کے رحیم بخش اور سکھر کے سعید احمد کی قادیانیت سے برأت کے بعد قبول اسلام
میں مسمی: رحیم بخش، ولدیت : شادی خان نکولہ کھلول، ساکن : موضع چورینہ کوٹ ہیبت ۔
میں اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جانتے ہوئے مندرجہ ذیل گواہان کے روبرو بقائمی ہوش وحواس، بغیر کسی دباؤ ولا لچ ، جبر و اکراہ کے اپنی رضا و رغبت اور پوری آزادی کے ساتھ حلفیہ بیان دیتے ہوئے کھلا اعلان کرتا ہوں کہ میں اپنے سابقہ مذہب قادیانیت سے توبہ کر کے اسلام قبول کرتا ہوں اور قبول اسلام کے ساتھ اس بات کی حلفیہ شہادت دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے وہ اپنی ذات اور صفات میں وحدہ لا شریک ہے اور وہی معبود برحق ہے اور حضرت محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ورسول ہیں اور ان کے بعد تا قیامت کسی کو تشریعی، غیر تشریعی اور ظلی ، بروزی کسی قسم کی نبوت نہیں ملے گی ۔ میں عقیدہ ختم نبوت پر مکمل ایمان اور یقین صادق کے ساتھ یہ اعلان کرتا ہوں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد جو شخص عقیدہ ختم نبوت کا انکار یا دعوت نبوت کرے خواہ بلا واسطہ یا بالواسطہ تاویل کے ساتھ ایسا شخص زندیق ، کافر ، مرتد خارج از اسلام ہے ۔
میں قادیانیت سے برأت کے بعد اس عقیدے کا اظہار کرنا ضروری اور اپنے ایمان کا اہم جزو سمجھتا ہوں کہ مرزا غلام احمد قادیانی ، ملعون کذاب ، دجال ، کافر ، مرتد اور زندیق تھا اور اپنے دعوائے مجددیت ، مہدویت ، مسیحیت ، نبوت و رسالت میں سراسر جھوٹا تھا اور اس کو ماننے والے خواہ لاہوری ہوں یا قادیانی ، جو خود کو احمدی کہتے ہیں کافر ، زندیق ، مرتد اور خارج از اسلام ہیں ۔ آج کے بعد میرا مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے ماننے والوں سے قطعاً کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ رہے گا اور یہ بات بھی میرے ایمان کا حصہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام قیامت کے قریب آسمان سے نازل ہوں گے اور آنحضرت ﷺ کی شریعت کے مطابق امت محمدیہ کی رہنمائی فرمائیں گے ۔ لہٰذا مرزا غلام احمد قادیانی اپنے دعوائے مسیحیت میں بالکل جھوٹا تھا ۔ آخر میں پھر اس بات کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ میں اپنی مرضی اور رغبت اور مکمل ہوش مندی کے ساتھ بغیر کسی جبر واکراہ لالچ اور دباؤ کے آج اس حلفیہ اقرار نامہ پر دستخط کر کے قادیانیت سے مکمل برأت کا اعلان کرتا ہوں ۔ اللہ تعالیٰ مجھے دین اسلام پر استقامت نصیب فرمائے ۔ ( آمین )
میں مسمی : سعید احمد ، ولدیت : عبدالوہاب قریشی ، ساکن : عزیز آباد سکھر ، بدست : مولانا محمد حسین ناصر ( مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سکھر )
میں اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر سمجھتے ہوئے مندرجہ ذیل گواہان کے روبرو بقائمی ہوش وحواس بغیر کسی دباؤ ولا لچ ، جبر واکراہ کے اپنی رضا و رغبت اور پوری آزادی کے ساتھ حلفیہ بیان دیتے ہوئے کھلا اعلان کرتا ہوں کہ میں اپنے سابقہ مذہب قادیانیت سے توبہ کر کے اسلام قبول کرتا ہوں اور میں قبول اسلام کے ساتھ اس بات کی حلفیہ شہادت دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے وہ اپنی ذات اور صفات میں وحدہ لاشریک ہے اور وہی معبود برحق ہے اور حضرت محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ورسول ہیں اور ان کے بعد تا قیامت کسی کو تشریعی، غیر تشریعی ظلی ، بروزی کسی قسم کی نبوت نہیں ملے گی ، میں عقیدہ ختم نبوت پر مکمل ایمان اور یقین صادق کے ساتھ یہ اعلان کرتا ہوں کہ آنحضرت کے بعد جو شخص عقیدہ ختم نبوت کا انکار یا دعوائے نبوت کرے خواہ بلا واسطہ یا بالواسطہ تاویل کے ساتھ ایسا شخص ، زندیق ، کافر مرتد خارج از اسلام ہے ۔
میں قادیانیت سے برأت کے بعد اس عقیدے کا اظہار کرنا ضروری اور اپنے ایمان کا اہم جزو سمجھتا ہوں کہ مرزا غلام احمد قادیانی ، ملعون ، کذاب ، دجال ، کافر ، مرتد اور زندیق تھا اور اپنے دعوائے مجددیت ، مہدویت ۔ مسیحیت ، نبوت و رسالت میں سراسر جھوٹا تھا
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اور اس کے ماننے والے خواہ لاہوری ہوں یا قادیانی ہوں، خود کو (احمدی کہتے ہیں) کافر، زندیق، مرتد اور خارج از اسلام ہیں۔ آج کے بعد میرا مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے ماننے والوں سے قطعاً کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ رہے گا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۶ تا ۱۲؍ جولائی ۲۰۰۱ء ص ٹائٹل پیج نمبر ۳)
مرزائی نوجوان کا قبول اسلام
ضلع بہاول نگر چشتیاں چیک پوسٹ کٹاریاں کے قریب چک :۱۰ میں ریاض احمد نامی نوجوان کو مرزائیوں نے لالچ دے کر مرزائی بنالیا۔ علاقہ میں بات مشہور ہوگئی اور بعض دوستوں نے جامعہ اشرف العلوم کے مہتمم حضرت مولانا قاری رشید احمد رشیدی صاحب دامت برکاتہم کو اطلاع دی۔ جس پر مولانا رشیدی صاحب اور مولانا قاری شبیر احمد صاحب پہنچے اس نوجوان کے والدین سے ملے اور ملتان مرکزی دفتر بھی اطلاع دی۔ مرکز سے بہاول نگر دفتر اطلاع پہنچی تو مبلغ ختم نبوت مولانا محمد قاسم شجاع آبادی بخش خان جامعہ اشرف العلوم پہنچے پتہ چلا کہ مولانا رشیدی صاحب اور مولانا قاری شبیر احمد صاحب اور ریاض احمد نامی نوجوان مدرسہ میں آگئے ، ان کے ساتھ چک کے دیگر لوگ بھی تھے۔ مبلغ ختم نبوت نے اڑھائی گھنٹے حیات عیسیٰ علیہ السلام ، ظہور مہدی علیہ الرضوان ، ختم نبوت پر بیان کیا اور قادیانی عقائد اور مذموم عزائم پر مدلل بیان کیا تو اس نوجوان پر اور تمام مجمع پر حقیقت واضح ہوگئی۔ چشتیاں سے حضرت مولانا عزیز الرحمٰن صاحب اور حضرت مولانا عبد القادر کشمیری دامت برکاتہم کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ مولانا محمد قاسم شجاع آبادی نے دوبارہ علماء کے سامنے بھی مذکورہ نوجوان کو اسلام کی حقانیت بتائی تو اس نوجوان سے مولانا رشیدی صاحب نے پوچھا کہ مبلغ ختم نبوت کی اڑھائی گھنٹہ کی گفتگو سے اسلام کی حقانیت ، حیات عیسیٰ علیہ السلام ، ظہور مہدی علیہ الرضوان اور عقیدہ ختم نبوت کے متعلق تجھے اطمینان ہوا ہے کہ نہیں؟ اس نوجوان نے کہا کہ میرے سامنے حقیقت کھل گئی ہے مرزائیوں نے مجھے دھوکہ دیا تھا اور لالچ دے کر مرزائی بنایا تھا۔ مولانا رشیدی صاحب نے پوچھا اب تو اپنی خوشی سے دوبارہ اسلام قبول کر رہا ہے یا کسی کے دباؤ پر؟ اس نے کہا اپنی خوشی سے اسلام قبول کرتا ہوں۔ مبلغ ختم نبوت نے مرزا قادیانی اور اس کی ذریت پر لعنت بھجوائی اور ہر طرح سے ظلی ، بروزی نبی یا کسی اور طریقے سے دعویٰ نبوت کرنے والے پر لعنت بھجوائی اور توحید باری تعالیٰ، حقانیت قرآن ، صداقت دین اسلام اور ختم نبوت پر ایمان رکھنے کا اقرار کروایا اور حضرت مولانا عزیز الرحمٰن صاحب نے اس نوجوان کو کلمہ طیبہ، کلمہ شہادت پڑھایا اور اسلام پر استقامت کی دعاء حضرت مولانا عبد القادر کشمیری دامت برکاتہم نے کرائی۔ قارئین ختم نبوت بھی نو مسلم ریاض احمد صاحب کے لئے اسلام پر استقامت کی دعا فرمائیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۷ تا ۲۳؍ اگست ۲۰۰۱ء ص ۲۶، ۲۵)
شادی لارج میں ایک قادیانی گھرانے کا قبول اسلام
شادی لارج سندھ میں ایک قادیانی گھرانے نے مولوی فقیر الرحمٰن ، مولانا عبد الحمید حیدری کی کوششوں سے مولانا حافظ عبد الخالق رحمانی کے ہاتھ پر گزشتہ دنوں اسلام قبول کرلیا۔ گھرانے کے سربراہ کا نام خالد محمود ہے، اس کے اسلام قبول کرنے سے مسلمانوں نے کثیر تعداد میں ان کو مبارک باد پیش کی ۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور مولانا محمد علی صدیقی نے اس کے گھر جاکر اسلام قبول کرنے پر مبارک باد پیش کی اور استقامت کی دعا کی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۳۱؍ اگست تا ۶؍ ستمبر ۲۰۰۱ء ص ۲۴)
چک نمبر ۱۰ بہاول نگر کے ریاض احمد کا قبول اسلام
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بہاول نگر کے مبلغ حضرت مولانا قاسم رحمانی کی اطلاع کے مطابق علماء کرام کے ایک وفد نے چک نمبر کے ایک وفد نے چک
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کا تبلیغی دورہ کیا۔ حیات مسیح علیہ السلام اور قادیانیت کے کفریہ عقائد پر گفتگو ہوئی۔ چک نمبر ۱۰ کے ریاض احمد نے قادیانیت سے توبہ کر کے اسلام قبول کر لیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۰۱ء ص ۶۰)
پنوعاقل میں پندرہ روزہ ختم نبوت کانفرنسیں
پنوعاقل الحمد للہ ! کافی وقت سے پندرہ روزہ ختم نبوت کانفرنسوں کے عنوان سے مختلف مساجد اور محلوں میں یہ پروگرام ہوا کرتے ہیں جو تحصیل پنوعاقل کے امیر حضرت مولانا قاری عبدالتواب الحسینی مدظلہ کی زیرصدارت انجام دیئے جاتے ہیں ، جن میں لوگوں کو قادیانی عقائد سے اور ان کی شیطانی چالوں سے آگاہ کیا جاتا ہے اور لوگوں کو عقیدہ ختم نبوت کے لئے جان ، اولاد اور مال کی قربانی کے لئے تیار کیا جاتا ہے ، خصوصاً پنوعاقل چھاؤنی کے قادیانیوں کی سرگرمیوں سے آگاہ کیا جاتا ہے ، ان کے علاوہ اور مضامین پر خطاب کئے جاتے ہیں۔ جیسا کہ توحید ربانی ، سیرت مصطفیٰ ، ان کانفرنس میں شہر کے کثیر علماء کرام شرکت فرماتے ہیں جن میں خصوصاً مولانا عبدالرحیم خطیب جامع مسجد پنوعاقل ، مولانا عبدالحمید ، مولانا محمد حسن جتوئی ، مولانا رحیم بخش ، قاری انوارالحسن الحسینی اور مجاہد غلام شیر شیخ صاحب کے علاوہ بھی علماء کرام نے شرکت کی ۔
ختم نبوت کانفرنس جامعہ حسینیہ نورالقرآن حسینی محلہ مین روڈ پنوعاقل میں منعقد کی جس میں سندھ اور پنجاب کی عظیم ہستیاں اور نامور خطباء نے شرکت فرمائی ۔ مولانا پیر عبدالصمد سجادہ نشین درگاہ ہالیجوی شریف ، مولانا عزیز الرحمن جالندھری ، مولانا عبدالحمید لنڈ ، مولانا اللہ وسایا ، مولانا احمد میاں حمادی ، مولانا میر محمد میرک ، مولانا ثناء اللہ جتوئی ، مولانا محمد مراد صاحب سکھر ، مولانا قاری خلیل احمد سکھر ، مولانا خادم حسین شر صاحب ، مولانا نذیر احمد تونسوی کراچی ، مولانا بشیر احمد ملتان ، مولانا محمد حسین ناصر ، مولانا خان محمد گمبٹ ، مولانا قاری انور ساجد ، سوات اور صوبہ سرحد کے علاوہ اور بھی کئی دیگر علماء کرام نے شرکت فرمائی ۔ کانفرنس کا انتظام وانصرام جامعہ حسینیہ نورالقرآن کے طالب علموں نے اپنے ذمہ لے رکھا تھا ۔
یاد رہے کہ یہ کانفرنس حضرت مولانا نذیر حسین بانی رکن شوری مرکزی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ، حضرت مولانا جمال اللہ الحسینی ، مرکزی مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور حضرت مولانا پیر فاروق احمد امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پنوعاقل کی یاد میں منعقد کی گئیں ۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۰ تا ۲۶؍ اپریل ۲۰۰۱ء ص ۲۵)
دارالعلوم دیوبند کانفرنس پشاور
جمعیت علماء اسلام صوبہ سرحد کے زیر اہتمام ۹، ۱۰، ۱۱؍ اپریل ۲۰۰۱ء کو تین روزہ عظیم الشان فقید المثال ڈیڑھ صد سالہ خدمات دار العلوم دیوبند کانفرنس پشاور میں منعقد ہوئی ۔ ملک عزیز پاکستان ، آزاد کشمیر کے چپہ چپہ سے لاکھوں بندگان خدا و وابستگان دیوبند کی والہانہ شرکت نے اس کانفرنس کو ایک تاریخی ومثالی کانفرنس بنا دیا ۔ عمدہ انتظامات وسیع وعریض پنڈال ، لاکھوں لاکھ کی حاضری ، نہایت سکون واطمینان سے اس کا اختتام پذیر ہونا محض اللہ رب العزت کا فضل وکرم ہے ۔ دارالعلوم دیوبند سے مولانا مرغوب الرحمن کی قیادت باسعادت میں ایک بہت بڑے وفد نے شرکت کی ۔ جن میں مولانا سید محمد اسعد مدنی ، مولانا قاری محمد عثمان منصور پوری ، مولانا سعید احمد پالن پوری ، مولانا شاہ عالم خصوصیت سے قابل ذکر ہیں ۔ افغانستان ، لیبیا ، ایران سے سرکاری وفود نے شرکت کی ۔ برطانیہ ، بنگلہ دیش ، سعودیہ ، عرب امارات ، افریقہ ، امریکہ ، کینیڈا کی اسلامی تنظیمات وجمعیات کے وفود بھی شریک ہوئے ۔ پاکستان و آزاد کشمیر سے دیوبندی مسلک کی تمام
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
چھوٹی اور بڑی تنظیموں، وفاق المدارس نے بھرپور انداز میں شرکت کی۔ اللہ رب العزت کے کرم کے نظارے دیکھنے میں آئے کہ پاکستان کی دیوبند سے وابستہ تمام قابل ذکر شخصیات نے شرکت کر کے کانفرنس کی رونق کو دوبالا کیا اور گلہائے رنگارنگ سے کانفرنس نے ایک حسین و دلآویز گلدستہ کی شکل اختیار کر لی۔ جمعیت علماء اسلام کے رضا کاروں کی تنظیم، انصار الاسلام نے (باوردی) نظم کو سنبھالنے کے لئے انتہائی مستعدی سے خدمات سرانجام دیں۔ مولانا گل نصیب خان، مولانا عطاء الرحمن اور کے رفقاء کی شبانہ روز محنت نے کانفرنس کو چار چاند لگا دیئے۔ چاروں صوبوں سے جمعیت کی قیادت نے جان جوکھوں میں ڈال کر اسے فقید المثال بنایا۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن کی امارت اور مولانا عبدالغفور حیدری کی نظامت کا یہ تاریخی کارنامہ دیوبندی مسلک کی تاریخ کا سنہری باب ہے۔ اللہ رب العزت اس کانفرنس کو اتحاد امت اور اسلامی نظام کے نفاذ کا ذریعہ بنا دیں۔ وما ذالک علی اللہ بعزیز!
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۱ء ص ۴،۴۰)
امیر الہند حضرت مولانا سید اسعد مدنی کی دفتر مرکزیہ تشریف آوری
جمعیت علماء ہند کے سربراہ امیر الہند مولانا سید اسعد مدنی ۱۴؍ اپریل ۲۰۰۱ء بروز ہفتہ ملتان تشریف لائے۔ ظہر کی نماز آپ نے دفتر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی جامع مسجد میں ادا فرمائی اور حاضرین سے ایمان پرور جہاد آفریں خطاب فرمایا۔ سامعین و حاضرین کو اپنی زیارت اور دعا سے سرفراز فرمایا۔ تھوڑی دیر دفتر کے کمرہ میں قیام فرما کر عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے اپنے گرانقدر مشوروں سے ممنون فرمایا۔ مولانا عزیز الرحمن جالندھری سے کام کی تفصیلات سن کر خوشی و انبساط کا اظہار فرمایا۔ آپ نے اپنے ملتان کے ایک روزہ قیام میں جامعہ خیر المدارس، جامعہ رحیمیہ اور جمعیت علماء اسلام کے اجتماعات میں شرکت فرمائی اور اسی روز شام کو لاہور تشریف لے گئے۔ اگلے روز جامعہ مدنیہ میں خطاب فرما کر واہگہ کے راستہ واپس تشریف لے گئے۔ آپ کو الوداع کہنے کے لئے اس سفر کے میزبان قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن صاحب، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر مخدوم المشائخ سید نفیس الحسینی دامت برکاتہم، مولانا محمد امجد خان، مولانا رشید میاں، مولانا محمود میاں کی قیادت میں علماء کرام کی کثیر جماعت نے آپ کو الوداع کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۱ء ص ۴)
ختم نبوت کانفرنس ملتان
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے زیر اہتمام سالانہ ختم نبوت کانفرنس ملتان دفتر میں یکم صفر ۱۴۲۲ھ مطابق ۲۶؍ اپریل ۲۰۰۱ء بروز جمعرات بعد از عشاء منعقد ہوئی۔ امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم نے صدارت فرمائی۔ مہمان خصوصی پیر طریقت حضرت سید نفیس الحسینی دامت برکاتہم اور قائد جمعیت مفکر اسلام حضرت مولانا فضل الرحمن تھے۔ کانفرنس سے مناظر اسلام مولانا عبدالستار تونسوی، جامعۃ العلوم الاسلامیہ کراچی کے شیخ الحدیث مولانا مفتی نظام الدین شامزئی، مولانا محمد حنیف جالندھری، مولانا احمد میاں حمادی، مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا قاری خلیل احمد بندھانی، مولانا محمد شریف ہزاروی، مولانا عبدالکریم ندیم، مولانا محسن رضا فاروقی، مولانا عبدالواحد کوئٹہ، مولانا عبدالحمید بلجیم نے خطاب فرمایا۔ قاری محمد ادریس نے تلاوت فرمائی۔ جناب عبدالکریم صدر پوری برادران نے نعتیہ کلام پیش کیا۔ حضرت مولانا محمد اسماعیل سٹیج سیکرٹری، مولانا احمد بخش، مولانا خدا بخش، مولانا محمد اسحاق ساقی، قاری خادم حسین، رانا محمد طفیل جاوید، قاری حفیظ اللہ، عزیز الرحمن رحمانی، مولانا عبدالرزاق، مولانا عبدالحکیم، مولانا محمد قاسم اور دوسرے رفقاء نے مہمان نوازی اور کانفرنس کے انتظامات کی نگرانی فرمائی۔ رحیم یار خان، ساہیوال، بہاول پور، ٹنڈو آدم، ڈیرہ غازی خان، مانسہرہ، بہاولنگر، وہاڑی، فیصل آباد، جھنگ، سرگودھا تک سے مہمانان گرامی نے شرکت کر کے کانفرنس کی شوکت کو دوبالا کر دیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۰۱ء ص ۶۱، ۶۲)
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گنمبٹ میں حضرت امیر مرکزیہ کی آمد اور روحانی تربیتی پروگرام
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گنمبٹ کی طرف سے ایک روحانی پروگرام تشکیل دیا گیا جس میں حضرت امیر مرکزیہ کی شرکت کے لئے حضرت والا سے وقت لیا گیا۔ پروگرام کے مطابق ۲۹ اپریل ۲۰۰۱ء کو حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم سکھر سے گنمبٹ تشریف لے گئے۔ سکھر سے گنمبٹ جاتے ہوئے راستہ میں تھوڑی دیر کے لئے مدرسہ دار الہدیٰ ٹھیڑی میں تشریف لے گئے جہاں پر حضرت مولانا قاضی حمد اللہ، حضرت مولانا غلام قادر، حضرت مولانا حزب اللہ نے حضرت کا استقبال کیا۔ حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم نے مدرسہ کی ترقی کے لئے دعا فرمائی۔ اس کے بعد حضرت کو سیٹھارجہ میں حضرت مولانا عبدالحمید لنڈ صاحب کے مدرسے میں لے جایا گیا۔ وہاں بھی حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم نے بڑی دل سوزی سے مدرسہ کی ترقی کے لئے دعا فرمائی۔ اس کے بعد حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم گنمبٹ شہر تشریف لے گئے۔ فلورمل کے مقام پر کارکنوں نے جلوس کی صورت میں حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم کا استقبال کیا۔ فلورمل کے مقام پر ہی جماعت کے وقف کردہ پلاٹ کا افتتاح فرمایا پھر گنمبٹ شہر کی دینی درس گاہ مدرسہ مطلع العلوم رحمانیہ میں پروگرام رکھا گیا تھا جس میں حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم کو مدعو کیا گیا۔ حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم کے ہمراہ مولانا اللہ وسایا صاحب بھی تھے جنہوں نے طلباء کرام اور علماء سے خطاب فرمایا۔ اس کے بعد حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم دفتر ختم نبوت گنمبٹ تشریف لے گئے۔ جہاں پر حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم کی صدارت میں ایک تربیتی کنونشن منعقد کیا گیا۔ کنونشن سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری، حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب، حضرت مولانا قاری خلیل احمد صاحب، حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب بروہی، حضرت مولانا عبدالواحد صاحب کوئٹہ، حضرت مولانا میر محمد میرک صاحب، حضرت مولانا غلام محمد صاحب، مولانا خان محمد کندھانی اور دیگر حضرات نے خطاب فرمایا۔ مقررین نے اپنے خطاب میں مرزا غلام احمد قادیانی کے دجل وفریب سے عوام کو آگاہ کیا اور عہد لیا کہ آپ سب حاضرین بڑھ چڑھ کر ختم نبوت کا کام کریں۔ عوام کی کثیر تعداد نے حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم سے بیعت کا شرف حاصل کیا۔ بعد میں حضرت امیر مرکزیہ مولانا عبدالخالق شیخ کے مدرسہ میں تشریف لے گئے جہاں پر حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم نے مدرسہ کی ترقی کے لئے دعاء فرمائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۰۱ء ص ۵۳، ۵۴)
مجلس تحفظ ختم نبوت ورنگل انڈیا، ۸۰ سے زائد نوجوانوں کی تربیت اور اجلاس عام
الحمد للہ! آج سے دو ماہ قبل اپریل ۲۰۰۱ء میں تحفظ ختم نبوت اور قادیانیت پر مستقل طور پر کام شروع ہوا اور بتوفیق الٰہی ایک کمیٹی مجلس تحفظ ختم نبوت تشکیل دی گئی، جس کے صدر جناب حافظ ابرار صاحب منتخب ہوئے اور احقر سید محمد ایوب قاسمی کو اس مجلس کا امیر منتخب کیا جب کہ ارکان میں ستر سے زائد نوجوانوں کے نام منتخب ہوئے، جنہوں نے تحفظ ختم نبوت کا کام آگے بڑھانے پر عہد و پیمان کیا۔
انڈیا مجلس کی سرگرمیاں
الحمد للہ! مستقل طور پر ہفتہ میں تین چار مرتبہ دیہاتوں میں متاثرہ مقامات کے دورے کئے گئے، ابتدائی سروے اور شہر ورنگل کے ساتھ ساتھ دیہی علاقوں میں گشت کرنے سے معلوم ہوا کہ تقریباً ۳۵ دیہات قادیانیت سے متاثر ہیں تقریباً ۳۰ نوجوان اب تک قادیان سے تعلیم حاصل کر کے ورنگل اور اس کے اطراف میں قادیانیت کی تبلیغ کر رہے ہیں۔
اس نازک صورتحال کے پیش نظر مجلس تحفظ ختم نبوت ہمنکنڈہ کے مسلم نوجوانوں نے مسلسل موسم سرما اور گرما میں محنت شروع کی،
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جس کے نتیجہ میں اب تک الحمد للہ ایک سو چالیس خاندان قادیانیت سے تائب ہو کر دوبارہ مسلمان ہو چکے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل مجلس کے صدر جناب حافظ ابرار صاحب نے مجلس کی کارکردگی پرمشتمل رپورٹوں کو لے کر دارالعلوم دیوبند کا سفر کیا اور کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند کے ذمہ داران حضرت مولانا قاری محمد عثمان صاحب ناظم کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت اور مولانا شاہ عالم گورکھپوری نائب ناظم سے ملاقات کی۔ حالت اور کارکردگی سن کر حضرت قاری صاحب مدظلہ نے اطمینان کا اظہار فرمایا اور مفید مشوروں سے نوازا۔
سفر سے واپسی پر ابرار احمد صاحب نے اپنی مجلس کی میٹنگ بلائی جس میں کل ہند مجلس کی حوصلہ اور ہمت افزائی سے ہم سب کو باخبر کیا، میدان میں کام کرنے والے ساتھیوں کو کبھی کبھی ایسے مسائل اور حالات پیش آتے ہیں کہ قادیانیوں سے ملاقات پر سوال وجواب اور علمی بحثوں کی نوبت آجاتی ہے، اس لئے کل ہند مجلس کی رہنمائی کے مطابق یہ طے ہوا کہ اکثر و بیشتر کام کرنے والے احباب دینی علوم سے پوری واقفیت نہیں رکھتے ، اس لئے ضروری ہے کہ دو چار نشستوں میں ردقادیانیت سے متعلق ان کی تربیت ہو جائے جس سے قادیانی پنڈتوں سے نمٹنے میں سہولت ہو گی، چنانچہ اس کے لئے حضرت مولانا شاہ عالم صاحب کو ۱۵ تا ۱۷/ جون ورنگل میں دعوت دینا طے ہوا اور فوری طور پر اس سلسلے میں دارالعلوم دیوبند دعوت نامہ روانہ کر دیا گیا۔
جامع مسجد مدراسی میں بیان
پروگرام کے مطابق حضرت مولانا بذریعہ طیارہ ۱۴/ جون ۲۰۰۱ء جمعرات کی شام میں حیدرآباد پہنچے جہاں سے بذریعہ کار گیارہ بجے شب کو آپ کو ورنگل لایا گیا، اگلے دن طے شدہ پروگرام کے مطابق موصوف کا پہلا بیان جامع مسجد مدراسی میں نماز جمعہ سے قبل ہوا، جس میں تقریباً ۲۵ منٹ میں آپ نے فتنہ قادیانیت کی حقیقت زہرناکی کو بہت ہی مختصر، جامع اور واضح انداز میں لوگوں کے سامنے اجاگر کیا۔ عوام وخواص کو اس بیان سے ماشاء اللہ خوب فائدہ پہنچا، لوگ بہت متاثر ہوئے۔
جمعہ کی نماز کے بعد مسجد اور پھر اس کے بعد قیام گاہ ہمنکنڈہ پر شہر کے حفاظ و علماء کرام کی مسلسل آمد ورفت رہی اور انہیں ملاقاتوں میں مولانا موصوف سے استفادہ کرتے رہے۔
کریمیہ مسجد میں علماء کرام کی خصوصی میٹنگ
بعد نماز عشاء کریمیہ مسجد میں حضرت مولانا فصیح الدین صاحب قاسمی کی زیر صدارت علماء اور حفاظ کا ایک اہم اور مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس میں تلاوت قرآن مجید کے بعد نعت پاک عزیزم حافظ احمد علی سلمہ نے پڑھی، اس کے بعد حضرت مولانا شاہ عالم صاحب گورکھپوری کا تقریباً دو گھنٹہ حقیقت افروز بیان ہوا۔ اس بیان میں مولانا موصوف نے فتنہ قادیانیت کے خدوخال سے واقف کرانے کے ساتھ ساتھ علماء وحفاظ ائمہ مساجد و ذمہ داران مدارس کو اس دردمندانہ اور پرسوز لہجہ میں جھنجھوڑا اور احساس دلایا اور مختلف واقعات ونصائح کے ذریعہ قادیانی فتنہ کے تدارک وتعاقب کے طریقہ کار سے روشناس کرایا۔ مولانا کے اس بیان سے علماء کرام اور ذمہ داران مدارس و مساجد بے حد متاثر ہوئے، ہر ایک سامع نے اسی وقت یہ عزم مصمم کرلیا کہ اب ہم سب تن من دھن کی بازی لگا کر ان شاء اللہ تحفظ ختم نبوت اور تعاقب قادیانیت کی خدمت انجام دیں گے۔
مولانا کے بیان کے بعد حضرت مولانا فصیح الدین قاسمی صاحب کا صدارتی خطاب ہوا، آپ نے حاضرین کو یقین دلایا کہ اب
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۱ء
تحفظ ختم نبوت کا کام ان شاء اللہ مسلسل جاری رہے گا۔ حضرت مولانا شاہ عالم صاحب نے واقعی ہماری آنکھیں کھول دیں اور نہایت اچھے انداز میں ہمیں ہمارے فرائض کا احساس دلایا ہے، ان شاء اللہ اب کام میں سستی اور غفلت نہیں آنے دی جائے گی۔ شب کا ایک بج چکا تھا قاسمی صاحب کے بیان کے بعد جناب حافظ ابرار صاحب نے مجلس میں شریک حضرات کا شکریہ ادا کیا اور قاسمی صاحب کی دعاؤں پر اس نشست کا اختتام ہوا۔
شہر ورنگل میں رد قادیانیت کے موضوع پر پہلا تربیتی پروگرام
پہلی نشست بروز سنیچر ۱۶؍جون ۲۰۰۱ء میں آٹھ بجے صبح سے مسجد ہنمکنڈہ میں تربیتی نشست کا منعقد ہونا طے تھا۔ الحمد للہ! وقت پر مجلس کے تمام اراکین اور میدان میں کام کرنے والے تمام نوجوان پہنچ چکے تھے۔ آٹھ بجے سے ظہر کی نماز تک حضرت مولانا شاہ عالم صاحب کا تربیتی بیان ہوا۔ اس نشست میں آپ نے ”رد مرزائیت“ کے زریں اصول بیان کئے۔ اوّلاً قادیانیت کی تاریخ پر روشنی ڈالی اس کے بعد قادیانیت کے زیغ و ضلال اور کفریہ عقائد کو قادیانیت کے حوالے سے اجاگر کیا پھر قرآن وحدیث کی روشنی میں ان عقائد کا باطل ہونا واضح کر کے اخیر میں قادیانی فتنہ کے سدباب اور اس کے طور طریق پر روشنی ڈالی، شرکاء کا ان مضامین سے دلچسپی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ نماز ظہر تک اس نشست کو مکمل ہونا تھا لیکن شرکاء کے اصرار پر بعد نماز ظہر متصلاً پھر بیان شروع ہوا جس میں مسجد کے نمازیوں نے بھی بھرپور حصہ لیا اور ۳ بجے تک پروگرام چلتا رہا۔
دوسری نشست: تمام شرکاء کے لئے جن کی تعداد ۸۰ سے زائد تھی من جانب مجلس طعام کا انتظام تھا ایک گھنٹہ کے اندر اندر طعام سے فراغت کے بعد ٹھیک چار بجے دوسری نشست کا آغاز ہوا۔ اس نشست میں مولانا نے تعین موضوع کے عنوان سے روشنی ڈالی جس میں قادیانیوں سے مناظرہ کے گر سکھلائے، مرزا قادیانی کی بدکردار زندگی اور اس کے موٹے موٹے کذبات جھوٹ بھی باحوالہ حاضرین کو یاد کرائے اور اس کی روشنی میں آپ نے بتایا کہ موضوع متعین کرانا ہی مناظرہ کی جان ہے، قادیانی اس میں عموماً وہ موضوع متعین کرنا چاہتے ہیں جس سے مرزا قادیانی کی قلعی نہ کھلنے پائے اور اس کے بوئے ہوئے فتنہ کی حقیقت پر پردہ پڑا رہے مسلمان مناظر کو چاہئے کہ ختم نبوت وحیات عیسیٰ کی علمی بحثوں سے صرف نظر کر کے مرزا غلام احمد قادیانی کے شرمناک کردار اور کریکٹر کو موضوع بحث بنائے تاکہ چند لمحوں میں بات واضح ہو جائے کہ مرزا قادیانی تو شریف انسان بھی ثابت نہیں ہو سکا چہ جائیکہ مہدی ومسیح وغیرہ۔
آخر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات ونزول پر بھی روشنی ڈالی اور نہایت سادہ انداز میں اس طرح اس مضمون کو ذہن نشین کرایا کہ حاضرین کو ہر طرح سے شرح صدر ہو گیا اور اس موضوع پر قادیانیوں کا مکر وفریب واضح ہو گیا۔ آپ نے بتایا کہ سب سے پہلے مرزائیوں سے یہ معلوم کیا جائے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کس نے مارا؟ آیا قرآن مجید نے یا احادیث نے یا مرزا نے؟ مرزا جب خود ہی اس کا دعویٰ کرتا ہے کہ وفات عیسیٰ علیہ السلام کا مسئلہ ایک راز تھا جس کو سوائے مرزا کے کسی نے نہ جانا یہ بھید مرزا ہی پر کھلا چنانچہ بقول خود مرزا، ۵۲ سال تک حیات عیسیٰ علیہ السلام کا قرآن وحدیث کی روشنی میں قائل رہا، جب معاملہ یہ ہے تو پھر قرآن وحدیث میں کیوں الجھایا جاتا ہے، ہونا یہ چاہئے کہ مرزا کے الہامات کی روشنی میں اس مسئلہ پر بحث ہو گی نہ کہ قرآن وحدیث کی روشنی میں اور مرزا اپنے بے شمار الہامات میں جھوٹا نکل چکا ہے۔ لہٰذا اس کے فتویٰ کے مطابق اس کی کسی بات پر اعتبار نہ کیا جائے گا۔
اور اگر قرآن وحدیث میں یہ معاملہ ہے اس میں یہ مضمون درج ہے خواہ اشارۃ، کنایۃ ہی ہے تو مرزا کا اس مسئلہ کو راز اور بھید کی
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بات بتانا اور سب سے پہلے خود جاننے کا دعویٰ کرنا غلط ٹھہرا۔ بہر کیف مرزا جھوٹا ہی ثابت ہوتا ہے۔
چلتے چلتے تنگی وقت کے باوجود مسئلہ ختم نبوت پر مختصر وقت میں اس انداز میں روشنی ڈالی کہ قادیانیوں کا ناطقہ بند کر دیا تمام سامعین کے لئے آسان ہو گیا اور مرزائیوں کا اس مسئلہ پر مکر و فریب بھی واضح ہو گیا۔
الحمد للہ دوسری نشست قبل نماز عصر ساڑھے پانچ بجے بحسن و خوبی اختتام کو پہنچی ان دونوں نشستوں میں کام سے جڑے ہوئے نوجوانوں نے بھر پور دلچسپی لی اور خوب خوب فائدہ اٹھایا، اخیر میں حضرت مولانا فصیح الدین صاحب کی دعا پر یہ مجلس ختم ہوئی۔
اجلاس عام: بعد نماز عشاء حضرت مولانا عبدالعزیز صاحب رکن شوریٰ دارالعلوم دیوبند کی زیر صدارت تحفظ ختم نبوت و رد قادیانیت کے عنوان سے اجلاس منعقد ہوا، جس میں مہمان خصوصی کے طور پر حضرت مولانا شاہ عالم گورکھپوری کے علاوہ حضرت مولانا مفتی عبد الغنی مہتمم مدرسہ تجوید القرآن حیدرآباد بھی مدعو تھے۔
ناظم اسٹیج کے فرائض انجام دیتے ہوئے جناب مولانا عتیق الرحمن صاحب نے جلسہ کے آغاز پر جناب قاری احمد علی صاحب کو دعوت دی تلاوت کے بعد جناب حافظ سمیع احمد صاحب نے نہایت خوش الحانی سے حضور ﷺ کی بارگاہ عقیدت میں نعتوں کا نذرانہ پیش کیا، اس کے بعد تعارفی اور تمہیدی تقریر بندہ (سید محمد ایوب قاسمی) نے کی، جس میں مجلس تحفظ ختم نبوت ورنگل کی دو مہینوں کی مسلسل کارکردگی پیش کی نیز دیہاتوں کے دوروں اور اس کے بہترین نتائج سے سامعین کو باخبر کیا۔
واضح رہے کہ ۱۷ ستمبر ۲۰۰۰ء میں موضع بدھارم (ورنگل) میں قادیانیوں کے چیلنج پر ایک زبردست مناظرہ ہوا تھا جس میں دارالعلوم دیوبند سے مولانا شاہ عالم گورکھپوری اور مولانا محمد ادریس صاحب مبلغ کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت تشریف لائے تھے۔ جب کہ قادیانیوں کی جانب سے رسول نامی قادیانی انچارج مشن پالا کرتی نے نمائندگی کی تھی۔ تقریباً ایک گھنٹہ کے مباحثہ میں رسول نامی قادیانی پنڈت کو زبردست رسوائی اٹھانی پڑی تھی، گاؤں کے وڈیرے نے یہ فیصلہ سنایا تھا کہ قادیانی ہار گئے، اس لئے اب انہیں گاؤں میں رہنے کا حق نہیں، چنانچہ قادیانیوں کے معلم کو فوری طور پر وڈیرے نے چلے جانے کو کہا اور اس کی جگہ ایک مسلمان معلم کا تقرر ہوا۔
اس مناظرہ کے نتیجہ میں گاؤں والوں کو ہدایت ملی اور پورے علاقے کے مسلم اور غیر مسلموں نے بچشم خود جو فتح حق کا نظارہ دیکھا تو اس کا ایک بہتر نتیجہ مرتب ہوا اور سب نے جان لیا کہ قادیانیت ملک وملت کے لئے ایک فتنہ ہے جس کی وجہ سے اس علاقہ میں قادیانیت کا زور پارہ پارہ ہو کر رہ گیا ہے۔ (فالحمد للہ علی ذالک) اور آہستہ آہستہ قادیانیت سے متاثرہ افراد بلکہ وہ لوگ جو ایک عرصہ سے قادیانیت کے جال میں پھنسے تھے اب تائب ہو کر حلقہ بگوش اسلام ہو رہے ہیں۔
بیان مفتی عبدالغنی صاحب حیدر آبادی: کارگزاری رپورٹ کے بعد پہلا بیان حضرت مولانا عبد الغنی صاحب حیدرآبادی کا ہوا، حضرت موصوف نے ایمان وعقائد کی اہمیت اور افادیت کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ قادیانی فتنہ جو ایک کمزور فتنہ ہے، اس کے سدباب کی طرف فوری توجہ نہ دی گئی تو آئندہ یہ ایک خطرناک فتنہ بن کر امت مسلمہ کی آزمائش کا سبب بن سکتا ہے۔ آپ نے حضور ﷺ کی سیرت و سوانح کی کتابوں کو گھروں میں پڑھنے پڑھانے اور عملی طور پر اپنانے پر زور دیا۔
بیان حضرت مولانا شاہ عالم صاحب گورکھپوری: رد قادیانیت اور تحفظ ختم نبوت کے موضوع پر حضرت مولانا شاہ عالم صاحب کا خصوصی اور انتہائی دلچسپ بیان ہوا۔ جس میں مولانا موصوف نے پانچ باتوں پر روشنی ڈالی۔ (۱) یہ کہ نبوت کا کیا معنی ومطلب ہے؟ (۲) نبی کسے کہتے ہیں؟ (۳) ختم نبوت کا کیا معنی و مطلب ہے؟ (۴) تحفظ ختم نبوت کا کیا معنی و مطلب ہے اور اس کی ضرورت کیوں
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہے؟ (۵) یہ کہ آپ نے بتایا کہ تحفظ ختم نبوت کا ہم سے کیا تقاضا ہے اور ہمارے اوپر اس سلسلہ میں کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ان موضوعات پر سیر حاصل اور نہایت آسان اور عام فہم انداز میں مثالوں کے ذریعے سے گفتگو کرتے ہوئے اخیر میں علماء حفاظ ائمہ مساجد اور ذمہ داران مدارس کو بھی نہایت دلنشین انداز میں جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور ان کو احساس دلایا کہ مسجد کی امامت کے ساتھ عوام کے دین وعقائد معاشرت وغیرہ تمام امور میں اگر امامت کی ذمہ داری نہیں نبھائی جاتی تو قوم گمراہ ہوکر رہ جائے گی اور اپنے فرائض سے پہلو تہی کرنے کی بنیاد پر کل میدان قیامت میں خدا کے سامنے ہم سے کچھ جواب نہ بن پڑے گا۔
صدارتی خطاب : آخر میں حضرت مولانا عبدالعزیز صاحب کا صدارتی خطاب ہوا جس میں آپ نے عوام وخواص کو پند ونصائح سے نوازتے ہوئے فتنہ قادیانیت سے بچنے اور بچانے کی تلقین کی اور آپ کی دعاؤں پر اس کامیاب اجلاس کا اختتام ہوا۔ اجلاس میں شرکاء کی تعداد توقع سے بہت زیادہ تھی، پورا زکریا فنکشن ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ الحمد للہ! تمام شرکاء اجلاس نے اجلاس کی کامیابی پر ایک دوسرے کو مبارک باد دی۔
پروگرام کا تیسرا دن: تیسرے دن بروز اتوار دیہات کے متاثرہ علاقوں میں دورہ کرنے کا پروگرام تھا لیکن عوام وخواص اور شہر کے معزز ذمہ داران کے اصرار پر دورہ ملتوی کر کے حسب ذیل پروگرام بروقت ترتیب دیئے گئے۔
کمیٹی کے اراکین اور ذمہ داران شہر کی خصوصی میٹنگ: اتوار کے دن صبح دس بجے کمیٹی مجلس تحفظ ختم نبوت ورنگل کے ذمہ داران اور کارکنان پر مشتمل ایک مختصر میٹنگ ہوئی حضرت مولانا باوجود اس کے کہ تھکے ماندے تھے مگر اپنے قیام گاہ پر ہی اراکین میٹنگ سے خصوصی خطاب کیا، جس میں مجلس کے متعلق مفید مشورے دیئے اور اسی دوران کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند سے الحاق اور دوسری ذمہ داریوں کے سلسلے میں اپنے اراکین کو توجہ دلائی نیز دفتری امور کی انجام دہی اور کام کرنے کے طور وطریق پر نہایت مفید مشورے دیئے، جو اراکین اور کارکنان کے لئے ان شاء اللہ مشعل راہ ثابت ہوں گے۔
شہر کے تبلیغی مرکز کے ذمہ داران کی تشریف آوری: پروگرام تھا کہ مرکز کے ذمہ داران حضرات سے مرکز کی مسجد ہی میں ملاقات کی جائے گی، لیکن تمام ذمہ داران حضرات تین بجے قیام گاہ پر ہی تشریف لائے۔ جس میں جناب الحاج عبدالرؤف صاحب اور جناب الحاج مولانا رحمت اللہ صاحب اور عادل آباد کے ذمہ داران بھی شریک وفد تھے۔ اس وفد نے حضرت مولانا مدظلہ سے درخواست کی کہ ایک بیان مرکز کی مسجد میں ہو جائے مولانا عدیم الفرصتی کا عذر کرتے رہے مگر یہ عذر چل نہ سکا بالآخر بعد نماز مغرب بیان طے ہو گیا جو اپنے وقت پر انتہائی مفید جامع اور دور حاضر سے متعلق کارآمد بیان ثابت ہوا اس بیان سے متاثر ہو کر ذمہ داران جماعت نے خود طے کر لیا کہ تحفظ ختم نبوت کا کام ہمارا کام ہے اور اب اس کو دلچسپی کے ساتھ ان شاء اللہ کرنا ہے۔
مدرسہ اسلامیہ ورنگل کا معائنہ: نماز مغرب سے قبل حضرت مولانا فصیح الدین صاحب قاسمی سرپرست مجلس تحفظ ختم نبوت ورنگل کی دعوت پر مولانا نے آدھ گھنٹہ کے لئے بغرض معائنہ مدرسہ وقت دیا۔ یہ مدرسہ شہر ورنگل سے باہر قدیم آبادی سے متصل نہایت با رونق جگہ پر قائم ہے، جس میں طلباء کی تعلیم وتربیت اور صحت وغیرہ کا معقول نظم ہے۔ مدرسہ ماشاء اللہ مولانا فصیح الدین قاسمی کے زیر اہتمام روز بروز ترقی پر ہے۔ نماز عصر کے بعد طلباء مدرسہ سے آپ نے خطاب کیا، جس میں شہر کے ذمہ داران بھی موجود تھے نیز مدرسہ کے اراکین خصوصی بھی اس پروگرام میں شریک تھے۔
شہر کے نوجوان تعلیم یافتہ طبقہ میں ایک خصوصی پروگرام: نماز عصر کے بعد چونکہ تبلیغی مرکز میں بیان طے تھا، اس لئے آپ
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۱ء
سیدھے مرکز پہنچے اور یہاں سے فراغت کے بعد حیدرآباد کے لئے نو بجے شب روانگی طے تھی۔ لیکن قیام گاہ پر پہنچنے پر معلوم ہوا کہ شہر کے پڑھے لکھے نوجوان اس وقت جمع ہیں اور گزشتہ شب کا بیان سننے کے بعد انہوں نے اپنے آپ کو تحفظ ختم نبوت کی خدمت کے لئے وقف کا ارادہ کر لیا ہے۔ اس لئے ان کا اصرار ہے کہ روانگی سے قبل انہیں کچھ نصائح اور کام کے طور و طریق سے نوازا جائے۔
مسلسل بیانات سے اگرچہ طبیعت پر بار تھا لیکن نوجوانوں کے جذبہ کو دیکھتے ہوئے آپ نے ان کی دعوت قبول کر لی اور قیام گاہ پر ہی آپ نے نہایت محبت بھرے انداز میں اپنے نوجوان ساتھیوں سے خطاب کیا اور یہ بیان شب کے ساڑھے بارہ بجے تک جاری رہا۔ اس دوران آپ نے فیروز آباد، یو۔ پی، خامنی، متھرا، امب، ہماچل وغیرہ مقامات کے دلچسپ واقعات سنائے جو ہم سب نوجوانوں کے لئے حوصلہ افزا ثابت ہوئے۔
اسی دوران حضرت مولانا فصیح الدین قاسمی صاحب بھی تشریف لا چکے تھے جو مولانا کو رخصت کرنے کی غرض سے ملاقات کے لئے آئے تھے مگر معلوم ہوا کہ نوجوانوں کے جذبات اور امنگوں سے بھری اس نشست کی صدارت مولانا موصوف کو کرنی پڑی اور ڈھائی گھنٹہ کے بعد پھر الوداعی مصافحہ کر کے لوٹے ، جناب ابرار بھائی صدر مجلس تحفظ ختم نبوت کی دعاؤں پر مجلس اپنے اختتام کو پہنچی۔
دوشنبہ کی صبح نماز فجر کے متصلاً بعد چار مینار ایکسپریس سے آپ حیدرآباد کے لئے روانہ ہوئے۔ اس طرح الحمد للہ تمام پروگرام توقع سے زائد حسن و خوبی کے ساتھ انجام پائے دعا ہے کہ اللہ رب العزت ان پروگراموں کو قبول فرمائے اور ہر محب کے لئے اس کو ذریعہ نجات بنائے ۔ (آمین)
آخر میں شکریہ ادا کرتا چلوں ان احباب کا جنہوں نے ہفتوں اپنی نیند اور آرام کو قربان کر کے ان پروگراموں کو کامیاب بنایا بالخصوص جناب غوث الدین صاحب ورنگل، اعجاز احمد صاحب، جناب ابرار صاحب، جناب ادریس احمد صاحب، جناب حافظ سمیع اللہ حسینی صاحب، جناب حافظ شکیل احمد صاحب، جناب عمران احمد صاحب، جناب عارف شکیل صاحب، مولانا عتیق الرحمٰن صاحب، جناب شبیر احمد صاحب، جناب حافظ عبد الماجد صاحب، عبد المغنی صاحب، حافظ احمد علی سلمہ، جناب زبیر احمد صاحب وغیر ہم ان حضرات کی مخلصانہ کوششوں اور محنتوں کے نتیجہ میں الحمد للہ یہ پروگرام کامیاب ہوئے ۔ (”فجزاھم اللہ احسن الجزاء“)
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۴ تا ۲۰؍ ستمبر ۲۰۰۱ء ص ۱۸ تا ۲۱)
ختم نبوت کانفرنس کراچی
کراچی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم، مولانا اللہ وسایا ، حاجی عبدالحمید بلجیم، مفتی محمد جمیل خان، مولانا نذیر احمد تونسوی، قاری محمد عثمان، مولانا حماد اللہ شاہ، صاحبزادہ عزیز احمد، صاحبزادہ نجیب احمد، صاحبزادہ سعید احمد ، مفتی خالد محمود، مولانا محمد یحییٰ لدھیانوی نے جامع مسجد طور شیر شاہ ختم نبوت کانفرنس میں ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت پوری دنیا میں عیسائیوں ، یہودیوں اور قادیانیوں نے گٹھ جوڑ کر کے مسلمانوں کو مرتد بنانے کے لئے مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ہر اسلامی ملک میں ایک ناسور پیدا کر کے ممالک اسلامیہ کو غیر مستحکم کیا جائے۔ اس سلسلے میں اندرون سندھ بہت تیزی سے سرگرمیاں شروع کی گئی ہیں۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمانوں کو مضبوط عقائد کے ذریعہ کفریہ طاقتوں کی ریشہ دوانیوں سے بچانے کے لئے بھر پور کوشش کی جائے۔ آج اسلام پر چاروں طرف سے حملہ ہے ایک پوپ پال مسجدوں میں جا کر مسلمانوں کو امن سے رہنے کی تلقین
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کرتا ہے۔ دوسری طرف فلسطین میں یہودی، چیچنیا میں روسی، کوسوو اور بوسنیا میں عیسائی اور کشمیر میں ہندو مسلمانوں کو ختم کرنے کے درپے ہیں اور جگہ جگہ اسلام کے خلاف ارتدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ دین پر مضبوطی سے قائم رہیں اور قادیانیوں اور عیسائیوں کی ان سرگرمیوں کا بھر پور مقابلہ کریں۔
قبل ازیں قاری فیض اللہ چترالی کے عشائیہ میں علماء کرام سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم نے کہا کہ چترال اور گلگت پر غیر مسلموں کی نظریں ہیں اور وہاں پر مشنری اسکول وغیرہ مقامی لوگوں کو مختلف ترغیبات کے ذریعہ اسلام سے گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس لئے مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ رفاہی کاموں کے ذریعہ مشنری سرگرمیوں کو ناکام بنائیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ یکم تا ۷؍ جون ۲۰۰۱ء ص ۲۰ تا ۲۱)
ٹنڈوآدم میں زیر صدارت امیر مرکزیہ مدظلہ ختم نبوت کانفرنس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد دامت برکاتہم دیگر علماء کرام کے وفد سمیت ۷؍ مئی ۲۰۰۱ء بروز پیر ختم نبوت کانفرنس ٹنڈوآدم کی صدارت کے لئے تشریف لائے حضرت علامہ احمد میاں حمادی نے کثیر تعداد اہلیان ٹنڈوآدم کے ساتھ شہداد پور روڈ پر پر تپاک استقبال کیا۔ ایک جلوس کے جلو میں حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم اور دیگر علماء کرام کو جامع مسجد ختم نبوت ٹنڈوآدم میں لایا گیا۔ یاد رہے کہ حضرت مولانا منظور احمد الحسینی امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت یورپ، حضرت مولانا مفتی جمیل احمد خان، حضرت مولانا نذیر احمد تونسوی اور کئی دیگر علماء ختم نبوت حضرت امیر مرکزیہ کے ہمراہ تھے۔
ختم نبوت کانفرنس میں حضرت مولانا منظور احمد الحسینی مدظلہ نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت مولانا محمد علی جالندھری فرمایا کرتے تھے کہ: ’’اگر قادیانی چاند پر چلے گئے تو ہم پھر بھی ان کا تعاقب کریں گے۔‘‘ الحمد للہ! پورے یورپ میں جہاں کہیں قادیانیوں نے اپنی مذموم سرگرمیوں کو جاری رکھنا چاہا ہم نے ان کا بھر پور تعاقب کیا ہوا ہے۔ قادیانیوں نے انٹرنیٹ کے ذریعہ ارتدادی سرگرمیاں جاری رکھنا چاہیں تو انٹرنیٹ کے ذریعہ ہم نے ان کا منہ توڑ جواب دیا۔ پاکستان میں قادیانیوں نے ہمیشہ ذلت اٹھائی۔ امیر مرکزیہ دامت برکاتہم کی قیادت میں ان شاء اللہ قادیانیوں کا بھر پور تعاقب جاری رہے گا۔ حضرت مولانا مفتی جمیل خان نے اور مولانا نذیر احمد نے اپنے اپنے خطاب میں عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت کو واضح کیا اور فتنہ گوہر شاہی کی مذموم سرگرمیوں پر حکومت پاکستان کی سرد مہری پر اظہار افسوس کیا۔ کانفرنس سے مولانا محمد علی صدیقی، مولانا ابو طلحہ راشد مدنی اور مولانا خان محمد کندھانی کے علاوہ بھی دیگر علماء کرام نے بھی خطاب کیا۔ علاوہ ازیں اقراء روضۃ الاطفال کے امتحان میں کامیاب طلباء میں حضرت امیر مرکزیہ نے انعامات اور اسناد تقسیم کیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱ تا ۷؍ جون ۲۰۰۱ء ص ۲۰)
علی پور میں رد قادیانیت کورس
مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامعہ امدادیہ حبیب المدارس یاکی والی علی پور ضلع مظفر گڑھ میں دو روزہ رد قادیانیت کورس ۱۲، ۱۳؍ مئی بروز ہفتہ، اتوار منعقد ہوا۔ کورس کا آغاز مجاہد ملت کے جانشین حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری دامت برکاتہم کے بیان سے ہوا۔ دوسرا بیان عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے کیا۔ جو ظہر سے عصر تک جاری رہا۔ تیسرا بیان رفع ونزول مسیح علیہ السلام سے متعلق قادیانیوں کے شکوک وشبہات اور ان کا ازالہ، نیز حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے نزول کا وقت، نزول کے وقت لباس، لباس کا رنگ، مقام نزول، نزول کے بعد کارنامے، دوبارہ تشریف آوری کے بعد مدت قیام، شادی، اولاد، وفات، مقام
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تدفین سے متعلق احادیث مبارکہ نوٹ کرائیں۔ نیز سامعین کے سوالات کے جوابات بھی دیئے گئے۔ آخری بیان ظہر سے عصر تک جاری رہا اور حضرت مولانا امام الدین قریشی نے بھی خطاب کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۷ تا ۱۴؍جون ۲۰۰۱ء ص ۲۴)
تین روزہ رد قادیانیت کورس اور ختم نبوت کانفرنس میر پور خاص
میر پور خاص عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام میر پور خاص مدینہ مسجد شاہی بازار میں تین روزہ رد قادیانیت کورس کا ۲۱ تا ۲۳؍مئی کو اہتمام کیا گیا۔ جس کے لئے وکلاء، ٹیچرز، پروفیسر، علماء وخطباء سمیت شہر کے معززین کو دعوت نامہ پہنچائے گئے، مفتی منیر احمد طارق نے ان انتظامات کو دن رات کی محنت سے پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ ۲۱؍مئی کو بعد از ظہر پہلا پروگرام مدینہ مسجد میں تربیتی کورس کے عنوان سے شروع ہوا، جس میں سینکڑوں حضرات نے شرکت کی حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب نے پر مغز لیکچرز دیئے، اسی طرح ۲۲ اور ۲۳؍مئی کو پروگرام ہوئے، دن بدن لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ پروگرام میں مفتی منیر احمد طارق صاحب، مفتی عبیداللہ انور صاحب، مفتی مسعود احمد صاحب، مولانا عبدالحفیظ، مولانا منظور احمد صاحب، مولانا یوسف کھوکھر صاحب اور حافظ محمد یامین صاحب کے علاوہ مختلف مکاتب فکر کے لوگوں نے شرکت فرمائی۔ اسی طرح رات کے پروگرام ترتیب دیئے گئے تھے رات کو مختلف مساجد میں ختم نبوت کانفرنسیں منعقد ہوئیں۔
۲۱؍مئی بعد نماز عشاء جامعہ مسجد اسٹیشن چوک میں عظیم الشان کانفرنس سے شاہین ختم نبوت، مولانا اللہ وسایا صاحب، فاتح گوہر شاہی علامہ احمد میاں حمادی صاحب، مبلغ ختم نبوت مولانا محمد علی صدیقی صاحب، مولانا عبدالحفیظ صاحب نے خطاب فرما کر فتنہ قادیانیت اور فتنہ گوہر شاہی کا پردہ چاک کیا۔ انتظامات مولانا عبدالحفیظ نے کئے تھے۔
۲۳؍مئی بعد نماز عشاء بسم اللہ مسجد سیٹلائٹ ٹاؤن میں ختم نبوت کانفرنس ہوئی۔ جس کی صدارت ڈاکٹر مقصود احمد آرائیں نے فرمائی، تمام پروگرام میں مولانا فیض اللہ صاحب امیر ختم نبوت میر پور خاص کی سرپرستی میں مولانا مفتی منیر احمد طارق نے احسن انداز میں ترتیب دیئے۔ آخر کے پروگرام میں شاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد علی صدیقی نے خطاب فرمایا پروگراموں کے بعد آخر میں مبلغ مولانا محمد علی صدیقی صاحب، جنرل سیکرٹری ختم نبوت میر پور خاص مفتی منیر احمد طارق نے مولانا اللہ وسایا صاحب سے سالانہ کانفرنس کے لئے خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم حضرت سید نفیس شاہ الحسینی صاحب مدظلہ سے وقت دینے کی درخواست کی جس پر کوشش کر کے وقت لے کر دینے کی یقین دہانی کرائی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۹؍جون تا ۵؍جولائی ۲۰۰۱ء ص ۲۵)
سیرت النبی ﷺ کانفرنس چناب نگر
چناب نگر شہر کے قلب و جگر میں واقع عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی جامع مسجد محمدیہ ریلوے اسٹیشن چناب نگر میں سالانہ سیرت النبی ﷺ کانفرنس ۸؍ ربیع الاول بمطابق یکم؍ جون ۲۰۰۱ء بروز جمعہ منعقد ہوئی۔ الحمدللہ! جامع مسجد کا ہال، برآمدہ، صحن سامعین وحاضرین سے بھرے ہوئے تھے۔ مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا اللہ وسایا صاحب، مولانا غلام مصطفیٰ صاحب، مولانا محمد یعقوب برھانی، مولانا عابد حسین کے بیانات ہوئے۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا محبوب الحسن خطیب جامع مسجد ہٰذا نے سرانجام دیئے۔ جمعہ کے بعد حاضرین کی تواضع کا اہتمام کیا گیا تھا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۰۱ء ص ۵۴)
ختم نبوت کانفرنس جوہر آباد
یکم؍ جون ۲۰۰۱ء بعد از عشاء جامع مسجد حنفیہ بلاک نمبر ۴ جوہر آباد سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ حضرت مولانا رشید احمد
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جنرل سیکرٹری جمعیت علماء اسلام ضلع خوشاب نے میزبانی کے فرائض سرانجام دیئے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب، مولانا عبدالرحمن صاحب خطیب جامع مسجد نور، مولانا عبداللطیف مہتمم کاشف العلوم جوہر آباد کے ایمان پرور بیانات ہوئے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع خوشاب کے امیر حضرت مولانا قاری سعید احمد نے صدارت فرمائی۔ صدارتی بیان اور دعا سے انہوں نے حاضرین کو مستفیض کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۰۱ء ص۵۲)
رد قادیانیت تربیتی کورس لاہور
لاہور جامع مسجد بدر احمد بلاک گارڈن ٹاؤن میں ۲ تا ۴ جون ۲۰۰۱ء کو عصر کی نماز سے لے کر عشاء تک سہ روزہ تربیتی ردقادیانیت کورس منعقد ہوا۔ حضرت مولانا مفتی ابوبکر علوی خطیب جامع مسجد ہذا نے میزبانی کے فرائض سرانجام دیئے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب، مناظر اسلام مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، جناب محمد متین خالد نے مختلف عنوانات پر لیکچر دیئے۔ جناب مولانا عزیز الرحمن ثانی مبلغ لاہور، قاری قرآن مولانا سید ضیاء الحسن شاہ، مولانا قاری محمد زبیر، مولانا محبوب الحسن اور دوسرے جماعتی دوستوں نے اسے کامیاب بنانے کے لئے بھرپور محنت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۰۱ء ص۵۴)
جامعہ مسجد عائشہ میں کنونشن
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے دفتر واقع جامع مسجد عائشہ مسلم ٹاؤن میں ۳ جون ۲۰۰۱ء کو ایک روزہ کنونشن کا اہتمام کیا گیا۔ پورے لاہور کے علماء کرام اور کارکنان کی بہت بڑی تعداد نے شرکت کی۔ حضرت مولانا سید نفیس الحسینی دامت برکاتہم نائب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے شرکت و سرپرستی اور دعا سے سرفراز فرمایا۔ حضرت مولانا شاہ محمد اور حضرت حاجی بلند اختر نظامی نے اجلاس کی صدارت فرمائی۔ حضرت سید ضیاء الحسن نے سٹیج سیکرٹری کے فرائض سرانجام دیئے۔ حضرت مولانا اللہ وسایا، حضرت مولانا محبوب الحسن کے بیانات ہوئے۔ غرض کنونشن توقعات سے بڑھ کر کامیاب ہوا۔ ۲ تا ۴ جون مختلف مساجد میں بیانات کا سلسلہ بھی جاری رہا۔
۳ جون کو جامع مسجد عائشہ میں قائم مدرسہ تعلیم القرآن حیدریہ سے حفظ کرنے والے چار بچوں کی دستار بندی کے لئے تقریب ختم قرآن مجید کا اہتمام کیا گیا۔ محلہ و ٹاؤن کے معززین کی بہت بڑی تعداد نے شرکت فرمائی۔ جناب سندھو صاحب نے مدرسہ کی تفصیلی رپورٹ پیش کی۔ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری دامت برکاتہم کا فضائل قرآن پر ایمان پرور بیان ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۰۱ء ص۵۵)
منڈی بہاؤالدین میں دوروزہ رد قادیانیت کورس
منڈی بہاؤالدین میں اہل سنت کی عظیم دینی علمی وعملی درسگاہ جامعہ نور الہدی محلہ صوفی پورہ منڈی بہاؤالدین میں بمؤرخہ ۵، ۶ جون ۲۰۰۱ء کو دو روزہ کورس منعقد کیا گیا، جس کا آغاز ۵ جون صبح ۹ بجے جامعہ کی مسجد کے ہال میں قاری محمد سلیمان صاحب مدرس مدرسہ ہذا کی تلاوت اور حضرت مولانا خدا بخش صاحب مدظلہ، کے صدارتی اور حضرت مولانا ارشاد اللہ صدیقی کے افتتاحی بیان سے شروع ہوا۔ بقیہ نشستوں کا آغاز قاری شمس الدین صاحب مدظلہ کے علاوہ طلباء مدرسہ کی تلاوت سے ہوتا رہا، ضلع بھر سے کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی، جن سے یکے بعد دیگرے شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب مدظلہ، مناظر ختم نبوت حضرت مولانا خدا بخش صاحب مدظلہ اور حضرت مولانا محمد ابراہیم صاحب مدظلہ کے علاوہ مبلغ ختم نبوت حضرت مولانا محمد طیب فاروقی نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت ونزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام، ظہور مہدی، کذب مرزا کے علاوہ قادیانیت کی اسلام دشمن سرگرمیاں اور امت مسلمہ کی ذمہ داری کے عنوانات پر مدلل
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بیانات کئے۔ شرکاء حضرات کے لئے کاغذ و قلم طعام و قیام کا بھی مناسب انتظام کیا گیا تھا۔ اس کورس کے انتظامات، تشہیر میں جناب سعید احمد بدری، جناب پیر محمد اشرف واسو، جناب پیر محمد آصف، جناب ماسٹر محمد صادق حسین، جناب مولوی اکرام اللہ خان، مولانا محمد طیب حسن سعدی کے علاوہ جناب قاری امان اللہ مدرس مدرسہ ہذا اور طلباء مدرسہ نورالہدی نے خوب محنت کی اللہ تعالیٰ سب حضرات کو شفاعت محمدی ﷺ اور بروز قیامت سایہ رحمت نصیب فرمائے۔ (آمین)
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۹ / جون تا ۵ / جولائی ۲۰۰۱ء ص ٹائٹل پیج نمبر ۳)
ختم نبوت کانفرنس پنجن کسانہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع گجرات کے امیر حضرت مولانا قاری محمد اختر مدظلہ کی جامع مسجد پنجن کسانہ میں ان کی صدارت میں ۱۷ / جون ۲۰۰۱ء بعد نماز عشاء ایک روزہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ ضلع بھر کی دینی قیادت علماء کرام اور خطباء کی بہت بڑی تعداد نے شرکت کی، حضرت مولانا غلام رسول، حضرت مولانا خدا بخش، حضرت مولانا اللہ وسایا اور جمعیت علماء اسلام پنجاب کے ممتاز رہنما حضرت بشیر احمد شاد کے بیانات ہوئے۔ رات گئے حضرت قاری صاحب کی دعاء پر کانفرنس اختتام پذیر ہوئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۰۱ء ص ۵۶)
ختم نبوت کانفرنس قصور
۹ / جون ۲۰۰۱ء بروز ہفتہ بعد نماز عشاء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع قصور کے امیر حضرت مولانا مشتاق احمد صاحب مدظلہ کے مدرسہ جامعہ رحیمیہ بھسر پورہ میں عظیم الشان سالانہ ختم نبوت کانفرنس ہوئی۔ قاری حبیب اللہ قادری، حضرت قاری سید محمد یحییٰ ہمدانی نے تلاوت سے اجتماع کو منور کیا۔ جناب اللہ دتہ مجاہد، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا اختر ندیم اور مولانا تاج محمود کے ایمان پرور بیانات ہوئے۔ جامعہ رحیمیہ کا پورا صحن حاضرین سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ رات گئے تک کانفرنس جاری رہی۔ حضرت قاری مشتاق احمد صاحب جامعہ کے مدرسین و سینکڑوں طلباء کی محنت نے کانفرنس کو مثالی کامیاب بنا دیا تھا۔ سٹیج سیکرٹری قصور ضلع کے مبلغ مولانا عبدالرزاق مجاہد تھے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۰۱ء ص ۵۶)
ختم نبوت کانفرنس شمس آباد
شمس آباد نزد پتوکی میں قادیانی شرارتوں کے سدباب کے لئے ۱۰ / جون ۲۰۰۱ء کو بعد نماز ظہر ختم نبوت کانفرنس کا اہتمام کیا گیا۔ مولانا محمد عباس نوری، مولانا محمد عارف، مولانا محمد اسماعیل، مولانا محمد انور، مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا اللہ وسایا کا بیان ہوا اور اسی روز بعد از عشاء جامع مسجد فاروق اعظم پتوکی میں مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اسماعیل کے ختم نبوت پر بیانات ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۰۱ء ص ۵۶)
ختم نبوت کانفرنس حویلی لکھا
۱۱ / جون ۲۰۰۱ء کو دن ایک بجے دیپال پور بار روم میں مولانا اللہ وسایا کا بیان ہوا۔ اسی روز عصر کے بعد جناب غلام عباس تمنا ایڈووکیٹ کے مکان پر شہر کے علماء کرام کا اجلاس زیر صدارت حضرت مولانا انور شاہ بخاری خطیب جامع شاہی مسجد دیپالپور منعقد ہوا۔ تمام مکاتب فکر کے علماء کرام نے شرکت کی۔ مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کے بیانات ہوئے۔ اجلاس میں طے کیا گیا کہ آنے والے جمعہ پر شہر کی تمام مساجد میں مسئلہ ختم نبوت پر بیانات ہوں گے۔ اسی روز بعد نماز مغرب جامعہ اشاعت العلوم حویلی لکھا میں جناب ذوالفقار خان کی صدارت میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ مولانا عبدالرزاق مجاہد،
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۱ء
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مولانا ندیم سرور، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب کے بیانات ہوئے۔ کانفرنس رات گئے تک کامیابی کے ساتھ جاری رہی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۰۱ء ص ۵۶، ۵۷)
مسجد خلفاء راشدین میں پہلا سہ روزہ رد قادیانیت کورس
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اس سال گوجر خان میں پہلی مرتبہ بتاریخ ۲۲، ۲۳، ۲۴؍جون ۲۰۰۱ء کو رد قادیانیت کورس ترتیب دیا گیا۔ حضرت مولانا اللہ وسایا مرکزی مبلغ مجلس تحفظ ختم نبوت نے خصوصی شفقت فرماتے ہوئے وقت مرحمت فرمایا۔ اس سلسلے میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گوجر خان کے احباب اور راولپنڈی کے مبلغ مولانا مفتی محمود الحسن صاحب نے خصوصی محنت فرمائی۔ سارے شہر میں دعوتی ہینڈ بل، مساجد میں اعلانات کرائے گئے۔ سکول کے طلباء کو کورس میں شرکت کی دعوت دی گئی۔
۲۲؍ جون بروز جمعہ بعد نماز عصر کورس کی پہلی نشست حضرت مولانا مفتی محمود الحسن صاحب نے پڑھائی۔ حاضرین کی کثیر تعداد میں اکثریت طلباء کی تھی۔
۲۳، ۲۴؍ جون کو کورس کی دوسری نشست سے شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب دامت برکاتہم نے خطاب کیا اور اپنے مخصوص انداز میں عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت، مرزا غلام احمد قادیانی کے باطل عقائد، ظہور مہدی، حیات عیسیٰ علیہ السلام، نزول عیسیٰ علیہ السلام، خروج دجال پر روشنی ڈالی۔ گوجر خان میں یہ پہلا پروگرام تھا مگر ختم نبوت کے محافظ غیرت مند مسلمانوں نے بہت بڑی تعداد میں شرکت کر کے اس پروگرام کو کامیاب بنایا۔ اللہ رب العزت کورس کے شرکاء اور کورس کے انعقاد میں کسی بھی قسم کے تعاون کرنے والے حضرات کو جزائے خیر عطا فرمائیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۰۱ء ص ۵۸)
ساتویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس گوجر خان
۲۴؍ جون ۲۰۰۱ء بروز اتوار بعد نماز عشاء رد قادیانیت کورس کے آخری روز بعد نماز عشاء جامع مسجد خلفائے راشدین کے متصل حیات سر روڈ پر ساتویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ حضرت مولانا سید عطاء المہیمن شاہ بخاری دامت برکاتہم اور شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا دامت برکاتہم نے اپنے مخصوص انداز میں خطاب کیا۔ دونوں حضرات نے نہایت عام فہم انداز میں ختم نبوت پر دلائل دیئے۔ کانفرنس کی اختتامی دعا صدر مجلس حضرت مولانا عزیز الرحمن ہزاروی صاحب دامت برکاتہم خلیفہ مجاز حضرت شیخ الحدیثؒ نے نہایت رقت آمیز انداز میں کرائی۔ ان دونوں پروگراموں میں سرمایہ اہل سنت، یادگار اسلاف، عالم باعمل حضرت مولانا عبدالمتین صاحب دامت برکاتہم کی خصوصی سرپرستی حاصل رہی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۰۱ء ص ۶۰)
تیسرا رد قادیانیت تربیتی کورس چونڈہ
حضرت مولانا محمد انور انصر کی تجویز پر ۲۵، ۲۶؍ جون ۲۰۰۱ء کو جامع مسجد شاہ فیصل چونڈہ میں دو روزہ رد قادیانیت تربیت کورس رکھا گیا۔ کورس کو کامیاب بنانے کے لئے مجلس کے مبلغین حضرت مولانا غلام مصطفیٰ صاحب اور حضرت مولانا محمد طیب صاحب فاروقی ۲۱؍ جون کو چونڈہ پہنچے اور چونڈہ کے ان دیہاتوں کا جہاں جہاں قادیانیت کے اثرات ہیں دورہ کر کے مقامی خطباء و اساتذہ اور طلباء کو اس کورس میں شرکت کی دعوت دی۔
نشست اوّل کا آغاز ۲۵؍ جون بروز سوموار بعد نماز عصر تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔ حضرت مولانا محمد اسماعیل صاحب شجاع
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
آبادی نے بڑے مدلل انداز میں مرزا غلام احمد قادیانی کی جھوٹی پیش گوئیوں پر روشنی ڈالی کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی ایک بات بھی سچی ثابت نہیں ہوئی۔ اس نشست میں سید پیر شبیر احمد گیلانی امیر مجلس تحفظ ختم نبوت سیالکوٹ نے خصوصیت سے شرکت کی۔ نشست دوم کا آغاز ۲۵؍ جون بروز سوموار بعد نماز مغرب ہوا جس میں شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب مدظلہ نے بڑے خوبصورت انداز میں نبی اکرم ﷺ کی سیرت مبارکہ کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی اور ساتھ ساتھ مرزا غلام احمد قادیانی کی زندگی کے غلیظ کردار سے بھی سامعین کو آگاہ کیا۔ نشست سوم کا آغاز ۲۵؍ جون جامع مسجد حنفیہ محلہ شیخان میں بعد نماز عشاء ہوا جس سے مولانا اللہ وسایا صاحب مدظلہ نے سیرت طیبہ پر خطاب فرمایا اور ساتھ ہی عوام سے ہاتھ بلند کرا کے وعدہ لیا کہ وہ قادیانیوں کا مکمل بائیکاٹ کریں گے اور مسئلہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے ہمہ وقت تیار رہیں گے۔ نشست چہارم کا آغاز ۲۶؍ جون ۲۰۰۱ء بروز منگل بعد نماز عصر تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے حیات عیسیٰ علیہ السلام پر بڑے عالمانہ، فاضلانہ اور مناظرانہ انداز میں دلائل بیان کئے اور واضح کیا کہ قرآن وحدیث کی روشنی میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں پر زندہ ہیں اور قرب قیامت میں زمین پر نازل ہوں گے۔ اس سلسلے میں انہوں نے قادیانیوں کے پیدا کردہ تمام شکوک وشبہات کے مفصل جوابات دیئے۔ نشست پنجم کا آغاز ۲۶؍ جون ۲۰۰۱ء بعد نماز مغرب تلاوت قرآن کریم سے ہوا جس میں قاری محمد انور انصر کے بیٹے حافظ یاسر ابرار نے قرآن شریف حفظ کرنے کی سعادت حاصل کی۔ حضرت مولانا مفتی رشید احمد قادری مدظلہ نے فضائل قرآن مجید پر بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے فرمان کے مطابق بہترین شخص وہ ہے جو قرآن شریف پڑھے اور پڑھائے۔ حضرت مفتی صاحب نے بڑے علمی انداز میں بیان فرمایا اور مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کو قرآن شریف کی تعلیم ضرور دلوائیں۔ یوں دو روزہ تربیتی پروگرام حضرت مفتی صاحب کی دعا پر ختم ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۰۱ء ص ۵۹، ۶۰)
کنڈیارو میں ختم نبوت کنونشن
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کنڈیارو کی طرف سے ایک روزہ تربیتی کنونشن جامع مسجد کنڈیارو میں منعقد ہوا۔ کنونشن سے شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ادریس سومرو، ختم نبوت کنڈیارو کے حافظ علی اکبر پیرزادہ، محمد یاسین قریشی، محمد عطاء اللہ پیرزادہ، محمد رمضان خاص خیلی اور دیگر نے خطاب کیا۔ مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کنڈیارو، محبت ڈیرو اور کمال ڈیرو میں قادیانیوں کی بڑھتی ہوئی تبلیغی سرگرمیوں پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی انسانی ہمدردی کی آڑ میں کفر پھیلا رہے ہیں۔ سندھ کے پسماندہ علاقوں میں غریب مسلمانوں کو پیسوں کا لالچ دے کر مرتد بنا رہے ہیں۔ مقررین نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ قادیانیوں کی بڑھتی ہوئی تبلیغی سرگرمیوں کو روکے ورنہ تمام تر حالات کی ذمہ داری انتظامیہ پر ہوگی۔ آخر میں تمام مسلمانوں سے سماجی بائیکاٹ کی اپیل کی۔ اجلاس کے آخر میں ختم نبوت بلوچستان کے امیر مولانا منیر الدین کے لئے دعائے مغفرت کی گئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۰۱ء ص ۵۷)
مولانا فقیر اللہ اختر اور مولانا غلام مصطفیٰ کا تبلیغی دورہ حافظ آباد
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ڈویژنل مبلغ مولانا فقیر اللہ اختر نے حافظ آباد کا تبلیغی دورہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ قادیانیت کا زوال شروع ہو چکا ہے۔ اب بڑی تعداد میں مرزائی دوبارہ ختم نبوت کو گلے سے لگا رہے ہیں۔ دریں اثناء مولانا فقیر اللہ اختر اور چناب نگر کے مبلغ مولانا غلام مصطفیٰ نے سیالکوٹ، نارووال، شکرگڑھ، ظفروال، چونڈہ، دولم کاہلوں، رائے پور، بھلور، پنڈی بھٹیاں اور معراج کے کا دورہ بھی کیا۔ دونوں مبلغین نے مساجد میں خطاب کے علاوہ اساتذہ، طلباء علماء اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد سے تفصیلی
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ملاقاتیں کیں اور انہیں قادیانیت کے فریب سے متعلق آگاہ کیا۔ انہوں نے دولم کاہلوں میں قادیانیوں کی سرگرمیوں کا نوٹس لیا اور وہاں ختم نبوت دفتر کے لئے نوجوانوں کو تحریک دی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۰۱ء ص ۵۸، ۵۹)
سالانہ ختم نبوت کانفرنس گلاسکو
جامع مسجد مرکزی گلاسکو کے زیر اہتمام سالانہ ختم نبوت کانفرنس ۲۹؍جولائی ۲۰۰۱ء کو منعقد ہوئی۔ صدارت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم نے کی۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض جناب صابر علی صاحب آف گلاسکو نے انجام دیئے۔ حرم کعبہ کے مدرس حضرت مولانا محمد مکی حجازی، حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔ کانفرنس مثالی طور پر کامیاب رہی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ماہ ستمبر ۲۰۰۱ء ص ۵۸)
ختم نبوت کانفرنس شجاع آباد
شجاع آباد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام خطیب پاکستان حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی کی یاد میں جامع مسجد مدنی میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت مولانا زبیر احمد صدیقی نے کی، جب کہ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے سرانجام دیئے۔
کانفرنس سے تنظیم اہل سنت پاکستان کے صدر مولانا عبدالستار تونسوی، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری، مرکزی مبلغین مولانا خدا بخش، حافظ احمد بخش، مجلس علماء اہل سنت کے ناظم اعلیٰ مولانا عبدالغفور حقانی، مناظر اسلام مولانا محمد امین اوکاڑوی کے شاگرد رشید مولانا محمد اسماعیل محمدی مقامی علماء کرام مولانا محمد عارف لانگ، قاری صدر الدین، مولانا غلام اللہ خان سمیت کئی حضرات نے خطاب کیا۔ کانفرنس عشاء کی نماز کے بعد سے شروع ہو کر صبح ساڑھے تین بجے تک جاری رہی۔
علامہ عبدالستار تونسوی نے مجلس کی خدمات بالخصوص مولانا محمد علی جالندھری کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ جب کہ مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری دامت برکاتہم نے ختم نبوت، تحفظ ختم نبوت، رد مرزائیت، حیات و نزول عیسیٰ علیہ السلام کے موضوعات پر مدلل بیان کیا ایک اور قرارداد میں قادیانی ریاض احمد ملک کو سی بی آر کا چیئرمین مقرر کرنے کی مذمت کی گئی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۷ تا ۲۳؍اگست ۲۰۰۱ء ص ۱۸، ۲۶)
۱۶ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس برمنگھم
اللہ رب العزت کے فضل و احسان سے امسال ۱۶ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس برمنگھم میں ۵؍اگست ۲۰۰۱ء بروز اتوار منعقد ہوئی۔ الحمدللہ! اس سال بھی حسب سابق بڑے تزک و احتشام سے کانفرنس انعقاد پذیر ہوئی۔ کانفرنس کی تیاری کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت برطانیہ کے رہنما مولانا منظور احمد الحسینی، جناب محترم قاری محمد عثمان ایڈووکیٹ، جناب طہٰ قریشی صاحب نے چار ماہ قبل اسلامیان برطانیہ کو دعوت دینے کا عمل شروع کر دیا تھا۔ پاکستان سے حضرت مولانا صاحبزادہ عزیز احمد صاحب، حضرت مولانا مفتی محمد جمیل خان صاحب، حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی نے ڈیڑھ ماہ قبل قریہ قریہ دعوتی تبلیغی اجتماعات سے خطاب کیا۔ امسال حضرت امیر مرکزیہ شیخ المشائخ حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم ڈیڑھ ماہ قبل برطانیہ تشریف لائے۔ آپ کی قیادت باسعادت میں لندن سے گلاسکو تک ہر چھوٹے بڑے برطانوی شہر کا تبلیغی دورہ ہوا اور یوں کانفرنس سے قبل اسلامیان برطانیہ کو ختم نبوت کانفرنس برطانیہ میں شمولیت
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کے لئے تحریکی انداز میں تیار کیا گیا۔ چنانچہ ۵؍اگست کو جب کانفرنس منعقد ہوئی تو سامعین و حاضرین کا جوش و جذبہ قابل دید تھا۔
پہلا اجلاس حسب پروگرام صبح دس بجے شروع ہوا۔ اس اجلاس کی صدارت حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم نے کی اور مہمان خصوصی وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے صدر اور جامعہ فاروقیہ کراچی کے شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب مدظلہ تھے۔ اس اجلاس سے قاری عبد المالک، مولانا عبد الغفور حیدری ناظم عمومی جمعیت علماء اسلام پاکستان، مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر رئیس جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی، حضرت مولانا منظور احمد الحسینی، حضرت مولانا سعید احمد جلال پوری، مولانا مفتی محمد اسلم ناظم اعلیٰ جمعیت علماء برطانیہ، مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، ناظم اعلیٰ وفاق المدارس پاکستان ورئیس جامعہ خیر المدارس ملتان، مولانا فضل رحیم مہتمم جامعہ اشرفیہ لاہور نے خطاب کیا۔
دوسرا اجلاس بعد از ظہر دوبارہ شروع ہوا جس کی صدارت امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم نے فرمائی جب کہ مہمان خصوصی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر شیخ المشائخ حضرت سید نفیس الحسینی دامت برکاتہم تھے۔ قاری عبدالملک کی تلاوت کے بعد حضرت مولانا صاحبزادہ عزیز احمد نے حضرت امیر مرکزیہ کی نیابت میں صدارتی کلمات ارشاد فرمائے۔ جمعیت علماء اسلام سندھ کے سیکرٹری جنرل مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو، قاری خلیل احمد بندھانی، حاجی عبد الحمید بلجیم، قاری احمد عثمان شاہد ایڈووکیٹ، جناب طہ قریشی، قاری محمد اسماعیل رشیدی، مولانا عبد الرشید ربانی، مولانا مفتی عبید اللہ خالد، قاری فیض اللہ چترالی، مولانا زاہد محمود قاسمی، جناب نذیر احمد غازی ایڈووکیٹ، مولانا عبید الرحمن، علامہ خالد محمود، شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد المجید، مولانا عبد الرزاق رحیمی، حافظ محمد یوسف عثمانی اور دوسرے حضرات نے خطاب کیا۔
ختم نبوت کانفرنس برمنگھم کی کامیابی پر اظہار تشکر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ شیخ المشائخ حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم، نائب امیر مرکزیہ حضرت سید نفیس الحسینی شاہ صاحب مدظلہ، مولانا محمد اکرم طوفانی، صاحبزادہ عزیز احمد، مولانا منظور احمد الحسینی، مفتی محمد جمیل خان، علامہ خالد محمود سومرو، ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر، صاحبزادہ سعید احمد، مولانا عبد المجید فاضل دیوبند، مولانا عزیز الرحمن رحمانی، مولانا سعید احمد جلال پوری، مولانا قاری خلیل احمد بندھانی، قاری فیض اللہ چترالی، حافظ احمد عثمان شاہد ایڈووکیٹ، مولانا بلال پٹیل، مولانا عبید الرحمن، حافظ عبد القدیر، مولانا اسماعیل رشیدی، حافظ محمد مکین، قاری عبد الملک، مولانا ہارون گجراتی، سید عمران زکی، محمد فیصل، محمد فیروز، مولانا محمد یوسف عثمانی، عتیق انور، مفتی سہیل احمد، مفتی محمد اسلم، قاری محمد ہاشم، مولانا شمس الحق مشتاق، مولانا طاہر خان سویڈن، قاری عبد الحمید، ملک افضل بلجیم، مولانا مشتا ق الرحمن جرمنی، مولانا بشیر احمد، شاہد محمود، مولانا طارق مشتاق ناروے نے سولہویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس برمنگھم کی شاندار کامیابی اور یورپ کی کانفرنسوں کی کامیابی پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے برطانیہ، سویڈن، بلجیم، فرانس، ہالینڈ کے علماء کرام اور مشائخ عظام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کانفرنس کی کامیابی عقیدہ ختم نبوت سے مسلمانوں کی وابستگی اور حضور ﷺ سے محبت وعقیدت کی واضح دلیل ہے۔ ان علماء کرام نے جمعیت علماء برطانیہ، جمعیت اتحاد المسلمین، جامعہ دار العلوم والہدیٰ، دارالعلوم بری، مجلس دعوۃ الحق، دارالعلوم لندن، اسلامک دعویٰ اکیڈمی اور برطانیہ کی تمام مساجد کے علماء کرام اور کمیٹیوں کے افراد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپیل کی کہ وہ ابھی سے ۴؍اگست ۲۰۰۲ء کو ہونے والی ختم نبوت کانفرنس برمنگھم کی کامیابی کے لئے کام شروع کر دیں اور دنیا میں جہاں کہیں بھی قادیانی اسلام کے خلاف کام کر رہے ہیں ان کا تعاقب کرنے میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سے تعاون کریں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۰۱ء ص ۵۶، ۵۷)
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
رد قادیانیت کورس بہاول پور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامع مسجد اشرف غلہ منڈی بہاول پور میں ۷ تا ۹ اگست ۲۰۰۱ء تک تین روزہ رد قادیانیت کورس منعقد ہوا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بزرگ رہنما مولانا خدا بخش، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا محمد اسحق ساقی نے مختلف عنوانات پر لیکچر دیئے۔ مکہ مکرمہ جامعہ صولتیہ کے استاذ الحدیث حضرت مولانا سیف الرحمن نے اختتامی خطاب اور دعا فرمائی۔ کورس میں مدارس عربیہ، سکولز اور کالجز کے طلباء، سرکاری ملازمین، تاجر برادری اور عوام کی بہت بڑی تعداد نے تینوں روز کورس میں شرکت کر کے فتنہ قادیانیت کی سنگینی سے آگاہی حاصل کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۰۱ء ص ۵۹)
حضرت مولانا خدا بخش کا تبلیغی دورہ راولپنڈی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بزرگ راہنما حضرت مولانا خدا بخش نے ۱۰ اگست ۲۰۰۱ء سے ۱۵ اگست ۲۰۰۱ء تک راولپنڈی کا دورہ کیا۔ جہاں آپ نے مختلف اجتماعات سے خطاب کیا۔ مختلف مساجد اور مدارس میں آپ کے رد قادیانیت پر تربیتی بیانات ہوئے۔ ان پروگراموں میں راولپنڈی کے مبلغ حضرت مولانا مفتی محمود الحسن اور اسلام آباد کے مبلغ حضرت مولانا مفتی محمد خالد میر آپ کے ہمراہ رہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۰۱ء ص ۵۸)
حضرت امیر مرکزیہ کی وطن واپسی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ مخدوم المشائخ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم برطانیہ کے تبلیغی دورہ اور ختم نبوت کانفرنس برمنگھم میں شرکت کے بعد عمرہ کے لئے سعودی عرب تشریف لے گئے۔ عمرہ سے فراغت کے بعد ۱۱ اگست ۲۰۰۱ء کو شام چار بجے پاکستان تشریف لائے۔ مولانا محمد اکرم طوفانی، صاحبزادہ سعید احمد بھی آپ کے ہمراہ تشریف لائے۔ صاحبزادہ عزیز احمد، صاحبزادہ رشید احمد، صاحبزادہ نجیب احمد ایک روز پہلے تشریف لائے۔
۱۴ اگست کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا محمد اکرم طوفانی اور مولانا اللہ وسایا کے ہمراہ خانقاہ سراجیہ تشریف لے گئے، جہاں حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم سے جماعتی امور پر مشاورت ہوئی۔
یاد رہے کہ حضرت امیر مرکزیہ ۶ ستمبر کوہاٹ، ۷ ستمبر پشاور، ۸ ستمبر ہری پور، ۹ ستمبر لاہور، ۱۰ ستمبر گوجرانوالہ میں ختم نبوت کانفرنسوں کی صدارت فرمائیں گے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ماہ ستمبر ۲۰۰۱ء ص ۵۸)
فتح اسلام کانفرنس بمقام قصبہ ڈاور نزد چناب نگر
قصبہ ڈاور چناب نگر میں آج سے ۱۲، ۱۳ سال قبل قادیانیوں نے مسلمانوں کو مناظرہ کا چیلنج دیا پھر خود راہ فرار اختیار کر کے شکست اور ہزیمت کی ذلت اٹھائی۔ اللہ تعالیٰ نے قادیانی کفر کے مقابلے میں مسلمانوں کو سرخروئی بخشی۔ اس موقع کی مناسبت سے ہر سال ۱۹ اگست کو موضع ڈاور میں فتح اسلام کانفرنس کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ یہ کانفرنس اس دفعہ بڑی شان وشوکت سے منعقد ہوئی۔ جس میں مولانا غلام مصطفیٰ مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، مولانا قاضی عبداللہ، مولانا خان عابد حسین اور مولانا مغیرہ کے ایمان پرور بیانات ہوئے۔ اس جلسہ کی صدارت مہر محمد سالک نے کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۰۱ء ص ۵۷)
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس میر پور خاص
۱۹ اگست ۲۰۰۱ء کی شب کو سیٹلائٹ ٹاؤن میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس زیر نگرانی نوجوان خطیب مولانا منیر احمد طارق حسین کی سرپرستی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مولانا فیض اللہ نے کی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے رہنما مولانا نذیر احمد تونسوی، قاضی احسان احمد، مولانا محمد علی صدیقی، مولانا راشد مدنی کے علاوہ مدرسہ الحسینیہ شہداد پور کے مہتمم خطیب مولانا محمد یوسف بہاول پوری، مولانا محمد اصغر کرنالوی، مولانا مفتی عبداللہ انور، مولانا محمد عبداللہ، مولانا حفیظ الرحمن رحمانی، حافظ محمد یامین، مولانا مجیب الرحمن اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کنری مسجد کے خطیب مولانا عبدالستار نے خطاب کیا۔ علماء کرام نے اس کانفرنس میں مسئلہ ختم نبوت، حیات عیسیٰ علیہ السلام، ظہور مہدی علیہ الرضوان اور قادیانی عقائد پر تفصیل سے بیان کیا اور ثابت کیا کہ جہاں قادیانی ختم نبوت کے منکر ہیں وہاں جہاد کے بھی منکر ہیں۔ ان علماء کرام نے حکومت سے اپیل کی کہ قادیانی ختم نبوت کے انکار کے ساتھ جہاد کے بھی منکر ہیں۔ ان کو فوری طور پر کلیدی عہدوں سے برطرف کیا جائے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۷ تا ۱۳ ستمبر ۲۰۰۱ء ص ۲۶)
حضرت مولانا محمد اسماعیل کا تبلیغی دورہ سندھ
مولانا موصوف نے ماہ رواں کے درمیانی عشرے میں جنوبی سندھ کا مفصل تبلیغی دورہ کیا۔ موصوف ۱۰ / اگست ۲۰۰۱ء بروز جمعہ گولارچی پہنچے اور ۲۰ اگست تک موصوف نے مختلف مقامات پر تبلیغی اجتماعات سے خطاب کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ موصوف نے مدارس عربیہ میں طلباء کرام کو رد قادیانیت پر لیکچر دیئے۔ ان دس ایام میں موصوف گولارچی چک نمبر ۵۴، بدین، کھوسکی، شادی لارج، ماتلی، ٹنڈو غلام علی، کنری، ڈگری کے مقامات پر مسئلہ ختم نبوت، نزول عیسیٰ علیہ السلام، ظہور مہدی علیہ الرضوان کے عنوانات پر مفصل خطابات ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۰۱ء ص ۶۰، ۶۱)
رد قادیانیت کورس ژوب کے نتائج
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ژوب بلوچستان میں ۲۲ تا ۲۸ اگست ۲۰۰۱ء رد قادیانیت کورس مدرسہ شمس المدارس ژوب میں منعقد ہوا۔ جس میں ۱۱۷ حضرات علماء کرام و طلباء عظام نے شرکت فرمائی۔ حضرت مولانا خدا بخش شجاع آبادی و حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی مرکزی رہنمایان عالمی مجلس کے شب روز لیکچرز ہوئے۔ آخری دن امتحان ہوئے تمام شرکاء نہ صرف امتحانات میں شریک ہوئے۔ ان کے پرچے ملتان دفتر مرکزیہ آئے ان کی نمبرنگ ہوئی۔ حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم، حضرت ناظم اعلیٰ مدظلہ اور اساتذہ کے دستخطوں سے سندات کا اجراء ہوا۔ رول نمبر ۶۲ سید محبوب شاہ صاحب نے سو فیصد نمبر لے کر اوّل، رول نمبر ۱۵ جناب شمس الحق صاحب نے ۹۰ نمبر لے کر دوم اور رول نمبر ۶۴ نے ۸۴ نمبر لے کر تیسری پوزیشن حاصل کی۔ ذیل میں تفصیل ملاحظہ ہو:
رول نمبر نام ضلع رول نمبر نام ضلع ۱ نصیب اللہ ژوب ۲ عبدالصمد ژوب ۳ عبدالقیوم ژوب ۴ عبدالودود ژوب ۵ ہاشم خان ژوب ۶ سید طاہر شاہ ژوب ۷ عجب گل ژوب ۸ محمد سلیمان ژوب
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۹ عبدالعزیز ژوب ۱۰ عبداللہ ژوب ۱۱ احمد کتبرئی ژوب ۱۲ سردار خان ژوب ۱۳ عبداللہ ژوب ۱۴ صلاح الدین ژوب ۱۵ شمس الحق ژوب ۱۶ احوال خان ژوب ۱۷ محمد طاہر خان ژوب ۱۸ خان محمد ژوب ۱۹ عبدالعلی ژوب ۲۰ عبدالسلام ژوب ۲۱ شہباز خان ژوب ۲۲ موسیٰ کلیم ژوب ۲۳ حضرت گل ژوب ۲۴ محمد سلیمان ژوب ۲۵ روزی خان ژوب ۲۶ عبدالرحمٰن ژوب ۲۷ شاہ کرم ژوب ۲۸ محمد شاہ الرحمٰن ژوب ۲۹ شمس العارفین ژوب ۳۰ سید منیر شاہ ژوب ۳۱ ولی خان ژوب ۳۲ عبدالحکیم ژوب ۳۳ محمد شفیق ژوب ۳۴ عنایت الرحمٰن ژوب ۳۵ حیات خان ژوب ۳۶ شمس الدین ژوب ۳۷ عبداللہ ژوب ۳۸ زین اللہ ژوب ۳۹ شفیع اللہ ژوب ۴۰ بسم اللہ ژوب ۴۱ حبیب اللہ ژوب ۴۲ شیر محمد ژوب ۴۳ محمد ابراہیم ژوب ۴۴ منیر احمد ژوب ۴۵ محمد حنیف ژوب ۴۶ سید ابوالحسین شاہ بخاری ژوب ۴۷ سقر خان ژوب ۴۸ محمد حلیم ژوب ۴۹ سمیع اللہ ژوب ۵۰ طاہر خان ژوب ۵۱ اللہ نور ژوب ۵۲ شیر حسن ژوب ۵۳ محمد اسلم ژوب ۵۴ عزیز اللہ ژوب ۵۵ صدر الدین ژوب ۵۶ حفیظ الرحمٰن ژوب ۵۷ نقیب اللہ ژوب ۵۸ عبدالقیوم ژوب ۵۹ محمد اسلم ژوب ۶۰ غلام رسول ژوب ۶۱ حبیب الرحمٰن ژوب ۶۲ محبوب شاہ ژوب ۶۳ محمد رضوان ژوب ۶۴ محمد احسان ژوب
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۶۵ شاہ ولی ژوب ۶۶ محمد نظر ژوب ۶۷ محمد حسن ژوب ۶۸ وزیر محمد ژوب ۶۹ محمد ایوب ژوب ۷۰ عبد خان ژوب ۷۱ محمد نسیم ژوب ۷۲ کلیم اللہ ژوب ۷۳ فیض اللہ ژوب ۷۴ عبدالحلیم ژوب ۷۵ محمد اخلاص ژوب ۷۶ شمس الحق ژوب ۷۷ سعید خان ژوب ۷۸ محمد جان ژوب ۷۹ سعد اللہ ژوب ۸۰ گل حسن ژوب ۸۱ بلوچ خان ژوب ۸۲ سرور خان ژوب ۸۳ حمایت اللہ ژوب ۸۴ عابد الرحمن ژوب ۸۵ محمد رفیق ژوب ۸۶ صلاح الدین ژوب ۸۷ طاہر مسعود ژوب ۸۸ سفر گل ژوب ۸۹ محمد بلال ژوب ۹۰ امیر شاہ ژوب ۹۱ عمران احمد ژوب ۹۲ محمد سلیم خان ژوب ۹۳ عبدالواحد ژوب ۹۴ شاہ محمد متوکل ژوب ۹۵ ضیاء اللہ ژوب ۹۶ داد اللہ ژوب ۹۷ عبداللطیف ژوب ۹۸ احسان اللہ ژوب ۹۹ عبداللہ قریشی ژوب ۱۰۰ عبدالکریم قلعہ سیف اللہ ۱۰۱ سید محمد رمضان ژوب ۱۰۲ محمد یار ژوب ۱۰۳ قطب الدین ژوب ۱۰۴ ثناء اللہ ژوب ۱۰۵ نعمت اللہ ژوب ۱۰۶ شمس الدین ژوب ۱۰۷ اللہ داد ژوب ۱۰۸ عبدالصمد ژوب ۱۰۹ مطیع اللہ ژوب ۱۱۰ ۱۱۱ حبیب اللہ ژوب ۱۱۲ سیف اللہ ژوب ۱۱۳ محمد اللہ فاروقی ژوب ۱۱۴ عین اللہ ژوب ۱۱۵ کلیم اللہ ژوب ۱۱۶ اختر محمد ژوب
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۰۲ء ص ۵۵ تا ۶۰)
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
یوم ختم نبوت قبائلی علاقہ جات میں
پشاور کی طرح کوہاٹ میں یوم ختم نبوت کے سلسلے میں ۶؍ ستمبر بروز جمعرات ایک بہت بڑا جلسہ عام منعقد ہوا۔ جس کی صدارت بھی امیر مرکزیہ دامت برکاتہم نے فرمائی۔ مقامی علماء کے علاوہ حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب کا اس اجتماع میں تحفظ ختم نبوت کی طویل جدوجہد کی تاریخی سرگزشت پر مفصل خطاب ہوا۔ نیز پورے صوبہ سرحد اور ملحقہ قبائلی علاقوں میں بھی اجتماعات ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۰۱ء ص ۵۹)
یوم ختم نبوت گوجرانوالہ
گوجرانوالہ میں یوم ختم نبوت کے سلسلہ میں تمام مساجد میں مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت اور مسلمانوں کے خلاف قادیانیوں کی ریشہ دوانیوں پر مفصل خطابات ہوئے۔
۷؍ ستمبر یوم ختم نبوت کے سلسلہ میں ایک خصوصی تقریب بخاری ہال دفتر تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ میں منعقد ہوئی، جس میں خطیب شہر مولانا زاہد الراشدی، جناب احسان الواحد، حافظ محمد ثاقب، سید احمد حسین زید، ڈاکٹر غلام محمد، میاں محمد اسماعیل اختر، مولانا فقیر اللہ اختر اور ختم نبوت کے دیگر رفقاء نے شرکت کی۔ مولانا زاہد الراشدی نے اپنی گفتگو میں فرمایا کہ قادیانیوں نے دل و زبان سے آج تک پاکستان کو تسلیم نہیں کیا۔ مرزا طاہر قادیانی لندن میں بیٹھ کر دستور پاکستان، نظریہ پاکستان اور سالمیت پاکستان کے خلاف مسلسل سازشوں میں مصروف ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ قادیانیت کے حوالے سے ہم بہت اہم مقام پر کھڑے ہیں۔ اس وقت محب وطن تمام سیاسی اور مذہبی رہنماؤں پر یہ عظیم ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ حالات کے پیش نظر جذبات سے بالاتر ہو کر دفاع ختم نبوت اور دفاع پاکستان کی بھر پور جدوجہد کریں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۰۱ء ص ۵۹، ۶۰)
صوبہ سندھ میں یوم ختم نبوت
صوبہ سندھ کے مختلف مقامات پر ۷؍ ستمبر ۲۰۰۱ء بروز جمعہ عام شہروں میں علماء کے خصوصی بیانات ہوئے۔ سکھر مرکزی جامع مسجد میں مولانا خلیل احمد منزل گاہ سکھر میں شیخ الحدیث مولانا مراد صاحب، مینارہ مسجد میں مولانا محمد حسین ناصر، نواب شاہ ریلوے مسجد میں مولانا ارشد صاحب، جامع مسجد ٹنڈو آدم میں علامہ احمد میاں حمادی، حیدرآباد میں علامہ نذر، گولارچی جامع مسجد میں مولانا محمد علی، بخاری مسجد میں مولانا عبدالستار اور جامع مسجد کنڈیارو میں مولانا راشد مدنی نے خصوصیت کے ساتھ اپنے خطابات میں تحریک ختم نبوت کی جدوجہد پر روشنی ڈالی اور موجودہ صورتحال میں قادیانیوں کی تبلیغ کے نام پر خطرناک سرگرمیوں پر عوام کو متوجہ کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۰۱ء ص ۶۰)
یوم ختم نبوت
۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء اسلامیان پاکستان کے لئے ایک یادگار تاریخی دن کی حیثیت رکھتا ہے۔ آج سے ۲۷ سال قبل اس تاریخ کو قومی اسمبلی پاکستان نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا تھا۔ حسن اتفاق سے اس سال ۷؍ ستمبر کو جمعۃ المبارک کا دن تھا۔ امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم اور نائب امیر مرکزیہ حضرت مولانا سید نفیس الحسینی دامت برکاتہم کی اپیل پر یہ یادگار تاریخی دن یوم ختم نبوت کے طور پر منایا گیا۔ پشاور سے لے کر کراچی تک ملک کے تمام بڑے شہروں میں خطبات جمعہ پر مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت اور
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیانیت کے کفریہ عقائد پر علماء اور خطباء کے مفصل بیانات ہوئے جس میں عوام کو باہم متفق رہنے کی ضرورت کا احساس دلایا گیا اور انہیں بتایا گیا کہ موجودہ دور کے ابھرنے والے فتنوں میں عیسائیت، این۔جی۔اوز اور قادیانیت تینوں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف گہری سازشوں میں مصروف ہیں۔ ہر مسلمان کا ان سے ہوشیار رہنا اور حالات پر نظر رکھنا بہت ضروری ہے۔
پشاور میں حضرت امیر مرکزیہ کی تشریف آوری
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت صوبہ سرحد نے ۷ ستمبر ۲۰۰۱ء یوم ختم نبوت کے سلسلے میں پشاور کے تاریخی چوک قصہ خوانی بازار میں ایک عظیم الشان کانفرنس کا اہتمام کیا جس کی صدارت امیر مرکزیہ حضرت مولانا خان محمد صاحب دامت برکاتہم نے کی۔ جس میں مناظر اسلام حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب، حضرت مولانا مفتی مجیب الرحمٰن صاحب، استاذ القراء حضرت مولانا قاری فیاض الرحمٰن صاحب، اور مجاہد ختم نبوت مولانا نور الحق نور صاحب نے خطاب کیا۔ مقررین نے قادیانیت کی تاریخ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ مسلمانان ہند کے دور غلامی میں برطانوی انگریزوں کے زیر سایہ دجال قادیان مرزا غلام احمد قادیانی نے جھوٹا دعویٰ نبوت کر کے قادیانی فتنہ کی بنیاد رکھی۔ آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی کی تحریروں میں اللہ جل شانہ، حضرات انبیاء کرام، رحمت دو عالم ﷺ، صحابہ کرام، اہل بیت اور مسلمانان عالم کے متعلق نہایت توہین آمیز کفریہ الفاظ لکھے ہیں۔ اس فتنے کا آغاز ۱۸۸۰ء سے ہوا جس پر ایک سو چالیس سالہ طویل زمانہ گزر چکا ہے۔ علماء اور مسلمان ہند نے تحریر، تقریر، مناظروں اور مباحثوں کے ذریعہ انگریز کے اس خودکاشتہ پودا کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جس کے نتیجے میں آج سے ۲۷ سال قبل ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کو اپنے کفریہ عقائد کی بناء پر خود مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کو ماننے والے اس کے دونوں گروہ لاہوری مرزائی اور قادیانی مرزائی غیر مسلم اقلیت قرار دیئے گئے۔ امت مسلمہ کی قربانیاں بارگاہ رب العزت میں قبول ہوئیں۔ اس کامیابی پر ہم اپنے رب کریم کے حضور سربسجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو فتنہ قادیانیت سے محفوظ رکھے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۰۱ء ص ۵۸، ۵۹)
پشاور کی چالیس مساجد میں ختم نبوت کی صدائیں
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پشاور کے اکابرین جناب حاجی نظام اللہ خان صاحب، جناب حاجی عنایت اللہ خان نے حضرت مولانا نور الحق نور صاحب سیکرٹری مجلس تحفظ ختم نبوت پشاور کی رہنمائی میں پشاور شہر اور کینٹ کی چالیس مساجد میں ماہ ستمبر میں یوم ختم نبوت کے حوالہ سے ختم نبوت کے موضوع پر اجتماعات منعقد کئے۔ جامع مسجد مولانا فضل حق، جامع مسجد حافظ چپل، جامع مسجد گل بہار، جامع مسجد سبزی منڈی، جامع مسجد بلال، جامع مسجد عثمان، جامع مسجد حمزہ، جامع مسجد مدینہ، جامع مسجد میونسپل، جامع مسجد النور، جامع مسجد کاکڑاں، جامع مسجد خیر اللہ، جامع مسجد مکی، جامع مسجد کاکی جان، جامع مسجد گنج علی، جامع مسجد چوک، جامع مسجد مہابت خان، جامع مسجد سراجاں، جامع مسجد پیر گلاب، جامع مسجد اشرفیہ، جامع مسجد میاں فیصل، جامع مسجد مینا بازار، جامع مسجد میاں غلام، جامع مسجد فاروق اعظم، جامع مسجد سکندر پورہ، جامع مسجد گول، جامع مسجد ابن عباس، جامع مسجد تہکال، جامع مسجد دارالقراء، جامع مسجد اسپین، جامع مسجد اڈہ ندر باغ، جامع مسجد مہربانیہ، جامع مسجد ڈگری، جامع مسجد قباء، جامع مسجد نوشو، جامع مسجد حمام گلی، جامع مسجد کھٹے والی، جامع مسجد درویش، جامع مسجد نوتھیہ، جامع مسجد کاکا جھدار میں اجتماعات منعقد ہوئے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا مطبوعہ لٹریچر بھی ہزاروں کی تعداد میں مفت تقسیم کیا گیا۔ اجتماعات میں شامل مسلمانوں نے عقیدہ ختم نبوت کے سلسلہ میں مجلس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ہر قسم کی قربانی اور اپنے مکمل تعاون کا عہد کیا اور مجلس کے قائدین پر اپنے مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۰۱ء ص ۵۸، ۵۹)
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پورے سندھ میں ۷ ستمبر کو ’یوم ختم نبوت‘ بھر پور انداز میں منایا گیا
گولارچی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم کے حکم کے مطابق ۷ ستمبر کو پورے ملک کی طرح پورے سندھ میں خوب جوش و خروش سے منایا گیا۔ علماء کرام، خطباء عظام نے مسئلہ ختم نبوت، تحریک ۱۹۵۳ء، تحریک ۱۹۷۴ء، اور ۱۹۸۴ء پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور قادیانیوں کے غلط عقائد اور اسلام دشمن سرگرمیوں سے آگاہ کیا۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سندھ کے رہنما مولانا احمد میاں حمادی، مولانا راشد مدنی، مولانا محمد طاہر مکی نے ٹنڈو آدم کی مختلف مساجد میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حیدرآباد کے مبلغ مولانا محمد نذر نے حیدرآباد، مولانا خان محمد جمالی نے کمب، مولانا محمد حسین ناصر نے سکھر اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا محمد علی صدیقی نے جامع مسجد مدینہ گولارچی میں جمعہ کے اجتماعات سے خطاب کیا اور ۷ ستمبر کے حوالہ سے عوام الناس کو باخبر کیا۔ اس کے علاوہ ضلع بدین سے مولانا عبدالخبیر ہزاروی، مولانا حکیم مولوی محمد عاشق نقشبندی، مولانا عبدالستار صاحب چاوڑا، مولانا عبدالکریم صاحب، مولانا محمد عبداللہ سندھی، مولانا عبدالحمید حیدری، مولانا فقیرالرحمٰن، حافظ عبدالخالق اور میر پور خاص ضلع سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مولانا فیض اللہ، مولانا شبیر احمد کرنالوی، مفتی عبیداللہ انور، مولانا محمد عبداللہ، مولانا مفتی منیر احمد طارق، حافظ محمد یامین، مولانا عبدالحفیظ سیال، حافظ منظور احمد، مولانا حفیظ الرحمٰن رحمانی، حافظ محمد طاہر، حافظ مولانا عبیداللہ آرائیں، مولانا محمودالحق خیری، قاری افتخار، مولانا محمد ہاشم، حافظ محمد شریف صاحب، منور علی راجپوت، حافظ نسیم احمد، قاری محمد زمان، مجاہد ختم نبوت مولانا محمد ایوب، حافظ منیر احمد تالہی، مولانا عبدالستار، مولانا محمد اختر، مولانا عبدالغفور قاسمی، مولانا ضیاءالرحمٰن، حافظ محمد شوکت، مولانا محمد مراد راہموں، مولانا محمد ہاشم حیدرآباد سے مولانا عبدالسلام قریشی، مولانا سیف الرحمٰن آرائیں، قاری کامران، مولانا جمیل الرحمٰن نوابشاہ، مولانا راشد مدنی، مولانا اسجد مدنی سکھر سے مولانا قاری خلیل احمد، مولانا محمد مراد ہالیجوی کے علاوہ گمبٹ، خیر پور میرس، مورو، دادو، رانی پور، شہداد پور، شکار پور، پنوں عاقل، گھوٹکی کے علاوہ سندھ کے تمام شہروں میں علماء کرام نے مسئلہ ختم نبوت پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے عوام الناس کو آگاہ کیا۔ قادیانی نے اپنی جھوٹی نبوت کا اعلان کر کے نبی بننے کا اعلان کیا تھا اور اس وقت سے پوری امت مسلمہ ان کے خلاف متحد ہے، سب سے پہلے علماء لدھیانہ نے مرزا غلام احمد قادیانی کے کفر کو واضح کیا اور پھر اس کے بعد تکفیر قادیان کے نام سے دارالعلوم دیوبند سے فتویٰ شائع ہوا اور اس کے ساتھ متحدہ ہندوستان میں انگریزی حکومت نے قادیانیوں کی سرپرستی کی تو سید عطاءاللہ شاہ بخاری، مولانا محمد علی جالندھری، شیخ حسام الدین نے مجلس احرار کے پلیٹ فارم سے انگریز اور قادیانیت کا بھر پور مقابلہ کیا اور پورے ہندوستان میں قادیانیت کو ناکوں چنے چبانے پر مجبور کر دیا۔ قادیان ایک اسٹیٹ کی حیثیت رکھتا تھا لیکن سید عطاءاللہ شاہ بخاری نے قادیان میں جا کر قادیانیت کی بیخ کنی کی، ۱۹۴۷ء میں ملک پاکستان وجود میں آیا۔ پاکستان کا پہلا وزیر خارجہ ظفر خان قادیانی کو بنایا گیا، اس نے وزیر ہوتے ہوئے قادیانی جماعت کو پروان چڑھانے کی کوشش کی تو یہ سرفروش علماء کرام میدان میں آئے اور پورے ملک میں قادیانیت کا تعاقب کیا۔ ۱۹۷۴ء میں طویل بحث کے بعد پوری قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۸؍ ستمبر تا ۴؍ اکتوبر ۲۰۰۱ء ص ۲۶)
یوم ختم نبوت لاہور کی پروقار تقریب
۹ ستمبر ۲۰۰۱ء بروز اتوار جامع مسجد عائشہ مسلم ٹاؤن لاہور میں یوم ختم نبوت کے سلسلہ میں مجلس کے روح رواں اور امیر حاجی بلند اختر صاحب کی زیر نگرانی ایک جلسہ عام کا اہتمام کیا گیا۔ اپنی نوعیت کا یہ منفرد اور کامیاب ترین اجتماع تھا۔ ۱۹۵۳ء میں تحریک ختم نبوت کے
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دوران لاہور کے غیور مسلمانوں نے جنرل اعظم مارشل لاء کا مقابلہ کرتے ہوئے دس ہزار جان نثاران ختم نبوت کی شہادت کا نذرانہ پیش کیا تھا۔ قادیانیوں کو ۱۹۵۳ء کے المناک اور ہولناک واقعہ کے ستائیس سال بعد ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کو جب غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تو اہل لاہور کی شادمانی قابل دید تھی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۰۱ء ص ۵۹)
یوم ختم نبوت بہاول پور
۱۶؍ ستمبر ۲۰۰۱ء بروز اتوار بعد نماز عشاء جامع مسجد الصادق میں ایک عظیم الشان سالانہ ختم نبوت کانفرنس ہوئی۔ جس کی صدارت شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمجید صاحب کہروڑ پکا والوں نے کی۔ کانفرنس سے ڈاکٹر خالد محمود سومرو، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اسماعیل، مولانا خدا بخش اور محمد یوسف نے خطاب فرمایا۔ کانفرنس میں موجودہ حالات میں قادیانی گروہ کی سازشوں سے باخبر رہے۔ ساتھ ساتھ حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ امریکی مفادات کے آلہ کار بننے سے ملک وملت کو محفوظ رکھیں۔ طالبان کے تحفظ کی جدوجہد میں فراخ دلی سے شامل ہوں۔ نیز ختم نبوت کے اجتماعات اور بیانات پنجاب کے شہروں میں بڑے اہتمام کے ساتھ ہوئے۔ جس میں قصور، اوکاڑہ، ساہیول، چیچہ وطنی، خانیوال اور رحیم یار خان اجتماعات خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۰۱ء ص ۶۰)
قادیانیت پر تربیتی نشست گوجرانوالہ
جامع مسجد مدنی گوجرانوالہ میں ۱۸، ۱۹، ۲۰؍ ستمبر ۲۰۰۱ء بروز منگل، بدھ، جمعرات بعد نماز عصر تا عشاء سہ روزہ رد قادیانیت تربیتی نشست کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں مولانا اللہ وسایا، مولانا خدا بخش، مولانا محمد اسماعیل کے بیانات ہوئے۔ عوام وخواص کی کثیر تعداد نے اس میں شرکت کی۔ علماء کرام نے اپنے اپنے خطابات میں قادیانیت کے کفریہ عقائد ان کی اسلام دشمن سرگرمیوں کی تاریخی روداد پر روشنی ڈالی اور قرآن وحدیث کے دلائل سے مسئلہ ختم نبوت کی توضیح، سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی حیات ونزول کی تصریحات بیان کیں۔ نیز گوہر شاہی اور یوسف کذاب جیسے نئے فتنوں سے مسلمانوں کو آگاہ کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۰۱ء ص ۶۱)
سالانہ ختم نبوت کانفرنس چوک پرمٹ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مدرسہ عربیہ دارالہدیٰ چوک پرمٹ علاقہ علی پور میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس یکم؍ اکتوبر بروز سوموار منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز صبح ۱۰بجے ہوا۔ علاقہ بستی ڈینہ اور گردونواح کی دیگر چھوٹی چھوٹی بستیوں سے کثیر تعداد میں مسلمانوں نے شرکت کی۔ کانفرنس سے حضرت مولانا غلام محمد صاحب شہر سلطان، مولانا محمد مکی صاحب یاکی والی، حضرت مولانا خدا بخش صاحب، حضرت مولانا عبدالخالق صاحب، حضرت مولانا عطاء اللہ صاحب، حضرت مولانا محمد قاسم صاحب کے بالترتیب خطابات ہوئے۔ وقفہ کھانا وقفہ وضو اور دیگر ضروریات کے بعد ۲ بجے اذان اور اڑھائی بجے نماز ظہر ادا کی گئی۔ نماز ظہر کے بعد حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب اور حضرت مولانا عبدالغفور حقانی کے مفصل بیانات ہوئے۔ سامعین نے بڑے ذوق وشوق اور یکسوئی سے علماء کے بیانات سنے۔ کانفرنس کے جملہ انتظامات حاجی بشیر احمد صاحب اور حضرت مولانا عبدالکریم صاحب نے سرانجام دیئے۔ اللہ تعالیٰ حاضرین، سامعین، منتظمین کی تشریف آوری اور علماء کرام کے بیانات کو قبول فرمائے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۰۱ء ص ۵۶)
۲۰ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر
۲۰ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر جامع مسجد ختم نبوت مسلم کالونی میں ۱۱، ۱۲؍ اکتوبر ۲۰۰۱ء بروز جمعرات، جمعہ
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
منعقد ہوئی۔ عالمی حالات کے تناظر میں جس طرح امریکہ نے طالبان حکومت کے خلاف فوجی مہم کا آغاز کر رکھا ہے۔ ہر شخص پریشان اور افسردہ تھا۔ ملک کی پوری فضا عالم کفر کے باہم اتحاد اور مسلمان حکمرانوں کی معنی خیز خاموشی یا طرف داری، افغانستان پر امریکی اور برطانوی افواج کی بمباری اور اس کے لئے پاکستانی حدود کا استعمال حکومتی پالیسی کے خلاف ملک میں عام ہڑتالیں، ہنگامے اور احتجاج ۔ اس کے ساتھ حکومت کی طرف سے دینی جماعتوں کے سربراہوں کی نظر بندیاں اور ضلع بندیاں بے حد اضطراب کا سبب بنی رہیں۔ ان حالات میں کانفرنس کے فیصلے کو بحال رکھنا اور اس کے لئے انتظامات جاری رکھنا بظاہر ناممکن محسوس ہونے لگا۔ اس سلسلہ میں جب حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم اور نائب امیر مرکزیہ دامت برکاتہم سے مشورہ اور رائے دینے کی درخواست کی گئی تو ہر دو بزرگوں نے فرمایا کہ انتظامیہ کی طرف سے کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جا رہی تو مقررین پر پابندیوں کا خیال کئے بغیر کانفرنس ضرور منعقد کر لینی چاہئے ۔
چنانچہ حسب سابق پورے انتظامات کئے گئے۔ الحمد للہ ! سابقہ اجتماعات کی طرح اس سال بھی حاضری اور اجتماع مثالی تھا۔ تمام اجلاس سامعین اور مقررین کے بیانات کے لحاظ سے قابل رشک رہے۔ کانفرنس کا آغاز جمعرات صبح ۱۰ بجے قرآن کریم کی تلاوت اور نعت رسول مقبول سے ہوا۔ حسب روایات پہلا ابتدائی خطاب جس میں مہمانوں کو جلسہ گاہ میں حاضری کی طرف متوجہ کیا گیا حضرت مولانا امام الدین قریشی صاحب کا ہوا۔ ٹھیک ۱۱ بجے حضرت امیر مرکزیہ سٹیج پر تشریف لائے ۔ آپ کی پرسوز دعا سے کانفرنس کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ ظہر سے قبل والی نشست میں مولانا محمد نذر ، حضرت مولانا حافظ محمد اکرم طوفانی ، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ، مولانا خلیل الرحمن خطیب جامع مسجد سکھر کے بیانات ہوئے۔ ایک گھنٹہ وقفہ طعام کے بعد نماز ظہر ادا کی گئی اور اس کے بعد دوسری نشست کا آغاز ہوا جو ۵ بجے نماز عصر تک جاری رہا۔ جس میں مولانا احمد میاں حمادی ٹنڈو آدم، مولانا عبدالواحد صاحب کوئٹہ ، مولانا راشد مدنی ، مولانا حفیظ الرحمن اور مولانا محمد علی صدیقی کے خطابات ہوئے۔ اس نشست میں ختم نبوت کے موضوع پر مفصل خطاب شیخ الحدیث حضرت مولانا شفیق الرحمن درخواستی کا ہوا۔
نشست سوال و جواب: حسب روایات بعد نماز عصر فتنہ قادیانیت کے متعلق مجلس سوال و جواب منعقد ہوئی۔ مجلس سوال و جواب میں حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب، مولانا مفتی محمد جمیل خان صاحب اور حضرت مولانا مفتی حفیظ الرحمن صاحب نے حاضرین کے سوالوں کے جوابات دیئے۔ سوالات میں جہاں قادیانیوں کے پیچیدہ اشکالات پر سوالات ہوئے وہاں نزول سیدنا عیسیٰ علیہ السلام ، ظہور حضرت مہدی علیہ الرضوان، فتنہ دجال، حقیقت یاجوج ماجوج ، دابۃ الارض کی حقیقت ، قرب قیامت میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف عالم کفر کی اجتماعی یلغار پر حضور ﷺ کی پیشگوئیاں اور اپنے بچاؤ کے لئے اسباب کے درجہ میں تدابیر ، کافروں سے تعلقات، قادیانیوں سے لین دین ۔ ایسے دیگر مختلف عنوانات پر سوالات کئے گئے ۔ سوالات کو مولانا مفتی محمد جمیل خان صاحب اور مولانا مفتی حفیظ الرحمن صاحب ترتیب وار حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب کو دیتے رہے۔ سوالوں کے شافی اور تسلی بخش جوابات حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب نے دیئے۔ سوال و جواب کی نشست مغرب تک جاری رہی۔ مغرب تا عشاء وقفہ طعام و ضروریات کے بعد تیسری نشست کا آغاز بعد نماز عشاء ہوا۔ رات کی اس نشست میں شیخ الحدیث حضرت مولانا مراد صاحب سکھر ، جمعیت علماء پاکستان کے رہنما ء سردار محمد خان لغاری، صاحبزادہ طارق محمود، حضرت مولانا میاں محمد اجمل قادری ، جمعیت اہل حدیث کے مولانا ضیاء اللہ شاہ بخاری اور مولانا محمد احمد لدھیانوی جیسے حضرات کے ایمان افروز بیانات ہوئے ۔ رات کی یہ نشست شب ۲ بجے بخیر وخوبی اختتام پذیر ہوئی۔
چوتھی اور آخری نشست : بروز جمعہ صبح ۱۰ بجے چوتھی اور آخری نشست کا آغاز ہوا۔ سندھ کے نامور خطیب مولانا کامران صاحب کا خطاب ہوا۔ ان کے بعد حضرت مولانا مفتی حمید اللہ خان صاحب نیلا گنبد لاہور، حضرت مولانا نور الحق نور اور جماعت اسلامی کے
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
رہنما جناب لیاقت بلوچ صاحب کے بالترتیب خطابات ہوئے۔ اذان اور پندرہ منٹ وضو کے بعد ایک سے دو بجے تک حضرت مولانا عزیز الرحمٰن صاحب جالندھری کا خطاب ہوا۔ ۲ بجے اذان۔ خطبہ جمعہ سنتوں کے بعد حضرت مولانا مخدوم سید عبدالمجید ندیم شاہ صاحب نے خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا جو زیادہ تر قنوت نازلہ کی مسنون دعاؤں پر مشتمل تھا۔ بعد نماز جمعہ ۳ بجے اختتامی کلمات شیخ الحدیث حضرت مولانا نذیر احمد صاحب مہتمم جامعہ امدادیہ فیصل آباد نے ارشاد فرمائے۔
۲۰ سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کی آخری اختتامی اور مفصل تقریر اور خطاب حضرت اقدس مولانا سید عبدالمجید ندیم شاہ صاحب کا ہوا۔ موصوف نے عالمی حالات، کافروں کے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف متحد ہو کر حملہ آور ہونے کی مادی اسباب و علل اور پیش بندی کے طور پر منافقانہ سازش کر کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور پینٹا گون کے از خود غیر فوجی طیاروں سے زمین بوس کرنے کی اپنی مخترعہ سازش کو بے نقاب کرنے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے باہم اتحاد، اتفاق اور ان سنگین حالات میں اللہ تعالیٰ کے حضور سر بسجود ہونے اور گڑگڑانے کی طرف مسلمانوں کو اپنے مخصوص انداز میں توجہ دلائی۔ یوں یہ کانفرنس بخیر و خوبی سے ہمکنار ہوئی۔ اللہ تعالیٰ اس کاوش اور کوشش و جدوجہد کو قبول فرمائیں اور تمام حاضرین، شرکاء، منتظمین کو اپنی خوشنودی نصیب فرمائیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۰۱ء ص ۵۲ تا ۵۶)
آٹھواں سالانہ رد قادیانیت و عیسائیت کورس چناب نگر اختتامی تقریب سندات
حسب سابق امسال بھی ۵/ شعبان سے ۲۶/ شعبان ۱۴۲۲ھ بمطابق ۲۳/ اکتوبر تا ۱۱/ نومبر ۲۰۰۱ء تک رد قادیانیت و عیسائیت کورس کا عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام چناب نگر مسلم کالونی میں اہتمام کیا گیا۔ وفاق المدارس کے امتحان، رائے ونڈ اجتماع اور افغانستان کی صورتحال پیش نظر اس سال خدشہ تھا کہ شاید کورس کے شرکاء کی تعداد پر یہ عوارض اثر انداز ہوں گے لیکن رب کریم نے کرم و فضل کا معاملہ فرمایا۔ حسب سابق سو سے زیادہ تعداد ہو گئی۔ پہلا عشرہ حضرت مولانا خدا بخش صاحب نے تردید اوہام قادیانیت دربارہ اجرائے نبوت اور حضرت مولانا محمد اسماعیل صاحب نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور کذبات مرزا غلام احمد قادیانی، جامعہ نصرت العلوم گوجرانوالہ کے استاذ الحدیث حضرت مولانا عبدالقدوس قارن نے دو یوم حجیت حدیث پر اور مولانا غلام مرتضیٰ صاحب مدرس جامعہ مدنیہ ڈسکہ نے عیسائیت کے اعتراضات کے جوابات پر لیکچرز دیئے۔ دوسرے عشرے میں مولانا اللہ وسایا نے تینوں موضوعات پر مشتمل کتاب آئینہ قادیانیت پڑھائی۔ جامعہ خیر المدارس ملتان کے شعبہ تخصص دعوت و ارشاد کے صدر حضرت مولانا محمد امین اوکاڑوی کے برادر اصغر حضرت مولانا مفتی محمد انور صاحب نے مسیحی کتب سے بشارات پر لیکچرز دیئے۔ الحاج اشتیاق احمد جھنگ، مجاہد ختم نبوت حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی نے فتنہ قادیانیت موجودہ دور کے تقاضے وکیل ختم نبوت جناب شیخ جہانگیر سرور ایڈووکیٹ سرگودھا نے آئین پاکستان اور فتنہ قادیانیت کے حوالہ سے گفتگو فرمائی۔ امسال عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دو فاضل مبلغین حضرت مولانا فقیر اللہ اختر اور حضرت مولانا محمد طیب فاروقی نے صبح کی نماز کے بعد احادیث مبارکہ دربارہ سیدنا مہدی علیہ الرضوان اور دجال اکبر لعین پر نہ صرف لیکچرز دیئے بلکہ ان کو لکھوایا اور یوں اللہ رب العزت نے فضل کیا کہ اس سفر میں دو نئے رفقاء شریک ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ ان کے علم و فضل میں برکت دے اور مزید تیاری اور محنت کر کے اس کام کو آگے بڑھانے کی توفیق عنایت فرمائے تاکہ آنے والے وقت میں یہ کام کو سنبھال سکیں۔ آمین!
امتحان: ۱۰/ نومبر کو شرکاء کورس کو تیاری امتحان کے لئے وقت دیا گیا۔ ۱۱/ نومبر کو امتحان ہوا۔ امسال ۱۰۲ ساتھیوں نے داخلہ لیا تھا۔ چھ حضرات جن کے رول نمبر یہ ہیں ۹۸، ۸۵، ۸۱، ۷۹، ۷۸، ۳۷ بوجہ کثرت غیر حاضری خارج کر دیئے گئے۔ ۹۶ حضرات نے امتحان
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
میں شرکت کی۔ ان میں سے سات حضرات مطلوبہ نمبر حاصل نہ کر سکے۔ باقی ۸۹ حضرات نے نمایاں نمبروں میں امتحان میں کامیابی حاصل کی۔ پرچہ مولانا عبداللطیف مسعود، مولانا اللہ وسایا صاحب نے ترتیب دیا۔ امتحان کی نگرانی رانا محمد طفیل جاوید، قاری حفیظ اللہ، قاری احمد جان، قاری محمد عابد، قاری محمد رمضان، مدرسین مدرسہ ختم نبوت چناب نگر نے کی۔ گزشتہ سے پیوستہ سال اوّل نمبر آنے والے محترم جناب ماسٹر محمد ناصر صاحب نے نمبرنگ کے فرائض سر انجام دیئے، آخری الوداعی بیان ۱۳/نومبر صبح نماز کے بعد یادگار اسلاف حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری دامت برکاتہم کا ہوا۔ اس سال بھی حسب سابق تمام شرکاء کی عشاء کے بعد رات گئے تک تقریری مشق ہوتی رہی۔ مولانا فقیر اللہ اختر نے اس نظم کی مکمل نگرانی کی۔ تقریروں میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے رفقاء کو خطبات حضرت لدھیانوی اور خطبات محمود مفکر اسلام مولانا مفتی محمود انعام میں دیئے گئے۔
اختتامی تقریب: ۱۳/نومبر ۲۰۰۱ء دس بجے جامع مسجد ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں اختتامی تقریب کا آغاز ہوا۔ شرکاء کورس میں تقریری مقابلہ میں پہلی پانچ پوزیشن حاصل کرنے والے رفقاء کے ابتداء میں بیانات ہوئے۔ مولانا خلیل الرحمن، مولانا محمد صفدر، مولانا مطیع الرحمن اشعر، مولانا طلعت محمود اور تقریری مقابلہ میں اوّل پوزیشن حاصل کرنے والے جناب مولانا محمد راشد مدنی کے ایمان پرور بیانات ہوئے۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض کراچی کے مولانا محمد شکیل نے بطریق احسن سر انجام دیئے۔ اختتامی تقریب میں شرکت کے لیے خصوصی طور پر حضرت شہید اسلام مولانا محمد یوسف لدھیانوی کی نمائندگی کے لئے حضرت مولانا مفتی محمد جمیل خان صاحب کو تکلیف دی گئی تھی۔ آپ نے شرکاء کورس کو پند و نصائح فرمائیں اور مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ آپ کے بیان کے بعد شیخ المشائخ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم نے اپنے مبارک ہاتھوں سے شرکاء کورس کو انعامی کتب اور سندات عنایت فرمائیں۔ حضرت مولانا عبداللطیف مسعود، حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری، حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی، صاحبزادہ عزیز احمد، مولانا مفتی محمد جمیل خان، مولانا غلام مصطفیٰ، قاری عبدالرحمن شاکر، قاری محمد رمضان کتب و سندات دینے کے نظم میں شریک رہے۔ رول نمبر ۴ جناب اطہر علی لاہور نے تیسری، رول نمبر ۱۲ مولانا محمد راشد مدنی رحیم یار خان تقریر میں پہلی اور امتحان میں دوسری اور رول نمبر ۵۶ مولانا مسعود اظہر ساہیوال نے بھی دوسری اور رول نمبر ۶۰ مولانا منور حسین احمد پور شرقیہ ضلع بہاول پور نے پہلی پوزیشن حاصل کی۔ اوّل، دوم، سوم آنے والے حضرات کو نقد انعام اور اضافی کتب بھی ساتھ دی گئیں۔
حفظ القرآن کی سندات: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام کام کرنے والے حفظ وقرات کے مدارس کا مرکزی دفتر کے مدرسہ کے توسط سے وفاق المدارس سے الحاق ہے۔ گزشتہ سال چناب نگر مدرسہ ختم نبوت کے آٹھ طالب علموں نے حفظ القرآن کا امتحان وفاق المدارس سے پاس کیا تھا۔ ان کو مدرسہ اور وفاق المدارس کی سندات حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم نے عنایت فرمائیں۔ (یاد رہے کہ مدرسہ تعلیم القرآن ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں سوا سو سے زیادہ مسافر طالب علم اور اتنے ہی مقامی طلبا و طالبات تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ طالبات کے لئے علیحدہ شعبہ قائم کیا گیا ہے جس میں استانی صاحبہ پڑھاتی ہیں جب کہ حفظ قرآن مجید کے لئے چار کلاسیں بڑی کامیابی سے چل رہی ہیں۔ امسال رمضان المبارک کے بعد دو مزید حفظ کی کلاسوں کے اضافہ کی مجلس نے منظوری دی ہے)
ساڑھے بارہ بجے یہ روح پرور تقریب اختتام پذیر ہوئی۔ حضرت مولانا قاری محمد یعقوب، حضرت مولانا قاری عبید اللہ گورمانی، حضرت مولانا حبیب الرحمن فیصل آباد سے، مولانا حافظ محمد ثاقب، حضرت مولانا سید احمد حسین گوجرانوالہ سے، صاحبزادہ عزیز احمد خانقاہ سراجیہ سے، حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی سرگودھا سے اس اختتامی تقریب میں خصوصیت سے تشریف لائے تھے۔ چناب نگر، چنیوٹ کے
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۱ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
رفقاء کی بھی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم کی تشریف آوری نے کورس کی اس اختتامی تقریب کو صوری اور معنوی طور پر قابل رشک بنادیا۔ فلحمد للہ!
