رَدِّ قادیانیت
رسائل
مناظر اسلام حضرت مولانا محمد منظور نعمانی رحمۃ اللہ علیہ
مناظر اسلام حضرت مولانا محمد یعقوب پٹیالوی رحمۃ اللہ علیہ
جناب علّامہ نصیر بی اے بھیروی رحمۃ اللہ علیہ
احتساب قادیانیت
ہشدہم
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوۃ
حضوری باغ روڈ ، ملتان - فون: 4514122
ردّ قادیانیت
رسائل
مناظر اسلام حضرت مولانا محمد منظور نعمانیؒ
مناظر اسلام حضرت مولانا محمد یعقوب پٹیالویؒ
جناب علامہ نصیر بی اے بھیرویؒ
احتساب قادیانیت
ہشتم
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
حضوری باغ روڈ، ملتان - فون: 4514122
عرض مرتب
بسم اللہ الرحمن الرحیم !
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم . امابعد ! احتساب قادیانیت کی اس جلد (١٨ویں) میں حضرت مولانا محمد منظور نعمانیؒ (لکھنؤ)، جناب شیخ محمد یعقوب سنوری پٹیالویؒ اور جناب علامہ نصیرؒ بھیروی کے رد قادیانیت پر سات کتب ورسائل شائع کرنے کی اللہ رب العزت نے توفیق سے سرفراز فرمایا ہے۔ جن کے نام درج ذیل ہیں ۔
- ١....... قادیانیت پر غور کرنے کا سیدھا راستہ حضرت مولانا محمد منظور نعمانیؒ
- ٢....... قادیانی کیوں مسلمان نہیں؟ " "
- ٣....... مسئلہ نزول مسیح و حیات مسیح علیہ السلام " "
- ٤....... کفر و اسلام کے حدود اور قادیانیت " "
- ٥....... تحقیق لاثانی جناب شیخ محمد یعقوب پٹیالویؒ
- ٦....... عشرہ کاملہ " "
- ٧....... بارقہ ضیغمیہ علامہ نصیر بھیرویؒ
حضرت مولانا محمد منظور نعمانیؒ اکابر دیوبند میں سے تھے۔ حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ کے شاگرد ، دارالعلوم دیوبند کی شوریٰ کے رکن ، ماہنامہ الفرقان لکھنؤ کے بانی مدیر اور متعدد کتابوں کے مصنف تھے۔ آپ کی فن حدیث میں سات جلدوں پر مشتمل معارف الحدیث ایک یادگار کتاب ہے۔ آپ مصنف وخطیب ہونے کے علاوہ مناظر اور متکلم بھی تھے۔ آپ کے رد قادیانیت پر چار رسائل اس جلد میں شائع کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔ ہر رسالہ کا خود مصنف مرحوم نے اپنے قلم سے تعارف لکھا ہے۔ لو ہماری چھٹی ہوگئی۔
تعارف تحقیق لاثانی وعشرہ کاملہ
جناب شیخ محمد یعقوب پٹیالہ کے باسی تھے۔ آپ کی رد قادیانیت پر دو کتابیں ہمیں میسر آئیں۔ اس جلد میں شائع کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔
- ١...... تحقیق لاثانی
یہ کتاب ماہ اکتوبر ١٩٢٧ء میں پہلی بار شائع ہوئی۔ اس میں آپ نے مرزا قادیانی کے نکاح آسمانی (محمدی بیگم) کے واقعہ کی تفصیلات کو ایسے انداز میں مرتب کر دیا ہے کہ اس کی کوئی جزئی چھوٹنے نہیں پائی۔ مرزا کے الہام، اقرار اور خود اس کے قائم کردہ معیاروں کی رو سے مرزا قادیانی کے کذب اور اس کے عقائد کو شریعت اسلامیہ کے مخالف ثابت کیا ہے۔
- ٢...... عشرہ کاملہ
عشرہ کاملہ دراصل تحقیق لاثانی کا ہی حصہ دوم ہے۔ جسے الگ نام ”عشرہ کاملہ“ سے شائع کیا گیا۔ دونوں کتابیں اپنے اندر یہ شان امتیازی رکھتی ہیں کہ ان پر حضرت مولانا خلیل احمد محدث سہارنپوری کی تقریظ ہے۔ یہ اولاً ١٣٤٦ھ میں شائع ہوئی۔ بعد میں ریحانۃ الہند حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی نے کتب خانہ یحیوی مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور سے ان کو شائع کیا۔
مجلس تحفظ ختم نبوت کو یہ سعادت بھی حاصل ہے کہ ان دونوں کتابوں کا سو، سو نسخہ انڈیا سے حضرت شیخ الحدیث نور اللہ مرقدہ نے پاکستان میں تقسیم کے لئے مرکز ملتان میں بھجوایا۔ اس لحاظ سے یہ دونوں کتابیں ہمارے لئے ”تبرکات اکابر“ کا درجہ رکھتی ہیں۔ حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری، حضرت شیخ الحدیث سہارنپوری کے ہاں سے جن کتابوں نے شرف قبولیت کا اعزاز حاصل کیا ہو وہ ہمارے لئے کس درجہ تسکین قلب کا باعث ہو سکتی ہیں۔ امید ہے کہ قارئین سے جو عرض کرنا چاہتا تھا وہ عرض کر دیا ہے۔ ہاں البتہ کتاب عشرہ کاملہ کی یہ خوبی بھی ہے کہ اس کے دس فصل قائم کئے ہیں۔ ہر فصل میں دس دلائل ہیں۔ یوں مرزا قادیانی کے کذب پر اس کتاب میں سو دلائل جمع کر کے مرزا قادیانی کو سو فیصد کذاب و دجال، مکار و عیار، مردود و مرتد ثابت کیا گیا ہے۔
قادیانیوں نے تفہیمات کے نام سے عشرہ کاملہ کا جواب شائع کیا۔ بارقہ ضیغمیہ کے نام پر اس کا جواب الجواب علامہ نصیری بی۔اے نے شائع کیا وہ بھی اس جلد میں اس کتاب کے ساتھ شامل اشاعت ہے۔ حق تعالیٰ شرف قبولیت سے سرفراز فرمائیں۔ آمین بحرمة النبی الکریم! فقیر! اللہ وسایا، ١٩؍ ذی الحجہ ١٤٢٧ھ، بمطابق ٩؍ جنوری ٢٠٠٧ء
بسم الله الرحمن الرحيم!
اجمالی فہرست...... احتساب قادیانیت جلد ١٨
- ١....... قادیانیت پر غور کرنے کا سیدھا راستہ حضرت مولانا محمد منظور نعمانیؒ ٧
- ٢....... قادیانی کیوں مسلمان نہیں؟ // // ٣٥
- ٣....... مسئلہ نزول مسیح و حیات مسیح علیہ السلام // // ٦٧
- ٤....... کفر و اسلام کے حدود اور قادیانیت // // ١٠٣
- ٥....... تحقیق لاثانی جناب شیخ محمد یعقوب پٹیالویؒ ١٢٧
- ٦....... عشرہ کاملہ // // ٣١٩
- ٧....... بارقہ ضیغمیہ علامہ نصیری بھیرویؒ ٥٠٩
خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم
قادیانیت
کرنے کا
حضرت مولانا
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں
قادیانیت پر غور
کرنے کا سیدھا راستہ
حضرت مولانا محمد منظور نعمانیؒ
قادیانیت پر غور کرنے کا سیدھا راستہ
مولانا محمد منظور نعمانی
تعارف
جنوری ١٩٥٣ء میں اس عاجز کو کانپور میں ایک نجی مجلس میں قادیانیت پر ایک گفتگو کرنے کا اتفاق ہوا۔ جس میں، میں نے صرف یہی بتلایا تھا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو جانچنے کا اور قادیانیت پر غور کرنے کا سیدھا اور آسان راستہ کیا ہے؟۔ جس سے ہر عامی سے عامی بھی ان کو جانچ پرکھ سکے۔
جب یہ گفتگو قلمبند ہو کر ماہنامہ الفرقان لکھنؤ میں شائع ہوئی تو بکثرت خطوط آئے کہ اس کو مستقل رسالہ کی شکل میں بھی شائع کیا جائے۔ بمبئی کے ایک تبلیغی ادارے کی طرف سے خصوصیت سے اس کا سخت تقاضا کیا گیا اور اس کے سیکرٹری صاحب نے بار بار لکھا۔ اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر دے۔ دراصل انہی کے مسلسل تقاضوں نے اس پر آمادہ کیا۔ ورنہ بالکل ارادہ نہ تھا۔
بہر حال اب اس رسالہ کی شکل میں اس کو شائع کیا جارہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اس سے فائدہ پہنچائے۔ اس کے مطالعہ کے وقت ناظرین کو یہ ملحوظ رکھنا چاہئے کہ پہلے یہ گفتگو ماہنامہ الفرقان میں شائع ہوئی تھی اور اسی کو بعینہ اس رسالہ کی شکل میں طبع کرایا گیا ہے۔
اس گفتگو کے لب ولہجہ میں بھی ناظرین کو بعض مقامات پر شاید کچھ غیر متوقع قسم کی سختی محسوس ہو۔ لیکن اس کے لئے یہ عاجز کسی معذرت کی ضرورت نہیں سمجھتا۔ جو شخص مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کی امت کے بارہ میں وہ جانتا ہے جو یہ عاجز جانتا ہے اس کی گفتگو میں اگر ان لوگوں کے بارہ میں سختی ہو جائے تو دوسروں کو اسے معذور سمجھنا چاہئے۔
محمد منظور نعمانی ...... ذیقعدہ ١٣٧٢ھ
تمہید
بسم اللہ الرحمن الرحیم! الحمدلله وحده والصلوة والسلام على من لانبي بعده!
جنوری کے دوسرے ہفتہ میں کانپور سے ایک نوجوان اس عاجز کے پاس آئے اور انہوں نے بتلایا کہ ان کے بعض عزیز قادیانی ہیں اور وہ دوسرے عزیزوں اور قرابت داروں سے
بھی اس سلسلہ میں باتیں کرتے ہیں جس کی انہوں نے مجھ سے خواہش کی کہ میں ان کے ان سے کہا کہ جب آدمی کسی عقیدہ اور مذہب متعلق یہ بات معلوم ہو جاتی ہے تو پھر عام حق کی طرح سوچنے پر تیار نہیں ہوتا اور کسی با کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ اس کے عقیدہ اور ذ جائیں۔ لیکن وہ ان سے اثر نہیں لیتا اور اپنی قادیانیت اختیار کر چکے ہیں ان سے تو مجھے ک نہیں ہیں اور وہ غور کرنا چاہتے ہیں تو انشاء اللہ
بہر حال میں ان صاحب کے سا دس بارہ حضرات ہوں گے۔ اس موضوع پر گ میں نے مناسب سمجھا کہ اس مو اس تحریک کے بارہ میں غور کرنے کا میرے اس موقع پر پیش کروں۔ اس مقصد کے لئے ساتھ رکھ لینا کافی سمجھا تھا اور وہ میرے ساتھ
جو گفتگو اس عاجز نے اس مجلس نوعیت وعظ و تقریر کی بھی نہ تھی۔ بلکہ ایک مج تھا کہ جو لوگ قادیانیت کے بارہ میں غور آجائے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ بڑا فضل ہے کہ اس سمجھنا ہر اس شخص کے لئے بڑا آسان کر دی اس کے لئے صحیح اور سیدھا راستہ بھی اختیا بڑی ذہانت کی۔ بلکہ معمولی سے معمولی ع خوب سمجھ سکتا ہے۔
چونکہ مختلف مقامات سے اس کی کے بعد سے بلکہ اس سے بھی کچھ پہلے سے
بھی اس سلسلہ میں باتیں کرتے ہیں جس کی وجہ سے اور لوگوں کے بھی گمراہ ہونے کا خطرہ ہے۔ انہوں نے مجھ سے خواہش کی کہ میں ان کے ساتھ چل کر انہیں سمجھانے کی کوشش کروں۔ میں نے ان سے کہا کہ جب آدمی کسی عقیدہ اور مذہب کو اختیار کر لیتا ہے اور لوگوں کو عام طور سے اس کے متعلق یہ بات معلوم ہو جاتی ہے تو میرا عام تجربہ اور اندازہ یہ ہے کہ پھر وہ ایک طالب اور متلاشی حق کی طرح سوچنے پر تیار نہیں ہوتا اور کسی بات پر انصاف اور سچائی کے ساتھ غور نہیں کرتا۔ بلکہ اس کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ اس کے عقیدہ اور مذہب کے خلاف خواہ کیسی ہی روشن دلیلیں پیش کر دی جائیں۔ لیکن وہ ان سے اثر نہیں لیتا اور اپنی بات پر قائم رہنا چاہتا ہے۔ اس لئے آپ کے جو عزیز قادیانیت اختیار کر چکے ہیں ان سے تو مجھے کوئی خاص امید نہیں۔ لیکن جو لوگ ابھی قادیانی ہوئے نہیں ہیں اور وہ غور کرنا چاہتے ہیں تو انشاء اللہ ان کے لئے میرا بات کرنا مفید ہوگا۔
بہر حال میں ان صاحب کے ساتھ کانپور چلا گیا اور ایک مختصر نجی مجلس میں جس میں غالباً دس بارہ حضرات ہوں گے۔ اس موضوع پر گفتگو کرنے کا اتفاق ہوا۔
میں نے مناسب سمجھا کہ اس موقع پر قادیانیت کے متعلق ایک اصولی گفتگو کروں اور اس تحریک کے بارہ میں غور کرنے کا میرے نزدیک جو صحیح ، سیدھا اور آسان راستہ ہے۔ بس اسی کو اس موقع پر پیش کروں۔ اس مقصد کے لئے میں نے خود مرزا غلام احمد قادیانی کی دو چار کتابوں کا ساتھ رکھ لینا کافی سمجھا تھا اور وہ میرے ساتھ تھیں۔
جو گفتگو اس عاجز نے اس مجلس میں کی وہ بحث و مناظرے کے طرز کی نہ تھی اور اس کی نوعیت وعظ و تقریر کی بھی نہ تھی۔ بلکہ ایک مجلسی گفتگو تھی جس کا مقصد جیسا کہ عرض کیا صرف یہی تھا کہ جو لوگ قادیانیت کے بارہ میں غور کرنا چاہیں ان کے سامنے صحیح طریقہ اور سیدھا راستہ آجائے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ بڑا فضل ہے کہ اس نے قادیانیت کی حقیقت اور قادیانیوں کی گمراہی کو سمجھنا ہر اس شخص کے لئے بڑا آسان کر دیا ہے جو نیک نیتی اور ایمان داری سے سمجھنا چاہے اور اس کے لئے صحیح اور سیدھا راستہ بھی اختیار کرے۔ نہ اس کے لئے بڑے علم کی ضرورت ہے نہ بڑی ذہانت کی۔ بلکہ معمولی سے معمولی عقل رکھنے والا آدمی بھی اگر سمجھنا چاہے تو بفضلہ تعالیٰ خوب سمجھ سکتا ہے۔
چونکہ مختلف مقامات سے اس کی اطلاعات مل رہی ہیں کہ قادیانی تحریک جو ملک کی تقسیم کے بعد سے بلکہ اس سے بھی کچھ پہلے سے ہندوستان میں ختم سی ہو چکی تھی۔ اب پھر اس کو زندہ
کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور ادھر چند مہینوں سے قادیانی مبلغین کچھ سرگرمی دکھا رہے ہیں۔ اس لئے یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ جو کچھ اس عاجز نے اس مجلس میں کہا تھا اس کو قلمبند کر کے شائع بھی کر دیا جائے .. تاکہ قادیانیت کے بارے میں غور کرنے کا یہ صحیح اور سیدھا اور مختصر طریقہ زیادہ سے زیادہ عام مسلمانوں کے علم میں آ جائے اور اس نئے مذہب کی حقیقت کو سمجھنا سمجھانا لوگوں کے لئے آسان ہو جائے۔
اگرچہ واقعہ یہ ہے کہ پروفیسر الیاس برنی نے (اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر دے) قادیانی مذہب لکھ کر قادیانیت کے سلسلہ میں کچھ لکھنے کی ضرورت کو میرے نزدیک ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا ہے اور یہ عاجز اب اس سلسلہ میں کسی نئی تحریر اور تصنیف کی قطعاً ضرورت نہیں سمجھتا۔ لیکن یہ گفتگو چونکہ بہت مختصر ہونے کے ساتھ بہت زیادہ عام فہم اور اپنے مقصد کے لئے انشاء اللہ بالکل کافی وافی ہے۔ اس لئے اس کو شائع کرنا مفید معلوم ہوا۔ امید ہے کہ اس کی روشنی میں غور کر کے ہر شخص یہ جان سکے گا کہ قادیانیت کتنی غلط اور مہمل چیز ہے اور کسی شخص کا قادیانی ہونا اور مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی یا مسیح موعود وغیرہ ماننا دینی اور اعتقادی گمراہی کے علاوہ اپنی عقل اور انسانی شرافت پر بھی کیسا ظلم ہے۔
تکمیل دین اور ختم نبوت
اس گفتگو میں اس عاجز نے پہلے تکمیل دین اور ختم نبوت کے مسئلہ پر کچھ روشنی ڈالی تھی۔ کم از کم اجمالاً اور اشارۃً اتنا یہاں بھی بتا دینا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اپنی گفتگو کے اس ابتدائی حصہ میں اس عاجز نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے دین کی تکمیل اور اس کی حفاظت کی ضمانت کے بارہ میں قرآن مجید کا بیان اور تاریخ کی شہادت ذکر کرنے کے بعد اس چیز پر روشنی ڈالی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ان دونوں باتوں کا اعلان فرما کر ہمیشہ کے لئے ہر نبوت کی ضرورت کے ختم ہو جانے کا اعلان فرما دیا۔ کیونکہ جب دین : ”الیوم اکملت لکم دینکم (المائدہ:٣)“ کی شہادت کے مطابق بالکل مکمل ہو چکا اور اس میں اب کبھی کسی ترمیم اور اضافہ کی ضرورت نہیں ہوگی اور ”انا لہ لحافظون (الحجر:٩)“ کے مطابق وہ جوں کا توں قیامت تک محفوظ بھی رہے گا تو کوئی نیا نبی اب آئے کیوں؟۔
پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب پاک میں صراحتاً حضور ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کا اعلان بھی فرما دیا اور پھر رسول اللہ ﷺ نے اتنی حدیثوں میں جن کا شمار بھی مشکل ہے اپنی اس
حیثیت کو صاف صاف بیان فرمایا کہ نبوت کا سلسلہ مجھ پر ختم کر دیا گیا اور میرے بعد کوئی نیا نبی نہیں آئے گا اور پھر پوری امت محمدیہ کا ہمیشہ سے یہی ایمان اور یہی عقیدہ رہا اور جس زمانہ میں کسی نے اپنے کو نبی کہا اس کے متعلق کبھی کچھ غور کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی گئی۔ بلکہ جس طرح خدائی کے دعویداروں کو کذاب سمجھا گیا اسی طرح حضور ﷺ کے بعد ہر مدعی نبوت کو امت نے کذاب سمجھا۔
تکمیل دین اور ختم نبوت کے سلسلے میں میں نے اس مجلس میں بس انہی چند پہلوؤں پر کلام کیا تھا اور اس کا خلاصہ بس اتنا ہی تھا۔
جو حضرات ان چیزوں کی تفصیل معلوم کرنا چاہیں وہ الفرقان بابت ماہ صفر کے محولہ بالا مضمون کی طرف رجوع فرمائیں۔ اس عاجز نے اس مجلس میں یہ سب باتیں اسی تفصیل بلکہ اسی ترتیب کے ساتھ بیان کی تھیں جس ترتیب و تفصیل سے چند ہی روز پہلے اپنے اس مضمون میں لکھ چکا تھا۔ چونکہ ناظرین الفرقان اس کو پڑھ چکے ہیں اس لئے یہاں صرف ان ہی اشارات پر اکتفا کرتا ہوں۔ البتہ ختم نبوت کے متعلق یہ اصولی بات کہنے کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی کی جانچ کے متعلق جو کچھ وہاں کہا تھا اس کو تلخیص و اختصار کی کسی کوشش کے بغیر اسی تفصیل سے درج کرتا ہوں اور وہی دراصل قادیانیت کے متعلق اصل بحث ہے۔
جو کچھ میں نے وہاں اس سلسلہ میں کہا تھا اس کو پہلے سے ذہن میں مرتب کر لیا تھا اور کاغذ پر بھی نوٹ کر لیا تھا اور اسی کی مدد سے اب اس کو قلمبند کر رہا ہوں۔
اگر تکمیل افادیت کے نقطہ نگاہ سے کوئی ایسی بات لکھنا مناسب سمجھوں گا جو اس مجلس میں نہیں کہی تھی تو انشاء اللہ موقع پر اس کو حاشیہ میں لکھ دوں گا۔
مرزا غلام احمد قادیانی کی جانچ
مجلس کے حاضرین میں جو چند قادیانی حضرات تھے میں نے ان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:
آپ حضرات کو جیسا کہ میری اب تک کی گفتگو سے معلوم ہوا واقعہ یہ ہے کہ ختم نبوت ہمارے ایمان کا جز ہے۔ لیکن میں تھوڑی دیر کے لئے اس سے صرف نظر کر کے کہتا ہوں کہ اگر بالفرض نبوت ختم نہ ہوئی ہوتی اور انبیاء علیہم السلام کی آمد کا سلسلہ جاری ہوتا تب بھی مرزا غلام احمد قادیانی جیسے کسی شخص کے نبی ہونے کا کوئی امکان نہیں تھا۔ میں اس وقت آپ حضرات کے سامنے چار اصولی باتیں پیش کرتا ہوں۔ ان کی روشنی میں ہر شخص مرزا قادیانی کو بڑی آسانی سے جانچ سکتا
ہے اور میرے نزدیک قادیانیت پر غور کرنے کا یہی صحیح اور سیدھا اور آسان ترین راستہ ہے۔ جو چار اصولی باتیں میں اس وقت آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں وہ دو اور دو چار کی طرح بالکل بدیہی اصول ہیں۔
چار اصولی باتیں
پہلی بات
میری پہلی اصولی بات جس سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا یہ ہے کہ ہر سچے نبی کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے سے پہلے سب نبیوں کا احترام کرے اور دوسرے لوگوں کو بھی ان کے ادب و احترام کی تعلیم دے۔ کیونکہ ہر پیغمبر اللہ کا نائب اور اس کا نمائندہ ہوتا ہے۔ کسی پیغمبر کی اہانت اور ہتک کرنا کسی ادنیٰ درجہ کے مومن کا بھی کام نہیں۔ لیکن مرزا قادیانی کو ہم دیکھتے ہیں کہ انہوں نے اللہ کے سچے اور جلیل القدر نبی سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں بڑی غیر شریفانہ باتیں کہی اور لکھی ہیں۔ چونکہ یہ مجلس بحث و مناظرہ کی مجلس نہیں ہے اور میں آپ حضرات کو قادیانیت کے متعلق غور کرنے کا صرف طریقہ اور راستہ بتانا چاہتا ہوں۔ اس لئے مرزا قادیانی کی صرف ایک عبارت بطور نمونہ پیش کرتا ہوں:
وہ اپنی کتاب (دافع البلاء ص٤ حاشیہ، خزائن ج١٨ ص ٢٢٠) پر لکھتے ہیں:
’’مسیح کی راست بازی اپنے زمانہ کے دوسرے راستبازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے۔ کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آ کر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا یا ہاتھوں اور سر کے بالوں سے اس کے جسم کو چھوا تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اسی وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا۔ کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔‘‘
اس عبارت میں مرزا قادیانی نے حضرت مسیح بن مریم علیہ السلام پر چند تہمتیں رکھی ہیں۔ اول یہ کہ وہ شراب پیتے تھے۔ دوم یہ کہ وہ فاحشہ اور بدکار عورتوں سے ان کی ناپاک کمائی سے حاصل کیا ہوا عطر اپنے سر پر ملواتے تھے اور ان کے ہاتھوں اور سر کے بالوں سے اپنے بدن کو چھواتے تھے۔ تیسرے یہ کہ بے تعلق جوان عورتیں ان کی خدمت کرتی تھیں۔
یت پر غور کرنے کا یہی صحیح اور سیدھا اور آسان ترین راستہ ہے۔ جو ت آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں وہ دو اور دو چار کی طرح بالکل
چار اصولی باتیں
ت جس سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا یہ ہے کہ ہر سچے نبی کے لئے پہلے سب نبیوں کا احترام کرے اور دوسرے لوگوں کو بھی ان کے نکہ ہر پیغمبر اللہ کا نائب اور اس کا نمائندہ ہوتا ہے۔ کسی پیغمبر کی اہانت مومن کا بھی کام نہیں۔ لیکن مرزا قادیانی کو ہم دیکھتے ہیں کہ انہوں ر نبی سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں بڑی غیر شریفانہ یہ مجلس بحث و مناظرہ کی مجلس نہیں ہے اور میں آپ حضرات کو ا صرف طریقہ اور راستہ بتانا چاہتا ہوں۔ اس لئے مرزا قادیانی کی ں کرتا ہوں:
البلاء ص ٤ حاشیہ، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٠) پر لکھتے ہیں : ز کی اپنے زمانہ کے دوسرے راستبازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں فضیلت ہے۔ کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ یا کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا یا ہاتھوں اور سر کے یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اسی وجہ م حصور رکھا مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا۔ کیونکہ ایسے قصے اس نام کے
ا قادیانی نے حضرت مسیح بن مریم علیہ السلام پر چند تہمتیں رکھی ۔ دوم یہ کہ وہ فاحشہ اور بدکار عورتوں سے ان کی ناپاک کمائی سے تے تھے اور ان کے ہاتھوں اور سر کے بالوں سے اپنے بدن کو علق جوان عورتیں ان کی خدمت کرتی تھیں۔
یہ ناپاک تہمتیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسے پاک پیغمبر پر رکھنے کے بعد یہ شخص یہ بھی کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق حصور کا لفظ انہی قصوں کی وجہ سے نہیں فرمایا ١؎۔
یہ گندی باتیں جو اس شخص نے یہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں کہی ہیں مجھے معلوم نہیں کہ آپ لوگوں کا احساس ان کے متعلق کیا ہے۔ میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ نبی کا مقام تو بہت بلند ہے۔ کسی شریف اور نیک آدمی کے متعلق بھی ایسی باتیں کرنا یقیناً اس کی سخت توہین ہے اور جس شخص میں ایمان کا کوئی ذرہ ہو وہ اللہ کے کسی پیغمبر کے متعلق ایسی گندی اور بے حیائی کی باتیں زبان سے نہیں نکال سکتا۔
قادیانی تاویل: میں خود ہی آپ کو یہ بھی بتلا دوں کہ مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق جو ایسی غیر شریفانہ باتیں اپنی کتابوں میں لکھی ہیں۔ قادیانی حضرات ان کے متعلق عام طور سے یہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ یہ سب عیسائی پادریوں کے مقابلہ میں الزامی طور پر لکھا گیا ہے۔ لیکن یہ محض دھوکہ اور بناوٹ ہے۔ خصوصاً میں نے اس وقت جو عبارت پڑھ کر سنائی ہے وہ دافع البلاء کی ہے اور دافع البلاء کے مخاطب زیادہ تر علمائے اسلام ہیں۔ جس کا جی چاہے پوری کتاب پڑھ کر دیکھ لے۔ اس کے علاوہ جو گندی اور فحش باتیں انہوں نے اس عبارت میں سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف منسوب کی ہیں وہ تو ان کے نزدیک (معاذ اللہ) ایسے سچے اور واقعی قصے ہیں کہ اللہ نے انہی کی وجہ سے قرآن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حصور کے خطاب سے
١؎ جو گندی ناپاک تہمتیں اس ظالم نے سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر لگائیں یہ ان کو قرآن پر اور اللہ تعالیٰ پر بھی تھوپتا ہے۔ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان ہی باتوں کی وجہ سے ان کو قرآن میں حصور نہیں کہا۔ کیونکہ حصور کے معنی ہیں اپنی خواہش نفس کو روکنے والا ۔”سبحانہ وتعالیٰ عما یقولون علواً کبیراً (اسرا: ٤٣)“ حالانکہ اگر عیسیٰ علیہ السلام کو قرآن پاک میں حصور نہ کہنے سے یہ نتیجہ نکالا جائے کہ معاذ اللہ یہ گندے قصے اس کا سبب ہیں تو پھر تمام جلیل القدر پیغمبروں، حضرت نوح علیہ السلام، حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور خود سید المرسلین حضرت محمد ﷺ کے متعلق بھی یہ ظالم یہی کہے گا۔ کیونکہ قرآن مجید میں ان حضرات کے لئے بھی حصور کا لفظ کہیں استعمال نہیں کیا گیا۔ یہ ہے اس شخص کی قرآن دانی کا نمونہ جس کو اس کے امتی اس کا سب سے بڑا معجزہ کہتے ہیں۔
محروم رکھا اور وہ قرآن میں حضرت عیسیٰ کا نام حصور نہ رکھنے کو ان گندی تہمتوں کے ثبوت کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ پس اس کو پادریوں کے مقابلہ کا صرف الزامی جواب کیسے کہا جا سکتا ہے؟۔ بلکہ میں تو کہتا ہوں کہ دافع البلاء کی اس عبات سے یہ بات بھی واضح طور پر معلوم ہو گئی کہ اس شخص نے یعنی مرزا قادیانی نے اگر کسی کتاب میں عیسائیوں کے مقابلہ میں بھی ایسی باتیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق کہی ہیں تو وہ صرف الزامی نہیں ہیں ۔ بلکہ یہ ان کے اپنے خیالات اور اپنے دعوے ہیں ۔
میں مثال کے طور پر کہتا ہوں کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق قریب قریب یہی گندی باتیں اس سے بھی زیادہ نامہذب اور گندے الفاظ میں ضمیمہ انجام آتھم میں لکھی ہیں۔ اگرچہ اس قسم کی چیزوں کا پڑھنا اور سننا ہر مسلمان کے لئے تکلیف دہ ہے۔ لیکن چونکہ آپ کو اس کی ضرورت ہے۔ اس لئے میں اس کو بھی پڑھے دیتا ہوں ۔ لکھتے ہیں کہ:
”آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں ۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا، مگر شاید یہ بھی خدائی کے لئے ایک شرط ہو گی۔ آپ کا کنجریوں سے (یعنی رنڈیوں ١؎ سے) میلان اور صحبت بھی شاید اس وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے۔ ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگاوے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، حاشیہ خزائن ج ١١ ص ٢٩١)
اس عبارت میں بھی مرزا قادیانی نے وہی باتیں کہی ہیں جو دافع البلاء سے میں ابھی آپ کو سنا چکا ہوں۔ بلکہ یہاں کا طرز بیان اور زیادہ غیر شریفانہ اور سوقیانہ ہے اور سچی بات یہ ہے کہ کتاب کو زمین پر پٹک دینے کو جی چاہتا ہے۔
میں جانتا ہوں کہ ضمیمہ انجام آتھم کی اس عبارت کے خاص مخاطب بعض عیسائی پادری ہیں ۔ لیکن دافع البلاء کی عبارت پڑھنے کے بعد ضمیمہ انجام آتھم کی اس عبارت کے متعلق بھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ صرف الزامی باتیں ہیں جو عیسائیوں کے یسوع کے حق میں کہی گئی ہیں۔
١؎ پنجابی حضرات رنڈی کو کنجری بولتے ہیں۔ چونکہ یوپی کے اکثر لوگ اس محاورے کو جانتے نہیں ہیں۔ اس لئے اس مجلس میں یہ عبارت پڑھتے وقت یہ تشریح کر دی گئی تھی۔
کیونکہ دافع البلاء سے معلوم ہو چکا کہ واقعہ میں وہ عیسیٰ علیہ السلام کو ایسا ہی سمجھتے ہیں۔ بلکہ قرآن پاک کو اور خدا کو بھی اپنی گواہی میں لاتے ہیں۔ اسی لئے میں نے اس سلسلہ میں آپ حضرات کے سامنے دافع البلاء کی عبارت پیش کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ انجام آتھم کے ضمیمہ کی یہ عبارت تو میں نے صرف اس لئے پڑھ دی کہ اس میں وہی بات زیادہ گندے طریقہ پر کہی گئی ہے اور دافع البلاء کی عبارت نے اس کی تصدیق کر دی ہے کہ یہ صرف الزامی باتیں نہیں ہیں۔ بلکہ عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق مرزا قادیانی کے یہ دعوے ہیں۔
بہر حال یہ آپ نے سمجھ لیا ہوگا کہ مرزا قادیانی نے ان عبارتوں میں سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں کیسی گندی اور اہانت آمیز باتیں کہی ہیں۔ پس ایسا شخص نبی کیا معنی؟ صاحب ایمان بھی نہیں ہو سکتا ہے۔ بلکہ شرافت و تہذیب کے عام معیار کے مطابق اس کو ایک شریف اور مہذب انسان بھی نہیں کہا جا سکتا۔
اس موقع پر حاضرین مجلس میں سے کسی صاحب نے پوچھا کہ آپ بتلا سکتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق ایسی باتیں کیوں لکھیں؟۔
میں نے کہا ...... میرے نزدیک اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی کا ایک اہم دعویٰ یہ ہے کہ وہ مسیح موعود ہیں۔ یعنی حدیثوں میں آخر زمانہ میں حضرت مسیح علیہ السلام کی آمد کی جو خبریں دی گئی ہیں وہ ہی ان کے مصداق ہیں اور اپنی شان میں حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام سے بہت بڑھے ہوئے ہیں اور بعض خاص مشابہتوں اور مناسبتوں کی وجہ سے حدیثوں میں مجازاً ان ہی کو عیسیٰ اور مسیح کہا گیا ہے۔ لیکن اس کے لئے یہ ضروری تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مقابلہ میں ان کی سیرت اور ان کا کردار گھٹیا نہ ہو۔ بلکہ بلند اور بڑھیا ہو تو میرا خیال ہے کہ وہ سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان کو اس لئے گرانا چاہتے ہیں کہ اپنے بے وقوف معتقدوں کو یہ باور کراسکیں کہ سیرت اور کردار کے لحاظ سے مسیح ناصری کے مقابلہ میں میں بلند ہوں ١؎۔ بہر حال میں یہی سمجھتا ہوں۔
١؎ مرزا قادیانی کا مشہور شعر بھی ہے کہ:
اس سے بہتر غلام احمد ہے
(دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)
مرزا قادیانی کی جانچ کے لئے جو چار اصولی باتیں میں آپ حضرات کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں ان میں سے پہلی تو یہی تھی جو میں پیش کر چکا اور آپ سن چکے۔ اب آگے سنئے :
دوسری بات
دوسری اصولی بات یہ ہے کہ اللہ کے سچے پیغمبر کے لئے یہ ناممکن ہے کہ وہ اپنے دعوے کی سچائی اور اپنی بڑائی ثابت کرنے کے لئے بھولے سے بھی کبھی جھوٹ بولے۔ مگر مرزا قادیانی اس معاملے میں بڑے بے باک ہیں اور بہت بے تکلفی اور دیدہ دلیری سے صاف صریح جھوٹ بول جاتے ہیں۔ اگر آپ چاہیں تو اس کی بہت سی مثالیں میں ان کی کتابوں سے پیش کر سکتا ہوں ۔ لیکن چونکہ میرا مطمح نظر اس وقت صرف اتنا ہی ہے کہ مرزا قادیانی کی جانچ اور قادیانیت پر غور کرنے کا ایک صحیح اور اصولی طریقہ آپ حضرات کو بتلادوں۔ اس لئے میں اس سلسلہ میں بھی مرزا قادیانی کی غلط بیانی کی صرف ایک موٹی سی مثال آپ کے سامنے پیش کر دینا کافی سمجھتا ہوں ۔
مرزا قادیانی کے صریح جھوٹ کی ایک مثال
”مولوی غلام دستگیر قصوری نے اپنی ایک کتاب میں اور مولوی اسماعیل علی گڑھ والے نے میری نسبت قطعی حکم لگایا کہ اگر وہ کاذب ہے تو ہم سے پہلے مرے گا اور ضرور ہم سے پہلے مرے گا۔ کیونکہ وہ کاذب ہے۔ مگر جب ان تالیفات کو دنیا میں شائع کر چکے تو پھر بہت جلد آپ ہی مر گئے ۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ٩ خزائن ج ١٧ ص ٣٩٤)
اس عبارت میں مرزا قادیانی نے مولوی غلام دستگیر صاحب قصوری مرحوم اور مولانا محمد اسماعیل علی گڑھی مرحوم کے متعلق جو یہ بات لکھی ہے کہ : ”انہوں نے اپنی کتابوں میں یہ قطعی حکم لگایا تھا کہ وہ (یعنی مرزا قادیانی ) اگر کاذب ہے تو وہ ہم سے پہلے مرے گا اور ضرور ہم سے پہلے مرے گا۔ کیونکہ وہ کاذب ہے اور یہ کہ اپنی جن تالیفات میں انہوں نے یہ بات لکھی تھی وہ شائع بھی ہوچکی ہیں ۔“
یہ سب مرزا قادیانی کا تراشا ہوا جھوٹ ہے۔ ان دونوں مرحوم بزرگوں کی ایسی کوئی کتاب روئے زمین پر موجود نہیں ہے اور کبھی شائع نہیں ہوئی جس میں انہوں نے یہ بات لکھی ہو۔ آپ میں سے جس کا جی چاہے اس کی تحقیق کر لے۔ مرزا قادیانی کی زندگی میں بھی ان سے یہ مطالبہ کیا گیا اور پھر ان کے ماننے والوں کو ہمیشہ اس کے لئے چیلنج کیا گیا کہ ان دونوں بزرگوں کی وہ شائع شدہ کتابیں دکھاؤ۔ جن میں یہ مضمون موجود ہو۔ لیکن آج تک کوئی نہیں دکھلا سکا اور نہ
قیامت تک کوئی دکھلا سکتا ہے۔ کیونکہ جیسا کہ میں نے آپ کو بتلایا یہ مرزا قادیانی کا خالص جھوٹ اور افتراء ہے۔
اور ان کی کذب بیانی کی یہی ایک مثال نہیں ہے۔ بلکہ واقعہ یہ ہے کہ جو شخص مرزا قادیانی کی کتابوں کو تحقیقی اور تنقیدی نگاہ سے دیکھے گا وہ ان میں اس کی بیسوں، پچاسوں مثالیں پائے گا کہ وہ اپنی بڑائی اور سچائی ثابت کرنے کے لئے بالکل بے اصل اور بے بنیاد اور خلاف واقعہ باتیں بڑی دیدہ دلیری سے لکھ جاتے ہیں۔ ایسا شخص پیغمبر تو کیا معنی ایک دیانت دار مصنف بھی نہیں سمجھا جا سکتا۔ میں اللہ تعالیٰ کا ایک نہایت حقیر اور گنہگار بندہ ہوں۔ قریب ٢١، ٢٢ سال سے تحریر و تصنیف کا کام کرتا ہوں اور اندازہ یہ ہے کہ مستقل تصانیف کی شکل میں اور الفرقان میں میرے قلم کے لکھے ہوئے ٥، ٦ ہزار صفحات ضرور شائع ہو چکے ہوں گے۔ میں کہہ سکتا ہوں کہ الحمد للہ میں بھی اس معاملے میں مرزا قادیانی سے کہیں زیادہ دیانت دار ہوں اور میرا کوئی مخالف میرے لکھے ہوئے ان ٥، ٦ ہزار صفحات میں اس قسم کی غلط بیانی کی ایک مثال بھی نہیں نکال سکتا۔
١؎ مرزا قادیانی کے یہاں اس قسم کی غلط بیانیوں کی اتنی بہتات ہے کہ مناظرہ سے دلچسپی رکھنے والے بعض حضرات نے ان کی کتابوں سے اس قسم کی غلط بیانیاں چھانٹ کر مستقل کتابیں صرف اسی موضوع پر لکھی ہیں۔ ان رسالوں میں کذبات مرزا مشہور رسالہ ہے۔ پھر مرزا قادیانی اس قسم کی غلط بیانیاں صرف انسانوں ہی کے حق میں نہیں کرتے۔ بلکہ اللہ و رسول اور قرآن و حدیث کے متعلق بھی اس قسم کی غلط بیانی کرنے میں وہ بڑے جری اور بے باک ہیں۔
ایک مثال اس کی بھی ہدیہ ناظرین ہے:
اسی کتاب اربعین نمبر ٣ میں (جس سے مولانا قصوری مرحوم اور مولانا علی گڑھی مرحوم کے متعلق ان کی ایک غلط بیانی ابھی نقل کی گئی ہے) لکھتے ہیں: ”ضرور تھا کہ قرآن شریف اور احادیث کی وہ پیشین گوئیاں پوری ہوتیں جن میں لکھا تھا کہ مسیح موعود جب ظاہر ہوگا تو اسلامی علماء کے ہاتھ سے دکھ اٹھائے گا۔ وہ اس کو کافر قرار دیں گے اور اس کے قتل کے لئے فتوے دیئے جائیں گے اور اس کی سخت توہین کی جائے گی اور اس کو دائرہ اسلام سے خارج اور دین کا تباہ کرنے والا خیال کیا جائے گا۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ١٧، خزائن ج ١٧ ص ٤٠٤)
جو لوگ قرآن اور احادیث کا الحمد للہ علم رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ قرآن اور احادیث کے متعلق مرزا قادیانی کی کیسی بے باکانہ غلط بیانی ہے۔
بہرحال مرزا قادیانی کی یہ کمزوری بھی ایسی ہے جس کے ہوتے ہوئے ان کو کسی بڑے درجہ کا انسان نہیں سمجھا جا سکتا۔
تیسری بات
تیسری اصولی بات مرزا قادیانی کی جانچ کے لئے جو آپ کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ انہوں نے بعض اہم پیشین گوئیاں ایسی کیں جن کو خود اپنے جھوٹے یا سچے ہونے کا خاص نشان اور معیار قرار دیا اور بڑے دعوے سے کہا کہ اگر یہ پوری نہ ہوں تو میں جھوٹا ہوں اور ایسا ہوں اور ویسا ہوں اور اللہ تعالیٰ نے ان کی اس قسم کی زیادہ تر پیشین گوئیوں کو غلط ثابت کر کے ان کا جھوٹا اور مفتری ہونا ظاہر کر دیا۔ یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان ہے۔ ورنہ بہت سی پیشین گوئیاں رمالوں ، جفاروں کی اور علم جوتش سے واقفیت رکھنے والے پنڈتوں کی پوری ہو جاتی ہیں۔ اس لئے اگر بالفرض مرزا قادیانی کی یہ پیشین گوئیاں سو فیصدی بالکل ٹھیک ٹھیک پوری ہو جاتیں تب بھی ہم ان کو اس قسم کا استدراج سمجھتے ۔ جیسا کہ حدیثوں میں دجال کے متعلق آتا ہے کہ وہ خدائی کا دعویٰ کرے گا اور بارش برسائے اور مردہ کو زندہ کر کے دکھائے گا اور اس کے باوجود دجال ہوگا۔
بہر حال ہمارا یہ ایمان ہے کہ قرآن مجید میں حضور ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کا اعلان ہو جانے کے بعد جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے۔ خواہ اس کے ہاتھ پر کیسے ہی کرشمے ظاہر ہوں اور خواہ اس کی پیشین گوئیاں سو فیصدی پوری ہوں پھر بھی وہ ہرگز سچا نبی نہیں بلکہ کذاب و دجال ہے۔ اس لئے اگر بالفرض مرزا قادیانی کی یہ پیشین گوئیاں پوری بھی ہو جاتیں جب بھی ہمارے ایمان اور عقیدہ پر الحمد للہ کوئی اثر نہ پڑتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے ان کی معرکہ کی پیشین گوئیوں کو غلط کر کے اپنے بہت سے کمزور بندوں کو اس آزمائش سے بچا لیا۔
میں اس سلسلہ میں ان کی صرف دو پیشین گوئیوں کو اس وقت آپ حضرات کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں :
پہلی پیشین گوئی ڈپٹی عبداللہ آتھم عیسائی کی موت سے متعلق ہے۔ مرزا قادیانی نے اس کی میعاد ١٥؍ جون ١٨٩٣ء سے پندرہ مہینہ تک (یعنی ٥؍ ستمبر ١٨٩٤ء تک) مقرر کی تھی۔ پھر انہوں نے اپنی کتاب (شہادۃ القرآن ص ٧٩، خزائن ج ٦ ص ٣٧٥) پر جو ستمبر ١٨٩٣ء کی لکھی ہوئی ہے
اپنی صداقت کے نشان اور معیار کے طور پر اپنی اس پیشین گوئی کو پھر دہرایا کہ آتھم ضرور بالضرور اس مدت کے اندر یعنی ٥ ستمبر ١٨٩٤ء تک مرجائے گا۔ (اور چونکہ آتھم کی عمر ٧٠ برس کے قریب تھی اس لئے اس کا مر جانا کچھ مستبعد بھی نہ تھا۔) لیکن اللہ تعالیٰ کو مرزا قادیانی کو جھوٹا ثابت کرنا تھا۔ اس لئے بوڑھا عبداللہ آتھم اس مدت میں بھی نہیں مرا۔ بلکہ اس میعاد سے قریباً دو برس گزرنے کے بعد ٢٧ جولائی ١٨٩٦ء کو مرا۔ خود مرزا قادیانی نے (انجام آتھم ص ١، خزائن ج ١١ ص ١) میں اس کی موت کی یہ تاریخ لکھی ہے۔
مجھے یہ معلوم ہے کہ مرزا قادیانی نے اور ان کی امت کے مناظروں نے اس پیشین گوئی کے بارہ میں بعد کو کیا کیا فضول اور مہمل تاویلیں کی ہیں۔ لیکن میرا خیال ہے کہ ہر صحیح الفطرت آدمی کو ان لوگوں کی اس قسم کی باتوں سے ان کی ہٹ دھرمی کا اور حق پرستی سے دوری کا اور زیادہ یقین ہوتا ہے۔ سیدھی بات ہے۔ کوئی منطق فلسفہ کا مسئلہ نہیں ہے اور کوئی پہیلی اور چیستاں نہیں ہے جس کا سمجھنا اور بوجھنا مشکل ہو۔ مرزا قادیانی نے پیشین گوئی کی تھی کہ آتھم ٥ جون ١٨٩٣ء سے ١٥ مہینہ تک یعنی ٥ ستمبر ١٨٩٤ء تک ضرور مر جائے گا اور اس کو انہوں نے اپنے صادق یا کاذب ہونے کا معیار قرار دیا تھا۔ اب اگر آتھم ٥ ستمبر ١٨٩٤ء کی شام تک بھی مر جاتا تو مرزا قادیانی اپنے اس بیان کی رو سے سچے ہوتے۔ لیکن جب وہ اس مدت میں نہیں مرا بلکہ قریباً دو سال بعد تک اور جیتا رہا تو اس کی اس دو سالہ زندگی کا ہر سانس اور ہر لمحہ مرزا قادیانی کے اقرار کے مطابق ان کے کاذب اور جھوٹے ہونے کا ثبوت ہے اور اس میں تاویلیں کرنا خواہ مخواہ ایک کھلے ہوئے جھوٹ کو سچ بنانے کی کوشش کرنا ہے۔ بہرحال غور کرنے والوں اور سمجھنے کا ارادہ رکھنے والوں کے لئے بات بالکل صاف سیدھی اور مختصر سی ہے۔
محمدی بیگم کا قصہ
دوسری پیشین گوئی جو میں آپ حضرات کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں وہ محمدی بیگم کے نکاح سے متعلق ان کی سب سے زیادہ مشہور اور معرکہ کی پیشین گوئی ہے جس کو انہوں نے اپنی کتابوں میں اپنی صداقت کا خاص آسمانی نشان اور معیار قرار دیا تھا۔ میں پہلے اس کا مختصر واقعہ بیان کردوں۔
مرزا قادیانی کے ایک قرابت دار مرزا احمد بیگ ہوشیار پور کے رہنے والے تھے۔ محمدی بیگم ان کی لڑکی تھی۔ مرزا قادیانی کے دل میں اس سے نکاح کرنے کی خواہش پیدا ہوئی۔ چنانچہ
انہوں نے پیام دیا ١؎ لیکن احمد بیگ راضی نہیں ہوئے اور انکار کر دیا۔ مرزا قادیانی نے احمد بیگ کو متاثر اور مرعوب کرنے کے لئے بڑے زور سے دو باتوں کا اعلان کیا: ایک یہ کہ: ”محمدی بیگم کا میرے نکاح میں آنا مجھے خدا کی وحی اور الہام سے معلوم ہو چکا ہے اور میں نے خدا کے حکم سے یہ پیام دیا ہے اور خدا نے مجھے بتایا ہے کہ یہ نکاح ضرور ہوگا۔“ اور دوسری بات یہ کہ: ”اس کے گھر والے اگر انکار کریں گے تو طرح طرح کی آفتوں اور مصیبتوں میں مبتلا ہوں گے اور خود محمدی بیگم پر بھی مصیبتیں آئیں گی۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٧٢ تا ٢٧٥، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
مرزا قادیانی نے ان باتوں کو اپنے خطوط اور اپنی کتابوں اور اشتہاروں میں ایسے زور سے لکھا کہ احمد بیگ اگر کچا آدمی ہوتا تو ڈر کے نکاح کر ہی دیتا۔ لیکن اس نے اثر نہیں لیا اور وہ برابر انکار کرتا رہا اور مرزا قادیانی طرح طرح سے کوششیں اور ہر قسم کی تدبیریں استعمال کرتے رہے جن کی تفصیل بہت لمبی ہے اور بڑی عبرتناک اور شرمناک ہے اور مجھے اس قسم کی باتوں سے اب طبعی انقباض ہوتا ہے۔ اس لئے میں ان سب واہیات قصوں کو چھوڑتا ہوں اور صرف اصل معاملہ ہی آپ کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں ٣؎۔ مرزا قادیانی کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ معاملہ ایک مدت تک اسی طرح چلتا رہا کہ مرزا قادیانی محمدی بیگم کے والد احمد بیگ کو رام کرنے کی کوششیں اور تدبیریں کرتے رہے۔ اس کو خطوط لکھتے رہے اور الہاموں کے حوالہ سے اس کو دھمکیاں بھی دیتے رہے۔ مگر وہ انکار پر جما رہا۔ یہاں تک کہ پٹی ضلع لاہور کے رہنے والے ایک
١۔ اور اس سلسلہ میں احمد بیگ کو کچھ زمین اور باغ دینے کا لالچ بھی دیا گیا۔ (آئینہ کمالات اسلام ص ٢٧٣، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
٢۔ شاید اس انکار کی وجہ یہ ہوگی کہ محمدی بیگم بالکل کمسن لڑکی تھی اور مرزا قادیانی کی عمر اس وقت پچاس برس سے اوپر ہو چکی تھی۔
٣۔ جو حضرات اس قصہ کی ان شرمناک تفصیلات سے بھی واقفیت حاصل کرنا چاہیں وہ فیصلہ آسمانی، الہامات مرزا، مرزا اور محمدی بیگم اور ترک مرزائیت وغیرہ رسائل دیکھیں۔ واقعہ یہ ہے کہ تنہا محمدی بیگم کا واقعہ ہر ایک منصف مزاج اور حق پرست کو یہ یقین دلانے کے لئے کافی ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نبوت اور الہام کے دعوؤں میں کاذب اور مفتری ہونے کے علاوہ نہایت پست فطرت آدمی تھا اور اللہ تعالیٰ کی حکمت اور قدرت نے اس کو ذلیل اور جھوٹا ثابت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ (یہ تمام رسائل احتساب قادیانیت میں شائع ہو چکے ہیں۔ مرتب)
شخص سلطان محمد سے محمدی بیگم کی شادی کی بات چیت ہونے لگی۔ جب مرزا قادیانی کو اس کی اطلاع ہوئی تو انہوں نے اس میں رکاوٹ ڈالنے کی عجیب و غریب تدبیریں اور بڑی بڑی کوششیں کیں۔ جب یہ تمام کوششیں بھی ناکام رہیں تو مرزا قادیانی نے حسب عادت خدا کے الہام کے حوالے سے پیشین گوئی شائع کر دی کہ اگر سلطان محمد سے محمدی بیگم کا نکاح ہوا تو سلطان محمد روز نکاح سے اڑھائی سال کے اندر اور محمدی بیگم کا باپ احمد بیگ تین سال کے اندر مر جائیں گے اور لڑکی بیوہ ہو کر پھر میرے نکاح میں ضرور آئے گی۔
اللہ کی شان کہ محمدی بیگم کا نکاح سلطان محمد سے ہو گیا۔ لیکن مرزا قادیانی اس کے بعد بھی برابر اسی زور و شور سے یہ پیشین گوئی کرتے رہے کہ سلطان محمد مرے گا اور محمدی بیگم ضرور بالضرور میرے نکاح میں آئے گی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر مبرم ہے۔ کوئی اسے بدل نہیں سکتا اور اگر میری یہ بات غلط ہو جائے۔ یعنی اگر محمدی بیگم میرے نکاح میں نہ آئے اور اسی طرح سلطان محمد اگر مقررہ میعاد تک نہ مرے تو میں جھوٹا اور ایسا اور ویسا۔
یہ تو میں نے آپ کو اصل قصہ بہت مختصر طور سے اپنی زبان میں سنا دیا۔ اب آپ مرزا قادیانی کے اس سلسلہ کے دعوؤں اور ان کی پیشین گوئیوں کی دو ایک عبارتیں بھی سن لیجئے اور عبارتیں بھی وہ جن کو انہوں نے خدا کے الہام کی حیثیت سے لکھا ہے:
یہ میرے ہاتھ میں مرزا قادیانی کی کتاب انجام آتھم ہے جو اس وقت کی لکھی ہوئی ہے جبکہ سلطان محمد کے ساتھ محمدی بیگم کے نکاح کو چار پانچ سال ہو چکے ہیں۔ اس میں مرزا قادیانی نے اپنے کچھ وہ الہامات لکھے ہیں جو عربی زبان میں ہیں اور خود ہی ساتھ ساتھ اردو میں ترجمہ بھی لکھ دیا ہے۔ ان میں چند سطروں کا ایک الہام ہے جس کا تعلق محمدی بیگم سے ہے جس میں (مرزا قادیانی کے بیان کے مطابق ) ان کے خدا نے ان کو بتلایا ہے اور بڑے زور دار الفاظ میں یقین اور اطمینان دلایا ہے کہ محمدی بیگم پھر ضرور تمہارے نکاح میں آئے گی۔ بلکہ ہم نے اس کا نکاح تم سے کر دیا ہے۔ اب کوئی طاقت اس کو روک نہیں سکتی۔ الہام کے الفاظ یہ ہیں:
”فسیکفیکہم اللہ یردہا الیک . امر من لدنا انا کنا فاعلین زوجنکہا . الحق من ربک فلا تکونن من الممترین . لا تبدیل لکلمات اللہ . ان ربک فعال لما یرید انا رادوہا الیک“
اب خود مرزا قادیانی کا لکھا ہوا اس الہام کا ترجمہ سنئے:
”سو خدا ان کے لئے تجھے کفایت کرے گا اور اس عورت کو تیری طرف واپس لائے۔ گا۔ یہ امر ہماری طرف سے ہے اور ہم ہی کرنے والے ہیں۔ بعد واپسی کے ہم نے نکاح کر دیا۔ تیرے رب کی طرف سے سچ ہے۔ پس تو شک کرنے والوں میں سے مت ہو۔ خدا کے کلمے بدلا نہیں کرتے۔ تیرا رب جس بات کو چاہتا ہے وہ بالضرور اس کو کر دیتا ہے۔ کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔ ہم اس کو واپس لانے والے ہیں۔“
(انجام آتھم ص ٦٠، ٦١، خزائن ج ١١ ص ایضاً)
گویا مرزا قادیانی اپنے اس الہام کو شائع کر کے دنیا کو بتلا رہے ہیں کہ اگرچہ محمدی بیگم کا نکاح سلطان محمد سے ہو گیا اور میرے مخالف اس پر خوشیاں منا رہے ہیں۔ لیکن میرا خدا اپنی وحی کے ذریعہ مجھے بتلا رہا ہے کہ وہ میرے ان مخالفوں سے میری طرف سے انتقام لینے کے لئے اور ان کو شکست دینے کے لئے کافی ہے اور اس کا اٹل فیصلہ ہے کہ وہ اس عورت کو یعنی محمدی بیگم کو پھر میری طرف واپس کرے گا۔ یعنی سلطان محمد میری زندگی میں مرے گا اور محمدی بیگم بیوہ ہو کر پھر میرے نکاح میں آئے گی اور میرے اللہ نے مجھے اطلاع دی ہے کہ اس کا یہ نکاح ہم نے تم سے کر دیا ہے (زوجنکھا) اور یہ خدائی فیصلہ اور خدائی اطلاع ہے جس میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں۔ اللہ کے فیصلے اٹل ہوتے ہیں۔ ان میں ہرگز کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔ اس کو کوئی روک نہیں سکتا۔ اللہ ضرور محمدی بیگم کو میری طرف واپس کرے گا اور آخر کار وہ میرے نکاح میں ضرور بالضرور آئے گی۔
الغرض یہ ہے کہ مرزا قادیانی کا الہام اور ان کی پیشین گوئی محمدی بیگم کے نکاح میں آنے کے متعلق ہے۔
پھر آپ کو سن کر زیادہ تعجب ہو گا کہ اس شخص نے اپنے اس واہیات معاملہ میں ایک جگہ رسول اللہ ﷺ کو بھی لپیٹ لیا۔ اسی (انجام آتھم کے ضمیمہ کے ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧ حاشیہ) میں محمدی بیگم کے نکاح کی اسی پیشین گوئی کے متعلق دیدہ دلیری سے لکھا کہ:
”اس پیشین گوئی کی تصدیق کے لئے جناب رسول اللہ ﷺ نے بھی پہلے سے ایک پیشین گوئی فرمائی ہے کہ یتزوج ویولد لہ یعنی موعود بیوی کرے گا اور نیز وہ صاحب اولاد ہوگا۔ اب ظاہر ہے کہ تزوج اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں۔ کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے۔ اس میں کچھ خوبی نہیں۔ بلکہ تزوج سے مراد وہ خاص تزوج ہے جو بطور نشان ہوگا اور اولاد سے مراد وہ خاص اولاد ہے جس کے متعلق اس عاجز کی پیشین گوئی
موجود ہے۔ گویا اس جگہ رسول اللہ ﷺ ان سیہ دل منکروں کو ان کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی۔“
حالانکہ حضور ﷺ پر یہ اس شخص کا محض افتراء اور بہتان ہے۔ حدیث شریف کے الفاظ یتزوج و یولد لہ کا اصل مقصد تو یہ تھا کہ حضرت مسیح علیہ السلام (جنہوں نے اپنی پہلی زندگی میں نکاح نہیں کیا تھا اور تجرد کی زندگی گزاری تھی) وہ جب آخر زمانہ میں دوبارہ آئیں گے تو حضور ﷺ کی سنت کے اتباع میں نکاح بھی کریں گے اور اس سے اولاد بھی ہو گی۔ لیکن اس شخص نے حضور ﷺ پر افتراء کیا اور آپ کے اس ارشاد کو محمدی بیگم کے ساتھ اپنے نکاح کی پیشین گوئی بنالیا۔
لیکن اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی کی اس پیشین گوئی کو غلط ثابت کر کے ساری دنیا کو اس حقیقت کا گواہ بنادیا کہ اس شخص نے خدا پر اور اس کے رسول ﷺ پر یہ سب افتراء کیا تھا۔
اس سلسلہ میں ضمیمہ انجام آتھم کے اسی صفحہ کی ایک عبارت اور بھی سن لیجئے۔ مرزا قادیانی کے جن مخالفین نے محمدی بیگم کا نکاح مرزا قادیانی سے نہ ہونے اور سلطان محمد سے ہو جانے پر پھر پیشین گوئی کی مدت یعنی اڑھائی سال میں سلطان محمد کے نہ مرنے پر فاتحانہ خوشیاں منائیں ان کے متعلق مرزا قادیانی لکھتے ہیں:
”سو چاہئے تھا کہ ہمارے نادان مخالف انجام کے منتظر رہتے اور پہلے ہی سے اپنی بدگوہری ظاہر نہ کرتے۔ بھلا جس وقت یہ سب باتیں پوری ہو جائیں گی تو اس دن یہ احمق مخالف جیتے ہی رہیں گے اور کیا اس دن یہ تمام لڑنے والے سچائی کی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہو جائیں گے۔ ان بیوقوفوں کو کوئی بھاگنے کی جگہ نہیں رہے گی اور نہایت صفائی سے ناک کٹ جائے گی اور ذلت کے سیاہ داغ ان کے منحوس چہروں کو بندروں اور سؤروں کی طرح کر دیں گے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧)
پھر چند سطر کے بعد اسی سلسلہ بیان میں لکھتے ہیں:
”یاد رکھو کہ اس پیشین گوئی کی دوسری جز (یعنی سلطان محمد کا مرزا قادیانی کے سامنے مرنا اور محمدی بیگم کا بیوہ ہو کر مرزا قادیانی کے نکاح میں آنا) پوری نہ ہوئیں تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ اے احمقو! یہ انسان کا افتراء نہیں۔ یہ کسی خبیث مفتری کا کاروبار نہیں۔ یقیناً سمجھو کہ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔ وہی خدا جس کی باتیں نہیں ٹلتیں۔ وہی رب ذوالجلال جس کے ارادوں کو کوئی روک نہیں سکتا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج ١١ ص ٣٣٨)
یہ عبارتیں مرزا قادیانی کی صرف ایک کتاب انجام آتھم اور اس کے ضمیمہ کی ہیں۔ جو ١٨٩٦ء کے آخر کی تصنیف ہے۔ اس کے بعد مرزا قادیانی قریباً ١١ /١٢ برس زندہ رہے اور مئی ١٩٠٨ء میں مر گئے اور ان پیشین گوئیوں کا یہ حشر ہوا کہ نہ سلطان محمد ان کے سامنے مرا اور نہ محمدی بیگم ان کے نکاح میں آئی۔
اب اگر اللہ تعالیٰ نے آپ حضرات کو کچھ بھی سمجھ دی ہے تو آپ خود ہی فیصلہ کر سکتے ہیں کہ مرزا قادیانی کے یہ سارے اعلانات اور ان کی یہ پیشین گوئیاں کتنے روشن طریقہ پر غلط ہوئیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کا جھوٹا اور مفتری ہونا کتنی صفائی سے ثابت کر دیا۔
میں نے بیان کیا تھا کہ اس سلسلہ میں مرزا قادیانی کی ایک پیشین گوئی تاریخ کے تعین کے ساتھ یہ تھی سلطان محمد یوم نکاح کے ڈھائی سال تک ضرور مر جائے گا۔ چنانچہ اسی پیشین گوئی کی بنیاد پر انہوں نے اپنی کتاب شہادۃ القرآن میں ٢١ ستمبر ١٨٩٣ء کو لکھا کہ: ”آج کی تاریخ سے قریباً گیارہ مہینے باقی رہ گئے ہیں۔“
(شہادۃ القرآن ص ٧٩، خزائن ج ٦ ص ٣٧٥)
اس حساب سے سلطان محمد کو ٢١ اگست ١٨٩٤ء تک مر جانا چاہئے تھا۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اس پیشین گوئی کو جھوٹا کر دیا اور سلطان محمد کو اس تاریخ تک بھی موت نہیں آئی تو مرزا قادیانی نے بڑی دیدہ دلیری اور بے باکی سے کہنا شروع کر دیا کہ اس کی موت فلاں وجہ سے کچھ ٹل گئی ہے۔ لیکن بہر حال میرے سامنے ضرور مر جائے گا۔ یہ اللہ کی تقدیر مبرم ہے۔ یعنی اللہ کی یہ اٹل اور قطعی تقدیر ہے اور اب اس میں کوئی تبدیلی ہونے والی نہیں ہے۔ چنانچہ سلطان محمد کی موت کی میعاد گزرنے کے بعد انجام آتھم میں مرزا قادیانی نے لکھا کہ: ”میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیشین گوئی داماد احمد بیگ تقدیر مبرم ہے اس کی انتظار کرو اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیشین گوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجائے گی۔“
(انجام آتھم ص ٣١، خزائن ج ١١ ص ایضاً)
اور اسی کے متعلق اسی انجام آتھم کے عربی حصہ میں لکھا کہ: ”والقدر قدر مبرم من عند الرب العظیم وسیأتی وقتہ بفضل اللہ الکریم فوالذی بعث لنا محمد المصطفیٰ وجعلہ خیر الوریٰ ان ہذا حق فسوف تریٰ وانی اجعل ہذا لنبأ معیاراً لصدقی وکذبی وما قلت الا بعد ما انبئت من ربی“
(انجام آتھم ص ٢٢٣، خزائن ج ١١ ص ایضاً)
اس کا مطلب یہ ہے کہ سلطان محمد کی موت اللہ تعالیٰ کی تقدیر مبرم ہے۔ (یعنی اٹل اور قطعی تقدیر ہے ) اور اللہ کے فضل سے عنقریب اس کا وقت آیا چاہتا ہے۔ پس قسم ہے اس خدا کی جس نے حضرت محمد ﷺ کو ہمارے لئے مبعوث فرمایا اور اس کو خیر الرسل اور بہترین مخلوقات بنایا کہ یہ پیشین گوئی بالکل حق ہے اور تم عنقریب اس کو آنکھوں سے دیکھ لوگے اور میں اس پیشین گوئی کو اپنے جھوٹے اور سچے ہونے کا معیار قرار دیتا ہوں اور یہ بات میں جب کہہ رہا ہوں کہ میرے پروردگار کی طرف سے مجھے اس کی خبر دی گئی ہے۔
بہر حال مرزا قادیانی نے محمدی بیگم کے نکاح اور اس کے شوہر سلطان محمد کی موت کی پیشین گوئی اتنے زور سے کی کہ کوئی زور دار اور وزن دار لفظ اٹھا نہیں رکھا۔ کہا کہ:
”یہ اللہ کی تقدیر مبرم ہے۔ اللہ اس کو ضرور پورا کرنے والا ہے اور اس میں اس کو اپنے سچے اور جھوٹے ہونے کا معیار قرار دیتا ہوں۔
(انجام آتھم ص٢٢٣، خزائن ج١١ ص ایضاً)
”اگر یہ سب باتیں پوری نہ ہوں تو میں جھوٹا ہوں اور ہر بد سے بدتر ہوں۔“
(انجام آتھم ص٢٢٣، خزائن ج١١ ص ایضاً)
”اور جس وقت یہ سب باتیں پوری ہوں گی تو میرے ان بیوقوف مخالفوں کی نہایت صفائی سے اس دن ناک کٹ جائے گی اور ذلت کے سیاہ داغ ان کے منحوس چہروں کو بندروں اور سوروں کی طرح کر دیں گے۔“
(انجام آتھم ص٢٢٣، خزائن ج١١ ص ایضاً)
لیکن اللہ تعالیٰ نے ان سب تعلیوں اور دعوؤں کو ایسی صفائی سے جھوٹا ثابت کیا اور خاک میں ملایا کہ کسی کے لئے دھوکہ فریب اور کسی مغالطہ کی گنجائش نہیں رہی۔ یہ سب عبارتیں مرزا قادیانی کی کتابوں میں آج تک موجود ہیں اور مرزا قادیانی مئی ١٩٠٨ء میں اس دنیا سے اس حال میں چلے گئے کہ سلطان محمد زندہ تھا اور محمدی بیگم اس کی بیوی تھی اور پھر اللہ تعالیٰ نے سلطان محمد کو اتنی لمبی عمر دی کہ ابھی چند سال ہوئے اللہ کے اس بندہ کا انتقال ہوا ہے۔ گویا مرزا قادیانی کے بعد قریباً تیس چالیس برس وہ زندہ رہا اور اس طویل مدت کا ہر دن مرزا قادیانی کے کاذب اور مفتری ہونے کی شہادت دنیا کے سامنے پیش کرتا رہا۔
اس عاجز نے مرزا قادیانی کی جانچ کے لئے جو چار اصولی باتیں آپ حضرات کے سامنے رکھنے کا ارادہ کیا تھا ان میں سے دو تو پہلے پیش کر چکا تھا اور تیسری اصولی بات ان کی ان خاص پیشین گوئیوں سے متعلق تھی جن کو خود انہوں نے اپنے سچے یا جھوٹے ہونے کا معیار قرار دیا تھا۔ ان میں سے میں نے صرف ان ہی دو پیشین گوئیوں کو آپ حضرات کے سامنے رکھا ہے جن کو
خود مرزا قادیانی نے زیادہ اہمیت دی تھی۔ یعنی ڈپٹی آتھم والی اور محمدی بیگم والی پیشین گوئی۔ یہ عاجز پوری ایمان داری اور دیانتداری سے کہتا ہے کہ اگر مرزا قادیانی میں کسی دوسرے پہلو سے کوئی کمی کسر نہ ہوتی تب بھی صرف ان ہی دو پیشین گوئیوں کا غلط نکل جانا اس بات کے لئے کافی دلیل ہوتا کہ مرزا قادیانی ہرگز اللہ تعالیٰ کے فرستادہ اور اس کے مامور نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے کسی نبی اور کسی مامور کو اس طرح ذلیل نہیں کرتا۔ جس طرح کہ مرزا قادیانی ان دو پیشین گوئیوں میں ذلیل ہوئے۔
میرا تو خیال ہے کہ نبوت تو بڑی چیز ہے۔ اگر کوئی بھی غیرت مند آدمی اتنا ذلیل ہوا ہوتا تو کسی کو منہ دکھانے کے لائق بھی اپنے کو نہ سمجھتا۔ مگر اللہ کی شان ہے کہ ان سب باتوں کے باوجود مرزا قادیانی کے دعوے بھی برابر جاری رہے اور ان کو نبی ماننے والے بھی ملتے رہے اور اب تک مل رہے ہیں۔ لیکن اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔ ہمارے اس ملک میں ایک قوم کی قوم موجود ہے جو جانوروں کو پوجتی ہے۔ دریاؤں کو پوجتی ہے۔ پتھروں کو پوجتی ہے اور صرف بے پڑھے اور گنوار ہی نہیں۔ بلکہ ان چیزوں کی پرستش کرنے والوں میں اچھے اچھے گریجویٹ اور علم و عقل والے بھی ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ من یضلل اللہ فلا ھادی لہ
چوتھی بات
مرزا قادیانی کی جانچ کے سلسلہ میں اب چوتھی اصولی بات مجھے یہ کہنی ہے کہ اللہ کے کسی پیغمبر سے ناممکن ہے کہ وہ اپنے وقت کی کسی ایسی طاقت و حکومت کی خوشامد و چاپلوسی اور اس کے ساتھ اپنی مخلصانہ وفاداری اور محبت کا اظہار کرے جو کفر اور بے دینی کا ستون ہو اور جس کے عروج اور غلبہ سے کفر اور بے دینی کو عروج ہوتا ہو اور دنیا میں خدا فراموشی اور آخرت سے بے فکری اور مادہ پرستی اور نفس پرستی بڑھتی ہو۔
مجھے معلوم نہیں کہ آپ لوگ انگریزی حکومت کو اور اس کی تاریخ کو کچھ جانتے ہیں یا نہیں اور اس حقیقت سے آپ واقف ہیں یا نہیں کہ پچھلی چند صدیوں میں یوروپین اقوام اور خاص کر انگریزوں کے حکومتی اقتدار نے دین کو اور خدا پرستی کو کتنا زبردست نقصان پہنچایا ہے اور مادہ پرستی اور نفس پرستی کو دنیا میں کتنا بڑھایا اور پھیلایا ہے۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دنیا میں کافر حکومتیں پہلے بھی ہوئی ہیں۔ لیکن غالباً کبھی کسی حکومت کے اثر و اقتدار نے لوگوں کو خدا سے اتنا بے تعلق اور دین و آخرت کی طرف سے اتنا بے فکر نہیں کیا ہوگا۔ جتنا کہ اس زمانے میں یورپ کی حکومتوں کے اثرات نے لوگوں کو خدا اور آخرت
فراموش بنادیا ہے اور خصوصاً انگریزوں نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو جو دینی اور سیاسی نقصان پہنچایا ہے اور جس جس طرح ان کو تباہ و برباد کیا ہے۔ اس کا تو حساب بھی نہیں لگایا جاسکتا ہے جو ممالک پہلے مسلمانوں کے ہاتھ میں تھے ان میں سے ایک ایک کو سامنے رکھ کر سوچئے کہ کس قوم اور کس حکومت کی مکاری اور غداری نے مسلمانوں کو ان ملکوں سے بے دخل کیا اور اپنا غلام بنایا۔ قریب قریب سب جگہ انگریزوں ہی کا ہاتھ نظر آئے گا۔
الغرض اس حقیقت میں کسی کو شبہ کرنے کی گنجائش نہیں ہے کہ اس زمانے میں دین و ایمان اور روحانیت اور خدا پرستی کو سب سے زیادہ نقصان یورپین قوموں کے سیاسی غلبہ نے پہنچایا ہے اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو سب سے زیادہ دینی اور سیاسی نقصان خاص کر انگریزوں نے پہنچایا ہے اور یہ حکومتیں اس وقت کی فرعونی اور نمرودی حکومتیں ہیں۔ اس لئے ہمارا ایمان ہے کہ اگر بالفرض نبوت ختم نہیں ہوئی ہوتی اور نبیوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہوتا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی پیغمبر اس زمانے میں آتا تو وہ ان یورپین حکومتوں کی اور خاص کر انگریزی حکومت کی ہرگز تعریف نہ کرتا۔ ہرگز ان کو خدا کی نعمت اور رحمت نہ بتاتا۔ بلکہ اس دور کی سب سے بڑی لعنت ان ہی حکومتوں کو قرار دیتا۔ لیکن مرزا قادیانی کو ہم دیکھتے ہیں کہ ان کا رویہ اس معاملہ میں بالکل دنیا دار اور حکومت پرست لوگوں کا سا ہے۔ بلکہ نہایت ذلیل اور گھٹیا قسم کے حکومت پرستوں کا سا ہے اور انہوں نے اپنی کتابوں میں جابجا انگریزی حکومت کے ساتھ اپنی وفاداری اور وابستگی اور خیر خواہی اور دعا گوئی کا ایسا گھناؤنا مظاہرہ کیا ہے کہ میں نے تو کبھی کسی ذلیل سے ذلیل حکومت پرست کی بھی کوئی ایسی تحریر نہیں دیکھی ہے۔ اس وقت ان کی اس سلسلہ کی بھی صرف ایک ہی عبارت آپ کو سناتا ہوں۔ میرے ہاتھ میں ان کی کتاب شہادۃ القرآن ہے۔ اسی کے ساتھ ان کا ایک مضمون چھپا ہوا ہے جس کا عنوان ہے ”گورنمنٹ کی توجہ کے لائق“ اس میں پہلے تو مرزا قادیانی نے یہ لکھا ہے کہ:
”گورنمنٹ کے (یعنی انگریزی سرکار کے) احسانات ہمارے خاندان پر ہمارے والد مرزا غلام مرتضیٰ صاحب کے وقت سے برابر ہوتے رہے ہیں اور اس لئے اس گورنمنٹ کی شکر گزاری میرے رگ و ریشہ میں سمائی ہوئی ہے۔
(شہادۃ القرآن ص ٨٢، خزائن ج ٦ ص ٣٧٨)
پھر گورنمنٹ کے ساتھ اپنے والد اور اپنے بڑے بھائی مرزا غلام قادر کی وفاداری اور خیر خواہی کا ذکر بڑے فخر کے ساتھ کیا ہے اور بتایا ہے کہ انہوں نے ١٨٥٧ء میں گورنمنٹ کی کیسی کیسی مدد کی اور اس کے واسطے کیسی کیسی جانی اور مالی انہوں نے قربانیاں دی اور اس کے صلہ میں
گورنمنٹ نے کیسے کیسے احسانات کئے اور کیا کیا صلے دیئے۔ یہ سب پوری تفصیل سے بیان کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ:
”ہم اپنی معزز گورنمنٹ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم اس گورنمنٹ کے اسی طرح مخلص اور خیر خواہ ہیں جس طرح ہمارے بزرگ تھے۔ ہمارے ہاتھ میں بجز دعا کے اور کیا ہے۔ سو ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس گورنمنٹ کو ہر ایک شر سے محفوظ رکھے اور اس کے دشمن کو ذلت کے ساتھ پسپا کرے۔ خدا تعالیٰ نے ہم پر محسن گورنمنٹ کا شکر ایسا ہی فرض کیا ہے جیسا کہ اس کا شکر کرنا۔ سو اگر ہم اس محسن گورنمنٹ کا شکر ادا نہ کریں یا کوئی شر اپنے ارادہ میں رکھیں تو ہم نے خدا تعالیٰ کا بھی شکر ادا نہ کیا۔ کیونکہ خدا تعالیٰ کا شکر اور کسی محسن گورنمنٹ کا شکر جس کو خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو بطور نعمت کے عطا کرے درحقیقت یہ دونوں ایک ہی چیز ہیں اور ایک دوسری سے وابستہ ہیں اور ایک کے چھوڑنے سے دوسرے کا چھوڑنا لازم آ جاتا ہے۔ بعض احمق اور نادان سوال کرتے ہیں کہ اس گورنمنٹ سے جہاد کرنا درست ہے یا نہیں۔ سو یادرہے کہ یہ سوال ان کا نہایت حماقت کا ہے۔ کیونکہ جس کے احسانات کا شکر کرنا عین فرض اور واجب ہے اس سے جہاد کیسا۔ میں سچ کہتا ہوں کہ محسن کی بدخواہی کرنا ایک حرامی اور بدکار آدمی کا کام ہے۔ سو میرا مذہب جس کو میں بار بار ظاہر کرتا ہوں یہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں۔ ایک خدا تعالیٰ کی اطاعت کریں۔ دوسرے اس سلطنت کی جس نے امن قائم کیا ہو۔ جس نے ظالموں کے ہاتھ سے اپنے سایہ میں ہمیں پناہ دی ہو۔ سو وہ سلطنت حکومت برطانیہ ہے۔“
(شہادۃ القرآن ص ٨٢، خزائن ج ٦ ص ٣٨٠)
یہ مرزا قادیانی کی عبادت ہے۔ بس یہ ان کا دین ومذہب ہے اور یہ ان کی پیغمبری ہے۔ آپ لوگوں کے احساسات کا حال مجھے معلوم نہیں۔ لیکن میں تو صاف کہتا ہوں کہ اس عبارت کے پڑھنے کے بعد میں ان کو نہایت ذلیل ذہنیت کا ایک سرکار پرست آدمی سمجھتا ہوں اور اس قسم کی ان کی یہ ایک ہی عبارت نہیں ہے۔ انگریزی سرکار کی خوشامد میں اس شخص نے بیسیوں جگہ اس سے بھی زیادہ ذلیل قسم کی باتیں لکھی ہیں۔ معلوم نہیں ان کو نبی ماننے والوں نے نبوت کو کیا سمجھا ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ اگر ایسا شخص نبی ہو سکتا ہے تو شاید ہر بھلا آدمی پھر خدا ہو سکتا ہے۔
لاحول ولاقوۃ الا باللہ!
خیر! چونکہ اس وقت کی میری گفتگو کا مقصد مرزا قادیانی کی جانچ اور قادیانیت پر غور کرنے کا بس ایک صحیح طریقہ اور راستہ بتانا ہے۔ اس لئے نمونے کے طور پر گورنمنٹ برطانیہ کی وفاداری کے سلسلہ میں ان کی صرف یہی ایک عبارت پیش کر دینا کافی سمجھتا ہوں۔
خلاصہ بحث
اب میں آپ حضرات سے کہتا ہوں کہ میری چاروں اصولی باتیں آپ نے سن لیں اور غالباً سمجھ بھی لی ہوں گی۔ کیونکہ ان میں کوئی باریک علمی بات نہیں ہے۔ سیدھی سیدھی موٹی باتیں ہیں اور الحمد للہ دو اور دو چار کی طرح یقینی اور پکی ہیں۔ آخر کون اس سے انکار کر سکتا ہے کہ:
- ١...... ”کسی نبی سے ہرگز ممکن نہیں ہے کہ وہ اپنے سے پہلے کسی پیغمبر کی اہانت
اور تنقیص کرے اور اخلاقی گندگیوں کو اس کی طرف منسوب کرے۔“
- ٢...... ”اور کون اس میں شک کر سکتا ہے کہ کسی نبی سے ہرگز یہ بھی ممکن نہیں کہ وہ
اپنی سچائی ثابت کرنے کے لئے صاف صاف غلط بیانی کرے اور جھوٹ بولے۔“
- ٣...... ”اسی طرح ہرگز یہ ممکن نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اور اللہ کی وحی
سے کوئی سچا نبی تعیین تاریخ کے ساتھ کوئی پیشین گوئی کرے اور اس کو اپنے صدق و کذب کا نشان اور معیار قرار دے اور اللہ اسی پیشین گوئی کے خلاف ظاہر کر کے اس کا جھوٹا اور مفتری ہونا دنیا پر ثابت کر دے۔“
- ٤...... ”اسی طرح کوئی اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا کہ نبی و رسول جو اللہ کا
نائب اور نمائندہ ہوتا ہے وہ ذلیل قسم کے سرکار پرستوں اور کاسہ لیسیوں اور دنیا کے کتوں کی طرح گورنمنٹ برطانیہ جیسی کسی حکومت کی ایسی ذلیل خوشامد ہرگز نہیں کر سکتا جس کا نمونہ ابھی آپ نے دیکھا۔ نبوت تو بہت بلند مقام ہے۔ میرے نزدیک تو یہ کسی شریف آدمی کا بھی کام نہیں ہے۔ اگر کسی شریف آدمی کی طرف یہ باتیں منسوب کی جائیں تو وہ اس کو اپنی سخت توہین اور گالی سمجھے گا۔
بہر حال یہ چار وہ سیدھی اور سچی اصولی باتیں ہیں جن سے انکار اور اختلاف کرنے کی کسی کے لئے قطعاً گنجائش نہیں ہے اور آپ نے دیکھ لیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی ان چاروں چیزوں میں بری طرح ملوث اور آلودہ ہیں۔
اس لئے اگر بالفرض نبوت ختم نہ بھی ہوئی ہوتی اور انبیاء کی آمد کا سلسلہ جاری ہوتا تب بھی مرزا غلام احمد قادیانی کے نبی ہونے کا کوئی امکان نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ کسی ایسے آدمی کو نبی اور رسول بنا کر نہیں بھیج سکتا جو انسانی شرافت کے معیار سے اتنا گرا ہوا ہے۔ ایسے کسی آدمی پر ہرگز خدا کی وحی نہیں آسکتی۔ ہاں ایسے لوگوں پر شیطانی وحی آیا کرتی ہے اور یہ میں اپنی طرف سے نہیں کہتا
بلکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا ہے: ”ھل انبئکم علی من تنزل الشیطین ٠ تنزل علی کل افاک اثیم (شعراء: ٢٢١)“ یعنی ہم تم کو بتلاتے ہیں کہ شیطان کن لوگوں پر اترتے ہیں۔ وہ جھوٹ بولنے والوں اور افتراء پردازوں اور پاپیوں پر اترتے ہیں۔
پس اس آیت سے معلوم ہوا کہ جو جھوٹ بولتا ہو، افتراء کرتا ہو اور جس کی زندگی پاک اور ستھری نہ ہو اس پر خدا کی وحی نہیں آتی بلکہ شیطان آتے ہیں۔ اب آپ دیکھ لیجئے کہ مرزا قادیانی میں افاک اور اثیم ہونے کی صفت کتنی نمایاں ہے۔
بہر حال اگر بالفرض نبوت جاری ہوتی جب بھی مرزا قادیانی کے نبی ہونے کا ہرگز کوئی امکان نہ تھا۔ وہ تو کھلے ہوئے افاک اور اثیم ہیں اور میں یہ جو کچھ کہہ رہا ہوں فرضی طور پر کہہ رہا ہوں۔ ورنہ میں شروع ہی میں آپ کو بتلا چکا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری رسول حضرت محمد ﷺ کے ذریعہ دین اور شریعت کو مکمل کر دیا اور پھر قیامت تک اس کی حفاظت کی بھی خود ہی ذمے داری لے لی اور اپنی خاص قدرت سے اس کا انتظام بھی فرما دیا اور اس طرح نبوت کی ضرورت کو ختم فرما کر اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ پر نبوت کے ختم کئے جانے کا بھی قرآن پاک میں اعلان فرما دیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے حدیثوں میں بھی اس کا صاف صاف اعلان فرما دیا اور اس لئے ساری امت کا یہی عقیدہ اور یہی ایمان رہا کہ نبوت کا سلسلہ حضور ﷺ پر ختم ہو گیا اور اب کبھی دنیا میں کوئی نیا نبی نہیں آئے گا اور قیامت تک پیدا ہونے والے ہر انسان کے لئے حضرت محمد ﷺ پر ایمان لانا اور آپ کی پیروی کرنا کافی ہے اور حضور ﷺ کی نبوت اور آپ ﷺ کی لائی ہوئی ہدایت دنیا بھر کے لئے اور ہمیشہ کے لئے کفایت کرنے والی ہے۔
بہر حال اصلی عقیدہ اور ایمان تو یہ ہے اور اس بنا پر اب کسی شخص کے بھی نبی ہونے کا کوئی امکان نہیں اور جو شخص بھی اب نبوت کا دعویٰ کرے ہم اس کو کاذب اور اللہ پر افتراء کرنے والا سمجھیں گے۔ حتیٰ کہ اگر بالفرض سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی، خواجہ معین الدین چشتی اور حضرت مجدد الف ثانیؒ جیسی پاک سیرت رکھنے والا کوئی بزرگ بھی نبوت کا دعویٰ کر بیٹھے تو ہم اس کو بھی ایسا ہی سمجھیں گے اور میں اس سے بھی آگے بڑھ کر کہتا ہوں کہ اگر بالفرض حضرت ابو بکر صدیقؓ بھی یہ دعویٰ کرتے تو امت ان کے ساتھ بھی وہی معاملہ کرتی جو خود انہوں نے مسیلمہ کذاب کے ساتھ کیا۔
بہر حال ہمارا اصل عقیدہ اور ایمان تو یہ ہے۔ لیکن اگر بالفرض نبوت کا سلسلہ جاری بھی ہوتا تب بھی مرزا قادیانی جیسے اخلاق و اوصاف رکھنے والے کسی آدمی کے لئے اس مقام اور
منصب کا کوئی امکان نہ تھا۔ کسی شخص کے حق میں سخت تنقید اور سخت الفاظ بولنا مجھے گراں ہوتا ہے۔ لیکن مرزا قادیانی کے بارے میں میں اس کی ضرورت سمجھتا ہوں کہ اپنے دل پر جبر کر کے اپنی طبیعت اور ذوق کے خلاف صاف صاف کہوں کہ وہ شخص معمولی درجہ کے اخلاق سے بھی خالی تھا۔ جتنی دیانت اور سچائی اور جتنی غیرت اور شرافت اوسط درجہ کے لوگوں میں ہوتی ہے اس شخص میں اتنی بھی نہیں تھی اور میں صاف کہتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ کا مجھ جیسا گنہگار امتی بھی مرزا قادیانی سے زیادہ دیانت اور صداقت الحمد للہ اپنے اندر رکھتا ہے۔
میں نے اس صحبت میں آپ حضرات کے سامنے مرزا قادیانی اور ان کے دعوؤں کے بارے میں غور و خوض کا یہ اصولی طریقہ رکھنے ہی کا ارادہ کیا تھا۔ اب آپ حضرات میں سے جس کو اس بارہ میں کچھ سوچنا اور غور کرنا ہو وہ بڑی آسانی سے غور کر سکتا ہے اور دو اور دو چار کی طرح ایک یقینی نتیجہ پر پہنچ سکتا ہے۔ باقی کسی کو ہدایت دینا تو اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔
یہ عاجز جب اپنی یہ بات پوری کر کے خاموش ہوا تو ایک قادیانی نے بڑی شکایت اور ناگواری کے ساتھ کہا کہ ہم تو اس لئے جمع ہوئے تھے کہ حیات مسیح اور اجرائے نبوت کے مسئلوں کے متعلق آپ سے کچھ سوال کریں گے اور آپ قرآن شریف سے ہمیں اس کا جواب دیں گے۔ لیکن آپ نے ہمیں کچھ کہنے اور پوچھنے کا موقع ہی نہیں دیا اور حضرت اقدس مسیح موعود کی شخصیت کے متعلق تقریر شروع کر دی۔
میں نے کہا کہ آپ کا خیال اور ارادہ ایسا ہی ہو گا۔ لیکن میں تو آپ کے خیال یا ارادہ کا پابند نہیں۔ آپ مجھے نہیں جانتے ہوں گے۔ لیکن میں قادیانیت کو اور قادیانیوں کو خوب جانتا ہوں اور میرے نزدیک قادیانیت کے بارے میں غور کرنے کا صحیح راستہ اور طریقہ یہی ہے جو میں نے آپ کے سامنے رکھا ہے۔ اس طرح مرزا قادیانی کی حقیقت بالکل بے نقاب ہو کر سامنے آ جاتی ہے اور ان کی نبوت کا پردہ کھل جاتا ہے اور معمولی سے معمولی سمجھ رکھنے والوں کے لئے بھی ان کے دعوؤں کے بارے میں فیصلہ کرنا آسان ہو جاتا ہے اور کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہتی۔ لیکن ہاں میں جانتا ہوں کہ قادیانی صاحبان کی ہمیشہ یہ کوشش ہوا کرتی ہے کہ مرزا قادیانی کے متعلق گفتگو نہ ہو۔ بلکہ حیات و ممات مسیح جیسے مسائل پر بات ہو۔ تاکہ ناواقف لوگ یہ سمجھیں کہ ہم مسلمانوں اور قادیانیوں میں اصل اختلاف بس اتنا ہی ہے کہ بعض آیتوں اور حدیثوں کے معنی ہمارے علماء کچھ اور بیان کرتے ہیں اور قادیانی کچھ اور سمجھتے ہیں اور اس طرح وہ لوگ قادیانیوں کو بھی مسلمانوں ہی کا ایک فرقہ جانیں۔
حالانکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں اور قادیانیوں کے اختلاف کی نوعیت دوسرے اسلامی فرقوں کے باہمی اختلاف سے بالکل مختلف ہے۔ قادیانی صاحبان ایک شخص کو نبی مانتے ہیں اور نبی کی طرح اس کی ہر بات اور ہر مسئلہ پر ایمان لانا ضروری سمجھتے ہیں اور جو شخص ان کو نہ مانے اس کو کافر سمجھتے ہیں جیسے کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کی ہر ہدایت اور ہر تعلیم کا ماننا اور اس پر ایمان لانا ضروری سمجھتے ہیں اور آپ ﷺ کے منکروں کو کافر جانتے ہیں تو قادیانیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف کی اصل بنیاد کوئی باریک علمی مسئلہ نہیں ہے۔ بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی کی شخصیت اور ان کا دعوائے نبوت ہے اور ہمارے نزدیک اس کی جانچ پڑتال کا سیدھا راستہ یہی ہے جو میں نے آپ کے سامنے رکھا ہے اور اس لئے میرا یہ اصول ہے کہ اگر کوئی شخص قادیانیت کے بارہ میں کچھ بات کرنا چاہے اور میں اس سے کچھ کہنا مفید اور مناسب سمجھوں تو پہلے یہی اصولی باتیں اس کے سامنے رکھ دیتا ہوں۔ اگر اس میں کچھ بھی حق پرستی ہوتی ہے تو ان سیدھی سادی اور بالکل صاف بدیہی باتوں کے سامنے آ جانے کے بعد اس کا ذہن مرزا قادیانی کے بارہ میں بالکل صاف ہو جاتا ہے اور وہ اپنے اس اطمینان کا اظہار کر دیتا ہے کہ اب میں مرزا قادیانی کو کاذب اور مفتری سمجھتا ہوں (جیسا کہ ان باتوں کے سامنے آنے کے بعد سمجھنا چاہئے) پھر اگر وہ حیات و ممات مسیح کے بارہ میں بھی بات کرنے اور سمجھنے کا خواہش مند ہوتا ہے تو میں اس کے سمجھانے کی بھی کوشش کرتا ہوں اور اگر مرزا قادیانی کے بارہ میں اس کا ذہن صاف نہیں ہوتا اور وہ ان سے اپنی بے زاری ظاہر نہیں کرتا تو میں سمجھ لیتا ہوں کہ یہ شخص نہایت ہٹ دھرم ہے اور اس میں قبول حق کی بالکل صلاحیت نہیں ہے۔ پھر اس سے بات کرنے میں اپنا وقت ضائع کرنا میں بالکل درست نہیں سمجھتا اور خوامخواہ اپنی قابلیت اور ہمہ دانی کے اظہار کے لئے وقت خراب نہیں کرتا۔
ہاں ! پہلے ایک زمانے میں جب اپنے وقت کی اتنی قیمت نہیں سمجھتا تھا تو ایسا بھی کر لیا کرتا تھا اور صرف بحث کے لئے اور دوسرے کو قائل کرنے کے لئے بھی وقت صرف کر دیا کرتا تھا۔ لیکن اب میں اپنا وقت صرف ضروری اور مفید کاموں ہی پر صرف کرنا چاہتا ہوں۔ اس لئے آپ حضرات سے بھی میں یہی کہتا ہوں کہ اگر میری اس گفتگو کے بعد مرزا قادیانی کی شخصیت کے بارے میں آپ کا ذہن صاف ہو گیا ہو اور آپ کے دل نے ان باتوں کو قبول کر لیا ہو جو میرے نزدیک بالکل قطعی اور بدیہی ہیں تو بسم اللہ میں بڑی خوشی سے حیات مسیح کا مسئلہ سمجھانے کے لئے اسی طرح اور ابھی تیار ہوں اور انشاء اللہ آپ اس کے بارہ میں بھی ابھی مطمئن ہو جائیں گے۔ لیکن اگر آپ سب کچھ سننے کے بعد بھی مرزا قادیانی کو ”حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ
والسلام“ ہی مانتے ہوں تو پھر میں یہ سمجھتا ماننے کا آپ کا ارادہ ہی نہیں ہے۔ ایسی ص مزید وقت صرف کرنا میں صحیح نہیں سمجھوں گ اچھے کاموں پر صرف ہوتا ہے اور جن کا مع اور اپنے کو بچانے کی کوشش کرتا ہوں۔
حدیث شریف میں یہ ہے ک
(مسند احمد ج ٣ ص ٢٥٩ حدیث ٢٣٧
کمال یہ ہے کہ وہ ان کاموں میں نہ پڑے
اس کے بعد ان ہی قادیانی ص موعود کے متعلق بیان کی ہیں ان سب کا مجم
ہمارے جن عالموں کا یہ کام ہے وہ آپ کریں۔ ہم اپنے کسی عالم کو بلانے کا انتظا
میں نے کہا یعنی آپ مناظرہ
میں نے کہا قادیانی مناظرین میں نے کافی تجربہ کیا ہے۔ ان میں قبول دھرم ہوتے ہیں جو کچھ میں نے مرزا قاد باتوں کو خوب جانتا ہے۔ لیکن اس کے با اور یہی ثابت کرنا چاہتا ہے۔ اس لئے ا مناظر اب ایسا نہیں ہے جو خدا کے سام جانتا: ”قد تبين الرشد من الغي
کچھ میں نے مرزا قادیانی کے متعلق کہا و ایک بات کا بھی آپ کے ذہن میں کوئی ابھی تک آپ بے تکلف مرزا قادیانی کو ہٹ دھرمی ہے جس کے تجربہ کے بعد ہم آپ میں حق پرستی کا کوئی ذرہ بھی ہوتا تو تو مرزا قادیانی ہرگز نبی یا مسیح موعود نہیں
والسلام“ ہی مانتے ہوں تو پھر میں یہ سمجھتا ہوں کہ آپ حق کے متلاشی نہیں ہیں اور سچی بات کے ماننے کا آپ کا ارادہ ہی نہیں ہے۔ ایسی حالت میں صرف اپنی قابلیت جتانے کے لئے آپ پر مزید وقت صرف کرنا میں صحیح نہیں سمجھوں گا۔ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے اس کی توفیق سے میرا وقت اچھے کاموں پر صرف ہوتا ہے اور جن کاموں کو میں لایعنی سمجھتا ہوں حتی الامکان ان سے بچنے کی اور اپنے کو بچانے کی کوشش کرتا ہوں۔
حدیث شریف میں ہے کہ: ”من حسن اسلام المرء ترکه مالا يعنيه (مسند احمد ج ٣ ص ٢٥٩ حدیث ١٧٣٧) ”یعنی کسی آدمی کے مسلمان ہونے کی خوبی اور اس کا کمال یہ ہے کہ وہ ان کاموں میں نہ پڑے جو مفید نہ ہوں۔
اس کے بعد ان ہی قادیانی صاحب نے کہا کہ جو باتیں آپ نے حضرت اقدس مسیح موعود کے متعلق بیان کی ہیں ان سب کا بھی جواب ہے۔ لیکن وہ جواب ہم نہیں دے سکتے۔ بلکہ ہمارے جن عالموں کا یہ کام ہے وہ آپ کو جواب دیں گے۔ لہٰذا اس کے لئے کوئی وقت مقرر کریں۔ ہم اپنے کسی عالم کو بلانے کا انتظام کریں گے۔
میں نے کہا یعنی آپ مناظرہ کے لئے میرا وقت چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا جی ہاں!
میں نے کہا قادیانی مناظرین کو میں خوب جانتا ہوں۔ اپنے پرانے زمانے میں ان کا میں نے کافی تجربہ کیا ہے۔ ان میں قبول حق کی ادنیٰ صلاحیت نہیں ہوتی۔ وہ انتہائی درجہ کے ہٹ دھرم ہوتے ہیں جو کچھ میں نے مرزا قادیانی کے متعلق آپ کو بتایا ہے ہر قادیانی مناظر ان سب باتوں کو خوب جانتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود وہ مرزا قادیانی کا کلمہ پڑھتا ہے۔ ان کو نبی مانتا ہے اور نبی ثابت کرنا چاہتا ہے۔ اس لئے ان پر اتمام حجت بھی ہمارے ذمہ نہیں رہا۔ کوئی قادیانی مناظر اب ایسا نہیں ہے جو خدا کے سامنے یہ کہہ سکے کہ میں مرزا قادیانی کے ان پہلوؤں کو نہیں جانتا: ”قد تبین الرشد من الغی (البقرہ:٢٥٦)“ اور اس کا نمونہ آپ خود موجود ہیں۔ جو کچھ میں نے مرزا قادیانی کے متعلق کہا وہ سب آپ نے ان کی کتابوں سے سنا اور ان میں سے کسی ایک بات کا بھی آپ کے ذہن میں کوئی جواب اور کوئی معقول تاویل نہیں ہے۔ اس کے باوجود ابھی تک آپ بے تکلف مرزا قادیانی کو حضرت اقدس مسیح موعود کہتے ہیں۔ دراصل یہی وہ کھلی ہوئی ہٹ دھرمی ہے جس کے تجربہ کے بعد ہم ایسے لوگوں پر زیادہ وقت صرف کرنا فضول سمجھتے ہیں۔ اگر آپ میں حق پرستی کا کوئی ذرہ بھی ہوتا تو آپ کم از کم یہ کہتے کہ یہ باتیں تو ایسی ہیں کہ اگر یہ صحیح ہیں تو مرزا قادیانی ہرگز نبی یا مسیح موعود نہیں ہو سکتا۔ لیکن ہم اس پر ذرا غور کریں گے اور تحقیق کریں
گے ۔ لیکن آپ کا حال یہ ہے کہ یہ سب سننے کے بعد بھی آپ ان کو نبی اور مسیح موعود ہی مانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگرچہ ہم جواب نہیں دے سکتے مگر ان باتوں کا جواب ہے ضرور اور وہ ہمارے مناظر صاحب دے سکیں گے ۔
دراصل یہی وہ ذہنیت ہے جس کے بعد قبول حق کی توفیق نہیں ہوتی اور آپ کے مناظرین میں یہ بات آپ سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ اس لئے میں تو ان کو بالکل اس لائق نہیں سمجھتا کہ ان سے گفتگو میں پانچ منٹ بھی اپنے صرف کروں۔ اگر چہ ایک زمانہ میں اس کام کا بھی شوق تھا۔ لیکن اب میں اس کو اپنے وقت کی اضاعت سمجھتا ہوں۔ اگر واقعی اللہ کا کوئی بندہ طالب تحقیق ہو تو اس کی خدمت کرنا اور اس پر وقت صرف کرنا اپنا فرض ہے اور اس کے لئے یہ عاجز ہر وقت حاضر ہے اور حیات مسیح کا مسئلہ ہو یا اجرائے نبوت کا ۔ الحمدللہ ! ان میں سے کسی مسئلہ پر بھی مجھے کسی تیاری کی بھی ضرورت نہیں۔ لیکن آپ کے مناظرین کو میں بالکل اس کا اہل نہیں سمجھتا کہ ان سے گفتگو پر وقت صرف کروں۔ آپ نے جو کچھ مجھ سے سنا اللہ تعالیٰ توفیق دے تو بس اس پر غور کیجئے اور مرزا قادیانی کی شخصیت کو سمجھنے کی ضرور کوشش کیجئے اور ان کو سمجھنے کا سیدھا راستہ وہی ہے جو میں نے آپ کے سامنے پیش کیا ہے۔ اس میں آپ کو اگر اپنے مناظرین سے بات کرنے کی ضرورت محسوس ہو تو ان سے بات کیجئے ۔ لیکن مجھے ان سے بات کرنے کی ضرورت نہیں۔ میں انہیں اور ان کی بوتوں کو خوب جانتا ہوں ۔
نوٹ !
یہ گفتگو اپنے حافظہ کی مدد سے اور ان نوٹوں کی مدد سے جو اپنی عادت کے مطابق گفتگو سے چند منٹ پہلے کاغذ کے ایک پرچہ پر لکھ لئے تھے کئی ہفتے کے بعد تحریر میں لائی گئی تھی۔ اس لئے اس میں کافی امکان ہے کہ کوئی بات مجلس میں زیادہ تفصیل سے کہی گئی ہو اور اس تحریر میں اتنی تفصیل سے نہ آئی ہو یا کوئی بات وہاں زیادہ تفصیل سے نہ کہی گئی ہو اور یہاں اس کا بیان زیادہ تفصیل سے ہو گیا ہو۔ اسی طرح الفاظ وطرز بیان میں بھی جابجا یقیناً فرق ہو گیا ہوگا ۔
لیکن اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ خاص کر اس لئے بھی کہ مقصد اس مجلس کی روداد سنانا نہیں ہے بلکہ قادیانیت کے متعلق غور کرنے کا جو اصولی راستہ اس مجلس میں پیش کیا گیا تھا بس اس کو قلمبند کر کے شائع کر دینا مقصود ہے ۔ تاکہ بوقت ضرورت اللہ کے بندے اس سے کام لے سکیں ۔ واللہ یہدی من یشاء الی صراط مستقیم !
محمد منظور نعمانی عفا اللہ عنہ!
محمد
خاتم النبیین
لا نبی بعدی
قادیانی
مسلمان نہیں
حضرت مولانا محمد
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں
قادیانی کیوں
مسلمان نہیں؟
حضرت مولانا محمد منظور نعمانیؒ
١......قادیانی کیوں مسلمان نہیں؟۔
بسم الله الرحمن الرحيم الحمدلله وسلام على عباده الذين اصطفى اسلام حق تعالیٰ شانہ کا آخری پیغام آسمانی ہے۔ جو انسانیت کی فلاح و سعادت کے لئے نبی آخر الزمان حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوا اور جو تواتر اور تسلسل کے ساتھ منتقل ہوتا ہوا ہم تک پہنچا۔ پس جو خوش بخت اسلام کی ایک ایک بات کو دل و جان سے مانتے ہیں وہ مسلمان ہیں اور جو لوگ ان متواترات میں سے کسی ایک کا انکار کرتے ہیں یا ان کے متواتر مفہوم کا انکار کرتے ہیں وہ غیر مسلم کہلاتے ہیں۔ مثلاً قرآن کریم کو اول سے آخر تک لفظاً و معنی ماننا اسلام کی شرط ہے اور اس کے ایک لفظ یا متواتر مفہوم کا انکار کفر ہے۔
قادیانی فرقہ جو باجماع امت خارج از اسلام ہے۔ اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ اس نے اسلام کے بے شمار متواترات میں غلط تاویلیں کر کے ان کے مفہوم کو بدل ڈالا ہے۔ ان میں دو عقیدے زیادہ مشہور ہیں۔ ایک ختم نبوت، دوسرے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول۔ یہ دونوں دین اسلام کے ایسے قطعی اور متواتر عقیدے ہیں کہ گذشتہ صدیوں کے تمام اکابر ان کو تواتر و تسلسل کے ساتھ نقل کرتے چلے آئے ہیں۔
ان دونوں عقیدوں پر بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ مگر ہمارے مخدوم حضرت مولانا محمد منظور نعمانی نے ان دونوں مسائل پر ایسے عام فہم انداز میں قلم اٹھایا ہے کہ متوسط ذہن کے آدمی کو بھی ان کے سمجھنے میں کوئی الجھن نہیں رہ جاتی۔ ہم اس رسالہ کو شائع کرتے ہوئے انصاف پسند قادیانیوں کو بھی دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنی غلطی کی اصلاح کریں اور اس نور سے روشنی حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ محمد یوسف لدھیانوی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان پاکستان ٣٠ ذو الحجہ ١٣٩٩ھ ٢٠ نومبر ١٩٧٩ء
عرض ناشر!
بسم الله الرحمن الرحيم! الحمدلله وحده والصلوة والسلام على من لا نبي بعده!
یہ چھوٹی سی کتاب جو آپ کے ہاتھ میں ہے۔ قادیانیوں اور قادیانیت سے متعلق حضرت مولانا محمد منظور نعمانی مدظلہ مدیر الفرقان لکھنؤ کے چند اہم مضامین اور مقالات کا مجموعہ ہے۔ جن ٢
...... قادیانی کیوں مسلمان نہیں؟۔
بسم الله الرحمن الرحيم! الحمد للہ وسلام على عباده الذين اصطفى!
لی شانہ کا آخری پیغام آسمانی ہے۔ جو انسانیت کی فلاح و سعادت کے ت محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوا اور جو تواتر اور تسلسل کے ساتھ منتقل ہوتا ش بحیثیت اسلام کی ایک ایک بات کو دل و جان سے مانتے ہیں وہ مسلمان ات میں سے کسی ایک کا انکار کرتے ہیں یا ان کے متواتر مفہوم کا انکار اتے ہیں۔ مثلاً قرآن کریم کو اوّل سے آخر تک لفظاً و معنی ماننا اسلام کی فظ یا متواتر مفہوم کا انکار کرے۔ جو باجماع امت خارج از اسلام ہے۔ اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ اس نے امت میں غلط تاویلیں کر کے ان کے مفہوم کو بدل ڈالا ہے۔ ان میں دو ۔ ایک ختم نبوت ، دوسرے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ۔ یہ دونوں اور متواتر عقیدے ہیں کہ گزشتہ صدیوں کے تمام اکابر ان کو تواتر و تسلسل تے ہیں۔ یدوں پر بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ مگر ہمارے مخدوم حضرت مولانا محمد مسائل پر ایسے عام فہم انداز میں قلم اٹھایا ہے کہ متوسط ذہن کے آدمی کو الجھن نہیں رہ جاتی۔ ہم اس رسالہ کو شائع کرتے ہوئے انصاف پسند تے ہیں کہ وہ اپنی غلطی کی اصلاح کریں اور اس نور سے روشنی حاصل کریں ۔ وما توفیقی الا بالله۔
محمد یوسف لدھیانوی ! مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان پاکستان ! ٣٠ ذی الحجہ ١٣٩٩ھ ..... ٢٠ نومبر ١٩٧٩ء
عرض ناشر !
بسم الله الرحمن الرحيم! وحده والصلوة والسلام على من لا نبي بعده!
یہ کتاب جو آپ کے ہاتھ میں ہے۔ قادیانیوں اور قادیانیت سے متعلق بانی مدیر 'الفرقان' لکھنؤ کے چند ان مضامین اور مقالات کا مجموعہ ہے۔ جن ٢
میں اس کا خاص اہتمام کیا گیا ہے کہ جو کچھ لکھا جائے ایسے عام فہم پیرایہ میں لکھا جائے کہ معمولی پڑھے لکھے لوگ بھی آسانی سے سمجھ سکیں اور ان مسائل کے بارے میں جن پر ان مضامین میں گفتگو کی گئی ہے۔ اطمینان حاصل کر سکیں۔
پہلا مضمون ”اسلام اور قادیانیت“ اگست ١٩٧٤ء میں الفرقان کے افتتاحیہ کے طور پر اس وقت لکھا گیا تھا۔ جب پاکستان کے ہر طبقہ اور مکتب خیال کے علماء عوام ایک عوامی تحریک کی شکل میں وہاں کی حکومت سے مطالبہ کر رہے تھے کہ قادیانیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا جائے اور ہندوستان میں خاص کر غیر مسلموں کے اخبارات اس کے خلاف آواز اٹھا رہے تھے اور بعض ایسے لوگ بھی مخالفانہ بیانات دے رہے تھے ۔ جو اگرچہ مسلمان گھرانوں میں پیدا ہوئے ۔ لیکن اسلام کی حقیقت اور اس کے حدود سے وہ اتنے ہی ناواقف ہیں جتنے کہ عام پڑھے لکھے غیر مسلم ۔ حضرت مولانا منظور نعمانی نے ان سب حضرات کی غلط فہمی دور کرنے کے لئے اس وقت یہ مختصر مضمون لکھا تھا اور اسلام کی حقیقت اور حدود واضح کر کے یہ دکھلایا تھا کہ قادیانیت اور اسلام ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔
دوسرا مضمون ”قادیانی کیوں مسلمان نہیں؟ ۔“ اس وقت لکھا گیا جب پاکستان کی قومی اسمبلی نے ستمبر ١٩٧٤ء میں متفقہ طور پر ایک دستوری ترمیم کے ذریعہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا۔ اس مضمون میں اسی مسئلہ پر اس طرح روشنی ڈالی گئی ہے کہ کسی کے لئے شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہی اور مسئلہ آفتاب نیمروز کی طرح روشن ہو گیا۔
تیسرا مضمون ہے ”قادیانی اور ایک دانشور طبقہ“ یہ دراصل ایک مضمون کا تنقیدی جائزہ اور جواب ہے۔ جو ”الجمعیۃ دہلی“ کے سابق ایڈیٹر مولانا محمد عثمان فارقلیط صاحب کے نام سے دہلی سے شائع ہونے والے ماہنامہ ”شبستان“ میں شائع ہوا تھا اور اسی کے حوالہ سے قادیانیوں کے مختلف اخبارات و رسائل میں نقل ہوا تھا۔ اس میں قادیانیوں کو مسلمان قرار دیئے جانے کی بڑے گمراہ کن انداز میں وکالت کی گئی تھی۔ مولانا نعمانی نے اپنے اس جوابی مضمون میں گویا دن کی روشنی میں دکھلا دیا ہے کہ قادیانیوں کی وکالت میں جو کچھ ”شبستان“ والے مضمون میں لکھا گیا ہے وہ جہالت اور آبلہ فریبی کا شاہکار ہے۔
”خدا کا شکر ہے کہ بعد میں خود مولانا محمد عثمان فارقلیط نے اپنے ایک بیان کے ذریعے یہ وضاحت کر دی کہ وہ مضمون شبستان میں غلط طور سے ان کے نام سے شائع ہو گیا ہے وہ دراصل ٣
کچھ دانشوروں کا مرتب کیا ہوا مضمون تھا۔ فارقلیط صاحب نے اپنے اس اخباری بیان میں صراحت کے ساتھ اس کا بھی ذکر فرمایا ہے کہ مولانا نعمانی نے ”شبستان“ میں شائع ہونے والے اس مضمون کے جواب میں جو کچھ ”الفرقان“ میں لکھا ہے وہ درست ہے اور ان کو اس سے اتفاق ہے۔ فارقلیط صاحب کا یہ بیان ٢٥؍جنوری ١٩٧٥ء کے روزنامہ دعوت دہلی میں بھی شائع ہوا تھا۔
”شبستان دہلی“ میں شائع ہونے والے اس مضمون میں جس کا ذکر اوپر کی سطروں میں کیا گیا ہے۔ ”نزول مسیح“ کے مسئلہ پر بھی گفتگو کی گئی تھی۔ حضرت مولانا نعمانی نے اس پر بھی مستقل مضمون سپرد قلم فرمایا۔ وہی اس مختصر مجموعہ کا چوتھا اور آخری مضمون ہے۔ اس کا عنوان ہے ”مسئلہ نزول مسیح و حیات مسیح“ اللہ تعالیٰ اس رسالہ کو اپنے ان بندوں کے خیالات کی تصحیح اور اصلاح کا ذریعہ بنائے جو ان مسائل کے بارے میں شکوک و شبہات اور غلط فہمیوں میں مبتلا ہیں اور اس کو قبول فرمائے۔ ناچیز! ناظم کتب خانہ الفرقان لکھنؤ ....... جون ١٩٧٥ء
اسلام اور قادیانیت
یہ مختصر مضمون ”الفرقان“ کے افتتاحیہ کے طور پر اگست ١٩٧٤ء میں اس وقت لکھا گیا تھا جب پاکستان کے ہر طبقہ اور مکتب خیال کے علماء اور عوام کی طرف سے ایک عوامی تحریک کی شکل میں وہاں کی حکومت سے مطالبہ کیا جارہا تھا کہ قادیانیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے اور ہندوستان میں خاص کر غیر مسلموں کے اخبارات مسلسل اس کے خلاف لکھ رہے تھے اور مسلمانوں میں سے بھی کچھ ایسے لوگ جو غیر مسلموں ہی کی طرح اسلام سے ناواقف ہیں، مخالفانہ بیانات دے رہے ہیں۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
پاکستان میں قادیانیوں کو ”غیر مسلم اقلیت“ قرار دیئے جانے کا جو مسئلہ اٹھا ہوا ہے۔ اگر چہ وہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے اور اپنی مخصوص نوعیت کے لحاظ سے مسلمانوں کا خالص دینی مذہبی علمی مسئلہ ہے۔ جس کے بارے میں وہی لوگ سوچ سمجھ سکتے ہیں۔ جو اسلام کی حقیقت اور اس کے حدود سے واقفیت رکھتے ہوں۔ مگر اس کے باوجود ہمارے ملک کے انگریزی، ہندی اور اردو کے اخبارات بھی جو غیر مسلم حضرات کی ادارت و سر براہی اور ان ہی کے انتظام میں چل رہے ہیں۔ جن کی واقفیت اسلام کے بارے میں صفر سے زیادہ نہیں ہے۔ اپنے کو اس مسئلہ میں اظہار رائے کا حق دار سمجھ کر اس بحث میں حصہ لے رہے ہیں۔
٤
بعض ایسے اردو رسالوں میں بھی صرف تفریحی اور مقصد کے لحاظ سے خالص ت دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔
افسوس ہے کہ ان پڑھے لکھے لوگ مسئلہ میں ضروری علم و واقفیت کے بغیر حصہ لین اور اس مسئلہ میں وہ جو کچھ لکھ رہے ہیں وہ کسی
آج اسی موضوع سے متعلق چند ا اسلام کسی نسل اور ذات برادری مذہب کہا جاسکے ) کچھ معاشرتی رسوم یا کسی ہے۔ جس میں عقیدہ کی کوئی اہمیت نہیں۔ ویدوں کو مقدس الہامی کتاب ماننے والے مورتی پوجا کرنے والے سناتن دھرمی بھی سماجی بھی ہندو۔ ایشور اور خدا کو ماننے والے میں ہمارے ملک کے عظیم لیڈر پنڈت جواہ مذہب بھی عجیب ہے۔ اس سے کسی طرح پ ہوں۔ کسی مذہب کو نہ مانوں جب بھی ہندو
الغرض اسلام اس طرح کا کوئی لئے کچھ متعین عقائد اور ہدایات کا قبول ک کے بغیر کوئی شخص مسلمان نہیں ہوسکتا۔ اگر ہے کہ وہ ایسی کسی چیز کا منکر نہ ہو جس مسلسل تواتر سے ثابت اور معلوم ہو چکا ہ نے اس کی تعلیم امت کو دی تھی۔ علماء فقہ
- ١۔ بہت عرصہ گذرا پنڈت نہرو
ایڈیشن میں پڑھی تھی۔ اس وقت یادداشت ہے مطلب یہ تھا۔
لیا ہوا مضمون تھا۔ فارقلیط صاحب نے اپنے اس اخباری بیان میں بھی ذکر فرمایا ہے کہ مولانا نعمانی نے ” شبستان “ میں شائع ہونے والے جو کچھ ’الفرقان‘ میں لکھا ہے وہ درست ہے اور ان کو اس سے اتفاق بیان ٢٥/ جنوری ١٩٧٥ء کے روزنامہ دعوت دہلی میں بھی شائع ہوا تھا۔ ” میں شائع ہونے والے اس مضمون میں جس کا ذکر اوپر کی سطروں میں کے مسئلہ پر بھی گفتگو کی گئی تھی۔ حضرت مولانا نعمانی نے اس پر بھی یا۔ وہی اس مختصر مجموعہ کا چوتھا اور آخری مضمون ہے۔ اس کا عنوان ہے ع ’اللہ تعالیٰ اس رسالہ کو اپنے ان بندوں کے خیالات کی تصحیح اور اصلاح ئل کے بارے میں شکوک وشبہات اور غلط فہمیوں میں مبتلا ہیں اور اس کو ناچیز! ناظم کتب خانہ الفرقان لکھنؤ ..... جون ١٩٧٥ء
الفرقان‘ کے افتتاحیہ کے طور پر اگست ١٩٧٤ء میں اس وقت لکھا گیا تھا اور مکتب خیال کے علماء اور عوام کی طرف سے ایک عوامی تحریک کی شکل مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ قادیانیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا خاص کر غیر مسلموں کے اخبارات مسلسل اس کے خلاف لکھ رہے تھے اور ایسے لوگ جو غیر مسلموں ہی کی طرح اسلام سے ناواقف ہیں۔ مخالفانہ
بسم الله الرحمن الرحيم!
قادیانیوں کو ” غیر مسلم اقلیت “ قرار دیئے جانے کا جو مسئلہ اٹھا ہوا ہے۔ معاملہ ہے اور اپنی مخصوص نوعیت کے لحاظ سے مسلمانوں کا خالص دینی کے بارے میں وہی لوگ سوچ سمجھ سکتے ہیں۔ جو اسلام کی حقیقت اور رکھتے ہوں۔ مگر اس کے باوجود ہمارے ملک کے انگریزی، ہندی اور مسلم حضرات کی ادارت وسر براہی اور ان ہی کے انتظام میں چل رہے کے بارے میں صفر سے زیادہ نہیں ہے۔ اپنے کو اس مسئلہ میں اظہار ث میں حصہ لے رہے ہیں۔
٤
بعض ایسے اردو رسالوں میں بھی اس مسئلہ سے متعلق مضامین شائع ہورہے ہیں جو صرف تفریحی اور مقصد کے لحاظ سے خالص تجارتی اور کاروباری ہیں اور جن کا دین ومذہب سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔
افسوس ہے کہ ان پڑھے لکھے لوگوں کو اس کا بالکل احساس نہیں کہ ایک خالص دینی مسئلہ میں ضروری علم و واقفیت کے بغیر حصہ لینا کتنی بڑی بے اصولی اور کیسی غیر ذمہ دارانہ بات ہے اور اس مسئلہ میں وہ جو کچھ لکھ رہے ہیں وہ کس قدر مہمل اور غیر منطق ہے۔
آج اسی موضوع سے متعلق چند اصولی اور بنیادی باتیں حوالہ قلم کی جارہی ہیں۔ اسلام کسی نسل اور ذات برادری کا نام نہیں ہے اور ہندو مذہب کی طرح (اگر اس کو مذہب کہا جاسکے) کچھ معاشرتی رسوم یا کسی خاص طرز عبادت سے وابستگی کا نام بھی اسلام نہیں ہے۔ جس میں عقیدہ کی کوئی اہمیت نہیں۔ ہندو دنیا سے واقفیت رکھنے والا ہر شخص جانتا ہے کہ ویدوں کو مقدس الہامی کتاب ماننے والے بھی ہندو ہیں اور اس کا انکار کرنے والے بھی ہندو، مورتی پوجا کرنے والے سناتن دھرمی بھی ہندو ہیں اور مورتی پوجا کا کھنڈن کرنے والے آریہ سماجی بھی ہندو۔ ایشور اور خدا کو ماننے والے بھی ہندو ہیں اور اس کے قطعی منکر بھی ہندو۔ ایک زمانہ میں ہمارے ملک کے عظیم لیڈر پنڈت جواہر لال نہرو نے خود اپنا ذکر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ہندو مذہب بھی عجیب ہے۔ اس سے کسی طرح پیچھا نہیں چھوٹ سکتا۔ میں خدا کو نہ مانوں جب بھی ہندو ہوں۔ کسی مذہب کو نہ مانوں جب بھی ہندو ہوں ١؎ ۔
الغرض اسلام اس طرح کا کوئی مذہب اور دھرم نہیں ہے۔ بلکہ مسلمان ہونے کے لئے کچھ متعین عقائد اور ہدایات کا قبول کرنا اور ان کو برحق ماننا ضروری اور لازمی ہے۔ اس کے بغیر کوئی شخص مسلمان نہیں ہوسکتا۔ اگر چہ وہ پیغمبر کی اولاد ہو۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ ایسی کسی چیز کا منکر نہ ہو جس کے بارے میں ناقابل شک یقینی اور قطعی طریقہ سے اور مسلسل تواتر سے ثابت اور معلوم ہو چکا ہو اور امت کے عوام تک کو معلوم ہو کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کی تعلیم امت کو دی تھی۔ علماء فقہاء اور متکلمین کی خاص اصطلاح میں ایسی چیزوں کو
١؎ بہت عرصہ گذرا پنڈت نہرو کی یہ بات غالباً ان کی خود نوشت سوانح حیات کے اردو ایڈیشن میں پڑھی تھی۔ اس وقت یادداشت سے لکھا ہے۔ ان کے الفاظ جو بھی ہوں۔ پورا اطمینان ہے مطلب یہ تھا۔
٥
ضروریات دین کہا جاتا ہے۔ مثلاً یہ بات کہ اللہ ہی وحدہ لا شریک معبود ہے اور یہ کہ حضرت محمد ﷺ اس کے رسول ہیں اور قیامت و آخرت برحق ہے اور قرآن پاک اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب ہدایت ہے اور پانچ وقت کی نماز فرض ہے۔ کعبہ مسلمانوں کا قبلہ ہے۔ یہ سب ایسی باتیں ہیں جن کے بارے میں ہر وہ شخص جس کو اسلام اور رسول اللہ ﷺ کے متعلق کچھ بھی علم اور واقفیت ہے۔ یقین کے ساتھ جانتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان باتوں کی امت کو تعلیم دی تھی۔ اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے تو مسلمان ہونے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ ایسی کسی بات کا انکار نہ کرے۔ کیونکہ ایسی ایک بات کا انکار بھی بلاشبہ رسول اللہ ﷺ کی تعلیم و ہدایت کا انکار ہے۔ جس کے بعد اسلام سے رشتہ کٹ جاتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ سے جن باتوں کی تعلیم و ہدایت ایسے یقینی اور قطعی طریقہ سے مسلسل تواتر کے ساتھ ثابت ہے۔ جس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں اور جن کو امت کے عوام بھی جانتے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ نبوت کا سلسلہ آپ ﷺ پر ختم کر دیا گیا۔ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی مبعوث نہ ہوگا۔ جس قطعی اور یقینی طریقہ سے اور جس درجہ کے تواتر کے ساتھ امت کو یہ معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ نے خدا کی وحدانیت، اپنی رسالت، قیامت و آخرت اور قرآن مجید کے کتاب الہی ہونے اور پانچ نمازوں کی فرضیت اور خانہ کعبہ کے قبلہ ہونے کی تعلیم دی تھی۔ ویسے ہی قطعی اور یقینی طریقہ سے اور اسی درجہ کے تواتر کے ساتھ یہ معلوم اور ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے اپنے آخری نبی ہونے اور آپ ﷺ کے بعد کسی نبی کے مبعوث نہ ہونے کی بات پوری وضاحت اور صراحت کے ساتھ بتلائی تھی اور اس طرح بتلائی تھی کہ اس سے زیادہ وضاحت و صراحت کا کوئی امکان نہیں ١؎۔ اس لئے رسول اللہ ﷺ کے بعد صدیق اکبرؓ کے زمانہ خلافت سے لے کر ہمارے دور تک امت کا اس پر اجماع اور اتفاق رہا کہ جس طرح توحید و رسالت اور قیامت و آخرت اور قرآن کے کلام اللہ ہونے کا منکر، پنجگانہ نمازوں کی فرضیت اور کعبہ کے قبلہ ہونے کا منکر، مسلمان نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والا یا اس کے دعوے اور دعوت کو قبول کر کے اس پر ایمان لانے والا مسلمان نہیں
١؎ اگر کسی کو اس بارہ میں علمی اطمینان حاصل کرنے کی ضرورت ہو تو وہ کم از کم حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب دیوبندیؒ ( مقیم کراچی) کا رسالہ ہدایۃ المہدیین (عربی) یا رسالہ ختم النبوۃ (اردو) کا مطالعہ کرے۔
٦
ہو سکتا ۔ اگر وہ پہلے مسلمان تھا تو اس کو دائرہ اسلام سے خارج اور مرتد قرار دیا جائے گا اور اس کے ساتھ مرتدوں والا معاملہ کیا جائے گا۔ امت کی پوری تاریخ میں عملاً بھی یہی ہوتا رہا ہے۔ سب سے پہلے صدیق اکبرؓ اور تمام صحابہ کرامؓ نے نبوت کے مدعی مسیلمہ کذاب اور اس کے ماننے والوں کے بارہ میں یہی فیصلہ کیا۔ حالانکہ تاریخی روایت میں محفوظ ہے کہ وہ لوگ توحید اور رسالت محمدی کے قائل تھے۔ ان کے ہاں اذان ہوتی تھی اور اذان میں اشهد ان لا اله الا الله اور اشهد ان محمداً رسول الله بھی کہا جاتا تھا۔
(تاریخ الطبری ج ٢ ص ٢٧٩ طبع بیروت)
واضح رہے کہ اس مسئلہ کی بنیاد صرف یہ نہیں کہ قرآن مجید سورۃ احزاب میں رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین فرمایا گیا ہے کہ لغوی کج بحثیوں کے ذریعہ بے چارے ناواقفوں کے دلوں میں شک و شبہ پیدا کیا جائے ۔ اگرچہ واقعہ یہ ہے کہ خاتم بفتح تا ، خاتم بکسر تا کے مفہوم (آخری) کو اور زیادہ مبالغہ کے ساتھ ادا کرتا ہے اور سلسلہ نبوت کے ختم اور قطعی مہر بند ہو جانے اور حضور ﷺ کے بعد کسی نبی کے مبعوث نہ ہونے بلکہ نہ ہو سکنے کے عقیدہ اور تصور کو اور زیادہ محکم کر دیتا ہے۔ تاہم جیسا کہ عرض کیا گیا مسئلہ کی بنیاد قرآن مجید کا صرف یہ کلمہ نہیں ہے۔ بلکہ اس مسئلہ ختم نبوت اور انقطاع سلسلہ رسالت سے متعلق رسول اللہ ﷺ کے وہ ارشادات جن کی تعداد سینکڑوں تک پہنچتی ہے اور جو اس لفظ ”خاتم النبیین“ کی تشریح کرتے ہیں اور پھر مسلسل تواتر اور امت کا اجماع اور تعامل ان سب چیزوں کی وجہ سے مسئلہ کی نوعیت وہی ہو گئی ہے جو مثلاً عقیدہ توحید و رسالت، قیامت و آخرت اور نماز پنجگانہ کی فرضیت کی ہے اور ایسے کسی بھی مسئلہ کا انکار اگرچہ کسی تاویل کے ساتھ ہو، اسلام سے خارج کر دیتا ہے۔ اگر ایسے عقائد و مسائل کا تاویل سے انکار کر کے بھی آدمی مسلمان ہی رہے تو مطلب یہ ہوگا کہ اسلام کے بنیادی عقائد و تعلیمات اور ضروریات دین کی بھی کوئی متعین حقیقت نہیں ہے جس کا جو جی چاہے مطلب گڑھ لے۔
اب صرف یہ سوال رہ جاتا ہے کہ اس بارہ میں قادیانیوں کا موقف اور عقیدہ کیا ہے؟۔ کیا وہ ختم نبوت کے اس عقیدہ کے منکر ہیں اور مرزا غلام احمد قادیانی کو حقیقی اور شرعی معنی میں نبی مانتے ہیں یا اس لفظ اور تعبیر سے ان کا مطلب کچھ اور ہوتا ہے؟ ۔
اس کے جواب کے لئے کچھ زیادہ چھان بین اور ان کی بہت سی کتابوں کے مطالعہ کی ضرورت نہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے بیٹے اور خلیفہ دوم اور موجودہ خلیفہ (مرزا ناصر) کے والد مرزا بشیر الدین محمود صاحب کی صرف ایک کتاب حقیقت النبوۃ کا مطالعہ کافی ہے۔ یہ کتاب
٧
انہوں نے لاہوری پارٹی کے خلاف اور ان کی تردید میں لکھی ہے اور اس کا خاص موضوع اور مدعا یہی ہے کہ مرزا قادیانی اسی طرح اور اسی معنی میں نبی تھے۔ جس طرح کے اور جن معنوں میں انبیاء سابقین مثلاً حضرت موسیٰ و حضرت عیسیٰ علیہم السلام نبی تھے اور جس طرح ہر نبی کا منکر کافر ہوتا ہے۔ اسی طرح مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کا انکار کرنے والے اور ان کو نہ ماننے والے بھی کافر ہیں۔
(حقیقت النبوۃ ص ١٨٨، ١٨٩)
انشاء اللہ آئندہ شمارہ میں اس موضوع پر کچھ مزید تفصیل سے عرض کیا جائے گا۔ واللہ ولی التوفیق!
(الفرقان بابت ستمبر ١٩٧٤ء)
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
٢...... قادیانی کیوں مسلمان نہیں؟۔
٧؍ستمبر ١٩٧٤ء کو پاکستان کی قومی اسمبلی نے ایک دستوری ترمیم کے ذریعہ مرزا غلام احمد قادیانی کے ماننے والوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیتے ہوئے غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا ہے۔ اس کاروائی کے ذریعہ پاکستان کی قومی اسمبلی نے ایک ایسا اسلامی فریضہ ادا کیا ہے۔ جس پر اسے دلی مبارک باد دی جانی چاہئے۔ قادیانیت کا سرچشمہ پاکستان ہی میں ہے۔ وہیں سے سارے عالم میں فتنے کی تحریک اور پرورش ہورہی تھی۔ اس لئے پاکستان حکومت کا فرض تھا کہ وہ اس چشمے پر بند باندھے اور دنیا کے سارے انسانوں کو عموماً اور مسلمانوں کو خصوصاً آگاہ کردے کہ اسلام کی تبلیغ کے نام سے قادیانیت کی جو تبلیغ نہایت اعلیٰ وسائل کے ساتھ ہو رہی ہے۔ اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس کار خیر میں ”رابطہ عالم اسلامی“ (مکہ مکرمہ) کا بھی بڑا حصہ ہے کہ اس نے پاکستانی علمائے اسلام اور عامۃ المسلمین کے اس مسلسل مطالبے کو کہ قادیانیوں کو امت مسلمہ سے خارج قرار دیا جائے۔ اسلام کی مذہبی نمائندگی کی سطح پر ایک عالمی مطالبے کی حیثیت میں لاکر بہت باوزن اور پاکستانی حکومت کے لئے سنجیدگی کے ساتھ قابل توجہ بنا دیا۔ رابطہ کی یہ جدوجہد انشاء اللہ اس کی اہم ترین نیکیوں میں شمار ہوگی۔
قادیانی! جو تقریباً ایک صدی سے اپنے آپ کو اسلام کے ساتھ چپکائے رکھنے پر مصر تھے اور طرح طرح کی پرفریب دلیلوں سے اس حقیقت کو غلط ٹھہراتے تھے کہ وہ اسلام کے نام سے ایک نئے مذہب کے پیرو اور داعی ہیں۔ وہ پاکستان کی قومی اسمبلی کے اس فیصلے کے بعد یقیناً اور
٨
کے خلاف اور ان کی تردید میں لکھی ہے اور اس کا خاص موضوع اور مدعا طرح اور اسی معنی میں نبی تھے۔ جس طرح کے اور جن معنوں میں موسیٰ و حضرت عیسیٰ علیہم السلام نبی تھے اور جس طرح ہر نبی کا منکر کافر ام احمد قادیانی کی نبوت کا انکار کرنے والے اور ان کو نہ ماننے والے
(حقیقت النبوۃ ص ١٨٨، ١٨٩)
شمارہ میں اس موضوع پر کچھ مزید تفصیل سے عرض کیا جائے گا۔ واللہ
(الفرقان بابت ستمبر ١٩٧٤ء)
بسم الله الرحمن الرحيم!
.... قادیانی کیوں مسلمان نہیں ؟۔
پاکستان کی قومی اسمبلی نے ایک دستوری ترمیم کے ذریعہ مرزا غلام کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیتے ہوئے غیر مسلم اقلیت قرار دے ذریعہ پاکستان کی قومی اسمبلی نے ایک ایسا اسلامی فریضہ ادا کیا ہے۔ دی جانی چاہئے۔ قادیانیت کا سرچشمہ پاکستان ہی میں ہے۔ وہیں تحریک اور پرورش ہو رہی تھی۔ اس لئے پاکستان حکومت کا فرض تھا کہ دنیا کے سارے انسانوں کو عموماً اور مسلمانوں کو خصوصاً آگاہ کر دے ، قادیانیت کی جو تبلیغ نہایت اعلیٰ وسائل کے ساتھ ہو رہی ہے۔ اس کا اس کار خیر میں ’رابطہ عالم اسلامی‘ ( مکہ مکرمہ ) کا بھی بڑا حصہ ہے سلام اور عامۃ المسلمین کے اس مسلسل مطالبے کو کہ قادیانیوں کو امت ئے۔ اسلام کی مذہبی نمائندگی کی سطح پر ایک عالمی مطالبے کی حیثیت کستانی حکومت کے لئے سنجیدگی کے ساتھ قابل توجہ بنا دیا۔ رابطہ کی یہ ترین نیکیوں میں شمار ہوگی۔
ایک صدی سے اپنے آپ کو اسلام کے ساتھ چپکائے رکھنے پر مصر دلیلوں سے اس حقیقت کو غلط ٹھہراتے تھے کہ وہ اسلام کے نام سے داعی ہیں۔ وہ پاکستان کی قومی اسمبلی کے اس فیصلے کے بعد یقیناً اور
٨
زور و شور سے اپنی مظلومیت کا رونا روئیں گے اور ناواقف مسلمانوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کریں گے کہ انہیں اسلام سے خارج قرار دینا ایک صریح زیادتی ہے۔ اس لئے ضرورت ہے کہ پاکستان میں جس بنیاد پر ان کو غیر مسلم قرار دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس بنیاد کی ایک عام فہم تشریح کر دی جائے تاکہ کوئی سچا مسلمان اس معاملے میں کسی غلط فہمی کا شکار نہ ہونے پائے۔ تشریح کے سلسلے میں چند بنیادی باتیں پہلے سمجھنے کی ہیں۔
پہلا نکتہ: اس سلسلے میں سب سے پہلے سمجھنے کی بات یہ ہے کہ جو دینی حقیقتیں اور دینی باتیں رسول اللہ ﷺ سے ہم تک پہنچی ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر تو وہ ہیں جن کے بارے میں اگرچہ ہمیں اطمینان ہے کہ ان کا ثبوت اس درجہ کا ہے کہ ہمارے لئے ان کا ماننا اور اگر وہ عمل سے متعلق ہیں تو ان پر عمل کرنا ضروری ہے۔ لیکن پھر بھی ان کا ثبوت ہر قسم کے احتمال و تشکیک اور اشتباہ و التباس سے بالاتر ایسا یقینی اور قطعی اور بدیہی نہیں ہے کہ ہم ان کے نہ ماننے کو قطعیت کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی بات کا نہ ماننا کہہ سکیں اور اس کو کفر و انکار قرار دے سکیں۔ دین و شریعت کے زیادہ تر اجزاء و عناصر کا یہی حال ہے۔
لیکن کچھ دینی حقیقتیں اور دینی باتیں ایسی بھی یقیناً ہیں۔ جن کی حیثیت یہ ہے کہ مثلاً جس درجہ کے یقینی اور غیر مشکوک ذرائع سے اور جس کے تواتر سے ہم کو یہ معلوم ہوا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا اور اللہ کے پیغمبر کی حیثیت سے ایک دین کی طرف اپنے زمانہ کے لوگوں کو بلایا تھا۔ اسی درجہ کی نقل و روایت اور اسی قسم کے تواتر سے ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ ﷺ نے اپنی دینی ہدایت اور دعوت کے سلسلے میں یہ چیزیں خاص طور سے فرمائی تھیں۔ مثلاً یہ بات کہ آپ ﷺ نے ”لا الہ الا اللہ “ یعنی توحید کی دعوت دی تھی اور بت پرستی کو شرک قرار دیا تھا۔ اور مثلاً یہ بات کہ آپ ﷺ نے قرآن پاک کو کتاب اللہ کی حیثیت سے پیش کیا تھا ... اور مثلاً یہ بات کہ آپ ﷺ قیامت کا آنا بیان فرماتے تھے ... اور یہ بات کہ آپ ﷺ نماز، زکوٰۃ، روزہ اور حج کا حکم دیتے تھے۔ تو یہ اور ان جیسی بہت سی دینی حقیقتیں ہیں۔ جن کا ثبوت ہر قسم کے وہم و شک اور احتمال و تشکیک سے بالاتر اسی درجہ کے تواتر سے ہم تک پہنچا ہے۔ جس درجہ کے تواتر سے رسول اللہ ﷺ کی نبوت و رسالت کی دعوت پہنچی ہے اور ہر دور میں امت کے تمام طبقات میں ان کی ایسی ہی شہرت رہی ہے۔
٩
الغرض رسول اللہ ﷺ سے ان دینی حقیقتوں کا ثبوت ایسی یقینی قطعی اور بدیہی ہے کہ ان کا نہ ماننا بلاشبہ پیغمبر خدا ﷺ کی بیان فرمودہ حقیقت کا نہ ماننا ہے۔
خالص علمی اور دینی اصطلاح میں دین کی ایسی حقیقتوں کو ”ضروریات دین“ کہتے ہیں۔
دوسرا نکتہ: اس کے بعد ہمیں عرض کرنا ہے کہ جو شخص اسلام و کفر کے معنی وہی جانتا ہو۔ جو کتاب و سنت سے اور امت مسلمہ کے متواتر تعامل سے علماء سلف و خلف نے اب تک سمجھے ہیں۔ اس کو غالباً اس بات سے اختلاف اور انکار نہ ہوگا کہ مومن و مسلم ہونے کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ ان ”ضروریات دین“ میں سے کسی حقیقت کا منکر نہ ہو۔ اگر یہ بھی ضروری نہ ہو تو پھر اس کے معنی یہ ہوں گے کہ مومن و مسلم ہونے کے لئے سرے سے کسی حقیقت کا ماننا ضروری نہیں اور شاید اس سے زیادہ مہمل اور بے معنی بات دین کے بارے میں اور نہیں کہی جاسکتی۔
تیسرا نکتہ: اب فرض کیجئے کہ ان ہی دینی حقیقتوں میں سے (جن کو ضروریات دین کہا جاتا ہے) کسی حقیقت کے بارے میں ایک شخص کہتا ہے کہ میں اس کو مانتا ہوں۔ لیکن وہ اس کے معنی بالکل نئے گھڑتا ہے۔ مثلاً وہ کہتا ہے کہ میں ”لا الہ الا اللہ“ کو مانتا ہوں اور اگر گواہی دیتا ہوں کہ خدا ایک ہی ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ لیکن لوگوں نے جانا نہیں۔ وہ میں خود ہوں۔ میں نے اب اس شکل وصورت میں ظہور کیا ہے۔ جس میں تم مجھے دیکھ رہے ہو اور قرآن میری نازل کردہ کتاب ہے اور محمد ﷺ میرے بھیجے ہوئے رسول تھے۔ (معاذ اللہ)...... یا فرض کیجئے کہ وہ اپنے بارے میں یہ نہیں کہتا۔ بلکہ کسی مقبول ہستی کے بارے میں یہ بات کہتا ہے۔ یعنی ”لا الہ الا اللہ“ کو مانتے ہوئے وہ اس کا مصداق اس مقبول ہستی کو بتلاتا ہے۔ (جیسا کہ حضرت علی مرتضیٰ کے بارے میں غلو کرنے والے کچھ عقل باختوں کے متعلق نقل بھی کیا گیا ہے کہ وہ اپنے کو مسلمانوں میں شمار کرتے تھے۔ ”لا الہ الا اللہ“ پڑھتے تھے اور اللہ کا ظہور یا مصداق حضرت علی کو ٹھہراتے تھے)...... یا مثلاً فرض کیجئے کہ ایک شخص کہتا ہے کہ کلمہ ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ کو مانتا ہوں۔ لیکن اس کا مطلب وہ نہیں ہے جو عام مسلمان اب تک سمجھتے رہے۔ بلکہ اس کا مطلب (معاذ اللہ) یہ ہے کہ کوئی معبود نہیں۔ اللہ کے سوا اور وہ اللہ خود محمد ﷺ ہیں۔ جو رسول اللہ ﷺ کے روپ میں آگئے ہیں۔...... یا مثلاً ایک شخص قیامت کے بارے میں کہتا ہے کہ میں قیامت کو مانتا ہوں۔ لیکن اس کی حقیقت وہ نہیں ہے جو عام مسلمان سمجھے ہوئے ہیں اور خواہ مخواہ اس کے انتظار کی تکلیف اٹھا رہے ہیں۔ بلکہ اس کا مطلب صرف ایک دور کا خاتمہ اور
١٠
ﷺ سے ان دینی حقیقتوں کا ثبوت ایسی یقینی قطعی اور بدیہی ہے کہ آپ ﷺ کی بیان فرمودہ حقیقت کا نہ ماننا ہے۔ دینی اصطلاح میں دین کی ایسی حقیقتوں کو ”ضروریات دین“ کہتے ہیں۔
اس کے بعد ہمیں عرض کرنا ہے کہ جو شخص اسلام و کفر کے معنی وہی جانتا ہو۔ جو امت مسلمہ کے متواتر تعامل سے علماء سلف و خلف نے اب تک سمجھے ہیں۔ جس میں اختلاف اور انکار نہ ہوگا کہ مومن و مسلم ہونے کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ دین کی کسی حقیقت کا منکر نہ ہو۔ اگر یہ بھی ضروری نہ ہو تو پھر اس کے معنی یہ ہیں کہ اسلام کے لئے سرے سے کسی حقیقت کا ماننا ضروری نہیں اور شاید اس سے بڑی مذاق دین کے بارے میں اور نہیں کہی جاسکتی۔
لیکن اب فرض کیجئے کہ ان ہی دینی حقیقتوں میں سے (جن کو ضروریات دین کہا جاتا ہے) کے بارے میں ایک شخص کہتا ہے کہ میں اس کو مانتا ہوں۔ لیکن وہ اس کے ساتھ ہی یہ بھی ملا کر کہتا ہے کہ میں ”لا الہ الا اللہ“ کو مانتا ہوں اور یہ گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ لیکن لوگوں نے جانا نہیں۔ وہ میں خود ہوں۔ کہ اللہ نے میری صورت میں ظہور کیا ہے۔ جس میں تم مجھے دیکھ رہے ہو اور قرآن میری طرف آیا ہے اور محمد ﷺ میرے بھیجے ہوئے رسول تھے۔ (معاذ اللہ) ۔۔۔ یا فرض کیجئے کہ وہ خود تو یوں نہیں کہتا۔ بلکہ کسی مقبول ہستی کے بارے میں یہ بات کہتا ہے۔ یعنی ”لا الہ الا اللہ“ پڑھ کر وہ اس کا مصداق اس مقبول ہستی کو بتلاتا ہے۔ (جیسا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ماننے والے کچھ عقل باختوں کے متعلق نقل بھی کیا گیا ہے کہ وہ اپنے کو مسلمان سمجھتے اور ”لا الہ الا اللہ“ پڑھتے تھے اور اللہ کا ظہور یا مصداق حضرت علیؓ کو مانتے تھے۔) یا فرض کیجئے کہ ایک شخص کہتا ہے کہ کلمہ ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ حق ہے۔ لیکن اس کا مطلب وہ نہیں ہے جو عام مسلمان اب تک سمجھتے رہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی معبود نہیں۔ اللہ کے سوا اور وہ اللہ خود محمد ﷺ ہیں۔ جو دوبارہ دنیا میں واپس آ گئے ہیں۔ ۔۔۔ یا مثلاً ایک شخص قیامت کے بارے میں کہتا ہے کہ میں اس کو مانتا ہوں لیکن اس کی حقیقت وہ نہیں ہے جو عام مسلمان سمجھے ہوئے ہیں اور خواہ مخواہ اس کے خوف سے لرزاں و ترساں ہیں۔ بلکہ اس کا مطلب صرف ایک دور کا خاتمہ اور
١٠
دوسرے دور کا آغاز ہے۔ جو ہو بھی چکا اور مسلمان جس توڑ پھوڑ والی قیامت کے منتظر ہیں۔ وہ کبھی آنے والی نہیں ۔۔۔ یا مثلاً ایک شخص کہتا ہے کہ میں قرآن کریم کو خدا کی کتاب مانتا ہوں۔ لیکن اس بارے میں میرا خیال اور تصور وہ نہیں ہے جو عام مسلمانوں کا ہے۔ بلکہ میرے نزدیک اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ دراصل تو یہ رسول اللہ ﷺ کی تالیف ہے اور خود ان کا کلام ہے۔ لیکن اس میں جو باتیں ہیں اور جن خیالات کو ظاہر کیا گیا ہے۔ چونکہ وہ اللہ کی مرضی کے مطابق ہیں۔ یا یوں کہہ لیجئے کہ اللہ ہی نے ان کو رسول اللہ ﷺ کے دماغ میں پیدا کیا تھا۔ اس لئے قرآن کریم کو کتاب اللہ کہہ دیا جاتا ہے !۔
تو غور طلب سوال یہ ہے کہ کیا ایسے گمراہوں کے متعلق یہ کہا جائے گا کہ یہ بے چارے مکذب اور منکر نہیں۔ بلکہ موؤل ہیں اور اس لئے مسلمان ہی ہیں۔ یا یہ کہا جائے گا کہ یہ زندیق تاویل اور تحریف کے ساتھ دینی حقیقتوں کی تکذیب کرتے ہیں اور انہوں نے یہ رویہ اختیار کر کے دین محمدی ﷺ سے اپنا رشتہ کاٹ لیا ہے؟۔
کھلی ہوئی بات یہ ہے کہ تاویل کے ساتھ ”ضروریات دین“ کا انکار کرنے والوں کو مومن و مسلم کہنے کی گنجائش جب ہی نکل سکتی ہے کہ پہلے اس بات کو مان لیا جائے کہ ان ”ضروریات دین“ کی بھی کوئی حقیقت متعین نہیں ہے۔ جس میں کسی تاویل کی گنجائش نہ ہو اور اس کے معنی یہ ہوں گے کہ سرے سے خود اسلام ہی کی حقیقت متعین نہیں۔ کیونکہ ”ضروریات دین“ تو اس کے اول درجہ کے بینات ہیں۔
اس لئے متقدمین اور متاخرین میں سے جنہوں نے بھی اس مسئلہ پر گفتگو کی ہے۔ وہ سب اس پر متفق ہیں کہ ”ضروریات دین“ میں تاویل، مآل اور حکم کے لحاظ سے تکذیب ہی ہے۔
اس متفقہ مسئلہ کی نوعیت ۔ واضح رہے کہ یہ کوئی فرعی اجتہادی مسئلہ نہیں ہے۔ بلکہ کفر و اسلام کی حقیقت اور اس کی حدود کا اصولی اور بنیادی مسئلہ ہے۔ متقدمین و متاخرین اہل حق میں سے ایک کا بھی نام نہیں بتایا جا سکتا۔ جس نے اس اصول سے اختلاف کیا ہو اور تاویل کے ساتھ
١ واضح رہے کہ یہ سب محض فرضی مثالیں نہیں ۔ بلکہ ان میں بعض باتیں وہ ہیں۔ جن کے کہنے والے پہلے کسی زمانے میں گزرے ہیں۔ بعض وہ ہیں جن کے کہنے والے اب بھی موجود ہیں اور قرآن پاک کے متعلق یہ بات تو ابھی چند سال ہوئے۔ نیاز فتح پوری صاحب نے کہی تھی۔
١١
”ضروریات دین“ کے انکار کو کفر نہ قرار دیا ہو۔ ہاں کسی شخص یا گروہ پر اس اصول کے انطباق اور اطلاق میں واقفیت اور عدم واقفیت کی بناء پر یا دوسرے وجوہ سے دو رائیں ہو سکتی ہیں اور کسی کی تکفیر کے بارے میں جہاں خود محققین محتاطین اہل حق میں اختلاف ہوا ہے۔ وہ عموماً اطلاق اور انطباق ہی میں ہوا ہے۔ بہر حال تمام سلف و خلف اہل حق میں سے کسی ایک کو بھی اس اصول سے اختلاف نہیں ہے کہ ”ضروریات دین“ کا انکار اگرچہ تاویل کے ساتھ ہو ۔ بہر حال وہ اسلام سے رشتہ کاٹ دیتا ہے۔
ختم نبوت کا عقیدہ : اس کے بعد عرض کرنا ہے کہ جو شخص دین کا کچھ بھی علم رکھتا ہے وہ یہ ضرور جانتا ہے کہ ”ختم نبوت کا عقیدہ“ یعنی ”ختم نبوت“ اور ”خاتم النبیین“ کے صرف الفاظ نہیں بلکہ یہ حقیقت کہ رسول اللہ ﷺ آخری نبی ہیں اور اب کوئی نیا نبی قیامت تک مبعوث نہیں ہوگا۔ ”ضروریات دین“ میں سے ہے۔ یعنی ناقابل شک یقین پیدا کرنے والے تواتر کے جن ذرائع سے ہمیں مثلاً یہ معلوم ہوا ہے کہ آپ ﷺ نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا اور اپنے کو نبی کی حیثیت سے پیش کیا تھا اور قرآن کریم کو کتاب اللہ بتایا تھا اور آپ ﷺ توحید اور نماز، روزہ، حج زکوٰۃ کا حکم دیتے تھے۔ ان ہی ذرائع سے اور بالکل ویسے ہی تواتر سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ آپ ﷺ نے اپنے بارہ میں یہ بھی بتلایا تھا کہ سلسلۂ نبوت مجھ پر ختم کر دیا گیا۔ میں خاتم النبیین ہوں اور اب میرے بعد کوئی نیا نبی اللہ کی طرف سے نہیں آئے گا۔ الغرض یہ عقیدہ اور یہ دینی حقیقت بھی دین کی خاص اصطلاح میں ۔ ”ضروریات دین“ میں سے ہے اور کسی شخص کے مسلمان ہونے کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ اس کا انکار نہ کرے اور نہ اس کی ایسی تاویل اور توجیہ کرے۔ جس سے ختم نبوت کی مذکورہ بالا حقیقت کا انکار اور ابطال ہوتا ہو۔
قادیانیوں کا مسئلہ : اب آخری کڑی اس بحث کی یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابیں جس شخص نے پڑھی ہیں۔ اسے اس بات میں شبہ کرنے کی گنجائش نہیں کہ جب الفاظ و عبارات میں نبوت کا دعویٰ کیا جاسکتا ہے اور اگلے پیغمبروں نے کیا ہے۔ مرزا قادیانی نے ان ہی الفاظ و عبارات میں اپنے لئے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ جو لوگ اس حقیقت سے انکار کرتے ہیں وہ اگر ہٹ دھرم نہیں ہیں تو وہ سوچیں کہ نبوت کا دعویٰ کن لفظوں اور کن عبارتوں میں ہوتا ہے اور پھر وہ مرزا قادیانی کی اس سلسلہ کی عبارات کا مطالعہ کریں اور خیر جانے دیجئے کہ مرزا قادیانی کے معاملہ
١٢
کولا ہوری پارٹی ١؎ کے غیر منطقی وجود۔۔ باوجود) بعض شکی لوگوں کے لئے ہم مان لیا قادیانی پارٹی کا معاملہ تو بالکل صاف ہے و اس کے لوازم ثابت کرتے ہیں اور بغیر کسی کے حقیقی نبی تھے۔ جس معنی کے اور جیسے نبی پ طرح کافر ہیں اور نجات کے مستحق نہیں۔ مسلمان بھی کافر اور نجات سے محروم رہنے وا
جن لوگوں نے ان تحریروں کو پ کے جواب میں قادیانی پارٹی کے ذمہ داروں شائع ہوتی رہی ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اس با کے لئے بھی کسی شک وشبہ کی اور کسی تاویل کی
(نوٹ! یہاں پر حضرت مرحوم رسالہ ”کفر و اسلام کے حدود“ میں موجود ب مضمون اور متذکرہ رسالہ کے مضمون میں یک ہے۔ فقیر مرتب! ١٤/ شوال ١٣٦٧ھ)
ختم نبوت کے عقیدے کا ایک خاص
ختم نبوت کے عقیدے میں اس ایسا پہلو بھی ہے کہ علاوہ ایک حکم خداوندی ہو خاص قدر اور عظمت ہونی چاہئے۔ نبوت کی لئے کتنا بڑا اور کتنا سخت امتحان ہوتا ہے اور یک
١؎ مرزا غلام احمد قادیانی کے ماننے اصطلاحی معنوں میں نبی ہونے کے مدعی نہیں ہونے“ کے مدعی تھے۔ جس کی خبر حدیثوں میں
کو کفر نہ قرار دیا ہو۔ ہاں کسی شخص یا گروہ پر اس اصول کے انطباق اور واقعیت کی بناء پر یا دوسرے وجوہ سے دو رائیں ہو سکتی ہیں اور کسی کی خود محققین و محتاطین اہل حق میں اختلاف ہوا ہے۔ وہ عموماً اطلاق اور حال تمام سلف و خلف اہل حق میں سے کسی ایک کو بھی اس اصول سے یات دین“ کا انکار اگر چہ تاویل کے ساتھ ہو۔ بہر حال وہ اسلام سے
عقیدہ : اس کے بعد عرض کرنا ہے کہ جو شخص دین کا کچھ بھی علم رکھتا ہے نبوّت کا عقیدہ، یعنی ”ختم نبوت“ اور ”خاتم النبیین“ کے صرف الفاظ اللہ ﷺ آخری نبی ہیں اور اب کوئی نیا نبی قیامت تک مبعوث نہیں سے ہے۔ یعنی نا قابلِ شک یقین پیدا کرنے والے تواتر کے جن ہوا ہے کہ آپ ﷺ نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا اور اپنے کو نبی کی حیثیت کو کتاب اللہ بتایا تھا اور آپ ﷺ توحید اور نماز، روزہ، حج زکوٰۃ کا رح سے اور بالکل ویسے ہی تواتر سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ آپ ﷺ یا تھا کہ سلسلۂ نبوت مجھ پر ختم کر دیا گیا میں خاتم النبیین ہوں اور ری طرف سے نہیں آئے گا الغرض یہ عقیدہ اور یہ دینی حقیقت بھی ”ضروریاتِ دین“ میں سے ہے اور کسی شخص کے مسلمان ہونے کے کا انکار نہ کرے اور نہ اس کی ایسی تاویل اور توجیہ کرے۔ جس سے ختم انکار اور ابطال ہوتا ہو۔
مسئلہ : اب آخری کڑی اس بحث کی یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی ہیں۔ اسے اس بات میں شبہ کرنے کی گنجائش نہیں کہ جب الفاظ لیا جاسکتا ہے اور اگلے پیغمبروں نے کیا ہے۔ مرزا قادیانی نے ان ہی ۂ نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ جو لوگ اس حقیقت سے انکار کرتے ہیں وہ نہیں کہ نبوت کا دعویٰ کن لفظوں اور کن عبارتوں میں ہوتا ہے اور پھر وہ عبارات کا مطالعہ کریں اور خیر جانے دیجئے کہ مرزا قادیانی کے معاملہ
١٢
کو لاہوری پارٹی ١؎ کے غیر منطقی وجود نے ان کے معاملہ کو (واقعتاً قابلِ اشتباہ نہ ہونے کے باوجود ) بعض سطحی لوگوں کے لئے ہم مان سکتے ہیں کہ کسی درجہ میں اب مشتبہ کر دیا ہے۔ لیکن موجودہ قادیانی پارٹی کا معاملہ تو بالکل صاف ہے وہ تو کھلے بندوں مرزا قادیانی کے لئے حقیقی نبوت اور اس کے لوازم ثابت کرتے ہیں اور بغیر کسی لاگ لپیٹ کے کہتے ہیں کہ وہ اسی معنی کے اور اسی قسم کے حقیقی نبی تھے۔ جس معنی کے اور جیسے نبی پہلے آتے رہے اور اگلے نبیوں کے نہ ماننے والے جس طرح کافر ہیں اور نجات کے مستحق نہیں ۔ اسی طرح مرزا قادیانی کے نہ ماننے والے سارے مسلمان بھی کافر اور نجات سے محروم رہنے والے ہیں۔
جن لوگوں نے ان تحریروں کو پڑھا ہے۔ جو نبوت اور تکفیر کے مسئلہ پر لاہوری پارٹی کے جواب میں قادیانی پارٹی کے ذمہ داروں کی طرف سے کتابی صورت میں اور اخبارات میں شائع ہوتی رہی ہیں ۔ وہ جانتے ہیں کہ اس بارے میں ان لوگوں نے کسی بڑے شکی اور تاویلی آدمی کے لئے بھی کسی شک وشبہ کی اور کسی تاویل کی گنجائش نہیں چھوڑی ہے۔
(نوٹ ! یہاں پر حضرت مرحوم نے مرزا قادیانی کے حوالجات نقل کئے جو دوسرے رسالہ ”کفر واسلام کے حدود“ میں موجود ہیں ۔ اس لئے ان کو یہاں سے قلمزد کر دیا ہے۔ اس مضمون اور متذکرہ رسالہ کے مضمون میں یکسانیت تھی۔ لیکن جہاں فرق تھا تو دونوں کو رہنے دیا ہے۔ فقیر مرتب ! ١٤؍ شوال ١٣٩٧ھ )
ختم نبوت کے عقیدے کا ایک خاص پہلو
ختم نبوت کے عقیدے میں اس امت کے ساتھ خدا کی خصوصی عنایت ورحمت کا ایک ایسا پہلو بھی ہے کہ علاوہ ایک حکم خداوندی ہونے کے اس پہلو سے بھی مسلمانوں کو اس عقیدہ کی خاص قدر اور عظمت ہونی چاہئے ۔ نبوت کی پوری تاریخ گواہ ہے کہ نئے نبیوں کا آنا امتوں کے لئے کتنا بڑا اور کتنا سخت امتحان ہوتا ہے اور پہلے پیغمبروں کے ماننے والے کتنے لوگ ہوتے ہیں جو
١؎ مرزا غلام احمد قادیانی کے ماننے والوں کا ایک چھوٹا سا گروہ جو کہتا ہے کہ وہ معروف اصطلاحی معنوں میں نبی ہونے کے مدعی نہیں ۔ بلکہ صرف ”مہدی“ اور اس ”آنے والے مسیح ہونے“ کے مدعی تھے۔ جس کی خبر حدیثوں میں دی گئی ہے۔
١٣
نئے نبی پر ایمان لاتے ہیں۔ صرف سب سے آخری دو رسولوں کو دیکھ لیجئے۔ عیسیٰ علیہ السلام جب تشریف لائے اور احیاء موتی جیسے معجزے لے کر تشریف لائے تو یہودیوں میں سے کتنے ان پر ایمان لائے اور کتنے انکار کر کے لعنتی اور جہنمی بنے۔ پھر جب رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور کیسی آیات بینات (کھلی ہوئی نشانیوں) کے ساتھ تشریف لائے۔ تو یہود و نصاریٰ میں سے یعنی اگلے پیغمبروں اور اگلی کتابوں کے ماننے والوں میں سے کتنے آپ پر ایمان لائے اور کتنے انکار اور کفر کر کے دنیا میں اللہ کی لعنت اور آخرت میں ابدی عذاب نار کے مستحق ہوئے۔ پس اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ پر نبوت کا سلسلہ ختم فرما کر یہ رحمت فرمائی کہ اس امت کو اس سخت امتحان سے محفوظ فرما دیا۔ اگر بالفرض نبوت جاری رہتی اور آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی آتا تو یقیناً وہی صورت ہوتی جو پہلے ہمیشہ ہوتی ہے۔ یعنی حضور ﷺ کی امت کے بہت تھوڑے سے لوگ اس کو مانتے اور زیادہ تر انکار کر کے (معاذ اللہ) کافر اور لعنتی ہو جاتے۔ پس اللہ تعالیٰ نے نبوت کا سلسلہ ختم فرما کر اس امت کو ہمیشہ کے لئے کفر اور لعنت کے اس خطرہ سے محفوظ فرما دیا اور امت کو مطمئن فرما دیا کہ تمہاری اور ساری دنیا کی نجات کے لئے بس یہ کافی ہے کہ ہمارے اس رسول (محمد ﷺ) پر ایمان ہو اور ان کی ہدایت کا اتباع ہو۔
الغرض ختم نبوت صرف ایک دینی مسئلہ اور عقیدہ نہیں ہے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کے اس فیصلہ کا عنوان ہے کہ اب سارے انسانوں کے لئے نجات کی آخری شرط بس ہمارے اس رسول (محمد ﷺ) پر ایمان لانا اور ان کی ہدایت کا اتباع کرنا ہے۔ اس لئے اب قیامت تک آنے والے انسانوں کو مطمئن اور یکسو ہو کر بس ان کا اتباع کرنا چاہئے۔ انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے سلسلہ میں یہ ہمارا آخری فیصلہ ہے۔
پس اب جو شخص نبوت کا دعویٰ کرتا ہے یا جو کسی نئی نبوت کی گنجائش نکالتا ہے وہ اللہ کے اس فیصلے اور اس کے قائم کئے ہوئے اس سارے دینی نظام کو درہم برہم کرنا چاہتا ہے۔ ذرا اس کے دور رس نتائج پر غور کیجئے۔ یہ دوسری قسم کی اعتقادی گمراہیوں سے بہت مختلف قسم کی بات ہے۔ اس کا اثر پورے نظام دین پر پڑتا ہے۔ نئے نبی کی آمد پر اس پر ایمان لانا مدار نجات ہو جاتا ہے۔ وہی نبی وقت ہوتا ہے اور اس کے زمانہ کا کوئی شخص جو اس سے پہلے پیغمبروں کی تصدیق کرے۔ لیکن اس کو نہ مانے تو وہ کافر اور اللہ کی لعنت کا مستحق ہو جاتا ہے۔ پس رسول اللہ ﷺ کے بعد نئی
١٤
نبوت کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ نجات کی آخری شرط محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانا نہیں ہوگا۔ بلکہ بعد میں آنے والے اس نبی پر ایمان لانا نجات کی آخری شرط ٹھہرے گا۔ (جیسا کہ قادیانی امت مرزا غلام احمد قادیانی کے متعلق صاف صاف کہتی ہے کہ ان کا انکار کرنے والے اسی طرح کافر اور لعنتی ہیں جس طرح پہلے نبیوں کے منکر لعنتی اور کافر ہوئے ۔ )
پس جو لوگ دین میں اتنا بڑا فساد برپا کرنا چاہیں اور قیامت تک کے لئے قائم کئے ہوئے اللہ کے اس نظام کو یوں درہم برہم کرنا چاہیں لازماً ایمان والوں کو ان کے ساتھ دوسرے تمام زنادقہ و مرتدین سے زیادہ سخت معاملہ کرنا چاہئے ....... اور اسلامی تاریخ کے جاننے والے جیسا کہ جانتے ہیں کہ امت محمدیہ نے ہر دور میں ایسا ہی کیا ہے اور ایسے لوگوں کے ساتھ کبھی کوئی نرمی نہیں کی گئی۔ حضور ﷺ کی حیات کے آخری دور ہی میں نبوت کا دعویٰ کرنے والے مسیلمہ کذاب کے ساتھ صحابہ کرامؓ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کی سرکردگی میں جو کچھ کیا وہ اس کی سب سے زیادہ اطمینان بخش مثال ہے۔
(الفرقان اکتوبر ١٩٧٤ء)
قادیانی اور ایک دانشور طبقہ
قادیانیوں کی لاہوری شاخ کا ایک ہفتہ وار پرچہ ”روشنی“ سرینگر (کشمیر) سے نکلتا ہے۔ ایک صاحب نے اس کا ١٩؍اکتوبر ١٩٧٤ء (٢؍شوال ١٣٩٤ھ) کا شمارہ لا کر دیا۔ اس میں ”الجمعیۃ دہلی“ کے سابق ایڈیٹر معروف صحافی فارقلیط صاحب کا ایک مضمون اردو ڈائجسٹ ”شبستان دہلی“ کے حوالہ سے نقل کیا گیا ہے۔ اس مضمون کا تعلق قادیانیوں کے کفر و اسلام کے مسئلہ سے ہے۔
یہ عجیب و غریب نوعیت کا مضمون ہے۔ فارقلیط صاحب نے جو کچھ اس میں لکھا ہے اس کو انہوں نے اپنا خیال اور اپنی رائے قرار نہیں دیا ہے۔ ان کا فرمانا ہے کہ مسلمانوں کے ایک دانشور طبقے کے یہ خیالات ہیں۔ انہوں نے اس مضمون کی اشاعت کی غرض بتاتے ہوئے تمہید میں لکھا ہے کہ:
”راقم نے اس طبقہ کے خیالات کو مرتب کر لیا ہے اور انہیں اس غرض سے اشاعت کے لئے دے رہا ہے کہ علمائے اہل سنت اس پر غور فرمائیں اور محققانہ انداز میں ان کا ایسا جواب دیں کہ ان کی تشکیک اور ذہنی تبدیلی کا ازالہ ہو جائے ۔“
١٥
اس کے آگے فارقلیط صاحب نے صاف لفظوں میں یہ بھی لکھا ہے کہ:
”اس بارے میں راقم کے خیالات اور فیصلہ کو محفوظ سمجھنا چاہئے ۔“
اس صراحت و وضاحت کے بعد اس کی گنجائش نہیں ہے کہ مضمون میں ظاہر کئے گئے خیالات کو فارقلیط صاحب کے خیالات سمجھا جائے۔ لیکن بہت سے سوچنے والوں کے ذہنوں میں یہ سوال ضرور پیدا ہوگا کہ ان خیالات سے اگر ان کو اتفاق نہیں ہے تو ان میں وہ کون سی ایسی بات ہے جس کا بہت اچھا اور تشفی بخش جواب وہ خود نہیں دے سکتے ۔ طویل مدت سے جو تھوڑی بہت شناسائی فارقلیط صاحب سے رہی ہے اور ان کے فہم و فکر کے بارے میں جو اندازہ ہے اس کی بناء پر اس عاجز کا حسن ظن تو یہی ہے کہ وہ خود ان خیالات کا جن میں کوئی معقولیت نہیں ہے بہت اچھا محاسبہ کر سکتے تھے اور اپنے ناظرین کو بتلا سکتے تھے کہ ان دانشوروں نے جو کچھ کہا یا لکھا ہے وہ عوام کے فریب و مغالطوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ لیکن جب انہوں نے یہ نہیں کیا تو دوسروں ہی کو یہ فرض انجام دینا پڑے گا ۔ واللہ ولی التوفیق!
جیسا کہ عرض کیا گیا فارقلیط صاحب کے اس مضمون کا موضوع قادیانیوں کے کفر و اسلام کا مسئلہ ہے اور اس میں قادیانیوں کو مسلمان اور علماء کی طرف سے ان کی تکفیر کے فتوے اور فیصلہ کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور اس کے لئے عجیب و غریب دلائل پیش کئے گئے ہیں۔
سب سے پہلی دلیل شاید مضبوط ترین دلیل سمجھ کر پہلے نمبر پر یہ حوالہ قلم کی گئی ہے:
”خلافت کے دور میں جب یہ سوال اٹھا کہ مسلمان کس کو کہنا اور سمجھنا چاہئے یا ایک مسلمان کی تعریف کیا ہے۔ تو بڑی بحثوں کے بعد طے پایا کہ مسلمان وہ ہے جو اپنے آپ کو مسلمان کہتا اور سمجھتا ہے۔ اس بات پر اکثر علماء نے اتفاق کیا ۔“
حیرت ہے کہ فارقلیط صاحب نے اپنے دانشوروں کی یہ بات کس طرح قابل نقل سمجھی۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ مسلمان ہونے کے لئے کسی عقیدہ کی ضرورت نہیں۔ بس جو اپنے آپ کو مسلمان کہے وہ مسلمان ہے۔ عقیدہ اس کا جو بھی ہو۔ کیا ہوش و حواس رکھتے ہوئے کوئی عالم دین ایسی جاہلانہ بات کہہ سکتا ہے؟۔ کیا رسول اللہ ﷺ کی دعوت ابو جہل و ابولہب وغیرہ مکہ کے کفار و مشرکین اور اس دور کے یہود و نصاریٰ کو صرف یہ تھی کہ تم اپنے کو بس مسلمان کہنے لگو۔ عقیدہ
١٦
قلیط صاحب نے صاف لفظوں میں یہ بھی لکھا ہے کہ: ”راقم کے خیالات اور فیصلہ کو محفوظ سمجھنا چاہئے۔“ ضاحت کے بعد اس کی گنجائش نہیں ہے کہ مضمون میں ظاہر کئے گئے کے خیالات سمجھا جائے۔ لیکن بہت سے سوچنے والوں کے ذہنوں میں خیالات سے اگر ان کو اتفاق نہیں ہے تو ان میں وہ کون سی ایسی بات ش جواب وہ خود نہیں دے سکتے۔ طویل مدت سے جو تھیوری بن رہی ہے اور ان کے فہم وفکر کے بارے میں جو اندازہ ہے اس کی بناء ہے کہ وہ خود ان خیالات کا جن میں کوئی معقولیت نہیں ہے بہت اچھا رین کو بتلا سکتے تھے کہ ان دانشوروں نے جو کچھ کہا یا لکھا ہے وہ عوام کچھ بھی نہیں ہے۔ لیکن جب انہوں نے یہ نہیں کیا تو دوسروں ہی کو یہ ہ ولی التوفیق!
کیا فارقلیط صاحب کے اس مضمون کا موضوع قادیانیوں کے کفر میں قادیانیوں کو مسلمان اور علماء کی طرف سے ان کی تکفیر کے رنے کی کوشش کی گئی ہے اور اس کے لئے عجیب وغریب دلائل
ا شاید مضبوط ترین دلیل سمجھ کر پہلے نمبر پر یہ عبارت قلمبند کی گئی ہے: میں جب یہ سوال اٹھا کہ مسلمان کس کو کہنا اور سمجھنا چاہئے یا ایک بڑی بحثوں کے بعد طے پایا کہ مسلمان وہ ہے جو اپنے آپ کو ات پر اکثر علماء نے اتفاق کیا۔“ لیط صاحب نے اپنے دانشوروں کی یہ بات کس طرح قابل نقل مسلمان ہونے کے لئے کسی عقیدہ کی ضرورت نہیں۔ بس جو اپنے ہے۔ عقیدہ اس کا جو بھی ہو۔ کیا ہوش وحواس رکھتے ہوئے کوئی عالم ہے؟ ۔کیا رسول اللہ ﷺ کی دعوت ابو جہل وابولہب وغیرہ مکہ کے یہود و نصاریٰ کو صرف یہ تھی کہ تم اپنے کو بس مسلمان کہنے لگو۔ عقیدہ
١٦
خواہ کچھ بھی رکھو؟ ۔کیا قرآن مجید کا مطالبہ اپنے مخاطبین سے صرف یہ ہے کہ اپنے کو مسلمان کہنے لگو۔ پھر تم مسلم بندے اور جنتی ہو؟۔
پھر یہ کہ خلافت کی تحریک میں جو علمائے دین پیش پیش تھے مثلاً حضرت مولانا عبدالباری فرنگی محلی ، حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب ، حضرت مولانا سجاد صاحب (نائب امیر شریعت بہار ) حضرات علمائے دیوبند ، علمائے بدایوں ان میں سے کسی کے متعلق بھی یہ نہیں سوچا جاسکتا کہ وہ کسی شخص یا طبقہ کے حقیقی اور شرعی معنی میں مسلمان ہونے کے لئے بس اپنے کو مسلمان کہنا کافی سمجھتے تھے۔ خواہ اس کا عقیدہ کچھ بھی ہو۔ ہمارے نزدیک تو کسی بھی عالم دین کے بارے میں ایسا کہنا اس پر بدترین تہمت ہے اور قریب قریب ان سبھی حضرات کے ایسے فتوے اور ایسی تحریریں پیش کی جاسکتی ہیں جن میں قادیانیوں کو خارج از اسلام قرار دیا گیا ہے۔
ہاں ! یہ ہوسکتا ہے کہ خلافت کمیٹی یا مسلم لیگ جیسی مسلمانوں کی کوئی تنظیم اپنا ممبر بنانے کے لئے یہ اصول مقرر کرے کہ ہر وہ شخص جو اپنے کو مسلمان کہے ہماری تنظیم کا ممبر بن سکتا ہے۔ عقیدہ سے بحث کرنا ہمارا کام نہیں ہے۔ ہم اس کو مسلمان مان کر ممبر بنالیں گے۔ فارقلیط صاحب کے مضمون میں خلافت کے دور کے جس واقعہ کا حوالہ دیا گیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ اسی قسم کا کوئی فیصلہ ہو۔ لیکن ظاہر ہے کہ قادیانیوں کے اسلام اور کفر کا مسئلہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ ہم وثوق کے ساتھ کہتے ہیں کہ ہمارے اس برصغیر کے تمام ہی وہ علمائے ربانی جن کو علم دین میں رسوخ حاصل رہا ہے اور مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کی امت ، خاص کر قادیانی پارٹی کے عقائد وخیالات سے جن کو پوری واقفیت حاصل ہے وہ تحریک خلافت سے پہلے بھی اس پر متفق تھے اور بعد میں بھی متفق رہے کہ یہ لوگ اپنے کو مسلمان کہنے کے باوجود اپنے کافرانہ عقائد وخیالات کی وجہ سے شریعت کی رو سے مسلمان نہیں ہیں۔ بلکہ دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ اس سلسلہ میں صرف مثال کے طور پر میں چند علمائے ربانی کے نام لکھتا ہوں جو اب اس دنیا میں نہیں ہیں اور جن کے بارے میں کوئی ایسا شخص جو ان کو جانتا ہے یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ حضرات تکفیر کے بارے میں بے احتیاط بے بصیرت اور نا خدا ترس تھے۔
حضرت شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن، حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ، ندوۃ العلماء کے بانی حضرت مولانا فضل رحمٰن گنج مراد آبادیؒ کے جلیل القدر خلیفہ حضرت مولانا محمد علی مونگیریؒ ، حضرت مولانا سید مناظر احسن گیلانی ، حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ ، حضرت مولانا
١٧
سجاد (نائب امیر شریعت بہار) میرا خیال ہے کہ آخری دونوں مرحوم بزرگ وہ ہیں جن کو فارقلیط صاحب نے بھی کافی مدت تک قریب سے دیکھا ہے اور وہ شہادت دے سکتے ہیں کہ علم دین میں رسوخ اور تکفیر جیسے اہم معاملہ میں احتیاط اور خدا ترسی کے لحاظ سے ان کا کیا حال و مقام تھا۔
ان حضرات کی اب سے پچاس ساٹھ سال پہلے کی مطبوعہ تحریریں موجود ہیں۔ جن میں مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کی امت کو خارج از اسلام قرار دیا گیا ہے۔ اس کے بعد سے قادیانیت سے واقفیت رکھنے والے برصغیر کے تمام علمائے ربانی اور اصحاب فتویٰ کا اس مسئلہ میں اتفاق رہا ہے۔ اس کی بنیاد پر پاکستان کے علماء نے وہاں کی حکومت سے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ حکومت نے جو فیصلہ کیا وہ فارقلیط صاحب کے ان دانشوروں کے نزدیک جیسا بھی ہو۔ کتاب وسنت اور ماہرین کتاب وسنت کی رائیوں کے بالکل مطابق ہے۔ فارقلیط صاحب نے مضمون کے آخر میں ان دانشوروں کا ایک تحریری بیان بھی ان ہی کے لفظوں میں نقل کیا ہے۔ اس سے اسلام وکفر کے بارے میں ان لوگوں کا نقطہ نظر اور زیادہ واضح ہو جاتا ہے۔
اس بیان میں ہندوستان کے آئین کی تحسین کرتے ہوئے اور اسلامی حکومتوں اور علمائے اسلام اور مفتیانِ کرام کے لئے اس کو گویا قابل تقلید نمونہ بتاتے ہوئے لکھا گیا ہے:
’’اس میں (ہندوستان کے آئین میں) تمام ہندو فرقوں کو ہندو قرار دے کر ہر قسم کی بحث کے دروازے بند کر دیئے ۔ آئین کی رو سے صرف سناتن دھرمی اور آریہ سماجی ہی ہندو نہیں ہیں ۔ بلکہ بدھسٹ، جینی اور سکھ بھی ہندوؤں میں شامل کر لئے گئے ہیں۔ حالانکہ نہ سکھ ویدوں اور شاستروں کے قائل ہیں نہ بدھسٹ اور جینی ۔ وہ تو خدا یا ایشور تک کے قائل نہیں۔ مگر ہندوستان کے آئین نے ان سب کو اتحاد کی ایک لڑی میں منسلک کردیا۔‘‘
دیکھا آپ نے فارقلیط صاحب کے یہ دانشور، امت محمدی، اس کی حکومتوں اور اس کے علماء اور اصحاب فتویٰ کو تلقین فرماتے ہیں کہ تم مذہبی عقائد کی چھان بین کی تنگ نظری چھوڑ دو ۔ یہ مت دیکھو کہ ایک آدمی یا فرقہ خدا کو مانتا ہے یا نہیں مانتا اس کی نازل فرمائی ہوئی کتاب قرآن کو مانتا ہے یا نہیں مانتا ہم ہندوستان کے آئین کی طرح خدا اور اس کے رسول اور اس کی کتاب کے منکروں کو بھی مسلمان قرار دے کر سب کو اتحاد کی لڑی میں منسلک کر لو۔ یہ دانشور اگر رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ہوتے تو ضرور آپ کو بھی مشورہ دیتے کہ عقائد کے جھگڑے بکھیڑوں کو
١٨
ہار) میرا خیال ہے کہ آخری دونوں مرحوم بزرگ وہ ہیں جن کو فارقلیط تک قریب سے دیکھا ہے اور وہ شہادت دے سکتے ہیں کہ علم دین میں لہ میں احتیاط اور خدا ترسی کے لحاظ سے ان کا کیا حال و مقام تھا۔
اب سے پچاس ساٹھ سال پہلے کی مطبوعہ تحریریں موجود ہیں۔ جن میں ان کی امت کو خارج از اسلام قرار دیا گیا ہے۔ اس کے بعد سے ننے والے برصغیر کے تمام علمائے ربانی اور اصحاب فتویٰ کا اس مسئلہ میں د پر پاکستان کے علماء نے وہاں کی حکومت سے قادیانیوں کو غیر مسلم یا تھا۔ حکومت نے جو فیصلہ کیا وہ فارقلیط صاحب کے ان دانشوروں اب وسنت اور ماہرین کتاب وسنت کی رائیوں کے بالکل مطابق ہے۔ نے مضمون کے آخر میں ان دانشوروں کا ایک تحریری بیان بھی ان ہی اس سے اسلام وکفر کے بارے میں ان لوگوں کا نقطہ نظر اور زیادہ واضح
ہندوستان کے آئین کی تحسین کرتے ہوئے اور اسلامی حکومتوں اور م کے لئے اس کو گویا قابل تقلید نمونہ بتاتے ہوئے لکھا گیا ہے: وستان کے آئین میں ( تمام ہندو فرقوں کو ہندو قرار دے کر ہر قسم کی یئے ۔ آئین کی رو سے صرف سناتن دھرمی اور آریہ سماجی ہی ہندو نہیں سکھ بھی ہندوؤں میں شامل کر لئے گئے ہیں۔ حالانکہ نہ سکھ ویدوں اور بدھسٹ اور جینی ۔ وہ تو خدا یا ایشور تک کے قائل نہیں۔ مگر ہندوستان ا کی ایک لڑی میں منسلک کر دیا۔“
فارقلیط صاحب کے یہ دانشور ، امت محمدی ، اس کی حکومتوں اور اس ن فرماتے ہیں کہ تم مذہبی عقائد کی چھان بین کی تنگ نظری چھوڑ دو۔ نہ خدا کو مانتا ہے یا نہیں مانتا اس کی نازل فرمائی ہوئی کتاب قرآن کو ستان کے آئین کی طرح خدا اور اس کے رسول اور اس کی کتاب کے ے کر سب کو اتحاد کی لڑی میں منسلک کر لو۔ یہ دانشور اگر رسول تے تو ضرور آپ کو بھی مشورہ دیتے کہ عقائد کے جھگڑے بکھیڑوں کو
١٨
چھوڑیئے۔ اس سے خواہ مخواہ تفریق ہوتی ہے۔ خدا کے ماننے والوں اور نہ ماننے والوں ، توحید پر عقیدہ رکھنے والوں اور مشرکوں ، بت پرستوں کو اللہ کے رسول اور اس کی کتاب قرآن اور قیامت و آخرت پر ایمان رکھنے والوں اور ان سب کے منکروں کو ایک ملت اور ایک امت مان لیجئے۔ یقین ہے کہ ابو جہل اور ابولہب بھی بڑی خوشی سے اس کو قبول کر لیتے ۔ اسی طرح اگر یہ دانشور حضرت صدیق اکبرؓ کے زمانے میں ہوتے تو مسیلمہ کذاب کی جماعت اور منکرین زکوٰۃ کے خلاف ان کے فیصلہ جہاد کو یقیناً غلط قرار دیتے۔ ان پر امت مسلمہ میں تفریق کا جرم عائد کرتے ۔
تاریخ اور سیر پر جن لوگوں کی نظر ہے وہ جانتے ہیں کہ یہ دونوں گروہ اپنے کو مسلمان کہتے تھے۔ مسلمانوں کا کلمہ بھی پڑھتے تھے۔
حیرت ہے کہ فارقلیط صاحب نے ایسی بے تکی اور بے دانشی کی باتیں کرنے والوں کو دانشور کا معزز لقب دینا کیوں مناسب سمجھا ۔
علمائے اسلام کی طرف سے قادیانیوں کی تکفیر کے غلط ہونے کے ثبوت میں دوسری دلیل یا دوسری بات اس مضمون میں ان دانشوروں کی طرف سے یہ پیش کی گئی ہے کہ :
”مجدد بریلوی (مولوی احمد رضا خان ) نے کسی مسلمان کو کافر اکفر بنائے بغیر نہیں چھوڑا ۔“
یہ وہ بات ہے جو قادیانیوں کی تکفیر کے فتوے کو ناقابل اعتبار قرار دینے کے لئے اس سے پہلے بھی کہی جاتی رہی ہے اور خاص کر مرزائیوں کی لاہوری پارٹی کے اہل قلم نے اپنی تحریروں میں اس کو بار بار انشاء کے پورے زور کے ساتھ دہرایا ہے۔
لیکن غور کیا جائے اس دلیل کا منطقی حاصل کیا ہے؟ ۔ یہی نا کہ چونکہ مولوی احمد رضا خان بریلوی کے متعلق معلوم اور ثابت ہو چکا ہے کہ انہوں نے حضرت شاہ اسماعیل شہیدؒ اور اکابر علمائے دیوبند اور علمائے ندوہ اور پھر تحریک خلافت کی شرکت کے جرم میں علمائے فرنگی محل اور علمائے بدایوں وغیرہ کی بھی تکفیر بالکل غلط بنیادوں پر کی اور اس سلسلہ کے ان کے فتوے غلط اور ناقابل اعتبار ہیں۔ لہٰذا اب تکفیر کے ہر فتوے اور فیصلہ کو اگر چہ وہ مسلمہ طور پر محتاط اور خدا ترس اور محقق علمائے ربانی کی طرف سے ہو ۔ نا قابل اعتبار ہی قرار دیا جائے گا ۔ ناظرین کرام سوچیں کہ یہ بات کس قدر بے تکی اور انصاف و معقولیت سے کتنی دور ہے؟۔
سب جانتے ہیں کہ پولیس والے جو چوروں اور ڈاکوؤں کے چالان کرتے ہیں ان
١٩
میں بعض چالان دانستہ یا نادانستہ غلط بھی ہوتے ہیں تو کیا اس سے یہ نتیجہ نکالنا اور یہ اصول بنالینا صحیح ہوگا کہ کسی جگہ کی بھی پولیس چوروں اور ڈاکوؤں وغیرہ مجرموں کے جو چالان کرے تو ان چالانوں کو غلط ہی مانا جائے گا اور سب چوروں اور ڈاکوؤں کو بری قرار دیا جائے گا۔ مالکم کیف تحکمون !
اس سلسلہ میں ان دانشوروں نے حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی کی کتاب ”تحذیر الناس“ کا ایک فقرہ بھی نقل کیا ہے۔ جس کو مولوی احمد رضا خاں صاحب نے حضرت مولانا مرحوم کی تکفیر کی بنیاد بنایا ہے۔ لیکن چونکہ مضمون سے یہ بات ظاہر ہے کہ فارقلیط صاحب اور ان کے یہ دانشور بھی یقین رکھتے ہیں کہ مولوی احمد رضا خاں صاحب کی یہ حرکت غلط ہے اور اس فقرہ کا مطلب وہ نہیں جو خان صاحب موصوف نے نکالا ہے۔ اس لئے اس فقرہ کی تشریح اور وضاحت کی یہاں ہم ضرورت نہیں سمجھتے۔ تا کہ ہمارا یہ مضمون خواہ مخواہ طویل نہ ہو۔ اگر بالفرض ناظرین میں سے کسی صاحب کو تحذیرالناس کے اس فقرہ کے بارے میں کوئی خلجان ہو تو وہ راقم سطور کے رسالہ معرکۃ القلم کا مطالعہ فرما کر اپنے اس خلجان کو دور کر سکتے ہیں۔
قادیانیوں کی تکفیر ہی کے سلسلہ میں ایک بات اس مضمون میں یہ بھی کہی گئی ہے کہ: ”ایک بنیادی اصول جس پر سب کا اتفاق ہے یہ ہے کہ اگر قائل کے قول میں الجھن ہو تو اس کے قول کا مطلب اسی سے دریافت کیا جائے۔ اگر وہ اپنے قول کی ایسی تشریح کردے۔ جس میں کسی کو اختلاف نہ ہو تو معاملہ ختم کردیا جائے۔“
یہ بات اصولا بالکل صحیح ہے۔ لیکن مرزا غلام احمد قادیانی کے جن اقوال اور خاص کر قادیانی پارٹی کی جن تصریحات کی بناء پر علماء اسلام نے ان کو خارج از اسلام قرار دیا ہے۔ ان میں کوئی الجھن نہیں ہے۔ وہ بالکل واضح ہیں اور مرزا قادیانی کے خلیفہ اور فرزند مرزا بشیر الدین محمود نے اپنی تصانیف ”حقیقت النبوۃ ، تشحیذ الاذہان اور انوار خلافت“ وغیرہ میں مرزا قادیانی کی نبوت اور رسالت اور ان کو نہ ماننے والے مسلمانوں کی تکفیر کے بارے میں جو وضاحت کی ہے اور مرزا قادیانی کا اور اپنا اور اپنی جماعت کا جو عقیدہ پوری صراحت اور وضاحت کے ساتھ لکھا ہے۔ اس کے بعد کسی الجھن اور کسی استفسار کا سوال ہی نہیں رہتا۔
راقم سطور کا ایک مضمون الفرقان کی اکتوبر کی اشاعت میں ”قادیانی مسلمان کیوں نہیں؟۔“ کے عنوان سے شائع ہوا ہے۔ اس میں مرزا قادیانی اور مرزا محمود کی جو عبارتیں نقل کی
٢٠
گئی ہیں۔ ناظرین اور یہ دانشور حضرات ان کو دیکھیں وہ بالکل صاف اور واضح ہیں۔ ان میں کوئی بھی الجھن نہیں۔
قادیانیوں کے کفر واسلام کے مسئلہ پر جو صاحب بھی سنجیدگی سے غور کرنا چاہیں ان سے مخلصانہ گذارش ہے کہ وہ راقم کے اس مضمون کا مطالعہ ضرور فرمائیں۔ (یہ مضمون اب اس مجموعہ میں شامل ہے۔)
قادیانیوں کی تکفیر ہی سے متعلق ایک آخری بات زیر بحث مضمون میں یہ کہی گئی ہے کہ وہ اہل قبلہ ہیں اور اہل قبلہ کی تکفیر سے منع فرمایا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں امام غزالیؒ کی کتاب ”التفرقۃ“ کی ایک عبارت بھی نقل کی گئی ہے۔ ہم وہ عبارت اور اس کا ترجمہ اس مضمون ہی سے نقل کرتے ہیں۔
”اما الوصية فان تكف لسانك عن اهل القبلة ما امكنك ماداموا قائلين لا اله الا الله محمد رسول الله غير مناقضين لها والمناقضة تجويزهم الكذب على رسول الله ﷺ بعذر او بغير عذر فان التكفير فيه خطر والسكوت لا خطر فيه (التفرقة بين الاسلام والزندقة ص ١٩٠ بیروت) “ ”میری وصیت یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو اہل قبلہ کی تکفیر سے زبان بند رکھو۔ جب تک کہ وہ لا اله الا الله محمد رسول اللہ کے قائل ہوں۔ بشرطیکہ وہ اس کلمہ کی مخالفت نہ کریں اور مخالفت کا مطلب یہ ہے کہ وہ کسی عذر یا بغیر عذر کے محمد ﷺ کو جھٹلائیں۔ کیونکہ ایسے لوگوں کی تکفیر خطرہ سے خالی نہیں۔ اگر سکوت اختیار کر لیا تو پھر کوئی خطرہ نہیں۔﴿
راقم سطور عرض کرتا ہے کہ اہل قبلہ کی تکفیر میں احتیاط اور کف لسان کی جو وصیت اور ہدایت امام غزالیؒ نے ”التفرقۃ“ کی اس عبارت میں فرمائی ہے۔ یہی ہدایت ان سے بہت پہلے ان سے بڑے آئمہ حضرت امام ابو حنیفہؒ جیسے حضرات نے بھی فرمائی ہے۔ شرح فقہ اکبر میں متقی کے حوالہ سے ملا علی قاریؒ نے نقل کیا ہے۔
”عن ابي حنيفة لا نكفر احداً من اهل القبلة وعليه اكثر الفقها (شرح فقه اکبر ص ١٨٩، طبع مجتبائی دھلی) “ ”امام ابو حنیفہؒ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا ہم اہل قبلہ میں سے کسی کی بھی تکفیر نہیں کرتے اور یہی مسلک اکثر فقہاء کا ہے۔﴿
٢١
اور اسی شرح فقہ اکبر میں شرح مواقف کے حوالہ سے نقل کیا گیا ہے۔ "ان جمهور المتكلمين والفقهاء على انه لا يكفر احد من اهل القبلة (شرح فقه اکبر ص ١٨٨) ”جمہور متکلمین اور فقہاء کا مسلک یہ ہے کہ اہل قبلہ میں سے کسی کی بھی تکفیر نہ کی جائے ۔“
کاش یہ لوگ جو قادیانیوں کی تکفیر کے مسئلہ میں آئمہ اور مصنفین کی ایسی عبارتوں کی بنیاد پر اہل قبلہ کی بحث چھیڑتے ہیں۔ اس پر غور کرتے کہ ان عبارتوں میں ”اہل قبلہ“ سے کیا مراد ہے؟۔ ظاہر ہے کہ لغوی اور لفظی معنی کے لحاظ سے تو ہر وہ شخص اہل قبلہ ہے۔ جو مکہ مکرمہ میں واقع کعبہ کو بیت اللہ اور قبلہ مانتا ہو تو اگر اس لفظ کا یہی مطلب ہو تو ابو جہل وغیرہ سارے مشرکین عرب اہل قبلہ تھے۔ عربوں کی تاریخ اور ان کے حالات سے واقفیت رکھنے والا ہر شخص جانتا ہے کہ سارے مشرکین عرب کعبہ کو بیت اللہ اور قبلہ مانتے تھے اور اسی بناء پر اس کی تقدیس کے قائل تھے۔ اس کا طواف کرتے تھے۔ اپنے طریقہ پر حج اور عمرہ بھی کرتے تھے۔ تو اگر اہل قبلہ کا مطلب یہی ہو تو پھر تو ابو جہل، ابولہب وغیرہ مشرکین عرب کو بھی کافر ماننے کی گنجائش نہ ہو گی۔
دراصل اہل قبلہ ایک خاص دینی اور علمی اصطلاح ہے۔ عقائد اور فقہ کی کتابوں میں تکفیر کی بحث میں یہ لفظ (اہل قبلہ ) عام طور سے استعمال ہوتا ہے اور ان ہی کتابوں میں یہ وضاحت بھی کی گئی ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو توحید و رسالت قیامت وغیرہ ایمانیات پر یقین رکھتے ہوں اور کسی ایسی دینی حقیقت کے منکر نہ ہوں ۔ جو رسول اللہ ﷺ سے ایسے قطعی اور یقینی طریقہ پر ثابت ہو۔ جس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہ ہو ۔ ( علماء اور مصنفین کی اصطلاح میں ایسی چیزوں کو ضروریات دین کہا جاتا ہے ) پس اگر کوئی شخص ضروریات دین میں سے کسی ایک بات کا بھی منکر ہے۔ مثلاً قرآن پاک کے کتاب اللہ ہونے کا یا قیامت اور حشر و نشر کا یا پانچ وقت کی نماز کی فرضیت کا یا ایسی کسی بھی دینی بات کا انکار کرتا ہے تو وہ اہل قبلہ میں سے نہیں ہے۔
وہی شرح فقہ اکبر جس کے حوالہ سے اہل قبلہ کی تکفیر نہ کرنے کے بارے میں حضرت امام ابو حنیفہ وغیرہ کی ہدایتیں اوپر نقل کی گئی ہیں۔ اسی میں اسی مقام پر اہل قبلہ کی مندرجہ ذیل تشریح کی گئی ہے۔
"اعلم ان المراد باهل القبلة الذين اتفقوا على ماهو من ضروريات الدین کحدوث العالم وحشر الاجساد وعلم الله تعالى بالكليات والجزئيات
٢٢
وما اشبه ذلك من المسائل المهمات فمن واظب طول عمره على الطاعات والعبادات مع اعتقاد قدم العالم او نفی الحشر او نفی علمه سبحانه بالجزئيات لا يكون من اهل القبلة (شرح فقه اكبر ص ١٨٩) "اور تمہیں یہ بات جان لینی چاہئے کہ اہل قبلہ سے وہ لوگ مراد ہیں۔ جو تمام ضروریات دین سے متفق ہوں۔ جیسے عالم کا حادث ہونا اور قیامت میں جسمانی حشر ہونا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ کو کلیات و جزئیات سب کا علم ہے اور ان جیسے تمام اہم مسئلہ جو ضروریات دین میں شامل ہیں۔ پس جو شخص ساری عمر نیکیوں اور عبادتوں میں مشغول رہے اور اس کے ساتھ یہ اعتقاد رکھتا ہو کہ عالم حادث نہیں قدیم ہے۔ یا یہ کہ حشر جسمانی نہیں ہوگا۔ یا یہ عقیدہ رکھے کہ اللہ تعالیٰ کو جزئیات کا علم نہیں ہے تو وہ اہل قبلہ میں سے نہ ہوگا۔﴾
اس عبارت سے یہ بات صاف ہو گئی کہ جو شخص کسی ایسی بات کا انکار کرے۔ جو رسول اللہ ﷺ سے ایسے قطعی یقینی طریقہ سے ثابت ہو۔ جس میں شک و شبہ کی قطعاً گنجائش نہ ہو۔ وہ اہل قبلہ میں سے نہیں ہے۔ اس کو کافر مرتد قرار دیا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ جو آئمہ اور مصنفین یہ کہتے ہیں کہ اہل قبلہ کی تکفیر کی جائے وہ سب یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص قیامت اور آخرت کا منکر ہو یا قرآن کے کتاب اللہ ہونے سے انکار کرے یا نماز ، روزہ ، حج اور زکوٰۃ کی فرضیت کا منکر ہو یا اللہ پاک کی شان میں یا کسی نبی کی شان میں صریح گستاخی اور بد زبانی کرے وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ چاہے وہ اپنے کو مسلمان کہتا ہو اور کعبہ کو قبلہ مانتا ہو۔ عقائد اور فقہ کی تمام کتابوں میں یہ تصریحات دیکھی جاسکتی ہیں۔
خود امام غزالیؒ نے جن کی کتاب "التفرقہ" سے فارقلیط صاحب کے مضمون میں وہ عبارت نقل کی گئی ہے۔ جو اوپر درج کی گئی ۔ (جس میں امام ممدوح نے اہل قبلہ کی تکفیر سے کف لسان کی وصیت فرمائی) اپنی اسی کتاب "التفرقہ" میں اسی مسئلہ تکفیر پر بحث کرتے ہوئے وصیت والی مندرجہ بالا عبارت سے پہلے اور بعد میں واضح طور لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی ایسی بات کا انکار کرے۔ جو رسول اللہ ﷺ سے تواتر کے ساتھ قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہو تو اس کی تکفیر کی جائے گی۔ اگرچہ اس کا انکار تاویل کے ساتھ ہو۔ اسی بنیاد پر وہ مسلمانوں میں سے ان فلاسفہ کو کافر قرار دیتے ہیں۔ جو اس کے قائل تھے کہ قیامت میں حشر جسموں کے ساتھ نہیں ہوگا۔ بلکہ معاملہ صرف روحانی ہوگا۔ اور آخرت میں عذاب اس دنیا کی تکلیفوں کی طرح نہیں ہوگا۔ اس سلسلہ میں امام ٢٣
غزالی کی اسی کتاب ”التفرقة“ ہی کی چند عبارتیں فارقلیط صاحب اور ان کے ”دانشوروں“ کی خدمت میں پیش ہیں۔
امام غزالی نے ”التفرقة“ میں تاویل کی بحث کی ہے اور بتلایا ہے کہ بعض تاویلیں ایسی ہوتی ہیں۔ جن کی بناء پر تاویل کرنے والے کی تکفیر نہیں کی جائے گی۔ بلکہ اس کو خاطی یا بدعتی قرار دیا جائے گا اور بعض تاویلیں ایسی ہوتی ہیں۔ جو موجب کفر ہوتی ہیں۔ اور جو لوگ اس طرح کی تاویلیں کریں گے ان کو کافر قرار دیا جائے گا۔ اس سلسلہ میں فرماتے ہیں کہ: ”واما ما يتعلق من هذا الجنس باصول العقائد المهمة فيجب تكفير من يغير الظاهر بغير برهان قاطع كالذي ينكر حشر الاجساد وينكر العقوبات الحسية في الاخرة بظنون واوهام واستبعادات من غير برهان قاطع فيجب تكفيره قطعا....... وهو مذهب اكثر الفلاسفة (التفرقة ص١٩١)“ ﴿اور ان تاویلوں میں سے جن کا تعلق اہم بنیادی عقائد سے ہو تو ایسے لوگوں کی تکفیر واجب ہوگی۔ جو کسی قطعی دلیل کے بغیر نصوص کے ظاہری معنی میں تاویل کے ذریعہ تبدیلی کریں۔ جیسے کہ وہ لوگ جو کسی قطعی دلیل کے بغیر محض اپنے اوہام اور خیالات اور استبعادات کی بناء پر قیامت میں حشر اجساد (جسمانی حشر) کا اور آخرت میں حسی عقوبتوں کا انکار کرتے ہیں۔ تو ایسے لوگوں کی تکفیر واجب ہے اور یہ بات قطعی اور یقینی ہے۔...... اور یہ اکثر فلاسفہ کا مذہب ہے۔﴾
امام غزالی نے اس عبارت میں جن فلاسفہ کی تکفیر کو واجب اور قطعی قرار دیا ہے۔ وہ اپنے کو مسلمان ہی کہتے تھے اور کعبہ کو قبلہ بھی مانتے تھے۔
فارقلیط صاحب نے اپنے مضمون میں امام غزالی کی جو عبارت من وعن ”التفرقة“ ص ١٩١ سے نقل کی ہے۔ اسی صفحہ پر اس عبارت سے بالکل متصل یہ عبارت ہے۔
”واما القانون فهو ان تعلم ان النظريات قسمان قسم يتعلق باصول القواعد وقسم يتعلق بالفروع واصول ايمان ثلاثة الايمان بالله وبرسوله وباليوم الاخر وما عداه فروع واعلم انه لا تكفير في الفروع اصلاً الا في مسألة واحدة وهى ان ينكر اصلاً دينياً علم من الرسول ﷺ بالتواتر لكن في بعضها تخطئه كما في الفقهيات وفي بعضها تبديع كا لخطأ المتعلق بالا مامة واحوال الصحابة ، التفرقه ص ١٩٥“ ﴿اور تکفیر کے
٢٤
التفرقہ‘‘ ہی کی چند عبارتیں فارقلیط صاحب اور ان کے ’’دانشوروں‘‘ کی
نے ’’التفرقہ‘‘ میں تاویل کی بحث کی ہے اور بتلایا ہے کہ بعض تاویلیں ایسی پر تاویل کرنے والے کی تکفیر نہیں کی جائے گی۔ بلکہ اس کو خاطی یا بدعتی قرار دلیلیں ایسی ہوتی ہیں۔ جو موجب کفر ہوتی ہیں۔ اور جو لوگ اس طرح کی لو کافر قرار دیا جائے گا۔ اس سلسلہ میں فرماتے ہیں کہ: ”واما ما يتعلق باصول العقائد المهمة فيجب تكفير من يغير الظاهر بغير ذي ينكر حشر الاجساد وينكر العقوبات الحسية في الاخرة واستبعادات من غير برهان قاطع فيجب تكفيره قطعا ...... لفلاسفة (التفرقة ص١٩١) ﴾ اور ان تاویلوں میں سے جن کا تعلق ہو تو ایسے لوگوں کی تکفیر واجب ہوگی۔ جو کسی قطعی دلیل کے بغیر نصوص کے کے ذریعہ تبدیلی کریں۔ جیسے کہ وہ لوگ جو کسی قطعی دلیل کے بغیر محض اپنے یعبادات کی بناء پر قیامت میں حشر اجساد ( جسمانی حشر کا) اور آخرت میں تے ہیں۔ تو ایسے لوگوں کی تکفیر واجب ہے اور یہ بات قطعی اور یقینی ہے ...... ہے۔ ﴾
نے اس عبارت میں جن فلاسفہ کی تکفیر کو واجب اور قطعی قرار دیا ہے۔ وہ تھے اور کعبہ کو قبلہ بھی مانتے تھے۔
ب نے اپنے مضمون میں امام غزالیؒ کی جو عبارت میں وصیت ’’التفرقہ‘‘ ی صفحہ پر اس عبارت سے بالکل متصل یہ عبارت ہے۔
قانون فهوان نعلم ان النظريات قسمان قسم يتعلق قسم يتعلق بالفروع واصول ايمان ثلاثة الايمان بالله م الآخر وما عداه فروع واعلم انه لا تكفير في الفروع واحدة وهى ان ينكر اصلاً دينياً علم من الرسول ﷺ بعضها تخطئة كما في الفقهيات وفي بعضها تبديع كما امة واحوال الصحابة . التفرقه ص ١٩٥ ﴾ اور تکفیر کے
٢٤
بارے میں شرعی قانون کی تفصیل یہ ہے کہ نظریات (عقائد و خیالات) دو قسم کے ہیں۔ ایک وہ جن کا تعلق بنیادی عقائد سے ہو اور دوسرے وہ جن کا تعلق بنیادی عقائد سے نہیں بلکہ فروع سے ہو اور بنائے عقائد تین ہیں۔ اللہ پر ایمان، اس کے رسول پر ایمان ، یوم آخرت پر ایمان اور ان تین سے سوا جو عقائد ہیں ان کو فروع کہا جائے گا اور معلوم ہونا چاہئے کہ فروعی عقائد میں سے کسی کے انکار کی وجہ سے ہم تکفیر بالکل نہیں کریں گے۔ لیکن اس ایک صورت میں فروع میں بھی تکفیر کی جائے گی۔ جب کہ کوئی شخص کسی ایسی دینی حقیقت کا انکار کرے۔ جو رسول اللہ ﷺ سے تواتر کے ساتھ ثابت ہے۔ مگر ان میں سے بعض صورتوں میں اس شخص کو خاطی قرار دیا جائے گا۔ جیسا کہ فقہیات میں اور بعض صورتوں میں مبتدع قرار دیا جائے گا۔ جیسا کہ (شیعوں کے ) غلط خیالات ہیں۔ مسئلہ امامت کے بارے میں صحابہ کرامؓ کے احوال کے بارے میں تو ان کی بناء پر ان کو بدعتی قرار دیا جائے گا۔ ﴾
آگے فرماتے ہیں کہ قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ جب کوئی شخص ایسی بات کہے جس سے حضور ﷺ کی فرمائی ہوئی کسی بات کی تکذیب ہوتی ہو تو اس کی تکفیر واجب ہوگی۔ اگرچہ وہ بات دین کے بنیادی اور اساسی عقائد سے متعلق نہ ہو۔ بلکہ فروع سے متعلق ہو۔ کتاب کے اصل الفاظ یہ ہیں ۔
"ومهما وجد التكذيب وجب التكفير وان كان في الفروع (التفرقه ص ١٩٦) ﴾ اور جب بھی تکذیب کی صورت پائی جائے گی تو تکفیر واجب ہوگی۔ اگرچہ اس کا تعلق کسی فروعی مسئلہ سے ہو۔ ﴾
پھر امام غزالیؒ نے اس کی دو مثالیں بھی دی ہیں۔ ہم ان میں سے صرف دوسری مثال ذکر کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ ناظرین کے لئے سہل الفہم ہے اور بعض ایسے بدبخت اس کے قائل ہوئے ہیں۔ جو اپنے کو مسلمان کہتے اور سمجھتے تھے اور کعبہ کو قبلہ بھی مانتے تھے۔
امام غزالیؒ کے الفاظ میں مثال یہ ہے کہ: ”وكذالك مـن نسـب عـائشـة الـى الفاحشة وقد نزل القرآن ببراء تها فهو كافر لان هذا وأمثاله لا يمكن الا بتكذيب الرسول او انكار التواتر . ص ١٩٦ “ ﴾ اور ایسے ہی اس بدبخت شخص کی تکفیر واجب ہے جو حضرت عائشہ صدیقہؓ کی طرف فاحشہ (بدکاری) کی نسبت کرے۔ (معاذ اللہ ) حالانکہ قرآن مجید نے ان کی برأت کی ہے۔ کیونکہ یہ اور اس طرح کی دوسری گمراہانہ باتیں رسول
٢٥
الله ﷺ کی تکذیب یا تواتر کے انکار کے بغیر ممکن نہیں۔ ٭
واضح رہے کہ امام غزالی نے یہ مثال اس کی دی ہے کہ اگر کوئی شخص کسی ایسے مسئلہ میں جس کا تعلق اسلام کے بنیادی عقائد سے نہ ہو۔ بلکہ فروع سے ہو۔ ایسی بات کہے جس سے رسول الله ﷺ کی تکذیب ہوتی ہو اور جو بات آپ ﷺ سے تواتر کے ساتھ یعنی اور قطعی طریقہ پر ثابت ہے۔ اس کا انکار ہوتا ہو تو اس کو کافر کہا جائے گا۔ حضرت صدیقہ پر تہمت کا مسئلہ اس کی مثال ہے۔
پھر منقولہ بالا عبارت کے چند سطر بعد ارقام فرماتے ہیں۔
”واما الاصول ثلاثة وكل مالم يحتمل التاويل في نفسه وتواتر نقله ولم يتصور ان يقوم برهان على خلافه فمخالفة تكذيب محض ومثاله ماذكرناه من حشر الاجساد والجنة والنار، التفرقه ص ١٩٦ “ اور دین کے تینوں بنیادی عقائد ایمان باللہ ایمان بالرسول اور ایمان بالیوم الآخر اور ہر وہ دینی بات جس میں تاویل کا احتمال نہ ہو اور وہ رسول الله ﷺ سے تواتر کے ساتھ ثابت ہو اور اس کے خلاف کسی برہان (قطعی دلیل) کا قائم ہونا متصور نہ ہو تو اس سے اختلاف کرنا تکذیب کے سوا کچھ نہیں اور اس کی مثالیں وہ ہیں جو ہم نے ذکر کیں یعنی حشر اجساد اور جنت و دوزخ ۔ ٭
پھر اس کے اگلے صفحہ پر بحث کو ختم کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
”ولا بد من التنبيه على فائدة اخرى وهو ان لمخالف قد يخالف نصا متواترا ويزعم انه مؤول ولكن ذكر تاويله لا انقداح له اصلا في اللسان لا على بعد ولا على قرب فذلك كفر وصاحبه مكذب وان كان يزعم انه مؤول (التفرقہ ص ١٩٧، ١٩٨) “ اور ایک دوسرا قاعدہ کلیہ ہے۔ ناظرین کو اس سے آگاہ کرنا ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص دین کی ایسی منصوص بات سے اختلاف کرتا ہے۔ جو تواتر سے ثابت ہے اور اس کا اپنا خیال یہ ہوتا ہے کہ وہ اس نص کا منکر نہیں ہے۔ بلکہ اس کی صرف تاویل کرتا ہے۔ مگر جو تاویل وہ پیش کرتا ہے۔ وہ لغت زبان کے لحاظ سے چلنے والی بالکل نہیں ہوتی۔ نہ بعید نہ قریب تو اس شخص کا یہ رویہ کفر ہے اور وہ آدمی دراصل مکذب (حضور ﷺ کو جھٹلانے والا) ہے۔ اگر چہ اس کا گمان اور خیال یہ ہے کہ میں منکر نہیں ہوں۔ بلکہ صرف تاویل کرنے والا ہوں۔
٢٦
یا تواتر کے انکار کے بغیر ممکن نہیں ۔ ﴾ ہے کہ امام غزالی نے یہ مثال اس کی دی ہے کہ اگر کوئی شخص کسی ایسے مسئلہ میں جو بنیادی عقائد سے نہ ہو ۔ بلکہ فروع سے ہو ۔ ایسی بات کہے جس سے رسول کی تکذیب ہوتی ہو اور جو بات آپ ﷺ سے تواتر کے ساتھ یقینی اور قطعی طریقہ پر انکار ہوتا ہو تو اس کو کافر کہا جائے گا ۔ حضرت صدیقہ پر تہمت کا مسئلہ اسی کی
بالا عبارت کے چند سطر بعد ارقام فرماتے ہیں ۔ الاصول ثلاثة وكل مالم يحتمل التاويل في نفسه وتواتر بان يقوم برهان على خلافه فمخالفة تكذيب محض ومثاله حشر الاجساد والجنة والنار (التفرقه ص ١٩٦) “ ﴾ اور دین کے ایمان باللہ ایمان بالرسول اور ایمان بالیوم الآخر اور ہر وہ دینی بات جس میں کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے تواتر کے ساتھ ثابت ہو اور اس کے خلاف کسی کا قائم ہونا متصور نہ ہو تو اس سے اختلاف کرنا تکذیب کے سوا کچھ نہیں اور ہم نے ذکر کیں یعنی حشر اجساد اور جنت و دوزخ ۔ ﴾
اگلے صفحہ پر بحث کو ختم کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔ ومن التنبيه على فائدة اخرى وهوان لمخالف قد يخالف يزعم انه مؤول ولكن ذكر تاويله لا انقداح له اصلا فى اللسان من قرب فذلك كفر وصاحبه مكذب وان كان يزعم ان مؤول (التفرقه ص ١٩٨) “ ﴾ اور ایک دوسرا قاعدہ کلیہ ہے ۔ ناظرین کو اس سے آگاہ کرنا کہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص دین کی ایسی منصوص بات سے اختلاف ثابت ہے اور اس کا اپنا خیال یہ ہوتا ہے کہ وہ اس نص کا منکر نہیں ہے ۔ بلکہ ہے ۔ مگر جو تاویل وہ پیش کرتا ہے ۔ وہ لغت زبان کے لحاظ سے چلنے والی نہیں ہوتی ۔ نہ دور سے نہ قریب تو اس شخص کا یہ رویہ کفر ہے اور وہ آدمی دراصل مکذب (یعنی جھٹلانے والا ) ہے۔ اگر چہ اس کا گمان اور خیال یہ ہے کہ میں منکر نہیں ہوں ۔ بلکہ تاویل کرنے والا ہوں ۔
٢٦
کیا امام غزالی کی اسی کتاب التفرقہ کی اور اسی بحث تکفیر کی ان واضح عبارتوں کے بعد کسی کو یہ شبہ رہ سکتا ہے، کہ ان کی اس وصیت کا (جس کا فارقلیط صاحب نے التفرقہ ہی کے حوالہ سے نقل کیا ہے) یہ مطلب ہے کہ جو کوئی اپنے کو مسلمان کہے اور کلمہ پڑھے اور کعبہ کو قبلہ مانے پھر خواہ اس کے عقائد کچھ بھی ہوں اور دینی حقائق کی وہ کیسی ہی تاویل اور تحریف کرے ۔ اس کی تکفیر نہ کی جائے ظاہر ہے کہ امام غزالی کی التفرقہ کی مندرجہ بالا عبارتیں دیکھنے کے بعد کوئی شخص ان پر یہ تہمت نہیں لگا سکتا۔ امام غزالی تو دین کے مسلم عالم اور عارف ہیں ۔ ایسی جاہلانہ بات تو ایسا کوئی بھی شخص نہیں کہہ سکتا۔ جو دین کی الف ب بھی نہ جانتا ہو۔
قرآن مجید میں یہ واقعہ صراحت کے ساتھ مذکور ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں کچھ ایسے لوگوں نے جو ایمان لا چکے تھے ۔ قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز بھی پڑھتے تھے۔ کوئی کافرانہ بات کہی جس کی اطلاع حضور ﷺ کو ہوگئی ۔ جب ان سے پوچھ گچھ کی گئی تو انہوں نے یہ تاویل اور معذرت کی کہ ہم نے یہ بات دل سے اور سنجیدگی سے نہیں کہی تھی۔ ہنسی مذاق میں کہی تھی ۔ ان کے بارے میں قرآن مجید میں حضور ﷺ کو حکم دیا گیا کہ ان بدبختوں سے صاف فرما دیجئے کہ حیلے بہانے مت کرو ۔ تم ایمان لانے کے بعد کافر ہو گئے ۔ ”قل لا تعتذروا قد كفرتم بعد ايمانكم. توبه ٦٦“ اور اسی سورۃ توبہ میں بعض ایسے لوگوں کے بارے میں جو حضور ﷺ کے زمانے میں اسلام قبول کر چکے تھے۔ مسلمانوں میں شامل تھے اور قبلہ کی طرف رخ کر کے نماز بھی پڑھتے تھے ۔ بیان فرمایا گیا ہے کہ انہوں نے کوئی کافرانہ بات کہی اور اس بناء پر دائرہ اسلام سے خارج اور کافر قرار پائے ۔ ”لقد قالوا كلمة الكفر وكفروا بعد اسلامهم (توبه: ٧٣)“
قرآن مجید کی یہ آیتیں ناطق ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنے کو مسلمان کہے ، کلمہ پڑھے ، کعبہ کو قبلہ مانے ، اسی کے ساتھ کوئی کافرانہ بات کرے یا کافرانہ عقیدہ کا اظہار کرے وہ دائرہ اسلام سے خارج اور کافر ہے ۔ یہی امت کا اجماعی عقیدہ ہے۔ ہاں یہ کہنا صحیح ہو گا کہ جو شخص اپنے کو مسلمان کہے اور کلمہ گو ہو ہم اسے مسلمان مانیں گے ۔ جب تک کہ اس کی کوئی کافرانہ بات یا کافرانہ عقیدہ علم میں نہ آئے ۔
اس کے بعد گذارش ہے کہ علماء کی طرف سے قادیانیوں کی تکفیر کی سب سے بڑی بنیاد یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے ایسے صاف صریح الفاظ میں جن میں کسی تاویل کی گنجائش نہیں
٢٧
نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور جو لوگ اس دعوے کی فضول تاویلیں کرتے ہیں۔ مرزا قادیانی کے فرزند اور خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود نے خود مرزا قادیانی کی عبارتیں پیش کر کے ان سب کی جڑ کاٹ دی ہے اور نا قابل تردید طریقہ پر ثابت کر دیا ہے کہ مرزا قادیانی اسی معنی میں نبوت و رسالت کے مدعی ہیں۔ جو شریعت میں اس کے معروف معنی ہیں۔ اور وہ ویسے ہی نبی ہیں۔ جیسے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اگلے انبیاء علیہم السلام تھے اور ان کے نہ ماننے والے اسی طرح کافر اور لعنتی ہیں۔ جس طرح رسول اللہ ﷺ اور انبیاء سابقین کے نہ ماننے والے کافر اور لعنتی ہیں۔ مرزا قادیانی اور مرزا محمود قادیانی کی اس سلسلہ کی عبارتیں راقم سطور کے اس مضمون میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ جو قادیانی مسلمان کیوں نہیں؟ کے عنوان سے ایک مہینہ پہلے الفرقان کے اکتوبر کے شمارہ میں شائع ہوا ہے۔ اسی لئے یہاں ہم نے ان عبارتوں کے نقل کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی ١؎ ۔
بہر حال مرزا قادیانی اور ان کی امت کی تکفیر کی اوّل بنیاد یہ ہے کہ وہ مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی وغیرہ مدعیان نبوت کی طرح نبوت و رسالت کے مدعی ہیں اور ختم نبوت سے متعلق قرآن و حدیث کے متواتر اور قطعی نصوص کی ایسی مہمل تاویلیں کرتے ہیں۔ جو حقیقتاً تکذیب اور تحریف ہیں۔ اس لئے شریعت اور علماء شریعت کی نگاہ میں ان کا مقام وہی ہے جو مسیلمہ کذاب وغیرہ مدعیان نبوت اور ان کے امتیوں کا قرار پایا تھا۔
نزول مسیح کا مسئلہ
فارقلیط صاحب کے زیر بحث مضمون میں نزول مسیح کے مسئلہ پر بھی ایک نئے انداز میں گفتگو کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں سب سے پہلی بات یہ کہی گئی ہے کہ نزول مسیح کا عقیدہ رسول اللہ ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کے منافی ہے۔ کیونکہ اگر آخری زمانہ میں عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوا اور وہ اللہ کے نبی ہیں۔ تو خاتم النبیین اور آخری نبی حضور ﷺ نہیں ہوئے۔ بلکہ عیسیٰ علیہ السلام ہوں گے۔
دوسری بات! اس سلسلہ میں یہ کہی گئی ہے کہ نزول مسیح کا عقیدہ غیر قرآنی ہے۔ قرآن مجید میں کہیں اس کا ذکر نہیں۔ بلکہ رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین بتا کر قرآن نے اس عقیدہ کو رد کر دیا ہے۔
١؎ یہ مضمون اس مجموعہ میں شامل ہے۔ ناظرین کرام گذشتہ صفحات میں پڑھ چکے ہیں۔
٢٨
اور جو لوگ اس دعوے کی فضول تاویلیں کرتے ہیں۔ مرزا قادیانی کے بشیر الدین محمود نے خود مرزا قادیانی کی عبارتیں پیش کر کے ان سب کی جڑ کاٹ دی ہے اور ناقابل تردید بطریقہ یہ ثابت کر دیا ہے کہ مرزا قادیانی اسی معنی میں نبوت و رسالت کے مدعی ہیں جو شریعت میں اس کے معروف معنی ہیں۔ اور وہ ویسے ہی نبی ہیں۔ جیسے موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اگلے انبیاء علیہم السلام تھے اور ان کے منکر کافر اور لعنتی ہیں۔ جس طرح رسول اللہ ﷺ اور انبیاء سابقین کے نہ ماننے والے کافر اور لعنتی ہیں۔ مرزا قادیانی اور مرزا محمود قادیانی کی اس سلسلہ کی عبارتیں راقم کے مضمون میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ جو قادیانی مسلمان کیوں نہیں؟ کے عنوان سے ملتان کے اکتوبر کے شمارہ میں شائع ہوا ہے۔ اس لئے یہاں ہم نے ان حوالوں کی ضرورت نہیں سمجھی!۔
غرض مرزا قادیانی اور ان کی امت کی تکفیر کی اوّل بنیاد یہ ہے کہ وہ مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی وغیرہ مدعیانِ نبوت کی طرح نبوت و رسالت کے مدعی ہیں اور ختم نبوت سے متعلق قرآن کریم کی قطعی نصوص کی ایسی مہمل تاویلیں کرتے ہیں۔ جو حقیقتاً تکذیب اور تحریف کے ہم معنی ہیں اور علماء شریعت کی نگاہ میں ان کا مقام وہی ہے جو مسیلمہ کذاب وغیرہ جھوٹے مدعیانِ نبوت اور ان کے امتیوں کا قرار پایا تھا۔
جب کہ زیر بحث مضمون میں نزول مسیح کے مسئلہ پر بھی ایک نئے انداز سے گفتگو کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں سب سے پہلی بات یہ کہی گئی ہے کہ نزول مسیح کا عقیدہ رسول اللہ ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کے منافی ہے۔ کیونکہ اگر آخری زمانہ میں عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہو تو وہ آخری نبی ہیں۔ تو خاتم النبیین اور آخری نبی حضور ﷺ نہیں ہوئے۔ بلکہ عیسیٰ علیہ السلام آخری نبی ہوں گے۔ دوسری بات اس سلسلہ میں یہ کہی گئی ہے کہ نزول مسیح کا عقیدہ غیر قرآنی ہے۔ قرآن میں کہیں اس کا ذکر نہیں۔ بلکہ رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین بتلا کر قرآن نے اس عقیدے کی تردید کر دی ہے۔
یہ مجموعہ میں شامل ہے۔ ناظرین کرام گزشتہ صفحات میں پڑھ چکے ہیں۔ ٢٨
تیسری بات! یہ کہی گئی ہے کہ حدیث کی موجودہ کتابوں میں امام مالک کی ”مؤطا“ سب سے پہلی کتاب ہے۔ جو صحیح بخاری وغیرہ سے بھی مقدم ہے۔ اس میں کوئی حدیث نزول مسیح کی نہیں ہے۔ لہٰذا وہ سب حدیثیں جن میں آخری زمانے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آنا بیان کیا گیا ہے۔ ناقابل اعتبار ہیں اور سمجھنا چاہئے کہ عیسائیوں نے محدثین کو دھوکہ دے کر یہ حدیثیں ان کی کتابوں میں درج کرادی ہیں۔
چونکہ ہمارا یہ مضمون اختصار کی کوشش کے باوجود بہت طویل ہو گیا۔ اس لئے نزول المسیح سے متعلق اس آخری بحث میں ہم صرف ضروری اشارات کریں گے۔ امید ہے کہ ناظرین کی تشفی کے لئے انشاء اللہ وہی کافی ہوں گے۔ جو تین باتیں اس سلسلہ میں مضمون میں کہی گئی ہیں۔ ہم ان پر ترتیب وار گفتگو کرتے ہیں۔
- ......١ یہ بات کہ نزول مسیح کا عقیدہ حضور ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کے منافی
ہے۔ وہی شخص کہے گا جو عربی زبان اور محاورات سے بالکل ناواقف ہو۔ عربی لغت اور محاورے کے لحاظ سے خاتم النبیین اور آخر النبیین اس کو کہا جائے گا۔ جس کو منصب نبوت پر سب سے آخر میں فائز کیا جائے اور اس کے بعد کسی کو یہ منصب نہ دیا جائے اور بلاشبہ یہ مقام سیدنا حضرت محمد ﷺ ہی کا ہے۔ آپ ﷺ کو نبوت سب نبیوں کے بعد دی گئی اور نبی بنائے جانے کا سلسلہ آپ ﷺ پر ختم کر دیا گیا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اس دنیا میں دوبارہ آمد (جیسا کہ امت مسلمہ کا اجماعی عقیدہ ہے) ہرگز حضور ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کے منافی نہیں۔ کیونکہ ان کو تو نبوت حضور ﷺ کی پیدائش سے بھی تقریباً پانچ سو برس پہلے دی گئی تھی۔ پس ان کا بحکم خداوندی حضور ﷺ کے بعد تک زندہ رہنا اور دوبارہ اس دنیا میں آنا اور رسول اللہ ﷺ کی شریعت کے تابع ہو کر آنا۔ جیسا کہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے اور امت محمدیہ کا عقیدہ ہے۔ ہرگز حضور ﷺ کے خاتم النبیین اور آخر النبیین ہونے کے منافی نہیں۔ مثال کے طور پر یوں سمجھئے کہ کسی شخص کی خاتم الاولاد یا آخر الاولاد عربی محاورے کے لحاظ سے اس کو کہا جائے گا۔ جو اپنے سب بہن بھائیوں کے بعد اور آخر میں پیدا ہو۔ اگرچہ اس سے پہلے پیدا ہونے والے اس کے بہن بھائی اس کے بعد تک زندہ رہیں۔ اس کی ایک واقعی مثال یہ ہے کہ حضرت شاہ ولی اللہ کے چار صاحبزادے تھے۔ شاہ عبدالعزیز ، شاہ رفیع الدین ، شاہ عبدالقادرؒ اور شاہ عبدالغنیؒ۔ ان میں سب سے چھوٹے شاہ ٢٩
عبدالغنیؒ تھے۔ لیکن انتقال ان کا سب سے پہلے ہوا اور شاہ عبدالعزیزؒ سب سے بڑے تھے۔ مگر انتقال سب کے بعد میں ہوا۔ تو شاہ ولی اللہ کی خاتم الاولاد اور آخر الاولاد شاہ عبدالغنیؒ ہی کو کہا جائے گا۔ اگرچہ شاہ عبدالعزیزؒ ان کے بہت بعد تک زندہ رہے۔ یہ بات ہر وہ شخص جانتا ہے۔ جس کو عربی لغت و محاورات سے کچھ بھی واقفیت ہے۔.... اور تفسیر کی کتابوں میں بھی خاتم النبیین کی تفسیر وتشریح میں یہ وضاحت کر دی گئی ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے بعد کسی کو نبی نہیں بنایا جائے گا۔ لا بناء بعدہ نبی ! ملاحظہ ہو تفسیر کشاف ، مدارک التنزیل ، روح المعانی وغیرہ،
(تفسیر سورۃ احزاب)
٢...... رہی یہ بات کہ نزول مسیح کا ذکر چونکہ قرآن مجید میں نہیں کیا گیا ہے۔ اس لئے یہ عقیدہ غلط اور غیر قرآنی ہے تو اس سلسلہ میں سب سے پہلے تو یہ عرض کرنا ہے کہ کیا یہ دانشور صاحبان دین سے اتنے ناواقف ہیں کہ یہ بھی نہیں جانتے کہ دین کی بہت سی ایسی اہم اور بنیادی باتیں ہیں۔ جن کے بغیر اسلام اور اسلامی زندگی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا اور قرآن پاک میں ان کا کہیں ذکر نہیں ہے۔ مثلاً سب جانتے ہیں کہ پانچ وقت کی نماز اسلام میں فرض ہے اور توحید ورسالت کی شہادت کے بعد وہ اسلام کا دوسرا رکن ہے۔ لیکن قرآن مجید میں کہیں بھی صراحتاً پانچ وقت کی نماز کا ذکر نہیں۔ نہ قرآن میں یہ بتلایا گیا ہے کہ کس وقت کی نماز میں کتنی رکعتیں اور کتنے رکوع اور کتنے سجدے ہیں۔ اسی طرح قرآن میں اس کا بھی ذکر نہیں کہ زکوٰۃ کس حساب سے ادا کی جائے۔ یہ سب باتیں حدیثوں سے اور امت کے اجماع اور عملی تواتر سے معلوم ہوئی ہیں۔ تو کیا ان سب دینی حقیقتوں کو غیر قرآنی کہہ کر ان کا انکار کر دیا جائے گا؟۔
یہ گفتگو تو یہ فرض کر کے کی گئی ہے۔ کہ قرآن مجید میں نزول مسیح کا ذکر نہیں ہے۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ قرآن پاک کی متعدد آیتوں میں اس کی اطلاع دی گئی ہے۔ لیکن یہ بحث ضمنی طور پر اور اختصار کے ساتھ نہیں کی جاسکتی۔ انشاء اللہ آئندہ دوسری صحبت میں اس پر مستقل گفتگو کی جائے گی۔ اس وقت اس سلسلہ میں ہم صرف اتنا عرض کرنے پر اکتفاء کریں گے کہ ناظرین میں سے جو حضرات عربی دان ہوں وہ امام العصر حضرت مولانا سید انور شاہ کشمیریؒ کی تصنیف عقیدۃ الاسلام کا مطالعہ کریں اور جو حضرات صرف اردو سے استفادہ کر سکتے ہوں وہ حضرت مولانا محمد ابراہیم سیالکوٹیؒ کی شہادۃ القرآن دیکھیں۔ یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کو فہم سلیم کی نعمت سے
٣٠
محروم نہیں کیا ہے، وہ ان کتابوں کے مطالعہ سے یہ اطمینان حاصل کرلیں گے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے بیسیوں ارشادات میں حضرت مسیحؑ کی دوبارہ آمد کی جو اطلاع دی ہے۔ جو آپؐ سے تواتر کے ساتھ ثابت ؎١ ہے اور جو امت کا اجماعی عقیدہ رہا ہے۔ اس کی بنیاد قرآن مجید میں ہے۔
٣...........رہی یہ آخری بات کہ امام مالک کی موطا میں نزولِ مسیح کے بارے میں کوئی حدیث نہیں ہے اور یہ اس کی دلیل ہے کہ صحیح بخاری، صحیح مسلم وغیرہ حدیث کی سیکڑوں کتابوں میں نزول مسیح سے متعلق جو کثیر التعداد حدیثیں ہیں ۔ وہ سب ناقابلِ اعتبار ہیں ۔ کیونکہ اگر یہ حدیثیں صحیح ہوتیں تو امام مالک کو بھی پہنچی ہوتی اور ان کی موطا میں درج ہوتیں۔
فار قلیط صاحب کے ان دانشوروں کی آخری بات اس کی دلیل ہے کہ یہ بے چارے امام مالکؒ کی جس مؤطا کے بارے میں بات کر رہے ہیں ۔ اس کی نوعیت سے یہ بالکل ناواقف ہیں۔ وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ امام مالکؒ کو جتنی حدیثیں پہنچی تھیں وہ سب مؤطا میں درج ہیں اور جو حدیثیں مؤطا میں نہیں ہیں ۔ وہ امام مالک کو پہنچی ہی نہیں یا امام مالکؒ ان کو صحیح نہیں سمجھا لہٰذا وہ سب ناقابلِ اعتبار ہیں۔ حدیث کا فن تو بڑی چیز ہے۔ جو لوگ امام مالکؒ سے اور حدیث کی مؤطا جیسی متداول کتاب سے بھی اتنے نابلد اور ناواقف ہوں۔ حیرت ہے کہ وہ کیوں ان مباحث و مسائل میں دخل دینے کی جرأت کرتے ہیں ۔ جس کسی نے مؤطا دیکھی ہے وہ جانتا ہے کہ وہ کتب فقہ کی طرح صرف اعمال سے متعلق احادیث و آثار اور صحابہ و تابعین کے فتاویٰ کا ایک مختصر مجموعہ ہے۔ چند حدیثیں اس میں اخلاق و آداب سے متعلق بھی ہیں۔ اس کے متعلق یہ گمان کرنا کہ امام مالکؒ کا سارا علم حدیث اس میں آ گیا ہے اور جو حدیث اس میں نہیں ہے ۔ وہ امام مالکؒ کو پہنچی ہی نہیں یا انہوں نے اس کو صحیح نہیں مانا۔ حدیث کے فن اس کی کتابوں کی نوعیت اور امام مالکؒ کے مقام سے انتہائی جہالت کی بات ہے۔
مؤطا کا حال یہ ہے کہ اس میں ایمانیات و عقائد کا باب ہی نہیں ہے۔ قیامت اور آخرت کے بارے میں جو حدیثیں رسول اللہ ﷺ سے تواتر کے ساتھ مروی ہیں ۔ مؤطا ان سے بھی بالکل خالی ہے۔ تو کیا اس سے یہ نتیجہ نکالنا صحیح ہوگا کہ امام مالکؒ ایمانیات یا قیامت و آخرت ________________________ ؎١ امام العصر حضرت مولانا سید انور شاہ کشمیریؒ نے اپنے عربی رسالہ التصریح بما تواتر فی نزول المسیح میں رسول اللہ ﷺ کے ستر سے اوپر ارشادات جمع فرما دیئے ہیں ۔ جن میں آپ نے مختلف عنوانات سے آخر زمانہ میں حضرت مسیح علیہ السلام کے نزول کی اطلاع دی ہے۔
سے متعلق حدیثوں سے ناواقف تھے یا یہ کہ انہوں نے ان تمام حدیثوں کو نا قابل اعتبار سمجھا۔ ایسی بات وہی شخص سوچ سکتا ہے جو اس موضوع سے بالکل جاہل ہو۔ دراصل مؤطا کا موضوع فقہ کی کتابوں کی طرح محدود ہے۔ ایمانیات اور عقائد وغیرہ اس کا موضوع ہی نہیں ہے۔
نزول مسیح کے مسئلہ سے متعلق فارقلیط صاحب کے مضمون میں جو تین اصولی باتیں لکھی گئی تھیں۔ ناظرین کو معلوم ہو چکا کہ ان کی بنیاد عربی لغت و محاورات اور علوم دین سے جہالت و ناواقفیت پر ہے۔ ان کے علاوہ جو اور ضمنی باتیں اسی مسئلہ سے متعلق مضمون میں ذکر کی گئی ہیں۔ خاص کر نزول مسیح سے متعلق حدیث نبوی کے پورے ذخیرہ کو مشکوک اور ناقابل اعتبار قرار دینے کے لئے جو جاہلانہ منطق استعمال کی گئی ہے۔ انشاء اللہ اس کا پورا محاسبہ دوسری صحبت میں آئندہ کیا جائے گا۔
فارقلیط صاحب کے ان دانشوروں کی اسی مسئلہ نزول مسیح کے سلسلہ کی ایک بات اور ذکر کر کے اس بحث کو ہم اس وقت ختم کرتے ہیں۔ ناظرین کو اس آخری بات سے معلوم ہو جائے گا کہ یہ لوگ جہالت و ناواقفیت کی کس سرحد پر ہیں۔ صحیح بخاری کی حدیثوں کو نا قابل اعتبار قرار دینے کے سلسلہ میں اس مضمون میں لکھا ہے کہ: ”حضرت امام ابوحنیفہؒ کے بارے میں مذکور ہے کہ آپ نے حدیث کو رد کر کے قرآن کے اعلان کو تسلیم کیا اور فرمایا کہ بخاری کی حدیث میں جو راوی ہیں۔ اگر ان کے جھوٹے ہونے سے خدا کے مقدس نبی حضرت ابراہیم علیہ السلام سچے ثابت ہوں تو راویوں کو جھوٹا قرار دینا ضروری ہے۔“
اس عبارت سے معلوم ہوا کہ ان دانشوروں (یا بوجھ بھکڑوں) کے نزدیک امام ابو حنیفہؒ امام بخاری کے بعد کسی زمانہ میں ہوئے ہیں اور انہوں نے صحیح بخاری کی ایک حدیث کے راویوں کو جھوٹا قرار دیا ہے۔ حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ امام بخاریؒ امام اعظم ابوحنیفہؒ کی وفات کے قریباً آدھی صدی بعد پیدا ہوئے۔ امام اعظم ابو حنیفہؒ کی وفات ١٥٠ھ میں ہوئی اور امام بخاریؒ ١٩٤ھ میں پیدا ہوئے۔
آخر میں ہم پھر اپنی اس حیرت کا اظہار کرنے پر مجبور ہیں کہ فارقلیط صاحب نے علم و دانش سے ایسے خالی اور اتنے جاہل و بے خبر لوگوں کو دانشور کا معزز لقب دینا کیوں مناسب سمجھا اور ان کی بے سروپا باتوں کو کیوں اس قابل سمجھا کہ ان کو مرتب کر کے شائع کرنے کی ذمہ داری خود قبول فرمائی۔ ہمارے نزدیک تو فارقلیط صاحب نے اپنے ساتھ یہ بڑی زیادتی کی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو تلافی کی توفیق دے۔ ویتوب الله علی من تاب!
خاتم النبیین لا نبی بعدی
شعبہ نشر و اشاعت مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی
مسئلہ نزول وحیات
مسیح علیہ السلام
حضرت مولانا محمد منظور نعمانیؒ
مسئلہ نزول مسیح وحیات مسیح
بسم الله الرحمن الرحیم!
ماہنامہ شبستان دہلی میں فارقلیط صاحب کے نام سے جو مضمون قادیانیوں کی وکالت میں شائع ہوا تھا۔ جس کا جواب ناظرین کرام پچھلے صفحات میں پڑھ چکے ہیں اور جس کے بارہ میں معلوم ہو چکا ہے کہ فارقلیط صاحب نے بعد میں اس سے اپنی برأت بھی ظاہر کر دی تھی۔ والحمد للہ علیٰ ذالک! اس مضمون میں مسئلہ نزول مسیح وحیات مسیح پر بھی کلام کیا گیا تھا اور اس بارہ میں بڑے پر فریب طریقہ پر قادیانی نقطۂ نظر کی حمایت کی گئی تھی اس بحث کے بعض اہم نکات پر بھر پور تنقید تو اس جوابی مضمون میں کر دی گئی تھی۔ جو ناظرین ابھی پڑھ چکے ہیں۔ لیکن حضرت مولانا نعمانی نے اس مسئلہ پر بعد میں ایک مستقل مضمون بھی سپرد قلم فرمایا اور اس میں بھی اس کی پوری کوشش کی کہ جو کچھ لکھا جائے وہ دو اور دو چار کی طرح دل میں اتر جانے والا اور کم تعلیم یافتہ اور اعلیٰ تعلیم یافتہ سب کے لئے تشفی بخش ہو۔ اگلے صفحہ سے ناظرین کرام وہی مضمون ملاحظہ فرمائیں۔ اس میں پہلے ایک تمہیدی حصہ ہے۔ جس میں بتایا گیا ہے کہ قادیانی متکلمین اس مسئلہ کو کس مقصد سے اٹھاتے ہیں اور عقل و فلسفہ کے نام پر جو مغالطے وہ اس مسئلہ میں دیتے ہیں ان کی حقیقت کیا ہے۔ اس کے بعد واضح دلائل کی روشنی میں دکھلایا گیا ہے کہ جو شخص رسول اللہ ﷺ اور قرآن پاک پر ایمان رکھتا ہو۔ اس کے لئے حیات مسیح اور نزول مسیح کے مسئلہ میں شک وشبہ کی بھی کوئی گنجائش نہیں ہے اور عہدِ نبوت سے اب تک اس مسئلہ پر امت محمدیہ کا اجماع رہا ہے۔
مسئلہ نزول مسیح اور قادیانیوں کی چال
جیسا کہ ہر واقف اور باخبر کو معلوم ہے۔ مسلمانوں اور قادیانیوں کے درمیان اصل اختلافی مسئلہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے دور سے لے کر اس وقت تک امت مسلمہ کا یہ عقیدہ اور ایمان رہا ہے کہ آنحضرت ﷺ پر نبوت و رسالت کا سلسلہ ختم ہو گیا۔ آپ ﷺ اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ لہٰذا آپؐ کے بعد جو شخص بھی نبوت کا دعویٰ کرے اور اسی طرح جو کوئی اس کو نبی مانے وہ دائرہ اسلام سے خارج اور مرتد ہے۔ صدیق اکبرؓ کی خلافت سے لے کر اب تک کی ساری اسلامی حکومتوں کا عمل بھی اسی کے مطابق رہا۔ الغرض یہ امت کا اجماعی عقیدہ اور اسلامی حکومتوں کا مسلسل دستور العمل رہا ہے اور چونکہ مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور اپنے کو اسی طرح کا ٢
اور اسی معنی میں نبی ورسول بتایا ہے۔ جس طرح اپنے نہ ماننے والوں کو اسی طرح کا کافر قرار د اللہ ﷺ کے منکر کافر قرار دیئے گئے ہیں۔ اس لئ کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں ١۔
پھر مسلمانوں میں سے جن لوگوں ن ہے ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اگر بالفرض نبوت کا لائق نہ تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کو نبی ورسول بنا کر بھیجت کے لحاظ سے ایک گھٹیا درجہ کے آدمی تھے۔ خاص بے باکی سے جھوٹ بولتے تھے۔ اسی طرح جھو تھے۔ انہوں نے اپنی بعض پیشین گوئیوں کو اپنے ا ان پیشین گوئیوں کو بھی غلط ثابت کر کے ان کا کا پیشین گوئیوں میں سے خاص کر اپنی ایک رشتہ دار اس کا دوسری جگہ نکاح ہو جانے پر اس کے شوہر گوئی اللہ تعالیٰ نے غلط ثابت کر کے مرزا قادیان الہام اور دینی ومذہبی پیشوائی کا کوئی مدعی اتنا ذلیل
بہر حال ایک طرف مسلمانوں کا دوسری طرف قادیانیوں کا یہ موقف ہے کہ وہ مانتے ہیں اور ان کے ان دعوؤں کی تصدیق کر
١ یہ بحث پوری تفصیل سے اور فیصل میں کی جاچکی ہے۔ جس کا عنوان ہے ”قادیانی ٢ اس کی کچھ تفصیل اور مثالیں اور کا رسالہ ”قادیانیت پر غور کرنے کا سیدھا راس حضرت مولانا محمد علی مونگیریؒ کے رسائل ”نشان مرحوم اور مولانا لال حسین اختر مرحوم وغیرہ قادیانیت میں شائع ہو چکے ہیں۔ مرتب!)
اور اسی معنی میں نبی ورسول بتایا ہے۔ جس طرح کے اور جس معنی میں اگلے پیغمبر نبی ورسول تھے اور اپنے نہ ماننے والوں کو اسی طرح کا کافر قرار دیا ہے۔ جس طرح اگلے پیغمبروں کے اور رسول اللہﷺ کے منکر کافر قرار دیئے گئے ہیں۔ اس لئے مسلمان مرزا قادیانی کو اور ان کے ماننے والوں کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں ١ ؎۔
پھر مسلمانوں میں سے جن لوگوں نے مرزا قادیانی کی کتابوں کا گہرا اور وسیع مطالعہ کیا ہے ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اگر بالفرض نبوت کا سلسلہ ختم نہ ہوا ہوتا تب بھی مرزا قادیانی ہرگز اس لائق نہ تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کو نبی ورسول بنا کر بھیجتا۔ خود ان کی کتابیں شاہد ہیں کہ وہ سیرت و کریکٹر کے لحاظ سے ایک گھٹیا درجہ کے آدمی تھے۔ خالص دینی اور مذہبی بحثوں میں بھی بڑی جرأت اور بے باکی سے جھوٹ بولتے تھے۔ اسی طرح جھوٹی پیشین گوئیوں کے بارہ میں بڑے بے باک تھے۔ انہوں نے اپنی بعض پیشین گوئیوں کو اپنے صدق و کذب کا معیار قرار دیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان پیشین گوئیوں کو بھی غلط ثابت کر کے ان کا کاذب اور مفتری ہونا ساری دنیا پر ظاہر کر دیا۔ ان پیشین گوئیوں میں سے خاص کر اپنی ایک رشتہ دار لڑکی محمدی بیگم کے ساتھ نکاح کی پیشین گوئی اور اس کا دوسری جگہ نکاح ہو جانے پر اس کے شوہر سلطان محمد کی معینہ مدت کے اندر موت کی پیشین گوئی اللہ تعالیٰ نے غلط ثابت کر کے مرزا قادیانی کو اس قدر رسواء اور ذلیل کیا کہ دنیا کی تاریخ میں الہام اور دینی و مذہبی پیشوائی کا کوئی مدعی اتنا ذلیل اور رسوا نہ ہوا ہو گا ٢ ؎۔
بہر حال ایک طرف مسلمانوں کا یہ موقف اور نقطہ نظر ہے اور اس کے بالمقابل دوسری طرف قادیانیوں کا یہ موقف ہے کہ وہ مرزا قادیانی کو مسیح موعود اور صاحب وحی و الہام مانتے ہیں اور ان کے ان دعوؤں کی تصدیق کر کے ان کی اطاعت اور پیروی کو نجات کی شرط
١ ؎ یہ بحث پوری تفصیل سے اور فیصلہ کن دلائل کے ساتھ اس مختصر مجموعہ کے اس مقالہ میں کی جاچکی ہے۔ جس کا عنوان ہے ”قادیانی کیوں مسلمان نہیں؟۔“
٢ ؎ اس کی کچھ تفصیل اور مثالیں اور دلائل معلوم کرنے کے لئے دیکھا جائے راقم سطور کا رسالہ ”قادیانیت پر غور کرنے کا سیدھا راستہ“ اور زیادہ تفصیلی بحث کے لئے ملاحظہ ہوں۔ حضرت مولانا محمد علی مونگیریؒ کے رسائل ”نشان آسمانی“ وغیرہ اور مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری مرحوم اور مولانا لال حسین اختر مرحوم وغیرہ علماء و مناظرین کے رسائل۔ (یہ سب احتساب قادیانیت میں شائع ہوچکے ہیں۔ مرتب!)
٣
بتلاتے ہیں اور دنیا بھر کے ان مسلمانوں کو جو ان کو نہیں مانتے۔ کافر قرار دیتے ہیں۔ ان کے پیچھے نماز پڑھنے کو اور ان کے جنازہ کی نماز پڑھنے کو بھی ناجائز کہتے ہیں۔ یہ ہے بنیادی اختلاف قادیانیوں اور مسلمانوں میں۔ جس کے سمجھنے کے لئے اور اس نتیجہ پر پہنچنے کے لئے کہ اس اختلاف میں کون فریق حق پر ہے اور کون باطل پر۔ نہ بڑے علم کی ضرورت ہے نہ بہت تیز عقل اور غیر معمولی ذہانت کی۔
قادیانیوں کی چال
لیکن قادیانیوں کی یہ پرانی چال اور ترکیب ہے کہ وہ اس اصل اور بنیادی اور عام فہم اختلاف سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے اور خود اس سے کترانے کے لئے حیات مسیح اور نزول مسیح کی بحث چھیڑتے ہیں۔ اس چال سے ایک خاص فائدہ وہ یہ بھی اٹھانا چاہتے ہیں کہ بے چارے عوام جو قرآن وحدیث کا براہ راست علم نہیں رکھتے۔ اس مسئلہ سے متعلق فریقین کی باتیں سن کر یا تحریریں پڑھ کر یہ اثر لے لیں کہ مسلمانوں اور قادیانیوں میں ایسا علمی قسم کا اختلاف ہے کہ دونوں طرف سے آیتیں اور حدیثیں پیش کی جاتی ہیں اور دینی کتابوں کے حوالے دیئے جاتے ہیں۔ ایک فریق ان آیتوں، حدیثوں اور کتابوں کی عبارتوں سے ایک مطلب نکالتا ہے اور دوسرا فریق دوسرا مطلب نکالتا ہے۔ اگر بے چارے عوام یہ اثر لے لیں تو ظاہر ہے کہ قادیانیوں کا مقصد حاصل ہو گیا اور اپنی اصل حقیقت کو عوام سے چھپانے میں وہ کامیاب ہو گئے۔ اس کے علاوہ حیات مسیح اور نزول مسیح کی اس بحث کو قادیانی اس صورت حال کی وجہ سے بھی اپنے لئے مفید سمجھتے ہیں کہ پوری دنیا میں مغربی اقوام کے سیاسی اور مادی تفوق کی وجہ سے اور خاص کر ہمارے اس برصغیر میں انیسویں صدی میں انگریزوں کی حکومت اور ان کے قائم کئے ہوئے نظام تعلیم کی وجہ سے (جس کا سلسلہ ہندوستان و پاکستان دونوں میں اب تک جاری ہے) قریباً ایک صدی سے یہ ذہنیت فروغ پاتی رہی ہے کہ جو بات ہماری عقل سے کچھ بھی بالاتر ہو اور اپنی ناقص عقل میں نہ آئے اس کا انکار کر دیا جائے۔ اس چیز نے دانشوری اور دانش مندی کا دعویٰ کرنے والے لاکھوں بدبختوں کو یورپ میں اور یورپ سے باہر بھی یہاں تک پہنچا دیا کہ انہوں نے خدا کا انکار کر دیا۔ کیونکہ خدا ان کی موٹی عقلوں میں نہیں آسکا۔ اسی طرح مسلمان کہلانے والوں میں اچھی خاصی
١؎ اس کے لئے ملاحظہ ہوں مرزا غلام احمد قادیانی کے فرزند اور خلیفہ قادیان دوم مرزا بشیر الدین محمود کی تصنیفات ”حقیقت النبوۃ، تشحیذ الاذہان“ وغیرہ۔
٤
تعداد میں وہ مغربیت زدہ ہیں ۔ جو ملائکہ، جنات اور معجزات وغیرہ کا اسی لئے انکار یا ان کی ملحدانہ تاویلیں کرتے ہیں کہ ان کی ماؤف اور مسخ شدہ عقلیں ان کو سمجھنے سے قاصر ہیں ۔ ظاہر ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا آسمان پر اٹھا لیا جانا اور ان کی حیات اور آخری زمانہ میں ان کے نزول کا مسئلہ بھی اسی قسم کا ہے۔ بہر حال قادیانی حضرات اس مسئلہ کو اس وجہ سے بھی چھیڑتے ہیں کہ اس میں ان کو اس مغربیت زدہ طبقہ کے اپنے جال میں پھنس جانے کی خاص امید ہوتی ہے ۔ جو خدا و رسول اور قرآن وحدیث سے ہدایت حاصل کرنے کے بجائے یورپ کے ملحد عقل پرستوں سے روشنی حاصل کرنے کا عادی ہو چکا ہے اور اسی کو روشن خیالی اور دانشوری سمجھتا ہے ۔
الغرض چونکہ قادیانیوں نے اس مسئلہ کو اپنی پناہ گاہ اور ان مغربیت زدہ دانشوروں کا شکار کرنے کے لئے اپنا جال بنالیا ہے ۔ اس لئے اس وقت ہم اسی طبقہ کے ذہن کو سامنے رکھ کر اس مسئلہ سے متعلق چند اصولی باتیں حوالہ قلم کرتے ہیں ۔ امید ہے کہ جن کے قلوب پر گمراہی کی مہر نہیں لگ گئی ہے ۔ ان کی تشفی اور اطمینان کے لئے انشاء اللہ یہی چند باتیں کافی ہوں گی ۔ اس کے بعد ہم قرآن وحدیث کی روشنی میں اس مسئلہ پر گفتگو کریں گے ۔
- ١....... سب سے پہلی اور اہم بات جس کا اس مسئلہ پر غور کرتے وقت پیش نظر
رکھنا ضروری ہے ۔ یہ ہے کہ اس بحث واختلاف کا تعلق اس ذات سے ہے ۔ جس کا وجود ہی نرالا اور عام سنت اللہ اور قانون فطرت سے بالکل الگ ہے ۔ یعنی حضرت عیسیٰ بن مریم قرآن مجید کا بیان ہے ۔ ( اور انجیل کا بیان بھی یہی ہے اور اسی کے مطابق ساری دنیا کے مسلمانوں اور عیسائیوں کا متفقہ عقیدہ ہے ) کہ وہ اس طرح پیدا نہیں ہوئے ۔ جس طرح ہماری اس دنیا میں انسان ایک مرد اور عورت کے باہم تعلق اور مباشرت کے نتیجہ میں پیدا ہوتے ہیں ( اور جس طرح تمام اولوالعزم پیغمبر اور ان کے خاتم و سردار حضرت محمد ﷺ بھی پیدا ہوئے تھے ) بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی خاص قدرت اور اس کے حکم سے اس کے فرشتہ جبرائیل (روح القدس ) کے توسط سے اپنی ماں حضرت مریم صدیقہ کے بطن سے بغیر اس کے کہ کسی مرد نے ان کو چھوا بھی ہو ۔ معجزانہ طور پر پیدا کئے گئے ۔ قرآن مجید نے سورہ آل عمران کی آیات نمبر ٣٥، ٣٦ میں اور سورہ مریم کی آیات نمبر ١٩ تا ٢٣ میں ان کی معجزانہ پیدائش کا حال تفصیل سے بیان فرمایا ہے (اور قادیانیوں کو بھی اس سے انکار نہیں ہے ) ایسی ہی دوسری ایک عجیب بات قرآن کریم نے ان کے بارے میں یہ بیان فرمائی ہے ٥
کہ جب وہ اللہ کی قدرت اور اس کے حکم سے (بغیر کسی مرد کے ملاپ کے ) معجزانہ طور پر کنواری مریم کے بطن سے پیدا ہوئے اور وہ ان کو اپنی گود میں لئے بستی میں آئیں اور قوم اور بستی کے لوگوں نے ان کے خلاف برے خیالات کا اظہار کیا اور ان پر بہتان لگایا۔ تو اسی نو مولود بچہ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام ) نے اللہ کے حکم سے اس وقت کلام کیا اور اپنے بارہ میں حضرت مریم کی پاکبازی کے بارے میں بیان دیا۔
(سورۂ مریم آیت نمبر ٢٧ تا ٣٠)
پھر قرآن مجید ہی میں بیان فرمایا گیا ہے کہ اللہ کے حکم سے ان کے ہاتھوں پر انتہائی محیر العقول یہ معجزے ظاہر ہوئے کہ مٹی کے گوندے سے وہ پرندے کی سی شکل بناتے اور پھر اس پر پھونک مار دیتے تو وہ زندہ پرندہ کی طرح فضاء میں اڑ جاتا اور مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں پر ہاتھ پھیر دیتے یا دم کر دیتے تو وہ فوراً اچھے بھلے چنگے ہو جاتے۔ اندھوں کی آنکھیں روشن ہو جاتی اور کوڑھیوں کے جسم پر کوڑھ کا کوئی اثر اور داغ دھبہ نہ رہتا اور ان سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ مردوں کو زندہ کر کے دکھا دیتے۔ ان کے ان محیر العقول معجزوں کا بیان بھی قرآن مجید (سورۂ آل عمران اور سورۂ مائدہ ) میں تفصیل اور وضاحت سے کیا گیا ہے اور قرآن پاک کا مطالعہ کرنے والا ہر شخص جانتا ہے کہ اس میں کسی اور پیغمبر کے ایسے معجزے ذکر نہیں کئے گئے۔
الغرض قرآن مجید اس کا شاہد اور انسانی تاریخ بھی اس کی گواہ ہے کہ انسانوں کی دنیا میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شخصیت بالکل نرالی اور ان کا وجود ہی اللہ تعالیٰ کی قدرت کا معجزہ تھا۔ پس جب اسی شخصیت اور اسی ہستی کے بارہ میں اللہ کی کتاب قرآن مجید اور اس کے نبی و رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ یہ بتلائیں کہ ان کے دشمن یہودیوں نے ان کو قتل کرنے اور سولی دلانے کا جو شیطانی منصوبہ بنایا تھا اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی خاص قدرت سے ناکام کر دیا اور ان کو صحیح سالم آسمان پر اٹھا لیا۔ ”وما قتلوه يقينا بل رفعه الله اليه (النساء: ١٥٨) “ اور وہ قیامت سے پہلے اللہ کے حکم سے پھر نازل ہوں گے اور یہیں وفات پائیں گے اور ان کی وفات سے پہلے اس وقت کے عام اہل کتاب ان پر ایمان لائیں گے اور اللہ تعالیٰ ان سے دین محمدی کی خدمت لے گا اور ان کا نازل ہونا قیامت کی ایک خاص علامت اور نشان ہوگا۔ ”وانه لعلم للساعة فلا تمترن بھا (زخرف: ٦١) “ ”وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته (النساء: ١٥٩) “ تو جو اہل ایمان قرآن پاک کے بیان کے مطابق (عام سنۃ اللہ اور قانون فطرت کے خلاف ) ان کی معجزانہ پیدائش پر اور اسی طرح ان کے دوسرے محیر العقول معجزوں پر ایمان لا چکے ہیں۔ ان کو اس کے ماننے اور اس پر ایمان لانے میں کیا تردد ہو سکتا ہے؟۔
٦
رت اور اس کے حکم سے (بغیر کسی مرد کے ملاپ کے ) معجزانہ طور پر کنواری ہوئے اور وہ ان کو اپنی گود میں لئے بستی میں آئیں اور قوم اور بستی کے لوگوں ے خیالات کا اظہار کیا اور ان پر بہتان لگایا۔ تو اسی نو مولود بچہ (حضرت عیسیٰ کے حکم سے اس وقت کلام کیا اور اپنے بارہ میں حضرت مریم کی پاکبازی کے
(سورۃ مریم آیت نمبر ٢٧ تا ٣٠)
مجید ہی میں بیان فرمایا گیا ہے کہ اللہ کے حکم سے ان کے ہاتھوں پر انتہائی ظاہر ہوئے کہ مٹی کے گوندے سے وہ پرندے کی سی شکل بناتے اور پھر اس پر زندہ پرندہ کی طرح فضاء میں اڑ جاتا اور مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں پر ہاتھ تے تو وہ فوراً اچھے بھلے چنگے ہو جاتے۔ اندھوں کی آنکھیں روشن ہو جاتی اور ڑھ کا کوئی اثر اور داغ دھبہ نہ رہتا اور ان سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ مردوں کو ۔ ان کے ان محیر العقول معجزوں کا بیان بھی قرآن مجید (سورۃ آل عمران اور ے اور وضاحت سے کیا گیا ہے اور قرآن پاک کا مطالعہ کرنے والا ہر شخص اور پیغمبر کے ایسے معجزے ذکر نہیں کئے گئے ۔
ن مجید اس کا شاہد اور انسانی تاریخ بھی اس کی گواہ ہے کہ انسانوں کی دنیا سلام کی شخصیت بالکل نرالی اور ان کا وجود ہی اللہ تعالیٰ کی قدرت کا معجزہ تھا۔ ور اسی ہستی کے بارہ میں اللہ کی کتاب قرآن مجید اور اس کے نبی و رسول یہ بتلائیں کہ ان کے دشمن یہودیوں نے ان کو قتل کرنے اور سولی دلانے کا جو اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی خاص قدرت سے ناکام کر دیا اور ان کو صحیح سالم ما قتلوه يقينا بل رفعه الله اليه (النساء: ١٥٨ ) ” اور وہ قیامت ے پھر نازل ہوں گے اور یہیں وفات پائیں گے اور ان کی وفات سے پہلے کتاب ان پر ایمان لائیں گے ، اور اللہ تعالیٰ ان سے دین محمدی کی خدمت تا قیامت کی ایک خاص علامت اور نشان ہوگا ۔ ” وانه لعلم للساعة رف: ٦١) ” وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته تو جو اہل ایمان قرآن پاک کے بیان کے مطابق ( عام سنۃ اللہ اور قانون کی معجزانہ پیدائش پر اور اسی طرح ان کے دوسرے محیر العقول معجزوں پر اس کے ماننے اور اس پر ایمان لانے میں کیا تردد ہو سکتا ہے؟ ۔
٦
الغرض اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شخصیت اور ان کے وجود کی بالکل نرالی معجزانہ نوعیت کو پیش نظر رکھا جائے تو حیات مسیح اور نزول مسیح سے متعلق وہ وساوس وشبہات پیدا ہی نہ ہوسکیں گے۔ جو شیطان یا قادیانی صاحبان کی طرف سے دلوں میں ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
- ٢......... اسی طرح کی ایک دوسری یہ بات بھی اس مسئلہ پر غور کرتے وقت پیش نظر
رہنی چاہئے کہ عیسیٰ علیہ السلام کا نزول (جس کی اطلاع قرآن مجید میں بالاجمال متواتر حدیثوں میں تفصیل اور وضاحت کے ساتھ دی گئی ہے ) اس وقت ہوگا جب کہ قیامت بالکل قریب ہوگی اور اس کی قریب ترین علامتوں کا ظہور شروع ہو چکا ہوگا۔ گویا قیامت کی صبح صادق ہو چکی ہوگی اور نظام عالم میں تبدیلی کا عمل شروع ہو چکا ہوگا اور لگا تار وہ حوادث اور خوارق رونما ہوں گے۔ جن کا آج تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ انہیں میں سے دجال کا ظہور اور عیسیٰ علیہ السلام کا نزول بھی ہوگا۔
پس عیسیٰ علیہ السلام کے نزول یا دجال کے ظہور کا اس بناء پر انکار کرنا کہ ان کی جو نوعیت اور تفصیل حدیثوں میں بیان کی گئی ہے وہ ہماری کوتاہ عقل میں نہیں آتی۔ بالکل ایسا ہی ہے جیسا کہ قیامت اور جنت و دوزخ کا اس بناء پر انکار کر دیا جائے کہ ان کی جو تفصیلات خود قرآن مجید میں بیان فرمائی گئی ہیں۔ ہماری عقلیں ان کو ہضم نہیں کرسکتیں۔
جو لوگ اسی طرح کی باتیں کرتے ہیں ان کی اصل بیماری یہ ہے کہ وہ خدا کی معرفت سے محروم اور اس قدرت کی وسعت سے نا آشنا ہیں اور اپنے نہایت محدود تجربہ اور مشاہدہ اور اپنی ناقص اور خام عقلوں کو انہوں نے خدا کی وحی اور انبیاء علیہم السلام کی اطلاعات سے زیادہ قابل اعتماد سمجھا ہے اور ان کے نزدیک اس کا نام دانشوری ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کہ کوئی برخود غلط دیہاتی جو اپنے کو عقل کل بھی سمجھتا ہو۔ آج کل کی کسی محیر العقول ایجاد یا کسی غیر معمولی انکشاف کا اس لئے انکار کرے کہ وہ اس کو سمجھ نہیں سکتا۔ یہ رویہ صرف ایمان ہی کے منافی نہیں ہے۔ بلکہ عقل سلیم کے بھی خلاف ہے۔
- ٣......... اسی مسئلہ حیات مسیح و نزول مسیح کے سلسلے قادیانی صاحبان جو شبہات اور
سوالات خاص کر جدید تعلیم یافتہ نوجوانوں کے دلوں میں پیدا کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ کو دو ہزار برس کے قریب ہو چکے ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی آدمی اتنی مدت تک زندہ رہے اور اگر وہ زندہ ہیں اور آسمان پر ہیں تو وہاں ان کے کھانے پینے اور پیشاب یا پاخانہ کا کیا نظام اور انتظام ہے؟۔
اگرچہ یہ شبہ اور سوال نہایت ہی جاہلانہ اور عامیانہ ہے اور جس شخص کا خدا کی قدرت اور رسول اللہ ﷺ کی نبوت ورسالت پر ایمان ہو اور اس کو معلوم ہو کہ قرآن کریم نے اور رسول اللہ ﷺ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھائے جانے اور آخر زمانہ میں پھر نازل ہونے کی خبر دی ہے۔ اس کے دل میں یہ سوال پیدا ہی نہ ہونا چاہئے۔ لیکن چونکہ اس طرح کے وسوسے اور خیالات قادیانیوں کے شکار کے خاص آلات ہیں اور دین ومذہب سے ناواقف نوجوانوں کا وہ انہی کے ذریعہ شکار کرتے ہیں۔ اس لئے اختصار کے ساتھ اس بارہ میں بھی کچھ عرض کر دینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔
سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ سمجھنا کہ کوئی آدمی سو دوسو برس سے زیادہ زندہ نہیں رہتا اور نہیں رہ سکتا۔ ایک بچگانہ اور جاہلانہ خیال ہے۔ جس کی کوئی دلیل اور بنیاد نہیں۔ اس کے برخلاف قرآن مجید میں صاف صریح الفاظ میں حضرت نوح علیہ السلام کے متعلق بیان فرمایا گیا ہے کہ وہ ایک ہزار سال کے قریب اس دنیا میں رہے۔ ”فلبث فيهم الف سنة الا خمسين عاماً (عنکبوت: ١٤)“ تو جس اللہ تعالیٰ نے نوح علیہ السلام کو لگ بھگ ایک ہزار سال تک اسی دنیا میں اور اسی عالم آب وگل میں زندہ رکھا۔ بلاشبہ اس میں یہ بھی قدرت ہے کہ وہ چاہے تو کسی بندہ کو دو چار ہزار برس یا اس سے بھی زیادہ مدت تک زندہ رکھے۔ عقل وحکمت کی کوئی دلیل اس کے خلاف پیش نہیں کی جاسکتی۔
اور پھر عیسیٰ علیہ السلام کو تو اللہ تعالیٰ نے ہماری اس دنیا میں نہیں رکھا۔ جس میں یہاں کے قدرتی قوانین چل رہے ہیں۔ (جو یہاں کے مناسب ہیں) بلکہ ان کو آسمان پر اٹھایا گیا اور وہاں کا نظام حیات یقیناً یہ نہیں ہے۔ جو ہماری اس دنیا کا ہے۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ (جن پر مرزا قادیانی اور ان کے متبعین نے یہ تہمت لگائی ہے کہ وہ حیات مسیح اور نزول مسیح کے منکر اور قادیانیوں کی طرح وفات مسیح کے قائل ہیں) انہوں نے اپنی کتاب ”الجواب الصحيح لمن بدل دين المسيح“ میں (جو عیسائیوں کے رد میں لکھی گئی ہے) ایک جگہ گویا اسی سوال کا جواب دیتے ہوئے کہ ”حضرت مسیح علیہ السلام جب آسمان پر ہیں اور زندہ ہیں تو وہاں ان کے کھانے پینے اور پیشاب پاخانے کا کیا انتظام ہے؟۔ تحریر فرمایا ہے کہ: ”فليست حاله كحالة اهل الارض في الاكل والشرب واللباس والنوم والغائط والبول ونحو ذالك (الجواب الصحيح ج٢ ص٢٨٠)“ کہ وہاں
٨
آسمان پر کھانے پینے اور بول و براز وغیرہ کی ضروریات و حاجات کے معاملہ میں ان کا حال زمین والوں کا سا نہیں ہے۔ (وہاں وہ ان چیزوں سے بے نیاز ہیں) ﴾ بلکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت ہے کہ وہ اگر چاہے تو ہماری اسی دنیا میں کسی بندہ کو اس حال میں کر دے کہ وہ سیکڑوں برس تک کھانے پینے سے بے نیاز رہے۔ قرآن مجید میں اصحاب کہف کا واقعہ بیان فرمایا گیا ہے۔ جو قرآن مجید کے بیان کے مطابق تین سو برس سے زیادہ بغیر کچھ کھائے پیئے غار میں رہے۔ "وَلَبِثُوا فِي كَهْفِهِمْ ثَلثَ مِائَةِ سِنِينَ وَازْ دَادُوا تِسْعاً (الكهف: ٢٥) "
اور شیخ عبدالوہاب شعرانی نے "الیواقیت والجواہر" میں اسی سوال کا جواب دیتے ہوئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر کیا کھاتے پیتے ہیں اور اگر وہاں کچھ نہیں کھاتے پیتے تو اتنی مدت تک بغیر کھائے پیئے کیوں کر زندہ رہ سکتے ہیں؟۔
تحریر فرمایا ہے جس کا ماحصل یہ ہے کہ:
"کھانا پینا دراصل ان لوگوں کے لئے ضروری ہے۔ جو اس دنیا میں رہتے بستے ہیں۔ کیونکہ یہاں کی آب و ہوا کے اثر سے بدن کے اجزاء برابر تحلیل ہوتے رہتے ہیں اور غذا سے اس کا بدل فراہم ہوتا ہے۔ ہماری اس دنیا اور ہماری اس زمین اور یہاں کی عام مخلوق کے لئے قدرت خداوندی نے یہی قانون رکھا ہے۔ لیکن جس کو اللہ تعالیٰ اس زمین سے آسمان پر اٹھالے تو اس کو اللہ تعالیٰ کھانے پینے سے اسی طرح بے نیاز کر دیتا ہے۔ جس طرح فرشتے بے نیاز ہیں اور وہاں اللہ کی حمد و تسبیح بھی ان کی غذا ہو جاتی ہے۔ جس سے ان کی زندگی اور قوت برابر قائم رہتی ہے۔"
(الیواقیت والجواہر ج ٢ ص ١٤٦)
اس موقع پر شیخ عبدالوہاب شعرانی نے خلیفۃ الخراد نامی ایک بزرگ کا جو بلاد مشرق کے شہر ابہر کے رہنے والے تھے۔ واقعہ بھی شیخ ابوالطاہر کے حوالے سے نقل کیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ ہم نے ان کو خود دیکھا ہے۔
"مَكَثَ لَا يَطْعَمُ طَعَاماً منذ ثلث وعشرين سنة وكان يعبد الله ليلاً ونھاراً من غير ضعف (اليواقیت والجواہر ج٢ ص ١٤٦) " ﴿ وہ ٢٣ سال مسلسل اس حالت میں رہے کہ کھانا بالکل نہیں کھاتے تھے۔ دن رات عبادت میں مصروف رہتے تھے اور ان پر کمزوری کا کوئی اثر نہیں تھا۔ تو یہ عبادت ہی ان کے لئے غذا کا کام کرتی تھی۔ یہ بطور کرامت کے ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا خاص معاملہ تھا۔ ﴾
٩
اس کے بعد شیخ لکھتے ہیں کہ:
”فلا يبعد ان يكون قوت عيسى عليه السلام التسبيح والتهليل (اليواقيت والجواهر ج ٢ ص ١٤٦)“ ”تو یہ بات کچھ بھی مستبعد نہیں ہے کہ آسمان پر عیسیٰ علیہ السلام کی غذا تسبیح و تہلیل ہو۔“
ہم نے یہاں شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ اور شیخ عبدالوہاب شعرانیؒ کی عبارتوں کا حوالہ اس لئے دینا مناسب سمجھا کہ خود مرزا قادیانی اور ان کے متبعین ان دونوں بزرگوں کی علمی عظمت کا اعتراف کرتے ہیں اور دونوں بزرگوں نے جو کچھ فرمایا ہے۔ اس میں کسی ایسے شخص کو کوئی شک و شبہ نہیں ہو سکتا جس کو اللہ نے وہ عقلِ سلیم عطا فرمائی ہو جو اس کا خاص عطیہ ہے۔
اس مختصر مضمون کو مسئلہ نزولِ مسیح و حیاتِ مسیح کی ایک تمہید سمجھنا چاہئے۔ قرآن و حدیث سے اس مسئلہ کے بارہ میں جو ہدایت ملی ہے اور جس کی روشنی میں عہدِ نبوی سے لے کر اس وقت تک امتِ محمدیہ کا اجماع رہا ہے۔ اس سے واقفیت کے لئے آئندہ صفحات کا مطالعہ فرمایا جائے۔
مسئلہ نزول مسیح علیہ السلام و حیات مسیح علیہ السلام
قرآن و حدیث کی روشنی میں
مسلمانوں کے عقیدہ نزولِ مسیح اور حیاتِ مسیح کی بنیاد دو چیزوں پر ہے۔ ایک قرآن مجید کی بعض آیات اور دوسرے رسول اللہ ﷺ کی وہ کثیر التعداد احادیث جو مجموعی اور معنوی حیثیت سے یقیناً حد تواتر کو پہنچی ہوئی ہیں۔ اس تواتر کا مطلب یہ ہے کہ حدیث کی پچاسوں کتابوں میں مختلف سندوں اور مختلف عنوانات سے اتنے صحابہ کرامؓ سے نزولِ مسیح کی یہ حدیثیں روایت کی گئی ہیں۔ جن کے متعلق ان کی صحابیت سے قطع نظر کر کے بھی از روئے عقل و عادت یہ شبہ نہیں کیا جاسکتا کہ انہوں نے باہم کوئی سازش کر کے حضور ﷺ پر یہ بہتان باندھا ہو گا۔ یا حضور ﷺ کی بات سمجھنے میں ان سب سے غلطی ہوئی ہوگی۔ پھر اسی طرح ان صحابہ کرامؓ سے روایت کرنے والوں اور پھر ان سے روایت کرنے والوں کی تعداد ہر طبقہ اور ہر دور میں اتنی بڑھتی چلی گئی کہ خالص عقلی اور عادی طور پر ان کے متعلق بھی اس قسم کا کوئی شبہ نہیں کیا جاسکتا۔
یہ بات کہ اس قسم کے تواتر سے کسی چیز کا یقینی اور قطعی علم حاصل ہو جاتا ہے اور اس میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہتی ۔ آپ اس مثال سے اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں کہ آپ نے مثلاً لندن
١٠
نیز شیخ لکھتے ہیں کہ: یبعد ان یکون قوت عیسی علیه السلام التسبیح والتهلیل (اھ ج ٢ ص ١٤٦) ”تو یہ بات کچھ بھی مستبعد نہیں ہے کہ آسمان پر عیسیٰ علیہ السلام کی غذا تسبیح و تہلیل ہو ۔“
یہاں شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ اور شیخ عبدالوہاب شعرانیؒ کی عبارتوں کا حوالہ اس لئے دیا گیا کہ خود مرزا قادیانی اور ان کے متبعین ان دونوں بزرگوں کی علمی عظمت کا اعتراف کرتے اور دونوں بزرگوں نے جو کچھ فرمایا ہے۔ اس میں کسی ایسے شخص کو کوئی شک نہیں ہو سکتا کہ اللہ نے وہ عقل سلیم عطاء فرمائی ہو جو اس کا خاص عطیہ ہے۔ ان دونوں عبارات کے مضمون کو مسئلہ نزول مسیح و حیات مسیح کی ایک تمہید سمجھنا چاہئے۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں جو ہدایت ملی ہے اور جس کی روشنی میں عہد نبوی سے لے کر اس وقت تک اجماع رہا ہے۔ اس سے واقفیت کے لئے آئندہ صفحات کا مطالعہ فرمایا جائے۔
مسئلہ نزول مسیح علیہ السلام و حیات مسیح علیہ السلام
قرآن وحدیث کی روشنی میں
اس عقیدہ نزول مسیح اور حیات مسیح کی بنیاد دو چیزوں پر ہے۔ ایک قرآن کی نصوص اور دوسرے رسول اللہ ﷺ کی وہ کثیر التعداد احادیث جو مجموعی اور معنوی لحاظ سے تواتر کو پہنچی ہوئی ہیں۔ اس تواتر کا مطلب یہ ہے کہ حدیث کی پچاسوں کتابوں میں مختلف عنوانات سے اتنے صحابہ کرامؓ سے نزول مسیح کی یہ حدیثیں روایت کی گئی ہیں کہ اگر کسی کی صحابیت سے قطع نظر کر کے بھی از روئے عقل و عادت یہ شبہ نہیں کیا جا سکتا کہ ان سب نے مل کر کوئی سازش کر کے حضور ﷺ پر یہ بہتان باندھا ہوگا۔ یا ان سے غلطی ہوئی ہوگی۔ پھر اسی طرح ان صحابہ کرامؓ سے روایت کرنے والوں کی اور ان سے آگے روایت کرنے والوں کی تعداد ہر طبقہ اور ہر دور میں اتنی بڑھتی چلی گئی کہ خالص عقلی اور منطقی لحاظ سے بھی اس قسم کا کوئی شبہ نہیں کیا جاسکتا۔
جس قسم کے تواتر سے کسی چیز کا یقینی اور قطعی علم حاصل ہو جاتا ہے اور اس میں کوئی شک وشبہ کی گنجائش نہیں رہتی۔ آپ اس مثال سے اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں کہ آپ نے مثلاً لندن
١٠
نہیں دیکھا۔ پیرس نہیں دیکھا، نیو یارک اور ماسکو نہیں دیکھا۔ بغداد اور قاہرہ بھی نہیں دیکھا۔ لیکن آپ کو قطعاً اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ سب شہر دنیا میں موجود ہیں۔ آپ غور کریں اور سوچیں کہ یہ یقین آپ کو کس وجہ سے اور کس دلیل سے حاصل ہوا؟۔ صرف اس وجہ سے کہ آپ نے ان شہروں کا مختلف لوگوں سے اتنا تذکرہ سنا ہے اور کتابوں اور اخباروں میں ذکر اس قدر پڑھا ہے کہ جس کے بعد آپ کے لئے کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں رہی۔ بس اسی کا نام تواتر ہے اور خاص علمی اصطلاح میں اس قسم کے تواتر کو تواتر قدر مشترک کہتے ہیں۔
تواتر کا ثبوت
بہرحال نزول مسیح کا مسئلہ رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح کے تواتر سے ثابت ہے۔ حدیث کی قریباً سب ہی کتابوں میں اس مسئلہ سے متعلق رسول اللہ ﷺ کی جو حدیثیں روایت کی گئی ہیں۔ ان کو سامنے رکھنے کے بعد ہر سلیم العقل کو بالکل قطعی اور یقینی علم اس بات کا حاصل ہو جاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ اس دنیا میں آنے کی اطلاع اپنی امت کو ضرور دی تھی۔ حضرت استاذ مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری قدس سرہ نے اب سے قریباً پچاس سال پہلے اس مسئلے کے متعلق احادیث و روایات کو حدیث کی متفرق کتابوں سے چھانٹ کر اپنے ایک رسالہ ”التصریح بما تواتر فی نزول المسیح ١؎“ میں جمع کر دیا تھا۔ اس میں ستر سے اوپر مرفوع حدیثیں ہیں۔ جن میں سے قریباً ٤٠ وہ ہیں۔ جو سند کے لحاظ سے محدثین کے نزدیک صحیح یا حسن درجہ کی ہیں۔ حالانکہ تواتر اور حصول یقین کے لئے اس سے بہت کم تعداد کافی ہوتی ہے۔ بہرحال اس مسئلہ سے متعلق حدیثیں بلا شبہ حد تواتر کو پہنچی ہوئی ہیں اور ماہرین حدیث و روایت نے اس تواتر کی تصریح بھی کی ہے۔ صحیح بخاری کے شارح اور مشہور مفسر قرآن حافظ ابن کثیر اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ:
”وقد تواترت الاحادیث عن رسول اللہ ﷺ انہ اخبر بنزول عیسیٰ علیہ السلام قبل یوم القیامۃ (تفسیر ابن کثیر ج ٧ ص ٢١٧، زیر آیت وانہ لعلم للساعۃ)“ احادیث متواترہ سے یہ بات معلوم ہو چکی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے کی خبر امت کو دی تھی۔ ٭
١؎ یہ رسالہ شیخ عبدالفتاح ابو غدہ کی تحقیق و تعلیق کے ساتھ حلب سے بھی شائع ہوا تھا۔ اس کا عکس حال ہی میں مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان نے دوبارہ شائع کیا ہے۔
١١
مرزا غلام احمد قادیانی کا اقرار و اعتراف
یہاں ناظرین کو یہ بتا دینا بھی مناسب اور مفید ہوگا کہ خود مرزا قادیانی نے بھی اس کا اقرار واعتراف کیا ہے کہ نزول مسیح سے متعلق حدیثیں متواتر ہیں اور ان کو تواتر اول درجہ کا ہے۔ ازالہ اوہام میں لکھتے ہیں کہ:
”مسیح ابن مریم کے آنے کی پیشین گوئی ایک اول درجہ کی پیشین گوئی ہے۔ جس کو سب نے بالاتفاق قبول کر لیا ہے اور جس قدر صحاح میں پیشین گوئیاں لکھی گئی ہیں۔ کوئی پیشین گوئی اس کے ہم پلہ اور ہم وزن ثابت نہیں ہوتی۔ تواتر کا اول درجہ اس کو حاصل ہے۔“
(ازالہ ص ٥٥٧، خزائن ج ٣ ص ٤٠٠)
یہاں اس حقیقت کا علم بھی ناظرین کے لئے موجب بصیرت ہوگا کہ مرزا قادیانی مسیحیت کے دعوے کے بعد بھی طویل مدت تک (دس بارہ سال تک) سب مسلمانوں کی طرح یہی یقین رکھتے تھے کہ حضرت مسیح علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں۔ جیسا کہ حدیثوں میں بتایا گیا ہے۔ وہ آخر زمانہ میں نازل ہوں گے اور کہتے تھے کہ الہامات میں مجھے جو مسیح کہا گیا ہے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ میں مثیل مسیح ہوں۔ براہین احمدیہ جو ان کی ابتدائی دور کی تصنیفوں میں سے ہے۔ اس کے ایک حاشیہ میں انہوں نے لکھا تھا کہ:
”اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق واقطار میں پھیل جائے گا۔“
(براہین احمدیہ ص ٤٩٨، ٤٩٩، خزائن ج ١ ص ٥٩٣ حاشیہ)
اور مرزا قادیانی کے فرزند خلیفہ مرزا محمود نے حقیقت النبوۃ میں لکھا ہے کہ:
”حضرت مسیح موعود باوجود مسیح کا خطاب پانے کے دس سال تک یہی خیال کرتے رہے ہیں کہ مسیح آسمان پر زندہ ہے۔ حالانکہ آپ کو اللہ تعالیٰ مسیح بنا چکا تھا۔ جیسا کہ براہین کے الہامات سے ثابت ہے۔“
(حقیقۃ النبوۃ ص ١٤٢)
مرزا قادیانی اور مرزا محمود کی ان عبارتوں سے دو باتیں صاف طور پر معلوم ہو گئیں۔ ایک یہ کہ نزول مسیح کے متعلق احادیث حد تواتر کو پہنچی ہوئی ہیں۔ ان کا تواتر اول درجہ کا ہے اور دوسرے یہ کہ مرزا قادیانی نے بھی ان حدیثوں سے یہی سمجھا تھا کہ حضرت مسیح بن مریم (جو اسرائیلی سلسلہ کے آخری پیغمبر تھے جن کا ذکر قرآن مجید میں بار بار کیا گیا ہے وہی) آخری زمانہ
١٢
قادیانی کا اقرار واعتراف
ناظرین کو یہ بتا دینا بھی مناسب اور مفید ہوگا کہ خود مرزا قادیانی نے بھی اس کا اقرار کر لیا ہے کہ نزول مسیح سے متعلق حدیثیں متواتر ہیں اور ان کو تواتر اول درجہ کا ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ :
’’مسیح بن مریم کے آنے کی پیشین گوئی ایک اول درجہ کی پیشین گوئی ہے۔ جس کو سب نے مان لیا ہے اور جس قدر صحاح میں پیشین گوئیاں لکھی گئی ہیں ۔ کوئی پیشین گوئی اس ہم وزن ثابت نہیں ہوتی ۔ تواتر کا اول درجہ اس کو حاصل ہے۔‘‘
(ازالہ ص ٥٥٥، خزائن ج ٣ ص ٤٠٠)
اس حقیقت کا علم بھی ناظرین کے لئے موجب بصیرت ہوگا کہ مرزا قادیانی نے دعویٰ مسیحیت کے بعد بھی طویل مدت تک (دس بارہ سال تک ) سب مسلمانوں کی طرح یہی عقیدہ رکھا کہ حضرت مسیح علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں۔ جیسا کہ حدیثوں میں بتلایا گیا ہے اور آخری زمانہ میں نازل ہوں گے اور کہتے تھے کہ الہامات میں مجھے جو مسیح کہا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ میں مثیل مسیح ہوں ۔ براہین احمدیہ جو ان کی ابتدائی دور کی تصنیفوں میں سے ہے اس کے حاشیہ میں انہوں نے لکھا تھا کہ:
’’ہو سکتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ پر اسلام کی سچائی آفاق واقطار میں پھیل جائے گا۔‘‘
(براہین احمدیہ ص ٤٩٨، ٤٩٩ ، خزائن ج ١ ص ٥٩٣ حاشیہ)
اسی طرح مرزا قادیانی کے فرزند خلیفہ مرزا محمود نے حقیقت النبوۃ میں لکھا ہے کہ:
’’حضرت مسیح موعود باوجود مسیح کا خطاب پانے کے دس سال تک یہی خیال کرتے رہے کہ مسیح آسمان پر زندہ ہے۔ حالانکہ آپ کو اللہ تعالیٰ مسیح بنا چکا تھا۔ جیسا کہ براہین کے الہام سے ظاہر ہے۔‘‘
(حقیقت النبوۃ ص ١٤٢)
مرزا قادیانی اور مرزا محمود کی ان عبارتوں سے دو باتیں صاف طور پر معلوم ہو گئیں۔ ایک یہ کہ نزول مسیح کے متعلق احادیث حد تواتر کو پہنچی ہوئی ہیں۔ ان کا تواتر اول درجہ کا ہے اور دوسرے یہ کہ خود مرزا قادیانی نے بھی ان حدیثوں سے یہی سمجھا تھا کہ حضرت مسیح بن مریم (جو بنی اسرائیل کے مشہور پیغمبر تھے جن کا ذکر قرآن مجید میں بار بار کیا گیا ہے وہی ) آخری زمانہ
١٢
میں آسمان سے نازل ہوں گے اور انہی حدیثوں کی بناء پر ان کو اس عقیدہ پر ایسا یقین اور اطمینان تھا کہ (بقول ان کے ) جب ان کے خدا نے الہام میں ان کو مسیح قرار دیا تو انہوں نے اس کا مطلب یہ سمجھا کہ میں مثیل ہوں اور اس کے بعد بھی دس سال تک یہی سمجھتے رہے اور اس عقیدے پر قائم رہے۔ جو انہوں نے حدیثوں سے سمجھا تھا اور جو پوری امت نے سمجھا اور جو سب مسلمانوں کا عقیدہ تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آخری زمانہ میں آسمان سے نازل ہوں گے۔
پھر مدت کے بعد ١٨٩١ء میں مرزا قادیانی نے دعویٰ کیا کہ میں ہی وہ مسیح بن مریم اور عیسیٰ بن مریم ہوں۔ جن کے نازل ہونے کی رسول اللہ ﷺ نے اپنی کثیر التعداد حدیثوں میں امت کو خبر دی تھی۔
جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے عقل و فہم سے بالکل محروم نہیں کیا ہے وہ سوچیں کہ مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ کتنا مہمل اور معقولیت سے کس قدر دور ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ارشادات میں جہاں مثلاً حضرت ابراہیم علیہ السلام ، حضرت اسماعیل علیہ السلام ، حضرت اسحاق علیہ السلام ، حضرت یعقوب علیہ السلام ، حضرت موسیٰ علیہ السلام ، حضرت ہارون علیہ السلام اور ان کے علاوہ جن پیغمبروں کا نام کے ساتھ ذکر کیا وہاں تو وہی پیغمبر مراد ہوں ۔ جن کا ان ناموں سے قرآن پاک میں ذکر کیا گیا ہے اور جو ان ناموں سے معروف ہیں۔ لیکن نزول مسیح سے متعلق پچاسوں حدیثوں میں جہاں جہاں آپ ﷺ نے مسیح بن مریم اور عیسیٰ بن مریم کا ذکر کیا ہے اور آخر زمانہ میں ان کے نزول کی خبر دی ہے۔ اس سے آپ کی مراد وہ مسیح اور عیسیٰ نہ ہوں ۔ جن کا ذکر اس نام سے قرآن مجید میں کیا گیا ہے اور جو اس نام سے معروف ہیں ۔ بلکہ ان سب حدیثوں میں مسیح بن مریم اور عیسیٰ بن مریم سے مراد مرزا غلام احمد قادیانی جیسا ان کا کوئی مثیل ہو۔
’’لا حول ولا قوۃ الا باللہ‘‘ کیا اس سے زیادہ مہمل اور خلاف عقل کوئی بات کہی جا سکتی ہے؟۔ لیکن حیرت ہے کہ قادیانیوں میں مولوی محمد علی لاہوری اور خواجہ کمال الدین جیسے دانشوروں اور تعلیم یافتوں نے بھی اس کو قبول کرلیا اور نہ صرف قبول کر لیا بلکہ زور شور سے اس کی وکالت شروع کر دی۔ بلاشبہ حق فرمایا اللہ تعالیٰ نے ’’ومن لم يجعل الله له نورا فما له من نور‘‘ اور ’’و من يضلل الله فما له من هاد‘‘
ہم نے عرض کیا تھا کہ عقیدۂ حیات مسیح ونزول مسیح کی بنیاد بعض آیات پر ہے اور رسول اللہ ﷺ کی ان کثیر التعداد احادیث پر جو حد تواتر کو پہنچی ہوئی ہیں اور جن کو مجموعی طور پر سامنے رکھنے
١٣
کے بعد اس بات کا قطعی اور یقینی علم حاصل ہو جاتا کہ رسول اللہ ﷺ نے آخر زمانہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی خبر دی تھی۔ احادیث کے بارے میں جو کچھ ہم نے یہاں عرض کیا امید ہے کہ انشاء اللہ وہ ناظرین کے لئے کافی ہوگا۔
نزول مسیح و حیات مسیح کا ثبوت قرآن مجید سے
قرآن مجید کے بارہ میں بھی ہم پہلے اسی طرح کی ایک اصولی بات عرض کرتے ہیں۔ ہر پڑھا لکھا آدمی اس بات سے واقف ہوگا کہ نزول قرآن کے وقت بھی عام عیسائیوں کا یہ عقیدہ تھا اور اب بھی یہی عقیدہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر اٹھا لئے گئے اور وہ زندہ ہیں اور آخر زمانہ میں اس دنیا میں پھر نازل ہوں گے اور مروجہ انجیلوں میں یہی لکھا ہے۔١؎
پس اگر یہ عقیدہ ایسا ہی گمراہانہ اور مشرکانہ ہوتا۔ جیسا کہ مرزا قادیانی اور ان کے امتی کہتے ہیں٢؎ تو لازم تھا کہ قرآن مجید میں (جس کا خاص موضوع ہر قسم کے شرک کو ڈھانا ہے) اس عقیدہ کی بھی ایسی ہی صراحت اور وضاحت کے ساتھ تردید اور نفی کی جاتی ہے۔ جس طرح عیسائیوں کے دوسرے گمراہانہ اور مشرکانہ عقائد (مثلاً حضرت مسیح کی الوہیت اور ابنیت و ولدیت اور عقیدۂ تثلیث وغیرہ) کی گئی ہے۔ تاکہ قرآن پر ایمان لانے والی امت اس عقیدہ سے بھی اسی طرح محفوظ ہو جاتی جس طرح حضرت مسیح کی الوہیت اور ابنیت و ولدیت کے مشرکانہ عقائد سے محفوظ ہوگئی۔ لیکن ظاہر ہے کہ قرآن مجید میں کہیں بھی اس عقیدہ کی ایسی تردید اور نفی نہیں فرمائی گئی۔ جس کی سب سے بڑی اور عام فہم دلیل یہ ہے کہ نزول قرآن کے زمانے سے لے کر اس وقت تک جمہور امت کا یہی عقیدہ رہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر اٹھا لئے گئے ہیں اور آخر زمانہ میں وہ پھر نازل ہوں گے۔ ہر دور کے مصنفین و مفسرین و محدثین و متکلمین اپنی کتابوں میں
١؎ دیکھی جائے انجیل، لوقا، باب ٢٤، آیت ٥١، مرقس باب ١٦، آیت ١٩، اعمال باب اول آیت ٩، ١٠، ١١۔
٢؎ مرزا قادیانی نے (الاستفتاء ص ٤٩، ضمیمہ حقیقت الوحی، خزائن ج ٢٢ ص ٦٦٠) میں حیات مسیح کے عقیدہ کو شرک عظیم کہا ہے اور ان کے فرزند اور خلیفہ مرزا محمود نے حقیقت النبوۃ ص ٥٢ میں اس کو سخت شرک بتایا ہے۔
١٤
عی اور یقینی علم حاصل ہو جاتا کہ رسول اللہ ﷺ نے آخر زمانہ میں حضرت عیسیٰ کی خبر دی تھی۔ احادیث کے بارے میں جو کچھ ہم نے یہاں عرض کیا امید ہے ان کے لئے کافی ہوگا۔
سیح کا ثبوت قرآن مجید سے
ید کے بارہ میں بھی ہم پہلے اسی طرح کی ایک اصولی بات عرض کرتے ہیں۔ بات سے واقف ہوگا کہ نزول قرآن کے وقت بھی عام عیسائیوں کا یہ عقیدہ یدہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر اٹھا لئے گئے اور وہ زندہ ہیں اور آخر زمانہ زل ہوں گے اور مروجہ انجیلوں میں یہی لکھا ہے۔١؎ عقیدہ ایسا ہی گمراہانہ اور مشرکانہ ہوتا۔ جیسا کہ مرزا قادیانی اور ان کے امتی کہ قرآن مجید میں (جس کا خاص موضوع ہر قسم کے شرک کو ڈھانا ہے) اس س صراحت اور وضاحت کے ساتھ تردید اور نفی کی جاتی ہے۔ جس طرح ے گمراہانہ اور مشرکانہ عقائد (مثلاً حضرت مسیح کی الوہیت اور ابنیت وولدیت ہ) کی گئی ہے۔ تاکہ قرآن پر ایمان لانے والی امت اس عقیدہ سے بھی اسی س طرح حضرت مسیح کی الوہیت اور ابنیت و ولدیت کے مشرکانہ عقائد سے ہر ہے کہ قرآن مجید میں کہیں بھی اس عقیدہ کی ایسی تردید اور نفی نہیں فرمائی سے بڑی اور عام فہم دلیل یہ ہے کہ نزول قرآن کے زمانے سے لے کر اس کا یہی عقیدہ رہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر اٹھا لئے گئے ہیں اور آخر ہوں گے۔ ہر دور کے مصنفین و مفسرین و محدثین و متکلمین اپنی کتابوں میں
١؎ انجیل ،لوقا، باب ٢٤، آیت ٥١ ، مرقس باب ١٦، آیت ٢٩ ، اعمال باب
دیانی نے (الاستفتاء ص ٤٩، ضمیمہ حقیقت الوحی ، خزائن ج ٢٢ ص ٦٦٠ ) میں حیات عظیم کہا ہے اور ان کے فرزند اور خلیفہ مرزا محمود نے حقیقت النبوۃ ص ٥٢ میں ہے۔
١٤
سب یہی عقیدہ لکھتے رہے، حتیٰ کہ ہر صدی کے مجددین بھی (جن کا خاص کام ہی یہ ہوتا ہے کہ امت کے اعمال وعقائد میں داخل ہو جانے والی غلطیوں اور گمراہیوں کی اصلاح کریں اور حق وباطل کے درمیان لکیر کھینچیں) وہ سب بھی اپنے اپنے دور میں اسی عقیدہ کا اظہار کرتے رہے اور انتہاء یہ ہے کہ خود مرزا غلام احمد قادیانی الہام اور مجددیت کا دعویٰ کرنے کے بعد اور اپنے ”خدا“ کی طرف سے مسیحیت کے منصب پر فائز ہونے کے دس بارہ برس بعد تک بھی اسی عقیدہ پر قائم رہے اور اسی کو اسلامی اور قرآنی عقیدہ سمجھتے رہے۔ کیا ہوش وحواس رکھتے ہوئے کوئی بھی آدمی یہ کہہ سکتا ہے یا اس کو باور کر سکتا ہے کہ قرآن مجید میں تو اس عقیدہ کی تردید اور نفی صاف صاف کی گئی تھی۔ لیکن امت کے ان سارے طبقوں میں سے کسی نے اس کو سمجھا ہی نہیں اور خود مرزا قادیانی بھی پچاس برس کی عمر تک ١٨٩١ء تک ٢؎ اس کو نہیں سمجھ سکے۔ بلکہ قرآنی آیتوں اور حدیثوں سے اس کے بالکل برعکس یہی سمجھتے رہے کہ حضرت مسیح آسمان پر اٹھا لئے گئے اور وہ زندہ ہیں اور حدیثوں کی پیشین گوئیوں کے مطابق وہی پھر آخر زمانہ میں نازل ہوں گے۔
یہ مسلم تاریخی حقائق اس بات کی آفتاب سے زیادہ روشن دلیل ہیں۔ کہ قرآن کریم کے تیس پاروں میں کہیں ایک لفظ بھی ایسا نہیں ہے جس سے حیات مسیح اور نزول مسیح کے عقیدہ کی تردید اور نفی ہوتی ہو۔ اگر ایک لفظ بھی ایسا ہوتا تو ہرگز امت اس عقیدہ کو اس طرح نہ اپناتی۔ یہ ایسی موٹی اور عام فہم بات ہے۔ جس کو بڑے بڑے عالم دین کی طرح ایک نا تعلیم یافتہ آدمی بھی آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ قادیانی مصنفین ومتکلمین جن آیتوں کے متعلق یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان سے عقیدہ حیات مسیح ونزول مسیح کی تردید ونفی ہوتی ہے۔ وہ ان کی صرف کج بحثی اور زبان درازی ہے۔ قرآن پاک کتاب ہدایت ہے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ اس کی زبان اور اس کا بیان بالکل واضح ہے۔ بلسان عربی مبین ! وہ ہرگز ایسی چیستان نہیں ہے کہ اس کا مقصد ومطلب اس پر ایمان لانے والے اس کے سمجھنے پر عمریں صرف کر دینے والے لاکھوں علماء اور
٢؎ جہاں تک ہمیں معلوم ہے کہ مرزا قادیانی نے حیات مسیح اور نزول مسیح علیہ السلام کا انکار اور اپنے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ ازالہ اوہام میں کیا ہے۔ جو ١٨٩١ء کی تصنیف ہے۔
١٥
مفسرین تیرہ سو برس تک نہیں سمجھ سکے اور خود مرزا قادیانی بھی اپنی مجددیت ومسیحیت کے باوجود پچاس سال کی عمر تک نہیں سمجھ سکے۔
حیرت ہے کہ ان قادیانی مصنفین و متکلمین کو (جن میں مولوی محمد علی لاہوری جیسے مدعیانِ علم و دانش بھی ہیں ) اتنی بے تکی اور معقولیت سے اتنی دور بات کہنے کی جرأت کیسے ہوتی ہے۔ جس کو کوئی عقل والا اس وقت تک قبول نہیں کر سکتا۔ جب تک کہ اپنے کو عقل و فہم سے خالی نہ کرے۔
واقعہ یہ ہے کہ قرآن مجید پر اس سے بڑی کوئی تہمت نہیں لگائی جاسکتی ہے کہ وہ ایسی زبان میں ہے کہ خود اس کے ماننے والے عربی زبان کے وہ لاکھوں ماہرین بھی جنہوں نے اپنی عمریں اس کے مطالعہ اور خدمت میں صرف کر دیں تیرہ سو برس تک اس کا مطلب نہیں سمجھ سکے اور اس کی وجہ سے کسی معمولی غلطی میں نہیں بلکہ شرکِ عظیم میں مبتلا رہے۔ کیا اسلام اور قرآن مجید کی یہی وہ خدمت ہے۔ جس کا دعویٰ مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کی امت کے مصنفین اور متکلمین کرتے ہیں؟۔
اس کے بعد میں عرض کرتا ہوں کہ اگر بالفرض قرآن مجید میں کوئی آیت بھی ایسی نہ ہو جس سے عقیدۂ حیاتِ مسیح اور نزولِ مسیح کی تائید ہوتی ہو تو صرف یہ بات کہ قرآن مجید نے عیسائیوں کے دوسرے گمراہانہ اور مشرکانہ عقیدوں (حضرت مسیح کی الوہیت اور ابنیت وغیرہ) کی طرح اس کی تردید اور نفی نہیں کی۔ ( حالانکہ یہ بھی ان عیسائیوں کا خاص عقیدہ تھا ) اس بات کی روشن دلیل ہے کہ عیسائیوں کا یہ عقیدہ اللہ کے نزدیک غلط اور گمراہانہ نہیں تھا۔ بلکہ ان کے بعض دوسرے عقیدوں کی طرح صحیح عقیدہ تھا۔ کیونکہ ایسے موقعہ پر تردید اور نفی نہ کرنا ایک طرح کی تصدیق اور توثیق ہوتی ہے۔ عقل و منطق اور قانون کا بھی یہ مسلمہ مسئلہ ہے کہ: ”السکوت فی معرض البیان بیان“ لیکن بات صرف اتنی ہی نہیں ہے۔ بلکہ واقعہ یہ ہے کہ قرآن مجید نے ان کے عقیدے کے اس جزو کی اسی طرح تصدیق و توثیق کی ہے۔ جس طرح ان کے اس عقیدے کی کہ حضرت مسیح علیہ السلام بن باپ کے کنواری مریم کے بطن سے پیدا ہوئے اور انہوں نے احیاءِ موتیٰ وغیرہ کے معجزے دکھلائے۔ ہاں حضرت مسیح کے آسمان پر اٹھائے جانے ہی کے سلسلے میں عیسائیوں کے اس عقیدے کی قرآن پاک نے صراحت سے اور پورے زور سے تردید کی ہے کہ وہ صلیب پر چڑھائے گئے اور اس طرح اللہ تعالیٰ اور قرآن مجید نے ان کی عظیم ترین گمراہی کفارہ کے اس عقیدے کو جڑ سے اکھاڑ دیا۔ جس پر عیسائیوں کی ساری بداعمالیوں کی بنیاد ہے۔ اب ناظرین اس کی تفصیل ملاحظہ فرمائیں۔
١٦
جو شخص قرآن مجید سے بالکل جاہل نہیں ہے۔ وہ اتنی بات ضرور جانتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے بارہ میں عیسائیوں اور یہودیوں میں شدید اعتقادی اختلافات تھے۔ دونوں سخت افراط و تفریط میں مبتلا تھے۔ جس کی کچھ تفصیل یہ ہے۔
مسیح کے بارہ میں یہودیوں اور عیسائیوں کا اختلاف
اور قرآن کا ناطق فیصلہ
یہود کہتے ہیں کہ (معاذ اللہ) وہ مریم کی ناجائز اولاد تھے۔ (وہ بدبخت، حضرت مریم علیہا السلام صدیقہ پر زنا کی تہمت لگاتے تھے) نیز کہتے تھے کہ وہ (یعنی مسیح بن مریم) نبوت ورسالت کے جھوٹے مدعی تھے اور کذاب ومفتری تھے اور عوام کو پھانسنے کے لئے معجزوں کے نام سے جو تماشے اور کرتب انہوں نے دکھائے۔ وہ ان کی جادوگری اور شعبدہ بازی کے کرشمے تھے اور ایسے آدمی کے لئے تورات اور اسرائیلی شریعت کا حکم یہ ہے کہ اس کو سولی پر لٹکا کے ختم کر دیا جائے اور اس کی یہ موت لعنتی موت ہوگی۔ تو ہم نے تورات کے حکم کے مطابق ان کو سولی پر چڑھا کے ختم کر دیا اور وہ (معاذ اللہ) لعنتی موت مر گئے۔
اس کے بالمقابل عیسائی ان کو مقدس ترین ہستی اور ”ابن اللہ“ اور ”ثالث ثلاثہ“ (یعنی خدا کا بیٹا اور خدائی کے تین شریکوں میں سے ایک) اور خود خدا کا روپ تک کہتے تھے۔ وہ ان کے ان معجزات پر بھی عقیدہ رکھتے تھے۔ جن کا ذکر انجیلوں میں اور ان کی روایات میں تھا۔ ان کا یہ بھی عقیدہ تھا کہ حضرت مسیح سولی کے واقعہ کے بعد آسمان پر اٹھا لئے گئے۔ یعنی عیسائی یہ بات تسلیم کرتے اور مانتے تھے کہ یہودیوں نے حضرت مسیح کو سولی دلا کر قتل کر دیا۔ یعنی مروا ڈالا ١؎ اور اسی پر ان کے نہایت گمراہانہ عقیدہ کفارہ کی بنیاد ہے۔ لیکن اس کے ساتھ وہ یہ بھی عقیدہ رکھتے تھے کہ
١؎ شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ نے ”الجواب الصحیح“ میں ذکر کیا ہے کہ عیسائیوں میں بعض ایسے لوگ بھی تھے جو مسیح علیہ السلام کے مصلوب ومقتول ہونے سے منکر تھے وہ کہتے تھے کہ ان کے دھوکے میں ایک اور شخص (یہودا) مصلوب ہوا، جس نے جاسوسی کی تھی۔ اللہ نے اس کی صورت بالکل عیسیٰ علیہ السلام جیسی بنادی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صحیح سلامت آسمان پر اٹھا لیا۔ یہ برنباس کی انجیل میں بھی یہی لکھا ہے۔ یہ مسلمانوں کے عقیدہ اور قرآن مجید کے بیان کے بالکل مطابق ہے۔ لیکن دنیا کے عام عیسائی مصلوبیت کے قائل ہیں اور مروجہ اناجیل میں بھی یہی ہے اور اس پر ان کے عقیدہ کفارہ کی بنیاد ہے۔
١٧
بعد میں اللہ تعالیٰ نے مسیح کو زندہ کر کے آسمان پر اٹھا لیا اور وہ آئندہ زمانہ میں پھر اس دنیا میں آئیں گے۔ (یہاں یہ بات خاص طور سے قابل لحاظ ہے کہ کوئی فریق اور کوئی طبقہ اس کا قائل اور مدعی نہیں تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام کا طبعی موت سے انتقال ہوا ۔)
عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں یہودیوں اور عیسائیوں دونوں فریقوں کا مذکورہ بالا عقیدہ اور موقف ان کی تاریخ میں موجودہ انجیلوں میں مذکور ہے اور اس کے زیادہ تر اجزاء قرآن مجید میں بھی بیان فرمائے گئے ہیں۔ پس اس حالت میں کہ اگلے اہل کتاب کے ان دونوں گروہوں ...... یہودیوں اور عیسائیوں میں حضرت مسیح علیہ السلام کے بارے میں اتنے شدید اعتقادی اختلافات تھے اور وہ دونوں افراط و تفریط اور کفر و شرک کی گمراہیوں میں مبتلا تھے ۔ ضروری تھا کہ قرآن مجید جو اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب ہدایت ہے۔ ان اختلافات کے بارہ میں واضح فیصلہ دے ۔ دونوں فریقوں کی گمراہیوں کو رد کر کے اصل حقیقت بتلائے اور حق کو حق اور باطل کو باطل قرار دے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی تنزیل کا مقصد بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ: ”وما انزلنا عليك الكتاب الا لتبين لهم الذي اختلفوا فيه وهدى ورحمة لقوم يؤمنون (نحل: ٦٤)“ ﴿اور اے پیغمبر ہم نے تم پر یہ کتاب (قرآن) خاص اس واسطے نازل کی ہے کہ جن باتوں میں ان لوگوں کے درمیان اختلاف ہے تم اس کو صاف صاف بیان کر دو اور ماننے والوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہو ۔﴾
چنانچہ قرآن مجید نے حضرت مسیح علیہ السلام سے متعلق یہودیوں اور عیسائیوں کے ان اختلافات کے بارہ میں واضح فیصلہ دیا اور ہر فریق کی گمراہیوں کو رد کر کے جو حق تھا اس کا اعلان فرما دیا ۔
عیسائیوں کے عقیدہ الوہیت مسیح اسی طرح ابنیت و ولدیت مسیح اور تثلیث کے نظریہ کی قرآن پاک نے شدت کے ساتھ تردید کی اور اس کو خالص کفر قرار دیا۔
(مائدہ: ٧١ ، ٧٣)
اور سورہ مریم کے آخر میں فرمایا کہ کسی کو خدا کا بیٹا اور اس کی اولاد قرار دینے کی بات اتنی خبیث و شدید ہے کہ اس کی وجہ سے آسمان پھٹ پڑیں اور زمین شق ہو جائے اور پہاڑ لرز کر زمین بوس ہو جائیں ۔
(آیت ٨٨، ٨٩، ٩٠)
اور سورہ زخرف میں فرمایا کہ مسیح کی حیثیت اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ ہمارے ایک بندہ ہیں۔ جن کو ہم نے خاص انعامات سے نوازا۔
(آیت ٥٩)
الغرض قرآن مجید نے بیسیوں مقامات پر یہ اعلان فرمایا کہ عیسائیوں کا مسیح علیہ السلام کی الوہیت اور ابنیّت و ولدیت اور تثلیث کا عقیدہ سخت گمراہی اور ربّ ذوالجلال کی شان پاک میں شدید گستاخی اور صریح کفر ہے۔ مسیح بس اللہ کے بندے اور رسول ہیں، اور عیسائیوں کا یہ کہنا کہ خود مسیح نے ہم کو یہ تعلیم دی تھی۔ اس پاک اور معصوم پیغمبر پر افتراء اور وہ قیامت میں خدا کو گواہ بنا کر اس سے اپنی برأت ظاہر کر دیں گے۔
(آخر سورۂ مائدہ)
اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام سے متعلق یہودیوں کی گمراہی کو بھی قرآن پاک نے رد فرمایا۔ صراحت کے ساتھ اعلان فرمایا کہ عیسیٰ بن مریم، اللہ کے سچے اور برگزیدہ رسول اور مقرب بندے ہیں۔ وہ کلمۃ اللہ ہیں۔ یعنی اللہ نے ان کو اپنی خاص قدرت اور حکم سے معجزانہ طور پر کنواری مریم کے بطن سے پیدا کیا۔ بغیر اس کے کہ کسی مرد نے ان کو چھوا ہو اور مریم اللہ کی برگزیدہ بندی اور صدیقہ تھیں۔ یہودی ان کے بارہ میں جو کہتے ہیں کہ وہ اس پاک بندی پر ان کا بہتان عظیم ہے اور اس کیوجہ سے وہ خدا کی لعنت اور عذاب کے مستحق ہیں۔ سورہ آل عمران سورہ نساء، سورہ مائدہ اور سورہ مریم میں یہ سب مضامین بیان کئے گئے ہیں۔
مسیح مقتول و مصلوب نہیں ہوئے بلکہ اٹھالئے گئے
حضرت مسیح علیہ السلام سے متعلق یہودیوں کی گمراہیوں کے رد کے سلسلے میں قرآن مجید نے ایک بات یہ بھی فرمائی کہ یہودیوں کا یہ عقیدہ اور دعویٰ بھی غلط اور موجب لعنت و عذاب ہے کہ ہم نے مسیح کو سولی دلا کر مار ڈالا۔ ”وقولهم انا قتلنا المسيح عيسى ابن مريم“ آگے فرمایا کہ اصل واقعہ یہ ہے کہ: ”وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم“ یعنی مسیح کو نہ انہوں نے قتل کیا نہ سولی پر چڑھایا۔ بلکہ قدرت کی طرف سے ان کے لئے شبہ کی ایک صورت پیدا کر دی گئی۔ جس کی وجہ سے وہ ایسا خیال کرنے لگے ١؎۔ پھر فرمایا کہ:
”ان الذين اختلفوا فيه لفي شك منه مالهم به من علم الا اتباع الظن وما قتلوه يقينا بل رفعه الله اليه وكان الله عزيزاً حكيماً (النساء:١٥٧، ١٥٨)“ ٢؎ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ یہودی اور عیسائی مسیح کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں وہ مصلوب و مقتول ہو کر ختم ہو گئے یا پھر زندہ کر کے آسمان پر اٹھالئے گئے۔
١؎ واقعہ کیا ہوا اور کس طرح لوگوں کو ایسا خیال ہوگا؟۔ اس کی تفصیل عام تفسیروں میں مذکور ہے اور برنباس کی انجیل کا بیان بھی بالکل اس کے مطابق ہے۔
١٩
ان کے پاس اس واقعہ کے بارے میں صحیح علم نہیں ہے۔ صرف بے اصل اٹکلیں اور بے بنیاد قیاس آرائیاں ہیں۔ جن پر وہ چلتے ہیں۔ صحیح اور یقینی بات یہ ہے کہ انہوں نے ان کو قتل کیا ہی نہیں۔ بلکہ اللہ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا اور اللہ پوری طاقت اور حکمت والا ہے۔ جس نے اپنی کامل قدرت اور حکمت سے یہ سب کچھ کیا۔
بالکل واضح اور کھلی ہوئی بات ہے کہ ان آیتوں میں قرآن مجید نے حضرت مسیح علیہ السلام کے مقتول ومصلوب ہونے کی (یعنی صلیب پر چڑھائے جانے اور مار ڈالے جانے کی) تو پوری وضاحت سے نفی کر دی۔ بلکہ ایک دوسری آیت ”واذ كففت بنى اسرائيل عنك (مائدہ: ١١٠)“ میں یہ بھی بتلا دیا کہ اللہ نے ان کو ایسا بچایا کہ ان کے دشمن یہودی ان کو ہاتھ بھی نہیں لگا سکے تو ان آیتوں نے یہودیوں کے اس لعنتی دعوے اور عقیدے کی واضح تردید کر دی کہ ہم نے مسیح کو صلیب پر چڑھا کے ختم کر دیا اور مار ڈالا اور اس کے ساتھ عیسائیوں کے نہایت خطرناک اور دین کو برباد کر دینے والے عقیدہ کفارہ کو بھی جڑ بنیاد سے اکھاڑ دیا۔ (کیونکہ اس کی بنیاد اسی عقیدے پر ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر چڑھائے گئے اور قتل وصلب کی اس نفی کے ساتھ قرآن مجید نے عیسیٰ علیہ السلام کے لئے رفع (اٹھائے جانے) کا اثبات کیا اور ”بل“ کا کلمہ درمیان میں لا کر فرمایا کہ: ”بل رفعه الله اليه “ یعنی ان پر قتل کا فعل قطعاً واقع نہیں ہوا۔ بلکہ اللہ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ آیت کے اس آخری لفظ سے صاف معلوم ہوا کہ عیسائیوں کے عقیدہ کا یہ جز صحیح ہے کہ مسیح اوپر اٹھا لئے گئے۔
رفع کی قادیانی تاویل
قادیانیوں کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ اس آیت میں رفعه الله الیہ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے درجے بلند کر دیئے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس سے روحانی رفع مراد ہے۔ لیکن جس شخص کو ذرا بھی عربیت سے واقفیت ہو وہ سمجھ سکتا ہے کہ اس آیت میں رفع کے معنی ایسے ہونے چاہئیں جو قتل کی ضد ہوں۔ یعنی مقتول ہونے کے ساتھ جمع نہ ہو سکیں اور ظاہر ہے کہ کسی نبی کے رفع روحانی ورفع درجات میں اور دشمنوں کے ہاتھ سے ان کے مقتول ہونے میں قطعاً کوئی منافات اور تضاد نہیں ہے۔ بلکہ راہ خدا میں مظلومانہ قتل کئے جانے سے تو درجے اور زیادہ بلند ہو جاتے ہیں۔ اسی لئے کہنے والے نے کہا کہ:
ہر مدعی کے واسطے دار و رسن کہاں
٢٠
ان کے بارے میں صحیح علم نہیں ہے۔ صرف بے اصل اٹکلیں اور بے بنیاد قیاس پر راہ چلتے ہیں۔ صحیح اور یقینی بات یہ ہے کہ انہوں نے ان کو قتل کیا ہی نہیں ۔ بلکہ اسے اٹھا لیا اور اللہ پوری طاقت اور حکمت والا ہے۔ جس نے اپنی کامل قدرت سے بچا لیا۔ ﴾
واضح اور کھلی ہوئی بات ہے کہ ان آیتوں میں قرآن مجید نے حضرت مسیح علیہ السلام کے مصلوب ہونے کی (یعنی صلیب پر چڑھائے جانے اور مار ڈالے جانے کی) تو نفی کر دی۔ بلکہ ایک دوسری آیت ’ ’ واذ کففت بنی اسرائیل عنک ‘ ‘ میں یہ بھی بتلا دیا کہ اللہ نے ان کو ایسا بچایا کہ ان کے دشمن یہودی ان کو ہاتھ بھی نہ لگا سکے۔ جس نے یہودیوں کے اس لعنتی دعوے اور عقیدے کی واضح تردید کر دی کہ ہم نے ان کو صلیب پر چڑھا کر ختم کر دیا اور مار ڈالا اور اس کے ساتھ عیسائیوں کے نہایت خطرناک اور باطل عقیدہ کفارہ کو بھی جڑ بنیاد سے اکھاڑ دیا۔ (کیونکہ اس کی بنیاد اسی بات پر ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر چڑھائے گئے اور قتل و صلب کی اس نفی کے ساتھ عیسیٰ علیہ السلام کے لئے رفع (اٹھائے جانے) کا اثبات کیا اور ’ ’ بل ‘ ‘ کا کلمہ درمیان میں لا کر ’ ’ بل رفعہ اللہ الیہ ‘ ‘ یعنی ان پر قتل کا فعل قطعاً واقع نہیں ہوا۔ بلکہ اللہ نے اٹھا لیا۔ آیت کے اس آخری لفظ سے صاف معلوم ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام اٹھا لئے گئے ۔
تاویل
قادیانیوں کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ اس آیت میں رفعہ اللہ الیہ کا مطلب یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے درجے بلند کر دیئے گئے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس سے روحانی رفع مراد ہے۔ جس شخص کو ذرا بھی عربیت سے واقفیت ہو وہ سمجھ سکتا ہے کہ اس آیت میں رفع چاہئیں جو قتل کی ضد ہوں۔ یعنی مقتول ہونے کے ساتھ جمع نہ ہو سکیں اور ظاہر ہے کہ روحانی رفع و درجات میں اور دشمنوں کے ہاتھ سے ان کے مقتول ہونے میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ بلکہ راہ خدا میں مظلومانہ قتل کئے جانے سے تو درجے اور بھی بلند ہوتے ہیں۔ اسی لئے کہنے والے نے کہا کہ:
ہر مدعی کے واسطے دار و رسن کہاں
٢٠
قرآن مجید میں متعدد جگہ انبیاء علیہم السلام کے ناحق مقتول ہونے کا ذکر ہے۔ ’’ ويقتلون الانبياء بغير حق (آل عمران: ١٨١)‘‘ ’’يقتلون النبيين بغير الحق (بقرہ: ٦١)‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ ظاہر ہے کہ اللہ کے یہ سب پیغمبر جو ظالموں کے ہاتھ سے شہید ہوئے اس شہادت کی وجہ سے ان کے درجے بلند ہی ہوئے۔ الغرض رفع روحانی اور رفع درجات ہرگز مقتول ہونے کے منافی نہیں ہے۔ ہاں جسم کے ساتھ صحیح و سالم اٹھا لیا جانا بے شک مقتول ہونے کے منافی ہے۔ اس لئے بل رفعہ اللہ الیہ کا مطلب یہی صحیح ہوگا کہ مسیح علیہ السلام کو ان کے دشمن قتل نہیں کر سکے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے صحیح و سلامت ان کو اپنی طرف اٹھا لیا اور طرف اٹھانے کا مطلب یہی ہوگا کہ آسمان پر اٹھا لیا۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ اگرچہ ہماری طرح کسی مکان کا مکین نہیں ہے۔ لیکن قرآن مجید کے بیان کے مطابق آسمان کو اس سے ایک خاص مکانی نسبت ضرور ہے۔ فرمایا گیا ہے کہ : ’’ء امنتم من فى السماء أن يخسف بكم الارض فاذاهى تمور ....... ام ء امنتم من فى السماء أن يرسل عليكم حاصباً (الملك:١٦، ١٧)‘‘ اور کئی جگہ فرمایا گیا ہے کہ : ’’ثم استوى على العرش (اعراف: ٥٤)‘‘ یہ آیتیں اس کی صریح دلیل ہیں کہ آسمان کو اللہ تعالیٰ کی ذات پاک سے ایک خاص مکانی نسبت ہے اور اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے اس عورت کو مؤمنہ فرمایا۔ جس سے پوچھا گیا تھا کہ خدا کہاں ہے؟ تو اس نے جواب دیا تھا کہ : ’’فی السماء‘‘ یعنی وہ آسمان میں ہے۔
(صحیح مسلم ج ١ ص ٢٠٤ ، باب تحریم الکلام فی الصلوۃ )
اس سلسلہ میں ایک دوسری قطعی فیصلہ کن بات یہ ہے کہ جیسا کہ اوپر تفصیل سے بتلایا گیا کہ : عیسائی عام طور سے مسیح علیہ السلام کے اٹھائے جانے کا عقیدہ رکھتے تھے اور آج بھی انجیلوں میں صراحتاً یہ عقیدہ موجود ہے۔ پھر بعض مقامات پر آسمان پر اٹھائے جانے کے الفاظ ہیں اور بعض جگہ صرف اوپر اٹھائے جانے کا ذکر ہے اور انجیل کے عربی ترجموں میں ان موقعوں پر رفع ہی کا لفظ ہے۔ اب اگر یہ مانا جائے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے مصلوب ہونے کے عقیدہ کی طرح ان کے اٹھائے جانے کا عقیدہ بھی غلط اور مشرکانہ تھا تو قرآن مجید پر سخت الزام آئے گا کہ اس نے اس موقع پر اس عقیدہ کی نہ صرف یہ کہ تردید نہیں کی بلکہ یہ غضب کیا کہ بل رفعہ اللہ الیہ اور دوسری جگہ رافعک الی فرما کر عیسائیوں کے اس عقیدہ پر گویا مہر تصدیق
٢١
ثابت کر دی اور انتہا یہ کہ اس نے لفظ بھی وہی رفع کا بولا جو خود عیسائی اپنے اس عقیدہ کے اظہار کے لئے بولتے تھے اور جو انجیلوں میں اب تک محرفہ موجود ہے۔ اس کا قدرتی نتیجہ یہ ہوا کہ آج تک جمہور امت نے بھی قرآن پاک کے ان الفاظ سے یہی سمجھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اوپر اٹھا لئے گئے۔ پھر تو (معاذ اللہ) قرآن مجید نے خود ہی نہ اس کو گمراہ کیا اور ساری امت کو ایک شرک عظیم میں مبتلا کر دیا۔
الغرض ایک معمولی سی سمجھ بوجھ والا بھی اس بات کو سمجھ سکتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک عیسیٰ علیہ السلام کے قتل وصلب کے عقیدہ ہی کی طرح ان کے اوپر اٹھا لئے جانے کا عقیدہ بھی غلط اور گمراہانہ ہوتا تو پھر جس طرح ما قتلوہ وما صلبوہ فرما کر اور پھر وما قتلوہ یقیناً فرما کر عقیدہ قتل وصلب کی بڑی شدت اور صراحت سے تردید کی گئی ہے۔ اسی طرح عقیدہ رفع کی بھی واضح تردید بھی اس موقع پر کی جاتی۔ لیکن ہوا یہ کہ بجائے نفی اور تردید کے صاف صاف بل رفعہ اللہ الیہ اور دوسری جگہ ورافعک الیٰ فرما کر قرآن کریم نے عیسیٰ علیہ السلام کا رفع (یعنی اٹھایا جانا) بیان کیا۔ الغرض عیسائی عقیدے اور انجیلوں کی تصریحات کو سامنے رکھنے کے بعد اس میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں رہتی کہ قرآن مجید نے ان کے عقیدہ کے اس جز کی یعنی مسیح علیہ السلام کے اٹھا لئے جانے کی تردید نہیں کی بلکہ اس کی واضح تصدیق کی ہے۔ جس طرح عیسائیوں کے اس عقیدہ کی تصدیق کی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بن باپ کے کنواری مریم کے بطن سے اللہ کے حکم سے پیدا ہوئے اور وہ کلمۃ اللہ ہیں اور جس طرح قرآن مجید نے حضرت مسیح کے احیاء موتی وغیرہ ان معجزات کی تصدیق کی ہے۔ جو انجیل میں بیان کئے گئے ہیں اور عیسائی جن کا دعویٰ کرتے اور عقیدہ رکھتے تھے۔
اگر کسی کے دل میں بیماری اور کجی نہ ہو اور قرآن مجید پر ایمان ہو تو ہماری اس گفتگو کے بعد اس کو اس میں شک وشبہ باقی نہیں رہے گا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام کو اپنی خاص قدرت سے معجزانہ طور پر بن باپ کے پیدا کیا تھا۔ اسی طرح ان کے دشمن یہودیوں کی گرفت سے اور قتل وصلب سے بالکل محفوظ رکھ کر معجزانہ طور پر ان کو صحیح و سلامت زندہ آسمان پر اٹھالیا۔
حضرت مسیح کی حیات اور نزول کا قرآن مجید سے واضح ترین ثبوت
پھر اس کے بعد والی آیت میں ایک خاص انداز میں ان کی حیات اور آخری زمانہ میں
٢٤
ان کے نزول اور پھر اس دنیا میں ان کے وفات پانے کی اطلاع دی گئی ہے۔ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ: ”وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته ويوم القيامة يكون عليهم شهيداً (النساء: ١٥٩) “ اور سب ہی اہل کتاب عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے ان پر ضرور بالضرور ایمان لے آئیں گے اور قیامت کے دن وہ ان کے بارہ میں شہادت دیں گے۔“
سیاق و سباق کی روشنی میں آیت کا مطلب
جیسا کہ ناظرین کو معلوم ہو چکا ہے کہ اوپر کی آیتوں میں یہودیوں کے اس باطل فرعونی دعوے کو کہ ہم نے مسیح بن مریم کو مار ڈالا اور سولی پر چڑھا دیا اور وہ (معاذ اللہ) لعنتی موت مر گیا۔ ”انا قتلنا المسيح عيسى بن مريم“ کی یہ فرما کر تردید کی گئی تھی کہ ان کا یہ دعویٰ قطعاً غلط اور باطل ہے۔ وہ مسیح بن مریم کو قتل نہیں کر سکے۔ نہ سولی پر چڑھا سکے۔ بلکہ وہ اس بارہ میں شبہ اور دھوکے میں پڑ گئے۔ (مسیح علیہ السلام کے دھوکے میں انہوں نے ایک دوسرے غدار اسرائیلی کو سولی پر لٹکا دیا۔ جو ان کا ہم شکل بنا دیا گیا تھا) اور مسیح بن مریم کو اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص تدبیر اور قدرت سے صحیح سالم آسمان پر اٹھا لیا۔ ان کے دشمن یہودی ان کو ہاتھ بھی نہیں لگا سکے۔ ”وما قتلوہ وما صلبوہ ولكن شبه لهم ...... وما قتلوہ يقيناً بل رفعه الله اليه وكان الله عزيزاً حكيماً“ اور جیسا کہ پہلے بھی اشارہ کیا جا چکا ہے کہ اسی بیان سے عیسائیوں کے انتہائی گمراہانہ عقیدہ کفارہ کی بھی تردید کر دی گئی تھی۔
اس کے بعد متصلاً یہ آیت ”وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته ويوم القيمة يكون عليهم شهيداً“ اس بحث اور مضمون کا آخری جز اور گویا مقطع کا بند ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ مسیح بن مریم کے مقتول و مصلوب نہ ہونے اور صحیح سالم آسمان پر اٹھا لئے جانے کی بات جو آج وحی اور قرآن کے ذریعہ بیان کی جا رہی ہے۔ اس کی یہود و نصاریٰ کو بھی اس وقت مشاہدہ سے تصدیق ہو جائے گی۔ جب مسیح ابن مریم اس دنیا میں پھر بھیجے جائیں گے اور یہیں آنے کے بعد وفات پائیں گے اور جو اہل کتاب اس وقت زندہ اور باقی ہوں گے وہ حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات سے کچھ پہلے ان کی حیات ہی میں ان پر ایمان لے آئیں گے۔ یعنی یہودی جو ہمیشہ ان کے منکر اور دشمن رہے اور معاذ اللہ ان کو ولد الزنا تک کہتے
٢٣
رہے وہ اپنے اس خبیث کفر سے توبہ کر کے ان پر ایمان لے آئیں گے اور ان کو اللہ کا سچا نبی ورسول اور برگزیدہ بندہ مان لیں گے۔ اسی طرح نصاریٰ بھی جنہوں نے ان کو خدا اور خدا کا بیٹا اور ثالث ثلاثہ بنایا تھا وہ بھی اپنے اس مشرکانہ عقیدہ سے توبہ کر کے ان کو اللہ کا مقرب بندہ اور نبی ورسول مان لیں گے اور یہ دونوں گروہ اس دین محمدی کے حلقہ بگوش ہو جائیں گے۔ جس کے اس وقت حضرت مسیحؑ خود داعی و منادی اور علمبردار ہوں گے۔
آگے فرمایا گیا ہے کہ : ”ويوم القيمة يكون عليهم شهيداً“ یعنی پھر قیامت کے دن حضرت مسیح ان ایمان لانے والے اہل کتاب کے بارے میں اللہ کے حضور میں شہادت دیں گے۔ (جس طرح سارے نبی و رسول اپنی اپنی امتوں کے بارے میں شہادت دیں گے ۔)
الغرض یہ آیت حضرت مسیح بن مریم کے مقتول و مصلوب نہ ہونے اور صحیح سالم آسمان پر اٹھائے جانے سے متعلق اس مضمون کا تتمہ اور تکملہ ہے اور گویا اس پر آخری مہر ہے۔ جو اوپر کی آیتوں میں بیان فرمایا گیا ہے اور سیاق و سباق یعنی سلسلہ کلام اور اسلوب بیان اور نحوی قواعد کے لحاظ سے اس آیت کی یہی تفسیر صحیح ہے۔ جس کی بنیاد اس پر ہے کہ آیت میں ”بہ“ اور ”موتہ“ کی ضمیریں مسیح علیہ السلام بن مریم کی طرف راجع ہیں۔ جن کا اوپر کی آیتوں میں بار بار ذکر آیا ہے۔ امام تفسیر ابن جریر (طبری نے ج ٦ ص ١٨ تا ٢٣ اور حافظ عمادالدین ابن کثیر نے ج ٢ ص ٤٠١ تا ٤٠٥) میں جو تفسیر کے پورے کتب خانہ میں امتیاز رکھتی ہیں اس پر تفصیلی کلام کیا ہے اور اسی تفسیر کو روایت اور درایت سیاق و سباق اور عربیت کے لحاظ سے صحیح اور راجح قرار دیا ہے۔
آیت کی تفسیر صحابہ کرام اور ائمہ تفسیر کے ارشادات سے
حضرت صحابہ کرامؓ سے بھی آیت کی یہی تفسیر صحیح سندوں کے ساتھ منقول ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ سے آیت کی یہ تفسیر صحیح بخاری اور صحیح مسلم اور حدیث کی دوسری کتابوں میں روایت کی گئی ہے کہ ان کی روایت کا حاصل یہ ہے کہ ”رسول اللہ ﷺ نے قسم کھا کے ارشاد فرمایا کہ اس پاک ذات کی قسم ! جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ یقیناً یہ ہونے والا ہے کہ عیسیٰ بن مریم اللہ کے حکم سے حاکم عادل کی حیثیت سے (قیامت سے پہلے) نازل ہوں گے اور وہ یہ عظیم کارنامے انجام دیں گے اور اس زمانہ میں بڑی خیر و برکت ہو گی۔ حضرت ابو ہریرہؓ رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد نقل کر
٢٤
کے فرماتے تھے کہ ”اقرأوا ان شئتم وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته“ یعنی اگر تم حضرت مسیح علیہ السلام کے نازل ہونے کا بیان قرآن میں پڑھنا چاہو تو یہ آیت پڑھو۔ ”وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته “ جیسا کہ عرض کیا گیا ہے کہ حضرت ابو ہریرہؓ کی اس حدیث کو امام بخاریؒ اور امام مسلمؒ دونوں نے روایت کیا ہے ١؎ اور محدثین کی اصطلاح میں یہ متفق علیہ حدیث ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت ابو ہریرہؓ نے اس آیت کا مطلب وہی سمجھا اور بیان کیا ہے۔ جو ہم نے اوپر لکھا ہے اور ظاہر ہے کہ یہ مطلب انہوں نے رسول اللہ ﷺ ہی کی تلقین وتعلیم سے سمجھا ہوگا ٢؎ ۔ ان کے علاوہ حبر امت حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے بھی آیت کا یہی مطلب سمجھا اور بیان کیا ہے۔ جیسا کہ ابن جریر نے پوری سند کے ساتھ ان سے روایت کیا ہے اور حافظ ابن حجر نے فتح الباری شرح صحیح بخاری میں ابن جریر کی اس روایت کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔ ان کے الفاظ یہ ہیں کہ: ”وبهذا جزم ابن عباس فيما رواه ابن جرير من طريق سعيد جبير عنه باسناد صحيح (فتح الباری ج ٦ ص ٣٠٧، باب قول الله تعالى واذكر فى الكتاب مريم) “ یعنی حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے بھی اس آیت کا مطلب قطعیت کے ساتھ وہی بیان کیا ہے کہ جو حضرت ابو ہریرہؓ کی مندرجہ بالا روایت سے معلوم ہوا۔ ابن جریر نے اس کو صحیح سند کے ساتھ حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت کیا ہے اور تابعین میں حضرت بصریؒ اور بعض دیگر حضرات سے بھی آیت کی یہی تفسیر ابن جریر نے اپنی سندوں کے ساتھ روایت کی ہے۔ ؎
- ١؎ (صحیح بخاری باب نزول عیسیٰ بن مریم ج ١ ص ٤٩٠ صحیح مسلم باب
نزول عیسیٰ بن مریم حاكماً بشریعۃ نبینا، کتاب الایمان ج ١ ص ٨٧)
- ٢؎ یہ گفتگو اس مفروضہ پر کی گئی ہے کہ روایت کے آخر میں بطور استشہاد اور سند کے
آیت کا جو حوالہ ہے۔ اس کو حدیث نبوی کا جز نہ مانا جائے۔ بلکہ حضرت ابو ہریرہؓ کا قول قرار دیا جائے۔ لیکن اگر اس کو حدیث مرفوع کا جز قرار دیا جائے۔ (جیسا کہ از روئے دلائل ہمارے نزدیک راجح ہے) تو پھر آیت کی یہ تفسیر خود آپؐ سے ہوگی۔ تفصیلی بحث کے لئے مطالعہ کیا جائے۔ حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ کا رسالہ ”عقیدۃ الاسلام فی حیاۃ عیسیٰ علیہ السلام ص ١٣٥، طبع دیوبند“
٢٥
امام ابن جریر نے اپنے اصول اور طریقہ کے مطابق اس آیت کی تفسیر میں بعض دوسرے اقوال بھی نقل کئے ہیں اور پھر درایت اور روایت کی روشنی میں ثابت کیا ہے کہ آیت کی صحیح اور راجح تفسیر وہی ہے جو حضرت ابو ہریرہؓ اور حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے ابھی اوپر نقل کی گئی ہے اور بہ اور موتہ کی ضمیریں حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی کی طرف لوٹتی ہیں۔
حافظ ابن کثیر نے ابن جریر کا یہ کلام اپنی تفسیر میں نقل کیا ہے اور خود بھی نہایت محکم دلائل سے اس کی تائید کی ہے۔ (ابن جریر کا وہ کلام نقل کرنے کے بعد جس میں انہوں نے آیت کی تفسیر میں مختلف اقوال نقل کئے ہیں ) حافظ ابن کثیر فرماتے ہیں کہ: ” ثم قال ابن جرير واولى هذه الاقوال بالصحة القول الاول وهو انه لا يبقى احد من اهل الكتاب بعد نزول عيسىٰ عليه السلام الا امن به قبل موت عيسىٰ عليه السلام ولا شك ان هذا الذى قاله ابن جرير هو الصحيح لا نه المقصود من سياق الآية في تقرير بطلان ما ادعته اليهود من قتل عيسىٰ وصلبه وتسليم من سلم لهم من النصارى الجهلة ذالك فاخبر الله انه لم يكن الامر كذالك وأنما شبه لهم فقتلوا الشبة وهم لا يتبينون ذالك ثم انه رفعه اليه وانه باق حى وانه ينزل قبل يوم القيمة كما دلت عليه الاحاديث المتواترة التى سنوردها انشاء الله قريباً فاخبرت هذه الآية الكريمة انه يؤمن به جميع اهل الكتاب حينئذ ولا يتخلف عن التصديق به واحد منهم ولهذا قال وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته اى قبل موت عيسىٰ عليه السلام الذي زعم اليهود ومن وافقهم من النصارى انه قتل وصلب (تفسير ابن كثير ج٢ ص٤٠٢، ٤٠٣) “
حافظ ابن کثیر کی اس عبارت کا حاصل یہ ہے کہ ابن جریر نے آیت کی تفسیر میں مختلف اقوال نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ ان سب اقوال میں زیادہ صحیح اور قابل ترجیح پہلا قول ہے اور وہ یہ کہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ آخری زمانہ میں جب عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوگا تو ان کے وفات پانے سے پہلے اس وقت کے سب ہی اہل کتاب ان پر ایمان لے آئیں گے اور آیت کی یہ تفسیر اس لئے قابل ترجیح اور زیادہ صحیح ہے کہ اوپر کی آیتوں میں حضرت مسیح علیہ السلام کے بارے میں یہودیوں کے اس دعوے کی اور جاہل و گمراہ عیسائیوں کے اس عقیدہ کی تردید کی گئی ہے کہ وہ قتل کئے گئے اور صلیب پر چڑھائے گئے ۔ اللہ تعالیٰ نے اوپر کی آیتوں میں اس کو باطل قرار دیا ہے اور
٢٦
یہ انکشاف فرمایا ہے کہ ایسا نہیں ہوا۔ بلکہ ان کے بجائے ایک اور آدمی قتل کیا گیا۔ جو ان کا ہم شکل بنا دیا گیا تھا اور سولی پر لٹکا دیا گیا اور خود مسیح بن مریم کو اللہ تعالیٰ نے صحیح و سالم اٹھا لیا اور وہ زندہ ہیں اور قیامت سے پہلے وہ نازل ہوں گے جیسا کہ ان حدیثوں سے بھی معلوم ہوتا ہے۔ جو رسول اللہ ﷺ سے تواتر کے ساتھ ثابت ہیں۔ ( آگے حافظ ابن کثیر فرماتے ہیں ) پس اس آیت کریمہ ”وان من اھل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ“ نے بتلایا کہ جب عیسیٰ علیہ السلام آخری زمانہ میں نازل ہوں گے تو اس وقت سارے ہی اہل کتاب ان پر ایمان لے آئیں گے اور ایک بھی ایسا باقی نہ رہے گا ۔ جو ان پر ایمان نہ لائے ۔ اسی لئے فرمایا گیا ہے کہ: ”وان من اھل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ“ یعنی سارے اہل کتاب ان پر (یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر) ایمان لے آئیں گے ۔ ان کی موت سے پہلے یعنی عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے جن کے بارہ میں یہودیوں کا دعویٰ ہے اور ان سے اتفاق کرنے والے جاہل عیسائیوں کا بھی عقیدہ ہے کہ وہ مقتول ومصلوب ہوچکے ۔
( تفسیر ابن کثیر )
آیت کی تفسیر میں ہم نے یہاں مفسرین میں سے صرف امام ابن جریر طبری اور حافظ ابن کثیر دمشقی کا کلام نقل کیا ہے اور اس کو کافی سمجھا ہے ۔ کیونکہ تفسیر میں ان دونوں حضرات کو اور ان کی کتابوں کو خاص امتیازی مقام حاصل ہے۔ جس کو ہر وہ شخص جانتا ہے۔ جو کتب تفسیر کے بارے میں کچھ واقفیت رکھتا ہے اور اس سے بڑی بات یہ ہے کہ ان دونوں حضرات نے آیت کی جس تفسیر کو ترجیح دی ہے وہ جیسا کہ معلوم ہو چکا حضرت ابو ہریرہؓ اور حضرت عبداللہ بن عباسؓ جیسے جلیل القدر صحابہ کرامؓ سے بھی صحیح اور معتمد سندوں کے ساتھ مروی ہے اور آیت کا سیاق و سباق بھی اس کی تائید کرتا ہے۔ دوسرے جو اقوال اس آیت کی تفسیر میں نقل کئے گئے ہیں۔ (جن کو خود ابن جریر اور ابن کثیر نے بھی نقل کیا ہے) اگر ان میں سے کوئی قول لیا جائے تو آیت اپنے ماقبل وما بعد سے بالکل بے جوڑ سی ہو جاتی ہے اور اس میں خاص معنویت نہیں رہتی ۔ علاوہ ازیں بعض صورتوں میں ضمیروں کا مرجع وہ قرار دینا پڑتا ہے۔ جس کا قریب میں کہیں ذکر نہیں اور ضمیروں میں انتشار بھی لازم آتا ہے۔
بہر حال آیت کی تفسیر میں جو دوسرے اقوال ہیں وہ روایت و درایت اور سیاق وسباق اور قواعد عربیت کے لحاظ سے یقیناً ضعیف اور ان میں سے بعض تو بہت ہی بعید ہیں ۔ حضرت الاستاذ مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری نے اسی مسئلہ سے متعلق اپنی بے نظیر تصنیف ”عقیدۃ الاسلام فی حیاۃ عیسیٰ علیہ السلام ص ١٣٥ تا ١٤٠، طبع دیوبند“ میں اس آیت کی تفسیر پر
٢٧
تفصیلی اور محققانہ کلام کرنے کے بعد بالکل صحیح فرمایا ہے کہ: اگر تفسیر کی کتابوں میں اس آیت سے متعلق دوسرا قول نقل نہ کیا گیا ہوتا تو قرآن فہمی کا ذوق رکھنے والے کسی شخص کا اس کی طرف ذہن بھی نہ جاتا۔
چونکہ اس وقت مسئلہ حیات مسیح و نزول مسیح صرف ان لوگوں کے اطمینان کے لئے ایک مختصر مقالہ لکھنا مقصود ہے۔ جن کو کچھ شبہات اور وساوس ہیں اور وہ مسئلہ کو سمجھنا چاہتے ہیں۔ اس لئے آیت کی تفسیر کے متعلق صرف اتنے ہی پر اکتفاء کیا جاتا ہے۔ انشاء اللہ ان کے لئے اتنا ہی کافی ہوگا۔ ورنہ اس موضوع پر پچاسوں صفحے لکھے جا سکتے ہیں اور اس کی تائید میں تفسیر کی پچاس کتابوں کے حوالے دیئے جا سکتے ہیں۔
ہاں اس مسئلہ اور اس آیت کی تفسیر سے متعلق امت کے ایک مسلم محقق عالم و مصنف شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ کے چند کلمات اس جگہ نقل کر دینا بھی مناسب معلوم ہوتا ہے۔ ”الــــــقـــــــول الصحیح لمن بدل دین المسیح“ عیسائیت اور عیسائیوں کے رد میں شیخ الاسلام کی مشہور معرکۃ الآراء کتاب ہے جو چار جلدوں میں ہے۔ اس میں ضمنی طور پر ممدوح نے اس آیت کی تفسیر اور تشریح پر بھی حسب عادت مفصل اور مدلل کلام کیا۔ پورا کلام بہت طویل ہے۔ ہم اس کے صرف چند جملے یہاں نقل کرتے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ:
”ثم قال: وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته وهذا عند ا كثر العلماء معناه قبل موت المسيح (الجواب الصحيح ج٢ ص٢٨٣) ﴿پھر فرمایا اللہ تعالیٰ نے! وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته اور اکثر علماء کے نزدیک اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ سب اہل کتاب مسیح علیہ السلام کی موت سے پہلے ایمان لے آئیں گے۔﴾
اس کے بعد شیخ الاسلام نے آیت کی تفسیر میں دوسرے بعض اقوال نقل کر کے دلائل سے ان کا غیر صحیح اور ضعیف ہونا ثابت کیا ہے۔ اس کے بعد نتیجہ بحث کے طور پر فرماتے ہیں کہ:
”فدل ذالك على ان جميع اهل الكتاب اليهود والنصارى يؤمنون بالمسيح قبل موت المسيح وذالك اذا نزل أمنت اليهود والنصارى بانه رسول الله ليس كاذباً كما يقول اليهود ولا هو الله كما تقوله النصارى (الجواب الصحيح ج٢ ص٢٨٤) “ ﴿پس اس بحث سے یہ بات معلوم ہو گئی کہ مسیح علیہ السلام کے وفات پانے سے پہلے سارے اہل کتاب یہودی اور عیسائی ان (یعنی حضرت مسیح) پر ایمان
٢٨
لے آئیں گے اور یہ اس وقت ہوگا جب وہ اس دنیا میں نازل ہوں گے تو سارے یہودی اور عیسائی اس پر ایمان لے آئیں گے کہ وہ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ جھوٹے مدعی نبوت نہیں ہیں۔ جیسا کہ یہودی کہتے تھے اور خدا بھی نہیں ہیں۔ جیسا کہ عیسائیوں کا عقیدہ تھا۔
اس کے بعد شیخ الاسلامؒ نے دلائل سے اس پر روشنی ڈالی ہے کہ اس آیت میں ”اہل الکتاب“ سے مراد وہی اہل کتاب ہو سکتے ہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد ان کی وفات سے پہلے موجود ہوں گے وہ سب کے سب حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات سے پہلے ان پر ایمان لے آئیں گے۔
اس کے بعد فرماتے ہیں کہ: ”وسبب ایمان اہل الکتاب بہ حینئذٍ ظاہر فانہ یظہر لکل احد انہ رسول مؤید لیس بکذاب ولا ہو رب العالمین فاللہ تعالیٰ ذکر ایمانہم بہ اذا نزل الی الارض (الجواب الصحیح ج ٢ ص ٢٨٤) ”اور اس وقت ان اہل کتب کے ایمان لانے کا سبب بالکل ظاہر ہے کیونکہ ہر ایک کھلی آنکھ دیکھ لے گا کہ وہ اللہ کے سچے رسول ہیں اور اللہ کی تائید ان کے ساتھ ہے۔ نہ وہ جھوٹے مدعی نبوت ہیں اور نہ خود رب العالمین ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان کے نازل ہونے کے وقت اہل کتاب کے ان پر ایمان لانے کا ذکر کیا ہے۔
پھر اسی کتاب میں ایک دوسری جگہ شیخ الاسلام نے حضرت ابو ہریرہؓ کی وہ حدیث جو صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے حوالہ سے پہلے ذکر کی جا چکی ہے اور اس مضمون اور سلسلہ کی بعض اور حدیثیں نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ:
”وہذا تفسیر قولہ تعالیٰ . وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ ای یؤمن بالمسیح قبل ان یموت حین نزولہ الی الارض وحینئذٍ لا یبقی یہودی ولا نصرانی ولا یبقی دین الا دین الاسلام (الجواب الصحیح ج ٣ ص ٣٢٥) ”اور ان حدیثوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آخری زمانہ میں نازل ہونے کا جو بیان کیا گیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ’وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ‘ کی تفسیر اور مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں جب مسیح علیہ السلام نازل ہوں گے تو ان کے وفات پانے سے پہلے تمام اہل کتاب ان پر ایمان لے آئیں گے اور اس وقت کوئی یہودی اور کوئی عیسائی باقی نہیں رہے گا اور دینوں میں سے پس دین اسلام باقی رہ جائے گا۔
شیخ الاسلام کی ان عبارتوں میں بار بار یہ بات دھرائی گئی ہے کہ صحیح حدیثوں کے بیان
٢٩
کے مطابق عیسیٰ علیہ السلام آخری زمانہ میں نازل ہوں گے اور یہاں آنے کے بعد یہیں وفات پائیں گے اور ان کے وفات پانے سے پہلے سارے اہل کتاب ان پر ایمان لے آئیں گے اور یہ کہ شیخ الاسلام کے نزدیک قرآنی آیت ”وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته“ کی یہی صحیح تفسیر ہے۔
ہم نے شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی یہ عبارت اس لئے بھی یہاں نقل کر دینا مناسب سمجھا کہ ان کی علمی عظمت اور قرآن وحدیث کے فہم میں ان کے امتیاز ومہارت اور اسلام کی تاریخ میں ان کی مجددیت کے وہ لوگ بھی عام طور سے قائل ہیں جو آج کل ”دانشور“ کہلاتے ہیں اور خود مرزا غلام احمد قادیانی نے ان کو اپنے وقت کا ”امام“ اور مجدد لکھا ہے اور ان کے بارے میں یہ سفید جھوٹ بھی بولا ہے کہ وہ حیات مسیح ؑ کے منکر اور وفات کے قائل تھے۔
(کتاب البریہ ص ٢٠٣، خزائن ج ١٣ ص ٢٢١ حاشیہ، وسر الخلافہ ص ٧٩، خزائن ج ٨ ص ٤١٢)
”الجواب الصحیح“ کی ان عبارتوں کو پڑھ کر ہر شخص معلوم کرسکتا ہے کہ مرزا غلام احمد اور ان کے متبعین اس قسم کی غلط بیانیوں میں کس قدر بے باک ہیں۔ یہاں ہم نے شیخ الاسلام کی صرف ایک کتاب ”الجواب الصحیح“ سے چند عبارتیں نقل کی ہیں۔ ان کی دوسری کتابوں سے بھی ایسی پچاسوں عبارتیں نکال کے پیش کی جاسکتی ہیں۔
اختصار کے ارادہ کے باوجود آیت کی تفسیر سے متعلق بحث کچھ طویل ہوگئی۔ اب ہم اس آیت کا وہ مختصر ایک سطری ترجمہ نقل کر کے اس بحث کو ختم کرتے ہیں۔ جو بارھویں صدی کے مسلم مجدد اور ہندوستان کے مایہ ناز محقق و عارف حضرت شاہ ولی اللہؒ نے کیا ہے۔ شاہ صاحبؒ نے سورۂ نساء کی اس آیت ”وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته ويوم القيمة يكون عليهم شهيداً“ کا ترجمہ ان الفاظ میں کیا ہے۔
”ونباشد هيچکس از اهل كتاب الا البتہ ایمان آورد به عيسى علیہ السلام پیش از مردن عیسیٰ وروز قیامت باشد عیسیٰ گواہ برایشان
(فتح الرحمن فارسی ترجمه قرآن از شاہ ولی اللهؒ)“
اور اس کا اردو ترجمہ یہ ہے کہ: ”اور اہل کتاب میں سے کوئی نہ ہوگا۔ مگر یہ کہ وہ یقیناً اور لازماً ایمان لائے گا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے دن ان کے بارہ میں گواہی دیں گے۔“
شاہ صاحبؒ کے اس ترجمہ سے ظاہر ہے کہ ان کے نزدیک بھی آیت کی تفسیر اور اس کا
٣٠
مطلب وہی ہے۔ جو حضرت ابو ہریرہؓ اور حضرت ابن عباسؓ جریر طبری، ابن کثیر، دمشقی اور امام ابن تیمیہ وغیرہ نے دلائـ اور جس کی بناء پر یہ آیت حیات مسیح اور نزول مسیح کی واضح د
ہم نے حضرت شاہ ولی اللہ کا یہ ترجمہ بھی اس صاحبؒ کی شخصیت بھی اس طبقہ میں مسلم ہے۔ جس کو آج کـ کے دل و دماغ ”نزول مسیح اور حیات مسیح“ جیسے مسائل و قادیانی وساوس کو آسانی سے قبول کر لیتے ہیں اور خود قادیـ بارہ میں سند سمجھتے ہیں اور ان کو بارھویں صدی کا مجدد مانتے ہـ
ایک اور آیت : سورۂ زخرف میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس سلسلۂ کلام میں فرما ”وانه لعلم للساعة فلا تمترن بها وا نشانی ہیں۔ قیامت کی تم اس کے بارہ میں شک نہ کرو۔ مجھ آیت کی تفسیر و تشریح : اس آیت میں عیسیٰ عـ ہے اس کا مطلب یہی ہے کہ آخری زمانہ میں قیامت سـ علامت ہے۔ صحیح مسلم شریف میں حضرت حذیفہ بن ا اللہ ﷺ نے ایک موقع پر قیامت سے پہلے ظاہر ہونے و لوگوں کو بتلائیں اور اس سلسلے میں آپ ﷺ نے دجال و مغرب کے سمت سے طلوع ہونے کا بھی ذکر فرمایا اور ارشـ مریم (صحیح مسلم ج ٢ ص ٣٩٣، فصل فی ظهور ا ہونا بھی قیامت کی خاص نشانیوں میں سے ہے۔
صحیح مسلم کی یہ حدیث اور دوسری تمام حد ہونے کو قیامت کی نشانیوں میں سے بتلایا گیا ہے۔ گویـ ہے کہ آیت میں انہ کی ضمیر کا مرجع عیسیٰ علیہ السلام ہیں ا ہے اور جن کی طرف پہلی آیتوں کی تمام ضمیریں راجع ہیں
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے بھی اس آیـ حافظ ابن کثیر نے مسند احمد کے حوالہ سے پوری سند کے سـ
٣١
آخری زمانہ میں نازل ہوں گے اور یہاں آنے کے بعد یہیں وفات ت پانے سے پہلے سارے اہل کتاب ان پر ایمان لے آئیں گے اور یہ قرآنی آیت ”وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل ہے۔
لام ابن تیمیہ کی یہ عبارت اس لئے بھی یہاں نقل کر دینا مناسب سمجھا آن وحدیث کے فہم میں ان کے امتیاز و مہارت اور اسلام کی تاریخ میں بھی عام طور سے قائل ہیں جو آج کل ”دانشور“ کہلاتے ہیں اور خود ن کو اپنے وقت کا ”امام“ اور مجدد لکھا ہے اور ان کے بارے میں یہ سفید ت مسیح کے منکر اور وفات کے قائل تھے۔
(البریہ ص ٢٠٣، خزائن ج ١٣ ص ٢٢١ حاشیہ، وسر الخلافہ ص ٧٩، خزائن ج ٨ ص ٤١٢)
“ کی ان عبارتوں کو پڑھ کر ہر شخص معلوم کر سکتا ہے کہ مرزا غلام احمد اور لط بیانیوں میں کس قدر بے باک ہیں۔ یہاں ہم نے شیخ الاسلام کی ا مسیح“ سے چند عبارتیں نقل کی ہیں۔ ان کی دوسری کتابوں سے بھی کے پیش کی جاسکتی ہیں۔
دہ کے باوجود آیت کی تفسیر سے متعلق بحث کچھ طویل ہوگئی۔ اب ہم ری ترجمہ نقل کر کے اس بحث کو ختم کرتے ہیں۔ جو بارھویں صدی کے مایۂ ناز محقق و عارف حضرت شاہ ولی اللہؒ نے کیا ہے۔ شاہ صاحبؒ نے ن من اهل الكتاب الا ليؤمنن به موته ويوم القيمة کا ترجمہ ان الفاظ میں کیا ہے۔
هیچکس از اهل کتاب الا البته ایمان آورد به عیسیٰ مردن عیسیٰ و روز قیامت باشد عیسیٰ گواه بر ایشان
(ترجمه قرآن از شاہ ولی اللہ )“
ترجمہ یہ ہے کہ : ”اور اہل کتاب میں سے کوئی نہ ہوگا۔ مگر یہ کہ وہ یقیناً اور علیہ السلام پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے اور ان کے بارہ میں گواہی دیں گے ۔“
ظاہر ہے کہ ان کے نزدیک بھی آیت کی تفسیر اور اس کا
٣٠
مطلب وہی ہے۔ جو حضرت ابو ہریرہؓ اور حضرت ابن عباسؓ نے سمجھا اور بیان فرمایا اور جس کو ابن جریر طبری، ابن کثیر دمشقی اور امام ابن تیمیہؒ وغیرہ نے دلائل کی روشنی میں صحیح اور راجح قرار دیا ہے اور جس کی بناء پر یہ آیت حیات مسیح اور نزول مسیح کی واضح ترین دلیل ہے۔
ہم نے حضرت شاہ ولی اللہ کا یہ ترجمہ بھی اس لئے یہاں نقل کیا ہے کہ حضرت شاہ صاحبؒ کی شخصیت بھی اس طبقہ میں مسلم ہے۔ جس کو آج کل دانشوروں کا طبقہ کہا جاتا ہے اور جن کے دل و دماغ ”نزول مسیح اور حیات مسیح“ جیسے مسائل و حقائق کے بارہ میں شیطانی شبہات اور قادیانی وساوس کو آسانی سے قبول کر لیتے ہیں اور خود قادیانی بھی حضرت شاہ صاحب کو دین کے بارہ میں سند سمجھتے ہیں اور ان کو بارھویں صدی کا مجدد مانتے ہیں۔
ایک اور آیت : سورۂ زخرف میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذکر کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسی سلسلہ کلام میں فرمایا گیا ہے کہ :
”وانه لعلم للساعة فلا تمترن بها (زخرف: ٦١)“ ”اور وہ عیسیٰ علیہ السلام نشانی ہیں۔ قیامت کی تم اس کے بارہ میں شک نہ کرو۔“
آیت کی تفسیر و تشریح : اس آیت میں عیسیٰ علیہ السلام کو جو قیامت کی نشانی بتلایا گیا ہے اس کا مطلب یہی ہے کہ آخری زمانہ میں قیامت سے پہلے ان کا نزول اس کی خاص نشانی اور علامت ہے۔ صحیح مسلم شریف میں حضرت حذیفہ بن اسید الغفاریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک موقع پر قیامت سے پہلے ظاہر ہونے والی اس کی خاص اور اہم دس نشانیاں ہم لوگوں کو بتلائیں اور اس سلسلے میں آپ ﷺ نے دجال اور دابۃ الارض کے ظہور کا اور سورج کے مغرب کے سمت سے طلوع ہونے کا بھی ذکر فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ : ”ونزول عيسى بن مريم (صحیح مسلم ج ٢ ص ٣٩٤، فصل فى ظهور عشر آيات)“ یعنی عیسیٰ بن مریم کا نازل ہونا بھی قیامت کی خاص نشانیوں میں سے ہے۔
صحیح مسلم کی یہ حدیث اور دوسری تمام حدیثیں جن میں عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے کو قیامت کی نشانیوں میں سے بتلایا گیا ہے۔ گویا اس آیت کی تفسیر ہیں اور اس کی بنیاد یہ ہے کہ آیت میں انہ کی ضمیر کا مرجع عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ جن کا اوپر سے سلسلۂ کلام میں ذکر ہو رہا ہے اور جن کی طرف پہلی آیتوں کی تمام ضمیریں راجع ہیں۔
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے بھی اس آیت کا مطلب یہی سمجھا اور بیان کیا ہے۔ حافظ ابن کثیر نے مسند احمد کے حوالہ سے پوری سند کے ساتھ حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے نقل کیا
٣١
ہے کہ انہوں نے ”وانه لعلم للساعة“ کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا کہ:
”ہو خروج عیسیٰ بن مریم علیہ السلام قبل یوم القیمۃ ١؎ (تفسیر ابن کثیر ج٧ ص٢١٧) ”اس سے مراد قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ظہور ہے۔“
اور درمنثور میں آیت کی یہی تفسیر کچھ اضافہ اور وضاحت کے ساتھ عبد بن حمید کی تخریج سے حضرت ابو ہریرہؓ سے بھی روایت کی گئی ہے۔
(درمنثور ج٦ ص٢٠)
جن لوگوں نے تفسیر کی کتابوں کا مطالعہ کیا ہے وہ جانتے ہیں کہ اکثر آیتوں کی تفسیر میں کئی کئی قول نقل کئے جاتے ہیں۔ ان میں سے بعض صحیح اور بعض غیر صحیح اور بعید بھی ہوتے ہیں۔ اسی طرح اس آیت کی تفسیر میں ایک دو قول اور بھی تفسیر کی کتابوں میں نقل کئے گئے ہیں۔ حافظ ابن کثیر نے اپنے معمول کے مطابق وہ اقوال بھی نقل کئے ہیں۔ اس کے بعد ان اقوال کو غیر صحیح قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:
”الصحیح انه عائد علی عیسیٰ علیہ السلام فان السیاق فی ذکرہ ثم المراد بذالک نزولہ قبل یوم القیمۃ کما قال تبارک وتعالیٰ وان من اھل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ اے قبل موت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام (تفسیر ابن کثیر ج٧ ص٢١٧) ”آیت کی صحیح تفسیر یہی ہے کہ انہ کی ضمیر عیسیٰ علیہ السلام کی طرف لوٹتی ہے۔ جن کا اوپر سے ذکر چلا آ رہا ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قیامت کی نشانی ہونے سے مراد یہ ہے قیامت سے پہلے ان کا نازل ہونا قیامت کی علامت ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ فرمایا ہے کہ: ”عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے سارے اہل کتاب ان پر ایمان لے آئیں گے۔“
حافظ ابن کثیر نے اس عبارت میں یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ سورۂ زخرف کی یہ آیت ”وانه لعلم للساعة“ اور سورۂ نساء کی آیت ”وان من اھل الکتاب لا لیؤمنن بہ قبل موتہ“ جس پر گفتگو کی جاچکی ہے۔ ان میں سے ہر آیت دوسری آیت کی تفسیر کرتی ہے اور دونوں میں قیامت سے پہلے عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی خبر دی گئی ہے۔ اس کے بعد اس تفسیر کی مزید
١؎ صحیح ابن حبان میں آیت کی ٹھیک یہی تفسیر بسند صحیح خود آنحضرت ﷺ سے مروی ہے۔ دیکھئے موارد الظمآن الی زوائد ابن حبان ص٤٣٥ حدیث نمبر١٧٥٨۔
(محمد یوسف لدھیانوی)
٣٢
انه لعلم للساعة" کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا کہ: خروج عيسى بن مريم عليه السلام قبل يوم القيمة ﴿ ﴿اس سے مراد قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام
(ج ٧ ص ٢١٧)
دریں آیت کی یہی تفسیر کچھ اضافہ اور وضاحت کے ساتھ عبد بن حمید کی تخریج سے بھی روایت کی گئی ہے۔
(درمنثور ج ٦ ص ٢٠)
نے تفسیر کی کتابوں کا مطالعہ کیا ہے وہ جانتے ہیں کہ اکثر آیتوں کی تفسیر میں جاتے ہیں۔ ان میں سے بعض صحیح اور بعض غیر صحیح اور بعید بھی ہوتے ہیں۔ اسی تفسیر میں ایک دو قول اور بھی تفسیر کی کتابوں میں نقل کئے گئے ہیں۔ حافظ ابن اس کے مطابق وہ اقوال بھی نقل کئے ہیں۔ اس کے بعد ان قوال کو غیر صحیح قرار ہیں کہ: حيح انه عائد على عيسى عليه السلام فان السياق في ذكره يث نزوله قبل يوم القيمة كما قال تبارك وتعالى وان من اهل من به قبل موته اى قبل موت عيسى عليه الصلوة والسلام ﴿آیت کی صحیح تفسیر یہی ہے کہ انکی ضمیر عیسیٰ علیہ السلام کی
(ج ٧ ص ٢١٧)
کا اوپر سے ذکر چلا آ رہا ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قیامت کی نشانی قیامت سے پہلے ان کا نازل ہونا قیامت کی علامت ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ ہے کہ: ”عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے سارے اہل کتاب ان پر ایمان
کثیر نے اس عبارت میں یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ سورۂ زخرف کی یہ آیت ۃ“ اور سورہ نساء کی آیت ”وان من اهل الكتاب لا ليؤمنن به قبل جا چکی ہے۔ ان میں سے ہر آیت دوسری آیت کی تفسیر کرتی ہے اور دونوں عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی خبر دی گئی ہے۔ اس کے بعد اس تفسیر کی مزید جہان میں آیت کی ٹھیک یہی تفسیر بسند صحیح خود آنحضرت ﷺ سے مروی لمعان الى زوائد ابن حبان ص ٤٣٥ حديث نمبر ١٧٥٨۔
(محمد یوسف لدھیانوی)
٣٢
تائید میں حافظ ابن کثیر فرماتے ہیں کہ: ” ويؤيد هذا المعنى القرأة الاخرى وانه لعلم للساعة اى امارة ودليل على وقوع الساعة قال مجاهد وانه لعلم للساعة اى آية للساعة خروج عيسى بن مريم عليه السلام قبل يوم القيمة وهكذا روى عن ابى هريرة وابن عباس وابى العاليه وابى مالك وعكرمة والحسن وقتادة والضحاك وغيرهم وقد تواترت الاحاديث عن رسول الله ﷺ انه اخبر بنزول عيسى عليه السلام قبل يوم القيمة اماماً عادلاً وحكما مقسطاً
(تفسیر ابن کثیر ج٧
ص٢١٧) ”﴿آیت کی اس تفسیر اور اس مطلب کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ اس آیت میں ایک دوسری قرأت ہے۔ ”وانه لعلم للساعة“ اور اس کا مطلب صرف یہی ہو سکتا ہے کہ وہ علامت اور دلیل ہیں قیامت کے واقع ہونے کی۔ مجاہد نے کہا کہ اس کا مطلب یہی ہے کہ قیامت سے پہلے عیسیٰ علیہ السلام کا ظہور ونزول قیامت کی ایک خاص نشانی ہے اور ابو ہریرہؓ اور ابن عباسؓ اور ابو العالیہ اور ابو مالک اور عکرمہ اور حسن بصری اور قتادہ اور ضحاک اور ان کے علاوہ دیگر ائمہ تفسیر سے بھی آیت کی یہی تفسیر روایت کی گئی ہے اور رسول اللہ ﷺ کی وہ حدیثیں جن میں آپ ﷺ نے امت کو اس کی اطلاع دی ہے کہ قیامت کے آنے سے پہلے عیسیٰ علیہ السلام ایک خلیفہ عادل اور باانصاف حاکم کی حیثیت سے نازل ہوں گے۔ حد تواتر کو پہنچی ہوئی ہیں۔﴿
اس آیت کی تفسیر و تشریح میں بھی ہم ابن کثیر ہی کا کلام نقل کرنے پر اکتفاء کرتے ہیں۔ کیونکہ یہ جامع اور مدلل ہے اور رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام سے کسی آیت کی تفسیر معلوم ہو جانے کے بعد کسی مزید تائید کی ضرورت نہیں رہتی۔ ورنہ تفسیر کی قریباً سب ہی قابلِ اعتناء کتابوں میں اس آیت کی یہی تفسیر کی گئی ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ کی تصنیف ”الجواب الصحیح“ کے حوالہ سے ہم ان کی وہ عبارتیں ابھی اوپر نقل کر چکے ہیں۔ جن میں انہوں نے سورۂ نساء کی آیت ”وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته “ کی تفسیر کی ہے اور بتایا ہے کہ اس آیت میں قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے اور ان کی وفات پانے سے پہلے اہل کتاب کے ان پر ایمان لانے کی خبر دی گئی ہے۔ اسی سلسلۂ کلام میں انہوں نے کم از کم دو جگہ اپنی تائید میں سورۂ زخرف کی اس آیت ”وانه لعلم للساعة فلا تمترن بها “ کا بھی اسی طرح ذکر کیا ہے کہ گویا یہ آیت ان کے نزدیک قیامت سے پہلے حضرت مسیح علیہ السلام کے نزول کے بارے میں سورۂ
٣٣
نساء والی آیت سے بھی زیادہ صریح ہے۔ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:
”لكن المسلمون يقولون انه ينزل قبل يوم القيمة ...... ويؤمن به اهل الكتاب اليهود والنصارى كما قال تعالى وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته والقول الصحيح الذى عليه الجمهور قبل موت المسيح قال تعالى وانه لعلم للساعة فلا تمترون بها (الجواب الصحيح ج ١ ص ٣٢٩) “ ٭ لیکن اہل اسلام اس کے قائل ہیں اور ان کا یہ عقیدہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام قیامت سے پہلے نازل ہوں گے اور اس وقت کے سب اہل کتاب یہود و نصاریٰ ان پر ایمان لے آئیں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے (سورۂ نساء میں) فرمایا ہے کہ: ”وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته “ اور اس کی تفسیر میں صحیح قول جو جمہور اہل اسلام کا مسلک ہے۔ یہ ہے کہ قبل موتہ کا مطلب قبل موت المسیح ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ (سورۂ زخرف میں) ارشاد فرمایا ہے کہ وہ مسیح بن مریم قیامت کی نشانی ہیں۔ پس تم اس میں شک نہ کرو۔ ٭
اور دوسری جگہ فرماتے ہیں کہ: ”وهو ينزل الى الارض قبل يوم القيمة ويموت حينئذٍ اخبر بايمانهم به قبل موته كما قال تعالى فى الآية الاخرىٰ ان هو الا عبد انعمنا عليه وانه لعلم للساعة فلا تمترن بها (الجواب الصحيح ج ٢ ص ٢٨٤) “ ٭ اور وہ مسیح علیہ السلام قیامت سے پہلے زمین پر نازل ہوں گے اور یہاں آکر ہی وفات پائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے (سورۂ نساء والی آیت میں) خبر دی ہے کہ اہل کتاب ان کے وفات پانے سے پہلے ان پر ایمان لے آئیں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے دوسری آیت میں انہی کے بارہ میں فرمایا ہے کہ وہ عیسیٰ علیہ السلام اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہمارے ایک بندے ہیں جن کو ہم نے اپنی خاص نعمتوں سے نوازا ہے اور وہ بلاشبہ نشانی ہیں قیامت کی پس تم اس میں شک نہ کرو۔ ٭
اور حضرت شاہ ولی اللہؒ نے سورۂ زخرف کی اس آیت ”وانه لعلم للساعة“ کا ترجمہ ان الفاظ میں کیا ہے کہ: ”عیسیٰ نشانی ہست قیامت را (فتح الرحمٰن) “
ہم پھر عرض کرتے ہیں کہ ہم نے دونوں آیتوں کی تفسیر تشریح میں شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ اور حضرت شاہ ولی اللہؒ کی عبارتیں صرف اس لئے نقل کی ہیں کہ ”دانشور“ کہلائے جانے والے جو لوگ ہماری اس تحریر کے خاص مخاطب ہیں وہ ان دونوں بزرگوں کی صرف علمی عظمت ہی کے قائل نہیں ہیں۔ بلکہ ان کو اپنے اپنے وقت کا مجدد اور اسلام کا ”دانائے راز“ جانتے ہیں۔ ورنہ اگر مسئلہ نزول مسیح وحیات مسیح کے بارہ میں علماء متقدمین ومتاخرین کی تصانیف کے حوالے دینے کا ارادہ کیا
٣٤
کی زیادہ صریح ہے۔ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:
المسلمون يقولون انه ينزل قبل يوم القيمة....... ويؤمن به ود والنصارى كما قال تعالى وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن القول الصحيح الذى عليه الجمهور قبل موت المسيح قال للساعة فلا تمترون بها (الجواب الصحيح ج ١ ص ٣٢٩) ”لیکن قائل ہیں اور ان کا یہ عقیدہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام قیامت سے پہلے نازل ت کے سب اہل کتاب یہود و نصاریٰ ان پر ایمان لے آئیں گے۔ جیسا کہ س آیت میں (فرمایا ہے کہ: ”وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل پر یہی صحیح قول جو جمہور اہل اسلام کا مسلک ہے۔ یہ ہے کہ قبل موتہ کا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ (سورۂ زخرف میں ) ارشاد فرمایا ہے کہ وہ مسیح انی ہیں۔ پس تم اس میں شک نہ کرو۔﴿
جگہ فرماتے ہیں کہ:
ينزل الى الارض قبل يوم القيمة ويموت حينئذٍ اخبر موته كما قال تعالى في الآية الاخرى ان هو الا عبد أنعمنا ساعة فلا تمترن بها (الجواب الصحيح ج ٢ ص ٢٨٤) ”اور وہ سے پہلے زمین پر نازل ہوں گے اور یہاں آ کر ہی وفات پائیں گے۔ اوپر والی آیت میں ) خبر دی ہے کہ اہل کتاب ان کے وفات پانے سے پہلے گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے دوسری آیت میں انہی کے بارہ میں فرمایا ہے ں کے سوا کچھ نہیں کہ ہمارے ایک بندے ہیں جن کو ہم نے اپنی خاص وہ بلاشبہ نشانی ہیں۔ قیامت کی پس تم اس کے بارہ میں شک شبہ نہ کرو۔﴿ اوپر والی آیت میں اللہ نے سورۂ زخرف کی اس آیت ”وانہ لعلم للساعة“ کا کہ ” عیسیٰ نشانی ہست قیامت را (فتح الرحمن) “
رتے ہیں کہ ہم نے دونوں آیتوں کی تفسیر تشریح میں شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ عبارتیں صرف اس لئے نقل کی ہیں کہ ”دانشور“ کہلائے جانے والے جو ص مخاطب ہیں وہ ان دونوں بزرگوں کی صرف علمی عظمت ہی کے قائل پنے وقت کا مجدد اور اسلام کا ”دانائے راز“ جانتے ہیں۔ ورنہ اگر مسئلہ ارہ میں علماء متقدمین و متاخرین کی تصانیف کے حوالے دینے کا ارادہ کیا
٣٤
جائے تو سیکڑوں بلکہ ہزاروں حوالے دیئے جا سکتے ہیں اور اس مسئلہ پر تفصیل سے لکھنے والے علماء کرام یہ کام کر چکے ہیں۔
حاصل کلام اور اجماع امت کی آخری شہادت
ہم نے اس مسئلہ پر کلام شروع کرتے ہوئے کہا تھا کہ مسلمانوں کے عقیدہ نزولِ مسیح اور حیات مسیح کی بنیاد دو چیزوں پر ہے۔ ایک قرآن مجید کی بعض آیات اور دوسری رسول اللہ ﷺ کی وہ کثیر التعداد احادیث جو مجموعی اور معنوی حیثیت سے یقیناً حد تواتر کو پہنچی ہوئی ہیں۔
گزشتہ صفحات میں جو کچھ عرض کیا گیا ہے یقین ہے کہ اس کے مطالعہ کے بعد کسی طالب حق اور انصاف پسند کو اس میں شبہ نہیں رہ سکتا کہ احادیث متواترہ نے اور قرآن مجید کی آیات نے اس حقیقت کا انکشاف اور اعلان کیا ہے اور امت کو اس عقیدہ کی تعلیم دی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نہ قتل کئے گئے نہ صلیب پر چڑھائے گئے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو صحیح سالم اٹھا لیا اور وہ زندہ ہیں اور قیامت سے پہلے وہ نازل ہوں گے اور یہاں ان کے وفات پانے سے پہلے وہ سب اہل کتاب جو اس وقت موجود ہوں گے ان پر ایمان لے آئیں گے۔
یہاں ہم اس پر اتنا اضافہ اور کرتے ہیں کہ قرآن کریم اور احادیث متواترہ کے تعلیم کئے ہوئے اس عقیدہ پر امت کا اجماع بھی ہے اور اس کو ہر وہ شخص جانتا ہے جس کی حدیث تفسیر سیر و تاریخ اور عقائد و کلام اور دیگر دینی علوم و فنون کی کتابوں پر نظر ہے اور امت کے علماء و مصنفین نے اس کی تصریح بھی کی ہے۔
امام ابو الحسن اشعری کی کتاب الابانہ میں ہے کہ:
”واجمعت الامة على ان الله عز وجل رفع عيسى الى السماء (كتاب الابانه ص ٥٣، مطبوعه دار ابن حزم بیروت) ”امت محمدیہ کا اس پر اجماع ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے آسمان کی طرف اٹھا لیا۔﴿
اور ابو حیان اندلسی نے اپنی تفسیر البحر المحیط میں ابن عطیہ سے نقل کیا ہے کہ:
”واجمعت الامة على ماتضمنه الحديث المتواتر من ان عيسى فى السماء حى وانه ينزل فى آخر الزمان (البحر المحيط ج٢ ص ٧٥٦، زیر آیت واذ قال يعيسى انى متوفيك ورافعك) ”اور امت محمدیہ کا اسی حقیقت اور عقیدہ پر اجماع ہے جو احادیث تواتر سے ثابت ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام آسمان میں ہیں، زندہ اور وہ آخری زمانہ میں نازل ہوں گے۔﴿
٣٥
اکابر امت پر قادیانیوں کی تہمت
ہمیں معلوم ہے کہ خود مرزا قادیانی اور ان کے اہل قلم متبعین نے امت کے متعدد اکابر کے بارہ میں (جن میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ، شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ اور شاہ ولی اللہؒ بھی شامل ہیں) یہ دعویٰ کیا ہے کہ یہ حضرات نزول مسیح اور حیات مسیح کے منکر اور قادیانیوں کی طرح وفات مسیح کے قائل ہیں۔ راقم سطور پورے یقین اور بصیرت کے ساتھ اعلان کرتا ہے کہ یہ دعوے اس بات کی دلیل ہیں کہ مرزا غلام احمد اور ان کے امتی جھوٹ بولنے میں کتنے جری اور بے باک ہیں۔ اس مسئلہ سے متعلق حضرت عبداللہ بن عباسؓ اور شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ اور شاہ ولی اللہؒ کے صاف صریح ارشادات ناظرین کرام پچھلے صفحات میں پڑھ چکے ہیں۔ یہی حال ان سب بزرگوں کا ہے جن پر قادیانی یہ تہمت لگاتے ہیں کہ جن علماء کرام نے اس مسئلہ پر تفصیل سے بحث کی ہے اور مستقل کتابیں لکھی ہیں۔ انہوں نے ان بزرگوں میں سے (جن کا قادیانی اس سلسلے میں نام لیتے ہیں) ایک ایک کے متعلق ثابت کیا اور دکھایا ہے کہ ان کا عقیدہ وہی ہے۔ جو جمہور امت کا ہے اور وہ سب نزول مسیح اور حیات مسیح کے قائل ہیں اور ان کے بارے میں قادیانیوں کا دعویٰ کذب وافتراء کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ اگر ہمارے ناظرین میں سے کسی صاحب کو یہ بحث تفصیل سے دیکھنی ہو تو صرف ایک کتاب ”ہدایۃ الممترئ“ (مصنفہ مولانا عبدالغنی صاحب پٹیالوی مرحوم) کا مطالعہ کافی ہوگا۔ ١؎ بہر حال رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرامؓ کے مبارک عہد سے لے کر اس وقت تک امت کے تمام اکابر ائمہ اور علماء، محدثین، مفسرین، فقہاء، متکلمین اور صوفیائے ربانیین کا اس پر اجماع رہا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام قرآن وحدیث کے بیان کے مطابق نہ قتل کئے گئے ہیں۔ نہ سولی پر چڑھائے گئے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص قدرت سے معجزانہ طور پر صحیح سالم اٹھا لیا اور وہ اللہ کے حکم سے معجزانہ طور پر زندہ ہیں اور قیامت سے پہلے اس دنیا میں پھر نازل کئے جائیں گے اور یہیں آ کر وفات پائیں گے اور قرآن وحدیث کی بیان کی ہوئی کسی حقیقت پر جب اس طرح کا اجماع ہو تو پھر کسی صاحب ایمان کے لئے اس میں شک وشبہ کی اور کوئی تاویل کی گنجائش نہیں رہتی۔ بلکہ اس میں تاویل بھی بدترین گمراہی اور قرآن پاک کی زبان میں الحاد ہے۔
(محمد منظور نعمانی)
١؎ یہ کتاب اسلام اور قادیانیت ایک تقابلی جائزہ کے نام سے مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان نے حال ہی میں شائع کی ہے۔ اپنے موضوع پر بہترین کتاب ہے۔ (محمد یوسف لدھیانوی) (جسے اب احتساب میں شائع کرنے کی سعادت بھی حاصل ہوئی ہے۔ مرتب!)
٣٦
یانیوں کی تہمت:
م ہے کہ خود مرزا قادیانی اور ان کے اہل قلم متبعین نے امت کے متعدد اکابر حضرت عبداللہ بن عباسؓ شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ اور شاہ ولی اللہؒ بھی شامل یہ حضرات نزول مسیح اور حیات مسیح کے منکر اور قادیانیوں کی طرح وفات مسیح اور پورے یقین اور بصیرت کے ساتھ اعلان کرتا ہے کہ یہ دعوے اس بات ام احمد اور ان کے امتی جھوٹ بولنے میں کتنے جری اور بے باک ہیں۔ اس عبداللہ بن عباسؓ اور شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ اور شاہ ولی اللہؒ کے صاف صریح پچھلے صفحات میں پڑھ چکے ہیں۔ یہی حال ان سب بزرگوں کا ہے جن پر ہیں کہ جن علماء کرام نے اس مسئلہ پر تفصیل سے بحث کی ہے اور مستقل ں نے ان بزرگوں میں سے (جن کا قادیانی اس سلسلے میں نام لیتے ہیں) ت کیا اور دکھایا ہے کہ ان کا عقیدہ وہی ہے۔ جو جمہور امت کا ہے اور وہ ت مسیح کے قائل ہیں اور ان کے بارے میں قادیانیوں کا دعویٰ کذب وافتراء ۔ اگر ہمارے ناظرین میں سے کسی صاحب کو یہ بحث تفصیل سے دیکھنی ھدایۃ الممتري" (مصنفہ مولانا عبد الغنی صاحب پٹیالوی مرحوم) کا رحال رسول اللہﷺ اور صحابہ کرامؓ کے مبارک عہد سے لے کر اس وقت رائمہ اور علماء محدثین، مفسرین، فقہاء، متکلمین اور صوفیائے ربانیین کا اس علیہ السلام قرآن وحدیث کے بیان کے مطابق نہ قتل کئے گئے ہیں۔ نہ بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص قدرت سے معجزانہ طور پر صحیح سالم اٹھا لیا اور وہ ر پر زندہ ہیں اور قیامت سے پہلے اس دنیا میں پھر نازل کئے جائیں گے یں گے اور قرآن وحدیث کی بیان کی ہوئی کسی حقیقت پر جب اس طرح کا ب ایمان کے لئے اس میں شک وشبہ کی اور کوئی تاویل کی گنجائش نہیں بھی بدترین گمراہی اور قرآن پاک کی زبان میں الحاد ہے۔
(محمد منظور نعمانی)
سلام اور قادیانیت ایک تقابلی جائزہ کے نام سے مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان ہے۔ اپنے موضوع پر بہترین کتاب ہے۔ (محمد یوسف لدھیانوی) نساب میں شائع کرنے کی سعادت بھی حاصل ہوئی ہے۔ مرتب!)
٣٦
خاتم النبیین لا نبی بعدی
کفر و اسلام کے حدود
اور قادیانیت
حضرت مولانا محمد منظور نعمانیؒ
تعارف
یہ کتابچہ دراصل دو مقالوں کا مجموعہ ہے۔ جن میں پوری تحقیق اور تنقیح کے ساتھ اسلام اور کفر کے حدود اور ان کا معیار واضح کر کے محکم استدلال کے ساتھ بتایا گیا ہے کہ جو شخص رسول اللہ ﷺ کے بعد شرعی معنی میں نبی و رسول ہونے کا دعویٰ کرے اور جو اس کے دعوے کو قبول کر کے اس کو نبی و رسول مانے۔ شریعت اسلام میں اس کو مسلمان ماننے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اسی کے ساتھ قادیانی لٹریچر کے بیسیوں ناقابل تاویل و تردید حوالوں سے ثابت کیا گیا ہے کہ قادیانی فرقہ مرزا غلام احمد قادیانی کو شرعی معنی میں نبی و رسول مانتا ہے اور ان پر ایمان لانے کو نجات کی شرط قرار دیتا ہے اور ان کے دعوائے نبوت کی تکذیب کرنے والے دنیا بھر کے مسلمانوں کو یہود و نصاریٰ کی طرح کافر کہتا ہے۔
کفر و اسلام کے حدود اور قادیانیت
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اللہم ارنا الحق حقاً وارزقنا اتباعہ وارنا الباطل باطلاً وارزقنا اجتنابہ!