ذیل میں شرکاء کورس کے اسماء گرامی بمع رول نمبر کے ملاحظہ ہوں:
رول نمبر نام ضلع رول نمبر نام ضلع ۱ ڈاکٹر مسعود اختر گوجرانوالہ ۲ محمد رمضان خوشاب ۳ محمد شعیب لاہور ۴ اطہر علی لاہور ۵ اسامہ بن زید گوجرانوالہ ۶ آصف اقبال راولپنڈی ۷ عبدالرزاق مظفر گڑھ ۸ حافظ محمد اشرف بہاول نگر ۹ محمد احمد بہاول پور ۱۰ محمد عرفان غزنوی فیصل آباد ۱۱ محمد ابوبکر جھنگ ۱۲ محمد راشد مدنی رحیم یار خان ۱۳ محمد عثمان سیالکوٹ ۱۴ رائے محمد عثمان شیخوپورہ ۱۵ محمد آصف اوکاڑہ ۱۶ شکیل احمد کراچی ۱۷ طلعت محمود کراچی ۱۸ عمر دراز رانجھا سرگودھا ۱۹ انعام الرحمن گوجرانوالہ ۲۰ محمد زبیر جھنگ ۲۱ سید کامل رضا سرگودھا ۲۲ محمد منور بہاول پور ۲۳ شبیر احمد بہاول پور ۲۴ غلام فرید بہاول پور ۲۵ خالد محمود ملتان ۲۶ سردار عالم چترال ۲۷ زین العابدین مردان ۲۸ عبدالقادر فیروز باغ آزاد کشمیر ۲۹ اللہ یار شاہ جھنگ ۳۰ خالد محمود لودھراں ۳۱ سلیم اللہ مظفر گڑھ ۳۲ محمد افضل جھنگ ۳۳ اکرام الحق فاروقی مظفر گڑھ ۳۴ محمد عارف میانوالی ۳۵ عبدالباسط مانسہرہ ۳۶ خلیل الرحمن سرگودھا ۳۷ محمد طیب (خارج) سرگودھا ۳۸ غلام مصطفیٰ شیخوپورہ ۳۹ حافظ محمود شیخوپورہ ۴۰ صفدر علی وہاڑی ۴۱ محمد احمد ملتان ۴۲ عبدالصبور لودھراں ۴۳ محمد یعقوب لودھراں ۴۴ عبدالوحید لودھراں ۴۵ محمد عبداللہ اوکاڑہ ۴۶ گلفام خان مظفر آباد ۴۷ محمد زبیر قصور ۴۸ خالد محمود بہاول پور
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۱ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۴۹ حافظ منیب الرحمن فیصل آباد ۵۰ عمران علی سرگودھا ۵۱ راشد محمود بہاول پور ۵۲ امین الرشید بہاول پور ۵۳ محمد ریاض بہاول پور ۵۴ محمد اسحاق بہاول پور ۵۵ محمد کلیم اللہ بہاول پور ۵۶ مسعود اظہر ساہیوال ۵۷ سلیم اللہ شکار پور ۵۸ منور بہاول پور ۵۹ عبدالحفیظ سانگھڑہ ۶۰ منور حسین بہاول پور ۶۱ ابوبکر محمود ملتان ۶۲ محمد سرور ٹوبہ ٹیک سنگھ ۶۳ حبیب الرحمن نواب شاہ ۶۴ عتیق الرحمن کوٹلی آزاد کشمیر ۶۵ ضمیر حسین نوشہرو فیروز ۶۶ اکرام الحق گجرات ۶۷ محمد عظیم سیالکوٹ ۶۸ محمد شہزاد مسعود بہاول پور ۶۹ محمد یوسف سرگودھا ۷۰ محمد ارشد قصور ۷۱ محمد حنظلہ جھنگ ۷۲ محمد خالد محمود جہلم ۷۳ عبداللہ بدخشان افغانستان ۷۴ اللہ یار واسطی میانوالی ۷۵ سلیم قیصر جھنگ ۷۶ ساجد محمود سیالکوٹ ۷۷ لال حسین اختر جھنگ ۷۸ عبدالرؤف (خارج) نوشہرہ مردان ۷۹ ریحان اللہ (خارج) نوشہرہ مردان ۸۰ محمد انصر وہاڑی ۸۱ عبدالرحمن (خارج) ...... ۸۲ حفیظ اللہ طاہر سرگودھا ۸۳ عطاء الرحمن خانیوال ۸۴ احمد رضوان خالد ٹوبہ ٹیک سنگھ ۸۵ امجد علی (خارج) ...... ۸۶ احمد نواز خان اٹک ۸۷ رب نواز ڈیرہ غازی خان ۸۸ محمد عثمان جھنگ ۸۹ مجیب الرحمن خوشاب ۹۰ ندیم شہزاد قصور ۹۱ محمد فیروز مظفر گڑھ ۹۲ محمد ایوب مظفر گڑھ ۹۳ حبیب اللہ مظفر گڑھ ۹۴ شاہ نواز ڈیرہ غازی خان ۹۵ حبیب اللہ لیہ ۹۶ محمد آصف سیالکوٹ ۹۷ حماد اللہ خیر پور میرس ۹۸ محمد شہزاد (خارج) سیالکوٹ ۹۹ سلطان احمد نوشہرو فیروز ۱۰۰ محمد عبید اللہ صدیقی لیہ ۱۰۱ غلام رسول مظفر گڑھ ۱۰۲ مطیع الدین اشعر سکھر
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۰۱ء ص ۵۷ تا ۶۱)
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تحریک ختم نبوت
کے سلسلہ میں
۲۰۰۲ء
کے
حالات و واقعات
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
قادیانیت کی تبلیغ کے لئے ۱۶ کروڑ ڈالر کا سالانہ فنڈ مختص
کراچی : پاکستان میں قادیانیت کی تبلیغ کے لئے مرزا طاہر احمد قادیانی نے ۱۶ کروڑ ڈالر کا سالانہ فنڈ مختص کیا ہے۔ مذکورہ رقم چار چیکوں کے ذریعہ سلیمان احمد قادیانی کے نام ارسال کی گئی ہے۔ قادیانیت کی تبلیغ کے لئے پنجاب میں ۶ کروڑ ، سندھ میں ۴ کروڑ ،سرحد میں تین کروڑ اور بلوچستان میں ۳ کروڑ ڈالر کی رقم خرچ کی جائے گی۔ انتہائی باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ سال ۲۰۰۲ء میں پاکستان کے اندر بڑے پیمانے پر قادیانیت کی تبلیغ کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان میں قادیانیت کی تبلیغ میں سرگرم قادیانی اداروں کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ مسلمانوں کو قادیانیت کی طرف راغب کرنے کے لئے زیادہ رقوم خرچ کریں اور پاکستان میں قادیانیوں کی تعداد میں اتنا اضافہ کر دیا جائے کہ حکومت قادیانی مذہب کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو جائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مرزا طاہر احمد قادیانی نے ۹؍جنوری ۲۰۰۲ء کو ملک بھر میں قادیانیت کی تبلیغ میں سرگرم تنظیموں اور عہدیداروں سے خطاب کیا۔ مرزا طاہر احمد قادیانی نے کہا کہ ۲۰۰۵ء تک قادیانیت کو بطور مذہب قبول کر لیا جائے گا۔ لیکن قادیانیت کی تبلیغ کے حوالے سے مذکورہ تین سال بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ اس لئے پاکستان میں زیادہ سے زیادہ مسلمانوں کو قادیانی مذہب کی طرف راغب کیا جائے ۔ ذرائع کے مطابق مرزا طاہر احمد قادیانی پاکستان میں قادیانیت کی تبلیغ کے لئے سالانہ بجٹ مختص کرتے ہیں۔ گزشتہ برس ۱۴ کروڑ کا بجٹ مختص کیا گیا تھا۔
(روزنامہ امت کراچی ۲۸؍فروری ۲۰۰۲ء)
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۲ء ص ۷)
توہین رسالت کے قانون اور امتناع قادیانیت آرڈیننس کو ختم کرنے کا مطالبہ
امریکی ایوان نمائندگان میں ۱۴؍فروری ۲۰۰۲ء کو ایک قرارداد متعارف کرائی گئی جس کے تحت پاکستان پر زور دیا گیا کہ وہ توہین رسالت کے قانون اور قادیانیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دینے والی قانونی دفعات کو ختم کر دے۔ یہ مطالبہ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کے امریکی دورے کے موقع پر سامنے آیا۔ امریکی ایوان نمائندگان نے اس قرارداد کو کمیٹی برائے عالمی تعلقات کے سپرد کر دیا ہے۔ اس مطالبہ سے معاصر انگریز روزنامہ ’’دی نیوز‘‘ نے اپنے نمائندے کے حوالے سے ۱۸؍فروری ۲۰۰۲ء کی اشاعت میں صفحہ اول پر جو خبر شائع کی اس کا خلاصہ یہ ہے: ’’امریکہ چاہتا ہے کہ احمدی مخالف قوانین اور توہین رسالت کا قانون ختم کیا جائے ۔
امریکی ایوان نمائندگان میں ایک قرارداد پیش کی ہے جس میں پاکستان پر زور دیا گیا کہ وہ توہین رسالت کا قانون اور احمدیوں کو غیرمسلم قرار دینے کی قانونی دفعات ختم کرے۔ یہ قرارداد ۱۴؍فروری ۲۰۰۲ء کو پیش کی گئی۔ جب صدر جنرل پرویز مشرف امریکہ کے دورے پر تھے، قرارداد کے مطابق انسانی حقوق کی عالمی قرارداد کے آرٹیکل ۱۸ کے تحت ہر فرد کو اپنے مذہب اور تاثرات پر اظہار رائے کی آزادی حاصل ہے جب کہ اسے اپنے اعتقاد اور عقائد سمیت مذہب تبدیل کرنے کا بھی حق ہے اور وہ اس کے مطابق اپنے عقائد کا پرچار بھی کر سکتا ہے اور اس پر عمل بھی کر سکتا ہے، قرارداد میں کہا گیا کہ جنرل پرویز مشرف تحمل پسند، بردباری اور جدید اسلام سے متعلق اپنے تصورات کو عملی جامہ پہناتے ہوئے توہین رسالت کے قانون کو واپس لیں، قرارداد میں زور دیا گیا کہ مارشل لاء آرڈیننس XX آف ۱۹۸۴ء کو بھی ختم کیا جائے ، جس کے تحت احمدیوں کو غیرمسلم قرار دیا گیا تھا اور توہین رسالت کے قانون اور اس آرڈیننس کے تحت افراد کو رہا کیا جائے، قرارداد میں اس پر بھی زور دیا گیا کہ صدر آئین کی آٹھویں ترمیم جو احمدیوں کو غیرمسلم قرار دیتی ہے اسے بھی ختم کریں، قرارداد
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اس بات کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ پاسپورٹ کی درخواست پر سے مذہب کی شناخت کو ختم کیا جائے۔‘‘ اس سے اگلے روز ۱۹/ فروری ۲۰۰۲ء کو اسی اخبار نے پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان کے حوالے سے صفحہ اول پر جو خبر شائع کی اس کا خلاصہ یہ ہے: ”مشرف حکومت کا کہنا ہے کہ اس کا توہین رسالت کے قانون یا آئین میں تبدیلی کر کے احمدیوں (قادیانیوں) کو غیر مسلم قرار دینے کے فیصلے میں تبدیلی کا کوئی ارادہ نہیں، حکومت کے ایک سینئر ترجمان نے پیر کو دی نیوز کو بتایا کہ یہ طے شدہ معاملات ہیں جن کو حکومت ازسر نو کھولنا نہیں چاہتی، ترجمان سے پوچھا گیا کہ کیا حکومت احمدیوں کے بارے میں دفعات اور توہین رسالت کے قوانین کو ختم کرنے کے لئے آئین میں ترمیم کا سوچ رہی ہے؟ تو ترجمان نے کہا کہ پاکستان میں ان حساس معاملات پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے گویا کہ اسلام آباد مسلسل توہین رسالت کے قانون کو ختم کرنے اور احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے کی آئینی دفعات کے حوالے سے دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ ان معاملات کی حساسیت سے قطع نظر سپریم کورٹ آف پاکستان نے حکومت کو آئین کی بنیادی ہیئت میں تبدیلی سے روک دیا ہے۔ صدر مشرف نے بار ہا کہا ہے کہ حکومت پاکستان آئین کے حساس معاملات کو نہیں چھیڑے گی۔ صدر نے ایک سال قبل توہین رسالت کے قانون کے تحت مقدمات کے اندراج میں طریقہ کار کی تبدیلی کا عندیہ دیا تھا تا کہ اس قانون کو غلط استعمال نہ کیا جاسکے لیکن حکومت کو مذہبی گروپوں اور جماعتوں کی جانب سے ملک میں سخت ردعمل کے بعد اس کو ترک کر دینا پڑا۔ دفتر خارجہ کے ایک ترجمان نے صحافیوں کو عام بریفنگ کے دوران بتایا کہ امریکی ایوان نمائندگان کی قرارداد پر کوئی ایکشن زیر غور نہیں۔‘‘
توہین رسالت کے قانون اور قادیانی مخالف قوانین کے بارے میں کچھ کہنے سے پہلے ہمیں تاریخ کے جھروکوں میں جھانکنا پڑے گا اور علماء اسلام اور مؤرخین سے دریافت کرنا پڑے گا کہ اسلام میں ان قوانین کی اتنی اہمیت کیوں ہے؟ اور ماضی میں اس حوالے سے خود آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ کے بعد خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دور سے امت کا تعامل کیا چلا آ رہا ہے؟ جب ہم تاریخ اٹھا کر دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی بعثت کے بعد مشرکین مکہ نے آنحضرت ﷺ کو پریشان کرنا شروع کر دیا۔ آپ ﷺ کی شان میں گستاخیاں کرنا تو ان کا روزمرہ کا معمول تھا۔ یہ سلسلہ دراز سے دراز تر ہوتا چلا گیا۔ حتیٰ کہ نبی اکرم ﷺ کو مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کر کے آنا پڑا۔ مدینہ منورہ میں یہود کا خاصا اثر تھا۔ جب انہوں نے یہ دیکھا کہ آنحضرت ﷺ کے وجود بامسعود کی برکت سے مدینہ طیبہ میں اسلام کی اشاعت بڑھ گئی اور لوگ جوق در جوق اسلام لانے لگے تو ان کی رگ شرارت بھڑکی اور ان کے بعض افراد نے بھی نبی خاتم ﷺ کی شان اقدس میں گستاخیاں کیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ یہود بھی نبی خاتم کے آنے کا عقیدہ رکھتے تھے لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ اس نبی خاتم کا ظہور بنی اسرائیل کے بجائے بنی اسماعیل میں ہوا تو وہ جذبہ عصبیت سے مغلوب ہو کر اس نبی خاتم ﷺ کی مخالفت اور ان کی شان میں گستاخی پر اتر آئے۔ توہین رسالت کے اس بڑھتے ہوئے رجحان کے تدارک کے لئے آنحضرت ﷺ نے بذات خود کعب بن اشرف، ابو رافع، عقبہ بن ابی معیط، سمیت متعدد گستاخان رسول کے قتل کا حکم صادر فرمایا۔ ان کے علاوہ دیگر کئی افراد بھی توہین رسالت کے جرم میں دور رسالت میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہاتھوں واصل جہنم ہوئے۔ فتح مکہ کے روز آنحضرت ﷺ نے سوائے ان دس پندرہ افراد کے جو توہین رسالت کے جرم کے مرتکب ہو چکے تھے، باقی تمام افراد کو عام معافی دے دی، جب کہ ان دس پندرہ افراد کے بارے میں آپ ﷺ نے حکم دیا کہ انہیں قتل کر دیا جائے خواہ وہ غلاف کعبہ میں چھپے ہوئے ہوں، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ توہین رسالت کے جرم کے مرتکب کو کسی صورت امن نہیں مل سکتا، حتیٰ کہ رحمۃ للعالمین ﷺ نے بذات خود اس جرم کے مرتکب افراد کو قتل کرنے کے احکامات جاری فرمائے، لہٰذا توہین رسالت کے قانون میں کسی قسم کی ترمیم یا اس قانون کو ختم کرنا یا واپس لینا اسلامی احکامات کی صریح خلاف ورزی ہوگا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جہاں تک قادیانیوں کے حوالے سے قانونی دفعات امتناع قادیانیت آرڈیننس، آئین میں آٹھویں ترمیم وغیرہ کا تعلق ہے، اس کے لئے ہم صرف یہ بتا دینا کافی سمجھتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے مدعی نبوت کو کافر قرار دیا اور خود مدعی نبوت کے قتل کے احکامات جاری فرمائے، چنانچہ حضور ﷺ کے حکم سے حضرت فیروز دیلمی ؓ نے مدعی نبوت اسود عنسی کو واصل جہنم کیا۔ آپ ﷺ کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے مدعیان نبوت مسیلمہ کذاب، طلیحہ اسدی، سجاح اور ان کے پیروکاروں کے خلاف جہاد کیا اور ان کا قلع قمع کیا اور کسی قیمت پر ان سے صلح کرنا منظور نہ کیا اور نہ ہی ان کے ساتھ کسی قسم کی رواداری کا مظاہرہ کیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا، قادیانیوں نے اسے نبی، مسیح، ملہم، مجدد، نبی کریم ﷺ کا ظل اور بروز اور نہ معلوم کیا کیا مان لیا اور جو لوگ مرزا غلام احمد کے دعویٰ نبوت پر ایمان نہ لائے انہیں خود مرزا اور اس کی ذریت نے کافر، ولد الزنا جیسی غلیظ اور مکروہ گالیوں سے نوازا۔ انبیاء کرام علیہم السلام بھی مرزا غلام احمد کی بد زبانی سے محفوظ نہ رہ سکے، جس کی ایک ادنیٰ مثال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں مرزا غلام احمد قادیانی کی گستاخیاں ہیں، جنہیں پڑھنے کے بعد ہر ذی ہوش انسان ایسے بدکردار اور بدبخت شخص کے وجود کو خدا کی دھرتی پر بوجھ سمجھتا ہے۔ خدا لگتی کہیے کہ ایسے افراد کے خلاف توہین رسالت کا قانون اور نبوت کے جھوٹے مدعی مرزا غلام احمد قادیانی کے حوالے سے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کی ترامیم انصاف پر مبنی نہیں تو اور کیا ہیں؟ خصوصاً جب کہ حضور اکرم ﷺ، صحابہ کرام ؓ، آئمہ مجتہدین، محدثین اور علمائے امت میں ان مسائل پر کسی قسم کا کوئی اختلاف نظر نہیں آتا اور وہ گستاخ رسول کے قتل اور مدعی نبوت اور اس کے پیروکاروں کے کفر پر متفق ہیں۔
آج چودہ صدیاں گزرنے کے بعد بھی ان دونوں مسائل میں امت مسلمہ کا وہی عقیدہ ہے جو حضور ﷺ کا تھا اور توہین رسالت کے مجرم اور مدعی نبوت اور اس کے پیروکاروں کے خلاف امت آج بھی وہی فتویٰ دیتی ہے اور اس پر عمل کرتی ہے جو حضور ﷺ نے ایسے افراد کے بارے میں دیا تھا اور اپنے صحابہ ؓ کے ذریعہ سے جس پر عمل کروایا تھا۔ ہماری اس بارے میں یہ رائے ہے کہ حکومت کو ہر قیمت پر ان دونوں قوانین سمیت تمام اسلامی قوانین کا دفاع کرنا چاہئے اور اس حوالے سے کسی قسم کے بیرونی دباؤ کو ہرگز قبول نہیں کرنا چاہئے۔ یاد رکھئے! یہ دباؤ انہی ممالک کی طرف سے ڈالا جا رہا ہے جن میں شائع ہونے والے رسالے کی ۱۱؍ فروری ۲۰۰۲ء کی اشاعت میں حضور ﷺ کی فرضی تصویر چھاپنے کی ناپاک جسارت کی گئی ہے جس کا قرض اتارنا ابھی باقی ہے۔ اگر آج آپ نے ان کے دباؤ کو قبول کر لیا تو کل یہ آپ کے دین اور آپ کے نبی ﷺ کو اپنی تضحیک کا نشانہ بنانے سے بھی نہیں چوکیں گے۔ اس لئے اپنے عقائد کے تحفظ اور اپنے دین کی حفاظت کے لئے جم جائیے اور اپنے رسول ﷺ کی ناموس اور ان کی رسالت کے متوازی قادیانی رسالت کا سکہ چلانے کی کوششوں کا کھل کر مقابلہ کیجئے۔ اللہ تعالیٰ اس مشن میں ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ یکم تا ۷؍ مارچ ۲۰۰۲ء ص۴، ۵)
خدائی فیصلہ: وزارت خارجہ کے ترجمان عزیز احمد خان نے اس امر کی تردید کی ہے کہ حکومت توہین رسالت اور قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے سے متعلق بنائے گئے قوانین میں کوئی ترمیم کرے گی یا آئینی دفعات کے حوالہ سے ایسی کوئی تجویز زیر غور ہے۔ ۱۹؍ فروری ۲۰۰۲ء کے اخبارات میں یہ خبر شہ سرخیوں سے شائع ہوئی تھی کہ امریکہ میں ایوان نمائندگان میں ایک قرارداد کے ذریعہ پاکستان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ توہین رسالت اور قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے قوانین کو ختم کرے۔ قرارداد صدر جنرل پرویز مشرف کے دورہ امریکہ کے دوران ۱۴؍ فروری ۲۰۰۲ء کو پیش کی گئی جو مزید غور کے لئے ایوان نمائندگان کی امور خارجہ کی کمیٹی کے سپرد کر دی گئی ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی معاہدہ کے آرٹیکل ۱۸ کے تحت ہر کوئی انفرادی یا اجتماعی طور پر اپنا مذہب، اعتقاد یا آزادی بدل سکتا ہے۔ قرارداد میں بتایا گیا کہ پاکستان میں مذہب کی بنیاد پر امتیاز برتا جا رہا ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عوامی سطح پر تشویش اور بالخصوص دینی طبقے میں اضطراب کی جو لہر اٹھی تھی حکومتی تردید کے بعد قدرے اطمینان کا اظہار کیا جائے گا۔ عوامی جذبات اور خواہشات کے برعکس حکومت بیرونی دباؤ کے تحت جس عجلت میں فیصلے کر رہی ہے رائے عامہ کا اعتماد بری طرح مجروح ہو چکا ہے۔ دورہ امریکہ کے دوران جنرل پرویز مشرف سے سوال کیا گیا کہ وہ توہین رسالت کا قانون ختم کریں گے؟ اس پر صدر صاحب کا جواب تھا کہ انہوں نے پہلے ہی بہت سے محاذ کھول رکھے ہیں اس جواب سے دونوں طرح کا تاثر قائم کیا جاسکتا ہے۔ امریکہ کے ایوان نمائندگان کا مطالبہ نیا نہیں اور نہ ہی کوئی اچنبھے کی بات ہے۔ چند روز پہلے اقلیتی امور کے وفاقی وزیر ایس کے ٹریسلر نے پاکستان میں متعین امریکی سفیر وینڈی چیمبرلین کے حوالہ سے انکشاف کیا تھا کہ تحفظ ناموس رسالت ایکٹ اور قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیئے جانے والی آئینی ترمیم کا خاتمہ ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ اکثر لوگوں کے لئے یہ بات باعث تعجب ہوگی کہ اقلیتی امور کے وفاقی وزیر مسیحی ہونے کے باوجود تحفظ ناموس رسالت قانون کے زبردست حامی ہیں۔ قانون کے غلط استعمال پر تحفظات کی بات ہر کسی کا بنیادی حق ہے۔ کسی بھی قانون کے غلط استعمال کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ قانون ہی ختم کر دیا جائے۔ مشرف حکومت گزشتہ برس توہین رسالت قانون کے حوالہ سے طبع آزمائی کر چکی ہے۔ بپھرے عوامی جذبات کے پیش نظر جاپان سے واپس آتے ہی اسلام آباد ائیر پورٹ پر صدر مملکت نے اس قانون کو بحال رکھنے کا اعلان کیا تھا۔ اس تلخ تجربے کے بعد صدر پرویز مشرف کو وہی جواب دینا چاہئے تھا جو انہوں نے دورہ امریکہ کے دوران دیا تھا۔
تحفظ ناموس رسالت ایکٹ ہو یا قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی آئینی ترمیم ایک نظریاتی مملکت میں انہیں اس لحاظ سے خصوصی اہمیت اور حیثیت حاصل ہے کہ ان قوانین کو پارلیمنٹ کی تائید سے آئینی تحفظ حاصل ہے۔ قادیانیوں کو ۱۹۷۴ء میں اس وقت کی منتخب اسمبلی میں غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تھا۔ یہ بات واضح رہے کہ عوامی نمائندوں پر مشتمل قومی اسمبلی صحیح معنوں میں صاف شفاف انتخابات کے نتیجہ میں معرض وجود میں آئی تھی۔ یہ انتخابات منصفانہ، غیر جانب دارانہ اس لئے بھی تھے کہ فوج کی نگرانی میں ہوئے تھے۔ بقول مفتی محمود مرحوم صدر جنرل یحییٰ خان کے اعمال نامہ میں یہ واحد نیکی تھی۔ قادیانی اس برسر اقتدار جماعت کے ہاتھوں غیر مسلم اقلیت قرار پائے جسے کامیاب کرانے کے لئے انتخابی مہم میں قادیانی جماعت نے نہ صرف نصرت جہاں فنڈ قائم کیا بلکہ اسے کارکن دے کر افرادی قوت بھی مہیا کی۔ قادیانی جماعت کے رہنماؤں نے تمام سیاسی جماعتوں کو چھوڑ کر پیپلز پارٹی کا ساتھ اس لئے دیا تھا کہ اس جماعت کا منشور، طرز عمل، طریق کار قائدین کا سیکولرازم قادیانی جماعت کے مستقبل کی ضمانت تھا۔ اس کردار سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مذہبی جماعت ہونے کی دعویدار ”جماعت احمدیہ“ سیکولرازم کے ساتھ کیونکر منسلک ہوئی؟ قادیانیوں کو ملاؤں نے غیر مسلم اقلیت قرار نہیں دیا تھا۔ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو سے بڑا لبرل کون ہوگا۔ وہ کسی مدرسہ کے فارغ التحصیل نہ تھے بلکہ مغربی فیض یافتہ تھے۔ عبدالحفیظ پیرزادہ کے علاوہ جناب ولی خان، جناب بزنجو، جیسے سیاسی رہنماؤں کی لادینیت ڈھکی چھپی نہیں لیکن قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے میں وہ سب ایک ہی صف میں شامل تھے۔ یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ قادیانیوں کے خلاف جذباتی فیصلہ کیا گیا اور انہیں راتوں رات مسلمانوں کی صفوں سے نکال باہر کیا گیا۔ قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا ناصر کو قومی اسمبلی کے فورم پر مکمل صفائی کا موقع دیا گیا۔ ان پر جرح کرنے والے مفتی محمود، مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا غلام غوث ہزاروی، مولانا غلام مصطفیٰ الازہری کے بجائے سوٹ بوٹ اور بنیاد پرستی کی کوئی سی علامت نہ رکھنے والے یحییٰ بختیار (اٹارنی جنرل) خدا تعالیٰ کی شان بے نیازی کہ ان کا انتخاب بھی قادیانی ذریت کی اپنی پسند تھی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیانیوں کے کفر کا جو فیصلہ عوامی نمائندگان کے ایوان میں کیا گیا۔ وفاقی شرعی عدالت، سپریم کورٹ، ہائی کورٹ، اندرون و بیرون ملک کی عدالتوں نے قادیانیوں کے کفر پر مہر تصدیق ثبت کی۔ ان کے مذہب کو اسلام سے متصادم قرار دیا اور انہیں مسلمانوں کے متوازی علیحدہ قوم قرار دیا۔ ”جماعت احمدیہ“ کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی کو جھوٹا، دغا باز اور بے ایمان قرار دیا۔ اب تک قادیانی مسئلہ کو محض جنونی ملّاؤں کا مسئلہ قرار دیا جاتا رہا۔ قادیانیوں کے بارے میں ماریشس اور جنوبی افریقہ کی اعلیٰ عدالتوں کے فیصلے اس لحاظ سے غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں کہ ان عدالتوں کے بارے میں کوئی منفی رائے قائم نہیں کی جاسکتی۔ پاکستان کی طرح بے شمار دیگر اسلامی ممالک، شام، مصر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، ملائشیا، افغانستان اور گیمبیا کی حکومتوں نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا ہے۔ امریکی ایوان نمائندگان ہمارے رائے عامہ، پارلیمنٹ، عدلیہ، کس پر اعتماد کر سکتے ہیں؟ اسلامی دنیا کا حوالہ ہم اس لئے نہیں دینا چاہتے کہ حکمران طبقہ کی اپنی اپنی مصلحتیں ہیں ورنہ عالم اسلام کے تمام مسلمان قادیانیوں کو مسلم برادری سے خارج سمجھتے ہیں۔ امریکی ایوان نمائندگان اگر جمہوری انداز اور پارلیمانی روایات کے فروغ کے حقیقی خیر خواہ ہیں جیسا کہ حالیہ دورہ امریکہ کے دوران امریکی امداد کو جمہوری حکومت کے قیام سے مشروط کیا گیا ہے۔ اگر امریکی کانگریس جمہوری اداروں کی آزادی اور استحکام کی قائل ہے تو پھر انہیں توہین رسالت اور قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیئے جانے والے قوانین کی منسوخی کے لئے ایک غیر نمائندہ حکومت سے مطالبہ کرنے کا کوئی حق نہیں۔ یہ قانون پارلیمنٹ نے بنائے تھے اور ان پر پارلیمنٹ میں ہی غور و خوض ہو سکتا ہے۔ یہ بات محل نظر ہے کہ ایسی تاریخی آئینی ترمیم پر غیر جانب دارانہ کرائے گئے انتخابات کے نتیجہ میں وجود پانے والی اسمبلی کو ہی غور کرنا ہوگا کیونکہ یہ عقیدہ اور عقیدت کا مسئلہ ہے۔ معمولی مسئلہ نہیں۔
امریکی وزارت خارجہ نے گزشتہ چند برسوں سے انسانی حقوق کے حوالے سے پاکستان کی اقلیتوں خصوصاً قادیانیوں اور مسیحیوں کی حمایت میں یہ وطیرہ اختیار کر رکھا ہے کہ پاکستان میں ان کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھ کر ان کے بنیادی حقوق پامال کئے جارہے ہیں۔ دو سال قبل کانگریس کمیٹی نے سفارش کی تھی کہ پاکستان سمیت ایسے تمام ممالک کی امداد بند کی جائے جو اقلیتوں کو تحفظ اور مکمل آزادی فراہم نہیں کرتے۔ رپورٹ میں پاکستان کے علاوہ سعودی عرب، ایران، افغانستان، انڈونیشیا کو شامل کیا گیا تھا۔ امریکی رپورٹ کا مضحکہ خیز پہلو یہ کہ سعودی عرب میں قادیانیوں کا بوجہ غیر مسلم ہونے کے داخلہ ممنوع ہے۔ جب کہ قادیانی افراد وہاں جا ہی نہیں سکتے تو پھر سعودی عرب میں ان پر ظلم و ستم کیسا؟ اور ان کے بنیادی حقوق کس طرح معطل ہوئے؟ آرٹیکل ۱۸ کے تحت امریکہ جس آزادی کا مطالبہ کر رہا ہے کل کلاں حرمین شریفین میں غیر مسلم کے داخلہ سے انہیں مستثنیٰ قرار دینے کا مطالبہ بھی کیا جاسکتا ہے۔ خدا نہ کرے کہ یہ مطالبہ مقامات مقدسہ میں مستقبل کی مداخلت کا شاخسانہ ہو۔
قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا ایک پس منظر یہ بھی ہے کہ قادیانی گروہ ان تمام مسلمانوں کو جن کا تعلق خواہ کسی ملک یا مکتبہ فکر سے ہو کافر سمجھتا ہے جو ان کی جماعت کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی کو نہیں مانتے۔ یہ ان کا عقیدہ اور ایمان ہے۔ چوہدری ظفر اللہ خان نے بانی پاکستان محمد علی جناح کی نماز جنازہ نہ پڑھ کر اپنے عقیدے کا عملی مظاہرہ کیا تھا۔ قادیانیوں کو کافر قرار دینے کی آئینی ترمیم کی منسوخی در حقیقت قادیانی عقیدے کی تصدیق کرنے کے مترادف ہے۔ قادیانیوں کو دوبارہ مسلمانوں کی صفوں میں شامل کرنے کا مطلب دنیا میں پھیلے لاکھوں کروڑوں مسلمانوں کے ایمان کی تکذیب ہے۔ قادیانیوں کے کفر کا فیصلہ خدائی تھا ورنہ بھٹو صاحب اور ان کی سیکولر پارٹی کے ہاتھوں وہ غیر مسلم قرار نہ پاتے۔ اب اس فیصلے کی تبدیلی کی سوچ بھی حماقت ہوگی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۰۲ء ص ۳ تا ۶)
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مذہب سے متعلق متنازعہ مواد کی تقسیم
کافی عرصہ سے ملک میں قادیانی اور عیسائی لابی ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت تبلیغ اور مذہب سے متعلق متنازعہ مواد کی تقسیم میں ملوث ہے۔ گزشتہ دنوں اس حوالے سے مندرجہ ذیل خبر شائع ہوئی جس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ قادیانی اور دیگر غیر مسلم لابیاں ہمارے ملک میں دین اسلام کو ختم کرنے کے لئے کس حد تک فعال اور سرگرم ہیں۔ ملاحظہ فرمائیے:
چنیوٹ میں متنازعہ مواد تقسیم کرنے والا گروہ گرفتار، تمام ملزمان کے خلاف ۲۹۵-سی کے تحت مقدمہ درج
چنیوٹ متنازعہ مواد تقسیم کرنے والے گروہ کا سرغنہ عبدالناصر کو لاہور سے گرفتار کرلیا گیا۔ ملزم واپس امریکہ جانے والا تھا۔ ملزم نے محمد رفیق، مظفر احمد اور محمد زاہد کے ہمراہ مواد تقسیم کیا۔ پولیس نے تمام ملزمان کو زیر دفعہ ۲۹۵-سی کے تحت مقدمہ درج کر کے گرفتار کرلیا ہے اور متنازعہ لٹریچر اپنے قبضہ میں لے لیا ہے۔
(روزنامہ خبریں کراچی یکم مارچ ۲۰۰۲ء، ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۲ء ص ۷، ۸)
اوکاڑہ میں قادیانیوں کی شرانگیزی کا تدارک
اوکاڑہ قادیانیوں کے اوکاڑہ میں ہونے والے غیر قانونی اجتماع کو انتظامیہ نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا عبدالرزاق مجاہد اور فدایان ختم نبوت کے احتجاج پر فوری طور پر ختم کرا دیا۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ دنوں مورخہ ۱۴؍اپریل ۲۰۰۲ء بروز اتوار اوکاڑہ کے قریبی چک نمبر ۵۵ ٹو ایل میں قادیانیوں کا ایک غیر قانونی اجتماع منعقد ہونے والا تھا۔ اس اجتماع کے انعقاد کی اطلاع ملنے پر مسلمانوں میں سخت اشتعال پھیل گیا۔ لوگوں نے وفود اور ٹیلی فون کے ذریعہ انتظامیہ کو اس حوالے سے عوام الناس میں پائی جانے والی تشویش سے آگاہ کیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں اور کارکنوں پر مشتمل ایک وفد فوری طور پر تھانہ صدر پہنچا اور انتظامیہ کو حالات کی سنگینی، مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت اور قادیانیوں کی شرانگیزی سے متعلق تحریری درخواست پیش کی۔ درخواست ملتے ہی چوہدری امانت علی، ایس ایچ او تھانہ صدر اوکاڑہ دیگر اہلکاروں سمیت موقع پر پہنچے اور قادیانیوں کے ہونے والے اجتماع کو بند کرا دیا اور ٹینٹ وغیرہ اتروا دیئے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اوکاڑہ کی اطلاعات کے مطابق قادیانیوں کا یہ اجتماع کسی بڑی تخریبی سرگرمی کا پیش خیمہ تھا کیونکہ قادیانی عرصہ سے یہاں بااثر ہونے کی وجہ سے تبلیغ کرتے رہتے ہیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۷ تا ۱۳؍جون ۲۰۰۲ء ص ۱۶)
سوئٹزرلینڈ کے وزیر خارجہ اور توہین رسالت کا قانون
توہین رسالت کے قانون کے خاتمے کے مطالبے کے حوالے سے ابھی امریکی ایوان نمائندگان کی قرارداد کی گونج مدھم بھی نہ پڑنے پائی تھی کہ گزشتہ دنوں یورپی ملک سوئٹزرلینڈ کے وزیر خارجہ نے بھی اس قانون کے تحت دی جانے والی سزاؤں کو ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا اور اس پر طرّہ یہ کہ موصوف نے بالواسطہ طور پر یہ عندیہ بھی دیا ہے کہ اگر (نعوذ باللہ) یہ قانون ختم کر دیا جائے تو پاکستان کے ذمے ان کے ملک کا جتنا قرضہ ہے اسے ری شیڈول کیا جاسکتا ہے۔ اس بارے میں اخبارات میں شائع ہونے والی خبر ملاحظہ فرمائیے: ’’توہین رسالت قانون کے تحت سزائیں ختم کی جائیں۔ (سوئس وزیر خارجہ)
اسلام آباد سوئٹزرلینڈ کے وزیر خارجہ جوزف ڈائیس نے کہا ہے کہ پاکستان سمیت اسلامی ممالک میں توہین رسالت قانون کے تحت سزاؤں کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ جمعرات کو وزیر خارجہ عبدالستار، وزیر قانون ڈاکٹر خالد رانجھا اور قومی تعمیر نو بیورو کے چیئرمین
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ۳۹۴ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
لیفٹیننٹ جنرل (ر) تنویر نقوی سے ملاقاتوں کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے ملک نے پاکستان کے ذمے ۴ کروڑ ۴۶ لاکھ سوئس فرانک کے قرضے ری شیڈول کرنے سے اتفاق کر لیا ہے۔‘‘
(روزنامہ جنگ لاہور ۱۹؍اپریل ۲۰۰۲ء)
کتنی شرمناک بات ہے کہ ایک غیر مسلم ملک کا غیر مسلم وزیر خارجہ پاکستان آتا ہے اور انتہائی دیدہ دلیری سے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کا مضحکہ اڑاتے ہوئے بالواسطہ طور پر یہ کہتا ہے کہ اگر پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک آنحضرت ﷺ کی ذات عالی کی توہین کرنے والوں کو سزا دینا چھوڑ دیں تو اس کا ملک ان ممالک کے قرضے ری شیڈول کر دے گا۔ انتہائی بے حیا ہیں وہ لوگ جنہوں نے یہ بات سن کر اس کی زبان کو لگام نہ دی کہ وہ ہمیں اتنا کم ظرف تصور کرتا ہے کہ ہمیں شاتم رسول کو سزا نہ دینے کے بدلے میں قرضوں کی معافی کی پیش کش کرتا ہے، گویا یہ پیش کش کرتا ہے کہ اگر تم اپنے نبی کی ناموس کی حفاظت کرنا چھوڑ دو تو ہم تمہارا قرضہ معاف کر دیں گے۔
پاکستانی حکومت اور دیگر اسلامی ممالک کی حکومتوں کو توہین رسالت کے قانون کے حوالے سے ایک واضح اور دوٹوک پالیسی بنانی چاہئے اور اعلان کر دینا چاہئے کہ ناموس رسالت کا تحفظ ہمارے مذہبی فرائض میں سے ہے، چاہے کچھ ہو جائے ہم اس فریضہ کی ادائیگی سے منہ نہیں موڑ سکتے، اس لئے آئندہ اس قسم کے کسی بھی نامعقول اور احمقانہ مطالبہ کو ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت تصور کیا جائے گا۔ اس دوٹوک رویہ کے بغیر پاکستان یا کسی بھی اسلامی ملک کی جان ان نامعقول مطالبات سے نہیں چھوٹے گی۔ یہی رویہ ہمارے قومی وقار کو بھی بڑھائے گا اور ہماری مذہبی غیرت آئندہ انہیں ہمارے اندرونی معاملات میں ٹانگ اڑانے سے بھی باز رکھے گی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۰ تا ۱۶؍مئی ۲۰۰۲ء ص ۵، ۶)
آنحضرت ﷺ کی خیالی تصویر کی اشاعت
گزشتہ دنوں بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں ایک پبلشرز کی جانب سے ایک نصابی کتاب میں آنحضرت ﷺ کی خیالی تصویر کی اشاعت کا افسوسناک سانحہ پیش آیا۔ اس سانحہ پر جہاں بھارت اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں شدید ردعمل ظاہر ہوا وہاں اس واقعہ پر مقبوضہ کشمیر میں بھی شدید ردعمل سامنے آیا اور کل جماعتی حریت کانفرنس نے بڑی جرأت کے ساتھ اس ناپاک جسارت پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اس کتاب پر پابندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ دشمنان اسلام ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مشتعل کر کے عالمی امن کو تہہ و بالا کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ حریت کانفرنس کا اس توہین آمیز کتاب پر پابندی کا مطالبہ بالکل بجا درست اور بروقت ہے کیونکہ اس کی وجہ سے پورے عالم اسلام کے مسلمانوں میں بے چینی پھیلنے اور ان کی طرف سے شدید ردعمل ظاہر ہونے کا اندیشہ ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ جمہوریت کی نام نہاد دعویدار بھارتی حکومت کو بھی چاہئے کہ وہ اپنے شہریوں کے لئے ایک ضابطہ اخلاق وضع کرے کہ وہ بھارت میں آباد تمام اقلیتوں خصوصاً سب سے بڑی مسلم اقلیت کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے اور ان کے نبی پاک ﷺ کی توہین کرنے سے اجتناب کریں۔ امت مسلمہ کا بھی فرض ہے کہ وہ اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرے اور ان تمام ممالک سے جن سے تسلسل کے ساتھ ایسے واقعات رونما ہو رہے ہیں، شدید احتجاج کرے۔ اگر رسول اللہ ﷺ کی توہین کا دنیا بھر میں جاری سلسلہ فوری طور پر نہ روکا گیا تو اس پر دنیا بھر کے مسلمانوں کا جو ردعمل سامنے آئے گا وہ بہت سی حکومتوں اور مختلف ممالک کے حدود اربعہ میں تبدیلی کا موجب بن سکتا ہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۰ تا ۱۶؍مئی ۲۰۰۲ء ص ۶)
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عقیدہ ختم نبوت کے حلف نامہ کے نوٹیفیکیشن میں تاخیر
ووٹر لسٹ فارم نمبر ۴ عقیدہ ختم نبوت کے اقراری حلف نامے کے اخراج نے جہاں قادیانیت سے متعلق دوسری آئینی ترامیم اور امتناع قادیانیت آرڈیننس کو غیر مؤثر کرنے کی مذموم کوشش کی تھی وہاں ہزاروں مسلمانوں کی عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے دی گئی سو سالہ قربانیوں پر پانی پھیرنے کی اپنی کوشش کی تھی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور جمعیۃ علماء اسلام سمیت ملک کی تمام مذہبی وسیاسی جماعتوں کے بھر پور احتجاج اور لاہور میں عظیم الشان آل پارٹیز ختم نبوت کانفرنس کے انعقاد کے بعد حکومت نے ووٹر لسٹ فارم نمبر ۴ سے عقیدہ ختم نبوت کے اقرار کا حلف نامہ ختم کرنے کے فیصلہ کو واپس لینے کا اعلان کیا تھا۔ سرکاری ترجمان نے یہ اعلان کیا تھا کہ حکومت نے ووٹر لسٹ فارم میں عقیدۂ ختم نبوت کا حلف نامہ بحال کر دیا ہے جو سرکاری ترجمان کے بقول حکومت کی جانب سے مخلوط طرز انتخاب رائج کرنے کے فیصلے کے بعد ووٹر لسٹ سے حذف کر دیا گیا تھا لیکن غلط فہمیوں سے بچنے کے لئے اس حلف نامہ کی دوبارہ بحالی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سرکاری ترجمان نے یہ بھی اعلان کیا تھا کہ حکومت نے ووٹر لسٹ فارم میں عقیدہ ختم نبوت کا حلف نامہ بحال کرنے کے فیصلے سے الیکشن کمیشن کو مطلع کر دیا ہے اور الیکشن کمیشن سے کہا گیا ہے کہ وہ ووٹر لسٹ فارم میں عقیدہ ختم نبوت کا حلف نامہ دوبارہ شامل کرے۔ ملک کی تمام مذہبی وسیاسی جماعتوں کے دباؤ اور ملک کے مسلم عوام کے شدید احتجاج و مطالبے کی بنیاد پر حکومت کو مجبور ہونا پڑا کہ وہ آنحضرت ﷺ کو آخری نبی ماننے کے عقیدہ ، جسے اصطلاحاً عقیدۂ ختم نبوت کہا جاتا ہے، کی بحالی کا فیصلہ کرے۔ اس فیصلے کے بعد یہ توقع تھی کہ حکومت جلد ہی اس بارے میں سرکاری نوٹیفیکیشن جاری کرے گی تاکہ یہ فیصلہ مکمل ہو جائے اور اس کے نفاذ کی عملی صورت پیدا ہو جائے لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ تاحال ایسا کوئی سرکاری نوٹیفیکیشن حکومت نے جاری نہیں کیا۔ اس وجہ سے ملک کے مسلم عوام میں ایک دفعہ پھر اضطراب پیدا ہونے لگا ہے۔ عوام توقع رکھتے تھے کہ حکومت نے جہاں اتنا بڑا اقدام اٹھا کر یہ فیصلہ کیا ہے وہاں وہ اس فیصلے کے عملی نفاذ کے لئے بھی سرگرمی دکھائے گی لیکن حکومت کی جانب سے ایسے معاملات کے سلسلے میں ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی روایتی سستی کا مظاہرہ کیا گیا جس نے عوام الناس میں شکوک وشبہات کو جنم دینا شروع کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں حکومت کے کار پردازوں کو خصوصی دلچسپی لے کر نوٹیفیکیشن کے اجراء کو یقینی بنانا چاہئے اور فتنہ انگیز عناصر کی جانب سے اس حوالے سے کی جانے والی تاخیر کا سدباب کرنا چاہئے ۔ نیز نئے ووٹر لسٹ فارم کے اجراء کے بعد سے جتنے قادیانیوں نے مسلمانوں کی حیثیت سے اپنے ناموں کا اندراج کروایا ہے ان کے ناموں کے اندراجات کی فوری منسوخی اور انہیں نئے شائع ہونے والے ووٹر لسٹ فارم میں ناموں کے اندراج کا پابند بنانا بھی اشد ضروری ہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۱۴ تا ۲۰ / جون ۲۰۰۲ء ص ۴)
الشیخ محمد بن عبداللہ السبیل حفظہ اللہ کا واضح فتویٰ
خانہ کعبہ ومسجد الحرام کے امام فضیلۃ الشیخ محمد بن عبداللہ السبیل نے اپنے ایک فتویٰ میں ریاض احمد گوہر شاہی بانی انجمن سرفروشان اسلام کو سب سے بڑا جھوٹا، گمراہ ترین، سب سے بڑا دھوکہ باز اور دجالوں میں سے ایک دجال قرار دیا ہے۔ الشیخ سبیل حفظہ اللہ نے اپنے فتویٰ میں کہا ہے کہ کسی بھی شخص کی کوئی تصویر حجر اسود میں ظاہر نہیں ہوئی اور نہ حرمین شریفین کے اماموں میں سے کسی نے اس بات کی تصدیق کی ہے بلکہ حرمین شریفین میں حماد بن عبداللہ نام کا کوئی امام سرے سے موجود ہی نہیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۰۲ء ص ۳۰)
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پی. آئی. اے میں قادیانیوں کی ایک اور ناپاک جسارت
پاکستان کی قومی فضائی کمپنی پی. آئی. اے میں قادیانیوں کا عمل دخل اور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرنا کوئی نئی بات نہیں ،لیکن گزشتہ دنوں اس کا ایک اور مظاہرہ دیکھنے میں آیا جس نے ہر شخص کو سوچنے پر مجبور کر دیا کہ کیا پی. آئی. اے پر عملاً قادیانیوں کی حکومت ہے؟ تفصیلات کے مطابق گزشتہ دنوں پی. آئی. اے کے عملے کے ایک شرعی داڑھی رکھنے والے فرد کو ایک افسر کی جانب سے یہ ہدایت کی گئی کہ وہ اپنی داڑھی کٹائے ، اس حکم کی خلاف ورزی پر اس فرد کو دوبارہ تنبیہ کی گئی لیکن جب اس فرد نے داڑھی کٹانے سے انکار کر دیا تو سزا کے طور پر بیرون ملک جانے والی پرواز میں شامل عملے سے اس فرد کا نام نکال دیا گیا۔ اس سے قبل پی. آئی. اے نے ایک قانون جاری کیا تھا کہ روزہ رکھ کر کوئی شخص کسی پرواز پر ڈیوٹی نہیں کر سکتا جب کہ اس کے برعکس شراب پی کر ڈیوٹی کرنے پر پی. آئی. اے کی جانب سے کوئی پابندی عائد نہیں ہے۔ معلوم نہیں قادیانیوں کو اتنی غیر معمولی چھوٹ کیوں دے دی گئی ہے کہ وہ اب ہر اسلامی فعل کو پی. آئی. اے سے ختم کرنے کے لئے کھلے بندوں دندناتے پھر رہے ہیں۔ ہم حکومت پاکستان سے عموماً اور متعلقہ وفاقی وزیر سے خصوصاً یہ درخواست کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر پی. آئی. اے سے قادیانیوں کا بڑھتا ہوا عمل دخل ختم کرانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں اور اسلامی شعائر ، داڑھی اور دوسرے اسلامی احکامات کے حوالے سے ایسی نازیبا حرکات واحکامات جاری کرنے کے مرتکب افراد کے خلاف سخت ایکشن لیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۸ / جون تا ۴/جولائی ۲۰۰۲ء ص ۵)
سی. بی. آر کے قادیانی چیئرمین کی قادیانیت نوازی
قادیانی ملک کے قیام سے لے کر اب تک اسے ہر سطح پر نقصان پہنچانے کی کوششوں میں مصروف رہے ہیں۔ ہر محکمہ میں قادیانیت کے فروغ وتحفظ کی کوششیں وہ اپنا مذہبی فریضہ سمجھ کر انجام دیتے ہیں۔ وہ اپنی جماعت کو فائدہ پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ وہ خواہ کسی سرکاری یا غیر سرکاری عہدوں پر کام کر رہے ہوں، ان کی وفاداریاں اوّل و آخر اپنی جماعت کے ساتھ وابستہ رہتی ہیں۔ دور کیوں جائیے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ ریاض احمد ملک نامی ایک قادیانی کے سینٹرل بورڈ آف ریونیو (سی. بی. آر ) کا چیئرمین بنائے جانے کے خلاف عوام الناس نے عموماً اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے خصوصاً پر زور احتجاج کیا تھا لیکن اس احتجاج کو مان کر اسے سبکدوش کرنے کے بجائے انتظامیہ نے وہی پالیسی اپنائی جو ظفر اللہ قادیانی اور کنور ادریس قادیانی کو ہٹانے کے مطالبے پر اس نے اپنائی تھی۔ ریاض احمد ملک نے اپنی جماعت کو کس طرح غیر قانونی طور پر فائدہ پہنچایا؟ اور اپنی جماعت سے وفاداری کو کس طرح نبھایا؟ اس کی ایک ادنیٰ مثال یہ ہے کہ بعض اخباری اطلاعات کے مطابق اس نے اپنی جماعت کے زیر انتظام کام کرنے والے بعض اداروں کو انکم ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دلوادیا ہے۔ اس سلسلہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت فیصل آباد کے رہنماء مولانا فقیر محمد نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہائی کورٹ سے دو قادیانی اداروں کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دلوائے جانے کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر کے قادیانی جماعت کے تمام اداروں پر انکم ٹیکس لاگو کرے اور قادیانی اداروں کو غیر آئینی اور غیر قانونی طور پر خصوصی مراعات دینے پر سی. بی. آر کے چیئرمین ریاض احمد ملک قادیانی کو برطرف کرے۔ گزشتہ دنوں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انکم ٹیکس ٹربیونل اور ہائی کورٹ کا قادیانی جماعت کی آمدنی کو ٹیکس سے چھوٹ دینا بہت بڑی سازش معلوم ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں بعض ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ریاض احمد ملک کے سی. بی. آر کا چیئرمین مقرر ہونے کے بعد قادیانی جماعت کو ماورائے قانون انکم ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دے دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ان
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اداروں کے علاوہ پانچ قادیانی اور ادارے ہیں جن میں وقف جدید، امور عامہ، خدام الاحمدیہ، انصار اللہ اور لجنہ اماء اللہ شامل ہیں لیکن اس کے باوجود وہ انکم ٹیکس سے بچے ہوئے ہیں اور ان اداروں پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا گیا۔ علاوہ ازیں چناب نگر فضل عمر ہسپتال اور صدر انجمن احمدیہ کے تحت کام کرنے والے ڈاکٹروں کی فیس تین سو روپے مقرر ہے اور یہ کمرشل ادارے ہیں۔ لہذا فضل عمر ہسپتال پر بھی ٹیکس لگایا جانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ بھی قادیانی جماعت کی کثیر جائیدادیں ہیں جن سے انہیں کروڑوں روپے کی آمدنی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی جماعت مقامی انکم ٹیکس دفتر سے ملی بھگت کر کے دولت ٹیکس بھی بچا رہی ہے، مزید یہ کہ قادیانی جماعت نے آج تک اپنا حاصل کردہ ماہانہ چندہ، جو دس فیصد ہر قادیانی سے وصول کیا جاتا ہے اور ترکہ وصیت جو کہ متوفی کی کل جائیداد کا تیس فیصد وصول کیا جاتا ہے، اپنی آمدنی میں ظاہر نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ قادیانیوں نے اپنی حکومت قائم کر رکھی ہے اور اپنی سازشوں کا جال پھیلا رکھا ہے جس سے مسلم مذہبی حلقوں میں زبردست اشتعال اور بے چینی پائی جاتی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس سلسلے میں فی الفور سپریم کورٹ کی خدمات حاصل کرے اور سی.بی.آر کے قادیانی چیئرمین ریاض احمد ملک کو فی الفور برطرف کر کے حکومت کو مالی نقصان پہنچانے والوں کو بے نقاب کرے اور انکم ٹیکس نہ ادا کرنے والے قادیانی اداروں پر انکم ٹیکس اور دولت ٹیکس (ویلتھ ٹیکس) بھی عائد کرے تاکہ حکومت کو کروڑوں روپے کی سالانہ آمدنی ہو۔ اس سے آپ کو بخوبی اندازہ ہو گیا ہو گا کہ ایک قادیانی کس طرح اپنی جماعت کو کروڑوں یا شائد اربوں روپے کے سالانہ ٹیکس سے بچا کر اسے مالی فائدہ پہنچانے کا باعث بن رہا ہے۔ پاکستان اس وقت جس معاشی بحران سے گذر رہا ہے اگر ارباب اقتدار واقعتاً اس کے سدباب کے خواہاں ہیں تو انہیں قادیانی جماعت کو دی گئی ان غیر قانونی مراعات کو واپس لے کر اس جماعت سے باقاعدہ ٹیکس وصول کرنا چاہئے۔ اس حوالے سے مولانا کا مطالبہ بالکل بجا ہے جس کو فوری طور پر پورا کیا جانا چاہئے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۱۲ تا ۱۸ / جولائی ۲۰۰۲ء ص ۴)
مرزائیت نوازی کی انتہاء
سینٹرل بورڈ آف ریونیو (سی.بی.آر) کے قادیانی چیئرمین ریاض احمد ملک کی مرزائیت نوازی کی گونج ابھی مدہم بھی نہ پڑنے پائی تھی کہ اب تازہ اطلاعات کے مطابق دو قادیانی اداروں انجمن احمدیہ اور تحریک جدید میں کام کرنے والے دو ہزار ملازمین کی تنخواہوں میں تین کروڑ روپے کا فراڈ کیا گیا ہے۔
قادیانی جماعت نے سرکاری محکموں کے بعض افسران کی ملی بھگت سے دونوں اداروں کی رجسٹریشن یہ کہہ کر منسوخ کرائی تھی کہ قادیانی ملازمین، جن کی تعداد انجمن احمدیہ میں تیرہ سو اور تحریک جدید میں سات سو ہے، رضا کارانہ بنیادوں پر کام کرتے ہیں جب کہ درحقیقت یہ سب کچھ صرف ٹیکس بچانے کے لئے کیا گیا۔ یہ سب کچھ ملی بھگت کے بغیر ممکن نہیں، اس ملی بھگت میں کون لوگ ملوث ہیں؟ یہ اظہر من الشمس ہے، سوال یہ ہے کہ سب کچھ عین حکومت کی ناک کے نیچے ہو رہا ہے اور حکومت کے کان پر جوں نہیں رینگ رہی؟ اس کی کیا وجوہات ہیں؟ ایک طرف آئین کے تحت قادیانیوں کے غیر مسلم ہونے اور غیر مسلم ہی رہنے کا ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے اور دوسری طرف قادیانیوں کو غیر آئینی اور غیر قانونی مراعات بھی فراہم کی جا رہی ہیں، انہیں کاغذات میں مذہبی جماعت بھی تسلیم کیا جا رہا ہے حالانکہ ہر غیر متعصب شخص، خواہ وہ مسلم ہو یا غیر مسلم، یہ بات بخوبی جانتا ہے کہ قادیانیت کسی مذہبی جماعت کا نام نہیں ہے بلکہ ایک سیاسی تحریک کا نام ہے۔ قادیانیوں نے اپنی سیاسی اغراض کے تحت اسلام کے لبادہ میں کفر کی تبلیغ کو اپنے قیام کے روز اول سے اپنا شعار بنائے رکھا ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
صرف قادیانیوں کو مراعات کی فراہمی تک ہی محدود نہیں بلکہ اب تو قادیانیوں کو اپنی کفریہ تبلیغ کی کھلی چھوٹ دینے کے لئے ایسا ذریعہ فراہم کیا جارہا ہے جس کے ذریعہ وہ اپنا زہر نوجوان نسل کی رگوں میں بخوبی اتار سکیں اور وہ ذریعہ ہے قادیانیوں کو تعلیمی اداروں کی واپسی، جس کی تازہ اطلاعات سے تصدیق ہوتی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب کہ حکومت مدارس آرڈیننس کے ذریعہ مدارس کو قومی دھارے میں لانے کا تہیہ کرچکی ہے اور مدارس میں پڑھائے جانے والے دینی نصاب میں ترمیم واضافہ کا فیصلہ کرچکی ہے، قادیانیوں کو تعلیمی اداروں کا واپس کیا جانا خطرے کی گھنٹی ہے۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ قادیانی اپنے باطل مذہب کی ترویج اور اشاعت کے لئے تعلیمی اداروں کو بطور ایک ذریعہ استعمال کرتے ہیں۔ ماضی میں اسلام کے نام پر کفر خالص اور ارتداد و زندقہ کی تعلیم دینے والے تعلیم الاسلام کالج چناب نگر کی مثال آپ کے سامنے ہے۔ یہی حال دیگر قادیانی تعلیمی اداروں کا ہے۔ ماضی میں اور اب بھی جہاں جہاں قادیانی موجود ہیں وہ تعلیم کو اپنے باطل مذہب کی تبلیغ کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ ان حالات میں ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ قادیانیوں اور عیسائیوں کو تعلیمی ادارے کیوں واپس کئے جارہے ہیں؟ اگر کوئی کہے کہ یہ انہی کی ملکیت تھے تو مدارس کے سلسلے میں یہ کیوں نہیں سوچا جاتا کہ یہ بھی تو کسی کی ذاتی ملکیت نہیں کہ ان پر کوئی قانون لاگو کیا جائے؟ قرائن سے یہ سراسر قادیانی سازش معلوم ہوتی ہے کہ اسلام کی تعلیم کا راستہ تو مدارس پر قدغن لگا کر اور ان کی تعلیمی سرگرمیوں کا رخ مذہب سے سائنس، ریاضی وغیرہ کی طرف موڑ کر روک دیا جائے جب کہ قادیانیوں کے انتظام میں دیئے جانے والے تعلیمی اداروں میں قادیانیت کی تبلیغ کھلم کھلا ہو اور طلباء کو اسلام کے نام پر قادیانیت سے متعارف کرایا جائے تا کہ وہ اسی کو اسلام سمجھنے لگیں اور جو طلباء قادیانی تعلیمی اداروں سے بچ جائیں وہ ”تین ایک اور ایک تین“ کا احمقانہ فلسفہ رکھنے والوں کے تعلیمی اداروں کی بھینٹ چڑھ جائیں۔ اگر تعلیمی اداروں کی غیر مسلموں کو واپسی کا یہ احمقانہ عمل نہ روکا گیا تو اس سے ملک میں ایک ایسی پود تیار ہوگی جو اسلام کے سوا ہر مذہب کی پیروکار ہوگی۔ اس لئے ملک میں اسلام کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے ضروری ہے کہ تعلیمی اداروں کو قادیانیت سمیت تمام غیر مسلموں کو واپس کرنے کا فیصلہ فی الفور واپس لیا جائے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۲۶؍ جولائی تا یکم؍ اگست ۲۰۰۲ء ص۴)
توہین رسالت اور اقلیتی کنونشن
گزشتہ دنوں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کرسچن لبریشن فرنٹ کے زیر اہتمام اقلیتوں کا ایک کنونشن منعقد ہوا جس میں اقلیتوں نے دیگر باتوں کے علاوہ حسب سابق حکومت سے توہین رسالت کے قانون کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس کنونشن کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں امریکہ، جاپان، جنوبی افریقہ اور سویڈن کے سفارت کار بھی شریک ہوئے۔ توہین رسالت کے قانون کی منسوخی کے مطالبات گزشتہ چند مہینوں میں امریکی ایوان نمائندگان اور سوئٹزر لینڈ کے وزیر خارجہ کی جانب سے پیش ہو چکے ہیں جب کہ اس کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والوں میں قادیانیوں اور عیسائیوں کے علاوہ پاکستان کے بعض ذمہ دار سرکاری اہل کار بھی شامل ہیں۔ توہین رسالت کے جرم کے سدباب کے لئے آنحضرت نے بذات خود کعب بن اشرف، ابورافع، عقبہ بن ابی معیط سمیت متعدد گستاخان رسول کے قتل کا حکم صادر فرمایا جب کہ ان کے علاوہ دیگر کئی افراد بھی دور رسالت میں اس جرم میں صحابہ کرامؓ کے ہاتھوں واصل جہنم ہوئے۔ فتح مکہ کے دن آنحضرتﷺ نے سوائے ان دس پندرہ افراد کے جو توہین رسالت کے مرتکب ہو چکے تھے، باقی تمام افراد کو عام معافی دیدی، جب کہ توہین رسالت کے مجرموں کے بارے میں آپﷺ نے حکم دیا کہ انہیں قتل کر دیا جائے خواہ وہ غلاف کعبہ میں چھپے ہوئے ہوں، جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ توہین رسالت کے مرتکب کو کسی صورت امن نہیں مل سکتا، حتیٰ کہ رحمۃ اللعالمینﷺ نے بذات خود اس جرم کے مرتکب
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
افراد کو قتل کرنے کے احکامات جاری فرمائے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ شاتم رسول کو سزا دینے کا حکم سراسر اسلامی حکم ہے اور اس کو ختم کرنے کا مطالبہ سراسر بلا جواز ہے۔ توہین رسالت کے حوالے سے ہم اقلیتوں سے یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ کیا توہین رسالت کے قانون کی منسوخی کا مطالبہ کرنے سے یہ ان کے لئے بہتر نہیں کہ وہ توہین رسالت کے جرم کا ارتکاب ہی ترک کر دیں؟ مہذب ممالک میں جرم کر کے اس جرم پر سزا کی منسوخی کا مطالبہ کرنے والوں کو دوہرے جرم کا مرتکب سمجھا جاتا ہے کہ ایک تو جرم کا ارتکاب کیا اور دوسرے اس جرم پر سزا کو غلط قرار دے رہے ہیں۔
توہین رسالت کے قانون کی منسوخی کا مطالبہ کرنے والے بھی دوہرے جرم کے مرتکب ہوئے ہیں کہ توہین رسالت کے جرم پر سزا کی منسوخی کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں اور شاتم رسول کی سرپرستی اور پشت پناہی بھی کر رہے ہیں۔ ماضی میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ اسی رویّہ کی وجہ سے برصغیر میں ہندوؤں اور دیگر غیر مسلموں کی جانب سے توہین رسالت کے جرم کے ارتکاب کی وجہ سے مسلمانوں کو خود اپنے ہاتھوں سے شاتم رسول کو کیفر کردار تک پہنچانا پڑا جس کی وجہ سے کئی بے گناہ مسلمانوں کو غیر مسلم عدالتوں نے پھانسی کی سزا سنائی اور حکومت کو ملک بھر میں مسلمانوں کے غیض و غضب کا نشانہ بننا پڑا۔ گزشتہ دنوں بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں ایک پبلشرز کی جانب سے ایک نصابی کتاب میں آنحضرت ﷺ کی خیالی تصویر کی اشاعت کا افسوس ناک سانحہ پیش آچکا ہے جس پر بھارت اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں شدید ردعمل ظاہر ہوا اور مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں نے اس ناپاک جسارت پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اس کتاب پر پابندی کا مطالبہ کیا۔ پاکستانی حکومت کو چاہئے کہ وہ ملک میں آباد تمام شہریوں خصوصاً اقلیتوں کے لئے ایک ضابطہ اخلاق وضع کرے کہ وہ ملک کی مسلم اکثریت کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے اور ان کے نبی پاک ﷺ کی توہین کرنے سے اجتناب کریں اور توہین رسالت کے قانون سمیت تمام اسلامی قوانین کی منسوخی کو یکسر ترک کردیں وگرنہ وہ لائق تعزیر ٹھہریں گے۔ اس سلسلہ میں حکومت کو توہین رسالت کے قانون کے حوالے سے واضح اعلان کر دینا چاہئے کہ ناموس رسالت کا تحفظ حکومت کا مذہبی فریضہ ہے جس کی ادائیگی میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کی جائے گی۔ اگر رسول اللہ ﷺ کی توہین کا سلسلہ اور اس توہین پر سزا کے قانون کی منسوخی کا مطالبہ فوری طور پر ترک نہ کیا گیا تو اس پر مسلمانوں کا جو ردعمل سامنے آئے گا وہ اسوۂ صدیقی کا پرتو ہوگا۔ اسی طرح حکومت کو بیرونی ممالک کے سفارت کاروں کی جانب سے توہین رسالت کے قانون کے مخالفین کی پشت پناہی اور اقلیتوں کے کنونشن میں ان کی شرکت پر ان سفارت کاروں کو بھی تنبیہ کرنی چاہئے اور ان کی حکومتوں سے اس واقعے پر باضابطہ احتجاج بھی کرنا چاہئے اور ان پر واضح کر دینا چاہئے کہ ملک کے حساس مذہبی معاملات میں کوئی بیرونی مداخلت قبول نہیں کی جائے گی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۶ تا یکم اگست ۲۰۰۲ء ص۴، ۵)
فلسطین میں قادیانی کردار کی ایک جھلک
قادیانی، اسلام کے اور اسرائیل اور بھارت، پاکستان کے ازلی دشمنوں میں شمار ہوتے ہیں۔ قادیانی گروہ مسلمانوں کے خلاف کس طرح سرگرم عمل ہے؟ اس کے لئے ایک چشم کشا رپورٹ ملاحظہ فرمائیے:
بھارتی جاسوس اسرائیل بھیج دیئے گئے، فلسطینیوں کے خلاف کارروائی کریں گے
خفیہ آپریشن ۱۵؍ جولائی ۲۰۰۲ء کو مکمل ہوا، قادیانی افسر خاص طور پر بھیجے گئے ہیں۔
کراچی (رپورٹ جاوید رشید) بھارت نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کو تحریک انتفاضہ کے پیش نظر فلسطینی مجاہدین حماس اور حزب
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اللہ کی جاسوسی کے لئے اپنے خفیہ اداروں کی افرادی قوت کی پہلی کھیپ دہلی اور ممبئی سے تل ابیب بھیج دی ہے۔ بھارت کا یہ خفیہ آپریشن تین مرتبہ ۹ فلائٹوں کے ذریعہ ۱۱؍ جولائی ۲۰۰۲ء کو شروع ہو کر ۱۵؍ جولائی ۲۰۰۲ء کو مکمل ہو گیا، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس آپریشن سے چھ ماہ پہلے اسرائیل کے محکمۂ دفاع اور سراغ رساں ادارے موساد کے ڈی ڈی ٹائپ افسران نے انڈین ایم آئی، را اور آئی بی کے افراد کے بارے میں بھارت جا کر تفصیلات بھی حاصل کی تھیں، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس کھیپ میں گورداسپور اور اٹاری کے قادیانی افسران کو خاص طور پر بھیجا گیا ہے جن کے لئے اسرائیل نے بھارت کے خفیہ اداروں سے ڈیمانڈ بھی کی تھی جب کہ بھیجے گئے بقیہ افراد کا تعلق مدراس، کلکتہ، امرتسر، انبالہ اور میرٹھ سے ہے، اسرائیل کے ساتھ ساتھ بھارت کا یہ خفیہ معاہدہ ایک سے دو سال تک کا ہے، جس کے دوران بھارت کی مختلف خفیہ سروسوں کے یہ افراد اسرائیل میں مقامی طور سے جاسوسی نیٹ ورک میں موساد کے ساتھ تعاون کریں گے اور آئندہ چند برسوں میں یہ سسٹم بھارت کے قادیانیوں کے سپرد کر دیا جائے گا۔‘‘
(روزنامہ جنگ کراچی مورخہ ۱۸؍ جولائی ۲۰۰۲ء)
اس رپورٹ سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ قادیانی گروہ مسلمانوں کے خلاف کھلم کھلا یہود و ہنود کا نہ صرف ساتھ دے رہا ہے بلکہ فلسطینی مسلمانوں کے خلاف جاسوسی اور اس کے نتیجے میں ہونے والے قتل عام میں بھی اب برابر کا شریک ہے۔ قادیانیوں نے اپنے مقصد یعنی اسلام کو نقصان پہنچانے کے لئے اب تک کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ کوئی ہتھکنڈہ ایسا نہیں تھا جو قادیانیوں نے اس مقصد کے لئے استعمال نہ کیا ہو۔ بس ایک یہ حربہ رہ گیا تھا کہ وہ مسلمانوں کے وحشیانہ قتل عام میں بالواسطہ یا بلا واسطہ عملی طور پر شریک ہو جائیں سو انہوں نے اس حربہ کو بھی آزمانے کا فیصلہ کیا اور اب قادیانیوں کی پوری ٹیم اس مقصد کے لئے اسرائیل پہنچ چکی ہے۔ قادیانیوں کا قارورہ یہودیوں سے ملتا ہے دونوں اسلام کے بدترین دشمن ہیں، دونوں کے عقائد میں بھی مماثلت پائی جاتی ہے، دونوں مسلمانوں کے قتل عام پر بھی متفق اور متحد ہیں، دونوں اپنے لئے ایک الگ ریاست کے لئے سرگرم رہے (یہودی اس میں کامیاب ہو گئے لیکن قادیانی اس سے محروم رہے) دونوں مغربی ایجنڈے کی تکمیل کے لئے سرگرم عمل ہیں، دونوں کو مغربی امداد ملتی ہے، دونوں کو مغرب کی پشت پناہی حاصل ہے۔ یہ حیرت انگیز مماثلت یہ ظاہر کرتی ہے کہ وہ ایک ماں کی توام اولاد ہیں۔ اب بھی مسلمان اگر قادیانیوں کے دجل و فریب کا شکار رہے اور انہیں یہود و ہنود سے کم تر درجے کا دشمن خیال کرتے رہے تو ان کا خدا ہی حافظ ہے۔ قادیانیوں کی حیثیت میر جعفر اور میر صادق سے کسی طور کم نہیں۔ میر جعفر اور میر صادق نے تو صرف سقوط بنگال اور سقوط میسور میں حصہ لیا تھا لیکن قادیانی سقوط اسلام کی تحریک کے مرکزی کردار ہیں۔ خدارا! ان سے خود بھی بچئے اور دوسروں کو بھی ان کے دجل و فریب کا شکار ہونے سے بچائیے۔ اخبار، انٹرنیٹ، ریڈیو اور دیگر جائز ذرائع ابلاغ کے ذریعہ جہاں تک ممکن ہو سکے، ان کے سدباب اور ان کے عقائد سے لوگوں کو آگاہ کرنے کی مہم چلائیے۔ یاد رکھئے! یہ اسلام کے بقاء کی جنگ ہے اور اس جنگ میں آپ کی حیثیت دین کے سپاہی کی ہے اور اسلام کا سپاہی اللہ کی مدد و نصرت سے کبھی ناکام نہیں رہتا۔ اٹھئے! اس جنگ میں اپنے بھائیوں کے شانہ بشانہ حصہ لیجئے اور اپنے مسلمان بھائیوں کے ایمان کی حفاظت کی مقدس جدوجہد میں شریک ہو کر قیامت کے دن خاتم النبیین محمد عربی ﷺ کی شفاعت کے امیدوار بنئے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۹ تا ۱۵؍ اگست ۲۰۰۲ء ص۴)
توہین رسالت کے قانون کے خلاف نرالی اقلیتی منطق
گزشتہ دنوں پاکستان مینارٹیز الائنس کے چیئرمین اور کرسچن فرنٹ کے رہنما شہباز بھٹی کا ایک بیان اخبارات میں شائع ہوا، جس میں انہوں نے توہین رسالت کے قانون کے حوالے سے بعض ایسے الفاظ کہے جن کی کسی طور کسی ذی ہوش انسان سے توقع نہیں کی جاسکتی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
موصوف کے بیان کے الفاظ ملاحظہ فرمائیے: ’’اقلیتیں قومی اسمبلی کے ۶۰ حلقوں میں فیصلہ کن کردار ادا کریں گی۔ چیئرمین مینارٹیز الائنس! توہین رسالت قانون کا غلط استعمال روکا جائے، مقدمے خصوصی عدالتوں میں چلائے جائیں۔ الزامات ثابت نہ کر سکنے والے کو بھی سزائے موت دی جائے۔
الائنس کے منشور کا اعلان ۱۱ اگست کو لاہور میں کنونشن میں کریں گے، پیپلز پارٹی، اے.این.پی، ایم.کیو.ایم سے رابطے ہوچکے ہیں۔ شہباز بھٹی کا ’’خبریں‘‘ کو انٹرویو۔
اسلام آباد (جنرل رپورٹر) چیئرمین آل پاکستان مینارٹیز الائنس شہباز بھٹی نے کہا کہ توہین رسالت قانون کا خاتمہ ممکن نہیں تو اس کا غلط استعمال روکا جائے اور الزامات ثابت نہ کر سکنے والے کو بھی سزائے موت دی جائے۔ اس کے علاوہ توہین رسالت کے مقدمات دہشت گردی کی خصوصی عدالتوں میں چلائے جائیں....... قانون توہین رسالت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ۱۹۷۴ء سے ۱۹۸۵ء تک یہ قانون موجود نہیں تھا تو اس الزام میں نہ کوئی قتل ہوا نہ کوئی سزا ہوئی۔ جب سے یہ قانون بنا ہے لوگوں نے اس کا غلط استعمال کیا ہے۔ یہ قانون مسیحی مسلم اتحاد کے درمیان رکاوٹ ہے۔ توہین رسالت قانون میں تمام پیغمبروں کی توہین پر سزائے موت نہیں ہے۔ اگر اس قانون کا خاتمہ ممکن نہیں تو کم از کم اس کا غلط استعمال روکا جائے۔ اس کے اندراج کے لئے مسلمان اور اقلیتی دانشمند رہنماؤں پر مشتمل علاقائی کمیٹیاں بنائی جائیں جو پہلے معاملے کا جائزہ لیں۔ اگر کوئی گناہ گار ٹھہرے تو اس کے خلاف ایف.آئی.آر کٹوائی جائے۔ توہین رسالت کے الزام میں کئی قیدی جیلوں میں ہیں، ان کے مقدمات کا جائزہ لینے کے لئے سپریم کورٹ کے جسٹس کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔
(روزنامہ خبریں مؤرخہ ۲۵؍ جولائی ۲۰۰۲ء)
شہباز بھٹی کا یہ کہنا کہ توہین رسالت کے قانون کا خاتمہ ممکن نہیں تو اس کا غلط استعمال ختم کیا جائے، اس کا مطلب بادی النظر میں یہی نظر آتا ہے کہ موصوف چاہتے ہیں کہ آئندہ پاکستان بھر میں توہین رسالت کے جرم میں کوئی مقدمہ درج نہ ہو، نیز وہ خود آگے کہتے ہیں کہ جو لوگ توہین رسالت کا جرم ثابت نہ کرسکیں انہیں بھی سزائے موت دی جائے۔ اس پر ایک لطیفہ یاد آیا۔ بادشاہ منصور کے دور میں ایک شاعر نے اس کی مدح میں ایک قصیدہ کہا۔ بادشاہ نے خوش ہوکر اس شاعر سے اس کی خواہش پوچھی۔ شاعر نے کہا کہ جب میں شراب پیؤں تو مجھ پر حد جاری نہ کی جائے یعنی اسی کوڑے نہ مارے جائیں۔ بادشاہ منصور نے کہا کہ یہ تو ممکن نہیں کیونکہ یہ شرعی سزا ہے، البتہ اس نے یہ قانون بنا دیا کہ جو کوئی اس شاعر کو شراب کے نشے میں دھت ہونے کی بنا پر پکڑ کر قاضی کی عدالت میں لائے گا تو شاعر کو شراب پینے کے جرم میں اسی کوڑے مارے جائیں گے اور لانے والے کو سو کوڑے مارے جائیں گے۔ چنانچہ پھر لوگ اس شاعر کو نشے میں دھت پڑا دیکھ کر یہ کہہ کر گزر جاتے تھے کہ اسی کوڑے کے بدلے سو کوڑے کون کھائے؟ شہباز بھٹی ماضی میں جو مطالبات پیش کرتے رہے ہیں ان کے مطابق اوّل تو توہین رسالت کے قانون کو ختم کر دیا جائے، اگر یہ ممکن نہ ہو تو توہین رسالت کے جرم میں کسی کو نہ پکڑا جائے اور اگر پکڑ لیا جائے تو اس مجرم کو جرم ثابت ہونے پر سزائے موت نہ دی جائے اور اگر کسی مجرم پر کسی وجہ سے جرم ثابت نہ ہو سکے تو الزام ثابت نہ کر سکنے والے کو سزائے موت دی جائے۔ یہ انتہائی حیران کن بات ہے۔ دنیا بھر میں قتل کے بے شمار مقدمات درج ہوتے ہیں، بہت سے مقدمات میں مجرم پر جرم ثابت ہو جاتا ہے اور بہت مرتبہ ناکافی شہادتوں کی بناء پر یا شک کا فائدہ دے کر مجرم کو بری کر دیا جاتا ہے ہے، اگر شہباز بھٹی کی منطق کو ایک منٹ کے لئے مان لیا جائے تو پھر قتل کے مقدمہ کے ہر مدعی کو جرم ثابت نہ کئے جانے کی صورت میں پھانسی پر لٹکا دیا جانا چاہئے جب کہ اقدام قتل کے مقدمات میں بھی یہی کچھ کیا جانا چاہئے؟ ذرا ٹھنڈے دل سے سوچئے! کیا یہ قاتل کو سزا سے بچانے کی ایک معصومانہ کوشش
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نہیں؟ کیا یہ اسی کوڑے کی سزا کے مجرم کو بچانے کے لئے سو کوڑوں کی سزا کے نفاذ کی کوشش نہیں؟ شہباز بھٹی کہتے ہیں کہ ۱۹۷۴ء سے ۱۹۸۵ء تک یہ قانون موجود نہیں تھا تو اس الزام میں نہ کوئی قتل ہوا، نہ کوئی سزا ہوئی۔ اس ”عقل مندی“ پر سوائے اس کے اور کیا تبصرہ کیا جاسکتا ہے کہ جب یہ قانون ہی موجود نہیں تھا تو سزا کا کیا سوال؟ اور جب تک یہ قانون نہیں تھا تو کوئی کس بنیاد پر توہین رسالت کے مجرم کو عدالت میں لاتا۔ نیز آج بھی مسلمان اس جرم کے مرتکب شخص کو خود سزا دینے کے بجائے عدالتوں میں لاتے ہیں۔ ۱۹۷۴ء سے ۱۹۸۵ء بلکہ اب تک اس جرم کے مرتکب افراد کا قتل نہ ہونا مسلمانوں کی امن پسندی اور اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ قانون کو ہاتھ میں نہیں لیتے اور سر کاری قوانین کا احترام کرتے ہیں۔ شہباز بھٹی کہتے ہیں کہ یہ قانون مسیحی مسلم اتحاد میں رکاوٹ ہے۔ ہم اس موقع پر یہ پوچھنا چاہیں گے کہ مسلمانوں نے کب مسیحیوں سے اتحاد کی درخواست کی ہے؟ اور اس خود ساختہ اتحاد کی وہ کون سی شق ہے جس کی بنیاد پر اتحاد میں رکاوٹ پیدا ہوئی؟ شہباز بھٹی صاحب! مسلمان آپ سے، یہودیوں سے اور قادیانیوں سے کسی قیمت پر اور کسی قسم کے اتحاد کے خواہاں نہیں۔ آپ اگر اسلامی قوانین سے اتنے تنگ ہیں تو اپنے کسی ہم مذہب ملک میں جا بسیں اور اس پاک سرزمین کو اپنے ناپاک وجود سے پاک کر دیجئے۔ آپ جیسے لوگوں نے پاکستان میں مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو اکسانے اور ٹھیس پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے، آپ نے پاکستان میں لاقانونیت کو فروغ دینے کی غرض سے اسلامی قوانین بالخصوص توہین رسالت کے قانون کو اپنی ہذیان گوئی کا ہدف بنا رکھا ہے۔ آپ کے اندر تو انسانیت کا وجود عنقا ہے۔ اس لئے آپ سے تو کسی درست فیصلہ اور درست مؤقف اختیار کرنے کی توقع نہیں لیکن ہم حکومت سے یہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ شہباز بھٹی اور اس قبیل کے دیگر افراد کے خلاف فوری طور پر ایکشن لے اور انہیں اسلام اور ملکی قوانین کے خلاف ہذیان گوئی کے جرم میں قرار واقعی سزا دے تاکہ آئندہ کسی اور شخص اس قسم کی جرأت نہ ہو۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۹ تا ۱۵؍اگست ۲۰۰۲ء ص۴، ۵)
قادیانی مبلغین کا دھمکی آمیز رویّہ
ملک کے مختلف شہروں میں قادیانی کس ڈھٹائی کے ساتھ کھلم کھلا اپنے باطل مذہب کی تبلیغ و ترویج میں مشغول ہیں اور دھونس و دھمکی کے ذریعہ سادہ لوح مسلمانوں کو قادیانیت قبول کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ اس کا معمولی سا اندازہ معاصر روزنامہ ”اسلام“ کراچی کی ایک رپورٹ سے ہوتا ہے، جس کے مطابق ضلع حیدر آباد میں واقع لطیف آباد کے رہنے والے ایک مسلمان محمد اسلم کو قادیانیوں نے مختلف اوقات میں اپنے باطل مذہب کی تبلیغ کر کے مرتد بنانے کی کوشش کی لیکن محمد اسلم کی جانب سے قادیانیت کو قبول کرنے سے انکار پر قادیانیوں نے اسے نقصان پہنچانے کی دھمکیاں دیں۔ اس سلسلہ میں پوری خبر کی تفصیل درج ذیل ہے:
”نواب شاہ: قادیانی بن جاؤ ورنہ نقصان پہنچائیں گے، قادیانیوں کی دھمکی“
میرا پڑوسی مجھے قادیانی نہ بننے پر دھمکیاں دے رہا ہے، لطیف آباد کے رہائشی نے ایف آئی آر درج کروادی۔
نواب شاہ (نامہ نگار) ”قادیانی بن جاؤ ورنہ نقصان پہنچائیں گے“ قادیانیوں کی مسلمانوں کو دھمکی۔ بی سیکشن پولیس نے کئی ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق لطیف آباد گولیمار کے رہائشی محمد اسلم ولد اسلم آرائیں نے ہفتہ کے روز بی سیکشن تھانے میں رپورٹ درج کراتے ہوئے کہا کہ میں اپنے دو دوستوں کے ہمراہ مریم روڈ پر ایک ہوٹل میں بیٹھا ہوا تھا کہ ملزم محمد ارشد ولد محمد یوسف جو کہ میرا پڑوسی ہے اور مجھے ہر روز کہتا تھا کہ تم قادیانی بن جاؤ اور ہمارے مذہب میں آ جاؤ جس پر میں نے انکار کر دیا، ابھی چند روز
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پہلے وہ میرے پاس آیا اور کہا کہ ہمارے مذہب میں نہیں آئے تو نقصان پہنچائیں گے۔ اس رپورٹ پر بی سیکشن پولیس نے دفعہ (پی.پی.سی) ۲۹۸-سی کے تحت ایف.آئی.آر درج کر کے تفتیش شروع کر دی۔
(روزنامہ ’اسلام‘ کراچی مورخہ ۱۳/ اگست ۲۰۰۲ء)
امتناع قادیانیت آرڈیننس مجریہ ۱۹۸۴ء کے تحت پاکستان میں قادیانیوں کی تبلیغ کی کسی صورت میں اجازت نہیں بلکہ یہ تعزیرات پاکستان کے تحت قابل تعزیر جرم ہے۔ اس کے باوجود پاکستان میں اس وقت صورت حال یہ ہے کہ مسلمانوں کو قادیانیت کی کھلم کھلا تبلیغ کی جا رہی ہے اور قادیانی بننے اور قادیانیت کو قبول کرنے سے انکار کرنے پر نقصان پہنچانے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ یہ اس ملک کا حال ہے جسے اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا اور جس کے قیام کا مقصد آج بھی: ’’پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ‘‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ چند دن ہوئے ہیں کہ ہم اپنا پچپن واں یوم آزادی منا کر فارغ ہوئے۔ ان پچپن سالوں میں پاکستان میں قادیانیت کی تبلیغ کو روکنے کے لئے سوائے چند قوانین کے کوئی ایسی پابندی نہیں لگائی گئی جس سے اس کا مکمل طور پر سدباب ہو جائے جب کہ اس کے برعکس ملک میں اسلام اور اس کے احکامات کی تنفیذ کی راہ میں ہر موقع پر روڑے اٹکائے گئے اور ملک کو سیکولر بنانے کی پوری کوشش کی گئی اور اس کی راہ روکنے والوں کا منہ بھر کر مذاق اڑایا گیا۔
اسلام اور قادیانیت میں وہی فرق ہے جو حق اور باطل میں ہے۔ پاکستان میں کچھ عرصہ سے جہاں بعض طبقات کی جانب سے سود کو جائز قرار دلوانے کی کوشش کی جا رہی ہیں، وہاں قادیانیت کو اسلام کی ایک شاخ اور قادیانیوں کو مسلمانوں کا ایک فرقہ ثابت کرنے کی کوششیں بھی زوروں پر ہیں۔ قادیانی تو اس کوشش میں پیش پیش ہیں ہی، بعض مسلمان کہلانے والے نام نہاد دانشور اور اخبارات کے کالم نگار بھی اس کوشش میں قادیانیوں کے شانہ بشانہ شریک ہیں۔ ان طبقات کے نزدیک قادیانیت کی اسلام سے علیحدگی اور قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی کوئی خاص ضرورت نہیں یہ لوگ پاکستان میں اسلام کی تبلیغ کے شدید مخالف ہیں کیونکہ وہ بقول ان کے تشدد پسندی کی تعلیم دیتی ہے، لیکن یہ لوگ ملک میں قادیانیت کی روز افزوں تبلیغ پر دم سادھے بیٹھے ہیں، ان کے نزدیک قادیانیت کی تبلیغ پر پابندی بے جا اور ناروا سلوک ہے۔ ملکی سطح کے مختلف اردو و انگریزی اخبارات میں آج کل اس قسم کے کالم شائع ہو رہے ہیں، جس سے کالم نگاروں کا مقصد قادیانیوں کے کفر کو ہلکا کر کے پیش کرنا، انہیں مسلمانوں کا ایک فرقہ ثابت کرنا اور قادیانیوں کے خلاف قوانین کو غلط ثابت کرنا ہے۔ غیر مسلموں کی کسی عبادت گاہ پر کچھ ہو جائے وہ چیخ اٹھتے ہیں لیکن فلسطین، کشمیر اور خود پاکستان میں بے چارے مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اس پر وہ مجرمانہ خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ مسلمان کسی کو اس کے باطل مذہب کی تبلیغ سے روکیں تو یہ بے ضمیر افراد مسلمانوں کے خلاف ان غیر مسلموں کی حمایت کرتے ہیں، وہ غیر مسلموں کی ان این.جی.اوز کی تعریفیں کرتے ہیں جو فلاحی کاموں کی آڑ میں قادیانیت، عیسائیت، یہودیت اور دیگر مذاہب کے فروغ میں کوشاں ہیں۔ لیکن کسی مسلمان کو کوئی غیر مسلم اپنے مذہب کی تبلیغ کرے اور مسلمان کی جانب سے اس مذہب کو قبول کرنے سے انکار پر وہ غیر مسلم اسے دھمکیاں دے، یا دنیا بھر میں کفریہ طاقتیں مسلمانوں کا قتل عام کریں یہ ان کے نزدیک کوئی قابل اعتراض بات نہیں۔ ’’دیوث‘‘ کا لفظ ایسے ہی افراد کے لئے استعمال ہوتا ہے جو بے غیرت ہوں، جن کے ضمیر اسلامی غیرت سے عاری ہو چکے ہوں اور جو اپنے مفادات کی خاطر قادیانیوں، عیسائیوں اور غیر مسلموں کے ہاتھوں کھلونا بن کر انہیں تحفظ فراہم کرنے میں لگے ہوئے ہوں۔ ہم اتمام حجت کی خاطر ان لوگوں سے یہ سوال پوچھنے کی جسارت کریں گے کہ ایک قادیانی کی جانب سے اپنے مسلمان پڑوسی کو قادیانی نہ بننے کی صورت میں نقصان پہنچانے کی دھمکیاں دینا کیا بجائے خود قادیانیت کے ظالمانہ مذہب ہونے کی علامت نہیں؟ کیا اس سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ قادیانی ظالم ہیں؟ ’’دین میں جبر نہیں‘‘ کا نعرہ لگانے والے یہ افراد ان دھمکیوں پر
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ایک عرصہ گزرنے کے باوجود کیوں اپنا رد عمل ظاہر نہیں کر رہے؟ جس خبر کا ہم نے شروع میں حوالہ دیا وہ یقیناً بے شمار افراد کی نظروں سے گزری ہوگی ، ان کالم نگاروں اور دانشوروں کی ایک کثیر تعداد نے بھی اس کا مطالعہ کیا ہو گا لیکن آج تک ان میں سے کسی ایک کی آواز بھی اس ظلم و نا انصافی کے خلاف نہیں اٹھی۔ کیا اس طرح یہ حضرات اس ظلم و نا انصافی کے خلاف آواز نہ اٹھا کر قادیانیوں کے اس ظلم میں ان کے شراکت دار نہیں بن گئے؟
ہم اس موقع پر بتا دینا چاہتے ہیں کہ ملک میں قادیانیوں کو تبلیغ کی کھلی چھوٹ دینے ، ان کی جانب سے مسلمانوں کو قادیانیت قبول نہ کرنے کی صورت میں دھمکیاں دینے اور ملک کو قادیانی اسٹیٹ میں تبدیل کرنے کی کسی صورت میں اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ ملک مرزا غلام احمد قادیانی کے نام پر نہیں بلکہ محمد رسول اللہ ﷺ کے مقدس نام پر حاصل کیا گیا تھا اور اس ملک میں آپ ﷺ ہی کی نبوت کا سکہ چلے گا۔ ہم یہ مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہیں کہ جس قادیانی نے مسلمان کو قادیانیت کی تبلیغ کی اور قادیانیت قبول نہ کرنے کی صورت میں نقصان پہنچانے کی دھمکیاں دیں ، اسے فوری طور پر گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے تا کہ آئندہ کسی قادیانی کو ایسی جرأت نہ ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک میں امتناع قادیانیت آرڈیننس پر مکمل طور پر عمل درآمد کیا جائے اور اس حوالے سے ہر قسم کی کوتاہی سے گریز کیا جائے۔ یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ قادیانیت ایک گالی ہے، یہ گالی جس مسلمان کو بھی دی جائے گی (خواہ قادیانیت قبول کرنے کی دعوت دے کر دی جائے ) وہ اس کے خلاف آئین وقانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے راست اقدام اٹھانے پر مجبور ہوگا ، جس کی تمام تر ذمہ داری قادیانیوں پر عائد ہوگی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۳ تا ۲۹؍اگست ۲۰۰۲ء ص۴، ۵)
بی بی سی کی قادیانیت نوازی (۱)
گزشتہ دنوں پاکستان کا پچپن واں یوم آزادی روایتی جوش وخروش سے منایا گیا۔ ملک بھر کے مسلمانوں نے اپنے اپنے انداز سے اس موقع پر اپنی خوشی کا اظہار کیا۔ ان دنوں میں برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے جو اپنی اسلام دشمنی میں مشہور ہے، اسلام، مسلمانوں اور پاکستان کے خلاف ایک نئے زاویہ سے ہرزہ سرائی کی۔ اس ادارے نے پاکستان میں اقلیتوں پر مظالم کے حوالے سے مختلف پروگراموں اور تحریروں کے ذریعہ پاکستان میں اقلیتوں خصوصاً قادیانیوں کے بارے میں ایسی صورت حال کی عکاسی کی جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں بی بی سی نے ”عقیدے پر سزا“ کے عنوان سے عارف شمیم کی ایک رپورٹ اپنے پروگرام میں شامل کرنے کے علاوہ اسے اپنی انٹرنیٹ ویب سائٹ پر بھی جاری کیا، جس میں قادیانیوں کو حسب سابق مظلوم ثابت کرنے کی اپنی سی کوشش کی گئی اور اس کوشش میں حقائق کو جھٹلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔
رپورٹ پیش کرنے والے عارف شمیم نے مائی سیدا نامی ایک ہندو عورت کی کہانی سے اپنی رپورٹ کا آغاز کیا ہے کہ : ”وہ پیدائشی طور پر ہندو تھی اور قیام پاکستان کے بعد وہ اپنے خاندان کے ساتھ بھارت جانے کی بجائے پاکستان ہی میں رک گئی اور یہاں اس نے ایک ”مسلمان“ سے شادی کر لی لیکن ۱۹۷۴ء میں اس پر ایک نیا انکشاف ہوا کہ وہ ”مسلمان“ نہ رہی ایک نئے قانون کے تحت وہ اور اس کا شوہر دونوں غیر مسلم قرار دیئے گئے ، کیونکہ مائی سیدا نے ایک ”احمدی“ سے شادی کی تھی۔“
عارف شمیم نے ان جملوں میں تین غلط بیانیاں کی ہیں : ایک یہ کہ انہوں نے قادیانیوں کو مسلمان کہا اور لکھا ہے ، دوم یہ کہ انہوں نے ۱۹۷۴ء میں قومی اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی آئینی ترمیم کو قادیانیوں کے ”مسلمان“ نہ رہنے کی وجہ قرار دیا ہے اور سوم یہ کہ
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
انہوں نے ”احمدی“ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ قادیانی غیر مسلم تھے، غیر مسلم ہیں اور اگر اسی عقیدے پر رہے تو غیر مسلم رہیں گے، ان کے عقائد جاننے کے باوجود ان کو مسلمان کہنا، مسلمان لکھنا اور مسلمان سمجھنا بذات خود کفر ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے ۱۸۹۱ء میں مسیح موعود اور ۱۹۰۱ء میں نعوذ باللہ خود محمد رسول اللہ ہونے کا دعویٰ کیا اور اس کے پیروکاروں نے اس کو ان تمام دعاوی میں سچا مان لیا۔ مرزا قادیانی نے ایک غلطی کا ازالہ ص ۱، خزائن ج ۱۸ ص ۲۰۷ پر لکھا: ”محمد رسول اللہ و الذین معه اشدآء علی الکفار رحمآء بینھم اس وحی الہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔“ عارف شمیم اگر قادیانیوں کا یہ عقیدہ اور ان کے دیگر عقائد جاننے کے باوجود انہیں مسلمان سمجھتے ہیں تو انہیں خود اپنے ایمان کی خیر منانی چاہئے۔
عارف شمیم کا آئینی ترمیم کو قادیانیوں کے مسلمان نہ رہنے کی وجہ سمجھنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ موصوف قادیانی مسئلہ اور اس کی تاریخ ہی سے نہیں بلکہ اسلامی عقائد سے بھی مکمل طور پر ناواقف ہیں۔ انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ جو شخص نبی کریم ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے، وہ اور اس کے پیرو کار قرآن و حدیث کی روشنی میں مسلمان نہیں اور یہ نبی کریم ﷺ، صحابہ کرام، ائمہ مجتہدین سے لے کر آج تک پوری امت کا متفقہ عقیدہ ہے۔ آپ ہی فیصلہ کیجئے کہ کوئی ادنیٰ فہم رکھنے والا شخص بھی قرآن و حدیث کے فیصلہ کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی امت کو مسلمان قرار دے سکتا ہے؟ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی امت تو اسی وقت مسلمان نہیں رہے تھے جب مرزا غلام احمد قادیانی نے دعویٰ نبوت کیا اور اس کی امت نے اسے ان دعاوی میں سچا مان لیا۔ قومی اسمبلی کا قصور صرف یہ ہے کہ اس نے چودہ صدیوں سے متواتر چلے آنے والے اس عقیدہ کو آئینی شکل دے دی اور یہ طے کر دیا کہ اب مدعی نبوت اور اس کے پیرو کار کو مسلمان نہیں کہا جائے گا بلکہ وہ کافر ہیں، اس لئے قادیانی خود کفر اختیار کرنے کی وجہ سے مسلمان نہیں رہے بلکہ کافر بن گئے، قومی اسمبلی یا عام مسلمانوں نے تو صرف ان کے کفر کی نشاندہی کی ہے۔
عارف شمیم کا قادیانیوں کے لئے ”احمدی“ کا لفظ استعمال کرنا بھی سراسر غلط ہے۔ ”احمد“ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد رسول ﷺ کا نام ہے، جن کے تشریف لانے کی بشارت حضرت عیسیٰ نے آپ کے بارے میں اس نام کو استعمال کر کے دی تھی، جس کا قرآن مجید میں ذکر موجود ہے۔ قادیانی قرآن مجید میں استعمال کئے گئے اس لفظ سے مرزا غلام احمد قادیانی مراد لیتے ہیں اور مرزا قادیانی کو اس بشارت کا مصداق ٹھہراتے ہیں دور کیوں جائیے؟ خود مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی ذریت کی تحریریں اس کی دلیل ہیں۔ ان ناقابل تردید دلائل کی موجودگی میں کیا کوئی ذی عقل شخص آنحضرت ﷺ کے اس مقدس نام کو گستاخ رسول قادیانیوں کی طرف سے منسوب کرنا گوارا کر سکتا ہے؟ اسی وجہ سے پوری امت متفق ہے کہ قادیانیوں کو احمدی کہنا بالکل غلط اور رسول اللہ ﷺ کی توہین ہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۳۰؍ اگست تا ۵؍ ستمبر ۲۰۰۲ء ص۴، ۵)
بی۔ بی سی کی قادیانیت نوازی (۲)
عارف شمیم لکھتے ہیں کہ کوئی قادیانی پاکستان سے حج پر نہیں جاسکتا کیونکہ وہ آئینی طور پر مسلمان نہیں اور یہی اس کے پاسپورٹ پر لکھا ہوتا ہے لیکن اگر یہی قادیانی کسی اور ملک جا بسے تو وہ یہ مذہبی فریضہ بڑے اطمینان سے بلا خوف و خطر ادا کر سکتا ہے کیونکہ یا تو اس کے پاسپورٹ پر اسے مسلمان لکھا گیا ہو گا یا صرف اس ملک کا شہری۔ عارف شمیم صاحب! قادیانیوں کا حج پر جانا تو دور کی بات ہے؟ جس شخص کو وہ نبی مانتے ہیں یعنی مرزا غلام احمد قادیانی، وہ خود باوجود صاحب حیثیت ہونے کے تمام عمر حج پر نہیں گئے تو ان کی امت کیونکر اس فریضہ کی
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ادائیگی کا قصد کرے گی، بلکہ ان کی امت نے تو اس سے بھی بڑھ کر قادیان ہی کو مکہ و مدینہ اور گنبد خضریٰ کے مقابلے میں مرزا قادیانی کی قبر کو گنبد بیضا کا نام دے دیا۔ نہ معلوم عارف شمیم سے کس نے کہہ دیا ہے کوئی قادیانی حج کرنے نہیں جاسکتا؟ قادیانی تو صرف اپنے سالانہ جلسہ میں شرکت کے لئے لندن جانے یا برطانیہ، امریکہ، کینیڈا، جرمنی، بیلجیم اور دیگر ممالک میں سیاسی پناہ حصول کے شوقین ہیں، انہیں نہ حج سے کوئی سروکار ہے اور نہ مکہ و مدینہ سے، ہاں یہ ممکن ہے کسی خاص مقصد سے انتشار پھیلانے کے لئے کسی قادیانی نے ان مقامات مقدسہ میں جانے کا قصد کیا ہو، تو ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں ایسے موذی کو ان مقدس مقامات سے دور رکھنا اور اس کے عقائد غلیظہ کے تعفن سے ان مقامات کو پاک رکھنا عین عدل و انصاف کا تقاضا ہے۔ آج تک کسی اور ملک سے بھی کسی قادیانی نے حج کی ادائیگی کے نام پر سعودی عرب کا سفر نہیں کیا، ورنہ عارف شمیم اس کے ثبوت میں کوئی ایک نام تو پیش کرتے، لیکن وہ یہ کیسے کر سکتے تھے؟ کیونکہ قادیانیوں کا حج پر جانا ممکن ہی نہیں ہے اور وجہ اس کی یہ ہے کہ قادیانیوں کے بڑے خود قادیان کو زیادہ ثواب کی جگہ قرار دے چکے ہیں، بقول مرزا غلام احمد قادیانی کے: ”تین شہروں کا نام قرآن شریف میں اعزاز کے ساتھ درج کیا گیا ہے: مکہ، مدینہ، قادیان ۔“ قادیانیوں کے نزدیک قادیان میں منعقد ہونے والے ان کے سالانہ جلسے کی اہمیت حج اکبر کے برابر ہے۔
قادیانیوں کے اخبار الفضل قادیان نے اپنی ۱۸؍ دسمبر ۱۹۲۲ء کی اشاعت میں قادیانیوں کے سالانہ جلسہ کو ”احمدیت کے حج اکبر“ سے تعبیر کیا ہے۔
مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی کتاب براہین احمدیہ ص۵۵۸، خزائن جلد اوّل صفحہ ۶۶۷ حاشیہ در حاشیہ میں قادیان میں واقع قادیانی عبادت گاہ کو ”مسجد حرام“ یعنی خانہ کعبہ قرار دیا۔
مرزا غلام احمد قادیانی کے صاحبزادے اور قادیانی جماعت کے سابق سربراہ مرزا محمود نے قادیان میں منعقدہ اپنی جماعت کے سالانہ جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ مکہ اور مدینہ دونوں قادیان کے نام ہیں۔
(الفضل قادیان مؤرخہ ۵؍ جنوری ۱۹۳۳ء)
جب کہ اس سے قبل ۱۹۱۴ء کے سالانہ جلسے میں وہ پہلے ہی کہہ چکے تھے کہ خدا تعالیٰ نے قادیان کو حج کے لئے مقرر کیا ہے اور ان کے بقول مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی قادیان آنے کو حج قرار دیا ہے۔
(الفضل قادیان ۵؍ جنوری ۱۹۳۳ء)
پھر حج تو مسلمانوں کا مذہبی فریضہ ہے، قادیانی جب تک اسلام نہیں لاتے اس وقت تک ان کے حج پر جانے کی عارف شمیم کو اتنی فکر کیوں ہے؟
قادیانیوں کا دیگر ممالک میں بنوائے جانے والے پاسپورٹ پر اپنے آپ کو مسلمان لکھوانا ایسا ہی ہے جیسا کہ شراب کی بوتل پر زمزم کا لیبل لگانا۔ قادیانیوں کی دھوکہ دہی پر صرف یہی دلیل کافی ہے کہ وہ باوجود اسلام سے متضاد نظریات رکھنے کے اپنے مذہب کو اسلام، اپنے جھوٹے مدعی نبوت کو محمد رسول اللہ اور خود کو مسلمان کہتے ہیں کہ وہ صحیح اسلامی عقائد رکھتے ہیں تو انہیں کافر کیوں کہا جاتا؟ لیکن ظاہر ہے کہ کفر کو اسلام اور شراب کو زمزم کہنے کی اجازت دینا عقل و انصاف کا تقاضا نہیں۔
عارف شمیم پاکستان میں قادیانیوں کی صحیح تعداد بتانے سے گریز کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پاکستان کے قادیانی اس لحاظ سے بہت مجبور ہیں کہ معاشرتی اور معاشی طور پر آسودہ حالات کے باوجود ان لوگوں کا عقیدے کے لحاظ سے پاکستان میں سب سے زیادہ استحصال ہوا ہے۔ یہ کہنے کے بعد وہ یکبارگی الٹی زقند بھر کر یہ بھی مانتے ہیں کہ پاکستان میں ظفر اللہ قادیانی کو وزیر خارجہ بنایا گیا تھا، شعبہ اقتصادیات میں ایم۔ایم۔احمد ملک کے اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے، جنرل افتخار جنجوعہ، جنرل اختر ملک، جنرل عبدالعلی ملک، ایئر مارشل ظفر چوہدری،
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ایڈمرل حفیظ سمیت متعدد قادیانی مختلف اوقات میں فوج کے اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے، ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی مدت دراز تک صدر پاکستان کے سائنسی مشیر رہے جب کہ سول سروس میں بھی بے شمار قادیانی اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔ اسی اثنا میں عارف شمیم کہتے ہیں کہ پاکستان میں قادیانیوں کی تعداد بقول قادیانیوں کے تیس لاکھ ہے۔ ذرا انصاف کیجئے! تینوں مسلح افواج کے اہم ترین عہدوں پر فائز رہنے کے باوجود ان کا استحصال ہوا ہے، تو یہ دعویٰ کرنے والے کی عقل پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے۔ قادیانیت نواز تو بہت دیکھے تھے لیکن جس طرح عارف شمیم نے قادیانیت نوازی کا مظاہرہ کیا ہے اس پر شاید قادیانی بھی انہیں داد دینے پر مجبور ہو جائیں۔
عارف شمیم کی خوش فہمی ہے کہ: ”اس سے قبل چند مذہبی حلقوں کی مخالفت کے باوجود احمدی فرقے کو بھی مسلمانوں کا ہی ایک فرقہ سمجھا جاتا رہا۔“ عارف شمیم اس وقت کی بات کر رہے ہیں جب وہ غالباً ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے ہوں گے۔ موصوف کی اطلاع کے لئے ہم یہ وضاحت کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ جب مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا تو انہوں نے ساتھ ہی ان لوگوں کو جنہوں نے ان کی نبوت کا اقرار نہیں کیا کافر قرار دیا، یہ رسم کافر گری ان کی اولاد میں بھی جاری رہی اور مرزا کے بیٹے مرزا بشیر احمد ایم.اے نے اپنی کتاب ”کلمۃ الفصل“ کے صفحہ ۱۱۰ پر صاف صاف لکھا کہ جو شخص مرزا قادیانی کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے، جب کہ ان کے برادر اکبر اور قادیانی جماعت کے سابقہ پوپ مرزا محمود اپنی کتاب ”انوار خلافت کے صفحہ ۳۵ پر لکھتے ہیں: ”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (یعنی مرزا قادیانی) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا نام بھی نہیں سنا، وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“
اسی کتاب کے صفحہ ۹۰ پر وہ لکھتے ہیں کہ: ”ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں۔“ ملاحظہ فرمائیے! جب مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی امت نے مسلمانوں کو ”کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج“ قرار دینا شروع کیا تو انہوں نے خود ہی اپنے آپ کو مسلمانوں سے الگ کر لیا، اب انہیں مسلمانوں کا فرقہ کہنے کا کیا سوال؟ عارف شمیم جیسے عقل مند ہی اس کے باوجود انہیں ”مسلمانوں کا ہی ایک فرقہ“ قرار دے سکتے ہیں ورنہ خود عارف شمیم بھی (اگر وہ واقعتاً مسلمان ہیں) قادیانیوں کے نزدیک ”کافر بلکہ پکے کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں ۔“ عجائبات میں سے ہے کہ جو شخص قادیانیوں کی وکالت کر رہا ہے خود وہ قادیانیوں کے نزدیک ”کافر اور دائرہ اسلام سے خارج“ ہے۔ قادیانیوں کے غیر اسلامی عقائد خصوصاً مرزا غلام احمد قادیانی کو ”محمد رسول اللہ“ ماننے، اجرائے نبوت کے قائل ہونے، محمد عربی کا کلمہ پڑھنے والی چودہ سو سالہ امت کو کافر قرار دینے اور اپنے غلط عقائد کو اسلام کا نام دینے کے جرم زندقہ کی وجہ سے انیسویں صدی عیسوی کے اختتام اور بیسویں صدی عیسوی کے آغاز میں امت اسلامیہ نے یہ فیصلہ صادر فرمایا کہ چونکہ قادیانیوں کے عقائد قرآن وحدیث سے متصادم اور اسلامی تعلیمات کی صریح خلاف ورزی پر مشتمل ہونے کے علاوہ اللہ رب العزت، انبیاء کرام علیہم السلام اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شان میں گستاخی پر مشتمل ہیں۔ اس لئے مرزا غلام احمد قادیانی خود اپنے کرتوت کی بدولت اسلام سے خارج قرار دیئے جاتے ہیں اور موصوف اور ان کی جماعت کا آئندہ اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ اس وقت سے اب تک ایک صدی سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے لیکن آج تک ایک مسلمان نے بھی کبھی کسی قادیانی کو مسلمان نہیں گردانا۔ عارف شمیم تاریخ کو مسخ کر کے قادیانیوں کو مسلمانوں کا ایک فرقہ ثابت کرنے کی کوشش میں یہ بھی بھول گئے کہ قادیانیوں نے ۱۹۳۶ء کے برصغیر میں ہونے والے انتخابات کے موقع پر اور اسی طرح کشمیر کے مسئلہ پر خود اپنے آپ کو مسلمانوں سے الگ ظاہر کیا تھا اور یہ ایک ایسی تاریخی حقیقت ہے جس کا انکار ناممکن ہے۔
قیام پاکستان کے بعد مرزا محمود، جو اس وقت قادیانی جماعت کی قیادت کر رہے تھے، نے پاکستان کو قادیانی ریاست بنانے کی
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جدوجہد شروع کردی ہے۔ ظفر اللہ قادیانی کے وزیر خارجہ ہونے کی وجہ سے اس دور میں پاکستان کے بیرونی ممالک میں قائم سفارت خانے قادیانیت کی تبلیغ کے مراکز میں تبدیل ہو چکے تھے۔ ان حالات میں جب اندرونی طور پر پاکستان میں اسلام کو دبانے اور قادیانیت کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی تو اس کا لازمی نتیجہ ایک اندرونی کشمکش کی صورت میں نکلا جس نے بالآخر ایک تحریک کی صورت اختیار کر لی اور مسلمانان پاکستان یہ مطالبات کرنے پر مجبور ہوئے کہ: (۱) قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے اور (۲) ظفر اللہ قادیانی کو وزیر خارجہ کے عہدے سے ہٹایا جائے۔ اس تحریک کو جس طرح سرکاری مشینری نے کچلا اور جس طرح دس ہزار مسلمانوں کو شہید کر کے قادیانیوں اور قادیانیت کو پاکستان میں تحفظ فراہم کیا گیا، یہ ملک کی تاریخ کا ایک بدنما داغ ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے اس پوری تحریک کے دوران ایک قادیانی کو خراش تک آنے کی شکایت ریکارڈ پر نہیں آئی جب کہ ہزاروں مسلمان تہہ تیغ کر دیئے گئے۔ یہ سانحہ ۱۹۵۳ء میں رونما ہوا۔ عارف شمیم نے اسے چند مذہبی جماعتوں کا مطالبہ قرار دے کر صحافتی بد دیانتی کا بدترین مظاہرہ کیا ہے۔ زرد صحافت جیب اور عقل کو بوجھل تو ضرور کر دیتی ہے لیکن وقت کے ترازو میں اس کا ہلکا پن یہ واضح کر دیتا ہے کہ صحافی نے اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی میں ایسی کوتاہی برتی ہے جو عقل، دیانت امانت اور حقائق سے روگردانی کا نتیجہ ہے۔ اس تحریک کے المناک واقعات کی تحقیقات کے لئے بدنام زمانہ منیر انکوائری کمیشن قائم کیا گیا جس نے قادیانیت نوازی کی تمام حدود پھلانگ کر اس سانحہ کی تمام تر ذمہ داری مسلمانوں بالخصوص علماء پر ڈال دی اور قادیانیوں کو صاف بچا لے گیا اور یہی رپورٹ بعد میں آنے والے قادیانیت نوازوں اور اس قماش کے دیگر افراد کی رپورٹوں کا منبع بنی، جیسا کہ عارف شمیم کی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے۔
عارف شمیم کا کہنا ہے کہ اس تحریک کے بعد ۱۹۷۰ء تک قادیانیوں کے خلاف کوئی بڑا واقعہ رونما نہیں ہوا، ۱۹۷۰ء میں ان کے خلاف تشدد نے پھر سر اٹھایا اور یہ تشدد اتنا بڑھ گیا کہ ۱۹۷۴ء میں انہیں غیر مسلم قرار دے دیا گیا۔ عارف شمیم نے ان جملوں میں جھوٹ کے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔ موصوف کا مخصوص سیاق وسباق میں یہ کہنا کہ ۱۹۷۰ء تک قادیانیوں کے خلاف کوئی بڑا واقعہ رونما نہیں ہوا۔ در اصل یہ بات ثابت کرنے کی احمقانہ کوشش ہے کہ اس دوران قادیانیوں کے خلاف چھوٹے موٹے واقعات رونما ہوتے رہے۔ کیا عارف شمیم اپنے اس دعویٰ پر صرف ایک دلیل پیش کریں گے؟ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے، اس لئے عارف شمیم بھی دلیل پیش کرنے سے عاجز رہیں گے کیونکہ اس قسم کا کوئی واقعہ رونما ہوتا تو دلیل میں پیش کیا جاسکتا، جب کچھ ہوا ہی نہیں تو اسے پیش کیسے کیا جائے؟ پھر وہ کہتے ہیں کہ ۱۹۷۰ء میں قادیانیوں کے خلاف تشدد نے پھر سر اٹھایا، کیا اس پر بھی ان کے پاس تاریخ سے کوئی دلیل موجود ہے؟ تاریخ ان کے تمام دعوؤں کو جھٹلا رہی ہے۔ نیز ان کا یہ کہنا کہ قادیانیوں پر یہ تشدد اتنا بڑھ گیا کہ ۱۹۷۴ء میں انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا، یہ ظاہر کرتا ہے کہ موصوف یا تو ”قادیانی تاریخ“ کے مؤرخ ہیں یا تاریخ کے کسی قادیانی استاد کے نامور شاگرد رہے ہیں۔ موصوف کو اتنا بھی معلوم نہیں کہ ۱۹۷۰ء سے لے کر ۱۹۷۳ء تک تو قوم سانحہ مشرقی پاکستان ہی سے نہیں سنبھلی تھی، قادیانیوں کے خلاف تشدد تو دور کی بات ہے۔ ہاں! اگر عارف شمیم اس دور کے مشرقی اور مغربی پاکستان والوں کو ”قادیانی“ اور جو کچھ ان کے ساتھ گزرا اس کو ”قادیانیوں پر تشدد“ گردانتے ہوں تو اور بات ہے، لیکن حقیقت اور ناقابل تردید حقیقت یہ ہے کہ اس پورے عرصے میں قادیانی لابی نہ صرف یہ کہ ملک میں ہر قسم کے تشدد سے مکمل طور پر محفوظ رہی بلکہ مشرقی پاکستان کو توڑنے کی سازش میں مرکزی کردار بھی ادا کرتی رہی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۶ تا ۱۲ ستمبر ۲۰۰۲ء ص ۴ تا ۶)
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بی۔ بی۔ سی کی قادیانیت نوازی (۳)
۱۹۷۴ء کو عارف شمیم نے قادیانیوں پر تشدد کے عروج کا سال ٹھہرایا ہے۔ حالانکہ اس سال ۲۹ مئی کو چناب نگر (ربوہ) کے ریلوے اسٹیشن پر وہ سانحہ پیش آیا جس میں قادیانی غنڈوں نے موجودہ قادیانی پوپ مرزا طاہر کی سربراہی میں مسلمان طلباء کو اس بری طرح سے زدوکوب کیا اور لاٹھیوں، ہاکیوں اور لوہے کے راڈوں سے تشدد کا نشانہ بنایا کہ آسمان بھی کانپ اٹھا۔ قادیانیوں کا یہ تشدد ”قادیانیوں پر تشدد“ کیسے بن گیا؟ اس کی وجہ غالباً عارف شمیم کے قلم کو فراہم کردہ قادیانی سیاہی اور ان کی زبان کو عطاء کردہ قادیانی گویائی ہے جس نے قادیانیوں کے ظلم کو بھی ”معجزانہ طور پر“ ”قادیانیوں پر تشدد“ بنا دیا۔ یہ وہ سانحہ تھا جو قادیانیوں کے خلاف تحریک کا موجب بنا اور ایک بار پھر قادیانیوں کو تحفظ فراہم کرنے اور مسلمانوں کے مطالبے کو کچلنے کی پالیسی اختیار کرنے کے بعد جب حکومت نے کسی طور پر مسلمانوں کو دبتا نہ دیکھا تو بالآخر قومی اسمبلی کو خصوصی کمیٹی کا درجہ دے دیا گیا اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ قادیانیوں کے ربوہ گروپ اور لاہوری گروپ کے سربراہان اسمبلی میں پیش ہو کر اپنا موقف پیش کریں اور قومی اسمبلی اس بارے میں حتمی فیصلہ صادر کرے۔ چنانچہ دونوں قادیانی لاٹ پادری مرزا ناصر اور صد ارالدین اسمبلی میں پیش ہوئے، اٹارنی جنرل جناب یحییٰ بختیار نے ان پر جرح کی۔ مرزا ناصر اور صدرالدین نے بغیر جبر وتشدد کے تمام سوالات کے جوابات دیئے اور ان کے جوابات سے خصوصاً مرزا ناصر کے جوابات سے واضح ہو گیا کہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کو محمد رسول اللہ اور صاحب شریعت رسول اور نبی مانتے ہیں اور مرزا قادیانی کو نہ ماننے والوں کو کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج، بیابانوں کے خنزیر اور کنجریوں کی اولاد سمجھتے ہیں۔ ان حقائق کی روشنی میں قومی اسمبلی نے بجا طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ اس پوری تحریک کے دوران بلکہ پورے سال ۱۹۷۴ء میں اور اس وقت سے لے کر آج تک کسی مسلمان نے کسی قادیانی کو مارنا تو کجا کوئی گزند پہنچانے کی بھی کوشش نہیں کی بلکہ کسی کو ترغیب بھی نہیں دی۔ یہی وجہ ہے کہ چناب نگر (ربوہ)، میر پورخاص، گولارچی، بدین، اسلام آباد، کراچی، لاہور سمیت پورے ملک میں قادیانی انتہائی سکون سے زندگی گزار رہے ہیں اور انہیں کسی مسلمان سے کسی قسم کا کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ انہیں حکومت کی جانب سے کانفرنس اور جلسے منعقد کرنے سے منع کر دیا گیا ہے لیکن اس کی وجہ یہ ہے کہ قادیانی اپنے جلسوں میں مرزا غلام احمد قادیانی کو محمد رسول اللہ قرار دیتے ہیں اور مسلمانوں کو اس پر ایمان لانے کی دعوت دیتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ چیز مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مشتعل کرتی ہے۔ اس لئے دوسروں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے سے قادیانیوں کو روکنا سراسر عقل مندی اور عدل وانصاف کا تقاضا ہے۔
جھوٹ بولنا قادیانیوں کا مذہبی شعار ہے۔ ہر قادیانی اس فریضہ کی ادائیگی میں پیش پیش رہتا ہے۔ عارف شمیم جب قادیانیوں کے وکیل صفائی بن ہی چکے ہیں تو وہ اس فریضہ کی ادائیگی سے کیوں پیچھے رہتے؟ چنانچہ انہوں نے یہ نیا جھوٹ گھڑا کہ: ”سرکاری سرپرستی میں احمدیوں کے خلاف مذہبی بنیادوں پر ظلم وستم کا دور شروع ہو گیا۔ ہزاروں افراد نے اس سے بچنے کے لئے مغربی ملکوں میں پناہ لی۔“ چہ خوب! کیا موصوف اس ظلم و ستم کی تفصیل بتانا پسند کریں گے جو قادیانیوں پر ”سرکاری سرپرستی“ میں کیا گیا؟ پاکستان بھر میں رہنے والے قادیانی تو دور کی بات؟ پوری دنیا میں رہنے والے کسی قادیانی پر ایسا ظلم وستم ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ ہاں! یہ البتہ ضرور ہوا کہ قادیانیوں کو جب مسلمانوں نے اپنے سے الگ کر دیا تو قادیانیوں نے احتجاجاً جوق در جوق ملک سے باہر جانا شروع کر دیا (خود قادیانی خلیفہ مرزا طاہر بھی برقعہ اوڑھ کر ملک سے فرار ہوئے) اور مختلف بیرونی ممالک میں سیاسی پناہ کی درخواستیں دائر کردیں۔ ان درخواستوں کو مضبوط کرنے کے لئے فرضی روا رکھے گئے ظلم وستم اور تشدد کا اظہار ضروری ہوتا ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
چنانچہ قادیانیوں نے پاکستان میں اپنے اوپر ہونے والے فرضی، مظالم کا قصہ گھڑا اور ان ممالک کو باور کرایا کہ پاکستان میں قادیانیوں پر ظلم ہوتا ہے۔ جب ان سے اس کا ثبوت مانگا گیا تو انہوں نے دھڑا دھڑ پاکستانی قانون کی خلاف ورزی شروع کر دی، بعض دفعہ اس کے لئے قادیانیوں نے توہین رسالت تک کا ارتکاب کیا اور اس طرح ان کے خلاف مقدمات درج ہوئے، ان کی ایف آئی آر کی نقول قادیانیوں نے بیرونی ممالک میں سیاسی پناہ کے حصول کے لئے داخل کر دیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ قادیانیوں کو سیاسی پناہ تو ملی ہی ملی، دنیا بھر میں پاکستان بری طرح بدنام بھی ہو گیا اور انسانی حقوق کے حوالے سے ملک کو بری طرح مطعون کیا جانے لگا، ان ممالک کے جو نمائندے این.جی.اوز کی شکل میں پاکستان میں موجود ہیں۔ (مثلاً عاصمہ جہانگیر جو ایک معروف قادیانی کی اہلیہ ہیں اور ان کی ہمشیرہ حنا جیلانی) انہوں نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور قادیانیوں پر مظالم کے ایسے فرضی اعداد و شمار ان ممالک کے سامنے رکھے کہ وہ یہ سمجھنے پر مجبور ہو گئے کہ پاکستان میں تو سوائے قادیانیوں پر ظلم کے اور کوئی کام ہی نہیں ہوتا، یہی وجہ ہے کہ آئے دن بیرونی ممالک کی جانب سے قادیانیوں کی حمایت اور ان سے متعلق قوانین کی منسوخی کے مطالبات سامنے آتے رہتے ہیں۔
آگے چل کر عارف شمیم قادیانی جماعت پنجاب کے سیکرٹری راجہ غالب احمد کے خیالات ذکر کرتے ہیں، جن کے بقول قادیانیوں کے ساتھ ”۱۹۵۳ء کے بعد استحصال کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا اور سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لئے مذہب کا استعمال بڑھتا گیا۔“ اللہ کی شان! یہ الفاظ وہ شخص بول رہا ہے جس کی جماعت گزشتہ ایک صدی سے مسلمانوں کے استحصال کی عالمی تحریک میں استعماری شطرنج کا ایک اہم مہرہ کا کردار ادا کر رہی ہے اور جس نے سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے مذہب کو مذہبی، سیاسی، معاشی اور معاشرتی عنوان سے اس بری طرح استعمال کیا کہ بالغ نظر اور منصف مزاج مبصرین قادیانی جماعت کو مذہبی کے بجائے ایک سیاسی تحریک کہنے پر مجبور ہو گئے۔ جس استحصال کا راجہ غالب احمد نے حوالہ دیا ہے وہ قادیانی جماعت کے ساتھ کبھی نہیں ہوا بلکہ مسلمانوں کا استحصال کر کے جتنا انہیں نوازا گیا اس کی مثال دنیا کی تاریخ میں مشکل سے ملے گی، لیکن قادیانی ہیں کہ ان نوازشات کو بھی استحصال گردان کر زبان حال سے ”ھل من مزید“ کا نعرہ بلند کر رہے ہیں۔ آگے عارف شمیم، راجہ غالب احمد کے الفاظ ذکر کرتے ہیں کہ بقول راجہ غالب احمد کے : ”ہمارے ساتھ چونکہ پہلے بھی اچھا برتاؤ نہیں کیا جاتا تھا، اس لئے ہم آسان ٹارگٹ تھے۔“ لفظ ”ٹارگٹ“ سے اگر ان کی مراد مذہبی بنیاد پر استحصال کا نشانہ بننے سے ہے تو وہ ظاہر ہے کہ قادیانی نہیں بنے اور جسمانی تشدد کے ٹارگٹ کے طور پر تو آج تک کسی قادیانی کو پیش ہی نہیں کیا جاسکتا۔
عارف شمیم تعزیرات پاکستان میں دفعات ۲۹۵-بی، ۲۹۸-سی اور ۲۹۵-سی (جن کے تحت قادیانیوں کو خود کو مسلمان کہنے سے منع کر دیا گیا ہے اور توہین رسالت کے جرم کی سزا موت مقرر کر دی گئی) کی شمولیت کو پاکستان معاشرے میں ”نئی نئی چیزوں“ کے جنم لینے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں، ان ”نئی نئی چیزوں“ میں بقول ان کے: سب سے واضح پاسپورٹ اور شناختی کارڈ کے فارموں کے خانے ہیں جن میں ہر شہری کو اس بات کا حلفیہ اقرار کرنا پڑتا ہے کہ وہ مسلم ہے یا غیر مسلم؟ پاسپورٹ کے فارم پر تو یہ بھی لکھنا پڑتا ہے کہ میں حلفیہ اقرار کرتا ہوں کہ مرزا غلام احمد قادیانی ایک ”جعلی نبی“ ہیں اور ان کے ماننے والے غیر مسلم ہیں۔“ عارف شمیم یہ بات بھول رہے ہیں کہ یہ ”نئی نئی باتیں“ ہر معاشرہ میں اس وقت جنم لیتی ہیں جب اکثریت کے حقوق پامال کر کے اقلیت کو نوازا جائے اور غیر مسلم اقلیت خود کو ”حقیقی اور زندہ اسلام“ کا علمبردار گردان کر حضور ﷺ کے لائے ہوئے دین کو ”مردہ اور لعنتی“ اسلام قرار دینے لگے، ایسے موقع پر ضرورت پیش آتی ہے کہ اکثریت اپنے حقوق کے تحفظ اور معاشرہ سے انارکی دور کرنے کے لئے قانون سازی کرے اور جو اقلیت اس قانون کی خلاف ورزی کرے اسے مستوجب سزا ٹھہرائے، یہ ”نئی نئی چیزیں“ نہیں بلکہ یہ مہذب معاشروں کا دستور ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیانیوں کو کس حکیم نے مشورہ دیا ہے کہ وہ مسلم اکثریت کے حقوق پامال کریں؟ ان کے بنائے ہوئے قوانین کو توڑیں؟ اور مستوجب سزا ٹھہریں؟ رہا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ فارم میں مسلم اور غیر مسلم کی حیثیت سے اپنی شناخت واضح کرنا، تو یہ تو دنیا کے دیگر ممالک میں بھی رائج ہے، جس کا اقرار عارف شمیم نے کیا تھا، جس کا تذکرہ ہم ایک گزشتہ قسط میں کر چکے ہیں، اگر یہ پاکستان میں بھی رائج ہے تو اس میں کیا قباحت ہے؟ کیا بیرونی ممالک کے ان قوانین کا پاکستان میں نافذ کرنا بھی جرم ہے؟ رہا پاسپورٹ فارم پر عقیدہ ختم نبوت اور مرزا قادیانی کو نبوت کا جھوٹا مدعی ماننے کا اقرار، سو یہ تو ضروری ہے کیونکہ بعض ممالک (جیسے سعودی عرب) میں قادیانیوں کے داخلہ پر پابندی ہے، اگر یہ حلف نامہ نہ ہو تو ہر قادیانی پاسپورٹ پر اپنے آپ کو مسلمان لکھے گا اور ان ممالک میں داخلہ کی صورت میں ان ممالک کے قوانین کی خلاف ورزی کرے گا اور پکڑے جانے کی صورت میں ملک کی بدنامی کا باعث بنے گا، اسی صورت میں یہ ضروری ہے کہ مسلم اور قادیانی کی واضح شناخت ہو اور وہ اس حلف نامے کے بغیر ناممکن ہے۔ عارف شمیم کہتے ہیں کہ: ’’اگر کوئی احمدی پاسپورٹ کے لئے فارم پر کرتا ہے تو اسے یا تو اپنے آپ کو غیر مسلم تسلیم کرنا پڑتا ہے یا اپنے عقیدے سے انحراف کے لئے اس کے بانی کو جعلی یا بہروپیا کہنا پڑتا ہے۔ دونوں ہی صورتیں اس کے لئے مشکل ہیں۔‘‘ یہاں چند باتیں قابل ذکر ہیں: ایک یہ کہ قادیانی اب تک اپنے آپ کو غیر مسلم تسلیم نہیں کرتے بلکہ جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں، اپنے علاوہ ہر ایک کو کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں، دوم یہ کہ اپنے عقیدے سے انحراف کر کے اس عقیدے کے بانی (شکر ہے کہ عارف شمیم کو یہ احساس تو ہے کہ قادیانی عقیدہ نوزائیدہ ہے جس کے بانی مرزا قادیانی تھے) کو جعلی یا بہروپیا کہنا تو قادیانیوں کے نزدیک غلط ہے کیونکہ قادیانی امت مرزا غلام احمد قادیانی کو محمد رسول اللہ، رحمۃ للعالمین، مسیح موعود اور نہ جانے کیا کیا سمجھتی ہے اور تیسرے یہ کہ ان دونوں باتوں کی وجہ سے قادیانیوں کا خود کو غیر مسلم کہنا یا مرزا قادیانی کو جعلی یا بہروپیا کہنا مشکل ہے۔ اللہ رب العزت اور اس کے رسول آخرین ﷺ کا فرمان اور پوری مسلم امت کا یہ متفقہ فیصلہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ جو مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے، اللہ کے آخری نبی ہیں، آپ ﷺ کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آئے گا اور آپ ﷺ کے بعد جو شخص بھی نبوت کا دعویٰ کرے گا، وہ کافر، کذاب، دجال، جھوٹا، بے ایمان، فریبی، دغاباز، جعل ساز اور بہروپیا ہے۔ مرزا قادیانی نے آپ ﷺ کے بعد جھوٹا نبوت کا دعویٰ کیا اور مرزائی امت نے اسے اس دعویٰ میں سچا مان لیا، اس لئے وہ حضور ﷺ کی امت سے الگ ہو گئے اور انہوں نے اللہ اور اس کے رسول حضرت محمد ﷺ کی نافرمانی کر کے خود کو غیر مسلم بنالیا، اب ان کے لئے اپنے آپ کو غیر مسلم کہنے میں کیا مشکل ہے؟ مسلم تو اللہ اور اس کے آخری نبی حضرت محمد ﷺ کو ماننے والے ہی ہو سکتے ہیں، نئے نبی کے پیروکار تو لازماً غیر مسلم ہی کہے اور لکھے جائیں گے، یہ تو اتنی کھلی ہوئی بات ہے کہ مسلم اور غیر مسلم دونوں یکساں طور پر اسے مانتے ہیں۔ رہا قادیانیوں کا مرزا قادیانی کو جعلی یا بہروپیا کہنا، تو اس سلسلے میں عرض ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس قماش کے دیگر افراد کے ظاہر ہونے کی خبر رسول اللہ ﷺ پہلے ہی دے چکے ہیں اور ان کے لئے ’’دجال اور کذاب‘‘ کے الفاظ بھی ارشاد فرما چکے ہیں، اگر قادیانیوں کو اور مرزا قادیانی کو جعلی اور بہروپیا کہنے سے عار آتی ہے تو وہ اسے دجال اور کذاب لکھ دیا کریں، امید ہے کہ یہ صورت ان کے لئے مشکل نہیں ہوگی اور نہ ہی عارف شمیم جیسے لوگوں کو اس بارے میں رپورٹیں تیار کرنے کی نوبت آئے گی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۳ تا ۱۹؍ ستمبر ۲۰۰۲ء ص ۴، ۵)
قادیانی تعلیمی اداروں کی واپسی
حال ہی میں حکومت نے ۱۹۷۲ء میں قومیائے گئے تعلیمی اداروں کو سابقہ مالکان کے حوالے کرنے کی پالیسی کا اعلان کیا ہے۔ اس
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حکومتی فیصلہ کے خلاف بالخصوص پنجاب میں اساتذہ کی طرف سے شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے۔ مختلف شہروں میں اساتذہ کے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ آل پاکستان ٹیچرز فیڈریشن نے تعلیمی اداروں کی ڈی نیشنلائزیشن پالیسی کو نہ صرف مسترد کیا ہے بلکہ یہ اعلان بھی کیا ہے کہ اگر حکومت نے نجکاری پالیسی کا فیصلہ واپس نہ لیا تو فیڈریشن نہ صرف صدارتی ریفرنڈم کے پولنگ ڈے پر ہونے والی بے ضابطگیوں کے بارے میں وائٹ پیپر شائع کرے گی بلکہ اکتوبر میں ہونے والے عام انتخاب میں اساتذہ فرائض سرانجام نہیں دیں گے۔ ادھر دینی حلقوں میں حکومتی اعلان کے بعد اضطراب اور تشویش کا پایا جانا ایک فطری امر ہے۔ کیونکہ حکومتی فیصلہ کے تحت مسیحیوں کے مشنری ادارے اور خاص طور پر قادیانی جماعت کے تعلیمی ادارے انہیں حاصل ہو جائیں گے۔
۱۹۷۲ء میں سابق وزیراعظم بھٹو کے دور حکومت میں مختلف تعلیمی اداروں کو قومی تحویل میں لیا گیا تھا۔ ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اب ۳۰ برس کے بعد قومیائے گئے تعلیمی اداروں کو ان کے مالکان کو واپس کرنے کی ضرورت کیونکر پیش آئی ہے؟ جب کہ حقیقی مالکان کی اکثریت اگلے جہاں جا چکی ہے۔ جن انجمنوں کے بل بوتے پر تعلیمی اداروں کا معیار تھا وہ انجمنیں کب سے غیر موثر ہوچکیں۔ اگر تعلیمی اداروں کے سابقہ مالکان موجود ہوں تو یہ سوال اہمیت کا حامل ہے کہ از سرنو ان اداروں کی تشکیل اور استحکام میں وہ کیا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ جب کہ حالات اور وقت کے تقاضے یکسر بدل چکے ہیں۔ جہاں تک قادیانیوں کے تعلیمی اداروں کی واپسی کا تعلق ہے ہم ایک مدت سے اس خدشے کا اظہار کر رہے تھے کہ قادیانی جماعت اپنے تعلیمی اداروں کی واپسی کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہی ہے۔ ۱۲/ اکتوبر کی حکومتی تبدیلی کے بعد قادیانیوں کے ہاں امید کے چراغ روشن ہوئے تھے کہ وہ بیرونی دباؤ سے فوجی حکومت کے ذریعہ اپنے مخصوص مقاصد حاصل کریں گے۔ چنانچہ نئے ووٹر فارم سے عقیدہ ختم نبوت کے حلف نامہ اور مذہب کے خانہ کے خاتمہ کی سازش نے قادیانیوں کے مکروہ عزائم کو بے نقاب کر دیا ہے۔ موجودہ نازک حالات کے تناظر میں مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نجکاری کے حکومتی عمل کی مسلسل مخالفت کر رہے ہیں۔ این. جی. اوز کی غیر معمولی دلچسپی اور سرگرمیوں کے باعث ہر محب وطن شہری اس تشویش میں مبتلا ہے کہ اس طرح سرکاری ادارے حکومتی سرپرستی سے محروم ہو کر براہ راست غیر ملکی تسلط کا شکار ہو جائیں گے۔
حکومتی پالیسی سے قطع نظر قادیانی جماعت کے تعلیمی اداروں کی واپسی ملک اور قوم کے مفادات کے منافی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت نے مضمرات پر غور و فکر ہی نہیں کیا۔ بظاہر یہ عام فہم سی بات ہے کہ اگر ادارے قومیائے جا سکتے ہیں تو واپس بھی کئے جاسکتے ہیں۔ اس وقت حکومت کی طرف سے ڈی نیشنلائزیشن کا ایک مقصد مالی استحکام اور ملک کے اقتصادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا بھی ہے جیسا کہ حکومتی حکام ان دعوؤں کا اعادہ کرتے رہتے ہیں۔ قادیانی جماعت کے ۵۰ کروڑ مالیت کے تعلیمی اداروں کو محض ۸۳ لاکھ کے عوض قادیانیوں کے حوالے کر دینا ملک کی کونسی معاشی و اقتصادی خدمت ہے؟ پھر معاملہ اقتصادی نکتہ نظر تک محدود نہیں۔ قادیانی اداروں کی واپسی سے ارتداد کی راہیں ہموار ہو جائیں گی اور قادیانیوں کی تبلیغی سرگرمیاں جو کہ خلاف قانون ہیں دوبارہ شروع ہو جائیں گی۔ اس احتمال کے باعث لاء اینڈ آرڈر کے مسئلہ کو کبھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ مسلمان اساتذہ یا مسلم طلباء کے ایمان کو بچانا از حد ضروری ہے۔ ماضی گواہ ہے کہ چناب نگر میں قادیانیوں کے تعلیمی اداروں میں مسلمان طلباء کے ساتھ ناروا سلوک کیا جاتا رہا ہے۔ مسلم اساتذہ پر عرصہ حیات تنگ کیا جاتا تھا۔ محکمہ تعلیم اس کا گواہ ہے۔ یہ تمام حقائق آن ریکارڈ ہیں۔
حکومت کو چاہئے کہ قادیانیوں کے تعلیمی اداروں واقع چناب نگر کی تفصیلات، حقائق اور شواہد کی روشنی میں فیصلہ کرے۔ ٹی آئی ہائی اسکول چناب نگر ۹۱ کنال اراضی پر واقع ہے۔ اسی طرح نصرت گرلز ہائی اسکول کی اراضی بھی ۹۱ کنال پر مشتمل ہے۔ ہماری جماعت کے
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
رہنما حضرت مولانا فقیر محمد صاحب کے ایک پریس ریلیز کے مطابق محض ۸۳ لاکھ کے عوض قادیانی ۵۰ کروڑ مالیت کی اراضی عمارات اقلیتی اسکول حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ایک لاکھ فی مرلہ کے حساب سے ۱۸ کروڑ ۲۰ لاکھ کی لاگت سے بلڈنگ کی نئی تعمیر کرائی گئی ہے۔ دفتر، ۳۶ کمرے، لائبریری مالیت ۶۵ لاکھ، فرنیچر جو کہ حکومت نے خریدا ہے ڈیسک الماریاں، کرسیاں، ایک لاکھ روپیہ کتب لائبریری نئی بنائی گئی۔ اس کی مالیت ۲ لاکھ روپے ہے۔ سامان سائنس، سپورٹس ۳ لاکھ روپیہ میں خریدا گیا۔ نئی تعمیر شدہ مسجد ۳ لاکھ روپے میں مکمل ہوئی ہے۔ درخت ایک لاکھ روپیہ کے ہیں۔ کل اثاثہ جات ۱۹ کروڑ بنتے ہیں۔ اسی طرح نصرت گرلز ہائی اسکول اور فضل عمر گرلز ہائی سکول کا الگ الگ حساب لگایا تو تینوں سکولوں کی مالیت ۵۰ کروڑ روپے بنتی ہے۔ قادیانی جماعت نے ان تینوں اداروں کے ملازمین کی ایک سال کی تنخواہیں مجموعی طور پر جو ۸۳ لاکھ روپے بنتی ہیں جمع کروائے ہیں۔ افسوس کہ کسی حکومت نے ”انجمن احمدیہ“ یعنی قادیانی جماعت کے اثاثہ جات کو چیک نہیں کیا۔ سر موڈی گورنر پنجاب کی نوازش اور بڑی سرکاری کرم نوازی کے طفیل چناب نگر (سابقہ ربوہ) کی زمین قادیانی جماعت کو کوڑیوں کے بھاؤ دی گئی۔ حکومت کو چاہئے کہ یہ اراضی بحق سرکار ضبط کرے اور قادیانی تعلیمی اداروں کو واپس نہ کیا جائے۔ مختلف حصوں میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ دینی طبقہ کی جانب سے حکومت پر قادیانیت نوازی کا الزام اکثر عائد کیا جاتا ہے۔ حکومت آئین و قانون اور ملک اور قوم کے مفاد کو مقدم رکھے۔ تعلیم الاسلام اسکول میں اسلام کی نہیں ارتداد کی تبلیغ ہوگی۔ حکومت ایک مرتبہ پھر دانش مندی تدبر اور فراست کا عملی مظاہرہ کرے۔ ورنہ یہی سمجھا جائے گا کہ حکومت نے دو ماہ قبل نئے ووٹر فارم میں عقیدہ ختم نبوت کا حلف نامہ اور مذہب کا خانہ بحال کر کے قادیانیوں کو جو ضرب لگائی تھی ان کے تعلیمی ادارے واپس کر کے تلافی کی جا رہی ہے۔ اشک شوئی کا یہ انداز، دلجوئی کا یہ طریقہ کار، قادیانیت کے جسم پر لگے حالیہ زخم کے لئے مرہم کا سامان حکومت کے لئے رسوائی کا باعث بن سکتا ہے۔ نیک نامی میں اضافہ نہیں کر سکتا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۰۲ء ص ۳ تا ۵)
قادیانیوں کی جانب سے الیکشن کا بائیکاٹ
بعض اخبارات میں شائع ہونے والی اطلاعات کے مطابق قادیانیوں نے حسب سابق اس مرتبہ بھی انتخابات کے بائیکاٹ کا فیصلہ کرتے ہوئے اکتوبر ۲۰۰۲ء میں منعقد ہونے والے الیکشن کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ قادیانی جماعت نے یہ فیصلہ الیکشن کمیشن کی جانب سے انہیں مشترکہ انتخابی فہرست سے نکال کر غیر مسلموں کی فہرست میں شامل کرنے کا فیصلہ کے بعد کیا۔ اس کی جو تفصیل اخبارات میں شائع ہوئی وہ ملاحظہ فرمائیے:
قادیانی اقلیت نے الیکشن کا بائیکاٹ کر دیا:
کراچی (جنگ نیوز) پاکستان کی قادیانی اقلیت نے عام انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے قادیانیوں کے لئے علیحدہ ووٹنگ کا اعلان کیا جس پر قادیانی کمیونٹی کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اس مسئلے کو عدالت میں چیلنج کریں گے۔ اس سے قبل الیکشن کمیشن نے قادیانیوں کو مسلمانوں کے ساتھ الیکشن لڑنے اور ووٹ دینے کی سہولت دی تھی۔‘‘
(روزنامہ جنگ کراچی ۱۴ ستمبر ۲۰۰۲ء)
جب کہ معاصر روزنامے ”خبریں“ کی رپورٹ میں یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ: ”بی بی سی کے مطابق انہیں اس بات پر اعتراض ہے کہ الیکشن کمیشن نے انہیں مشترکہ انتخابی فہرست سے نکال کر ایک علیحدہ فہرست میں کیوں ڈال دیا ہے۔“
(روزنامہ خبریں کراچی مؤرخہ ۱۴ ستمبر ۲۰۰۲ء)
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہم بار ہا لکھ چکے ہیں کہ قادیانی روز اول سے ملک کے غدار ہیں۔ ان آستین کے سانپوں نے ملک کے وجود کو آج تک دل سے تسلیم نہیں کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہم قومی واقعات کے حوالے سے ان کی شہرت کبھی اچھی نہیں رہی۔ بانی پاکستان محمد علی جناح کا جنازہ پاکستان کے اس وقت کے وزیر خارجہ ظفر اللہ قادیانی نے محض اس وجہ سے نہیں پڑھا تھا کہ بانی پاکستان کے بارے میں وہ غیر مسلم ہونے کا نظریہ رکھتے تھے جس کا اظہار اس نے ان الفاظ میں کیا کہ آپ مجھے ایک کافر حکومت کا مسلمان وزیر سمجھ لیں یا مسلمان ملک کا کافر وزیر۔ ملک میں مختلف اوقات میں منعقد ہونے والے عام انتخابات میں قادیانیوں نے ہمیشہ پس پردہ رہ کر ان قوتوں کی حمایت کی جن سے انہیں یہ امید تھی کہ وہ دین دشمنی میں ان کا ساتھ دیں گی۔ جن افراد نے ملک میں دین کے نفاذ کی راہ میں رکاوٹ ڈالی، قادیانیوں نے ہمیشہ ان کا بھر پور ساتھ دیا۔
۱۹۷۴ء کی آئینی ترمیم اور ۱۹۸۴ء کے امتناع قادیانیت آرڈیننس کے بعد سے قادیانیوں نے یہ وطیرہ اپنایا ہوا ہے کہ وہ عام انتخابات کا بائیکاٹ بھی کر دیتے ہیں اور اقلیتی نشستوں پر قادیانی امیدوار بھی منتخب ہو جاتا ہے۔ اس مرتبہ بھی قادیانیوں نے یہی وطیرہ اپنایا لیکن اس مرتبہ موجودہ حکومت اور الیکشن کمیشن پر بھی غصہ اتارنے کا موقع ملا، جنہوں نے انہیں غیر مسلموں کی فہرست میں شامل کر کے مخلوط طرز انتخاب میں من مانی کرنے سے روک دیا۔ یہی وجہ ہے کہ قادیانیوں نے انتخابات سے پیشتر یہ بیان دیا کہ وہ الیکشن میں حصہ نہیں لیں گے جس کی وجہ انہوں نے یہ بتائی کہ انہیں اس پر اعتراض ہے کہ الیکشن کمیشن نے انہیں مشترکہ انتخابی فہرست سے نکال کر غیر مسلموں کی علیحدہ فہرست میں کیوں ڈال دیا ہے؟ رائج الوقت انتخابات اس لئے منعقد کئے جاتے ہیں تا کہ ان کے ذریعہ عوام کے منتخب نمائندے اقتدار میں آ کر عوام کی امنگوں کے مطابق ملک کا نظام چلائیں اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں لیکن قادیانیوں کا الیکشن کا بائیکاٹ کرنا بذات خود اس بات کی دلیل ہے کہ انہیں نہ ملک کی فلاح و بہبود اور ترقی سے کوئی دلچسپی ہے اور نہ عوام کی امنگوں سے کوئی سروکار ہے، وہ صرف اپنے مفاد کا تحفظ چاہتے ہیں، یہ تحفظ انہیں جس ملک میں حاصل ہو جائے، وہ اس ملک کے اس حد تک وفادار بن جاتے ہیں کہ اس کے لئے اپنے سابقہ ملک کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا تک کرنے سے باز نہیں آتے، ان کا مقصود صرف قادیانی مذہب کی ترویج و اشاعت ہے، چونکہ پاکستان میں یہ بظاہر آسانی سے ممکن نہیں، اس لئے انہیں پاکستان نا پسند ہے، مرزا طاہر آئے دن پاکستان کے خلاف جو ہرزہ سرائی کرتا ہے وہ اس بات کا بین ثبوت ہے۔ ہم مسلمانان پاکستان سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنے حلقۂ احباب میں قادیانیوں کی ملک دشمنی واضح کریں تاکہ قادیانیوں کا ملک دشمن ہونا واضح ہو جائے اور وہ ان سے اسی طرح دور رہنا شروع کر دیں، جس طرح آدمی کسی ملک دشمن شخصیت یا گروہ سے دور رہتا ہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۷؍ستمبر تا ۳؍اکتوبر ۲۰۰۲ء ص۴)
اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہرزہ سرائی
مغرب اسلام کو بدنام کرنے کے لئے اوچھا ہتھکنڈا استعمال کرنے سے بھی گریز نہیں کر رہا۔ گزشتہ دنوں امریکہ میں توہین رسالت کے واقعہ اور اس پر مسلمانوں کے احتجاج کے بعد اب فرانس میں بھی اس سے ملتا جلتا واقعہ رونما ہوا جس میں انعام یافتہ فرانسیسی ناول نگار نے اپنی ایک کتاب میں اسلام کی تضحیک اور مسلمانوں کی تذلیل کی۔ اخبارات میں اس کی جو تفصیلات شائع ہوئیں وہ درج ذیل خبر میں ملاحظہ فرمائیں:
توہین اسلام پر فرانسیسی ناول نگار کے خلاف پیرس میں مقدمہ دائر:
پیرس (امت نیوز) انعام یافتہ فرانسیسی ناول نگار مشیل ہولبیک کے خلاف دین اسلام کی تضحیک اور نفرت پھیلانے اور مسلمانوں کی تذلیل کرنے کے الزام میں مقدمہ دائر کر دیا گیا ہے۔ مشیل ہولبیک کی کتاب پلیٹ فارم کے مندرجات اور اس بارے میں دیئے گئے
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ۴۱۵ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ایک انٹرویو کی بنیاد پر ان کے خلاف پیرس کی ایک عدالت میں یہ مقدمہ فرانس میں دو بڑی مساجد اور مسلمانوں کی دو تنظیموں کی طرف سے دائر کیا گیا ہے۔‘‘
(روزنامہ امت کراچی مؤرخہ ۱۸؍ ستمبر ۲۰۰۲ء)
۱۱؍ ستمبر کے واقعہ کے بعد دنیا میں اسلام کے بارے میں دو تأثر بہت شدت سے ابھرے۔ ایک مثبت تأثر اور دوسرا منفی تأثر۔ مثبت تأثر تو مسلمانوں میں ابھرا جو اس واقعہ کے بعد اسلام کے خلاف ہونے والے بے بنیاد پروپیگنڈے اور مسلمانوں پر مظالم اور سختیوں کے بعد پہلے سے بھی زیادہ اسلام کی حقانیت کے قائل ہو گئے اور یہ مثبت تأثر ان غیر مسلموں میں بھی ابھرا، جنہوں نے اس واقعہ کے بعد اسلام کا غیر جانبداری اور ہر قسم کے تعصب سے بالاتر ہو کر مطالعہ کیا اور وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ اسلام بلاشبہ سچا مذہب ہے اور اس کی تعلیمات دنیا کو امن وسکون کا گہوارہ بنانے کے سلسلے میں مشعل راہ ہیں، ان غیر مسلموں نے اس مطالعہ کے بعد یا تو اسلام قبول کر لیا یا پھر ان کی ہمدردیاں اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ ہوگئیں۔
اس کے برعکس منفی تأثر ان لوگوں نے لیا جو پہلے ہی اسلام کے بارے میں تعصب اور جارحیت پر مبنی رویہ اپنائے ہوئے تھے، ان افراد نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف پہلے سے بھی زیادہ تعصب برتنا شروع کر دیا اور ان کے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف رویّے میں اور زیادہ شدت آگئی، ان لوگوں نے اپنی اسلام دشمن پروپیگنڈا مہم اور تیز کر دی اور چن چن کر مسلمانوں کو نشانہ بنانا شروع کیا۔ ان لوگوں کا جب کسی مسلمان پر بس نہ چلا تو انہوں نے اپنی تقریروں میں تحریروں کے ذریعہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہرزہ سرائی شروع کر دی۔
گزشتہ دنوں امریکہ میں اور اب فرانس میں تقریباً ملتے جلتے واقعات میں وہاں کے ممتاز مقررین اور مصنفین نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہرزہ سرائی کی۔ یہ رویّہ کیوں اختیار کیا جا رہا ہے؟ اور کس کے کہنے پر اختیار کیا جا رہا ہے؟ اس کے عوامل کسی پر مخفی نہیں۔ مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے، عظیم تر اسرائیل کے منصوبے کی تکمیل اور اس جیسے دیگر مقاصد کے حصول کے لئے یہ سب کچھ کیا جا رہا ہے۔ چونکہ اسلام اور مسلمان ان عزائم کی تکمیل کی راہ میں رکاوٹ ہیں، اس لئے مسلمانوں کو الجھانے اور دنیا کو اسلام سے روکنے کے لئے کبھی قادیانیت کا فتنہ اٹھایا جاتا ہے اور کبھی دیگر فتنے کھڑے کئے جاتے ہیں جن کے ذریعہ مسلمانوں کی قوت کو پارہ پارہ کرنے کی سازش کی جاتی ہے۔ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف فرانسیسی مصنف کی ہرزہ سرائی بھی دراصل دنیا کو اسلام سے روکنے اور مسلمانوں کے خلاف مشتعل کرنے کی ایک مذموم کوشش ہے۔ اس کوشش کے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن ماضی میں اس قسم کی کوششیں اسلام اور مسلمانوں کی عزت وشہرت میں مزید اضافہ کا باعث بنتی رہی ہیں اور اس کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو اسلام کی اصل تعلیمات کے بارے میں جاننے کی جستجو پیدا ہوئی، جو ان میں سے بعض کے قبول اسلام کا ذریعہ بنی۔ ہم اس سلسلہ میں مغربی دنیا پر عموماً اور حکومت فرانس پر خصوصاً یہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ ان ممالک کی حدود میں رونما ہونے والا یہ واقعہ اسلام اور مسلمانوں پر تو ان شاء اللہ کوئی اثر نہیں ڈال سکے گا لیکن مغرب کے انسانی حقوق کے دعویداروں، جن میں فرانس بھی شامل ہے، کے منہ پر یہ واقعہ طمانچہ ہے۔ اگر وہ اپنے زیر اقتدار افراد کو دنیا کے عظیم ترین مذہب کے بارے میں تضحیک آمیز ریمارکس دینے سے نہیں روک سکتے تو وہ بلا مبالغہ ناکام ترین حکومتوں میں شمار کئے جانے کے لائق ہیں۔ فرانسیسی حکمرانوں کو بھی اور فرانسیسی مصنف کو بھی اس ناپاک جسارت پر امت مسلمہ سے معافی مانگنی چاہئے ورنہ ان کا یہ رویّہ امت مسلمہ پر ان کے بارے میں ایسا تأثر چھوڑے گا جس کی تلافی کسی صورت میں ممکن نہیں ہوگی اور اگر مصنف معافی مانگنے سے انکار کر دے تو فرانس کے مسلمانوں کو پوری تندہی کے ساتھ اسی کے خلاف مقدمے کی پیروی کر کے اسے قرار واقعی سزا دلوانے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۷؍ ستمبر تا ۳؍ اکتوبر ۲۰۰۲ء ص۴، ۵)
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
متحدہ مجلس عمل کی قادیانیوں کو ٹکٹ دینے کی تردید
گزشتہ دنوں بعض اخبارات میں ایسی خبریں شائع ہوئیں جن سے یہ تاثر ابھرتا تھا کہ متحدہ مجلس عمل عام انتخابات میں اقلیتی نشستوں پر ایک قادیانی امیدوار کو ٹکٹ دے گی۔ ان خبروں کی اشاعت پر دینی حلقوں میں شکوک وشبہات نے جنم لیا۔ جب اس سلسلے میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ذمہ داروں نے متحدہ مجلس عمل کے رہنماؤں علامہ شاہ احمد نورانی اور سید منور حسن سے رابطہ کیا تو انہوں نے اس کی مکمل طور پر تردید کی اور کہا کہ متحدہ مجلس عمل خدام ختم نبوت پر مشتمل ہے، قادیانی چونکہ زندیق اور مرتد ہیں۔ اس لئے انہیں اقلیتی نشست پر متحدہ مجلس عمل کی جانب سے ٹکٹ دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس سے یہ بات بخوبی واضح ہو جاتی ہے کہ متحدہ مجلس عمل، جو کہ مختلف مکاتب فکر پر مشتمل مذہبی جماعتوں کا سیاسی پلیٹ فارم ہے، اس میں شامل تمام مکاتب فکر، قادیانی زندیقوں کے کفر و ارتداد پر متفق ہیں اور انہیں کسی صورت میں متحدہ مجلس عمل کی جانب سے ٹکٹ دینے کے روادار نہیں۔ اس وضاحت کے بعد اس حوالے سے جنم لینے والی خبروں اور شکوک وشبہات کا خاتمہ ہو جانا چاہئے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۷؍ستمبر تا ۳؍اکتوبر ۲۰۰۲ء ص ۵)
محسن انسانیت ﷺ کی کردار کشی کی مذموم مہم
امریکا کے عیسائی رہنماؤں اور امریکی ذرائع ابلاغ نے اخلاقیات اور مذہبی رواداری کی تمام حدود کو پھلانگ کر اب براہ راست پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کی شان میں نہایت گستاخانہ، اہانت آمیز اور اشتعال انگیز زبان استعمال کرنا شروع کر دی ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ عیسائی رہنما پیٹ رابرٹس کی جانب سے نبی کریم ﷺ کو نعوذ باللہ ’’مکمل جنونی، رہزن، قاتل‘‘ قرار دینے کے بعد حال ہی میں ایک دوسرے عیسائی رہنما جیری فال ویل نے ۶؍اکتوبر ۲۰۰۲ء کی شام ۷ بجے امریکی ٹیلی ویژن سے سی. بی. ایس کے ایک پروگرام ’’سکسٹی منٹس‘‘ (sixty minutes) میں ایک انٹرویو میں حضرت محمد ﷺ کی شان میں بدترین گستاخی کرتے ہوئے ۔ نعوذ باللہ! ’’دہشت گرد، جارح اور جنگجو‘‘ قرار دیا۔ جیری فال ویل نے مزید کہا کہ وہ سمجھتا ہے کہ: ’’حضرت عیسیٰ نے محبت کی مثال قائم کی اور یہی کچھ حضرت موسیٰ نے کیا، لیکن (نعوذ باللہ) محمد (ﷺ) نے اس کے بالکل الٹ مثال قائم کی۔‘‘
اس سے چند روز قبل امریکی ریاست ہیوسٹن میں آنحضرت ﷺ کی ازدواجی زندگی کے حوالے سے ایک انتہائی نازیبا فلم کی ایک مقامی سینما میں نمائش کی گئی، جس کا نام نعوذ باللہ ’’محمد نبی کی جنسی زندگی‘‘ تھا جب کہ بنگلہ دیش میں ایک ہندو ڈرامہ نگار سندیپ سنہانے کی جانب سے ڈرامے میں نعوذ باللہ حضرت محمد ﷺ کو شریک کرنے کے خلاف زبردست احتجاج کے بعد مقامی حکام نے ہندو ڈرامہ نگار رائٹر اور اس کے ساتھیوں کو گرفتار کر لیا۔
ان واقعات کے خلاف امریکہ، برطانیہ، پاکستان، بنگلہ دیش، ملائیشیا، ایران، ہندوستان اور مقبوضہ کشمیر سمیت دنیا بھر میں شدید احتجاج اور مظاہرے ہوئے اور دنیا کے مختلف ممالک سمیت دنیا بھر کی مسلم تنظیموں کے علاوہ غیر مسلم تنظیموں نے بھی توہین رسالت کے ان واقعات پر شدید احتجاج کیا۔ برطانیہ کے وزیر خارجہ جیک اسٹرا نے اس حرکت کو ’’توہین آمیز‘‘ قرار دیا ہے جب کہ پاکستان نے امریکا سے نبی اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی پر مبنی فلم کی ٹیکساس تھیٹر میں نمائش پر سخت احتجاج کرتے ہوئے اس معاملہ کو او. آئی. سی میں اٹھانے کا فیصلہ کیا اور تمام مسلم ممالک سے اپیل کی کہ وہ مسلمانوں کی جانب سے مذہبی جذبات کو بھڑکانے کی اس سازش کے خلاف متحد ہو کر لائحہ عمل طے کرتے ہوئے سخت قسم کا ایکشن لیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان عزیز احمد خان نے پاکستان کی جانب سے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس فلم کی نمائش سے نہ صرف مسلم امہ اور امریکہ کے درمیان فاصلے بڑھیں گے بلکہ امریکی مفادات کو بھی اس سے نقصان پہنچ سکتا ہے۔ امریکی حکومت فلم بنانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرے۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کی ناپاک اور گندی حرکت مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے لئے کی گئی ہے۔ امریکہ جہاں مذہبی آزادیوں کے حقوق کو مکمل تحفظ حاصل ہے، وہاں اس قسم کی قبیح حرکت کرنے والوں کو سخت سزا ملنی چاہئے اور یہ لوگ مسلمانوں سے اپنی اس ناپاک جسارت پر معافی بھی مانگیں۔
پاکستان کے ممتاز علماء کرام اور دینی جماعتوں کے قائدین نے حضور ﷺ کی توہین کو ایک لاکھ چوبیس ہزار نبیوں اور دنیا بھر کے ایک ارب بیس کروڑ سے زائد مسلمانوں کی توہین قرار دیا ہے اور کہا کہ مغربی دنیا اسلام کے بارے میں اپنا متشددانہ اور توہین آمیز رویہ ترک کر دے ورنہ اس کے انتہائی بھیانک نتائج برآمد ہوں گے۔ مسلمانوں کو قوت سے کچلنے کی کوشش کے ساتھ ساتھ انہیں پیغمبر اسلام کی توہین کر کے دوہری اذیت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مسلمان شاتم رسول کو کسی صورت چین سے نہیں بیٹھنے دیں گے۔ پیغمبر اسلام کی توہین کا جواب ہر صورت میں دیا جائے گا۔ مسلمانوں کے خلاف جنگ کو صلیبی جنگوں کا نام دینے والے انسانیت کی سطح سے گر کر توہین رسالت پر اتر آئے ہیں۔ مغرب دہشت گردی کے خلاف جنگ کا رخ اسلام کے خاتمے کی طرف موڑ چکا ہے۔ مسلمان دہشت گردی کے خلاف عالمی اتحاد کا ساتھ دینے کی بہت بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے صدر مشرف سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکی حکومت سے توہین رسالت کے واقعہ پر احتجاج کریں اور حکومتی سطح پر اس واقعہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کریں۔ انہوں نے تمام مسلم ممالک بالخصوص او۔ آئی سی پر زور دیا کہ وہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے امریکا اور دیگر مغربی ممالک سے قانون سازی کا مطالبہ کریں۔ انہوں نے امریکی حکومت سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ تمام مذاہب کی مقدس شخصیات کی توہین کے سدباب کے لئے امریکا میں توہین رسالت کا قانون نافذ کرے۔ انہوں نے حضور ﷺ کی ذات کو دہشت گردی سے نتھی کرنے کو پوری انسانیت کی توہین قرار دیتے ہوئے امریکی مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ نبی کریم ﷺ کی توہین پر امریکا کی سپریم کورٹ میں عیسائی رہنما جیری فال ویل کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ دائر کریں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۱۸ تا ۲۴؍ اکتوبر ۲۰۰۲ء ص۴)
عمرکوٹ میں قادیانی سازش
عمرکوٹ شہر میں ووکیشنل سینٹر کی عمارت جو کہ ایک سرکاری عمارت ہے۔ اس میں رہائشی کریماں زوجہ غلام قادر جو کہ مبینہ طور پر قادیانی ہیں۔ عمارت میں ڈش چینل لگا رکھا ہے۔ خاص طور پر جمعہ کے دن ان کے گرو مرزا طاہر مرتد کے پروگرام میں عام طور پر لوگوں کو دعوت دی جاتی ہے اور یہ ایک سرکاری عمارت میں کھلم کھلا تبلیغ کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے۔ عمرکوٹ کے علماء کرام ، مولانا عبدالرحمٰن جمالی، مولانا محمد مراد، قاری حسن اور کنری عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی جماعت میاں عبدالواحد، عبدالرشید راجپوت ابراہیم ،سہیل اصغر، ندیم خالد، مجاہد اور مولانا مغل، مولانا محمد منشاء، مولانا محمد الیاس نوہڑی نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ اس سرکاری عمارت کو خالی کروایا جائے اور جو لوگ تبلیغ کے کاموں میں ملوث ہیں ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۰۲ء ص۵۵)
کسوال میں قادیانی مردہ کی مسلم قبرستان میں تدفین
دینی جماعتوں کے سخت احتجاج کے بعد چک نمبر ایل/۱۱۶/۱۲کسوال کے مسلم قبرستان سے قادیانی مردہ نکال دیا گیا ہے۔ جس
ترتیب وتخریج: حضرت مولانا اللہ وسایا تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء
کے بعد احتجاجی سلسلہ فوری طور پر ختم کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ مردے کے ورثاء نے منگل کو پانچ بجے علی الصبح پولیس تھانہ کسووال کی نگرانی میں نعش کو اپنی ملکیتی جگہ پر منتقل کر لیا۔
تفصیلات کے مطابق ۲۰؍نومبر کو ۱۱۶/۱۲/ایل کسووال کے مسلم قبرستان میں مرزا ایوب نامی قادیانی کو دفنایا گیا جس پر کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے پلیٹ فارم سے تمام مکتب فکر نے رائے عامہ کو منظم کر کے احتجاج کیا اور سرکاری حکام کو تحریری درخواستوں کے علاوہ ملاقاتوں میں امتناع قادیانیت آرڈیننس کی خلاف ورزی اور مسلم قبرستان کے تقدس کو مجروح کرنے سے پیدا شدہ صورت حال اور دینی حلقوں کی تشویش سے آگاہ کیا۔ ایس ایس پی ساہیوال، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ساہیوال، جوڈیشل مجسٹریٹ چیچہ وطنی اور ایس ایچ او تھانہ کسووال نے عوام میں پیدا ہونے والے اشتعال اور قانون کی روشنی میں یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ قادیانی نعش کو کسی دوسری جگہ ٹرانسفر کر دیا جائے۔ اسی اثناء میں متوفی کے ورثاء نے پولیس کو اطلاع دے کر نعش کو نکالنے کا خود انتظام کر لیا۔
منگل کو احتجاجی مظاہرے کا اعلان کیا گیا تھا مردہ نکالنے کی اطلاع کے بعد وہ اظہار تشکر کے جلوس میں تبدیل کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔ جلوس جامع مسجد سے شروع ہوا۔ شرکاء جلوس نے بینرز اٹھا رکھے تھے۔ نعرہ تکبیر اللہ اکبر، ختم نبوت زندہ باد، مرزائیت مردہ باد اور امریکہ مردہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے نہایت پرامن طور پر جامع مسجد، مسجد بازار اور اوکانوالہ روڈ سے ہوتا ہوا مین بازار کے راستے شہداء ختم نبوت چوک پہنچا۔ جلوس پر جگہ جگہ پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں۔ شہداء ختم نبوت چوک میں مرکزی تاجران کے صدر شیخ محمد حفیظ کی زیر صدارت منعقدہ جلسہ عام سے حافظ حبیب اللہ، عبداللطیف خالد چیمہ، جمعیت علمائے اسلام کے مفتی محمد عثمان غنی، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مولانا عبدالحکیم نعمانی، جماعت اسلامی کے خان حق نواز خان، مولانا عبدالباقی، مرکزی جمعیت اہل حدیث کے مولانا محمد اکرم ربانی، انجمن تحفظ حقوق شہریان کے شیخ عبدالغنی، مولانا احمد ہاشمی، محمد عابد، مسعود ڈوگر، ناصر نواز شیرازی، حافظ محبوب احمد، قاری عبدالرحمن نے خطاب میں کہا کہ سرکاری انتظامیہ نے مسئلہ کو حل کر کے شہر کے امن کو خراب ہونے سے بچا لیا ہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۰۲ء ص ۶۱، ۶۲)
ایک قادیانی کا صدر مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نام کھلا خط
مکرم ومحترم جناب صدر مملکت پاکستان! السلام عليكم ورحمة الله!
عرض ہے کہ کچھ عرصہ سے میرا اپنے سسرال کے ساتھ جھگڑا چل رہا تھا کہ مؤرخہ ۱۷؍جولائی ۲۰۰۲ء کو جماعت احمدیہ کے دفتر عمومی چناب نگر (ربوہ) کے افراد دفتر میں پکڑ کے لے گئے اور میرے گھر کو تالا لگا کر چابیاں نائب صدر عمومی حمید اللہ قریشی نے اپنے قبضہ میں لے لیں اور مجھے ربوہ چھوڑ کر لاہور چلے جانے کو کہا مگر میں نہ مانا۔ مجھے دو ماہ تک ان کے امیر مرزا مسرور احمد، ملک خالد مسعود اور صدر عمومی میجر شاہد سعدی کے حکم پر حبس بے جا میں رکھا گیا اور مارا پیٹا گیا۔ حتیٰ کہ مؤرخہ ۵؍ستمبر ۲۰۰۲ء کو حافظ مسعود احمد نے مار مار کر میرا دایاں بازو توڑ دیا۔ آخر مؤرخہ ۲۰؍ستمبر ۲۰۰۲ء کو مجھے ربوہ چھوڑنے اور لاہور جانے کو کہا گیا جس پر مجھے مجبوراً لاہور جانا پڑا۔ مگر اگلے ہی روز میں نے واپسی کا فیصلہ کیا اور تحریک ختم نبوت کے مولوی اللہ یار صاحب کے ساتھ مل کر چوکی چناب نگر میں مندرجہ بالا افراد کے خلاف درخواست دی اور اس نے ٹوٹے ہوئے بازو کی میڈیکل رپورٹ بنوا کر چوکی میں دی مگر حمید اللہ قریشی (ریٹائرڈ ڈی ایس پی) نے صاف جھوٹ بولا کہ بازو تو ہم نے توڑا ہی نہیں نہ ہی ہم نے اسے محبوس رکھا۔ جناب عالی! میرے حق میں کوئی گواہی بھی دینے کو تیار نہیں کیونکہ سب کے سب دفتر ملازم اور احمدی افراد ہیں۔ وہ بھلا جماعت کے عہدیداروں کے خلاف کیوں گواہی دیں گے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جناب عالی ! میں ایک ماہ سے گھر سے بے گھر ہوں ، حال ہی میں مجھے ایک وکیل صاحب نے مشورہ دیا کہ محض خط پر بھی آں مکرم نوٹس لے لیتے ہیں۔ لہٰذا اس خط کے ذریعہ خاکسار آپ کی خدمت میں حاضر ہے۔ میرا سارا سامان مکان میں بند ہے۔ مالک مکان کرایہ مانگتا ہے جب کہ میرا مؤقف ہے کہ چونکہ جماعت نے مجھے دو ماہ حبس بے جا میں رکھا اور اب ایک ماہ سے ناجائز طور پر تالا لگا رکھا ہے اور مجھے گھر نہیں جانے دیا جارہا ۔ لہٰذا اس مدت کا کرایہ جماعت ادا کرے۔
جناب عالی ! نہ صرف پولیس نے میرا پرچہ درج نہیں کیا بلکہ ان دو ماہ میں کئی بار صدر عمومی کے کہنے پر مارا بھی اور کئی دن تک چوکی چناب نگر (ربوہ) میں ناجائز طور پر بند رکھا ۔ یہاں پر ڈی۔ایس۔پی صاحب کو بھی شکایت کی مگر کوئی شنوائی نہ ہوئی۔ جماعت پولیس کو پیسے دے کر خرید لیتی ہے اور مجھ جیسے غریب کی شنوائی نہیں ہوتی نہ صرف یہ بلکہ کھلم کھلا ٹارچر سیل میں رکھ کر مارا جاتا ہے انہوں نے حکومت پاکستان کے مساوی ربوہ میں ایک حکومت بنا رکھی ہے۔ یہاں پر باقاعدہ ان کا الگ عدالتی نظام ہے۔ صدر عمومی نے غنڈے پال رکھے ہیں جن کے پاس ہر وقت اسلحہ موجود رہتا ہے۔
آں مکرم سے درخواست ہے کہ مجھ پر ہوئی ان زیادتیوں کا نوٹس لیں اور مجھے گھر کی چابیاں دلوانے اور ان ظالموں کا ہرجانہ دلوانے میں مدد فرمائیں بلکہ خود دلوائیں۔ والسلام !
خاکسار : شیخ زبیر انور ،مؤرخہ ۲۶؍ اکتوبر ۲۰۰۲ء عارضی پتہ: ۲/۱ے دارالصدر شمالی، ربوہ تحصیل چنیوٹ، ضلع جھنگ
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۰۲ء ص۴۷، ۴۸)
انجمن سرفروشان اسلام پر پابندی عائد کی جائے
پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں ہر شخص کو آزادی ہے کہ وہ اسلام کے خلاف جو چاہے بکے اور جس عقیدہ کا چاہے اظہار کرے۔ دنیا میں شاید یہ واحد ملک جہاں اسلام کے خلاف بولنے والوں کو اگر روکنے کی کوشش کی جاتی ہے تو انتظامیہ سے لے کر عوام الناس تک اس راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی ذریت ہو یا یوسف کذاب ، گوہر شاہی ہو یا ڈاکٹر عثمانی ،عتیق الرحمن گیلانی ہو یا محمد شیخ، جس کی مرضی جو چاہے بک دے، وہ ان کا من گھڑت عقیدہ بن جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی زرخیز زمین ہے ، جہاں ہر فتنے کی نہ صرف کاشت ہوتی ہے بلکہ آبیاری بھی ہوتی ہے۔ ریاض احمد گوہر شاہی ملعون کو جہنم واصل ہوئے کچھ عرصہ گزر چکا ہے لیکن اس کی ذریت اب تک اپنے خبیث عقائد و افعال سے کنارہ کش نہیں ہوئی۔ گزشتہ دنوں گوہر شاہی کے ایک مرید نے قرآن پاک کو نذر آتش کر دیا۔ اس واقعہ کی تفصیل درج ذیل خبر میں ملاحظہ فرمائیے: ’’پاک کالونی : گوہر شاہی کے مرید کے ہاتھوں قرآن پاک نذر آتش سانحہ کی اطلاع پر مشتعل لوگوں نے ملزم کی پٹائی کی جس پر وہ فرار ہو گیا ۔ پاک کالونی پولیس نے فوری کارروائی کر کے ملزم کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا۔
کراچی (کرائم رپورٹر) پاک کالونی تھانے کی حدود زبیر کالونی میں انجمن سرفروشان اسلام کے کارکن اور گوہر شاہی کے مرید نے قرآن پاک کو شہید کر دیا۔ پولیس نے ملزم کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پاک کالونی تھانے کی حدود میں مکان نمبر ای / ۱۴۵ کالونی کے رہائشی مشتاق احمد ولد مقبول الرحمٰن گزشتہ رات ۸ بجے کے قریب اپنے گھر سے قرآن پاک لے کر قریب فٹ بال گراؤنڈ پہنچ گیا اور قرآن پاک کو کچرا کنڈی گٹر باغیچہ میں پھینک کر اسے آگ لگا کر شہید کر ڈالا۔ اس واقعے کی اطلاع پر جائے وقوعہ پر لوگوں کا ہجوم اکٹھا ہو گیا اور انہوں نے ملزم کو کافی مارا پیٹا ہے ، اسی دوران ملزم موقع پا کر فرار ہو گیا۔ پاک کالونی تھانے میں جیسے ہی اس
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
واقعے کی خبر پہنچی، تھانہ انچارج انسپکٹر اکرم خان محمود فی الفور کارروائی کرتے ہوئے جائے وقوعہ پر روانہ ہو گئے، ملزم کے والد مقبول الرحمٰن ولد غلام حسین اور سگے بھائی شمشاد ولد مقبول الرحمٰن کے بھرپور تعاون سے آخر کار چند گھنٹوں کے اندر اندر قرآن پاک کی بے حرمتی کے مرتکب ملزم اشفاق احمد کو گرفتار کر لیا گیا۔ جب کہ تھانہ پاک کالونی میں ملزم کے خلاف بجرم دفعہ ۲۹۵ بی تعزیرات پاکستان کے تحت ایف آئی آر نمبر ۲۰۰۲/۲۴۰ درج کر لی گئی۔ مقدمے کے مدعی اے ایس آئی لال اختر خان اور شعبہ ہومی سائیڈ کے تفتیشی افسر سب انسپکٹر الیاس شاہ کی کوشش سے ملزم کی نشان دہی پر پولیس نے قرآن پاک کے آدھا جلے اور جلنے سے محفوظ رہنے والا معمولی حصہ جس پر قرآن کی آیت ”ذالک الکتاب لاریب فیہ“ درج ہے، سرکاری تحویل میں لے لیا ہے جب کہ ملزم کے سگے والد اور سگے بھائی نے ملزم کے خلاف عدالت میں گواہی دینے کے لئے پولیس کو بھر پور تعاون کا یقین دلایا۔“
(روزنامہ اسلام ۱۹/دسمبر۲۰۰۲ء)
جب اخباری رپورٹر نے اس فعل کے مرتکب ملعون سے اس بارے میں استفسار کیا تو اس نے جو جوابات دیئے وہ درج ذیل خبر میں ذکر کئے گئے ہیں:
”گوہر شاہی کا سچا پیرو کار ہوں، اپنے کئے پر کوئی شرمندگی نہیں، مشتاق احمد۔ مجھ سے قدرت نے یہ کام عوام کو شریعت کی بجائے طریقت سے روشناس کرانے کے لئے کرایا۔ میرے دل میں طریقت والا قرآن موجود ہے۔ گوہر شاہی زندہ ہیں۔ اپنے مریدوں کو احکام دیتے ہیں۔ نمائندہ ”اسلام“ سے گفتگو۔
کراچی (رپورٹ: محمد اختر جیلانی) پاک کالونی پولیس کی زیر حراست قرآن پاک کی بے حرمتی کے مبینہ ملزم مشتاق احمد ولد مقبول الرحمٰن نے کہا ہے کہ میں انجمن سرفروشان اسلام کا کارکن اور گوہر شاہی کا سچا، حقیقی پیرو کار ہوں اور مجھے اپنے فعل پر کسی قسم کی شرمندگی نہیں ہے اور مجھ سے قدرت نے خود یہ کام کرایا ہے تاکہ عوام الناس کو شریعت کی بجائے طریقت سے روشناس کرایا جاسکے۔ پاک کالونی تھانے میں نمائندہ اسلام سے بات چیت کرتے ہوئے ملزم نے بتایا کہ میں ۲۰، ۲۵ سال سے گوہر شاہی کا سچا عقیدت مند ہوں اور مجھے ظاہری قرآن کی ضرورت نہیں ہے، میرے دل میں طریقت والا قرآن موجود ہے، میں جب ورد کرتا ہوں تو میرا قلب جاری ہو جاتا ہے اور میری روح خلا میں چلی جاتی ہے۔ ایسے میں زرد رنگ کی روشنی ہوتی ہے اور نس نس میں نور سما جاتا ہے، میں نے اپنے اندر ذات کا مشاہدہ کیا ہے اور براہ راست اللہ تعالیٰ کا دیدار کیا ہے۔ قرآن پاک کی بے حرمتی کے مرتکب ملزم مشتاق احمد کا کہنا ہے کہ گوہر شاہی مرے نہیں ہیں بلکہ انہوں نے دنیا سے ظاہری پردہ فرمایا ہے اور کوٹری میں مرشد کی جو قبر ہے وہ دکھاوے کی ہے۔ ہمارے مرشد گوہر شاہی اب بھی اپنے مریدین سے روحانی رابطے میں ہیں اور ہمیں احکام جاری کرتے ہیں۔ ملزم نے بتایا کہ ہماری تنظیم انجمن سرفروشان اسلام کا کراچی میں سول ہسپتال والی گلی میں آستانہ موجود ہے جہاں گوہر شاہی کے مریدین کو تعلیم دی جاتی ہے۔“
(روزنامہ اسلام ۱۹/دسمبر۲۰۰۲ء)
حضرت اقدس مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید نور اللہ مرقدہ نے گوہر شاہی اور اس کی جماعت کے بارے میں اپنے ایک فتویٰ میں تحریر فرمایا تھا کہ: ”میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ شخص (یعنی گوہر شاہی) دین اور شریعت کا قائل نہیں، نہ اس کو نماز، روزے کا اہتمام ہے اور نہ شریعت کے محرمات سے پرہیز ہے۔ اس لئے اس کی حیثیت مرزا غلام احمد قادیانی جیسی ہے اور اس کے ماننے والے گمراہ ہیں۔“
نیز اپنے ایک فتویٰ میں حضرت شہید تحریر فرماتے ہیں کہ: ”یہ شخص (یعنی گوہر شاہی) مسلمان نہیں بلکہ کافر و زندیق اور مرتد ہے۔ یہ شخص اور اس کی جماعت اور اس کے ماننے والوں کے بارے میں قرآن و سنت اور اکابر امت کی تصریحات یہ ہیں کہ ایسا شخص ہرگز مسلمان نہیں ہو سکتا۔ ریاض احمد گوہر شاہی اور اس کی جماعت کے لوگوں کے ساتھ تعلق رکھنا اور رشتہ ناتہ کرنا جائز نہیں۔ ان لوگوں کا ذبیحہ مردار
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہے۔“ ان فتاویٰ کی روشنی میں ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ گوہر شاہی کے پیروکاروں کو قادیانیوں کی طرح آئینی اور قانونی طور پر کافر ومرتد قرار دیا جائے۔ اس کی جماعت ”انجمن سرفروشان اسلام“ پر پابندی عائد کی جائے اور اس کے پیروکاروں کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے۔ نیز قرآنِ کریم کی بے حرمتی کے ارتکاب کے جرم میں گوہر شاہی کے پیروکار مشتاق احمد کو قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ آئندہ کسی کو ایسے گھناؤنے جرم کے ارتکاب کی جرأت نہ ہو۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۷؍ دسمبر ۲۰۰۲ء تا ۲؍ جنوری ۲۰۰۳ء ص ۵،۲)
چناب نگر میں باپ بیٹا قادیانیت سے تائب ہو کر مسلمان ہو گئے
چناب نگر کی مرکزی جامع مسجد ختم نبوت مسلم کالونی میں جمعۃ المبارک کے موقع پر قادیانی باپ بیٹے نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری مدظلہ کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا۔ اس موقع پر باپ مہر خان اور منظور احمد نے جمعۃ المبارک کے اجتماع میں مرزا غلام احمد قادیانی پر لعنت بھیجی اور حضور خاتم النبیین ﷺ کی ختم نبوت پر سچے دل سے ایمان لانے کا اقرار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مرزائیت جھوٹ دجل اور دھوکے کا نام ہے۔ مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری نے ان کو مبارک باد دی۔ اس موقع پر حضرت مولانا اللہ وسایا اور حضرت مولانا غلام مصطفیٰ بھی موجود تھے۔ اس بات سے مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ مسلمان ان نو مسلموں کو گلے لگا کر ملتے رہے اور مبارک باد دیتے رہے۔ ناظم اعلیٰ نے انہیں خصوصی دعاؤں سے نوازا۔ اللہ تعالیٰ انہیں استقامت عطاء فرمائے اور باقی قادیانیوں کو بھی اللہ تعالیٰ ہدایت عطا فرمائے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۰۲ء ص ۶۴)
قادیانی جوڑے کا قبول اسلام
ننکانہ صاحب (نمائندہ خصوصی) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ننکانہ صاحب کے امیر حاجی عبدالحمید رحمانی، محمد اسلم وسیرا اور حکیم محمد امین کی کوششوں سے محمد خاں ولد ماہنا ساکن پدی پور اور اس کی اہلیہ شریفاں بی۔ بی نے مولانا سید محمد جلیل الحسن شاہ خطیب جامع مسجد خضراء کے ہاتھ پر قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کر لیا۔ اس موقع پر محمد خاں اور شریفاں بی۔بی نے یہ حلفیہ اقرار کیا کہ وہ حضور خاتم النبیین ﷺ کو ہر اعتبار سے آخری نبی مانتے ہیں اور یہ کہ آپ کے بعد کسی تشریعی، غیر تشریعی، ظلی یا بروزی کسی قسم کا کوئی نبی نہیں ہے، سیدنا عیسیٰ زندہ آسمانوں پر موجود ہیں اور وہی قیامت کے قریب دوبارہ اس دنیا میں آسمانوں سے نازل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اب ان کا عقیدہ یہ ہے کہ امام مہدی اس امت میں حضور نبی کریم ﷺ کی اولاد میں پیدا ہوں گے اور سیدنا عیسیٰ جب آسمانوں سے زمین پر نازل ہوں گے تو امام مہدی اس وقت زمین پر موجود ہوں گے۔ اس موقع پر انہوں نے یہ بھی اقرار کیا کہ وہ فتنہ قادیانیت کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی کو اس کے تمام دعاوی میں جھوٹا یقین کرتے ہیں علماء اسلام کے فتاوی کے مطابق اسے کافر اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے نزدیک مرزا غلام احمد قادیانی کو ظلی ، بروزی نبی، مسیح موعود، مہدی، یا مجدد یا مصلح ماننے والے اس کے پیروکار، قادیانی اور لاہوری جماعت وغیرہ کافر ہیں اور جو ان کے کفر میں شک کرے اسے بھی کافر سمجھتے ہیں۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ننکانہ صاحب کے امیر حاجی عبدالحمید نے اس موقع پر محمد اسلم وسیرا اور حکیم محمد امین کی تبلیغی کوششوں کو سراہا۔ اس موقع پر شوکت علی شاہد اور محمد اکرم ناز بھی موجود تھے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۳۰؍اگست تا ۵؍ ستمبر ۲۰۰۲ء ص ۲۵)
جیکب آباد کے چار قادیانیوں کا قبول اسلام
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم تبلیغ حضرت مولانا بشیر احمد اور سکھر مجلس کے مبلغ حضرت مولانا محمد حسین ناصر نے جیکب
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
آباد کا دورہ کیا۔ جمعیت علماء اسلام کے صوبائی رہنما جناب ڈاکٹر عبدالغنی انصاری، جناب حافظ میر محمد اور جناب زاہد حسین رند نے بھر پور تعاون کیا۔ حضرت مولانا بشیر احمد ، جناب ڈاکٹر اے. جی انصاری اور حضرت مولانا محمد حسین ناصر نے پریس کانفرنس میں صحافیوں اور دوسرے مسلمانوں کو قادیانیوں کے عقائد سے آگاہ کیا۔ قادیانیت زدہ افراد تک لٹریچر پہنچایا۔ حضرت مولانا محمد حسین ناصر، جناب حافظ میر محمد ، جناب ڈاکٹر اے. جی انصاری، جناب زاہد حسین رند ، حضرت مولانا غلام نبی بروہی کی کوششوں سے ان چار نوجوانوں نے جنہیں قادیانیوں نے بہلا پھسلا کر مرتد بنا دیا تھا سینکڑوں لوگوں کی موجودگی میں مرزائیت پر لعنت بھیج کر اسلام قبول کر لیا۔ ان کے نام یہ ہیں جناب محمد علی کورائی، جناب صلاح الدین کورائی، جناب طوطل کورائی، جناب احمد علی کورائی۔
حافظ آباد میں قادیانی کا قبول اسلام
حضرت مولانا محمد الطاف خطیب جامع مسجد قدیم اور جناب حافظ عبدالوہاب کی کوششوں سے جناب ذوالفقار احمد ولد سلطان احمد قوم جٹ مانگٹ اور محترمہ شاہدہ پروین دختر نذر محمد قوم مانگٹ نے ان حضرات کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ استقامت کی دعا ہے۔
قصور میں قادیانی کا قبول اسلام
قصور سے آمدہ اطلاعات کے مطابق جناب جمال الدین آرمی میں ملازمت کے دوران کسی قادیانی کے ہتھے چڑھ گئے اور بیالیس سال تک قادیانی رہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد اولا د اور اہلیہ محترمہ کی مسلسل کوششوں کے بعد جناب پروفیسر بشیر الدین کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ اسی طرح گمبٹ سے آمدہ اطلاعات کے مطابق قادیانی عبادت گاہ کے امام جناب محمد نواز نے مجاہد ختم نبوت جناب علامہ احمد میاں حمادی اور حضرت مولانا حفیظ الرحمن کی جدو جہد سے قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کر لیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۰۲ء ص۴۰)
قادیانی گھرانے کا قبول اسلام
ننکانہ صاحب (نمائندہ خصوصی ) چک نمبر ۱۰/۶۳ منشی والا تحصیل ننکانہ ضلع شیخوپورہ براستہ سید والا روڈ تھانہ بچیکی میں ۹؍ افراد پر مشتمل ایک قادیانی گھرانے نے قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کر لیا۔ ان نو مسلموں میں محمد حسین و اہلیہ، علی حسین (بیٹا) اور محمد حسین کی پانچ بیٹیاں بھی شامل ہیں۔ اس موقع پر ان نو مسلموں نے اس بات کا اقرار کیا کہ وہ حضور خاتم النبیین ﷺ کو ہر اعتبار سے آخری نبی مانتے ہیں اور یہ کہ آپ ﷺ کے بعد کسی تشریعی ، غیر تشریعی ، ظلی یا بروزی کسی قسم کا کوئی نبی نہیں آئے گا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں پر زندہ موجود ہیں اور وہی قیامت کے قریب دوبارہ اس دنیا میں آسمانوں سے نازل ہوں گے۔ امام مہدی علیہ الرضوان اس امت میں حضور نبی کریم ﷺ کی اولا د میں پیدا ہوں گے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب آسمانوں سے زمین پر نازل ہوں گے تو امام مہدی علیہ الرضوان اس وقت زمین پر موجود ہوں گے۔ ہم فتنہ قادیانیت کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی کو اس کے تمام دعوؤں میں جھوٹا یقین کرتے ہیں اور علماء اسلام کے فتویٰ کے مطابق اسے کافر، کاذب، دجال اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی کو ظلی یا بروزی نبی، مسیح موعود، مہدی، مجدد یا مصلح ماننے والے اس کے پیرو کار، خواہ وہ قادیانی ہوں یا لاہوری، کافر ہیں۔ آج کے بعد ہمارا قادیانی یا لاہوری جماعت سے عقیدہ اور مذہب کے لحاظ سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ آئندہ ہوگا۔ ہم ۱۹۷۴ء میں قومی اسمبلی کی جانب سے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی آئینی ترمیم اور اپریل ۱۹۸۴ء کے امتناع قادیانیت آرڈیننس کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ اس موقع پر نومسلم خاندان کی دین اسلام پر استقامت کے لئے دعا کی گئی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۲۲ تا ۲۷؍نومبر ۲۰۰۲ء ص ۲۶)
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ضلع قصور کے گاؤں میں قادیانی نوجوان کا قبول اسلام
ضلع قصور کے قصبہ جمبر کلاں کے نواح میں طاہر بشیر اعوان اور اس کا خاندان جو کہ عرصہ سے مرزائی گروپ سے منسلک تھا حضرات علمائے کرام کی شب و روز محنت اور دعاؤں سے مرزائی عقیدے سے تائب ہو کر حلقہ بگوش اسلام ہو گئے ۔ طاہر بشیر نے کہا کہ مرزا طاہر سے میرا کافی رابطہ تھا۔ خط و کتابت تھی لیکن میں اس نتیجے پر پہنچا کہ اسلام سچا مذہب ہے اور آنحضرت ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے ماننے والے مرزا طاہر دجال اعظم سمیت تمام مرزائی کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ طاہر بشیر اعوان نے ضلع قصور کے مبلغ مولانا عبدالرزاق مجاہد کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ مولانا عبدالرزاق مجاہد دن رات قادیانیت کا تعاقب بذریعہ تقریر و مفت لٹریچر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ طاہر بشیر اعوان نے قارئین لولاک سے درخواست کی ہے کہ وہ میرے لئے دعا کریں کہ اللہ رب العزت مجھے دین اسلام پر استقامت نصیب فرمائیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۰۲ء ص ۵۷)
رپورٹ سہ ماہی اجلاس مرکزی مبلغین عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
ملتان عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغین کا سہ ماہی اجلاس دفتر مرکزیہ، ملتان میں ۲۲، ۲۳/ ذوالحجہ ۱۴۲۲ھ مطابق ۷، ۸/ مارچ ۲۰۰۲ء کو منعقد ہوا۔ اجلاس کی پانچ نشستیں منعقد ہوئیں جن کی صدارت مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ، مولانا بشیر احمد اور حافظ محمد ثاقب نے کی۔ اجلاس میں حکومتی معاملات میں قادیانیوں کی بڑھتی ہوئی مداخلت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ قادیانیوں اور قادیانی پس منظر رکھنے والے افراد کو سرکاری اداروں کی کلیدی اسامیوں سے الگ کیا جائے۔
اجلاس میں امریکہ سے آنے والے ناصر عبدالحکیم المعروف ناصر جو فیاض ٹاؤن مغلپورہ لاہور کا باسی اور قادیانی ہے، اس کے پاس سے شیعہ سنی تنازعہ کو ہوا دینے اور ”ہر شاخ پر الو بیٹھا ہے“ کے نام سے ملکی زعماء کو الو قرار دینے والے لٹریچر کی برآمدگی اور ملک میں تخریب کاری کے لئے کروڑوں ڈالر کی تقسیم کرنے کے منصوبے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت عرصہ دراز سے کہتی چلی آرہی ہے کہ ملک میں فرقہ وارانہ اور لسانی و طبقاتی فسادات اور قتل و غارت گری میں قادیانی ملوث ہیں۔ مذکورہ بالا قادیانی لٹریچر اور اس سے کی گئی تفتیش اس بات کی بھر پور تائید کرتی ہے۔
اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ قادیانی جماعت کو خلاف قانون قرار دیا جائے اور مذکورہ بالا قادیانی اور اس کے ساتھیوں کے خلاف تفتیش فوری طور پر مکمل کر کے ان کا کیس انسداد دہشت گردی کی عدالت کو منتقل کیا جائے اور قادیانی ملزمان کو قرار واقعی سزا دی جائے۔
اجلاس میں ایک اخباری رپورٹ جس کے مطابق قادیانیوں نے پاکستان میں تبلیغ کے لئے ۱۶ کروڑ ڈالر مختص کئے ہیں، پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ مذکورہ بالا رقم قادیانیت کی تبلیغ پر نہیں بلکہ ملک میں افراتفری، قتل و غارت گری، دہشت گردی اور تخریب کاری پر صرف ہوگی، اجلاس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ قادیانیوں کی اس قسم کی سرگرمیوں پر کڑی نگاہ رکھی جائے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۵ تا ۱۱/ اپریل ۲۰۰۲ء ص ۲۵)
ختم نبوت کانفرنس سکھر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سکھر کے زیر اہتمام ۳/ اپریل ۲۰۰۲ء بروز بدھ بعد نماز عشاء مرکزی جامع مسجد بندر روڈ میں ایک روزہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالصمد ہالیجوی مدظلہ نے کی۔ کانفرنس سے مولانا محمد
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مراد ہالیجوی، مولانا مفتی محمد جمیل خان، مولانا اللہ وسایا، صاحبزادہ طارق محمود، مولانا شفیق الرحمن درخواستی، مولانا بشیر احمد، علامہ احمد میاں حمادی، مولانا قاری خلیل احمد، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سکھر کے مبلغ مولانا محمد حسین ناصر نے خطاب کیا۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا قاری خلیل احمد، مولانا عبدالرحمن اور مولانا عطاء اللہ نے بہت خوش اسلوبی سے سرانجام دیئے۔ اس کے علاوہ کانفرنس کے دیگر تمام انتظامات حضرت مولانا بشیر احمد، مولانا عبدالمجید، حاجی رشید احمد، آغا سید محمد شاہ، حاجی احمد حسین، مولانا حق نواز، عقیل احمد، سکندر ذوالقرنین، محمد رضوان، محمد علی کے علاوہ اور بہت سے رفقاء نے با احسن طریقے سرانجام دیئے۔ اس طرح ان تمام حضرات کی شب و روز کی محنت نے کانفرنس کو بہت ہی زیادہ کامیابی سے ہمکنار کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۲ء ص ۵۸، ۵۹)
چودھویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس ٹنڈو آدم
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ٹنڈو آدم صوبہ سندھ کے ترجمان مفتی محمد طاہر مکی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کانفرنس ۵ /اپریل کو جامع مسجد ختم نبوت ٹنڈو آدم میں صبح دس بجے تا رات گئے تک منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ حضرت شیخ المشائخ مولانا خواجہ خان محمد دامت برکاتہم نے فرمائی۔ کانفرنس سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اکرم طوفانی، صاحبزادہ طارق محمود، مفتی محمد جمیل خان، مفتی نظام الدین شامزئی، مولانا نذیر احمد تونسوی، ڈاکٹر خالد محمود سومرو، مولانا عبدالغفور حقانی، مولانا خادم حسین بلوچ، مولانا عبدالرزاق میتھلو، مولانا محمد مراد ہالیجوی، مولانا عبدالغفور قاسمی، مفتی حفیظ الرحمن رحمانی، مولانا محمد راشد مدنی، حافظ محمد سعید لدھیانوی، مولانا محمد نذر، مولانا محمد علی صدیقی، محمد زاہد حجازی اور دیگر نے خطاب کئے۔ کانفرنس کے موقع پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد دامت برکاتہم کا ٹنڈو آدم شہر سے باہر استقبال کیا گیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۵ تا ۱۱ /اپریل ۲۰۰۲ء ص ۲۶)
ختم نبوت کانفرنس کنڈیارو
ماہ اپریل ۲۰۰۲ء میں کنڈیارو کی جامع مسجد میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت حضرت مولانا مفتی محمد ادریس نے کی۔ قاری عتیق الرحمن سومرو نے تلاوت کلام پاک فرمائی۔ میر محمد کھوسہ نے نعت رسول مقبول پیش کی۔ کانفرنس سے حضرت مولانا اللہ وسایا، حضرت مولانا صبغۃ اللہ اور حضرت مولانا خان محمد کندھانی مبلغ ختم نبوت کنری نے خطاب فرمایا۔ مولانا عبدالکریم کھوسہ نے اسٹیج سیکرٹری کے فرائض سرانجام دیئے۔ جناب پیر فضل اللہ، جناب عبدالماجد پیرزادہ، محمد عطاء اللہ پیرزادہ، محمد یاسین قریشی، حبیب الرحمن کھوسہ، حافظ منیر حسین، سلطان احمد اور احسان الحق قاسمی نے کانفرنس کو کامیاب بنانے میں بھرپور محنت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۰۲ء ص ۵۲)
رد قادیانیت کورس چونڈہ
۴، ۵ /اپریل ۲۰۰۲ء جامع مسجد شاہ فیصل چونڈہ ضلع سیالکوٹ میں رد قادیانیت کورس کے حوالے سے مولانا خدا بخش اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے حیات مسیح، مسئلہ ختم نبوت اور کذب مرزا قادیانی کے موضوعات پر لیکچر کا پروگرام تشکیل دیا گیا۔ کورس کی کامیابی کے لئے مولانا غلام مصطفیٰ چناب نگر، مولانا فقیر اللہ اختر اور مولانا عارف ندیم ضلع سیالکوٹ نے مختلف علاقوں کے دورے کئے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۵ تا ۱۱ /اپریل ۲۰۰۲ء ص ۲۶)
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حضرت مولانا بشیراحمد کاضلع لیہ، بھکر، میانوالی میں تبلیغی دورہ
ملتان مرکزی مبلغ حضرت مولانا بشیر احمد دامت برکاتہم کے مجلس شوریٰ ماہ صفر المظفر میں ترتیب دیئے گئے پروگراموں کی تفصیل
مندرجہ ذیل ہے:
۳ صفر ۱۷؍ اپریل ۲۰۰۲ء بروز بدھ مدرسہ رحیمیہ کوٹ سلطان، مدرسہ جامعہ رحمانیہ جمن شاہ۔
۴ صفر ۱۸؍ اپریل بروز جمعرات جامع مسجد کرنال والی، جامع مسجد ہاؤسنگ کالونی، جامع مسجد موتی لیہ شہر۔
۵ صفر ۱۹؍ اپریل بروز جمعہ دارالعلوم عیدگاہ، جامع مسجد کھجور والی،، جامع مسجد نور کروڑ لعل عیسن شہر۔
۶ صفر ۲۰؍ اپریل بروز ہفتہ جامع مسجد چک ۹۳، جامع مسجد چک ۹۲ کروڑ لعل عیسن۔
۷ صفر ۲۱؍ اپریل بروز اتوار جامع مسجد رحمانیہ سرکل، جامع مسجد خلفائے راشدین بہل، مدرسہ تعلیم القرآن عیدگاہ بہل۔
۸ صفر ۲۲؍ اپریل بروز پیر جامع مسجد نعمانی، جامعہ قادریہ، جامع مسجد دارالہدیٰ، جامعہ رشیدیہ بھکر۔
۹ صفر ۲۳؍ اپریل بروز منگل جامع مسجد رحمانیہ، جامعہ مسجد عائشہ، جامع مسجد امیر حمزہ بھکر۔
۱۰ صفر ۲۴؍ اپریل بروز بدھ جامع مسجد صدیق اکبر کوٹلہ جام، جامع مسجد گلزار مدینہ، مدرسہ فاروقیہ دریا خان (ضلع بھکر)
۱۱ صفر ۲۵؍ اپریل بروز جمعرات جامع مسجد صدیقیہ، جامع مسجد فاروقیہ پنجگرائیں ۔
۱۲ صفر ۲۶؍ اپریل بروز جمعہ جامع مسجد مبارک، جامعہ رحیمہ حسینیہ، جامع مسجد فردوس (سرسوالی) کلورکوٹ۔
۱۳ صفر ۲۷؍ اپریل بروز ہفتہ جامع مسجد مہاجرین، جامع مسجد مدنی، جامع مسجد بلال پیپلاں۔
۱۴ صفر ۲۸؍ اپریل بروز اتوار جامع مسجد مہاجرین علووالی، حضرت امیر مرکز یہ دامت برکاتہم کی زیارت وقیام خانقاہ سراجیہ۔
۱۵ صفر ۲۹؍ اپریل بروز پیر جامع مسجد چشمہ بیراج، جامع مسجد غوثیہ کندیاں۔
۱۶ صفر ۳۰؍ اپریل بروز منگل جامع مسجد بہاباں والی، جامع مسجد کھوہ والی، موسیٰ خیل۔
۱۷ صفر یکم مئی بروز بدھ جامع مسجد رکن الدین، جامع مسجد عیدگاہ واں بھچراں۔
۱۸ صفر ۲؍ مئی بروز جمعرات مسجد ہسپتال والی، جامع مسجد مہاجرین، جامع مسجد زرگراں والی میانوالی۔
۱۹ صفر ۳؍ مئی بروز جمعہ مدرسہ تبلیغ الاسلام جامع مسجد فاروقیہ، جامع مسجد نور میانوالی۔
۲۰ صفر ۴؍ مئی بروز ہفتہ جامع مسجد چکی والی، جامع مسجد کوثر، مدرسہ حنفیہ اشرف العلوم ہرنولی۔
۲۱ صفر ۵؍ مئی بروز اتوار جامع مسجد سنہری، مدرسہ سراج العلوم، جامع مسجد مکی جنڈانوالہ۔
۲۲ صفر ۶؍ مئی بروز پیر جامع مسجد گلزار مدینہ، جامع مسجد فردوس دلے والا۔
۲۳ صفر ۷؍ مئی بروز منگل جامع مسجد صدیق اکبر سرائے مہاجر، جامع مسجد نواب والی منکیرہ۔
۲۴ صفر ۸؍ مئی بروز بدھ جامع مسجد مدنی تھل حیدرآباد، مدرسہ تعلیم الاسلام، جامع مسجد مدنی فتح پور۔
۲۵ صفر ۹؍ مئی بروز جمعرات جامع مسجد محمدیہ، جامع مسجد توحید چوک اعظم۔
۲۶ صفر ۱۰؍ مئی بروز جمعہ جامع مسجد عثمانیہ چوبارہ میں خطاب جمعہ۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۵ تا ۱۱ اپریل ۲۰۰۲ء ص ٹائٹل ۳)
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مرکزی مبلغین کا تبلیغی دورہ گوجرانوالہ
حضرت مولانا اللہ وسایا مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی صاحب، حضرت مولانا خدا بخش صاحب، حضرت مولانا فقیر اللہ اختر صاحب اور حضرت الحاج مولانا حافظ محمد ثاقب صاحب نے مئی کے اوائل میں ضلع گوجرانوالہ کا تبلیغی دورہ کیا۔ اس دوران ضلع کے مختلف مقامات پر ختم نبوت کانفرنسوں، اجتماعات اور تقریبات سے خطاب کیا۔ مرکزی جامع مسجد علی پور چٹھہ، جامع مسجد عثمانیہ کوٹ ہرا، عید گاہ، مدنی مسجد، نوشہرہ ورکاں، جامع مسجد عثمانیہ عرف دارے والی، تلونڈی موسیٰ خان، المرکز، فاروقِ اعظم، وڈالہ سندھواں، مسجد اقدس، مسلم روڈ محلہ بختے والا، جامع مسجد عثمانیہ، پونڈ انوالہ، فضل مسجد فیروز والا روڈ، جامع مسجد توحیدیہ، نوشہرہ سانسی، مسجد ختم نبوت، ابوبکر ٹاؤن، مرکزی جامع مسجد وزیر آباد اور مرکزی جامع مسجد کامونکی میں انہوں نے مختلف اجتماعات میں خطاب کرتے ہوئے موجودہ حکومت کی مرزائیت نوازی، مرزائیت کی دہشت گردانہ سرگرمیوں، مرزائیوں کے باطل عقائد اور اتحاد امت مسلمہ پر روشنی ڈالی، ان اجتماعات سے مختلف مقامات پر مولانا افضال الحق کھٹانہ، مولانا محمد اقبال نعمانی، مولانا محمد قاسم، مولانا عبدالحمید وٹو، مولانا امان اللہ، عثمان برادران، علامہ احسان اللہ فاروقی، مولانا عبدالواحد رسول نگری، مولانا استاد محمد عارف، محمد نسیم اصغر قاضی، مولانا قاری عطاء الرحمن عابد، محمد ابوبکر صدیق اشرف، مولانا قاری منیر احمد قادری، مولانا حافظ گلزار احمد آزاد اور مولانا محمد اسماعیل محمدی، مولانا قاری احمد اللہ گورمانی نے بھی خطابات فرمائے۔ تمام پروگرام نہایت کامیاب مؤثر رہے اور ووٹر فارم سے بیان حلفی ختم نبوت کے حذف کے حوالہ سے عوام الناس کی کافی ذہن سازی ہوئی۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا اللہ وسایا نے کہا کہ پاکستان میں امریکی مداخلت کے بعد قادیانیوں کی سرگرمیوں میں خوفناک حد تک اضافہ ہوا ہے اور حکومتی ایوانوں میں موجود قادیانی اور ان کے سرپرست پاکستان کے اسلامی تشخص کے خاتمہ اور قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت کے درجہ سے خارج کروانے کے لئے خوف ناک سازشیں کر رہے ہیں۔ ووٹرز فارم سے عقیدہ ختم نبوت کے اقرار کے بیان حلفی کو سازش سے ہی حذف کیا گیا ہے اور حکومت اور دینی طبقہ کو لڑانے کی ناپاک جسارت کی گئی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکزی جامع مسجد علی پور چٹھہ میں عوام کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اجتماع سے مولانا محمد اقبال نعمانی، حافظ محمد ثاقب اور مولانا فقیر اللہ اختر نے بھی خطاب کیا۔ بعد ازاں مولانا اللہ وسایا نے ٹیپو سلطان شہید ختم نبوت کانفرنس کوٹ ہرا سے خطاب کیا۔ کانفرنس سے حافظ محمد ثاقب، مولانا افضال الحق کھٹانہ، مولانا محمد قاسم، مولانا فقیر اللہ اختر اور ماسٹر ذوالفقار علی نے خطاب کیا۔ مولانا اللہ وسایا نے کہا کہ مرزائیت ہمیشہ انگریز کی گود میں بیٹھ کر مسلمانوں کے عقائد پر ڈاکہ ڈالتی رہی ہے اور اب بھی اس نے یہی ذریعہ اختیار کیا ہے۔ مرزائیوں کو بھول ہے کہ وہ امریکی و یورپی پشت پناہی اور اپنے پاکستانی حواریوں کی سرپرستی میں مسلمانوں کے عقائد بگاڑ سکتے ہیں۔ مسلمان بیدار ہیں اور وہ ناموس رسالت کا تحفظ کرنا جانتے ہیں۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ حضرت مولانا فقیر اللہ اختر نے موضع دولم کاہلواں چونڈہ تحصیل پسرور میں جامع مسجد ایمن آباد، جامع مسجد رشیدیہ عرفات کالونی، جامع مسجد رحمانیہ محلہ اسلام پورہ، جامع مسجد صدیقیہ گل روڈ، جامع مسجد برنے والی سید نگری بازار، گوجرانوالہ میں جہاد اور قادیانیت کے موضوع پر خطاب کیا اور قادیانیوں اور حکومت کی قادیانیت نواز تازہ ترین سرگرمیوں سے آگاہ کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۰۲ء ص۵۵، ۵۶)
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
چناب نگر میں سیرت النبیﷺ کانفرنس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت چناب نگر کے زیر اہتمام ۲۴ مئی ۲۰۰۲ء کو محمدیہ مسجد ریلوے اسٹیشن میں سیرت النبی کانفرنس منعقد ہوئی کانفرنس سے علماء کرام نے سیرت طیبہ کے موضوع پر خطاب کیا۔ کانفرنس سے شاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایا، مناظر ختم نبوت حضرت مولانا خدا بخش شجاع آبادی، حضرت مولانا غلام مصطفیٰ، حضرت مولانا محبوب الحسن، حضرت مولانا خان عابد حسین، قاری محمد افضل اور حافظ محمد یوسف نے خطاب کیا۔ کانفرنس میں مسلمانوں نے جوش وخروش سے شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۰۲ء ص ۶۴، ۶۳)
ختم نبوت کانفرنس لیہ
چک نمبر ۱۷۲ ٹی ڈی اے پیر جگی کی جامع مسجد میں تاج دار ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت علاقہ کی مشہور دینی و سیاسی شخصیت پیر اقبال احمد بخاری نے کی۔ جب کہ مہمان خصوصی شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمجید صاحب تھے۔ کانفرنس سے مرکزی مبلغ حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، حضرت مولانا امام الدین قریشی، لیہ مجلس کے مبلغ حضرت مولانا عبدالستار حیدری، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لیہ کے امیر حضرت مولانا محمد حسین صاحب، حضرت مولانا عبدالشکور ناظم مجلس، حضرت مولانا غلام اکبر کوٹ سلطان، قاری عبدالغفور، صوفی منظور احمد اور حضرت مولانا مفتی احمد الرحمن نے خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ قادیانی اپنے پراپیگنڈے اور افسران کی بے جا حمایت کی وجہ سے دوبارہ سر اٹھا رہے ہیں۔ ہم قادیانیت کے دجل و فریب کا پردہ چاک کرتے رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ کانفرنس ماشاء اللہ! انتہائی کامیاب رہی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۰۲ء ص ۶۳)
سترھویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس برمنگھم
۴ اگست ۲۰۰۲ء کو سالانہ سترھویں ختم نبوت کانفرنس برمنگھم جامع مسجد سنٹرل میں منعقد ہوئی۔ قبل از ظہر پہلے اجلاس کی صدارت حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ نے فرمائی۔ اجلاس کے
مولانا محمد مکی حجازی مکہ مکرمہ جناب طارق قریشی برطانیہ مولانا عزیز الرحمن جالندھری پاکستان مولانا عزیز الحق // مولانا اللہ وسایا // قاری محمد ہاشم // مولانا محمد اکرم طوفانی // مولانا علی بھائی // صاحبزادہ عزیز احمد // حافظ محمد اکرام // مولانا مفتی محمد اسلم برطانیہ حافظ قاری احمد عثمان شاہد // مولانا منظور احمد الحسینی // مولانا عبدالرشید ربانی // الحاج عبدالحمید بلجیم مولانا امداد اللہ قاسمی // مولانا نورالاسلام بنگلہ دیش حافظ شبیر احمد //
بعد از ظہر دوسرے اجلاس کی صدارت حضرت مولانا خواجہ خان محمد نے فرمائی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اس نشست سے: ڈاکٹر خالد محمود سومرو پاکستان مولانا ریاض احمد برطانیہ مولانا مشتاق الرحمن جرمنی مولانا اکرام الحق ربانی برطانیہ مولانا قاری اسماعیل رشیدی برطانیہ اور دوسرے حضرات نے خطاب فرمایا۔
ختم نبوت کانفرنسوں کی رپورٹ
اس سال بھی پورے ملک میں ۷ ستمبر یوم ختم نبوت کے عنوان سے بھر پور اور والہانہ انداز میں منایا گیا۔ آج سے ۲۶ سال قبل ۲۱ مئی ۱۹۷۴ء کو چناب نگر (ربوہ) میں نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلباء پر قادیانیوں کے موجودہ نام نہاد سربراہ مرزا طاہر احمد کی قیادت میں بے پناہ تشدد کیا گیا، فیصل آباد تک ان مظلوم طلباء کا کوئی پرسان حال نہیں تھا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما حضرت مولانا تاج محمود صاحب، جو فیصل آباد میں ریلوے کالونی مسجد کے خطیب بھی تھے۔ ان کو اس واقعہ کی اطلاع ملی تو انہوں نے ملتان میں مرکزی دفتر ختم نبوت کو اس واقعہ کی اطلاع دی، پھر وہ ریلوے اسٹیشن پر تشریف لائے، طلباء کی مرہم پٹی کرائی، طلباء کے اصرار پر ان کو نشتر ہسپتال ملتان روانہ کیا اور اس سے فارغ ہونے کے بعد اس واقعہ کے حوالے سے ایک پر ہجوم پریس کانفرنس کی۔ اس وقت مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری اور نائب امیر حضرت مولانا خواجہ خان محمد مدظلہ العالیٰ تھے، ناظم اعلیٰ حضرت مولانا محمد شریف جالندھری تھے۔ مجلس نے اس واقعہ کے حوالے سے تمام مکاتب فکر کے علماء کرام کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر کے مجلس عمل تحفظ ختم نبوت تشکیل دی۔ اس وقت قومی اسمبلی میں حضرت مولانا مفتی محمود، علامہ شاہ احمد نورانی، پروفیسر غفور احمد اور دیگر حضرات بطور ممبر موجود تھے۔ پورے ملک میں اس واقعہ پر احتجاج ہوا۔ مسئلہ قومی اسمبلی کے فورم پر پیش ہوا۔ اس وقت کے قادیانی سر براہ مرزا ناصر قومی اسمبلی میں پیش ہوئے۔ قادیانیوں کے دونوں گروہوں پر ۱۲ دن تک جرح ہوئی اور اس کے بعد قادیانیوں کو ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کو قومی اسمبلی کے فورم پر غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا۔ یوں نوے سالہ پرانا مسئلہ حل ہوا۔ اس عنوان سے پاکستان کے مسلمان ۷ ستمبر کو ہر سال مناتے ہیں اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے پلیٹ فارم سے پورے ملک میں تقریبات کانفرنسیں اور سیمینار منعقد ہوتے ہیں اور شہدائے ختم نبوت کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے۔ اس سال عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغین کی میٹنگ میں ماہ ستمبر میں ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کے تاریخ ساز فیصلہ کی یاد میں ستمبر ۲۰۰۲ء میں ”عشرہ ختم نبوت“ منانے کا فیصلہ کیا گیا جس کے تحت ملک بھر میں ختم نبوت کانفرنسیں منعقد ہوئیں۔ ملک کے مختلف شہروں میں مختلف خطباء حضرات کے بیانات ہوئے جس کی رپورٹ درج ذیل ہے۔ تمام پروگراموں کی صدارت اور سرپرستی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد دامت برکاتہم اور نائب امیر مرکزیہ حضرت سید نفیس شاہ الحسینی دامت برکاتہم نے فرمائی۔
ختم نبوت کانفرنس رحیم یار خان
رحیم یار خان جامعہ قادریہ میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۳۱ اگست ۲۰۰۲ء کو مولانا قاضی عزیز الرحمن کی صدارت میں منعقد ہوئی، جس سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا اللہ وسایا اور جمعیت علماء اسلام سندھ کے ناظم اعلیٰ مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو نے خطاب کیا۔ جب کہ مولانا بشیر احمد حامد حصاروی، صاحبزادہ محمد سعید سراجی، مولانا رشید احمد لدھیانوی، حافظ احمد بخش سمیت علماء شہر نے اس میں خصوصی طور پر شرکت کی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس بہاول پور
یکم ستمبر کو جامع مسجد الصادق بہاول پور میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانوی کہروڑ پکا نے کی۔ کانفرنس سے ڈاکٹر خالد محمود سومرو، مولانا اللہ وسایا، مولانا فضل الرحمن دھرم کوٹی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا محمد اسحاق ساقی، قاری محمد حنیف، مرید احمد سلیمانی نے خطاب کیا، کانفرنس رات گئے تک جاری رہی۔
ختم نبوت کانفرنس بہاول نگر
۲ ستمبر کو جامع مسجد نادر شاہ بازار بہاولنگر میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت مقامی ناظم اعلیٰ مولانا سعید احمد نے کی، کانفرنس سے مولانا اللہ وسایا، مولانا عبدالغفور حقانی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا محمد قاسم رحمانی نے خطاب کیا، حافظ محمد شریف منچن آبادی، محمد اسحاق توحیدی، بابا قائم الدین نے ہدیہ نعت پیش کیا۔
ختم نبوت کانفرنس اوکاڑہ
۴ ستمبر کو جامع مسجد گول چوک اوکاڑہ میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی، جس کی صدارت مقامی امیر قاری محمد الیاس نے کی۔ کانفرنس سے جمعیت علماء اسلام کے مرکزی نائب امیر مولانا سید امیر حسین گیلانی، مولانا اللہ وسایا، مولانا عبدالغفور حقانی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا عبدالمنان عثمانی، قاری غلام محمود نے خطاب کیا۔
ختم نبوت کانفرنس قصور
۵ ستمبر کو جامع مسجد التوحید قصور میں مقامی امیر قاری مشتاق احمد کی صدارت میں ختم نبوت کانفرنس ہوئی جس سے مولانا اللہ وسایا، مولانا عبدالغفور حقانی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، حاجی محمد شفیع مغل، حاجی اللہ دتہ مجاہد، سابق وزیر خارجہ سردار آصف علی اور مولانا عزیز الرحمن ثانی نے خطاب کیا۔
ختم نبوت کانفرنس کوہاٹ
۶ ستمبر کو کوہاٹ میں ختم نبوت کانفرنس سے مولانا اللہ وسایا اور مولانا محمد اکرم طوفانی نے خطاب کیا۔
شیخوپورہ
اسی روز جامع مسجد عائشہ محلہ صدیق اکبر شیخوپورہ میں مولانا محمد عالم کی صدارت میں منعقد ہونے والی کانفرنس میں مولانا عبدالغفور حقانی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا غلام سرور شعیب احمد نے خطاب کیا، جب کہ محمد اسحاق توحیدی اور بابا قائم الدین نے نعتوں سے مجمع کو گرمایا۔
پشاور میں اجتماعات، جلسے، سیمینار، کانفرنسیں
۷ ستمبر کو ملک بھر میں جلسے، سیمینار کانفرنسیں اور اجتماعات منعقد ہوئے۔ سب سے بڑا اجتماع قصہ خوانی بازار پشاور میں قائد تحریک ختم نبوت حضرت مولانا خواجہ خان محمد دامت برکاتہم کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اس کانفرنس سے مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا اللہ وسایا، مولانا نور الحق نور، قاری فیاض احمد نے خطاب کیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سیمینار ختم نبوت گوجرانوالہ
۷؍ستمبر کو دوسرا بڑا اجتماع جامع مسجد ختم نبوت چمن شاہ گوجرانوالہ میں منعقد ہوا۔ جس کی صدارت مقامی ناظم اعلیٰ قاری محمد یوسف عثمانی نے کی، جب کہ مہمان خصوصی مولانا عبدالقدوس قارن شیخ الحدیث جامعہ نصرۃ العلوم تھے۔ کانفرنس سے مولانا عبدالغفور حقانی، مولانا صاحبزادہ ریاض احمد، مولانا احسان اللہ فاروقی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا فقیر اللہ اختر، حافظ محمد ثاقب نے خطاب کیا۔
ختم نبوت کانفرنس ڈیرہ اسماعیل خان
۷؍ستمبر کو ایک بڑا اجتماع جامع مسجد کمشنری بازار ڈیرہ اسماعیل خان میں منعقد ہوا جس کی صدارت حاجی محمد ریاض الحسن گنگوہی اور شیخ الحدیث مولانا علاؤ الدین نے کی۔ جب کہ صاحبزادہ طارق محمود، مولانا عزیز الرحمن ثانی سمیت متعدد علمائے کرام نے اس اجتماع سے خطاب کیا۔ اس اجتماع کے مہمان خصوصی جمعیت علماء اسلام سرحد کے ناظم مولانا عطاء الرحمن بن مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود تھے۔
ختم نبوت کانفرنس لاہور
۸؍ستمبر کو جامع مسجد عائشہ مسلم ٹاؤن لاہور میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت پیر طریقت حضرت سید نفیس شاہ الحسینی دامت برکاتہم نے فرمائی جب کہ مہمان خصوصی مولانا شاہ محمد تھے۔ کانفرنس سے تنظیم اسلامی پاکستان کے امیر ڈاکٹر اسرار احمد، جمعیت علماء پاکستان (نفاذ شریعت) کے صدر انجینئر سلیم اللہ خان، صاحبزادہ مولانا محمد امجد خان، مولانا عبدالغفور حقانی، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا منور حسین صدیقی، مولانا فقیر اللہ اختر، مولانا محمد طیب فاروقی، مولانا عزیز الرحمن ثانی نے خطاب کیا۔ تلاوت کلام پاک کی سعادت قاری محمد عالمگیر رحیمی، قاری محمد الیاس نے حاصل کی جب کہ نعت بابا قائم الدین نے پڑھی۔
ختم نبوت کانفرنس کراچی
۸؍ستمبر کو کراچی میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام علمائے کرام کے ایک عظیم الشان اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مولانا خواجہ خان محمد، مولانا محمد سرفراز خان صفدر، ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، مفتی محمد جمیل خان، مولانا احمد میاں حمادی، مولانا نذیر احمد تونسوی، مولانا سعید احمد جلال پوری کے خصوصی بیانات ہوئے۔ اس موقع پر صاحبزادہ مولانا عزیز احمد، صاحبزادہ مولانا خلیل احمد، حافظ محمد سعید لدھیانوی، مولانا نعیم امجد سلیمی، محمد انور، مفتی عبدالقیوم دین پوری، مولانا محمد اعجاز اور دیگر علماء موجود تھے۔
ختم نبوت کانفرنس سیالکوٹ
۹؍ستمبر کو جامعہ فاروقیہ سیالکوٹ میں پیر شبیر احمد گیلانی کی صدارت میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس سے مولانا اللہ وسایا، مولانا فقیر اللہ اختر، قاری مصدق قاسمی اور قاری محمد اسحق نعمانی نے خطاب کیا۔
اس سے قبل ۶؍ستمبر بروز جمعہ کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی اپیل پر پورے ملک میں مبلغین حضرات نے جمعۃ المبارک کے اجتماعات میں یوم ختم نبوت کی اہمیت اور قادیانی مسئلہ کو واضح انداز میں بیان کیا۔ کراچی میں مولانا نذیر احمد تونسوی، مفتی محمد جمیل خان، مولانا سعید احمد جلال پوری، محمد انور نے مختلف پروگرام، اندرون سندھ ٹنڈو آدم میں علامہ احمد میاں حمادی، حیدرآباد، میں مولانا محمد نذر، گولارچی میں حکیم محمد عاشق، بدین میں مولانا عبدالستار، ٹنڈو غلام علی میں حافظ محمد زبیر، جھڈو میں حافظ محمد شریف، نوکوٹ میں مولانا حافظ عبدالستار،
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کنری میں مولانا محمد مزمل، مولانا عبدالغفور، ٹالہی میں حافظ منیر احمد، میر پور خاص میں مولانا فیض اللہ، مولانا شبیر احمد کرنالوی، مولانا محمد عبداللہ، مفتی عبداللہ انور، مولانا مفتی منیر احمد طارق، سانگھڑ میں مولانا راشد مدنی، مولانا مفتی حفیظ الرحمٰن، مولانا طاہر مکی، تھر میں مولانا خان محمد جمالی، مولانا عبدالرحمٰن جمالی، گمبٹ میں عبدالسمیع، سکھر میں مولانا محمد حسین ناصر، مولانا قاری خلیل احمد، رحیم یار خان میں مولانا حافظ احمد بخش، بہاول پور میں مولانا محمد اسحق ساقی، بہاولنگر میں مولانا محمد قاسم رحمانی، اوکاڑہ میں مولانا عبدالرزاق مجاہد، ساہیوال میں مولانا عبدالحکیم، لاہور میں مولانا عزیز الرحمٰن ثانی، صاحبزادہ مولانا رشید احمد خلف الرشید حضرت مولانا خواجہ خان محمد دامت برکاتہم، جھنگ میں مولانا غلام حسین، چناب نگر میں مولانا غلام مصطفیٰ، چنیوٹ میں مولانا یعقوب، فاروق آباد میں مولانا محمد یعقوب ربانی، مولانا حبیب اللہ، مولانا محمد اسلم، مولانا محمد اشرف، میانوالی میں صاحبزادہ مولانا عزیز احمد، مولانا عبدالستار حیدری، مولانا نذیر احمد، مولانا عبدالجلیل، بھکر میں مولانا محمد عبداللہ، ڈاکٹر دین محمد فریدی، دریا خان میں مولانا غلام فرید اور دریا خان کی قدیمی مسجد میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سندھ کے مبلغ مولانا محمد علی صدیقی، کلور کوٹ میں مولانا مفتی محمد عمران، پپلاں میں حافظ محمد اسلم، مولانا محمود الحسن۔ گوجرانوالہ میں مولانا فقیر اللہ اختر، حافظ محمد ثاقب، سرگودھا میں مولانا محمد اکرم طوفانی، گجرات میں مولانا محمد طیب فاروقی، سیالکوٹ میں مولانا محمد عارف ندیم، گوجر خان میں مولانا عبدالمتین، راولپنڈی میں مفتی محمود الحسن، مولانا قاری محمد امین، حکیم قاری محمد یونس، قاری محمد اخلاق مدنی، قاری محمد زرین، قاری محمد یوسف، مولانا عبدالمجید ہزاروی، مولانا اشرف، مولانا عبدالغفار توحیدی، اسلام آباد میں قاضی احسان احمد، مولانا عبدالعزیز، قاری عبدالوحید قاسمی، مولانا محمد شریف ہزاروی، قاری احسان اللہ، ڈیرہ اسماعیل خان میں ریاض الحسن گنگوہی، پشاور میں قاری نور الحق نور، قاری فیاض الرحمٰن، ہری پور میں مولانا محمد عبداللہ، مولانا محمد الیاس، ایبٹ آباد میں ساجد اعوان، مجاہد علی شاہ، مانسہرہ میں مولانا وقار الحق عثمانی، عبدالرؤف روفی، ظہور الحق عثمانی، بفہ میں قاری نذیر احمد، کوئٹہ میں مولانا عبدالعزیز، قاری عبدالرحیم رحیمی، مولانا قاری انوار الحق، مولانا عبدالواحد، حاجی تاج محمد فیروز، حاجی فیاض حسن سجاد، قاری عبداللہ منیر اور دیگر علمائے کرام نے جمعۃ المبارک کے اجتماعات سے خطابات کئے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۴ تا ۱۰/اکتوبر ۲۰۰۲ء ص ۱۶ تا ۱۹)
اکیسویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کی مفصل رپورٹ
آل پاکستان تحفظ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر ۳۱/ اکتوبر، یکم/ نومبر ۲۰۰۲ء جاری رہ کر اختتام پذیر ہوگئی۔ کانفرنس میں ہزاروں فرزندان توحید، شیدایان ختم نبوت نے شرکت کی۔ جامع مسجد ختم نبوت مسلم کالونی کا وسیع وعریض پنڈال تنگی دامان کی شکایت کر رہا تھا۔ کانفرنس کی کامیابی کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغین نے مضافاتی اضلاع میں دس روز پہلے سے محنت شروع کردی۔ قریہ قریہ، بستی بستی، شہروں اور قصبات میں تبلیغی دورے کئے۔ ہزاروں اشتہارات اور اسٹیکر اپنی نگرانی میں لگوائے۔ کانفرنس ہال کو خوب صورت بینروں سے سجایا گیا۔ بینروں پر مختلف اکابرین کے ارشادات نوٹ کئے گئے تھے۔
بینروں کی لکھائی، ڈیزائننگ، عبارتوں کا انتخاب مانسہرہ کی جماعت نے کیا۔ سیکورٹی کے فرائض مانسہرہ جماعت کے روح رواں جناب عبدالرؤف روفی نے اپنے ساتھیوں سمیت سرانجام دیئے۔
عوامی خوردونوش کی تقسیم حسب سابق جامعہ طیبہ گرین ویو فیصل آباد کے طلباء کرام نے اپنے رئیس الاساتذہ مولانا قاری محمد ابراہیم کی نگرانی میں کی۔ طعام کی تیاری کی نگرانی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری نے فرمائی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مہمانان خصوصی کے قیام و طعام کی نگرانی گوجرانوالہ کے مبلغ مولانا فقیر اللہ اختر سرانجام دیتے رہے۔ کانفرنس کے مقررین نے مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت کے ساتھ ساتھ متحدہ مجلس عمل کی کامیابی اور اس کے عوامل اور کامیابی کے بعد توقعات پر بحث کی۔ کانفرنس کا آغاز اور اختتام قائد تحریک ختم نبوت حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم کی دعا سے ہوا۔ کانفرنس کی کل پانچ نشستیں ہوئیں۔
پہلی نشست کا آغاز قاری محمد ارشد آف لیہ شریک کورس چناب نگر کی تلاوت سے صبح دس بجے ہوا۔ نعت سمیع اللہ شریک کورس، مولوی خالد اسلام اور فداء الرحمن نے پڑھی۔ پہلا خطاب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بزرگ مبلغ مولانا امام الدین قریشی کا ہوا۔ دوسرا خطاب مولانا محمد یعقوب ربانی مہتمم جامعہ اسلامیہ فاروق آباد کا ہوا جب کہ تیسرا خطاب پروفیسر مفتی حفیظ الرحمن آف ٹنڈو آدم سندھ کا ہوا۔ اتنے میں چناب نگر کے تعلیمی اداروں کے اساتذہ اور طلبہ بھی تشریف لے آئے تو حسب معمول حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ نے خطاب فرمایا جو کھانے کے وقفے تک جاری رہا۔
دوسری نشست کا آغاز عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت قصور کے امیر جناب قاری مشتاق احمد رحیمی کی تلاوت سے ہوا۔ صدارت پیر جی عبد الحکیم کمالیہ نے کی۔ نعت مولوی غلام شبیر متعلم رد قادیانیت کورس اور محمد اعظم قریشی ٹنڈو آدم سندھ نے پیش کی۔ مولانا غلام اکبر ثاقب ڈیرہ غازی خان، قاری خلیل احمد ناظم اعلیٰ مجلس سکھر، قاری محمد افضل چنیوٹ، مولانا غلام حسین مبلغ جھنگ کی مختصر تقاریر کے بعد مجلس علماء اہل سنت پاکستان کے ناظم مولانا عبد الکریم ندیم، فیصل آباد کے شعلہ بیان خطیب مولانا محمد رفیق جامی کے خطابات ہوئے۔
محفل سوال و جواب عصر کے بعد سوال و جواب کی محفل منعقد ہوئی۔ حضرت مولانا اللہ وسایا نے فاضلانہ ومناظرانہ انداز میں تحریری سوالات کے جوابات دیئے۔
تیسری نشست بعد نماز عشاء شروع ہوئی۔ صدارت حضرت الامیر دامت برکاتہم نے فرمائی۔ جب کہ تلاوت کلام کا اعزاز مولانا قاری ضیاء الحسن شاہ لاہور نے حاصل کیا۔ نعت جناب طارق حفیظ جالندھری ساہیوال اور مرید احمد سلیمانی نے پڑھی۔ پہلی تقریر متحدہ مجلس عمل پنجاب کے صدر حافظ محمد ادریس کی ہوئی۔ موصوف نے عقیدہ ختم نبوت کے سلسلہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی خدمات کو سراہا اور کہا کہ ختم نبوت اور ناموس رسالت کے لئے جماعت اسلامی اور مجلس عمل مجلس کے شانہ بشانہ ہوں گی۔ سپریم کورٹ کے سینئر ایڈووکیٹ اور مجلس کے لیگل ایڈوائزر جناب محمد اسماعیل قریشی نے گستاخ رسول کی سزا کے قانون کے نفاذ اور قانون سازی کا پس منظر پیش کیا اور کہا کہ عرصہ دراز سے مقتدر قوتیں اس قانون کو ختم کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں اور ہر آنے والی حکومت اپنے بیرونی آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے اس میں ترمیم کا اعلان کر دیتی ہے۔ انہوں نے ایک فیصلہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدلیہ حکومتوں کو خوش کرنے کی بجائے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی خوشنودی کو مدنظر رکھیں۔ بلوچستان کی نمائندگی قاری عبد الرحیم رحیمی کوئٹہ نے کی۔ چکوال سے مولانا عبد الشکور نقشبندی نے کالم نگار ایاز میر کے قابل اعتراض کالموں پر تنقید کی۔ پروفیسر منور احمد ملک (سابق قادیانی) نے دلچسپ انداز میں قادیانی بیعتوں کی قلعی کھولتے ہوئے کہا کہ قادیانی بیعتوں کی رفتار کی یہی کیفیت رہی تو چند سالوں میں قادیانیوں کی تعداد دنیا کی آبادی سے کئی گنا زیادہ ہو جائے گی۔ روزنامہ دن کے کالم نگار حافظ شفیق الرحمن نے قادیانیت کے دجل وفریب کو صحافیانہ انداز میں لیا۔
سہیل انجم طالب علم انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور اور جناب طارق حفیظ جالندھری نے ہدیہ نعت پیش کیا۔ مجلس علمائے اہل سنت پاکستان کے ناظم اعلیٰ مولانا عبد الغفور حقانی اور جمعیت علماء اسلام کے رہنما مولانا محمد امجد خان لاہور، جمعیت علمائے پاکستان کے جناب
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
انجینئر سلیم اللہ خان، مولانا فیض القادری اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کے مولانا محمد امین ربانی کے فاضلانہ خطاب ہوئے۔ مشہور خوش الحان خطیب مولانا عبدالحمید وٹو نے عوام کو اپنی لحن داؤدی سے خوب متاثر کیا۔ اس نشست میں آخری خطاب مولانا محمد اعظم طارق ایم۔این۔اے کا تھا۔ جو ایک روز قبل تیرہ ماہ کی نظر بندی کے بعد رہا ہوئے۔ جن کی آمد پر عوام نے کھڑے ہو کر پر جوش انداز میں استقبال کیا۔ مولانا اللہ وسایا نے موصوف کو خوش آمدید کہا اور توقع ظاہر کی کہ موصوف اسمبلی میں ناموس رسالت، عقیدہ ختم نبوت، عظمت صحابہ، کے تحفظ کے لئے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے۔
موصوف نے اپنی جوابی تقریر میں مجلس اور حضرت امیر مرکزیہ کا شکریہ ادا کیا اور اپنی کامیابی کو بزرگان ملت کی دعاؤں اور جھنگ کے عوام کے بھر پور تعاون کا ثمرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان شاء اللہ العزیز حسب سابق اسمبلی کے فلور پر قادیانیت کا بھر پور تعاقب جاری رکھوں گا۔ یہ نشست موصوف کی دعاء پر اختتام پذیر ہوئی۔
یکم نومبر درس قرآن: صبح کی نماز کے بعد مولانا سید عبدالوہاب شاہ حاصل پوری نے فاضلانہ انداز میں تعلق مع اللہ اور تعلق مع الرسول پر روشنی ڈالی اور بتلایا کہ تعلق مع الرسول عقیدہ ختم نبوت کے بغیر نہیں ہوتا۔
چوتھی نشست: ۱۰ بجے دن جمعہ شروع ہوئی۔ جس کی صدارت حضرت الامیر دامت برکاتہم نے فرمائی۔ جب کہ تلاوت قاری محمد معاویہ ابن قاری نذیر احمد الحمد کالونی نے کی اور نعت حافظ مرید احمد سلیمانی نے پیش کی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغین مولانا عبدالحکیم نعمانی ساہیوال، حاجی اللہ دتہ قصور، مولانا محمد قاسم رحمانی بہاول نگر، مولانا عبدالستار حیدری لیہ کے مختصر بیانات ہوئے۔ میر پور خاص سندھ سے مولانا مجیب الرحمن، علی پور سے مولانا پروفیسر محمد مکی اور استاذ العلما مولانا عبدالمجید لدھیانوی کہروڑ پکا نے حاضرین اور فضلاء کورس سے نصیحت آمیز بیانات فرمائے۔
خطبہ جمعہ اور نماز کی امامت کے فرائض مولانا سید عبدالمجید ندیم نے سرانجام دیئے۔
پانچویں اور آخری نشست: اکیسویں سالانہ تحفظ ختم نبوت کانفرنس کے آخری اجلاس کی صدارت حضرت الامیر دامت برکاتہم نے کی جب کہ مہمان خصوصی نائب امیر مرکزیہ مولانا سید نفیس الحسینی مدظلہ اور مولانا سید محمود میاں مہتمم جامعہ مدنیہ رائے ونڈ لاہور تھے۔ تلاوت کلام پاک قاری خالد اسلام نے کی۔ نعت سید سلمان گیلانی نے پیش کی۔ جمعیت علمائے اسلام پنجاب کے امیر مولانا محمد عبداللہ بھکر نے مختصر خطاب کیا اور قرار دادیں صاحبزادہ عزیز احمد خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف نے پیش کیں۔ آخری خطاب خطیب العصر مولانا سید عبدالمجید ندیم شاہ صاحب نے فرمایا جو عصر کی اذان تک جاری رہا۔
کانفرنس حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد صاحب برکاتہم کندیاں شریف کی دعاء پر اختتام پذیر ہوئی۔ کانفرنس کی تمام نشستوں میں اسٹیج سیکرٹری کے فرائض حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے سرانجام دیئے۔ جب کہ انہیں حضرت مولانا اللہ وسایا، حضرت مولانا خدا بخش، حضرت مولانا محمد علی صدیقی کا تعاون حاصل رہا۔ مجلس کے تمام حضرات مبلغین نے اپنی اپنی ڈیوٹیاں بخیر و خوبی انجام دیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۰۲ء ص ۵۲ تا ۵۵)
نواں رد قادیانیت و عیسائیت کورس چناب نگر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام سالانہ رد قادیانیت و عیسائیت کورس ۲۵ شعبان بمطابق یکم نومبر ۲۰۰۲ء بروز جمعہ کو
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
چناب نگر ضلع جھنگ میں اختتام پذیر ہوا۔ آزاد کشمیر سمیت پورے ملک سے ۱۷۱ طلباء کرام نے مختلف مدارس اور سکولوں سے شرکت کی۔ آخری دن ۲۲ کو امتحانات ہوئے۔ دس طلباء کرام بہترین پوزیشن حاصل کی جن کے نام یہ ہیں: رول نمبر (۱۹) محمد امین ولد عثمان الدین مالاکنڈ پہلی ، رول نمبر (۴) حفیظ اللہ ولد عطاء اللہ دوسری ، رول نمبر (۲) محمد زاہد ولد عبدالرزاق بہاولپور تیسری ، رول نمبر (۳۱) محمد احمد ولد قاری محمد کراچی تیسری ، رول نمبر (۱۴۵) عبدالرؤف ولد محمد سرفراز چوتھی ، رول نمبر (۱۷) ناصر محمود ولد محمد دین دین شاہ کوٹ پانچویں ، رول نمبر (۱۳۱) محمد عثمان حیدری ولد دوست محمد ملتان چھٹی ، رول نمبر (۱۰) محمد نواز ولد محمد بوٹا فیصل آباد ساتویں ، رول نمبر (۴۷) محمد عثمان ولد حافظ عبدالمجید وہاڑی آٹھویں ، رول نمبر (۲۸) محمد ابراہیم ولد عبدالصمد صوابی نویں ، رول نمبر (۱۲۳) محمد الیاس ولد محمد اسحق وہاڑی دسویں پوزیشن حاصل کی ۔
کورس یکم شعبان سے شروع ہوا تھا۔ اس سال کورس کی حاضری تمام سالوں سے زیادہ تھی۔ کورس کے اساتذہ کرام حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا اللہ وسایا ، مولانا خدا بخش شجاع آبادی ، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ، مولانا محمد طیب ، مولانا مفتی حفیظ الرحمن ، مولانا مفتی محمد انور ، مولانا عبدالقدوس قارن ، مولانا غلام مرتضیٰ ، حاجی محمد اشتیاق ، جناب محمد متین خالد تھے۔
کورس کے اختتام پر عظیم الشان ۲۱ ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس تھی ۔ یکم نومبر کی صبح کی پہلی نشست میں تمام کامیاب طلباء کرام کو اسناد اور مجلس کی کتب کا سیٹ پیش کیا گیا۔ اس کے بعد کامیاب طلباء کرام کو خصوصی اسناد دی گئیں۔ اوّل ، دوم ، سوم آنے والے طلباء کرام کو خصوصی انعام بھی دیا گیا۔ طلباء کرام کو یہ انعام شیخ المشائخ خواجہ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے دیا۔ اختتامی پروگرام میں شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمجید صاحب کہروڑ پکا نے بیان کیا۔ کورس میں شامل طلباء کرام کے نام مندرجہ ذیل ہیں:
رول نمبر نام ضلع رول نمبر نام ضلع ۱ عبداللطیف ملتان ۲ محمد زاہد بہاول پور ۳ محمد آصف بہاول پور ۴ حفیظ اللہ بہاول پور ۵ مولانا افتخار سیالکوٹ ۶ محمد صدیق راولپنڈی ۷ عبدالجبار گجرات ۸ محمد طیب لاہور ۹ خرم شہزاد گوجرانوالہ ۱۰ محمد نواز فیصل آباد ۱۱ خالد محمود ملتان ۱۲ غلام مصطفیٰ قصور ۱۳ محمد ادریس قصور ۱۴ طارق محمود قصور ۱۵ محمد ابوبکر حسنین پاکپتن ۱۶ محمد عارف وہاڑی ۱۷ ناصر محمود کوہاٹ ۱۸ محبوب الرحمن کوہاٹ ۱۹ محمد امین مالاکنڈ ۲۰ سعید الرحمن بٹگرام ۲۱ عبدالرحمن چترال ۲۲ سید حسن شاہ چترال ۲۳ محمد اشفاق ہنگو ۲۴ گل فروز ہنگو
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۲۵ ضیاء الدین دیر ۲۶ اسرار محمد دیر ۲۷ ضیاء الرحمن دیر ۲۸ محمد ابراہیم صوابی ۲۹ ضیاء اللہ دیر بالا ۳۰ مشتاق احمد صوابی ۳۱ محمد احمد کراچی ۳۲ نذر حسین خانیوال ۳۳ قاضی سجاد احمد قصور ۳۴ عبدالرشید ٹانک ۳۵ عبد الماجد رحیم یار خان ۳۶ شعیب قریشی لاہور ۳۷ محمد عرفان صفدر ملتان ۳۸ اللہ دتہ گوجرانوالہ ۳۹ سرمد شبیر احمد گوجرانوالہ ۴۰ ارشد علی گوجرانوالہ ۴۱ محمد انور صوابی ۴۲ محمد انور قصور ۴۳ شاہد نور قصور ۴۴ غلام یاسین خانیوال ۴۵ محمد عمر فاروق خوشاب ۴۶ احسان الحق جھنگ ۴۷ محمد عثمان وہاڑی ۴۸ شفقت رسول وہاڑی ۴۹ شعیب قیصر سیالکوٹ ۵۰ محمد رضوان سیالکوٹ ۵۱ آصف مرزا صوابی ۵۲ عمار مسعود سرگودھا ۵۳ عزیز الرحمن بٹگرام ۵۴ محمد انور ڈی جی خان ۵۵ محمد شعیب جھنگ ۵۶ محمد سمیع اللہ ملتان ۵۷ خلیل الرحمن راجن پور ۵۸ محمد عمر بہاول پور ۵۹ عبدالمجید بہاول پور ۶۰ مسعود اقبال آزاد کشمیر ۶۱ مجیب الرحمن میر پور خاص ۶۲ عبدالرحمن میر پور خاص ۶۳ محمد نوید ساہیوال ۶۴ محمد نعمان ساہیوال ۶۵ محمد عثمان ساہیوال ۶۶ ذوالفقار علی جھنگ ۶۷ محمد طیب جھنگ ۶۸ عبدالجبار خانیوال ۶۹ محمد نصر اللہ فیصل آباد ۷۰ محمد وسیم آزاد کشمیر ۷۱ علیم اللہ خان باجوڑ ایجنسی ۷۲ رضاء المصطفیٰ جھنگ ۷۳ نعیم حسن راولپنڈی ۷۴ محمد یعقوب جھنگ ۷۵ آصف ناظر سیالکوٹ ۷۶ عبدالمجید شیخوپورہ ۷۷ محمد ابوبکر سرگودھا ۷۸ محمد راشد مالاکنڈ ایجنسی ۷۹ عبید اللہ مظفر گڑھ ۸۰ ارشد آزاد کشمیر
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۸۱ عمر فاروق لاہور ۸۲ محمد شعیب لاہور ۸۳ امجد علی لاہور ۸۴ محمد جاوید بھکر ۸۵ محمد مبشر لاہور ۸۶ محمد طیب معاویہ خانیوال ۸۷ محمد رمضان مظفر گڑھ ۸۸ امیر الدین چترال ۸۹ عبدالخالق مظفر گڑھ ۹۰ عبداللطیف ڈی جی خان ۹۱ محمد ارشد لیہ ۹۲ کفایت اللہ لیہ ۹۳ عبداللہ اختر جھنگ ۹۴ فداء الرحمن مظفر گڑھ ۹۵ طاہر بشیر خانیوال ۹۶ ناصر محمود شیخوپورہ ۹۷ محمد فیاض شیخوپورہ ۹۸ طارق اسماعیل خانیوال ۹۹ محمد ندیم قصور ۱۰۰ محمد یونس مدنی منڈی بہاؤالدین ۱۰۱ میاں عاصم صدیق لاہور ۱۰۲ عبدالشکور سیالکوٹ ۱۰۳ عتیق الرحمن رحیم یار خان ۱۰۴ حافظ فضل الرحمن ٹوبہ ٹیک سنگھ ۱۰۵ محمد ندیم سیالکوٹ ۱۰۶ محمد محسن سیالکوٹ ۱۰۷ حبیب الرحمن فیصل آباد ۱۰۸ شبیر احمد مظفر گڑھ ۱۰۹ عبدالغفار مظفر گڑھ ۱۱۰ ممتاز احمد مظفر گڑھ ۱۱۱ محمد یونس مظفر گڑھ ۱۱۲ عبدالکریم مظفر گڑھ ۱۱۳ محمد ابوبکر مظفر گڑھ ۱۱۴ محمد اختر مظفر گڑھ ۱۱۵ صاحبزادہ محمد احمد بہاول پور ۱۱۶ انعام اللہ ڈی جی خان ۱۱۷ عبدالغفار ڈی جی خان ۱۱۸ حافظ محمد عبدالعزیز سرگودھا ۱۱۹ حافظ ضیاء اللہ سرگودھا ۱۲۰ سہیل احمد گوجرانوالہ ۱۲۱ صفدر علی وہاڑی ۱۲۲ سجاد رسول ملتان ۱۲۳ محمد الیاس وہاڑی ۱۲۴ محمد احمد بہاول پور ۱۲۵ اشتیاق احمد بھکر ۱۲۶ عبدالستار لیہ ۱۲۷ خالد اسلام مظفر گڑھ ۱۲۸ مولانا قیصر محمود سیالکوٹ ۱۲۹ ظہیر عباس آزاد کشمیر ۱۳۰ سیف الرحمن بہاول پور ۱۳۱ محمد عثمان ملتان ۱۳۲ خلیل احمد ملتان ۱۳۳ محمد زاہد جھنگ ۱۳۴ احسان اللہ گجرات ۱۳۵ عبدالرزاق مظفر گڑھ ۱۳۶ عتیق الرحمن مظفر گڑھ
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۱۳۷ محمد زاہد جھنگ ۱۳۸ احسان اللہ گجرات ۱۳۹ محمد عمر فاروق بہاول پور ۱۴۰ محمد بلال شیخوپورہ ۱۴۱ زاہد محمود وہاڑی ۱۴۲ منظور احمد لیہ ۱۴۳ عطاء اللہ ڈی جی خان ۱۴۴ محمد شبیر بھکر ۱۴۵ عبدالرؤف ساہیوال ۱۴۶ احمد فراز ساہیوال ۱۴۷ محمد عمر فاروق مظفر گڑھ ۱۴۸ عمران یوسف وہاڑی ۱۴۹ مختار احمد خانیوال ۱۵۰ حبیب الرحمن بھکر ۱۵۱ محمد رفیق ملتان ۱۵۲ طاہر بشیر خانیوال ۱۵۳ خالد محمود مظفر گڑھ ۱۵۴ عبد العلیم فیصل آباد ۱۵۵ عطاء اللہ لیہ ۱۵۶ محمد ساجد فیصل آباد ۱۵۷ محمد عبداللہ رحیم یار خان ۱۵۸ کامران چکوال ۱۵۹ مختار احمد خانیوال ۱۶۰ شبیر احمد چارسدہ ۱۶۱ محمد بلال ڈی جی خان ۱۶۲ محمد طارق بہاول پور ۱۶۳ عبدالرزاق لیہ ۱۶۴ خورشید احمد گوجرانوالہ ۱۶۵ محمد اسلم قاضی سیالکوٹ ۱۶۶ محمد معاویہ ارشد مظفر گڑھ ۱۶۷ رب نواز ڈی جی خان ۱۶۸ محمد اعجاز ڈی جی خان ۱۶۹ غلام شبیر شاہد مظفر گڑھ ۱۷۰ جمشید اقبال جھنگ ۱۷۱ جمیل صادق مانسہرہ
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۰۲ء ص ۵۸ تا ۶۲)
ووٹر فارم سے ختم نبوت کے حلف نامہ کی منسوخی اور بحالی کی سرگزشت
امت مسلمہ کے تمام طبقات کی سوسالہ مشترکہ جہد مسلسل سے اللہ رب العزت نے کرم فرمایا اور ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء قادیانیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ قادیانیوں نے آئین پاکستان سے بغاوت کا مجرمانہ ارتکاب کیا اور اپنی آئینی حیثیت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ تب پاسپورٹ فارم، شناختی کارڈ فارم اور ووٹر فارم میں مذہب کا خانہ اور ختم نبوت کا حلف نامہ شامل کیا گیا جو یہ ہے:
حلف نامہ و اقرار نامہ:
میں حلفیہ اقرار کرتا/کرتی ہوں کہ میں خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کی ختم نبوت پر مکمل اور غیر مشروط طور پر ایمان رکھتا/ رکھتی ہوں اور یہ میں کسی ایسے شخص کا/کی پیروکار نہیں ہوں جو حضرت محمد ﷺ کے بعد اس لفظ کے کسی بھی مفہوم یا کسی بھی تشریح کے لحاظ سے پیغمبر ہونے کا دعویدار ہو اور نہ ہی میں ایسے دعویدار کو پیغمبر یا مذہبی مصلح مانتا / مانتی ہوں۔ نہ ہی میں قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ سے تعلق
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
رکھتا / رکھتی ہوں یا خود کو احمدی کہتا / کہتی ہوں۔
قادیانی پھنس گئے:
اس حلف نامہ سے قادیانیوں کے لئے مشکل پیدا ہو گئی کہ اگر وہ خود کو مسلمانوں میں شامل کراتے ہیں تو یہ حلف نامہ پر کریں ورنہ مسلمانوں میں وہ نام نہیں لکھوا سکتے بلکہ غیر مسلموں میں نام لکھوائیں۔ شناختی کارڈ ضروری تھے اس لئے اس کے فارموں میں قادیانی خود کو احمدی لکھ کر کام چلاتے رہے۔ پاسپورٹ میں جب مذہب کا خانہ درج ہوا تو قادیانیوں نے بعض جگہ اپنے کو مسلمان لکھوایا اس پر کیس بنے تو قادیانی چیف گرو ولات پادری مرزا طاہر قادیانی نے قادیانیوں کو ہدایت کی کہ وہ خود کو بجائے مسلمان کے احمدی / قادیانی لکھوائیں۔ جس کا معنی یہ ہے کہ پاسپورٹ، شناختی کارڈ کی حد تک انہوں نے خود کو غیر مسلم تسلیم کر لیا۔ ۱۹۷۷ء کے انتخابات مخلوط تھے۔ ان کے ووٹر فارموں میں بھی ختم نبوت کا متذکرہ حلف نامہ موجود تھا۔ شناختی کارڈ اور پاسپورٹ تو مجبوری تھی اس لئے قادیانیوں نے سر تسلیم خم کر لیا لیکن ووٹ بنوانے لازمی نہ تھے اس لئے ۱۹۷۷ء سے لے کر ۲۰۰۲ء اپریل تک قادیانیوں نے ووٹ بنوانے سے بائیکاٹ کئے رکھا۔
قادیانی سازش:
جناب بھٹو مرحوم کے بعد جناب ضیاء الحق مرحوم برسراقتدار آئے تو انہوں نے بجائے مخلوط انتخابات کے جدا گانہ انتخابات کا نظام نافذ کیا تب مخلوط انتخابات کے زمانہ کی طرح جدا گانہ انتخابات میں بھی ووٹوں کے اندراج کے لئے مسلمانوں کے فارموں میں یہ حلف نامہ شامل رہا۔ جناب ضیاء الحق مرحوم کے زمانہ میں چیف الیکشن کمشنر پاکستان جسٹس مشتاق احمد مقرر ہوئے۔
اپنے ججی کے زمانہ میں مشتاق صاحب نے جناب بھٹو صاحب کی سزائے موت کا فیصلہ دیا تھا۔ مشتاق کے دل و دماغ پر خوف سوار تھا کہ پیپلز پارٹی برسر اقتدار آ گئی تو مجھے لٹکا دیں گے۔ وہ چاہتے تھے کسی طرح میں ملک سے باہر چلا جاؤں اور اگر عالمی عدالت کا جج بن جاؤں تو پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں ہو گا۔ اس خواہش کی تکمیل کے لئے وہ ظفر اللہ قادیانی مرتد اعظم کو بطور سیڑھی استعمال کر سکتے تھے۔ تب انہوں نے مرزا ناصر قادیانی سے خفیہ ملاقات کی اور چیف الیکشن کمشنر پاکستان جسٹس مشتاق احمد اور قادیانی چیف گرو مرزا ناصر قادیانی نے باہمی اس خفیہ ملاقات میں خفیہ معاہدہ کیا کہ وہ ووٹر فارم کے حلف نامہ کی عبارت میں ایسے الفاظ کی تبدیلی کی جائے کہ قادیانی اسے پر کر کے مسلمانوں میں ووٹ درج کرا سکیں اور اس کے بدلہ میں قادیانی چیف گرو مرزا ناصر قادیانی مرتد اعظم ظفر اللہ قادیانی کو کہہ کر جسٹس مشتاق کو عالمی عدالت میں جج لگوا دیں گے۔
چنانچہ جسٹس مشتاق نے بحیثیت چیف الیکشن کمشنر پاکستان کے اس حلف نامہ کی عبارت میں نہ صرف تبدیلی کی بلکہ تبدیل شدہ حلف نامہ والے فارم طبع بھی کرانے شروع کرا دیئے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے اس وقت کے ناظم اعلیٰ حضرت مولانا محمد شریف جالندھری تھے۔ ان کو تبدیل شدہ حلف نامہ کے فارم تقسیم ہونے سے پہلے مل گئے۔ ادھر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی پالیسی ساز شخصیت حضرت مولانا تاج محمود کو الیکشن کمشنر مشتاق اور مرزا ناصر قادیانی کی سازش کا علم ہو گیا۔ انہوں نے لولاک میں تمام سازش کو بے نقاب کر دیا اور حضرت مولانا محمد شریف جالندھری پرانے اور نئے حلف نامہ والے فارم لے کر مفکر اسلام قائد جمعیت حضرت مولانا مفتی محمود کی خدمت میں حاضر ہو کر تمام صورتحال ان کے گوش گزار کی۔ حضرت مولانا مفتی محمود ان دنوں قومی اتحاد کے سربراہ تھے۔ قومی اتحاد ضیاء حکومت میں شریک اقتدار تھا۔ حضرت مولانا مفتی محمود اپنے علاج کے لئے فوجی ہسپتال راولپنڈی میں داخل تھے۔ آپ نے فوراً بابائے جمہوریت جناب نوابزادہ نصر اللہ خان کو جنرل ضیاء الحق مرحوم کے پاس بھیجا۔ انہوں نے پوری تفصیل سے ضیاء الحق مرحوم کو باخبر کیا۔ جنرل
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ضیاء الحق مرحوم نے جب چیف الیکشن کمشنر مشتاق سے بات کی تو وہ آئیں بائیں شائیں کرنے لگے۔ کروڑوں فارموں کے چھپ جانے اور پھر کینسل کرنے سے کروڑوں کے نقصانات کا عذر کیا۔ جنرل ضیاء الحق مرحوم نے معمولی الفاظ کی تبدیلی کا بہانہ بنا کر بیورو کریسی کا پڑھایا ہوا سبق جناب نوابزادہ نصر اللہ خان صاحب کو سنا دیا۔ بیورو کریسی چاہتی تھی کہ ایک آدھ روز میں معاملہ لٹک جائے۔ جنرل صاحب عمرہ کے لئے سفر پر جانے والے تھے ان کی عدم موجودگی سے فائدہ اٹھا کر پورے ملک میں تبدیل شدہ حلف نامہ کے فارم تقسیم کر دیئے جائیں گے۔ جناب نوابزادہ نصر اللہ خان صاحب نے اپنی ملاقات کی تفصیل سے حضرت مولانا مفتی محمود کو آگاہ کیا۔ جنرل صاحب عمرہ پر چلے گئے۔ حضرت مولانا محمد شریف جالندھری نے پھر حضرت مولانا مفتی محمود سے مل کر عرض کیا کہ ضیاء صاحب کا عذر کہ واپسی پر طے کریں گے یہ عذر لنگ ہے اس وقت تک فارم تقسیم کر دیئے جائیں گے اور ہماری مشکلات میں اضافہ ہو گا اور یہی بیورو کریسی چاہتے ہیں۔
حضرت مفتی صاحب بستر علالت سے اٹھے۔ وہیل چیئر پر ہسپتال کے کاؤنٹر پر آئے۔ ضیاء صاحب کے پرنسپل سیکرٹری سے کہا کہ ہر حالت میں ضیاء صاحب کو سعودیہ میں جہاں کہیں تلاش کر کے میری فون پر بات کرائیں۔ اللہ رب العزت حضرت مولانا مفتی محمود کی قبر مبارک پر اپنی کروڑوں رحمتیں نازل فرمائیں۔ انہوں نے ضیاء کے پرنسپل سیکرٹری کو ایسے سخت الفاظ میں تاکید کی کہ زمین اس کے پاؤں سے سرکنے لگے۔ اس نے پاکستان کے سعودیہ میں متعین سفیر کو فون کر کے ضیاء صاحب کی سعودیہ سے فوجی ہسپتال راولپنڈی میں حضرت مفتی صاحب سے بات کرائی۔ ان حضرات کی فون پر جو گفتگو ہوئی اس کی رپورٹ کچھ یوں ہے:
مفکر اسلام مفتی محمود اور جنرل ضیاء الحق مرحوم:
مفتی صاحب....... چیف الیکشن کمشنر پاکستان نے سازش کر کے حلف نامہ میں تبدیلی کی ہے۔ یہ ہماری سوسالہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے قربانیوں پر پانی پھیرنے کے مترادف ہے۔
ضیاء صاحب....... حضرت یہ معمولی تبدیلی ہے۔
مفتی صاحب....... آپ کو غلط گائیڈ کیا گیا ہے۔ آپ کو غلط طور پر شیشہ میں اتارا جا رہا ہے۔ دونوں فارم پہلے حلف نامہ اور تبدیل شدہ حلف نامہ والے میرے سامنے ہیں۔ ان میں بہت بڑا فرق ہے۔ ہمیں قطعاً یہ تبدیلی قبول نہیں۔
ضیاء صاحب....... حضرت اب تو فارم چھپ گئے۔ ان کو کینسل کریں تو قومی خزانہ پر بلاوجہ بوجھ ہو گا۔
مفتی صاحب....... جنہوں نے یہ سازش کی ہے اس نقصان کے وہ ذمہ دار ہیں۔ ان سے پورا کیا جائے۔ بلاوجہ نہیں۔ ختم نبوت کی خاطر ہم اپنے موقف سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ یہ کینسل کر کے دوبارہ پہلے والے فارم شائع کرائیں۔
ضیاء صاحب....... حضرت دیر ہو جائے گی الیکشن میں۔
مفتی صاحب....... پہلے آپ نے اپنی ذات کے لئے الیکشن میں دیر نہیں کی؟ اب پانچ دس روز کی تاخیر اور مسئلہ ختم نبوت کے لئے اس کی آپ ذمہ داری نہیں لیتے تو یہ ذمہ داری قوم کے سامنے میں قبول کروں گا۔
ضیاء صاحب....... حضرت آپ اصرار چھوڑ دیں کیا فرق پڑتا ہے۔ آئندہ فارموں میں اسے بحال کر دیں گے۔
مفتی صاحب....... آنے والے وقت میں کون زندہ ہو گا؟ اور کون نہیں؟ میں آنے والی پاکستانی قوم اور مسلمان نسل کو مشکل میں ڈال کر اس حالت میں اپنے رب کے حضور نہیں پیش ہونا چاہتا۔
ضیاء صاحب....... حضرت آپ جذباتی ہو رہے ہیں۔ جانے دیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مفتی صاحب ...... آپ جذباتی ہونے کا طعنہ نہ دیں۔ یہ ایمان کا مسئلہ ہے۔ اس کے لئے قومی اتحاد کی شراکت اقتدار سے علیحدگی بھی میرے لئے کوئی معنی نہیں رکھتی۔ آپ اسے اس سنجیدگی سے لیں جس سنجیدگی کا مستحق یہ مسئلہ ہے۔
ضیاء صاحب ...... اچھا آپ فرماتے ہیں تو میں ابھی چیف الیکشن کمشنر کو کہہ کر تبدیل شدہ حلف نامہ کے فارموں کی اشاعت و ترسیل پر پابندی لگاتا ہوں ۔
مفتی صاحب ...... جزاکم اللہ ! آپ فوری طور پر الیکشن کمشنر کو پابند کریں کہ وہ باز رہے اور میرے لئے حجاز مقدس میں دعاء بھی کریں گے۔
ضیاء صاحب ...... حضرت میں تو خود آپ کی دعاؤں کا محتاج ہوں ۔
مفتی صاحب ...... ضرور ان شاء اللہ !
ضیاء صاحب ...... السلام علیکم ۔ خدا حافظ !
مفتی صاحب ...... وعلیکم السلام ۔ اللہ تعالیٰ آپ کو توفیق دیں ۔
چنانچہ ضیاء صاحب نے فون کر کے مشتاق چیف الیکشن کمشنر کو تبدیل شدہ فارموں کی اشاعت وتقسیم سے روک دیا۔ ضیاء صاحب نے واپسی پر پھر مفتی صاحب سے ملاقات کی اور آپ کو آمادہ کرنے کی کوشش کی لیکن حضرت مفتی صاحب اپنے مؤقف پر ڈٹے رہے ۔ چنانچہ تبدیل شدہ حلف نامہ کے فارم کینسل کر کے ان کو ضائع کیا گیا اور اصل حلف نامہ کی عبارت والے فارم شائع کر دیئے گئے ۔ یوں قادیانی سازش ان درویش ، فاقہ مست ، خدا رسیدہ اکابر کی محنت سے نا کام ہوئی ۔ الیکشن کمشنر مشتاق اور مرزا ناصر قادیانی خاسر ہوا۔ اسلام جیت گیا کفر ہار گیا ۔ فاالحمد للہ علی ذالک !
چنانچہ ملک عزیز میں مخلوط یا جدا گانہ طرز انتخاب ہوئے یہ حلف نامہ مسلمانوں کے لئے لازمی طور پر ووٹر فارموں میں رہے گا۔ اس پر اٹھائیس سال (۱۹۷۴ء سے ۲۰۰۲ء) تک دوبارہ کسی کو شب خون مارنے کی جرأت نہ ہوسکی ۔
موجودہ حکومت اور قادیانی سازش:
اب جنرل پرویز مشرف کی حکومت آئی ۔ ایک جنرل نے ملک میں جداگانہ طرز انتخاب متعارف کرایا ۔ اب دوسرے جنرل نے پہلے جنرل کے فیصلہ کو غلط قرار دے کر مخلوط طرز انتخاب کا فیصلہ کیا ۔ ان جرنیلی حکومتوں کو متضاد تجربوں نے ملک کے نا گفتہ بہ حالات تک پہنچایا ہے ۔ مخلوط انتخابات کا ۲۷ فروری ۲۰۰۲ء میں جنرل پرویز مشرف نے آرڈیننس جاری کیا ۔ پرویز کے حکومتی دور میں قادیانی لابی نے سازش کر کے مخلوط الیکشن کی آڑ میں حلف نامہ کو حذف کر کے ۱۹۷۴ء سے قبل کے فارم ( ختم نبوت کے حلف نامہ کے بغیر ) اپریل ۲۰۰۲ء میں اس وقت شائع کرائے جب کہ عام ووٹ بنوانے کی میعاد ختم ہو چکی تھی۔ صرف فارم نمبر ۴ کو پر کر کے الیکشن کے لئے مقرر کردہ سول جج کے حکم سے ووٹ درج کرائے جا سکتے تھے ۔ قادیانی لابی نے قادیانیوں کو الیکشن دفاتر سے فارم دیئے ۔ قادیانیوں نے بغیر حلف نامہ کے ہزاروں کی تعداد میں ووٹ بنوائے ۔ اس رعایت کا بدلہ قادیانیوں نے حکومت کو یہ دیا کہ ریفرنڈم میں تمام قادیانیوں نے جماعتی سطح پر پرویز مشرف کے لئے ووٹ ڈالے ۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو ریفرنڈم سے قبل ہی اس سازش کا علم ہو گیا تھا ۔ لیکن مشکل یہ تھی کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم اور سیکرٹری جنرل حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ دونوں برطانیہ کے سفر پر گئے ہوئے تھے ۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
آغاز تو بسم اللہ:
فقیر ان دنوں تعمیرات کی نگرانی کے لئے چناب نگر مقیم تھا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا نام لے کر ۲۸؍اپریل ۲۰۰۲ء بروز اتوار کو مختصر نوٹس پر کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت حلقہ چنیوٹ و چناب نگر کی میٹنگ طلب کی۔ چنانچہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما حضرت مولانا صاحبزادہ طارق محمود صاحب فیصل آباد سے، مولانا محمد اکرم طوفانی سرگودھا سے، جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مولانا عبدالوارث، مولانا منظور احمد چنیوٹی، چنیوٹ کے معروف قانون دان ملک رب نواز ایڈووکیٹ، جمعیت علماء پاکستان کے مولانا مسعود احمد سروری، جمعیت اہل حدیث کے حضرت مولانا قاری محمد ایوب صاحب، شیعہ مکتب فکر کے جناب علی رضا سابق ایم۔این۔اے چناب نگر عالمی مجلس کے مولانا غلام مصطفیٰ، مجلس احرار اسلام کے مولانا محمد مغیرہ، مولانا اللہ یار ارشد، غرض بیسیوں حضرات نے شرکت کی۔ فیصلہ ہوا کہ:
- ۱...... ۳؍مئی بروز جمعہ کو جہاں جہاں ممکن ہے جمعہ پر احتجاج کیا جائے۔
- ۲...... فوری طور پر مرکزی مجلس عمل کا اجلاس طلب کیا جائے۔
- ۳...... سرگودھا، فیصل آباد اور جھنگ میں فوری علماء کنونشن طلب کئے جائیں۔
چنانچہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفاتر کراچی، کوئٹہ، پشاور، اسلام آباد، لاہور، ٹنڈو آدم میں فوری طور پر فون کر کے فقیر نے صورتحال عرض کی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی گوجرانوالہ کے تبلیغی دورہ پر تھے۔ ان سے عرض کیا کہ وہ دورہ مختصر کر کے لاہور تشریف لے جائیں اور لاہور کی سطح پر تمام جماعتوں کے جو قائدین مل سکتے ہیں ان کو دعوت نامہ جاری کریں۔ حضرت مولانا زاہد الراشدی سے رابطہ کر کے ۴؍مئی کی تاریخ کل جماعتی مجلس عمل کے اجلاس کی طے کی۔
خانقاہ سراجیہ فون کر کے مولانا صاحبزادہ خلیل احمد صاحب سے رابطہ کیا کہ وہ قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب دامت برکاتہم سے ملاقات کا وقت لیں۔ انہوں نے بتایا کہ حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہ عراق کے دورہ پر ہیں۔ جوں ہی واپس تشریف لائیں گے اطلاع کروں گا۔ فقیر نے جمعیت علمائے اسلام پنجاب کے امیر بزرگ رہنما حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب سے صورتحال فون پر عرض کی۔ حضرت مولانا موصوف نے اسی وقت پنجاب بھر کی جمعیت کو ۳؍مئی بروز جمعہ پر احتجاج کے لئے قرار داد مرتب کر کے فیکس کرا دیں۔ یوں الحمدللہ! کام کا آغاز ہوا۔
قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمٰن کی خدمت میں:
دوسرے روز ۲۹؍اپریل کو حضرت مولانا صاحبزادہ خلیل احمد صاحب نے اطلاع دی کہ حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب ۳۰؍اپریل کو صبح پشاور اور اسی روز شام کو ڈیرہ اسماعیل خان تشریف لائیں گے۔ یکم مئی حضرت کے گھر پر ملاقات ہو سکتی ہے۔ (۳۰؍اپریل کو تاریخی ’’شفاف‘‘ ریفرنڈم تھا) یکم مئی کو حضرت صاحبزادہ خلیل احمد صاحب اور فقیر کے ۴ بجے شام ڈیرہ اسماعیل خان قائد محترم حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب سے ملاقات کا شرف حاصل کیا۔ فقیر نے عرض کیا کہ ایک مشکل جنرل کے دور میں ختم نبوت کے حلف نامہ کے لئے پیش آئی تھی۔ چنانچہ عالمی مجلس کے رہنما حضرت مولانا محمد شریف جالندھری قائد جمعیت حضرت مولانا مفتی محمود صاحب کے پاس حاضر ہوئے تھے۔ انہوں نے اس مشکل کو حل کر دیا تھا۔ آج پھر ایک مشکل دوسرے جنرل کے دور میں ختم نبوت کے حلف نامہ کے لئے پیش آئی ہے۔ ختم نبوت جماعت کے حقیر خادم ہونے کے ناطے قائد جمعیت اور حضرت مفتی صاحب کے صاحبزادہ سے وہ عرض کرنے کے لئے حاضری ہوئی ہے۔ حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہ چونکے، فرمایا کیا ہوا۔ فقیر نے عرض کیا کہ زمین گول ہے یا تاریخ اپنے آپ کو
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دھراتی ہے۔ کوئی تعبیر کریں لیکن:
(۱) وہی حلف نامہ ۔ (۲) وہی فوجی حکومت ۔ (۳) وہی تبدیلی ۔ (۴) وہی قائد جمعیت ۔ (۵) وہی مفتی صاحب کا جماعتی اور نسبی اعتبار سے جانشین ۔ (۶) وہی کاسہ گدائی لیکن خیرات کے لئے حاضری ہے ۔ (۷) تب حضرت مفتی صاحب نے قوم کی رہنمائی فرمائی ۔ (۸) مشکل حل ہوئی ۔ (۹) آج آپ کی رہنمائی اور مشکل کے حل کے لئے توجہ فرمائیں۔
مخدوم گرامی حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہ نے دونوں ہاتھوں میں اپنے چہرہ کو ڈھانپا ، سر جھکایا ، جیسے گہری سوچ میں چلے گئے ہوں اور حکم فرمایا کہ فرمائیے کیا ہوا ۔ فقیر نے تمام صورتحال عرض کی ۔ دونوں فارم دیئے ۔ وہ آپ نے ملاحظہ کئے۔ فرمایا کہ فوٹو کے لئے کسی کو بھیجتا ہوں ۔ فقیر نے عرض کی کہ فوٹو کرا کر یہ سیٹ آپ کے لئے لایا ہوں۔ مولانا نے فرمایا:
- ۱...... آپ تسلی رکھیں اپنے اکابر کی جانشینی کے لائق نہیں لیکن حق ادا کرنے کے لئے جان سوز کوشش ضرور کریں گے۔
- ۲...... حکومتی ذمہ دار اہل کاروں سے بات کریں گے۔
- ۳...... اس کی مزاحمت کریں گے۔
- ۴...... ایسا نہیں ہونے دیں گے۔
- ۵...... کل ۲؍مئی کو کوئٹہ میں جمعیت علماء اسلام کا جلسہ ہے ۔ وہاں کل سے ہی آغاز کر دیں گے۔
- ۶...... آپ بھی ملک بھر میں اس زیادتی کے خلاف صدا بلند کریں۔
- ۷...... کل جماعتی مجلس عمل کا اجلاس طلب کریں ۔ (فقیر نے عرض کی کہ ۴؍مئی کو لاہور میں اجلاس طلب کر لیا ہے ) فرمایا۔
- ۸...... بہت اچھا۔ ۵ ، ۶؍مئی کو جمعیت علماء اسلام کی مرکزی مجلس شوریٰ کا اجلاس لاہور میں ہے۔
- ۹...... اللہ تعالیٰ فضل کریں گے۔
دل باغ باغ ہو گیا ۔ الحمد للہ ! حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہ کی تصویر میں حضرت مولانا مفتی محمود صاحب کی تصویر آنکھوں کے سامنے گھومنے لگی ۔ چائے پی ۔ مولانا کی اقتداء میں نماز عصر پڑھی ۔ جامعۃ المعارف کی زیر تعمیر عظیم جامع مسجد کو آپ کی قیادت میں دیکھا ۔ رخصت لی اور ملتان آئے ۔ یہاں اگلے روز ۲؍مئی کو ملتان میں جمعیت علمائے پاکستان کے سرپرست اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی دامت برکاتہم تشریف لا رہے تھے۔ چنانچہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما حضرت مولانا بشیر احمد صاحب کی قیادت میں جمعیت علماء اسلام کے ڈاکٹر محمد عارف خان ، مجلس احرار کے سید محمد کفیل بخاری کے ہمراہ جامعہ غوثیہ ہدایت القرآن ملتان میں آپ سے ملاقات کی ۔ آپ نے بھر پور تعاون و سر پرستی کا وعدہ فرمایا اور دونوں فارم آپ نے رکھ لئے ۔
کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا اجلاس:
۴؍مئی کو لاہور میں منعقد ہوا ۔ اجلاس کی صدارت جمعیت علماء اسلام پنجاب کے امیر حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب نے فرمائی ۔ اجلاس میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما مولانا اللہ وسایا ، صاحبزادہ طارق محمود ، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ، مولانا عزیز الرحمٰن ثانی ، مولانا غلام مصطفیٰ ، جمعیت علماء اسلام کے مولانا محمد عبداللہ ، مولانا محب النبی ، پاکستان شریعت کونسل کے مولانا زاہد الراشدی ، جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ ، اتحاد العلماء کے مولانا عبد المالک ، مجلس احرار اسلام کے چوہدری ثناء اللہ بھٹہ ، سید محمد کفیل بخاری ، انجمن خدام الدین کے مولانا محمد اجمل قادری ، تحریک منہاج القرآن کے صاحبزادہ محمد حسین آزاد ، تحریک علماء پاکستان کے علامہ علی غضنفر کراروی ،
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
انٹرنیشنل ختم نبوت کے مولانا منظور احمد چنیوٹی، پاسبان ختم نبوت کے علامہ محمد ممتاز اعوان اور ڈاکٹر جہانگیر شجاع، صوبائی وزیر مذہبی امور ڈاکٹر مفتی غلام سرور قادری، جمعیت علماء پاکستان کے قاری محمد زوار بہادر، تنظیم اسلامی کے مرزا محمد ایوب بیگ، جمعیت اہل حدیث پاکستان کے مولانا ریاض الرحمن یزدانی، مجلس احرار اسلام کے مرکزی رہنما مولانا اللہ یار ارشد شریک ہوئے۔
فیصلے:
- ۱...... تمام مذہبی مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام نے ووٹر اندراج کے خاتے میں عقیدہ ختم نبوت کا حلف نامہ ختم کرنے کے فیصلوں کو
مسترد کر دیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے یہ فیصلے فی الفور واپس لے کر دستور اسلامی کی دفعات کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی دعوت پر لاہور میں منعقد ہونے والے ایک اجلاس میں طے پایا کہ:
- ۲...... اس سلسلے میں تمام مذہبی جماعتوں کا سربراہی اجلاس طلب کیا جائے گا جس کے لئے جمعیت علماء اسلام (ف) نے میز بانی کی
ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ اس سربراہی اجلاس میں تحریک ختم نبوت کو از سر نو منظم کرنے اور کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کو ہر سطح پر متحرک کرنے کے لئے لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
- ۳...... اجلاس میں ملک بھر کے علماء کرام اور خطباء سے اپیل کی گئی ہے کہ جمعۃ المبارک کے خطبات میں عقیدہ ختم نبوت واضح کیا جائے۔
- ۴...... ضلعی اور مقامی سطح پر ختم نبوت کانفرنسیں منعقد کی جائیں۔
- ۵...... اجلاس میں منظور مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ اجلاس اس بات کو شدت کے ساتھ محسوس کرتا ہے کہ امریکی کانگریس کی طرف سے
قادیانیوں کو غیر مسلم ووٹروں سے الگ الگ اندراج اور ووٹر فارم میں مذہب کا خانہ اور عقیدہ ختم نبوت کا حلف نامہ ختم کرنے کا فیصلہ عملاً قادیانیوں کو مسلمانوں میں شامل کرنے اور سرکاری ریکارڈ میں مسلمانوں اور قادیانیوں کا فرق ختم کرنے کے مترادف ہے۔ یہ اسلامیان پاکستان کے لئے قطعی طور پر ناقابل برداشت ہے۔
ایک حادثہ:
جیسا کہ آپ نے پڑھا ہے کہ ۴؍ مئی کے اس اجلاس کی صدارت حضرت مولانا محمد عبداللہ نے فرمائی مگر اگلے روز اخبارات میں ایک پرانی ایڈیٹڈ تصویر شائع کی گئی جس میں میاں محمد اجمل قادری کو اجلاس کا صدر ظاہر کیا گیا تھا۔ یہ کارروائی کس نے کی؟ کیوں کی؟ کس کے کہنے پر کی؟ یہ سوالات ذہن میں گردش کرنے لگے۔ یہ کذب بیانی و جعل سازی:
بہت استفسار کیا کہ اس مشکل گھڑی میں اگر اس طرح ان عناصر نے ابتداء تحریک میں یہ حرکت کی ہے تو آئندہ کیا گل کھلائیں گے۔ اگلے دن ۵، ۶؍ مئی جمعیت علماء اسلام پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ کا اجلاس جامعہ مدنیہ لاہور میں منعقد ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۰۲ء)
جمعیت علماء اسلام کا اجلاس
کل پاکستان جمعیت علماء اسلام کی مرکزی مجلس شوریٰ کا اجلاس زیر صدارت امیر مرکزیہ حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہ ۵، ۶؍ مئی کو شب و روز جامعہ مدنیہ لاہور میں منعقد ہوا۔ ایجنڈا کے مطابق دوسرے روز ۶؍ مئی کو ووٹر فارم سے ختم نبوت کے حلف نامہ
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کے حذف کرنے کے حکومتی عمل پر غور و فکر کیا گیا۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن اور پنجاب جمعیت کے امیر یادگار اسلاف حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب نے تفصیلات سے اراکین شوریٰ کو آگاہ فرمایا اور جمعیت علماء اسلام نے فیصلہ کیا کہ آل پارٹیز ختم نبوت کنونشن لاہور میں ۲۸ مئی کو جمعیت علماء اسلام کے زیر اہتمام منعقد کیا جائے۔ آل پارٹیز مجلس عمل تحفظ ختم نبوت، متحدہ مجلس عمل میں شامل تمام جماعتوں اور دیگر سیاسی و مذہبی شخصیات اور جماعتوں کو اس میں مدعو کیا جائے تاکہ ختم نبوت کے متفقہ دینی اہم عنوان پر ملک بھر کی ایک رائے اور متفقہ مؤقف پیش کیا جائے۔ فیصلہ ہوا کہ تمام جماعتوں کے مرکزی قائدین کو قائد جمعیت ہی دعوت دیں۔ ان کی طرف سے دعوت نامہ شائع کیا جائے۔ نیز یہ کہ جمعیت علماء اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل حضرت مولانا عبدالغفور حیدری اور جمعیت علماء اسلام کے ڈپٹی سیکرٹری حضرت حافظ حسین احمد صاحب ہر دو حضرات اس کے انتظامات کے لئے دعوت ناموں کی ترسیل اور رابطہ کے لئے لاہور میں ۲۸ مئی تک موجود رہیں اگر ایک بزرگ باہر جائیں تو دوسرے لاہور میں ضرور موجود ہوں۔ جمعیت علماء اسلام کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات حضرت مولانا ریاض احمد درانی اور لاہور جمعیت کے رہنما حضرت مولانا محب النبی حضرت مولانا قاری نذیر احمد اور دوسرے حضرات معاونت کریں۔
چنانچہ اگلے روز ۷ مئی کو قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن نے دس بجے صبح پریس کانفرنس کے ذریعہ جمعیت کے شوریٰ کے اجلاس کے فیصلوں کا اعلان کرنا تھا۔ چنانچہ ۷ مئی کو جناب ریاض درانی صاحب کے دولت کدہ پر خصوصی اجلاس ختم نبوت کنونشن کے انتظامات کے جائزہ کے لئے ۹ بجے صبح حضرت مولانا عبدالغفور حیدری صاحب کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ حضرت مولانا مفتی محمد جمیل خان، فقیر راقم الحروف اور حضرت مولانا عزیز الرحمٰن ثانی مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، جمعیت کے رہنما حضرت مولانا قاری نذیر احمد اور دوسرے حضرات نے شرکت کی۔ حضرت حیدری صاحب مدظلہ نے فقیر سے حکم فرمایا کہ آپ آل پارٹیز مجلس عمل تحفظ ختم نبوت میں شامل جماعتوں کے نام دیں۔ فقیر نے فہرست پیش کی:
(۱) جمعیت علماء اسلام (ف)۔ (۲) جمعیت علماء اسلام (س)۔ (۳) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت۔ (۴) جمعیت علماء پاکستان (نورانی میاں گروپ)۔ (۵) جمعیت علماء پاکستان (انجینئر گروپ)۔ (۶) جمعیت علماء پاکستان (صاحبزادہ گروپ)۔ (۷) جماعت اسلامی۔ (۸) جمعیت اہل حدیث (پروفیسر ساجد میر)۔ (۹) جمعیت اہل حدیث (لکھوی صاحب)۔ (۱۰) شیعہ حضرات۔ (۱۱) مجلس احرار اسلام (پیر مہیمن گروپ)۔ (۱۲) مجلس احرار اسلام (پیر مومن گروپ)۔ (۱۳) منہاج القرآن۔ (۱۴) تنظیم اسلامی۔ (۱۵) اشاعۃ التوحید۔ (۱۶) شریعت کونسل۔ (۱۷) انٹرنیشنل ختم نبوت۔ (۱۸) پاسبان ختم نبوت۔ (۱۹) تنظیم اہل سنت۔ (۲۰) مجلس علماء اہل سنت (اور دیگر حضرات و ادارے)
مخدوم محترم حیدری صاحب نے فہرست ملاحظہ فرمائی۔ محترم حضرت درانی صاحب اور حضرت قاری نذیر احمد صاحب سے فرمایا کہ دعوت نامہ چھپوانے کا اہتمام کریں اور راقم سے حکم فرمایا کہ آپ آج سے ۷ مئی سے ۲۸ مئی تک مسلسل نہ صرف رابطہ میں رہیں بلکہ کوشش کریں کہ لاہور رہیں تاکہ روز بروز تازہ صورتحال پر مشاورت ہوتی رہے۔ کانفرنس کی جگہ کے لئے فیصلہ ہوا کہ فلیٹیز ہوٹل بصورت دیگر پریس کلب میں منعقد کی جائے یہ کہ تمام تیاری کے لئے مولانا عزیز الرحمٰن ثانی مبلغ مجلس لاہور کانفرنس کی انتظامیہ سے رابطہ اور معاونت کے لئے وقف ہیں۔ ملتان، پنڈی، گوجرانوالہ، فیصل آباد، چنیوٹ کے دعوت ناموں کی تقسیم فقیر کے ذمہ قرار پائی۔ کراچی دعوت ناموں کی تقسیم کے لئے جمعیت کے رہنما حضرت مولانا قاری محمد عثمان، عالمی مجلس کے رہنما حضرت مولانا مفتی محمد جمیل خان کو ذمہ داری سونپی گئی۔ اتنے میں پریس کانفرنس کا وقت ہوگیا۔ حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب نے پریس نمائندگان سے خطاب کیا اور جمعیت کے فیصلوں کا
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اعلان کیا۔ اگلے روز ۸؍مئی کے اخبارات میں جلی سرخیوں میں خبریں شائع ہوئیں۔ ذیل میں قومی اخبارات میں سے فقط نوائے وقت لاہور ۸؍مئی کی خبر من وعن پیش خدمت ہے:
جے یو آئی ۱۰؍مئی کو ملک گیر مظاہرے کرے گی، ۲۸؍مئی کو آل پارٹیز کانفرنس بلالی:
حکومت قادیانیوں کو تحفظ فراہم کر رہی ہے، سڑکوں پر نکل کر احتجاج کریں گے، ریفرنڈم کے نتائج قبول ہیں نہ آئین میں فوج کا کردار، مشرف کو نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کو روکنے کا کوئی حق نہیں، انتخابات کے لئے خود مختار الیکشن کمیشن اور عبوری نگران حکومت قائم کی جائے: فضل الرحمن!