سب سے پہلے سمجھنے کی بات یہ ہے کہ جو دینی حقیقتیں اور دینی باتیں رسول اللہ ﷺ سے ہم تک پہنچتی ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر وہ ہیں۔ جن کے بارے میں اگرچہ ہمیں اطمینان ہے کہ ان کا ثبوت اس درجہ کا ہے کہ ہمارے لئے ان کا ماننا اور اگر وہ عمل سے متعلق ہیں تو ان پر عمل کرنا ضروری ہے۔ لیکن پھر بھی ان کا ثبوت ہر قسم کے احتمال و تشکیک اور اشتباہ و التباس سے بالا تر ایسا یقینی اور قطعی اور بدیہی نہیں ہے کہ ہم ان کے نہ ماننے کو قطعیت کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی بات کا نہ ماننا کہہ سکیں اور اس کو کفر و انکار قرار دے سکیں۔ دین اور شریعت کے زیادہ تر اجزاء و عناصر کا یہی حال ہے۔
لیکن کچھ دینی حقیقتیں اور دینی باتیں ایسی بھی یقیناً ہیں۔ جن کی حیثیت یہ ہے کہ مثلاً جس درجہ کے یقینی اور غیر مشکوک ذرائع اور جس قسم کے تواتر سے ہم کو یہ معلوم ہوا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا اور اللہ کے پیغمبر کی حیثیت سے ایک دین کی طرف اپنے زمانہ کے لوگوں کو بلایا تھا۔ اسی درجہ کی نقل و روایت اور اسی قسم کے تواتر سے ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپؐ نے اپنی دینی ہدایت اور دعوت کے سلسلہ میں یہ یہ چیزیں خاص طور سے فرمائی تھیں۔ مثلاً یہ بات کہ آپؐ نے ”لا الہ الا اللہ“ یعنی توحید کی دعوت دی تھی اور بت پرستی کو شرک قرار
٢
دیا تھا اور مثلاً یہ بات کہ آپ نے قرآن پاک کو کتاب اللہ کی حیثیت سے پیش کیا تھا اور مثلاً یہ بات کہ آپ قیامت کا آنا بیان فرماتے تھے اور مثلاً یہ بات کہ آپ نماز، زکوٰۃ، روزہ اور حج کا حکم دیتے تھے۔ تو یہ اور ان جیسی بہت سی دینی حقیقتیں ہیں ۔ جن کا ثبوت ہر قسم کے وہم و شک اور احتمال و تشکیک سے بالا تر اسی درجہ کے تواتر سے ہم تک پہنچا ہے۔ جس درجہ کے تواتر سے رسول اللہ ﷺ کی نبوت ورسالت کی دعوت پہنچی ہے اور ہر دور میں امت کے تمام طبقات میں ان کی ایسی ہی شہرت رہی ہے۔
الغرض رسول اللہ ﷺ سے ان دینی حقیقتوں کا ثبوت ایسا یقینی قطعی اور بدیہی ہے کہ ان کا نہ ماننا بلاشبہ پیغمبر خدا ﷺ کی بیان فرمودہ حقیقت کا نہ ماننا ہے۔
خاص علمی اور دینی اصطلاح میں دین کی ایسی حقیقتوں کو ضروریات دین کہتے ہیں۔
اس کے بعد ہمیں عرض کرنا ہے کہ جو شخص اسلام و کفر کے معنی وہی جانتا ہو جو کتاب وسنت سے اور امت کے متواتر تعامل سے علماء سلف و خلف نے اب تک سمجھے ہیں۔ اس کو غالباً اس بات سے اختلاف اور انکار نہ ہوگا کہ مومن ومسلم ہونے کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ ان ضروریات دین میں سے کسی حقیقت کا منکر نہ ہو۔ اگر یہ بھی ضروری نہ ہو تو پھر اس کے معنی یہ ہوں گے کہ مومن ومسلم ہونے کے لئے سرے سے کسی حقیقت کا ماننا ضروری نہیں اور شاید اس سے زیادہ مہمل اور بے معنی بات دین کے بارے میں اور نہیں کہی جاسکتی ۔ ضروریات دین میں تاویل و تحریف ، انکار وتکذیب کے ہم معنی ہے۔
اب یہیں ایک بات پر اور بھی غور کر لیا جائے ان ہی دینی حقیقتوں میں سے (جن کو ضروریات دین کہا جاتا ہے ) کسی حقیقت کے بارہ میں ایک گمراہ شخص کہتا ہے کہ میں اس کو مانتا ہوں۔ لیکن وہ اس کے معنی بالکل نئے گھڑتا ہے۔ مثلاً وہ کہتا ہے کہ میں ”لا الہ الا اللہ“ کو مانتا ہوں اور گواہی دیتا ہوں کہ خدا ایک ہی ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ لیکن لوگوں نے جانا نہیں وہ میں خود ہوں۔ میں نے اب اس شکل وصورت میں ظہور کیا ہے۔ جس میں تم مجھے دیکھ رہے ہو اور قرآن میری نازل کردہ کتاب ہے اور محمد ﷺ میرے بھیجے ہوئے رسول تھے۔ (معاذ اللہ ) یا فرض کیجئے کہ وہ اپنے بارہ میں یہ نہیں کہتا ۔ بلکہ کسی مقبول ہستی کے بارہ میں یہ بات کہتا ہے کہ یعنی ”لا الہ الا اللہ“ کو مانتے ہوئے وہ اس کا مصداق اس مقبول ہستی کو بتلاتا ہے۔ (جیسا کہ حضرت علی مرتضیٰ کے بارے میں غلو کرنے والے کچھ عقل باختوں کے متعلق نقل بھی کیا گیا ہے کہ وہ اپنے کو مسلمانوں میں شمار کرتے تھے۔ ”لا الہ الا اللہ“ پڑھتے
٣
تھے اور اللہ کا ظہور یا مصداق حضرت علیؓ کو ٹھہراتے تھے ) یا مثلاً فرض کیجئے کہ ایک شخص کہتا ہے کہ میں کلمہ ’’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ‘‘ کو مانتا ہوں۔ لیکن اس کا مطلب وہ نہیں ہے جو عام مسلمان اب تک سمجھتے رہے ۔ بلکہ اس کا مطلب ( معاذ اللہ ) یہ ہے کہ کوئی معبود نہیں اللہ کے سوا اور وہ اللہ خود محمدﷺ ہیں جو رسول اللہ کے روپ میں آگئے ہیں۔ یا مثلاً ایک شخص قیامت کے بارے میں کہتا ہے کہ میں قیامت کو مانتا ہوں۔ لیکن اس کی حقیقت وہ نہیں ہے ۔ جو عام مسلمان سمجھے ہوئے ہیں اور خواہ مخواہ اس کے انتظار کی تکلیف اٹھا رہے ہیں ۔ بلکہ اس کا مطلب صرف ایک دور کا خاتمہ اور دوسرے دور کا آغاز ہے۔ جو ہو بھی چکا اور مسلمان جس توڑ پھوڑ والی قیامت کے منتظر ہیں ۔ وہ کبھی آنے والی نہیں ۔ یا مثلاً ایک گمراہ شخص کہتا ہے کہ میں قرآن کو خدا کی کتاب مانتا ہوں ۔ لیکن اس بارہ میں میرا خیال ہے کہ دراصل تو یہ رسول اللہﷺ کی تالیف ہے اور خود ان کا کلام ہے۔ لیکن اس میں جو باتیں ہیں اور جن خیالات کو اس میں ظاہر کیا گیا ہے۔ چونکہ وہ اللہ کی مرضی کے مطابق ہیں ۔ یا یوں کہہ لیجئے کہ اللہ نے ہی ان کو رسول اللہﷺ کے دماغ میں پیدا کیا تھا۔ اس لئے قرآن مجید کو کتاب اللہ کہہ دیا جاتا ہے ١؎ ۔
تو غور طلب سوال یہ ہے کہ کیا ایسے گمراہوں کے متعلق یہ کہا جائے گا کہ یہ بے چارے مکذب اور منکر نہیں بلکہ مؤول ہیں اور اس لئے مسلمان ہی ہیں ۔ یا یہ کہا جائے گا کہ یہ زندیق، تاویل اور تحریف کے ساتھ دینی حقیقتوں کی تکذیب کرتے ہیں اور انہوں نے یہ رویہ اختیار کر کے دین محمدیﷺ سے اپنا رشتہ کاٹ لیا ہے؟۔
کھلی ہوئی بات ہے کہ تاویل کے ساتھ ضروریاتِ دین کا انکار کرنے والوں کو مومن و مسلم کہنے کی گنجائش جب ہی نکل سکتی ہے کہ پہلے اس بات کو مان لیا جائے کہ ان ضروریاتِ دین کی بھی کوئی حقیقتِ متعین نہیں ہے ۔ جس میں کسی تاویل کی گنجائش نہ ہو اور اس کے معنی یہ ہوں گے کہ سرے سے خود اسلام ہی کی حقیقت متعین نہیں ۔ کیونکہ ضروریاتِ دین تو اس کے اوّل درجہ کے بینات ہیں ۔
اس لئے متقدمین اور متاخرین میں سے جنہوں نے بھی اس مسئلہ پر گفتگو کی ہے وہ سب اس پر متفق ہیں ۔ کہ ضروریاتِ دین میں تاویل مآل اور حکم کے لحاظ سے تکذیب ہی ہے۔
١؎ واضح رہے کہ وہ سب محض فرضی مثالیں نہیں ہیں۔ بلکہ ان میں بعض باتیں وہ ہیں کہ جن کے کہنے والے پہلے کسی زمانہ میں گزرے ہیں ۔ بعض وہ ہیں جن کے کہنے والے اب بھی موجود ہیں اور قرآن کریم کے متعلق یہ بات تو ابھی چند سال ہوئے نیاز فتح پوری صاحب نے کہی تھی۔
اور واضح رہے کہ یہ کوئی فروعی اجتہادی مسئلہ نہیں ہے۔ بلکہ کفر و اسلام کی حقیقت اور اس کی حدود کا اصولی اور بنیادی مسئلہ ہے۔ متقدمین و متاخرین اہل حق میں سے ایک کا بھی نام نہیں بتایا جاسکتا۔ جس نے اس اصول سے اختلاف کیا ہو اور تاویل کے ساتھ ضروریات دین کے انکار کو کفر نہ قرار دیا ہو۔ ہاں کسی شخص یا گروہ پر اس اصول کے انطباق اور اطلاق میں واقفیت و عدم واقفیت کی بناء پر یا دوسرے وجوہ سے دو رائیں ہوسکتی ہیں اور کسی کی تکفیر کے بارے میں جہاں خود محققین و محتاطین اہل حق میں اختلاف ہوا ہے۔ وہ عموماً اطلاق اور انطباق ہی میں ہوا ہے۔ بہر حال تمام سلف و خلف اہل حق میں سے کسی ایک کو بھی اس اصول سے اختلاف نہیں ہے کہ ضروریات دین کا انکار اگر چہ تاویل کے ساتھ ہو۔ بہر حال وہ اسلام سے رشتہ کاٹ دیتا ہے۔
اس کے بعد عرض کرنا ہے کہ جو شخص دین کا کچھ بھی علم رکھتا ہے وہ ضرور جانتا ہے کہ ختم نبوت کا عقیدہ یعنی ختم نبوت اور خاتم النبیین کے صرف الفاظ نہیں بلکہ یہ حقیقت کہ رسول اللہ ﷺ آخری نبی ہیں اور اب کوئی نیا نبی قیامت تک مبعوث نہیں ہوگا۔ ضروریات دین میں سے ہے یعنی ناقابل شک یقین پیدا کرنے والے تواتر کے جن ذرائع سے ہمیں ، مثلاً یہ معلوم ہوا کہ آپؐ نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا اور اپنے کو نبی کی حیثیت سے پیش کیا تھا اور قرآن کریم کو کتاب اللہ بتلایا تھا اور آپؐ توحید اور نماز ، روزہ ، حج ، زکوٰۃ کا حکم دیتے تھے۔ ان ہی ذرائع سے اور بالکل ویسے ہی تواتر سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ آپؐ نے اپنے بارے میں یہ بھی بتلایا تھا کہ سلسلۂ نبوت مجھ پر ختم کر دیا گیا ہے۔ میں خاتم النبیین ہوں اور اب میرے بعد کوئی نیا نبی اللہ کی طرف سے نہیں آئے گا۔ الغرض یہ عقیدہ اور یہ دینی حقیقت بھی دین کی خاص اصطلاح میں ضروریات دین میں سے ہے اور کسی شخص کے مسلمان ہونے کے لئے یہ ضروری ہے کہ اس کا انکار نہ کرے اور نہ اس کی ایسی کوئی تاویل اور توجیہ کرے۔ جس سے ختم نبوت کی مذکورہ بالا حقیقت کا انکار اور ابطال ہوتا ہو۔
اب آخری کڑی اس بحث کی یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابیں جس شخص نے پڑھی ہیں۔ اسے اس بات کا شبہ کرنے کی گنجائش نہیں کہ جن الفاظ و عبارات میں نبوت کا دعویٰ کیا جاسکتا ہے اور اگلے پیغمبروں نے کیا ہے۔ مرزا قادیانی نے ان ہی الفاظ و عبارات میں اپنے لئے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ جو لوگ اس حقیقت سے انکار کرتے ہیں وہ اگر ہٹ دھرم نہیں ہیں تو وہ سوچیں کہ نبوت کا دعویٰ کن لفظوں اور کن عبارتوں میں ہوتا ہے اور پھر وہ مرزا قادیانی کی اس سلسلہ کی عبارات کا مطالعہ کریں اور خیر جانے دیجئے مرزا قادیانی کے معاملہ کو کہ لاہوری پارٹی کے غیر منطقی وجود نے ان کے معاملہ کو ( واقعہ قابل اشتباہ نہ ہونے کے باوجود ) بعض شکلی لوگوں کے لئے
٥
ہم مان سکتے ہیں کہ کسی درجہ میں اب مشتبہ کر دیا ہے۔ لیکن موجودہ قادیانی پارٹی کا معاملہ تو بالکل صاف ہے وہ تو کھلے بندوں مرزا قادیانی کے لئے حقیقی نبوت اور اس کے لوازم ثابت کرتے ہیں اور بغیر کسی لاگ لپیٹ کے کہتے ہیں کہ وہ اسی معنی کے اور اسی قسم کے حقیقی نبی تھے۔ جس معنی کے اور جیسے نبی پہلے آتے رہے اور اگلے نبیوں کے نہ ماننے والے جس طرح کافر ہیں اور نجات کے مستحق نہیں۔ اس طرح مرزا قادیانی کے نہ ماننے والے سارے مسلمان بھی کافر اور نجات سے محروم رہنے والے ہیں۔ جن لوگوں نے ان تحریروں کو پڑھا ہے۔ جو نبوت اور تکفیر کے مسئلہ پر لاہوری پارٹی کے جواب میں قادیانی پارٹی کے ذمہ داروں کی طرف سے کتابی صورت میں اور اخبارات میں شائع ہوتی رہی ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اس بارہ میں ان لوگوں نے کسی بڑے سے بڑے شکلی اور تاویلی آدمی کے لئے بھی کسی شک و شبہ کی اور کسی تاویل کی گنجائش نہیں چھوڑی ہے۔
الفرض قادیانیوں کا مسئلہ بالکل صاف اور واضح ہے۔ ان کی یہ بات قابل تعریف ہے کہ انہوں نے اپنے مسلک کے اخفاء میں نفاق سے کام نہیں لیا اور اپنے کو اتنا کھول کر پیش کر دیا کہ کسی کے لئے بھی ان کے بارے میں اشتباہ کی گنجائش نہیں رہی۔
اب اس کے بعد ان کو شرعی معنی میں مسلمان کہنے کی دو ہی صورتیں ممکن ہیں۔ ایک یہ کہ اسلام میں تاویل کے ساتھ ضروریات دین کے انکار کی گنجائش سمجھی جائے۔ یہ وہ نہیں کہہ سکتا جس نے اس مسئلہ کے مالہ وما علیہ پر غور کیا ہو اور جو ایسے اصولی اور بنیادی مسئلہ میں سلف وخلف امت کے خلاف رائے قائم کرنے کا اپنے کو حقدار نہ سمجھتا ہو اور دوسری صورت قادیانیوں کو مسلمان کہنے کی یہ ہے کہ ان کے ان کھلے دعووں کے باوجود کہ مرزا قادیانی کو ہم حقیقی معنی میں نبی مبعوث مانتے ہیں۔ کوئی شخص کہہ جائے کہ میں تو یقین نہیں کرتا کہ آپ ان کو نبی مانتے ہیں۔ بلکہ میرا حسن ظن یہ ہے کہ آپ صوفیانہ انداز میں کوئی خاص مجاز استعمال فرمارہے ہیں اور میرا خیال ہے کہ یہ آپ کا عقیدہ نہیں ہے۔ بلکہ شاعری فرمارہے ہیں۔ بہر حال اس عاجز کا خیال یہی ہے کہ جو حضرات موجودہ قادیانی پارٹی کو بھی مسلمان کہنے کی گنجائش سمجھتے ہیں۔ انہوں نے یا تو ضروریات دین میں تاویل کے مسئلہ پر غور نہیں فرمایا ہے۔ یا انہوں نے قادیانیوں کی اس سلسلہ کی چیزیں بالکل نہیں پڑھی ہیں۔
اس مقالہ میں بس اتنی ہی اصولی گفتگو کرنے کا ارادہ کیا گیا تھا۔ عرصہ سے اس ناچیز کا خیال ہے کہ قادیانیت اور قادیانیوں کی مذہبی حیثیت کے متعلق لکھنے لکھانے کی ضرورت اب بالکل باقی نہیں رہی ہے۔ پروفیسر الیاس برنی نے (اللہ تعالیٰ ان کو دنیا اور آخرت میں اپنے خاص کرم
٦
سے نوازے ) ”قادیانی مذہب“ لکھ کر قادیانی تحریک اور اس کے علمبرداروں کو سمجھنے کی کوشش کو آخری حد تک پہنچا دیا ہے اور پھر جس قدر اضافہ وہ اس میں مفید اور ضروری سمجھتے ہیں ۔ برابر کرتے رہتے ہیں ۔ یہاں تک کہ آخری ایڈیشن معلوم ہوا ہے کہ بڑے سائز کے سوا سو صفحات تک پہنچ گیا ہے۔ گویا کتاب نہیں ۔ بلکہ اپنے موضوع پر ایک پورا کتب خانہ ہے۔
اور اب سے قریباً ٢٠ سال پہلے بہاول پور کے تاریخی مقدمہ میں استاذ حضرت مولانا محمد انور شاہؒ کشمیری نور اللہ مرقدہ اور چند اور علماء نے جو بیانات دیئے تھے اور پھر فاضل جج نے قریباً ڈیڑھ سو صفحہ پر اس مقدمہ کا جو فیصلہ لکھا تھا ان دونوں چیزوں نے قادیانیوں کے ایمان وکفر کے مسئلہ کو علمی طور پر بالکل ختم کر دیا ١؎ ہے۔ ہاں اگر کسی شخص کا کفر و ایمان کا تصور ہی جدا گانہ ہو تو پھر بات دوسری ہے۔
عقیدہ ختم نبوت کا مقام اور قادیانیوں کا موقف
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
اللہ تعالیٰ نے جب سے انسان کو پیدا کیا اسی وقت سے اس کی ہدایت اور رہنمائی کے لئے نبوت کا سلسلہ جاری فرمایا اور مختلف دوروں اور مختلف قوموں میں ان کی ضرورت کے مطابق انبیاء ورسل آتے رہے۔ (صلوات اللہ تعالیٰ علیہم وسلامہ )
تاریخ کا ہر طالب علم جانتا ہے کہ ہماری اس انسانی دنیا پر ہزاروں سال ایسے گزرے ہیں ۔ جب کہ اس کی آبادی کے مختلف ٹکڑے ایک دوسرے سے بہت بے تعلق بلکہ بے خبر تھے اور ان کے احوال ومزاج اور ان کی عقلی و روحانی سطح اور استعداد میں بہت زیادہ فرق تھا۔ کیونکہ انسانوں کی آمدورفت اور اسی طرح علوم وافکار کے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے کے جو ذرائع بعد میں پیدا ہوئے۔ جنہوں نے انسانیت کے مختلف حلقوں میں تعلق واتصال اور کسی درجہ یکسانی پیدا کی وہ اس وقت تک وجود میں نہیں آئے تھے۔ اس لئے انسانی دنیا اس وقت ایک دنیا نہیں تھی۔ بلکہ ہر قوم اور ملک کی گویا ایک مستقل دنیا تھی۔ یہی وجہ تھی کہ اس دور میں قوموں اور ملکوں کے لئے الگ الگ پیغمبر مبعوث ہوتے رہے اور چونکہ انسانوں کی دینی و روحانی استعداد کمال کو نہیں پہنچی تھی۔ اس لئے انبیاء علیہم السلام کی تعلیم وہدایت میں اس پورے دور میں ارتقاء بھی جاری رہا اور شرائع واحکام میں حسب ضرورت تغیر وتبدل ہوتا رہا۔
١؎ اس مقدمہ کے یہ بیانات اور فاضل جج کا فیصلہ دونوں چیزیں اس زمانہ میں الگ الگ کتابی شکل میں شائع ہو چکی ہیں ۔
٧
یہاں تک کہ اب سے تقریباً ڈیڑھ دو ہزار سال پہلے ایسے حالات پیدا ہوئے کہ انسانی دنیا کے مختلف حصوں میں باہم تعلق اور تبادلہ علوم و افکار کچھ ہونے لگا اور پوری انسانی دنیا ایک ہی دنیا بننے لگی اور ٹھیک اس دور میں انسانیت کچھ اپنے فطری ارتقاء کے نتیجہ میں اور کچھ انبیاء علیہم السلام کی ہزاروں سال کی مسلسل تربیت کے طفیل میں اپنی دینی و روحانی استعداد کے لحاظ سے گویا سن بلوغ کو پہنچی اور وہ وقت آگیا کہ سب انسانوں کے لئے اللہ کا دین اور اس کی شریعت آخری اور مکمل شکل میں بھیج دی جائے اور پوری دنیا کی تعلیم و ہدایت کے لئے ایک ہی پیغمبر مبعوث فرما دیا جائے۔ حکمت خداوندی نے ٹھیک اس وقت پر سیدنا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو ساری دنیا کے لئے واحد نبی و رسول بنا کر مبعوث فرمایا اور آپ ﷺ کے ذریعہ اپنا دین اور اپنی شریعت آخری اور مکمل شکل میں بھیج دی اور اعلان فرما دیا۔
”اليوم اكملت لكم دينكم واتممت عليكم نعمتی ورضيت لكم الاسلام ديناً (مائدہ: ٣) ”آج میں تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمت کا تم پر اتمام کر دیا اور تمہارے لئے اسلام کو بحیثیت دین کے پسند کیا۔﴾
اس کے ساتھ حکمت خداوندی نے یہ بھی فیصلہ فرمایا کہ اس دین اور اس شریعت کو جو اپنے مکمل اور کافی وافی ہونے کی وجہ سے اب کبھی کسی ترمیم اور کسی اضافہ کی محتاج نہ ہوگی محفوظ کر دیا جائے اور ایسا انتظام فرما دیا جائے کہ ختم دنیا تک تمام انسانوں کے لئے یہ ایک زندہ اور محفوظ اور مستند خدائی دستور اور آسمانی منشور رہے اور اس فیصلہ کا اعلان بھی کتاب پاک میں فرما دیا گیا ۔
”انا نحن نزلنا الذكر وانا له لحافظون (الحجر:٩) ”ہم نے اس نصیحت نامہ قرآن کو نازل کیا ہے اور ہم اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔﴾
تکمیل دین اور اتمام شریعت کے بعد اس کی حفاظت کا یہ فیصلہ دراصل محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت و رسالت کی حفاظت اور قیامت تک اس کی بقاء کی ضمانت کا فیصلہ تھا۔ گویا اسی فیصلہ میں یہ مضمر تھا کہ پہلے انبیاء علیہم السلام اور رسل جس طرح خود دنیا سے چلے گئے۔ ان کی نبوتیں بھی چلی گئیں۔ ان کے متعلق فیصلہ الہی یہی تھا کہ وہ چلی جائیں ۔ (جب ایک چیز سے کام لینا ہی نہیں تو اس کے باقی رہنے کی یہاں ضرورت ہی کیا ہے) لیکن محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت و رسالت دنیا سے خود ان کے چلے جانے کے بعد باقی رکھی جائے گی۔ کیونکہ قیامت تک ہدایت و رہنمائی کا کام اب اسی سے لینا ہے۔ الغرض دین و شریعت کی تکمیل و حفاظت کا یہ فیصلہ اور اعلان براہ راست اس حقیقت کا اعلانیہ تھا کہ نبوت محمدی قیامت تک باقی رکھی جائے گی اور آسمان
٨
نبوت کا یہ آفتاب اس دنیا کی آخری شام تک غروب نہ ہوگا۔ پس خود رسول اللہ ﷺ تو اس بشری دنیا کے عام طبعی قانون کے مطابق (جس سے حکمت الٰہی نے کسی بشر کو بھی مستثنیٰ نہیں کیا ہے) وقت مقررہ پر اس دنیا سے تشریف لے گئے۔ لیکن آپ ﷺ کی نبوت نہیں گئی اور اللہ کے فیصلہ کے مطابق وہ قیامت تک کے لئے اس دنیا میں باقی ہے اور طالبان نور کے لئے آفتاب ہدایت و نبوت جوں کا توں روشن رہے گا اور دنیا کبھی نبوت کے نور سے خالی نہ ہوگی۔
اسی لئے حکمت خداوندی نے یہ فیصلہ فرمایا کہ کوئی نئی نبوت نہیں بھیجی جائے گی اور کوئی نیا نبی مبعوث نہ ہوگا۔ بس محمد رسول اللہ ﷺ پر یہ سلسلہ ختم کر دیا گیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب عزیز میں اس کا اعلان بھی فرما دیا۔
”ولکن رسول الله وخاتم النبيين وكان الله بكل شيء عليماً (احزاب : ٤٠) ” لیکن محمد اللہ کے رسول ہیں اور خاتم النبیین ہیں۔ (یعنی سب سے آخری نبی ہیں) اور اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کا پورا علم ہے۔﴿
حق تعالیٰ نے اس آیت میں حضرت محمد ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کا اعلان فرمانے کے بعد جو یہ فرمایا کہ اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔ تو اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ ختم نبوت کے اعلان سے تمہیں یہ وسوسہ اور خطرہ نہ ہو کہ آئندہ جب نبی نہیں آئیں گے تو انسانوں کی ہدایت کی ضرورت کس طرح پوری ہوگی۔ مطلب یہ ہے کہ یہ فیصلہ ہم نے کیا ہے اور ہم علیم کل ہیں اور خوب جانتے ہیں کہ ہمارے اس آخری نبی کے بعد اب انسانی دنیا کو کسی نئے نبی اور نئی ہدایات کی بالکل ضرورت نہ ہوگی کیونکہ اس نبی کی نبوت اور تعلیم و ہدایت قیامت تک زندہ اور محفوظ رہ کر اپنا کام کرتی رہے گی۔
پھر اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ سے بھی اپنے اس فیصلہ کا بار بار اعلان کرایا۔ حدیث کا جو ذخیرہ متداول کتابوں میں محفوظ ہے معمولی تلاش سے اس میں دس بیس نہیں سیکڑوں بلا مبالغہ سیکڑوں حدیثیں مل جاتی ہیں۔ جن میں رسول اللہ ﷺ نے مختلف الفاظ و عبارات میں اللہ تعالیٰ کے اس فیصلہ کا اعلان فرمایا ہے کہ نبوت مجھ پر ختم کر دی گئی۔ اب میرے بعد کوئی نیا نبی نہیں آئے
- ١ ”ما جعلنا لبشرٍ من قبلك الخلد افان مت فهم الخلدون
(الانبياء: ٣٤) “
٩
گا۔ مگر آپ نے اللہ کی اطلاع سے یہ پیشین گوئی بھی فرمائی کہ: "لا تقوم الساعة حتى يبعث دجالون كذابون كلهم يزعم انه نبى وانا خاتم النبيين لا نبى بعدى ٢" نہیں آئے گی قیامت یہاں تک کہ اٹھیں گے بہت سے دجال و کذاب اور وہ سب نبوت کے مدعی ہوں گے اور حقیقت یہ ہے کہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں۔
چنانچہ اس پیشین گوئی کے مطابق پہلی صدی سے بلکہ عہد نبوی ہی سے ان دجالوں کذابوں کا ظہور شروع ہو گیا۔ مسیلمہ کذاب نے آنحضرتﷺ کے آخری دور حیات ہی میں نبوت کا دعویٰ کیا اور آنحضرتﷺ کے وصال کے بعد صحابہ کرامؓ نے بااتفاق رائے سب سے پہلا جہاد اسی مسیلمہ اور اس کی امت کے خلاف کیا۔ جس میں بارہ سو صحابہ شہید ہوئے۔ لیکن جھوٹی نبوت کے اس فتنہ کو دفن کر کے دم لیا۔
پھر اس کے بعد بھی آنحضرتﷺ کی پیشین گوئی کے مطابق مختلف زمانوں میں مدعیان نبوت اٹھے۔ لیکن امت محمدی نے ان کے ساتھ یہی معاملہ کیا۔ اگر وہ پاگل نہیں تھے تو ان کو دجال و کذاب اور مرتد قرار دیا گیا اور ان کے ناپاک وجود سے اللہ کی زمین کو پاک کیا گیا اور یہ اسی بنیاد پر ہوا کہ ختم نبوت کے عقیدہ کو دین کے ان ضروریات و بینات میں سے سمجھا گیا۔ جن میں سے کسی ایک کے انکار سے بھی آدمی کا رشتہ اسلام سے کٹ جاتا ہے۔
بہر حال ہر دور میں پوری امت محمدیہ کا یہ متفقہ فیصلہ رہا ہے اور اسی کے مطابق عمل ہوتا رہا ہے کہ رسول اللہﷺ کا آخری نبی ہونا اور آپﷺ کے بعد کسی نبی کا نہ آنا اسی طرح
١ ختم نبوت پر مولانا مفتی محمد شفیع صاحب دیوبندی کا اردو میں جو رسالہ ہے دوسو حدیثیں تو موصوف نے اسی میں جمع کر دی ہیں اور ان پر اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔
٢ "(رواہ ابوداؤد ج٢ ص ١٢٧، باب ذكر الفتن ودلائلها وترمذى ج٢ ص ٤٥ ، باب ماجاء لا تقوم الساعة حتى يخرج كذابون، عن ثوبان وفي الصحيحين عن ابى هريرة لا تقوم الساعة حتى يبعث دجالون كذابون قريباً من ثلثين كلهم يزعم انه رسول الله، بخارى ج١ ص ٥٠٩، باب علامات النبوة فى الاسلام، مسلم ج٢ ص ٣٩٧، باب فى قوله ﷺ ان بين يدي الساعة كذابين قريباً من ثلاثين . قال الحافظ فى الفتح ليس المراد بالحديث من ادعى النبوة مطلقاً فانهم لا يحصون كثرة ..... انما المراد من قامت له الشوكة . فتح البارى ج٦ ص ٤٥٥، باب علامات النبوة فى الاسلام) “
١٠
کی اطلاع سے یہ پیشین گوئی بھی فرمائی کہ:
وم الساعة حتى يبعث دجالون كذابون كلهم يزعم انه نبى یبین لا نبی بعدی ٢ ﴿ نہیں آئے گی قیامت یہاں تک کہ اٹھیں گے ب اور وہ سب نبوت کے مدعی ہوں گے اور حقیقت یہ ہے کہ میں خاتم النبیین نبی آنے والا نہیں۔ ﴾
پیشین گوئی کے مطابق پہلی صدی سے بلکہ عہد نبوی ہی سے ان دجالوں ع ہو گیا۔ مسیلمہ کذاب نے آنحضرت ﷺ کے آخری دور حیات ہی میں ضرت ﷺ کے وصال کے بعد صحابہ کرامؓ نے باتفاق رائے سب سے پہلا لی امت کے خلاف کیا۔ جس میں بارہ سو صحابہ شہید ہوئے۔ لیکن جھوٹی کر کے دم لیا۔
کے بعد بھی آنحضرت ﷺ کی پیشین گوئی کے مطابق مختلف زمانوں میں ن امت محمدی نے ان کے ساتھ یہی معاملہ کیا۔ اگر وہ پاگل نہیں تھے تو ان کو قرار دیا گیا اور ان کے ناپاک وجود سے اللہ کی زمین کو پاک کیا گیا اور یہ اسی کے عقیدہ کو دین کے ان ضروریات و بینات میں سے سمجھا گیا۔ جن میں سے کبھی آدمی کا رشتہ اسلام سے کٹ جاتا ہے۔
دور میں پوری امت محمدیہ کا یہ متفقہ فیصلہ رہا ہے اور اسی کے مطابق عمل ﷺ کا آخری نبی ہونا اور آپ ﷺ کے بعد کسی نبی کا نہ آنا اسی طرح
یہ پر مولانا مفتی محمد شفیع صاحب دیوبندی کا اردو میں جو رسالہ ہے دو سو سی میں جمع کر دی ہیں اور ان پر اضافہ بھی کیا جاسکتا ہے۔
ابو داؤد ج ٢ ص ١٢٧ ، باب ذكر الفتن ودلائلها وترمذی ج ٢ تقوم الساعة حتى يخرج كذابون، عن ثوبان وفي الصحيحين عن ساعة حتى يبعث دجالون كذابون قريباً من ثلثين كلهم يزعم انه
١ ص ٥٠٩ ، باب علامات النبوة فى الاسلام، مسلم ج ٢ ص ٣٩٧، بين يدي الساعة كذابين قريباً من ثلاثين. قال الحافظ في الفتح ث من ادعى النبوة مطلقاً فانهم لا يحصون كثرة ..... انما المراد من باری ج 6 ص ٤٥٥ ، باب علامات النبوة في الاسلام)
١٠
ضروریات دین میں سے ہے۔ جس طرح مثلا حضور ﷺ کو نبی ورسول ہونا۔ قرآن کا کتاب اللہ ہونا۔ قیامت کا قائم ہونا وغیرہ وغیرہ اور اسی لئے نئی نبوت کے مدعیوں کو اور ان پر ایمان لانے والوں کو ہمیشہ اسلام سے خارج سمجھا گیا اور ان کے ساتھ ہمیشہ وہی معاملہ کیا گیا۔ جس کے مرتدین اور زنادقہ مستحق ہوتے ہیں۔ بلکہ تاریخ شاہد ہے کہ ان کے ساتھ دوسرے زندیقوں اور مرتدوں سے زیادہ سخت معاملہ کیا گیا۔
اور یوں بھی غور کرنے سے سمجھ میں آسکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ اور اس کی گنجائش سمجھنا ایسا ہی بڑا فتنہ ہے کہ امت کو پوری شدت کے ساتھ اس کی بیخ کنی کرنی چاہئے اور ان کے ساتھ ذرہ برابر نرمی نہ برتنا چاہئے۔ صدیق اکبرؓ جو اپنی طبیعت اور مزاج کے لحاظ سے نہایت نرم تھے اور جنگ بدر میں گرفتار ہونے والے مکہ کے محارب کافروں کے متعلق بھی جنہوں نے حضور ﷺ کو نرم فیصلہ کی رائے دی تھی۔ مسیلمہ کے خلاف جہاد کے بارہ میں ان کا غیر معمولی جوش اور عزم جو روایات سے معلوم ہوتا ہے وہ ان کے مقام صدیقیت کی خاص شہادت ہے۔
ذرا غور فرمائیے اللہ تعالیٰ نے سیدنا حضرت محمد ﷺ کو خاتم النبیین قرار دے کر فیصلہ فرما دیا کہ اب قیامت تک کے سارے انسانوں کی نجات صرف ان کی تصدیق اور ان کی ہدایات وتعلیم کے اتباع پر منحصر ہے۔ ان کے بعد اب کوئی نیا نبی آنے والا نہیں ہے۔ جس کی تصدیق کرنا اور جس کی ہدایت کا ماننا انسانوں کی نجات کے لئے ضروری ہو۔
شاید بہت سے لوگوں نے غور نہیں کیا اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ ایک غیر معمولی عظمت اور اہمیت رکھتا ہے اور امت محمدیہ کے لئے اس میں بہت ہی بڑی رحمت ہے۔ نبوت کی پوری تاریخ گواہ ہے کہ نئے نبیوں کا آنا امتوں کے لئے کتنا بڑا اور کتنا سخت امتحان ہوتا ہے اور پہلے پیغمبروں کے ماننے والے کتنے لوگ ہوتے ہیں۔ جو نئے نبی پر ایمان لاتے ہیں۔ صرف سب سے آخری دو رسولوں ہی کو دیکھ لیجئے۔ عیسیٰ علیہ السلام جب تشریف لائے (اور احیاء موتی جیسے معجزے لے کر تشریف لائے) تو یہودیوں میں سے کتنے ان پر ایمان لائے اور کتنے انکار کر کے لعنتی اور جہنمی بنے۔ پھر جب رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور کیسی آیات بینات کے ساتھ تشریف لائے۔ تو یہود و نصاریٰ میں سے یعنی اگلے پیغمبروں اور اگلی کتابوں کے ماننے والوں میں سے کتنے آپ پر
١١
ایمان لائے اور کتنے انکار اور کفر کر کے دنیا میں اللہ کی لعنت کے اور آخرت میں ابدی عذاب نار کے مستحق ہوئے۔ پس اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ پر نبوت کا سلسلہ ختم فرما کر یہ رحمت فرمائی کہ اس امت کو اس سخت امتحان سے محفوظ فرمادیا۔ اگر بالفرض نبوت جاری رہتی اور آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی آتا تو یقیناً وہی صورت ہوتی جو پہلے ہمیشہ ہوئی ہے۔ یعنی حضور ﷺ کی امت کے بہت تھوڑے لوگ اس کو مانتے اور زیادہ تر انکار کر کے (معاذاللہ ) کافر اور لعنتی ہو جاتے۔ پس اللہ تعالیٰ نے نبوت کا سلسلہ ختم فرما کر اس امت کو ہمیشہ کے لئے کفر اور لعنت کے اس خطرہ سے محفوظ فرما دیا اور امت کو مطمئن فرما دیا کہ تمہاری اور ساری دنیا کی نجات کے لئے بس یہ کافی ہے کہ ہمارے اس رسول (حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ) پر ایمان ہو اور ان کی ہدایت کا اتباع ہو۔
الغرض ختم نبوت صرف ایک دینی مسئلہ اور عقیدہ نہیں ہے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کے اس فیصلہ کا عنوان ہے کہ اب سارے انسانوں کے لئے نجات کی آخری شرط بس ہمارے اس رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانا اور ان کی ہدایت کا اتباع کرنا ہے۔ اس لئے اب قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کو مطمئن اور یکسو ہو کر بس ان کا اتباع کرنا چاہئے۔ انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے سلسلہ میں یہ ہمارا آخری فیصلہ ہے۔
پس اب جو شخص نبوت کا دعویٰ کرتا ہے یا کسی نئی نبوت کی گنجائش نکالتا ہے۔ وہ اللہ کے اس فیصلہ اور اس کے قائم کئے ہوئے اس سارے دینی نظام کو درہم برہم کرنا چاہتا ہے۔ ذرا اس کے دور رس نتائج پر غور کیجئے۔ یہ دوسری قسم کی اعتقادی گمراہیوں سے بہت مختلف قسم کی بات ہے۔ اس کا اثر پورے نظام دین پر پڑتا ہے۔ نئے نبی کی آمد پر اس پر ایمان لانا مدار نجات ہو جاتا ہے۔ وہی نبی وقت ہوتا ہے اور اس کے زمانہ کا کوئی شخص جو اس سے پہلے پیغمبروں کی تصدیق کرے۔ لیکن اس کو نہ مانے تو وہ کافر اور اللہ کی لعنت کا مستحق ہو جاتا ہے۔ پس رسول اللہ ﷺ کے بعد نئی نبوت کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ نجات کی آخری شرط محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانا نہیں ہوگا۔ بلکہ بعد میں آنے والے اس نبی پر ایمان لانا نجات کی آخری شرط ٹھہرے گا۔ (جیسا کہ قادیانی امت مرزا غلام احمد قادیانی کے متعلق صاف صاف کہتی ہے کہ ان کا انکار کرنے والے اسی طرح کافر اور لعنتی ہیں۔ جس طرح پہلے نبیوں کے منکر لعنتی اور کافر ہوئے)
پس جو لوگ دین میں اتنا بڑا فساد برپا کرنا چاہیں اور قیامت تک کے لئے قائم کئے
١٢
ہوئے اللہ کے اس نظام کو یوں در دوسرے تمام زنادقہ و مرتدین سے ز والے جیسا کہ جانتے ہیں کہ امت مح کبھی کوئی نرمی نہیں کی گئی۔
١۔ اس موقع پر قادیانیت انشاء اللہ بہت سے ناظرین کے لئے کشمیری نور اللہ مرقدہ جن کے متعلق میں ان کا مقام ہمارے اس دور کے حدیث کے بلند پایہ شارح حضرت کے بارے میں جو یہ تحریر فرمایا کہ ”لم لوگوں کی آنکھوں نے ان کی کوئی اور نظ دیکھا.... علی ہذا حکیم الامت حضرت امت میں ان کا وجود اسلام کی صداق یہ ملفوظ جس کتاب میں چھپا ہوا ہے حاصل انشاء اللہ یہی ہے ) تو جو لوگ ان بزرگوں کے ان ارشادات میں بالکل حقیقت ہے۔ جو نیچے تلے لکھی عصر کا حال قادیانیت کے خلاف ش عرض کرتا ہے کہ کبھی کبھی دل میں یہ ہیں۔ پھر حضرت کو سب سے زیادہ دوسرے تمام فتنوں سے زیادہ قابل بات سمجھ میں آئی کہ رسول اللہ ﷺ پورے نظام کو درہم برہم کر دیتا ہے کیا ہے۔ اس لئے اللہ کے جن ب انکشاف ہو ان کے قلوب میں اتنا
ہوئے اللہ کے اس نظام کو یوں درہم برہم کرنا چاہیں۔ لازماً ایمان والوں کو ان کے ساتھ دوسرے تمام زنادقہ و مرتدین سے زیادہ سخت معاملہ کرنا چاہئے ١؎ اور اسلامی تاریخ کے جاننے والے جیسا کہ جانتے ہیں کہ امت محمدیہ نے ہر دور میں ایسا ہی کیا ہے اور ایسے لوگوں کے ساتھ کبھی کوئی نرمی نہیں کی گئی۔
١؎ اس موقع پر قادیانیت کے خلاف اسی دور کے دو ممتاز بزرگوں کے شدت غیظ کا ذکر انشاء اللہ بہت سے ناظرین کے لئے اطمینان و بصیرت کا موجب ہوگا۔ استاذنا مولانا محمد انور شاہ کشمیری نور اللہ مرقدہ جن کے متعلق بس جاننے والے ہی جانتے ہیں کہ علم و تفقہ اور ورع و تقویٰ میں ان کا مقام ہمارے اس دور کے خواص میں بھی کتنا بلند تھا۔ قرآن کریم کے مسلم و مشہور مفسر اور حدیث کے بلند پایہ شارح حضرت مولانا شبیر احمد صاحب نے اپنی شرح مسلم میں ایک جگہ ان کے بارے میں جو یہ تحریر فرمایا کہ 'لم تر العیون ولم یرہو نفسہ مثلہ' یعنی اس زمانہ کے لوگوں کی آنکھوں نے ان کی کوئی اور نظیر اور مثال نہیں دیکھی اور انہوں نے خود بھی کوئی اپنا جیسا نہیں دیکھا... علیٰ ہذا حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے ان کے متعلق جو یہ فرمایا کہ اس امت میں ان کا وجود اسلام کی صداقت کی دلیل اور ایک مستقل معجزہ ہے۔ (حضرت حکیم الامت کا یہ ملفوظ جس کتاب میں چھپا ہوا ہے وہ اس وقت سامنے نہیں ہے اور بعینہ الفاظ بھی یاد نہیں ہیں۔ حاصل انشاء اللہ یہی ہے) تو جو لوگ حضرت شاہ صاحبؒ سے اچھی طرح واقف نہیں ممکن ہے کہ وہ ان بزرگوں کے ان ارشادات میں کوئی مبالغہ سمجھیں۔ لیکن جو واقف ہیں ان کے نزدیک تو یہ بالکل حقیقت ہے۔ جو نپے تلے لفظوں میں ادا کی گئی ہے۔ بہرحال مجھے عرض یہ کرنا ہے کہ اس امام عصر کا حال قادیانیت کے خلاف شدت غیظ کے بارے میں یہ تھا کہ عاجز راقم سطور خود اپنے متعلق عرض کرتا ہے کہ کبھی کبھی دل میں یہ سوال پیدا ہوتا تھا کہ دنیا میں طرح طرح کافر اور بددین موجود ہیں۔ پھر حضرت کو سب سے زیادہ غیظ اور غصہ قادیانیوں ہی کے خلاف کیوں ہے اور کفر و الحاد کے دوسرے تمام فتنوں سے زیادہ قابل توجہ آپ قادیانیت کو کیوں سمجھتے ہیں؟۔ بہت دنوں کے بعد یہ بات سمجھ میں آئی کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد نئی نبوت کا دعویٰ اور اس کی گنجائش سمجھنا دین کے اس پورے نظام کو درہم برہم کر دینا ہے جو اللہ تعالیٰ نے نبوت محمدی کے ذریعہ قیامت تک کے لئے قائم کیا ہے۔ اس لئے اللہ کے جن بندوں پر اس دجالی فتنہ کی حقیقت اور اس کے ضرر کا پوری طرح انکشاف ہو ان کے قلوب میں اتنا شدید غیظ پیدا ہو جانا بالکل قدرتی بات ہے (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)
١٣
اور اسلامی تاریخ کے جاننے والے جیسا کہ جانتے ہیں امت محمدیہ نے ہر دور میں ایسا ہی کیا ہے اور ایسے لوگوں کے ساتھ کبھی کوئی نرمی نہیں ہوئی۔ بدقسمتی سے ہندوستان میں اسلامی حکومت کے خاتمہ کے بعد جب انگریزی حکومت قائم ہوئی تو جس طرح زنا اور شراب جیسے فواحش ومسکرات کو قانونی جواز حاصل ہو گیا اور مسلمانوں کے بس میں یہ بھی نہ رہا کہ وہ بازار میں شراب کی اور عورتوں کی عصمت کی خرید و فروخت کو بزور روک سکیں۔ اسی طرح نبوت کا دعویٰ کرنے والوں کے لئے بھی میدان صاف ہو گیا تو اٹھارویں صدی کے اواخر میں مرزا غلام احمد قادیانی (جس کو بہت پہلے سے مذہبی سرداری کا مقام حاصل کرنے کا مالیخولیا تھا) انگریزی حکومت کے سایہ میں نبوت کے دعوے کے ساتھ کھڑا ہو گیا ١؎
(بقیہ حاشیہ گذشتہ صفحہ) اور یہ صدیقی نسبت ہے۔ اسی دور کے اکابر علماء واہل اللہ میں دوسری شخصیت حضرت مولانا شاہ فضل الرحمٰن گنج مراد آبادیؒ کے خلیفہ ارشد حضرت مولانا محمد علی مونگیریؒ کی تھی۔ اس عاجز نے خود تو زیارت نہیں کی لیکن ان کے خواص سے سنا ہے کہ قادیان کے اس دجالی فتنہ سے وہ اس قدر بے کل تھے کہ بعض اوقات تڑپتے اور روتے تھے۔ رات رات بھر بیٹھ کر قادیانیت کے رد میں کتابیں لکھتے تھے اور فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس پر جہاد کا ثواب دے گا۔ فرماتے تھے میرے لئے یہ کام نوافل سے افضل ہے۔ جن دنوں اس سلسلہ کی کسی کتاب کی تالیف میں مشغول ہوتے تھے تہجد تک مختصر پڑھتے تھے۔ پھر کتاب کی چھپائی کے لئے جو کچھ پاس پلے ہوتا بعض اوقات سب نکال دیتے اور اس کا بھی خیال نہ فرماتے کہ گھر کے بچے شام کو کھانا کہاں سے کھائیں گے۔
١؎ انجام آتھم مرزا غلام احمد قادیانی کی مشہور کتاب ہے۔ اس کے آخر میں دو صفحے عربی زبان میں ہیں ان کا عنوان ہے۔ قابل توجہ گورنمنٹ ہند ان دو صفحوں میں مرزا غلام احمد قادیانی نے انگریزی حکومت کے متعلق اپنے جذبات کا صاف صاف اظہار کیا ہے اور اقرار کیا ہے کہ مجھے یہ آزادی اسی کے سایہ میں ملی ہوئی ہے۔ چند فقروں کا حاصل یہ ہے کہ: ”ہم نے بار بار لکھا ہے کہ ہم سرکار انگریزی کے خدمت گزاروں میں سے ہیں اور پوری وفاداری اور خلوص کے ساتھ اس کی خدمت کرتے ہیں اور ہمارے دل اس کے شکر اور اخلاص سے لبریز ہیں۔“ ہم اس کے سایہ میں امن و عافیت سے زندہ ہیں۔ (بقیہ حاشیہ صفحہ اگلے صفحہ پر)
١٤
اس مختصر سے مضمون میں مرزا غلام احمد قادیانی کی اور اس کے دعووں کی تاریخ بیان کرنا نہیں ہے۔ اس کے لئے مستقل کتابیں موجود ہیں۔ بلکہ صرف دعوائے نبوت کے متعلق کچھ کہنا ہے اور وہ بھی صرف اس ضرورت سے کہ کبھی کبھی بعض پڑھے لکھے لوگ جنہوں نے غالباً مرزا قادیانی اور ان کی امت کی کتابوں کو دیکھنے کی زحمت گوارا نہیں فرمائی ہے قادیانیوں کے فریب میں آ کر مسلمانوں کو یہ مشورہ دینے لگتے ہیں کہ وہ قادیانیوں کو مسلمان ہی سمجھیں اور مرزا غلام احمد کے دعوائے نبوت، قادیانی امت کے اس پر ایمان لانے کی اسی طرح تاویل کر لیں جس طرح کہ بہت سے صوفیوں کے شطحیات کی یا شاعروں کے شاعرانہ کلمات کی کر لی جاتی ہے۔
دعوائے نبوت : قادیانی امت کے موجودہ خلیفہ اور امام مرزا محمود نے اب سے پچاس سال پہلے ١٩١٥ء میں حقیقت النبوۃ کے نام سے ایک کتاب شائع کی تھی۔ جس کا موضوع ہی
(بقیہ حاشیہ گذشتہ صفحہ) سرکار انگریزی کی تعریف ہم آج ہی نہیں کر رہے ہیں۔ بلکہ اس کام میں ہماری عمریں ختم ہوئی ہیں اور ہماری ہڈیاں پگھلی ہیں اور ہمارے باپ دادا اس سرکار ہی کی تعریف کرتے ہوئے مرے ہیں اور ہم نے پورے خلوص کے ساتھ دل و جان سے اس سرکار کی حمایت کی ہے اور اس کی اغراض کی حمایت میں بہت سی کتابیں لکھ لکھ کر شام و روم وغیرہ دور دراز ممالک میں کثرت سے شائع کرائی ہیں اور یہ کام سرکار کے وفاداروں میں سے ہمارے سوا کسی نے نہیں کیا ہے۔
سرکار انگریزی کے احسانات اور عنایات کو ہم مرتے دم تک بھولنے والے نہیں۔ اسی کے دم سے ہماری جانیں اور ہماری عزت اور ہماری دولت محفوظ ہے۔
(از انجام آتھم ص ٢٨٣، ٢٨٤، خزائن ج ١١ ص ایضاً)
یہ صرف ایک مضمون کے چند فقرے ہیں۔ اس کے علاوہ خدا جانے کتنی جگہ اس شخص نے اپنے ان خیالات اور جذبات کا اظہار کیا ہے اور صاف صاف لفظوں میں اپنے کو انگریزی حکومت کا خود کاشتہ پودا تک لکھا ہے۔ اللہ کی شان ہے ایسی ذلیل اور پست ذہنیت رکھنے والے آدمی کو بھی نبی اور مسیح اور مہدی ماننے والے مل گئے۔
”ومن یضلل الله فماله من ھاد“
١٥
لاہوری پارٹی کا مقابلہ میں مرزا قادیانی کو نبی یعنی شرعی معنی کے لحاظ سے حقیقی نبی ثابت کرنا ہے۔
اس کی لوح پر لکھا ہوا ہے کہ ’’اس میں مسیح موعود، مہدی موعود کی نبوت ورسالت براہین قاطعہ کے ساتھ ثابت کی گئی ہے۔‘‘
(ٹائٹل حقیقت النبوۃ)
اس کے ص ١٨٤ سے ص ٢٣٣ تک (گویا پورے پچاس صفحے پر ) لاہوریوں پر حجت قائم کرنے کے لئے مرزا غلام احمد کی نبوت کے دلائل دئے گئے ہیں۔ یہ کل ٢٠ دلائل ہیں ان میں ساتویں دلیل یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے خود اپنے کو نبی ورسول کہا ہے اور اپنے لئے نبوت ورسالت کا دعویٰ کیا ہے۔
(حقیقت النبوۃ ص ٢٠٩)
اور پھر گن کر ٣٩ عبارتیں مرزا قادیانی کی کتابوں سے مرزا محمود نے نقل کی ہیں۔ جن میں مرزا قادیانی نے اپنے کو نبی ورسول کہا ہے اور نبوت ورسالت کا صاف وصریح دعویٰ کیا ہے۔ ان ہی میں سے چند عبارتیں ہم یہاں درج کرتے ہیں۔ یہ عبارتیں اگرچہ ہم نے خود مرزا قادیانی کی کتابوں میں بھی پڑھی ہیں۔ لیکن اس وقت ہم ان کو حقیقت النبوۃ سے نقل کر رہے ہیں۔
- ١...... ’’میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے
کہ اس نے مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے۔‘‘
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٨ ،خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣)
- ٢...... ’’میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں۔‘‘
(مرزا قادیانی کا آخری خط مندرجہ اخبار عام ٢٦ مئی ١٩٠٨ء ،مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٩٧)
- ٣...... ’’ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول ونبی ہیں۔‘‘
(بدر ٥/مارچ ١٩٠٨ء ،ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٧)
- ٤...... ’’پس اس میں کیا شک ہے کہ میری پیشین گوئیوں کے بعد دنیا میں
زلزلوں اور دوسری آفات کا سلسلہ شروع ہو جانا میری سچائی کے لئے نشان ہے۔ یاد رہے کہ خدا کے رسول کی خواہ کسی حصہ زمین میں تکذیب ہو۔ مگر اس کی تکذیب کے وقت دوسرے مجرم بھی پکڑے جاتے ہیں۔‘‘
(حقیقت الوحی ص ١٦١ ،خزائن ج ٢٢ ص ١٦٥)
- ٥...... ’’کانگڑہ اور بھاگسو کے پہاڑ کے صدہا آدمی زلزلہ سے ہلاک ہوگئے۔
ان کا کیا قصور تھا۔ انہوں نے کون سی تکذیب کی تھی۔ سو یاد رہے کہ جب خدا کے کسی مرسل کی تکذیب کی جاتی ہے۔ خواہ وہ تکذیب کوئی خاص قوم کرے یا کسی خاص حصہ زمین میں ہو۔ مگر
١٦
خدا تعالیٰ کی غیرت عام عذاب نازل کرتی ہے۔“
(حقیقت الوحی ص١٦٢، خزائن ج٢٢ ص١٦٦)
- ......٦ ”پس خدا نے اپنی سنت کے موافق ایک نبی کے مبعوث ہونے تک وہ
عذاب ملتوی رکھا اور جب وہ نبی مبعوث ہو گیا..... تب وہ وقت آیا کہ ان کو ان کے جرائم کی سزا دی جائے۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص٥٢، خزائن ج٢٢ ص٤٨٦)
- ......٧ ”سخت عذاب بغیر نبی قائم ہونے کے آتا ہی نہیں۔ جیسا کہ قرآن
شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ: وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا پھر یہ کیا بات ہے کہ ایک طرف تو طاعون ملک کو کھا رہی ہے اور دوسری طرف ہیبت ناک زلزلے پیچھا نہیں چھوڑتے۔ اے غافلو تلاش کرو شاید تم میں خدا کی طرف سے کوئی نبی قائم ہو گیا ہے۔ جس کی تم تکذیب کر رہے ہو۔“
(تجلیات الٰہیہ ص٢٠٨، خزائن ج٢٠ ص٤٠١،٤٠٠)
- ......٨ ”خدا نے نہ چاہا کہ اپنے رسول کو بغیر گواہی چھوڑے۔“
(دافع البلاء ص١٨، خزائن ج١٨ ص٢٣٩)
- ......٩ ”خدا تعالیٰ قادیان کو اس طاعون کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا۔
کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے۔“
(دافع البلاء ص١٠، خزائن ج١٨ ص٢٣٠)
- ......١٠ ”سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“
(دافع البلاء ص١١، خزائن ج١٨ ص٢٣١، حقیقت الوحی ص٢١٠، ٢١١، ٢١٢، ٢١٤)
یہ مرزا قادیانی کی اپنی عبارتیں ہیں۔ انصاف سے غور کیا جائے کہ ان میں کسی تاویل کی کیا گنجائش ہے۔ ان کے علاوہ مرزا قادیانی نے جو خدائی الہامات گھڑے ہیں۔ ان میں بھی وہ سینکڑوں جگہ خدا کی طرف سے اپنے کو نبی و رسول کہتے ہیں۔ مرزا محمود نے حقیقت النبوۃ میں ان الہامات کو بھی اپنے باپ کی نبوت کی مستقل دلیل قرار دیا ہے اور ٣٩ ہی ایسے الہام بھی ذکر کئے ہیں۔ ہم ان میں سے بھی صرف ١٠ ہی یہاں نقل کرتے ہیں۔
- ......١ ”ھو الذی ارسل رسولہ بالھدٰی ودین الحق وتھذیب
الاخلاق“
(اربعین نمبر ٤ ص٣٢، خزائن ج١٧ ص٣٨٠)
- ......٢ ”انی مع الرسول اقوم والوم من یلوم“
(حقیقت الوحی ص٨٧، خزائن ج٢٢ ص٩٠)
١٧
- ......٣ ”انی مع الرسول اقوم وافطر واصوم“
(حقیقت الوحی ص١٠٣، خزائن ج٢٢ ص١٠٧)
- ......٤ ”ويقول العدو لست مرسلا سناخذه من مارن او خر
طوم“
(اربعین نمبر٤ ص٢٣، خزائن ج١٧ ص٣٨٢)
- ......٥ ”انی مع الرسول اقوم من يلومه الوم“
(تذکرہ ص٤٤٠)
- ......٦ ”انی مع الرسول اقوم ولن ابرح الارض الى الوقت
المعلوم“
(حقیقت الوحی ص١٠٣، ١٠٤، خزائن ج٢٢ ص١٠٧)
- ......٧ ”انی مع الرسول اقوم واروم ما یروم“
(تذکرہ ص٤٢٤ طبع سوم)
- ......٨ ”انی مع الرسول فقط“
(تذکرہ ص٥٢٠ طبع سوم)
- ......٩ ”انا ارسلنا احمد الى قوم فاعرضوا وقالوا کذاب اشر“
(تذکرہ ص٣٤٥، ٣٧٩، ٣٩١)
عربی زبان کا صحیح ذوق رکھنے والے ہی سمجھ سکتے ہیں کہ ایسی مہمل بک بندیوں کو حق تعالیٰ شانہ کی وحی بتانا افتراء علی اللہ ہونے کے علاوہ کتنی بڑی جہالت اور بے حیائی ہے۔ لیکن اس وقت ان چیزوں سے بالکل بحث نہیں۔ یہاں تو ان مہملات کے نقل کرنے سے غرض صرف یہ ہے کہ اس شخص کا یہ دعویٰ ہے کہ یہ اللہ کی وحی اور اس کے الہامات ہیں جن میں مجھے نبی و رسول یا مرسل کہا گیا ہے۔ آخر میں اس سلسلہ کا ایک اردو الہام بھی سن لیجئے۔
- ......١٠ ”دنیا میں ایک نبی آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا۔ لیکن خدا اسے قبول
کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔“
(تذکرہ ص١٠٤ طبع سوم)
مرزا محمود نے حقیقت النبوۃ میں اس قسم کے ٣٩ الہام نقل کر کے جن میں سے دس ناظرین نے یہاں ملاحظہ فرمائے۔ لکھا ہے کہ: ”اب یہ کس طرح ممکن ہے کہ اس قدر الہامات کی موجودگی میں ہم حضرت مسیح موعود کو غیر نبی قرار دیں۔ اللہ تعالیٰ تو ایک دفعہ نہیں، دو دفعہ نہیں، بیسیوں اور سیکڑوں دفعہ آپ کو نبی کے نام سے یاد فرماتا ہے اور ہم سب جگہ یہ تاویل کر لیں کہ ان سب الہامات سے مراد اسی قدر ہے کہ آپ نبی نہیں۔ مگر نبیوں کی کوئی صفت آپ میں پائی جاتی ہے۔ کیا اس کی نظیر دنیا میں کسی اور انسان میں بھی ملتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے بار بار نبی کہہ کر پکارتا ہے۔
١٨
”انی مع الرسول اقوم وافطر واصوم“
(حقیقت الوحی ص ١٠٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٧)
”ويقول العدو لست مرسلا سناخذه من مارن اوخر“
(اربعین نمبر ٤ ص ٣٤، خزائن ج ١٧ ص ٣٨٢)
”انی مع الرسول اقوم من يلومه الوم“
(تذکرہ ص ٤٤٠)
”انی مع الرسول اقوم ولن ابرح الارض الی الوقت“
(حقیقت الوحی ص ١٠٣ و ١٠٤، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٧)
”انی مع الرسول اقوم واروم مایروم“
(تذکرہ ص ٤٢٠ طبع سوم)
”انی مع الرسول فقط“
(تذکرہ ص ٥٢٠ طبع سوم)
”انا ارسلنا احمد الی قوم فاعرضوا وقالوا کذاب اشر“
(تذکرہ ص ٣٤٥، ٣٧٥، ٣٩١)
ان کا صحیح ذوق رکھنے والے ہی سمجھ سکتے ہیں کہ ایسی مہمل تک بندیوں کو حق افتراء علی اللہ ہونے کے علاوہ کتنی بڑی جہالت اور بے حیائی ہے۔ لیکن اس سے بالکل بحث نہیں۔ یہاں تو ان مہملات کے نقل کرنے سے غرض صرف یہ دکھانا ہے کہ یہ اللہ کی وحی اور اس کے الہامات ہیں جن میں مجھے نبی و رسول یا مرسل کہا گیا ہے۔ اس سلسلہ کا ایک اردو الہام بھی سن لیجئے۔
”دنیا میں ایک نبی آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا۔ لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔“
(تذکرہ ص ١٠٤ طبع سوم)
ہم نے حقیقت النبوۃ میں اس قسم کے ٣٩ الہام نقل کر کے جن میں سے دس اوپر خط کشیدہ الفاظ کے ساتھ درج کر دیئے ہیں۔ لاہوری پارٹی کے سامنے پیش کر کے دریافت کیا تھا کہ: ”اب یہ کس طرح ممکن ہے کہ اس قدر الہامات کی موجودگی میں حضرت مسیح موعود کو غیر نبی قرار دیں۔ اللہ تعالیٰ تو ایک دفعہ نہیں، دو دفعہ نہیں بیسیوں دفعہ آپ کو نبی اور رسول کے نام سے یاد فرماتا ہے اور ہم سب جگہ یہ تاویل کر لیں کہ ان سب الہامات میں نبی سے مراد یہ ہے کہ آپ نبی نہیں۔ مگر نبیوں کی کوئی صفت آپ میں پائی جاتی ہے۔ کیا یہ بے جا تاویل دنیا کے کسی اور انسان میں بھی ملتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے بار بار نبی کہہ کر پکارتا ہے۔
١٨
لیکن درحقیقت وہ نبی نہیں ہوتا ...... کیا سب نبیوں کو ہم اس لئے نبی نہیں مانتے کہ خدا تعالیٰ نے ان کو نبی کہا ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ وہی خدا جس نے موسیٰ سے کہا تو نبی تو وہ نبی ہو گیا اور عیسیٰ سے کہا کہ تو نبی ہے تو وہ نبی ہو گیا۔ لیکن آج مسیح موعود سے کہتا ہے کہ تو نبی ہے تو وہ نبی نہیں ہوتا۔ اگر نبی بنانے کے لئے کوئی اور لفظ ہوتے ہیں تو انہیں ہمارے سامنے پیش کرو۔ جن سے ہمیں معلوم ہو سکے کہ پہلے نبیوں کو تو اس طرح نبی کہا جاتا تھا۔ تب وہ نبی ہوتے تھے اور مسیح موعود کو اس کے خلاف کسی اور طرح بھی کہا گیا ہے۔ پس وہ نبی نہیں ہوئے۔ کیا اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی یقینی وحی کی موجودگی میں کوئی شخص مسیح موعود کی نبوت کا انکار کر سکتا ہے اور جو شخص انکار کرتا ہے۔ اسے ضرور پہلے نبیوں کا بھی انکار کرنا پڑے گا۔ کیونکہ حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت جن دلائل اور جن الفاظ سے ثابت ہوتی ہے۔ ان سے بڑھ کر دلائل اور صاف الفاظ حضرت مسیح موعود کی نبوت کے متعلق موجود ہیں۔ ان کے ہوتے ہوئے اگر مسیح موعود نبی نہیں تو دنیا میں آج تک کبھی کوئی نبی ہوا ہی نہیں۔“
(حقیقت النبوۃ ص ٢٠٠، ٢٠١)
جیسا کہ ہم اوپر عرض کر چکے ہیں واقعہ یہ ہے کہ ہمارے نزدیک مرزا غلام احمد کی عبارتوں میں بھی کسی تاویل وتوجیہ کی گنجائش نہیں ہے اور محمد علی لاہوری ایم اے وغیرہ نے ان عبارات میں اب تک جو تاویلیں کی ہیں۔ ہمارے نزدیک تو وہ صرف اس بات کے دلائل ہیں کہ ایک اچھا خاصا پڑھا لکھا آدمی بھی جب کسی غلط اور صریحاً غلط بات کو ماننے کی ہی ٹھان لے اور اللہ کی توفیق نصیب نہ ہو تو پھر علم اور عقل کی کوئی روشنی اسے اس غلطی سے نہیں بچا سکتی۔ اللہ تعالیٰ نے خواجہ کمال الدین اور محمد علی ایم اے جیسوں کی شکل میں ہمیں یہ نمونے دکھائے۔ تا کہ سمجھنے والے سمجھیں کہ سعادت اور ہدایت کسی کو بلا اللہ کی توفیق کے نہیں ملتی۔
بہر حال ہم تو پوری دیانت اور بصیرت سے یہ سمجھتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے دعوائے نبوت میں کسی تاویل وتوجیح کی گنجائش نہیں۔ لیکن اگر کسی ایسے صاحب کو جنہوں نے قادیانی لٹریچر کا زیادہ مطالعہ نہیں کیا ہے۔ لاہوری پارٹی کی تاویلوں کی وجہ سے یا خود مرزا غلام احمد قادیانی کی بعض دوسری دجل آفریں تلبیس عبارات کی وجہ سے اشتباہ اور تردد ہو تو ہمارے نزدیک اس کا امکان اور اس کی گنجائش ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ مرزا محمود اور ان کی پارٹی جن کو نبوت کے مسئلہ پر اصرار ہے اور جو صاف کہتے ہیں کہ ہم مرزا قادیانی کو انہیں معنوں میں نبی مانتے ہیں۔ جن معنوں
١٩
میں پہلے نبیوں کو قرآن وحدیث میں نبی کہا گیا ہے اور جو اپنے اس عقیدے پر دلیلیں پیش کرتے ہیں اور مسلمانوں سے اس موضوع پر مناظرے کرتے ہیں۔ آخر ان کے بارہ میں اشتباہ یا تردد کی کیا گنجائش ہے؟۔
اگر چہ اہل انصاف اور طالبان حق کے لئے مرزا محمود کی مندرجہ بالا عبارت ہی کافی ہے۔ لیکن اسی کتاب حقیقت النبوۃ کی چند عبارتیں اور بھی پڑھ لیجئے۔
- .......١ ”آپ (یعنی مرزا قادیانی) نبی ہیں اور خدا نے اور اس کے رسول نے ان
ہی الفاظ میں آپ کو نبی کہا ہے۔ جن میں قرآن کریم اور احادیث میں پچھلے نبیوں کو نبی کہا گیا ہے۔“
(ص٧٠)
- .......٢ ”پس اس میں کیا شک ہے کہ حضرت مسیح موعود قرآن مجید کے معنوں کی
رو سے بھی نبی ہیں اور لغت کے معنوں کی رو سے بھی نبی ہیں۔“
(ص١١٦)
- .......٣ ”پس شریعت اسلام نبی کے جو معنی کرتی ہے۔ اس کے معنی سے حضرت
صاحب ہرگز مجازی نبی نہیں ہیں بلکہ حقیقی نبی ہیں۔“
(ص١٧٤)
- .......٤ ”بلحاظ نبوت ہم بھی مرزا قادیانی کو پہلے نبیوں کے مطابق مانتے ہیں۔“
(ص٢٩٢)
لاہوری پارٹی مرزا غلام احمد قادیانی کی ایسی جن عبارتوں کو پیش کرتی ہے۔ جن میں انہوں نے دعوے نبوت سے کبھی انکار کیا ہے یا اپنی نبوت کو جزئی اور ناقص اور نبوت محدثیت بتلایا ہے۔ ان کے متعلق مرزا محمود نے طویل بحث کی ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ ١٩٠١ء تک مرزا قادیانی کا یہ خیال تھا کہ میری نبوت جزئی اور ناقص نبوت ہے اور اس کا مطلب گویا محدثیت ہے۔ لیکن ١٩٠١ء میں خدا کی وحی نے ان کو اس طرف متوجہ کیا کہ ان کی نبوت جزئی نہیں ہے۔ بلکہ ان کی نبوت وہی نبوت ہے جو اگلے نبیوں کی تھی۔ چنانچہ اس کے بعد سے عقیدہ بدل گیا۔ پھر آپ نے اپنی نبوت کو جزئی یا ناقص نہیں کہا۔ یہ پوری بحث بہت طویل ہے اور فضول تکرار سے بھری ہوئی ہے۔ سب کے نقل کرنے کی گنجائش نہیں۔ چند فقرے جن میں اصل بات آگئی ہے یہ ہیں۔
- .......٥ ”جن کتب میں آپ نے اپنے نبی ہونے سے صریح الفاظ میں انکار کیا
ہے اور اپنی نبوت کو جزئی اور ناقص اور محدثوں کی نبوت قرار دیا ہے۔ وہ سب کی سب بلا استثناء
٢٠
١٩٠١ء سے پہلے کی کتب میں اور ١٩٠١ء کے بعد کی کتب میں سے ایک کتاب میں بھی اپنی نبوت کو جزئی قرار نہیں دیا اور نہ ناقص اور نہ نبوت محدثیت ۔“
(ص ١٢٠)
- ٢ ............ ”١٩٠١ء سے پہلے کے حوالے جن میں آپ نے نبی ہونے سے انکار کیا
ہے اب منسوخ اور ان سے حجت پکڑنی غلط ہے۔“
(ص ١٢١)
- ٧ ............ ”پہلے بھی (یعنی ١٩٠١ء سے پہلے بھی) نبی کے نام سے آپ کو پکارا جاتا
تھا۔ لیکن آپ اس کو تاویل کرتے رہتے تھے۔ لیکن جب بار بار الہامات میں آپ کو اللہ تعالیٰ نے نبی و رسول کے نام سے پکارا تو آپ کو معلوم ہوا کہ آپ واقعہ ہی نبی ہیں۔ غیر نبی نہیں ۔ جیسا کہ پہلے سمجھتے تھے اور نبی کا لفظ جو آپ کے الہامات میں آتا ہے۔ صریح ہے۔ قابل تاویل نہیں ۔“
(ص ١٢٣،١٢٤)
اوپر عرض کیا جا چکا ہے کہ مرزا محمود نے حقیقت النبوۃ میں لاہوریوں پر حجت قائم کرنے کے لئے قریباً پچاس صفحہ پر اپنے باپ کی نبوت کی دلیلیں دی ہیں۔ یہ کل ٢٠ دلیلیں دی ہیں۔ ناظرین ذرا اس سلسلہ کی بھی سیر کر لیں۔
- ٨ ............ اول دلیل حضرت مسیح موعود کے نبی ہونے پر یہ ہے کہ جس طرح خدا تعالیٰ
نے حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور نوح علیہ السلام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام اور حضرت یوسف علیہ السلام کو نبی کہہ کر پکارا ہے۔ حضرت مسیح موعود کو بھی قرآن کریم میں رسول کے نام سے یاد فرمایا ہے۔ چنانچہ ایک تو آیت مبشراً برسول یاتی من بعد اسمہ احمد ١؎ سے ثابت ہے کہ آنے والے مسیح کا نام اللہ تعالیٰ رسول رکھتا ہے...... پس جس کا نام قرآن مجید رسول رکھتا ہے اس کے نبی اور رسول ہونے میں کیا شک کیا جاسکتا ہے۔ جبکہ ہم پہلے سب نبیوں کو اسی بناء پر مانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا نام نبی رکھا ہے۔ تو مسیح موعود کے رسول نہ ماننے کی کوئی وجہ نہیں۔ جو دلیل پہلوں کے نبی ہونے کی ہے وہی حضرت مسیح موعود کے نبی ہونے کی ہے۔ اگر حضرت موسیٰ و عیسیٰ علیہم السلام نبی اور رسول تھے تو مسیح موعود بھی نبی تھے اور اگر حضرت مسیح موعود نبی نہ تھے تو پہلے بزرگ بھی نبی نہ تھے۔ دونوں کی نبوت پر ایک ہی کتاب شاہد ہے۔
(ص ١٨٨،١٨٩)
١؎ قادیانیوں کے نزدیک اس آیت میں مرزا غلام احمد کی نبوت اور بعثت کی بشارت دی گئی ہے۔ خود مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی یہی کہا ہے۔
٢١
- ٩........ ”دوسری دلیل حضرت مسیح موعود نے نبی ہونے پر یہ ہے کہ آپ کو
آنحضرت ﷺ نے نبی کے نام سے یاد فرمایا ہے اور نواس بن سمعان کی حدیث میں نبی اللہ کہہ کے آپ کو پکارا گیا ١؎ ہے۔ پس آنحضرت ﷺ شاہد ہیں اس امر کے کہ حضرت مسیح موعود نبی ہیں۔..... جسے خدا تعالیٰ قرآن کریم میں رسول کہتا ہے اور ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی میں اس کی نسبت پیشین گوئی کرتا ہے اور رسول اللہ ﷺ اس کے نبی ہونے کی شہادت دیتے ہیں۔ اس کی نبوت کا انکار کرنا کسی مومن کے لئے جائز نہیں ہو سکتا۔“
(ص ١٨٩، ١٩٠)
- ١٠........ ”تیسری شہادت مسیح موعود کے نبی ہونے پر انبیاء علیہم السلام گذشتہ کی
شہادت ہے۔ سب سے پرانی شہادت تو زرتشت نبی کی ہے۔ جو ایران کا ایک نبی ہے...... دوسری شہادت کرشن نبی کی ہے...... تیسری شہادت دانیال نبی کی ہے...... پھر کتاب طالمود میں بھی مسیح موعود کا نام نبی رکھا گیا ہے۔“
”اب میں تمام صداقت پسندوں سے جن کا دعویٰ ہے کہ وہ حق کو قبول کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ پوچھتا ہوں کہ کیا یہ بات عقل سلیم تسلیم کر سکتی ہے کہ ایک شخص جو غیر نبی ہے۔ اس کی نسبت ہزاروں سال پہلے انبیاء علیہم السلام خبر دے رہے تھے...... کیا ان سب نبیوں کی شہادتوں کے باوجود جو انہوں نے ہزاروں سال پہلے دی تھیں۔ ہم مسیح موعود کو غیر نبی تسلیم کر سکتے ہیں اور ان تمام پیشین گوئیوں میں جہاں جہاں اسے نبی کر کے یاد کیا گیا ہے ان سب مقامات کی یہ تاویل کر سکتے ہیں کہ نبی سے مراد نبی نہیں بلکہ کسی مشابہت کی وجہ سے نبی کہہ دیا گیا ہے۔ آخر تاویل کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ میں یقیناً کہہ سکتا ہوں کہ جو کوئی شخص مخلی بالطبع ہو کر اس بات پر غور کرے گا تو اسے اس خیال کی لغویت خود ہی معلوم ہو جائے گی اور روز روشن کی طرح اس پر ظاہر ہو جائے گا کہ مسیح موعود ضرور نبی ہے۔ کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں کہ ایک شخص کا نام قرآن کریم نبی رکھے آنحضرت ﷺ نبی رکھیں، کرشن نبی رکھے، زرتشت نبی رکھے، دانیال نبی رکھے اور ہزاروں سالوں
١؎ اس حدیث میں حضرت مسیح بن مریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کو نبی کہا گیا ہے اور آخر زمانہ میں ان کے نزول کی خبر دی گئی ہے۔ مرزا غلام احمد اپنے کو اس کا مصداق کہتا ہے اور اس کی امت اس روایت کے لفظ نبی اللہ سے اس کی نبوت ثابت کرتی ہے۔
٢٢
سے اس کے آنے کی خبریں دی جارہی ہوں۔ لیکن باوجود نبی رہے اور سب پچھلے نبیوں کی بات قرآن کریم کی شہـ کی تاویل کر لی جائے۔ اگر تاویل ہی کرنی ہے تو کیوں اپنے اور کیوں بلا سبب اس قدر شہادتوں کو ان کی حقیقت سے پھیر سے منہ پھیر لیا جائے۔“
بعض حضرات جو ’او نبی قوم باشدا‘ مـ تلقین فرماتے ہیں کہ وہ قادیانیوں کو مسلمان ہی سمجھیں او کی امت کے عقیدۂ نبوت کی تاویل کریں۔ جیسے کہ بہـ ہمارا گمان یہی ہے کہ ان حضرات سے یہ غلطی حقیقت حال لئے ہمیں امید ہے کہ وہ کم سے کم اس کو ضرور تسلیم کریں گے قادیانیوں کے عقیدہ کے بارہ میں کسی تاویل کی گنجائش باقی اور پھر بات صرف کتابوں اور عبارتوں ہی کی موضوع پر مناظرے کرتے ہیں۔ ’اجرائے نبوت‘ ان کـ پر تقریریں سنی ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ پر خـ بھی نبوت کے جاری رہنے پر یہ لوگ زبان اور دماغ کا کـ متعلق آیات و احادیث میں کیسی کیسی تحریفیں کرتے ہیں کرنے پر کتنے زور لگاتے ہیں۔
بہر حال وفات مسیح کی طرح اجراء نبوت مرزا قادیانی کی نبوت ہی کی بنیاد پر قادیانی امت ان کے والے سارے مسلمانوں کو کافر کہتی ہے۔
قادیانیوں کے موجودہ خلیفہ و امام مرزا محمود بھی چار سال پہلے یعنی ١٩١١ء میں ”تشحیذ الاذہان“ میں یہ صفائی کے ساتھ اس کا اعلان کیا تھا اور خود مرزا قادیانی کی
٢٣
”دوسری دلیل حضرت مسیح موعود کے نبی ہونے پر یہ ہے کہ آپ کو خدا نے نبی کے نام سے یاد فرمایا ہے اور نواس بن سمعان کی حدیث میں نبی اللہ کہہ کر پکارا ہے۔ پس آنحضرت ﷺ شاہد ہیں اس امر کے کہ حضرت مسیح موعود نبی ہیں۔ خود قرآن کریم میں رسول کہتا ہے اور ھوالذی ارسل رسولہ بالھدی کی پیشین گوئی کرتا ہے اور رسول اللہ ﷺ اس کے نبی ہونے کی شہادت دیتے ہیں۔ پھر اس کا انکار کرنا کسی مومن کے لئے جائز نہیں ہوسکتا۔“
(ص ١٨٩، ١٩٠)
”تیسری شہادت مسیح موعود کے نبی ہونے پر انبیاء علیہم السلام گذشتہ کی ہے، جن میں سے پرانی شہادت تو زرتشت نبی کی ہے۔ جو ایران کا ایک نبی ہے۔...... دوسری شہادت دانیال نبی کی ہے۔...... تیسری شہادت دانیال نبی کی ہے۔...... پھر کتاب طالمود میں بھی مسیح کی آمد کا ذکر آیا ہے۔“
ہم ان تمام صداقت پسندوں سے جن کا دعویٰ ہے کہ وہ حق کو قبول کرنے کے لئے تیار ہیں، مؤدبانہ پوچھتا ہوں کہ کیا یہ بات عقل سلیم تسلیم کر سکتی ہے کہ ایک شخص جو غیر نبی ہے، اس کی ہزاروں سال پہلے انبیاء علیہم السلام خبر دے رہے تھے ...... کیا ان سب نبیوں کی پیشین گوئیاں جو انہوں نے ہزاروں سال پہلے دی تھیں۔ ہم مسیح موعود کو غیر نبی تسلیم کر سکتے ہیں۔ ان پیشین گوئیوں میں جہاں جہاں اسے نبی کر کے یاد کیا گیا ہے ان سب مقامات کی تاویل کرنی پڑے گی ۔ نبی سے مراد نبی نہیں بلکہ کسی مشابہت کی وجہ سے نبی کہہ دیا گیا ہے۔ آخر یہ کہاں کی دانشمندی ہے ۔ میں یقیناً کہہ سکتا ہوں کہ جو کوئی شخص مخلی بالطبع ہو کر اس بات پر غور کرے گا اس پر اس خیال کی لغویت خود ہی معلوم ہو جائے گی اور روز روشن کی طرح اس پر ظاہر ہو جائے گا کہ مسیح موعود نبی ہے۔ کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں کہ ایک شخص کا نام قرآن کریم نبی رکھے اور رسول اللہ ﷺ اس کو نبی کہے ، زرتشت نبی رکھے ، دانیال نبی رکھے اور ہزاروں سالوں
٢٢
سے اس کے آنے کی خبریں دی جا رہی ہوں۔ لیکن باوجود ان سب شہادتوں کے وہ پھر بھی غیر نبی ہی رہے اور سب پچھلے نبیوں کی بات قرآن کریم کی شہادت اور آنحضرت ﷺ کے فرمان کی تاویل کر لی جائے۔ اگر تاویل ہی کرنی ہے تو کیوں اپنے خیالات اور گمانوں کی تاویل نہ کی جائے اور کیوں بلا سبب اس قدر شہادتوں کو ان کی حقیقت سے پھیر دیا جائے اور اس قدر زبردست ثبوتوں سے منہ پھیر لیا جائے۔“
(حقیقت النبوۃ ص ١٩٦ تا ١٩٩)
بعض حضرات جو ”او نبی قوم باشد اے مرید“ جیسی چیزیں سنا سنا کر مسلمانوں کو یہ تلقین فرماتے ہیں کہ وہ قادیانیوں کو مسلمان ہی سمجھیں اور مرزا قادیانی کے دعوائے نبوت اور ان کی امت کے عقیدۂ نبوت کی تاویل کریں۔ جیسے کہ بہت سے صوفیوں کی شطحیات کی جاتی ہے۔ ہمارا گمان یہی ہے کہ ان حضرات سے یہ غلطی حقیقت حال سے ناواقفی کی وجہ سے ہوئی ہے اور اس لئے ہمیں امید ہے کہ وہ کم سے کم اس کو ضرور تسلیم کریں گے کہ مرزا محمود قادیانی کے ان بیانات نے قادیانیوں کے عقیدہ کے بارہ میں کسی تاویل کی گنجائش باقی نہیں رکھی ہے۔
اور پھر بات صرف کتابوں اور عبارتوں ہی کی نہیں ہے۔ قادیانی مناظرین خاص اس موضوع پر مناظرے کرتے ہیں۔ ”اجرائے نبوت“ ان کے مناظروں اور مقررین کی اس موضوع پر تقریریں سنی ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ پر نبوت کے ختم نہ ہونے پر اور آپ کے بعد بھی نبوت کے جاری رہنے پر یہ لوگ زبان اور دماغ کا کتنا زور صرف کرتے ہیں اور ختم نبوت سے متعلق آیات و احادیث میں کیسی کیسی تحریفیں کرتے ہیں اور مرزا غلام احمد قادیانی کے نبی ثابت کرنے پر کتنے زور لگاتے ہیں۔
بہرحال وفات مسیح کی طرح اجراء نبوت قادیانی علم کلام کا خاص مسئلہ ہے اور مرزا قادیانی کی نبوت ہی کی بنیاد پر قادیانی امت ان کے نہ ماننے والے اور ان کی تکذیب کرنے والے سارے مسلمانوں کو کافر کہتی ہے۔
قادیانیوں کے موجودہ خلیفہ و امام مرزا محمود ہی نے ”حقیقت النبوۃ“ کی تصنیف سے بھی چار سال پہلے یعنی ١٩١١ء میں ”تشحیذ الاذہان“ میں بغیر کسی لاگ لپیٹ کے پوری صراحت اور صفائی کے ساتھ اس کا اعلان کیا تھا اور خود مرزا قادیانی کی عبارتوں کے حوالے دے کر ثابت کیا تھا
٢٣
کہ مرزا صاحب کو نہ ماننے والے اس زمانے کے مسلمان بالکل اس طرح کافر ہیں۔ جس طرح کہ رسول اللہ ﷺ کو نہ ماننے والے یہود و نصاریٰ کافر ہیں۔ تشحیذ الاذہان کے اس مضمون میں مرزا محمود نے اس دعوے کے ثبوت میں پہلے اپنے والد مرزا غلام احمد قادیانی کے ایک خط سے جو انہوں نے ڈاکٹر عبدالحکیم کو لکھا تھا۔ ایک عبارت نقل کی ہے۔ جس کا آخری حصہ یہ ہے۔
”خدا نے مجھے ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا ہے وہ مسلمان نہیں ہے۔
(حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧)
خط کی یہ عبارت نقل کر کے مرزا محمود کہتے ہیں کہ:
”اس عبارت سے مفصلہ ذیل باتیں نکلتی ہیں اوّل تو یہ کہ حضرت صاحب (مرزا قادیانی) کو اس بات کا الہام ہوا ہے کہ جس کو آپ کی دعوت پہنچی اور اس نے آپ کو قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں۔ دوسرے یہ کہ اس الزام کے نیچے وہی لوگ نہیں ہیں کہ جنہوں نے تکفیر میں جد و جہد کی ہے۔ بلکہ ہر ایک شخص جس نے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں۔“
(تشحیذ الاذہان ج ٦ نمبر ٤ ص ١٣٥، بابت ماہ اپریل ١٩١١ء)
نیز اسی تشحیذ الاذہان میں اسی سلسلہ میں صاف صاف لفظوں میں لکھا ہے۔
”جب تبت اور سوئیزرلینڈ کے باشندے رسول اللہ ﷺ کے نہ ماننے پر کافر ہیں تو ہندوستان کے باشندے مسیح موعود کو نہ ماننے سے کیونکر مومن ٹھہر سکتے ہیں ...... جب حضرت کی مخالفت کے باوجود انسان مسلمان کا مسلمان رہتا ہے تو پھر آپ کی بعثت کا فائدہ ہی کیا ہوا۔“
(تشحیذ الاذہان ج ٦ نمبر ٤ ص ١٢٢، اپریل ١٩١١ء)
اور اسی بنیاد پر مسلمانوں کے پیچھے نماز پڑھنا اور ان کی نماز جنازہ میں شریک ہونا اور اپنی لڑکیوں کا ان سے نکاح کرنا وہ بالکل اسی طرح ناجائز سمجھتے ہیں۔ جس طرح کہ دوسرے غیر مسلموں کے ساتھ یہ معاملات کرنا ناجائز ہے۔ یہ ان کے یہاں کے عام مشہور مسائل ہیں اور اسی پر قادیانی امت کا عمل ہے۔ ان سب چیزوں کے سامنے آنے کے بعد قادیانی امت کو مسلمان قرار دینے کی صرف یہی صورت ہے کہ اسلام میں نئے نبیوں کے آنے اور ان پر ایمان لانے کی گنجائش سمجھی جائے اور ظاہر ہے کہ کوئی ایمان والا ہرگز اس کافرانہ گمراہی کو اپنے لئے پسند نہیں کر سکتا۔
”واللہ الھادی الی سبیل الرشاد“
٢٤
نہ ماننے والے اس زمانے کے مسلمان بالکل اس طرح کافر ہیں۔ جس طرح ونہ ماننے والے یہود و نصاریٰ کافر ہیں۔ تشحیذ الاذہان کے اس مضمون میں وے کے ثبوت میں پہلے اپنے والد مرزا غلام احمد قادیانی کے ایک خط سے جو حکیم کو لکھا تھا۔ ایک عبارت نقل کی ہے۔ جس کا آخری حصہ یہ ہے۔ نے مجھے ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے مسلمان نہیں ہے۔
(حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧)
عبارت نقل کر کے مرزا محمود کہتے ہیں کہ: عبارت سے مفصلہ ذیل باتیں نکلتی ہیں اوّل تو یہ کہ حضرت صاحب بات کا الہام ہوا ہے کہ جس کو آپ کی دعوت پہنچی اور اس نے آپ کو قبول ں۔ دوسرے یہ کہ اس الزام کے نیچے وہی لوگ نہیں ہیں کہ جنہوں نے تکفیر بلکہ ہر ایک شخص جس نے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں۔‘‘
(تشحیذ الاذہان ج ٦ نمبر ٣ ص ١٣٥، بابت ماہ اپریل ١٩١١ء)
یذ الاذہان میں اسی سلسلہ میں صاف صاف لفظوں میں لکھا ہے۔ بت اور سوئیزر لینڈ کے باشندے رسول اللہ ﷺ کے نہ ماننے پر کافر ہیں تو ے مسیح موعود کو نہ ماننے سے کیونکر مومن ٹھہر سکتے ہیں۔...... جب حضرت کی مان مسلمان کا مسلمان رہتا ہے تو پھر آپ کی بعثت کا فائدہ ہی کیا ہوا۔‘‘
(تشحیذ الاذہان ج ٦ نمبر ٤ ص ١٢٢، اپریل ١٩١١ء)
باوجو مسلمانوں کے پیچھے نماز پڑھنا اور ان کی نماز جنازہ میں شریک ہونا اور نکاح کرنا وہ بالکل اسی طرح ناجائز سمجھتے ہیں۔ جس طرح کہ دوسرے غیر معاملات کرنا ناجائز ہے۔ یہ ان کے یہاں کے عام مشہور مسائل ہیں اور اسی ہے۔ ان سب چیزوں کے سامنے آنے کے بعد قادیانی امت کو مسلمان قرار رت ہے کہ اسلام میں نئے نبیوں کے آنے اور ان پر ایمان لانے کی گنجائش ہے کہ کوئی ایمان والا ہرگز اس کافرانہ گمراہی کو اپنے لئے پسند نہیں کر سکتا۔
”واللہ الهادی الی سبیل الرشاد“
٢٤
سبحان الذی اسری بعبدہ لیلا من المسجد الحرام الی المسجد الاقصی
خاتم النبیین لا نبی بعدی
تحقیق لاثانی
یعنی
محاکمہ بر پیش گوئی نکاح آسمانی
مرزا غلام احمد قادیانی
جناب شیخ محمد یعقوب سنوری پٹیالوی
بسم الله الرحمن الرحیم!
ان فی ذلك لذكرى لمن كان له قلب او الق السمع وهو شهيد!
﴿اہل دل اور گوش ہوش سے ہدایت کو سننے والوں کے لئے اس میں پوری پوری نصیحت موجود ہے۔﴾
عشرہ کاملہ جس میں مرزا قادیانی کے الہاموں، صاف وصریح اقراروں اور خود ان کے تسلیم کردہ معیاروں کی رو سے ثابت کیا گیا ہے کہ ان کی تعلیم اور ان کے عقائد شریعت حقہ کے خلاف ہیں۔
پہلے اسے ملاحظہ فرمائیے
دنیا میں مذہب سے عزیز تر کوئی چیز نہیں اور نہ ہونی چاہئے کیونکہ اس عالم فانی کے بکھیڑے چند روزہ ہیں اور دنیاوی زندگی کا مقصود اصلی حیات روحانی اور اپنے خالق کی ذات سے تعلق پیدا کرنا ہے۔ اس لئے دین کے راستہ میں جو شبہات پیدا ہوں یا پیدا کئے جائیں۔ ان کو دور کرنا ہر مومن کا فرض ہے۔
مرزائی جماعت اور مسلمانوں میں فرق کفر و اسلام کا ہے۔ یوں کہنے کو تو وہ بھی اپنے آپ کو مسلمان ہی کہتے ہیں۔ لیکن مرزا قادیانی کو نبی ورسول اور مسیح موعود نہ ماننے کی وجہ سے ساری دنیائے اسلام کو کافر قرار دیتے ہیں۔ چنانچہ:
- ١....... مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ: ”جو مجھے نہیں مانتا وہ مسلمان نہیں ہے۔ خواہ وہ زبان سے میرے حق میں کوئی برا لفظ نہ کہتا ہو۔“
(حقیقت الوحی ص ١٦٣ ملخصاً، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧)
- ٢....... حکیم نور الدین قادیانی خلیفہ اوّل لکھتے ہیں کہ:
آں غلام احمد است و میر زائے قادیان
٢
جائے او باشد جہنم بیشک و ریب و گماں
(الحکم ٧ اگست ١٩٠٨ء)
- ٣...... مرزا محمود احمد قادیانی خلیفہ دوم رقمطراز ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے کہ:
”(ہماری جماعت کے سوائے) دنیا بھر کے مسلمان خواہ ان کو مرزا قادیانی کی دعوت پہنچی یا نہیں سب کے سب کافر ہیں اور احمدیوں (مرزائیوں) کا فرض ہے کہ وہ غیر احمدیوں (مسلمانوں) کو کافر سمجھیں ۔“
(تشحیذ الاذہان اپریل ١٩١١ء ج ٦ نمبر ٤ ص ١٣٦، و انوار خلافت ص ٩٠)
اس سب و شتم، گندہ گالیوں اور توہین آمیز و اشتعال انگیز عبارتوں سے قطع نظر کر کے جو مرزا قادیانی اور مرزائیوں نے اپنی تالیفات و تصانیف میں حضرات علمائے کرام اور بزرگانِ عظام اور ہر مسلمان کے حق میں تحریر فرمائی ہیں۔ صرف یہ فتوائے کفر ہی اس قابل ہے کہ اسے دور کر کے دونوں جماعتوں میں پھر اتفاق و اتحاد قائم کیا جائے اور اس کی بہترین صورت یہی ہو سکتی ہے کہ مرزا قادیانی کے دعوؤں کا خود انہی کے مقرر کردہ معیار سے امتحان کیا جائے۔
مرزا قادیانی اپنے دعوؤں کے ثبوت میں اپنی پیش گوئیوں کو ہی پیش کرتے رہے ہیں۔ چنانچہ ان کا قول ہے کہ:
”ہمارا صدق یا کذب جانچنے کے لئے ہماری پیش گوئی سے بڑھ کر اور کوئی محک امتحان نہیں ہو سکتا۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨٨، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
اس کسوٹی پر مرزا قادیانی کے دعوائے نبوت وغیرہ کو پرکھنے کے لئے ایک معزز مرزائی دوست کی خواہش پر مرزا قادیانی کی اس عظیم الشان پیش گوئی کی تنقید کی گئی ہے جسے مرزا قادیانی نے اپنے صدق و کذب کا فیصلہ کن معیار قرار دیا تھا۔
امید ہے کہ ناظرین اسے نہایت غور سے ملاحظہ فرمائیں گے اور ہمارے مرزائی دوست بھی نفسانیت و ہٹ دھرمی کو چھوڑ کر ساری کتب کے مطالعہ کے بعد صحیح رائے قائم کریں گے۔ اللہ تعالیٰ انہیں راہِ راست پر چلنے کی توفیق بخشے ۔ آمین !
٣
بسم الله الرحمن الرحیم !
دیباچہ
” الحمدلله الذی هدانا لهذا وما كنا لنهتدى لو لا ان هدانا الله عالم الغيب والشهادة وهو على كل شىء قدير . اللهم فاطر السموت والارض عالم الغيب والشهادة انت تحكم بين عبادك فيما كانوا فيه يختلفون . اهدنى لما اختلف فيه من الحق باذنك انك تهدى من يشاء الى صراط مستقيم . ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ هديتنا وهب لنا من لدنك رحمة انك انت الوهاب . اللهم اجعلنا هادين مهتدين غير ضالين ولا مضلين سلما لأوليائك وحرباً لأعدائك نحب بحبك من احبك ونعادى بعداوتك من خالفك ومن خلقك والصلوة والسلام على سيد الخلق الداعى الى دعوة الحق وعلى اله وصحبه وتابعيه وحزبه الدعاة الى كلمته والدعاة لامته فى ملته برحمتك يا ارحم الراحمين “
٭ الہی ! سب تعریفیں تیرے ہی لئے سزاوار ہیں ۔ تو نے ہی ہمیں ہدایت بخشی اور بغیر تیرے فضل کے ہم ہدایت نہ پاسکتے تھے ۔ سب غیب اور ظاہر کا تجھے علم ہے اور تو ہر چیز پر قادر ہے۔ مولا ! تو سب آسمانوں اور زمینوں کے پیدا کرنے والا ہے۔ چھپا اور کھلا سب کچھ تجھ پر روشن ہے۔ تیرے بندے جس بات میں اختلاف رکھتے ہیں ۔ تو ہی اس کا فیصلہ کرنے والا ہے۔ امر زیر بحث میں ہماری رہنمائی فرما۔ کیونکہ تو ہی جسے چاہے سیدھا راستہ دکھا دیتا ہے۔ پروردگار ! ہدایت بخشنے کے بعد ہمارے دلوں کو گمراہ نہ ہونے دے اور اپنی رحمت نازل فرما۔ بے شک تو ہی بڑا بخشنے والا ہے۔ آقا! ہمیں راہ بتانے والے اور راہ پانے والے بنادے ۔ گمراہ اور گمراہ کرنے والے نہ بنا۔ ہم تیرے دوستوں سے صلح و آشتی رکھنے والے ہوں اور تیرے دشمنوں سے عداوت و نفرت کرنے والے ۔ تیری محبت کی وجہ سے ہم تجھ سے محبت رکھنے والوں سے الفت کریں اور تیری خلقت میں سے جو تیرے احکام کے خلاف چلے۔ اس کو تیرا دشمن جان کر اس سے عداوت کریں اور درود و سلام ہو خلقت کے سردار حضرت محمد مصطفیٰ ، احمد مجتبیٰ ﷺ پر جو حق کی طرف بلانے والے ہیں اور ان کے آل و اصحاب اور پیروؤں اور ان کے گروہ پر جو آپ کے کلمہ یعنی دین اسلام کی طرف دعوت کرنے والے ہیں اور آپ کی ملت کے اندر آپ کی امت کے نگہبان ہیں۔ تیری رحمت کے ذریعہ اے سب سے بڑھ کر رحم کرنے والے ۔
٤
اما بعد ! حضرات ناظرین سے مخفی نہیں کہ تقریباً چالیس سال کا عرصہ ہوا۔ موضع قادیان ضلع گورداسپور ملک پنجاب سے مرزا غلام احمد قادیانی آنجہانی نے ابتدا میں خدمت اسلام کے اعلان و اشتہار شائع کر کے چندہ کے لئے بیحد درخواستیں کیں اور کتاب براہین احمدیہ طبع کرانی شروع کی۔ جس میں تین سو بے نظیر حقانیت اسلام پر درج کرنے کا وعدہ تھا اور تین سو جز تک اس کی ضخامت بتلائی گئی تھی۔ لیکن کتاب مذکور ابھی تیس جز تک ہی طبع ہوئی تھی اور ہنوز تمہیدی مضامین ہی لکھے جا رہے تھے کہ مرزا قادیانی نے اپنے وعدہ کا خلاف کرتے ہوئے اس کی اشاعت بند کر کے انواع و اقسام کے رنگ بدلنے شروع کر دیئے اور چندہ دہندگان کے عقائد کا کچھ خیال نہ رکھ کر طرح طرح کے دعوے، مجددیت، مہدویت، مثیل مسیح، مسیح موعود وغیرہ پیش کئے اور بعد میں ترقی کرتے کرتے نبوت و رسالت بلکہ کشفی حالت میں دعوائے الوہیت لے اور یا خالقیت تک جا پہنچے۔
شروع شروع میں حفاظت و خدمت اسلام اور مرزا قادیانی کے اس وقت کے عقائد کے لحاظ سے بعض علماء نے بھی مرزا قادیانی کی مدد کی اور عوام سے خوب مدد دلائی۔ لیکن بعد کے حالات دیکھ کر بہت لوگ سنبھل گئے اور جن کے نصیب سیدھے نہ تھے۔ وہ مرزا قادیانی کی بھول بھلیوں میں پھنس کر رہ گئے۔ لیکن اکابر علمائے اسلام و صلحائے عظام کے اکثر حصہ نے اس فتنہ کو ابتداء میں معمولی سمجھ کر اس کی پامالی پر کما حقہ توجہ نہ فرمائی اور ان کی یہی شروع کی عدم توجہی اس فتنہ کے پھیلنے اور بڑھنے کا باعث ہوئی۔ بقول حضرت سعدی علیہ الرحمۃ:
وگر ہمچناں روزگارے ہلی بگردُونش از بیخ بر نَگُسلی
سر چشمہ شاید گرفتن بمیل چو پر شد نشاید گذشتن بہ پیل
کیونکہ مرزا قادیانی کو کھلے بندوں اپنی تعلیمات کی اشاعت کا موقع مل گیا اور یورپ کے تجارتی گر، اشتہار بازی کے مجرب نسخہ سے انہوں نے خوب فائدہ اٹھایا۔ لاکھوں اشتہار چھپوائے اور تقسیم کئے اور شہرت حاصل کی۔ مرزا قادیانی ١٧ سال ہوئے انتقال کر چکے ہیں۔ مگر ان کے متبعین باوجود متعدد فرقوں میں متفرق ہو جانے کے نہ صرف یہ کہ سانپ کی لکیر کو ہی پیٹ رہے ہیں۔ بلکہ دامے، درمے، قلمے، قدمے، سخنے ہر طرح سے اس محدث مذہب کے پھیلانے میں
لے ان دعوؤں کی تفصیل اور حقیقت ہم اپنی کتاب عشرہ کاملہ میں خوب کھول کھول کر بیان کر چکے ہیں۔ جو شائقین کے لئے معلومات کا ایک عجیب ذخیرہ ہے اور فتنہ مرزائیہ سے بچنے کے لئے ہر مسلمان کو یہ کتاب دیکھنی ضروری ہے۔
لگے
کوشاں اور سرگرم ہیں۔ اسلام کے لئے یہ بات اگر چہ نئی نہیں۔ ایسے کئی کاذب مدعی اور کئی باطل فرقے پہلے بھی پیدا ہوئے اور مٹ گئے۔ پیدا ہورہے ہیں اور مٹ رہے ہیں۔ پیدا ہوں گے اور مٹ جائیں گے۔ کیونکہ الحق یعلو ولا یعلی! (حق غالب ہی رہے گا اور کبھی مغلوب نہیں ہوگا) مگر ان لوگوں کی کوششوں کے مقابلہ میں اہل حق پر بھی یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ باطل کے مٹانے اور حق و باطل میں فرق دکھانے کی ہر ممکن سعی کریں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اب اس مذہب کی تردید میں بہت سی کتابیں لکھی جاچکی ہیں۔ جن کا بہت اچھا اثر ہورہا ہے اور اب سمجھ دار لوگ ہرگز مرزائی مذہب کے پھندے میں گرفتار نہیں ہو سکتے۔ بلکہ بہت سے مرزائی جو نیک نیتی سے ان کتابوں کو دیکھتے ہیں وہ اپنے باطل عقائد سے تائب ہوتے جاتے ہیں۔
وجہ تالیف رسالہ ہذا
اس رسالہ میں مرزا قادیانی کی صرف اس پیش گوئی پر روشنی ڈالی گئی ہے جس کو انہوں نے نہایت ہی عظیم الشان بتلایا تھا اور نیز اپنے صدق و کذب کا اسے معیار قرار دیا تھا۔ اگر چہ اس پیش گوئی کے متعلق چند اور بزرگان نے بھی مجمل اور مفصل کتابیں تصنیف فرمائی ہیں۔ لیکن ناظرین ملاحظہ فرمائیں گے کہ:
اس رسالہ میں اس پیش گوئی کی ایک مکمل تاریخ بیان کی گئی ہے اور اس کے اجزا کو خوب وضاحت سے معرض بحث میں لایا گیا ہے۔
ان اوراق کی تحریر کا باعث یہ ہے کہ تقریباً تین سال ہوئے۔ میرے ایک معزز دوست منشی محمد سعید الدین خان صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ رئیس سامانہ ریاست پٹیالہ۔ سامانہ سے پٹیالہ کو آ رہے تھے اور ان کے ساتھ ہی قصبہ سامانہ کی انجمن مرزائیہ کے ایک ممتاز رکن شیخ ظفر حسن ١؎ بھی ہم سفر تھے۔ اثنائے راہ میں مرزائیت پر گفتگو شروع ہوگئی اور سلسلہ کلام بالآخر قریب قریب ان فقرات میں تھا۔
شیخ صاحب ! مرزا قادیانی کی صداقت کی سب سے بڑی دلیل ان کی پیش گوئیاں ہیں۔
خان صاحب ! مرزا قادیانی کی پیش گوئیاں عموماً جھوٹ نکلی ہیں۔ خصوصاً تحدی کی پیش گوئیاں جن کو انہوں نے اپنے صدق و کذب کا معیار قرار دیا تھا۔ لازماً غلط ثابت ہوئیں۔
شیخ صاحب ! کیا آپ ایسی کوئی ایک پیش گوئی بھی بتا سکتے ہیں؟۔
١؎ ہیڈ کانسٹیبل پولیس ریاست پٹیالہ۔
٦
خان صاحب! جی ایک کیا، بیسیوں۔
شیخ صاحب! بیسیوں میں سے پہلے ایک کا پتہ تو دیجئے۔
خان صاحب! آپ ایک پیش گوئی نکاح آسمانی کو ہی لے لیجئے۔ جس نے مرزا قادیانی کے دعوؤں پر پانی پھیر دیا۔
شیخ صاحب! زبانی گفتگو بے نتیجہ رہتی ہے۔ اس لئے آپ کو پیش گوئی نکاح آسمانی پر جو اعتراض ہیں وہ لکھ کر دیں پھر میں آپ کو ایسا جواب با صواب دونگا۔ جس سے آپ اپنے اعتراضات کو واپس لے لیں گے۔
خان صاحب! بہت اچھا۔ میں اپنے اعتراضات لکھ کر بھیج دوں گا۔
اس گفتگو کے خاتمہ کے ساتھ ہی راستہ بھی ختم ہو گیا۔ خان صاحب کو بوجہ مصروفیت کار سرکار جلد فرصت نہ ملی اور جب اعتراضات موعودہ انہوں نے چند روز تک شیخ صاحب کے پاس نہ بھیجے تو شیخ صاحب نے بذریعہ ڈاک تقاضا کیا۔ جس پر منشی محمد سعید الدین خان صاحب نے اپنے اعتراضات قلمبند کر کے شیخ صاحب کی خدمت میں بھیج دئے۔ مگر باوجود کئی بار یاد دہانی کے ان اعتراضات کا ان کی طرف سے کوئی جواب نہ ملا کبھی کہلا بھیجا کہ عنقریب جواب دیا جائیگا۔ کبھی عدم فرصتی کا بہانہ ہوا اور کبھی کچھ کہا گیا اور کبھی کچھ۔ بالآخر یہ بھی معلوم ہوا کہ اصل مضمون جواب کے لئے قادیان بھیج دیا گیا ہے۔ لیکن جواب سے تا حال جواب ہے۔
طویل انتظار کے بعد میرے معزز دوست نے مجھے ارشاد فرمایا کہ اگر آپ میرے ان اعتراضات کو بعد تکمیل مزید ایک رسالہ کی شکل میں مرتب کر کے شائع کرا دیں اور اس پیش گوئی کے متعلق اہل اسلام کے اعتراضات کے جواب میں جو جو تاویلیں اور بے معنی حجتیں مرزا قادیانی کے متبعین نے کی ہیں۔ ان سب کی اس میں تردید ہو جائے۔ تو نافع خلائق ہوگا۔
لہٰذا بہ تعمیل ارشاد محض اظہار حق کی غرض سے جو کچھ ہو سکا ہدیہ ناظرین ہے۔ موافق و مخالف سب صاحبان سے توقع ہے کہ بہ نیت احقاق حق اسے ملاحظہ فرما کر صحیح نتیجہ پر پہنچنے کی کوشش کریں گے اور اصل محرک اور خاکسار کو دعائے خیر سے یاد فرمائیں گے۔
"وما توفیقی الا بالله العلی العظیم" اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے اور ہمارے گم کردہ راہ بھائیوں کو اس سے ہدایت نصیب کرے۔ آمین !
(خاکسار محمد یعقوب نائب تحصیلدار بہاول)
٧
باب اوّل
نکاح آسمانی مرزا قادیانی کے صدق و کذب کا بہت ہی عظیم الشان نشان تھا
یہ حال مفصل طور پر اگلے صفحات سے واضح ہو گا کہ یہ پیش گوئی کیسی عظیم الشان تھی اور کتنے الہام اس کی نسبت مرزا قادیانی کو ہوئے تھے اور کس زور سے صدق و کذب کا معیار اس کو قرار دیا گیا تھا۔ لیکن سخت تعجب ہے کہ جب اس پیش گوئی کا انجام بصورت ناکامی نظر آنے لگا تو جس طرح مرزا قادیانی آنجہانی اس پر گفتگو کرنے سے جی چرانے لگے تھے۔ دیکھو (تحفہ گولڑویہ ص ٣٩، خزائن ج ١٧ ص ١٥٣، ١٥٢) اس طرح اب ان کے متبعین کا اس پیش گوئی کے انجام نے ناطقہ بند کر رکھا ہے اور پیش گوئی کے متعلق متواتر الہامات اور الہامی تفہیمات و تشریحات نے جو وقتاً فوقتاً مرزا قادیانی کی زبان و قلم سے نکل کر ان کی بیسیوں کتابوں رسالوں اور اشتہاروں میں درج ہوتی رہی ہیں۔ مرزائیوں کو ایسا زچ کیا ہے کہ وہ مرزا قادیانی کی صفائی میں کوئی صاف اور قطعی دلیل پیش نہیں کر سکتے۔ بعض تو پیش گوئی کا ہی غلط ہونا تسلیم کرتے ہیں۔ بعض مرزا قادیانی کی اجتہادی غلطی (غلط فہمی الہام ) بتاتے ہیں اور آخر دق ہو کر حسب قول مرزا قادیانی (مندرجہ تحفہ گولڑویہ ص ٣٩ ، خزائن ج ١٧ ص ١٥٣ ، ١٥٢) کہہ دیا کرتے ہیں کہ اور بھی بہت سی پیش گوئیاں ہیں جو پوری ہوئیں۔ ایک اسی پیش گوئی پر کیوں بحث کی جاتی ہے۔ دیکھو!
(پیغام صلح لاہور ١٦؍ جنوری ١٩٢١ء ص ٥ کالم ٣)
مرزا قادیانی نے اس پیش گوئی کو جتنی اہمیت دی تھی۔ وہ ان کی تحریرات ذیل سے واضح ہے۔
- ١...... ”بعض اور عظیم الشان نشان اس عاجز کے معرض امتحان میں ہیں۔ جیسا
کہ منشی عبداللہ ١؎ آتھم صاحب امرتسری کی نسبت پیش گوئی جس کی میعاد ٥؍ جون ١٨٩٣ء سے پندرہ مہینہ تک اور پنڈت لیکھرام ٢؎ پشاوری کی موت جس کی معیاد ١٨٩٣ء سے چھ سال تک ہے اور پھر مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کے داماد کی موت کی نسبت پیش گوئی جو پٹی ضلع لاہور کا باشندہ ہے۔ جس کی میعاد آج کی تاریخ سے جو ٢١ ستمبر ١٨٩٣ء ہے۔ قریباً گیارہ مہینے باقی رہ گئی ہے۔ یہ تمام امور جو انسانی طاقتوں سے بالکل بالاتر ہیں۔ ایک صادق یا کاذب کی شناخت کے لئے کافی ہیں۔ کیونکہ احیاء اور اماتت دونوں خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہیں اور جب تک کوئی شخص نہایت درجہ کا مقبول نہ ہو خدا تعالیٰ اس کی خاطر سے کسی اس کے دشمن کو اس کی دعا سے ہلاک
١؎ و ٢؎ ان دونوں نشانوں کے انجام معلوم کرنے کے لئے دیکھو رسالہ الہامات مرزا مؤلفہ مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری مدظلہ۔
٨
نہیں کر سکتا۔ خصوصاً ایسے موقع پر کہ کرامت ١؎ کو اپنے صادق ہونے کی ایسی بات نہیں جو انسان کے اختیار میں طالب حق ہے۔ تو ان پیش گوئیوں کے پنجاب کی تین بڑی قوموں پر حاوی ہیں سے اور ایک عیسائیوں سے اور ان میں
بہت ہی عظیم الشان ہے
کیونکہ اس کے اجزاء یہ ہیں
- مرزا احمد بیگ ہوشیار پور
- اور پھر داماد اس کا جو اس
کے اندر فوت ہو۔
- اور پھر یہ کہ مرزا احمد بیگ
- اور پھر یہ کہ وہ دختر بھی تا
- اور پھر یہ کہ یہ عاجز بھی ا
- اور پھر یہ کہ اس عاجز۔
اختیار میں نہیں۔ ٢؎
١؎ اس بیان میں مرزا قا قرآن شریف سے ثابت ہے کہ ح فرمایا تھا۔ مگر بعثت ثانی میں مرزا قا ہیں۔ زندوں کو مارنے کی کرامت کسی نے خوب کہا ہے۔
ع ناظرین مرزا قاد
ہونے کے بھی مدعی ہیں۔ ٣؎ معزز ناظرین پڑ اصل روح یہی ہیں۔ نمبر ٣ اسی ۔
باب اوّل
زا قادیانی کے صدق و کذب کا بہت ہی عظیم الشان نشان تھا مل طور پر اگلے صفحات سے واضح ہو گا کہ یہ پیش گوئی کیسی عظیم الشان تھی اور ت مرزا قادیانی کو ہوئے تھے اور کس زور سے صدق و کذب کا معیار اس کو سخت تعجب ہے کہ جب اس پیش گوئی کا انجام بصورت ناکامی نظر آنے لگا تو نی آنجہانی اس پر گفتگو کرنے سے جی چرانے لگے تھے۔ دیکھو (تحفہ گولڑویہ ١٥٤،١٥٣) اس طرح اب ان کے متبعین کا اس پیش گوئی کے انجام نے ناطقہ گوئی کے متعلق متواتر الہامات اور الہامی تفہیمات وتصریحات نے جو وقتاً فوقتاً قلم سے نکل کر ان کی بیسیوں کتابوں رسالوں اور اشتہاروں میں درج ہوتی د ایسا زچ کیا ہے کہ وہ مرزا قادیانی کی صفائی میں کوئی صاف اور قطعی دلیل ۔ بعض تو پیش گوئی کا ہی غلط ہونا تسلیم کرتے ہیں۔ بعض مرزا قادیانی کی الہام ) بتلاتے ہیں اور آخر دق ہو کر حسب قول مرزا قادیانی (مندرجہ تحفہ ١٥٤،١٥٣،١٤٥) کہہ دیا کرتے ہیں کہ اور بھی بہت سی پیش گوئیاں ہیں جو پیش گوئی پر کیوں بحث کی جاتی ہے۔ دیکھو!
(پیغام صلح لاہور ١٦ جنوری ١٩٢١ء ص ٥ کالم ٣)
ما نے اس پیش گوئی کو جتنی اہمیت دی تھی۔ وہ ان کی تحریرات ذیل سے واضح ہے۔
”بعض اور عظیم الشان نشان اس عاجز کے معرض امتحان میں ہیں۔ جیسا م صاحب امرتسری کی نسبت پیش گوئی جس کی میعاد ٥ جون ١٨٩٣ء سے ت لیکھ رام پیشاوری کی موت جس کی معیاد ١٨٩٣ء سے چھ سال تک ہے شیار پوری کے داماد کی موت کی نسبت پیش گوئی جو پٹی ضلع لاہور کا باشندہ کی تاریخ سے جو ٢١ ستمبر ١٨٩٣ء ہے۔ قریباً گیارہ مہینے باقی رہ گئی ہے۔ جو انسانی طاقتوں سے بالکل بالا تر ہیں۔ ایک صادق یا کاذب کی شناخت کہ احیاء اور اماتت دونوں خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہیں اور جب تک کوئی نہ ہو خدا تعالیٰ اس کی خاطر سے کسی اس کے دشمن کو اس کی دعا سے ہلاک دونوں نشانوں کے انجام معلوم کرنے کے لئے دیکھو رسالہ الہامات مرزا ب امرتسری مدظلہ ۔
٨
نہیں کر سکتا۔ خصوصاً ایسے موقع پر کہ وہ شخص اپنے تئیں منجانب اللہ قرار دیوے اور اپنی اس کرامت ١ کو اپنے صادق ہونے کی دلیل ٹھہراوے۔ سو پیش گوئیاں کوئی معمولی بات نہیں کوئی ایسی بات نہیں جو انسان کے اختیار میں ہو۔ بلکہ محض اللہ جل شانہ کے اختیار میں ہے۔ سو اگر کوئی طالب حق ہے۔ تو ان پیش گوئیوں کے وقتوں کا انتظار کرے۔ یہ تینوں پیش گوئیاں ہندوستان اور پنجاب کی تین بڑی قوموں پر حاوی ہیں۔ یعنی ایک مسلمانوں سے تعلق رکھتی ہے اور ایک ہندوؤں سے اور ایک عیسائیوں سے اور ان میں سے وہ پیش گوئی جو مسلمان قوم سے تعلق رکھتی ہے۔
بہت ہی عظیم الشان ہے
کیونکہ اس کے اجزاء یہ ہیں کہ:
- مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری تین سال کی میعاد کے اندر فوت ہو۔
- اور پھر داماد اس کا جو اس کی دختر کلاں (منکوحہ آسمانی ) کا شوہر ہے۔ اڑھائی سال
کے اندر فوت ہو۔
- اور پھر یہ کہ مرزا احمد بیگ تا روز شادی دختر کلاں فوت نہ ہو۔
- اور پھر یہ کہ وہ دختر کبھی تا نکاح اور تا ایام بیوہ ہونے اور نکاح ثانی کے فوت نہ ہو۔
- اور پھر یہ کہ یہ عاجز بھی ان تمام واقعات کے پورا ہونے تک فوت نہ ہو ٢ ۔
- اور پھر یہ کہ اس عاجز سے نکاح ہو جاوے اور ظاہر ہے کہ یہ تمام واقعات انسان کے
اختیار میں نہیں ٣۔
(شہادۃ القرآن ص ٨٠، ٧٩، خزائن ج ٦ ص ٣٧٦، ٣٧٥)
١؎ اس بیان میں مرزا قادیانی کی کرامت تین چار شخصوں کی موت کی پیش گوئی ہے۔ قرآن شریف سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے مردہ کو زندہ کرنے کا معجزہ عطا فرمایا تھا۔ مگر بعثت ثانی میں مرزا قادیانی کو جو اپنے وجود کو حضرت مسیح علیہ السلام کا ہی وجود بیان کرتے ہیں۔ زندوں کو مارنے کی کرامت عطاء ہوئی۔ اس قلب ماہیت اور وصف متضاد پر کسی موزوں گو نے خوب کہا ہے۔
٢؎ ناظرین مرزا قادیانی کی اردو معلیٰ کی بھی قدر فرمائیں کیونکہ وہ اپنے سلطان القلم ہونے کے بھی مدعی ہیں۔
٣؎ معزز ناظرین پیش گوئی کے اجزاء نمبر ٥ و نمبر ٦ خوب ذہن نشین رکھیں پیش گوئی کی اصل روح یہی ہیں۔ نمبر ٣ اسی لئے تو پورے نہیں ہوئے۔
٩
٢...... ”اور سنیے مرزا قادیانی اس پیش گوئی کو اپنے صدق و کذب کا معیار بناتے ہیں ۔”فانتظروا ھذہ النباء المذکورۃ فانھا معیار لصدقی و کذبی“ یعنی اے مخالفو! تم ان خبروں کے منتظر رہو ۔ یہ میرے صدق اور کذب کے لئے معیار ہیں ۔“
(کرامات الصادقین سرورق صفحہ آخر، خزائن ج ٧ ص ١٦٤)
٣...... ”اور دیکھئے معیار صدق و کذب قرار دینے پر اللہ تعالیٰ کی گواہی ثبت کراتے ہیں۔ ”وانی اجعل ھذا النباء معیار لصدقی او کذبی وما قلت الا بعد ما انبئت من ربی“ یعنی میں اس خبر کو اپنے سچ یا جھوٹ کا معیار بناتا ہوں اور میں نے جو کہا ہے یہ خدا سے خبر پا کر کہا ہے۔“
(انجام آتھم ص ٢٢٣، خزائن ج ١١ ص ٢٢٣)
٤...... علاوہ ازیں مرزا قادیانی نے اپنے صدق و کذب کی شناخت کے لئے ایک عام فہم اور قطعی کسوٹی ان الفاظ میں بیان کی ہے۔
”بدخیال لوگوں کو واضح ہو کہ ہمارا صدق یا کذب جانچنے کے لئے ہماری پیش گوئی سے بڑھ کر اور کوئی محک امتحان نہیں ہو سکتا ۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨٨، خزائن ج ٥ ص ٢٨٨)
پس ہم مسلمانوں کو حق ہے کہ جس پیش گوئی کو مرزا قادیانی نے خصوصیت سے ہمارے متعلق بیان کیا تھا اور جس کو بہت ہی عظیم الشان نشان قرار دیکر بار بار اسے اپنے صدق و کذب کا معیار قرار دیا تھا۔ سب سے پہلے اس کی تفتیش و پڑتال کریں اور ان کے تمام دعوؤں کے صحیح یا غلط ہونے کا خود ان کے قول مندرجہ بالا کی رو سے منصفانہ فیصلہ کریں۔ کیونکہ کسی کو قائل کرنے کے لئے خود اس کے مسلمہ اصول اور بیانات قانوناً و شرعاً نہایت مستند سمجھتے ہیں۔ تحریر مخالف سے فریق ثانی کو ملزم کرنا قابل تمسک امر ہے اور مدعا علیہ کے اقبال کا اثر ہمیشہ اس کے خلاف لیا جاتا ہے۔ جیسا کہ مثل مشہور ہے۔
قضى الرجل علىٰ نفسه ! (آدمی نے خود اپنے اوپر ڈگری کر لی) اس پیش گوئی کی تحقیق وتنقید سے ناظرین پر حق و باطل خوب واضح ہو جائے گا۔ وہ دیکھیں گے کہ ایک مدعی مجددیت، امامت، مسیحیت، مہدویت، نبوت و رسالت وغیرہ وغیرہ کس دیدہ دلیری سے کامل ٢٠ سال تک اس پیش گوئی کے پورے ہونے کی امید دلاتا اور اپنے دلی جذبات کو وحی و الہام کا رنگ دیتا رہا۔ یہ تحریریں ایک نہیں دو نہیں چار نہیں۔ ایک دفتر ہے جس کی نسبت یہ مصرعہ موزوں ہے:
١٠
اور مرزا قادیانی کی بیسیوں کتابوں اور سینکڑوں اخبارات اور ہزاروں اشتہارات میں اس کے متعلقہ مضامین بڑے زور شور سے درج ہیں۔ اختتام عمر تک مرزا قادیانی اس نکاح کی امید سے قطعی دست بردار نہیں ہوئے اور آخر اس الزام یا دلی ارمان کو اپنے ساتھ ہی قبر میں لے گئے ۔ اب ان کی امت ہزار تاویلیں کرے۔ لاکھوں باتیں بنائے ۔ لیکن دنیا عقلمندوں سے خالی نہیں ہوگئی ہے۔ خود مرزائی جماعت کے معقول ارکان کے نزدیک یہ پیش گوئی غلط ثابت ہوئی ہے ۔ باقی سخن پروری اور سخن سازی اور تاویلات رکیکہ اور استدلال بعیدہ کے چکر میں ہیں مگر طالبان حق و انصاف کو یہ واضح رہے کہ پیش گوئی کا اصل مطلب اور الہام کی حقیقی تفسیر ملہم سے زیادہ کوئی نہیں جان سکتا۔ نہ کسی کو یہ حق حاصل ہے کہ مرزا جی کی ...... الہامی تفسیر و تفہیم کے مقابلہ میں اپنی من گھڑت تاویلیں پیش کرے۔ دیکھو !
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٧، خزائن ج ٢٢ ص ٤٣٨)
(اور اہل علم کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ تاویل الکلام بما لا یرضی بہ قائلہ باطل ! یعنی کسی کلام کی اس طرح پر تاویل کرنا جو کہ اس کے اصل کہنے والے کی منشاء کے خلاف ہو باطل ہے۔ )
پس ناظرین ! خصوصاً مرزائی صاحبان ! صرف للہیت کو مد نظر رکھ کر مرزا قادیانی کی تحریرات اور ہماری تحقیقات پر غور کریں۔ انشاء اللہ تعالیٰ صحیح نتیجہ پر پہنچ جائیں گے۔
باب دوم
مرزا قادیانی اور منکوحہ آسمانی کا خاندانی تعلق اور پیش گوئی کی تحریک
اس پیش گوئی کے ضمن میں جن لوگوں کا ذکر آئے گا۔ ان کے باہمی تعلقات قرابت شجرہ ہائے انساب منسلکہ سے ظاہر ہوں گے۔
اس شجرہ نسب اور دیگر مرزائی لٹریچر سے واضح ہوتا ہے کہ آسمانی منکوحہ ( محمدی بیگم )
- ١....... مرزا قادیانی کی حقیقی چچا زاد بہن کی دختر تھی۔
- ٢....... مرزا قادیانی کے ماموں زاد بھائی کی لڑکی تھی۔
- ٣....... مرزا قادیانی کی زوجہ اوّل کے چچا زاد بھائی کی بیٹی تھی۔
- ٤....... مرزا قادیانی کے لڑکے فضل احمد کی بیوی کی ماموں زاد بہن تھی۔
ان کے علاوہ اور بھی قرابتی تعلقات تھے۔ جن کا ذکر موجب طوالت ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ محمدی بیگم مرزا قادیانی اور ان کی بیوی کے بہت قریبی رشتہ داروں کی اولاد تھی اور نسب کی رو سے اس کا درجہ مرزا قادیانی اور ان کی بیوی کی بھتیجی اور ہمشیرہ زادی کے برابر تھا۔ یہ لڑکی مرزا
١١
”اور سنیئے مرزا قادیانی اس پیش گوئی کو اپنے صدق و کذب کا معیار بناتے اهذ نباء الا المذكورة فانها معيار لصدقى و كذبى ،، یعنی اے کے منتظر رہو۔ یہ میرے صدق اور کذب کے لئے معیار ہیں ۔“
(کرامات الصادقین سرورق صفحہ آخر، خزائن ج ٧ ص ١٦٣)
”اور دیکھئے معیار صدق و کذب قرار دینے پر اللہ تعالیٰ کی گواہی ثبت کی اجعل هذا النباء معيار الصدقى اوكذبي وما قلت الا بعد ما یعنی میں اس خبر کو اپنے سچ یا جھوٹ کا معیار بناتا ہوں اور میں نے جو کہا ہے یہ ہے ۔“
(انجام آتھم ص ٢٢٣، خزائن ج ١١ ص ٢٢٣)
علاوہ ازیں مرزا قادیانی نے اپنے صدق و کذب کی شناخت کے لئے کسوٹی ان الفاظ میں بیان کی ہے۔
”لوگوں کو واضح ہو کہ ہمارا صدق یا کذب جانچنے کے لئے ہماری پیش گوئی کا امتحان نہیں ہو سکتا ۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨٨، خزائن ج ٥ ص ٢٨٨)
مسلمانوں کو حق ہے کہ جس پیش گوئی کو مرزا قادیانی نے خصوصیت سے ہمارے جس کو بہت ہی عظیم الشان نشان قرار دیکر بار بار اسے اپنے صدق و کذب کا سے پہلے اسی کی تفتیش و پڑتال کریں اور ان کے تمام دعوؤں کے صحیح یا غلط اصول مندرجہ بالا کی رو سے منصفانہ فیصلہ کریں۔ کیونکہ کسی کو قائل کرنے کے اصول اور بیانات قانوناً و شرعاً نہایت مستند سمجھے ہیں۔ تحریر مخالف سے فریق بیشک امر ہے اور مدعا علیہ کے اقبال کا اثر ہمیشہ اس کے خلاف لیا جاتا ہے۔
الرجل علی نفسہ ! (آدمی نے خود اپنے اوپر ڈگری کر لی) اس پیش سے ناظرین پر حق و باطل خوب واضح ہو جائے گا۔ وہ دیکھیں گے کہ ایک مسیحیت، مہدویت، نبوت و رسالت وغیرہ وغیرہ کس دیدہ دلیری سے پیش گوئی کے پورے ہونے کی امید دلاتا اور اپنے دلی جذبات کو وحی و تحریریں ایک نہیں دو نہیں چار نہیں۔ ایک دفتر ہے جس کی نسبت یہ مصرعہ
١٠
قادیانی کے خاندان اور وطن میں پرورش یافتہ تھی۔ اس لئے ضروری ہے کہ مرزا قادیانی نے اس کو بچپن سے جوانی تک بار ہا ملاحظہ اور معائنہ فرمایا ہو۔ ادھر مرزا قادیانی کو باوجود ضعیف العمر و دائم المریض ہونے کے عود جوانی کی بشارات اور خواتین مبارکہ کے ملنے کے الہام بھی حسب اقوال ان کے ہو چکے تھے۔ جن سے مبارک اولاد بطور نشان کے پیدا کرنے کا دعویٰ تھا اور پھر حضرت رسالت مآب ﷺ کی ایک حدیث سے بھی مرزا قادیانی نے یہ بشارت اپنے حق میں نکال لی تھی کہ محمدی بیگم ہی وہ خاص خاتون ہے۔ جس کا تزویج ان کے ساتھ بطور نشان کے ہوگا اور اسی کے بطن سے وہ اولاد پیدا ہو گی۔ جس کے لئے وہ عرصہ سے پیش گوئی کر چکے ہیں۔ دیکھو !
(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧)
ایسے ایسے خیالات واحساسات مرزا قادیانی کے دل میں تھے۔ لیکن رشتے ناطوں کی سلسلہ جنبانی عموماً محل وموقعہ کی محتاج ہوتی ہے۔ خصوصاً ایک ١؎ معمولی حیثیت کے شخص کو بڑھاپے میں شادی کرنا اور پھر وہ بھی سابقہ بیوی پر نوجوان بیوی حاصل کرنا گویا جوئے شیر کا لانا ہے اور اگرچہ شریعت اسلام کی رو سے اس لڑکی کا نکاح مرزا قادیانی سے جائز تھا۔ لیکن پنجاب کی ٢؎ پابند رسوم و رواج اقوام خصوصاً بے علم لوگ ایسے ازدواج کو معیوب سمجھتے ہیں۔ نیز مرزا قادیانی کے چچا زاد بھائی مرزا نظام الدین قادیانی و مرزا امام الدین قادیانی جو محمدی بیگم کے حقیقی ماموں تھے اور دیگر اہل خاندان یعنی مرزا علی شیر بیگ و مرزا احمد بیگ صاحبان وغیرہ۔
عموماً بوجہ باہمی مقدمات متعلق جائداد اور نیز بوجہ اختلاف عقائد مرزا قادیانی سے سخت بیزار و متنفر تھے اور ان کی عداوت ونفرت مرزا قادیانی سے یہاں تک بڑھی ہوئی تھی کہ مرزا قادیانی کا ملہم بھی ان لوگوں کے خلاف مرزا قادیانی کی دعاؤں کی فریاد رسی کرنے سے کانوں پر ہاتھ رکھ گیا تھا۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کا الہام ہے۔
١؎ مرزا قادیانی کی شخصیت وحیثیت ان کے معتقدوں کی نظر میں آج کچھ ہو۔ لیکن ان کے اہل خاندان ان کو اپنے سے برتر کوئی امیر کبیر نہ سمجھتے تھے اور مرزا قادیانی کی موروثی آمدنی انہی کے اظہار روبروئے تحصیلدار بمقدمہ انکم ٹیکس کے مطابق تین چار سو روپیہ سالانہ تھی۔
٢؎ مرزا قادیانی کے خاندان میں شریعت کے مطابق ورثہ تقسیم ہونے پائے نہیں جاتے۔ اس لئے ان کا خاندان پابند رواج اقوام میں شمار ہے اور خود مرزا قادیانی نے شریعت کے خلاف زوجہ اوّل کی اولاد کو محروم الارث بنایا اور جدی ارضی باغ وغیرہ زوجہ دوم کے نام رہن باقبضہ کردی۔
١٢
”اجيب كل دعائك الا فى شركائك“ ”یعنی اے مرزا میں تیری اور سب دعائیں قبول کروں گا مگر جو دعا تو اپنے شریکوں کے حق میں کریگا وہ قبول نہ کروں گا۔“
(حقیقت الوحی ص ٢٤٣، خزائن ج ٢٢ ص ٢٥٤)
مرزا قادیانی نے ان لوگوں کی بددینی عداوت ونفرت کا اپنی متعدد کتابوں (آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٦، خزائن ج ٥ ص ایضاً ) وغیرہ میں مفصل ذکر کیا ہے۔ اس مخاصمت باہمی کے علاوہ یہ امر بھی توجہ طلب ہے کہ فی زمانہ خاندان کے مرد وعورت عام طور پر لڑکے لڑکی کی عمروں کے تناسب کا ضرور لحاظ رکھتے ہیں اور کسی بڑی عمر کے آدمی کو اس کی بیوی بچوں کی موجودگی میں لڑکی کے والدین اور عزیز واقارب کنواری لڑکی دینا عموماً اچھا نہیں سمجھتے۔
لہٰذا تمام ممبران خاندان مرزا قادیانی کے بڑھاپے، دائم المرضی، دو بیویوں اور کئی بیٹوں کی موجودگی، مذہبی مخالفت اور اس غریب لڑکی کی کم سنی اور دوشیزگی کا خیال کر کے ضرور اس ان مل اور بے جوڑ مناکحت کے خلاف ہوں گے۔ لڑکی کی کمسنی اور اپنا بڑھاپا مرزا قادیانی ان الفاظ میں خود بیان کرتے ہیں۔
”هذه المخطوبة جارية حديثة السن عذراء وكنت حينئذ جاوزت الخمسین“ ”یعنی یہ لڑکی ابھی کمسن چھوکری ہے اور میری عمر اس وقت پچاس سے متجاوز ہے۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٧٤، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
نظر بوجوہات متذکرہ بالا ناظرین اندازہ فرما سکتے ہیں کہ مرزا قادیانی کو اس نکاح کے معاملہ میں کامیاب ہونے کا بظاہر کوئی موقع نظر نہیں آتا تھا۔ جس کے وہ ہزار دل و جان سے نہ صرف آرزومند بلکہ اپنے الہامات ومبشرات کو سچا ثابت کرنے کے لئے فکر مند بھی تھے۔ پھر پیغام نکاح کس طرح دیا گیا۔ اس کا قصہ ہم مرزا قادیانی کی کتاب ( آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٩ تا ٥٧٤، خزائن ج ٥ ص ایضاً) مختصراً نقل کرتے ہیں۔
پہلے مرزا قادیانی نے اپنے چچا زاد برادران کی بددینی مخالفت، عداوت وغیرہ ذکر کر کے اللہ تعالیٰ کے حضور میں ان کے برخلاف بددعا کرنے اور قبولیت دعا کی بشارت پانے اور ان لوگوں پر انواع و اقسام کے عذاب نازل ہونے ان کے مرنے اور ان کے گھر بار تباہ ہونے کا حال
لکھا
لکھا ہے۔ اگرچہ یہ نہیں لکھا کہ کون کون اس بددعا کی زد میں آ چکے تھے اور کون کون باقی تھے۔ مگر باقی ماندہ اعزہ واقارب کی بے ایمانی بے خوفی اور قساوت قلبی بدستور رہنے کی وجہ سے ان کے لئے ایک آسمانی نشان ظاہر ہونا تحریر کیا ہے۔ چنانچہ لکھتے ١؎ ہیں:
”جب نشان کے ظہور کا وقت قریب آیا۔ تو اتفاقا میرے ان چچا زاد بھائیوں کے ایک عزیز مسمی احمد بیگ نے چاہا کہ اپنی ہمشیرہ کی آراضی کا مالک بن جائے۔ جس کا خاوند (غلام حسین ) کئی سال سے مفقود الخبر تھا۔ جو میرا چچا زاد بھائی تھا اور زمین اس کی ملکیت تھی۔ احمد بیگ نے چاہا کہ اس کی بہن وہ اراضی اپنے بھائی کے نام ہبہ کر دے۔ میرے چچا زاد برادران نے اس پر اس لئے اظہار رضامندی کر دیا کہ احمد بیگ ان کا بہنوئی تھا۔ لیکن میرا حق ان سے بھی زیادہ ٢؎ غالب تھا۔ اس لئے بغیر میری رضا مندی کے یہ ہبہ منظور نہ ہو سکتا تھا۔ اس لئے احمد بیگ کی بیوی نے میرے پاس آ کر التجا کی کہ میں اپنا حق جو اس زمین کی نسبت ہے ترک کر دوں اور اس ہبہ پر رضا مند ہو جاؤں اور میں بھی اس خیال سے کہ یہ لوگ توبہ کر کے راہ راست پر آ جائیں۔ قریب تھا کہ اس ہبہ میں رضا مند ہو جاتا مگر میں ایک مفقود الخبر کے مال میں دست اندازی کرنے اور جلد بازی کے نتائج سے ٣؎ ڈرا پس میں نے مناسب سمجھا کہ اللہ تعالیٰ سے اس بارہ میں استفتا کر لوں۔ تا کہ مجھ پر ایک غائب شخص کا حق غصب کرنے کا الزام عائد نہ ہو۔ جس کی لوگ کچھ پرواہ نہیں کرتے۔ پس میں اظہار رضامندی ہبہ آراضی سے باز رہا اور اللہ کے حکم کا منتظر ہوا اور اس کا اظہار احمد بیگ کی بیوی سے کر دیا اور وہ چلی گئی۔“
اور احمد بیگ میرے پاس دوڑا آیا۔ اس حال میں کہ وہ اضطرار کے ساتھ ملتجی تھا اور درد رسیدہ لوگوں کی طرح بے قرار اور نالاں تھا زار زار روتا تھا کانپتا تھا۔ اس کا کلیجہ دھڑک رہا تھا۔ سانس پھولا ہوا تھا۔ جیسے کسی کا گلا گھونٹ دیا گیا ہو۔ اس کا یہ غم و اندوہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اسے ہلاک
١؎ یہ ہم نے مرزا قادیانی کی عربی تحریر کا ترجمہ کیا ہے۔
٢؎ محض غلط! مرزا قادیانی اور مرزا نظام الدین وغیرہ کو غلام حسین کا ترکہ یکساں پہنچتا تھا۔ مرزا قادیانی کا کوئی حق غالب نہیں تھا۔ (دیکھو شجرہ نسب )
٣؎ مگر دونو جوانوں اور نیک چلن بیٹوں کو اپنی وراثت سے محروم کرنے میں آپ نے خدا کا کچھ خوف نہ کیا۔
١٤
کر دے گا۔ اس کا خون پھٹ جائے گا اور وہ رنج و غم کا شکار ہو جائے گا۔ جب میں نے اس کی یہ حالت دیکھی تو مجھے اس پر رحم اور اس کے زار زار رونے پر ترس آیا۔ میں نے چاہا کہ اس کی مدد کروں۔ میں نے غمخوارانہ طور پر اس کی تشفی کی اور میں نے اسے کہا کہ خدا کی قسم مجھے مال کی کوئی محبت نہیں بلکہ میں ان لوگوں سے ہوں جو اپنے انجام کا خیال رکھتے ہیں۔ میں جلد ہی تم پر احسان کروں گا۔ کیونکہ قریبی وہی ہوتے ہیں جو مصیبتوں میں کام آئیں۔ میں تمہاری نجات کا باعث ہوں گا اور تمہاری حاجت براری کروں گا۔ خدا کی قسم میں نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا ہوا ہے کہ کسی مشتبہ امر میں اس کے حکم کے بغیر کوئی کارروائی نہ کروں گا۔ اس لئے تمہارے معاملہ میں بھی استخارہ کروں گا۔ تم کو مایوس نہیں ہونا چاہئے چونکہ اصل مالک زمین کا مفقود الخبر ہے اور معلوم نہیں کہ وہ زندہ ہے یا مر گیا۔ پس اس کے مال کے متعلق مردوں کے ورثہ کی طرح جلدی کرنا جائز نہیں۔ لہذا اللہ کے حکم کا انتظار مناسب ہے۔
احمد بیگ نے کہا کہ میری طرف سے وعدہ ١ خلافی نہ ہو گی۔ آپ بھی وعدہ ٢ کا خلاف نہ کریں۔ میں نے جواب دیا کہ میرے سب وعدے حکم الٰہی کے ساتھ مشروط ہوتے ہیں۔ وہ چلا گیا اور میں نے اپنے حجرے کا قصد کیا۔ ایک گوشہ میں بیٹھ کر اس معاملہ میں اللہ تعالیٰ کے حضور میں اظہار حال کی درخواست کی۔ خدا کی قسم مجھے اس سے زیادہ انتظار نہ کرنا پڑا جتنا عرصہ جوتے کے تسمہ باندھنے یا پالان کے کسنے میں صرف ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر وحی نازل فرمائی کہ:
اس شخص کی بڑی لڑکی کے نکاح کے لئے درخواست کر اور اس سے کہہ دے کہ پہلے وہ
١؎ احمد بیگ کی حالت کا لفظی فوٹو جو مرزا قادیانی نے دکھلایا ہے۔ اگر یہ محض شاعری نہیں اور دراصل امر واقعہ ہے تو ہمیں مرزا قادیانی کی وقت شناسی پر بھی کچھ افسوس ہے۔ کیونکہ ایسی جاں کنی کے وقت میں اگر فوراً ہی وہ رشتہ کا سوال کر دیتے تو اپنی بدحواسی میں غالباً مرزا احمد بیگ مان لیتا۔ لیکن انہوں نے تشفی آمیز باتوں اور استخارہ کرنے میں وقت ضائع کر دیا اور اس عرصہ میں اس کا رونا کانپنا کلیجہ کا دھڑکنا سانس کا پھولنا اور خون کا غم و اندوہ سے مہلک طور پر ابلنا مدہم پڑ گیا اور مرزا قادیانی کے ہاتھ سے شکار نکل گیا۔ جب ہی عقلمندوں نے کہا ہے کہ:
٢؎ یہ وعدہ وعید نہ معلوم کیا تھے۔ بظاہر تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ احمد بیگ رشتہ دینے اور مرزا قادیانی ہبہ نامہ پر دستخط کرنے کے لئے باہم وعدہ وعید کر چکے تھے اور استخارہ کی کارروائی جو کچھ ہے۔ وہ وعدہ وعید کے بعد ہے۔
١٥
تمہیں دامادی میں قبول کرے اور پھر تمہارے نور سے روشنی حاصل کرے اور کہہ دے کہ مجھے اس زمین کے ہبہ کرنے کا حکم مل گیا ہے۔ جس کے تم خواہشمند ہو۔ بلکہ اس کے علاوہ اور زمین بھی دی جائے گی اور دیگر احسانات تم پر کئے جائیں گے۔ بشرط یہ کہ تم اپنی بڑی لڑکی کا مجھ سے نکاح کر دو میرے اور تمہارے درمیان یہی عہد ہے۔ تم مان لو گے تو میں بھی مان لوں گا۔ اگر قبول نہ کرو گے تو خبردار رہو مجھے خدا نے یہ بتلا دیا ہے۔ کہ اگر کسی اور شخص سے اس لڑکی کا نکاح ہوگا۔ تو نہ اس لڑکی کے لئے یہ نکاح مبارک ہوگا اور نہ تمہارے لئے۔ اس صورت میں تم پر مصائب نازل ہوں گے۔ جن کا نتیجہ تمہاری موت ہوگا۔ پس تم نکاح کے بعد تین سال کے اندر مر جاؤ گے۔ بلکہ تمہاری موت قریب ہے اور ایسا ہی اس لڑکی کا شوہر بھی اڑھائی سال کے اندر مر جائے گا۔ یہ اللہ کا حکم ہے۔ پس جو کرنا ہے کر لو۔ میں نے تم کو نصیحت کر دی ہے۔
پس ترش رو ہو کر اور منہ پھیر کر چلا گیا۔ پھر میں نے اللہ تعالیٰ کی ایماء اور اشارہ سے اسے یہ خط لکھا٢ ؎۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم! اما بعد! اے عزیز سنو تمہیں کیا ہو گیا۔ جو میرے خاندان کو عبث سمجھا، اور میرے تعلقات کو برا جانا میں نے تم پر کوئی مشقت نہیں ڈالی تھی۔ تم انشاء اللہ مجھے اپنے محسن پاؤ گے اور میں تم کو یقین اور اطمینان دلاتا ہوں کہ اگر تم نے میری بات کو مان لیا اور میرے
١ ؎ وعدہ وعید کے بعد اور حجرے میں داخل ہونے سے پہلے احمد بیگ کا چلا جانا خود ہی مرزا قادیانی نے لکھا ہے۔ لیکن اس کے جانے پر مرزا قادیانی حجرے کے ایک گوشہ میں جوتے کے تسمہ باندھنے سے بھی تھوڑا عرصہ انتظار کے بعد ............ جب خدا سے وحی حاصل کر رہے تھے۔ کیا اس وقت احمد بیگ بھی پاس ہی آ بیٹھا تھا اور مضمون وحی سن رہا تھا۔ یا مرزا قادیانی نے وحی کے بعد اس کو بلا کر مضمون وحی سے مطلع کیا۔ اصل کتاب سے اس کا پتہ نہیں چلتا۔ اس لئے ناظرین خود ہی کچھ سمجھ لیں۔
٢ ؎ یہ عربی خط مندرجہ آئینہ کمالات اسلام کا ترجمہ ہے۔ اردو میں جو خط بھیجا گیا وہ باوجود تلاش ہمیں دستیاب نہیں ہوا لیکن ناظرین یہ نہ خیال فرمائیں کہ اس کا مضمون من وعن یہی ہو گا۔ جو عربی میں ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے اس نکاح کے معاملہ میں اپنی وحی کا مضمون بھی عربی اور اردو میں کم و بیش کیا ہے۔ اس لئے ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ ان کی ہر روایت مختلف لفظوں میں ہوتی ہے۔ شک ہو تو حجرہ کی گوشہ والی عربی وحی اور اشتہار مورخہ ١٠؍ جولائی ١٨٨٨ء میں اس وحی کی اردو عبارت کا مقابلہ کر لو۔ ان میں کمی بیشی پائی جائے گی۔
١٦
قبیلہ کے لوگوں کی مخالفت کی پرواہ نہ کی تو میں اپنی زمین اور جائداد میں سے تمہارے لئے ایک حصہ علیحدہ کردوں گا اور اس مواصلت (محمدی بیگم) سے ہمارا آپس کا جھگڑا جاتا رہے گا اور خدا میرے سب خاندان کے دل میں محبت ڈال دے گا۔ آپ کے ہر ایک کام میں برکت ہوگی۔ آپ کی پریشانی جاتی رہے گی۔ آپ فائز المرام ہوں گے اور نامراد نہ رہیں گے۔ بات سچی ہے اور سچ کہتا ہوں کہ یہ خط میں نہایت خلوص دل اور صفائی قلب سے آپ کو لکھتا ہوں۔ اگر آپ نے میری بات کو مان لیا۔ تب مجھ پر مہربانی ہوگی۔ آپ کا مجھ پر احسان ہوگا اور آپ کا یہ بہترین سلوک ہوگا۔ میں آپ کا شکرگزار ہوکر ارحم الراحمین سے آپ کی ترقی کی دعا ١؎ کروں گا اور آپ کے ساتھ اپنا عہد پورا کروں گا اور آپ کی دختر (محمدی بیگم) کو اپنی زمین اور تمام جائداد کا دو تہائی ٢؎ حصہ دوں گا اور جو کچھ حصہ تم مانگو گے تم کو دوں گا اور میں سچا ہوں۔ صلہ رحمی میں اور اقارب سے محبت کرنے اور میل جول رکھنے میں تم مجھ سا کسی کو بھی ٣؎ نہ پاؤ گے۔ تم مصائب میں مجھے اپنا مدد گار پاؤ گے۔ میں تمہارے بوجھ اٹھاؤں گا۔ اب تم انکار میں اپنا وقت ضائع مت کرو اور اپنی محبت سے انکار نہ کرو۔ شک وشبہ چھوڑ دو۔
میں نے یہ خط خدا کے حکم سے لکھا ہے۔ نہ کہ اپنی طرف سے میرے اس خط کو اپنے صندوق میں محفوظ رکھو۔ کیونکہ یہ صادق امین کی طرف سے ہے اور خدا جانتا ہے کہ میں اس میں صادق ہوں اور میں نے جو وعدہ کیا ہے وہ اللہ کی فضل سے ہے اور جو کچھ ان نے کہا ہے خدا نے ہی اپنے الہام سے مجھ سے کہلوایا ہے۔ یہ میرے خدا کی وصیت تھی۔ جسے میں نے پورا کردیا مجھے نہ تمہاری ضرورت تھی۔ نہ تمہاری لڑکی کی ،عورتیں اس کے سوائے اور بھی بہتیری ہیں۔ خدا تعالیٰ اپنے صالح بندوں کا خود متولی ہوتا ہے۔ میرے اس خط کو شک کی نظر سے نہ دیکھنا۔ کیونکہ میں نے یہ خالصتاً نصیحت اور صادقانہ الہام اور صواب کے ساتھ لکھا ہے۔ جھگڑا چھوڑ دو اور نتیجہ کا انتظار
١؎ یہ دن ہیں دعا لے لو کسی کے قلب مضطر کی۔ ٢؎ بخال ہندوش بخشم زمیں قادیانی را۔ ٣؎ کیا ہی خوب فرمایا ہے۔ صلہ رحمی اور اقارب سے محبت اور میل جول تو خاص آپ کا ہی کا حصہ تھا چشم بدور ہے۔ مگر مرزا سلطان احمد اور فضل احمد اور ان کی والدہ سے شاید آپ کا کچھ بھی تعلق نہ تھا۔ جن کے ساتھ دشمنوں سے بدتر سلوک کیا۔
١٧
کرو۔ اگر وقت مقررہ گزر جائے اور سچائی ظاہر نہ ہو تب ١ میری گردن میں رسی اور پاؤں میں بیڑی ڈالنا اور مجھے ایسا عذاب دینا جو دنیا میں کسی کو نہ دیا گیا ہو۔ تم مجھ ٢ سے الٰہی معجزہ مانگا کرتے تھے۔ سو یہ تمہارے لئے معجزہ ہے۔ یہی منکرین کو جلدی پکڑے گا۔ قریب ترین عذابوں ......... اور صریح تفہیم کے ساتھ اور کھلے کھلے نشانوں کے ساتھ۔ جو ان کے مال اور جانوں میں دکھلائے جائیں گے۔ تا کہ حیلہ گروں کو اپنا ضعف نظر آ جائے اور ان کا غرور ٹوٹ جائے۔
یہ خط تھا جو میں نے احمد بیگ کو ١٣٠٤ھ میں لکھا پس اس نے انکار کیا اور خاموش ہو گیا اور میری قرابت سے منکر ہوا۔ میرے خط سے تنگ دلی ظاہر کی اور اس کے ساتھ اس کی قوم اور قبیلہ نے بھی مجھ سے عداوت کی جو پہلے سے قریبی تھے اور یہ لوگ اپنی بیٹیوں کی ایسی جگہ شادی کرنے سے انکار کرتے تھے۔ جہاں پہلی بیوی موجود ہو نیز اس کی یہ مخطوبہ بیٹی ابھی نوخیز چھوکری ٣ اور کنواری تھی اور میں اس وقت پچاس سال سے زائد عمر کا ہو چکا تھا۔ (انتہی ملخصاً)
(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٧٣، ٢٧٤، ٢٧٥ خزائن ج ٥ ص ایضاً)
مرزا احمد بیگ نے حسب قول مرزا قادیانی اس پیغام نکاح کو قبول نہیں کیا۔ بلکہ مرزا قادیانی کے چچا زاد بھائی اس پیغام کے بعد مرزا قادیانی سے اور بھی ناراض ہو گئے اور اُنہوں نے اس خط کو ایک عیسائی اخبار میں چھپوا دیا۔ جس پر مرزا قادیانی نے فوراً حسب ذیل اشتہار شائع کرایا۔
١ سمجھے ہوئے تھے کہ گردن میں رسی اور پاؤں میں بیڑی ڈالنے اور عذاب دینے کا ان کو اختیار ہی کیا ہے۔ اس لئے لفاظی کر دو۔
٢ اشتہار ١٠؍جولائی ١٨٨٨ء میں جو آگے آتا ہے احمد بیگ کا نام سائلان معجزہ کی فہرست میں درج نہیں۔ مگر یہاں اسے طالب معجزہ کہا گیا ہے۔
٣ بقول میر حسن
جوانی کی راتیں مرادوں کے دن
٤ منجملہ دیگر اسباب کے جو رشتہ میں حارج ہوئے ایک سبب بیان کرنا مرزا قادیانی عمداً چھوڑ گئے یا بھول گئے اور وہ سبب مذہبی اختلاف تھا۔ یعنی طرفین ایک دوسرے کے نزدیک بد دین تھے اور یہی بڑی وجہ رشتہ نہ ہونے کی تھی۔
١٨
ایک پیش گوئی پیش از وقوع کا اشتہار
قدرت حق کا عجب ایک تماشا ہو گا
جھوٹ اور سچ میں جو بھی فرق وہ پیدا ہو گا
کوئی پا جائے گا عزت کوئی رسوا ہو گا
اخبار نور افشاں ١٠؍مئی ١٨٨٨ء میں جو اس راقم کا ایک خط متضمن درخواست نکاح چھاپا گیا ہے۔ اس خط کو صاحب اخبار نے اپنے پرچہ میں درج کر کے عجیب طرح کی زبان درازی کی ہے اور ایک صفحہ اخبار کا سخت گوئی اور دشنام دہی میں سیاہ کیا ہے۔ یہ کیسی بے انصافی ہے کہ جن لوگوں کے مقدس اور پاک نبیوں نے سینکڑوں بیویاں ایک ہی وقت میں رکھی ہیں۔ وہ دو یا تین بیویاں کا جمع کرنا ایک کبیرہ گناہ سمجھتے ہیں۔ بلکہ اس فعل کو زنا اور حرام کاری خیال کرتے ہیں۔ کسی خاندان کا سلسلہ صرف ایک ہی بیوی سے ہمیشہ کے لئے جاری نہیں رہ سکتا۔ بلکہ کسی نہ کسی جزو سلسلہ میں یہ دقت آ پڑتی ہے کہ ایک جورو عقیمہ اور ناقابل اولاد نکلتی ہے۔ اس تحقیق سے ظاہر ہے کہ دراصل بنی آدم کی نسل ازدواج مکرر سے ہی قائم و دائم چلی آتی ہے۔ اگر ایک سے زیادہ بیوی کرنا منع ہوتا تو اب تک نوع انسان قریب قریب خاتمہ کے پہنچ جاتی۔ تحقیق سے ظاہر ہو گا اس مبارک اور مفید طریق نے انسان کی نسل کی کہاں تک حفاظت کی ہے اور کیسے اس نے اجڑے ہوئے گھروں کو بیک دفعہ آباد کر دیا ہے اور انسان کے تقویٰ کے لئے یہ فعل کیسا زبردست ممد و معین ہے۔
خاوندوں کی حاجت براری کے بارہ میں جو عورتوں کی فطرت میں ایک نقصان پایا جاتا ہے۔ جیسے ایام حمل اور حیض و نفاس میں یہ طریق با برکت تدارک اس نقصان کا کرتا ہے۔ جس حق کا مطالبہ مرد اپنی فطرت کی رو سے کر سکتا ہے۔ وہ اسے بخشا ہے۔ ایسا ہی مرد اور کئی وجوہات اور موجبات سے ایک سے زیادہ بیوی کرنے کے لئے مجبور ہوتا ہے۔ مثلاً اگر مرد کی ایک بیوی تغیر عمر یا کسی بیماری کی وجہ سے بدشکل ہو جاوے تو مرد کی قوت فاعلی جس پر سارا دارو
١؎ غالباً اسی وجہ سے ممالک یورپ میں نسل انسانی کا خاتمہ ہوکر وہاں کف دست میدان ہو گیا ہے۔ ناظرین اس قدر ہمیں تسلیم ہے کہ ایک دو تین چار نکاح کرنے کی بشرط انصاف و ضرورت شریعت اسلام نے اجازت دی ہے۔ لیکن یہ شاعرانہ گپ نہیں تو اور کیا ہے کہ ایک سے زیادہ بیوی کرنا منع ہوتا تو نوع انسانی قریب قریب خاتمہ کے پہنچ جاتی۔
١٩
مدار عورت کی کارروائی کا ہے۔ بیکار اور معطل ہو جاتی ہے۔ لیکن اگر مرد بدشکل ہو تو عورت کا کچھ بھی ہرج ١؎ نہیں۔ کیونکہ کارروائی ٢؎ کی کل مرد کو دی گئی ہے اور عورت ٣؎ کی تسکین کرنا مرد کے ہاتھ میں ہے۔ ہاں اگر مرد اپنی قوت مردی میں قصور ٤؎ یا عجز رکھتا ہے۔ تو قرآنی حکم کی رو سے عورت اس سے طلاق لے سکتی ہے اور اگر پوری پوری تسلی کرنے پر قادر ہو تو عورت یہ عذر نہیں کر سکتی کہ دوسری بیوی کیوں کی ہے۔
کیونکہ مرد کی ہر روزہ حاجتوں ٥؎ کی ذمہ دار اور کار برآر نہیں ہو سکتی اور اس سے مرد کا استحقاق دوسری بیوی کرنے کے لئے قائم رہتا ہے۔ جو لوگ ٦؎ قوی الطاقت اور متقی اور پارسا طبع ہیں ان کے لئے یہ طریق نہ صرف جائز بلکہ واجب ہے۔
اس سے آگے کی عبارت میں خاص عیسائیوں سے خطاب ہے کہ بائبل کی رو سے تعدد ازدواج ثابت ہے اور پھر لکھتے ہیں کہ:
”اب جاننا چاہئے کہ جس خط کو ١٠؍ مئی ١٨٨٨ء کے نورافشاں میں فریق مخالف نے
١؎ لفظ حرج کو ہائے ہوز سے لکھنا۔ اہل علم کے نزدیک غلط ہے۔ مگر سلطان القلمی کے مدعی مرزا قادیانی اس سے مستثنیٰ اور اس شعر کے مصداق ہیں ۔
حائے حطی سے گَدَح لکھتا ہے ہوز سے ہِمار
٢؎ ، ٣؎ ، ٤؎ کارروائی کی کل عورت کی تسکین اور پوری پوری تسلی کرنے پر قادر وغیرہ وغیرہ فقرات مرزا قادیانی نے ایسے رندانہ مزے سے لکھے ہیں کہ گویا اس حمام میں وہ بالکل ننگے ہی ہو گئے ہیں۔
٥؎ ، ٦؎ محمدی بیگم تو مرزا قادیانی کے نکاح میں نہیں آئی ۔ اس کے بغیر دوسری بیوی کرنے کی حاجت و ضرورت کو باوجود اپنی قوی الطاقت اور متقی اور پارسا ہونے کے نہیں معلوم کہ مرزا قادیانی کس طرح سے پورا کرتے رہے۔ خصوصاً ایسی صورت میں کہ پہلی بیوی جس کے ساتھ شروع سے بھی ان بن تھی۔ اس دوران کوشش نکاح میں چھوڑ دی تھی اور دوسری بیوی دائم المریضہ تھی۔ اگر ان پر کوئی نکاح کرنا جائز بلکہ واجب تھا تو پھر تارک واجب کیوں رہے اور کوئی دوسری جگہ تلاش نہ کی۔
٢٠
چھپوایا ہے وہ خط محض ربانی اشارہ سے لکھا گیا تھا۔ ایک مدت دراز سے بعض سرکردہ اور قریبی رشتہ دار مکتوب الیہ کے جن کے حقیقی ہمشیرہ زادہ کی نسبت درخواست کی گئی تھی۔ نشان آسمانی کے طالب تھے اور طریقہ اسلام سے انحراف اور عناد رکھتے تھے اور اب بھی رکھتے ہیں۔ چنانچہ اگست ١٨٨٥ء میں چشمہ نور امرت سر میں ان کی طرف سے اشتہار چھپا تھا۔ یہ درخواست ان کی اس اشتہار میں بھی مندرج ہے۔ ان کو نہ محض مجھ سے بلکہ خدا اور رسول سے بھی دشمنی ہے اور والد اس دختر کا باعث شدت تعلق قرابت ان لوگوں کی رضا جوئی میں محو اور ان کے نقش قدم پر دل و جان سے فدا اور اپنے اختیارات سے قاصر و عاجز ۔ بلکہ انہی کا فرمانبردار ہو رہا ہے اور اپنی لڑکیاں ان ہی کی لڑکیاں خیال کرتا ہے اور وہ بھی ایسا ہی سمجھتے ہیں اور ہر بات میں اس کے مدار المہام اور بطور نفس ناطقہ کے اس کے لئے ہو رہے ہیں۔ تب ہی تو نقارہ بجا کر اس کی لڑکی کے بارہ میں آپ ہی شہرت دے دی۔ یہاں تک کہ عیسائیوں کے اخباروں کو اس قصہ سے بھر دیا۔ آفریں بریں عقل و دانش۔ ماموں ١ ہونے کا خوب ہی حق ادا کیا۔ ماموں ہوں تو ایسے ہی ہوں۔ غرض یہ لوگ جو مجھ کو دعویٰ الہام میں مکار اور دروغ گو خیال کرتے تھے اور اسلام اور قرآن پر طرح طرح کے اعتراضات کرتے تھے اور مجھ سے کوئی نشان آسمانی مانگتے تھے۔ تو اس وجہ سے کئی دفعہ ان کے لئے دعا بھی کی گئی تھی۔ سو وہ دعا قبول ہو کر خدا تعالیٰ نے یہ تقریب قائم کی کہ والد اس دختر کا ایک اپنے ضروری کام کے لئے ہماری طرف ملتجی ہوا۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ نامبردہ کی ایک ہمشیرہ ہمارے ایک چچا زاد بھائی غلام حسین نام کو بیاہی گئی تھی۔ غلام حسین عرصہ پچیس سال سے کہیں چلا گیا اور مفقود الخبر ہے اس کی زمین ملکیت جس کا حق ہمیں پہنچتا ٢ ہے۔‘‘
١ افسوس کسی نے مرزا قادیانی سے ان کی زندگی میں نہ پوچھا کہ خیر آپ بھی تو اس لڑکی کے ماموں ہی تھے۔ مگر آپ نے اس معاملہ کو اس قدر شہرت دی کہ دس (١٠) لاکھ آدمیوں میں فخراً اس کا مشہور ہونا خود تسلیم کیا۔ (دیکھو خط بنام مرزا احمد بیگ مندرجہ باب پنجم ) اور مشہور قصوں کی طرح مرزا قادیانی ..... اور محمدی بیگم کا نام یادگار ہی رہے گا۔ بقول حافظ :
ثبت است بر جریدہ عالم دوام ما
٢ مرزا قادیانی کے پابند رواج ہونے کا مزید ثبوت۔ ٢١
نامبردہ کی ہمشیرہ کے نام کاغذات سرکاری میں درج کرا دی گئی تھی۔ اب حال کے بندوبست میں جو ضلع گورداسپور میں جاری ہے۔ نامبردہ نے یعنی ہمارے خط کے مکتوب الیہ نے اپنی ہمشیرہ کی اجازت سے یہ چاہا کہ وہ زمین جو چار ہزار یا پانچ ہزار روپیہ کی قیمت کی ہے۔ اپنے بیٹے محمد بیگ کے نام بطور ہبہ منتقل کرا دے۔ چنانچہ اس کی ہمشیرہ کی طرف سے ہبہ نامہ لکھا گیا۔ چونکہ وہ ہبہ نامہ بجز ہماری رضامندی کے بیکار تھا۔ اس لئے مکتوب الیہ نے تمام تر عجز و انکسار ہماری طرف رجوع کیا۔ کہ ہم اس ہبہ پر راضی ہو کر اس ہبہ نامہ پر دستخط کر دیں اور قریب تھا کہ دستخط کر دیتے۔ لیکن یہ خیال آیا کہ ایک مدت سے بڑے بڑے کاموں میں ہماری عادت ہے۔ جناب الٰہی سے استخارہ کر لینا چاہئے۔ سو یہی جواب مکتوب الیہ کو دیا گیا۔ پھر مکتوب الیہ کے متواتر اصرار سے استخارہ کیا گیا تھا۔ گویا آسمانی نشان کی درخواست کا وقت آ پہنچا جس کو خدا تعالیٰ نے اس پیرایہ میں ظاہر کر دیا۔
اس قادر حکیم مطلق نے مجھے فرمایا کہ اس شخص کی دختر کلاں کے نکاح کے لئے سلسلہ جنبانی کر اور ان کو کہہ دے کہ تمام سلوک و مروت (ہبہ پر رضامندی کے دستخط۔ مؤلف) تم سے اسی شرط سے کیا جائے گا اور یہ نکاح تمہارے لئے موجب برکت اور ایک رحمت کا نشان ہوگا اور ان تمام رحمتوں اور برکتوں سے حصہ پاؤ گے۔ جو اشتہار ٢٠؍ فروری ١٨٨٨ء میں درج ہیں لیکن اگر نکاح سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام نہایت ہی برا ہوگا اور جس کسی دوسرے شخص سے بیاہی جائے گی۔ وہ روزِ نکاح سے اڑھائی سال تک اور ایسا ہی والد اس دختر کا تین سال تک فوت ہو جائے گا اور ان کے گھر پر تفرقہ اور تنگی اور مصیبت پڑے گی اور درمیانی زمانہ میں
١؎ ایک مچھر کنویں میں گر پڑا۔ مالک نے نکالنے والوں سے کہا کہ اسے خصّی بھی یہیں کرلو۔ اسی طرح مرزا قادیانی نے بھی پیغام نکاح کا خوب موقع دیکھا اور جس طرح بہت سے چھوٹے خیالات کے لوگ روپے پیسے کے ذریعہ سے رشتہ ناتہ کیا کرتے ہیں۔ بالکل اسی طرح مرزا قادیانی اور ان کے فرضی اور خیالی الہام کرنے والے بھی چار پانچ ہزار روپیہ کی زمین کا لالچ دیکر کام نکالنا چاہا تھا۔ مگر وائے نصیب۔
اپنا مطلب تو نہ اس چرخ کہن سے نکلا
٢٢
بھی اس دختر کے لئے کئی کراہت اور غم کے امر پیش آئیں گے۔
پھر ان دنوں میں جو زیادہ تصریح اور تفصیل کے لئے بار بار توجہ کی گئی تو معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ نے مقرر کر رکھا ہے کہ وہ مکتوب الیہ کی دختر کلاں کو جس کی نسبت درخواست کی گئی تھی۔ ہر ایک روک دور کرنے کے بعد انجام کار اس عاجز کے نکاح میں لاوے گا اور بے دینوں کو مسلمان بنا دے گا اور گمراہوں میں ہدایت پھیلاوے گا۔ چنانچہ عربی الہام اس بارہ میں یہ ہے کہ: ”کذبوا بآیاتنا وكانوا بھا یستھزؤن . فسیكفیكھم اللہ ویردھا الیك لا تبدیل لكلمات اللہ ان ربك فعال لما یرید . انت معی وانا معك . عسى ان یبعثك ربك مقاما محمودا ‘‘ یعنی انہوں نے ہمارے نشانوں کو جھٹلایا اور وہ پہلے سے ہنسی کر رہے تھے۔ سو خدا تعالیٰ ان سب کے تدارک کے لئے جو اس کام کو روک رہے ہیں۔ تمہارا مددگار ہو گا اور انجام کار اس لڑکی کو تمہاری طرف واپس لائے گا۔ کوئی نہیں جو خدا کی باتوں کو ٹال سکے۔ تیرا رب وہ قادر ہے کہ جو کچھ چاہے وہ ہو جاتا ہے۔ تو میرے ساتھ میں تیرے ساتھ ہوں اور عنقریب وہ مقام تجھے ملے گا۔ جس میں تیری تعریف کی جاوے گی۔ یعنی گو اوّل میں احمق اور نادان لوگ بد باطنی اور بدظنی کی راہ سے بدگوئی کرتے ہیں اور نالائق باتیں منہ پر لاتے ہیں۔ لیکن آخر کار خدا تعالیٰ کی مدد دیکھ کر شرمندہ ہوں گے اور سچائی کھلنے سے چاروں طرف تعریف ہوگی۔‘‘
(خاکسار (غلام احمد ) از قادیان ضلع گورداسپور ١٠ جولائی ١٨٨٨ء مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٥٣ تا ١٥٩)
اس اشتہار کا کوئی مطلب بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ مرزا قادیانی نے نکاح کے معاملہ کے سب نشیب و فراز اس میں بیان کر دیئے ہیں۔ جو پیغام ١٠ مئی ١٨٨٨ء کے نور افشاں میں چھپا تھا۔ اس کی حقیقت ہم پہلے بیان کر چکے ہیں بہر حال مرزا قادیانی کی نفسانی خواہش کہو یا انکے خدا کا حکم اس پیش گوئی کا اخیر نتیجہ لازمی نتیجہ اور اٹل نتیجہ محمدی بیگم کا مرزا قادیانی سے نکاح ہو جانا تھا اور جیسا کہ مضمون اشتہار سے واضح ہے کوئی روک ٹوک یا شرط درمیان میں حائل نہ تھی۔ اگر تھی تو اس کا رفع ہو جانا ضروری تھا۔ کیونکہ نکاح کے ہونے نہ ہونے پر ہی مرزا قادیانی کے قول کے مطابق ان کے صدق یا کذب ، عزت یا ذلت، تعریف یا مذمت ، نیک نامی یا فضیحت کا دارو مدار اور انحصار تھا۔
٢٣
باب سوم
پیش گوئی کا نتیجہ!
ابواب گذشتہ میں ناظرین پڑھ چکے ہوں گے کہ مرزا قادیانی کو نکاح کا الہام کس زور شور سے ہوا اور انہوں نے پیغام نکاح بحکم خداوندی کس تاکید کے ساتھ پہنچایا اور پھر اشتہار کے ذریعہ اس کی تفصیل و تشریح کس صفائی اور وضاحت سے کی اور جیسا کہ باب آئندہ سے ظاہر ہوگا۔ بار بار الہی وعدوں، قرآنی آیتوں، قسموں ، اور حدیثوں سے اس کے پورے ہونے کا کیسا قطعی یقین دلایا اور محض اسی پر اکتفا نہیں کی۔ بلکہ روپیہ پیسہ زمین اور جائداد کا لالچ بھی دلایا اور کامل بائیس سال تک مرزا قادیانی کو کتنے الہام اس نکاح کے متعلق ہوئے۔ جن میں اس نکاح کو انہوں نے اپنے صدق و کذب کا معیار قرار دیا اور پھر ان الہامات و بشارات خداوندی پر بھروسہ نہ کرتے ہوئے۔ مرزا قادیانی نے کیسی کیسی عجیب و غریب تدابیر اس لڑکی کے حصول کے لئے کیں اور کیا کیا حیلے کئے جن کا مفصل حال باب پنجم میں درج ہے کہیں لڑکی کے باپ کو ترغیب و ترہیب کے خط لکھے۔ کہیں اپنے بیٹے کی بہو سے خط لکھوائے اپنے سمدھی اور سمدھن کو خطوط کے ذریعہ تنگ کیا۔ کہ یا تو میرا نکاح کرادو۔ ورنہ اپنے لڑکے سے تمہاری لڑکی کو طلاق دلا دوں ١؎ گا۔ اپنے رقیب یعنی محمد بیگم کے منگیتر مرزا سلطان محمد صاحب کے پاس کوشش کرنے سے بھی نہ چوکے براہ راست پے در پے خطوط کے ذریعہ ان کو بہت کچھ ڈرایا اور دھمکایا۔ کہ وہ ان کی خاطر ان کی مطلوبہ سے نکاح نہ کرے۔ آخر سب تدابیر میں ناکام رہ کر اپنی زوجہ اوّل کو طلاق دے دی اور اس کے بطن سے پیدا شدہ بیٹوں کو محروم الارث قرار دیا اور چھوٹے بیٹے کی بیوی کو نکال دیا۔ غرض زمینی آسمانی کوئی کوشش جو مرزا قادیانی کے حد امکان میں تھی۔ وہ باقی نہیں چھوڑی ٢؎ مگر تقدیر کے آگے ایک پیش نہ چلی ٣؎ ۔
١؎ تمام دنیا کے پیشوایان مذاہب اور مقدس لوگوں میں ڈھونڈے سے بھی کوئی ایسی نظیر نہ ملے گی۔ کہ بغیر لڑکی کے ولی جائز کی رضا مندی کے محض جبر و اکراہ سے کسی نے کوئی جورو حاصل کرنے کی کوشش کی ہو۔
٢؎ اگر گورنمنٹ آف انڈیا کی حکومت نہ ہوتی اور طوائف الملوکی کا زمانہ ہوتا تو غالباً مرزا قادیانی زبردستی کرنے سے بھی نہ چوکتے۔
سوزن تدبیر ساری عمر گو سیتی رہے
٢٤
چونکہ اللہ تعالیٰ کو مرزا قادیانی کے صدق و کذب کا فیصلہ فرمانا منظور تھا۔ اس لئے تحدی کی دوسری پیش گوئیوں کی طرح ان کی یہ عظیم الشان پیش گوئی بھی محض غلط اور پادر ہوا ثابت ہوئی اور دنیا نے دیکھ لیا کہ ان کے وہ تمام الہامات جو اس پیش گوئی کے سلسلہ میں تھے۔ سارے کے سارے خالص جھوٹ نکلے اور ان کی تمام مساعی محض ناکام رہیں اور ان کی وہ سب مضطربانہ دعائیں۔ جو اس بارہ میں کی گئیں۔ سراسر نامقبول اور مردود ثابت ہوئیں۔ کیونکہ وہ لڑکی ایک منٹ کے لئے بھی مرزا قادیانی کے نکاح میں نہ آئی۔ بلکہ مرزا سلطان محمد قادیانی ساکن پٹی سے بیاہی گئی اور وہ اپنے ارادہ کا ایسا پکا اور جری نکلا کہ مرزا قادیانی کے الہاموں اور پیغاموں ترغیب و ترہیب اور ڈرانے اور دھمکانے کے خطوط کی اس نے مطلق کچھ پروا نہ کی اور بقول حضرت مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسریؒ مرزا قادیانی کی زندگی بھر ان کی چھاتی پر مونگ دلتا رہا۔ جنگ یورپ میں بھی شامل ہوا اور اتفاق سے سر میں گولی لگی۔ مگر مرزا قادیانی کو کاذب تر ثابت کرتے رہنے کے لئے بفضلہ تعالیٰ اب تک زندہ موجود ہے اور کئی بچوں کا باپ ہے اور اس کو الہاموں اور وحیوں سے ڈرانے والے یعنی مرزا قادیانی اس کی آنکھوں کے سامنے اس کی زندگی میں ہی دنیا سے نامراد و ناکام تشریف لے گئے۔
اب ناظرین غور فرمائیں کہ جب اتنی بڑی عظیم الشان پیش گوئی کا یہ حشر ہوا ہے۔ جس کے متعلق متواتر بیسیوں الہامات ہوئے اور سینکڑوں کتابوں ، رسالوں ، اشتہاروں اور اخباروں میں مرزا قادیانی اس کے پورا ہونے کا تا دم مرگ یقین دلاتے رہے۔ تو ان کے دیگر دعاوی مسیحیت، مہدویت ، نبوت و رسالت وغیرہ کے متعلقہ الہاموں اور وحیوں کا برؤے حواس صحیحہ و عقل سلیمہ کیونکر اعتبار ہو سکتا ہے۔
تورات مقدس میں جھوٹے نبیوں کی شناخت اس طرح لکھی ہے کہ: اگر تو اپنے دل میں کہے کہ میں کیونکر جانوں کہ یہ بات خداوند کی کہی ہوئی نہیں۔ تو جان رکھ کہ جب نبی خداوند کے نام سے کچھ کہے اور وہ جو اس نے کہا ہے واقع نہ ہو یا پورا نہ ہو تو وہ بات خداوند نے نہیں کہی۔ بلکہ اس نبی نے گستاخی سے کہی ہے۔
جس کا صاف اور صریح مطلب یہ ہے کہ سچے نبی کی کوئی پیش گوئی جھوٹی نہیں ہو سکتی اور جس مدعی کی پیش گوئی غلط نکلے ۔ سمجھو کہ وہ گستاخ جھوٹا اور کاذب ہے اور ہے بھی ٹھیک اگر سچے نبیوں کے الہام یا وحی اس طرح غلط نکلتے تو سچے اور جھوٹے میں مابہ الامتیاز کیا رہتا؟۔ ایسا ہونے سے تو الہام و وحی سے امان اٹھ جاتی ہے۔
٢٥
خود مرزا قادیانی اپنی مشہور کتاب نزول المسیح میں لکھتے ہیں کہ ”جس دل پر درحقیقت آفتاب وحی الٰہی تجلی فرماتا ہے۔ اس کے ساتھ ظن اور شک کی تاریکی ہرگز نہیں رہتی۔ کیا خالص نور کے ساتھ ظلمت رہ سکتی ہے۔“
(نزول المسیح ص٨٩، خزائن ج١٨ص٤٦٧)
آگے چل کر مزید ارشاد فرماتے ہیں کہ ”خدا تعالیٰ کا وہ مکالمہ یقین تک پہنچاتا ہے۔ جو قطعی اور یقینی ہو جس پر ایک ملہم قسم کھا کر کہہ سکتا ہے کہ وہ اسی رنگ کا مکالمہ ہے۔ جس رنگ کا مکالمہ آدم سے ہوا اور پھر شیث سے ہوا اور پھر نوح سے ہوا اور پھر ابراہیم سے اور پھر اسحاق سے اور پھر اسماعیل سے اور یعقوب سے ہوا اور پھر یوسف اور پھر چار سو برس کے بعد موسیٰ سے اور پھر یشوع ابن نون سے ہوا اور پھر داؤد سے ہوا اور پھر سلیمان سے اور پھر الیسع نبی سے ...... اور دانیال سے اور اسرائیلی سلسلہ کے آخر میں عیسیٰ ابن مریم سے ہوا اور سب سے اتم اور اکمل طور پر حضرت محمدﷺ سے ہوا۔ لیکن اگر کوئی کلام یقین کے مرتبہ سے کم تر ہو تو وہ شیطانی کلام ہے۔ نہ ربانی کیونکہ تم جانتے ہو کہ جب آفتاب طلوع کرتا ہے اور اپنی کرنیں زمین پر چھوڑتا ہے تو اس کی روشنی ایسی صاف دنیا پر پڑتی ہے کہ کسی دیکھنے والے کو اس کے نکلنے میں شک باقی نہیں رہتا اور نہ وہ کہہ سکتا ہے کہ کل کا سورج تو یقینی تھا۔ مگر آج کا شکی کیا خدا کے کلام کا طلوع سورج کے طلوع سے کچھ کم تر ہے۔“
(نزول المسیح ص١٠٨،١٠٩، خزائن ج١٨ص٤٨٦،٤٨٧)
اب فیصلہ ناظرین خصوصاً منصف مزاج مرزائی صاحبان کے ہاتھ میں ہے۔ وہ نکاح آسمانی کے تمام الہاموں، خدائی وعدوں، قرآنی آیات کی وحیوں کو مکرر سہ کرر غور سے پڑھیں اور پھر اس عظیم الشان پیش گوئی کے نتیجہ متذکرہ بالا کا عام اسلامی و عقلی اصول توریت مقدس کے حوالہ اور خود مرزا قادیانی کے مسلمات سے جو ایک بالکل صحیح اور صاف بیان ہے۔ مقابلہ کریں اور سوچیں کہ کیا انبیائے کرام میں سے کسی نے کبھی الہاماً ایسی پیش گوئی فرمائی؟۔ جس کی تائید بعد کے متواتر الہامات سے برسوں ہوتی رہی اور اس نبی نے اسے اپنے صدق و کذب کا نہایت ہی عظیم الشان معیار بھی قرار دیا اور بالآخر وہ ہر طرح سے غلط اور باطل ہی ثابت ہوئی اور کیا کسی نبی کا کوئی دعوے غلط ثابت ہو جانے کے بعد پھر بھی اسے اپنے دعوے میں سچا اور نبی و رسول سمجھا گیا؟۔ کیا گذشتہ انبیائے کرام میں جن کے نام مرزا قادیانی نے حوالہ مندرجہ بالا میں گنوائے ہیں۔ کوئی ایسی نظیر موجود ہے؟
١؎ مرزا قادیانی کی تصانیف کی ضخامت کا راز ملاحظہ ہو۔ کس طرح عبارت کو طول دیا ہے۔
٢٦
اپنی مشہور کتاب نزول المسیح میں لکھتے ہیں کہ ”جس دل پر درحقیقت اس کے ساتھ ظن اور شک کی تاریکی ہرگز نہیں رہتی۔ کیا خالص نور
(نزول المسیح ص ٨٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٦٧)
ارشاد فرماتے ہیں کہ ”خدا تعالیٰ کا وہ مکالمہ یقین تک پہنچاتا ہے۔ جو قسم کھا کر کہہ سکتا ہے کہ وہ اسی رنگ کا مکالمہ ہے۔ جس رنگ کا مکالمہ اور پھر نوح سے ہوا اور پھر ابراہیم سے اور پھر اسحاق سے اور پھر اور پھر یوسف اور پھر چار سو برس کے بعد موسیٰ سے اور پھر یشوع سے ہوا اور پھر سلیمان سے اور پھر الیسع نبی سے ...... اور دانیال سے عیسیٰ ابن مریم سے ہوا اور سب سے اتم اور اکمل طور پر حضرت ۔ کلام یقین کے مرتبہ سے کم تر ہو تو وہ شیطانی کلام ہے۔ نہ ربانی پر طلوع کرتا ہے اور اپنی کرنیں زمین پر چھوڑتا ہے تو اس کی روشنی دیکھنے والے کو اس کے نکلنے میں شک باقی نہیں رہتا اور نہ وہ کہہ مگر آج کا شکی کیا خدا کے کلام کا طلوع سورج کے طلوع سے کچھ کم
(نزول المسیح ص ١٠٨، ١٠٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٨٦، ٤٨٧)
فیصلہ منصف مزاج مرزائی صاحبان کے ہاتھ میں ہے۔ وہ نکاح وعدوں، قرآنی آیات کی وحیوں کو مکرر سہ کرر غور سے پڑھیں اور یہ تذکرہ بالا کا عام اسلامی و عقلی اصول توریت مقدس کے حوالہ سے جو ایک بالکل صحیح اور صاف بیان ہے۔ مقابلہ کریں اور سوچیں نے کبھی الہاماً ایسی پیش گوئی فرمائی ؟ جس کی تائید بعد کے متواتر اس نبی نے اسی اپنے صدق و کذب کا نہایت ہی عظیم الشان طرح سے غلط اور باطل ہی ثابت ہوئی اور کیا کسی نبی کا کوئی دعوے اسے اپنے دعوے میں سچا اور نبی و رسول سمجھا گیا ؟۔ کیا گذشتہ قادیانی نے حوالہ مندرجہ بالا میں گنوائے ہیں۔ کوئی ایسی نظیر
تصنیف کی ضخامت کا راز ملاحظہ ہو۔ کس طرح عبارت کو طول
آئندہ بابوں میں ہم اس نکاح کے متعلق مرزا قادیانی کی آسمانی و زمینی تدابیر تجاویز پر تفصیلی نظر ڈال کر ان پر بلحاظ نتیجہ پیش گوئی مناسب روشنی ڈالیں گے۔
باب چہارم
نکاح آسمانی کے متعلق مرزا قادیانی کے الہامات و تفہیمات و تشریحات
ان کے بالمقابل ہماری مفصل جرح اور اعتراضات
ابواب گذشتہ میں پیغام نکاح کی بحکم ربانی سلسلہ جنبانی کے متعلق مرزا قادیانی کی تحریروں سے مفصل حالات درج ہو چکے ہیں۔ ان کے علاوہ مرزا قادیانی کو حضور سرور کائنات فخر موجودات ﷺ کے ہم پلہ۔ قرآنی لفظوں میں بحق خود اس وحی کے نازل ہونے کا بھی دعویٰ تھا۔
(اربعین نمبر ٣ ص ٣٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٦)
یعنی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مرزا قادیانی اپنی خواہش نفسانی سے نہیں بولتے بلکہ وہی کہتے ہیں۔ جو ان پر وحی نازل ہوتی ہے۔ لہٰذا اس باب میں وہ الہامات و اقوال بالترتیب درج کئے جائیں گے۔ جو مرزا قادیانی نے نکاح آسمانی (محمدی بیگم) کے متعلق وقتاً فوقتاً اپنی کتابوں اشتہاروں اور اخباروں میں شائع کئے اور اس پیش گوئی کی اہمیت کے متعلق ہم پہلے اور دوسرے باب میں بیان کر آئے ہیں کہ مرزا قادیانی نے اس کو اپنی صدق و کذب کا معیار قرار دیا تھا۔ اس لئے اندریں بارہ جو کچھ مرزا قادیانی نے لکھا ہے۔ حسب ادعاء ان کے۔ ما ینطق عن الهویٰ ...... الخ ! سے باہر نہیں ہو سکتا۔
پس اگر مرزا قادیانی کا کوئی مرید ان اقوال و الہامات مندرجہ ذیل کو مرزا قادیانی کا اجتہاد کہہ کر ان میں غلطی کا ہونا تسلیم کرے۔ تو سمجھو کہ اسے نہ مرزا قادیانی کے دعوؤں پر ایمان ہے۔ نہ ان کے الہاموں پر۔
بہر حال اصل تحریروں کو دیکھ کر ناظرین صحیح نتیجہ پہنچ سکیں گے کہ ہمارا یہ لکھنا کس حد تک راستی پر مبنی ہے۔ (انشاء اللہ)
ا۔ مرزا قادیانی کے صاحبزادے اور مرزائیوں کے دوسرے نام نہاد خلیفہ قادیان مرزا محمود نے حضرت ختمی منزلت ﷺ سے مرزا قادیانی کو افضل تحریر کیا ہے۔ ملاحظہ ہو :
(حقیقت النبوۃ ص ٤٠، انوار خلافت ص ٤٨)
اول! مرزا قادیانی کی عبارت اور بعد میں ہماری تصریحات درج ہیں۔
- ١....... نکاح آسمانی کا سنگ بنیاد
”فاوحی اللہ الی ان اخطب صبیۃ الکبیرۃ لنفسک وقل لہ لیصاھرک اولا ۔ ثم لیقتبس من قبسک ! “ ”اللہ نے میری طرف وحی بھیجی کہ اس (احمد بیگ) کی بڑی لڑکی کو اپنے لئے مانگ اور کہہ دے کہ پہلے وہ تمہیں دامادی میں قبول کرے۔ پھر تمہارے نور سے روشنی حاصل کرے۔“
- ب...... اس خدائے قادر و حکیم مطلق نے فرمایا کہ اس شخص (احمد بیگ) کی بڑی
لڑکی کے نکاح کے لئے درخواست کر۔
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٧٢، خزائن ج ٥ ص ایضاً، اشتہار ١٠؍جولائی ١٨٨٨ء)
عبارت مذکورہ بالا سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مرضی مرزا قادیانی کو محمدی بیگم کا شوہر بنانے کی تھی اور اسی ضرورت کے لئے بذریعہ وحی حکم صادر فرمایا تھا۔ کہ نکاح کا پیغام دیدو۔ لیکن جب کہ منشا الٰہی کے مطابق نہ مرزا قادیانی اس کے دولہا بنے اور نہ وہ ان کی دلہن اور اللہ کریم کی ذات ہمارے ایمانیات کے مطابق عبث اور فضول گوئی سے منزہ و مبرا ہے۔ تو صریحاً بلا کسی حیل حجت کے بدرجہ حق الیقین ظاہر اور ثابت ہے کہ یہ پیغام بحکم خداوندی ہرگز نہیں تھا اور مرزا قادیانی کو یا تو سرے سے یہ وحی ہوئی ہی نہیں تھی اور اگر ہوئی تھی تو رحمانی وحی نہ تھی۔ ممکن ہے کہ شیطان نے کوئی وسوسہ ڈالا ہو۔ اگر رحمانی وحی ہوتی تو ضرور ضرور سچ ہو کر یعنی وقوع میں آ کر رہتی۔ پس جب کہ نکاح کی پیش گوئی کے دعویٰ کا سنگ بنیاد ہی غلط وحی تھی تو پھر مزید پیش گوئیوں پر اس قصر خیالی کی عمارت کیوں کر تیار ہوتی۔ بقول یہ کہ:
- ٢...... بار بار کی توجہ سے وہی الہام نکاح!
”ان دنوں میں جو زیادہ تصریح اور تفصیل کے لئے بار بار توجہ کی گئی۔ تو معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ نے یہ مقرر کر رکھا ہے کہ وہ مکتوب الیہ کی دختر کلاں کو جس کی نسبت درخواست کی گئی تھی۔ ہر ایک روک دور کرنے کے بعد انجام کار اس عاجز کے نکاح میں لا دے گا۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٥٨، اشتہار ١٠؍جولائی ١٨٨٨ء)
اگر بار بار توجہ کرنے سے مرزا قادیانی کو صحیح طور سے منجانب اللہ یہی معلوم ہوا تھا۔ جو انہوں نے پبلک پر ظاہر کیا۔ تو ضروری تھا کہ انجام کار نکاح ظہور میں آتا اور خدا تعالیٰ اپنی مقرر
٢٨
فرمودہ ذمہ داری سے سبکدوش ہوتا۔ مگر نکاح کے نہ ہونے سے ثابت ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کی بار بار کی توجہ کا یہ جواب منجانب اللہ ہرگز نہ تھا اور نہ اللہ تعالیٰ کا ان کے ساتھ یہ اقرار تھا کہ انجام کار اس لڑکی کو تمھارے نکاح میں لاؤں گا کیونکہ خدا تعالیٰ کو جس کی شان كن فيكون اور لا تخلف المیعاد ہے یہ کام کچھ کٹھن نہ تھا۔ ایسے کام کو اس کے ادنیٰ اشارہ سے اس کا کوئی ادنیٰ بندہ جیسا کہ گورنر پنجاب یا اس کا کوئی معمولی ماتحت پانچ منٹ میں سر انجام دے کر رپورٹ تعمیلی گذارش کرتا بلکہ اگر اللہ ہی کی مرضی ہوتی تو محمدی بیگم کو اس کے ورثاء خود مرزا قادیانی کے گھر چھوڑ آتے۔ الغرض اس کے وعدوں اور اقراروں میں تخلف ہرگز ہرگز نہیں مانا جاسکتا۔ اس لئے بار بار کی توجہ کے حوالہ سے جو کچھ کہا گیا وہ محض افترا علی اللہ تھا۔ یا مرزا قادیانی کے نفس امارہ کا دھوکا۔ یا شیطانی القاء جس کا بین ثبوت یہ ہے کہ نکاح ظہور میں نہ آیا اور اس تحریر کے خلاف مرزا قادیانی کو سخن سازانہ حیلے تراشنے پڑے۔
٣...... الہامات نکاح
”كذبوا بآياتنا وكانوا بها يستهزؤن . فسيكفيكهم الله ويرد ها اليك . لا تبديل لكلمات الله . ان ربك فعال لما يريد انت معى وانا معك عسى ان يبعثك ربك مقاماً محموداً “ یعنی انہوں نے ہمارے نشانوں کو جھٹلایا اور وہ پہلے سے ہنسی کر رہے تھے۔ سو خدا تعالیٰ ان سب کے تدارک کے لئے جو اس کام کو روک رہے ہیں تمہارا مدد گار ہوگا اور انجام کار اس لڑکی کو تمہاری طرف واپس لائے گا۔ کوئی نہیں جو خدا کی باتوں کو ٹال سکے۔ تیرا رب وہ قادر ہے کہ جو کچھ چاہے وہی ہو جاتا ہے۔ تو میرے ساتھ اور میں تیرے ساتھ ہوں اور عنقریب وہ مقام تجھے ملے گا۔ جس میں تیری تعریف کی جائے گی۔ یعنی گو اوّل میں احمق اور نادان لوگ بد باطنی اور بد ظنی کی راہ سے بدگوئی کرتے ہیں اور نالائق باتیں منہ پر لاتے ہیں۔ لیکن آخر کار خدا تعالیٰ کی مدد دیکھ کر شرمندہ ہوں گے اور سچائی کھلنے سے چاروں طرف تعریف ہوگی۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٥٨، اشتہار ١٠؍جولائی ١٨٨٨ء)
یہ الہام بھی سراسر جھوٹا نکلا اور مرزا قادیانی کے مخالف حق پر ثابت ہوئے کیونکہ نہ مرزا سلطان محمد (شوہر محمدی بیگم) نے ہرگز نکاح کی روک دور کی۔ نہ خدا تعالیٰ مدد کر کے اس لڑکی کو مرزا قادیانی کے پاس لایا اور مرزا قادیانی کا وہ خدا جس نے یہ غلط الہام کیا قادر نہیں بلکہ عاجز ثابت ہوا جو کچھ نہ کر سکا اور اس کے سب وعدے ٹل گئے۔ خداوند عزوجل نہ مرزا قادیانی کے ساتھ تھا۔ نہ اس معاملہ میں مرزا قادیانی کا خداوند کریم سے معاملہ تھا۔ نکاح سے ناکام مرنے پر مرزا قادیانی کی
٢٩
جو تعریف ہوئی۔ وہ دنیا جانتی ہے۔ مخالفوں کو مرزا قادیانی احمق، نادان، بد باطن، بدظن ظاہر کر کے اپنے ملہم کی مدد سے ڈراتے تھے۔ مگر ناظرین دیکھ لیں کہ سچے خدا نے مرزا قادیانی کو اندریں بارہ کیسا شرمندہ اور ذلیل کیا اور الفاظ احمق، نادان وغیرہ کس پر عائد ہوئے؟۔ مرزائی صاحبان مرزا قادیانی کی اس شیریں بیانی کو دیکھیں اور اس کے نتیجہ پر خدا کا خوف کریں۔
٤....... آسمانی تفہیم
”خدا تعالیٰ نے انہیں کی بھلائی کے لئے ان ہی کے تقاضے سے انہیں کی درخواست سے اس الہامی پیش گوئی کو جو اشتہار میں درج ہے۔ ظاہر فرمایا ہے تا کہ وہ سمجھیں کہ وہ درحقیقت موجود ہے....... ہمیں اس رشتہ کی درخواست کی کچھ ضرورت نہیں تھی۔ سب ضرورتوں کو خدا تعالیٰ نے پورا کر دیا تھا....... یہ رشتہ جس کی درخواست کی گئی ہے۔ محض بطور نشان کے ہے۔ تا کہ خدا تعالیٰ اس کنبہ کے منکرین کو عجوبہ قدرت دکھلاوے۔“
(اشتہار ١٥؍جولائی ١٨٨٨ء مجموعہ اشتہارات ج١ ص ١٦١، ١٦٢)
مرزا قادیانی کا یہ لکھنا کہ ہمیں اس رشتہ کی ضرورت نہ تھی۔ ایک بالکل دنیا سازی اور چال بازی کی بات اور راستی کے صریح خلاف ہے۔ دنیاوی ضرورت کا اظہار تو وہ اشتہار (مجموعہ اشتہارات ج١ ص ١٥٣، ١٥٤، ١٠؍جولائی ١٨٨٨ء) کے شروع میں ہی کرتے ہیں۔ جہاں انہوں نے خاوندوں کی حاجت براری کے بارہ میں عورتوں کے فطری نقائص اور اشارتاً اپنا قوی الطاقت ہونا ظاہر کر کے اس مطالبہ نکاح کو نہ صرف جائز بلکہ ضروری اور واجب قرار دیا اور تریاق القلوب میں ایک الہامی نسخہ مقوی باہ سے جس کا نام بھی ایک فرشتہ ظاہر کیا گیا ہے۔ باوجود اپنی پیرانہ سالی اور دائم المرضی کے پچاس مردوں کی قوت مردی کا حاصل ہو جانا بیان کیا ہے۔ (تریاق القلوب ص ٣٥، ٣٦، خزائن ج ١٥ ص ٢٠٤) اور دینی ضرورت الہام ”یا احمد اسکن انت و زوجک الجنة“ (براہین احمدیہ ص ٤٩٧، خزائن ج ١ ص ٥٩٠) اور تفسیر حدیث ”یتزوج ویولد لہ“ سے ظاہر ہے۔ (حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧) پھر اگر بقول مرزا قادیانی خدا تعالیٰ نے انہیں کی بھلائی کے لئے یہ تحریک کی تھی۔ تو اس بھلائی کا کچھ وجود ظہور میں آتا۔ یہ تحریک عبث کیوں رہی اور انہیں کے تقاضے سے اور انہیں کی درخواست سے یہ پیش گوئی خدا تعالیٰ نے ظاہر فرمائی تھی۔ تو اس کو اس وقت تک کیوں ٹالا۔ جبکہ احمد بیگ ایک بیعنامہ دستخط کرانے کے لئے ان کے پاس آیا۔ کیا ایسا وقت میں رشتہ کا سوال کرنا اس ہاتھ دے اور اس ہاتھ لے کا مصداق نہیں ٹھہرتا؟۔ علاوہ ازیں اگر بقول مرزا قادیانی یہ نکاح محض بطور نشان (معجزہ) اور عجوبہ قدرت
٣٠
کے ہوتا تھا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی تحریک ہوئی تھی۔ تو پھر مرزا قادیانی نے اپنے نامہربان اعزہ اور محمدی بیگم کے اقارب کی کیوں منتیں اور خوشامدیں کیں۔ کیا یہ ذلیل تحریرات بلاضرورت ہی محض ورق سیاہ کرنے کے شوق میں لکھی گئیں۔ کسی عورت کا رشتہ طلب کرنے میں ایسی شاعرانہ خوشامد، دعا گوئی اور چاپلوسی، اس قدر عاجزی اور انکساری، اتنی بے صبری اور فروتنی، کسی شریف باحوصلہ اور عالی ظرف انسان سے ہرگز ممکن نہیں۔ ایک مدعی امامت و نبوت و رسالت وغیرہ تو درکنار، ایک معمولی دنیا دار باعزت آدمی بھی کسی کے آگے اتنی عاجزی اور منت سماجت سے ایسی گری ہوئی درخواستیں نہیں کرسکتا۔ خصوصاً اس حالت میں کہ مرزا قادیانی ان تمام مکتوب الیہم کو بے دین بد اعتقاد خدا اور رسول کے دشمن بیان کرتے تھے۔
(مفصل اگلے باب میں ملاحظہ ہو)
بھلا اگر مرزا احمد بیگ زمین، جائیداد اور روپیہ پیسہ کے لالچ میں جس کی مرزا قادیانی نے بار بار اس کو تحریص و ترغیب دلائی۔ اپنی لڑکی دے بھی دیتا۔ تو اس میں عجوبہ قدرت کی کون سی بات تھی۔ کیا آج کل ایک ذلیل آدمی سے لے کر بڑے ساہوکار تک ہزار دو ہزار دس ہزار یا زیادہ و کم روپیہ دے کر رشتہ کا لین دین نہیں کر لیتے۔ جیسا طالب بڑی عمر کا ہوتا ہے۔ مرزا قادیانی کی طرح وہ زیادہ ہی رقم پیش کیا کرتا ہے۔ پھر کیا اسے معجزہ اور عجوبہ قدرت کہا جاسکتا ہے؟۔
٥...... سات الہاموں کا مجموعہ
”خدا تعالیٰ نے پیش گوئی کے طور پر اس عاجز پر ظاہر فرمایا کہ مرزا احمد بیگ ولد مرزا گماں بیگ ہوشیار پوری کی دختر کلاں انجام کار تمہارے نکاح میں آئے گی اور وہ لوگ بہت عداوت کریں گے اور بہت مانع آئیں گے اور کوشش کریں گے کہ ایسا نہ ہو لیکن آخرکار ایسا ہی ہوگا اور فرمایا کہ خدا تعالیٰ ہر طرح سے اس کو تمہاری طرف لائے گا۔ باکرہ ہونے کی حالت میں یا بیوہ کر کے اور ہر ایک روک کو درمیان سے اٹھا دے گا اور اس کام کو ضرور پورا کرے گا۔ کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٩٦، خزائن ج ٣ ص ٣٠٥)
اس عبارت میں سات الہامی فقرے ہیں۔ جو سب کے سب غلط ثابت ہوئے اور اس سے صاف واضح ہو گیا کہ یہ ناحق اللہ تعالیٰ پر افترا کیا گیا تھا۔ ورنہ اس زور شور کے وعدے معمولی آدمی بھی ضروری اور لازمی طور پر پورے کیا کرتے ہیں۔ چہ جائے کہ وہ قادر مطلق جس کی شان لا یخلف المیعاد ہے۔ ایسے پکے وعدے کر کے ایفا نہ کرے اور باوجود علیٰ کل شئی قدیر ہونے کے ایسے صاف صاف الہامات کو جن میں تاویل اور سخن سازی کی ذرہ بھر بھی گنجائش نہیں پورا نہ کرے۔
٣١
٦....... یہ پیش گوئی خدا کا فعل ہے
اشتہار ١٠ جولائی ١٨٨٨ء کا حوالہ دے کر لکھتے ہیں کہ: ”اس کی نسبت آریوں کے بعض منصف مزاج لوگوں نے بھی شہادت دی کہ اگر یہ پیش گوئی پوری ہو جائے تو بلاشبہ خدا کا فعل ہے اور یہ پیش گوئی ایک سخت قوم کے مقابل پر ہے۔ جنہوں نے گویا دشمنی اور عناد کی تلواریں کھینچی ہوئی ہیں اور ہر ایک کو جس کو ان کے حال کی خبر ہو گی۔ وہ اس پیش گوئی کی عظمت خوب سمجھتا ہو گا...... جو شخص اشتہار کو پڑھے گا۔ وہ کیسا ہی متعصب ہوگا۔ اس کو اقرار کرنا پڑے گا کہ مضمون اس پیش گوئی کا انسان کی قدرت سے بالا تر ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٩٧، خزائن ج ٣ ص ٣٠٥)
کیا پیش گوئی کے غلط ثابت ہونے سے منصف مزاج آریوں، عیسائیوں اور دیگر مذاہب کے لوگوں کی نظر میں مرزا قادیانی سچے ثابت ہوئے اور کیا یہ لوگ اس پیش گوئی کو اب بھی خدا کا فعل اور انسانی قدرت سے بالا تر کہتے ہیں؟۔ کیا اس اقرار کی رو سے مرزا قادیانی سچے ثابت ہوتے ہیں یا جھوٹے؟۔
مرزائی صاحبان ٹھنڈے دل سے ان باتوں پر غور کریں اور سوچیں کہ اگر چہ کسی عورت سے نکاح کرنے میں کامیاب ہو جانا قدرت انسانی سے بالاتر نہیں ہے۔ یہاں تک کہ اگر ایک فقیر بچہ بھی اپنی کوششوں سے کسی بادشاہ زادی سے نکاح کرے۔ تو اہل خرد کے نزدیک یہ امر قدرت انسانی سے بالا تر نہیں ہو سکتا لیکن الحمد للہ کہ باوجود سینکڑوں علوی اور سفلی تدابیر کے مرزا قادیانی اس رشتہ کے حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ ورنہ اگر نکاح ہو جاتا تو وہ اور ان کے نام لیوا اس پر اتنا اتراتے اور اتنا غرور کرتے کہ جس کی حد و انتہا نہ ہوتی۔ بلکہ اور بہت سے مسلمانوں کے ایمان میں خلل ڈالنے کا باعث ہوتے اور ہر جگہ مرزا قادیانی کی صداقت میں اس ایک ہی دلیل کو سب سے پہلے پیش کیا جایا کرتا۔ لیکن اب معاملہ برعکس ہے اور جس اعتراض سے مرزائی صاحبان کتراتے ہیں اور جس کو ان کا دل بھی مانتا ہے کہ اس کا کوئی معقول جواب نہیں ہو سکتا۔ وہ یہی لاجواب اعتراض ہے۔ مرزائی صاحبان یاد رکھیں کہ اگر دیگر مذاہب کی تثلیث اور آواگون جیسے باطل عقائد ان کی نظر میں بروز محشر قابل مؤاخذہ ہیں۔ تو اس نکاح والے معاملہ میں باوجود صاف اور صریح طور پر صدق اور کذب کا فیصلہ ہو جانے کے آپ کا بے جا طرف داری کرنا اور اپنی ضد پر اڑے رہنا۔ اس روز ضرور قابل مؤاخذہ ہوگا۔
٧....... قرآنی آیت کا مزید الہام
”جب یہ پیش گوئی معلوم ہوئی اور ابھی پوری نہیں ہوئی تھی۔ (جیسا کہ اب تک بھی جو
٣٢
١٦ اپریل ١٨٩١ء سے پوری نہیں ہوئی) تو اس کے بعد اس عاجز کو ایک سخت بیماری آئی یہاں تک کہ قریب موت کے نوبت پہنچ گئی۔ بلکہ موت کو سامنے دیکھ کر وصیت بھی کر دی گئی۔ اس وقت گویا پیش گوئی آنکھوں کے سامنے آ گئی اور یہ معلوم ہو رہا تھا کہ اب آخری دم ہے اور کل جنازہ نکلنے والا ہے۔ تب میں نے اس پیش گوئی کی نسبت خیال کیا کہ شاید اس کے اور معنے ہوں گے جو میں سمجھ نہیں سکا۔ تب اسی حالت قریب الموت میں مجھے الہام ہوا ’’ الحق من ربک فلا تکونن من الممترین‘‘ یعنی یہ بات تیرے رب کی طرف سے سچ ہے۔ تو کیوں شک کرتا ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص ٣٩٨، خزائن ج٣ ص ٣٠٦،٣٠٥)
مرزائی صاحبان انصاف اور عقل کی نظر سے ملاحظہ کریں کہ اس بیان میں مرزا قادیانی نے پیش گوئی کی صراحت کیسے صاف اور کھلے معنوں میں کی ہے۔ مرزا قادیانی کی نزع کی سی حالت اپنے نکاح کا تصور اپنی فہم کا قصور اور اس نازک وقت پر خدا کی طرف سے آیت قرآنی کا الہام ۔’’ الحق من ربک فلا تکونن من الممترین ‘‘معمولی باتیں نہیں ہیں۔ یہ کیسا صریح اور واضح اقرار ہے کہ نکاح ضرور ہوگا۔ ضرور ہوگا ہرگز نہیں ٹلے گا۔ لیکن نتیجہ ہوتا ہے وہی ایک بات کہ الہام بھی جھوٹا، ملہم بھی مفتری اور الہام کرنے والے کو تو کیا کہا جائے۔ بقول یہ کہ: دن غلط ، رات غلط ، صبح غلط ، شام غلط ’’ملہم سے زیادہ کوئی الہام کے معنی نہیں سمجھ سکتا ۔‘‘
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٨، خزائن ج ٢٢ ص ٤٣٨)
پس سوائے مرزا قادیانی کو ناحق پر سمجھنے کے پیش گوئی کا کوئی اور نتیجہ نکل ہی نہیں سکتا۔
- ٨...... نکاح کا اشتہار بحکم الہی دیا گیا
’’اس عاجز (مرزا) نے ایک دینی خصومت پیش آ جانے کی وجہ سے ...... اپنے قریبی مرزا احمد بیگ ولد مرزا گامان بیگ ہوشیار پوری کی دختر کلاں کی نسبت بحکم و الہام الہی یہ اشتہار دیا تھا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے یہی مقدر اور قرار یافتہ ہے کہ وہ لڑکی اس عاجز کے نکاح میں آئے گی ...... خواہ پہلے ہی باکرہ ہونے کی حالت میں آ جائے اور یا خدا تعالیٰ بیوہ کر کے اس کو میری طرف لے آوے۔‘‘
(اشتہار ٢ مئی ١٨٩١ء ، مجموعہ اشتہارات ج١ ص ٢١٩)
نتیجہ دعویٰ کے برعکس نکلنے سے ثابت ہے کہ نکاح کا اوّل پیغام بحکم الہی دیا گیا اور نہ خط بحکم الہی رقم کیا گیا اور نہ اشتہار بحکم الہی جاری کیا گیا اور نہ اللہ کریم کی طرف سے یہ مقدور تجویز ہوا تھا۔ کہ یہ لڑکی بحالت بکر یا بیوگی مرزا قادیانی کے نکاح میں آئے گی۔ پس کامل یقین
٣٣
اور ایمان سے کہا جا سکتا ہے کہ مرزا قادیانی نے جو پے در پے پیغاموں ، خطوں ، الہاموں اور اشتہاروں کی بھر مار شروع کر دی اور ہاتھ دھو کر مرزا احمد بیگ کے پیچھے پڑ گئے اور ان کے ترش اور تلخ جواب سن کر بھی از روئے شرم باز نہ آئے یہ سب کچھ حصول مطلب کے لئے ایک مجنونانہ مجاہدہ تھا۔ جس میں بعض ناکام طالبوں کی طرح انہیں ناکامی پیش آئی ورنہ سچے خدا تعالیٰ کی طرف سے اگر یہی مقدر اور قرار یافتہ ہوتا کہ وہ لڑکی یا عورت ان کے نکاح میں آئے گی۔
تو ضرور فائز المرام اور شاد کام ہوتے ۔ یہ مضمون لکھا جا رہا تھا ۔ کہ ایک مرزائی دوست نے پڑھ لیا کہنے لگے کہ میں تو مرزا قادیانی کی ان باتوں کو ذوقیات پر محمول کرتا ہوں اور ذوقیات کا حال ہوتا ہے۔ میں نے انہیں تو کچھ نہ کہا کہ رنجیدہ ہوں گے۔ لیکن ناظرین اگر کسی مرزائی سے پھر ایسا لفظ سنیں تو ان سے یہ ضرور دریافت فرمائیں ۔ کہ ایسے ذوقیات اور بکواسیات میں کیا فرق ہے؟۔ یعنی اگر کسی بکواس کا کوئی بکواس صحیح ثابت نہ ہو اور وہ اعتراض ہونے پر شوخی سے یہی جواب دے کہ ذوقیات کا ایسا ہی حال ہوتا ہے ۔ تو پھر ہمارے پاس ذوق اور بکواس میں تمیز کرنے کا معیار کیا ہے؟ اور کیا وجہ ہے کہ صاف عبارتوں ، کھلے الہاموں اور بین پیش گوئیوں کو تقریر و تحریر کی پیچیدہ گتھی بنالیا جاوے اور صریح الفاظ کو شتر بے مہار سمجھا جائے ۔مرزائی دوستو! کیا یہ لڑکی ( محمدی بیگم ) بحالت بکر مرزا قادیانی کے نکاح میں آئی ؟۔ ہر گز نہیں! کیا بیوہ ہو جانے کے بعد مرزا قادیانی کی طرف واپس لائی گئی ؟۔مطلق نہیں! کیا اب مرزا قادیانی کی قبر سے اس لڑکی کا نکاح ہو سکتا ہے؟۔ بالکل نہیں! زمین اس پر گواہ ہے۔ آسمان اس پر شاہد ہے اور دنیا کا ہر ذی شعور آدمی جس کے دماغ میں ایک ماشہ بھر بھی عقل کا مادہ ہے ۔ اس امر واقعہ کو تسلیم کرتا ہے ۔ اندریں حالت بیہودہ ضد بیجا تعصب فضول طرفداری، صریح باطل پرستی اور خواہ مخواہ کی ہٹ سے کام لینا اور رکیک تاویلات پیش کرنا اور محض اپنی بات کی پچ کرتے ہوئے صداقت کو نہ ماننا کہاں کی ایمانداری ہے؟۔
١ اهل الغرض مجنون (غرض مند باولا ہوتا ہے ) ہمارا ظن غالب ہے کہ اگر مرزا قادیانی مسلسل خوشامدانہ کوشش جاری رکھتے تو شاید کامیاب ہو ہی جاتے مگر وہ اپنے ایک مذہبی جماعت کے مقتدا بن جانے کے گھمنڈ میں تعلی اور تحکم سے بھی مطلب برآری کرنا چاہتے تھے۔ اس اجتماع ضدین سے وہ محض ناکام رہے۔ کیونکہ یہ کوئی معقول طریق نہیں تھا۔
٣٤
٩....... جھوٹی قسم کا جھوٹا نتیجہ!
”مجھے خدا تعالیٰ قادر مطلق کی قسم ہے کہ میں اس بات میں بالکل سچا ہوں کہ مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا تھا۔ کہ آپ کی دختر کلاں کا رشتہ اس عاجز سے ہوگا۔ اگر دوسری جگہ ہوگا تو خدا تعالیٰ کی تنبیہیں وارد ہوں گی اور آخر کار اسی جگہ ہوگا۔“
(خط مرزا قادیانی بنام مرزا احمد بیگ مورخہ ١٧؍جولائی ١٨٩٠ء از کلمہ فضل رحمانی ص١٢٣)
ایہا المومنین ! معزز ناظرین! غور فرمائیں کہ عبارت مذکورہ بالا اگر چیستان یا معمہ نہیں۔ تو ان کا مدعا اور مطلب اور مفہوم بجز اس کے اور کیا ہے کہ کاتب نے قسم کھائی ہے۔ کس کی قسم ہے؟۔ خدا تعالیٰ قادر مطلق کی، یہ قسم کھانے والا کون ہے؟۔ ایک مدعی نبوت و رسالت وغیرہ! قسم کس بات کی ہے؟۔ کہ محمدی بیگم سے اس عاجز (مابدولت مرزا قادیانی کا) نکاح ضرور ہوگا! مگر ہوا کیا کچھ بھی نہیں یہ قسما قسمی سب غتر بود ہوگئی۔ اندریں صورت کیا یہ نتیجہ نکالنے میں ہم ذرہ برابر بھی زیادتی کرتے ہیں۔ کہ نہ تو سچے ایمان خدا کی قسم کھائی گئی! نہ قسم کھانے والا سچا تھا! اور بات تو سرے سے تھی ہی جھوٹ!
مرزائی صاحبان! الیس فیکم رجل رشید؟۔
کیا تمہاری جماعت میں کوئی بھی سمجھدار نہیں؟۔ جو ان صاف باتوں پر غور کرے۔
١٠....... مرزا قادیانی کے ایمان کی حقیقت
”یہ عاجز جیسے ”لا الہ الا الله محمد رسول الله “ پر ایمان لایا ہے۔ ویسے ہی خدا تعالیٰ کے ان الہامات پر جو تواتر سے اس عاجز پر ہوئے ۔ ایمان لایا ہے اور آپ سے ملتمس ہے کہ آپ اپنے ہاتھ سے اس پیش گوئی کے پورا ہونے کے لئے معاون بنیں۔ جو امر آسمان پر ٹھہر چکا زمین پر وہ ہرگز بدل نہیں سکتا۔“
(خط مرزا قادیانی بنام احمد بیگ مورخہ ١٧؍جولائی ١٨٩٠ء، از کلمہ فضل رحمانی ص١٢٤)
جبکہ مرزا قادیانی کا ایمان نکاح کے متواتر الہاموں پر ”لا الہ الا الله محمد رسول الله “ کے برابر تھا اور نکاح کے الہام نکلے جھوٹے تو معلوم ہوا کہ کلمہ طیبہ کا اقرار بھی مرزا قادیانی دکھلاوے کے لئے ہی کرتے تھے اور یہ فقرہ کہ جو امر آسمان پر ٹھہر چکا۔ زمین پر وہ ہرگز نہیں بدل سکتا۔ گو مرزا قادیانی نے پیغام نکاح کو پر زور اور شاندار بنانے کے لئے لکھا تھا۔ مگر ہم کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے دراصل آسمان پر مرزا قادیانی کے ان اقوال کو باطل اور غلط
٣٥
ٹھہرا دیا تھا۔ اسی واسطے زمین پر اللہ تعالیٰ کا یہ حکم ہرگز نہ بدلا اور مرزا قادیانی باوجود سینکڑوں اتار چڑھاؤ دینے کے اپنی منکوحہ کے منصوبہ میں کامیاب نہ ہوسکے۔
١١....... بھائی بہن میں لڑائی کرانے کی کوشش کیا یہ فاصلحوا بین
اخویکم کی تعمیل ہے؟
”آپ احمد بیگ کو پورے زور سے خط لکھیں کہ (محمدی بیگم کا کسی دوسری جگہ نکاح کرنے سے مؤلف) باز آجائیں اور اپنے گھر کے لوگوں کو تاکید کردیں کہ وہ بھائی کو لڑائی کر کے روک دیوے ورنہ مجھے خدا تعالیٰ کی قسم ہے کہ اب ہمیشہ کے لئے یہ تمام رشتے ناطے توڑ دوں گا ۔ “
(خط محررہ مرزا قادیانی بنام مرزا علی شیر بیگ والد عزت بی بی زوجہ فضل احمد پسر مرزا قادیانی و نیز خط بنام والدہ
عزت بی بی ہمشیرہ مرزا احمد بیگ مورخہ ٤؍ مئی ١٨٩١ء مفصل دیکھو باب پنجم کلمہ فضل رحمانی ص ١٣٦)
مرزا قادیانی کا اپنے سمدھی کو یہ لکھنا کہ اپنے گھر کے لوگوں کو تاکید کردیں کہ وہ بھائی کو لڑائی کر کے روک دیوے ثقاہت اور بھل منسی کی حد سے گرا ہوا ہے۔ کیونکہ بھائی بہن کو لڑانا ایک شریف آدمی کے شایان شان نہیں۔ علاوہ ازیں اپنے بیٹے کی ساس کو یہ دھمکی دینا۔ کہ یا تو اپنے بھائی کی لڑکی کا مجھ سے بیاہ کرادو۔ ورنہ تمام رشتے ناطے ہمیشہ کے لئے توڑ دوں گا۔ (یعنی تمہاری بیٹی کو اپنے بیٹے سے طلاق دلوا دوں گا) اور اس جوش نفس میں خدا تعالیٰ کی قسم کھانا مرزا قادیانی کے تقدس اور تورع کے خلاف وہ روشن دلائل ہیں۔ جن کو قرآن کریم پر دل سے ایمان لانے والے اور اہل بصیرت آفتاب نصف النہار کی طرح درخشاں پاتے ہیں۔ کیونکہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے باہم صلح سلامتی سے رہنے اور قرابت داروں سے نیک سلوک کرنے کی جا بجا ہدایتیں فرمائی ہیں۔ مگر مرزا قادیانی الٹے رشتہ ناطے توڑنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی قسم کھاتے ہیں۔ یاللعجب !!!
١٢....... پیش گوئی کی الہامی تفسیر !
”میری اس پیش گوئی میں نہ ایک بلکہ چھ دعوے ہیں۔ اوّل نکاح کے وقت تک میرا زندہ رہنا۔ دوم نکاح کے وقت تک اس لڑکی کے باپ کا یقیناً زندہ رہنا۔ سوم پھر نکاح کے بعد اس لڑکی کے باپ کا جلدی سے مرنا جو تین برس تک نہیں پہنچے گا۔ چہارم اس کے خاوند کا اڑھائی برس کے عرصہ تک مرجانا۔ پنجم اس وقت تک کہ میں اس سے نکاح کروں اس لڑکی کا زندہ رہنا۔ ششم پھر آخر بیوہ ہونے کی تمام رسموں کو توڑ کر باوجود سخت مخالفت اس کے اقارب کی میرے نکاح میں آجانا ؎١ آپ ایماناً کہیں کہ کیا یہ باتیں انسان کے اختیار میں ہیں اور ذرا اپنے دل کو
؎١ ہم ایمان سے کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی اپنے مسلمات کی رو سے جھوٹے ثابت ہوئے۔
٣٦
تھام کر سوچ لیں کہ کیا ایسی پیش گوئی سچی ہو جانے کی حالت میں انسان کا فعل ہو سکتی ہے؟۔
(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٢٥، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
اگر واقعی درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے تو پیش گوئی کے نتیجہ نے ثابت کر دیا کہ اس فقرہ میں مرزا قادیانی نے پیش گوئی کے جو جو اجزاء کھول کھول کر بیان کئے تھے۔ وہ سب کے سب غلط، فضول، لغو اور جھوٹ ثابت ہو چکے ہیں اور اس پروگرام کے مطابق ایک بات بھی وقوع میں نہ آئی۔ اس سے دو اور دو چار کی طرح ثابت ہوا کہ از سر تا پا یہ جھوٹی پیش گوئی تھی اور اللہ تعالیٰ جل شانہ عم نوالہ کی طرف سے نہیں تھی بلکہ ایک خود غرض انسان کے دلی خیالات و خواہشات کا عکس تھا۔
اب مرزائی صاحبان عبارت بالا کے جواب میں ایماناً بتائیں کہ کیا یہ پروگرام خدا تعالیٰ کا مرتب کردہ تھا اور ذرا اپنے دل کو تھام کر سوچیں کہ کیا ایسی پیش گوئی جھوٹی ہو جانے کی صورت میں خدا کا فعل کہلا سکتی ہے۔
١٣....... پیش گوئی کی تفصیلات
”اور وہ پیش گوئی جو مسلمان قوم سے تعلق رکھتی ہے۔ بہت ہی عظیم الشان ہے۔ کیونکہ اس کے اجزاء یہ ہیں۔
- مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری تین سال کی میعاد کے اندر فوت ہو۔
- اور پھر داماد اس کا جو اس کی دختر کلاں کا شوہر ہے۔ اڑھائی سال کے اندر فوت ہو۔
- اور پھر یہ کہ مرزا احمد بیگ تا روز شادی دختر کلاں فوت نہ ہو۔
- اور پھر یہ کہ وہ دختر تا نکاح اور تا ایام بیوہ ہونے اور نکاح ثانی کے فوت نہ ہو۔
- اور پھر یہ کہ یہ عاجز بھی ان تمام واقعات کے پورے ہونے تک فوت نہ ہو۔
- اور پھر یہ کہ اس عاجز سے نکاح ہو جاوے اور ظاہر ہے کہ یہ تمام واقعات انسان کے
اختیار میں نہیں۔
(شہادۃ القرآن ص ٨٠، خزائن ج ٦ ص ٣٧٦)
اس حوالہ میں چھ فقرے ہیں۔ فقرہ اوّل میں احمد بیگ والد محمدی بیگم کی نسبت پیش گوئی تھی کہ تین سال تک فوت ہو گا۔ جو چھ ماہ بعد مر گیا۔ اس کے مرنے کو مرزا قادیانی اپنی صداقت اور پیش گوئی کی صحت کے ثبوت میں پیش کرتے رہے ہیں اور مرزائی بھی اس پر زور دیتے ہیں۔ لیکن نور ایمان اور خوف خدا کو ملحوظ رکھ کر غور کیا جائے۔ تو احمد بیگ کی یہ مرگ اتفاقی بھی مرزا قادیانی کے خلاف ہی نتیجہ پیدا کرتی ہے۔ کیونکہ فقرہ نمبر ٣ میں صاف لکھا ہوا ہے کہ مرزا احمد بیگ تا روز شادی
٣٧
دختر کلاں فوت نہ ہو اگر مرزا قادیانی کی کتابوں سے اس فقرہ نمبر ٣ کو محو کر دیا جائے ۔ اس وقت البتہ اس فقرہ سے چشم پوشی کی جاسکتی ہے۔ ورنہ مرزا قادیانی کی دروغ بیانی پر کسی طرح پردہ نہیں پڑ سکتا ۔ کیونکہ جس شخص نے اپنے داماد کی موت اور اپنی بیٹی کا بیوہ ہونا دیکھ کر مرنا تھا اور جس نے محمدی بیگم کے نکاح ثانی تک زندہ رہنا تھا۔ اس نے خدا کے فضل سے نہ تو اپنی زندگی میں داماد کے مرنے کا صدمہ دیکھا اور نہ بیٹی کے رانڈ ہونے کا قلق اس کو پہنچا۔ نہ اس کی دختر کا اس کے روبرو مرزا قادیانی سے نکاح ہوا۔ الغرض اس کی موت مرزا قادیانی کے مرتبہ پروگرام کے صریحاً بر خلاف واقع ہوئی۔ باقی پانچ فقرات کے متعلق تو اغبیاء کوئی صحیح الدماغ مرزائی صاحبان خواب میں بھی نہ کہہ سکیں گے کہ وہ بیان کے مطابق وقوع میں آئے ۔ مزید اطمینان کے لئے ناظرین مرزا قادیانی کے ہر شش فقرات کو پھر بغور پڑھیں اور سوچیں کہ ان کا مدعا کیا تھا اور مرزا قادیانی اس سے کیا نتیجہ نکالنا چاہتے تھے ۔ یہی کہ محمدی بیگم کا مرزا سلطان محمد ١؎ سے نکاح ہو چکا ہے۔ اس لئے اب ...... اوّل ! روز نکاح سے اس کا خاوند ڈھائی سال کے اندر فوت ہوگا اور بعد گزرنے عدت کے ...... دوم! مرزا قادیانی کا نکاح محمدی بیگم سے ہو جائے گا اور ...... سوم ! محمدی بیگم کا والد اس کے نکاح ثانی تک زندہ رہے گا۔ نیز ...... چہارم ! محمدی بیگم بھی بیوہ ہونے اور نکاح ثانی ہونے تک فوت نہ
١؎ ناظرین توکل بخدا کے جس امتحان میں مرزا سلطان محمد ساکن پٹی پورے اترے۔ وہ قابل تحسین اور لائق صد ہزار آفرین ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے براہ راست ان کو ڈراوے کے خطوط لکھے اور ان کے متعلق ڈھائی سال کے اندر فوت ہونے کے اعلان ، اشتہار جاری کئے اور دیگر تنبیہوں اور بلاؤں اور نامرادیوں کی بھی بہت کچھ دھمکیاں دیں ۔ مگر ان پر ذرا بھی اثر نہ ہوا اور یہ انہی کے استقلال کا نتیجہ ہے کہ آج ہم مرزائی گروہ کو دریائے ندامت میں غرق پاتے ہیں اور ان سے اس معاملہ میں کوئی معقول جواب بن نہیں پڑتا۔ اگر خدانخواستہ مرزا سلطان محمد سے کوئی لغزش سرزد ہو جاتی۔ جیسا کہ عموماً ایسے موقعوں پر انسان کے دل میں طرح طرح کے وساوس خناس شیطانی گذرا کرتے ہیں ۔ تو مرزا قادیانی بازی لے جاتے اور ان کی پارٹی اس پیش گوئی کے حیلہ سے بہت سے مسلمانوں کا ایمان کھونے کا باعث ہوتی۔ مگر الحمدللہ کہ اسلام کا بول بالا رہا اور اس داروگیر میں ہمارا پہلوان اپنے مد مقابل سے گوئے مقصد لے جانے میں اس طرح فائق و برتر رہا۔ جس طرح ایک سلطان ایک غلام سے فائق و برتر رہا کرتا ہے۔ جزاك الله في الدارين خيراً!
حاشیہ در حاشیہ! یعنی مرزا سلطان محمد مرزا غلام احمد پر غالب آیا۔
٣٨
ہوگئی۔ بعد ازاں ..... پنجم ! محمدی بیگم کا والد نکاح اول سے تین سال کے اندر (مگر اس کے موجودہ شوہر سلطان محمد ١ کے بعد مر جائے گا) اور ...... ششم ! ان سب واقعات کے بعد مرزا قادیانی فوت ہوں گے۔ اس تشریح کے مطابق سلطان محمد۔ شوہر منکوحہ آسمانی کی زندگانی کا زیادہ سے زیادہ ٢ اکتوبر ١٨٩٤ء کو خاتمہ ہو جانا چاہئے تھا۔ کیونکہ اس کے نکاح کی تاریخ حسب تحریر مرزا قادیانی مندرجہ (آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨٠، خزائن ج ٥ ص ایضاً، ٧ اپریل ١٨٩٢ء) ہے۔ لیکن وہ نہ صرف مرزا قادیانی کے انتقال تک زندہ رہا۔ بلکہ بفضلہ تعالیٰ اب تک بقید حیات موجود ہے۔ پس جبکہ نہ سلطان محمد مرا، نہ محمدی بیگم بیوہ ہوئی، نہ مرزا قادیانی سے اس کا نکاح ثانی ہوا۔ تو صرف محمدی بیگم کے والد کا نکاح سے ٦ ماہ بعد مر جانا کس طرح پیشگوئی کے مطابق قرار دیا جاسکتا ہے۔ جس کے سامنے محمدی بیگم کے شوہر کا مرنا اور نکاح ثانی کا ہونا لازمی تھا۔ پس جس طرح اور پانچ باتیں غلط ثابت ہوئیں اس طرح محمدی بیگم کے والد کی موت خلاف قرار داد پروگرام مجوزہ و مبینہ مرزا قادیانی وقوع میں آنے سے پیشگوئی کا پورا ہونا تسلیم نہیں کیا جاسکتا اور پیشگوئی کے کل چھ اجزا میں سے پانچ اجزا کو چھوڑ کر اور صرف ایک جزو کو سامنے رکھ کر جو وہ بھی مطابق مضمون پیشگوئی وقوع میں نہیں آیا ہے۔ پیشگوئی کی صداقت کا دعویٰ کرنا شرم و حیا سے بعید اور معتقدین کو احمق بنانا ہے۔
١٤...... پیش گوئی کا فیصلہ دعا کے ذریعہ سے
"میں بالآخر دعا کرتا ہوں کہ اے خدائے قادر و علیم۔ اگر آتھم کا عذاب مہلک میں گرفتار ہونا اور احمد بیگ کی دختر کلاں کا آخر اس عاجز کے نکاح میں آنا ...... یہ پیش گوئیاں تیری طرف سے نہیں ہیں۔ تو مجھے نامرادی اور ذلت کے ساتھ ہلاک کر اگر میں تیری نظر میں مردود اور ملعون اور دجال ہوں۔ جیسا کہ مخالفوں نے سمجھا ہے اور تیری وہ رحمت میرے ساتھ نہیں جو ...... انبیاء ٢ عظام، اولیاء کرام کے ساتھ تھی۔ تو مجھے فنا کر ڈال اور ذلتوں کے ساتھ مجھے ہلاک کر دے اور ہمیشہ لعنتوں کا نشانہ بنا۔ اور دشمنوں کو خوش کر اور ان کی دعا قبول فرما۔"
(اشتہار انعامی چار ہزار روپیہ مرتبہ چہارم ٢٧ اکتوبر ١٨٩٣ء، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ١١٥)
١ محمدی بیگم کے شوہر کی موت کے لئے اڑھائی سال اور اس کے والد کے لئے تین سال سے واضح ہے کہ محمدی بیگم کے والد نے اپنے داماد کی موت دیکھ کر مرنا تھا۔ ورنہ اس کمی بیشی کی کوئی اور معقول وجہ بتلائی جائے۔
٢ مرزا قادیانی نے یہاں بہت سے انبیاء عظام اور اولیائے کرام کے نام لکھ لکھ کر یہی فقرہ دہرایا ہے۔ بخیال طوالت وہ فقرات نام بنام نقل نہیں کئے گئے۔
٣٩
یا تو سر دیتے ہیں یا لیتے ہیں۔ دلبر! اپنا آج قصہ ہی چکا لیتے ہیں۔ چل کر اپنا ”الا نتظار اشد من الموت“ سے گھبرا کر مرزا قادیانی نے دعا کی کہ خداوندا یا تو محمدی بیگم سے میرا نکاح کرا دے۔ ورنہ مجھے نامرادی اور ذلت کے ساتھ ہلاک کر۔ اگر میں تیری نظر میں مردود اور ملعون اور دجال ہوں۔ جیسا کہ مخالفین نے سمجھا ہے اور تیری وہ رحمت میرے ساتھ نہیں جو انبیاء عظام اور اولیاء کرام کے ساتھ تھی۔ تو مجھے فنا کر ڈال اور ذلتوں ١؎ کے ساتھ مجھے ہلاک کر دے اور ہمیشہ لعنتوں کا نشانہ بنا اور تمام دشمنوں کو خوش کر اور ان کی دعا قبول فرما۔
قسمت میں جو لکھا ہے الہی شتاب ہو
چونکہ مرزا قادیانی کے رقم فرمودہ الفاظ دعاء چشم بدور، خود ہی بدرجہ کمال درخشندہ و تابندہ ہیں۔ اس لئے ہم ان الفاظ پر کسی مزید ریمارک کی ضرورت نہیں سمجھتے۔ لیکن جس طرح آج کل سکولوں میں ریاضی کے سوال بلیک بورڈ پر سمجھائے جاتے ہیں۔ یا سائنس کے مسائل کا بذریعہ آلات عملی مشاہدہ کرایا جاتا ہے۔ اسی طرح سے ناظرین کی تفنن طبع کے لئے ہم ایک تمثیل درج کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی متذکرہ بالا دعا کو ایک ترازو سمجھ لیا جائے۔ جس کے ایک پلڑے میں خالص وہ جنس بھر دی جائے جس کا نام محمدی بیگم کا نکاح ہے اور دوسرے پلڑے وہ تمام اجناس بھر دئے جائیں۔ جن کا نام مرزا قادیانی کی ذلت نامرادی اور خطابات مردود، ملعون، دجال، رحمت الہی سے دور افتادہ، ہمیشہ کی لعنتوں کا نشانہ، تمام دشمنوں کی خوشی، تمام دشمنوں کی دعا کی قبولیت وغیرہ ہے۔ مرزا قادیانی دونوں پلڑوں میں سے ایک پلڑے کا مال خود لینا چاہتے تھے۔ سو اللہ تعالیٰ نے ان کی دعاء کو اس رنگ میں قبول فرمایا کہ بجائے پہلے پلڑے کے دوسرا پلڑا۔ مرزا قادیانی پر انڈیل دیا۔
بالفاظ دیگر ! مرزا قادیانی یہ تو خود نہیں چاہتے تھے کہ دونوں ہی پلڑوں کی جنس انہیں مل جائے۔ بلکہ ان کی خواہش صرف یہ تھی۔ کہ خداوند تعالیٰ اپنی مرضی اور منشاء کے مطابق، منجملہ ہر دو پلڑوں کے ایک کی جنس ان کو مرحمت فرمائے۔
چنانچہ دعا قبول ہو کر ایک طرف کی جنس ان کو مل گئی۔ گویا منہ مانگی مراد پائی اور جھوٹے
١؎: جس روز مرزا قادیانی کا جنازہ شہر سے اسٹیشن لاہور کی طرف روانہ ہوا ہے۔ اس روز اہل لاہور نے بیسیوں جگہ جنازہ پر جوتے برسائے، جو کہ دنیا کی تاریخ میں ایک مردہ کے لئے پہلی نظیر ہے۔ اور بقول ایک خبر رساں کے، اگر پولیس کے فرشتے مدد نہ کرتے تو جنازہ اسٹیشن تک پہنچنا مشکل تھا۔
ثابت ہوئے۔ لیکن بارگاہ الہی ہوا۔ مرزائی صاحبان اگر اب رسد باہم تقسیم کر لیں جو دربار مرزا قادیانی کی تدبیر کرو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جاء ھم نصرنا ‘‘ اور ج ان کے لئے ہماری مدد آتی شور سے دعا کی تھی۔ مگر خدا ہے کہ مرزا قادیانی رسولوں
- ١٥ ...... نکاح ہونا تھا
......نفس پیش گو میں آنا تقدیر مبرم ہے۔؟ ہے۔ ”لا تبديل لكلم خدا کا کلام باطل ہوتا ہے۔ ناظرین باتمکی اور وہ تاریخ ہے۔ جو مرز شوہر اور مرزا قادیانی کے تاریخ ہے۔ مرزا سلطان نے جھٹ اس آخری تا اور سرشت میں تھی کہ ایک گوئی مشتہر کر دیا کرے۔ (مقدمہ نون ) سنہ وغیرہ تو
بے مرن پتر
موت مرزا سلطان محمد شو
ردیتے ہیں یا لیتے ہیں۔ دلبر اپنا آج قصہ ہی چکا لیتے ہیں۔ چل کر اپنا ”الا الموت“ سے گھبرا کر مرزا قادیانی نے دعا کی کہ خداوند! یا تو محمدی بیگم سے میرا نہ مجھے نامرادی اور ذلت کے ساتھ ہلاک کر۔ اگر میں تیری نظر میں مردود اور ہوں۔ جیسا کہ مخالفین نے سمجھا ہے اور تیری وہ رحمت میرے ساتھ نہیں انبیاء سلام کے ساتھ تھی۔ تو مجھے فنا کر ڈال اور ذلتوں ا کے ساتھ مجھے ہلاک کر دے اور بنا اور تمام دشمنوں کو خوش کر اور ان کی دعا قبول فرما۔
زا قادیانی کے رقم فرمودہ الفاظ دعاء چشم بدور، خود ہی بدرجہ کمال درخشندہ و تابندہ ن الفاظ پر کسی مزید ریمارک کی ضرورت نہیں سمجھتے۔ لیکن جس طرح آج کل کے سوال بلیک بورڈ پر سمجھائے جاتے ہیں۔ یا سائنس کے مسائل کا بذریعہ رایا جاتا ہے۔ اسی طرح سے ناظرین کی تفنن طبع کے لئے ہم ایک تمثیل در ل یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی متذکرہ بالا دعا کو ایک ترازو سمجھ لیا جائے۔ جس کے س میں وہ جنس بھر دی جائے جس کا نام محمدی بیگم کا نکاح ہے اور دوسرے پلڑے وہ دی جائیں۔ جن کا نام مرزا قادیانی کی ذلت نامرادی اور خطابات مردود، ملعون، سے دور افتادہ، ہمیشہ کی لعنتوں کا نشانہ، تمام دشمنوں کی خوشی ، تمام دشمنوں کی دعا ہے۔ مرزا قادیانی دونوں پلڑوں میں سے ایک پلڑے کا مال خود لینا چاہتے ع ان کی دعا کو اس رنگ میں قبول فرمایا کہ بجائے پہلے پلڑے کے دوسرا پلڑا۔ دیا۔
ام مرزا قادیانی یہ تو خود نہیں چاہتے تھے کہ دونوں ہی پلڑوں کی جنس انہیں مل ہش صرف یہ تھی۔ کہ خداوند تعالیٰ اپنی مرضی اور منشاء کے مطابق، منجملہ ہر دو نس ان کو مرحمت فرمائے۔
قبول ہو کر ایک طرف کی جنس ان کو مل گئی۔ گویا منہ مانگی مراد پائی اور جھوٹے مرزا قادیانی کا جنازہ شہر سے اسٹیشن لاہور کی طرف روانہ ہوا ہے۔ اس روز کا ذلیل کن ہجوم مچا۔ وہ ہندوستان میں ایک مردہ کے لئے پہلی نظیر ہے اور قادیانی اگر پولیس کے فرشتے مدد نہ کرتے تو جنازہ اسٹیشن تک پہنچنا مشکل تھا۔
٤٠
ثابت ہوئے۔ لیکن بارگاہ الٰہی کے اس فیصلہ کے بعد جو حسب اقبال و خواہش مدعی و مستدعی صادر ہوا۔ مرزائی صاحبان اگر اب بھی مرزا قادیانی کو سچا سمجھیں۔ تو اپنے گرو جی کا وہ تبرک حسب حصہ رسد باہم تقسیم کرلیں جو دربارِ خداوندی سے انہیں عطاء ہوا تھا۔
مرزا قادیانی کی اس نامقبول دعا کو مدنظر رکھ کر سورہ یوسف کے اخیر میں اس آیت پر تدبر کرو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’حتی اذا استیئس الرسل وظنوا انهم قد کذبوا جاء هم نصرنا‘‘ اور جب رسول مایوس ہو کر یہ سمجھتے ہیں کہ لوگ ہمیں جھٹلا ہی رہے ہیں۔ تو پھر ان کے لئے ہماری مدد آتی ہے۔ مرزا قادیانی نے مخالفین کے اعتراضات سے تنگ آ کر کس زور شور سے دعا کی تھی۔ مگر خدا کی طرف سے مرزا قادیانی کی کوئی مدد نہ ہوئی۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی رسولوں اور برگزیدوں کے گروہ سے خارج ہیں۔
١٥....... نکاح ہونا تقدیر مبرم ورنہ خدا کا کلام جھوٹا ہوگا
”نفسِ پیش گوئی یعنی اس عورت (محمدی بیگم) کا اس عاجز (مرزا قادیانی) کے نکاح میں آنا تقدیر مبرم ہے۔ جو کسی طرح نہیں ٹل سکتی کیونکہ اس کے متعلق الہام الٰہی میں یہ فقرہ موجود ہے۔ ”لا تبدیل لکلمات الله“ یعنی میری (اللہ کی) یہ بات نہیں ٹلے گی۔ پس اگر ٹل جائے تو خدا کا کلام باطل ہوتا ہے۔“
(اشتہار ٦؍اکتوبر ١٨٩٤ء، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٤٣)
ناظرین باتمکین! مرزا قادیانی کی عبارت مندرجہ محاذ ٦؍اکتوبر ١٨٩٤ء کی محررہ ہے اور وہ تاریخ ہے۔ جو مرزا سلطان محمد کی مرن١؎ پتری مرتبہ مرزا قادیانی کی رو سے محمدی بیگم کے شوہر اور مرزا قادیانی کے رقیب سر خرو۔ یعنی مرزا سلطان محمد ساکن پٹی ضلع لاہور کی زندگی کی آخری تاریخ ہے۔
(ملاحظہ ہو فقرہ ١٣ باب ہذا)
مرزا سلطان محمد کا ٦؍اکتوبر ١٨٩٤ء تک مرنا تو درکنار بال بھی بیکا نہ ہوا تو مرزا قادیانی نے جھٹ اس آخری تاریخ کو یہ اشتہار دے مارا۔ جیسا کہ یہ ہوشیاری اور ابلہ فریبی ان کی عادت اور سرشت میں تھی کہ ایک پیش گوئی کے سلسلہ میں خاتمہ میعاد سے چند روز پہلے یا پیچھے دوسری پیش گوئی مشتہر کر دیا کرتے تھے۔ تاکہ ان کے دام افتادگان پیش گوئیوں کے فضل و سوامی (گورکھ دھندوں) سے باہر نہ نکلنے پاویں اور پیش گوئیوں کی بھول بھلیوں میں پھنسے رہیں اور ان کی
١؎ مرن پتری کا لفظ بمقابلہ جنم پتری لکھا گیا ہے۔ اس سے مرزا قادیانی پیش گوئی متعلقہ موت مرزا سلطان محمد شوہر محمدی بیگم مراد ہے۔
٤١
ڈھارس بندھی رہے۔ چنانچہ اس اشتہار میں بڑے زور کے ساتھ مریدوں سے مایوسی رفع کرنے کی کوشش فرمائی ہے اور قوی سے قوی امید جو وہ اس بارہ میں دلا سکتے تھے۔ وہ کامل بلکہ اکمل وثوق سے دلائی ہے کہ ( گو سلطان محمد آج کی تاریخ تک نہیں مرا۔ مؤلف ) مگر نفس پیش گوئی یعنی محمدی بیگم کا میرے نکاح میں آنا ۔ تقدیر مبرم ہے جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی ۔ کیونکہ الہام میں یہ فقرہ موجود ہے۔ لا تبدیل لکلمات اللہ ! یعنی اللہ کی باتیں نہیں ٹلیں گی۔ اگر ٹل گئی تو خدا کا کلام باطل ہوتا ہے ...... الخ !