لاہور (این این آئی) جمعیت علماء اسلام نے ووٹر فارم سے حلف نامہ حذف کرنے کے خلاف ۲۸؍مئی کو لاہور میں آل پارٹیز ختم نبوت کانفرنس طلب کر لی ہے جب کہ قبائلی علاقوں میں امریکی کمانڈوز کے آپریشن کے خلاف ۱۰؍مئی کو ملک بھر میں یوم احتجاج منانے کا اعلان کر دیا ہے جس میں تمام جماعتیں شامل ہوں گی۔ جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے گزشتہ روز مرکزی سیکرٹری اطلاعات ریاض درانی کی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔ اس موقع پر مولانا عبدالغفور حیدری بھی موجود تھے۔ مولانا فضل الرحمن نے بتایا کہ لاہور میں جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی مجلس شوریٰ کے دو روزہ اجلاس میں تفصیلی طور پر صورتحال کا جائزہ لیا گیا ہے اور مرکزی شوریٰ نے عقیدہ ختم نبوت کے اقرار کے حوالے سے ووٹر فارم پر درج حلف نامہ ختم کرنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور اسے قادیانی سازش قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت قادیانیوں کو تحفظ فراہم کر رہی ہے اور قادیانی پاکستان اور اسلام کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔ جس پر ہم نے ۲۸؍مئی کو لاہور میں آل پارٹیز ختم نبوت کانفرنس بلالی ہے جس میں ملک کی تمام اہم جماعتیں شریک ہوں گی اور اس مسئلہ پر ایک واضح لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام نے قبائلی علاقوں میں امریکی کمانڈوز کی قیادت میں فوجی آپریشن کے خلاف بھی ۱۰؍مئی بروز جمعتہ المبارک کو یوم احتجاج منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ تمام ضلعی ہیڈ کوارٹرز پر اس روز احتجاجی مظاہرے ہوں گے اور مساجد کے اندر ہی نہیں بلکہ مساجد سے باہر نکل کر سڑکوں پر احتجاج ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مشرف کے جلسوں میں سیاسی جماعتوں کے خلاف جو زبان استعمال کی گئی وہ افسوس ناک ہے۔ الیکشن کمیشن نے جعلی نتائج کا اعلان کر کے اپنا اعتماد کھو دیا ہے۔ اس لئے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ عبوری حکومت اور غیر جانب دار الیکشن کمیشن قائم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم فوج کا کوئی آئینی کردار قبول نہیں کریں گے۔ فوج کا کردار سیاست نہیں دفاع ہے۔ بے نظیر اور نواز شریف کے بارے میں سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مشرف کو انہیں روکنے کا کوئی حق نہیں۔ مدمقابل کو روکنے کی غلط روایت قائم نہیں ہونی چاہئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۰۲ء)
سرگودھا جھنگ اور فیصل آباد میں یوم احتجاج
ووٹر فارم میں ختم نبوت کے حلف نامہ کی بحالی کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر سرگودھا میں حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی کی دعوت پر ۲۹؍اپریل کو علماء کرام کا اجلاس ہوا۔ شہر و ضلع بھر سے تقریباً پچاس سے زائد علماء کرام اور تمام دینی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی جس میں فیصلہ ہوا کہ ۳؍مئی جمعہ کو ضلع سرگودھا میں یوم احتجاج منایا جائے۔ چنانچہ ضلع بھر کی مساجد میں قراردادیں پاس کی گئیں اور حکومتی فیصلہ پر شدید غم وغصہ کا اظہار کیا گیا۔ اس طرح فیصل آباد، چنیوٹ، جھنگ میں بھی یوم احتجاج منایا گیا۔ چناب نگر کی تمام مساجد میں متفقہ قراردادیں منظور کی گئیں۔ دوسرے دن ۴؍مئی کو ملک بھر کے اخبارات میں حکومتی فیصلہ کے خلاف خبریں شائع ہوئیں۔ جمعیت علماء
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اسلام، جمعیت علماء پاکستان، مجلس تحفظ ختم نبوت، جماعت اسلامی، جمعیت اہل حدیث، شیعہ مکتب فکر، مجلس احرار اسلام اور دیگر تمام جماعتوں کے رہنماؤں نے اس پر صدائے احتجاج بلند کر کے حکومتی اقدام کو چیلنج کیا کہ وہ کسی بھی طرح عامتہ المسلمین کے لئے قابل قبول نہیں ہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سیکرٹری اطلاعات مولانا فقیر محمد صاحب نے حکومتی ذمہ داران حضرات کو ٹیلی گرام ارسال کیں۔
۷ مئی راولپنڈی میں علماء کنونشن
جامعہ اسلامیہ راولپنڈی کے رئیس حضرت مولانا قاری سعید الرحمن صاحب کی دعوت پر مجلس عمل تحفظ ختم نبوت میں شریک جماعتوں کا اجلاس ۷ مئی کو منعقد ہوا۔ جس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مولانا بشیر احمد، صاحبزادہ طارق محمود، مولانا محمد اکرم طوفانی، قاضی احسان احمد، مفتی محمود الحسن، مفتی خالد میر، دعوت و ارشاد چنیوٹ کے سربراہ مولانا منظور احمد چنیوٹی اور راولپنڈی اسلام آباد کے علماء کرام نے شرکت کی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آنے والے جمعہ ۱۰ مئی کو راولپنڈی، اسلام آباد، مری اور گردو نواح میں یوم احتجاج منایا جائے گا۔ ۷ مئی کو اسلام آباد ہوٹل میں پریس کانفرنس کی گئی جس کی رپورٹ یہ ہے:
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) مسلمان عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے پوری طرح تیار ہیں۔ ووٹر لسٹ میں ختم نبوت کے اقرار کا حلف نامہ شامل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ملک کو اسلام سے دور لے جانے کی ہر کوشش کا سدباب کیا جائے گا۔ پاکستان کے اسلامی تشخص کو ختم کرنے کے لئے بیرونی ممالک قادیانیوں کی بے جا حمایت کر رہے ہیں۔ قادیانیوں کو غیر آئینی اور غیر قانونی طور پر اسلام کا لبادہ اوڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ حضور ﷺ سے وفا نہ کرنے والے حکمران اپنے اقتدار کی خیر منائیں۔ قادیانیوں کے خلاف جہاد میں پوری امت مسلمہ شانہ بشانہ حصہ لے گی۔ آئین کی اسلامی دفعات کے تحفظ، قادیانیوں سے متعلق آئینی ترامیم اور ووٹر لسٹ فارم میں عقیدہ ختم نبوت کا اقراری حلف نامہ شامل کرانے کے لئے مسلمانان پاکستان اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہانے کے لئے تیار ہیں۔ این جی اوز مشرقی تیمور کی طرز پر پاکستان کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے ایجنڈے پر کام کر رہی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار پنجاب کے سابق صوبائی وزیر اور جامعہ اسلامیہ راولپنڈی کے رئیس قاری سعید الرحمن، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مولانا محمد اکرم طوفانی، احرار اسلام کے امیر مولانا عطا المہیمن شاہ بخاری، دارالعلوم تعلیم القرآن راولپنڈی کے مہتمم مولانا اشرف علی، شیخ الحدیث مولانا حسن جان (پشاور)، مولانا محمد شریف ہزاروی (اسلام آباد) قاری عتیق الرحمن اور دیگر نے ووٹر لسٹ فارم سے عقیدہ ختم نبوت کے اقرار کا حلف نامہ حذف کرنے کی گھناؤنی سازش کی مذمت کرتے ہوئے کیا۔ علماء کرام نے کہا کہ حضور اکرم ﷺ کو آخری نبی تسلیم کرنا ہر مسلمان کے ایمان کا بنیادی جزو ہے۔ اس لئے اس حلف نامے پر پاکستان بھر کے مسلمان مکمل ایمان رکھتے ہیں۔ اس حلف نامے کا اخراج قادیانیوں کی ایما پر کیا گیا ہے۔ کیونکہ قادیانی حضور ﷺ کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانتے ہیں اور آپ ﷺ کے بعد بھی نبوت کے جاری ہونے کے قائل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس حلف نامے کو حذف کر کے قادیانیوں کو تقویت پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے جو ہر لحاظ سے قابل مذمت ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ فوری طور پر اس حلف نامے کو ووٹر لسٹ فارم میں بحال کیا جائے اور پاسپورٹ کی طرح شناختی کارڈ میں بھی مذہب کے خانہ کا اضافہ کیا جائے۔
۸ مئی ملتان میں آل پارٹیز اجلاس
ملتان (سپیشل رپورٹ) توہین رسالت ایکٹ اور حدود آرڈیننس میں ترامیم کے حوالہ سے وفاقی وزیر قانون کے بیان پر جماعت اسلامی ملتان کے امیر خواجہ عبید الرحمن، کنور محمد صدیق نے کہا کہ آئین کی اسلامی دفعات میں ترامیم کرنے کا حکمرانوں کے پاس کوئی
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حق نہیں۔ جمعیت علماء پاکستان کے مفتی ہدایت اللہ پسروری نے کہا کہ تمام اہم امور پر قادیانی قابض ہورہے ہیں۔ اسلامی دفعات میں تبدیلی کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔ مسلم لیگ (ن) کے حافظ اقبال خاکوانی نے کہا کہ یہ صیہونیوں کی سازش ہے امریکہ کے دباؤ میں حکمران بے بس ہوچکے ہیں۔ متفقہ آئین کی اسلامی دفعات میں تبدیلی حکمرانوں کو مہنگی پڑے گی۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث کے علامہ عنایت اللہ رحمانی نے کہا کہ حکمرانوں کے دن گنے جاچکے ہیں۔ دریں اثناء آل پارٹیز ختم نبوت کانفرنس کے رہنماؤں سید قدیر بخاری، راؤ ظفر اقبال، علامہ خالد محمود ندیم، مولوی محمد عارف اور انتظار حسین قریشی نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی ایوانوں میں قادیانی اثر ورسوخ بڑھتا جارہا ہے۔ ووٹر لسٹ کے نئے فارم میں مسلم اور غیر مسلم ووٹر کی شناخت ختم کردی گئی ہے۔ قانون توہین رسالت اور حدود آرڈیننس کو ختم کرنے کے حکومتی سطح پر اعلانات کئے جارہے ہیں۔ یہ سب کچھ امریکی اور قادیانیوں کے دباؤ میں کیا جارہا ہے۔ مذہبی جماعتیں ایسی صورت حال کو کسی طرح تسلیم نہیں کریں گی۔ دریں اثناء جمعیت علماء اسلام (ف) کی کال پر ملک بھر کی طرح ملتان میں بھی جمعۃ المبارک کے روز حکومت کے خلاف مسجد ختم نبوت کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا۔ دوسری جانب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر میں آل پارٹیز ختم نبوت اجلاس آج پانچ بجے شام دفتر ختم نبوت میں منعقد ہوگا۔ جس میں حکومت کے خلاف آئندہ کا لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا۔
عالمی مجلس کے رہنماؤں کا احتجاجی بیان
ملتان (سٹاف رپورٹر) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنماؤں پیر سید نفیس الحسینی، مولانا اللہ وسایا، مولانا بشیر احمد، مولانا خدا بخش، مولانا محمد اسماعیل شجاعبادی نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ اگر گستاخ رسول کی سزا کے قانون اور اس کے طریقہ کار اور قادیانیت سے متعلق پارلیمنٹ یا اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کو امریکہ کی رضاء حاصل کرنے کے لئے چھیڑا گیا یا غیر مؤثر کیا گیا تو اسلامیان پاکستان اللہ اور اس کے رسول کی رضاء کے لئے اٹھ کھڑے ہوں گے اور قادیانی نواز حکومت کو چلتا کریں گے۔ تحریک ختم نبوت کے رہنماؤں نے کہا کہ ملک بھر میں قادیانیوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں، ریفرنڈم میں قادیانیوں کی مشرف حکومت کے لئے کوششیں اس بات کی غماز ہیں کہ حکمران ملک کی اساسی اور نظریاتی حیثیت کو ختم کرنے کے لئے تلے ہوئے ہیں۔ پہلے جداگانہ طرز انتخاب کو ختم کرکے نظریہ پاکستان سے انحراف کیا گیا، بعدازاں ووٹر فارم سے حلفیہ بیان ختم کیا گیا اب حالات اس رخ پر جارہے ہیں کہ حکمران امریکی آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے ایک سو سالہ جدوجہد اور قربانیوں سے حل کئے جانے والے مسائل کو بھی ختم کرنا چاہتے ہیں۔ تحریک ختم نبوت کے رہنماؤں نے ملک بھر کی دینی جماعتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے اٹھ کھڑے ہوں اور سٹریٹ پاور کو منظم و متحرک کرکے حکمرانوں کو ان کے عزائم میں کامیاب نہ ہونے دیں۔
۱۰ مئی کو ملک بھر میں جمعہ پر یوم احتجاج
راولپنڈی (نمائندہ رپورٹ) جمعیت علماء اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمٰن کی اپیل پر امریکہ کی بڑھتی ہوئی مداخلت اور قبائلی علاقوں میں دینی مدارس کے خلاف امریکہ اور پاکستان کے مشترکہ آپریشن کے خلاف جمعہ کے روز ملک بھر میں یوم احتجاج منایا گیا۔ اس موقعہ پر شہروں اور ضلعی صدر مقامات پر مظاہرے ہوئے جمعیت کے کارکنوں نے چوک فوارہ راولپنڈی میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ تاہم تھوڑی دیر کے بعد پولیس نے مداخلت کرکے مظاہرین کو پرامن طور پر منتشر کردیا۔ پولیس کی ناکہ بندی کی وجہ سے جمعیت کے ضلعی امیر
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مولانا عبدالمجید ہزاروی مظاہرہ میں نہ پہنچ سکے۔ جب کہ جے یو آئی (ف) کے مرکزی نائب امیر حافظ حسین احمد کے پہنچنے سے پہلے ہی مظاہرہ ختم ہو چکا تھا۔ مظاہرہ کی قیادت جمعیت کے ضلعی جنرل سیکرٹری مولانا محبوب الرحمن قریشی ، مولانا شفیق الرحمن ، قاری حسین علی قاسمی نے کی۔ مظاہرین نے امریکی مداخلت مردہ باد ، دینی مدارس اسلام کے قلعہ ہیں کے نعرہ لگا رہے تھے ۔ مظاہرہ میں دینی مدارس کے طلباء سمیت ۴۰ کارکنوں نے شرکت کی جو پولیس کی ناکہ بندی کی وجہ سے ٹولیوں کی صورت میں چوک فوارہ پہنچنے میں کامیاب ہو گئے ۔ جمعیت کے رہنماؤں نے کہا کہ ہم موجودہ حکومت کی امریکہ کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کی پالیسی کی مذمت کرتے ہیں۔ اگر امریکی کمانڈوز کی مداخلت کا سلسلہ بند نہ ہوا تو ملک گیر سطح پر منظم احتجاج کیا جائے گا۔ قبل ازیں جے یو آئی (ف) کے نائب امیر اور سابق سینیٹر حافظ حسین احمد نے جامعہ مسجد مکی خیابان سرسید میں ووٹر لسٹوں اور شناختی کارڈ کے فارموں سے ختم نبوت کے عقیدہ کے بارہ میں بیان حلفی ختم کرنے پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام امریکی ایماء پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی ترمیم اور تحفظ ناموس رسالت کے قانون کو ختم کرنے کی سازش کا حصہ ہے ۔ ہزاروں غازی علم الدین شہید ناموس رسالت ﷺ کے تحفظ کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے حکومت کو دینی معاملات میں کوئی آئینی ترمیم کرنے کا اختیار نہیں۔
ملتان (سٹاف رپورٹر ) جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی اپیل پر جمعہ کے روز پاکستان میں قادیانیوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں، ریشہ دوانیوں ، ووٹر لسٹ میں مذہب کا خانہ ختم کرنے اور فارم نمبر ۴ سے مسلمان ہونے کا حلف نامہ ختم کرنے کے خلاف مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ کے باہر سڑک پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ۔ مظاہرہ کا اہتمام جمعیت علماء اسلام ملتان نے کیا تھا اور گرمی کی شدت ہونے کی وجہ سے سڑک پر مظاہرین کے لئے خیمہ بھی لگا دیا گیا تھا۔ مظاہرہ سے جمعیت علماء اسلام کے رہنماؤں حاجی حبیب الرحمن، ڈاکٹر محمد عارف ، قاری قمر طاہر ، قاری محمد طیب جالندھری جماعت اسلامی کے رہنما راؤ ظفر اقبال ، خواجہ عبید الرحمن ، جمعیت علماء پاکستان کے انتظار حسین قریشی ، مجلس احباب کے قاری عزیز الرحمن ہاشمی ، مجلس تحفظ ختم نبوت کے مولانا بشیر احمد اور دیگر نے خطاب کیا ، مقررین نے کہا کہ موجودہ حکومت مسلسل اسلام کے خلاف سازشوں میں مصروف ہے اور یہود و ہنود اور نصاریٰ کے اشارہ پر پاکستان کے نظریاتی تشخص کو ختم کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ نظریہ پاکستان کے خلاف ایک سازش ہے اور دو قومی نظریہ کو تباہ کرنے کی ایک بھیانک کوشش ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت امریکہ کے اشارہ پر قادیانیت کے خلاف آئین میں موجود شق اور توہین رسالت کی ایکٹ میں ترمیم کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور ایک سازش کے تحت قادیانیوں کو ملک کے اہم ترین مناصب پر فائز کیا جا رہا ہے اور ان کے لئے مراعات بڑھتی جارہی ہیں اور اسی بناء پر مرزائیوں کی اسلام اور پاکستان کے خلاف سازشوں میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں نے ۱۹۵۳ء اور ۱۹۷۴ء کی تحفظ ختم نبوت کی تحریکوں میں زبردست قربانیاں دے کر قادیانیوں کو قومی اسمبلی میں اقلیت قرار دلایا تھا اور اب اگر ان کی اس حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی تو پاکستانی عوام اسے کسی صورت قبول نہیں کریں گے اور تحفظ ختم نبوت کے لئے سڑکوں پر نکل آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اسی سلسلے میں ۲۸ مئی کو لاہور میں آل پارٹیز ختم نبوت کانفرنس منعقد ہو رہی ہے جس میں اس مسئلہ پر متفقہ لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج کی معاونت کے ساتھ امریکی فوج قبائلی علاقوں کے معصوم اور بیگناہ افراد پر جو مظالم ڈھا رہی ہے ہم اس کی بھی شدید مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ جہادی اور دینی تنظیموں کے کارکنوں اور رہنماؤں کی بلاجواز گرفتاریاں فوری طور پر بند کی جائیں ۔ اس موقعہ پر مظاہرین نے امریکہ اور پرویز مشرف کے خلاف زبردست نعرہ بازی بھی کی اور مطالبہ کیا کہ ووٹر
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
لسٹوں میں مذہب کا خانہ دوبارہ شامل کیا جائے ورنہ حکومت کے خلاف زبردست تحریک چلائی جائے گی۔ واضح رہے کہ یہ پہلا موقعہ تھا کہ مظاہرہ میں پولیس موجود نہیں تھی۔ وہاڑی سے دریں اثناء ووٹر لسٹوں میں ختم نبوت کا حلف نامہ اور قادیانیوں کی شناخت ختم کرنے اور امریکی کمانڈوز کی قبائلی علاقوں میں دینی مدارس کے اندر چھاپے کے خلاف وہاڑی کی مساجد میں قراردادیں منظور کی گئیں۔ مساجد میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے علماء کرام مولانا کرم الٰہی فاروقی، مولانا ادریس ضیاء، علامہ غلام قنبر عسکری، عبدالخالق وٹو، قاری ظہور الحق، چوہدری مقصود احمد و دیگر نے کہا کہ حکومت کی طرف سے مخلوط انتخابات کے اعلان کے بعد رائے دہندگان اور امیدواران کے لئے مذہبی بنیاد پر علیحدگی کا تصور ختم کر دیا گیا ہے۔ ووٹر فارم میں مذہب کا خانہ خصوصاً قادیانیوں کے متعلق حلفیہ بیان کا کالم ختم کر دیا گیا ہے۔ اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ۳۹ ہزار قادیانیوں نے اپنا نام مسلم ووٹر لسٹ میں درج کروا دیا ہے۔ جمعیت علماء اسلام کی طرف سے پیش کی گئی ان قراردادوں میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی فوجی کمانڈوز کے پاکستان آرمی کے ساتھ دینی مدارس پر چھاپے قابل افسوس ہیں۔ امریکی فوجی چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کر رہے ہیں۔ قبائلی علاقوں میں آپریشن بند کیا جائے۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے جنگ کے تمام ایڈیشنوں میں ذیل کا اشتہار ۱۱؍مئی کو شائع کرایا
صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف سے علماء کرام کا مطالبہ
ووٹر لسٹ فارم میں عقیدہ ختم نبوت سے متعلق حلف نامہ حذف کرنا
آئین کی سراسر خلاف ورزی ہے، ووٹر لسٹ فارم میں فوری طور پر حلف نامہ شامل کیا جائے
ہزاروں قادیانیوں نے مسلمانوں کی ووٹر لسٹ فارم میں اپنا نام درج کرا دیا
چیف الیکشن کمشنر فوری طور پر نوٹس لیں
شناختی کارڈ، پاسپورٹ، ووٹر لسٹ وغیرہ کے فارم میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان حد امتیاز کیلئے حلف نامہ درج تھا جس کے مطابق مسلمان حلف نامہ پر دستخط کرتا تھا کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین تسلیم کرتا ہے اور آپؐ کے بعد کسی بھی مدعی نبوت کو نبی یا مذہبی مصلح تسلیم نہیں کرتا۔ یہ حلف نامہ ووٹر لسٹ میں مخلوط انتخابات کیلئے استعمال ہوتا تھا اور جداگانہ انتخابات کے وقت بھی یہی حلف نامہ رکھا گیا تھا، مگر موجودہ حکومت کی جانب سے مخلوط انتخابات کے اعلان کے بعد جو نیا ووٹر لسٹ فارم شائع ہوا ہے اس سے یہ حلف نامہ نکال دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے قادیانیت سے متعلق دوسری آئینی ترامیم اور امتناع قادیانیت آرڈی نینس غیر مؤثر ہو کر رہ گیا ہے اور ہزاروں قادیانیوں نے اس سے ناجائز فائدہ اٹھا کر اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے ہوئے اپنا نام مسلمانوں کی ووٹر لسٹ میں درج کرا دیا ہے۔ اس بنا پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت یہ مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہے کہ جس طرح جنرل پرویز مشرف نے عبوری آئین (پی سی او) میں قادیانیت سے متعلق ترامیم اور اسلامی دفعات کو شامل کر کے پاکستان کے اسلامی تشخص کو برقرار رکھا تھا اسی طرح وہ فوری طور پر ووٹر لسٹ فارم میں عقیدہ ختم نبوت سے متعلق اس حلف نامہ کو بھی دوبارہ شامل کریں اور پاسپورٹ کی طرح شناختی کارڈ میں بھی مذہب کے خانہ کا اضافہ کریں۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ۔ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت
حضوری باغ روڈ، ملتان ۔ فون ملتان:- 514122 فون کراچی:- 7780337
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ادارتی نوٹ روزنامہ نوائے وقت لاہور
طریق انتخاب پر علماء کرام کی تشویش؟
پاکستان کے مذہبی مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام نے جداگانہ طرز انتخاب اور ووٹ کے لئے عقیدہ ختم نبوت کا حلف ختم کرنے کے حکومتی فیصلوں کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ دستور کی اسلامی دفعات کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ علماء کرام کی تشویش اور متذکرہ مطالبے کا پس منظر یہ ہے کہ گزشتہ دنوں امریکی کانگریس کی طرف سے قادیانیوں کو مسلمان تسلیم کرنے کے مطالبہ کے فوراً بعد مسلم اور غیر مسلم دونوں کے الگ الگ اندراج اور ووٹر فارم میں مذہب اور عقیدہ ختم نبوت کا حلف نامہ ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا جو عملاً مسلمانوں اور قادیانیوں کا فرق ختم کرنے کے مترادف ہے۔ اس اقدام کو عوام الناس کی آنکھوں سے اوجھل کرنے کے لئے عام انتخابات کو مخلوط طور پر عمل میں لانے کا اعلان بھی کیا گیا۔ ان کالموں میں لکھا جا چکا ہے کہ مخلوط انتخابات دو قومی نظریئے کی نفی کرنے اور تخلیق پاکستان کے عمل کے بطلان کے مترادف ہے اور تجویز پیش کی گئی تھی کہ مخلوط انتخاب کے ذریعے قادیانیوں کو اپنے اقلیتی حقوق سے ماورا ہونے اور قومی سیاست کے دھارے میں اپنے غیر اسلامی تشخص سے ضم ہونے کی اجازت نہ دی جائے۔ جداگانہ انتخابات کا طریق جنرل ضیاء الحق کے دور میں زیر عمل آیا تھا اور اس کے تحت چند انتخابات کرائے جاچکے ہیں جن میں اقلیتوں اور قادیانیوں کو اپنی مخصوص نشستوں پر انتخابات لڑنے کا حق حاصل تھا۔ ان انتخابات میں کسی اقلیتی گروپ نے کبھی اعتراض نہیں اٹھایا اور نہ مخلوط انتخابات میں اپنا وجود ضم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ تاہم قادیانیوں کا مسئلہ یکسر جداگانہ ہے۔ وہ اسلام کے دھارے سے اپنی سوچی ہوئی اور انگریزوں کے مفاد کی ”اختراعات“ سے خود علیحدہ ہوئے ہیں اور اب عقیدہ ختم نبوت کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ دوم وہ انگریزی حکومت کے دور سے مسلمانوں کے قلوب سے جذبہ عقیدہ جہاد ختم کرنے میں مصروف ہیں۔ ان کا موخر الذکر عمل امریکی مفادات کے مطابق ہے۔ اس لئے ان کے حق میں امریکی کانگریس نے بھی آواز اس وقت اٹھائی جب پاکستان پوری طرح امریکی نرغے میں آیا ہوا ہے اور اس کی سب شرطیں قبول کر رہا ہے۔ لیکن اب ریفرنڈم کے بعد پلوں کے نیچے سے کچھ پانی بہہ چکا ہے، مزید بہہ رہا ہے۔ عوام کے مشاہدات نے ان کی کایا پلٹ دی ہے۔ ریفرنڈم کے نتائج نے پوری قوم کی سوچ کا دھارا تبدیل کر دیا ہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے بعد از ریفرنڈم اپنی تقریر میں اسلامی اقدار کے مطابق جمہوریت قائم کرنے کا تذکرہ کیا ہے تو ان کا فرض ہے کہ وہ اسلام کی کسی مسخ شدہ صورت کو قبول نہ کریں۔ پاکستان کا قیام جمہوریت کے وسیلے سے اسلامی اقدار کے تحفظ کے لئے ہی عمل میں لایا گیا تھا۔ اس کی اساس دو قومی نظریئے پر ہے جسے جداگانہ طرز انتخاب سے قائم رکھا جاسکتا ہے۔ تمام مذہبی مکاتب فکر کے علماء نے حکومت کے لائحہ عمل پر تشویش کا اظہار کیا ہے تو حکومت کو عامۃ الناس کے مذہبی جذبات کو پیش نظر رکھنا چاہئے۔ کیونکہ جداگانہ طریق تخلیق پاکستان کی نظریاتی اساس کے عین مطابق ہے۔ مخلوط انتخاب کا جو شوشہ چھوڑا گیا ہے اسے فوری طور پر واپس لے لینا چاہئے۔ اس اعلان میں جتنی بھی تاخیر کی جائے گی وہ نامناسب، ناواجب اور عوام الناس کے دینی احساسات اور عقیدہ ختم نبوت کے خلاف ہوگی۔
(نوائے وقت ۱۱؍مارچ ۲۰۰۲ء)
۱۲؍ مئی کو کراچی میں علماء کرام کا اجلاس
ووٹر لسٹوں سے ختم نبوت کے اقرار کے حلف نامے کے اخراج پر احتجاج کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ ارباب اقتدار کو ہنوز اس مسئلہ کی سنگینی کا احساس نہیں ہوا ہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے گزشتہ دنوں ۱۲؍ مئی ۲۰۰۲ء کو علماء کرام کو اس مسئلہ کی نزاکت کا احساس
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دلانے اور انہیں صحیح صورتحال سے آگاہ کرنے کے لئے دفتر ختم نبوت کراچی میں ایک خصوصی اجلاس کا انعقاد کیا ۔ جس کی صدارت بقیۃ السلف ، برکۃ العصر ، مخدوم العلماء ، استاذ الاساتذہ ، شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانا سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم العالیہ نے فرمائی ۔ جب کہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے صدر اور جامعہ فاروقیہ کراچی کے رئیس شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب اور مدرسہ احسن العلوم کراچی کے شیخ الحدیث حضرت مولانا زرولی خان صاحب اور جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کے رئیس ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر صاحب خصوصی طور پر اس اجلاس میں شریک ہوئے ۔ اس اجلاس میں مختلف مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں اور دینی مدارس کے ارباب اہتمام اور علماء کرام کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی ۔ اس موقع پر اجلاس کے شرکاء کو حکومت کی جانب سے جدا گانہ طرز انتخاب کو ختم کر کے مخلوط طرز انتخاب کا طریقہ کار رائج کرنے اور اس کی وجہ سے نئے شائع ہونے والے ووٹر لسٹ فارم نمبر ۴ سے عقیدہ ختم نبوت کی تصدیق کے حلف نامہ کے اخراج کے مضمرات اور اس حوالے سے پاکستانی عوام میں پائی جانے والی تشویش سے آگاہ کیا گیا ۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنماؤں مولانا علامہ احمد میاں حمادی اور مولانا نذیر احمد تونسوی نے اس موقع پر اجلاس کے شرکاء کو آگاہ کیا کہ عقیدہ ختم نبوت اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے اور اسلام اور دیگر مذاہب کے درمیان اصل اور بنیادی فرق میں سے ایک ہے۔ مخلوط طرز انتخاب کی بحالی سے قبل جداگانہ طرز انتخاب میں ووٹر لسٹوں میں ہر مسلمان کو آنحضرت ﷺ کے آخری نبی ماننے کے عقیدہ کے اقرار کے حلف نامے پر دستخط کرنا لازمی تھا ۔ موجودہ ریفرنڈم سے قبل جو نئے ووٹر لسٹ فارم شائع کئے گئے ان سے اس حلف نامے کو حذف کر دیا گیا ۔ جس کی وجہ سے نہ صرف مسلم اور غیر مسلم کی تفریق ختم ہو گئی ۔ بلکہ قادیانیوں کو اپنے آپ کو ووٹر لسٹوں میں مسلمان ظاہر کر کے اپنے ووٹ کا اندراج مسلمان کی حیثیت سے کرانے کا موقع مل گیا ۔ جس کی وجہ سے ہزاروں قادیانیوں نے غیر قانونی طور پر اپنے ووٹوں کا اندراج مسلمان کی حیثیت سے کروایا ۔ حضرت مولانا مفتی محمد جمیل خان نے اجلاس کو بتایا کہ قادیانیوں نے ہمیشہ اسلام اور پاکستان سے غداری کی ہے ۔ انہوں نے ملک کو دنیا بھر میں انسانی حقوق کی بدترین صورتحال کے حوالے سے بدنام کیا ہوا ہے ۔ ان کی اوچھی حرکتوں کی وجہ سے آئے دن قادیانیوں سے متعلق قوانین اور توہین رسالت کے قانون کو ختم کرنے کے مطالبات سامنے رہتے ہیں ۔
علماء کرام نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ووٹر لسٹ سے عقیدہ ختم نبوت کے اقراری حلف نامے کو حذف کرنے والے اقتدار پر فائز نہیں رہ سکتے ۔ حضور ﷺ کے غداروں کے لئے اس ملک میں کوئی جگہ نہیں اس حلف نامے کو حذف کرنے کا نتیجہ اپنے اقتدار کو خود اپنے ہاتھوں سے تباہ کرنے کے سواء اور کچھ نہیں ۔ اب بھی وقت ہے کہ حکومت ۲۸ مئی سے قبل اس اقدام کو واپس لے کر ملک کے اسلامی آئینی تشخص کو بحال کر سکتی ہے۔ بصورت دیگر ۲۸ مئی کو اس کے خلاف اعلان جہاد کیا جائے گا ۔ پاکستان کے بارے میں پایا جانے والا اسلامی تصور پہلے ہی ترکی طرز کے سیکولر طرز حیات کے دعویداروں کی وجہ سے مسخ ہوتا جا رہا تھا اور اب عقیدہ ختم نبوت سے روگردانی کر کے اس پر سب سے کاری ضرب لگانے کی کوشش کی گئی ہے ۔ عقیدہ ختم نبوت وہ عقیدہ ہے جس پر مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر کا اجماع ہے ۔ اس عقیدہ سے کسی مسلمان کو اختلاف نہیں ۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ کو آخری نبی نہ ماننے والا مسلمان ہو ہی نہیں سکتا ۔ اس مسئلہ کے بارے میں اللہ رب العزت نے اپنی مقدس کتاب قرآن کریم میں واضح احکامات جاری فرما دیئے ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ ، صحابہ کرام ؓ ، تابعین ، تبع تابعین سے لے کر موجودہ صدی تک پوری امت کا اس مسئلہ پر اجماع ہے ۔
مرزا غلام احمد قادیانی نے ۱۸۹۲ء میں مجدد ہونے کا دعویٰ کیا اور ہندوستان کے شہر لدھیانہ سے اپنی دجالی بیعت کا آغاز کیا تھا ۔ جب اسے اس دعویٰ سے مطلوبہ نتائج نہ ملے تو اس نے ۱۹۰۱ء میں نبوت کا دعویٰ کیا ۔ اس کے پیروکاروں نے اسے نبی ، مسیح ، ملہم ، مجدد ، نبی کریم ﷺ
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کا ظل اور بروز اور نہ معلوم کیا کیا مان لیا اور جو لوگ مرزا غلام احمد کے جھوٹے دعویٰ نبوت پر ایمان نہیں لائے۔ انہیں خود مرزا اور اس کے پیروکاروں نے کافر، ولد الزنا اور اس جیسی دیگر غلیظ اور مکروہ گالیوں سے نوازا۔ انبیاء کرام علیہم السلام بھی مرزا غلام احمد کی بد زبانیوں سے محفوظ نہ رہ سکے۔ ان تمام ہفوات کی وجہ سے علماء امت نے مرزا غلام احمد اور اس کے پیروکاروں کے کفر کا فتویٰ دیا اور پاکستان کی قومی اسمبلی نے ۱۹۷۴ء میں قادیانیوں کے کفر پر مہر تصدیق ثبت کی۔ جس کی وجہ سے ان کا شمار سرکاری طور پر بھی غیر مسلموں کی فہرست میں ہونے لگا۔
پاکستان میں گزشتہ سال تک انتخابات کے حوالے سے جداگانہ طرز انتخاب کا طریقہ کار رائج تھا۔ جس کے تحت انتخابات کے لئے اپنے ووٹ کا اندراج کرانے والے افراد کو مسلم اور غیر مسلم کے دو الگ الگ ووٹر لسٹ فارم جاری کئے جاتے تھے۔ مسلم ووٹروں کے لئے جاری ہونے والے ووٹر لسٹ فارم نمبر ۴ میں ہر مسلم ووٹر کو فارم میں درج ایک حلف نامہ بھرنا پڑتا تھا۔ جس کے تحت وہ اس بات کا حلفیہ اقرار کرتا تھا کہ وہ حضور اکرم ﷺ کو خاتم النبیین تسلیم کرتا ہے اور آپ کے بعد کسی بھی مدعی نبوت کو نبی تسلیم نہیں کرتا۔ طرز انتخاب کی تبدیلی کے ساتھ ہی نئے ووٹر لسٹ فارم کا اجرا ہوا۔ ان نئے فارموں میں دانستگی یا نادانستگی سے عقیدہ ختم نبوت کے اقرار پر مشتمل اس حلف نامے کو حذف کر دیا گیا۔ جس کی وجہ سے قادیانیوں کو یہ فری ہینڈ مل گیا کہ وہ نئے مسلم ووٹر لسٹ فارم میں اپنے آپ کو کھلم کھلا مسلمان ظاہر کر کے اپنے ووٹوں کا اندراج مسلمان کی حیثیت سے کرائیں۔ قادیانیوں نے اس سنہری موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہزاروں کی تعداد میں اپنے ووٹوں کا اندراج مسلمانوں کی حیثیت سے کروایا۔ قادیانیوں کی اس غیر آئینی اور غیر قانونی حرکت کا ملکی اخبارات نے مختلف خبروں کے ذریعہ انکشاف کیا۔
علماء کرام نے کہا کہ ووٹر لسٹ سے عقیدہ ختم نبوت کے اقرار پر مشتمل حلف نامے کا اخراج کرنے والے اقتدار پر فائز نہیں رہ سکتے۔ حضور ﷺ کے غدار کے لئے اس ملک میں کوئی جگہ نہیں۔ قادیانیوں کو مسلمانوں کی صف میں شامل کرنے کی ہر غیر قانونی حرکت کی مخالفت کی جائے گی۔ حضور ﷺ کو آخری نبی ماننا اسلام، یہودیت، عیسائیت اور قادیانیت کے درمیان بنیادی فرق ہے۔ اس عقیدہ پر مشتمل حلف نامے کو حذف کرنا اسلام کی بنیادوں کو منہدم کرنے کی کوشش اور آئین پاکستان سے غداری کے مترادف ہے۔ آئین کی اسلامی دفعات، توہین رسالت کے قانون اور قادیانیت سے متعلق قوانین اور آئینی ترامیم میں کسی قسم کے ردو بدل یا ترمیم کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ملک کے آئینی تشخص کو ملیا میٹ کرنے کی ہر کوشش ناکام بنادی جائے گی۔
شیخ الحدیث مولانا سرفراز خان صفدر صاحب نے اس حلف نامے کے اخراج کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات کے ذریعہ قادیانیوں کو غیر آئینی اور غیر قانونی طور پر مسلمان ثابت کرنے اور مسلمانوں کی صفوں میں داخل کرنے کی ہر کوشش کی بھرپور مزاحمت کی جائے گی اور تمام مسلمان اپنے تمام تر اختلافات بھلا کر اس مسئلہ پر متفقہ طور پر جدوجہد کرنے کے لئے تیار ہیں۔ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سربراہ اور جامعہ فاروقیہ کے رئیس حضرت مولانا سلیم اللہ خان نے اس حلف کے حذف کئے جانے کو اسلام کی بنیادوں کو منہدم کرنے کی مذموم کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ امت مسلمہ کے اتحاد کے ذریعہ ان کوششوں کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کے رئیس مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر نے کہا کہ ملک کے آئینی تشخص کو ملیا میٹ کرنے کے لئے بیرونی اشاروں پر مختلف اسلام دشمن این جی اوز اسلام کے متفقہ عقائد اور قوانین کے خلاف اعتراضات اور احتجاج کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قادیانیوں اور این جی اوز کی شہ پر عقیدہ ختم نبوت کا حلف نامہ یا دیگر اسلامی قوانین کو حذف کرنا اسلام اور آئین پاکستان سے غداری کے مترادف ہے۔ جامعہ عربیہ احسن العلوم کے مہتمم مولانا مفتی زرولی خان نے کہا کہ آئین کی اسلامی دفعات میں کسی قسم کے ردو بدل یا ترمیم کی کسی
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
صورت میں اجازت نہیں دی جائے گی اور ایسی ہر کوشش کے مکمل سدباب تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔ جمعیت علماء اسلام کے رہنما مولانا خان محمد ربانی نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام ایسی ہر کوشش کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گی اور تمام مذہبی جماعتوں کے علاوہ دیگر جماعتوں کے تعاون سے ایسی ہر کوشش کو ناکام بنا دیا جائے گا اور ۲۸؍مئی کو جمعیت علماء اسلام کے زیر اہتمام ہونے والے اجلاس میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔
اس موقع پر اجلاس میں یہ قرارداد منظور کی گئی کہ اگر ۲۸؍مئی تک حلف نامے کے اخراج کا فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو ملک گیر تحریک کا اعلان کیا جائے گا۔ قرارداد کے ذریعہ یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ اس حلف نامے کے اخراج میں ملوث افراد کو بے نقاب کر کے انہیں کڑی سزا دی جائے۔ تاکہ آئندہ کوئی ایسی حرکت کرنے کی جرأت نہ کر سکے۔
اس موقع پر قاری محمد عثمان، مولانا سید حماد اللہ شاہ، مولانا عبدالرشید انصاری، مولانا رشید احمد درخواستی، مولانا محمد طیب نقشبندی، مولانا قاری عمر خطاب، قاری شفیق الرحمن علوی، مولانا محمد یحییٰ لدھیانوی، مولانا امان اللہ خالدی، مولانا عبدالعزیز لاشاری، مفتی عبدالجبار، مولانا گل محمد تالونی، مولانا عبدالکریم عابد، مولانا خان محمد ربانی، مولانا ضمیر احمد، مولانا امجد حسین، مولانا محبّ الرحمن، مولانا آفتاب احمد، مولانا خورشید احمد، مولانا فیاض احمد، مولانا محمد مظہر، مولانا شفیق الرحمن، مولانا سعید الرحمن، مولانا محمد ہارون، مولانا محمد اسعد، مولانا عبدالرحیم، مولانا سید عبداللہ، مولانا وکیل احمد، مولانا عبادالرحمن، مولانا محمد انور، مولانا عبدالرحمن، مولانا محمد رحیم، مولانا محمد ارشد، مولانا عبداللہ، مولانا غلام محمد، مولانا محمد طاہر، مولانا صلاح الدین، مولانا سید شفیع الرحمن، مولانا سمیع اللہ، مولانا عبدالسمیع رحیمی، مولانا بلال احمد، مولانا محمد نعیم، مولانا سید شاہ محمد، مولانا شجاع اللہ، مولانا عبدالقادر، مولانا عبدالغفار، مولانا احسان اللہ، مولانا محمد نسیم، مولانا حافظ عبدالقیوم نعمانی، مولانا امداد اللہ، حافظ خلیل الرحمن زاہد، مولانا عبدالغنی، مولانا حبیب اللہ، مولانا الطاف الرحمن عباسی، مولانا محمد جمیل، مولانا محمد سلیم، مولانا سعد اللہ، مولانا امجد علی، مولانا محمد فیاض، مولانا محمد حنیف، مولانا دلدار محمد، مولانا عبدالشکور، مولانا محمد شکیل، مولانا حبیب الرحمن، مولانا قاری علی حسن، مولانا اصغر علی، مولانا جلیل احمد، مولانا مظاہر حسن، مولانا صدیق احمد، مولانا عبدالکریم، مولانا ڈاکٹر نصیر الدین، مولانا معین الدین، مولانا عبدالستار، مولانا ابو معاویہ، مولانا ابو ہریرہ، مولانا محمد طاہر، مولانا ظفر احمد آزاد، مولانا محمد حنیف فاروقی، مولانا عبدالجبار، مولانا ارشد اقبال، مولانا محمد سلطان، مولانا محبّ اللہ، مولانا سعید احمد جلال پوری، مولانا عبدالقیوم دین پوری، حافظ عبدالمالک صدیقی، مولانا محمد ایاز، باز محمد، مولانا محمد عثمان الحق، مولانا محمد رفیق، مولانا محمد یوسف، مولانا حبیب اللہ، مولانا نعیم امجد سلیمی، مولانا قاری زبیر احمد، مولانا عزیز الرحمن رحمانی، مولانا محمد طلحہ رحمانی، مولانا محمد مراد، مولانا سید محمد عمر، مولانا نور الحسن، مولانا شہاب الدین، مولانا اسعد اقبال، مولانا محمد آصف، مولانا محمد شعیب، مولانا شہزاد احمد مدنی، مولانا سید حسین، مولانا عبدالرحیم بخاری، مولانا احتشام الحق، مولانا گل محمد آفریدی، مولانا قاری اللہ داد، مولانا قاری محمد طیب حقانی، مولانا عبدالرحمن عزیز، مولانا محمد جمال الدین، مولانا محمد اشرف کھوکھر، عبداللطیف طاہر، مولانا محمد حسین، مولانا محمد نعمان، رانا محمد انور، سید اطہر عظیم، منظور احمد راجپوت ایڈووکیٹ، جمال عبدالناصر شاہد، ملک ریاض الحق، قاری عبدالعزیز، انوار الحسن، سید کمال شاہ، اللہ وارث اور دیگر حضرات نے ان علماء کرام کی مکمل تائید کرتے ہوئے انہیں ہر معاملہ میں اپنی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔
کراچی کے علماء کرام کا احتجاج:
کراچی (پ ر) ممتاز علماء کرام ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، مفتی نظام الدین شامزئی، مفتی محمد جمیل خان، مولانا سعید احمد جلال
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پوری، مولانا نذیر احمد تونسوی، علامہ محمد سعید لدھیانوی، مولانا سید حماد اللہ شاہ، قاری محمد عثمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ عقیدہ ختم نبوت پر مشتمل حلف نامہ ووٹر لسٹ میں دوبارہ شامل کرنے کا مطالبہ کرنا مسلمانان پاکستان کے دلوں کی آواز ہے اور ان کا آئینی اور قانونی حق ہے جسے ہر صورت میں پورا کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت کے غداروں کو پاکستان کے اسلامی آئینی تشخص میں تبدیلی کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو قادیانی نواز اسٹیٹ نہیں بننے دیا جائے گا۔ انہوں نے قادیانیوں کو چور دروازے سے مسلمان ثابت کرنے کی تحریک کو پاکستان کے آئین سے غداری قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مسلمان قومی اسمبلی کے ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کے فیصلے کے تحت قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت تصور کرتے ہیں۔ انہوں نے عقیدہ ختم نبوت کو اسلام کا بنیادی عقیدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جس ملک میں حضور ﷺ کی عزت و ناموس محفوظ نہ ہو اس ملک کا خدا ہی حافظ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو لاکھوں مسلمانوں کے خون کا نذرانہ پیش کر کے اس لئے بنایا گیا تھا تاکہ اس میں اسلام کو سر بلندی حاصل ہو اور اس میں غیر اسلامی اقدار کی بجائے مکمل اسلامی نظام کا نفاذ ہو۔ لیکن یہ ایک المیہ ہے کہ اس ملک میں ناموس رسالت کا مذاق اڑانے والوں اور عقیدہ ختم نبوت سے غداری کرنے والوں کو بیرونی ممالک کی شہہ پر ناجائز مراعات فراہم کی جارہی ہیں اور ملک کی مسلم اکثریت کا استحصال کیا جارہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ووٹر لسٹ میں فوری طور پر عقیدہ ختم نبوت کے اقرار کا حلف نامہ شامل کیا جائے اور جن قادیانیوں نے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر کے ووٹر لسٹوں میں اپنے ناموں کا اندراج کروایا ہے انہیں پاکستان کے قانون کے تحت عبرتناک سزا دی جائے۔
۱۳؍ مئی فیصل آباد میں کنونشن
فیصل آباد (نمائندہ خصوصی) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی دعوت پر مختلف مکاتب فکر کے علماء نمائندہ تاجران اور دینی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کا ایک مشترکہ اجلاس گزشتہ شب مرکزی جامع مسجد محمود میں شیخ الحدیث مولانا نذیر احمد کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں نئے ووٹر فارم سے مذہب کا خانہ اور عقیدہ ختم نبوت سے متعلق حلف نامہ کی عبارت کو ختم کئے جانے پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ دستور پاکستان میں قادیانیوں سے متعلق واضح آئینی حیثیت کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو اسلامیان پاکستان چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ تاجر رہنماؤں اور علمائے کرام نے زور دے کر کہا کہ یہ مسئلہ حل ہو چکا ہے۔ پوری امت کا قادیانیوں کے کفر پر اتفاق ہے۔ ۱۹۷۴ء کی پارلیمنٹ نے مسلمانوں کے دیرینہ مطالبے پر قادیانی جماعت کو صفائی کا پورا موقع دیئے جانے کے بعد متفقہ طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا تھا۔ اجلاس میں کہا کہ حکومت نے ووٹر فارم میں مذہب کا خانہ اور ختم نبوت کا حلف نامہ بحال نہ کیا تو دینی جماعتوں کے سر براہی اجلاس کے فیصلوں کے مطابق تحریک چلائی جائے گی۔
اجلاس میں مولانا محمد اشرف ہمدانی، صاحبزادہ طارق محمود، علامہ غلام رسول ایم اے، مولانا محمد رفیق جامی، محبوب الزمان بٹ، مفتی محمد ضیاء الحق، مولانا محمد یوسف انور، مولانا امجد علی امجد، مولانا فقیر محمد، مولانا ارشاد الحق اثری، چوہدری اسلم علی واہلہ، محمد عظیم رندھاوا، قاری محمد ابراہیم، مولانا رمضان آفتاب، مولانا عبدالرشید ارشد، مولانا محمد رشید عمر، ڈاکٹر جاوید اختر، عبدالسلام فانی، مولانا حق نواز خالد، مولانا حبیب خان، سید مہدی کاظمی، صوفی غلام رسول، مفتی محمد مدنی، قاری محمد یونس رحیمی، حافظ ناصر، میاں عبدالمنان، شیخ محمد بشیر، حاجی محمد اکرم بیگ، عروۃ الوثقی، میاں ریاض جاوید، میاں محمد طیب ایڈووکیٹ، ملک محمد اشرف، میاں عبدالطیف نے شرکت کی۔
اجلاس میں کہا گیا کہ اسلامی دفعات اور بالخصوص قادیانیوں سے متعلق آئینی ترمیم کو پی سی او میں تحفظ دیا گیا ہے۔ جداگانہ طریق
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
انتخاب کی بجائے مخلوط طریق انتخاب کی آڑ میں مسلم اور غیر مسلم کا تشخص ختم کیا جارہا ہے۔ یہ اقدام دو قومی نظریہ کی نفی کے مترادف ہے۔ پاکستان کا قیام جداگانہ انتخاب کے ذریعہ عمل میں آیا تھا۔ اجلاس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ووٹر فارم نمبر ۴ میں مذہب کا خانہ اور عقیدہ ختم نبوت کا حلف نامہ بحال کیا جائے۔ ملک کے تحفظ، قومی سلامتی اور نظریہ پاکستان کے فروغ کے لئے جداگانہ طرز انتخاب اپنایا جائے۔ اجلاس میں پاکستان کی اسلامی نظریاتی حیثیت کے خلاف کئے جانے والے اقدامات پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور واضح کیا گیا کہ پاکستان کو سیکولر سٹیٹ بنانے کی سازشوں کو باہمی اتحاد کے ذریعہ ناکام بنا دیا جائے گا۔
اجلاس میں ایک قرارداد کے ذریعہ حالیہ کراچی کے بم دھماکے کے واقعہ کی پرزور مذمت کرتے ہوئے اس واقعہ کو پاکستان کی قومی سلامتی اور ملکی دفاع کے خلاف ایک بین الاقوامی سازش قرار دیا گیا۔ اس واقعہ کی آڑ میں دینی مذہبی اور جہادی تنظیموں کے خلاف کریک ڈاؤن کی مذمت کی گئی۔ حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ را اور موساد کے ایجنٹوں کے خلاف مؤثر کارروائی عمل میں لائی جائے اور قوم کو اصل حقائق سے آگاہ کیا جائے۔ اجلاس میں قبائلی علاقوں میں پاک امریکہ مشترکہ کمانڈو ایکشن پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور ان اقدامات کو قومی معاملات میں مداخلت قرار دیا گیا۔ اجلاس میں دینی مدارس کے خلاف حکومتی کارروائیوں کی مذمت کی گئی اور ان دینی مراکز کا وقار بحال رکھنے کا مطالبہ کیا گیا۔ اجلاس میں ڈاکٹر غلام مرتضیٰ ملک کے بہیمانہ قتل اور دہشت گردی کے واقعہ کی بھی مذمت کی گئی۔
حضرت مولانا شاہ احمد نورانی کا اخباری بیان
چنیوٹ (اے این این، این این آئی، ثناء نیوز) اسلام دشمن طاقتیں قادیانیوں کے ایماء پر مسلمانوں کے جذبہ جہاد کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔ کیونکہ قادیانی اسلام کے اہم رکن جہاد کے منکر ہیں۔ امریکہ جو قادیانیوں کا آقا ہے۔ دہشت گردی کا الزام لگا کر افغانستان کے بعد عراق پر حملہ کرنا چاہتا ہے۔ قائد جمعیت علماء پاکستان علامہ شاہ احمد نورانی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ حکومت قادیانیوں کو اتنا حوصلہ نہ دے۔ کیونکہ جو خاتم النبیین ﷺ کے وفادار نہیں۔ یہ پرویز مشرف کے ساتھ کبھی وفاداری نہیں کریں گے۔ انہیں ہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ووٹرلسٹ میں قادیانیوں کا اندراج اور حلف نامہ سے مذہب کا خانہ حذف کرنا حکومت کو بہت مہنگا پڑے گا۔ کیونکہ اس نازک مسئلہ پر تمام دینی جماعتیں اکٹھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے منہ کو مسلمانوں کا خون لگ گیا ہے۔ اب وہ دہشت گردی کے الزام میں عراق پر بھی حملہ کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ۱۹۷۳ء کے آئین میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا ہے۔ اس میں آئینی ترمیم کو ختم کیا گیا تو پھر حکومت کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔
(خبریں ملتان ۱۳ مئی)
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن کا بیان
راولپنڈی (نوائے وقت رپورٹ) جمعیت علماء اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت امریکی ایجنڈے پر عمل پیرا ہے اور قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جانے کے بارے میں ۱۹۷۳ء کی آئینی ترمیم کو ختم کرنے کے درپے ہے۔ اس مقصد کے لئے بتدریج آگے بڑھ رہی ہے پوری قوم کو عقیدہ ختم نبوت اور ناموس رسالت ﷺ کے تحفظ کی جدوجہد کے لئے تیار ہو جانا چاہئے۔ اسی سلسلے میں اٹھائیس مئی کو لاہور میں جے یو آئی کے زیر اہتمام آل پارٹیز ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوگی۔
اتوار کو اسلام آباد میں نوائے وقت سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ووٹر فارم سے عقیدہ ختم نبوت کو حذف کرنا خطرناک اقدام ہے۔ ہم پہلے ہی یہ کہہ رہے تھے کہ موجودہ حکومت میں قادیانی لابی بڑی اہمیت اختیار کئے ہوئے ہے۔ اب حالات اس
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بات کی تصدیق کر رہے ہیں۔ جنرل پرویز مشرف کو ریفرنڈم میں سوائے ربوہ کے کہیں ووٹ نہیں پڑے۔ صرف پاکستان میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں ریفرنڈم کو ایک ڈھونگ کہا جا رہا ہے۔ جس کے بعد حکومت کی پوزیشن بڑی کمزور ہوگئی ہے۔ اب آئندہ الیکشن کے بارے میں شکوک وشبہات پیدا ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں امریکی مداخلت بڑھتی جا رہی ہے جو ملکی داخلی خود مختاری اور قومی حمیت کے لئے چیلنج ہے۔ لوگوں میں اضطراب بڑھ رہا ہے۔ عوام ردعمل پر مجبور ہو رہے ہیں۔ پاکستان مسائل کے گرداب میں پھنستا جا رہا ہے۔ ہمارا اقتدار اعلیٰ اور قومی عزت و وقار تباہ ہو کر رہ گیا ہے۔ حکومت نے پریس ایڈوائس کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ ہم جو بات جلسوں میں کہتے ہیں۔ وہ دوسرے روز اخبارات میں نہیں آتی۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ پہلے گیارہ ستمبر کے واقعے کی آڑ لی گئی۔ اب کراچی میں فرانسیسیوں کی ہلاکت کی آڑ لے کر ملک بھر میں مذہبی لوگوں کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے۔ کیا تمام علماء کراچی کے واقعے میں ملوث ہیں؟ ممنوعہ تنظیموں کے نام لے کر ایسے لوگوں کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔ یوں ملک کا امیج تباہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بیرونی دنیا کو خوش کرنے کے لئے قادیانیوں کے بارے میں آئینی ترمیم کو ختم کرنا چاہتی ہے۔ لیکن ہم ایسا نہیں کرنے دیں گے۔ پوری قوم عقیدہ ختم نبوت اور ناموس رسالت ﷺ کے تحفظ کے لئے کٹ مرنے کے لئے تیار ہے۔
(نوائے وقت ملتان ۱۳ مئی)
۱۴ مئی بہاول پور ختم نبوت کنونشن
بہاولپور ( بیورورپورٹ ) آل پارٹیز مجلس عمل تحفظ ختم نبوت نے جداگانہ طرز انتخاب اور ووٹر فارم سے حلفیہ بیان کے خاتمے کو حکومت کی قادیانیت نوازی قرار دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اسلامی شناخت ختم کرنے والے اس قسم کے اقدامات کی پوری قوت سے مزاحمت کی جائی گی۔ مجلس عمل میں شامل تمام دینی جماعتوں کا اجلاس زیر صدارت مفتی عطاء الرحمن منعقد ہوا۔ جس میں حکومت کے اس طرز عمل پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس میں ۱۴ مئی کو کل جماعتی مجلس عمل کے انتخابات منعقد کرانے کا فیصلہ کیا گیا اور طے کیا گیا کہ ۲۰ مئی کو ہونے والے کل جماعتی مرکزی مجلس عمل کے اجلاس کے فیصلوں پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے گا۔ دریں اثنا بہاولپور میں اجتماعات میں حکومت کی قادیانیت نوازی کی بھرپور مذمت کی گئی اور ووٹر فارم میں بیان حلفی کی شق کو شامل کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
اجلاس میں حضرت مولانا بشیر احمد، حضرت حافظ سعید احمد صاحب جمعیت علماء اسلام کے دونوں گروپ اور جماعت اسلامی اہل حدیث اور بریلوی مکتب فکر کے نمائندوں نے شرکت کی۔ ۱۸ مئی ہفتہ صبح ۱۱ بجے پریس کانفرنس اور بعد نماز عصر جامع مسجد الصادق سے ایک احتجاجی جلوس نکالا جائے گا۔ مفتی عطاء الرحمن صدر مجلس عمل تحفظ ختم نبوت بہاول پور، مولانا محمد اسحاق ساقی مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بہاولپور۔
چیچہ وطنی کے علماء کرام کا بیان
چیچہ وطنی (نامہ نگار) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا عبدالحکیم نعمانی، قاری زاہد اقبال، حاجی محمد ایوب، حافظ محمد اصغر عثمانی، جمعیت علماء اسلام کے مولانا عبدالباقی، حافظ حبیب اللہ چیمہ نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ نئی ووٹر لسٹوں سے عقیدہ ختم نبوت کے حلف کا خاتمہ بدترین قادیانیت نوازی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمران اگر قانون رسالت ﷺ اور عقیدہ ختم نبوت کا دفاع نہیں کر سکتے تو اقتدار چھوڑ دیں۔ انہوں نے کہا قادیانی امریکی و برطانوی سامراج کے ایجنٹ ہیں اور امریکہ کی چھتری استعمال کر کے ناموس رسالت ﷺ کے تحفظ کے قوانین اور گستاخ رسول کی سزا کی دفعات کو ختم کرانے کی ناکام کوششوں میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۱۹۷۴ء کی متفقہ آئینی ترمیم اور امتناع قادیانیت ایکٹ کو ختم کرنے کی سازشوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ کیونکہ ناموس رسالت اور عقیدہ ختم نبوت امت مسلمہ کے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔
(نوائے وقت ملتان ۱۵؍ مئی)
روزنامہ اسلام کراچی کا اداریہ
ختم نبوت کے تحفظ کے لئے مشترکہ جدوجہد شروع کرنے کی ضرورت:
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے ووٹرلسٹ میں عقیدہ ختم نبوت کے اقرار پر مشتمل حلف نامے کے اخراج کے خلاف حکومت کو ۲۸؍ مئی تک کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ اس بات کا فیصلہ گزشتہ روز عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے مرکزی دفتر میں اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا ہے۔ جس سے اکابر علماء کرام و مشائخ عظام اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں شیخ الحدیث حضرت مولانا سرفراز خان صفدر، وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے صدر اور جامعہ فاروقیہ کے رئیس مولانا سلیم اللہ خان، جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کے رئیس مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر اور دیگر دینی رہنماؤں نے خطاب کیا۔
اس موقع پر جمعیت علماء اسلام کے رہنما مولانا خان محمد ربانی نے اعلان کیا کہ اگر حکومت نے ہماری مقررہ ڈیڈ لائن تک اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نہ کی تو آئندہ لائحہ عمل کا اعلان ۲۸؍ مئی کو کیا جائے گا۔ اجلاس میں ۲۸؍ مئی تک حلف نامے کے اخراج کے فیصلے کو واپس نہ لینے کی صورت میں ملک گیر تحریک کے اعلان کی قرارداد بھی منظور کی گئی۔ دریں اثناء ہمارے اسٹاف رپورٹر کے مطابق حکومت کی جانب سے قادیانیوں کے متعلق قوانین معطل کرنے، گزشتہ دنوں کوہاٹ کی ایک شرعی عدالت کے ایک فیصلے پر حکومت کی مبینہ اثر اندازی اور حدود آرڈیننس میں ترمیم کے خطرات کے خلاف متحدہ مجلس عمل میں شامل دینی جماعتوں کا پرامن احتجاج جاری ہے۔
اس سلسلے میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور جمعیت علماء اسلام کی جانب سے جمعہ کو پورے ملک میں یوم احتجاج منایا گیا۔ جس کی تمام مکاتب فکر کے مدارس کے پانچوں وفاقوں پر مشتمل اتحاد ”اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ“ نے بھی حمایت کی۔ علاوہ ازیں مختلف دینی جماعتوں کے رہنماؤں نے روزنامہ ”اسلام“ کو اپنے تاثرات ریکارڈ کراتے ہوئے تحفظ ناموس رسالت حدود آرڈیننس میں موجود اسلامی شقوں میں ترمیم اور ردو بدل کے فیصلے کو ملک میں داخلی انتشار پیدا کرنے اور ملک کو نئے بحران میں ڈالنے کی کوشش قرار دیا ہے اور حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ اسلامی حدود تعزیرات کے خلاف ہرزہ سرائیاں کرنے کے سلسلے کو بند نہ کیا گیا تو دینی جماعتوں کے احتجاج میں شدت پیدا ہو سکتی ہے۔
پاکستان کو ایک خوشحال، مستحکم اور ترقی یافتہ اسلامی فلاحی مملکت بنانا ہر محب وطن پاکستانی کا خواب اور ہر صاحب دل مسلمان کی آرزو ہے اور اسی خواب کی تعبیر اور آرزو کی تکمیل کے لئے پاکستانی قوم نے اب تک بے بہا قربانیاں دی ہیں اور پاکستان کو ایک مضبوط دفاعی قوت بنانے کے لئے پاکستان کے غریب عوام نے بے پناہ جذبہ ایثار وقربانی کا ثبوت دیا ہے۔ لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان کے اب تک کے حکمرانوں نے اپنے ذاتی مفادات اور عاقبت نا اندیشوں کی بناء پر قوم کی ان خواہشات کی تکمیل کا موقع نہیں آنے دیا۔ موجودہ حکومت نے شروع ہی سے نعرہ لگایا کہ پاکستان کو کرپشن، بدعنوانی، فرقہ واریت اور لسانیت سے پاک کر کے ترقی کی منزلوں تک پہنچایا جائے گا۔
اس سلسلے میں حکومت نے بعض اہم اقدامات بھی شروع کر دیئے۔ لیکن افسوس ہے کہ ان اقدامات اور اعلانات سے ملک میں بے چینی، انتشار، خلفشار اور مسائل کم ہونے کی بجائے بڑھتے جا رہے ہیں۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ بیرونی دباؤ کے آگے جھکتے چلے جانے اور حکومت پر اثر انداز ہونے والے حلقوں میں شامل لادین عناصر کے ہاتھوں یرغمال بن جانے کی وجہ سے حکومت کے تمام اقدامات کا رخ
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ملک کے حقیقی مسائل کرپشن، بدعنوانی، جہالت، بے روزگاری، گروہ بندی وفرقہ واریت کی جانب ہونے کی بجائے ملک کی نظریاتی اساس اور اسلامی تشخص کی طرف ہوگیا ہے اور پوری قوم کے متفقہ آئین کے اہم حصوں، توہین رسالت سے متعلق قانون، امتناع قادیانیت آرڈیننس، حدود آرڈیننس اور دیگر اسلامی شقوں کے خاتمے کے لئے استعماری طاقتوں کے کارندے سرگرم عمل ہیں اور یہ جاننے کے باوجود کہ ناموس رسالت کا مسئلہ پاکستان کے ۹۸ فیصد مسلمانوں کے ایمان کا جزو اور ان کے تمام طبقات اور گروہوں کا مشترکہ ومتفقہ مسئلہ ہے۔ ایسے اقدامات کئے گئے ہیں جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت بیرونی دباؤ کا شکار ہوکر ختم نبوت سے متعلق قوانین کو ختم کرنا چاہتی ہے۔ ووٹر لسٹوں سے ختم نبوت سے متعلق حلف نامے کا خاتمہ اس کی واضح مثال ہے۔
علاوہ ازیں گزشتہ دنوں کوہاٹ کی ایک شرعی عدالت کی طرف سے پاکستان میں پہلی بار رجم کے شرعی حکم کے اجراء کا حکم سامنے آیا تو پاکستان میں اس محکم شرعی حکم کے بارے میں جو طوفان بدتمیزی برپا کیا گیا اس سے دین دشمن عناصر کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور صورتحال کی سنگینی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ یہ صورتحال پاکستان کے تمام دردمند مسلمانوں کے لئے باعث تشویش ہے۔ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ قوم نے اپنی تمام تر کمزوریوں اختلافات اور گروہ بندیوں کے باوجود حبیب کبریا حضور خاتم النبیین ﷺ کی ناموس پر آنچ نہیں آنے دی ہے اور یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ سب سے زیادہ مالی وجانی قربانیاں پاکستانی عوام نے ختم نبوت کے تحفظ کے لئے دی ہیں۔ اس لئے حکومت کا بین الاقوامی اسلام دشمن قوتوں کے دباؤ میں آکر ختم نبوت سے متعلق قوانین کو ختم یا معطل کرنا انتہائی درجے کا غیر دانشمندانہ اقدام ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ اس سلسلے میں عوام میں پیدا ہونے والے شکوک وشبہات کے فوری ازالے کے لئے ضروری اقدامات کرے اور پاکستان کی دینی وسیاسی جماعتوں کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ تحفظ ختم نبوت کے سلسلے میں متحد ہوکر جدوجہد کریں اور پاکستان کے مسلمانوں کی قیادت کا فریضہ سرانجام دے کر اپنی دینی وملی ذمہ داریاں نبھائیں۔
(۱۶؍مئی ۲۰۰۲ء)
۱۷؍مئی رحیم یار خان میں ختم نبوت کنونشن
رحیم یار خان (بیورو رپورٹ، نامہ نگار) عقیدہ ختم نبوت مسلمانوں کے ایمان کا حصہ ہے موجودہ حکمرانوں نے اس حساس مسئلہ کو چھیڑ کر انتہائی غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی کال پر عوام سڑکوں پر نکل آئیں گے جو حکمرانوں کے زوال کا باعث بنے گا۔ ان خیالات کا اظہار مجلس تحفظ ختم نبوت کی جانب سے منعقدہ ایک کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا خطاب کرنے والوں میں جے یو آئی کے صوبائی جنرل سیکرٹری مولانا رشید احمد لدھیانوی، پاکستان پیپلز پارٹی کے صدر چوہدری نجف اقبال وڑائچ، سابق ایم پی اے میاں امتیاز احمد، جمعیت اہل حدیث کے قاری ثناء اللہ، وکلاء برادری کے نمائندہ چوہدری سرور اختر، جماعت اسلامی کے چوہدری عبدالرزاق، انجمن تاجران کے صدر چوہدری ظفر اقبال، علامہ عبدالرؤف ربانی، حافظ محمد اکبر اعوان، مولانا مطیع الرحمٰن درخواستی، مولانا منظور احمد نعمانی اور دیگر شامل تھے۔
مولانا رشید احمد لدھیانوی نے کہا عقیدہ ختم نبوت پر مسلمانوں کے تمام مسالک متفق ہوئے۔ ۲۸؍سال بعد اس حساس مسئلے کو چھیڑ کر حکومت نے نادانی کا ثبوت دیا۔ اگر حکومت نے اپنے اس الزام کو واپس نہ لیا تو عوام سڑکوں پر آجائیں گے۔ چوہدری نجف اقبال وڑائچ نے کہا عقیدہ ختم نبوت کے لئے ہماری جان بھی حاضر ہے۔ میاں امتیاز احمد نے کہا یہ عقیدہ ہمارے ایمان کی بنیاد ہے جس کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ قاری ثناء اللہ نے کہا میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں کو یقین دلاتا ہوں کہ جہاں آپ کا پسینہ
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ۴۵۹ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گرے گا وہاں ہمارا خون ٹپکے گا۔ ریاض احمد نوری نے کہا اگر ۲۸؍ مئی تک حکومت نے یہ اقدام واپس نہ لیا تو پھر ہتھکڑیاں ہمارا زیور قید و بند اور پھانسیاں ہمارا اعزاز ہوں گی۔ چوہدری ظفر اقبال نے کہا تاجر برادری وقت آنے پر پورے ملک کو سیل کر دے گی۔ مولانا عبدالصمد نے کہا وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کے مسلمان اپنی ایمانی غیرت کا ثبوت دیں۔
(نوائے وقت ۱۸؍ مئی ملتان)
ادارتی نوٹ روزنامہ جنگ لاہور
ووٹر لسٹوں سے ختم نبوت کے حلف نامے کا اخراج:
ان اطلاعات پر ملک کی دینی جماعتوں، عوامی حلقوں اور علمائے کرام کی جانب سے سخت تشویش اور غم و غصہ کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اکتوبر ۲۰۰۲ء کے انتخابات کے لئے نئی ووٹر لسٹوں کی تیاری کے لئے مسلم ووٹروں کے فارم سے عقیدہ ختم نبوت کے حلف نامے کو خارج کر دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ اس دانستہ یا نادانستہ غلطی کی طرف توجہ دلانے کے لئے علمائے کرام اور دینی جماعتوں کی جانب سے ۱۰؍ مئی کو یوم احتجاج منایا جا چکا ہے اور ۲۸؍ مئی کو مجلس عمل میں شامل جماعتوں کے سربراہان اور دیگر علمائے کرام کی طرف سے ایک مشترکہ اجلاس کے انعقاد کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ جس میں مسلم ووٹر لسٹ سے مذکورہ حلف نامے کے حذف کئے جانے سے پیدا ہونے والی صورتحال پر غور کر کے لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
اس میں شک نہیں کہ بعض سیاسی جماعتیں ملک میں مخلوط طریقہ انتخاب کی حمایت کرتی رہی ہیں اور غالباً اسی بنا پر آئندہ انتخابات کے لئے جداگانہ طرز انتخاب کی بجائے مخلوط طریقہ انتخاب اختیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ لیکن طریقہ انتخاب میں تبدیلی سے متعلق کوئی فیصلہ کرتے ہوئے اس بات کو پیش نظر رکھا جانا چاہئے تھا کہ اس سے اسلامی دفعات بالخصوص عقیدہ ختم نبوت سے متعلق آئینی ترامیم متاثر نہ ہوں جنہیں پی سی او میں بھی شامل کیا گیا ہے۔ مسلم ووٹر لسٹوں کے فارم سے عقیدہ ختم نبوت سے متعلق حلف نامے کو خارج کر دینے سے یہ ممکن ہو گیا ہے کہ عقیدہ ختم نبوت پر یقین نہ رکھنے والا کوئی شخص اپنا نام بطور مسلمان ووٹر لسٹوں میں درج کرا سکتا ہے جو بجائے خود پی سی او کی خلاف ورزی بھی ہے۔ حکومت کو اس سلسلے میں کسی تامل تاخیر کے بغیر علمائے کرام کے نمائندوں کو اعتماد میں لے کر آئندہ انتخابات میں مسلم ووٹروں کے لئے ختم نبوت کے حلف نامے کی پوری پوری پابندی کا واضح اعلان کرنا چاہئے۔
(۱۸؍ مئی روزنامہ جنگ لاہور)
ادارتی نوٹ روزنامہ پاکستان
عقیدہ ختم نبوت ﷺ کے حلف کا خاتمہ:
پاکستان کی سبھی دینی جماعتوں اور خصوصاً عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے ووٹروں کے اندراج کے لئے جو نیا فارم جاری کیا ہے اس میں عقیدہ ختم نبوت کا حلف نامہ ختم کر دیا گیا ہے جو ۱۹۷۴ء میں پارلیمنٹ کی طرف سے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے دستوری فیصلہ کے بعد اس کے عملی تقاضے پورے کرنے کے لئے اختیار کیا گیا تھا۔
الیکشن کمیشن کی طرف سے نئے فارم کے اجراء سے جس میں ”عقیدہ ختم نبوت کا حلف“ ختم کر دیا گیا ہے۔ سرکاری ریکارڈ میں مسلمانوں اور قادیانیوں کے درمیان فرق ختم ہو گیا ہے اور قادیانیوں کو مسلمانوں میں شامل کرنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ اس طرح قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیئے جانے کا دستوری فیصلہ عملاً ختم ہو گیا ہے جو دستور کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
ہم صدر مشرف کی حکومت سے گزارش کریں گے کہ انتخابات براہ راست کرائیں یا بالواسطہ، مخلوط انتخابات کا طریقہ رائج کیا
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جائے یا جداگانہ انتخابات کا۔ مگر ووٹرز فارم میں عقیدہ ختم نبوت کی شق ختم کرنے کے فیصلہ پر نظر ثانی کریں اور اس عقیدہ کے اعلان اور حلف کے بغیر فارم منسوخ قرار دیں تاکہ اس معاملہ میں لوگوں میں مذہبی اشتعال پیدا نہ کیا جاسکے۔ ہمیں توقع ہے کہ وفاقی حکومت اس طرف فوری توجہ دے گی اور اس امر کا انتظار نہیں کرے گی کہ لوگ سڑکوں پر آئیں تو فیصلہ بدلا جائے۔
(روزنامہ پاکستان، ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۰۲ء)
خطوطی مہم
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رفقاء کا حضرت مولانا بشیر احمد صاحب کی زیر صدارت ملتان میں اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں غور و فکر کیا گیا کہ جمعیت علماء اسلام پاکستان کے زیر اہتمام ۲۸؍مئی کو آل پارٹیز کنونشن ہوگا۔ اس وقت تک ”حلف نامہ بحالی“ کی تحریک جاری رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ ملک میں یہ آواز مدھم نہ ہونے پائے۔ نیز یہ کہ حکومت پر برابر دباؤ جاری رہنا چاہئے۔ چنانچہ ذیل کا خط مرتب کیا گیا۔
جماعتی مبلغین اور رفقاء کی ڈیوٹیاں لگائی گئیں کہ وہ تمام مکاتب فکر کے علماء کرام، مدارس کے مہتمم حضرات و اساتذہ کرام خطباء، وکلاء، تاجر برادری کے عہدیداران اور سیاسی رہنماؤں کے دستخط کرا کر یہ خطوط حکومت کو رجسٹری کر کے بھجوائے جائیں۔ چنانچہ بلا مبالغہ پچیس ہزار سے زائد حضرات کے دستخطوں سے یہ خطوط حکومت کو بھجوائے گئے۔ خط کا عکس یہ ہے:
بخدمت جناب .............................................................. جناب عالی ..................................................... گزارش ہے کہ
- 1..... امت مسلمہ کی سو سالہ جدوجہد سے پاکستان کی قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ حزب اقتدار اور حزب
اختلاف کے ایک ممبر نے بھی اس کی مخالفت نہ کی۔ یوں آئین پاکستان 1973ء سے زیادہ متفقہ دوسری دستوری ترمیم تھی جو 7 ستمبر 1974ء کو منظور ہوئی، جس کی بعد میں کئی فیصلوں کے ذریعہ سپریم کورٹ کے بینچ نے بھی تصدیق و تائید کی۔
- 2..... قادیانیوں نے اس دستوری فیصلہ کو تسلیم کرنے سے انحراف کرکے آئین پاکستان سے بغاوت کی۔
- 3..... چنانچہ جناب ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں جبکہ مخلوط انتخابات تھے، مسلمانوں کے لیے ووٹرلسٹوں میں ختم نبوت کے لیے حلف
نامہ لازمی قرار دیا گیا۔ 1977ء کے مخلوط انتخابات کی ووٹرلسٹوں میں بھی ختم نبوت کا حلف نامہ شامل تھا۔
- 4..... 28 سال سے طے شدہ حلف نامہ کو اب مخلوط انتخابات کی آڑ میں ووٹرلسٹوں سے حذف کر دیا گیا۔ آئین کے باغی گروہ قادیانیوں کو
آئین کا پابند بنانے کی بجائے اس آئینی رکاوٹ کو دور کر کے عملاً قادیانیوں کو پورے ملک میں فعال و متحرک بنا دیا گیا۔ جس سے پوری امت مسلمہ اور اسلامیان پاکستان ذہنی کرب و ابتلاء میں مبتلاء ہو گئے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں یہ اقدام بہت بڑی ناروا زیادتی اور اسلامیان پاکستان کے جذبات کا خون کرنے کے مترادف ہے۔
- 5..... یہ صورت حال اس تناظر میں اور زیادہ سنگین ہو جاتی ہے جب اُدھر واشنگٹن میں امریکی کانگریس مطالبہ کرتی ہے کہ تحفظ ناموس رسالت
اور قادیانیوں کے متعلق قوانین ختم کیے جائیں اور ادھر پاکستان میں ختم نبوت کا حلف نامہ ووٹرلسٹوں سے حذف کر دیا جاتا ہے۔
- ☆........ آپ سے گزارش ہے کہ رحمت عالم ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کا مسئلہ جو خالصتاً حساس اور مسلمانوں کے ایمان کی
سلامتی کا مسئلہ ہے۔ اس پر نظرثانی کی جائے۔ نہ صرف ختم نبوت کا حلف نامہ ووٹرلسٹوں میں بحال کیا جائے، بلکہ جس قادیانی و قادیانی نواز لابی نے لابنگ کر کے اسلامی تشخص کو مجروح کرنے کا یہ اقدام کرایا ہے، ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے۔
امید ہے کہ آپ ترجیحی بنیادوں پر اسے حل کر کے اسلامیان پاکستان کے ایمانی دُکھ کا مداوا کریں گے۔ اللہ رب العزت آپ کو توفیق بخشیں۔
وما ذالک علی اللہ بعزیز۔ ما اريد الا الاصلاح، وما توفیقی الا باللہ علیہ توکلت والیہ انیب۔
والسلام
- (1) جناب پرویز مشرف صاحب صدر مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان اسلام آباد
- (2) جناب معین الدین حیدر صاحب وفاقی وزیر داخلہ اسلام آباد
- (3) جناب ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب وفاقی وزیر مذہبی امور اسلام آباد
- (4) جناب جسٹس (ر) ارشاد حسن صاحب چیف الیکشن کمشنر پاکستان اسلام آباد
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کورنگ لیٹر
ملک بھر میں احتجاجی بیانات اور خبریں شائع ہوتی تھیں۔ دفتر مرکزیہ سے ہر روز ان کی فوٹو کاپی حکومت پاکستان کے ذمہ داران کو بھجوادی جاتی تھیں۔ ان پر یہ کورنگ لیٹر لگایا جاتا ہے۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان پاکستان Aalami Majlise Tahaffuze Khatme Nubuwwat HEAD OFFICE : HAZOORI BAGH ROAD, MULTAN - PAKISTAN PH: 514122-583488 FAX: 542277 OVERSEAS OFFICE : 35, STOCKWELL GREEN LONDON SW9 9HZ (U.K.) PH: 207 7378199 FAX: 207 978 9067
بسم اللہ الرحمن الرحیم
بخدمت جناب ..............................................................
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ .............................. مزاج گرامی
پاکستان کے دستوری فیصلہ کی روشنی میں ختم نبوت کا حلف نامہ ووٹر لسٹوں میں مسلمانوں کے لیے ضروری تھا۔ 1977ء کے مخلوط انتخابات میں بھی یہ حلف نامہ موجود تھا۔ لیکن اب اسے حذف کر کے از سر نو ختم نبوت کے مسئلہ کو متنازعہ بنادیا گیا ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف مسلمانوں کا اسلامی تشخص مجروح ہوا ہے بلکہ قادیانیوں کو قانون کا پابند بنانے کی بجائے آئین پاکستان کے باغی گروہ کو فعال و متحرک بنا دیا گیا ہے۔ یہ صورت حال اسلامیان پاکستان کے لیے باعث تشویش ہے۔ براہ کرم اس فیصلہ کو واپس لیا جائے۔ چند اخبارات کے تراشے برائے ضروری کارروائی و انفارمیشن ارسال خدمت ہیں۔
والسلام
گوجرانوالہ کی رپورٹ
۵؍ مئی علی پور چٹھہ، رات ہریا کوٹ، ۶؍ مئی تلونڈی موسیٰ خان، ۷؍ مئی گوجرانوالہ، ۸؍ مئی روڈالہ، میں کانفرنس منعقد کی گئی۔ ۹؍ مئی کو گوجرانوالہ میں شہر بھر کی تمام دینی قیادت کا دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ میں اجلاس منعقد ہوا۔ فقیر راقم الحروف اور حضرت مولانا زاہد الراشدی نے اجلاس کے شرکاء کے سامنے صورتحال بیان کی۔ چنانچہ فیصلہ ہوا کہ آنے والے جمعہ پر گوجرانوالہ ڈویژن کی تمام مساجد سے قراردادیں منظور کرائی جائیں۔ اجلاس میں مندرجہ ذیل شرکاء شریک ہوئے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ڈاکٹر غلام محمد صاحب علامہ محمد احمد صاحب مولانا خالد سعید مجددی، حافظ محمد یوسف عثمانی، حافظ محمد صدیق صاحب، مولانا رحمت اللہ نوری، قاری زاہد سلیم، قاری گلزار احمد قاسمی، سید احمد حسین زید، مولانا غلام فرید ہزاروی، مولانا محمد فیاض سواتی، حافظ محمد ثاقب، حافظ محمد انور کے علاوہ کثرت سے مقامی حضرات نے شرکت کی۔ جمعہ کے اجتماعات میں قرارداد پاس کی گئیں اور اخبارات میں خبریں وغیرہ بھجوائی گئیں۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
قرارداد: جمعۃ المبارک کا یہ اجتماع ووٹر فارم سے ختم نبوت سے متعلق حلفیہ بیان ختم کرنے، مخلوط طرز انتخاب رائج کرنے اور امریکی سینٹ کی قرارداد جس میں گستاخ رسول کی سزا ختم کرنے اور قادیانیت سے متعلقہ آئینی ترامیم منسوخ کرنے کی سفارش پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکمرانوں کو یاد دلاتا ہے کہ :
۱۹۷۴ء کی آئینی ترمیم جس میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تھا اور ۱۹۸۴ء کا امتناع قادیانیت ایکٹ جس میں قادیانیوں کو اسلامی اصطلاحات استعمال کرنے سے روک دیا گیا تھا کے پیچھے مسلمانان پاکستان کی سو سالہ تاریخی اور عظیم الشان قربانیاں ہیں۔
اگر امریکہ کو خوش کرنے کے لئے مذکورہ بالا قوانین ختم کئے گئے تو پوری قوم اٹھ کھڑی ہوگی اور کسی بڑی سے بڑی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرے گی اور ایسے ہی ناموس رسالت اور اس کے قانون کے تحفظ کے لئے جانوں تک کی قربانی پیش کرنے سے دریغ نہیں کرے گی۔
لہٰذا حکمرانوں کو ایسے غلط فیصلے واپس لے کر مسلمانان پاکستان کے دلوں میں پائی جانے والی تشویش کو فی الفور دور کرنا چاہئے۔
اسلام آباد میں اجلاس
آل پارٹیز مجلس تحفظ ختم نبوت کا ۱۶؍ مئی کو چار بجے جامع مسجد شہید اسلام اسلام آباد میں اجلاس منعقد ہوا۔ اسی سے زائد تمام مکاتب فکر کے علماء کرام نے شرکت کی۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے اجلاس کو صورتحال سے آگاہ کیا۔ سیاسی اور دینی رہنماؤں سے ملاقات کے لئے وفد تشکیل دیا گیا۔
حضرت مولانا عبدالعزیز، مولانا قاری احسان اللہ، حضرت مولانا شیخ الحدیث عبدالرؤف، مولانا نذیر احمد فاروقی، جناب گل انداز عباسی، جناب شمس الحق اعوان اور مولانا قاضی احسان احمد وفد کے اراکین چنے گئے۔ گولڑہ شریف کے گدی نشین حضرت صاحبزادہ پیر نصیر الدین نے ہر قسم کے تعاون کا یقین دلایا۔ عید گاہ کے سجادہ نشین مولانا پیر نقیب الرحمن سے وفد نے ملاقات کی۔ وفد میں مذکورہ بالا حضرات کے علاوہ حکیم قاری محمد یونس، جناب محمد طفیل بھی شامل تھے۔ پیر صاحب نے حلف نامہ کی بحالی کے لئے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔
آزاد کشمیر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا خالد میر نے آزاد کشمیر کا دورہ کیا۔ حضرات علماء کرام سے ملاقاتیں کیں۔ حکومت کو احتجاجی خطوط بھجوائے۔ پاکستان کی طرح آزاد کشمیر میں بھی ۱۷؍ مئی اور ۲۴؍ مئی کے جمعہ پر یوم احتجاج منایا گیا اور قرارداد کے ذریعہ حکومت سے حلف نامہ کی ووٹر فارم میں بحالی کا مطالبہ کیا گیا۔
واہ کینٹ، ٹیکسلا اور اکوڑہ خٹک میں اجتماعات
مرکزی جامع مسجد واہ کینٹ میں خطبہ جمعہ سے مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی صاحب اور مولانا محمود الحسن کا جامع مسجد توحید آباد
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
میں بیان ہوا ۔ بعد از نماز عصر مرکزی جامع مسجد واہ کینٹ میں پروانہ ختم نبوت مولانا محمد اسحاق صاحب کی زیر صدارت علماء کرام کا اجلاس احرار اسلام کے مرکزی امیر مولانا نور حسین عبداللہ باباجی کی خصوصی شرکت ۔ قاضی احسان احمد صاحب مبلغ اسلام آباد نے جامع مسجد مدینہ ۱۶/ ایریا واہ کینٹ میں بیان کیا ۔
۱۹؍ مئی اکوڑہ خٹک مولانا سمیع الحق صاحب سے ملاقات اور حلف نامہ کے بارے میں تفصیلی گفتگو ہوئی ۔ بعد از نماز مغرب مدینہ مسجد ۱۶/ ایریا واہ کینٹ بڑے جلسہ عام سے مولانا شجاع آبادی صاحب کا خطاب اور حلف نامہ کی بحالی کا مطالبہ ۔ ۲۰؍ مئی جامع مسجد ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ٹیکسلا میں بڑے جلسہ عام سے خطاب اور حلف نامہ کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا ۔ ۲۰؍ مئی کو ٹیکسلا بار کے وکلاء نے جناب عزت مآب افضل جنجوعہ کی تحریک پر ایک قرارداد منظور کی کہ ووٹر فارم میں حلف نامہ بحال کیا جائے اور قادیانی جو ووٹ بنا چکے ہیں انہیں کینسل کیا جائے ۔
۲۱؍ مئی کو دفتر راولپنڈی میں اجلاس حکیم قاری محمد یونس صاحب کی صدارت میں ہوا ۔ مولانا حبیب احمد صاحب ۔ مولانا سید سلیم شاہ صاحب ۔ قاری امین الحسن صاحب ۔ قاری شعیب صاحب نے شرکت کی ۔ بھائی طلحہ طارق بھی شریک ہوئے ۔
لاہور میں کانفرنس
مرکز ختم نبوت مسجد عائشہ نیو مسلم ٹاؤن میں سالانہ عظمت قرآن کانفرنس استاذ العلماء مولانا شاہ محمد مدظلہ کی صدارت میں منعقد ہوئی ۔ جس سے خطاب کرتے ہوئے دینی رہنماؤں اور علمائے کرام میں علامہ خالد محمود ( پی ایچ ڈی ) لندن ، مولانا عبدالخالق جالندھری، مبلغ ختم نبوت مولانا عزیز الرحمن ثانی ، قاری محمد عالمگیر رحیمی ، پروفیسر عمر حیات ، قاری محمد علی اور دیگر مقررین نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا کلام قرآن مجید رہتی دنیا تک خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کا زندہ معجزہ ہے اور رسول کائنات حضرت محمد ﷺ کی رسالت اور ان پر نازل ہونیوالی آخری کتاب (کلام اللہ ) قرآن مجید ہمیشہ کے لئے رشد و ہدایت ہے ۔ مقررین نے ووٹرلسٹوں میں مسلم اور غیر مسلم کی تفریق ختم کرنے اور قادیانیوں کے ووٹ مسلمانوں کے ساتھ درج کرنے پر سخت احتجاج کیا اور کہا کہ اس بدترین قادیانیت نواز حکومتی اقدام سے کروڑوں مسلمانوں کے اندر شدید بے چینی اور اضطراب کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ دینی رہنماؤں نے کہا کہ اگر قادیانیوں کو بطور غیر مسلم ووٹرلسٹ میں اندراج نہ کیا گیا تو اس کے خلاف بھر پور تحریک چلائیں گے ۔ مقررین نے مزید کہا کہ عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ ہر مسلمان کا دینی اور آئینی حق ہے اور غیور مسلمان اس کے خلاف کسی قسم کی ناپاک سازش کو ہرگز ہرگز برداشت نہیں کریں گے ۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جھنگ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جھنگ کا ایک ہنگامی اجلاس زیرصدارت پیر جی عبیدالرحمن مرکزی خطیب جامع مسجد محمدیہ منعقد ہوا ۔ اجلاس میں حکومت کی طرف سے فارم نمبر ۴ سے ( ووٹر فارم ) ختم نبوت کا اقرار حلف نامہ ختم کر کے مخلوط طرز انتخاب رائج کرتے ہوئے ووٹر لسٹ میں مسلم و غیر مسلم کی تفریق ختم کر دی گئی ہے جس سے متفقہ غیر مسلم مرزائی قادیانی کو بھی مسلمانوں کی طرح ووٹ کا موقع دیا گیا ہے ۔ اجلاس میں ماہر قانون دان محمد سلیم بٹ چوہدری محمد شہباز گجر ایڈووکیٹ جنرل سیکرٹری جمعیت علمائے اسلام مولانا غلام حسین ، ناظم اعلیٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ، سید محمد احمد بخاری مقبول حسین ، خواجہ محمد ناصر ، قاری عزیز الرحمن ، حضرت مولانا مفتی محمد ولی اللہ ، مولانا سلطان حبیب احمد ، مولانا عبدالرحمن ، مولانا محمد صدیق کے علاوہ دینی و مذہبی تنظیموں کے سربراہان و کارکنوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی ۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حکومت پاکستان کی طرف سے ووٹر لسٹ فارم نمبر ۴ میں حلف نامہ حذف ہونے کی اطلاع پر جماعت کی طرف سے جناب پرویز مشرف، جناب محمود غازی معین الدین اور چیف الیکشن کمشنر کو جو خطوط جن جن علاقہ جات سے بھجوائے گئے ان کی تفصیلات مندرجہ ذیل ہیں۔
میٹنگ علماء کرام جامعہ مسجد قاضیانوالی جھنگ صدر میٹنگ علماء کرام جامعہ مسجد تقویٰ جھنگ شہر میٹنگ علماء کرام ۲۰ گکھڑ شورکوٹ میٹنگ علماء کرام خیابان کالونی فیصل آباد
علاوہ ازیں واصو آستانہ، احمد پور سیال، ماچھیوال، ٹوبہ ٹیک سنگھ، گوجرہ، شورکوٹ کینٹ، شورکوٹ شہر، گڑھ موڑ وغیرہ سے خطوط بھجوائے گئے۔
خانیوال میں اجلاس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنماؤں مولانا خدا بخش شجاعبادی، حضرت خواجہ عبدالماجد صدیقی، جناب اکرام القادری، مولانا عبدالحکیم نعمانی نے عقیدہ ختم نبوت کے حوالہ سے حکومتی اقدام پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ووٹر لسٹوں سے مذہب کے خانہ اور عقیدہ ختم نبوت کے حلف کا خاتمہ نہ صرف قادیانی غیر مسلموں کو سپانسر کرتا ہے بلکہ آئین اور دو قومی نظریہ کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔
چیچہ وطنی میں کل جماعتی اجلاس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامع مسجد مکی بلاک نمبر ۱ چیچہ وطنی میں کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت میں شامل تمام مذہبی جماعتوں کا ایک اجلاس منعقد ہوا۔ صدارت حافظ عبدالرشید چیمہ نے کی۔ اجلاس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے قاری زاہد اقبال، مولانا عبدالحکیم نعمانی، حاجی محمد ایوب مجلس احرار اسلام کے عبداللطیف خالد چیمہ، مولانا منظور احمد، حافظ حبیب اللہ رشیدی جماعت اسلامی کے خان حق نواز خان، چوہدری عبدالستار، جمعیت علماء اسلام کے مفتی عثمان غنی، مولانا عبدالباقی، حافظ حبیب اللہ چیمہ، مولانا عقیل احمد، قاری طالب حسین، روحانی شخصیت پیر جی عبدالحفیظ، پیر جی عبدالمجید، مولانا احمد ہاشمی، مولانا محمد جمیل انور، قاری عبدالجبار، مولانا حبیب اللہ کسووال، محمد معاویہ رضوان، حافظ محمد شفیق سمیت دیگر مذہبی وسیاسی جماعتوں کے دوسو سے زائد نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں ووٹر لسٹوں سے عقیدہ ختم نبوت کے حلف کے حذف کرنے کے حکومتی اقدام پر شدید نکتہ چینی کی گئی۔ تمام جماعتوں نے مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے امریکہ نوازی اور قادیانیت نوازی کا ثبوت دیتے ہوئے نئی ووٹر لسٹوں سے مذہب کا خانہ اور عقیدہ ختم نبوت کے حلف نامہ کا خاتمہ کیا۔ انہوں نے کہا قانون تحفظ ناموس رسالت ﷺ اور قادیانیت کے خلاف پارلیمنٹ، وفاقی شرعی عدالت، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کو گہری سازش کے تحت ختم کرنے یا غیر مؤثر کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔
ضلع ساہیوال میں حلف کی بحالی کا سماں
ضلع ساہیوال میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا عبدالحکیم نعمانی، قاری عبدالجبار، محمد اسلم بھٹی اور مفتی محمد ذکاء اللہ اور جامعہ رشیدیہ کے نائب مہتمم قاری سعید بن شہید نے حلف نامہ کی بحالی کے لئے بھر پور تعاون کیا۔ ساہیوال شہر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے حلف نامہ کی بحالی کے لئے اجلاس کی میزبانی جمعیت علماء اسلام کو سونپی۔ حضرت قاری سعید ابن شہید اور محمد طارق مسعود اور دیگر جمعیت
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کے کارکنوں نے اجلاس کو کامیاب بنانے کے لئے شب و روز محنت کی۔ بحمداللہ! عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سمیت تمام مکاتب فکر کے ڈیڑھ صد سے زائد نمائندوں اور علماء کرام نے شرکت کی۔ اس ضمن میں جامعہ رشیدیہ میں ختم نبوت کنونشن کرانے کا پروگرام طے کیا گیا۔
ضلع بہاولنگر
ووٹر فارم میں حلف نامہ کو خارج کرنے کے بعد دوبارہ ووٹر فارم میں شامل کرانے کے لئے بہاولنگر ضلع کی تمام مساجد میں قرارداد پاس کرائی گئی اور ضلع بہاولنگر کی تمام تحصیلوں سے فارم پر کروا کر اسلام آباد بھیجے گئے۔ مبلغ بہاولنگر مولانا محمد قاسم نے اس سلسلہ میں بخشن خان، چک نمبر ۵۴، چشتیاں، ڈونگہ بونگہ، ہارون آباد، منچن آباد کے دورے کئے۔ علماء سے ملاقاتیں کیں اور دوستوں کو مرکز کی ہدایت ملنے کے لئے تیار کیا کہ جو بھی ہدایت ہمیں مرکز سے ملے گی اس کے مطابق کام کریں گے۔ بریلوی مکتب فکر کے ممتاز عالم دین حضرت مولانا محمد اللہ یار اشرفی مسلک اہل حدیث کے نامور عالم دین حضرت مولانا محمد اکرم طارق، قاری عبدالحمید صاحب اور دیوبندی مکتب فکر کے مولانا فیض احمد صاحب، مولانا محمد انور صاحب، قاری امیر حمزہ اور دیگر علماء سے ملاقاتیں کی۔ ان تمام پروگراموں میں جنرل سیکرٹری ختم نبوت بہاولنگر مولانا سعید احمد اور حاجی محمد یعقوب امیر جماعت فیصل کالونی نے بھی بھر پور تعاون کیا۔ یوں بہاولنگر ضلع میں اس تحریک کو کامیاب بنایا گیا۔
کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت بہاولنگر کا احتجاجی اجلاس
کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا احتجاجی اجلاس مرکزی رہنما مناظر ختم نبوت حضرت مولانا خدا بخش صاحب مدظلہ کی ۲۸/ صفر بہاولنگر آمد پر مرکز کی ہدایت کے مطابق منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت حضرت مولانا فیض احمد صاحب نے کی۔ جس میں دیوبندی، بریلوی اہلحدیث مکاتب فکر کے علماء، قراء حضرات نے شرکت کی۔ تلاوت کلام پاک حافظ محمد ندیم نے کی۔ اجلاس کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے مبلغ بہاولنگر مولانا محمد قاسم رحمانی نے کہا کہ یہ اجلاس عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام پورے ملک میں ہر ضلعی دفتر میں مرکزی قائدین کی آمد پر منعقد کئے جارہے ہیں۔ جس میں علماء کرام اور عوام الناس کو فوجی حکمران پرویز مشرف کی ختم نبوت دشمنی سے آگاہ کر رہے ہیں۔ ووٹرلسٹوں میں عقیدہ ختم نبوت کے لئے درج شدہ حلف نامہ جو کہ ۱۰/ اپریل کو ووٹرلسٹوں سے ختم کردیا گیا ہے اور مخلوط طرز کے انتخابات کرانے کا اعلان ہو چکا ہے۔ کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت یہ باتیں کبھی برداشت نہیں کرے گی اب رسول اللہ ﷺ کی عزت و آبرو کے لئے جان دینے کا وقت آگیا ہے۔ علماء کرام اور عوام الناس مرکزی قائدین کے حکم کے منتظر ہیں۔ مرکزی رہنما مناظر اسلام حضرت مولانا خدا بخش صاحب نے بڑی وضاحت کے ساتھ عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ اور مسلمانوں کی ذمہ داریاں بیان کیں۔
لوئر پکھل میں اجلاس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لوئر پکھل کا ایک ہنگامی اجلاس زیر صدارت الحاج مولانا محمد مظفر اقبال قریشی منعقد ہوا، قاری شیر محمد شاہ نقشبندی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں قادیانیوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں ملکی سالمیت کے خلاف ایک طوفان سے کم نہیں۔ حکومت کے چند اقدامات قادیانیوں کے حوصلے بڑھا رہے ہیں۔ مخلوط انتخابات، شناختی کارڈز میں مذہب کے خانے کی عدم موجودگی، قادیانی افسران کی بھر مار، ان امور سے پاکستانی قوم تشویش میں مبتلا ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
آل پارٹیز ختم نبوت کانفرنس کے لئے قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا دعوت نامہ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
آل پارٹیز ختم نبوت کانفرنس
محترم ومکرم جناب زید مجدہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
1973 کے آئین میں عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے آئینی ترمیم کے بعد پارلیمنٹ نے ایک حلف نامہ کی منظوری دی تھی ۔ جسے آئین کا حصہ بنایا گیا ۔ اور ایک عام پاکستانی مسلمان کے لیے پاسپورٹ ، شناختی کارڈ اور ووٹ بناتے وقت متعلقہ فارم پر درج حلف نامہ پر دستخط کرنا لازم قرار دیا گیا ۔ لیکن حال ہی میں موجودہ حکومت نے ووٹرز فارم سے اس حلف نامہ کو حذف کرنے کا غیر آئینی اقدام کیا ہے ۔ جس سے جہاں مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں وہاں حکومتی عزائم کا اندازہ بھی لگایا جاسکتا ہے یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے ۔ کہ عقیدہ ختم نبوت اور ناموس رسالت (علی صاحبہا الصلوۃ والسلام) کو آئینی اور قانونی تحفظ دینے میں پاکستان کے کروڑوں مسلمانوں کا من حیث القوم کردار رہا ہے اور اس مسئلہ کی حیثیت مذہبی اور سیاسی محاذ پر ہمیشہ غیر متنازعہ رہی ہے مسئلہ کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے اور حکومت کے غیر آئینی اقدامات کا سد باب کرتے ہوئے جمعیۃ علماء اسلام نے 28 مئی 2002 صبح 10 بجے فلیٹیز ہوٹل لاہور میں آل پارٹیز ختم نبوت کانفرنس کے انعقاد کا فیصلہ کیا ہے آپ کو اس کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی جاتی ہے ۔ اُمید ہے آپ اپنا دینی وملی فریضہ بجالاتے ہوئے کانفرنس کو اپنی شرکت سے نوازیں گے ۔ اور اپنی قیمتی آراء سے قوم کی رہنمائی فرمائیں گے ۔
برائے رابطہ Phone: 042-7561025 042-7720944 042-7585373 Mobile: 0300-8480934 0300-9382433 0300-9596324
چشم براہ فضل الرحمن قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن
مانسہرہ میں اجلاس
آل پارٹیز تحفظ ختم نبوت کانفرنس مانسہرہ نے دھمکی دی ہے کہ اگر قادیانیوں سے متعلق ترامیم واپس لی گئیں یا توہین رسالت ﷺ کے قانون کو غیر مؤثر کرنے کی کوشش کی گئی تو مرکزی قائدین کے حکم پر شہادت کے جذبے سے سرشار زبردست احتجاجی تحریک چلا کر شاہراہ
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ریشم بند کر دیں گے۔ ضلعی امیر قاری محمد افضل کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں ضلع بھر سے مختلف مکاتب فکر کے علماء کے علاوہ مختلف سیاسی، سماجی و مذہبی جماعتوں جمعیت علماء اسلام، جماعت اسلامی، مسلم لیگ، پیپلز پارٹی، اے این پی، تحریک انصاف، جمہوری پارٹی، بار ایسوسی ایشن، تاجر تنظیموں، جمعیت طلباء اسلام، اشاعت التوحید والسنہ اور دیگر جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، جمعیت علماء اسلام کے مرکزی رہنما مولانا سید غلام نبی شاہ، قاضی رفیق الرحمن قمر، ملک عبدالوحید، شیراز محمود قریشی، قاضی حبیب الرحمن، مولانا نذیر، حاجی محمد یونس، شجاعت علی خان ایڈووکیٹ، محمد صادق صراف، ڈاکٹر محمد شفیق، قاضی محمد مشتاق اور دیگر مقررین نے کہا کہ مخلوط طرز انتخاب اور ووٹر فارم سے قادیانیت سے متعلق الفاظ ختم کر کے موجودہ حکومت نے عملاً قادیانیوں کو تحفظ فراہم کیا اور حکومت کے ان اقدامات سے قادیانیوں کو مسلمانوں کی صفوں میں شامل کرنے کا دروازہ کھول دیا گیا۔ مقررین نے کہا کہ حکومت ۱۹۷۳ء کے آئین میں موجود اسلامی دفعات کے تحفظ کو یقینی بنائے ۔ قادیانیوں سے متعلق ترامیم ختم کرنے کی کوشش نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ٹھنڈے دل سے ہمارے مطالبات پر سوچے ۔ مسلمانوں کی سو سالہ محنت کو ختم نہ کرے۔ یہ صورتحال مسلمانوں کے لئے ناقابل برداشت ہے۔ ہم ناموس ختم نبوت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ مقررین نے کہا کہ ۲۸؍ مئی کو ہونے والے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ اجلاس میں جے یو آئی کے مرکزی سرپرست مولانا محمد اجمل خان کی وفات پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کی دینی وملی خدمات کو زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا۔
ایبٹ آباد
پرویز مشرف کی حکومت کی طرف سے ووٹرلسٹوں میں سے ختم نبوت کا حلف نامہ ختم کرنے پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا مرکزی اجلاس ۴؍مئی ۲۰۰۲ء کو ہوا۔ اس اجلاس میں ملک بھر میں احتجاجی تحریک کا فیصلہ کیا گیا۔ چنانچہ مرکزی قیادت کے حکم پر ایبٹ آباد کے مجاہدین ختم نبوت نے فوری کام شروع کیا اور ۷؍مئی کو تحفظ ختم نبوت یوتھ فورس کا ضلعی اجلاس ہوا۔ جس میں یہ طے پایا کہ ۹؍مئی کو ضلع بھر کے علماء کا اجلاس بلایا جائے ۔ چنانچہ ۹؍مئی کو ضلع بھر کے علماء کا نمائندہ اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ مختلف مساجد میں جلسے کئے جائیں ۔ احتجاجی تحریک کا پہلا باقاعدہ جلسہ ۱۲؍مئی کو موتی مسجد ملک پورہ میں منعقد ہوا۔ ۱۳؍مئی کو مسجد صدیق اکبرؓ کالا پل ۔ ۱۴؍مئی کو مسجد تقویٰ کابلی کنج ۱۵؍مئی کو جامع مسجد منڈیاں اور جامع مسجد بنی نواں شہر اور ۱۶؍مئی کو دھمتوڑ کی جامع مسجد میں جلسے منعقد ہوئے ۔ ۱۶؍مئی کو دوسرا اجلاس منعقد کیا گیا جس میں ۱۲؍ربیع الاوّل تک جلسے طے کئے گئے ۔ چنانچہ ۱۸؍مئی کو بلال مسجد نلہ محلہ ملک پورہ ۔ ۱۹؍مئی کو مسجد العلیٰ عربی سپلائی ۲۰؍مئی کو مدنی مسجد فوارہ چوک ۔ ۲۱؍مئی کو عزیز المساجد لوئر ملک پورہ اور ۲۲؍مئی کو بانڈہ پھگواڑیاں میں جلسے منعقد کئے گئے ۔ ان جلسوں میں مختلف علماء کرام کے خطاب کے لئے تشکیل کی گئی ۔ جن علماء نے مختلف جلسوں میں تقاریر کیں ان میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ضلعی امیر خطیب ہزارہ مولانا شفیق الرحمان، مولانا عبدالحنان صدیقی، مفتی محمد نعیم، مولانا الطاف الرحمان، مولانا فیض رسول، مفتی سید زین العابدین، مولانا صاحبزادہ عتیق الرحمن ہاشمی، قاری محبوب الرحمان قریشی، قاری سید عبدالستار شاہ، مولانا مشتاق حسین، مولانا قاضی حمیدالدین، مولانا محمد صدیق شریفی، قاری محمد عارف اور مولانا قاری مجیب الرحمن شامل تھے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد کے مبلغ مولانا محمد خالد میر اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے بھی دو مختلف جلسوں سے خطاب کیا۔ جب کہ ختم
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نبوت یوتھ فورس کے ضلعی صدر وقار گل جدون، ساجد اعوان، انجم نواز جدون اور اعجاز احمد نے بھی مختلف جلسوں میں اس مسئلے پر تقاریر کیں۔ ۲۱؍مئی کو ضلع بھر کے علماء کا اجلاس ہوا جس سے مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کیا اور جماعتی پالیسی بیان کی۔ اس سلسلے کا سب سے بڑا جلسہ ۱۲؍ ربیع الاوّل کو ختم نبوت چوک مین بازار ایبٹ آباد میں منعقد ہوا۔ جس میں تمام مکاتب فکر کے جید علماء اور قائدین نے شرکت کی اور یوں ختم نبوت کے پلیٹ فارم پر سب اکٹھے ہوگئے۔ اس جلسے میں ہزاروں مسلمانوں نے شرکت کی۔ تا حد نگاہ عوام کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر تھا۔ جلسے سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد کے مبلغ اور شعلہ نوا خطیب قاضی احسان احمد کے علاوہ قاری شبیر احمد عثمانی، مولانا سید افسر علی شاہ، مولانا محمد رفیق ستار اور مولانا انیس الرحمٰن نے خطاب کیا جب کہ خطیب ہزارہ مولانا شفیق الرحمٰن نے اختتامی دعاء کروائی۔ مقررین نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور ووٹر فارم سے ختم نبوت کا حلف نامہ ختم کرنے کے مضمرات بیان کئے۔ انہوں نے واضح کردیا کہ اگر ۲۸؍مئی کی ڈیڈ لائن تک حکومت نے ہمارے مطالبات نہ مانے تو پھر ہماری احتجاجی تحریک نیا رخ اختیار کرلے گی۔ تمام مسلمانوں نے دونوں ہاتھ بلند کرکے اس بات کا عہد کیا کہ وہ آئین کی اسلامی شقوں کے دفاع اور فتنہ قادیانیت کے خاتمے کے لئے اپنی تمام تر صلاحیتیں وقف کر دیں گے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۰۲ء)
منڈی بہاؤ الدین کی مساجد دفاع ختم نبوت کے عہد سے گونج اٹھیں
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا محمد طیب فاروقی نے کہا کہ پوری امت مسلمہ یکمشت ہو کر ناموس رسالت ﷺ کا تحفظ کرے، مختلف مساجد میں درس اور جمعۃ المبارک کے خطبات میں کہا کہ حکمران قانون توہین رسالت میں کسی قسم کی ترمیم کرنے سے (ووٹر فارم میں مذہب کا خانہ اور عقیدہ ختم نبوت کے حوالے سے حلف نامہ بحال کرے) حکمران امریکہ اور کفر کو خوش کرنے کی بجائے پاکستان کے آئین کا تحفظ کریں۔ مولانا فاروقی نے ضلع منڈی بہاؤ الدین کے علماء اور خطباء سے انفرادی ملاقاتیں کیں اور قادیانیت کے حوالے سے ملک میں موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور علماء کرام سے درخواست کی چوبیس مئی کا جمعتہ المبارک یوم تحفظ ختم نبوت کے حوالہ سے پڑھایا جائے چنانچہ علماء کرام نے مکمل تائید کی۔ اس سلسلے میں قومی اور مقامی اخبارات کے ذریعے عوام الناس کو آگاہ کیا گیا۔ نیز علمائے کرام کو رد قادیانیت پر مجلس کے مطبوعہ رسائل ہدیہ پیش کئے۔ چنانچہ علماء کرام نے ۲۴؍مئی ۲۰۰۲ء کا جمعہ تحفظ ختم نبوت کے حوالے سے پڑھایا۔
مولانا ارشاد اللہ صدیقی صاحب نے جامع مسجد نور الہدیٰ، مولانا عبد الماجد صاحب مرکزی جامع مسجد، مولانا عبدالرشید جامع مسجد نور، مولانا طیب حسن مدنی مسجد پنڈی، قاری خلیل الرحمان آزاد جامع مسجد شاہی، مولانا محبوب الرحمان شاکر جامع مسجد اقصیٰ، مولانا ریاض احمد حقانی جامع مسجد کچہری، علامہ عنایت اللہ گجراتی جامع مسجد مدنی، حافظ نذیر احمد صاحب جامع مسجد الٰہی، قاری محمد طیب جامع مسجد امیر حمزہ ؓ، قاری وکیل احمد جامع مسجد مہاجرین واسو، مولانا عبدالعزیز مسجد صدیق اکبر ؓ، مولانا قاری محمد اشرف گوندل جامع مسجد الفتح، قاری محمد اشرف قریشی جامع مسجد حنفیہ، مولانا بلال احمد جامع مسجد محمدیہ، مولانا لعل حسین شاہ جامع مسجد صدیقیہ، علامہ عنایت اللہ ربانی مسجد عثمانیہ، صوفی یامین جامع مسجد گنبد والی جب کہ مولانا محمد طیب فاروقی نے جامع مسجد ربانی میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔
علاوہ ازیں حضرت مولانا عبدالحی صاحب نے جامع مسجد مدنی پھالیہ، مولانا عزیز الرحمان خورشید جامع مسجد فاروقی ملک وال، قاری شمس الدین رحمانیہ مسجد مرالہ، مولانا اکرام اللہ شوگر ملز، قاری سیف الرحمان کٹھیالہ، مولانا عبد الماجد جامع مسجد میانوال رانجھا، قاری
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
خطیب جامع مسجد بھکر نے اپنے ایک خطاب میں حکومت کو متنبہ کیا کہ ۱۹۷۳ء کے آئین کی اسلامی دفعات اور ۱۹۷۴ء کی ترامیم اور ۱۹۸۴ء کی امتناع قادیانیت ایکٹ کو چھیڑنے سے باز رہے۔ علماء کرام نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور مرزائیت کی ملک دشمن شرانگیزیوں سے عوام الناس کو خوب آگاہ کیا۔
علماء کرام نے مزید کہا کہ اگر حکمران اور مرزائی اپنا قبلہ درست نہ کریں گے تو امت مسلمہ اپنی نمائندہ جماعت کے پلیٹ فارم سے زبردست تحریک چلائے گی۔ نیز عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام ۲۵؍ مئی بعد از نماز عشاء بمقام سرمرالہ سیرت خاتم الانبیاء ﷺ کانفرنس، ۲۶؍ مئی بعد از نماز ظہر دفاع ختم نبوت کانفرنس، ۲۷؍ مئی بعد نماز ظہر سیرت خاتم الانبیاء ﷺ کانفرنس بمقام مدرسہ سراجیہ کوٹلہ ارب علی خان، ۲۷؍ مئی بعد نماز مغرب جامع مسجد شیخان دفاع ناموس رسالت کنونشن منعقد ہوئے۔ جس سے مقامی علماء کرام کے علاوہ استاذ المناظرین حضرت مولانا خدا بخش صاحب، مجاہد ختم نبوت حضرت مولانا محمد اسماعیل صاحب شجاع آبادی نے خطاب کیا اور کہا کہ آج تک پوری امت کا اس بات پر اجماع رہا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد مدعی نبوت کافر کذاب اور دجال ہے اور شریعت اسلامیہ میں اس بدبخت کی سزا قتل ہے۔ انہوں نے کہا کہ قادیانیت کا ایک ہی مقصد ہے کہ مسلمان آقائے دو جہاں ﷺ کے دامن اقدس سے علیحدہ ہو کر مرزا غلام احمد قادیانی سے وابستہ ہو کر جہنم کا ایندھن بن جائیں۔ قادیانیت کی یہ ارتدادی سرگرمیاں آئین پاکستان کے سراسر خلاف ہیں اور بغاوت پر مبنی ہیں۔ کانفرنسوں میں مندرجہ ذیل قراردادیں منظور کی گئیں:
- ۱...... ووٹر فارم میں عقیدہ ختم نبوت کے حوالہ سے حلف نامہ بحال کیا جائے۔
- ۲...... توہین رسالت کے قانون کو غیر مؤثر بنانے سے حکومت باز رہے۔
خوشاب
مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا اجلاس زیر صدارت مولانا بشیر احمد منعقد ہوا۔ جس میں جمعیت علمائے اسلام، جماعت اسلامی، جمعیت علمائے پاکستان سمیت کئی دیگر مذہبی جماعتوں نے شرکت کی، حکومت کی طرف سے قادیانیوں کو کھلی چھٹی، ووٹر لسٹ سے حلف نامہ ختم نبوت کے اخراج پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ووٹر لسٹ میں حلف نامہ ختم نبوت کو فی الفور بحال کرے۔ اگر اس کو بحال نہ کیا گیا تو ملک میں ایسی تحریک چلے گی جو قادیانیوں اور پرویز حکومت کو لے ڈوبے گی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ خطیب چناب نگر مولانا غلام مصطفیٰ نے شرکائے اجلاس کو مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت اور اس مسئلہ کے متعلق مسلمانوں کی صد سالہ قربانیوں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی پاکستان کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی نہ کریں۔ توہین رسالت، قادیانی کو غیر مسلم اقلیت اور امتناع قادیانیت آرڈیننس کو چھیڑا گیا تو ہم سروں پر کفن باندھ کر میدان میں نکلیں گے اور منافقانہ حرکت کو برداشت نہیں کریں گے۔ مولانا قاری سعید احمد اسد کے علاوہ جماعت اسلامی کے کیپٹن ڈاکٹر محمد رفیق نے بھی خطاب کیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جمعۃ المبارک کے خطابات میں مسلمانوں کو مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت، اس سلسلہ میں مسلمانوں کی قربانیوں اور قادیانیوں کی شرانگیز سرگرمیوں سے آگاہ کیا جائے گا اور قرارداد کے ذریعے حکومت سے مطالبہ کیا جائے گا کہ ووٹر لسٹ سے حلف نامہ ختم نبوت کو فی الفور بحال کرے۔ قادیانیوں کی شرانگیزیوں کا نوٹس لیا جائے، توہین رسالت سمیت کسی اسلامی دفعات کو نہ چھیڑا جائے۔ ورنہ مسلمان ہرقسم کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جوہر آباد
جامع مسجد بلاک نمبر ۴ جوہر آباد میں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں تمام مکاتب فکر کے علماء نے شرکت کی۔ اجلاس میں حکومت کی طرف سے ووٹر لسٹوں میں حلف نامہ ختم نبوت ختم کرنے ، قادیانیوں کی بڑھتی ہوئی شرانگیز سرگرمیوں، پرویز حکومت کا ان کے لئے نرم گوشہ رکھنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء اجلاس کو مولانا غلام مصطفیٰ خطیب چناب نگر مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت سے آگاہ کیا جو ایک ہفتہ کے دورے پر تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں آئے ہوئے تھے۔ تمام شرکائے اجلاس نے اپنی اپنی رائے دی اور تحفظ ناموس رسالت کے لئے اپنی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔ اجلاس میں مختلف کمیٹیاں تشکیل دی گئیں جو آئندہ کے لائحہ عمل کے لئے علمائے کرام سے رابطہ رکھیں گی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مئی جمعتہ المبارک کے خطابات میں قرارداد کے ذریعے حکومت سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ ووٹر لسٹوں میں فی الفور حلف نامہ ختم نبوت کو بحال کریں اور حکومت مرزائی نوازی ترک کر دے ورنہ نبی ﷺ کی ختم نبوت کے لئے جانوں کے نذرانے پیش کر دیں گے۔ اجلاس سے حکیم رشید احمد ربانی اور مولانا عبد اللطیف نے بھی خطاب کیا۔
بھکر ، لیہ
ووٹر فارم میں سے ختم نبوت کا حلف نامہ حذف کرنے کی خبر جب اخبار میں شائع ہوئی تو بھکر میں حضرت مولانا محمد عبد اللہ صاحب امیر جمعیت علماء اسلام پنجاب اور جناب ڈاکٹر دین محمد فریدی صاحب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بھکر نے تمام مکاتب فکر (School of Thought) کے مقامی علماء و کارکنوں کا اجلاس طلب کیا اور تمام صورتحال سامنے رکھی تو تمام حضرات نے متفقہ طور پر یہ قرارداد منظور فرمائی کہ جمعہ کو جلوس اور جلسہ ہونا چاہئے تاکہ عوام الناس کو مطلع کیا جائے تاکہ تحریک چلانے میں آسانی ہو۔ الحمد للہ! جلوس اور جلسہ کامیاب رہا اس کے بعد والے جمعہ کو حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب مرکزی مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان دلے والا تشریف لائے جمعہ کا بیان فرمایا اور لوگوں کو صورتحال سے آگاہ کیا۔ الحمد للہ! ضلع بھکر سے تقریباً ایک ہزار خطوط حکومت کے چار اہم حضرات (صدر ، وزیر داخلہ، وزیر مذہبی امور، چیف الیکشن کمشنر ) کو روانہ کئے گئے۔ ضلع میانوالی میں صاحبزادہ جلیل احمد نقشبندی صاحب امیر جمعیت علماء اسلام نے ایک ہزار خطوط چھپوا کر عوام میں ۱۲؍ ربیع الاول کو تقسیم کئے اور حکومت کے چار اہم حضرات کے نام بھی لوگوں سے روانہ کروائے۔ پپلاں سے قاری رفیق احمد ، مولانا جمیل احمد ، ماسٹر جمیل احمد، فقیر عبد الرشید صاحب نے بھر پور طریقے سے لوگوں سے خطوط لکھوا کر روانہ کئے۔ ضلع لیہ میں حضرت مولانا محمد حسین صاحب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور میاں محمد اکبر امیر مجلس تحفظ ختم نبوت کروڑ لعل عیسن ، قاری محمد عبد اللہ ، قاری فداء الرحمٰن صاحب کا کردار قابل تحسین ہے۔ ان سب پروگراموں میں لیہ، بھکر، میانوالی کے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا عبدالستار حیدری نے نمازوں کے بعد درس اور جمعہ کے بیان میں اس مسئلہ پر روشنی ڈالی۔ الحمد للہ! تمام مسلمانوں نے نبی کریم ﷺ کی ختم نبوت کے مسئلہ میں بڑی دلچسپی لی اللہ تعالیٰ قبول و منظور فرمائیں۔ آمین!
رحیم یار خاں میں اجلاس
اس اجلاس میں مولانا مطیع الرحمٰن درخواستی، رشید الرحمٰن، میاں امتیاز احمد، چوہدری ظفر اقبال، مولانا عبدالرؤف ربانی، چوہدری محمد ریاض نوری، مولانا منظور احمد نعمانی، مولانا مشتاق احمد، مولانا عبدالصمد، چوہدری عبدالرزاق، قاضی عزیز الرحمٰن، میاں مظہر نثار، مولانا محمد یوسف، حافظ محمد اکبر، چوہدری سردار اختر، مولانا بشیر احمد علی پوری، چوہدری ظفر اقبال، مولانا حافظ احمد بخش و دیگر شامل تھے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حافظ آباد
مسلمانان حافظ آباد کا یہ اجتماع جمعۃ المبارک کے تمام مسلمانوں سے یہ درخواست کرتا ہے کہ شمع رسالت کے پروانو! اپنے فرض کو پہچانو اور صورتحال یہ ہے کہ جنرل صاحب کی حکومت نے قادیانیت سے متعلق کئی ایک قوانین تبدیل کر دیئے ہیں اور عنقریب آنے والے آئینی پیکج میں ۱۹۷۴ء کی آئینی ترمیم اور ۱۹۸۴ء کا امتناع قادیانیت ایکٹ بھی ختم کر دیا جائے۔ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور ناموس رسالت ﷺ کے تحفظ کی اہم ذمہ داری ہم سب پر ہے۔ عشق مصطفیٰؐ کا تقاضا ہے کہ مسلمان اپنی بیداری کا ثبوت دیں اور آج کے اجتماع میں ہم اپنے عزم کا اظہار کرتے ہیں کہ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور ناموس رسالت سے ہماری زندگی اور موت وابستہ ہے۔
جنرل صاحب ! امت مسلمہ کا امتحان نہ لو۔
اکابرین ختم نبوت عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے جو لائحہ عمل اختیار کریں ہم ان کے مشن کی تکمیل کریں گے۔ مولانا محمد الطاف اور مولانا عبدالوہاب کے دستخطوں سے مندرجہ بالا قرارداد منظور ہوئی۔
سیالکوٹ
فارم نمبر ۴ کی فوٹو کاپی بمعہ جماعت کی طرف سے اپیل تمام مکاتب فکر کے خطباء کرام کو پہنچائی گئی، جنہوں نے اجتماعات جمعہ میں حکومتی فیصلہ کی مذمت کی اور بحالی کا مطالبہ کیا، یوں دو جمعہ میں یہ کام جاری رہا۔ سیالکوٹ بار کے زیر دستخطی حکومتی فیصلے کی مذمت اور بحالی کا مطالبہ کا پرچہ لے کر ضلعی ناظم کے سپرد کیا۔ قومی، علاقائی اخبارات کو بھیجا۔ پسرور، ڈسکہ بار کے زیر دستخطی حلف نامہ کی بحالی اور فیصلے کی مذمت پر مبنی وکلاء کے زیر دستخطی ایک یادداشت بطور احتجاج تحصیل ناظمین اعلیٰ کے سپرد کی تاکہ وہ مرکزی سیکریٹریٹ میں ہمارے اس احتجاج کو پہنچائے اور اخبارات کو بھیجی گئیں۔ تمام مذہبی ضلع سیالکوٹ، نارووال تنظیموں کی طرف سے احتجاج اخبارات کو اور ہوم سیکرٹری کو بھیجے گئے۔ پروفیسر غلام مرتضیٰ، حافظ محمد بشیر ڈسکہ، قاری محمد شفیق ڈوگر، محمد عارف ندیم دن رات ایک کر کے تمام مکاتب فکر کی مساجد میں اس معاملے پر دروس دیئے۔ سیالکوٹ، پسرور، ڈسکہ جماعت کے اجلاس ہوئے۔ اجلاس کی کارروائی اخبارات کو بھیجی گئی اور احتجاجی پروگراموں کو حتمی شکل دی گئی۔
مسجد حاجی سلیمان والی میں رکھی گئی کانفرنس کی صدارت ضلعی امیر سید شبیر احمد گیلانی نے کی، مولانا فیروز خان کی سرپرستی میں ہوئی۔ قاری محمد اسحاق نعمانی، حافظ احمد مصدق سیالکوٹ، مولانا محمد یحییٰ خان محسن آف نارووال، مولانا محمد قاسم صدیقی ناظم یونین کونسل سنکھترہ، مولانا محمد عارف ندیم، مولانا غلام مرتضیٰ، مولانا محمد ایوب خان کے بیانات ہوئے۔ نظم قاری عبدالرؤف نعت خواں ریڈیو، ٹی وی قاری حنیف رامپوری نے نعت پیش کی۔ تلاوت قاری عبدالرحمن عابد نے خصوصی خطاب سید محمد اسماعیل شاہ کاظمی آف لودھراں کا ہوا۔ یوں رات ۳ بجے مفتی رشید احمد پسروری کی دعاء پر اختتام پذیر ہوئی۔ کانفرنس حاضری کے اعتبار سے مثالی تھی۔
قصور، اوکاڑہ، پتوکی، دیپالپور میں اجلاس
مذہب کے خانے کی بحالی کا نوٹیفکیشن جاری کر کے شکوک دور کئے جائیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اوکاڑہ (نمائندہ خصوصی) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اوکاڑہ کا ایک اجلاس قاری محمد الیاس کی زیر صدارت صابری کالونی ۶ جون منعقد ہوا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عبدالرزاق مجاہد نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ووٹر لسٹ میں مذہب کا خانہ اور ختم نبوت کے حلف نامہ کی بحالی کا نوٹیفکیشن فوری جاری کر کے عوام میں بڑھتے ہوئے شکوک و شبہات دور کئے جائیں اور بحالی کے اعلان کے بعد ضروری ہے کہ پہلی تمام ووٹر لسٹیں ختم کر کے دوبارہ نئی ووٹر لسٹیں شائع کی جائیں اور پورے ملک میں قادیانیوں نے جو ووٹ بغیر حلف نامہ اور مذہب کے خانہ کے بغیر بنوائے ہیں انہیں بھی کینسل کیا جائے اور قادیانیوں کو اعلیٰ عہدوں سے فوری طور پر برطرف کرنے کا اعلان کیا جائے۔
دیپال پور میں چوہدری غلام عباس تمنا ایڈووکیٹ، مولانا سید محمد انور شاہ کے علاوہ مولانا عبدالستار، انعام الحق، قاری افضل، حمید انور، قاری محمد شفیق، مولانا محمد عبداللہ، کیپٹن ڈاکٹر لیاقت صاحب، مولانا طفیل، مولانا غلام محمود انور، مولانا مفتی غلام مصطفیٰ، مولانا جمیل احمد نوری کے علاوہ کافی شرکاء اجلاس میں شریک ہوئے۔
پتوکی میں قاری نور محمد شاکر قاری سلیم، محمد یونس، مولانا ہارون رشید کے علاوہ کافی دوستوں نے اجلاس میں شرکت کی۔ اسی طرح قصور شہر میں بھی اجلاس ہوا۔ قاری مشتاق احمد اور اللہ دتہ مجاہد، میاں معصوم انصاری اور مولانا عبدالرزاق شجاع آبادی شریک ہوئے اور مجلس کی کاوش پر قصور کے رفقاء نے مبارکباد پیش کیں۔ علماء اور کارکنوں سے کثیر تعداد میں دستخط کرائے گئے۔
حیدرآباد
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حیدرآباد کی دعوت پر جماعت کے مرکزی دفتر آٹو بھان روڈ لطیف آباد نمبر ۲ جماعت کے امیر مولانا عبدالسلام قریشی کی صدارت میں اجلاس ہوا، جس میں جماعت کے تمام رفقاء نے شرکت کی۔ ناظم اعلیٰ مولانا رب نواز جلاپوری، مولانا محمد نذر عثمانی، سیف الرحمٰن آرائیں، مولانا حافظ محمد حیات صاحب، مولانا جمیل الرحمٰن، مولانا قاری منظور الحق، مولانا قاری احمد، مولانا عبدالمتین، حاجی محمد زمان خان، غلام محمد بھٹہ، مولانا شبیر احمد تونسوی، مولانا محمود احمد، مولانا غضنفر ربانی، قاری رفیق اللہ، مولانا سید عالم، مولانا مفتی سیف اللہ، مفتی محمد فصیح، قاری کامران، مولانا بدر عالم، مولانا عزیز صاحب، مولانا محمد عمر، محمد عمران و دیگر کارکنان نے بھرپور شرکت کی۔ اجلاس میں حکومت کی طرف سے ووٹر فارم میں مذہب کا خانہ اور عقیدہ ختم نبوت کا حلف نامہ کے اخراج کو قادیانیت نوازی سے تعبیر کیا گیا اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ جس طرح ۲۸ سال سے ووٹر فارم میں درج امور کو غیر منتخب حکومت کو ختم کرنے کا کوئی جواز نہیں، جماعت کے رفقاء نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ووٹر فارم میں دوبارہ حلف نامہ شامل کیا جائے اور جتنے ووٹ بغیر حلف نامے والے فارم پر درج ہوئے دوبارہ ان کو درج کیا جائے۔ جماعت کے رفقاء نے مزید کہا کہ اگر حکومت نے اس جائز مطالبے کو تسلیم نہ کیا تو مرکزی جماعت ختم نبوت کے حکم پر پورے ملک میں حکومت کے خلاف تحریک شروع کر دی جائے گی۔
ووٹر فارم کے سلسلہ میں دستخط مہم کو کامیاب کرانے کے لئے مولانا محمد نذر کا علماء کرام و دیگر حضرات سے رابطہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی طرف سے ووٹر فارم سے بیان حلفی کے اخراج کے خلاف صدر، وزیر داخلہ، وزیر مذہبی امور الیکشن کمشنر کو بھیجے جانے والے خطوط پر دستخط مہم کے سلسلے میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حیدرآباد کے مبلغ مولانا محمد نذر نے مختلف جماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔ جماعت اسلامی حیدرآباد کے امیر حاجی شوکت، مشتاق احمد ایڈووکیٹ، مولانا عبدالوحید قریشی سے ملاقات کی، جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت کا یہ طرز عمل قادیانیت نوازی کی بدترین مثال ہے۔ لہٰذا فوری طور پر ووٹر
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
فارم میں بیان حلفی درج کیا جائے۔ جمعیت علمائے اسلام حیدرآباد کے رہنما حاجی گل محمد جنرل سیکرٹری، اشفاق احمد، قاری کامران احمد، صوبہ سندھ کے ڈپٹی سیکرٹری مولانا تاج محمد ناہیوں نے حکومت کی طرف سے ووٹر فارم میں حکومت کی بے جا مداخلت کی پرزور مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ تمام مسلمانان پاکستان کے اس جائز مطالبے کو تسلیم کیا جائے۔
جمعیت کے رہنماؤں نے کہا کہ قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے جماعت ختم نبوت کے ساتھ ہر محاذ پر ساتھ ساتھ ہیں اور مقامی جماعتیں ان شاء اللہ اپنے قائد کے حکم پر مقامی ختم نبوت کی جماعتوں کے ساتھ ہر محاذ پر ساتھ دیں گی۔ بعد ازاں مولانا محمد نذر نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر حاجی دین محمد و صوبائی رہنما مولانا عبدالمتین قریشی سے ملاقات کی۔ مسلم لیگ کے رہنماؤں نے جماعت ختم نبوت کے موقف کی تائید کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ دانشمندی کا یہ تقاضا ہے کہ اس مطالبے پر عمل کیا جائے اور ایسے امور کو چھیڑنے سے گریز کیا جائے۔ یہ تو تمام مسلمانان پاکستان کے نزدیک متفق علیہ مسئلہ ہے۔ جمعیت علماء پاکستان نورانی گروپ صوبہ سندھ کے امیر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نے اپنے اخباری بیان میں حکومت کے اس فیصلے پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے اسے قادیانیت نوازی کی بدترین مثال قرار دیا اور کہا کہ بین الاقوامی دباؤ پر اس قسم کی کارروائیاں حکومت کا رہا سہا وقار بھی ختم کرنے کے لئے کافی ہیں۔ انہوں نے حکومت سے کہا کہ نادان مشیروں کے مشوروں پر عمل کرنے سے پہلے خود بھی اپنے عقل سے کچھ سوچ لیا کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام مسلمانوں کے مشترکہ مطالبہ پر فوری طور پر عمل درآمد کیا جائے اور جتنے ووٹ درج ہوئے ہیں ان کو منسوخ کر کے دوبارہ حلف نامہ والے فارم پر درج کئے جائیں۔
میر پور خاص، کنری، گولارچی
ووٹر فارم سے حلف نامہ ختم کرنے کی صورت میں فوری طور پر ضلع بدین اور ضلع میر پور خاص میں کام شروع کر دیا گیا۔ گولارچی جھڈو، کنری، ٹنڈو غلام علی، میر پور خاص میں راقم نے اس سلسلہ میں خود جمعہ پڑھائے اور ضلع بدین کی جمعیت علماء اسلام کے مولانا عبدالستار صاحب، حافظ محمد زبیر میمن، حافظ عبدالواحد سے تفصیلی ملاقات ہوئی۔ ان حضرات نے بدین کڑیو گھنور ٹنڈو غلام علی، ماتلی میں بھر پور احتجاجی جمعہ کے اجتماعات کئے اور بدین کی جمعیت علماء اسلام کا اجلاس گھنور میں ہوا۔ حافظ عبدالواحد نے تمام کارکنوں کو تیار رہنے اور بھر پور احتجاج کرنے پر آمادہ کیا۔ اس سلسلہ میں گولارچی سے جھڈو کنری میر پور خاص سے تقریباً ۲۵۰ کے قریب خطوط جناب صدر صاحب، وزیر داخلہ، وزیر مذہبی امور، چیف الیکشن کمشنر کو لکھے گئے اور ادھر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت میر پور خاص کے امیر حضرت مولانا فیض احمد، مولانا شبیر احمد کرنالوی، مفتی منیر احمد طارق نے میر پور خاص میں مجلس کا اہم اجلاس کیا اور پورے میر پور خاص میں بھر پور احتجاج منایا۔ کنری میں ماسٹر عبدالواحد، ماسٹر عبدالرشید، محمد سہیل، مولانا عبدالغفور اور دیگر علماء کرام نے بھر پور انداز میں کردار ادا کیا۔ جھڈو میں حافظ محمد شریف، منور علی راجپوت، حافظ عبدالعزیز، محمد ساجد نے اس کام کو خوب سرانجام دیا۔
سکھر
جیسے ہی حلف نامہ کو حذف کرنے کی اطلاع سکھر میں ہوئی تو سکھر کے مبلغ حافظ محمد حسین ناصر نے مختلف علماء کرام سے ملاقات کی۔ ۲۵؍ صفر المظفر کو جامعہ حمادیہ منزل گاہ جمعیت علماء اسلام کی صوبائی شوریٰ کا اجلاس ہوا۔ وہاں علماء کرام سے ملاقات کی ان کو حلف نامہ کا پرانا
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ووٹر لسٹ والا فارم اور نیا فارم جس حلف نامہ کو حذف کیا گیا، دکھایا میٹنگ میں قرارداد پاس ہوئی۔ ۲۶؍ صفر المظفر کو سکھر کی اکثر مساجد میں قراردادیں پاس ہوئیں۔ جامع مسجد بندر روڈ میں قاری خلیل احمد نے بہت اچھے انداز میں قرارداد پاس کرائی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ حلف نامہ کو بحال کیا جائے۔ جامع مسجد بندر روڈ میں بعد نماز عصر میٹنگ ہوئی۔ جس میں آغا سید محمد شاہ، مولانا عبدالمجید صاحب فاضل دیوبند، مولانا عبدالرحمن مجاہد، حاجی رشید احمد، مولانا محمد حسین ناصر اور دوسرے علماء کرام نے شرکت کی، اس کے بعد علماء کرام سے رابطہ کو تیز کر دیا گیا، مولانا بشیر احمد کی آمد کے بعد دستخطی مہم شروع ہوئی۔ ۱۵۰۰ کے قریب خطوط لکھے گئے سکھر پنوں عاقل خیر پور روہڑی، ہالجی شریف، شکار پور وغیرہ گھوٹکی میں جامعہ قاسم العلوم میں علماء کرام سے ملاقات کی۔ جس میں مولانا عبداللطیف خان پٹھان نے جماعت کے رفقاء اور علماء کرام کے لئے دعاء فرمائی۔ مولانا خالد حسین نے دستخطی مہم کے بارے میں بھر پور کردار ادا کیا اور دوسو کے قریب خطوط ارسال کئے۔
سکھر میں مجلس عمل کا اجلاس
(پ ر) مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا ایک ہنگامی اجلاس دفتر ختم نبوت سکھر میں ہوا، جس کی صدارت جمعیت علماء اسلام کے مرکزی نائب امیر مولانا محمد مراد ہالیجوی نے کی۔ اجلاس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا، حضرت مولانا مفتی محفوظ احمد نے تلاوت کی، حضرت مولانا بشیر احمد صاحب نے حاضرین کو جماعتی سرگرمیوں اور قادیانیوں کی ریشہ دوانیوں سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں نے سو سال جدوجہد کی، ہزاروں جانوں کی قربانیاں پیش کیں جس کے نتیجہ میں قادیانیوں کو کافر قرار دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ۱۹۵۳ء کی تحریک میں دس ہزار مسلمان شہید ہوئے۔ ۱۹۷۴ء کی تحریک میں ۴۰ کے قریب مسلمان شہید ہوئے۔ آج قادیانیوں کو مسلمانوں کے ساتھ ملانا یہ ملک وملت اسلام اور شہدا کے خون سے غداری ہے۔ جن علماء کرام نے اجلاس میں شرکت کی وہ یہ ہیں۔ مفتی محمد ابراہیم قادری، مولانا محمد اقبال حسین شاہ فیضی، جمعیت علماء پاکستان، جناب اسد اللہ بھٹو ایڈووکیٹ، صوبائی امیر جماعت اسلامی صوبہ سندھ، مشرف محمود قادری، مولانا محمد عارف سعیدی رکن رویت ہلال کمیٹی پاکستان، مولانا محمد آصف، قاری طاہر محمود مدنی جمعیت اہلحدیث، جناب ہادی بخش اعوان مجلس احرار اسلام، مولانا حق نواز اعوان مفتی دائم الدین صدر جمعیت اتحاد علماء سندھ، خیر محمد تونیو سیکرٹری جنرل پریم یونین سی بی اے، آغا سید محمد شاہ امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سکھر، حاجی احمد حسین نائب امیر مولانا عبدالرحمن مجاہد، اکبر علی شیخ جماعت اسلامی، مولانا ابو محمد صاحب مفتی محمد شفیع، حاجی رشید احمد، سکندر ذوالقرنین۔
کنری کی رپورٹ
کنری (نمائندہ) کنری شہر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ناظم میاں عبدالواحد صاحب کی صدارت میں دفتر ختم نبوت میں ۱۵؍ مئی بروز بدھ بعد نماز عشاء رات گئے تک اجلاس جاری رہا۔ اجلاس میں تمام مکاتب فکر کے علماء کرام اور معززین شہر نے شرکت کی اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جلد از جلد ووٹر فارم سے جو حلف نامہ حذف کیا ہے۔ وہ دوبارہ ہر حال میں بحال کیا جائے اور قادیانیت نواز پالیسی سے حکومت دور رہے کیونکہ ناموس رسالت ﷺ کی حفاظت ہم پر فرض ہے اور ہر حال میں اس کی حفاظت کریں گے اور مرکز ختم نبوت کے پلیٹ فارم سے ہمیں جو بھی حکم ملا ہم اس پر عمل کریں گے۔ اجلاس میں شرکت کرنے والے علماء کرام اور معززین شہر جن میں مولانا عبدالغفور صاحب قاسمی، مولانا ضیاء الرحمن فاروقی، مولانا مظہر علی سکندری، مولانا نور محمد لاشاری، محمد الیاس نوھڑی، اعجاز صاحب، سہیل صاحب، ریاض صاحب، مولانا اختر، ابراہیم خان کے علاوہ عبدالرشید راجپوت نے شرکت کی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کُنری میں یوم احتجاج
کُنری (نمائندہ خصوصی) مورخہ ۱۵؍مئی ۲۰۰۲ء جمعتہ المبارک کو کُنری کی تمام مساجد میں زبردست احتجاج ہوا۔ جس میں علماء کرام نے بھرپور طریقے سے مذمت کی اس کے بعد دفتر ختم نبوت میں ایک اجلاس ہوا۔ جس میں تاجر، معزز شہری اور علماء کرام نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ووٹر فارم میں جو حلف نامہ حذف کیا ہے اسے دوبارہ شامل کیا جائے۔ ۱۹۷۴ء کے آئین اور ۱۹۸۴ء کے امتناع قادیانیت آرڈیننس کو نہ چھیڑا جائے۔ قرارداد پیش کرنے والے علماء کرام، تاجروں، معزز شہری عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ناظم میاں عبدالواحد، ابراہیم خان کے علاوہ مولانا محمد صالح صاحب، مولانا عبدالغفور صاحب قاسمی، مولانا ضیاء الرحمن فاروقی، مولانا مظہر علی سکندری، مولانا نور محمد لاشاری، مولانا محمد الیاس نوہڑی، مولانا خالد سعید، مولانا محمد اختر صاحب، مولانا محمد منشاء صاحب، عبید اللہ گل، جناب عبدالحفیظ آرائیں، جناب اعجاز سہیل صاحب، ندیم بھٹی، خالد بھٹی، عبدالرشید راجپوت نے شرکت کی۔
گنمبٹ میں جلسہ عام
جمعیت طلباء اسلام گنمبٹ ضلع خیر پور میرس کے زیر اہتمام فاروق اعظم ﷺ چوک گنمبٹ میں اجلاس منعقد ہوا۔ جس کی صدارت محمد عبدالصمد شیخ نے کی۔ شرکائے اجلاس نے کہا کہ ووٹر لسٹ میں عقیدہ ختم نبوت سے متعلق حلف نامہ حذف کرنا آئین کی سراسر خلاف ورزی ہے۔ یہ جو آئین کی خلاف ورزی کی گئی ہے اس میں سراسر قادیانیوں کی سازش ہے۔ اس لئے ہم جمعیت طلباء اسلام گنمبٹ ضلع خیر پور میرس سندھ حکومت پاکستان سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر ووٹر لسٹ فارم میں حلف نامہ شامل کیا جائے۔ اگر یہ حلف نامہ ووٹر لسٹ فارم میں شامل نہیں کیا گیا تو جو بھی نقصان ہوگا اس کی ذمہ داری حکومت پاکستان پر ہوگی۔
کوئٹہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے صوبائی دفتر میں قائم مقام امیر مولانا عبدالواحد خطیب قندھاری مسجد کی زیر صدارت مجلس عمل کا بہت بڑا اجلاس ہوا۔ جس میں جمعیت علماء اسلام عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، جماعت اسلامی تنظیم اسلامی مدارس کے مہتمم، اساتذہ کرام، خطباء حضرات نے بھرپور شرکت کی۔ شرکاء اجلاس نے ووٹر فارم سے ختم نبوت کے حلف نامہ کے حذف کرنے مخلوط انتخاب اور دینی مدارس پر دباؤ ڈالنے پر شدید تنقید کی اور ان اقدامات کو پاکستان کے اسلامی تشخص کو مٹانے کی پیش رفت قرار دیا گیا اور چوری چھپے سے قادیانی لابی سے ساز باز قرار دیا گیا کیونکہ طویل عرصہ سے امریکہ، برطانیہ اور کفری قوتوں سے قادیانی لابی پاکستان سے دستوری ترامیم کو ختم کرنے کے لئے دباؤ ڈال رہی تھی۔ اجلاس نے خدشہ ظاہر کیا کہ ووٹر لسٹ سے ختم نبوت کا حلف نامہ ختم کرنے کے بعد اگلا مرحلہ غیر مسلم کی آئینی شق کو ختم کرنا ہے۔ یہ اجلاس قوم کی متفقہ جدوجہد اور متفقہ آئینی ترمیم کو کسی فرد واحد کی خواہش اور اقتدار کو طوالت دینے کی خاطر ختم کرنے کی اجازت نہیں دے گا اور اس کے لئے انتہائی اقدام سے گریز نہیں کیا جائے گا۔ پاکستان کے غیور مسلمانوں نے ہمیشہ سے عقیدہ ختم نبوت اور ناموس رسالت ﷺ کی خاطر بڑی سے بڑی قربانیاں دی ہیں اور آئندہ بھی دیتی رہے گی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ قوم کو اس سازش سے باخبر رکھنے کے لئے عوامی رابطہ مہم کا آغاز کیا جاتا ہے۔ پاکستان مسلم ووٹ کی
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قوت پر بنا تھا کہ مسلم غیر مسلم کے امتیاز کے بغیر پاکستان کی سالمیت خطرہ میں ہے۔ اجلاس نے کوئٹہ شہر میں مشائخ و علماء کرام کی گرفتاری کو قابل نفرت عمل قرار دیا اور انہیں فی الفور رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔ خاص کر شیخ الحدیث مولانا عبدالباقی کی گرفتاری کی مذمت کی گئی۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے قاری انوار الحق حقانی خطیب مرکزی مسجد قاری عبدالرحیم رحیمی خطیب گول مسجد، قاری محمد عبداللہ منیر خطیب سنہری مسجد، مبلغ ختم نبوت مولانا عبدالعزیز جتوئی، حاجی محمد طفیل احرار، حاجی شاہ محمد، آغا حاجی تاج محمد، حاجی نعمت اللہ خان، حاجی خلیل الرحمان، جمعیت علماء اسلام کے مولانا شریف اللہ، حافظ حسین احمد سہروردی، مولانا عبدالقادر جماعت اسلامی کے مولانا عبدالحق بلوچ، عبدالحق ہاشمی، عبدالقیوم کاکڑ تنظیم اسلامی کے مولانا راشد گنگوہی، مہتمم جامعہ قاسمیہ، مولانا عبدالغفور، قاری مہر اللہ تجوید القرآن، مولانا محمد جاوید، جی او جدید مدرسہ خطباء حضرات قاری محمد حنیف مسجد طوبی، مولانا عبدالرحمٰن مسجد غفور خان مولانا غلام سرور خطیب ڈاکخانہ مسجد مولانا عبدالقدوس جامع مسجد چلتن مارکیٹ مولانا محمد عمر شاہ، مولانا عبدالستار مدرسہ قاسمیہ، مولانا عبدالرؤف ناظم مدرسہ قاسمیہ، مولانا محمد یوسف ہزاروی، جامع مسجد اقصیٰ سید ریحان شاہ، قاری عبدالقدوس تونسوی، مولانا غلام یٰسین، حافظ خادم حسین گجر، غلام یٰسین آصف اور کوئٹہ کی تمام مذہبی و دینی قوتوں نے بھر پور شرکت کی۔ مسئلہ ختم نبوت کے لئے اپنے تمام تر وسائل صرف کرنے کا اظہار کیا گیا۔
بلوچستان میں یوم احتجاج
جمعیت علماء اسلام اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی اپیل پر صوبہ بھر میں یوم مطالبات منایا گیا۔ دوسرے شہروں اور صوبائی دارالحکومت کی بیشتر مساجد میں نماز جمعتہ المبارک کے اجتماعات میں قراردادیں منظور کی گئیں۔ جس میں مطالبہ کیا گیا کہ ووٹر لسٹوں میں مذہب کا خانہ اور عقیدہ ختم نبوت کا حلف نامہ بحال کیا جائے کیونکہ قادیانی مسلمانوں کی ووٹر لسٹوں میں اپنے ناموں کا اندراج مسلمانوں کی حیثیت سے کرا رہے ہیں جو پاکستان کے قانون کے تحت قابل تعزیر جرم ہے حالانکہ صدر پاکستان عبوری آئین (پی سی او) کے تحت امتناع قادیانیت آرڈیننس کو تحفظ دے چکے ہیں۔ علماء نے کہا کہ مخلوط طرز انتخاب سے پاکستان کا تشخص ختم ہو گیا ہے۔ اس لئے جداگانہ طریقہ انتخاب بحال کیا جائے۔
مولانا امام الدین قریشی نے علی پور، روہیلانوالی، خان گڑھ، کوٹ ادو، ڈیرہ غازی خان، جام پور، راجن پور سے خطوط بھجوائے۔
مولانا خدا بخش نے خانیوال، کبیر والا، وہاڑی، ٹبہ سلطان پور، لودھراں، کہروڑ پکا، شجاع آباد، بہاولنگر، کا بھر پور تبلیغی دورہ کیا اور خطوط بھجوائے۔
جمعیت علماء اسلام (س) ملتان کا اجلاس
امریکہ کے اشارے پر اسلامی آئینی ترامیم کو چھیڑنے کی کوشش کی گئی تو پوری قوم سراپا احتجاج بن جائے گی۔ یہ بات ملتان میں جمعیت علماء اسلام (س) کے رہنما مفتی منظور احمد، قاری عباس ارشد، مولانا یعقوب الرحمٰن جالندھری، ڈاکٹر حبیب اللہ صدیقی، مولانا انوار الحق مجاہد، قاری ابوبکر قاسمی، علامہ عطاء اللہ قادری، مولانا غلام محمد، حافظ عبدالعلیم سیال اور قاری محمد سعید نقشبندی نے ایک مشترکہ بیان میں ووٹر فارم سے ختم نبوت کے متعلق حلفیہ بیان ختم کرنے، مخلوط طرز انتخاب رائج کرنے اور امریکی سینٹ کی قرارداد جس میں گستاخ رسول کی سزا ختم کرنے اور قادیانیت سے متعلقہ آئینی ترامیم منسوخ کرنے کی سفارش پر انتہائی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۱۹۷۴ء کی آئینی ترمیم جس میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تھا اور ۱۹۸۴ء کا امتناع قادیانیت آرڈیننس ایکٹ جس میں قادیانیوں کو اسلامی اصطلاحات استعمال کرنے سے روک دیا گیا تھا کے پیچھے مسلمانان پاکستان کی ایک سوسالہ تاریخی اور عظیم الشان قربانیاں ہیں۔ حکومت نے اگر امریکہ کے اشارے پر انہیں چھیڑنے یا ختم کرنے کی کوشش کی تو پوری قوم سراپا احتجاج بن جائے گی۔
آل پارٹیز ختم نبوت کانفرنس کے لئے سیاسی و دینی جماعتوں کو دعوت نامے جاری کر دیئے گئے
ملتان (سٹاف رپورٹر ) جمعیت علماء اسلام (ف) کے زیر اہتمام ۲۸ مئی کو لاہور میں منعقد ہونے والی آل پارٹیز ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کے لئے ملک کے تمام دینی و سیاسی جماعتوں کے قائدین کو دعوت نامے جاری کر دیئے گئے ہیں۔ جن میں کہا گیا ہے کہ ۱۹۷۳ء کے آئین میں عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے آئینی ترمیم کے بعد پارلیمنٹ نے ایک حلف نامہ کی منظوری دی تھی، جسے آئین کا حصہ بنایا گیا اور ایک عام پاکستانی مسلمان کے لئے پاسپورٹ، شناختی کارڈ اور ووٹ بناتے وقت متعلقہ فارم پر درج حلف نامہ پر دستخط کرنا لازم قرار دیا گیا لیکن حال ہی میں موجودہ حکومت نے ووٹر فارم سے اس حلف نامہ کو حذف کرنے کا غیر آئینی اقدام کیا ہے جس سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔
وفاقی وزیر قانون کی ہرزہ سرائی
کراچی (آن لائن ) وفاقی وزیر قانون ڈاکٹر خالد رانجھا نے کہا ہے کہ مخلوط طرز انتخاب کے اعلان کے بعد ووٹر فارم میں ختم نبوت سے متعلق حلف نامے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ہفتہ کی شب جب وزیر قانون سے پوچھا گیا کہ انتخابی فہرستوں کے لئے ختم نبوت سے متعلق حلف نامہ کیوں ختم کیا گیا ہے تو انہوں نے کہا کہ مخلوط طرز انتخاب کے اعلان کے بعد اس قسم کی باتوں کی کوئی گنجائش نہیں۔ حکومت نے تخصیص کا خاتمہ کر دیا ہے جس کے بعد یہ ضروری نہیں کہ کسی سے پوچھا جائے کہ وہ قادیانی ہے یا نہیں یا اس کا عقیدہ اور مذہب کیا ہے ہم سب کو پاکستانی سمجھتے ہوئے برابر کا شہری تصور کرتے ہیں۔
(نوائے وقت ۲۰ مئی ۲۰۰۲ء)
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان کا بیان
صادق آباد (نمائندہ خصوصی ) جمعیت علماء اسلام کے مرکزی صدر مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ حکومت نے امریکہ اور برطانیہ کے اشارہ پر مخلوط انتخاب کی آڑ میں ووٹر فارم میں سے ختم نبوت کا حلف نامہ حذف کر دیا ہے۔ حکومت ہوش کے ناخن لے ورنہ ملک کے کروڑوں مسلمان راست اقدام اٹھانے پر مجبور ہوں گے۔ وہ جے یو آئی کے ضلعی جنرل سیکرٹری میاں مظہر نثار سے ٹیلی فون پر گفتگو کر رہے تھے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مسلمان خاتم النبیین سید المرسلین کے ناموس کی خاطر اپنا تن من دھن قربان کر دیں گے۔
جمعیت اہل حدیث کا اجلاس
جماعت اہلحدیث پاکستان کی مجلس عاملہ و شوریٰ کا مشترکہ اجلاس منعقد کیا گیا جو گزشتہ روز جامعہ القدس اہلحدیث میں مولانا محمد حسین شیخوپوری کی صدارت میں منعقد ہوا ، جس میں حافظ محمد جاوید روپڑی، حافظ عبدالغفار روپڑی، مولانا محمد رمضان سلفی، مولانا شکیل الرحمان ناصر، مولانا جابر حسین، مولانا عطاء الرحمان شیخوپوری، شہادت طور، مولانا محمد یحییٰ، عزیز ڈیروی اور دیگر نے شرکت
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
وخطاب کیا۔ اجلاس میں متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قراردادوں میں مطالبہ کیا گیا کہ ووٹر لسٹوں سے مذہب کے خانے کو فوری شامل کیا جائے اور شناختی کارڈ و پاسپورٹ میں بھی مذہب کے خانہ کا اضافہ کیا جائے۔ تاکہ قادیانی جماعت کے افراد اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں کو گمراہ نہ کرسکیں۔
توہین رسالت میں ترمیم نامنظور، ڈسٹرکٹ بار ملتان کی قرارداد
ووٹر فارم میں مذہب کا خانہ اور ختم نبوت کا حلف ختم کرنا مذہب کے خلاف بغاوت ہے۔
ملتان (کورٹ رپورٹر) ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کی جنرل باڈی میں میں متفقہ طور پر قرارداد منظور کی گئی جس میں امتناع توہین رسالت کے قانون میں ترمیم ، ووٹر فارم میں مذہب کے خانہ کو حذف اور ختم نبوت کے حلف کو ختم کرنے کو انتہائی ناپاک اور مذموم اقدامات قرار دیا گیا۔ ڈسٹرکٹ بار نے ان اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت کو یاد کرایا کہ ایسے اقدام مذہب کے خلاف کھلم کھلا بغاوت ہیں۔ قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ بیرونی دباؤ قبول نہ کرے۔ اجلاس سید حامد علی شاہ کی زیر صدارت ہوا، نظامت سیکرٹری جنرل ملک محمد اکرم بھٹی نے کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خلیل الرحمٰن مسعود ایڈووکیٹ نے کہا کہ حکومت نے بیرونی دباؤ پر کشمیر کی پالیسی واپس لے لی ہے۔ ذوالفقار علی ایڈووکیٹ نے کہا کہ قرآن وسنت کے خلاف جو کام بھی ہوگا وکلاء اس پر سراپا احتجاج رہیں گے۔ قرار داد کے محرک معظم معاویہ قریشی ایڈووکیٹ نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت اسلام کی اساس ہے۔ سیکرٹری جنرل ملک محمد اکرم بھٹی نے کہا کہ حالیہ اقدام غیر ملکی طاقتوں کی شہہ پر کیا جارہا ہے جسے حکومت کو فوری طور پر واپس لینا پڑے گا۔ اجلاس میں سینئر نائب صدر اعجاز احمد، قمر الزماں، خان اشرف خان، راؤ محمد امجد، الطاف قریشی، محمود الحسن ہاشمی، عبدالرؤف ملک، ملک سجاد وینس اور رانا شاہد منظور نے بھی شرکت کی۔
جمعیت علماء اسلام وہاڑی
وہاڑی (نامہ نگار) مخلوط انتخابات کے لئے ووٹر فارم سے عقیدہ ختم نبوت کے حلف نامے کا خاتمہ آئین اور اسلام سے غداری ہے۔ اس حکومتی عمل سے قادیانیت کو تقویت اور عملاً تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار جمعیت علمائے اسلام ضلع وہاڑی کے سرپرست مولانا کرم الٰہی فاروقی ضلعی امیر، مولانا گل محمد نائب امیر، حافظ بشیر احمد اور جنرل سیکرٹری عبد الخالق وٹو نے جے یو آئی کے دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ان رہنماؤں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے مخلوط انتخابات کے اعلان کے بعد رائے دہندگان اور امیدواران کے لئے مذہبی بنیاد پر علیحدگی کا تصور ختم کر دیا گیا ہے کیونکہ اب ووٹر فارم میں ختم نبوت سے متعلق حلف نامہ حذف کر دیا گیا ہے۔ حالانکہ ۱۹۷۷ء میں انتخابات میں بھی مخلوط انتخابات ہونے کے باوجود فہرست ووٹر الگ تھی۔ انہوں نے کہا کہ ۲۸ مئی کو لاہور میں ختم نبوت آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد کے بعد وہاڑی میں بھی جے یو آئی ایسی ہی کانفرنس منعقد کرے گی۔ جنرل مشرف کو اپنی غیر دانشمندانہ افغان پالیسی کی ناکامی کا اقرار کرتے ہوئے مستعفی ہو جانا چاہئے کیونکہ کشمیر کاز پاکستان کی معاشی، خوشحالی اور ایٹمی تنصیبات خطرے میں ہیں۔
حضرو میں کنونشن
جمعیت علماء اسلام کے راہنما حضرت مولانا قاری سعید الرحمٰن صاحب کی مساعی سے علاقہ چھچھ کے سینکڑوں علماء کرام کا اجلاس جامعہ اشاعت الاسلام حضرو میں منعقد ہوا، جس میں حضرت قاری سعید الرحمٰن اور مولانا محمد اکرم طوفانی نے خطاب کیا۔ فیصلہ ہوا کہ ضلع کے
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مساجد و مدارس کے سٹیج سے پرویزی حکومت کی اس زیادتی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی جائے۔
اٹک میں کنونشن
۲۰ مئی تمام دینی جماعتوں کا مشترکہ اجلاس جامع مسجد مرکزی میں منعقد ہوا۔ رات کو جلسہ عام ہوا، ضلع بھر کی تمام جماعتوں نے اس میں شرکت کی۔ مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا اللہ وسایا صاحب کے بیانات ہوئے۔
پشاور میں کنونشن
۲۰ مئی جمعیت علماء اسلام اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی دعوت پر پشاور کے علماء کرام کا مشترکہ اجلاس ہوا۔ مولانا محمد اکرم طوفانی، قاری فیاض الرحمن، حضرت مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی، مولانا نور الحق نور کے بیانات ہوئے اور پورے صوبہ میں حلف نامہ ختم نبوت ووٹرلسٹوں میں بحال کرانے کے لئے تحریک کو منظم کرنے کا اعلان ہوا۔
کوہاٹ میں کنونشن
۲۲ مئی کو کوہاٹ میں جمعیتہ علماء اسلام اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام شیخ الحدیث مولانا نعمت اللہ کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ مولانا مفتی ابرار الحسن، مولانا محمد اکرم طوفانی، صوفی محمد علی اور دوسرے حضرات کے بیانات ہوئے۔ تمام دینی جماعتوں کے نمائندہ حضرات نے شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۰۲ء)
ووٹر فارم سے ختم نبوت کے حلف نامہ کی منسوخی اور بحالی کی سرگزشت
۲۰۰۲ء میں ووٹر فارم سے الیکشن حکام کی قادیانیت نوازی یا ان میں گھسے ہوئے قادیانی عناصر کی سازش سے ختم نبوت کا حلف نامہ حذف ہوا۔ اس کی بحالی کے لئے اسلامیان پاکستان اور تمام دینی جماعتوں نے جدوجہد کی۔
اس کی ’’سرگزشت،، جولائی ۲۰۰۲ء سے دسمبر ۲۰۰۲ء تک پانچ قسطیں شائع ہوئیں۔
حال ہی میں پھر قادیانی سازش نے سر اٹھایا۔ بحال شدہ حلف دوبارہ حذف کر دیا گیا۔ اب پھر امت کی کوشش سے بحال ہوا۔ اس لئے دوبارہ ضرورت محسوس ہوئی کہ اس پوری ’’سرگزشت،، کو قلمبند کر دیا جائے۔
یہ قسط نمبر ۶ ہے۔ سلسلہ کے لئے دسمبر ۲۰۰۲ء کا لولاک ملاحظہ کیا جائے۔ مرتب
قارئین کو یاد ہوگا کہ ۲۸؍اپریل ۲۰۰۲ء سے ختم نبوت کے حلف نامہ کی بحالی کے کام کا آغاز ہوا۔
۲۸؍اپریل سے ۲۷؍مئی ۲۰۰۲ء تک کی رپورٹ ماہنامہ لولاک دسمبر ۲۰۰۲ء تک پیش کی جاچکی ہے۔
مجھے اعتراف ہے کہ مکمل رپورٹ پیش نہ ہوسکی ہوگی۔ بعض علاقوں میں حلف کی بحالی کے لئے جو جدوجہد ہوئی اس کی رپورٹیں میسر نہ آسکنے کے باعث شامل اشاعت نہ ہوسکی ہونگی۔ تاہم اللہ تعالیٰ کی توفیق وعنایت سے جتنا ہوسکا قلم بند کر دیا گیا۔ آج ۲۸؍مئی سے قلمی سفر کا آغاز کرتے ہیں۔
۲۸؍مئی ۲۰۰۲ء کو کل پاکستان جمعیت علمائے اسلام کے زیر اہتمام قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمن امیر مرکزیہ کل پاکستان جمعیت علماء کی دعوت پر ان کی صدارت میں صبح دس بجے فلیٹیز ہوٹل لاہور میں تمام دینی وسیاسی رہنماؤں کا اجلاس منعقد ہوا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ۴۸۰ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
شرکاء اجلاس کے اسمائے گرامی اور دستخطوں پر مشتمل ان کا عکس
Ref. # ___________________ Date : 28 5 2002 جمعیت علماء اسلام پاکستان مرکزی دفتر : جامعہ مدنیہ کریم پارک راوی روڈ لاہور۔۲ JAMIAT ULAMAE ISLAM - PAKISTAN CENTRAL OFFICE: JAMIA MADINA, KAREEM PARK, RAVI ROAD, LAHORE-2 PHONE: 0092-42-7720944 بسم اللہ الرحمن الرحیم فہرست اسماء گرامی شرکاء وحدت دینی قومی پارٹیز کل جماعتی کانفرنس ۲۸ مئی ۲۰۰۲ء نمبر شمار نام عہدہ پارٹی دستخط 1 مولانا فضل الرحمن امیر جمعیت علماء اسلام پاکستان 2 سید ساجد علی نقوی قائد تحریک جعفریہ پاکستان 3 ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر مہتمم جامعہ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی 4 لیاقت بلوچ نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان 5 پیر اعجاز احمد ہاشمی Senior Vice President جمعیت علماء پاکستان 6 عبد القدیر خاموش مرکزی ناظم اعلیٰ جمعیت اہل حدیث 7 منیب الرحمان صدر جمعیت علماء پاکستان 8 خادم حسین ڈھل جنرل سیکریٹری جمعیت علماء اسلام (س) 9 رانا محمد شفیق خاں سیکرٹری جنرل تنظیم الاخوان پاکستان 10 محمد امجد خان مرکزی سیکرٹری اطلاعات جمعیت علماء اسلام پاکستان 11 ضیاء اللہ شاہ بخاری صدر تحریک نفاذ فقہ جعفریہ 12 صاحبزادہ طارق محمود متحدہ علماء کونسل 13 ڈاکٹر اسرار احمد امیر تنظیم اسلامی 14 نوابزادہ نصر اللہ خان صدر پاکستان جمہوری پارٹی 15 عبد الرحیم عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت 16 ساجد میر امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث 17 حافظ حسین احمد سیکرٹری جنرل جمعیت علماء اسلام پاکستان 18 حافظ عاکف سعید نائب امیر پاکستان شریعت کونسل 19 محمد عمار العراقی ناظم اعلیٰ پاکستان ختم نبوت پاکستان 20 ریاض احمد چوہدری امیر جمعیت اہلحدیث پاکستان 21 حافظ عبد الرحمن مکی مسئول جماعة الدعوة پاکستان 22 اشرف علی ناظم اشاعت التوحید والسنہ پاکستان 23 مفتی محمد شفیع قادری ناظم عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
Ref. # ___________________ Date : 28 5 2002 جمعیت علماء اسلام پاکستان مرکزی دفتر : جامعہ مدنیہ کریم پارک راوی روڈ لاہور۔۲ JAMIAT ULAMAE ISLAM - PAKISTAN CENTRAL OFFICE: JAMIA MADINA, KAREEM PARK, RAVI ROAD, LAHORE-2 PHONE: 0092-42-7720944 نمبر شمار نام عہدہ پارٹی دستخط 24 صاحبزادہ خورشید احمد گیلانی صدر جمعیت علماء پاکستان 25 محمد یعقوب صدر جمعیت علماء اسلام 26 عبداللہ سیکرٹری جنرل تنظیم اسلامی 27 محمد شبیر صدر جمعیت علماء پاکستان 28 ملک عبد القیوم مرکزی نائب صدر ملت پارٹی 29 قاضی عبد القدیر مرکزی نائب صدر جمعیت علماء اسلام 30 سید مقصود علی شاہ صدر تحریک نفاذ فقہ جعفریہ 31 حافظ عبد الحکیم قائد تحریک نفاذ فقہ جعفریہ 32 محمد صفدر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت 33 محمد حبیب ناظم اعلیٰ وفاق المدارس العربیہ پاکستان 34 عبد الرزاق ناظم مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان 35 محمد نواز 36 اصغر ممبر جماعت اسلامی پاکستان 37 احمد سعید ممبر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت 38 نور محمد صدر 39 سعید مکی صدر پاکستان شریعت کونسل 40 ابو طارق چیف ایڈیٹر پاکستان شریعت کونسل 41 عبد الحمید جمعیت علماء اسلام 42 محمد عمران تحریک اسلامی 43 پیر عبد الرحیم صدر تنظیم الاخوان 44 غلام عباس تنظیم اسلامی 45 محمد زبیر امیر تنظیم اسلامی 46 عاطف سعید نائب ناظم تنظیم اسلامی 47 عبد المنان صدر جمعیت علماء اسلام
Ref. # ___________________ Date : ___________________ جمعیت علماء اسلام پاکستان مرکزی دفتر : جامعہ مدنیہ کریم پارک راوی روڈ لاہور۔۲ JAMIAT ULAMAE ISLAM - PAKISTAN CENTRAL OFFICE: JAMIA MADINA, KAREEM PARK, RAVI ROAD, LAHORE-2 PHONE: 0092-42-7720944 نمبر شمار نام عہدہ پارٹی دستخط 48 ڈاکٹر عبد الخالق ناظم اعلیٰ تنظیم اسلامی 49 حسن حسین جمعیت علماء اسلام 50 صدر الدین صدر جمعیت علماء پاکستان 51 محمد عبد اللہ ممبر 52 ندیم رضوی صدر لاہور پاکستان جمہوری پارٹی 53 حبیب الرحمن جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن 54 خواجہ نصر اللہ چیئرمین مجلس عمل 55 محمد ارشد تحریک اسلامی پاکستان 56 عبد الرزاق مجلس احرار اسلام 57 اصغر علی مرکزی صدر قائد ملت جعفریہ 58 رانا عبد الرحمن 59 سعید احمد ناظم جامعہ امدادیہ 60 سراج الحق جماعت اسلامی 61 محمد اسماعیل عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت 62 عبد المنان عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت 63 محمد یوسف سیکرٹری مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان 64 حبیب اللہ سیکرٹری جنرل مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان 65 سید علی جمعیت علماء اسلام 66 محمد عبد اللہ مرکزی جمیعت اہل سنت پاکستان 67 منیر احمد جمعیت علماء اسلام پاکستان 68 فرید احمد جمعیت علماء اسلام 69 حافظ محمد قاسم جمعیت علماء اسلام 70 محمد انور امیر جماعت اسلامی پاکستان 71 میاں عبد الرحمن ناظم جماعت اسلامی پاکستان
Ref. # ___________________ Date : ___________________ جمعیت علماء اسلام پاکستان مرکزی دفتر : جامعہ مدنیہ کریم پارک راوی روڈ لاہور۔۲ JAMIAT ULAMAE ISLAM - PAKISTAN CENTRAL OFFICE: JAMIA MADINA, KAREEM PARK, RAVI ROAD, LAHORE-2 PHONE: 0092-42-7720944 نمبر شمار نام عہدہ پارٹی دستخط 72 محمد عثمان ناظم جمعیت علماء اسلام 73 غلام حسن جمعیت علماء اسلام 74 قاسم نور جمعیت علماء اسلام 75 حافظ احمد جمعیت علماء اسلام 76 حافظ محمد ناظم جمعیت علماء اسلام 77 محمد سعید جمعیت علماء اسلام 78 محمد زمان جمعیت علماء اسلام 79 غلام مصطفیٰ جمعیت علماء اسلام 80 نذیر احمد جمعیت علماء اسلام 81 میاں امتیاز احمد تحریک اسلامی 82 خورشید احمد جمہوری وطن پارٹی 83 عبد الرزاق ناظم اعلیٰ جامعہ نعیمیہ لاہور 84 سید عطاء اللہ شاہ امیر مجلس احرار اسلام پاکستان 85 عبد الرزاق ناظم اعلیٰ مجلس احرار اسلام 86 احمد قریشی مرکزی سیکرٹری 87 حافظ محمد حافظ محمد 88 محمد سلیم قاضی حسین احمد 89 عطاء اللہ مجلس احرار اسلام 90 مفتی فرید جان ناظم سواد اعظم اہلسنت پاکستان 91 ضیاء الرحمن جمعیت علماء اسلام 92 ذبیر حامد مجلس احرار اسلام پاکستان 93 سید محمد بخش مجلس احرار اسلام پاکستان 94 میاں محمد ادریس مجلس احرار اسلام پاکستان 95
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پورا دن اجلاس جاری رہا۔ ظہر کے لئے وقفہ ہوا۔ پھر اجلاس عصر تک جاری رہا۔ تلاوت کے بعد حضرت مولانا فضل الرحمن دامت برکاتہم نے جامع مانع مختصر صدارتی خطاب میں اجلاس کی غرض وغایت بیان فرمائی۔ اجلاس کو باضابطہ چلانے کے لئے سٹیج سیکرٹری کے فرائض کل پاکستان جمعیت علمائے اسلام کے سیکرٹری جنرل حضرت مولانا عبدالغفور حیدری نے سرانجام دیئے۔ صدارتی خطاب کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی نمائندگی کے لئے فقیر راقم الحروف کو خطاب کا حکم ہوا۔ فقیر نے پوری صورتحال چند منٹوں میں عرض کی۔ اس کے بعد ہر جماعت کے ایک ایک نمائندہ کو اجلاس سے خطاب وتجاویز دینے کا اعلان ہوتا رہا۔ بھر پور نمائندہ اجلاس تھا۔ تمام دینی وسیاسی جماعتوں کی بھر پور نمائندگی موجود تھی۔ عصر کی نماز سے قبل مشترکہ اعلامیہ جاری ہوا۔ جو یہ ہے:
آل پارٹیز ختم نبوت کانفرنس کا مشترکہ اعلامیہ
جمعیت علماء اسلام کے زیر اہتمام آل پارٹیز ختم نبوت کانفرنس میں شامل جماعتوں کے رہنماؤں کے طویل اجلاس اور مشاورت کے بعد درج ذیل مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جارہا ہے۔
عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ اور ناموس رسالت علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کی حفاظت ہر مسلمان کا بنیادی فریضہ ہے۔ اس لئے قیام پاکستان سے لے کر اب تک اس مسئلہ کے سلسلے میں تمام مذہبی اور سیاسی جماعتوں نے متفقہ طور پر لائحہ عمل اختیار کیا۔ ۵۳ء کی تحریک ختم نبوت اور ۷۴ء کی قومی اسمبلی میں قادیانیت سے متعلق ترامیم کی منظوری اور ضیاء دور میں امتناع قادیانیت آرڈیننس اور تحفظ ناموس رسالت قانون کی منظوری تک امت مسلمہ نے اپنے رہنماؤں کی قیادت میں بے بہا قربانیاں دیں۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی حکومت بھی اپنی تمام تر خواہشات اور امریکہ و مغرب کے دباؤ کے باوجود ان آئینی دفعات میں تبدیلی کے بارے میں کبھی سوچنے کی جرأت نہ کرسکی۔ گزشتہ روز حکومت میں جب بھی ان آئینی دفعات کو غیر مؤثر بنانے کی کوشش کی گئی تو پوری قوم متفقہ طور پر کھڑی ہوگئی اور بھر پور مزاحمت کی۔ جس کی وجہ سے حکومت وقت کو اپنے فیصلے واپس لینے پڑے۔
موجودہ حکومت نے جب ۱۲؍اکتوبر کو آئین معطل کیا اور پی سی او کے تحت نظام حکومت قائم ہوا تو عقیدہ ختم نبوت، ناموس رسالت قوانین اور دوسری اسلامی دفعات کے معطل ہونے کا اندیشہ ہوا۔ جس پر مذہبی جماعتوں اور مسلمانان پاکستان نے صدائے احتجاج بلند کی۔ جس کے بعد حکومت نے ان دفعات کو پی سی او کے تحت تحفظ فراہم کردیا۔ اس پر پوری قوم نے اطمینان کا سانس لیا۔ لیکن قادیانی سازشی عناصر زیر زمین سازشوں میں مصروف رہے۔ جب موجودہ حکومت نے جداگانہ انتخاب ختم کر کے مخلوط انتخابات کا اعلان کیا تو اس سے فائدہ اٹھا کر الیکشن کمیشن کے بعض عناصر نے ووٹر لسٹ فارم سے عقیدہ ختم نبوت سے متعلق حلف نامہ خارج کردیا۔ حالانکہ اس سے قبل جب بھی مخلوط انتخابات ہوئے یہ حلف نامہ شامل تھا اور پوری دنیا میں بھی مخلوط انتخابات کے باوجود ووٹر لسٹ میں مذہب کا تشخص کیا جاتا ہے۔ اس بناء پر امریکہ و برطانیہ وغیرہ میں مختلف مذاہب سے متعلق ووٹروں کی تعداد معلوم اور متعین ہے۔ قادیانی گروہ آج تک نہ آئینی ترمیم کو تسلیم کرتا تھا اور نہ ہی غیر مسلم اقلیت کی حیثیت سے ووٹر لسٹ میں نام درج کراتا۔ مسلمانوں والا فارم حلف نامہ کی وجہ سے بھرتا نہیں تھا۔ اس حلف نامہ کے ختم ہوتے ہی قادیانی گروہ نے اندراج کا وقت ختم ہونے کے باوجود ہزاروں نام ووٹر لسٹ میں درج کرا دیئے ہیں جس کی وجہ سے امتناع قادیانیت ایکٹ اور آئین غیر مؤثر ہو گیا ہے جس سے مسلمانان پاکستان سخت تشویش میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ اس سنگین صورتحال کے پیش نظر یہ اجلاس متفقہ طور پر مطالبہ کرتا ہے کہ ووٹر لسٹ فارم میں حلف نامہ کو حذف کرنے کا فیصلہ واپس لیا جائے۔ بصورت دیگر آل پارٹیز ختم نبوت کانفرنس کا اتفاق ہے کہ مسلمان اکثریت کو یہ حق حاصل ہوگا کہ حکومت کے غیر آئینی اور غیر شرعی اقدام کے خلاف تحریک چلائیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۰۴ء)
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیانیوں کے لئے ذلت کا سامان
جب سے حکومت نے ووٹر فارم سے ختم نبوت کا حلف نامہ ختم کیا تھا تب سے قادیانیوں نے اپنے ووٹ بنوانے کے لئے شب و روز محنت کی ۔ باہر کے ملکوں میں رہنے والے قادیانیوں کے ووٹ بھی یہاں بنوائے گئے ۔ پرویز مشرف کے ریفرنڈم میں قادیانیوں نے بھر پور حصہ لیا۔ لیکن قدرت کا کرم دیکھیں کہ ۲۵ مئی ۲۰۰۲ء کو ۱۲ ربیع الاوّل تھی ۔ ہر سال کی طرح امسال بھی اسلام آباد میں حکومت کی طرف سے قومی سیرت کانفرنس کا اہتمام کیا گیا۔ کراچی سے خیبر تک حکومت کے جانے پہچانے علمائے کرام و مشائخ عظام کو دعوت دی گئی تھی ۔ اس کانفرنس کی افتتاحی نشست میں جنرل پرویز مشرف نے خطاب کیا ۔ ان کے بیان کے اختتام پر متعدد دینی شخصیات حضرت مولانا قاری محمد حنیف جالندھری صاحب ناظم اعلیٰ وفاق المدارس، جناب انجینئر سلیم اللہ خان صاحب جمعیت علمائے پاکستان ایسے حضرات کھڑے ہو گئے اور قادیانی فتنہ کے متعلق صورتحال پر صدر مملکت پرویز مشرف کو توجہ دلائی کہ جان بوجھ کر قادیانی فتنہ سے متعلق آئینی ترمیم کو بے اثر کیا جارہا ہے ۔ صدر مملکت نے کہا کہ میں ختم نبوت پر غیر مشروط ایمان رکھتا ہوں ۔ علمائے کرام نے کہا کہ آپ قادیانیوں کو کیا سمجھتے ہیں۔ صدر مشرف نے کہا کہ وہ کافر ہیں ۔ ٹی وی پر براہ راست کوریج جاری تھی۔
اگلے دن اخبارات میں شہ سرخیوں سے خبر شائع ہوئی ۔ یوں قادیانیوں پر ایک دفعہ اور ذلت کی مار پڑی کہ جس شخص کے ریفرنڈم کے لئے قادیانیوں نے پیٹ بھر کر دروغ بیانی، جعل سازی سے ووٹ کاسٹ کئے تھے اس شخصیت نے ان کے کفر کا اعلان کر کے مرزا غلام احمد قادیانی کی جعلی نبوت پر ایسا زناٹے دار تھپڑ رسید کیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کذاب و دجال کی قبر تک فوجی بوٹ کی دھمک سے لرز اٹھی۔ پورے ملک میں قادیانیوں کے منہ لٹک گئے ۔ ندامت ، رسوائی، ذلت و پشیمانی سے مرجھائے ہوئے قادیانی چہروں پر کالک کی پالش کا جس نے منظر دیکھا کہ فاعتبروا یا اولی الابصار! پڑھنے لگا۔
قارئین لولاک کو یاد ہوگا کہ ہم نے گزشتہ شمارہ میں ۲۸ مئی ۲۰۰۲ء کو لاہور میں جمعیت علمائے اسلام کے زیر اہتمام قومی ختم نبوت کنونشن کے شرکاء کی فہرست اور قومی کنونشن کا مشترکہ اعلامیہ شائع کیا تھا۔ اگلے دن ۲۹ مئی ۲۰۰۲ء کے اخبارات سے اس کنونشن کی خبروں کی تفصیلات آج ملاحظہ فرمائیں۔ یوں روزنامہ نوائے وقت ، روزنامہ جنگ، روزنامہ دن ، روزنامہ پاکستان اور روزنامہ خبریں کی خبروں کے تراشوں کا عکس یہ ہے :
روزنامہ نوائے وقت لاہور
قادیانیوں کا عقیدہ رکھنے والے کافر، اسلام کی کوئی خدمت نہیں کر سکتے : صدر اسلام آباد (اپنے نامہ نگار سے) صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ قادیانیوں کا عقیدہ رکھنے والے کافر ہیں اور وہ اسلام کی کوئی خدمت نہیں کر سکتے۔ سیرت النبی ﷺ کانفرنس میں ایک موقع پر جب وہ خطاب کر کے اپنی نشست پر واپس جا رہے تھے تو بعض علماء کرام کھڑے ہو گئے اور ایک عالم نے ان سے کہا کہ صدر مملکت قادیانیوں کے بارے میں اپنی پوزیشن واضح کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بارے میں قانون موجود ہے اور ۱۹۷۳ء کے آئین کے تحت وہ غیر مسلم ہیں۔ اس موقع پر ایک اور عالم دین کھڑے ہو گئے اور کہا کہ آپ کے بارے میں کچھ غلط فہمیاں ہیں۔ جس پر صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ میں مسلمان ہوں اور قادیانیوں کو کافر سمجھتا ہوں۔ صدر مملکت کے اس دوٹوک اعلان پر علماء کرام نے خوشی کا اظہار کیا۔
قادیانیوں کو کافر نہ سمجھنے والا مسلمان نہیں ہو سکتا، صدر اسلام آباد (خبر نگار + نیوز ایجنسیاں) صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ قادیانیوں کو کافر نہ سمجھنے والا مسلمان نہیں ہو سکتا، ختم نبوت پر میرا غیر متزلزل ایمان ہے۔ انہوں نے یہ بات ہفتہ کو یہاں قومی سیرت کانفرنس کے بعد وفاق المدارس کے ناظم اعلیٰ قاری محمد حنیف جالندھری سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ قاری محمد حنیف جالندھری نے کانفرنس کے اختتام پر صدر سے دریافت کیا کہ وہ قادیانیوں کے حوالے سے اپنی پوزیشن واضح کریں۔ صدر نے کہا کہ میرا عقیدہ وہی ہے جو ایک پکے اور سچے مسلمان کا ہوتا ہے، میں ختم نبوت پر غیر متزلزل ایمان رکھتا ہوں اور جو قادیانیوں کو کافر نہیں سمجھتا وہ مسلمان نہیں ہو سکتا۔ صدر کے اس واضح اعلان پر قاری محمد حنیف جالندھری اور وہاں موجود دیگر علماء نے اطمینان کا اظہار کیا اور صدر کو دعائیں دیں۔
روزنامہ جنگ لاہور
قادیانیوں کو کافر سمجھتا ہوں، صدر مشرف قومی سیرت کانفرنس کے اختتام پر علماء کے استفسار پر صدر مملکت کی وضاحت اسلام آباد ( وقائع نگار ) صدر مملکت جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ میں قادیانیوں کو کافر سمجھتا ہوں اور ختم نبوت پر غیر متزلزل ایمان رکھتا ہوں۔ سنیچر کے روز قومی سیرت کانفرنس کے اختتام پر وفاق المدارس کے ناظم اعلیٰ قاری محمد حنیف جالندھری اور جمعیت علمائے پاکستان کے سیکرٹری جنرل انجینئر سلیم اللہ خان نے صدر مملکت سے دریافت کیا کہ قادیانیوں کے حوالے سے ان کے بارے میں پھیلائی جانے والی افواہوں کی حقیقت کیا ہے تو صدر مملکت نے دوٹوک انداز میں کہا کہ وہ ختم نبوت پر کامل ایمان رکھتے ہیں اور جو قادیانیوں کو کافر نہیں سمجھتا وہ خود مسلمان نہیں ہو سکتا۔ علماء کرام نے صدر کی اس وضاحت پر اطمینان کا اظہار کیا۔
خاتم النبیین کو نہ ماننے والا کافر ہے، صدر اسلام آباد (اے پی پی) صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ حضرت محمد ﷺ آخری نبی ہیں اور اس پر ان کا پختہ ایمان ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ قادیانیوں کو کافر سمجھتے ہیں اور جو انہیں کافر نہیں سمجھتا وہ بھی مسلمان نہیں ہے۔ ہفتہ کو سیرت کانفرنس کے اختتام پر ایک عالم دین نے کھڑے ہو کر صدر سے قادیانیوں کے حوالے سے وضاحت چاہی تھی۔
روزنامہ پاکستان لاہور
قادیانیوں کو کافر نہ ماننے والا مسلمان نہیں: صدر ختم نبوت پر پختہ یقین ہے، سیرت کانفرنس میں علماء کی طرف سے پوچھے گئے سوال کا جواب اسلام آباد (آئی این پی) صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ ان کا ختم نبوت پر پختہ ایمان ہے اور جو قادیانیوں کو کافر نہیں مانتا وہ مسلمان نہیں ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے قومی سیرت کانفرنس کے موقع پر علماء کی جانب سے قادیانیوں کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کیا، علماء نے ان سے پوچھا کہ آپ قادیانیوں کو کیا سمجھتے ہیں جس پر انہوں نے کہا کہ میں ختم نبوت پر پختہ ایمان رکھتا ہوں اور قادیانیوں کو کافر سمجھتا ہوں جس پر علماء نے انہیں زبردست خراج تحسین پیش کیا۔
روزنامہ دن لاہور
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ووٹر فارم کا حلف نامہ بحال نہ ہوا تو 6 جون سے تحریک چلائیں گے ختم نبوت کانفرنس
آل پارٹیز ختم نبوت کانفرنس میں شریک جماعتوں کے سربراہوں پر مشتمل سٹیئرنگ کمیٹی تحریک کیلئے لائحہ عمل طے کریگی، فضل الرحمن کی بریفنگ
لاہور (خصوصی رپورٹر+نیوز رپورٹر+ اے این این ) ووٹر فارم میں عقیدہ ختم نبوت کا حلف نامہ بحال نہ کیا تو آل پارٹیز ختم نبوت کانفرنس میں شریک 40 سے زائد مذہبی و سیاسی جماعتیں اجتماعی تحریک چلائیں گی اس مقصد کے لئے لائحہ عمل کا نفرنس میں شریک جماعتوں کے سربراہوں پر مشتمل سٹیئرنگ کمیٹی کے 6 جون کو ہونے والے اجلاس میں طے کیا جائے گا۔ اس بات کا اعلان جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کانفرنس کے بعد پریس بریفنگ میں کیا، انہوں نے کہا کہ قادیانیوں کو اہم سرکاری مناصب پر تعینات کیا گیا تو اس پر شدید ردعمل ظاہر کریں گے اس ضمن میں مولانا خان محمد کی قیادت میں مجلس عمل کو فعال بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹر فارم سے عقیدہ ختم نبوت کا خانہ حذف کر کے عالمی سازش کو تقویت پہنچائی گئی ، ہم مخلوط انتخابات کے بھی خلاف ہیں عقیدہ ختم نبوت کا خانہ بحال ہونے تک درج ہونے والے ووٹ بھی منسوخ کئے جائیں۔ عقیدہ ختم نبوت کے لئے قوم نے بے شمار قربانیاں دیں جو ضائع نہیں ہونے دیں گے۔ اس موقع پر منور حسن، لیاقت بلوچ، جنرل کے ایم اظہر خان، مفتی نظام الدین شامزئی ، سید ساجد علی نقوی، ڈاکٹر اسرار احمد، پروفیسر ساجد میر، حافظ حسین احمد، علامہ ریاض الرحمٰن یزدانی، حاجی فضل کریم ، پیر اعجاز ہاشمی بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ اے پی سی میں 40 کے قریب مختلف جماعتوں کے شیوخ اور مہتمم حضرات اور تنظیموں نے بھی شرکت کی ہے۔ اے این این کے مطابق فضل الرحمٰن نے کہا کہ مخلوط انتخابات میں بھی عقیدہ ختم نبوت کا خانہ ووٹر فارم میں موجود ہوتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اے پی سی میں شرکت نہ کرنے والی جماعتوں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن)، مسلم لیگ قائد اعظم، ایم کیو ایم، این ڈی پی اور دیگر جماعتوں کو دوبارہ دعوت دی جائے گی تاکہ آئندہ لائحہ عمل میں ان کو شریک کیا جا سکے۔ نیوز رپورٹر کے مطابق قبل ازیں جمعیت علماء اسلام (ف) کے زیر اہتمام آل پارٹیز ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تمام مقررین نے ختم نبوت کا خانہ بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔ کانفرنس کے صدر مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت پر کسی قسم کی سودے بازی نہیں ہو سکتی، یہ مسلمانوں کے ایمان کا حصہ ہے۔ ختم نبوت کے حلف کو حذف کرنے کا فیصلہ کسی طرح بھی قوم قبول نہیں کرے گی۔ اے آر ڈی کے سربراہ نوابزادہ نصر اللہ خان نے کہا کہ ملک انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے لیکن حکمرانوں کو اس کا احساس نہیں۔ ملکی آئین کے تحفظ کی ضرورت ہے اس کے لئے ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کو متحد ہو کر کام کرنا ہو گا۔ حافظ حسین احمد نے کہا کہ حکمرانوں کو شاید مشاورت کا سلیقہ آ گیا ہے اس لئے اب ہم بھی مشاورت سے فیصلہ کر کے جنرل پرویز مشرف کی دعوت قبول کرنے یا نہ کرنے کے بارے آگاہ کریں گے۔ مولانا سمیع الحق نے کہا کہ حکمرانوں کو مسلمانوں کے عقائد سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکمران غیر ملکی قوتوں کو خوش کرنے کے لئے جس راستے پر چل پڑے ہیں وہ بہت خطرناک ہے۔ ملت پارٹی کے نائب صدر ملک عبدالقیوم نے کہا کہ ووٹر کے فارم میں عقیدہ ختم نبوت کا حلف نامہ اور مذہب کے خانے کو حکومت بحال کرے۔ ادھر مولانا منظور چنیوٹی نے کہا کہ حکومت نے قادیانیوں کو خوش کرنے کی کوشش کی ہے وہ امریکہ کے ذریعے حکومت پر مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں۔ جماعت اسلامی کے رہنما سید منور حسن نے کہا کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ اقلیت کو خوش کرنے کے لئے اکثریت کو نظر انداز کر دیا جائے، انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کے اقدامات سے ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ اب "پہلے پاکستان نہیں بلکہ پہلے امریکہ اور بھارت حکمرانوں کی پہلی ترجیح ہے۔" مولانا امیر حسین گیلانی، جے یو پی (ف) کے حاجی فضل کریم اور جماعت علماء اہلحدیث کے قاضی عبدالقدیر خاموش نے بھی خطاب کیا۔ کانفرنس میں مولانا فضل الرحمان نے جے یو آئی کے سرپرست اعلیٰ مولانا اجمل خان کی وفات پر تعزیتی قرارداد پیش کی اور مرحوم کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا۔
روزنامہ جنگ لاہور (12) 29 مئی 2002ء
6 جون تک ووٹر لسٹوں میں عقیدہ ختم نبوت کا خانہ درج نہ ہوا تو تحریک چلائیں گے اے پی سی
ہزاروں قادیانیوں نے نام درج کروالئے‘ خارج کئے جائیں‘ امریکہ‘ برطانیہ سمیت ہر جگہ مذہب کا تشخص کیا جاتا ہے‘ پیپلز پارٹی‘ مسلم لیگ بھی ساتھ ہے‘ فضل الرحمن
لاہور (وقائع نگار) آل پارٹیز ختم نبوت کانفرنس نے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے کہ اگر حکومت نے چھ جون تک ووٹر فارم سے عقیدہ ختم نبوت کا حلف نامہ حذف کرنے کا فیصلہ واپس نہیں لیا تو ملک گیر تحریک چلائیں گے گزشتہ روز جمعیت علمائے اسلام (ف) کے زیر اہتمام مقامی ہوٹل میں منعقدہ آل پارٹیز ختم نبوت کانفرنس میں مولانا فضل الرحمٰن ‘ نوابزادہ نصر اللہ خان‘ پروفیسر منور حسن‘ لیاقت بلوچ‘ علامہ ساجد نقوی‘ پروفیسر ساجد میر‘ جنرل (ر) کے ایم اظہر‘ حافظ عبدالرحمٰن مکی‘ صاحبزادہ فضل کریم‘ ملک عبدالقیوم سمیت مذہبی و سیاسی جماعتوں کے 47 رہنماؤں نے شرکت کی بریفنگ دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے بتایا کہ حکومت کو مہلت دی ہے کہ ووٹر فارم میں عقیدہ ختم نبوت کا حلف نامہ دوبارہ شامل کرے اگر حکومت کی جانب سے مطالبہ مسترد ہونے پر چھ جون کو آئندہ جماعتوں کے رہنماؤں پر مشتمل سٹیئرنگ کمیٹی کا پہلا اجلاس ہو گا جس میں انہوں نے کہا کہ ہم مخلوط طرز انتخاب کو ہدف تنقید نہیں بنا رہے انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ ہزاروں قادیانیوں نے اپنے نام ووٹر لسٹوں میں درج کروا دیے ہیں انہوں نے کہا کہ امریکہ‘ برطانیہ سمیت دنیا بھر میں ووٹر لسٹ میں مذہب کا تشخص کیا جاتا ہے۔ ووٹر فارم میں عقیدہ ختم نبوت کا حلف نامہ خارج کرنے سے اقلیت و قادیانیت کو تحفظ اور آئین غیر موثر ہو گیا ہے حلف نامہ کا اخراج عقیدہ پر حملہ کے مترادف ہے جسے ہرگز برداشت نہیں کریں گے انہوں نے کہا کہ ووٹر فارم میں حلف نامہ شامل کرنے کا مقصد تھا کہ غیر مسلم خود کو مسلمان سوسائٹی میں شامل نہ کر سکیں لیکن موجودہ حکومت نے حلف نامہ خارج کر کے اسلام کو نقصان پہنچایا ہے انہوں نے کہا کہ اے پی سی میں تمام شرکاء جماعتوں کے رہنماؤں پر مشتمل سٹیئرنگ کمیٹی بنائی گئی ہے جو آپس میں رابطہ رکھے گی اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے گی انہوں نے بتایا کہ پیپلز پارٹی‘ مسلم لیگ (ن) اور بعض دیگر جماعتوں کے اے پی سی میں شرکت نہ کرنے بارے کہا کہ بعض رہنما مصروفیات کے باعث نہیں آسکے تاہم اس پر تمام متفق ہیں کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما مولانا خان محمد بھی ہماری حکمت عملی میں ساتھ ہوں گے۔
روزنامہ دن لاہور 29 مئی 2002ء
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ووٹر لسٹوں میں مذہب کا خانہ بحال نہ کیا گیا تو تحریک چلائیں گے، ختم نبوت کانفرنس
جو نام اب تک ووٹرلسٹوں میں درج ہوچکے انہیں ختم کیا جائے اور حلف نامے کے تحت لسٹیں تیار کی جائیں تاکہ مسلم اور غیر مسلم کا فرق واضح ہو
کانفرنس میں 40 سے زیادہ دینی و سیاسی جماعتوں کے 87 سے زائد رہنما شریک ہوئے
لاہور (نمائندہ خصوصی) جمعیت علماء اسلام (ف) کی طرف سے کل جماعتی ختم نبوت کانفرنس میں دینی جماعتوں اور تنظیموں کی بھاری تعداد نے شرکت کی جبکہ نمایاں شرکاء میں نوابزادہ نصر اللہ خان اور جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل سید منور حسن اور لیاقت بلوچ بھی شامل ہیں اور دینی و سیاسی جماعتوں کے متعدد رہنما بھی شریک ہیں شرکت کرنے والوں کے نام یہ ہیں مولانا فضل الرحمن، ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر، پیر خواجہ محمد اظہر خاں، نظام الدین، عبدالملک، حکیم ارشد اقبال، کرنل (ر) عبدالقیوم، محمد نعیم، پیر سید محمد علی نقوی، صاحبزادہ طارق محمود، ڈاکٹر ابوالخیر زبیر، نوابزادہ نصر اللہ خان، عزیز احمد، ساجد میر، ابو عمار زاہد الراشدی، محمد ممتاز اعوان، ریاض الرحمن یزدانی، حافظ عبدالرحمن مکی، اشرف علی، مفتی محمد جمیل خان، صاحبزادہ محمد فضل کریم، محمد عبدالکریم، عطاء اللہ چشتی، انجینئر محمد سلیم اللہ خان، ملک عبدالقیوم، قاضی عبدالقدیر، پیر سید محمد خلیل الرحمن چشتی، صاحبزادہ مسکین فیض، علی غضنفر، محمد حنیف جالندھری، عبدالرزاق، امجد حسین، اللہ وسایا، نواز گوندل، سعید آسی، خواجہ محمد شفیق، مولانا محمد امجد خان، علی رضوی، محمد حنیف شاہ، محمد نسیم الدین، محمد راشد گنگوہی، عاکف سعید، عبدالرؤف فاروقی، ڈاکٹر عبدالخالق، مفتی شمس الحق، علامہ محمد رمضان توقیر، سکندر عباس گیلانی، ندیم رضوی، حبیب الرحمن لدھیانوی، محمد اسعد نیاز، عبدالرزاق، اخلاق احمد، رانا مبارک علی، خلیل احمد، خواجہ محمد زاہد، محمد اسماعیل شجاع آبادی، عزیز الرحمن، مولانا معین الدین لکھوی، سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، سید عبد المالک شاہ، میاں محمد عثمان، شفیق الرحمن، محمد ریاض درانی، حافظ محمد اعجاز الحق، محمود اشرف، میاں عبدالرحمن، انیس احمد طیب، غلام حسین فاروقی، حافظ احمد یار، حافظ اطہر عزیز، محمد سلیم، محمد یونس، عنایت اللہ شیرانی، نذیر احمد، میاں امتیاز احمد، سر دار سرفراز، یعقوب کشمیری، ڈاکٹر محمد سرفراز نعیمی، سید عطاء المومن شاہ بخاری، عبدالرزاق، حافظ احمد علی اور حافظ محمد صدیق۔
لاہور (نمائندہ خصوصی) جمعیت علماء اسلام (ف) کی طرف سے بلائی گئی کل جماعتی ختم نبوت کانفرنس نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فہرست رائے دہندگان سے عقیدہ ختم نبوت کا حلف نامہ ختم کرنے کا فیصلہ واپس لیا جائے جو نام اب تک نئے فارم کے تحت درج ہو چکے ان کو ختم کیا جائے اور حلف نامے والے فارموں کے تحت فہرستیں مرتب کی جائیں تاکہ مسلم اور غیر مسلم کا فرق واضح ہو سکے اور قادیانی اس رعایت سے فائدہ اٹھا کر خود کو مسلمان معاشرے میں ضم نہ کرسکیں کانفرنس میں متفقہ فیصلے کے مطابق اس مقصد کے لئے حکومت کو چھ جون تک کی مہلت دی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ اس وقت تک فارم واپس لے کر پرانے فارم بحال نہ کئے گئے تو تحریک چلائی جائے گی۔ کانفرنس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا اور سوالات کا جواب دیتے ہوئے کنوینئر مولانا فضل الرحمن نے بتایا کہ کانفرنس میں شریک جماعتوں اور تنظیموں کے سربراہوں پر مشتمل سٹیئرنگ کمیٹی بنادی گئی ہے جس کا اجلاس چھ جون کو ہی ہو گا اگر مطالبہ منظور نہ کیا گیا تو اسی روز باہمی مشاورت سے تحریک اور لائحہ عمل کا اعلان کر دیا جائے گا یہ کل جماعتی کانفرنس گزشتہ روز ایک مقامی ہوٹل میں مولانا فضل الرحمن کی صدارت میں ہوئی جس میں چالیس سے زائد جماعتوں اور تنظیموں کے 87 رہنماؤں نے شرکت کی اور طویل گفتگو کے بعد اعلامیہ منظور کیا جس میں کہا گیا۔ طویل اجلاس اور مشاورت کے بعد طے پانے والے اعلامیے کے مطابق عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ اور ناموس رسالت کی حفاظت مسلمان کا بنیادی فریضہ ہے انہوں نے کہا کہ 1953ء کی تحریک ختم نبوت اور 1974ء کی قومی اسمبلی میں قادیانیت سے متعلق ترامیم کی منظوری اور ضیاء دور میں امتناع قادیانیت آرڈیننس اور
تحفظ ناموس رسالت قانون کی منظوری تک امت مسلمہ نے بے بہا قربانیاں دی ہیں یہی وجہ ہے کہ کوئی حکومت اپنی تمام تر خواہشات اور دباؤ کے باوجود ان آئینی دفعات میں تبدیلی کی جرات نہ کرسکی بارہ اکتوبر کو جب آئین معطل ہوا تو عقیدہ ختم نبوت سمیت اسلامی دفعات کے معطل ہونے کا بھی خدشہ پیدا ہوا جس پر مذہبی جماعتوں نے صدائے احتجاج بلند کی جس کے بعد حکومت نے ان دفعات کو پی سی او کے تحت تحفظ دیا مگر موجودہ حکومت نے جداگانہ انتخاب ختم کر کے مخلوط انتخابات کا اعلان کیا تو اس سے فائدہ اٹھا کر الیکشن کمیشن کے بعض عناصر نے ووٹر لسٹ فارم عقیدہ ختم نبوت سے متعلق حلف نامہ خارج کر دیا حالانکہ اس سے قبل جب بھی مخلوط انتخابات ہوئے یہ حلف نامہ شامل تھا پوری دنیا میں مخلوط انتخابات کے باوجود ووٹر لسٹ میں مذہب کا تشخص قائم رکھا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ ہم حکومت کو چھ جون تک کی ڈیڈ لائن دیتے ہیں اگر حکومت نے حلف نامہ بحال نہ کیا تو پھر اے پی سی میں شامل چالیس جماعتوں کے سربراہوں پر مشتمل اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس بلا کر تحریک کا اعلان کر دیا جائے گا۔ مولانا فضل الرحمن نے مختلف سوالات کے جواب میں کہا کہ کانفرنس میں بھر پور نمائندگی تھی اور جو لوگ نہیں آسکے اس سے پھر رابطہ کیا جائے گا پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے شرکت کا یقین دلایا تھا نہ آنے کی وجہ مخالفت نہیں ہے بلکہ پیپلز پارٹی کا یہ دعویٰ ہے کہ 1973ء کے آئین میں قادیانی ترمیم خود ان کی حکومت نے کی تھی انہوں نے مزید کہا کہ کانفرنس نے یہ بھی طے کیا ہے کہ پہلے دور میں بنائی گئی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کو پھر سے فعال بنایا جائے گا جس کے سربراہ خواجہ خان محمد ہیں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف ایسے اقدام ہی کیوں کرتے ہیں جو آئین کے خلاف اور اختلاف کا باعث بنتے ہیں۔
روزنامہ پاکستان لاہور جلد 13 بدھ 16 ربیع الاول 1423ھ 29 مئی 2002ء 17 جیٹھ 2059 ب شمارہ 136
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ۴۸۵ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مذہبی حلف نامہ ختم نہ کیا تو ملک گیر تحریک چلائیں گے، آل پارٹیز کانفرنس
غیر ملکی اشارے پر ختم نبوت کا حلف ختم کرنیکا فیصلہ قوم کو قبول نہیں، فضل الرحمٰن، جنرل پرویز مشرف خوفناک کھیل کھیل رہے ہیں: منور حسن
لاہور (اے این این) جمعیت علماء اسلام کے زیر اہتمام آل پارٹیز ختم نبوت کانفرنس نے شناختی کارڈ فارم میں ختم نبوت کے حلف نامہ اور مذہب کے خانہ کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے ختم نبوت کے مسئلہ پر کسی سے کمپرومائز نہیں کیا جائے گا۔ اگر مذہبی خانہ اور ختم نبوت کا حلف نامہ بحال نہ کیا گیا تو پھر بہت بڑا نقصان ہوگا۔ آل پارٹیز ختم نبوت کانفرنس سے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ حکومت نے یہاں پر مختلف ایشوز پر کمپرومائز کر کے ہماری سالوں سے جاری پالیسیوں کو تبدیل کر دیا ہے۔ اب حکومت غیر ملکی اشارے پر ختم نبوت کے حلف کو بھی حذف کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے۔ یہ پوری قوم کو قبول نہیں ہے۔ جماعت اسلامی کے مرکزی سیکرٹری جنرل سید منور حسن نے کہا کہ اکثریت کو قطعی طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان میں مسلمان اکثریت رکھتے ہیں لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ اقلیت کو خوش کرنے کیلئے لوگوں کی اکثریت کو ہی نظر انداز کر دیا جائے۔ جنرل پرویز مشرف دن بدن خوفناک کھیل کھیل رہے ہیں اور محسوس ہو رہا ہے کہ اب پہلے پاکستان نہیں بلکہ امریکہ، پھر بھارت، حکمرانوں کی ترجیح ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے کہا کہ ختم نبوت کا مسئلہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ کسی کو اس مسئلہ پر قادیانیوں کو خوش کرنے کیلئے سازش کی اجازت نہیں۔ حکومت کو یہ حلف نامہ بحال کرنا ہوگا ورنہ حالات خراب ہو جائیں گے۔ ملت پارٹی کے مرکزی نائب صدر ملک عبد القیوم نے کہا کہ ختم نبوت کا حلف نامہ اور ووٹر فارم میں مذہب کا خانہ ختم کرنا نہ صرف 73ء کے آئین کے خلاف ہو گا بلکہ یہ پی سی او کی بھی خلاف ورزی ہے۔ مولانا میر حسین گیلانی نے کہا کہ ختم نبوت کے مسئلہ پر کسی قسم کے صبر و تحمل یا کمپرومائز کا مظاہرہ نہیں ہو گا۔ ہم نے سو سالہ جدوجہد کے بعد اس مسئلہ کو حل کر کے قادیانیوں کو کافر قرار دلوایا تھا۔ اب ہم کسی کو اسے التواء میں ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ چودھری زعیم کو چھیڑنا پاکستان کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف ہوگا۔ جمعیت علمائے پاکستان کے سربراہ صاحبزادہ فضل کریم نے کہا مرزائی کل بھی کافر تھے آج بھی کافر ہیں۔ حکومت کو حلف نامہ بحال کرنا ہوگا۔ اگر حلف نامہ بحال نہ کیا گیا تو ملک کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ ممتاز مذہبی رہنما مولانا منظور احمد چنیوٹی نے کہا کہ مخلوط طرز انتخاب کا اعلان کر کے حکمرانوں نے قادیانیوں کو خوش کیا ہے دیگر اقلیتیں بھی مخلوط انتخاب نہیں چاہتیں۔ صرف قادیانی ہی ایسا چاہتے ہیں۔ جماعت علماء اہلحدیث کے سربراہ قاضی عبدالقدیر خاموش نے کہا کہ ہم جنرل پرویز مشرف کی طرف سے ترمیم کر کے حلف نامہ اور ووٹر فارم سے مذہب کے خانہ کو ختم کرنے کو تسلیم نہیں کرتے۔ اے پی سی کے ہنگامی کانفرنس کے اختتام پر پریس بریفنگ دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اگر حکومت نے یو ٹرن کے بعد ووٹر فارم سے ختم نبوت کے حلف نامے کو ختم کرنے کا فیصلہ واپس نہ لیا تو ملک گیر تحریک چلائے گی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی مجلس ختم نبوت کو دوبارہ فعال بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ کوئی غیر مسلم مسلمان سوسائٹی کا حصہ بننے کا دعویدار نہ بن سکے۔ انہوں نے
مطالبہ کیا کہ قادیانیوں کو کلیدی عہدوں سے فی الفور ہٹایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس میں جو جماعتیں شریک نہیں ہو سکیں ان سے رابطہ کر کے تعاون حاصل کریں گے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اگر پیپلز پارٹی والے نہیں آئے تو کیا ہوا، قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینا ان کا کارنامہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پی پی اگلے اجلاس میں شامل ہوں گی۔ انہوں نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ مشرف کی طرف سے مذاکرات کے دعوت نامے مل چکے ہیں۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا تاہم انہوں نے کہا کہ اس حوالہ سے حتمی فیصلہ متحدہ مجلس عمل میں شامل تمام جماعتوں کی مشاورت سے ہوگا۔
روزنامہ ”خبریں“ ملتان (9) 29 مئی 2002ء
ختم نبوت کانفرنس کی جھلکیاں
- O....... نصر اللہ خاں گڑھ سے آمد
- O....... امان اللہ بستر علالت سے آئے
- O....... نوابزادہ کیلئے زبردست داد
- ٭....... انہیں مذہب کا خانہ خراب
کرنے کی اجازت نہیں دیں گے
- O خصوصی رپورٹر + سٹاف رپورٹر
....... اے آر ڈی کے سربراہ نوابزادہ نصر اللہ خان جمعیت علماء اسلام کی ختم نبوت آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کے لئے خان گڑھ سے خصوصی طور پر لاہور آئے۔
- O جمعیت علمائے اسلام (ف) صوبہ سرحد کے امیر مولانا
امان اللہ خان امراض قلب کے ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ وہ ڈاکٹروں سے اجازت نہ ملنے کے باوجود کانفرنس میں شریک ہوئے۔
- O نوابزادہ نصر اللہ خان کی تقریر نثر اور نظم کا مرقع تھی
انہوں نے اپنی تقریر میں سعدی‘ شیرازی‘ مولانا روم‘ علامہ اقبال‘ اکبر الہ آبادی اور حالی کے شعر برجستہ پڑھ کر حاضرین سے زبردست داد پائی۔
- O سنی رہنما جے سالک نے جمعیت علماء اسلام کے
مرکزی سیکرٹری اطلاعات حافظ ریاض درانی سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور آل پارٹیز ختم نبوت کانفرنس کے حوالے سے اپنے جذبات سے آگاہ کیا اور درخواست کی کہ ان کے جذبات شرکاء اے پی سی تک پہنچا دیئے جائیں۔
- O تنظیم انصار الاسلام کے خاکی پوش رضا کاروں نے
ہوٹل کے اندر اور باہر سڑک پر انتظامات سنبھال رکھے تھے۔
- ٭ مولانا فضل الرحمٰن نے اے پی سی کی بریفنگ
میں اخبار نویسوں کو بتایا کہ کانفرنس میں چالیس کے قریب مذہبی و سیاسی جماعتوں نے شرکت کی۔ اتنی ہی تعداد میں مختلف جامعات کے صدور اور مہتمم حضرات شریک ہوئے۔
- ٭ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ صدر مشرف کا یہ کہنا
خوش آئند ہے کہ قادیانی غیر مسلم ہیں لیکن انہیں مذہب کا خانہ خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
- ٭ بریفنگ میں ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل
الرحمٰن نے کہا کہ اس کا جواب جنرل پرویز مشرف سے پوچھیں کہ کیا یہ وقت ایسے اقدامات کا ہے جسکی وجہ سے قوم کو آپس میں لڑایا جائے۔
- ٭ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے قائد علامہ ساجد نقوی
کو جمعیت علماء اسلام کے کارکنوں نے اپنی حفاظت میں انکی گاڑی تک پہنچایا۔
- ٭ ملت پارٹی کے ملک قیوم نے حلف نامہ ختم کرنے پر
حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔
- ٭ جمہوری وطن پارٹی کے مرغوب الرحمٰن کھرل
نے حلف نامہ حذف کرنے کے اقدام پر سخت تنقید کی اور پہیہ جام کرنے کی حمایت کی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مطالبات تسلیم نہ ہونے پر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا پلیٹ فارم سے تحریک چلانے
ایجی ٹیشن کا اعلان
لاہور (خلیل الرحمن سے) ملک کی چالیس سے زیادہ سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے اعلان کیا ہے کہ اگر حکومت نے ۵ جون تک ووٹر فارم میں مذہب کا خانہ اور عقیدہ ختم نبوت کے بارے میں اقرار نامہ دوبارہ شامل نہ کیا تو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے پلیٹ فارم سے حکومت کے خلاف فیصلہ کن احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔ منگل کو یہاں مقامی ہوٹل میں جمعیت علماء اسلام کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی آل پارٹیز ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کرنے والی جماعتوں کے رہنماؤں نے متفقہ اجلاس اور مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا کانفرنس کی صدارت جمعیت علماء اسلام کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمن نے کی جبکہ کانفرنس میں اے آر ڈی کے سربراہ نوابزادہ نصراللہ خان‘ جمعیت علماء اسلام س کے سربراہ مولانا سمیع الحق‘ جمعیت اہلحدیث کے پروفیسر ساجد میر‘ جماعت اسلامی کے جنرل سیکرٹری سید منور حسن‘ نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ‘ ملت پارٹی کے مرکزی نائب امیر مخدوم امین فہیم‘ وطن پارٹی کے محبوب الرحمن‘ پیپلز پارٹی کے علاوہ جمعیت علماء پاکستان عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت‘ سواد اعظم اہلسنت‘ مجلس احرار اسلام‘ انٹرنیشنل ختم نبوت مشن سمیت چالیس سے زائد جماعتوں کے راہنماؤں اور نمائندوں نے شرکت کی آل پارٹیز کانفرنس نے متفقہ اعلامیہ کے ذریعے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ووٹر لسٹ فارم میں حلف نامہ کو حذف کر نیکا فیصلہ واپس لیا جائے اور ایسی غیر شرعی حرکتوں سے باز آ جائے بصورت دیگر آل پارٹیز ختم نبوت کانفرنس حکومت کے غیر آئینی اور غیر شرعی اقدام کے خلاف تحریک چلانے پر مجبور ہو گی کیونکہ عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ اور ناموس رسالت کی حفاظت ہر مسلمان کا بنیادی فریضہ ہے اسلئے قیام پاکستان سے لیکر اب تک اس مسئلہ کے سلسلے میں تمام مذہبی اور سیاسی جماعتوں نے متفقہ طور پر لائحہ عمل اختیار کیا 53 کی تحریک ختم نبوت اور 74 کی قومی اسمبلی میں قادیانیت سے متعلق ترامیم کی منظوری اور نئے دور میں امتناع قادیانیت آرڈیننس اور تحفظ ناموس رسالت قانون کی منظوری تک امت مسلمہ نے اپنے راہنماؤں کی قیادت میں بے بہا قربانیاں دیں یہی وجہ ہے کہ کوئی حکومت بھی اپنی تمام تر خواہشات‘ امریکہ و مغرب کے دباؤ کے باوجود ان آئینی دفعات میں تبدیلی کے بارے میں کبھی سوچنے کی جرات نہ کر سکی گذشتہ دور حکومت میں جب بھی ان آئینی دفعات کو غیر مؤثر بنانے کی کوشش کی گئی تو پوری قوم متفقہ طور پر کھڑی ہوگئی اور بھر پور مزاحمت کی جس کی وجہ سے حکومت وقت کو اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا قادیانی عناصر کی زیر زمین سازشوں کی وجہ سے موجودہ حکومت نے جداگانہ انتخاب ختم کر کے متحدہ انتخابات کا اعلان کیا اس سے تو نادانستہ طور پر الیکشن کمیشن کے بعض عناصر نے ووٹرلسٹ فارم سے عقیدہ ختم نبوت کے بارے میں حلف نامہ خارج کر دیا حالانکہ اس سے قبل یہ حلف نامہ شامل تھا اور پوری دنیا میں بھی مخلوط انتخابات کے باوجود ووٹرلسٹ میں مذہب کا تشخص کیا جاتا ہے یہاں تک کہ امریکا اور برطانیہ وغیرہ میں مختلف مذاہب سے متعلق ووٹروں کی تعداد متعین ہے قادیانی گروہ آج تک نہ آئینی ترامیم کو تسلیم کرتا تھا اور نہ ہی غیر مسلم اقلیت کی حیثیت سے ووٹرلسٹ میں نام درج کراتا تھا وہ مسلمانوں والا فارم عقیدہ ختم نبوت کے بارے میں حلف نامہ شامل ہونے کی وجہ سے بھرتا بھی نہیں تھا اس حلف نامے کے ختم ہوتے ہی قادیانی گروہ نے ہزاروں نام ووٹرلسٹوں میں درج کرا دیئے ہیں جس کی وجہ سے امتناع قادیانیت ایکٹ اور آئین غیر مؤثر ہو گیا ہے جس سے مسلمانان پاکستان کو سخت تشویش لاحق ہو گئی ہے لہٰذا ختم نبوت کے مسئلہ پر نرمی کی کوئی گنجائش نہیں پاکستان کے مسلمان ختم نبوت کے مسئلہ پر کمپرومائز نہیں کریں گے ۔ ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ختم نبوت مسلمانوں کے ایمان کا حصہ ہے حکومت غیر ملکی اشارے پر ختم نبوت کے حلف نامے کو حذف کر نیکا فیصلہ کر چکی ہے پوری قوم اس حکومتی اقدام کیخلاف مزاحمت کریگی جماعت اسلامی کے مرکزی سیکرٹری جنرل سید منور حسن نے کہا کہ جنرل مشرف دن بدن خوفناک کھیل کھیل رہے ہیں اور محسوس ہو رہا ہے کہ اب پہلے پاکستان نہیں بلکہ پہلے امریکا پھر پہلے بھارت حکمرانوں کی ترجیح ہے ختم نبوت کا حلف نامہ اور ووٹر فارم میں مذہب کا خانہ ایسے ایشو ہیں جو پاکستان کی نظریاتی بنیاد پر ہماری شہ رگ ہے جو اس کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا اس کے خلاف بھی مزاحمت کریں گے کانفرنس سے مولانا سمیع الحق‘ حاجی فضل کریم اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔
لاہور (اے این این) جمعیت علماء اسلام کے زیر اہتمام آل پارٹیز ختم نبوت کانفرنس کے شرکاء نے ووٹر فارم میں ختم نبوت کے حلف نامہ اور مذہب کے خانہ کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ ووٹر فارم سے ختم نبوت اور مذہب کے خانے کو حذف کرنا 1973ء کے آئین میں دی گئی ضمانتوں کے بھی خلاف ورزی ہے۔ ختم نبوت کے مسئلہ پر نرمی کی کوئی گنجائش نہیں‘ ختم نبوت کے مسئلہ پر کسی سے کمپرومائز نہیں کیا جائے گا۔ صبر و تحمل اور کمپرومائز سے ختم نبوت کے ایشو کو نہیں ٹالا جا سکتا چاہے اگر مذہبی خانہ اور ختم نبوت کا حلف نامہ بحال نہ کیا گیا تو پھر بہت بڑا نقصان ہوگا۔ مقامی ہوٹل میں منعقدہ آل پارٹیز ختم نبوت کانفرنس سے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ختم نبوت مسلمانوں کے ایمان کا حصہ ہے اور یہی تو اس کے ایمان پر کھڑا اترنے کا واحد پیمانہ ہے کسی کو بھی حق نہیں ہے کہ وہ امت کے ایمان پر شب خون مارے‘ انہوں نے کہا کہ ہماری صفوں میں بیٹھے قادیانیوں کو عہدوں سے نوازا گیا ہے اب حکومت غیر ملکی اشارے پر ختم نبوت کے حلف نامے کو حذف کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے یہ پوری قوم کی توہین ہے ہم اس کی مذمت کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے مرکزی سیکرٹری جنرل سید منور حسن نے کہا کہ اکثریت کو قطعی طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا پاکستان میں مسلمان اکثریت رکھتے ہیں لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ اقلیت کو خوش کرنے کیلئے قوم کی اکثریت کو ہی نظر انداز کر دیا جائے۔ جنرل مشرف دن بدن خوفناک کھیل کھیل رہے ہیں اور محسوس ہو رہا ہے کہ اب پہلے پاکستان نہیں بلکہ پہلے امریکہ پھر پہلے بھارت حکمرانوں کی ترجیح ہے۔ ختم نبوت کا حلف نامہ اور ووٹر فارم میں مذہب کا خانہ ایسے ایشو ہیں جو پاکستان کی نظریاتی بنیاد ہیں اگر پاکستان کی نظریاتی بنیاد کو ہی نظر انداز کر دیا گیا تو کوئی اسے قبول نہیں کرے گا۔ ختم نبوت کا حلف نامہ اس کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا تو اس پر بھی ہم مزاحمت کریں گے۔ جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے کہا کہ کسی حکمران کو مسلمانوں کے عقائد سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ کانفرنس سے ملت پارٹی کے نائب صدر‘ جمعیت علماء پاکستان کے صاحبزادہ فضل کریم اور دیگر نے خطاب کیا۔
روزنامہ اوصاف ۲۹ مئی ۲۰۰۲ء
ضروری اعلان!
قارئین لولاک سے التماس ہے کہ جن حضرات کا سالانہ چندہ ختم ہو چکا ہے وہ براہ کرم نئے سال کے لئے مبلغ -/100 روپے منی آرڈر 'بنام ماہنامہ لولاک' ارسال فرما کر مشکور فرمائیں۔ ادارہ
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۲ء)
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تحریک ختم نبوت
کے سلسلہ میں
۲۰۰۳ء
کے
حالات و واقعات
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
مولانا غلام مصطفیٰ کے اغواء کرنے کی کوشش
گزشتہ دنوں چناب نگر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا غلام مصطفیٰ کو قادیانیوں کی جانب سے اغوا کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس واقعہ کے خلاف شدید ردعمل ہوا۔ اس حوالے سے اخبارات میں درج ذیل خبریں شائع ہوئیں:
”قادیانی جماعت کے علاقائی سربراہ کے خلاف اغوا کا مقدمہ درج پولیس کی بروقت مداخلت پر مولانا غلام مصطفیٰ منچن آبادی کے اغوا کی کوشش ناکام ہو گئی۔
چنیوٹ (نمائندہ اسلام) قادیانیوں کی طرف سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے رہنما اور خطیب جامع مسجد مسلم کالونی چناب نگر مولانا غلام مصطفیٰ منچن آبادی کو اغوا کرنے کی سازش پولیس کی بروقت مداخلت پر ناکام ہو گئی۔ تھانہ چناب نگر پولیس نے قادیانی جماعت چناب نگر کے سربراہ میجر ریٹائرڈ سعدی اور نائب صدر حمید اللہ قریشی اور ریٹائرڈ ڈی ایس پی کے علاوہ نامعلوم قادیانی نوجوانوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز جامع مسجد ختم نبوت مسلم کالونی کے خطیب مولانا غلام مصطفیٰ منچن آبادی نمازِ جمعہ پڑھانے جامع مسجد محمدیہ ریلوے اسٹیشن چناب نگر جا رہے تھے کہ جب وہ احمدیہ نرسری کالج روڈ پر رکشہ کے ذریعہ پہنچے تو وہاں قادیانی غنڈوں نے انہیں روک لیا اور رکشہ سے اتار لیا اور برا بھلا کہتے رہے انہیں اغوا کرنے کی کوشش کی تو وہاں گشت پر موجود پولیس نے بروقت مداخلت کر کے واردات ناکام بنا دی، جس پر قادیانی صدر عمومی میجر ریٹائرڈ سعدی اور حمید اللہ قریشی اور متعدد کارکنوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ اس واقعہ سے علاقے میں زبردست اشتعال پھیل گیا ہے۔“
(روزنامہ اسلام ۱۹؍جنوری ۲۰۰۳ء)
”چناب نگر کے ڈی ایس پی کریم نواز نے چناب نگر میں قادیانیوں کی کھلم کھلا غنڈہ گردی، عقوبت خانوں، تفتیشی مراکز، اور خفیہ کیمروں کی تنصیبات کے بارے میں مذاکرات کے لئے قادیانیوں اور مسلمانوں کے نمائندوں کو بلا لیا۔ مسلمانوں کی جانب سے سید محمد نواز شاہ، مولانا اللہ یار ارشد، ملک محمد حسین نائب ناظم آئے جب کہ قادیانیوں کی جانب سے ناصر ظفر بلوچ نے شرکت کی، جس نے ڈی ایس پی کو بتایا کہ وہ اپنے سربراہ مرزا طاہر کی ہدایت کے بغیر مذاکرات نہیں کر سکتے۔ انہیں مذاکرات کی اطلاع کر دی گئی ہے۔ تاہم ڈی ایس پی نے ان کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ کسی قسم کی غیر قانونی شرانگیزی کرنے والے کے ساتھ سختی سے نمٹیں گے۔ یاد رہے کہ قادیانیوں کی بڑھتی ہوئی غیر قانونی سرگرمیاں، ٹارچر سیلوں، عقوبت خانوں کے خلاف گزشتہ روز قاری اللہ یار کی قیادت میں ڈی ایس پی کے دفتر کے باہر احتجاجی دھرنا دیا گیا تھا جس پر ڈی ایس پی، مہر امتیاز احمد لالی ایم پی اے سید سبطین شاہ ناظم کی یقین دہانی پر ۱۸؍جنوری ۲۰۰۳ء تک احتجاج ملتوی کر دیا تھا۔“
(روزنامہ اسلام ۲۰؍جنوری ۲۰۰۳ء)
مولانا غلام مصطفیٰ نے بعدازاں بتایا کہ جن قادیانیوں نے انہیں اغوا کرنے کی کوشش کی ان کا تعلق قادیانیوں کی ”خدام الاحمدیہ“ تنظیم سے تھا اور انہوں نے خدمت کے بیج لگا رکھے تھے۔ ان قادیانیوں نے مولانا غلام مصطفیٰ کے ساتھ گالم گلوچ بھی کی اور انتہائی ناگفتہ بہ زبان استعمال کی جو قادیانیوں کا طرّۂ امتیاز ہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اس واقعہ کے خلاف اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے درج ذیل اخباری بیان جاری کیا: ”حکومت قادیانیوں کی شرانگیزیوں کا نوٹس لے۔ مبلغ ختم نبوت کو اغواء کرنے کی کوشش کرنے والے دہشت گردی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ اس واقعہ میں ملوث قادیانی غنڈوں اور قادیانی جماعت کے رہنماؤں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا اور انہیں قرار
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
واقعی سزا دی جائے۔ قادیانیوں کو ملک میں کلیدی عہدوں سے برطرف کیا جائے۔ قادیانی جماعت کو دہشت گرد تنظیم قرار دے کر اس پر پابندی عائد کی جائے۔ ان خیالات کا اظہار عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد، مولانا اللہ وسایا، مفتی محمد جمیل خان، مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا نذیر احمد تونسوی، مولانا بشیر احمد، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا احمد میاں حمادی، محمد انور اور دیگر رہنماؤں نے پنجاب کے شہر چناب نگر میں قادیانی غنڈوں کی جانب سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما اور مبلغ اور جامع مسجد ختم نبوت چناب نگر کے خطیب مولانا غلام مصطفیٰ کو اغوا اور انہیں ہراساں کرنے کی کوشش پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں قادیانی سیکولر اور اسلام دشمن قوتوں کے بل بوتے پر آئے دن فتنہ و فساد برپا کرنے کی نت نئی سازشیں کرتے رہتے ہیں جس کی تازہ مثال مبلغ ختم نبوت کو اغوا کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر قادیانی جماعت کو لگام نہ دی گئی تو ملک تشدد اور انارکی کی راہ پر چل نکلے گا جس سے پیدا ہونے والی خانہ جنگی کی ذمہ داری ان عناصر پر ہوگی جو حکومت کو قادیانیوں کی حمایت پر اکسا کر اسلام دشمن کارروائیوں پر مجبور کر رہے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فی الفور قادیانی جماعت کے ان رہنماؤں کے خلاف کارروائی کی جائے جو اس جرم میں ملوث ہیں۔“
اغوا کے اس واقعہ کے مرتکب قادیانیوں کی گرفتاری اور انہیں سزاؤں کا دیا جانا از بس ضروری ہے۔ ہم اس موقع پر بھی یہ کہنا چاہیں گے کہ مولانا غلام مصطفیٰ کو اغوا کرنے کی کوشش کے مذکورہ واقعہ اور اس سے قبل مولانا اسلم قریشی کے اغوا سمیت دیگر واقعات نے قادیانی جماعت کو ایک بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم ثابت کر دیا ہے۔ اس لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا یہ مطالبہ بالکل بجا اور درست ہے کہ قادیانی جماعت کو فی الفور دہشت گرد تنظیم قرار دے کر اس پر پابندی عائد کی جائے اور اس کے تمام منقولہ و غیر منقولہ اثاثوں کو ضبط کرنے کے ساتھ ساتھ قادیانی جماعت کے پیروکاروں کی ملک میں انتشار اور افراتفری پیدا کرنے کی سازشوں کا سراغ لگا کر ان کا قلع قمع کیا جائے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۳۱؍ جنوری تا ۶؍ فروری ۲۰۰۳ء ص۴، ۵)
گوہر شاہی کی سزا کی منسوخی کی درخواست مسترد
بدنام زمانہ ریاض احمد گوہر شاہی کے بیٹے کی جانب سے دائر کردہ اپیل جس میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ گوہر شاہی کو دی گئی سزا کالعدم قرار دی جائے، گزشتہ دنوں سندھ ہائی کورٹ کی سرکٹ بینچ حیدرآباد نے مسترد کردی۔ اس حوالے سے اخبارات میں جو خبر شائع ہوئی وہ درج ذیل ہے:
”ریاض احمد گوہر شاہی کی سزا کے خلاف بیٹے کی اپیل، چوتھی بار بھی مسترد
پہلے مسترد کی جانے والی اپیلوں کے آرڈر کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا جاتا، سندھ ہائی کورٹ
حیدرآباد (نمائندہ جنگ) سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس جناب ضیاء پرویز اور جسٹس جناب عارف خلجی پر مشتمل ڈویژن بنچ حیدرآباد نے توہین رسالت کے مقدمے کے سزا یافتہ مجرم اور انجمن سرفروشان اسلام کے بانی و سرپرست ریاض احمد گوہر شاہی کے خلاف اس کے بیٹے حماد ریاض گوہر شاہی کی جانب سے دائر کردہ اپیل کو چوتھی مرتبہ بھی مسترد کر دیا ہے، اس موقع پر عدالت عالیہ نے اپیل کنندہ سے کہا کہ اس سے قبل بھی تین بار اپیلوں کو مسترد کیا جاچکا ہے، جن کے آرڈر کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا جانا چاہئے تھا، اس لئے درخواست قابل سماعت نہیں ہے۔ اپیل کنندہ حماد ریاض گوہر شاہی کے والد ریاض احمد گوہر شاہی کو انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میرپور خاص کے سابق جج عبدالغفور میمن نے توہین رسالت کے مقدمے میں ۱۱؍ مارچ ۲۰۰۰ء کو ۹۵ سال قید بامشقت اور بھاری جرمانے کی ادائیگی کی سزا
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سنائی تھی جب کہ مجرم کے خلاف عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے صوبائی کنوینر مولانا احمد میاں حمادی نے تھانہ ٹنڈوآدم میں مقدمہ درج کرایا تھا، جس پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ ریاض احمد گوہر شاہی حجر اسود میں اپنی شبیہ نظر آنے کا دعویٰ کرتا ہے اور کلمہ طیبہ میں تحریف کر کے محمد رسول اللہ کی جگہ اپنا نام استعمال کرتا ہے، مذکورہ الزامات ثابت ہونے پر اے ٹی سی کورٹ نے عدم موجودگی میں سزا سنائی تھی، تاہم روپوشی کے دوران ۲؍دسمبر ۲۰۰۱ء کو مجرم ریاض احمد گوہر شاہی کا انتقال ہو گیا تھا، جس کے بعد مجرم کے بھائی پرویز اختر نے عدالت عالیہ میں درخواست دی تھی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ درخواست گزار کے بھائی کو توہین رسالت کے مقدمے میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میر پور خاص نے ۱۱؍ مارچ ۲۰۰۰ء کو ۹۵ سال قید بامشقت اور بھاری جرمانے کی سزا سنائی تھی اور اب درخواست گزار کا ۲؍دسمبر ۲۰۰۱ء کو لندن میں انتقال ہو گیا ہے، عدالت عالیہ نے مذکورہ درخواست کو سماعت کے بعد مسترد کر دیا تھا ۱۲؍ اکتوبر ۲۰۰۲ء کو انجمن سرفروشان اسلام کی ایگزیکٹو کونسل کے چیئرمین محمد اویس نے درخواست دائر کی تھی جسے عدالت نے مسترد کر دیا تھا، حماد ریاض نے ۲۳؍ نومبر ۲۰۰۲ء کو عدالت عالیہ میں درخواست دی تھی جسے بھی عدالت عالیہ نے مسترد کر دیا، جس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے وکیل منظور احمد راجپوت ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ مرنے والے کے کسی بھی وارث کو قانونی حق نہیں ہے کہ وہ اس مقدمے کی پیروی کرے، دوسرا یہ کہ ابھی ریاض احمد گوہر شاہی کی اپیل سماعت کے لئے ہے جو ابھی منظور نہیں ہوئی تھی کہ اس دوران ان کا انتقال ہو گیا، ریاض احمد گوہر شاہی مفرور ملزم تھا اور اس کو اپیل کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں تھا، اس لئے درخواست کو مسترد کر دیا جائے کیونکہ اس سے قبل بھی اسی مؤقف پر درخواستیں مسترد ہوچکی ہیں، جس پر عدالت نے درخواست مسترد کردی۔‘‘
(روزنامہ جنگ کراچی ۲۴؍جنوری ۲۰۰۳ء)
گوہر شاہی یقیناً کذاب اور دجالوں میں سے ایک دجال تھا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اس کے خلاف بروقت کارروائی کی ورنہ یہ فتنہ نہ جانے کتنے مسلمانوں کے ایمان کو لے ڈوبتا۔ گوہر شاہی کے پیروکاروں کو ان سطور کے ذریعہ ہم دعوت اسلام دیتے ہیں کہ وہ دائرہ اسلام میں واپس لوٹ آئیں۔ حقیقی روحانیت صرف اسلام میں ہے۔ اس کے سوا روحانیت کے دعویدار دیگر تمام مذاہب بشمول گوہر شاہیت کے، جھوٹے ہیں۔ اب بھی وقت ہے، اسلام کے دروازے ہر توبہ کرنے والے کے لئے کھلے ہیں۔ یاد رکھیں! بروز قیامت گوہر شاہی نبی اکرم ﷺ کے مد مقابل کھڑا ہوگا اور اس دن شفاعت کا اختیار صرف نبی کریم ﷺ کے پاس ہوگا، نہ گوہر شاہی کے پاس اور نہ مرزا قادیانی کے پاس۔ اس دن صرف وہی شخص شفاعت کا حقدار ٹھہرے گا جو عقیدہ ختم نبوت پر مکمل طور پر ایمان رکھتا ہوگا اور جھوٹے مدعیان نبوت سے بیزار ہوگا۔
کلکتہ انڈیا امریکن سینٹر پر حملہ میں قادیانی دہشت گردی
گزشتہ دنوں حضرت مولانا انظر شاہ کشمیری مدظلہ نے کلکتہ بھارت کے امریکن سینٹر پر دہشت گردوں کی جانب سے ہونے والے حملے کے بارے میں ایک سابقہ قادیانی کے حوالے سے انکشاف کیا کہ اس حملے میں دو قادیانی ملوث تھے۔ حضرت مولانا انظر شاہ کشمیری مدظلہ کے اس انکشاف کی خبر درج ذیل ہے:
’’مسلم نوجوان قادیانیت کے سامنے سینہ سپر ہو جائیں: مولانا انظر شاہ عقائد کو اسلامی اصولوں کے مطابق بنا کر صلاحیتوں کو اجاگر کیا جائے، انٹرنیٹ پر خطاب کراچی (نیٹ نیوز) دارالعلوم دیوبند کے حضرت مولانا انظر شاہ کشمیری نے انٹرنیٹ کے ذریعہ پاکستان اور بھارت کے مسلم
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نوجوانوں سے خطاب میں نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو احیائے دین کی خاطر استعمال کریں، اپنے عقائد کو عین اسلامی بنائیں اور اپنے اعمال کی اصلاح کرتے ہوئے دین اسلام کی مکمل پیروی کریں ’’عقیدہ ختم نبوت اور عظمت صحابہؓ‘‘ کے عنوان سے خطاب کرتے ہوئے مولانا نے کہا کہ یہ دونوں عقائد اسلام کی بنیادوں میں شامل ہیں۔ قادیانیوں کی طرف سے بڑھتی ہوئی اسلام دشمن کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے مولانا نے لوگوں کو بتایا کہ ایسے حالات میں نوجوانوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اسلام کے خلاف ان سازشوں کو ناکام بنائیں، حال ہی میں مسلمان ہونے والے ایک سابق قادیانی نے انکشاف کیا کہ پچھلے برس کلکتہ میں امریکن سینٹر پر ہونے والے حملے میں دو قادیانی ملوث تھے اور یہ کہ اس خبر کو بھارتی اخبار نے بھی شائع کیا تھا۔ اس نو مسلم نے بتایا کہ قادیانی اپنی نئی نسلوں کو سرے سے یہ بتاتے ہی نہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا اور ظل خدا ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ مذکورہ شخص نے بتایا کہ قادیانی اگر مرزا کی کتابوں کو پڑھ لیں تو توبہ کرکے مسلمان ہوجائیں۔‘‘
(روزنامہ اسلام کراچی ۳۰/ جنوری ۲۰۰۳ء)
اس انکشاف کے بعد عالمی دہشت گردی کے سدباب کے لئے کام کرنے والی قوتوں کو سنجیدگی کے ساتھ قادیانی جماعت پر عالمی دہشت گردی میں ملوث ہونے کے الزامات کی تحقیقات کرنی چاہئے۔ قادیانی جماعت درحقیقت ایک دہشت پسند تنظیم ہے اور اس کی سرگرمیاں عالمی امن کے لئے سنگین خطرہ ہیں۔ اس لئے پوری دنیا کو عالمی دہشت گردی سے بچانے کے لئے قادیانی جماعت پر دنیا بھر میں پابندی لگانا ازبس ضروری ہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۷ تا ۲۰/ فروری ۲۰۰۳ء ص۴، ۵)
اقلیتی ارکان اسمبلی قوانین میں مداخلت کا راستہ چھوڑ دیں
گزشتہ دنوں اقلیتی ارکان قومی وصوبائی اسمبلی کے ایک مشاورتی اجلاس میں ملک میں رائج اسلامی قوانین کے خلاف کئے گئے مطالبات نے یہ ثابت کردیا کہ اقلیتیں ملک میں رائج اسلامی قوانین کے خلاف کھلم کھلا بغاوت پر اتر آئی ہیں۔ اس اجلاس کی تفصیلی خبر درج ذیل ہے:
’’قانون شہادت اور توہین رسالت ﷺ کی دفعات منسوخ کی جائیں: اقلیتی ارکان اسمبلی
داخلہ، خارجہ پالیسیوں کو عوامی مفاد کے تابع بنایا جائے، نیشنلائزڈ تعلیمی ادارے واپس کئے جائیں: اجلاس سے خطاب
لاہور (ثناء نیوز) اقلیتی ارکان قومی وصوبائی اسمبلی، اقلیتی مذہبی رہنماؤں اور زندگی کے دیگر شعبہ جات میں نمایاں کارکردگی مظاہرہ کرنے والے مسیحی افراد نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ قانون شہادت اور قانون توہین رسالت ﷺ کی دفعات (تعزیرات پاکستان سیکشن ۲۹۵ بی، سی اور ۲۹۸ بی، سی) کو فوری طور پر منسوخ کرنے کے علاوہ اقلیتوں اور خواتین سے متعلق دیگر امتیازی قوانین کو ختم کیا جائے۔ نیز ملک کو موجودہ مشکل حالات سے نکالنے کے لئے خارجہ و داخلہ پالیسیوں پر نظرثانی کرکے انہیں عوامی مفاد کے تابع اور ماضی میں نیشنلائزڈ کئے گئے تمام اقلیتی تعلیمی ادارے اقلیتوں کو واپس دیئے جائیں۔ یہ مطالبہ پیر کے روز قومی کمیشن برائے امن وانصاف کے زیر اہتمام مقامی ہوٹل میں ’’مذہبی انتہاپسندی، اسباب اور سدباب‘‘ کے موضوع پر منعقدہ قومی مشاورتی اجلاس کے شرکاء نے کئے ہیں، جن میں اقلیتی رکن قومی اسمبلی اکرم گل، ممبر پنجاب اسمبلی پرویز رفیق، کامران مائیکل، گروپ کیپٹن ریٹائرڈ سیسل چوہدری، آرچ بشپ لارنس جے سلڈانہ، پیٹر جیکب، فادر عمانوائیل یوسف مانی اور دیگر شامل ہیں۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ گزشتہ دو دہائیوں سے ملک میں فرقہ واریت قتل وغارت کی لہر دوڑ رہی ہے۔ حکومت اقلیتوں اور ان کی مذہبی عبادت گاہوں کو تحفظ فراہم کرے اور عبادت گاہوں پر حملے کرنے والے ملزمان کو قرار واقعی سزائیں دی جائیں۔ مذہبی انتہاپسندی اور تنگ نظری کا خاتمہ کئے بغیر پاکستان ترقی نہیں کر
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سکتا۔ مذاہب اور فرقوں کے درمیان مفاہمت کی فضاء قائم کرنے کے لئے مساوات کی پالیسی اپنائی جائے۔ سرکاری سطح پر کسی ایک فرقہ یا مذہب کی سرپرستی کرنے کی بجائے سب کے ساتھ یکساں احترام کا اصول اپنایا جائے ۔‘‘
(روزنامہ جنگ کراچی ۳؍ فروری ۲۰۰۳ء)
اس کے خلاف عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اپنا شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے درج ذیل بیان جاری کیا:
’’قانون توہین رسالت اور قانون شہادت کی منسوخی کے مطالبات، دین میں مداخلت ہیں، اقلیتیں اس طرز پر مسلمانوں سے معافی مانگیں۔
اقلیتی ارکان اسلامی قوانین میں مداخلت کا راستہ چھوڑ دیں:
کراچی (نمائندہ خصوصی) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنماؤں مفتی نظام الدین شامزئی، ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، مفتی محمد جمیل خان، مولانا نذیر احمد تونسوی، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے ایک مشترکہ بیان میں اقلیتی ارکان اسمبلی اور بعض ممتاز عیسائی رہنماؤں کی جانب سے توہین رسالت کے قوانین کی بعض دفعات اور قانون شہادت کی منسوخی کے مطالبات کو دین میں مداخلت قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ فوری طور پر اپنے اس طرز عمل کی مسلمانوں سے معافی مانگیں بصورت دیگر عام مسلمان اور علماء کرام مجبور ہوں گے کہ وہ اقلیتی فرقوں کے بارے میں مطالبہ کریں کہ ان کی ذمیوں کی حیثیت تبدیل کرکے انہیں کفار حربی کی فہرست میں شامل کیا جائے۔ اقلیتی ارکان اسمبلی اور اقلیتی فرقے پاکستان اور مسلمانوں کے مفاد کا خیال کریں اور امریکی اور یورپی زبان استعمال کرنے سے گریز کریں۔ پاکستان میں انبیاء کرام کی توہین کرنے والوں کی حمایت کرنے والے افراد کے لئے کوئی جگہ نہیں۔ مسلمان جس طرح اپنے پیغمبر کی عزت اور حرمت پر جان قربان کرتے ہیں اسی طرح دیگر انبیاء کی عظمت اور حرمت کا تحفظ کرتے ہیں۔ اگر عیسائیوں اور یہودیوں نے اپنے پیغمبر کی عزت اور حرمت سے دستبرداری اختیار کر لی ہے تو ان کو دیکھ کر مسلمان کسی صورت میں انبیاء کرام کی توہین کی اجازت نہیں دے سکتے، اگر اقلیتی فرقے توہین انبیاء کرام کے بغیر زندگی نہیں گزار سکتے تو وہ پاکستان سے چلے جائیں۔ پاکستان میں رہنے کا حق صرف ان اقلیتی فرقوں کے لوگوں کو ہے جو انبیاء کرام کی عمومی اور حضور اکرم ﷺ کی شان میں خصوصی طور پر حرمت اور عظمت کا خیال کریں گے اور اشارتاً بھی کوئی جملہ کہنے کی جسارت نہیں کریں جس سے انبیاء کرام کی توہین کا امکان بھی ہو۔ اس ملک میں رہنے والے مسلمانوں اور غیر مسلموں کو توہین رسالت کے قانون کی پاسداری کرنی ہوگی اور قانون شہادت کو تسلیم کرنا ہوگا۔ اسلامی قوانین میں مداخلت کی کسی صورت میں اجازت نہیں دی جائے گی۔‘‘
اقلیتی ارکان اسمبلی کے مذکورہ مطالبات آئین اور قانون سے کھلی بغاوت ہیں۔ قادیانیوں کے ایماء پر اسلام اور ملک کے خلاف ہونے والی اس سازش کا ایک ایسے وقت پر ظہور ہونا جب کہ دنیا پر جنگ کے مہیب بادل چھائے ہوئے ہیں، خطرہ سے خالی نہیں۔ عیسائیوں کے تمام ہی مطالبات خلاف عقل ہیں لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اس مرتبہ انہوں نے کھل کر حکومت کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اسی لئے ان کی زبان پر ہذیان سے اس قسم کی ہرزہ سرائیاں صادر ہو رہی ہیں۔ اگر حکومت نے آج انہیں نہ روکا تو مستقبل میں ہر حکومت اقلیتوں کے آگے بے بس ہوگی۔ حکومت کو چاہئے کہ ملک میں بسنے والی تمام اقلیتوں کو اس بات کا پابند کرے کہ وہ اسلام، اسلامی قوانین اور ملکی آئین کے خلاف ہر قسم کی ہرزہ سرائی سے گریز کریں ورنہ انہیں سخت سے سخت سزا دی جائے گی۔ اس کے علاوہ یہ بھی ضروری ہے کہ جن اقلیتی ارکان اسمبلی نے یہ حرکت کی ہے، اسلام اور ملک کے خلاف یہ بھیانک قدم اٹھانے کے جرم میں ان کی رکنیت منسوخ کی جائے اور آئندہ کے لئے ان کے پارلیمانی رکن بننے پر تاحیات پابندی عائد کی جائے۔ اقلیتوں کو بھی یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ جس روش پر وہ چل رہی ہیں وہ انہیں
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ایک ایسے تصادم کی راہ لے جائے گی جس کا لازمی نتیجہ ملک میں انتشار اور انارکی کی صورت میں نکلے گا جو انجام کار اقلیتوں کو ان کی موجودہ معاشی اور معاشرتی صورتحال سے بہت نیچے لے جائے گا۔
سندھ یونیورسٹی کے لیکچرار کی جانب سے توہین رسالت پر مبنی کتاب کی اشاعت
گزشتہ دنوں سندھ یونیورسٹی جامشورو کے سندھی شعبہ کے لیکچرار اسحاق سمیجو نے اپنی شاعری کا مجموعہ ”صدا بے چین آھی“ کے نام سے شائع کیا، جس میں کھلم کھلا توہین خدا ، توہین رسالت ، توہین قرآن مجید، توہین بیت اللہ جیسے گھناؤنے جرائم کا ارتکاب کیا گیا۔ علامہ احمد میاں حمادی، مولانا نذیر احمد تونسوی ، مولانا محمد علی اور قاری اقبال پر مشتمل عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے اس سلسلے میں ایڈیشنل ہوم سیکرٹری صوبہ سندھ سے ملاقات کی اور انہیں اس معاملہ کی سنگینی اور مسلمانوں میں اس حوالے سے پائی جانے والی تشویش سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے ایڈیشنل ہوم سیکرٹری کو ایک یادداشت بھی پیش کی جس میں مذکورہ کتاب کے مختلف اقتباسات نقل کئے گئے تھے جس میں مبینہ طور پر اسحاق سمیجو نے ہذیان گوئی کا مظاہرہ کیا تھا۔ اس سلسلہ میں ہم حکومت سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ چونکہ اسحاق سمیجو کی اس کتاب کے ذریعہ فساد و انتشار پھیلنا اور مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح ہونا لازمی ہے، اس لئے فی الفور اسحاق سمیجو کے خلاف قانونی کارروائی کر کے اس کو قرار واقعی سزا دی جائے اور اس کی کتاب کو شائع کرنے والے پبلشر کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کے احکامات جاری کئے جائیں اور اس کے ساتھ ساتھ اسحاق سمیجو کی کتاب چھاپنے ، دکان یا بک اسٹال پر رکھنے والے اور اس کی خرید و فروخت پر مکمل پابندی عائد کر کے مسلمانان پاکستان کے مذہبی جذبات کو ٹھنڈا کرنے کا سامان کیا جائے اور ملک میں فتنہ و فساد پھیلانے کی اس نئی سازش کو قلع قمع کیا جائے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۲۱ تا ۲۷؍ فروری ۲۰۰۳ء ص ۴، ۵)
قادیانی تبلیغی فنڈ میں مرزا طاہر کے گھپلے
قادیانی جماعت کی بنیاد جن ستونوں پر قائم ہے ، ان میں سے ایک چندہ یا فنڈ کا حصول ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی سے لے کر موجودہ قادیانی سربراہ مرزا طاہر تک ہر ایک نے اس ستون کو اپنی ذات کے لئے کس طرح بے دریغ استعمال کیا؟ یہ ایک الگ کہانی ہے۔ گزشتہ دنوں اخبارات میں قادیانی تبلیغی فنڈ میں مرزا طاہر کے گھپلے اور مالی بدعنوانی کی خبر شائع ہوئی جسے قارئین کی معلومات کے لئے یہاں درج کیا جاتا ہے:
”تبلیغی فنڈ میں مرزا طاہر کے گھپلے ۔ عالمی قادیانی قیادت میں پھوٹ
مرزا طاہر نے لندن میں کروڑوں ڈالر کی جائیدادیں بنالیں۔ انکشاف کے بعد اپنے دست راست ہادی علی کو عہدے سے ہٹا کر
مقدمہ قائم کر دیا
لندن (خبر نگار خصوصی) قادیانیت کی تبلیغ کے لئے جمع ہونے والے فنڈ میں مرزا طاہر کی جانب سے کروڑوں ڈالر کی خورد برد کے انکشاف کے بعد عالمی قادیانی قیادت میں پھوٹ پڑ گئی ہے۔ مرزا طاہر نے اپنے دست راست اور عالمی اور مالی امور کے نگران ہادی علی چوہدری کو عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ فنڈز میں خورد برد کے انکشاف کے بعد قادیانیوں کے سرپرستوں نے مرزا طاہر سمیت دیگر بدعنوان اہم عہدیداروں کے خلاف بھر پور تادیبی کارروائی پر اتفاق ظاہر کیا ہے۔ انتہائی باخبر ذرائع کے مطابق قادیانیوں کے سربراہ مرزا طاہر نے تبلیغ کے لئے جمع ہونے والے فنڈ میں خورد برد کر کے لندن میں کروڑوں ڈالر کی جائیداد بنالی ہے۔ اس بات کا انکشاف مرزا طاہر کے دست
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
راست، معتمد خصوصی اور مالی امور کے نگران ہادی علی چوہدری نے لندن میں قادیانیوں کے اعلیٰ سطح کے اجلاس کے دوران کیا۔ مرزا طاہر نے ہادی علی چوہدری کو معطل کر کے ان کے خلاف لندن کی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ہادی علی چوہدری نے اجلاس میں مالی امور سے متعلق رپورٹ پیش کرتے ہوئے اس بات کا انکشاف کیا کہ مرزا طاہر نے تبلیغی فنڈ میں خورد برد کر کے لندن میں کروڑوں ڈالر کی جائیداد بنالی ہے اور ایسا انہوں نے اپنے صوابدیدی اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے کیا ہے۔ انہوں نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ دنیا بھر سے تبلیغ کے لئے جو چندہ جمع کیا جاتا ہے وہ سالانہ اربوں ڈالر بنتا ہے جب کہ مرزا طاہر نے فنڈز کو ذاتی استعمال میں لانے کے لئے مرکزی مجلس کے اراکین کو اعتماد میں نہیں لیا اور انہوں نے لندن میں کروڑوں ڈالرز سے کئی مکانات اور تجارتی سینٹرز قائم کر لئے ہیں جن میں سے بعض مرزا طاہر اور بعض ان کے قریبی عزیزوں کے نام پر ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس انکشاف کے بعد قادیانیوں کے سربراہ مرزا طاہر نے ہادی علی چوہدری کو فوری طور پر ان کے عہدے سے معطل کر دیا ہے اور ان پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے اپنی مالی بد عنوانیوں سے پردہ اٹھنے پر انہیں بدنام کیا ہے اور وہ لندن کی عدالت سے رجوع کر رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے مرزا طاہر کے ایما پر لندن کی مقامی عدالت میں ہادی علی چوہدری کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ہادی علی چوہدری نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ قادیانیوں کے سربراہ سمیت دیگر اہم عہدوں پر فائز قادیانی رہنماؤں کے بارے میں اہم انکشافات کریں گے۔ ہادی علی چوہدری کے مطابق ان کے پاس تبلیغی فنڈ میں خورد برد سے متعلق اہم معلومات اور دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس انکشاف سے عالمی سطح پر قادیانیت پر کاری ضرب پڑی ہے اور قادیانیوں کے سر پرست عناصر نے مرزا طاہر کے اس اقدام پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور ہنگامی اجلاس میں ان کے خلاف سخت کاروائی پر غور کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں مشاورت جاری ہے اور جلد ہی اہم فیصلے متوقع ہیں۔“
(روزنامہ امت کراچی ۲۴ فروری ۲۰۰۳ء، ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۲۹ مارچ تا ۵ اپریل ۲۰۰۳ء ص ۶)
چک بہوڑ ضلع شیخوپورہ میں قادیانی کے قتل کا فیصلہ ، تمام مسلمان باعزت بری کر دیئے گئے الحمدللہ !
چک ۱۸ بہوڑ و سانگلہ ہل ضلع شیخوپورہ کے قریب میں واقع ہے۔ عرصہ سے وہاں پر قادیانی جماعت کا دبدبہ تھا۔ اللہ رب العزت نے کرم کیا کہ وہاں پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مثبت پالیسی اور تبلیغی کوششوں سے مسلمان بیدار ہوئے۔ قادیانیوں کے لئے یہ بات ناگوار ہوئی۔ آج سے تین سال قبل چک نمبر ۱۸ بہوڑ میں قادیانیوں نے اپنا ارتدادی لٹریچر تقسیم کیا۔ مسلمانوں کے چند نوعمر لڑکوں نے انہیں ایسا کرنے سے منع کیا مگر قادیانیوں نے اپنی رعونت اور سرمایہ کی فرعونیت کی بنا پر فائرنگ کی جس سے محمد عامر، محمد اسحق، محمد شفیع دو عورتیں مسمات شمیم اور بشیراں بی بی سات سالہ بچہ عمران سمیت مسلمانوں کے گیارہ افراد زخمی ہوئے۔ مسلمان اپنے زخمیوں کو لے کر سانگلہ ہل ہسپتال گئے۔ پیچھے قادیانیوں نے فائرنگ کر کے ”کراس پرچہ“ کرانے کے لئے اپنے ایک ۸۵ سالہ قادیانی عبداللطیف بوڑھے مرتد کو قتل کر دیا اور الزام مسلمانوں کے سر لگا دیا اور بتیس مسلمانوں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرا دیا۔ مسلمان سراسیمگی اور پریشانی میں تھے۔ ادھر ہسپتال میں قادیانیوں کے ہاتھوں زخمی مسلمانوں کی دیکھ بھال اور علاج معالجہ کا بھی مسئلہ تھا۔ لاکھوں روپے خرچ کر کے قادیانیوں نے انتظامیہ اور ذمہ دار افسران کو اپنے جال میں لانے کی چال چلنے کا منصوبہ بنایا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما حضرت مولانا عزیز الرحمن ثانی مبلغ لاہور، حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی سرگودھا، حضرت مولانا عبداللطیف شاہ کوٹ، حضرت مولانا عبداللہ لدھیانوی نے ان زخمیوں کی عیادت کی۔ مسلمانوں کی اخلاقی اور قانونی امداد اور مسلمانوں کی طرف سے قادیانیوں کے خلاف کراس پرچہ کے لئے کوشش کی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری نے اس معاملہ کی سرپرستی فرمائی اور مسلمانوں کا قادیانیوں کے خلاف اقدام قتل کا کراس پرچہ درج ہو گیا۔ مسلمانوں کی طرف سے بتیس افراد اور قادیانیوں کی طرف سے سترہ افراد کے خلاف پولیس نے چالان کیا۔ کیس مختلف مراحل سے گزرتا رہا۔ فریقین کے تمام ملزمان کی ضمانتیں ہو گئیں (تین قادیانی ملزم تاحال روپوش اشتہاری ہیں) مسلمانوں کی طرف سے جناب محمد اعظم صاحب نے اپنی ضمانت پر رہائی کے بعد یونین کونسل کی نظامت کا الیکشن لڑا اور کامیابی حاصل کی۔ قادیانیوں کے لئے یہ امر ناقابل برداشت ہو گیا۔ علاوہ ازیں یہ کہ پہلے محمد اعظم صاحب بھی قادیانی فرقہ سے تعلق رکھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں توفیق دی۔ وہ پورے گھرانے سمیت مسلمان ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے الیکشن میں کامیابی سے نوازا۔ اس پر قادیانی سیخ پا ہو گئے۔ انہوں نے ان کی ضمانت کی منسوخی کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ ایک قانونی نقطہ کے باعث سپریم کورٹ نے ضمانت منسوخ کر دی۔ انہوں نے ۶؍فروری ۲۰۰۳ء کو سیشن جج شیخوپورہ ملک غلام محمد صاحب کے سامنے اپنی گرفتاری پیش کی۔ کیس کی سماعت مکمل ہو چکی تھی۔ صرف فریقین کے وکلاء کی بحث ہونا باقی تھی۔
مسلمانوں کی طرف سے لاہور ہائی کورٹ کے ماہر قانون دان جناب احمد خان ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔ فریقین کی بحث سن کر سیشن کورٹ نے ثبوت ناکافی ہونے کی بناء پر تمام ملزمان کو باعزت بری کر دیا۔ اس وقت عدالت میں حضرت مولانا عزیز الرحمٰن ثانی کی قیادت میں علمائے کرام اور اسلامیان شیخوپورہ کی کثیر تعداد موجود تھی۔ مسلمانوں کے چہروں پر خوشی کے آثار قابل دید تھے۔ جب کہ قادیانیوں کے چہرے ”سو گنڈے بھی کھائے، سو ڈنڈے بھی کھائے“ کے مصداق تھے۔ قادیانیوں نے مسلمانوں کو پھانسنے کے لئے اپنے ایک پچاسی سالہ مرتد کو جہنم میں مرزا قادیانی یعنی اپنے چیف گرو کے پاس بھی بھیجا۔ پوری دنیا میں نام نہاد مظلومیت کا ڈھنڈورا بھی پیٹا، رائے عامہ کو گمراہ کرنے کے لئے انٹرنیٹ، این۔جی۔اوز اور میڈیا کے ذریعہ کوشش بھی کی۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے گھر میں دیر ہے اندھیر نہیں، کے مصداق دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوا۔ قادیانیوں نے پانی کی طرح پیسہ بہایا۔ لیکن حق کو باطل ثابت نہ کر سکے۔ اللہ رب العزت نے محض اپنے فضل وکرم، احسان وجود سے کمزور مسلمانوں کو کفر بواح کے مقابلہ میں کامیاب فرمایا، سرخرو کیا۔ عدالت نے حق وانصاف کا فیصلہ دے کر اپنے وقار میں اضافہ کیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اس موقع پر اللہ رب العزت کے حضور سجدہ شکر بجا لاتی ہے اور چک نمبر ۱۸ بھوڑو کے اپنے غریب کمزور اور نہتے مسلمانوں کو اس عدالتی وقانونی کامیابی پر مبارک باد پیش کرتی ہے اور اپنی اس بنیادی پالیسی کا اظہار کرنا بھی ضروری سمجھتی ہے کہ قانون کے دائرہ میں رہ کر عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ اور فتنہ قادیانیت کے بڑھتے ہوئے ارتدادی مہم کے خلاف حق کا بندھ باندھتے رہیں گے اور ایک اسلامی مملکت میں کبھی بھی ارتداد کو پھیلنے کا موقعہ نہیں دیں گے۔ ہم بڑے اخلاص کے ساتھ دل کی اتھاہ گہرائیوں سے قادیانیوں کو بھی ایک بار پھر دعوت اسلام دیتے ہیں کہ وہ سوچیں کہ اسلام کو چھوڑ کر اور قادیانیت کو قبول کر کے انہوں نے کیا کھویا کیا پایا؟ اسی طرح این۔جی۔اوز کے لئے بھی مقام غور و فکر ہے کہ انہوں نے مظلوم مسلمانوں کو ظالم قادیانیوں کے مقابلہ میں الٹا ظالم ثابت کرنے کی کوشش کی۔ آج بھی این۔جی۔اوز کے نام نہاد پراپیگنڈے کے اخبارات گواہ ہیں۔ اس عدالتی فیصلہ کے بعد این۔جی۔اوز کے کارپرداز قادیانی لابی سوچے کہ جو انہوں نے جھوٹا پراپیگنڈا کیا۔ کیا اس فیصلہ کے بعد ان اخلاقی موت پر مسلمانوں کو ماتم کرنے کی اجازت ہے؟“
”و الی اللہ المشتکی وما النصر الا من عنداللہ۔ وھو علی کل شئی قدیر“ ”ختم نبوت زندہ باد، منکرین ختم نبوت مردہ باد، پاکستان زندہ باد، پائندہ باد!