اب ناظرین خود فیصلہ فرمائیں کہ تقدیر مبرم اور لا تبدیل لکلمات اللہ ! کا کیا انجام ہوا۔ حق جو اور حق پسند اصحاب انشاء اللہ فوراً بول اٹھیں گے کہ پیش گوئی جھوٹی تھی اور الہام محض ایک افترا علی اللہ تھا۔ ایسے صاف اور واضح بیان کے بعد (جس کی وضاحت اور صفائی کی آخری حد کہا جا سکتا ہے اور اسلامی عقائد کے مطابق تقدیر مبرم اور ”لا تبدیل لکلمات اللہ“ سے بڑھ کر کوئی اور زور دار کلمہ اس مدعا کو ادا کرنے کے لئے موزوں نہیں ہو سکتا جس کو مرزا قادیانی نے تحریر کیا ہے ) جب کہ پیش گوئی پوری نہیں ہوئی اور مرزا قادیانی جھوٹے ثابت ہو چکے ہیں۔ ہم مرزائی صاحبان سے دریافت کرتے ہیں کہ اگر خداوند جل شانہ کی صداقت پر انہیں ایمان ہے۔ تو مرزا قادیانی کا وہ کیوں ساتھ دے رہے ہیں اور اگر ابھی تک وہ ان کو سچا سمجھتے ہیں۔ تو کیا خدا کے کلام کو باطل مان چکے ہیں؟ ۔ جیسا کہ مرزا قادیانی نے اشتہار محولہ فقرہ ہذا میں تحریر کیا ہے۔ اس بھول بھلیوں کے چکر سے نکالنے کے لئے ہم مرزائی صاحبان کی خدمت میں ایک سہل تجویز پیش کرتے ہیں کہ وہ کسی ایسے مقام پر جہاں مختلف قوموں اور مختلف مذاہب کے لوگ موجود ہوں ایک جلسہ منعقد کریں اور ایک بورڈ جلی قلم سے عبارت محولہ بالا منقولہ از (اشتہار ٦ اکتوبر ١٨٩٣ء، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٤٣) نقل کریں اور اس کے نیچے لکھیں کہ یہ امر واقعہ ہے کہ مرزا قادیانی محمدی بیگم سے نکاح نہیں ہوا۔ بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی کاتب تحریر اور متمنی و مدعی نکاح ١٧ سال ہوئے مر گئے ۔ یہ بورڈ اس جلسہ عام میں کسی بلند مقام پر آویزاں کر کے ان الفاظ میں درخواست کی جائے کہ معزز حاضرین! اپنے اپنے دھرم، ایمان اور انصاف سے بتلائیں کہ اس عبارت مندرجہ بورڈ کے منشاء اور مدعا اور مفہوم اور معنی الفاظ اور نتیجہ کے مطابق مرزا قادیانی اور مرزا قادیانی کو الہام کرنے والا دونوں سچے ظاہر ہوتے ہیں یا جھوٹے؟ ۔
٤٢
مگر یہ واضح رہے کہ تقدیر مبرم کی پوری حقیقت ہر اس شخص پر صحیح صحیح ظاہر کر دی جائے۔ جو ناواقف ہو۔ یا دریافت کرے اور حق جوئی ...... اور حق طلبی کو مدنظر رکھا جائے۔ کوئی مغالطہ کسی کو نہ دیا جائے اور نہ بجز امر زیر دریافت کے اور کسی قسم کی تاویلات یا وجوہات پیش کی جائیں۔ کیونکہ یہ تجویز صرف مضمون زیر بحث ضمن ہذا کے متعلق پیش کی گئی ہے۔ دیگر الہامات واقوال مرزائیہ کی تردید ہم نے علیحدہ تحریر کر دی ہے۔ ہمیں یقین کامل ہے کہ بجز جماعت مرزائیہ کے حاضرین جلسہ میں سے کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں نکلے گا۔ جو نکاح کے عدم وقوع کی حالت میں مرزا قادیانی کو صادق خیال کرے اور ان کے ملہم کو بھی خدا سمجھے۔
مرزائی صاحبان کو اگر کسی دور دراز مقام پر جلسہ کرنا کچھ بار معلوم ہو تو خاص اپنے ہیڈ کوارٹر یعنی موضع قادیان میں ہی با سہولت آزمائش کر سکتے ہیں۔ مگر ہم پیش گوئی کرتے ہیں کہ ہمارے مرزائی دوست ہماری پیش کردہ اس بے خرچ اور سہل تر تجویز پر قطعاً عمل نہیں کریں گے۔ کیونکہ حق جوئی اور حق پژوہی کا مادہ تحت آیہ کریمہ خَتَمَ اللهُ عَلٰی قُلُوبِهِمْ وَعَلٰی سَمْعِهِمْ وَعَلٰی اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ ” ان سے سلب ہو چکا اور وہ ”فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزَادَهُمُ اللَّهُ مَرَضاً“ کے عتاب میں ہیں اور اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ جس عظیم الشان معیار صداقت کے متعلق مرزا قادیانی نے دستے کے دستے کاغذوں کے سیاہ کر دئے اور ایک دفتر لکھ مارا اور تادم مرگ ایڑی سے چوٹی تک زور لگایا۔ جب وہی معاملہ صریحاً غلط رہا اور بالآخر سخن سازیوں کی ضرورت پڑی تو ایسے شخص کے ہم کیوں پیچھے لگیں؟۔
لیکن ہمیں زیادہ تعجب کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ اسی دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی ہستی کے منکر بھی موجود ہیں اور وہ اپنے دعوے کے کچھ دلائل بھی بیان کرتے ہیں اور اسی دنیا میں تثلیث کا عقیدہ رکھنے والے اور آواگون کے چکر میں گرفتار اور بے جان بتوں کو پوجنے والے وغیرہ وغیرہ بھی موجود ہیں اور دلائل بیانی سے وہ بھی خاموش نہیں۔ اندریں صورت مرزائی روایات پرستی بھی منجملہ گونا گوں عقائد انسانی کے ایک عقیدہ ہے۔ معتقدوں کے دلوں میں بیٹھ گیا ہے۔ اپنے گروہ میں بیٹھ کر وہ تمام دنیا کو بے وقوف اور اپنے گروہ کو باریک بین، حق پسند ، قرآنی معارف کے عارف اور تیز فہم ، عقلمند समझते ہیں۔ حالانکہ ان کی بے عقلی کا یہ ایک بین نمونہ ہے کہ عدم وقوع نکاح کو مانتے ہوئے بھی مرزا قادیانی کو سچا سمجھتے ہیں۔ اور خود مرزا قادیانی کی بیسیوں واضح و بین تحریروں اور بیانات سے آنکھیں بند کر کے جدا اپنا راگ گا رہے ہیں اور جیسا کہ ہم کتاب
٤٣
ہذا میں آگے چل کر بیان کریں گے۔ نکاح آسمانی کے نتیجہ کے متعلق ان کے سرکردہ علماء مختلف خیالات رکھتے ہیں اور مسلمانوں کے اعتراضوں کے مختلف جوابات دیتے ہیں۔ جو ان کی بے اصولی کی ایک روشن دلیل ہے۔
١٦....... محمدی بیگم کی واپسی کا الہام
” دعوت ربی بالتضرع والابتهال و مددت اليه ايدى السوال فالهمنى ربى وقال ساريهم اية من انفسهم و اخبرنى وقال انني ساجعل بنتا من بناتهم اية لهم فسماها وقال انها سيجعل ثيبة ويموت بعلها وابوها الى ثلث سنة من يوم النكاح ثم نردها اليك بعد موتهما ولا يكون احدهما من العاصمين وقال انا رادوها اليك لا تبديل لكلمات الله ان ربك فعال لما يريد “
(ملخص کرامات الصادقین ص ١٤،خزائن ج ٧ ص١٦٢)
”میں (مرزا قادیانی) نے بڑی عاجزی سے خدا سے دعا کی تو اس نے مجھے الہام کیا کہ میں ان تیرے خاندان کے لوگوں کو ان میں سے ایک نشانی دکھاؤں گا۔ خدا تعالیٰ نے ایک لڑکی (محمدی بیگم) کا نام لے کر فرمایا کہ وہ بیوہ کی جائے گی۔ اس کا خاوند اور باپ یوم نکاح کے تین سال تک فوت ہو جاویں گے اور پھر ہم اس لڑکی کو تیری طرف لاویں گے اور کوئی اس کو روک نہ سکے گا اور فرمایا میں اسے تیری طرف واپس لاؤں گا۔ خدا کے کلام میں تبدیلی نہیں ہو سکتی اور تیرا خدا جو چاہتا ہے کر دیتا ہے۔“
مرزا قادیانی نے بڑے خشوع و خضوع اور آہ وزاری سے اپنے عزیز واقارب کے خلاف اللہ سے دعا مانگی تھی۔ جس پر بقول مرزا قادیانی اللہ تعالیٰ نے محمدی بیگم کو نشانہ بنایا۔ کہ اسے بیوہ کیا جاوے گا۔ اور اس کا خاوند اور والد تین سال کے اندر مر جاویں گے۔ پھر یہ لڑکی تیری طرف لائی جائے گی۔ اور کوئی اسے روک نہ سکے گا اور پھر مکرر بہ تبدیل الفاظ اس فقرہ کو دہرایا کہ میں اسے تیری طرف واپس لاؤں گا۔ خدا کے کلام میں تبدیلی نہیں ہو سکتی۔ ناظرین ! مثل مشہور ہے کہ کرے داڑھی والا اور پکڑا جائے مونچھوں والا۔ مرزا
١؎ بقول مرزا قادیانی خدا تعالیٰ نے تو لڑکی کا نام لے کر فرمایا تھا۔ لیکن مرزا قادیانی نے اس الہام کے بیان کرنے میں شاید بہ تقاضائے حجاب یا مطابق رواج پنجاب یہاں اپنی منسوبہ لڑکی کا نام تحریر نہیں فرمایا۔
٤٤
بیان کریں گے۔ نکاح آسمانی کے نتیجہ کے متعلق ان کے سرکردہ علماء مختلف اور مسلمانوں کے اعتراضوں کے مختلف جوابات دیتے ہیں۔ جو ان کی بے دلیل ہے۔
بیگم کی واپسی کا الہام
وت ربى بالتضرع والابتهال و مددت اليه ايدى السوال قال ساريهم اية من انفسهم و اخبرنى وقال انني ساجعل بنتا ة لهم فسماها وقال انها سيجعل ثيبة ويموت بعلها وابوها الى يوم النكاح ثم نردها اليك بعد موتهما ولا يكون احدهما من قال انا رادوها اليك لا تبديل لكلمات الله ان ربك فعال لما
(ضمیمہ کرامات الصادقین ص١٤، خزائن ج ٧ ص ١٦٢)
(مرزا قادیانی) نے بڑی عاجزی سے خدا سے دعا کی تو اس نے مجھے الہام کیا خاندان کے لوگوں کو ان میں سے ایک نشانی دکھاؤں گا۔ خدا تعالیٰ نے ایک لڑکی م لے کر فرمایا کہ وہ بیوہ کی جائے گی۔ اس کا خاوند اور باپ یوم نکاح کے تین جاویں گے اور پھر ہم اس لڑکی کو تیری طرف لاویں گے اور کوئی اس کو روک نہ اے تیری طرف واپس لاؤں گا۔ خدا کے کلام میں تبدیلی نہیں ہو سکتی اور تیرا خدا ہے۔“
قادیانی نے بڑے خشوع وخضوع اور آہ وزاری سے اپنے عزیز واقارب کے دعا مانگی تھی۔ جس پر بقول مرزا قادیانی اللہ تعالیٰ نے محمدی بیگم کو نشانہ بنایا۔ کہ اسے اور اس کا خاوند اور والدین سال کے اندر مر جاویں گے۔ پھر یہ لڑکی تیری طرف رکوئی اسے روک نہ سکے گا اور پھر مکرر بہ تبدیل الفاظ اس فقرہ کا دہرایا کہ میں اسے لاؤں گا۔ خدا کے کلام میں تبدیلی نہیں ہو سکتی۔
ین! مثل مشہور ہے کہ کرے داڑھی والا اور پکڑا جائے مونچھوں والا۔ مرزا ل مرزا قادیانی خدا تعالیٰ نے تو لڑکی کا نام لے کر فرمایا تھا۔ لیکن مرزا قادیانی نے ن کرنے میں، غلبہء حیا کے حجاب یا مطابق رواج پنجاب یہاں اپنی منسوبہ لڑکی یا۔
٤٤
قادیانی کو ایذا تو پہنچائی ان کے چچا زاد بھائیوں یا احمد بیگ و مرزا علی شیر بیگ یا مرزا قادیانی کی پہلی بیوی یا مرزا قادیانی کے سگے بیٹوں نے ۔مگر نزلہ گرا بیچاری محمدی بیگم پر۔ جس کا کوئی قصور بھی نہ تھا۔ بہر حال مرزا قادیانی کے ملہم نے اگر یہی مناسب اور ٹھیک سمجھا تو پھر نتیجہ خلاف قرار داد اس ملہم کے کیوں ہو! ایک ظریف نے ایک جلسہ میں کہا تھا کہ ”ولایت کے جتنے سکے سارے کھوٹے“ اس نے تو از راہ ظرافت کہا تھا۔ مگر ہم صدق دل سے اور اپنے ایمان سے خداوند تبارک وتعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر اور اس کی ذات پاک کی قسم کھا کر دنیا کے سب سے بلند پہاڑ کوہ ہمالیہ کی سب سے اونچی چوٹی پر کھڑے ہو کر اعلان کرنے کو تیار ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی آنجہانی کی اس پیش گوئی میں جتنے الہام اور وعدے اور وعید ہوئے سب جھوٹ نکلے۔
اور درحقیقت اس پیش گوئی کا سچا نکلنا اور اس میں کسی تبدیلی کا واقع نہ ہونا صرف اس صورت میں ممکن تھا جبکہ یہ منجانب اللہ ہوتی ۔ مگر نفسانی القاء کا ایسا ہی نتیجہ نکلنا لازمی تھا۔ اصل حقیقت تو بظاہر یہی معلوم ہوتی ہے کہ مرزا قادیانی اپنے نفس کے داؤ میں آگئے اور مرزا احمد بیگ قادیانی کو ہبہ نامہ آراضی پر دستخط کرانے کا موقع پا کر اس کی نوجوان لڑکی کا مطالبہ کر بیٹھے اور کامیابی کا گمان غالب سمجھ کر بد نصیبی سے خداوند تبارک و تعالیٰ کی طرف سے جھوٹ موٹ، تائیدی احکام و الہام بھی شائع کر دئے۔ جس سے مرزا احمد بیگ کے دل میں تو یہ رنج گذرا ہو گا کہ اس شخص نے ایسے موقعہ پر جو مجھے لڑکی کے رشتہ کا پیغام دیا، تو گویا مجھے دختر فروش سمجھا۔ اگر چہ اس وقت اس نے صاف انکار نہیں کیا اور ضبط سے کام لے کر جیسا کہ اکثر شرفاء ایسے موقع پر گول مول سی بات کہہ دیا کرتے ہیں۔ کہ ہاں غور کروں گا۔ یا مجھے آپ سے کیا دریغ ہے وغیرہ کہہ کر وہ چلا گیا۔ مگر مرزا قادیانی اس کو بھی ایک وعدہ سمجھے اور بالآخر ٹکا سا جواب لے کر رہے۔ ادھر غیرت حق یوں جوش میں آئی کہ میرے ایک بندے کو میرے حوالے سے ایک مفتری نے کیوں غلط حکم پہنچایا؟۔
جیسا کہ آیت کریمہ ”ومن اظلم ممن افتری علی الله “ کا منشاء ہے۔
پس مشیت الہی یہ قرار پا چکی تھی کہ مرزا قادیانی اس بارہ میں بیش از بیش ذلیل ہوں اور اپنے ہاتھوں خوار ہی ہوں ۔ اسی واسطے مرزا قادیانی نے اپنے نزدیک ہوشیاری سے لیکن دراصل سوئے تدبیری اور شامت اعمال سے پے در پے خطوط لکھنے شروع کر دئے اور اشتہار بھی اس لئے کہ یہی سچ ہے:
٤٥
طریق سے جاری کر دئیے جیسے زیر دفعہ (٨٢) ضابطہ دیوانی حاضری مدعا علیہم کے لئے گورنمنٹ آف انڈیا کی عدالتیں جاری کیا کرتی ہیں ١؎ اور اس طرح سے یہ قصہ و قضیہ مسلمانوں، ہندوؤں اور عیسائیوں کی اخباری دنیا میں پہنچ کر شہرت عامہ کی حد کو پہنچ گیا۔ اور ایک جہاں اس کے نتیجہ کے لئے گوش بر آواز و چشم براہ انتظار ہو گیا۔ ادھر مرزا قادیانی کو عظیم الشان دعوے کر کے پیچھے ہٹنا مشکل ہو گیا۔ مدت تک تو باوجود بار بار کے مایوسی بخش واقعات پیش آنے کے انہوں نے اپنا جھوٹ قائم رکھا۔ لیکن بالآخر شاندار پسپائی پر مجبور ہوئے اور لکھ دیا کہ نکاح فسخ ہو گیا۔ یا تاخیر میں پڑ گیا۔ مگر تاخیر کی حد ٹوٹ گئی اور مرزا قادیانی بے نیل مرام مر گئے۔ اب انکے پیرو، ہزار باتیں بنائیں اور لاکھ سر پیٹیں۔ معاملہ آسمانی بادشاہت میں پہنچ گیا اور قصہ ختم ہوا۔ نہ اب مرزا قادیانی دوبارہ دنیا میں آ سکتے ہیں اور نہ نکاح ہو سکتا ہے اور نہ داغ ندامت مٹ سکتا ہے۔
ناظرین ! اس فقرہ میں مرزا قادیانی کی ایک اور سلطان القلمی ملاحظہ فرمائیں وہ یہ کہ بیسیوں جگہ شوہر محمدی بیگم کی موت تاریخ نکاح سے اڑھائی سال تک وقوع میں آنی تحریر کر چکے ہیں۔ لیکن یہاں ان تحریرات کے خلاف اس میں چھ مہینہ کی اور ایزادی فرمادی ہے۔ شاید کوئی خفیہ رمز ہو گی جو غریب سلطان محمد کو چھ ماہ کی مزید زندگی خلاف منشاء الہامات عطاء فرمادی ۔ یا دفتری حساب (اکونٹ آفس ) قادیان میں شاید اڑھائی اور تین کا ایک ہی مفہوم سمجھا جاتا ہو۔ ایسے نظائر مرزا قادیانی کی تحریروں میں بکثرت موجود ہیں۔ جن سے وہ معمولی حساب سے ناواقف یا لکھنے میں غیر محتاط اور حافظہ نباشد کے مصداق ثابت ہوتے ہیں۔ کسی صاحب کو ضرورت یا خواہش ہو تو اس کا ثبوت دینے کا ہم حاضر ہیں۔ (انشاء اللہ تعالیٰ )
١٧...... الہامات کا گلدستہ، نکاح آسمان پر پڑھا گیا
”كذبوا بآياتى وكانوبها يستهزؤن . فسيكفيكهم الله ويردها اليك امر من لدنا انا كنا فاعلين زوجناكها. الحق من ربك فلا تكونن من
١؎ اگر یہ معاملہ خطوط بازی کی حد تک ہی محدود رہتا تو شاید اتنی شہرت نہ پکڑتا اور ایک برادری کا اندرونی معاملہ سمجھ لیا جاتا ۔ مگر اشتہاروں نے اس کو بالکل ہی طشت از بام کر دیا۔ بقول یہ کہ:
٤٦
کر دے جیسے زیر دفعہ (٨٢) ضابطہ دیوانی حاضری مدعا علیہم کے لئے گورنمنٹ قرقیاں جاری کیا کرتی ہیں!۔ اور اس طرح سے یہ قصہ و قضیہ مسلمانوں، ہندوؤں اور عیسائی دنیا میں پہنچ کر شہرت عامہ کی حد کو پہنچ گیا۔ اور ایک جہاں اس کے نتیجہ کے لئے چشم بر انتظار ہو گیا۔ ادھر مرزا قادیانی کو عظیم الشان دعوے کر کے پیچھے ہٹنا مشکل تھا۔ باوجود بار بار کے مایوسی بخش واقعات پیش آنے کے انہوں نے اپنا ڈھب قائم رکھا اور شاندار پسپائی پر مجبور ہوئے اور لکھ دیا کہ نکاح فسخ ہو گیا۔ یا تاخیر میں پڑ گیا۔ مگر قضا آئی اور مرزا قادیانی بے نیل مرام مر گئے۔ اب انکے پیرو، ہزار باتیں بنائیں اور معاملہ آسمانی بادشاہت میں پہنچ گیا اور قصہ ختم ہوا۔ نہ اب مرزا قادیانی دوبارہ دنیا میں آئیں اور نہ نکاح ہو سکتا ہے اور نہ داغ ندامت مٹ سکتا ہے۔
ناظرین! اس فقرہ میں مرزا قادیانی کی ایک اور سلطان القلمی ملاحظہ فرمائیں وہ یہ کہ محمدی بیگم کی موت تاریخ نکاح سے اڑھائی سال تک وقوع میں آنی تحریر کر چکے ہیں اور ان تحریرات کے خلاف اس میں چھ مہینہ کی اور ایزادی فرمادی ہے۔ شاید کوئی خفیہ فرشتہ، یا سلطان محمد کو چھ ماہ کی مزید زندگی خلاف منشاء الہامات عطاء فرمادی۔ یا دفتری (آفس) قادیان میں شاید اڑھائی اور تین کا ایک ہی مفہوم سمجھا جاتا ہو۔ ایسے نظائر مرزائیوں میں بکثرت موجود ہیں۔ جن سے وہ معمولی حساب سے ناواقف یا نرے حافظہ نباشد کے مصداق ثابت ہوتے ہیں۔ کسی صاحب کو ضرورت یا خواہش ہو تو ہمیں بتائیں ہم حاضر ہیں۔ (انشاء الله تعالى)
الہامات کا گلدستہ، نکاح آسمان پر پڑھا گیا
انا كنا فاعلين زوجناكها . الحق من ربك فلا تكونن من
یہ معاملہ خطوط بازی کی حد تک ہی محدود رہتا تو شاید اتنی شہرت نہ پکڑتا اور اندرونی معاملہ سمجھ لیا جاتا۔ مگر اشتہاروں نے اس کو بالکل ہی طشت از بام کر دیا کہ:
٤٦
الممترين لا تبديل لكلمات الله ان ربك فعال لما يريد انا رادوها اليك“
”انہوں نے میری نشانیوں کی تکذیب کی اور ٹھٹھا کیا۔ سو خدا ان کے لئے تجھے کفایت کرے گا اور اس عورت کو تیری طرف واپس لائے گا۔ یہ امر واپس لانا ہماری طرف سے ہے اور ہم ہی اس کے کرنے والے ہیں۔ بعد واپسی کے ہم نے تیرے ساتھ نکاح کر دیا۔ تیرے رب کی طرف سے سچ ہے تو شک کرنے والوں سے مت ہو۔ خدا کی باتیں بدلا نہیں کرتیں۔ تیرا رب جس بات کو چاہتا ہے وہ بالضرور اس کو کر دیتا ہے۔ کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔ ہم اس کو واپس لانے والے ہیں۔“
(انجام آتھم ص ٦٠، ٦١ خزائن ج ١١ ص ٢٦٠ تا ٢٦١)
اس عبارت میں جو چند الہامات کا مجموعہ ہے گیارہ فقرے ہیں۔ یہ سب کے سب جھوٹ اور غلط ثابت ہوئے کیونکہ نہ اس معاملہ میں اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی کی مدد کی۔ نہ محمدی بیگم کو واپس لایا۔ نہ مرزا قادیانی سے نکاح کیا اور اس سے نتیجہ نکلا کہ یہ سب وعدے سچے خدا کی طرف سے نہ تھے۔ بلکہ مرزا قادیانی نے اپنے خیالات فاسدہ کو خدائی الہامات سمجھا اور ان کو قرآنی تحدی کے ساتھ پیش کیا اور بر بناء افتراء علی اللہ ناکام رہے۔ ایک حکایت مشہور ہے کہ فرعون کے وقت میں جو خدائی کا دعویدار تھا۔ ایک سال بارش نہ ہوئی اور بڑا بھاری قحط پڑ گیا۔ لوگ بھوکے مرنے لگے۔ رعایا جمع ہو کر فرعون کے پاس پہنچی اور کہا کہ تو کیسا ہمارا رب ہے جو مینہ نہیں برساتا اور تیرے بندے فاقہ کشی سے مر رہے ہیں۔ فرعون نے کہا تمہاری التجاء منظور کرتا ہوں کل کو مینہ برساؤں گا۔ پھر اس نے شیطان جو اس کا مشیر تھا۔ بلا کر کہا کہ کوئی ترکیب بتاؤ اور میری شرم رکھو۔ لوگ بارش نہ ہونے سے بہت نالاں ہیں کہیں مجھ سے بدعقیدہ نہ ہو جائیں۔ شیطان نے جواب دیا کہ کل صبح ہی حسب ارشاد انتظام کر دیا جائے گا اور جا کر اپنی ذریات کو حکم دیا کہ فضاء میں چڑھ کر پیشاب کرو۔ شطونگڑوں نے اس کی تعمیل کی اور بارش ہوئی مگر موت کی۔ جس کے تعفن سے وبا پھیل گئی اور لوگ موت کے گھاٹ اترنے لگے اور پھر فرعون کے پاس آ کر وبا کے شاکی ہوئے۔ فرعون نے شیطان سے پوچھا۔ کہ کیسی بارش برسائی گئی۔ جس سے وبا پھیل گئی اس نے جواب دیا۔ جیسے آپ شیطانی خدا ہیں۔ ویسے ہی آپ کی خدائی میں شیطانی بارش ہوئی۔ نہ رحمن سے آپ کا تعلق ہے نہ آپ کی بارش رحمانی ہو سکتی ہے۔ بالکل یہی حال مرزا قادیانی کی اس عظیم الشان پیش گوئی کا ہے جیسے طبع زاد اور خانہ ساز الہام تھے۔ ویسے ہی نتیجہ برآمد ہوا جو دنیا نے دیکھ لیا۔
ناظرین! غور کا مقام ہے ایک نہیں دو نہیں ایک ہی عبارت میں گیارہ الہام ہیں۔ جو سب کے سب بحر کذب میں غرق ہوئے اور اگر اسی ایک کتاب کے مختلف مقامات سے جمع
٤٧
کئے جائیں تو محض نکاح کے معاملہ میں ہی بجائے گیارہ کے ایک سو گیارہ سے بھی زیادہ ا لہامات واقوال پائے جائیں گے۔ گویا الہاموں اور وحیوں کی سوئے ہضمی ہو رہی ہے۔ یا گھٹا برس رہی ہے۔ مگر نتیجہ ان سب کا مذکورہ بالا حکایتی بارش سے کچھ زیادہ نہیں ۔ ” فاعتبروا یا اولی الابصار “
ہاں اس مجموعہ الہامات میں ایک الہام زوجنکھا بھی ہے۔ یعنی خدا مرزا قادیانی سے کہتا ہے کہ ہم نے محمدی بیگم سے تیرا نکاح کر دیا۔ اس صیغہ ماضی سے وقوع نکاح یقینی اور اٹل ہو جاتا ہے۔ اس کو دوسرے فقروں سے ملا کر دیکھو کتنا زور قلم خرچ کیا گیا ہے۔ جن کا صریح مطلب یہ ہے کہ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔ وہ خدا جس کی باتیں بدل نہیں سکتیں اور کسی کی قوت یا آہ و زاری سے رک نہیں سکتیں۔ اندریں صورت سوال یہ ہے کہ ان سب وعدوں کے برخلاف
لے مرزا قادیانی ہر وقت بے وقت ، الہاموں ، مکاشفوں ، مکالموں اور نشانوں کا ایسا دروازہ کھلا اور وہ طوفان اٹھا کہ الحفیظ والامان ! خلیفہ عبدالعزیز اموی علیہ الرحمۃ فرمایا کرتے تھے کہ تمام امتوں کے ظالم ایک طرف اور ہم میں سے حجاج ابن یوسف ایک طرف ظلم میں مساوی ہوں گے اور ہم کہتے ہیں کہ تمام دنیا کے کاذب مدعیان نبوت اور رسالت ومہدویت مسیحیت وغیرہ وغیرہ ایک طرف اور مشیخت مآب مرزا غلام احمد قادیانی ایک طرف، غلط دعوائے الہام و نشانات آسمانی میں مساوی ہوں گے۔ بلکہ یہ حضرت ان سب سے بڑھے ہوئے نکلیں گے۔ پناہ بخدا اس تعلی کا بھی کچھ ٹھکانا ہے کہ خدا نے میرے لئے دس ہزار نشان ظاہر کئے ۔ پھر اس پر صبر نہ آیا تو لکھا کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے تین ہزار معجزے تھے اور عاجز کے تین لاکھ سے زیادہ ہیں۔ اس پر ترقی کی تو اپنے نشانات کی تعداد دس لاکھ بتلائی دیکھو (تذکرہ الشہادتین ص ٤١، خزائن ج ٢٠ ص ٤٣) اس طرح لکھنے کو اگر دس کروڑ یا دس ارب بھی لکھ دیتے۔ تو کون زبان یا قلم پکڑتا تھا۔ مگر لطف تو تب تھا کہ فہرست بنا کر شمار کراتے۔ اس وقت معلوم ہو جاتا کہ دس لاکھ نشانوں کی فہرست بنانا بھی خالہ جی کا گھر نہیں اور طرفہ ماجرا ہے کہ آپ کا کوئی الہام یا آپ کی کوئی وحی ہدایت خلق یا تزکیہ نفس کے متعلق نہیں۔ تمام الہامات کا دفتر خود ان کی اپنی ہی شان میں قصیدہ مدحیہ ہے۔ یا مخالفوں کے خلاف درافشانی اور ایک خاص حصہ اس دفتر الہامات کا بمعنی (مہمل) بھی ہے جس کا مطلب خود مرزا قادیانی کو بھی کبھی معلوم نہ ہوا جیسے حم عسق ! (تذکرہ ص ٣٦٩) پریشن ! (تذکرہ ص ١١٥) پیپر منٹ! (تذکرہ ص ٥٢٧) ربنا عاج ! (تذکرہ ص ١٠١) وغیرہ وغیرہ مفصل دیکھو ہماری کتاب عشرہ کاملہ!
٤٨
نتیجہ کیوں نکلا؟ ۔ اللہ کریم نے قرآن شریف میں فرمایا ہے۔ ”ان اللہ لا يخلف الميعاد “ پس ثابت ہوا کہ یہ وعدے خدا کے نہ تھے۔ بلکہ کسی اور کے تھے۔ جس کے فریب میں مرزا قادیانی مدۃ العمر پھنسے رہے۔
١٨...... الہام اور اس کی آسمانی تفسیر!
”قال كذبو اباياتى وكانو ابها مستهزئين . فسيكفيكهم الله ويردها اليك لا تبديل لكلمات الله . ان ربك فعال لما يريد . فاشارني لفظ فسيكفيكهم الله الى انه يرد بنت احمد الى بعد اهلاك المانعين وكان اصل المقصود الا هلاك و تعلم انه هو الملاك“
”گفت ایں مردم مکذب آیات من ہستند و بداںہا استہزا می کنند۔ پس من ایشاں را نشانے خواہم نہ مود و برائے تو ایں ہمہ را کفایت خواہم شد۔ وآں زن را۔ کہ زن احمد بیگ رادختر است باز بسوئے تو واپس خواہم آورد یعنی چونکہ اواز قبیلہ بباعث نکاح اجنبی بیرون شدہ باز بتقریب نکاح تو بسوئے قبیلہ رد کردہ خواہد شد۔ و در کلمات خدا وعدہ ہائے او ہیچکس تبدیل نتوانند کرد و خدائے تو ہر چہ خواہد آں ہمہ بہر حالت شدنی است ممکن نیست کہ در معرض التوا بماند پس خدا تعالیٰ بلفظ فسیکفیکھم اللہ سوئے ایں امر اشارہ کرد۔ کہ او دختر احمد بیگ را بعد از میرا نیدن مانعان بسوئے من واپس خواہد کرد و اصل مقصود میرانیدن بود و تو میدانی کہ ملاک ایں امر میرانیدن“
(انجام آتھم ص ٢١٦، ٢١٧ ،خزائن ج ١١ ص ایضاً )
نوٹ ! مرزا قادیانی نے اردو ترجمہ نہیں کیا جو ہم عبارت کو عام فہم بنانے کے لئے درج کرتے ہیں کہ: ”خدا نے فرمایا کہ یہ لوگ میری نشانیوں کو جھٹلاتے ہیں اور ان سے ٹھٹھا کرتے ہیں۔ پس میں ان کو ایک نشان دوں گا اور تیرے لئے ان سب کو کافی ہوں گا اور اس عورت کو جو احمد بیگ کی عورت ے کی بیٹی ہے پھر تیری طرف واپس لاؤں گا یعنی چونکہ وہ ایک اجنبی کے ساتھ نکاح ہوجانے کے سبب سے قبیلہ سے باہر نکل گئی ہے۔ پھر تیرے نکاح کے ذریعہ سے قبیلہ میں داخل کی
ے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کو فارسی زبان میں تحریر کی اچھی مشق نہ تھی یا وہ الہامی فارسی استعمال کرتے تھے۔ اگر یقین نہ آئے تو نمونہ کے لئے یہ فقرہ ملاحظہ ہو کہ ” آں زن را کہ زن احمد بیگ رادختر است“ ہم اس عبارت سے کسی اور نتیجہ پر پہنچتے۔ یعنی محمدی بیگم کو احمد بیگ کی ”سگی“ بیٹی تصور کرتے۔ مگر اخیر میں اس عورت کو دختر احمد بیگ بھی لکھا ہے اس لئے ہم سمجھ گئے کہ یہ سلطان القلمی کا نمونہ ہے۔
٤٩
نکاح کے معاملہ میں ہی بجائے گیارہ کے ایک سو گیارہ سے بھی زیادہ ا جائیں گے۔ گویا الہاموں اور وحیوں کی سوئے ہضمی ہو رہی ہے۔ یا گھٹا ان سب کا مذکورہ بالا حکایتی بارش سے کچھ زیادہ نہیں۔ ” فاعتبرو یا
مجموعہ الہامات میں ایک الہام زوجنکھا بھی ہے۔ یعنی خدا مرزا قادیانی محمدی بیگم سے تیرا نکاح کر دیا۔ اس صیغہ ماضی سے وقوع نکاح یقینی اور کو دوسرے فقروں سے ملا کر دیکھو کتنا زور قلم خرچ کیا گیا ہے۔ جن کا صریح دا کا سچا وعدہ ہے۔ وہ خدا جس کی باتیں بدل نہیں سکتیں اور کسی کی قوت یا میں سکتیں۔ اندریں صورت سوال یہ ہے کہ ان سب وعدوں کے بر خلاف قادیانی ہر وقت بے وقت، الہاموں، مکاشفوں، مکالموں اور نشانوں کا ایسا ن اٹھا کہ الحفیظ والامان! خلیفہ عبدالعزیز اموی علیہ الرحمۃ فرمایا کرتے تھے کہ ایک طرف اور ہم میں سے حجاج ابن یوسف ایک طرف ظلم میں مساوی ہوں ۔ تمام دنیا کے کاذب مدعیان نبوت اور رسالت و مہدویت و مسیحیت وغیرہ فضیحت مآب مرزا غلام احمد قادیانی ایک طرف، غلط دعوائے الہام و نشانات وں گے۔ بلکہ یہ حضرت ان سب سے بڑھے ہوئے نکلیں گے۔ پناہ بخدا اس مکانا ہے کہ خدا نے میرے لئے دس ہزار نشان ظاہر کئے۔ پھر اس پر صبر نہ آیا تو ﷺ کے تین ہزار معجزے تھے اور عاجز کے تین لاکھ سے زیادہ ہیں۔ اس انات کی تعداد دس لاکھ بتلائی دیکھو (تذکرہ الشہادتین ص ٤١، خزائن ج ٢٠ ص ٤٣) س کروڑ یا دس ارب بھی لکھ دیتے۔ تو کون زبان یا قلم پکڑتا تھا۔ مگر لطف تو تب ار کر آتے۔ اس وقت معلوم ہو جاتا کہ دس لاکھ نشانوں کی فہرست بنانا بھی طرفہ ماجرا ہے کہ آپ کا کوئی الہام یا آپ کی کوئی وحی ہدایت خلق یا تزکیہ نفس الہامات کا دفتر خود ان کی اپنی ہی شان میں قصیدہ مدحیہ ہے۔ یا مخالفوں کے ایک خاص حصہ اس دفتر الہامات کا بمعنی (مہمل ) بھی ہے جس کا مطلب خود معلوم نہ ہوا جیسے حتم حتم ! اُپریشن ! ( تذکرہ ص ١١٥) پیپرمنٹ! ( تذکرہ ص ٥٢٧) ربناعاج ! ( تذکرہ ص ١٠١) سوہماری کتاب عشرہ کاملہ !
٤٨
جائے گی۔ خدا کی باتوں اور اس کے وعدوں کو کوئی بدل نہیں سکتا اور تیرا خدا جو کچھ چاہتا ہے وہ کام ہر حالت میں ہو جاتا ہے۔ ممکن نہیں کہ معرض التواء میں رہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے لفظ فسیکفیکھم اللہ کے ساتھ اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ وہ احمد بیگ کی لڑکی کو روکنے والوں کو جان سے مار ڈالنے کے بعد میری طرف واپس لائے گا اور اصل مقصود جان سے مار ڈالنا تھا اور تو جانتا ہے کہ ہلاک اس امر کا جان سے مار ڈالنا ہے اور بس“
اس عبارت سے بھی حوالہ گذشتہ کی ہی تائید ہوتی ہے۔ وہ صرف الہامات تھے۔ اس میں مرزا قادیانی نے خوب دل کھول کر تفسیر اور تشریح بھی کر دی ہے اور نکاح کا ہونا اٹل اور لازمی اور ضروری قرار دیا ہے۔ جو سب کچھ جھوٹ نکلا اور تفسیر میں جو باتیں اللہ تعالیٰ کے اشارہ سے لکھی جانی بیان کی ہیں۔ وہ افترا علی اللہ ثابت ہوئیں اس کتاب کے دوسرے مقامات پر اگر چہ کئی ایک تجاویز ہم ایسی پیش کر چکے ہیں جن کے ذریعہ سے ایک طالب حق پر حق وصداقت منکشف ہو جائے اور وہ کچھ مشکل اور کٹھن بھی نہیں ہیں۔ لیکن اس جگہ ہم ایک اور سہل تر تجویز پیش کرتے ہیں۔ کہ وہ مرزائی صاحبان جن کو وحدہ لاشریک مالک السموات والارض ! اللہ تبارک وتعالیٰ شانہ اور اس کے نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اور مقدس کتاب قرآن کریم پر ایمان رکھنے کا اقرار ہے۔ رات کے پچھلے پہر ہر نفسانی تحریک سے خالی الذہن ہو کر اعوذ اور بسم اللہ کے بعد حضور قلب کے ساتھ پہلے تین بار سورہ قل اعوذ برب الفلق وقل اعوذ برب الناس کی تلاوت فرمائیں اور پھر مرزا قادیانی کے فقرات ذیل کو معہ ترجمہ تین بار دلی توجہ سے مطالعہ کریں۔
- الف........ ”وآں زن را۔ کہ زن احمد بیگ را دختر است۔ باز بسوئے
تو واپس خواهم آورد“
”اور اس عورت کو جو احمد بیگ کی عورت کی لڑکی ہے پھر تیری طرف واپس لاؤں گا“
- ب......... ”یعنی چونکہ او از قبیلہ بباعث نکاح اجنبی بیرون
شدہ باز بتقریب نکاح تو بسوئے قبیلہ رد کردہ خواهد شد“
”یعنی چونکہ وہ ایک اجنبی کے ساتھ نکاح ہو جانے کی وجہ سے قبیلہ سے باہر نکل گئی ہے۔ پھر تیرے نکاح کی تقریب سے قبیلہ میں واپس داخل ہوگی“
- ج......... ”در کلمات خدا و وعدہ ہائے او هیچکس تبدیل نتواں
کرد۔ و خدائے تو ہر چہ خواهد۔ آں امر بہر حالت شدنی است ممکن نیست کہ در معرض التوا بماند“
٥٠
”خدا کی باتوں اور وعدوں کو کوئی شخص تبدیل نہیں کر سکتا اور تیرا خدا جو کچھ چاہتا ہے وہ کام بہر حالت ہونے والا ہے“
اس کے بعد اللہ کریم سے دعا کریں کہ اے الہ العالمین ان فقرات کا صحیح نتیجہ مجھ پر منکشف فرمادے۔
اس تجویز پر عمل کرنے سے انشاء اللہ تعالیٰ صحیح نتیجہ پر پہنچ جائیں گے الٰہی یہ مبارک تجویز ان کے لئے رہبر کامل ثابت ہو گی۔ لیکن اگر وہ ایسی صاف اور سیدھی راہ بھی اختیار نہ کریں تو پھر سوائے ان کی بد نصیبی کے اور کیا کہا جا سکتا ہے۔ بقول یہ کہ:
حیوان تشنہ می آرد سکندرا “
اس عبارت نقل کردہ کے بعد انجام آتھم میں اور بھی لمبی تقریر ہے۔ جس کا ماحصل آخیر یہ ہے کہ مرزا قادیانی کا نکاح محمدی بیگم سے ضرور ہوگا۔ جو سب فضول ثابت ہوئی۔
١٩...... یہ نکاح بحکم الٰہی معیار صدق و کذب ہے
مرزا احمد بیگ کے مرنے اور اس کے پسماندگان کے جزع وفزع اور مرزا سلطان محمد کی موت میں بوجہ خوف تاخیر ہو جانے کا ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
”بارہا ایں نگفته ام کہ ایں مقدمہ برہمیں قدر با تمام رسید و نتیجه آخری ہماں است کہ بظہور آمدو حقیقت پیش گوئی برہماں ختم شد. بلکہ اصل امر برحال خود قائم است و هیچکس باحیلہ خود اورا ردنتواں کرد. وایں تقدیر از خدائے بزرگ تقدیر مبرم است و عنقریب وقت آں خواهد آمد. پس قسم آں خدائے کہ حضرت محمد مصطفٰی ﷺ را برائے ما مبعوث فرمود او را بہترین مخلوقات گردانید کہ ایں حق است و عنقریب خواهی دید و من ایں را برائے صدق خود یا کذب خود معیار می گردانم. ومن نگفتم الا بعد زانکہ از رب خود خبردادہ شدم “
(انجام آتھم ص ٢٢٣، خزائن ج ١١ ص ایضاً)
”پھر میں نے تم سے یہ نہیں کہا کہ یہ جھگڑا یہیں ختم ہو گیا اور نتیجہ یہی تھا کہ جو ظاہر ہو چکا اور پیش گوئی کی حقیقت اس پر ختم ہو گئی بلکہ یہ امر اپنے حال پر قائم ہے اور کوئی شخص حیلہ کے ساتھ خود اس کو رد نہیں کر سکتا اور یہ تقدیر خدائے بزرگ کی جانب سے تقدیر مبرم ہے۔ عنقریب اس
٥١
کا وقت آئے گا پس اس خدا کی قسم جس نے حضرت محمد ﷺ کو ہمارے لئے مبعوث فرمایا اور اس کو تمام مخلوقات سے بہتر بنایا۔ کہ یہ سچ ہے اور تو عنقریب دیکھے گا اور میں اس کو اپنے صدق و کذب کے لئے معیار قرار دیتا ہوں اور میں نے یہ اپنے رب سے خبر پا کر کہا ہے۔‘‘
ناظرین سے عموماً اور مرزائی صاحبان سے خصوصاً التماس ہے کہ وہ اصل عبارت کو بغور پڑھیں اور دیکھیں کہ مرزا قادیانی نے محمدی بیگم کے خاوند کے مرنے اور اس کے ساتھ اپنا نکاح ہونے کو تقدیر مبرم قرار دیا ہے۔ جو قطعاً نہ ٹل سکے اور ضرور بضرور ہو کر رہے۔ اور اس بیان پر اللہ تعالیٰ نے علاوہ حضرت رسالت مآب ﷺ کی رسالت کا واسطہ دے کر اس کی سچائی پر انتہائی زور ڈالا اور یقین دلایا ہے اور اسی پر بس نہیں بلکہ اس کو اپنے صدق و کذب کا معیار بھی قرار دیا ہے اور اخیر میں اس پر وحی الٰہی کی مہر بھی لگائی ہے۔ یہ اتنا واضح مشرح اور بیّن بیان ہے کہ اس سے زیادہ توضیح محال ہے۔ لیکن مرزا قادیانی کا نہ الہام صحیح ! نہ تشریح درست !! نہ قسم سچی !! اور نہ واسطہ رسالت ٹھیک !!! بقول یہ کہ:
ہم الٹے بات الٹی یار الٹا
مرزائی دوستو! خدا کے لئے غور کرو اور بتلاؤ کہ مرزا قادیانی کی بیان کردہ اس تقدیر مبرم کو کون سا سانپ سونگھ گیا اور وہ صدق و کذب کا معیار جو بحوالہ وحی الٰہی قرار دیا گیا تھا۔ اس کی رو سے مرزا قادیانی کاذب ثابت ہوئے ہیں یا نہیں؟۔
- ٢٠ ...... خدا کا وعدہ ٹل نہیں سکتا نکاح ضرور ہوگا
’’اس پیش گوئی کا دوسرا حصہ جو اس کے داماد کی موت ہے۔ وہ الہامی شرط کی وجہ سے دوسرے وقت پر جا پڑا اور داماد اس کا الہامی شرط سے اسی طرح متمتع ہوا۔ جیسا کہ آتھم ہوا۔ چونکہ احمد بیگ کی موت کے بعد اس کے وارثوں میں سخت مصیبت برپا ہوئی۔ سو ضرور تھا۔ کہ وہ الہامی شرط سے فائدہ اٹھاتے اور اگر کوئی شرط نہ ہوتی تاہم وعید میں سنت الٰہی یہی ہے۔ جیسا کہ یونس کے دنوں میں ہوا۔ پس اس کا داماد تمام کنبہ کے خوف کی وجہ سے اور ان کی توبہ اور رجوع کے باعث سے اس وقت فوت نہ ہوا مگر یاد رکھو کہ:
- ١...... خدا کی فرمودہ میں تخلف نہیں۔
١؎ مرزا قادیانی نے بھی اپنی تصانیف میں کئی جگہ تقدیر مبرم کی یہی تعریف لکھی ہے جس کا وقوع میں آنا لازمی ہوا ہو۔ اور کسی طرح ٹل نہ سکے۔ مثال کے لئے دیکھو نمبر ١٥ باب ہذا۔
٥٢
- ٢...... اور انجام وہی ہے جو ہم کئی مرتبہ لکھ چکے ہیں ۔
- ٣...... خدا کا وعدہ ہرگز نہیں ٹل سکتا۔ (ضمیمہ انجام آتھم ص ١٣، خزائن ج ١١ ص ٢٩٧)
الہامی شرط اور سنت اللہ کی تفصیل اور حضرت یونسؑ کا قصہ ہم اسی کتاب میں دوسرے موقعہ پر بیان کریں گے اس عبارت میں ہم ناظرین کو مرزا قادیانی کے آخری تین فقروں کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔ مرزا قادیانی نے ازراہ ہوشیاری پہلے نہایت باریکی سے پیش گوئی کو کمزور کرنے کی کوشش کی ہے۔ مگر بالآخر فرمان خدا کا حوالہ دیکر اس کے پورا ہونے کا یقین دلایا ہے۔ جیسا کہ فقرہ نشان کردہ نمبر ١ میں لکھا ہے۔ (خدا کے فرمودہ میں تخلف نہیں) اور فقرہ نمبر ٢ میں لکھا ہے (اور انجام وہی ہے جو ہم کئی مرتبہ لکھ چکے) اور فقرہ نمبر ٣ میں لکھا ہے۔ (خدا کا وعدہ ہرگز ٹل نہیں سکتا۔)
صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
مگر یہ پردہ داری بھی پردہ دری سے بدل گئی اور پیش گوئی کے غلط ہونے سے سب حسن و قبح نظر آ گیا اور دوسری عبارتوں کی طرح یہ تین فقرے بھی کذب صریح ثابت ہوئے یعنی معلوم ہو گیا۔ کہ یہ خدا کا فرمودہ اور وعدہ الٰہی ہرگز نہ تھا۔
- ٢١...... مرزا سلطان محمد کی موت تقدیر مبرم ہے
”میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیش گوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے۔ اس کی انتظار کرو اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آ جائے گی اور اگر میں سچا ہوں تو خدا تعالیٰ اسے ضرور پورا کرے گا۔ جیسا کہ احمد بیگ اور آتھم کی پیش گوئی پوری ہو گئی ۔“
(انجام آتھم ص ٣١ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٣١)
اس آپ کے بار بار کہنے نے ہی تو روز روشن کی طرح دنیا کے اہل دانش و بینش پر ظاہر کر دیا۔ کہ اس الہام اور دعوے (نکاح) میں صداقت کا بقدر ذرہ بھی حصہ نہ تھا۔ اپنے سچے یا جھوٹے ہونے کی کسوٹی خود ہی اس پیش گوئی کو قرار دیا تھا۔ سو بحمد اللہ کہ یہ کسوٹی سچی ثابت ہوئی اور آپ کی پیغمبری کا پول کھل گیا کیا آپ کی اس تحریر کے مطابق دنیا کے اہل عقل ابھی اس امر کا کچھ اور انتظار کریں؟ ۔ کہ اگر آپ جھوٹے ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہیں ہوگی اور آپ کی موت آ جائے گی؟ اور اگر آپ سچے ہوں گے۔ تو خدا تعالیٰ اسے ضرور پورا کرے گا؟ ۔لیکن جب کہ مرزائی جماعت ہی ان واقعات سے صاف صاف اقراری ہے کہ مرزا قادیانی کے انتقال کو ١٧ سال گزر
چکے اور داماد احمد بیگ تا حال زندہ ہے اور محمدی بیگم سے مرزا قادیانی کا نکاح ثانی خدا تعالیٰ نے نہیں ہونے دیا۔ تو پھر مرزا قادیانی کے رقم کردہ ان فقرات کو غیر صحیح ثابت ہونے میں کسی حق پسند و حق بین کو شک و شبہ کی کیا گنجائش ہے؟ اور جب کہ یہ زور دار پیش گوئی پوری نہیں ہوئی۔ جس کا خاص طور پر انتظار دلوایا گیا تھا۔ تو اس کی تمثیلات و نظائر یعنی آتھم اور احمد بیگ کی پیش گوئیاں جو بجائے خود بھی ابلہ فریبیاں ہیں۔ کیونکر بطور اثبات و اسناد دعویٰ قبول کی جائیں؟ اور کیوں ان سب کا مشترکہ نتیجہ مرزا قادیانی کے خلاف نہ لیا جائے؟۔
لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا
جوش صداقت اور حمایت حق مجبور کرتی ہے کہ ہم اس جگہ بہت کچھ لکھیں مگر بخوف طوالت مرزائی صاحبان کی خدمت میں محض اس قدر التماس کرتے ہیں کہ خدا کے واسطے غیرت اسلامی کے لئے اپنی عاقبت کا فکر کریں اور اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر موت اور قیامت پر ایمان رکھ کر اور صدق و کذب کا فیصلہ مدنظر رکھ کر فجر کی نماز کے بعد پہلے مرزا قادیانی کی عبارت مندرجہ ذیل کو ستر مرتبہ غور سے پڑھیں۔
”میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیش گوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے۔ اس کی انتظار کرو اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجائے گی اور اگر میں سچا ہوں تو خدا تعالیٰ اسے ضرور پورا کرے گا۔“
(انجام آتھم ص ٣١ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٣١)
اور اس سے اول و آخر گیارہ گیارہ مرتبہ اہدنی لما اختلف فیہ من الحق ١ باذنک انک تہدی من تشاء الی صراط مستقیم “ تلاوت کریں۔ اس کے بعد سوالات مندرجہ ذیل کا جواب اپنے دل سے پوچھیں اور اس وقت قوت ایمانیہ سے کام لیں۔ نفسانیت اور تعصب، ہٹ دھرمی اور بیجا طرف داری کو دخل نہ دیں۔ اس حالت میں جو جواب آپ کا ضمیر صافی آپ کو دے اس سے ہم کو بھی مطلع فرمائیں۔
- سوال اول...... الہام الٰہی مرزا قادیانی اور محمدی بیگم کے نکاح کا تھا یا نہیں؟۔
- سوال دوم...... اس الہام پر اللہ تعالیٰ کی قسم بھی کئی بار کھائی گئی یا نہیں؟۔
١؎ یا اللہ مجھ پر اپنے ارادہ سے حق ظاہر فرما دے اس امر کے متعلق جس میں اختلاف ہو رہا ہے۔ بے شک تو جسے چاہے سیدھا راستہ دکھلا دیتا ہے۔
٥٤
سوال سوم ....... الہام میں بار بار آیات قرآنی نازل ہو کر اللہ تعالیٰ کے طرف سے اس کی سچائی کا وعدہ دیا گیا تھا یا نہیں؟۔
سوال چہارم ...... کیا محمدی بیگم کا خاوند پہلے الہام کے مطابق اڑھائی سال کی میعاد میں اور اس کے بعد الہامات کی رو سے مرزا قادیانی کی حیات میں فوت ہوا؟۔
سوال پنجم ....... کیا مرزا قادیانی کی حیات میں سلطان محمد خاوند محمدی بیگم موت جو تقدیر مبرم بتلائی گئی تھی وقوع میں آگئی؟۔
سوال ششم ...... کیا مرزا قادیانی کا محمدی بیگم سے نکاح ہو گیا؟۔ جسے تقدیر مبرم بتلایا گیا تھا۔
سوال ہفتم ...... مرزا قادیانی کے انتقال کے بعد نکاح کی کوئی امید ابھی باقی ہے؟۔
سوال ہشتم ...... مرزا قادیانی نے جو اس نکاح کو اپنے صدق و کذب کا معیار قرار دیا تھا۔ اس کی رو سے وہ صادق ثابت ہوتے ہیں یا کاذب؟۔
سوال نہم ....... بار بار اللہ کی طرف سے جو نکاح کے وعدے دلائے گئے اور نکاح کو اٹل اور لازمی قرار دیا گیا۔ جب یہ وعدے پورے نہ ہوئے تو ان بیانات کو الہامات کہا جائے یا افتراء علی اللہ؟۔
سوال دہم ....... ان ظاہر و باہر واضح اور روشن صاف اور صریح نتائج کے بعد آپ مرزا قادیانی کے حق میں کیا ایمان رکھتے ہیں؟۔ تلك عشرة كاملة!
٢٢....... نکاح کی پیش گوئی براہین احمدیہ میں
”براہین احمدیہ میں بھی اس وقت سے سترہ برس پہلے اس پیش گوئی کی طرف اشارہ فرمایا گیا تھا یہ جو اس وقت میرے پر کھولا گیا ہے اور وہ الہام یہ ہے جو ( براہین احمدیہ کے ص ٤٩٧ حاشیہ خزائن ج ١ ص ٥٩٠) میں مذکور ہے ۔ ” يا آدم اسكن انت و زوجك الجنة يا مريم اسكن انت و زوجك الجنة يا احمد اسكن انت و زوجك الجنة “ اس جگہ تین جگہ زوج کا لفظ آیا ہے اور تین نام اس عاجز کے رکھے گئے ۔ پہلا نام آدم یہ وہ ابتدائی نام ہے۔ جبکہ خدا تعالیٰ نے اس عاجز کو روحانی وجود بخشا ۔ اس وقت پہلی زوجہ کا ذکر فرمایا اور پھر دوسری زوجہ کے
٥٥
وقت مریم نام رکھا۔ کیونکہ اس وقت مبارک اولاد دی گئی۔ جس کو مسیح ١؎ سے مشابہت ملی.....تیسری زوجہ جس کا انتظار ٢؎ ہے۔ اس کے ساتھ احمد کا لفظ شامل کیا گیا ہے اور یہ لفظ احمد اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس وقت حمد اور تعریف ہوگی۔ یہ ایک چھپی ہوئی پیش گوئی ہے۔ جس کا سرّ اس وقت خدا تعالیٰ نے مجھ پر کھول دیا۔ غرض تین مرتبہ زوج کا لفظ تین مختلف نام کے ساتھ جو بیان کیا گیا ہے۔ وہ اسی پیش گوئی کی طرف اشارہ ہے۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج ١١ص٣٣٨)
اس فقرہ میں مرزا قادیانی نے نکاح کی پیش گوئی کی قدامت کو سترہ سال قبل کا حوالہ دے کر اور بھی بڑھا دیا ہے اور براہین احمدیہ سے ایک پرانا الہام نقل کر کے دعوے کیا ہے کہ یہ ایک چھپی ہوئی پیش گوئی تھی۔ جس کا سرّ اس وقت خدا تعالیٰ نے مجھ پر کھول دیا۔ اس الہام میں تین فقرے ہیں۔
- .......١ اے آدم تو اور تیری بیوی بہشت میں رہو۔
- .......٢ اے مریم تو اور تیرا جوڑا بہشت میں رہو۔
- .......٣ اے احمد تو اور تیری بیوی بہشت میں رہو۔
پہلے فقرہ سے پہلی بیوی مراد لیتے ہیں۔ یعنی مسماۃ حرمت بی بی والدہ مرزا سلطان احمد و فضل احمد۔ دوسرے فقرہ سے دوسری بیوی یعنی مسماۃ نصرت جہاں بیگم والدہ میاں محمود احمد گدی نشین دوم۔ تیسرے فقرے سے مسماۃ محمدی بیگم یعنی زوجہ موجودہ جس کی بحث ہے لیکن صورت حال یہ ہے کہ پہلی بیوی ٣؎ کو تو اس کی بے دینی کی وجہ سے مرزا قادیانی نے طلاق دے کر اس کا اشتہار بھی دے دیا تھا۔
(دیکھو اشتہار نصرت دین و قطع تعلق از اقارب مخالف دین مورخہ ٢ مئی ١٨٩١ء، مجموعہ
اشتہارات ج١ ص٢١٩)
پس بے دین اور مطلقہ ہونے کی وجہ سے یہ پہلی بیوی تو مرزا قادیانی کے ساتھ بہشت
١؎ مرزا قادیانی کو خود مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ تھا۔ یہاں اولاد کو مسیح سے مشابہت دیتے ہیں۔ کبھی خود مریم بن کر حاملہ ہوتے ہیں۔ عجیب گورکھ دھندا ہے۔ خود کوزہ و خود کوزہ گر و خود گل کوزہ کبھی مسیح ، کبھی مسیح کی ماں، کبھی مسیح کا باپ۔ ایں چہ بوالعجمی است!
٢؎ انتظاری نے تری خوب دکھایا لہو!
٣؎ اس غریب کی بے دینی یہ تھی کہ محمدی بیگم کا مرزا قادیانی سے نکاح نہ ہونے دیا اور اس کے خاوند کی کوشش کی بقول مرزا قادیانی...........
٥٦
میں نہیں رہ سکتی لہٰذا الہام کا ایک ثلث تو یوں غارت ہوا۔ تیسری منتظرہ بیوی (محمدی بیگم) کو ہاتھ لگانا تو درکنار بعد الہام نکاح عالم بیداری میں اس کا دیدار بھی مرزا قادیانی کو اعلانیہ نصیب نہ ہوا۔ حتیٰ کہ اس کی حسرت اور ارمان دل ہی دل لئے ہوئے مرزا قادیانی قبر سے ہم آغوش ہو گئے۔ اس لئے الہام کا ثلث ثالث بھی اکارت گیا۔
رہ گیا ثلث ثانی یعنی دوسری بیوی والا الہام اگر بقول مرزا قادیانی اس سے مسماۃ نصرت جہاں بیگم ہی مراد ہے۔ تو اس کی مرزا قادیانی سے بہشت یا دوزخ میں معیت کا حال تو اللہ تعالیٰ کو بہتر معلوم ہے۔ مگر بظاہر حال اتنا ہم ضرور کہیں گے کہ وہ دو جھوٹے الہامی وعدوں کے درمیان ہے اور یہ ایک کلیہ قاعدہ ہے کہ ہر ایک معاملہ میں اس کے اکثر حصہ پر حکم لگایا جاتا ہے۔ پس جب پیش گوئی کے دو حصہ (اول و آخر) فضول اور کذب ثابت ہو چکے تو تیسرے کا کیا اعتبار ہے؟۔
اس جگہ ایک توجیہ ہماری سمجھ میں آئی ہے۔ اگر مرزائی صاحبان بھی پسند فرمائیں اور وہ یہ ہے کہ اس الہام میں مرزا قادیانی کو مریم کہا گیا ہے۔ سچے خدا تعالیٰ کی نسبت لغو اور بے اصل کلام کا خیال و گمان کرنا بھی بے ایمانی اور کفر ہے۔ پس اگر بالفرض محال والتسلیم۔ یہ الہام اپنے لفظوں کی رو سے صحیح ہے۔ تو ایک مرد کو عورت کر کے پکارنا خالی از علت نہیں۔ ممکن ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ شانہ جن کی ذات نکتہ نواز ہے۔ مرزا قادیانی کی کسی ادا سے خوش ہو گئے ہوں اور بروز محشر ان کو مریم ١؎ یعنی عورت بنا کر کسی بھلے آدمی مثلاً مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری یا ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب پٹیالوی کے ساتھ ان کا جوڑ ملا کر بہشت میں داخل فرمادیں۔ تو پیش گوئی کا ایک حصہ صحیح ہو جائے۔ ورنہ بظاہر تو پیش گوئی کے تینوں حصے باطل اور جھوٹ نکلے۔
مرزا قادیانی کی اس کشودگی سر کے متعلق ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ سترہ برس کے بعد مرزا قادیانی پر ایک الہام کا جو سر کھولا گیا۔ وہ غلط کیوں کھلا۔ کیا اس سے اللہ کریم کو محض مرزا قادیانی کے دعاوی باطلہ کی پردہ دری اور ان کی تذلیل و تضحیک منظور تھی۔ یا مرزا قادیانی نے خود ہی گھڑ لیا تھا۔ کہ سر کھولا گیا اور دراصل کھلا کھلایا کچھ بھی نہ تھا اور اگر یہ سخن سازی نہ تھی۔ تو پھر بتلایا جائے کہ سر کھلتے کھلتے یہ امر کیوں پوشیدہ رہ گیا کہ اس نکاح کو تو ہونا نہیں اور حمد و تعریف کے
١؎ الہام میں صرف آپ کا نام مریم رکھا گیا ہے۔ ورنہ حضرت مریم علیہا السلام سے آپ کو کوئی مناسبت نہیں۔
٧٧
بجائے بدنامی اور ذلت ہوگی اور ایک دنیا اس پر پھبتیاں اڑائے گی کہ کیا کوئی حق پسند طبیعت قبول کر سکتی ہے کہ سچے نبیوں پر ١٧، ١٧ سالوں کے بعد ایسے سر کھُلا کرتے ہیں جن کا نمونہ ہم پیش کر رہے ہیں؟۔ سعدی علیہ الرحمۃ کیا صحیح فرما گئے ہیں۔
چہ مردان لشکر چہ خیل زناں
٢٣....... براہین احمدیہ کا ایک اور لنگڑا الہام
”شاتان تذبحان و کل من علیھا فان ولا تھنوا ولا تحزنو الم تعلم ان اللہ علی کل شئی قدیر“
”یعنی دو بکریاں ذبح کی جائیں گی۔ پہلی بکری سے مراد مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری ہے اور دوسری بکری سے مراد اس کا داماد (شوہر محمدی بیگم) ہے اور پھر فرمایا کہ تم سست مت ہو اور غم مت کرو۔ کیونکہ ایسا ہی ظہور میں آئے گا۔ کیا تو نہیں جانتا کہ خدا ہر ایک چیز پر قادر ہے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٦، ٥٧ خزائن ج ١١ ص ٣٤٠، ٣٤١)
یہ الہام مرزا قادیانی نے ضمیمہ انجام آتھم میں (بحوالہ براہین احمدیہ ص ٥١٢، خزائن ج ١ ص ٦١١) پر نقل کر کے اس کی تشریح بیان کی ہے اور یہ تشریح ان کو احمد بیگ کے مرنے کے بعد سوجھی۔ ورنہ الہام تو سترہ سال پہلے براہین احمدیہ میں درج ہو چکا تھا۔ تشریح کا غیر صحیح ہونا اس سے ظاہر ہے کہ ایک بکری ذبح ہو گئی۔ مگر دوسرا بزغالہ (شوہر محمدی بیگم) کسی طرح بچ نکلا۔ لہٰذا وہ الہام جس میں دو بکریوں کے ذبح کا ذکر تھا۔ غلط ثابت ہوا اور پھر یہ امر قابل غور ہے کہ بکریاں تو ذبح ہو کر حلال ہو جاتی ہیں اور مسلمانوں کے کام آتی ہیں۔ اس لئے احمد بیگ کی موت بھی حلال ہی سمجھی جانی چاہئے۔ لیکن مرزا قادیانی اسے زیر عتاب الٰہی مارتے ہیں۔ پس بجائے ذبح ہونے کے اس بکری کے لئے تو حرام موت یعنی جھٹکا ١؎ پٹکا ٢؎ وغیرہ کا الہام ہونا چاہئے تھا۔ ادھر دوسری ٹانگ کی موجودگی (یعنی سلطان محمد کے زندہ رہنے) نے الہام کو لنگڑا بنا دیا۔ چونکہ الہام رحمانی میں ایسا نقص آ نہیں سکتا۔ لہٰذا یہ توجیہ ہی سرے سے باطل ثابت ہوئی۔
١؎ سکھ مذہب کے لوگ مسلمانوں کے طریق ذبیحہ کے خلاف جانوروں کو تلوار یا چھُرے کے ایک ہی وار سے مار ڈالتے ہیں۔ اگر گردن ایک ہی وار سے کٹ جائے تو اسے جائز سمجھتے۔ ورنہ اس کو نہیں کھاتے۔
٢؎ کسی جانور کو زمین پر پٹک کر مار ڈالنا پٹکا کہلاتا ہے۔ یہ بھی سکھوں میں رائج ہے۔
٥٨
”پھر یہ الہام شاتان تذبحان“ بڑی عجیب و غریب تاثیر رکھتا ہے اور فٹ بال کی طرح گول مول ہے اور اس میں کچھ ربڑ کی آمیزش بھی پائی جاتی ہے۔ اسی واسطے اس کے لڑھکانے اور پہلو بدلانے میں کچھ دقت نہیں ہوتی اور جب ضرورت ہو کھینچ تان کر اس کو لمبا بھی کیا جا سکتا ہے۔
چنانچہ پہلی بار ضمیمہ آتھم کی تصنیف کے وقت چونکہ ان دنوں احمد بیگ مر گیا تھا۔ اس لئے محل موقعہ کے لحاظ سے اس الہام کو احمد بیگ اور اس کے داماد کی موت کے متعلق قرار دیا۔
دوسری بار جب بحیات مرزا قادیانی کابل میں بحکم سابق امیر کابل نور اللہ مرقدہ عبداللطیف مرزائی اور اس کا ملازم مارے گئے تو ”شاتان تذبحان“ کا الہام ان پر چسپاں کیا گیا۔
(دیکھو تذکرۃ الشہادتین ص ٧٠، خزائن ج ٢٠ ص ٧٢)
اور اب یہ تیسرا موقعہ ہے کہ بفرمان اعلیٰ حضرت والامنزلت ضیاء الملت والدین امیر المعظم جناب امیر امان اللہ خان صاحب غازی خلد اللہ ملکہ و سلطنتہ فرمانروائے دولت خداداد افغانستان جب پچھلے دنوں نعمت اللہ مرزائی کو سنگسار کیا گیا تو مرزائی اخبارات نے زیر سرپرستی میاں محمود قادیانی پھر اسی ”شاتان تذبحان“ کا مرثیہ پڑھنا شروع کر دیا۔ اور یورپ تک اس کے خلاف کہرام مچا دیا۔
چونکہ بکریوں کی نسل بہت جلد بڑھا کرتی ہے۔ اس وجہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ الہام ابھی بہت سے بزغالے اور بزغالیاں پیدا کرتا رہے گا اور اسی طرح ذبح ہوتے رہیں گے اور اس سے مرزا قادیانی کی نبوت اور رسالت کا مرزائیوں کو ثبوت ملتا رہے گا۔
١۔ اس کے متعلق مولوی ظفر علی خان صاحب سلمہم اللہ کے چند شعر قابل ملاحظہ ہیں ۔
یہ مقصد آپ کا تھا اس سفر سے کہ سرحد پر بچھائی جائے بارود
دکھائے یورپ آ کر اس کو بتی جہنم کی لپیٹ جس میں ہو موجود
یہ ساری سرزمین پھر بھک سے اڑ جائے اور افغانوں کی جمعیت ہو نا بود
کوئی اس دین کے دشمن کو سمجھائے کہ ساری کوششیں ہیں تیری بے سود
بھلا برطانیہ کو کیا پڑی ہے کہ دوزخ میں تری خاطر پڑے کود
ہے تو بھی کیا کسی کرنیل کی میم اٹھا کر لے گئے ہوں جس کو محمود
٥٩
٢٤...... مرزا قادیانی کی شیریں بیانی کا نمونہ!
”سوچا یہی تھا کہ ہمارے نادان مخالف انجام کے منتظر رہتے اور پہلے ہی سے اپنی بد گوہری ظاہر نہ کرتے۔ بھلا جس وقت یہ سب باتیں پوری ہو جائیں گی تو اس دن یہ احمق مخالف جیتے ہی رہیں گے اور کیا اس دن یہ تمام لڑنے والے سچائی کی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہو جائیں گے۔ ان بے وقوفوں کو کوئی بھاگنے کی جگہ نہ رہے گی اور نہایت صفائی سے ناک کٹ جائے گی اور ذلت کے سیاہ داغ ان کے منحوس چہروں کو بندروں اور سوروں کی طرح کر دیں گے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧)
اس عبارت سے مرزا قادیانی کے الہام ”انك لعلی خلق عظیم“ (تو بڑے بزرگ خلق والا ہے) کی حقیقت کھلتی ہے۔ چشم بد دور کیا شیریں زبانی ہے! کیسی کچھ خدا اور رسول کے احکام کی تعمیل ہے! کامل اتباع محمدی ﷺ کا آپ کو اس حد تک دعویٰ ہے کہ تیرہ سو برس میں کوئی ان جیسا متبع پیدا ہی نہیں ہوا۔ مگر بقولے مشتے نمونہ از خروارے مرزا قادیانی کی اخلاقی حالت دیکھنے کے لئے یہ تھوڑی سی عبارت ہی بہت کافی ہو سکتی ہے۔
مرزائی صاحبان بتلائیں؟ ۔ کیا مذہبی اور روحانی بزرگوں کی زبانوں سے ایسے ہی نجس اور ناپاک الفاظ نکلا کرتے ہیں؟ ۔ کیا اسی کا نام خلق عظیم ہے۔ کیا اس عبارت سے مرزا قادیانی ایک معمولی مہذب ومتین آدمی بھی ثابت ہوتے ہیں اور کیا مہذب لوگوں نے ان کی اس عبارت کو پڑھ کر تہذیب اور شائستگی کی داد نہیں دی ہو گی۔ مخالفین کے حق میں مرزا قادیانی کے اس سے زیادہ کلمات طیبات کے مطالعہ کا شوق ہو۔ تو ناظرین کتاب عشرہ کاملہ باب نمبر ٩ ملاحظہ فرمائیں۔ اس جگہ پیش گوئی کے نتیجہ پر بحث کرنا ہمارا مدعا ہے۔ چنانچہ غور کرنے سے اظہر من الشمس ہے کہ مخالفین نے ہر چند انتظار کیا۔ مگر بفضل خدا مرزا قادیانی کے مخالفین کو وہ روز بد دیکھنا نہ پڑا جس کی مرزا قادیانی نے ہرزہ سرائی کی تھی۔ یعنی پیش گوئی کی تمام کی تمام عبارت ”من كل الوجوه“ غلط رہی اور ایک سودائی کی بڑ سے زیادہ وزن دار ثابت نہیں ہوئی۔ اس لئے مرزا قادیانی کے دانا مخالف تو ہرگز ان خطابات کے مستوجب نہیں۔ جن کی درفشانی اور گوہر باری مرزا قادیانی نے فرمائی ہے۔ البتہ ہم سب مخالفین کے نمائندہ کی حیثیت سے با ادب تمام ان جھوٹے موتیوں کا سہرا
نمونہ ہیں خلق رسول امین کے
٦٠
عطائے تو بلقائے تو کہہ کر مرزا قادیانی کے ہی سر پر باندھتے ہیں اور حمد اللہ وشکر اللہ کا ورد کرتے ہیں کہ بفضلہ تعالیٰ حق غالب رہا اور مسلمانوں کو نادان مخالف اور احمق مخالف اور بیوقوف کہنے والا مرزا جھوٹا ثابت ہوا۔ ورنہ پیش گوئی اگر تھوڑے دنوں کے لئے بھی پوری ہو جاتی۔ یعنی محمدی بیگم مرزا قادیانی کے نکاح میں آ جاتی تو نہ معلوم کتنے لوگوں کی گمراہی وضلالت کا باعث ہوتی اور ضرورت سے زیادہ دانا عقلمند اور بیوقوف مخالف نہ معلوم کیا کیا شیخیاں بگھارتے اور اس پیش گوئی کو اپنی جماعت کا طغرائے امتیاز بنا کر گھروں کے دروازوں پر آویزاں کرتے اور مرزا قادیانی کے خطابات مسیح قادیانی، مرسل یزدانی، مہدی صاحب قرآنی وغیرہ کی گردان میں فاتح آسمانی کا بھی اضافہ کرتے اور بقول مرزا قادیانی سب سے بڑی اور عظیم الشان دلیل مرزا قادیانی کی صداقت میں اس واقعہ کو پیش کیا کرتے۔
مگر ”لاحول ولا قوۃ الا باللہ“ اللہ کریم کبھی مفتریوں کے ہاتھ میں بھی کوئی روشن دلیل دیا کرتا ہے؟۔ ایسے لوگ تو داؤ پیچ، ہوشیاری و چالاکی، تاویلات رکیکہ و توجیہات باطلہ، دھوکے اور دم بازی، تصنع اور سخن سازی سے ہی کچھ فائدہ اٹھا لیا کرتے ہیں اور وہ بھی تھوڑے دن بالآخر حق حق ہو کر رہتا ہے اور باطل باطل ”ان الباطل کان زهوقا“
جس روز مرزا قادیانی نے متذکرہ بالا موتی بکھیرے ہیں اس دن تقدیر ہنس رہی ہوگی اور کہتی ہوگی کہ مرزا قادیانی نادان بے وقوف اور احمق تو کسی اور نے ہی بننا ہے اور ذلت کے سیاہ داغ تو (پیش گوئی غلط ہونے کے سبب) کسی اور ہی جماعت کے منحوس چہروں پر نمایاں ہونے والے ہیں اور نہایت صفائی جس گروہ کی ناک کٹے گی وہ آپ کا مخاطب گروہ اسلام نہیں بلکہ ایک اور ہی جماعت ہے۔ جو شامت اعمال سے آپ کے پھندے میں پھنسی ہوئی ہے اور بندروں اور سوروں کی شکلیں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نے کسی اور کی ہی بنانی ہیں ١ ۔
٢٥...... نکاح کی رجسٹری مدینہ طیبہ میں!
”اس پیش گوئی کی تصدیق کے لئے جناب رسول اللہ ﷺ نے بھی پہلے سے ایک پیش گوئی فرمائی ہوئی ہے۔ ”یتزوج ویولدلہ“ یعنی وہ مسیح موعود بیوی کرے گا اور نیز صاحب
١ مرزائی صاحبان اس عبارت کو دیکھ کر گرم نہ ہوں۔ یہ شعلہ بیانی اور ہرزہ سرائی قادیان کے بڑے شعلہ بیان کی ہے۔ ہم صرف اس کے ناقل ہیں۔
٦١
اولاد ہوگا۔ اب ظاہر ہے کہ تزوج اور اولاد کا ذکر کرنا۔ عام طور پر مقصود نہیں۔ کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے۔ اس میں کچھ خوبی نہیں۔ بلکہ تزوج سے مراد خاص تزوج ہے۔ (یعنی محمدی بیگم سے بیاہ رچانا۔ مؤلف) جو بطور نشان ہوگا اور اولاد سے مراد وہ خاص اولاد ہے جس کی نسبت اس عاجز کی پیش گوئی موجود ہے۔ گویا اس جگہ رسول اللہ ﷺ ان سیاہ دل منکروں کو ان کی شبہات کا جواب دے رہے ہیں اور فرمارہے ہیں کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی۔“
(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧)
معمولی سب رجسٹراروں کے سامنے جو آدمی اور عورت ازدواج کا اقرار کر لیتے ہیں اس اقرار کو قانونی وقعت حاصل ہو جاتی ہے۔ مرزا قادیانی نے بھی مذہب اسلام کے جنرل رجسٹرار ﷺ کے حضور میں اپنے اس نکاح کی رجسٹری کرائی اور حضرت رسالت مآب ﷺ کی ایک مشہور حدیث سے نکاح کی پیش گوئی بھی نکال لی کہ حضرت ﷺ نے فرمایا تھا۔ کہ مسیح موعود بیوی کرے گا اور اس بیوی سے اس کے اولاد پیدا ہو گی۔ یہ بیوی محمدی بیگم ہے اور اولاد کے بطور نشان پیدا ہونے کی پیش گوئی موجود ہے۔ اللہ اکبر کسی نے کہا ہے:
جدھر دیکھتا ہوں ادھر تو ہی تو ہے
حضور سرور کائنات ﷺ نے خواہ کسی کے لئے فرمایا مگر مرزا قادیانی کو اس فرمان نبی میں بھی محمدی بیگم کا نکاح ہی نظر آیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر کسی شخص کو کسی ایک چیز کے تصور کا غلبہ برسوں تک چلا جائے تو اس کا دماغ ان تصورات کا گھر بن جاتا ہے۔ فنا فی الشیخ اور فنا فی الرسول وغیرہ منازل سلوک کا یہی راز ہے چنانچہ مرزا قادیانی بھی اس نکاح کے غلبہ خواہش اور جوش تمنا میں ایسے محو اور از خود رفتہ ہو گئے تھے کہ انہیں ہر طرف محمدی بیگم نظر آتی تھی اور وہ صحیح معنوں میں فنا فی المحمدی ہو گئے تھے۔ بقول کسے کہ:
ہوا نہ ضبط وہ چلا اٹھا کہ آ لیلیٰ
٦٢
اب غور کی جگہ ہے کہ ادھر تو نکاح کے متعلق مرزا قادیانی پر بارش کی طرح الہامات برسے۔ ادھر حضرت رسول اللہ ﷺ کی حدیث میں محمدی بیگم کے نکاح کی پیش گوئی نکل آئی اور حدیث نبوی کو ہر مسلمان دیندار تسلیم کرتا ہے اور کحل البصر سمجھتا ہے اور پھر وہ حدیث جس کی مطابقت فرمان الٰہی سے ہوتی ہو۔ پس اگر اس حدیث کی رو سے مرزا قادیانی کی مسیحیت کا موازنہ کیا جائے۔ تو مرزا قادیانی کے سب دعوؤں پر پانی پھر جاتا ہے۔ کیونکہ حدیث شریف کی منشاء اور مرزا قادیانی کے ادعاء کے مطابق مرزا قادیانی کا یہ نکاح وقوع میں نہیں آیا۔ اور بے نکاح اولاد چہ معنی۔ پس مرزا قادیانی یوں بھی جھوٹے ہی ثابت ہوئے سچا مسیح وہی ہوگا جس کی شادی ہو کر اولاد پیدا ہوگی۔
١ " يتزوج ويولد له " حدیث ذیل کا ٹکڑا ہے۔ ”عن عبداللہ ابن عمر قال قال رسول الله ﷺ ينزل عيسى ابن مريم الى الارض فيتزوج ويولد له ويمكث خمساً واربعين سنة ثم يموت فيدفن معى في قبري فاقوم انا وعيسى ابن مريم من قبر واحد بين ابي بكر وعمر“
(رواہ ابن جوزی فی کتاب الوفاء ص ٨٣، مشکوٰۃ ص ٤٨٠، باب نزول عیسیٰ علیہ السلام)
"حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے عیسیٰ بن مریم ﷺ نازل ہوں گے۔ زمین کی طرف پس نکاح کریں گے اور ان کے اولاد ہوگی اور نزول کے بعد پینتالیس برس زمین پر رہیں گے۔ پھر مریں گے اور میرے مقبرہ میں دفن ہوں گے۔ پس قیامت کے روز اٹھیں گے۔ میں اور عیسیٰ ایک ہی مقبرہ میں سے درمیان ابوبکرؓ اور عمرؓ کے (روایت کیا ابن جوزی نے کتاب الوفاء میں) مرزا قادیانی نے حدیث کا ایک حصہ اپنے ثبوت میں پیش کر کے ثبوت پیش کرنے کے اصول کے مطابق اس ساری حدیث کے مضمون کو صحیح تسلیم کر لیا۔ اور اس حدیث کے مضمون سے امور ذیل ثابت ہوتے ہیں۔ جن کا مرزا قادیانی کو انکار ہے محض نکاح کی پیش گوئی کا اس سے استدلال کیا تھا وہ بھی غلط ثابت ہوا۔
- ١...... مسیح موعود کوئی مرزا وغیرہ نہیں ہوگا۔ بلکہ حضرت عیسیٰ ابن مریم ﷺ نازل ہوں گے۔
- ٢...... نزول من السماء ہوگا۔ کیونکہ الی الارض اس کا قرینہ ہے۔
- ٣...... حضرت عیسیٰ ﷺ نے اپنے زمانہ نبوت میں کوئی سامان (بقیہ حاشیہ صفحہ 63 پر دیکھو)
٦٣
مزید لطیفہ! یہ کہ عام طور پر جو شادیاں کی جاتی ہیں اور اولاد پیدا ہوتی ہے۔ ان کی نسبت مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ اس میں کچھ خوبی نہیں گویا مرزا قادیانی کے سابقہ دونوں نکاح خوبی سے خالی تھے اور خوبی والے نکاح سے بھی وہ محروم رہے۔ پس ان کی وہی مثل ہوئی۔
تگ خویشتن را فراموش کرد
مہربانی فرما کر مرزائی صاحبان غور کریں کہ اس بیان سے کوئی ایک ذرہ بھی مرزا صاحب کے حق میں مفید نکلا اور جس حدیث کو مرزا قادیانی نے اپنے اوپر چسپاں کرنے اور اپنے حاصل پر صادق لانے کی سعی بلیغ کی۔ کیا وہ سرسبز ہوئی؟۔ اندریں صورت سیاہ دل منکر کون بنا؟۔ ہم دوسرے لفظوں میں مرزا قادیانی کے اس بیان کو افترا علی الرسول کہہ سکتے ہیں۔ کیونکہ اگر ایسا نہ کہیں تو دیگر مذاہب کے لوگ آنحضرت ﷺ کی پیش گوئی کو غلط ٹھہرائیں گے۔ اہل دیانت و انصاف کے نزدیک یہ ایک ہی دلیل مرزا قادیانی کے کذب اور ان کے دعووں کے غیر صحیح ہونے پر برہان قاطعہ اور حجت ساطعہ اور موافق ومخالف کی تشفی کے لئے کافی و وافی ہے۔ لیکن ضد اور ہٹ دھرمی ”ختم الله علی قلوبہم وعلی سمعہم وعلی ابصارہم غشاوة“ کے ماتحت آتی ہے۔
مرزائی صاحبان مضمون حدیث پر جسے خود مرزا قادیانی نے بھی تسلیم کیا ہے۔ اچھی
(بقیہ حاشیہ صفحہ 62) دنیوی نہیں کیا۔ نہ نکاح کیا تھا۔ دوبارہ نزول کے وقت جناب رسالت مآب ﷺ فرماتے ہیں کہ وہ شادی کریں گے اور ان کے اولاد بھی ہوگی۔
- ٤....... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شادی اور اولاد کا ذکر کرنے میں آنحضرت ﷺ نے مرزا
قادیانی اور ان کی قماش کے لوگوں کے اس دہریہ خیال کی تردید فرمادی ہے کہ اتنا لمبا عرصہ گزرنے پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہایت بوڑھے اور ضعیف ہو جائیں گے۔ حدیث بتلاتی ہے کہ انحطاط اور تغیر عالم دنیا کا خاصہ ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوسرے عالم میں ہیں جہاں یہ تغیرات نہیں ہیں وہ جس حالت میں اٹھائے گئے تھے۔ اسی حالت میں نازل ہوں گے۔
- ٥....... بعد نزول ٤٥ سال وہ زمین پر زندہ رہیں گے۔
- ٦....... پھر عام آدمیوں کی طرح ان کی موت واقع ہوگی۔
- ٧....... مقبرہ آنحضرت ﷺ میں ان کو دفن کیا جائے گا۔
- ٨....... قیامت کے دن آنحضرت ﷺ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک ہی مقبرہ میں سے اٹھیں گے۔
٦٤
طرح مکرر، سہ کرر غور کریں اور پھر دیکھیں اور سوچیں کہ پیش گوئی مندرجہ حدیث شریف سے مرزا قادیانی کو کیا نسبت ہے؟۔
اگر کوئی مرزائی صاحبان یہ فرمائیں کہ مرزا قادیانی کو فقرات حدیث میں صرف ایک فقرہ ”یتزوج ویولد لہ“ تسلیم ہے۔ باقی سے سروکار نہیں تو ہم جواباً کہیں گے کہ ایسا منطق قادیان کے مکتب میں ہی پڑھایا جاتا ہوگا۔ کہ کسی پیش گوئی کو صحیح نہ مانا کرو، مگر صرف اس قدر جس کو تمہارا گرو اپنے اثبات دعویٰ میں پیش کرے اور اگر تمہارے کرشن جی کا اصل دعویٰ ہی صریحاً غلط ثابت ہو۔ تو ادھر ادھر کی باتوں میں ٹال دیا کرو۔ مگر اپنے مرشد پر غلط بیانی کا الزام ہرگز نہ تسلیم کرو۔
اگر مرزا قادیانی اس عبارت میں فقرات ذیل نہ لکھ بیٹھتے کہ ”تزوج اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں تزوج سے مراد خاص تزوج ہے جو بطور نشان ہوگا اور اولاد سے مراد خاص اولاد ہے۔ جس کی نسبت ہماری پیش گوئی موجود ہے اور رسول اللہ ﷺ ان سیاہ دل منکروں کو ان کی شبہات کا جواب دے رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی۔“ تو کسی جواب گھڑے جانے کی یا کسی تاویل بنانے کی گنجائش نکل سکتی تھی۔ مگر اس قدر لمبی چوڑی تشریح نے کسی معقول جواب کی گنجائش باقی نہیں رکھی۔ اگرچہ ہم جانتے ہیں کہ مرزائی صاحبان اپنے پیر کا دامن پاک کرنے کے لئے ادھر ادھر ہاتھ پاؤں ماریں گے۔ مگر سوال تو یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی متذکرہ بالا تحریروں اور تشریحوں کا معقول جواب کیا ہے؟۔
٢٦....... پیش گوئی پوری نہ ہو تو مرزا قادیانی ہر ایک
بد سے بدتر خبیث اور مفتری ہیں
”یاد رکھو کہ اس پیش گوئی کی دوسرے جزو پوری نہ ہوئی (احمد بیگ کے داماد کی موت دیکھو فقرہ نمبر ١٣) تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ اے احمقو! یہ انسان کا افترا نہیں کسی خبیث مفتری کا کاروبار نہیں یقیناً سمجھو کہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔ وہی خدا جس کی باتیں نہیں ٹلتیں۔ وہی رب ذوالجلال جس کے ارادوں کو کوئی روک نہیں سکتا۔ اس کی سنتوں اور طریقوں کا تم میں علم نہیں رہا۔ اس لئے یہ ابتلاء پیش آیا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج ١١ ص ٣٣٨)
پیش گوئی کے غلط ہونے کی صورت میں مرزا قادیانی نے اپنی نسبت خطابات۔ بد سے بدتر، خبیث، مفتری خود ہی تجویز فرمائے تھے۔ چنانچہ وہ ان کے مستحق ثابت ہوئے۔ اب ہم مرزا
٦٥
قادیانی کے ہی الفاظ میں ان کی جماعت سے خطاب کرتے ہیں۔ کہ اے احمقو! کیا یہ پیش گوئی ایک انسان کا افترا نہیں تھا؟۔ کیا یہ کسی خبیث مفتری کا کاروبار نہیں تھا؟۔ یقیناً سمجھو کہ سچے خدا کا وعدہ نہ تھا! یعنی اس خدا کا جس کی باتیں نہیں ٹلتیں اور اس رب ذوالجلال کا جس کے ارادوں کو کوئی روک نہیں سکتا۔ بلکہ یہ سب مرزا قادیانی کے دل کا وسوسہ اور شیطانی القاء تھا۔ اگر اللہ تعالیٰ کی سنتوں اور طریقوں کا تم میں علم ہوتا۔ تو تمہیں یہ ابتلاء پیش نہ آتا۔
مزید توضیح کے لئے ہم مرزائی صاحبان سے مکرر دریافت کرتے ہیں کہ جب مرزا قادیانی نے خود فیصلہ کر دیا تھا کہ اگر داماد احمد بیگ نہ مرا تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا اور یہ سب کچھ ایک خبیث مفتری کا کاروبار ثابت ہوگا۔ تو اب آپ صاحبان ہی انصاف سے کہیں؟ اور محض اظہار حق کے لئے ”الحب لله و البغض لله“ کو ملحوظ رکھ کر کہیں؟۔ کہ کیا مرزا قادیانی اپنے خود تجویز کردہ خطابات کے صریحاً مستحق نہیں ہیں؟۔
٢٧...... نکاح کے یقین کامل پر حلفیہ بیان عدالت میں
”احمد بیگ کی دختر کی نسبت جو پیش گوئی ہے۔ وہ اشتہار میں درج ہے اور ایک مشہور امر ہے۔ وہ امام الدین کی ہمشیرہ زادی ہے جو خط بنام مرزا احمد بیگ مجموعہ فضل رحمانی میں درج ہے۔ وہ میرا سچا خط ہے۔ وہ عورت میرے ساتھ بیاہی نہیں گئی مگر میرے ساتھ اس کا بیاہ ضرور ہوگا۔ جیسا کہ پیش گوئی میں درج ہے۔ وہ سلطان محمد سے بیاہی گئی۔ میں سچ کہتا ہوں کہ اس عدالت میں جہاں ان باتوں پر جو میری طرف سے نہیں ہیں بلکہ خدا کی طرف سے ہیں۔ ہنسی کی گئی ہے۔ ایک وقت آتا ہے کہ عجیب اثر پڑے گا اور سب کے ندامت سے سر نیچے ہوں گے۔ پیش گوئی کے الفاظ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہی پیش گوئی تھی کہ وہ اس کے ساتھ بیاہی جائے گی۔ اس لڑکی کے باپ کے مرنے اور خاوند کے مرنے کی پیش گوئی شرطی تھی اور شرط توبہ اور رجوع الی اللہ کی تھی۔ لڑکی کے باپ نے توبہ نہ کی اس لئے وہ بیاہ کے بعد چھ مہینوں کے اندر مر گیا اور پیش گوئی کی دوسری جز پوری ہوگئی۔ اس کا خوف اس کے خاندان پر پڑا اور خصوصاً شوہر پر پڑا۔ جو پیش گوئی کا ایک جز تھا۔ انہوں نے توبہ کی چنانچہ اس کے رشتہ داروں اور عزیزوں کے خط بھی آئے اس لئے خدا نے اس کو مہلت دی...... عورت اب تک زندہ ہے۔ میرے نکاح میں وہ عورت ضرور آئے گی۔ امید کیسی یقین کامل ہے۔ یہ خدا کی باتیں ہیں ٹلتی نہیں ہو کر رہیں گی۔“
(اخبار الحکم ج ٥ نمبر ٢٩ ص ١٤ کالم ٣، ١٠؍ اگست ١٩٠١ء مرزا قادیانی کا حلفی بیان عدالت ضلع گورداسپور میں)
٦٦
یہ عبارت کسی تشریح و توضیح کی محتاج نہیں یہ امر تو ہم کسی مرزائی صاحب سے دریافت کریں گے کہ اس عدالت میں جہاں مرزا قادیانی کی باتوں پر جو بقول ان کے خدا کی طرف سے تھیں ہنسی اڑائی گئی تھی۔ کیا حسب دعوائے مرزا قادیانی ایسا وقت آیا کہ عجیب اثر پڑا اور سب کے ندامت سے سر نیچے ہوئے۔ یا ہم ابھی ایسے وقت کا کچھ انتظار کریں ، باقی رہا نکاح کا ہونا نہ ہونا اس کا حال زمانہ بھر کو معلوم ہے۔ ہمیں اس امر کا ارمان رہا کہ مرزا قادیانی کا یہ بیاہ نہ ہوا۔ ورنہ جہاں مرزائی صاحبان مبارک بادیں اور قصیدے پڑھتے ہم بھی مرزا غالب کے اختیار کردہ قافیہ میں ان کا سہرا لکھتے جس کا ایک شعر یہ بھی ہوتا کہ:
کیوں نہ سہروں کا جہاں کے ہو پیمبر سہرا
مرزا قادیانی کی بیان کردہ شرط کا حال اس کتاب میں دوسری جگہ لکھا گیا۔ اس جگہ ناظرین کو ان فقرات پر ہم خاص توجہ دلاتے ہیں۔ جو مرزا قادیانی نے اپنے بیان کے آخر میں کمال استقلال اور ثابت قدمی ١؎ سے لکھوائے یار زندہ صحبت باقی تحریر کرائے تھے کہ وہ عورت ( محمدی بیگم ) اب تک زندہ ہے۔ میرے نکاح میں وہ عورت ضرور آئے گی ۔ امید کیسی یقین کامل ہے۔ یہ خدا کی باتیں ہیں ٹلتی نہیں ہو کر رہیں گی۔ مگر ہائے حسرت:
حیف اس بت سے ملاقات نہ ہونے پائی
ان کی یہ تمنا پوری نہ ہوئی جس کا مرزائیوں کو افسوس ہو یا نہ ہو۔ مگر ہم پر یہ بات ثابت و متحقق ہو گیا۔ یہ خدا کی باتیں نہیں تھیں ۔ اس لئے پوری نہ ہوئیں۔
٢٨...... نکاح کا ایک اور پرانا مگر ناکام الہام
”اٹھارہ سال گذرے مجھے مولوی محمد حسین کے مکان پر جانے کا اتفاق ہوا۔ اس نے کوئی تازہ الہام دریافت کیا۔ میں نے اسے یہ الہام سنایا جس کو میں کئی دفعہ اپنے مخلصوں کو سنا چکا تھا اور وہ یہ ہے بکر و ثیب جس کے یہ معنی ان کے آگے اور نیز ہر ایک کے آگے میں نے ظاہر
١؎ ثابت قدمی کے بجائے ڈھٹائی کہنا زیادہ موزوں ہوگا۔
٢؎ حکایت ہے کہ کسی گرسنہ شکم ( بھوکے ) سے ایک فلسفی نے پوچھا کہ چاند اور سورج کیا چیز ہیں ۔ اس نے کہا دو روٹیاں اسی طرح مرزا قادیانی نے بھی مولوی محمد حسین صاحب علیہ الرحمۃ کے جواب میں اپنے نکاح کا ہی الہام سنایا۔
کئے کہ خدا تعالیٰ کا ارادہ ہے کہ وہ دو عورتیں میرے نکاح میں لائے گا ایک بکر ہوگی ۔ دوسری بیوہ ! بکر کا الہام تو پورا ہو گیا ۔ بیوہ کے الہام کی انتظار ہے مولوی محمد حسین کو حلف دی جاوے ۔ تو امید ہے کہ سچ بول دے ۔‘‘ انتہیٰ ملخصاً۔
(ضمیمہ تریاق القلوب نمبر ٤ نشان نمبر ٤١ ص ٤٣ خزائن ج ١٥ ص ٢٠١)
تریاق القلوب مرزا قادیانی کی ١٩٠٢ء کی تصنیف ہے اس میں الہام بکر و ثیب کی قدامت اٹھارہ سال قبل بتلائی ہے۔ گویا یہ الہام ١٨٨٤،١٨٨٥ء میں ہوا تھا اور غالباً یہ وہی زمانہ ہے جب کہ مرزا قادیانی کو محمدی بیگم کا خیال پیدا ہوا اور تحریک نکاح کا الہام ہوا تھا۔ چونکہ مرزا قادیانی کو اپنے الہاموں پر حسب قول خود :
بخدا پاک دانمش زخطا
ہمچو قرآن منزه اش دانم
از خطاہا ہمیں است ایمانم
(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
کامل اور پکا ایمان تھا۔ اس لئے تریاق القلوب میں بھی محمدی بیگم کے خاوند کے مرنے اور پھر اس کے ساتھ اپنا نکاح ہونے کا ذکر فرما دیا ہے۔ لیکن فقرہ نمبر ٢٣ باب ہذا کے لنگڑے الہام کی طرح ، یہ الہام بھی جو باکرہ اور بیوہ دو عورتوں کے نکاح کا مخبر تھا۔ نصف سچا جھوٹا ۔ یا بالفاظ دیگر کانا الہام ثابت ہوا اور سلطان محمد کے حسد میں اس کی موت اور محمدی بیگم کی بیوگی کی آرزو کرتے کرتے مرزا قادیانی خود اپنی ہی سہاگن کو بیوہ کر گئے ۔ بقول سعدی علیہ الرحمتہ :
کہ از اذیت آں جز بمرگ نتواں رست
بھلا مولوی محمد حسین صاحب کو حلف دینے کے بجائے اگر فرداً فرداً کُلہم مرزائی صاحبان کو حلف دیا جا کر یہ دریافت کیا جاوے کہ کیا یہ بکر و ثیب کا الہام جس کے معنی و مطلب بھی مرزا قادیانی نے خود ہی بیان کئے ہیں ۔ صحیح ثابت ہوا۔ تو امید ہے کہ اکثر نفی ہی میں جواب دیں گے اور یہ بھی کہیں گے کہ اب بیوہ کے نکاح کا کچھ انتظار نہیں ۔
٦١
٢٩ ...... وحی الٰہی کی تفسیر اور خدا کا وعدہ
”وحی الٰہی میں یہ نہیں تھا کہ دوسری جگہ بیاہی نہیں جائے گی۔ بلکہ یہ تھا کہ ضرور ہے کہ اوّل دوسری جگہ بیاہی جائے گی۔ سو یہ ایک پیش گوئی کا حصہ تھا کہ دوسری جگہ بیاہی جانے سے پورا ہوا۔ الہام الٰہی کے لفظ یہ ہیں۔ ”فسیکفیکہم اللّٰہ ویردھا الیک“ یعنی خدا تیرے ان مخالفوں کا مقابلہ کرے گا اور وہ دوسری جگہ بیاہی جائے گی۔ خدا پھر اس کو تیری طرف لائے گا۔ جاننا چاہئے کہ رد کے معنی عربی زبان میں یہ ہیں کہ ایک چیز ایک جگہ ہے اور وہاں سے چلی جاوے اور پھر واپس لائی جاوے۔ پس چونکہ محمدی ہمارے اقارب میں سے بلکہ قریب خاندان میں سے تھی۔ یعنی میری چچازاد ہمشیرہ کی لڑکی تھی اور دوسری طرف قریب رشتہ میں ماموں زاد بھائی کی لڑکی تھی۔ یعنی احمد بیگ کی پس اس صورت میں رد کے معنی اس پر مطابق آئے کہ پہلے وہ ہمارے پاس تھی اور پھر وہ چلی گئی اور قصبہ پٹی میں بیاہی گئی اور وعدہ یہ ہے کہ پھر وہ نکاح کے تعلق سے واپس آئے گی۔ سو ایسا ہی ہوگا۔“
(الحکم ج٩ نمبر٢٣ ص٢، ٣٠؍ جون ١٩٠٥ء)
سخن سازی بھی عجیب فن ہے۔ اس کے ماہر و مشاق دنیا کو بڑے بڑے مغالطے اور دھوکے دے سکتے ہیں۔ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ: ”وحی الٰہی میں یہ تھا کہ ضرور محمدی بیگم دوسری جگہ بیاہی جائے گی ۔“ حالانکہ ابتدائی الہامات ، اشتہارات اور اقوال میں کہیں ایسا نہیں لکھا نہ کوئی ایسا فقرہ کسی الہام میں ہے۔ جس کے یہ معنی ہوں کہ وہ ضرور دوسری جگہ بیاہی جائے گی۔ یہ معنی تو مرزا قادیانی کو مرزا سلطان محمد سے محمدی بیگم کا نکاح ہونے کے بعد سوجھے ہیں۔ ورنہ اگر پہلے ہی یہ امر معلوم ہوتا تو باکرہ کی کیوں آرزو کرتے اور مرزا احمد بیگ، مرزا علی شیر بیگ، زوجہ مرزا علی شیر بیگ و غیرہم کو کیوں ذلت آمیز اور خوشامدانہ چاپلوسی کے خطوط لکھتے۔ جو آگے نقل ہوں گے۔ نیز یردھا اور رد کے جو معنی مرزا قادیانی نے کئے ہیں کہ پہلے محمدی بیگم ہمارے پاس تھی اور پھر دوسری جگہ چلی گئی اور پھر نکاح کے ذریعہ واپس آئے گی۔ اہل علم کے نزدیک یہ بھی کسی طرح صحیح نہیں۔ کیونکہ یہ لڑکی مرزا قادیانی کے کسی یکجدی کی نہیں تھی۔ بلکہ غیر حقیقی ماموں زاد بھائی احمد بیگ کی دختر تھی۔ پس مرزا قادیانی کا اس پر کوئی حق شفعہ نہیں ہو سکتا۔ ہاں! دام افتادہ مریدوں کے لئے جو دعوت ولیمہ کے انتظار میں گھڑیاں گن رہے ہوں گے۔ تاویل خاصی ہے اور نتیجہ پھر وہی کہ خدا کا وعدہ ہے کہ یہ عورت ہمارے پاس واپس آئے گی۔
٦٩
٣٠...... مرزا قادیانی، ان کی بیوی اور مولوی عبدالکریم سب اس نکاح کے
خواہشمند تھے
مرزا قادیانی کے فرزند میاں بشیر احمد قادیانی کتاب سیرت المہدی میں بحوالہ کتاب سیرت مسیح موعود مصنفہ عبدالکریم قادیانی لکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی کی اس پیش گوئی کے پورا ہونے کے لئے جو ایک نکاح کے متعلق ہے...... مرزا قادیانی کی بیوی صاحبہ مکرمہ نے بار بار رو رو کر دعائیں کی ہیں اور بارہا خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہا ہے کہ گو میری زنانہ فطرت کراہت کرتی ہے۔ مگر صدق دل اور شرح صدر سے چاہتی ہوں کہ خدا کے منہ کی باتیں پوری ہوں...... ایک روز دعا مانگ رہی تھیں۔ حضرت صاحب (مرزا قادیانی) نے پوچھا آپ کیا دعا مانگتی ہیں۔ آپ نے بات بنائی کہ یہ (نکاح محمدی بیگم) مانگ رہی ہوں۔ حضرت (مرزا قادیانی) نے کہا سوت کا آنا تمہیں کیوں کر پسند ہے۔ آپ نے فرمایا کچھ ہی کیوں نہ ہو مجھے اس بات کا پاس ہے کہ آپ کے منہ سے نکلی ہوئی باتیں پوری ہو جائیں۔
(سیرت مسیح موعود ص ١٨، سیرت المہدی حصہ اول ص ٢٧٧ روایت نمبر ٢٨٩)
اس عبارت کو پڑھنے سے ناظرین پر واضح ہوگا کہ محمدی بیگم کے نکاح کی کمال خواہش نہ صرف مرزا قادیانی کو ہی تھی بلکہ ان کی بیوی والدہ مرزا محمود قادیانی خلیفہ ثانی کو بھی اس کی بڑی تمنا اور آرزو تھی اور وہ اس کے لئے اکثر دعائیں کرتی تھیں اور چاہتی تھیں کہ کسی طرح میرے خاوند کی مشتہرہ پیش گوئی نکاح کے سچا ثابت ہونے سے آبرو بنی رہے اور پیغمبری کا پول نہ کھلے۔ حالانکہ ان کی زنانہ فطرت اس کے سخت خلاف تھی۔ لیکن ان کی دعا بھی بارگاہ الٰہی میں قبول نہ ہوئی۔ ہمارا مدعا یہ نہیں ہے کہ ہم مرزا قادیانی کی بیوی کو غیر مستجاب الدعوات ثابت کریں۔ کیونکہ وہ خود اس کی مدعی نہیں تھیں۔ لیکن اس روایت سے ہم نے یہ ثابت کرنا ہے کہ یہ پیش گوئی نکاح مرزا قادیانی کا معمولی دعویٰ نہ تھا۔ بلکہ ایسا نشان تھا جس کے ظہور کی ان کے تمام خیر خواہ بھی خواص طور پر سے ہر امکانی کوشش کرتے تھے اور یہ دعویٰ مرزا قادیانی کے دعوؤں میں سے نہایت ہی عظیم الشان تھا۔ اس لئے اس کا نتیجہ مطابق پیش گوئی وقوع میں نہ آنا۔ سرسری طور سے نظر انداز کر دیئے جانے کے قابل نہیں۔ جیسا کہ مرزائی صاحبان بوقت اعتراض اس کی اہمیت کو گھٹانے کی کوشش کیا کرتے ہیں۔
ا؎ خوش اعتقاد بیوی خدا کا منہ اور اپنے شوہر کا منہ ایک ہی سمجھتی ہوں گی۔ مرزائی دوستو! کیا واقعی خدا کا منہ اور مرزا قادیانی کا منہ ایک ہی تھا۔
٧٠
باب پنجم
آسمانی نکاح کازمین پر عمل در آمد کرانے کے لئے مرزا قادیانی کی سفلی
تدابیر وتجاویز اور ہماری طرف سے ان کی تشریح
ہم دوسرے باب میں مفصل ذکر کر آئے ہیں کہ مرزا قادیانی نے بقول خود محمدی بیگم کے نکاح کا پیغام اپنے یکجدی اور قریبی رشتہ داروں کو آسمانی معجزہ دکھانے کے لئے بحکم الٰہی دیا تھا۔ لیکن سمجھ میں نہیں آتا کہ آسمانی معجزہ یا مسیحی کرامات دکھانے کے لئے کیوں ایک معصوم لڑکی کو بلاوجہ نشانہ بنایا گیا۔ اور دنیا بھر میں مشہور کیا گیا۔ جو مرزا قادیانی کی چچا زاد ہمشیرہ کی لڑکی تھی۔ اور کوئی غیر نہ تھی۔ اور پھر جب یہ بات مرزا قادیانی کے دل سے زبان پر اور زبان سے ہاتھوں میں اور ہاتھوں سے بذریعہ قلم صفحہ قرطاس پر زینت بخش ہو چکی تھی۔ اور جیسا کہ باب آئندہ میں ناظرین ملاحظہ فرمائیں گے۔ بہت سے الہامات احادیث قدسیہ (مرزائیہ) اور بار بار کی آسمانی تفہیمات سے بشارت مل چکی تھی کہ نکاح ضرور ہوگا۔ تو مرزا قادیانی کی یہ سفلی تدابیر جن کا ذکر باب ہذا میں کیا جائے گا۔ نہایت ہی حیرت میں ڈالنے والی ہیں۔ اور ذرا غور و فکر سے دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ان بین اور قطعی روشن اور حتمی آسمانی تفہیمات کے ہوتے ہوئے ان ذلیل تدابیر کا استعمال کس حد تک جائز سمجھا جاسکتا ہے؟۔
اوّل: ابتدائی الہام
جب منکوحہ آسمانی کے والد کو مرزا قادیانی کی رضامندی سے کچھ زمین اپنی ہمشیرہ سے بطور ہبہ لینے کے غرض درپیش ہوئی۔ تو مرزا قادیانی نے استخارہ کر کے فوراً جواب دے دیا کہ: ”اللہ نے مجھ پر وحی نازل فرمائی ہے کہ اس شخص (احمد بیگ) کی بڑی لڑکی کے نکاح کے لئے درخواست کر۔ اور اس سے کہہ دے کہ پہلے وہ تمہیں دامادی میں قبول کرے۔ اور پھر تمہارے نور سے روشنی حاصل کرے۔ اور کہہ دے کہ مجھے اس زمین کے ہبہ کرنے کا حکم مل گیا ہے۔ جس کے تم خواہش مند ہو۔ بلکہ اس کے علاوہ اور زمین بھی دی جائے گی۔ اور دیگر مزید احسانات تم پر کئے جائیں گے۔ بشرطیکہ تم اپنی بڑی لڑکی کا مجھے نکاح کر دو۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٧٥، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
دوسری جگہ اس پیش گوئی کے متعلق مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ میرے قریبی رشتہ دار
٧١
نشان آسمانی کے طالب تھے۔ مگر کسی نشان آسمانی کا اس وقت تک ظہور نہ ہوا۔ جب تک کہ محمدی بیگم کے والد کو اپنی ہمشیرہ کی اراضی ہبہ لینے کا خیال پیدا نہ ہوا۔ اور اس کی استدعا برائے اراضی زرعی پیش ہونے پر مرزا قادیانی نے فوراً استخارہ کرتے ہی اسے الہامی جواب دیا کہ اگر زمین کی خواہش ہے تو اپنی بڑی لڑکی ہمیں دے دو۔ اور صرف یہی زمین نہیں بلکہ اس کے علاوہ اور بھی زمین ملے گی۔ اور مزید احسانات بھی تم پر کئے جائیں گے۔ اب معاملہ صاف ہے۔ اگر یہ پیغام بحکم خداوندی تھا۔ تو اس کا پورا ہونا لازمی تھا۔ جب پورا نہ ہو تو عبث اور فضول ٹھہرتا ہے۔ اور سچے خدا کی طرف سے اپنے مقبول بندوں پر عبث اور فضول الہام ہو نہیں سکتا۔ اس کی ذات عبث اور فضول کاموں سے پاک ہے۔ پھر لالچ بھی نہ صرف اراضی مطلوبہ کا ہی دیا گیا۔ بلکہ مزید زمین اور روپیہ پیسہ دینے کے وعدے کئے گئے۔ گویا تمام دنیا داروں کی طرح جو کسی لڑکی کا رشتہ حاصل کرنے کے لئے فریق مقابل کو روپیہ پیسہ دیتے اور کامیاب ہوتے ہیں۔ مرزا قادیانی نے بھی کوشش کی۔ مگر اس معمولی دنیاوی تدبیر میں ناکام ہی رہے۔
دوم: الہامی خط بنام خسر موعود
الہام مذکورہ بالا کا حوالہ دے کر لکھتے ہیں کہ ”بات (نکاح والی) سچی ہے اور سچ ہی کہتا ہوں کہ یہ خط نہایت خلوص دل اور صفائی قلب سے آپ کو لکھتا ہوں۔ اگر آپ نے میری بات کو مان لیا تو مجھ پر مہربانی ہوگی..... آپ کا مجھ پر احسان ہوگا اور آپ کا یہ بہترین سلوک ہوگا۔ میں آپ کا شکر گزار ہو کر ارحم الراحمین سے آپ کی ترقی کی دعا کروں گا اور آپ کے ساتھ اپنا عہد پورا کروں گا اور آپ کی دختر کو اپنی زمین اور تمام جائیداد کا دو تہائی حصہ دوں گا اور جو بھی تم مانگو گے تم کو دوں گا۔ (آگے چل کر لکھتے ہیں کہ) میں نے یہ خط اللہ کے حکم سے لکھا ہے اور جو وعدہ زمین اور جائیداد دینے کا اس میں کیا ہے وہ سب اللہ کی طرف سے ہے اور یہ خدا نے اپنے الہام سے مجھ سے کہلوایا ہے۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٧٤،٥٧٣ خزائن ج ٥ ص ایضاً)
مذکورہ بالا عبارت اور فقرات صاف ہیں۔ کس منت، خوشامد اور چاپلوسی سے خط لکھا ہے اور پھر اپنی جائیداد کا دو تہائی حصہ محمدی بیگم کو دینے کا وعدہ کیا گیا ہے اور جتنا اس کا والد مانگے اس کو دینے کا الگ اقرار ہے اور پھر یہ سب کچھ تحریر کیا گیا اور وعدے دیئے گئے۔ ان کو خدا کی طرف سے بتایا گیا ہے۔
ناظرین! غور کریں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کیسے کیسے پکے وعدے اور الہام ہیں اور
۔٢۔
ان کے مقابلہ میں یہ انتہائی عاجزانہ تحریریں ہیں اور لالچ دلانے کی بھی حد ہو گئی۔ کیونکہ اس سے پہلے مرزا قادیانی کے دو بیویاں اور دونوں کے اولاد موجود ہے۔ لیکن بعوض نکاح تیسری بیوی کے ساری جائیداد کا دو تہائی حصہ نذر کرتے ہیں اور اس کے باپ کو منہ مانگا حصہ جدا گانہ دینے کا وعدہ کرتے ہیں۔ کیا بموجودگی دیگر ورثاء ایک بیوی کے نام دو تہائی حصہ جائیداد منتقل کرنا بروئے شریعت وقانون وراثت اسلامیہ درست ہے؟۔ قرآن شریف اور حدیث شریف میں تو اس کی اجازت نہیں۔ ہاں! اگر مرزا قادیانی پر جدید آسمانی احکام متعلق وراثت نازل ہوئے ہوں اور ان کی رو سے ایسا کرنا جائز ہو تو اور بات ہے۔
سوم: دوسرا خط بنام مرزا احمد بیگ (خسر موعود) بسلسلہ پیغام نکاح
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ نحمدہ ونصلی!
مشفق مکرمی اخویم مرزا احمد بیگ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
”قادیان میں جب واقعہ ہائلہ محمود فرزنداں مکرم کی خبر سنی تھی تو بہت درد اور رنج وغم ہوا۔ لیکن بوجہ اس کے کہ یہ عاجز بیمار تھا اور خط نہیں لکھ سکتا تھا۔ اس لئے عزا پرسی سے مجبور رہا۔ صدمہ وفات فرزند آن حقیقت میں ایک ایسا صدمہ ہے کہ شاید اس کے برابر دنیا میں اور کوئی صدمہ نہ ہوگا۔ خصوصاً بچوں کی ماؤں کے لئے تو سخت مصیبت ہوتی ہے۔ خدا تعالیٰ آپ کو صبر بخشے اور اس کا بدل صاحب عمر عطا کرے اور عزیزی مرزا محمد بیگ کو عمر دراز بخشے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ کوئی چیز اس کے آگے انہونی نہیں۔ آپ کے دل میں گو اس عاجز کی نسبت کچھ غبار ہو۔ لیکن خداوند علیم جانتا ہے کہ اس عاجز کا دل بالکل صاف ہے اور خدائے قادر مطلق سے آپ کے لئے خیر و برکت چاہتا ہوں۔ میں نہیں جانتا کہ کس طریق اور کن لفظوں میں بیان کروں تا میرے دل کی محبت اور خلوص اور ہمدردی جو آپ کی نسبت مجھ کو ہے۔ آپ پر ظاہر ہو جائے۔ مسلمانوں کی ہر ایک نزاع کا آخری فیصلہ قسم پر ہوتا ہے۔ جب ایک مسلمان خدائے تعالیٰ کی قسم کھا جاتا ہے تو دوسرا مسلمان اس کی نسبت فوراً دل صاف کر لیتا ہے۔ سو مجھے خدا تعالیٰ قادر مطلق کی قسم ہے کہ میں اس بات میں بالکل سچا ہوں کہ مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا تھا کہ آپ کی دختر کلاں کا رشتہ اس عاجز سے ہوگا۔ اگر دوسری جگہ ہوگا تو خدا تعالیٰ کی تنبیہیں وارد ہوں گی اور آخر اسی جگہ ہوگا۔ کیونکہ آپ میرے عزیز اور پیارے تھے۔ اس لئے میں نے عین خیر خواہی سے آپ کو جتلا دیا کہ دوسری جگہ اس رشتہ کا کرنا ہرگز مبارک نہ ہوگا۔ میں نہایت ظالم طبع
٧٣
ہوتا جو آپ پر ظاہر نہ کرتا اور میں اب بھی عاجزی اور ادب سے آپ کی خدمت میں ملتمس ہوں کہ اس رشتہ سے آپ انحراف نہ فرمائیں کہ یہ آپ کی لڑکی کے لئے نہایت درجہ موجب برکت ہوگا اور خدا تعالیٰ ان برکتوں کا دروازہ کھول دے گا جو آپ کے خیال میں نہیں۔ کوئی غم اور فکر کی بات نہیں ۔ جیسا کہ یہ اس کا حکم ہے جس کے ہاتھ میں زمین و آسمان کی کنجی ہے تو پھر کیوں اس میں خرابی ہوگی اور آپ کو شاید معلوم ہوگا یا نہیں کہ یہ پیشگوئی اس عاجز کی ہزار ہا لوگوں میں مشہور ہو چکی ہے اور میرے خیال میں شاید دس لاکھ سے زیادہ آدمی ہوگا کہ جو اس پیشگوئی پر اطلاع رکھتا ہے اور ایک جہان کی اس پر نظر لگی ہوئی ہے اور ہزاروں پادری شرارت سے نہیں بلکہ حماقت سے منتظر ہیں کہ یہ پیشگوئی جھوٹی نکلے تو ہمارا پلہ بھاری ہو۔ لیکن یقیناً خدا تعالیٰ ان کو رسوا کرے گا اور اپنے دین کی مدد کرے گا۔ میں نے لاہور میں جا کر معلوم کیا کہ ہزاروں مسلمان مساجد میں نماز کے بعد اس پیشگوئی کے ظہور کے لئے بصدق دل دعا کرتے ہیں۔ سو یہ ان کی ہمدردی اور محبت ایمانی کا تقاضا ہے اور یہ عاجز جیسے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پر ایمان لایا ہے ویسے ہی خدا تعالیٰ کے ان الہامات پر جو تواتر سے اس عاجز پر ہوئے ایمان لاتا ہے اور آپ سے ملتمس ہے کہ آپ اپنے ہاتھ سے اس پیشگوئی (نکاح) کے پورا ہونے کے لئے معاون بنیں۔ تا کہ خدا تعالیٰ کی برکتیں آپ پر نازل ہوں۔ خدا تعالیٰ سے کوئی بندہ لڑائی نہیں کر سکتا اور جو امر آسمان پر ٹھہر چکا ہے زمین پر وہ ہرگز بدل نہیں سکتا۔ خدا تعالیٰ آپ کو دین اور دنیا کی برکتیں عطا کرے اور اب آپ کے دل میں وہ بات ڈالے جس کا اس نے آسمان پر سے مجھے الہام کیا ہے۔ آپ کے سب غم دور ہوں اور دین ودنیا دونوں آپ کو خدا تعالیٰ عطا فرمائے۔ اگر میرے اس خط میں کوئی ناملائم لفظ ہو تو معاف فرماویں۔ والسلام ! خاکسار احقر العباد غلام احمد عفی عنہ ۔
(١٧ جولائی ١٨٩٠ء بروز جمعہ کلمہ فضل رحمانی ص ١٣٣ تا ١٤٥)
گو اس خط کی عبارت محتاج تفصیل و تشریح نہیں۔ تاہم مزید صراحت کے لئے اس کے بعض حصص کے متعلق کچھ تحریر کیا جاتا ہے۔
- الف ..... القاب میں احمد بیگ کی نسبت مشفق مکرم اخی اور سلمہ اللہ تعالیٰ ، السلام علیکم
ورحمۃ اللہ و برکاتہ کے الفاظ ملاحظہ ہوں اور پھر ان الفاظ کا مقابلہ ان فقروں سے کریں جو مرزا قادیانی اس نکاح کے مخالفین کی نسبت آئندہ خط موسومہ مرزا علی شیر بیگ کے شروع میں درج کرتے ہیں اور ان کو اپنا دشمن اور اسلام کا دشمن ظاہر کرتے ہیں۔ کیا ایسے دینی و دنیاوی اشد دشمن کو
١٧٠
مذکورہ بالا الفاظ لکھنے جائز سمجھے جاسکتے ہیں؟ ۔ اور جب اس امر پر غور کریں کہ اس خط کے مکتوب الیہ کی لڑکی کو ہی مرزا قادیانی اپنے نفس کے لئے چاہتے ہیں۔ تو کیا یہ الفاظ صریح طور پر خوشامد پالیسی اور ریا کاری کی تعریف میں نہیں آتے؟۔
- ب ..... خط کے شروع میں مرزا قادیانی احمد بیگ کے متوفی لڑکے کی تعزیت
کرتے ہیں۔ گو خط سے اس لڑکے کی تاریخ وفات معلوم نہیں ہوتی ۔ تاہم ظاہر ہے کہ یہ خط اس واقع کے عرصہ بعد لکھا گیا ہے۔ جس میں تاخیر تعزیت کا عذر کیا گیا ہے کہ میں بیمار تھا اور خط نہیں لکھ سکتا تھا۔ اس کے بعد اس واقعہ سے بہت درد رنج اور غم ہونا درج ہے۔ اگرچہ ایسے رسمی الفاظ تعزیت ناموں میں لکھے جانے کا عام رواج ہے۔ مگر اللہ کے صادق اور صالح بندے اپنی تقریر و تحریر میں جھوٹ کا ایک ذرہ رواجا بھی استعمال نہیں کیا کرتے اور اس پہلو سے اگر ہم یہ باور کریں کہ مرزا قادیانی کو واقعی اس لڑکے کے مرنے کا بہت درد و رنج و غم ہوا ہوگا۔ کیونکہ یہ ان کی مطلوبہ محمدی بیگم کا بھائی تھا اور بقول:
اس کے مرنے سے مرزا قادیانی کے دل پر چوٹ لگی ہوگی تو اس صدمہ پہنچنے کا تقاضا یہ ہونا چاہئے تھا کہ مرزا قادیانی اگر خود بوجہ بیماری خط لکھنے سے معذور تھے تو کسی دوسرے لکھنے والے سے جن کی ان کے گرد و پیش رہنے والوں میں کچھ کمی نہ تھی۔ تعزیت نامہ لکھوا کر روانہ کر دیتے۔ جیسا کہ عام شائستہ اور سمجھ دار لوگوں کا دستور ہے۔ مگر یہ خوب تعزیت نامہ ہے جو اس وقت لکھا جاتا ہے جب کہ مکتوب الیہ سے اس کی لڑکی کے نکاح کے واسطے ایک خاص درخواست اور التجا کی جاتی ہے اور تعزیت کو اس کی تمہید بنایا جاتا ہے جس سے بجائے تعزیت نامہ سمجھے جانے کے یہ خط مرزا قادیانی کو ضرورت سے زیادہ ہوشیار ظاہر کرتا ہے۔ عقل و دانش کی بات تو یہ تھی کہ مرزا قادیانی تعزیت نامہ تو بروقت یا پہلے الگ لکھتے اور اس کے بعد التجائے نکاح مطلو بہ علیحدہ پیش کرتے ۔ اگر دنیا بھر کے عقلمندوں کی کانفرنس میں ہماری تجویز بغرض اظہار رائے پیش کی جائے تو غالباً سب اس پر متفق ہوں گے کہ ایک ہی خط میں یہ مرگ و شادی کا تذکرہ بالکل ان مل اور بے جوڑ بات ہے۔ لہذا ہمارا یہ لکھنا غیر موزوں نہ ہوگا کہ مرزا قادیانی صرف اپنے مطلب و مدعا گوئی میں مشاق تھے۔ ورنہ کمال عقلی میں ان کا رتبہ عام دنیا داروں سے بھی بہت پیچھے ہے۔
- ج ..... آگے چل کر مرزا قادیانی اپنے دل کی صفائی محبت و خلوص کا اظہار بدرجہ
٥٧
انتہاء اس عبارت میں کرتے ہیں۔ ”آپ کے دل میں گو اس عاجز کی نسبت کچھ غبار ہو لیکن خداوند علیم جانتا ہے کہ اس عاجز کا دل بالکل صاف ہے۔ اور خدائے قادر و مطلق سے آپ کے لئے دعائے خیر و برکت چاہتا ہوں۔ میں نہیں جانتا کہ کس طرح اور کن لفظوں میں بیان کروں تا میرے دل کی محبت اور خلوص اور ہمدردی جو آپ کی نسبت مجھ کو ہے آپ پر ظاہر ہو جاوے۔“ ہم اس عبارت کو دیکھ کر حیران ہیں کہ وہ مرزا قادیانی جنکے خود اپنے لکھے ہوئے دعاوی تقدس و فضیلت کو اگر ایک جلد میں جمع کیا جائے تو بوستاں خیال یا فسانہ آزاد یا الف لیلیٰ کی طرح ایک بہت بڑی ضخیم کتاب مرتب ہو سکتی ہے۔ ولی، غوث، قطب، مصلح، مجدد، محدث، امام الزمان، نبی، رسول، حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تک ۔ ہر ایک نبی کے مظہر اور سب انبیائے کرام کے کمالات کے جامع بہت سے پیغمبروں سے افضل ہونے کے دعوؤں کے ساتھ ساتھ وہ کچھ عرصہ کے لئے خدا بھی بن چکے تھے۔ اور ان دعوؤں کو دیکھ کر بلامبالغہ انہیں چھوٹی خدائی کہنا نازیبا نہیں ایسی عظیم الشان بزرگ ہستی کا احمد بیگ جیسے شخص سے جس کو اشتہار مورخہ ١٥؍ جولائی ١٨٨٨ء میں بدعتی بے دین، مستوجب قہر خدا و عذاب ہائے گوناگوں و عقوبت ہائے انواع و اقسام قرار دے چکے ہیں۔ اس درجہ خلوص دل کی صفائی اور محبت ظاہر کرنا اور شاعرانہ طرز میں اس خط میں کئی بار اس کی خیر و برکت چاہنا۔ اور مقطع کی سطر یعنی خط کے اخیر میں بھی دعا گوئی اور ہوا خواہی کے اظہار سے سیر نہ ہونا۔ اور ایک اپنے مسلمہ دشمن اسلام اور مددگار کفار کی بھلائی کے لئے اتنا رطب اللسان ہونا ۔ از روئے حمیت اسلامی اور غیرت ایمانی کہاں تک درست ہے؟۔ کیا کوئی صادق اور خدا پرست ایسا لکھ سکتا ہے اور ایسی خلاف واقعہ خوشامدانہ باتیں اس کی زبان و قلم پر آ سکتی ہیں؟۔ کیا یہ سب عبارتیں مرزا قادیانی کی معمولی عیاری اور ریا کاری کی تعریف میں داخل نہیں ہیں۔
- د...... اپنے ساتھ محمدی بیگم کے نکاح ہونے کا اطمینان دلانے کے لئے اس خط
میں آپ خدا کی قسم کھاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دوسری جگہ رشتہ کرنا مبارک نہ ہوگا اور اسی جگہ ہوگا۔ لیکن جو کچھ ظہور میں آیا وہ مرزا قادیانی کے اس حلفیہ اقرار کے خلاف ہوا۔ نہ مرزا سلطان محمد سے نکاح نامبارک ثابت ہوا نہ بالآخر مرزا قادیانی سے نکاح ہوا۔
- ہ...... لکھتے ہیں کہ ”میں اب بھی عاجزی اور ادب سے آپ کی خدمت میں
ملتمس ہوں ۔“ اس عاجزانہ مؤدبانہ التماس سے مرزا جی کا کام تو کچھ نہ بنا۔ لیکن احمد بیگ کی
١؎ کیوں نہ ہو اے گل بتو خورسندم تو بوئے کسے داری۔
٧٦
خوداری، بزرگی اور اپنے مذہب و ارادہ پر پختگی ظاہر ہوئی۔ اور مرزا قادیانی کی خوشامد و چاپلوسی کی قلعی کھل گئی۔
و......... آگے لکھتے ہیں کہ ”آپ کو شاید معلوم ہوگا یا نہیں کہ یہ پیش گوئی اس عاجز کی ہزار ہا لوگوں میں مشہور ہو چکی اور میرے خیال میں شاید دس لاکھ سے زیادہ آدمی ہوگا۔ جو اس پیش گوئی پر اطلاع رکھتا ہے۔“
مندرجہ بالا دو متصلہ فقروں میں ایک ہی امر کے متعلق مرزا قادیانی کی قلم جوہر رقم نے جو دو الفاظ ہزار ہا اور دس لاکھ زیب رقم فرمائے ہیں۔ ان کے ربط تعداد کی داد یا تو سخن فہم اور کاملان علم ہندسہ دیں گے۔ مرزا قادیانی کے کوئی لال بجھکڑ مرید جو ان کی ہر بات میں آمنا و صدقنا کہنے کے عادی ہیں۔ اور خود مرزا قادیانی اس صحت تعداد کے ذمہ دار ہیں۔
تاہم ان فقرات سے واضح ہے کہ یہ پیش گوئی خاص اہل خاندان سے متعلق نہ تھی۔ بلکہ جیسا کہ مرزا قادیانی دوسری تحریروں (شہادت القرآن ص ٨٠، خزائن ج ٦ ص ٣٧٦ وغیرہ) سے ظاہر ہے۔ عام پبلک میں بطور معیار صدق و کذب خود مرزا قادیانی نے پیش کی تھی۔ اس لئے نتیجہ صاف نکلنے کی صورت میں کل اہل اسلام کے سامنے مرزا قادیانی کاذب ثابت ہوئے۔
ز......... نکاح نہ ہونے کی صورت میں پادریوں کا پلہ بھاری ہونے کا خوف ظاہر کرتے ہیں۔ لیکن خود اپنے الفاظ کے مطابق مرزا قادیانی کے مقابلہ میں پادریوں کا پلہ بھاری ہو گیا۔ اور مرزا قادیانی رسوا ہوئے۔
ح......... لکھتے ہیں کہ میں نے لاہور میں جا کر معلوم کیا کہ ہزاروں مسلمان مساجد میں نماز کے بعد اس پیش گوئی کے ظہور کے لئے بصدق دل دعا کرتے ہیں۔ شہر لاہور کی آبادی اگر چہ تین لاکھ کے قریب ہے۔ مگر مساجد کے نمازی نہ اب ہزاروں سے زیادہ ہیں نہ مرزا قادیانی کے وقت میں تھے۔ اور مرزا قادیانی کے مریدوں کی تعداد تو وہاں اس وقت بھی سینکڑوں سے متجاوز نہیں ہے۔ جن کے منجملہ مستورات اور خوردہ سال بچے مساجد کے نمازیوں میں شامل نہیں۔ اندریں صورت مذکورہ بالا فقرہ (ہزاروں مسلمان......... الخ !) سراسر لفاظی اور مبالغہ نہیں تو اور کیا ہے؟۔ کیا اس جھوٹ اور دھوکے سے احمد بیگ کی طبیعت پر ناواجب رعب اور غلط خیال جمانا مقصود نہ تھا؟۔ کیا مرزا قادیانی کی یہ جھوٹی تحریر بروئے شریعت سخت گناہ ہونے کے علاوہ دفعہ ٤٢٠ تعزیرات ہند کی تعریف میں نہیں آتی؟۔
٧٧
بھلا سوائے چند مرزائیوں کے لاہور کے مسلمانوں کی بلا کو کیا غرض تھی کہ اپنے ایک اشد مذہبی دشمن ومخالف کے لئے صدق دل سے یا بے دلی سے دعائیں کرتے ۔ اور کس کو یہ شوق اٹھ سکتا تھا کہ بڑے میاں کا ایک کمسن لڑکی سے نکاح ہونے کی دعا مانگتا۔ پس یہ ہے مرزا قادیانی کی سلطان القلمی کا نمونہ۔ جسے اہل بصیرت ہی سمجھ سکتے ہیں۔
- ط...... اس پیش گوئی کی صداقت پر مرزا قادیانی نے کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ
محمد رسول اللہ کے برابر ایمان ظاہر کیا ہے۔ اور اس امر نکاح کو اللہ تعالیٰ کا مقرر کردہ اور نا قابل تبدیل لکھا ہے۔ کسی امر کی سچائی پر اس سے زیادہ زور دکھانا ناممکن ہے۔ لیکن ایسے صاف پختہ واثق ، بین اور کھلم کھلا اقرار کے غلط ثابت ہونے پر بھی مرزائیوں اور ان کے سرکردہ گروہوں کا مرزا قادیانی کو کاذب نہ ماننا اور رکیک تاویلات سے جھوٹ پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرنا کہاں کی ایمانداری اور دیانت ہے؟۔
- ی...... ناظرین ایک بار اس خط کو پھر پڑھ لیں سارے خط کی عبارت ظاہر کر رہی
ہے کہ مرزا قادیانی نے اس پیش گوئی کو سچا ثابت کرنے کے لئے سعی و کوشش کا کوئی بھی دقیقہ اٹھا نہ رکھا۔ جو کچھ بھی ان سے بن پڑا اور جو کچھ بھی ان کے امکان میں تھا سب کچھ کیا۔ اس سے زیادہ احمد بیگ کو اور کیا نرم و گرم کہہ سکتے تھے۔ انکساری ، عاجزی ، منت، خلوص، ہمدردی اور محبت، تحریض و ترغیب ، تہدید و ترہیب کی کیا کچھ نمائش اس خط میں نہیں کی گئی۔ اس بارہ میں جس قدر خطوط مرزا قادیانی نے اپنے رشتہ داروں کو لکھے۔ وہ سب عام پبلک تک نہیں پہنچ سکے۔ لیکن ان چند خطوط کے منجملہ جو لوگوں پر ظاہر ہو گئے ہیں۔ یہی ایک خط ناظرین کو زبان حال سے بتا رہا ہے کہ مرزا قادیانی کا اشتہار مورخہ ١٠ جولائی ١٨٨٨ء اور اس سے پہلا پیغام نکاح جو بحکم الہی پہنچانا بیان کیا گیا ہے۔ محض ایک من گھڑت ڈھکوسلا اور ان کی نفسانی خواہش پر مبنی تھا۔ ورنہ اگر واقعی نکاح کے الہام پر مرزا قادیانی کو لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے برابر ایمان تھا تو احمد بیگ کو کچھ بھی نہ لکھتے ۔ یا لکھتے تو صرف اتنا کہ تم نکاح سے انکار کر کے کیوں ندامت و پشیمانی خریدتے ہو۔ نکاح تو اس لڑکی کا مجھ سے ضرور ہونا ہے۔ اور خود اطمینان اور وقار کے ساتھ بیٹھے رہتے۔ لیکن برخلاف اس کے خطوط کے ذریعہ طرح طرح کی تحریض و ترغیب دلا کر کہیں خوشامد اور چاپلوسی کرنا۔ اور کہیں عذاب اور قہر الہی سے ڈرانا یہ سب مرزا قادیانی کی حکمت عملی اور اپنے الہام پر عدم ایمان کو ظاہر کرنے والی باتیں ہیں۔ نکاح کی پیش گوئی کا انجام تو دنیا نے دیکھ لیا ہے۔ جس پر مرزا
٧٨
قادیانی کو کلمہ طیبہ کے برابر ایمان تھا۔ باقی رہی کلمہ طیبہ پر مرزا قادیانی کے ایمان کی حقیقت سو وہ انشاء اللہ قیامت کے دن کھل جائے گی۔
چہارم ! خط بنام مرزا علی شیر بیگ ؎ خسر مرزا فضل احمد پسر مرزا قادیانی
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ مشفقی مرزا علی شیر بیگ صاحب سلمہ تعالیٰ ۔ السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ !
’’اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ مجھ کو آپ سے کسی طرح فرق نہ تھا۔ اور میں آپ کو ایک غریب طبع اور نیک خیال آدمی اور اسلام پر قائم سمجھتا ہوں۔ لیکن اب جو آپ کو ایک خبر سناتا ہوں آپ کو اس سے بہت رنج گزرے گا۔ مگر میں محض للہ ان لوگوں سے تعلق چھوڑنا چاہتا ہوں جو مجھے ناچیز بتاتے ہیں۔ اور دین کی پرواہ نہیں رکھتے۔ آپ کو معلوم ہے کہ مرزا احمد بیگ قادیانی کی لڑکی کے بارے میں ان لوگوں کے ساتھ کس قدر میری عداوت ہو رہی ہے۔ اب میں نے سنا ہے کہ عید کے دوسری یا تیسری تاریخ کو اس لڑکی کا نکاح ہونے والا ہے۔ اور آپ کے گھر کے لوگ (یعنی منکوحہ آسمانی کی حقیقی پھوپھی ) اس مشورہ میں ساتھ ہیں۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اس نکاح کے شریک میرے سخت دشمن ہیں بلکہ میرے کیا دین اسلام کے سخت دشمن ہیں۔ عیسائیوں کو ہنسانا چاہتے ہیں۔ ہندوؤں کو خوش کرنا چاہتے ہیں۔ اور اللہ رسول کے دین کی کچھ بھی پرواہ نہیں رکھتے اور اپنی طرف میری نسبت ان لوگوں نے پختہ ارادہ کر لیا ہے کہ اس کو خوار کیا جائے۔ ذلیل کیا جائے، روسیاہ کیا جائے۔ یہ اپنی طرف سے ایک تلوار چلانے لگے ہیں۔ اب مجھ کو بچا لینا اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ اگر میں اس کا ہوں گا تو ضرور مجھے بچالے گا۔ اگر آپ کے گھر کے لوگ سخت مقابلہ کر کے اپنے بھائی کو سمجھاتے تو کیوں نہ سمجھ سکتا کیا میں چوہڑا یا چمار تھا۔ جو مجھ کو لڑکی دینا عار ننگ تھی۔ بلکہ وہ تو اب تک ہاں میں ہاں ملاتے رہے۔ اور اپنے بھائی کے لئے مجھے چھوڑ دیا۔ اور اب اس لڑکی کے نکاح کے لئے سب ایک ہو گئے۔ یوں تو مجھے کسی کی لڑکی سے کیا غرض کہیں جائے مگر یہ تو آزمایا گیا کہ جن کو میں خویش سمجھتا تھا۔ اور جن کی لڑکی کے لئے چاہتا تھا کہ اس کے اولاد ہو اور وہ میری وارث ہو۔ وہی میرے خون کے پیاسے وہی میرے عزت کے پیاسے ہیں۔ اور چاہتے ہیں کہ خوار ہو اور اس کا روسیاہ ہو۔ خدا بے نیاز ہے جس کو چاہے روسیاہ کرے۔ مگر اب تو وہ مجھے آگ میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ میں نے خط لکھے کہ پرانا رشتہ مت توڑو۔ خدا تعالیٰ سے خوف کرو کسی نے جواب نہ دیا۔ بلکہ میں نے سنا ہے کہ آپ کی بیوی نے جوش میں آکر کہا کہ ہمارا کیا رشتہ ہے صرف عزت بی بی نام کے لئے فضل احمد کے گھر میں ہے۔ بے شک وہ طلاق دے دیوے ہم راضی
؎ مرزا علی شیر بیگ کے گھر میں احمد بیگ کی حقیقی بہن تھی۔
٧٩
ہیں ۔ اور ہم نہیں جانتے کہ یہ شخص کیا بلا ہے ہم اپنے بھائی کے خلاف مرضی نہیں کریں گے۔ یہ شخص کہیں مرتا بھی نہیں، پھر میں نے رجسٹری کرا کر آپ کی بیوی صاحب کے نام خط بھیجا۔ مگر کوئی جواب نہ آیا اور بار بار کہا کہ اس سے ہمارا رشتہ باقی رہ گیا ہے۔ جو چاہے کرے۔ ہم اس کے لئے اپنے خویشوں سے اپنے بھائیوں سے جدا نہیں ہو سکتے۔ مرتا مرتا رہ گیا۔ کہیں مرا بھی ہوتا۔ یہ باتیں آپ کی بیوی صاحب کی مجھے پہنچی ہیں۔ بے شک میں ناچیز ہوں ذلیل ہوں اور خوار ہوں۔ مگر خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں میری عزت ہے۔ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اب جب میں ایسا ذلیل ہوں تو میرے بیٹے سے تعلق رکھنے کی کیا حاجت ہے۔ لہٰذا میں نے ان کی خدمت میں خط لکھ دیا ہے کہ اگر آپ اپنے ارادہ سے باز نہ آویں اور اپنے بھائی کو اس نکاح سے روک نہ دیں۔ تو جیسا کہ آپ کی خود منشا ہے۔ میرا بیٹا فضل احمد بھی آپ کی لڑکی کو اپنے نکاح میں نہیں رکھ سکتا۔ بلکہ ایک طرف جب (محمدی) کا کسی شخص سے نکاح ہوگا تو دوسری طرف فضل احمد آپ کی لڑکی کو طلاق دے دے گا۔ اگر نہیں دے گا تو میں اس کو عاق اور لاوارث کر دوں گا۔ اور اگر میرے لئے احمد بیگ سے مقابلہ کرو گے۔ اور یہ ارادہ اس کا بند کرا دو گے۔ تو میں بدل و جان حاضر ہوں۔ اور فضل احمد کو جو اب میرے قبضہ میں ہے۔ ہر طرح سے درست کر کے آپ کی لڑکی کی آبادی کے لئے کوشش کروں گا۔ اور میرا مال ان کا مال ہوگا۔ لہٰذا آپ کو بھی لکھتا ہوں کہ آپ اس وقت کو سنبھال لیں۔ اور احمد بیگ کو پورے زور سے خط لکھیں کہ باز آ جائے اور اپنے گھر کے لوگوں کو تاکید کر دیں کہ وہ بھائی کو لڑائی کر کے روک دیوے۔ ورنہ مجھے خدا تعالیٰ کی قسم ہے کہ اب ہمیشہ کے لئے تمام رشتے ناطے توڑ دوں گا۔ اگر فضل احمد میرا فرزند اور وارث بننا چاہتا ہے تو اسی حالت میں آپ کی لڑکی کو گھر میں رکھے گا۔ اور جب آپ کی بیوی کی خوشی ثابت ہو ورنہ جہاں میں رخصت ہوا۔ ایسا ہی سب ناطے رشتہ بھی ٹوٹ گئے۔ یہ باتیں خطوں کی معرفت مجھے معلوم ہوئی ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ کہاں تک درست ہیں۔ واللہ اعلم! راقم خاکسار غلام احمد از لدھیانہ اقبال گنج ۔‘‘
(از کلمہ فضل رحمانی ص ١٣٥ تا ١٤٧ مئی ١٨٩١ء)
- الف ....... معزز ناظرین! یہ مرزا علی شیر بیگ صاحب بھی اسی جماعت کے ممبر ہیں
جو مرزا قادیانی کو کافر کاذب اور دجال کہتی ہے۔ اور جس کو مرزا قادیانی بھی بے دین، کافر، دشمنان اسلام اور خدا اور رسول کے دشمن لکھتے ہیں۔ اپنا مطلب نکالنے کے لئے مرزا قادیانی نے احمد بیگ کی طرح ان کو بھی مشفقی مکرمی سلمہ اللہ تعالیٰ اور السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ! سے مخاطب کیا ہے۔ کافروں اور اسلام کے دشمنوں کو ایسے الفاظ سے مخاطب کرنا اگرچہ دنیا داروں منافقوں اور
٨٠
ریا کاروں کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں ر ہادیان طریقت کے نزدیک ایسا کرنا اصولاً
- ب ....... مرزا قادیانی اپنے
کو نیک خیال اور اسلام پر قائم سمجھتے ہیں۔ ا خیال ہے کہ اگر اس خط میں محمدی بیگم کے بیگ جیسے اشد مخالف کو نیک خیال اور اسلام ایسی دم بازی کرنا کسی بھلے آدمی کا کام نہی ١٨٩١ء تک مرزا علی شیر بیگ ان کے نزدیک کے بیسیوں تحریرات اور فتاویٰ کے برخلاف کافر اور جہنمی قرار دیا ہے۔ حتیٰ کہ ان لوگو ہے۔ جو آپ کو کافر و کاذب تو نہیں کہتے م صریح دلیل کذب ہے۔
- ج ....... اس خط میں مرزا
ظاہر کیا ہے۔ جو دین کی پروا نہیں کرتے قادیانی سے نہیں ہونے دیتے اس سے سے انکار کرنے تک تعلقات چھوڑنے تعلق کرنا تھا۔ تو اسی وقت اور اسی بناء تعلقات قطع کئے۔ کیا مرزا قادیانی کے قادیانی کی تکفیر و تکذیب و توہین کرنے ہونے کی حالت میں بھی نیک خیال اور سے محروم رہیں۔ بالفرض اگر یہ لوگ م تعلقات قطع کرتے؟۔ یا اپنے بیٹوں کو ظاہر ہے کہ یہ جو کچھ کیا گیا اور لکھا گیا بہانہ تھا۔
ریا کاروں کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں رکھتا ۔ لیکن عالمان باعمل اور صاحبان تقویٰ و فتویٰ اور ہادیان طریقت کے نزدیک ایسا کرنا اصولاً قابل اعتراض ہے۔
- ب ...... مرزا قادیانی اپنے مکفرین، مکذبین اور دشمن اسلام جماعت کے ایک رکن
کو نیک خیال اور اسلام پر قائم سمجھتے ہیں ۔ ان الفاظ پر اعتراض فقرہ ماسبق کے علاوہ ہمارا یہ بھی قوی خیال ہے کہ اگر اس خط میں محمدی بیگم کے نکاح کی درخواست نہ ہوتی تو مرزا قادیانی مرزا علی شیر بیگ جیسے اشد مخالف کو نیک خیال اور اسلام پر قائم ہرگز تسلیم نہ کرتے ۔ پس مطلب گانٹھنے کے لئے ایسی دم بازی کرنا کسی بھلے آدمی کا کام نہیں ۔ اگر وہ واقعی مرزا قادیانی نے سچ لکھا ہے اور ٤ مئی ١٨٩١ء تک مرزاعلی شیر بیگ ان کے نزدیک نیک خیال اور اسلام پر قائم تھے ۔ تو پھر ان کی یہ تحریر ان کے بیسیوں تحریرات اور فتاویٰ کے برخلاف ہے ۔ جن میں اپنے دعوے سے انکار کرنے والوں کو کافر اور جہنمی قرار دیا ہے۔ حتیٰ کہ ان لوگوں کے ساتھ مل کر نماز پڑھنے کی بھی قطعی ممانعت کر دی ہے۔ جو آپ کو کافر و کاذب تو نہیں کہتے مگر بیعت میں ابھی داخل نہیں ہوئے ۔ ایسی اختلاف بیانی صریح دلیل کذب ہے۔
- ج ...... اس خط میں مرزا قادیانی نے ان لوگوں سے تعلقات چھوڑنے کا ارادہ
ظاہر کیا ہے۔ جو دین کی پروا نہیں کرتے ۔ اس لاپروائی کا ثبوت یہ دیا ہے کہ محمدی بیگم کا نکاح مرزا قادیانی سے نہیں ہونے دیتے اس سے معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی کے رشتہ دار محمدی بیگم کے نکاح سے انکار کرنے تک تعلقات چھوڑنے کے لائق نہیں تھے ۔ ورنہ مرزا قادیانی کو ان سے للہ ترک تعلق کرنا تھا۔ تو اسی وقت اور اسی بناء پر کرتے جس وقت اور جس بناء پر عامہ اہل اسلام سے تعلقات قطع کئے۔ کیا مرزا قادیانی کے رشتہ داروں کے سر میں سرخاب کا پر لگا ہوا تھا کہ وہ مرزا قادیانی کی تحقیر و تکذیب و توہین کرنے والے گروہ میں ہوتے ہوئے بلکہ اس گروہ کے سرگرم رکن ہونے کی حالت میں بھی نیک خیال اور اسلام پر قائم سمجھے جائیں اور دوسرے مسلمان اس رعایت سے محروم رہیں۔ بالفرض اگر یہ لوگ مرزا قادیانی کا نکاح کرا دیتے تو کیا مرزا قادیانی ان سے تعلقات قطع کرتے ؟ ۔ یا اپنے بیٹوں کو عاق لکھتے اور بیوی کو طلاق دیتے؟ ۔ ہرگز نہیں پس صاف ظاہر ہے کہ یہ جو کچھ کیا گیا اور لکھا گیا محض باقتضائے خواہش نفس تھا ۔ دین کی پرواہ کا محض ایک بہانہ تھا۔
٨١
- د...... مرزا قادیانی اس خط میں لکھتے ہیں کہ (اس نکاح کے شریک) عیسائیوں کو
ہنسانا اور ہندوؤں کو خوش کرنا ۔ (مگر مرزا قادیانی کو رلانا ۔مؤلف) چاہتے ہیں۔ یہاں مسلمانوں کا ذکر نہیں کیا۔ حالانکہ اپنی دوسری بہت سی تحریروں میں اس پیش گوئی کو بالخصوص مسلمانوں کے لئے بہت ہی عظیم الشان نشان درج کیا تھا۔ مگر یہاں مسلمانوں کا ذکر اس لئے نہیں کیا کہ کہیں مرزا علی شیر بیگ کو اپنے مذہب کی طرف داری کا خیال اور حمیت اسلام کا جوش نہ آ جائے۔ ورنہ اس جگہ پوری بات لکھنے کے بجائے محض ہندوؤں اور عیسائیوں کا ذکر کرنا سوائے ہوشیاری کے اور کیا سمجھا جاسکتا ہے؟۔
- ہ...... اس خط میں محمدی بیگم کا دوسری جگہ نکاح ہونا۔ مرزا قادیانی نے مکرر، سہ
کرر۔ اپنی ذلت، خواری اور روسیاہی کا مترادف قرار دیا ہے۔ اور لکھا ہے کہ اگر میں خدا کا ہوں تو مجھے اس ذلت وغیرہ سے بچالے گا۔ اب جب کہ محمدی بیگم کا دوسری جگہ نکاح ہو گیا۔ تو مرزائی صاحبان اس خط کو پڑھ کر ایمان سے بتلائیں کہ کیا مرزا قادیانی کو ان کے خدا نے ذلت، خواری اور روسیاہی سے بچایا؟۔ کیا مرزا قادیانی کا خدا سے کچھ بھی تعلق ثابت ہوا جس کے وہ مدعی تھے؟۔
- و...... مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ ”اگر آپ کے گھر کے لوگ سخت مقابلہ کر کے
اپنے بھائی کو سمجھاتے تو کیوں نہ سمجھتا۔ کیا میں چوہڑا چمار تھا۔ جو مجھ کو لڑکی دینا عار یا ننگ تھی۔ بلکہ وہ تو اب تک ہاں میں ہاں ملاتے رہے۔ اور اپنے بھائی کے لئے مجھے چھوڑ دیا۔ اور اب اس لڑکی کے نکاح کے لئے سب ایک ہو گئے ۔“ اسی طرح آگے چل کر لکھتے ہیں ۔ ”بے شک میں ناچیز ہوں۔ ذلیل ہوں، خوار ہوں۔“ اور پھر سمدھی سے التجا کرتے ہیں کہ ”وقت کو سنبھال کر احمد بیگ کو روک دو کہ لڑکی کا دوسری جگہ نکاح نہ کرے۔“
ناظرین کرام! مرزا صاحب کے دل کی اس وقت کی حالت اس شعر کی مصداق تھی۔
کیا کیا مصیبتیں نہ سہیں تیرے واسطے
مسلمانو! انصاف سے کہنا اور خدا لگتی کہنا۔ کیا ان فقروں سے مرزا قادیانی کا اس خدا پر ذرہ برابر بھی ایمان ثابت ہوتا ہے۔ جس کی طرف سے اس نکاح آسمانی کے متعلق مسلسل الہامات ہوتے رہنا بیان کیا گیا تھا۔ دوسرے لفظوں میں مرزا قادیانی کے وہ متواتر الہام اور آسمانی دعوے کدھر گئے۔ اگر وہ سچے خدا کی طرف سے تھے؟۔
٨٢
پھر سمدھی سے یہ مؤدبانہ التجا کی کہ خود بھی کوشش کرو۔ اور اپنی بیوی سے بھی جو احمد بیگ والد دختر مطلوبہ کی بہن ہے۔ کوشش کراؤ۔ جو میرا گھر بس جائے۔ کیا یہ اضطراب یہ بیقراری اور التجائیں کسی متوکل مہذب اور شائستہ آدمی سے ممکن ہیں؟۔
- ز....... لکھتے ہیں کہ ”مجھے کسی کی لڑکی سے کیا غرض کہیں جائے۔“ خیال کرنے کا
مقام ہے کہ کیا یہی خواجگان قوم، مدعیان اصلاح اور اللہ کے برگزیدہ لوگوں کے ایسے ہی کلمات ہوتے ہیں۔ کیا یہ دیہاتی گنواروں کے اس محاورہ کا ترجمہ نہیں کہ چوہڑوں کی لڑکی چمار لے جائیں۔ ہماری بلا سے افسوس! دنیا بھر کے اگلے پچھلے نیکوں کے مظہر بننے والے اور تمام حسنات کے جامع ہونے کے مدعی الہام انک لعلی خلق عظیم سے بشارت یافتہ اور ایسے مکروہ فقرات کسی شریف آدمی کی بے گناہ لڑکی کی نسبت ان کی زبان و قلم سے نکلیں؟۔
- ح....... مرزا قادیانی کا یہ فقرہ کہ ”کیا میں چوہڑا چمار تھا۔ جو مجھ کو لڑکی دینا
عار یا ننگ تھی۔“ ماشاء اللہ کیا خوب حسن طلب ہے اور چشم بدور کیسی قوی اور لاجواب بات لکھی ہے۔ کیا لڑکی والوں کے لئے صرف آپ کے چوہڑا یا چمار ہونے کی ہی تفتیش کر لینی کافی تھی؟۔ اور آپ کے سن شریف دو بیویوں اور نصف درجن اولاد کی موجودگی۔ اور سب سے بڑھ کر مذہبی مخالفت کا بعد المشرقین، بھائی برادریوں کی رضامندی وغیرہ وغیرہ کوئی اور امر قابل لحاظ نہ تھا؟۔ اور یہ سب باتیں نظر انداز کر دینے کے لائق تھیں؟۔
- ط....... تحریر فرماتے ہیں کہ ”ایک طرف جب محمدی کا کسی شخص سے نکاح ہو گا تو
دوسری طرف فضل احمد آپ کی لڑکی کو طلاق دے دے گا۔ اگر نہیں دے گا تو میں اس کو عاق ١؎ اور لاوارث ٢؎ کر دوں گا۔“
- ١؎ عاق کر دوں گا۔ خانگی محاورہ معلوم ہوتا ہے۔ ورنہ عاق کے معنی تو ہیں۔ نافرمان پس
نافرمان کر دوں گا۔ کس طرح صحیح ہو سکتا ہے؟۔
- ٢؎ ایسا ہی لاوارث کر دوں گا۔ بھی مہمل اور بے معنی ہے۔ کیونکہ لاوارث وہ ہوتا ہے
جس کا کوئی وارث نہ ہو۔ کیا خوب سلطان القلمی ہے۔ اور یہ امر بھی قابل غور ہے کہ کیا عاق ہونا مانع ارث ہے۔ شریعت کی رو سے تو ایسا لڑکا بھی دوسرے وارثوں کی طرح حقدار وراثت ہوتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی یا تو اس مسئلہ شرعی سے ناواقف تھے۔ یا شریعت کی جدید اصلاح کرنی چاہتے تھے۔ چنانچہ بالآخر ایسا ہی کیا کہ پہلی بیوی اور دونوں بیٹوں کو محروم الارث قرار دیا۔
٨٣
کیا اس عبارت کو پڑھ کر کوئی صاحب انصاف یہ باور کر سکتا ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنے لڑکے فضل احمد کو دشمن اسلام سمجھ کر عاق کیا۔ البتہ اگر عداوت اسلام اور عدم تعاون نکاح محمدی بیگم یا مرزا قادیانی باہم مترادف اور ہم معنی ہو سکتے ہیں تو ہم بھی اسے تسلیم کرتے ہیں۔
- ج ....... اسی خط میں سمدھن کو ہدایت کرتے ہیں ۔ ”اگر میرے لئے اپنے بھائی احمد
بیگ سے مقابلہ کرو گی اور یہ ارادہ بند کرادو گی تو میں بدل و جان حاضر ہوں۔ اور فضل احمد کو جو اب میرے قبضہ میں ہے ہر طرح سے درست کر کے آپکی لڑکی کی آبادی کے لئے کوشش کروں گا۔ اور میرا مال ان کا مال ہوگا۔“
غور کا مقام ہے کہ بیٹے کو اپنے قبضہ میں ہونا ظاہر کرتے ہیں۔ مگر اس کی بیوی کو اس کے گھر میں آباد کرنے کی کوشش کا وعدہ اس شرط پر کرتے ہیں کہ ما بالا دقت ٹل جاوے۔ رشوت بھی کیا دوشیزہ لڑکی محمدی بیگم ! جو برابر کا جوڑ ہے۔ یعنی تم ہمارا گھر بساؤ ہم تمہاری لڑکی کی آبادی کی صورت کر دیں گے۔ بلکہ خود معاوضہ زیادہ مانگتے ہیں۔ کیونکہ مکتوب الیہ کی لڑکی تو شادی شدہ ہے۔ اور مرزا قادیانی کی مطلوبہ باکرہ۔ اللہ رے تقدس و تورع ! مرزائی دوستو ! ایمان سے کہنا تہذیب و اخلاق شرم و حیا کا ایک شمہ بھی اس پیغام میں ہے؟۔
- د ....... آخر پر سمدھی کو پھر تاکید کرتے ہیں کہ ”آپ اس وقت کو سنبھال لیں۔ اور
احمد بیگ کو پورے زور سے خط لکھیں کہ باز آ جائے اور اپنے گھر کے لوگوں کو تاکید کر دیں کہ وہ بھائی کو لڑائی کر کے روک دیوے۔ ورنہ مجھے خدا کی قسم ہے کہ اب ہمیشہ کے لئے یہ تمام رشتے ناطے توڑ دوں گا ۔“
معزز ناظرین ! احمد بیگ اپنی لڑکی کا دوسری جگہ رشتہ کر چکا ہے اور بقول مرزا قادیانی عید کی دوسری یا تیسری تاریخ کو نکاح ہونے والا ہے۔ مگر مرزا قادیانی اس کی بہن اور بہنوئی اور اپنے سمدھی اور سمدھن کو رجسٹرڈ اور ان رجسٹرڈ خطوط کے ذریعہ بار بار نہایت زور سے لکھتے ہیں کہ لڑائی جھگڑا کر کے یہ نکاح رکوا دو اور احمد بیگ کو عہد شکنی پر مجبور کر کے یہ لڑکی مجھے دلا دو۔ ورنہ خدا کی قسم میں سب رشتہ ناطے توڑ دوں گا۔ یہاں مرزا قادیانی کئی امور خلاف شریعت کی تعلیم دیتے ہیں:
- اول ....... بہن کو بھائی سے لڑنے کی ہدایت و تاکید کرتے ہیں۔ حالانکہ قرآن
کریم میں مسلمانوں کو ہدایت ہے کہ اگر دو مسلمان لڑیں تو ان میں صلح کرادو۔ یہاں الٹی نصیحت ہو رہی ہے۔
عبارت کو پڑھ کر کوئی صاحب انصاف یہ باور کر سکتا ہے کہ مرزا قادیانی نے کو دشمن اسلام سمجھ کر عاق کیا۔ البتہ اگر عداوت اسلام اور عدم تعاون نکاح محمدی اہم مترادف اور ہم معنی ہو سکتے ہیں تو ہم بھی اسے تسلیم کرتے ہیں۔
اسی خط میں سمدھن کو ہدایت کرتے ہیں ۔ ”اگر میرے لئے اپنے بھائی احمد بیگ اور یہ ارادہ بند کرادو گی تو میں بدل و جان حاضر ہوں۔ اور فضل احمد کو جواب یہ ہر طرح سے درست کر کے آپکی لڑکی کی آبادی کے لئے کوشش کروں گا۔ اور ہوگا۔“
مقام ہے کہ بیٹے کو اپنے قبضہ میں ہونا ظاہر کرتے ہیں۔ مگر اس کی بیوی کو اس کے ننے کی کوشش کا وعدہ اس شرط پر کرتے ہیں کہ مدعا بالا حاصل ہو جاوے۔ رشوت بھی ری بیگم! جو برابر کا جوڑ ہے۔ یعنی تم ہمارا گھر بساؤ ہم تمہاری لڑکی کی آبادی کی ہیں۔ بلکہ خود معاوضہ زیادہ مانگتے ہیں۔ کیونکہ مکتوب الیہ کی لڑکی تو شادی شدہ ہے۔ مطلوبہ باکرہ۔ اللہ رے تقدس و تورع ! مرزائی دوستو ! ایمان سے کہنا تہذیب ایک شمہ بھی اس پیغام میں ہے؟۔
آخر پر سمدھی کو پھر تاکید کرتے ہیں کہ ” آپ اس وقت کو سنبھال لیں۔ اور زور سے خط لکھیں کہ باز آ جائے اور اپنے گھر کے لوگوں کو تاکید کر دیں کہ وہ سے روک دیوے۔ ورنہ مجھے خدا کی قسم ہے کہ اب ہمیشہ کے لئے یہ تمام رشتے
ناظرین! احمد بیگ اپنی لڑکی کا دوسری جگہ رشتہ کر چکا ہے اور بقول مرزا قادیانی سری تاریخ کو نکاح ہونے والا ہے۔ مگر مرزا قادیانی اس کی بہن اور بہنوئی اور ہن کو رجسٹر ڈ اور ان رجسٹر ڈ خطوط کے ذریعہ بار بار نہایت زور سے لکھتے ہیں کہ یہ نکاح رکوا دو اور احمد بیگ کو عہد شکنی پر مجبور کر کے یہ لڑکی مجھے دلا دو۔ ورنہ خدا کی ناطے توڑ دوں گا۔ یہاں مرزا قادیانی کئی امور خلاف شریعت کی تعلیم دیتے ہیں : ....... بہن کو بھائی سے لڑنے کی ہدایت و تاکید کرتے ہیں ۔ حالانکہ قرآن س کو ہدایت ہے کہ اگر دو مسلمان لڑیں تو ان میں صلح کرا دو۔ یہاں الٹی نصیحت ٨٤
دوم ..... ایک مسلمان دوسرے مسلمان سے رشتہ دینے کا عہد و اقرار کر چکا ہے۔ اور اسے پورا کرنا چاہتا ہے۔ مگر مرزا قادیانی اس پختہ عہد کو توڑنے اور تڑوانے پر زور دے رہے ہیں۔ جو قرآنی احکام : ” اوفوا بالعهد ، اوفوا بالعقود ، المائدہ :١ “ وغیرہ کی صریح خلاف ورزی ہے۔
سوم ...... اسی خط میں لکھتے ہیں کہ خدا کا خوف کرو۔ اور پرانے رشتے مت توڑو۔ مگر خود قسم کھاتے ہیں کہ اگر ( اس خلاف شرع عہد شکنی کرانے میں ہماری مدد نہ کرو گے تو میں ہمیشہ کے لئے رشتے ناطے توڑ دوں گا۔ یہاں خدا کا خوف کہاں گیا۔ کیا مرزا علی شیر بیگ محمدی بیگم کا والد تھا۔ جو اس کا ہاتھ مرزا قادیانی کے ہاتھ میں دے دیتا۔ پھر اس کو اس کی لڑکی کی خانہ بربادی اور طلاق کی دھمکیاں دینا کہاں کی شرافت تھی۔ کیا ان حالات میں جو اوپر بیان ہوئے یہ قسم اور یہ تنبیہ و تہدید مرزا قادیانی کی اس قابل رحم دماغی کمزوری کو ظاہر نہیں کرتی جسے ہم دوسری شخصوں کی نسبت جنوں اور پاگل پن سے تعبیر کر سکتے ہیں؟ ۔
ب ....... اس خط کے ساتھ ہی مرزا قادیانی کا دوسرا خط جو سمدھن صاحبہ کے نام ہے ناظرین ملاحظہ فرمائیں۔ (جو آگے آتا ہے) سمدھی اور سمدھن دونوں کو کیسی اسلامی غیرت دلائی اور اپنی رسوائی دکھائی ہے! اور نکاح سے روکنے کے لئے کن کن تدابیر و تجاویز پر آمادہ کیا ہے ! حتیٰ کہ بصورت عدم نکاح خود ان کی غریب لڑکی عزت بی بی کو طلاق دیئے جانے کی دھمکی دی جاتی ہے۔ یہ اخلاق، یہ انصاف، یہ تہذیب، یہ شائستگی، یہ سنجیدگی، یہ بے صبری کیا اس شخص کے شایان شان ہو سکتی ہے۔ جس کو اس کے خدا نے بار بار اور متواتر پکے اور حتمی وعدوں سے وقوع نکاح کا یقین دلا دیا ہو۔ کیا ان خطوط کے پڑھنے کے بعد مرزا قادیانی کا دعوائے الہام صحیح ماننے کے قابل رہتا ہے؟ ۔ کیا یہی منہاج نبوت ہے؟ ۔ کیا انبیاء کی یہی روش ہے؟۔ کہ ایک عورت کی نکاح کی خواہش میں قطع رحم پر قسم کھائی جا رہی ہے۔ اور بلاوجہ شرعی بیٹے اور بہو میں جدائی کرائی جاتی ہے۔ اگر اس غریب بہو کا ماموں اپنی کنواری لڑکی ایک پیر مرد .... کو دینے میں متامل تھا۔ تو بیچاری عزت
١؎ مرزائی جماعت شاید اس عہد شکنی کو جائز رکھے کیونکہ وہ کہہ سکتی ہے کہ جب خدا کی ہی یہ سنت ہے کہ پختہ وعدے اپنے رسولوں سے کر کے توڑ دیتا ہے۔ جیسا کہ محمدی بیگم کے متعلق بیسیوں اطمینانی والہامی وعدے کر کے توڑ ڈالے۔ تو پھر یہ عہد شکنی کرنے اور کرانے والا رسول بھی تو اس خدا کی طرف سے۔
٨٥
بی بی کا اس میں کیا قصور تھا۔ یا فضل احمد کی کیا خطاء تھی۔ جسے کہا گیا کہ اگر عزت بی بی کو طلاق نہیں دے گا تو جائیداد سے محروم کر دیا جائے گا۔ کیا طلاق کے لئے یہ وجہ کافی تھی؟۔ کیا طلاق ان امور میں سے نہیں۔ جن کو باوجود جائز ہونے کے حضرت رسول اللہ ﷺ نے سب سے زیادہ ناپسند فرمایا ہے۔ خدا ترس مسلمان ان سوالات پر غور فرمائیں اور سوچیں کہ کیا خدا کے برگزیدہ لوگ انہی اوصاف کا مجموعہ ہوتے ہیں؟۔ اور کیا مرزا غلام احمد جیسا شخص آنحضرت ﷺ کا ظل ہو سکتا ہے؟۔
پنجم! خط بنام والدہ ؎١ عزت بی بی زوجہ مرزا علی شیر بیگ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔ نحمدہ و نصلی!
”والدہ عزت بی بی کو معلوم ہو کہ مجھ کو خبر پہنچی ہے کہ چند روز تک (محمدی بیگم) مرزا احمد بیگ کی لڑکی کا نکاح ہونے والا ہے۔ اور میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا چکا ہوں کہ اس نکاح سے سارے رشتہ ناطے توڑ دوں گا۔ اور کوئی تعلق نہیں رہے گا۔ اس لئے نصیحت کی راہ سے لکھتا ہوں کہ اپنے بھائی مرزا احمد بیگ کو سمجھا کر یہ ارادہ موقوف کراؤ۔ اور جس طرح تم سمجھا سکتی ہو اس کو سمجھا دو اور اگر ایسا نہیں ہوگا تو آج میں نے مولوی نور دین صاحب اور فضل احمد کو خط لکھ دیا ہے کہ اگر تم اس ارادہ سے باز نہ آؤ تو فضل احمد عزت بی بی کے لئے طلاق نامہ لکھ کر بھیج دے اور فضل احمد طلاق نامہ لکھنے میں عذر کرے تو اس کو عاق کیا جائے اور ایک پیسہ وراثت کا اس کو نہ ملے۔ سو امید رکھتا ہوں کہ شرطی طور پر اس کی طرف سے طلاق نامہ لکھا آ جاوے گا۔ جس کا یہ مضمون ہوگا کہ اگر مرزا احمد بیگ محمدی کے غیر کے ساتھ نکاح کرنے سے باز نہ آوے تو پھر اسی روز سے جو محمدی کا کسی اور سے نکاح ہو جائے عزت بی بی کو تین طلاق ہیں۔ سو اس طرح پر لکھنے سے اس طرف تو محمدی کا کسی دوسرے سے نکاح ہوگا۔ اور اس طرف عزت بی بی پر فضل احمد کی طلاق پڑ جائے گی۔ سو یہ شرطی طلاق ہے۔ اور مجھے اللہ تعالیٰ کی قسم ہے کہ اب بجز قبول کرنے کے کوئی راہ نہیں اور اگر فضل احمد نے نہ مانا تو میں فی الفور اس کو عاق کر دوں گا۔ اور پھر وہ میری وراثت سے ایک دانہ نہیں پا سکتا۔ اور اگر آپ اس وقت بھائی سمجھا لو تو آپ کے لئے بہتر ہوگا۔ مجھے افسوس ہے کہ میں نے عزت بی بی کے بہتری کے لئے ہر طرح سے کوشش کرنا چاہا تھا۔ اور میری کوشش سے سب نیک بات ہو جاتی۔ مگر آدمی پر تقدیر غالب ہے۔ یاد رہے کہ میں نے کوئی کچی بات نہیں لکھی۔ مجھے قسم ہے اللہ تعالیٰ کی کہ میں ایسا ہی کروں گا۔ اور خدا تعالیٰ میرے ساتھ ہے جس دن نکاح ہوگا۔ اس دن عزت بی بی کا نکاح باقی نہ رہے گا۔“
(کلمہ فضل رحمانی ص ١٤٧، ١٤٨، ١٤٩ مئی ١٨٩١ء راقم مرزا غلام احمد از لدھیانہ اقبال گنج)
؎١ مرزا قادیانی کے لڑکے فضل احمد کی خوشدامن۔
٨٦
اس خط کے اکثر حصہ پر ہم مرزا علی شیر بیگ والے خط میں جرح کر چکے ہیں۔ ہاں ناظرین کے لئے اس خط کی دلچسپ عبارت اور زنانہ محاورات میں کئی باتیں غور و توجہ کے قابل ہیں۔ اس خط میں مرزا قادیانی اپنی سمدھن کے نام ایک نادر شاہی حکم جاری کرتے ہیں کہ اگر تمہارا بھائی محمدی بیگم کا کسی اور کے ساتھ نکاح کرنے سے باز نہ آوے تو روز نکاح سے ہی تمہاری لڑکی عزت بی بی کو تین طلاق ہیں۔ اور اس پر اللہ تعالیٰ کی قسم بھی کھاتے ہیں۔ ناظرین! غور فرمائیں کہ فضل احمد مرزا قادیانی کے پاس ہے اس سے مشورہ نہیں ہوا۔ نہ وہ طلاق دینے پر راضی تھا۔ مگر مرزا قادیانی خود بخود بلا اختیار اس کی طرف سے خیالی طلاق نامہ لکھ رہے ہیں۔ اور محمدی بیگم کے نکاح اور عزت بی بی کے طلاق میں ایک منٹ کا بھی وقفہ نہیں دیتے۔ یہ لکھتے ہوئے مرزا قادیانی نے اتنا خیال بھی نہ کیا کہ محمدی بیگم کے نکاح کی اطلاع ملنے تک فضل احمد نے اگر اپنی اہلیہ سے کوئی بات چیت یا نشست برخاست کی تو وہ حلال ہوگی یا حرام؟۔ پھر بعد کے حالات سے معلوم ہوتا ہے کہ گو فضل احمد نے محمدی بیگم کا نکاح ہو جانے کے کچھ عرصہ بعد مرزا قادیانی کے لکھنے پر ان کے دباؤ سے طلاق نامہ لکھ دیا تھا۔ لیکن بیوی کی علیحدگی اس نے گوارا نہیں کی۔ اسے اپنے پاس ہی رکھا۔ اور اسی لئے جب فضل احمد کا انتقال ہوا تو مرزا قادیانی نے اس کا جنازہ تک نہیں پڑھا۔ (دیکھو سیرۃ المہدی ج١ مؤلفہ مرزا بشیر احمد پسر مرزا قادیانی ص٢٩ روایت ٤٧) اس سے مرزا قادیانی کے اس طلاق نامہ کی کیفیت عیاں ہے۔ ہاں مرزائی صاحبان بتلائیں کہ مرزا قادیانی نے جبرًا قہرًا جو یہ تین طلاق فضل احمد سے لکھوائے اور اس نے اس مطلقہ بیوی سے علیحدگی اختیار نہیں کی۔ اور امر نامشروع کا مرتکب ہوتا رہا۔ اس گناہ کے بھی مرزا قادیانی ذمہ دار ہیں یا نہیں؟۔ یہ امر بھی قابل غور ہے کہ اس خط میں سارا غصہ محمدی بیگم کے نکاح پر ہی ظاہر کیا ہے۔ کوئی بات ان لوگوں کی بے دینی وغیرہ کی ظاہر نہیں کی گئی۔
ششم! خط مسمات عزت بی بی بنام والدہ خود معہ نوٹ مرزا قادیانی
”اس وقت میری بربادی اور تباہی کی طرف خیال کرو۔ مرزا صاحب کسی طرح مجھ سے فرق نہیں کرتے۔ اگر تم اپنے بھائی میرے ماموں کو سمجھاؤ تو سمجھا سکتی ہو۔ اگر نہیں تو پھر طلاق ہو گی اور ہزار طرح کی رسوائی ہوگی۔ اگر منظور نہیں تو خیر جلدی مجھے اس جگہ سے لے جاؤ۔ پھر میرا اس جگہ ٹھہرنا مناسب نہیں (مرزا قادیانی کا نوٹ) جیسا کہ عزت بی بی نے تاکید سے لکھا ہے۔ اگر نکاح نہیں رک سکتا۔ پھر بلا توقف عزت بی بی کے لئے کوئی قادیان آدمی بھیج دو۔ تا کہ اس کو لے جائے۔
(کلمۃ الفضل رحمانی ص ١٤٨)
٨٧
اس خط کی عبارت اور مرزا قادیانی کے نوٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ خط مرزا قادیانی نے ہی اپنے اثر اور دباؤ سے عزت بی بی سے لکھوایا اس امید پر کہ بیٹی کی خود نوشتہ مصیبت کو پڑھ کر ماں کا دل پسیج جائے۔ مگر دوسرے خطوط کی طرح یہ خط بھی مرزا قادیانی کی سوء تدبیری کا مزید ثبوت ہوا اور محمدی بیگم کے اعزاء مرزا قادیانی کی اس چال میں بھی نہ آئے۔
ہفتم! اشتہار نصرت دین و قطع تعلق از اقارب مخالف دین
”ناظرین کو یاد ہوگا کہ اس عاجز (مرزا قادیانی) نے ایک دینی خصومت کے پیش آ جانے کی وجہ سے اپنے ایک قریبی مرزا احمد بیگ ولد گاماں بیگ ہوشیار پوری کی دختر کلاں کی نسبت بحکم والہام الٰہی یہ اشتہار دیا تھا کہ خدائے تعالیٰ کی طرف سے یہی مقدر اور قرار یافتہ ہے کہ وہ لڑکی اس عاجز کے نکاح میں آئے گی۔ خواہ پہلے ہی باکرہ ہونے کی حالت میں آ جائے یا خدا تعالیٰ بیوہ کر کے میری طرف لے آوے...... اب باعث تحریر اشتہار ہٰذا یہ ہے کہ میرا بیٹا سلطان احمد نام جو اب تحصیلدار لاہور میں ہے۔ اور اس کی تائی صاحبہ وہی اس مخالفت پر آمادہ ہو گئی...... اور تجویز میں ہے کہ اس لڑکی کا نکاح کسی سے عید کے دن یا اس کے بعد کیا جائے...... ہر چند سلطان احمد کو سمجھایا کہ تو اور تیری والدہ اس کام سے الگ ہو جائیں۔ ورنہ میں تم سے جدا ہو جاؤں گا۔ تاکیدی خط لکھے میرے خط کا جواب بھی نہ دیا اور کھلی بیزاری ظاہر کی۔ لہٰذا میں آج کی تاریخ سے کہ دوسری مئی ١٨٩١ء ہے عوام اور خواص کو بذریعہ اشتہار ہٰذا ظاہر کرتا ہوں۔ اگر یہ لوگ اس ارادہ سے باز نہ آئے اور اس لڑکی کا کسی اور سے نکاح ہو گیا۔ تو اسی روز سلطان احمد عاق محروم الارث ہوگا اور اسی روز اس کی والدہ پر میری طرف سے طلاق ہے اور اگر اس کا بھائی فضل احمد جس کے گھر میں مرزا احمد بیگ والد لڑکی کی بھانجی ہے۔ اپنی اس بیوی کو اسی دن جو اس کو نکاح کی خبر ہو طلاق نہ دیوے تو پھر وہ بھی عاق اور محروم الارث ہوگا۔ اس نکاح کے بعد تمام تعلقات خویشی اور قرابت اور ہمدردی دور ہو جائیں گے اور کسی نیکی بدی رنج و راحت، شادی اور ماتم میں ان سے شرکت نہیں رہے گی۔ اس سے کچھ تعلق قطعاً حرام اور ایمانی غیوری کے خلاف اور ایک دیوثی کا کام ہے۔“
(بلفظہ ملخصاً، اشتہار مرزا غلام احمد لدھیانہ ٢؍ مئی ١٨٩١ء، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢١٩ تا ٢٢١)
مرزا قادیانی کے بڑے فرزند مرزا سلطان احمد صاحب بڑے بڑے عہدوں پر پہنچے اور اب پنشن پر ہیں۔ انہوں نے اپنے والد (مرزا غلام احمد قادیانی) کو کبھی حق پر نہیں سمجھا۔ نہ ان کے ہم عقیدہ ہوئے۔ اس جرم میں گو وہ سب مسلمانوں کی طرح مرزا قادیانی اور مرزائیوں کی نظر
٨٨
میں کافر تھے۔ تاہم شاید بیٹا ہونے کی وجہ سے مرزا قادیانی نے ان سے اس وقت تک قطع تعلق نہیں کیا جب کہ محمدی بیگم کا دوسری جگہ نکاح نہیں ہو گیا۔ کیونکہ اس اشتہار میں مرزا قادیانی نے یہی وجہ قطع تعلق کی ظاہر کی ہے کہ خدا کا حکم ہو چکا ہے کہ محمدی بیگم میرے نکاح میں آئے گی ۔ مگر میرا بیٹا اور اس کی ماں اس کے خلاف کوشاں ہیں ۔ جس میں میری ہتک اور رسوائی متصور ہے ۔ لہذا میں ان سے ہر قسم کے تعلقات قطع کرتا ہوں ۔ دین کی کوئی اور مخالفت ان کی طرف سے ظاہر نہیں کی گئی۔ مرزا قادیانی کا یہ بیٹا ایک بیدار مغز، تعلیم یافتہ، قاعدہ، قانون سے واقف اور ایک عہدہ دار ملازم سرکار تھا۔ اور گھر کا بھیدی ہونے کی وجہ سے اسے تمام معاملات خانگی معلوم تھے ۔ غالباً وہ نیک نیتی سے اس نکاح میں اس لئے مانع ہوا کہ ایسا نہ ہو۔ نکاح ہو جانے سے اور بہت سے ناواقف مسلمان ابا جی کے عیسویت، مہدویت اور کرشنیت کے پھندوں میں گرفتار ہو جائیں کیونکہ مرزا قادیانی کے دعوؤں کے وہ مخالف تھا۔ اور ممکن ہے اس کی یہ بھی نیت ہو کہ پیش گوئی جھوٹی ثابت ہونے پر والد صاحب نادم ہوں اور اپنی زندگی کا پروگرام بدل دیں تا کہ ان کا خاتمہ بالخیر ہو جائے۔ مگر باوجود ایسی دینی خدمت اور ہمدردانہ مساعی کے مرزا قادیانی کی عدالت سے اس پر مخالفت دین کی فرد قرار داد جرم لگ گئی۔ اور گویا باپ نے اس سے قطع تعلق کر لیا۔ لیکن نکاح کے خلاف اس کی کوشش چونکہ للہیت پر مبنی تھی۔ لہذا وہ اس میں کامیاب ہوا۔ اور مرزا قادیانی نے نیچا دیکھا۔ اور نکاح کی پیش گوئی باطل اور جھوٹ ثابت ہونے سے بجائے مخالفت دین کے مرزا سلطان احمد ، دین کا مددگار ثابت ہوا۔ مرزا قادیانی کے اشتہاروں اور الہاموں کی قلعی کھل گئی۔ اور خود ان پر قطع رحم کا الزام عائد ہوا۔
ہشتم ! نکاح کے عوض لڑکی کے بھائی اور ماموں کو پیسہ دینے کی بھی کوشش کی گئی
مرزا بشیر احمد اپنی کتاب (سیرۃ المہدی ج ١ ص١٩٢ پر روایت نمبر ١٧٩) یوں درج کرتے ہیں:
”بسم اللہ الرحمن الرحیم ! بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ ایک دفعہ مرزا صاحب جالندھر جا کر قریب ایک ماہ ٹھہرے تھے۔ اور ان دنوں میں محمدی بیگم کے ایک حقیقی ماموں نے محمدی بیگم کا مرزا قادیانی سے رشتہ کرا دینے کی کوشش کی تھی۔ مگر کامیاب نہیں ہوا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے کہ جب محمدی بیگم کا والد مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری زندہ تھا۔ اور ابھی محمدی بیگم کا مرزا سلطان محمد سے رشتہ نہیں ہوا تھا۔ محمدی بیگم کا یہ ماموں جالندھر اور ہوشیار پور کے درمیان یکہ میں آیا جایا کرتا تھا۔ اور وہ حضرت صاحب (مرزا قادیانی) سے کچھ انعام کا بھی خواہاں تھا۔ اور
٨٩
چونکہ محمدی بیگم کے نکاح کا عقدہ زیادہ تر اسی شخص کے ہاتھ میں تھا۔ اس لئے حضرت صاحب (مرزا قادیانی) نے اس سے کچھ انعام کا وعدہ بھی کر لیا تھا۔‘‘
”خاکسار (بشیر احمد مؤلف سیرۃ المہدی) عرض کرتا ہے کہ یہ شخص اس معاملہ میں بدنیت تھا اور حضرت صاحب سے فقط کچھ روپیہ اڑانا چاہتا تھا۔ کیونکہ بعد میں یہی شخص اور اس کے دوسرے ساتھی اس لڑکی کے دوسری جگہ بیاہے جانے کا موجب ہوئے۔ مگر مجھے والدہ صاحبہ سے معلوم ہوا ہے کہ حضرت صاحب نے بھی اس شخص کو روپیہ دینے کے متعلق بعض حکیمانہ احتیاطیں ملحوظ رکھی تھیں۔ والدہ صاحبہ نے یہ بھی بیان کیا کہ اس کے ساتھ محمدی بیگم کا بڑا بھائی بھی شریک تھا۔“
(سیرۃ المہدی روایت نمبر ١٧٩ ج ١ ص ١٩٢، ١٩٣)
مرزا قادیانی کی یہ آخری تدبیر بھی اکارت گئی۔ جو فی زمانہ اکثر غیر مہذب لوگوں اور چھوٹی ذاتوں میں رائج ہے۔ گو روپیہ پیسہ اور جائیداد کا لالچ ابتدائی الہام اور خط میں ہی مرزا قادیانی نے محمدی بیگم کے والد کو صاف لفظوں میں دلایا تھا۔ اور شاید یہی مشورہ ارتکاب جرم دختر فروشی احمد بیگ کے مرزا قادیانی سے متنفر اور بدظن ہونے کا باعث ہوا۔ مگر مرزا قادیانی کب تھکنے والے تھے۔ احمد بیگ کے انکار پر مایوس نہیں ہوئے بلکہ جیسا کہ اس روایت سے ظاہر ہوتا ہے۔ لڑکی کے بھائی اور ماموں کو رشوت دے کر مقصد برآری کی ذلیل کوشش کی۔ حالانکہ لڑکی کا ولی جائز اس کا والد موجود تھا۔ مگر الحمد للہ! کہ وہ اس میں بھی ناکام رہے۔ اور دیگر علوی اور سفلی تدابیر کی طرح ان کی یہ تدبیر بھی لغو ثابت ہوئی۔
ان خطوط کی صحت مسلمہ ہے
ناظرین! ان تمام مساعی اور اس ساری جدوجہد پر جس کا باب ہذا میں ذکر ہوا۔ ایک بار پھر مجموعی نظر ڈالیں۔ اور ان تجاویز وتدابیر کا موازنہ فرمائیں۔ اور مرزا قادیانی جیسے عظیم الشان مدعی نبوت ورسالت وغیرہ کی حیثیت وحالت سے اس کا مقابلہ کریں ان خطوط ١؎ کی صحت کو جو باب ہذا میں نمبر ٣ لغایت ٦ پر نقل ہوئے ہیں۔ مرزا قادیانی نے ایک مقدمہ میں عدالت میں حلفیہ بیان دیتے ہوئے تسلیم کیا ہے۔ (دیکھو فقرہ ٢٦ باب چہارم کتاب ہذا) اور مرزائی بھی ان سے انکار نہیں کرتے۔
(دیکھو سیرۃ المہدی اور رسالہ مرزا احمد بیگ والی پیش گوئی وغیرہ)
١؎ یہ خطوط محمدی بیگم کے اعزہ نے مصنف رسالہ کلمہ فضل رحمانی جناب مولوی فضل احمد صاحب لدھیانوی سلمہم اللہ کو دے دیئے تھے۔ جنہوں نے سب سے پہلے ان کو کتاب مذکور میں شائع کیا۔
اس خطوط نویسی پر جب اعتراضات ہوئے تو مرزا قادیانی نے یوں جواب دیا کہ: ”یہ کہنا کہ پیش گوئی کے بعد احمد بیگ کی لڑکی کے نکاح کے لئے کوشش کی گئی۔ اور طمع دی گئی۔ اور خط لکھے گئے۔ یہ عجیب اعتراض ہیں سچ ہے انسان شدت تعصب کی وجہ سے اندھا ہو جاتا ہے۔ کوئی مولوی اس بات سے بے خبر نہ ہوگا کہ اگر وحی الٰہی کوئی بات بطور پیش گوئی ظاہر فرما دے۔ اور ممکن ہو کہ انسان بغیر کسی فتنہ اور ناجائز طریق کے اس کو پورا کر سکے۔ تو اپنے ہاتھ سے پیش گوئی کو پورا کرنا نہ صرف جائز بلکہ مسنون ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ١٩١،خزائن ج ٢٢ ص ١٩٨)
مؤلف رسالہ (مرزا احمد بیگ والی پیش گوئی ص ٢٦) نے بھی اس پر بہت زور دیا ہے۔ لکھتے ہیں کہ: خطوط پر اعتراض کرنے والے مسلمان کیوں کہلاتے ہیں۔۔۔۔۔۔ کیا تمام انبیاء سے وعدہ نہیں تھا کہ وہ غالب رہیں گے۔ پھر وہ کیوں تبلیغ کے لئے جدوجہد کرتے۔۔۔۔۔۔ تو پھر کیوں زرہیں پہن لڑائی میں تشریف لے جاتے۔
مرزا قادیانی تو پیچھا چھڑا کر چل دیئے۔ ان سے کون پوچھے؟۔ مگر ان کے پس ماندگان کو بھی جواب دیتے ہوئے غیرت اور شرم نہیں آتی بھلے مانسو! انبیاءِ کرام کو تبلیغ احکام کا بھی تو صریح حکم تھا۔ وہ اس کی تعمیل کرتے تھے۔ اور حسب وعدہ الٰہی کامیاب بھی ہوتے تھے۔ اسی طرح فتح وظفر کی بشارتیں اگر تھیں تو میدان جنگ کے لئے تھیں۔ چنانچہ بحکم الٰہی وہ حفاظت دین کی غرض سے میدان جنگ کے لئے جاتے تھے۔ اور مظفر ومنصور ہوتے تھے۔ مرزائیوں کے خدا کی طرح نہ ان کا خدا زنانہ تھا۔ جو مردوں کو چوڑیاں پہننے کا حکم دیتا۔ نہ وہ خود مرزا قادیانی کی طرح صفات نسوانی ، حیض ، حمل ، درد زہ وغیرہ سے متصف تھے۔ پھر گھر میں کیوں بیٹھے رہتے؟۔ ان کو جو حکم ملا۔ اس کی تعمیل کی اور حسب وعدہ الٰہی فتح ونصرت کامیابی وظفر نے ان کا ساتھ دیا۔
مرزا قادیانی کے بیسیوں الہام اور وحیاں نکاح کے متعلق تھیں۔ مگر ایسی لچر اور ناجائز کوششیں کرنے کا جن کا ذکر باب ہٰذا میں ہوا۔ کوئی الہام وغیرہ نہیں پایا جاتا۔ اور پھر اگر یہ کوششیں بحکم خدا اور مطابق طریق انبیائے کرام تھیں۔ تو ان میں کامیابی کیوں نہ ہوئی؟۔ جن برگزیدہ ہستیوں کی ریس کرتے اور مثالیں دیتے ہو۔ وہ تو اپنی تدابیر میں کامیاب اور فائز المرام بھی ہوتے رہے۔ تم اپنی سناؤ کہ ایڑی سے چوٹی تک کا زور لگایا مگر تمہارے نبی جی ناکام اور خائب وخاسر ہی رہے۔
ہاں ایسا ہونا لازمی تھا۔ تمہارے پیر ومرشد دنیا بھر کے مسلمانوں کو کافر کہا کرتے تھے۔ اور اب تم بھی ایسا ہی کہتے ہو۔ اس لئے حسب فرمان الٰہی وارشاد نبوی یہ کفر تم پر لوٹا۔ اور تمہارے
٩١
اس کفر کے ظاہر کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے تمھیں اس قرآنی مواخذہ میں گرفتار کر لیا کہ: ”وماکید الکافرین الا فی ضلال ٠ غافر :٢٥“ ﴿کفار کی تدابیر ضرور ناکام ومردود رہتی ہیں۔﴾
سوچ لو! کونسی تدبیر باقی رہ گئی تھی۔ آسمان سے زمین سے پورب سے، پچھم سے، اتر سے، دکن سے۔ جو کچھ بھی مرزا قادیانی سے ہو سکا کہا۔ نکاح آسمان پر پڑھا جانا بیان کیا اور اس پر قسم کھائی۔ داماد احمد بیگ کی موت کو تقدیر مبرم قرار دیا اور اس پر قسم کھائی۔ روپیہ پیسہ، زمین اور جائیداد کی طمع دلائی۔ خاندانی جھگڑے پیدا کئے۔ قطع رحم کیا اور قسم کھا کر کئی رشتے ناطے توڑے اور قسم کھا کر توڑے۔ اس بے قصور بیوی کو طلاق دی جس نے حسب الہام یا آدم اسکن انت وزوجک الجنة! مرزا قادیانی کے ساتھ بہشت میں رہنا تھا۔ بے گناہ بہو کو طلاق دلایا جسے باوجود طلاق خاوند نے علیحدہ نہ کیا اور گناہ گار ہوا۔ خلاف شریعت قرابتیوں کو وراثت جائیداد سے محروم کیا۔ بلکہ اس ڈر سے کہ وہ آپ کے مرنے کے بعد اپنا حصہ نہ لیں۔ دوسری بیوی کے نام جائیداد رہن کر دی۔
اتنی تدبیریں، اتنے حیلے، اتنے مکائد کس بات کے لئے کئے۔ صرف محمدی بیگم کو حاصل کرنے کے واسطے یا اس کے نہ ملنے کے رنج میں؟۔ پس اگر یہ سب حیلے حوالے خدا کی طرف سے اور حسب طریق وسنن انبیائے کرام تھے تو ان کا کامیاب ہونا یقینی اور لازمی تھا۔ جب کامیابی نہیں ہوئی تو غور کرلو کہ مرقومہ بالا نص قرآنی کی رو سے مرزا قادیانی کی نسبت اور ان لوگوں کی نسبت جو ان باتوں میں مرزا قادیانی کو حق پر سمجھتے ہیں۔ کیا فیصلہ ہوتا ہے دوستو!
گر نیا ید بگوش رغبت کس بر رسولاں بلاغ باشد و بس
باب ششم
نتیجہ پیش گوئی کے متعلق مرزا قادیانی اور ان کے پس ماندگان
کی تاویلات اور ہماری طرف سے ان کی تردید
- (١) گزشتہ بحث سے آفتاب نصف النہار کی طرح واضح ہو چکا ہے۔ کہ مرزا قادیانی کا
اپنے صدق وکذب کے فیصلہ کے لئے یہ ایک بہت ہی عظیم الشان دعویٰ تھا کہ مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کی دختر کلاں محمدی بیگم لازمی طور پر ان کے نکاح میں آئے گی۔ اور یہ دعویٰ نہ صرف ان کی اپنی رائے پر مبنی تھا۔ بلکہ متواتر وحیوں بیسیوں الہاموں اور بے شمار آسمانی تفہیموں پر اس کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ اس کے ظہور کے قطعی اور حتمی وعدے دلائے گئے تھے۔ اس پر بار بار اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھائی گئی تھیں۔ پیش گوئی کے بعد مرزا قادیانی ٢٠،٢٢ سال تک زندہ رہے مگر اس نکاح سے دست بردار نہیں ہوئے۔ اور جیسا کہ ابھی بیان ہو گا۔ اپنی آخری تصنیف میں بھی نکاح سے مایوس نہیں ہوئے۔ بالآخر ناکام رہ کر فوت ہو گئے۔ اور اپنے اقراروں سے کاذب ثابت ہوئے۔
لیکن ایسا عظیم الشان نشان غلط اور جھوٹ نکلنے پر بھی مرزائی فرقہ کو تنبہ نہ ہوا۔ انہوں نے اس پیش گوئی کی ایسی ایسی لچر تاویلیں اور وہ فضول توجیہیں پیش کی ہیں کہ اہل علم وعقل ان پر ہنستے ہیں۔ اور ان کی ان حرکات مذبوحی پر افسوس کرتے ہیں۔ مگر یہ حضرات ایسے ڈھیٹ واقع ہوئے ہیں۔ کہ نہ انہیں صداقت اسلام کی پرواہ ہے۔ نہ دنیا کی شرم اللہ تعالیٰ پر خاک بدہن خواہ، کذب اور جھوٹ کا الزام آ جائے۔ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر (معاذ اللہ منہا) غلط فہمی اور ناقص العقلی کے الزامات عائد ہو جائیں۔ قرآن کریم میں تضاد اور تعارض ثابت ہو جائے۔ دین اسلام اور اس کے اصول بچوں کا کھیل بن جائیں۔ انہیں کچھ غرض نہیں یہ سب کچھ ہو جائے۔ مگر کسی طرح مرزا قادیانی اور ان کے مشن کی سچائی ثابت ہو لیکن برادران اسلام! کیا آفتاب کو تاریکی کہا جاسکتا ہے؟۔ کیا نور کے مقابلہ میں ظلمت کو فروغ ہو سکتا ہے؟۔ کیا حق کے مقابلہ میں باطل ٹھہر سکتا ہے؟۔ نہیں!! نہیں ہرگز نہیں!!! مرزائی ہزار ہاتھ پاؤں ماریں لاکھوں باتیں بنائیں۔ سوائے اس کے کہ اپنے دام افتادگان کی آنکھوں میں خاک ڈالتے رہیں۔ اور بطور طفل تسلی ان کی تشفی کرتے رہیں۔ جھوٹ کو ہرگز سچ ثابت نہیں کر سکتے۔ اور نہ خدا ترس اور دیندار لوگوں کو دھوکا دے سکتے ہیں۔
اصل بات یہ ہے کہ مرزا قادیانی پیش گوئیوں کے بیان میں کئی کئی پہلو رکھ لیا کرتے تھے۔ وہ اس امر کا اندازہ لگا لیتے تھے کہ بالفرض پیش گوئی پر کس کس قسم کے اعتراض ہوتے ہیں۔ ان اعتراضوں کو مدنظر رکھ کر وہ پیش گوئی کی تفاصیل بیان کرتے ہوئے مختلف خیال اور مختلف الفاظ معرض تحریر میں لے آتے تھے۔ جب کوئی اعتراض ہوتا۔ فوراً اپنی عبارات سے ہی اس کی
٩٣
تاویل کر دیتے تھے۔ ایسے پیروں کے معتقدین بمقتضائے حبك ١ لشي يعمى ويصم محض امنا و صدقنا ! کہنے کے ہی عادی ہوتے ہیں۔ انہیں کیا ضرورت کہ مختلف عبارتوں کو یک جا کر کے صحیح نتیجہ قائم کریں۔ یا ان اختلاف بیانیوں کو بروئے نص ٢ قرآنی بیان کنندہ کے کذب پر محمول کریں۔ ان کو تو جہاں تک بس چل سکتا ہے پیر کی کہی ہوئی بات کو وحی آسمانی ثابت کر کے چھوڑتے ہیں۔ چنانچہ ناظرین اس باب میں ملاحظہ فرمائیں گے کہ کیسے مختلف خیالات اور کتنے متضاد بیانات مرزا قادیانی اور مرزائیوں نے اس پیش گوئی کے متعلق ظاہر کئے ہیں۔ لیکن اہلِ دانش و بینش اور صاحبان عقلِ سلیم ان کے فریب میں ہرگز نہیں آسکتے۔
ممکن ہے کہ تاویلات مندرجہ باب ہذا کے علاوہ کسی مرزائی نے کوئی اور جواب بھی اس پیش گوئی کے متعلق دیا ہو۔ جو تاحال ہمیں معلوم نہیں ہو سکا۔ لیکن ہمارا خیال ہے کہ اس باب میں وہ سب جوابات آگئے ہیں۔ جو عام طور پر مرزائیوں نے ازبر کئے ہوئے ہیں۔ اگر کوئی اور نئی بات ہمیں معلوم ہوئی یا ناظرین رسالہ ہذا یا ہمارے کسی مرزائی دوست نے ہمیں مطلع فرمایا۔ تو ہم اس کی جواب دہی کے لئے حاضر ہیں۔ اور اگر خدا کو منظور ہے تو اس رسالہ کی اشاعتِ ثانی میں اسے بھی شامل کر لیں گے۔ انشاء اللہ اب ہم مرزائی تاویلات اور ان کی تردید پیش کرتے ہیں۔
- ١...... اس پیش گوئی کے متعلق خود مرزا قادیانی آنجہانی کی تاویلات
باب اوّل میں ہم ذکر کر چکے ہیں کہ مرزا قادیانی نے دامادِ مرزا احمد بیگ (شوہر منکوحہ آسمانی) کی موت کے لئے یومِ نکاح سے اڑھائی سال تک میعاد مقرر کی تھی۔ یہ نکاح ٧؍ اپریل ١٨٩٢ء کو ہوا۔ پس حسبِ الہام و پیش گوئی مرزا قادیانی مرزا سلطان محمد بیگ (شوہر محمدی بیگم) کی زندگی زیادہ سے زیادہ ٦؍ اکتوبر ١٨٩٤ء تک تھی۔ اور اس تاریخ کے بعد اسے دنیا میں رہنے کی مرزا قادیانی اور ان کے ملہم کی طرف سے ہرگز اجازت نہ تھی۔
لیکن ٦؍ اکتوبر ١٨٩٤ء گزر گئی۔ اور مرزا سلطان محمد کا بال بیکا نہ ہوا۔ اس پر مرزا قادیانی کے بعض مریدوں اور اہلِ اسلام کی طرف سے جرح قدح شروع ہوئی کہ پیش گوئی میعادی تھی۔
١ کسی شے کی محبت آدمی کو اندھا اور بہرا کر دیتی ہے کہ نہ اس کے نقائص کو دیکھ سکتا ہے نہ اس کے عیوب کو سن سکتا ہے۔
٢ ولوكان من عند غير الله لوجد وافیہ اختلاف كثیراً ! اگر قرآن خدا کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو تم اس میں بہت سے اختلافات دیکھتے۔
اور اس کے لئے قطعی الہام تھے۔ اور مرزا قادیانی نے اپنے صدق و کذب کا معیار اسے قرار دیا تھا، لہذا وہ حسب اقرار خود جھوٹے ثابت ہوتے ہیں۔ تو مرزا قادیانی نے اشتہار پر اشتہار دینے اور اپنے اخباروں رسالوں اور کتابوں میں اس کی مختلف تاویلات کرنی شروع کیں۔ جن کا خلاصہ حسب ذیل ہے۔
الف...... "نفس پیش گوئی یعنی اس عورت (محمدی بیگم) کا اس عاجز کے نکاح میں آنا تقدیر مبرم ہے۔ جو ٹل نہیں سکتی۔ کیونکہ اس کے متعلق الہام میں ہے۔ لا تبدیل لکلمات اللہ! اگر ٹل گئی تو خدا کا کلام باطل ہوتا ہے۔ (مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٤٣، اشتہار ٦؍ اکتوبر ١٨٩٤ء) اگر یہ پیش گوئی خدا کی طرف سے نہیں تو میں ملعون، مردود اور دجال ہوں۔
(مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ١١٦، اشتہار ٢٧؍ اکتوبر ١٨٩٤ء)
ب...... پھر لکھتے ہیں کہ: ”مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری اور اس کے داماد کی نسبت ایک ہی پیش گوئی تھی۔ اور احمد بیگ کی نسبت جو ایک حصہ پیش گوئی کا تھا۔ وہ نور افشاں (عیسائی اخبار) میں بھی شائع ہو چکا تھا۔ غرض احمد بیگ میعاد کے اندر فوت ١؎ ہو گیا۔ اور اس کا فوت ہونا اس کے داماد اور تمام عزیزوں کے لئے سخت ہم و غم کا موجب ہوا۔ چنانچہ ان لوگوں کی طرف سے توبہ اور رجوع کے خط اور پیغام بھی آئے۔٢؎ پس اس دوسرے حصہ یعنی احمد بیگ کے داماد کی وفات کے بارہ میں سنت اللہ کے موافق تاخیر ڈالی گئی۔ جیسا کہ ہم بار بار بیان کر چکے ہیں کہ انذار اور تخویف کی پیش گوئیوں میں یہی سنت اللہ ہے۔ کیونکہ خدا کریم ہے اور وعید کی تاریخ کو توبہ اور رجوع ٢؎ کو دیکھ کر کسی وقت پر ڈال دینا کرم ہے۔ اور چونکہ اس ازلی وعدہ کی رو سے یہ تاخیر خدائے کریم کی ایک سنت ٹھہر گئی ہے۔ جو اس کی تمام پاک کتابوں میں موجود ہے۔ اس لئے اس کا نام تخلف وعدہ نہیں بلکہ ایفائے وعدہ ہے۔“ (اشتہار انعامی چار ہزار ٢٧؍ اکتوبر ١٨٩٤ء حاشیہ ص ٤، ٣، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٩٤ تا ٩٦ حاشیہ) اور توبہ و رجوع پر عذاب میں تاخیر ہونا قرآن شریف کا عام اصول بتایا ہے۔
ج...... ”اور پھر تمہارا دوسرا اعتراض ہے کہ احمد بیگ کا داماد اب تک زندہ ہے۔ سو میں کہتا ہوں کہ اے نابکار قوم کب تک تو اندھی اور گونگی اور بہری رہے گی۔ اور کب تک تیری
١؎ محض غلط اس کا مفصل ذکر ہم باب چہارم میں کر آئے ہیں۔ دیکھو فقرہ نمبر ١٣۔ ٢؎ مگر توبہ اور رجوع کا کوئی ثبوت بھی ہے۔
آ نکھیں اس نور کو نہیں دیکھیں گی جو اتارا گیا۔ سن اور سمجھ کہ اس الہام کے دو ٹکڑے تھے۔ ایک احمد بیگ کے متعلق اور ایک اس کے داماد کے متعلق سو تم سن چکے ہو کہ احمد بیگ میعاد کے اندر فوت ہو گیا۔ اور وہ دن آتا ہے کہ تم سن لو گے کہ اس کے داماد کی نسبت بھی پیش گوئی پوری ہوگی۔ خدا کی باتیں ٹل نہیں سکتیں۔ ( کچھ آگے چل کر لکھتے ہیں ) اور تمہارا یہ کہنا کہ میعاد کے اندر وہ کیوں فوت نہیں ہوا۔ یہ تمہاری بے ایمانی یا نا سمجھی ہے۔ الہام توبی توبی فان البلا علی عقبک! میں صاف توبہ کی شرط تھی۔ اور یہ الہام احمد بیگ اور اس کے داماد دونوں کے لئے تھا۔ کیونکہ عقب لڑکی اور لڑکی کی اولاد کو کہتے ہیں۔ اور یہ احمد بیگ کی بیوی کی والدہ کو خطاب تھا کہ تیری لڑکی اور لڑکی کی لڑکی پر خاوند مرنے کی بلا ہے۔ اگر تو بہ کرو گی تو تاخیر موت کی جائے گی۔ پس احمد بیگ کی زندگی کے وقت کسی نے اس الہام کی پروا نہ کی۔ اور جب احمد بیگ فوت ہو گیا تو اس کی بیوہ عورت اور دیگر پس ماندوں کی کمر ٹوٹ گئی۔ وہ دعا اور تضرع کی طرف بدل متوجہ ہو گئے۔ جیسا کہ سنا گیا ہے کہ اب تک احمد بیگ کے داماد کی والدہ کا کلیجہ اپنے حال پر نہیں آیا۔ سو خدا دیکھتا ہے کہ وہ شوخیوں میں کب آگے قدم رکھتے ہیں۔ پس اس وقت وعدہ اس کا پورا ہوگا۔ جب یہ سب کچھ پورا ہوگا۔ تب نہ میں بلکہ ہر ایک دانا تم پر لعنت بھیجے گا۔ کیونکہ تم نے خدا کا مقابلہ کیا۔“
(اشتہار ذب المغترین ص ١ مطبوعہ ٥ مارچ ١٨٩٧ء ،ملحقہ حجۃ اللہ ص ٢١، خزائن ج ١٢ص ١٥٩)
- د...... انجام آتھم میں لکھتے ہیں کہ : ”فیصلہ تو آسمان ہے۔ احمد بیگ کے داماد
سلطان محمد کو کہو کہ تکذیب کا اشتہار دے۔ پھر اس کے بعد جو میعاد خدا تعالیٰ مقرر کرے اگر اس سے اس کی موت تجاوز کرے تو میں جھوٹا ہوں...... اور ضرور ہے کہ وعید کی موت اس سے تھمی رہے۔ جب تک کہ وہ گھڑی آ جائے جو اسے بیباک کر دے اگر جلدی کرنا ہے تو اٹھو اور اس کو بیباک اور مکذب بناؤ اور خدا کی قدرت کا تماشا دیکھو۔“
(انجام آتھم ص ٣٢ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٣٢)
- ہ...... ایک اور اشتہار میں پہلے توبی توبی والا الہام بیان کر کے تحریر کرتے ہیں کہ:
”سو وہ لوگ سخت احمق اور کاذب اور ظالم ہیں جو کہتے ہیں کہ داماد کی نسبت پیش گوئی پوری نہیں ہوئی بلکہ وہ بدیہی طور پر حالت موجودہ کے موافق پوری ہو گئی ۔ اور دوسرے پہلو ( موت سلطان محمد اور نکاح خود۔ مؤلف) کی انتظار ہے۔“
(اشتہار جاء الحق وزهق الباطل ٢٣؍ذوالقعدہ ١٣١٣ھ، ملحقہ سراج منیر ص ٣٣ حاشیہ، خزائن ج ١٢ ص ٣٠)
٦٢
- و...... ایک اور جگہ احمد بیگ
”بوجہ خوف وہراس کے داماد نابینائی اور تعصب کی وجہ سے ہیں۔ نہ دیا تک دس لاکھ سے زیادہ نشان ظاہر ہو چکے کی کسی جاہل اور بدفہم اور غبی کی سمجھ میں نہ پیش گوئیاں صحیح نہیں ہیں۔“
- ز...... اسی کتاب میں لکھ
اسلام کے اصول سے بے خبر ہیں۔ اسلام اس کی نسبت ضروری نہیں کہ خدا اس کو پور گروہ پر کوئی بلا پڑے گی۔ اس میں یہ بھی علیہ السلام کی پیش گوئی کو جو چالیس دن تک کسی انعام وکرام کی نسبت پیش گوئی ہو۔ الله لا يخلف الميعاد! مگر کسی جگہ نہیں راز یہی ہے کہ وعید کی پیش گوئی خوف اور پر اتفاق ہے کہ صدقہ اور دعا اور خوف اور ٹلی وہ رد ہو سکتی ہے۔ اب سوچ لو کہ ہر ایک دی جاوے۔ تو اس کا نام اس وقت پیش دے۔ اور یہ ثابت شدہ بات ہے کہ یہ ظہور میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ جو کسی بلا کی
- ح...... اس پیش گوئی
ہنس ) حضرت رسول اکرم ﷺ پر بھی ا کچھ ایک دو پیش گوئیاں نہیں۔ بلکہ اس ف
١؎ تریاق القلوب ص ١٥ مرزا قادیانی کی الہامی اور اعجازی حر مضمون ہے۔
و...... ایک اور جگہ احمد بیگ کی موت کو مطابق پیش گوئی بیان کر کے لکھتے ہیں کہ: ”بوجہ خوف و ہراس کے داماد احمد بیگ کو مہلت دی گئی۔ یہ تمام اعتراضات، جہالت، نابینائی اور تعصب کی وجہ سے ہیں۔ نہ دیانت اور حق طلبی کی وجہ سے جس شخص کے ہاتھ سے اب تک دس لاکھ سے زیادہ نشان ظاہر ہوچکے ہیں۔ اور ہورہے ہیں۔ کیا اگر ایک یا دو پیش گوئیاں اس کی کسی جاہل اور بدفہم اور غبی کی سمجھ میں نہ آئیں۔ تو اس سے یہ نتیجہ نہیں نکال سکتے ہیں کہ وہ تمام پیش گوئیاں صحیح نہیں ہیں ۔“
(تذکرۃ الشہادتین ص٤١، خزائن ج٢٠ص٤٣)
ز....... اسی کتاب میں لکھتے ہیں کہ: ہمارے مخالف مسلمان تو کہلاتے ہیں۔ لیکن اسلام کے اصول سے بے خبر ہیں۔ اسلام میں یہ مسلمہ امر ہے کہ جو پیش گوئی وعید کے متعلق ہو۔ اس کی نسبت ضروری نہیں کہ خدا اس کو پورا کرے۔ یعنی جس پیش گوئی کا یہ مضمون ہو کہ کسی شخص یا گروہ پر کوئی بلا پڑے گی۔ اس میں یہ بھی ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ اس بلا کو ٹال دے۔ جیسے کہ یونس علیہ السلام کی پیش گوئی کو جو چالیس دن تک محدود تھی ٹال دیا۔ لیکن جس پیش گوئی میں وعدہ ہو یعنی کسی انعام وکرام کی نسبت پیش گوئی ہو۔ وہ کسی طرح ٹل نہیں سکتی۔ خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے۔ ان الله لا يخلف الميعاد! مگر کسی جگہ نہیں فرمایا کہ ان الله لا يخلف الوعید! پس اس میں راز یہی ہے کہ وعید کی پیش گوئی خوف اور دعا اور صدقہ خیرات سے ٹل سکتی ہے۔ تمام پیغمبروں کا اس پر اتفاق ہے کہ صدقہ اور دعا اور خوف اور خشوع سے وہ بلا جو خدا کے علم میں ہے جو کسی شخص پر آئے گی وہ رد ہو سکتی ہے۔ اب سوچ لو کہ ہر ایک بلا جو خدا کے علم میں ہے۔ اگر کسی نبی یا ولی کو اس سے اطلاع دی جاوے۔ تو اس کا نام اس وقت پیش گوئی ہوگا۔ جب وہ نبی یا ولی دوسروں کو اس سے اطلاع دے۔ اور یہ ثابت شدہ بات ہے کہ یہ بلا ٹل سکتی ہے۔ پس ضرورتاً یہ نتیجہ نکلا کہ ایسی پیش گوئی کے ظہور میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ جو کسی بلا کی پیش خبری کرے۔“
(تذکرۃ الشہادتین ص٤٢، خزائن ج٢٠ ص٤٤،٤٥)
ح....... اس پیش گوئی کے نتیجہ نے مرزا قادیانی کو ایسا مبہوت بنا دیا کہ (خاک بد ہنش) حضرت رسول اکرمﷺ پر بھی غلط الزام لگانے سے نہ رکے۔ لکھتے ہیں کہ: ”یہ پیش گوئیاں کچھ ایک دو پیش گوئیاں نہیں۔ بلکہ اس قسم کی سو ١٠٠ سے زیادہ پیش گوئیاں ہیں۔ جو کتاب تریاق
١؎ تریاق القلوب میں ٧٥ نشانات یا پیش گوئیاں درج ہیں۔ ان کو ١٠٠ سے زیادہ کہنا مرزا قادیانی کی الہامی اور اعجازی حساب دانی کا انکشاف کرنا ہے۔ یا دروغ گو را حافظہ نباشد کا مضمون ہے۔
٩٧
القلوب میں درج ہیں۔ پھر ان سب کا کچھ بھی ذکر نہ کرنا اور بار بار احمد بیگ کے داماد یا آتھم ذکر کرتے رہنا کس قدر مخلوق خدا کو دھوکا دینا ہے۔ اس کی ایسی مثال ہے کہ مثلاً کوئی شریر النفس ان تین ہزار معجزات کا کبھی ذکر نہ کرے۔ جو ہمارے نبی ﷺ سے ظہور میں آئے اور حدیبیہ کی پیش گوئی کو بار بار ذکر کر کے کہ وقت اندازہ کردہ پر پوری نہ ہوئی ۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ٣٩ ، خزائن ج ١٧ ص ١٥٣)
- ط....... سب سے آخر اپنی تصنیف حقیقت الوحی میں جس کے شائع ہونے سے
چند ماہ بعد مرزا قادیانی کا انتقال ہو گیا۔
تحریر فرماتے ہیں کہ: احمد بیگ کے مرنے سے بڑا خوف اس کے اقارب پر غالب آگیا۔ یہاں تک کہ بعض نے ان میں سے میری طرف عجز و نیاز کے خط لکھے کہ دعا کرو۔ پس خدا نے ان کے خوف اور اس قدر عجز و نیاز کی وجہ سے پیش گوئی کے وقوع میں تاخیر ڈال دی ۔ ( حقیقت الوحی ص ١٨٧، خزائن ج ٢٢ ص ١٩٥، نیز دیکھو ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٩٧، خزائن ج ٢١ ص ٣٦١)
- ی....... اس کتاب کے تتمہ میں یوں لکھا کہ: اور یہ امر کہ الہام میں یہ بھی تھا کہ اس
عورت کا نکاح آسمان پر میرے ساتھ پڑھایا گیا ہے۔ یہ درست ہے مگر جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں اس نکاح کے ظہور کے لئے جو آسمان پر پڑھا گیا ۔ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک شرط بھی تھی جو اسی وقت شائع کی گئی تھی اور وہ یہ کہ ”ایتھا المرأة توبی توبی فان البلاء علی عقبك “ پس جب ان لوگوں نے شرط کو پورا کر دیا تو نکاح فسخ ہو گیا ۔ یا تاخیر میں پڑ گیا۔ کیا آپ کو خبر نہیں کہ ”یمحو الله ما یشاء ویثبت “ نکاح آسمان پر پڑھا گیا یا عرش پر ۔ مگر آخر وہ سب کاروائی شرطی تھی۔ شیطانی وساوس سے الگ ہو کر اسے سوچنا چاہئے ۔ کیا یونس کی پیش گوئی نکاح پڑھنے سے کچھ کم تھی۔ جس میں یہ بتلایا گیا تھا کہ آسمان پر یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ چالیس دن تک اس قوم پر عذاب نازل ہو گا ۔ مگر عذاب نازل نہ ہوا ۔ حالانکہ اس میں کسی شرط کی تصریح نہ تھی۔ پس وہ خدا جس نے اپنا ایسا ناطق فیصلہ منسوخ کر دیا کیا اس پر مشکل تھا کہ اسی نکاح کو بھی منسوخ یا کسی اور وقت پر ٹال دے ۔“
( تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٢، ١٣٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٠ ، ٥٧١)
ہم نے ان دس نمبروں میں حتی الامکان مرزا قادیانی کی وہ سب تاویلیں نقل کر دی ہیں۔ جو انہوں نے نکاح کی پیش گوئی کے متعلق مختلف مقامات پر تحریر کی ہیں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ
٩٨
یہ تاویلات محض لفظی ہیر پھیر سے سینکڑوں دفعہ ان کے اشتہاروں، اخباروں، رسالوں اور کتابوں میں بیان کی گئی ہیں۔ اس لئے ممکن ہے کہ جواب دینے کا کوئی اور رنگ بھی اختیار کیا گیا ہو۔ جس کی بابت ہم مرزا قادیانی کی روح سے معافی چاہتے ہیں۔ اور جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے پتہ ملنے پر پھر جوابدہی کے لئے حاضر ہیں۔
ناظرین ان دس فقرات میں کئی جگہ مرزا قادیانی کی شیریں زبانی، تہذیب، شرافت سنجیدگی اور متانت کے نمونے ملاحظہ فرمائیں گے۔ ان ناپاک اور مکروہ الفاظ کا اعادہ ہم ضروری نہیں سمجھتے۔ البتہ ایک ایسے شخص کی زبان وقلم سے جو حضرت محمدﷺ کا بروز ہونے کا مدعی ہو۔ اور آیت ”انک لعلیٰ خلق عظیم“ کو اپنے حق میں نازل ہونا بیان کرتا ہو۔ ایسی گندہ تحریروں، ایسی بدزبانی، ایسے سب وشتم کا ظہور حیرت انگیز ضرور ہے۔ لیکن ہمیں اس پر تعجب نہیں ہمارا تو یقین بلکہ ایمان ہے کہ مرزا قادیانی بے محابا گالیاں دینے، مغلظات لکھنے اور اپنے مخالفوں کو گندہ سے گندہ الفاظ میں مخاطب کرنے کی صفت میں یدِ طولیٰ رکھتے تھے۔ چنانچہ ان کی گالیوں کے کچھ نمونے بلحاظ حروف تہجی الف سے یا تک ہم اپنی کتاب عشرہ کاملہ میں بھی نقل کر چکے ہیں۔ اور یہاں تو ہم ان کو معذور و مجبور بھی سمجھتے ہیں۔ کیونکہ پیش گوئی نکاح کے انجام پر ان کی حالت نہایت قابلِ رحم اور سراپا ندامت تھی۔ اور اپنی نبوت کاذبہ کا حشر یعنی صدق و کذب کا خود اختیار کردہ فیصلہ دیکھ کر ان ایام میں ان پر ایک قسم کی مایوسی غالب ہوگئی تھی۔ پس بفحوائے مثل مشہور۔
”اذا یئس الانسان طال لسانہ “ (جب آدمی ناامید ہو جاتا ہے زبان درازی شروع کر دیتا ہے ۔) انہوں نے جو کچھ کہا یا لکھا وہ مجبور تھے۔ اس لئے ہم اصلی مطلب پر آتے ہیں۔ مرزا قادیانی کی ان سب تاویلوں میں جن کا اوپر ذکر ہوا ٹیپ کا بند آخری فقرہ یہی ہوتا تھا کہ سلطان محمد ضرور ہماری زندگی میں مرے گا۔ اور ہم اس کی بیوہ سے شادی رچائیں گے۔ یہ وعدہ الٰہی ہے اس میں تخلف ہرگز نہ ہوگا۔ البتہ آخری حوالہ (تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٢، ١٣٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٠، ٥٧١) میں نکاح فسخ ہو گیا۔ یا تاخیر میں پڑ گیا۔ تحریر کیا ہے لیکن اس سے بھی ظاہر اور ثابت ہے کہ نکاح سے مرزا قادیانی دست بردار نہیں ہوئے۔ فسخ ہو گیا لکھتے ہی تمنائے دلی نے پھر جوش مارا اور فقرہ تاخیر میں پڑ گیا۔ اس کے ساتھ ایزاد کر دیا کسی نے کیا عمدہ کہا ہے:
بات وہ کہہ کہ نکلتے رہیں پہلو دونوں
وجہ یہ تھی کہ فسخ کا لفظ مرزا قادیانی کے ان متواتر الہامات اور الہامی اقوال کے خلاف تھا۔ جو وہ بار بار اور سینکڑوں دفعہ اپنی کتابوں اور اشتہاروں شائع کر چکے تھے۔ بہر حال مذکورہ بالا دس فقروں میں جو تاویلیں مرزا قادیانی نے کی ہیں۔ جواب قلم بند کرنے کے لئے ہم ان کو فقرات ذیل میں قلم بند کرتے ہیں۔
خلاصہ تاویلات مرزا قادیانی
- اول ...... وعید کی پیش گوئیاں معمولی خوف و ہراس توبہ رجوع اور صدقہ سے ٹل جایا
کرتی ہیں۔ مگر وعدہ نہیں ٹل سکتا۔ اس پر تمام پیغمبروں کا اتفاق ہے۔ تمام آسمانی کتابوں میں یہ سنت اللہ قرار پا گئی ہے۔ قرآن کا یہ عام قاعدہ اور اسلام کا یہ عام اصول ہے۔ اللہ تعالیٰ نے لا یخلف المیعاد ! فرمایا ہے۔ مگر لا یخلف الوعید ! کہیں نہیں فرمایا۔
- دوم ...... ١؎ نکاح آسمان پر ضرور پڑھایا گیا ٢؎ مگر نکاح کی پیش گوئی شرطی تھی۔ ٣؎ اور
شرط توبی توبی والا الہام تھا۔ ٤؎ پس جب ان لوگوں نے شرط کو پورا کر دیا۔ اور داماد احمد بیگ پر خوف طاری ہو گیا اور اس نے توبہ کی تو نکاح فسخ ہو گیا یا تاخیر میں پڑ گیا۔ ٥؎ جب داماد احمد بیگ اور اس کے متعلقین پھر شوخی اختیار کریں گے۔ اس وقت موت مرزا سلطان محمد وقوع میں آئے گی۔ پیش گوئی کا پورا ہونا اور محمدی بیگم کا ہمارے نکاح میں آنا ضروری ہے۔ خدا کی باتیں ٹل نہیں سکتیں۔ اگر جلدی کرنا ہے تو سلطان محمد سے تکذیب کا اشتہار دلاؤ۔ اور پھر قدرت الہی کا تماشا دیکھو۔
- سوم ...... ہمارے ہاتھ سے دس لاکھ سے زیادہ نشان ظاہر ہو چکے ہیں۔ اگر ایک دو
پیش گوئیاں کسی جاہل، بدفہم اور غبی کی سمجھ میں نہ آئیں تو اس کا یہ نتیجہ نہیں کہ سب پیش گوئیاں غلط ہیں۔
- چہارم ...... حضور سرور کائنات ﷺ کی حدیبیہ والی پیش گوئی بھی وقت انداز کردہ پر
پوری نہیں ہوئی۔
- پنجم ...... اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ”یمحو اللہ ما یشاء ویثبت“
- ششم ...... کیا یونس نبی کی پیش گوئی نکاح پڑھنے سے کچھ کم تھی۔ جس میں چالیس
دن تک نزول عذاب کا وعدہ تھا۔ مگر عذاب نازل نہ ہوا حالانکہ اس میں کوئی شرط بھی نہ تھی۔ پس جس خدا نے ایسا ناطق فیصلہ منسوخ کر دیا۔ کیا اس پر کچھ مشکل تھا کہ اس نکاح کو بھی منسوخ یا کسی اور وقت پر ٹال دے۔
...