(حضرت مولانا) اللہ وسایا (مدظلہ)
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۰۳ء ص ۷، ۸)
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اس سازش کا سدباب ضروری ہے
قادیانیوں نے اسلام کو ختم کرنے کے لئے کیا کیا جتن نہیں کئے لیکن اسلام ہے کہ روز بروز پھیلتا جا رہا ہے۔ سالوں اور مہینوں میں نہیں بلکہ شاید ہی کوئی دن ایسا جاتا ہو جس میں غیر مسلم اسلام قبول نہ کرتے ہوں۔ ان میں سے ہر ایک نو مسلم عقیدہ ختم نبوت کا اقرار کر کے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو اللہ کا آخری نبی یعنی ”خاتم النبیین“ مانتا ہے۔ اس کے برعکس قادیانی مذہب کے پیروکاروں کی تعداد سالوں اور مہینوں میں نہیں بلکہ آئے دن گھٹتی جا رہی ہے اور کئی نیک بخت افراد بلکہ پورے کے پورے گھرانے قادیانیت پر لعنت بھیج کر دائرہ اسلام میں داخل ہورہے ہیں۔ ان صفحات میں چھپنے والی سطور کو شاید بعض لوگ مبالغہ آرائی تصور کرتے ہوں لیکن اخبارات میں آئے دن جن قادیانیوں کے قبول اسلام کی خبریں آتی ہیں وہ تو ظاہر ہے کہ کسی طور بھی یکطرفہ یا بددیانتی پر مبنی نہیں ہوسکتیں ، اور یہ خبریں کسی خاص خطے یا علاقے کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتیں بلکہ دنیا کے مختلف خطوں کے لوگ مذکورہ حوالے سے خبروں کا حصہ رہے ہیں۔ قادیانیوں کی جانب سے مسلمانوں کو قادیانی بنانے کی ایک سازش کے طور پر چند سالوں سے یہ طریقہ واردات اختیار کیا جارہا ہے کہ قادیانی نوجوان لڑکے، لڑکیاں ، مسلمان نوجوان لڑکے ، لڑکیوں سے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر کے دھوکہ سے بیاہ رچا لیتے ہیں اور شادی کے کچھ عرصے بعد اپنی اصلیت ظاہر کر کے زوج کو بھی قادیانیت اختیار کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ گزشتہ دنوں اس نوعیت کے ایک اور واقعہ کا انکشاف اس وقت ہوا جب ایک مسلمان لڑکی نے گلوخلاصی کے لئے عدالت سے رجوع کیا۔ اس حوالے سے جو خبر شائع ہوئی اس کی تفصیلات ملاحظہ فرمائیے:
”قادیانی نے خود کو مسلمان ظاہر کر کے حافظ قرآن لڑکی سے شادی کرلی
مذہب تبدیل کرنے کے لئے نائلہ پر دباؤ ، تشدد، عدالت پہنچ گئی ، تنسیخ نکاح کا دعویٰ دائر کر دیا ۔
چنیوٹ ( نامہ نگار ) قادیانی نوجوان نے حافظ قرآن مسلمان لڑکی سے شادی کرلی ، نوجوان نے شادی سے پہلے خود کو مسلمان ظاہر کیا۔ تفصیل کے مطابق نائلہ اکرم کی شادی آصف علی سے دو سال قبل ہوئی تھی۔ آصف نے شادی کے بعد بیوی کو قادیانی بنانے کے لئے کوشش شروع کر دی ، جب نائلہ نے انکار کیا تو اس پر تشدد کیا اور اسے اذیتیں دیتا رہا، ایک روز موقع پا کر فرار ہوکر چنیوٹ کی عدالت پہنچ گئی اور تنسیخ نکاح کا دعویٰ دائر کر دیا ، جس کی پیروی جنرل سیکرٹری ہیومن رائٹس اینڈ ویلفیئر کونسل چنیوٹ میاں محمد یوسف خیالی ایڈووکیٹ کر رہے ہیں۔“
(روزنامہ خبریں کراچی ۲۲؍ مارچ ۲۰۰۳ء)
قادیانیوں نے دھوکہ دہی پر مبنی اس طریقہ واردات کے ذریعہ متعدد مسلم خواتین کی دنیوی اور اخروی زندگیاں تباہ کرنے کی کوشش کی لیکن مسلم خواتین نے ہمیشہ اس کا مقابلہ پامردی سے کیا اور قادیانیت کے مقابلہ میں اسلام کو ترجیح دی۔ ایسی خواتین نے قادیانی مردوں سے فوراً علیحدگی اختیار کرلی ۔ یہی صورتحال مسلم نوجوانوں کی رہی۔ انہوں نے اسلام پر کوئی سودے بازی نہیں کی اور زبان حال سے قادیانیت پر لعنت بھیج کر اس کے باطل مذہب ہونے کا اعلان کیا۔
ہم ان سطور کے ذریعہ حکومت سے مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہیں کہ جس مسلم خاتون کا مذکورہ بالا خبر میں تذکرہ کیا گیا ہے، اسے انصاف دلایا جائے اور اس سے دھوکہ دہی کے ذریعہ نکاح کرنے والے قادیانی کو عبرتناک سزا دی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمارا یہ بھی مطالبہ ہے کہ آئے دن قادیانیوں کی جانب سے ہونے والی اس قسم کی دھوکہ بازی کے خلاف مؤثر قانون سازی کی جائے اور اس پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے تاکہ ملک میں اس حوالے سے پائی جانے والی بے چینی کا سدباب ہو سکے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مدعیان مہدویت میں ایک اور اضافہ
دعویٰ نبوت اور دعویٰ مہدویت عرصہ دراز سے عقل و خرد سے عاری اشخاص کا تختہ مشق رہے ہیں۔ ہر ایرا غیرا نتھو خیرا ان دعوؤں کے ذریعہ سستی شہرت کا طالب رہتا ہے۔ مرزا قادیانی سے لے کر آج تک غالباً سینکڑوں اشخاص نے اس قسم کے دعوے کئے ہوں گے اور اس کے نتیجے میں ذلت کا منہ دیکھا ہوگا لیکن ہنوز بہتیرے اشخاص ایسے ہیں جن کے سر میں آئے دن یہ سودا سماتا رہتا ہے۔ گزشتہ دنوں حیدرآباد کے رہنے والے محکمہ ڈاک کے ایک افسر شمس الحسن زیدی کو ہدایت کے بجائے گمراہی و ضلالت کی سوجھی اور اس نے امام مہدی ہونے کا دعویٰ کر دیا۔ اس رسالے کی مختلف اشاعتوں میں وقتاً فوقتاً قارئین اس قسم کے مضامین پڑھتے رہتے ہیں جن میں حضرت امام مہدی کے بارے میں مکمل، جامع اور مستند معلومات درج ہوتی ہے۔ ان معلومات کی موجودگی میں ہر قاری درج ذیل خبر میں کئے گئے شمس الحسن زیدی کے دعوے کو پرکھ سکتا ہے اور صحیح اور غلط کی شناخت کر سکتا ہے:
”لطیف آباد : محکمہ ڈاک کے افسر شمس الحسن زیدی کا امام مہدی ہونے کا دعویٰ شمس الحسن زیدی نامی شخص نے مختلف سرکاری افسران اور نجی ٹی وی چینلوں کو لکھے گئے خطوط میں امام مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ہے
حیدر آباد (رپورٹ محمد حشام شیخ) لطیف آباد نمبر ۶ کے رہائشی محکمہ ڈاک کے افسر سید شمس الحسن زیدی نے امام مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ سید شمس الحسن زیدی کی جانب سے مختلف سرکاری افسران اور نجی ٹی وی چینلوں کو لکھے گئے خطوط میں بتایا ہے کہ میں مکمل ہوش وحواس کے عالم میں اللہ کو حاضر و ناظر جانتے ہوئے ۳۱ صفحات پر مبنی ناقابل تردید ثبوت آپ کو ارسال کر رہا ہوں جو کہ واضح طور پر اولیاء اللہ کی شہادتوں، قرآنی آیات، اور صحیح احادیث نبوی کے ذریعہ مجھے امام مہدی ثابت کرتی ہیں۔ اور ولی حق عبدالرحمن گڑہوڑی کی ۲۳۲ سال پرانی پیشین گوئی کے صفحہ نمبر ۶ پر درج ہے کہ سندھ میں ایک حق کا ولی پیدا ہو گا جس کا نام شمس ہوگا اس کی ذات سید ہوگی ، اس کی بائیں آنکھ پر تل کا نشان ہوگا۔ وہ حیدرآباد سندھ میں ہوگا اور بحیثیت امام آخر زمان مہدی تمام دنیا پر سات سال حکومت (خلافت) کرے گا۔ اور یہ سب نشانیاں مجھ پر سو فیصد سچ ثابت ہوئی ہیں۔ سید شمس الحسن زیدی کی جانب سے مختلف افسران کو بھیجے گئے دستاویزی کاغذات میں شامل صفحہ نمبر ۲۵ پر حضرت نعمت اللہ شاہ ولیؒ کی ۸۵۰ سال پرانی پیشینگوئیوں کو بیان کرتے ہوئے بتایا کہ محرم کے مہینے سے جنگ عظیم کا آغاز ہو گا ، چنانچہ اس سال محرم سے جنگ عظیم کا آغاز ہو گیا ہے، جب کہ ایک ساتھ چاند گرہن اور سورج گرہن ہونے کے بعد امام مہدی آخر زمان ظاہر ہوں گے۔ چنانچہ گزشتہ سال ۱۴؍ رمضان کو چاند گرہن اور ۲۸؍ رمضان کو سورج گرہن ایک ساتھ واقع ہوئے ہیں۔ لہٰذا اب بحیثیت امام مہدی آخر زمان کے میرا ظہور ہوا ہے، سید شمس الحسن زیدی کی جانب سے جاری کیا گیا۔ ۳۱ صفحات پر مشتمل حضرت مہدی ہونے کے دعوے میں دیگر کئی پیشن گوئیوں کے حوالے دیئے گئے ہیں۔“
(روزنامہ اسلام ۲۴؍ مارچ ۲۰۰۳ء)
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو اللہ رب العزت نے یہ اعزاز عطا فرمایا ہے کہ ہر مدعی نبوت و مہدویت کے خلاف سب سے پہلے اس جماعت نے آواز اٹھائی ہے اور ایسے کذاب اور ظالم کو کیفر کردار تک پہنچایا ہے۔ اس مرتبہ بھی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے پہل کی اور جماعت کے مرکزی رہنما مولانا احمد میاں حمادی نے متعلقہ حکام کو پیش کردہ درخواستوں میں واضح کیا کہ ملزم شمس الحسن زیدی نے مہدی آخر زمان ہونے کا دعویٰ کیا ہے جب کہ حضور نبی کریم ﷺ نے امام مہدی کی متعدد واضح علامات بیان فرمائی ہیں جن میں سے ایک بھی ملزم پر صادق نہیں آتی ، ملزم نے سرور کائنات ﷺ کی بتلائی ہوئی علامات یکسر مسترد کرتے ہوئے اپنی خود ساختہ شیطانی علامات بیان کر کے
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
”دعوت نامہ“ پر مشتمل ایک خط اپنے دستخطوں سے جاری کیا ہے جس میں توہین رسالت کا ارتکاب بھی کیا گیا ہے، جب کہ موجودہ حکومت کو منافق قرار دے کر تمام صوبائی اور وفاقی دفاتر پر قبضہ کرنے کا باغیانہ اقدام کرنے کا بھی عزم کیا گیا ہے، اس لئے فی الفور اس کے خلاف توہین رسالت اور ملک سے بغاوت کے الزام میں مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی کی جائے۔ حیدرآباد میں تعینات جماعت کے مبلغ مولانا محمد نذر نے ایک اخباری نمائندے کو بتایا کہ جھوٹے مدعی شمس الحسن زیدی کے بارے میں جلد لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ اور اس سلسلے میں جلد ہی علماء کرام کا ایک اجلاس ہونے والا ہے۔
شمس الحسن زیدی شاید مہدویت کو بھی محکمہ ڈاک کی افسری پر قیاس کر بیٹھے ہیں۔ یہی سودا مرزا غلام احمد قادیانی کے سر میں اس وقت سمایا تھا جب وہ سیالکوٹ میں ڈپٹی کمشنر کی کچہری میں ملازم تھا۔ اگر شمس الحسن زیدی کو اپنی عاقبت عزیز ہے تو اسے ہر قیمت پر اس دعویٰ سے توبہ کر کے عقائد اہل سنت والجماعت اختیار کرنے ہوں گے ورنہ وہ دنیا و آخرت میں رسوائی کا شکار ہونے کے لئے تیار رہے۔
حکومت پاکستان پر بھی یہ فریضہ عائد ہوتا ہے کہ وہ آئے دن ہونے والے دعویٰ نبوت اور دعویٰ مہدویت کی روک تھام کے لئے سختی سے کام لے دعویٰ نبوت تو ناموس رسالت کے قانون کی زد میں آجاتا ہے لیکن دعویٰ مہدویت کے خلاف کوئی ٹھوس قانون موجود نہیں۔ یہ امت مسلمہ کے لئے ایک حساس مسئلہ کی حیثیت رکھتا ہے تو اس کے حوالے سے قانون سازی آج تک کیوں نہیں کی گئی؟ بہر حال ایسی قانون سازی وقت کی اہم ضرورت ہے جس پر فوری توجہ دی جانی چاہئے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت ۶ تا ۱۲؍ اپریل ۲۰۰۳ء ص ۴، ۵)
قادیانیوں کا بلا جواز دفاع، امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ رپورٹ
۳۱؍ مارچ ۲۰۰۳ء کو امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے شائع شدہ رپورٹ میں پاکستان میں رہنے والے قادیانیوں کے حوالے سے ان پر روا رکھے گئے مظالم، ہونے والی زیادتیوں کا جائزہ اور الزامات کی ایک طویل فہرست پیش کی گئی۔ رپورٹ میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پاکستان میں قادیانیوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھ کر ان کے بنیادی حقوق پامال کئے جارہے ہیں۔ قادیانی ملک بھر میں عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ یہاں تک کہ حکومت وقت بھی قادیانیوں کو تحفظ دینے میں ناکام رہی ہے۔ اس رپورٹ کے بنیادی نکات حسب ذیل ہیں:
- ٭...... پاکستان میں قادیانیوں کی جانوں کو خطرات لاحق ہیں وہ اکثر و بیشتر قتل عام کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔
- ٭...... انتظامیہ قادیانیوں پر ہونے والے حملوں کی صورت میں ان کے تحفظ میں ناکام ثابت ہوئی۔
- ٭...... حکومتی سطح پر اور معاشرتی بنیادوں پر قادیانیوں کے ساتھ امتیاز برتا جاتا رہا اور حکومت عوام کی جانب سے قادیانیوں پر ہونے والی
زیادتیوں کے سد باب کے لئے مؤثر اقدامات اٹھانے میں ناکام رہی۔
- ٭...... قادیانیوں کو ۱۹۸۴ء سے کانفرنس یا اجتماعات کے انعقاد سے روک دیا گیا ہے۔
- ٭...... قادیانیوں نے سرکاری تعلیم گاہوں میں داخلہ کے موقع پر اپنی مذہبی وابستگی کی بناء پر امتیاز برتے جانے کی شکایت کی ہے۔
- ٭...... قادیانی، قانون کے تحت بعض پابندیوں کا شکار ہیں۔
- ٭...... نئے ووٹر لسٹ فارم کی ایک دفعہ کے تحت قادیانیوں کو عام ووٹروں سے علیحدہ کر دیا گیا ہے اور اس دفعہ کو حکومت اور قادیانی مخالف
گروپوں نے قادیانیوں کو ہراساں کرنے کے لئے استعمال کیا ہے۔
- ٭...... قادیانی مذہبی آزادی کے لحاظ سے متعدد پابندیوں کا شکار ہیں۔ جس میں ان کی عبادت گاہوں کی بے حرمتی، مسلم قبرستان میں
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تدفین پر پابندی، مذہبی آزادی، آزادی تقریر اور آزادی اجتماع پر پابندی اور ان کے پریس پر پابندیاں شامل ہیں۔
- ☆ ...... قادیانیوں کو حج میں شریک ہونے سے روک دیا گیا ہے۔
- ☆ ...... بعض مشہور اخبارات قادیانیوں کی ”سازشوں“ سے متعلق خبریں شائع کرتے ہیں جس سے معاشرہ میں قادیانی مخالف جذبات
پھیلتے ہیں۔
- ☆ ...... قادیانی لیڈروں نے الزام عائد کیا ہے کہ جنگجو ملاؤں اور ان کے پیروکاروں نے قادیانی اکثریتی آبادی پر مشتمل شہر اور ان کے
روحانی مرکز (چناب نگر) کی سڑکوں پر مارچ کئے ہیں۔ جن میں ملاؤں نے قادیانیوں اور قادیانی مذہب کے بانی کی مذمت کی ہے۔ یہ ایک ایسی صورتحال ہے جس کا نتیجہ بسا اوقات تشدد کی صورت میں نکلا ہے۔ قادیانیوں کا دعویٰ ہے کہ ان مارچوں کے دوران پولیس بھی موجود رہی ہے۔ لیکن اس نے اس تشدد کو ختم کرنے کے لئے کوئی مداخلت نہیں کی۔
- ☆ ...... قادیانیوں کے لئے سرکاری ملازمتوں کے اعلیٰ عہدوں پر ترقی کرنے کے امکانات بہت کم ہیں۔ قادیانیوں کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ
چند سالوں میں صرف اس افواہ سے کہ فلاں شخص قادیانی ہے یا اس کے عزیز واقارب قادیانی ہیں۔ اس شخص پر ملازمت کے دروازے بند ہوجاتے ہیں۔
- ☆ ...... اسکولوں میں قادیانی طلباء کو اپنے غیر قانونی ہم جماعتوں کی جانب سے بدسلوکی کا سامنا ہے۔ جس کی وجہ سے زیادہ تر قادیانی
گھروں میں تعلیم پاتے ہیں یا قادیانیوں کے زیر انتظام اسکولوں میں پڑھتے ہیں۔ نوجوان قادیانیوں نے شکایت کی ہے کہ انہیں اچھے کالجوں میں داخلے اور اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے بیرون ملک جانے کے سلسلے میں رکاوٹوں کا سامنا ہے۔
- ☆ ...... تعزیرات پاکستان (پینل کوڈ) کی بعض دفعات قادیانیوں کے خلاف امتیاز پر مبنی ہیں۔ بالخصوص وہ دفعہ جو قادیانیوں کو بالواسطہ یا
بلاواسطہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنے سے روکتی ہے۔
- ☆ ...... قادیانی اکثریتی آبادی پر مشتمل شہر اور ان کے روحانی مرکز چناب نگر میں قادیانیوں پر اکثر و بیشتر مظالم ہوتے ہیں۔
امریکی وزارت خارجہ نے گزشتہ کئی برس سے انسانی حقوق کے حوالے سے پاکستان میں بسنے والی اقلیتوں خصوصاً قادیانیوں اور مسیحیوں کی حمایت میں مسلسل یہ طرز عمل اختیار کر رکھا ہے کہ پاکستان میں ان اقلیتوں کے بنیادی حقوق معطل ہیں۔ ان پر ظلم و ستم ہورہا ہے اور انہیں دوسرے درجے کے شہری کی حیثیت حاصل ہے۔ حالیہ رپورٹ کے اہم نکات سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ امریکی حکومت قادیانی اقلیت کی کس قدر خیر خواہ اور ہمدرد ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کو قادیانیوں کے تحفظ کی کس قدر فکر لاحق ہے؟
قادیانی اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں اور مسلمان کہلوانے کے خواہش مند ہیں۔ مذہبی تشخص اور خانہ ساز نبوت سے وابستگی کی بناء پر امت مسلمہ انہیں اپنے سے جدا امت قرار دیتی ہے۔ قادیانی حقیقی مسلمان نہیں بلکہ اس روپ میں کچھ اور ہیں۔ وہ امت مصطفیٰ ﷺ کا حصہ ہوتے تو امریکی وزارت خارجہ کے لئے فکر مندی کا باعث نہ بنتے۔ دنیا بھر میں جن علاقوں، خطوں میں مسلمانوں پر ظلم وستم ڈھائے جارہے ہیں، خون مسلم پانی کی طرح بہایا جارہا ہے۔ وہاں امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ مہر بلب ہے۔ مسلمانوں کے کشت وخون پر کوئی رپورٹ منظر عام پر نہیں دکھائی دیتی۔ پاکستان میں قادیانی اقلیت کی جگہ فلسطین کے مظلوم ومحکوم مسلمان زیادہ ہمدردی کے مستحق ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں ۸۰ ہزار مسلمان شہید ہو چکے ہیں۔ عصمت دری اور آبروریزی کے لرزہ خیز واقعات کا تسلسل ختم ہونے میں نہیں آرہا۔ اس جبر واکراہ، سفاکی، بربریت پر امریکی وزارت خارجہ کو جھرجھری تک محسوس نہیں ہوتی۔ بوسنیا اور چیچنیا کے کلمہ گو مسلمانوں پر ہونے والے مظالم
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پر بھی امریکی وزارت خارجہ کا ضمیر نہ جاگ سکا۔ برما اور فلپائن کے حق پرست مسلمانوں کے حقوق کا ہلکا سا تخیل بھی نہ ابھر سکا۔ افغانستان اور عراق کے مسلمانوں کے بنیادی حقوق کو تو خود امریکہ نے اپنے ہاتھوں سے پامال کیا۔ ان کی آزادی وخودمختاری کا گلہ گھونٹ کر جو خاص امتیازی سلوک روا رکھا جا رہا ہے اسے کیا نام دیا جائے۔ مختصر یہ کہ دنیا کے کسی حصہ کا مظلوم ومحکوم مسلمان اس قابل نہیں کہ اس کے لئے امریکی وزارت خارجہ کلمہ خیر کہے۔ پاکستان کے قادیانیوں کو کانٹا بھی چبھے تو اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کو فوراً کسک محسوس ہوتی ہے۔ قادیانیوں کے مسلمانوں سے الگ قوم ہونے کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوگا۔ امریکہ میں مسلمانوں پر بالخصوص پاکستانیوں سے جو ”حسن سلوک“ کیا جا رہا ہے کیا امریکی حکومت یہ برداشت کرے گی کہ پاکستان کا اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اپنے مظلوم ہم وطنوں کے حق میں ایسی رپورٹ شائع کرے۔ ایک آزاد، خود مختار ملک کے محب وطن شہریوں کو امریکی وزارت خارجہ کی حالیہ رپورٹ سے یقیناً دھچکا لگا ہے۔ وہ یہ جاننے میں حق بجانب ہیں کہ کیا یہ ہمارے قومی معاملات میں مداخلت کے مترادف نہیں؟
گزشتہ کئی برس سے امریکی کانگریس بھی پاکستان سمیت دیگر اسلامی ممالک میں اقلیتوں کے بنیادی حقوق کے حوالے سے اسی طرح کے الزامات اور خدشات کا اظہار کر رہی ہے۔ امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے اگر چہ کوئی نئی بات نہیں کی بلکہ سابقہ الزامات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ امریکی وزارت خارجہ قتل عام کا نشانہ بننے والے قادیانیوں کی فہرست جاری کرتی یا کم از کم گزشتہ ایک برس میں قتل ہونے والے قادیانیوں کی تعداد ہی بتا دیتی کہ قتل عام کی اصطلاح میں اصل حقیقت حال واضح ہو جاتی۔ قادیانیوں سے متعلق قانون کے تحت بعض پابندیوں کے الزام کے ضمن میں ایک بات اصولی اور طے شدہ ہے کہ کسی بھی ملک کا ہر شہری اپنے ملک کے مروجہ قانون کا پابند ہوتا ہے۔ ہر کسی پر قانون کی پاسداری اور احترام لازم ہے۔ ۱۹۷۴ء میں قادیانیوں کو ایک آئینی ترمیم کے ذریعہ پارلیمنٹ کی سطح پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ آئین اور قانون کے ذریعہ ان کی مذہبی حیثیت کا تعین کیا گیا۔ اسی فیصلہ سے قانوناً قادیانیوں کو تحفظ حاصل ہوا۔ بدقسمتی کی بات یہ کہ قادیانی جماعت نے آئین وقانون کا احترام کرنے کی بجائے بغاوت کا راستہ اختیار کیا۔ قادیانی جماعت کے رہنماؤں نے اخبارات میں اشتہار کے ذریعہ قومی اسمبلی کے فیصلہ کو اپنے عقائد اور ضمیر کے خلاف قرار دیتے ہوئے تسلیم کرنے سے انکار کیا۔ قومی وصوبائی اسمبلیوں میں اقلیتوں کی مخصوص نشستوں پر قادیانی جماعت نے باضابطہ بائیکاٹ کا اعلان کر کے آئین سے انحراف اور قانون کو ہاتھ میں لینے کا عملی ثبوت فراہم کیا۔ کیا امریکہ میں بسنے والی کسی اقلیت کو امریکی آئین اور قانون سے اس طرح کھل کر کھیلنے کی اجازت دی جا سکتی ہے؟ جن قادیانی افراد نے اقلیتی نشستوں کے لئے انتخاب میں حصہ لیا قادیانی جماعت نے انہیں باغی قرار دے کر جماعت سے نکال دیا۔ اگر قادیانی جماعت کے رہنما جماعتی ضوابط کی خاطر سال ہا سال خدمات سرانجام دینے والوں کو غدار قرار دے کر جماعت سے نکال باہر کر سکتے ہیں تو ریاست کے قانون کی خلاف ورزی پر کیونکر رعایت دی جا سکتی ہے؟
قادیانی جماعت کی مکاری وعیاری کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر کے مسلمانوں کے حقوق غصب کر رہے ہیں۔ سول سروسز اور افواج میں قادیانی اعلیٰ عہدوں پر قابض ہیں۔ صد افسوس کہ کسی حکومت نے اس امر پر سوچنا گوارا ہی نہیں کیا کہ جب تنسیخ جہاد قادیانیوں کا الہامی عقیدہ ہے۔ قادیانی جماعت کے بانی آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی کی تحریک اور جماعت کا مرکز ومحور ہی حرمت جہاد اور اطاعت برطانیہ تھا۔ جس کے لئے انہوں نے اس قدر قلمی مشقت برداشت کی کہ بقول ان کے (مرزا قادیانی) پچاس الماریاں بھر سکتی ہیں۔ ایسے مذہب کے پیروکاروں کو پاک مسلح افواج میں شامل رکھنا نظریہ پاکستان اور افواج پاکستان کے نصب العین کی نفی ہے۔ یہ بات ہم دعویٰ سے کہہ سکتے ہیں کہ سول سروسز اور مختلف سرکاری محکموں میں موجود قادیانی مسلمان افسران کا حق غصب
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کئے بیٹھے ہیں۔ کیا قادیانی جماعت میں اتنی اخلاقی جرات ہے کہ وہ مسلح افواج اور دیگر سرکاری ونیم سرکاری اداروں میں گھسے قادیانی افسران کی فہرست جاری کرے۔ سرکاری تعلیمی اداروں میں قادیانیوں سے مذہبی امتیاز کے برتاؤ کا الزام بھی بے بنیاد ہے۔ سرکاری یا غیر تعلیمی اداروں میں داخلہ مذہبی تشخص کی بجائے میرٹ کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ قادیانی اپنے مذہب کو ظاہر ہی نہیں کرتے تو سرکاری تعلیمی اداروں میں قبل از داخلہ مذہبی امتیاز کیسے برتا جا سکتا ہے؟ ملک کے کسی ایک تعلیمی ادارے کے حوالے سے یہ الزام ثابت نہیں کیا جا سکتا کہ کسی قادیانی طالب علم کو محض قادیانی ہونے کے ناطے داخلے سے محروم کیا گیا ہو؟
ایک الزام کا بار بار اعادہ کیا جا رہا ہے کہ قادیانی مذہبی آزادی کے لحاظ سے بعض پابندیوں کا شکار ہیں اور یہ قادیانیوں کو حج میں شریک ہونے سے روک دیا گیا ہے۔ مذہبی آزادی کے حوالے سے قادیانی جن پابندیوں کا شکار ہیں وہ اصولی اور قانونی ہیں۔ قادیانی اپنی عبادت گاہوں میں آزادی سے عبادت کرتے ہیں۔ ان کی عبادت گاہیں محفوظ ہیں۔ البتہ کھلے عام اجتماعات پر قانون کے تحت پابندی ہے۔ اس سے نہ صرف مسلمانوں کے جذبات مجروح ہونے کا احتمال ہے بلکہ لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ حکومت کے لئے مستقل دردسر بن سکتا ہے۔ قادیانی عبادت گاہیں مسلمانوں کی مساجد کی ہم شکل ہیں۔ قادیانی شعائر کو اختیار کرتے ہیں۔ جس سے سادہ لوح مسلمانوں کو دھوکہ ہوتا ہے۔ جب قادیانی غیر مسلم ٹھہرے تو انہیں شعائر اسلامی اور مخصوص اسلامی القابات استعمال کرنے کا اختیار کیونکر دیا جا سکتا ہے۔ یہی وہ بنیادی اور اصولی بات ہے جس کے باعث قادیانیوں کو سرعام اجتماعات کرنے اور کھلے بندوں دعوت وتبلیغ کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ بطور اقلیت مسیحیوں کی طرح وہ اپنے مردے اپنے قبرستان میں دفن کریں۔ انہیں اپنے مردے مسلمانوں کے قبرستانوں میں دفن کرنے کی اجازت کیونکر دی جاسکتی ہے۔ یہ تعصب کی بات نہیں بلکہ اصولی مؤقف ہے۔ کیا چناب نگر میں قادیانیوں کے قبرستان میں کسی عام یا خاص مسلمان کو قادیانی جماعت دفن کی اجازت دے سکتی ہے؟۔ ہم اس تفصیل میں نہیں جانا چاہتے۔ قادیانیوں کے مرکز میں ان کے قبرستان میں تو قادیانی بھی درجے کے حساب سے دفن ہوتا ہے۔ رہا معاملہ پریس کی آزادی کا تو ............ امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کسی ایک قادیانی رسالے، اخبار کا نام بتائے جس کا ڈیکلریشن منسوخ کیا گیا ہو یا جس کی اشاعت پر پابندی عائد کی گئی ہو۔
ایک الزام یہ بھی ہے کہ قادیانیوں کو حج میں شریک ہونے سے روک دیا گیا ہے؟ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امریکن اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کو حج کے حوالے سے قادیانیوں پر عائد شدہ پابندی کا علم ہی نہیں۔ قادیانیوں کے حجاز مقدس اور خاص طور پر حرمین شریفین میں داخلہ کی پابندی حکومت پاکستان نے نہیں بلکہ سعودی حکومت نے عائد کی تھی۔ اس پابندی کا بھی ایک مخصوص پس منظر ہے جس سے امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ آگاہ نہیں۔ حرمین شریفین صرف مسلمانوں کے لئے مخصوص ہیں۔ کسی غیر مسلم کو یہاں آنے کی اجازت نہیں۔ سعودی حکومت چونکہ قادیانیوں کو مرتد سمجھتی ہے غیر مسلم ہونے کے ناطے ان کا داخلہ ممنوع رکھا گیا ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ یہ پابندی ۱۹۷۴ء سے بہت پہلے سے عائد کی گئی تھی۔ یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جو قادیانی حجاز مقدس میں چوری چھپے داخل ہوتے تھے ان کا مقصد اسرائیل کے لئے عربوں کی مخبری کرنا تھا۔ چنانچہ سعودی عرب اور دیگر عرب ملکوں میں قادیانیوں نے پہنچ کر انہیں ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔
ایک دلچسپ الزام یہ بھی ہے کہ چناب نگر قادیانی اکثریتی آبادی پر مشتمل روحانی مرکز میں قادیانیوں پر اکثر و بیشتر مظالم ہوتے ہیں۔ اکثریت قادیانیوں کی ہونے کے باوجود مظالم بھی انہی پر ہو رہے ہیں۔ اپنے مخصوص پس منظر کے حوالے سے اس الزام کی صحت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ محمد علی سبزی فروش کے قتل سے لے کر محمد رفیق باجوہ کے اغوا تک قادیانی جماعت نے اپنے ہی افراد پر ظلم وستم کے بازار گرم کئے۔ قادیانیوں نے مسلمانوں کے خلاف جس جارحیت کا ارتکاب کیا جس قدر دہشت گردی کا مظاہرہ کیا وہ سب واقعات ریکارڈ اور
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تاریخ میں محفوظ ہیں۔ کیا امریکی ڈیپارٹمنٹ ایک نظر اس ریکارڈ کو دیکھنا پسند کرے گا؟۔
پنجاب ٹیکسٹ بورڈ کا کارنامہ، ڈاکٹر عبدالقدیر خان غائب، قادیانی ڈاکٹر عبدالسلام نمایاں
اس سال مارچ ۲۰۰۳ء ٹیکسٹ بک بورڈ کی طرف سے فزکس برائے جماعت دہم (حصہ اول) صفحہ نمبر ۹ تا ۱۱ پر سائنس کی ترقی میں عالم اسلام اور پاکستانی سائنس دانوں کا حصہ Contribution to Science by Muslim and Pakistani scientists کے عنوان سے ایک مختصر باب دیا گیا ہے۔ سائنس کی ترقی میں عالم اسلام کے حوالے سے مسلمان سائنس دانوں ابن الہیثم، البیرونی، یعقوب کندی کی خدمات کا ذکر کیا گیا ہے اور آخر میں پاکستانی سائنس دان ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کی تصویر کے ساتھ ان کے نوبل پرائز کے حوالے سے ذکر کیا گیا ہے۔
اسی فزکس کی کتاب: Help book pilot super one Physics part 1 khalid book depot والوں نے دونوں مضامین کو اس طرح ملا دیا ہے کہ اس سے مسلمان اور غیر مسلمان سائنس دانوں کا تصور واضح نہیں رہتا۔
نصاب تعلیم میں گھسے نظریہ پاکستان اور اسلام دشمن لابی کی سازش کا یہ نتیجہ ہے کہ انہوں نے نہایت عیاری و مکاری سے عنوان مندرجہ بالا میں سائنس کی ترقی کے حوالے سے ایک طرف تو عالم اسلام کے سائنس دانوں کو جب کہ دوسری طرف پاکستانی سائنس دانوں میں ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کا ذکر کر کے گویا اسے بھی مسلمان سائنس دان ظاہر کرنے کا تاثر دیا ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ پاکستان سائنس دان کی بجائے جمع کا صیغہ استعمال کرنے کے باوجود نصاب تعلیم کے ماہرین کو فقط ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی ہی نظر آیا ہے۔
فزکس کے سلسلہ میں مئی ۱۹۹۶ء میں اوّل تجرباتی ایڈیشن میں ہی ایک گھناؤنی سازش کے تحت ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کا نام مسلمان سائنس دانوں میں شامل کر دیا گیا تھا۔ دینی حلقوں کے شدید احتجاج پر دوسرے ایڈیشن میں ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے ساتھ آنجہانی کا لفظ بھی شامل کر دیا گیا تھا۔ جس سے اس کا مذہبی تشخص تو واضح نہیں ہوتا تھا۔ تاہم اتنا پتہ ضرور چلتا تھا کہ ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی پاکستانی ہونے کے باوجود غیر مسلم ضرور ہے۔ اسی ایڈیشن میں فخر پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا نام بھی نمایاں شائع کیا گیا تھا۔ لیکن ایک گہری سازش کے ذریعہ محسن پاکستان کے نام کو گم کر کے آنجہانی ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کو ایک عظیم سائنس دان کے طور پر متعارف کروایا جا رہا ہے۔ یہ ایک تاریخی بددیانتی ہوگی۔ ڈاکٹر عبدالسلام کے نوبل پرائز کی حیثیت اس کے سوا کچھ نہیں کہ ”یہودی انعام“ منظور نظر افراد کو دیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر عبدالسلام اگر مسلمان نہیں تو پاکستانی بھی نہیں۔ یہ ریکارڈ کی بات ہے کہ ڈاکٹر عبدالسلام جب وطن چھوڑ کر چلا گیا تو اس نے ایک انٹرویو میں پاکستان کو ایک لعنتی ملک قرار دیا تھا۔
یہ بات ہم دعویٰ سے کہہ سکتے ہیں کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ایک گہری سازش کے ذریعہ سے نہ صرف منظر عام سے ہٹایا جا رہا ہے بلکہ پاکستان کو ایٹمی طاقت کے قالب میں ڈھال کر عالم اسلام کی آنکھ کا تارا بنانے کی سزا دینے کی بھی سازش تیار کی جا رہی ہے۔ ہم یہ بات نظر انداز نہیں کر سکتے کہ آنجہانی مرزا طاہر قادیانی کے عزیز اطہر طاہر قادیانی پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ لاہور کا چیئر مین رہا ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے نام اور خدمات کو یکسر ختم کر کے ان کی جگہ آنجہانی ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے نام کو نمایاں کیا جانا ملک اور قوم کے خلاف ایک گھناؤنی سازش ہے۔ دینی حلقوں اور سیاسی رہنماؤں کا فرض ہے کہ وہ اس ناانصافی اور دریدہ دہنی پر شدید احتجاج کریں۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان بانی پاکستان محمد علی جناح کے بعد دوسرے بڑے قومی رہنما ہیں۔ جن کی ذات پر جتنا فخر کیا جائے کم ہے۔ ڈاکٹر
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء
عبدالقدیر خان کے نام اور خدمات کو عمداً حذف کرنے اور آنجہانی ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کو غلط متعارف کروانے کی مذموم چال کو ناکام نہ بنایا گیا تو آئندہ وطن عزیز کے حقیقی محسن ملک اور قوم کے لئے بہترین خدمات سرانجام نہ دے سکیں گے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ٹیکسٹ بک بورڈ کے اس ناروا اقدام پر شدید احتجاج کرے گی۔ حکومت اس کا فوری طور پر نوٹس لے۔
- ۱...... مارچ ۲۰۰۳ء کے فزکس جماعت دہم حصہ اول تجرباتی ایڈیشن کی تمام کاپیاں ضبط کی جائیں۔ محکمانہ طور پر انضباطی کارروائی عمل
میں لائی جائے اور تحقیقات کی جائیں کہ کس سازش کے ذریعہ یہ سب کچھ کیا گیا۔
- ۲...... فخر پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا نام اور ان کی خدمات تفصیلاً کتاب میں شامل کی جائیں اور انہیں ایک قومی ہیرو
قرار دیا جائے۔
- ۳...... عبدالسلام قادیانی کے نام کے ساتھ آنجہانی لکھا جائے تاکہ مسلم اور غیر مسلم کا فرق واضح ہو سکے۔
- ۴...... نصاب تعلیم مرتب کرنے والے ماہرین کی دوبارہ تشکیل کی جائے۔ اسلام، نظریہ پاکستان اور عقیدہ ختم نبوت کے دشمن افراد کو
اس میں قطعی طور پر شامل نہ کیا جائے۔ ان ماہرین کی تشکیل کے لئے ایک سب کمیٹی قائم کی جائے جو ماہرین کے کوائف، مذہبی عقائد، نظریاتی سوچ اور فکر ونظر کو مدنظر رکھ کر ان کا انتخاب کرے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۰۳ء ص ۳ تا ۱۰)
ملک میں کلیدی عہدوں پر فائز قادیانی
پاکستان میں کلیدی عہدوں پر فائز قادیانیوں، عیسائیوں اور یہودیوں کا عمل دخل اپنے پورے عروج پر ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ۵۰۸ قادیانی افسران سول سروس کے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں جب کہ اعلیٰ سرکاری عہدوں پر فائز ہندوؤں کی تعداد ۴۲۲، عیسائیوں کی تعداد ۳۸۱۹ اور یہودیوں کی تعداد دس ہے۔ معاصر روزنامے ”دی نیوز“ نے اپنی ۳ اپریل ۲۰۰۳ء کی اشاعت میں ان سرکاری اعداد وشمار کی جو تفصیلات شائع کی ہیں وہ اس قدر ہولناک ہیں کہ ایک مسلمان انہیں پڑھ کر سوائے سر پکڑنے کے اور کچھ نہیں کر سکتا۔ پاکستان کو اسلام کے نام پر قائم کیا گیا تھا اور قادیانیوں نے قیام پاکستان کے موقع پر کھلم کھلا اپنے آپ کو مسلمانوں سے الگ قرار دیا تھا لیکن انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ آج اسی ملک میں سرکاری عہدوں پر گریڈ ۱۷ سے لیکر گریڈ ۲۲ تک قادیانی افسران کی ایک قابل ذکر تعداد مسلمانوں کا منہ چڑانے کے لئے موجود ہے۔ روزنامہ دی نیوز کے مطابق:
”قادیانی ملازمین کے بارے میں اعداد و شمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ بیورو کریسی میں زیادہ تر سینئر پوزیشنوں پر فائز ہیں...... بہر حال اس بات کی توقع ہے کہ وفاقی سول سروس کے ملازمین کی اعشاریہ پانچ فیصد وہ تعداد جنہوں نے اپنے مذہب کو ظاہر نہیں کیا، وہ بھی قادیانی ہیں۔“
(روزنامہ ”دی نیوز“ کراچی ۳؍اپریل ۲۰۰۳ء)
اس کے علاوہ نچلے گریڈ کے اقلیتی گروہوں سے تعلق رکھنے والے ان افراد کو بیورو کریسی میں ترقی کر کے کلیدی عہدوں پر فائز ہونے کے لئے کس حد تک مواقع حاصل ہیں؟ اس کے بارے میں اخبار کہتا ہے:
”اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے ایک سینئر افسر کا کہنا ہے کہ (غیر مسلم) گورنمنٹ ملازمین کو ترقی کے یکساں مواقع حاصل ہیں، جس طرح کہ ان کے مسلمان ساتھیوں کو میسر ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کا نقطہ نظر یہ ہے کہ مذہب کی بنیاد پر کوئی امتیاز (برتنا) غیر آئینی ہے۔“
(روزنامہ ”دی نیوز“ کراچی ۳؍اپریل ۲۰۰۳ء)
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ان سرکاری اعدادوشمار سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آگئی ہے کہ پاکستان میں قادیانی کلیدی عہدوں پر سرکاری افسران کی حیثیت سے فائز ہیں۔ اس سے یہ بھی واضح ہو جاتا کہ ملک پر عملاً قادیانیوں کا کنٹرول ہے اور بیورو کریسی میں ان کی اتنی بڑی تعداد میں موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ قادیانی اس وقت پاکستان کے اصل پالیسی ساز ہیں۔ ملک میں کافی عرصے سے بعض سرکاری افسران اور اہم شخصیات کے بارے میں جو افواہیں گشت کر رہی تھیں کہ وہ قادیانی ہیں اس رپورٹ نے ان کی مکمل وضاحت کر دی ہے۔ یہ قادیانی افسران جو اس ملک کا کھا رہے ہیں اور اسی کی بنیادیں کھوکھلی کرنے میں مصروف ہیں، یہی لوگ جب ریٹائر ہو کر بیرون ملک جائیں گے تو پاکستان میں اپنے اوپر ہونے والے فرضی مظالم کا ڈھنڈورا پیٹ کر بیرون ملک سیاسی پناہ حاصل کریں گے (جس طرح ان کے دوسرے ہم مذہب کرتے ہیں) یا ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے اعلیٰ افسران بن کر ملک کا خون چوسنے کے لئے دوبارہ اس پر مسلط ہو جائیں گے۔
ان اعداد و شمار کی موجودگی میں ان بے سروپا الزامات کا اب خاتمہ ہو جانا چاہئے جن کے بقول پاکستان میں قادیانیوں پر ظلم ہوتا ہے یا ان کے ساتھ مذہبی تفریق پر مبنی برتاؤ کیا جاتا ہے یا انہیں اعلیٰ عہدوں پر فائز نہیں ہونے دیا جاتا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے اس موقف کی پرزور تائید ہوتی ہے جو اس نے کلیدی عہدوں پر قادیانی افسران کی موجودگی کے بارے میں ایک عرصہ سے اختیار کیا ہوا ہے۔ اسی سے یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ میں قادیانی غیر مسلموں کا کلیدی عہدوں پر فائز ہونا اسلام اور ملک کے لئے کس درجہ خطرناک ہے۔ حکومت کو کلیدی عہدوں پر فائز قادیانیوں کو ان کے عہدوں سے فارغ کرنے اور بیوروکریسی کو قادیانی اثرات سے پاک کرنے کے جماعت کے مطالبے پر اب کوئی وقت ضائع کئے بغیر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔ قادیانی کسی صورت میں ملک کے وفادار نہیں ہو سکتے۔ یہی وہ ٹولہ ہے جس کے افراد ملک کے اہم راز اسلام اور ملک دشمن قوتوں کو فراہم کرتے رہے ہیں۔ جن حکمرانوں نے ان سے وفا کی ، انہوں نے انہی سے بے وفائی کی۔ آستین کے ان سانپوں نے ہر اس شخص کو ڈسا جس نے انہیں اپنی آستین میں پناہ دی۔ پاکستان کے بعض حکمران ان کے فتنے کا شکار ہو چکے ہیں۔ ہم موجودہ حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ محض اسے ”شدت پسند تنظیموں کا مطالبہ“ گردان کر ٹالنے کی کوشش نہ کرے ، بلکہ ماضی میں حکمرانوں کے ساتھ روا رکھے گئے قادیانیوں کے سلوک کی روشنی میں اس مطالبہ پر غور کرے۔ اگر کسی دباؤ کو قبول نہ کیا گیا تو...... مشرقی پاکستان میں قادیانی ہاتھ اور بعض حکمرانوں کے غیر معمولی انجام سے یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگنی چاہئے کہ قادیانیت کا زہر کتنا سریع الاثر ہے۔ قادیانی افسران کی علیحدگی کا مطالبہ ایک جائز مطالبہ ہے، جسے ہر صورت پورا کیا جانا چاہئے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۱۸ تا ۲۴؍ اپریل ۲۰۰۳ء ص۴، ۵)
جھوٹے مدعی مہدویت شمس الحسن زیدی کی گرفتاری
اخباری اطلاعات کے مطابق مدعی مہدویت محکمہ ڈاک حیدرآباد کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر شمس الحسن زیدی کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ اس سلسلے میں جو تفصیلات سامنے آئی ہیں ان کے مطابق ٹنڈو آدم پولیس نے اس مدعی مہدویت کو محکمہ ڈاک سول لائن حیدرآباد کے دفتر سے گرفتار کیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما علامہ احمد میاں حمادی نے ٹنڈو آدم تھانے میں ۴؍ اپریل ۲۰۰۳ء کو حضرت محمد ﷺ کی توہین اور مذہبی جذبات کو مجروح کرنے پر شمس الحسن زیدی کے خلاف ۲۹۵۔اے اور ۲۹۵۔سی کے تحت مقدمہ درج کرایا تھا۔ ملزم نے کچھ عرصہ قبل بعض دینی جماعتوں اور علماء کرام کو خطوط لکھے تھے جن میں اس نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ امام مہدی ہے۔ بعض اخبارات کے مطابق اس نے آج سے تین سال قبل بھی یہی دعویٰ کیا تھا مگر اس وقت معاملہ نامعلوم وجوہات کی بنا پر دب گیا تھا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
شمس الحسن زیدی کے دعوٰی مہدویت کے بعد علماء کرام کا ایک ہنگامی اجلاس دفتر ختم نبوت حیدرآباد میں منعقد ہوا تھا جس میں علماء کرام نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ شمس الحسن زیدی سے ملاقات کر کے اس پر اتمام حجت پوری کی جائے، جس کے بعد ۲۹؍ مارچ ۲۰۰۳ء کو علماء کرام کے ایک وفد نے اس سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں شمس الحسن زیدی نے اپنے دعوؤں پر اصرار کرتے ہوئے نعوذ باللہ یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اسے امام مہدی ہونے کی بشارت نبی کریم ﷺ اور حضرت ابوبکرؓ نے گھر پر تشریف لا کر دی تھی۔ معلوم ہوا ہے کہ شمس الحسن زیدی جماعت المسلمین حیدرآباد کا امیر رہ چکا ہے، تقریباً آٹھ سال قبل جماعت المسلمین کے مذکورہ عہدے سے ہٹا کر اسے جماعت المسلمین سے نکال دیا گیا تھا۔ اس پر محکمہ ڈاک میں بدعنوانی اور کرپشن کے الزام میں ایکشن بھی لیا جا چکا ہے اس کے تحت اس کی تنزلی کر کے اسے پوسٹ ماسٹر جنرل کے عہدے سے ہٹا کر اسسٹنٹ ڈائریکٹر بنا دیا گیا تھا۔ ملزم ۱۷ویں گریڈ کا افسر ہے۔
اس سے قبل بعض اطلاعات اس قسم کی موصول ہو رہی تھیں کہ انتظامیہ شمس الحسن زیدی کو تحفظ فراہم کر رہی ہے اور اس سلسلے میں اس کے دفتر اور رہائش گاہ واقع لطیف آباد نمبر ۶ پر سادہ کپڑوں میں ملبوس پولیس اہلکاروں کا پہرہ لگا دیا گیا ہے۔ لیکن حالیہ اطلاعات اس کے برعکس ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ حکومت ملزم کے خلاف مقدمہ میں ہر قسم کی فروگذاشت سے گریز کرتے ہوئے اسے سخت سے سخت سزا دے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ وفاقی اور صوبائی اسمبلیاں مدعی مہدویت کے سدباب کے لئے بھی ٹھوس قانون سازی کریں اور اسے سخت جرم قرار دیں تاکہ آئندہ اس قسم کے جرائم کے ارتکاب کی کوئی جرأت نہ کر سکے۔ جب تک اس حوالے سے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا جاتا اس وقت تک اس کے مکمل سدباب کے امکانات بظاہر مشکل ہیں۔ واضح رہے کہ امام مہدی کے ظہور کا مسئلہ متفق علیہ ہے۔ اس لئے ہر جھوٹا مدعی مہدویت بدترین گمراہ اور مرزا غلام احمد قادیانی کا چھوٹا بھائی ہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۸ تا ۲۴؍ اپریل ۲۰۰۳ء ص۴، ۵)
قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر آنجہانی ہو گئے
جھوٹے مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی کے پوتے مرزا بشیر الدین کے بیٹے اور قادیانی جماعت کے چوتھے سربراہ مرزا طاہر پر اسرار بیماری میں مبتلا رہنے کے بعد ۱۹؍ اپریل ۲۰۰۳ء کو لندن میں آنجہانی ہو گئے۔ ان کی وفات پر قادیانی گروہ کو یقیناً صدمہ پہنچا ہوگا۔ اخباری اطلاعات کے مطابق ان کی موت کی خبر سن کر قادیانی ذریت میں صف ماتم بچھ گئی ہے۔ مرزا ناصر کے مرنے کے بعد مرزا طاہر قادیانی جماعت کے سربراہ بنے تھے۔
موت برحق ہے۔ اس سے کسی کو اختلاف نہیں۔ دشمن یا مخالف کی موت پر خوشی منانا عقل مندی نہیں۔ خانہ ساز نبوت سے نفرت اور آنجہانی مرزا طاہر کے اسلام اور وطن دشمن کردار کے باوجود اینٹی مرزائیت رہنماؤں نے نہ مبارک بادوں کا تبادلہ کیا ہے اور نہ ہی ان کی عبرتناک موت کے حوالے سے طنزاً کوئی بیان جاری کیا ہے۔ قادیانی جماعت کے سربراہ کی موت پر قادیانی گروہ کے لوگ دل گرفتہ اور رنجیدہ ہیں۔ چوٹ اپنے لگے تو درد کا احساس ہوتا ہے۔ مسلمانوں کا کوئی قومی و ملی سانحہ ایسا نہیں جس پر قادیانی جماعت نے مسرت و شادمانی کا جشن نہیں منایا۔ قدرت کی لاٹھی بے آواز ہے۔ سقوط بغداد کے بعد حالیہ دلخراش سانحہ پر پورا عالم اسلام سوگوار اور اشکبار تھا۔ تل ابیب اور چناب نگر (ربوہ) دو ہی مقام ایسے تھے جہاں خوشی کی شہنائیاں سنائی دیں۔ جعلی نبوت کے پجاری امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی فتح کا جشن منا رہے تھے کہ قدرت نے ان کے قائد کو موت کی نیند سلا کر ان کی خوشیوں پر پانی پھیر دیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تاریخ شاہد ہے۔ حقائق موجود ہیں۔ شواہد چغلی کھاتے ہیں کہ کابل وقندھار، کوفہ وبغداد کا سقوط ہو، ڈھاکہ فال ہو، بیت اللہ پر باغیوں کا قبضہ ہو، شاہ فیصل مرحوم کی المناک شہادت ہو یا ذوالفقار علی بھٹو کا سانحہ، قادیانیوں نے ہمیشہ خوشی منائی۔ باہمی مبارک بادوں کے ڈھیر جمع کئے۔ اپنے مرکز میں گھی کے چراغ جلائے، بھنگڑا ڈالا۔ افغانستان کی تباہی وبربادی، خون ریزی پر قادیانی مذہب کی سچائی کے دعوے داغے گئے۔ محسن عالم اسلام شاہ فیصل کی شہادت پر قادیانی مرکز میں شیرینی تقسیم ہوئی۔ بطور طنز کے دنیا بھر کے مسلمانوں کے قلوب مجروح کئے گئے۔ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے سانحہ کے موقعہ پر مرزا غلام احمد قادیانی ملعون کے اس الہام کی کہ: کتا باون برس کی عمر میں مرے گا‘‘۔ کی وسیع پیمانے پر تشہیر کر کے ان کے ماننے اور چاہنے والوں کے زخموں پر نمک چھڑکا گیا۔ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری سے لے کر مولانا محمد یوسف بنوری کی وفات تک بلکہ ہر مسلم رہنما کی موت پر قادیانی مذہب کو سچا ثابت کرنے کی مذموم کوشش کی گئی۔ خاص طور پر وہ اکابرین ملت جنہوں نے قادیانی فتنہ کی بیخ کنی میں خدمات سرانجام دیں ان کی موت کو قادیانیت کی حقانیت قرار دیا۔ ہر وہ سانحہ جس نے عالم اسلام کو خون کے آنسو رلانے پر مجبور کیا قادیانی جماعت کے بے رحم رہنماؤں نے قہقہے برسا کر امت مسلمہ کا تمسخر اڑایا۔
ان چند تاریخی حقائق کو مدنظر رکھ کر ہم قادیانی ذریت کو باور کرانا چاہتے ہیں کہ اپنے مخالفین کی موت پر اب تک خوشی وانبساط کا مظاہرہ کر کے انہوں نے کس دانش مندی کا مظاہرہ کیا ہے؟ کیا ان کا مذہب یہی تعلیم دیتا ہے؟ ہم اس انتظار میں ہیں کہ قادیانی جماعت کے شدہ دماغ اپنے سربراہ کی موت پر خانہ ساز نبوت کی پٹاری سے الہام کی کون سی سند برآمد کرتے ہیں؟ مرزا طاہر نے خود ساختہ جلاوطنی اختیار کی۔ ۱۹۸۴ء میں جنرل ضیاء الحق نے جب امتناع قادیانیت آرڈیننس کا نفاذ کیا تو آنجہانی خانوادہ کی روایتی بہادری، جرأت کے عین مطابق بھیس بدل کر فرار ہوئے اور ’’پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا‘‘
وہ اپنے آقاؤں کی گود میں جا بیٹھے۔ اس سے بہتر اور پناہ گاہ ہو بھی کیا سکتی تھی؟ مسلسل اٹھارہ برس مرزا طاہر زہر گھولتے رہے۔ پاکستان میں سیاسی انقلاب بپا ہوئے۔ تبدیلیاں آئیں۔ لیکن مرزا طاہر کی امید کی کلیاں نہ کھل سکیں۔ مرزا طاہر کے بیانات اور دعوے ریکارڈ ہیں کہ وہ پاکستان میں ایک فاتح کی حیثیت سے واپس آنے کا عزم رکھتے ہیں۔ نہ پاکستان فتح ہوسکا اور نہ ہی آنجہانی عظیم فاتح کی حیثیت میں ’’فتح مبین‘‘ کے ساتھ اسلام آباد میں وارد ہوسکے۔ ان کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا : ’’اے بسا آرزو کہ خاک شد‘‘ اب وہ تابوت کی صورت میں آئیں اپنی حسرتوں کا جنازہ اور مردہ عزم کی چارپائی کے علاوہ کچھ حاصل نہ ہوا۔
- ۱...... مرزا طاہر پر پاکستان کے مختلف شہروں میں مقدمات درج ہیں۔ پاکستان کی عدلیہ پر عدم اطمینان کی بنا پر وہ مفرور ہوئے۔ اپنے
دفاع اور صفائی کی بجائے انہوں نے باغیانہ راستہ اختیار کیا۔ ایک اشتہاری اور قومی مجرم کی حیثیت سے مرنے والے مرزا طاہر پر جب تک زندہ رہے پاک وطن کی سرزمین پر قدم رکھنا نصیب نہ ہوا۔ اب ان کی نعش کو مادر وطن کی مٹی میں دفن کرنے کی وہ کیونکر جرأت کریں گے۔ یاد رہے کہ ۲۹ مئی ۱۹۷۴ء کو چناب نگر کے ریلوے اسٹیشن پر نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلباء پر تشدد و بربریت کی نگرانی مرزا طاہر نے کی تھی۔
- ۲...... بیرون ملک بیٹھ کر مرزا طاہر نے مسلسل اٹھارہ برس مسلم امہ کے خلاف مذموم پراپیگنڈہ مہم جاری رکھی۔ پاکستان کو پاگل خانہ قرار
دیا اور وطن عزیز کے خاتمہ کی پیشین گوئیاں کرتے رہے۔ اپنی منڈلی کو اکساتے رہے تا کہ پاکستان میں لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ حکمرانوں کے لئے درد سر بن جائے۔ دنیا بھر کے قادیانیوں کو اپنی فتح کی خوشخبریاں سنا کر پیغام اسلام کی اہانت کا ارتکاب کرتے رہے۔ کیا وطن سے بغض اور کینہ رکھنے والے شخص کو کس برتے پر وطن کی مٹی میں جگہ دیں گے؟
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۳...... خود ساختہ جلاوطنی کے دور میں مرزا طاہر نے یہود و ہنود سے روابط اور تعلقات مستحکم کئے۔ اسرائیل اور بھارت سے ان کی دوستی رہی اور تعلقات میں سرگرمی آئی۔ اسلام دشمن طاقتوں نے ان کی بھر پور اعانت کی۔ سیٹلائٹ جیسے جدید اور مہنگے نظام کے ذریعہ انہوں نے اسلام دشمن پراپیگنڈہ میں بے دریغ سرمایہ صرف کیا۔ تا کہ مسلمانوں کو ان کے دین سے گمراہ کر کے ارتداد میں پھنسایا جاسکے۔
- ۴...... اکھنڈ بھارت قادیانیوں کا الہامی عقیدہ ہے۔ ان کا ایمان ہے کہ تقسیم عارضی ہے۔ قادیانی جماعت نے اسرائیل و بھارت کی طرح پاکستان کے وجود کو ابھی تک تسلیم نہیں کیا۔ اپنے الہامی عقیدہ کو عملی شکل دینے کے لئے تقسیم سے لے کر اب تک جو بھیانک کردار ادا کیا ہے وہ روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ ۱۹۶۵ء کی پاک بھارت جنگ ہو یا مشرقی پاکستان کی علیحدگی ہر موقع پر قادیانی جماعت نے پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ پاکستان دشمن اقلیت کے سربراہ کو آخر کن خدمات کے صلہ میں وطن کی مٹی میں دفن کرنے کی وہ مصلحت حاصل کرنا چاہیں گے۔
- ۵...... قادیانی اپنے مردے اپنے مرکز چناب نگر (ربوہ) میں امانتاً دفن کرتے ہیں۔ قادیان (بھارت) ان کا آبائی مرکز ہے۔ جسے وہ مکہ مدینہ سے زیادہ متبرک اور افضل قرار دیتے ہیں۔ مرزا طاہر کے والد مرزا محمود کی قبر پر کتبہ کی صورت میں وصیت نامہ اسی کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ جب حالات سازگار ہو جائیں گے تو ہماری میتوں کو یہاں سے نکال کر بہشتی مقبرہ قادیان واقع بھارت میں منتقل کیا جائے۔ پاکستان کی سرزمین کی نسبت بھارت کی سرزمین کو ترجیح دینے والوں کو کیونکر پاک وطن میں جگہ دی جائے؟ بہتر ہو گا کہ حکومت پاکستان قادیانی جماعت کو ان کے عقیدے کی بناء پر مرزا طاہر کو بھارت میں دفن کرنے کا مفید مشورہ دے۔
- ۶...... مرزا طاہر اور ان کا خاندان رائل فیملی کے طور پر جانا جاتا ہے۔ آنجہانی مرزا طاہر اپنی جماعت کے لوگوں کو تن تنہا چھوڑ کر عین اسی وقت فرار ہوئے جب اس اقلیت کو ان کی اشد ضرورت تھی۔ اس سے انکار ممکن نہ ہو گا کہ مرزا طاہر اور ان کا خاندان لندن میں بیٹھ کر پرتعیش زندگی گزارتا رہا۔ ہر قادیانی اپنی آمدنی کا دس فیصد حصہ جماعت کی نذر کرتا ہے۔ مرزا طاہر نے اپنی اقلیت کے لئے ایسی بھی کوئی گراں قدر خدمات سرانجام نہیں دیں کہ انہیں واپس اسی جگہ دفن کیا جائے جہاں سے وہ قادیانیوں کو بے یارومددگار چھوڑ کر بھاگے تھے؟ ہمیں یقین ہے کہ خود پاکستانی قادیانی بھی اس اقدام کو پسند نہیں کریں گے کہ مرزا طاہر کو چناب نگر میں دفن کیا جائے۔ ہم حکومت پاکستان سے استدعاء کرتے ہیں کہ پاک وطن کی مقدس مٹی کو ایک مرتد، زندیق، دشمن اسلام، ننگ وطن، و ننگ دین کے وجود سے ناپاک اور داغدار نہ کیا جائے۔ بہتر یہی ہو گا کہ جہاں کا خمیر تھا اس خاک میں پوشیدہ کر دیا جائے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۳ء ص ۳ تا ۵)
قادیانی جماعت کی ابتر صورتحال
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت کا مشہور واقعہ ہے کہ ایک صاحب نے آپ پر مجمع عام میں اعتراض کر دیا تھا کہ آپ کا کرتہ جتنے کپڑے سے بنا ہے وہ عام مسلمانوں کو ملے ہوئے کپڑے سے ممکن نہیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نہ انہیں ڈانٹا، نہ مارا اور نہ امیرانہ رعونت سے انہیں کوئی درست جواب دیا بلکہ آپ کے صاحبزادے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان کے سامنے حقیقت حال کی وضاحت کی کہ انہوں نے اپنا کپڑا اپنے والد گرامی کو ہدیہ کر دیا تھا جس سے یہ کرتہ بنا ہے۔ ذرا ایک طرف اس عالی حوصلگی اور بلند پایہ کردار کو دیکھئے اور دوسری طرف قادیانی سربراہ کے مکروہ کردار پر نظر ڈالئے جس نے اپنے اوپر تنقید کو جرم قرار دے دیا ہے اور یہی نہیں بلکہ تنقید کرنے والوں کو
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیانی جماعت سے خارج کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔ اس بارے میں شائع ہونے والی تفصیلی خبر درج ذیل ہے:
”قادیانی جماعت کے سربراہ نے خود پر تنقید جرم قرار دیدی
تنقید کرنے والے قادیانیوں کی رکنیت ختم کر دی جائے گی: مرزا مسرور
لندن (نمائندہ امت) قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا مسرور احمد نے اپنی ذات اور کارکردگی سے متعلق تبصرہ پر پابندی عائد کرتے ہوئے احمدیہ جماعت کے عہدیداروں اور عام قادیانیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ عام محفلوں اور نجی نوعیت کی تقریبات میں ان کی ذات سے متعلق کوئی رائے نہ دیں، خلاف ورزی کے مرتکب افراد کی جماعت احمدیہ سے رکنیت ختم کر دی جائے گی...... گزشتہ جمعہ کو قادیانی ٹی.وی ایم.ٹی.اے پر اپنے خصوصی خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ اس لئے کیا گیا ہے کہ جماعت کو اختلافات اور جماعت کی قیادت کے حوالے سے جاری رہنے والی بحث کو ختم کیا جا سکے۔ انہوں نے قادیانیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بعض ذمہ دار افراد محفل میں میری ذات کو وجہ تنقید بناتے ہوئے یہ بحث کر رہے ہیں کہ موجودہ خلیفہ میں فلاں کمی ہے، کمزوری ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ اپنی اپنی سمجھ کے مطابق تبصرہ کر رہے ہیں، مگر اس عمل سے خدشہ ہے کہ ہمدردی کا لبادہ اوڑھ کر کیا جانے والا یہ ذکر مجلسی رنگ اختیار نہ کر جائے۔ انہوں نے کہا کہ میں شاید یہ ہدایت نہ کرتا مگر تربیت اور جماعت کے نظم و نسق کو چلانے کے لئے یہ ضروری ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سختی ونرمی کے برتاؤ سے واقف ہیں۔ لہٰذا صرف ایسے اقدامات کئے جائیں گے کہ جو جماعت کے مفاد میں ہوں۔ انہوں نے کہا کہ جو ذمہ دار اس حکم کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے گئے ان کے خلاف جماعت کا نظام حرکت میں آجائے گا۔
(روزنامہ ’امت‘ کراچی ۲۴؍ مئی ۲۰۰۳ء)
ملاحظہ فرمایا آپ نے اخلاق و کردار کا فرق! مسلمان حکمران کتنی عالی حوصلگی کا مظاہرہ کرتے تھے جب کہ اس کے برعکس قادیانی سربراہ کا کردار فرعونیت کی عکاسی کرتا ہے۔ فرعون کے دور میں کوئی اس پر تنقید نہیں کر سکتا۔ معلوم ہوتا ہے کہ مرزا مسرور اپنے آپ کو فرعون تصور کر رہے ہیں، ورنہ کم از کم وہ اس کے جانشین تو ہیں ہی۔ اسلام اور قادیانیت ایک دوسرے کے بالکل برعکس ہیں۔ اسلام کے ہر قانون کو نعوذ باللہ توڑ کر اس کے بالمقابل ایک نیا قانون تراشنا قادیانیت کا شیوہ ہے۔ اسلام کے ہر عقیدے کے برخلاف ایک نیا خود تراشیدہ عقیدہ پیش کرنا اور اس پر ایمان لانے کی دعوت دینا قادیانیت کی لغوی تعریف کہی جاسکتی ہے۔ قادیانی امت میں ذرا بھی حس ہے تو اسے چاہئے کہ جلد سے جلد قادیانیت سے چھٹکارا حاصل کر کے حضرت محمد ﷺ کے دامن عاطفت میں پناہ حاصل کر لے۔
مذکورہ بالا خبر سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ قادیانی جماعت کی اندرونی صورتحال روز بروز ابتر ہوتی جارہی ہے۔ قادیانیوں نے اس ابتری کو اخفائے حال سے بچانے کے لئے اپنے طور پر کوششیں شروع کی ہیں لیکن جتنا وہ اسے چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں، اتنا زیادہ یہ باتیں عیاں ہورہی ہیں۔ قادیانی نوجوان خاص طور پر اپنے مذہب سے زیادہ متنفر ہورہے ہیں۔ بعض قادیانی سربراہی کے جھگڑوں کی وجہ سے اپنی قیادت سے بدظن ہو گئے۔ قادیانی ٹولہ زیادہ عرصہ تک اپنے اختلافات کو چھپا نہ سکے گا اور وہ وقت اب دور نہیں کہ زمین پر ڈھونڈنے سے بھی ایک قادیانی نہیں ملے گا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۱۳ تا ۱۹؍ جون ۲۰۰۳ء ص ۵،۴)
قادیانی جماعت میں پھوٹ پڑ گئی
بعض اخباری اطلاعات سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ نئے قادیانی سربراہ مرزا مسرور احمد کی نامزدگی کے بعد قادیانی جماعت میں پھوٹ پڑ گئی ہے۔ اس حوالے سے جو خبر ملکی اخبارات میں شائع ہوئی، اس کی تفصیلات ملاحظہ فرمائیے:
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
’’انتخابات کے بعد سربراہ کی نامزدگی پر پھڈا، جماعت احمدیہ تقسیم ہو گئی
لندن میں ہونے والے الیکشن میں مرزا مسرور احمد کو ۸۰ ووٹ ملے، ۴۰ ملازموں نے چیف ایگزیکٹو کو ووٹ دیا۔
۱۶ افراد میدان میں آنے سے مرزا مسرور کے لئے مشکلات، مغل اور بادشاہ گروپ بھی اعلیٰ عہدے لینا چاہتے ہیں۔
چناب نگر (پی پی آئی) جماعت احمدیہ کے سربراہ کی نامزدگی کے حالیہ انتخابات کے نتیجہ میں اعلیٰ پوسٹوں کے حصول کے لئے چپقلش سے جماعت دو گروپوں میں تقسیم ہوگئی۔ تفصیل کے مطابق جماعت احمدیہ کے پانچویں سربراہ کے انتخاب کے سلسلہ میں گزشتہ دنوں لندن میں ’’نامزدگی انتخابی کالج‘‘ میں ۷ افراد مرزا مسرور احمد، مرزا انیس احمد، مرزا غلام احمد، مرزا خورشید احمد، نواب منصور احمد خاں، مرزا وسیم احمد اور خالد احمد شاہ کے نام پیش ہوئے۔ خالد احمد شاہ کا تعلق شاہ گروپ (ٹینکرگروپ) ، نواب منصور احمد اور باقی تمام افراد مغل گروپ سے وابستہ ہیں۔ انتخابی کالج کے صرف ۱۲۰ ارکان نے ووٹ کاسٹ کئے، ان میں سے ۹۶ کا تعلق پاکستان سے تھا جب کہ ۴۰ ارکان انجمن احمدیہ کے ملازم ہیں جنہوں نے اپنے چیف ایگزیکٹو کو سربراہ کا ووٹ دیا۔ مرزا مسرور احمد کے کھاتہ میں ۸۰ ووٹ آئے، باقی ووٹ دیگر ۱۶ امیدواروں کو ملے۔ سربراہ کے انتخاب کے موقع پر خلاف توقع ان افراد کے میدان میں آنے کے بعد مرزا مسرور احمد کے لئے قیادت کرنے کی راہ میں مشکلات پیدا ہوئی ہیں۔ ہائی کمان کی اعلیٰ پوسٹوں کے حصول کے سلسلہ میں مغل گروپ اور ٹینکر گروپ کے درمیان سخت رسہ کشی شروع ہو گئی ہے۔ باخبر حلقوں کے مطابق ٹینکر گروپ کا سید محمود احمد شاہ ناظم اعلیٰ کی پوسٹ کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے جب کہ اسی گروپ کا قاسم شاہ امور عامہ کی نظارت سنبھالنے کے لئے کوشاں ہے۔ موجودہ روایت کے مطابق جس کے سر پر ناظم اعلیٰ کا ہاتھ ہو، وہی مستقبل کا سربراہ ہوگا۔ مغل گروپ کسی بھی صورت میں ناظم اعلیٰ یعنی چیف سیکرٹری کا عہدہ کسی غیر مغل کو دینے پر آمادہ نہیں۔ اس وقت پاکستان میں جماعت کا سالانہ بجٹ ۵۰ کروڑ روپے سے زائد ہے اور اس کے ملازمین کی تعداد ۵ ہزار ہے۔ جماعت کا انٹرنل آڈٹ کا مضبوط نظام موجود ہے اور بغیر اعلیٰ افسران کی مرضی کے خورد برد ناممکن ہے مگر گزشتہ برسوں لاکھوں روپے کا خلافت لائبریری اور وقف جدید کے شعبہ میں غبن ہوا۔ لائبریرین حبیب الرحمٰن زیروی کو تبدیل کر کے دوسرے محکمہ میں لگایا گیا جب کہ اللہ بخش صادق انچارج وقف جدید ایک ماہ پیشتر ۳۰ لاکھ روپے خورد برد کر کے لے کر اپنے خاندان کے ساتھ کینیڈا فرار ہو چکا ہے۔ لائبریری کے اکاؤنٹینٹ کو نوکری سے برخاست کر دیا گیا ہے مگر اس کے باس کو باجوہ چھوڑ دیا گیا۔‘‘
(روزنامہ خبریں کراچی مورخہ ۶؍ مئی ۲۰۰۳ء)
اس خبر پر مزید کسی تبصرہ کی کوئی ضرورت نہیں ہے بلکہ اس سے وہ تمام حقائق واضح ہو جاتے ہیں جن پر ہم وقتاً فوقتاً تبصرہ کرتے رہتے ہیں۔ قادیانی نام ہی ایک ایسے مذہب کا ہے جس کے پیروکار مذہب کے نام پر لوٹ کھسوٹ اور عہدوں کی بندر بانٹ میں مصروف رہتے ہیں۔ غبن کے جس واقعہ کا تذکرہ اس رپورٹ میں کیا گیا ہے، خود سنجیدہ قادیانیوں کو اس پر ایکشن لینا چاہئے تھا لیکن کیا کیجئے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی تعلیم ہی یہی تھی جس پر اس وقت قادیانی امت پورے طور پر عمل کر رہی ہے۔ اب بھی قادیانی ہوش کے ناخن لے لیں تو غنیمت ہے ورنہ یاد رکھیں کہ کھلے کھلے نشانات کے ذریعہ ان پر حجت تمام کی جارہی ہے۔ حکومت کو بھی قادیانی جماعت کے اس غبن کا نوٹس لینا چاہئے اور ازخود ایکشن لے کر معاملات کی تحقیق کرانی چاہئے۔ جہاں تک قادیانی جماعت کے اندرون خانہ اختلافات کا تعلق ہے؟ اس بارے میں مزید تفریق بڑھنے کے قوی امکانات پائے جاتے ہیں۔ قادیانیوں کی ایک بڑی تعداد قادیانیت پر لعنت بھیج کر تیزی سے اسلام میں داخل ہو رہی ہے۔ قادیانیوں کے لچر اور پوچ عقائد کے علاوہ اس کی ایک بڑی وجہ قادیانی جماعت کی اندرون خانہ تفریق اور اختلافات بھی ہو سکتے ہیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق نئے قادیانی سربراہ نے قادیانیوں کے مسلمانوں بالخصوص علمائے کرام سے مناظروں
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پر بھی پابندی عائد کر دی ہے، جو قادیانیوں کی کھلی شکست اور مسلمانوں کی کھلی فتح کی علامت ہے۔
جھوٹے مدعی مہدویت کی درخواست ضمانت مسترد
اطلاعات کے مطابق جھوٹے مدعی مہدویت محکمہ ڈاک حیدر آباد کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر شمس الحسن زیدی کی درخواست ضمانت سیشن کورٹ سانگھڑ نے مسترد کر دی ہے۔ ملزم نے اپنے آپ کو پاگل ظاہر کر کے ضمانت پر رہائی کی کوشش کی تھی لیکن اسے اس کوشش میں کامیابی نہ ہوسکی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بزرگ رہنما حضرت علامہ احمد میاں حمادی مدظلہ العالی نے ٹنڈو آدم تھانے میں ۴ اپریل کو نبی آخر الزمان حضرت محمد ﷺ کی توہین اور مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے پر شمس الحسن زیدی کے خلاف ۲۹۵۔اے اور ۲۹۵۔سی کے تحت مقدمہ درج کرایا تھا جس پر ٹنڈو آدم پولیس نے محکمہ ڈاک سول لائن حیدر آباد کے دفتر سے شمس الحسن زیدی کو گرفتار کیا تھا۔ ملزم نے کچھ عرصہ قبل بعض دینی جماعتوں اور علماء کرام کو خطوط لکھے تھے جن میں اس نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ امام مہدی ہے۔ بعض اخبارات کے مطابق اس نے آج سے تقریباً تین سال قبل بھی یہی دعویٰ کیا تھا مگر اس وقت معاملہ نا معلوم وجوہات کی بنا پر دبا دیا گیا تھا۔
ہم امید کرتے ہیں کہ حکومت ملزم کے خلاف مقدمہ میں ہر قسم کی فروگذاشت سے گریز کرتے ہوئے اسے سخت سزا دے گی۔ ایک گزشتہ اداریے میں ممبران قومی و صوبائی اسمبلی سے یہ اپیل کی گئی تھی کہ وہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں دعویٰ مہدویت کے سدباب اور مدعی مہدویت کو سزا دینے کے حوالے سے ٹھوس قانون سازی کریں اور ان افعال کو قابل تعزیر جرم قرار دیں لیکن تا حال اس سلسلے میں کوئی مثبت پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے۔ جب تک اس حوالے سے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا جاتا، اس وقت تک اس کے مکمل سدباب کے امکانات بظاہر کم نظر آتے ہیں۔ یہ بات یاد رہنی چاہئے کہ قرب قیامت میں حضرت امام مہدی کے ظہور کا مسئلہ متفق علیہ ہے اور قیامت کی بڑی علامات میں سے ایک ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ اصل مہدی کی آمد سے قبل ہر جھوٹے مدعی مہدویت کا سدباب کیا جائے تاکہ کوئی شخص مرزا غلام احمد قادیانی کی طرح اپنے آپ کو اصل مہدی قرار دے کر امت کو گمراہ نہ کر سکے اور مسلمانوں کا دین و ایمان محفوظ رہ سکے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۱۳ تا ۱۹؍ جون ۲۰۰۳ء ص۴، ۵)
کشمیر میں قادیانی سازشیں
زیر نظر مضمون حضرت مولانا محمد رحمت اللہ قاسمی مدظلہ العالی (مہتمم مدرسہ دارالعلوم رحیمہ، بانڈی پور مقبوضہ کشمیر) کا وہ فکر انگیز اداریہ ہے جو حضرت موصوف نے اپنے مدرسے کے آرگن ماہنامہ ”النور“ کے لئے تحریر فرمایا۔ قادیانیوں کی شرانگیزی کی وضاحت کے لئے اس مضمون کو ماہنامہ ”النور“ کے شکریہ کے ساتھ شامل اشاعت کیا جارہا ہے۔
۲۴؍جنوری ۲۰۰۳ء کو بارہ مولہ (مقبوضہ کشمیر) کے محلہ کرالہ ہار میں جامع مسجد شریف کا افتتاح تھا۔ اس موقع پر بعض علماء کرام نے اطلاع دی کہ علاقہ ٹنگمرگ (جو اسی ضلع میں واقع ہے) کے بعض دیہات کے بارے میں اطلاع ہے کہ قادیانیوں نے وہاں سے مسلمانوں کے کچھ بچوں کو دینی تعلیم کا جھانسہ دے کر قادیان پہنچا دیا ہے۔ یہ علاقہ اس فتنے سے بالکل خالی تھا، سن کر حیرت کا ہونا لازمی امر تھا، ساتھیوں سے گزارش کی گئی کہ ضرور اس مسئلہ کی فکر کرنا چاہئے، کوئی آدمی وہاں جاکر صورت حال کا جائزہ لے، خود راقم الحروف کا سفر حج تھا، اس وجہ سے چند دن بعد سفر پر روانگی ہوئی، فروری کے اخیر میں واپسی ہوئی، پتہ چلا کہ اس عرصہ میں ساتھیوں کو اس علاقہ میں جانے کی مہلت نہ مل سکی، چند ہی دنوں میں پھر دیوبند، دہلی کا سفر درپیش ہوا، اس سفر کی روانگی کے وقت علاقہ پلوامہ سے اطلاع ملی کہ کسی دیہات میں
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا ۵۱۱ تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء
بعض مسلمان نوجوانوں کو پولیس نے اس جرم میں گرفتار کر لیا کہ یہ مرزائیوں کو ستاتے ہیں، چونکہ سفر درپیش تھا اس لئے سوچا کہ واپسی پر صحیح معلومات کر لی جائیں گی۔
دیوبند پہنچے تو کشمیری طلباء نے بتایا کہ علاقہ شوپیاں کے بعض مسلمان طلباء کو مرزائی لوگ قادیان پڑھنے کے لئے لائے ہیں، ان میں ایک طالب علم پریشان ہو کر یہاں آیا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے دھوکا دے کر مرزائی لائے۔ میں پی یوسی کی کوچنگ کے لئے جاتا تھا، انہوں نے دینی تعلیم کا جھانسہ دیا اور قادیان پہنچا دیا، اب کسی مسلمان مدرسہ میں داخلہ چاہتا ہے، میں نے اس طالب علم سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تاکہ صحیح احوال سے واقف ہو سکوں، لیکن وہ اس وقت وہاں موجود نہ تھا، جلد ہی میری واپسی تھی۔ دہلی میں حضرت مولانا قاری محمد عثمان صاحب دامت برکاتہم نائب مہتمم دارالعلوم دیوبند و ناظم کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت نے ملاقات کے موقع پر فرمایا کہ کشمیر سے اطلاع ہے کہ بعض مسلمان نوجوانوں کو ختم نبوت کے کام کی بنا پر گرفتار کیا ہے۔
ان تمام واقعات کی بنا پر ذہن میں تشویش ہوئی۔ ۱۶ / مارچ بروز اتوار کو اسی فکرمندی کے ساتھ راقم کی مدرسہ واپسی ہوئی، واپس آکر معلوم ہوا کہ مقامی پولیس کے ڈی۔ ایس۔ پی صاحب ملاقات کے لئے پیغام بھیج رہے ہیں۔ چنانچہ ایک یا دو دن بعد پھر ڈی۔ ایس۔ پی صاحب پہلے تو ٹنگمرگ علاقہ کے ہردہ پورہ جگہ کے بارے میں میری تقریر یا وعظ کا معلوم کرنے لگے، میں نے لاعلمی کا اظہار کیا۔ جمعہ کی تقریروں کا معلوم کیا، میں نے بتایا کہ اتنے مہینوں سے سفر لگا تار اور بار بار ہورہے ہیں، یہاں کسی بھی علاقہ میں جانا نہیں ہوا۔ جمعہ یا تو راستے میں واقع مساجد یا مقامات سفر میں ادا ہوئے۔ جب کچھ صورتحال ان کی سمجھ میں آئی تو انہوں نے ضلع کے پولیس افسر (ایس۔ ایس۔ پی) صاحب سے فون پر بات کرائی اور صورتحال بتائی۔ اب معاملہ سمجھ میں آیا کہ اصل میں مرزائی ادھر تو مختلف علاقوں میں مسلمانوں کو مرتد بنانے اور ان کے بچوں کو دینی تعلیم کے عنوان پر قادیان پہنچانے کی محنت کرتے رہے، ادھر انہوں نے میرے خلاف پولیس کے محکمے میں یہ شکایت درج کرائی، جس کا مضمون یہ ہے کہ قادیانیوں کے خلاف راقم الحروف مذکورہ علاقوں میں تقریریں کر کے مرزائیوں کو واجب القتل قرار دیتا ہے اور اس قسم کا اشتعال انگیز لٹریچر تقسیم کرا رہا ہے، لہٰذا میرے خلاف ایف۔ آئی۔ درج کی جائے، یعنی قانونی کارروائی کی جائے۔
پورے دو صفحات پر مشتمل مضمون تحقیقات کی غرض سے بانڈی پورہ پولیس اسٹیشن میں آیا تھا، یہ سارا واقعہ درج کرنے سے میرا مقصد اپنے کام کرنے والے حضرات اور مسلمان پولیس افسروں کو یہ بتانا ہے کہ کس طرح سے ہم لوگ غافل ہیں اور مرزائی لوگ اپنے سرکاری عہدوں کا مرزائیت کے لئے ناجائز استعمال کرتے ہیں۔
اب ہم نے ٹنگمرگ علاقہ سے معلومات حاصل کیں تو پتہ چلا کہ کارہامہ، ابر اور کھارہ پورہ نامی گاؤں کے کم از کم سات مسلمان بچوں کو مرزائی قادیان لے گئے ہیں، ان بچوں کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ مولوی سمجھ کر ہم نے بچے ان کے ساتھ دینی تعلیم کے حصول کے لئے بھیجے، ہمیں کیا معلوم کہ یہ مرزائی ہیں؟ ان بچوں میں سے اب بعض بچے الحمد للہ! واپس آگئے ہیں اور بعض کے بارے میں ان کے والدین نے بتایا کہ وہ عنقریب واپس آجائیں گے۔
پلوامہ سے مولانا سید عبدالرشید صاحب نے اطلاع دی کہ وہاں میش واڑہ علاقہ میں عیدالاضحیٰ میں امام صاحب ماسٹر بشیر احمد شاہ ساکنہ پڑھلو نے قربانی کے مسائل بیان کرتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ اس طرح اس کی تقسیم مسنون ہے، فلاں فلاں کو دیا جائے۔ مرزائی جن کے بعض لوگ وہاں پولیس افسر ہیں، انہوں نے پولیس میں شکایت کی کہ امام صاحب نے یہ تقریر ہمارے خلاف کی، چنانچہ امام صاحب کو گرفتار
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کر کے دو دن بند رکھا گیا۔ عوام کی کوششوں سے بعد میں ان کو چھوڑ دیا گیا ، کچھ دنوں کے بعد مرزائیوں نے مسلمانوں سے چھیڑ چھاڑ کی ، جھگڑا ہوا، نتیجہ کے طور پر آٹھ مسلم نوجوانوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ میرے خلاف جو رپورٹ درج ہوئی تھی ، اس میں اس علاقہ میں بھی میری تقریر کا حوالہ دیا گیا تھا جب کہ آج تک اس علاقہ میں کبھی میرا جانا نہیں ہوا اور جن دنوں یہ واقعہ ہوا ، ان دنوں راقم الحروف حج کے مبارک سفر میں تھا۔
واقعہ یہ ہے کہ مرزائیوں نے جن جن علاقوں میں کام کیا ، ان علاقوں کی رپورٹ میں نام درج کر کے اس علاقہ میں راقم الحروف کے نام تقریروں کو منسوب کیا ، اس سے انہوں نے یہ سوچا ہوگا کہ مسلمانوں کے علماء کرام پر اس طرح دباؤ رہے گا ، اور مرزائی اطمینان سے اس طور پر مسلمانوں کو مرتد بنانے اور ان کے بچوں کو قادیان پہنچانے میں کامیاب ہوں گے ۔ مرزائیوں کے جو بھی افسر جہاں پر تعینات ہوتے ہیں ، وہ مرزائیت کے پھیلاؤ اور مسلمانوں میں سے جو اس سلسلے میں رکاوٹ بن سکتا ہو ، اس کے خلاف کارروائی کی سازشیں کرتے ہیں ۔ اس بار بھی ایسا ہی ہوا ہے ، پلوامہ کے میش واڑہ علاقہ میں مرزائی ڈی . ایس . پی ، سرینگر کنٹرول روم میں ایک مرزائی ایس . ایس . پی کی موجودگی ان سازشوں کا ذریعہ معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس سے قبل بانڈی پورہ میں بھی ایسا ہوا ہے۔
اس وقت یہ واقعہ ہوا تھا کہ ہم لوگوں کی دکانوں پر اور بچوں کو مرزائی لٹریچر دیا گیا تھا ، اس لٹریچر پر مقامی مرزائیوں کی لائبریری کی مہر بھی تھی ۔ جس سے یہ سہولت ہوئی کہ ایسا کرنے والوں کی نشان دہی ہو گئی ۔ ہم لوگوں نے مرزائیوں کو واضح الفاظ میں کہہ دیا کہ ہمیں برداشت نہیں کہ تم ہمارے گھروں یا دکانوں میں مرزائی لٹریچر پہنچاؤ اور اس بات پر نگرانی شروع کی کہ کہیں یہ لوگ پھر ہمارے بچوں میں اپنا لٹریچر نہ پہنچا دیں ۔ اس کے جواب میں مرزائی پولیس افسروں نے ہمارے خلاف رپورٹیں درج کیں ، جب پولیس تحقیق کے لئے آئی اور ہم نے انہیں وہ مہر لگی ہوئی کتابیں دکھائیں تو وہ شرمندہ ہوئے ، لیکن پھر مرزائی پولیس افسروں نے مسلم نوجوانوں کو ہراساں کرنا شروع کیا ، مرزائی پولیس افسر نصیر الدین نے جو سرینگر میں ڈیوٹی پر تھا ، وہاں سے اپنے سرکاری سلپ پیڈ پر ایک مسلمان نوجوان کو جو کافی دین دار تھا ، اس کے باپ کو دھمکی لکھ کر بھیج دی ، جس کے الفاظ یہ ہیں :
محترم عبدالعزیز آہنگر صاحب السلام و علیکم ورحمة الله وبركاته
امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے ، کافی دیر سے شکایت مل رہی ہے کہ آپ کا فرزند مسمی آصف آہنگر ہمارے بچوں کو راہ چلتے بلاوجہ اور بے قصور تنگ کرتا رہتا ہے ، جس کی وجہ سے انہیں حد سے زیادہ پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، ہمیں امید نہیں تھی کہ آپ کے خاندان کا کوئی فرد اس قسم کی ذلیل حرکت کر سکتا ہے ، مجھے امید ہے کہ آپ اپنے فرزند کو اچھی طرح سمجھائیں گے اور یہ بات ذہن نشین کرائیں کہ اس کا وطیرہ کسی بھی صورت میں معقول نہیں ہے اور اس کے نتائج کافی برے نکل سکتے ہیں ۔ آج تک اگر یہ سب کچھ برداشت کیا ، محض آپ لوگوں کی عزت کے لئے کیا اور خیال کیا کہ شاید سدھر جائے گا ، لیکن اس کے رویہ میں شاید کسی تبدیلی کا امکان نہیں ، اس لئے آپ کو قبل از وقت ذہن نشین کرا رہا ہوں کہ آپ آخری موقعہ ہاتھ سے نہ جانے دیں اور اپنے بگڑے اور گمراہ فرزند کو سدھرنے کی تلقین کریں تا کہ شریف لوگوں کا جینا حرام نہ ہو جائے ، مجھے آپ کے جواب کا انتظار رہے گا ۔ والسلام !
آپ کا خیر اندیش نصیر الدین وانی ، ایس . ایس . پی ، سرینگر
ظاہر ہے کہ اگر بانڈی پورہ میں کسی آدمی کے خلاف کارروائی ہونی ہے تو مقامی تھانے میں باضابطہ اس کی رپورٹ ہونی چاہئے تھی ۔ مقامی پولیس حسب ضابطہ کارروائی کرتی ۔ سرینگر میں تعینات ایک پولیس افسر بارہمولہ ضلع کے بانڈی پورہ تھانہ کے علاقہ میں رہنے والے ایک نوجوان کو کس طرح سرکاری سلپ پیڈ پر دھمکی نامہ بھیج سکتا ہے؟ کیا یہ ظلم نہیں؟ راقم الحروف کے خلاف جو تحقیقات آئی تھیں ، انتظامیہ کا یہ
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
فریضہ ہے کہ وہ اس سلسلے میں پوری تحقیق کرے کہ کس طرح سے یہ سازش رچائی گئی اور کیوں رچائی گئی؟ جب راقم ان تاریخوں میں یہاں موجود ہی نہیں تھا، نہ ہی ان علاقوں میں کبھی گیا ہے، تو کس طرح سے ڈی آئی جی آفس سے یہ کاغذ روانہ کیا گیا؟ جس شخص نے شکایت درج کی ہے، کیا وہ اتنے بڑے پولیس آفس کی نگاہ میں نہیں؟ یہ معاملہ ہے پولیس اور مقامی وزارت داخلہ کے سوچنے کا کہ کیا ان کا فریضہ یہی ہے مرزائیوں کے جھوٹے الزامات کی وجہ سے مسلمانوں کو پریشان کریں؟ علماء کرام کو ہی جواب دہ قرار دیں؟ یا ان کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ ایسی خطرناک سازشیں کرنے والوں کو سخت سزادیں اور اس سے عوام کو مطلع کریں تاکہ آئندہ قادیانی ایسی گھناؤنی حرکتیں نہ کرسکیں۔
ساری دنیا جانتی ہے کہ علماء کرام محض علم کی روشنی میں اپنے مسلمان بھائیوں کو یہ سمجھاتے ہیں کہ جس نعمت ایمان کو اللہ پاک نے انہیں عطا فرمایا ہے اور حضور اکرم ﷺ رحمت والے نبی کا امتی بنایا ہے، اس نبی رحمت کے امتی ہوکر وہ اس دنیا سے رخصت ہوں، کسی دوسرے جھوٹے نبی کو تسلیم نہ کریں، کیا اس بات کی تبلیغ ناجائز ہے؟ کون سا ایسا عالم ہے جس نے کسی جگہ کسی کو واجب القتل قرار دیا یا اشتعال پیدا کیا؟ علماء کرام کی صرف یہ کوشش ہوتی ہے کہ مسلمان اپنے ایمان پر جمے رہیں وطن عزیز میں پریشان حالات میں کسی لالچ، روپے یا عورت کے لالچ میں اپنے ایمان کو نہ کھوئیں، کیا ایسا کہنا جرم ہے؟ ہمارے سارے لٹریچر کے ایک ایک حرف کو پڑھا جائے کیا کسی بھی جگہ اشتعال انگیزی کی گئی ہے؟ کیا اس مسلم اکثریت والی ریاست میں حکومت اور مسلم افسران کی یہ ذمہ داری نہیں کہ جو بے ایمان اپنے عہدوں کا ناجائز استعمال کر کے مسلم نوجوانوں کو تنگ کر رہے ہیں اور علماء کرام کے خلاف جھوٹی رپورٹیں پولیس کے پاس درج کرا رہے ہیں ان کے شر سے غریب، پریشان حال پسماندہ مسلمانوں کو، جو یہاں کے حالات کی بنا پر پہلے سے ہی نڈھال ہیں، بچائیں، انہیں حوصلہ دیں اور ان کی حفاظت کا فریضہ انجام دیں۔
دینی دعوت کا کام کرنے والے علماء کرام اور انجمنوں سے صرف یہ عرض کرنا ہے کہ ہم سب لوگوں کے ذہنوں میں یہ ہے کہ مرزائی، کشمیر میں سوئے ہوئے ہیں، بعض علماء کرام بھی یہ کہتے ہیں کہ فتنہ سویا ہوا ہے، اس کو مت جگاؤ، کیا ٹنگمرگ علاقہ یا پلوامہ علاقہ کے یہ مسلمان بچے جنہیں قادیان پہنچایا گیا تھا (اور محض اللہ پاک کی توفیق سے ان کی واپسی ہوئی، اللہ کرے باقی بچے بھی واپس آجائیں) آپ کے دلوں پر اب بھی اس بات کی دستک نہیں دیتے کہ خطرناک محنت ہورہی ہے اور یہ ارتداد کی محنت ہے کیا مرزائیوں کے کفر میں آپ کو کوئی شک ہے؟
فروعی اختلاف کے باوجود ہمارے بچے مسلمان ہی ہیں، نوجوان مسلمان ہی ہیں، جو مسلمان یا نوجوان یا بچہ مرزائی کے ہاتھ پہنچ گیا، اس کے ایمان کے لئے آپ پر بھی کوئی ذمہ داری عائد ہوتی ہے؟ کیا ہماری ذمہ داری صرف یہ ہے کہ جہالت اور ناواقفیت کی بنا پر کلمہ گو مسلمانوں کو مشرک قرار دیں؟ فروعی مسائل میں اختلافات کو ہوا دے کر مسلمانوں کو مزید دور کردیں اور یہ سب اسلام اور توحید کے نام پر ہو؟ قربانی کے مسائل پر پورے کشمیر میں انتشار پیدا کردیں اور یہ دین کی خدمت نظر آئے؟ حضرت نبی کریم ﷺ خاتم النبیین ہیں اور ختم نبوت ہی آپ کے سر مبارک پر عظیم تاج ہے جو دوسرے انبیاء سے آپ کا امتیاز ہے، ہماری عالی شان مسجدوں، فلک بوس مدرسوں، پر ہجوم خانقاہوں اور عظیم الشان انجمنوں، جماعتوں، یتیم خانوں، فلاحی اداروں کی موجودگی میں اگر خاتم النبیین ﷺ کا ایک امتی بھی آپ ﷺ کے دامن رحمت کو چھوڑ کر کسی دوسری طرف چلا گیا تو ہم آخرت میں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے، خدارا وطن عزیز کے اطراف واکناف کا جائزہ لیجئے۔ ان پریشان کن حالات میں باطل فرقے خصوصاً مرزائی اور عیسائی بہت ہی منظم انداز میں غریب اور مفلوک الحال مسلمانوں کے ایمان کو لوٹنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ اللہ پاک ہم سے اس عظیم دین کی حفاظت کا کوئی کام لے لے تو ہم پر اس کا احسان عظیم ہوگا۔ واللہ الموفق المعین!
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ یکم تا ۷؍اگست ۲۰۰۳ء ص ۲۰ تا ۲۲)
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حضرت امیر مرکزیہ کا دورۂ جنوبی افریقہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ شیخ المشائخ خواجہ خواجگان حضرت اقدس مولانا خان محمد دامت برکاتہم نے ۱۵؍اگست سے لے کر ۳۱؍اگست ۲۰۰۳ء تک جنوبی افریقہ کا دورہ کیا جس کے دوران آپ نے جوہانسبرگ، کیپ ٹاؤن، آزادول، نیوکاسل سمیت متعدد شہروں کا دورہ کیا۔ اس دعوتی سفر میں حضرت امیر مرکزیہ کی رفاقت صاحبزادہ عزیز احمد، مفتی محمد جمیل خان، صاحبزادہ سعید احمد اور صاحبزادہ نجیب احمد نے کی۔
حضرت امیر مرکزیہ کے اس دورے کا بنیادی مقصد جنوبی افریقہ کے علماء کرام، مشائخ عظام، دینی جماعتوں اور دینی مدارس سے وابستہ افراد کو عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ اور تردید قادیانیت کے لئے نئے سرے سے متحرک کرنا تھا۔ دورے کے دوران آپ نے متعدد دینی مدارس، اسلامک سینٹرز، اسلامک کالج، دینی جماعتوں کے دفاتر اور دیگر دینی اداروں کا دورہ کیا اور علمائے کرام سے ملاقاتیں کیں۔ الحمدللہ! حضرت کا یہ دورہ کامیاب رہا۔ اس دورے کی رپورٹ تو ایک مکمل مضمون کی متقاضی ہے لیکن سردست ہم ان اہم نکات کا تذکرہ کرنا چاہتے ہیں جن کی طرف حضرت کے دورے کے دوران آپ کی معیت میں سفر کرنے والے علمائے کرام نے آپ کی نیابت میں جنوبی افریقہ کے علمائے کرام، دینی مدارس کے طلباء کرام اور ارباب اہتمام اور دینی جماعتوں کے قائدین کی توجہ دلائی۔
علمائے کرام نے کہا کہ ختم نبوت اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے اور حضور ﷺ کو اللہ کا آخری نبی مانے بغیر اسلام پر ایمان مکمل ہی نہیں ہوتا۔ مرزا غلام احمد نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا اور اپنے آپ کو محمد رسول اللہ قرار دیا تھا۔ اس لئے قادیانی مذہب کی بنیاد ہی مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت اور اسے آخری نبی ماننے پر اٹھائی گئی ہے۔ جنوبی افریقہ کی اعلیٰ عدالت نے بھی قادیانیوں کے غیر مسلم ہونے کا فیصلہ صادر کیا تھا جس کے حوالے سے مقامی علمائے کرام، وکلاء اور عام مسلمانوں کی ناقابل فراموش خدمات ہیں۔ اس وقت قادیانیت کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے پوری دنیا کے مسلمانوں بالخصوص علمائے کرام کے اتحاد کی شدید ضرورت ہے۔ قادیانیت کے خلاف مسلمانوں کی جدوجہد ان شاء اللہ قادیانیت کے خاتمے پر منتج ہوگی۔
موجودہ عالمی صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عیسائی، قادیانی اور یہودی مشترکہ طور پر اسلام اور مسلمانوں کو مٹانے کے درپے ہیں۔ مسلمانوں کو ان کی اسلام دشمن سرگرمیوں پر کڑی نگاہ رکھنی چاہئے اور مظلوم اور محروم طبقہ کی امداد کے لئے خود فلاحی ادارے قائم کرنے چاہئیں۔ امدادی کاموں میں صرف عیسائی، یہودی، قادیانی اور غیر مسلموں کے لئے چھوڑ دینا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ مسلمانوں نے نئی نسل کے دین کی حفاظت نہ کی تو قیامت کے دن مواخذہ سے نہیں بچ سکیں گے۔
انہوں نے کہا کہ عیسائی، قادیانی اور غیر مسلم این.جی.اوز افریقہ کے عیسائی علاقوں میں محروم اور بے بس عیسائیوں کی امداد نہیں کرتے مگر مسلمانوں کو دین سے برگشتہ کرنے کے لئے این.جی.اوز فوری طور پر امداد کے بہانے پہنچ جاتی ہیں۔ اس سے ان کا مقصد خدمت خلق نہیں ہوتا بلکہ مسلمانوں کو عیسائی اور قادیانی بنانا ہوتا ہے۔ اس لئے مسلمانوں کو اپنی امدادی تنظیمیں، مسلم اسکولز، تعلیمی ادارے اور مراکز بنانے چاہئیں تاکہ مسلمانوں کو مغربی اور غیر اسلامی تہذیب سے بچا کر ان کے ایمان کی حفاظت کی جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام دین رحمت ہے۔ امت مسلمہ کی ذمہ داری ہے کہ کفار کو دعوت اسلام دیں اور اپنے اخلاق و کردار سے کافروں کو دین کی طرف راغب کریں۔ علوم عصریہ کی تعلیم کا انتظام شرعی اصولوں کی روشنی میں کیا جائے اور عصری علوم کو دین کے مطابق
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء ۵۱۵ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ڈھالا جائے تاکہ غیر مسلموں کے اسکول اور قادیانی پروپیگنڈے کے اثرات مسلمان بچوں کو دین سے دور نہ کرسکیں۔ امدادی کاموں کی ذمہ داری مسلمان اہل خیر پر ہے کافروں کی طرف امداد کے لئے نظر رکھنا اسلامی غیرت وحمیت کے خلاف ہے بالخصوص قادیانیوں سے امداد کی توقع کرنا بے غیرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حضور ﷺ کے زمانہ سے لے کر اب تک علمائے کرام نے علوم نبویہ کی اشاعت کے لئے قربانیاں دی ہیں۔ سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر صرف اور صرف قرآن وحدیث، فقہ اسلامی اور علوم نبویہ کے ذریعہ ہی ہم نئی نسل کو اسلام سے مضبوط رشتہ کے ساتھ جوڑ سکتے ہیں۔ مسلم نوجوانوں اور بچوں کو عقیدہ ختم نبوت، نزول مسیح، ظہور مہدی اور تردید قادیانیت پر اسپیشلائزیشن کرانے کے لئے اسلامک سینٹرز کا قیام عمل میں لایا جائے۔ اسلامی عقائد کی تعلیم کو اس دور میں اولیت دی جائے کیونکہ قادیانی اور دیگر غیر مسلم، اسلامی عقائد سے نا آشنا مسلمانوں کو گمراہ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ مسلمانوں کو علوم عصریہ کی تعلیم سے آراستہ کرتے ہوئے انہیں مغربی تہذیب اور لادین کلچر سے بچانے کے لئے ہمیں اسلامی اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں قائم کرنا ہوں گی۔ جمعیت علمائے افریقہ کو اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ وفاق المدارس العربیہ جنوبی افریقہ کو دینی مدارس کے تحفظ، مزید مدارس کے قیام اور طلباء میں علمی استعداد بڑھانے کے لئے اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔ علمائے کرام اور طلباء علوم نبویہ کی اشاعت کے لئے اپنی زندگیوں کو وقف کر دیں۔ دینی مدارس، دعوت وتبلیغ اور خانقاہوں کے ذریعہ مسلمانوں کی زندگیوں میں دینی انقلاب لانا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ علوم قرآن وحدیث کا حصول اور اس پر عمل کرنا اور پھر اس کو دعوت وتبلیغ کے ذریعہ دوسرے مسلمانوں تک پہنچانا اور اسلام کی تبلیغ کی راہ میں رکاوٹیں دور کرنے کے لئے قربانی دینا مسلمانوں کی دینی ذمہ داری ہے۔ مدارس دینیہ اسلام کے قلعے اور مساجد اسلام کا شعار ہیں اس لئے مسلمانوں کو ان سے وابستہ رہنا چاہئے تاکہ ان کا ایمان محفوظ رہے۔ دعوت وتبلیغ کے ذریعہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کو دین تک پہنچایا جائے تاکہ قیامت تک یہ صدقہ جاریہ جاری رہے۔
جنوبی افریقہ کے علمائے کرام، مشائخ عظام اور مسلمانوں نے اس موقع پر حضرت امیر مرکزیہ کو اپنی مکمل حمایت اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور فتنہ قادیانیت کے انسداد کے لئے اپنے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۲۹؍ اگست تا ۴؍ ستمبر ۲۰۰۳ء ص۴، ۵)
مسلمانوں کے قبرستان سے قادیانی مردہ کو نکال باہر کیا گیا
چناب نگر (نمائندہ خصوصی) مسلمانوں کے قبرستان سے قادیانی مردہ نکال باہر کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق مسلم کالونی چناب نگر (سابقہ ربوہ) میں واقع مسلمانوں کے قبرستان میں تقریباً رات دو بجے قادیانی جماعت کے صدر اسلم قادیانی کی بہن کو رات کی تاریکی میں قادیانی جماعت نے دفن کر دیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ اور مرکزی جامع مسجد ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر کے خطیب مولانا غلام مصطفیٰ نے اس واقعہ کی اطلاع ملتے ہی مقامی انتظامیہ سے رابطہ کیا کہ قادیانی مردہ فوری طور پر مسلمانوں کے قبرستان سے نکالا جائے۔ ورنہ ہم خود اسے نکال دیں گے۔ مقامی انتظامیہ ایس ایچ او کی قیادت میں فوراً قبرستان پہنچ گئی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مسلم کالونی کے خطیب مولانا غلام مصطفیٰ کی قیادت میں مسلمان بھی قبرستان پہنچ گئے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء ۵۱۶ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
رات دو بجے قادیانیوں نے جن ہاتھوں سے اپنے مردے کو قبرستان میں رکھا تھا، انہیں ہاتھوں سے قبر کو کھود کر نکالا۔ قادیانی مردے کا مٹی اور اینٹیں لگنے سے برا حال ہو گیا اور ذلیل وخوار ہو کر قادیانیوں نے اسے اپنے قبرستان میں لے جا کر دفن کر دیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۳۱؍اکتوبر تا ۶؍نومبر ۲۰۰۳ء ص ۱۶)
گستاخ رسول بشیر احمد کو سزائے موت اور چھ لاکھ روپے جرمانہ
تقریباً دو سال پہلے بشیر احمد ولد نور محمد بستی جوڈانہ بہاول نگر کے رہائشی نے توہین رسالت کا ارتکاب کیا۔ بشیر نے اپنے آپ کو قلندر کہتا اور کہتا کہ قلندروں کا درجہ نبیوں سے زیادہ ہوتا ہے۔ اپنے قریب بیٹھے ہوئے لوگوں کو کہتا کہ مجھ میں حضور ﷺ کی روح آ گئی ہے۔ میرے پاس بیٹھنے والے صحابی ہیں۔ آقائے دو جہاں ﷺ کی شان میں ایسے نازیبا الفاظ بولے کہ کوئی انسان سن نہیں سکتا۔ اس کی محافل میں ختم نبوت کے رضاکار جاتے رہے اور اس کی کفریہ گفتگو ٹیپ کرتے رہے۔ ۳۰؍اکتوبر ۲۰۰۳ء کو ختم نبوت بہاول نگر کے مبلغ مولانا محمد قاسم رحمانی نے ۲۹۵ سی اور ۲۹۵ اے کے تحت مقدمہ درج کروا کر اس کو گرفتار کرایا۔
یہ کیس مختلف عدالتوں میں زیر سماعت رہا۔ دوران سماعت ملزم کے بیٹوں نے مدعی کیس مبلغ ختم نبوت مولانا محمد قاسم رحمانی اور گواہان کو بیس لاکھ روپے کی آفر کرائی۔ کیونکہ ملزم کروڑ پتی ہے۔ لیکن مبلغ ختم نبوت اور گواہان نے کہا کہ ہمارے سامنے قیامت کے دن آقائے دو جہاں ﷺ کی شفاعت ہے۔ ملزم کی طرف سے وکیل چوہدری رفیق ناصر ہوا اور ختم نبوت کی طرف سے کیس لڑنے کی سعادت شیخ طلعت محمود، مکے زئی اور مشتاق احمد پراچہ کو نصیب ہوئی۔ دو سال کے عرصہ سماعت کے بعد ۶؍اگست ۲۰۰۳ء کو ایڈیشنل جج راؤ جاوید اختر کو اللہ تعالیٰ نے اس اعزاز سے نوازا کہ اس نے فائنل بحث کے بعد ٹیپ ریکارڈ سنا۔ اسی روز ہی فیصلہ سنایا۔ فیصلہ کے وقت عدالت میں پولیس کی کافی نفری مسلح موجود تھی۔ تمام آدمیوں کو کمرہ عدالت سے کافی دور کر دیا گیا۔ آواز پڑنے پر مبلغ ختم نبوت مولانا محمد قاسم رحمانی فیصلے کی سماعت کے لئے کمرہ عدالت میں گئے۔ جج نے ملزم کو سزائے موت اور چھ لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی اور اپیل کے لئے صرف سات دن کا ٹائم دیا۔ عدم ادائیگی جرمانہ کی صورت میں چھ ماہ قید ہوگی۔ فیصلہ سنتے ہی مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور دفتر ختم نبوت میں لوگ مبارک باد دینے کے لئے آنا شروع ہو گئے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل بھی ختم نبوت بہاول نگر نے مرزائیوں کے خلاف ۲۹۸ سی کا مقدمہ درج کرایا تھا جس ملزم عطاء اللہ مرزائی کو دو سال قید بامشقت اور دو ہزار روپے جرمانہ ہوا تھا۔ مولانا محمد قاسم رحمانی نے اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب تک میرے جسم میں خون کا آخری قطرہ ہے گستاخان رسول ﷺ کے خلاف جہاد کرتا رہوں گا۔ اگر اس راستہ میں موت آ گئی تو میرے لئے سعادت کی موت ہوگی۔ کیس میں ختم نبوت کے رضاکار جناب ماسٹر غلام حسین، حاجی محمد یعقوب، راؤ لیاقت علی، ارشاد احمد، محمد امین اور مولانا سعید احمد نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر کام کیا اور اس کذاب کو سزا کے پھندے تک پہنچایا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۰۳ء ص ۵۶)
وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے نصاب میں عقیدہ ختم نبوت پر کتاب شامل
شعبان ۱۴۲۴ھ اکتوبر ۲۰۰۳ء کی میٹنگ میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان نے موجودہ دور کے تقاضوں کے عین مطابق اپنے نصاب میں بعض اہم تبدیلیاں کرنے کا مستحسن اقدام کیا ہے۔ درجہ عالمیہ سال اول (موقوف علیہ) میں آئینہ قادیانیت کو سبقاً اور ”اختلاف
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
امت اور صراط مستقیم‘‘ کو برائے مطالعہ شامل نصاب کیا ہے۔ اس سے جہاں عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت سے طلباء کرام واقف ہوں گے وہاں منکرین و معاندین ختم نبوت کے وساوس و شبہات کے جوابات سے بھی وہ باخبر ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ نئے تعلیمی سال سے اس پر مدارس کے سلیبس میں عمل شروع ہو گیا ہے۔ مثلاً ہمارے پاکستان کے اہم دینی جامعہ خیر المدارس ملتان میں ہدایہ آخرین کے گھنٹہ میں آئینہ قادیانیت پڑھائی جائے گی اور اس کا امتحان بھی ہوگا۔ ملک بھر کے اہل اسلام کے لئے وفاق المدارس کی طرف سے بہت بڑی خوشخبری ہے۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، وفاق کی عاملہ، شوری، مرکزی صدر شیخ الحدیث یادگار اسلاف حضرت مولانا سلیم اللہ خان، مرکزی ناظم اعلیٰ مجاہد اسلام حضرت مولانا قاری محمد حنیف جالندھری کے اس مستحسن اقدام کو سراہتے ہوئے ہدیہ تبریک پیش کرتی ہے۔
وفاق المدارس العربیہ کا مستحسن اقدام !! ملک بھر کے مدارس سے اپیل:
نئے تعلیمی سال شوال المکرم ۱۴۲۴ھ دسمبر ۲۰۰۳ء سے وفاق المدارس العربیہ پاکستان نے عالمیہ سال اول میں ’’آئینہ قادیانیت‘‘ کو شامل نصاب کیا ہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے وفاق المدارس سے وعدہ کیا تھا کہ اصل لاگت پر یہ کتاب مدارس اور طلباء کو مہیا کی جائے گی۔ ’’آئینہ قادیانیت‘‘ تین سو صفحات کی کتاب ہے۔ خوبصورت مجلد، رنگین ٹائٹل، عمدہ کاغذ و طباعت پر لاگت قیمت پچاس روپے رکھی گئی ہے۔ مدارس عربیہ کے مہتمم حضرات اور طلباء سے گزارش ہے کہ وہ کسی بھی مکتبہ والوں سے کتاب خریدیں تو پچاس روپے سے زائد ادائیگی ہرگز نہ کریں۔ مکتبہ والوں کو ہم چالیس روپے پر یہ کتب مہیا کریں گے۔ وہ پچاس روپے پر فروخت کریں گے۔ اس سے زائد اخلاقاً و قانوناً ممنوع ہوگا۔ مبلغین ختم نبوت سے گزارش ہے کہ وہ مدارس میں جہاں مشکوٰۃ تک تعلیم ہے۔ ان کے مہتمم حضرات سے مل کر صورت حال واضح کر دیں۔ چاروں صوبوں میں یہ کتاب ذیل کے مقامات سے مل سکتی ہے۔ یا براہ راست دفتر مرکزیہ ملتان سے رجوع کریں۔ مطلوبہ تعداد میں کتاب ان کو بھجوا دی جائے گی۔
- ۱...... مکتبہ لدھیانوی دفتر ختم نبوت مسجد باب الرحمٰن پرانی نمائش ایم اے جناح روڈ کراچی فون: ۷۷۸۰۳۴۷
- ۲...... مکتبہ لدھیانوی نزد جامعۃ العلوم الاسلامیہ کراچی
- ۳...... مکتبہ بینات 〃 〃 کراچی
- ۴...... مکتبہ بنوریہ 〃 〃 کراچی
- ۵...... دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت آٹو بھان روڈ لطیف آباد نمبر ۲ حیدرآباد فون: ۸۶۹۹۴۸
- ۶...... دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مینارہ معصوم شاہ روڈ سکھر فون: ۲۵۴۶۳
- ۷...... دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مسلم ٹاؤن ۵ حسین سٹریٹ مسجد عائشہ لاہور فون: ۵۸۶۲۴۰۴
- ۸...... ادارہ ختم نبوت ۳۸ غزنی سٹریٹ اردو بازار لاہور فون: ۷۲۳۲۹۲۶
- ۹...... مکتبہ ختم نبوت ۵۸ سرکلر روڈ لاہور فون: ۷۲۳۲۹۲۶
- ۱۰...... دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اندرون سیالکوٹی گیٹ گوجرانوالہ فون: ۲۱۵۶۶۳
- ۱۱...... دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مکان نمبر بی ۔ ۱۱۵۹۔ گلی نمبر ۲۹ /۳/ ۱/ ۶ جی اسلام آباد فون: ۲۸۲۹۱۸۶
- ۱۲...... دفتر ختم نبوت آرٹ سکول روڈ کوئٹہ فون: ۸۴۱۹۹۵
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۱۳....... ادارہ تالیفات اشرفیہ نزد چوک فوارہ ملتان فون:
ملک بھر کے ختم نبوت دفاتر سے بھی رابطہ کیا جاسکتا ہے۔ یا براہ راست ذیل کے پتہ پر رجوع کریں۔ دفتر مرکزیہ: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، حضوری باغ روڈ ملتان فون: ۵۱۴۱۲۲
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۰۴ء ص ٹائٹل پیج نمبر ۳)
مبلغین حضرات سے گزارش
وفاق المدارس العربیہ پاکستان نے اپنے مستحسن فیصلہ سے درجہ عالمیہ سال اول میں ’’آئینہ قادیانیت‘‘ کو شامل نصاب کیا ہے۔ مجلس نے وفاق المدارس سے وعدہ کیا تھا کہ لاگت پر کتاب مدارس اور طلباء کو مہیا کریں گے۔ جن مدارس میں موقوف علیہ تک تعلیم ہوتی ہے اور وہ وفاق سے ملحق ہیں۔ ان سے رابطہ کر کے آئینہ قادیانیت کے متعلق ان سے گزارش کریں کہ وہ باضابطہ اسے درجہ عالمیہ کے کسی گھنٹے میں کسی کتاب کے ساتھ شامل کریں۔ نیز مدارس یا طلبہ جس مکتبہ سے خریدیں پچاس روپے سے زائد ہرگز قیمت نہ دیں۔ اگر وہ براہ راست آپ کو اس حساب سے کتاب مہیا کرنے کا فرمائیں تو مطلوبہ تعداد دفتر مرکزیہ سے منگوا کر آپ ان کو مہیا کریں۔ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے اس لائق تبریک فیصلہ کو عملی جامہ پہنانے کے لئے اپنی پوری قوت صرف کر کے مدارس وطلباء کی خدمت کرنا ہمارا فرض ہے۔ جزاکم اللہ تعالیٰ! امید ہے کہ پہلی فرصت میں مدارس سے رابطہ کرنا اپنا فرض سمجھیں گے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کے نام کھلا خط
اُونچی کھرولیاں گاؤں کا نام ڈاکٹر اسلم قادیانی کے نام پر منسوب کرنا قابل افسوس ہے!
ڈسکہ ضلع سیالکوٹ کے قریب اونچی کھرولیاں ایک گاؤں ہے۔ اس کے ساتھ ملحقہ چار اور آبادیاں ہیں۔ چار ہزار کے قریب وہاں مسلمان آباد ہیں۔ اس میں صرف چھ گھر قادیانیوں کے ہیں۔ ان میں ایک اسلم نامی قادیانی کا بیٹا ڈاکٹر مبشر نامی وہاں آئی ہسپتال بنانا چاہتا ہے۔ جس سے علاج کے نام پر قادیانی لابی کھربوں روپے کی مالک ومختار ہوگی۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ جناب پرویز الٰہی صاحب نے وہاں کا دورہ کیا۔ گاؤں کو ماڈل ولیج قرار دیا۔ گیس کی فراہمی اور دیگر اقدامات کا اعلان کیا گیا۔ جس کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں۔ لیکن افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اس گاؤں کا نام تبدیل کر کے قادیانی اسلم کے نام پر ’’اسلم پور‘‘ رکھ دیا گیا۔ یہ اقدام غیر منصفانہ اور قادیانیت نوازی کی سنگین مثال ہے۔ کیا جناب چوہدری پرویز الٰہی صاحب وزیر اعلیٰ پنجاب توجہ فرمائیں گے کہ:
- الف....... اس ہسپتال کے نام پر مسلمانوں کو مرتد یعنی قادیانی بنانے کے لئے قادیانی کیا گل کھلائیں گے۔
- ب....... قادیانی غیر مسلم اقلیت ہیں۔ آئین پاکستان سے غداری کر کے اپنے آپ کو مسلمان کہلوانے پر مصر ہیں۔ آئین پاکستان کی باغی
جماعت کو قانون کا پابند بنانے کی بجائے ان مراعات سے نوازنے کا کوئی جواز ہے؟
- ج....... سابقہ دور حکومت میں مسلمانوں کے متفقہ مطالبہ پر ربوہ کا نام چناب نگر رکھا گیا۔ اس اقدام سے قرآن مجید کی تحریف کے قادیانی
راستہ کو بند کیا گیا۔ اہل اسلام نے اس کا خیر مقدم کیا۔ اس سے قادیانی اقلیت کی ارتدادی تحریف پر اوس پڑ گئی۔ اب قادیانی اسلم کے نام پر مسلمان گاؤں کا نام رکھ کر قادیانیوں کو خوش کرنے کا موقع تو فراہم نہیں کیا گیا؟
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- د....... ڈسکہ ضلع گجرات میں ۱۹۷۴ء میں قادیانیوں نے فائرنگ کر کے مسلمانوں کو شہید کیا۔ چوہدری ظہور الٰہی مرحوم نے مسلمان
مقتولین کے ورثاء کو اپنی جیب سے تاحیات وظیفہ جاری کیا۔ جناب چوہدری ظہور الٰہی مرحوم مجاہد ختم نبوت تھے۔ انہوں نے تحریک میں مسلمانوں کی رہنمائی کا بھر پور فریضہ انجام دیا۔ جناب چوہدری پرویز الٰہی کے اس اقدام سے قادیانیوں نے چوہدری ظہور الٰہی مرحوم کی روح سے انتقام تو نہیں لے لیا؟
بڑے ہی درد اور اخلاص سے جناب چوہدری پرویز الٰہی صاحب سے استدعا ہے کہ:
- نمبر۱....... گاؤں اونچی کھرولیاں کے نام کو اگر تبدیل کرنا ضروری ہے تو اس کا نام کسی مسلمان شخصیت کے نام پر رکھیں ۔ جیسے ”ظہورالٰہی نگر“
یا جو مناسب سمجھیں۔
- نمبر۲....... قادیانیوں کے ملکیتی ذاتی ہسپتال کو سرکاری مراعات سے نواز کر اسلامی اسٹیٹ کو ارتدادی مہم کا حصہ نہیں بننا چاہئے۔ والسلام!
(مولانا) عزیز الرحمن جالندھری مرکزی ناظم اعلیٰ! عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت صدر دفتر ملتان ( پاکستان )
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۰۴ء ص ۹،۸)
کنیڈا کی قادیانی جماعت میں پھوٹ پڑ گئی
قادیانیوں میں باہمی اختلافات کی خبریں جس تیزی کے ساتھ منظر عام پر آ رہی ہیں، اس سے واضح ہو رہا ہے کہ قادیانی تحریک کو خاتمے کے لئے کسی بیرونی عنصر کی ضرورت نہیں پڑے گی بلکہ قادیانی خود ہی آپس میں لڑ کر ختم ہو جائیں گے۔ ملاحظہ فرمائیے کنیڈا میں قادیانی جماعت کے باہمی اختلافات کی خبر :
” قادیانیوں میں پھوٹ، کنیڈا میں نئی جماعت قائم کرنے کا فیصلہ جماعت احمدیہ کنیڈا کے مرکزی رہنما مبشر ڈار نے بغاوت کر دی، قادیانیوں کی بڑی تعداد مرزا مسرور سے متنفر۔
لندن (خبر نگار خصوصی) جماعت احمدیہ کنیڈا کے مرکزی رہنما مبشر ڈار نے قیادت سے بغاوت کرتے ہوئے کنیڈا میں نئی جماعت قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جماعت احمدیہ کنیڈا مبشر ڈار کے اس اقدام سے دو حصوں میں تقسیم ہو گئی ہے، کنیڈا میں قادیانیوں کی بہت بڑی تعداد مرزا مسرور احمد کے اقدامات سے متنفر ہو گئی ہے، مبشر ڈار نے کہا ہے کہ وہ جماعت احمدیہ میں رائج آمرانہ اور ظالمانہ نظام کے خلاف آواز اٹھائیں گے اور عدل وانصاف کے نظام کے لئے جدوجہد کریں گے، ذرائع کے مطابق جماعت احمدیہ کنیڈا کی مرزائی قیادت شدید اختلافات کے بعد دو حصوں میں منقسم ہو گئی ہے، کنیڈا کے مرکزی رہنما مبشر ڈار نے جماعت احمدیہ کے سربراہ مرزا مسرور کے اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا کہ مرزا مسرور نے جماعت احمدیہ میں آمریت قائم کی جو قادیانی تعلیمات کے منافی ہے، انہوں نے جماعت احمدیہ کنیڈا کے نیشنل امیر نسیم مہدی کو غاصب قرار دیا ہے اور کہا کہ نسیم مہدی جماعت کو بغیر کسی قاعدے قانون کے چلا رہا ہے، ان کی ہر بات حرف آخر سمجھی جاتی ہے اور جو ان کے اقدام کی مخالفت کرتا ہے اسے بلیک لسٹ قرار دے دیا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق جماعت احمدیہ کنیڈا کے مرکزی قائدین کے درمیان اختلافات مرکزی امارات کی جانب سے بعض اقدامات اور نیشنل امیر کے طریقے انتخاب پر پیدا ہوئے ہیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مبشر ڈار جن کا تعلق پاکستان کے شہر کوئٹہ سے ہے، پیدائشی قادیانی ہیں اور جماعت احمدیہ کے مرکزی عہدوں پر فائز رہے ہیں، موجودہ امیر نسیم مہدی کے ۲۰ سالہ دور امارت کے حوالے سے انہوں نے اپنے تحفظات کا اظہار کئی بار مرکزی قیادت سے کیا، انہوں نے اس سلسلے میں مرکزی جماعت احمدیہ کے خلاف ایک ویب سائٹ قائم کر لی ہے اور ان کا دعویٰ ہے کہ وہ اس ویب سائٹ کے ذریعہ جماعت احمدیہ کے قائدین کے من مانے خلاف شرع اقدامات سے قادیانیوں کو آگاہ کریں گے، انہوں نے قادیانی جماعت سے تاحال اپنی علیحدگی کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا، ان کا کہنا ہے کہ وہ اس سلسلے میں بھر پور جدوجہد کر کے جماعت کو جمہوری بنائیں گے۔ دریں اثناء کینیڈا میں قادیانیوں کی بھاری تعداد نے مبشر ڈار کی حمایت کر دی ہے، ذرائع کے مطابق مرزا مسرور احمد کی ہدایت پر مبشر ڈار کے خلاف سخت کارروائی کی تیاری کر لی گئی ہے۔‘‘
(روزنامہ ’’امت‘‘ کراچی ۱۷؍دسمبر ۲۰۰۳ء)
امید ہے کہ جلد ہی اس قسم کے مزید اختلافات منظر عام پر آ کر قادیانی جماعت کی شکست و ریخت کا سامان کریں گے اور قادیانیت کے خاتمے اور اسلام کی بقا کی حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیری نور اللہ مرقدہ کی پیش گوئی ان شاء اللہ جلد ہی پوری ہوگی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲ تا ۸؍جنوری ۲۰۰۴ء ص۴، ۵)
جرمن کے قادیانیوں کے قبول اسلام کی دستاویزی تفصیلات
جرمنی کے جناب محترم شیخ راحیل احمد صاحب نے ۲۳؍اگست ۲۰۰۳ء کو اسلام قبول کیا۔ آپ نے قادیانی جماعت کے چیف گرو ولائٹ پادری مرزا مسرور احمد عرف ’’گونگا مالی‘‘ کو ذیل کا خط تحریر کیا۔
(۱)
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
جناب محترم مرزا مسرور احمد صاحب خلیفۃ المسیح الخامس جماعت احمدیہ السلام علیکم!
میں پیدائشی احمدی تھا اور پچھلے ۱۷ سال سے جرمنی میں ہوں ایک لمبا عرصہ جماعتی خدمت اور اطاعت کے بعد نیز مطالعہ، تجربہ اور غوروفکر کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ میں جماعت احمدیہ سے علیحدگی اختیار کر لوں۔ میرے نزدیک جماعت احمدیہ کوئی اسلامی فرقہ نہیں بلکہ مذہب کے نام پر پیسے اکٹھے کرنے کا ادارہ بن کر رہ گیا ہے۔ جس میں آپ عہدیداروں کو غلط بات یا جماعت میں سیاست سے بچنے کی طرف توجہ دلائیں گے یا کسی مجبوری پر جماعتی خدمت سے معذرت کریں گے تو آپ پر شراب پینے والا صدر مسلط کر دیا جائے گا۔ لوگوں سے پہلے سے ووٹ کے وعدے لے کر لجنہ کی صدر بننے والی خاتون آپ کی بیوی اور بچیوں پر مسلط کر دی جائے گی۔ اور آپ کے خلاف ہر جگہ اور ہر وقت جھوٹا پروپیگنڈہ باز، بطور سیکرٹری مال و زعیم انصار اللہ کے طور پر مسلط کئے جاتے ہیں اور شکایت کرنے پر سیاستیں کرنے والے ریجنل امیر اور مربی ان کو تحفظ دیتے ہیں اور ذرا ذرا بات پر اخراج کی دھمکی ملتی ہو، اس وجہ سے بھی اور اس کے علاوہ میری بچی کو بھی ظلم کا نشانہ بنایا گیا اور ظلم کرنے والے کو جماعتی مرکز میں پناہ دی گئی اور بھی بعض ایسی باتیں میرے سامنے آئیں، کہ میں نے مناسب سمجھا کہ میں اس جماعت سے علیحدگی اختیار کروں اور اسلام کے نام پر استحصالی نظام سے تعلق توڑ کر محمد ﷺ کی صحیح غلامی میں آ جاؤں۔ لہٰذا آج مؤرخہ ۲۳؍اگست ۲۰۰۳ء کو میں اس خط کے ذریعہ سے جماعت احمدیہ سے اپنی علیحدگی کا اعلان کرتا ہوں۔ الحمد للہ! اللہ تعالیٰ مجھے استقامت دے۔ آمین! شیخ راحیل احمد
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جناب شیخ راحیل کے مسلمان ہونے کی خبریں روزنامہ اوصاف فرینکفرٹ اور جنگ لندن میں شائع ہوئی۔
(۲)
شیخ راحیل نے خاندان سمیت قادیانیت چھوڑ کر اسلام قبول کر لیا:
شیخ راحیل کے داماد سمیت ۹؍ افراد نے مسجد توحید میں مسلمان ہونے کا اعلان کیا۔ مسجد کے خطیب و دیگر مسلمانوں نے ان کے قبول اسلام کا خوشدلی سے خیر مقدم کیا۔ فرینکفرٹ (پ ر) مسجد توحید آفن باغ میں ایک تقریب کا انعقاد ہوا جس کے شرکاء میں محمد ارشد بٹ، محمد طفیل بٹ، قیصر محمود، بلال خان، راشد غوری، مہدی خان، محمد ریاض خان، مرزا تیمور، افتخار احمد اور نمازیانِ مسجد توحید تھے۔ خطیب مسجد توحید مولانا مشتاق الرحمٰن نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ حضرات کو ایک عظیم الشان خوشخبری سنانے کے لئے مخاطب ہوا ہوں کہ ہمارے کولن کے ساتھی افتخار کی کوشش کے نتیجہ میں شیخ راحیل احمد جو پیدائشی قادیانی تھے، ان کے سرکردہ افراد میں سے ہیں۔ نیز مختلف عہدوں پر فائز رہے ہیں لیکن بفضلہ تعالیٰ آج اس مجلس میں اپنے مسلمان ہونے کا اعلان اور قادیانیت سے برأت کا اظہار کرنے کے لئے آئے یہ ان کی فطرت سلیمہ کے باقی رہنے کی علامت اور حق کے غالب ہونے اور باطل کے بھاگنے کی کھلی نشانی ہے۔ چنانچہ شیخ راحیل احمد نے سب شرکاء کے سامنے اشکبار ہو کر شوق و ذوق اور دلی تڑپ کے ساتھ بھرپور جذبات کے ساتھ کلمہ شہادت پڑھا اور قادیانیت سے برأت کا اعلان کیا۔ ان کے ساتھ داماد سمیت دیگر خاندان کے ۹؍ افراد نے بھی اسلام قبول کیا۔ نیز اس بات کی وضاحت بھی کر دی کہ میرا یہ اعلان اور اقرار اپنی رضامندی کے ساتھ فہم کتب بینی کی بنیاد پر ہے شرکاء نے محبت اور خلوص سے مبارک باد دی اور ہر طرح کے تعاون کا یقین دلایا اور شیخ راحیل کے جذبات اور شجاعت اور فہم سلیم کو خراج تحسین پیش کیا۔ تقریب کے اختتام پر امام مسجد توحید نے استقامت کی دعا کی بعد ازاں محمد ارشد بٹ اور محمد طفیل بٹ نے شرکاء کو کھانے پر مدعو کیا۔ شرکاء کے اصرار پر ایک ایسی تقریب کا فیصلہ کیا گیا جس میں ان سب حضرات کو شریک کیا جائے گا جو حال ہی میں مسلمان ہوئے ہیں اور ان کے خیالات اور واقعات سے استفادہ کیا جائے گا۔ جس تقریب کی ذمہ داری مسٹر افتخار اور شیخ راحیل احمد نے لی ہے جو عنقریب ان شاء اللہ منعقد ہوگی۔
(جنگ لندن ۲۶؍ اگست ۲۰۰۳ء، روزنامہ اوصاف)
جرمنی کے شیخ جاوید اقبال صاحب کا قبول اسلام:
محترم جناب شیخ راحیل احمد صاحب کی طرح قادیانی جماعت جرمنی کے ایک اور عہدیدار جناب شیخ جاوید اقبال صاحب نے اسی تاریخ ۲۳؍ اگست ۲۰۰۳ء کو اسلام قبول کیا۔ ان کے قبول اسلام کا اعلان ملاحظہ ہو:
(۳)
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
شیخ جاوید اقبال، ماتھلڈن شٹراسے، ۲۴، اے، ۵۰۲۵۹ براؤ وائیلر، جرمنی ٹیلیفون: ۰۰۴۹-۱۶۰-۹۶۶۸۴۲۶
میں پیدائشی احمدی تھا اور پچھلے کئی سال کے مطالعہ اور غور و فکر کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ جماعت احمدیہ قادیانی گروپ کوئی اسلامی فرقہ نہیں بلکہ مذہب کے نام پر پیسے اکٹھے کرنے والا ادارہ ہے۔ میں ایک لمبا عرصہ جماعت میں مختلف عہدوں پر فائز رہا ہوں، اس
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
وجہ سے بعض ایسی باتیں میرے سامنے آئیں، کہ میں نے مناسب سمجھا کہ میں اس جماعت سے علیحدگی اختیار کروں اور اسلام کے نام پر استحصالی نظام سے تعلق توڑ کر محمد ﷺ کی صحیح غلامی میں آجاؤں۔ لہٰذا آج مؤرخہ ۲۳؍اگست ۲۰۰۳ء کو میں اس بیان کے ذریعہ سے جماعت احمدیہ سے اپنی علیحدگی کا اعلان کرتا ہوں۔ الحمدللہ مجھے آج سے مسلمان سمجھا جائے۔ گواہ نمبر ۱...... افتخار احمد، ہرش ہوف ویگ۔۱، بی، ۵۰۷۶۵، کولون جرمنی۔ ٹیلیفون: ۰۰۴۹۲۲۱۷۹۱۹۴۷۴۷ گواہ نمبر ۲...... مرزا تیمور بیگ، مارپین ہوہے ۔۱، ۵۱۴۶۵، برگش گلڈباغ جرمنی۔ ٹیلیفون: ۰۰۴۹۱۷۵۵۳۵۲۶۴۷
جرمنی کے جناب مظفر احمد مظفر کے خاندان کا قبول اسلام:
محترم جناب شیخ راحیل احمد صاحب، محترم جناب شیخ اقبال احمد صاحب کے قبول اسلام کا مبارک دن ۲۳؍اگست تھا۔ اب ۱۹؍ستمبر ۲۰۰۳ء کو جناب مظفر احمد مظفر نے قادیانیت ترک کر کے اسلام قبول کیا۔ ان کے قبول اسلام کے موقعہ پر ان کی طرف سے یورپ کے اخبارات کو جو خبر ارسال کی گئی۔ وہ ملاحظہ ہو:
(۴)
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
مختصر رپورٹ برتقریب قبول اسلام سابق قادیانی مظفر احمد مظفر بمع فیملی:
مؤرخہ ۱۹؍ستمبر ۲۰۰۳ء بروز جمعتہ المبارک، مسجد توحید، اوفن باغ / مائنز میں، مکرم مظفر احمد مظفر صاحب، گولڈ میڈلسٹ، معروف شاعر نے جو کہ (قادیانی) جماعت میں مختلف مقامی عہدوں پر بھی فائز رہے، اپنی اہلیہ فرزانہ بیگم صاحبہ اور تین بچوں سمیت، مکرم مولانا مشتاق الرحمٰن صاحب امیر ختم نبوت جرمنی کے ہاتھوں پر نماز جمعہ بہت سارے مسلمان بھائیوں کی موجودگی میں قبول اسلام کا اعلان کیا۔ الحمدللہ۔ اس موقع پر مولانا مشتاق الرحمٰن صاحب نے مختصر الفاظ میں اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ”اس مبارک تقریب اور ان مبارک گھڑیوں میں اللہ تعالیٰ نے ان کو بے بدل سعادت نصیب فرمائی کہ ایمان سے بڑھ کر کوئی دولت نہیں جس طرح مرزائیت سے ہر طبقہ متنفر ہو کر اسلام میں داخل ہورہا ہے۔ ان شاء اللہ مرزائیت کچھ عرصے میں دم توڑ دے گی۔ ہماری کسی سے کوئی دشمنی نہیں، ہم صرف اللہ کی طرف بلاتے ہیں۔ قاری صاحب نے فرمایا کہ قادیانیو اگر تم ہماری کتابیں نہیں پڑھتے تو نہ پڑھو میں کہتا ہوں کہ مرزا غلام احمد کی کتابیں ہی غور سے پڑھو، تو تمہیں خود ہی روشن ہو جائے گا کہ تم غلط جگہ پر ہو۔ اور تم اسلام کی طرف آ جاؤ گے۔ جیسا کہ شیخ راحیل صاحب نے لمبا عرصہ مطالعہ کے بعد یہ کہتے ہوئے کہ یہ سب دجل ہے اور ایک مذہب کے نام پر پیسے اکٹھے کرنے والا مافیا ہے، قادیانیت کو چھوڑا ہے۔ ہم اس خوشی کے موقع پر دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ باقی قادیانیوں کو بھی راہ راست پر لائے، آمین۔ اس وقت ہمارے مہمان خصوصی مظفر احمد مظفر صاحب، ایک تعلیم یافتہ شخصیت، گولڈ میڈلسٹ، جماعت کے عہدوں پر بھی کام کیا، مستند شاعر ہیں اور جماعت کے کئی تصدیقی سرٹیفکیٹ اور اسناد ان کے پاس موجود ہیں۔ میں ان کو مبارک باد دیتا ہوں اور دعوت دیتا ہوں کہ وہ اپنے خیالات کا اظہار کریں۔ اس مبارک موقع پر مکرم مظفر صاحب نے اپنے اور اپنے اہل خانہ کا قبول اسلام کا اعلان کرتے ہوئے کہا ”آج کا دن ہم جملہ افراد خانہ کے لئے نہایت مبارک ہے کہ ہم کفر، مکر اور دجل کی پرپیچ وادیوں سے نکل کر اسلام کی سیدھی اور روشن شاہراہ پر گامزن ہورہے ہیں۔ قادیانیت کی ریشہ دوانیوں، زہرناکیوں اور سیاہ کاریوں کی داستان سو برس پر محیط ہے۔ مجھ پر اتمام حجت کے اسباب یہ ہیں۔ اس فیصلہ کے پیچھے سات برس کی شبانہ روز کتب بینی، ذاتی مشاہدات، جماعت کا داخلی کردار، سنت نبوی سے جماعت کا اجتناب، جماعت کا غیر فطری و غیر شرعی شعار، سلسلہ
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کے لا تعداد عقائد کفریہ، سلسلہ کا قرآن کریم کے معنی و مفہوم میں تاویلات و تحریفات کے دریا رواں کرنا اور امت مسلمہ کے اپریل ۱۹۸۴ء اور ستمبر ۱۹۷۴ء کے قادیانیوں کے بارے میں متفقہ فیصلہ جات ہیں۔ دوسری طرف مرزا صاحب کے دعویٰ جات انگریز کے خودکاشتہ پودا ہونے سے لے کر دعویٰ خدائی تک پہنچتے ہیں، قصہ مختصر یقیناً کفر کا دوسرا نام قادیانیت ہے اس لئے میں ان کے مکروہ عقائد سے اپنے اہل خانہ سمیت تائب ہو کر حلقہ بگوش اسلام ہونے کا اعلان کرتا ہوں۔‘‘ تائب ہونے کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے اپنا یہ شعر پڑھا؎
آخر میں انہوں نے مکرم مولانا مشتاق الرحمٰن صاحب، مکرم مولانا محمد احمد صاحب، مکرم افتخار احمد صاحب اور مکرم شیخ راحیل صاحب کا رہنمائی اور خلوص کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنے خطاب کو ختم کیا۔ اس موقع پر مکرم افتخار صاحب نے اس خاندان کو حلقہ بگوش اسلام ہونے پر مبارک باد پیش کی اور کہا کہ جو احمدی قادیانیت سے بیزار ہیں، بے فکر ہو کر آئیں اب ان کو اپنی بانہوں میں لینے والوں میں ان کے جانے پہچانے لوگ بھی موجود ہیں اور اسلام میں آ کر آپ اپنے آپ کو اکیلا نہیں پائیں گے ان شاء اللہ ۔ سب سے آخر میں شیخ راحیل احمد صاحب نے اس بابرکت تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: ”میں مظفر صاحب اور ان کے اہل خانہ کو اپنی اور محفل میں موجود حال ہی میں قادیانیت کو خیر باد کہنے والے شیخ جاوید اقبال صاحب کی طرف سے دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں اور حاضرین کا اس بابرکت تقریب میں اکٹھا ہونے کا شکریہ ادا کرتا ہوں، انہوں نے یہ اپنی طرف سے عہد دہرایا کہ میں انشاء اللہ جہاں تک ممکن ہوا اسلام کی سر بلندی کے لئے سرگرم رہوں گا۔ اور نو مسلم مظفر صاحب کے متعلق بتایا کہ ان کا بھی یہی ارادہ اور وعدہ ہے۔ آخر میں تمام حاضرین کے لئے مکرم خان بلال صاحب آف اوفن باغ کی طرف سے ایک پر تکلف دعوت کا اہتمام تھا۔ جس کے بعد اس دعا کے ساتھ یہ تقریب اختتام کو پہنچی کہ اللہ ان نو مسلموں کو استقامت دے اور ایسی تقریبات جلد جلد منعقد کرنے کے مواقع بخشے۔ آمین!
محترم جناب شیخ راحیل احمد صاحب نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی سالانہ ۲۲ویں کل پاکستان ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کے شرکاء کے لئے کراچی میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت یورپ کے امیر مناظر اسلام حضرت مولانا منظور احمد الحسینی کو یکم / اکتوبر ۲۰۰۳ء کو رات ۱۲ بج کر ۲۵ منٹ پر ذیل کا پیغام فون پر نوٹ کرایا جو حضرت مولانا منظور احمد الحسینی نے ۳ / اکتوبر قبل از جمعہ کے اجلاس میں خود پڑھ کر سنایا۔
جناب شیخ راحیل احمد کا پیغام مسلمانان پاکستان کے لئے:
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
آپ سب حضرات میرے لئے اسلام پر استقامت کی دعا فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ دین اسلام کو ترقی عطا فرمائیں۔ لوگوں کو میرے بارے میں تجسس ہے کہ میں نے قادیانیت کیوں چھوڑی ہے؟ اس سلسلے میں کچھ لکھ رہا ہوں جس سے ان شاء اللہ! قادیانیوں کو راہ ہدایت ملے گی۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام یہ ۲۲ ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس ۲ / ۳ / اکتوبر ۲۰۰۳ء کو چناب نگر قادیانیوں کے لئے انشاء اللہ مشعل راہ ثابت ہوگی۔ میں نے ۲۳ / اگست ۲۰۰۳ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جرمنی کے امیر اور جامع مسجد توحید آفن باخ کے خطیب مولانا قاری مشتاق الرحمٰن کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا ہے۔ اس موقعہ پر مولانا محمد احمد صاحب امام جامع مسجد توحید آفن باخ جرمنی بھی موجود تھے۔ وہ اس سالانہ ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کر رہے ہیں۔ تفصیلات ان سے سن کر میرے لئے دعا کریں اور میں اسلامیان پاکستان کے لئے دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کی توفیق بخشیں۔
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء
جناب مظفر احمد مظفر صاحب جرمنی کا پیغام پاکستان کے مسلمانوں کے نام:
۱۹ ستمبر ۲۰۰۳ء کو مظفر احمد مظفر نے اسلام قبول کیا۔ انہوں نے یکم اکتوبر ۲۰۰۳ء کو لندن کے وقت کے مطابق دن ۱۰ بجے مولانا منظور احمد الحسینی امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت یورپ کو اپنا پیغام لکھوایا:
میں مظفر احمد مظفر مع بیگم فرزانہ صاحبہ اور جمیع خاندان مؤرخہ ۱۹ ستمبر ۲۰۰۳ء جمعتہ المبارک کے اجتماع میں آفن باخ جرمنی کی جامع مسجد توحید کے خطیب مولانا قاری مشتاق الرحمن جو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جرمنی کے امیر ہیں ان کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام بائیسویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقدہ ۲، ۳ اکتوبر ۲۰۰۳ء میں شریک سب مسلمانوں کو میری طرف سے محبت بھرا سلام ہو۔ اور دعاؤں کی درخواست، دجل اور کفر کی گرہ کھل گئی ہے اور قادیانیت کی قد آدم دیوار جو اب رفتہ رفتہ ریت کی دیوار ثابت ہوگی اور یہ بھاری بھرکم دیوار خود ان کے کندھوں پر گرے گی۔ قبل اس کے کہ قادیانی اس کے بوجھ تلے دب کر مر جائیں میری تمام قادیانیوں سے گزارش اور اپیل ہے کہ نبی کریم ﷺ کے زیر سایہ آ جائیں اور مرزا غلام احمد قادیانی ملعون کو چھوڑ دیں ۔ قادیانیوں کی نجات صرف محمد عربی ﷺ کے دامن رحمت سے وابستہ ہونے میں ہے۔ میرے قبول اسلام کے موقعہ پر حضرت مولانا محمد احمد صاحب موجود تھے۔ جو اس سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر میں جرمنی سے شریک ہورہے ہیں۔ تفصیلات وہ بیان کریں گے۔ آپ سب حضرات شرکاء کانفرنس میرے لئے دعا کریں۔ اور میں آپ کے لئے دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اسلام پر استقامت نصیب فرمائیں۔ آمین!
مولانا محمد احمد صاحب امام مسجد توحید آفن باخ جرمنی سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر میں مولانا منظور احمد الحسینی کے ہمراہ شریک ہوئے ۔ ۱۰ اکتوبر ۲۰۰۳ء کو جرمنی واپس پہنچ کر انہوں نے اخبارات کو ذیل کا بیان جاری کیا۔ ضرب مومن کراچی سے ان کی خبر ملاحظہ ہو:
(۵)
ایک ماہ کے دوران ۲۳ قادیانیوں کا قبول اسلام، مجلس تحفظ ختم نبوت :
قادیانی جماعت کے لیڈر اپنے پیروکاروں پر جبر نہ کریں تو قادیانیوں کی اکثریت اسلام قبول کر لے گی۔ مولانا محمد احمد جرمنی (پ۔ر) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جرمنی کے رہنما مولانا محمد احمد پاکستان کے دورے کے بعد جرمنی واپس پہنچ گئے ہیں۔ اپنے دورے کے دوران انہوں نے چناب نگر میں منعقد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کانفرنس میں بھی شرکت کی ۔ اس موقع پر انہوں نے حاضرین کو قادیانی جماعت کے سابق زعماء شیخ راحیل احمد، مظفر احمد مظفر اور محمد مالک کی اپنے خاندان سمیت قبولیت اسلام کی کارگزاری سنائی اور بتایا کہ ان حضرات نے ان کے اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جرمنی کے رہنما مولانا مشتاق الرحمن کے ہاتھ پر ان کی مسجد توحید میں اسلام قبول کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران ۲۳ قادیانیوں نے اسلام قبول کیا۔ جن کی ایک بڑی تعداد قادیانی مذہب کی کتابوں کے غیر جانبدارانہ مطالعہ کے بعد اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ قادیانیت دین اسلام کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کی ایک سیاسی تحریک ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر قادیانی جماعت اپنے پیروکاروں پر ناجائز دباؤ نہ ڈالے تو قادیانیوں کی اکثریت اپنے مذہب سے تائب ہو کر اسلام قبول کرنے کا اعلان کر دے لیکن قادیانی جماعت کے غیر قانونی ہتھکنڈوں کی وجہ سے وہ برملا یہ اعلان نہیں کر پاتی لیکن ہمیں امید ہے کہ اب لوگوں کو زیادہ عرصہ تک قادیانی مذہب سے وابستہ نہیں رکھا جا سکتا اور موجودہ صدی ان شاء اللہ غلبہ اسلام کی صدی ثابت ہوگی ۔
(ضرب مومن کراچی ۲۷ اکتوبر تا ۲ نومبر ۲۰۰۳ء)
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
فتح اسلام کا دلکش نظارہ......اندرون و بیرون ملک قادیانیوں کے قبول اسلام کی ایمان پرور داستانیں
الحمدللہ ! اندرون و بیرون ملک سے ڈھیروں ڈھیر قادیانی قبول اسلام کر رہے ہیں۔ ان کے قبول اسلام کی تفصیلات ذیل میں ملاحظہ کر کے اہل اسلام جہاں اپنے ایمانوں کو منور کریں وہاں دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ اکابر حضرات کی قائم کردہ جماعت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو مزید اخلاص بھر محنت کی توفیق سے سرفراز فرمائیں اور قادیانیوں کے لئے بھی قارئین اہل دل مسلمان دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کو ترک قادیانیت کر کے قبول اسلام کی نعمت سے سرفراز فرمائیں۔ آپ کی مخلصانہ ڈھیروں نیم شبانہ دعاؤں نے اگر شرف قبولیت پایا اور کوئی قادیانی مسلمان ہو گیا تو ہم سب کی نجات کے لئے یقینی ذریعہ بن جائے گا۔ اے دلوں کے مالک اور مقلب القلوب تو ایسے ہی فرما۔ تیرے لئے کوئی امر انہونی نہیں۔ بدر و حنین میں رحمت دو عالم ﷺ کی امت کی مدد فرمانے والے رب کریم اب اس موقعہ پر بھی رحمت دو عالم ﷺ کی امت کی مدد فرما اور قادیانیوں کو ہدایت سے نواز دے۔ اس لئے کہ آپ کی ذات : ان اللہ علیٰ کل شئی قدیر ! ہے۔
اٹلی کے شہر بلونیا کے قادیانی خاندان کا قبول اسلام
لندن (فارن ڈیسک) اٹلی کے شہر بلونیا میں مقیم جماعت قادیانیہ اٹلی کے مرکزی رہنما رحمت خان نے اپنے اہل خانہ کے ہمراہ قادیانی جماعت سے بیزاری کا اظہار کر کے اسلام قبول کر لیا ہے۔ اٹلی میں گزشتہ چند برسوں میں ۳۴؍ افراد نے قادیانیت سے توبہ کر کے اسلام قبول کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اٹلی کے شہر بلونیا میں مقیم قادیانی جماعت کے مرکزی رہنما رحمت خان نے دو روز قبل باضابطہ طور پر قادیانی جماعت سے بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے قادیانی عقائد سے توبہ کر کے اسلام قبول کر لیا ہے۔ اسلام قبول کرنے والے ان کے دیگر اہل خانہ میں منظور بیگم، فتح خان، شمیم بیگم، مزمل، طاہر، اویس، حمیرا، شمیرہ، محمد خان، غزالہ، جمیل، حسیب اور ایک نابالغ بچہ شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق رحمت خان کا تعلق پاکستان کے شہر گجرات کی تحصیل کھاریاں سے ہے۔ وہ گزشتہ کئی برسوں سے اٹلی میں مقیم تھے وہاں قادیانی جماعت کے مرکزی قائدین میں شامل تھے۔ انہوں نے قادیانی جماعت سے بیزاری کا اعلان عید الفطر کے موقع پر کیا۔ قادیانی جماعت اٹلی کے مرکزی رہنما کے تائب ہونے کے سبب قادیانی جماعت سخت پریشانی کا شکار ہے اور ذرائع کے مطابق رحمت خان کی قادیانیت سے علیحدگی روکنے کے لئے بہت کوششیں کی گئیں مگر انہوں نے تمام پیشکشوں کو مسترد کر دیا۔ ذرائع کے مطابق چند برسوں کے دوران اٹلی میں ۱۳۴ اہم افراد نے قادیانیت سے توبہ کر کے اسلام قبول کر لیا ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ رحمت خان اٹلی کی قادیانی مجلس شوری میں تھے اور متحرک تھے ان کی علیحدگی کی وجوہ کے حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ انہوں نے قادیانی مذہب اور اسلام کے گہرے مطالعہ کے بعد فیصلہ کیا کہ قادیانی مذہب باطل ہے۔
کراچی میں ایک قادیانی کا قبول اسلام
کراچی (نمائندہ خصوصی) نذر احمد ولد ارشاد احمد نے آج مولانا نذیر احمد تونسوی کے ہاتھ پر قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کر لیا۔ اس موقع پر انہوں نے اپنے قبول اسلام کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ میں قادیانیوں کے مذہبی پیشواؤں سے یہ سوالات کرتا تھا کہ جب ہم اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں تو ہمارے اذان دینے اور خود کو مسلمان کہلوانے پر پابندی کیوں؟ میرے ان سوالات کا مذہبی پیشواؤں کی جانب سے کوئی تسلی بخش جواب نہ ملا۔ جس پر میرے دل میں شکوک وشبہات نے جنم لینا شروع کیا۔ جرمنی میں شیخ راحیل احمد اور مظفر احمد مظفر نامی قادیانی رہنماؤں کے قبول اسلام کی خبروں نے میرے جذبات کو مہمیز دی اور بالآخر میری سمجھ میں آ گیا کہ قادیانیت کوئی
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مذہب نہیں ۔ بلکہ مذہب کے نام پر روپیہ بٹورنے والا ایک گروپ ہے ۔ جہاں پیدائش سے لے کر موت بلکہ موت کے بعد تدفین کے لئے بھی قادیانی جماعت کو چندہ دینا پڑتا ہے۔ جس کا سراسر فائدہ مرزا غلام احمد قادیانی کے خاندان کو پہنچ رہا ہے ۔ جب کہ عام قادیانی اس سے سخت نالاں ہے اور اب مختلف لالچ اور ترغیبات کے ذریعہ قادیانیوں کو قادیانی مذہب پر قائم رکھنے کی کوششیں نا کام جارہی ہیں اور اندرون خانہ قادیانی رائل فیملی سے بغاوت ہو رہی ہے ۔
پشاور میں ۱۰۷ قادیانیوں کا قبول اسلام
پشاور (ضرب مومن ) پشاور کے نواحی علاقے میں علمائے کرام کی محنت کے نتیجے میں ۱۰۷ افراد پر مشتمل ۱۷ خاندانوں نے اسلام قبول کر لیا ۔ تفصیلات کے مطابق شیخ محمدی میں مقیم محلہ قاضیاں سے تعلق رکھنے والے قادیانیوں نے جامعہ دارالعلوم پشاور کے مدرس حضرت مولانا نذیر صاحب اور دوسرے علمائے کرام کی تبلیغ و ترغیب اور مسلسل محنت کے نتیجے میں جمعۃ المبارک کے روز جامع مسجد قاضیان میں ۱۷ خاندانوں نے اسلام قبول کر لیا۔ اس موقع پر بڈھ بیر کے علاقوں لگرولہ، ساخوخیل، سلمان خیل اور شیخ محمدی سے تعلق رکھنے والے ہزاروں لوگوں کا اجتماع منعقد ہوا ۔ مسلمان ہونے والوں کے ناموں کا اس موقع پر اعلان کیا گیا ۔ جن میں اسٹیٹ بنک کے ملازم بختیار آرگنائزر لائبریری کے گوہر افتخار، بختیار ارشد اور ان کے رشتہ دار بھی شامل تھے ان خاندانوں کے دوسرے افراد نے بھی اسلام قبول کیا۔ علمائے کرام حضرت مولانا عبدالقدوس ، حضرت مولانا نذیر احمد اور حضرت مولانا عدیل نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مسلمان ہونے والوں کو مبارک باد دی اور کہا کہ عقیدہ ختم نبوت کو قبول کر کے ان لوگوں نے اپنی آخرت بچالی ۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی عقیدے میں ختم نبوت شامل ہے۔ اس میں شک و شبہ رکھنے والا شخص ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ تمام مسالک کے مکاتب فکر کے علماء کرام کا اس پر مکمل اتفاق ہے۔ اس موقعہ پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پشاور کے ناظم اعلیٰ حضرت مولانا نور الحق نور کی صدارت میں بہت ہی عظیم الشان اجتماع منعقد ہوا اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا وسیع لٹریچر ان میں تقسیم کیا گیا ۔ اس واقعہ پر ہفت روزہ ضرب مومن ۲۱؍ تا ۲۷؍ نومبر کی اشاعت میں اداریہ تحریر کیا ۔ ملاحظہ ہو :
ہفت روزہ ضرب مومن کراچی کا اداریہ....... ۱۰۷ قادیانیوں کا قبول اسلام ، حق کی شاندار فتح :
پشاور کے مضافاتی علاقے شیخ محمدی میں بسنے والے ۱۷ قادیانی خاندانوں نے جامعہ دارالعلوم پشاور کے مدرس مولانا نذیر احمد اور دیگر علماء کرام کی تبلیغ و دعوت اور متواتر کاوشوں سے متاثر ہو کر جمعہ کے روز اپنے علاقے کی جامع مسجد قاضیاں میں اسلام قبول کر لیا۔ ان ۱۰۷ نو مسلموں کے قبول اسلام کے اعلان سے علاقے میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔ فرزندان اسلام نے ان کے اعزاز میں ایک تقریب منعقد کی اور اس مبارک فیصلے پر انہیں مبارک باد پیش کی ۔ تقریب میں ہزاروں افراد اور متعدد مقامی علمائے و مشائخ نے شرکت کی ۔
ملک کے شمال مغربی صوبے کے صدر مقام کے نواح میں پیش آنے والے اس واقعے کے خوشگوار اثرات سے پورے ملک کے مسلمان سرور محسوس کر رہے ہیں ۔ اتنی بڑی تعداد میں اجتماعی طور پر قادیانیوں کے قبول اسلام کا یہ واقعہ غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جھوٹ اور فریب پر مبنی قادیانی مذہب کے بخیے ادھڑنے لگے ہیں اور اس کے پیروکاروں پر جعلی نبوت کی حقیقت آشکارا ہونے لگی ہے۔
برطانوی استعمار کے دور عروج میں فرنگی حکام نے اسلام کی جڑیں کاٹنے اور مسلمانوں کے دلوں سے جہاد کی عظمت کھرچ کھرچ کر نکالنے کے لئے مرزا غلام احمد قادیانی کو جعلی نبوت کا لبادہ پہنا کر کھڑا کیا تھا ۔ علماء حق نے بروقت اس فتنے کے مضمرات کو بھانپ لیا اور بلا
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تاخیر عقیدۂ ختم نبوت کے دفاع کے لئے میدانِ عمل میں اتر گئے۔ استاذ المحدثین حضرت مولانا سید انور شاہ کشمیری اور امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری سے لے دور حاضر کے محافظین ختم نبوت تک یہ سلسلہ جاری و ساری چلا آرہا ہے۔ منکرین ختم نبوت کے خلاف ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں ہزاروں عاشقان رسالت نے اپنی جانیں قربان کیں۔ قربانیوں کی اس متواتر تاریخ نے ۱۹۷۴ء میں اپنی محنت کا ثمرہ اس وقت وصول کر لیا جب ملک کی قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا۔ بعد ازاں قادیانیوں نے غیر مسلم قرار دیئے جانے کے باوجود اپنی فتنہ سامانیوں کا تدارک نہ کیا تو ۱۹۸۴ء میں ختم نبوت کے محافظ ایک بار پھر صف آرا ہوئے جس کے نتیجے میں صدر ضیاء الحق نے امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری کر کے قادیانیت کی دعوت اور ترویج پر پابندی لگادی۔ اس شکست فاش کے بعد قادیانیوں کے سربراہ مرزا طاہر نے برطانیہ جا کر پناہ لی اور اپنے سرپرستوں کی آغوش میں بیٹھ کر دروغ و دغا اور نظریاتی جعل سازی کا کاروبار از سر نو شروع کر دیا۔ گزشتہ چند برسوں میں قادیانیوں نے ریڈیو اور ٹی وی نشریات شروع کر کے اپنا دائرہ کار غیر معمولی طور پر بڑھا لیا ہے۔ انہیں عالمی طاقتوں کی سرپرستی کی وجہ سے اپنا جال دنیا کے کونے کونے میں پھیلانے کے لئے مطلوبہ وسائل بسہولت مہیا ہیں۔ اس کے مقابلے میں ختم نبوت کے محافظ کل کی طرح آج بھی بے سروسامان ہیں مگر مقام شکر ہے کہ وہ حوصلہ نہیں ہارے بلکہ اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔ بفضلہٖ تعالیٰ ان کی محنت رنگ لا رہی ہے۔ گزشتہ چند سال میں قادیانیوں کی بہت بڑی تعداد اسلام قبول کرچکی ہے۔ حالیہ واقعہ اس سلسلے کی ایک غیر معمولی کڑی ہے۔ اس موقع پر ہم ان حضرات کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے اپنا دینی فریضہ سمجھ کر اس راہ سے بھٹکے ہوئے انسانوں کی حکمت و دانائی کے ساتھ مسلسل رہنمائی کی اور انہیں راہ راست پر لانے میں کامیاب رہے۔
اس واقعے میں تمام مسلمانان پاکستان بالخصوص نئے فارغ التحصیل علمائے کرام کے لئے یہ پیغام بھی موجود ہے کہ وہ اپنے اپنے گردونواح میں رہنے بسنے والے ارتدادی نظریات کے شکار افراد کو ان کے حال پر نہ چھوڑیں بلکہ حسن اخلاق ، مصلحت و موقع شناسی اور خیر خواہی کے ساتھ ان کی اصلاح کے لئے فکرمند اور مصروف عمل رہیں۔ اس سلسلے میں ہوم ورک کے طور پر ان فتنوں کے خلاف علمی ہتھیاروں سے لیس ہونا ضروری ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ قادیانیت اور جملہ ارتدادی فتنوں کے خلاف مقامی طور پر جگہ جگہ مختصر کورسز پروگرام منعقد کئے جائیں اور ملت کا ہر فرد بھر پور تیاری کے ساتھ اس سلسلے میں اپنے اوپر عائد ہونے والی ذمہ داریاں ادا کرے۔
(ضرب مومن کراچی ۴ / دسمبر ۲۰۰۳ء)
روزنامہ اسلام ملتان کا اداریہ ...... پشاور میں ۱۷ قادیانی خاندان کا قبولِ اسلام:
ہمارے بیورو رپورٹر کے مطابق پشاور کے نواحی علاقے شیخ محمدی میں مقیم محلہ قاضیاں سے تعلق رکھنے والے ۱۷ قادیانی خاندانوں کے ۷۰ خوش قسمت افراد نے جامع مسجد قاضیاں میں اپنے اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا، اس موقع پر ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں علاقے کے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ علماء کرام نے اسلام قبول کرنے والے خوش نصیب خاندانوں کو مبارک باد دی۔
مقام شکر ہے کہ قادیانیوں میں اسلام قبول کرنے کا رجحان روز بروز بڑھ رہا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ قادیانیت کا فتنہ اب اپنے منطقی انجام کی طرف تیزی سے گامزن ہے۔ یہ فتنہ انگریزوں نے ہندوستان کے مسلمانوں میں انتشار پھیلانے اور ان کو جہاد سے دور کرنے کے لئے پیدا کیا تھا اور آج بھی قادیانیت کو انگریزوں اور دیگر عالمی کفریہ طاقتوں کی سرپرستی حاصل ہے۔ برطانیہ نے انہیں پناہ دی اور قادیانی گرو مرزا طاہر لندن سے مغربی میڈیا کے ذریعے سادہ لوح مسلمانوں کو ورغلانے کی کوششیں کرتا رہا ، لیکن عالمی کفریہ طاقتوں کی تمام تر اعانت اور تعاون کے باوجود قادیانی مسلمانوں کے ایمان خریدنے اور ان کے دلوں سے فریضہ جہاد کی اہمیت ختم کرنے میں کامیاب نہ
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہوسکے اور آج دنیا دیکھ رہی ہے کہ قادیانیت اپنی بقا کی جدوجہد میں ہاتھ پاؤں مار رہی ہے، مگر قادیانی دجل کا پردہ چاک ہونے کی وجہ سے قادیانی عوام بڑی تعداد میں مسلمان ہورہے ہیں اور نبی کریم ﷺ کی ختم نبوت کے تحفظ کے سلسلے میں علمائے کرام کی کوششیں رنگ لا رہی ہیں، علماء کرام کو اس میدان میں مزید کام کرنے چاہیں اور زیادہ سے زیادہ قادیانیوں تک حق کی دعوت پہنچانے کا اہتمام کرنا چاہئے تاکہ قادیانیت کے فتنے کا مستقل سدباب ہو سکے اور انگریز کے خود کاشتہ پودے کو بیخ وبن سے اکھاڑ کر اس کے ناپاک وجود سے اللہ کی زمین کو پاک کیا جاسکے۔
(روزنامہ اسلام ملتان، ۱۶؍ نومبر ۲۰۰۳ء)
شہباز نامی قادیانی قبول اسلام
مرکزی جامع مسجد ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر کے خطیب اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ حضرت مولانا غلام مصطفیٰ کے ہاتھ پر شہباز نامی قادیانی نے مرزائیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کر لیا ہے۔ جامع مسجد ختم نبوت میں ظہر کی نماز کے بعد ان کے اعزاز میں ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ حضرت مولانا غلام مصطفیٰ نے ردّ قادیانیت کے حوالہ سے پر مغز اور باحوالہ خطاب کیا۔ وہاں موجود نمازیوں اور اہل محلہ کے لوگوں کی کثیر تعداد نے شہباز نومسلم کو مبارک باد دی اور استقامت فی الدین کی دعا کی۔ بعد ازاں اس خوشی میں جامع مسجد ختم نبوت نعرہ تکبیر، ختم نبوت زندہ باد، اور مرزائیت مردہ باد کے نعروں سے گونج اٹھی۔
۱۴؍ افراد پر مشتمل قادیانی خاندان نے اسلام قبول کر لیا
حافظ آباد کے نواحی گاؤں اونچا مانگٹ میں دو خاندانوں نے قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کرنے کے بعد ایک ہی خاندان کے مزید ۱۴؍ افراد نے اسلام قبول کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز مانگٹ اونچا کے دو خاندانوں نے اسلام قبول کیا تھا۔ حافظ ثناء اللہ، خیر اللہ مانگٹ، ماسٹر عبداللہ، عطاء اللہ نمبردار کی تبلیغ سے متاثر ہو کر محمد شریف کے خاندان کے ۱۴؍ افراد نے معروف عالم دین جناب قاری الطاف اللہ سیال کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا۔ اس طرح اب اونچا مانگٹ میں قادیانیت سے تائب ہو کر تین خاندانوں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔
قادیانی لڑکی کا قبول اسلام
ایک قادیانی لڑکی مسماۃ فائزہ نوشین بنت سلیم احمد سکنہ ستراہ موڑ ڈاکخانہ ختم نبوت کالونی ستراہ موڑ تحصیل پسرور ضلع سیالکوٹ نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ کے بزرگ رہنما حضرت مولانا حافظ محمد ثاقب صاحب کے ہاتھ پر قادیانیت ترک کے اسلام قبول کر لیا۔ حضرت حافظ صاحب نے دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ مسماۃ فائزہ نوشین کو استقامت نصیب فرمائیں اور باقی ماندہ قادیانیوں کو بھی اسلام قبول کرنے اور قادیانیت ایسے ملعون گروہ سے چھٹکارا کا پردہ غیب سے اہتمام فرمائیں۔ آمین!
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۰۴ء ص ۱۲ تا ۳۵)
نعیم احمد نائیک کے قبول اسلام کے موقع پر تاثرات
کراچی (نمائندہ خصوصی) ایک قادیانی نے مورخہ یکم جنوری ۲۰۰۳ء کو اپنے سابقہ مذہب قادیانیت سے برأت اور توبہ کا اعلان کیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما مولانا نذیر احمد تونسوی نے قرآن وسنت کی روشنی میں عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور قادیانیت کا دجل وفریب واضح طور پر بیان کیا۔ قادیانیت سے تائب ہونے والے نومسلم نعیم احمد نائیک نے بتایا کہ میں پیدائشی طور پر قادیانی تھا، عرصہ دس
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سال سے میں قادیانیت کے متعلق ریسرچ کر رہا تھا، میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ قادیانیت کا اسلام سے دور کا بھی کوئی واسطہ نہیں ہے، قادیانیوں کے قول وفعل میں بڑا تضاد ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے انگریز سامراج کے اشارے پر نبوت ورسالت کا دعویٰ کیا تھا اور اس کی ساری زندگی انگریزی مفادات کے تحفظ میں گزری ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لئے اسلام کا لبادہ اوڑھ رکھا تھا، آج بھی قادیانیوں کے دل میں آنحضرت ﷺ کی کوئی محبت نہیں ہے، وہ پیغمبر اسلام آنحضرت ﷺ کے مقابلے میں مرزا غلام احمد قادیانی کی ذات کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج تمام اسلام دشمن طاقتوں سے قادیانیوں کے رابطے ہیں، وہ اسلام کا نام صرف مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لئے استعمال کرتے ہیں ورنہ حقیقت میں اسلام اور مسلمانوں سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے، قادیانی مسلمانوں کو تکلیف پہنچا کر خوش ہوتے ہیں۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میں نے قادیانیوں کو بہت قریب سے دیکھا ہے، قادیانیت کسی مذہب کا نام نہیں ہے بلکہ ایک کاروباری دنیا پرست افراد کا گروہ ہے، جو کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں، اور تمام اسلام دشمن طاقتوں کی ان کو امداد حاصل ہے، دنیاوی لالچ دے کر یہ سادہ لوح نوجوانوں کو گمراہ کرتے ہیں، بیرون ملک سیاسی پناہ کے نام پر ان لوگوں نے ارتداد کا ایک نیا سلسلہ جاری کر رکھا ہے، انہوں نے ایک سوال و جواب میں کہا کہ آج قبول اسلام کے بعد الحمد للہ! مجھے ایک عجیب قسم کی خوشی محسوس ہورہی ہے، میرا دل اور میرا ضمیر بہت مطمئن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ہدایت والی زندگی نصیب کر کے مجھ پر بڑا فضل وکرم کیا اور میری کوشش ہوگی کہ میرے دیگر رشتہ دار اور میرے ملنے جلنے والے دوست احباب جو قادیانیت کے دجل وفریب میں پھنسے ہوئے ہیں، وہ بھی قادیانیت کے کفریہ عقائد سے توبہ کر کے اسلام قبول کرلیں، میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام قادیانیوں کو ہدایت نصیب کرے کیونکہ اسلام دنیا کا وہ واحد مذہب ہے جس کی تعلیمات فطرت انسانی کے عین مطابق اور حق وصداقت پر مبنی ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے تحریری طور پر کہا کہ میں آج بتاریخ یکم جنوری ۲۰۰۳ء کو اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جانتے ہوئے گواہان کے روبرو بقائمی ہوش وحواس، بغیر کسی دباؤ لالچ، جبر واکراہ کے اپنی رضا ورغبت اور پوری آزادی کے ساتھ حلفیہ بیان دیتے ہوئے کھلم کھلا اعلان کرتا ہوں کہ میں اپنے سابقہ مذہب قادیانیت سے توبہ کر کے اسلام قبول کرتا ہوں اور قبول اسلام کے ساتھ اس بات کی حلفیہ شہادت دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے، وہ اپنی ذات اور صفات میں وحدہٗ لاشریک ہے اور وہی معبود برحق ہے اور حضرت محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ورسول ہیں اور آپ کے بعد تا قیامت کسی کو تشریعی، غیر تشریعی اور ظلی، بروزی کسی قسم کی نبوت نہیں ملے گی۔ میں عقیدہ ختم نبوت پر مکمل ایمان لاتا ہوں اور یقین صادق کے ساتھ یہ اعلان کرتا ہوں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد جو شخص بھی عقیدہ ختم نبوت کا انکار یا دعوائے نبوت کرے، خواہ بلاواسطہ یا بالواسطہ تاویل کے ساتھ، ایسا شخص زندیق، کافر، مرتد اور خارج از اسلام ہے۔ میں قادیانیت سے برأت کے بعد اس عقیدہ کا اظہار کرنا ضروری اور اپنے ایمان کا اہم جزو سمجھتا ہوں کہ مرزا غلام احمد قادیانی ملعون، کذاب، دجال، کافر، مرتد اور زندیق تھا اور وہ اپنے دعوائے نبوت، مجددیت، مہدویت، مسیحیت، نبوت ورسالت میں سراسر جھوٹا تھا اور اس کے ماننے والے خواہ وہ لاہوری ہوں یا قادیانی (جو خود کو احمدی کہتے ہیں) کافر، زندیق، مرتد، اور خارج از اسلام ہیں۔ آج کے بعد میرا مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے ماننے والوں سے قطعاً کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ رہے گا، اور یہ بات بھی میرے ایمان کا حصہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے فرمان کے مطابق حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام اس وقت بھی آسمانوں پر زندہ موجود ہیں اور وہ قیامت کے قریب آسمان سے نازل ہوں گے اور آنحضرت ﷺ کی شریعت کے مطابق امت محمدیہ کی رہنمائی فرمائیں گے۔ لہٰذا مرزا غلام احمد قادیانی اپنے دعوائے مسیحیت میں بالکل جھوٹا تھا۔ آخر میں پھر اس بات کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ میں اپنی مرضی، رغبت اور مکمل ہوش مندی کے ساتھ بغیر کسی جبر واکراہ ولالچ اور دباؤ کے آج ایک حلفیہ اقرار
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا نامہ پر دستخط کر کے قادیانیت سے مکمل برأت کا اعلان کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ مجھے دین اسلام پر استقامت نصیب فرمائے۔ آمین ! اس موقع پر میمن خدمت فورم کے چیئرمین حاجی مسعود پاریکھ، یحییٰ پولانی، عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ کے نعیم چاندنا، شکیل دہلوی، اسٹوڈنٹس ویلفیئر آرگنائزیشن کے صدر قاری ہلال احمد ربانی، محمد نعیم، میمن برادری کے ممتاز رہنما عبدالعزیز شیوانی، ابوبکر پٹیل، عبدالغفور میمن، اے کے میمن، عارف موسانی، رفیق گوڈیل، قاری حامد، یاسین بقالی، عبدالرؤف بٹ، سیٹھ نثار احمد اور ندیم میمن وغیرہ نے جناب نعیم احمد نائیک کو قبول اسلام پر مبارک باد پیش کی اور اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔ بعد ازاں نعیم احمد نائیک کے قبول اسلام کا مفتی محمد جمیل خان، مولانا نذیر احمد تونسوی، مولانا سعید احمد جلال پوری، حاجی سید شاہ محمد آغا، رانا محمد انور، مولانا عبدالعزیز لاشاری، سید اطہر عظیم، جمال عبدالناصر شاہد اور دیگر احباب نے خیر مقدم کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۱۰ تا ۱۶؍جنوری ۲۰۰۳ء ص۲۶، ٹائٹل پیج نمبر۳)
پشاور میں مزید دس قادیانیوں کا قبول اسلام
الحمدللہ! اٹلی کی قادیانی جماعت کے مرکزی رہنما رحمت اللہ خان نے اپنے اہل خانہ کے ہمراہ قادیانی مذہب پر لعنت بھیج کر اسلام قبول کرنے کی گونج ابھی ختم نہ ہوئی تھی کہ پشاور کے علاقہ شیخ محمدی میں مزید دس قادیانیوں نے اسلام قبول کرنے کا اعلان کر دیا۔ پشاور میں گزشتہ دنوں ۱۷ قادیانیوں کے قبول اسلام کے بعد قبول اسلام کا یہ دوسرا واقعہ ہے جو چند روز کے وقفہ سے رونما ہوا ہے۔ اس واقعہ کے بارے میں جاری شدہ خبر کی تفصیل درج ذیل ہے: ’’پشاور (نمائندہ خصوصی) پشاور کے علاقہ شیخ محمدی میں دس قادیانیوں نے پشاور کی مشہور دینی درس گاہ امداد العلوم جامع مسجد درویش میں اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس موقع پر ان افراد نے اس بات کا اقرار کیا کہ وہ حضور خاتم النبیین ﷺ کو ہر اعتبار سے آخری نبی مانتے ہیں اور یہ کہ حضور ﷺ کے بعد کسی قسم کا کوئی نیا نبی نہیں آئے گا۔ ماسوائے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جو حضور ﷺ کے فرمان کے مطابق آسمانوں پر زندہ موجود ہیں اور وہ قیامت کے قریب دوبارہ اس دنیا میں آسمانوں سے نازل ہوں گے۔ انہوں نے اس بات کا بھی اقرار کیا کہ امام مہدی اس امت میں حضور ﷺ کی اولاد میں پیدا ہوں گے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب آسمانوں سے زمین پر نازل ہوں گے تو امام مہدی اس وقت زمین پر مسلمانوں کے خلیفہ کی حیثیت سے موجود ہوں گے۔ اس موقع پر نومسلموں نے اقرار کیا کہ ہم فتنہ قادیانیت کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی کو اس کے تمام دعوؤں میں جھوٹا یقین کرتے ہیں اور علمائے اسلام کے فتویٰ کے مطابق اسے کافر، کاذب، دجال اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی کو ظلی یا بروزی نبی، مسیح موعود، مہدی، مجدد یا مصلح ماننے والے اس کے پیروکار خواہ وہ قادیانی ہوں یا لاہوری، کافر ہیں۔ آج کے بعد ہمارا قادیانی یا لاہوری جماعت سے عقیدہ اور مذہب کے لحاظ سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ آئندہ ہوگا۔ ہم ۱۹۷۴ء میں قومی اسمبلی کی جانب سے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی آئینی ترمیم اور اپریل ۱۹۸۴ء کے امتناع قادیانیت آرڈیننس کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے۔‘‘
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۰۴ء ص۵۱)
عبدالحکیم ضلع خانیوال میں غلام مرتضیٰ کا قبول اسلام
خانیوال ضلع کا مشہور شہر عبدالحکیم کے محلہ صابری کے ایک قادیانی غلام مرتضیٰ ولد برکت نے شہر کے معززین کے سامنے مرزائیت اور مرزا غلام احمد قادیانی پر لعنت بھیج کر اسلام قبول کر لیا۔ غلام مرتضیٰ کا والد برکت علی قادیانی تھا۔ پچھلے دنوں وہ فوت ہوا۔ تو اہل اسلام نے
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جنازہ پڑھنے اور مسلمانوں کے قبرستان میں تدفین سے منع کر دیا۔ غلام مرتضیٰ نے اسے جاکر پیلی والا میں قادیانیوں کے مرگھٹ میں دفن کر دیا۔ اللہ رب العزت نے کرم کیا۔ غلام مرتضیٰ کو عقل آگئی کہ اگر قادیانی ہوکر مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں ہو سکتے تو قادیانیت اختیار کرنے کا فائدہ کیا ہوا۔ دین و دنیا میں مسلمانوں سے علیحدہ ہوگئے ۔ اللہ تعالیٰ نے کرم کیا اور عبدالحکیم کی معروف مذہبی و سیاسی شخصیت جناب ڈاکٹر ظہور احمد صاحب نے سرتوڑ کوشش کی۔ چنانچہ ڈاکٹر ظہور احمد، مولانا عبدالرؤف قاسمی خطیب شہر کی موجودگی میں معززین کے اجتماع جس میں انتظامیہ کے حضرات بھی موجود تھے ۔ غلام مرتضیٰ نے علی الاعلان مرزا غلام احمد قادیانی پر لعنت اور قادیانیت سے تائب ہونے کا اعلان کر کے اسلام قبول کر لیا۔ فالحمد للہ ! اللہ تعالیٰ استقامت نصیب فرمائیں۔ آمین !
نبی سر روڈ کنری کے چوہدری بشیر احمد گورایہ کا قبول اسلام
نبی سر روڈ کے قریب واقع قادیانی اسٹیٹ احمد آباد کے چوہدری بشیر احمد گورایہ قادیانی نے قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کر لیا۔ چوہدری بشیر احمد اسی گوٹھ کے زمیندار پیشہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ کٹر قادیانی تھے۔ قادیانی جماعت کو سالانہ ساٹھ ہزار روپے چندہ دیتے تھے۔ ۲۴؍ جنوری ۲۰۰۳ء کو انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔ حضرت مولانا خان محمد کندھانی مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سندھ نے ان کے گھر جاکر انہیں مبارک باد پیش کی۔ چوہدری بشیر احمد صاحب نے مولانا کو اپنے قبول اسلام کا واقعہ یوں بتایا کہ عرصہ ہوا خواب میں میں نے بیت اللہ کی زیارت کی۔ بیدار ہوا تو حج پر جانے کے لئے طبیعت پر اثر تھا۔ گھر والوں سے ذکر کیا کہ میں حج کرنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی ہو کر تم حج پر کیسے جاسکتے ہو۔ دل میں گرہ پڑگئی کہ مکہ مکرمہ مرکز اسلام ہے۔ اگر قادیانیت کی وجہ سے وہاں نہیں جا سکتا تو قادیانیت کو گلے لگائے رکھنے کا فائدہ؟۔ عرصہ گزرتا رہا۔ حج کا خیال اور قادیانیت کو ترک کرنے کا ارادہ دھندلا پڑ گیا۔ گزشتہ حج درخواستوں کے موقعہ پر بینک گیا۔ حج درخواستوں کا بینر بینک کے دروازہ پر دیکھا تو طبیعت مچل گئی ۔ چنانچہ نبی سر روڈ کے خطیب حضرت مولانا علی محمد صاحب کے ہاتھ پر جمعہ کے روز اسلام قبول کر لیا اور قادیانیت کو جھوٹا قرار دے کر اس پر لعنت بھیجی۔ پچھلے دنوں وہاں ختم نبوت کانفرنس تھی ۔ حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کے روبرو اسٹیج پر اپنے مسلمان ہونے اور قادیانی کفر سے بیزاری کا اعلان کیا۔ اللہ رب العزت استقامت نصیب فرمائیں۔
میرپورخاص کے قادیانی محمد جاوید کا قبول اسلام
میرپورخاص کے بیس سالہ قادیانی محمد جاوید نے اسلام قبول کر لیا اور قادیانی کفر سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ناتہ توڑنے کا اعلان کیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ حضرت مولانا محمد علی صدیقی اور دیگر علمائے کرام سے جناب محمد جاوید صاحب کی کئی ملاقاتیں ہوئیں ۔ حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی سے بھی ان کا تبادلہ خیال ہوا۔ قادیانی کتب کے حوالہ جات دیکھ کر اللہ تعالیٰ کی عنایت کردہ توفیق سے جناب محمد جاوید صاحب نے قادیانیت پر چار حرف بھیج کر اسلام قبول کر لیا۔ فالحمد لله على ذلک !