اب ہم ان تاویلات کی تردید کرتے ہیں۔ خدا ترس اور اہل بصیرت اصحاب غور سے ملاحظہ فرمائیں۔ مرزائی صاحبان بھی اگر مرزائیت کے تعصب سے خالی الذہن ہو کر اسے مطالعہ کریں گے تو انشاء اللہ فائدہ اٹھائیں گے۔
تاویل اول ..... خلف وعید کے جس عام اصول کو بیان کر کے مرزا قادیانی اپنے اس نہایت ہی عظیم الشان نشان کے کذب کی ذلت پر پردہ ڈالنا چاہتے ہیں۔ وہ ایک علمی بحث ہے۔ جس میں متکلمین کا اختلاف رائے بھی رہا ہے۔ چونکہ اس رسالہ کا یہ مقصود نہیں اس لئے ہم اس بحث میں پڑنا نہیں چاہتے ہمارا مطمح نظر اس وقت محض نکاح والی پیش گوئی ہے۔ جس کے لئے تشریحات ذیل پیش نظر رکھنی ضروری ہیں۔ جن کے حوالہ جات مرزائی کتابوں سے اس رسالہ میں مفصل مذکور ہو چکے ہیں۔
- ١....... مرزا قادیانی نبی ورسول بلکہ افضل الانبیاء ہونے کے مدعی تھے۔
- ٢....... مرزا قادیانی نکاح کی پیش گوئی کو صاف لفظوں میں اپنا نہایت ہی عظیم
الشان نشان اور اپنے صدق و کذب کا معیار قرار دیا تھا۔
- ٣....... مرزا قادیانی نے بحوالہ حدیث رسول اکرم ﷺ اس نکاح کا ہونا اور اس
سے اولاد پیدا ہونا اپنے دعوے مسیحیت کا ثبوت بتایا تھا۔
- ٤....... مرزا قادیانی کے الہامات بکر و ثیب اور یا احمد اسکن انت وزوجك
الجنة وغیرہ کی رو سے یہ نکاح ہونا لازمی تھا۔ ورنہ مرزا قادیانی کے الہام غلط اور ان کا ملہم اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور ثابت ہوتا تھا۔
- ٥....... مرزا قادیانی اپنے رقیب مرزا سلطان محمد (شوہر منکوحہ آسمانی ) کا مرنا اور
پھر محمدی بیگم سے اپنا نکاح ہو جانا تقدیر مبرم بتایا تھا۔ جو کبھی ٹل نہیں سکتی۔ اور اس بیان کو اللہ تعالیٰ کی قسم اور آیات قرآنی کے الہاموں سے تقویت دی تھی۔
- ٦....... مرزا قادیانی نے لکھا تھا کہ اگر نکاح کی پیش گوئی پوری نہ ہوئی تو میں ہر
ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ اور میرا یہ کاروبار ایک خبیث اور مفتری کا کاروبار ہوگا۔
- ٧....... مرزا قادیانی نے اس پیش گوئی کو وعید نہیں بلکہ خدا کا وعدہ قرار دیا تھا۔
چنانچہ خود لکھتے ہیں کہ: ”یاد رکھو کہ خدا کے فرمودہ میں تخلف نہیں اور انجام وہی ہے ۔ جو ہم کئی مرتبہ لکھ چکے ہیں۔ خدا کا وعدہ ہرگز نہیں ٹل سکتا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ١٣، خزائن ج ١١ ص ٢٩٧)
١٠١
- ٨....... مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ ”اگر نکاح نہ ہوا تو عیسائی پادریوں کا پلہ اسلام پر
بھاری ہو جائے گا۔ عیسائی ہنسیں گے۔ ہندو خوش ہوں گے۔ اور مجھے ذلیل خوار اور روسیاہ ہونا پڑے گا۔
ان تشریحات کے بعد ہم مرزا قادیانی کے خلیفہ اور ان کی امت سے سوال کرتے ہیں کہ اول تو یہ پیش گوئی صرف وعید کی تھی ہی نہیں۔ کیونکہ اس میں مرزا قادیانی کے لئے وعدہ نکاح بھی حق تعالیٰ کے طرف سے ظاہر کیا گیا تھا۔ بلکہ آسمان پر تو نکاح کا ہو جانا بھی بروئے الہام زوجنکھا بتلا دیا گیا تھا۔ نیز حسب حوالہ فقرہ نمبر ٧ مذکورہ بالا مرزا قادیانی خود اسے وعدہ خداوندی تسلیم کر کے کہتے ہیں کہ یہ ٹل نہیں سکتا۔ لہذا اس پیش گوئی کو صرف وعید کہہ کر اس کے کذب کی پردہ پوشی کرنا کہاں کی دیانت داری ہے؟۔
دوم ! بفرض محال اگر اسے وعید کی پیش گوئی ہی مان لیا جائے تو انبیائے کرام علیہم السلام میں کوئی ایسی نظیر موجود نہیں کہ ان میں سے کسی نے کوئی وعید کسی قوم یا شخص معین کے بارہ میں حق تعالیٰ شانہ کی طرف سے بروئے وحی والہام بیان کر کے اسے اپنی صداقت کا معیار بھی قرار دیا ہو۔ اور اس کے پورا نہ ہونے پر اپنے مذہب کی شکست اور اپنی ذلت وخواری و روسیاہی ہونی بتلائی ہو۔ اور ایسی عظیم الشان پیش گوئی پوری نہ ہوئی ہو۔ ایسا کبھی نہیں ہوا اور کوئی واقعہ اس کی شہادت نہیں دے سکتا۔ کیونکہ ایسا خلف وعید منجانب اللہ وقوع میں آنا صریح تذلیل و تکذیب رسول ہے۔ بلکہ اگر ایسا ہو تو اس امر کا ثبوت ہے کہ یہ مدعی رسالت مفتری علی اللہ اور کاذب ہے۔ پس ایسے خلف وعید کے متعلق مرزا قادیانی کا یہ لکھنا کہ اس پر تمام پیغمبروں کا اتفاق ہے۔ تمام آسمانی کتابوں میں یہ سنت اللہ قرار پائی گئی ہے۔ قرآن کا یہ عام قاعدہ اور اسلام کا یہ عام اصول ہے۔ محض غلط اور بے بنیاد بات ہے۔ اور قرآن کریم میں بہت سی مثالیں مرزا قادیانی کے اس بیان کے خلاف موجود ہیں۔ دیکھو! حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کے ہلاک ہونے کی خبر دی۔ وہ ہلاک ہوئی۔ حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کی ہلاکت کی خبر دی گئی۔ وہ ہلاک ہوئی ایسا ہی اہلیان مدین، عاد اور ثمود وغیرہ کی حالات اس پر شاہد ہیں۔ پڑھو ”كذبت قبلهم قوم نوح واصحاب الرس و ثمود ۔ وعاد وفرعون اخوان لوط ۔ واصحاب الايكة وقوم تبع ۔ كل كذب الرسل فحق وعيد“
(ق ١٢ تا ١٤)
﴿ان لوگوں سے پہلے نوح کی قوم نے پیغمبروں کو جھٹلایا۔ اور خندق والوں نے ثمود
١٠٢
نے اور عاد نے اور فرعون نے اور قوم لوط ان سب نے اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا تو ہما اس سے واضح ہوتا ہے کہ کذ رہے۔ مرزا قادیانی کی اس پیش گوئی کی گوئی کے متعلق اس کا پہلا الہام ہے۔ ” الخ!“ پس اگر پیش گوئی وعید کی ہی مان اور نص قرآنی کی رو سے تکذیب رسل لامحالہ نتیجہ یہ نکلا کہ مرزا قادیانی کا دعوائے
(صحیح بخاری ج
حضرت سعدؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت کہ وہ مسلمانوں کے ہاتھ سے مارا جائے گا۔ معاذ سے اس کی پرانی دوستی تھی۔ ایک مرتبہ سے امیہ نہایت خوفزدہ ہوا۔ حدیث کے الفا یعنی امیہ یہ پیش گوئی سن کر بہت گھبرایا۔ او سے باہر نہ جاؤں گا۔ جب جنگ بدر پیش آ امیہ ہر چند ٹالتا رہا مگر ابو جہل نے ترغیب د سے سامان سفر تیار کرنے کے لئے کہا۔ اس دلایا۔ امیہ نے کہا کہ میں تھوڑی دور تک ۔ پیش گوئی آنحضرت ﷺ کی پوری ہوئی کہ امیہ قتل ہوا۔ قرآن کر مخلف وعده رسله ان الله عزیز ذ بھی نہ کرنا کہ اللہ اپنے رسولوں سے وعدہ خ لینے والا ہے۔ اس کے ساتھ پہلی آیات مل ہے۔ یعنی جس وعید کی اللہ تعالیٰ اپنے پیغم ہر گز تخلف نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اس سے خد پہلے ذکر ہو چکا ہے۔
نے اور عاد نے اور فرعون نے اور قوم لوط نے اور مدین کے رہنے والوں نے اور تبع کے لوگوں نے ان سب نے اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا تو ہمارا وعدہ عذاب ان کے حق میں پورا ہوا۔ ﴿﴾
اس سے واضح ہوتا ہے کہ تکذیب انبیاء پر عذاب کے وعید ہوئے اور وہ پورے ہوتے رہے۔ مرزا قادیانی کی اس پیش گوئی کی بنیاد بھی تکذیب ہی ہے۔ جیسا کہ نکاح آسمانی کی پیش گوئی کے متعلق اس کا پہلا الہام ہے۔ ”کذبو ابایاتی وکانو بھا یستھزؤن ........................ الخ!“ پس اگر پیش گوئی وعید کی ہی مان لی جائے تو بھی اس کی بناء تکذیب رسول (قادیانی) پر تھی۔ اور نص قرآنی کی رو سے تکذیب رسل پر وعید کا پورا ہونا لازمی ہے۔ اب چونکہ وعید پوری نہ ہوئی تو لامحالہ نتیجہ یہ نکلا کہ مرزا قادیانی کا دعوائے رسالت محض کذب وافترا تھا۔
(صحیح بخاری ج٢ ص٥٦٣، باب ذکر النبی ﷺ من یقتل ببدر) میں حضرت سعدؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے امیہ بن خلف کے متعلق پیش گوئی فرمائی تھی کہ وہ مسلمانوں کے ہاتھ سے مارا جائے گا۔ یہ شخص مکہ میں کفار کا سرگروہ تھا۔ حضرت سعد بن معاذؓ سے اس کی پرانی دوستی تھی۔ ایک مرتبہ حضرت سعدؓ نے قسم کھا کر اس پیش گوئی کا ذکر کیا۔ اس سے امیہ نہایت خوفزدہ ہوا۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں۔ ”ففزع لذالک امیہ فزعاً شدیداً“ یعنی امیہ یہ پیش گوئی سن کر بہت گھبرایا۔ اور نہایت خوفزدہ ہو گیا۔ اور اس نے ارادہ کر لیا کہ مکہ سے باہر نہ جاؤں گا۔ جب جنگ بدر پیش آئی اور ابوجہل نے لڑائی کے لئے اپنے گروہ کو تیار کیا۔ امیہ ہر چند ٹالتا رہا مگر ابوجہل نے ترغیب دے کر اسے چلنے پر آمادہ کر لیا۔ امیہ گھر گیا اور بیوی سے سامان سفر تیار کرنے کے لئے کہا۔ اس نے حضرت سعدؓ کا قول (در بارہ پیش گوئی مذکورہ) یاد دلایا۔ امیہ نے کہا کہ میں تھوڑی دور تک جا کر واپس آ جاؤں گا۔ لیکن واپس نہ آ سکا اور مطابق پیش گوئی آنحضرت ﷺ قتل ہوا۔ قرآن کریم میں صاف ارشاد ہے۔ ”فلا تحسبن الله مخلف وعدہ رسله ان الله عزيز ذو انتقام“ (سورہ ابراہیم: ٤٧) یعنی ایسا خیال اور گمان بھی نہ کرنا کہ اللہ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرے گا۔ اس میں شک نہیں کہ اللہ زبردست بدلہ لینے والا ہے۔ اس کے ساتھ پہلی آیات ملا کر پڑھو تو معلوم ہو گا کہ یہ آیت بھی وعید کے ہی متعلق ہے۔ یعنی جس وعید کی اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کی صداقت ثابت کرنے کے لئے خبر دے۔ اس میں ہرگز تخلف نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اس سے خدا اور خدا کا رسول دونوں کاذب ٹھہرتے ہیں۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے۔
مرزا قادیانی نے حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ کے مکتوبات کے حوالے کئی جگہ اپنی تصانیف میں دئے ہیں۔ اور ان کے پیرو بھی ان پر عامل ہیں حضرت مجدد صاحب اس آیت کے متعلق یوں تحریر فرماتے ہیں۔ ”و کریمہ لا تحسبن الله مخلف وعده رسله دلالت ندارد بر خصوصیت خلف وعدہ، تواند بود کہ اقتصار عدم خلف بوعدہ اینجا بواسطہ آن بود، کہ مراد از وعدہ نصرت رسل است....... و آن متضمن وعدہ ووعید است وعدہ است مرسل را، ووعید است مر کفار را، پس گویا درین کریمہ ہم خلف وعدہ منتفی شد و ہم خلف وعید، فالاية مستشهدة عليه!
(دیکھو مکتوبات امام ربانی مکتوب نمبر ٢٦٦ عقیدہ ١٧، ج ١ص ٢٧٩)
مرزا قادیانی کی یہ پیش گوئی بھی حسب تشریح مجدد صاحب علیہ الرحمتہ۔ مرزا قادیانی کے لئے وعدہ تھی۔ اور ان کے مخالفین کے لئے وعید پس اس کا ٹل جانا مرزا قادیانی کے دعوے رسالت وغیرہ کے کذب کا بین ثبوت ہے۔ اور یہ عقیدہ رکھنا کہ وعید کی ایسی پیش گوئیاں جن کو انبیاء علیہم السلام نے حق تعالیٰ کی طرف سے بیان کر کے اپنے صدق و کذب کا معیار قرار دیا ہو۔ تخلف پذیر ہو سکتی ہیں۔ اللہ جل شانہ پر ایک ظالمانہ افترا ہے۔
تاویل دوم....... اس کا جواب چند فقروں میں دیا جاتا ہے۔ جیسا کہ ہم نے اس کی اصل عبارت پر ہندسہ لگا دئے ہیں۔
- .......١......... مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ ”نکاح میرے ساتھ آسمان پر پڑھا گیا ۔“ اب
یہ ظاہر ہے کہ آسمان پر نکاح پڑھانے والا خدا کے سوا کوئی اور تو ہو نہیں سکتا ۔ کیونکہ فرشتوں کے وجود مستقل کے مرزا قادیانی قائل نہیں بلکہ ارواح کواکب کا نام فرشتے رکھتے ہیں۔ نیز نکاح کے بارہ میں الہام ہے۔ زوجنکھا ! (یعنی ہم نے اس عورت سے تیرا نکاح کر دیا ) پس جب اللہ کریم نے خود یہ نکاح پڑھایا۔ اور بذات خاص ایجاب وقبول کرایا مگر اس کے دنیا پر عملدرآمد کرنے کے متعلق ایک خفیہ شرط ایسی لگا دی۔ جس سے نکاح کا ظہور ہی نہ ہوا۔ تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نکاح پڑھانے کے وقت اللہ کو اس شرط کے پورا ہونے کا علم تھا یا نہیں۔ اگر علم تھا کہ شرط کو متعلقین عورت منکوحہ پورا کر دیں گے۔ اور نکاح وقوع میں نہیں آئے گا۔ تو پھر اللہ تعالیٰ نے جس کی ذات لغو اور عبث کاموں سے پاک اور منزہ ، ارفع اور اعلیٰ ہے۔ ایک فعل عبث کیوں کیا۔ اور اگر مرزا قادیانی کے ملہم کو اس وقت اس کا علم تھا کہ شرط پوری ہوگی ۔ اور یہ آسمان پر پڑھا ہوا نکاح زمین پر فضول اور لچر سمجھا جائے گا۔ اور یہ عورت ایک دن کے لئے بھی قادیانی نبی کی زوجیت میں نہیں آئے گی ۔ تو
١٠٤
ایسے بے علم اور نادان کو مرزائی ہی خدا مان سکتے ہیں۔ سچے خدا کی شان تو بہت بلند ہے۔ وہ ہر صفات کا جامع ہے۔ اس کا علم کامل اور اکمل ہے۔ مگر مرزا قادیانی اور مرزائی اپنے طرزِ عمل سے خدائے برتر اور قدوس پر یہ الزام عائد کرتے ہیں۔ ”تعالیٰ الله سبحانه عما يتوهم الظلمون علوا كبيرا“ اللہ کی شان ظالموں کے وہم گمان سے بہت برتر اور بلند ہے۔
- ٢....... یہ پیش گوئی شرطی تھی یہ بھی غلط ہے۔ مرزا قادیانی کے الہامات و اقوال
مندرجہ باب چہارم کتاب ہذا حسب ذیل قابل ملاحظہ ہیں۔
- الف....... ابتدائی الہام اور اشتہار جس میں کوئی شرط نہیں۔
(دیکھو باب چہارم فقرہ نمبر ١)
- ب....... خدا تعالیٰ کے نزدیک قرار پاچکا تھا کہ ہر ایک مانع دور ہونے کے بعد یہ لڑکی انجام کار
مرزا قادیانی کے نکاح میں آئے گی۔
(فقرہ نمبر ٢، ٨)
- ج....... ”الہام! ويردها اليك لا تبديل لكلمات الله ، ان ربك فعال لما يريد“
(فقرہ نمبر ٣)
- د....... الہام! ہر ایک روک دور ہو کر یہ لڑکی مرزا قادیانی کے نکاح میں آئے گی۔
(فقرہ نمبر ٥)
- ہ....... مرزا قادیانی کو حالتِ نزع میں اس نکاح کا خیال آنے پر الہام ہوا۔ ”الحق من
ربك فلا تكونن من الممترين“
(فقرہ نمبر ٧)
- و....... خدا کی قسم کہ نکاح بالآخر ضرور ہوگا۔
(فقرہ نمبر ٩)
- ز....... الہاماتِ نکاح پر مرزا قادیانی کو ایسا ہی ایمان ہے۔ جیسا: ”لا اله الا الله محمد
رسول الله“ پر۔
(فقرہ نمبر ١٠)
- ح....... الہام کی تشریح نکاح ضرور ہوگا۔
(فقرہ نمبر ١٢، ١٣)
- ط....... اگر نکاح نہ ہوا تو مرزا قادیانی نامراد، ذلیل، مردود، ملعون، دجال اور ہمیشہ کی لعنتوں کا
نشانہ ہوں گے۔
(فقرہ نمبر ١٤)
- ی....... اس عورت کا مرزا قادیانی کے نکاح میں آنا تقدیرِ مبرم ہے۔ جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی۔
کیونکہ الہام میں ہے : لا تبديل لكلمات الله“ اگر ٹل گئی تو خدا کا کلام باطل ہوتا۔
(فقرہ
نمبر ١٥)
- یا....... الہام! کہ سلطان محمد کے مرنے کے بعد محمدی بیگم ضرور مرزا قادیانی کے نکاح میں آئے
گی۔ کوئی اسے روک نہ سکے گا۔ خدا کے کلام میں تبدیلی نہیں ہو سکتی۔
(فقرہ نمبر ١٦، ١٧)
١٠٥
- یب....... محمدی بیگم ضرور ضرور مرزا قادیانی کی طرف واپس لائی جائے گی۔ خدا کی باتوں
اور اس کے وعدوں کو کوئی بدل نہیں سکتا۔ ممکن نہیں کہ یہ نکاح معرض التواء میں رہے۔ سب مانعین نکاح مر جائیں گے۔ تو نکاح ہوگا۔
(فقرہ نمبر ١٨)
- یج....... نکاح ہونا تو تقدیر مبرم ہے۔ خدا کی قسم کہ یہ ضرور ہوگا۔ اور میں خدا سے خبر پا کر اسے
اپنے صدق و کذب کا معیار بتاتا ہوں۔
(فقرہ نمبر ١٩)
- ید....... خدا کے فرمودہ میں تخلف نہیں۔ انجام وہی ہے۔ جو کئی بار لکھا گیا۔ خدا کا وعدہ ہرگز ٹل
نہیں سکتا۔
(فقرہ نمبر ٢٠)
- یہ....... داماد احمد بیگ کا مرنا تقدیر مبرم ہے۔ اگر میں جھوٹا ہوں تو نکاح نہیں ہوگا۔ اور میری
موت آ جائے گی۔
(فقرہ نمبر ٢١)
- یو....... الہام یا ”احمد اسکن انت وزوجك الجنۃ“ سے نکاح محمدی بیگم ہی مراد ہے۔
(فقرہ نمبر ٢٣)
- یز....... الہام شاتان تذبحان میں داماد احمد بیگ کی موت مراد ہے۔
(فقرہ نمبر ٢٤)
- یح....... حضرت رسول اللہ ﷺ کی حدیث میں بھی اس نکاح کی پیش گوئی ہے۔
(فقرہ نمبر ٢٥)
- یط....... اگر سلطان محمد نہ مرا، اور نکاح نہ ہوا، تو مرزا قادیانی ہر ایک بد سے بدتر ہیں۔
(فقرہ نمبر ٢٦)
- ک....... عدالت ضلع میں مرزا قادیانی کا حلفیہ بیان نکاح ضرور ہوگا امید کیسی یقین کامل ہے۔
یہ خدا کی باتیں ہیں۔ ٹلتی نہیں ہو کر رہیں گی۔
(فقرہ نمبر ٢٧)
- کا....... الہام بکر و ثیب میں دو عورتوں سے نکاح کا وعدہ ہے۔ بکر سے تو نکاح ہو چکا بیوہ (محمدی
بیگم ) کے نکاح کا انتظار ہے۔
(فقرہ نمبر ٢٨)
معزز ناظرین باب چہارم میں مرزا قادیانی کے ١٣٠ الہام اور الہامی اقوال مفصل درج ہیں۔ جن کا ملخص اوپر درج ہوا۔ کیا کوئی سعید الفطرت اور اہل بصیرت ان عبارات کا نتیجہ وقوع نکاح کے سوائے کچھ اور بھی نکال سکتا ہے۔ اور کیا ایک سیکنڈ کے لئے بھی وقوع نکاح کے لئے کسی شرط کا ہونا تسلیم کر سکتا ہے؟۔ ہر گز نہیں۔
١٠٦
- ....... ٣ ....... شرط توبی توبی والا الہام تھا۔ مرزا قادیانی کے اس فقرہ الہامیہ کے الفاظ یہ
ہیں ۔ ”ايتها المرأة توبى توبى فان البلاء على عقبك“ یعنی اے عورت توبہ کر، توبہ کر۔ کیونکہ تیری لڑکی اور لڑکی کی لڑکی پر بلا آنے والی ہے۔ بقول مرزا قادیانی یہ مخاطب عورت محمدی بیگم کی نانی تھی۔ جو اس نکاح کی سخت مخالف تھی۔ اس عورت نے نہ توبہ کی۔ نہ مرزا قادیانی پر ایمان لائی۔ نہ نکاح ہونے دیا۔ پس یہ جملہ نکاح کے لئے شرط نہیں ہو سکتا۔ جس کے لئے تھا۔ اس نے اس کی کوئی تعمیل نہیں کی۔
- ....... ٤ ....... پس جب ان لوگوں نے شرط کو پورا کر دیا۔ اور داماد احمد بیگ پر خوف طاری
ہو گیا۔ اور اس نے توبہ کی تو نکاح فسخ ہو گیا یا تاخیر میں پڑ گیا۔ یہ فقرہ بھی کئی طرح سے غلط ہے۔
پہلے ....... دیکھنا یہ ہے کہ کن لوگوں نے شرط کو پورا کر دیا۔ خطاب تو تھا منکوحہ کی نانی سے اور اس نے شرط کو پورا نہ کیا۔ اور کسی کا نام نہیں سب سے مقدم اس جملہ کی رو سے محمدی بیگم کی نانی کا مرزا قادیانی پر ایمان لانا تھا۔ جو اصل مخاطب تھی۔ نہ ١٦؍اکتوبر ١٨٩٤ء تک مانعین نکاح میں کوئی اور ایمان لایا۔ پھر شرط پورا ہونے کے کیا معنی ۔
مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”خدائے تعالیٰ پدر آں زن موعود فیہ را و ھر دو عمہ او را و مادر او راکہ بیخ فساد بودند، بمیرانید، وازاناں صرف شخصے واحد ماند۔ کہ برو حکم ہلاکت است“
(انجام آتھم ص ٢١٨، خزائن ج ١١ ص ٢١٨)
”یعنی اللہ تعالیٰ نے محمدی بیگم کے باپ، اس کی دو پھپھیوں اور اس کی نانی کو موت دی۔ جو بانی فساد تھے۔ ان میں سے صرف ایک شخص (شوہر محمدی بیگم ) باقی رہ گیا ہے۔ اس پر بھی موت کا حکم ہے۔“
پس جب پانچ کس بانیان فساد میں سے چار مر گئے۔ اور پانچویں پر ہلاکت کا حکم ہے تو شرط کو کس نے پورا کر دیا؟۔
دوسرے ..... معمولی طالب علم جانتے ہیں کہ شرط کے پورا ہونے پر مشروط پایا جاتا ہے۔ ”اذا وجد الشرط وجد المشروط “ مرزا قادیانی کہتے ہیں شرط پوری کر دی گئی۔ یعنی ( وجد الشرط ) پس جب نکاح کے لئے توبہ کی شرط تھی۔ تو ان لوگوں کے توبہ کرنے ( شرط پورا کرنے) سے مشروط ( نکاح ) کا پایا جانا لازم تھا۔ مگر یہاں الٹا یہ بتایا جاتا ہے کہ شرط پوری ہونے سے نکاح فسخ ہو گیا۔ گویا بجائے ”اذا وجد الشرط وجد المشروط “ کے نیا اصول
١٠٧
قائم کیا جاتا ہے کہ ” اذا وجد الشرط ، فات المشروط “ کیوں نہ ہو۔ قادیان میں چونکہ اعجازی اور الہامی عربی شروع ہوئی ہے۔ اس لئے اصول وقواعد بھی انوکھے ہی ہونے چاہئیں۔
تیسرے ...... اس جملہ شرطیہ کے الفاظ سے بقول مرزا قادیانی ظاہر ہوتا ہے کہ توبہ کرنے کی صورت میں بلا ٹلے گی۔ اور کہا یہ جاتا ہے کہ محمدی بیگم کے اعزا کے توبہ کرنے سے بلا ٹل گئی۔ اس صورت میں یہ ماننا لازمی ہو گا کہ محمدی بیگم کا مرزا قادیانی سے نکاح ہونا محمدی بیگم اور اس کے اعزا کے لئے بڑی بلا تھی جو توبہ سے ٹل گئی۔ لیکن ابتداءً مرزا قادیانی ١٠؍ جولائی ١٨٨٨ء کے اشتہار میں اور مرزا احمد بیگ والے خط میں جو سابقہ ابواب میں نقل ہو چکی ہیں۔ بروئے الہامات اس نکاح کو محمدی بیگم کے لئے نہایت درجہ موجب خیر و برکت اور اس کے اعزا کے لئے موجب نزولِ برکات خداوندی اور برکت و رحمت کا نشان لکھ چکے تھے۔ پھر یہ اجتماع ضدین کیسا؟۔ کہ توبہ کرنے سے تمام برکتوں اور رحمتوں سے محروم ہو گئے۔ حالانکہ توبہ کے نتائج تو نہایت اچھے اور باعث راحت و آرام ہوتے ہیں۔
چوتھے ...... مرزائی کہتے ہیں کہ توبہ کرنے سے محمدی بیگم کا خاوند مرنے سے بچ گیا۔ جو اس کے لئے بڑی بلا تھی۔ یہ بھی ایک بیہودہ خیال ہے توبہ کرنے کا نتیجہ ہماری رائے میں اس شکل میں نہایت خوشگوار ہوتا کہ محمدی بیگم کا خاوند اسے طلاق دے کر الگ ہو جاتا۔ اور وہ مرزا قادیانی کے نکاح میں آجاتی۔ اس طرح توبہ کے ثمرات سے فریقین مستفیض ہو جاتے۔ سلطان محمد کی زندگی بھی بچ رہتی اور محمدی بیگم اور اس کے اعزاء انواع و اقسام کی برکتوں، رحمتوں، نعمتوں کے مورد اور زمین، جائیداد اور روپیہ پیسہ کے مالک بن جاتے۔ ادھر مرزا قادیانی کی مطلوبہ خانہ آبادی ہو جاتی اور ان کا عظیم الشان نشان پورا ہو کر ہزاروں لاکھوں آدمیوں کو ان کے دامن نبوت کی رونق دینے کا باعث ہوتا۔ یا محمدی بیگم کا خاوند بموجب پیش گوئی مر ہی جاتا۔ تو ہزاروں لاکھوں آریہ عیسائی اور مسلمان مرزا قادیانی کی صداقت کے قائل ہوکر ان پر ایمان لے آتے جو اصل مدعا پیش گوئی کا تھا۔ حضرت رسالت مآب ﷺ کے ان جہادوں کا خیال کرو۔ جو دین اسلام کی حفاظت کے لئے وقوع میں آئے۔ اور ہزاروں قیمتی جانیں ان میں تلف ہوئیں۔ اس نقطۂ خیال سے مرزا سلطان محمد کی جان کیا حقیقت رکھتی تھی۔
پانچویں ...... اگر بالفرض محال شرط کا ہونا مان بھی لیا جائے تو یہ شرط اڑھائی سالہ میعادی پیش گوئی کے لئے تھی۔ اس میعاد کے گذرنے پر جب مرزا قادیانی پر معترضین کی طرف سے بہت لے دے ہوئی تو تنگ آ کر اور جھنجھلا کر علماء اسلام کو مخاطب کر کے کہتے ہیں۔
١٠٨
”میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیش گوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے۔ اس کی انتظار کرو اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہیں ہو گی اور میری موت آجائے گی اور اگر میں سچا ہوں تو خدا تعالیٰ ضرور اس کو بھی ایسا ہی پورا کرے گا۔ جیسا کہ احمد بیگ اور آتھم کی پیش گوئی پوری ہوگئی۔ اصل مدعا تو نفس مفہوم ہے۔ اور وقتوں میں تو کبھی استعارات کا بھی دخل ہو جاتا ہے۔ یہاں تک کہ بائبل کی بعض پیش گوئیوں میں دنوں کے سال بنائے گئے ہیں جو بات خدا کی طرف سے ٹھہر چکی ہے۔ کوئی اس کو روک نہیں سکتا پھر کہتے ہیں کہ : ” وعید کی پیش گوئی میں گو بظاہر کوئی بھی شرط نہ ہو تب بھی بوجہ خوف تاخیر ڈال دی جاتی ہے۔ تو پھر اجماعی عقیدہ سے محض میری عداوت کے لئے منہ پھیرنا اگر بدذاتی اور بے ایمانی نہیں تو اور کیا ہے۔ فیصلہ تو آسان ہے۔ احمد بیگ کے داماد سلطان محمد کو کہو کہ تکذیب کا اشتہار دے۔ پھر اس کے بعد جو میعاد خدا تعالیٰ مقرر کرے۔ اگر اس سے اس کی موت تجاوز کرے تو میں جھوٹا ہوں۔“
چند سطور آگے چل کر لکھتے ہیں کہ: ”اور ضرور ہے کہ یہ وعید کی موت اس سے تھمی رہے جب تک کہ وہ گھڑی آئے جو اس کو بے باک کردے۔ سو اگر جلدی کرنا ہے تو اٹھو اور اسے بے باک اور مکذب بناؤ۔ اور اس سے اشتہار دلاؤ۔ اور خدا کی قدرت کا تماشہ دیکھو۔“
(انجام آتھم حاشیہ ص ٣١، ٣٢، خزائن ج ١١ ص ٣٢،٣١)
مرزا قادیانی کے اس طویل نوٹ کا خلاصہ یہ ہے کہ وعید کی پیش گوئی میں بوجہ خوف تاخیر ڈال دی جاتی ہے۔ اس عقیدہ کا انکار کرنا بدذاتی اور بے ایمانی ١؎ ہے۔ اور داماد احمد بیگ کے اس خوف کی وجہ سے میعاد اڑھائی سالہ گزر گئی۔ اور موت میں تاخیر ہو گئی اگر جلدی ہے تو اس سے تکذیب کا اشتہار دلا دو۔ پھر نئی میعاد مقرر کی جائے گی۔ جس کے اندر وہ ضرور مر جائے گا۔ اور اس کا میری زندگی میں مرنا تقدیر مبرم ہے۔ اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہیں ہو گی۔ اور میری موت آجائے گی۔
اب غور کرنے سے ظاہر ہے کہ توبہ والی شرط اگر تھی تو صرف اڑھائی سالہ پیش گوئی کے متعلق تھی۔ بعد میں جب دوبارہ پیش گوئی کی کہ سلطان محمد کا مرنا میری حیات میں تقدیر مبرم ہے۔ اور اس کی بیوہ کا مجھ سے نکاح ہونا اٹل ہے۔ اس کے لئے کوئی شرط نہیں لگائی گئی تھی۔ کیونکہ
١؎ ہم اسی باب میں تاویل اوّل کی تردید کے ذیل میں صحیح حدیث سے اس عقیدہ کا بطلان کرچکے ہیں۔ پس بدیہیات اور صحیح احادیث کا انکار کرنا واقعی بدذاتی اور بے ایمانی ہے۔
مرزا قادیانی نے اس پیش گوئی کی لمبائی کو اپنی موت تک دراز کر دیا تھا۔ اور اسے اپنے صدق وکذب کا معیار قرار دیا تھا۔ پس مرزا قادیانی کا حقیقت الوحی میں یہ لکھنا کہ توبہ اور خوف کی وجہ سے نکاح فسخ ہو گیا یا تاخیر میں پڑ گیا بالکل غلط اور فضول ہے۔ اس دوسری پیش گوئی کے لئے تو توبہ اور خوف کی کوئی بھی شرط نہیں تھی۔ بلکہ سلطان محمد کی موت اور اس کی بیوہ سے اپنا نکاح ہونا مرزا قادیانی نے بروئے وحی الہام تقدیر مبرم قرار دیا تھا۔ جو کبھی ٹل نہیں سکتی۔ اور ”لا تبديل لكلمات الله “ کا الہام بھی اس کی نسبت تھا۔ جیسا کہ نوٹ محولہ بالا میں لکھتے ہیں کہ جو بات خدا کی طرف سے ٹھہر چکی ہے کوئی اسے روک نہیں سکتا۔
- چھٹے ........ باقی رہا یہ امر کہ داماد احمد بیگ پر پیش گوئی سے خوف طاری ہو گیا اور اس
نے توبہ کی اور اس کے کنبہ والے بھی سب ڈر گئے۔ اور انہوں نے توبہ اور رجوع کے خط لکھے یہ بھی محض جھوٹ اور بے بنیاد ہے داماد احمد بیگ اس پیش گوئی سے ہرگز نہیں ڈرا۔ وہ ایک فوجی ملازم تھا۔ جنہیں ہمیشہ تلواروں کی چھاؤں اور گولیوں کی بارش کا خیال بندھا رہتا ہے جب جنگ کے میدانوں میں سینہ سپر ہونے سے یہ لوگ نہیں ڈرتے تو ایک عورت کے نکاح کی ضد میں مرزا قادیانی کی اس پیش گوئی سے اسے کیا خوف ہو سکتا تھا۔ چنانچہ وہ خود لکھتا ہے۔
جناب ! مرزا غلام احمد قادیانی نے جو میری موت کی پیش گوئی فرمائی تھی میں نے اس میں ان کی تصدیق کبھی نہیں کی نہ میں اس پیش گوئی سے کبھی ڈرا۔ میں ہمیشہ سے اور اب بھی اپنے بزرگان اسلام کا پیرو رہا ہوں۔
٣/مارچ ١٩٢٤ء دستخط مرزا سلطان محمد ......
تصدیقی دستخط : ”مولوی عبداللہ امام مسجد مبارک، مولوی مولا بخش خطیب جامع مسجد پٹی بقلم خود، مولوی عبدالمجید ساکن پٹی بقلم خود، مستری محمد حسین نقشہ نویس پٹی بقلم خود، مولوی احمد اللہ صاحب مرحوم امرت سر۔“
- ٥.......... جب داماد احمد بیگ اور اس کے متعلقین پھر شوخی اختیار کریں گے۔ اس
وقت سلطان محمد کی موت وقوع میں آئے گی۔ پیش گوئی کا پورا ہونا اور محمدی بیگم کا ہمارے نکاح میں
١؎ مرزا سلطان محمد کی یہ تحریر اخبار اہل حدیث مورخہ ١٤/مارچ ١٩٢٤ء میں شائع ہو چکی ہے۔ جس کے ساتھ ایڈیٹر اہل حدیث کا اعلان تھا کہ مرزائی صاحبان اگر اس چٹھی کو غیر صحیح ثابت کر دیں تو وہی تین سو روپیہ مرزائیوں کو انعام دیں گے۔ جو لدھیانہ میں انہوں نے مولوی قاسم علی مرزائی سے جیتا تھا۔ مگر مرزائیوں نے اس اعلان پر دم نہیں مارا۔ اور خاموش ہیں۔
١١٠
آنا تقدیر مبرم ہے۔ خدا کی باتیں ٹل نہیں سکتیں۔ اگر جلدی کرنا ہے تو اٹھو اور سلطان محمد سے تکذیب کا اشتہار دلاؤ اور قدرت الٰہی کا تماشا دیکھو۔ (مفصل دیکھو نوٹ محولہ بالا اس کی تکذیب خود مرزا قادیانی کی ہی تحریرات سے ہوتی ہے۔)
ناظرین! پہلے باب چہارم کا فقرہ نمبر ١٩ ملاحظہ فرمائیں۔ جو مرزا قادیانی نے اپنی عربی عبارت کا فارسی ترجمہ کیا ہے۔ اور ہم نے حاشیہ پر اس کا اردو ترجمہ بھی کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی مرزا قادیانی حسب ذیل رقم طراز ہیں۔ ”وان عشیرتی سیرجعون مرة اخری الی الفساد ٠ ويتزائدون في الخبث والعناد ٠ فينزل يومئذ الامر المقدر من رب العباد لا راد لماقضى ولا مانع لما اعطى ٠ وانى اراهم انهم قد مالوا الی سيرتهم الاولى وقست قلوبهم كما هي عادة النوكي ٠ ونسوا ايام الفزع وعادوا الى التكذيب والطغوى ٠ فسينزل امر الله اذا رای انهم يتزائدون ٠ وما كان الله ان يعذب قوماً وهم يخافون “
(انجام آتھم ص ٢٢٣، ٢٢٤، خزائن ج ١١ ص ٢٢٣، ٢٢٤)
مرزا قادیانی نے اس کا فارسی ١؎ ترجمہ خود کیا ہے۔ ”و به تحقیق قبیله من عنقریب بار دوم سوئے فساد رجوع خواهند کرد ٠ و در خبث و عناد ترقی خواهند نمود ٠ پس آن روز امر مقدر از خدا تعالیٰ نازل خواهد شد ٠ ہیچ کس قضائے او را رد نتواند کرد ٠ و عطائے او را منع نتواند نمود ٠ ومن مے بینم کہ اوشاں سوئے عادتہائے پیش میل کرده اند ٠ و دلہائے ایشاں سخت شد چنانکہ عادت جاہلاں است ٠ و ایام خوف را فراموش کردند ٠ و سوئے زیادتی و تکذیب عود نمودند ٠ پس عنقریب امر خدا برایشاں نازل خواهد شد ٠ چوں خواهد دید ٠ که ایشاں در غلو خود زیادت کردند ٠ و خدا قومے را عذاب نمے کند چوں مے بیند که ایشاں مے ترسند۔“
(حوالہ مذکورہ)
١؎ (اردو ترجمہ از مؤلف) اور میرے قبیلہ کے لوگ ضرور دوبارہ فساد کی طرف رجوع کریں گے اور خبث عناد میں ترقی کریں گے۔ پس اس روز اللہ کا مقرر شدہ حکم نازل ہوگا۔ کوئی شخص اس کی قضا کو رد نہ کر سکے گا اور نہ اس کے عطیہ کو روک سکے گا۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ نمبر 42 پر)
اس عبارت میں فقرات زیر خط خصوصیت سے قابل غور ہیں۔ مرزا قادیانی نے بھی ان میں سے اکثر فقرات کو جلی قلم سے لکھوایا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ:
داماد احمد بیگ کی موت یقینی ہے۔ کوئی اسے رد نہیں کر سکتا۔ نہ اللہ تعالیٰ کا عطیہ (محمدی بیگم ) کو مرزا قادیانی کے پاس آنے سے کوئی روک سکتا ہے۔ (یعنی یہ وعدہ اور وعید دونوں تقدیر مبرم ہیں۔ جو ضرور پوری ہو کر رہیں گے ۔) اور ثبوت اس کا یہ ہے کہ داماد احمد بیگ اور اس کا کنبہ پیش گوئی کے خوف و ہراس کو بھلا کر اور احمد بیگ کی موت کو رفت گذشت سمجھ کر پھر مرزا قادیانی کی تکذیب کے درپے ہے۔ اور یہ لوگ اس میں زیادتی کر رہے ہیں۔ پس زیادتی کی تکمیل ہونے پر جلدی ہی ان پر عذاب آئے گا۔ اور پھر مرزا قادیانی اور محمدی بیگم کا نکاح ہو جائے گا۔ جو اصل مقصود ہے۔ گویا داماد احمد بیگ کا دوبارہ بیباک اور مکذب ہونا مرزا قادیانی خود تسلیم کرتے ہیں۔ اور اس کے کنبہ والوں کی شوخی اور بغاوت کو مانتے ہیں۔ جو یہاں تک مشتہر ہو گئی ہے کہ مرزا قادیانی کو بھی اس کی اطلاع پہنچ گئی۔ اور انہوں نے جلی قلم سے اس کو انجام آتھم میں چھپوادیا اور خود اس کا اشتہار دے دیا ہے۔
داماد احمد بیگ کا عقیدہ اس کی تحریر سے ظاہر ہے جو اوپر درج ہو چکی ہے کہ وہ مرزا قادیانی کے دعوؤں کا منکر اور بزرگان اسلام کا پیرو ہے۔ اور کبھی مرزا قادیانی کی گیدڑ بھبکیوں سے نہیں ڈرا۔
مرزا قادیانی خود لکھتے ہیں کہ : ”میری تکذیب کرنے والا اور میرے دعوؤں کو نہ ماننے والا دونوں کافر اور ایک ہی حکم میں ہیں۔ کیونکہ جو مجھے نہیں مانتا وہ مجھے مفتری قرار دیتا ہے۔ اور افترا علی اللہ بڑا بھاری ظلم ہے۔“
(دیکھو حقیقت الوحی ص ١٦٣، ١٦٤ ، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧، ١٦٨ ملخص)
(بقیہ حاشیہ صفحہ نمبر 41) اور میں دیکھتا ہوں کہ ان لوگوں (داماد احمد بیگ اور اس کے متعلقین ) نے اپنی پہلی حالت کی طرف ہی رغبت کی ہے۔ ان کے دل سخت ہو گئے ۔ جیسا کہ جاہلوں کی عادت ہے اور خوف کے زمانہ کو انہوں نے بھلا دیا۔ اور پھر زیادتی اور میری تکذیب کرنے لگے ہیں۔ پس جلدی ہی ان پر اللہ کا حکم جاری ہوگا۔ جب کہ وہ دیکھے گا کہ انہوں نے غلو میں زیادتی کی ہے۔ اور خدا کسی قوم کو عذاب نہیں دیتا۔ جب کہ وہ دیکھتا ہے کہ وہ اس سے ڈرتے ہیں۔
داماد احمد بیگ اور اس کا کنبہ بھی مرزا قادیانی کا منکر ہی تھا۔ پھر ان کے کفر وطغیانی میں کیا کسر رہ گئی۔ کیونکہ یہ لوگ (بقول مرزا قادیانی ) خدا کے فرستادہ اور رسول کے منکر تھے۔ اور اس کو مفتری کہتے تھے۔ جو صریح کفر ہے۔ باقی رہا نزول عذاب کے لئے سلطان محمد کا اشتہار تکذیب شائع کرنا یہ بالکل لغو اور بے بنیاد بات ہے۔ نزول عذاب کے لئے انکار طغیانی اور سرکشی ہی کافی ہے۔ جس کا کامل ثبوت او پر دیا گیا۔ یہ ضروری نہیں کہ اس کا اشتہار کاغذوں پر چھپوا کر جگہ جگہ لگایا جائے۔ کیا امم سابقہ میں کوئی اس کی نظیر ہے؟ ۔ ہرگز نہیں اللہ تعالیٰ تو دلوں کو دیکھتا ہے۔ بقول یہ کہ:
مابروں را ننگریم وقال را
اور پھر تکذیب کا اشتہار تو خود مرزا قادیانی نے (انجام آتھم ص٢٢٣،٢٢٤،خزائن ج١١ص ایضاً) پر خود چھپوا دیا۔ اتنے صاف اور صریح حالات کی موجودگی میں پیش گوئی کا پورا نہ ہونا سوائے اس کے کہ مرزا قادیانی کے قول کے مطابق ان کو کاذب اور جھوٹا تسلیم کیا جاوے۔ اور کس بات پر محمول ہو سکتا ہے۔
تاویل سوم ...... ہمارے ہاتھ سے دس لاکھ سے زیادہ نشان ظاہر ہو چکے ہیں ۔ اگر ان کے منجملہ ایک دو پیش گوئیاں کسی جاہل ، بدفہم اور غبی کی سمجھ میں نہ آئیں تو اس کا یہ نتیجہ نہیں کہ سب پیش گوئیاں غلط ہیں۔
اس فقرہ میں مرزا قادیانی نے اپنا اور اپنی ساری امت کا پیٹ بھر کر جھوٹ بولا ہے کہ ہمارے نشانات دس لاکھ سے زیادہ ہیں۔ اور ابھی اور ظاہر ہو رہے ہیں۔ اس کے متعلق ہم ذیل میں مرزا قادیانی کی حساب دانی اور ان کے حافظہ کی کمزوری کا ثبوت دیتے ہیں۔
پہلے ! ١...... (تریاق القلوب مرزا قادیانی کی١٩٠٢ء) کی تصنیف ہے اس کے (ص٣١،خزائن ج١٥ص١٩٢) سے مرزا قادیانی کے نشانوں کی ایک فہرست شروع ہوتی ہے۔ جس کی پیشانی پر درج ہے۔ ’’یہ ان ١؎ نشانوں کی مختصر فہرست ہے جو آج تک یعنی ٢٠؍اگست ١٨٩٩ء تک ظہور میں آچکے ہیں ۔‘‘ کل ٧٥ نشانات اس فہرست میں درج ہیں۔ کتاب کے آخر (ص١٦٠، خزائن ج١٥ص٤٨٦) پر لکھتے ہیں کہ ’’اس کتاب کا پیش گوئی والا حصہ پورے طور شائع نہیں ہوا۔ کیونکہ کتاب نزول المسیح نے اس سے مستغنی کر دیا ۔ جس میں ڈیڑھ سو پیش گوئی درج ہے۔
١؎ یہاں نشانات اور پیش گوئی کو باہم مترادف تسلیم کیا گیا ہے۔ جو مرزائی نشانات اور پیش گوئی کو دو جداگانہ چیزیں سمجھتے ہیں ۔ وہ مرزا قادیانی کے اس بیان پر غور کریں۔
١١٣
- ٢....... تحفہ گولڑویہ ص ٣٩، خزائن ج ١٧ ص ١٥٣ میں لکھتے ہیں: یہ پیش گوئیاں
کچھ ایک دو نہیں بلکہ اس قسم کی سو سے زیادہ پیش گوئیاں ہیں جو کتاب تریاق القلوب میں درج ہیں۔“
اب ناظرین ان متضاد بیانات پر غور فرمالیں تریاق القلوب میں کل نشان ٧٥ درج ہیں ۔ اور لکھا ہے کہ اس کتاب کا وہ حصہ جس میں پیش گوئیاں ہیں پورے طور پر شائع نہیں ہوا۔ بلکہ علیحدہ کتاب نزول المسیح لکھی گئی ہے۔ جس میں ڈیڑھ سو پیش گوئی درج ہے۔ اور تحفہ گولڑویہ میں ان ٧٥ نشانات مندرجہ تریاق القلوب کے عدد سے زیادہ پیش گوئیاں رکھتے ہیں۔ گویا مرزائی فن حساب میں پچھتر کا عدد سو سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔ خیر !! مرزائیوں کی خاطر سے ہم پچھتر میں پچیس فرضی پیش گوئیاں ملا کر تریاق القلوب میں سو پیش گوئیاں ہی تسلیم کر لیتے ہیں۔ لہذا ان میں نزول المسیح کی ڈیڑھ سو پیش گوئیاں شامل کر کے ان کی کل تعداد دو سو پچاس ہو جاتی ہے۔ اور ظاہر ہے کہ پیش گوئیوں یا نشانات کی یہ تعداد حسب اندراج ( تریاق القلوب ص ١٦٠، خزائن ج ١٥ ص ٤٨٦، ١٩٠٢ء) تک تھی۔ اور ( تحفۃ الندوہ ص ٤، خزائن ج ١٩ ص ٩٦) پر لکھتے ہیں کہ میری تصدیق کے لئے خدا نے دس ہزار سے بھی زیادہ نشانات دکھلائے ہیں۔
(یہ کتاب بھی ١٩٠٢ء میں چھپی ہے۔)
- ٣....... لیکن ایک ہی سال بعد عبارت مندرجہ عنوان ( تذکرۃ الشہادتین ص ٤١، خزائن
ج ٢٠ ص ٤٣) میں جو ١٩٠٣ء میں لکھی گئی۔ مرزا قادیانی نے اپنے نشانات کی تعداد دس لاکھ سے بھی زیادہ تحریر کی ہے۔ اور لطف یہ ہے کہ اسی کتاب کے ( ص ٤٤، خزائن ج ٢٠ ص ٣٦) پر خدا کی قسم کھا کر نشانات کی تعداد دو لاکھ سے بھی زیادہ تحریر کی ہے !!!
- ٤....... اس کے تین سال بعد یہ تعداد بڑھتے بڑھتے تین لاکھ سے زیادہ ہو جاتی
ہے۔ (حقیقت الوحی ص ٤٦، ٦٨، خزائن ج ٢٢ ص ٤٨، حاشیہ ص ٧٠) واہ رے قادیانی علم حساب تیری بلند پروازیاں !!! جل جلالہ !
نشانات کی اس ترقی معکوس کا حساب کیا جاوے کہ تین سال میں دس لاکھ سے تین لاکھ نشان باقی رہ گئے ۔ اور سات لاکھ نشانات دریا برد ہوئے۔ گویا سالانہ دو لاکھ تینتیس ہزار تین سو تینتیس (٢٣٣٣٣٣) نشانات کی کمی ہوتی رہی۔ چونکہ اس سے پونے دو سال بعد مرزا قادیانی کا انتقال ہو گیا۔ لہذا اس ترقی معکوس سے باقی تین لاکھ نشانات کی تعداد بھی جو ١٩٠٦ء میں تھی ٢٦ مئی ١٩٠٨ء تاریخ وفات مرزا قادیانی تک ملیا میٹ ہو گئی۔ اور مرزا قادیانی جیسے خالی ہاتھ آئے تھے ویسے ہی بے نشان عالم عقبی کو سدھارے۔
١١٤
دوسرے!..... گو بحساب اندراج آخری صفحہ تریاق القلوب ١٩٠٢ء کے آخیر میں کل نشانات کی تعداد ٢٥٠ تھی مگر ہم فرض کر لیتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے تریاق القلوب اور نزول المسیح میں اپنے نشانات کے ڈھیر سے صرف ڈھائی سو نشانات بطور نمونہ پیش کئے ہیں۔ اور یہ بھی تسلیم کر لیتے ہیں کہ نشانات کی واقعی اور یقینی تعداد ١٩٠٣ء کے آخیر میں دس لاکھ ہی تھی۔ اور اس سے تین سال بعد کل نشانات کی تعداد کا تین لاکھ بتلانا مرزا قادیانی کا اعجازی سہو تھا۔ یا ان دونوں میں بوجہ پیرانہ سالی ان کا دماغ علم حساب کی الجھنوں سے بیزار ہو گیا تھا۔
اب غور اس امر پر کرنا ہے کہ مرزا قادیانی کا نشانات دکھانے کا زمانہ کب سے شروع ہوا۔ مرزا قادیانی چودھویں صدی ہجری کے سرے پر بعمر ٤٠ سال اپنا مبعوث ہونا تسلیم کرتے ہیں۔ لہٰذا ان کی بعثت کا زمانہ ١٨٨٣ء ہوتا ہے۔ اس لئے یہ دس لاکھ نشانات جو ١٩٠٣ء تک ظاہر ہوئے مرزا قادیانی کی ٢٠ سالہ زمانہ رسالت کی کمائی ہیں۔ اس حساب سے
ایک سال کے نشانات کی اوسط........پچاس ہزار........ (٥٠٠٠٠) ایک ماہ کے نشانات کی اوسط........چار ہزار ایک سو سرسٹھ........ (٤١٦٧) ایک دن کے نشان کی اوسط........ایک سو انتالیس........ (١٣٩) ایک گھنٹہ کے نشانات کی اوسط........پونے چھ........ (٥.٧٥)
ہوتی ہے۔ بشرطیکہ دن رات کے ٢٤ گھنٹے اور مہینہ کے ٣٠ دن اور سال کے بارہ مہینے متواتر ان نشانات کا سلسلہ جاری رہے اور الہامی مشین بلا کسی نقصان و جرح کے برابر چلتی رہے۔
اب ہم مرزائی صاحبان سے دریافت کرتے ہیں کہ کیا ان کے پاس مرزا قادیانی کا مرتبہ کوئی رجسٹر کوئی کتاب کوئی ڈائری ایسی موجود ہے جس میں ان دس لاکھ نشانات کی تفصیل درج ہو۔ تاریخ وار نہ سہی صرف دس لاکھ نشانات کا پتہ نشان ہی بتلادیں۔ دس لاکھ نہ سہی تو ١٩٠٦ء کے تین لاکھ کا ہی ثبوت دے دیں۔ لیکن اگر وہ ایسا نہ کریں گے اور ہرگز نہیں کر سکیں گے تو ہم مجبور ہیں کہ دس لاکھ یا تین لاکھ کے ان اعداد کو مرزا قادیانی کی حسب عادت لن ترانی یا بالفاظ دیگر کذب بیانی پر محمول کریں۔
البتہ اگر ان لاکھوں نشانات سے مراد قادیان کے وہ مچھر، کھٹمل اور پسو ہیں جو اس ٢٠ سال کے لمبے عرصہ میں مرزائیوں اور غیر مرزائیوں کا خون چوس کر مرزا قادیانی کی نبوت کا راز
لوگوں کو بتلاتے رہے یا ان دس لاکھ یا تین لاکھ نشانات سے مراد وہ حشرات الارض ہیں۔ جو ہر سال موسم برسات میں قادیان کے بہشتی مقبرہ کے متصلہ جوہڑ میں گلے پھاڑ پھاڑ کر لوگوں کو قادیانی مذہب کی اشاعت کا طرز سکھاتے رہے۔ اور بالآخر اپنی موت سے مرزا قادیانی کی صداقت پر مہر کر گئے۔ تو شاید نشانات مندرجہ کی یہ تعداد پوری ہو جائے!
ایک بات ڈرتے ڈرتے ہم اور بھی کہتے ہیں وہ یہ کہ مرزا قادیانی نے ایک جگہ لکھا ہے کہ: ”جہاں مجھے دس روپیہ ماہوار کی امید نہ تھی۔ لاکھوں تک پہنچی“
شاید مرزا قادیانی کو ١٩٠٣ء تک دس لاکھ روپیہ سے زیادہ آمدنی ہوچکی ہو۔ اور اسی کو انہوں نے نشان صداقت سمجھا ہو۔ کسی ایسے ہی نے کہا ہے:
ستار عیوب و قاضی الحاجاتی
بہر حال اس دس لاکھ سے زیادہ تعداد کی بہتر توجیہہ مرزائی صاحبان ہی کر سکتے ہیں۔ ہم تو اس بیان کو مرزا قادیانی کی دوسری صد ہا تحریروں کی طرح ان کی معمولی سلطان القلمی (شاعرانہ مبالغہ) سمجھتے ہیں۔
تیسرے ..... مرزا قادیانی نہایت متانت اور سنجیدگی سے لکھتے ہیں کہ ”ان دس لاکھ سے زیادہ نشانوں کے منجملہ اگر ہماری ایک دو پیش گوئیاں کسی جاہل، بدفہم ، اور غبی کی سمجھ میں نہ آئیں۔ تو اس سے سب پیش گوئیاں غلط نہیں سمجھی جاسکتیں۔“
ہم دعوے سے کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے جن پیش گوئیوں کو اپنی صداقت کا معیار بتایا۔ اور بطور تحدی ان کو پیش کیا ان سب میں وہ جھوٹے ہی ثابت ہوئے۔ چنانچہ ١ رسالہ الہامات مرزا میں جناب مولوی ثناء اللہ صاحب مولوی فاضل امرت سری نے اور فیصلہ آسمانی میں حضرت مولانا ابواحمد صاحب رحمانی مونگیری نے اور عشرۃ کاملہ میں خاکسار مؤلف نے مرزا قادیانی کی بہت سی پیش گوئیاں جھوٹی ثابت کی ہیں۔ اور ہر سہ رسائل مذکورہ کے جوابات لکھنے پر پانچ ہزار روپیہ انعام کا بھی اعلان ہے۔ اوّل الذکر دونوں کتابیں مرزا قادیانی کی حیات میں ان کے انتقال سے سالہا سال پہلے چھپ چکی تھیں۔ مگر مرزا قادیانی نے ان کی تردید کے لئے قلم کو
١۔ مرزا قادیانی کے رد میں اور بھی بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ یہاں تمثیلاً ان کتابوں کا ذکر کیا گیا۔
١١٥
ہاتھ تک نہیں لگایا اور چل بسے۔ عشرۃ کاملہ کو بھی تیسرا سال ہے کہ طبع ہو کر ہندوستان کے گوشہ گوشہ اور افریقہ، دمشق، بغداد وغیرہ بلاد اسلام میں شائع ہو چکی ہے۔ مگر کسی مرزائی کو جواب دینے اور اپنے مرشد کو سچا ثابت کرنے کا حوصلہ نہیں ہوا۔ جس سے مرزا قادیانی کے عالم، خوش فہم اور ذکی ہونے کا ثبوت ملتا۔ لہٰذا مرزا قادیانی کی قلم کے مندرجہ عنوان جواہر ریزے خود ان کے اور ان کی امت کے ہی شایان شان ہیں۔ مرزائی صاحبان ان کو شوق سے اپنا طغرائے امتیاز بنائیں اور دیکھیں کہ جاہل، بدفہم اور غبی کون سا گروہ ہے؟۔ مرزا قادیانی کی ایک اور بیباکی قابل توجہ ہے کہ اپنے نشانات کی تعداد تو دس لاکھ سے بھی زیادہ بتاتے ہیں۔ مگر آنحضرت ﷺ کے معجزات کی تعداد تین ہزار لکھتے ہیں۔ (تحفہ گولڑویہ ص ٣٩، خزائن ج ١٧ ص ١٥٣) کیا یہ صاف طور پر آنحضرت ﷺ پر فضیلت کا اظہار نہیں؟۔ بعض مرزائی نشانات اور معجزات کی دو الگ الگ حیثیتیں بیان کیا کرتے ہیں۔ لیکن مرزا قادیانی اپنے ان نشانات کو پیش گوئیاں اور خوارق وغیرہ بھی کہتے رہے ہیں۔ اور معجزہ بھی خوارق کا ہی دوسرا نام ہے۔ پس فرق کچھ نہیں۔
تاویل چہارم ...... حضور سرور کائنات ﷺ کی حدیبیہ والی پیش گوئی وقت اندازہ کردہ پر پوری نہیں ہوئی تھی ...... الخ!
اس عبارت میں حضور ﷺ فداہ ابی وامی کی شان مقدس میں ایسی گستاخی کی گئی ہے کہ اس پر کل دنیائے اسلام مرزا قادیانی کی ایمانداری کا جتنا بھی ماتم کرے کم ہے۔ ”عیاذا باللہ“ جس کی غلامی کا دعویٰ ہے اس کی ذات بابرکات پر یہ اتہام ! جن کے مقدس نام کے طفیل مرزا قادیانی ایک مفلس قلاش سے لکھ پتی بن گئے ۔ انہی کے حضور میں یہ زبان درازی !! کیا وفادار غلام ایسے ہوتے ہیں؟ ۔ جو آقا کی عزت پر ہاتھ ڈالیں ۔ تفو بر تو ائے چرخ گرداں تفو!
آریہ، ہندو، عیسائی وغیرہ اگر مذہب اسلام یا آنحضرت ﷺ کی شان مقدس پر کوئی اعتراض کرتے ہیں تو اس لئے کہ وہ ہمارے مذہب کے قائل نہیں ہیں۔ مگر مرزا قادیانی اچھے فدائی الرسول اور متبع کامل اور غلام احمد تھے کہ اپنے جھوٹ کی پردہ پوشی کرنے کے لئے آنحضرت ﷺ پر حملہ کرنے سے بھی نہیں رکے ۔ خیر !! اس گستاخی کا وہ بدلہ پائیں گے ۔ اور اللہ تعالیٰ ان سے خود سمجھ لے گا ۔ مذکورہ بالا فقرات اس عقیدت کے جوش میں ہمارے قلم سے نکل گئے ۔ جو بروئے نص قرآنی واحادیث صحیحہ کل مسلمانان عالم کو آنحضرت ﷺ کے مبارک قدموں سے وابستہ کئے ہوئے ہے۔ اور جس کی رو سے ہر مسلمان اپنی جان، مال، اولاد، بہن بھائی، ماں، باپ، عزت
آبرو سب کچھ ان پر نثار کر دینا نہ صرف فخر بلکہ فرض اولین سمجھتا ہے۔ ”صلی الله عليه واله واصحابه وسلم“
اب ہم حدیبیہ کا قصہ کسی قدر اختصار سے بیان کرتے ہیں۔ ہجرت کا چھٹا سال تھا۔ مکہ معظمہ ابھی کفار مکہ کے ہی قبضہ میں تھا۔ مگر وہ حج اور عمرہ کرنے والوں کو روکتے نہیں تھے۔ اور ماہ رجب، شوال، ذیقعدہ اور ذی الحجہ میں لڑائی کو منع جانتے تھے۔ اس سال ماہ ذیقعدہ میں آنحضرت ﷺ نے عمرہ کا ارادہ فرمایا چودہ پندرہ سو صحابہ ہمرکاب ہوئے۔ جب حدیبیہ میں پہنچے تو آپ نے خواب دیکھا کہ ہم معہ تمام اصحاب کے بلاخوف وخطر مکہ معظمہ میں داخل ہوئے ہیں۔ اور ارکان حج ادا کئے ہیں۔ اس خواب میں کوئی الہامی پیش گوئی نہیں تھی۔ نہ کسی سال اور وقت کا تعین تھا۔ جب آنحضرت ﷺ نے یہ خواب صحابہ کرام سے بیان فرمایا۔ (اور انبیاء علیہم السلام کے خواب سچے ہی ہوتے ہیں) تو بعض صحابہ کو خیال ہوا کہ ہم اسی سال حج کریں گے۔ مگر اس کا انہیں خیال نہیں رہا کہ خواب رسالت میں اس سال یا کسی دوسرے سال کا کوئی مذکور نہیں۔
حدیبیہ میں ہی کفار مکہ پہنچ کر مانع ہوئے۔ اور آخر چند شرائط کے ساتھ اس بات پر صلح ہو گئی کہ اس سال آنحضرت ﷺ معہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم واپس مدینہ تشریف لے جائیں اور سال آئندہ عمرہ کریں۔ جب آنحضرت ﷺ نے واپسی کا ارادہ ظاہر فرمایا تو حضرت عمرؓ نے بحوالہ خواب مذکور عرض کیا کہ یا رسول اللہ آپ نے تو فرمایا تھا کہ ہم خانہ کعبہ میں جائیں گے۔ اور طواف کریں گے۔ حضور انور ﷺ نے فرمایا کہ ہاں یہ کہا تھا۔ مگر یہ کب کہا تھا کہ اسی سال مکہ میں داخل ہوں گے۔ حضرت عمرؓ نے عرض کیا کہ نہیں آپ نے فرمایا کہ خانہ کعبہ میں داخل ہو گے اور طواف کرو گے۔ یعنی ہمارے خواب کا ظہور ضرور ہوگا۔
(مفصل دیکھو صحیح بخاری ج ١ ص ٣٧٨ باب الشروط فی الجہاد)
چنانچہ آئندہ سال اس کا ظہور ہوا۔ اور پھر اس سے ایک سال بعد ہی فتح مکہ ہوئی۔ اور نہایت کامل اور بین طور سے اس خواب یا پیش گوئی کی صداقت ظاہر ہو گئی۔ جس پر قرآن کریم بھی شاہد ہے۔ پڑھو! ”لقد صدق الله رسوله الرؤيا بالحق لتدخلن المسجد الحرام انشاء الله ٠ فتح : ٢٧“ ﴿(یعنی) بے شک اللہ نے اپنے رسول کو واقعی سچا خواب دکھایا تھا کہ
١١٧
انشاء اللہ تم مسلمان مسجد حرام میں اور بال کتر اؤ گے۔ (یعنی حج کرو اب ناظرین دیکھ لیں شریف میں۔ اور قرآن شریف خداوندی کے برخلاف اس خواب کے لئے آنحضرت ﷺ پر غلطی شک بقول مرزا قادیانی آنحضر ہے۔ گو بعض ضعیف روایتوں میں دیکھا لیکن وہ قابل اعتبار نہیں چہ کے سفر کا باعث یہ خواب ہوا۔ ت صحت بلحاظ راوی کے اور باعتبار حضرت عبداللہ ابن عباس کے شر نے نقل کیا ہے۔ تفسیر درمنثور میں ”عن مجاهد قال خل مكة هو واصحاب اللہ ﷺ حدیبیہ میں تشریف فرما اصحاب بے خوف و خطر مکہ معظمہ م تفسیر جامع البیان ہے کہ یہ خواب حدیبیہ میں د لفظوں کے مطابق نہایت شان اس کی صداقت پر اللہ تعالیٰ نے چھوڑ کر کسی ضعیف روایت کی ب کام ہے۔ سچے مسلمانوں کے
تاویل پنجم.......
قادیانی یہ مطلب لیتے ہیں کہ اس نے کیا پھر اسے محو کر دیا۔ ا
انشاء اللہ تم مسلمان مسجد حرام میں بے خوف و خطر اور باطمینان تمام داخل ہوگے۔ اور سرمنڈاؤ گے۔ اور بال کتر اؤ گے۔ (یعنی حج کرو گے) ﴾
اب ناظرین دیکھ لیں کہ وقت اندازہ کردہ کا ذکر نہ خواب کے الفاظ میں ہے نہ قرآن شریف میں۔ اور قرآن شریف خواب کی صداقت بیان فرماتا ہے۔ پھر مرزا قادیانی کا فرمان خداوندی کے برخلاف اس خواب کی صداقت میں شک وشبہ کرنا اور اپنی ذلت اور بدنامی کو دبانے کے لئے آنحضرت ﷺ پر غلطی کا بہتان لگانا کیسا اسلام اور کہاں کی ایمانداری ہے؟۔ اور بے شک بقول مرزا قادیانی آنحضرت ﷺ کی شان میں ایسی بے ادبی کرنا کسی شریر النفس کا ہی کام ہے۔ گو بعض ضعیف روایتوں میں یہ بھی ذکر ہے کہ آنحضرت ﷺ نے یہ خواب مدینہ طیبہ میں دیکھا لیکن وہ قابل اعتبار نہیں ہیں۔ نہ کسی روایت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے ٦ ھ کے سفر کا باعث یہ خواب ہوا۔ صحیح روایت یہی ہے کہ یہ خواب حدیبیہ میں ہی دیکھا گیا۔ اس کی صحت بلحاظ راوی کے اور باعتبار ناقلین کے ہر طرح ثابت ہوتی ہے۔ اس کے راوی مجاہد ہیں جو حضرت عبداللہ ابن عباسؓ کے شاگرد اور نہایت ثقہ ہیں۔ اور اس روایت کو اکثر محدثین اور مفسرین نے نقل کیا ہے۔ تفسیر درمنثور میں یہ روایت بحوالہ پانچ محدثین اس طرح درج ہے۔
”عن مجاهد قال اری رسول الله ﷺ وهو فی الحديبية ...... انه يد خل مكة هو واصحابه امنين . درمنثور ج٦ ص ٨٠“ ﴿مجاہدؒ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ حدیبیہ میں تشریف فرما تھے کہ آپ ﷺ نے خواب دیکھا کہ آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے اصحابؓ بے خوف و خطر مکہ معظمہ میں داخل ہوئے ہیں۔﴾
تفسیر جامع البیان طبری، فتح الباری، عمدۃ القاری، اور ارشاد الساری میں بھی یہی لکھا ہے کہ یہ خواب حدیبیہ میں دیکھا گیا۔ بہر حال یہ ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ کا خواب اپنے لفظوں کے مطابق نہایت شان وشوکت سے پورا ہوا۔ اس میں کوئی قید وقت کی نہیں تھی۔ اور پھر اس کی صداقت پر اللہ تعالیٰ نے مہر کر دی جیسا کہ اوپر مذکور ہوا۔ ایسے صاف اور مستند اور صحیح پہلو کو چھوڑ کر کسی ضعیف روایت کی بناء پر آنحضرت ﷺ پر غلط فہمی کا بے بنیاد الزام لگانا بے ایمانی کا ہی کام ہے۔ سچے مسلمانوں کے دل میں تو اس کا خیال بھی نہیں آسکتا۔
تاویل پنجم ...... ”يمحو الله مايشاء ويثبت“ اس آیت سے مرزا قادیانی یہ مطلب لیتے ہیں کہ خدا ہر ایک بات کا محو واثبات کرتا رہتا ہے۔ لہذا نکاح کا وعدہ پہلے اس نے کیا پھر اسے محو کر دیا۔ اس میں کون سی خرابی ہے۔
١١٨
خدا ترس اور اہل دل اصحاب غور فرمائیں کہ کیا مرزا قادیانی کا یہ استدلال قرآن کریم پر ان کے ایمان کو ثابت کر رہا ہے۔ اول تو پیغمبروں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا جو معاملہ ہے اس کا مفصل ذکر ہم اسی باب میں تاویل اول کے ذیل میں درج کر چکے ہیں۔ مرزا قادیانی کے الہامات اس بارہ میں ”لا تبديل لكلمات الله . انا كنا فاعلين . مايبدل القول لدى . الحق من ربك فلا تكن من الممترين “ وغیرہ وغیرہ قابل لحاظ ہیں۔ جن کا مفصل ذکر اوپر ہو چکا ہے۔ پس ایسے عظیم الشان قطعی اور حتمی وعدے میں جس کی قطعیت خود مرزا قادیانی بحکم والہامات الٰہی انتہائی طور سے بیان کر چکے تھے۔ اگر محو و اثبات ہو سکتا ہے اور بروئے استدلال مرزا قادیانی اگر ہر ایک امر میں محو و اثبات کا حکم جاری ہے تو مرزائی صاحبان بتائیں کہ مرزا صاحب کی مسیحیت ونبوت کے محو نہ ہونے کی ان کے پاس کیا سند ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ حسب خیال مرزائیاں مرزا قادیانی کو پہلے خلعت نبوت عطاء ہوا۔ مگر ان کے روز افزوں تکبر وانانیت کو دیکھ کر غیرت الٰہی نے ان کی نبوت ورسالت محو کر دی۔ اور بمقابلہ جناب مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری اور جناب ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب مرحوم پٹیالوی مرزا قادیانی کو جھوٹا ثابت کر دیا۔ فرمائیے اس کا کیا جواب ہے۔ پس قرآن کریم کی عام نصوص قطعیہ کو مدنظر رکھ کر آیت کے وہ معنی کرنے چاہئیں جو دیگر آیات ”لن يخلف الله وعده رسله “ وغیرہ کے مخالف نہ ہوں۔ اب ہم آیت منقولہ کا مطلب مطابق تحقیق و تفسیر علمائے حقانی بیان کرتے ہیں۔
قرآن کریم میں متعدد جگہ مشیت الٰہی کو عام بیان کیا ہے۔ مگر مراد اس سے صرف اظہار قدرت ہے۔ مثلاً ارشاد ہے ”يغفر لمن يشاء . آل عمران ١٢٩ “ یعنی جسے چاہے بخشے جسے چاہے عذاب کرے۔ گویا مغفرت اللہ کی مشیت پر موقوف ہے۔ اس میں کافر اور مومن سب برابر ہیں۔ مگر دوسری آیت ”ان الله لا يغفر ان يشرك به . نساء ٤٨ “ سے ثابت ہے کہ مشرک کی بخشش نہ ہوگی۔ ایسا ہی آیت ”تعز من تشاء وتذل من تشاء “ میں مشیت عامہ کا بیان ہے۔ اور آیت ”ولله العزة ولرسوله وللمؤمنين “ عزت کو خاص فرمایا گیا ہے۔ تفاسیر میں اس آیت پر تفصیل سے تقریریں کی گئی ہیں۔ صاحب تفسیر حسینی تحریر فرماتے ہیں کہ:
- ١....... بعض نے کہا ہے کہ بندہ کے تمام اقوال، افعال، احوال قلمبند کئے جاتے
ہیں۔ جب انہیں اللہ تعالیٰ کے پیش کیا جاتا ہے۔ تو ایسے اقوال و احوال جن پر عذاب و ثواب نہیں ١١٩
محو کر دئے جاتے ہیں اور باقی
- ٢ ...... تو یہ کہ
جاتی ہیں۔ یا
- ٣ ...... بعض
ان کی جگہ جدید احکام کا ظہور ہو
- ٤ ...... علا
شقاوت، موت، حیات اور رز
- ٥ ...... فصول
اسرار قائم کئے جاتے ہیں۔
- ٦ ...... سلمیٰ
اللہ تعالیٰ شہود عبودیت اور اس اور اس کے لوامع قائم فرماتا
- ٧ ...... کشف
ہے۔ شک دور کیا جاتا ہے۔ ا حد کے بجائے شفقت عطاء کی
- ٨ ...... اور د
- ٩ ...... اور د
- ١٠ ...... امام
اور حقوق ربانی قائم کئے جا کر انوار احدیت قائم کئے جا مذکورہ بالا مختصر بیا کرنے کی نہ خاکسار مؤلف فرما سکتے ہیں۔ ہمارے مقصد حضرت مجدد الف
محو کر دئے جاتے ہیں اور باقی قائم رکھے جاتے ہیں۔ یا
- ٢...... توبہ کرنے والے کی بدیاں محو کی جاتی ہیں۔ اور نیکیاں اس کے بجائے لکھی
جاتی ہیں۔ یا
- ٣...... بعض احکام شریعت ضرورت و مصلحت وقت کے مطابق منسوخ کر کے
ان کی جگہ جدید احکام کا ظہور ہوتا ہے۔
- ٤...... علمائے کرام کا اتفاق ہے کہ اللہ تعالیٰ جو چاہے مٹا دیتا ہے۔ مگر سعادت،
شقاوت، موت، حیات اور رزق میں محو نہیں فرماتا۔
- ٥...... فصول میں لکھا ہے کہ قلوب ابرار سے رقوم انکار محو کی جاتی ہیں۔ اور رموز
اسرار قائم کئے جاتے ہیں۔
- ٦...... سلمیٰ، امام رازیؒ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے شبلیؒ سے سنا ہے کہ
اللہ تعالیٰ شہود عبودیت اور اس کے لوازمات سے جو کچھ کہ چاہتا ہے محو کر دیتا ہے۔ اور شہود ربوبیت اور اس کے لوامع قائم فرماتا ہے۔
- ٧...... کشف الاسرار میں ہے کہ دل خائف سے ریا مٹا کر اخلاص قائم کیا جاتا
ہے۔ شک دور کیا جاتا ہے۔ اور یقین عطاء ہوتا ہے۔ بخل مٹا کر جود و سخا، شر کے بجائے قناعت اور حسد کے بجائے شفقت عطاء کی جاتی ہے۔
- ٨...... اور دل راجی سے اختیار دور کر کے تسلیم اور تفرقہ مٹا کر جمع عطاء کی جاتی ہے۔
- ٩...... اور دل محب سے رسوم انسانیت مٹا کر نعوت ربانیت اس میں رکھی جاتی ہیں۔
- ١٠...... امام قشیری رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ حظوظ نفسانی محو کئے جاتے ہیں۔
اور حقوق ربانی قائم کئے جاتے ہیں۔ یا شہود خلق مٹا کر شہود حق قائم کیا جاتا ہے۔ یا آثار بشریت مٹا کر انوار احدیت قائم کئے جاتے ہیں۔
(انتہیٰ ملخصاً)
مذکورہ بالا مختصر بیان ایک ہی تفسیر سے نقل کیا گیا ہے۔ عالمانہ بحثیں اور علمی نکات تحریر کرنے کی نہ خاکسار مؤلف کی قابلیت ہے۔ نہ اس رسالہ کا مدعا لہٰذا شائقین تفاسیر مشہورہ ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔ ہمارے مقصد کے لئے اتنا ہی کافی ہے۔
حضرت مجدد الف ثانیؒ جن کی تحریروں کے حوالہ مرزائی اکثر سنداً پیش کیا کرتے ہیں۔
١٢٠
(مکتوبات امام ربانی ج١ص٣٥٠،٣٥١،مکتوب نمبر٢١٧) میں تحریر فرماتے ہیں۔ ”بدان ارشدك الله تعالی سبحانه که قضا بر دوقسم است قضائے معلق وقضائے مبرم ۔ درقضائے معلق احتمال تغیرو تبدیل است و درقضائے مبرم تغییر وتبدیل رامجال نیست“ ”قال الله سبحانه وتعالیٰ ۔ مايبدل القول لدى“ (یعنی میرا ارادہ منسوخ نہیں نز د من) ”ایں درقضائے مبرم است ۔ و درقضائے معلق می فرماید“ ”يمحو الله ما يشاء ويثبت وعنده ام الكتاب“ مطلب صاف ہے۔ اور خلاصہ یہ ہے کہ آیت کا مفہوم اور مطلب مرزا قادیانی نے غلط سمجھا ہے۔ یا صحیح سمجھ کر لوگوں کو دھوکا دینے کے لئے اس طرح تحریر کر دیا ہے۔ ورنہ اس آیت میں وعدہ کا محو واثبات ہرگز مذکور نہیں۔
تاویل ششم ...... ” کیا یونس علیہ السلام کی پیش گوئی عذاب ٹلنے سے کچھ کم تھی۔ جس میں بتلایا گیا تھا کہ آسمان پر یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ چالیس دن تک اس قوم پر عذاب نازل ہوگا ۔ مگر عذاب نازل نہ ہوا۔ حالانکہ اس میں کسی شرط کی تصریح نہ تھی۔ پس وہ خدا جس نے ایسا ناطق فیصلہ منسوخ کر دیا۔ کیا اس پر مشکل تھا کہ اس نکاح کو بھی منسوخ یا کسی وقت پر ٹال دے۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص١٣٣،خزائن ج٢٢ص٥٧٠)
اس قصہ کو مرزا قادیانی پندرہ، سولہ برس تک بڑی شدومد کے ساتھ اپنی بیسیوں کتابوں ، رسالوں، اشتہاروں اور اخباروں میں بیان کرتے رہے ہیں اور اپنی غلط پیش گوئیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے مختلف عبارتوں اور رنگ برنگ کے عنوان سے اسے تحریر کیا ہے۔ مرزائی صاحبان آنکھیں بند کر کے آمنا وصدقنا کہے جاتے ہیں۔ کوئی غور نہیں کرتا اور اصلیت کو نہیں دیکھتا۔ حالانکہ انہیں تین چار سطروں میں مرزا قادیانی کے کئی کھلے کھلے اور صریح جھوٹ موجود ہیں۔ اور پھر غضب یہ ہے کہ ایسے جھوٹ بولنے اور لکھنے والے کو نبی، رسول، امام الزمان، مسیح،
١؎ قضا دو قسم کی ہے معلق اور مبرم قضائے معلق میں تغییر وتبدیل کا احتمال ہے۔ مگر قضائے مبرم ہر گز نہیں بدل سکتی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میری باتیں بدلا نہیں کرتیں۔ یہ آیت قضائے مبرم کے متعلق ہے۔ اور قضائے معلق کے متعلق ارشاد ہے کہ اس میں محو اثبات ہو سکتا ہے۔ مرزا قادیانی پیش گوئی نکاح اور موت مرزا سلطان محمد کو قضائے مبرم لکھ چکے ہیں پس اس میں تغییر وتبدیل کس طرح ہو سکتا ہے؟۔
١٢١
مہدی ، کرشن وغیرہ وغیرہ کہا جاتا ہے۔ بلکہ اس کے ایک قول رایت انی عین الله (میں نے دیکھا کہ ہو بہو خدا ہوں) کو نہایت ٹھنڈے دل سے تسلیم کیا جاتا ہے۔ اللہ اس قوم کو ہدایت بخشے اور مسلمانوں کو ان کے فتنہ سے بچائے۔ آمین!
اب حضرت یونس علیہ السلام کی پیش گوئی کی حقیقت ملاحظہ ہو۔ جسے مصنف فیصلہ آسمانی مرحوم نے بھی تفصیل سے ذکر فرمایا ہے۔ ہم اسے چند فقروں میں تقسیم کر کے اس کی تصریح کریں گے۔
- اول ...... حضرت یونس علیہ السلام کی پیش گوئی میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
- الف ...... نکاح کی پیش گوئی کی بنیاد وحی والہام پر ہے۔ جیسا کہ اسی کتاب میں کئی
جگہ مذکور ہوا۔ اور بعد میں بھی متواتر الہامات اس کی تائید میں ہوتے رہے ہیں۔ اور اسے الہامات میں قطعی فیصلہ کیا گیا ہے۔
حضرت یونس علیہ السلام کی پیش گوئی کا قرآن وحدیث میں کہیں ذکر نہیں محض بعض روایتیں اس کی نسبت ہیں۔ اس لئے اسے ناطق فیصلہ کہنا مرزا قادیانی کا صریح جھوٹ ہے۔
- ب ...... منکوحہ آسمانی کے متعلق مرزا قادیانی کو الہام ہوا۔ ”يردها اليك انا كنا
فاعلين“ یعنی اس عورت کو تیری طرف واپس لایا جائے گا۔ اور ہم ہی واپس لانے والے ہیں۔
حضرت یونس علیہ السلام کو ایسا کوئی الہام نہیں ہوا۔ نہ انہیں اس طرح کہا گیا۔
- ج ...... مرزا قادیانی کو نکاح کے بارہ میں شک ہونے پر الہام ہوا۔ ”الحق من
ربك فلا تكونن من الممترين“ یعنی نکاح کی بات تیرے رب کی طرف سے سچ ہے تو اس میں شک نہ کر۔
حضرت یونس علیہ السلام کو ایسا کہا جانا کسی ضعیف روایت سے بھی مذکور نہیں۔
- د ...... مرزا قادیانی کو الہام ہوا تھا۔ ”لا تبديل لكلمات الله“ (یعنی نکاح
کے بارہ میں) اللہ کی باتیں بدلا نہیں کرتیں۔
حضرت یونس علیہ السلام سے ایسا قطعی وعدہ ہونا کہیں ثابت نہیں۔
- ہ ...... مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ بار بار کی توجہ سے معلوم ہوا کہ ہر ایک مانع دور
ہونے کے بعد یہ لڑکی میرے نکاح میں آئے گی۔
١؎ مرزائی اس کشف کی تاویلیں کرتے ہیں لیکن صاف طور پر اسے شیطانی کشف نہیں کہتے۔
حضرت یونس علیہ السلام نے نزول عذاب کے متعلق ایسی کوئی تصریح نہیں فرمائی۔
- و...... مرزا قادیانی نے وقوع نکاح پر قسمیں کھائی ہیں۔
حضرت یونس علیہ السلام نے کوئی قسم نہیں کھائی۔
- ز...... مرزا قادیانی نے بروئے الہام نکاح کو تقدیر مبرم بتایا جو ٹل نہیں سکتی۔
حضرت یونس علیہ السلام نے عذاب کو تقدیر مبرم نہیں فرمایا۔
- ح...... مرزا قادیانی نے نکاح کو اپنے صدق وکذب کا معیار بنایا۔
حضرت یونس علیہ السلام نے ایسا دعویٰ نہیں کیا۔
اس مقابلہ سے ظاہر اور ثابت ہے کہ مرزا قادیانی کا حضرت یونس علیہ السلام کی پیش گوئی کو آسمانی اور ناطق فیصلہ بتانا بالکل جھوٹ اور اس کو اپنی پیش گوئی نکاح کے ہم پلہ بیان کرنا المضاعف جھوٹ ہے۔
- دوم...... حضرت یونس علیہ السلام کی پیش گوئی شرطی تھی۔ مرزا قادیانی جو اسے بلا
شرط بیان کرتے ہیں محض غلط اور سفید جھوٹ ہے۔
انبیاء علیہم السلام کے حالات پڑھو۔ سب نے اپنی امتوں سے اسی طرح فرمایا کہ اگر تم ایمان نہیں لاؤ گے تو تم پر عذاب آئے گا۔ چنانچہ جو قومیں ایمان نہ لائیں ان پر عذاب نازل ہوئے۔ یہ امر نہایت صاف اور روشن اور قرآن شریف میں جگہ جگہ صراحت سے بیان فرمایا گیا ہے اسی طرح حضرت یونس علیہ السلام کی پیش گوئی کا قصہ بھی جو بعض مفسرین نے لکھا ہے۔ اس میں بھی ایسا ہی مذکور ہے۔ ملاحظہ ہو۔
- ١...... ”اوحی اللہ الیہ قل ھم ان لم یومنوا جاء ھم العذاب
(شیخ زادہ علی بیضاوی ج ٢ ص ٤٦٥)
فابلغھم فابوا فخرج من عندھم“
یعنی اللہ نے یونس علیہ السلام پر وحی بھیجی کہ اپنی قوم سے کہہ دو کہ اگر تم ایمان نہ لاؤ گے تو تم پر عذاب آئے گا۔ انہوں نے یہ پیغام اپنی قوم کو پہنچا دیا۔ انہوں نے ایمان لانے سے انکار کیا تو وہ اس کے پاس سے چلے گئے۔
- ٢...... ”فاوحی اللہ تعالیٰ الیہ قل لھم ان لم یؤمنوا جاء ھم
العذاب فابلغھم فابوا فخرج من عندھم فلما فقد وہ ندموا علی فعلھم
(روح المعانی ج ٥ ص ٢٨٤)
فانطلقوا یطلبونہ فلم یقدروا علیہ“
یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام پر وحی کی کہ اپنی قوم سے کہو کہ اگر تم ایمان نہ لاؤ گے تو تم پر عذاب آئے گا۔ انہوں نے پیغام الہی پہنچا دیا۔ مگر ان کی قوم ایمان نہ لائی۔ اور حضرت یونس ان کے پاس سے چلے گئے۔ جب لوگوں نے ان کو نہ دیکھا نادم ہوئے اور ان کی تلاش میں نکلے مگر وہ نہ ملے۔
- ٣...... تفسیر کبیر میں بھی اسی طرح لکھا ہے۔ اس تفسیر کے حوالے مرزاجی نے کئی
جگہ اپنی کتابوں میں دیئے ہیں۔ ان تینوں کتابوں میں اگر تم ایمان نہ لاؤ گے تو تم پر عذاب آئے گا۔ صاف مذکور ہے۔ اور ایمان لانے کی شرط صراحت سے درج ہے مگر مرزا قادیانی اور مرزائی خواہ مخواہ شور مچائے جاتے ہیں۔ کہ شرط نہیں تھی۔ یہ کیسا صریح جھوٹ ہے۔
ان حوالہ جات سے ثابت ہو گیا کہ حضرت یونس علیہ السلام کی پیش گوئی میں صاف اور صریح شرط موجود تھی۔ مگر مرزا قادیانی کی پیش گوئی میں تو کوئی شرط نہیں تھی۔ اگر توبی توبی کو شرط مانا جائے۔ تو معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کے ملہم نے ان کو فریب دے کر ذلیل کیا کہ ادھر تو نکاح کے قطعی اور حتمی وعدے کرتا رہا۔ مگر مخالفوں کو شرط کا فائدہ دے کر آسمان پر چڑھایا ہوا نکاح زمین پر ادھیڑ دیا۔
- سوم...... حضرت یونس علیہ السلام کے چلے جانے کے بعد ان کی قوم ایمان لے آئی
تھی۔ قرآن شریف اس پر گواہ ہے۔ پڑھو ”لما آمنوا كشفنا عنهم عذاب الخزى فى الحيوة الدنيا ومتعناہم الى حين“
(یونس ٩٨)
یعنی قوم یونس جب ایمان لے آئی تو ہم نے اس سے عذاب ہٹا دیا ایسا ہی دوسری جگہ ارشاد ہے۔ ”وارسلناه الى مائة الف اويزيدون . فآمنوا فمتعناهم الى حين“ (صافات آیت ١٤٨) یعنی ہم نے یونس کو ایک لاکھ یا اس سے زیادہ کی طرف بھیجا۔ وہ لوگ ایمان لے آئے۔ اس لئے ہم نے ایک مدت تک انہیں دنیا کا فائدہ اٹھانے دیا۔
گویا نص قرآنی سے حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کا ایمان لانا اور اس ایمان لانے سے ہی عذاب کا ان سے ہٹایا جانا ثابت ہے۔
اب ہر سہ حوالہ جات تفاسیر مندرجہ فقرہ دوم اور ان آیات قرآنی کو ملا کر پڑھنے سے صاف واضح ہوتا ہے کہ سنت انبیاء علیہم السلام کے مطابق حضرت یونس علیہ السلام نے اپنی قوم کو
١٢٤
ایمان لانے کی تاکید کی تھی اور عذاب الٰہی سے انہیں ڈرایا تھا۔ اور ان کے انکار کی وجہ سے آپ رنجیدہ ہو کر ان کے پاس سے چلے گئے تھے۔ جس پر ان کی قوم نادم ہوئی ان کو تلاش کرنے لگی۔ اور ایمان لے آئی اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل نہیں فرمایا۔
چہارم ...... تفسیر درمنثور میں جہاں حضرت یونس علیہ السلام کا پیش گوئی کرنا مذکور ہے۔ وہاں عذاب کا آنا بھی صاف لکھا ہے۔ پس پیش گوئی اگر تھی تو صرف عذاب آنے کی تھی۔ اس شرط پر کہ اگر ایمان نہ لاؤ گے تو عذاب آئے گا۔ چنانچہ جب وہ ایمان نہ لائے تو عذاب آیا۔ اگر عذاب کو دیکھ کر ایمان لے آئے تو عذاب ہٹا لیا گیا۔ جیسا کہ آیات قرآنی محولہ بالا سے ثابت ہے حضرت یونس علیہ السلام نے اپنی قوم کی ہلاکت کی پیش گوئی نہیں کی تھی۔ صرف عذاب آنے کی پیش گوئی تھی۔ سو وہ پوری ہو گئی۔
پنجم ....... یہ ثابت ہو گیا کہ ایمان لانے سے حضرت یونس علیہ السلام کی قوم سے عذاب ٹلا۔ جو شرط مقرر تھی۔ اب مرزا قادیانی کا یہ لکھنا اور ان کی امت کا بار بار ایک بات کو ہی رٹے جانا کہ انذار و وعید کی پیش گوئیاں خوف و ہراس سے ٹل جایا کرتی ہیں۔ ناظرین خیال فرما سکتے ہیں کہ کہاں تک مطابق حالات ہے۔
کیا محمدی بیگم کی نانی مرزا قادیانی پر ایمان لائی؟۔ کیا منکوحہ آسمانی خود مرزا قادیانی کی مرید ہو گئی؟۔ کیا مرزا سلطان محمد نے مرزا قادیانی کے دعوؤں کی تصدیق کی؟۔ ان سب کی عملی حالت مرزا سلطان محمد کی تحریر اور خود مرزا قادیانی کے اقرار سے صاف اور صریح طور سے ثابت ہے کہ ان لوگوں نے نکاح کے بعد بھی مرزا قادیانی کی بدستور تکذیب کی اور ان کے دعوؤں کو جھٹلایا۔ پھر عذاب کا ٹل جانا کیا معنی؟۔ اور مرزا قادیانی سے نکاح کا وعدہ خلاف ہونے کی کیا وجہ؟۔
لہٰذا ہر طرح سے ثابت ہو گیا کہ مرزا قادیانی کی یہ پیش گوئی ہرگز منجانب اللہ نہ تھی۔ جو قطعاً دروغ بے فروغ ثابت ہوئی۔ اور اس جھوٹ پر پردہ ڈالنے کے لئے مرزا قادیانی نے جو رکیک اور فضول تاویلات و توجیہات پیش کی تھیں۔ وہ بھی لغو اور بیہودہ پائی گئیں۔ اور اہل حق پر ظاہر ہو گیا کہ مرزا قادیانی اپنے بیان کردہ معیار صدق و کذب کی رو سے کاذب تھے۔ اور ان کے اس عظیم الشان نشان کا غلط اور جھوٹ نکلنا خود ان کے مسلمات کے مطابق ان کے دعوؤں کے جھوٹ اور باطل ہونے کی نہایت ہی عظیم الشان دلیل ہے۔ ”فالحمد لله علی ذالك“
١٢٥
محض اللہ تعالی کے فضل و کرم سے ہم مرزا قادیانی کی تاویلات کا مدلل اور مسکت جواب دے چکے ہیں۔ اب ان کے خلفاء اور خاص مریدوں کے جوابات کی نقاب کشائی کرتے ہیں۔ ناظرین دیکھیں گے کہ ان لوگوں نے محض ضد تعصب اور ہٹ دھرمی کو مد نظر رکھ کر کس طرح حق کو چھپانے اور جھوٹ کے پھیلانے کی کوشش کی ہے۔ اور اس کے لئے آیات قرآنی، احادیث حضور سرور کائنات ﷺ اور اقوال بزرگان دین رحمۃ اللہ علیہم کی مفتریانہ کاٹ چھانٹ کر کے ان کو اپنے مدعا کے ثبوت میں پیش کیا ہے۔ اور اس تارک صلوٰۃ کی طرح...... جسے کسی مولوی صاحب نے نماز پڑھنے کی تاکید کی تھی۔ آیت قرآنی لا تقربوا الصلوۃ پیش کر کے جواب سے سبک دوشی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اور وانتم سکاری کی پروا نہیں کرتے۔ مومنوں، دینداروں اور اہل علم کا یہ ایک عام اصول ہے کہ کسی آیت ، حدیث ، اقوال، بزرگان وغیرہ کے معنے اس طریق پر کرنے چاہیں جو نصوص قطعیہ اور اصول اسلام کے مخالف نہ ہوں۔ مگر مرزائیوں کا باوا آدم ہی نرالا ہے۔ ان کے معنی ان کی تفسیریں ان کی تاویلیں دنیا جہاں سے جدا ہیں وہ ہر ایک مقام سے وہی معنی اخذ کرتے ہیں۔ جو ان کے مطلب کی تائید کریں۔ خواہ وہ معنی آئمہ کرام ، اکابرین اور سلف صالحین سب کے خلاف ہوں۔ بقول یہ کہ:
معمولی معمولی باتوں میں بھی کسی عبارت کا مطلب سیاق کلام مشہور و معروف معنی اور اصول کو مد نظر رکھ کر ہی کیا کرتے ہیں۔ مثلاً کسی کا شعر ہے:
شاہ توت خورد و روزہ قاضی بجا بماند
جولوگ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ کھانے پینے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ وہ اس شعر کے معنی یوں کریں گے کہ قاضی جی باغ میں گئے جو روزہ سے تھے۔ بادشاہ نے توت کھائے اور قاضی جی کا روزہ بدستور قائم رہا۔ لیکن ظاہر الفاظ سے مرزائی معنی اس شعر کے یہ ہوں گے کہ قاضی جی نے بحالت روزہ باغ میں جاکر شہتوت کھائے۔ مگر روزہ ان کا نہیں ٹوٹا جب اس پر اعتراض ہو کہ حضرت کھانے سے تو روزہ قائم نہیں رہا کرتا تو جھٹ جواب دیں گے کہ حضرت یہ
١؎ مرزا قادیانی کے ملہم نے آدم کے نام سے بھی پکارا ہے۔ جیسا کہ ان کے الہام ہیں: ”ارید ان استخلف فخلقنا آدم ۔ یاآدم اسکن انت وزوجک الجنۃ“
١٢٦
ہمارے مرزا قادیانی کے آسمانی حقائق و معارف ہیں تم زمین کے رہنے والے کیا جانو! ایسا ہی ایک اور شعر ہے:
لعنت برآں کس است کہ گفتہ خدا یکیست
مسلمان اس کے یہ معنی کریں گے کہ کسی نے مسجد میں آکر کہا کہ خدا دو ہیں۔ ایسا کہنے والے پر لعنت ہو کیونکہ خدا ایک ہی ہے۔
لیکن مرزائی صاحبان یوں فرمائیں گے کہ ایک شخص نے مسجد میں آکر دعویٰ کیا کہ خدا دو ہیں۔ جو شخص ایک خدا کا مانتا ہے اس پر لعنت ہو۔ جب اس مشرکانہ قول کی ان سے وجہ دریافت کی جائے گی تو مرزا قادیانی کا الوہیت والا کشف یا ابنیت والے الہام پیش کر دیں گے۔ اور جواب دیں گے کہ جب مرزا قادیانی کی تصانیف میں پاک تثلیث کا ثبوت موجود ہے تو دو خداؤں کے ماننے میں کیا نقصان ہے۔ مثل مشہور ہے کہ: ”پیران نمی پرند و مریدان ھمی پرانند“ مرزا قادیانی کے لئے تو ان کے الہام کے مطابق تاویل کا باب خدا نے کھول دیا تھا۔ لیکن مرزائیوں نے فن تاویل میں وہ مہارت پیدا کی ہے اور مرزا قادیانی کی بریت کے لئے وہ ایسی ایسی لاطائل دلائل پیش کرتے ہیں جو ساری عمر میں خود مرزا قادیانی کو بھی نہیں سوجھیں۔ جیسا کہ ایک پنجابی مثل ہے کہ:
یعنی چال باز اور عیار مرشد کے چیلے بھی تیز و طرار ہی ہوتے ہیں۔ بہر حال ناظرین خود اندازہ فرمالیں گے کہ مرزائی بیانات میں صداقت کا کتنا حصہ ہے۔ لیکن یہ امر خاص طور پر مدنظر رکھنے کے لائق ہے کہ مرزائی تاویل کنندگان غالباً بوکھلاہٹ یا بدحواسی میں اس امر کا مطلقاً لحاظ نہیں کیا کہ ان کی تاویلات مرزا قادیانی کی تحریرات کے خلاف تو نہیں ہو جاتیں؟۔ اور ان کی دلائل مرزا قادیانی کے صاف اور صریح مسلمات کا رد تو نہیں کرتیں؟۔ نیز دوسرے مرزائی اس بارہ میں کیا کہتے ہیں؟۔ ایک حکایت مشہور ہے کہ کئی اندھوں نے ایک ہاتھی کو دیکھنے کا اشتیاق ظاہر کیا۔ فیلبان نے ان کو ہاتھی کے گرد لے جاکر کھڑا کر دیا۔ کسی نے ہاتھی کی سونڈ پکڑ لی۔ کسی نے ٹانگ کو ہاتھ لگایا کسی نے کان پکڑا اور کسی نے دم کو سہلایا۔ جب دیکھ کر فارغ ہوئے تو ہاتھی کی شکل پر بحث
١٢٧
کرنے لگے۔ ایک نے کہا ہاتھی تو سانپ کی طرح لمبا ہے۔ دوسرا بولا واہ! ہاتھی تو ستون جیسا ہوتا ہے تیسرے نے کہا ارے! وہ تو چھاج کی شکل کا ہے۔ چوتھا کہنے لگا بیوقوفو! میں نے اچھی طرح دیکھا ہے وہ ایک لمبے رسے کی شکل کا ہے۔
یہی حالت مرزائی تاویلوں کی ہے۔ نہ مرزا قادیانی کے الہامات کی پروا ہے نہ ان کے اقوال کی نہ دوسرے مرزائیوں کی تحریروں پر نظر ہے۔ نہ واقعات کا خیال کرتے ہیں۔ ان کی یہ قابل رحم حالت اس مثل کی مصداق ہے کہ:
ہمارے اس بیان کی صداقت ناظرین پر مرزائی تحریرات اور ہمارے جوابات سے خود بخود ثابت ہو جائے گی۔ ”واللہ المستعان“
٢...... خلیفہ اول حکیم نورالدین قادیانی
٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو جب مرزا قادیانی کا انتقال ہو گیا۔ اور ان کی امت میں صف ماتم بچھ گئی اور مرزا قادیانی کے حریف پہلوانوں جناب ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب مرحوم پٹیالوی اور جناب مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری وغیر ہم نے مرزا قادیانی کی ادھوری پیش گوئیوں اور متعدد ناکامیوں کے اظہار سے امت مرزائیہ پر اتمام حجت کیا۔ تو قادیانی کمپنی نے سب سے پہلے یہ بات ضروری خیال کی کہ دام افتادگان کی تسلی و تشفی کریں۔ تا کہ شکار جال سے نہ نکل جائے۔ چنانچہ ماہ جون و جولائی ١٩٠٨ء کا رسالہ (ریویو آف ریلیجنز جلد ٧ نمبر ٦، ٧) اکٹھا نکالا گیا۔ اور اس میں مرزا قادیانی کی موت پر حکیم نورالدین قادیانی و محمد احسن صاحب وغیرہ نے شرح وبسط سے بحث کی۔ اور مرزا قادیانی کی ناکامیوں کو کامیابی کے رنگ میں پیش کیا۔ چنانچہ نور الدین قادیانی اپنے مضمون وفات مسیح موعود کے زیر عنوان پیش گوئی نکاح کے متعلق یوں رقمطراز ہیں۔
”ایک لڑکی کے متعلق کہ اس سے آپ کی شادی ہو گی ......... جو اعتراض ہے اس کا للہ وباللہ قرآنی جواب یہ ہے کہ کتب سماویہ کا طرز ہے کہ مخاطب سے گاہے خود مخاطب ہی مراد ہوتا ہے اور گاہے وہ اور اس کا جانشین اور اس کی اولاد بلکہ اس کا مثیل مراد ہوتا ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ زمانہ نبوی میں فرماتا ہے۔ ”اقیموا الصلوۃ واتوا الزکوۃ“ اس حکم الہی میں خود
١٢٩
مخاطب اور ان کے بعد کے لوگ شامل ہیں۔ جو ان مخاطبین کی مثل ہیں۔ ایسی دو تین آیات نقل کر کے لکھتے ہیں کہ: ”اب تمام اہل اسلام کو جو قرآن کریم پر ایمان لائے اور لاتے ہیں ان آیات کا یاد دلانا مفید سمجھ کر لکھتا ہوں کہ جب ...... مخاطبہ میں مخاطب کی اولا د مخاطب کے جانشین اور اس کے مماثل داخل ہو سکتے۔ تو احمد بیگ کی لڑکی یا اس لڑکی کی لڑکی کیا داخل نہیں ہو سکتی۔ اور کیا آپ کے علم فرائض میں بنات البنات کو حکم بنات نہیں مل سکتا۔ اور کیا مرزائی اولاد مرزا کی عصبہ نہیں میں نے بارہا میاں محمود کو کہا کہ اگر حضرت کی وفات ہو جائے اور یہ لڑکی نکاح میں نہ آئے تو میری عقیدت میں تزلزل نہیں آسکتا۔ پھر یہی وجہ بیان کی۔ ”والحمد لله رب العالمین“
(ریویو بابت ج٧ نمبر ٦، ص ٢٧٦ تا ٢٧٩، جون جولائی ١٩٠٨ء)
حکیم نور الدین قادیانی اہل علم میں شمار ہوتے تھے۔ مرزائیوں کو اور خود مرزا قادیانی کو ان کی علمیت پر بڑا ناز تھا۔ چنانچہ وہ خلیفہ اوّل بھی اسی لئے منتخب ہوئے۔ لیکن اس تاویل سے ان کی علمیت وفضیلت اور فلاسفی خوب روشن ہوتی ہے کہ:
جس طرح زمانہ رسالت حضرت رسول اللہ ﷺ میں مسلمانوں کو نماز ادا کرنے کا وہ حکم مابعد کے مسلمانوں پر بھی حاوی ہے۔ اسی طرح اگر مرزا قادیانی کا نکاح محمدی بیگم سے تجویز ہوا تو کچھ حرج نہیں۔ جب مرزا قادیانی کے کسی لڑکے یا اس لڑکے کے لڑکے کے لڑکے کے لڑکے کا محمدی بیگم کی کسی لڑکی یا اس لڑکی کی لڑکی کی لڑکی کی لڑکی سے نکاح ہو جائے گا تو یہ پیش گوئی پوری ہو جائے گی۔ یا جس طرح آجکل سب مسلمان نماز پڑھتے ہیں اور آئندہ بھی تا قیامت پڑھتے رہیں گے۔ اسی طرح مرزا قادیانی کی اولاد میں سے جنس ذکور کا محمدی بیگم کی اولاد میں سے جنس اناث کے ساتھ اب بھی نکاح ہو رہا ہے۔ اور آئندہ بھی تا قیامت ہوتا رہے گا۔ اس طرح سے مرزا قادیانی کی پیش گوئی پوری ہوتی رہے گی۔ واہ حکیم صاحب! ماشاء اللہ کیسی پر زور دلیل پیش کی ہیں کہ تمام مرزائی قلم توڑ دیئے۔ بھلا اس تاویل کے لاجواب ہونے میں کچھ شبہ ہے؟ ۔ ہرگز نہیں ! لیکن ذرا اپنے مسیح ، مہدی ، کرشن اور نبی صاحب کا اقرار تو ملاحظہ کرو کہ:
”اس پیش گوئی نکاح کی تصدیق کے لئے جناب رسول اللہ ﷺ نے بھی پہلے سے ایک پیش گوئی فرمائی ہے۔ ”یتزوج ویولد له“ یعنی وہ مسیح موعود بیوی کرے گا۔ اور
١٣٠
صاحب اولاد ہوگا۔ اب ظاہر ہے کہ تزوج اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے۔ اس میں کچھ خوبی نہیں بلکہ تزوج سے مراد وہ خاص تزوج ہے۔ جو بطور نشان ہوگا اور اولاد سے مراد وہ خالص اولاد ہے جس کی نسبت اس عاجز کی پیش گوئی موجود ہے۔ گویا اس جگہ رسول اللہ ﷺ ان سیاہ دل منکروں کو ان کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں۔ اور فرمارہے ہیں کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧)
اسی طرح مرزا قادیانی کا الہام زوجنکھا ظاہر کرتا ہے کہ یہ نکاح خاص مرزا قادیانی کے ساتھ آسمان پر ہوا اور زمین پر ہونا تھا۔ اس مضمون کی زیادہ توضیح غیر ضروری ہے۔ مرزا قادیانی کے بیسیوں الہامات واقوال رسالہ ہذا میں نقل کر چکے ہیں۔
(دیکھو اسی باب میں مرزا قادیانی کی تاویل دوم کا رد فقرہ ٦)
پس جب یہ نکاح مرزا قادیانی سے حسب اقرار خود مسیح موعود بھی نہ ہوئے اور ناکام تشریف لے گئے اور حکیم صاحب کی یہ تاویل محض لچر و پوچ ثابت ہوئی۔
حکیم صاحب فرماتے ہیں کہ ”کیا آپ کے علم الفرائض میں بنات البنات کو حکم بنات نہیں مل سکتا۔“
(ریویو آف ریلیجنز ج ٧ نمبر ٦، ص ٢٧٩، جون، جولائی ١٩٠٨ء)
جی ہاں نہیں مل سکتا کیونکہ بنات ذوی الفروض اور البنات ذوی الارحام ہیں۔ حکیم صاحب کا دونوں کا یکساں سمجھنا غلط اور تعجب انگیز ہے۔ رہا حکیم صاحب کے ایمان میں تزلزل کا نہ آنا۔ سو یہ بات حکیم جی کے بس کی نہیں ان کی ظاہری آنکھ (بصارت) محض مرزا قادیانی کی نبوت ومسیحیت کو دیکھتی تھی۔ اس باطل عقیدہ کے حسن و قبح کی تمیز کے لئے باطنی آنکھ جسے بصیرت کہتے ہیں ملی ہی نہ تھی۔ پھر اگر ایمان میں تزلزل آتا تو خلافت کیسے ملتی۔ حکیم صاحب تو ایک اور موقعہ پر یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ: ”اگر مرزا قادیانی شریعی نبی ہونے کا بھی اعلان کر دیتے تو مجھے اس کے ماننے میں کوئی تامل نہ ہوتا۔“
(ملخص سیرۃ المہدی حصہ اول ص ٩٩ روایت نمبر ١٠٩)
حالانکہ مرزا قادیانی اپنی نبوت کو خود ہی مجازی غیر حقیقی ، ظلی ، بروزی اور غیر تشریعی وغیرہ وغیرہ کہتے رہے۔ پھر ایسے فانی فی المرزا حکیم صاحب کے قول کا کیا اعتبار! کسی نے ایسوں کے حق میں ہی کہا ہے کہ:
پھروں میں تجھ سے تو مجھ سے مرا خدا پھر جا
١٣١
٣...... مرزا قادیانی کے دوسرے مددگار فرشتہ لے محمد احسن امروہوی
حکیم نورالدین قادیانی کی طرح محمد احسن قادیانی نے بھی امت مرزائیہ کی ڈوبتی اور ڈگمگاتی ناؤ کو بچانے کے لئے خوب زور لگایا۔ اور بمقتضائے مثل مشہور کھسیانی بلی کھمبا نوچے۔ اور کچھ نہ بنا تو مولوی ثناء اللہ اور ڈاکٹر عبدالحکیم صاحبان اور دیگر معترضین کے حق میں سب وشتم کی بھر مار کر دی۔ آپ کے مضمون کا عنوان ہے۔ حیات الانبیاء فی وفات الانبیاء اس مضمون کا جو حصہ امر زیر بحث ( نکاح آسمانی ) کے متعلق ہے۔ درج ذیل ہے۔
”پیش گوئی نکاح کا جواب شافی و کافی خود حضرت اقدس ( مرزا قادیانی) نے (حقیقت الوحی ص ١٩٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٩٧ اور تتمہ حقیقت الوحی ص ٣٢، خزائن ج ٢٢ ص ٥٦٩) میں دے دیا ہے۔ اس کو دیکھو اور چونکہ علم تعبیر الرؤیا کا دروازہ بند نہیں ہوا۔ لہٰذا اگر اس پیش گوئی نکاح کو بموجب اصول علم رؤیا کے بہ نظر غور دیکھا جائے تو بالکل مطلع صاف ہے۔ کسی طرح کا شبہ باقی نہیں رہ سکتا۔ کتب تعبیر رؤیا میں لکھا ہوا ہے کہ ” النكاح هو فى المنام يدل على المنصب الجليل “ دیکھو تصدیق اس کے اخبارات دنیا میں کہ اخبار متعلقہ وفات حضرت مسیح موعود میں آپ کے منصب جلیل کی عظمت کو کس تعظیم سے اہل اخبار بیان کرتے ہیں۔“
(ریویو ج ٧ نمبر ٦، ٧ ص ٢٥٣، جون، جولائی ١٩٠٨ء)
محمد احسن امروہی نے اس جواب میں دو رنگی اختیار کی ہے۔ پہلے مرزا قادیانی کی تاویل فسخ یا تاخیر نکاح کو نہایت درجہ شافی و کافی سمجھتے ہیں۔ اور پھر مرزا قادیانی کے اس جواب کو کافی نہ پا کر اور اس سے اطمینان قلب حاصل نہ کر کے اصول علم تعبیر الرؤیا کا بھی سہارا لیتے ہیں۔ ہم مرزا قادیانی کی تاویل فسخ نکاح وغیرہ کا جواب تو اسی باب کے شروع میں مفصل دے چکے ہیں۔ وہاں دیکھنا چاہئے۔ رہا احسن صاحب کا علم تعبیر الرؤیا اس اصول پر احسن صاحب مرزا قادیانی کا نکاح قائم رکھتے ہوئے اس کی یہ تاویل کرتے ہیں کہ خواب میں نکاح کا دیکھنا علو
لے حضرت عیسیٰ علیہ السلام دو فرشتوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے نازل ہونا مذکور ہے۔ مرزا قادیانی نے جب مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تو حکیم نورالدین اور محمد احسن امروہوی کو ان فرشتوں سے تشبیہ دی۔ محمد احسن قادیانی بعد میں مرزا قادیانی سے منکر ہو کر لاہوری پارٹی میں شامل ہوگئے تھے۔
١٣٢
منصب کی دلیل ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی کی موت کا اخباروں میں ذکر چھپا جس سے ان کا منصب ١؎ بلند ہوا۔
اللہ اکبر! کاذب فرقوں کے دجل وفریب کی بھی کچھ انتہاء ہے کیسی کیسی حرکات مذبوحی کرتے ہیں کہ کسی طرح بات بن جائے۔ لیکن ان شعبدہ بازیوں کو عقل کے اندھے ہی قبول کر سکتے ہیں۔ جن کے دماغ میں ایک ذرہ بھی عقل و ایمان کے نور کا موجود ہے۔ وہ ان فضولیات کو تسلیم نہیں کر سکتے۔ مرزا قادیانی نے تو اس پیش گوئی کی بناء وحی الٰہی پر رکھی۔ (دیکھو آئینہ کمالات اسلام ص٢٨٧، خزائن ج٥ ص٢٨٧، اور اشتہار ١٠ جولائی ١٨٨٨ء، مجموعہ اشتہارات ج١ ص١٥٨)
اور بعد میں بیسیوں الہام اس کی تائید میں بیان کئے لیکن میاں احسن صاحب اس پیش گوئی کی حقیقت محض ایک خواب بتلاتے ہیں۔ جسے عربی میں احلام کہتے ہیں۔ چونکہ یہ بے نتیجہ رہی لہٰذا ہم بھی حسب ارشاد مولوی ثناء اللہ صاحب اسے اضغاث احلام قرار دیتے ہیں۔ اور میاں احسن صاحب اور ان کے ہم مشربوں سے سوال کرتے ہیں کہ کیا مرزا قادیانی نے محمدی بیگم کا نکاح واقعی خواب میں ہی دیکھا تھا۔ اور اس بارہ میں وحی الہام وغیرہ کچھ بھی نہ تھا۔ اگر احسن صاحب کا قول صحیح ہے تو مرزا قادیانی مفتری علی اللہ ٹھہرتے ہیں۔ اگر مرزا قادیانی کا لکھنا درست ہے تو تم لوگوں کا افتراء ہے کہ الہام و وحی کو خواب بتلاتے ہو۔ بہر حال الہام و وحی کے جھوٹ نکلنے پر مرزا قادیانی مفتری ثابت ہوتے ہیں۔ اور الہام کو خواب کہنے پر یہی جرم تم لوگوں کے ذمہ عائد ہوتا ہے۔ سچا دونوں میں کوئی نہیں۔
٤...... مفتی محمد صادق صاحب ایڈیٹر بدر
مفتی صاحب بھی مرزائی کمپنی کی چوٹی کے ممبروں میں شمار ہوتے ہیں۔ مرزا قادیانی کی زندگی میں وہ اپنا نام یوں لکھا کرتے تھے۔ حضور (مرزا قادیانی) کی جوتیوں کا غلام محمد صادق۔
(دیکھو حقیقت الوحی ص٢٧٥، خزائن ج٢٢ ص٢٨٩)
مفتی صاحب بھی نکاح آسمانی کا فسخ ہو جانا مانتے ہیں۔ چنانچہ لکھتے ہیں کہ حضرت اقدس (مرزا قادیانی) نے اپنی کتاب حقیقت الوحی میں لکھ دیا تھا کہ خدا تعالیٰ نے اب اس نکاح کو منسوخ کر دیا ہے۔
(بدر ج٧ نمبر ٢٣ ص٤، ١١ جون ١٩٠٨ء)
١؎ منصب بڑھنے کی بھی ایک ہی کہی ذرا مسلمانوں اور عیسائیوں کے اخبار تو دیکھے ہوتے؟۔ کیسی تعریفیں چھپی ہیں اور ضرورت ہو تو ہم پیش کرنے کو تیار ہیں۔
١٣٣
اس مضمون پر آپ نے ایک علیحدہ رسالہ آئینہ صداقت بھی لکھا ہے۔ اس میں فسخ کی صورت کو ہی اختیار کیا ہے۔ (دیکھو رسالہ مذکور ص ٢٤) اس تاویل فسخ نکاح کی مفصل تردید مرزا قادیانی کی تاویلات کی تردید میں بیان ہوچکی ہے۔ لہٰذا مکرر درج کرنے کی ضرورت نہیں۔ وہاں دیکھ لی جائے۔
- ٥......محمد علی لاہوری ایم ۔اے امیر جماعت لاہور
آپ مرزا قادیانی کے اخص مریدان میں سے ہیں۔ مرزا قادیانی کی حیات اور حکیم نورالدین قادیانی کی خلافت کے زمانہ میں رسالہ ریویو آف ریلیجنز کے ایڈیٹر رہے۔ اور مرزائی مذہب کی خوب قلمی خدمت کی۔ جس میں آپ کو اچھا ملکہ حاصل ہے۔ جب حکیم نورالدین کے انتقال پر خلافت کا...... بحق مرزا محمود احمد قادیانی فیصلہ ہوا تو آپ اس سے اختلاف رائے کرکے لاہور آگئے۔ اور لاہور میں اپنی جدا جماعت بنائی۔ اور خود اس کے امیر بن گئے۔
قادیانی اور لاہوری دونوں پارٹیاں مرزا قادیانی کے تمام عقائد باطلہ کو مانتی ہیں اور اہل اسلام سے قطع تعلق نماز جماعت اور نماز جنازہ کی عدم شرکت وغیرہ کی دونوں قائل اور اس پر عامل ہیں۔ فرق صرف اس قدر ہے کہ قادیانی پارٹی مرزا قادیانی کو نبی اور رسول مانتی ہے۔ مگر لاہوری پارٹی انہیں یہ رتبہ نہیں دیتی۔ بلکہ مسیح موعود اور مجدد مانتی ہے۔
نکاح آسمانی کے متعلق محمد علی لاہوری لکھتے ہیں کہ: ”یہ سچ ہے کہ مرزا قادیانی نے کہا تھا کہ نکاح ہوگا۔ اور یہ بھی سچ ہے کہ نکاح نہیں ہوا۔ (باوجود پیش گوئی غلط ثابت ہونے کے آگے چل کر لکھتے ہیں کہ) میں کہتا ہوں کہ ایک ہی بات کو لے کر سب باتوں کو چھوڑ دینا ٹھیک نہیں کسی امر کا فیصلہ مجموعی طور پر کرنا چاہئے جب تک سب کو نہ لیا جائے ہم نتیجہ پر نہیں پہنچ سکتے۔ صرف ایک پیش گوئی لے کر بیٹھ جانا اور باقی پیش گوئیوں کو چھوڑ دینا جن کی صداقت پر ہزاروں گواہان موجود ہیں طریق انصاف اور راہ ثواب نہیں۔ صحیح نتیجہ پر پہنچنے کے لئے دیکھنا چاہئے کہ تمام پیش گوئیاں پوری ہوئیں یا نہیں۔“
(اخبار پیغام صلح لاہور ١٦؍جنوری ١٩٢١ء، ص ٥ کالم نمبر ٣)
ریویو ج ٧ نمبر ٦ ، ٧۔ جون، جولائی ١٩٠٨ء میں بھی محمد علی صاحب نے یہی رنگ اختیار کیا ہے۔ (دیکھو ص ٢٨٩،٢٩٢) مطلب صاف ہے کہ گو مرزا قادیانی کی یہ پیش گوئی بالکل غلط
١؎ مرزا قادیانی بھی (تحفہ گولڑویہ ص ٣٩، خزائن ج ١٧ ص ١٥٧) میں اسی طرح لکھ کر پیچھا چھڑاتے ہیں۔
١٤٤
اور جھوٹ نکلی۔ لیکن ان کی اور بہت سی پیش گوئیاں سچ ثابت ہوئی ہیں۔ لہٰذا فیصلہ کثرت رائے پر ہونا چاہئے۔
افسوس! کہ ایسے قابل شخص کے قلم سے مذہبی معاملات میں ایسا ناکارہ استدلال تحریر ہو
سنیے محمد علی لاہوری صاحب! یہ امر مسلمہ اور فیصل شدہ ہے کہ مرزا قادیانی کی تحدی کی وہ پیش گوئیاں جنہیں انہوں نے اپنے صدق و کذب کا معیار قرار دیا تھا۔ سب کی سب غلط ثابت ہوئی ہیں۔
(ملاحظہ ہوں رسالہ جات الہامات مرزا اور عشرۃ کاملہ وغیرہ)
رسالہ ہٰذا میں اس پیش گوئی کو محض اس لئے معرض بحث میں لایا گیا ہے کہ مرزا قادیانی نے اسے مسلمان قوم کے متعلق بیان کر کے اپنے صدق یا کذب کا نہایت ہی عظیم الشان نشان قرار دیا تھا۔
(رسالہ ہٰذا کا باب اوّل ملاحظہ ہو)
جب مرزا قادیانی خود اپنے مقرر کردہ معیار کی رو سے کاذب ٹھہرے تو آپ لوگوں کو کوئی حق ان کے برخلاف کہنے کا نہیں ہے۔ اور پھر (بزعم خود) خدا کے فرستادہ مامور اور مرسل کی پیش گوئی کا اس طرح غلط نکلنا ایسے مدعی کے کذب کی بین دلیل ہے۔ (دیکھو تورات استثنا باب ١٨ آیات ٢٠، ٢١ اور ابن صیاد کا قصہ وغیرہ) اور خود مرزا قادیانی بھی اس اصول کو مانتے ہیں کہ:
”اللہ تعالیٰ کے ایک وعدہ کا ٹوٹ جانا اس کے تمام وعدوں پر سخت زلزلہ لاتا ہے۔ اور ایسی لغو باتوں سے اللہ تعالیٰ کی کسر شان اور حد درجہ بے ادبی متصور ہے۔“
(توضیح مرام ص ٨، خزائن ج ٣ ص ٥٥)
پس باوجود پیش گوئی کا کذب تسلیم کرنے کے آپ کا مرزا قادیانی کو راستی پر ماننا پرلے درجہ کی نادانستی اور خود مرزا قادیانی کے مسلمات کے خلاف ہے۔ آخر خدا کو کیا جواب دو گے؟۔
ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں
صحیح بات بھی کبھی منہ سے نکل ہی جاتی ہے۔ محمد علی لاہوری ایک موقعہ پر خود تحریر فرماتے ہیں کہ: ”پیش گوئیوں کو کسی کے صدق و کذب کا معیار قرار دینا ان نادانوں کا ہی کام ہے جو امرتسری مکذب (مولوی ثناء اللہ صاحبؒ) کی طرح علم و فضل کو بغض و تعصب کی قربان گاہ پر نثار کر چکے ہیں۔
(پیغام صلح ٣؍جون ٢٥ء ص ٣)
بے شک محمد علی لاہوری! پیش گوئیوں کو صدق و کذب کا معیار قرار دینا نہ صرف نادانوں
١٣٥
بلکہ پاگلوں کا کام ہے کیونکہ انبیاء علیہم السلام میں کوئی ایسی مثال موجود نہیں۔ اور جیسا کہ ہم نے اسی رسالہ میں مفصل بحث کی ہے پیش گوئیاں، رمال، جفار، پانڈے اور کفار بھی کرتے ہیں۔ اس میں سب شریک ہیں۔ لیکن ہم کیا کریں مرزا قادیانی نے اپنے پیرووں کو گھر کا رکھا ہے نہ گھاٹ کا وہ خود ہی لکھ گئے ہیں کہ: ”ہمارا صدق و کذب جانچنے کے لئے ہماری پیش گوئیوں سے بڑھ کر اور کوئی محک امتحان نہیں ہو سکتا۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨٨، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
اب لاہوری پارٹی فیصلہ کر لے کہ نادانی کا سہرا مرزا قادیانی کے سر کو زیب دیتا ہے کہ کوئی اور اس خطاب کا مخاطب ہو سکتا ہے۔
٦....... قاضی ظہور الدین اکمل کا رسالہ احمد بیگ والی پیش گوئی
یہ ایک مستقل کتاب ہے۔ جس میں نکاح آسمانی کے متعلق اعتراضات سے بریت کی انتہائی کوشش کی گئی ہے۔ مرزائیوں میں امر زیر بحث کے متعلق اس رسالہ کو بہت کچھ مایہ ناز سمجھا جاتا ہے اور دعویٰ کیا جاتا ہے کہ نکاح آسمانی کے متعلق تمام اعتراضوں اور شبہات کا جواب اس رسالہ میں موجود ہے۔
مؤلف رسالہ قاضی صاحب کی علمیت کا بھاری ثبوت ان کا نام اکمل ظاہر کرتا ہے۔ یعنی وہ صرف کامل و مکمل ہی نہیں بلکہ اپنا نام اکمل رکھتے ہیں۔ آپ اخبار الفضل کے چیف ایڈیٹر ہیں۔ رسالہ ہٰذا میں کئی باتیں بہ تکرار بیان کی گئی ہیں۔ مگر ہم اختصار کو ملحوظ رکھ کر محض نکاح کے متعلق اس پر روشنی ڈالتے ہیں۔
اوّل آپ نے پیش گوئیوں کے اصول پر ایک لمبا چوڑا مضمون لکھا ہے۔ جس کے مختلف عنوانات ہیں۔ ہم ہر ایک عنوان پر بحث کریں گے۔ لیکن قبل اس کے کہ قاضی صاحب کے بیان کردہ اصول و فروع کی کسوٹی پر مرزا قادیانی کی اس نہایت ہی عظیم الشان پیش گوئی کا امتحان کیا جائے۔ یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ نکاح، شادی، مرگ، حصولِ زر، راحت و تکلیف وغیرہ کی پیش گوئیاں عام طور پر سینکڑوں رمال، منجم، جفار، اہلِ تدبر اور صاحبانِ فراست کرتے رہتے ہیں۔ اور وہ پوری بھی ہوتی ہیں۔ اور نہیں بھی ہوتیں گویا پیش گوئی کرنا انسانی طاقت سے باہر نہیں۔ اور یہ امر انبیائے کرام اور عام لوگوں میں مشترک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی نبی نے کبھی اپنی کسی پیش گوئی کو اپنے صدق و کذب کا معیار قرار نہیں دیا۔ اس کا ثبوت پیش کرنے کی کچھ ضرورت نہیں۔ اخباروں، جنتریوں وغیرہ میں بارش، قحط، جنگ، زلازل اور وبا وغیرہ کی پیش گوئیاں چھپتی رہتی ہیں اور ان میں سینکڑوں صحیح ثابت ہوتی ہیں۔ زمانہ گذشتہ بھی اس سے خالی
١٣٦
نہیں رہا۔ امام فخر الدین رازی کی تفسیر کبیر میں (جس کے حوالے مرزا قادیانی انجام آتھم وغیرہ میں دیتے رہے ہیں) لکھا ہے کہ : ”ایک بغدادیہ کاہنہ کو سلطان سنجر بغداد سے خراسان لے گیا۔ اور بہت سے آئندہ کے حالات اس سے دریافت کئے ۔ اس عورت نے ان کا جواب دیا۔ اور جیسا اس نے کہا تھا۔ اسی کے مطابق ہوا۔ یعنی اس کی پیش گوئیاں پوری ہوئی۔ (امام فخر الدین رازیؒ لکھتے ہیں کہ ) میں نے ایسے علماء کو دیکھا جو علم کلام وحکمت کے محقق تھے۔ انہوں نے اس عورت کاہنہ کی نسبت بیان کیا کہ اس نے بہ تفصیل بہت سے آئندہ باتوں کی خبریں دیں اور اس کے کہنے کے مطابق ان کا ظہور ہوا اور علامہ ابو البرکات نے اپنی کتاب معتبر میں اس کا مشرح حال بیان کیا ہے اور لکھا ہے کہ میں نے تیس برس تک اس کے حالات کو تحقیق کیا۔ یہاں تک کہ مجھے یقین ہو گیا کہ اس کی پیش گوئیاں صحیح ہوتی ہیں۔
(تفسیر کبیر ج ٨)
غور کا مقام ہے کہ ایک کاہنہ عورت مسلمانوں کے روبرو تیس برس پیش گوئیاں کرتی رہی اور اس بات میں وہ ایسی مشہور تھی کہ خراسان کا بادشاہ اسے اپنے ساتھ لے گیا۔ امام فخر الدین صاحب رازیؒ اس کی تصدیق تین طرح سے کرتے ہیں۔ اوّل! بادشاہ کا تجربہ ۔ دوم! علمائے محققین کا تجربہ۔ سوم! علامہ ابو البرکات کا تیس سالہ تجربہ ۔ رمالوں منجموں اور جفاروں کا پہلے ذکر آچکا ہے۔ پھر مرزا قادیانی کا ہی اصول ملاحظہ ہو جو لکھتے ہیں کہ :
”بعض فاسق اور فاجر اور زانی اور ظالم اور غیر متدین اور چور اور حرام خور اور احکام خدا کے مخالف ...... مردار کھانے والی چوہڑیاں، زانیہ عورتیں اور کنجریاں سچے خواب دیکھ لیتی ہیں اور وہ پورے ہوتے ہیں ۔“
(حقیقت الوحی ص ٢، ٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥)
”ایسی خوابوں اور الہامات میں ہر ایک فاسق و فاجر اور کافر اور ملحد یہاں تک زانیہ عورتیں بھی شریک ہوتی ہیں ۔“
(حقیقت الوحی ص ١٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٣)
ایسے غلط امر کو مرزا قادیانی کا اپنی نبوت کی بنیاد قرار دینا اور اسے اپنے صدق وکذب کا معیار بتانا ہی سراسر لغو اور باطل تھا۔ جس میں کافر ومومن ، صادق و کاذب، نیک اور بد سب شریک ہیں ۔
تا ثریا می رود دیوار کج
غالباً اسی وجہ سے لاہوری پارٹی کے امیر نے اس حرکت کو نادانی سے موسوم کیا ہے۔ جیسا کہ اوپر مفصل مذکور ہوا اس سے ثابت ہوا کہ ہر پیش گوئی کنندہ نبی نہیں ہو سکتا ۔ البتہ نبی برحق
١٣٧
اگر کوئی پیش گوئی کرے تو وہ ضرور پوری ہوتی ہے۔ پس جب پیش گوئیاں دلیل نبوت و ولایت ہی نہیں۔ ان کے اصولوں پر بحث کرنا ہی فضول ہے۔ لیکن چونکہ مرزا قادیانی نے اس اصول کو مانا ہے۔ اور قاضی صاحب نے اس پر مفصل بحث کی ہے۔ لہذا ان کے ہر ایک عنوان پر برعایت پیش گوئی نکاح آسمانی تبصرہ کیا جاتا ہے۔
- الف ...... پیش گوئیوں میں اخفا کا پہلو ضروری ہے
اس پیش گوئی میں اخفا کا کوئی پہلو نہیں تھا۔ لڑکی کا نام تک خدا نے مرزا قادیانی کو بتا دیا تھا۔ اس کے خاوند کا مرنا اور مرزا قادیانی کا اس سے نکاح ہونا اٹل اور تقدیر مبرم تھا جس پر قسمیں کھائی گئیں۔
- ب ..... پیش گوئی کے دو پہلو محکم اور متشابہ ہوتے ہیں
یہ پیش گوئی محکم تھی متشابہ نہ تھی۔ کیونکہ لڑکی کا نام لڑکی کے باپ کا نام سب کچھ بروئے الہامات متواتر معلوم ہو چکا تھا۔
- ج ..... پیش گوئی کی غرض پوری ہونی چاہئے نفس پیش گوئی کا پورا ہونا ضروری نہیں
اس پیش گوئی کی غرض پوری ہونے سے کوئی غرض نہ تھی۔ بلکہ نکاح ہونا لازمی تھا۔ جبکہ مرزا قادیانی کو ایک بار حالت نزع میں بھی ”الحق من ربك فلا تكن من الممترين “ کے الہام سے وقوع نکاح کا یقین دلایا گیا۔
(انجام آتھم ص ٦٠، خزائن ج ١١ ص ٦٠)
- د...... بعض پیش گوئیوں کی حقیقت کا علم انبیاء کو بھی نہیں ہوتا
اس پیش گوئی کی حقیقت مشتبہ نہیں رہی۔ بلکہ وحی اور الہاموں سے بار بار اس کا مطلب نکاح اور صرف نکاح لازمی اور قطعی ظاہر کیا گیا۔
- ہ ...... پیش گوئی کے ظہور کا وقت سمجھنے میں نبیوں سے غلطی ہو جاتی ہے
سچے نبیوں نے کبھی کوئی ایسی پیش گوئی بتعین وقت و بہ تخصیص معیار صداقت خود نہیں کی جو پوری نہ ہوئی ہو۔ اگر کوئی ایسی نظیر ہے تو ظاہر کرو۔ واقعہ حدیبیہ کا حوالہ قاضی صاحب کی بد دیانتی بلکہ خود مرزا قادیانی کی مکاری پر مبنی ہے۔ کیوں کہ اس میں کوئی تعین وقت کا ذکر تک نہیں حضرت رسول پاک ﷺ پر مرزائی کمپنی کا یہ نہایت مکروہ اور ناقابل معافی بہتان اور الزام ہے۔
- و..... پیش گوئی کے حقیقی معنی غلط اور مجازی معنی صحیح نکلے
پیش گوئی نکاح کی حقیقت اور اصلیت تواتر الہامات آفتاب نصف النہار کی طرح
١٣٨
روشن ہو چکی تھی۔ کیونکہ نکاح کے ساتھ شوہر محمدی بیگم کے مرنے کو تقدیر مبرم بتایا گیا اور بیسیوں کتابوں اور سینکڑوں اشتہاروں میں اس کا بار بار ذکر ہوا پھر اس میں حقیقت ومجاز کی بحث کیا۔ رہا حدیث اطولکن یدا کا معاملہ ۔سو جب طول ید کے دو معنی لمبے ہاتھ اور سخاوت قاضی جی کو خود تسلیم ہیں۔ اور حدیث سے یہ ثابت نہیں کہ آنحضرت ﷺ کے روبرو ازواج مطہرات کے ہاتھ ناپے گئے۔ اور آپ نے اس فعل کو صحیح قرار دیا۔ پھر قاضی صاحب کا لفظی معنوں پر اصرار کرنا اور معروف معنوں سے اغماض کرنا جس سے آنحضرت ﷺ پر (معاذ اللہ منہا) غلط فہمی کا الزام عائد ہوتا ہے۔ ان کی ایمانی کمزوری اور مرزا قادیانی کی بیجا حمایت اور کورانہ تقلید نہیں تو اور کیا ہے؟۔
- ز....... پیش گوئیوں میں محو واثبات ہوتا رہتا ہے
محو و اثبات کا جواب باب ہذا کے نمبر ١ تاویل پنجم کی تردید میں مفصل بیان ہو چکا ہے۔
- ح....... غرض نہ ہونے پر میعاد میں اضافہ ہو جاتا ہے
میعاد میں کوئی اضافہ نہ ہوا پہلے روز نکاح سے اڑھائی سالہ میعاد تھی۔ جب یہ گزر گئی تو مرزا قادیانی نے تاحیات خود اس پیش گوئی کے پورا ہونے کا ٹھیکہ لیا۔ لیکن مر گئے ۔ اور نکاح نہ ہوا۔ اب کون سی میعاد باقی رہ گئی ہے۔
- ط....... انذاری پیش گوئی میں تھوڑے رجوع سے عذاب ٹل جاتا ہے
پیش گوئی نکاح میں اس کی گنجائش نہیں ۔ (دیکھو مفصل باب ہذا کا نمبر ١ تردید تاویل اول و دوم )
- ی....... وعدہ الٰہی میں تغیر ہو جاتا ہے
وعدہ الٰہی میں ہرگز تغیر نہیں ہوتا۔ (دیکھو باب ہذا کا نمبر ١ تردید تاویل اول ) اور اس پیش گوئی نکاح کے متعلق تو خود مرزا قادیانی کے اقوال والہامات ذیل قابل لحاظ ہیں۔
- ١....... "وقالوا متی ھذا الوعد . قل ان وعداللہ حق“ لوگوں نے کہا
کہ نکاح کا وعدہ کب پورا ہوگا۔ کہہ دے کہ خدا کا وعدہ سچا ہے۔“
(انجام آتھم ص ٦٠، خزائن ج ١١ ص ایضاً)
- ٢....... ”خدا کے فرمودہ میں تخلف نہیں۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ١٣، خزائن ج ١١ ص ٢٩٧)
١٣٩
- ٣....... "یقیناً سمجھو کہ خدا کا وعدہ سچا ہے۔ وہی خدا جس کی باتیں نہیں ٹلتیں۔"
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج ١١ص٣٣٨)
ایسا ہی اور بہت جگہ نکاح کو وعدہ الٰہی قرار دے کر اس کے عدم تخلف کا یقین دلایا ہے۔ نیز اللہ کے ایک وعدہ کا ٹوٹ جانا اس کے تمام وعدوں سے بے اعتباری اور ایسا سمجھنا اللہ تعالیٰ کی سخت کسر شان اور کمال بے ادبی بتلایا ہے۔
(توضیح مرام ص ٨، خزائن ج ٣ ص ٥٥)
- ٤....... نبی کی سب پیش گوئیاں پوری ہونی لازم نہیں قرآن شریف میں ہے
"وان يك صادقاً يصبكم بعض الذى يعدكم"
"بحیرتم کہ سر انجام ایں چہ خواہد بود" مرزائیوں کے ایمان کا کچھ بھی سر پیر نہیں نہ خدا پر ایمان ہے۔ نہ اس کے وعدوں پر نہ اس کے قرآن پر۔ یا اللہ ! ایسا گمراہ فرقہ بھی اسلام کا مدعی ہوسکتا ہے۔ سنو ! قاضی جی !! کم از کم میاں مٹھو (طوطے) کے وظیفہ پر ہی عمل کرو۔ جو پڑھا کرتا ہے کہ:
غافل نہ ہو قرآن کو نہ بھول
یہ قادیانی نبوت کا ہی طرۂ امتیاز ہے کہ کوئی پیش گوئی پوری ہو جائے اور کوئی ادھوری رہ جائے۔ یہ خاصہ یا تو جھوٹے اور کاذب مدعیان نبوت کا ہے۔
اللہ تعالیٰ تو اپنے نبیوں سے یوں فرماتا ہے: "فلا تحسبن الله مخلف وعده رسله ، ابراهیم ٤٧" ﴿یعنی اس کا گمان بھی نہ کرنا کہ اللہ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرے گا۔﴾
رہا اس کے متعلق آیت محولہ سے استدلال سو مرزا قادیانی نے بھی (حقیقت الوحی ص ١٩٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٩٧) پر اس آیت کو نقل کرنے سے پہلے اس طرح لکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے:
یہ قاضی صاحب اور مرزا قادیانی دونوں کی صریح فریب دہی اور صاف دھوکا ہے کہ ایک امتی کے قول کو خدا کا قول بتایا جاتا ہے۔
١ دیکھو تورات کتاب استثنا باب ١٨۔ آیت ٢٠، ٢١ اور ابن صیاد مدعی کاذب کے حالات اسلامی تاریخوں میں۔
١٤٠
سنو! قرآن شریف میں تو اس موقعہ پر یہ ذکر ہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون سے دنیا اور آخرت کی وعیدیں بیان کیں اور فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قتل کا ارادہ کیا تو فرعون کی قوم کے ایک شخص نے جو درپردہ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آیا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی جان بچانے کی غرض سے فرعون سے کہا کہ:
”اتقتلون رجلا ان یقول ربی اللہ وقد جاءکم بالبینت من ربکم ٠ ان یک کاذبا فعلیہ کذبہ وان یک صادقاً یصبکم بعض الذی یعدکم ٠ مومن ٢٨“ ﴿کیا تم ایسے شخص کو قتل کرتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ ہے۔ اور وہ تمہارے پاس تمہارے رب کی کھلی نشانیاں لے کر آیا ہے۔ اگر جھوٹا ہے تو اس کا جھوٹ اس پر پڑے گا۔ اور اگر سچا ہے تو اس کی بیان کردہ بعض وعیدیں تمہیں ضرور پہنچیں گی ۔﴾
یہ ایک مومن کا قول ہے۔ جو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان فرما دیا ہے۔ وہ پیغمبر یا ملہم نہ تھا۔ جیسی اس کی سمجھ تھی اس نے کہہ دیا۔ اور نہ اس قول کا یہ نتیجہ ہی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیش گوئیوں میں سے بعض پوری ہوں گی۔ اور اکثر غلط نکلیں گی۔ جیسا کہ مرزا قادیانی اور مرزائی لوگوں کو بتلاتے ہیں۔ کیونکہ اگر محض پیش گوئیوں کا صحیح نکلنا ہی معیار صداقت اور علامت نبوت ہے تو ہر ایک منجم، رمال اور جفار کو پیغمبر ماننا پڑے گا۔ حالانکہ کتب آسمانی ایسے شخص کو علی الاعلان کاذب مفتری اور گستاخ قرار دے رہی ہیں۔
اس سے آگے قاضی جی نے اصل پیش گوئی نکاح کے متعلق اعتراضات رفع کرنے کی کوشش کی ہے۔ اور مختلف عنوان اس کے لئے قائم کئے ہیں۔ لہذا انہی کے بیان کی ترتیب سے ہم بھی اس پر تنقید کرتے ہیں۔
- اول ...... پیش گوئی کسی نفسانی خواہش پر مبنی نہ تھی بلکہ اس کا مقصد خدا کا جلال ظاہر
کرنا تھا ........... الخ!
(ص ١٤ تا ١٧)
اس مضمون پر گذشتہ اوراق میں بہت کچھ بحث ہو چکی ہے۔ مختصر اُس پیش گوئی کے مقاصد یہ تھے۔
- الف ...... مرزا قادیانی کا الہام بکر وثیب یعنی ایک باکرہ اور ایک بیوہ سے مرزا قادیانی کا
نکاح ہونا۔
(تریاق القلوب ص ٧٠، خزائن ج ١٥ ص ٢٨٧)
- ب ...... مرزا قادیانی کی پہلی بیوی سے ناموافقت اور دوسری کا دائم المرض ہونا اور ادھر ......
١٤١
- ج ...... مرزا قادیانی کی قوت مردی میں بذریعہ الہامی نسخہ مقوی باہ چالیس مردوں کی
طاقت کا اضافہ ہو جانا۔ اور مرزا قادیانی کو اپنا زہد واتقاء برقرار رکھنے کے لئے ایک اور نکاح کی ضرورت ہونا۔
- د ...... بروئے حدیث ”یتزوج ویولدلہ “ اس نکاح کا ثبوت دعوئی مسیحیت ہونا اور اس
سے بطور نشان اولاد پیدا ہونا۔
ان حالات کی موجودگی میں کوئی عقل کا اندھا ہی کہہ سکتا ہے کہ اس پیش گوئی کا مقصد محض جلال الٰہی کا اظہار تھا۔ ورنہ بتلایا جائے کہ الہام بکر وثیب کب منسوخ ہوا۔ یا پورا ہوا اور پھر مرزا قادیانی نے جبکہ زہد واتقاء قائم رکھنے کے لئے نکاح کرنا ہی ایک کارگر علاج بلکہ اسے واجب قرار دیا تھا۔ اور قوت مردانگی ان کی چالیس مردوں کے برابر ہو گئی تھی۔ تو مرزا قادیانی اپنے فطری حق کی حاجت برآری کس طرح کرتے رہے۔ کیونکہ ان کے پہلے دونو ں نکاح تو خوبی سے خالی تھے۔
پھر اس پر بھی غور کیا جائے کہ جب حدیث نبی سے محمدی بیگم کا نکاح مرزا قادیانی کی مسیحیت کا ثبوت ونشان تھا اور اس سے اولاد پیدا ہونی تھی۔ اور نتیجہ برعکس نکلا تو مرزا قادیانی مسیح موعود کیونکر رہے۔ اب قاضی جی اور مرزا قادیانی عقل و ہوش سے کام لے کر دیکھیں کہ کیا پیش گوئی کا مقصد محض اظہار جلال خداوندی تھا؟۔ اس کے ثبوت میں اگر مرزا قادیانی کا خط بنام محمد حسین صاحب پیش کرتے ہو تو یہ اور بھی مرزا قادیانی کے کذب اور عیاری کی دلیل ہے۔ کہ فریق مخالف کو نکاح کا مقصد کچھ اور بتلایا اور عام مسلمانوں ہندوؤں اور عیسائیوں پر اسے اپنی صداقت کا نہایت ہی عظیم الشان نشان اور اپنے صدق و کذب کا معیار ظاہر کیا۔ مگر نتیجہ!
جو چیرا تو ایک قطرہ خون نکلا
رہے مرزا قادیانی کے پرائیویٹ خطوط دربارہ نکاح ان کے دیکھنے سے آپ کا ایمان کیوں نہ بڑھے؟۔ ”حبک شئی یعمی ویصم “ ہاں ان خطوط کا مضمون اہل بصیرت کی توجہ کا محتاج ہے۔ اور یہ خط اپنی تفسیر آپ ہی کر رہے ہیں۔ آپ انہیں منہاج نبوت کے مطابق بتلاتے ہیں۔ مگر کسی نبی کی کوئی نظیر بھی تو بیان کی ہوتی۔ جس سے معلوم ہوتا کہ باوجود بار بار کی وحی کے اور باوصف کھلے کھلے الہاموں کے ایک نکاح جیسے معمولی معاملہ میں کسی پیغمبر نے اتنی جبیں سائی کی
١٤٢
ہو۔ اور اپنے وقار عزت اور وقعت کو منکران دین کے قدموں کی ٹھوکروں کے لئے وقف کر دیا ہو۔ اور پھر باوجود بے انتہا خوشامدوں غیر محدود چاپلوسیوں اور بے شمار منتوں سماجتوں کے پھر بھی مقصد برآری نہ ہوئی ہو۔
دوم....... مقصد پورا ہوا یا نہیں ص ١٧
اس کے تحت آپ رقمطراز ہیں کہ ٧؍ اپریل ١٨٩٢ء کو احمد بیگ نے اس لڑکی کا نکاح کر دیا اور بموجب پیش گوئی تین برس کے اندر یعنی نکاح سے چوتھے مہینے ٣٠؍ستمبر ١٨٩٢ء کو مر گیا۔
دروغ گورا حافظہ نباشد کی مثال تو سنی تھی مگر یہ نہیں سنا تھا کہ جھوٹ کہنے والوں کی آنکھیں بھی سلامت نہیں رہتیں۔ قاضی صاحب دونوں تاریخیں اپنے مضمون میں لکھتے ہیں۔ مگر اس عرصہ کو چوتھا مہینہ بتلاتے ہیں۔ حالانکہ ہر دو تواریخ میں پونے چھ ماہ کا فاصلہ ہے۔ کیا چھٹا اور چوتھا مہینہ کوئی مترادف الفاظ ہیں؟۔ لیکن یہ قاضی جی کا قصور نہیں خود بدولت جناب مرزا قادیانی نے بھی آئینہ کمالات اسلام ص ٣١٢ حاشیہ، خزائن ج ٥ ص ایضاً پر اسے چوتھا مہینہ ہی لکھا ہے۔ مریدوں نے تو پیر جی کی کورانہ تقلید کرنی ہے۔ شاید اس تحریر میں بھی علم حساب کے معارف حقہ قاضی جی کو نظر آئے ہوں اس لئے جوں کی توں نقل کر دی۔ کچھ اپنی عقل سے بھی کام لیا ہوتا۔ احمد بیگ کے کنبہ پر اس موت کے اثرات ہوئے جو آپ نے بیان کئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ لیکن یہ ظاہر ہے کہ اس نکاح کے اشد مخالفوں میں سے جن پر حجت قائم کی گئی تھی۔ کوئی بھی مرزا قادیانی پر ایمان نہ لایا۔ داماد مرزا احمد بیگ اپنے حوصلہ پر قائم رہا۔ نہ مرزا قادیانی کی خون آشام تمنائیں اس کا کچھ بگاڑ سکیں نہ اس نے محمدی بیگم کو طلاق دے کر ہی مرزا قادیانی کی زوجیت میں آنے کا موقعہ دیا۔ بلکہ وہ اب تک بدستور مرزا قادیانی کا منکر ہے۔ اس بارہ میں ہم اسی باب میں مرزا قادیانی کی تاویل دوم کے رد میں مفصل بحث کر چکے ہیں۔ اسے دیکھ کر ناظرین انصافاً فرمائیں کہ جن لوگوں سے اصل معاملہ کا تعلق تھا انہوں نے تو مرزا قادیانی کی کوئی پرواہ نہیں کی۔ نہ ان پر ایمان لائے۔ پھر ان کے خشوع خضوع توبہ انابت استغفار وغیرہ کا مرزائیوں کے پاس کون سا ثبوت ہے؟۔ پس مقصد پورا ہو جانا جو کہا جاتا ہے۔ محض ڈھیٹھ اور بے شرمی ہے۔
سوم....... ص ١٩ پر لکھتے ہیں کہ کئی نشان پورے ہوئے اور اس مضمون کو چار صفحوں میں پھیلایا ہے۔ قاضی جی! آپ جیسے قاضیوں کے متعلق ہی کسی نے کہا ہے کہ ”قاضی آں باشد کہ چپ نشود“ ہم نے آپ کے گنائے ہوئے تیرہ نشانوں کو غور سے پڑھا اور تلاش
١٤٣
کیا کہ نفس معاملہ کے لحاظ سے مرزا قادیانی کی صداقت کا ان میں سے کوئی پہلو نکلے ۔ مگر معارف فرمائیے نتیجہ خاک نہیں نکلا ۔ (١٠؍جولائی ١٨٨٨ء مجموعہ اشتہارات ج ١ص ١٥٩) کا اشتہار جس سے آپ نے پیش گوئیاں شمار کرائی ہیں۔ اس وقت شائع ہوا۔ جب کہ مرزا قادیانی کی درخواست نکاح رد ہو چکی تھی۔ جیسا کہ اشتہار کے شروع میں مرزا قادیانی نے بحوالہ اخبار نور افشاں ذکر کیا ہے۔ پس اس کی عبارتوں کو پیش گوئیاں بتانا آپ کا ہی کام ہے۔ اب اپنے نشانات کی خیر منایئے جنہیں ہم قال ، اقول کے تحت درج کرتے ہیں۔
قال ! پہلا نشان
”کذبوا بایاتنا“ پورا ہوا کہ ضد سے درخواست نکاح کو نہ مانا۔
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٥٨)
اقول: یہ اشتہار مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٦٠، ١٠؍ جولائی ١٨٨٨ء کو شائع ہوا ہے۔ اور اس کی ساتویں سطر میں مرزا قادیانی بحوالہ اخبار نور افشاں مورخہ ١٠؍ مئی ١٨٨٨ء درخواست نکاح کی نامنظوری کا ذکر کرتے ہیں۔ پھر یہ پیش گوئی ہے یا پس گوئی؟۔
قال ! دوسرا نشان
کہ غیر سے نکاح ہونے تک والد دختر زندہ رہے گا۔
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٥٨)
اقول: یہ مرزا قادیانی کا الہام نہیں اگر الہام ہے تو الفاظ الہام دکھائے جائیں۔ ایسے بیسیوں بلکہ سینکڑوں اقوال اس پیش گوئی کے متعلق غلط ثابت ہوئے۔ پس ایسے معمولی فقرہ کو نشان نہیں کہا جاسکتا۔ ایسی باتیں رمال اور پانڈے بھی بتلایا کرتے ہیں جن میں کوئی غلط اور کوئی صحیح نکل آتی ہے۔
قال ! تیسرا نشان
نکاح کر دینے سے تین سال کے اندر احمد بیگ فوت ہو گیا۔
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٥٨)
اقول: ہم کسی دوسری جگہ ثابت کر چکے ہیں کہ احمد بیگ نے اپنے داماد کی موت دیکھ کر مرنا تھا۔ اس لئے یہ مرگ اتفاقیہ دلیل صداقت نہیں ہو سکتی۔
قال ! چوتھا اور پانچواں نشان
اس لڑکی اور مرزا قادیانی کا ان واقعات کے ہونے تک زندہ رہنا۔
(ص ٤٠)
١٤٤
اقول : قاضی جی ! ( شہادت
- ٢....... وہ دختر بھی تار
- ٥....... یہ عاجز بھی ال
- ٦....... پھر یہ کہ اس عا
اب ایمان سے بتاؤ کہ کیا الہام تھا۔ کیا مرزا قادیانی کی حیات ہوا؟ ۔ کچھ حیا بھی ہے۔ یا نامہ اعمال کی
قال ! چھٹا نشان
اگر نکاح کر دے تو تین سا برائے وزن بیت ہی ایزاد ہوا ہے۔ ور
اقول ! ساتواں نشان
دشمنوں کو استہزاء کا موقعہ ۔ آ کر دیکھو۔ یہ کوئی پیش گوئی نہ تھی۔ اس چکے ہیں کہ اخبار نور افشاں مورخہ ١٠؍ مئ کی کامیابی انہی کی زبان سے سنیے لکھتے ” میں نے سنا ہے کہ عید کی کے شریک میرے سخت دشمن ہیں۔ یگا خوش کرنا چاہتے ہیں۔ اللہ رسول کے جائے، ذلیل کیا جائے، روسیاہ کیا جا۔ بچانا اللہ کا کام ہے اگر میں اس کا ہوں میری عزت کے پیاسے ہیں چاہتے میں ڈالنا چاہتے ہیں۔“
١؎ آتش فرقت میں
اقول : قاضی جی! ( شہادت القرآن ص ٨١، خزائن ج ٦ ص ٣٧٦) میں لکھا ہے کہ:
- ٤....... وہ دختر کبھی تا نکاح اور تا ایام بیوہ ہونے اور نکاح ثانی کے فوت نہ ہو۔
- ٥....... یہ عاجز بھی ان تمام واقعات کے پورا ہونے تک فوت نہ ہو۔
- ٦....... پھر یہ کہ اس عاجز سے نکاح ہو جائے۔
اب ایمان سے بتاؤ کہ کیا یہ نشان اسی رنگ میں پورے ہوئے جیسا کہ مرزا قادیانی کا الہام تھا۔ کیا مرزا قادیانی کی حیات میں محمدی بیگم بیوہ ہوئی اور مرزا قادیانی کا اس سے نکاح ہوا؟۔ کچھ حیا بھی ہے۔ یا نامہ اعمال کی طرح کاغذ ہی سیاہ کرنے کافی سمجھے گئے ہیں۔
قال! چھٹا نشان
اگر نکاح کر دے تو تین سال اندر فوت نہیں ہوگا۔ (مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٥٨) یہ نمبر برائے وزن بیت ہی ایزاد ہوا ہے۔ ورنہ نمبر ٣ کی موجودگی میں اس کی کوئی ضرورت نہ تھی۔
اقول! ساتواں نشان
دشمنوں کو استہزاء کا موقعہ ملے گا مگر اللہ تجھے کافی ہوگا۔ اس نشان کا پورا ہونا قادیان میں آکر دیکھو۔ (ص٢٠)
یہ کوئی پیش گوئی نہ تھی۔ استہزاء کی رسید تو مرزا قادیانی اشتہار ١٠؍جولائی میں ہی دے چکے ہیں کہ اخبار نور افشاں مورخہ ١٠؍مئی میں مجھ پر ہنسی ٹھٹھا کیا گیا۔ اب اس بارہ میں مرزا قادیانی کی کامیابی انہی کی زبان سے سنیے لکھتے ہیں کہ:
’’میں نے سنا ہے کہ عید کی تیسری تاریخ کو اس لڑکی کا نکاح ہونے والا ہے۔ اس نکاح کے شریک میرے سخت دشمن ہیں۔ بلکہ دین اسلام کے دشمن ہیں۔ عیسائیوں کو ہنسانا ہندوؤں کو خوش کرنا چاہتے ہیں۔ اللہ رسول کے دین کی پرواہ نہیں کرتے۔ ان کا ارادہ ہے کہ اس کو خوار کیا جائے، ذلیل کیا جائے، روسیاہ کیا جائے۔ یہ اپنی طرف سے ایک تلوار چلانے لگے ہیں۔ اب مجھ کو بچانا اللہ کا کام ہے اگر میں اس کا ہوں تو وہ مجھے ضرور بچالے گا۔ یہ لوگ میرے خون کے پیاسے میری عزت کے پیاسے ہیں چاہتے ہیں کہ خوار ہو اور اس کا روسیاہ ہو۔ اب تو وہ مجھے آگ میں ڈالنا چاہتے ہیں۔‘‘ (خط بنام مرزا علی شیر بیگ کلمہ فضل رحمانی ص ١٢٥)
١؎ آتش فرقت میں
١٤٥
قاضی جی! مرزا قادیانی کے دل کی تڑپ دیکھی؟۔ کیا نکاح نہ ہونے کی صورت میں مرزا قادیانی نے اپنی ذلت، خواری، روسیاہی بے عزتی تسلیم نہیں کی؟۔ کیا مرزا قادیانی کے مخالف اس معاملہ میں کامیاب نہیں ہوئے۔ کیا ہندو اور مسلمان اور عیسائی مرزا قادیانی کی اس نامرادی پر نہیں ہنسے کیا مرزا قادیانی اپنے اندیشہ کے موافق ذلیل ، خوار اور روسیاہ نہیں ہوئے۔ کیا قادیان کا منارہ یا مرزائی کمپنی کے سالانہ جلسے مرزا قادیانی کی خود بیان کردہ اس ذلت، خواری اور روسیاہی کا ازالہ کر سکتے ہیں۔
قال! آٹھواں نشان
لڑکی کا نکاح غیر سے ہوا یہ بھی پورا ہوا۔
(ص ٢٠)
اقول : یہ تو بڑے ہی کمال کی بات کہی جب لڑکی والوں نے مرزا قادیانی کو ٹکا سا جواب دے دیا تھا۔ تو لڑکی کا نکاح آخر دوسری جگہ ہی کرنا تھا۔ اس میں پیش گوئی اور نشان کی کون سی بات تھی؟
قال! نواں نشان
”لا تبديل لكلمات الله“ سے بتایا کہ یہ سب باتیں ضرور ہوں گی۔ اور کسی کے روکنے سے نہ رکیں گی۔ چنانچہ سب وعدے پورے ہوئے۔
(ص ٢٠)
اقول : قاضی جی ! ذرا گریبان میں منہ ڈال کر تفسیر الکلام بمالا یرضی به قائلہ باطل پر بھی نگاہ کرو۔
مرزا جی تو (انجام آتھم کے ص ٦٠، ٦١ بخزائن ج ١١ ص ٦٠، ٦١ ) پر اپنے الہامات یوں لکھتے ہیں کہ: ”انہوں نے میرے نشانیوں کی تکذیب کی اور ٹھٹھا کیا۔ سو خدا ان کو تیری طرف سے کفایت کرے گا۔ اور اس عورت کو تیری طرف سے واپس لائے گا۔ یہ واپس لانا ہماری طرف سے ہے۔ اور ہم ہی اس کے کرنے والے ہیں۔ ہم نے نکاح کر دیا۔ یہ تیرے رب کی طرف سے سچ ہے، تو شک نہ کر ”لا تبديل لكلمات الله “ خدا کی باتیں بدلا نہیں کرتیں تیرا رب جس بات کو چاہتا ہے کر دیتا ہے۔ کوئی نہیں جو اس کو روک سکے ہم اس کو واپس لانے والے ہیں۔ آج میں فیصلہ کرنے پر متوجہ ہوا۔ ہم اس کو تیری طرف واپس لائیں گے۔“
یہ کیسے صاف الہامات ہیں۔ جن میں زوجنکھا (ہم نے تیرے ساتھ محمدی بیگم کا نکاح کر دیا) اور ” الحق من ربك اور لا تبديل لكلمات الله“ صرف نکاح کو ظاہر کر رہے
١٤٦
ہیں مگر یہ سب وعدے خلاف ہوئے۔ پس مرزا قادیانی کے الہامات کے مقابلہ میں قاضی کا یہ رٹ لگائے جانا کہ سب وعدے پورے ہوئے۔ بے حیائی نہیں تو اور کیا ہے؟۔
قال! دسواں نشان
”ان ربك فعال لما يريد“ سے بتا دیا کہ خود ملہم بھی اپنی اجتہادی رائے سے کسی وعدہ کا ایفا مغائر اس صورت کے جو علم الٰہی میں ہے سمجھ لے گا۔ تو وہ نہیں ہوگا۔
(ص٢٠)
اقول: ناظرین! دیکھا اکمل کا کمال! ان ربك فعال لما یرید کی کیا جامع اور مانع تفسیر ہے۔ اوپر کی سطور میں ہی ہم اس الہام کا ترجمہ درج کر چکے ہیں۔ جو مرزا قادیانی نے کیا ہے کہ تیرا رب جس بات کو چاہتا ہے کر دیتا ہے۔ اب ہم قاضی جی سے دریافت کرتے ہیں کہ کیا محمدی بیگم کے نکاح کی پیش گوئی وحی الٰہی سے نہ تھی جس میں نام بھی بتا دیا گیا تھا۔ اور اس بارہ میں بعد میں بھی بیسیوں الہام ہوتے رہے۔ کیا وہ الہامات نکاح کے سوا کسی اور امر کے متعلق تھے؟ ایسی صاف صاف وحیوں اور الہاموں پر مرزا قادیانی کی اجتہادی غلطی کی سیاہی کا پالش کرنا آپ جیسے مخلص مریدوں کو ہی زیب دیتا ہے۔ اور الہام کے معنے اور تفسیر میں تو آپ نے اپنے کمال علم کو چار چاند لگا دئے۔ ”ماشاء اللہ“ چشم بدور!
قال! گیارہواں نشان
بیعت کرنے والے برکتوں اور رحمتوں سے متمتع ہوں گے۔ اور نکاح کے مخالف اور سلسلہ کے متعلق بدگوئی کرنے والے تنگی اور مصیبت میں پڑیں گے۔
(ص٢١)
اقول: یہ برکتیں اور نعمتیں تو محمدی بیگم کے خاندان کو نکاح کے بدلہ میں ملنی تھیں۔ جیسا کہ خطوط اور اشتہارات میں درج ہے۔ بیعت کرنے والوں کا ذکر یہاں کہاں سے آ گیا؟۔ نکاح کے مخالف محمدی بیگم اور اس کا شوہر مرزا قادیانی کی زندگی میں بھی ان سے بیزار رہے۔ اور اب تک بھی مرزا قادیانی کو جھوٹا سمجھتے ہیں۔ بیعت کرنے والوں کو جو برکات اور انعامات دیئے گئے ان کی کوئی فہرست آپ نے نہیں لکھی۔ پس دعویٰ بلا دلیل مردود ہے۔
قال! بارہواں نشان
”انت معی وانا معك“ مرزا قادیانی ہر ایک ابتلاء میں ثابت قدم رہے۔ اللہ نے ان کے سب مقاصد پورے کر دئے۔
(ص٢١)
اقول: جس امر کے متعلق یہ الہام تھا۔ جب اسی میں مرزا قادیانی ناکام رہے۔ (مفصل دیکھو تردید نشان ہفتم) تو پھر مرزا قادیانی کی عام حالت کو اس سے کیا سروکار ہو سکتا
ہے؟۔ رہی مرزا قادیانی کی ثابت قدمی اور کامیابی اس کا حال ہماری کتاب عشرة کاملہ اور دیگر کتب تردید مرزائیت میں دیکھو ساری عمر مرزا قادیانی نے نہ کسی سے عالمانہ بحث کی ، نہ علماء کے مقابلہ میں آئے۔ عدالت میں آ کر پیش گوئیاں نہ کرنے کے اقرار نامے لکھے۔ ڈاکٹر عبدالحکیم خاں صاحب اور مولوی ثناء اللہ صاحب کے مقابلہ میں آ کر اپنا کاذب ہونا ثابت کر گئے۔ پردیس میں ہیضہ کے مرض سے انتقال کیا۔ نعش بھی پولیس کے فرشتوں نے ریلوے سٹیشن تک پہنچائی۔ جسے خردجال پر لاد کر قادیان پہنچایا گیا۔ اگر ان ہی حالات کا نام کامیابی ہے تو مرزائی اس پر فخر کیا کریں۔ مبارک ہو!
قال! تیرھواں نشان
”عسی ان یبعثک ربک مقاما محمودا“ مرزا قادیانی کی تعریفیں ہوئیں اور وہ کامیاب ہوئے۔
(ص ٢١)
اقول: یہ الہام بھی نکاح آسمانی کے متعلق تھا۔ سو اس میں جیسی تعریف ہوئی دنیا کو معلوم ہے۔ مرزا قادیانی نکاح نہ ہونے سے خود اپنے قول کے مطابق بیحد رسوا، ذلیل خوار، بے عزت اور روسیاہ ہوئے۔ (مفصل دیکھو تردید نشان ہفتم) اور باقی باتوں کے جواب کے لئے دیکھو بارھویں نشان کی تردید۔
قال: مرزا قادیانی کی صداقت کے ثبوت میں قاضی جی ان تیرہ نشانات کو پیش کر کے لکھتے ہیں کہ یہ مسلمہ مسئلہ ہے کہ نبوت کا دعویٰ کر کے کوئی سچی پیش گوئی پر قادر نہیں ہو سکتا۔ بلکہ پیش گوئی کا پورا ہونا نشان صدق ہے۔
(ص ٢٢)
اقول: اکمل صاحب! یہ آپ کے گھر کا یا مرزائی کمپنی کا مسلمہ مسئلہ ہوگا۔ ورنہ جھوٹے نبی بھی پیش گوئیاں کرتے رہے ہیں۔ اور وہ سچی بھی نکلتی رہی ہیں۔ مثال کے لئے ابن صیاد اور ابن تومرت کا حال پڑھو۔ آنکھیں کھل جائیں گی۔
مسلمہ اصول تو یہ ہے کہ جس مدعی کی ایک پیش گوئی بھی غلط ثابت ہو وہ کاذب اور مفتری علی اللہ ہے۔ جیسا کہ آپ کے مضمون کی تردید کے شروع میں ہی مذکور ہوا۔ اب آئیے ہم آپ کو اسی اشتہار ٢٠؍ جولائی ١٨٨٨ء میں جس سے آپ نے مرزا قادیانی کے تیرہ نشان صداقت نکالے ہیں۔ مرزا قادیانی کے تیرہ جھوٹ دکھائیں۔ ذرا عقل و ہوش کی عینک سے دیکھئے گا۔ آپ نے تو جاء و بے جا طور پر محض بات کی پچ میں کاغذ سیاہ کئے ہیں اور ہمارا بیان روز روشن کی طرح صاف ہے۔
٧٨٦
اقوال مرزا قادیانی ...... (مندرجہ اشتہار ١٠؍ جولائی ١٨٨٨ء مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٥٧، ١٥٨)
- ١....... اس قادر حکیم مطلق نے فرمایا کہ اس کی بڑی لڑکی کے نکاح کے لئے سلسلہ جنبانی کر۔
- ٢....... اگر نکاح سے انحراف کیا تو لڑکی کا انجام نہایت ہی برا ہوگا۔
- ٣....... اس کا شوہر نکاح سے اڑھائی برس کے اندر مر جائے گا۔
- ٤....... ان کے گھر پر تفرقہ اور تنگی پڑے گی۔
- ٥....... درمیانی زمانہ میں بھی اس دختر کیلئے کئی کراہت اور غم کے امر پیش آئیں گے۔
- ٦....... بار بار کی توجہ سے معلوم ہوا کہ یہ لڑکی ہر ایک مانع دور ہو کر میرے نکاح میں آئے گی۔
- ٧....... خدا نے مقرر کر رکھا ہے کہ یہ لڑکی اس عاجز کے نکاح میں لائی جائے گی۔
- ٨....... خدا تعالیٰ ان سب کے تدارک کے لئے جو اس کام (نکاح) کو روک رہے ہیں
تمہارا مددگار ہوگا۔ الہام ”فسیکفیکهم الله“
- ٩....... انجام کار (اللہ) اس لڑکی کو تمہاری طرف سے واپس لائے گا۔ الہام ”ویردھا الیک“
- ١٠....... کوئی نہیں جو خدا کی باتوں کو ٹال سکے۔ الہام ”لا تبدیل لکلمات الله“
- ١١....... تو میرے ساتھ اور میں تیرے ساتھ ہوں۔ الہام ”انت معی وانا معک“
- ١٢....... عنقریب تجھے تعریف کا مقام ملے گا۔ الہام ”عسی ان یبعثک ...... الخ!“
- ١٣....... اول میں احمق اور نادان لوگ بد باطنی سے بدگوئی کرتے ہیں۔ مگر آخر میں خدا کی مدد
دیکھ کر شرمندہ ہوں گے۔
نتیجہ!
- ١....... نکاح نہیں ہوا اس لئے معلوم ہوا کہ قادر مطلق نے یہ نہیں فرمایا تھا۔ یہ محض مرزا قادیانی
کا افتراء تھا۔
- ٢....... برا چاہنے والے مر گئے۔ لڑکی اب تک آرام سے خاوند کے گھر میں موجود ہے۔ پیش
گوئی جھوٹی ہوئی۔
- ٣....... محض جھوٹ وہ اب تک زندہ موجود ہے۔ نکاح کو ٤٣ برس ہوچکے۔
- ٤....... بالکل جھوٹ سب خیریت رہی۔
- ٥....... محض ڈراوا اور شاعرانہ لفاظی تھی جو پادر ہوا ثابت ہوئی۔
- ٦....... محض جھوٹ ثابت ہوا نہ موانع دور ہوئے نہ لڑکی نکاح میں آئی۔
- ٧....... یہ بھی خدا تعالیٰ پر افتراء ثابت ہوا۔
- ٨...... یہ الہام بھی جھوٹا ثابت ہوا اور مخالف کامیاب ہوئے۔
- ٩...... بالکل جھوٹ نکلا۔
- ١٠...... یہ باتیں چونکہ خدا کی طرف سے نہیں تھیں اس لئے جھوٹی ہوئیں۔
- ١١...... نکاح کے بارہ میں خدا نے مرزا قادیانی کی حمایت نہیں کی بلکہ اسے جھوٹا بنایا۔
- ١٢...... پیش گوئی جھوٹی نکلنے پر بہت تعریف ہوئی؟۔
- ١٣...... نہ آپ کا اوّل سچا نہ آخر سچا الہام جھوٹا، پیش گوئی جھوٹی، مرزا قادیانی جھوٹے، مرزا
قادیانی کا مذہب جھوٹا ثابت ہوا۔
اس سے آگے زیر عنوان چودھواں نشان قاضی جی نے چند اور عنوانات قائم کر کے کچھ خامہ فرسائی کی ہے۔ چنانچہ ہم اس کے متعلق بھی مختصراً اظہار خیالات کر کے ناظرین سے انصاف کے خواہاں ہیں۔
(ص٢٣)
قال : قوم کے اعمال ایفائے وعدہ میں آڑے آ جاتے ہیں......الخ! اقول : اس وعدہ نکاح کے پورا نہ ہونے میں کس قوم کے اعمال آڑے آئے؟ اور اس کے التوا یا تنسیخ کا کون سا الہام مرزا قادیانی کو ہوا؟۔ پیش گوئی نکاح خدا کی طرف سے تھی۔ لڑکی کا نام، لڑکی کے باپ کا نام، دولہا کا تعین، آسمان پر نکاح کر دیا جانا، خدا کا بار بار وقوع نکاح کا یقین دلانا۔ یہ سب کچھ وحی اور الہامات کی بناء پر تھا۔ پس اس کی منسوخی کا بھی کوئی الہام ہونا ضروری تھا۔ جیسا کہ آپ نے قرآن سے مثال دی ہے۔
(ص٢٣)
قال : وعدہ میں تغیر و تبدل ہو سکتا ہے......الخ! اقول : اس پر مفصل بحث مرزا قادیانی کی تاویلات کی تردید کے تحت اسی باب کے شروع میں ہو چکی ہے۔ مرزا قادیانی خود قاضی کے اصول کے منکر ہیں۔ (دیکھو توضیح مرام ص٨، خزائن ج٣ص٥٤) لہٰذا آیات قرآنی کے ایسے معنی کرنے والے قاضیوں سے اللہ پناہ میں رکھے۔
(ص٢٤)
قال : وعدہ کے سمجھنے میں مامور غلطی کھا سکتا ہے۔ اقول : ایک بار مرزا قادیانی کو اس پیش گوئی کے اصل مراد کی نسبت شک ہوا، تو ان کو الہام ہوا ” الحق من ربك فلا تكونن من الممترين “ (ازالہ ص٣٩٨، خزائن ج٣ ص٣٠٦) اس کے علاوہ اور بیسیوں الہام اور الہامی تفسیریں مرزا قادیانی کی پہلے کئی مقاموں پر نقل ہو چکی ہیں۔ پس غلطی کا بہانہ بیہودہ ہے۔
پھر مرزا قادیانی کی جگہ اس اصول کو تسلیم کرتے ہیں کہ ملہم سے اگر اجتہادی غلطی ہو جائے تو وہ اس پر قائم نہیں رکھا جاتا۔ بلکہ غلطی دور کر دی جاتی ہے۔ آپ نے بھی قرآن کریم سے جو حضرت نوح علیہ السلام کی مثال دی ہے۔ وہ اس کی تائید کرتی ہے۔ یعنی حضرت نوح علیہ السلام نے لفظ اہل کے عام معنی سمجھ کر اپنے بیٹے کے بچائے جانے کی درخواست کی تھی۔ لیکن اس کے اعمال غیر صالح ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اسے ان کے اہل سے خارج فرمایا۔ اب آپ اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر بتلائیں کہ کیا مرزا قادیانی کو اس نکاح کے متعلق ایک ذرہ برابر بھی شبہ باقی تھا۔ اور اگر کبھی شبہ ہوا بھی تھا تو کیا بذریعہ متواتر الہامات کے دور نہیں کر دیا گیا تھا۔ پھر آپ کا مذکورہ بالا استدلال کیا وقعت رکھتا ہے؟۔
(ص٢٥)
قال: وعدہ میں بعض مخفی شرائط ہو سکتی ہیں۔ اقول: اس کی مفصل تردید مرزا قادیانی کی تاویلات کی تردید میں بیان ہو چکی ہے۔ اور تکذیب کے اشتہار کا بھی وہیں مفصل ذکر ہو چکا ہے۔
(ص٢٦، ٢٧)
قال: مرزا سلطان محمد کا عقیدہ۔ اقول: اس کے متعلق آپ نے مرزا سلطان محمد شوہر محمدی بیگم کا خط مورخہ ٢١؍مارچ ١٩١٣ء نقل کیا ہے جس میں اس نے مرزا قادیانی کی نسبت عام مصالحانہ خیالات ظاہر کیے ہیں۔ مگر اس کے مقابلہ میں جب اس سے دینی رنگ میں پوچھا گیا تو اس نے یہ صاف جواب دیا ہے جو تازہ بتازہ ہے۔ ملاحظہ فرمائیں۔
جناب مرزا غلام احمد قادیانی نے جو میری موت کی پیش گوئی فرمائی تھی میں نے اس میں ان کی تصدیق کبھی نہیں کی۔ نہ میں اس پیش گوئی سے کبھی ڈرا میں ہمیشہ سے اور اب بھی اپنے
(٣؍مارچ ١٩٢٤ء ماخوذ از اہلحدیث ١٤؍مارچ ١٩٢٤ء)
بزرگان اسلام کا پیرو رہا ہوں۔
بغور ملاحظہ فرمائیے مرزا قادیانی کی پیش گوئی اور ان کے دعوؤں سے کس بے باکی سے انکار ہے۔ اور اپنا عقیدہ مطابق بزرگان اہل اسلام ظاہر کیا ہے۔ ایسے عقیدہ والوں کو مرزا قادیانی
(دیکھو حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧)
کافر اور جہنمی قرار دیتے ہیں۔
پس ایسے شخص کی نسبت آپ کا یہ لکھنا کہ وہ مرزا قادیانی سے غایت درجہ کا حسن ظن رکھتے ہیں۔ اور اپنے خیال میں انہوں نے بہت تغیر کر لیا ہے۔ محض غلط اور بے بنیاد بات ہے۔ ویسے ہر ایک مہذب اور شریف آدمی کا قاعدہ ہے کہ کسی مرے ہوئے انسان کو خواہ مخواہ برا نہیں کہا کرتا۔ مرزا قادیانی تو ایک طرح سے سلطان محمد کے خسر بھی ہوتے تھے۔ کیونکہ محمدی بیگم مرزا
١٥١
قادیانی کی چچازاد بہن کی لڑکی تھی۔ لہذا مرزا سلطان محمد کا اپنی بیوی کے ماموں کے (مرزا قادیانی) کے مریدوں یا ان کے خلیفہ کے استفسار پر چند سطور لکھ دینا۔ مرزا قادیانی کی صداقت یا نبوت کا سرٹیفکیٹ نہیں ہو سکتا۔ ہاں مرزا سلطان محمد کا عقیدہ ان کی تحریر متذکرہ بالا سے بخوبی ظاہر ہوتا ہے۔
اس سے آگے دو تین صفحوں پر قاضی جی نے مرزا سلطان محمد کے خوف کھانے یا رجوع کرنے کے متعلق مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری سے مباحثہ کا ذکر کیا ہے۔ اور مرزا قادیانی کی تحریرات نقل کی ہیں۔ جن میں ایک یہ بھی ہے کہ مرزا سلطان محمد تکذیب کا اشتہار دلاؤ اور قدرت خدا کا تماشا دیکھو۔ (انجام آتھم ص ٣٢، خزائن ج١١ ص٣٢) مرزائی بھی اس پر بہت اصرار کرتے ہیں جیسا کہ قاضی جی نے بھی ص ٣١ پر اسے نقل کیا ہے۔
مگر یہ سب تانا بانا مرزا سلطان محمد صاحب کی ٣؍مارچ ١٩٢٤ء کی تحریر مندرجہ بالا سے درہم و برہم ہو جاتا ہے۔ جس میں انہوں نے پیش گوئی سے ڈرنے کا بھی انکار کیا ہے۔ مرزا قادیانی کے عقائد سے بیزاری اور اپنے اسلام کا بھی اعلان کر دیا ہے۔ اور ہمیشہ سے اس عقیدہ پر قائم رہنا بیان کیا ہے۔ اب مرزائیوں کو قادیان کے بہشتی مقبرہ کے متصلہ جوہڑ میں منہ چھپانے کے سواء کوئی چارہ نہیں۔ بشرطیکہ شرم وحیا کا کچھ مادہ باقی ہو۔
یہاں قاضی جی کی شرافت اور نیک ذاتی کے متعلق بھی ایک امر کا اظہار کرنا خالی از لطف نہ ہوگا۔
قال: اس اجماعی عقیدہ سے محض میری عداوت کے لئے منہ پھیر لینا اگر بدذاتی اور بے ایمانی نہیں تو اور کیا ہے۔ (انجام آتھم ص ٣٢ حاشیہ، خزائن ج١١ ص ایضاً) ”صلی اللہ عليك یا رسول اللہ“ ان لفظوں نے مجھے آج خوب مزا دیا کہ بدذاتی اور بے ایمانی نہیں تو اور کیا ہے۔
اقول: اس بدذاتی اور بے ایمانی کا آپ کو کیوں مزا نہ آئے۔ آخر مرید بھی تو اسی ذات شریف کے ہو۔ جو ساری عمر علماء فضلاء فقہاء اور صلحاء کو مغلظ گالیاں دیتا ہوا مر گیا۔ (تفصیل کے لئے دیکھو عشرۂ کاملہ وعصائے موسیٰ) اگر اب بھی آپ کو اس میں شک ہے کہ مرزا سلطان محمد اپنے خسر مرزا قادیانی کے مکذب ہیں اور پیش گوئی سے نہیں ڈرے۔ اور مرزا قادیانی کو مفتری علی اللہ سمجھتے ہیں۔ تو ص ١٦٣ حقیقت الوحی کو دیکھ لو یا اپنے پرانے دوست مولوی ثناء اللہ صاحب سے سمجھ لو۔ جو آپ کے قریب ہی رہتے ہیں۔ اگر ان دو ذرائع سے تشفی نہ کرنا چاہو تو ہم بھی حاضر ہیں۔ آگے چل کر مضمون کے اخیر میں مولوی ثناء اللہ صاحب کو مخاطب کر کے لکھتے ہیں۔
قال: تقدیر مبرم کے متعلق ..... حضرت مجدد الف ثانی کا ایک حوالہ میں نے دیا تھا۔
(مکتوبات جلد اول ص ٢٧)
”حضرت جیلانی قدس سرہ در رسائل خود نوشتہ اند کہ در تقدیر مبرم ہیچکس را مجال نیست کہ تبدیل بدہد مگر مرا کہ اگر خواہم آنجا ہم تصرف کنم“
اس کو بھی آپ نظر انداز کر گئے ۔ ابن خضر جو کہ واضح رہے کہ:
اقول : مولوی ثناء اللہ صاحب نے اس کا جواب دیا یا نہیں یہ تو ہمیں معلوم نہیں لیکن آپ کے لوہے کے زنگ خوردہ قلم کو ہم توڑ کر دکھاتے ہیں۔ تکبر اور انانیت بہت مذموم خصلتیں ہیں۔
بزندان لعنت گرفتار کرد
نیز کسی کا شعر ہے:
تکبر وہ بری شے ہے کہ فوراً ٹوٹ جاتا ہے
اول تو حوالہ ہی آپ نے غلط دیا ہے کہ مکتوب نمبر ٢١٧ کو ص ٢٧ ظاہر کیا ہے۔ دوسرے شاید کسی سے سن لیا ہوگا۔ ورنہ اصل مقام کو مکتوبات میں دیکھا ہوتا تو یوں آپ کی ایمانداری کی پردہ دری نہ ہوتی۔ مکتوب نمبر ٢١٧ کو پڑھو۔ جس میں حضرت مجددؒ نے حضرت جیلانی قدس سرہ کا محولہ بالا قول نقل کر کے اپنے کامل غور بلکہ تجربہ کے بعد یہ نتیجہ تحریر فرمایا ہے کہ:
”بمحض فضل و کرم ظاہر ساختند کہ قضائے معلق بر دو گونہ است قضائے ہست کہ تعلیق او در لوح محفوظ ظاہر ساختہ اند ٠ و ملائکہ را بران اطلاع دادہ ٠ و قضائے کہ تعلیق او نزد خداست جل شانہ و بس، و در لوح محفوظ حکم قضائے مبرم دارد ٠ و این قسم آخیر از قضائے معلق نیز احتمال تبدیل دارد ٠ در رنگ قسم اول از آنجا معلوم شد کہ سخن سید موصوف حضرت جیلانی قدس سرہ بایں قسم است کہ صورت
١٥٣
قضائے مبرم دارد نہ بقضاء کہ بحقیقت مبرم است کہ تصرف و تبدیل دراں محال است عقلاً و شرعاً “مجھ پر اللہ کے فضل و کرم سے ظاہر کیا گیا کہ قضائے معلق دو قسم کی ہوتی ہیں۔ ایک وہ جس کا معلق ہونا لوح محفوظ میں ظاہر ہوا ہے۔ اور فرشتوں کو اس کی خبر دی گئی ہے۔ دوسری وہ جس کا معلق ہونا صرف خدا تعالیٰ کے ہی پاس ہے۔ اور لوح محفوظ میں قضائے مبرم کی شکل رکھتی ہے۔ اور قضائے معلق کی اس دوسری قسم میں بھی پہلی قسم کی طرح تبدیل کا احتمال ہے۔ اس لئے معلوم ہوا کہ سید قدس سرہ کا قول بھی اس دوسری قسم پر ہی موقوف ہے۔ جو قضائے مبرم کی صورت رکھتی ہے۔ نہ اس قضاء پر جو در حقیقت مبرم ہے۔ کیونکہ عقلاً و شرعاً اس میں تصرف و تبدیل محال ہے۔﴾
افسوس ہے کہ قاضی صاحب نے یہ حوالہ بد دیانتی سے درج رسالہ کیا ہے۔ یا یہ کہ آپ نے اس مکتوب کو پڑھا تک نہیں۔ اگر غور سے دیکھ لیا ہوتا تو شاید بایں ہیئت کذائی ان سے یہ غلطی نہ ہوتی۔ جس سے آپ کی علمیت و دیانت کا پول کھل جاتا ہے۔
قال: ایک اور ثبوت اس جگہ جمال احمد مرزائی اور مرزا سلطان محمد شوہر محمدی بیگم کی ملاقات کا حال درج کر کے مرزا قادیانی سے اس کا حسن ظن ہونا ظاہر کیا ہے۔ اور لکھا ہے کہ اسی وجہ سے عذاب موت اس سے ٹل گیا۔
اقول: مرزا سلطان احمد کے دینی خیالات کا اندازہ ان کی اس تازہ تحریر سے ہو سکتا ہے۔ جو ہم نے ابھی نقل کی ہے۔ ورنہ بلحاظ تعلقات رشتہ داری بلکہ اپنا بزرگ (بیوی کا ماموں) ہونے کے اگر انہوں نے کسی مرزائی کے سامنے مرزا قادیانی کے عقائد سے بیزاری ظاہر نہیں کی تو اس سے پیش گوئی سچی ثابت نہیں ہوتی۔
قال: وعدہ کے بہت سے حصوں کا پورا ہو جانا دلیل صدق ہے۔ نشان زیر بحث کے چودہ حصص میں سے تیرہ پورے ہو گئے۔ چودھویں کی بناء پر کسی کو تکذیب کا حق نہیں۔
(ملخصاً ص ٣٤، ٣٥)
اقول: آپ کے ان تیرہ نشانات کو بے نشان کیا جا چکا ہے۔ لہذا یہ استدلال بھی غلط اور لغو ہے۔ علاوہ ازیں اسی اشتہار سے تیرہ جھوٹ مرزا قادیانی کے دکھائے جا چکے ہیں۔ انہیں دیکھ کر گریبان میں منہ ڈالئے۔ اور بفرض محال اگر آپ کا یہ اصول تسلیم بھی کر لیا جائے۔ کہ اگر کسی خبر دہندہ کی کچھ خبریں غلط اور کچھ صحیح نکلیں۔ تو اسے صادق اور راستباز ماننا چاہئے۔ تو پھر آپ کو ابن صیاد اور ابن تومرت وغیرہ مدعیان نبوت کو نبی ماننے میں کیوں تامل
١٥٤
ہے ۔ اور کیا اس اصول پر آپ سب رمالوں، جفاروں اور نجومیوں کو نبی یا شریک نبوت مانتے ہیں؟ جن کی پیش گوئیاں سچ اور جھوٹ دونوں قسم کی ثابت ہوتی ہیں۔
قال : ضروری نہیں کہ تمام وعدہ نبی کی زندگی میں پورا ہو...... الخ!
(ص ٣٥)
اقول : کیا مرزا قادیانی سے یہ نکاح ان کے مرنے کے بعد بھی ہو سکتا ہے۔ جو ابھی اس وعدہ کے پورا ہونے کی امید دلائی جا رہی ہے۔ قاضی جی ہوش کی دوا کرو اور مرزا قادیانی کے الہامات پر مکرر غور کرو۔
قال : ضروری نہیں کہ جس سے وعدہ کیا جائے۔ اس کو ملے ...... الخ!
(ص ٣٥، ٣٦)
اقول : عجیب مخبوط الحواس ہے۔ الہامات زوجنکھا! ”يردها اليك الحق من ربك فلا تكونن من الممترين ، لا تبديل لكلمات الله “ سب کو قاضی جی نے بستہ فراموشی میں باندھ لیا۔ جب کہ بروئے الہامات یہ نکاح آسمان پر مرزا قادیانی کے ساتھ ہوا۔ اور انہی کی طرف اس لڑکی نے واپس آنا تھا۔ اور مرض الموت جیسی حالت میں ان کو الہام ہوا تھا کہ نکاح کے بارے میں شک نہ کر۔ خدا کی باتیں بدل نہیں سکتیں۔ پھر یہ دعویٰ کہ پیش گوئی کسی اور کے ساتھ نکاح ہونے سے بھی پوری ہو سکتی ہے۔ ایک مجذوبانہ بڑ نہیں تو اور کیا ہے؟۔
قال : تابع متبوعین کے حکم میں ہیں۔ اس کے تحت حدیث شریف شام مدائن اور یمن کے خزانوں کی چابیاں ملنے کی درج کی ہے۔
(ص ٣٦، ٣٨)
اقول : آپ کا یہ استدلال کہ آنحضرت ﷺ نے اعطیت کا لفظ فرمایا تھا کہ مجھے ان مقامات کے خزانوں کی چابیاں دی گئیں۔ مگر یہ مقامات آپ ﷺ کے بعد صحابہ کرامؓ نے فتح کئے ۔ اس پیش گوئی کے متعلق باطل ہے کیونکہ نکاح مرزا قادیانی سے ہونا تھا جو بطور نشان صداقت مسیحیت تھا۔ اولاد مرزا قادیانی کے نطفہ سے بطور نشان پیدا ہونی تھی۔ جب مسیحیت کے یہ مدار صدق نشان ہی گم ہو گئے تو اب کون سی صورت باقی ہے جو تابعین پوری کر سکتے ہیں۔ کچھ خدا کا خوف بھی کرنا چاہئے ۔ اس طرح بہکی بہکی باتیں بنانے سے کچھ فائدہ نہیں۔
قال : مخاطب سے کبھی اس کا جانشین بھی مراد ہوتا ہے۔
(ص ٣٨)
اقول : یہاں قاضی جی نے حکیم نور الدین کا مضمون نقل کیا ہے۔ جس کی تردید پہلے ہو چکی ہے۔
قال : وعدہ منسوخ بھی ہو جاتا ہے۔ اللہ فرماتا ہے ۔ ” يمحو الله مايشاء ويثبت اور ماننسخ من آیتہ او ننسہا “ پس یہ نکاح کا نشان بھی پہلے تاخیر میں ڈالا گیا۔ اور پھر اس
١٥٥
کو ترک کر دیا گیا۔ اور اس کے بعد اور بہت سے نشان دکھائے گئے۔ اس سے آگے شاہ جیلانی کی نقل کی ہے۔
(ص ٣٨، ٣٩)
اقول: آیت یمحو الله کے متعلق مرزا قادیانی کی تاویلات کی تردید کے سلسلہ میں ہم مفصل لکھ چکے ہیں کہ وعدہ الہی کبھی منسوخ نہیں ہوتا۔ خصوصاً اپنے پیغمبروں سے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”فلا تحسبن الله مخلف وعده رسله“ دوسری آیت سے وعدہ الہی اور نکاح کی پیش گوئی کی تنسیخ مراد لینا قاضی صاحب کے دماغ کا ہی کام ہے۔ باقی رہی شاہ جیلانی کی شہادت فتوح الغیب مقالہ نمبر ٥٦ سے آپ نے اپنے مطلب کے چند فقرے نقل کر کے میٹھا میٹھا ہپ ہپ اور کڑوا کڑوا تھو تھو والی مثال کی تصدیق کی ہے۔ ورنہ مقالہ نمبر ٥٦ فتوح الغیب ص ٣١١ کو پڑھو۔ جس کی شروع کی عبارت یوں ہے کہ:
واضح ہو کہ جب بندہ خلق ارادہ و آرزو سے فانی ہو جائے اور دنیا و آخرت میں سوائے خدا کے کچھ نہ چاہے وہ خدا رسیدہ منتخب اور برگزیدہ ہو جائے گا۔ اور اللہ تعالیٰ اور اس کی خلقت کا محبوب ہو جائے گا......الخ!
حضرت محبوبؒ سبحانی نہایت بلند پایہ بزرگ ہیں۔ وہاں سکر و شطحیات کا بھی پتہ نہیں۔ آپ نہایت درجہ متبع شریعت ہیں۔ اور کبھی قرآن شریف کے خلاف نہیں فرما سکتے۔ اس مقالہ میں انہوں نے مراتب ولایت و عارفین کاملین بیان فرمائے ہیں۔ جن کو وہی بزرگ سمجھ سکتے ہیں۔ جن پر وہ حالتیں گزری ہیں۔ جو ان حالتوں سے محض نا آشنا ہیں۔ وہ کیا جانیں مطلب حضرت ممدوح کا یہ ہے کہ مقام فنا میں عارف کو اس قدر محویت اور از خود رفتگی ہو جاتی ہے کہ ممکن ہے اللہ تعالیٰ اس سے کوئی وعدہ کرے اور اس کے ایفاء کی اسے خبر نہ ہو ١ یعنی وہ وعدہ الٰہی پورا ہو۔ مگر پورا ہونا اس پر ظاہر نہ ہو۔ کیونکہ مقام فناء میں از خود رفتہ ہونے کی وجہ سے اسے اپنی ہی خبر نہیں ہوتی۔ وعدہ پورا ہونے کی اطلاع اسے کیا ہوگی۔ شیخؒ کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وعدہ الٰہی پورا نہیں
١ قاضی جی نے فتوح الغیب کی عبارت اس طرح نقل کی ہے۔ ”یجوز ان یعدہ الله بوعد ثم لا يظهر للعبد وفاه “ لیکن حضرت مولانا ابواحمد رحمانی صاحب مونگیریؒ نے فیصلہ آسمانی ص ١١١ میں بجائے لفظ یظهر کے یطهر ہونا ظاہر کیا ہے۔ جس کے معنی ہم نے اوپر درج کئے ہیں۔ اور یہی معنی نہایت اوجہ اور موزوں معلوم ہوتے ہیں۔ ممکن ہے کہ قاضی صاحب کے پاس جو کتاب فتوح الغیب ہے۔ اس کے اعراب اس طرح ہوں جو انہوں نے نقل کئے ہیں۔ لیکن معتبر اور پرانے نسخوں میں اعراب اس طرح ہیں۔ جو ہم نے نقل کئے ہیں۔
١٥٦
ہوتا۔ کیونکہ ایسا سمجھنا نصوص قرآن شریف کے خلاف ہے۔ اور اس سے خدائے قدوس پر الزام عائد ہوتا ہے۔ جسے مرزا قادیانی بھی مانتے ہیں۔
(دیکھو توضیح مرام ص ٨، خزائن ج ٣ ص ٥٥)
قال: ایک اور شہادت (یہاں قاضی جی) نے حضرت امام شافعی، بیضاوی، زرکشی وغیرہ کے اقوال وعید کے ٹل جانے کے متعلق نقل کئے ہیں۔ اور بالآخر لکھا ہے کہ محققین کا اتفاق ہے کہ وہ توبہ استغفار، صدقہ اور رجوع الی الحق سے ٹل جاتی ہے۔ اور اسی پر اپنا مضمون ختم کر دیا ہے۔
(ص ٢٢٠ تا ٢٢٢)
اقول: اس بارہ میں آپ کو حضرت مجدد الف ثانی کا نہایت صاف و روشن بیان دیکھنے کی توجہ دلائی جاتی ہے۔ جو ہم مرزا قادیانی کی تاویل اوّل کے رد میں اسی باب میں نقل کر چکے ہیں۔ اس لئے دیکھو اور سوچو کہ نکاح آسمانی کی پیش گوئی کو مرزا قادیانی نے اپنی صداقت کا نہایت عظیم الشان نشان بتلایا تھا اور نکاح کے لئے اوّل تو کوئی شرط وحی والہام میں تھی نہیں۔ لیکن اگر کوئی شرط تھی بھی تو وہ پوری ہو کر نکاح ہو جانا لازمی تھا۔ کیونکہ نشان نکاح مرزا قادیانی کے لئے وعدہ تھا۔ اور بقول مرزا قادیانی و مرزائیان ان کے مخالفوں کے لئے وعید اور اس اصول کو آپ خود تسلیم کرتے ہیں کہ وعید کا توبہ، استغفار صدقہ وغیرہ سے ٹل جانا ممکن ہے۔ اور یہ بھی ہم نے ثابت کر دیا ہے کہ مرزا قادیانی کا مد مقابل مرزا سلطان محمد ایک منٹ کے لئے بھی اس پیش گوئی سے نہیں ڈرا۔ نہ توبہ واستغفار کر کے اپنے عقائد کی اصلاح کے بعد مرزا قادیانی پر ایمان لایا۔ پھر یہ پیش گوئی اگر وعید کی ہی تھی۔ تو بلا وجہ اور بے سبب ٹل کیوں گئی؟۔ اور دوسری طرف مرزا قادیانی وعدہ نکاح، اولاد بطور نشان اور نشانات صداقت سے کیوں محروم رہ گئے؟۔ یوں خواہ مخواہ کاغذات سیاہ کئے جانا اور ضد کو نہ چھوڑنا اور مخلوق خدا کو دھوکے میں ڈالنا دوسری بات ہے۔ جو تقویٰ اور خشیت اللہ کے صریح برخلاف ہے۔
اس کے بعد قاضی جی نے زیر عنوان تتمہ مضمون پھر چند وہی باتیں دھرائی ہیں۔ جن کا اوپر ذکر ہو چکا اور بطور نشان صداقت چند عورتوں اور بچوں کا مرزائی ہو جانا بڑے فخر سے شائع کیا ہے۔ مگر ان لوگوں کے مرید ہونے کی کوئی تاریخ نہیں بتلائی جس سے معلوم ہو جاتا کہ پیش گوئی اوّل اڑھائی سالہ کے زمانہ میں کون کون ان میں سے مرزا قادیانی پر ایمان لائے۔ جس کی وجہ سے میعاد مقررہ ٹل کر پیش گوئی کی میعاد کو مرزا قادیانی کے دم واپسیں تک لمبا کیا گیا۔ اور پھر اس بعد کے زمانہ میں کس کس کی توبہ واستغفار سے موت کا پیالہ مرزا سلطان محمد صاحب سے ٹل کر مرزا
١٥٧
قادیانی کے نصیب ہوا۔ رہے سلطان محمد اور محمدی بیگم۔ وہ اب تک مسلمان ہیں۔ اور ابتداء سے ہی مسلمان ہیں۔ جس کا ثبوت دیا جا چکا ہے۔
چلتے چلتے قاضی جی کو پھر کچھ سمجھ آ گئی۔ اور چند اعتراضات قائم کر کے جواب دہی کی کوشش کرتے ہیں۔
قال: تقدیر مبرم کے اعتراض پر قاضی جی لکھتے ہیں کہ تقدیر مبرم بھی بدل جاتی ہے۔ جیسا کہ حضرت مجدد صاحب الف ثانی اپنے مکتوب میں فرماتے ہیں جلد اول ٢٧ ۔ ”حضرت
جیلانی قدس سرہ در رسائل خود نوشتہ اند کہ در قضائے مبرم ہیچ کس را مجال نیست کہ تبدیل بدہد۔ مگر مرا کہ اگر خواہم آنجا ہم تصرف کنم“
اقول: قاضی جی! اللہ سے ڈرو اور ان یہودیوں سے باز آؤ۔ آپ کے اس حوالہ کا تانا بانا ہم قریب کے ہی صفحوں میں ادھیڑ چکے ہیں۔ اور حوالہ کی غلطی بھی ثابت کی گئی ہے۔ یہاں پھر حوالہ غلط درج کیا ہے۔
حضرت مجدد صاحب علیہ الرحمہ کا ہرگز ہرگز یہ عقیدہ نہ تھا کہ تقدیر مبرم بدل جاتی ہے۔ جیسا کہ آپ نے لکھا ہے۔ ہمت ہو تو مرد میدان بن کر سامنے آؤ۔ اور حضرت موصوف کے اقوال سے تقدیر مبرم کا بدل جانا ثابت کر دو تو ہم بھری مجلس میں آپ کے ہم عقیدہ ہونے کو تیار ہیں۔ اور اگر ثابت نہ کر سکو تو اسی مجلس میں آپ کو اپنے عقائد باطلہ اور تاویلات کاذبہ سے توبہ کا اعلان کرنا ہو گا۔ اگر آپ کے نزدیک مذہب درحقیقت کوئی ضروری شے ہے۔ تو امید ہے کہ ہمارے اس مخلصانہ چیلنج کو منظور کرنے میں آپ تامل نہ کریں گے۔
قاضی صاحب کسی وجہ سے اس مطالبہ سے اعراض کریں تو ہم اس کے لئے تمام مرزائیوں کو صلائے عام دیتے ہیں۔
قال: اعتراض دوم! یہ آسمانی نکاح تھا زمین پر ہونا چاہئے تھا۔ کا جواب دیتے ہیں کہ ابو امامہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خدیجۃ الکبریٰ سے فرمایا کہ اللہ نے میرا نکاح حضرت مریم بنت عمران اور کلثوم ہمشیرہ موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کی بی بی کے ساتھ کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ مبارک ہو یا رسول اللہ کیا یہ نکاح زمین پر ہوئے۔ حالانکہ فرمایا کہ اللہ نے نکاح کر دیا۔
اقول: قاضی جی! جب حضرت رسول اللہ ﷺ نے ان نکاحوں کے ہونے کا ذکر فرمایا ہے کیا اس وقت حضرت مریم، حضرت کلثوم اور فرعون کی بی بی اس زمین پر موجود تھیں؟۔ پس اگر
آپ حدیث رسول اللہ ﷺ پر ایمان رکھتے ہیں تو سمجھ لو کہ جہاں یہ بیبیاں ہیں وہاں نکاح ہو چکا ہے۔ مگر آپ کے نبی کی موعودہ تو زمین کے تختہ پر ہی موجود تھی۔ اور اس کا نکاح زمین و آسمان پر دونوں جگہ ایک ہی وقت میں ہو جانا ناممکنات سے نہیں تھا۔ اور اس میں کسی قانون قدرت کو توڑنے کی بھی ضرورت نہ تھی۔ پس ان ہر دو واقعات میں کس طرح مطابقت و مماثلت ہو سکتی ہے۔
قال: اعتراض سوم! خدا نے وعدہ کیا پھر پورا نہیں کیا۔ کا جواب تحریر کیا ہے کہ مشکوٰۃ شریف کے باب جامع المناقب میں جابرؓ سے روایت ہے کہ میں اپنے باپ کے شہید ہو جانے کی وجہ سے ملول تھا۔ آنحضرت ﷺ نے میری یہ حالت دیکھ کر مجھے خوشخبری دی کہ اللہ تعالیٰ نے تیرے باپ کو زندہ کر کے اس سے فرمایا کہ مانگ لے مجھ سے جو تو چاہے میں تجھے عطاء کروں گا۔ تیرے باپ نے عرض کیا کہ مجھے دوبارہ زندگی دے تا کہ پھر تیری راہ میں مارا جاؤں۔ اللہ نے فرمایا کہ یہ نہیں ہو سکتا کیونکہ میں کہہ چکا ہوں کہ مردے پھر دنیا میں نہیں آئیں گے۔ دیکھئے خدا نے خود ہی تو فرمایا کہ مانگ جو چاہتا ہے میں تجھے ضرور دوں گا۔ مگر جو مانگا گیا نہ دیا۔ معلوم ہوا کہ وعدہ الٰہی تبدیل ہو سکتا ہے۔
(انتہی ملخصا ص ٥١، ٥٣)
اقول: وعدہ الٰہی میں عدم خلف کے متعلق پہلے ہم مفصل بحث کر چکے ہیں جس میں آیات قرآنی سے احادیث رسول اللہ ﷺ سے، اقوال بزرگان دین سے اور خود مسلمات مرزا قادیانی سے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ وعدہ الٰہی میں ہرگز تخلف نہیں ہو سکتا۔ پس کسی حدیث کے معنی اگر خلاف قرآن و جمہور و خود مسلمات مرزائیہ کئے جائیں گے تو وہ باطل ہوں گے۔ آپ کی خاطر سے ہم آپ کو ایک اور روشن کمرہ دکھاتے ہیں کیونکہ یہ آپ کا گھر ہے شاید اس میں جا کر نور بصارت و بصیرت نصیب ہو جائے۔ سنئے مرزا جی کہتے ہیں کہ:
ترجمہ عربی الہام
اور پوچھتے ہیں کہ کیا یہ بات سچ ہے تو کہہ دے کہ ہاں مجھے اپنے رب کی قسم یہ سچ ہے۔ اور تم اس بات کو روک نہیں سکتے۔ ہم نے خود اس سے تیرا نکاح باندھ دیا میری باتوں کو کوئی بدل نہیں سکتا۔ اور نشان دیکھ کر منہ پھیر لیں گے۔ اور قبول نہیں کریں گے۔ اور کہیں گے کہ یہ کوئی فریب یا پکا جادو ہے۔
(آسمانی فیصلہ ص ٤٠، خزائن ج ٤ ص ٣٥٠)
مرزا قادیانی کا یہ الہام قرآنی آیات کا مجموعہ ہے۔ اس لئے اس کے یقینی اور قطعی ہونے میں کوئی کلام نہیں ہو سکتا۔ اس میں نکاح کا صاف اور صریح وعدہ بلا کسی شرط کے ہے۔ اور
١٥٩
وعدہ بھی ایسا کہ جسے کوئی بدل نہیں سکتا اور بے شک اللہ کے وعدے کبھی نہیں بدل سکتے خود مرزا قادیانی کہتے ہیں۔
- .......١ ”چونکہ مجھے خدا تعالیٰ کے وعدوں پر وثوق تھا۔“
(استفتاء ص ٢٣، خزائن ج ١٢ ص ١١١)
- ......٢ وہ ہمارا خدا وعدوں کا سچا۔
(الوصیت ص ٦، خزائن ج ٢٠ ص ٣٠٦)
- .......٣ کیا خدا کے ایسے حتمی وعدے کا ٹوٹ جانا اس کے تمام وعدوں پر سخت
زلزلہ نہیں لاتا؟۔
(توضیح مرام ص ٨، خزائن ج ٣ ص ٥٥)
ٹلتی نہیں وہ بات خدائی یہی تو ہے
(درثمین ص ١٤)
- ......٥ ”پہاڑ ٹل جاتے ہیں دریا خشک ہو سکتے ہیں موسم بدل جاتے ہیں۔ مگر خدا
کا کلام نہیں بدلتا۔ جب تک پورا نہ ہولے۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٨، خزائن ج ٢٢ ص ٤٣٣)
”ایک بیٹا نہیں اگر ہزار بیٹے بھی صلیب پر کھینچے جائیں تب بھی وعدہ میں تخلف نہیں ہوسکتا۔“
(جنگ مقدس ص ١٨٥، خزائن ج ٦ ص ٢٩٣)
اس قطعی اور یقینی الہامی وعدہ اور وعدہ کی عدم تخلف پر جو خود مرزا قادیانی کے اقراروں کو پس پشت ڈالتے ہوئے آپ لوگوں کا یہ رٹ لگائے جانا کہ وعدہ الہی میں تخلف ہوسکتا ہے۔ کہاں کی ایمانداری ہے؟۔ رہا اس حدیث کا قصہ اوّل ترجمہ میں آپ نے تصرف کیا ہے کہ ”تمن علی اعطک“ کا ترجمہ مانگ لے مجھ سے جو تو چاہے کیا ہے۔ حالانکہ جو تو چاہے کسی لفظ حدیث کا ترجمہ نہیں لہذا آپکا نکالا ہوا نتیجہ کہ خدا نے خود ہی فرمایا کہ مانگ جو چاہتا ہے۔ میں تجھے ضرور دوں گا بالبداہت باطل ہے۔ دوسرے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا کہ مانگ تجھے دیا جائے گا۔ یہ مطلب ہرگز نہیں ہو سکتا کہ مانگنے والا خدا سے اس کی خدائی ہی مانگ لے قرآن شریف میں بتلایا گیا ہے کہ ”اجیب دعوة الداع اذا دعان“ لیکن ہزاروں لاکھوں دعائیں ہیں۔ جو قبول نہیں ہوتیں خود آپ کے مرزا قادیانی سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ ”اجیب کل دعائک الا فی شرکائک“ لیکن مرزا قادیانی کی سینکڑوں دعائیں مردود ثابت ہوئیں۔ جن کا کچھ نمونہ ہم نے عشرہ کاملہ میں بھی درج کیا ہے۔ پس ”تمن علی اعطک“ کے یہ معنی کرنے کہ جو تو چاہتا ہے۔ مانگ لے تجھے ضرور دوں گا۔ کسی طرح درست نہیں دعاؤں کی فلاسفی غالباً آپ بے خبر نہیں ہوں
١٦٠
گے۔ کیونکہ آپ قاضی ہیں۔ مختصر یہ ہے کہ سوالوں اور دعاؤں کا قبول کرنا یا نہ کرنا مالک حقیقی اور حکیم لم یزل کی حکمت ومصلحت پر مبنی ہے۔ ڈاکٹر اور طبیب بیمار سے پوچھتے ہیں کچھ کھانے کو جی چاہتا ہے تو کھالو۔ بیمار کسی خاص شے کا نام لیتا ہے۔ مگر ڈاکٹر کی رائے میں وہ اس کے لئے مضر ہے تو اس سے منع کر کے۔ وہ دوسری غذا تجویز کرتے ہیں۔ پس آپکا دعوائے تخلف وعدہ محض غلط ہے۔ باقی رہا پیش گوئی کی شرائط کا ولی اللہ کی نظر سے مخفی رہنا اور اس کا اس سے دھوکا کھا جانا۔ جو آپ نے بحوالہ قول حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ نقل کیا ہے۔ اوّل تو اس نقل کے ساتھ آپ نے کسی مکتوب کا حوالہ نہیں دیا۔ دوسرے ہم کئی جگہ مفصل بحث کر چکے ہیں کہ اس پیش گوئی کی تمام جزئیات پر مرزا قادیانی بروئے تواتر الہامات مطلع ہو چکے تھے۔ اس لئے یہ عذر لنگ ناقابل پذیرائی ہے۔
”الحمد للہ کہ قاضی محمد ظہور الدین اکمل کی تاویلات کا کامل اور مکمل جواب ان اوراق میں دیا جا چکا ہے۔ بہتر ہوتا کہ قاضی صاحب مسلمانوں کے اعتراضات کے جواب میں یہ رسالہ لکھنے کی تکلیف نہ فرماتے۔ جو عذر گناہ بدتر از گناہ کا مصداق اور محض تک بندیوں کا مجموعہ ہے۔ مرزائیوں میں یہ رسالہ بڑے دعوؤں سے شائع ہو رہا ہے۔ اور وہ اسے نکاح آسمانی کے متعلقہ تمام اعتراضات کا کافی اور شافی جواب سمجھتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزائیوں میں تحقیق حق کا مادہ اور محبت اسلام کیسی کچھ باقی رہ گئی ہے کہ قرآن وحدیث کے معنے خلاف منشائے خدائے عزوجل اور رسول اللہ ﷺ کئے جاتے ہیں۔ بزرگان دین کے اقوال اور تفاسیر معتبرہ سے روگردانی کی جاتی ہے۔ خود مرزا قادیانی کے مسلمات سے انحراف کیا جاتا ہے۔ مگر انہیں کچھ غیرت، شرم نہیں آتی۔ اناب شناب جواب لکھ دینا اور سفید کاغذوں کو سیاہ کرنا ہی بریت کا ذریعہ سمجھ رکھا ہے۔ خواہ اس روشنائی سے ان کے نامہ اعمال میں مزید سیاہی کا ہی اضافہ ہو جائے۔ بھلے آدمیو! اللہ سے ڈرو جھوٹ اور سچ کا موازنہ کرو۔ حق کو قبول کرو اور باطل پر لعنت بھیجو۔ یہ طریق ٹھیک نہیں کہ مرزا قادیانی کے ایک جھوٹ کو نبھانے اور اسے سچ ثابت کرنے کے لئے (معاذ اللہ منہا) خدا اور رسول کے کئی جھوٹ ثابت کئے جائیں آخر خدا کو کیا منہ دکھاؤ گے۔
- ٧...... مرزا محمود احمد خلیفہ ثانی کی تقریر احمد بیگ والی پیش گوئی
مرزا محمود احمد قادیانی کا ناظرین سے تعارف کرانے کی چنداں ضرورت نہیں۔ آپ مرزا قادیانی کے بیٹے اور قادیانی گدی کے دوسرے خلیفہ ہیں۔ سنا ہے کہ آپ نے پیش گوئی نکاح کے متعلق خاص طور پر جداگانہ مضامین بھی لکھے تھے۔ مگر افسوس کہ وہ ہمیں نہیں ملے ورنہ انہیں بھی
١٦١
اس رسالہ میں زیر بحث لایا جاتا۔ رسالہ احمد بیگ والی پیش گوئی (جس پر نمبر گزشتہ میں تبصرہ کیا گیا ہے) اخیر میں قاضی صاحب مؤلف رسالہ نے خلیفہ قادیانی کی کسی تقریر کا اقتباس درج کیا ہے۔ جو ہمارے لئے بدیں وجہ مستند ہے کہ خود مرزائی کارخانہ یعنی قادیانی مطبع کا چھپا ہوا ہے۔ لہٰذا اس پر بھی بقدر ضرورت روشنی ڈالی جاتی ہے۔ شروع مضمون میں خلیفہ قادیانی اپنے خاندان کے بزرگوں میں ہندوانہ رسومات اور مشرکانہ خیالات کا رائج ہو جانا ظاہر کر کے فرماتے ہیں کہ:
’’ان حالات کو دیکھ کر مرزا قادیانی کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ مرزا احمد بیگ کی بڑی لڑکی کے رشتہ کے لئے آپ کوشش کریں کہ شاید اس قسم کے رشتہ کے سبب سے ان لوگوں کی اصلاح میں زیادہ مدد ملے۔ ان لوگوں کی اصلاح کی کوئی صورت ہو جائے۔ جب تحریک کی گئی۔ تو ان لوگوں نے کہا کہ یہ رشتہ کیسے ہو سکتا ہے کیونکہ یہ تو آپ کی رشتہ میں بہن لگتی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ دیکھو آنحضرتﷺ کی ایک شادی آپ کی پھوپھی زاد بہن سے ہوئی تھی۔ یہ جائز ہے۔ ایک عورت نے کہا کہ انہوں نے بھی اپنی بہن سے نکاح کیا۔ (نعوذ باللہ من ذالك) چونکہ ان لوگوں نے رسول اللہﷺ کی ہتک کی تھی۔ اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بہت رنج ہوا۔ اور آپ نے اس امر میں خدا تعالیٰ کی طرف توجہ فرمائی۔ الہام ہوا کہ اس گستاخی کی سزا میں اب ان کے لئے یہ بات مقرر کی جاتی ہے کہ یہ اس لڑکی کا رشتہ آپ سے کریں اور اگر نہ کریں گے۔ تو پھر اسی طرح کا عذاب نازل ہو گا۔ اور اسی وقت یہ الہام بھی ہوا کہ ’توبی توبی فان البلاء علی عقبك‘ ”اے عورت توبہ کر توبہ کر کیونکہ بلا تیرے پیچھے آ رہی ہے۔ غرض جب یہ معاملہ ہوا تو اس وقت ہی حضرت نے پیش گوئی شائع فرمائی کہ اگر یہ نکاح مجھ سے نہ ہوا تو اس لڑکی کا والد تین سال میں اور جس سے نکاح ہو گا۔ ڈھائی سال میں فوت ہوں گے۔ چنانچہ نکاح کے بعد احمد بیگ مر گیا۔ اس کے خاندان میں کہرام پڑ گیا اور مرزا سلطان محمد پر بھی خوف طاری ہو گیا۔ اس نے مرزا قادیانی کی ہتک کرنے سے پرہیز کیا بلکہ یہ لکھا کہ میں مرزا قادیانی کو نیک اور خادم اسلام سمجھتا ہوں۔ خاندان کے لوگ بھی خدا کے خوف سے ڈر گئے۔ اور ہندوانہ رسوم سے توبہ کی تو پھر کوئی وجہ نہ تھی کہ ان کو عذاب ملتا۔ پس خدا رحمن و رحیم ہے۔ وہ توبہ اور انابت کرنے والے پر رحم فرماتا ہے۔ مرزا سلطان محمد نے رجوع کیا اور ان سے عذاب ٹل گیا۔ میں اعلان کرتا ہوں کہ لوگ مرزا سلطان محمد کو شوخی پر آمادہ کریں۔ مرزا قادیانی کا اعلان موجود ہے۔ اگر وہ شوخی کرے گا تو بچ نہیں سکتا۔ اس کا تجربہ کر کے دیکھ لیں۔ اگر اسی طرح نہ ہو جس طرح حضرت مسیح موعود نے کہا ہے تو پھر بے شک جو چاہیں ہم پر الزام دیں۔‘‘
(ملخصاً از ص٤٥ تا ٥٦، رسالہ احمد بیگ والی پیش گوئی)
١٦٢
خلیفہ قادیانی کی اس تقریر میں جو فقرات قابل غور ہیں۔ ذیل میں ان کے متعلق مناسب تشریح کی جاتی ہے۔
- ١....... مرزا قادیانی نے محمدی بیگم کے نکاح کا پیغام بحکم الہی احمد بیگ کو دینا اپنی
تصانیف میں ظاہر کیا ہے۔ (دیکھو کتاب آئینہ کمالات اسلام ص ٢٧٥، ٢٧٤، ٢٨٢، خزائن ج ٥ ص ایضاً، اشتہار ١٠ جولائی ١٨٨٨ء ، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٥٧ ، سیرۃ المہدی حصہ اول ص ٣٠ ج ١ روایت نمبر ٣٧)
لیکن خلیفہ قادیانی لکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا تھا کہ ان لوگوں کی بددینی کی اصلاح کے لئے اس رشتہ کی کوشش کریں۔ یہ ہر دو بیانات مختلف ہیں۔
- ٢....... مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ میں نے اللہ سے دعا کی تھی سو خدا نے وہ دعا
قبول کر کے یہ تقریب قائم کر دی کہ احمد بیگ اپنی بہن کی زمین لینے کے لئے ہماری طرف متوجہ ہوا۔ اس وقت ہمیں الہام ہوا کہ اس لڑکی کا نکاح کے لئے درخواست کر۔
(حوالہ مذکور)
مگر خلیفہ قادیانی لکھتے ہیں کہ جب مرزا قادیانی نے اپنے خیال سے ہی اس رشتہ کی تحریک کی تو ان لوگوں نے انکار کیا۔ اور رسول اللہ ﷺ کی ہتک کی جس کا مرزا قادیانی کو رنج ہوا۔ اس پر الہام ہوا کہ اس گستاخی کی سزا میں یہ بات مقرر کی جاتی ہے کہ یہ رشتہ آپ سے ہو ورنہ عذاب نازل ہوگا۔ یہ دونوں بیانات بھی متضاد ہیں۔
- ٣....... صاحبزادہ قادیانی اس لڑکی کو مرزا قادیانی کی بہن بتلاتے ہیں۔ مگر مرزا
قادیانی اسے اپنی چچازاد بہن کی لڑکی (یعنی بھانجی) ظاہر کرتے ہیں۔ جیسا کہ ہم نے شجرہ نسب مشمولہ کتاب ہٰذا میں بھی دکھایا ہے۔
بہن اور بہن کی لڑکی دو مختلف رشتے ہیں
- ٤....... خلیفہ قادیانی لکھتے ہیں کہ احمد بیگ کے مرنے سے اس کے خاندان میں
کہرام پڑ گیا۔ اور محمدی بیگم کے شوہر پر خوف طاری ہو گیا۔ اس نے مرزا قادیانی کی ہتک کرنے سے پرہیز کیا۔ بلکہ ان کو نیک اور خادم اسلام لکھا اس لئے سلطان محمد سے عذاب ٹل گیا۔
سلطان محمد کی زندگی کی آخری تاریخ پیش گوئی مرزا قادیانی ٦؍ اکتوبر ١٨٩٤ء تھی۔ اور اس کی جس تحریر میں مرزا قادیانی کو نیک اور خادم اسلام لکھنا بتلایا جاتا ہے۔ اس کی تاریخ تحریر ٢١؍ مارچ ١٩١٣ء ہے۔ تعجب ہے کہ مرزا قادیانی کی تعریف تو کی جائے ١٩١٣ء میں مگر اس کے اثرات ظاہر ہو جائیں۔ اس سے ٢٠ سال پہلے یعنی ١٨٩٤ء کے ٦؍ اکتوبر تک اس کی موت نہ آئے۔
١٦٣
باقی رہا اس کا خوف وغیرہ اس پر پہلے کئی جگہ مفصل بحث ہو چکی ہے۔ وہ خود اپنی تحریر مورخہ ٣؍ مارچ ١٩٢٤ء میں پیش گوئی سے ڈرنے یا مرزا قادیانی کو سچا سمجھنے سے قطعی انکار کرتا ہے۔ گویا مرزا قادیانی کو مفتری علی اللہ اور ظالم قرار دیتا ہے۔
(دیکھو حقیقت الوحی ص ١٦٤، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٨)
- ٥....... صاحبزادہ قادیانی کہتے ہیں کہ مرزا سلطان محمد سے شوخی کرا کر دیکھ لو اور
تجربہ کر لو۔ اگر اسی طرح نہ ہوا جس طرح مرزا قادیانی نے کہا تھا تو ہم ملزم ہیں۔
مرزا سلطان محمد کی تحریر ٣؍ مارچ ١٩٢٤ء اس کتاب میں نقل ہو چکی ہے۔ جس میں اس نے اپنا عقیدہ برخلاف مرزا قادیانی اور پیش گوئی کی بے وقعتی صاف لفظوں میں ظاہر کر دی ہے۔ اس وقت وہ بفضلہ تعالیٰ زندہ موجود ہیں۔ اب جب کہ شوخی بھی ہو چکی ہے۔ ہم خلیفہ قادیانی سے دریافت کرتے ہیں کہ انجام حسب قول مرزا قادیانی کیسے ہوگا۔ مرزا قادیانی تو کہا کرتے تھے کہ سلطان محمد مرے گا۔ اور ہمارا محمدی بیگم سے نکاح ہو گا۔ لیکن اب کسی وقت اگر سلطان محمد کی اجل آگئی۔ جو ہر متنفس کے لئے آنی لازمی ہے تو کیا محمدی بیگم سے نکاح کرنے کے لئے مرزا قادیانی دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے؟۔ بہرحال الزام تو آپ پر قائم ہی رہا۔ اور بقول آپ کے وہ نتیجہ کس طرح مترتب ہو سکتا ہے جس طرح مرزا قادیانی نے لکھا ہے؟۔
ناظرین! آپ نے ملاحظہ فرمایا یہ ہیں قادیانی پیشواؤں کے نکات قرآنیہ اور معارف حقہ کہ باپ کچھ کہتا ہے۔ بیٹا کچھ اور ہانکتا ہے۔ اور جواب دینے کے جوش میں کچھ پتہ نہیں رہتا کہ منہ سے کیا نکل رہا ہے۔ اور کہنا کیا چاہئے تھا۔ مرید اندھا دھند آمنا و صدقنا کہے جاتے ہیں۔
٨....... مولوی جلال الدین شمس سیکہوانی کا مضمون کمالات مرزا
مولوی ثناء اللہ صاحب فاضل امرتسری نے ایک مختصر رسالہ شہادات مرزا یا عشرہ مرزائیہ لکھ کر مرزائیوں کو اس کی تردید کے لئے مخاطب کر کے ایک ہزار روپیہ انعام کا اعلان کیا تھا۔ مگر مرزائیوں کی طرف کسی نے انعام حاصل کرنے کے جواب لکھ کر منصفان سے فیصلہ کرانے کی جرأت نہیں کی۔ تاہم مرزائی امت کی تشفی کے لئے مضمون مندرجہ عنوان اپریل ١٩٢٤ء کے ریویو آف ریلیجنز (قادیانی رسالہ) میں شائع ہوا ہے۔ اس مضمون کے جس حصہ میں جناب مولوی ثناء اللہ صاحب کے اعتراضات متعلق نکاح آسمانی کا جواب دیا گیا ہے۔ اس پر تنقید کی جاتی ہے۔
قاضی ظہور الدین اکمل ایڈیٹر رسالہ مذکور نے مضمون نقل کرنے سے پیشتر فاضل سیکہوانی کی فضیلت اور خلوص کی تعریف کر کے مضمون کی تحریر کے متعلق تائید ربانی کا ان کے شامل
١٦٤
حال ہونا بیان کیا ہے۔ مگر افسوس ہے کہ باوجود اس دعوائے فضیلت خلوص اور تائید ربانی کے اس مضمون کو مولوی ثناء اللہ صاحب کے مقابلے میں پیش کرنے اور منصفان سے فیصلہ کرانے کی ہمت نہیں کی گئی۔ شاید لدھیانہ والی شکست پیش نظر ہو۔
مولوی ثناء اللہ صاحب نے چوتھی اور پانچویں شہادت متعلق نکاح آسمانی و موت مرزا سلطان احمد قادیانی اپنے رسالہ میں درج کر کے ان پر مواخذات قائم کئے ہیں۔ جن سے عہدہ برا ہونے کے لئے شمس صاحب نے خوب ہاتھ پاؤں مارے ہیں۔ جس کی کیفیت ناظرین خود ملاحظہ فرمالیں گے۔
قال : اس سوال کا جواب کہ نکاح کیوں نہ ہوا مسیح موعود خود فرماتے ہیں۔ (ملاحظہ ہو تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٢، خزائن ج ٢٢ ص ٥٦٩، انجام آتھم ص ٢٢١، خزائن ج ١١ ص ایضاً) کہ نکاح داماد احمد بیگ کی ہلاکت پر موقوف تھا۔ اور اس کی ہلاکت اس کی پہلی حالت کے رجوع پر موقوف تھی۔ اس نے پہلی حالت کی طرف رجوع نہ کیا۔ ہلاک نہ ہوا جب ہلاک نہ ہوا نکاح نہ ہوا۔
( کمالات مرزا ص ١٣، ١٤)
اقول : اس کا مفصل جواب مرزا قادیانی کی تاویلات کی تردید میں دیا گیا ہے۔
قال : نکاح کا وعدہ شرطی ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ حضرت جابرؓ کے والد کا قصہ حدیث شریف میں مذکور ہے۔
(ص ١٤)
اقول : اس حدیث کے متعلق رسالہ احمد بیگ والی پیش گوئی کی تردید میں مفصل بیان ہو چکا ہے۔
قال : امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی فرماتے ہیں کہ بعض دفعہ اولیاء اللہ کے کشوف غلط واقع ہو جاتے ہیں۔ اور ان کے خلاف ظہور میں آتا ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ درحقیقت وہ واقعہ مشروط بشرائط ہوتا ہے۔ اور صاحب کشف کو شرط کی اطلاع نہیں ہوتی۔ (مکتوب نمبر ٢٧٠) ایسا ہی حضرت مسیح موعود ( تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٤، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٢) میں سید عبدالقادر جیلانی کے قول کی تشریح کرتے ہیں۔ پس اگر تسلیم کرلیا جائے کہ بعض مخفی شرائط کی وجہ سے نکاح نہ ہوا تو اس سے اصل الہام باطل ثابت نہیں ہوتا۔
(کمالات مرزا ص ١٥)
اقول : حوالہ غلط ہے۔ مکتوب ٢٧٠ کے بجائے ٢١٧ چاہئے۔ ہم کئی جگہ ثابت کر چکے ہیں کہ پیش گوئی نکاح کا کوئی پہلو مرزا قادیانی پر مشتبہ نہیں رہا تھا۔ اور پیش گوئی وحی الہام اور بیسیوں
١٦٥
الہامی اقوال پر مبنی اور اللہ تعالیٰ کی قسموں کے ساتھ بیان کی گئی تھی۔ جب کبھی ذرا سا شبہ ہوا تو اس کا ازالہ الہام کے ذریعہ ہی ہوتا رہا۔
پھر حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا قول کشوف اولیاء اللہ کے متعلق ہے اور مرزا قادیانی کو دعویٰ تھا۔ نبوت، رسالت، وحی، الہام اور ما ینطق عن الھوی کا پس فرق ظاہر ہے۔
قال: ”ما ننسخ من آیتہ او ننسھا“ اور ”یمحو اللہ ما یشاء ویثبت“ کی رو سے نشان بدلا جا سکتا ہے۔ یا اس کا کچھ حصہ محو ہو سکتا ہے۔
اقول: اس کا جواب قاضی ظہور الدین صاحب کے رسالہ کی تردید میں مفصل بیان ہو چکا ہے۔
قال: بعض وقت ملہم ایک بات پر زور دیتا ہے کہ ضرور ہو کر رہے گا۔ اور اسے قابل محو قرار نہیں دیتا۔ مگر در حقیقت وہ قابل محو ہوتا ہے۔ اس کا جواب امام ربانی مکتوب نمبر ٢٧٠ میں یوں دیتے ہیں۔ ایک حکم لوح محفوظ کے احکام سے عارف پر ظاہر ہوا۔ جو فی نفسہ قابل محو واثبات اور از قبیل قضائے معلق تھا۔ مگر اس عارف کو اس تعلیق کی خبر نہیں ہوئی۔ اس صورت میں اگر وہ اپنے علم کے مطابق حکم دے تو اس میں احتمال تخلف ہے۔ پس اس طرح یہ نکاح خدا کے نزدیک قابل محو تھا مؤخر دیا گیا۔ اس میں اعتراض کیا ہے۔
(کمالات مرزا ص ١٥، ١٦)
اقول: اس کا جواب چند سطور میں اوپر ہی دیا جا چکا ہے۔ اور اس سے پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے۔ مزید اطمینان کے لئے مرزا قادیانی کی (ازالہ اوہام ص ٣٩٨، خزائن ج ٣ ص ٣٠٦) دیکھنا چاہئے جس میں ایسی اجتہادی غلطی کا فی الفور رفع کرنا بیان کیا گیا ہے۔ پس اوّل تو مرزا قادیانی کو نکاح کے متعلق شبہ ہونے پر الہام ”الحق من ربک فلا تکونن من الممترین“ ہو چکا تھا۔ جس سے کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہ گیا تھا۔ دوسرے اگر کوئی شبہ کی بات باقی تھی تو وہ حسب قول مرزا قادیانی رفع ہو جانی ضروری اور لازمی تھی۔ جو مرزا قادیانی کے آخری دم تک رفع نہیں ہوئی۔ چونکہ وہ اس غلطی پر قائم رہ کر انتقال کر گئے۔ لہٰذا زمرہ انبیاء واولیاء سے خارج ہوتے ہیں۔
قال: بعض وقت اللہ تعالیٰ ایک نشان کے بجائے دوسرا نشان تبدیل کر دیتا ہے۔ مگر اس کا پتہ ملہم کو بھی نہیں ہوتا۔ جیسا کہ فرمایا ہے ”واذا بدلنا آیۃ مکان آیۃ الآیۃ“
(کمالات مرزا ص ١٦)
اقول: اس آیت کے ترجمہ میں آپ لکھتے ہیں کہ اس کا علم صرف خدا کو ہی ہوتا ہے۔ ملہم کو پتہ بھی نہیں ہوتا۔ یہ ملہم کو پتہ بھی نہیں ہوتا معلوم نہیں کن الفاظ کا ترجمہ ہے۔ ترجمہ قرآن میں
١٦٦
خدا کا خوف تو کرنا چاہئے یہ پیش گوئی نکاح کے متعلق اس آیت سے کوئی مدد نہیں ملتی ۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے پیش گوئی نکاح کے بدلہ میں کوئی دوسری پیش گوئی نہیں کی۔
قال: بعض وقت خدا بندہ سے ایک وعدہ کرتا ہے۔ مگر پورا ہونا بندہ پر ظاہر نہیں کرتا ۔ جیسا کہ فتوح الغیب مقالہ نمبر ٥٤ میں فرماتے ہیں ...... الخ !
( کمالات مرزا ص ١٦)
اقول : اس کا مفصل جواب رسالہ احمد بیگ والی پیش گوئی کی تردید میں دیا جا چکا ہے۔
قال: داماد احمد بیگ ڈھائی برس کے اندر اس لئے نہ مرا کہ بقول مرزا قادیانی اس نے اپنی حالت تبدیل کر لی تھی۔ اور تکذیب کا اشتہار نہ دیا۔ بلکہ مرزا قادیانی کو نیک بزرگ اور اسلام کا خدمت گذار اپنی تحریر میں درج کیا ہے۔ دیکھو رسالہ احمد بیگ والی پیش گوئی ۔
( کمالات مرزا ص ١٧)
اقول: اس کا مفصل جواب رسالہ محولہ کی تردید میں دیا گیا ہے۔ مختصر یہ کہ اس کی تحریر مورخہ ٣؍ مارچ ١٨٩٣ء سے ظاہر ہے کہ وہ ابتداء سے مرزا قادیانی کا منکر رہا ہے۔ اور ان کے دعاوی کو اس نے تسلیم نہیں کیا۔ ایسے شخصوں کے حق میں مرزا قادیانی (حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧ حاشیہ ) پر لکھتے ہیں کہ وہ لوگ مجھے ظالم اور مفتری علی اللہ سمجھتے ہیں۔ لہذا وہ کافر ہیں پس مرزا قادیانی کو ظالم اور مفتری علی اللہ سمجھنے والا کس طرح مستحق رعایت ہو سکتا تھا؟ ۔
قال : یہ تقدیر مبرم برنگ قضائے معلق ہے جیسا کہ مرزا قادیانی کی دوسری تحریرات سے ظاہر ہے اور پیش گوئی مشروط بہ شرط تھی۔ (ملخص بحوالہ اشتہار ٦؍ ستمبر ١٨٩٤ء تبلیغ رسالت ج ٣ ص ١١٧، ١١٨، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٩٥، انجام آتھم ص ٣١، ٣٢ ، حاشیہ خزائن ج ١١ ص ایضاً، کمالات مرزا ص ١٩)
اقول: ایک طرف تو مرزا قادیانی کی یہ تحریرات ہیں جو آپ نے نقل کی ہیں۔ ( انجام آتھم ص ٣١) پر یہ مضمون نہیں ہے۔ اور دوسری طرف انہی کتابوں میں وہ لکھتے ہیں ۔
الف...... نفس پیش گوئی یعنی اس عورت کا میرے نکاح میں آنا تقدیر مبرم ہے۔ جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی۔ اور الہام الہی میں یہ فقرہ بھی موجود ہے۔ ”لا تبديل لكلمات الله “ یعنی اللہ کی بات نہیں ٹلے گی ۔ پس اگر ٹل جائے تو خدا کا کلام باطل ہوتا ہے۔
( تبلیغ رسالت ج ٣ ص ١١٥ ، اشتہار ٦؍ اکتوبر ١٨٩٤ء، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٤٣)
ب ...... یہ نکاح معیار صدق و کذب ہے اور کوئی شخص کسی طرح سے اسے رد نہیں کر سکے گا ۔ یہ تقدیر مبرم ہے میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے یہ اپنے رب سے خبر پا کر کہا ہے۔
( انجام آتھم ص ٢٢٣، خزائن ج ١١ ص ایضاً)
١٦٧
ج...... نفس پیش گوئی یعنی داماد احمد بیگ کی موت تقدیر مبرم ہے۔ اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پوری نہیں ہوگی۔ اور میری موت آ جائے گی۔ (انجام آتھم ص ٣١ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ایضاً)
ان حوالوں سے صاف ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی وقوع نکاح پر کتنا زور دیتے تھے۔ مگر یہ ان کی چالاکی ہے کہ انہی کتابوں میں دوسری جگہ ایسی عبارتیں بھی لکھ جاتے تھے۔ جو پیش گوئی کے غلط ہونے پر ان کے کذب کی پردہ پوشی کا کام دیں۔ لیکن ان دورنگیوں کا فیصلہ قرآن کریم یوں کرتا ہے۔ ”ولو كان من عند غير الله لو جدوا فيه اختلافا كثيرا“
پس مرزا قادیانی .......... کے یہ متناقض اقوال ہی ان کے کذب کے سچے دلائل ہیں۔ ”فہم وتدبر“ باقی باتوں کا جواب رسالہ احمد بیگ والی پیش گوئی کی تردید میں مفصل درج ہو چکا ہے۔
قال: پیش گوئی کی غرض پوری ہو گئی...... الخ!
(ص ٢٠)
اقول: اس کا جواب بھی رسالہ محولہ میں دیا گیا ہے۔
قال: بعض دفعہ تقدیر معلق تقدیر مبرم کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔ جیسا کہ امام ربانی مکتوب نمبر ٢٧٠ میں فرماتے ہیں...... الخ!
(ص ٢١)
اقول: اس کا مفصل جواب بھی رسالہ مذکور کی تردید میں دیکھو حوالہ مکتوب یہاں بھی غلط ہے۔ نمبر ٢٧١ چاہئے۔
قال: احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ تقدیر مبرم بدل سکتی ہے...... الخ!
(کمالات مرزا ص ٢١)
اقول: اول تو احادیث کا یہ مطلب نہیں کہ تقدیر مبرم بدل جاتی ہے۔ قضائے مبرم جس کا دعا کے ذریعہ بدل جانا مذکور ہے۔ وہ ایسی ہی ہیں جن کا ذکر حضرت مجدد صاحب علیہ الرحمۃ نے مکتوب نمبر ٢١٧ میں کیا ہے۔ اور اسے ہم مفصل نقل کر چکے ہیں۔ ٠
دوسرے آپ نے یہ ثابت نہیں کیا کہ مرزا سلطان محمد کی قضائے مبرم کس کی دعا سے تبدیل ہوئی؟۔ اگر مرزا قادیانی کی دعا سے تبدیل ہوئی تو دکھائیے کہ مرزا قادیانی نے کب اور کن لفظوں میں اپنے رقیب کے حق میں دعا فرمائی۔ ہاں بددعاؤں کا ثبوت ہم دینے کو تیار ہیں۔ اور اگر وہ مرزا قادیانی کے مخالفوں کی دعاؤں سے بچ گیا۔ تو مرزا قادیانی کے ایسے مخالف رشتہ دار جو پرلے درجہ کے بے دین، دشمنان اسلام اور خدا اور رسول کے منکر تھے۔ مرزا قادیانی پر فتحیاب ہو گئے۔ جن کو پیغمبری اور استجابت دعا کے معجزہ کا دعویٰ تھا۔ نبیوں کی شان تو یہ ہے۔ ”حتّٰی اذا
١٦٨
ستائيس الرسل وظنوا انهم قد كذبوا جاء هم نصرنا" (سورہ یوسف ) یعنی اللہ کے رسول جب مایوس ہو کر خیال کرتے ہیں کہ اب کفار ہمیں جھٹلائیں گے۔ تو فوراً اللہ کی مدد آ جاتی ہے۔ مرزا قادیانی کی اس شکست سے ان کی نبوت کاذبہ کا پول کھلتا ہے۔
قال: مرزا قادیانی کا بھی مذہب ہے کہ تقدیر مبرم بدل جاتی ہے۔ (ثبوت میں قصہ بیماری و شفایابی فرزند نواب محمد علی خان رئیس مالیر کوٹلہ پیش کر کے لکھتے ہیں ) مذکورہ بالا حوالہ جات سے ظاہر ہے کہ بعض ایسی تقدیریں ہوتی ہیں جن کی تعلیق صرف خدا ہی کو معلوم ہوتی ہے۔ فرشتے بھی اسے تقدیر مبرم سمجھتے ہیں۔ اور ظاہر میں بھی وہ تقدیر مبرم ہی معلوم ہوتی ہے۔ علم الہی میں معلق ہونے کی وجہ سے ایسی تقدیر مبرم بدل جایا کرتی ہے۔
اقول: مرزا قادیانی نے یہ قصہ غالباً حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ کے مکتوب نمبر ٢١٧ سے نقل کر کے اپنی طرف منسوب کر لیا ہے۔ کیونکہ اس فن میں انہیں کمال تھا۔ دوسروں کے مضامین کو اپنا بنالیا کرتے تھے۔ نتیجہ آپ نے بھی حضرت مجدد صاحب کے الفاظ میں ہی نقل کر دیا ہے۔ چونکہ یہ سارا قصہ تقدیر معلق کے متعلق ہے۔ اس لئے ہمیں بھی اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ ہاں تقدیر مبرم میں تغیر ممکن نہیں۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہوا۔
مرزا قادیانی نے چونکہ وقوع نکاح اور وفات مرزا سلطان احمد کو تقدیر مبرم بتایا۔ اس پر اللہ تعالی کی قسمیں کھائیں۔ ان کے متعلق آیات قرآنی ان کو الہام ہوئیں۔ صدق و کذب کا اسے معیار قرار دیا۔ ان تمام الہامات کے خلاف ان کا کوئی الہام نہیں جس سے اصل پیش گوئی کی اہمیت کم ہو جائے معمولی اقوال جو گرفت سے بچ نکلنے کا راستہ رکھنے کی غرض سے کہے جاتے ہیں۔ سند نہیں ہو سکتے۔ مرزا قادیانی خود کہا کرتے تھے کہ ہمیں ملزم کرنے کے لئے ہمارا کوئی الہام پیش کرنا چاہئے لہذا الزام بدستور قائم ہے۔
- ٩ ...... اللہ دتہ جالندھری قادیانی
یہ مولوی صاحب آج کل کے نہایت جوشیلے مرزائیوں میں سے ہیں۔ رسالہ تائید الاسلام مرزائیوں کے معتقدات باطلہ کی تردید میں زیر ادارت مولوی محمد پیر بخش صاحب لاہور سے ماہوار نکلتا ہے۔ اس کے ١٩٢٤ء کے ابتدائی چار نمبروں میں جو اعتراضات مرزائی مشن پر کئے گئے ہیں۔ ان کے جوابات میں اللہ دتہ نے ایک پمفلٹ چھپوایا ہے۔ نکاح آسمانی کا ذکر اس کے ص ٥ لغایت ص ١٠ پر کیا گیا ہے جو حسب ذیل ہے۔
١٦٩
قال: احمد بیگ والی پیش گوئی پر وہی پرانی باتیں جن کا متعدد مرتبہ مفصل جواب دیا گیا ہے پیش کی ہیں۔ ان کے جواب کے لئے دیکھو رسالہ احمد بیگ والی پیش گوئی ہاں ایک بات جس پر بہت زور دیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے جو کہا تھا کہ اگر اس رشتہ کے مخالف باز نہ آئے تو میرا لڑکا فضل احمد اپنی بیوی عزت بی بی کو طلاق دے دے گا۔ یہ ظلم ہے اور اخلاق حسنہ سے گری ہوئی بات ہے۔ اس کا پہلا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید ظالموں سے قطع تعلق کا حکم دیتا ہے۔ جو لوگ صریحاً خدائے اسلام، اسلام، مسیح موعود کی مخالفت کرتے ہوں۔ اور تکذیب پر کمر بستہ ہوں۔ ان سے علیحدگی اختیار کرنا یا علیحدگی اختیار کروانا کون سا گناہ ہے۔ یہ تو عین فرض ہے اور نبی کی سنت۔
دوم ..... وہ لوگ خود اس لڑکی کو طلاق دلوانا چاہتے تھے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کے خط ٤؍ مئی ١٨٩١ء بنام مرزا علی شیر بیگ میں درج ہے۔ پس یہ غیرت کے منافی تھا کہ ایسا سن کر بے غیرتی دکھلائی جاتی خدا کے رسول غیرت دار ہوتے ہیں۔
اقول: مرزا قادیانی کا لڑکا فضل احمد اور اس کی بیوی ظالم نہیں تھے۔ خود مرزا قادیانی خط محولہ بالا میں لکھتے ہیں کہ فضل احمد اب ہر طرح سے میرے قبضہ میں ہے۔
نیز دیکھو (سیرت المہدی ص ٢٢، ٢٣) جس میں فضل احمد کی اطاعت و فرمانبرداری کا صاف اقرار ہے۔ فضل احمد کی بیوی عزت بی بی جسے مرزا قادیانی نے طلاق دلوایا۔ یہ بھی مرزا قادیانی کے اس نکاح کے خلاف نہ تھی۔ بلکہ اس نے اپنی والدہ کو بڑی منت ولجاجت سے خط لکھا۔ اور اس میں اپنے خسر (مرزا قادیانی) کے نکاح ہمراہ محمدی بیگم پر زور سفارش کی (یہ خط اس کتاب میں نقل ہو چکا ہے)
پس احمد بیگ کے لڑکی نہ دینے کے قصور کا بدلہ غریب فضل احمد کو عاق کرنے اور بے گناہ عزت بی بی کو طلاق دلوانے کی صورت میں لینا۔ واقعی مرزا قادیانی کا ظلم عظیم اور مثل مشہور ”کھسیانی بلی کھمبا نوچے“ کا مصداق ہے۔ رہا یہ کہ وہ لوگ خود اس لڑکی کو طلاق دلوانا چاہتے تھے۔ یہ بھی کوئی عذر شرعی طلاق کے لئے نہیں بلکہ ایک رکیک بہانہ ہے۔ اور نہ اس کا کوئی ثبوت ہے بجز اس کے کہ مرزا قادیانی نے ہی اپنے خط میں لکھا ہے کہ آپ کی بیوی کی یہ باتیں مجھے پہنچی ہیں۔ ناظرین اندازہ فرما سکتے ہیں کہ یہ محض عورتوں والے طعنے ہیں جن کی غلط یا صحیح روایت مرزا قادیانی تک پہنچی۔ اور انہوں نے اپنے خط میں اسے درج کر دیا۔ اور دعوئی بڑے وثوق سے یہ کیا جاتا ہے
١٧٠
کہ وہ لوگ خود لڑکی کو طلاق دلانا چاہتے تھے۔ جو محض غلط ہے ورنہ اس کا کوئی ثبوت پیش کرنا چاہیے۔ رسالہ احمد بیگ والی پیش گوئی کی مفصل تردید اسی باب میں ہو چکی ہے۔
قال: محمدی بیگم کے ساتھ نکاح نہ ہوا اور پیش گوئی پوری نہ ہوئی۔ لہٰذا مرزا قادیانی جھوٹے ہیں اس اعتراض کا یہ جواب ہے کہ پیش گوئی مشروط بہ شرط تکذیب تھی۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ ہم عربی مکتوب میں لکھ چکے ہیں کہ یہ پیش گوئی بھی مشروط بہ شرط تھی۔ اور ہم یہ بار بار بیان کر چکے ہیں کہ وعید کی پیش گوئی بغیر شرط کے بھی تخلف پذیر ہو سکتی ہے۔ جیسا کہ یونس کی پیش گوئی میں ہوا۔
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧، ایام الصلح ص ٦ حاشیہ خزائن ج ١٤ ص ٢١٣)
پس جب سلطان محمد نے رجوع کیا اور پیش گوئی سے خائف ہوا اور تکذیب و استہزا سے سروکار نہ رکھا۔ تو عذاب موت اس سے ٹل گیا۔ اور ادھر نکاح منسوخ ہو گیا اور باوجود مرزا قادیانی کے اعلان کر دینے کے سلطان محمد نے تکذیب کا اشتہار نہ دیا۔ (انتہیٰ ملخص ص ٩، ١٠)
اقول: پیش گوئی نکاح کے ساتھ کوئی شرط نہ تھی۔ (اشتہارات، ١٠، ١٥ جولائی ١٨٨٨ء) اور آئینہ کمالات اسلام وغیرہ کو دیکھو اور غور کرو کہ کونسی شرط ان میں درج ہے۔ اور اسے وعیدی پیش گوئی کس طرح کہا جا سکتا ہے۔ جس جملہ ”توبی توبی فان البلاء علی عقبک“ کو شرط بتایا جاتا ہے۔ نکاح کے متعلق اس کا ذکر مرزا قادیانی کے رسالہ (انجام آتھم ص ٢١٣، خزائن ج ١١ ص ٢٣١) میں ہے۔ جو پیش گوئی نکاح کی میعاد گزر جانے سے اڑھائی سال بعد طبع ہوا۔ اور پھر یہ خطاب بھی محمدی بیگم کی نانی سے ہے۔ اس کی توبہ کرنے کا اثر مرزا سلطان محمد پر کس طرح ہو سکتا تھا ”ولا تزر وازرۃ وزر اخری“ اور پھر توبہ اس نے کی بھی نہیں نہ سلطان محمد نے کوئی رجوع کیا۔ نہ مرزائی عقائد کو مانا، نہ پیش گوئی سے ڈرا۔ پس بفرض محال یہ پیش گوئی اگر سلطان محمد کے حق میں وعید کی تھی۔ تو توبہ استغفار، صدقہ، رجوع الی الحق سے ٹل سکتی تھی۔ مگر سلطان محمد کے متعلق ان باتوں کا کوئی ثبوت نہیں۔ محض مرزا قادیانی کا زبانی دعویٰ ہے۔ بمقابلہ اس کے سلطان محمد ٣/ مارچ ١٩٢٤ء کو اپنی تحریر میں لکھتا ہے کہ: ”میں نہ پیش گوئی سے ڈرا نہ مرزا قادیانی کی کبھی تصدیق کی۔ میں تو ہمیشہ سے اور اب بھی بزرگان اسلام کا ہی پیرو رہا ہوں۔“
ایسے عقیدہ والے کو مرزا قادیانی (حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧) میں کافر بتلاتے ہیں۔ اس لئے کہ اس نے مرزا قادیانی کو مفتری علی اللہ اور ظالم سمجھا۔ پس ایسے شخص سے نہ
صرف عذاب کا ٹل جانا بلکہ یوماً فیوماً اس کے مال واولاد میں ترقی ہونا اور اس کا میدان جنگ سے بھی گولیاں کھا کر زندہ واپس آنا یہ سب مرزا قادیانی کے کذب کا صریح ثبوت ہیں۔
تکذیب کے اشتہار اور پیش گوئی کی غرض وغیرہ کے متعلق رسالہ احمد بیگ والی پیش گوئی کی تردید میں کافی بیان ہو چکا ہے۔
- ١٠...... مرزا بشیر کا مضمون ......
(مندرجہ سیرت المہدی ص١٩٢ تا ٢٠٨ ج١ روایت نمبر ١٧٩)
آپ نے اس مضمون میں پیش گوئی نکاح کی اہمیت کو بہت کچھ گھٹانے کی کوشش کی ہے۔ حالانکہ مرزا قادیانی نے اسے اپنے صدق و کذب کا معیار اور اپنے دعویٰ کا نہایت ہی عظیم الشان نشان قرار دیا تھا۔ ایک لمبی غیر ضروری تمہید کے بعد جو مرزا قادیانی کی تصانیف آئینہ کمالات اسلام اور اشتہار ١٠؍جولائی ١٨٨٨ء سے نقل کی گئی ہے۔ آپ وہی نتائج نکالتے ہیں جو دوسرے مرزائیوں نے اخذ کئے ہیں۔ مثلاً :
قال : ”محمدی بیگم کا خاوند اس لئے نہیں مرا کہ اس کے خاندان والے بعجز ونیاز سے مرزا قادیانی کی طرف جھکے اور آپ سے دعا کی درخواستیں کیں۔ اور سلطان محمد نے مرزا قادیانی سے کئی بار حسن عقیدت کا اظہار کیا۔“
(سیرت المہدی ج١ ص١٩٧)
اقول : یہ سب باتیں بے ثبوت اور غلط ہیں۔ جیسا کہ ہم مرزا قادیانی کی تاویلات کی تردید میں مفصل لکھ چکے ہیں۔
قال : ”اگر اس جگہ یہ شبہ ہو کہ مرزا قادیانی کے بعض الہامات میں ہے کہ محمدی بیگم بالآخر تیری طرف لوٹائی جائے گی۔ اور تمام روکیں دور کی جائیں گی وغیرہ وغیرہ۔ اور تقدیر مبرم کے طور پر ظاہر کیا گیا تھا۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اوّل تو یہ قطعی طور پر ثابت کرنا چاہئے کہ یہ سب الہام محمدی بیگم اور اور مرزا قادیانی کے ہی متعلق ہیں۔ اگر ایسا ہو بھی تو ان کو الگ الگ مستقل الہامات سمجھنا نادانی ہے۔ بلکہ یہ سارے الہام ابتدائی الہام کے ساتھ ملحق اور اس کے ماتحت سمجھے جائیں گے۔ اور پھر کوئی رائے زنی کرنی ہوگی۔“
(سیرت المہدی ج١ ص٢٠٠)
اقول : کسی کا شعر ہے :
صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
١٧٢
اول تو آپ کو اسی میں شک ہے کہ الہامات متعلقہ نکاح محمدی بیگم مرزا قادیانی کے متعلق ہیں۔ یا کسی اور کے اس کا جواب ہم کیا دیں خود مرزا قادیانی نے ہی بار بار اپنی بیسیوں کتابوں، رسالوں، اخباروں اور اشتہاروں میں لکھ دیا تھا۔ باقی رہا ان کا یکجائی نتیجہ نکالنا یہ بھی مرزا قادیانی خود ہی نکال دیا تھا۔ چنانچہ وہ احمد بیگ کے مرنے پر اس کے خاندان کی جزع وفزع کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
”پھر میں نے تم سے یہ نہیں کہا کہ یہ جھگڑا یہیں ختم ہو گیا۔ بلکہ اصلی بات (نکاح والی) اسی طرح قائم ہے۔ اور کوئی شخص کسی حیلہ سے اسے ٹال نہیں سکے گا۔ اور تقدیر خدائے بزرگ کی طرف سے تقدیر مبرم ہے۔ جلد ہی اس کا وقت آئے گا پس مجھے قسم ہے اس ذات کی جس نے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو ہمارے لئے مبعوث فرمایا کہ بات بالکل صحیح ہے۔ اور تو جلد ہی دیکھ لے گا۔ اور میں اسے اپنے صدق یا کذب کا معیار بناتا ہوں۔ اور میں نے یہ سب کچھ اپنے رب سے حکم پا کر لکھا ہے۔“
(انجام آتھم ص ٢٢٣، خزائن ج ١١ ص ٢٢٣)
باقی مضمون نکاح کی اصل غرض قدرت نمائی شرط کے اخفاء وغیرہ کا مفصل جواب پہلے مضامین کی تردید میں لکھا گیا ہے۔
قال: حالات کے تغیر سے قدرت نمائی کی صورت بدل جاتی ہے۔ لیکن تغیر حال صاف صاف ہونا چاہئے۔ یہ شبہ نادانی سے پیدا ہوتا ہے۔ عذاب بعض نبی کے انکار سے نہیں آتا بلکہ سرکشی اور تمرد کے نتیجہ کے طور پر آتا ہے۔ اس پیش گوئی کا یہ مقصد نہ تھا کہ غیر احمدی لوگ احمدی ہو جائیں گے۔ تو عذاب ٹل جائے گا یہ ایک جہالت کی بات ہے۔ لیکن جب عذاب کی یہ وجہ ہی نہیں تو عذاب ٹلنے کے لئے ایمان لانے کی شرط قرار دینا محض جہالت ہے۔ عذاب کی وجہ تو فساد فی الارض اور تمرد ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ مرزا سلطان محمد نے گو تمرد نہیں دکھایا۔ مگر محمدی بیگم کو نکاح میں تو رکھا جو عملاً تمرد تھا۔ تو یہ اور بھی جہالت کی بات ہے۔ کیونکہ پیش گوئی غرض محمدی بیگم کا نکاح نہیں تھی۔
(ملخص سیرت المہدی ج ١ ص ٢٠٣، ٢٠٤)
اقول: اس مضمون کو پڑھ کر ہمیں نہایت ہی حیرت ہوئی کہ باپ اور بیٹے کے خیالات
١۔ میاں صاحب نے شاید جہالت کا بھی مضمون پاس کیا ہے جو بار بار یہی لفظ منہ سے نکلتا ہے۔
١٧٣
و اقوال میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ سنئے!
- الف...... مرزا قادیانی کو شروع سے شکایت تھی کہ یہ لوگ میری تکذیب کرتے ہیں
اور مجھے حق پر نہیں سمجھتے اور میرے دعوؤں کو نہیں مانتے مرزائی امت بھی بغلیں بجارہی ہے کہ اسی خاندان کی فلاں عورت احمدی ہو گئی۔ فلاں لڑکا احمدی ہو گیا۔ وغیرہ وغیرہ (دیکھو رسالہ احمد بیگ والی پیش گوئی ) وغیرہ ۔ مگر مرزا بشیر کہتا ہے کہ غیر احمدیوں کا احمدی ہو جانا اس پیش گوئی کا مقصد اور غرض نہیں ایسا خیال کرنا بھی جہالت ہے۔ بہت اچھا صاحب یہ جہالت مرزا قادیانی اور ان کی امت کو مبارک ہو۔ قاضی اکمل قادیانی اور شمس قادیانی کو ڈبل مبارک جنہوں نے ایسے جاہلانہ خیالات اپنے مضامین میں ظاہر کئے ہیں۔
- ب...... عذاب ٹلنے کے لئے ایمان لانے کی شرط قرار دینا بھی جہالت ہے۔ تمام
مرزائی کتابوں کو غور سے پڑھ جاؤ۔ سب میں یہی مذکور ہے کہ احمدی بیگ کے مرنے سے اس کے خاندان کے لوگوں نے مرزا قادیانی کی طرف بعجز و نیاز کے ساتھ رجوع کیا۔ کئی ان میں سے احمدی ہو گئے۔ اس لئے سلطان محمد موت سے بچ گیا۔ مگر مرزا بشیر کہتا ہے کہ یہ سب جاہلانہ باتیں ہیں۔ رہا غریب سلطان محمد جس کی موت کا سارا جھگڑا ہے۔ یہ نہ پیش گوئی سے پہلے متمرد تھا نہ اس کے بعد اس نے اپنا رویہ بدلا وہ پہلے ہی مسلمان تھا۔ اب بھی مسلمان ہے پھر اس کو عذاب کا نشانہ بنانے کی غرض کیا تھی ؟ ۔ جواب صاف ہے کہ محض محمدی بیگم کے نکاح کی آرزو!
- ج...... پیش گوئی کا اصل مقصود نکاح نہیں تھا۔ ایسا کہنا جہالت ہے۔ اس نکاح
کے لئے ہی خطوط کے ذریعہ زور مارا گیا۔ اور بے انتہا خوشامد اور چاپلوسی کی گئی اس نکاح کے لئے ہی اشتہار پر اشتہار نکالے گئے۔ چند مرتبہ سلطان محمد کو بھی مرزا قادیانی نے خط لکھے کہ اس نکاح سے باز آ جاؤ نکاح کے جھگڑے میں ہی بیوی کو طلاق دی اور بیٹوں کو عاق کیا۔ خود مرزا قادیانی لکھتے ہیں، نفس پیش گوئی یعنی اس عورت کا میرے نکاح میں آنا تقدیر مبرم ہے۔ جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی۔ ورنہ خدا کا کلام باطل ہوتا ہے۔
(تبلیغ رسالت ج ٣ ص ١١٥ ، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٤٣)
ان حالات کی موجودگی میں محض بات کی پچ میں ضد پر اڑے رہنا اور یہ کہنا کہ پیش گوئی کی غرض نکاح نہیں تھی۔ محض فضول اور جاہلانہ خیال ہے۔ صحیح تفسیر پیش گوئی کی مرزا قادیانی ہی کر سکتے تھے۔ کیونکہ بقول ان کے ملہم سے بڑھ کر الہام کے معنی کوئی نہیں سمجھ سکتا۔ لہذا ان تحریروں کے خلاف جو کچھ بھی لکھا جائے گا۔ لغو اور بیہودہ خیال کیا جائے گا۔
١٧٤
قال: اور یہ شبہ کہ اگر محض انکار سے اس دنیا میں عذاب نہیں آتا۔ تو مسیح موعود نے اس زمانہ کے مختلف عذابوں کو اپنی وجہ سے کیوں قرار دیا۔ ایک دھوکے پر مبنی ہے۔ دنیا کے مختلف حصص کے عذاب کو مرزا قادیانی نے اپنی طرف اس لئے منسوب کیا ہے کہ یہ لوگوں کو جگانے کے لئے ہیں۔ ان عذابوں کو رسول کے بالمقابل لوگوں کے عذاب سے مخلوط کرنا نادانی ہے۔
اقول: مرزائی لٹریچر تو اس سے بھرا پڑا ہے کہ دنیا کے کسی حصہ میں بھی کوئی حادثہ ہو وہ سب مرزا قادیانی کی تکذیب کی وجہ سے ہے ملاحظہ ہو۔
الف...... قاسم علی مرزائی کا شعر ہے:
ہو گئے باعث غلام احمد کے جھٹلانے کے دن
ب...... خود مرزا قادیانی لکھتے ہیں:
ہو گئے ہیں اس کا موجب میرے جھٹلانے کے دن
(درثمین ص ٦٧، خاتمہ حقیقۃ الوحی، خزائن ج٢٢ ص ٧٣٨)
ج...... بدر مورخہ ٧؍فروری ١٩٠٧ء میں حامد حسین مرزائی کی ایک چٹھی چھپی تھی۔ جس میں بحوالہ اخبار مارننگ پوسٹ یورپ کے سخت موسم سرما کا اس نے اس طرح سے ذکر کیا ہے۔ ”مغربی جانب موسم سرما آ رہا ہے۔ اور برٹن میں سردی نہایت شدت سے بڑھ رہی ہے۔ آلہ مقیاس الحرارت درجہ صفر پر پہنچ گیا ہے۔ اور آسٹریا وہنگری میں صفر سے بھی ١٥ درجہ کم ہو گیا ہے جس سے اموات ہو رہی ہیں۔ براعظم کی ریلوے ابتر حالت میں ہیں کیونکہ انجنوں کے پائپ اندر کا پانی جم جانے سے پھٹ رہے ہیں۔ دریائے ڈینیوب اور ڈیسہ کی ہاربرز بالکل منجمد ہو گئی ہیں۔ کچھ آگے چل کر لکھتا ہے کہ: یہ حالت دیکھ کر مجھے مرزا قادیانی کا ٥؍مئی ١٩٠٦ء کا یہ الہام یاد آ گیا
کنگسٹن کی زلزلہ کی وجہ سے حالت ناگفتہ بہ ہے۔ ایک جزیرہ بنام سمال ایسٹ انڈین آرچی پلیکو زلزلہ کے دھکا سے غائب ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ مخالفین پر کیسی کیسی حجتیں پوری کر رہا ہے۔ کاش یہ لوگ خواب خرگوش سے جاگ اٹھیں اور دعاؤں میں لگ جائیں ورنہ یاد رکھیں کہ یہ کیا ہے۔ اس سے بدتر اور کئی گنا تباہی کا ہندوستان کو سامنا کرنا پڑے گا۔“
١٧٥
اسی طرح ان تمام واقعات کو جو خواہ دنیا کے کسی حصہ میں ہوں نشان صداقت کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے۔ اور لطف یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی مخالفت ہو۔ ہندوستان میں اور تباہ ہو جائیں۔ یورپ کے شہر، اور برف زدہ ہو برلن اور براعظم کی ریلیں اور آسٹریا و ہنگری اور ان کی تباہی کی حجت پوری ہو مرزا قادیانی کے ہندوستانی مخالفوں پر!
اسی طرح ایکوے ڈور، سان فرانسسکو، اٹلی، فارموسا کی تباہی پر بھی مرزا قادیانی اور مرزائیوں نے شادیا نے بجائے تھے۔ بلکہ ایک الہام بھی ہوا تھا کہ: ”دنیا کی تباہی اور ہمارے لئے عید کا دن“ مگر مرزا بشیر اس حرکت کو نادانی سمجھتے ہیں ہم بھی اس پر صاد کرتے ہیں۔
قال: ”خطوط کے متعلق اعتراض غلط ہیں کیونکہ ان سے بھی پیش گوئی کی اصل غرض نکاح ثابت نہیں ہوتی۔“
(سیرت المہدی ج ١ ص ٢٠٥، ٢٠٦)
اقول: یہ خطوط ہم پورے نقل کر چکے ہیں۔ اہل انصاف ان کو پڑھ کر غور کر سکتے ہیں کہ ان میں سوائے محمدی بیگم کے اور مطالبہ ہی کس چیز کا ہے یوں مرزائی ہٹ دھرمی کئے جائیں تو اس کا علاج کیا ہے۔ اس سے آگے ص ٢٠٦ تا ٢٠٧ پر پھر انہی خیالات کا اعادہ کیا ہے۔ جس کا دوبارہ جواب دینا غیر ضروری ہے۔
غرض اس پندرہ صفحہ کے لمبے چوڑے مضمون میں کوئی خاص بات بیان نہیں کی گئی۔ اگر کوئی نئی بات تھی تو اس پر مناسب تبصرہ ہو چکا ہے۔
- ١١...... ڈاکٹر بشارت احمد ممبر لاہوری مرزائی پارٹی
سب سے آخر مگر سب سے عجیب نکاح محمدی بیگم کی ایک اور تاویل ہماری نظر سے گذری جو بحوالہ مرزائی اخبار پیغام صلح لاہور ٨؍ ذی الحجہ ١٣٤٢ھ مطابق ١١؍ جولائی ١٩٢٤ء کے پرچہ اہل حدیث امرتسر میں شائع ہوئی ہے۔ فاضل ایڈیٹر نے اس مضمون کی مناسب تشریح فرمادی ہے۔ لہٰذا ہمیں کچھ زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔ اصل مضمون اور اس کی تشریح و تردید اخبار مذکور سے حرف بحرف نقل کی جاتی ہے۔ البتہ ضرورتاً بعض عبارتوں کی توضیح کے لئے نوٹ درج کر دیئے گئے ہیں۔
مرزا قادیانی دولہا اور عیسائی قوم دلہن ...... عیسائیوں کو نکاح مرزا مبارک
ولیمہ کی دعوت کس کے ذمہ؟۔ محمدی بیگم کے نکاح کی حقیقت
کہ بورانی است باذنجان و باذنجان بورانی
١٧٦
ہم اور ہمارے ناظرین سے بلکہ خود مرزا قادیانی سے بھی وا ”ابالله واياته کرتے تھے۔
جناب مرزا قادیانی نے شائع کیا۔ جس کے متعلق عربی الفاظ ”دعوت ربی بـ فالهمني ربى قال سـاور يـ بنتاً من بناتهم آية لهم فسمـ الى ثلث سنته من يوم احدهما من العاصمين“
”یعنی میں (مرزا) نے میں ان (تیرے خاندان کے) لوگو لڑکی (محمدی بیگم) کا نام لے کر فر سے تین سال تک فوت ہو جائیں گے۔ روک نہ سکے گا۔“
یہ عبارت کیسی صاف ہے اس کے خلاف ہوا۔ یعنی مرزا قادیا تاویلات کی ہیں حقیقت یہ ہے کہ تا انہوں نے تاویلات کی ہیں۔ وہ تو ہ خواب کی پریشانی ان کو سوجھی ہے۔ پیغام صلح میں ڈاکٹر بشارت احمد بہادر کرتے ہیں۔ تاکہ ناظرین کو پورا حظ
١؎ یہ ساری تاویلات جو آ تک نہ پہنچی ہوں۔ جتنی ان کو مل گئی ان
ہم اور ہمارے ناظرین تو عرصہ سے اس یقین پر ہیں کہ قادیانی امت اسلام اور قرآن سے بلکہ خود مرزا قادیانی سے بھی دل لگی کرتی ہے۔ ایک وقت آئے گا کہ ان کو کہا جائے گا۔
”ابالله واياته كنتم تستهزون “ ﴿ کیا تم اللہ اور اس کی آیات سے مخول کرتے تھے؟ ۔ ﴾
جناب مرزا قادیانی نے اپنے رشتہ کی ایک لڑکی محمدی بیگم سے نکاح ہو جانے کا الہام شائع کیا۔ جس کے متعلق عربی الفاظ یہ ہیں ۔
” دعوت ربی بالتضرع والا بتهال ومددت اليه ايدى السوال فالهمنى ربى قال ساوريهم آيته من انفسهم واخبرني وقال اننی ساجعل بنتاً من بناتهم آية لهم فسماها وقال انها سيجعل ثيبة ويموت بعلها وابوها الى ثلث سنين من يوم النكاح ثم نردها اليك بغتة بعد موتهما اولا يكون احدهما من العاصمين “
(سرورق کرامات الصادقین ص اخیر، خزائن ج ٧ ص ١٦٢)
”یعنی میں (مرزا) نے بڑی عاجزی سے خدا سے دعا کی تو اس نے مجھے الہام کیا کہ میں ان ( تیرے خاندان کے ) لوگوں کو ان میں سے ایک نشانی دکھاؤں گا۔ خدا تعالیٰ نے ایک لڑکی (محمدی بیگم) کا نام لے کر فرمایا کہ وہ بیوہ کی جائے گی۔ اور اس کا خاوند اور باپ یوم نکاح سے تین سال تک فوت ہو جائیں گے۔ پھر ہم اس کی لڑکی کو تیری طرف لاویں گے۔ اور کوئی اس کو روک نہ سکے گا۔“
یہ عبارت کیسی صاف ہے یہاں تک کہ اس لڑکی کا خدا نے نام بھی بتا دیا۔ مگر چونکہ واقعہ اس کے خلاف ہوا۔ یعنی مرزا قادیانی کا نکاح نہ ہو سکا تو قادیانی امت نے اس کے متعلق جو تاویلات کی ہیں حقیقت یہ ہے کہ تاویلات ان کو بدحواسیاں کہنا چاہئے آج 1؎ سے پہلے جتنی کچھ انہوں نے تاویلات کی ہیں ۔ وہ تو ہم نے رسالہ نکاح مرزا میں لکھ دی ہے۔ آج ایک نئی تاویل یا خواب کی پریشانی ان کو سوجھی ہے۔ جو قادیانی امت کی معقول جماعت لاہوری پارٹی کے اخبار پیغام صلح میں ڈاکٹر بشارت احمد بہادر کے قلم سے شائع ہوئی ہے۔ اس کو راقم ہی کے لفظوں میں نقل کرتے ہیں۔ تاکہ ناظرین کو پورا حظ حاصل ہو ۔
1؎ یہ ساری تاویلات جو ہم نے رسالہ ہذا میں جمع کی ہیں شاید ایڈیٹر صاحب اہلحدیث تک نہ پہنچی ہوں ۔ جتنی ان کو مل گئی ان کی تردید رسالہ نکاح مرزا میں درج ہے۔
١٧٧
راقم مضمون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مدین کو سفر کرنا اور وہاں حضرت شعیب علیہ السلام کو دو لڑکیوں کے مویشی کو پانی پلانا۔ حضرت ممدوح کا ایک لڑکی سے نکاح ہو جانا ذکر کر کے لکھا ہے۔ ناظرین غور سے پڑھیں ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں۔
”یہ وہی دو عورتیں ہیں جو نبی کی بیٹیاں تھیں۔ اور جن میں سے ایک کے ساتھ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا نکاح ہوتا ہے۔ اور شرط آٹھ اور دس سال مدین میں ٹھہرنے کی ہوتی ہے۔ اس واقعہ کو قرآن نے کیوں ذکر کیا۔ پنگھٹ پر دو عورتوں کے جانوروں کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کا پانی پلانے اور پھر ان میں سے ایک ساتھ نکاح ہو جانا۔ ١؎ معاذ اللہ ! کیا ناول کے طور پر بیان کیا گیا ہے کہ نعوذ باللہ کورٹ شپ یا عشق مجازی کی جھلک دکھانی مقصود تھی۔ ہرگز نہیں حاشا وکلا نہیں۔ قرآن کریم کی شان اس سے بہت بلند ہے۔ بات یہ ہے کہ یہی واقعات دوسرے رنگ میں نہایت اعلیٰ پیمانہ پر نبی کریم ﷺ کی زندگی میں پیش آنے والے تھے۔ عورت سے مراد تمام علم تعبیر کی کتابوں میں قوم یا امت ہوتی ہے۔ کیونکہ کسی نبی کی امت نبی سے ویسے ہی روحانیت کا بیج لیتی اور اس کے اثر سے متاثر ہوتی ہے۔ جیسے عورت مرد سے، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی میں اگر دو عورتوں سے ان کو مدین میں واسطہ پڑا۔ جو بوجہ اپنی کمزوری اور اپنے باپ کے بڑھاپے کی کمزوری کے سبب جانوروں کو پانی نہ پلا سکتی تھیں۔ تو نبی کریم ﷺ کو دو قوموں سے مدینہ واسطہ پڑا جو نبی کی روحانی اولاد تھیں۔ یعنی بنی اسرائیل اور عیسائی ان دونوں قوموں نے عرب کے لوگوں کو جو ”کالانعام بل ھم اضل“ یعنی چوپایہ کے لقب کے مصداق تھے۔ روحانی زندگی کا پانی پلانا چاہا۔ مگر بوجہ اپنی کمزوریوں اور اپنے نبی کے فیضان کی کمزوری کے جو بوجہ امتداد زمانہ کمزور پڑ گیا تھا۔ اس قوم کو روحانی زندگی سے سیراب نہ کر سکیں۔ لیکن نبی کریم ﷺ نے مدینہ جا کر عرب کے جنگلیوں کو جنہیں یہود و نصاریٰ کی دونوں
١؎ مرزا قادیانی نے محمدی بیگم کے نکاح کے لئے جو پاپڑ بیلے ہیں وہ مزے لے لے کر اس کا ذکر کرتے رہے ہیں۔ ان کا مفصل ذکر رسالہ ہٰذا میں ہو چکا ہے۔ کہیں بکر و ثیب کے الہام ہیں۔ کہیں اپنی عمر پچاس سے زیادہ اور منکوحہ آسمانی کو نوخیز چھوکری لکھتے ہیں۔ یہ سب مرزا قادیانی کے عشق مجازی کو ثابت کرتے ہیں۔ آپ اس پر پردہ ڈالنے کے لئے قرآن کریم پر حملہ کرنے سے بھی نہیں رکے۔ جو فرقہ میرزائیہ کا نشان امتیازی ہے۔ (مؤلف)
١٧٨
قومیں ١؎ روحانی پانی سے زندہ نہ کرسکیں تھیں۔ روحانی زندگی کے پانی سے سیراب کر دیا۔ کیا مزا آتا ہے اس رکوع میں موسیٰ علیہ السلام ٢؎ کے اس فعل سے نتیجہ نکالا ہے۔ قوی امین! اور قرآن کریم میں قوی اور امین نبیوں کے متعلق بھی استعمال ہوا ہے۔ جہاں ان کی تبلیغ اور فیضان قوی کا ذکر ہوتا ہے۔ الغرض جہاں عرب کے وحشی لوگوں کو زندگی کے پانی سے سیراب کیا۔ وہاں آپ کا ان دونوں میں سے ایک قوم کے ساتھ نکاح آسمانی بھی ہوگیا۔ اور وہ یہود ٣؎ کی قوم تھی جس طرح بیوی شوہر سے مستفیض متاثر اور مغلوب ہوتی ہے۔ اسی طرح یہ قوم آٹھ اور دس سال کے اندر یا تو ایمان لاکر مستفیض ہوگئی۔ اور یا ہمیشہ کے لئے مغلوب ہوگئی۔ اور اس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کے نکاح کی مماثلت پوری ہوگئی۔ جل جلالہ!“
(٢٥/ذوالعقدہ ص٢، ٣)
اخبار اہل حدیث ...... ناظرین! اس چیستان مرزا کے سمجھانے کے لئے چند الفاظ عرض کرنے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ عرب کے یہود جو مسلمان ہوئے تھے وہ گویا آنحضرت ﷺ کی بیوی یعنی محمدی بیگم تھی۔ کیونکہ امت نبی کی گویا بیوی ہوتی ہے۔ (باریک فلسفہ ہے) یہ ایک تمہید ہے اصل مضمون آگے ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں:
”جس طرح وہ نبی کی بیٹی موسوی بیگم بنی تھی۔ اس لئے یہ قوم جو ایک نبی کی روحانی بیٹی تھی۔ محمدی بیگم بنی البتہ دوسری قوم جو نبی کی دوسری روحانی بیٹی تھی۔ اس کے محمدی بیگم بننے کا زمانہ یعنی عیسائی قوم کے فیض محمدی سے متاثر مستفیض اور مغلوب ہونے کا زمانہ مسیح موعود ٤؎ کے زمانے کے لئے مقدر تھا۔ اس لئے آنحضرت ﷺ نے یکسر الصلیب کا ارشاد مسیح موعود کے متعلق فرمایا کہ اس کے ہاتھ سے صلیبی مذہب بھی مغلوب ہو جائے گا۔ اور مسیح موعود کے متعلق اسی قوم کے ساتھ آسمانی نکاح کی طرف اشارہ تھا۔ ”یتزوج ویولد لہ“ کہ وہ نکاح کرے گا اور اس
١؎ سبحان اللہ! کیا فصاحت ہے۔ کہیں روحانی پانی کی زندگی اور کہیں روحانی زندگی کا پانی۔ مؤلف!
٢؎ کس ادب سے ایک نبی علیہ السلام کا ذکر ہوتا ہے۔ یہ بھی سنت مرزائیہ ہے۔
٣؎ ڈاکٹر صاحب فکریں اب دوسری بہن کی مدد سے یہ منکوحہ بھی زوجیت اسلام سے نکل رہی ہے۔
٤؎ گویا آج کل عیسائی مذہب کے لوگ یا تو مرزا قادیانی پر ایمان لاکر مسلمان ہوچکے ہیں۔ یا مغلوب ہوکر گوشۂ گمنامی میں جا گرے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب دماغ کہاں ہے۔ (مؤلف)
١٨٠
سے اس کی اولاد ہوگی۔ اگر اپنے اندر کوئی خصوصیت نہیں رکھتا تو ایسا آپ نے کیوں فرمایا جب تک کہ اس تزویج میں کوئی خصوصیت نہ تھی۔ اور وہ یہی تھی کہ نبی کی دوسری روحانی بیٹی یعنی مسیحی قوم اس سے تعلق پکڑ کے فیض محمدی سے بہرہ اندوز ہوگی اور اس میں اس کے روحانی بیٹے پیدا ہوں گے۔“
اس اقتباس کا مطلب بھی بہت باریک فلسفہ پر مبنی ہے۔ مضمون اس کا یہ ہے کہ یہود قوم سے آنحضرت ﷺ کا نکاح ہوا۔ عیسائی قوم مسیح موعود کے حصہ میں آئی۔ چنانچہ مرزا قادیانی سے عیسائی قوم کا نکاح ہو گیا۔ تو مان نہ مان میں تیرا مہمان جولوگ انگلستان میں اسلام قبول کرتے ہیں وہ مرزا قادیانی کی اس بیوی سے اولاد ہیں۔ چنانچہ حدیث شریف میں یہ آیا ہے کہ مسیح موعود شادی کرے گا۔ اور اس کی اولاد ہوگی۔ ”جل جلالہ“ عیسائیو! تم کو نکاح مرزا مبارک ہو!
ڈاکٹر صاحب یہیں تک پہنچے تھے کہ آپ کو ناحق ایک وہم پیدا ہوا کہ آسمانی نکاح کی اگر یہ حقیقت تھی تو مرزا قادیانی نے خود کیوں اس کو ایک خاص لڑکی کی طرف لگایا ڈاکٹر صاحب موصوف اس کا جواب دیتے ہیں:
”میں یہ مانتا ہوں کہ مسیح موعود نے اپنے اس آسمانی نکاح کو دنیا کی ایک ظاہری محمدی بیگم پر لگایا۔ لیکن رویا یا کشف یا الہام کی تعبیر یا تعین میں اجتہادی غلطی ہو جانا کسی مامور من اللہ کی شان کے منافی نہیں۔ بڑے بڑے نبیوں سے پیش گوئی کے معاملہ میں اجتہادی غلطی ہو جانا ممکن ہے۔ آخر مرزا قادیانی تو نبی کریم ﷺ کے ایک غلام تھے۔ اور نبی نہ تھے مجدد تھے۔ لیکن خود ہم سب کے سید و آقا محمد ﷺ نے جب ایک سرسبز مقام کو دیکھا جس کی طرف ہجرت ہونی تھی۔ تو آپ نے اسے یمامہ سمجھا۔ اور درحقیقت بعد میں وہ مدینہ ثابت ہوا۔ اسی طرح آپ نے جب ازواج مطہرات سے فرمایا کہ سب سے پہلے وہ بی بی فوت ہوں گی۔ جس کے سب سے لمبے ہاتھ ہیں تو بیبیوں نے آپ کے سامنے ہاتھوں کو ناپا اور آپ نے منع نہ کیا۔ حضرت سودہؓ کے ہاتھ سب سے لمبے نکلے۔ مگر جب سب سے پہلے حضرت زینبؓ فوت ہوئیں تو واقعات نے بتا دیا کہ سب سے زیادہ لمبے ہاتھوں والی بی بی سے سب سے زیادہ فیاض اور سخی بی بی مراد تھیں۔ اسی ١؎ طرح بعض دفعہ حضرت مسیح موعود سے بھی پیش گوئی کے تعین و تعبیر میں اجتہادی غلطیاں ہوئی ہیں۔ خود پیر منظور محمد والی محمدی بیگم کے تعین میں بھی اجتہادی غلطی لگی۔ عالم ٢؎ کباب کا پیدا ہونا آپ نے
١؎ نہیں بلکہ ساری عمر۔ مؤلف! ٢؎ مرزا قادیانی کو الہام ہوا تھا کہ پیر منظور محمد والی محمدی بیگم کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوگا۔ جس کا نام عالم کباب ہو گا اور اس کے پیدا ہوتے ہی دنیا تباہ ہو جائے گی۔ لیکن شکر ہے رب العالمین نے اس عورت کو ہی فنا کر دیا جس سے دنیا کو تباہ کرنے والا بیٹا پیدا ہونا تھا۔
١٨١
اس سے سمجھا تھا۔ مگر واقعات نے بتا دیا کہ یہ غلطی تھی اور وہ فوت ہوگئی ۔" الخبیث ماشاء اللہ ! ڈاکٹر صاحب کی تقریر پر کسی کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے ۔ اور حقیقت میں ہو بھی کیا ایک ناول ہے جو ڈاکٹر صاحب لکھ رہے ہیں ۔ یہ ایک بات ہے کہ کسی انجان کو شبہ ہو کہ یہ ڈاکٹر صاحب بریلی کے شفاخانہ میں شاید انچارج رہے ہیں ۔ اس لئے دماغی تکلیف ہے ۔ سو ایسے انجانوں کی تو ہم کہتے نہیں البتہ یہ کہتے ہیں کہ جناب والا ! مرزا قادیانی کی منقولہ عبارت کو دیکھئے اس میں صاف لکھا ہے ۔ "خدا نے اس لڑکی کا نام بتایا اور کہا کہ وہ تین سال میں بیوہ ہو کر تیرے پاس آئے گی ۔"
ناظرین ! خدارا انصاف کیجئے کہ اس فرقہ کا بھی حق ہے کہ دنیا کے کسی باطل پرست فرقہ کی تردید کرے ہم حیران ہیں کہ یہ لوگ کس ہمت اور جرات سے صداقت مرزا کے مدعی ہوتے ہیں ۔ کیا یہ ساری دنیا کو بے وقوف جانتے ہیں ۔ اس پر ہماری حیرانی کی حد نہیں رہتی ۔ جب ہم سنتے ہیں کہ یہ لوگ قرآن مجید کا درس بھی دیتے ہیں تو بے ساختہ منہ سے نکلتا ہے ۔
ببری رونق مسلمانی
آنحضرت ﷺ کو دکھایا گیا کہ آپ کی ہجرت گاہ وہ زمین ہوگی جس میں کھجوروں کے باغ ہوں گے ۔ مکہ معظمہ میں رہ کر آپ کا خیال اس زمین کے متعلق یمامہ کی طرف گیا ۔ کیونکہ وہاں بھی کھجوروں کے باغ بکثرت ہیں ۔ چنانچہ حضور ﷺ نے فرمایا "فذهب وهلى الى اليمامته "میرا خیال یمامہ کی طرف گیا ۔ مگر بعد میں مدینہ ثابت ہوا ۔ اس کو محمدی بیگم کے نکاح سے کیا تعلق ؟ ۔ سنئے کھجوروں کے باغ ایک نوع ہیں ۔ یمامہ اور مدینہ دونوں اس کی فرد ہیں یمامہ ہوتا تو بھی صحیح ہوتا ۔ مدینہ ہوا تو بھی صحیح ہوا ۔ برخلاف اس کے محمدی بیگم ایک عورت کا نام ہے ۔ مرزا قادیانی خود لکھتے ہیں ۔ خدا نے اس عورت کا نام لیا ۔ نام لینے سے اس کی کلیت نہ رہی بلکہ شخصیت مخصوصہ آ گئی ۔ پھر عیسائی قوم محمدی بیگم کی فرد کیسے ہوگئی ؟ ۔
ایسا ہی طول الیدین (لمبے ہاتھوں والی) عرب کے مجازی محاورہ میں سخی عورت کو کہتے ہیں ۔ ازواج مطہرات نے لفظی معنی کے ماتحت اس کی حقیقت سمجھی ۔ اور ہاتھ ناپے مگر آنحضرت کے سامنے نہیں بلکہ بطور خود لیکن واقعہ یہ ہوا کہ مراد اس سے مجازی معنی تھے ۔ یعنی سخی جو
١٨٦
طول الیدین کی فرد ہیں۔ اس سے آگے کا حصہ سابقہ حصہ سے بھی لطیف تر اور ان لوگوں کی بے بسی کا مظہر ہے۔ چنانچہ ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں ۔ ”پس کسی الہام یا رؤیا یا کشف کی تعبیر میں اجتہادی غلطی کا لگ جانا کوئی مستبعد امر نہیں۔ محمدی بیگم کے معاملہ میں غلطی لگنے کی اصل کو پہلے سمجھ لینا چاہئے وہ یہ کہ کشف یا رؤیا میں بعض دفعہ ایک شخصیت نظر آتی ہے۔ کبھی تو اس سے مراد وہ شخص خود ہوتا ہے اور کبھی مراد اس سے صرف اس کا نام ہوتا ہے۔ یعنی وہ حقیقت جو اس کے نام سے ظاہر ہوتی ہے۔ مثلاً اگر کوئی شخص رؤیا میں یہ دیکھے کہ دین محمد نامی کوئی شخص بڑے اعلیٰ اور ارفع مقام پر پہنچ گیا ہے۔ تو اس سے یہ بھی مراد ہو سکتی ہے کہ دین محمد سے مراد وہ حقیقت ہے جو اس کے نام میں مضمر ہے۔ یعنی محمدﷺ کا دین اس صورت میں تعبیر یہ ہو گی کہ اسلام کو اللہ تعالیٰ شوکت عطا کرے گا۔ اب اس رؤیا کی دونوں تعبیروں کا فیصلہ واقعات ہی کر سکتے ہیں۔ اگر وہ شخص دین محمد ذلیل ہو گیا تو ظاہر ہے کہ رؤیا میں مراد اس کی شخصیت نہ تھی۔ بلکہ وہ حقیقت تھی۔ جو اس کے نام میں مضمر تھی۔ اسی طرح محمدی بیگم کے آسمانی نکاح کے متعلق جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ پر ظاہر ہوا۔ چونکہ اس زمانہ میں خود ایک عورت محمدی بیگم کا جھگڑا بھی در پیش تھا۔ اس لئے آپ کا ذہن اسی بی بی کی طرف گیا۔ اس کے دوسرے پہلو کی طرف سے ذہول رہا۔ جس طرح اگر دین محمد نامی کسی شخص کا جھگڑا تعبیر میں در پیش ہو اور رؤیا میں دین محمد کی علو مرتبت دکھائی جائے تو ظاہر ہے کہ ذہن دین محمد کی شخصیت کی طرف منتقل ہو گا۔
١ ڈاکٹر صاحب! یہ پیش گوئی بر بنائے رؤیا نہیں بلکہ وحی اور الہام پر مبنی تھی۔ مفصل ذکر اس کتاب میں موجود ہے۔ آپ کیوں اس کی وقعت گھٹاتے ہیں یہ پیش گوئی مرزا قادیانی کے صدق و کذب کا معیار تھی۔ اجتہادی غلطی مرزا قادیانی کو لگی تھی۔ جیسا کہ انہوں نے ایک بار شدت کی بیماری میں خیال کیا کہ اس نکاح کے کچھ اور معنی ہوں گے۔ تو آیت "الحق من ربک فلا تكن من الممترين" نے غلطیاں دور کر دیں (ازالہ اوہام ص ٣٩٨، خزائن ج ٣ ص ٣٠٦) پھر مرزا قادیانی کا یہ بھی دعویٰ ہے ۔ کہ خدا کے مرسل کی غلطی پر قائم نہیں رکھے جاتے۔ پس جب مرزا قادیانی اصل ملہم اس پیش گوئی سے نکاح کے سوائے کوئی دوسرا مراد نہیں لیتے۔ تو آپ کو بر بنائے مدعی سست گواہ چست کیا حق حاصل ہے؟۔
١٧٩
اس کے نام کی حقیقت کی طرف سے ذہول رہے گا۔ لیکن صحیح تعبیر واقعات کریں گے۔ اگر واقعات میں دین محمد کی عزت نہ بڑھی بلکہ پہلے سے بھی گھٹ گئی اور اسلام کی شوکت بڑھی تو ظاہر ہے کہ دین محمد سے مراد اسلام تھا۔ دین محمد کی شخصیت نہ تھی۔ کوئی حرج نہیں اگر ابتداء میں اس طرف سے ذہول رہا۔ اسی طرح محمدی بیگم کا جھگڑا چونکہ ان دنوں میں درپیش تھا۔ اور اس کے متعلق بھی ایک مشروط سی پیش گوئی ہو چکی تھی۔ اس لئے محمدی بیگم کے آسمانی نکاح پر آپ کا ذہن انسانی فطرت کے مطابق اس کی شخصیت کی طرف ہی منتقل ہوا۔ حالانکہ واقعات نے بتا دیا کہ درحقیقت محمدی بیگم سے مراد وہ حقیقت تھی جو اس نام میں مضمر تھی۔ نہ کوئی شخصیت سبحان اللہ کیا سچائی ہے۔ جو کچھ بھی فیضان محمدی مسیحی اقوام کو یورپ میں آج پہنچ رہا ہے۔ وہ سب آپ کے ہی تعلق اور توجہ سے آپ ہی کے مرید اس فیضان کو پہنچا رہے ہیں۔ دوسرے فرقے اسلام کے اس سے بے نصیب ہیں ۔‘‘
اہلحدیث ..... جو بات کی خدا کی قسم لاجواب کی۔ آپ کی قوت استدلالیہ کا اور کوئی قائل نہ ہو۔ مگر ہم تو قائل ہو چکے اس سے زیادہ! جس نے کہا تھا کہ: چاول سفید ہیں لہذا زمین گول ہے۔ اے جناب پھر وہی کھلی غلطی اور اصول سنئے دین محمد ایک لفظ ہے۔ جس کے معنی دو ہیں۔
- ١....... مرکب اضافی یعنی لفظی ترجمہ۔
- ٢....... علم شخصی یعنی نام۔ مانا کہ اس صورت میں شخصیت سے گزر کر لفظی معنی مراد
ہوئے لیکن محمدی بیگم کے لفظ سے گزر کر عیسائی قوم کیوں کر مراد ہو سکتی ہے۔ کیا عیسائی قوم محمدی بیگم کا لفظی ترجمہ ہے ذرا ہوش سنبھال کر کہئے گا۔ مرزائی دوستو!
بہت سے ہو چکے ہیں اگر چہ تم سے فتنہ گر پہلے
خاتمہ: الحمد للہ ! ثم الحمد للہ !! کہ ان تمام مرزائی تاویلات کا جواب بھی ہو چکا جو اس وقت تک مرزائی لٹریچر سے ہمیں دستیاب ہوئیں۔ ناظرین کو غور کرنے سے معلوم ہو جائے گا کہ نکاح کی پیش گوئی غلط ہو جانے پر اوّل مرزا قادیانی کو اپنی زندگی میں اور پھر ان کے انتقال کے بعد ان کے پسماندگان کو مسلمانوں کے اعتراضات کے جوابات سے عہدہ برآ ہونے کے لئے کیا کچھ حیلے حوالے تراشنے پڑے۔ اور چونکہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔ لہذا بفحوائے
١٨٣
مثل مشہور کہ:
نہ بیچاروں کو اپنی کتابوں کی عبارت کا لحاظ رہا ہے نہ باہم ایک دوسرے کے خیال کی مطابقت کا نہ کسی اصول پر قائم رہے ہیں۔ نہ کوئی معقول جواب پیش کر سکے ہیں۔ بلکہ اس پیش گوئی کو صحیح ثابت کرنے کے لئے آیات قرآنی ، احادیث صحیحہ ، اقوال بزرگان دین، اور اصول مسلمہ جمہور اسلام حتی کہ خود مسلمات مرزائیہ کے خلاف لکھنے سے بھی نہیں رکے۔ حوالہ جات میں بددیانتی اور عبارات میں تحریف اس کے علاوہ لیکن ان بھلے مانسوں کو معلوم نہیں کہ :
کئی غلطیوں کے ملنے سے صحیح نتیجہ پیدا نہیں ہو سکتا۔ جھوٹ تو آخر جھوٹ ہی رہے گا۔
اسے سچ ثابت کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ توضیح ! حال اور نتیجہ پیش گوئی کے اظہار کے غرض سے مرزا قادیانی کے چند الہامات واقوال ایک بار پھر مختصراً ذیل میں درج کئے جاتے ہیں۔ مفصل حوالہ جات کے لئے ناظرین باب چہارم کتاب ہذا ملاحظہ فرمائیں:
خلاصہ الہامات واقوال مرزا قادیانی اور اس کی توضیح
- ١....... خدائے قادر نے فرمایا کہ احمد بیگ کی بڑی لڑکی کے نکاح کی درخواست کر۔
توضیح ....... نکاح نہ ہونے سے ظاہر ہے کہ الہام خدا کی طرف سے نہ تھا بلکہ اس کا ملہم کوئی اور تھا۔
- ٢....... یہ نکاح ہمارے صدق وکذب کا نہایت ہی عظیم الشان نشان ہے۔
توضیح ....... مرزا قادیانی کا نہایت ہی عظیم الشان کذب ظاہر ہوا۔
- ٣....... خدا کے نزدیک قرار پا چکا ہے کہ یہ لڑکی ہر ایک مانع دور ہونے کے بعد ہمارے نکاح
میں آئے گی۔ توضیح ....... نکاح نہیں ہوا اس لئے یہ قول خدا تعالیٰ پر افتراء ثابت ہوا۔
- ٤....... اگر یہ نکاح نہ ہوا تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ اور یہ ایک خبیث اور مفتری کا
کاروبار ثابت ہوگا۔ توضیح ....... مرزا قادیانی اپنے الفاظ کے مستحق ہیں۔
- ٥....... اگر نکاح نہ ہوا اور میں مر گیا تو میں جھوٹا ہوں۔
توضیح ....... مرزا قادیانی بقول خود کاذب ہے۔
١٨٤
- ٦....... اس نکاح کے متعلق ایک بیماری میں جب کہ نزع کی سی حالت تھی الہام ہوا ۔ ’’ الحق
من ربك فلا تكن من الممترين‘‘ توضیح....... جو مرزائی کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کو الہام کے سمجھنے میں غلطی لگی ۔ وہ شرم کریں کہ آیت قرآنی کے الہام سے مرزا قادیانی کا شبہ دور کیا گیا تھا ۔ مگر دوسرے الہاموں کی طرح افتراء علی اللہ ثابت ہوا ۔
- ٧....... الہامات ’’زوجنکھا۔ يردھا اليك لا تبديل لكلمات الله‘‘
توضیح....... نکاح کے متعلق یہ سب الہام جھوٹ اور افتراء علی اللہ ثابت ہوئے ۔
- ٨....... الہام نکاح پر مجھے ایسا ہی ایمان ہے جیسا کہ لا اله الا الله محمد رسول الله پر ۔
توضیح....... نکاح کا الہام جھوٹا نکلا ۔ لہذا مرزا قادیانی کے ایمان کی بھی قلعی کھل گئی ۔
- ٩....... اگر نکاح نہ ہوا تو میں نامراد ذلیل ، ملعون ، مردود ، دجال اور ہمیشہ کی لعنتوں کا نشانہ ہوں گا ۔
توضیح....... مرزا قادیانی اپنے مجوزہ خطابات کے ہر طرح مستوجب و مستحق ہیں ۔
- ١٠....... خدا کی قسم کہ نکاح ضرور ہو گا ۔
توضیح....... جھوٹی قسم سے آپ کا ایمان تو گیا !
- ١١....... سلطان محمد کی موت اور محمدی بیگم کا میرے ساتھ نکاح تقدیر مبرم ہے جو کبھی ٹل نہیں
سکتی ۔ اگر یہ نتیجہ نہ نکلا تو میں جھوٹا ہوں ۔ توضیح....... نتیجہ معلوم ہوا لہذا مرزا قادیانی بقول خود جھوٹے ثابت ہوئے ۔
- ١٢....... پرانے الہام ’’يا احمد اسکن انت وزوجك الجنة‘‘ کا راز خدا نے مجھ پر
کھول دیا ۔ کہ اس سے محمدی بیگم کا نکاح مراد ہے ۔ توضیح....... یہ الہام اور قول بھی افتراء علی اللہ ثابت ہوا ۔
- ١٣....... حدیث ’’یتزوج ویولد له‘‘ میں آنحضرت ﷺ نے اس نکاح کی پیش گوئی فرمائی ہے ۔
توضیح....... یہ قول بھی افتراء علی الرسول ثابت ہوا ۔ مرزا قادیانی کہا کرتے تھے کہ میں احادیث کا مطلب اور ان کی صحت آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر دریافت کر لیا کرتا ہوں ۔ ان کے اس دعویٰ کا بھی پول کھل گیا ۔
- ١٤....... عدالت ضلع میں مرزا قادیانی کا حلفیہ بیان کہ نکاح ضرور ہو گا ۔ امید کیسی یقین کامل
ہے ۔ یہ خدا کی باتیں ہیں ٹل نہیں سکتیں ۔
١٨٥
توضیح ....... یہ حلفیہ بیان بھی غلط اور افتراء علی اللہ ثابت ہوا۔
- ١٥ ........ الہام بکر و ثیب یعنی ایک کنواری اور ایک بیوہ سے نکاح ہوگا۔
توضیح ...... محمدی بیگم بیوہ ہوئی نہ مرزا قادیانی سے اس کا نکاح ہوا۔ لہٰذا یہ الہام بھی غلط ثابت ہوا۔
مرزائی برادران سے بمنّت التماس ہے کہ آپ نہایت ٹھنڈے ١؎ دل سے مرزا قادیانی کے ان صاف الہاموں صریح بیانوں اور بیّن اقراروں پر غور کریں۔ اور تعصب سے خالی الذہن ہو کر اپنے نورِ ایمان سے فیصلہ کریں کہ مرزا قادیانی کس طرح نبی، رسول اور اپنے دعوؤں میں صادق مانے جاسکتے ہیں۔ اور اس خام بنیاد پر جو آپ لوگوں نے مسلمانانِ عالم کی تکفیر کی عمارت کھڑی کی ہے وہ کہاں تک قائم رہ سکتی ہے؟۔
دوستو! زمانہ کی روش کو دیکھو غیر مذاہب کے لوگ جو حملے اسلام پر کر رہے ہیں ان کی حد ہو چکی ہے۔ ان کا باہمی اتفاق اور ہمارا نفاق اپنی آپ ہی نظیر ہے۔ پیروں فقیروں کو ماننے والے مسلمان ہندوستان میں پہلے بھی تھے اور اب بھی ہیں۔ مگر آپ کی طرح قطع تعلق کسی نے نہیں کیا تھا۔ یاد رکھئے کہ سوادِ اعظم سے الگ ہو کر اور علیحدہ رہ کر آپ کو کوئی دینی دنیوی فلاح حاصل نہیں ہو سکتی۔
الحمدللہ! کہ اتفاق کی ضرورت کو اب آپ خود تسلیم کرنے لگے ہیں۔ اور اشتہار اور اعلان پر اعلان شائع کر رہے ہیں کہ مسلمان دیگر مذاہب کے حملوں کے دفاع کے لئے آپ کے ساتھ اشتراکِ عمل کریں۔ لیکن جب تک آپ مسلمانانِ عالم کو کافر کہنا ضروری سمجھتے ہیں۔ اور اس طرح بلا وجہ کلمہ گویوں کی تکفیر کر کے خود کافر بنتے ہیں ہمارا آپ کا اتفاق یا باہمی اشتراکِ عمل نہیں ہو سکتا۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
١؎ اگر مرزائی صاحبان کو کوئی لفظ غیر مانوس اور برا معلوم ہو تو وہ ہمیں معذور سمجھیں کیونکہ ہم نے اس ساری کتاب میں کوئی ایسا لفظ استعمال نہیں کیا جو مرزائی لٹریچر میں موجود مرزا قادیانی اور ان کے خلفاء اور مریدوں کی تحریرات میں وہ وہ دل آزار اور گندی گالیاں اور مغلظات بھرے پڑے ہیں کہ العیاذ باللہ ان کا کچھ نمونہ ہم نے اپنی کتاب عشرہ کاملہ کی نویں فصل کے نمبر ٦ میں دکھایا ہے۔ با ایں ہمہ مرزا قادیانی اس شعر کے مصنف بھی ہیں۔
جس دل میں یہ نجاست بیت الخلا یہی ہے
(درِثمین ص ١٢)
١٨٦
قرآن کریم اس قسم کے اتحاد و اتفاق کی سخت ممانعت کرتا ہے۔ پڑھو!
”یایھا الذین اٰمنوا لا تتخذوا بطانة من دونکم لا یالونکم خبالا ودوا ما عنتم قد بدت البغضاء من افواھم ۔ وما تخفی صدورھم اکبر ۔ قد بینا لکم الایات ان کنتم تعقلون ۔ آل عمران : ١١٨ “ ﴿مسلمانو! غیروں کو اپنا راز دار نہ بناؤ کیونکہ وہ تمہاری خرابی میں کمی نہیں کرتے وہ تو چاہتے ہیں کہ تم تکلیف میں رہو عداوت اور بغض خود ان کے منہ سے ہی ظاہر ہو گیا ہے۔ اور ان کے دلوں میں جو دشمنی بھری ہوئی ہے۔ وہ اس سے بھی بڑھی ہوئی ہے۔ ہم نے تم کو پتہ کی باتیں بتا دی ہیں۔ اگر عقل ہے تو انہیں سمجھ لو ۔﴾
پس جب تک آپ مسلمانوں کو کافر ١؎ قرار دیتے ہوئے ان کے ساتھ مل کر نماز پڑھنا حرام سمجھتے ہیں۔ مسلمان مردوں کے جنازوں پر دعائے مغفرت کرنا آپ کے نزدیک گناہ ہے۔ مسلمانوں کے ساتھ رشتہ ناطہ کرنے سے آپ کو پرہیز ہے۔ مسلمانوں کو سلام علیکم کہنا آپ کی شان کے منافی ہے۔ اور آپ کے یہ اقوال وافعال مسلمانوں کے ساتھ آپ کی دینی و دنیوی عداوت کا بَیِّن ثبوت ہیں۔ کس طرح ممکن ہے کہ مسلمان قرآن کریم کی صریح ہدایت کے خلاف اپنا دین و ایمان آپ کے حوالہ کردیں۔ خدا کے لئے! ناموس رسول اللہ ﷺ کی حفاظت کے لئے! اسلامی غیرت کے لئے! ہوش میں آؤ۔ اور سوچو! کہ تم کس راستہ پر چل رہے ہو۔ یہ محض ستم ظریفی ہے کہ ٤٠ کروڑ مسلمانوں کو کافر بنا کر آپ احمدی یا مسلمان ہونے کا دعویٰ کریں۔ پس سچے معنوں میں مسلمان بن جاؤ اور صراط مستقیم اختیار کرو تا کہ منزلِ مقصود حاصل ہو۔
دربارِ خداوندی میں بصدق دل التجاء
یا الہا! اے بے سہاروں کے سہارے! اے ہر قوی وضعیف کی آواز سننے والے ہم سب مسلمانوں کے دلوں کو نورِ ایمان سے منور فرمادے۔ ہم سب کو اسلام کی سچی محبت عطا کر۔ ہم سب کو خدمتِ دین کی توفیق بخش تا کہ تیری رحمت سے ہم سب اسلام کی برکات سے بہرہ ور ہو کر ”انتم الاعلون ان کنتم مؤمنین “ کے مژدہ سے سرفراز ہوں ہمارے بھولے بھٹکے بھائی اپنی غلطیوں پر متنبہ ہوں۔ اور کجروی چھوڑ کر راہِ راست اختیار کریں اور پھر ہم سے آ ملیں۔
١؎ لاہوری مرزائی پارٹی والے گو زبان سے مسلمانوں کو کافر نہیں کہتے۔ لیکن عمل میں وہ بھی قادیانیوں سے جدا نہیں ہیں۔ ان کو بھی اپنے گریبان میں منہ ڈال کر مرزا قادیانی کے دعاوی مسیحیت وغیرہ اور اس معیارِ صداقت پر غور کرنا چاہیئے۔
١٨٧
”اللھم فاطر السموات والارض انت ولینا فی الدنیا والاخرۃ ، توفنا مسلماً والحقنا بالصلحین“ اے ہمارے معبود! آسمان وزمین کے پیدا کرنے والے دنیا اور آخرت میں تو ہی ہمارا مددگار ہے۔ اسلام پر ہمارا خاتمہ کر۔ اور ہمیں صالحین کے گروہ میں داخل فرما۔ آمین ثم آمین! یا رب العالمین ، والسلام علی من اتبع الھدیٰ
مرزائیوں کا ہوا خواہ اور مسلمانوں کا خادم! خاکسار! محمد یعقوب پٹیالوی
تقریظ
از عالیجناب فضیلت مآب، عمدۃ الکاملین، زبدۃ العارفین فخرالمحدثین رأس المناظرین، مخزن علم وحکمت واقف اسرار شریعت مقبول بارگاہ لم یزل، پروانہ شمع محمدی حضرت مولانا الحاج مولوی حافظ خلیل احمد ناظم مدرسہ مظاہر العلوم سہارنپور
الحمدللہ وکفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفے ٠ اما بعد! ناچیز خلیل احمد ناظم مدرسہ مظاہر العلوم سہارنپور نزیل مدینہ طیبہ اہل اسلام کی خدمت میں عرض پرداز ہے کہ منشی محمد یعقوب صاحب پٹیالوی سلمہ اللہ تعالیٰ نے جس زمانہ میں عشرہ کاملہ تصنیف فرمائی تھی اور میں نے اسے پڑھا تھا۔ اس کتاب کے طرز استدلال متانت مضامین اور تہذیب آمیز الفاظ سے معلوم ہو چکا تھا کہ یہ رسالہ ناممکن الجواب ہے۔ فرقہ مرزائیہ قیامت تک بھی اس کا جواب نہیں دے سکے گا۔ چنانچہ بحمد اللہ ایسا ہی ثابت ہوا کہ فرقہ مرزائیہ اس کے جواب سے عاجز رہا اور کوئی جواب اس کا ان سے نہیں بن پڑا اور وہ اپنے نبی کو کسی طرح سچا ثابت نہ کر سکے۔
اس کے بعد ہی ممدوح نے ایک دوسرا رسالہ لکھا اور اس کا مسودہ بھی میرے پاس وہیں بھیج دیا۔ میں نے دیکھا کہ یہ بھی ماشاء اللہ ! رسالہ عشرہ کاملہ کی طرح لاجواب ہے۔ جس میں بانی فرقہ مرزائیہ کی ایک عظیم الشان پیش گوئی یا ایک اہم نشان پر بحث کی گئی ہے۔ جسے خود مرزا قادیانی نے اپنے صدق یا کذب کا معیار قرار دیا تھا۔ جس متانت، سنجیدگی اور تہذیب سے یہ رسالہ لکھا گیا ہے۔ وہ منشی صاحب موصوف کا ہی حصہ ہے۔ اس مبحث میں منشی صاحب سلمہ کو حق تعالیٰ شانہ نے وہ دستگاہ عطا فرمائی ہے کہ جس سے علماء بھی قاصر ہیں۔ یقیناً یہ
١٨٨
رسالہ بھی مخالف ہر دو فریق کے لئے مفید ثابت ہوگا۔ میں دعا کرتا ہوں کہ حق تعالیٰ شانہ مصنف کی عمر و علم اور اس کے دین و دنیا میں برکت عطاء فرمائیں۔ اور ان کی تصنیفات کو شرف قبولیت بخشیں۔ اور نیز مقبول خلائق فرمائیں۔ آمین ۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین! (احقر) خلیل احمد عفی عنہ سہارنپوری نزیل مدینہ طیبہ ١٢ جمادی الثانی ١٣٤٥ ہجری
پیشکش..... قادیانی مذہب کے رد میں میں نے اپنی کتاب عشرہ کاملہ کو بحضور سیدی و مولائی عمدۃ الکاملین ، زبدۃ العارفین ، فخر المحدثین ، رأس المناظرین ، مخزن علم و حکمت ، واقف اسرار شریعت ، مقبول بارگاہ لم یزل ، پروانہ شمع محمدی حضرت مولانا خلیل احمد صاحب ناظم مدرسہ مظاہر العلوم سہارنپور ۔ اطاب اللہ ثراہ وجعل الجنتہ مثواہ پیش کیا تھا۔ حضور کی دعا اور نگاہ کرم سے کتاب مذکور ایسی مقبول عام ہوئی کہ اب مکرر بتعداد کثیر طبع کرائی گئی ہے۔ یہ رسالہ بھی مکمل ہونے پر حضور ممدوح کی ہی خدمت میں پیش کیا گیا تھا۔ جسے حضور نے بعد ملاحظہ بیحد پسند فرمایا جلد طبع کرانے کی ہدایت فرمائی اور تقریظ مدینہ منورہ سے تحریر فرما کر ارسال فرمائی۔
مجھے اپنی کم نصیبی پر افسوس ہے کہ بہ تعمیل ارشاد عالی میں اسے جلد طبع کرا کر مدینہ طیبہ میں پیش نہ کر سکا۔ اور ادھر حضرت ممدوح شرح ابو داؤد کے مہتم بالشان کام سے فارغ ہونے کے بعد اپنی دیرینہ تمنا کے مطابق بتاریخ ١٤ ربیع الثانی ١٣٤٦ ھ بروز چہار شنبہ عصر اور مغرب کے درمیان داعی اجل کو لبیک کہہ کر رفیق اعلیٰ سے جاملے ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
حضور کے مخلصین اور وابستگان دامن اگرچہ ظاہری دیدار فیض آثار سے محروم ہوگئے ہیں۔ لیکن حضور کے روحانی فیوض و برکات بدستور جاری ہیں ۔ اور حضور کے اخلاق کریمہ شفقت ورأفت پر لطف صحبتیں مہر و کرم کی نگاہیں اور پیارے پیارے کلمات طیبات عقیدت مندوں کے دلوں سے فراموش ہو جانے والے امور نہیں ہیں۔ بے شک اب آپ گنبد خضرا کے زیر سایہ جنت البقیع میں آرام فرما ہیں۔ لیکن نیاز کیشوں کے قلوب میں آپ کی یاد تازہ ہے۔ اور انشاء اللہ تا حیات اسی طرح رہے گی ۔ اس لئے نہایت ادب و عقیدت کے ساتھ میں ان اوراق پریشان کو بھی حضور کی ہی ذات ستودہ صفات سے منسوب کرنے کی جرأت کرتا ہوں۔
الٰہی! اگر میری اس ناچیز دینی خدمت پر کوئی اجر نیک مترتب ہوتا ہے تو اس کا ثواب حضرت ممدوح کے نامہ اعمال میں درج فرما اور اس عاجز کو اپنے فضل و کرم سے صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق بخش آمین ! ثم آمین !
خاکسار! محمد یعقوب پٹیالوی
١٨٩
فہرست تفصیلی ...... تحقیق لاثانی
دیباچہ ١٣٠ باب اول نکاح آسمانی مرزا قادیانی کے صدق و کذب کا بہت ہی عظیم الشان نشان تھا ١٤٢ باب دوم مرزا قادیانی اور منکوحہ آسمانی کا خاندانی تعلق اور پیش گوئی کی تحریک ١٤٧ ایک پیش گوئی پیش از وقوع کا اشتہار ١٤٥ باب سوم پیش گوئی کا نتیجہ ١٥٠ باب چہارم نکاح آسمانی کے متعلق مرزا قادیانی کے الہامات وتفہیمات و تشریحات ١٥٣ نکاح آسمانی کا سنگ بنیاد ١٥٤ بار بار کی توجہ سے وہی الہام نکاح ١٥٤ الہامات نکاح ١٥٥ آسمانی تفہیم ١٥٦ سات الہاموں کا مجموعہ ١٥٧ یہ پیش گوئی خدا کا فعل ہے ١٥٨ قرآنی آیت کا مزید الہام ١٥٨ نکاح کا اشتہار بحکم الہی دیا گیا ١٥٩ جھوٹی قسم کا جھوٹا نتیجہ ١٦١ مرزا قادیانی کے ایمان کی حقیقت ١٦١ بھائی بہن میں لڑائی کرانے کی کوشش کیا یہ فاصلحوا بین اخویکم کی تعمیل ہے؟ ١٦٢ پیش گوئی کی الہامی تفسیر ١٦٢ پیش گوئی کی تفصیلات ١٦٣ پیش گوئی کا فیصلہ دعا کے ذریعہ سے ١٦٥ نکاح ہونا تقدیر مبرم ورنہ خدا کا کلام جھوٹا ہوگا ١٦٧ محمد بیگم کی واپسی کا الہام ١٧٠
الہامات کا گلدستہ ، نکاح آسمان پر پڑھا گیا ١٧٢
الہام اور اس کی آسمانی تفسیر ١٧٥
یہ نکاح بحکم الہی معیار صدق و کذب ہے ١٧٧
خدا کا وعدہ ٹل نہیں سکتا، نکاح ضرور ہوگا ١٧٨
مرزا سلطان محمد کی موت تقدیر مبرم ہے ١٧٩
نکاح کی پیش گوئی براہین احمدیہ میں ١٨١
براہین احمدیہ کا ایک اور مکرر الہام ١٨٤
مرزا قادیانی کی شیریں بیانی کا نمونہ ١٨٦
نکاح کی رجسٹری مدینۃ طیبہ میں ١٨٧
پیش گوئی پوری نہ ہو تو مرزا قادیانی ہر ایک بد سے بدتر ، خبیث اور مفتری ہیں ١٩١
نکاح کے یقین کامل پر حلفیہ بیان عدالت میں ١٩٢
نکاح کا ایک اور پرانا مکرر الہام ١٩٣
وحی الہی کی تفسیر اور خدا کا وعدہ ١٩٥
مرزا قادیانی، ان کی بیوی اور مولوی عبد الکریم سب اس نکاح کے خواہش مند تھے ١٩٦
باب پنجم آسمانی نکاح کا زمین پر عمل درآمد کرانے کیلئے مرزا قادیانی کی سفلی تدابیر و تجاویز ١٩٧
ابتدائی الہام ١٩٧
الہامی خط بنام خسر موعود ١٩٨
دوسرا خط بنام مرزا احمد بیگ (خسر موعود ) بسلسلہ پیغام نکاح ١٩٩
خط بنام مرزا علی شیر بیگ خسر مرزا فضل احمد پسر مرزا قادیانی ٢٠٥
خط بنام والدہ عزت بی بی زوجہ مرزا علی شیر بیگ ٢١٢
خط مسمات عزت بی بی بنام والدہ خود معہ نوٹ مرزا قادیانی ٢١٣
اشتہار نصرت دین و قطع تعلق از اقارب مخالف دین ٢١٤
نکاح کے عوض لڑکی کے بھائی اور ماموں کو پیسہ دینے کی بھی کوشش کی گئی ٢١٥
باب ششم نتیجہ پیش گوئی کے متعلق مرزا قادیانی اور ان کے پسماندگان کی تاویلات ٢١٨
اس پیش گوئی کے متعلق خود مرزا قادیانی آنجہانی کی تاویلات ٢٢٥
خلاصہ تاویلات مرزا قادیانی ٢٢٦
خلیفہ اول حکیم نور الدین قادیانی ٢٥٥ مرزا قادیانی کے دوسرے مددگار فرشتہ محمد احسن امروہوی ٢٥٨ مفتی محمد صادق صاحب ایڈیٹر بدر ٢٥٩ محمد علی لاہوری ایم۔اے امیر جماعت لاہور ٢٦٠ قاضی ظہور الدین اکمل کا رسالہ احمد بیگ والی پیش گوئی ٢٦٢ قال! پہلا نشان ٢٧٠ قال! دوسرا نشان ٢٧٠ قال! تیسرا نشان ٢٧٠ قال! چوتھا، پانچواں نشان ٢٧٠ قال! چھٹا نشان ٢٧١ قال! ساتواں نشان ٢٧١ قال! آٹھواں نشان ٢٧٢ قال! نواں نشان ٢٧٢ قال! دسواں نشان ٢٧٣ قال! گیارہواں نشان ٢٧٣ قال! بارہواں نشان ٢٧٣ قال! تیرہواں نشان ٢٧٤ اقوال مرزا قادیانی ٢٧٥ مرزا محمود احمد خلیفہ ثانی کی تقریر، احمد بیگ والی پیش گوئی ٢٨٧ بہن اور بہن کی لڑکی دو مختلف رشتے ہیں ٢٨٩ مولوی جلال الدین شمس سکہوانی کا مضمون کمالات مرزا ٢٩٠ اللہ دتہ جالندھری قادیانی ٢٩٥ مرزا بشیر کا مضمون ٢٩٨ ڈاکٹر بشارت احمد ممبر لاہوری مرزائی پارٹی ٣٠٢ مرزا قادیانی دولہا اور عیسائی قوم دلہن ٣٠٢ خلاصہ الہامات واقوال مرزا قادیانی اور اس کی توضیح ٣١٠
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
عشرہ کاملہ
فی
ابطال الفتنة المرزائیہ
والنبوة الباطله
جناب شیخ محمد یعقوب سنوری پٹیالویؒ
بسم الله الرحمن الرحیم!
تحقیق لاثانی متعلق نکاح آسمانی مرزا قادیانی
نکاح آسمانی کی پیش گوئی نے مرزائی جماعت کو اتنا زچ اور دست و پاچہ کیا ہے کہ منہ میں اس کا نام تک آنا مرزائیوں کے لئے سوہان روح ہو جاتا ہے۔ اس پیش گوئی کے خوب بخیے ادھیڑے جاچکے ہیں۔ مگر مرزائی حضرات حق مریدی ادا کرنے کے لئے اس پیش گوئی کی رکیک تاویلات اور فضول توجیہات بیان کر کے عذر گناہ بدتر از گناہ کا مصداق ہو رہے ہیں۔ کبھی انبیاء علیہم السلام کو غلطیوں کا مرتکب قرار دیتے ہیں۔ کبھی آنحضرت ﷺ کو خاطی قرار دیتے ہیں۔ (خاک بدہن ) اس رسالہ میں الہام نکاح کی حقیقت کو واضح کر کے اسکا انجام اور مرزا قادیانی کا اپنے دعوی میں کاذب ہونا بخوبی ثابت کیا گیا ہے اور ان تمام تاویلات، دلائل اور جوابات کی تردید کی گئی ہے۔ جو مرزائیوں نے تاحال اس بارے میں پیش کئے ہیں۔ ضخامت اس رسالہ کی بھی عشرہ کاملہ کے قریب قریب ہوئی ہے۔ یہ جلد بھی ١٣٣٦ھ میں طبع ہوئی تھی۔
(شیخ الحدیث محمد زکریا، مالک کتب خانہ یحیوی مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور)
ایک ہزار روپیہ انعام
مرزائی صاحبان کی خدمت میں التماس ہے کہ جس غرض اور درد دل سے یہ رسالہ لکھا گیا ہے۔ اس کی کیفیت تمہید کتاب ہذا سے واضح ہوگی۔ اللہ جانتا ہے کہ ہمیں نہ مرزا غلام احمد قادیانی سے کوئی ذاتی بغض و عناد ہے اور نہ ان کے مریدوں سے ایسی کوئی مخاصمت، محض فرزندان اسلام میں باہمی تفرقہ اندازی و نفاق، عقائد و اصول میں اختلاف اور عبادات و معاملات میں بیگانگی کو دیکھ کر امر حق کے اظہار کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ تاکہ سعید طبیعتیں ٹھنڈے دل سے اس پر غور کریں اور مسیحیت و مہدویت کی اس بھول بھلیاں سے نکل کر قرآن وحدیث کو مشعل راہ بنا کر صراط مستقیم اختیار کریں۔ ”ان ارید الا الاصلاح ما استطعت وما توفیقی الا بالله عليه توكلت واليه انيب“
مجھے پورا پورا یقین ہے کہ جس مومن کے دل میں اسلام کی سچی عزت ہے اور حالات حاضرہ سے متاثر ہو کر وہ اسلام کی بہبودی کے لئے فکر مند ہے وہ کبھی اپنے پیارے مذہب میں ان نئی نئی باتوں کی مداخلت ہرگز گوارا نہ کرے گا اور ارشاد نبوی ﷺ ”اتبعوا السواد الاعظم“ سے روگرداں ہو کر اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد ہرگز علیحدہ نہ بنائے گا۔ بقول کسی کے:
٢
کہ ہرگز بمنزل نہ خواہد رسید
لیکن ان لوگوں کے لئے جو محض دور از کار تاویلات اور فلسفیانہ توجیہات سے کام لینے کے عادی اور مثل مشہور ملاّ آں باشد کہ چپ نباشد کے مصداق ہیں۔
یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ جو صاحب شرافت و تہذیب متانت و سنجیدگی اور سب سے پہلے تقویٰ اور خشیۃ اللہ کو ملحوظ فرما کر اور اپنے مشرب کی کتابوں کے طرز تحریر کا بھی خیال رکھ کر اس رسالہ کے دلائل کا جواب لکھیں گے اور منصفوں کے ذریعہ جن کو فریقین مقرر کریں اپنی تحریر کی صداقت ثابت کر دینگے وہ اس کتاب کی جملہ دس (١٠) فصلوں پر یکصد روپیہ فی فصل کے حساب سے ایک ہزار روپیہ انعام لینے کے مستحق ہونگے۔ خواہ کوئی ایک صاحب جواب لکھیں یا ایک جماعت مل جل کر ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہ ہوگا۔ ان کی اس کوشش سے بمقتضائے ہم خرما و ہم ثواب جہاں ان کے مذہب کی پوزیشن صاف ہوگی ۔ وہاں ایک معقول رقم بھی مفت ہاتھ آئے گی ۔ مزید برآں یہ کہ اس کے جواب کے لئے جناب مرزا قادیانی کے رسالہ اعجاز المسیح اور قصیدہ اعجازیہ کی طرح ٧٠ یوم یا بیس (٢٠) یوم کی کوئی میعاد نہیں ہم اپنی زندگی تک اس کی ذمہ داری لیتے ہیں اور امید کامل ہے کہ ہمارے بعد کوئی اور بندۂ خدا اس کا کفیل ہو جائے گا۔
تو تیر آزما ہم جگر آزمائیں
ڈیڑھ سال سے کتاب عشرہ کاملہ معہ اسی اعلان کے شائع ہو چکی ہے کسی مرزائی نے جواب دینے کی ہمت نہیں کی ۔ اب یہ کتاب دوسری بار طبع ہوئی ہے ۔ لہٰذا ہم پھر اسی اعلان کی تجدید کرتے ہیں ۔ مجیب صاحب کو لازم ہوگا کہ کتاب کا جواب طبع کرا کر اس کی ایک کاپی ہمیں بھی مرحمت فرمائیں اور پھر منصفان فیصلہ کے لئے شرائط طے کریں ۔
( خاکسار محمد یعقوب نائب تحصیلدار بندوبست ہزہائنس گورنمنٹ پٹیالہ پنجاب )
انتساب
میں اس ناچیز تالیف کو کمال ادب و عقیدت کے ساتھ بحضور عمدۃ الکاملین، زبدۃ العارفین فخر المحدثین، رئیس المناظرین، مخزن علم و حکمت، واقف اسرار شریعت، حضرت اقدس مولانا الحاج مولوی خلیل احمد صاحب مدظلہم و زاد مجدہم ناظم مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور کی خدمت بابرکت میں پیش کرنے کی جرأت کرتا ہوں۔
٣
ریت کے بے حقیقت ذرے، آفتاب عالمتاب کی ضیاباری سے کیسے چمک اٹھتے ہیں! یقین کامل ہے کہ میری یہ دینی خدمت بھی آنمخدوم ؎١ کی ذات گرامی سے معنون ہوکر عوام کے لئے مفید اور میرے لئے فلاح دارین کا باعث ہوگی۔
آیا بود کہ گوشہ چشمی بما کنند!
بندہ ناچیز: محمد یعقوب پٹیالوی
دیباچہ طبع ثانی
”الحمدلله رب العلمين والعاقبة للمتقين والصلوة والسلام على رسوله سيدنا و نبينا و مولانا محمد خاتم النبيين وعلى اله واصحابه واتباعه اجمعين برحمتك يا ارحم الراحمين“
اما بعد ! مؤلف عرض پرداز ہے کہ یہ رسالہ عشرہ کاملہ ستمبر ١٩٤٢ء میں مقام لاہور طبع ہوا تھا۔ اس کے پٹیالہ پہنچتے ہی سب سے پہلے تین جلدیں مرزائی دوستوں کی نذر کی گئیں۔ ایک کرم فرما مرزائی نے ایک جلد خاص طور پر لے کر فوراً ہی قادیان پہنچائی کہ اس کا جواب دیا جاوے۔ مگر قادیان سے عرصہ دراز تک صدائے برخاست کا معاملہ رہا۔ ادھر اس کتاب کو دیکھ کر میرے سنوری ہم وطن مرزائی ایسے چراغ پا ہوئے کہ عیاذ باللہ سنور اور پٹیالہ کے بازاروں میں عشرہ کاملہ اور اس کے مؤلف کے خلاف جوش ظاہر کیا گیا۔ اس کے دلائل کو خلاف واقعہ بیان کیا گیا۔ بعض حوالے غلط بتلائے گئے اور اس کے جواب لکھے جانے کی دھمکیاں میرے نام آنے لگیں۔ چنانچہ:
- ١....... ایک سنوری مرزائی مولوی صاحب نے جو ان دنوں بسی ہائی سکول میں
مدرس تھے۔ مجھے خط لکھا کہ عنقریب میں اس کا جواب شائع کروں گا۔
- ٢....... دوسرے صاحب نے میرے ایک معزز دوست ؎٢ تحصیلدار صاحب
سے ذکر کیا کہ بس چند روز میں جواب آنے والا ہے ایک پنجابی مولوی صاحب جواب لکھ رہے ہیں۔
؎١ حضرت ممدوح الشان نے اس رسالہ کو بیحد پسند فرمایا۔ آخر کتاب پر تقریظ ملاحظہ ہو۔ یہ حضرت مدظلہم کی ہی دعا کی برکت ہے کہ پہلا ایڈیشن ہاتھوں ہاتھ نکل گیا اور اب دوبارہ اسے طبع کرایا گیا ہے۔
؎٢ ان اصحاب کے اسمائے گرامی مصلحتاً ظاہر نہیں کئے گئے۔
م
- ٣...... ایک تیسرے صاحب نے جو تھانہ دار ہیں میرے مکرم دوست ...... افسر
مال صاحب سے بیان کیا کہ جماعت احمدیہ سامانہ نے مؤلف عشرہ کاملہ کو نوٹس دیا تھا کہ انعامی رقم کا انتظام کرو ہم جواب دیں گے۔ مگر نوٹس کا کوئی جواب نہیں آیا۔ (شاید ڈاکخانہ کی غلطی سے وہ نوٹس دوسری دنیا میں مرزا قادیانی کے پاس پہنچ گیا ہو) مؤلف۔
- ٤...... ایک مرزائی پٹواری صاحب نے مکرمی منشی ...... صاحب وکیل سنام کے
پاس ظاہر کیا کہ عشرہ کاملہ کا جواب قادیان میں چھپ رہا ہے اور اس کا نام عشرہ مبشرہ رکھا گیا ہے۔
- ٥...... دسمبر ١٩٢٤ء کے جلسہ قادیان سے واپس آکر پٹیالہ میں ایک مرزائی وکیل
صاحب نے بیان کیا کہ دوران جلسہ میں عشرہ کاملہ کے جواب کا معاملہ ایک کمیٹی کے سپرد کیا گیا جس میں تجویز پاس ہوئی کہ جواب ضرور لکھا جانا چاہئے۔ چنانچہ ایک مولوی صاحب نے جواب لکھنے کا ذمہ لے لیا ہے جو عنقریب طبع ہوگا۔
- ٦...... جلسہ سالانہ قادیان دسمبر ١٩٢٥ء کے بعد بھی سنوری مرزائیوں نے پٹیالہ
اور سنور میں مشہور کیا کہ جواب تیار ہو گیا جو چھپ رہا ہے۔
یہ واقعات تو وہ ہیں جو مجھے معلوم ہو گئے ورنہ خبر نہیں کہ کہاں کہاں اور کیا کیا چہ میگوئیاں ہوئی ہوں گی؟۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عشرہ کاملہ کی گولہ باری سے ایک دفعہ تو مرزائی کیمپ میں ایسی بوکھلاہٹ اور سراسیمگی پھیل گئی۔ کہ یہ لوگ بدحواسی میں کچھ کا کچھ کہنے لگے اور کہتے رہے۔ مگر بیچارے بے بس تھے۔ میں نے عشرہ کاملہ میں اپنی طرف سے کوئی نمک مرچ نہیں لگایا تھا۔ بلکہ مرزائی صاحبان کی ضیافت طبع کا سامان خود انہی کے نعمت خانہ سے بعض اشیاء چن کر ایک قرینہ کے ساتھ کیا گیا تھا۔ اس لئے عشرہ کاملہ کی تردید خود مرزائی کتابوں کی تردید تھی۔ پس جواب دیتے تو کیا دیتے اور دینگے تو کیا دینگے؟۔
دوسری طرف مرزائیوں نے ارباب اشاعت مذہب قادیان یعنی قادیانی اخباروں کے ایڈیٹروں سے مطالبہ کیا یا موخر الذکر اصحاب کو خود محسوس ہوا تو انہوں نے عشرہ کاملہ کے منہ آنے کی کچھ ناکام سی کوشش کی ۔ چنانچہ:
- ٧...... ایڈیٹر الفضل نے پانچ فروری ١٩٢٥ء کے اخبار میں ایک مضمون بعنوان
”عشرہ کاملہ کے پٹیالوی مصنف کا کھلا کھلا کذب اور افتراء“ شائع کیا اور خوب جی کھول کر مجھے صلواتیں سنائیں لیکن قادیانی سنت مستمرہ کے مطابق وہاں سے اور امید ہی کس چیز کی ہو سکتی تھی؟۔ اس اخبار کا کوئی پرچہ میرے نام نہیں بھیجا گیا۔ بلکہ یہ مضمون لکھ کر جماعت مرزائیہ کو ہی تسلی دلانا
٥
مقصود تھا۔ ورنہ ضروری اور لازمی تھا کہ یہ مضمون میرے نام بھیجا جاتا۔ جس میں مجھے مخاطب کیا گیا تھا۔ کسی مرزائی کے پاس کئی ماہ بعد یہ پرچہ میرے ایک مسلمان بھائی نے دیکھا اور مجھے لا کر دیا۔ میں نے مضمون پڑھ کر کہا۔
جوابِ تلخ مے زیبد دہانِ قادیانی را
اس مضمون کا حرف بحرف درج کرنا فضول سمجھ کر اس کا خلاصہ اور اس پر مختصر سا ریمارک ذیل میں درج کئے جاتے ہیں۔
الف ....... شروع میں ایڈیٹر صاحب نے ان چند تعظیمی الفاظ پر پھبتی اڑائی ہے۔ جو میں نے سیدی ومولائی حضرت مولانا صاحب سہارنپوری مدظلہ العالی کے اسم گرامی کے ساتھ لوح کتاب پر درج کئے ہیں اور اسی سے اپنے مسخرہ پن، رندانہ طبیعت اور اہلِ اللہ سے عداوت کا پورا پورا ثبوت دیا ہے۔ یہ سب اوصاف مرزائیوں کو مرزا قادیانی سے ورثہ میں ملے ہیں۔ لیکن شاید اپنی آنکھ کا شہتیر انہیں نظر نہیں آیا جہاں مرزا قادیانی کے نام کے ساتھ مرسل یزدانی، مامور آسمانی، مہدی صاحب قرآنی، مسیح ثانی اور خبر نہیں کیا کچھ آنی، بانی، تانی، غانی وغیرہ کی گردانیں مختلف کتابوں کے ٹائٹلوں پر درج کی گئی ہیں اور غالباً مرزا قادیانی کے یہ شعر ایڈیٹر صاحب کو یاد نہیں رہے۔
من بعرفان نہ کمترم زکسے
آنچه دادست ہر نبی را جام
داد آں جام را مرا بتمام
کم نیم زاں ہمہ بروے یقیں
ہر کہ گوید دروغ ہست لعین
اور کیا مرزا قادیانی کے یہ دعوے ان کی نظر سے نہیں گزرے کہ میں آدم ہوں۔ نوح ہوں۔ ابراہیم ہوں۔ اسماعیل ہوں۔ داؤد ہوں۔ یوسف ہوں۔ عیسیٰ ہوں۔ محمد ہوں اور تمام انبیاء سے افضل ہوں وغیرہ وغیرہ۔
کیوں جناب ایڈیٹر صاحب کیا اسی خودستائی اور انانیت میں کچھ بھی معقولیت ہے؟ اور خصوصاً حضرت پیغمبر آخر الزماں ﷺ کے اتباعِ کامل کے مدعی کی زبان سے یہ الفاظ قرینِ ثواب معلوم ہوتے ہیں؟ اور اس حرکت سے بمقتضائے
١؎ فشاندہ سگ بانگ می زند۔
٦
کیا آپ کے پیر جی ایک بھلے آدمی بھی ثابت ہوتے ہیں؟ اور پھر ہر ایک امر کی شہادت واقعات سے ملا کرتی ہے۔ آپ کے مرزا قادیانی کو باوجود الہام کہ ”ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں۔“ عرب کی مقدس زمین پر قدم رکھنا بھی نصیب نہ ہوا اور میرے مخدوم حضرت مولانا صاحب مدظلہم العالی جو در حقیقت شمع نبی کے پروانے ہیں۔ باوجود پہلے کئی بار حج و زیارت کا شرف حاصل کرنے کے بفضلہ تعالیٰ پچھلے سال پھر حج سے فارغ ہو کر اب تک مدینہ طیبہ میں مقیم اور آستان مقدس پر حاضر اور حدیث نبوی کی خدمت میں مشغول ہیں۔ ذرا دل کی آنکھوں سے دیکھو کہ آپ کے مرزا قادیانی اور حضرت مولانا مدظلہم العالی کے مدارج میں کیا فرق ہے؟۔
ب ....... اس سے آگے چل کر آپ لکھتے ہیں کہ اگر حضرت مولانا صاحب سہارنپوری جیسے چالیس علماء تصدیق کر دینگے کہ عشرہ کاملہ کا مؤلف ہمارا نمائندہ ہے تو ہم چالیس دن کے اندر ہی عشرہ کاملہ کا جواب لکھ دیں گے۔ سبحان اللہ ! اجی عشرہ کاملہ کی تصدیق تو بجائے چالیس کے چار سو علماء کرام کردیں گے۔ آپ فکر نہ کریں ہاں اگر جواب کے لئے یہی شرط لازمی ہے تو آپ بھی اپنے فرقہ کے چالیس سرکردہ علماء کی تحریر پیشگی پیش کریں اور جناب خلیفہ صاحب سے بھی اس کی تصدیق کرالیں کہ اگر مرزائی مجیب عشرہ کاملہ کی ہر ایک بات کی تردید میں کامیاب نہ ہوا تو مرزائی مذہب باطل تصور ہو گا اور ہم سب اس سے تائب ہو جائیں گے۔ دیکھیں آپ مرد میدان بنتے ہیں یا گھر میں چرخہ چلا لینا ہی کافی سمجھتے ہیں؟۔
ج ....... عشرہ کاملہ کو کذب و افتراء کا پلندہ ثابت کرنے کے لئے آپ نے صرف ایک ہی بات کا حوالہ دیا ہے کہ اس میں لکھا ہے کہ مرزا قادیانی نے اشتہار دیا کہ جو کوئی بہشتی مقبرہ میں دفن ہو گا بہشتی ہو جائے گا۔
حالانکہ مرزا قادیانی کی کسی تقریر، کسی رسالہ، کسی ڈائری وغیرہ میں یہ الفاظ نہیں ہیں اس سے آگے آپ خود ہی لکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے تو رسالہ الوصیت میں یوں لکھا ہے کہ خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ بہشتی ہی اس مقبرہ میں دفن کیا جائے گا۔ (جل جلالہ) کیوں جناب ایڈیٹر صاحب ناک کو سامنے سے پکڑ لیا یا ہاتھ کو پیچھے لے جاکر پکڑا۔ آخر گرفت تو ناک پر ہی پڑی۔ کیا آپ کی یہ ژولیدہ تقریر:
٧
کی مصداق نہیں؟ بہشتی مقبرہ میں دفن ہونے والے بہشتی ہوں گے یا بہشتی ہی اس میں دفن ہوں گے۔ دونوں فقروں میں فرق کیا ہوا۔ الفاظ وہی، نتیجہ وہی، آمدنی کا دسواں حصہ دینے کی شرط وہی، باقی رہا آمدنی کا حساب سو یہ آپ خود گریبان میں منہ ڈال لیں کہ مرزا قادیانی کی پہلی حالت کے مقابلہ میں جب کہ وہ ہزاروں روپیہ کے مقروض تھے اب ان کے خاندان کی مالی حالت کیا ہے؟۔ یہ کیمیا گری کا عقلی معجزہ نہیں تو اور کیا ہے؟۔
.......... اس ثبوت کی بناء پر ایڈیٹر صاحب رقم طراز ہیں کہ عشرہ کاملہ توجہ دینے کے لائق نہیں اور اس کا جواب دینا وقت ضائع کرنا ہے۔ ادھر میں بھی یہی کہتا ہوں کہ عشرہ کاملہ کا جواب امت مرزائیہ قیامت تک بھی نہیں دے سکتی اور لومڑی کا منہ ہرگز انگور کے خوشہ تک نہیں پہنچ سکتا۔ ہاں انہیں کھٹے کہہ کر اپنی جی خوش کر لے تو دوسری بات ہے۔
- ٨.......... الفضل کی کارگزاری کے بعد اب الفاروق قادیان کی سنیئے!
ایک مسلمان دوست نے مجھے اخبار ’’الفاروق‘‘ کا پرچہ مورخہ تیرہ فروری ١٩٢٦ء لا کر دیا۔ جس میں ایک صاحب مولوی غلام احمد بدوملہوی مولوی فاضل کا مضمون زیر عنوان ’’سنوری ملاں١؎ کی عشرہ کاملہ پر تبصرہ‘‘ درج تھا۔ مضمون سے معلوم ہوتا ہے کہ مولوی فاضل صاحب نے عشرہ کاملہ پر باقساط تبصرہ کرنا چاہا ہے۔ چنانچہ دوسری قسط ہے جو اخبار مذکورہ میں طبع ہوئی ہے اور اس کا تعلق عشرہ کاملہ کی دوسری فصل سے ہے۔ مضمون کی معقولیت عشرہ کاملہ کی فصل دوم اور مولوی صاحب کا محولہ بالا مضمون دیکھنے سے ہی معلوم ہوسکتی ہے۔ اس میں سے دو باتوں کا میں ذکر کرتا ہوں۔
- (١).......... عشرہ کاملہ کی فصل دوم کا عنوان ہے۔ مرزا قادیانی کی ترقی کی دس منازل
مولوی صاحب کہتے ہیں کہ مؤلف عشرہ کاملہ نے مرزا قادیانی کی ملازمت عہدہ محرری پر اعتراض کیا ہے۔ حالانکہ حضرت رسول کریم ﷺ نے حضرت خدیجہؓ کی ملازمت کی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت شعیب علیہ السلام کی بکریاں چرائیں وغیرہ وغیرہ۔ اگر ان حضرات کا ملازمت کرنا قابل اعتراض نہیں تو مرزا قادیانی پر کیوں اعتراض ہوسکتا ہے..... الخ!
اب ناظرین عشرہ کاملہ کو بغور ملاحظہ کریں کہ اس کی فصل دوم میں میں نے مرزا
١؎ مرزا قادیانی بھی پنجابی اردو ہی لکھا کرتا تھا۔ مثلاً بارہ اور تیرہ کو باراں اور تیراں اسی سنت کو مرزائیوں نے لازم پکڑا ہوا ہے۔
٨
قادیانی کی ملازمت پر کوئی اعتراض کیا ہے؟۔ میں نے صرف مرزا قادیانی کی مختلف اور مسلسل حالت کا اظہار کیا ہے۔ اعتراض نہیں کیا۔ پس اعتراض کی بناء پر مولوی صاحب نے جو خامہ فرسائی کی ہے محض بے معنی اور فضول ہے اور باقی باتوں کا جواب عشرہ کاملہ کی دوسری فصل پڑھنے ہی سے مل سکتا ہے۔
(٢) ...... مضمون کے اخیر پر مولوی صاحب کہتے ہیں مؤلف عشرہ کاملہ کو مرزا صاحب کی تدریجی ترقیوں پر اعتراض ہے۔ حالانکہ قرآن شریف بھی ایک ہی بار نازل نہیں ہوا بلکہ تدریجی طور پر نازل ہوا تھا۔
واہ مولانا! قلم توڑ دیئے کہاں مرزا قادیانی کی پریشان خیالیاں یعنی دعوائے مجدد، مہدی، مسیح، محدث، نبی، رسول، اور خدا اور خدا کی اولاد وغیرہ وغیرہ۔ کہاں قرآن کریم کا تدریجاً نزول سچ ہے۔ اذا لم تستحی فاصنع ماشئت آپ نے تو مولوی فاضل کی ڈگری کو بھی دھبا لگایا۔ کہیں شرم سے بھی کام لینا چاہئے۔
باوجود یہ کہ مولوی غلام احمد مرزائی کا یہ تبصرہ مرزائیوں کی آنکھوں میں دھول ڈالنے کے لئے ہی تھا اور میرے پاس اس کی کوئی کاپی نہیں بھیجی گئی تھی۔ تاہم میں نے ملت مرزائیہ کی ایک مایہ ناز ہستی مقیم قادیان کی معرفت ایڈیٹر ”الفاروق“ کو لکھا کہ اس اخبار کا پہلا پرچہ جس میں یہ تبصرہ شروع ہوا ہے اور بعد کے پرچہ جب تک یہ سلسلہ جاری ہے۔ میرے نام مفت یا قیمتاً بھیجتے رہیں۔ مگر کسی نے جواب نہیں دیا نہ پرچے بھیجے۔
٩ ...... میرے ایک دوست نے قادیان خط لکھا کہ عشرہ کاملہ کا جواب اگر چھپ چکا ہے تو قیمت سے اطلاع دیں۔ جواب ملا کہ:
”عشرہ کاملہ کا جواب لکھا پڑا ہے مگر روپیہ کی کمی کے باعث ابھی چھپ نہیں سکا۔ اگر پٹیالہ اور اس کے مضافات کی جماعتیں دو صد خریدار بھی دیدیں۔ تو ہم اسے چھپوا دیں گے۔ مگر اب تک کسی نے حوصلہ نہیں دلایا۔
(١٥؍جنوری ١٩٢٧ء)
اس تازہ بتازہ جواب سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح موعود کے حواری اپنے نبی صاحب کے کیسے فدائی ہیں کہ ان کی صداقت ثابت کرنے اور ان پر لگے ہوئے الزامات کی تردید کے لئے تین چار سو روپیہ صرف کرنا بھی ان کے لئے مشکل ہے۔ نہ چندوں کی موسلا دھار بارش میں سے چند قطرے اس کے لئے مل سکتے ہیں۔ نہ مریداں عقیدہ کیش ہی متوجہ ہوتے ہیں۔ کیسا حوصلہ شکن
٩
جواب ہے۔ اس تفصیل سے میرا مدعا اپنی یا عشرہ کاملہ کی ستائش نہیں بلکہ صرف یہ دکھانا مقصود ہے کہ امت مرزائیہ پر اس کتاب کا کیا اثر پڑا ہے اور باوجود جواب دینے کی ضرورت تسلیم کر لینے کے جواب دینے سے کس عاجز ہے۔
پہلی بار عشرہ کاملہ بارہ سو (١٢٠٠) چھپی تھی جس میں سے چار سو کے قریب مفت تقسیم ہوئی ۔ باقی تھوڑے عرصہ میں ہی ختم ہوگئی اور احباب نے دوبارہ طبع کرانے کا تقاضا شروع کیا۔ میں نے بھی چاہا کہ نظر ثانی کر کے اس کی دوبارہ طباعت کا انتظام کیا جاوے لیکن ملازمت کی مصروفیتیں اتنی زیادہ ہیں کہ جلد نظر ثانی نہ ہو سکی۔ اور قریباً سال بھر تک اسی غرض سے کتاب میرے بستہ میں رہی۔ جس کی اب تکمیل ہوئی ہے۔ نظر ثانی میں بعض مضامین مفید سمجھ کر ایزاد کئے گئے ۔ بعض تبدیل کئے گئے اور بعض جگہ معمولی ترمیمیں ہوئی ہیں اور اب جناب مولوی نصیر الدین صاحب سہارنپوری کی ہمت سے کتاب طبع ہو کر ناظرین کے ہاتھوں میں پہنچتی ہے۔
ناظرین کرام! کو معلوم ہے کہ اس کتاب کا ماخذ عموماً مرزائی تصانیف ہی ہیں ۔ جن کے حوالہ جات موقعہ بہ موقعہ درج کئے گئے ہیں ۔ پہلی اشاعت میں بعض حوالہ جات کے ہندسوں کے متعلق بے احتیاطی ہو گئی ۔ کچھ تو اس وجہ سے کہ مرزائی کتابیں کئی بار طبع ہوئی ہیں اور ان کے صفحے بدل گئے ہیں۔ اس لئے حوالہ کے ساتھ سال طبع یا نمبر اشاعت درج نہ ہونے کے باعث بعض دفعہ مقابلہ کرنے والوں کو دھوکا ہوا اور بعض جگہ کاپی نویس اور لیتھو چھاپہ کی مہربانی سے نمبر صفحہ ہی غلط ہو گیا اور چونکہ کتابت ہوتے ہی بہت جلد کتاب پریس میں دے دی گئی تھی اور اصل مسودہ سے حوالہ جات کا مقابلہ کرنے کا مجھے موقعہ اور وقت نہیں ملا تھا۔ اس لئے کہیں کہیں ایسا نقص رہ گیا ۔ اب دوبارہ اشاعت میں حوالہ جات کی درستی اور صحت کا خاص انتظام کر لیا گیا ہے اور مرزائی کتابوں کی ایک فہرست بھی شامل کی گئی ہے ۔ جس میں ان کا سن طبع وغیرہ درج ہے۔ بہر حال طبع اول کے ایسے نقائص کے متعلق میں اپنے مسلمان بھائیوں سے معافی چاہتا ہوں ۔ والعذر عند کرام الناس مقبول لیکن ان بعض مرزائی صاحبان کی خدمت میں جو بعض حوالہ جات کو غلط پا کر بغلیں بجاتے دیکھے گئے ہیں۔ مرزا قادیانی کی ہی ایک تحریر پیش کرتا ہوں ۔ وہ لکھتے ہیں کہ:
” دانشمندوں ... کو خوب معلوم ہے کہ عربی اور فارسی کی کوئی مبسوط تالیف سہو اور غلطی سے خالی نہیں ہو سکتی اور حیلہ جو کے لئے کوئی نہ کوئی لفظ گو سہو کاتب ہی سہی۔ حجت پیش کرنے کے
١٠
لئے ایک سہارا ہو سکتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے بہت ہاتھ پیر مار کر اور مثل مشہور ”مرتا کیا نہ کرتا“ پر عمل کر کے شرم ناک عذر پیش کر دیا اور اپنے دل کو اس بازاری چال بازی سے خوش کر لیا کہ کسی ایک سہو کاتب یا فرض کرو اتفاقا کسی غلطی کے نکلنے سے یہ حجت ہاتھ آ جائے گی۔ کہ اب غلطی تمہاری کتاب میں نکل آئی۔ اس لئے اب بحث کی ضرورت نہیں رہی۔ لیکن افسوس کہ بٹالوی صاحب (مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی) نے یہ نہ سمجھا کہ نہ مجھے اور نہ کسی انسان کو (سہو کاتب ہے نہ کسی انسان کو چاہئے ۔مؤلف) ١؎ بعد انبیاء علیہم السلام کے معصوم ہونے کا دعویٰ ہے۔ جو شخص عربی فارسی میں مبسوط کتابیں تالیف کرے گا۔ ممکن ہے کہ حسب مقولہ مشہورہ القلم لیس بمعصوم کے کوئی صرفی یا نحوی غلطی اس سے ہو جائے اور باعث خطاء نظر کے اس غلطی کی اصلاح نہ ہو سکے اور یہ بھی ممکن ہے کہ سہو کاتب سے کوئی غلطی چھپ جائے اور باعث ذہول بشریت مؤلف کی اس پر نظر نہ پڑے۔“
(کرامات الصادقین ص ٥، خزائن ج ٧ ص ٤٧)
پس جب مرزائیوں کے پیغمبر کی الہامی اور اعجازی کتابوں میں نہ صرف معمولی سہو بلکہ صرفی اور نحوی غلطیاں ہو سکتی ہیں اور وہ قابل اعتراض نہیں تو ایسے شخص کی تالیف میں جسے الہام یا نبوت کا دعویٰ نہیں۔ معمولی ہندسہ وغیرہ کی غلطی کیوں کر قابل مؤاخذہ ہو سکتی ہے۔
عام اسلامی اخبارات، زمیندار، وکیل، سیاست، اہل سنت والجماعت، اہل حدیث الفقیہ، حقانیہ، رسالہ تائید الاسلام، رسالہ انجمن نعمانیہ لاہور اور مرزائیوں کے گھر کے بھیدی کوکب ہند وغیرہ نے اس کتاب پر مفصل ریویو کئے ہیں اور سلطنت ابد مدت حیدر آباد کے محکمہ شرعیہ نے اس کی ایک سو جلدیں خاص قیمت پر طلب فرمائی ہیں۔ اس سے کتاب کی مقبولیت و اہمیت کا اندازہ ہو سکتا ہے۔
اللہ کے فضل سے امید بلکہ یقین کامل ہے کہ ناظرین اس کتاب کو بہت مفید پائیں گے۔ جو مرزائیوں کے مقابلہ میں انشاء اللہ ایک کاری حربہ اور بے خطاء نشانہ کا کام دے گی۔
ومنہ التوفیق ! راجی رحمۃ علام الغیوب خاکسار ! محمد یعقوب پٹیالوی یکم شعبان المعظم ١٣٤٥ ہجری المقدس
١ مرزا قادیانی اپنی نبوت سے صاف منکر ہیں۔ قادیانیو اور مرزا قادیانی کو نبی ماننے والو سنتے رہو۔
١١
دیباچہ
بسم الله الرحمن الرحیم! نحمده و نصلی علی رسوله الکریم!
"اللهم ارنا الحق حقاً وارزقنا اتباعه والباطل باطلاً وَيسِرْلَنَا اجتنابه ربنا افتح بيننا و بين قومنا بالحق وانت خير الفاتحين بحرمة سيد المرسلين و رسولك الامين الذي لا نبي بعده و صلى الله عليه وعلى آله واصحابه واتباعه اجمعين برحمتك يا ارحم الراحمين"
یا اللہ ہم کو حق بات دکھا اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے اور جھوٹ کو صفائی سے ظاہر فرما اور اس سے بچنے کی ہمت دے۔ یا اللہ ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان حق بات کا انکشاف فرما بطفیل سرور انبیاء رسول امین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ جن کے بعد کوئی نبی نہیں ہے اور درود ہو ان پر اور ان کی آل و اصحاب و اتباع پر تیری رحمت کے ذریعہ اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔
حمد بے حد و ثنائے بے عد اس قادر ذوالجلال و ایزد متعال کے لئے سزاوار ہے کہ جس نے اپنی قدرت کاملہ سے کائنات عالم کو پیدا کیا اور اپنی حکمت بالغہ سے انسان ضعیف البنیان کو زیور علم و عقل سے آراستہ کر کے قوت تمیز عطا فرمائی اور اسے اشرف المخلوقات بنایا ذات باری ایسی بے چون و بے چگوں ہے۔ جس میں کسی وجود حسی و غیر حسی کی شرکت کا امکان نہیں۔ نہ اس میں جزو کل جسم و روح کو دخل ہے۔ تشبیہ و مثال سے پاک ہے اور جو کچھ آدمی کے وہم اور خیال میں گزرے اس سے منزہ اور مقدس ارفع اور اعلیٰ ہے، اور درود بے حد و شمار و نعت ہائے ہزاراں ہزار اس کامل اور مکمل انسان پر ۔ کہ جس کی ذات والا صفات کو اللہ تعالیٰ نے رحمۃ للعالمین بنا کر اور اس کے اخلاق کریمہ کی تعریف 'انک لعلی خلق عظیم (القلم :٤)' کے جامع الفاظ میں بیان فرما کر اس کے اتباع اور اسوۂ حسنہ کو گم گشتگانِ کوئے ضلالت کے لئے ہادی و رہبر اور موجب فلاح و نجات قرار دیا اور جس کے وسیلہ سے اسلام کی نعمت دنیا کو بخشی اور 'الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضيت لكم الاسلام دينا (مائده :٣)' کے ذریعہ اس دین کے کامل اور مکمل ہونے کی تصدیق فرمائی۔
١؎ (اے محمدؐ) تو بڑے بزرگ خلق والا ہے۔ ٢؎ آج ہم نے تمہارا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی اور تمہارے لئے دین اسلام کو پسند فرمایا۔
١٢
١؎ ”اللہم صلی علی محمد وآلہ واصحابہ بعدد کل ذرۃ مائۃ الف الف مرۃ“
بعد حمد ونعت
ارباب علم ودانش واصحاب فطنت وخبرت سے مخفی نہیں کہ جمہور اہل اسلام کا اتفاق اس امر پر ہے کہ دین اسلام بذریعہ ذات ستودہ صفات حضرت محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ ﷺ کامل اور اکمل صورت میں دنیا کو عطاء ہو چکا اور جیسا کہ قرآن کریم کی آیات اور سرور کائنات ﷺ کے صحیح اور صاف ارشادات سے واضح ہے۔سلسلۂ نبوت آپ کی ذات مبارک پر ختم ہو چکا۔ چنانچہ (صحیح بخاری ج ٢ ص ٥٠١ ، باب خاتم النبیین ، کتاب المناقب ) میں یہ واضح اور روشن حدیث موجود ہے ۔
”عن ابی ہریرۃ ان رسول اللہ ﷺ قال ان مثلی و مثل الانبیاء من قبلی کمثل رجل بنی بیتاً فاحسنہ واجملہ الا موضع لبنۃ من زاویۃ فجعل الناس یطوفون بہ ویتعجبون لہ ویقولون ہلا وضعت ہذہ اللبنۃ قال فانا اللبنۃ وانا خاتم النبیین“ ﴿یعنی حضرت ابو ہریرۃؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری اور انبیاء گذشتہ کی مثال ایسی ہے کہ کسی شخص نے ایک عمدہ اور خوبصورت گھر بنایا مگر اس کے ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ خالی رہ گئی۔ پس لوگ اس کے گرد پھرنے لگے اور تعجب کرنے لگے۔ کہ یہ ایک اینٹ کیوں نہیں لگائی گئی۔ فرمایا کہ میں وہ ایک اینٹ ہوں اور میں نبیوں کو ختم کرنے والا ہوں ۔ ﴾
مطلب صاف ہے کہ قصر نبوت میں صرف ایک اینٹ کے لگائے جانے کی کسر باقی تھی جو لگ چکی اور نبوت کا محل مکمل ہو چکا ہے۔ اس لئے آئندہ کوئی نبی مبعوث نہ ہوگا۔
باوجود اس صاف وصریح ہدایت کے مخبر صادق ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے خبر پا کر یہ بھی ارشاد فرمایا کہ ”لا تقوم الساعۃ حتی یخرج ثلاثون کذابا کلہم یزعم انہ نبی (رواہ الطبرانی عن ابن مسعود ، کنز العمال ص ١٩٨ حدیث نمبر ٣٨٣٧٢)“ ﴿ یعنی طبرانی نے ابن مسعودؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت قائم نہ ہوگی ۔ جب تک تیس کاذب نہ نکل لیں۔ جو سب یہی گمان کریں گے کہ ہم نبی ہیں ۔ ﴾
چنانچہ اس ارشاد کے مصداق بہت سے کاذب مدعی پیدا ہوئے جن میں سے کوئی مدعی
١؎ یا اللہ! حضرت محمدؐ اور ان کی آل واصحاب پر ایک ایک ذرے کے بدلے لاکھ لاکھ بار درود بھیج ۔
١٣
مہدویت تھا اور کوئی مدعی نبوت ورسالت اور کوئی مدعی مسیحیت ایسے جھوٹے دعوے کرنے والوں میں سے بعض کے نام یہ ہیں ۔
مسیلمہ کذاب، اسود عنسی، زکریا، مغیرہ، ابن صیاد، طلیحہ، عبداللہ بن معاویہ، احمد بن محمد سلیمان قرمطی، صالح بن طریف، یحییٰ، عیسیٰ بن عمرویہ، ابوجعفر، محمد بن اسماعیل، عبداللہ بن احمد محمد، نفس زکیہ، محمد بن قاسم، قاسم بن مرہ، عباس، محمد بن تومرت، استاذ سیس، عطاء، عثمان، حسن عسکری، محمد بن حسن، محمد مہدی، احمد بن کیال، ابومنصور، شیخ محمد خراسانی، محمد احمد سوڈانی، پوشیا، دامیہ، بہود، ابراہیم بڈلہ، علی محمد باب، محمد بھوجی وغیرہ وغیرہ ۔ (ان میں زیادہ تعداد مدعیان مہدویت کی ہے)
ملک ہندوستان میں بھی بعض ایسے لوگ پیدا ہوئے جیسے سید محمد جونپوری وغیرہ ۔ آخری مدعی وہ ہیں جنہیں اس دنیا کو چھوڑے ابھی سولہ سترہ برس گزرے ہیں اور جن کی امت اگرچہ دو تین فرقوں میں متفرق بھی ہو چکی ہے۔ مگر ان کے کارناموں کے چرچے ابھی جاری ہیں۔ ہماری مراد مرزا غلام احمد قادیانی آنجہانی سے ہے۔ جو قادیان ضلع گورداسپور (پنجاب) کا رہنے والا تھا انہی کی تعلیم وحالت کا نمونہ ان اوراق میں دکھایا گیا ہے۔
پہلے آپ نے مجدد ہونے کا دعویٰ کیا۔ مہدی آخر الزمان بنے، مسیح موعود ہونے کے مدعی ہوئے۔ کبھی محدث و امام الزماں کہلائے ۔ نبوت ورسالت کے دعویدار ہوئے۔ اس سے زیادہ ترقی کی تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر جزوی فضیلت جتلائی۔ کچھ عرصہ بعد ہر لحاظ سے ان سے افضل ١ بن گئے ۔ اس سے آگے بڑھے تو آنحضرت ﷺ کو بھی ناقص ٢ الفہم اور خاطی قرار دیا۔ (معاذ اللہ منہا) اب کیا تھا خدا بننا باقی رہ گیا تھا۔ سو پہلے ابن اللہ بنے اور خدا کی
١ مرزا قادیانی کے بیٹے میاں محمود احمد نے تو ان کو ”کل انبیاء علیہم السلام اور آنحضرت ﷺ سے بھی افضل قرار دے دیا ۔“ (حقیقت النبوۃ ص ٣٠، انوار خلافت ص ٣٨) جس میں ”ابن مریم“ کی بحث کر کے بعثت ثانی کو بعثت اول سے افضل ثابت کیا ہے۔ ”چنانچہ مرزا قادیانی ”حضرت رسول ﷺ کی بعثت ثانی ہونے کے مدعی تھے۔“
(دیکھو اشتہار ایک غلطی کا ازالہ ص ٤، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٨)
٢ لکھتے ہیں کہ ”ابن مریم، دجال، دابتہ الارض وغیرہ کی حقیقت آنحضرت ﷺ پر مو بہ مو منکشف نہ ہوئی ہو تو کچھ تعجب نہیں ۔“
(ازالہ ص ٦٩١، خزائن ج ٣ ص ٤٧٣)
”اور حدیبیہ کی پیش گوئی وقت مقرر پر پوری نہیں ہوئی۔“
(ملخصاً حقیقت الوحی ص ٣٩٠، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٥)
١٤
اولاد ہونے کے مدعی ہوئے۔ بعد ازاں اللہ کی بیوی بن کر ایسے فنا فی اللہ ہوئے کہ خدائی کا ہی دعویٰ کر بیٹھے اور کشف کے ذریعہ آسمان و زمین کو بھی پیدا کر لیا۔ اس پر بھی صبر نہ آیا تو اپنے ایک آئندہ پیدا ہونے والے بیٹے کی مثال اللہ تعالیٰ سے دی جیسا کہ لکھا ہے: ’’كأن الله نزل من السماء‘‘ (حقیقت الوحی ص ٩٥، خزائن ج ٢٢ ص ٩٩) گویا خدا کا بیٹا بنتے بنتے خدا کو ہی بیٹا بنالیا۔ (معاذ الله من هذه الهفوات)
اتنے عظیم الشان اور اتنے مختلف اقسام کے دعوے کسی گذشتہ کاذب مدعی نے نہیں کئے تھے۔ اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ آپ جملہ کذابوں کا عطر مجموعہ یا گذشتہ تمام مدعیان کے گروگھنٹال تھے۔
آپ مسلمانوں کے لئے مہدی، عیسائیوں کے لئے مسیح اور ہندوؤں کے لئے کرشن و کلکی اوتار ہونے کے مدعی تھے۔ ان سب دعوؤں کی تائید میں ہزار ہا الہام سنائے اور لاکھوں نشان پیش کرنے کا دعویٰ کیا اور کہا کہ آنحضرت ﷺ کے معجزے تین ہزار ہیں لیکن میرے معجزے دس لاکھ سے بھی زیادہ ہیں۔ جن سے ہزاروں نبیوں کی نبوت کی تصدیق ہو سکتی ہے۔ آپ کے الہاموں میں سینکڑوں وعدے تھے اور سینکڑوں وعیدیں بعض الہام مجمل و مبہم بھی ہوتے تھے۔ جو مضمون شعر بطن شاعر کے مصداق رہ کر مرزا قادیانی کے ساتھ ہی ان کی قبر میں چلے گئے۔ الہام آپ کو ماشاء اللہ ہر زبان میں ہوتے تھے۔ اردو، فارسی، عربی، انگریزی، پنجابی کوئی زبان اس شرف سے خالی نہ رہی۔
بیشمار تعلیاں کیں۔ پیشگوئیوں کا جال پھیلایا۔ نئی نئی باتیں بنائیں۔ سینکڑوں بنی بنائی باتوں کے بگاڑنے کی کوشش کی۔ ماشاء اللہ علم وفضل کے مدعی تھے۔ مناظرے کے میدانوں میں بھی قدم مارے، جیتے یا ہارے یہ قسمت کا کھیل تھا۔ مگر:
لیکن مناظرے کے میدانوں میں آپ عموماً مارتے خاں کی اگاڑی اور بھاگتے خاں کی پچھاڑی کو اچھا سمجھتے تھے اور شاندار پسپائی کو ہی اپنی فتح خیال کیا کرتے تھے۔ بلکہ بعض دفعہ تو تاریخ مقرر کر کے میدان میں آئے بغیر گھر بیٹھے بٹھائے ہی الہام کے ذریعہ فتح یاب ہو جایا کرتے تھے۔ جم کر مقابلہ کرنا کسر شان سمجھتے تھے۔ اس پر بھی دعوے ان کے یہ تھے کہ:
١٥
٢ فان قاتلتنی فاریک انی مقیم فی میادین القتال
٣ الا انی اقاوم کل سهم واقلی الاکتنان عن النبال
(آئینہ کمالات ص ٥٩٤ خزائن ج ٥ ص ایضا)
لیکن کل اہل اسلام اس بات کو جانتے ہیں کہ مرزا قادیانی اول تو علماء کے روبرو آتے ہی نہ تھے۔ اگر کبھی آ بھی گئے تو سر پر پاؤں رکھ کر ایسے بھاگے ہیں کہ پیچھے پھر کر نہیں دیکھا۔ اس کی بیسیوں نظائر موجود ہیں۔
ہاں ان کی لمبی چوڑی تحریروں سے ایک دو نہیں ہزاروں سادہ لوح متاثر ہوئے اور ان کی مجذوبانہ بڑ کے پھندوں میں کئی عقیدت شعار پھنسے جہاں محکمات کو متشابہات کر دکھایا۔ وہاں خود ایسی سینکڑوں متشابہات سے ارادت مندوں کو مسحور کیا کہ وہ خصوصیات احمدیہ و مرموزات مہدویہ کے عقیدوں سے تا قیامت کسی اور طرف آنکھ نہ پھیریں۔ پیر پرستوں کے لئے اکبر اکابر المشائخ ثابت ہوئے۔
انتظار مہدی کے مریضوں کے لئے نہ صرف مہدی بلکہ مسیحا بنے۔ سائنس دانوں کی خاطر معجزات کو مسمریزم بتایا۔ معجزہ کے طلبگاروں کے لئے پیش گوئیوں کا طومار باندھ دیا۔ علماء کی تواضع تفسیر و اجتہاد سے کی۔ گویا ہر محفل کے صدر بنے اور ہر رنگ پر اپنا رنگ جمانے کی سعی کی۔ جس خیال کا کسی کو دیکھا اسی خیال کے پردے میں اپنا خیال چھپا کر اس کے پیش کر دیا۔ پھر کون تھا جو اس کرشمہ کا شہید نہ ہوتا اور اس دعوت کو قبول نہ کرتا۔
فریب چشم تو صد فتنہ در جہاں انداخت
- ١ اگر میرے مقابلہ پر آؤ گے تو میرے تیر دیکھ لو گے اور میرے جیسے آدمی مقابلہ سے
بھاگا نہیں کرتے۔
- ٢ سو تم اگر مجھ سے مقابلہ کرو گے تو میں تمہیں دکھا دوں گا کہ میں لڑائی کے میدان میں
ڈیرا جمانے والا ہوں
- ٣ سن لو کہ میں ہر ایک کا ڈٹ کر مقابلہ کیا کرتا ہوں اور تیروں سے چھپنے کا تو میں
دشمن ہوں۔
١٦
جن کی قسمت ہار گئی تھی۔ پھنس گئے اور بعض خوش نصیب پھنس کر نکل گئے اور جو اس فتنہ اسلام آشوب سے بچ گئے وہ اپنے مقدر کو دعائیں دیں اور حافظ حقیقی کا شکر ادا کریں۔
تا نہ بخشد خدائے بخشندہ
ان کے متبعین کی تعداد کو بیان کیا جاتا ہے کہ کئی لاکھ ہے ۔ ہمارے بھائی ہیں۔ دل نہیں چاہتا کہ جو لوگ ایک بار رشتہ اسلام میں ہمارے ساتھ منسلک ہو چکے تھے ۔ پھر بھی ہم سے الگ ہوتے ۔ مگر کیا کریں قطع و برید کی مشین جس پر وہ بزور قائم ہیں۔ خود ان کی اپنی ہی ایجاد ہے نہ کہ ہماری ۔ ایک وقت تھا جب کہ مرزا قادیانی کہا کرتا تھا کہ میرے انکار سے کوئی کافر نہیں ہو جاتا ۔ حالانکہ ان کے الہامی ١؎ خمیلہ میں ایسے الہامات موجود تھے۔ جن کو بعد میں سند پکڑا جا کر مخالفین کے خلاف استعمال کیا گیا ہے اور جن میں اپنے دعوے سے انکار کرنے والوں کو کافر کہا ہے اور بعد میں تو کھلم کھلا کہہ دیا کہ جو مجھے نہیں مانتا خواہ منکر نہ بھی ہو متردد ہی ہو وہ بھی کافر ہے۔ مکذبین و مکفرین کا تو کہاں ٹھکانا ہے ۔ ہمارے ان بھائیوں نے مرزا قادیانی میں کوئی خوبی دیکھی ہوگی ۔ جسے دیکھ کر وہ امت خیر الرسل علیہ افضل التحیات والسلام سے علیحدہ ہوئے ۔ لیکن خدائے واحد ، شاہد ہے کہ ہمیں تو مرزا قادیانی کی تصانیف و دعاوی میں بجز زبانی ادّعاء بیجا تاویلات، یہودیانہ تحریفوں اور خود ستائیوں کے اور کچھ نظر نہیں آیا۔ ہمیں اپنے گم کردہ راہ بھائیوں کی دل آزاری منظور نہیں ۔ لکھتے ہوئے دل دُکھتا ہے ۔ مگر مذہب کا معاملہ ہے ۔ یہاں کتمان حقیقت سخت گناہ ہے اور ساکت عن الحق رہنا شیطان اخرس بناتا ہے۔ مرزا قادیانی کی کوئی ظاہری خوبی اگر ان کے مریدوں کی آنکھوں میں ہے بھی تو وہ یاد رکھیں کہ ایسی ظاہری خوبی کے ساتھ ہر جگہ کوئی نہ کوئی بلا چھپی ہوئی ضرور ہوتی ہے ۔ جو اس خوبی پر فریفتہ ہوتے ہیں وہ اس بلا میں بھی بری طرح گرفتار ہوتے ہیں ۔
اے مرغ مرو در پئے ایں دانہ کہ دام است
١؎ براہین احمدیہ مرزا قادیانی کی سب سے پہلی تصنیف ہے۔ اس میں انہوں نے سینکڑوں آیات قرآنی اور عربی علی الحساب لکھ دی تھیں ۔ جن کو بعد میں اپنی صداقت کے لئے وقتاً فوقتاً بطور الہام پیش کرتے رہے۔ اس لئے اہل اسلام بجا طور پر ان کی اس کتاب کو الہامی خمیلہ کہا کرتے ہیں۔
١٧
یہ بہتان نہیں جو ہم لکھ رہے ہیں۔ یہ کوئی بیجا حملہ نہیں جو کیا جا رہا ہے۔ یہ ایسا دعویٰ نہیں جس کا نمایاں ثبوت نہ ہو۔ یہ ایک حقیقت ہے اور حقیقت ظاہرہ ۔ یہ ایک صداقت ہے اور صداقت باہرہ ۔ اسی حقیقت اور صداقت کے انکشاف اور اصلیت و واقعیت کے اظہار کے لئے یہ چند اوراق لکھے گئے ہیں۔ ( السعی منی والاتمام من الله ) مرزا قادیانی کے کلام میں حد درجہ کی نیرنگیاں اور خفیہ چال بازیاں پائی جاتی ہیں۔ وہ اپنے مخالفین کو کافر کہتے بھی ہیں اور نہیں بھی کہتے ۔ وہ نبوت کا دعویٰ کرتے بھی ہیں اور نہیں بھی۔ وہ انبیائے کرام کی عزت و تعظیم بھی کرتے ہیں مگر ان سے افضلیت کے بھی مدعی ہیں ۔ وہ معجزات انبیائے سابقین کو مانتے بھی ہیں مگر انہیں مسمریزم اور مکر و دغا پلید افعال سے بھی نامزد کرتے ہیں ۔ وہ فحش گوئی اور غصہ و غضب کو برا بھی کہتے ہیں مگر خود بھٹیاروں کی طرح گالیاں بھی دیتے ہیں ۔ وہ خدا بھی بنتے ہیں ۔ خدا کے بیٹے بھی ۔ خدا کی عورت بھی اور خدا کے باپ بھی ۔ وہ تارک الدنیا ہونے کے بھی مدعی ہیں مگر خود لاکھوں روپیہ کی جائیداد بنا کر پسماندگان کے لئے ریاست قائم کر گئے ہیں ۔
غرض مرزا قادیانی کا کلام ایک طرفہ معجون ہے۔ جس میں ہر قسم کا سرور موجود ہے۔ مرزا قادیانی کی تعلیم کی مثال اس دوا فروش ، ہوشیار کی سی ہے۔ جس کے پاس ایک بوتل میں سادہ شربت ڈالا ہوا ہو اور پھر جس شربت کی کسی کو ضرورت ہو۔ اسی بوتل سے نکال دیتا ہو۔ یا مرزا قادیانی کی تعلیم کی مثال ایک شاہد بازاری کی سی ہے۔ جس کا ظاہری رنگ و روغن ، لباس اور آرائش دلفریب ہے۔ لیکن اندرونی طور پر ہزاروں اخلاقی بدیاں ، بیسیوں تباہ کن بیماریاں اور سینکڑوں مالی و جسمانی نقصانات اس میں پوشیدہ ہیں۔ یا مرزا قادیانی کی تعلیم کی مثال شربت کے اس گلاس کی سی ہے جس میں عرق کیوڑا ، بید مشک اور قند ڈالا گیا ہے۔ مگر چند قطرے زہر ہلاہل کے بھی اس میں ملے ہوئے ہیں۔ اگر وہ مکار دکاندار قابل اعتبار ہو سکتا ہے؟۔ اگر وہ شاہد بازاری قابل التفات ہے؟۔ اگر وہ شربت کا گلاس بلا تامل پیا جا سکتا ہے؟۔ تو بے شک مرزا قادیانی کی تعلیم بھی جس میں صریح اور واضح طور پر ظاہری آرائش کے ساتھ ساتھ قسم قسم کی اخلاقی برائیاں اور خلاف شریعت حقہ باتیں موجود ہیں قابل قبول ہیں؟ ۔ اگر یہ تینوں باتیں نا قابل تسلیم اور رد کر دینے کے لائق ہیں۔ تو مرزا قادیانی کی تعلیم ان سے بھی پہلے نا قابل التفات اور مردود ہے۔ کیونکہ وہ ہر سہ ایسے امور ہیں جن کا اثر انسان کے مال، اخلاق یا جسم پر پڑتا ہے۔ مگر مرزا قادیانی کی تعلیم جنس ایمان کا سودا ہے اور دین و ایمان کے خسارہ کو ہرگز قبول نہیں کیا جا سکتا۔
١٨
مرزا قادیانی کے ہر ایک دعوے کی بار بار تردیدیں ہو چکی ہیں۔ ان کی کتابوں کے جواب اور ان کی پیش گوئیوں کا غلط ہونا علمائے اسلام نے اچھی طرح واضح کر دیا ہے۔ سعید و خوش نصیب طبیعتیں ان سے فائدہ اٹھاتی ہیں اور ضدی لوگ ان کی طرف ملتفت نہیں ہوتے۔ ان میں چونکہ بعض کتابیں ضخیم اور متفرق ہیں۔ عوام ان سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ اس لئے ان ہی تصانیف علمائے کرام و تحریرات و تقاریر صلحائے عظام سے اقتباس کر کے یہ ایک خاص طرز کا رسالہ پیش کیا جاتا ہے۔ جس میں مرزا قادیانی کی تعلیم ان کے معتقدات و مسلمات اور ان کے الہامات و کشوف کی حالت کا نمونہ دکھلایا گیا ہے۔ ممکن نہیں کہ اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اور اسلام کی غیرت و حرمت دل میں رکھتے ہوئے کوئی شخص ان اوراق کو پڑھ کر مرزا قادیانی کے دعووں کو تسلیم کر سکے یا اگر پہلے اس جال میں پھنس چکا ہے تو آئندہ کے لئے پھنسا رہنا پسند کرے۔ ہاں! ضد اور تعصب کی بات جدا ہے۔ جب انسان کسی چیز سے محبت کرنے لگتا ہے تو اس کی برائیاں بھی اسے خوبیاں ہی نظر آتی ہیں اور وہ اپنے خیالات کے برخلاف ایک بات بھی سننا نہیں چاہتا۔ بلکہ کانوں میں انگلیاں دے لیتا ہے۔ اسی کا نام کورانہ تقلید ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ میری اس خالص دینی خدمت کو قبول فرمائے اور مرزا قادیانی کے موافق و مخالف دونوں فریق اس سے مستفید و مستفیض ہوں۔ آمین۔
اس کتاب میں ناظرین بعض جگہ ایسے الفاظ بھی دیکھیں گے جو سنجیدگی و متانت کی رو سے قابل اعتراض اور غیر مانوس معلوم ہوتے ہیں۔ لیکن اس کے متعلق صرف اتنا عرض کیا جاتا ہے کہ ایسے الفاظ کا استعمال الزامی طور پر مرزا قادیانی کی تصانیف و تقاریر سے ہی کیا گیا ہے اور اپنی طرف سے کسی جگہ زیادتی و سبقت نہیں کی گئی۔ مرزا قادیانی کی تہذیب متانت اور سنجیدگی کا نظم و نثر نمونہ اس کتاب کی نویں فصل کے نمبر چھ و سات میں دکھایا گیا ہے۔ اسے پڑھ کر پھر اس کتاب کی کسی عبارت کی نسبت رائے قائم کرنی چاہئے۔ بعض اصحاب جنہیں مرزا قادیانی کی ایسی تحریروں کے دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا ہمارے ایسے خیالات کو دیکھ کر اعتراض فرما دیا کرتے ہیں۔ اس وقت ہماری حالت اس شعر کی مصداق ہوتی ہے۔
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
١٩
بالاخر مؤلف کی گذارش ہے کہ مجھے علم وفضل کا دعویٰ نہیں ایک معمولی اردو خواں ہوں ہاں علماء کی صحبت و خدمت کا کسی قدر شرف ضرور حاصل ہے۔ اسی نسبت کو فلاح دارین کے لئے کافی سمجھتا ہوں اور چونکہ کم علم ١؎ ہوں ۔ اس لئے ناظرین سے التماس ہے کہ اگر کوئی غلطی پائیں تو اس سے چشم پوشی اور درگذر فرمائیں مطلب اصل مقصود سے ہے۔
در نوشت است پند بر دیوار
امید ہے کہ ’بفحوائے انظر ماقال ولا تنظر الی من قال‘ (کہی ہوئی بات کو دیکھو یہ خیال نہ کرو کہ کہنے والا کون ہے ) ناظرین اس سے فائدہ اٹھائیں گے۔ میں نے ایک باغبان کی حیثیت سے مختلف پھولوں اور کلیوں کو اکٹھا کر کے ایک گلدستہ بنا دیا ہے۔ آپ پھولوں کی خوبصورتی اور خوشبو سے بہرہ اندوز ہوں۔ ہاں اگر ترتیب کا فرق ہے تو یہ باغبان کا قصور ہے۔ اس سے درگذر فرمائیں۔ جن کتابوں اور رسالوں سے اس مختصر کتاب کے مختلف مضامین اخذ کئے گئے ہیں ان کی فہرست حسب ذیل ہے۔
نمبر شمار نام کتاب یا رسالہ اسم مبارک حضرات مصنفین ١ افادة الافہام مولانا انوار اللہ خان صاحب حیدر آباد دکن ٢ غایت المرام و تائید الاسلام حاجی قاضی محمد سلیمان صاحب مصنف رحمۃ اللعالمین پٹیالہ ٣ مسیح الدجال وغیرہ ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب مرحوم پٹیالہ ٤ مرقع قادیانی وغیرہ مولانا مولوی ثناء اللہ صاحب مولوی فاضل امرتسر ٥ رسالہ تائید الاسلام ماہواری مولوی پیر بخش صاحب سیکرٹری انجمن تائید الاسلام وغیرہ لاہور ٦ کاشف مغالطہ قادیانی چوہدری محمد حسین صاحب ایم۔اے ٧ عصائے موسیٰ مولوی الہی بخش صاحب مرحوم
١؎ مرزا قادیانی کے دعوؤں اور ان کی تعلیم کو دیکھنے سے ایک خدا ترس مسلمان پر خود بخود ان کا کذب روشن ہو جاتا ہے۔ اس کے لئے کسی علمیت کی ضرورت نہیں ان کے رنگ برنگ کے دعوےٰ اپنی تردید آپ ہی کر رہے ہیں۔
٢٠
٨ النجم الثاقب مولوی عبدالمعز صاحب مونگیر ٩ فیصلہ آسمانی وغیرہ مولانا مولوی سید ابواحمد صاحب رحمانی مونگیر ١٠ اشاعۃ السنۃ مولانا مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی
جزاہم اللہ احسن الجزاء
جو اصحاب اس کتاب کو ملاحظہ فرمائیں وہ پہلے ان بزرگان ١؎ اور ان کے بعد اس خاکسار کو دعائے خیر سے یاد فرمائیں۔ ”واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین“ (پٹیالہ یکم ذوالحجہ ١٣٢٢ھ، خاکسار محمد یعقوب خلف مولوی محمد علی صاحب مرحوم متوطن قصبہ سنور حال پٹیالہ)
پہلی فصل
دس کاذب مدعیان نبوت والہام مہدویت
پہلے بھی بہت گزرے ہیں نقال محمدﷺ
(حدیث شریف) ”سيكون فى امتى كذابون ثلاثون كلهم يزعم انه نبی وانا خاتم النبيين لا نبى بعدى“ (مسلم ج ٢ ص ٣٩٧، کتاب الفتن واشراط الساعۃ، ترمذی ج ٢ ص ٤٥ باب ما جاء لا تقوم حتی یخرج کذابون، ابوداؤد ج ٢ ص ١٢٧، کتاب الفتن وغیرہ)
﴿میری امت میں تیس جھوٹے مدعی پیدا ہوں گے جو نبوت کا دعویٰ کریں گے۔ حالانکہ میں نبیوں کے ختم کرنے والا ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے﴾
مرزائی لٹریچر میں یہ دعویٰ پایا جاتا ہے کہ مرزا قادیانی نے ایک مدت تک خلوت نشین رہ کر تصفیہ باطن حاصل کیا۔ چنانچہ کئی تصانیف میں آپ فنا فی اللہ اور فنا فی الرسول ہونے کے مدعی ہیں۔ لیکن اس خلوت نشینی میں انہوں نے جو کام کیا ہے اس کی تفصیل براہین احمدیہ میں خود ہی اس طرح لکھتے ہیں کہ:
١؎ شکریہ: اس کتاب کا مسودہ پہلے مخدومی مکرمی منشی فاضل مولانا حاجی قاضی محمد سلیمان صاحب مصنف رحمۃ للعالمین نے پھر میرے استاذ معظم منشی فاضل مولانا محمد حشمت اللہ صاحب مفتی ریاست پٹیالہ نے ملاحظہ فرمایا اور اپنے عالمانہ اور قیمتی مشوروں سے میری حوصلہ افزائی فرمائی۔ جس کے لئے میں ہر دو بزرگان کا دلی شکریہ ادا کرتا ہوں۔ حق تعالیٰ انہیں اجر جزیل عطاء فرمائیں۔ آمین!
٢١
بخواندم زہر ملتے دفترے بدیدم زہر قوم دانشور ے
ہم از کود کی سوئے ایں تا ختم دریں شغل خودرا بینداختم
جوانی ہمہ اندریں با ختم دل از غیر ایں کار پر داختم
(براہین احمدیہ ص ٩٦،خزائن ج١ ص ٨٥)
ہمیں اس امر سے کوئی بحث و غرض نہیں کہ مرزا قادیانی کے مذکورہ بالا اشغال کا زمانہ ان کی عمر کا کون سا حصہ تھا۔ کیونکہ انہوں نے معمولی تعلیم کے بعد سرکاری ملازمت بھی کچھ عرصہ کی ہے اور اس کے ساتھ ہی مختاری کا قانونی امتحان بھی دیا تھا۔ جس میں آپ فیل ہو گئے تھے۔ یہ ملازمت اور تیاری امتحان کا زمانہ بھی کودکی سے پہلا زمانہ نہیں ہوسکتا اور نہ جوانی سے بعد کا۔ مگر ان اشعار میں کودکی سے خاتمہ جوانی تک کا پروگرام پیش کر دیا ہے۔ ممکن ہے کہ ایسا ہی ہو اور ابتداءعمر سے دوسرے امور کے ساتھ یہ شغل اور شوق بھی رہا ہو۔
بہر حال وہ بڑی صفائی سے اقرار کرتے ہیں کہ میں نے ہر ایک سچے اور جھوٹے مذہب پر غور کیا اور ان مذاہب مختلفہ کے بانیوں اور ان کے موجد عقلاء کے دلائل اور حجتیں سنیں۔ ان کے دفاتر کھنگھال ڈالے اور لڑکپن سے لے کر جوانی کے خاتمہ تک میں نے اس کے سوائے اور کوئی کام نہیں کیا۔ اس سے ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی نے تمام باطل مذاہب و کاذب مدعیان نبوت و الہام کے حالات پر غور وخوض کرنے میں ایک بھاری مجاہدہ کیا اور کامل غور و فکر کے بعد عقلاء کی تدابیر و اختراعات و استدلال میں ایک خاص ملکہ بہم پہنچایا۔ لیکن یہ شب و روز کی مشغولیت ان کے ایمان حقیقی کے لئے بلائے بے درماں ثابت ہوئی اور دین حنیف کے سیدھے سادھے اصولوں کے بجائے کذابوں اور دجالوں کے فلسفیانہ اور منطقیانہ دلائل اور دعاوی ان کے قلب پر مستولی ہو گئے اور تصفیہ باطن کی جگہ اپنے دین و ایمان کا ہی صفایا کر بیٹھے۔
چنانچہ مرزائی تعلیم کی رنگ آمیزیاں بوقلمونیاں اور عبارت آرائیاں دیکھنی ہوں تو ان کی تصانیف کو ملاحظہ کرنا چاہئے۔ مختصر طور پر اس رسالہ میں بھی ذکر آئے گا، فصل ہذا میں بطور نمونہ ایسے دس کاذب مدعیان کا کچھ حال لکھا جاتا ہے۔ جن کے دلائل اور دعوؤں پر مرزا قادیانی نے اپنے مشن کی بنیاد رکھی ہے۔
- ١......ابو منصور
منہاج السنۃ میں ابو منصور بانی فرقہ منصوریہ کا حال لکھا ہے۔ ”اس کی تعلیم یہ تھی کہ
٢٢
رسالت کبھی منقطع نہیں ہوتی۔ رسول ہمیشہ مبعوث ہوتے رہیں گے۔ قرآن شریف وحدیث میں جو جنت و نار کا ذکر ہے وہ دو شخصوں کے نام ہیں اور اسی طرح میتہ، دم، لحم خنزیر اور میسر بھی حرام نہیں۔ پھر کہتا ہے کہ یہ تو چند آدمیوں کے نام ہیں جن کی محبت حرام کی گئی ہے۔ صوم وصلوٰۃ حج وزکوٰۃ بھی چند آدمیوں کے نام تھے۔ جن کی محبت واجب ہے۔ ورنہ یہ کسی عبادت کے نام نہیں ہیں۔“
(الملل والنحل شھرستانی ج ١ ص ١٧٨، ١٧٩ طبع قاہرہ عنوان المنصوریہ )
غرض یہ کہ کل تکلیفات شرعی کو ساقط کر دیا تھا۔ اس کے ہزاروں لاکھوں مرید ہو گئے تھے اور ایک مستقل فرقہ کی اس نے بنیاد رکھی تھی۔ ستائیس برس تک نبوت کا دعویٰ اور سلطنت کر کے ٣٦٨ھ میں مارا گیا اور اس کی اولاد میں پانچویں صدی کے اخیر تک سلطنت رہی۔
مرزا قادیانی نے بھی تاویلات ١؎ کے اس مجرب نسخہ سے خوب فائدہ اٹھایا نبوت و رسالت کے خود مدعی ہوئے اور جیسا کہ قادیانیت، مرزائیت سے ظاہر ہو رہا ہے۔ آئندہ ٢؎ کے لئے بھی نبوت کی داغ بیل ڈال گئے۔ قسم قسم کے چندوں سے پیٹ نہ بھرا تو زکوٰۃ کے مال کے در پے ہوئے اور دینِ اسلام کو غریب، یتیم اور بے کس ظاہر کر کے اس طرح زکوٰۃ کے مال کا مستحق ٹھہرایا کہ ہماری کتابیں مال زکوٰۃ سے خرید کر مفت تقسیم کی جاویں اور ان کتابوں کی قیمت لاگت سے کئی گنا زیادہ رکھی اور خوب ٹکے کمائے۔
ابو منصور کی طرح قرآن کریم اور احادیث شریفہ کے معنی بدلنے کی ترکیب خوب ہی کارگر ہوئی۔ چنانچہ ازالۃ اوہام میں کہتے ہیں کہ:
”مسیح ابن مریم کے آنے کی پیش گوئی ایک اوّل درجہ کی پیش گوئی ہے۔ جس کو سب نے بالا تفاق قبول کر لیا ہے اور جس قدر صحاح میں پیش گوئیاں لکھی گئی ہیں کوئی پیش گوئی اس کے ہم پہلو اور ہم وزن ثابت نہیں ہوتی تواتر کا اول درجہ اس کو حاصل ہے۔ انجیل بھی اس کی مصدق ہے۔“
(ازالۃ اوہام ص ٥٥٧، خزائن ج ٣ ص ٤٠٠)
غرض یہ کہ اس معاملہ پر خوب زور دیا۔ مگر قرآن وحدیث میں حضرت مسیح علی نبینا وعلیہ السلام کے جتنے نام آئے ہیں وہ سب اپنے اسماء ظاہر کئے۔ کیونکہ خود مسیح بننا مطلوب تھا اور اسی پر اکتفا نہ کی بلکہ آدم، نوح، ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ، مہدی، حارث، حراث، محدث، مجدد، امام الزمان،
١؎ چنانچہ ایک جگہ کہتے ہیں کہ تاویل کا باب مجھ پر کھل گیا ہے؟۔
٢؎ چنانچہ مرزا قادیانی کے کئی مریدوں نے ان کے بعد نبوت کے دعوے کئے ہیں۔ جیسے مولوی چراغ الدین جمونی، عبداللہ تیماپوری، نبی بخش معراجکے، عبدالطیف گناچوری۔
٢٣
خلیفۃ اللہ ، کرشن ، کلغی اوتار وغیرہ وغیرہ اپنے نام اس لئے رکھ لئے کہ داشتہ آید بکار اسی طرح قادیان سے مراد دمشق ، علماء کا نام دابۃ الارض اور کہیں طاعون کا نام دابۃ الارض ، پادریوں کا نام دجال رکھا اور کہیں دجال سے با اقبال قوم مراد لی اور ریل کو خر دجال بتایا اور خود کرایہ دیکر اس گدھے پر چڑھتے رہے۔ ”فنعم من قال“
بایں شان و بایں شوکت کرایہ دے کے چڑھتا ہے
- ٢...... محمد بن تومرت
فتوحات اسلامیہ میں بحوالہ تاریخ کامل وغیرہ لکھا ہے کہ پانچویں صدی کے شروع میں محمد بن تومرت ساکن جبل سوس نے دعویٰ کیا کہ میں سادات حسینی ہوں اور مہدی موعود ہوں۔ اس کے حالات میں مذکور ہے کہ اس نے امام غزالی وغیرہ اکابر علماء سے تحصیل علوم کے بعد رمل و نجوم میں بھی مہارت بہم پہنچائی اور درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا۔ اس کا علم و فضل اور زہد و تقویٰ دیکھ کر اور اس کی جادو بھری تقریریں سن کر لاکھوں آدمی اس کے شاگرد و مرید بن گئے اور ایک لشکر لڑنے مرنے والا تیار ہو گیا۔ بادشاہ وقت کو بھی اس نے شکست دی۔ جس کی پہلے سے پیش گوئی کر دی تھی۔ مناسبت معنوی و طبعی کے لحاظ سے عبداللہ ونشریشی اور عبدالمؤمن وغیرہ اس کے معتمد علیہ قرار پائے۔ عبداللہ ایک بڑا فاضل شخص تھا۔ اس کے علوم وفنون کو ابن تومرت نے کچھ عرصہ ظاہر نہیں کیا۔ بلکہ اس کو ایک مجذوب کی مانند نہایت میلے اور گندے حال میں گونگا بنا کر رکھا جب لوگوں میں اس مدعی مہدویت کا خوب چرچا ہو گیا۔ تو اپنی پہلے سے سوچی ہوئی چال چلا۔ یعنی فاضل عبداللہ ونشریشی کو کہا کہ اب اپنا کمال علم و فضل ظاہر کرے۔ چنانچہ اس کی بتائی ہوئی تدبیر کے موافق ایک دن صبح کے وقت عبداللہ نہایت مکلف لباس پہنے اور خوشبوئیں لگائے مسجد کے محراب میں دیکھا گیا۔ لوگوں کے دریافت کرنے پر اس نے بتلایا کہ فرشتہ نے آسمان سے آکر میرا سینہ شق کیا اور دھو کر قرآن اور موطا وغیرہ کتب آسمانی و احادیث و علوم سے بھر دیا۔ مکار مہدی موعود اس بات کو سن کر رونے لگا کہ میری جماعت میں اللہ تعالیٰ نے ایسے آدمی بھی پیدا کئے ہیں جن پر حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی طرح فرشتے اترتے ہیں اور جس طرح آنحضرت ﷺ کا سینہ شق کیا گیا تھا۔ اسی طرح اس عاجز کی جماعت کے ایک ذلیل شخص کا سینہ فرشتوں نے شق کر کے قرآن و حدیث اور حکمت علوم لدنیہ سے بھر دیا ہے۔ لوگ اس شعبدہ سے خوب متاثر ہوئے اور اس حکیم الامتہ ونشریشی کے طفیل اس کو بہت فروغ حاصل ہوا۔
بعض لوگ اس جھوٹے مہدی کے دعوؤں کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھتے تھے۔ جن کی
٢٤
فہرست اسم وار اس نے عبداللہ مذ اس کو عطاء ہونے کا معجزہ تسلیم کرا کی شناخت کا بھی نور عطاء کیا ہے نہیں۔ لہٰذا ان دوزخیوں کو قتل کر آسمان سے نازل ہوئے ہیں جو ویران مقام پر ایک چاہ میں اتا جہاں مکار مہدی نے اوّل دور ک
عبداللہ ونشریشی کہ ہے کہ دوازخی قتل کر دئے جائیں بچ
اس تصدیق کے بعد دیں۔ ان کو عالم بالا پر ہی پہنچا د ہو کر کہا کہ یہ چاہ اب نزول ملائک قہر الٰہی نازل ہونے کا اندیشہ سے فوراً اس چاہ کو بند کر دیا گیا یہ کام کئی دن میں سرانجام ہوا ا ملک گیری میں مشغول ہوا اور کر کے مر گیا۔
١؎ مرزا قادیانی آ نکالتے تھے کہ اگر میں جھوٹا الرسل ﷺ کے برابر ہے۔ لیک کا زمانہ ٢٣ سال کی مدت بن صباح ٣٥ سال، صالح ب صادق نبیوں کا زمانہ نبوت ٢٣ علیہ السلام، بفرض محال اگر مرز دعوئی نبوت کو کفر قرار دیا تھا۔ سال نبی کہاں رہے؟۔ یہ آ فرمارہے؟۔ پھر ٢٣ سالہ مد
فہرست اس مکار نے عبداللہ مذکورہ کی دے دی تھی۔ جب عبداللہ کا سینہ شق ہونے اور علوم لدنی اس کو عطا ہونے کا معجزہ تسلیم کر لیا۔ تو اس عبداللہ سے ہی کہلوا دیا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے دوزخیوں کی شناخت کا بھی نور عطا کیا ہے اور فرمایا ہے کہ ایسی متبرک جماعت میں دوزخیوں کا رہنا ٹھیک نہیں۔ لہٰذا ان دوزخیوں کو قتل کر دینا چاہئے۔ میرے اس بیان کی تصدیق کے لئے تین فرشتے آسمان سے نازل ہوئے ہیں جو فلاں چاہ میں موجود ہیں۔ (اور خفیہ طریق سے تین مخلص مرید کسی ویران مقام پر ایک چاہ میں اتار دئے) حسب الحکم مہدی کاذب ساری جماعت اس چاہ پر پہنچی جہاں مکار مہدی نے اول دو رکعت نماز پڑھی بعد ازاں کنوئیں میں آواز دی کہ: عبداللہ وشریشی کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے دوزخیوں کی شناخت کا علم دے کر حکم دیا ہے کہ دوزخی قتل کر دئے جائیں۔ کیا یہ سچ ہے؟۔ چاہ میں سے آواز آئی:
اس تصدیق کے بعد بدیں خیال کہ یہ عالم تحتانی کے فرشتے اوپر آکر افشائے راز نہ کر دیں۔ ان کو عالم بالا پر ہی پہنچا دیا جائے تو مناسب ہے۔ مہدی موعود نے وشریشی وغیرہ سے متوجہ ہو کر کہا کہ یہ چاہ اب نزول ملائکہ سے متبرک ہو گیا ہے۔ اس میں نجاست وغیرہ گرنے اور اس سے قہر الٰہی نازل ہونے کا اندیشہ ہے۔ اس لئے اس کو بند کر دینا مناسب ہے۔ چنانچہ سب کی رائے سے فوراً اس چاہ کو بند کر دیا گیا اور وشریشی کے بتانے پر سب مخالفین چن چن کر قتل کر دئیے گئے اور یہ کام کئی دن میں سرانجام ہوا اس طرح سے مہدی کاذب اپنے مخالفین کا قلع قمع کر کے فتنہ و فساد ملک گیری میں مشغول ہوا اور چوبیس (٢٤) سال تک مدعی مہدویت رہ کر عبدالمؤمن کو جانشین کر کے مر گیا۔
(تاریخ الکامل لابن اثیر ج ٩ ص ١٩٥ بیروت)
ا؎ مرزا قادیانی آیت لو تقول علینا بعض الا قاویل...... الخ! سے یہ نتیجہ نکالتے تھے کہ اگر میں جھوٹا ہوتا تو ٢٣ سال تک مہلت نہ پاسکتا جو زمانہ نبوت حضرت ختم الرسل ﷺ کے برابر ہے۔ لیکن اس آیت سے ان کا یہ استدلال باطل ہے کیونکہ کئی کاذب مدعیان کا زمانہ ٢٣ سال کی مدت سے زیادہ ہے۔ جیسے ابو منصور ٢٧ سال، محمد بن تومرت ٢٤ سال، حسن بن صباح ٣٥ سال، صالح بن طریف ٤٧ سال، اکبر بادشاہ ہند ٢٥ سال وغیرہ اور ایسے ہی کئی صادق نبیوں کا زمانہ نبوت ٢٣ سال سے بہت کم ہے۔ مثلاً حضرت زکریا علیہ السلام اور حضرت یحییٰ علیہ السلام، بفرض محال اگر مرزا قادیانی کا استدلال مان بھی لیا جائے تو انہوں نے ١٩٠١ء سے پہلے دعویٰ نبوت کو کفر قرار دیا تھا۔ سنہ مذکورہ میں دعویٰ کیا اور سات برس بعد ١٩٠٨ء میں مر گئے۔ ٢٣ سال نبی کہاں رہے؟۔ یہ آیت بھی مکی ہے جہاں حضور علیہ السلام بعد دعویٰ نبوت تیرہ سال تشریف فرما رہے؟۔ پھر ٢٣ سالہ مدت کی حجت کفار مکہ پر کسی طرح پیش ہو سکتی تھی؟۔
٢٥
اس قصہ پر غور کرنے سے کئی نتائج حاصل ہوتے ہیں ۔
- الف ...... ایسے کاذب مدعیوں کو چند علمدار آدمی اپنے ساتھ ملانے ضروری ہوتے
ہیں ۔ جس کا عوام پر بڑا اثر پڑتا ہے۔ محمد ابن تومرت کو عبد المومن اور عبد اللہ ونشریشی جیسے عالم فاضل مل گئے تھے ۔ تو مرزا قادیانی کو بھی مولوی نور الدین قادیانی ، ١؎ مولوی محمد احسن قادیانی اور مولوی عبد الکریم قادیانی سے بڑی مدد ملی ۔ جن میں سے پہلے دو کو ان دو فرشتوں سے مشابہت دی ۔ جن کے مونڈھوں پر ہاتھ رکھ کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا حدیث میں مذکور ہے۔
- ب ...... محمد ابن تومرت کو اپنے معتقدوں پر اتنا تصرف تھا کہ انہوں نے اپنے بھائی
بندوں کو جو اس مہدی کے دعویٰ سے منکر یا متردد تھے ۔ اپنے ہاتھوں سے قتل کر ڈالا ۔
مرزا قادیانی کے معتقد بھی مرزائی احکام کے مطابق تمام مسلمانوں کو جن میں ان کے عزیز اقارب ، دوست ، آشنا ، اور بڑے بڑے علماء فضلاء صلحاء شامل ہیں ۔ خارج از اسلام کافر سمجھتے ہیں ۔ ان کے ساتھ مل کر نماز نہیں پڑھتے رشتے ناتے بند کر دئے ہیں اور کئی مثالیں موجود ہیں کہ مرزائی بیٹوں نے مسلمان باپ کے جنازہ کی نماز نہیں پڑھی ۔
- ج ...... اس مہدی موعود نے مخالفین کو قتل کر کے اپنی جماعت ممتاز بنائی تھی ۔ مرزا
قادیانی نے تمام مسلمانوں کے اسلام کو مردہ کہہ کر اپنے مریدوں کو ان کے ساتھ نماز پڑھنے اور دیگر معاشرتی امور میں شریک ہونے سے روک دیا ۔
٣...... عبدالمومن
محمد ابن تومرت نے مرنے سے پیشتر اس کو امیر المومنین کا لقب دے کر اپنا جانشین کر دیا تھا اور اس کے حق میں پیش گوئی کی تھی کہ یہ بہت سے ملک فتح کرے گا۔ عبد المومن چار برس تک لوگوں کے ساتھ سخاوت و احسان کا سلوک کرتا رہا اور چونکہ جوانمرد اور بہادر تھا اس لئے ملک فتح کرنے کی طرف متوجہ ہوا ۔ چنانچہ جس طرف گیا اس کی فتح ہوئی ۔ اندلس اور عرب کو بھی اس نے فتح کر لیا تھا ۔ ٥٥١ ھ میں اپنے بیٹے محمد کو ولی عہد کر کے اپنے مریدوں سے بیعت کرائی ۔ آخر تینتیس سال تک مہدی کا خلیفہ اور امیر المومنین کہلا کر اور بڑی شان و شوکت سے بادشاہت کر کے ٥٥٨ ھ میں مر گیا اور اپنی اولاد کو بادشاہت دے گیا ۔ بیشمار مسلمانوں کو قتل کیا اور مدت العمر محمد بن تومرت کی تعلیم مہدویت پھیلاتا رہا ۔
ا۔ ایک جگہ مرزا قادیانی خود تسلیم کرتے ہیں کہ بہت سے لوگ مولوی نور الدین کی وجہ سے میرے مرید بن گئے ہیں ۔
٢٦
محمد بن تومرت کی دو پیش گوئیاں بھی بالکل سچی ثابت ہوئیں۔ ایک تو شاہی فوج پر فتح یابی کی ، دوسری عبدالمومن کی ملک گیری کی ۔ لیکن وہ اپنے دعویٰ میں کاذب تھا۔ اس لئے کسی پیش گوئی کا پورا ہو جانا معیار صداقت نہیں ہو سکتا۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کے مرید ان کی بعض پیش گوئیوں کو مدار صدق ٹھہراتے ہیں اور خود مرزا قادیانی نے بھی اس کو معیار صداقت قرار دیا ہے۔
محمد بن تومرت شروع میں بڑا زاہد ، متقی، آمر بالمعروف اور ناہی عن المنکر تھا۔ مگر بعد میں دنیاوی کامیابی نے اس کے عقائد بگاڑ دئے۔ مفصل حال تاریخ کامل ابن اثیر میں مذکور ہے۔ یہی حال مرزا قادیانی کا ہوا۔ ابتداء براہین احمدیہ میں تقریر متعلق حقانیت اسلام وغیرہ دیکھ کر علماء نے اس سے حسن ظن کیا۔ مگر بعد میں انہوں نے جو جو کھیل کھیلے وہ الم نشرح ہیں۔
٤...... طریف ابوصبح وصالح بن طریف
دوسری صدی کے شروع میں اس نے حکومت کی بنیاد قائم کی اور نبوت کا دعویٰ کر کے نیا مذہب اپنی قوم میں رائج کیا اور پانچویں صدی کے آخر تک اس کی اولاد میں سلطنت رہی ۔ چنانچہ صالح بن طریف ١٢٧ھ میں اپنے باپ کا ولی عہد ہوا۔ یہ شخص اپنی قوم میں عالم اور دیندار تھا۔ نبوت کا باپ کی طرح اس نے بھی دعویٰ کیا اور کہا کہ میں مہدی اکبر بھی ہوں ۔ عیسیٰ بن مریم میرے ہی وقت میں نازل ہوں گے اور میرے پیچھے نماز پڑھیں گے ۔ اپنا نام خاتم الانبیاء رکھا۔
ایک جدید قرآن کے اپنے اوپر نازل ہونے کا مدعی تھا۔ جس کی سورتیں اس کے مرید نماز میں پڑھتے تھے۔ چند سورتوں کے نام یہ ہیں۔ سورۃ الدیک، سورۃ الحمر ، سورۃ الفیل ، سورۃ آدم ، سورۃ نوح ، سورۃ ھاروت و ماروت ، سورۃ ابلیس ، سورۃ غرائب الدنیا وغیرہ وغیرہ۔ سینتالیس سال تک نہایت استقلال اور کامیابی سے اپنے مذہب کی اشاعت اور بادشاہت کرتا رہا۔ اس کے بعد اس کے خاندان میں حسب ذیل مشہور بادشاہ ہوئے ۔
نام بادشاہ مدت سلطنت نام بادشاہ مدت سلطنت الیاس بن صالح ٥٠ سال یونس بن الیاس ٤٤ سال ابوغفیر محمد صالح کا پڑپوتا ٢٩ سال ابوانصار عبداللہ بن ابوغفیر محمد ٤٤ سال
ان لوگوں نے بڑی شان وشوکت کے ساتھ حکومت کی اور ایسے صاحب اقبال وشوکت وجلال تھے کہ بڑے بڑے بادشاہ اور خلفاء بھی ان سے ڈرتے تھے۔
(تاریخ ابن خلدون ج ٦ ص ١١١ طبع بیروت دارالتراث )
٢٧
مرزا قادیانی نے بھی خاتم الانبیاء، مہدی موعود، مریم اور کرشن اوتار اور کلکی اوتار ہونے کا دعویٰ کیا۔ براہین احمدیہ، توضیح المرام وغیرہ کتب کو الہامی بتایا اور بات بات میں الہام نازل ہونا بیان کرتے تھے۔ ان کے مرید ان کی کسی قدر مالی ترقی اور لاکھوں آدمیوں کے مرید ہو جانے کو ان کی صداقت کے ثبوت میں پیش کرتے ہیں اور خود مرزا قادیانی بھی ایسا ہی کہا کرتے تھے۔ لیکن طریف ابوصبیغ اور اس کے خاندان کی ترقی وعظمت کے مقابلہ میں مرزا قادیانی کی معمولی سی کامیابی بالکل ہیچ ہے۔ جو وجۂ صداقت نہیں ہو سکتی۔
٥...... عبید اللہ مہدی صاحب
یہ ٢٩٦ھ میں مہدویت کا مدعی ہوا۔ اگلے سال افریقہ جاکر وہاں کا فرمانروا ہو گیا اور مہدویت کا زور شور سے اعلان کیا۔ تریسٹھ سال کی عمر پائی اور ٣٢٢ھ میں اپنے بیٹے ابوالقاسم کو ولی عہد کر کے اپنی موت سے مر گیا۔ گویا ستائیس سال دعوائے مہدویت کے ساتھ زندہ رہا۔ اس کی اولاد میں ٣٥٣ھ تک سلطنت رہی اور تیرہ فرمانروا اس کے خاندان میں ہوئے۔
(ابن خلدون ج ٣ ص ٤٤ بیروت)
٦...... مغیرہ ابن سعد بجلی
منہاج السنۃ اور ملل و نحل میں لکھا ہے کہ اس کو اسم اعظم جاننے کا دعویٰ تھا اور مردوں کو زندہ کرنے کا بھی مدعی تھا۔ کئی قسم کے شعبدات وطلسمات دکھا کر لوگوں کو معتقد بنالیا تھا۔ کنایۃً خدا کو دیکھنے کا بھی دعویدار تھا۔ قرآن کریم کے حقائق و معارف بیان کرنے پر بڑا نازاں تھا۔ چنانچہ وہ کہا کرتا تھا کہ آیت ”انا عرضنا الامانة على السموات والارض والجبال فابين ان يحملنها واشفقن منها وحملها الانسان انه كان ظلوما جهولا (احزاب:٧٢)“ ١؎ کا یہ مطلب ہے کہ اللہ کی امانت تھی کہ علیؓ ابن ابی طالب کو امام نہ ہونے دینا۔ یہ بات آسمان، زمین، اور جبال نے قبول نہ کی۔ مگر حضرت عمرؓ نے حضرت ابو بکرؓ سے کہا کہ تم علیؓ کو امام نہ بننے دینا میں مدد کروں گا۔ بشرطیکہ اپنے بعد مجھے خلیفہ بناؤ۔ انہوں نے مان لیا اور دونوں نے اس
١؎ اس آیت کا صحیح ترجمہ یوں ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے ذمہ داری کو (جو انسان پر ہے ) آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر پیش کیا تو انہوں نے (بزبان حال ) اس بوجھ کے اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے اور آدمی نے اسے اٹھا لیا اس میں شک نہیں کہ وہ (اپنے حق میں ) بڑا ہی ظالم اور نادان تھا۔
٢٨
امانت کو اٹھا لیا۔ اس آیت میں اسی واقعہ کا ذکر ہے کہ وہ دونوں ظلوم و جہول ہیں۔
(الملل والنحل للشہرستانی ج ١ ص ٧٦ بطبع مصر)
ایسے ایسے معارف قرآنیہ پر اس کے مریدوں کو بڑا فخر تھا اور وہ کہا کرتے تھے کہ سب تفاسیر اس قسم کے معارف سے خالی ہیں۔ اس کا یہ بھی قول تھا کہ حق تعالیٰ ایک نور کا پتلا آدمی کی شکل وصورت پر ہے۔ جس کے سر پر تاج چمکتا ہے اور اس کے دل سے حکمت کے چشمے جاری ہیں۔ اس کے معتقدین اس پر اتنا اعتقاد رکھتے تھے کہ جب وہ خلافت بنو امیہ میں مارا گیا تو وہ یقین رکھتے تھے کہ دوبارہ زندہ ہو کر آئے گا۔ مرزا قادیانی بھی معارف و حقائق قرآنی جاننے کے مدعی ہیں۔ چنانچہ لکھتے ہیں کہ: ”ابتدائے خلقت آدم سے جس قدر آنحضرت ﷺ کے زمانہ بعثت تک مدت گذر گئی تھی وہ تمام مدت سورۃ العصر کے اعداد حروف میں بحساب قمری مندرج ہے۔ یعنی (٤٧٤٠) برس اب بتاؤ کہ یہ دقائق قرآنیہ اور یہ معارف حق کس تفسیر میں لکھے ہیں۔“
(ازالہ اوہام ص ٣١٢، خزائن ج ٣ ص ٢٥٨، ٢٥٩)
ایسا ہی (ازالہ اوہام کے ص ١٠٦، خزائن ج ٣ ص ١٥٨) پر لیلۃ القدر سے اپنا نائب رسول ہونا اور تمام جدید اختراعوں اور ایجادوں کو اپنی سچائی کی دلیل گردانا ہے اور اُس کے اخیر میں بھی لکھتے ہیں کہ فرمائیے یہ معارف حقہ کس تفسیر میں موجود ہیں ١؎
غرض بیسیوں ایسے دقائق و معارف ہیں جن سے مرزا قادیانی کی کتابیں بھری پڑی ہیں جن پر مرزائیوں کو بڑا ناز ہے اور "من قال فی القرآن برأیہ فلیتبوأ مقعدہ من النار (مشکوۃ ص ٣٥، کتاب العلم فصل ثانی) "٢؎ کو بھلا کر ہر ایک مرزائی مرزا قادیانی کی تقلید کرتا ہوا قرآن شریف کے معنی اور مطلب اپنے من گھڑت بیان کرتا ہے۔
مغیرہ نے تو اللہ تعالیٰ کو آدمی کی شکل کا نورانی پتلا بتایا مگر مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ ”ایسا وجود اعظم (اللہ تعالیٰ) ہے۔ جس کے لئے بے شمار ہاتھ، بے شمار پیر اور ہر ایک عضو اس کثرت سے ہے کہ تعداد سے خارج اور لا انتہا عرض اور طول رکھتا ہے اور تیندوے کی طرح اس کی تاریں بھی ہیں۔“
(توضیح المرام ص ٧٥، خزائن ج ٣ ص ٩٠)
واہ مرزا قادیانی! ”ليس كمثله ٣؎ شئی (شوریٰ: ١١)“ کی کیا اچھی تفسیر
١؎ اس کا مفصل ذکر براہین میں آئے گا۔
٢؎ جو شخص قرآن کے مطالب بیان کرنے میں اپنے عقلی ڈھکوسلوں سے کام لے اسے اپنا ٹھکانا جہنم میں بنانا چاہئے۔
٣؎ اللہ تعالیٰ کی مثال کسی شے سے نہیں دی جاسکتی۔
٢٩
ہے ۔ معارف وحقائق ایسے ہی تو ہوتے ہیں ۔ مغیرہ کو اسم اعظم جاننے کا دعویٰ تھا ۔ مگر مرزا قادیانی نے اس کے مقابلہ میں استجابت دعا کا ایسا چلتا نسخہ تجویز کیا کہ اسم اعظم کی خاصیتوں کی تو کوئی حد بھی ہو سکتی ہے ۔ مگر اس قبولیت دعا کی کوئی حد ہی نہیں جب دل چاہا اللہ تعالیٰ سے عرض کیا اور حکم جاری کرا لیا ۔
چنانچہ (ازالہ اوہام ص ١١٨ حاشیہ ،خزائن ج ٣ ص ١٥٨) پر لکھتے ہیں کہ: ”جو اس عاجز کو دی گئی ہے استجابت دعا بھی ہے اور اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے کہ جو بات اس عاجز کی دعا کے ذریعہ سے رد کی جائے ۔ وہ کسی اور ذریعہ سے قبول نہیں ہو سکتی اور جو دروازہ اس عاجز کے ذریعہ سے کھولا جائے وہ کسی اور ذریعہ سے بند نہیں ہو سکتا ۔ لیکن یہ قبولیت کی برکتیں صرف ان لوگوں پر اپنا اثر ڈالتی ہیں ۔ جو غایت درجہ کے دوست ١؎ یا غایت درجہ کے دشمن ہوں ۔ ٢؎ جو شخص پورے اخلاص سے رجوع کرتا ہے یعنی ایسے اخلاص سے جس میں کسی قسم کا کھوٹ پوشیدہ نہیں جس کا انجام بدظنی اور بد اعتقادی نہیں ...... وہ بے شک ان برکتوں کو دیکھ سکتا ہے اور ان سے حصہ پا سکتا ہے اور وہ بلا شبہ اس چشمہ کو اپنی استعداد کے موافق شناخت کر لے گا ۔ مگر جو خلوص کے ساتھ نہیں ڈھونڈے گا ۔ وہ اپنے قصور کی وجہ سے محروم رہ جائے گا ۔“
مذکورہ بالا عبارت میں جو داؤ پیچ ہیں وہ ایک ادنیٰ نظر سے معلوم ہو سکتے ہیں ۔ تاہم کسی عقل کے اندھے اور گانٹھ کے پورے کو پھنسانے کے لئے یہ جال بظاہر بہت خوشنما اور مضبوط معلوم ہوتا ہے ۔ جو ابو منصور اور مغیرہ بجلی کے عقلی معجزہ سے کم نہیں ۔ دنیا میں کون بشر ہے جس کو کوئی نہ کوئی احتیاج نہیں؟ ۔ مرزا قادیانی دعا بھی سب کے لئے کر دیتے ہوں گے ۔ جہاں مشیت ایزدی سے کام پورا ہو گیا ۔ وہاں پاؤ بارہ ہیں ۔ لیکن جہاں ناکامی ہوئی تو جھٹ عدم اخلاص، بدظنی اور بد اعتقادی کا بنا بنایا سرٹیفکیٹ موجود ، اگر بظاہر کسی کا اخلاص پورا بھی نظر آتا ہو تو اس کا انجام کار، بدظنی اور بد اعتقادی الہامی آنکھوں سے معلوم ہو جاتا ۔ مسلمہ اس اخلاص کے استحکام کے اظہار اور نیت
١؎ غایت درجہ کے دوست مرزا قادیانی کا الہامی بیٹا مبارک احمد اور مولوی عبدالکریم تھے اور غایت درجہ کے دشمن ڈاکٹر عبدالحکیم اور مولوی ثناء اللہ صاحبان پھر ان سب کے حق میں کیوں دعائیں قبول نہیں ہوئیں؟ ۔
٢؎ کیا دشمن پر بھی قبولیت دعا کا اثر برکت کی صورت میں ہوتا ہے ؟ ۔ عبارت تو ایسا ہی کہتی ہے ۔
اور اعتقاد کی صفائی کا عملی ثبوت ا
- ١....... شاخ تا
- ٢....... شاخ ا
- ٣....... لنگر خا
- ٤....... خط و کتا
- ٥....... بیعت ک
علاوہ ازیں تعمیر مدر کرو تو با اخلاص ! ورنہ بارہ پتھر ، تین ماہ تک نہیں آئے گا وہ بیعت باقی رہا معاملہ استجا ورنہ سینکڑوں دعائیں مردود دیکھنا چاہئے ۔
کے ...... بنان ابن سمعان ؎ منہاج السنہ میں لک فرقہ بیانیہ اس نے قائم کیا تھا ۔ کے جسم میں اللہ تعالیٰ کا ایک جزو حضرت امام باقر کو اور ترقی کرو گے ۔ تم نہیں جانے امام صاحب کی خدمت میں لایا لیا اور اسی وقت مر گیا ۔ کچھ عرصہ بعد بنان کوئی مدد نہ ملی ۔ زندگی میں بہار آ مرزا قادیانی بھی ا میں خود خدا بن گئے تھے ۔ انہو
اور اعتقاد کی صفائی کا عملی ثبوت اس طرح پر طلب کیا گیا کہ پانچ قسم کے چندے کھولے گئے۔
- ١...... شاخ تالیف و تصنیف۔
- ٢...... شاخ اشاعت اشتہارات۔
- ٣...... لنگر خانہ۔
- ٤...... خط و کتابت۔
- ٥...... بیعت کرنے والوں کا سلسلہ۔
(فتح الاسلام ص ١٩ تا ٢٤ ملخصاً وخزائن ج ٣ ص ١٢ تا ٢٤)
علاوہ ازیں تعمیر مدرسہ وخرید اخبارات وغیرہ کا علیحدہ مطالبہ ان سب میں نقدی داخل کرو تو با اخلاص! ورنہ بارہ پتھر باہر !! چنانچہ ایک جگہ اخبار بدر میں لکھتے ہیں کہ: ”جس مرید کا چندہ تین ماہ تک نہیں آئے گا وہ بیعت سے خارج سمجھا جائے گا ۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٤٦٩)
باقی رہا معاملہ استجابت دعا کا سو یہ بھی ایک دھوکا، دھول کا پول اور عقلی معجزہ ہی تھا۔ ورنہ سینکڑوں دعائیں مردود ہوئیں جن کا کچھ نمونہ فصل ہشتم میں لکھا گیا ہے۔ اسے غور سے دیکھنا چاہئے۔
٧...... بنان ابن سمعان تمیمی
منہاج السنہ میں لکھا ہے کہ یہ نبوت کا مدعی تھا اور کہتا تھا کہ مجھے اسم اعظم معلوم ہے۔ فرقہ بیانیہ اس نے قائم کیا تھا۔ جو اس کو نبی مانتے ہیں۔ اس کا قول تھا کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے جسم میں اللہ تعالیٰ کا ایک جزو حلول کر گیا تھا۔ اس کی قوت سے انہوں نے در خیبر کو اکھاڑ ڈالا۔
(الملل والنحل شہرستانی ج ١ ص ١٥٢، مصری)
حضرت امام باقرؒ کو اس نے خط لکھا کہ تم میری نبوت پر ایمان لاؤ تو سلامت رہو گے اور ترقی کرو گے۔ تم نہیں جانتے اللہ تعالیٰ کس طرح اور کس کو نبی بناتا ہے؟ ۔ یہ خط عمر ابن عفیف امام صاحب کی خدمت میں لایا ۔ آپ نے خط پڑھ کر قاصد سے کہا کہ اس کو نگل جا۔ اس نے نگل لیا اور اسی وقت مر گیا۔
کچھ عرصہ بعد بنان بھی خالد بن عبداللہ کے ہاتھ سے مارا گیا اور اسم اعظم سے اسے کوئی مدد نہ ملی۔ زندگی میں بہار کرتا رہا مرنے کے بعد کس مرید نے پوچھنا تھا۔
مرزا قادیانی بھی اللہ تعالیٰ کا اپنے وجود میں داخل ہو جانا بتلاتے تھے اور ایک کشف میں خود خدا بن گئے تھے۔ انہوں نے نبوت کا بھی دعویٰ کیا۔ تمام علماء فضلاء فقہا حتی کہ زاویہ
٣١
نشین فقراء کو بھی اپنے دعاوی لکھ بھیجے اور ان کے ماننے پر نجات اور نہ ماننے پر کفر و ضلالت کی تہدید پیش کی ۔
بنان اسم اعظم جاننے کا دعویدار تھا تو یہ مکالمہ الٰہی اور قبولیت دعا کے مدعی تھے۔ لیکن جیسا کہ بنان کو اس کے اسم اعظم نے وقت پڑنے پر کوئی کام نہ دیا۔ اسی طرح مرزا قادیانی نے بھی جتنی دعائیں اپنی صداقت کے اظہار کے لئے کیں سب نامقبول ثابت ہوئیں۔ اگر واقعی انہیں اللہ کی طرف سے استجابت دعا عطاء ہوئی تھی تو کوئی خارق عادت معجزہ دکھاتے یا دعا کر کے کسی بڑے مخالف کی زندگی کا ہی فیصلہ کر دیتے۔ جو آپ کے مرنے کے بعد بھی آپ کے خیالات کا خاکہ اڑاتے رہے۔ جیسے مولوی ثناء اللہ اور ڈاکٹر عبدالحکیم صاحبان مزید بدقسمتی جس سے مرزا قادیانی کا کذب روز روشن کی طرح ظاہر ہو گیا۔ یہ ہوئی کہ ان ہر دو مخالفین کے برخلاف جو دعائیں انہوں نے کی تھیں اور جن کی قبولیت کی خبر بھی مل گئی تھی۔ قطعاً غلط اور مردود ثابت ہوئیں۔
(دیکھو آخری فصل)
٨....... مقنع
ملل ونحل میں ایک مدعی کاذب مقنع کا حال لکھا ہے۔ اس نے چند مافوق العادت کرشمے دکھا کر لوگوں کو اپنی طرف مائل و متوجہ کیا اور پھر الوہیت کا مدعی ہوا۔ جب لوگ اس سے مانوس ہو گئے تو کل فرائض ترک کر دینے کا حکم دے دیا۔ حسن ظن سے سب دام افتادوں نے امنا و صدقنا کہہ کر مان لیا۔ اس کے گروہ کا عقیدہ تھا کہ دین فقط امام الزمان کے پہچان لینے کا نام ہے۔
(الملل والنحل لابن حزم ج ١ ص ٢٧٢)
مرزا قادیانی نے بھی امام الزمان کی شناخت کے مسئلہ پر بڑا بھاری زور دیا ہے۔ چنانچہ ایک مستقل رسالہ بنام ”ضرورۃ الامام“ اس کے متعلق تصنیف کیا۔ مرزا قادیانی کا دعویٰ اور مرزائیوں کا عقیدہ ہے کہ بغیر مرزا قادیانی کے ماننے کے نہ ایمان ہے نہ نجات۔ گویا تیرہ سو برس کا اسلام بالکل نامکمل اور اس کے عقائد غلط تھے۔ نزول و حیات مسیح کے متعلق تمام احادیث، آثار صحابہؓ، اجماع امت سے جو کچھ ثابت ہے وہ سب مرزا قادیانی کے تشریف لانے پر غلط ثابت ہوا۔ حضرت رسالت مآب ﷺ پر بھی مسئلہ حیات و نزول مسیح و خروج دجال وغیرہ کے متعلق غلط فہمی کا الزام لگایا اور آج تک کے اسلام کو بقول:
تا ثریا می رود دیوار کج
٣٢
مردہ اسلام قرار دیا۔ ان کے عقائد اور دعاوی سے بروئے علم حساب نتیجہ ذیل مستنبط ہوتا ہے۔ ”ایمان بر توحید و رسالت + عمل بالقرآن وحدیث + اقرار نبوت مرزا = اسلام ....... ایمان بر توحید و رسالت + عمل بالقرآن وحدیث + اعمال صالحہ - نبوت مرزا = کفر۔“ اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ مقنع ١٢٦٠ اور مرزا قادیانی ٢٦١ میں کیا فرق ہے۔ بروئے حساب ابجد تو مقنع سے مرزا قادیانی کا ایک نمبر بڑھا ہوا ہی ہے۔ جو ان کے دعوؤں سے ظاہر ہے۔
٩...... ابو الخطاب اسدی
ملل ونحل میں لکھا ہے کہ اس نے اپنے آپ کو حضرت امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ کے منتسبین میں مشہور کر کے لوگوں کا اعتقاد امام کے ساتھ خوب مستحکم کیا اور ان کے دلوں میں یہ بات جمائی کہ امام الزمان پہلے انبیاء ہوتے ہیں۔ پھر الہ ہو جاتے ہیں اور الوہیت نبوت میں نور ہے اور نبوت امت میں نور ہے۔ امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ کو وہ اس زمانہ کا الہ مانتا تھا اور کہتا تھا کہ امام صاحب کے ظاہری جسم پر خیال کر کے ان کو بشر نہ سمجھو بلکہ یہ تو ایک لباس ہے جو خدا نے اس عالم میں اترنے کے وقت پہن لیا ہے۔
حضرت امام صاحب کو جب ان کفریات پر اطلاع ہوئی تو اسے نکال دیا اور اس پر لعنت کر کے ان باتوں سے اپنی بیزاری ظاہر فرمائی۔ مگر وہ بدستور اپنا فرقہ بڑھانے میں مشغول رہا۔ یہاں تک کہ منصور کے زمانہ میں مارا گیا۔ وہ اپنے بعض احباب کو جبرئیل اور میکائیل سے افضل کہتا تھا اور ہر مسلمان پر وحی کا نازل ہونا اس آیت سے ثابت کرتا تھا۔ ”واوحی ربك الی النحل“
(الملل والنحل للشہرستانی ج ١ ص ١٧٩ تا ١٨١)
اس کے بعد اس کے معتقدین کے کئی فرقے بن گئے تھے۔ ایک کا نام معمریہ تھا۔ جو ابو الخطاب کے بعد معمر کو امام الزمان مانتا تھا۔ اس کا عقیدہ تھا کہ دنیا کو فنا نہیں بہشت و دوزخ کوئی چیز نہیں یہ اسی دنیاوی راحت و مصیبت کے نام ہیں۔ جو ہمیشہ پیش آتی رہتی ہیں۔ زنا وغیرہ منہیات اور نماز روزہ وغیرہ عبادات سب فضول ہیں۔
ایک فرقہ ان میں بزیغیہ تھا۔ جو ابو الخطاب کے بعد بزیغ کو امام الزمان تسلیم کرتا تھا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ہم اپنے سب مردوں کو صبح شام دیکھتے ہیں۔ ایسے ہی اور بھی کئی فرقے تھے۔
١؎ مرزا قادیانی ابجد کے بہت شائق تھے مجھے بھی بعد نماز فجر عین جب کہ میں یہ سطریں لکھ رہا تھا۔ اعداد کی تفہیم ہوئی۔ ”واللہ اعلم بالصواب“
٣٣
غور کی جگہ ہے کہ ابوالخطاب نے حضرت امام صاحبؒ کی تعریف کر کے امام کو خدا کہلوایا۔ دوزخ جنت کا انکار کر دیا۔ تکلیفات شرعیہ اٹھا دیں۔ امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ اس کے ان باطل عقیدوں اور کفریات سے بیزاری کا اظہار بھی کرتے رہے مگر اس کے پیروں نے نہ مانا۔ باطل فرقوں کی علامت ہی یہ ہے کہ ان کے معتقدین احکام خدا اور رسول کی مطلق پرواہ نہیں کرتے بلکہ دور از کار تاویلیں کر کے ان کی تردید پر مستعد ہو جایا کرتے ہیں اور اپنے پیر و مرشد کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے رہتے ہیں۔
(الفرق بین الفرق ص ١٨٨ تا ١٩٠)
مرزائی تعلیم کا بھی یہی حال ہے۔ مرزا قادیانی کی تمام تصانیف خود ان کی تعریف وتوصیف اور بڑائی کے بیان سے بھری ہوئی ہیں اور مرزائیوں کا سوائے مرزا قادیانی کے ذکر اور ان کی حمد وثنا کے کوئی مشغلہ نہیں۔ ابوالخطاب نے تو امام صاحب کو خدا بنایا تھا۔ مرزا قادیانی کے دعوؤں کا کچھ ٹھکانا ہی نہیں آپ اپنے الہامات کی بناء پر کہیں آدم، نوح، ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ، محمد، احمد، مہدی، حارث، جراث، محدث، مجدد، امام الزمان، خلیفۃ اللہ، کرشن اوتار، کلکی اوتار، بنے تو دوسری طرف کہیں ابن اللہ بنے، کہیں خدا کا اپنے جسم میں حلول کرنا بیان کیا۔ کہیں خدا کی بیوی بنے اور خدا سے صحبت کرکے حاملہ ہوئے۔ بچے جنے۔ اپنے بیٹے کو مثل خدا بتایا۔ ’’معاذ اللہ من ھذہ‘‘
(دیکھو فصل آئندہ)
الہام اور وحی کو ابوالخطاب کی طرح مرزا قادیانی نے بھی ٹکے سیر کر دیا۔ چنانچہ اکثر مریدوں کے الہام ان کے اخباروں اور رسالوں میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ باب نبوت بھی کھول دیا گیا ہے اور کئی مرید نبوت کے مدعی ہیں۔ مرزائیوں کے بھی کئی فرقے ہوگئے ہیں۔ جیسا کہ ابوالخطاب کے معتقدین کے بن گئے تھے۔
١٠......احمد کیال
نامی ایک مدعی کاذب کا حال ملل ونحل میں اس طرح مذکور ہے کہ پہلے یہ محبت اہلبیت کا مدعی تھا۔ بعد ازاں امام الزماں ہونے کا دعویدار ہوا۔ اس سے ترقی کی، تو کہا میں القائم ہوں اور اس کی تشریح یوں کی کہ جو شخص اس بات پر قادر ہو کہ عالم علوی اور عالم سفلی کے مناہج بیان کرے اور انفس پر آفاق کی تطبیق کر سکے وہ امام ہے اور القائم وہ ہے جو کل کو اپنی ذات میں ثابت کر دے اور ہر ایک کلی کو اپنے معین جزئی شخص میں بیان کر سکے اور یہ بات یاد رکھو کہ اس قسم کا مقرر سوائے احمد کیال کے کسی زمانہ میں نہیں پایا گیا۔ اس کی بہت سی تصانیف عربی فارسی میں موجود ہیں۔ جن میں
٣٤
اس قسم کی پیچیدہ وژولیدہ تحریریں ہیں۔ اس نے اپنی ان تقریروں اور تصنیفوں سے بہتوں کو اپنا ہم خیال بنایا۔
(الملل والنحل للشہرستانی ج ١ ص ١٨٢)
مرزا قادیانی کو بھی معارف دانی کا بڑا دعویٰ اور اس پر بہت ناز ہے وہ لکھتے ہیں کہ بکثرت اسرار غیبی اور الہامات میرے سوائے اور کسی فرد امت کو نہیں دئے گئے۔ اس لئے خصوصیت سے صرف میرا ہی نام نبی رکھا گیا۔
احمد کیال کی بیہودہ اور پیچیدہ تحریروں سے مرزا قادیانی کی تحریروں کا مقابلہ کرنا ہو تو نمونہ کے لئے ازالہ اوہام کا ص ١١٨ تا ١٢٤ دیکھو۔ جہاں آپ لکھتے ہیں کہ: ”ہر نبی کے نزول کے وقت ایک لیلۃ القدر ہوتی ہے ...... لیکن سب سے بڑی لیلۃ القدر وہ ہے جو ہمارے نبی ﷺ کو دی گئی۔ اس کا دامن آنحضرت ﷺ کے زمانہ سے قیامت تک پھیلا ہوا ہے اور جو کچھ انسانوں میں دلی و دماغی قویٰ کی جنبش آنحضرت ﷺ کے زمانہ سے آج تک ہورہی ہے وہ لیلۃ القدر کی تاثیریں ہیں ...... اور جس زمانہ میں آنحضرت ﷺ کا کوئی نائب دنیا میں پیدا ہوتا ہے تو یہ تحریکیں ایک بڑی تیزی سے اپنا کام کرتی ہیں بلکہ اس زمانہ سے کہ وہ نائب رحم مادر میں آئے پوشیدہ طور پر انسانی قویٰ کچھ کچھ جنبش شروع کرتے ہیں اور نائب کو اختیار ملنے کے وقت تو وہ جنبش نہایت تیز ہوجاتی ہے۔ پس نائب رسول اللہ ﷺ کے نزول کے وقت جو لیلۃ القدر مقرر کی گئی ہے یہ اسی لیلۃ القدر کی ایک شاخ ہے ...... اس لیلۃ القدر کی بڑی شان ہے جیسا کہ اس کے حق میں یہ آیت ہے۔ ”فِیْھَا یُفْرَقُ کُلُّ اَمْرٍ حَکِیْمٍ“ یعنی اس لیلۃ القدر کے زمانہ میں جو قیامت تک ممتد ہے۔ ہر ایک حکمت اور معرفت کی باتیں دنیا میں شائع کر دی جائیں گی اور انواع واقسام کے علوم غریبہ وفنون نادرہ وصناعات عجیبہ صفحہ عالم میں پھیلا دئے جائیں گے اور انسانی قویٰ میں ان کی مختلف استعدادوں اور مختلف قسم کے امکان بسطت علم اور عقل میں جو لیاقتیں مخفی ہیں ...... سب کو بمنصہ ظہور لایا جائے گا۔ لیکن یہ سب کچھ ان دنوں میں پر زور تحریکوں سے ہوتا رہے گا۔ کہ جب کوئی نائب رسول اللہ ﷺ دنیا میں پیدا ہوگا ...... اور لیلۃ القدر میں ہی وہ فرشتے اترتے ہیں جن کے ذریعہ سے دنیا میں نیکی کی طرف تحریکیں پیدا ہوتی ہیں اور وہ ضلالت کی پرظلمت رات سے شروع کر کے طلوع صبح صداقت تک اس کام میں لگے رہتے ہیں کہ مستعد دلوں کو سچائی کی طرف کھینچتے رہیں ...... یہ آخری لیلۃ القدر کا نشان ہے جس کی بناء ابھی سے ڈالی گئی ہے۔ جس کی تکمیل کے لئے سب سے پہلے خدا تعالیٰ نے اس عاجز کو بھیجا ہے اور مجھے مخاطب کر کے فرمایا۔ ”اَنْتَ اَشَدُّ
٣٥
مُناسَبة بعیسیٰ ابن مریم واشد الناس بہ خَلْقاً وخُلْقاً وزماناً
(ازالہ اوہام ص ١٠٥ تا ١٢٤ ملخص، خزائن ج ٣ ص ١٦٥ تا ١٦٥)
حاصل اس لمبی چوڑی تقریر کا یہ ہے کہ مرزا قادیانی نائب رسول ہیں اور جتنی جدید قسم کی ایجادیں اور کلیں، موٹریں، بے تار کے پیغام رسانی، ہوائی جہاز، زہریلی گیس، لمبی مار کی توپیں وغیرہ وغیرہ ملک یورپ میں بن کر زمانہ میں رائج ہوئیں یہ سب مرزا قادیانی کے وجود مبارک کی ہی یمن و برکات ہیں۔ عبارت مندرجہ بالا الفاظ خاص طور پر قابل غور ہیں۔ مرزا قادیانی نے موٹی موٹی جدید ایجادوں پر ہی صبر نہیں کیا بلکہ اپنے زمانہ رحم مادر تک پہنچ کر اس وقت کی ایجادوں کو بھی اپنی برکات کے دائرہ میں لینا چاہا ہے۔ مرزا قادیانی کی پیدائش غالباً لارڈ آک لینڈ گورنر جنرل ہند کے عہد میں اس وقت ہوئی جب کہ انگریزوں کی افغانستان سے لڑائیاں ہورہی تھیں۔ اسی زمانہ میں انگریزی تعلیم ہندوستان میں رائج ہوئی۔ یہ دونوں باتیں اسلام کے لئے جو کچھ بابرکت ثابت ہوئیں اظہر من الشمس ہیں۔ رہی آخری زمانہ کی ایجادات، ہوائی جہاز، لمبی مار کی توپیں ہیں۔ زہریلی گیس وغیرہ یہی وہ متبرک اختراعات ہیں جن کے ذریعہ اسلامی سلطنت ترکی، مراکو اور مصر کا زوال ہوا۔ حرمین شریفین پر گولہ باری ہوئی اور ان میں عیسائیوں کا دخل ہوا۔ امام رضاؒ کا مزار شہید ہوا ہزاروں مسلمان شہید کئے گئے اور لاکھوں ترک و عرب بے خانماں و آوارہ وطن ہوئے۔ مدینہ شریف کے اوپر ہوائی جہاز اڑے جن میں عیسائی سوار تھے۔ یہ سب امر واقعہ ہیں ہمیں ان پر سیاسی نقطہ نگاہ سے غور کرنے کی ضرورت نہیں۔ مرزا قادیانی کا دعویٰ مذہبی ہے اس لئے مذہبی آنکھ سے ان واقعات کو دیکھتے ہوئے کون مسلمان ہے جو ان لعنتی ایجادات اور منحوس اختراعات کو ایک نائب رسول ﷺ کی پیدائش کی یمن و برکات اور ایک نبی کی صداقت کے نشانات سمجھ لے گا؟۔ اگر مرزا قادیانی اسلام کی بربادی کو اپنی نبوت کے ثبوت میں پیش کرتے ہیں تو اس نبوت کو ہمارا دور سے ہی سلام ہے!!!