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۰۳ء ص ۳۹، ۴۰)
ایک قادیانی کا قبول اسلام
کراچی (نمائندہ خصوصی ) حضرت محمد ﷺ کے مرزا غلام احمد قادیانی کی شکل میں ہندوستان میں دوبارہ پیدا ہونے کا عقیدہ اسلام کی بنیادوں کو منہدم کرنے کی انتہائی مذموم سازش ہے۔ ’’دو محمد رسول اللہ‘‘ کا عقیدہ رکھنے والے مسلمان نہیں ۔ شیخ ناصر احمد ولد ضیاء
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
الحق نے ۲۱؍اور ۲۳؍ فروری ۲۰۰۳ء کو دفتر ختم نبوت میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے امیر مولانا نذیر احمد تونسوی کے ہاتھ پر قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کر لیا۔ اس موقع پر انہوں نے حلفیہ اقرار کیا کہ حضرت محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں اور آپ ﷺ کے بعد تا قیامت کسی کو تشریعی، غیر تشریعی، ظلی، بروزی کسی بھی قسم کی نبوت نہیں ملے گی اور یہ جو شخص عقیدہ ختم نبوت کا انکار کرے یا دعویٰ نبوت کرے وہ کافر و مرتد اور خارج از اسلام ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ نبوت پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کذاب، دجال، کافر، مرتد اور زندیق تھا اور اپنے دعوائے مجددیت، مہدویت، مسیحیت، نبوت اور رسالت میں سراسر جھوٹا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات میرے ایمان کا حصہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام قیامت کے قریب آسمان سے نازل ہوں گے اور آنحضرت ﷺ کی شریعت کے مطابق بحیثیت خلیفہ کے امت محمدیہ کی رہنمائی فرمائیں گے۔ حضرت امام مہدی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے صحابی اور ان کے نزول سے قبل مسلمانوں کے خلیفہ ہوں گے، اس لئے مرزا غلام احمد قادیانی اپنے دعویٰ مسیحیت و مہدویت میں بالکل جھوٹا تھا اور اس کے یہ دونوں دعوے باطل ہیں۔ مولانا نذیر احمد تونسوی نے کہا کہ قادیانیت در حقیقت یہودیت کا چربہ ہے۔ قادیانی، زن، زر، زمین کا لالچ دے رہے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود کوئی مسلمان قادیانی نہیں بن رہا بلکہ اس کے برعکس آئے دن قادیانی قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کر رہے ہیں، جو اسلام کی حقانیت کی ایک روشن دلیل ہے۔ ۱۱؍ ستمبر کے واقعہ کے بعد سے دنیا بھر میں ہزاروں افراد نے اسلام قبول کیا ہے اور اسلام بلاشبہ اس وقت یورپ اور امریکہ میں سب سے زیادہ تیزی سے پھیلنے والا مذہب ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ قادیانیت کے خلاف پرامن جدوجہد آخری قادیانی کے مسلمان ہونے تک جاری رہے گی۔ اس موقع پر مفتی محمد جمیل خان، ہیومن خدمت فورم کے چیئرمین حاجی مسعود پاریکھ، اسٹوڈنٹس ویلفیئر آرگنائزیشن کے صدر قاری ہلال احمد ربانی، منظور احمد میو راجپوت ایڈووکیٹ، محمد انور، اطہر عظیم، خانقاہ زکریا عارفیہ ٹرسٹ کے چیئرمین مولانا نعیم امجد سلیمی بھی موجود تھے۔ دریں اثنا لودھیانوی ٹرسٹ کے سربراہ مولانا محمد طیب لودھیانوی نے نو مسلم شیخ ناصر احمد کو اسلام قبول کرنے پر خصوصی طور پر مبارک باد پیش کی اور دین پر استقامت کے لئے دعا کی اور ٹرسٹ کی جانب سے ہر قسم کی امداد کا یقین دلایا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۷ تا ۱۳؍ مارچ ۲۰۰۳ء ص ۲۳)
راجہ بیدار احمد خان ساکن بحالی ضلع مانسہرہ کا قبول اسلام
راجہ بیدار احمد خان ساکن بحالی ضلع مانسہرہ ولد راجہ محمد عمر صاحب نے کالج دور میں مرزائیت اختیار کی اور اپنی زندگی مرزائیت کے لئے وقف کر دی اور مرزائیت کے مبلغ کی حیثیت سے چالیس سال تک کام کرتے رہے۔ اللہ تعالیٰ کی توفیق اور دوستوں کی متعدد مرتبہ کی محنت نے راجہ بیدار احمد خان صاحب کو قادیانیت سے تائب ہونے کی توفیق عطا فرمائی۔
عید کے دن حضرت مولانا عبدالرشید صاحب مدظلہ خطیب جامع مسجد بحالی راجہ بیدار صاحب کے گھر گئے اور مرزائیت کی حقیقت ان پر واضح کی اور ان سے درخواست کی کہ ان کے عقائد کی وجہ سے کوئی شخص بھی اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہہ سکتا اور صرف ایک شخص کی وجہ سے پچھلے پانچ سال سے پورا گاؤں شدید قسم کے اختلافات کا شکار ہے۔ لہٰذا آپ اپنے عقائد و نظریات پر نظر ثانی فرمائیں۔ راجہ بیدار صاحب کہنے لگے کہ میں حضور ﷺ کو آخری نبی مانتا ہوں اور حضور ﷺ کے بعد کسی بھی شخص کو کسی قسم کا نبی نہیں مانتا۔ مولانا عبدالرشید صاحب نے فرمایا کہ آپ لاہوری قادیانیوں سے تعلق رکھتے ہیں جو مرزا غلام احمد قادیانی کو مسیح موعود، مہدی، مجدد مانتے ہیں۔ اس لئے آپ کو اس بات کا اقرار کرنا پڑے گا کہ آپ مرزا غلام احمد قادیانی کو کافر سمجھتے ہیں اور جو شخص مرزا غلام احمد قادیانی کو مسیح موعود، مہدی، مجدد یا
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مسلمان سمجھے وہ بھی کافر ہوتا ہے۔ راجہ صاحب نے سوچنے کے لئے تھوڑا سا وقت مانگا۔ عید کے تیسرے دن راجہ بیدار صاحب نے مسجد میں پیغام بھیجا کہ میں مسلمان ہونا چاہتا ہوں اور مرزا غلام احمد قادیانی پر لعنت بھیجتا ہوں۔
راجہ بیدار احمد صاحب کو پیغام بھیجا گیا کہ آپ بعد از نماز مغرب مسجد میں تشریف لے آئیں تا کہ پورے گاؤں کے سامنے آپ سے حلف نامہ لیا جاسکے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع مانسہرہ کے علماء کرام کا ایک وفد حضرت مولانا قاضی رفیق الرحمن قمر صاحب مدظلہ کی قیادت میں بعد از نماز عصر بحالی کے لئے روانہ ہوا۔ بحالی پہنچنے کے بعد قاضی رفیق الرحمن صاحب نے مسجد میں لاؤڈ سپیکر پر اعلان کیا کہ تمام گاؤں والوں کو اطلاع کی جاتی ہے کہ راجہ بیدار احمد مسلمان ہونے کے لئے مسجد میں تشریف لا رہے ہیں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا نمائندہ وفد آچکا ہے۔ آپ سب حضرات مسجد میں تشریف لاویں۔
بعد نماز مغرب بحالی کی مسجد گاؤں کے تمام مردوں اور بچوں سے بھری ہوئی تھی۔ راجہ بیدار صاحب تشریف لائے تو حضرت مولانا عبدالرشید صاحب مسجد میں خطاب فرما رہے تھے۔ تمام لوگوں نے کھڑے ہو کر استقبال کیا اور تاج وتخت ختم نبوت زندہ باد کے نعروں سے مسجد گونج اٹھی۔ راجہ بیدار صاحب کو بٹھا کر ایک حلف نامہ ترتیب دیا گیا۔ حضرت مولانا رفیق الرحمن قمر سپیکر پر تشریف لائے اور لوگوں کو مسئلہ ختم نبوت کے متعلق سمجھایا اور راجہ بیدار صاحب کو سٹیج پر آنے کی دعوت دی۔ راجہ بیدار صاحب نے حلف نامہ سب لوگوں کے سامنے لاؤڈ سپیکر پر پڑھ کر سنایا۔ حضرت مولانا رفیق الرحمن قمر صاحب نے اس حلف نامے پر سب کے سامنے اس سے دستخط لئے۔ حلف نامہ یہ ہے:
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
میں مسمی راجہ بیدار خان ولد صوبیدار راجہ محمد عمر خان بحالی ضلع مانسہرہ کا رہائشی ہوں۔ میں حضور ﷺ جن کا نام نامی اسم گرامی محمد ﷺ کی نبوت جو کہ ختم نبوت ہے اسے مانتا ہوں۔ یعنی آپ کے بعد کسی نبی، رسول، ظلی، بروز، تشریعی، غیر تشریعی کو نہیں مانتا۔ آپ ﷺ کو آخری نبی مانتا ہوں۔ آپ ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والے کو دائرہ اسلام سے خارج یعنی کافر مانتا ہوں۔ نیز دعویٰ نبوت کرنے والے مرزا غلام احمد قادیانی ولد مرزا غلام مرتضیٰ ساکن قادیان ضلع گورداسپور ہندوستان کو نہ ہی نبی مانتا ہوں اور نہ مسیح موعود، مہدی، مجدد اور نہ ظلی بروزی نبی مانتا ہوں۔ مسیح موعود، مہدی، مجدد ماننے والوں (لاہوری وقادیانی مرزائیوں) کو بھی اسی طرح کافر سمجھتا ہوں جس طرح اسے نبی ماننے والوں کو۔ کیونکہ جو نبوت کا دعویٰ کرے کافر ہو جاتا ہے اور کافر مہدی مجدد نہیں ہو سکتا۔ آج کے بعد ان سے کسی قسم کے تعلق کو نہیں رکھوں گا۔ خواہ لاہوری ہوں یا قادیانی سب کافر ہیں۔
دستخط : راجہ محمد بیدار خان
- گواہ نمبر۱...... حاجی رفیق الرحمن قمر صدر متحدہ مجلس عمل مانسہرہ
- گواہ نمبر۲...... عبدالرؤف رونی صدر مجلس عمل تحفظ ختم نبوت مانسہرہ
- گواہ نمبر۳...... حضرت مولانا عبدالرشید خطیب جامع مسجد بحالی مانسہرہ
حلف نامہ پر دستخط کرنے کے بعد راجہ بیدار صاحب کو ہار پہنائے گئے اور مٹھائی تقسیم کی گئی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے حضرت مولانا رفیق الرحمن قمر صاحب نے مجلس تحفظ ختم نبوت کی شائع کردہ کتب کا سیٹ تحفتاً راجہ بیدار صاحب کو دیا۔ اس کے بعد اختتامی دعا کے بعد پروگرام ختم کر دیا گیا۔ راجہ بیدار صاحب کو حضرت مولانا رفیق الرحمن قمر صاحب نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت یوتھ فورس کی جانب سے چائے کی دعوت دی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۰۳ء ص ۳۶ تا ۳۸)
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ایک قادیانی کا قبول اسلام
سکھر (نمائندہ خصوصی) گزشتہ دنوں ایک قادیانی نعمت اللہ ولد احمد بخش عرف شیر احمد نے قاری خلیل احمد کے ہاتھ پر اسلام قبول کرلیا، اس موقع پر اس نے ایک حلفیہ بیان کے ذریعہ اقرار کیا کہ اب جب کہ اس نے دین اسلام کا مطالعہ کیا تو اسے قادیانی مذہب کے بارے میں مکمل وضاحت حاصل ہوگئیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھ پر واضح ہوگیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے پیروکار دعویٰ نبوت کرنے کی وجہ سے دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ میں خالصتاً حضرت محمد ﷺ کو آخری نبی مانتا ہوں اور یہ کہ آپ کے بعد جو بھی نبوت کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا، دجال اور کذاب ہوگا۔ میرا آج سے قادیانی گروپ سے یا لاہوری گروپ سے کسی قسم کا واسطہ اور تعلق نہیں ہے۔ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے آج سے پکا سچا مسلمان ہوں۔ اس موقع پر آغا سید محمد شاہ، مولانا محمد حسین ناصر ۔ حاجی رشید احمد، حق نواز، عبدالرحمن، صدر الدین اور محمد رضوان بھی موجود تھے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۶ تا ۲۲ مئی ۲۰۰۳ء ص ۲۵، ۲۶)
جسٹس چوہدری اعجاز یوسف کو مبارک باد
بلوچستان کے ممتاز علماء کرام جامع مسجد مرکزی کے خطیب مولانا انوارالحق حقانی، مجلس تحفظ ختم نبوت بلوچستان کے امیر، جامع مسجد قندھاری کے خطیب مولانا عبدالواحد، جامع مسجد سنہری کے خطیب مولانا عبدالمنیر، جامع مسجد سیٹلائٹ ٹاؤن کے خطیب مولانا قاری عبدالرحیم رحیمی، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا عبدالعزیز جتوئی اور جامع مسجد سراج کے خطیب مولانا محمد شفیع نیاز نے مشترکہ بیان میں پاکستان شریعت کورٹ کے چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالنے پر جسٹس چوہدری اعجاز یوسف کو مبارک باد دی۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ موصوف بلوچستان کے معزز گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے اس منصب جلیلہ پر فائز ہونے سے صوبے کے وقار میں اضافہ ہوا ہے۔ بلوچستان کے عوام بالخصوص علماء اور دینی حلقوں کو انتہاء مسرت ہوئی ہے۔ امید ہے کہ اس منصب جلیلہ پر فائز ہوکر موصوف دین اسلام کی سربلندی، ملک کے اساسی نظریہ اسلام حق وانصاف کے فروغ کے لئے کام کریں گے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۰۳ء ص ۵۰)
داتہ کے رہائشی محمد فاروق نے قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کرلیا
تفصیلات کے مطابق قادیانیت کے پیروکار محمد فاروق ولد عبدالغفور جو فیصل آباد سے تعلق رکھتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل داتہ مانسہرہ میں آگیا اور یہاں شادی کر لی۔ ۲۷؍ جون ۲۰۰۳ء کو حسن علی شاہ کی کاوشوں سے قادیانیت سے توبہ تائب ہو کر اسلام قبول کر لیا۔ دائرہ اسلام میں داخل ہونے کے بعد بتایا کہ میں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے اسلام قبول کرنے کی توفیق بخشی۔ خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ خدا کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ ان کے بعد جو بھی شخص دعویٰ نبوت کرے گا وہ جھوٹا، کذاب، دجال اور کافر ہے۔ محمد فاروق نے کہا کہ مرزائی خواہ احمدی کہلائیں یا لاہوری وقادیانی ان کی ہر قسم کو میں کافر سمجھتا ہوں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر ہیں اور زندہ ہیں۔ قرب قیامت کے ساتھ ہی دنیا میں ان کا ظہور ہوگا۔ محمد فاروق نے کہا کہ میں نے کسی بھی قسم کے دباؤ کے بغیر اسلام قبول کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ مجھے اس میں استقامت نصیب کریں۔ آمین !
چناب نگر کی مبلغہ نے قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کرلیا
تفصیلات کے مطابق چناب نگر میں قادیانی مبلغہ نے مرزائیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کرلیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت چناب
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نگر کے مبلغ حضرت مولانا غلام مصطفیٰ نے ایک خصوصی گفتگو میں بتایا کہ گزشتہ روز ایک قادیانی مبلغہ رفعت ناز چناب نگر کے محلہ بشیر آباد میں رہائش پذیر ہے نے قادیانیت سے تائب ہو کر جامع مسجد ختم نبوت مسلم کالونی کے خطیب حضرت مولانا غلام مصطفیٰ کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا۔ حضرت مولانا غلام مصطفیٰ صاحب نے کہا کہ اس نے دین اسلام کی تبلیغ سے متاثر ہو کر اپنے باطل اور جھوٹے مذہب کے پیشواؤں کو چھوڑ کر اسلام قبول کر لیا ہے اور دوسری قادیانی مبلغاؤں کو بھی دعوت اسلام دی ہے۔ حضرت مولانا غلام مصطفیٰ صاحب نے ایک مسلمان کے ساتھ اس کا نکاح کر دیا ہے۔ یہ خبر سن کر علاقہ کے مسلمانوں نے مٹھائی تقسیم کی اور خوشی کا اظہار کیا اس خبر سے چناب نگر کے گردونواح کے قادیانیوں میں مایوسی پھیل گئی ہے۔ مذکورہ مبلغہ نے کہا ہے کہ تمام قادیانیوں کو میرا مخلصانہ مشورہ ہے کہ قادیانی اپنے باطل مذہب کو چھوڑ کر اسلام کی حقانیت اور مسئلہ ختم نبوت پر ایمان لا کر اپنے آپ کو جہنم کا ایندھن بننے سے بچالیں۔ اب چناب نگر جو کہ پاکستان میں قادیانیت کا ہیڈکوارٹر ہے اس میں بھی دراڑیں پڑ چکی ہیں اور قادیانی دین اسلام کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔ حضرت مولانا غلام مصطفیٰ صاحب نے تمام قادیانیوں سے کہا ہے کہ وہ اس سے سبق سیکھ کر حلقہ بگوش اسلام ہو جائیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۰۳ء ص ۵۲، ۵۳)
چناب نگر میں قادیانی باپ بیٹے کا قبول اسلام
جرمنی کے نومسلم ہونے والے سابق قادیانی شیخ راحیل احمد نے اسلام قبول کرنے کے اقدام سے متاثر ہو کر چناب نگر کے دو قادیانی باپ بیٹے ارجمند احمد خان اور شہزاد احمد خان نے قادیانیت پر لعنت بھیج کر اسلام قبول کر لیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۰۳ء ص ۵۵)
قادیانی کا قبول اسلام
چار چک رسالہ شرقپور ضلع شیخوپورہ کے قادیانی فلک شیر ولد دوست محمد نے اسلام کی حقانیت سے متاثر ہو کر اسلام قبول کر لیا اور آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی پر لعنت بھیجی۔ انہوں نے جامعہ اسلامیہ تعلیم القرآن جلالپور بھٹیاں کے مہتمم مولانا عابد الرحمن کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ اس موقع پر مولانا قاری محمد الہی، مولانا محمد فیاض اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ کے مبلغ مولانا فقیر اللہ اختر بھی موجود تھے۔ ان حضرات نے مولانا فقیر اللہ اختر کی کاوشوں کو سراہا۔ یہ یاد رہے کہ فلک شیر حافظ آباد کی ایک مل میں ملازم ہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۰۳ء ص ۵۴)
طارق احمد قادیانی کا قبول اسلام
مسمی طارق احمد ولد ارشاد احمد جو کہ قادیانی تھا، اس نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ شیخ المشائخ خواجہ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم کے ہاتھ پر جامع مسجد گول سیٹلائٹ ٹاؤن کوئٹہ میں کثیر حاضرین کی موجودگی میں مرزا غلام احمد قادیانی ملعون و کذاب پر لعنت بھیج کر اسلام قبول کیا۔ طارق احمد نے کہا کہ میں نے اپنی خوشی رضا و رغبت سے بغیر کسی جبر و اکراہ کے اسلام قبول کیا ہے اور میں مسلمان ہو کر بڑی خوشی محسوس کرتا ہوں اور تمام قادیانیوں کو بھی دعوت اسلام دیتا ہوں۔ امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم، حضرت مولانا عبدالرحیم رحیمی، حضرت مولانا عبدالعزیز جتوئی، حضرت قاری عبداللہ منیر دیگر علماء کرام اور حاضرین مجلس نے نومسلم کو مبارک باد دی اور استقامت کے لئے دعا فرمائی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
غلام احمد قادیانی کا اپنے خاندان سمیت قبول اسلام
غلام احمد ولد شاہ محمد آف چھوکر خورد نے اپنے بیٹے شہباز احمد سمیت پورے گھرانے نے اسلام قبول کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق حافظ محمد طیب صاحب کی کاوشوں سے غلام احمد بمع اپنے گھرانے کے قادیانیت سے تائب ہوکر اسلام میں داخل ہوگیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ حضرت مولانا محمد طیب فاروقی نے تجدید ایمان کرایا۔ بعدازاں محترم غلام احمد نے پوری قادیانی جماعت کو اسلام کی دعوت دی اور کہا کہ قادیانی مذہب دجل و فریب اور قادیانی جماعت کے سربراہوں کی عیاشی اور دھوکہ دہی کا نام ہے اور مرزا غلام احمد قادیانی دجال وملعون لعنتی اور بدکردار تھا اور مزید کہا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ساتھ مل کر پوری امت عقیدہ ختم نبوت اور منکرین ختم نبوت کا تعاقب کرے۔ بعدازاں بزرگ شخصیت حافظ منظور احمد صاحب نے مبارک باد دیتے ہوئے دعائے استقامت کرائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۰۳ء ص ۵۵)
حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی کا دورہ قصور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی ضلع قصور کے تین روزہ تبلیغی دورہ پر تشریف لائے۔
۲۴؍ جنوری ۲۰۰۳ء کو پہلا خطاب اسامہ پبلک ہائی اسکول پرنسپل چوہدری عبدالجبار صاحب کے ہاں طلبہ اور طالبات سے کیا۔
دوسرا پروگرام پاکستان ماڈل ہائی اسکول بوائز اور گرلز قصور میں طالب علموں، طالبات استادوں اور استانیوں سے پرنسپل چوہدری محمد طفیل صاحب بلوچ کی صدارت میں ہوا۔
تیسرا پروگرام پنجاب سکالرز ہائی اسکول پرنسپل چوہدری بلال احمد صاحب کی صدارت میں ہوا۔ بعدازاں ضلع قصور پہنچنے پر قاری محمد طاہر مہتمم مدرسہ تعلیم القرآن کے طلبہ اور اساتذہ کرام نے وفد کا شاندار استقبال کیا۔ حضرت طوفانی نے خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔
پانچواں پروگرام صادق میموریل ہائی اسکول کھڈیاں میں پرنسپل چوہدری خالد محمود صاحب اور وائس پرنسپل محمد ارشد صاحب سٹاف اور طلباء سمیت پرجوش طریقے سے استقبال اور اکابر کی آمد پر خوش آمدید کہا۔ چھٹا پروگرام کھڈیاں مدرسہ تعلیم القرآن للبنات میں تقریباً ۴۰۰ طالبات عالمہ کا کورس کررہی ہیں وہاں خطاب کیا۔ ساتواں پروگرام ختم نبوت کانفرنس، جامع مسجد علی المرتضیٰ قصور میں ہوا۔ مولانا عبدالرزاق مجاہد، قاری مشتاق احمد رحیمی اور طلباء نے بڑی محنت سے کانفرنس کروائی۔ صدارت قاری مشتاق احمد رحیمی نے کی۔ سٹیج سیکرٹری مولانا عبدالرزاق مجاہد اور تفصیلی خطاب حضرت طوفانی صاحب کا ہوا۔ تقریباً ایک دن میں سات پروگرام ہوئے۔
۲۵؍ جنوری پہلا پروگرام علامہ اقبال کالج، بوائز ہائی اسکول، علامہ اقبال گرلز ہائی اسکول میں سینکڑوں کی تعداد میں سٹاف پرنسپل چوہدری محمد عاشق صاحب کی موجودگی اور مولانا عبدالرزاق نے تعارف کرایا۔ حضرت طوفانی کا خطاب ہوا۔ دوسرا پروگرام ۱۱ بجے دن ایک گھر میں نوجوان، بزرگوں سے حضرت طوفانی کا خطاب ہوا۔ تیسرا پروگرام ڈگری کالج قصور میں ہوا۔ چوتھا پروگرام مون سٹار پبلک ہائی اسکول چوہدری حافظ محمد طارق پرنسپل اور مون سٹار گرلز ہائی سکول میں پرنسپل چوہدری حافظ بشارت نے تعارف کرایا۔ حضرت طوفانی کا شاندار خطاب ہوا۔ چھٹا پروگرام بعد نماز عشاء جامع مسجد بلال بیرون کوٹ فتح دین میں قاری محمد اجمل کی صدارت میں مولانا عبدالرزاق مجاہد اور حضرت طوفانی صاحب کا خطاب ہوا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۲۶؍جنوری پہلا پروگرام تعمیر وطن ہائی سکول قصور پرنسپل پرویز سلمان کی صدارت میں مولانا محمد اکرم طوفانی کا خطاب ہوا۔ دوسرا پروگرام دی پنجاب ہائی اسکول زیر صدارت پرنسپل محمد اکبر صاحب ہوا۔ تیسرا پروگرام دی پنجاب ماڈل ہائی سکول کے پہنچنے پر آنے والے وفد کا پرنسپل چوہدری محمد خالد ڈوگر نے اساتذہ سمیت شاندار استقبال کیا۔ اور خود اپنے پروگراموں پر جانے کے لئے اپنے آپ کو پیش کرنے کو کہا۔ چوتھا پروگرام الشمس پبلک ہائی اسکول میں وفد کے پہنچنے پر چوہدری عبدالغفور ڈوگر صاحب کی زیر نگرانی طلباء سے مولانا طوفانی کا خطاب ہوا۔ پانچواں پروگرام جامعہ رحمانیہ الہ آباد میں ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ مفتی عبدالعزیز غزنوی کی صدارت میں مولانا عبدالرزاق مجاہد مولانا محمد اکرم طوفانی کا مثالی خطاب ہوا۔ چھٹا پروگرام جامعہ رحمانیہ للبنات میں خطاب ہوا۔
خلاصہ کلام! تمام سکولوں کے پرنسپل اور سٹافوں نے شاندار استقبال اور اکرام کیا اور قومی اسمبلی کی کارروائی والی کتاب تحفہ میں دی گئی اور مجلس کا لٹریچر آفسوں میں دیا گیا تا کہ اساتذہ کے ذریعہ طلباء اور طالبات اور ٹیچروں میں تقسیم کیا جائے گا۔ ہزاروں طلباء وطالبات سے اس بات کو دہرایا گیا کہ حضور ﷺ آخری نبی ہیں۔ حضور ﷺ کے بعد مدعی نبوت جھوٹا کذاب دجال کافر ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کافر ہے۔ تمام پروگراموں میں مجلس تحفظ ختم نبوت قصور کے خزانچی میاں معصوم انصاری اور چوہدری ماسٹر عبدالجبار باری اور مولانا عبدالرزاق مجاہد صاحبان مولانا محمد اکرم طوفانی کے ساتھ رہے۔ قصور شہر میں میزبانی کا شرف میاں معصوم انصاری نے حاصل کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۳ء ص ۵۱، ۵۲)
ختم نبوت کانفرنس ملتان
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۴؍اپریل ۲۰۰۳ء کو قلعہ کہنہ قاسم باغ میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس کی صدارت قائد تحریک ختم نبوت مولانا خواجہ خان محمد نے کی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے متحدہ مجلس عمل کے سربراہ علامہ شاہ احمد نورانی نے کہا کہ قادیانی ملت اسلامیہ کے غداروں کا گروہ ہے۔ جن کی ہمدردیاں ہمیشہ استعمار اور اس کے ایجنٹوں کے ساتھ رہی ہیں۔ امت مسلمہ کے تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام اور مشائخ عظام نے ایک سو سال سے زیادہ عرصہ قادیانیت کا مقابلہ کیا ہے۔ اس طویل ترین جدوجہد میں ہزاروں مسلمانوں نے اپنی جانیں رحمت دوعالم ﷺ کی عزت و آبرو اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے نچھاور کیں۔
۱۹۷۴ء میں ہم نے مولانا محمد یوسف بنوری، مولانا مفتی محمود، مولانا عبدالحق، مولانا عبدالمصطفیٰ الازہری، اور دیگر علمائے کرام کے ساتھ مل کر تحریک چلائی جس کے نتیجہ میں قادیانیوں کو طویل بحث کے بعد غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ انہوں نے کہا آج ۱۹۷۴ء والے جذبہ کے ساتھ قادیانیت کا تعاقب کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے تحفظ ختم نبوت کے سلسلہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ان سینکڑوں علمائے کرام کے مشن اور ہزاروں شہداء کی قربانیوں کی امین ہے۔ انہوں نے کہا ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت کی کامیابی کے بعد ۲۳؍اسلامی ممالک نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ جب کہ ۱۲؍اسلامی ممالک نے اپنے ہاں قادیانیوں کا داخلہ بند کردیا۔ درجن بھر ہائیکورٹوں، وفاقی شرعی عدالت، شریعت اپیلانٹ بینچ اور سپریم کورٹ سے پے در پے شکستوں کے بعد قادیانیوں نے اپنی حکمت عملی تبدیل کردی ہے۔ وہ اپنے بیرونی آقاؤں کے دباؤ سے ختم نبوت سے متعلق فیصلوں کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ ۱۹۷۴ء کا آئین ختم ہوجائے تا کہ ان کے خلاف آئینی ترمیم بھی ختم ہوسکے۔ جنرل پرویز مشرف کا ایل او ایف قادیانی ایجنڈے کی تکمیل ہے۔ جب آئین متنازع ہو جائے گا تو اسے ختم کرنا آسان ہوگا۔ اسی وجہ سے ہم ان کا
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ایجنڈا نہیں مانتے۔
جمعیت علمائے اسلام کے جنرل سیکرٹری مولانا فضل الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہود ونصاریٰ سمیت تمام کفریہ طاقتیں ملت واحدہ بن چکی ہیں۔ جب کہ اسلامی ممالک کے حکمران ملت واحدہ بننے سے ہچکچا رہے ہیں جن کی وجہ سے مسلم امہ مصائب کا شکار ہے۔ اقتدار کے پجاری حکمران امت مسلمہ کی وحدت کو پارہ پارہ کر رہے ہیں۔ اگر مسلم حکمران تیل کا ہتھیار استعمال کریں اور مسلم عوام امریکی و برطانوی اور یہودی مصنوعات کا بائیکاٹ کردیں تو ان کی اقتصادیات کا بھٹہ بٹھا سکتے ہیں۔ اگر پاکستان کے مسلمان پیپسی، کوک اور سیون اپ وغیرہ چھوڑ دیں تو انہیں یومیہ پندرہ کروڑ روپے کا نقصان ہوگا، جس سے ان کی معیشت بیٹھ جائے گی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ امریکی، برطانوی، یہودی اور قادیانی مصنوعات کا بائیکاٹ کر کے حمیت اسلامی کا ثبوت دیں۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی شوریٰ کے رکن علامہ مولانا سید عبدالمجید ندیم شاہ صاحب نے کہا تحریک ختم نبوت کی بنیاد سیدنا صدیق اکبر نے رکھی۔ سیدنا صدیق اکبر نے مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی کو قتل کرا کر بتلا دیا کہ مدعی نبوت کی سزا صرف اور صرف سزائے موت ہے۔
متحدہ مجلس عمل کے ڈپٹی سیکرٹری حافظ حسین احمد نے کہا کہ جب ہم آئین پاکستان کے تحفظ کی بات کرتے ہیں تو ہماری ترجیحات اسلامی دفعات، عقیدہ ختم نبوت اور ناموس رسالت کا تحفظ ہوتا ہے۔ جنرل پرویز مشرف کے ایل۔ایف۔او سے پاکستان کی بقا، قومی تشخص اور وحدت کا شیرازہ بکھرنے کا خطرہ ہے۔ کیونکہ آئین پاکستان چاروں صوبوں، قبائلی علاقوں، مختلف تہذیبوں، اور علاقوں کو ایک قوم بناتا ہے۔ اگر فرد واحد کو ترمیم کا اختیار دے دیا جائے تو آنے والے حالات میں ایک ڈکٹیٹر پورا آئین معطل کر سکتا ہے۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا اللہ وسایا نے کہا کہ جس طرح سقوط ڈھاکہ میں قادیانیوں کا گھناؤنا کردار رہا ہے اسی طرح آج امریکی اور برطانوی افواج میں تل ابیب اسرائیل سے آئے ہوئے قادیانی سقوط بغداد کے لئے اسلام دشمنی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
کانفرنس سے مولانا مفتی محمد جمیل خان، مولانا محمد اکرم طوفانی، علامہ خالد محمود ندیم، مولانا علامہ عبدالستار تونسوی، مولانا قاضی احسان احمد، مولانا بشیر احمد، مولانا امام الدین قریشی، مولانا قاری کامران احمد حیدر آباد، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا محمد قاسم رحمانی، علامہ عبدالحق مجاہد، مولانا غلام مصطفیٰ، مولانا عبدالرزاق، مولانا عبدالستار حیدری سمیت کئی علمائے کرام نے خطاب کیا۔ کانفرنس کا اختتام عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر شیخ المشائخ خواجہ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ کی دعاء پر ہوا۔
متحدہ مجلس عمل کے قائدین کا استقبالیہ
متحدہ مجلس عمل کے رہنماؤں علامہ شاہ احمد نورانی، مولانا فضل الرحمن اور لیاقت بلوچ کے اعزاز میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر میں استقبالیہ دیا گیا جس کی صدارت قائد تحریک ختم نبوت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم نے کی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما حضرت مولانا سید عبدالمجید ندیم شاہ نے خطبہ استقبالیہ میں متحدہ مجلس عمل کے رہنماؤں کی تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں عظیم الشان خدمات پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اس توقع کا اظہار کیا کہ علامہ شاہ احمد نورانی سینٹ میں، مولانا فضل الرحمن جناب لیاقت بلوچ سمیت ایم ایم اے کے دوسرے رہنما قومی اسمبلی میں تحفظ ختم نبوت اور تردید قادیانیت کے سلسلہ میں اپنی بہترین صلاحیتیں
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بروئے کار لا کر امت مسلمہ کی ترجمانی کریں گے۔ انہوں نے عراق کے مسئلہ سے متعلق متحدہ مجلس عمل کی کارکردگی کی تعریف و توصیف کرتے ہوئے یقین دلایا کہ اس سلسلہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت آپ کے شانہ بشانہ ہوگی۔
علامہ شاہ احمد نورانی نے کہا کہ قادیانی یہود و ہنود کے ایجنٹ، عالمی استعمار کے گماشتے، امریکہ و برطانیہ کے مفادات کے محافظ ہیں۔ آستین کے سانپوں سے ملت اسلامیہ کا تحفظ وقت کی آرزو ہے۔ مولانا نے کہا کہ قادیانیت کی سرگرمیوں کو ایوان بالا میں بے نقاب کرتے رہیں گے۔ مولانا فضل الرحمن نے استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت، گستاخ رسول کی سزا کا قانون، حدود آرڈیننس، امتناع قادیانیت آرڈیننس سمیت اسلامائزیشن کے قوانین کا تحفظ ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ ہماری موجودگی میں اسلامائزیشن کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔ ہم اسمبلی کے اندر اور باہر باطل کے تعاقب کرتے رہیں گے۔
جناب لیاقت بلوچ ایم۔این۔اے نے کہا کہ دنیائے اسلام کی ذلت ورسوائی کا سبب مسلمان حکمرانوں کی امریکہ نوازی، مسئلہ جہاد سے روگردانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکمران افغانستان میں طالبان کے خلاف اپنے کندھے پیش نہ کرتے تو آج امریکہ کو عراق پر چڑھائی کی جرأت نہ ہوتی۔
مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے کہا پرویز مشرف قادیانی زبان بول کر اپنے آقاؤں کو خوش کرتے رہے ہیں۔ تقریب میں سردار محمد خان لغاری، قاری زوار بہادر، مولانا سید عبدالمجید ندیم، انتظار محمد قریشی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، ڈاکٹر محمد عارف خان، صاحبزادہ عزیز احمد صاحب، صاحبزادہ خلیل احمد، صاحبزادہ سعید احمد، مولانا بشیر احمد، مولانا عبدالحکیم نعمانی، مولانا غلام مصطفیٰ، مولانا محمد طیب فاروقی، حافظ احمد بخش، مولانا امام الدین قریشی، مولانا فقیر اللہ اختر، مولانا قاضی احسان احمد، رانا محمد طفیل جاوید، قاری حفیظ اللہ، قاری خادم حسین، مولانا محمد اسحاق ساقی سمیت کئی ایک حضرات نے شرکت کی۔ بعد ازاں متحدہ مجلس عمل کے رہنماؤں نے عظیم الشان ختم نبوت لائبریری کا معائنہ کیا اور تحفظ ختم نبوت کے سلسلہ میں مجلس کی خدمات کو سراہتے ہوئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۳ء ص ۴۱ تا ۴۵)
ختم نبوت کانفرنس گمبٹ
۱۰؍ اپریل ۲۰۰۳ء جمعرات بعد از عشاء چوک فاروق اعظم گمبٹ میں عظیم الشان سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گمبٹ کے امیر حضرت مولانا حکیم عبدالواحد نے صدارت کے فرائض سرانجام دیئے۔ سندھ کے نامور قاری، ہزاروں قراء کے استاذ حضرت قاری محمد علی مدنی نے لحن داؤدی سے تلاوت کلام پاک فرمائی۔
جمعیت علمائے اسلام کے ممتاز رہنما، استاذ العلماء حضرت مولانا میر محمد میرک، خطیب خوش الحان حضرت مولانا حافظ خادم حسین شرّ بلوچ، خطیب سندھ اسلامیان سندھ کے دلوں کی دھڑکن حضرت مولانا عبدالحمید لنڈ، مولانا محمد ارشد مدنی، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بزرگ رہنما حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی، حضرت مولانا اللہ وسایا کے خطابات ہوئے۔
سیکورٹی سپاہ فاروق اعظم خیر پور کے باوردی رضا کاروں نے انجام دی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا خان محمد کندھانی نے اسٹیج سیکرٹری کے فرائض سرانجام دیئے۔ نعت حاجی امداد اللہ نے پیش کی۔ رات دو بجے کانفرنس بخیروخوبی اختتام پذیر ہوئی۔ حضرت
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مولانا نعمت اللہ، محترم شیخ عبدالسمیع ، محترم ڈاکٹر عبدالرحمن کی زیرنگرانی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے تمام رفقاء نے کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لئے سرتوڑ کوشش کی۔ حق تعالیٰ ان سب کو اپنی مرضیات پر عمل کی توفیق نصیب فرمائیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۳ء ص ۴۸)
ختم نبوت کانفرنس ٹنڈوآدم
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ٹنڈوآدم کے زیراہتمام سالانہ ختم نبوت کانفرنس جامع مسجد ختم نبوت میں ۱۱؍اپریل ۲۰۰۳ء جمعہ کو منعقد ہوئی۔ جمعہ سے قبل حیدرآباد کے مبلغ حضرت مولانا نذر نے خطاب فرمایا۔ خطبہ جمعہ اور امامت کے فرائض مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے انجام دیئے۔
جمعہ کے بعد کنری کے مبلغ حضرت مولانا خان محمد کندھانی کا سندھی زبان میں بیان ہوا۔ عصر کی نماز کے بعد ٹنڈوآدم کالج کے پروفیسر حضرت مولانا مفتی حفیظ الرحمن صاحب کا عقیدہ ختم نبوت پر جامع بیان ہوا۔ اور سوالات و جوابات کی محفل سے خطاب فرمایا۔ عشاء کی نماز کے بعد آخری اجلاس منعقد ہوا۔ تلاوت کے بعد افتتاحی بیان حضرت مولانا احمد میاں حمادی کا ہوا۔ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی کے صاحبزادے حضرت مولانا سعید احمد ، حضرت مولانا نذیراحمد تونسوی، گلارچی کے مبلغ حضرت مولانا محمد علی صدیقی، حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی، ماہنامہ لولاک کے ایڈیٹر محترم صاحبزادہ طارق محمود، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری، حضرت مولانا اللہ وسایا کے بیانات ہوئے۔ رات گئے تک کانفرنس اختتام پذیر ہوئی۔ ٹنڈوآدم کے مبلغ مولانا محمد ارشد مدنی نے اسٹیج سیکرٹری کے فرائض سرانجام دیئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۳ء ص ۴۹)
ختم نبوت کانفرنس کنری
۱۳؍اپریل ۲۰۰۳ء بروز اتوار بعد از عشاء زیرصدارت میاں عبدالواحد ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت کنری بخاری مسجد میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری، حضرت مولانا احمد میاں حمادی، حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی، شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا، حضرت مولانا محمد علی صدیقی، حضرت مولانا خان محمد کندھانی کے خطابات ہوئے۔ حضرت مولانا محمد منشاء، حضرت مولانا امان اللہ صاحب، ماسٹر عبدالرشید، سہیل احمد، محمد ریاض، مبشر قلندر، محمد حنیف مغل، محمد ندیم اور دوسرے رفقاء نے کانفرنس کی کامیابی کے لئے بھرپور محنت کی۔ رات گئے کانفرنس بخیروخوبی اختتام پذیر ہوئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۳ء ص ۴۹)
ختم نبوت کانفرنس حیدرآباد
۱۴؍اپریل ۲۰۰۳ء بروز پیر بعد از نماز عشاء جامع مسجد ابراہیم خلیل اللہ ہیرآباد حیدرآباد میں ختم نبوت کانفرنس حضرت مولانا عبدالسلام کی زیرصدارت منعقد ہوئی۔ تلاوت قاری ندیم احمد نے کی۔ حافظ عبدالرحیم قریشی، ماسٹر حبیب احمد قادری نے نعت پیش کی۔ حضرت مولانا محمد علی صدیقی، حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی، حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری اور حضرت مولانا مفتی عتیق الرحمن، استاذ الحدیث جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کے بیانات ہوئے۔ جناب محمد اکرم قریشی، محمد عابد قریشی، جناب محمد ناصر، مولانا عبدالمتین قریشی، مولانا سیف الرحمن ارائیں نے کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لئے بھرپور جدوجہد کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۳ء ص ۵۰)
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس شادی پلی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت شادی پلی ضلع میر پور خاص سندھ میں ۱۵؍اپریل ۲۰۰۳ء کو ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس سے مولانا مفتی حفیظ الرحمن، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد علی صدیقی اور مولانا خان محمد کندھانی نے خطاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۳ء ص ۵۰)
ختم نبوت کانفرنس مٹھی
۱۶؍اپریل ۲۰۰۳ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامع مسجد مٹھی میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس سے حضرت مولانا مفتی حفیظ الرحمن، حضرت مولانا اللہ وسایا، حضرت مولانا محمد علی صدیقی نے خطاب کیا۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض حضرت مولانا خان محمد کندھانی نے سرانجام دیئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۰۳ء ص ۵۰)
ختم نبوت کانفرنس ویسہ
۲۳؍اپریل ۲۰۰۳ء بروز بدھ بعد از نماز ظہر سالانہ ختم نبوت کانفرنس مرکز علوم نبویہ جامعہ دارالعلوم تعلیم القرآن موضع ویسہ ضلع اٹک میں منعقد ہوئی جس میں ملک بھر سے ختم نبوت کے ہزاروں پروانوں نے شرکت کی۔ اس پروقار تقریب میں سینکڑوں علماء کرام، حفاظ ومجاہدین، الغرض مختلف شعبہ ہائے زندگی سے متعلق لوگوں نے شرکت کی۔ اس تقریب میں ختم نبوت کے امیر یادگار اسلاف خواجہ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ نے تقریب کی سرپرستی فرمائی جب کہ صدارت شیخ الحدیث حضرت مولانا فضل واحد مہتمم جامعہ ہٰذا اور شیخ الحدیث حضرت مولانا ظہور الحق صاحب نے فرمائی۔ اس تقریب میں ان حضرات کے علاوہ حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی، صاحبزادہ سعید احمد، مولانا ارشد الحسینی، مولانا عبدالغفور، مولانا سعید الرحمن رحمانی امیر جمعیت علماء اسلام اٹک نے شرکت فرمائی۔ جب کہ سر حد سے سرحد کابینہ اور اسلامی نظریاتی کونسل کے ممبر شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ادریس، مولانا عبدالقیوم حقانی نے شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۰۳ء ص ۵۰)
ختم نبوت کانفرنس لاہور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت شاخ راوی روڈ کے زیر اہتمام جامع مسجد نورانی میں ۲۶؍اپریل ۲۰۰۳ء بعد از عشاء ختم نبوت کانفرنس کا اہتمام کیا گیا۔ عالمی مجلس لاہور کے فاضل مبلغ مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا قاری محمد اقبال، جناب حفیظ الرحمن، جناب حامد بلوچ اور مولانا اللہ وسایا کے خطابات ہوئے۔ کانفرنس کی نگرانی وسرپرستی جامع مسجد رحمانی کے خطیب نے فرمائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۰۳ء ص ۲۵)
نثار کالونی لاہور میں سیرت کانفرنس
جامع مسجد محمدیہ چناب نگر کے خطیب حضرت مولانا محبوب الحسن اور ان کے دیگر رفقاء نے اپنے ادراہ اقراء نثار کالونی میں ۲۷؍اپریل بعد از ظہر سیرت النبی ﷺ کانفرنس کا اہتمام کیا۔ مولانا عزیز الرحمن ثانی اور مولانا اللہ وسایا کے سیرت وختم نبوت پر عمدہ تفصیلی بیانات ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۰۳ء ص ۲۵)
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مرکز سراجیہ میں بیان
مرکز سراجیہ غالب مارکیٹ لاہور کے ہفتہ وار پروگرام میں ۲۷؍ اپریل ۲۰۰۳ء کو مولانا اللہ وسایا کا عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت پر بیان ہوا۔ مرکز سراجیہ کی ویب سائٹ پر مشاورت ہوئی۔ حضرت صاحبزادہ رشید احمد صاحب نے حاضرین کی پر تکلف ضیافت فرمائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۰۳ء ص ۴۵)
رد قادیانیت کورس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے زیر اہتمام قصور پورہ راوی روڈ جامع مسجد فاروق اعظم میں ۲۷، ۲۸؍ اپریل ۲۰۰۳ء کو عصر تا مغرب دو روزہ رد قادیانیت کورس کا اہتمام کیا گیا۔ گردونواح کے مسلمانوں نے بڑے ذوق وشوق سے اس میں شرکت کی۔ مسجد کا نیچے اور اوپر کے دونوں ہال سامعین سے کھچا کھچ بھرے ہوئے تھے۔ دونوں روز عقیدہ ختم نبوت پر مولانا اللہ وسایا کے لیکچر ہوئے۔ مسجد کے متولی اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما جناب حاجی جہانگیر نے صدارت فرمائی۔ مسجد کے خطیب حضرت مولانا قاری محمد اقبال فاروقی نے تمام انتظامات کی نگرانی کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۰۳ء ص ۴۵)
ختم نبوت کانفرنس سیدوالہ
۲۹؍ اپریل کو بعد از عشاء سیدوالا ختم نبوت کانفرنس کا اہتمام کیا گیا۔ قادیانیوں نے آسمان سر پر اٹھا لیا۔ ضلعی پولیس افسران نے پولیس بھجوادی۔ جامع مسجد میں بعد از عشاء ختم نبوت کانفرنس ہوئی اور بڑی دھوم دھام سے ہوئی۔ قاری غلام یاسین شجاع آبادی کی جوڑی نے نعت خوانی کا فریضہ سرانجام دیا۔ چوہدری خادم حسین صدر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سیدوالا نے کانفرنس کی صدارت کو رونق بخشی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما مولانا عزیز الرحمن ثانی کا ایمان افروز اور ولولہ انگیز بیان ہوا۔ آخری بیان عالمی مجلس کے رہنما شاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایا کا ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۰۳ء ص ۴۶)
ختم نبوت کانفرنس بھمبر
یکم مئی ۲۰۰۳ء بروز جمعرات بعد نماز ظہر جامع مسجد حنفیہ شرقی بازار بھمبر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بھمبر کے زیر اہتمام دفاع ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس کی نگرانی قاری حسین احمد نے کی۔ کانفرنس کی صدارت جناب چوہدری فضل الرحمن سابق چیئرمین عشر وزکوٰۃ کمیٹی نے کی۔ تلاوت قاری محمد راشد القاسمی اور نعت رسول مقبول مدرسہ کے دو بچے سعید برادران نے پڑھیں۔ بعد ازاں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا اللہ وسایا کے علاوہ قاری غلام رسول شوق، قاری محمد زبیر ہاشمی نے خطاب کیا۔ قاری عطاء اللہ فاروقی، حافظ محمد طارق اور قاری ضیاء اللہ نے خصوصی شرکت کی۔ جب کہ سٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا محمد طیب فاروقی نے سرانجام دیئے۔ محترم رشید احمد قاسمی نے خوب سرپرستی فرمائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۰۳ء ص ۴۶)
ختم نبوت کانفرنس جادہ جہلم
یکم مئی ۲۰۰۳ء بعد از عشاء مرکزی جامع مسجد جادہ جہلم میں زیر صدارت مولانا قاری محمد اختر ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ مولانا جمیل احمد بالاکوٹی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا اللہ وسایا نے خطاب کیا۔ نظم و ضبط مولانا شیر محمد صاحب، قاری شہزاد صاحب
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نے سنبھالا۔ قاری محمد طاہر اور قاری نیاز محمد نے تلاوت کی۔ تصور حسین طالب علم نے نعت پڑھی۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا محمد طیب فاروقی نے سرانجام دیئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۰۳ء ص۴۷)
انوار مدینہ
میانہ گوندل ضلع گجرات میں ۲؍مئی ۲۰۰۳ء بعد از جمعہ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا محمد طیب فاروقی، مولانا اللہ وسایا تشریف لائے۔ قاری عبدالواحد اس ادارہ کے بانی ہیں۔ اس وقت ڈیڑھ صد مسافر طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ حفظ وقرأت اور ابتدائی درجہ کتب کی تعلیم ہوتی ہے۔ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ امیر مرکزیہ، حضرت اقدس سید نفیس الحسینی مدظلہ نائب امیر یہاں تشریف لا چکے ہیں۔ اس جامعہ کے قیام سے قبل قاری عبدالواحد مدرسہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں استاد رہے ہیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۰۳ء ص۴۷)
ختم نبوت کانفرنس سیالکوٹ
جامعہ فاروقیہ چوک امام صاحب سیالکوٹ کے مہتمم حضرت مولانا قاری محمد مصدق قاسمی نے جامعہ کی تقسیم اسناد کی تقریب کے موقعہ پر ختم نبوت کانفرنس کا ۳؍مئی ۲۰۰۳ء بعد از مغرب اہتمام کیا۔ جس میں جامعہ کے بیسیوں فارغ ہونے والے طلباء کو اسناد دی گئیں۔ مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد فیروز خان، مولانا پیر عبدالرحیم (چکوال)، مولانا محمد محسن نارووال، جناب ارشد بگو ایم.پی.اے کے بیانات ہوئے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر پیر شبیر احمد گیلانی نے صدارت فرمائی۔ بھر پور مثالی اجتماع تھا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۰۳ء ص۴۷)
رد قادیانیت کورس چونڈہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت چونڈہ کے زیر اہتمام ۳، ۴؍مئی کو دو روزہ رد قادیانیت کورس عصر تا عشاء جامع مسجد شاہ فیصل شہید میں منعقد ہوا۔ پہلے دن کی نشستوں سے مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کیا۔ دوسرے دن عصر تا مغرب سوالات کے جوابات کی نشست سے مولانا اللہ وسایا نے خطاب کیا۔ بعد از مغرب کامیاب طلباء کو تقسیم انعام کی تقریب سے مولانا محمد اسماعیل نے خطاب کیا۔ تقسیم انعام کی تقریب کا آغاز امیر مجلس سیالکوٹ پیر شبیر احمد گیلانی کے دست مبارک سے ہوا۔ عشاء کے بعد ختم نبوت کانفرنس کے نام سے عام اجتماع منعقد ہوا۔ قاری محمد شفیق پسروری، مولانا خالد محمود کلا سوالہ، مولانا نور الحسن انور، مولانا محمد عارف، شاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایا کے بیانات ہوئے۔ تقریبات کے منتظم قاری محمد انور انصر تھے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۰۳ء ص۴۷)
ختم نبوت کانفرنس مے چٹھہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مے چٹھہ کے امیر حاجی محمد اقبال چٹھہ کی زیر صدارت جامع مسجد میں ۵؍مئی ۲۰۰۳ء کو ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ مولانا سید منور شاہ، مولانا منصور الخطیب، مولانا محمد اسماعیل شجاع آباد، مناظر اسلام مولانا محمد اسماعیل محمدی، مولانا عبدالحمید وٹو، مولانا اللہ وسایا، مولانا فقیر اللہ اختر نے خطاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۰۳ء ص۴۷)
الشریعہ اکیڈمی
گوجرانوالہ میں ممتاز عالم دین مولانا زاہد الراشدی نے الشریعہ اکیڈمی قائم کی ہے۔ جس میں فارغ التحصیل علماء کرام کو مختلف
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کورسز کرائے جائیں گے۔ جدید تقاضوں پر پورا اترنے کے لئے علماء کرام کی تربیت کی ایک کامیاب عمدہ کوشش ہے۔ ۵، ۶، ۷؍مئی ۲۰۰۳ء تین بجے سے پانچ تک مختلف نشستوں میں مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے لیکچر دیئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۰۳ء ص ۴۷)
ختم نبوت کانفرنس گوجرانوالہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ کے زیراہتمام ۶؍مئی بروز منگل بعد از عشاء ختم نبوت کانفرنس ابوبکر ٹاؤن میں منعقد ہوئی۔ مولانا سید عبدالمالک شاہ، مولانا ریاض احمد سواتی، حافظ محمد یوسف عثمانی، حافظ گلزار احمد آزاد نے پروگرام کی نگرانی فرمائی۔ شیخ الحدیث مولانا قاضی حمید اللہ جان ایم۔این۔اے، مولانا زاہد الراشدی، پروفیسر محمد منیر، مولانا عزیز الرحمٰن ثانی، مولانا عبدالحمید وٹو، مولانا فقیر اللہ اختر، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، شاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایا اور دیگر علمائے کرام کے بیانات ہوئے۔ جناب حافظ محمد ثاقب نے صدارت فرمائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۰۳ء ص ۴۸)
ختم نبوت کانفرنس اسلام آباد
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام ۸؍مئی ۲۰۰۳ء بعد از مغرب جامع مسجد مرکزی شہید اسلام میں زیر صدارت امیر مرکزیہ خواجہ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ تلاوت و نعت قاری محمد اخلاق مدنی نے پیش کی۔ کانفرنس سے مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی امیر مجلس پشاور، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری ناظم اعلیٰ، مولانا مفتی محمد جمیل خان، مولانا اللہ وسایا کے بیانات ہوئے۔ قراردادیں عالمی مجلس اسلام آباد کے ناظم اعلیٰ مولانا عبدالوحید قاسمی نے پاس کرائیں۔ سٹیج سیکرٹری اور انتظامات کی نگرانی عالمی مجلس اسلام آباد کے امیر مولانا عبدالرؤف کی سرپرستی میں مولانا قاضی احسان احمد، مولانا مفتی محمود الحسن، مولانا خالد میر نے کی۔ راولپنڈی ڈویژن اور سرحد سے مہمانوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ مغرب سے رات گیارہ بجے تک کانفرنس جاری رہی۔ مثالی اجتماع تھا۔ اسلام آباد کی تاریخ میں یہ کانفرنس سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۰۳ء ص ۴۸)
ختم نبوت کانفرنس ٹیکسلا
۹؍مئی بعد از مغرب جامع مسجد مرکزی ٹیکسلا میں یادگار اسلاف حضرت مولانا عبدالغفور صاحب کی زیر صدارت ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ حضرت مولانا محمد صدیق خطیب واہ کینٹ، حضرت مولانا نور حسین عبداللہ امیر مجلس احرار اسلام پاکستان، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا اللہ وسایا، مولانا مفتی محمود الحسن کے بیانات ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۰۳ء ص ۴۹)
واہ کینٹ اور حسن ابدال میں خطبات جمعہ
۹؍مئی جمعہ کا خطبہ واہ کینٹ جامع مسجد لالہ رخ میں مولانا اللہ وسایا اور جامع مسجد حسن ابدال میں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے ارشاد فرمایا۔ واہ کینٹ مدنی مسجد میں عصر کے بعد مولانا اللہ وسایا کا مختصر خطاب ہوا۔ حضرت مولانا قاری محمد صدیق نے مہمانوں کے اعزاز میں استقبالیہ دیا۔ گردونواح کے علماء کرام اور خطباء کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۰۳ء ص ۴۹)
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس بارہ کہو
۱۰؍مئی بروز ہفتہ بعد از مغرب جامع مسجد بارہ کہو اسلام آباد میں حضرت مولانا قاری ایاز احمد عباسی کی زیر سرپرستی ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ عالم اسلام کے نامور خطیب حضرت مولانا سید عبدالمجید ندیم شاہ اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب فرمایا۔ ۱۰؍مئی ظہر کے بعد مدرسہ للبنات میں مولانا قاضی احسان احمد ، مولانا سیف اللہ صاحب خطیب مری، مولانا اللہ وسایا نے طالبات سے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت پر بیان کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۰۳ء ص۴۹)
ختم نبوت کانفرنس مظفر آباد
۱۱؍مئی بروز اتوار بعد از مغرب جامع مسجد مظفر آباد میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں قاری عبدالمالک ، مولانا مفتی محمود الحسن ، سید محمود الحسن مسعودی شاہ ، مولانا مفتی عبدالعزیز قاسمی، قاری عبدالوحید ، مولانا محمد اسماعیل شجاع آباد، مولانا اللہ وسایا ، مولانا فضل کریم ، مولانا قاضی احسان احمد ، مولانا خالد میر اور دوسرے حضرات کے بیانات ہوئے ۔ استاذ العلماء حضرت مولانا محمد الیاس کشمیری امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت آزاد کشمیر نے آخر میں صدارتی خطاب فرمایا اور دعائے خیر کرائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۰۳ء ص۵۰)
ختم نبوت کانفرنس میر پور
میر پور آزاد کشمیر میں ۱۰؍مئی ۲۰۰۳ء بعد از مغرب حضرت امیر مرکزیہ خواجہ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ کی زیر صدارت عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری، حضرت مولانا مفتی محمد جمیل خان ، حضرت مولانا مفتی محمد یونس خان ، حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی کے بیانات ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۰۳ء ص۴۹)
ختم نبوت کانفرنس منڈیاں
۱۳؍مئی بعد از مغرب حضرت مولانا محمد صدیق شریفی ناظم اعلیٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ایبٹ آباد کی صدارت میں جامع مسجد منڈیاں میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ ایڈیٹر لولاک صاحبزادہ طارق محمود ، مولانا اللہ وسایا ، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کے بیانات ہوئے۔ کانفرنس رات گئے بخیر وخوبی سے اختتام پذیر ہوئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۰۳ء ص۵۳)
ختم نبوت کانفرنس شیخ البانڈی ایبٹ آباد
۱۳؍مئی بروز منگل بعد نماز ظہر مرکزی جامع مسجد شیخ البانڈی میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس میں کالج کے طلبا کے علاوہ عوام نے بھر پور شرکت کی ۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ایبٹ آباد کے امیر حضرت مولانا شفیق الرحمن نے صدارت فرمائی۔ کانفرنس سے صاحبزادہ طارق محمود مدیر لولاک، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کیا۔ مدرسہ کے طلباء کی دستار بندی اور اختتامی دعا صدر اجلاس نے کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۰۳ء ص۵۳)
ختم نبوت کانفرنس ہرا ٹھنڈا میرا
۱۳؍مئی بروز منگل بعد نماز عشاء ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی ۔ مولانا اللہ وسایا اور مولانا مفتی محمود الحسن کے بیانات ہوئے۔ آخر
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
میں ختم نبوت یوتھ فورس ایبٹ آباد کے رہنما سید مجاہد شاہ صاحب نے مقامی یونٹ کے عہدیداروں سے حلف وفاداری لیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۰۳ء ص ۵۳)
مرکزی جامع مسجد ایبٹ آباد میں ختم نبوت کانفرنس
۱۴ مئی بروز بدھ ظہر تا عصر جامع مسجد ایبٹ آباد میں ختم نبوت کانفرنس استاذ العلماء حضرت شفیق الرحمٰن کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ مولانا قاضی احسان، مولانا مفتی محمود الحسن، مدیر ماہنامہ لولاک صاحبزادہ طارق محمود، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور شاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایا کے بیانات ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۰۳ء ص ۵۲)
بارروم ایبٹ آباد خطاب
۱۴ مئی ۲۰۰۳ء بروز بدھ بارہ بجے دن بارروم ایبٹ آباد کے وکلاء سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ حضرت مولانا اللہ وسایا نے قادیانی فتنہ کی سنگینی اور عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت پر جامع خطاب کیا۔ بعد میں وکلاء کے سوالات کے جوابات دیئے۔ بارروم کے صدر اور سیکرٹری نے خیر مقدمی کلمات کہے۔ خطیب ہزارہ حضرت مولا شفیق الرحمٰن نے دعا کرائی۔ بارروم کے ہال سینکڑوں وکلاء کی شرکت کے باعث کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ بارروم میں یہ خطاب دوررس نتائج کا حامل ہوگا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۰۳ء ص ۵۳)
ختم نبوت کانفرنس نڑیاں
۱۴ مئی بروز بدھ بعد از مغرب جامع مسجد ابوبکر صدیق نڑیاں میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس سے مندرجہ بالا مقررین نے خطاب کیا۔ ان تمام کانفرنسوں میں سیکرٹری جناب محمد ساجد اعوان تھے۔ جناب وقار گل جدون کی زیرنگرانی تمام رفقاء نے کانفرنسوں کو کامیاب بنایا۔
۱۵ مئی بروز جمعرات جامع مسجد بخارا ملک پورہ میں علماء کرام کے خصوصی اجلاس سے حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کیا۔ اسی دن ظہر بانڈہ بھگواڑیاں (میرا) میں دستار بندی کی تقریب سے مولانا محمد اسماعیل نے خطاب کیا۔ ایبٹ آباد کے تمام پروگرام مثالی طور پر کامیاب ہوئے۔ فالحمد للہ!
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۰۳ء ص ۵۲)
ختم نبوت کانفرنس لیہ
۱۶ مئی ۲۰۰۳ء بروز جمعہ کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لیہ کے زیر اہتمام جامع مسجد کرنال والی میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس کے تین اجلاس ہوئے۔ قبل از جمعہ کے اجلاس سے عالمی مجلس کے مرکزی رہنما مولانا خدا بخش شجاع آبادی، بعد جمعہ پیر طریقت مولانا محمد عمر قریشی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور بعد از عشاء اجلاس سے عالمی مجلس احرار اسلام پاکستان کے مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا سید عطاء المومن شاہ بخاری، عالمی مجلس کے مرکزی رہنما مولانا اللہ وسایا، ڈاکٹر دین محمد فریدی، مولانا محمد حسین امیر مجلس لیہ کے بیانات ہوئے۔ کانفرنس کے انتظامات عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لیہ کے ناظم اعلیٰ مولانا عبد الشکور گرواں، محترم ماسٹر محمد شفیق اور دیگر اراکین سیرۃ کمیٹی لیہ نے کئے۔ اسٹیج سیکرٹری عالمی مجلس کے مبلغ مولانا عبد الستار تھے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۰۳ء ص ۵۲)
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سیرت النبی کانفرنس چناب نگر
عالمی تحفظ ختم نبوت چناب نگر کے زیر اہتمام جامع مسجد محمدیہ چناب نگر میں ۱۶؍ مئی ۲۰۰۳ء بروز جمعہ کو سالانہ سیرت النبی کانفرنس منعقد ہوئی۔ مولانا غلام مصطفیٰ، مولانا محبوب الحسن، مولانا اللہ وسایا اور دیگر حضرات کے بیانات ہوئے۔ جمعہ کے بعد اجتماعی طور پر شرکاء کانفرنس کے لئے نمازیان جامع مسجد نے دعوت کا اہتمام کیا تھا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۰۳ء ص ۵۶)
ختم نبوت کانفرنس چونڈہ
۳۱؍مئی ۲۰۰۳ء کو جامع مسجد شاہ فیصل چونڈہ میں عظیم ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت سیالکوٹ مجلس کے صدر پیر سید شبیر احمد گیلانی نے کی۔ کانفرنس سے حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی، پروفیسر محبوب عارف، حافظ سرفراز احمد، احسن باجوہ، مولانا محمد شفیق ڈوگر، قاری عبدالرؤف، حافظ رفاقت علی، قاری برکت اللہ، محمد اشرف معاویہ اور قاری محمد انور انصر نے خطاب فرمایا۔ کانفرنس کے جملہ انتظامات ختم نبوت چونڈہ کے ارکان قاری محمد انور، احسن باجوہ، پروفیسر محبوب عارف اور میاں عبدالغنی نے سرانجام دیئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۰۳ء ص ۴۶)
جامعہ اشرف العلوم بخش خان میں رد قادیانیت کورس
بہاولنگر علاقہ بخش خان میں حضرت مولانا رشید احمد رشیدی کی سرپرستی میں رد قادیانیت کورس کا انعقاد کیا گیا۔ کورس کی پہلی نشست بعد نماز ظہر قاری مطلوب احمد کی تلاوت اور حضرت شیخ الحدیث کی دعا سے شروع ہوئی۔ حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی مرکزی رہنما عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے ظہر سے عصر تک مدلل انداز میں بیان کیا۔ اسی روز یعنی ۲۲؍ مئی ۲۰۰۳ء کو بعد نماز عشاء چک ۵۲۔ ایف میں مبلغ بہاولنگر مولانا محمد قاسم نے خطاب کیا۔ اگلے روز کورس کی دوسری نشست سے حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کیا۔ بعد ازاں مولانا نے جامعہ للبنات کا دورہ کیا اور معلمین، متعلمین سے خطاب کیا۔ کورس کی تیسری نشست اسی روز بعد نماز ظہر تا عصر منعقد ہوئی جس میں مبلغ ختم نبوت بہاولنگر مولانا محمد قاسم شجاع آبادی نے لیکچر دیا اور قادیانیوں کی کتابوں سے ان کا کفر اور دجل و فریب شرکاء کورس کے سامنے آشکارا کیا۔ کورس کی چوتھی نشست اس سے اگلے روز صبح کی نماز کے بعد منعقد ہوئی جس سے مولانا محمد قاسم شجاع آبادی نے خطاب کیا۔ بعد ازاں حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا اور محمد رفیع بلوچ کے لئے بلندی درجات کی دعا کے ساتھ یہ تین روزہ کورس اختتام پذیر ہوا۔ اسی روز شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا تشریف لائے اور جامع مسجد غلہ منڈی ڈارانوالہ میں حضرت مولانا قاری محمد اجمل کے ہاں جمعہ پڑھایا جب کہ مولانا محمد قاسم شجاع آبادی نے چک ۳۰/۳ آر میں جمعہ پڑھایا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۰ تا ۲۶؍ جون ۲۰۰۳ء ص ۲۵)
مجلس تحفظ ختم نبوت کوئٹہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کوئٹہ کے زیر اہتمام ماہ جون ۲۰۰۳ء میں وقفے وقفے سے استقبالئے، کانفرنس اور اجتماعات کا انعقاد کیا گیا جن میں مجلس کے مرکزی و صوبائی قائدین کے علاوہ بڑی تعداد میں علماء کرام، طلباء، وکلاء، عوام اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم کے اعزاز میں استقبالیہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ خواجہ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم ۵/ جون ۲۰۰۳ء کو چار روزہ دورے پر کوئٹہ تشریف لے گئے۔ ایئرپورٹ پر مجلس کے مقامی رہنماؤں اور معززین شہر نے حضرت امیر مرکزیہ کا استقبال کیا اور جلوس کی شکل میں حضرت امیر مرکزیہ کو ان کی قیام گاہ جناب فیاض حسن سجاد کے مکان واقع شہباز ٹاؤن لایا گیا۔ بعد نماز عصر حضرت امیر مرکزیہ کے اعزاز میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے ایک بڑے استقبالیہ کا انتظام کیا گیا تھا جس میں علماء کرام، معززین شہر کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ استقبالیہ کی تقریب سے رکن قومی اسمبلی مولانا نور محمد صاحب، مولانا عبدالواحد اور مولانا انوار الحق حقانی نے جماعت ختم نبوت کی کارکردگی اور عقیدہ ختم نبوت پر روشنی ڈالی۔
نماز جمعہ کا پروگرام: ۶/ جون ۲۰۰۳ء بروز جمعۃ المبارک کو حضرت امیر مرکزیہ مدظلہ نے جامع مسجد کوئٹہ میں نماز جمعہ کی امامت کرائی۔ نماز جمعہ سے قبل عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رابطہ سیکرٹری مولانا مفتی محمد جمیل خان نے اپنے تفصیلی خطاب میں کہا کہ انگریزوں نے ایک گہری سازش کے تحت مرزا غلام احمد قادیانی سے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرایا۔ یہ فتنہ قادیانیت انگریز گورنمنٹ کی سرپرستی میں پھلتا رہا۔ یہاں تک کہ انگریز جب اس ملک سے چلا گیا تو جاتے ہوئے اس فتنہ کی آبیاری کا فریضہ یہاں کے حکمرانوں کے سپرد کر گیا۔ مولانا مفتی صاحب نے پاکستان کے حکمرانوں سے مطالبہ کیا کہ تمام کلیدی عہدوں سے قادیانیوں کو برطرف کیا جائے۔ نماز جمعہ کے بعد حضرت امیر مرکزیہ نے خصوصی دعا کرائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۰۳ء ص ۵۰ تا ۵۶)
ختم نبوت کانفرنس چونڈہ
مؤرخہ ۱۵/ جون ۲۰۰۳ء کو بعد از عشاء انجمن تبلیغ اسلام چونڈہ کی جامع مسجد میں تمام مکاتب فکر کی جانب سے ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ اس مشترکہ کانفرنس سے بریلوی مکتب فکر کے مولانا محمد عارف نوری، مولانا محمد یوسف، اہل حدیث مکتب فکر کے رانا محمد شفیق پسروری، مولانا محمد صدیق اختر سلفی اور دیوبندی مکتب فکر کے حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی مرکزی رہنما عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، حضرت مولانا قاری محمد انور، پروفیسر شجاعت علی مجاہد نے خطاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۰۳ء ص ۵۲)
کوئٹہ، مچھ اور مستونگ میں ختم نبوت کانفرنسیں
۱۵/ جون ۲۰۰۳ء بروز جمعہ نماز عشاء مرکزی جامع مسجد طوبیٰ کوئٹہ میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔
۱۶/ جون بروز ہفتہ بعد نماز عشاء مرکزی جامع مسجد مچھ میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔
۱۷/ جون بروز اتوار بعد نماز عشاء مستونگ میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ ان کانفرنسوں میں حضرت مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو، حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری، حضرت مولانا اللہ وسایا، حضرت مولانا بشیر احمد اور دیگر اکابر علماء کرام نے خطاب کیا اور پاکستان میں پائی جانے والی سیاسی کشیدگی اور مذہبی دہشت گردی کو یہود اور قادیانیوں کی خفیہ سازش قرار دیا۔ ان رہنماؤں نے کہا کہ قادیانیوں کا اسرائیل میں مرکز اور مرزائی اسرائیل تعلقات کو صرف نظر کرنا ہمارے حکمرانوں کی سنگین غلطی ہوگی۔ مرزا غلام احمد قادیانی انگریزوں کا ایجنٹ تھا۔ یہ گروہ ملت اسلامیہ کا کل بھی غدار تھا اور آج بھی غدار ہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۰۳ء ص ۵۵)
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اٹھارویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس برطانیہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام سنٹرل جامع مسجد برمنگھم میں اٹھارویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس ۳؍ اگست ۲۰۰۳ء منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت شیخ المشائخ خواجہ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم نے کی۔ جب کہ مہمان خصوصی جمعیت علمائے ہند کے امیر حضرت مولانا سید اسعد مدنی تھے۔ کانفرنس کے شرکاء نے اسلامی اقدار کے تحفظ ، عقیدہ ختم نبوت سے وابستگی اور قادیانیت کے خلاف آئین اور قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے پرامن جدوجہد جاری رکھنے کا عہد کیا۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم نے کہا کہ مسلمانوں کا ایمان ڈالروں سے نہیں خریدا جاسکتا۔ اربوں ڈالر خرچ کر کے بھی کسی مسلمان کو قادیانی نہیں بنایا جاسکتا۔ مسلم ممالک اور مسلم تنظیمیں قادیانی جماعت کی جانب سے مسلمانوں کو قادیانی بنانے کے لئے بیس کروڑ ڈالر کے مختص کئے جانے کا سختی سے نوٹس لیں۔
جمعیت علمائے ہند کے امیر حضرت مولانا اسعد مدنی مدظلہ نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے امت مسلمہ ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے تیار ہے۔ حضور ﷺ کی توہین کو عالمی سطح پر جرم قرار دیا جائے۔ قادیانی اسرائیل کی طرز پر ایک علیحدہ ریاست کے قیام کے لئے کوشاں ہیں جو اسلام کے خلاف ایک بین الاقوامی مرکز کا کام دے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کشمیر کو قادیانی ریاست نہیں بننے دیا جائے گا۔ مسلم ممالک عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے قادیانیوں کے خلاف اسلام سرگرمیوں پر پابندی عائد کریں۔
انڈیا کے ممتاز سکالر حضرت مولانا ابوبکر غازی پوری نے کہا کہ اسلام یہودیت اور عیسائیت مذاہب کا اس پر اتفاق ہے کہ قیامت سے قبل ایک مسیح نے آنا ہے۔ قادیانیوں کی جانب سے وفات مسیح کا عقیدہ رکھنا اور مرزا غلام احمد قادیانی کو مسیح موعود خیال کرنا لغو اور باطل عقیدہ ہے۔ جس کی قرآن وحدیث صریح مخالفت کرتے ہیں۔
مولانا منظور الحسینی نے کہا کہ حضرت امام مہدی کی شخصیت محض ایک مفروضہ نہیں اور نہ وہی مہدی حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہوں گے۔ امام مہدی کا نام حضور ﷺ کے نام پر اور ان کے والد کا نام حضور ﷺ کے نام پر ہوگا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ مہدویت ان علامات کی روشنی میں غلط ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی مغل تھا اور ان کا نام غلام احمد اور اس کے والد کا نام غلام مرتضیٰ تھا۔
مفتی خالد محمود نے کہا عیسائی دنیا قادیانیوں کی حمایت سے کنارہ کش ہو جائے۔ ممالک عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے قادیانیوں کے خلاف اسلام سرگرمیوں پر پابندی عائد کریں۔
جمعیت علمائے برطانیہ کے سیکرٹری جنرل مفتی محمد اسلم نے کہا کہ حکومت برطانیہ قادیانیوں کی جانب سے قادیانیت کو حقیقی اسلام قرار دینے کی روش پر پابندی عائد کرے اور انہیں اپنے دین کے لئے الگ نام اور اپنے مذہب کے لئے الگ شعائر وضع کرنے کا حکم دے اور ان کی جانب سے شعائر اسلام کے نازیبا استعمال کی روش کا انسداد کرے۔
مولانا سعید احمد جلال پوری نے کہا کہ اسلام ایک عالم گیر مذہب ہے جس نے بے انتہا مخالفت کے باوجود اپنی ہمہ گیریت ثابت کر دی ہے۔ ۱۱؍ستمبر کے واقعہ کے بعد دنیا میں اسلام قبول کرنے کی شرح میں پہلے کی نسبت کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ جس کا ثبوت صرف گزشتہ ایک سال کے عرصے میں امریکہ میں ۱۲۵۰ غیر مسلموں نے اسلام قبول کیا جس کے تناسب سے گزشتہ ایک سال میں دنیا میں کئی لاکھ نو مسلموں کا اضافہ ہوا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جمعیت علمائے برطانیہ کے مولانا عبدالرشید ربانی نے کہا کہ دنیا سے دہشت گردی کی سیاست کے خاتمے کے لئے ضروری ہے کہ اسلامی احکامات کو ان کی اصل روح کے مطابق نافذ کیا جائے۔ دنیا تمام نظاموں کی ناکامی کا تجربہ کر چکی ہے۔ اس لئے اسے اب اسلام کو بحیثیت مکمل نظام حیات کے تسلیم کر لینا چاہئے۔
ممتاز سعودی سکالر ڈاکٹر سعید احمد عنایت اللہ نے کہا کہ دنیا بھر میں ہونے والی دہشت گردی کی وارداتوں میں مذہبی قوتیں ملوث نہیں بلکہ یہ ایک منظم دہشت گردی ہے جس کی پشت پناہی تربیت یافتہ دہشت گرد کر رہے ہیں جن کا مذہب سے دور کا بھی واسطہ نہیں، دنیا بھر میں ہونے والی دہشت گردی کے واقعات کے پیچھے اسلام دشمن قوتوں کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ قادیانی جماعت کے ۶۰۰؍ اراکین اسرائیل میں کمانڈو ٹریننگ لے چکے ہیں۔ قادیانی مذہب ہر قسم کی دہشت گردی کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ دنیا میں دہشت گردی کے واقعات کے ڈانڈے قادیانی جماعت سے جاملتے ہیں۔ خود کو بچانے کے لئے قادیانیوں نے مسلمانوں پر جھوٹے اور بے بنیاد الزامات عائد کرنے شروع کر دیئے ہیں۔ مسلمانوں پر دہشت گردی کا یکطرفہ الزام قطعاً بے بنیاد ہے۔ امریکی اور یورپی حکومتیں قادیانی جماعت کو عالمی دہشت گرد تنظیم قرار دے کر اس پر پابندی عائد کریں اور اس کے تمام اثاثہ جات اور بینک اکاؤنٹ منجمد کریں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۰۳ء ص ۵۰، ۵۱)
جامعہ محمدیہ اسلام آباد میں بیان
جامعہ محمدیہ اسلام آباد میں ۱۷؍اگست ۲۰۰۳ء عصر سے قبل جامعہ کے طلباء سے مولانا اللہ وسایا نے خطاب کیا۔ جامعہ کے مہتمم حضرت مولانا ظہور احمد علوی نے خیر مقدمی کلمات ارشاد فرمائے۔ خطاب کے وقت جامعہ کے اساتذہ و مشائخ سٹیج پر تشریف فرما تھے۔ جامعہ کے شیخ الکل حضرت مولانا عبدالقیوم اور جامعہ کے مفتی حضرت مولانا عزیز الرحمن نے ختم نبوت کے وفد سے خصوصی ملاقات کی۔ انہوں نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو اپنی دعاؤں سے نوازا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۰۳ء ص ۵۴)
گولڑہ شریف حاضری
۱۸؍اگست کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد کے رہنما حضرت مولانا احسان اللہ کی قیادت میں ختم نبوت کے وفد جس میں مولانا اللہ وسایا اور مولانا قاضی احسان احمد شامل تھے گولڑہ شریف حاضری دی۔ حضرت صاحبزادہ نصیر الدین نصیر سجادہ نشین حضرت میاں عبدالحق صاحب گولڑوی سے وفد نے ملاقات کی۔ ۲، ۳؍اکتوبر ۲۰۰۳ء کی سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کے دعوت نامے دیئے۔ خانقاہ عالیہ کی لائبریری سے استفادہ کیا مولانا قاضی احسان احمد کے ذریعہ تفصیلات طے کی گئیں۔ سجادہ نشین حضرات نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو اپنی دعاؤں سے نوازا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۰۳ء ص ۵۴)
ختم نبوت کورس گوجر خان
۱۸، ۱۹، ۲۰؍اگست ۲۰۰۳ء کو جامع مسجد خلفائے راشدین میں عصر تا مغرب سہ روزہ ختم نبوت کورس کی کلاس لگی۔ نمازیان، شہریان اور دینی مدارس کے علماء، طلباء کی بہت بڑی تعداد نے اس میں شرکت کی۔ نیز دو دن مولانا اللہ وسایا کے بیانات ہوئے۔ سوالات و جوابات کی محفل منعقد ہوئی۔ یہ تمام پروگرام جامع مسجد خلفائے راشدین کے خطیب اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گوجر خان کے امیر حضرت مولانا عبدالمتین صاحب مدظلہ کی سرپرستی میں سرانجام پائے۔ مولانا اللہ وسایا، مولانا مفتی محمود الحسن، مولانا قاضی احسان احمد کا تینوں دن
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قیام دارالقرآن گوجر خان محترم قاری فضل کریم کے ہاں رہا۔ دریں اثناء ختم نبوت کے وفد نے شاہ عبدالقادر رائے پوری کے خلیفہ مجاز حضرت مولانا صاحبزادہ محمد حسین صاحب سے ملاقات کی۔ حضرت نے اپنی دعاؤں سے مجلس تحفظ ختم نبوت کو نوازا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۰۳ء ص ۵۴)
ختم نبوت کانفرنس کہوٹہ
جامعہ مسجد کہوٹہ میں ۱۹؍اگست ۲۰۰۳ء کو بعد از مغرب سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس موقعہ پر مسجد کے زیر اہتمام مدرسہ سے فارغ التحصیل ہونے والے حفاظ کرام کی دستار بندی ہوئی۔ حضرت مولانا اللہ وسایا اور دیگر علمائے کرام کے بیانات ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۰۳ء ص ۵۵)
ختم نبوت کانفرنس گوجر خان
۲۰؍اگست ۲۰۰۳ء بعد از عشاء حیات سر روڈ گوجر خان میں جلسہ عام منعقد ہوا۔ گردونواح کے علماء، طلباء اور عوام کی حاضری بھر پور رہی۔ کانفرنس سے حضرت مولانا قاضی حمید اللہ خان ایم۔این۔اے، مولانا اللہ وسایا، مولانا قاضی احسان احمد اور دیگر علماء نے خطاب کیا۔ نظم جناب ذوالفقار احمد نے پیش کی۔ سٹیج سیکرٹری مولانا مفتی محمود الحسن تھے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۰۳ء ص ۵۵)
ختم نبوت کانفرنس جہلم
۲۱؍اگست ۲۰۰۳ء بعد از عشاء جامع مسجد بسم اللہ میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جہلم کے امیر مولانا قاری شیر محمد صاحب نے فرمائی۔ کانفرنس کے انتظامات محترم قاری صاحب خطیب مسجد ہذا نے کئے۔ دیگر علمائے کرام کے علاوہ مولانا اللہ وسایا نے آخری خطاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۰۳ء ص ۵۵)
ختم نبوت کانفرنس جلالپور جٹاں
۲۱؍اگست ۲۰۰۳ء کو بعد از مغرب جلالپور جٹاں میں ختم نبوت کانفرنس سے مولانا فقیر اللہ اختر نے خطاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۰۳ء ص ۵۵)
ختم نبوت کانفرنس منڈی بہاؤالدین
۲۲؍اگست ۲۰۰۳ء کو بعد از عشاء مسجد نور منڈی بہاؤالدین میں سالانہ ضلعی ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ حضرت مولانا قاضی حمید اللہ خان ایم۔این۔اے، مولانا اللہ وسایا، حضرت شیخ القرآن کے جانشین حضرت مولانا اشرف علی کے بیانات ہوئے۔ کانفرنس کی صدارت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت منڈی بہاؤالدین کے امیر حضرت مولانا ارشاد اللہ صدیقی مہتمم جامعہ نور الہدیٰ نے فرمائی۔ سٹیج سیکرٹری عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا محمد طیب فاروقی تھے۔ ضلع بھر سے علمائے کرام کی قیادت میں وفود نے شرکت کی۔ کانفرنس مثالی طور پر کامیاب ہوئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۰۳ء ص ۵۵)
کنجاہ میں خطبہ جمعہ
۲۲؍اگست ۲۰۰۳ء کو جامع مسجد مدنی میں جمعہ کے اجتماع سے حضرت مولانا اللہ وسایا نے خطاب کیا۔ خطبہ جمعہ خطیب مسجد مدنی
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حضرت مولانا عبدالرحمٰن نے ارشاد فرمایا۔ گوجرانوالہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ حضرت مولانا فقیر اللہ اختر کا شہر کی جامع مسجد میں خطاب ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۰۳ء ص ۵۵)
ختم نبوت کانفرنس کسوآنہ
۲۳؍ اگست ۲۰۰۳ء کو کسوآنہ نزد احمد پور سیال ضلع جھنگ میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے منتظم اور سٹیج سیکرٹری جناب پروفیسر عمر حیات صاحب تھے۔ کانفرنس سے مولانا حق نواز خالد، مولانا عزیز الرحمٰن ثانی، مولانا غلام حسین، مولانا اللہ وسایا، مولانا عبدالرؤف قاسمی اور دیگر علمائے کرام نے خطاب کیا۔ جناب بلال چشتی نے نعتیہ کلام پیش کیا۔ کانفرنس دس بجے سے چھ بجے تک بخیر و خوبی مثالی طور پر منعقد ہوئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۰۳ء ص ۵۵)
فقیر والی میں ختم نبوت کورس
ختم نبوت کے مرکزی رہنما حضرت مولانا خدا بخش، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مبلغ ختم نبوت بہاول نگر مولانا محمد قاسم شجاع آبادی، جامعہ میں حاضر ہوئے۔ ۱۸ تا ۲۰؍ جمادی الثانی تک کورس رکھا گیا۔ کورس کا آغاز ۱۸؍ جمادی الثانی کو صبح ۸ بجے تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ مولانا خدا بخش نے اپنے مخصوص انداز میں مدلل لیکچر دیا۔ وقفہ کے بعد مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے مدلل لیکچر دیا۔ کورس کی ایک نشست میں مولانا محمد قاسم شجاع آبادی نے لیکچر دیا۔ الحمد للہ! کورس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ کے علاوہ دوسرے شہروں سے بھی علمائے کرام تشریف لائے۔ حضرت مہتمم صاحب کی کوششوں سے کورس بہت کامیاب رہا، آخری نشست میں حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے لیکچر دیا اور مہتمم صاحب کی اختتامی دعا کے ساتھ کورس اختتام پذیر ہوا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۹ تا ۲۵ ستمبر ۲۰۰۳ء ص ۲۳، ۲۴)
سالانہ ختم نبوت کانفرنس چوک پرمٹ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مدرسہ دارالہدیٰ چوک پرمٹ علی پور میں حضرت مولانا عبدالکریم صاحب انچارج مدرسہ دارالہدیٰ کی زیر نگرانی سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی کاروائی صبح دس بجے شروع ہوئی۔ جلسہ کی صدارت پروفیسر حضرت مولانا قاری محمد قاسم نے کی۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض حضرت مولانا محمد لقمان علی پوری کے پوتے حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی نے سرانجام دیئے۔ تلاوت کلام حضرت قاری عبدالغفور باقر شاہ نے کی۔ نعتیہ کلام جناب عبدالرشید فاروقی نے پیش کیا۔ کانفرنس کی پہلی نشست سے حضرت مولانا امام الدین قریشی مبلغ ختم نبوت، حضرت مولانا عطاء اللہ رنوجہ، حضرت مولانا عطاء اللہ شہر سلطان، حضرت مولانا عبدالقادر، گھلو، حضرت مولانا عبدالطیف، حضرت مولانا خدا بخش کوٹلہ رحم علی خان نے خطاب کیا۔ دوسری نشست سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری مدظلہ، حضرت مولانا پروفیسر محمد مکی، حضرت مولانا عبدالخالق علی پوری نے خطاب کیا۔ اس کے بعد مدرسہ کے پندرہ فاضل طلباء کی دستار بندی کرائی گئی۔ کانفرنس کے دوسرے اجلاس میں مقامی علماء کے علاوہ حضرت مولانا عبدالغفور حقانی کا مفصل بیان ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۰۳ء ص ۵۴)
بائیسویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۲، ۳؍ اکتوبر ۲۰۰۳ء کو بائیسویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس کا آغاز عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کے امیر مرکزیہ شیخ المشائخ خواجہ خواجگان حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی اجازت و دعا سے ہوا۔ کانفرنس کی مختلف نشستوں سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحیم ، مولانا محمد اکرم طوفانی ، مولانا محمد امجد خان ، مولانا عبدالحمید لوند ، مولانا اللہ وسایا، قاری کامران احمد ، مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا عبدالغفار تونسوی ، شیخ الحدیث مولانا عبدالرؤف ، قاری خلیل احمد بندھانی ، مولانا فضل علی وزیر تعلیم صوبہ سرحد ، مولانا محمد رفیق جامی ، مولانا ضیاء الدین آزاد، مولانا محمد حسین احمد ، مولانا محمد علی صدیقی ، قاضی احسان احمد ، مولانا عبدالوحید قاسمی ، مولانا عبدالحکیم نعمانی ، مولانا سعید احمد جلال پوری ، مولانا نذیر احمد تونسوی ، مولانا محمد اعجاز مولانا ضیاء اللہ شاہ ، علامہ ابتسام الٰہی اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قادیانیوں کی جانب سے آئین کو علانیہ طور پر تسلیم نہ کرنے اور قانون کی واضح طور پر خلاف ورزی کرنے کے باوجود حکمران طبقے کی قادیانیت نوازی اور قادیانی گروہ کی بے جا حمایت ناقابل فہم ہے اور ان کی بے حمیتی کی وجہ سے کلیدی آسامیوں پر قادیانیوں کی تقرری سے ملکی استحکام خطرے میں پڑ گیا ہے اور ملکی راز دشمنوں تک پہنچنے آسان ہو گئے ہیں۔ فوج کے اہم شعبوں ، سی.بی.آر، انٹیلی جنس ، وزارت داخلہ ، وزارت خارجہ ، وزارت خزانہ ، پی.آئی.اے، محکمہ اوقاف اور دیگر محکموں میں قادیانیوں کی تقرری آئین پاکستان کی واضح خلاف ورزی ہے۔ فوری طور پر ان عہدوں سے قادیانیوں کی برطرفی کا عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا مطالبہ حق بجانب ہے۔ حکومت کے لئے اس مطالبے کو قبول کر کے پاکستان کو خطرات سے بچانا ضروری ہے۔ قادیانیوں کی جانب سے جگہ جگہ توہین رسالت کا ارتکاب، مساجد کی شکل میں اپنی عبادت گاہوں کی تعمیر اور اپنے سینوں اور مکانات پر کلمہ طیبہ آویزاں کرنے کا مقصد مسلمانوں کو مشتعل کرنا ہے۔ اس کی روک تھام نہ کی گئی تو مسلمان خود اس کو روکنے پر مجبور ہوں گے ۔ جس کی وجہ سے حالات کے بگڑنے کی ذمہ داری حکومت پر ہو گی۔ علمائے کرام نے کہا کہ آج قادیانی، عیسائیوں اور یہودیوں کی سرپرستی میں این.جی.اوز کی طرز پر اسکولوں اور کالجوں اور رفاہی اداروں کے نام پر اپنی غیر اسلامی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ پسماندہ علاقوں میں ہسپتالوں اور علاج کے نام پر امت مسلمہ کا رشتہ حضرت محمد ﷺ کے دامن سے توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ سرظفراللہ قادیانی سے لے کر آج تک قادیانی کلیدی عہدوں کے ذریعہ اپنے تبلیغی مشن کو چلا رہے ہیں ۔ موجودہ حکمرانوں نے قادیانیت نوازی میں پچھلی ساری کسریں نکال دی ہیں اور آج ہر جگہ قادیانی پر پرزے نکال رہے ہیں۔ فوری طور پر اس کا راستہ روکا جائے بصورت دیگر علمائے کرام مجبور ہوں گے کہ وہ قادیانیت کا راستہ روکیں ۔ حضور ﷺ کی عظمت کے لئے قربانیاں دینا مسلمانوں کے لئے سعادت کی بات ہے۔ اس سلسلے میں کوئی مسلمان کسی قسم کی غفلت کے لئے تیار نہیں ۔ ماضی میں جب فوج نے حکومت پر قبضہ کیا اور آئین کو معطل کیا تو قادیانیوں نے اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اعلان شروع کر دیا کہ قادیانیت سے متعلق ترامیم ختم ہو گئیں جس کے بعد مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے مطالبات پر فوجی حکمرانوں کو قادیانیت سے متعلق ترامیم کو عبوری آئین میں تحفظ دینا پڑا۔
موجودہ حکمرانوں کے ابتدائی زمانہ میں بھی ایسا ہی ہوا۔ مسلمانوں کے بھر پور احتجاج کے بعد قادیانیت سے متعلق ترامیم ، امتناع قادیانیت آرڈیننس کو عبوری آئین کا حصہ بنایا گیا تا کہ قادیانیوں کے عزائم ناکام ہوں لیکن قادیانی چور دروازے سے مختلف کلیدی عہدوں پر فائز قادیانیوں کو برطرف کیا جائے۔ پوری دنیا میں آج این.جی.اوز کے ذریعہ کفر کا سیلاب پھیلایا جا رہا ہے۔ امداد اور تعاون کے نام پر مغربی تہذیب مسلط کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ قادیانی گروہ اس سلسلے میں مغرب اور امریکہ کا آلہ کار ہے۔ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر قادیانی دھوکہ اور فریب کے ذریعہ مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے درپے ہیں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی کوششوں سے یورپی ممالک ، افریقی ممالک اور پاکستان میں قادیانیوں کی سرگرمیوں کے سدباب کے ذریعہ مسلمانوں کے ایمان کا تحفظ کیا گیا ہے۔ تمام
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مسلمانوں کو اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔
مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے امام مہدی، مجدد، مسیح موعود، ظلی اور بروزی نبی سے ہوتے ہوئے دعویٰ نبوت کیا تو علمائے کرام نے پہلے مرزا غلام احمد قادیانی کو ان کفریہ عقائد سے توبہ کرنے کی تلقین کی مگر ان کفریہ عقائد پر مرزا غلام احمد قادیانی کے اصرار کے بعد علمائے کرام نے مرزا قادیانی کے کفر کا فتوی جاری کیا، جس پر امت مسلمہ کے تمام علمائے کرام کا اجماع منعقد ہوا۔ ۱۹۰۴ء سے لے کر اب تک علمائے کرام بالخصوص عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مسلمانوں کو قادیانیوں کے کفریہ عقائد سے بچانے کے لئے ہر پلیٹ فارم پر جدوجہد کر رہے ہیں۔ قادیانی، مسلمانوں کے دلوں میں شکوک وشبہات پیدا کرنے کے لئے ”خاتم النبیین“ کے مفہوم کو بدلنے کے ساتھ ساتھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قیامت سے قبل تشریف آوری اور امام مہدی کی آمد کے سلسلے میں متذبذب کرتے ہیں حالانکہ قرآن کی واضح آیات اور احادیث نبویہ کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کی نشانیاں اور امام مہدی کی علامات کا تذکرہ موجود ہے۔ اس لئے مسلمانوں کو ان عقائد کا مطالعہ کرنا چاہئے تاکہ وہ گمراہی سے بچ سکیں۔
مولانا محمد اکرم طوفانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قادیانیت وہ ناسور ہے جس نے ہمیشہ مسلمانوں کے اتفاق واتحاد میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کی۔ نوجوانوں کو غلط مباحث میں الجھا کر قادیانیت کے دام فریب میں جکڑنے کی کوشش کی۔ مگر علمائے کرام نے ہمیشہ ہر باطل فتنہ سے مسلمانوں کو آگاہ کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ ہم ان پر واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ وہ اپنی غیر اسلامی سرگرمیوں سے باز آ جائیں ورنہ ان کا ناطقہ بند کر دیا جائے گا۔
قادیانیت نواز حکومت کا اقتدار میں رہنا ملکی استحکام اور سالمیت کے خلاف ہے۔ قیام پاکستان سے لے کر اب تک قادیانی گروہ اور اس کے سرکردہ افراد پاکستان کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔ امریکا اور مغرب کے ایماء پر قادیانیوں کا مختلف حساس محکموں میں کلیدی آسامیوں پر تقرر مسلمانوں کے خلاف ایک سازش ہے۔ پاکستان میں این جی اوز کی آڑ میں قادیانیت، یہودیت اور عیسائیت کی تبلیغ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ توہین رسالت کے قانون کو عملاً غیر مؤثر بنا دیا گیا ہے۔ امتناع قادیانیت آرڈیننس پر حکومت نے عمل درآمد نہ کرایا تو مسلمان خود قادیانیوں کی جانب سے توہین رسالت کے جرائم کے ارتکاب کو روکنے کے لئے میدان میں اتریں گے۔ قادیانیوں کے حوالے سے مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں تحریک چلانے سے گریز نہیں کیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار جمعیت علمائے اسلام کے قائد اور متحدہ مجلس عمل کے سیکرٹری جنرل مولانا فضل الرحمن نے چناب نگر میں ختم نبوت کانفرنس کی اختتامی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
کانفرنس کی اس اختتامی نشست کی صدارت امیر مرکزیہ شیخ المشائخ خواجہ خواجگان حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے فرمائی جب کہ نائب امیر مرکزیہ حضرت اقدس سید نفیس شاہ الحسینی دامت برکاتہم العالیہ مہمان خصوصی تھے۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل کے صدر مولانا شاہ احمد نورانی، قاضی حسین احمد اور متحدہ مجلس عمل کے دیگر رہنماؤں نے صدر پاکستان جنرل مشرف کو واضح طور پر بتایا کہ انٹیلی جنس بیورو، پی آئی اے، سی بی آر، محکمہ تعلیم، محکمہ اوقاف اور افواج پاکستان کے حساس اداروں میں قادیانیوں کا تقرر کیا جا رہا ہے جو کہ آئین پاکستان کے خلاف اور ملکی سالمیت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ انٹیلی جنس کی غلط رپورٹوں کی بنیاد پر مدارس میں چھاپے مارے جا رہے ہیں اور علمائے کرام کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔ قادیانی گروہ اسلام دشمنی اور ملکی دشمنی میں اخلاقیات کی تمام حدود پھلانگ چکا ہے۔ ان محکموں میں مسلمان افسران کو تنگ کیا جا رہا ہے۔ ان محکموں سے قادیانی افسران کو فارغ کیا جائے تاکہ ملکی راز محفوظ رہ سکیں۔ مگر تا حال اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے حالات بگڑنے کا
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اندیشہ ہے۔ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت اپنے مطالبات کی منظوری کے سلسلے میں تحریک چلانے سے گریز نہیں کرے گی۔
حافظ حسین احمد ڈپٹی پارلیمانی لیڈر متحدہ مجلس نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے سامنے بار ہا قادیانیوں کی شرانگیزیوں اور غیر اسلامی سرگرمیوں کی نشان دہی کی گئی مگر حکومت ان سرگرمیوں کو روکنے کے بجائے مسلمانوں کے ردعمل کو دبانے کی کوشش کرتی ہے۔ توہین رسالت کے قانون کو عملاً غیر مؤثر بنانے کی وجہ سے توہین رسالت کے جرائم میں اضافہ ہوگیا ہے اور جب ان جرائم کی وجہ سے مسلمان توہین رسالت کے قانون کو حرکت میں لانے کا مطالبہ کرتے ہیں تو امریکہ اور مغرب، پاکستان کے خلاف غلط اور بے بنیاد رپورٹیں شائع کر کے ملک پر پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دیتے ہیں۔ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے ہر قسم کی پابندیاں برداشت کرنے کے لئے تیار ہیں۔ مغربی ممالک اور پاکستانی حکومت کی جانب سے علمائے کرام کی کردار کشی کی کوشش کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی۔ مولانا منظور احمد الحسینی نے جرمنی میں قادیانی گروہ کے بااثر افراد شیخ راحیل احمد اور مظفر احمد مظفر کی اپنے خاندانوں سمیت اسلام قبول کرنے کی داستان سناتے ہوئے کہا کہ مختلف مناظروں میں قادیانیوں کے کفریہ عقائد واضح ہونے کی وجہ سے قادیانیوں کی قبول اسلام کی طرف سے رغبت میں اضافہ ہورہا ہے اور مختلف مقامات پر قادیانی علانیہ طور پر اسلام قبول کررہے ہیں۔
کانفرنس کی مختلف نشستوں سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عطاء المومن شاہ بخاری، مولانا امیر حسین گیلانی، مولانا خان محمد قادری، قاضی محمد ارشد الحسینی، ملک شیر، صاحبزادہ عزیز احمد، مولانا اللہ وسایا، طارق حفیظ جالندھری، قاضی بشیر احمد، مولانا عبد الشکور، مولانا محمد مراد ہالچوی، قاری سعید احمد، مولانا محمد اشرف ہمدانی، مفتی محمد جمیل خان، مولانا محمد شریف مچن آبادی، مولانا بشیر احمد شاد، صاحبزادہ سعید احمد، مفتی محمد طیب، مولانا عبد الخبیر، صاحبزادہ خلیل احمد، علامہ ابتسام الٰہی ظہیر، مولانا منظور احمد الحسینی، مفتی عبد القیوم دین پوری، قاری مصباح الاسلام، قاری معاویہ محمود، صاحبزادہ طارق محمود، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا غلام مصطفیٰ، مولانا نذیر احمد تونسوی، مولانا محمد علی صدیقی، ڈاکٹر دین محمد فریدی، مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا فقیر اللہ اختر، مولانا امام الدین، قاری بشیر احمد، علامہ احمد میاں حمادی، مولانا عبد الغفور، مولانا محمد ایوب، مفتی سہیل احمد، مولانا احمد علی، مولانا فخر الزمان، مولانا نور الحق نور، مولانا عزیز الرحمن ثانی نے کہا کہ ۱۸۸۹ء سے لے کر اب تک قادیانی گروہ مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے درپے ہے۔ مسلمانوں کے عقائد سے لے کر دنیوی معاملات تک ہر مرحلہ میں قادیانی گروہ مسلمانوں کے خلاف سازشوں میں مصروف ہے۔ افغانستان اور عراق کے سقوط پر قادیانیوں نے جشن منائے۔ امریکہ اور مغرب پاکستان کے خلاف مذموم پروپیگنڈے میں مصروف ہے جب کہ قادیانی ملک بھر میں توہین رسالت کے جرائم کے ذریعہ پاکستان کی ساکھ کو خراب کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ وہ علانیہ طور پر آئین کو تسلیم نہیں کرتے اور آئین اور قانون کی خلاف ورزیاں کے ذریعہ ملک کے امن و امان کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ قادیانی نوکریوں کے لالچ اور امدادی کام کے نام پر مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے درپے ہیں۔ حکومت کی مروّت کی وجہ سے قادیانیوں کے حوصلے بہت بڑھ گئے ہیں۔ ایسی صورت حال میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جلسوں، کانفرنسوں اور دیگر عوامی اجتماعات کے ذریعے مسلمانوں کو قادیانیوں کے کفریہ عقائد سے بچانے کی جدو جہد میں مصروف ہے۔ بعد ازاں امیر مرکزیہ شیخ المشائخ خواجہ خواجگان حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی دعا پر کانفرنس بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوئی۔
بائیسویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب میں منظور کردہ قراردادیں:
- ☆...... عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا یہ عظیم الشان اجتماع مطالبہ کرتا ہے کہ چونکہ قادیانی گروہ علانیہ طور پر آئین کو تسلیم کرنے سے انکار کرتا
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہے اور قادیانی کھلم کھلا قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوتے ہوئے اپنی عبادت گاہوں کو مساجد کی شکل میں بنائے ہوئے ہیں، اپنے گھروں اور سینوں پر کلمہ طیبہ آویزاں کر کے توہین کرتے ہیں اور اپنے آپ کو غلط طور پر مسلمان ظاہر کرتے ہیں اس لئے آئین اور قانون کی خلاف ورزی کرنے کی بناء پر اقلیتوں کے حقوق سے انہیں محروم اور ان کو انتظامی احکامات کی روشنی میں آئین اور قانون کو تسلیم کرنے پر مجبور کیا جائے۔
- ☆ ...... یہ اجلاس اندرون ملک اور بیرون ملک قادیانیوں کی غیر اسلامی اور تبلیغی سرگرمیوں کو تشویش کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور حکومت
پاکستان سے مطالبہ کرتا کہ قادیانیوں کی ان غیر اسلامی اور غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے کے لئے مناسب اقدامات کئے جائیں۔
- ☆ ...... یہ اجتماع قادیانیوں کی جانب سے مسلمانوں اور پاکستان کے خلاف مذموم پروپیگنڈا کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کرتا ہے
کہ قادیانیوں کے سربراہ مرزا مسرور پر پاکستان اور مسلمانوں کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے کے جرم میں غداری کا مقدمہ چلایا جائے۔
- ☆ ...... یہ اجتماع موجودہ حکومت کی قادیانیوں کے ساتھ مروّت برتنے اور انہیں کلیدی آسامیوں پر فائز کرنے کے عمل کی پرزور مذمت
کرتے ہوئے اس پر تشویش کا اظہار کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ سی. بی. آر، انٹیلی جنس بیورو سندھ، پی. آئی. اے، محکمہ اوقاف اور فوج کے حساس شعبوں سے قادیانیوں کو فوری طور پر برطرف کیا جائے۔
- ☆ ...... یہ اجلاس قادیانیوں، عیسائیوں یہودیوں سمیت دیگر غیر مسلم قوتوں کی جانب سے این. جی. اوز کے ذریعہ امداد کے نام پر غیر
اسلامی تہذیب مسلط کرنے اور این. جی. اوز کے افسران کے ذریعہ ارتداد پھیلانے کی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ این. جی. اوز کی تبلیغی سرگرمیوں پر پابندی لگائی جائے اور مسلمانوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ آفت زدہ مسلمانوں کی امداد کا کام مسلمان خود کریں اور ان کو کافروں کے رحم و کرم پر نہ چھوڑیں۔
- ☆ ...... یہ اجتماع امریکہ اور مغرب کی جانب سے قادیانیوں کی حمایت کرنے کو دینی امور میں مداخلت تصور کرتے ہوئے قادیانیوں سے
امتیازی سلوک کے حوالے سے غلط رپورٹوں کی اشاعت پر مذمت کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ قادیانیوں کی حمایت چھوڑ دیں، کیونکہ قادیانی صرف محمد رسول ﷺ کے ہی باغی نہیں بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی توہین کے بھی مرتکب ہوتے ہیں۔
- ☆ ...... یہ اجتماع جرمنی میں قادیانیت سے توبہ کرنے والے شیخ راحیل احمد اور مظفر احمد مظفر کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے تمام قادیانیوں کو
دعوت اسلام دیتے ہوئے اپیل کرتا ہے کہ وہ قادیانیت کو چھوڑ کر حضور ﷺ کے دامن رحمت میں پناہ لے لیں۔
- ☆ ...... یہ اجتماع صوبہ سرحد کی حکومت کو نفاذ شریعت بل کی منظوری پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے اس بل کی حمایت کرتا ہے اور وزیر اعلیٰ
صوبہ سرحد اکرم درانی کو خراج تحسین پیش کرتا ہے کہ انہوں نے جمعیت علمائے اسلام کے منشور کے مطابق وعدہ کو پورا کیا اور متحدہ مجلس عمل کے رہنماؤں علامہ شاہ احمد نورانی، مولانا فضل الرحمٰن، قاضی حسین احمد وغیرہ کو اپنی مکمل حمایت کا یقین دلاتا ہے۔
- ☆ ...... یہ اجتماع وزیر اعظم ظفر اللہ جمالی، صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف اور اراکین اسمبلی سے مطالبہ کرتا ہے کہ ملک میں فوری طور پر
شریعت نافذ کی جائے تا کہ ملک کو سیکولر بنانے کے عزائم ناکام ہوں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ☆ ...... یہ اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ فوری طور پر اتوار کی چھٹی منسوخ کر کے جمعہ کی چھٹی بحال کی جائے تاکہ مسلم ممالک اور
عرب ممالک کے ساتھ ہمارے رابطہ مضبوط ہوں۔
- ☆ ...... یہ اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ فوری طور پر سودی نظام کا خاتمہ کر کے اسلام کا نظام معیشت رائج کیا جائے اور بلاسود
بینکاری کا آغاز کیا جائے۔
- ☆ ...... یہ اجتماع افغانستان، کشمیر، عراق، چیچنیا کے مسلمانوں کی بھر پور حمایت کرتے ہوئے مطالبہ کرتا ہے کہ ان ممالک سے غیر ملکی افواج
واپس بلائی جائیں اور ان ممالک کے مسلمانوں کو حکومت سازی کا حق دیا جائے۔
- ☆ ...... یہ اجتماع پی آئی اے اور سعودی ایئر لائن کی جانب سے عمرہ کے کرایہ میں دس ہزار کے اضافہ کو عمرے پر قدغن لگانے کے
مترادف قرار دیتے ہوئے ان کے اس اقدام کی مذمت کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ فوری طور پر اس اضافہ کو واپس لیا جائے۔
- ☆ ...... یہ اجتماع وزیر اعظم ظفر اللہ جمالی سے مطالبہ کرتا ہے کہ زائد موصول ہونے والی حج درخواستوں کی منظوری کے لئے حکومت سعودی
عرب سے بات چیت کر کے فوری طور پر کوٹہ بڑھوایا جائے تاکہ عازمین حج فریضہ حج کی ادائیگی سے محروم نہ رہ جائیں۔ یہ اجتماع وزارت مذہبی امور کے اس رویہ کی مذمت کرتا ہے کہ وہ آبادی سے کم کوٹہ لے کر عازمین حج کو مشکلات میں مبتلا کرتی ہے۔
- ☆ ...... یہ اجتماع گوہر شاہی کے پیروکاروں کی جانب سے ملک کے مختلف حصوں میں غیر اسلامی عقائد پر مشتمل چاکنگ کی مذمت کرتا ہے
اور چاکنگ میں ملوث افراد کو گرفتار کیا جائے اور ملک بھر میں ہونے والی اس قسم کی چاکنگ کو صاف کرایا جائے۔
- ☆ ...... یہ اجتماع ٹی وی اور اشتہارات کے ذریعہ فحاشی اور عریانی کے پھیلاؤ کے عمل کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کرتا ہے کہ ٹی وی اور
اشتہارات میں فحاشی و عریانی کے عنصر کو ختم کیا جائے اور پاکستانی تہذیب کو اجاگر کیا جائے۔
- ☆ ...... یہ اجتماع پاکستانی حکومت کی جانب سے ہندوستان کے ساتھ مذاکرات کے عمل کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے حکومت
ہندوستان سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ تنازعات کو ختم کرنے کے لئے مذاکرات کا راستہ اپنائے۔
- ☆ ...... یہ اجتماع ، عراق میں پاکستان فوج بھیجنے کے مطالبے کو غیر اسلامی تصور کرتے ہوئے متحدہ مجلس عمل کی جانب سے جاری کردہ اس
فتوی کی مکمل حمایت کرتا ہے جس کی رو سے عراق میں فوج بھیجنا جائز نہیں۔ یہ اجتماع مطالبہ کرتا ہے کہ فوری طور پر امریکہ پر واضح کیا جائے کہ پاکستانی فوج کسی صورت عراق نہیں بھیجی جائے گی۔
- ☆ ...... یہ اجتماع امریکہ کے ایما پر دینی مدارس کے خلاف مذموم پروپیگنڈا مہم کی مذمت کرتا ہے اور مدارس پر چھاپہ مارنے کے عمل کو غیر
قانونی تصور کرتے ہوئے مطالبہ کرتا ہے کہ دینی مدارس پر چھاپہ مارنے کا سلسلہ بند کیا جائے اور دینی مدارس کے خلاف منفی پروپیگنڈا مہم ختم کی جائے۔
- ☆ ...... یہ اجتماع متحدہ مجلس اور حکومت کے مذاکرات کے عمل کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے حکومت سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ متحدہ مجلس
عمل کے جائز مطالبات منظور کر کے آئینی تعطل کو ختم کیا جائے۔
- ☆ ...... یہ اجتماع ملک میں مہنگائی اور بیروزگاری کی شرح میں اضافہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ وہ
مہنگائی اور بیروزگاری کو ختم کرنے کے لئے مناسب اقدامات کرے۔
- ☆ ...... یہ اجتماع کراچی میں عسکری پارک کی تعمیر کے لئے مساجد کو شہید کرنے کے عمل کی مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کرتا ہے
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کہ مساجد کو شہید کرنا غیر شرعی عمل ہے۔ اس لئے اس فیصلہ کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔
- ☆...... یہ اجتماع کالا باغ ڈیم اور بھاشا ڈیم کے سلسلے میں حکومت اور عوام سے اپیل کرتا ہے کہ وہ ملکی مفاد کو ملحوظ رکھتے ہوئے متفقہ طور پر
فیصلہ کریں اور اس کو اختلاف کا ذریعہ نہ بنائیں۔
- ☆...... یہ اجتماع مطالبہ کرتا ہے کہ چناب نگر کے باشندوں کو زمین کے مالکانہ حقوق دیئے جائیں اور قادیانی جماعت کی بلیک میلنگ سے
انہیں بچانے کے لئے قادیانی جماعت کے نام پر الاٹمنٹ منسوخ کی جائے۔ ملک بھر میں کہیں بھی ایسا نہیں ہوتا کہ ایک پورا علاقہ کسی جماعت کی ملکیت ہو۔
- ☆...... یہ اجتماع ملک کے بڑے دینی مدارس جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن اور دارالعلوم حقانیہ سمیت بڑے مدارس کو واچ لسٹ
میں شامل کرنے کے عمل کی مذمت کرتے ہوئے اس کو امریکہ کی غلامی سے تعبیر کرتے ہوئے مطالبہ کرتا ہے کہ فوری طور پر ان اداروں کو واچ لسٹ سے نکالا جائے، کیونکہ یہ ملک کے محسن ادارے ہیں جو ملک کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ ملکی استحکام میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
- ☆...... یہ اجتماع محکمہ بہبود آبادی حکومت پنجاب میں ڈسٹرکٹ پاپولیشن آفیسر جھنگ ڈاکٹر عطیہ الرحمٰن، تحصیل پاپولیشن آفیسر چنیوٹ امۃ
اللہ پروین، فیمیل ٹیکنیکل آفیسر چنیوٹ مبارکہ شاہین کی جانب سے اپنے ماتحت مسلمان ملازمین کو تنگ کرنے، انڈر پریشر لا کر قادیانی بننے کی ترغیب دینے اور بصورت دیگر نوکری سے نکالنے کی دھمکیاں دینے کی شدید مذمت کرتے ہوئے سیکرٹری پاپولیشن ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ حکومت پنجاب سے مطالبہ کرتا ہے کہ فوری طور پر ان تینوں قادیانیوں کو ان اہم عہدوں سے برطرف کیا جائے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۱۷ تا ۲۳؍اکتوبر ۲۰۰۳ء ص ۸ تا ۱۲)
دسواں سالانہ رد قادیانیت وعیسائیت کورس
الحمد للہ! اس سال عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دارالمبلغین کے زیر اہتمام مدرسہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں سالانہ رد قادیانیت وعیسائیت کورس منعقد ہوا۔ ۷؍شعبان المعظم ۱۴۲۴ھ مطابق ۴ تا ۲۴؍ اکتوبر ۲۰۰۳ء مندرجہ ذیل حضرات کے لیکچر ہوئے۔
(۱) حضرت مولانا خدا بخش صاحب (ختم نبوت کے دلائل اور قادیانی اعتراضات کے جوابات)، (۲) حضرت مولانا مفتی محمد انور صاحب (بائبل کی رو سے آنحضرت ﷺ کی آمد کی پیش گوئیاں)، (۳) حضرت مولانا غلام مرتضیٰ صاحب (عقیدہ تثلیث، کفارہ، رفع ونزول عیسیٰ از روئے بائبل)، (۴) مولانا راشد مدنی (تردید عیسائیت)، (۵) مولانا محمد اسماعیل شجاع صاحب (کذبات مرزا)، (۶) مولانا اللہ وسایا (حیات مسیح از روئے قرآن وسنت)، (۷) مولانا محمد اکرم طوفانی (تحفظ ختم نبوت)، (۸) شیخ جہانگیر سرور (قادیانیت کا قانونی احتساب)، (۹) صاحبزادہ طارق محمود (قادیانیت کا سیاسی تجزیہ)، (۱۰) جناب محمد متین خالد صاحب (مجاہدین ختم نبوت کے تذکرے)، (۱۱) جناب الحاج محمد اشتیاق احمد صاحب (قادیانی ہتھکنڈوں کا توڑ)، (۱۲) مولانا محمد طیب فاروقی (آمد حضرت مہدی اور خروج دجال)، (۱۳) مولانا فقیر اللہ اختر (فضائل ختم نبوت)، (۱۴) مولانا غلام مصطفیٰ صاحب کے صبح کے درس ہوئے، (۱۵) آخری لیکچر حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری دامت برکاتہم (عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور اخلاص کے عنوان پر ہوا)
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اس سال ۷۸ طلباء وعلماء کرام نے داخلہ لیا۔ چاروں صوبوں آزاد کشمیر سمیت ملک بھر کی نمائندگی کی تھی۔ بعض طلباء کثرت غیر حاضری کے باعث خارج کئے گئے۔ بعض اپنے اعزہ کی بیماری، فوتگی اور دیگر عوارض کی بناء پر رخصت لے کر چلے گئے۔ ۱۵۵ حضرات نے امتحان میں شرکت کی۔ سوائے ایک کے تمام طلباء کرام اچھے اعلیٰ نمبروں پر کامیاب ہوئے۔ طلباء کرام کی تقاریر کا سلسلہ جاری رہا۔ اس میں اٹھارہ طلباء کرام نے بہت اچھی تقریر کر کے انعامات حاصل کئے۔
کورس کے جملہ انتظامات حضرت مولانا قاضی احسان احمد، مولانا غلام مصطفیٰ، رانا محمد طفیل جاوید نے انجام دیئے۔ کھانا پکوانے کے نظم کی قاری عبدالرحمٰن، قاری محمد رمضان اور جناب قاری غلام یاسین نے نگرانی کی۔ کھانا کھلانے کے نظم کو متذکرہ دو اساتذہ کے قاری عبید الرحمٰن، قاری محمد عابد صاحب اور قاری عبدالمجید صاحب نے سنبھالا۔ کھانا پکانے کے لئے اس سال جھنگ سے باورچی محمد رمضان، محمد اصغر باورچی مدرسہ ختم نبوت چناب نگر اور محمد رمضان باورچی دفتر مرکزیہ نے خدمات انجام دیں۔ حافظ عبدالرشید، جناب عمر دراز نے ان کی معاونت کی۔ محترم جناب غلام یاسین صاحب نے داخلہ اور علاج معالجہ کی خدمات انجام دیں۔
۲۵؍ شعبان کو امتحان ہوا۔ حضرت مولانا محمد اسماعیل صاحب نے پرچہ سوالات مرتب کیا۔ حضرت مولانا قاضی احسان احمد، قاری محمد حفیظ اللہ، رانا محمد طفیل جاوید، حضرت مولانا مفتی محمد یوسف صاحب نے نگرانی کے فرائض سر انجام دیئے۔ حضرت مولانا محمد اسماعیل صاحب، جناب ساجد اعوان، محترم ماسٹر محمد ناصر نے پرچے چیک کئے۔ حسب سابق ایبٹ آباد کے جناب محمد ساجد اعوان نے سندات کی تکمیل کی اور رزلٹ مرتب کیا۔ ۲۵؍ شعبان بعد عشاء تقریری مقابلہ ہوا۔ حضرت مولانا محمد اسماعیل صاحب، مولانا غلام مصطفیٰ، مولانا قاضی احسان احمد صاحب نے منصفی کے فرائض انجام دیئے۔ ۲۶؍ شعبان کو جناب رانا محمد طفیل جاوید صاحب نے وظائف تقسیم کئے۔ ۲۵؍ شعبان بعد از امتحان ۲۶، ۲۷؍ شعبان کو بھی حسب سابق اسباق جاری رہے۔
تقریری مقابلہ: تقاریر کے لئے پچیس پچیس طلباء کرام پر مشتمل کل سات گروپ بنائے گئے۔ ان گروپوں کے نام حضرات صحابہ کرام کے نام پر رکھے گئے۔
سیدنا صدیق اکبر گروپ سے جناب عبدالمنان، ظفر احمد، عبدالرحمٰن سیدنا فاروق اعظم گروپ سے جمیل بصر، شکیل احمد، عبدالرزاق سیدنا عثمان غنی گروپ سے محمد ارشد، محمد رضوان، حافظ ارشاد الرحمٰن سیدنا علی المرتضیٰ گروپ سے عبدالجبار، امیر معاویہ سیدنا امیر معاویہ گروپ سے غلام شبیر، رحمت شہزاد، ہاشم سیدنا زبیر گروپ سے عنایت اللہ، ارشاد حسین، محمد شہزاد سیدنا طلحہ گروپ سے محمد بلال، محمد مظہر، غلام مصطفیٰ
نے تقریری مقابلہ میں حصہ لیا۔ تمام حضرات نے بہت عمدہ اور مدلل تقاریر کیں۔ تقریری مقابلہ میں ارشاد حسین اول، محمد بلال دوم، رحمت شہزاد نے سوم پوزیشن حاصل کی۔ تمام حضرات کو انعامی کتابیں دی گئیں۔ جب کہ پوزیشن حاصل کرنے والوں کو اضافی کتب انعام میں دی گئیں۔
تقریب اسناد: ۲۷؍ شعبان بروز جمعہ صبح دس بجے حضرت امیر مرکزیہ شیخ المشائخ خواجہ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمد
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
صاحب دامت برکاتہم بمع صاحبزادہ سعید احمد صاحب تشریف لائے۔ تمام طلباء نے زیارت و مصافحہ کا شرف حاصل کیا۔ گیارہ بجے باقاعدہ تقریب اسناد کا پروگرام شروع ہوا۔ حضرت مولانا اکرم طوفانی مجاہد ختم نبوت نے سوا بارہ تک خطاب فرمایا۔ پہلی اذان کے بعد خطیب ختم نبوت حضرت مولانا محمد اشرف ہمدانی کا بیان شروع ہوا۔ شیخ الحدیث استاذ العلماء حضرت مولانا عبدالمجید صاحب لدھیانوی دامت برکاتہم تشریف لائے۔ اسناد پر دستخطوں سے مشرف فرمایا۔ حضرت ہمدانی صاحب کے خطاب کے دوران حضرت امیر مرکزیہ، حضرت شیخ الحدیث صاحب، حضرت ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری اور حضرت مولانا مفتی ظفر اقبال صاحب ناظم جامعہ باب العلوم سٹیج پر تشریف فرما ہوئے۔ تقریباً سوا ایک بجے حضرت ہمدانی صاحب کا ایمان پرور اور معلومات افزاء اصلاحی بیان ختم ہوا۔ محترم ساجد اعوان صاحب نے تقریب کے اغراض و مقاصد و افادیت پر مختصر خطاب کیا اور طلباء کو اسناد و کتب دینے کا عمل شروع ہوا۔ پون گھنٹہ میں یہ پروگرام تکمیل کو پہنچا۔
سوا دو بجے خطبہ جمعہ حضرت ناظم اعلیٰ صاحب نے ارشاد فرمایا۔ جمعہ کی امامت حضرت مرکزیہ دامت برکاتہم نے فرمائی۔ نماز سے فراغت کے بعد حاضرین میں سے کافی حضرات نے حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم سے بیعت کا شرف حاصل کیا۔ یوں پونے تین بجے یہ تقریب حضرت دامت برکاتہم کی دعا سے بخیر و خوبی اختتام کو پہنچی۔ مدعوین حضرات کی ضیافت سے ساڑھے تین بجے فراغت ہوئی۔
جن طلباء نے اس سال کورس میں شرکت کی ان کے اسمائے گرامی یہ ہیں:
ان میں جامعہ رشیدیہ ہارون آباد کے جناب محمد عمر صاحب نے اوّل پوزیشن حاصل کی۔ دوسری پوزیشن جناب محمد یونس اور تیسری پوزیشن جناب محمد یعقوب خان نے حاصل کی۔
نمبر شمار نام ضلع نمبر شمار نام ضلع ۱ ظفر احمد شیخوپورہ ۲ عبدالرحمٰن میرپور خاص ۳ محمد اصغر خانیوال ۴ عبدالباسط نارووال ۵ غلام مصطفیٰ مظفر آباد ۶ عدیل خان لاہور ۷ مسعود احمد وہاڑی ۸ محمد طیب لاہور ۹ عطاء الرحمٰن مانسہرہ ۱۰ محمد امان اللہ میرپور خاص ۱۱ مدثر نواز لیہ ۱۲ سجاد احمد بھکر ۱۳ محمد یعقوب لودھراں ۱۴ آصف ندیم خانیوال ۱۵ محمد عارف مظفر آباد ۱۶ ضیاء اللہ بہاول نگر ۱۷ عبدالرشید وہاڑی ۱۸ محمد اجمل خانیوال ۱۹ شاہد اقبال خانیوال ۲۰ اجمل شاہ ٹوبہ ٹیک سنگھ ۲۱ عبدالمنان ڈی جی خان ۲۲ عبدالرحیم ژوب ۲۳ محمد سعید ملتان ۲۴ دلدار خان ٹوبہ ٹیک سنگھ ۲۵ محمد فیصل خان ڈی جی خان ۲۶ شکور احمد مانسہرہ ۲۷ عطاء اللہ وہاڑی ۲۸ انعام الحق بہاول نگر
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۲۹ عبیداللہ وہاڑی ۳۰ محمد حیدر خانیوال ۳۱ جمیل بصر نوشہرہ ۳۲ محمد ندیم راولپنڈی ۳۳ محمد شکیل شیخورہ ۳۴ محمد آصف نارووال ۳۵ محمد یعقوب مردان ۳۶ محمد طاہر بہاول پور ۳۷ محمد عمر بہاول نگر ۳۸ محمد راشد ٹوبہ ٹیک سنگھ ۳۹ عبدالرزاق ڈی جی خان ۴۰ شبیر احمد شیخوپورہ ۴۱ محمد مشتاق ڈی آئی خان ۴۲ محمد رمضان ڈی آئی خان ۴۳ محمد صدیق مظفر آباد ۴۴ محمد عثمان ملتان ۴۵ محمد نوید سیالکوٹ ۴۶ محمد مبین گوجرانوالہ ۴۷ غلام صدیق لیہ ۴۸ محمد رمضان لیہ ۴۹ عبدالماجد مانسہرہ ۵۰ محمد نواز جیکب آباد ۵۱ محمد امجد شاکر قصور ۵۲ نعمت اللہ قصور ۵۳ سیف اللہ مردان ۵۴ اشفاق حسین مردان ۵۵ محمد کامران نوشہرہ ۵۶ کمال شاہ چارسدہ ۵۷ عبدالغفار مظفر گڑھ ۵۸ محمد ایوب مظفر گڑھ ۵۹ عبدالرحیم سیالکوٹ ۶۰ ارشاد الرحمن نارووال ۶۱ محمد شکیل چارسدہ ۶۲ عبدالجبار رحیم یار خان ۶۳ وقار احمد راولپنڈی ۶۴ وقار احمد سیالکوٹ ۶۵ محمد طاہر میانوالی ۶۶ محمد عمران چارسدہ ۶۷ محمد راشد مالاکنڈ ۶۸ محمد جاوید مالاکنڈ ۶۹ محمد داؤد مالاکنڈ ۷۰ محمد توقیر چکوال ۷۱ زاہد محمود سرگودھا ۷۲ محمد طیب شیخوپورہ ۷۳ محمد رضوان بہاول پور ۷۴ عبداللطیف بہاول پور ۷۵ عبداللطیف لعل بہاول پور ۷۶ نذیر احمد بہاول پور ۷۷ محمد فیصل جھنگ ۷۸ عبدالجبار بھمبر ۷۹ محمد طاہر کوٹلی ۸۰ راشد اقبال مردان ۸۱ عدنان شہزاد راولپنڈی ۸۲ عطاء الرحمن کوٹلی ۸۳ محمد زمان گجرات ۸۴ عبدالرشید بہاول پور
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۸۵ محمد شہزاد گوجرانوالہ ۸۶ ریاض احمد حافظ آباد ۸۷ جمیل احمد کوہاٹ ۸۸ عبید اللہ بھمبر ۸۹ واجد حسین گوجرانوالہ ۹۰ وقار احمد ہری پور ہزارہ ۹۱ مومن خان مانسہرہ ۹۲ محمد احسان گجرات ۹۳ سید محمد علی باغ ۹۴ محمد فیروز وہاڑی ۹۵ محمد وقاص فیصل آباد ۹۶ محمد امیر معاویہ قصور ۹۷ سعید احمد فیصل آباد ۹۸ محمد عرفان صادق آباد ۹۹ محبوب الرحمن صادق آباد ۱۰۰ محمد یونس مظفر گڑھ ۱۰۱ بشیر احمد مظفر گڑھ ۱۰۲ محمد اختر مظفر گڑھ ۱۰۳ محمد یعقوب مظفر گڑھ ۱۰۴ محمد صادق مظفر گڑھ ۱۰۵ محمد زبیر مظفر گڑھ ۱۰۶ محمد صدیق حیدری مظفر گڑھ ۱۰۷ محمد خلیل گجرات ۱۰۸ واجد وسیم ڈی آئی خان ۱۰۹ محمد سلیم ژوب ۱۱۰ انور علی رحیم یار خان ۱۱۱ محمد شعیب رحیم یار خان ۱۱۲ میر خان تھر پارکر ۱۱۳ محمد شعیب لودھراں ۱۱۴ محمد طاہر گوجرانوالہ ۱۱۵ غلام شبیر شاہد مظفر گڑھ ۱۱۶ محمد افضل سیالکوٹ ۱۱۷ محمد اشفاق ٹوبہ ٹیک سنگھ ۱۱۸ محمد نوید مانسہرہ ۱۱۹ حق نواز مانسہرہ ۱۲۰ محمد وکیل ٹوبہ ٹیک سنگھ ۱۲۱ محمد عبداللہ خانیوال ۱۲۲ عبدالباسط لودھراں ۱۲۳ رحمت شہزاد میر پور ۱۲۴ وجیہہ اللہ خانیوال ۱۲۵ صداقت علی پشاور ۱۲۶ محمد کامران پشاور ۱۲۷ محمد علی جھنگ ۱۲۸ محمد شعیب راولپنڈی ۱۲۹ محمد شاہد اقبال خانیوال ۱۳۰ اسرافیل خان دیامر ۱۳۱ خالد محمود بہاول پور ۱۳۲ محمد معین الدین بہاول پور ۱۳۳ محمد شہزاد بہاول پور ۱۳۴ خدا بخش بہاول پور ۱۳۵ محمد طارق بہاول پور ۱۳۶ محمد اشرف بہاول پور ۱۳۷ محمد ہاشم انجم ساہیوال ۱۳۸ محمد رضوان جھنگ ۱۳۹ محمد سلیم اٹک ۱۴۰ عبدالخالق بہاول پور
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۱۴۱ ارشاد حسین لودھراں ۱۴۲ محمد ارشد منیر بہاول پور ۱۴۳ محمد سرفراز بہاول نگر ۱۴۴ محمد معاویہ خان بہاول پور ۱۴۵ محبوب علی سکھر ۱۴۶ محمد جاوید خان ٹوبہ ٹیک سنگھ ۱۴۷ عنایت اللہ ملتان ۱۴۸ محمد سجاد علی لودھراں ۱۴۹ محمد افضل سرگودھا ۱۵۰ خالد محمود لودھراں ۱۵۱ محمد اسحق سرگودھا ۱۵۲ زاہد معاویہ سرگودھا ۱۵۳ عبد الوحید لاہور ۱۵۴ محمد عرفان اقبال قصور ۱۵۵ محمد یاسین سرگودھا ۱۵۶ بلال احمد گوجرانوالہ ۱۵۷ محمد عطاء اللہ لودھراں ۱۵۸ محمد ابوبکر بہاول پور ۱۵۹ غلام مصطفیٰ ڈی جی خان ۱۶۰ محمد مظہر جھنگ ۱۶۱ قاری امیر علی نوشہرو فیروز ۱۶۲ جمیل احمد گھوٹکی ۱۶۳ عبدالقادر خیر پور میرس ۱۶۴ جلال الدین خیر پور میرس ۱۶۵ ثاقب شہزاد جہلم ۱۶۶ محمد ایاز ملتان ۱۶۷ شبیر احمد بدین ۱۶۸ طاہر اقبال مظفر آباد ۱۶۹ قاری عبدالغنی سیالکوٹ ۱۷۰ محمد طارق سرگودھا ۱۷۱ عبدالرحمن بہاول پور ۱۷۲ محمد سہیل جھنگ ۱۷۳ محمد اختر مظفر گڑھ ۱۷۴ خالد محمود بہاول پور ۱۷۵ محمد طاہر خانیوال ۱۷۶ قمرالحسنین سرگودھا ۱۷۷ محمد عابد خانیوال ۱۷۸ راشد محمود بہاول پور
مدرسہ ختم نبوت کے حفاظ طلباء کرام: اس سال رد قادیانیت وعیسائیت کورس کے موقع پر گزشتہ چند سالوں میں مدرسہ تعلیم القرآن ختم نبوت چناب نگر میں قرآن مجید حفظ مکمل کرنے والے طلباء عزیز حفاظ کرام کو حضرت امیر مرکزیہ وحضرت ناظم اعلیٰ کے دستخطوں سے سندات جاری کی گئیں۔ ان کی فہرست یہ ہے:
نمبر شمار نام ضلع نمبر شمار نام ضلع ۱ محمد ندیم دنیا پور ۲ محمد قاسم ملتان ۳ محمد شہزاد عالم ملتان ۴ خادم حسین ملتان ۵ لیاقت علی ملتان ۶ شاہد دین ملتان ۷ محمد طاہر امین ملتان ۸ ثناء اللہ ملتان ۹ سجاد احمد ملتان ۱۰ محمد شفیق ملتان
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۱۱ امیر حمزہ ملتان ۱۲ شوکت علی ملتان ۱۳ عبدالرؤف قصور ۱۴ عبید الرحمن ملتان ۱۵ سعید الرحمن ملتان ۱۶ عائشہ رحمان ملتان ۱۷ صدیقہ رحمان ملتان ۱۸ شگفتہ رحمان ملتان ۱۹ محمد ارشاد سرگودھا ۲۰ فیض الحسن قصور ۲۱ امتیاز عالم مسلم کالونی ۲۲ محمد حلیم چھنی قریشیاں ۲۳ قدرت اللہ چھنی قریشیاں ۲۴ محمد نصیر چھنی قریشیاں ۲۵ محمد عبداللہ ملتان ۲۶ عبیداللہ ملتان ۲۷ اصغر ملتان ۲۸ محمد علی ملتان ۲۹ ساجد سلیم ملتان ۳۰ فاروق چنیوٹ ۳۱ فیض اللہ مسلم کالونی ۳۲ کاشف محمود ملتان ۳۳ شہباز احمد جھنگ ۳۴ امتیاز احمد جھنگ ۳۵ محمد ارشد ملتان ۳۶ محمد شعیب ملتان ۳۷ عبدالباسط ملتان ۳۸ عمر گل مسلم کالونی ۳۹ راحت نواز مسلم کالونی ۴۰ عبدالرحمن چنیوٹ ۴۱ شمشیر مرتضیٰ جھنگ ۴۲ شہباز عالم ملتان ۴۳ محمد ندیم اطہر شورکوٹ ۴۴ محمد طاہر بھٹی ملتان ۴۵ محمد شعیب مسلم کالونی ۴۶ قیصر محمود ٹھٹھہ چندو ۴۷ دل جان چک جودھ ۴۸ محمد افتخار ملتان ۴۹ محمد ساجد سرگودھا ۵۰ غلام مصطفیٰ منڈی بہاؤالدین ۵۱ محمد بلال فیصل آباد ۵۲ محمد یونس تونسہ شریف ۵۳ محمد خرم شہزاد ملتان ۵۴ محمد فیاض منڈی بہاؤالدین ۵۵ محمد عمران چنیوٹ ۵۶ محمد آفتاب ملتان ۵۷ عابد حسین چھنی قریشیاں ۵۸ محمد یاسین اوکاڑہ ۵۹ محمد قاسم مسلم کالونی ۶۰ محمد نوید مسلم کالونی ۶۱ محمد امین مسلم کالونی ۶۲ محسن علی مسلم کالونی ۶۳ محمد نواز اسامہ مسلم کالونی
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۰۳ء ص ۲۸ تا ۵۵)
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
کی
مرکزی شوریٰ کے اجلاسوں
کی
کارروائیاں
۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عالمی مجلس کی مرکزی مجلس شوریٰ اور مجلس عمومی و مجلس عاملہ کے اجلاسات