لیلۃ القدر کے مذکورہ بالا معارف و اسرار بیان کرنے کے بعد مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ: ’’اب فرمائیے یہ معارف حق کس تفسیر میں موجود ہیں؟۔ مرزا قادیانی کے بیان کردہ معارف کسی تفسیر میں نہ ہونے سے یہ کس طرح ثابت ہو گا کہ معارف تفسیر میں درج ہونے کے قابل بھی ہیں یا نہیں؟ احمد کیال والے سب معارف مرزا قادیانی کی تصانیف میں بھی موجود نہیں ہیں تو کیا اس سے اس کی مجددانہ بڑ تفسیروں میں درج ہونے کے قابل سمجھی جائے گی؟۔‘‘
٣٦
ملل ونحل میں فرقہ باطنیہ کے ذکر میں لکھا ہے کہ ان کا عقیدہ ہے کہ ہر ظاہر کے لئے باطن اور ہر تنزیل کے لئے تاویل ہے۔ اس لئے وہ ہر آیت کے ظاہری معنی چھوڑ کر اپنی مرضی سے ایک معنی گھڑ لیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ نفس اور عقل اور طبائع کی تحریک سے افلاک متحرک ہوئے اسی طرح ہر زمانہ میں نبی اور وحی کی تحریک سے نفوس اور اشخاص شرائع کے ساتھ متحرک ہوتے رہتے ہیں۔ مرزا قادیانی نے فرقہ باطنیہ کے معتقدات ومسلمات کو دوسرا لباس پہنا کر لیلۃ القدر اور نائب رسول کے پیرایہ میں پیش کر دیا ہے ۔ ففہم وتدبر تلك عشرة كاملة!
ان چند کذابوں کے حالات اور ان کی تعلیمات پر غور کرنے اور مرزائی مشن کے معتقدات کا ان کے ساتھ مقابلہ کرنے سے ناظرین بہ آسانی اس نتیجہ پر پہنچ سکیں گے کہ مرزا قادیانی کے دعاوی و خیالات بھی اسی قسم کے تھے۔ پس جب شریعت حقہ کی روشنی میں ان مدعیوں کو کاذب قرار دیا گیا ہے تو مرزا قادیانی کو حق پر کیونکر تسلیم کیا جا سکتا ہے؟ ۔
دُوسری فصل
مرزا قادیانی کی روحانی وجسمانی ترقیوں کی دس منازل
سال دیگر گر خدا خواہد خدا خواہد شدن
- ١..... ابتداءً مرزا قادیانی ایک معمولی محرر کے طور پر عدالت ضلع سیالکوٹ میں
ملازم تھے۔ تنخواہ کی کمی کے باعث مختاری کے امتحان میں شامل ہوئے مگر فیل ہوگئے۔ غالباً اس کے بعد ان کو مذہبی راستہ میں بطور ایک پیر کے گامزن ہونے کا خیال سوجھا۔ اس امر کے لئے کسی ثبوت و حوالہ کی ضرورت نہیں مخالف موافق سب جانتے ہیں۔
- ٢..... مجدد، اشتہار کتاب براہین احمدیہ میں جو بہ تعداد (٢٠٠٠) چھپا مجددیت کا
دعویٰ ان لفظوں میں ہے کہ ”مصنف کو اس بات کا بھی علم دیا گیا ہے کہ وہ مجدد وقت ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٤)
- ٣..... محدث، مرزا قادیانی سے سوال ہوا کہ آپ نے فتح اسلام میں نبوت کا
دعویٰ کیا ہے۔ جواب دیا کہ ”نبوت کا نہیں بلکہ محدث کا دعویٰ ہے جو خدا تعالیٰ کے حکم سے کیا گیا ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٤٢١ ملخصاً، خزائن ج ٣ ص ٤٧٨)
٣٧
- ٤....... مسیح ومہدی موعود صاف اقرار تھا کہ ”حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ
اس دنیا میں تشریف لائیں گے اور ان کے ہاتھ سے دین اسلام پھیلے گا۔ اس کتاب براہین کی نسبت دعویٰ تھا کہ الہامی ١؎ ہے۔ بعد میں خود مسیح بن گئے اور کتاب ازالہ اوہام محض اسی غرض کو ثابت کرنے کے لئے لکھی گئی اور ایک قول وضعی لامہدی الا عیسیٰ کی آڑ لے کر خود ہی مہدی آخر الزمان بھی بن بیٹھے۔“
(براہین احمدیہ ص ٤٩٩، خزائن ج ١ ص ٥٩٤)
- ٥....... امام الزمان، رسالہ ضرورت الامام میں پہلے امام الزمان کا ہونا لازمی اور
ضروری جتلا کر ص ٢٣ تک اس کی علامات وصفات بیان کیں اور ص ٢٤ پر جلی قلم سے لکھا کہ ”وہ امام الزمان میں ہوں۔“
(ضرورت الامام ص ٢٤، خزائن ج ١٣ ص ٤٩٥)
- ٦....... نبی، لکھتے ہیں کہ ”اگر خدا تعالیٰ سے غیب کی خبریں پانے والا نبی کا نام نہیں
رکھتا تو پھر بتلاؤ کہ کس نام سے اس کو پکارا جائے۔ اگر کہو اس کا نام محدث رکھنا چاہئے تو میں کہتا ہوں کہ تحدیث ٢؎ کے معنی لغت کی کسی کتاب میں اظہار غیب نہیں۔ (اشتہار ایک غلطی کا ازالہ ص ٥، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٩) نیز دیکھو اخبار بدر ٥؍مارچ ١٩٠٨ء جس میں نہایت صفائی سے نبوت کا دعویٰ ہے۔“
(ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٧)
- ٧....... خدا کا بیٹا، الہامات ذیل سے مرزا قادیانی نے خود کو خدا کا بیٹا ٹھہرایا۔
”انت منی بمنزلہ ولدی ٣؎“ (حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩) ”انت منی بمنزلۃ اولادی ٤؎“ (اربعین ٤ ص ١٩، خزائن ج ١٧ ص ٤٥٢) ”٥؎ اسمع ولدی“
(البشریٰ ج ١ ص ٤٩)
١؎ مرزائی کہا کرتے ہیں کہ براہین احمدیہ الہامی کتاب نہیں انہیں حوالہ جات ذیل دیکھنے چاہئیں۔ (تتمہ حقیقت الوحی ص ٨٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥١٩، دافع البلاء ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٦، تقویۃ الایمان ص ٤٩، خزائن ج ١٩ ص ٥٣) جن میں لکھا ہے کہ خدائے عزوجل براہین احمدیہ میں یوں فرماتا ہے اور (سرمہ چشم آریہ ص ٢٣، خزائن ج ٢ ص ٣١٩) براہین احمدیہ کو خدا کی طرف سے ملہم اور مامور ہو کر تالیف کرنا لکھا ہے۔
٢؎ یہ مرزا قادیانی کے خدا کی کوتاہی ہے جس نے پہلے مرزا قادیانی کو محدثیت کا دعویٰ کرنے کا حکم دیا۔ دیکھو فقرہ نمبر ٣ فصل ہذا۔
٣؎ خدا کہتا ہے کہ اے مرزا تو میرے بیٹے کی جگہ ہے۔
٤؎ اے مرزا تو میرے بیٹوں کی جگہ ہے۔
٥؎ اے میرے بیٹے سن۔
٣٨
٨....... خدا کی بیوی اور اس کے لوازمات، الہامات ذیل پر غور کرو۔
الف....... مرزا قادیانی کا حیض اور بچہ
"یریدون ان یروا طمثك" اس الہام کی تشریح مرزا قادیانی یوں بیان کرتے ہیں کہ: "یعنی بابو الٰہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے یا کسی پلیدی اور ناپاکی پر اطلاع پائے۔ مگر خدا تعالیٰ تجھے اپنے انعامات دکھلائے گا۔ جو متواتر ہوں گے اور تجھ میں حیض نہیں بلکہ وہ بچہ ہو گیا ہے۔ ایسا بچہ جو بمنزلہ اطفال اللہ کے ہے۔"
(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٤٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٨١)
ب....... اللہ تعالیٰ کا نطفہ
"انت من ماء نا وهم من فشل" یعنی اے مرزا تو ہمارے پانی (نطفہ) سے ہے اور دوسرے لوگ خشکی سے۔
(اربعین ٤ ص ٣٦، خزائن ج ١٧ ص ٣٨٥)
ج....... اللہ تعالیٰ سے ہم بستری اور زنا شوئی کے فعل کا وقوع
مرزا قادیانی کے ایک خاص مرید قاضی یار محمد صاحب بی۔ او۔ ایل پلیڈر اپنے ٹریکٹ نمبر ٣٤ موسوم بہ اسلامی قربانی ص ١٢ مطبوعہ ریاض ہند پریس امرتسر میں لکھتے ہیں کہ "جیسا کہ حضرت مسیح موعود (مرزا) نے ایک موقعہ پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی ہے کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا۔ سمجھنے والے کے واسطے اشارہ کافی ہے۔" (استغفر اللہ )
د....... استقرار حمل
مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ "مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینہ کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں بذریعہ اس الہام کے ...... مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔"لے
(کشتی نوح ص ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥٠)
ماں بنے ! بچے جنے ! پھر باپ بچے کے بنے !!!
ہ....... درد زہ
لکھتے ہیں کہ: "پھر مریم کو جو مراد اس عاجز سے ہے درد زہ تنہ کھجور کی طرف لے آئی۔"
(کشتی نوح ص ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥١)
لے خود کوزہ و خود کوزہ گر و خود گل کوزہ۔
٣٩
مرزائی دوستو!
یہی حقائق و معارف ہیں جن پر تم کو ناز ہے؟۔ یہ تمہارا اچھا عشق باز خدا ہے۔ کبھی مرزا قادیانی کو اولاد کہے اور کبھی بیوی بنا کر اس سے ہم صحبت ہو۔ کہیں تو شرم چاہئے کیا انہی رموز و نکات کی اسلام میں کمی تھی۔ جس کو مرزا قادیانی نے آ کر پورا کیا؟ اور یہی وہ باتیں ہیں جن سے شوکت اسلام بڑھ رہی ہے۔ اگر ان کو استعارہ ومجاز کہو۔ تو میں پوچھتا ہوں کہ الہامی اور کشفی طریق پر ایسے گندے استعارہ کی کونسی ضرورت پیش آئی ہوئی تھی؟۔
٩ ...... خدائی کا دعویٰ
یوں رقمطراز ہیں کہ: ”ورايتنى فى المنام عين الله وتيقنت اننى هو“ میں نے خواب دیکھا کہ ہو بہو اللہ ہوں اور یقین کیا کہ میں وہی ہوں۔
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
١٠ ...... خدا کے باپ ہونے کا دعویٰ
الف ...... ”انت منى وانا منك“
(حقیقت الوحی ص ٧٤، خزائن ج ٢٢ ص ٧٧)
یعنی خدا کہتا ہے کہ اے مرزا قادیانی تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں۔
(عوض معاوضہ گلہ ندارد)
ب ...... اشتہار ٢٠ فروری ١٨٨٦ء میں ایک لڑکے کے پیدا ہونے کی پیش گوئی کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: ”فرزند دلبند، گرامی ارجمند، مظهر الاول والآخر، مظهر الحق والعلاء كأن الله نزل من السماء“
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٠١)
یعنی وہ لڑکا ایسا ہوگا جیسا کہ خدا خود آسمان سے اتر آیا۔ ”تلك عشرة كاملة“ مرزائی دوستو! یہ ہیں آپ کے پیغمبر کی ترقی کے منازل کہو کچھ کسر ہے؟۔ ان الہامات و کشوف کے ساتھ مرزا قادیانی کے یہ شعر بھی پڑھو۔
ہمچو قرآن منزہ اش دانم از خطایا ہمیں است ایمانم
(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
یاد رکھو! وہ دن قریب ہے جب کہ ہر شخص اپنے اعمال و اعتقادات کا جواب دہ ہوگا۔ کیا یہ خرافات قرآن کے ہم مرتبہ ہیں؟۔ مرزا قادیانی اپنے مسلمات کی رو سے خود ہی اپنا کاذب اور
٤٠
خارج از اسلام ہونا ثابت کر گئے۔ (کما سیأتی) تم اپنی کہو کہ ایسے شخص کے ہاتھ پر ایمان کھو کر اللہ تعالیٰ کو کیا منہ دکھاؤ گے؟۔
تیسری فصل
مرزا قادیانی کے دس غلط الہام
”هل انبئكم على من تنزل الشيطين ١؎ تنزل على كل افاك اثيم ٠ يلقون السمع واكثرهم كاذبون (الشعراء: ٢٢١ تا ٢٢٣)“
قول جھوٹا ہو تو ہو خیر نہیں کچھ پروا یاں غضب ہے کہ ہیں آپ کے الہام غلط
آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ایک کاذب مدعی وحی والہام ابن صیاد تھا۔ جو حضور ﷺ کو بھی نبی ورسول مانتا تھا۔ اس نے آنحضرت ﷺ کی خدمت مبارک میں حاضر ہو کر یہ اقرار کیا تھا کہ میرے پاس کچھ سچے اور کچھ جھوٹے خبر رساں آتے ہیں۔ اس کے اصل الفاظ یہ ہیں۔ ”یاتنی ٢؎ صادق وکاذب“ دوسری حدیث میں یہ الفاظ ہیں۔ ”٣؎ اری صادقین وکاذبا او کاذبین وصادقاً“ اس پر حضور ﷺ نے فرمایا ”خلط عليك الامر“ تجھ پر بات خلط ملط ہو گئی۔
(مسلم ج ٢ ص ٣٩٧ ذکر ابن صیاد)
مرزا قادیانی کے سینکڑوں ہزاروں الہاموں میں سے اگر بالفرض ایک دو فیصد صحیح نکلے ہیں تو باقی سب غلط ہیں۔ جیسا کہ معمولی رمالوں اور پانڈوں کا حال ہے۔ جو گلی کوچوں میں لوگوں کے ہاتھ دیکھ کر فال وشگون بتاتے پھرا کرتے ہیں۔ اس فصل میں مرزا قادیانی کے غلط الہاموں کا نمونہ دکھایا جاتا ہے اور نہایت عظیم الشان اور متحدیانہ پیش گوئیوں کا جو انجام ہوا اس کے لئے اس کتاب کی دسویں فصل قابل ملاحظہ ہے۔
اس سے ناظرین اندازہ کر سکتے ہیں کہ مرزا قادیانی اور ابن صیاد میں کیسی صاف
١؎ کیا میں تمہیں بتاؤں شیطان کس پر اترا کرتے ہیں۔ وہ ہر جھوٹے بدکردار پر اترا کرتے ہیں اور سنی سنائی بات ان پر القا کر دیتے ہیں اور ان میں اکثر جھوٹے ہوتے ہیں۔
٢؎ میرے پاس ایک سچا اور ایک جھوٹا خبر رساں آتا ہے۔
٣؎ میرے پاس دو سچے اور ایک جھوٹا خبر رساں آتے ہیں۔ یا دو جھوٹے اور ایک سچا۔
٤١
مماثلت ہے؟ اور قرآن شریف کی آیت مندرجہ عنوان کے معیار پر وہ کیسے پورے اترتے ہیں۔ باوجود ان غلط الہاموں کے اگر مرزا قادیانی نبی ورسول ہو سکتے ہیں تو ابن صیاد کو اسی اصول پر مرزائی صاحبان کیوں سچا نبی نہیں مانتے ہیں؟۔
مرزا قادیانی کو اپنے کل مکاشفات الہامات اور پیش گوئیوں کے سچا ہونے پر بڑا ناز اور دعویٰ تھا۔ چنانچہ لکھتے ہیں کہ ”سچے الہام بعض دفعہ کنجروں ڈوموں اور رنڈیوں کو بھی ہو جاتے ہیں اور فاسقہ عورت کنجری یار بہ بر اور بادہ بہ سر حرامکاری کی حالت میں سچی خواب دیکھ لیتی ہے۔ لیکن خواص اور عوام کی خوابیں اور مکاشفات اپنی کیفیت اور کمیت اتصالی وانفصالی میں ہرگز برابر نہیں۔ جو لوگ خدا تعالیٰ کے خاص بندے ہیں اور خارق عادت کے طور پر نعمت غیبی کا حصہ لیتے ہیں۔“
(توضیح مرام ص٨٢، ٨٦، خزائن ج٣ ص٩٥، ٩٦)
اور اپنے الہاموں کی نسبت یوں لکھتے ہیں کہ: ”یہ مکالمہ الہیہ جو مجھ سے ہوتا ہے یقینی ہے۔ اگر میں ایک دم کے لئے بھی اس میں شک کروں کافر ہو جاؤں اور میری آخرت تباہ ہو جائے۔ وہ کلام جو میرے پر نازل ہوا قطعی اور یقینی ہے اور جیسا کہ آفتاب اور اس کی روشنی کو دیکھ کر کوئی شک نہیں کر سکتا کہ یہ آفتاب اور اس کی روشنی ہے۔ ایسا ہی میں اس کلام میں شک نہیں کر سکتا۔ جو خدا کی طرف سے میرے پر نازل ہوتا ہے اور میں اس پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ خدا کی کتاب پر....... اور چونکہ میرے نزدیک نبی اس کو کہتے ہیں جس پر خدا کا کلام یقینی وقطعی بکثرت نازل ہو جو غیب پر مشتمل ہو۔ اس لئے خدا نے میرا نام نبی رکھا۔ مگر بغیر شریعت کے۔“
(تجلیات الہیہ ص٢٠، خزائن ج٢٠ ص٤١٢)
بہر حال مرزا قادیانی کے غلط الہاموں کا نمونہ درج ذیل ہے۔
١...... مرزا قادیانی کا الہام ان کی عمر کے متعلق
یہ الہام کئی رنگ میں بیان ہوا ہے ملاحظہ ہو۔
- الف...... ”لنحيينك حيوة طيبة ثمانين حولا او قريبا من ذالك“
﴿خدا کہتا ہے کہ ہم تجھ کو اسی (٨٠) سال کی عمر دیں گے یا اس کے قریب۔﴾
(ازالہ اوہام ص٦٣٥، خزائن ج٣ ص٤٤٤)
١؎ لکھتے ہیں کہ ”مسیح کی وفات عدم نزول اور اپنی مسیحیت کے الہامات کو میں نے دس سال تک ملتوی رکھا بلکہ رد کر دیا۔“ گویا دس سال تک آپ حسب قول خود کافر بنے رہے۔
(حمامۃ البشریٰ ص١٣، خزائن ج٧ ص١٩١)
٤٢
ب ..... ”اس نے (خدا نے) مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ میں ان کاموں کے لئے تجھے اسی (٨٠) برس یا کچھ تھوڑا کم یا چند سال اسی (٨٠) برس سے زیادہ عمر دوں گا۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٥٤،١٥٣)
ج ..... ”خدا نے صریح لفظوں میں مجھے اطلاع دی تھی کہ تیری عمر اسی (٨٠) برس کی ہوگی اور یا یہ کہ پانچ چھ سال زیادہ یا پانچ چھ سال کم ۔“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم کا ضمیمہ ص ٩٧، خزائن ج ٢١ ص ٢٥٨)
د ..... ”ولنحيينك حيوة طيبة ثمانين حولا اوقريبا من ذلك او تزيد عليه سنينا“ (اربعین ص ٣٠، ٣٢، خزائن ج ١٧ ص ٤١٩، ٤٢٢)
اس کا ترجمہ مرزا قادیانی نے (اربعین نمبر ٣ ص ٩، خزائن ج ١٧ ص ٣٩٤) میں اس طرح کیا ہے کہ ”خدا نے مجھے وعدہ دیا ہے کہ میں اسی (٨٠) برس یا دو تین برس کم یا زیادہ تیری عمر کروں گا۔“
ہ ..... اسی (٨٠) برس یا پانچ چار زیادہ یا پانچ چار کم ۔
(حقیقت الوحی ص ٩٦، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٠)
ان پانچ مختلف بیانات سے اصل الہام کی کیفیت ظاہر ہوتی ہے۔ ان سب کا خلاصہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی عمر بقول ان کے کم از کم چوہتر سال اور زیادہ سے زیادہ چھیاسی سال کی ہونی چاہئے تھی۔ مرزا قادیانی ١٣٢٦ء میں پینسٹھ (٦٥) سال اور چند ماہ کی عمر میں فوت ہو گئے اور ان سب الہاموں کو جھوٹا ثابت کر گئے۔ ان کے مریدوں خصوصاً خلیفہ نورالدین اور ایڈیٹر اخبار
١؎ بلکہ اس سے بھی زیادہ چنانچہ لکھتے ہیں کہ:
ا ..... ”ایک روز کشفی حالت میں ایک بزرگ صاحب کی قبر پر میں دعائیں مانگ رہا تھا اور وہ (بزرگ) ہر ایک دعا پر آمین کہتے جاتے تھے۔ اس وقت خیال ہوا کہ اپنی عمر بھی بڑھوالوں تب میں نے دعا کی کہ میری عمر پندرہ سال (اسی برس سے ) اور بڑھ جائے اس پر اس بزرگ نے آمین نہ کہی تب اس صاحب قبر سے بہت کشتم کشتا ہوا تب اس نے کہا کہ مجھے چھوڑ دو میں آمین کہتا ہوں اس پر میں نے اسے چھوڑ دیا اور دعا مانگی کہ میری عمر پندرہ سال اور بڑھ جائے تب اس بزرگ نے آمین کہی اب میری عمر ٩٥ سال ہے۔“
(ملفوظات طبع ج ٥ ص ٤٧، ٤٨، الحکم ١٧، ٢٤؍ دسمبر ١٩٠٣ء ص ١٥ کالم اوّل ، تذکرہ ص ٤٩٧) (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)
بدر نے اٹکل پچو سے بہت زور مارا اور ان کی عمر کو ربڑ کے تسمہ کی طرح خوب بڑھایا۔ پھر بھی چوہتر تک نہ پہنچ سکے۔
حالانکہ ان کا بیان بمقابلہ تحریرات مرزا قادیانی بالکل غلط ، لچر اور ناکارہ ہے۔ چنانچہ ذیل میں خود مرزا قادیانی کے اقوال ان کی عمر کے بابت درج کئے جاتے ہیں جس سے انہوں نے ایک مذہبی نشان کو بھی تقویت دی تھی۔ لکھتے ہیں کہ:
- الف ...... ”جب میری عمر ٤٠ برس تک پہنچی تو خدا تعالیٰ نے اپنے الہام اور کلام سے
مجھے مشرف کیا اور یہ عجیب اتفاق ہوا کہ میری عمر کے ٤٠ برس پورے ہونے پر صدی کا سر بھی آپہنچا۔ تب خدا تعالیٰ نے الہام کے ذریعہ سے مجھ پر ظاہر کیا کہ تو اس صدی کا مجدد اور صلیبی فتنوں کا چارہ گر ہے۔“
(تریاق القلوب ص ٦٨، خزائن ج ١٥ ص ٣٨٣)
(بقیہ حاشیہ گزشتہ صفحہ)
- ٢ ...... مولوی مردان علی حیدر آبادی نے مرزا قادیانی کو خط لکھا کہ ٥ سال میں
اپنی عمر میں سے کاٹ کر آپ کو دیتا ہوں۔ مرزا قادیانی نے قبول کیا ۔ (ازالہ اوہام ص ٩٤٥، خزائن ج ٣ ص ٦٢٤) اس لئے مرزا قادیانی کی عمر پوری سو سال ہونی لازمی تھی۔
- ٣ ...... مرزا قادیانی کو بمقابلہ ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب الہام ہوا تھا ”اور تیری
عمر کو بڑھا دوں گا تا معلوم ہو کہ میں خدا ہوں ۔“ دیکھو (اشتہار تبصرہ ، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٩١) اس الہام کی رو سے مرزا قادیانی کی عمر سو سال سے بھی زیادہ ہونی چاہیے تھی۔ لیکن ٦٥ سالہ عمر میں فوت ہونے سے یہ الہام بھی باطل اور جھوٹا ثابت ہوا۔
(اختتام حاشیہ گزشتہ صفحہ)
- ١؎ مفتی محمد صادق اور خلیفہ صاحب اوّل لکھتے ہیں سب سے زیادہ صحیح قول مرزا سلطان
احمد قادیانی (پسر کلاں مرزا قادیانی) کا معلوم ہوتا ہے۔ جو انہوں نے نماز جنازہ کے شامل ہونے کے واسطے تشریف لانے پر فرمایا تھا کہ میرے پاس جو یادداشت ہے اس کے مطابق آپ کی پیدائش ١٨٣٦ء یا ١٨٣٧ء میں ہوئی تھی۔
(میگزین ص ١ تا ٣، سیرۃ المہدی ص ٢١٥ ج ١ روایت ١٨٤)
مرزا قادیانی تو لکھتے ہیں کہ ہمارے پاس کوئی یادداشت نہیں ۔ کیونکہ اس زمانہ میں بچوں کی عمر لکھنے کا کوئی طریق نہ تھا۔ مگر ان کے بیٹے کے پاس یادداشت نکل آئی اور وہی سب سے صحیح بھی بتائی جاتی ہے۔
٤٤
گویا چودہویں صدی کے شروع ہونے کے وقت ١٣٠١ھ میں مرزا قادیانی کی عمر پورے ٤٠ سال کی تھی۔ یہاں تخمیناً کا لفظ نہیں لکھا کیونکہ آنحضرت ﷺ سے مشابہت دکھلانی تھی۔ چونکہ یہ ایک خاص شرعی امر تھا۔ اس لئے اس میں شک و شبہ کو دخل نہیں ہو سکتا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کے الہام کا بھی حوالہ موجود ہے۔
پس جب حسب اقرار خود چودہویں صدی کے شروع میں آپ پورے ٤٠ سال کے تھے۔ تو بوقت انتقال ماہ ربیع الثانی ١٣٢٦ھ میں پینسٹھ سال چار ماہ کے ہوئے جس سے عمر کے متعلق الہامات کا مجموعہ اور کشتم کشتا والا کشف اور سردار علی کا نذرانہ والہام مندرجہ تبصرہ بالکل غلط جھوٹ اور فضول ثابت ہوا۔
- ب ...... ایک اور نہایت صاف بیان (ازالہ اوہام ص ٣١٢، خزائن ج ٣ ص ٢٥٩) پر
بحوالہ ایک کشف رحمانی کے مرزا قادیانی نے ابتدائے آفرینش عالم سے وفات شریف آنحضرت ﷺ تک جو ١١ھ میں ہوئی۔ دنیا کی عمر ٤٧٤٠ قمری سال بیان کی ہے اور مرزا قادیانی کا انتقال اس سے ١٣١٥ سال بعد یعنی ١٣٢٦ھ میں ہوا۔ گویا اس وقت دنیا کی عمر ٦٠٥٥ سال تھی۔
١؎ حساب جمل اور ابجد کے مرزا قادیانی بڑے مشتاق تھے۔ چنانچہ اپنی عمر کے متعلق ایک لطیفہ لکھتے ہیں کہ ”چند روز کا ذکر ہے کہ اس عاجز نے اس طرف توجہ کی کہ کیا اس حدیث کا جو الایات بعد المأتین ہے۔ ایک یہ بھی منشاء ہے کہ تیرہویں صدی کے اواخر میں مسیح موعود کا ظہور ہو گا اور کیا اس حدیث کے مفہوم میں بھی یہ عاجز بھی داخل ہے تو مجھے کشفی طور پر اس مندرجہ ذیل نام کے اعداد حروف کی طرف دلائی گئی کہ دیکھ یہی مسیح ہے۔ جو تیرہویں صدی کے پورے ہونے پر ظاہر ہونے والا تھا۔ پہلے یہی تاریخ ہم نے نام میں مقرر کر رکھی تھی اور وہ نام یہ ہے۔ غلام احمد قادیانی، اس نام کے عدد پورے تیرہ سو ہیں اور اس قصبہ قادیان میں بجز اس عاجز کے اور کسی شخص کا غلام احمد نہیں۔ بلکہ میرے دل میں ڈالا گیا ہے کہ اس وقت بجز اس عاجز کے تمام دنیا میں غلام احمد قادیانی کسی کا بھی نام نہیں۔“
(ازالہ اوہام ص ١٨٥، ١٨٦، خزائن ج ٣ ص ١٨٩، ١٩٠)
غلام احمد قادیانی سے ١٣٠٠ کا عدد نکال کر اور اپنا ٤٠ سال کی عمر میں مبعوث ہونا ظاہر کر کے مرزا قادیانی نے اپنی عمر ٦٥ سال ٤ ماہ کا مزید ثبوت دے دیا جو ان کے الہامات عمر ٨٠ سال کو باطل کرتا ہے۔ لیکن اس کشف یا الہام میں جو آپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس وقت تمام دنیا میں غلام احمد قادیانی کسی کا بھی نام نہیں۔ یہ بھی محض باطل اور ڈھکوسلا ثابت ہوا۔ (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)
٤٥
مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ ”میری پیدائش اس وقت ہوئی جب کہ چھ ہزار میں گیارہ برس رہتے تھے۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ٩٥ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٢٥٢)
یعنی دنیا کی عمر کے ٥٩٨٩ میں پس نتیجہ صاف ہے کہ مرزا قادیانی کی عمر ٦٠٥٤، ٥٩٨٩ - ٦٥ سال ہوئی۔
(فہو المراد)
٢....... تازہ نشان ...... تازہ نشان کا دھکا
- الف ...... زلزلة الساعة!
(الہام ٨؍اپریل ١٩٠٥ء ،تذکرہ ص ٥٣٣)
٤؍اپریل ١٩٠٥ء کو ایک بھاری زلزلہ پنجاب میں آیا۔ اس سے تیسرے دن مرزا قادیانی نے الہام مندرجہ عنوان ہونا ظاہر کیا اور (اشتہار الانذار ٨؍اپریل ١٩٠٥ء، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٢٢) اور دیگر اخباروں وغیرہ کے ذریعہ سے اس کی عام اشاعت کی چنانچہ (ریویو ، مئی ١٩٠٥ء ص ٢٠٢) پر لکھا ہے کہ: ”اس (٤؍اپریل والے) زلزلہ سے بھی بڑھ کر ایک خطرناک حادثہ کی خبر دی ہے جو اس ملک میں آنے والا ہے اور خدا کے حکم سے یہ پیش گوئی کروڑوں انسانوں میں شائع کی جاچکی ہے۔“
(بقیہ حاشیہ گذشتہ صفحہ) مرزا قادیانی کو کنوئیں کے مینڈک کی طرح اپنے قادیان کے سوائے دنیا میں اور کوئی قادیان نظر نہ آیا۔ حالانکہ ان کے قادیان کے علاوہ خاص ضلع گورداسپور میں ہی دو گاؤں قادیان نام کے موجود ہیں۔ جن میں سے ایک میں غلام احمد قریشی مرزا قادیانی کا ہم عمر اس وقت موجود تھا۔ اس کے علاوہ ایک قادیان ضلع لدھیانہ میں ہے وہاں بھی غلام احمد نام ایک شخص اس وقت موجود تھا۔ جو نمبردار بھی تھا۔ پس جس وقت مرزا قادیانی کو یہ کشف یا الہام ہوا۔ عین اس وقت کم از کم مذکورہ بالا دو اشخاص غلام احمد قادیانی دنیا پر (بلکہ پنجاب میں ہی) موجود تھے۔
(دیکھو کلمہ فضل رحمانی ص ٧٨ ، از قاضی فضل احمد لدھیانوی)
اگر ابجد کے حساب سے سند لے جانی درست ہے تو غلام احمد قادیانی دجال ہے اور آیت مندرجہ عنوان فصل ہٰذا کے فقرہ تنزل علی کل افاک اثیم کے بھی ١٣٠٠ اعداد ہی ہوتے ہیں۔ کیا مرزا قادیانی کے استدلال کے بموجب ہم نہیں کہہ سکتے کہ مرزا قادیانی کے دعویٰ کا کذب مذکورہ بالا فقرہ اور آیت قرآنی میں پوشیدہ رکھا گیا تھا۔
علم طبقات الارض والے کہتے ہیں کہ آئندہ کوئی خطرہ نہیں اور دوسری طرف مرزا قادیانی خدا سے اطلاع پاکر زلزلہ اور زلزلۃ الساعۃ کی پیش گوئی کرتے ہیں اور اس کے متعلق تین اشتہارات نصف لاکھ سے زیادہ تعداد میں شائع کر چکے ہیں۔ گورنمنٹ کو بھی ایک چٹھی لکھی گئی ہے۔ جس کے بعض فقرات یہ ہیں کہ: ”جس زلزلہ کی اب مجھ کو خبر دی گئی ہے وہ معمولی زلزلہ نہیں۔ بلکہ وحی الہی میں اسے زلزلۃ الساعۃ کہا گیا ہے۔ یعنی ایسا زلزلہ جو نمونہ قیامت ہوگا۔ مکانات اس سے خوفناک طور پر مسمار ہوں گے۔ خصوصاً پہاڑوں پر خوفناک صورت ہوگی اور ٤؍ اپریل والا زلزلہ اس کے آگے کچھ بھی نہ ہوگا۔ یہ خبر مجھے متواتر ملی ہے۔ اس لئے ہمدردی و خیر خواہی نے مجھے مجبور کیا کہ گورنمنٹ کو قبل از وقت مطلع کردوں جس بات پر میرا پورا یقین ہے اس میں غفلت کرنا میں گناہ سمجھتا ہوں۔ گورنمنٹ کوئی ایسی تجویز کرے جس سے گورنمنٹ کے حکام جنوری ١؎ ١٩٠٦ء تک پہاڑوں سے اجتناب کریں۔ یا کوئی اور بندوبست کیا جائے۔“ (رعایا کے بچاؤ کا کوئی ذکر نہیں کیا صرف حکام) گورنمنٹ کا ہی فکر تھا۔
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٢٢ تا ٥٢٣)
ب ...... جب سال گزر گیا اور زلزلہ نہ آیا تو دوسرا الہام شائع کیا۔ اريك زلزلة الساعة (٩؍ اپریل ١٩٠٦ء، البشریٰ ج دوم ص ١١١، تذکرہ ص ٦٠٩) یعنی میں تجھ کو قیامت خیز زلزلہ دکھاؤں گا۔
اس الہام کے بعد مرزا قادیانی مکان چھوڑ کر میدان میں جابیٹھے اور مریدوں کے لئے بھی اشتہار جاری کیا کہ وہ بھی خیموں میں رہیں۔ تھوڑے دنوں کے بعد جب زلزلہ نہ آیا تو مکان میں واپس آگئے۔
الہام کے الفاظ اور مرزا قادیانی کی تفہیم سے یہ قیامت خیز زلزلہ مرزا قادیانی کی زندگی میں آنا چاہئے تھا۔ چنانچہ لکھتے ہیں کہ: ”اب ذرا کان ٢؎ کھول کر سن لو کہ آئندہ زلزلہ کی نسبت جو میری پیش گوئی ہے اس کو ایسا
١؎ شاید مرزا قادیانی اس امر سے بے خبر تھے کہ نومبر، دسمبر، جنوری، سخت سردی کے مہینے ہیں اور گورنمنٹ کے دفاتر ان دنوں میں پہاڑ پر نہیں رہتے۔ ٢؎ مسلمانوں نے تو کان کھول کر سن لیا اور اس معیار کی رو سے بھی مرزا قادیانی کو دروغگو سمجھ لیا۔ مگر افسوس کہ ان کے مرید صم بکم عمی کے مصداق ہورہے ہیں۔
٤٧
خیال کرنا اس کے ظہور کی کوئی بھی حد مقرر نہیں کی گئی ۔ یہ خیال سراسر غلط ہے...... کیونکہ بار بار وحی الٰہی نے مجھے اطلاع دی ہے کہ وہ پیش گوئی میری زندگی میں میرے ہی ملک میں میرے ہی فائدہ کے لئے ظہور میں آئے گی...... کیونکہ ضرور ہے کہ یہ حادثہ میری زندگی میں ظہور میں آ جائے۔‘‘
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ ٥ ص ٩، خزائن ج ٢١ ص ٢٥٨)
اس کتاب کے اور بھی کئی مقامات پر زلزلہ کا آنا ضروری بتایا ہے۔ چونکہ مرزا قادیانی کی حیات میں کوئی زلزلہ ایسا نہیں آیا لہٰذا یہ پیش گوئی اور الہام قطعاً غلط ثابت ہوئے۔
- ٣...... ”میرا دشمن ہلاک ہو گیا“
(میگزین ٢٨؍ مارچ ١٩٠٧ء ، البشریٰ ص ١٢٨ ج دوم، تذکرہ ص ٧٠٩) یہ بھی بالکل غلط نکلا کیونکہ ان ایام میں مرزا قادیانی کے بڑے دشمن ڈاکٹر عبدالحکیم خان اور مولوی ثناء اللہ صاحبان تھے۔ جن کی زندگی میں خود مرزا قادیانی ہی ہلاک ہو گئے۔
- ٤...... ریاست کابل میں پچاسی ہزار آدمی مریں گے!
(میگزین ٢٨؍ مارچ ١٩٠٧ء ، تذکرہ ص ٧٠٥) کابل میں اتنی اموات نہیں ہوئیں ١؎ نہ یہ پتہ ہے کہ کتنے سال کے اندر اور کتنے دنوں تک کسی لڑائی میں یہ موتیں ہوں گی؟ ۔ یا وباء سے؟۔ غرض عجب گول مول الہام ہے جو اب تک تو غلط ثابت ہوا ہے۔
- ٥...... مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کے قادیان آنے کی بابت
رسالہ اعجاز احمدی (ص ٣٧، خزائن ج ١٩ ص ١٤٨) میں لکھا کہ وہ ہرگز قادیان نہیں آئیں گے ۔مگر مولوی صاحب نے دس جنوری ١٩٠٣ء کو قادیان پہنچ کر یہ پیش گوئی غلط ثابت کر دی۔
- ٦...... ”ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں“
(تذکرہ ص ٥٩١، میگزین ١٤؍ جنوری ١٩٠٦ء) یہ الہام بھی سراسر غلط ثابت ہوا۔ مرزا قادیانی کو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی ہوا بھی نصیب ٢؎ نہ ہوئی۔ لاہور میں مرے اور خر دجال ٣؎ پر بار ہو کر قادیان لے جائے گئے اور وہیں دفن ہوئے ۔
١؎ ضیاء الملۃ والدین امیر صاحب کابل نے مرزا قادیانی کے ایک مرید عبداللطیف کو اس کے خلاف شریعت حقہ عقائد کی وجہ سے سنگسار کرا دیا تھا۔ اس لئے مریدوں کے خوش کرنے کو یہ الہام دے مارا جو محض جھوٹ نکلا۔ حال میں بھی وہاں نعمت اللہ اور ایک دو اور مرزائی اپنی کفریات پھیلانے کے جرم میں قتل کئے گئے ہیں۔ (بقیہ حاشیہ نمبر ٢، ٣ اگلے صفحہ پر)
٤/١
٧ ...... ”ترد عليك انوار الشباب ۔ سياتى عليك زمن الشباب وان كنتم فى ريب مما نزلنا على عبدنا فاتوا بشفاء مثله رد عليها زوجها وريحانها“
(تذکرہ ص ٦١٧)
یعنی تیری طرف نور جوانی کی قوتیں رد کی جائیں گی اور تیرے پر زمانہ جوانی کا آئے گا۔ یعنی جوانی کی قوتیں دی جائیں گی۔ تا خدمت دین میں حرج ٢؎ نہ ہو اور اگر تم اے لوگو ہمارے اس نشان سے شک میں ہو تو ان کی نظیر پیش کرو اور تیری بیوی کی طرف بھی تروتازگی واپس کی جائے گی۔
(تذکرہ ص ٦١٧، الہام ٢٢؍ مئی ١٩٠٦ء مندرجہ بدر ج ٢ نمبر ٢١ ص ٣، ٢٤؍ مئی ١٩٠٦ء)
اس کی تشریح میں کہتے ہیں کہ:
”میری صحت تین چار ماہ سے بہت بگڑ گئی ہے۔ صرف دو وقت ظہر و عصر کی نماز کے لئے جا سکتا ہوں اور نماز بھی بیٹھ کر پڑھتا ہوں۔ ایک سطر لکھنے سے دوران سر شروع ہو جاتا ہے اور دل ڈوبنے لگتا ہے۔ حالت خطرناک اور مسلوب القویٰ ہوں ایسا ہی میری بیوی دائم المرض امراض رحم جگر میں مبتلا ہے۔ پس میں نے اپنی اور اپنی بیوی کی صحت کے لئے دعا کی تھی جس پر یہ الہام ہوا۔ ان کے معنی خدا تعالیٰ بہتر جانتا ہے صرف اس قدر معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ ہمیں صحت عطا فرمائے گا اور مجھے وہ قوتیں عطا کرے گا۔ جن سے میں خدمت دین کر سکوں۔“
(حوالہ مذکور)
(بقیہ حاشیہ نمبر ٢، ٣ گذشتہ صفحہ)
٢؎ مولانا حاجی قاضی محمد سلیمان صاحب پٹیالوی نے اپنے رسالہ غایت المرام (مشمولہ احتساب قادیانیت ج ٦) مطبوعہ ١٨٩١ء میں پیش گوئی کی تھی کہ زیارت بیت اللہ مرزا قادیانی کو نصیب نہیں ہو گی۔ ان کی یہ پیش گوئی بالکل صحیح نکلی۔
٣؎ مرزا قادیانی ریل کو خر دجال بتایا کرتے تھے جس پر زندگی میں سوار بھی ہوتے رہے اور مرنے پر بھی اسی گدھے کی سواری نصیب ہوئی۔
(اختتام بقیہ حاشیہ گذشتہ صفحہ)
اے ہائے جوانی:
ایسی ہیں جیسی خواب کی باتیں
٧؎ ہمیں اس میں شبہ ہے البتہ محمدی بیگم کے نکاح کے لئے شاید عود جوانی کے خواہاں ہوں گے۔
٤٩
مرزا قادیانی کی یہ حالت ان کی موت کا پیش خیمہ تھی۔ مگر وہ تو سو سال کی امید باندھے بیٹھے تھے۔ ابھی محمدی بیگم کے نکاح کی لو لگی ہوئی تھی۔ اس لئے بڑھاپے میں جوانی کے خواب دیکھتے تھے۔ مگر اس الہام سے ٹھیک دو سال بعد چل بسے اور کوئی دینی خدمت ان سے ظاہر نہ ہوئی۔
- ٨........ ”اور خواتین مبارکہ سے جن میں سے تو بعض کو اس (نصرت جہاں بیگم)
کے بعد پائے گا تیری نسل بہت ہوگی۔“
(تذکرہ ص ٤٠، اشتہار ٢٠؍فروری ١٨٨٦ء، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٠٢)
اس الہام کے بعد نہ کوئی نکاح ہوا نہ خواتین مبارکہ یا نامبارکہ حاصل ہوئیں اور نہ اولاد ہوئی۔ محمدی بیگم والا نکاح شاید اس الہام کو سچ کر دیتا مگر اللہ نے نہ چاہا کہ جھوٹے کو سچا کر دکھائے۔
- ٩........ (تذکرہ ص ٧٢٧ ڈائری ٢٧؍اگست ١٩٠٧ء) ”صاحبزادہ مبارک احمد صاحب
سخت تپ سے بیمار ہیں اور بعض دفعہ بے ہوشی تک نوبت پہنچ جاتی ہے ان کی نسبت آج الہام ہوا۔ قبول ہو گئی۔“ (تذکرہ ص ٧٢٨) نو دن کا بخار ٹوٹ گیا۔ یعنی دعا قبول ہو گئی کہ اللہ تعالیٰ میاں موصوف کو شفا دے (میگزین ستمبر ١٩٠٧ء) یہ لڑکا ١٦؍ستمبر کو صبح کے وقت فوت ہو گیا۔ دیکھو (میگزین اکتوبر ١٩٠٧ء) اس لئے صحت کا الہام غلط ہوا۔
- ١٠........ آپ کے لڑکا ہوا ہے۔ ”ینزل منزل المبارک“ (تذکرہ ص ٧٣٥)
”ایک حلیم لڑکے کی ہم تجھ کو خوشخبری دیتے ہیں جو بمنزلہ مبارک احمد کے ہوگا اور اس کا قائم مقام اور اسکا شبیہہ ہوگا۔“
(مجموعہ اشتہارات ص ٥٨٧ ج ٣، اشتہار تبصرہ ٥؍نومبر ١٩٠٧ء، تذکرہ ص ٧٣٥)
ان الہامات کے بعد کوئی لڑکا نہ ہوا اور مرزا قادیانی چل دیئے۔ اس لئے یہ دونوں الہام بھی غلط ثابت ہوئے۔ ”تلك عشرة كاملة“
ناظرین!
یہ دس الہام بطور نمونہ درج کئے گئے ہیں۔ جو قطعاً غلط ثابت ہوئے۔ بہت سے الہام فٹ بال کی طرح گول مول ہوتے تھے۔ جن کا سر نہ پیر جہاں چاہو چسپاں کر لو۔ اور جو چاہو معنی لگا لو۔ مثلاً:
- ١........ پہلے غشی پھر بیہوشی پھر موت: مرنے والوں کی حالت عموماً ایسی ہوا ہی کرتی ہے۔
(تذکرہ ص ٣٣٦) اس میں الہام کی کیا بات ہے۔
٥٠
- ٢..... پچیس دن یا پچیس دن تک نتیجہ نامعلوم۔
(تذکرہ ص ٧٠١)
- ٣..... ایک ہفتہ تک کوئی باقی نہ رہے گا: نتیجہ ندارد!
(تذکرہ ص ٦٩٦)
- ٤..... ایسوسی ایشن (تذکرہ ص٧٢٣) کچھ پتہ نہیں الہام گولائی میں ضرور بکتا ہے۔
- ٥..... موت ١٣/ ماہ حال کو: ماہ حال کی نسبت کہا نہیں معلوم یہی شعبان مراد
(تذکرہ ص ٧٧٥) ہے یا کوئی اور شعبان۔ ٣٠ شعبان کو صاحب نور کا انتقال ہو گیا۔ تو جھٹ کہہ دیا کہ الہام میں ١٣ تھا یا ٢٣ یا ٣٠ ٹھیک یاد نہیں۔
- ٦..... عثم، عثم، عثم: (تذکرہ ص ٣١٩) مطلب ندارد!
- ٧..... ایک دم میں دم رخصت ہوا: نتیجہ ندارد!
(تذکرہ ص ٦٦٦)
- ٨..... مضر صحت: (تذکرہ ص ٥٥٤) کچھ پتہ نہیں کیا کیا!
- ٩..... پیٹ پھٹ گیا: (تذکرہ ص ٦٧٢) خبر نہیں کس کا!
- ١٠..... آثار صحت: (تذکرہ ص ٧٤١) معلوم نہیں کس کے؟۔
ان غلط اور جھوٹے اور بے نتیجہ اور مجہول الکیفیت الہاموں کا مرزا قادیانی کی عبارت (تجلیات الٰہیہ ص ٢٤، خزائن ج ٢٠ ص ٤١٦) مندرجہ بالا سے مقابلہ کر کے مرزائی صاحبان سے التماس ہے کہ کیا وہ ان الہاموں کو صحیح مانتے ہیں۔ اگر صحیح مانتے ہیں تو غلط کیوں نکلے؟ اور اگر غلط مانتے ہیں تو مرزا قادیانی کو سچا کیوں سمجھتے ہیں اور کیوں بحکم آیت مندرجہ عنوان یہ جھوٹے الہامات القائے شیطانی نہیں سمجھے جاتے؟ اور ابن صیاد کی طرح مرزا قادیانی کو کیوں مدعی کاذب تصور نہیں کیا جاتا؟۔
١؎ مرزا قادیانی جو کہتے ہیں کہ ”جس دل میں درحقیقت آفتاب وحی تجلی فرماتے ہیں اس کے ساتھ ظن اور شک کی تاریکی ہرگز نہیں رہتی ۔“ (نزول المسیح ص ٨٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٦٧) کہتے ہیں کہ ”لیکن اگر کوئی کلام یقین کے مرتبے سے کمتر ہو تو وہ شیطانی کلام ہے نہ ربانی۔“ (نزول المسیح ص ١٠٨، ١٠٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٨٦) اس اصول پر ان دس مجہول اور مبہم الہامات کو پرکھ کر دیکھو کیا یہ شیطانی کلام نہیں؟ ۔
٥١
دوستو! ان الہامات کو دل کی آنکھوں سے دیکھو اس میں کچھ شک نہیں کہ ’’ حبک شیئی یعمی ویصم‘‘ یعنی کسی چیز کی محبت آدمی کو اندھا اور بہرا کر دیتی ہے۔ جو اس کی برائیوں کو دیکھ اور سن نہیں سکتا۔ لیکن سمجھ کا مادہ اور عقل کا نور انسان کو اسی لئے عطا ہوا ہے کہ اندھا دھند کام نہ کرے۔ خصوصاً دینی معاملات میں مولانا روم فرماتے ہیں :
پس بہر دستے نباید داد دست
چوتھی فصل
دس خلاف شرع کشوف والہام
پس حدیث مصطفیٰ بر جاں مسلم داشتن
تمام سلف صالحین ، اولیائے کرام وصلحائے عظام کا اس پر اتفاق ہے کہ الہام وکشف حجت شرعی نہیں ہے۔ یعنی الہام و کشف کو قرآن وحدیث پر پیش کرنا چاہیے۔ اگر موافق شریعت ہو تو درست ہے۔ ورنہ اسے رد کر دینا چاہیے کیونکہ وہ وسوسہ شیطانی ہے۔ چنانچہ
- ........١ ایک بار غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر صاحب جیلانی کو شیطان نے
دھوکہ دیا اور ایک نورانی شکل میں متشکل ہو کر نظر آیا اور آپ سے کہا کہ تیری عبادت قبول کی گئی۔ تکلیفات شرعی تجھ پر سے اٹھالی گئیں اور بعض حرام چیزیں تیرے لئے حلال کی گئیں۔ نماز سے بھی اب تجھے فراغت ہے۔ آپ نے فوراً سمجھ لیا کہ یہ شیطان ہے اور لاحول پڑھ کر اسے دفع کیا۔ مرزا قادیانی نے بھی رسالہ (ضرورت الامام ص ١٧، خزائن ج ١٣ ص ٤٨٧) پر اس کو نقل کیا ہے۔
- ........٢ علامہ سید محمد بن اسماعیل فرماتے ہیں کہ کشف والہام احکام میں لائق
استدلال نہیں ۔
- ........٣ شیخ الاسلام ابن تیمیہ منہاج الاعتدال میں فرماتے ہیں کہ کشف والہام کا
دین و احکام میں کچھ اعتبار نہیں اور نہ لائق التفات ہے۔
- ........٤ مجالس الابرار میں لکھا ہے کہ جو شخص یہ گمان کرے کہ جو الہامات دل میں
پیدا ہوں ان سے رسول اکرم ﷺ کی شریعت سے استغناء کی جاتی ہے۔ وہ اشد کافروں میں سے
٥٢
ہے ۔ غرض مطلب یہ ہے کہ الہام وکشف جب تک کتاب وسنت کے موافق نہ ہو۔ لائق اعتبار نہیں۔ خود مرزا قادیانی نے بھی اس اصول کو تسلیم کیا ہے۔ لکھتے ہیں کہ: "ومن تفوه بكلمة ليس له اصل صحيح في الشرع ملهماً كان او مجتهداً فبه الشياطين متلاعبة "
(آئینہ کمالات ص ٢١، خزائن ج ٥ ص ٢١)
٭ یعنی جو شخص ایسی بات کہے جس کی شرع میں کوئی اصل نہ ہو خواہ وہ شخص ملہم یا مجتہد ہی کیوں نہ ہو۔ سمجھ لینا چاہئے کہ شیطان اس سے کھیلتا ہے۔ ﴿
آگے چل کر اس صفحہ پر لکھتے ہیں کہ : ” اس علمائے اسلام، صوفیائے کرام، اور اولیائے عظام کا اتفاق ہے کہ جو الہام وکشف رسول ﷺ کے طریق کے برخلاف ہو وہ شیطانی القاء ہے۔“ لیکن مرزا قادیانی کو اپنے الہامات وکشف کی صحت پر اتنا اعتبار اور دعویٰ تھا کہ ان میں شک وشبہ کی بالکل گنجائش نہیں دیکھتے تھے۔
چنانچہ عبارت محولہ بالا سے آگے اسی صفحہ پر لکھتے ہیں کہ : "وقد كشف على انه صحيح خالص يوافق الشريعة لاريب فيه ولا لبس ولا شك ولا شبه “ ٭ یعنی مجھ پر یہ امر منکشف ہوا ہے کہ میرے تمام الہام صحیح خالص اور موافق شریعت ہیں جن میں کسی شک وشبہ کو دخل نہیں ہے۔ ﴿
آپ کے الہام وکشف جیسے کچھ ہوتے تھے اسے سب جانتے ہیں کچھ نمونہ یہاں دیا جاتا ہے۔ اس سے معلوم ہو جائے گا کہ مرزا قادیانی شریعت کو کیا سمجھتے تھے۔
....... ١ .......
قرآن کریم میں عقیدہ ابنیت (اللہ تعالیٰ کی اولاد) کی پورے زور سے تردید فرمائی گئی ہے۔ کیونکہ یہود ونصاریٰ اس زمانہ میں اس باطل اعتقاد کے معتقد تھے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔” تكاد السموت يتفطرن منه وتنشق الارض وتخر الجبال هدا ٠ ان دعوا للرحمن ولدا (مریم : ٩٠ ، ٩١) “ ٭ یعنی قریب ہے کہ آسمان پھٹ جائیں زمین شق ہو جائے اور پہاڑوں کے ٹکڑے اڑ جائیں جب کہ اللہ تعالیٰ کے لئے بیٹا پکارا جائے۔ ﴿
دوسری جگہ ارشاد ہے ۔’ لم يتخذ ولدا سبحانه “ ٭ یعنی اللہ تعالیٰ پاک ہے کسی کو بیٹا نہیں بناتا۔ ﴿
ایسے ہی پڑھو سورہ اخلاص: "قل هو الله احد ٠ الله الصمد ٠ لم يلد ٠ ولم يولد ٠ ولم يكن له كفوا
٥٣
احد (اخلاص) ’’اللہ ایک ہے۔ پاک ہے۔ اس نے کسی کو نہیں جنا اور نہ اس کو کسی نے جنا اور نہ اس کا کوئی کفو ہونا ممکن ہے۔ وغیرہ ﴾
ان سب آیات میں توحید الہی کو نہ صرف ابنیّت و ولدیت سے بلکہ ابن اور ولد کے لفظ سے بھی پاک صاف کر دیا گیا ہے۔ کیونکہ پہلی آیت میں لفظ دعوا فرمایا ہے جس کے معنی صرف پکارنے اور کہنے کے ہیں۔ اعتقاد رکھنا شرط نہیں۔ اس سے بھی زیادہ تشریح اللہ تعالیٰ نے یوں فرما دی کہ حضرت رسالت مآب ﷺ سے کفار کو کہلوا دیا کہ: ’’قل ان کان للرحمن ولد فانا اوّل العابدین (زخرف: ٨١)‘‘ ﴿یعنی اے محمد ﷺ ان کفار سے کہہ دو کہ اگر اللہ تعالیٰ کے بیٹا ہوتا تو سب سے پہلے میں اس کی عبادت کرتا۔ ﴾
لیکن اس صاف اور روشن تعلیم کے خلاف مرزا قادیانی کو حسب ذیل الہام ہوتے ہیں ۔ ’’انت منہ بمنزلۃ ولدی‘‘
(حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)
’’انت منی بمنزلۃ اولادی‘‘
(دافع البلاء ص ٦ مطبوعہ بار دوم، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٧)
’’اسمع ولدی‘‘
(البشریٰ ج ١ ص ٤٩)
ان ہر سہ الہامات میں مرزا قادیانی نے ظاہر کیا ہے کہ اللہ نے ان کو ولد (بیٹا) کہہ کر مخاطب کیا ہے لیکن نص قرآنی اس لفظ کے قطعاً خلاف ہے۔ اگر مرزائی اس کو استعارہ و مجاز سمجھتے ہیں تو مرزا قادیانی کم از کم قادیانیوں کے استعاری یا مجازی معبود تو ثابت ہوتے ہیں۔ جیسا کہ آیت قرآنی محولہ بالا سے واضح ہے۔ ایسا ہی مرزا قادیانی توضیح مرام پر لکھتے ہیں کہ:
’’مسیح اور اس عاجز کا مقام ایسا ہے کہ اس کو استعارہ کے طور پر ابنیت کے لفظ سے تعبیر کر سکتے ہیں۔‘‘
(توضیح المرام ص ٢٧، خزائن ج ٣ ص ٦٤)
مرزا قادیانی نے اس جگہ عیسائیوں کے باطل عقیدہ کی کیسی صاف تائید کی ہے۔ جو قرآن کریم کے بالکل خلاف ہے۔
- ٢....... الہام ہے ’’رودر گوپال تیری استت گیتا میں لکھی ہے۔‘‘
(تحفہ گولڑویہ ص ١٣١، خزائن ج ١٧ ص ٣١٧)
الہام کی تشریح مرزا قادیانی لیکچر سیالکوٹ ١٢؍ دسمبر ١٩٠٤ء اس طرح کرتے ہیں کہ: ’’ایسا ہی میں (غلام احمد) راجہ کرشن کے رنگ میں بھی ہوں جو ہندو مذہب کے تمام
٥٤
اوتاروں میں بڑا اوتار تھا۔ یا یوں کہنا چاہئے کہ حقیقت روحانی کی رو سے میں وہی ہوں۔ یہ میرے قیاس سے نہیں بلکہ وہ خدا جو زمین و آسمان کا خدا ہے۔ اس نے یہ میرے پر ظاہر کیا خدا کا وعدہ تھا کہ ...... آخر زمانہ میں اس کا یعنی کرشن کا بروز یعنی اوتار پیدا کرے۔ سو یہ وعدہ میرے ظہور سے پورا ہوا۔“
(ضمیمہ لیکچر سیالکوٹ ص ٣٣، ٣٤، خزائن ج ٢٠ ص ٢٢٨، ٢٢٩)
جب مرزا قادیانی حقیقت روحانی کی رو سے کرشن تھے تو ضروری اور لازمی ہے کہ ان کے عقائد بھی کرشن ہی تھے۔ بروز کا مسئلہ بھی انہوں نے کرشن کی تعلیم سے ہی لیا ہے۔ کہیں حضرت محمد ﷺ کے بروز بنتے ہیں ”اور اپنا وجود آنحضرت ﷺ کا وجود بتلاتے ہیں ۔“
(اشتہار ایک غلطی کا ازالہ ص ٨، خزائن ج ١٨ ص ٢١٢)
”کہیں حضرت مسیح علیہ السلام کے جسم کا اپنے جسم کے اندر حلول کر جانا بیان کرتے ہیں۔“
(تبلیغ ص ٧٩، ٨٠، خزائن ج ٥ ص ٤٣٨)
یہاں کرشن کنہیا جی بن بیٹھے ہیں۔ یہ مثلث مختلف الاضلاع اسلام کے سیدھے سادے اصولوں کی رو سے ناقابل تسلیم ہے۔ کرشن جی مہاراج ہندوؤں کے اعتقاد میں پرمیشور کا اوتار تھے۔ چنانچہ ان کو کرشن بھگوان کہا جاتا ہے وہ تناسخ کے قائل قیامت کے منکر اور بہشت و دوزخ سے انکاری تھے۔ چنانچہ ان کی کتاب گیتا میں لکھا ہے۔
بہ تن ہائے معبود درمی روند بجسم سگ و خوک درمی روند
(گیتا مترجمہ فیضی وغیرہ ص ١٤٦)
- ب ....... ایک قالب سے دوسرے قالب میں جانا دیکھو گیتا، اشلوک ١٢، ١٣، ١٩،
ادھیائے ٧، و اشلوک ١٩، ادھیائے ٩ و اشلوک ١٥، ادھیائے ١٤ وغیرہ۔ غرض یہ مسلمہ ہے کہ کرشن جی کا مذہب تناسخ تھا۔ جب مرزا قادیانی بالکل کرشن بن گئے تو ان عقائد کے ساتھ وہ مسلمان کس طرح رہے؟ ۔ دعوٰی ایسے لچر ! اور پھر لکھتے ہیں کہ: میرے وجود میں سوائے نور محمد کے کچھ نہیں ۔ میرا وجود محمد کا ہی وجود ہے۔“
(اشتہار ایک غلطی کا ازالہ ص ١ ملخصاً، خزائن ج ١٨ ص ٢١٥)
ایسے ہی ان کے یہ الہام ہیں: آریوں کا بادشاہ آیا ۔
(البشریٰ ج ١ ص ٥٦)
”برہمن اوتار سے مقابلہ کرنا اچھا نہیں۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٩٨ ، خزائن ج ٢٢ ص ١٠١)
١؎ آپ کو تو غرض بڑائی سے تھی خواہ کہیں ملے۔
٥٥
کیا حضرت محمد ﷺ کے غلام کے لئے شایاں ہے کہ قرآن وحدیث کو چھوڑ کر اور اسلام کے چشمہ صافی سے منہ موڑ کر مشرکوں اور تناسخ کے قائلوں کے پیچھے پیچھے جوتیاں چٹخاتا پھرے اور مکہ شریف کو چھوڑ کر متھرا جی کا رخ کرے۔
کائیں راہ کہ تو میروی بہ کفرستان است
ان باطل الہاموں سے صاف ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی اسلام اور اس کی تعلیم پر کامل ایمان نہیں رکھتے تھے۔
- ٣...... ”يحمدك الله من عرشه ويمشى الیک“ ﴿خدا عرش پر سے تیری
حمد کرتا ہے اور تیری طرف آتا ہے۔﴾
(الہام مندرجہ انجام آتھم ص ٥٥، خزائن ج ١١ ص ایضاً)
قرآن کریم کی پہلی آیت ہے۔ ”الحمد للہ رب العالمین“ سب تعریفیں اللہ کے لئے ہی سزاوار ہیں۔ جو جہانوں کا پالنے والا ہے۔ ادھر سردار انبیاء حضرت محمد ﷺ کو حکم ہوتا ہے۔ ”فسبح بحمد ربك“ ﴿یعنی اپنے خدا کی حمد کر﴾
کیا مرزا قادیانی کے الہام سے بموجب آیات قرآنی اللہ تعالیٰ کا مقابلہ اور اشرف المخلوقات وخیر البشر حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ہتک متصور نہیں؟ اور کیا خدا سے اپنی حمد کرا کر مرزا قادیانی نے صریح طور پر حضرت محمد ﷺ پر اپنی فضیلت کا اظہار نہیں کیا؟۔
- ٤...... ”الارض والسماء معك كما هو معى اخترتك لنفسى“ ؎٢
(الہام مندرجہ حقیقت الوحی ص ٨٧، خزائن ج ٢٢ ص ٧٨)
﴿یعنی میں نے تجھے اپنے نفس کے لئے پسند کیا۔ زمین وآسمان تیرے ساتھ ہیں جیسا کہ وہ میرے ساتھ ہیں۔﴾
- ٥...... ”ان الله معك ان الله يقوم این ماقمت“
(الہام مندرجہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٣٠١)
﴿یعنی خدا تیرے ساتھ ہے اور وہیں کھڑا ہوتا ہے۔ جہاں تو کھڑا ہے۔﴾
- ٦...... ”كل لك والامرك اريد ما تريدون انما امرك اذا اراد شيئاً
؎١ مرزا قادیانی اپنے آپ کو تاتاری النسل بتاتے ہیں۔ ؎٢ مرزا قادیانی کے ملہم عربی دانی لفظ ھو سے ظاہر ہوتی ہے۔ یہاں ھما چاہئے۔
٥٦
ان تقول له كن فيكون “
(تذکرہ ص ٧٠٦، بدر ٢/ مارچ ١٩٠٧ء ، حقیقت الوحی ص ١٠٥، ١٠٦ ، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٨)
﴿یعنی سب کچھ تیرے لئے اور تیرے حکم کے لئے ہے۔ (اے مرزا) میں وہی ارادہ کرتا ہوں جو تو ارادہ کرے اب تیرا مرتبہ یہ ہے کہ جس چیز کا تو ارادہ کرے اور کہہ دے کہ ہو جا۔ وہ ہو جائے گی۔﴾
٧...... ”انت منى وانا منك “ ﴿یعنی اے مرزا تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں۔﴾
(الہام مندرجہ دافع البلاء ص ٦ ، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٧)
٨...... ”انت منى بمنزلة توحيد وتفريدى “
(الہام مندرجہ حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩، اربعین ٢ ص ٣٤ ، خزائن ج ١٧ ص ٣٨٢)
﴿یعنی تو میرے نزدیک بمنزلہ میری توحید و تفرید کے ہے۔﴾ ”انت منى بمنزلة بروزى“ ﴿یعنی تیرا ظہور بعینہ میرا ظہور ہے۔﴾
(تجلیات الٰہیہ ص ١٢ ، خزائن ج ٢٠ ص ٤٠٤)
الہامات نمبر ٤ تا ٨ پر مکرر غور کرو کیا مرزا قادیانی اللہ تعالیٰ کے حکم و قدرت میں شریک ہیں۔ (الہام نمبر ٤) اور کیا خداوند کریم کو مرزا قادیانی نے کوئی باولا اردلی مقرر کر رکھا ہے۔ جو ہر وقت ان کے پیچھے پیچھے ہی پھرتا رہتا ہے۔ (الہام نمبر ٥) کیا خداوند کریم مرزا قادیانی کی دانست میں ضعیف العمر ہو گئے ہیں جو سب کچھ مرزا قادیانی کے حکم وارادہ کے ماتحت کر دیا ہے۔ (الہام نمبر ٦) بعض ہمہ اوست کے عقیدہ والوں کے نزدیک مرزا قادیانی تو خدا سے ہو سکتے ہیں۔ لیکن خدا مرزا قادیانی سے کیسے ہو سکتا ہے؟۔ اگر ایسا ہونا ممکن ہے تو مرزائیوں کو چاہئے کہ اللہ میاں اور مرزا قادیانی کا ایک شجرہ نسب پیش کریں۔
(الہام نمبر ٧)
جب اللہ تعالیٰ بے مثل و بے مانند ہے تو اس کی توحید و تفرید بھی بے مثل ہے۔ لیکن جب مرزا قادیانی اللہ کی توحید و تفرید کی مانند ٹھہرے تو توحید و تفرید کہاں رہی کیا مرزا قادیانی بعینہ خدا تھے۔ جب کہ الہام میں ان کا ظہور بعینہ خدا کا ظہور بتلایا گیا۔
(الہام نمبر ٨)
غرض یہ سارے الہامات ایک دیوانہ کی بڑ سے زیادہ وقعت نہیں رکھتے۔ مرزائی ایسے الہامات کو مشابہات کہہ کر پیچھا چھڑانا چاہا کرتے ہیں۔ مگر ہم پوچھتے ہیں کہ متشابہات کے یہ معنی کس نے کئے ہیں کہ وہ اصول اسلام کے مخالف ہوتے ہیں۔ مرزا قادیانی تو قرآن شریف کو ثریا سے دوبارہ لا کر اسرار و رموز منکشف کرنے کے مدعی تھے۔ مگر بجائے انکشاف کے لوگوں کو اور بھی چکر میں ڈال دیا اور یہ چند الہام تو بطور نمونہ از خروارے درج کئے گئے ہیں ورنہ اس قسم کے اور
٥٧
بیسیوں الہام ہیں۔ مثلاً: ”سرک سری! یعنی اے مرزا تیرا بھید میرا بھید ہے۔“
(تذکرہ ص٩٤)
”ظہورک ظہوری! تیرا ظہور میرا ظہور ہے۔“
(تذکرہ ص٧٠٤)
”لولاک لما خلقت الافلاک! اگر تو نہ ہوتا تو میں آسمان کو پیدا نہ کرتا جس سے تو راضی اس سے خدا راضی۔ جس سے تو ناخوش اس سے خدا ناخوش۔“
(تذکرہ ص٦١٢)
”رب سلطنی علی النار! اے اللہ مجھے دوزخ کا اختیار دے دے وغیرہ وغیرہ۔“
(تذکرہ ص٦٠٦)
یہ جھوٹی تعلیاں، بیہودہ شیخیاں اور یہ فضول بڑائیاں نبی معصوم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے کسی سچے متبع کے منہ سے ہرگز نہیں نکل سکتیں۔ جن کو اللہ تعالیٰ نے حکم دے کر یوں کہلوایا تھا۔ ”قل انما انا بشر مثلكم يوحى الى انما الهكم اله واحد (کہف:١١٠) “ ٭ یعنی اے محمد کہہ دے کہ میں تو تمہارے ہی جیسا ایک بشر ہوں۔ ہاں! مجھ پر وحی نازل ہوتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی ہے۔ ٭
اس مضمون کو مولانا حالی مرحوم نے اس طرح نظم کیا ہے۔
مجھے تم سمجھنا نہ زنہار ایسا مری حد سے رتبہ بڑھانا نہ میرا
مجھے تم پہ ہے صرف اتنی بزرگی
کہ بندہ بھی ہوں اس کا اور ایلچی بھی
اس مضمون کو ایک اور صاحب بھی اس طرح ادا کرتے ہیں۔
مری منزلت سے نہ مجھ کو بڑھانا خدا سے نہ ہرگز کہیں جا ٹھہرانا
کہ مجھ میں نہیں کوئی شان خدائی
بشر ہوں تمہاری طرح ایک میں بھی
مجھے تم پہ ہے صرف اتنی مزیت کہ بخشی خدا نے ہے مجھ کو رسالت
دکھاتا ہوں لوگوں کو شمع ہدایت مٹاتا ہوں دنیا سے آثار ظلمت
عرب اور عجم کو میں سمجھا رہا ہوں
پیام خدا سب کو پہنچا رہا ہوں
٥٨
منہاج نبوت کی رو سے مرزا قادیانی کو صادق ماننے والے مرزائیو! ذرا ایمان سے کہنا کہ کسی نبی کو اس قسم کے الہام ہوئے ہیں۔ ہاں جواب قرآن وحدیث سے ہو کہیں کرشن جی کی گیتا کو نہ لے بیٹھنا۔
- ٩......... مرزا قادیانی حقیقت روحانی کی رو سے چونکہ کرشن ہونے کے مدعی تھے۔
جیسا کہ نمبر ٢ فصل ہذا میں مذکور ہوا اور کرشن جی کی گیتا میں لکھا ہے کہ:
تہی گشتہ از خود خدا گشتہ ام
(گیتا مترجمہ فیضی)
اس لئے کرشن جی کی کرپا سے مرزا قادیانی نے بھی خدائی کا دعویٰ کر ہی دیا۔ چنانچہ لکھتے ہیں کہ:
- الف......... ”میں نے خواب میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی
ہوں۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٣، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
- ب......... ”خدا تعالیٰ میرے وجود میں داخل ہو گیا اور میرا غضب میرا حلم اور تلخی
وشیرینی وحرکت وسکون سب اسی کا ہو گیا اور اسی حالت میں میں یوں کہہ رہا تھا۔ کہ ہم ایک نیا نظام اور نیا آسمان اور نئی زمین چاہتے ہیں۔ سو میں نے پہلے تو آسمان اور زمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا۔ جس میں کوئی ترتیب وتفریق نہ تھی۔ (خدائے کاذب جو ہوئے! من مؤلف) پھر میں نے منشائے حق کے موافق اس کی ترتیب وتفریق کی اور میں دیکھتا تھا کہ میں اس خلق پر قادر ہوں پھر میں نے آسمان دنیا کو پیدا کیا اور کہا ”انا زینا السماء الدنيا بمصابیح “ پھر میں نے کہا ہم انسانوں کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کریں گے۔“ (آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٥، خزائن ج ٥ ص ایضاً) ”معاذ الله من هذه الهفوات“
١؎ جب مرزا قادیانی اس طرح سے خدا میں فنا ہو چکے تھے۔ تو پھر یہ بار بار میں میں کہاں سے آگئی۔
٢؎ آپ تو خدا میں فنا ہو چکے تھے اور علیحدہ وجود نہ تھے۔ پھر اپنی منشاء سے کام کیوں نہ کیا۔ اگر اللہ کی منشاء سے ترتیب وتفریق کی تو آپ اس وقت کون تھے۔ نائب خدا یا کچھ اور اور خدا تو آپ کے وجود میں داخل ہو چکا تھا۔ اس لئے آپ کا اور اس کا منشاء ایک ہی ہونا چاہئے تھا۔ لہٰذا اس جگہ لفظ منشائے حق بے معنی ٹھہرتا ہے۔
٥٩
عبارت مندرجہ بالا کسی شرح کی محتاج نہیں۔ اگر مرزا قادیانی اس کشف کو شیطانی مان کر رد کر دیتے تو کوئی اعتراض نہ ہوتا۔ مگر وہ تو اس کو رحمانی مان کر متعدد کتابوں میں ذکر کرتے ہیں اور باطل اور رکیک تاویلوں سے کام لیتے ہیں۔ فرعون نے بھی تو انا ربکم الاعلیٰ ہی کہا تھا۔ جس کی وجہ سے کافر اور مردود ہوا۔ پھر مرزا قادیانی اور فرعون میں کیا فرق ہے۔
- ١٠....... ایک کشف یا خواب کا یوں ذکر کرتے ہیں کہ:
”ایک دفعہ تمثیلی طور پر مجھے خدا تعالیٰ کی زیارت ہوئی اور میں نے اپنے ہاتھ سے کئی پیشگوئیاں لکھیں جن کا یہ مطلب تھا کہ ایسے واقعات ہونے چاہئیں تب میں نے وہ کاغذ دستخط کرانے کے لئے خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کیا اور اللہ تعالیٰ نے بغیر کسی تامل کے سرخی کے قلم سے اس پر دستخط کئے اور دستخط کرتے وقت قلم کو چھڑکا۔ جیسا کہ جب قلم پر زیادہ سیاہی آجاتی ہے۔ تو اسی طرح پر جھاڑ دیتے ہیں اور پھر دستخط کر دیئے اور میرے پر اس وقت نہایت رقت کا عالم تھا۔ اس خیال سے کہ کس قدر خدا تعالیٰ کا میرے پر فضل اور کرم ہے کہ جو کچھ میں نے چاہا بلا توقف اللہ تعالیٰ نے اس پر دستخط کر دیئے اور اسی وقت میری آنکھ کھل گئی اور اس وقت میاں عبداللہ سنوری مسجد کے حجرہ میں میرے پیر دبا رہا تھا کہ اس کے روبرو غیب سے سرخی کے قطرے میرے کرتے اور اس کی ٹوپی پر بھی گرے اور عجیب بات یہ ہے کہ اس سرخی کے قطرے گرنے اور قلم کے جھاڑنے کا ایک ہی وقت تھا۔ ایک سیکنڈ کا بھی فرق نہ تھا۔ ایک غیر آدمی اس راز کو نہیں سمجھے گا اور شک کرے گا۔ کیونکہ اس کو ایک خواب کا معاملہ محسوس ہوگا۔ مگر جس کو روحانی امور کا علم ہو وہ اس میں شک نہیں کر سکتا۔ اسی طرح خدا نیست سے ہست کر سکتا ہے۔ غرض میں نے یہ سارا قصہ میاں عبداللہ کو سنایا اور اس وقت میری آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ عبداللہ جو ایک روایت کا گواہ ہے اس پر بہت اثر ہوا اور اس نے میرا کرتہ بطور تبرک اپنے پاس رکھ لیا۔ جو اب تک اس کے پاس موجود ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ٢٥٥، خزائن ج ٢٢ ص ٢٦٧)
اس کشف سے کئی باتیں ظاہر ہوئیں۔
- الف....... اللہ تعالیٰ کا جسم جو میز، کرسی یا گاؤ تکیہ لگائے کچہری کا کام کر رہا تھا۔
- ب....... سرخ روشنائی کا وجود جو کپڑوں پر گری ہوئی اب تک موجود ہے۔ اگر چہ
مصنوعی رنگوں کی طرح رنگ اس کا بہت پھیکا ہو گیا ہے۔
- ج....... مرزا قادیانی کی شیخی اور تعلی کہ خدا محض ایک کٹھ پتلی کی طرح
٦٠
مرزا قادیانی کے منشاء کے مطابق کام کرتا ہے اور مرزا قادیانی جو چاہے اس سے کرا سکتا ہے۔ اس سے مریدوں پر تو خوب رعب جما ہوگا۔
- ......د...... مرزا قادیانی کے خدا کا کسی ان ٹرینڈ (ناواقف کار ) افسر کی طرح منشی کے
لکھے ہوئے حکم پر محض دستخط کر دینا۔
- ......ہ...... مرزا قادیانی کے خدا کے لکھنے کے طریقہ سے ناواقفیت کہ قلم کو سیاہی لگانی
بھی نہیں آئی۔ زیادہ سیاہی لگا کر ناحق خراب کی اور اسراف کا ارتکاب کیا۔
- ......و...... مرزا قادیانی کے خدا کی بینائی کا فتور کہ پاس بیٹھے آدمیوں کو سرخی سے
رنگ دیا ۔ ١؎
”لاحول ولا قوة الا بالله“ ......... ”تلك عشرة كاملة“ مرزائیو! اس فصل کو پھر پڑھو اور آئینہ کمالات اسلام والی عبارت سے مقابلہ کر کے عقلِ سلیم اور نور ایمان سے فتویٰ طلب کرو کہ اگر یہ الہامات وکشوف شیطانی نہیں ہیں تو پھر شیطانی الہام وکشف اور کیسے ہوتے ہیں؟۔ خدا آپ کو ہدایت نصیب کرے۔ آمین !
پانچویں فصل
دس (١٠) اختلاف بیانیاں
”ولو كان من عند غير الله لوجد وافيه اختلافا كثيرا (نساء: ٨٢) “ ؎ یعنی یہ کلام اللہ کے سواء اور کسی کی طرف سے ہوتا تو ضرور اس میں بہت سے
١؎ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بوقت نزول زرد چادروں میں ملبوس ہوں گے۔ اس پر مرزا قادیانی پھبتیاں اڑایا کرتے تھے کہ وہ چادریں کس کارخانہ میں بنی ہوں گی؟۔ رنگ کہاں سے رنگا گیا ہوگا؟۔ کپڑا ریشمی ہوگا یا سوتی وغیرہ وغیرہ۔
(توضیح مرام حاشیہ ص ٥، خزائن ج ٣ ص ٥٣)
مگر ان کے اس کشف نے ثابت کر دیا کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں کوئی بساطی کی دوکان بھی ہے ۔ جہاں سے کاغذ، قلم، دوات، سیاہی، سرخی وغیرہ مہیا کی جاتی ہے۔ جو مرزائی اپنے پیر کی تقلید میں مسلمانوں پر اعتراض کرتے ہیں۔ انہیں واضح رہے کہ جہاں سے مرزا قادیانی سرخ روشنائی اور قلم دوات دستخط کرانے کو لے گئے تھے وہیں سے ان چادروں کا کپڑا اور ان کے لئے رنگ بھی مل جائے گا۔ انہیں ناحق اس کا غم اور فکر ہے۔
٦١
اختلاف پائے جاتے۔ ﴾
موجودسخن گو ہیں جہاں واں ہیں طبیب آپ اور جاتے ہیں بن آپ طبیبوں میں سخن گو
دونوں میں سے کوئی نہ ہو تو آپ ہیں سب کچھ
پر ہیچ ہیں جس وقت کہ موجود ہوں دونوں
آیت مندرجہ عنوان بالا میں اللہ تعالیٰ نے سچے اور جھوٹے مدعیان الہام کی شناخت کو ایک عظیم الشان معیار بتایا ہے اور ارشاد فرمایا ہے کہ اگر کوئی شخص مدعی الہام ہو اور اپنے کام اور اپنے کلام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بیان کرتا ہو۔ مگر دراصل وہ جھوٹا ہو تو ضروری ہے کہ اس کے اقوال میں بہت کچھ اختلاف پائے جائیں گے۔ چنانچہ اس تیرہ سو برس کے عرصہ میں ایسے بہت سے لوگ گزرے ہیں جنہوں نے جھوٹے دعوے کئے اور جھوٹے الہام سنائے۔ لیکن سنت الہی کے مطابق بعض جلد اور بعض کچھ عارضی فروغ کے بعد انجام کار خائب و خاسر اس جہاں سے رخصت ہوئے۔ ایسے چند مدعیان کاذب کا حال فصل اول میں مذکور ہو چکا ہے۔
مرزا قادیانی کی تصانیف کو دیکھو اور ان کے اقوال پر ایک سطحی نظر ڈالو تو بظاہر کسی قدر خوشنما اور خوش آئند معلوم ہوتے ہیں۔ لیکن جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے نور بصیرت سے بہرہ ور فرمایا ہے انہوں نے اس مصنوعی سونے کو حق کی کسوٹی پر رکھ کر صدق و کذب میں فرق دکھلایا۔ جس سے وہ نہ صرف خود ہی اس فتنہ سے بچے۔ بلکہ خلق اللہ کو ہدایت کا راستہ دکھا کر عند اللہ ماجور وعند الناس مشکور ہوئے۔ جزاھم الله احسن الجزاء!
مرزا قادیانی کی تصانیف و تالیفات کا ایک خاص پہلو یہ ہے کہ وہ ہمیشہ وقت اور موقعہ کی مناسبت دیکھ کر لکھتے اور کہتے رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان کے کلام میں بہت اختلافات پائے جاتے ہیں اور اختلافات بھی معمولی نہیں۔ بلکہ اصولی اس سخن آرائی کی بدولت مرزا قادیانی کی حالت اس ضرب المثل کی مصداق تھی کہ:
پیش ملا طبیب، و پیش طبیب ملا، و پیش ہر دو ہیچ۔ جس کا اردو ترجمہ عنوان میں تحریر ہو چکا ہے۔
پس جب ان کی حالت یہ ہے اور قرآنی کسوٹی ہمارے ہاتھ میں ہے۔ تو پھر کیا وجہ ہے کہ مرزا قادیانی کی تعلیم کو بھی دوسرے کاذب مدعیان الہام ورسالت کی طرح کذب نہ کہا جائے؟ اس بارے میں مرزا قادیانی کے قول کے موافق اگر ان کے ساتھ حسن ظن وغیرہ کی بناء پر کوئی نرمی کا سلوک کیا جاسکتا ہے۔ تو پھر گذشتہ کذابوں کو کیوں اس حسن ظن سے محروم رکھا جائے؟۔
٦٢
بہر حال اس کا فیصلہ ہم ناظرین پر چھوڑتے ہیں اور مرزا قادیانی کی تصانیف والہامات کے بیشمار اختلافات میں سے کتاب ہٰذا کی مناسبت کے لحاظ سے صرف دس اختلاف بیانیاں یہاں درج کرتے ہیں اور مرزائی صاحبان کو چیلنج دیتے ہیں کہ وہ ان اختلافات میں تطبیق کر کے دکھلادیں اور اگر ایسا نہ کریں تو نص قرآنی کو مدنظر رکھ کر اور نور ایمان سے اس پر غور کر کے فیصلہ کریں کہ ایسی حالت میں انہیں کیا کرنا چاہئے۔ ہاں متضاد بیانات کی برائی ذرا مرزا قادیانی کی زبان سے بھی سن لیجئے لکھتے ہیں کہ:
- ١...... ”جو پرلے درجہ کا جاہل ہو جو اپنے کلام میں متناقض بیانوں کو جمع کرے
اور اس پر اطلاع نہ رکھے۔“
(حاشیہ ست بچن ص ٢٩، خزائن ج ١٠ ص ١٤١)
- ٢...... ”ظاہر ہے کہ کسی سچیار (ہندی لفظ ہے مؤلف) اور عقلمند اور صاف دل
انسان کی کلام میں ہرگز تناقض نہیں ہوتا۔ ہاں اگر کوئی پاگل اور مجنون اور ایسا منافق ہو۔“
(ست بچن ص ٣٠، خزائن ج ١٠ ص ١٤٢)
اب ان حوالوں کی رو سے دیکھئے کہ مرزا قادیانی بقول خود کیسے پرلے درجہ کے جاہل، بے عقل، اور تیرہ دروں، پاگل، مجنوں اور منافق ثابت ہوتے ہیں۔
١...... دعوائے محدثیت و نبوت کا نفی اثبات
- الف...... مرزا قادیانی سے سوال ہوا کہ آپ نے فتح اسلام میں دعوائے نبوت کیا
ہے۔ جواب دیا کہ ”نبوت کا دعویٰ نہیں۔ بلکہ محدثیت کا دعویٰ ہے جو خدا تعالیٰ کے حکم سے کیا گیا ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٤٢٢، خزائن ج ٣ ص ٣٢٠)
- ب...... (توضیح مرام ص ١٨، خزائن ج ٣ ص ٦٠) میں بھی جو الہامی کتاب ہے۔ اپنا
محدث ہونا ہی درج کیا ہے۔
- ج...... حمامۃ البشریٰ میں بھی محدثیت کا ہی اقرار ہے۔
(حمامۃ البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٦)
برخلاف اس کے ...... جب نبی بننے کی ضرورت پڑی تو مذکورہ بالا تحریروں کو بھلا کر لکھتے ہیں کہ:
- ج...... ”اگر خدا تعالیٰ سے غیب کی خبریں پانے والا نبی کا نام نہیں رکھتا تو پھر بتلاؤ
کہ کس نام سے اس کا پکارا جائے۔ اگر کہو کہ اس کا نام محدث رکھنا چاہئے تو میں کہتا ہوں کہ تحدیث کے معنے لغت کی کسی کتاب میں اظہار غیب نہیں۔“ (اشتہار ایک غلطی کا ازالہ ص ٥، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٩)
٦٣
حوالہ الف میں محدثیت کا اقرار ہے اور نبوت کا انکار مگر حوالہ ج میں نبوت کا دعویٰ ہے اور محدثیت سے انکار پس بقول خود آپ محدث ہیں نہ نبی۔
٢...... متعلق کفر واسلام محمدیان
عبارات ذیل قابل غور ہیں:
الف ....... ”یہ نکتہ بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ اپنے دعوے سے انکار کرنے والے کو کافر کہنا یہ صرف ان نبیوں کی شان ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے شریعت اور احکام جدیدہ لاتے ہیں۔ لیکن صاحب الشریعت کے ماسوا جس قدر ملہم اور محدث ہیں۔ گو وہ کیسی ہی جناب الٰہی میں اعلیٰ شان رکھتے ہوں اور خلعت مکالمہ الہیہ سے سرفراز ہوں ان کے انکار سے کوئی کافر نہیں بن جاتا۔“
(تریاق القلوب حاشیہ ص ١٣٠، خزائن ج ١٥ ص ٣٣٢)
ب ....... جو شخص ایک نبی متبوع علیہ السلام کا متبع ہے اور اس کے فرمودہ پر اور کتاب اللہ پر ایمان لاتا ہے۔ اس کی آزمائش انبیاء کی آزمائش کی طرح کرنا ایک قسم کی ناسمجھی ہے۔ کیونکہ انبیاء اس لئے آتے ہیں کہ تا ایک دین سے دوسرے دین میں داخل کریں اور ایک قبلہ سے دوسرا قبلہ مقرر کرائیں۔ بعض احکام کو منسوخ کریں اور بعض نئے احکام لاویں۔ لیکن اس جگہ تو ایسے انقلاب کا دعویٰ نہیں وہی اسلام ہے جو پہلے تھا۔ وہی نمازیں ہیں جو پہلے تھیں وہی رسول مقبول ﷺ ہیں جو پہلے تھے اور وہی کتاب کریم ہے جو پہلے تھی۔ اصل دین میں سے کوئی بات چھوڑی نہیں پڑی جس سے اس قدر حیرانی ہو۔ مسیح موعود کا دعویٰ اس حالت میں گراں اور قابل احتیاط ہوتا کہ جب کہ اس کے ساتھ نعوذ باللہ کوئی دین کے احکام کی کمی بیشی ہوتی اور ہماری عملی حالت دوسرے مسلمانوں سے کچھ فرق ١ نہیں رکھتی۔ دعوائے مسیح موعود کا اسلامی اعتقادات پر کچھ مخالفانہ اثر نہیں ۔٢
مذکورہ بالا نرمیوں کو دیکھو جو ایک نئے دوکاندار کے لئے لازمی ہوتی ہیں۔ بعد میں جب ذرا دوکان جمی اور خریداروں کی تعداد بڑھی پھر تو وہ گرم مزاجیاں ہوئیں جو دیکھنے کے قابل ہیں۔ چنانچہ لکھتے ہیں کہ:
ج ....... ”جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا اور
١؎ یہ فرق بھی آگے بیان ہوتا ہے جو آپ نے خود ہی تجویز کیا۔
٢؎ پھر اپنے منکروں کے حق میں کفر کا فتویٰ کیوں دیا۔
٦٤
تیرا مخالف رہے گا۔ وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے۔
(الہام مندرجہ معیار الاخیار ص ٨، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٥)
- د...... انجمن حمایت اسلام لاہور کے علماء کو مخاطب کر کے ایک لمبی تقریر کرتے
ہیں جس کا مفہوم یہ ہے کہ تم میرے منکر ہو۔ تمہاری دعائیں طاعون کے بارے میں قبول نہ ہوں گی۔ کیونکہ تمہارے مناسب حال اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ’’وما دعاء الکافرین الا فی ضلل‘‘
(دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٢)
- ھ...... ’’لعنة الله علی من تخلف عنا وابی! خدا کی لعنت ہو اس پر جو
ہمارا خلاف یا انکار کرے۔‘‘
(خط بنام پیر مہر علی شاہ ٢٠ جولائی ١٩٠٦ء)
- و...... ’’قطع دابرا القوم الذین لا یؤمنون! یعنی جو قوم مرزا قادیانی پر
ایمان نہ لائے گی۔ اس کی جڑ بنیاد کاٹ دی جائے گی۔‘‘
(الہام مندرجہ بدر ١٩ جنوری ١٩٠٦ء، تذکرہ ص ٥٩٢، ٦٤٦)
- ز...... مرزا کا الہام نص صریح ہے اور نص صریح کا منکر کافر ہے۔ (الحکم ٢٤ اکتوبر
١٨٩٩ء، تذکرہ ص ٣٤٢) آج چودہویں صدی کے سر پر اللہ تعالیٰ کا رسول اس کی طرف سے خلقت کے لئے رحمت اور برکت ہے۔ ہاں جو اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے کو نہ مانے گا۔ وہ جہنم میں اوندھا گرے گا۔
(حوالہ ایضاً)
- ح...... خدا نے میرے پر ایمان لانے کے واسطے تاکید کی ہے۔ میرا دشمن جہنمی ہے۔
(انجام آتھم ص ٦٢، خزائن ج ١١ ص ایضاً)
- ط...... تمہارے پر حرام اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر، مکذب یا متردد کے پیچھے نماز
پڑھو۔
(اربعین نمبر ٣ حاشیہ ص ٢٨، خزائن ج ١٧ ص ٤١٧)
- ی...... بہر حال خدا نے مجھ پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی
ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا۔ وہ مسلمان نہیں اور خدا کے نزدیک قابل مواخذہ ہے۔
(حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧، مرزا قادیانی کا خط مندرجہ الذکر الحکم نمبر ٤ ص ٢٣)
- ک...... مرزا قادیانی کو کافر کہنے والے بھی کافر ہیں اور جو مرزا قادیانی کے دعوؤں
کو سچ نہیں سمجھتے اور نہیں مانتے وہ بھی کافر ہیں۔
(حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧)
- ل...... اسم واسم مبارک ابن مریم می نہند آن غلام احمد است و میرزائے قادیاں
گر کسے آرد شکے در شان او آں کافر است جائے او باشد جہنم بے شک و ریب گماں
(خلیفہ اول مولوی نور الدین الحکم ٧ اگست ١٩٠٨ء، تذکرہ ص ٨٠٨)
٦٥
م....... مرزا قادیانی مسیح موعود ہیں۔ ان کا منکر کافر ہے (نیز) مرزا قادیانی رسول ہیں ان کا منکر کافر ہے۔
( تقریر مولوی نورالدین مقام لا ہور احمدیہ بلڈنگس )
ناظرین! حوالہ جات الف و ب کو پھر پڑھیں اور اس کے بعد ان دس الہامات واقوال پر غور کریں کیا یہ دونوں باتیں ایک ہی سرچشمہ سے نکلی ہیں؟ ۔ ہرگز نہیں! آخری دو حوالہ جات مرزا قادیانی کی تعلیم کے نتائج کو ظاہر کرتے ہیں جو ان کی امت نے اخذ کئے تھے۔ بلکہ مولوی نورالدین صاحب نے ایک جگہ تو بالکل یک رخہ فیصلہ کر دیا تھا کہ میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر اعلان کرتا ہوں کہ میں مرزا قادیانی کے تمام دعوؤں کو دل سے مانتا اور یقین کرتا ہوں اور ان کے معتقدات کو مدار نجات ماننا میرا ایمان ہے۔
(بدر ٤ مئی ١٩١٤ء، کلمۃ الفصل ص ١٤٨)
خلیفہ موجودہ مرزا محمود احمد قادیانی خلیفہ مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی بمقتضائے پدر اگر نتواند پسر تمام کند۔ بالکل صاف لفظوں میں فیصلہ کر دیا کہ مرزائیوں کے سواء دنیا بھر کے سب مسلمان خواہ ان کو مرزا قادیانی کی خبر ہوئی یا نہیں سب کافر ہیں۔ بلکہ غیر احمدیوں کو کافر سمجھنا احمدیوں کا فرض قرار دیا ہے۔
(دیکھو تشحیذ الاذہان اپریل ١٩١١ء ص ١٣٨، انوار خلافت ص ٩٠)
گویا قرآن شریف اور توحید و رسالت کو جو تیرہ سو برس سے مسلمانوں نے مدار نجات مانا ہوا ہے اور وہ اسلام جس پر سواد اعظم کا عملدرآمد ہوا ہے کوئی چیز نہیں تاوقتیکہ اس کے ساتھ مرزا قادیانی اور اس کی ہفوات کو نہ مانا جائے۔ بہر حال مرزا قادیانی کے پہلے اور پچھلے اقوال میں زمین آسمان کا اختلاف ہے۔
٣....... ختم نبوت
ختم نبوت کے متعلق آپ کا پہلے جو عقیدہ تھا وہ حوالہ جات ذیل سے ظاہر ہے۔
١....... ’’بعد خاتم المرسلین میں کسی دوسرے مدعی رسالت و نبوت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں وحی رسالت حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوئی اور حضرت محمدﷺ پر ختم ہو گئی۔‘‘
(اشتہار ٢ اکتوبر ١٨٩١ء، مقام دہلی، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٠، ٢٣١)
٢....... ’’مجھے کب جائز ہے کہ نبوت کا دعویٰ کر کے اسلام سے خارج ہو کر کافروں کی جماعت میں جاملوں۔‘‘
(حمامۃ البشریٰ عربی ص ٧٩ مطبوعہ ١٣١١ھ، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧)
لیکن بعد میں نبی بننے کے لئے عجیب عجیب رنگ ظل، بروز، مظہر مثیل وغیرہ کے اختیار کئے اور بالآخر لکھ دیا کہ:
’’ہمارا مذہب تو یہ ہے کہ جس دین میں نبوت کا سلسلہ نہ ہو وہ مردہ ہے۔ یہودیوں،
٦٦
عیسائیوں، ہندوؤں کے دین کو جو ہم مردہ کہتے ہیں تو اسی لئے کہ ان میں کوئی نبی نہیں ہوتا۔ اگر اسلام کا بھی یہی حال ہوتا تو پھر ہم بھی قصہ گو ٹھہرے۔ کس لئے اس کو دوسرے دینوں سے بڑھ کر کہتے ہیں۔ ہم پر کئی سال سے وحی نازل ہورہی ہے اور اللہ تعالیٰ کے کئی نشان اس کے صدق کی گواہی دے چکے ہیں۔ اس لئے ہم نبی ہیں۔ امرِ حق کے پہنچانے میں کسی قسم کا اخفاء نہ رکھنا چاہئے۔"
(بدر ٥/مارچ ١٩٠٨ء، حقیقت النبوۃ ص ٢٧٢، ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٧، ١٢٨)
٤...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کے متعلق
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کے متعلق لکھتے ہیں کہ:
- الف...... اس بات کو عقل قبول کرتی ہے کہ انہوں نے (حواریوں نے) فقط ندامت
کا کلنک اپنے منہ پر سے اتارنے کی غرض سے ضرور یہ حیلہ بازی کی ہوگی کہ رات کے وقت جیسا کہ ان پر الزام لگا تھا یسوع کی نعش کو اس کی قبر میں سے نکال کر کسی دوسری قبر میں رکھ دیا ہوگا اور پھر حسب مثل مشہور کہ: خواجہ کا گواہ ڈڈو، کہہ دیا ہوگا کہ لو جیسا کہ تم درخواست کرتے تھے یسوع زندہ ہو گیا۔ (ست بچن ص ٦٢، خزائن ج ١٠ ص ١٨٧) بقول مرزا قادیانی یہ قبر یروشلم میں جہاں حضرت یسوع مسیح کو صلیب ہوئی اور ان سے اگلے کشمیر جانے کا قصہ باطل ثابت ہوتا ہے۔
- ب...... "یہ تو سچ ہے کہ مسیح اپنے وطن گلیل میں جا کر فوت ہو گیا۔ لیکن یہ ہرگز سچ
نہیں کہ وہی جسم جو دفن ہو چکا تھا پھر زندہ ہو گیا۔"
(ازالۃ اوہام ص ٤٧٣، خزائن ج ٣ ص ٣٥٣)
- ج...... "ہاں بلاد شام میں حضرت عیسیٰ کی قبر کی پرستش ہوتی ہے اور مقررہ
تاریخوں پر ہزار ہا عیسائی سال بہ سال اس قبر پر جمع ہوتے ہیں۔"
(ست بچن حاشیہ ص ١٦٤، خزائن ج ١٠ ص ٣٠٩)
- د...... "اور حضرت مسیح اپنے ملک سے نکل گئے اور جیسا کہ بیان کیا گیا ہے۔
کشمیر میں جا کر وفات پائی اور اب تک کشمیر میں ان کی قبر موجود ہے۔"
(ست بچن حاشیہ ص ١٦٤، روحانی خزائن ج ١٠ ص ٣٠٧)
اب ناظرین ہر چہار اقوال پر غور کر کے خود ہی نتیجہ نکال لیں کہ مرزا قادیانی کی کونسی بات کو سچ مانا جائے۔ پہلے مسیح کی قبر یروشلم میں بتاتے ہیں پھر ان کے اپنے وطن گلیل میں پھر بلاد شام میں اور پھر ان تینوں مقامات کو چھوڑ کر سری نگر کشمیر میں۔
کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام چار جگہ مرے؟ اور چار مقامات پر مدفون ہوئے؟۔ یہ مختلف باتیں الہامی دماغ سے منسوب ہو سکتی ہیں یا ان کو خلل دماغ کہا جائے؟
٦٧
٥....... سکھوں کے گورو باوا نانک کا چولہ
باوا نانک سکھوں کے سب سے پہلے گورو تھے۔ ان کی یادگار ایک چولہ (لمبا کرتہ) سکھوں کے پاس محفوظ ہے۔ جس پر کلمہ طیبہ، کلمہ شہادت، بسم اللہ، سورہ فاتحہ، سورہ اخلاص، آیت الکرسی وغیرہ آیات قرآنی تحریر ہیں۔ مرزا قادیانی نے اپنی کتب میں اس چولہ کے متعلق ایک نظم لکھی ہے جس میں گورو نانک کا متلاشی حق ہونا اور رات دن اس میں کوشاں رہنا درج کر کے لکھتے ہیں کہ: الف.......
ہوا غیب سے ایک چولہ عیاں خدا کا کلام اس پہ تھا بیگماں
شہادت تھی اسلام کی جا بجا کہ سچا وہی دیں ہے اور رہنما
(ست بچن ص ٤٥، خزائن ج ١٠ ص ١٦٥)
(ست بچن ص ٤١، خزائن ج ١٠ ص ١٦١)
(ست بچن ص ٤٥، خزائن ج ١٠ ص ١٦٥)
گویا یہ چولہ باوا نانک کو اللہ تعالیٰ نے غیب سے بنایا عطا فرمایا اب مرزا قادیانی کی دورنگی ملاحظہ ہو۔ اس سے آگے ہی کہتے ہیں: ب.......
پھر اس طرز پر یہ بنایا گیا بحکم خدا پھر لکھایا گیا
مگر یہ بھی ممکن ہے اے پختہ کار کہ خود غیب سے ہو یہ سب کاروبار
کہ پردے میں قادر کے اسرار ہیں کہ عقلیں وہاں ہیچ و بے کار ہیں
(ست بچن ص ٤٥، خزائن ج ١٠ ص ١٦٥)
ان اشعار میں کچھ شبہ سا ظاہر کر کے پھر اسی بات پر قائم ہوتے ہیں کہ یہ چولہ غیب سے ہی عطا ہوا چنانچہ اس نظم میں لکھتے ہیں:
٦٨
یہ انگد نے خود لکھ دیا صاف صاف کہ ہے وہ کلام خدا بے گزاف
وہ لکھا ہے خود پاک کرتار نے اسی حیّ وقیوم وغفار نے
خدا نے جو لکھا وہ کب ہو خطا وہی ہے خدا کا کلام صفا
(ست بچن ص ٥٠، خزائن ج ١٠ ص ١٧٠)
ج....... نظم کے علاوہ پھر نثر میں اس کی یوں تصدیق کرتے ہیں۔ ’’ہم باوا صاحب کی کرامت کو اس جگہ مانتے ہیں اور قبول کرتے ہیں کہ وہ چولہ ان کو غیب سے ملا اور قدرت کے ہاتھ نے اس پر قرآن شریف لکھ دیا۔‘‘
(ست بچن ص ٦٨، خزائن ج ١٠ ص ١٩٢)
اب اس کے خلاف ملاحظہ فرمائیے:
د....... ’’اسلام میں چولے رکھنا اس زمانہ میں فقیروں کی ایک رسم تھی۔ پس یہ بات بہت صحیح ہے کہ باوا صاحب کے مرشد نے جو مسلمان تھا یہ چولہ ان کو دیا تھا۔‘‘
(نزول المسیح ص ٢٠٥، خزائن ج ١٨ ص ٥٨٣)
ہ....... ’’باوا صاحب کا اپنے چولہ پر یہ لکھنا کہ اسلام کے بغیر کسی جگہ نجات نہیں اگر سکھ مذہب کے لوگ اسی ایک فقرے پر توجہ کرتے تو۔‘‘ (نزول المسیح ص ٢٠٦، خزائن ج ١٨ ص ٥٨٣)
جب نظر پڑتی ہے اس چولہ کے ہر ہر لفظ پر سامنے آنکھوں کے آ جاتا ہے وہ فرخ گہر
دیکھو اپنے دیں کو کس کس صدق سے دکھلا گیا وہ بہادر تھا نہ رکھتا تھا کسی دشمن سے ڈر
(ست بچن ص ٥٢، خزائن ج ١٠ ص ١٧٢)
ناظرین! ان متضاد عبارات پر غور کریں کہ ایک ہی چولہ ہے جو غیب سے خدا نے دیا۔ مگر ممکن ہے کہ صرف اس کی شکل غیب سے دکھائی گئی ہو اور اس کا نمونہ کا کرتہ باوا نانک صاحب نے بنوا لیا ہو۔ لیکن ایسا خیال کرنا بے ایمانی ہے۔ کیونکہ خدا کی باتیں عقل میں نہیں آ سکتیں۔ لہٰذا یہ ضرور خدا نے خود لکھ کر عطاء فرمایا۔ مگر یہ بھی بہت صحیح ہے کہ یہ چولہ باوا صاحب کے مسلمان مرشد نے ان کو دیا۔ ہاں باوا صاحب نے یہ چولہ خود ہی لکھا تھا اور چونکہ وہ بہادر تھے اس لئے چولہ پر سچی سچی باتیں لکھ گئے۔
٦٩
کیوں حضرات ناظرین! کیا یہ متضاد تحریریں بدہضمی کا ایک خواب نہیں جسے اضغاث احلام کہتے ہیں۔ سچ ہے دروغ گورا حافظہ نباشد ١؎
٦...... نزول حضرت مسیح علیہ السلام
الف ...... ”هو الذی ارسل رسوله بالھدی ودین الحق لیظهره علی الدین کلہ“ یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح علیہ السلام کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ کا دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق واقطار میں پھیل جائے گا۔
(براہین احمدیہ ص ٤٩٩، خزائن ج ١ ص ٥٩٣)
ب ...... مسیح کی وفات اس کے عدم نزول اور اپنے مسیح ہونے کے الہام کو میں نے دس سال تک ملتوی رکھا۔ بلکہ اس کو رد کر دیا اور حکم واضح اور صریح کا منتظر رہا۔
(حمامۃ البشریٰ ص ١٣، خزائن ج ٧ ص ١٩١)
ج ...... ”میرا یہ دعویٰ نہیں ...... کہ دمشق میں کوئی مثیل مسیح پیدا نہ ہوگا ...... ممکن ہے کسی آئندہ زمانہ میں خاص کر دمشق میں بھی کوئی مثیل مسیح پیدا ہو جائے۔“
(ازالہ حاشیہ ص ٧٣، خزائن ج ٣ ص ١٣٨)
د ...... ”میں نے صرف مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور میرا یہ بھی دعویٰ نہیں کہ صرف مثیل ہونا میرے پر ہی ختم ہو گیا ہے۔ بلکہ میرے نزدیک ممکن ہے کہ آئندہ زمانوں میں میرے جیسے اور دس ہزار بھی مثیل مسیح آجائیں۔“
(ازالہ اوہام ص ١٩٩، خزائن ج ٣ ص ١٩٧)
ہ ...... ”بالکل ممکن ہے کہ کسی زمانہ میں کوئی ایسا مسیح بھی آجائے جس پر حدیثوں کے بعض ظاہری الفاظ صادق آسکیں ۔ کیونکہ یہ عاجز اس دنیا کی حکومت و بادشاہت کے ساتھ نہیں آیا درویشی اور غربت کے لباس میں آیا ہے اور جب کہ یہ حال ہے تو پھر علماء کے لئے اشکال ہی کیا ہے۔ ممکن ہے کسی وقت ان کی یہ مراد بھی پوری ہو جائے۔“
(ازالہ اوہام حصہ اول ص ٢٠٠، خزائن ج ٣ ص ١٩٧، ١٩٨)
١؎ مرزا قادیانی کا حافظہ بہت خراب تھا اور ان کو پچھلی کہی ہوئی بات یاد نہیں رہتی تھی۔ وہ اس کو خود تسلیم کرتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ حافظہ اچھا نہیں یا نہیں رہا۔
(ریویو ج ٢ ش ٣ ص ١٥٣، اپریل ١٩٠٣ء حاشیہ)
٧٠
جب یہ بات ہے تو پھر اپنے نہ ماننے والوں پر جگہ جگہ بے فائدہ زہر کیوں اگلا ہے اور مسلمانوں کو کافر بنایا ہے۔ (ملاحظہ ہو اسی فصل کا نمبر ٢ فقرہ ج تمام) اور حکیم نورالدین قادیانی کا فتویٰ کہ جس طرح موسوی مسیح کا منکر کافر ہے اسی طرح محمدی مسیح کا منکر کافر ہے۔ اس سے تو سارا مرزائی گورکھ دھندا بگڑ جاتا ہے۔
٧....... ڈاکٹر عبدالحکیم خان
ڈاکٹر عبدالحکیم خان نے ایک تفسیر لکھی تھی جس کا نام تھا تفسیر القرآن بالقرآن۔ مرزا قادیانی نے اس کی نسبت پہلے اپنی یہ رائے شائع کی کہ ”نہایت عمدہ ہے۔ شیریں بیان ہے۔ نکات قرآنی خوب بیان کئے ہیں۔ دل سے نکلی اور دلوں پر اثر کرنے والی ہے“۔ ١؎
(آئینہ کمالات ص ١٩)
لیکن جب ڈاکٹر صاحب نے مرزا قادیانی کو جھوٹا سمجھ کر سلسلہ ارادت توڑ دیا تو اس تفسیر کی نسبت (اخبار بدر مورخہ ١٧ جون ١٩٠٦ء) میں لکھا کہ: ”ڈاکٹر عبدالحکیم کا تقویٰ صحیح ہوتا تو وہ کبھی تفسیر لکھنے کا نام نہ لیتا۔ کیونکہ وہ اس کا اہل نہیں ہے۔ اس کی تفسیر میں ایک ذرہ روحانیت نہیں اور نہ ظاہری علم کا کچھ حصہ ہے“۔ (ملفوظات ج ٨ ص ٤٣٧) اس اخبار کے صفحہ ٣ پر لکھتے ہیں کہ: ”میں نے اس کی تفسیر کو کبھی نہیں پڑھا“ اگر کبھی نہیں پڑھا تو پہلی اور پچھلی رائے کس طرح قائم کردی۔ غرض تینوں باتیں ایک دوسرے کے خلاف ہیں۔
٨....... حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق
مرزا قادیانی کی جو روش تھی وہ ان کے حسب ذیل متضاد اقوال سے ظاہر ہے۔
- الف....... ”اور میں یہ بھی دیکھتا ہوں کہ مسیح ابن مریم آخری خلیفہ حضرت موسیٰ علیہ
السلام کا ہے اور میں آخری خلیفہ اس نبی کا ہوں۔ جو خیر الرسل ہے۔ اس لئے خدا نے چاہا کہ مجھے اس سے کم نہ رکھے“
(حقیقت الوحی ص ١٥٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٤)
١؎ یہ تعریفیں اس لئے کی گئیں تھیں کہ پہلے اس تفسیر میں مرزا قادیانی کا مسیح ہونا بھی ثابت کیا گیا تھا۔ بعد میں ڈاکٹر صاحب نے مرزا قادیانی کا ذکر اس میں سے نکال دیا تو ہجو گوئی شروع کردی۔
٧١
- ب...... ”اس جگہ کسی کو یہ وہم نہ گزرے کہ اس تقریر میں اپنے نفس کو حضرت مسیح پر
فضیلت دی ہے کیوں کہ یہ ایک جزئی فضیلت ہے۔ جو غیر نبی کو نبی پر ہو سکتی ہے۔“
(تریاق القلوب ص١٥٧، خزائن ج١٥ص٤٨١)
- ج...... ”خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام
شان میں بہت بڑھ کر ہے۔“
(حقیقت الوحی ص١٤٨، خزائن ج٢٢ص١٥٢)
پہلے حوالہ میں آپ حضرت مسیح علیہ السلام کے برابر بنتے ہیں۔ دوسرے میں ان پر جزئی فضیلت کے مدعی ہیں اور تیسرے میں ہر طرح سے افضل بن گئے ہیں اور جب ان اختلافات کی وجہ دریافت کی گئی تو لکھ دیا کہ ”میں نے یہ سب کچھ خدا کے حکم سے کہا ہے۔ اس کی وجہ خدا سے ہی پوچھو کہ کیوں اس نے مجھے مسیح پر فضیلت دے دی...... الخ!“
(حقیقت الوحی ص ١٤٨ تا ١٥٠، خزائن ج٢٢ص١٥٣)
کیا اچھا جواب ہے! کلام متناقض آپ کریں اور اس کا جواب دہ ہو خدا تعالیٰ! خدا تعالیٰ نے تو فرما دیا ہے۔ ”لو کان من عند غیر اللہ“...... الخ! (آیت مندرجہ عنوان)
٩...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا معجزہ
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا معجزہ قرآن شریف میں یوں مذکور ہے۔ ”واذ تخلق من الطین کہیئۃ الطیر باذنی فتنفخ فیہا فتکون طیرا باذنی (مائدہ: ١١٠)“
قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مخاطب فرما کر اپنے افضال وانعامات کا جو ان پر ہوئے ذکر فرمائے گا۔ منجملہ ان کے ایک یہ بھی ہے کہ جب کہ تم ہمارے حکم سے پرند کی صورت ایک مٹی کی مورت بناتے پھر اس میں پھونک مار دیتے تو وہ ہمارے حکم سے پرند بن جاتی۔ ایسا ہی سورہ آل عمران کے پانچویں رکوع میں ارشاد ہے۔
مرزا قادیانی نے اس معجزہ کے متعلق مختلف تشریحیں کی ہیں جو قابل ملاحظہ ہیں۔
- ١...... ”یہ بالکل غلط اور مشرکانہ اور فاسد اعتقاد ہے کہ مسیح مٹی کے پرند بنا کر
پھونک مار کر انہیں سچ مچ کے جانور بنا دیتا تھا۔ بلکہ یہ صرف عمل الترب (مسمریزم) تھا۔“
(ازالہ ص٣٢٢، خزائن ج٣ ص٢٦٣ حاشیہ)
- ٢...... ”مسیح ایسے کام (چڑیاں بنانے) کے لئے اس تالاب کی مٹی لاتا تھا۔ جس
میں روح القدس کی تاثیر رکھی گئی تھی۔“
(ازالہ ص٣٢٢، خزائن ج٣ ص٢٦٣ حاشیہ)
٧٢
- ٣...... ”وہ اپنے باپ یوسف نجار کے ساتھ بائیس سال کی مدت تک نجاری کا
کام کرتے رہے ہیں اور ظاہر ہے کہ بڑھئی کا کام درحقیقت ایک ایسا کام ہے جس میں کلوں کا بنانا خوب آتا ہے ...... لہٰذا حضرت عیسیٰ نے کوئی کھلونا ایسا بنا لیا ہوگا جو کل کے دبانے یا پھونک مارنے سے پرواز کرتا ہو۔“
(ازالہ حاشیہ ص ٣٠٣، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤)
- ٤...... ”زمانہ حال میں بھی ایسی چڑیاں بمبئی اور کلکتہ میں بہت بنتی ہیں۔“
(ازالہ ص ٣٠٤ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٢٥٥)
- ٥...... ”اگر یہ عاجز (مرزا قادیانی) اس عمل مسمریزم کو مکروہ اور قابلِ نفرت نہ
سمجھتا ...... تو ان اعجوبہ نمائیوں میں بفضل خدا حضرت ابن مریم سے کم نہ رہتا۔“
(ازالہ ص ٣٠٩ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٢٥٨)
- ٦...... ”یہ واقعہ (چڑیاں بنانے کا) جو قرآن میں مذکور ہے۔ اپنے ظاہری
معنوں پر محمول نہیں بلکہ اس سے کوئی خفیف امر مراد ہے۔ جو بہت وقعت اپنے اندر نہیں رکھتا۔“
(حقیقت الوحی ص ٣٩٠، حاشیہ خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٥)
- ٧...... ”مٹی کی چڑیوں سے مراد وہ امی اور نادان لوگ ہیں جن کو حضرت عیسیٰ
علیہ السلام نے اپنا رفیق بنایا۔“
(ازالہ اوہام حصہ اوّل ص ٣٠٤، خزائن ج ٣ ص ٢٥٥)
یہ معنی روحانی طور پر ہو سکتے ہیں۔
ناظرین! قرآن شریف کے صاف الفاظ کا مرزا قادیانی کی تاویلاتِ فاسدہ (یعنی عمل مسمریزم) تالاب کی مٹی، لکڑی کی کل، معمولی کھلونا، قابلِ نفرت عمل کوئی خفیف امر، امی اور نادان لوگ سے مقابلہ کریں۔ کیا یہ پریشان خیالیاں کسی مصلح اور پیغمبر کے دماغ سے منسوب ہو سکتی ہیں۔ یا انہیں آسمانی تفہیمات سے کچھ بھی تعلق ہے؟۔
١٠...... دجال کے متعلق مرزا قادیانی کی تحقیقات
- الف...... علماء (مخالفین مرزا) دجال ہیں۔
(فتح الاسلام ص ٩، خزائن ج ٣ ص ١٠)
- ب...... با اقبال قومیں دجال ہیں۔ ریل ان کا گدھا ہے۔
(ازالہ ص ١٣٦، خزائن ج ٣ ص ١٧٢)
- ج...... پادری دجال ہیں۔
(ازالہ ص ٤٨٨، خزائن ج ٣ ص ٣٦٢)
- د...... ابن صیاد ہی دجال تھا۔
(ازالہ ص ٢٢٢، خزائن ج ٣ ص ٢١٠)
٧٣
چاروں اقوال جداگانہ ہیں۔ پھر اس انوکھی تحقیقات پر لکھتے ہیں کہ ” آنحضرت ﷺ پر
ابن مریم اور دجال کی حقیقت کاملہ بوجہ نہ موجود ہونے کسی نمونہ کے موبمو منکشف نہ ہوئی ...... تو
کچھ تعجب کی بات نہیں ۔“
(ازالہ ص ٦٩١ ، خزائن ج ٣ ص ٤٧٤)
مرزا پر موبمو جو انکشاف ہوا وہ ان چار مختلف حوالوں سے ظاہر ہے۔ اس لغو انکشاف
پر تین حرف جسے آنحضرت ﷺ کے صاف و صریح ارشادات کے مقابل پیش کیا جاتا ہے۔
لطیفہ ...... (مرزا قادیانی کی روح سے سوال ) کیوں جناب ! دجال تو مسیح موعود کے
زمانہ میں ہونا تھا۔ جس کے لئے آپ نے بھی پادریوں اور بااقبال ( یورپین ) قوموں کو دجال
بنا کر خود مسیح بننا چاہا ہے۔ لیکن بقول آپ کے دجال تھا ابن صیاد۔ تو پھر آپ مسیح کس طرح ہوئے
جب کہ آپ کا دجال ابن صیاد تیرہ سو برس ہوئے گزر چکا۔ ”تلك عشرة كاملة “
یہ نمونہ ہے مرزا قادیانی کی مختلف تحریرات کا ۔ کیا اللہ کے مرسل اور پیغمبروں کی زبان
اور اقوال ایسے ہی متزلزل ہوتے تھے۔ کہ گنگا گئے تو گنگا رام اور جمنا گئے تو جمنا داس ۔
مرزائی صاحبان اس اصول نص قرآنی مندرجہ عنوان فصل ہذا کو مد نظر رکھ کر غور کریں۔
اگر ان کے دل میں نور ایمان کا ایک ذرہ بھی باقی ہے۔ تو وہ اپنے اسلام کو محفوظ کر سکتے ہیں۔ ہاں!
ڈھیٹھ کا کوئی علاج نہیں۔
چھٹی فصل
دس افتراء
” ومن اظلم ممن افترى على الله كذبا اوقال اوحى الى ولم يوح
اليه شىء ومن قال سانزل مثل ما انزل الله ، ولو ترى اذ الظلمون فى
غمرات الموت والملئكة باسطوا ايديهم ، اخرجوا انفسكم ، اليوم تجزون
عذاب الهون بما كنتم تقولون على الله غير الحق وكنتم عن أيته
تستكبرون (انعام:٩٣)“ ” اس سے زیادہ ظالم کون ہو سکتا ہے جس نے خدا پر جھوٹ
باندھا یا یہ کہا کہ مجھ پر وحی آئی ہے۔ حالانکہ اس پر کوئی وحی نہیں آئی۔ یا کوئی ( اپنے کمال کے غرہ
پر ) یہ کہے کہ جیسی کتاب رسول پر اتری ہے۔ ہم بھی ایسی کتاب بنا سکتے ہیں۔ (اے
مخاطب ! ایسے لوگ اپنی زندگی میں جو چاہیں کریں مگر ) ان ظالموں کا مرتے وقت کا حال اگر تو
٧٤
دیکھے کہ موت کی ان پر کیسی سختی ہو گی اور فرشتے ان کی طرف ہاتھ بڑھا کر (تیزی) سے کہیں گے کہ اپنی جانوں کو نکالو۔ (اب تک تو تم نے من مانی باتیں کیں اور کہیں۔ مگر آج وہ دن ہے کہ تمہارے اعمال کی سزا میں تمہیں ذلت کا عذاب دیا جائے گا۔ تم خدا کی نشانیوں کو حقیر سمجھتے تھے اور اللہ اور اس کے رسول کے مقابلہ میں) اپنے آپ کو بڑا جانتے تھے۔
اس آیت شریف میں تین قسم کے لوگوں کو بہت بڑا ظالم کہا گیا ہے۔
- اول ....... جو خدا پر افتراء کرے۔
- دوم ....... جو وحی کا جھوٹا دعویٰ کرے۔
- سوم ....... جو اپنے علم وفضل کے کمال پر غرور کر کے کلام الٰہی کی مثال بنانے کا مدعی
ہو۔ آیت کے آخری حصہ میں ان لوگوں کے انجام کا ذکر ہے۔
آیت اپنے معنی اور مطلب کے لحاظ سے بہت بڑے مضمون پر حاوی ہے۔ جس کا بیان کتب تفسیر میں دیکھنا چاہئے۔ ہم نے اس آیت کی رو سے بلحاظ عنوان فصل مرزائی تعلیم کا کچھ نمونہ دکھانا ہے۔ اس فصل میں مرزا قادیانی کے مفتریانہ اقوال دکھائے جائیں گے۔ گویا یہ بتایا جائے گا کہ آیت میں جن تین قسم کے مفتریوں، ظالموں اور کاذبوں کا ذکر ہے۔ مرزا قادیانی اپنے اقوال کی رو سے ان میں سے پہلے قسم میں آتے ہیں۔ لیکن اس سے پہلے یہ امر ظاہر کرنا بھی ضروری ہے کہ مرزا قادیانی نہ صرف یہ کہ مفتری علی اللہ ہیں۔ بلکہ وہ دوم اور سوم قسم کے ظالموں اور کاذبوں میں بھی داخل ہیں۔
مرزا قادیانی کو قسم دوم میں داخل کرنے کے لئے اس کتاب کی تیسری اور آخری فصل دیکھ لینی کافی ہوگی۔ کتب آسمانی اس حقیقت پر متفق ہیں کہ جو شخص ایسی باتیں اللہ کی طرف سے بیان کرے جو غلط نکلیں اور پوری نہ اتریں وہ جھوٹا اور مفتری ہے۔ عام طور پر عقلمند اور شائستہ لوگوں میں اس شخص کی سچی باتوں کو بھی فروغ نہیں ہو سکتا۔ جو جھوٹ بولنے کا عادی ہو قانون مروجہ عدالت ہائے موجودہ الوقت کی رو سے بھی اگر کسی گواہ کے بیان میں کوئی بات غلط اور جھوٹ آجائے تو اس کی گواہی مجروح ناقابل ادخال شہادت اور پایہ اعتبار سے ساقط تصور ہوتی ہے۔
پس جب مرزا قادیانی کے الہامات (دیکھو فصل ٣) خصوصاً وہ تحدی کی پیش گوئیاں جو ان کے صدق و کذب کا معیار تھیں۔ (دیکھو فصل ١٠) غلط نکلیں اور جھوٹی ثابت ہوئیں۔ تو وہ صاف طور پر قسم دوم میں آتے ہیں۔ کیونکہ وہ ان باتوں کو وحی والہام کہتے تھے جو دراصل ان کے دلی وساوس تھے۔
٧٥
تیسری قسم کے متعلق بھی مرزا قادیانی کو دعویٰ تھا جسے ذرا تفصیل سے لکھنے کی ضرورت ہے۔ گو یہ مضمون عنوان فصل سے تعلق نہیں رکھتا۔ لیکن مضمون آیت کی تکمیل کے لحاظ سے اس موقع پر درج کرنا ضروری خیال کیا گیا ہے۔
مرزا قادیانی کے ایک معتقد عبد المجید بی اے، حسین پوری ٹرانسلیٹر گورنمنٹ بنگال نے ٢٠؍ جون ١٩١٢ء کو مرزا قادیانی کی تعلیم کے متعلق ایک خط اپنے برادر خورد عبد الحمید بی اے ایل ایل بی کو لکھا تھا۔ جسے عبد الماجد مرزائی بھاگلپوری نے چھپوایا تھا۔ اس خط میں وہ مرزا قادیانی کی نسبت لکھتے ہیں کہ:
”قرآنی تحدی کے ساتھ کتاب لکھ کر پیش کرتا ہے کہ ہندوستان کے علماء سے اگر نہ ہو سکے تو عرب، شام، مصر، بیروت سے مدد گار منگا کر جواب دو۔ کم سے کم ہمارے اس الہام کو غلط کرو کہ کوئی جواب دینے کے لئے کھڑا نہ ہو سکے گا۔ ادھر سے وہی جواب دیدیا جاتا ہے کہ کتاب فصیح نہیں ہے۔ بلیغ نہیں ہے۔ صرفی نحوی غلطیاں ہیں سب کچھ تو ہے۔ مگر کوئی فصیح بلیغ حسان وقت ان الہامات کو جھوٹا کرنے کے لئے آگے نہیں آتا ہے۔“
خود (حقیقت الوحی ص ٣٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ٣٩٣) میں تحریر کرتے ہیں کہ ”رسالہ اعجاز المسیح جب فصیح عربی میں میں نے لکھا تو خدا تعالیٰ سے الہام پا کر میں نے یہ اعلان شائع کیا کہ اس رسالہ کی نظیر اس فصاحت و بلاغت کے ساتھ کوئی مولوی پیش نہیں کر سکے گا۔ تب ایک شخص پیر مہر علی نام ساکن گولڑہ نے یہ لاف و گزاف مشہور کی کہ گویا وہ ایسا ہی رسالہ لکھ کر دکھلائے گا۔ اس وقت خدا کی طرف سے مجھے یہ الہام ہوا۔ ”منعه مانع من السماء“ یعنی ایک مانع نے آسمان سے اس کو نظیر پیش کرنے سے منع کر دیا۔ تب وہ ایسا ساکت اور لاجواب ہو گیا کہ اگرچہ عوام الناس کی طرح اردو میں بکواس کرتا رہا۔ مگر عربی رسالہ کی نظیر آج تک نہ لکھ سکا۔“
اس کے مقابلہ میں مرزائی آرگن (اخبار الحکم ٧؍ جنوری ١٩٠٤ء) میں لکھا ہے کہ:
”ناظرین کو اس کی حالت اور کوائف پر پوری اطلاع پانے کے لئے یاد رکھنا چاہئے کہ اعجاز المسیح حضرت حجۃ اللہ مسیح موعود علیہ السلام کی عربی تصنیف ہے۔ جو ستر دن کے اندر باوجود یہ کہ چار جز کا وعدہ تھا۔ ساڑھے بارہ جز پر شائع ہوگئی اور ٢١؍ اکیس فروری ١٩٠١ء کو پیر گولڑوی کو بصیغہ
١؎ ٢٣؍ فروری ١٩٠١ء کو تفسیر کی رجسٹری کرائی گئی اور جیسا کہ آگے ذکر آتا ہے ٢٥؍ فروری ١٩٠١ء کو اس کا جواب لکھنے کی میعاد ختم ہوگئی۔ تو جواب پیر صاحب کب دیتے؟۔ جواب کی میعاد پوری ہونے تک تو تفسیر ان کے ہاتھ میں پہنچی بھی نہیں تھی۔ اعجاز کا کچھ ٹھکانا ہے۔
٧٢
رجسٹری بھیجی گئی اور بالمقابل پیر صاحب کی طرف سے ستر دن کے اندر چار جز اور ساڑھے بارہ جز تو کجا۔ ایک آدھ صفحہ بھی اعجازی عربی تفسیر کا شائع نہیں ہوا اور اس طرح پر الہام منعه مانع من السماء پورا ہو گیا۔ پیر گولڑی کی علمیت عربی دانی و قرآن دانی کا راز طشت از بام ہو گیا۔ الحکم کی یہ تحریر حقیقت الوحی کی محولہ بالا تحریر سے بہت پہلے کی ہے۔ لیکن دونوں میں بھاری اختلاف ہے۔ اور ”من چہ می سرایم و طنبورہ من چہ می سراید“ کی مصداق ملاحظہ ہو۔
- الف...... الحکم لکھتا ہے کہ اس رسالہ کا مخاطب پیر گولڑی تھا۔
مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سے الہام پاکر میں نے شائع کر دیا تھا کہ کوئی مولوی اس کی نظیر پیش نہیں کر سکے گا۔ یہ کوئی مولوی والی شرط کہاں سے حقیقت الوحی میں آ گئی۔ کیا کوئی الہام علمائے شام بیروت وغیرہ کو مخاطب کرنے کا موجود ہے؟۔ ہرگز نہیں۔
- ب...... الحکم کی عبارت سے ظاہر ہوتا ہے کہ فریقین میں پہلے سے یہ قرار پایا تھا کہ
ستر دن کے اندر چار چار جز کی تفسیر فریقین لکھیں۔
حقیقت الوحی سے معلوم ہوتا ہے کہ تفسیر لکھنے کے بعد مرزا قادیانی نے اعلان کیا تب پیر گولڑوی تفسیر لکھنے کے لئے کھڑے ہوئے۔
- ج...... الحکم کی تحریر سے پایا جاتا ہے کہ تفسیر شائع ہونے سے پہلے ہی الہام
”منعه مانع من السماء“ ہو چکا تھا۔ جو کتاب کی اشاعت کی تاریخ ٢٣؍فروری ١٩٠١ء کو پورا ہو گیا۔
حقیقت الوحی کا بیان ہے کہ جب پیر گولڑی نے تفسیر لکھنے کا ارادہ کیا تب الہام ”منعه مانع من السماء“ ہوا۔
یہ حالت تو مرزائی تحریرات کی ہے اور ادھر قصہ یہ ہے کہ نہ پیر صاحب گولڑی سے تفسیر لکھنے کا مقابلہ قرار پایا۔ نہ انہوں نے اسے منظور کیا۔ نہ کوئی میعاد ان کے ساتھ مقرر ہوئی۔ نہ انہوں
١؎ اس تفسیر کو دیکھو تو معلوم ہو گا کہ یہ مضمون معمولی طریق پر لکھنے سے غایت درجہ تین جز میں سما سکتا تھا۔ مگر بناوٹ کے لئے اس کو موٹے موٹے حروف میں ٹائپ چھپوا کر ساڑھے ١٢ جز بنایا گیا ہے۔ گھر کا روپیہ ہوتا تو اسراف و تبذیر نہ کرتے۔ مگر یہاں تو مال مفت دل بے رحم والا معاملہ تھا۔
٧٧
نے کبھی اس تفسیر کا جواب لکھنے کا وعدہ کیا ۔ نہ تفسیر لکھنے سے پہلے علمائے عرب و شام و بیروت و مصر تو کجا علمائے ہند کو ہی خبر دی گئی اور دعویٰ اعجاز کا ہے!
اصلیت اس کی یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے پیر مہر علی شاہ صاحب کو لکھا تھا کہ میرے دعوے کو تسلیم کرو یا مجھ سے مناظرہ کر لو اور خود ہی صورت مناظرہ یہ تجویز کی تھی کہ لاہور میں ایک عام جلسہ کے اندر قرآن شریف کی منتخبہ چالیس آیات کی تفسیر مرزا قادیانی اور پیر صاحب دونوں کریں جس کا فیصلہ تین عالموں سے کرایا جائے ۔ جو پہلے سے حکم مقرر کر دئے جائیں گے ۔ جس کی تفسیر کو اچھا کہا جائے گا وہی حق پر سمجھا جائے گا ۔ پیر صاحب نے اس مناظرہ کو منظور کر لیا اور ٢٥ اگست ١٩٠٠ء تاریخ مقرر ہوئی ۔ مرزا قادیانی نے یہ بھی لکھا تھا کہ اگر میں جلسہ میں نہ آیا تو جھوٹا (بے شک ) اور ملعون ہوں ۔ ٢٤ اگست کو پیر صاحب لاہور پہنچ گئے اور ٢٩ اگست تک وہاں رہے ۔ مگر مرزا قادیانی نے نہ آنا تھا نہ آئے ۔ آخر سب علماء نے جو اس مناظرہ کو دیکھنے کے لئے جمع ہو گئے تھے متفق ہو کر قرار دیا کہ اس قسم کے اشتہاروں سے مرزا قادیانی کو سوائے اپنی شہرت اور علماء کو تنگ کرنے کے اور کچھ مقصود نہیں ۔ اس لئے آئندہ کوئی ذی علم ان سے خطاب نہ کرے ۔
(دیکھو روئداد جلسہ اسلامیہ لاہور )
اس شرمندگی اور بدنامی کو مٹانے کے لئے مرزا قادیانی نے پیر صاحب کو لکھا کہ سورہ فاتحہ کی تفسیر چار جز ستر دن میں میں بھی لکھتا ہوں ۔ تم بھی لکھو مگر پیر صاحب بوجہ اقرار جلسہ مذکور مخاطب نہیں ہوئے ۔ مرزا قادیانی نے خود ہی تفسیر لکھ کر ان کے پاس بھیج دی اور لطف یہ کہ ٢٣ فروری ١٩٠١ء کو تفسیر پیر صاحب کے نام رجسٹری کرائی گئی اور اسی دن ستر دن کی میعاد بھی ختم ہو گئی ۔ کتنی زبردست چالاکی ہے جو خاص دوکانداروں کا خاصہ ہے ۔
ایسا ہی ایک قصیدہ اعجاز یہ مرزا قادیانی نے مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کے مقابلہ میں لکھ کر بیس دن کے اندر اس کا جواب مانگا ۔ جو نوے (٩٠) صفحہ کی کتاب نظم و نثر میں ہے ۔ چونکہ مرزا قادیانی کو اعجاز کے باطل ہو جانے کا اندیشہ تھا ۔ اس لئے بیس یوم کی قید لگا دی ۔
قصیدہ مذکور مولوی صاحب کے پاس پہنچنے کے بعد مولوی صاحب اس کا جواب قلمبند کرنا اور پھر اس کو صاف کرا کر مطبع میں بھیجنا اور مطبع والے کا اس میعاد کے اندر اندر چھاپ کر مصنف کے پاس ارسال کرنا اور پھر مصنف کا اسے بصیغہ رجسٹری مرزا قادیانی کے نام روانہ کرنا اور ڈاک والوں کا اسے مرزا قادیانی کے ہاتھ میں پہنچانا یہ سب مرحلے اس بیس دن میں ہی طے
٧٨
ہونے لازمی تھے۔ اب جاننے والے جانتے ہیں کہ ان ساری باتوں کا اس تھوڑی سی میعاد میں پورا ہونا کس طرح ممکن تھا؟۔
اور پھر اگر یہ درد سر اختیار کیا بھی جاتا تو کیا مرزا قادیانی اور مرزائیوں نے اپنی لن ترانیوں سے باز آجانا تھا؟۔ بس میعاد کے اندر جواب نہ ملا تو اعجاز، اعجاز کا غل مچا دیا۔ مولوی ثناء اللہ کے پاس یہ قصیدہ پہنچا تو انہوں نے مرزا قادیانی کو لکھا کہ قصیدہ کا فصیح و بلیغ ہونا تو بڑی بات ہے۔ اس کے اندر انواع واقسام کی غلطیاں ہیں۔ آپ ان غلطیوں کو جو میں پیش کروں۔ پہلے صاف کر دیں پھر میں آپ کے زانو بزانو بیٹھ کر عربی نویسی کروں گا۔ (یعنی جواب دوں گا) یہ کیا بات ہے کہ آپ گھر سے سارا زور خرچ کر کے ایک مضمون اچھی خاصی مدت میں لکھیں جس کا مخاطب کو علم نہیں مگر مخاطب کو محدود وقت کا پابند کریں۔ لیکن مرزا قادیانی نے مولوی صاحب کی اس تحریر کا کوئی جواب نہیں دیا۔
یہ قصہ ہے مرزا قادیانی کی اعجازی تصانیف کا جنہیں قرآنی تحدی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے اور اس کے معنی یہ ہیں کہ خداوند کریم نے جس طرح قرآن شریف کو بے مثل و بے نظیر بنایا ہے۔ ویسے ہی اعجاز المسیح اور قصیدہ اعجازیہ کو بھی بے مثل و بے نظیر ہونے کا مرتبہ بخشا ہے۔ اب غور طلب یہ بات ہے کہ قرآن کریم تو افضل الرسل حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوا اور ایسے وقت نازل ہوا جب کہ بڑے بڑے فصحائے عرب عربی قصیدہ لکھ کر خانہ کعبہ پر چسپاں کیا کرتے تھے۔ مگر قرآن مجید کے نزول پر حالانکہ وہ صرف نثر میں ہی نازل ہوا تھا۔ ان تمام فصحاء نے اپنے قصائد کو اس کلام پاک کے مقابلہ میں ہیچ اور ذلیل سمجھ کر خانہ کعبہ سے علیحدہ کر لیا اور اپنے آپ کو اس کلام ربانی کے روبرو عاجز مانا مگر مرزا قادیانی اپنی نبوت ورسالت ثابت کرنے کے زعم میں اپنی نظم ونثر کو بطور قرآنی تحدی کے پیش کر کے نہایت صاف طور سے حضرت رسول اللہ ﷺ پر اپنی فضیلت ثابت کرنا چاہتے تھے۔ کیونکہ وہ کلام پاک صرف نثر تھا اور مرزا قادیانی کا کلام نظم ونثر دونوں دوسرے اپنے اس فعل سے مرزا قادیانی نے قرآن کریم کے اعجاز کو بھی باطل ثابت کرنا چاہا تھا۔ کیونکہ یہ بات غیر مذاہب والوں کے لئے بڑے اعتراض کی گنجائش رکھتی ہے کہ تیرہ سو برس میں تو قرآن کریم کا مثل نہ ہو سکا۔
آج مسلمانوں میں سے ہی ایک شخص اپنے ہی کلام کو قرآنی تحدی کے طور پر پیش کرتا ہے۔ گویا قرآن کریم کا نظیر ممکن ہو گیا۔ کیونکہ جب مرزا قادیانی نے اپنے کلام کو ویسا ہی سمجھا
٧٩
اور اسے قرآن کریم کی طرح بے نظیر بتایا ۔ تو بالضرور کمال درجہ فصیح اور بلیغ اور بے نظیر ہونے میں اپنے کلام کو ویسا ہی سمجھا۔ اس لئے قرآن کریم بے نظیر نہ رہا۔ ان کے اس دعوے سے روز روشن کی طرح ظاہر ہے کہ وہ اسلام کی تخریب کے درپے تھے۔
لیکن اللہ تعالیٰ وعدہ فرما چکا ہے کہ: ”انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحفظون“ اس لئے اگر ایسے ایسے دس ہزار مرزا قادیانی بھی پیدا ہوں تو بھی اس کلام مقدس کو نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ ”لا یضرھم من خالفھم“ ارشادِ نبوی ﷺ ہے۔
شاید مرزائی صاحبان مرزا قادیانی کی اس تحدی کو جائز اور درست سمجھتے ہوں ۔ اس لئے ان کی تشفی کے لئے خود مرزا قادیانی کا ہی فتویٰ پیش کیا جاتا ہے چنانچہ لکھتے ہیں کہ:
”جس کو ذرہ بھی عقل ہے وہ خوب جانتا ہے کہ جس چیز کو قوائے بشریہ نے بنایا ہے اس کا بنانا بشری طاقت سے باہر نہیں ہے۔ ورنہ کوئی بشر اس کے بنانے پر قادر نہ ہو سکتا۔ جب تم نے ایک کلام کو بشری کلام کہا تو اس ضمن میں تم نے آپ ہی قبول کر لیا کہ بشری طاقتیں اس کلام کو بنا سکتی ہیں اور جس صورت میں بشری طاقتیں اس کو بنا سکتی ہیں تو پھر وہ بے نظیر کاہے کی ہوئی۔ پس یہ خیال سراسر سودائیوں اور مخبوط الحواسوں کا سا ہے“
(دیکھو براہین احمدیہ ص ١٥٩ تا ١٩٥، خزائن ج ١ ص ١٦٩ تا ٢١٢)
اس سے آگے ایسے خیال والوں کو نادان ، عقل و ایمان کی بیخ کنی کرنے والا غافل، عقل کا اندھا، نجس طینت ، ناقص الفہم ، مغرور، کور باطن ، منکر وغیرہ وغیرہ کلمات سے یاد کیا ہے۔
نیز (ص ٣٩٥ بقیہ حاشیہ در حاشیہ نمبر ٣، خزائن ج ١ ص ٤٧٢) میں یوں لکھتے ہیں ۔ ”پر خدا نہ کرے کہ کسی پڑھے لکھے آدمی کی ایسی پست عقل ہو ۔“
اب مرزائی صاحبان کو اختیار ہے کہ اپنے پیر کے فتوے کو رد کریں یا ان کی تصانیف کے اعجاز سے انکار کریں۔ ایک جگہ مرزا قادیانی کا جھوٹ ضرور ماننا پڑے گا باوجود اس کے کہ مرزا قادیانی کی ہر دو تصانیف اس قابل نہ تھیں کہ علمائے کرام ادھر توجہ کرتے۔ تاہم بمقتضائے دروغگو را تا بخانہ باید رسانید مولانا محمد عصمت اللہ صاحب نے سوپول ضلع بھاگلپور سے ٢٢ نومبر ١٩١٢ء کو خلیفہ اول یعنی حکیم نورالدین قادیانی سے بذریعہ خط دریافت کیا کہ اعجاز المسیح و قصیدہ اعجازیہ کے جواب دینے کی مدت ختم ہو گئی۔ یا ابھی باقی ہے تو ان کی جانب سے میر محمد صادق نے چار دسمبر ١٩١٢ء کو جواب دیا کہ اعجاز احمدی کا جواب لکھنے کی میعاد دس دسمبر ١٩٠٢ء تک تھی اور اعجاز
٨٠
المسیح کی ٢٥؍فروری ١٩٠١ء تک تھی۔ اس سے ظاہر ہے کہ ان ہر دو اعجازی کتابوں کے جواب کی میعاد بیس یوم اور ستر یوم کے اندر ہی محدود تھی۔ اس کے بعد اعجاز باطل ہوگیا۔
اب مرزا قادیانی کے کلام سے ان کی افتراء پردازیوں کے چند نمونے محض دو امور کے متعلق دیئے جاتے ہیں۔ جب دو باتوں میں اتنے افتراء موجود ہیں تو باقی کا قیاس بھی اسی نمونہ سے کر لینا چاہئے۔
اوّل ...... جب مرزا قادیانی کو ان کے غلط الہامات اور جھوٹی پیش گوئیوں کی وجہ سے مفتری کہا گیا تو آپ لکھتے ہیں کہ:
- ١....... ”قرآن کریم کے نصوص قطعیہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسا مفتری اسی دنیا
میں دست بدست سزا پا لیتا ہے اور خدائے قادر و غیور کبھی اس کو امن میں نہیں چھوڑتا اور اس کی غیرت اس کو پکڑ ڈالتی ہے اور جلد ہلاک کرتی ہے۔“
(انجام آتھم ص ٤٩ خزائن ج ١١ ص ٤٩)
- ٢....... ”خدائے تعالیٰ پر افتراء کرنے والا جلد مارا جاتا ہے۔“
(انجام آتھم ص ٥٠ خزائن ج ١١ ص ٥٠)
- ٣....... ”ہم نہایت کامل تحقیقات سے کہتے ہیں کہ ایسا افتراء کبھی کسی زمانہ
میں چل نہیں سکا اور خدا کی پاک کتاب صاف گواہی دیتی ہے کہ خدا تعالیٰ پر افتراء کرنے والے جلد ہلاک کئے گئے ہیں۔“
(انجام آتھم ص ٦٣ خزائن ج ١١ ص ٦٣ حاشیہ)
یہ ہر سہ اقوال بالکل غلط اور بے بنیاد ہیں۔ قرآن کریم میں کہیں ذکر نہیں کہ مفتری جلد ہلاک کردیا جاتا ہے۔ خدا پر افتراء کرنے والے بعض جلدی مارے گئے بعض پہلے نہایت غریب تھے مگر افتراء علی اللّٰہ کرنے کے بعد بادشاہ بن گئے اور عرصہ تک بادشاہت کے ساتھ اپنے افتراء کی بھی اشاعت کرتے رہے۔ چنانچہ عبداللہ افریقہ، ابن تومرت، صالح بن طریف نے نبوت اور نزول وحی کے دعوے کئے اور تینوں بادشاہ ہوئے اور عرصہ تک بادشاہت کرتے رہے۔ ان کی اولاد اور امت میں بھی عرصہ دراز تک حکومت و سلطنت رہی۔
یہی حال سچے نبیوں کا ہوا ہے کہ بعض کو دشمنوں نے جلد ہی شہید کردیا۔ جیسے حضرت یحییٰ، حضرت زکریا علیہما السلام اور بعض زیادہ عرصہ تک ہدایت پھیلاتے رہے۔
اب یہ کہنا کہ قرآن شریف کے نصوص قطعیہ سے ثابت ہے کہ ایسا مفتری جلد ہلاک ہو
٨١
جاتا ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ قرآن کریم میں ایسی بے سروپا باتیں بھی ہیں جو واقعات کی رو سے غلط ہوسکتی ہے۔ حالانکہ قرآن کریم کی کسی ایک آیت سے بھی ایسا ظاہر نہیں ہوتا۔ نصوص جمع کثرت ہے۔ عربی کے قاعدہ کے بموجب ایسی گیارہ آیتیں یا گیارہ جملے اس کے ثبوت میں ہونے چاہئیں۔ مگر قرآن کریم میں ایک جگہ بھی ایسی خلاف واقعہ بات نہیں ہے۔ کیونکہ یہ خدا کا کلام ہے بلکہ قرآن شریف سے تو ایسے لوگوں کو مہلت دئے جانے کا ثبوت ملتا ہے۔
جیسا کہ ارشاد ہے۔ "واملی لھم ان کیدی متین" (ہم ان کو ڈھیل دیتے ہیں۔ لیکن اس مہلت کے بعد ہماری گرفت بہت سخت ہے۔) ان کذابوں اور مفتریوں کا ذکر نہایت معتبر کتب تاریخ کامل ابن اثیر اور تاریخ ابن خلدون وغیرہ میں درج ہے۔ جو مشہور کتابیں ہیں۔ ممکن نہیں کہ مرزا قادیانی نے ان کو نہ دیکھا ہوگا۔ بلکہ وہ ایسی کتابوں کے دیکھنے کا اقرار کر چکے ہیں ۔
(دیکھو فصل اول کتاب ہذا)
پھر یہ کہنا کہ ہم نہایت کامل تحقیقات سے کہتے ہیں کہ مفتری فوراً سزا پاتا ہے کیا صریح جھوٹ نہیں؟ اور اس جھوٹ کو قرآن کریم کے حوالہ سے بیان کرنا صاف طور پر افتراء علی اللہ نہیں تو اور کیا ہے؟۔
تین افتراء تو یہ ہوئے
دوم ،سوم ...... محمدی بیگم سے نکاح کے متعلق مرزا قادیانی نے بڑے پر زور صاف وصریح دعوے کئے تھے اور ان دعوؤں کی بنیاد (متعدد الہامات پر رکھی تھی) مگر مرزا قادیانی اس حسرت کو دل میں ہی لے کر اس دنیا سے چل دیئے اور محمدی بیگم بفضلہ تعالیٰ اپنے خاوند کے گھر میں اب تک موجود ہے۔ اس پیش گوئی کے متعلق چند افتراء علی اللہ یہاں نقل کئے جاتے ہیں۔
چہارم ...... "اس خدائے قادر وحکیم مطلق نے مجھے فرمایا کہ اس شخص (احمد بیگ) کی دختر کلاں کے نکاح کے لئے سلسلہ جنبانی کر۔"
(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨٦، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
چونکہ نکاح نہیں ہوا اس لئے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی سے ایسا نہیں کہا تھا۔ اگر کہا ہوتا تو پورا بھی کرتا۔ لہٰذا افتراء ہے۔
پنجم ........ "ان دنوں میں جو زیادہ تصریح اور تفصیل کے لئے بار بار توجہ کی گئی تو معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ نے یہ مقرر کر رکھا ہے کہ وہ مکتوب الیہ کی دختر کلاں کو جس کی نسبت درخواست کی گئی تھی۔ ہر ایک روک دور کرنے کے بعد انجام کار اسی عاجز کے نکاح میں لاوے گا"
(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨٦، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
٨٢
یہ الہام بھی افتراء علی اللہ ثابت ہوا۔ خدا نے ہرگز ایسا مقرر نہیں کیا تھا۔ بلکہ یہ مرزا قادیانی کی خواہش نفسانی کے اثرات تھے کیونکہ نکاح نہیں ہوا۔
ششم...... ”بلکہ اصل امر برحال خود قائم است وہیچ کس باحیلہ خود او را رد نتواں کرد. وایں تقدیر از خدائے بزرگ تقدیر مبرم است وعنقریب وقت آں خواهد آمد. پس قسم آں خدائیکہ حضرت محمد ﷺ را برائے ما مبعوث فرمود . واورا بہترین مخلوقات گردانید کہ ایں حق است وعنقریب خواهی دید. ومن ایں را برائے صدق خود یا کذب خود معیار می گردانم ومن نگفتم الا بعد زانکہ از رب خود خبردادہ شدم“
(انجام آتھم ص ٢٢٣، خزائن ج ١١ ص ٢٢٢)
”(بروئے شرح مرزا قادیانی) اصل بات اپنے حال پر قائم ہے (یعنی احمد بیگ کے داماد کا مرزا قادیانی کے سامنے مرنا اور محمدی کا مرزا قادیانی کے نکاح میں آنا) کوئی شخص کسی تدبیر سے اسے مٹا نہیں سکتا۔ خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ تقدیر مبرم ہے جو بغیر پوری ہوئے ٹل ہی نہیں سکتی اور اس کے پورا ہونے کا وقت عنقریب ہے۔ اس خدا کی قسم ہے جس نے حضرت محمدﷺ کو ہمارا نبی کیا اور ساری مخلوقات سے انہیں بہتر بنایا جو میں کہہ رہا ہوں وہ حق ہے۔ عنقریب تو اسے دیکھ لے گا۔ یعنی احمد بیگ کے داماد کے مرنے میں جو کچھ تاخیر ہوئی وہ ایک وجہ سے ہوئی مگر میرے سامنے اس کا مر جانا اس میں شبہ نہیں ہے۔ عنقریب تو دیکھ لے گا کہ وہ میرے سامنے مر گیا اور میں اپنے سچے یا جھوٹے ہونے کی کسوٹی اسے ٹھہراتا ہوں۔ اگر وہ میرے سامنے مر گیا تو میں سچا ہوں اور اگر ایسا نہ ہوا اور میں اس کے سامنے مر گیا تو میں جھوٹا ہوں ١؎ اور جس امر کی اطلاع اللہ تعالیٰ نے دی ہے وہی میں نے کہا ہے اس کے سوائے کچھ نہیں کہا۔“
مندرجہ بالا عبارت کی کسی شرح کی ضرورت نہیں۔ مرزا قادیانی کی یہ ساری الہامی عبارت جس میں اللہ تعالیٰ کی قسم بھی شامل ہے۔ بالکل غلط نکلی پس یہ محض افتراء علی اللہ تھا اور اس کی کچھ اصلیت نہ تھی۔ احمد بیگ کا داماد اب تک زندہ ہے۔ محض مرزا قادیانی کا نفس اس کی موت چاہتا تھا۔ جو مرزا قادیانی پر ہی وارد ہوئی۔
١؎ مرزائی صاحبان دیکھتے ہو کس صفائی سے معیار صدق وکذب قائم ہوا تھا۔ فرمائیے کون مر گیا؟ اور کس کے سامنے۔ اس بیان پر تو تصدیق بھی اللہ تعالیٰ کی ہے۔ پس کہہ دو کہ مرزا قادیانی جھوٹا تھا۔
٨٣
ہفتم...... ”کذبوا بآیاتی وکانوا بھا یستھزؤن ٠ فسیکفیکھم اللّٰہ ویردھا الیک امر من لدنا انا کنا فاعلین زوجناکھا! انہوں نے میرے نشانوں کی تکذیب کی اور ٹھٹھا کیا سو خدا ان کے لئے تجھے کفایت کرے گا اور اس عورت کو تیری طرف واپس لائے گا۔ یہ امر ہماری طرف سے ہے اور ہم ہی کرنے والے ہیں۔ واپسی کے بعد ہم نے نکاح کر دیا۔“
(انجام آتھم ص٦٠، خزائن ج١١ ص ایضاً)
ان الہامات کی عبارت صاف ہے جس کا مطلب ایک ہی ہے کہ محمدی بیگم کا نکاح ضرور مرزا قادیانی سے ہوگا۔ بلکہ مرزا قادیانی کا خدا کہتا ہے کہ میں نے خود تیرا نکاح محمدی بیگم سے کر دیا۔ چونکہ مرزا قادیانی سے نکاح نہیں ہوا۔ اس لئے یہ سب الہامات بھی افتراء علی اللّٰہ ثابت ہوئے۔ ہاں یہ امر دریافت طلب ہے کہ یہ آسمانی نکاح محمدی بیگم کے نکاح (ہمراہ سلطان محمد بیگ) سے پہلے ہوا تھا یا بعد۔ اگر پہلے ہوا تھا تو مرزا قادیانی کی وہ زوجہ مکرمہ معظمہ جس کا نکاح خود رب العزت نے پڑھایا اور الہام میں صاف فرما دیا کہ زوجناکھا یعنی ہم نے نکاح کر کے محمدی بیگم کو تیری بیوی بنا دیا وہ بیوی مرزا قادیانی کی خدمت میں ایک دن بھی نہ آئی تمام عمر دوسرا شخص ہی بقول مولانا ثناء اللہ، مرزا قادیانی کی چھاتی پر مونگ دلتا رہا۔ یہ مرزا قادیانی جیسے رسول اور اس کی امت کے لئے بڑی شرم اور غیرت کا مقام ہے اور اگر محمدی بیگم کے نکاح کے بعد یہ آسمانی نکاح پڑھایا گیا تو کس شریعت و قانون کی رو سے کسی کی منکوحہ بیوی سے نکاح جائز ہو سکتا ہے۔ کوئی مذہب بھی اس کی اجازت نہیں دیتا۔ پھر مرزا قادیانی کا خدا ایک فعل عبث کا مرتکب ہوتا ہے۔ جس کے نتیجہ سے وہ لاعلم تھا۔ سچے خدا کے تو یہ افعال نہیں ہو سکتے کہ اپنے رسول کو ساری عمر ایک عورت کے نکاح کا منتظر رکھ کر بالآخر بے نیل مرام اس کا خاتمہ کر دے اور وہ رسول یہ شعر پڑھتا ہوا دنیا سے بصد حسرت و یاس سدھارے۔
قدرت خدا کی درد کہیں، دوا کہیں
ہشتم...... پیش گوئی نکاح کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ: ”جب یہ پیش گوئی معلوم ہوئی اور ابھی پوری نہیں ہوئی تھی تو اس کے بعد اس عاجز کو ایک سخت بیماری آئی۔ یہاں تک کہ قریب موت کے نوبت پہنچ گئی۔ بلکہ موت کو سامنے دیکھ کر
٨٤
وصیت بھی کر دی گئی ۔ اس وقت گویا یہ پیش گوئی ١؎ آنکھوں کے سامنے آ گئی ۔ اور معلوم ہو رہا تھا کہ اب آخری دم ہے اور کل جنازہ نکلنے والا ہے ۔ تب میں نے اس پیش گوئی کی نسبت خیال کیا کہ شاید اس کے اور معنے ہوں گے ۔ جو میں سمجھ نہیں سکا تب اسی حالت قریب الموت میں مجھے الہام ہوا ۔ ” الحق من ربك فلا تكونن من الممترين “ یعنی یہ بات تیرے رب کی طرف سے سچ ہے تو کیوں شک کرتا ہے ٢؎ سو اس وقت مجھ پر یہ بھید کھلا کہ کیوں خدا تعالیٰ نے اپنے رسول کریم کو قرآن کریم میں کہا کہ تو شک مت کر سو میں نے سمجھ لیا کہ درحقیقت یہ آیت ایسے ہی نازک وقت سے خاص ہے۔ جیسے یہ وقت تنگی اور ناامیدی کا میرے پر ہے۔
(ازالہ اوہام ص ٣٩٨، خزائن ج ٣ ص ٣٠٥، ٣٠٦)
اس واقعہ سے ثابت ہے کہ مرزا قادیانی کو اس نزع کے عالم میں بھی آیت قرآنی الہام ہو کر اس پیش گوئی کا یہی مطلب بتلایا گیا۔ جو مرزا قادیانی پہلے بار بار لکھ چکے تھے۔ یعنی مرزا سلطان محمد کا مرنا اور اس کی بیوہ محمدی بیگم کا مرزا قادیانی کے نکاح میں آنا۔ لیکن نکاح نہیں ہوا تو یہ الہام بھی افتراء علی اللہ ثابت ہوا۔
نہم ...... اسی نکاح کے متعلق ضمیمہ انجام آتھم میں لکھتے ہیں کہ : ” براہین احمدیہ میں بھی اس وقت سے سترہ برس پہلے اس پیش گوئی کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے جو اس وقت میرے پر کھولا گیا ہے اور وہ الہام یہ ہے جو ( براہین احمدیہ ص ٤٩٦) میں مذکور ہے۔ ” يـــا ادم اسكن انت وزوجك الجنة يا مريم اسكن انت وزوجك الجنة . يا احمد اسكن انت وزوجك الجنة! اس جگہ تین جگہ زوج کا لفظ آیا اور تین نام اس عاجز کے رکھے گئے ۔ پہلا نام آدم ! یہ وہ ابتدائی نام ہے جب کہ خدائے تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے اس عاجز کو روحانی وجود بخشا ۔ اس وقت پہلی زوجہ کا ذکر فرمایا ۔ پھر دوسری زوجہ کے وقت میں
١؎ محمدی بیگم کے نکاح کی حسرت مرزا قادیانی کا کوئی قصور نہیں۔ ہر شخص اپنی دلی آرزو کا مرتے وقت اسی طرح خیال کیا کرتا ہے۔
٢؎ مرزائی جو اس پیش گوئی میں مرزا قادیانی کی اجتہادی غلطی مانتے ہیں وہ اس آیت قرآنی کے الہام پر غور کریں کہ اس کے بعد کون سی کسر رہی۔ کیا اس الہام کی رو سے مرزا قادیانی کا اجتہاد صحیح نہیں ٹھہرتا ؟۔
٨٥
مریم نام رکھا کیونکہ اس وقت مبارک اولاد دی گئی۔ جس کو حضرت مسیح ١؎ سے مشابہت ملی ...... تیسری زوجہ جس کا انتظار ہے اس کے ساتھ احمد کا لفظ شامل کیا گیا اور یہ لفظ احمد اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس وقت حمد اور تعریف ہو گی۔ یہ ایک چھپی ہوئی پیش گوئی ہے جس کا سر اس وقت خدا تعالیٰ نے مجھ پر کھول دیا ۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج ١١ ص ٣٣٨)
دیکھئے مرزا قادیانی اپنے خیال خام اور خواہش نفس کو کن کن رنگ آمیزیوں اور عظمت وشوکت سے بیان کرتے ہیں۔ لیکن اصل حالت کیا ہے؟۔ پہلی بیوی جس کے ساتھ جنت میں رہنے کا الہام تھا۔ اس سے تو آپ نے قطع تعلق کر لیا۔ بلکہ اس کے بیٹوں مرزا سلطان احمد اور فضل احمد کو بھی عاق کر دیا۔ کیونکہ یہ لوگ محمدی بیگم کے حصول میں مرزا قادیانی کے ممد و معاون نہ بنے۔ بلکہ سد راہ ہو گئے ۔ (دیکھو اشتہار نصرت دین و قطع تعلق از اقارب مخالف دین) جب یہ بیوی بقول مرزا قادیانی بے دینی کی وجہ سے مطلقہ ہو چکی تو الہام اول غلط ہو گیا۔ کیونکہ اب مرزا قادیانی سے اس کی معیت نہیں ہو سکتی۔ اس کی بے دینی کی وجہ سے رسول نے اس کو مطلقہ ٹھہرا کر علیحدہ کر دیا تو جنت میں وہ مرزا قادیانی کے ساتھ کس طرح رہ سکتی ہے۔
تیسری منتظرہ بیوی نے تو مرزا قادیانی کو ایسا رسوا اور بدنام کیا جس کی انتہا نہیں۔ دنیا کو معلوم ہے کہ وہ اس بیوی کے ملنے سے محروم رہے۔ پس اس الہام نمبر ٣ کی غلطی میں بھی کیا شبہ رہا اور اس کی تشریح میں جو الہام کی عظمت بڑھانے کو لکھ دیا تھا کہ :
”یہ ایک چھپی ہوئی پیش گوئی ہے جس کا سر اس وقت خدا تعالیٰ نے مجھ پر کھول دیا ۔“ یہ بھی غلط اور افتراء علی اللہ ثابت ہوا۔ گویا وہ الہام اور ایک قول سراسر افتراء علی اللہ ثابت ہوئے اور بجائے حمد ہونے کے چاروں طرف سے وہ لے دے ہوئی اور ہو رہی ہے کہ الامان اس پیش گوئی کا بیان سننے سے بھی مرزائی صاحبان کی روح پر صدمہ ٢؎ ہوتا ہے۔ جب نکاح نہ ہوا تو آپ احمد بھی نہ ہوئے جس کا دعویٰ تھا۔
١؎ مثیل مسیح کا دعویٰ تو آپ نے خود کیا یہ اولاد کو مثیل مسیح بتاتے ہیں۔ یا للعجب!
٢؎ جیسا کہ ٢٥ بھادوں ١٩٧٨ (مرزائی اشتہار میں بکرمی تاریخ ہی درج تھی) کو مقام پٹیالہ بھرے جلسہ میں مولوی غلام رسول آف راجیکے اور مولوی ابراہیم بقاپوری مبلغین مرزائیت اور ان کے حواریوں نے شور و غوغا کر کے مجھے اس پیش گوئی کا بیان کرنے سے روک دیا کیونکہ ڈھول کی پول کھلتی تھی۔
٨٦
وہم ....... اس ایک ہی پیش گوئی کے متعلق اور بھی کئی جھوٹے الہام اور افتراء علی اللہ ہیں۔ جنہیں مناسبت کتاب ہذا کے خیال سے نظر انداز کر کے ایک افتراء علی الرسول ﷺ بھی درج کیا جاتا ہے۔
چنانچہ مرزا قادیانی (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧) میں لکھتے ہیں کہ: ”اس پیش گوئی کی تصدیق کے لئے جناب رسول اللہ ﷺ نے بھی پہلے ایک پیش گوئی فرمائی ہے کہ ’یتزوج ویولدلہ‘ یعنی وہ مسیح موعود بیوی کرے گا اور نیز وہ صاحب اولاد ہوگا۔ اب ظاہر ہے کہ تزوج اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے۔ اولاد بھی ہوتی ہے اس میں کچھ خوبی نہیں بلکہ تزوج سے مراد خاص تزوج ہے جو بطور نشان ہوگا اور اولاد سے مراد وہ خاص اولاد ہے جس کی نسبت اس عاجز کی پیش گوئی موجود ہے۔ گویا اس جگہ رسول اللہ ﷺ ان سیاہ دل منکروں کو ان کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ یہ باتیں ضروری پوری ہوں گی ۔“
جس طرح ساون کے مہینہ میں پیدا ہونے والے کو چاروں طرف سبزہ ہی سبزہ نظر آنے کی مثل مشہور ہے۔ مرزا قادیانی بھی ایسے فنا فی محمدی بیگم ہو گئے تھے کہ ان کو ہر ایک طرف سے سوائے اس نکاح کے اور کچھ نہیں سوجھتا تھا۔
ہوا نہ ضبط وہ چلا اٹھا کہ آ لیلیٰ
اس حدیث سے بھی محمدی بیگم کی بشارت نکال ہی لی اور الہامات متواترہ کے ساتھ اس پیش گوئی کو حدیث رسول اللہ ﷺ سے مزید مصدق و مستند کر دیا۔ لیکن الہامات کی طرح یہ بیان بھی غلط اور محض غلط نکلا اور محمدی بیگم سے نکاح نہ ہونے کی وجہ سے حضرت رسول اللہ ﷺ کی حدیث سے استدلال بھی افتراء علی الرسول ﷺ ثابت ہوا۔
مرزائی صاحبان بتلائیں کہ کیا یہ مرزا قادیانی کا عظیم الشان کذب اور افتراء نہیں ہے؟۔ اگر کذب ہے تو تسلیم کریں کہ مرزا قادیانی مسیح موعود نہ تھے۔ اور ان کا دعویٰ غلط تھا اور نیز وہ سیاہ دل بھی تھے۔
دوسرے مرزا قادیانی کے کلام سے ذات والا صفات حضرت محمد ﷺ پر کیسا صریح الزام عائد ہوتا ہے کہ حضور ﷺ نے پیش گوئی فرمائی اور وہ جھوٹ نکلی کیونکہ اگر مرزا قادیانی کو مسیح مانا جائے تو دشمنان اسلام اعلانیہ آنحضرت ﷺ کے قول کو جھوٹا کہہ سکتے ہیں۔ جس کا جماعت
٨٧
مرزائیہ کے پاس کوئی جواب نہیں۔ مگر افسوس ہے کہ یہ لوگ مرزا قادیانی کو الزام سے بچانے کے لئے حضرت رسالت مآب ﷺ پر بھی الزام لگانے سے نہیں چوکتے۔ ناظرین کتاب ہذا کی تقویت ایمان کے لئے اصل حدیث بیان کر کے اس سے مرزا قادیانی کا کاذب ہونا بھی ظاہر کیا جاتا ہے اصل حدیث یوں ہے۔
”عن عبد الله ابن عمرؓ قال قال رسول الله ﷺ ينزل عيسى ابن مريم ١؎ الى الارض فيتزوج ويولدله ويمكث خمساً واربعين سنة ثم يموت فیدفن معى فى قبرى فاقوم وعيسى ابن مريم من قبر واحد بين ابوبكر وعمر (مشكوة ص ٤٨٠، باب نزول عيسى عليه السلام، كتاب الوفا في احوال المصطفى باب فى حشر عيسى بن مريم ص ٨٤٢) ”روایت ہے عبداللہ بن عمرؓ سے کہا فرمایا رسول خدا ﷺ نے اتریں گے عیسیٰ بیٹے مریم کے زمین کی طرف پس نکاح کریں گے اور پیدا کی جائے گی ان کے لئے اولاد اور ٹھہریں گے زمین پر پینتالیس سال پھر مریں گے اور میرے مقبرہ میں دفن کئے جائیں گے۔ پس اٹھوں گا میں اور عیسیٰ ایک مقبرہ میں درمیان ابو بکرؓ و عمرؓ کے۔ ﴾
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی نبوت کے زمانہ میں کوئی سامان دنیوی نہیں کیا تھا۔ نہ نکاح کیا اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ جب دوسری مرتبہ وہ دنیا میں آئیں گے تو نکاح کریں گے۔ کیونکہ شریعت محمدیہ کے پیرو ہوں گے۔ بعض لوگ جیسے کہ مرزا قادیانی اور ان کے مرید معترض ہیں کہ اتنا لمبا عرصہ گذر جانے پر وہ نہایت ضعیف العمر ہو جائیں گے۔ اس حدیث میں ان لوگوں کا بھی جواب آگیا ہے کہ انحطاط اور تغیر حالت عالم دنیا کا خاصہ ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوسرے عالم میں ہیں۔ وہاں ان تغیرات کا کچھ پتہ نہیں۔ جو یہاں شب و روز دیکھے جاتے ہیں۔ حضرت مسیح علیہ السلام جس حالت میں اٹھائے گئے تھے۔ اسی حالت میں نازل ہوں گے۔ یہ نہ سمجھو کہ کبر سنی کی وجہ سے وہ بوڑھے اور کمزور ہو گئے ہوں گے۔ بلکہ نکاح کریں گے اور ان کے اولاد بھی ہو گی۔ یہ اشارہ ہے ”يَتَزَوَّجُ وَيُولَدُلَهُ“ میں۔
پھر ارشاد ہوا کہ بعد فوت ہونے کے وہ میرے مقبرہ میں دفن ہوں گے اور قیامت کو ہم دونوں اس طرح اٹھیں گے کہ ابو بکرؓ و عمرؓ ہمارے دائیں اور بائیں ہوں گے۔
١؎ الی الارض کا لفظ صاف ظاہر کرتا ہے کہ نزول من السماء ہوگا۔ منکرین حیات مسیح غور کریں۔
٨٨
مرزا قادیانی نے اس حدیث کا ایک ٹکڑا بیان کر کے حدیث کی صداقت کو مان لیا ہے۔ پھر مرزائی بتائیں کہ حدیث کی باتوں سے کیوں انکار ہے۔ خصوصاً الی الارض کا لفظ صاف ظاہر کر رہا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر موجود ہیں۔ جو زمین پر نازل ہوں گے۔ اگر کہیں محمدی بیگم سے نکاح ہو جاتا تو حدیث کی معلوم نہیں کیا کیا تاویلیں کی جاتیں۔ لیکن اب جب کہ مرزا قادیانی کا یہ نکاح بھی نہ ہوا ۔ تو اس حدیث کی رو سے وہ ڈبل کاذب ثابت ہوئے۔ ”تلك عشرة كاملة“
مرزائی دوستو ! مرزا قادیانی کی افتراء پردازیوں کے انبار میں سے صرف دو باتوں کے متعلق یہ دس کھلے کھلے افتراء بیان کئے گئے ہیں۔ ان پر غور کرو اور آیت مندرجہ عنوان فصل ہذا کی دوبارہ تلاوت کرو اور پھر سوچو کہ مضمون آیت کی رو سے مرزا قادیانی کتنے بڑے ظالم ثابت ہوتے ہیں اور ظالموں کی جو سزا اللہ تعالیٰ نے مقرر کی ہے اس سے بھی تم بے خبر نہیں ہو۔ پھر ایسے ظالم کی معیت سے تم کیا نفع حاصل کر سکتے ہو؟۔
آیت کے آخری حصہ میں ظالموں کے حسرت ناک انجام کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی مقام لاہور سفر کی حالت میں بمقتضائے ۔
خلاف توقع اور دفعتاً نہایت حسرت و یاس کے عالم میں صرف گیارہ گھنٹہ بیمار رہ کر چل بسے اور جو آسمانی بلائیں ہیضہ، طاعون وغیرہ اپنے مخالفین کے لئے طلب کیا کرتے تھے اس میں خود گرفتار ہو گئے ۔ کیونکہ مرض ہیضہ ان کی موت کا باعث ہوا کسی نے تاریخ وفات لکھی ہے۔
کالرہ سے خود مسیحا مر گیا
(١٣٢٦ھ)
ساتویں فصل
دس جھوٹ اور دھوکے
سچ بھی اس کا جھوٹ مانا جائے گا
دروغ اے برادر مگو زینہار
کہ کاذب بود خوار و بے اعتبار
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے جھوٹوں پر لعنت فرمائی ہے۔ چنانچہ فرمایا کہ: ”لعنة الله على الكاذبين“ حضرت رسول اکرم ﷺ نے بھی جھوٹے کو منافق
٨٩
فرمایا ہے اور منافقوں کی سزا قرآن کریم میں اس طرح بیان فرمائی گئی ہے۔ ”ان المنافقین فی الدرک الاسفل من النار“ ”منافق لوگ دوزخ کے سب سے نیچے کے طبقے میں ہوں گے۔“ یعنی جہاں عذاب سب سے زیادہ ہوگا۔
مرزا قادیانی نے بھی جھوٹ کی بہت مذمت کی ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں کہ:
- ١....... ”جھوٹ بولنے سے بدتر دنیا میں اور کوئی برا کام نہیں۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٢٦، خزائن ج ٢٢ ص ٤٥٩)
- ٢....... ”جھوٹ بولنا، بے ایمانی اور گوہ کھانے کے برابر ہے۔“ ملخصاً
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٠، خزائن ج ١١ ص ٣٣٤)
- ٣....... ”ظاہر ہے کہ جب کوئی ایک بات میں جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر دوسری
باتوں میں بھی اس پر اعتبار نہیں رہتا۔“
(چشمہ معرفت ص ٢٢٢، خزائن ج ٢٣ ص ٢٣١)
خود بدولت چونکہ پیغمبری کے مدعی تھے۔ لہٰذا عوام پر اعتبار قائم کرنے کے لئے کہتے ہیں۔
- ٤....... ”جھوٹ جیسا لعنتی کام اور کوئی نہیں۔“
(ملفوظات ج ٥ ص ٦٢)
لیکن جس طرح ہاتھی کے دانت کھانے کے اور ہوتے ہیں دکھانے کے اور، مرزا قادیانی کی تحریروں میں بھی جھوٹ کی بہت ملاوٹ پائی جاتی ہے اور اس کے علاوہ نہایت بے باکی سے مرزا قادیانی نے کتب آسمانی کے حوالہ جات دینے میں بھی کئی جگہ دھوکے دئے ہیں۔ فصل ہذا میں اس کی کچھ مثالیں درج کی جاتی ہیں۔
- ١....... (اعجاز احمدی ص ١، خزائن ج ١٩ ص ١٠٧) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ ”اگر ان
پیش گوئیوں کے پورا ہونے کے تمام گواہ اکٹھے کئے جائیں تو میں خیال کرتا ہوں کہ وہ ساٹھ لاکھ سے بھی زیادہ ہوں گے۔“
آپ کی پیش گوئیوں کا حال جو ہوا ہے وہ فصل نمبر ١٠ کتاب ہذا سے ظاہر ہے اور صدق و کذب کے معیار اور تحدی کی تو ایک پیش گوئی بھی پوری نہیں ہوئی۔ اول تو یہی جھوٹ ہے کہ غلط پیش گوئیوں کو پورا ہونا کہتے ہیں۔ دوسرے یہ ساٹھ لاکھ کی گپ بھی قابل داد ہے۔ خود اپنی کتاب (نزول مسیح ص ١٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٤٩٨) میں لکھتے ہیں کہ: ”میرے مریدوں کی تعداد ستر ہزار ہے۔“ اب ظاہر ہے کہ مرید ہی گواہ ہو سکتے ہیں۔ جب ساٹھ لاکھ مرید نہیں تو ساٹھ لاکھ گواہ کہاں سے ہو گئے۔ پھر یہ کراماتی جھوٹ نہیں تو اور کیا ہے؟۔
٩٠
- ٢...... (شہادۃ القرآن ص ٤١، خزائن ج ٦ ص ٣٣٧) میں لکھتے ہیں کہ:
”مثلاً بخاری کی وہ حدیثیں جن میں آخری زمانہ میں بعض خلیفوں کی نسبت خبر دی گئی ہے ۔ خاص کر وہ خلیفہ جس کی نسبت بخاری میں لکھا ہے کہ آسمان سے اس کی نسبت آواز آئے گی کہ ھذا خلیفۃ اللہ المہدی ۔ اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے ۔ جو ایسی کتاب میں درج ہے جو ’اصح الکتاب بعد کتاب اللہ‘ ہے۔“
مرزا قادیانی نے یہ بالکل جھوٹ لکھا ہے کہ ھذا خلیفۃ اللہ المہدی بخاری کی حدیث ہے ۔ کوئی مرزائی قادیانی ہمت کر کے بخاری میں یہ دکھائیں اور اپنے مرشد کے سر سے جھوٹ کی لعنت دور کریں ۔ یہ فقرہ محض عوام کو دھوکہ دے کر گمراہ کرنے کے لئے لکھا گیا ہے ۔ مرزائی صاحبان کو بھی اس موقعہ پر ”لعنۃ اللہ علی الکاذبین“ کی تلاوت کرنی چاہئے ۔
- ٣...... (اربعین نمبر ٣ ص ٩، خزائن ج ١٧ ص ٣٩٤) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ:
”مولوی غلام دستگیر قصوری نے اپنی کتاب میں اور مولوی اسماعیل علیگڑھ والے نے میری نسبت قطعی حکم لگایا کہ اگر وہ کاذب ہے تو ہم سے پہلے مرے گا۔“ یہ بھی محض سفید جھوٹ ہے ۔ ہر دو مولوی صاحبان کی تصانیف میں یہ بات کہیں درج نہیں ہے کوئی مرزائی ثابت کرے۔
- ٤...... (حقیقۃ الوحی ص ٢٩، خزائن ج ٢٢ ص ٣١) میں لکھتے ہیں کہ:
یہ بات بالکل غیر معقول ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی ایسا نبی آنے والا ہے کہ ”لوگ نماز کے لئے مساجد کی طرف دوڑیں گے تو وہ کلیسا کی طرف بھاگے گا اور جب لوگ قرآن شریف پڑھیں گے تو وہ انجیل کھول بیٹھے گا اور جب لوگ عبادت کے وقت بیت اللہ کی طرف منہ کریں گے تو وہ بیت المقدس کی طرف متوجہ ہو گا اور شراب پئے گا اور سور کا گوشت کھائے گا اور اسلام کے حلال وحرام کی کچھ پرواہ نہیں کرے گا۔“
اس عبارت میں چھ فقرے ہیں جو سب کے سب جھوٹے ہیں ۔ مسلمانوں کا عقیدہ تیرہ سو برس سے یہ چلا آتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام مکرر نزول کے بعد شریعت محمدی پر عمل کریں گے ۔ پھر معلوم نہیں کہ اس کے خلاف مرزا قادیانی نے کس کتاب سے یہ فقرے نقل کر دیئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سور کھائیں گے اور شراب پئیں گے ۔ کیا کوئی مرزائی بتا سکتا ہے؟ ۔ ہرگز نہیں ۔ پس یہ سب جھوٹ باتوں کا مجموعہ اور محض ہرزہ سرائی ہے اور ایجاد بندہ اگرچہ کندہ کی مصداق !
٩١
- ٥ ...... مسٹر عبداللہ آتھم عیسائی کی موت کے متعلق ان الفاظ میں پیش گوئی تھی۔
- الف ...... ”جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور سچے خدا کو چھوڑ رہا ہے اور عاجز
انسان کو خدا بنارہا ہے۔ وہ انہی دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لے کر یعنی پندرہ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جائے گا اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی ۔ بشرط یہ کہ حق کی طرف رجوع نہ کرے۔“
(جنگ مقدس ص٢١٠، خزائن ج٦ ص٢٩٢)
- ب ...... ”آتھم کی بابت پیش گوئی کے لفظ یہ تھے کہ وہ پندرہ مہینے میں ہلاک ہو
گا۔“
(حقیقت الوحی ص ١٨٥، خزائن ج٢٢ ص١٩٢)
ان دونوں حوالوں کا مطلب یہ ہے کہ آتھم پندرہ ماہ میں مرجائے گا۔ لیکن اس صاف صاف بیان کے برخلاف (کشتی نوح ص٦، خزائن ج١٩ ص٦) پر تحریر کرتے ہیں کہ ”پیش گوئی میں یہ بیان تھا کہ جو شخص اپنے عقیدے کی رو سے جھوٹا ہے وہ پہلے مرے گا۔“
اب دیکھ لیجئے کہاں پندرہ ماہ کا تعین اور کہاں جھوٹے کا سچے سے پہلے مرنا۔ یہ پچھلا فقرہ بالکل جھوٹ اس لئے تراشا گیا کہ آتھم میعاد مقررہ میں فوت نہیں ہوا تھا۔ اس سے پیش گوئی کے کذب پر پردہ پڑجائے گا۔ مگر اس ابلہ فریبی کا شکار مرزائی ہی ہو سکتے ہیں۔ جن کو اللہ تعالیٰ نے نور ایمان بخشا ہے۔ وہ اس قسم کی چالاکی کو فوراً تاڑ لیتے ہیں۔
- ٦ ...... جن دنوں مولوی عبدالکریم مرزا قادیانی کے فاروق ثانی مرض الموت میں
مبتلا ہوئے ان کی صحت کے لئے مرزا قادیانی نے بے حد دعائیں کیں۔ جن کا حال الحکم ٣٠؍اگست ١٩٠٥ء ، ٥؍ستمبر ، ١٠؍ستمبر ، ٢٤؍ستمبر ، ٣٠؍ستمبر وغیرہ سے ظاہر ہے۔ ان دعاؤں میں مرزا قادیانی کو دعائی قبولیت اور ان کی صحت کی بشارت بھی دو بار ملی ۔ (مفصل دیکھو نیز فصل ہشتم کتاب ہذا، الحکم ١٠؍اکتوبر ١٩٠٥ء ص١٣، ٢٤؍ستمبر ١٩٠٥ء) جن میں بشارات صحت درج ہیں۔ لیکن مولوی عبدالکریم ١١؍اکتوبر ١٩٠٥ء کو مر گئے اور قبولیت دعا کی بشارات غلط ثابت ہوئیں۔
ان بشارات کے مقابلہ میں مرزا قادیانی کا سفید جھوٹ ملاحظہ ہو:
”ایک مخلص دوست یعنی مولوی عبدالکریم اس بیماری کاربنکل یعنی سرطان سے فوت ہو گئے تھے۔ ان کے لئے میں نے بہت دعا کی تھی۔ مگر ایک الہام بھی ان کے لئے تسلی بخش نہ تھا۔“
(حقیقت الوحی ص٣٢٦، خزائن ج٢٢ ص٣٣٩)
اوپر بجائے ایک کے دو الہاموں کے حوالے درج کر دئے ہیں۔ ان کے مقابلہ میں حقیقت الوحی کا بیان کتنا صاف جھوٹ ہے!!