نمبر شمار مقام اجلاس تاریخ صدر اجلاس ۸۰ دفتر مرکزیہ ملتان (مجلس منتظمہ) یکم/مارچ ۱۹۹۸ء، مطابق یکم/ذیقعدہ ۱۴۱۸ھ مولانا محمد یوسف لدھیانوی ۸۱ دفتر مرکزیہ ملتان (اجلاس شوریٰ) ۲۳/مئی ۱۹۹۸ء، مطابق ۲۶/محرم الحرام ۱۴۱۹ھ خواجہ خواجگان مولانا خواجہ خان محمد ۸۲ مسلم کالونی چناب نگر (مجلس منتظمہ) ۱۵/اکتوبر ۱۹۹۸ء، مطابق ۲۳/جمادی الثانی ۱۴۱۹ھ // // // ۸۳ دفتر مرکزیہ ملتان (مجلس منتظمہ) ۱۴/مئی ۱۹۹۹ء، مطابق ۲۷/محرم الحرام ۱۴۲۰ھ // // // ۸۴ دفتر مرکزیہ ملتان (اجلاس شوریٰ) ۱۶/مئی ۱۹۹۹ء، مطابق ۲۹/محرم الحرام ۱۴۲۰ھ // // // ۸۵ دفتر مرکزیہ ملتان (مجلس منتظمہ) ۸/فروری ۲۰۰۰ء، مطابق یکم/ذیقعدہ ۱۴۲۰ھ // // // ۸۶ دفتر مرکزیہ ملتان (اجلاس شوریٰ) ۶/مئی ۲۰۰۰ء، مطابق یکم/صفر الخیر ۱۴۲۱ھ // // // ۸۷ دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور (جنرل کونسل) ۱۰/جون ۲۰۰۰ء، مطابق ۷/ربیع الاوّل ۱۴۲۱ھ // // // ۸۸ مسلم کالونی چناب نگر (جنرل کونسل) ۱۳/اکتوبر ۲۰۰۰ء، مطابق ۱۴/رجب ۱۴۲۱ھ // // // ۸۹ دفتر مرکزیہ ملتان (مجلس منتظمہ) ۳/فروری ۲۰۰۱ء، مطابق ۸/ذیقعدہ ۱۴۲۱ھ // // // ۹۰ دفتر مرکزیہ ملتان (اجلاس شوریٰ) ۲۶/اپریل ۲۰۰۱ء، مطابق یکم/صفر الخیر ۱۴۲۲ھ // // // ۹۱ دفتر مرکزیہ ملتان (مجلس منتظمہ) ۲۷/دسمبر ۲۰۰۱ء، مطابق ۱۱/شوال المکرم ۱۴۲۲ھ // // // ۹۲ دفتر مرکزیہ ملتان (اجلاس شوریٰ) ۳/اپریل ۲۰۰۳ء، مطابق ۳۰/محرم الحرام ۱۴۲۴ھ // // // ۹۳ مسلم کالونی چناب نگر (جنرل کونسل) ۳/اکتوبر ۲۰۰۳ء، مطابق ۶/شعبان المعظم ۱۴۲۴ھ // // //
(۸۰ واں) اجلاس مجلس منتظمہ
اجلاس مرکزی مجلس منتظمہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بمقام دفتر مرکزیہ ملتان۔
مورخہ یکم/مارچ ۱۹۹۸ء، مطابق یکم/ذیقعدہ ۱۴۱۸ھ، بروز اتوار، صبح ۱۰/ بجے منعقد ہوا۔
زیر صدارت: نائب امیر مرکزیہ مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب دامت برکاتہم۔
تلاوت: مولانا حافظ محمد اکرم صاحب طوفانی۔
شرکاء: مولانا محمد یوسف لدھیانوی، مولانا مفتی محمد جمیل خان، مولانا بشیر احمد، مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی۔
اجلاس کے آغاز میں مرکزی ناظم اعلیٰ نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ حضرت اقدس دامت برکاتہم کے سفر حج کی تاریخ آگئی۔ سفر حج پر روانگی سے قبل حضرت والا نے پیغام بھجوایا کہ اجلاس حسب ضابطہ کر لیا جائے۔ حج سے واپسی پر میں تمام فیصلوں کی توثیق کر دوں گا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۳/اکتوبر ۱۹۹۷ء کو مجلس عمومی کا اجلاس چناب نگر (ربوہ) میں ہوا۔ ۴/اکتوبر کو حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم نے مرکزی مجلس منتظمہ کے عہدیداران اور اراکین شوریٰ کی نامزدگی فرمائی۔ تمام سابقہ اراکین شوریٰ کی رکنیت حسب سابق بحال رکھی گئی۔ البتہ مولانا حکیم عبدالرحمن آزاد کی معذوری کے باعث گوجرانوالہ سے حافظ محمد یوسف عثمانی کو شوریٰ کا رکن نامزد کیا گیا اور مولانا قاری محمد امین راولپنڈی کو ان کی معذوری کے باعث ان پر رکنیت کی ذمہ داری نہ ڈالی گئی۔ مجلس عمومی کے اجلاس کی کارروائی آج کے اجلاس میں پڑھی گئی۔ مولانا محمد یوسف صاحب لدھیانوی دامت برکاتہم کی منظوری سے مولانا مفتی جمیل احمد خان کو رکن شوریٰ نامزد کیا گیا۔
مبلغین کے اجلاس سہ ماہی منعقدہ ۶، ۷/فروری ۱۹۹۸ء کی کارروائی پڑھ کر سنائی گئی۔ صدر اجلاس نے پروگراموں کی ترتیب اور مبلغین کرام رفقاء عظام کی محنت پر خوشی کا اظہار فرمایا اور اپنی دعاؤں سے نوازا۔
حسب اجازت اجلاس گزشتہ مرکزی مجلس شوریٰ، مدرسہ ختم نبوت مسلم کالونی ربوہ کی بالائی منزل پر بشمولہ چھ کمرہ جات بہ تفصیل کمرہ نمبر۱: 14x10، دوسرا ہال: 14x35، تیسرا ہال: 14x29.6، چوتھا ہال: 14x36، پانچواں ہال: 14x31، چھٹا ہال: 14x15 بمعہ برآمدہ۔ مطبخ: 25x32، طعام گاہ: 25x32۔
بھرتی صحن و فرش اینٹ کی تعمیرات کا کام، زیر نگرانی مولانا غلام مصطفیٰ، جناب محمد طفیل جاوید، جناب غلام یٰسین، جناب حاجی معراج دین ہوا۔ الحمدللہ! تعمیرات کا کام مکمل ہوگیا ہے۔ صرف رنگ و روغن باقی ہے۔ ان اخراجات کی منظوری دی گئی۔ توثیق کے لئے آئندہ اجلاس مجلس شوریٰ میں پیش کیا جائے گا۔
مولانا عبدالرزاق رحیمی ولد حافظ عبدالرحیم مرحوم کو ایک پلاٹ ۵ مرلہ نمبری 18/6-A مسلم کالونی ربوہ میں الاٹ ہوا۔ انہوں نے صرف ایک قسط ادا کی۔ ان کو بقایا کی ادائیگی اور تعمیر مکمل کرنے کا نوٹس ملا۔ یہ پلاٹ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے حاصل کیا اور مولانا عزیز الرحمن جالندھری کے نام مختار نامہ واقرار نامہ لکھ کر دے دیا۔ پلاٹ کی بقایا اقساط اور مذکورہ پلاٹ کی تعمیرات پر اس وقت تک ۱۶۴۶۷۸ روپے خرچ ہو چکے ہیں۔ بجلی اور پانی کی فٹنگ اور صحن کے فرش وغیرہ کے کام کی تکمیل باقی ہے۔ اجلاس میں پلاٹ خریدنے اس پر دو مکان تعمیر کرنے کی منظوری دی گئی۔ اخراجات ہر دو مکانات کی تعمیر مکمل ہونے پر شوریٰ میں توثیق کے لئے پیش کئے جائیں گے۔
مسلم کالونی ربوہ میں مسلمان بچیوں کے لئے شعبہ تعلیم البنات کا انتظام نہیں تھا۔ قادیانیوں کے گڑھ ربوہ میں اس کی بہت ضرورت تھی۔ چنانچہ مسلم کالونی ربوہ میں ختم نبوت مدرسہ کی بالائی منزل کے دو کمروں پر علیحدہ بیرونی سیڑھی کا انتظام کر کے شعبہ تعلیم القرآن کا انتظام کیا گیا اور معلمہ کا تقرر کیا گیا ہے۔ حضرت لدھیانوی مدظلہ نے اس کارِ خیر کی تحسین فرمائی اور تقرری معلمہ و اجرائے شعبہ تعلیم البنات کی منظوری دی گئی۔
دارالمبلغین دفتر مرکزیہ ملتان میں سہ ماہی کورس کے لئے مجلس میں بحیثیت مبلغ اور محاذ ختم نبوت پر کام کے خواہش مند پانچ علماء کرام کو داخلہ دیا گیا ہے جن کے اسماء گرامی درج ذیل ہیں۔ (۱) مولانا خان محمد مدرسہ عربیہ عزیزیہ رتوڈیرو ضلع لاڑکانہ، (۲) مولانا نذیر احمد جنوبی بستی مہاراں تحصیل علی پور ضلع مظفر گڑھ، (۳) مولانا محمد مدرسہ عربیہ دارالہدیٰ ختم نبوت چوک پرمٹ علی پور ضلع مظفر گڑھ، (۴) مولانا محمد عارف ندیم، چوہدری وارث علی ٹائر ورکس اڈا فیڈر ڈاکخانہ چسیانہ تحصیل منچن آباد ضلع بہاول نگر، (۵) مولانا عبدالخالق پوسٹ آفس حیدر والی بستی سکونت قبول والی تحصیل تونسہ شریف ضلع ڈیرہ غازی خان۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اجلاس شوریٰ منعقدہ ۱۵؍ محرم الحرام ۱۴۱۷ھ میں ہفت روزہ لولاک کو ”ماہانہ“ ملتان سے شائع کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ چنانچہ ماہانہ لولاک محرم الحرام ۱۴۱۸ھ ملتان سے شائع ہونا شروع ہوا۔ لولاک کی کتابت، کتب و رسائل اور دیگر مرکزی دفتر کی ضروریات کے لئے جدید کمپیوٹر و پرنٹر کراچی سے خریدا گیا اور کمپوزنگ کے لئے حافظ محمد یوسف ہارون کو شعبان ۱۴۱۸ھ سے مقرر کیا گیا ہے۔ کمپیوٹر کے اخراجات اور کمپوزر کی تقرری کی منظوری دی گئی۔
وفاق المدارس عربیہ سے ملحق مدارس عربیہ کے نصاب میں ”اسلام اور قادیانیت“ نامی کتاب کو شامل کرانے کے لئے مولانا مفتی جمیل احمد خان وفاق سے بات چیت کریں گے۔ مجلس کے شعبہ تعلیم القرآن کے لئے مفتی جمیل احمد خان الطاف برادرز خوجہ سے قرآن کریم کے ۳۰۰ صد نسخے بھجوائیں گے۔
محمد یوسف لدھیانوی
(۸۱ واں) اجلاس مجلس شوریٰ
اجلاس مرکزی مجلس شوریٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بمقام دفتر مرکزیہ ملتان۔ مؤرخہ ۲۳؍ مئی ۱۹۹۸ء، مطابق ۲۶؍ محرم الحرام ۱۴۱۹ھ، بروز ہفتہ، بوقت ۹؍ بجے صبح منعقد ہوا۔
زیر صدارت: امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم۔
شرکاء: مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم، مولانا محمد یوسف لدھیانوی، مولانا فیض احمد ملتان، مولانا عبدالرزاق اسکندر کراچی، مخدوم زادہ حافظ محمد عابد خانیوال، مولانا عبدالواحد کوئٹہ، مولانا انوار الحق کوئٹہ، مولانا نور الحق نور پشاور، مولانا سید عبدالمجید ندیم ملتان، مولانا قاضی عزیز الرحمن رحیم یار خان، مولانا احمد میاں حمادی ٹنڈو آدم، مولانا صاحبزادہ عزیز احمد خانقاہ سراجیہ، مولانا قاضی عبدالمالک جھاوریاں، جناب قاضی فیض احمد ٹوبہ ٹیک سنگھ، جناب حاجی بلند اختر نظامی لاہور، جناب حاجی سیف الرحمن بہاول پور، جناب میاں خان محمد باگڑ سرگانہ، جناب قاری محمد یوسف عثمانی گوجرانوالہ، مولانا مفتی جمیل خان کراچی، مولانا عزیز الرحمن جالندھری ملتان، مولانا بشیر احمد فاضل پور، مولانا محمد اکرم طوفانی سرگودھا، مولانا اللہ وسایا ملتان، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی لاہور۔
اجلاس شوریٰ کا آغاز صبح ۹؍ بجے مولانا قاضی عزیز الرحمن مدظلہ آف رحیم یار خان کی تلاوت سے ہوا۔ گزشتہ اجلاس شوریٰ سے تا امروز ہمارے جو علماء کرام، جماعتی رفقاء، حلقہ احباب کے اعزہ واقارب وفات پا گئے۔ ایسے تمام حضرات کے لئے اجلاس میں دعائے مغفرت، دعائے ترقی درجات اور پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم نے اجتماعی دعا فرمائی۔
دعائے مغفرت: وفات پانے والے اکابرین واحباب کے نام حسب ذیل ہیں: مولانا قاری شہاب الدین، مولانا ڈاکٹر حبیب اللہ مختار، مولانا مفتی محمد مجاہد، مولانا مفتی محمد حسین نعیمی، مولانا سید محمد کرم شاہ الازہری، مولانا عبداللطیف جہلمی، جناب ندیم اقبال ایڈووکیٹ، خوش دامن مرحومہ حضرت امیر مرکزیہ، والدہ محترمہ میاں عبدالعزیز جتوئی، اہلیہ مرحومہ محمد اشرف ہمدانی، دختر پروفیسر عبدالعلیم، والدہ مرحومہ حافظ محمد یوسف عثمانی، مولانا انیس الرحمن درخواستی شہید، مولانا مفتی عبدالسمیع، مولانا محمد شاہ، مولانا خلیل احمد قادری، مولانا محی الدین لکھوی، مولانا سید محمود حسن جاوید ترمذی، والدہ محترمہ صاحبزادہ طارق محمود، والدہ محترمہ میاں شیر محمد قریشی، اہلیہ مرحومہ مولانا عطاء الرحمن بہاول پور، اہلیہ مرحومہ مولانا ایوب جان بنوری۔
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء
ایجنڈا شق نمبر ۲: اجلاس منتظمہ منعقدہ ۱۴۱۸ھ زیر صدارت نائب امیر مرکزیہ کی کارروائی، حرف بہ حرف پڑھ کر سنائی گئی۔ مجلس منتظمہ میں جو فیصلے کئے گئے ۔ وہ چونکہ بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ شوریٰ سے ان کی تفصیلی منظوری ضروری ہے۔ اس لئے ان تمام امور کو ایجنڈا کی شق نمبر ۷ میں تفصیلاً زیر بحث لایا جا رہا ہے۔
ایجنڈا شق نمبر ۳: تحفظ ناموس رسالت قانون کی منسوخی کے لئے عیسائی لابی اندرون و بیرون ملک سے حکومت پاکستان پر دباؤ ڈال رہی ہیں اور حکومت پاکستان اس قانون میں ترمیم یا اسے غیر موثر بنانے کی تجاویز پر غور کر رہی ہے۔ جیسا کہ وفاقی وزیر داخلہ کا اخباری بیان ہے۔ مولانا عبداللہ نے جو آج اس اجلاس میں شریک نہیں ۔ اطلاع دی کہ وفاقی وزارت مذہبی امور نے اس سلسلے میں راولپنڈی، اسلام آباد کے علماء کا اجلاس طلب کر رکھا ہے ۔ بظاہر حکومت قانون کے طریقہ کار میں کوئی تبدیلی کرنا چاہتی ہے۔
فیصلہ ہوا کہ حضرت امیر مرکزیہ اور نائب امیر مرکزیہ دامت برکاتہم کی طرف سے علماء کرام سے اپیل کی جائے کہ قانون توہین رسالت کے سلسلے میں حکومت کے طلب کردہ کسی اجلاس میں شریک نہ ہوں اور اس قانون کے تحفظ کے لئے اپنا بھر پور کردار ادا کریں اور دینی رسائل اور جرائد پر اس عنوان سے مقالہ جات تحریر کئے جائیں ۔ اس قانون کی اہمیت اور افادیت ، اس کا اہم اور ضروری ہونا واضح کیا جائے۔
ایجنڈا شق نمبر ۵، ۶: اس سلسلے میں حسب فیصلہ مجلس منتظمہ ”گفٹ فار قادیانیت“ تعداد ایک ہزار اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ اور آفیسران کے حلقہ میں مفت تقسیم کے لئے شائع کی گئی۔ اس کے علاوہ عام مسلمانوں کے لئے اور زیر تعلیم طلباء کرام کے لئے چار چار صفحات کے چھوٹے چھوٹے پمفلٹ مختلف عنوانات کے ساتھ ترتیب دیئے گئے ہیں جو ان شاء اللہ بہت مفید ہوں گے ۔ مولانا محمد یوسف لدھیانوی کے مرتبہ رسائل میں ”شناخت“ ، ”المہدی“ ، ”کلمہ طیبہ کی توہین“ ، ”قادیانیوں اور دوسرے مسلمانوں میں فرق“ ، ”گالیاں کون دیتا ہے“ ، ”قادیانی عقائد پر ایک نظر“ اور ان کے ساتھ دس قسم کے اسٹیکر شائع کئے گئے ہیں۔ جو مبلغین ، مقامی جماعتوں اور محاذ ختم نبوت پر کام کرنے والے احباب کے ذریعے بہت نظم اور ضبط سے قادیانیت زدہ حلقوں میں تقسیم کئے جاتے رہے ہیں۔
ختم نبوت کانفرنس برمنگھم ، ختم نبوت کانفرنس چناب نگر : ختم نبوت کانفرنس برمنگھم ۹؍ اگست ۱۹۹۸ء کو منعقد ہوگی۔ انگریزی اشتہار چھپ چکے ہیں ۔ اردو کے اشتہارات مولانا طوفانی ہمراہ لیتے جائیں گے۔ اکابرین میں سے مولانا اسعد مدنی، مولانا مرغوب الرحمٰن انڈیا ، مولانا محمد تقی عثمانی کراچی ہر سہ حضرات کو شرکت کی دعوت دی جائے گی۔
چناب نگر ختم نبوت کانفرنس اکتوبر کے پہلے یا دوسرے ہفتہ میں رکھ لی جائے۔ اگر حالات سازگار ہوں تو اس کانفرنس میں شرکت کے لئے مولانا اسعد مدنی کو شرکت کی دعوت دی جائے۔
اسلام آباد دفتر کی ضروریات اور مرمت: مولانا محمد شریف امیر مجلس اسلام آباد کی سفارش پر اسلام آباد کے لئے موٹر سائیکل خریدنے کی اجازت دی گئی جو حضرت مولانا قاضی احسان احمد مبلغ اسلام آباد کی تبلیغی مصروفیات کے لئے ضروری تھا۔ دفتر اسلام آباد مجلس کا ملکیتی ہے۔ بیرونی سیڑھی، دروازے، رنگ و روغن سب خراب اور بوسیدہ ہوچکے ہیں۔ ایک نئے کمرے کی تعمیر کی بھی بہت ضرورت ہے۔ فیصلہ ہوا کہ مولانا محمد شریف ہزاروی اور مولانا محمد عبداللہ کی نگرانی میں تعمیر اور مرمت کا کام کرالیا جائے۔
ججز حضرات کے لئے ”ثبوت حاضر ہیں“ کی تقسیم : مولانا میاں حمادی مدظلہ کی تجویز پر فیصلہ ہوا کہ ہائیکورٹ ، سپریم کورٹ کے ججز کو ” ثبوت حاضر ہیں“ کتاب بھجوا دی جایا کرے۔ موصوف کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے اجازت دی گئی ۔
فقیر خان محمد غفرلہ
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
(۸۲ واں) اجلاس مجلس منتظمہ
اجلاس مرکزی مجلس منتظمہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بمقام مسلم کالونی چناب نگر۔
مؤرخہ ۱۵/اکتوبر ۱۹۹۸ء، مطابق ۲۳/جمادی الثانی ۱۴۱۹ھ، بروز جمعرات منعقد ہوا۔
زیر صدارت: امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم۔
شرکاء: مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم، مولانا محمد یوسف لدھیانوی، مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا حافظ محمد اکرم طوفانی، مولانا اللہ وسایا، مولانا مفتی محمد جمیل خان، مولانا بشیر احمد، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی۔ فقیر خان محمد غفرلہ
(۸۳ واں) اجلاس مجلس منتظمہ
اجلاس مرکزی مجلس منتظمہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بمقام دفتر مرکزیہ ملتان۔
مؤرخہ ۱۴/مئی ۱۹۹۹ء، مطابق ۲۷/محرم الحرام ۱۴۲۰ھ، بروز جمعۃ المبارک منعقد ہوا۔
زیر صدارت: امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم۔
شرکاء: مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم، مولانا محمد یوسف لدھیانوی، جناب حاجی فیض احمد ٹوبہ ٹیک سنگھ، مولانا مفتی محمد جمیل خان کراچی، مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا حافظ محمد اکرم طوفانی، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی۔
فقیر خان محمد غفرلہ
(۸۴ واں) اجلاس مجلس شوریٰ
اجلاس مرکزی مجلس شوریٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بمقام دفتر مرکزیہ ملتان۔
مؤرخہ ۱۶/مئی ۱۹۹۹ء، مطابق ۲۹/محرم الحرام ۱۴۲۰ھ، بروز اتوار منعقد ہوا۔
زیر صدارت: امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم۔
شرکاء: مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم، مولانا محمد یوسف لدھیانوی، مولانا سید عبدالمجید ندیم شاہ، مولانا عبدالرزاق اسکندر، مولانا مفتی نظام الدین، مولانا انوار الحق، مولانا نور الحق نور، مولانا قاضی عزیز الرحمن، مولانا احمد میاں حمادی، مولانا صاحبزادہ عزیز احمد، مولانا مفتی جمیل خان، جناب حاجی فیض احمد، جناب حاجی بلند اختر، جناب حاجی سیف الرحمن، جناب صوفی ریاض الحسن گنگوہی، جناب میاں خان محمد سرگانہ، جناب قاری محمد یوسف عثمانی، مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا بشیر احمد، مولانا حافظ محمد اکرم طوفانی، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا صاحبزادہ خلیل احمد۔
آغاز اجلاس دس بج کر سولہ منٹ پر زیر صدارت امیر مرکزیہ شروع ہوا۔ گوجرانوالہ سے رکن شوریٰ جناب حافظ محمد یوسف عثمانی مدظلہ نے قرآن کریم کی تلاوت کی۔
دعاء مغفرت: گزشتہ اجلاس شوریٰ منعقدہ ۲۳/مئی ۱۹۹۸ء، بمطابق ۲۶/محرم الحرام ۱۴۱۹ھ بروز ہفتہ تا امروز دینی حلقہ کی علمی، روحانی اور جماعتی شخصیات جو وفات پاگئیں ان کے اسماء گرامی پڑھ کر سنائے گئے اور حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم نے تمام فوت
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
شدگان کے لئے خصوصیت سے اور عام مسلمانوں کی دینی اور دنیاوی سعادت مندی، نیک بختی کے لئے دعا فرمائی۔ اللہ رب العزت سبھی کی بخشش فرمائیں اور اپنی رحمت سے نوازیں۔
نام درج ذیل ہیں: مولانا سعید احمد خان مدینہ، مولانا عبدالکریم قریشی بیر شریف، مولانا محمد طاسین کراچی، مولانا قاضی عبدالمالک جھاوریاں، حکیم محمد سعید دہلوی کراچی، حافظ عبدالحمید کچاکھوہ، مولانا عبداللطیف پشاور، مولانا عبدالعزیز شجاع آبادی، مولانا عبداللہ اسلام آباد، مولانا ادریس انصاری صادق آباد، مولانا محمد اسحاق علوی سرحد، مولانا حافظ محمد اعظم مچن آباد، مستری برکت علی کنری، حافظ عبدالغفور چیچہ وطنی، مولانا قاری محمد ابراہیم مردان، مولانا موسیٰ خان لاہور، مولانا حافظ محمد عابد خانیوال، مولانا حکیم حنیف اللہ ملتان، حافظ نذیر احمد سکھر، مولانا محمد طیب شاہ قصور، مولانا سبحان محمود کراچی، مولانا حاجی محمد احمد کراچی، مولانا محمد ایوب بنوری پشاور، مولانا محمد بنوری کراچی، مولانا قطب الدین بہاول نگر، مولانا عبدالشکور لدھیانوی کراچی، مولانا حکیم البرکات احمد بگوی بھیرہ، الشیخ عبدالعزیز بن باز، مولانا عبدالحی کوئٹہ۔
مجلس کے زیر اہتمام آٹھ مقامات پر شعبہ ہائے تعلیم القرآن قائم ہیں، جن کی تفصیل درجہ ذیل ہے۔
جابہ : بمقام جامعہ مسجد ختم نبوت میں تعلیم القرآن کا مختصر شعبہ قائم ہے۔ جہاں مقامی بچے دینی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ جن کی تعداد اوسطاً ۵۰ کے قریب ہے۔ حافظ محمد حیات علاقہ کے مدرس اور امام ہیں۔
محمدیہ مسجد چناب نگر : اسٹیشن چناب نگر پر سب سے پہلی مسجد تعمیر کی گئی۔ ریلوے اور ملحقہ مسلم آبادی کے بچے اور بچیاں ناظرہ قرآن کریم پڑھتے ہیں۔ جن کی تعداد اوسطاً ۳۰ کے قریب ہے۔ جناب حافظ محمد یوسف امام اور مدرس ہیں۔
مسلم کالونی چناب نگر : یہاں مجلس کا انتظامی دفتر، جامع مسجد، لائبریری اور شعبہ تعلیم القرآن قائم کیا گیا ہے۔ یہاں مقیم بچے تعداداً ۱۰۰ ہیں۔ جن کے خوردونوش کا بہترین انتظام کیا گیا ہے۔ مقامی بچے ۸۰ کے قریب ہیں۔ تین مدرس درجہ حفظ اور ایک ماسٹر اردو تعلیم کے لئے مقرر ہیں، جن کے نام یہ ہیں: قاری عبدالرحمن، قاری محمد عابد صدیقی، قاری زوار حسین، ماسٹر غلام یسین۔
ملتان : مجلس کے مرکزی دفتر کی جامع مسجد میں شہری بچے ۵۵ کے قریب قرآن کریم حفظ کرتے ہیں۔ یہاں کے امام و مدرس قاری خادم حسین ہیں۔
چوک پرمٹ : علاقہ تحصیل علی پور بمقام پرمٹ علاقائی بچوں کی دینی تعلیم کے لئے اکابرین مجلس نے یہ مدرسہ قائم کیا تھا۔ یہاں مقیم طلباء ۷۰ کے قریب ہیں۔ ملحقہ ہائی سکول کے بچے تعداداً ۱۰۰ قرآن کریم کے حفظ و ناظرہ تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ مولانا عبدالکریم، قاری سعید احمد، قاری شکیل احمد، قاری رشید احمد مدرس ہیں۔
بہاول پور : بہاول پور کی مشہور مسجد ”جامع الصادق“ کے اندر ملحقہ درسگاہوں میں مجلس نے شعبہ حفظ کا انتظام کیا ہے۔ ۹۰ کے قریب شہری بچے قرآن کریم حفظ کرتے ہیں۔ مدرس قاری مشتاق الرحمن اور قاری ارشد محمود تعلیمی خدمات سرانجام دیتے ہیں۔
بستی صالح : ڈسٹرکٹ جیل بہاول پور سے ملحقہ بستی صالح میں ایک قدیم مدرسہ جو بدنظمی کا شکار ہوا۔ رکن شوریٰ حاجی سیف الرحمن کی درخواست پر اس کا نظم مجلس نے سنبھالا۔ اس مدرسہ میں درجہ حفظ کے طلباء ۳۷، ناظرہ اور قاعدہ کے طلباء ۵۵ ہیں۔ جب کہ حفظ طالبات کی تعداد ۱۶ اور ناظرہ قاعدہ طالبات کی تعداد ۶۲ ہے۔ دو مدرس اور دو استانیاں دینی تعلیم دیتی ہیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کنری: بمقام کنری مجلس کے اکابرین نے یہاں مجلس کا دفتر اور مسجد تعمیر کرائی۔ مذکورہ مسجد کے خطیب و امام اور مدرس قاری سعید احمد ہیں۔ صبح اور بعد ظہر سکول کے طلباء کو قرآن کریم کی تعلیم دیتے ہیں۔
کراچی: کراچی دفتر واقع چوک پرانی نمائش میں ایک کمرہ درجہ حفظ کے لئے مخصوص کیا گیا ہے۔ قاری ریاض احمد بطور مدرس تعینات ہیں۔ مقامی بچے درجہ حفظ میں بہت کم ہیں۔ کلاس نامکمل ہے۔ مولانا مفتی محمد جمیل خان اس طرف توجہ دیں۔
ختم نبوت سیمینار کے انعقاد کی ایک تجویز: مولانا سید عبدالمجید ندیم شاہ کی تجویز پر کہ صوبائی سطح پر ختم نبوت سیمینار منعقد کئے جانے چاہئیں۔ تجویز کی اہمیت اور افادیت سے اتفاق کرتے ہوئے اکثر اراکین نے اس رائے کا اظہار کیا کہ ختم نبوت کے عمومی اجتماعات ہی زیادہ مفید ہیں اور اسی میں خیر و برکت ہے۔ جدید قسم کے ہال جس میں مخصوص نشستیں اور مخصوص اوقات میں سیاسی اور ثقافتی پروگرام ہوتے ہیں۔ ایسی جگہوں سے اجتناب بہتر ہے۔ علاوہ ازیں ہمارے اسلاف اور اکابرین نے بھی اس سے اجتناب کیا ہے۔ نیز اس پر مصارف بھی بہت آئیں گے۔ اس پر مفتی محمد جمیل خان نے پیشکش کی کہ تجرباتی طور پر ہم ایک سیمینار کا اہتمام کراچی میں کرلیتے ہیں۔ جس کے مصارف بھی ہم مقامی طور پر خود ہی برداشت کریں گے۔ اس کے بعد آئندہ مزید ایسے پروگراموں کی افادیت کا جائزہ لیا جاسکے گا۔
شعبہ تبلیغ کی تفصیلات: مجلس کے شعبہ تبلیغ میں مبلغین اور معاون مبلغین کی تعداد ۲۹ ہے۔ جن میں ۳ حضرات مرکزی مبلغ ہیں اور ۲۶ مقامی مبلغین جو اضلاع کے حلقوں میں اپنی تبلیغی خدمات سرانجام دیتے ہیں۔
دفتر مرکزیہ ملتان میں مبلغین کے سال میں چار اجلاس ہوتے ہیں۔ جن میں تین تین ماہ کے تبلیغی پروگراموں کا جائزہ لیا جاتا ہے اور آئندہ تین ماہ کے تبلیغی پروگرام طے کئے جاتے ہیں۔ قادیانیت زدہ علاقوں میں خاص طور پر اجتماعات رکھے جاتے ہیں۔ لٹریچر تقسیم کیا جاتا ہے اور رد قادیانیت پر تربیتی نشستیں منعقد کی جاتی ہیں۔ خاص خاص شہروں میں ختم نبوت کے سالانہ پروگرام بھی رکھے جاتے ہیں۔ جن میں بعض کانفرنسیں بہت اہمیت کی حامل ہیں۔ جیسے ختم نبوت کانفرنس چناب نگر، سرگودھا، لاہور، ملتان، بہاول پور، ٹنڈو آدم، حیدر آباد، کوئٹہ قابل ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ چناب نگر میں سالانہ رد قادیانیت کورس، ۱۲ تا ۲۸ شعبان میں رکھا جاتا ہے۔ اوسطاً ۱۳۵ / ۱۴۰ تعلیم یافتہ حضرات شریک ہوتے ہیں۔ شعبہ تبلیغ اپنی سابقہ روایات کے مطابق موجودہ نامساعد حالات میں اپنے بزرگوں کے طرز پر ہمہ وقت مصروف عمل رہتا ہے اور بقدر ہمت و استطاعت عقیدۂ ختم نبوت کا تحفظ اور قادیانیوں کا تعاقب بھرپور انداز میں کیا جاتا ہے۔ شعبہ تبلیغ کے ان پروگراموں میں حلقہ کے مجلس شوریٰ کے اراکین، مقامی جماعتوں کے امیر بھرپور دلچسپی لیتے ہیں اور ہر قسم کا تعاون اور سرپرستی کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ بریلوی اور اہل حدیث مکاتب فکر کے علماء حضرات سے بھی جہاں کہیں کوئی پروگرام ہو، ان کا تعاون حاصل کیا جاتا ہے۔
ختم نبوت کانفرنس برمنگھم: سالانہ ختم نبوت کانفرنس جو کہ ۸ اگست ۱۹۹۹ء کو ہورہی ہے۔ ابتدائی انتظامات کے سلسلے میں برطانیہ کے مولانا منظور الحسینی، طہٰ قریشی اور جناب فیروز تینوں نے کوششیں شروع کر دی ہیں۔ ۸ اگست کانفرنس کے لئے ہال بک ہو چکا ہے۔ اشتہار چھپ چکے ہیں۔ اخباری بیانات اور مقامی علماء سے ملاقاتیں شروع کر دی گئی ہیں۔
مولانا تقی عثمانی اور مولانا رفیع عثمانی دو بزرگوں میں سے جن کا وقت مل جائے دارالعلوم دیوبند سے کوئی ایک بزرگ ہستی کو شرکت کی دعوت دے دی جائے۔ حسب سابق ۱۰ جولائی کے قریب مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اکرم طوفانی اور صاحبزادہ طارق محمود لندن کا
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سفر کرلیں تاکہ پورے برطانیہ کا تبلیغی دورہ کرلیں۔ حضرت امیر مرکزیہ بمعہ صاحبزادہ سعید احمد اور نائب امیر مرکزیہ بمعہ جناب مولانا مفتی محمد جمیل خان مورخہ ۲۱، ۲۲/ جولائی تک لندن کا سفر کر لیں تاکہ خصوصی اجتماعات میں خطابات ہو سکیں۔
سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر : کانفرنس کی تاریخیں ۷، ۸/اکتوبر ۱۹۹۹ء دن جمعرات، جمعہ اشد ضروری ہے تاکہ شرکاء کی معلومات میں صحیح صحیح اضافہ ہو۔ اسٹیج کا نظم بھی ایسا ہونا چاہئے کہ سٹیج سیکرٹری مقرر کو دوران تقریر بھی موضوع اور وقت کا پابند کر سکنے کی جرات کر سکے۔
جدید مبلغین کا تقرر : امسال فارغ التحصیل چار علماء کرام مولانا محمد قاسم رحمانی، مولانا مفتی محمود الحسن، مولانا محمد خالد میر، مولانا عبد الحکیم نعمانی۔ ان حضرات نے ۱۵/ شعبان المکرم تا ۳۰/ ذوالحجہ ۱۴۱۹ھ دفتر مرکزیہ ملتان میں رد قادیانیت پر تیاری کی۔ ان حضرات کو بحیثیت مبلغ مجلس کے شعبہ تبلیغ میں شامل کیا گیا۔ مولانا محمد قاسم رحمانی بہاول نگر، مولانا عبد الحکیم نعمانی چیچہ وطنی/ ساہیوال، مولانا مفتی محمود الحسن ضلع راولپنڈی، مولانا محمد خالد میر معاون مبلغ اسلام آباد، آزاد کشمیر۔ ان حلقوں میں ان حضرات کی تقرری کی منظوری کی درخواست کی گئی۔ جسے شوریٰ نے بخوشی منظور کر لیا۔
متفرق امور، رنگ و روغن و ضروری مرمت محمدیہ مسجد ریلوے اسٹیشن چناب نگر : تقریباً عرصہ ۱۵ سال سے دفتر محمدیہ مسجد ریلوے اسٹیشن چناب نگر کا رنگ و روغن نہیں کیا گیا۔ عمارت کی حفاظت کی خاطر رنگ و روغن بہت ضروری ہے۔ جائے وضو اور فلش خستہ ہیں۔ ان کی بھی مرمت کی اجازت دی جائے۔ اراکین نے تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے توثیق فرمائی۔
رنگ و روغن جامع مسجد مسلم کالونی چناب نگر : مسلم کالونی کی دو منزلہ وسیع و عریض بلڈنگ اور جامع مسجد ختم نبوت مسلم کالونی کا بھی رنگ و روغن کیا جانا ضروری ہے۔ یہاں ۴۰، ۴۰ فٹ کے جو چار ہال بمعہ برآمدہ تعمیر ہوئے انہیں سرے سے رنگ نہیں کیا جاسکا۔ رنگ و روغن سے عمارت کی پائیداری میں اضافہ ہوتا ہے۔ اچھا اور بہتر رنگ کرانے کی اجازت دی جائے۔ اراکین نے اس تجویز سے بھی اتفاق کیا اور منظوری دی۔
مسلم کالونی چناب نگر : آٹھ کمرے قدیم اور ایک مکان ۱۹۸۰ء کے قریب تعمیر ہوا۔ چھت گارڈر، ٹی۔ آئرن اور برآمدہ کی چھت آر۔ بی لینٹر دونوں بارش کی نمی کے باعث سیم زدہ ہو گئے ہیں۔ چھت کا رقبہ 96x26 مربع فٹ ہے۔ اس چھت سے قدیم فرش، مٹی اتروا کر پوری چھت کو تارکول لگانے اور پھر پلاسٹک بچھا کر پکے گارے سے جدید فرش کی ضرورت ہے۔ نیز ان آٹھ کمروں پر پردہ کی ضرورت ہے۔ کیونکہ پڑوس میں مکانات تعمیر ہو چکے ہیں۔ پردہ کے بعد طلباء کرام اس چھت پر رات کو آرام کر سکیں گے۔
اراکین شوریٰ نے پورے کام کا اچھی طرح جائزہ لیا اور پھر رائے دی کہ کسی اچھے انجینئر سے مشورہ کر کے پوری چھت آر۔ بی لینٹر کی ڈال دی جائے یا موجودہ چھت کی اچھی اور بہتر مرمت کرالی جائے۔ دونوں صورتوں میں سے جو مناسب معلوم ہو اس پر عمل کرنے کی اجازت ہے۔
مرمت دفتر حیدر آباد (سندھ) : حیدر آباد لطیف آباد نمبر ۲ ٹھٹھہ روڈ پر دو منزلہ دفتر حیدر آباد آج سے تقریباً ۱۵ سال قبل تعمیر ہوا۔ پوری عمارت کنکریٹ کی ہے۔ تعمیر میں کہنہ و پرانے دروازے ونڈو استعمال کئے گئے تھے۔ فرش، بالائی پردے، سیڑھیوں کا فرش، حاشیہ، نئے دروازے، نئے ونڈو یہ کام تاحال باقی ہے۔ مقامی مجلس حیدر آباد کے اراکین نے تخمینہ (دو لاکھ پچاس ہزار روپے صرف) لگایا ہے۔ دروازے اور ونڈو جستی، ٹائل یا ماربل کا حاشیہ، سیڑھیوں میں چپس اور فرش ماربل یا چپس جو چیز پائیدار اور سستی ہو اس کو لگانے کا فیصلہ
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کیا گیا ۔ یہ کام مولانا عبدالسلام امیر مجلس حیدر آباد اور مہتمم مدرسہ فتح العلوم کے سپرد کیا گیا۔ ان کی زیر نگرانی مدرسہ کی جدید بلڈنگ تیار ہوئی ہے۔ انہیں تعمیر کا اچھا خاصہ ملکہ اور مہارت ہے۔ بذریعہ ڈرافٹ قسط وار انہیں رقم بھیجتے رہنے کی منظوری دی گئی۔ تعمیر و مرمت کے کام کا ساتھ ساتھ مولانا عزیز الرحمن جالندھری جائزہ لیتے رہیں۔ مرکزی ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت مولانا عزیز الرحمن جالندھری، امیر مجلس تحفظ ختم نبوت حیدر آباد، مولانا عبدالسلام مبلغ حلقہ حیدر آباد، مولانا محمد نذر اور کنوئیر صوبہ سندھ مولانا احمد میاں حمادی یہ چاروں تعمیر کے کام اور اخراجات کے نگران اور ذمہ دار ہوں گے۔
فقیر خواجہ خان محمد غفرلہ
(۸۵ واں) اجلاس مجلس منتظمہ
اجلاس مرکزی مجلس منتظمہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بمقام دفتر مرکزیہ ملتان ۔ مؤرخہ ۸/فروری ۲۰۰۰ء، مطابق یکم ذیقعدہ ۱۴۲۰ھ، بروز منگل منعقد ہوا۔
زیر صدارت : امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم ۔
شرکاء : مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم، مولانا محمد یوسف لدھیانوی، مولانا مفتی محمد جمیل خان، مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا اللہ وسایا، مولانا بشیر احمد، مولانا حافظ محمد اکرم طوفانی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، جناب صاحبزادہ سعید احمد ۔
دعائے مغفرت : باضابطہ کارروائی سے قبل حضرت اقدس دامت برکاتہم نے مولانا علی میاں ندوی لکھنؤ، مولانا سید ممتاز الحسن شاہ گیلانی فیصل آباد، مولانا عطاء الحسن شاہ بخاری ملتان، مولانا جمال اللہ الحسینی پنوں عاقل، مولانا عبدالحیٰ بہلوی شجاع آباد، جناب میاں غلام نبی گوجرانوالہ ۔ ان حضرات کے لئے خصوصی دعائے مغفرت فرمائی۔
موجودہ حکمران اور حالات کا جائزہ: وطن عزیز پاکستان میں اقتدار کی تبدیلی، فوجی حکمرانوں کے نئے اقدامات اور آئین پاکستان کے متعلق رونما ہونے والی تبدیلیوں کے مضمرات پر غور کیا گیا۔ اراکین منتظمہ نے عمومی حالات کا جائزہ اور اپنی اپنی آراء کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ آئین پاکستان میں اسلامی دفعات خاص طور پر اقلیتوں کے قوانین بشمول قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر انہیں شعائر اسلام سے جن قوانین کے تحت روکا گیا ہے ۔ وہ عملاً معطل نہیں ہیں۔ قانونی ماہرین کی یہی رائے ہے۔ قادیانیوں کے خلاف زیر سماعت مقدمات اور ان کے فیصلے ہورہے ہیں۔ اس لحاظ سے فی الحال صورتحال زیادہ تشویش ناک نہیں ۔
بہت سے افراد نے ملک سے اپنی اپنی سوچ و فکر کے مطابق ان خدشات کا اظہار کیا کہ وفاق میں تشکیل دی جانے والی سیکورٹی کونسل، احتساب بیورو اور چاروں صوبائی کابینہ میں کچھ مشکوک چہرے ہیں۔ جس سے عام پریشانی کا اظہار کیا جارہا ہے۔ جس پر مولانا محمد یوسف لدھیانوی، مولانا اللہ وسایا نے اطمینان دلاتے ہوئے فرمایا کہ قادیانی بڑا خطرناک سازشی ذہن رکھتے ہیں۔ قادیانیت کی پوری عمارت جھوٹے پراپیگنڈے پر قائم ہے۔ موجودہ حکمرانوں کے بعض افراد کے متعلق قادیانی ہونے کا غلط تاثر دے کر وہ عوام میں خاص طور پر مذہبی حلقے میں بے چینی اور انتشار پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ تاحال نئے حکمرانوں کے قائم کردہ وفاقی، صوبائی ڈھانچوں میں کوئی ایسا قادیانی نہیں جو پبلک سے لیا گیا ہو۔ ہاں! کسی قادیانی کو ایک شعبہ سے دوسرے شعبہ میں لیا جانا، الگ بات ہے۔ فی الحال تحقیق و جستجو کے بعد یہی معلوم ہوا کہ موجودہ حکمران اور اس میں شامل افراد سیکولر ذہن رکھنے والے ہیں۔ تاوقتیکہ کوئی واضح نشاندہی نہ ہو۔ احتیاط کا تقاضا انتظار اور خاموشی ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مزید اطمینان اور حالات سے آگاہی کے لئے طے ہوا کہ حضرت مولانا مفتی جمیل خان اور حضرت مولانا اللہ وسایا ۱۰، ۱۱؍ فروری ۲۰۰۰ء اپنے قیام اسلام آباد کے دوران جناب محمود غازی رکن سیکورٹی کونسل سے ملاقات کر کے تسلی اور اطمینان حاصل کیا جائے اور ممکنہ خدشات ان کے سامنے پیش کر دیئے جائیں۔
اشاعت لٹریچر : رد قادیانیت پر لٹریچر کے سلسلے میں احباب کی آراء اور تجاویز کے نتیجے میں اچھے اور عمدہ کاغذ پر ۴ صفحات، ۶ صفحات فولڈ شدہ طرز پر چھوٹے چھوٹے کتابچے نئے سرے سے ترتیب دے کر شائع کرنے کی منظوری دی گئی۔ جس میں مختصر اور مؤثر انداز میں مختلف عنوانات پر قادیانیوں کے غلط عقائد باطل اور توہین آمیز نظریات اجاگر کئے گئے ہوں۔ اسی طرح گوہر شاہی فتنہ جو کثرت سے نوجوان طبقے میں پھیل رہا ہے۔ گوہر شاہی کے خرافات اور لغویات پر مشتمل ایک دو کتابچے آ جانے چاہئیں۔ اس کام کے لئے حضرت مولانا مفتی محمد جمیل خان، صاحبزادہ طارق محمود، مولانا حافظ محمد اکرم طوفانی، مولانا اللہ وسایا پر مشتمل چار رکنی کمیٹی بنائی گئی۔ جو باہم مشورے سے کتابچے ترتیب دیں گے اور شائع کریں گے۔ اشاعت لٹریچر کے لئے حسب ضرورت رقم خرچ کرنے کی منظوری دی گئی۔ کمیٹی گزشتہ سال کے اشاعت لٹریچر کے بل اور اس سال اخراجات کا سالانہ توازن پیش نظر رکھ کر مناسب رقم لٹریچر پر خرچ کر سکتی ہے۔
امداد مدرسہ تعلیم القرآن اچھروال : موضع اچھروال چناب نگر سے شمال مشرق کی طرف واقع ہے۔ علاقہ کے ۳۰ / ۴۰ بچے زیر تعلیم ہیں۔ ایک مدرس تدریس کے فرائض سرانجام دیتا ہے۔ ارد گرد قادیانیوں کی زرعی زمینیں ہیں۔ یہاں وقتاً فوقتاً مجلس کے مبلغین تبلیغ کے لئے وقت دیتے ہیں۔ اس وقت ایک رہائشی کمرہ اور درسگاہ تعمیر ہو چکی ہے۔ چار دیواری نہیں ہے۔ اس سے قبل مجلس نے بطور امداد ۱۵۰۰۰ روپے دیئے تھے۔ ایسے تخریب کاری اور دہشت گردی کے دور میں چار دیواری گیٹ فرش صحن کی ضرورت ہے۔ دو کنال کے مدرسہ کے پلاٹ کی چار دیواری کے لئے ۷۰ ہزار خشت کا تخمینہ ہے۔ علاوہ ازیں علاقہ چناب نگر میں قرب و جوار میں قادیانیوں کے اثرات کی وجہ سے ادارہ کی سرپرستی کرتے ہوئے انہیں چار دیواری بنوا دینا ضروری ہے۔ مولانا اللہ وسایا اور مولانا حافظ محمد اکرم طوفانی نے مذکورہ حالات کی وضاحت کرتے ہوئے مبلغ ۱۰۰۰۰۰ روپے (ایک لاکھ روپے) دینے کی سفارش کی۔ جسے حضرت نائب امیر مرکزیہ کی تائیدی کلمات پر قبلہ حضرت اقدس خواجہ مولانا خان محمد صاحب دامت برکاتہم نے اجازت مرحمت فرمائی اور تجویز دی کہ مبلغ ۱۰۰۰۰۰ روپے مولانا حافظ محمد اکرم طوفانی کو بھیج دیا جائے۔ مدرسہ مذکورہ کے منتظم ماسٹر محمد حیات، چار دیواری کرائیں۔ تعمیر کے ساتھ ساتھ حسب ضرورت مولانا حافظ محمد اکرم طوفانی سے رقم لیتے رہیں اور اخراجات کی تفصیل دیتے رہیں۔
فقیر خان محمد عفی عنہ
(۸۶ واں) اجلاس مجلس شوریٰ
اجلاس مرکزی مجلس شوریٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بمقام دفتر مرکزیہ ملتان۔
مؤرخہ ۶؍ مئی ۲۰۰۰ء، مطابق یکم صفر الخیر ۱۴۲۱ھ، بروز ہفتہ منعقد ہوا۔
زیر صدارت : امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم۔
تلاوت : جناب مکرم حافظ محمد یوسف عثمانی گوجرانوالہ۔
شرکاء : مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم، قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمن کی تشریف آوری و شرکت اجلاس بطور خاص
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہوئی، مولانا محمد یوسف لدھیانوی، مولانا فیض احمد ملتان، مولانا سید عبدالمجید ندیم شاہ ملتان، مولانا مفتی نظام الدین شامزئی کراچی، مولانا عبدالواحد کوئٹہ، مولانا نورالحق نور پشاور، مولانا قاضی عزیز الرحمن رحیم یار خان، مولانا احمد میاں حمادی، مولانا مفتی محمد جمیل خان کراچی، جناب حاجی فیض احمد ٹوبہ ٹیک سنگھ، جناب حاجی بلند اختر نظامی لاہور، جناب حاجی سیف الرحمن بہاول پور، جناب صاحبزادہ طارق محمود فیصل آباد، صوفی ریاض الحسن گنگوہی ڈیرہ، جناب حکیم محمد یونس راولپنڈی، جناب حاجی اشتیاق احمد جھنگ، جناب میاں خان محمد سرگانہ خانیوال، جناب قاری محمد یوسف عثمانی گوجرانوالہ، مولانا عزیز الرحمن جالندھری ملتان، مولانا بشیر احمد، مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا محمد عبداللہ، مولانا صاحبزادہ خلیل احمد۔
آغاز کارروائی صبح ۸ بجے تلاوت قرآن کریم سے شروع کی گئی۔
دعائے مغفرت: سال ہائے گزشتہ میں جو علمی اور روحانی شخصیات اور حلقہ ہائے مجلس کے رفقاء وفات پا گئے ان کے اسماء گرامی پڑھ کر سنائے گئے۔ حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم نے سب کے لئے دعاء مغفرت فرمائی۔
حاجی محمد فاروق، حکیم محمد شریف جگرانوی، مولانا عبدالرشید نعمانی، مولانا سراج دین، حافظ ظہور احمد، مولانا مفتی ولی محمد درویش، مولانا عبیداللہ چترالی، مولانا عبداللہ کاکا خیل، مولانا عبدالعلیم جالندھری، مہر امیر محمد سرگانہ، جناب حافظ لدھیانوی، مولانا عبداللہ، مولانا سید عطاء الحسن شاہ، مولانا عبدالقادر روپڑی، قاری عبدالغفار، علی میاں ندوی، مولانا بدیع الزمان، مولانا عبدالحئی بہلوی، مولانا جمال اللہ الحسینی، ڈاکٹر حفیظ اللہ، مولانا عبدالواحد، شیخ اللہ بخش، صوفی احمد بخش چشتی، مولانا رحمت اللہ، مولانا سید حامد علی، مولانا عبدالرحیم نعمانی، حاجی محمد اسحق خان خاکوانی، مولانا رشید احمد شجاع آبادی، مولانا غلام احمد، حافظ بلال، حاجی محمد ابراہیم۔
خواندگی گزشتہ کارروائی: کارروائی اجلاس ہائے شوریٰ گزشتہ سال اور کارروائی اجلاس منتظمہ منعقدہ ماہ ذیقعدہ ۱۴۱۹ھ کی کارروائی پڑھ کر سنائی اور مفوضہ امور پر عمل درآمد کی تفصیلات اراکین شوریٰ کو بتائی گئیں۔ کارروائی کو تمام اراکین شوریٰ نے سنا۔ اس کے بعد حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم نے تحریر شدہ کارروائی اجلاس ہائے گزشتہ شوریٰ اور اجلاس ہائے منتظمہ گزشتہ کی کارروائی کے اختتام پر توثیقی دستخط فرمائے۔
قادیانی فتنے کی تازہ صورتحال: ۱۲؍ اکتوبر ۱۹۹۹ء کو ایک فوجی ایکشن کے ذریعے ہمارے وطن عزیز پاکستان میں حکومت کی تبدیلی واقع ہوئی اور چیف ایگزیکٹو جناب پرویز مشرف نے آئین کی معطلی کا اعلان کیا۔ اس سے اسلامی حلقوں میں بہت سے شکوک وشبہات پیدا ہوئے۔ خاص طور پر قادیانیوں نے آئین کی معطلی کے لفظ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کھلے عام کہنا شروع کر دیا کہ جس آئین نے ہمیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا تھا وہ معطل ہے۔ لہٰذا اب ہم مسلمان ہیں۔ قادیانیوں نے پورے ملک میں یہی پروپیگنڈہ مسلسل جاری رکھا کہ وہ اب پہلے کی طرح مسلمان ہیں۔
اسی دوران ۲۱؍ اپریل ۲۰۰۰ء کو جناب چیف ایگزیکٹو آف پاکستان جنرل پرویز مشرف نے اسلام آباد میں تحفظ حقوق انسانی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ آئندہ توہین رسالت کیس براہ راست تھانہ میں درج نہیں ہوگا بلکہ ایسے کیس کی پہلے ڈی سی انکوائری کرے گا۔ ڈی سی کی انکوائری اور منظوری کے بعد تھانہ میں پرچہ درج ہوگا۔ یوں انہوں نے انسداد توہین رسالت ایکٹ کے عام مروجہ طریقہ کار میں تبدیلی کا اعلان کر کے پورے اسلامی حلقہ کو مضطرب اور پریشان کر دیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ان حالات میں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا مشترکہ اجلاس بلانے کے سلسلے میں صلاح مشورے ہونے لگے۔ اسی سلسلہ میں مولانا شاہ احمد نورانی کا پیغام لے کر جناب محمد خان لغاری ملتان تشریف لائے۔ مولانا شاہ احمد نورانی نے اپنے پیغام میں فوری طور پر دینی جماعتوں کے اجلاس بلائے جانے پر زور دیا۔ چنانچہ مولانا اللہ وسایا خانقاہ سراجیہ تشریف لے گئے۔ حضرت اقدس امیر مرکزیہ دامت برکاتہم کو قبلہ نورانی میاں کے پیغام کی تفصیلات بتائیں۔ پھر حضرت امیر مرکزیہ کے مشورہ سے ڈیرہ تشریف لے گئے۔ مولانا فضل الرحمٰن سے مشاورت کے بعد ۸؍ مئی ۲۰۰۰ء بروز سوموار میں دینی جماعتوں کے مشترکہ اجلاس کا فیصلہ کیا گیا۔ اس ضمن میں مولانا فضل الرحمٰن سے اور مولانا محمد عبداللہ بھکر سے درخواست کی گئی کہ ہر دو حضرات عالمی مجلس کے ۶؍ مئی ۲۰۰۰ء کے اجلاس مرکزی مجلس شوریٰ میں تشریف لائیں تاکہ موجودہ حالات اور قادیانیوں کی سرگرمیاں، آئندہ کے خطرات و خدشات پر اجلاس مرکزی مجلس شوریٰ میں مکمل مشاورت ہو سکے۔ چنانچہ مولانا فضل الرحمٰن نے اس دعوت کو قبول کیا۔ اس وقت مولانا موصوف اجلاس میں موجود ہیں۔ حالات و واقعات کا جائزہ لے کر طے ہوا کہ حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم اور مولانا فضل الرحمٰن بمعہ اپنے رفقاء کے ۸؍ مئی ۲۰۰۰ء بروز سوموار لاہور کے اجلاس میں شریک ہوں۔ اس اجلاس میں قادیانی مسئلہ بھر پور انداز میں اٹھا کر قادیانی پراپیگنڈے کا موثر سد باب کیا جائے۔
الحمد للہ! لاہور میں ۸؍ مئی ۲۰۰۰ء کا اجلاس بہت کامیاب رہا۔ اس میں جو مطالبات ترتیب دیئے گئے اور اس کی کامیابی کے لئے ۱۲؍ مئی یوم دعا اور نماز استسقاء اور ۱۹؍ مئی احتجاجی ہڑتال اور یوم منظوری مطالبات منانے کا فیصلہ ہوا۔
مطالبات مندرجہ ذیل ہیں :
- ۱...... موجودہ حکومت نے ”گستاخی رسول“ کے ارتکاب پر مقدمہ کے اندراج کے لئے ڈپٹی کمشنر کی شرط لگا کر تحفظ ناموس رسالت
قانون کو عملاً غیر موثر بنا دیا ہے۔ چیف ایگزیکٹو اپنے اس اعلان کو واپس لیں۔
- ۲...... اسلامی دفعات اور امتناع قادیانیت آرڈیننس کو پی سی او میں شامل کیا جائے۔
- ۳...... اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارش کے مطابق جمعہ کی چھٹی بحال کی جائے۔
- ۴...... سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق سودی نظام کو ختم کیا جائے۔
- ۵...... قادیانیوں اور مسیحیوں کے تعلیمی اداروں کو واپس نہ کیا جائے۔
- ۶...... این جی اوز، قادیانیوں، یہودیوں کی لابیاں پاکستان کے اسلامی تشخص کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔ اسلامی مملکت میں ان کی
اسلام دشمن سرگرمیوں پر پابندی عائد کی جائے۔
- ۷...... صوبہ سرحد کے تعلیمی نصاب میں قرآن مجید کی تحریف پر مبنی کتب کو ضبط کیا جائے اور مجرموں کو سزا دی جائے۔
- ۸...... پاکستان کی بنیاد دو قومی نظریہ پر ہے۔ اس لئے جداگانہ طرز انتخاب ختم نہ کیا جائے۔
اشاعت لٹریچر : ہمیشہ لٹریچر کی اشاعت اوائل سال محرم، صفر میں باجازت مرکزی مجلس شوریٰ کی جاتی ہے۔ اس سال عام تقسیم کے لئے رسائل حضرت لدھیانوی اور سٹیکر، دیگر پمفلٹ جنہیں صاحبزادہ طارق محمود نے بعض فوری ترامیم کے ساتھ ترتیب دیا ہے۔ چھاپنے کا پروگرام ہے۔ حسب ضرورت اور حسب سابق ہر قسم کے لٹریچر اور اسٹیکر کی اشاعت کی اجازت کی استدعا اور اس کے ساتھ ہی حافظ محمد اکرم طوفانی نے برطانیہ کے لئے ۲۰۰ کاپی خاتم النبیین کی ضرورت کا تقاضا کیا۔ جس پر مذکورہ کتاب خاتم النبیین اور ہر قسم کا لٹریچر حسب ضرورت چھاپنے کی اجازت دی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مولانا اللہ وسایا نے مجلس کے اکابرین کی مناظرانہ نوٹ بکوں سے ختم نبوت اور اجرائے نبوت کے عنوان پر قادیانیوں نے جن آیات قرآنی یا احادیث مبارکہ میں تحریفات اور شکوک وشبہات پیدا کر کے عقیدہ ختم نبوت کے خلاف مسلمانوں کے ذہنوں کو متزلزل کرنے کی کوشش کی ۔ ان سوالات کو ترتیب دے کر ”قادیانی شبہات اور ان کے جوابات“ کے نام سے ایک کتاب ترتیب دی ۔ جسے حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم اور نائب امیر مرکزیہ دامت برکاتہ کی اجازت سے شائع کیا گیا۔ یہ کتاب اصولاً لاگت قیمت پر فروخت کی جارہی ہے۔ بعض لائبریریز کو اعزازی طور پر بھیجنے کی بھی اجازت دی جاتی ہے ۔
انتخابات: مرکزی مجلس شوریٰ نے حضرت امیر مرکزیہ اور حضرت نائب امیر مرکزیہ کی رائے اور مشورہ سے آئندہ سہ سالہ مرکزی انتخابات کے لئے ۱۳/اکتوبر ۲۰۰۰ء بروز جمعہ کی تاریخ مقرر کی ۔اس تاریخ کو سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر منعقد ہوگی ۔اسی مبارک موقع پر مرکزی انتخابات کے انعقاد کی تقریب جامع مسجد ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں صبح ۹/ بجے منعقد ہوگی ۔جس میں اراکین مجلس عمومی آئندہ تین سالوں کے لئے حضرت امیر مرکزیہ اور حضرت نائب امیر مرکزیہ دامت برکاتہم کا چناؤ کریں گے۔
صفر الخیر ۱۴۲۱ھ تا جمادی الثانی ۱۴۲۱ھ ان پانچ ماہ میں ممبرشپ ، مقامی جماعتوں کی تشکیل ، اراکین مجلس عمومی کا چناؤ عمل میں لایا جائے۔ تمام مبلغین اور مقامی جماعتوں کے ذمہ دار حضرات کو بک ہائے ممبرشپ اور فارم مقامی انتخابات بھیج دیئے جائیں اور بھر پور انداز میں ممبرشپ اور مقامی جماعتوں کی تشکیل کا عمل مکمل کر لیا جائے ۔ حسب ضرورت رسید بک ہائے ممبرشپ اور فارم مقامی انتخابات چھاپ لئے جائیں ۔
ختم نبوت کانفرنس برمنگھم: برطانیہ میں جو اکابرین مجلس کا سالانہ تبلیغی دورہ ہوتا ہے اور جس کے اختتام پر بمقام برمنگھم سالانہ ختم نبوت کانفرنس کی جاتی ہے ۔اس سلسلے میں لندن دفتر ختم نبوت کے رفقاء نے ۶/ اگست ۲۰۰۰ء بروز اتوار کی تاریخ مقرر کرنے کی اطلاع دی ہے۔ سالانہ ختم نبوت کانفرنس برمنگھم میں انڈیا سے مولانا اسعد مدنی ، مولانا سعید احمد پالن پوری ، پاکستان سے حضرت امیر مرکزیہ ، نائب امیر مرکزیہ ، مولانا اللہ وسایا ، مولانا محمد اکرم طوفانی ، مولانا مفتی محمد جمیل خان اور ناظم مجلس مولانا عزیز الرحمن جالندھری شرکت کریں گے۔ عالمی مجلس کا یہ وفد اس سال بلجیم ، جرمنی وغیرہ کا سفر بھی کرے گا۔ پیشگی ویزوں کے حصول کے لئے اراکین وفد کے فوٹو اور ان کے پاسپورٹوں کے فوٹو ، مولانا منظور احمد الحسینی کو بھیج دیئے جائیں گے۔ جو برطانیہ سے بلجیم اور جرمنی کے سفر کا ویزہ حاصل کریں گے۔
مسلم کالونی چناب نگر: امسال سالانہ ختم نبوت کانفرنس مسلم کالونی چناب نگر مؤرخہ ۱۲، ۱۳/اکتوبر ۲۰۰۰ء بروز جمعرات ، جمعہ منعقد ہوگی ۔اسی دورانیہ میں سہ سالہ مرکزی انتخاب بھی عمل میں لایا جائے گا۔
بقیہ ماخوذ از رجسٹر محولہ بالا
(۸۷ واں) اجلاس مجلس منتظمہ
اجلاس مرکزی مجلس منتظمہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بمقام دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور۔
مؤرخہ ۱۰/ جون ۲۰۰۰ء ،مطابق ۷/ ربیع الاول ۱۴۲۱ھ ، بروز ہفتہ ، بوقت پانچ بجے سہ پہر منعقد ہوا۔
زیر صدارت: امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم ۔
شرکاء: مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم ، مولانا سید نفیس الحسینی شاہ ، جناب حاجی فیض احمد ، جناب حاجی بلند اختر نظامی ، مولانا عزیز الرحمن ، مولانا اللہ وسایا ، مولانا محمد اکرم طوفانی ، مولانا بشیر احمد ، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ، مولانا عزیز الرحمن ثانی ، مولانا صاحبزادہ خلیل احمد ، صاحبزادہ سعید احمد ۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
آغاز اجلاس پر مولانا حافظ محمد اکرم طوفانی نے قرآن کریم کے دوسرے پارے سے آیات صبر تلاوت فرمائی۔ حریم نبوت کے پاسبان، منصب صحابیت کے محافظ، ترجمان اسلام، فقیہ الزمان، محقق وقت، حکیم العصر، مرشد العلماء، شہید ختم نبوت، نائب امیر مرکزیہ مولانا محمد یوسف لدھیانوی کو ۱۳/صفر الخیر ۱۴۲۱ھ مطابق ۱۸/مئی ۲۰۰۰ء بروز جمعرات صبح تقریباً دس بجے نصیر آباد سٹاپ کراچی پر فائرنگ کر کے شہید کر دیا گیا۔ انا لله وانا اليه راجعون!
موصوف مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر مرکزیہ کی حیثیت سے مجلس کے پورے نظام تبلیغ کے روح ورواں تھے۔ خاص طور پر بیرون پاکستان کے تمام تر انتظامی اور تبلیغی امور صوبہ سندھ، خاص طور پر کراچی مجلس کے دفتر کے جملہ انتظامی امور قدیم وجدید کتب کی اشاعت، انگریزی، عربی، اردو لٹریچر کی ترتیب واشاعت کے آپ ہی نگران تھے۔ حضرت شہید کے مفوض من اللہ امور کی بجا آوری ناممکن امر ہے۔ تاہم جماعتی ضرورت کے تحت جو فیصلے کئے گئے وہ درجہ ذیل ہیں۔ سب سے پہلے حضرت اقدس دامت برکاتہم نے شہید ختم نبوت مولانا محمد یوسف لدھیانوی کی ترقی درجات کے لئے دعا فرمائی۔
حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر مرکزیہ کی ذمہ داریاں مخدوم الصلحاء مولانا سید نفیس الحسینی کے سپرد فرمائی اور انہیں ۱۴/رجب المرجب ۱۴۲۱ھ بمطابق ۱۳/اکتوبر ۲۰۰۰ء تک کے عرصہ کے لئے نائب امیر مرکزیہ نامزد فرمایا۔ ۱۴/رجب المرجب ۱۴۲۱ھ بروز جمعتہ المبارک مسلم کالونی چناب نگر میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس کے موقعہ پر آئندہ تین سال کے لئے حضرت امیر مرکزیہ اور نائب امیر مرکزیہ کا چناؤ اراکین مجلس عمومی کریں گے۔
حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم نے تین علماء کرام کو رکن شوریٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نامزد فرمایا:
- ۱...... شہید ختم نبوت حضرت لدھیانوی کی جگہ حضرت اقدس مولانا عبدالمجید لدھیانوی شیخ الحدیث باب العلوم کہروڑ پکا۔
- ۲...... شہید اسلام حضرت مولانا محمد عبداللہ کی جگہ حضرت مولانا محمد شریف ہزاروی اسلام آباد۔
- ۳...... مخدوم زادہ حافظ محمد عابد خانقاہ سراجیہ کی جگہ حضرت مولانا خلیل احمد خطیب مرکزی مسجد سکھر۔
حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم نے کراچی دفتر کے انتظامی امور کو بہ احسن طریق چلانے کے لئے مولانا مفتی محمد جمیل خان، مولانا نذیر احمد تونسوی، رانا محمد انور پر مشتمل سہ رکنی کمیٹی مقرر کی۔ تینوں حضرات باہم مشورے سے دفتر کراچی کے تمام انتظامی امور چلائیں گے۔
فقیر خان محمد عفی عنہ
(۸۸ واں) اجلاس مجلس عمومی
اجلاس مرکزی مجلس عمومی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بمقام جامع مسجد و مدرسہ ختم نبوت چناب نگر۔ مؤرخہ ۱۳/اکتوبر ۲۰۰۰ء، مطابق ۱۴/رجب المرجب ۱۴۲۱ھ، بروز جمعتہ المبارک منعقد ہوا۔ زیر صدارت: امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم۔ تلاوت: قاری عبدالرحیم کوئٹہ، حافظ محمد یوسف عثمانی گوجرانوالہ۔ شرکاء: مولانا محمد صادق صدیقی اسلام آباد، عبدالرزاق خان ہزاروی اسلام آباد، وقاص احمد جہلم، مفتی تاج الدین حسن ابدال،
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء
علامہ شاکر محمود راولپنڈی ، مولانا عبدالغفور ٹیکسلا ، مولانا عبدالمتین گجر خان راولپنڈی ، قاضی مشتاق احمد راولپنڈی ، مولانا ارشاد اللہ صدیقی منڈی بہاؤالدین ، مولانا محمد اختر کھاریاں ضلع گجرات ، جمشید اقبال قریشی گجرات ، چوہدری قمر الزمان کھاریاں ضلع گجرات ، شہزاد احمد ڈسکہ ضلع سیالکوٹ ، مولانا عبداللطیف مسعود ڈسکہ ضلع سیالکوٹ ، مولانا غلام مرتضیٰ ڈسکہ ضلع سیالکوٹ ، نثار احمد ڈسکہ ضلع سیالکوٹ ، محمد شفیع ڈسکہ ضلع سیالکوٹ ، مولانا قاری محمد یامین ندیم ڈسکہ ضلع سیالکوٹ ، غلام مصطفیٰ ڈسکہ ضلع سیالکوٹ ، سید احمد حسن زید گوجرانوالہ ، حافظ محمد یوسف عثمانی گوجرانوالہ ، غفران اللہ حامد گوجرانوالہ ، ارشد محمود رندھاوا گوجرانوالہ ، قاری منیر احمد گوجرانوالہ ، مولانا جمیل احمد گوجرانوالہ ، حافظ محمد ثاقب گوجرانوالہ ، ڈاکٹر محمد ارشد تائب گوجرانوالہ ، سید ہارون جیالی گوجرانوالہ ، قاری عبداللطیف گوجرانوالہ ، حافظ عمران احمد گوجرانوالہ ، مولانا محمد شفیع گوجرانوالہ ، مولانا عبدالواحد گوجرانوالہ ، مولانا عبدالرشید گوجرانوالہ ، قاری عبدالرحیم گوجرانوالہ ، حافظ محمد لقمان گوجرانوالہ ، مولانا عبدالرحمن گوجرانوالہ ، حافظ گلزار احمد گوجرانوالہ ، حافظ محمد ارشد گوجرانوالہ ، عاشق حسین گوجرانوالہ ، محمد منصور گوجرانوالہ ، پروفیسر حافظ محمد انور گوجرانوالہ ، محمد طارق گوجرانوالہ ، عاشق علی گوجرانوالہ ، محمد اجمل چٹھہ گوجرانوالہ ، ماسٹر عنایت اللہ گوجرانوالہ ، مولانا شکور عالم گوجرانوالہ ، حافظ محمد معاویہ گوجرانوالہ ، حافظ احسان الواحد گوجرانوالہ ، صاحبزادہ منظور الخطیب گوجرانوالہ ، چوہدری لیاقت علی کامونکے گوجرانوالہ ، مولانا منظور احمد شاہ کھیالی گوجرانوالہ ، حافظ خالد محمود عابد تتلے والی گوجرانوالہ ، مولانا ظہیر الدین گوجرانوالہ ، حافظ احمد اللہ نوشہرہ ورکاں اعجاز صحرائی نوشہرہ ورکاں گوجرانوالہ ، محمد یوسف انصاری نوشہرہ ورکاں گوجرانوالہ ، ڈاکٹر غلام نبی گوجرانوالہ ، میاں کفایت اللہ نوشہرہ ورکاں گوجرانوالہ ، محمد یونس ربانی نوشہرہ ورکاں گوجرانوالہ ، مولانا مفتی غلام مصطفیٰ اوکاڑہ ، چوہدری غلام عباس ایڈووکیٹ اوکاڑہ ، اللہ دتہ مجاہد قصور ، مولانا نور محمد شاکر قصور ، قاری حبیب اللہ ٹوبہ ٹیک سنگھ ، محمد اسحاق ٹوبہ ٹیک سنگھ ، میر ظفر عباس ٹوبہ ٹیک سنگھ ، محمد طیب ٹوبہ ٹیک سنگھ ، حافظ عبدالحی ٹوبہ ٹیک سنگھ ، مولانا محمد صدیق ربانی پیرمحل ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ ، چوہدری محمد شریف پیرمحل ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ ، زین العابدین پیرمحل ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ ، پیر جی عبدالحکیم کمالیہ ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ ، مولانا عبدالوحید ربانی خوشاب ، مولانا شاہ محمد خوشاب ، صابر حسین کھوکھر خوشاب ، حاجی بہادر خان خوشاب ، مولانا غلام یٰسین خوشاب ، ابو معاویہ محمد سلیم خوشاب ، حافظ دلاور حسن خوشاب ، عبدالرؤف خوشاب ، حافظ عبدالخالق خوشاب ، مولانا قاری سعید احمد قادری خوشاب ، قاری شریف الدین کھاریاں ، مولانا محمد طیب کھاریاں ، مولانا غلام رسول شوق کھاریاں ، مولانا ضیاء اللہ کھاریاں ، مولانا سعید احمد گجرات ، مولانا عطاء اللہ گجرات ، مولانا غلام مصطفیٰ ملکوال ، محمد شفیق الرحمن علوی بھیرہ سرگودھا ، قاری خوشی محمد سلانوالی سرگودھا ، حافظ بشیر احمد جھنگ ، صوفی غلام اللہ چناب نگر ، شیخ محمد ایوب لالیاں ، حافظ نور محمد کوٹ شاکر ، مولوی منیر احمد جھنگ ، قاری عبدالرشید جھنگ ، حاجی وقار احمد جھنگ ، مولانا عبدالغفور جھنگ ، قاری عبدالستار جھنگ ، حافظ اللہ بخش جھنگ ، حاجی احمد خان جھنگ ، مولانا ذکاء اللہ جھنگ ، حافظ دوست محمد شورکوٹ جھنگ ، ابوسفیان جھنگ شہر ، شیخ محمد مقبول جھنگ صدر ، حاجی محمد شفیع شاہین جھنگ ، مولانا بشیر احمد خاکی جھنگ ، قاری سلیم اللہ جھنگ ، حافظ عبدالحمید جھنگ ، مولانا فیض نذیر چنیوٹ ، حافظ محمد آصف جھنگ ، سید احمد شاہ احمد پور سیال ، قاری محمد عظیم احمد پور سیال ، چوہدری عبدالحمید جھنگ ، مولانا خان عابد حسین جھنگ ، محمد طاہر گیلانی فیصل آباد ، مولانا محمد فاروق کھرڑیانوالہ فیصل آباد ، رانا آفتاب احمد بھکر ، قاری غلام یٰسین دریا خان بھکر ، اللہ بخش دریا خان بھکر ، مولانا محمد بختاور عثمانی دریا خان بھکر ، حافظ نذیر احمد بھکر ، حافظ جمیل احمد بھکر ، مولانا غلام فرید دریا خان بھکر ، قاری غلام یٰسین دریا خان بھکر ، قاری فتح محمد دریا خان بھکر ، ڈاکٹر دین محمد فریدی بھکر ، مولانا اللہ داد صدیقی بھکر ، حافظ حبیب اللہ چیمہ چیچہ وطنی ، حافظ غضنفر علی بہاول نگر ، سید عبدالرزاق بہاول نگر ، لیاقت علی راجن پور ، حاجی
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
واحد بخش محمد پور دیوان، حاجی رمضان دریشک فاضل پور، مولانا حفیظ الرحمٰن مٹھن شریف، مولانا حافظ حفیظ اللہ راجن پور، پروفیسر عبدالشکور شاکر جلالپور پیروالہ، مولانا عبدالغفور بستی ملوک، قاضی محمد احمد میاں چنوں، عبدالعزیز شاہ علی پور ضلع مظفر گڑھ، قاری حبیب اللہ علی پور ضلع مظفر گڑھ، قاری عبدالمالک علی پور ضلع مظفر گڑھ، جام خدا بخش جتوئی ضلع مظفر گڑھ، مولانا محمد مسعود مظفر گڑھ، مولانا محمد رفیق جتوئی ضلع مظفر گڑھ، مولانا عبدالمجید چوک سرور شہید ضلع مظفر گڑھ، قاری محمد یوسف سناواں ضلع مظفر گڑھ، مولانا محمد مکی یاکیوالی ضلع مظفر گڑھ، عبدالعزیز شاہ مظفر گڑھ، قاری معین الدین شاہ جمال ضلع مظفر گڑھ، مولانا عبدالرزاق مظفر گڑھ، محمد فاروق احمد جھگی والہ ضلع مظفر گڑھ، مولانا خدا بخش کوٹلہ رحم علی شاہ ضلع مظفر گڑھ، ملک عبدالرحیم علی پور ضلع مظفر گڑھ، صوفی قطب الدین مظفر گڑھ، حافظ محمد قاسم پھلن شریف ضلع مظفر گڑھ، مولوی عبدالستار کلروالی نزد شہر سلطان ضلع مظفر گڑھ، قاری طالب حسین شہر سلطان ضلع مظفر گڑھ، امان خان ہڈانی خیر پور سادات ضلع مظفر گڑھ، مولانا وحیدالدین مظفر گڑھ، مولانا عبدالعزیز مظفر گڑھ، مولانا مفتی محمد شفیع مظفر گڑھ، فقیر اللہ اختر گوجرانوالہ، مولانا اللہ بخش ایاز لودھراں، قاری جاوید لودھراں، مولانا عبدالرحمٰن دنیا پور ضلع لودھراں، خلیل احمد چنی گوٹھ بہاول پور، مولانا رشید احمد عباسی بہاول پور، مولانا عبدالغنی حاصل پور، حافظ محمد ابراہیم حاصل پور، مفتی عطاء الرحمٰن بہاول پور، مولانا ثناء اللہ فیروزہ، سید ناصر محمود فیروزہ، حافظ فیض اللہ لیاقت پور، مولانا غلام سرور لیاقت پور، حافظ رحمت اللہ صادق آباد، مولانا قاضی عزیز الرحمٰن رحیم یارخان، مولانا عبدالکریم ندیم خان پور، نور محمد قریشی لیاقت پور، احتشام الحق لاہور، نعیم بادشاہ لاہور، مولانا مشتاق احمد ربانی لاہور، حکیم صغیر احمد خان لاہور، شہباز علی لاہور، محمد سعید احمد شیخوپورہ، حافظ عبدالرحمان لاہور، محمد طارق لاہور، مولانا محمد امین لاہور، مولانا سرور شعیب شیخوپورہ، ساجد محمود شیخوپورہ، قاری بشیر احمد خانقاہ ڈوگراں شیخوپورہ، صابر حسین سانگلہ ہل شیخوپورہ، مولانا عبدالطیف انور شاہ کوٹ شیخوپورہ، مولانا عبدالعزیز آزاد کشمیر، قاری عبدالمالک مظفر آباد، اعجاز احمد ایبٹ آباد، قاری سعید حسن ابدال اٹک، مولانا عبدالسلام قریشی حیدر آباد، مولانا محمد حیات حیدر آباد، غلام محمد بھٹہ دادو، عبدالواحد بروہی گمبٹ خیر پور میرس، اسد اللہ شیخ گمبٹ خیر پور میرس، حافظ منیر احمد ٹالہی، مولانا محمد علی صدیقی گولارچی ضلع بدین، مولانا اسد اللہ شاکر بدین، عبدالسمیع شیخ گمبٹ خیر پور میرس، قاری حماد اللہ عبیدی پنوں عاقل سکھر، مولوی حبیب اللہ پنوں عاقل سکھر، مولانا محمد ایوب نوکوٹ ڈگری، مفتی عبیداللہ انور میر پور خاص، مولانا نور محمد میر پور خاص، حافظ منیر احمد میر پور خاص، مفتی وقار الحق عثمانی مانسہرہ، مولانا عبدالرؤف تکہ جبوڑی مانسہرہ، حافظ محمد زاہد ولد خواجہ عبدالحئی بھلوال، مولانا ظہور احمد سالک جھنگ، مولانا قاری محمد ایوب چشتیاں ضلع بہاول نگر، جناب عبدالرؤف رونی مانسہرہ، حاجی بشیر احمد علی پور ضلع مظفر گڑھ، حاجی اشتیاق احمد جھنگ شہر، حاجی بلند اختر نظامی لاہور، حکیم جاوید اقبال شیخوپورہ، حاجی رشید احمد سکھر، مولانا خالد حسین سکھر، مولانا فاروق پنوں عاقل، حافظ محمد زمان سکھر، محمد یعقوب لاہور، محمد ابن عبدالرؤف علی پور ضلع مظفر گڑھ، محمد کاشف راولپنڈی، شکیل احمد بھکر، محمد سلیم لودھراں، ماسٹر تاج دین لاہور، ملک عبدالحمید علی پور ضلع مظفر گڑھ، مولانا محمد اسحاق بہاول پور، حاجی مقبول احمد رحیم یارخان، محمد طفیل جاوید دنیا پور ضلع لودھراں، محمد حفیظ اللہ علی پور ضلع مظفر گڑھ، عزیز الرحمٰن رحمانی راجن پور، یوسف علی ملتان، محمد رضوان حمید ملتان۔
۱۴/ رجب المرجب ۱۴۲۱ھ، مطابق ۱۳/ اکتوبر ۲۰۰۰ء بروز جمعتہ المبارک صبح ۹/ بجے جامع مسجد ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں مجلس عمومی کا سہ سالہ اجلاس منعقد ہوا۔ مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم نے صدارت فرمائی۔ کوئٹہ سے مجلس عمومی کے رکن مولانا قاری عبدالرحیم رحیمی اور گوجرانوالہ سے مجلس عمومی کے رکن قاری محمد یوسف عثمانی نے تلاوت کی۔ گزشتہ اجلاس عمومی ۳/ اکتوبر ۱۹۹۷ء کی
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء ۵۸۲ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کارروائی پڑھ کر سنائی گئی ۔ اجلاس نے اس کی تصویب وتوثیق کی ۔
مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے اجلاس کی غرض وغایت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ ہمارے اجلاس ۳ سال ۱۰ یوم کے بعد منعقد ہورہا ہے۔ دستور کے مطابق اس سال اس اجلاس میں آئندہ سہ سال کے لئے امیر مرکزیہ اور نائب امیر کا انتخاب کرنا ہے۔ چنانچہ اس سے قبل حسب دستور پورے ملک میں ممبر شپ کی گئی اور مقامی مجلس کے انتخابات ہوئے ۔ ممبر شپ کے اعتبار سے از روئے دستور ۲۳۹ ارکان مجلس عمومی کے لئے منتخب ہوئے ۔ جن کی فہرست بمع پتہ جات رجسٹر پر درج ہے ۔ الحمد للہ ! آپ حضرات کی اس اخلاص ومحبت کے ساتھ تشریف آوری مجلس کے خدام کے لئے حوصلہ افزاء اور باعث اطمینان ہے ۔ اس سال مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کو قیامت خیز از حادثہ سے دوچار ہونا پڑا کہ ہمارے مخدوم اور نائب امیر مولانا محمد یوسف لدھیانوی کو شہید کر دیا گیا ۔ دعا ہے کہ حق تعالیٰ شانہ ان کی مقدس ومقبول شہادت کی برکات سے ہمیں سرفراز فرمائیں اور اس کے صدقہ میں ہماری یہ محنت دفاع عن الدین کی محنت ہے ۔ جاری رہے ، پھلے پھولے اور بار آور ہو ۔ حضرت مرحوم کی شہادت کے بعد حضرت امیر مرکزیہ نے مجلس منتظمہ کا اجلاس طلب کر کے ۷ ربیع الاول ۱۴۲۱ھ مطابق ۱۰ جون ۲۰۰۰ء کو نائب امیر کے لئے مولانا سید نفیس الحسینی شاہ صاحب کی تقرری فرمائی تھی جو اس اجلاس تک کے لئے تھی ۔ چنانچہ آج دستور کی دفعہ نمبر ۷ کے تحت آئندہ تین سال کے لئے ہم نے امیر مرکزیہ اور نائب امیر کا انتخاب کرنا ہے۔ بحمدہ تعالیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی یہ روایات رہی ہیں کہ انتخابات میں دورائے نہیں ہوتیں ۔ کبھی ووٹنگ کا مرحلہ نہیں آتا ۔ سوچ سمجھ کر مجلس عمومی اپنے امیر مرکزیہ اور نائب امیر کا انتخاب کرتی ہے اور وہ اتنے مقبولان بارگاہ الہی ہوتے ہیں کہ ان کی زندگی میں کسی نئی شخصیت کے بارے میں سوچنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی ۔ از روئے دستور تین سال بعد مجلس عمومی کا اجلاس ضروری ہوتا ہے ۔ وہ دراصل اپنے امیر مرکزیہ ونائب امیر سے آئندہ تین سال کے لئے تجدید عہد کرنا ہوتا ہے کہ ہم آپ کی قیادت باسعادت میں عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ ، اسلام کی ترویج وبقاء اور منکرین ختم نبوت کے تعاقب کے لئے سرگرم عمل رہیں گے۔ اب میں آپ حضرات کے سامنے حسب دستور آئندہ تین سال کے لئے امیر مرکزیہ کے عہدہ کے لئے حضرت مخدوم المشائخ مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کندیاں اور نائب امیر کے لئے مولانا سید نفیس الحسینی دامت برکاتہم نفیس منزل کریم پارک لاہور کے اسماء گرامی پیش کرتا ہوں ۔ امید ہے کہ آپ حضرات اس کی توثیق فرمائیں گے۔ اجلاس کے تمام شرکاء نے بیک وقت نہایت ہی اخلاص ومحبت سے متفقہ طور پر ہاتھ اٹھا کر پرنم آنکھوں اور خوشی وانبساط سے دھڑکتے دلوں کے ساتھ تائید وتوثیق کی ۔
عزیز الرحمن
(۸۹ واں) اجلاس مجلس منتظمہ
اجلاس مرکزی مجلس منتظمہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بمقام دفتر مرکزیہ ملتان ۔
مؤرخہ ۳؍فروری ۲۰۰۱ء ، مطابق ۸؍ذیقعدہ ۱۴۲۱ھ ، بروز : ہفتہ بعد از نماز عصر منعقد ہوا۔
زیر صدارت : امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم ۔
شرکاء: (۱) مولانا خواجہ خان محمد صاحب ، (۲) مولانا سید نفیس الحسینی صاحب ، (۳) صاحبزادہ عزیز احمد صاحب ، (۴) صاحبزادہ خلیل احمد صاحب ، (۵) مولانا مفتی جمیل خان ، (۶) مولانا عزیز الرحمن جالندھری ، (۷) مولانا اللہ وسایا ، (۸) مولانا حافظ محمد اکرم طوفانی ، (۹) مولانا بشیر احمد ، (۱۰) مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ، (۱۱) صاحبزادہ سعید احمد ، (۱۲) جناب طہٰ قریشی ۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
آغاز اجلاس: حضرت مولانا مفتی محمد جمیل خان نے قرآن کریم کی تلاوت فرمائی۔ مولانا اللہ وسایا نے اجلاس مجلس عمومی جس کا انعقاد ۱۳؍ اکتوبر ۲۰۰۰ء بمطابق ۱۴؍ رجب المرجب ۱۴۲۱ھ کو ہوا تھا۔ اس کارروائی کا خلاصہ شرکاء کو پڑھ کر سنایا اور نئی مجلس منتظمہ کے اراکین کے اسماء گرامی اور اسی طرح نئی مجلس شوریٰ کے اراکین کے اسماء گرامی پڑھ کر سنائے۔
اس کے بعد کارروائی مجلس عمومی کے ایجنڈا پر حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم اور حضرت نائب امیر مرکزیہ دامت برکاتہم کے دستخط کروائے گئے۔ ایجنڈا کے مطابق کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے جناب ناظم اعلیٰ صاحب نے حاضرین کو بتایا کہ ملک میں فوجی حکمرانوں کے زیر نگرانی ہونے والے آئندہ عام انتخابات کے مطابق خدشہ یہ ہے کہ بجائے جداگانہ کے مخلوط کرا دیئے جائیں۔ کیونکہ وفاقی کابینہ میں اکثر وزراء اسی رجحان کے ہیں۔ ملک میں مخلوط انتخابات سے اسلام اور مذہبی حلقوں کو شدید نقصان پہنچے گا۔ ہمیں ابھی سے اس کی روک تھام کے لئے سوچ بچار کرنی چاہئے۔ حاضرین نے اس امید کا اظہار کیا کہ آئندہ عام انتخابات جداگانہ ہی ہوں گے۔ کیونکہ حالیہ بلدیاتی انتخابات جداگانہ ہی ہوئے ہیں۔
صاحبزادہ عزیز احمد نے بتایا کہ پرویز مشرف اور جناب محمود غازی وفاقی وزیر مذہبی امور یہ دونوں جداگانہ انتخابات کے حق میں ہیں۔ گو باقی تمام وزراء مخلوط انتخابات چاہتے ہیں۔ قوی امید یہ ہے کہ جناب پرویز مشرف اپنی رائے پر ڈٹے رہیں گے اور عام انتخابات جداگانہ ہی کرائیں گے۔ تاہم فیصلہ کیا گیا کہ:
- ۱...... ابھی سے جداگانہ انتخابات کے حق میں اپنے دینی رسائل میں مضامین شائع کرائے جائیں۔
- ۲...... مختلف دینی جماعتوں کے اجلاسوں میں جو لاہور میں ہوتے ہیں، اس میں قراردادیں منظور کرائی جائیں۔
- ۳...... کسی ہنگامی صورتحال کے وقت مجلس عمل کا فوری اجلاس بلا لیا جائے تاکہ تمام دینی حلقے مل کر اس پر غور و فکر کر سکیں۔
مقدمہ چک بھوڑو، مقدمہ تخت ہزارہ: موجودہ فوجی حکومت کے متعلق قادیانیوں نے اس تاثر کو شہرت دی کہ حالیہ فوجی اقدام کے بعد برسر اقتدار آنے والا گروپ، قادیانی یا نیم قادیانی ہے۔ اس کے ساتھ انہوں نے ایک سازش کے تحت مسلمانوں سے تصادم کا راستہ اختیار کیا۔ بہت سارے مقامات پر اشتعال انگیز کارروائیاں کیں۔ چک بھوڑو میں قادیانیوں نے مسلمانوں پر فائرنگ کی۔ آٹھ مسلمان زخمی ہوئے۔ یہ مشہور ہونے پر کہ ایک زخمی مسلمان ہلاک ہو گیا ہے۔ قادیانیوں نے ایک بوڑھے قادیانی کو خود گولی مار کر ہلاک کیا اور یوں مسلمانوں کے خلاف ۳۰۲ کا پرچہ درج ہوا۔ ۳۶ آدمی گرفتار ہوئے۔ ان مسلمانوں کی مجلس نے ہر طرح مدد کی۔ حضرت مولانا عبداللہ لدھیانوی اور رکن شوریٰ عالمی مجلس جناب قاضی فیض احمد اور لاہور کے مبلغ مولانا عزیز الرحمن ثانی نے تفتیش اور انکوائری میں مسلمانوں کی ہر طرح مدد کی۔ چھ ماہ کی جدوجہد کے بعد تمام ساتھی ضمانت پر رہا ہوئے۔ اب مقدمہ ۳۰۲ میں ایک مسلمان جیل میں ہے۔ مجلس کی طرف سے وکیل فراہم کرنا بہت ضروری ہے۔ کیونکہ سابقہ تمام اخراجات مقامی دوستوں نے خود ادا کئے ہیں۔
اسی طرح تخت ہزارہ علاقہ سرگودھا میں قادیانیوں نے ایک مسلمان اطہر شاہ کو اغواء کر کے شدید زخمی کیا۔ اطہر شاہ کے قتل کی افواہ پر مسلمان قادیانی عبادت گاہ پر جمع ہوئے۔ قادیانی افراتفری میں اپنی عبادت گاہ کی چھت پر چڑھے اور چھت سے گر کر پانچ قادیانی ہلاک ہو گئے۔ نتیجتاً چھیالیس مسلمان گرفتار ہوئے۔ ان کے خلاف ۳۰۲ کا مقدمہ بنا۔ گرفتار مسلمانوں کی سحری، افطاری، جیل اور حوالات کی
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ضروریات سب اخراجات مقامی طور پر پورے کئے گئے۔ کیس عدالت میں آچکا ہے۔ دونوں مقامات میں وکلاء کی فیس اور دیگر جزوی اخراجات اگر ضرورت پڑے تو کرنے کی اجازت ہونی چاہئے۔ چنانچہ حضرت امیر مرکزیہ اور نائب امیر مرکزیہ دامت برکاتہم نے مقدمہ چک بھوڑو، مقدمہ تخت ہزارہ اور ایسے دیگر پیش آنے والے واقعات جس میں قادیانیوں کے مقابلے میں مسلمان مظلوم ہوں۔ انہیں ہر قسم کی آئینی اور قانونی امداد دینے کا حکم فرمایا۔ جس کی دیگر تمام اراکین نے تائید و توثیق کی۔
مدرسہ تعلیم القرآن چناب نگر: اس وقت ۱۲۵ مقیم بچے زیر تعلیم ہیں۔ گزشتہ اجلاس شوریٰ میں روٹی پلانٹ خریدنے کی اجازت دی گئی تھی، جو خرید لیا گیا ہے۔ پلانٹ کی مالیت چالیس ہزار روپے ہے۔ ضابطہ کی اطلاع پیش خدمت ہے۔ شعبہ تعلیم القرآن میں تین مدرس پہلے تھے۔ چوتھے مدرس قاری محمد رمضان خادم دفتر لاہور کا بحیثیت مدرس یہاں تبادلہ کیا گیا ہے۔
مدرسہ تعلیم القرآن چوک پرمٹ: مقیم بچے ۸۵، اساتذہ تین ہیں۔ ہائی سکول کے صبح اور شام تقریباً ۱۰۰ بچے ناظرہ قرآن کریم پڑھتے ہیں۔ حالات میں اب یکم ذوالحجہ سے کھانا اور روٹیاں مدرسے میں پکنا چاہئے۔ اس سلسلہ میں مناسب باورچی خانہ تیار کرنے اور باورچی رکھنے کی اجازت دی جائے۔ اراکین منتظمہ نے کھانا مدرسہ میں پکانے اور اس کے لئے باورچی رکھنے کے فیصلہ کی تائید فرمائی اور اجازت دی۔
اشاعت کتب: گزشتہ چھ ماہ کے دورانیہ میں: (۱) احتساب قادیانیت جلد اول، (۲) احتساب قادیانیت جلد سوم، (۳) خاتم النبیینؐ، (۴) قومی تاریخی دستاویز، (۵) قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ، (۶) سوانح حضرت مولانا تاج محمود چھاپی گئی ہیں۔ طے شدہ ضابطہ کے مطابق مجلس کی مطبوعات بہت کم منافع پر دی جاتی ہیں۔ حساب ہر کتاب کا الگ رکھا جاتا ہے۔ اشاعت کتب پر صرف شدہ رقم بطور قرض خرچ کی جاتی ہے اور فروخت کتب سے ادا کر دی جاتی ہے۔
انگریزی رسائل: حضرت اقدس مولانا سید نفیس الحسینی نے حضرت مولانا علی میاں ندوی کی کتاب ”قادیانیت (انگریزی)“ اور علامہ اقبال کا انگریزی پمفلٹ، اسلام اور احمدیت، چھاپنے کا مشورہ دیا۔ جسے بہت مستحسن قرار دیا گیا اور چھاپنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اعزازی کتب: وفاق المدارس عربیہ درجہ اول کے اہم اہم دوصد مدارس اور ملک کی مشہور لائبریریاں ایک سو کے قریب۔ ان میں احتساب قادیانیت کا مکمل سیٹ تحفہ قادیانیت کا مکمل سیٹ اعزازی طور پر بھجوانے کا فیصلہ کیا گیا اور اجازت دی گئی۔ مخدومی سید نفیس الحسینی دامت برکاتہم نے ارشاد فرمایا کہ جن جن اکابرین کے رسائل کے مجموعے احتساب قادیانیت کے نام سے شائع کئے جارہے ہیں۔ ہر مجموعہ کے نام میں اس بزرگ کا نام بھی کسی طرح بھی شامل کیا جاسکے تو یہ زیادہ بہتر ہے۔
تعمیر و مرمت حیدر آباد کی تکمیل: دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت حیدر آباد کی تعمیر و مرمت کی منظوری مرکزی اجلاس ۱۶؍مئی ۱۹۹۹ء میں دی گئی تھی۔ دورانیہ سال ۱۹۹۹ء میں دوسری منزل اور بالائی حصے کی مرمت کا کام مکمل ہوا۔ پہلی منزل کے فرش ماربل، واش روم، غسل خانے، سیڑھیاں، جائے وضو، رنگ و روغن، یہ کام باقی رہ گیا تھا۔ جو سال ۲۰۰۰ء میں کرایا گیا۔
تعمیرات مسلم کالونی: مدرسہ و دفتر ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں ایک عدد ٹینکی، ۲۷ عدد واش روم، ۱۶ عدد غسل خانوں کی تعمیر حسب اجازت امیر مرکزیہ تکمیل پذیر ہوئی۔ فقیر خادم اللہ وسایا
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
(۹۰ واں) اجلاس شوریٰ
اجلاس مرکزی مجلس شوریٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بمقام دفتر مرکزیہ ملتان۔
مؤرخہ ۲۶؍ اپریل ۲۰۰۱ء، مطابق یکم صفر الخیر ۱۴۲۲ھ، بروز: جمعرات منعقد ہوا۔
زیر صدارت: امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم۔
شرکاء: (۱) مولانا خواجہ خان محمد صاحب، (۲) حضرت سید نفیس الحسینی شاہ صاحب، (۳) مولانا فیض احمد ملتان، (۴) مولانا عبدالمجید لدھیانوی کہروڑ پکا، (۵) مولانا مفتی نظام الدین شامزئی کراچی، (۶) مولانا سید عبدالمجید ندیم شاہ ملتان، (۷) مولانا عبدالواحد کوئٹہ، (۸) مولانا نور الحق نور پشاور، (۹) صوفی ریاض الحسن گنگوہی ڈیرہ اسماعیل خان، (۱۰) مولانا مفتی محمد جمیل خان کراچی، (۱۱) مولانا احمد میاں حمادی ٹنڈو آدم، (۱۲) قاری خلیل احمد سکھر، (۱۳) مولانا قاضی عزیز الرحمن رحیم یار خان، (۱۴) مولانا محمد شریف اسلام آباد، (۱۵) جناب صاحبزادہ عزیز احمد خانقاہ سراجیہ، (۱۶) جناب صاحبزادہ طارق محمود فیصل آباد، (۱۷) جناب حافظ نذیر احمد گوجرانوالہ، (۱۸) جناب حافظ محمد یوسف عثمانی گوجرانوالہ، (۱۹) جناب حاجی فیض احمد ٹوبہ، (۲۰) جناب حاجی بلند اختر لاہور، (۲۱) جناب حاجی سیف الرحمن بہاول پور، (۲۲) جناب حکیم قاری محمد یونس راولپنڈی، (۲۳) جناب حاجی اشتیاق احمد جھنگ، (۲۴) جناب میاں خان محمد سرگانہ، (۲۵) مولانا عزیز الرحمن جالندھری ملتان، (۲۶) مولانا محمد اکرم طوفانی سرگودھا، (۲۷) مولانا اللہ وسایا ملتان، (۲۸) مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، (۲۹) جناب حاجی عبدالحمید بلجیم (اعزازی)۔
نشست اوّل: صبح ۹ بجے۔
زیر صدارت: حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم۔
آغاز اجلاس: حضرت مولانا قاری خلیل احمد کی تلاوت سے ہوا۔
تعزیتی قرارداد اور دعاء: گزشتہ اجلاس شوریٰ کے بعد سے اب تک مجلس، حلقہ علماء وصلحاء اور متوسلین سے بہت ہی مبارک ہستیاں ہم سے جدا ہوگئیں۔ جن کے وجود سے علمی واصلاحی دنیا آباد تھی۔ اللہ کریم سب کو اپنی رحمت ورضوان سے نوازیں۔ حاضرین اجلاس کی درخواست پر حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم نے پوری امت مسلمہ، پاکستان کی بقاء وسلامتی، افغان عوام، کشمیر، فلسطین اور دیگر سب مسلمانوں کے لئے خیر وبرکت کی دعاء فرمائی۔
دعائے مغفرت: اجلاس میں جن اکابر علماء کرام کی وفات کا خصوصی تذکرہ ہوا۔ ان کے اسماء گرامی یہ ہیں: مولانا محمد یوسف لدھیانوی، مولانا محمد امین اوکاڑوی، مولانا محمد لقمان علی پوری، مولانا عبدالشکور ترمذی، مولانا ضیاء القاسمی فیصل آباد، مولانا صوفی محمد اقبال، حضرت صوفی عنایت علی دنیا پوری، حافظ محمد عبداللہ بستی سراجیہ، صوفی نور محمد مجاہد لودھراں، ملک محمد افضل خانقاہ سراجیہ، حاجی خلیل احمد لدھیانوی فیصل آباد، حضرت مولانا رشید الحسن ندوی کراچی، مولانا منیر الدین کوئٹہ۔
خلاصہ اجلاس مجلس عمومی: ۱۳؍ اکتوبر ۲۰۰۰ء بمطابق ۱۴؍ رجب المرجب ۱۴۲۱ھ بروز جمعۃ المبارک صبح ۹ بجے چناب نگر میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس کے موقعہ پر اراکین مجلس عمومی کا اجلاس ہوا۔ جس میں ۲۳۳ ممبران عمومی نے شرکت کی۔ ان کے علاوہ مقامی
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مجالس کے عہدے داروں اور حضرات مبلغین نے شرکت کی۔ بطور اعزازی ۷۵ افراد شریک ہوئے۔ ۲۳۳ ممبران مجلس عمومی اور اعزازی شرکاء کی موجودگی میں حضرت امیر مرکزیہ اور نائب امیر مرکزیہ کا آئندہ سہ سالہ چناؤ ہوا۔ انتخاب اور ہر دو حضرات کی قیادت میں سیادت پر اظہار اعتماد کیا گیا۔ چنانچہ ۱۳؍اکتوبر ۲۰۰۰ء تا ۱۰؍اکتوبر ۲۰۰۳ء اس سہ سالہ دورانیہ کے لئے حضرت امیر مرکزیہ اور نائب امیر مرکزیہ کا انتخاب عمل میں لایا گیا۔ اس کے ساتھ حضرت امیر مرکزیہ نے مرکزی مجلس شوریٰ اور مرکزی مجلس منتظمہ کا تقرر فرماتے ہوئے سابقہ منتظمہ اور مرکزی شوریٰ کو مکمل طور پر بحال رکھتے ہوئے ۱۰؍اکتوبر ۲۰۰۳ء تک کے لئے انہیں نامزد فرمایا۔
شعبہ تبلیغ میں ۲۹ حضرات مبلغین تبلیغی خدمات سرانجام دیتے ہیں۔ قادیانیت کی ارتدادی سرگرمیاں زیادہ تر پنجاب اور سندھ میں ہیں۔ انہی دو صوبوں میں زیادہ کام کی ضرورت کے پیش نظر تقریباً ضلع اور ڈویژن کی سطح پر مبلغین کے حلقے بنائے گئے ہیں۔ صوبہ بلوچستان میں قادیانیوں کے اثرات سب سے کم ہیں۔ کوئٹہ جیسے شہر میں ان کی صرف ایک قدیم عبادت گاہ ہے جو عرصہ پندرہ سال سے سیل ہے۔ پورے صوبہ میں کہیں ان کا اجتماع نہیں ہوتا۔ حضرت مولانا عبدالعزیز بحیثیت مبلغ تبلیغ خدمات سرانجام دیتے ہیں۔
صوبہ سرحد میں قادیانیوں کے پرانے جراثیم پائے جاتے ہیں۔ علماء سرحد قادیانیت کے تعاقب میں بڑے فعال ہیں۔ انہوں نے قادیانیت کو اپنے صوبے میں خوب دبا رکھا ہے۔ حضرت مولانا نورالحق نور رکن مرکزی مجلس شوریٰ پورے صوبے کے حالات پر ہمہ وقت نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اسی گفتگو کے دوران حضرت مولانا نورالحق نور نے ارشاد فرمایا کہ اب ہمیں بھی مبلغ کی ضرورت ہے۔ چنانچہ حاضرین نے انہیں اختیار دیا کہ وہ اپنے علاقہ سے قادرالکلام، باصلاحیت، فارغ التحصیل عالم دین کا انتخاب کریں اور قادیانیت کے رد کی تربیت کے لئے اسے مرکز بھیج دیں۔
صوبہ سندھ میں چھ مبلغ ہیں۔ گزشتہ دنوں گوہر شاہی فتنہ نے علاقہ کوٹری، حیدرآباد میں فتنہ و فساد کھڑا کیا تو ہر طرح سے ان کا مقابلہ کیا گیا۔ گوہر شاہی کو عدالت میرپورخاص سے سزا ہوئی اور اب وہ ملک سے روپوشی کی زندگی گزار رہا ہے۔ کوٹری، حیدرآباد وغیرہ میں گوہر شاہیوں کے بورڈ، دفاتر اور ان کے مراکز سب اجڑ گئے ہیں اور اب حالات بحمداللہ پرسکون ہیں۔
صوبہ پنجاب میں مجلس کی طرف سے بائیس مبلغ تبلیغی خدمات سرانجام دیتے ہیں۔ چار مبلغ مرکز میں جو پورے پاکستان کا تبلیغی دورہ کرتے رہتے ہیں اور اٹھارہ مبلغ مختلف اضلاع میں تعینات ہیں۔ مرکزی دفتر میں ہر تین ماہ بعد تبلیغی امور پر مشاورت کے لئے تمام مبلغین کی میٹنگ رکھی جاتی ہے۔ سال میں چار اجلاس ہوتے ہیں۔ جس میں تبلیغی پروگرام اور علاقائی تبلیغی اسفار کا پروگرام طے کیا جاتا ہے۔ گزشتہ دو سال سے تربیتی پروگرام بعض مساجد میں، بعض مدارس میں اور مجلس کے مختلف دفاتر میں رکھے جاتے ہیں۔ جس میں بحمداللہ کافی تعداد میں مسلمان شریک ہوتے ہیں۔ عام جلسوں کی نسبت ان تربیتی اجلاسوں کی افادیت زیادہ محسوس کی گئی ہے۔ جیسا کہ تمام اراکین شوریٰ کو معلوم ہے کہ ملک کے تمام بڑے بڑے شہروں میں ختم نبوت کے عنوان پر کانفرنسیں رکھی جاتی ہیں۔ یہ کانفرنسیں ہمارے اکابرین کے دور سے منعقد ہوتی ہیں۔ آج تک اس تسلسل کو بھی قائم رکھا گیا ہے۔ اہم اہم کانفرنسوں میں حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم اور حضرت نائب امیر مرکزیہ دامت برکاتہم بھی شرکت فرماتے رہتے ہیں۔
چناب نگر میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس اپنی نوعیت کی منفرد کانفرنس ہے۔ جس میں بڑے اہتمام سے چاروں صوبوں سے
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کثیر تعداد میں مسلمان شریک ہوتے ہیں۔ چناب نگر میں سالانہ رد قادیانیت کورس ۶ تا ۲۸؍شعبان المعظم کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ جس میں انگریزی تعلیم یافتہ اور مدارس عربیہ کے درجہ وسطیٰ کے طلباء کو شریک کیا جاتا ہے۔ اس میں مختلف عنوانات پر بیانات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ مجلس کا تبلیغی شعبہ مقاصد مجلس کی اصل روح و جان ہے۔ جس کا مختصر خاکہ آپ حضرات کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔
سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر: ۱۲؍اکتوبر ۲۰۰۱ء بروز جمعرات، جمعہ حسب روایات سابق یہ کانفرنس منعقد ہوگی۔ کانفرنس کے دوران گزشتہ سال ہونے والی بد نظمی اور (سپاہ کے) نوجوانوں کی اشتعال انگیز ہلڑ بازی کے عوامل کا جائزہ لیا گیا۔ جس حلقہ کے نوجوانوں نے ہلڑ بازی کی، ان کے سرپرست حضرات سے اگر پیشگی گفتگو مناسب ہو تو مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا اللہ وسایا، صاحبزادہ طارق محمود تینوں حضرات گفتگو کے مجاز ہوں گے۔ کانفرنس کے نظم کو بہتر بنانا، تقریر کے موضوعات تجویز کرنا اور ہمہ وقتی پنڈال اور اسٹیج کی نگرانی کرنا۔ اس نظم کو مولانا مفتی محمد جمیل خان اور صاحبزادہ عزیز احمد دونوں حضرات مذکورہ بالا تین حضرات کے ساتھ شریک ہو کر باہم مشورہ سے ترتیب دیں گے۔
سالانہ سولہویں ختم نبوت کانفرنس برمنگھم: اس سال یہ کانفرنس ۵؍اگست ۲۰۰۱ء بروز اتوار حسب روایات سابق منعقد ہو گی۔ کانفرنس کی سرپرستی کے لئے حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم امیر مرکزیہ تشریف لے جائیں گے۔ بلجیم کے قاری عبدالحمید جو اجلاس ہذا میں موجود تھے، ان کی درخواست پر حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم نے سفر بلجیم کا وعدہ فرمایا۔ مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا اللہ وسایا، مولانا مفتی محمد جمیل خان اور دارالعلوم دیوبند کے نائب مہتمم مولانا محمد عثمان جماعتی طور پر کانفرنس میں شرکت فرمائیں گے۔
سہ مقامات پر دفاتر کی تعمیر: فیصل آباد، اوکاڑہ اور بہاول نگر ان علاقوں میں قادیانیت کے جراثیم ہیں۔ بااثر زمیندار، صنعت کار قادیانی ہیں۔ کام کی از حد ضرورت ہے۔ ان علاقوں میں مبلغین مقرر کئے گئے ہیں۔ دفاتر کا انتظام نہیں ہے۔ مبلغ کسی مسجد یا مدرسے میں جزوی رہائش کرتا ہے۔ جناب حاجی بلند اختر، جناب حاجی فیض احمد، جناب حاجی سیف الرحمن، نگران مالیاتی امور کی آراء پر تینوں مقامات پر دفاتر خریدنے یا پلاٹ خرید کر تعمیر کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔ دفتر فیصل آباد کا نظم حاجی فیض احمد کے سپرد کیا گیا۔ اوکاڑہ میں خرید دفتر کا کام حاجی بلند اختر کے سپرد کیا گیا اور بہاول نگر میں تعمیر دفتر کا کام حاجی سیف الرحمن کے سپرد کیا گیا۔
مسجد ختم نبوت ڈیرہ اسماعیل خان: کمشنری بازار ڈیرہ میں ایک متروکہ عمارت میں نماز پنجگانہ کا اہتمام کیا گیا۔ طویل عرصہ تک نمازیں پڑھی جاتی رہیں۔ محکمہ اوقاف نے وہاں دفاتر بنانے کا منصوبہ بنایا۔ کشیدگی پیدا ہوئی۔ عمارت سیل کر دی گئی۔ ۲۵، ۲۶ سال عمارت سیل رہی۔ جناب صوفی ریاض الحسن گنگوہی واگزاری مسجد کا مقدمہ لڑتے رہے۔ ۲۵، ۲۶ سال بعد ۱۴۲۱ھ میں مسجد کی حیثیت بحال کی گئی۔ اس مسجد کے نظم کے سلسلے میں مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا اللہ وسایا، صاحبزادہ عزیز احمد صاحب پر مشتمل کمیٹی بنائی گئی جو تمام امور کا جائزہ لے کر اخراجات کا مناسب فیصلہ کرے گی۔
مدارس عربیہ میں تربیت رد قادیانیت کا انتظام: قادیانی اپنے خلاف آئینی، قانونی، عدالتی اقدامات اور غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جانے کے باوجود مسلسل قادیانیت کی تبلیغ کر رہے ہیں۔ جس کا سبب حکمران طبقہ کی قادیانیت نوازی اور قادیانیوں کا اعلیٰ عہدوں
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پر فائز ہونا ہے۔ قادیانی مسلمان کو مختلف مالی ذرائع سے گمراہ کر رہے ہیں۔ ان کے تعاقب کی سخت ضرورت ہے۔ جس کے لئے درس نظامی کے طلباء کا اس فتنہ سے آگاہ ہونا ضروری ہے۔ اس بناء پر ایک مختصر کتابچہ رد قادیانیت پر ترتیب دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ جس کا ابتدائی خاکہ مولانا اللہ وسایا ترتیب دیں۔ مولانا سید نفیس الحسینی شاہ، مولانا مفتی نظام الدین شامزئی، مولانا عبدالمجید لدھیانوی اس کتابچہ پر نظر ثانی کر کے انتظامیہ وفاق المدارس سے وفاق المدارس کے کسی درجہ کے کورس میں شامل کرانے کی کوشش کریں گے۔ فقیر خان محمد غفرلہ
(۹۱ واں) اجلاس مجلس منتظمہ
اجلاس مرکزی مجلس منتظمہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بمقام دفتر مرکزیہ ملتان۔ مؤرخہ ۲۷/ دسمبر ۲۰۰۱ء، مطابق ۱۱/ شوال المکرم ۱۴۲۲ھ، بروز : جمعرات بعد از نماز عصر تا نماز عشاء منعقد ہوا۔
زیر صدارت: امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم ۔
شرکاء: (۱) مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم ، (۲) مولانا عزیز الرحمن جالندھری، (۳) مولانا مفتی محمد جمیل خان، (۴) مولانا محمد اکرم طوفانی، (۵) مولانا اللہ وسایا، (۶) مولانا بشیر احمد، (۷) مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، (۸) صاحبزادہ خلیل احمد ۔
تلاوت قرآن کریم: حضرت مولانا حافظ محمد اکرم طوفانی۔
شعبہ تعلیم القرآن میں اساتذہ کا تقرر: شعبہ ہائے تعلیم القرآن مسلم کالونی چناب نگر میں تین اساتذہ کرام کا تقرر کیا گیا۔ (۱) جناب قاری محمد رمضان مدنی ، (۲) جناب قاری عبیدالرحمن ، (۳) جناب قاری عبدالمجید۔
تعمیر دارالقرآن مسلم کالونی : مدرسہ مسلم کالونی چناب نگر میں بجانب غرب ملحقہ سڑک جو خالی جگہ ہے، اس کی پیمائش جنوباً شمالاً ۹۸ فٹ ہے۔ دونوں جانب مناسب جگہ چھوڑ کر جنوباً شمالاً ۸۰ فٹ، شرقاً غرباً ۵۰ فٹ، گویا 50x80 رقبہ پر دارالقرآن تعمیر کر لیا جائے تو ۱۵۰ طلباء درجہ حفظ، چھ اساتذہ کرام کے لئے ایک ہی جگہ درسگاہیں قائم ہو جائیں۔ اس وقت رہائش گاہوں میں درس گاہیں قائم ہیں یا مسجد میں۔
دارالقرآن کی بالائی منزل پر چار رہائش گاہیں تعمیر ہو جائیں گی۔ تخمینہ اخراجات کا اندازاً صرف دارالقرآن گیارہ سے بارہ لاکھ روپے تک ہوگا۔ اراکین مجلس منتظمہ نے تعمیر کی تفصیلات معلوم کیں۔ کچھ مناسب تجاویز سے نوازا اور تعمیر دارالقرآن مسلم کالونی کی اجازت دی۔ مولانا اللہ وسایا کی تجویز پر ہال اے، بی دارالقرآن اور گیلری میں ماربل لگوانے کی اجازت دی گئی۔ موصوف کی تجویز پر بالا خانہ، اے، بی، سی، ڈی، دارالقرآن کے بالائی حصہ پر ساتھ ہی تعمیر کرا لینے کی اجازت دی گئی۔ چاروں بالا خانے اندازاً پانچ لاکھ میں مکمل ہو جائیں گے۔
تعمیرات مدرسہ دارالہدیٰ پرمٹ: علی پور سے سات میل بجانب ملتان چوک پرمٹ پر سولہ، سترہ کنال اراضی پر تعلیم القرآن کا قدیم مدرسہ قائم ہے۔ تعمیرات کہنہ ہیں۔ 30x60 کی عظیم الشان خوبصورت مسجد تعمیر ہو چکی ہے۔ دو کمرے، برآمدہ اور آفس جدید تعمیر کیا گیا ہے۔ ہر دو کمرے، مسجد اور آفس کی تعمیرات گزشتہ تین سالوں میں مکمل ہوئیں۔ طلباء کے رہائشی کمرے، درسگاہیں پرانی اور کہنہ ہیں۔ ان کی جدید تعمیرات کی ضرورت ہے۔ یہ تعمیرات پرانی عمارت کی بنیادوں پر تعمیر ہوں گی۔
سڑک چار فٹ اونچی کی گئی ہے۔ پلاٹ مدرسہ بہت نشیب میں چلا گیا ہے۔ کم از کم اوسطاً دو فٹ مٹی ڈالنے کی بھی ضرورت ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء ترتیب وتحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا
98x26 مربع فٹ کی درسگاہ نئی تعمیر ہو گی۔
موجودہ حالات میں طلباء کی رہائش اور تعلیمی ضروریات کے پیش نظر اس کی مجلس منظمہ کو اجازت مرحمت فرمانی چاہئے۔ نقشہ کی مدد سے تمام تعمیرات کا جائزہ لیا گیا اور پھر اس منصوبہ کی تکمیل کی اجازت دی گئی۔ محترم حاجی بشیر احمد آف پرمٹ ،مدرسہ کے معاون خصوصی ، مجلس تحفظ ختم نبوت چوک پرمٹ کے امیر ، مقامی زمیندار اور تاجر ہیں وہ تعمیرات کی نگرانی کریں گے ۔ اخراجات کے لئے رقم ان کے نام بذریعہ ڈرافٹ بھیجی جائے گی ۔ موصوف کفایت شعاری سے تعمیرات مکمل کرائیں گے ۔ ان کی تصدیق سے حسابات درج ہوں گے ۔ ان تعمیرات کا تخمینہ تقریباً چھ لاکھ روپے ہوگا ۔ آخر میں مجلس منظمہ نے اس کی بھی منظوری دی۔
فقیر خواجہ خان محمد غفرلہ
(۹۲ واں) اجلاس شوریٰ
اجلاس مرکزی مجلس شوریٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بمقام دفتر مرکزیہ ملتان ۔
مؤرخہ ۳؍ اپریل ۲۰۰۳ء، مطابق ۳۰؍محرم الحرام ۱۴۲۴ھ، بروز : جمعرات، بوقت : صبح نو بجے منعقد ہوا۔
زیر صدارت : امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم ۔
شرکاء : (۱) مولانا خواجہ خان محمد صاحب ، (۲) مولانا سید نفیس الحسینی، (۳) مولانا فیض احمد ، (۴) مولانا عبدالمجید لدھیانوی، (۵) مولانا عبدالرزاق اسکندر، (۶) مولانا نظام الدین شامزئی ، (۷) مولانا سید عبدالمجید ندیم شاہ، (۸) مولانا نور الحق نور، (۹) مولانا عبدالواحد ، (۱۰) مولانا انوار الحق حقانی ، (۱۱) مولانا محمد جمیل خان، (۱۲) مولانا قاضی عزیز الرحمن، (۱۳) حاجی بلند اختر نظامی، (۱۴) حاجی فیض احمد ، (۱۵) حاجی سیف الرحمن ، (۱۶) صاحبزادہ عزیز احمد، (۱۷) احمد میاں حمادی، (۱۸) مولانا قاری خلیل احمد، (۱۹) صوفی ریاض الحسن، (۲۰) مولانا محمد شریف، (۲۱) حافظ محمد یوسف عثمانی، (۲۲) حاجی اشتیاق احمد، (۲۳) میاں خان محمد سرگانہ، (۲۴) مولانا عزیز الرحمن جالندھری، (۲۵) مولانا بشیراحمد، (۲۶) مولانا محمد اکرم طوفانی، (۲۷) مولانا اللہ وسایا، (۲۸) مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ، (۲۹) صاحبزادہ خلیل احمد (اعزازی ) ، (۳۰) صاحبزادہ نجیب احمد (اعزازی) ۔
سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر : امسال ختم نبوت کانفرنس چناب نگر مؤرخہ ۲، ۳؍اکتوبر ۲۰۰۳ء بروز جمعرات، جمعہ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ یہ ماہ شعبان کی بھی ابتدائی تاریخیں ہوں گی۔ مدارس دینیہ ، وفاق المدارس کے امتحانات ہوچکے ہوں گے ۔ نیز ۱۴۲۴ھ کے سہ سالہ مرکزی انتخابات اسی موقع پر کرالئے جائیں گے ۔ کانفرنس کے فوراً بعد سالانہ کورس رد قادیانیت شروع ہو جائے گا۔
گزشتہ اجلاس شوریٰ کی کارروائی پڑھ کر سنائی گئی اور حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم نے توثیقی دستخط فرمائے ۔
اراکین شوریٰ کو بتایا گیا کہ سابقہ روایات کے مطابق جیسا کہ اجلاس شوریٰ سے قبل مالیاتی کمیٹی اور مجلس منظمہ کا اجلاس ہوا کرتا ہے ۔ اسی کے مطابق گزشتہ کل مالیاتی کمیٹی اور مجلس منظمہ کا اجلاس ہو چکا ہے۔ مالیاتی کمیٹی ایجنڈے کی ان تمام شقوں کا جائزہ لے چکی ہے، جو اس کے متعلق ہیں ۔ اس طرح مجلس منظمہ ایجنڈے کے خاص خاص نکات پر مشاورت اور تجاویز مرتب ہوچکی ہے، جو سابقہ صفحات پر تحریر کئے گئے ہیں اور آپ کی خدمت میں مولانا اللہ وسایا صاحب مالیاتی کمیٹی اور مجلس منظمہ کی حالیہ گزشتہ روز کی کارروائی مرتب اور تحریر شدہ پڑھ کر سنا دیتے ہیں ۔ اس کے بعد اس اجلاس کے ایجنڈا کی تمام شقوں پر تفصیلاً بحث ہوگی ۔ ہر دو کارروائیاں پڑھ کر سنائی گئیں ۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ایجنڈا پر شق وار بحث، شق نمبر ۱: حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب نے گزشتہ سال کی تبلیغی رپورٹ پیش کی اور گزشتہ سال رد قادیانیت تربیتی کنونشن ختم نبوت پر عمومی خطبات، کتب، لٹریچر کی تقسیم کی تفصیلات بیان کیں۔
شق نمبر ۲: کے سلسلہ میں سب سے پہلے حضرت مولانا ندیم شاہ صاحب نے اپنے خیالات کا اظہار فرماتے ہوئے مفید ترین تجاویز سے نوازا۔ مولانا نور الحق نور، مولانا محمد شریف، مفتی نظام الدین شامزئی نے بھی بہت عمدہ تجاویز پیش کیں جو درج ذیل ہیں۔
تجویز نمبر ۱: فتنہ قادیانیت اور موجودہ حالات میں قادیانیوں کا اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونا ملک وملت کے لئے جس قدر خطرناک ہے اس سلسلہ میں ایک خط کے ذریعہ تمام ممبران قومی اسمبلی کو آگاہ کیا جائے۔
تجویز نمبر ۲: ممبران قومی اسمبلی کو رد قادیانیت، لٹریچر بھیجا جائے۔ یہ لٹریچر معلوماتی اور معیاری ہو۔
تجویز نمبر ۳: قومی اسمبلی میں کسی ممبر کے ذریعہ ایک ایسی قرارداد پیش کی جائے جس میں قادیانیوں کے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونے کی تفصیلات دریافت کی گئی ہوں۔ اس پر وہ قادیانی جو خفیہ طور پر اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں، ان کی تفصیلات معلوم ہو جائیں گی۔
تجویز نمبر ۴: بڑے بڑے شہروں میں علماء اور خطباء کے کنونشن رکھے جائیں اور انہیں قادیانی فتنہ کی حالیہ سنگینی سے آگاہ کیا جائے تاکہ وہ اپنے اپنے خطبات جمعہ میں مسئلہ ختم نبوت اور فتنہ قادیانیت پر روشنی ڈال سکیں۔
تجویز نمبر ۵: تحصیل اور ضلع کی سطح پر مخصوص خطباء کا کنونشن رکھا جائے۔
تجویز نمبر ۶: اہم اہم شہروں میں جیسے کراچی، کوئٹہ، اسلام آباد، لاہور، پشاور میں خصوصیت کے ساتھ صحافی حضرات کے کنونشن بلائے جائیں اور انہیں فتنہ قادیانیت سے آگاہ کرتے ہوئے ان سے اس مسئلہ کو اجاگر کرنے کی اپیل کی جائے۔
تجویز نمبر ۷: متحدہ مجلس عمل کے قائدین کا اسلام کے کسی ہوٹل میں استقبالیہ کا اہتمام کیا جائے اور اس سے پہلے انفرادی ملاقاتیں کر کے ان اکابرین کو حالیہ حالات میں فتنہ قادیانیت کی سنگینی اور اس فتنہ سے تحفظ کے اقدامات کا کہا جائے اور یہی موضوع استقبالیہ کا ہو۔
حضرت مولانا سید عبدالمجید ندیم شاہ صاحب اکابرین متحدہ مجلس عمل کے استقبالیہ کا اہتمام اور ان سے ملاقات کریں گے۔
حضرت مولانا مفتی نظام الدین شامزئی اور مفتی محمد جمیل خان صحافیوں کے کنونشن کا اہتمام کریں گے۔
اس سال ۱۵؍ شوال تا ۲۵؍ ذی الحجہ سہ ماہی کورس رد قادیانیت ہوا۔ جس میں ۷ فارغ التحصیل علماء کرام شریک ہوئے۔
(۱) مولانا مختار احمد، (۲) مولانا محمد زمان، (۳) مولانا محمد یوسف نقشبندی، (۴) مولانا عبدالستار گورمانی، (۵) مولانا عبداللطیف، (۶) مولانا محمد جمیل کشمیری، (۷) مولانا صفی الرحمٰن۔
ان حضرات کو مولانا اللہ وسایا، مولانا خدا بخش، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے رد قادیانیت پر لیکچر دیئے اور رد قادیانیت پر اہم اہم کتب کا مطالعہ کروایا۔
تقرر اور حلقے : (۱) مولانا مختار احمد خوشاب، (۲) مولانا محمد یوسف ڈیرہ غازی خان، (۳) مولانا صفی الرحمٰن شیخوپورہ، (۴) مولانا محمد زمان فیصل آباد، (۵) مولانا عبدالستار گورمانی خانیوال۔
سات حضرات شریک کورس ہوئے۔ جن میں سے پانچ باصلاحیت قادر الکلام خطیبانہ ملکہ رکھنے والے حضرات کو موقعہ دیا گیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
رسائل : توہین کلمہ، فرق، گالیاں، المہدی ، شناخت اور عقیدہ ختم نبوت وغیرہ جو کہ اب بالکل ختم ہیں اور دو سال سے طبع نہیں کرائے۔ انہیں دوبارہ طبع کرایا جائے۔ تجویز سے اتفاق اور طبع کرانے کی منظوری دی گئی۔
میرپورخاص میں قادیانیوں کی سرگرمیاں خطرناک حد تک بڑھ گئی ہیں۔ مولانا محمد علی صدیقی کا ہیڈ کوارٹر بجائے گولارچی کے میرپورخاص قرار دیا جائے۔ میرپورخاص میں دفتر ختم نبوت کا قیام ضروری ہے۔ ہر دو تجاویز سے اتفاق کیا گیا اور منظوری دی گئی۔ فقیر خانزادہ مسعود احمد غفرلہ
(۹۳ واں) اجلاس جنرل کونسل
اجلاس مرکزی مجلس عمومی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بمقام جامع مسجد ختم نبوت چناب نگر۔
مؤرخہ ۳/ اکتوبر ۲۰۰۳ء، مطابق ۶ / شعبان المعظم ۱۴۲۴ھ ، بروز: جمعتہ المبارک، بوقت : صبح ۹ بجے منعقد ہوا۔
زیر صدارت: امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم۔
تلاوت: قاری مشتاق احمد امیر عالمی مجلس قصور۔
شرکاء : (۱) مولانا عبدالرؤف اسلام آباد، (۲) محمد اعظم اسلام آباد، (۳) محمد یاسر اسلام آباد، (۴) مولانا محمد رمضان علوی اسلام آباد، (۵) قاری محمد اجمل عباسی اسلام آباد، (۶) قاری محمد طارق کوٹلی آزادکشمیر، (۷) مولانا کمال الدین آزاد پونچھ آزادکشمیر، (۸) مولانا شبیر احمد آزادکشمیر، (۹) حضرت امین الحق آزادکشمیر، (۱۰) مولانا مفتی مسعود الحسن مظفر آباد آزادکشمیر، (۱۱) مولانا مفتی محمد رئیس خان میرپور آزادکشمیر، (۱۲) محمد عارف کوٹلی آزادکشمیر، (۱۳) مولانا محمد اشفاق عباس پور، (۱۴) مولانا محمد اسماعیل بھکر، (۱۵) سعید الحسن شاہ چکوال، (۱۶) قاری محمد اسلم نوشہرہ، (۱۷) علامہ شاکر محمود راولپنڈی، (۱۸) سعید یوسف خانزئی پلندری آزادکشمیر، (۱۹) خالد مبین گوجرخان، (۲۰) عبدالوحید قاسمی اسلام آباد، (۲۱) حاجی محمد ناصر راولپنڈی، (۲۲) مفتی وقار الحق مانسہرہ، (۲۳) مولانا عبدالرؤف مانسہرہ، (۲۴) قاری محمد ارشد مانسہرہ، (۲۵) مفتی محمد رضوان، (۲۶) مولانا قاضی مشتاق احمد راولپنڈی، (۲۷) قاری افتخار احمد راولپنڈی، (۲۸) قاری عبدالمالک راولپنڈی، (۲۹) مفتی تاج الدین اٹک، (۳۰) قاری سعید چشتی اٹک، (۳۱) حافظ زکریا راولپنڈی، (۳۲) مولانا محمد اسحاق ٹیکسلا، (۳۳) پیر منفعت علی کوہاٹ، (۳۴) حمید الرحمٰن جامی کوہاٹ، (۳۵) محمد وقاص کوہاٹ، (۳۶) چوہدری انور علی ایڈووکیٹ کوہاٹ، (۳۷) ذہین الدین کوہاٹ، (۳۸) عبدالرؤف مانسہرہ، (۳۹) قاری محمد رمضان گوجرانوالہ، (۴۰) محمد عمران اشرف گوجرانوالہ، (۴۱) قاری عبدالحمید گوجرانوالہ، (۴۲) فضل الرحمٰن گوجرانوالہ، (۴۳) سید احمد حسین زید گوجرانوالہ، (۴۴) قاری عبدالقدوس عابد گوجرانوالہ، (۴۵) قاری محمد منیر احمد گوجرانوالہ، (۴۶) جناب عبدالرحمٰن گوجرانوالہ، (۴۷) مولانا گلزار احمد گوجرانوالہ، (۴۸) حافظ احمد اللہ گوجرانوالہ، (۴۹) ارشد محمود رندھاوا گوجرانوالہ، (۵۰) مولانا شاہ رئیس گوجرانوالہ، (۵۱) مولانا امجد علی ڈوگر گوجرانوالہ، (۵۲) مولانا منظور احمد مغل گوجرانوالہ، (۵۳) حافظ محمد قیصر گوجرانوالہ، (۵۴) جناب محمد افضل گوجرانوالہ، (۵۵) جناب عبدالرحمٰن گوجرانوالہ، (۵۶) ڈاکٹر محمد ارشد گوجرانوالہ، (۵۷) حافظ محمد ارشد گوجرانوالہ، (۵۸) قاری عبداللطیف گوجرانوالہ، (۵۹) محمد ارشد ٹٹلہ گوجرانوالہ، (۶۰) ماسٹر عنایت اللہ گوجرانوالہ، (۶۱) ذوالفقار علی گوجرانوالہ، (۶۲) محمد یونس ربانی گوجرانوالہ، ( ) راشد علی
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء ۵۹۲ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گوجرانوالہ، (۶۴) حافظ عبداللطیف گوجرانوالہ، (۶۵) مولانا عبدالرشید قصوری گوجرانوالہ، (۶۶) مولانا محمد اسماعیل محمدی گوجرانوالہ، (۶۷) ڈاکٹر حمید اللہ گوجرانوالہ، (۶۸) ظہورانجھا گوجرانوالہ، (۶۹) حافظ ظفر اللہ گوجرانوالہ، (۷۰) حاجی احسان اللہ گوجرانوالہ، (۷۱) قاری محمد مشتاق احمد گوجرانوالہ، (۷۲) حافظ عبدالوہاب حافظ آباد، (۷۳) مولانا یحییٰ مارتھ حافظ آباد، (۷۴) شجاع الدین حافظ آباد، (۷۵) مولانا عبدالغفار قاسمی حافظ آباد، (۷۶) ظفر اقبال حافظ آباد، (۷۷) مدثر اقبال حافظ آباد، (۷۸) شیخ محمد ساجد حافظ آباد، (۷۹) اللہ دتہ حافظ آباد، (۸۰) خورشید احمد حافظ آباد، (۸۱) قاری محمد رمضان لاہور، (۸۲) اعجاز بلوچ لاہور، (۸۳) قاری عبدالحفیظ لاہور، (۸۴) مولانا محبوب الحسن لاہور، (۸۵) سید محبوب شاہ ہاشمی لاہور، (۸۶) محمد طارق لاہور، (۸۷) محمد اقبال لاہور، (۸۸) محمد امین لاہور، (۸۹) قاری محمد زبیر لاہور، (۹۰) حکیم عبدالکریم ندیم لاہور، (۹۱) قاری عبدالخالق شیخوپورہ، (۹۲) مفتی محمد قاسم شیخوپورہ، (۹۳) حافظ محمد اشرف شیخوپورہ، (۹۴) مفتی سید احمد شیخوپورہ، (۹۵) قاری بشیر احمد شیخوپورہ، (۹۶) مولانا جہان شاہ شیخوپورہ، (۹۷) حاجی محمد حسین جنجوعہ شیخوپورہ، (۹۸) قاری محمد الیاس شیخوپورہ، (۹۹) محمد منشاء شیخوپورہ، (۱۰۰) مولانا قاری الیاس اوکاڑہ، (۱۰۱) راؤ ریحان اقبال اوکاڑہ، (۱۰۲) مولوی زبیر احمد اوکاڑہ، (۱۰۳) چوہدری نوازش علی اوکاڑہ، (۱۰۴) قاری ندیم سرور معاویہ اوکاڑہ، (۱۰۵) ماسٹر محمد آصف اوکاڑہ، (۱۰۶) مولانا عبدالشکور اوکاڑہ، (۱۰۷) قاری محمد امجد اوکاڑہ، (۱۰۸) چوہدری غلام عباس تمنا ایڈووکیٹ اوکاڑہ، (۱۰۹) مستری نزاکت حسین اوکاڑہ، (۱۱۰) چوہدری باؤ بشیر احمد اوکاڑہ، (۱۱۱) مولانا رفیق احمد اوکاڑہ، (۱۱۲) انعام الحق اوکاڑہ، (۱۱۳) مولانا اکرام اللہ اوکاڑہ، (۱۱۴) قاری مشتاق احمد رحیمی قصور، (۱۱۵) قاری محمد طاہر قصور، (۱۱۶) محمد جاوید قصور، (۱۱۷) حکیم آصف محمود قصور، (۱۱۸) میاں معصوم انصاری قصور، (۱۱۹) میاں محمد یونس بھٹی قصور، (۱۲۰) سید رحمان شاہ قصور، (۱۲۱) نجیب الرحمٰن قصور، (۱۲۲) قاری محمد رفیق قصور، (۱۲۳) قاضی محمد یونس قصور، (۱۲۴) مولانا ہارون الرشید قصور، (۱۲۵) مولانا محمد حسین لیہ، (۱۲۶) مولانا عبدالشکور لیہ، (۱۲۷) مولانا عبدالرؤف نفیس لیہ، (۱۲۸) مولانا مفتی غلام عباس لیہ، (۱۲۹) ثناء اللہ مخلص لیہ، (۱۳۰) قاری عبدالغفور لیہ، (۱۳۱) مولانا منیر احمد لیہ، (۱۳۲) مولانا ظہور احمد لیہ، (۱۳۳) میاں محمد اکبر لیہ، (۱۳۴) صوفی نذیر احمد لیہ، (۱۳۵) ڈاکٹر دین محمد فریدی بھکر، (۱۳۶) رانا آفتاب احمد بھکر، (۱۳۷) صوفی بشیر احمد بھکر، (۱۳۸) مولانا محمد عبداللہ بھکر، (۱۳۹) مولانا محمد اسلم انور بھکر، (۱۴۰) صوفی عبدالحمید بھکر، (۱۴۱) مولانا غلام فرید بھکر، (۱۴۲) قاری بشیر احمد بھکر، (۱۴۳) مفتی محمودالحسن اسلام آباد، (۱۴۴) قاری نذیر احمد بھکر، (۱۴۵) عبدالحمید ساجد بھکر، (۱۴۶) حافظ جمیل احمد بھکر، (۱۴۷) قاری محمد رفیق بھکر، (۱۴۸) مولانا عبدالرحیم عمر میانوالی، (۱۴۹) مولانا نذیر احمد میانوالی، (۱۵۰) عصمت اللہ میانوالی، (۱۵۱) حافظ محمد اسلم میانوالی، (۱۵۲) مولانا غلام اکبر میانوالی، (۱۵۳) فقیر عبدالرشید میانوالی، (۱۵۴) حاجی اسلام دین میانوالی، (۱۵۵) ماسٹر محمد خان میانوالی، (۱۵۶) قاری ناصر الدین بہاول نگر، (۱۵۷) حاجی محمد شفیع بہاول نگر، (۱۵۸) سید عبدالرزاق بہاول نگر، (۱۵۹) حاجی عبداللطیف بہاول نگر، (۱۶۰) حاجی ظہور احمد بہاول نگر، (۱۶۱) مولانا رشید احمد رشیدی بہاول نگر، (۱۶۲) مولانا سعید احمد بہاول نگر، (۱۶۳) حافظ عبدالخالق بہاول نگر، (۱۶۴) محمد اسحاق ساقی بہاول پور، (۱۶۵) سعید احمد انصاری بہاول پور، (۱۶۶) حاجی محمد اکرام بہاول پور، (۱۶۷) قاری مشتاق احمد بہاول پور، (۱۶۸) قاری عبدالمجید بہاول پور، (۱۶۹) شیر محمد قریشی بہاول پور، (۱۷۰) قاری عبدالمالک بہاول پور، (۱۷۱) مولانا عبدالواحد بہاول
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پور ، (۱۷۲) مولانا فضل الرحمن بہاول پور، (۱۷۳) مولانا عبداللہ بہاول پور ، (۱۷۴) محمد زاہد الراشدی حاصل پور ، (۱۷۵) مولانا حفظ الرحمن لودھراں، (۱۷۶) مولانا محمد صادق لودھراں، (۱۷۷) مولانا عبدالرحمن لودھراں، (۱۷۸) قاری محمد صدیق لودھراں، (۱۷۹) عبدالواحد سمرا لودھراں، (۱۸۰) مولانا ارشاد الحق بہاول پور، (۱۸۱) قاری محمد عبداللہ پاکپتن، (۱۸۲) حکیم محمد زاہد پاکپتن، (۱۸۳) محمد عابد پاکپتن، (۱۸۴) قاری محمد طیب ساہیوال، (۱۸۵) مولانا قاری عبدالجبار ساہیوال، (۱۸۶) مولانا کفایت اللہ چیچہ وطنی، (۱۸۷) قاری زاہد اقبال چیچہ وطنی، (۱۸۸) مولانا حبیب الرحمن ساہیوال، (۱۸۹) حافظ عبدالرحمن وہاڑی، (۱۹۰) محمد سلیم جلوی وہاڑی، (۱۹۱) قاری عبداللطیف وہاڑی، (۱۹۲) محمد طارق مجاہد وہاڑی، (۱۹۳) مولانا عبد الماجد صدیقی خانیوال، (۱۹۴) مولانا عطاء المنعم خانیوال، (۱۹۵) ڈاکٹر محمد آصف خانیوال، (۱۹۶) شیخ عبدالسمیع خانیوال، (۱۹۷) مولانا عطاء الرحمن خانیوال، (۱۹۸) طارق محمود خانیوال، (۱۹۹) مولانا عبدالرشید خانیوال، (۲۰۰) مولانا سید محمد معاویہ شاہ خانیوال، (۲۰۱) قاری وزیر احمد خانیوال، (۲۰۲) مولانا عبدالصبور خانیوال، (۲۰۳) قاری بشیر احمد خانیوال، (۲۰۴) مولانا عبدالمعبود آزاد مظفر گڑھ، (۲۰۵) مولانا منیر احمد نعمانی مظفر گڑھ، (۲۰۶) میاں عبدالواحد مظفر گڑھ، (۲۰۷) میاں خلیل الرحمن مظفر گڑھ، (۲۰۸) قاری سیف اللہ مظفر گڑھ، (۲۰۹) قاری محمد عبداللہ مظفر گڑھ، (۲۱۰) مولانا ابراہیم مظفر گڑھ، (۲۱۱) مولانا خدا بخش مظفر گڑھ، (۲۱۲) حافظ محمد ابراہیم مظفر گڑھ، (۲۱۳) قاری محمد اجمل مظفر گڑھ، (۲۱۴) قاری عبدالغفور مدنی مظفر گڑھ، (۲۱۵) مولانا محمد اسحاق ڈیرہ غازی خان، (۲۱۶) قاری محمد عبداللہ غفاری ڈیرہ غازی خان، (۲۱۷) مولانا غلام فرید ڈیرہ غازی خان، (۲۱۸) مولانا جمیل احمد ڈیرہ غازی خان، (۲۱۹) حاجی محمد رمضان ڈیرہ غازی خان، (۲۲۰) غلام اکبر خان ڈیرہ غازی خان، (۲۲۱) حافظ عبدالقیوم ڈیرہ غازی خان، (۲۲۲) حاجی اللہ داد ڈیرہ غازی خان، (۲۲۳) مولانا امان اللہ قیصرانی ڈیرہ غازی خان، (۲۲۴) مولانا غلام فرید ڈیرہ غازی خان، (۲۲۵) مولانا عبدالعزیز لاشاری ڈیرہ غازی خان، (۲۲۶) قاری عبدالستار ڈیرہ غازی خان، (۲۲۷) قاری محمد اسماعیل ڈیرہ غازی خان، (۲۲۸) مولانا منظور احمد ڈیرہ غازی خان، (۲۲۹) مولانا محمد موسیٰ ڈیرہ غازی خان، (۲۳۰) قاری جمیل احمد حقانی ڈیرہ غازی خان، (۲۳۱) مولانا عبداللطیف ڈیرہ غازی خان، (۲۳۲) سید آغا محمد شاہ سکھر، (۲۳۳) مفتی محفوظ احمد سکھر، (۲۳۴) مولانا عبداللطیف اشرفی سکھر، (۲۳۵) قاری عبدالتواب سکھر، (۲۳۶) حافظ عبدالغفار سکھر، (۲۳۷) شبیر احمد نمکو والے سکھر، (۲۳۸) عبدالحق سومرو سکھر، (۲۳۹) حافظ محمد حسین ناصر سکھر، (۲۴۰) مولانا خلیل احمد سومرو خیر پور میرس، (۲۴۱) مولانا یعقوب جیکب آباد، (۲۴۲) حاجی محمد عبداللہ خیر پور میرس، (۲۴۳) مولانا ناظم الدین خیر پور میرس، (۲۴۴) مولانا عبدالحق لاشاری خیر پور میرس، (۲۴۵) مولانا عظیم الدین خیر پور میرس، (۲۴۶) قاری اسلام الدین نوشہرو فیروز، (۲۴۷) مولانا حفیظ الرحمن نوشہرو فیروز، (۲۴۸) محمد اشرف چوہان نوشہرو فیروز، (۲۴۹) مولانا عبدالمؤمن نوشہرو فیروز، (۲۵۰) شہر علی کورائی نوشہرو فیروز، (۲۵۱) حاجی محمد رفیق نوشہرو فیروز، (۲۵۲) ماسٹر عبدالعزیز میر پور خاص، (۲۵۳) ماسٹر محمد انور میر پور خاص، (۲۵۴) مستری محمد حنیف مغل میر پور خاص، (۲۵۵) محمد انور ارائیں میر پور خاص، (۲۵۶) منیر احمد میر پور خاص، (۲۵۷) مولانا مراد علی میر پور خاص، (۲۵۸) مولانا محمد موسیٰ تھر پارکر، (۲۵۹) حافظ میر محمد میر پور خاص، (۲۶۰) قاری عبید اللہ میر پور خاص، (۲۶۱) مفتی منیر احمد طارق میر پور خاص، (۲۶۲) سید رضی ولد محمد سمیع میر پور خاص، (۲۶۳) مولانا محمد عبداللہ میر پور خاص،
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
(۲۶۴) مولانا شیر احمد کرنالوی میر پور خاص، (۲۶۵) حافظ محمد شریف میر پور خاص، (۲۶۶) مولانا محمد رمضان بدین، (۲۶۷) قاری عبدالستار ڈگری، (۲۶۸) چوہدری محمد شفیق ارائیں بدین۔
آغاز اجلاس: ۶؍ شعبان المعظم ۱۴۲۴ھ، مطابق ۳؍اکتوبر ۲۰۰۳ء بروز جمعتہ المبارک ۹؍ بجے جامع مسجد ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں مجلس عمومی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کا خصوصی اجلاس منعقد ہوا۔
صدارت: امیر مرکزیہ حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم نے کی۔ اجلاس مجلس عمومی میں شرکت کے لئے حضرت اقدس مولانا سید انور حسین نفیس الحسینی دامت برکاتہم نقاہت کے باوجود تشریف لائے۔ عالمی مجلس کے اراکین شوریٰ اور مجلس کے شعبہ ہائے تبلیغ کے حضرات مبلغین بھی اس اجلاس میں خصوصیت کے ساتھ شریک ہوئے۔ عالمی مجلس سے وابستہ مقتدر علمی شخصیات کے علاوہ ملک کی اسلامی، دینی جماعتوں کے چیدہ چیدہ حضرات بھی اس موقعہ پر موجود تھے، جو بطور مشیر اجلاس مجلس عمومی میں شریک ہوئے۔
تعداد اراکین: مجلس عمومی کے ۲۶۹ منتخب اراکین نے اس اجلاس میں شرکت کی اور ۳۰۰ کے قریب عالمی مجلس کے مقامی امراء، نظماء اور ممبران نے شرکت کی۔
تلاوت: امیر عالمی مجلس شہر قصور کے قاری مشتاق احمد نے بہت پرسوز لہجہ اور دلکش آواز میں قرآن کریم کی تلاوت سے حاضرین کے دلوں کو خوب گرمایا اور آنکھوں کو پرنم کیا۔
غرض وغایت: کارروائی کا باضابطہ آغاز کرتے ہوئے ابتدائیہ کلمات کے طور پر مولانا مفتی محمد جمیل خان نے اللہ تعالیٰ کی اس نعمت بے پایاں پر کلمات تشکر میں فرمایا کہ اسلام میں عقیدہ ختم نبوت جس قدر اہم اور حساس ترین مسئلہ ہے، اس کے تحفظ اور فتنہ قادیانیت کے سدباب کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جیسی منفرد اور بابرکت جماعت کی قیادت، سیادت ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندوں نے فرمائی ہے اور ہم خدام کو ان کی رہنمائی میں عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کی جدوجہد کی سعادت بخشی۔ اللہ تعالیٰ تمام ساتھیوں کی اس کوشش و کاوش کو قبول فرمائیں اور اس پرفتن دور میں حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم اور حضرت مولانا سید نفیس الحسینی دامت برکاتہم کا سایۂ رحمت ہمارے سروں پر سلامت و باکرامت رکھیں۔
صاحبزادہ عزیز احمد صاحب نے اراکین کی خواہش پر اپنے مختصر بیان میں دو باتوں کی طرف توجہ دلائی۔
اوّل یہ کہ عالمی مجلس کے ممبران واراکین اپنے اپنے حلقے میں عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ اور قادیانیوں کی گمراہ کن سرگرمیوں کو روکنے کے لئے علمی اقدامات اپنی زندگی کا مشن بنالیں۔ ہر ممبر اور رکن اپنے حلقہ پر نظر رکھے اور مجلس کے مبلغین، مقامی علماء کے بیانات اور جہاں ضرورت ہو، دفتر مرکزیہ ملتان سے لٹریچر رد قادیانیت منگوا کر تعلیم یافتہ حلقہ میں تقسیم کریں اور یہ کام پورے احساس ذمہ داری کے ساتھ کریں۔
دوم یہ کہ تبلیغ دین اور تردید فتن دونوں امر لازم ملزوم ہیں۔ قادیانیت سے متاثرہ افراد میں اب تردید سے زیادہ تبلیغ کی ضرورت ہے۔ عقیدۂ ختم نبوت کی وضاحت قرآن وحدیث کی روشنی میں ظہور مہدی کی تشریح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع ونزول، احادیث کی روشنی میں تینوں مسائل سہل اور آسان پیرائیہ میں بیان کرنے چاہئیں تاکہ قادیانیت زدہ حلقے میں مذکورہ تینوں مسائل کی اصل حقیقت خوب واضح اور روشن ہو۔ اس طرح ہم آج سے شروع ہونے والے مجلس کے آئندہ تین سال بطور سالہائے ختم نبوت کے مناسکیں گے۔ حاضرین نے سال ختم نبوت کی تجویز کو سراہا اور اس پر اپنی توانائیاں صرف کرنے کا اظہار کیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب نے صاحبزادہ عزیز احمد کی تجاویز کی تائید میں فرمایا کہ:
- ۱...... پاکستان کے چاروں صوبوں اور تمام اضلاع میں ختم نبوت کی کانفرنسیں منعقد کی جائیں۔
- ۲...... مجلس کے ترجمان ہفت روزہ ختم نبوت اور ماہنامہ لولاک کی اشاعت میں اضافہ کیا جائے۔
- ۳...... شہید ختم نبوت حضرت لدھیانوی کے مجموعہ رسائل تحفہ قادیانیت کا خصوصیت سے مطالعہ کیا جائے۔
- ۴...... تحفہ قادیانیت اور احتساب قادیانیت، رد قادیانیت کی ان کتب کو اپنے اپنے حلقہ کی لائبریریوں میں رکھوایا جائے۔
- ۵...... اپنے حلقہ میں قادیانیوں کو دعوت اسلام دی جائے اور ہر قادیانی تک اپنی آواز پہنچانی چاہئے۔
مزید یہ کہ عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ اور مسلمانوں کو فتنہ قادیانیت سے باخبر رکھنے کے لئے جو تدابیر آپ کے خیال میں مناسب ہوں اس کو اپنانا چاہئے ۔اس طرح ہم آئندہ تین سالوں کو ختم نبوت کا سال منانے میں بہتر طور پر کامیاب ہوسکیں گے۔
قرارداد انتخاب واعتماد: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ اور نائب امیر مرکزیہ کے آئندہ سہ سالہ انتخاب کی قرارداد پیش کرتے ہوئے ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری نے فرمایا کہ عالمی مجلس ایک رجسٹرڈ ادارہ ہے۔ امیر مرکزیہ، نائب امیر مرکزیہ، مرکزی مجلس شوریٰ اور مرکزی مجلس منتظمہ ضابطہ کے تحت سہ سال کے لئے منتخب و مقرر کئے جاتے ہیں۔ مجلس عمومی کا یہ اجلاس مجلس کے امیر مرکزیہ اور نائب امیر مرکزیہ کے انتخاب کے لئے بلایا گیا ہے۔ مرکزی مجلس شوریٰ اپنے اجلاس ۳۰ محرم الحرام ۱۴۲۴ھ / ۳/ اپریل ۲۰۰۳ء میں آئندہ تین سال عہدہ امیر مرکزیہ کے لئے حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم کا نام نامی ، نائب امیر مرکزیہ کے لئے حضرت مولانا سید انور حسین نفیس الحسینی دامت برکاتہم کا اسم گرامی تجویز کر چکی ہے۔ بظاہر یہ اجلاس امیر مرکزیہ اور نائب امیر مرکزیہ پر اظہار اعتماد کے لئے ہے۔ لیکن میں یہ الفاظ کہنے کی اپنے آپ میں ہمت نہیں رکھتا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم خدام اپنے اکابرین سے اعتماد لینے آئے ہیں کہ اپنی مقدور بھر توانائیاں صرف کر کے تحفظ ختم نبوت کا کام بڑی حکمت عملی سے کریں گے اور فتنہ قادیانیت کا بھرپور تعاقب کریں گے۔ ان کلمات پر تمام حاضرین نے پرجوش انداز میں قرارداد اعتماد کی تائید کی اور اپنے ہر دو بزرگوں شیخ المشائخ مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم، حضرت اقدس مولانا سید نفیس الحسینی دامت برکاتہم کی قیادت وسیادت پر اظہار اعتماد ومسرت کرتے ہوئے انہیں یقین دلایا کہ ان کی ہدایات کے مطابق مقاصد جماعت کے لئے حسن نیت سے کام کریں گے اور اکابرین کے اعتماد پر پورا اترنے کی کوشش کریں گے۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
مدت از ۶ / شعبان المعظم ۱۴۲۴ھ تا ۵ / شعبان المعظم ۱۴۲۷ھ مطابق ۳ / اکتوبر ۲۰۰۳ء تا ۲ / اکتوبر ۲۰۰۶ء
حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم ، امیر مرکزیہ حضرت مولانا سید نفیس الحسینی دامت برکاتہم ، نائب امیر مرکزیہ
مرکزی عہدیداران عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت:
ناظم اعلیٰ: حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری
تحریک ختم نبوت جلد (۷) ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ناظم مالیات: حضرت مولانا اللہ وسایا نائب ناظم: حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی ناظم تبلیغ: حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ناظم نشر و اشاعت: حضرت مولانا بشیر احمد فاضل پوری
اسماء گرامی اراکین مجلس شوریٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت:
(۱) مولانا فیض احمد ملتان، (۲) مولانا عبدالمجید لدھیانوی کہروڑ پکا، (۳) مولانا مفتی نظام الدین کراچی، (۴) مولانا عبدالرزاق سکندر کراچی، (۵) مولانا سید عبدالمجید ندیم شاہ راولپنڈی، (۶) مولانا عبدالواحد کوئٹہ، (۷) مولانا انوار الحق کوئٹہ، (۸) مولانا نور الحق نور پشاور، (۹) مولانا قاضی عزیز الرحمٰن رحیم یار خان، (۱۰) مولانا مفتی محمد جمیل خان کراچی، (۱۱) مولانا احمد میاں حمادی ٹنڈو آدم، (۱۲) مولانا خلیل احمد سکھر، (۱۳) مولانا عبدالرؤف اسلام آباد، (۱۴) صاحبزادہ طارق محمود فیصل آباد، (۱۵) حاجی فیض احمد ٹوبہ ٹیک سنگھ، (۱۶) حاجی بلند اختر نظامی لاہور، (۱۷) حاجی سیف الرحمٰن بہاول پور، (۱۸) صاحبزادہ عزیز احمد خانقاہ سراجیہ، (۱۹) حافظ نذیر احمد گوجرانوالہ، (۲۰) حافظ یوسف عثمانی گوجرانوالہ، (۲۱) میاں خان محمد سرگانہ باگڑ، (۲۲) حضرت ریاض الحسن گنگوہی ڈیرہ اسماعیل خان، (۲۳) حکیم محمد یونس راولپنڈی، (۲۴) حاجی اشتیاق احمد جھنگ، (۲۵) مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی پشاور۔
اراکین مرکزی مجلس منتظمہ:
امیر مرکزیہ: حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم نائب امیر مرکزیہ: حضرت مولانا سید نفیس الحسینی صاحب دامت برکاتہم ناظم اعلیٰ: حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری ناظم مالیات: حضرت مولانا اللہ وسایا نائب ناظم: حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی ناظم تبلیغ: حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ناظم نشر و اشاعت: حضرت مولانا بشیر احمد فاضل پوری
بخط حسن تحسین غفرلہ
تحریک ختم نبوت پر ایک تاریخی دستاویز
نابغہ و عبقری شخصیت کے مالک حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب کو تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر ایک جری، دلیر اور تہور پیشہ سپہ سالار کی حیثیت حاصل ہے۔ تقریر و تحریر ہو یا مباحثہ و مناظرہ، دونوں میں انہیں لاثانی خداداد ملکہ حاصل ہے۔ مطالعہ و تحقیق اور تصنیف و تالیف ان کے محبوب و مرغوب مشاغل ہیں۔ ان کی گرانقدر مطبوعہ کتب ”قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر بحث کی مصدقہ رپورٹ، چمنستان ختم نبوت کے گلہائے رنگا رنگ، دروس و بیانات ختم نبوت، آئینہ قادیانیت، یاد دلبراں اور قادیانی شبہات کے جوابات“ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ یہ ایک غیر مختتم سلسلۃ الذہب ہے۔ ؎ اللہ کرے یہ مرحلہ شوق نہ ہو طے
حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب کی نئی کتاب ”تحریک ختم نبوت“ نہایت مبسوط، مدلل، مربوط، جامع اور تحقیقی کتاب ہے۔ ۱۹۷۴ء کی ختم نبوت کانفرنس قادیان سے دسمبر ۲۰۱۹ء تک تحریک ختم نبوت جن مراحل سے گزرتی رہی اس کی لمحہ بہ لمحہ رپورٹ کو جمع کر دیا گیا ہے، دس ضخیم جلدوں کے ساڑھے چھ ہزار صفحات پر مشتمل قریباً ایک صدی کی عشق و محبت کی داستان لازوال جو ایمان پرور، جہاد آفرین بھی ہے اور حقائق افروز بھی۔ اس کی ترتیب و تہذیب اور تالیف و تدوین بڑی عرق ریزی، دقت نظر اور حسن عقیدت سے کی گئی ہے۔ انداز نگارش ایسا سحر انگیز ہے کہ اس کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے جیسے مولانا خود ان تمام حالات و واقعات کے عینی شاہد ہیں۔
یہ کتاب کارکنان تحفظ ختم نبوت کے لیے ایک دستور العمل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس میں ایمان پرور واقعات، اکابرین کے ولولہ انگیز خطابات، پس پردہ حقائق، ہوش ربا انکشافات، حکمرانوں کی قادیانیت نوازی اور مختلف اعلیٰ عدالتی فیصلوں کا بھرپور تذکرہ ہے جس کے مطالعہ سے دلوں میں عقیدت و محبت کی ایک برقی رو دوڑ جاتی ہے۔ دینی غیرت و حمیت کی ایسی پرسوز و گداز کیفیت پیدا ہوتی ہے کہ خون جوش مارتا اور آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں۔ ایسی کیفیات اور احساسات کو جاننے اور سمجھنے کے لیے اس تاریخی کتاب کا مطالعہ ناگزیر ہے۔ امید ہے کہ یہ کتاب کارکنان تحفظ ختم نبوت کے لیے انمول سوغات اور سدا بہار گلدستہ ثابت ہوگی۔ مزید برآں اس اہم موضوع پر ریسرچ کرنے والے سکالرز اور طالب علموں کے لیے بھی چراغ راہ کا کام کرے گی۔ دعا ہے کہ رب کائنات حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب کی ہمت کو جواں اور ان کے قلم کو رواں دواں رکھے۔ آمین
محمد متین خالد لاہور