٩٢
- ٧ ...... جب نکاح والی
اور قلبی صدمہ کے علاوہ مرزا قادیانی کو وقت کی تصنیف ( تتمہ حقیقت الوحی ص٣٤ ”نکاح کے لئے ایک شرط گیا یا تاخیر میں پڑ گیا۔“ آگے چل کر ”کیا یونس علیہ السلام کی آسمان پر یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ چالیس ہوا۔ حالانکہ اس میں کسی شرط کی تصریح کیا اس پر مشکل تھا کہ اس نکاح بھی من اس قول میں مرزا قادیانی بولے ہیں۔ اسی طرح (ضمیمہ انجام آتھم ”میں نے حدیثوں اور حدیثوں اور آسمانی کتابوں سے نقل مرزا قادیانی کے نکاح کی پیش گوئی فرق ہے۔ مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ چالیس دن تک عذاب نازل ہوگا۔ حدیث میں۔ نہ توریت وانجیل میں۔ نہیں تو اور کیا ہے؟۔ جب اس فیصلہ
١؎ اس شرط کی تفصیل اور مشرح اور مسکت جواب فیصلہ آس شائقین اس کتاب کے ہر سہ حصص مونگیری علیہ الرحمۃ (جو احتساب قادی کتاب کی فصل ششم کے نمبر ١٤، ١٠ کو اس موضوع پر ہمارا ایک شامل اشاعت ہے۔ فقیر مرتب )
- ٧......... جب نکاح والی پیش گوئی کے پورا ہونے سے مرزا قادیانی مایوس ہو گئے
اور قلبی صدمہ کے علاوہ مرزا قادیانی کو اعتراضوں کی بوچھاڑ اور خوف کا خیال ہوا۔ تو آپ آخری وقت کی تصنیف (تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٢، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٠) میں لکھتے ہیں کہ:
”نکاح کے لئے ایک شرط تھی جب ان لوگوں نے شرط ١؎ کو پورا کر دیا تو نکاح فسخ ہو گیا یا تاخیر میں پڑ گیا۔“ آگے چل کر کہتے ہیں کہ:
”کیا یونس علیہ السلام کی پیش گوئی نکاح پڑھنے سے کچھ کم تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ آسمان پر یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ چالیس دن تک اس قوم پر عذاب نازل ہوگا۔ مگر عذاب نازل نہ ہوا۔ حالانکہ اس میں کسی شرط کی تصریح نہ تھی۔ پس وہ خدا جس نے اپنا ایسا ناطق فیصلہ منسوخ کر دیا کیا اس پر مشکل تھا کہ اس نکاح بھی منسوخ یا کسی اور وقت پر ڈال دے۔“
اس قول میں مرزا قادیانی نے پیٹ بھر کر جھوٹ بولا ہے ۔ بلکہ ایک نہیں کئی جھوٹ بولے ہیں۔ اسی طرح (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج ١١ ص ٣٣٨) میں لکھ دیا ہے کہ:
”میں نے حدیثوں اور آسمانی کتابوں کو آگے رکھ دیا۔ یعنی حضرت یونس کا قصہ حدیثوں اور آسمانی کتابوں سے نقل کیا ہے۔“ اب ذرا اس جھوٹ کی تفصیل ملاحظہ ہو۔ مرزا قادیانی کے نکاح کی پیش گوئی اور حضرت یونس علیہ السلام کی پیش گوئی میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ آسمان پر فیصلہ ہو چکا ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم پر چالیس دن تک عذاب نازل ہوگا۔ محض غلط ہے۔ اس فیصلہ کا ذکر نہ قرآن کریم میں ہے نہ کسی صحیح حدیث میں۔ نہ توریت وانجیل میں۔ پھر یہ قطعی فیصلہ مرزا قادیانی کی زبان درازی اور دروغ گوئی نہیں تو اور کیا ہے؟ ۔ جب اس فیصلہ کا ذکر کسی آسمانی کتاب میں نہیں اور کسی صحیح حدیث میں نہیں تو
١؎ اس شرط کی تفصیل اور مرزا قادیانی اور ان کے پسماندگان کی توجیہہ متعلق عدم نکاح کا مشرح اور مسکت جواب فیصلہ آسمانی مصنفہ علامہ سید محمد علی مونگیری میں دیا گیا ہے۔ شائقین اس کتاب کے ہر سہ حصص کو ضرور ملاحظہ کریں۔ تینوں رسائل بمع دیگر رسائل حضرت مونگیری علیہ الرحمۃ (جو احتساب قادیانیت ج ٧ میں شائع ہو چکے ہیں۔ فقیر مرتب) اور ہماری اس کتاب کی فصل ششم کے نمبر ٤ تا ١٠ کو دیکھیں کہ کیا ان میں شرط پائی جاتی ہے۔
اسی موضوع پر ہمارا ایک رسالہ تحقیق لاثانی بھی تیار ہو چکا ہے۔ (یہ کتاب بھی اس جلد میں شامل اشاعت ہے۔ فقیر مرتب)
٩٣
اس کے جھوٹ ہونے میں کیا تردد ہوسکتا ہے۔ اگر کسی غیر معتبر روایت میں اس کا ذکر ہو بھی تو اسے فیصلہ آسمانی نہیں کہا جاسکتا۔ یہ مرزا قادیانی کا صریح فریب ہے کہ اپنے جھوٹ پر پردہ ڈالنے کے لئے ایک بے اثر بات کو فیصلہ آسمانی سے موسوم کرتے ہیں اور اپنی تصانیف میں بار بار اس کا ذکر کرتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ میں نے حدیثوں اور آسمانی کتابوں کو آگے رکھ دیا۔
اسی طرح سے مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ یونس علیہ السلام کی پیش گوئی میں کوئی شرط نہ تھی۔ صاف جھوٹ اور صریح کذب ہے۔ اول تو قطعی طور سے اس پیش گوئی کا ثبوت نہیں جیسا کہ اوپر ذکر ہوا پھر شرطی اور غیر شرطی کا کیا مذکور اور اگر بعض روایتوں سے پیش گوئی کا حال معلوم ہوتا ہے۔ تو شرطی ہونے کا ثبوت بھی وہیں سے ملتا ہے۔ چنانچہ وہ روایات حسب ذیل ہیں۔
- الف ....... (شیخ زادہ ج ٢ ص ٣٦٥) میں درج ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ
السلام پر وحی کی کہ اپنی قوم سے کہیں کہ اگر تم ایمان نہ لاؤ گے تو تم پر عذاب آئے گا۔ حضرت یونس نے یہ پیغام الہی اپنی قوم کو پہنچا دیا اور ان کے انکار کے بعد ان کے پاس سے چلے گئے۔
- ب ....... (روح المعانی ج پنجم ص٣٨٤) میں یوں ہے کہ:
’’اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام پر وحی کی کہ اپنی قوم سے کہو کہ اگر تم ایمان نہ لاؤ گے تو تم پر عذاب آئے گا۔ انہوں نے یہ پیغام پہنچا دیا۔ مگر یہ لوگ ایمان نہ لائے۔ پس حضرت یونس ان کے پاس سے چلے گئے ۔ جب کفار نے ان کو نہ دیکھا تو اپنے انکار پر نادم ہوئے اور حضرت یونس علیہ السلام کی تلاش میں نکلے مگر وہ نہ ملے۔‘‘
- ج ....... ایسا ہی تفسیر کبیر میں ذکر ہے۔ اب ملاحظہ ہو کہ تین کتابوں سے حضرت
یونس علیہ السلام کی پیش گوئی میں شرط دکھلادی گئی۔ تفسیر کبیر مرزا قادیانی کے نزدیک بھی نہایت معتبر ہے اور انجام آتھم وغیرہ میں اس کے حوالے دیئے ہیں۔ پھر کس طرح جھوٹ کہے جاتے ہیں کہ پیش گوئی میں شرط نہیں تھی۔
باقی رہا یہ امر کہ نکاح والی پیش گوئی اور حضرت یونس علیہ السلام کی پیش گوئی برابر ہیں۔ یہ بھی سراسر جھوٹ ہے۔ بوجوہات ذیل۔
- اول ....... نکاح والی ....... پیش گوئی قطعی اور یقینی ہے اور اس کی بناء متواتر الہامات پر
رکھی گئی تھی اور بعد میں بھی وقتاً فوقتاً الہام اس کی تائید میں ہوتے رہے۔ جیسا کہ فصل گذشتہ میں ذکر ہو چکا ہے۔ برخلاف اس کے حضرت یونس علیہ السلام کی پیش گوئی کا ثبوت نہ کسی الہامی کتاب سے ملتا ہے نہ احادیث صحیح سے اس کا ماخذ بعض ضعیف روایات ہیں۔
٩٤
- دوم....... منکوحہ آسمانی کے واپس آنے کا الہام ان الفاظ میں تھا ۔ ”فسيكفيكهم
الله ويردها اليك انا كنا فاعلين“ ﴿اللہ ان مخالفوں کے لئے تیری طرف سے کافی ہوگا اور اس عورت کو تیری طرف واپس لائے گا اور ہم ایسا ہی کریں گے۔﴾ مگر یونس علیہ السلام کو اس طرح نہیں کہا گیا ۔
- سوم....... مرزا قادیانی کو الہام ہوا تھا ”الحق من ربك فلا تكن من
الممترين“ ﴿یعنی اس عورت کا واپس ہو کر تیرے نکاح میں آنا حق ہے تو اس میں شک نہ کر۔﴾ حضرت یونس علیہ السلام سے ارشاد نہیں ہوا۔
- چہارم....... مرزا قادیانی کے الہام میں ہے ”لا تبديل لكلمات الله“ ﴿یعنی خدا
کی باتیں بدلا نہیں کرتیں﴾ حضرت یونس علیہ السلام کو اس معاملہ میں اس طرح کہنا کسی ضعیف روایت میں بھی مذکور نہیں ۔
- پنجم....... مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ ”بار بار کی توجہ سے یہ الہام ہوا کہ خدا تعالیٰ ہر
ایک مانع دور کرنے کے بعد اس لڑکی کو انجام کار اس عاجز کے نکاح میں لائے گا۔“ مگر حضرت یونس علیہ السلام نے ایسا نہیں فرمایا کہ یہ پیش گوئی ہر حالت میں ضرور ہی ظہور میں آئے گی ۔
- ششم....... مرزا قادیانی نے محمدی بیگم کے نکاح پر خدا کی قسم کھائی ہے اور کوئی بھلا
آدمی اس بات پر قسم کھا سکتا ہے۔ جس کے وقوع کی اسے پیش از وقت خبر دی گئی ہو اور ایسے آسمان سے یقینی اطلاع مل چکی ہو۔ لیکن حضرت یونس علیہ السلام نے کوئی قسم نہیں کھائی ۔ پس اس حلفیہ پیش گوئی کا پورا نہ ہونا مرزا قادیانی کے کذب کی صریح دلیل ہے۔
ان حالات میں ان دونوں پیش گوئیوں کو کسی صورت میں یکساں نہیں کہا جا سکتا اور مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ یونس علیہ السلام کی پیش گوئی ایک آسمانی فیصلہ تھا۔ اور اس میں شرط نہ تھی اور میں نے آسمانی کتابوں اور حدیثوں کو آگے رکھ دیا ۔ یہ تو بالکل جھوٹ اور صریح کذب ہے۔
- ٨....... مرزا قادیانی پادری آتھم اور نکاح آسمانی کی پیش گوئیوں کے پورا نہ
ہونے پر جب بہت ذلیل اور زچ ہوئے ۔ تو ( تحفہ گولڑویہ ص ٣٩ ، خزائن ج ١٧ ص ١٥٣) پر لکھتے ہیں کہ:
”یہ پیش گوئیاں ایک دو پیش گوئیاں نہیں بلکہ اسی قسم کی سو سے زیادہ پیش گوئیاں ہیں۔ جو کتاب تریاق القلوب میں درج ہیں۔ پھر ان سب کا کچھ بھی ذکر نہ کرنا اور بار بار احمد بیگ کے داماد یا آتھم کا ذکر کرنا کس قدر مخلوق کو دھوکہ دینا ہے۔“
٩٥
اللہ! اللہ! یا تو ان پیش گوئیوں کو عیسائیوں اور مسلمانوں کے لئے عظیم الشان نشان اور اپنے صدق و کذب کا معیار قرار دیتے تھے۔ مفصل دیکھو فصل نمبر ١ کتاب ہٰذا یا اب متردد ہو کر اور برسوں منتظر رہ کر اس قدر کمزوری دکھاتے ہیں جو صریح دلیل کذب ہے۔ حوالہ مذکور میں آگے چل کر لکھتے ہیں کہ:
”اس کی مثال ایسی ہے کہ مثلاً کوئی شریر النفس ان تین ہزار معجزات کا کبھی ذکر نہ کرے جو ہمارے نبی ﷺ سے ظہور میں آئے اور حدیبیہ کی پیش گوئی کو بار بار ذکر کرے کہ وقت اندازہ کر دہ پر پوری نہ ہوئی۔“
یہ عبارت حضرت رسالت مآب ﷺ پر ایسا کھلا کھلا حملہ اور ناپاک الزام ہے۔ جو قادیانی نبی کاذب کے منہ سے ہی نکل سکتا ہے۔ ورنہ آنحضرت ﷺ نے کوئی پیش گوئی بقید وقت نہیں فرمائی جو اپنے وقت پر پوری نہ ہوئی ہو۔ چونکہ اس الزام دینے میں مرزا قادیانی نے بڑی چالاکی اور بیباکی سے اپنے ایمان کا نمونہ دکھایا ہے۔ اس لئے اصل قصہ ذرا وضاحت سے درج کیا جاتا ہے۔ تاکہ ناظرین حضرات نبی ﷺ کا صدق اور مرزا قادیانی کا کذب بخوبی دیکھ لیں۔
ذیقعدہ ٦ھ میں جناب رسالت مآب ﷺ نے عمرہ کا ارادہ فرمایا۔ اس وقت مکہ مکرمہ ابھی کفار کے ہی زیر قبضہ تھا۔ لیکن کفار مکہ اپنے مذہبی خیال سے کسی حج اور عمرہ کرنے والے کو نہیں روکتے تھے اور شوال ذیقعدہ، ذی الحجہ اور رجب کے مہینوں میں لڑائی کو منع جانتے تھے۔ آپ عمرہ کے لئے تشریف لے چلے اور چودہ پندرہ سو صحابہؓ ساتھ ہوئے۔
حدیبیہ پہنچ کر یا روانگی سے قبل آپؐ نے خواب دیکھا کہ ہم معہ تمام اصحابؓ کے بلا خوف و خطر مکہ معظمہ میں داخل ہوئے ہیں اور ارکان حج ادا کئے ہیں۔ یہ آپ ﷺ کا خواب ہے کوئی الہامی پیش گوئی نہیں نہ اس میں کوئی وقت مقرر کیا گیا ہے۔ یہ خواب آپ ﷺ نے صحابہ کرامؓ سے بیان فرمایا چونکہ حضور ﷺ اس سال عمرہ کا ارادہ فرما رہے تھے اور انبیاء علیہم السلام کے خواب سچے ہی ہوتے ہیں۔ اس لئے بعض اصحابؓ کو یقین ہوا کہ ہم اسی سال حج کریں گے۔ یہ خیال نہیں رہا کہ حضرت رسول اللہ ﷺ نے سال کا تعین نہیں فرمایا۔ حدیبیہ میں کفار مانع آئے۔ مگر کچھ شرائط کے ساتھ اس بات پر صلح ہو گئی کہ اس سال مکہ نہ جائیں آئندہ سال عمرہ کریں۔ جب حضرت محمد ﷺ نے حدیبیہ سے واپسی کا ارادہ ظاہر فرمایا تو حضرت عمرؓ نے خواب کا حوالہ دے کر عرض کیا کہ آپؐ نے تو فرمایا تھا۔ ہم خانہ کعبہ میں جائیں گے اور طواف کریں اس پر حضرت رسالت مآب ﷺ نے فرمایا کہ ہاں ہم نے تو کہا تھا مگر کیا کہا تھا کہ اسی سال ہم داخل ہوں گے۔ حضرت
٩٦
عمرؓ نے عرض کیا کہ نہیں حضورﷺ نے فرمایا کہ خانہ کعبہ میں داخل ہوں گے اور طواف کرو گے۔ یعنی ہمارے خواب کا ظہور کسی وقت ضرور ہوگا۔ (یہ روایت صحیح بخاری باب الشروط فی الجہاد میں ہے) خدا تعالیٰ نے آئندہ سال میں اس خواب کا ظہور دکھا دیا۔ پھر ایک سال بعد فتح مکہ ہوئی اور نہایت کامل طور سے اس صداقت کا ظہور ہوا۔ غرض دو سال کے اندر وہ خواب یا پیش گوئی کامل طور سے پوری ہوگئی۔
یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ ٦ھ میں حضرت رسالت مآبﷺ نے عمرہ کا ارادہ اس خواب کی بناء پر کیا تھا۔ یا صرف عمرہ کا شوق اور کفار مکہ کی حالت کا معلوم کرنا اس کا مقصود تھا۔ کامل تحقیق اس امر کی شہادت دیتی ہے کہ عمرہ کرنے کا خیال اس سفر کا باعث ہوا۔ صحیح روایت تو یہی ہے کہ حدیبیہ پہنچ کر حضور انورﷺ نے وہ خواب دیکھا تھا۔ اس کی صحت بلحاظ راوی کے اور باعتبار ناقلین کے ہر طرح ثابت ہوتی ہے۔ اس کے راوی مجاہدؒ ہیں جو حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے شاگرد رشید اور نہایت ثقہ ہیں اور اس روایت کو اکثر مفسرین محدثین نے نقل کیا ہے۔ تفسیر درمنثور میں اس روایت کو پانچ محدثین سے اس طرح نقل کیا گیا ہے کہ:
"عن مجاهد قال ارى رسول الله ﷺ وهو بالحديبيه انه يدخل مکہ ہو واصحابہ امنین (درمنثور ج ٦ ص ٨٠)" ﴿مجاہدؒ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ حدیبیہ میں تشریف فرما تھے کہ آپؐ نے خواب دیکھا کہ آپؐ اور آپؐ کے اصحابؓ بے خوف وخطر مکہ معظمہ میں داخل ہوئے ہیں۔﴾
"علی ھذا تفسیر جامع البیان، طبری (فتح الباری عمدۃ القاری) “ اور ارشاد الساری میں بھی اسی طرح ہے کہ یہ خواب حدیبیہ میں دکھایا گیا۔
جس روایت میں مدینہ شریف میں اس خواب کا دیکھا جانا بیان کیا گیا ہے۔ وہ ضعیف ہے اور اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضور انورﷺ نے یہ سفر اس خواب کی وجہ سے اختیار فرمایا۔ بہر حال اس بیان سے ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی کا حضور رسالت مآبﷺ پر یہ الزام کہ حدیبیہ والی پیش گوئی وقت اندازہ کردہ پوری نہ ہوئی۔ محض غلط اور جھوٹ ہے اور بقول مرزا قادیانی کوئی شریرالنفس ہی ایسا کہہ سکتا ہے اور یہ جھوٹ مرزا قادیانی نے محض اپنی جھوٹی پیش گوئیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے تراشا ہے۔ اخیر میں قرآن شریف سے بھی اس خواب کی صداقت ظاہر کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"لقد صدق الله رسوله الرؤيا بالحق (الفتح:٢٦) “
٩٧
اب دیکھئے کہ اللہ تعالیٰ تو اپنے رسول کے خواب کو تاکید کے ساتھ سچا بیان فرما رہا ہے اور مرزا قادیانی رسول اللہ ﷺ کو اپنے جیسا خاطی اور غلط فہم (نعوذ باللہ منها ) قرار دے رہے ہیں۔ اس نص قرآنی کے مقابلہ میں خواب رسالت کی نسبت مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ حدیبیہ والی پیش گوئی وقت اندازہ کردہ پر پوری نہیں ہوئی۔ کس قدر جسارت اور بے ایمانی کی بات ہے؟۔
٩....... ٢٢؍فروری ١٩٠٣ء کو میرے ایک دوست منشی کرم خان صاحب مرحوم ساکن انبالہ نے ایک عریضہ حضرت مولانا مولوی اشرف علی صاحب تھانوی مدظلہم کی خدمت میں پیش کیا۔ جس میں مرزائی خرافات اور معتقدات کے متعلق کچھ سوالات درج تھے۔ حضرت مولانا صاحب ممدوح کی طرف سے جو جواب دیا گیا وہ بصورت ایک مختصر رسالہ طبع ہوا جس کا نام ہے۔ الخطاب المليح في تحقيق المهدى والمسيح یہ رسالہ احتساب قادیانیت ج ٤ میں شائع ہوچکا ہے۔ فلحمد للہ (فقیر مرتب ) اس کے ٹائٹل پر بقلم جلی حضرت مولانا صاحب تھانوی مدظلہم مصنف رسالہ کا نام مبارک درج ہے۔ اب مرزا قادیانی کا سفید جھوٹ ملاحظہ ہو۔ ( ضمیمہ براہین احمد یہ حصہ پنجم کے ص ١٩٩، خزائن ج ٢١ص ٣٧١) پر لکھتے ہیں۔ ”جواب شبہات الخطاب الملیح فی تحقیق المہدی والمسیح جو مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کی خرافات کا مجموعہ ہے“ اس عنوان کے تحت اس رسالہ کو تصنیف حضرت مولانا گنگوہیؒ ظاہر کر کے ان کی شان میں بہت کچھ بکواس مارا ہے۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ یہ رسالہ مصنفہ حضرت مولانا مولوی اشرف علی تھانویؒ کا ہے اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی کے ہاتھ سے یہ جھوٹ لکھوا کر اس کو خوب فضیحت اور رسوا کیا۔ کیونکہ مرزا قادیانی اہل اللہ کے سخت دشمن اور معاند تھے۔ سچ ہے!
میلش اندر طعنه پاکاں برد
١٠....... مرزا قادیانی کی دروغ بیانیوں سے آسمانی کتابیں بھی محفوظ نہیں رہیں۔ چنانچہ اس نمبر میں بائبل اور قرآن کریم کے متعلق مرزا قادیانی کے دو جھوٹ بیان کئے جاتے ہیں۔ الف...... رسالہ (ضرورت الامام ص ١٧،خزائن ج ١٣ص ٤٨٨) پر لکھتے ہیں کہ: ”بائبل میں لکھا ہے کہ ایک مرتبہ چار سو نبی کو شیطانی الہام ہوا تھا اور انہوں نے الہام کے ذریعہ سے جو ایک سفید جن کا کرتب تھا۔ ایک بادشاہ کی فتح کی پیش گوئی کی آخر وہ بادشاہ بڑی ذلت سے اس لڑائی میں مارا گیا اور بڑی شکست ہوئی۔“
٩٨
اس واقعہ کو نہ صرف ضرورت الامام میں بلکہ اور کئی جگہ بھی اسی طرح لکھا ہے اور اس سے یہ ثابت کرنا چاہا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کو بھی جھوٹے الہام ہو جاتے ہیں۔ معاذ الله منها اگر نبیوں کو بھی شیطانی الہام ہوتے اور ان کی پیش گوئیاں اسی طرح غلط نکلتیں جیسا کہ مرزا قادیانی کی پیش گوئیاں عموماً غلط نکلیں تو پھر نبیوں اور رمالوں اور پامسٹوں میں کیا کیا فرق رہا؟۔ لیکن ناظرین! مرزا قادیانی کے اس بیان میں صداقت کا ایک ذرہ بھی نہیں محض دھوکہ ہے اور صرف یہ ایک واقعہ ہی مرزا قادیانی کے کذب کی صریح دلیل ہے اور اگر مرزائی خوف خدا کو مد نظر رکھ کر اس پر غور کریں تو فوراً ان سے الگ ہو جائیں اور ان کی تعلیم کو خیر باد کہہ دیں۔
مرزا قادیانی نے محض بائبل میں لکھا ہے تحریر کر تو دیا۔ مگر کوئی حوالہ نہیں دیا اور جھوٹ لکھنے کے لئے ان کی یہی عادت تھی کہ قرآن میں یوں لکھا ہے حدیث میں یوں آیا ہے۔ بائبل سے ایسا ظاہر ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ لکھ دیا کرتے تھے۔ حوالہ نہیں دیتے تھے۔ ورنہ اصل عبارت دیکھ کر فوراً ان کا جھوٹ ظاہر ہو جاتا۔
اب بائبل میں اس واقعہ کو تلاش کیا جائے تو کتاب سلاطین اول باب ٢٢، ١٦ تا ٢٣ میں اس طرح سے لکھا ہے کہ:
”یہ چار سو شخص بعل بت کے پجاری تھے۔ جو اس وقت کی اصطلاح مروجہ کی رو سے بعل کے نبی کہلاتے تھے۔ بادشاہ وقت کو جو بعل پرست تھا۔ کسی دشمن سے مقابلہ پیش آیا۔ اس نے ان نبیوں سے دریافت کیا تو انہوں نے پیش گوئی کر دی کہ تو اس دشمن پر فتحیاب ہوگا۔ ان کے مقابلہ میں ایک سچا نبی بھی اس زمانہ میں تھا اس نے اللہ تعالیٰ سے خبر پا کر اس بادشاہ سے کہا کہ تو شکست کھا کر مارا جائے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا جیسا کہ اس حقانی نبی نے کہا تھا اور ان چار سو پجاریوں کا قول غلط نکلا۔“ جس کو مرزا قادیانی چار سو نبیوں کا الہام بتاتے ہیں ہاں! اگر مرزا قادیانی اپنی نبوت کا سلسلہ بھی ان چار سو نبیوں کے ساتھ ملاتے ہیں تو ہم بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں۔
ب ...... (ازالۃ اوہام ص ٦٢٥، خزائن ج ٣ ص ٤٣٧) میں مرزا قادیانی نے اس امر پر بحث کی ہے کہ جسم خاکی آسمان پر نہیں جاسکتا۔ اس کا ثبوت قرآن شریف کی آیت ذیل سے دیتے ہیں۔ ” او ترقى فى السماء قل سبحان ربى هل كنت الا بشرا رسولا“ ”یعنی کفار کہتے ہیں کہ تو آسمان پر چڑھ کر ہمیں دکھلا۔ تب ہم ایمان لے آئیں گے۔
٩٩
ان کو کہہ دے کہ میرا خدا اس سے پاک ہے کہ اس دارالابتلاء میں ایسے کھلے کھلے نشان دکھادے اور میں بجز اس کے نہیں ہوں کہ ایک آدمی۔“
منشاء اور مطلب ان کا اس حوالے سے یہ ہے کہ جب اشرف الانبیاء حضرت محمدﷺ باوجود درخواست کفار آسمان پر نہیں جاسکے۔ تو دوسرا بھی کوئی نہیں جاسکتا۔ (لہٰذا مسیح علیہ السلام کا آسمان پر جانا غیر ممکن ہے) ترجمہ میں عبارت سازی ایسی ہے جو عبارت قرآنی لفظوں کا ترجمہ نہیں سوائے اس کے کہ اس کو تفسیر بالرائے یا ایجاد بندہ کہا جائے۔ مگر ترجمہ میں تصرف کے علاوہ مرزا قادیانی نے یہاں ایک بڑا بھاری دھوکہ دیا ہے اور کلام الٰہی میں چوری کی ناپاک کوشش کی ہے۔ کیونکہ قرآن کریم کی اصل آیت کا ایک جزو ہی حذف کردیا۔ جو اس آیت کی جان ہے۔ اصلی آیت سورہ بنی اسرائیل کے دسویں رکوع میں اس طرح ہے۔ ”او ترقی فی السماء ولن نؤمن لرقيك حتى تنزل علينا كتبا نقرؤه ، قل سبحان ربى هل كنت الا بشرا رسولا“ آیت کا جو حصہ مرزا قادیانی نے دانستہ چھپالیا اور اپنی کتاب ازالہ اوہام میں درج نہیں کیا اور اس سے سوائے آیت کے معنے پلٹ دینے کے ان کا اور کوئی مطلب نہ تھا۔ مرزائی صاحبان غور کریں کہ یہودیوں اور عیسائیوں پر یحرفون الکلم عن مواضعه کا الزام کیوں لگایا گیا تھا اور کیا مرزا قادیانی بھی انہی جیسے ملزم نہیں ہیں؟۔
مرزا قادیانی کی اس چالا کی اور جرأت کی توضیح کے لئے اس قصہ کو ذرا تفصیل سے بیان کیا جاتا ہے۔ اس آیت کو ”قالو الن نؤمن لك حتى تفجرلنا “ سے شروع کرو اس سے معلوم ہوگا کہ کفار کن کن معجزوں کے طالب تھے۔ وہ کہتے تھے کہ:
اے محمد ہم تجھ پر ایمان نہ لائیں گے جب تک تو ہمارے لئے زمین سے ایک چشمہ نہ بہادے۔ یا تیرے واسطے ایک باغ کھجور و انگور کا ہو اور تو اس میں نہریں چلادے۔ یا جیسا کہ تو کہا کرتا ہے ہم پر آسمان کو ٹکڑے ٹکڑے گرادے یا اللہ اور فرشتوں کو ضامن بنا کر لے آ۔ یا تیرے لئے ایک ستھرا گھر ہو یا تو آسمان پر چڑھ جائے۔ اور ہم تو تیرے محض چڑھنے پر ہی ایمان نہ لائیں گے۔ جب تک تو ہمارے لئے ...... ایک نوشتہ نہ اتار لائے ۔ جس کو ہم سب پڑھ لیں ۔
اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب یوں دلایا کہ اے محمدﷺ تو کہہ دے سبحان اللہ میں تو خود ایک بشر اور رسول ہوں۔ اس سے ظاہر ہے کہ کفار چھ قسم کے معجزے مانگتے تھے۔ ان میں سے نمبر ایک و دو تو ایسی باتیں ہیں جو نبوت کی شان سے گری ہوئی ہیں اور ان کو معجزے نہیں کہہ سکتے۔
١٠٠
کیونکہ یہ امور طاقت بشری سے باہر نہیں ہیں اس لئے یہ درخواستیں تو یوں فضول ٹھہریں اور درخواست ہائے نمبر ٢، ٤ عادت اللہ کے برخلاف تھیں۔ پس ان کی صرف ایک درخواست نمبر ٦ ایسی تھی جو منظور ہوسکتی تھی۔ یعنی پیغمبر خدا ﷺ کا آسمان پر چڑھنا مگر کفار کو اس سے بھی طلب حق مقصود نہ تھا اور نہ ایمان لانا چاہتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ پیغمبر خدا تعالیٰ آسمان پر جا چکے ہیں۔ اس لئے اس کے ساتھ ہی یہ شرط لگا دی اور یہی شرط ہے وہ جسے مرزا قادیانی نے حذف کر دیا ہے اور اپنی کتاب میں درج نہیں کیا یہ کیسی بے معنی درخواست تھی کہ کفار پیغمبر خدا ﷺ سے اس امر کے طالب تھے کہ ہم کو بھی صاحب کتاب رسول بنا دے جو کسی حالت میں قابل منظوری نہ تھی۔ اس لئے جواب دلوایا گیا کہ:
میں تو خود ایک بشر اور رسول ہوں ( کیا مجھ میں خدائی طاقتیں بھی ہیں جو تم کو بھی اپنے جیسا رسول بنا دوں )
مرزا قادیانی نے آیت کا یہ حصہ چرا کر یہ ثابت کرنا چاہا تھا کہ آسمان پر جانا حضور سرور کائنات ﷺ کے لئے بھی باوجود درخواست کفار ناممکن قرار دیا گیا۔ جیسا کہ انہوں نے ترجمہ میں تصرف کیا ہے۔ لیکن جب اس شرط کو ساتھ ملا کر آیت کو پڑھا جائے ۔ تو جہاں کفار کی درخواست فضول ٹھہرتی ہے۔ وہاں مرزا قادیانی کی چالاکی اور چوری کا حال بھی طشت از بام ہو جاتا ہے اور ان کا اصل مطلب بھی فوت ہو جاتا ہے۔ کیونکہ جمہور اسلام معراج جسمانی آنحضرت ﷺ کے قائل ہیں۔ مرزا قادیانی نہ مانیں۔ تلك عشرة كاملة !
١ مرزا قادیانی اور مرزائی معراج جسمانی آنحضرت ﷺ کے قائل نہیں ہیں بلکہ اس کو روحانی مانتے ہیں اور اس میں مرزا قادیانی کو بھی شامل کرتے ہیں۔ خود مرزا قادیانی کا قول ہے کہ مجھے بارہا معراج روحانی ہوچکی ہے۔ سرسید احمد خان علیگڑھی اور بعض اشخاص بھی اس طرف گئے ہیں کہ یہ معراج روحانی تھی۔ لیکن جیسا کہ ”جمہور علماء کا اتفاق ہے معراج روح اور بدن دونوں کے ساتھ تھی۔“
(دیکھو زاد المعاد ص ٢٠١ ج ٣)
اس عروج جسمانی کا انکار بعض لوگوں نے مروجہ خشک فلسفہ اور سائنس کے خیالات کی بناء پر کیا ہے چند سال پیشتر یہ لوگ حضرت سلیمان علیہ السلام کے ہوائی تخت کے متعلق بھی ایسے ہی شبہات رکھتے تھے۔
(بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)
ناظرین! اس فصل میں مرزا قادیانی کے سات عام جھوٹ اور دو جھوٹ انبیاء کرام کی شان میں اور دو چالاکیاں کتب آسمانی کی نسبت بیان کی گئی ہیں۔ جو مرزا قادیانی کی تحریرات کا ایک نمونہ ہے۔ اگر مرزائی صاحبان کے دل میں خدا کا خوف اور طبیعت معنی رس اور سلیم ہے تو غور کریں کہ کیا کسی سچے مسلمان سے ان حرکات و تحریرات کا ہونا ممکن ہے؟ ہرگز نہیں!
آٹھویں فصل
مرزا قادیانی کی دس مردود دعائیں اور ان کا خود تجویز کردہ کفر
کبھی ضائع نہیں کرتا وہ اپنے نیک بندوں کو
دعائیں عجز اور اخلاص کی مقبول ہوتی ہیں
کبھی عزت نہیں ملتی وہاں پر خود پسندوں کو
مرزا قادیانی نے بڑے زور شور سے متحدیانہ پیش گوئی کی تھی کہ ”قادیان میں ہرگز طاعون نہ ہوگا۔“
(دافع البلاء ص ٥، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٦)
اور پھر پیش گوئی کی تھی کہ ”میرے مرید طاعون سے محفوظ رہیں گے۔“
(کشتی نوح ص ٢، خزائن ج ١٩ ص ٢)
لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے مرزا قادیانی کی یہ دونوں شیخیاں بھی دوسری پیش گوئیوں
(بقیہ حاشیہ گزشتہ صفحہ) لیکن موجودہ ہوائی جہازوں نے جو نہ صرف انسانوں کو بلکہ سینکڑوں من سامان جنگ کو ہزاروں میل اڑاتے پھرتے ہیں۔ ان کا یہ کفر توڑ دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طاقت تو اتنی زبردست ہے کہ اس نے لاکھوں اجرام سماوی کو جن کا وزن اندازہ سے باہر ہے خلاء میں تھام رکھا ہے ایک چھوٹے سے جسم انسان کا آسمان پر لے جانا اس کے لئے کیا مشکل ہے۔ نبی کریم ﷺ کی معراج کی سواری کا نام براق ہے جو برق سے مشتق ہے اس برق (الیکٹراسٹی) کی طاقتوں کا حال زمانہ دیکھ رہا ہے۔ افسوس کہ یہ لکھے پڑھے لوگ اللہ تعالیٰ کو معمولی انجینئروں اور کاریگروں سے بھی عاجز خیال کرتے ہیں۔ نعوذ باللہ منہا لیکن مرزا قادیانی کا معراج جسمانی سے انکار خاص طور پر اس وجہ سے ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آسمانی زندگی سے انکاری ہیں۔ اگر معراج جسمانی کو مان لیتے تو حیات و رفع حضرت مسیح علیہ السلام کا بھی ان کو قائل ہونا پڑتا۔
١٠٢
کی طرح بالکل غلط اور جھوٹ ثابت ١؎ ہوئیں۔ مرزا قادیانی نے اپنی سلطان القلمی کے گھمنڈ میں تمام علماء و سجادہ نشینان وانجمن ہائے اسلامیہ کو مخاطب کیا کہ آپ بھی پلیگ سے محفوظ رہنے کی دعا اور پیش گوئی ٢؎ کریں اور محفوظ رہیں۔ لیکن تم ہرگز ایسا نہیں کر سکتے چنانچہ سیکرٹری انجمن حمایت اسلام لاہور کو ان الفاظ میں مخاطب کیا کہ:
”اگر میاں شمس الدین کہیں کہ پھر ان کے مناسب حال کونسی آیت ہے تو ہم کہتے ہیں کہ یہ آیت مناسب حال ہے۔ وما دعاء الكافرين الا فى ضلٰل“
(دافع البلاء ص١١، خزائن ج١٨ ص٢٣٢)
اس قول میں مرزا قادیانی نے علمائے اسلام کو بوجہ انکار خود کافر قرار دے کر آیت قرآنی کا حوالہ دیا ہے کہ کافروں کی دعائیں ہمیشہ نامقبول ومردود رہتی ہیں۔ بمقابلہ اس کے اپنی دعاؤں کی قبولیت کا مرزا قادیانی کو بڑا بھاری دعویٰ تھا اور نہ صرف دعویٰ بلکہ اس کو اپنا معجزہ بتلایا کرتے تھے۔ چنانچہ ان کے اس بارے میں الہام ہیں کہ:
اول...... ”اجيب كل دعائك الا فى شركائك یعنی میں تیری ساری دعائیں قبول کروں گا۔ مگر شرکاء کے بارہ میں نہیں۔“
(حقیقت الوحی ص٢٣٣، خزائن ج٢٢ ص٢٥٤)
١؎ چنانچہ قادیان کے طاعون کے متعلق مرزا قادیانی (حقیقت الوحی ص٨٤، خزائن ج٢٢ ص٨٧) میں لکھتے ہیں کہ: ”پھر طاعون کے دنوں میں جبکہ طاعون زور پر تھا میرا لڑکا شریف اور بیمار ہوا۔“ اور مریدوں میں جب طاعون کا زور ہوا تو کہتے ہیں کہ ”اس وقت تمام جماعت کو نصیحت کی جاتی ہے کہ اپنی جماعت کے اندر طاعون کے بیماروں اور شہیدوں کے ساتھ پوری ہمدردی اور اخوت کا سلوک کرنا چاہئے۔“
(بدر ٤ مئی ١٩٠٥ء ج١ نمبر ٥ ص٢،١)
اس کے بعد ١٠؍ اپریل ١٩٠٧ء کو مرزا قادیانی نے اپنی جماعت کے لئے عام اشتہار دیا کہ: ”میرا مرید جو طاعون سے فوت ہو جائے اس کو اسی کے کپڑوں میں دفن کرو اور ایسی میت سے سو گز کے فاصلے پر کھڑے ہو کر اس کا جنازہ پڑھو۔“ اصل پیش گوئیاں اور یہ نتائج پڑھ کر بے اختیار منہ سے نکلتا ہے:
تکبر وہ بری شے ہے کہ فوراً ٹوٹ جاتا ہے
٢؎ اور آپ کی طرح ذلیل ہوں۔
١٠٣
دوم:...... ”بحسن قبولی دعا بنگر کہ چہ زود دعا قبول می کنم“
(الہام ٣ جنوری ١٨٨٤ء مندرجہ البشری ص ٤٩، تذکرہ ص ١١٨)
سوم:...... ”ادعونی استجب لکم مجھ سے مانگو میں تمہیں دوں گا ۔“
(الہام مندرجہ حقیقت الوحی ص ٩٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٢)
ان ہر سہ الہامات سے واضح ہے کہ مرزا قادیانی الہامی اور اعجازی مستجاب الدعوات تھے ۔ (ازالہ اوہام ص ١١٨، خزائن ج ٣ ص ١٥٨) میں بھی اس کا کھلا کھلا دعویٰ ہے ۔ چنانچہ کہتے ہیں کہ: ”اور قوت ایمانی کے آثار میں سے جو اس عاجز کو دی گئی ہے استجابت دعا بھی ہے ۔ اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے کہ جو بات اس عاجز کی دعا کے ذریعہ سے روکی جائے وہ کسی اور ذریعہ سے قبول نہیں ہوسکتی اور جو دروازہ اس عاجز کے ذریعہ سے کھولا جائے وہ کسی اور ذریعہ سے بند نہیں ہوسکتا ۔ “ گویا مرزا قادیانی اور مرزائیوں کے نزدیک ان کا صاحب معجزہ استجابت دعا ہونا مسلمہ امر ہے اور مرزا قادیانی کے ہی قول کے متعلق علماء انجمن حمایت اسلام لاہور کی رو سے ان کا یہ بھی ایک مسلمہ اصولی بلکہ نص قرآنی ہے کہ کافروں کی دعائیں نا مقبول اور مردود رہتی ہیں ۔ پس اگر ہم یہ ثابت کر دیں کہ یہ ادعائے قبولیت دعا بھی مرزا قادیانی کی ایک شوخانہ چالاکی اور نرا دعویٰ ہی دعویٰ تھا اور اس کے ثبوت میں مرزا قادیانی کی نا مقبول ومردود دعاؤں کی ایک فہرست بھی پیش کر دیں تو جس طرح مرزا قادیانی اپنے الہامات متذکرہ بالا کی رو سے اپنی
مرزائی آرگن (ریویو ج ٥ ش ٥ مئی ١٩٠٧ء ص ١٩٢) پر لکھتا ہے کہ ”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) دعا کی قبولیت کا ایک ایسا قطعی ثبوت پیش کرتے ہیں جو آج دنیا بھر میں کسی مذہب کا کوئی ماننے والا پیش نہیں کرسکتا اور وہ ثبوت یہ ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے حضور میں دعا کرتے ہیں اور اس دعا کا جواب پاتے ہیں اور جو کچھ جواب میں ان کو بتایا جاتا ہے ۔ اس کو قبل از وقت شائع کر دیتے ہیں ۔ پھر ان شائع شدہ امور کی بعد کے واقعات تائید کرتے ہیں اور یہ تائید ایسی ہوتی ہے کہ جس پر کوئی انسانی کوشش اور منصوبہ نہیں پہنچ سکتا ۔ اور ایسے ہی اعجازی اور فوق الطاقت طور پر وہ امر ظہور پذیر ہوتا ہے ۔ وہ مدت سے اس بات کو شائع کر رہے ہیں کہ ان کے منجانب اللہ ہونے کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ ان کی دعائیں قبول کی جاتی ہیں ۔ “ استجابت دعا کے معجزہ پر کیسا پختہ ایمان اور دعویٰ ہے ۔ مگر فصل ہذا میں اس سب سے بڑے ثبوت کی اچھی طرح قلعی کھولی گئی ہے ۔ (مؤلف)
١٠٤
امت میں الہامی مستجاب قرآنی و نیز مسلمات مرز زیادتی نہیں بلکہ (بمقتضا ذیل میں مرزا قادیانی کی .......١ بمرض کاربنکل پھوڑا میں گئی اور علاج کے علاو لئے نہیں کی ہوں گی۔ .......الف گردن کے نیچے پشت پ نے ان کے واسطے رات اور رو رہے ہیں ۔ (فرما طبیب کا رونا مولوی کی ص .......ب بیماری کو نہایت خوفناک ”اس دعا مجھ کی اور عبداللہ سنوری وال .......ج اور اپنے متواتر الہاما (مولوی صاحب کی مو .......د مرزا قادیانی کا بہت بڑ دعائیں ان کے ساتھ ہ ١؎ و ٢؎ بشا ٣؎ جیسا کہ
امت میں الہامی مستجاب الدعوات مانے جاتے تھے۔ ہمارا بھی حق ہے کہ ہم ان کے بروئے نص قرآنی و نیز مسلمات مرزا قادیانی الہامی کافر کے نام سے موسوم کریں اور یہ ہماری طرف سے زیادتی نہیں بلکہ (بمقتضائے از، ماست کہ بر ماست) مرزا قادیانی کا خود تراشیدہ اصول ہے۔ ذیل میں مرزا قادیانی کی مردود دعاؤں کے نمونے ملاحظہ ہوں۔
- ١....... مولوی عبد الکریم سیالکوٹی مرزائی مشن کے دست راست تھے۔ جو
بمرض کاربنکل پھوڑا میں بیمار ہوئے۔ ان کے علاج کے لئے جیسا کہ چاہئے تھا کہ سخت کوشش کی گئی اور علاج کے علاوہ دعائیں تو اتنی کی گئیں کہ غالباً مرزا قادیانی نے کسی دوسرے امر کے لئے نہیں کی ہوں گی۔ چنانچہ:
- الف...... اخبار الحکم ٣٠؍اگست ١٩٠٤ء میں لکھا ہے کہ مولوی عبد الکریم صاحب کی
گردن کے نیچے پشت پر ایک پھوڑا ہے جس کو چیرا دیا گیا ہے۔ (مرزا قادیانی نے) کہا کہ میں نے ان کے واسطے رات دعا کی تھی۔ رویا میں دیکھا کہ مولوی نور الدین ایک کپڑا اوڑھے بیٹھے ہیں اور رو رہے ہیں۔ (فرمایا) ہمارا تجربہ ہے کہ خواب کے اندر رونا اچھا ہوتا ہے اور میری رائے میں طبیب کا رونا مولوی کی صحت ١؎ کی بشارت ہے۔
(تذکرہ ص ٥٥٩)
- ب...... (الحکم ٥؍ستمبر ١٩٠٥ء، تذکرہ ص ٥٦١) میں مرزا قادیانی مولوی عبدالکریم کی
بیماری کو نہایت خوفناک اور ان کی حالت مایوسی خیز بلکہ قریب الموت بیان کر کے لکھتے ہیں کہ: ’’اس دعا میں میں نے بہت تکلیف اٹھائی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے بشارت نازل ٢؎ کی اور عبداللہ سنوری والا خواب دیکھا جس سے نہایت درجہ غمناک دل کو تسلی ہوئی۔‘‘
- ج...... (الحکم ١٠؍ستمبر ١٩٠٥ء ص ١٢، تذکرہ ص ٥٦٥) میں بھی مولوی صاحب کی حالت
اور اپنے متوحش الہامات کا ذکر کر کے الہام الٰہی کی بناء پر لکھتے ہیں کہ ’’قضاء قدر تو ایسی ہی (مولوی صاحب کی موت کی) تھی مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل رحم سے رد ٣؎ بلا کر دیا۔‘‘
- د...... (الحکم ج٩ نمبر ٣٣ ص ١، ٢، ٢٤؍ستمبر ١٩٠٥ء، تذکرہ ص ٥٦٨) میں لکھا ہے کہ خود
مرزا قادیانی کا بہت بڑا حصہ دعاؤں میں گزرتا ہے۔ ص ٢ اور کالم ٤ میں لکھا ہے کہ خدا کے مسیح کی دعائیں ان کے ساتھ ہیں اور اس کالم میں ٢٢؍ستمبر کا ایک الہام بھی درج ہے۔ جو دعاء کے بعد
١؎ و ٢؎ بشارت صحت کا ذکر آگے آتا ہے۔ ٣؎ جیسا کہ آگے ذکر ہوتا ہے۔
١٠٥
ہوا ؎١ "طلع البدر علینا من ثنیۃ الوداع" یعنی ہم پر بدر طلوع ہوا پہاڑ کی گھاٹی سے۔
- ١...... (الحکم ٣٠ ستمبر ١٩٠٥ء، ٢٧ ستمبر، تذکرہ ص ٥٦٩) پر جماعت کو نصیحت کی کہ کل
جنگل میں جاکر مولوی صاحب کے لئے دعا کریں اور خود بھی ٢٨ ستمبر کو صبح ہی باغ میں گئے اور کئی گھنٹہ تک تخلیہ میں دعا کی۔
مگر افسوس! کہ مرزا قادیانی کی یہ شبانہ روز کی سب دعائیں رد ہوگئیں اور گیارہ اکتوبر ١٩٠٥ء کو مولوی صاحب اس دنیا سے کوچ کرگئے اور مرزا قادیانی کے ملہم نے اتنے دنوں تک ناحق ان کو بھٹکایا۔ یہاں تک کہ اسی اثناء میں دو تین بار قبولیت دعا اور صحت کی بشارتیں ؎٢ بھی ہوئیں۔ کئی الہام مایوسی بخش بھی تھے۔ کیا یہ صریح طور پر ابن صیاد کے الہاموں کی مثال نہیں؟۔ جن میں کچھ جھوٹ کچھ سچ کی آمیزش ہوا کرتی تھی۔
- ٢...... مرزا قادیانی کا لڑکا مبارک احمد سخت بیمار ہوا۔ اس کی نسبت الہام ہوا،
"قبول ہو گئی نو دن کا بخار ٹوٹ گیا۔ یعنی یہ دعا قبول ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ نے میاں صاحب موصوف کو شفا دی۔"
(میگزین ستمبر ١٩٠٧ء، الہام ٢٤ اگست ١٩٠٧ء، مندرجہ البشریٰ ص ١٣٣ ج ٢، تذکرہ ص ٧٢٧، ٧٢٨)
اس جگہ یہ بھی لکھا ہے کہ "صاحبزادہ مبارک احمد حسب وعدہ الٰہی دسویں یوم راضی اور تندرست ہو گیا۔ (تذکرہ ص ٧٢٨) لیکن (میگزین اکتوبر ١٩٠٧ء ج ٦ ش ١٠ ص ٣٠٦) سے ظاہر ہے کہ میاں مبارک احمد کا سولہ ستمبر ١٩٠٧ء کو انتقال ہو گیا اور قبولیت دعا کا الہام صریح غلط ثابت ہوا۔ کیا یہ وعدہ رحمانی تھا۔ یا القائے شیطانی؟۔
ادھر ایک مخلص دوست مخدوم الملتہ مولوی عبدالکریم کے لئے دعائیں کی تھیں۔ ادھر الہامی فرزند ارجمند کی صحت کے لئے مگر کوئی بھی قبول نہ ہوئی۔ حالانکہ الہام بھی قبولیت کے ہو چکے تھے۔
؎١ جیسا کہ آگے ذکر ہوتا ہے۔
؎٢ بشارات صحت اور قبولیت دعا کے الہام کا ذکر اوپر ہو چکا ہے لیکن اس کے مقابل مرزا قادیانی کا سفید جھوٹ دیکھئے، (حقیقت الوحی ص ٣٢٦، خزائن ج ٢٢ ص ٣٣٩) میں کہتے ہیں کہ: "(مولوی عبدالکریم کے لئے) میں نے بہت دعا کی تھی۔ مگر ایک الہام بھی اس کے لئے تسلی بخش نہ تھا۔ بجز اس کے کہ 'طلع البدر علینا اور اللہ نے رد بلا کردیا' اور بشارت نازل"
٤٦
- ٣....... (ضمیمہ انجام آتھم ص٤١، خزائن ج١١ ص٣٢٥) میں لکھتے ہیں کہ:
”خدا اس مہدی کی تصدیق کرے گا اور دور دور سے اس کے دوست جمع کرے گا۔ جن کا شمار اہل بدر کے شمار کے برابر ہوگا۔ یعنی تین سو تیرہ (٣١٣) ہوں گے اور ان کے نام بقید مسکن و خصلت چھپی ہوئی کتاب میں درج ہوں گے۔ اب ظاہر ہے کہ کسی شخص کو پہلے اس سے یہ اتفاق نہیں ہوا کہ وہ مہدی موعود کا دعویٰ کرے اور اس کے پاس چھپی ہوئی کتاب جس میں اس کے دوستوں کے نام ہوں لیکن میں اس سے پہلے بھی آئینہ کمالات اسلام میں تین سو تیرہ نام درج کر چکا ہوں اور اب دوبارہ اتمام حجت کے لئے تین سو تیرہ نام ذیل میں درج کرتا ہوں۔ تاکہ ہر ایک منصف سمجھ لے کہ یہ پیش گوئی بھی میرے ہی حق میں پوری ہوئی اور بموجب منشائے حدیث کے یہ بیان کر دینا پہلے سے ضروری ہے کہ یہ تمام اصحاب خصلت صدق و صفا رکھتے ہیں اور حسب مراتب جس کو اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ بعض بعض سے محبت اور انقطاع الی اللہ اور سرگرمی دین میں سبقت لے گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سب کو اپنی رضا کی راہوں میں ثابت قدم رکھے۔“
آخری دعاء کے لئے دیکھنا یہ ہے کہ قبول ہوئی یا نہیں جن لوگوں کے لئے یہ دعا تھی اور جن کے لئے پہلے سے لکھ دیا تھا کہ یہ تمام اصحاب خصلت صدق و صفا رکھتے ہیں۔ ان میں سے کئی آدمی جیسے ڈاکٹر عبدالحکیم خان نمبر ١٥٩ وغیرہ مرزا قادیانی سے پھر گئے اور نہ صرف پھر ہی گئے بلکہ مرزا قادیانی کی مخالفت میں عمر بھر کوشش کرتے رہے۔ خواجہ کمال الدین، مولوی محمد احسن، مولوی عبداللہ خان، مولوی محمد علی وغیرہ، لاہوری پارٹی والے مرزا قادیانی کی رسالت کے منکر اور قادیانی پارٹی کی نظر میں خارج از مرزائیت ہیں۔ اس لئے جہاں مرزا قادیانی کی یہ دعا نامقبول ٹھہری وہاں یہ ٣١٣ والا ڈھکوسلہ بھی باطل ثابت ہوا اور کم از کم جو پیش گوئی مرزا قادیانی نے اپنے اوپر چسپاں کی تھی۔ اس کی رو سے مرزا قادیانی مہدی ثابت نہ ہوئے۔
- ٤....... سید امیر شاہ رسالدار میجر سے پانچ سو روپے پیشگی لے کر ان کے بیٹا
ہونے کی دعا کی۔ جس کی میعاد ١٥؍ اگست ١٨٨٩ء کو ختم ہوئی مگر یہ قیمتی دعا بھی مردود اور نامقبول ہوئی۔
(مرزا قادیانی کا خط ١٥؍ اگست ١٨٨٨ء مندرجہ عصائے موسیٰ ص٤١، ٤٢)
- ٥....... ٢٠؍ جون ١٨٩٧ء سے ٢٢؍ جون تک تقریب جشن جوبلی ملکہ معظمہ
قیصرہ ہند مرزا قادیانی نے بھی اپنے مریدوں کو جمع کر کے قادیان میں ایک جشن منایا اور دو تین دن خوب پر تکلف دعوتیں اڑائیں، غرباء کو کھانا کھلایا گیا۔ رات کو روشنی ہوئی، مبارکباد کی تار بخدمت وائسرائے صاحب بہادر روانہ کی گئی اور ایک کتاب چھپوا کر بنام تحفہ قیصریہ مقتدر حکام
١٠٧
اور ملکہ معظمہ کی خدمت میں بھیجی گئی۔ ٢٠؍ جون ١٨٩٧ء کو خصوصیت سے بدرگاہ رب العزت اردو، فارسی، عربی، پشتو، پنجابی، انگریزی ٦ زبانوں میں نہایت خشوع وخضوع سے گورنمنٹ کے اقبال و دولت کی ترقی کی دعائیں مانگی گئیں اور اخیر میں ملکہ معظمہ کے اسلام لانے کے لئے ان الفاظ میں دعا کی گئی کہ:
”اے قادر توانا ہم تیری بے انتہا قدرت نظر کر کے ایک اور دعا کے لئے تیری جناب میں جرأت کرتے ہیں کہ ہماری محسنہ قیصرہ ہند کو مخلوق پرستی کی تاریکی سے چھڑا کر لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پر اس کا خاتمہ کر۔ اے مجیب قدرتوں والے، اے عمیق تصرفوں والے، ایسا ہی کر یا الہی یہ تمام دعائیں قبول فرما۔ تمام جماعت کہے کہ آمین۔“
یہ دعا مانگ کر اپنی جماعت کو نصیحت کرتے ہیں کہ:
”اے دوستو ! اے پیارو، خدا کی جناب بڑی قدرتوں والی جناب ہے۔ دعاء کے وقت اس سے نوامید مت ہو۔ کیونکہ اس ذات پاک میں بے انتہا قدرتیں ہیں اور مخلوق کے ظاہر و باطن پر اس کے عجیب تصرف ہیں۔ سو تم نہ منافقوں کی طرح بلکہ سچے دل سے یہ دعائیں کرو وغیرہ وغیرہ۔
(دیکھو روئیداد جلسہ احباب جشن جوبلی ص ٦ ،خزائن ج ١٢ ص ٢٩٠)
ادھر رسالہ تحفہ قیصریہ میں مسئلہ جہاد کی آڑ لے کر اپنی جماعت کو وفادار اور دنیائے اسلام کو باغی قرار دینے کی ناپاک کوشش کرتے ہوئے ان الفاظ میں قبول اسلام کا پیغام دیا کہ:
”لیکن اے ملکہ معظمہ قیصرہ ہند ہم عاجزانہ ٢ ادب کے ساتھ تیرے حضور میں
١؎ چھ زبانوں میں ایک ہی دعا کے الفاظ کو ادا کرنا فضول اور نمائشی کارروائی نہیں ہے کیا مرزا قادیانی کا اللہ تعالیٰ کی نسبت کسی زبان سے ناواقف ہونے کا بھی خیال تھا۔
٢؎ مرزا قادیانی کا اس مؤدبانہ اور عاجزانہ التماس اور جشن کی نمائشی کارروائیوں اور روشنی اور تار برقی وغیرہ وغیرہ خوشامدوں کا مقابلہ حضور رسالت مآب ﷺ کی خوداری اور استغناء کے ان آزاد پیغاموں سے کرو جو مغرور بادشاہانِ وقت کے نام ارسال فرمائے تھے اور پھر دیکھو کہ کیا خدا کے مامور اور مرسل کا یہی طریقہ تبلیغِ حق کا ہونا چاہئے کہ طرح طرح کی چاپلوسیوں اور خوشامدوں اور تعریفوں کے گیت گا کر پھر دین حق کی دعوت ان ذلیل الفاظ میں پیش کرے؟۔ نبی ﷺ نے تو ہرقل بادشاہ کو صاف الفاظ میں تحریر فرما دیا تھا کہ اسلم تسلم یعنی تو مسلمان ہو جا تب تیری سلامتی ہوگی اور یہاں دعوت اسلام سے پہلے ہی خوشامدانہ دعاؤں کا طومار باندھ دیا ہے۔
١٠٨
کھڑے ہو کر عرض کرتے ہیں کہ تو اس خوشی کے وقت میں جو شصت سالہ جوبلی کا وقت ہے۔ یسوع کے چھوڑنے کے لئے کوشش کر۔‘‘
(تحفہ قیصریہ ص ٢٥، خزائن ج ١٢ص٢٧٧)
مرزا قادیانی کی مذکورہ بالا چھ زبانوں والی دعا بھی بارگاہ الٰہی سے مردود ہوئی۔ جس کی قبولیت کا اپنی جماعت کو اطمینان دلایا تھا اور بقول خود دعا کے مردود ہو جانے سے منافق ثابت ہوئے اور رسالہ تحفہ قیصریہ میں جو مسلمانوں کی نسبت طرح طرح کے الزام و اتہام لگا کر اور اپنی جماعت کی وفاداری جتا کر عجیب و غریب لفاظیوں اور رنگ آمیزیوں سے اور عاجزانہ ادب کے ساتھ ملکہ معظمہ کے حضور میں کھڑے ہو کر عرض کی گئی تھی کہ وہ اسلام قبول کریں یہ عرض بھی نامنظور ہوئی۔ حضور ملکہ معظمہ کو ایک سال کے اندر نشان آسمانی دکھانے کے لئے بھی لکھا تھا۔ اگر وہ پسند کریں مگر انہوں نے ادھر بھی توجہ نہ کی۔
......٦ (مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٧٩ ملخصاً ، ٢١؍نومبر ١٨٩٨ء) کو مرزا قادیانی نے ایک اشتہار دیا جس میں درج تھا کہ:
”میں نے خدا تعالیٰ سے دعا کی ہے کہ وہ مجھ میں اور محمد حسین میں آپ فیصلہ کرے اور وہ دعا یہ ہے۔ اے میرے رب ذوالجلال پروردگار اگر میں تیری نظر میں ایسا ہی ذلیل جھوٹا اور مفتری ہوں۔ جیسا کہ محمد حسین بٹالوی نے اپنے رسالہ اشاعۃ السنۃ میں بار بار مجھ کو کذاب دجال اور مفتری کے لفظ سے یاد کیا ہے اور جیسا کہ اس نے اور محمد بخش جعفر زٹلی ، اور ابوالحسن تبتی نے اس اشتہار میں جو ١٠؍نومبر ١٨٩٧ء کو چھپا ہے۔ میرے ذلیل کرنے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا۔ تو اے میرے مولا اگر میں تیری نظر میں ایسا ہی ذلیل ہوں تو مجھ پر تیرہ ماہ کے اندر یعنی ١٥؍دسمبر ١٨٩٨ء سے ١٥؍جنوری ١٩٠٠ء تک ذلت کی مار وارد کر ١؎ اور اگر تیری جناب میں مجھے وجاہت او رعزت ہے تو میرے لئے یہ نشان ظاہر فرما کہ ان تینوں کو ذلیل اور رسوا اور ضربت علیہم الذلۃ کا مصداق کر۔ آمین ثم آمین!“
اس کے آخر میں لکھتے ہیں کہ:
”یہ دعا تھی جو میں نے کی جواب میں الہام ہوا کہ میں ظالم کو ذلیل اور رسوا کروں گا۔ یہ خدا تعالیٰ کا فیصلہ ہے۔ فریقین میں سے جو کاذب ہے۔ وہ ذلیل ہوگا۔ یہ فیصلہ چونکہ الہام کی بناء پر ہے۔ اس لئے حق کے طالبوں کے لئے ایک کھلا کھلا نشان ہو کر ہدایت کی راہ ان پر کھولے گا۔“
١؎ اس سے آگے کچھ عبارت چھوڑ دی گئی ہے جو مرزا قادیانی نے حسب عادت خود بار بار بطور تکرار کلام لکھی ہے۔
١٠٩
کھڑے ہو کر عرض کرتے ہیں کہ تو اس خوشی کے وقت میں جو شصت سالہ جوبلی کا وقت ہے۔ یسوع کے چھوڑنے کے لئے کوشش کر۔‘‘
(تحفہ قیصریہ ص ٢٥، خزائن ج ١٢ص٢٧٧)
مرزا قادیانی کی مذکورہ بالا چھ زبانوں والی دعا بھی بارگاہ الٰہی سے مردود ہوئی۔ جس کی قبولیت کا اپنی جماعت کو اطمینان دلایا تھا اور بقول خود دعا کے مردود ہو جانے سے منافق ثابت ہوئے اور رسالہ تحفہ قیصریہ میں جو مسلمانوں کی نسبت طرح طرح کے الزام و اتہام لگا کر اور اپنی جماعت کی وفاداری جتا کر عجیب و غریب لفاظیوں اور رنگ آمیزیوں سے اور عاجزانہ ادب کے ساتھ ملکہ معظمہ کے حضور میں کھڑے ہو کر عرض کی گئی تھی کہ وہ اسلام قبول کریں یہ عرض بھی نامنظور ہوئی۔ حضور ملکہ معظمہ کو ایک سال کے اندر نشان آسمانی دکھانے کے لئے بھی لکھا تھا۔ اگر وہ پسند کریں مگر انہوں نے ادھر بھی توجہ نہ کی۔
......٦ (مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٧٩ ملخصاً ، ٢١؍نومبر ١٨٩٨ء) کو مرزا قادیانی نے ایک اشتہار دیا جس میں درج تھا کہ:
”میں نے خدا تعالیٰ سے دعا کی ہے کہ وہ مجھ میں اور محمد حسین میں آپ فیصلہ کرے اور وہ دعا یہ ہے۔ اے میرے رب ذوالجلال پروردگار اگر میں تیری نظر میں ایسا ہی ذلیل جھوٹا اور مفتری ہوں۔ جیسا کہ محمد حسین بٹالوی نے اپنے رسالہ اشاعۃ السنۃ میں بار بار مجھ کو کذاب دجال اور مفتری کے لفظ سے یاد کیا ہے اور جیسا کہ اس نے اور محمد بخش جعفر زٹلی ، اور ابوالحسن تبتی نے اس اشتہار میں جو ١٠؍نومبر ١٨٩٧ء کو چھپا ہے۔ میرے ذلیل کرنے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا۔ تو اے میرے مولا اگر میں تیری نظر میں ایسا ہی ذلیل ہوں تو مجھ پر تیرہ ماہ کے اندر یعنی ١٥؍دسمبر ١٨٩٨ء سے ١٥؍جنوری ١٩٠٠ء تک ذلت کی مار وارد کر ١؎ اور اگر تیری جناب میں مجھے وجاہت او رعزت ہے تو میرے لئے یہ نشان ظاہر فرما کہ ان تینوں کو ذلیل اور رسوا اور ضربت علیہم الذلۃ کا مصداق کر۔ آمین ثم آمین!“
اس کے آخر میں لکھتے ہیں کہ:
”یہ دعا تھی جو میں نے کی جواب میں الہام ہوا کہ میں ظالم کو ذلیل اور رسوا کروں گا۔ یہ خدا تعالیٰ کا فیصلہ ہے۔ فریقین میں سے جو کاذب ہے۔ وہ ذلیل ہوگا۔ یہ فیصلہ چونکہ الہام کی بناء پر ہے۔ اس لئے حق کے طالبوں کے لئے ایک کھلا کھلا نشان ہو کر ہدایت کی راہ ان پر کھولے گا۔“
١؎ اس سے آگے کچھ عبارت چھوڑ دی گئی ہے جو مرزا قادیانی نے حسب عادت خود بار بار بطور تکرار کلام لکھی ہے۔
١٠٩
یہ دعا بھی بالکل بے نتیجہ اور مردود رہی اور مرزا قادیانی کے ہر سہ مخالفین کو کوئی واقعہ عظیم پیش نہیں آیا جو اس پیشگوئی کا مصداق بن سکے۔ نہ ہی وہ کسی ذلت کی موت سے تباہ اور برباد یا رسوا ہوئے۔
اس پر صفائی یہ ہے کہ (حقیقت الوحی ص ١٨٧، خزائن ج ٢٢ ص ١٩٥) پر لکھتے ہیں کہ مولوی محمد حسین اور ان کے ساتھیوں کے لئے کوئی تاریخ مقرر نہ تھی۔ اس کذب بیانی کی بھی کوئی حد ہے؟۔ پھر دعویٰ ہے رسالت اور نبوت کا۔
- ٧....... (مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٧٥، ١٧٨، ٥ نومبر ١٨٩٩ء) کو ایک اور اشتہار دیا
جس میں درج ہے کہ:
’’اے میرے مولا! قادر خدا! اب مجھے راہ بتا! ............ اگر میں تیری جناب میں مستجاب الدعوات ہوں تو ایسا کر کہ جنوری ١٩٠٠ء سے آخر دسمبر ١٩٠٢ء تک میرے لئے کوئی اور نشان دکھلا اور اپنے بندے کے لئے گواہی دے۔ جس کو زبانوں سے کچلا گیا ہے۔ دیکھ! میں تیری جناب میں عاجزانہ ہاتھ اٹھاتا ہوں کہ تو ایسا ہی کر۔ اگر میں تیرے حضور میں سچا ہوں ............ تو ان تین سالوں میں کوئی ایسا نشان دکھلا جو انسانی ہاتھوں سے بالاتر ہو۔‘‘
آخر میں لکھا کہ: میں نے اپنے لئے قطعی فیصلہ کر لیا ہے کہ اگر میری یہ دعا مقبول نہ ہو تو میں ایسا ہی مردود، ملعون، کافر، بے دین اور خائن ہوں۔ جیسا کہ مجھے سمجھا گیا۔‘‘ (ص ٣، اشتہار مذکور) یہ دعا بھی نامقبول اور مردود ہوئی اور کوئی ایسا نشان تین سال کے عرصہ میں ظاہر نہ ہوا۔
- ٨....... مرزا قادیانی کی نسبت ڈاکٹر عبدالحکیم خان نے موت کی پیش گوئی کی اس
کے مقابلہ میں مرزا قادیانی پر الہامی طور سے یہ دعا جاری ہوئی: ’’رب فرق بین صادق وکاذب انت تری کل مصلح وصادق اے خدا سچے اور جھوٹے میں فرق کر کے دکھا۔ تو ہر ایک مصلح اور صادق کو جانتا ہے۔‘‘ (حقیقت الوحی ص ٩٨، خزائن ج ٢٢ ص ١٠١ اور اشتہار خدا سچے کا حامی ہو)
پھر مرزا قادیانی کو ان کے ملہم نے بشارت دی۔
’’خدا قاتل تو باد . و مرا از شر تو محفوظ دارد یعنی اے دشمن تو جو تباہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ خدا تجھے تباہ کرے اور تیرے شر سے مجھے نگاہ رکھے۔‘‘
(حقیقت الوحی ص ٩٨، خزائن ج ٢٢ ص ١٠١)
پھر بحوالہ الہام الٰہی لکھتے ہیں کہ:
١١٠
”وہ دشمن جو میری موت چاہتا ہے وہ خود میری آنکھوں کے رو برو اصحاب الفیل کی طرح نابود اور تباہ ہوگا۔“
(تبصرہ ص ١٢،مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٩١)
یہ الہامی دعا بھی جس کی قبولیت کے الہام ہو چکے تھے مرزا قادیانی کے نقطۂ خیال سے مردود ہوئی۔ کیونکہ مرزا قادیانی ڈاکٹر صاحب کی پیش گوئی کے مطابق مر گئے۔ ہاں مسلمانوں کے خیال کے مطابق ضرور قبول ہوگئی۔ کیونکہ اس سے مرزا قادیانی نے اپنا کاذب ہونا ثابت کر دیا۔
- ٩.......... ڈاکٹر عبدالحکیم خان کے مقابلہ میں دو اور دعائیں الہامی طور پر مرزا قادیانی
کی زبان پر جاری ہوئیں۔
- الف.......... ”رب کل شیئی خادمک رب فاحفظنی ، وانصرنی ،
وارحمنی یعنی اے میرے خدا ہر چیز تیری خادم ہے۔ اے میرے خدا شریر کی شرارت سے مجھے نگاہ رکھ اور میری مدد کر اور مجھ پر رحم کر۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٩٨، خزائن ج ٢٢ ص ١٠١)
- ب.......... ”اے ازلی ابدی خدا، بیڑیوں کو پکڑ کے آ۔ اے ازلی ، ابدی خدا میری مدد
کے لئے آ۔“
(حقیقۃ الوحی ص ١٠٤، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٧)
افسوس کہ مرزا قادیانی کے خدا نے ان اپنی بتائی ہوئی الہامی دعاؤں کا بھی کچھ خیال نہ کیا اور دعاؤں کو مردود کر کے اس شخص کو فتح دے دی۔ جو اس کے مسیح کو کذاب ، مکار ، شیطان ، دجال ، شریر، حرام خور ، خائن ، شکم پرست ، نفس پرست ، مفسد ، مفتری وغیرہ کہتا تھا۔
- ١٠.......... ١٥؍ اپریل ١٩٠٧ء کو مرزا قادیانی کا ایک اشتہار بعنوان مولوی ثناء اللہ
صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ شائع ہوا۔ مضمون غیر ضروری اور طویل ہے۔ جس میں پہلے مولوی صاحب کے مضامین کی جو مرزا قادیانی کی تکذیب میں نکلتے رہے ہیں شکایت کی ہے اور بالآخر لکھتے ہیں کہ:
”میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ اے میرے مالک بصیر و قدیر جو علیم و خبیر ہے جو میرے دل کے حالات سے واقف ہے۔ اگر یہ دعویٰ مسیح موعود ہونے کا میرے نفس کا افتراء ہے اور میں تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں اور دن رات افتراء کرنا میرا کام ہے تو اے میرے پیارے مالک میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں مجھے ہلاک کر اور میری موت سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوش کر دے۔ آمین! مگر اے میرے کامل اور صادق خدا اگر مولوی ثناء اللہ ان تہمتوں میں جو مجھ پر لگاتا ہے حق پر نہیں تو میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ میری زندگی میں ہی ان کو نابود کر۔“ اخیر میں پھر لکھتے ہیں کہ:
١١١
”یا اللہ میں تیرے ہی تقدس کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور جو تیری نگاہ میں حقیقت میں مفسد اور کذاب ہے اس کو صادق کی زندگی میں ہی دنیا سے اٹھا لے۔“
آخری سطروں میں تحریر کرتے ہیں کہ: ”مولوی ثناء اللہ صاحب سے التماس ہے کہ وہ میرے اس تمام مضمون کو اپنے پرچہ میں چھاپ دیں اور جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں۔ اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٧٨ تا ٥٧٩)
عبارت مذکورۃ الصدر کسی تشریح کی محتاج نہیں۔ مرزا قادیانی کو اپنی اس دعاء کی قبولیت پر اتنا گھمنڈ تھا کہ اخیر میں لکھ دیا۔ اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے واقعی سچا سچا فیصلہ فرما دیا کہ جھوٹے کو سچے کی زندگی میں ہی ہلاک کر دیا۔ مولوی صاحب بفضلہ تعالیٰ تا حال موجود اور بدستور مرزائی ہفوات کی تردید فرما رہے ہیں اور مرزا قادیانی نے مئی ١٩٠٨ء میں بمرض ہیضہ صرف گیارہ گھنٹہ بیمار رہ کر مقام لاہور وفات پائی۔ ان کے نقطۂ خیال سے یہ مہتم بالشان دعا بھی نامقبول اور مردود ہوئی ؎ تلك عشرة كاملة!
مرزائی صاحبان مرزا قادیانی کی ان دس عظیم الشان نامقبول و مردود دعاؤں کو ملاحظہ کریں اور پھر مرزا قادیانی کے بیان کردہ اصول و نص قرآنی ”وما دعاء الکافرین الا فی ضلٰل“ پر مکرر غور کرو کہ مرزا قادیانی تو صرف طاعون کی دعا کے متعلق اپنے مخالفین علماء کو للکارتے تھے۔ کہ تم کافر ہو۔ اس لئے تمہاری دعائیں قبول نہیں ہوں گی۔ مگر یہاں مرزا قادیانی کی نامقبول دعاؤں کا ایک مجموعہ دکھایا گیا ہے۔ تو پھر اس اصول کی رو سے مرزا قادیانی کے کافر ہونے میں کیا
١ ایک مرزائی کو اختیار ہے اور وہ کہہ سکتا ہے کہ یہ دعا منظور و مقبول ہوئی۔ کیونکہ دعا میں یہ الفاظ بھی تھے کہ ”اگر یہ دعویٰ مسیح موعود ہونے کا میرے نفس کا افتراء ہے اور میں تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں اور دن رات افتراء کرنا میرا کام ہے۔ تو اے میرے پاک مالک میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ کی زندگی میں مجھے ہلاک کر اور میری موت سے اس کو اور ان کی جماعت کو خوش کر دے۔“
لیکن اس صورت میں اسے مرزا قادیانی کو کذاب، مفتری، اور مفسد ماننا پڑے گا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ دعا کو نامقبول اور مردود مانا جائے۔ اس حالت میں مرزا قادیانی پر ان کا اپنا مجوزہ کفر عائد ہوگا اور مستجاب الدعوات ہونا بھی باطل ٹھہرے گا۔
١١٤
شک ہے؟ اور یہ کفر خود مرزا قادیانی کا مجوزہ ہے۔ نیز قرآن شریف میں سورہ یوسف کے آخر میں آیت ذیل کی تلاوت کریں: ”حتی اذا استیئس الرسل وظنوا انھم قد کذبوا جائھم نصرنا“ جس کا مطلب صاف ہے کہ خدا کے مامور اور مرسل جب مایوس ہو کر یہ سمجھتے ہیں کہ ہم جھٹلائے جائیں گے تو فوراً ہماری مدد آ جاتی ہے۔
مرزا قادیانی اگر مامور، مرسل اور صادق ہوتے تو ضروری تھا کہ خداوند کریم ان کی ان دعاؤں کو قبول کرتا۔ جو مرزا قادیانی کے صادق یا کاذب ہونے کا فیصلہ کرتی تھی۔ خداوند جل وعلیٰ، اضطرار کی حالت میں ہر ایک بندے کی دعا کو قبول فرماتا ہے۔ پس مرزا قادیانی کی ان دعاؤں کا رد ہونا بدیہی طور پر ان کے کاذب ہونے کا سچا ثبوت ہے۔
نویں فصل
مرزا قادیانی کے معتقدات ایمانیہ اور ان کی تعلیم اور اخلاق کے دس نمونے
ہم الٹے بات الٹی یار الٹا
مرزا قادیانی کا الہام تھا ۔ ”ماینطق عن الھویٰ ان ھو الا وحی یوحٰی“ (تذکرہ ص٣٧٨) یعنی مرزا قادیانی اپنی خواہش سے نہیں بولتا بلکہ وہی کہتا ہے جو اس پر وحی نازل ہوتی ہے اور (تجلیات الٰہیہ ص٢٤، خزائن ج٢٠ ص٤١٢) میں مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ یہ مکالمہ الٰہیہ جو مجھ سے ہوتا ہے۔ یقینی ہے۔ اگر میں ایک دم کے لئے بھی اس میں شک کروں تو کافر ہو جاؤں اور میری آخرت تباہ ہو جائے۔ اس سے ظاہر ہے کہ کم از کم دینیات اور روحانیات کے متعلق تو مرزا قادیانی نے جو کچھ لکھا ہے وہ ضروری الہام الٰہی سے لکھا ہے۔ لیکن اس مختصر کتاب کے گذشتہ اوراق سے مرزا قادیانی کے الہامات اور تحریرات کے صدق یا کذب کا ناظرین خود اندازہ لگا سکتے ہیں۔ فصل ہذا میں عام اعتقادات اسلامیہ کے متعلق مرزا قادیانی کے خیالات کا مزید اظہار کیا جاتا ہے۔ جس سے ناظرین پر روشن ہو جائے گا کہ مرزا قادیانی کس قسم کے اسلام کو مانتے تھے اور ان کے اخلاق کہاں تک اسلامی اخلاق کہلانے کے مستحق تھے اور کس حد تک وہ ”وماینطق عن الھویٰ.......الخ!“ کے ماتحت بولتے تھے۔
- ١....... توحید و ذات باری کے متعلق مشرکانہ اقوال
- الف....... فصل چہارم میں بیان ہو چکا ہے کہ مرزا قادیانی اللہ تعالیٰ کی اولاد ہونے
١١٣
کے قائل تھے۔ چنانچہ ان کو تین الہام ہوئے جن میں انہیں ولد کے لفظ سے مخاطب کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ (توضیح مرام ص ٢٧، خزائن ج ٣ ص ٦٢) پر مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”مسیح اور اس عاجز کا مقام ایسا ہے جسے استعارہ کے طور پر ابنیت کے لفظ سے تعبیر کر سکتے ہیں۔“ یہ ولد اور ابن وہ الفاظ ہیں جن کی قرآن شریف میں جا بجا تردید و مذمت فرمائی گئی ہے اور اس کے قائلوں کو گمراہ اور کافر کہا گیا ہے۔
ب....... قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”لقد کفر الذین قالوا ان الله ثالث ثلثہ (مائدہ: ٧٣)“ ﴿وہ لوگ ضرور کافر ہوئے جنہوں نے کہا کہ خدا تین میں سے ایک ہے۔﴾
اس آیت سے عیسائیوں ١؎ کے عقیدہ تثلیث کی بیخ کنی مقصود تھی۔ لیکن مرزا قادیانی پاک توحید کے ساتھ پاک تثلیث کے بھی قائل تھے۔ چنانچہ لکھتے ہیں کہ: ”اور ان دونوں محبتوں کے کمال سے جو....... خالق اور مخلوق میں پیدا ہو کر....... نرو مادہ کا حکم رکھتی ہے اور محبت الٰہی کی آگ سے ایک تیسری چیز پیدا ہوتی ہے۔ جس کا نام روح القدس ہے۔ اس کا نام پاک تثلیث ہے۔ اس لئے یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ ان دونوں کے لئے بطور ابن اللہ کے ہے۔“
(توضیح مرام ص ٢١ تا ٢٣، خزائن ج ٣ ص ٦١، ٦٢)
واہ مرزا قادیانی! کہاں تثلیث کا لعنتی عقیدہ! اور کہاں اس کے ساتھ لفظ پاک! مرزا قادیانی نے ایسے گندے عقائد کی پاک اور ناپاک دو قسمیں بنائی ہیں۔ تو مرزائیوں میں پاک جھوٹ، پاک شرک، پاک جوئے وغیرہ کا بھی ضرور رواج ہونا چاہئے۔
ج....... قرآن شریف فرماتا ہے۔ ”لیس کمثلہ شئی“ ﴿اللہ تعالیٰ کی مانند کوئی چیز نہیں ہے۔﴾ مگر مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”اس وجود اعظم کے بیشمار ہاتھ بے شمار پیر ہیں۔ عرض اور طول رکھتا ہے اور تیندوے کی طرح اس کی تاریں بھی ہیں۔“
(توضیح مرام ص ٧٥ ملخصاً، خزائن ج ٣ ص ٩٠)
د....... قرآن کریم فرماتا ہے۔ ”لا یدرکہ الابصار“ ﴿آنکھیں اسے دیکھ نہیں سکتیں۔﴾ مگر مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ:
١؎ کم از کم عیسائیوں کو تو مرزا قادیانی کا مشکور ہونا چاہئے جن کے تثلیث جیسے بھول بھلیاں عقیدہ کی مرزا قادیانی نے تصریح کرکے اسے پاک قرار دیا ہے۔
١١٤
(صاحب الہام لوگوں سے ) ”خدا تعالیٰ ان سے بہت قریب ہو جاتا ہے اور کسی قدر پردہ اپنے پاک اور روشن چہرہ پر سے جو نور محض ہے اتار دیتا ہے اور یہ کیفیت دوسروں کو میسر نہیں آتی ۔ بلکہ وہ تو بسا اوقات اپنے تئیں ایسا پاتے ہیں کہ گویا ان سے کوئی ٹھٹھا کر رہا ہے۔“
(ضرورت الامام ص ١٣، خزائن ج ١٣ ص ٤٨٣)
- ......٥ (براہین احمدیہ کے ص ٥٥٥، ٥٥٦، خزائن ج ١ ص ٦٦٣، ٦٦٤) پر لکھتے ہیں کہ:
”اغفر وارحم من السماء ربنا عاج اس کی تشریح میں کہتے ہیں کہ ہمارا رب عاجی ہے۔ مگر عاجی کے معنی کی بابت لکھا کہ معلوم نہیں ہوئے۔“
تعجب ہے کہ بارش کی طرح وحی نازل ہوتی تھی اور اللہ سے روبرو ہم کلام ہونے کے مدعی تھے۔ مگر الہام کے معنی نامعلوم ہی رہے۔ اچھا ہم بتاتے ہیں۔
مرزا قادیانی نے نبی اور محدث کے الفاظ کے لئے لغات کی کتابوں کو چھان مارا۔ اگر عاج کے معنی بھی کتب لغت میں دیکھ لیتے تو پتہ لگ ہی جاتا۔ سنو! عاج کے معنی ہیں ہاتھی دانت، استخوان فیل ، سرگیں ( گوبر ) وغیرہ۔
(دیکھو منتخب اللغات ص ٣٠٤)
اب مرزائی صاحبان کی مرضی ہے کہ اس الہام کی رو سے اپنے خدا کو ہاتھی دانت کا سمجھ لیں ١؎ یا گوبر کیش:
اللہ تعالیٰ کا یہ حلیہ غالباً مرزا قادیانی کی اس گھریلو کتاب میں درج ہوگا۔ جسے وہ ثریا سے اتار کر لانے کا ادعاء کرتے ہیں۔ ورنہ کلام اللہ میں تو ان باتوں کا کہیں پتہ نہیں۔
- ......٦ (حقیقۃ الوحی ص ٢٥، خزائن ج ٢٢ ص ٢٧) میں لکھتے ہیں کہ:
”پس روحانی طور پر انسان کے لئے اس سے بڑھ کر کوئی کمال نہیں کہ وہ اس قدر صفائی حاصل کرے کہ خدا تعالیٰ کی تصویر اس میں کھینچی جائے۔“
(توضیح المرام ص ٧٩، خزائن ج ٣ ص ٩٤) میں حضرت جبرائیل علیہ السلام کی نسبت لکھتے ہیں کہ ”(وہ خدا سے ) سانس کی ہوا یا آنکھ کے نور کی طرح خدا تعالیٰ سے نسبت رکھتا ہے۔ اسی طرف ساتھ ہی حرکت کرنی پڑتی ہے یا یوں کہو کہ خدا تعالیٰ کی جنبش کے ساتھ ہی وہ بھی بلا اختیار و بلا
١؎ کرشن جی کا اوتار بننے والے کو شیخ سعدیؒ کا یہ شعر یاد آ گیا ہوگا۔
مرصع چو در جاہلیت منات
١١٥
ارادہ اسی طور سے جنبش میں آ جاتا ہے۔ جیسا کہ اصل کی جنبش سے سایہ کا ہلنا طبعی طور پر ضروری امر ہے۔...... تو معاً اس کی ایک عکسی تصویر جس کو روح القدس کے نام سے موسوم کرنا چاہئے محبت صادق کے دل میں منقش ہو جاتی ہے۔“
ناظرین! خدا تعالیٰ کی عکسی تصویر! محبت کے دل پر گذشتہ تیرہ سو سال میں مرزا قادیانی کے سوائے اور کسی نے کبھی نہیں کھینچی تھی۔ مرزا قادیانی نے اپنی عکسی تصویر اتروا کر مریدوں میں تقسیم کروائی۔ بجائے اس کے اپنے دل پر سے خدا کی تصویر کا عکس ہی کیوں نہ اتروالیا۔ تا کہ عام لوگ اللہ میاں کی زیارت تو ان آنکھوں سے کر لیتے۔ جس سے از ابتدائے آفرینش محروم ہیں۔ واہ جناب، واہ! اللہ کی ذات اور اس کی عکسی تصویر! کیوں نہ ہو مجدد دین جو ہوئے بچہ بچہ جانتا ہے کہ تصویر ہمیشہ خارجی و مادی وجود کی ہوتی ہے۔ خواہ دستی ہو یا عکسی غیر مادی وجود کی تصویر بنانی ناممکن ہے۔ شیخ سعدیؒ فرماتے ہیں ۔
واز ہر چہ گفتہ اند شنیدیم و خواندہ ایم
دفتر تمام گشت و بپایاں رسید عمر
ما ہمچناں در اول وصف تو ماندہ ایم
جب اللہ کا جسم نہیں تو تصویر کیسی؟ اللہ کی ذات تشبیہہ سے بالا تر ہے۔ تو پھر اس کی شبیہہ کا ذکر شرک اور کفر نہیں تو اور کیا ہے؟۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام کو خدا کا سانس، یا خدا کی آنکھ کا نور، یا خدا کے جسم کا سایہ بتانا اور اس پر اعتقاد رکھنا مرزا قادیانی اور ان کی امت کو ہی مبارک ہو۔ مسلمان تو ان مشرکانہ عقائد سے سخت بیزار ہیں۔
٢...... نبوت کا دعویٰ
اگرچہ مرزا قادیانی کی تصانیف والہامات میں نبی اور رسول کے الفاظ شروع سے ہی موجود تھے۔ مگر حکمت عملی ؎ ٢ سے وہ اس کو حقیقت کے خلاف مجاز پر محمول کر کے اپنی نبوت کو ظلی،
١؎ مرزا قادیانی کا کشف ہے کہ ”میں نے دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں ۔“ (کتاب البریہ ص ٨٥، خزائن ج ١٣ ص ١٠٣) اس لئے شاید خدا کو اپنا ہم شکل سمجھ کر ہی اپنی تصویر مریدوں میں تقسیم کی ہے۔
٢؎ مرزا قادیانی کے ایک خاص مرید مرزا قادیانی کی ایسی تحریروں کو جن میں انہوں نے نبوت سے انکار کیا ہے حکمت عملی سے ہی موسوم کرتے ہیں۔ ان کی دستخطی تحریر ہمارے پاس موجود ہے۔
١١٦
بروزی، غیر حقیقی وغیرہ سے تعبیر کرتے رہے۔ مگر جوں جوں مرزا قادیانی کے مریدوں کی تعداد بڑھتی گئی۔ اس خیال کو بھی ترقی ہوتی رہی اور گو پہلے پہل مدعی نبوت کو ملعون، کافر ، دجال وغیرہ الفاظ سے موسوم کرتے اور خاتم النبیین (آیت قرآنی) اور لا نبی بعدی (حدیث شریف) کے معنی یہی کرتے رہے کہ حضرت محمدﷺ کے بعد کوئی نبی اور رسول نہیں۔ لیکن ١٩٠١ء میں ایک اشتہار بعنوان ”ایک غلطی کا ازالہ“ لکھ کر آپ نے نبوت کی ایک خام بنیاد رکھی تھی اور بالآخر کھلم کھلا نبوت ١؎ کے مدعی بن گئے ۔ جس میں کوئی شرط غیر مجازی امتی وغیرہ کی نہیں تھی۔
(دیکھو اخبار بدر ٥؍مارچ ١٩٠٨ء ، خط بنام اخبار عام ٢٦؍مئی ١٩٠٨ء ، تذکرہ ٥٥٧، ملفوظات ج١٠ص١٤٧)
لیکن اس صاف دعوے کے ساتھ ہی غیرت الٰہی جوش میں آئی اور دفعۃً موت نے آپ کو پکڑا۔ ”ان بطش ربک لشدید“ مرزا قادیانی نے نہ صرف مسیح موعود اور نبی ہونے کا دعویٰ کیا بلکہ ہر ایک نبی کے وجود اور کمال کے مظہر بن بیٹھے اور اس کے ساتھ ڈھکوسلہ یہ لگایا کہ ”متابعت تامہ حضرت محمدﷺ سے مجھے یہ درجہ حاصل ہوا ہے اور میرا وجود حضرت محمدﷺ کا ہی وجود ہے ۔“
(دیکھو ایک غلطی کا ازالہ ص ٨، خزائن ج ١٨ ص ٢١٢)
١؎ نبوت کے بارے میں آپ کی امت کے دو فریق لاہوری اور قادیانی بن گئے ہیں ۔ اول الذکر ان کو نبی مانتے اور ابتدائی اقوال سے سند پکڑتے ہیں۔ مگر آخر الذکر کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کو ١٩٠١ء تک سمجھ ہی نہیں آئی کہ آپ نبی ہیں۔ یہ عقیدہ نبی ہونے کا ان پر ١٩٠٢ء میں کھلا۔
(ملاحظہ ہو حقیقت النبوۃ ص ١٢٢، ١٢٥، ١٢٨، والقول الفصل ص ٢٤)
جن میں صاف اقرار ہے کہ مرزا قادیانی پندرہ سال تک اپنی نبوت کے منکر رہے ۔ حالانکہ نبی اپنی وحی کا اوّل المؤمنین ہوتا ہے۔ فرقہ قادیانی کا پیشوائے موجودہ یعنی مرزا قادیانی کے پسر مرزا محمود احمد نے تو نبوت کو ایسا عام اور ارزاں کر دیا کہ ان کے مسلمات کی رو سے تمام ایسے کذاب اور مفتری جنہوں نے گذشتہ تیرہ سو سال میں دعویٰ نبوت کیا سچے نبی ٹھہرتے ہیں اور آئندہ بھی مرزائیوں میں سے نبی بننے شروع ہو گئے ہیں ۔ چنانچہ مرزا قادیانی کے بعد چار اشخاص ذیل مدعی نبوت ہوچکے ہیں۔ ١...... مولوی چراغ دین جموی مصنف منارۃ المسیح ۔ ٢...... مولوی عبد اللہ تیما پوری ۔ ٣...... میاں نبی بخش ساکن معراجکے سیالکوٹ ۔ ٤...... مولوی عبد اللطیف راجپوت ساکن گنا پور ضلع جالندھر ۔
١١٧
نیز وہ یہ کہتے ہیں کہ: الف ......
آنچہ داد است ہر نبی را جام ١؎ داد آں جام را مرا بتمام
(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
کم نیم زاں ہمہ بروئے یقیں ہر کہ گوید دروغ ہست ولعین
(نزول المسیح ص ٩٩، ١٠٠، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧، ٤٧٨)
مطلب یہ کہ بابا آدم سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک جس قدر نبی ہوئے ہیں۔ آپ سب کا مجموعہ ہیں اور جو کمالات فرداً فرداً انبیائے کرام کو عطاء ہوئے تھے وہ سب کے سب مرزا قادیانی کو مل گئے ہیں اور مرزا قادیانی عرفان میں کسی نبی سے کم نہیں ہیں۔ اگر کوئی ایسا کہے تو وہ جھوٹا اور ملعون ہے۔
ب ...... ”خدا تعالیٰ نے مجھے تمام انبیاء علیہم السلام کا مظہر ٹھہرایا ہے اور تمام نبیوں کے نام میری طرف منسوب کئے ہیں۔ میں آدم ہوں میں شیث ہوں، میں نوح ہوں، میں ابراہیم ہوں، میں اسحق ہوں، میں اسماعیل ہوں، میں یعقوب ہوں، میں یوسف ہوں، میں موسیٰ ہوں، میں داؤد ہوں، میں عیسیٰ ہوں اور آنحضرت ﷺ کے نام کا میں مظہر اتم ہوں ۔ یعنی ظلی طور پر محمد اور احمد ہوں ۔“
(حقیقت الوحی ص ٧٢، خزائن ج ٢٢ ص ٧٦ حاشیہ)
ج ...... ”اس زمانہ میں خدا نے چاہا کہ جس قدر نیک اور راست باز مقدس نبی گزر چکے ہیں۔ ایک ہی شخص کے وجود میں ان کے نمونے ظاہر کئے جائیں سو وہ میں ہوں ۔“
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٩٠، خزائن ج ٢١ ص ١١٧، ١١٨)
اس مسئلہ نبوت پر قادیانیوں نے حقیقت النبوت اور لاہوریوں نے النبوت فی الاسلام دو ضخیم کتابیں لکھی ہیں ۔ جو ان کے معتقدات کو ظاہر کرتی ہیں اور فریقین مرزا قادیانی کے اقوال تحریرات سے سند پکڑتے ہیں ۔ لیکن بات یہ ہے کہ دونوں فریقوں کو گمراہ مرزا قادیانی نے ہی کیا
١؎ حضرت محمد ﷺ میں جملہ انبیاء کے کمالات جمع تھے۔ مرزا قادیانی کل انبیاء کے کمالات کا معہ کمالات آنحضرت ﷺ اپنی ذات جمع ہونا بیان کر کے گویا حضرت محمد ﷺ پر بھی فضیلت کے مدعی ہیں ۔
١١٨
ہے ۔ جہاں ان کے بے شمار اقوال دعوائے نبوت کے منافی ہیں ۔ وہاں ساتھ کے ساتھ بیسیوں جگہ دعوائے نبوت موجود بھی ہے ۔ شائقین کو شوق ہو تو کسی مرزائی سے لے کر ہر دو کتب مندرجہ بالا ملاحظہ کریں۔
ہم صرف اس قدر لکھنا چاہتے ہیں کہ جھوٹے نبیوں کا اس امت میں حسب پیش گوئی مخبر صادق حضرت محمد ﷺ ہونا ضروری تھا ۔ جیسا کہ پچھلے زمانہ میں بھی ہوتے رہے ۔
(دیکھو فصل اول کتاب ہذا)
اس کے علاوہ اس جگہ انجیل سے بھی شہادت پیش کی جاتی ہے ۔ جس کے حوالے مرزا قادیانی نے اکثر اپنی کتابوں میں دئے ہیں ۔
’’جب وہ (مسیح ) زیتون کے پہاڑ پر بیٹھتا تھا۔ اس کے شاگرد اس کے پاس آئے اور بولے کہ یہ کب ہو گا اور تیرے آنے کا اور دنیا کے آخیر کا کیا نشان ہے ۔ یسوع نے جواب دے کر انہیں کہا ۔ خبردار رہو کہ کوئی تمہیں گمراہ نہ کرے ۔ کیونکہ بہتیرے میرے نام پر آئیں گے اور کہیں گے کہ ہم مسیح ہیں اور بہتوں کو گمراہ کریں گے اور تم لڑائیاں اور لڑائیوں کی افواہ سنو گے ۔ خبردار مت گھبراؤ ۔ کیونکہ ان سب باتوں کا واقع ہونا ضروری ہے ۔ پر اب تک آخیر نہیں ہے ۔ کیونکہ قوم قوم پر اور بادشاہت بادشاہت پر چڑھے گی اور کال ، وبائیں ، اور جگہ جگہ زلزلہ ہوں گے اور بہت جھوٹے نبی اٹھیں گے اور بہتوں کو گمراہ کریں گے ۔‘‘ آگے چل کر لکھا ہے ۔
’’ کیونکہ جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اٹھیں گے اور بڑی شان اور کرامتیں دکھاویں گے ۔ یہاں تک کہ اگر ممکن ہوتا تو برگزیدوں کو بھی گمراہ کرتے ۔ اس وقت انسان کے بیٹے کو بادلوں پر بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ آتا دیکھیں گے ۔‘‘
(دیکھو انجیل مرقس ١٣، باب ٢٢، لوقا ١٧، باب ٢٦، ٢٧ تا ٣١، اعمال ٢، ٣، یوحنا ١٥، ٢٨، ٢٩ متی ٢٤)
اور ایسا ہی انجیل برنباس میں لکھا ہے کہ:
’’کاہن نے جواب میں کہا کہ کیا رسول اللہ کے آنے کے بعد اور رسول بھی آئیں گے ۔ رسول یسوع نے جواب دیا ۔ اس کے بعد خدا کی طرف سے بھیجے ہوئے سچے نبی کوئی نہیں آئیں گے ۔ مگر جھوٹے نبیوں کی بھاری تعداد آئے گی۔‘‘ (دیکھو باب ٩٧ آیت ٦ تا ٩، انجیل برنباس)
خود مرزا قادیانی بھی اپنی متعدد تصانیف انجام آتھم ، اربعین نمبر ٢ ، آئینہ کمالات اسلام ،
١١٩
نشان آسمانی جون ١٨٩٢ء، حمامتہ البشریٰ وغیرہ وغیرہ میں بعد حضرت خاتم النبیین ﷺ کسی نئے یا پرانے نبی کا آنا نہیں مانتے بلکہ مدعی نبوت کو بدبخت، مفتری، ملعون، کاذب اور کافر قرار دیتے رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ:
ھر نبوت را بسروشد اختتام
(سراج منیر ص ٩٣، خزائن ج ١٢ ص ٩٥)
لاجرم شد ختم ھر پیغمبرے
(براہین احمدیہ ص ١٠، خزائن ج ١ ص ١٩)
پس بمقابلہ ارشاد ربانی، احادیث صحیحہ، شہادت اناجیل مروجہ الوقت واقرار خود مرزا قادیانی کا نبوت کا دعویٰ کرنا اور سلسلہ نبوت کو ہمیشہ کے لئے جاری اور غیر مختتم ماننا ناظرین غور فرمالیں کہ کہاں تک اسلام کے موافق ہے؟۔
حضرت امام اعظمؒ کا فتویٰ یہ ہے کہ: جو مسلمان کسی مدعی نبوت سے معجزہ طلب کرے وہ بھی کافر ہے۔ کیونکہ اس کے مطالبہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسے آنحضرت ﷺ کے خاتم النبیین ہونے میں شک ہے۔
(دیکھو خیرات الحسان مطبوعہ مصر ص ٥٠ سطر ٩ واردو ترجمہ موسوم بہ جوہر البیان ص ١٠٣)
- ٣...... ملائکہ کے وجود سے انکار
مرزا قادیانی ملائکہ کے وجود فی الخارج کے منکر ہیں اور ان کو ستاروں کی ارواح مانتے اور کہتے ہیں کہ ملائکہ زمین پر کبھی نہیں آتے۔ اس بارے میں ان کے اقوال حسب ذیل قابل غور ہیں۔
- الف...... ’’ملائکہ اپنے وجود کے ساتھ کبھی زمین پر نہیں اترتے۔‘‘
(توضیح مرام ص ٢٩ ملخصاً، خزائن ج ٣ ص ٦٦)
- ب...... ’’ملک الموت زمین پر نہیں اترتا۔‘‘
(توضیح مرام ص ٣١ ملخصاً، خزائن ج ٣ ص ٦٧)
١٢٠
- ج....... ”فرشتے اپنے مقررہ مقام سے ایک ذرہ کے برابر بھی آگے پیچھے نہیں
ہوتے۔“
(توضیح مرام ص ٣٢، خزائن ج ٣ ص ٦٧)
- د....... ”جس طرح آفتاب اپنے مقام پر ہے اور اس کی گرمی اور روشنی زمین پر
پھیل کر اپنے خواص کے موافق زمین کی ہر ایک چیز کو فائدہ پہنچاتی ہے۔ اس طرح روحانیت سماویہ، خواہ ان کو یونانیوں کے خیال کے موافق نفوس فلکیہ کہیں یا دساتیر اور وید کی اصطلاحات کے موافق ارواح کواکب سے ان کو نامزد کریں یا نہایت سیدھے اور مواحدانہ طریق سے ملائکۃ اللہ کا ان کو لقب دیں۔ درحقیقت یہ عجیب مخلوقات اپنے اپنے مقام میں مستقر اور قرار گیر ہے۔“
(توضیح مرام ص ٣٣، خزائن ج ٣ ص ٦٧، ٦٨)
- ہ....... ”وہ نفوس نورانیہ کواکب اور سیارات کے لئے جان کا ہی حکم رکھتے ہیں۔“
(توضیح مرام ص ٣٨، خزائن ج ٣ ص ٧٠)
”جن کو نفوس کواکب سے بھی نامزد کرسکتے ہیں۔“
(توضیح مرام ص ٤٠، خزائن ج ٣ ص ٧١)
- و....... ”ہم اس بات کے ماننے کے لئے بھی مجبور ہیں کہ روحانی کمالات اور دل
اور دماغ کی روشنی کا سلسلہ بھی جہاں تک ترقی کرتا ہے بلاشبہ ان نفوس نورانیہ کا اس میں بھی دخل ہے۔ اسی دخل کی رو سے شریعت غرا نے استعارہ کے طور پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں میں ملائکہ کا واسطہ ہونا ایک ضروری امر ظاہر فرمایا ہے۔ جس پر ایمان لانا ضروریات دین میں سے گردانا گیا ہے۔“
(توضیح مرام ص ٤١، خزائن ج ٣ ص ٧٢)
- ز....... ”دنیا میں جس قدر تم تغیرات وانقلابات دیکھتے ہو یا جو کچھ مکمن قوت سے
حیز فعل میں آتا ہے یا جس قدر ارواح واجسام اپنے کمالات مطلوبہ تک پہنچتے ہیں ان سب پر تاثیرات سماویہ کام کر رہی ہیں....... جبرائیل کا تعلق آسمان کے ایک نہایت روشن نیر (آفتاب) سے ہے وغیرہ وغیرہ۔“
(توضیح مرام ص ٦٨، ٦٩، خزائن ج ٣ ص ٨٦)
غرض رسالہ توضیح مرام کے اس پیچیدہ اور ژولیدہ بیان میں ملائکہ کو صرف اجرام سماوی، کواکب و سیارگان کی روح مانا ہے اور ملائکہ کا لفظ بطور استعارہ استعمال ہونا تسلیم کیا ہے۔
مرزا قادیانی محال عقلی سے بہت ڈرا کرتے تھے۔ چنانچہ وہ تمام مہتم بالشان اسلامی مسائل کو عقل ناقص کے نامکمل ڈھانچہ میں ڈھالنا چاہتے تھے۔ اس لئے ملائکہ کے متعلق بھی ستارہ
١٢١
پرستوں کی کتب سے یہ عقلی ڈھکوسلے اخذ کئے ہیں اور فلسفیانہ تاویلات وحکیمانہ توجیہات سے اسلام پر دساتیر صائبیوں اور وید کی تعلیم کی ترجیح دی ہے۔ لہذا اوّل مرزا قادیانی کے ان خیالات کا عقلی تحقیقات سے ہی موازنہ کیا جاتا ہے۔
ناظرین سے مخفی نہیں کہ زمانہ حال کے ماہران فن نجوم نے ممالک جرمن، فرانس، امریکہ وغیرہ میں دور بینوں وغیرہ کے ذریعہ اس امر کا مشاہدہ کر کے لکھا ہے کہ آفتاب، ماہتاب، ستارے اور سیارے وغیرہ اجرام سماوی سب کے سب کُرّے ہیں۔ اور ان میں سے بعض میں آبادیاں بھی ہیں۔ چنانچہ مریخ میں آبادی کا ہونا قریباً ثابت ہو چکا ہے۔ بلکہ خود مرزا قادیانی بھی شمس وقمر میں آبادی کے قائل ہیں۔
(دیکھو سرمہ چشم آریہ ١٣٥ حاشیہ، خزائن ج ٢ ص ٨٧)
اس جدید تحقیقات علمی اور اپنے اقرار کے مقابلہ میں مرزا قادیانی کا ملائکہ کو ستاروں کی ارواح کہنا کتنا مضحکہ خیز ہے۔ یورپ کے عالموں اور پروفیسروں نے یہ بھی تحقیق کیا ہے کہ ستاروں، سیاروں، شہاب ثاقب وغیرہ اجرام سماوی کا وجود مفصلہ ذیل اشیاء سے مرکب پایا گیا ہے۔ لوہا، کانسی، گندھک، سکہ، میگنیشیا، چونا، المونیم، پوٹاس، سوڈا، تانبا، کاربن وغیرہ۔
(دیکھو مورانیہ جیالوجی مصنفہ ڈاکٹر سیریل کٹس ص ٥٥)
اس کتاب کے ملاحظہ سے مرزا قادیانی کے علم وفضل کا حال خوب روشن ہو گا اور ان کی اس نئی تحقیقات کی اچھی طرح قلعی کھل جائے گی۔ جیسا کہ کشف من اللہ کی حقیقت گذشتہ مضامین سے کھل چکی ہے۔
ہندوؤں پر تو آپ کا اعتراض ہے کہ ”وہ ٣٣ کروڑ دیوتاؤں کو الوہیت کے کاروبار میں خدا تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہیں۔“
(براہین احمدیہ ص ٣٩٣، خزائن ج ١ ص ٤٧٠ حاشیہ نمبر ١١)
مگر خود بدولت ملائکہ کو ستاروں کی ارواح مان کر کہتے ہیں کہ دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے نجوم کی ہی تاثیرات سے ہو رہا ہے۔ تو فرق کیا رہا؟۔ ہندوؤں نے ٣٣ کروڑ دیوتاؤں کو کاروبار الوہیت میں شریک کیا اور آپ نے بے شمار ستاروں کو!
اس سے معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی کی یہ تعلیم بالکل مشرکانہ خلاف عقل اور خلاف واقعہ ہے۔ لیکن دوسری طرف مرزا قادیانی عامل بالقرآن وحدیث ہونے کے بھی مدعی تھے۔ اس لئے قرآن شریف اور احادیث صحیحہ سے ملائکہ کے وجود کا ثبوت پیش کیا جاتا ہے۔ جس سے مرزا قادیانی کے اس باطل عقیدہ کی تکذیب ہو جائے گی۔ اگرچہ مرزا قادیانی دینی تعلیم کی کامیابی
١٢٢
سے ان لفظوں میں انکار بھی فرما چکے ہیں کہ:
”مگر اس فلسفی الطبع زمانہ میں جو عقلی شائستگی اور ذہنی تیزی اپنے ساتھ رکھتا ہے۔ ایسے عقیدوں کے ساتھ دینی کامیابی کی امید رکھنا ایک بڑی بھاری ! غلطی ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٤٦٨، خزائن ج ٣ ص ٢٣٥)
قرآن کریم کو کھول کر مقامات ذیل کو دیکھو:
- الف ...... ” ولما جاءت رسلنا لوطا ...... سجيل منضود تک
(ھود: ٧٧ تا ٨٢)
- ب ...... ” هل اتك حديث ضيف ابراهيم المكرمين
(الذاریات: ٢٤)
- ج ...... ” اذ تقول للمومنين الن يكفيكم ...... مسومين تک (آل
عمران: ١٢٤، ١٢٥) “
- د ...... ” فارسلنا اليها روحنا فتمثل لها بشرا سويا ٠ قال انما
انا رسول ربك لا هب لك غلاما زكيا (مريم: ١٧، ١٩) “
حوالہ ”الف“ میں فرشتوں کا حضرت لوط علیہ السلام کے پاس آنا آپ کو اطمینان دلانا اور اگلی صبح تمام بستی کو تباہ کر دینا۔ کیا یہ سب کچھ ارواح کواکب کا کام ہے؟۔
حوالہ ”ب“ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے گھر فرشتوں کا بطور مہمان آنا آپ کا ان کے لئے کھانا تیار کرنا فرشتوں کا نہ کھانا، بیٹے کی ولادت کی خوشخبری دینا۔ کیا یہ ارواح کواکب کے اعمال ہیں؟۔
حوالہ ”ج“ میں پہلے تین ہزار تعداد فرشتوں کی بتانا اور منزلین ان کی صفت بیان
! چلو چھٹی ہوئی۔ ناظرین آپ نے دیکھا کہ مرزا قادیانی آنجہانی نے اپنی نام نہاد عقلی تحقیقات کے ڈھکوسلوں کے سامنے تعلیم قرآن شریف اور تعلیم دین کیسا عاجز خیال کیا ہے کہ بلا شرط ہتھیار ڈال کر دینی کامیابی سے ہی منکر ہو گئے ہیں۔ عقلی دلائل کا ہی خوف تھا جو آپ اسلام کے بیسیوں مسلمہ مسائل سے انحراف کر گئے۔ لیکن دوسری طرف دیکھو تو آپ نہ صرف اصلی روحانیت و عرفان کے ہی مدعی ہیں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ سے روبرو باتیں کرنے، آسمان پر اپنا نکاح پڑھوانے اور خدا کے مظہر ہونے کے بھی دعویدار ہیں۔ افسوس گھر کے رہے نہ گھاٹ کے۔
١٢٣
کرنا اور پھر پانچ ہزار فرشتوں کے ساتھ مدد پہنچانا اور مسومین ان کی صفت بتلانا کیا یہ بھی ارواح کواکب ہی تھیں؟۔
حوالہ ”ڈ“ میں جس وجود نے حضرت مریم علیہا السلام سے گفتگو کی تھی اور ان کے سوالات کا جواب دیا تھا۔ کیا یہ بھی ستارہ کی ہی روح تھی؟۔
مرزائی صاحبان! مرزا قادیانی کی قبر سے پوچھیں یا ان کے بیٹے (موجودہ گدی نشین) میاں محمود احمد سے یا اپنے ضمیر سے کام لیں۔ کیا قرآن شریف کے مندرجہ بالا حوالوں میں ملائکہ سے ارواح کواکب مراد ہیں؟۔ جو اپنی جگہ سے بقول مرزا قادیانی ذرہ برابر جنبش نہیں کر سکتے۔ قرآن کریم میں بیسیوں جگہ ملائکہ اور ان کے کاموں کا ذکر ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام کو فرشتوں سے سجدہ کرانے کا قصہ مذکور ہے۔ مگر ایک متقی اور صاف باطن مسلمان کے لئے یہی چار حوالے کافی ہیں۔ باقی ضرورت ہو تو قرآن شریف پر تدبر کرنے سے مزید تسکین قلب ہو جائے گی۔
رہے ستارے سو ان کی غرض و غایت آیات ذیل میں مذکور ہے۔
” انا زینا السماء الدنیا بمصابیح “ ﴿ہم نے دنیا کے آسمان کو ستاروں سے آراستہ کیا۔﴾
” وبالنجم ھم یھتدون “ ﴿اور ہم نے ستاروں کو شیطان کے مارنے اور بھگانے کے لئے بنایا﴾
اب احادیث کی طرف رجوع کرو:
- الف ........ بخاری، مسلم، ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ میں بروایت حضرت عمرؓ
فاروق ایک حدیث ہے کہ ایک سائل آیا اس کی صورت وضع اور لباس کو دیکھ کر صحابہؓ متحیر ہو گئے۔ اس نے اسلام اور ایمان کے متعلق کچھ سوال کئے اور چلا گیا۔ حضرت رسالت مآبﷺ نے فرمایا۔ ” فانہ جبرائیل (علیہ السلام) اتاکم یعلمکم دینکم (مشکوۃ ص ١١، کتاب الایمان) “ ﴿یہ حضرت جبرائیل تھے اس لئے آئے تھے کہ تم کو تمہارا دین سکھا جائیں۔﴾
- ب ........ ”عن ابن عباسؓ قال قال رسول اللهﷺ یوم بدر ھذا
جبرئیل اخذ براس فرسہ علیہ ادات الحرب (بخاری ج ٢ ص ٥٧٠، باب شہود الملائکۃ ببدرا) “ ﴿حضرت رسول مقبولﷺ نے غزوہ بدر کے دن فرمایا کہ یہ جبرائیل ہے۔ یہ سلاح جنگ پہنے گھوڑا پکڑے کھڑا ہے۔﴾
١٤٤
ان حوالوں میں جس وجود کا آنا درج ہے وہ ارواح کواکب تھیں۔ یا اللہ کا فرشتہ؟ علیٰ ہذا حضرت جبرائیل علیہ السلام کا لشکر فرعون میں گھوڑے پر چڑھ کر آنا۔
(دیکھو قرآن شریف اور بائبل)
اور حضرت جبرائیل کا دو دن تک رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھوانا رمضان المبارک میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ قرآن مجید کا دور کرنا دحیہ کلبی صحابی کی شکل میں آنا اور صدیق اکبرؓ اور ام المومنین عائشہ صدیقہؓ کا سلام پہنچانا۔ (دیکھو احادیث صحیحہ) کیا یہ سب ارواح کواکب کے ہی کام ہیں۔ جو اپنے مستقر سے ایک لحظہ کے لئے بھی جدا نہیں ہو سکتے؟۔
اب ناظرین خود اندازہ کر لیں کہ سچے مسلمان کے لئے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے فرمان پر دل سے ایمان لانا اور اس پر یقین رکھنا امن وامان کا سیدھا راستہ ہے۔ یا مرزا قادیانی کے خرافات و معتقدات مجوسیہ صحیح ہیں؟ اور کیا اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانا اور ان سے انکار کرنا کسی مومن مسلمان کا کام ہو سکتا ہے۔ ”نبوت اور امانت تو چیزے دیگر است“
مگر لوگوں کے دکھلانے کے لئے مرزا قادیانی یوں بھی رقم طراز ہیں کہ:
آنچہ گفت آن مرسل رب العباد
آنہمہ از حضرت احدیت است
منکر آن مستحق لعنت است
(درثمین ص ١١٤ سراج منیر ص ٩٤ خزائن ج ١٢ ص ٩٦)
کیا مرزا قادیانی کی مندرجہ بالا تحریرات متعلق ملائکہ ان اشعار کی تائید کرتی ہیں؟۔
٤…… قرآن وحدیث پر مرزا قادیانی کا ایمان
الف…… مرزا قادیانی (ازالہ اوہام ص ٧٠٨، خزائن ج ٣ ص ٤٨٢) میں ایک مجہول الاحوال شخص کی زبانی کسی مجذوب کا تئیس سال پیشتر کا کشف بیان کر کے لکھتے ہیں کہ ”میں قرآن کریم کی غلطیاں نکالنے کے لئے آیا ہوں۔ جو تفسیروں کی وجہ سے واقع ہو گئی ہیں ۔“ پھر آگے چل کر اسی (ازالہ اوہام ص ٧٢٧، خزائن ج ٣ ص ٤٩٣ حاشیہ) میں لکھتے ہیں کہ:
ب…… ”قرآن زمین سے اٹھ گیا تھا۔ میں قرآن کو آسمان پر سے لایا ہوں ۔“ قرآن کریم کا زمین سے اٹھ جانا اور اس میں غلطیوں کا ہونا نص قرآنی ”انا نحن نزلنا الذکر
١٢٥
وانا له لحفظون ١؎ کے قطعی برخلاف ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم دنیا پر نازل فرما کر اس کی حفاظت کا خود وعدہ فرمایا اور قرآن کریم میں کہیں نہیں فرمایا کہ کبھی یہ قرآن آسمان ٢؎ پر چلا جائے گا اور پھر مرزا غلام احمد قادیانی کے ہاتھ زمین پر واپس بھیجا جائے گا۔ تو مرزا قادیانی کا یہ ادعاء محض باطل ہے۔ باقی رہا آپ کا قرآن کریم کی غلطیاں نکالنا اور بمقابلہ اقوال صحابہ کرامؓ وعلماء واکابرین واولیائے خیر القرون اپنے من گھڑت ڈھکوسلوں کو قرآنی اسرار و رموز کا رنگ دینا جس کی بابت بہت لمبے چوڑے دعوے کئے جاتے ہیں۔ اس کا نمونہ اس کتاب کے گذشتہ اوراق میں دیا گیا ہے کہ خلاف تعلیم قرآن آپ نے کیسے کیسے باطل عقائد مسلمانوں میں پھیلانے کی کوشش کی ہے۔ قرآن کریم کی تحریف معنوی میں آپ نے خوب زور خرچ کیا ہے۔ قرآن کریم کی آیات کے معنی اور مطلب کچھ ہیں اور آپ کچھ اور معنے کرتے ہیں۔ جنہیں علماء نے رد کیا ہے۔ اگر اسی کا نام آسمان سے قرآن کا دوبارہ لانا ہے تو ہم اسے دور سے ہی سلام کرتے ہیں۔ کشف کی حالت میں آپ کو ’انا انزلناه قريبا من القاديان‘ بھی قرآن میں لکھا ہوا نظر آیا۔ مگر قرآن اس تحریف سے بھی پاک ہے۔
- ج....... مرزا قادیانی نے علمائے کرام کے حق میں بہت بدزبانی سے کام لیا اور
مغلظات سنائیں۔ (دیکھو فقرہ نمبر ٦ فصل ہذا) جب آپ کی اس روش پر اعتراض ہوا تو جواب دیا گیا کہ ”قرآن کریم میں بھی ایسی گندی گالیاں موجود ہیں۔“
(ازالہ اوہام ص ٢٧، خزائن ج ٣ ص ١١٦، حاشیہ)
گویا مرزا قادیانی اپنے طرز کلام کو خدا کا کلام سمجھتے ہیں۔ کیوں نہ ہو آخر آپ کو خدائی کے الہام بھی تو ہوئے تھے۔
- د....... مرزا قادیانی اپنے الہاموں کو کسی طرح قرآن کریم سے کم نہیں سمجھتے تھے۔
(اربعین نمبر ٣ ص ١٩، خزائن ج ١٧ ص ٤٥٤، حقیقت الوحی ص ٢١١، خزائن ج ٢٢ ص ٢٢٠)
١؎ یہ قرآن ہم نے ہی اتارا اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔
٢؎ مرزا قادیانی نے آیت انا على ذهاب به لقادرون کے اعداد (١٨٥٧) نکال کر اس سے استدلال کیا ہے کہ ١٨٥٧ء میں بوقت غدر ہندوستان قرآن آسمان پر اٹھا لیا گیا تھا۔ اس کے متعلق (حاشیہ ازالہ اوہام ص ٣٧٨ تا ص ٣٨٠، خزائن ج ٣ ص ٢٩٥) قابل دید ہے۔ ناظرین! قرآن کریم میں اصل آیت اور اس کا منشاء دیکھ کر پھر مرزا قادیانی کے اس انوکھے استدلال پر غور کریں اور اس کی لغویت کی داد مرزا قادیانی کے حواریوں کو دیں۔
١٢٦
آپ کے سینکڑوں الہام لچر اور پوچ ثابت ہوئے۔ اس سے ظاہر ہے کہ قرآن کریم کی مرزا قادیانی کی نظر میں کیا وقعت تھی۔
ہ...... حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلوی اپنی تفسیر کے ص٣٠١ میں تحریر فرماتے ہیں کہ ’لا تلبسوا الحق بالباطل و تکتمون الحق‘ کے معنی یہی ہیں کہ قرآن کریم کے معنی حسب خواہش نفس کے لئے جائیں اور سیاق و سباق کا لحاظ نہ رکھا جائے اور ضمائر کو خلاف قرینہ راجع کیا جائے جیسا کہ اکثر گمراہ فرقے اسلام میں سے کیا کرتے ہیں۔
مرزا قادیانی بھی قرآن کریم کے معنی کرنے میں ایسا ہی کرتے رہے جیسا مسئلہ حیات مسیح علیہ السلام میں انہوں نے ضمائر کے ہیر پھیر سے کام لیا ہے اور آیات قرآنی کے معنی اپنے مفید مطلب کرنے کی کوشش کی ہے۔
حدیث شریف کے متعلق جو مرزا قادیانی کی روش ہے وہ ان کے اس قول سے ظاہر ہے کہ ”جو حدیث ہمارے الہام کے خلاف ہو ہم اسے ردی میں پھینک دیتے ہیں وغیرہ۔“
(اعجاز احمدی ص٣٠، خزائن ج١٩ ص١٤٠)
آپ کے الہاموں کی جو حالت ہے۔ روشن ہے جن کا سراسر غلط ہونا اس مختصر رسالہ میں بھی ثابت کیا جاچکا ہے اور فصل آئندہ خصوصیت سے قابل ملاحظہ ہے۔ بجائے اس کے کہ مرزا قادیانی حسب طریق سلف صالحین اپنے الہاموں کو قرآن و حدیث پر پیش کرتے۔ الٹا حدیثوں کو اپنے الہاموں پر پیش کرتے ہیں اور تقویٰ اور خوف خدا کو چھوڑ کر عجب و تکبر سے آنحضرت ﷺ پر فضیلت حاصل کرنا چاہتے ہیں اور زبانی دعویٰ یہ ہے کہ ”میں فنا فی الرسول ہوں اور بوجہ کامل اتباع عین محمد بن گیا ہوں۔ میرے وجود میں محمد کے سوائے کچھ نہیں ہے۔“
(دیکھو اشتہار ایک غلطی کا ازالہ ص٤، خزائن ج١٨ ص٢٠٨)
نیز کہتے ہیں کہ:
ہر چہ ازو ثابت شود ایمان ماست
(درثمین ص١١٤، سراج منیر ص٩٢، خزائن ج١٢ ص٩٦)
اس دورنگی نے مرزا قادیانی کو مخبر صادق حضرت محمد ﷺ کی ایک پیش گوئی کا مورد بنایا اور آنحضور ﷺ کا فرمان تیرہ سو برس کے بعد اپنے لفظوں اور معنوں کی رو سے بالکل صحیح ثابت ہوا۔ ارشاد مبارک یوں ہے۔
١٢٧
”عن المقدام بن معد يكرب قال قال رسول الله ﷺ الا انى اوتيت القرآن ومثله معه الا يوشك رجل شبعان على اريكته يقول عليكم بهذا القرآن فما وجدتم فيه من حلال فأحلوه وما وجدتم فيه من حرام فحرموه وان ما حرم رسول الله كما حرم الله الحديث (رواه ابوداؤد الدارمى وابن ماجه، مشکوۃ کتاب ص٢٩ الاعتصام بالكتاب والسنة )“ یعنی فرمایا! آنحضرت ﷺ نے کہ مجھے قرآن کریم بھی دیا گیا ہے اور قرآن کے ساتھ اس کی مثل بھی۔ خبردار ہو قریب ہے کہ ایک پیٹ بھرا کھاتا پیتا مغرور شخص اپنی چھپر کھٹ پر بیٹھا ہوا یہ کہے گا کہ تم صرف قرآن کو لو اور جو اس میں حلال ہو اس کو حلال سمجھو۔ جو حرام ہو اس کو حرام خیال کرو۔ تحقیق یہ ہے کہ جس کو رسول اللہ حرام کرتے ہیں وہ بھی ایسا ہی ہے جیسا کہ خدا نے اسے حرام کیا ہے۔
اسی کتاب (مشکوٰۃ شریف ص٢٩، باب الاعتصام بالكتاب والسنة) میں ایک اور حدیث اس طرح سے ہے:
”عن ابى رافع قال قال رسول الله ﷺ لا الفين احدكم متكأً على اريكته ياتيه الامر من امرى مما امرت به او نهيت عنه فيقول لا ادرى ما وجدنا فى كتاب الله اتبعناه (رواه احمد وابوداؤد والترمذى وابن ماجه والبيهقى فى دلائل النبوة )“
مطلب اس کا بھی یہی ہے جو پہلی حدیث کا ہے۔ ”رجل شبعان على اريكته“ کی تعریف مرزا قادیانی پر کیسی صادق آتی ہے۔ آپ نے نہ خدمت دین کے لئے کوئی سفر کیا نہ فرض حج ادا کیا۔ حالانکہ نہ صرف کھانے پینے سے ہی بطفیل مریدان و دیگر اہل اسلام آپ بے فکر تھے۔ بلکہ لاکھوں روپیہ کی جائداد کے مالک تھے۔ مقویات ومفرحات نے آپ کے دماغ پر یہاں تک اثر ڈالا کہ حدیث شریف سے ہی منکر ہو بیٹھے اور پیش گوئی کی پوری پوری تصدیق کر دی۔
کاش مرزا قادیانی آیت ”وما ينطق عن الهوى ان هو الا وحى يوحى“ پر تدبر کرتے اور ارشاد باری تعالیٰ ”لقد كان لكم فى رسول الله اسوة حسنة “ کو مدنظر رکھتے ۔ لیکن انہیں قرآن وحدیث سے سروکار ہی کیا تھا۔ وہ تو ہر تحریر میں اپنے مطلب اور غرض کو ملحوظ رکھتے تھے اور طرز عمل ان کا یہ تھا۔
باقی سب لغو ہے اور جھوٹ حدیث وقرآن
١٢٨
٥...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے معجزات کے متعلق
مرزا قادیانی کے یہودیانہ خیالات
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق مرزا قادیانی کی تحریرات ایسی ایسی دل آزار اور معاندانہ ہیں کہ اس کے اظہار و تحریر سے بھی بدن پر رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں۔ جس مقدس نبی کے حالات قرآن کریم میں تفصیل و تصریح کے ساتھ درج ہوں ان پر طرح طرح کے بہتان وافتراء باندھنا اور اس کے ذلیل کرنے میں ایڑی چوٹی تک کا زور لگانا کچھ مرزا قادیانی کے ہی منہ کو زیب دیتا ہے۔ جب اعتراض ہوا تو کہہ دیا کہ یہ اعتراض بائبل کی بناء پر کئے گئے ہیں۔ بھلے آدمی! بائبل تو محرف ہے اس کے بیان سے سند پکڑنے کی آپ کو کیوں ضرورت پیش آئی۔ جب کہ قرآن کریم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پاکی بیان کرتا ہے۔ یہودی بھی تو ایسے ہی الزام لگایا کرتے تھے۔ جن کی قرآن کریم نے تردید کی ہے ایک جواب مرزا قادیانی کی طرف سے یہ بھی دیا جاتا ہے کہ یہ جو کچھ لکھا گیا۔ یسوع کی نسبت لکھا ہے لیکن ناظرین! یہ بھی ایک مرزائی دھوکا ہے۔ ورنہ (توضیح المرام ص ٣، ٤١، نور القرآن اور تحفہ قیصریہ ص ٢٠، ٢١، ٢٢، ٢٥، ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٨٧ حاشیہ) میں یسوع اور مسیح کے لفظ سے حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہم السلام ہی مراد لئے گئے ہیں۔ اب ذیل میں مرزا قادیانی کی ہرزہ سرائی ملاحظہ ہو۔
- ١...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے متعلق۔
- الف...... ”افغان، یہودیوں کی طرح نسبت اور نکاح میں کچھ فرق نہیں کرتے۔
لڑکیوں کو اپنے منسوبوں کے ساتھ ملاقات اور اختلاط کرنے میں مضائقہ نہیں ہوتا۔ مثلاً مریم صدیقہ کا اپنے منسوب یوسف کے ساتھ اختلاط کرنا اور اس کے ساتھ گھر سے باہر چکر لگانا۔ اس رسم کی بڑی سچی شہادت ہے اور بعض پہاڑی خواتین کے قبیلوں میں لڑکیوں کا اپنے منسوب لڑکوں کے ساتھ اس قدر اختلاط پایا جاتا ہے کہ نصف سے زیادہ لڑکیاں نکاح سے پہلے ہی حاملہ ہو جاتی ہیں۔“
(ایام الصلح ص ٦٦ حاشیہ، خزائن ج ١٤ ص ٣٠٠)
- ب...... ”مفتری ہے وہ شخص جو مجھے کہتا ہے کہ میں مسیح ابن مریم کی عزت نہیں
کرتا۔ بلکہ مسیح تو مسیح میں تو اس کے چاروں بھائیوں کی بھی عزت کرتا ہوں۔ کیونکہ پانچوں ایک ہی ماں کے بیٹے ہیں۔ نہ صرف اسی قدر بلکہ میں تو حضرت مسیح کی دونوں حقیقی ہمشیروں کو بھی مقدسہ
١٢٩
سمجھتا ہوں۔ کیونکہ یہ سب بزرگ مریم بتول کے پیٹ سے ہیں اور مریم کی وہ شان ہے جس نے ایک مدت تک اپنے تئیں نکاح سے روکا۔ پھر بزرگان قوم کے نہایت اصرار سے بوجہ حمل کے نکاح کر لیا۔ گو لوگ اعتراض کرتے ہیں۔ برخلاف تعلیم توریت عین حمل میں کیوں کر نکاح کیا گیا اور بتول ہونے کے عہد کو کیوں ناحق توڑا گیا اور تعدد ازدواج کی کیوں بنیاد ڈالی گئی۔ یعنی باوجود یوسف نجار کی پہلی بیوی ہونے کے پھر مریم کیوں راضی ہوئی کہ یوسف نجار کے نکاح میں آئے۔ مگر میں کہتا ہوں کہ یہ سب مجبوریاں تھیں۔ جو پیش آگئیں۔ اس صورت میں وہ لوگ قابل رحم تھے نہ قابل اعتراض۔“
(کشتی نوح ص ١٦ خزائن ج ١٩ ص ١٨)
ناظرین! دونوں حوالوں کو ملا کر غور کریں کیا اس ساری بکواس کا یہ مفہوم نہیں کہ:
- اول ...... مریم اپنے منسوب یوسف نجار کے ساتھ قبل از نکاح اختلاط کرتی تھی اور
اس کے ساتھ گھر سے باہر چکر لگایا کرتی تھی اور قوم افاغنہ کی لڑکیوں کی طرح قبل از نکاح ہی حاملہ ہو گئی تھی۔ (معاذ اللہ منہا)
- دوم ...... شریعت موسوی کی رو سے یہودیوں میں ایک بیوی کی موجودگی میں دوسری
بیوی جائز نہ تھی۔ اس لئے حضرت مریم علیہا السلام کی یوسف نجار سے نسبت بھی جائز نہ ہوئی۔
- سوئم ...... مریم بتول کا یہ نکاح ناجائز بزرگان قوم نے اس مجبوری کی وجہ سے کیا کہ
وہ حاملہ پائی گئی۔
- چہارم ...... یہ حمل یوسف نجار کا ہی تھا۔ حضرت مریم کے بطن اور یوسف کے نطفہ سے
دو لڑکیاں پیدا ہوئیں۔ مرزا قادیانی انہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حقیقی بہنیں کہتے ہیں۔ حقیقی بہن بھائی وہی ہوتے ہیں جو ایک ہی ماں باپ سے ہوں۔ اگر ماں ایک اور باپ مختلف ہوں تو ایسے بہن بھائی ”اخیانی“ کہلاتے ہیں اور اگر باپ ایک مائیں الگ الگ ہوں تو انہیں ”علاتی “کہتے ہیں۔
پس صاف ثابت ہے کہ مرزا قادیانی بھی یہودیوں کی طرح حضرت مریم علیہا السلام کو زانیہ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ناجائز تعلقات کی پیدائش سمجھتے تھے۔ ”وهذا بهتان عظيم“
- ٢ ...... ” آپ کا خاندان ہی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں
آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ خزائن ج ١١ ص ٢٩١ حاشیہ)
١٤٠
٣...... ”ایسے ناپاک خیال، متکبر اور راستبازوں کے دشمن کو ایک بھلا مانس آدمی بھی قرار نہیں دے سکتے۔ چہ جائے کہ اسے نبی قرار دیں۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٩ ، خزائن ج ١١ ص ٢٩٣ حاشیہ)
٤...... ”مسیح کے حالات پڑھو تو صاف معلوم ہو گا۔ یہ شخص کبھی بھی اس قابل نہیں ہو سکتا کہ نبی بھی ہو۔“
(ملفوظات ج ٣ ص ١٣٦، الحکم ٢١ فروری ١٩٠٢ء)
”مسیح کی راستبازی اپنے زمانہ میں دوسرے راستبازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے۔ کیونکہ وہ شراب ١؎ نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آ کر اپنی کمائی کے...... عطر اس کے سر پر ملا تھا یا ہاتھوں اور سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا۔ یا کوئی بے تعلق جواں عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اسی وجہ سے خد انے قرآن ٢؎ میں یحییٰ کا نام حصور رکھا مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔“
(دافع البلاء ص ٤ حاشیہ، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٠)
یسوع ایک لڑکی پر عاشق ہو گیا اور جب استاد کے سامنے اس کے حسن و جمال کا تذکرہ کر بیٹھا تو استاد نے اسے عاق کر دیا...... یہ بات پوشیدہ نہیں کہ کس طرح وہ نامحرم نوجوان عورتوں سے ملتا تھا اور کس طرح ایک بازاری عورت سے عطر ملواتا تھا۔
(ملفوظات ج ٣ ص ١٣٧، الحکم ٢١ فروری ١٩٠٢ء)
٥...... ”آپ کو کس قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔ آپ نے ایک یہودی استاد سے توریت پڑھی تھی۔ یا تو قدرت نے آپ کو زیرکی سے بہت حصہ نہیں دیا تھا۔ یا استاد نے شرارت سے آپ کو سادہ لوح رکھا۔ بہر حال آپ علم اور عملی قویٰ میں بہت کچے تھے۔
١؎ مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو شرابی جانتے اور کہتے تھے۔ چنانچہ (نسیم دعوت ص ٦٩ ، خزائن ج ١٩ ص ٤٣٤ ، ٤٣٥) میں لکھا ہے کہ مرزا قادیانی کے ایک دوست نے ان کو بوجہ مرض ذیابیطس افیون کھانے کی صلاح دی۔ مرزا قادیانی نے جواب دیا کہ میں ڈرتا ہوں کہ لوگ ٹھٹھا کر کے یہ نہ کہیں کہ پہلا مسیح تو شرابی تھا اور دوسرا افیونی۔
٢؎ جو مرزائی کہا کرتے ہیں کہ یہ سب کچھ عیسائیوں کے مسیح کو کہا گیا ہے۔ انہیں شرم سے ڈوب مرنا چاہئے کیونکہ مرزا قادیانی اپنے بیان کو قرآن شریف سے مستند کرتے ہیں۔
١٤١
اسی لئے آپ کے بھائی آپ سے سخت ناراض رہتے تھے اور ان کو یقین تھا کہ آپ کے دماغ میں ضرور خلل ہے۔“ ١؎
- ٦...... ”آپ کو...... تین مرتبہ شیطانی الہام ہوا جس کی وجہ سے خدا سے منکر
ہونے کے لئے تیار ہو گئے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٦، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)
- ٧...... ”نہایت شرم کی بات ہے کہ آپ نے پہاڑی تعلیم کو جو انجیل کا مغز کہلاتی
ہے۔ یہودیوں کی کتاب طالمود سے چرا کر لکھا اور پھر ایسا ظاہر کیا کہ گویا یہ میری تعلیم ہے۔ (آگے لکھتے ہیں کہ) افسوس ہے کہ وہ تعلیم پر بھی کچھ عمدہ نہیں عقل اور کانشنس دونوں اس تعلیم کے منہ پر طمانچے مار رہے ہیں۔“
(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٦، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)
- ٨...... ”حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف نجار کے ساتھ بائیس برس کی
مدت تک نجاری کا کام بھی کرتے رہے۔“
(ازالہ اوہام حاشیہ ص ٣٠٣، خزائن ج ٣ ص ٢٥٥)
نیز دیکھو (توضیح المرام ص ٢٧، خزائن ج ٣ ص ٦٤) جہاں ایک نہایت گہرے پیرایہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بغیر باپ کی پیدائش کے قصہ کو استعارہ اور مجاز بنا دیا ہے اور اس کو ایک روحانی اور عرفانی مرتبہ سے تعبیر کیا ہے۔ گویا یہاں بھی ان کو یوسف ٢؎ نجار کا بیٹا تسلیم کیا ہے۔
- ٩...... ”مسیح کا نمبر ہدایت اور توحید اور دینی استقامتوں کے کامل طور پر دلوں
میں قائم کرنے کے بارے میں ان کی کارروائیوں کا نمبر ایسا کم درجہ کا رہا کہ قریب قریب ناکام کے رہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٣١١ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٢٥٨)
١؎ مرزا قادیانی سردرد، دماغ کا خلل خود زمانہ قبل از دعوائے ماموریت سے تسلیم کرتے ہیں۔ دیکھو (حقیقت الوحی ص ٤٠٧، ضمیمہ اربعین ص ٤٠٣، ٤٠٤، منظور الٰہی ص ١٤٨، رسالہ احمدی خاتون ج ٢ نمبر ٤، ٥ ص ٣٢، سیرت المہدی مصنفہ مرزا بشیر احمد ص ١٣) غالباً اسی لئے مرزا قادیانی نے تسلیم کر لیا تھا کہ حافظہ اچھا نہیں، یاد نہیں رہا۔ (ریویو آف ریلیجنز اپریل ١٩٠٣ء ص ١٥٣ حاشیہ) پھر باوجود اس خلل دماغ اور حافظہ کی خرابی کے آپ کیوں کر مامور اور مرسل ہو سکتے ہیں۔
٢؎ پٹیالہ کے ایک معزز شخص مکرمی شیخ عباد اللہ پٹیالوی پہلے مرزا قادیانی کے مرید تھے جو عرصہ دراز یعنی ٢٠، ٢٥ سال تک اس دام میں پھنسے رہے اس کے بعد مرزائی تعلیم ان پر باطل ثابت ہوئی۔ تو تائب ہو گئے۔ لیکن میری حیرت کی کوئی حد نہ رہی جب کہ عندالملاقات ایک روز انہوں نے مجھ سے اپنا یہ عقیدہ ظاہر کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام یوسف نجار کے بیٹے تھے۔ بغیر باپ کے پیدا ہونے کا قصہ غلط ہے۔ یہ اثر ان پر مرزائی تعلیم کا ہی باقی رہا ہوا معلوم ہوتا ہے۔
١٤٢
یسوع کی نسبت صاف معلوم ہے۔ پورا ناتواں اور بے علم تھا۔ پھر یسوع کی راستبازی میں کلام ہے۔
(ملفوظات ج٣ص١٣٧، الحکم ٢١ فروری ١٩٠٢ء)
١٠...... ”اگر مسیح کے اصل کاموں کو ان حواشی سے الگ کر کے دیکھا جائے۔ جو محض افتراء کے طور پر یا غلط فہمی کی وجہ سے گھڑے گئے ہیں تو کوئی عجوبہ نظر نہیں آتا۔ بلکہ مسیح کے معجزات اور پیش گوئیوں پر جس قدر اعتراضات اور شکوک پیدا ہوتے ہیں۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ کسی اور نبی کے خوارق یا پیش خبریوں میں کبھی ایسے شبہات پیدا ہوئے ہوں۔“
(ازالہ ص٦، ٧، خزائن ج٣ص١٠٥)
”مگر پھر بھی عوام الناس ایک انبار معجزات کا ان کی طرف منسوب کر رہے ہیں۔“
(ازالہ ص٨، خزائن ج٣ص١٠٦)
”عیسائیوں نے آپ کے بہت سے معجزات لکھے ہیں مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا لے اور آپ کے ہاتھ میں سوائے مکر و فریب کے اور کچھ نہیں تھا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص٧، حاشیہ خزائن ج١١ ص٢٩١،٢٩٠)
”یہ اعتقاد بالکل غلط اور فاسد اور مشرکانہ خیال ہے کہ مسیح مٹی کے پرندے بنا کر اور ان میں پھونک مار کر انہیں سچ مچ کے جانور بنا دیتا تھا، نہیں بلکہ صرف عمل التراب تھا جو روح کی قوت سے ترقی پذیر ہو گیا تھا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مسیح ایسے کام کے لئے اس تالاب کی مٹی لاتا تھا۔ جس میں روح القدس کی تاثیر رکھی گئی تھی۔ بہر حال یہ معجزہ صرف ایک کھیل کی قسم میں سے تھا اور وہ مٹی در حقیقت ایک مٹی ہی رہتی تھی جیسے سامری کا گوسالہ۔“
(ازالہ حاشیہ ص٣٢٢، خزائن ج٣ص٢٦٣)
”وہ بائیس سال تک اپنے باپ یوسف نجار کے ساتھ نجاری کا کام کرتا رہا۔ اس پیشہ میں کلوں وغیرہ کا بنانا خوب آتا ہے۔ کچھ تعجب کی جگہ نہیں کہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح کو عقلی طور پر ایسے طریق پر اطلاع دے دی ہو۔ جو ایک کھلونا کل کو دبانے سے یا کسی پھونک مارنے کے طور پر پرواز کرتا ہو۔“
(ازالہ ص٣٠٣ حاشیہ خزائن ج٣ص٢٥٤)
” زمانہ حال میں بھی دیکھا جاتا ہے کہ اکثر صناع ایسی چڑیاں بنا لیتے ہیں کہ وہ بولتی بھی ہیں اور ہلتی بھی ہیں اور دم بھی ہلاتی ہیں اور میں نے سنا ہے کہ بعض چڑیاں کل کے ذریعہ سے پرواز بھی کرتی ہیں۔ بمبئی اور کلکتہ میں ایسے کھلونے بہت بکتے ہیں۔“
(ازالہ اوہام ص٣٠٣ حاشیہ خزائن ج٣ص٢٥٥)
لے قرآن شریف کا کیسا صاف انکار ہے آگے مفصل ذکر آتا ہے۔
”اگر یہ عاجز اس عمل (مسمریزم) کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خدا تعالیٰ کے فضل وتوفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان عجوبہ نمائیوں میں حضرت ابن مسیح مریم سے کم نہ رہتا۔“
(ازالہ اوہام ص ٣١٠ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٢٥٨)
” (مسیح جیسے معجزات دکھلانے سے) تنویر باطن اور تزکیہ نفوس کا جو اصل مقصد ہے۔ اس (دکھلانے والے) کے ہاتھ سے بہت کم انجام پذیر ہوتا ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٣١٠ حاشیہ خزائن ج ٣ ص ٢٥٨)
ناظرین! آپ نے دیکھ لیا ایک پیغمبر کی ہتک اور اس کے معجزات کی بے وقعتی اس سے زیادہ اور کیا ہو سکتی ہے۔ مرزا قادیانی کے ان خیالات سے ظاہر ہے کہ آپ کا قرآن کریم پر بالکل ایمان نہ تھا۔ ورنہ کوئی وجہ نہیں کہ وہ قرآن کریم کی صریح آیتوں کے برخلاف لکھتے۔ ذیل میں نمبر وار مرزائی ہفوات مندرجہ بالا کی تردید میں آیات قرآنی کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ کلام الٰہی سب مسلمانوں کے پاس موجود ہے۔ اصل آیات کو دیکھ کر اپنے ایمان کو تازہ کر سکتے ہیں:
- ١...... آپ کے خاندان کی تعریف...... ”اذ قالت امرأت عمران“ سے
”بغیر حساب (آل عمران: ٣٥ تا ٣٧)“ تک۔
حضرت مریم علیہا السلام کی صفت و تطہیر ”واذ قالت الملئکۃ یا مریم“ سے ”نساء العلمین (آل عمران: ٤٢)“ تک۔
- ٣،٢...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت ورسالت ”انما المسیح عیسیٰ ابن
مریم رسول اللہ وکلمتہ (النساء: ١٧١)“
- ٤...... آپ کے اعلیٰ اوصاف ”واذ قالت الملئکۃ یا مریم ان اللہ
یبشرک“...... سے ”من الصالحین (آل عمران: ٤٥، ٤٦)“ تک۔
- ٦،٥...... آپ کی تعلیم و حکمت ”ویعلمہ الکتاب والحکمۃ“...... سے ”بنی
اسرائیل (آل عمران: ٤٨، ٤٩)“ تک۔
- ٧...... انجیل اللہ تعالیٰ نے برائے ہدایت عطاء فرمائی ”وقفینا علی
آثارھم“...... سے ”للمتقین (المائدہ: ٤٦)“ تک۔
- ٨...... حضرت عیسیٰ اور ان کی والدہ کا آیت و نشان قدرت ہونا...... ”والتی
احصنت فرجھا فنفخنا فیھا من روحنا وجعلناھا وابنھا آیۃ للعلمین (الانبیاء: ٩١)“
١٣٤
- ٩...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کامیاب انبیاء کے زمرہ میں داخل ہونا ”وتلك
حجتنا (الانعام:٨٣)“ سے اخیر رکوع تک۔
- ١٠...... آپ کا مؤید بروح القدس ہونا ”واتينا عيسى ابن مريم البينت
وايدنه بروح القدس (البقره:٢٥٣)“
مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزوں سے کہیں تو صاف انکار کیا ہے اور کہیں ان کے معجزات کو مسمریزم اور مکروہ افعال سے نامزد کیا ہے۔ ذیل میں قرآن شریف سے ان کی اس لغو بیانی کی تردید کی جاتی ہے:
قول مرزا قادیانی
- الف...... مسیح نے کوئی معجزہ نہیں دکھایا۔ ان کے معجزے پر بے حد شکوک پیدا ہوتے
ہیں۔ آپ کے ہاتھ میں سوائے مکر وفریب کے کچھ نہ تھا۔
- ب...... یہ اعتقاد مشرکانہ ہے کہ مسیح مٹی کے جانور بنا کر پھونک مارتا تھا اور وہ پرند
بن کر اڑ جاتے تھے۔ یہ مسمریزم تھا یا تالاب کی مٹی کی تاثیر تھی۔ یا یوسف نجار کی تعلیم سے کوئی کھلونا بنا لیا ہوگا۔
- ج...... یہ معجزے ایک مکروہ قابل نفرت حرکات ہیں۔ ان سے تزکیہ نفس نہیں ہو
سکتا۔ اگر یہ افعال قابل نفرت نہ ہوتے تو میں ان سے بھی زیادہ شعبدے دکھلا سکتا تھا۔
تردید بروئے قرآن شریف
- الف...... اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ”واتينا عيسى ابن مريم البينت وايد نه
بروح القدس“
(نیز دیکھو البقرہ:٨٧)
- ب...... قرآن شریف میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزوں کا حال اس طرح
لکھا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے احسانات حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اس طرح جتلاتا ہے۔
- ١...... ہم نے روح القدس سے مدد دی۔
- ٢...... تم نے پنگھوڑے میں (پیدا ہوتے ہی) بھی اور سن کہولت میں بھی
لوگوں سے یکساں کلام کیا۔ یعنی بن باپ کے پیدا ہو کر اپنی والدہ کی پاکبازی کی تصدیق کی۔
- ٣...... توریت اور انجیل تم کو سکھلائی گئی۔
- ٤...... مٹی سے ایک پرند کی صورت بنائی اور اس میں پھونک ماری تو وہ زندہ
ہو کر اڑ گیا۔
١٣٥
- ٥...... مادرزاد کوڑھی اور اندھے کو چنگا کیا۔
- ٦...... قبر میں سے مردہ کو زندہ کر کے نکالا۔
- ٧...... ہم نے بنی اسرائیل کو تم پر دست درازی کرنے سے روکا اور قتل وصلیب
سے محفوظ رکھا۔
- ٨...... تم پر آسمان سے خوان اتارا گیا۔
(دیکھو مائدہ:١٥)
اس قدر صاف اور صریح معجزات کے ہوتے ہوئے مرزا قادیانی کا انکار کئے جانا اور معجزوں میں شک وشبہ کرنا صاف طور پر قرآن شریف سے روگردانی اور بے ایمانی نہیں تو اور کیا ہے۔
- ج...... آپ نبی کاذب تھے معجزے نہ پائے تو انگور کھٹے بتائے۔ لوگوں کے مرنے
اور اپنے دشمنوں کی ہلاکت کی۔ بیسیوں پیش گوئیاں آپ نے کیں جن کو معیار صدق و کذب قرار دیا۔ ان میں ہی آپ نے کیا خاک عجوبہ نمائی کی۔ (دیکھو فصل ١٠ کتاب ہذا) اور پھر مسلمانوں کے ڈر سے دکھلاوے کے لئے اس طرح بھی لکھتے ہیں۔
برہمہ از جان و دل ایمان ماست ہر کہ انکارے کند از اشقیا است
(در ثمین ص ١١٤، سراج منیر ص ٩٤، خزائن ج ١٢ ص ٩٦)
اوپر کی عبارات دیکھ لیجئے کیا اچھا ایمان ہے۔
چند اور تحریرات
مسلمانوں کا اعتقاد ہے کہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہم السلام قریب قیامت دوبارہ تشریف لائیں گے۔ مگر مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ان الفاظ میں ڈانٹتے ہیں۔
- الف......
(ازالہ اوہام ص ١٥٨، خزائن ج ٣ ص ١٨٠)
- ب......
(دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)
١؎ ابن مریم کا ذکر قرآن مجید میں ہے۔ مرزا قادیانی کے حکم کی تعمیل جو مرید کرنا چاہیں گے۔ ان کو قرآن مجید کی قرأت وسماعت چھوڑنی پڑے گی۔ ”فافھم و تدبر“
١٣٦
ج ........ پھر لکھتے ہیں کہ: ”خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔“
(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)
و....... (کشتی نوح ص ١٦، خزائن ج ١٩ ص ١٧) میں لکھتے ہیں کہ: ”گو خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ مسیح محمدی مسیح موسوی سے افضل ہے۔ لیکن تاہم میں مسیح ابن مریم کی بہت عزت کرتا ہوں۔“
بڑی مہربانی! نہایت نوازش! عزت کرنے پر یہ حال ہے جو اوپر درج ہوا، اگر کہیں ہتک کرنے لگتے تو خدا جانے کیا سے کیا کر دیتے شاید مسیح علیہ السلام کا دنیا سے وجود ہی اڑا کر ان کو استعارہ اور مجاز بنا دیتے!!
خدا جانے اگر تم خشمگیں ہوتے تو کیا کرتے
تصویر کا دوسرا رخ
دوسری طرف جب مرزا قادیانی کو کچھ اور مطلب نکالنے کی ضرورت ہوئی تو ٢٥؍مئی ١٨٩٧ء کو ایک رسالہ بنام تحفہ قیصریہ تیار کر کے بطور مبارک جشن جوبلی ملکہ معظمہ قیصریہ ہند کے حضور میں پیش کیا۔ جس میں سلطنت کے ساتھ صرف اپنی جماعت کو وفادار اور دیگر کل اہل اسلام کو گورنمنٹ کی نظر میں باغی و طاغی ظاہر کیا اور جہاد کو ناجائز قرار دیا اور اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں نہایت تعظیم و تکریم کے الفاظ استعمال کئے چنانچہ لکھتے ہیں کہ:
”اس ؎١ (خدا) نے مجھے اس بات پر بھی اطلاع دی ہے کہ درحقیقت یسوع مسیح خدا کے نہایت پیارے اور نیک بندوں میں سے ہے اور ان میں سے ہے جو خدا کے برگزیدہ لوگ ہیں اور ان میں سے ہے جن کو خدا اپنے ہاتھ سے صاف کرتا اور اپنے نور کے سایہ کے نیچے رکھتا ہے۔ لیکن جیسا کہ گمان کیا گیا ہے خدا نہیں ہے۔ ہاں! خدا سے واصل ہے اور ان کاملوں میں سے ہے جو تھوڑے ہیں۔“
(تحفہ قیصریہ ص ٢٠، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٦)
(تحفہ قیصریہ ص ٢٠، ٢١، ٢٢، ٢٣، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٣ تا ٢٧٥) وغیرہ پر یسوع مسیح کو خدا کا پیار اور کامل انسان لکھا ہے۔ غرض یہ رسالہ جو خاص مطلب کے لئے لکھا گیا تھا۔ اس میں اس حضرت یسوع مسیح کی جس کے حق میں پہلے اتنی درافشانی فرمائی تھی۔ خوب تعریف و توصیف کی ہے۔
؎١ یہ اطلاع مرزا قادیانی کو ہی ملی ورنہ قرآن شریف میں حضرت یسوع علیہ السلام کا کوئی ذکر ہی نہیں؟۔
١٣٧
مرزا قادیانی نے بروز کا مسئلہ نکال کر اس سے بھی خوب فائدہ اٹھایا اور اس فوٹو گرافی کے آلہ کی برکت سے جو چاہا اسی وقت وہی بن گئے۔ چنانچہ اس فصل کے فقرہ نمبر ٢ میں بیان ہو چکا ہے کہ مرزا قادیانی ہر ایک کا مظہر اور نمونہ ہونے کے مدعی تھے۔ ادھر ہندوؤں کے لئے آپ کرشن جی مہاراج کا بروز اور کلکی اوتار بنے۔ پھر نبوت کو مستحکم کرنے کے لئے ایک اشتہار ایک غلطی کا ازالہ لکھا تو اس میں کامل اور مکمل طور پر حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے مظہر اتم ہونے کے دعویدار ہو گئے اور یہاں تک کہہ دیا کہ میں کوئی علیحدہ وجود نہیں ہوں۔ بلکہ میں محمد ہوں پھر میری نبوت کے دعوے سے کیوں گھبراتے ہو۔ محمد کی نبوت تو محمد کے ہی پاس رہی۔ (اگر کسی غیر کے پاس چلی جاتی تو غیرت کا مقام تھا۔)
(دیکھو ایک غلطی کا ازالہ ص ١٢، خزائن ج ١٨ ص ٢١٦)
لیکن ان سب عقائد، بروز، ظل، مظہر اور نمونہ وغیرہ کی اصل بنیاد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے عدم نزول کو ثابت کرنے کے لئے رکھی گئی تھی۔ اس کا مزید علاج انہوں نے یہ سوچا کہ آؤ مسیح کا چولا بھی پہن لیں۔ چنانچہ لکھتے ہیں کہ:
”حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے ایک نائب کی درخواست کی جو انہی کی حقیقت وجوہر کا متحد و مشابہ ہو اور بمنزلہ انہی کے اعضاء وجوارح کے ہو۔ اللہ نے ان کی دعا قبول فرما کر میرے دل میں مسیح کے دل سے پھونکا گیا۔ تو مجھے توجہات و ارادات مسیح کا ظرف بنایا گیا۔ حتیٰ کہ میرا نسمہ اس سے بھر گیا اور اب میں وجود کی سلک میں اس طرح پرو دیا گیا ہوں کہ ان کا قالب و روح میرے نفس کے اندر عیاں ہے اور ان کا وجود میرے وجود کے اندر پنہاں ہے۔ مسیح کی جانب سے ایک تجلی کوند کر آئی اور میری روح نے اس سے کامل طور پر ملاقات کی۔ یعنی وجود مسیح کے ساتھ جو اتصال ہوا ہے۔ وہ تخیل سے بڑھ کر ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ میرا دل میرا جگر میرے عروق و تار مسیح ہی سے بھرے ہوئے ہیں اور میرا یہ وجود مسیح کے وجود کا ہی ایک ٹکڑا ہے۔“
(التبلیغ ، خزائن ج ٥ ص ٤٢٨ ملخصا)
ہم مرزا قادیانی کی اس تحریر کی موشگافی میں پڑنا نہیں چاہتے اور اس کو تخیل سے بڑھ کر ہی مان لیتے ہیں اور نتیجہ کے طور پر بقول مرزا قادیانی یہ تسلیم کر لیتے ہیں کہ مرزا قادیانی اور مسیح علیہ السلام کا ایک ہی وجود ہے۔ لیکن مسیح کی جو تعریف مذکورہ بالا دس فقروں میں مرزا قادیانی نے کی ہے اس کو ملحوظ رکھ کر ہم چند سوالات کرنے کا حق رکھتے ہیں کہ: مرزا قادیانی!
- ١....... کیا آپ اسی مسیح کا وجود ہیں جس کی پیدائش ناجائز تھی؟۔
١٤٨
- .......٢
بھلا مانس بھی نہ تھا
- .......٣
جائے؟۔
- .......٤
عورتوں سے حرام عاشق ! بھی ہو؟
- .......٥
اور عملی قویٰ میں کچا
- .......٦
- .......٧
اپنی تصنیف ظاہر کر
- .......٨
(شعبدے) دکھلا
- .......٩
استقامتوں کو دلوا کلام ہے؟۔
- .......١٠
ایک انبار بیان کِ نہیں؟۔ ناظر کہنے میں ہرگز تا کامل اور مکمل برو میں دس فقروں می ہے؟
- ٢...... کیا آپ ہی مسیح کا وجود ہیں جو ناپاک خیال، متکبر، راستبازوں کا دشمن اور
بھلا مانس بھی نہ تھا اور اس کی نانیاں اور دادیاں زنا کار تھیں؟۔
- ٣...... کیا آپ اسی مسیح کا وجود ہیں جو ہرگز اس قابل نہ تھا کہ اسے نبی کہا
جائے؟۔
- ٤...... کیا آپ اسی مسیح کا وجود ہیں جو راستباز نہ تھا۔ شراب پیتا تھا اور بازاری
عورتوں سے حرام کی کمائی کا عطر ملواتا تھا اور جوان عورتوں سے میل جول رکھتا تھا اور ایک لڑکی پر عاشق ١؎ بھی ہو گیا تھا؟۔
- ٥...... کیا آپ اسی مسیح کا وجود ہیں جس کو جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی اور علمی
اور عملی قویٰ میں کچا تھا؟۔
- ٦...... کیا آپ اسی مسیح کا وجود ہیں جس کو شیطانی الہام ہوتے تھے؟۔
- ٧...... کیا آپ اسی مسیح کا وجود ہیں جو عقلاء کی کتابوں سے مضامین چراتا تھا اور
اپنی تصنیف ظاہر کرتا تھا؟۔
- ٨...... کیا آپ اسی مسیح کا وجود ہیں جس کو نجاری کی مشق کرتے کرتے معجزے
(شعبدے) دکھلانے کی طاقت ہوگئی تھی؟۔
- ٩...... کیا آپ اسی مسیح کا وجود ہیں جس کا نمبر ہدایت، توحید اور دینی......
استقامتوں کو دلوں میں قائم کرنے میں اتنا کم رہا کہ بالکل ناکام رہا اور اس کی راست بازی میں کلام ہے؟۔
- ١٠...... کیا آپ اسی مسیح کا وجود ہیں جس کے لئے خواہ مخواہ معجزوں اور نشانات کا
ایک انبار بیان کیا جاتا ہے۔ مگر دراصل وہ مکار اور فریبی تھا اور اس کے نشانات کی کچھ حقیقت نہیں؟۔
ناظرین! حضرت مسیح علیٰ نبینا وعلیہ السلام کی شان تو بہت ارفع واعلیٰ ہے۔ لیکن ہم کو یہ کہنے میں ہرگز تامل نہیں کہ مرزا قادیانی (باستثنائے چند جزوی تحریفات مندرجہ فقرہ ١، ٨، ١٠) اسی مسیح کے کامل اور مکمل بروز اور مظہر اتم تھے۔ جن کی تعریف انہوں نے خود کی اور جسے ہم نمبر ہٰذا کے شروع میں دس فقروں میں نقل کر چکے ہیں۔
١؎ کوئی محمدی بیگم کی روحانی بہن ہوگی یا محمدی بیگم اس کی مثیل ہوگی؟۔
١٤٩
یہ منہ مانگی مشابہت اور مماثلت مرزا قادیانی کو اس لئے حاصل ہوئی کہ انہوں نے خدا کے برگزیدہ نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں نہایت دلیری اور بے باکی سے گستاخیاں کی تھیں ۔ جو خود ان پر وارد ہوگئیں۔ سچ ہے چاند پر تھوکا ہوا منہ پر آتا ہے۔
میلش اندر طعنہ پاکاں برد
.... مرزا قادیانی کی اخلاقی حالت
حضور سرور کائنات افضل موجودات حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ مکارم اخلاق کا ایک اعلیٰ ترین نمونہ تھے۔ اس لئے قرآن کریم میں آپ کے اخلاق کی نسبت "انک لعلی خلق عظیم (القلم: ٤) " فرمایا گیا ہے۔ آپ دوستوں دشمنوں سب کے لئے رحمت تھے اور سخت سے سخت موقعہ پر بھی کسی کے لئے بددعا نہیں فرماتے تھے۔ چنانچہ جنگ احد میں جب لشکر اسلامی کو کچھ چشم زخم پہنچا اور حضور ﷺ کے بھی سر مبارک پر ضرب آئی اور دندان مبارک شہید ہوئے اس وقت صحابہؓ نے عرض کیا کہ حضور حد ہوگئی ہے۔ اب تو کفار کے حق میں بددعا فرماویں۔ حضور رحمۃ اللعالمین نے فرمایا کہ:
"اللهم اغفر قومی ، واهد قومی فانهم لا یعلمون (مسلم ج٢ ص١٠٨ باب غزوہ احد، درمنثور ج٢ ص٢٩٨)" ﴿یا اللہ میری قوم پر بخشش کر اور اس کو ہدایت دے یہ لوگ میری دعوت اسلام کی قدر نہیں جانتے۔﴾ اس امر پر نص قرآنی بھی شاہد ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتے ہیں کہ:
"فبما رحمة من الله لنت لهم ، ولو كنت فظا غليظ القلب لانفضوا من حولك (آل عمران: ١٥٩)" ﴿یہ کچھ اللہ کی ہی مہربانی ہے کہ تو ان کو نرم دل مل گیا اور اگر تو غصہ ور اور سخت دل ہوتا تو یہ لوگ تیرے پاس سے بھاگ جاتے۔﴾
"سبحان الله ، اللهم صل علی محمد واله واصحابه وبارک وسلم . فنعم من قال"
صدمہ در و دنداں کو ترے جن سے تھا پہنچا کی ان کے لئے تو نے بھلائی کی دعا ہے
کچھ اپنوں پہ ہی وقف نہ تھی تیری رحیمی قائل ہیں تری مہر ومروت کے عدو بھی
کی تو نے کھانے مرزا قادیانی اپنے منہ میاں حضور رسالت مآب آنحضرت ﷺ کا بروز بنتے تھے چہ نب ساری عمر اپنے انو سے اختلاف رکھنے والوں کے ح سب کچھ حاضر ! چنانچہ لکھتے ہیں ک ”اوّل قوت اخلاق لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ اس میں طیش نفس اور مجنونانہ جوش پید بات ہے کہ ایک شخص خدا کا دوس متحمل نہ ہوسکے اور جو امام زماں جھاگ آتا ہے۔ آنکھیں نیلی آیت ”انک لعلی خلق عظیم ایسی ہی تعریفیں اور
ہم کہتے ہیں کہ کائنات ﷺ کے اتباع کا مدعی انہی اوصاف واخلاق کا ہونا لا جو اخلاقی حالت دکھائی اس کے الف ...... مرزا ق دی تھی کہ وہ میری پیش گوئیو روپے انعام لیں۔ اس کے ر
کھانے میں جنہوں نے کہ تجھے زہر دیا ہے
مرزا قادیانی اپنے منہ میاں مٹھو!
حضور رسالت مآب ﷺ کے اتباع کامل اور فنا فی الرسول ہونے کے مدعی تھے۔ کبھی آنحضرت ﷺ کا بروز بنتے تھے۔ لیکن مرزا کی اخلاقی حالت دیکھو تو:
ساری عمر اپنے انوکھے اور لایعنی عقائد اور غیر اسلامی مسائل منوانے کے لئے اپنے سے اختلاف رکھنے والوں کے حق میں سب وشتم اور بددعائیں کرتے مر گئے۔ ہاں زبانی دعویٰ سب کچھ حاضر! چنانچہ لکھتے ہیں کہ:
”اوّل قوت اخلاق: چونکہ اماموں کو طرح طرح کے اوباشوں، سفلہوں اور بدزبان لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ اس لئے ان میں اعلیٰ درجہ کی اخلاقی قوت کا ہونا ضروری ہے۔ تا ان میں طیش نفس اور مجنونانہ جوش پیدا نہ ہو اور لوگ ان کے فیض سے محروم نہ رہیں۔ یہ نہایت قابل شرم بات ہے کہ ایک شخص خدا کا دوست کہلا کر پھر اخلاق رذیلہ میں گرفتار ہو اور درشت بات کا ذرہ بھی متحمل نہ ہو سکے اور جو امام زمان کہلا کر ایسی کچی طبیعت کا آدمی ہو کہ ادنیٰ ادنیٰ بات میں منہ میں جھاگ آتا ہے۔ آنکھیں نیلی پیلی ہوتی ہے۔ وہ کسی طرح امام الزمان نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا اس پر آیت ”انک لعلی خلق عظیم“ کا پورے طور پر صادق آجانا ضروری ہے۔“
(ضرورۃ الامام ص ٨، خزائن ج ١٣ ص ٤٧٨)
ایسی ہی تعریفیں اور نشانات اور علامات لکھ کر لکھتے ہیں کہ ”وہ امام الزمان میں ہوں۔“
(ضرورۃ الامام ص ٢٤، خزائن ج ١٣ ص ٤٩٥)
ہم کہتے ہیں کہ بے شک نہ صرف اماموں میں بلکہ ہر سچے مسلم میں جو اس سرور کائنات ﷺ کے اتباع کا مدعی ہے۔ جس پر آیت ”انک لعلی خلق عظیم“ نازل ہوئی تھی۔ انہی اوصاف واخلاق کا ہونا لازمی ہے لیکن باوجود اس صاف وصریح دعوے کے مرزا قادیانی نے جو اخلاقی حالت دکھائی اس کے دو تین نمونے درج ذیل ہیں۔
- الف....... مرزا قادیانی نے مولوی ثناء اللہ امرتسری کو رسالہ اعجاز احمدی میں دعوت
دی تھی کہ وہ میری پیش گوئیوں کی پڑتال کے لئے قادیان آویں اور ہر غلط پیش گوئی پر ایک سو روپے انعام لیں۔ اس کے ساتھ ہی بڑے زور سے پیش گوئی کی تھی کہ مولوی ثناء اللہ ہرگز پیش
١٤١
گویوں کی پڑتال کے لئے قادیان نہیں آئیں گے۔
(اعجاز احمدی ص ٣٧، خزائن ج ١٩ص ١٤٨)
اس پیش گوئی کو مولوی صاحب نے یوں غلط ثابت کر دیا کہ دس جنوری ١٩٠٣ء کو اسی غرض کے لئے قادیان پہنچ گئے۔ وہاں جا کر مرزا قادیانی سے خط و کتابت شروع کی۔ تو مرزا قادیانی نے بلطائف الحیل ٹالنا چاہا چنانچہ ان کو لکھا کہ پڑتال کا یہ طریقہ ہو گا کہ آپ مجمع عام میں کسی پیش گوئی پر صرف ایک سطر یا دو سطروں میں اعتراض لکھ کر ہم کو دے دیں ۔ بولنے کا آپ کو ہرگز حق نہ ہو گا منہ بالکل بند رکھنا ہو گا۔ جیسے ١؎ ”صم بکم“ تین گھنٹہ میں ہم آپ کو جواب دیں گے ...... الخ!
گھر پر بلا کر کیا ہی اچھا طریق پڑتال بتلایا کہ مولوی صاحب تو ایک دو سطر میں اعتراض لکھ کر دے دیں اور مرزا قادیانی تین گھنٹہ تک اس پر تقریر کریں اور مولوی صاحب کو ایک حرف بولنے کی بھی اجازت نہ ہو۔
چنانچہ مولوی صاحب نے اول اس نا انصافی کی شکایت کی اور پھر اسی شکل کو قبول کر کے اتنی رعایت طلب کی کہ میں اپنی یہ دو سطریں مجمع میں کھڑا ہو کر سناؤں گا اور ہر گھنٹہ کے بعد پانچ منٹ سے دس منٹ تک آپ کے جواب کی نسبت رائے ظاہر کروں گا ..... الخ! مرزا قادیانی نے ا س سے بالکل انکار کر کے تحریری جواب دے دیا۔ اس جواب کے لکھتے وقت مرزا قادیانی کی جو حالت تھی وہ خط کے لانے لے جانے والوں نے اس طرح بیان کی ہے۔
شہادت
”ہم خدا کو حاضر ناظر جان کر بحکم ’لا تکتمو الشهادة‘ سچ کہتے ہیں کہ ہم جب مولانا ثناء اللہ صاحب کا خط لے کر مرزا قادیانی کی خدمت میں حاضر ہوئے تو جناب ایک ایک فقرہ سنتے جاتے تھے اور بڑے غصہ سے بدن پر رعشہ تھا اور دہانِ مبارک سے خوب گالیاں دیتے تھے اور حضار مجلس مرید بھی ساتھ کے ساتھ کہتے جاتے تھے کہ حضرت واقعی ان مولوی لوگوں کو تمیز تہذیب نہیں۔ چند الفاظ جو مرزا قادیانی نے علماء کی نسبت عموماً اور مولوی ثناء اللہ صاحب کی نسبت خصوصاً فرمائے تھے یہ ہیں ۔“
خبیث، سور، کتا، گوہ خوار، بدذات، ہم اس کو کبھی بولنے نہ دیں گے۔ گدھے کی طرح لگام دے کر بٹھائیں گے اور گندگی اس کے منہ میں ڈالیں گے ۔ لعنت ہی لے کر جائے گا۔ اس کو کہو کہ قادیان سے لعنت لے کر چلا جائے ۔ ( قادیان میں لعنت کا ہی ذخیرہ تھا! مؤلف ) وغیرہ وغیرہ
١؎ منہ بند رکھ کر آدمی صم (گونگا) تو ہو سکتا ہے مگر بکم (بہرا) کس طرح ہو سکتا ہے۔
١٤٤
سننے اور دیکھنے میں بڑا فرق ہے۔ ہم حلفیہ بطور شہادت کے کہتے ہیں کہ ایسی گالیاں ہم نے مرزا قادیانی کی زبان سے سنی ہیں جو کسی چوہڑے چمار سے بھی کبھی نہیں سنیں۔ (الہامات مرزا)
العبد العبد حکیم محمد صدیق ساکن جالندھر محمد ابراہیم بستی دانش مندان ساکن امرتسر، کٹڑہ سفید
(دیکھئے الہامات مرزا مرتبہ مولانا ثناء اللہ امرتسری مشمولہ احتساب قادیانیت ج ٨ ص ١٢٨ تا ١٣٠)
اب غور کیا جائے کہ مولوی صاحب کو دعوت دے کر تو مرزا قادیانی نے قادیان بلایا اور جب وہ پہنچ گئے تو بلا قصور ان کی نسبت یہ درافشانی فرمائی اس طرح گھر پر بلا کر ایسی تواضع کرنا کہاں کا اخلاق اور انسانیت ہے۔ ذرا اس کا مقابلہ ضرورت الامام کی عبارت محولہ بالا سے تو کر کے دیکھو سچ ہے کہ: ”ہاتھی کے دانت کھانے کے اور ہوتے ہیں دکھانے کے اور۔“
ب ...... علمائے اسلام نے چونکہ مرزا قادیانی کے دعوؤں کو نہ مانا بلکہ لوگوں کو ان کی چالاکیوں اور خلاف شرع تعلیم سے آگاہ کر دیا۔ اس لئے مرزا قادیانی ان کے بہت ہی خلاف تھے اور ان کو نہایت غلیظ گالیوں اور گندہ الفاظ سے یاد کیا کرتے تھے۔ ممکن ہے کہ بالمقابل بھی کسی نے ترکی بہ ترکی جواب دیا ہو۔ لیکن مرزا قادیانی تو آنحضرت ﷺ کے بروز اور مظہر اتم بنتے تھے اور خود رسالہ ضرورت الامام میں بھی امام الزمان کے اخلاق کا نمونہ درج کر چکے تھے۔ پھر ان کی طرف سے سب و شتم اور گالی گلوچ کا سلوک کیوں ہوا؟۔ یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ عام طور پر سخت کلامی اور درشتی تحریر کی ابتداء مرزا قادیانی کی طرف سے ہی ہوتی تھی۔ ذیل میں مرزا قادیانی کی مختلف کتابوں اور تحریروں سے ان کی دی ہوئی گالیاں بلحاظ حروف تہجی کتاب عصائے موسیٰ سے نقل کی جاتی ہیں۔
ناظرین! مرزا قادیانی کی ان نئی ایجاد کردہ گالیوں کی مرزائیوں کو داد دیں اور مرزا قادیانی کی روح کو بھی اس حق ایجاد کا ثواب بخش دیں اور مرزا قادیانی کے اس شعر پر خصوصیت سے نگاہ رکھیں جو فرماتے ہیں۔
جس دل میں ہے نجاست بیت الخلاء وہی ہے
(قادیان کے آریہ اور ہم ص ٦١، خزائن ج ٢٠ ص ٣٥٨)
نوٹ از مرتب! ..... الف سے یاء تک مرزا قادیانی کی گالیوں کو حروف ابجد کے
١٤٣
حساب سے فہرست پر نظر ڈالیں۔ اس کی مختلف کتب سے مصنف نے جمع کی ہیں۔ ہم نے ان کی یہاں تخریج حوالہ جات نہیں کی۔ اس لئے کہ احتساب قادیانیت ج ٢ ص ١١١ تا ١٤٤ پر ان سب کی تخریج ہو چکی ہے۔ ”فلحمدلله اولاً و آخراً من شاء فليراجع اى صفحات المذكور من احتساب قادیانیت ج ٢ خذو كن من الشاكرين“
(فقیر .... اللہ وسایا)
- الف ...... اے بدذات فرقہ مولویوں تم نے جس بے ایمانی کا پیالہ پیا وہی عوام
کالانعام کو بھی پلایا۔ اندھیرے کے کیڑو، ایمان وانصاف سے دور بھاگنے والو، اندھے، نیم دہریہ، ابولہب، اسلام کے دشمن، اسلام کے عار مولویو، اے جنگل کے وحشی، اے نابکار، ایمان روشنی سے مسلوب، احمق مخالف، اے پلید دجال، اسلام کے بدنام کرنے والے، اے بد بخت مفتریو، امّی، اشرار، اوّل الکافرین، اوباش، اے بدذات، خبیث دشمن اللہ اور رسول کے، ان بیوقوفوں کے بھاگنے کی جگہ نہ رہے گی، اور صفائی سے ناک کٹ جائے گی۔
- ب ...... بے ایمان اندھے مولوی، پلید طبع، پاگل، بدذات، بدگوہر
- پ ...... ظاہر نہ کرتے، بے حیائی سے بات بنانا، بددیانت، بے حیا انسان،
بدذات فتنہ انگیز ، بدقسمت منکر ، بدچلن، بخیل، بداندیش، بدظن، بد بخت قوم، بدگفتار، بدظن، باطنی جذام، بخل کی سرشت والے، بے وقوف جاہل، بیہودہ، بدعلماء، بے بصر۔
- ت ...... تمام دنیا سے بدتر تنگ ظرف، ترک حیا، تقویٰ و دیانت کے طریق کو بکلی چھوڑ
دیا۔ ترک تقویٰ کی شامت سے ذلت پہنچ گئی۔ تکفیر ولعنت کی جھاگ منہ سے نکالنے کے لئے۔
- ث ...... ثعلب (لومڑی) ”ثم اعلم ايها الشيخ الضال والدجال البطال“
- ج ...... جھوٹ کی نجاست کھائی۔ جھوٹ کا گوہ کھایا۔ کامل وحشی، جاہل۔
- چ ...... صدق و ثواب سے منحرف، دور، جعلساز جیتے جی ہی مر جانا، چوہڑے، چمار۔
- ح ...... حمار، احمق، حق و راستی سے منحرف، حاسد، حق پوش۔
- خ ...... خبیث طبع مولوی جو یہودیت کا خمیر اپنے اندر رکھتے ہیں۔ خنزیر سے زیادہ
پلید، خطا کی ذلت انہی کے منہ پر، خالی گدھے، خائن، خیانت پیشہ، خاسرین، خالیة من نور رحمن، خام خیال، خفاش۔
- د، ڈ ...... دل کے مجذوم، دھوکا دہ، دیانت ایمانداری راستی سے خالی، دجال
دروغگو ، ڈوموں کی طرح مسخرہ، دشمن سچائی، دشمن قرآن، دلی تاریکی۔
- ذ ...... ذلت کی موت ذلت کے ساتھ پردہ داری، ذلت کے سیاہ داغ ان کے
١٤٤
منحوس چہروں کو سوروں اور
- ر ......
گے، روسیاہ، روباہ باز، رہزن
- ز ......
- س ......
سیاہ دل فرقہ کس قدر شیطانی المتکبرین الذی اضاع دینہ
- ش ...... شر
از سفلہ نمی ترسد، بلکہ از سفلہ
- ص ......
- ض ......
- ط ......
- ظ ......
- ع ......
الکلب، عدوہا۔
- غ ...... غول
- ف ...... فہم
- ق ...... قبر
- ک ...... کتے
والے، اکمہ (مادر زاد اندھے
- گ ...... گند
نظر، کھوپڑی میں کیڑا، کیڑوں
- ل ...... لاف
- م ...... مولو
مفتری، موردغضب، مفسد، م مگس طینت ، مولوی کی بک بک
منحوس چہروں کو سوروں اور بندروں کی طرح کر دیں گے۔
ر ...... رئیس الدجالین، ریش سفید کو منافقانہ سیاہی کے ساتھ قبر میں لے جائیں گے، روسیاہ، روباہ باز، رئیس المتصلفین، راس المعتدین، راس الغادین۔
ز ...... زہرناک مادے والے، زندیق، زورکم، فتشوا لی مراعی الذور۔
س ...... سچائی چھوڑنے کی لعنت انہی پر برسی، سفلی ملا، سیاہ دل مکر، سخت بے حیاء، سیاہ دل فرقہ کس قدر شیطانی افتراؤں سے کام لے رہا ہے۔ سادہ لوح، ساطلسی، سفہا، سفلہ، سلطان المتکبرین الذی اضاع دینہ بالکبر والتوہین، سگ بچگاں۔
ش ...... شرم وحیا سے دور، شرارت، خباثت و شیطانی کارروائی والے، شریف از سفلہ نمی ترسد، بلکہ از سفلگی آدمی ترسد، شریر مکار، شقی سے بھرا ہوا، شیخ نجدی۔
ص ...... صدرة القناة ينوش صدرك،ضربه ويريك رمانى بحار دماء!
ض ...... ضال ، ضررهم اكثر من ابليس لعين!
ط ...... طالع منحوس، طبتم نفسا بالغاء الحق والدين!
ظ ...... ظالم، ظلمانی حالت۔
ع ...... علماء السوء، عداوت اسلام عجب و پندار والے، عدو العقل، عقارب، عقب الکلب، عدوہا۔
غ ...... غول الاغوی، غدار سرشت، غالی، غافل۔
ف ...... فبهت یا عبد الشیطان، فریبی، فن عربی سے بے بہرہ، فرعونی رنگ۔
ق ...... قبر میں پاؤں لٹکائے ہوئے، قست قلوبهم قد سبق الكل في الكذب!
ک ...... کتے، گدھا، کینہ ور، گندے اور پلید فتوے والے، کمینہ، گندی کارروائی والے، کہما ( مادر زاد اندھے ) گندی عادت، گندے اخلاق۔
گ ...... گندہ دہانی، گندے اخلاق والے، ذلت سے غرق ہو جا، کج دل قوم، کوتاہ نظر، کھوپڑی میں کیڑا، کیڑوں کی طرح خود ہی مر جائیں گے، گندی روحو۔
ل ...... لاف و گزاف والے، لعنت کی موت۔
م ...... مولویت کو بدنام کرنے والو، مولویوں کا منہ کالا کرنے کے لئے، منافق، مفتری، مورد غضب، مفسد، مرے ہوئے کیڑے، مخذول، مہجور، مجنوں، مغرور، منکر، محجوب مولوی، مگس طینت، مولوی کی بک بک، مردار خوار مولویو!۔
١٤٥
ن...... نجاست نہ کھاؤ، نااہل مولوی، ناک کٹ جائے گی، ناپاک طبع لوگوں نے، نابینا علماء، نمک حرام، نفسانی، ناپکار قوم، نفرتی وناپاک شیوہ، نادان متعصب، نالائق، نفس امارہ کے قبضہ میں، نااہل حریف، نجاست سے بھرے ہوئے، نادانی میں ڈوبے ہوئے، نجاست خواری کا شوق۔
و...... وحشی طبع، وحشیانہ عقائد والے۔
ہ...... ہامان، ہالکین، ہندوزادہ۔
ی...... یک چشم مولوی، یہودانہ تحریف، یہودی سیرت، ’’یاایھاالشیخ الضال والمفترى البطال‘‘ یہود کے علماء، یہودی صفت وغیرہ وغیرہ۔
ج...... اس کے علاوہ اخبار در نجف لاہور میں بھی مرزا قادیانی کی ہرزہ بانیوں کی ایک فہرست چھپی ہے۔ جس میں سے چند اقتباسات ذیل میں درج ہیں۔
پادریوں کی نسبت
’’پادریوں نے شرارت پر کمر باندھی، شوخی سے ناچتے پھرے ان کے نہایت پلید اور بدذات لوگوں نے گالیاں نکالیں ۔لعنت ہے تم پر اگر نہ آؤ اور سڑے گلے مردہ (حضرت مسیح) کا میرے خدا کے ساتھ مقابلہ نہ کرو۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦٢، خزائن ج ١١ ص ٣٤٦)
مولوی عبدالحق غزنوی کی نسبت
’’خاص کر رئیس الدجالین عبدالحق اور اس کا تمام گروہ ’علیھم نعال لعن اللہ الف الف مرۃ....‘ اے پلید دجال پیش گوئی تو پوری ہوگئی۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٦، خزائن ج ١١ ص ٣٣٠)
صوفیائے کرام کی نسبت
’’بعض جاہل سجادہ نشین اور فقیری اور مولویت کے شتر مرغ ...... یہ سب شیاطین الانس ہیں ۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص ١٨، خزائن ج ١١ ص ٣٠٢ حاشیہ)
’’جس قدر فقراء میں سے اس عاجز کے مکفر یا مکذب ہیں۔ وہ تمام اس کامل نعمت مکالمہ الہیہ سے بے نصیب ہیں۔ اور محض یاوہ گو اور ژاژ خا ہیں۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص ١٩، خزائن ج ١١ ص ٣٠٣ حاشیہ)
د...... ایک جگہ مولوی عبدالحق صاحب غزنوی ، مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی مولوی احمد اللہ ومولوی ثناء اللہ صاحبان امرتسری کی نسبت لکھتے ہیں کہ: ’’ یہ جھوٹے ہیں اور کتوں کی
١٤٦
طرح جھوٹ کا مردار کھا رہے ہیں۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص٢٥،خزائن ج١١ص٣٠٩ حاشیہ)
ه ...... یہاں تک تو نثر تھی اب ذرا منظوم گالیوں کا نمونہ بھی ملاحظہ ہو:
مولوی سعد اللہ لدھیانوی کی نسبت ١ ؎
بدزباں بدگوہر و بد ذات ہے اس کی نظم ونثر واہیات ہے
آدمیت سے نہیں ہے اس کو مس ہے نجاست خوار وہ مثل مگس
سخت بد تہذیب اور منہ زور ہے منہ پر آنکھیں ہیں مگر دل کور ہے
حق تعالیٰ کا وہ نافرمان ہے آدمی کاہے کو ہے شیطان ہے
چیختا ہے بیہودہ مثل حمار بھونکتا ہے مثل سگ وہ بار بار
مغز لونڈوں نے لیا ہے اس کا کھا بکتے بکتے ہو گیا ہے وہ باولا
کچھ نہیں تحقیق پر اس کی نظر اس کا اک استاد ہے والا گہر
دوغلا استاد اس کا پیر ہے اس کی صحبت کی یہ سب تاثیر ہے
جہل میں بوجہل کا سردار ہے بولہب کے گھر کا برخوردار ہے
سخت دل نمرود یا شداد ہے جانور ہے یا کہ آدم زاد ہے
ہے وہ نابینا ویا خفاش ہے مسخرا ہے منہ پھٹا اوباش ہے
وہ مقلد اور مقلد اس کا پیر پھر محدث بنتے ہیں دونوں شریر
اس کو چڑھتا ہے بخاری سے بخار پھیرتا ہے اس سے منہ اب نابکار
شورہ پشتی اس کی ہر اک رگ میں ہے جس طرح سے زہر مار و سگ میں ہے
ہے صد افسوس اس کے حال پر لاکھ لعنت اس کے قیل وقال پر
آدمی سے بن گیا بندر ذلیل مل گیا کفار سے وہ بے دلیل
وہ یہودی ہے نصارا کا معیں
پادری مردود کا ہے خوشہ چیں
١ ؎ مولوی سعد اللہ صاحب کفر کو چھوڑ کر داخل اسلام ہوئے تھے۔ دین حق کو محنت شاقہ سے حاصل کیا۔ عالم بنے۔ ان کے فیضان صحبت سے کئی شخص داخل اسلام ہوئے۔ نہایت متبع سنت تھے۔ ایسے شخص اور عام علماء کے لئے مرزا کی یہ گوہر افشانی دربار عزازیلی میں نہایت استحسان سے دیکھی گئی ہوگی۔ مرزا قادیانی یہ حدیث بھی بھول گئے۔ لیس الصدیق لعان!
١٤٧
ایسا ہی بہت سا بکواس ہے، پھر عام مولویوں کو للکارتے ہیں۔
وہ بطالی فتنہ گر آوے ذرا شکل اپنی آکے دکھلاوے ذرا
آویں اب لودیانہ کے سارے شریر اور وزیر آباد کا آوے ضریر
اب وہ افغانی کہاں ہے بد لگام وہ رسل بابا کہاں ہے عقل خام
احمد اللہ نیم بسمل ہے کہاں ساتھ لاوے اپنے شاگرد جواں
بوزڑاں کا کھیوڑہ آوے ادھر ہنکتا مدت سے ہے مانند خر
اب مقابل ہو رشید کج ادا کرتا رہتا ہے جو بد گوئی سدا
اب مقابل ہووے بھوپالی بشیر ہو گیا مردود وخاسر جس کا پیر
مولوی اور پیر زادے نہ آئیں کل جو مچاتے ہیں بہت مدت سے غل
جو نہ آوے سخت بے غیرت ہے وہ اور بڑا حق پوش بے عزت ہے وہ
حیلہ بازی سے نہ اب روپوش ہوں گونگے شیطاں ہوں اگر خاموش ہوں
جو نہ آوے اس پہ لعنت بار بار جو کہ بھاگے اس پہ لعنت صد ہزار
اس سے جو بھاگے بڑا مردود ہے جھوٹ کا سب اس کا تار و پود ہے
گر مقابل آئے تو مارے گئے اور اگر بھاگے تو پھٹکارے گئے
خوک اور بندر سبھی بن جاؤ گے اپنی کرتوتوں کا بدلہ پاؤ گے
کوئی کوڑھی ہو گا دیوانہ کوئی عافیت سے ہو گا بیگانہ کوئی
نامرادی یوں کسی پر آئے گی آل اور اولاد ہی مر جائے گی
دعاء
ہر عدوے دیں کا کر خانہ خراب
آسمانی بھیج تو ان پر عذاب
(کانا دجال)
لاحول ولا قوتہ الا باللہ!
ناظرین! یہ ہیں قادیانی مدعی رسالت کی گل افشانیاں اور ان کے اخلاق کریمہ کی پھلجھڑیاں۔ اس پر وہ وما ینطق عن الھویٰ ان ھو الا وحی یوحی کا الہام بھی ہے۔ شاید مرزا قادیانی کا ملہم اس فن (گالی گلوچ اور بدزبانی) کا کوئی بڑا استاد ہے۔ جو مرزا قادیانی کی
( ١٤٨ )
زبان ایسی رواں ہے۔ اس اعجازی تحریر نظم ونثر کے روبرو چرکین کی شاعری، سودا کی ہجو گوئی، جعفر ز ٹلی کی زٹلیات اور بھٹیاریوں کی بکواس سب مات ہیں۔ ذرا (ضرورت الامام ص ٨، خزائن ج ١٣ص ٤٧٨) کے حوالہ کو پھر دیکھنا! انك لعلی خلق عظیم کی یہ کیا اچھی تفسیر ہے۔ کیا تحمل و بردباری کا نمونہ دکھایا ہے۔ اخلاق یہ اور دعویٰ نبوت ورسالت !!
مثل مشہور ہے کہ جیسا منہ ویسے تھپڑ ۔ ذرا سنیئے خود مرزا قادیانی کے خسر میر ناصر نواب دہلوی مرزا قادیانی کی شان میں کیا فرماتے ہیں۔ ذیل کے یہ اشعار چونکہ مرزا کی شان میں ان کے گھر کے بھیدی نے لکھے ہیں اس لئے مستند ہیں۔
منقول از نظم مندرجہ اشاعت السنۃ نمبر ١٢ جلد ١٤
عیسیٰ دوراں بنے دجال ہیں ہر طرف مارے انہوں نے جال ہیں
ظاہری افعال ان کے نیک ہیں سارے عالم میں وہ گویا ایک ہیں
عالم وصوفی ہیں اور شب خیز ہیں مال پر لوگوں کے دنداں تیز ہیں
ہر طرح سے مال ہیں وہ نوچتے ہیں نئی تدبیر ہر دم سوچتے
جس طرح ہو مال کچھ کھا جائے کچھ نیا اب شعبدہ دکھلائے
ہو کوئی کیسا ہی گرچہ بدمعاش میوۂ زر کی وہ دیدے ان کو قاش
پھر تو وہ مقبول رحماں ہے ضرور ان کے دل کو اس نے پہنچایا سرور
متقی ان کو نہ دے تو ہے شقی جو شقی دے ان کو وہ ہے متقی
ہیں امیروں سے بڑھاتے میل جول کر کے تعریفیں اڑا لیتے ہیں مول
جو کوئی دے ہاتھ کردیں گے دراز اس قدر ہے ان کے دل میں حرص و آز
ہیں امیر اور لیتے ہیں صدقہ زکوٰۃ دین داری کی نہیں ہے کوئی بات
علم ہے دنیا کمانے کے لئے دولت دنیا ہے کھانے کے لئے
دل میں اپنے منفعل ہوتے نہیں ہنستے رہتے ہیں کبھی روتے نہیں
غیظ میں بدمست ہو جاتے ہیں وہ اپنی چالاکی پہ اتراتے ہیں وہ
اپنی تعریفوں سے بھرتے ہیں کتاب
آیت قرآن ہیں گویا ان کے خواب
١٤٩
٧....... ایفائے عہد اور حصول زر
قرآن کریم اور احادیث شریف ایفائے عہد کی تاکیدوں سے پر ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ ”اوفوا بالعهد (الاسراء:٣٤)“ ﴿وعدے پورے کیا کرو﴾ ”اوفوا بالعقود (المائده:١)“ ﴿اقرار پورے کیا کرو﴾ ”ان العهد كان مسئولا (الاسراء:٣٤)“ عہد واقرار (ایفا کی) بابت قیامت کے دن سوال ہوگا﴾ وغیرہ۔
احادیث صحیحہ میں بھی اقرار وعہد پورا کرنے کی تاکیدیں فرمائی گئی ہیں۔ چنانچہ ایک حدیث میں آنحضرت ﷺ نے منافق کی علامت میں ایک علامت یہ ارشاد فرمائی ہے کہ:
”اذاعاهد غدر (مشكوة ص١٧، باب علامات انفاق)“ ﴿یعنی منافق کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ بد عہدی کرتا ہے۔﴾ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ایفائے عہد کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین!
مرزا قادیانی کے ایفائے عہد کی حالت دیکھنے کے لئے ان کی کتاب براہین احمدیہ کا قصہ ہی قابل غور ہے۔ ابتداء مرزا قادیانی ضلع سیالکوٹ کے دفتر میں پندرہ روپے ١؎ ماہوار کے ملازم تھے۔ تنخواہ کم تھی گزارہ نہیں ہوتا تھا۔ تو مختاری کا امتحان دیا مگر فیل ہو گئے۔ اس کے بعد ایک دوست نے ان کو مشورہ دیا کہ آپ کو مذہبی مطالعہ کا شوق رہا ہے۔ بہتر ہو کہ مذاہب کی تردید میں کتابیں لکھ کر فروخت کرو۔ چین کرو گے اس رائے سے اتفاق کر کے مرزا قادیانی سیالکوٹ سے لاہور آ کر مسجد چینانوالی میں مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی سے ملے اور ارادہ ظاہر کیا کہ میں ایک ایسی کتاب لکھنا چاہتا ہوں جو کل ادیان کا بطلان کرے اور حقیقت اسلام ظاہر ہو۔ مولوی صاحب نے بھی ان کی رائے کو پسند کیا۔ بلکہ عملاً مدد کو مستعد ہوگئے۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے ایک اشتہار جاری کیا کہ ”صداقت اسلام پر ایک کتاب لکھی جائے گی۔ جس میں تین سو دلائل حقانیت اسلام پر ہوں گے اور یہ کتاب ایک اشتہار، ایک مقدمہ اور چار فصلوں اور ایک خاتمہ پر مشتمل ہے اور قیمت اس کی پانچ روپیہ اور دس روپیہ پیشگی ہوگی۔“
(دیکھو اشتہار براہین احمدیہ ص ب اور دیباچہ، خزائن ج١ ص٦٢)
١؎ مرزا قادیانی کے والد کشمیر میں جا کر پانچ روپیہ ماہوار کے نوکر ہوئے تھے۔
(کلمہ فضل رحمانی ١٥٠)
١٥٠
اسلام کے ہمدردوں اور شیدائیوں نے خدمت اسلام کو اپنا فرض سمجھ کر مدد دی اور روپیہ بھیجنے شروع کئے۔ چاروں طرف سے روپیہ کی بارش ہونے لگی۔ مرزا قادیانی مالا مال ہو گئے اور قرضہ بھی اتر گیا۔ چنانچہ خود فرماتے ہیں کہ: جہاں مجھے دس روپیہ ماہوار کی امید نہ تھی لاکھوں تک نوبت پہنچی۔ بعض مسلمانوں نے بڑی بڑی رقمیں بھی دیں۔ مثلاً خلیفہ سید محمد حسن خان وزیر اعظم ریاست پٹیالہ پانچ سو روپیہ بابو الٰہی بخش اکاونٹنٹ دوسو روپیہ وغیرہ۔ کتاب بھی جزوی طور پر نکلنی شروع ہوگئی۔ مگر اس کتاب کے لکھتے لکھتے مرزا قادیانی کو مجدد، مہدی، مثیل مسیح اور نبوت و رسالت کے خواب آنے لگے اور انہوں نے اس کی جلد چہارم کے اخیر میں اشتہار دے دیا کہ اب براہین کی تکمیل خدا نے اپنے ذمہ لے لی ہے۔ اس فقرہ کے معنی عملاً یہ ہوئے کہ کتاب کی اشاعت بند کر دی۔
اس کتاب کی پہلی جلد تو صرف اشتہار ہی ہے۔ دوسری اور تیسری جلد میں مقدمہ اور چوتھی جلد میں مقدمہ اور تمہیدات کے بعد باب اول شروع ہی ہوا تھا کہ اشاعت ملتوی کر دی گئی۔ کل کتاب کے پانچ سو بارہ (٥١٢) صفحہ ہوئے اور تیسری جلد کے اخیر پر اشتہار تھا کہ کتاب تین سو جز تک پہنچ گئی ہے اور اس دوران میں قیمت کتاب بھی دس روپیہ اور پچیس روپیہ کر دی تھی۔
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٣٣)
جتنی کتاب تیار ہو گئی تھی یہ بھی کئی بار چھپی اور ہزار ہا جلدیں اس کی فروخت ہوئیں۔ پیشگی قیمت دینے والوں نے تقاضہ کیا کہ جس کتاب کا وعدہ کیا تھا۔ خریداروں کے پاس پہنچنی چاہئے۔ ان لوگوں کو خاموش کرنے کے لئے ایک عجیب و غریب اشتہار شائع کیا گیا۔ چنانچہ لکھتے ہیں کہ: ”اس توقف کو بطور اعتراض پیش کرنا محض لغو ہے۔ قرآن کریم بھی باوجود کلام الٰہی ہونے کے تئیس برس میں نازل ہوا۔ پھر اگر خدا تعالیٰ کی حکمت نے بعض مصالح کی غرض سے براہین کی تکمیل میں توقف ڈالدی تو اس میں کونسا حرج ہوا، اور اگر یہ خیال ہے کہ بطور پیشگی خریداروں سے روپیہ لیا گیا تھا تو ایسا خیال کرنا بھی حمق اور نادانگی کے باعث ہوگا۔ کیونکہ اکثر
١ ایک بیوی کے زیور کی ہی تفصیل کلمہ فضل رحمانی میں بحوالہ رہن نامہ رجسٹری شدہ منجانب مرزا قادیانی قابل دید ہے۔ جس کی مجموعی میزان تین ہزار تین سو پینتیس روپیہ ہوتی ہے۔ ایک لڑکا مرزا قادیانی کا بیمار ہوا تو دوسو روپیہ روزانہ ڈاکٹر کی فیس مقرر ہوئی۔ (اہلحدیث) باوجود اس تمول کے آپ زکوٰۃ کا روپیہ لیتے رہے۔ گو اشاعت اسلام کے بہانہ سے۔
| ١٥١ |
براہین احمدیہ کا حصہ مفت تقسیم کیا گیا ہے اور بعض سے پانچ روپیہ اور بعض سے آٹھ آنہ تک قیمت لی گئی ہے اور ایسے لوگ بہت کم ہیں جن سے دس روپے لئے گئے اور جن سے پچیس روپے لئے گئے ہوں۔ وہ صرف چند ہی آدمی ہیں اور پھر باوجود اس قیمت کے جو ان حصص براہین احمدیہ کے مقابل جو طبع ہو کر خریداروں کو دیئے گئے ہیں۔ کچھ بہت نہیں ہے بلکہ عین موزوں ہے۔ اعتراض کرنا سراسر کمینگی اور سفاہت ہے۔ لیکن پھر بھی ہم نے بعض جاہلوں کے ناحق شور و غوغا کا خیال کر کے دو مرتبہ اشتہار دے دیا کہ جو شخص براہین احمدیہ کی قیمت واپس لینا چاہے وہ ہماری کتابیں ہمارے حوالے کرے اور اپنی قیمت لے لے۔ چنانچہ وہ تمام لوگ جو اس قسم کی جہالت اپنے اندر رکھتے تھے انہوں نے کتابیں بھیج دیں اور قیمت لے لی اور بعض نے کتابوں کو بہت خراب کر کے بھیجا۔ مگر پھر بھی ہم نے قیمت دے دی اور کئی دفعہ ہم لکھ چکے ہیں کہ ہم ایسے کمینہ طبعوں کی ناز برداری نہیں کرنا چاہتے اور ہر ایک وقت قیمت واپس دینے پر تیار ہیں۔ چنانچہ خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ ایسے دنی الطبع لوگوں سے خدا نے ہم کو فراغت بخشی۔"
(ایام الصلح ص ١٧٢ خزائن ج ١٤ ص ٤٢١، ٤٢٢)
ناظرین! کیا آپ مرزا قادیانی کے عقلی معجزہ کی داد نہ دیں گے؟۔ فرمائیے اس اشتہار کو پڑھ کر کون شریف اور باحیا آدمی، احمق، ناواقف، کمینہ، سفیہہ، جاہل، کمینہ طبع، اور دنی الطبع کہلا کر واپسی قیمت کا مطالبہ کر سکتا تھا۔ مختصراً تو یہی کافی ہے کہ مرزا قادیانی نے جس غرض کے لئے روپیہ لیا تھا۔ وہ پوری نہ کی اور اس روپیہ کو بے جا طور پر اپنے صرف میں لائے یہ حلال تھا یا حرام؟۔ اس کا فیصلہ ناظرین کر سکتے ہیں لیکن مزید توضیح کے لئے مرزا قادیانی کے اس اعلان پر کچھ اور روشنی ڈالی جاتی ہے۔
- ١....... جب براہین احمدیہ کے نام سے قیمت پیشگی لی گئی تھی اور اس کی اشاعت
ملتوی ہو گئی تھی۔ تو دیانت کا تقاضہ یہ تھا کہ مرزا قادیانی حصہ رسدی قیمت رکھ کر باقی روپیہ خریداروں کو واپس کر دیتے یا افسوس کے ساتھ اعلان کر دیتے کہ جو صاحب اپنا روپیہ واپس لینا چاہیں واپس لے لیں اور یا اس روپیہ کو بمد امداد و اشاعت اسلام منتقل کر دیں۔ لیکن بجائے اس کے پیش بندی کے طور پر ایسے لوگوں کو احمق، کمینہ، سفیہہ، جاہل، دنی الطبع وغیرہ کے نام سے مخاطب کیا گیا۔ اس سے یہ فائدہ ہوا کہ بہت کم لوگوں نے ایسے خطاب قبول کئے۔ قیمتی کتابیں عموماً اہل ثروت ہی خریدتے ہیں۔ اس لئے انہوں نے قیمت واپس لے کر کیوں کمینہ اور احمق اور جاہل وغیرہ بننا تھا؟۔
١٥٢
- .......٢....... ریاست پٹیالہ کے وزیر اعظم خلیفہ محمد حسن خان نے پانچ سو روپے خود اور
پچھتر روپے اپنے احباب سے جمع کر کے بہر براہین احمدیہ چندہ دیا تھا۔ بعد میں جب مرزا قادیانی نے حضرت امام حسینؓ کی توہین کی تو وہ ان سے بیزار ہو گئے۔ اپنے روپیہ کا کبھی مطالبہ نہیں کیا۔ کیا مرزا قادیانی نے یہ روپیہ واپس دے دیا تھا؟۔
- .......٣....... اوّل اقرار کتاب چھپوانے کا مرزا قادیانی نے کیا تھا نہ کہ خدا تعالیٰ نے،
پھر کتاب کی اشاعت کے التواء کا بار اللہ تعالیٰ کے ذمہ ڈال دینا۔ مرزا قادیانی کو کہاں تک بری الذمہ کرتا ہے؟۔
- .......٤....... مفت تقسیم اور آٹھ آنہ شرح سے قیمت لینے کا ذکر اوّل تو بے ثبوت
ہے۔ کوئی تعداد درج نہیں کی کہ کتنے لوگوں کو کتاب مفت دی گئی اور کتنے خریداروں کو آٹھ آنہ قیمت پر۔ لیکن اگر ایسا کیا بھی گیا تو پیشگی قیمت دینے والوں کو تو پوری کتاب ملنی ضروری تھی۔ کیا یہ بدعہدی نہیں؟۔
- .......٥....... کیا تین سو دلائل دینے کا وعدہ کر کے محض تمہید پر خریداروں کو ٹال دینا
موزوں ہے اور اس کو ایفائے عہد کہہ سکتے ہیں؟۔
- .......٦....... قرآن کریم تیس سال میں ضرور نازل ہوا مگر مکمل نازل تو ہو گیا اور نیز
قرآن شریف کی کوئی پیشگی یا مابعد قیمت کبھی تو نہیں لی گئی تھی۔ نہ اس کے حجم کا کوئی وعدہ تھا کہ اتنا ہوگا۔ لیکن آپ کی براہین کے تین سو بے نظیر دلائل یا تین سو جز قبر میں آپ کے ساتھ ہی چلے گئے۔ پھر اپنی اس دنیاوی تجارت کو قرآن کریم کے نزول سے تشبیہ دینا کہاں کی ایمانداری ہے؟۔
- .......٧....... مرزا قادیانی اپنی دانست میں اس اعلان کے ذریعہ حساب دے کر فارغ
ہو بیٹھے۔ مگر دیانت یہ تھی اور الزام سے آپ اسی صورت میں بری ہو سکتے تھے کہ کل شائع شدہ اور فروخت شدہ کتابوں کی تعداد اور کل وصول شدہ رقم کی فہرست شائع کرتے اور اس کے ساتھ تفصیل دیتے کہ کس قدر کتابیں مفت گئیں اور کس قدر آٹھ آنہ قیمت پر کتنے لوگوں نے کتابیں واپس کر کے قیمت واپس لے لی اور کتنے لوگوں کا کتنا روپیہ امانتاً باقی رہ گیا اور وہ کس مصرف میں آیا۔ کیا کوئی مرزائی ہمت کر کے اپنے مرشد کا ڈیفنس پیش کر سکتا ہے؟۔
- .......٨....... جب اشتہار یہ تھا کہ تین سو بے نظیر دلائل سے حقانیت اسلام ثابت کی گئی
ہے اور اس کا حجم بھی تین سو جز ہو گیا ہے تو اس کے شائع نہ ہونے کی کیا وجوہات تھیں؟۔
١٥٣
حقانیت اسلام کو شائع ہونے سے روکنا خدا کا کام ہے یا شیطان کا؟ اور کیا اس التواء کو خدا کے ذمہ ڈال دینا ایسا ہی نہیں جیسا کہ کوئی چور یا خونی گرفتار ہونے پر کہہ دے کہ خدا کو ایسا ہی منظور تھا میں نے کوئی جرم نہیں کیا؟۔
- ……٩…… کتاب کی لاگت اس زمانہ کے نرخ کے لحاظ سے آٹھ آنہ فی جلد سے زیادہ
نہیں تھی۔ پھر اس کی قیمت پانچ روپیہ سے پچیس روپیہ تک وصول کرنا پیغمبری ہے یا دکانداری؟۔
- ……١٠…… اس کتاب کے تین سو بے نظیر دلائل کی نسبت اعلان تھا کہ اگر ان دلائل کو
رد کیا جائے تو دس ہزار روپیہ انعام دیا جائے گا۔ بعد میں اس دیباچہ اور تمہید پر معراج الدین عمر مرزائی نے اشتہار دے دیا کہ ستائیس سال سے کتاب شائع ہو چکی ہے۔ کسی کو جواب دینے اور انعام حاصل کرنے کا حوصلہ نہیں ہوا کیا یہی تین سو بے نظیر دلائل تھے۔ جن پر انعام مشتہر کیا گیا تھا، یا تین سو دلائل کا وعدہ محض جھوٹ اور نمائشی تھا؟۔
براہین احمدیہ کے علاوہ ایک کتاب سراج منیر مفت شائع کرنے کا اعلان کر کے چودہ سو روپیہ چندہ مانگا اور بہت سا روپیہ وصول بھی ہوا۔ مگر بعد میں جب یہ کتاب چھپی تو قیمتاً دی گئی۔ پھر ایک رسالہ ماہواری قرآنی طاقتوں کا جلوہ گاہ چھپوانے کا اشتہار دیا گیا کہ وہ ماہ جون ١٨٨٥ء سے ماہوار نکلے گا۔ پھر (نشان آسمانی ص ٤٨، ٤٩، خزائن ج ٤ ص ٤٠٨، ٤٠٩ ملخص) میں باہمت دوستوں سے مدد چاہی کہ اے مردان نکو شیمہ برائے حق بجوشید اور ہر ایک کتاب کی اشاعت کے لئے امداد کی درخواست کی اور لکھا کہ ذی مقدرت لوگ مد زکوٰۃ سے میری کتابیں خرید کر تقسیم کریں اور میری اور بھی تالیفات ہیں جو نہایت مفید ہیں۔ مثلاً رسالہ احکام القرآن، اربعین فی علامات المقربین سراج منیر، تفسیر کتاب عزیز، پھر جلسہ دسمبر ١٨٩٣ء میں پریس کے لئے اڑھائی سو روپیہ ماہوار کی ضرورت پیش کی اور فرمایا کہ ہر ایک دوست اس میں بلا توقف شریک ہو اور ماہوار چندہ تاریخ مقررہ پر بھیجتا رہے۔ اس سے بقیہ براہین اور اخبار اور آئندہ رسائل کا کام جاری رہ سکتا ہے۔ یہ انتظام سب کچھ ہو گیا مگر تفسیر کتاب عزیز، براہین احمدیہ اور رسالہ ماہوار سب کتم عدم میں ہی رہے اور چندہ جو وصول ہوا سب بلا ڈکار ہضم کیا گیا۔ کیا یہ بد عہدی اور شکم پروری نبوت اور رسالت کی علامتیں ہیں؟ اور کیا اس روپیہ کا جو خدمت اسلام کے لئے اور مخصوص کتابوں اور رسالوں کے لئے لیا گیا تھا۔ اپنی ذاتی ضروریات میں صرف کرنا اور اس سے اپنی جائیداد بنانا مرزا قادیانی کے لئے جائز اور حلال تھا؟۔ اس بارے میں مرزا قادیانی کے خسر میر ناصر نواب دہلوی کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیے:
[ ١٥٤ ]
اور کہیں تصنیف پیشگی قیمت مگر بعض کھا جاتے ہیں قیمتیں کھا کر جو کوئی مانگے و بدگمانی کا ا ایک تو پلے س
- ٨…… مرزا قاد
کہنے کو مرز مدعی تھے اور کل پیغمبروں جیسا کہ ک
لیکن حالا الہامات اور توکل علی ال ناظرین! متعلق کس زور شور کے ا بلکہ سب
منقول از اشاعۃ السنہ
پیشگی قیمت مگر لیتے ہیں وہ خلق کو اس طرح دم دیتے ہیں وہ
بعض کھا جاتے ہیں قیمت سب کی سب اس طرح کا پڑ گیا یارو غضب
قیمتیں کھا کر نہیں لیتے ڈکار جیسے آتا تھا کہیں ان کا ادھار
جو کوئی مانگے وہ بے ایمان ہے وہ بڑا ملعون اور شیطان ہے
بدگمانی کا اسے آزار ہے سارے بدبختوں کا وہ سردار ہے
ایک تو پہلے سے اس نے زر دیا دوسرے بدنام اپنے کو کیا
کھا گیا جو مال وہ اچھا رہا
کچھ گھٹا ہرگز نہ اس کا اتقاء
- ٨....... مرزا قادیانی کا توکل علی اللہ تزکیہ باطن اور نفس کشی
کہنے کو مرزا قادیانی فنا فی الرسول، فنا فی اللہ اور اس سے بھی وراء الوراء ....... مدارج کے مدعی تھے اور کل پیغمبروں کے کمالات کا عطر مجموعہ ١ ۔
جیسا کہ کہتے ہیں کہ:
در برم جامۂ ہمہ ابرار
آنچہ داد است ہر نبی راجام
داد آں جام رامر ا بتمام
(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ص ٤٧٧)
لیکن حالات یہ ہیں جو اوراق گذشتہ میں ذکر ہوئے اس ضمن میں مرزا قادیانی کے الہامات اور توکل علی اللہ اور نفس کشی کا مزید نمونہ پیش کیا جاتا ہے۔ ناظرین ! اس کتاب کی فصل ششم کا نمبر ٤ تا ١٠ ملاحظہ فرمائیں اور دیکھیں کہ نکاح کے متعلق کس زور شور کے الہام ہیں جن میں شک اور شبہ کو دخل بھی نہیں ہوسکتا۔ لیکن ان الہامات کے
١ بلکہ سب پیغمبروں سے افضل واکمل ہونے کے مدعی (دیکھو دیباچہ کتاب ہذا)
( ١٥٥ )
ساتھ خارجی اور دنیاوی تدابیر سے بھی مرزا قادیانی بے فکر نہیں تھے اور زمینی و آسمانی ہر قسم کے ذرائع سے محمدی بیگم کو حاصل کرنا چاہتے تھے۔ چنانچہ ذیل میں ان کا ایک خط ملاحظہ ہو۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم! نحمدہ ونصلی!
والدہ ١؎ عزت بی بی کو معلوم ہو کہ مجھ کو خبر پہنچی ہے کہ چند روز تک محمدی مرزا احمد بیگ کی لڑکی کا نکاح ہونے والا ہے اور میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا چکا ہوں کہ اس نکاح سے سارے رشتے ناطے توڑ دوں گا اور کوئی تعلق نہیں رہے گا۔ اس لئے نصیحت کی راہ سے لکھتا ہوں کہ اپنے بھائی مرزا احمد بیگ کو سمجھا کر یہ ارادہ موقوف کراؤ اور جس طرح تم سمجھا سکتی ہو اس کو سمجھاؤ۔ اور اگر ایسا نہیں ہوگا تو آج میں نے مولوی نور الدین اور فضل احمد کو خط لکھ دیا ہے اور اگر تم اس ارادہ سے باز نہ آؤ تو فضل احمد عزت بی بی کے لئے طلاق نامہ ہم کو بھیج دے اور اگر فضل احمد ٢؎ طلاق نامہ لکھنے میں عذر کرے تو اس کو عاق کیا جائے اور اپنا اس کو وارث نہ سمجھا جائے اور ایک پیسہ وراثت کا اس کو نہ ملے۔ سو امید رکھتا ہوں کہ شرطی طور پر اس کی طرف سے طلاق نامہ لکھا آ جائے گا۔ جس کا مضمون یہ ہوگا کہ اگر مرزا احمد بیگ محمدی بیگم کا غیر کے ساتھ نکاح کرنے سے باز نہ آئے تو پھر اس روز سے جو محمدی بیگم کا کسی دوسرے سے نکاح ہوگا۔ اس طرف عزت بی بی پر فضل احمد کی طلاق پڑ جائے گی۔ تو یہ شرطی طلاق ہے اور مجھے اللہ تعالیٰ کی قسم ہے کہ اب بجز ایسا کرنے کے کوئی راہ نہیں۔
اور اگر فضل احمد نے نہ مانا تو میں فی الفور اس کو عاق کردوں گا۔ پھر وہ میری وراثت سے ایک ذرہ نہیں پا سکتا اور اگر آپ اس وقت اپنے بھائی کو سمجھا لو تو آپ کے لئے بہتر ہوگا۔ مجھے افسوس ہے کہ میں نے عزت بی بی کی بہتری کے لئے ہر طرح کوشش کرنا چاہا تھا اور میری کوشش سے سب نیک بات ہو جاتی۔ مگر تقدیر غالب ہے یاد رہے کہ میں نے کوئی کچی بات نہیں لکھی۔
مجھے قسم ہے اللہ تعالیٰ کی کہ میں ایسا ہی کروں گا اور خدا تعالیٰ میرے ساتھ ہے جس دن نکاح ہوگا اس دن عزت بی بی کا کچھ باقی نہیں رہے گا۔
(راقم مرزا غلام احمد از لدھیانہ اقبال گنج ٤؍ مئی ١٨٩١ء کلمہ فضل رحمانی ص ١٢٧)
- ١؎ یہ مرزا قادیانی کی سمدھن ہیں۔ منکوحہ آسمانی محمدی بیگم کی پھوپھی اور عزت بی بی کی
والدہ اور عزت بی بی مرزا قادیانی کے لڑکے فضل احمد کی بیوی ہے۔
- ٢؎ نکاح نہ کرے محمدی بیگم کا والد اور طلاق پائے مرزا قادیانی کے بیٹے کی بیوی، قربان
اس انصاف کے۔ کرے داڑھی والا اور پکڑا جائے مونچھوں والا۔
[ ١٥٦ ]
ایک خط محمدی بیگم کے باپ مرزا احمد بیگ کو لکھا، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ: ” آپ کی لڑکی محمدی بیگم سے میرا آسمان پر نکاح ہو چکا ہے اور مجھ کو اس الہام ١؎ پر ایسا ایمان ہے جیسا لا اله الا الله محمد رسول اللہ پر۔ مجھے خدا تعالیٰ قادر مطلق کی قسم ہے کہ یہ بات اٹل ہے یعنی خدا کا کیا ہوا ضرور ہوگا۔ محمدی بیگم میرے نکاح میں آئے گی۔ اگر آپ کسی اور جگہ نکاح کریں گے تو اسلام کی بڑی ہتک ہوگی۔ کیونکہ میں دس لاکھ آدمیوں میں اس پیش گوئی کو مشتہر کر چکا ہوں اگر آپ ناطہ نہ کریں گے تو میرا الہام جھوٹا ہوگا اور جگ ہنسائی ہوگی۔ جو امر آسمان پر ٹھہر چکا ہے۔ زمین پر وہ ہرگز بدل نہیں سکتا۔ آپ اپنے ہاتھ سے اس پیش گوئی کو پورا کرنے کے معاون بنیں۔ دوسری جگہ رشتہ نا مبارک ہوگا۔ میں نہایت ٢؎ عاجزی اور ادب سے التماس کرتا ہوں کہ اس رشتہ سے انحراف نہ کریں جو آپ کی لڑکی کے لئے گونا گوں برکتوں کا باعث ہوگا۔ وغیرہ وغیرہ۔
(ملخص از کلمہ فضل رحمانی ص ١٢٤ تا ١٢٥)
ایک ایسا ہی خط اپنے سمدھی مرزا علی شیر (والد عزت بی بی) کے نام بھی لکھا اور اس میں اپنی بے کسی، بے بسی ظاہر کر کے خواہش کی کہ اپنی بیوی (والدہ عزت بی بی) کو سمجھا دیں کہ اپنے بھائی مرزا احمد بیگ (والد محمدی بیگم) سے لڑ جھگڑ کر اسے اس ارادہ سے روک دے۔ ورنہ میں تمہاری لڑکی کو اپنے بیٹے فضل احمد سے طلاق دلوا دوں گا۔ آپ اس وقت کو سنبھال لیں اور احمد بیگ کو اس ارادہ سے منع کر دیں۔ ورنہ مجھے خدا کی قسم کہ یہ سب رشتہ ناطہ توڑ دوں گا اور اگر میں خدا کا ہوں تو وہ مجھے بچائے گا......
(انتہی ملخصاً کلمہ فضل رحمانی ص ١٢٥ تا ١٢٧)
باوجود ان خطوط کے بھی مرزا قادیانی کا نکاح محمدی بیگم سے نہ ہوا اور ادھر فضل احمد نے بھی اپنی بیوی کو طلاق نہ دی اور مرزا قادیانی کا گھر بسانے کی مطلق پرواہ نہ کی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اپنی قسموں کے مطابق مرزا قادیانی نے اپنی بیوی زوجہ اوّل اور دو لڑکوں مرزا سلطان احمد بیگ و فضل احمد بیگ سے قطع تعلق کر لیا۔
(دیکھو اشتہار نصرت دین و قطع تعلق از اقارب مخالف دین، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢١٩، ٢٢١)
١؎ محمدی بیگم کا رتبہ لا اله الا الله محمد رسول اللہ کے برابر آپ نے بنا دیا۔ نکاح کا الہام تو جھوٹ ثابت ہوا۔ معلوم ہوا کہ لا اله الا الله محمد رسول اللہ پر بھی آپ کا ایمان نہ تھا۔
٢؎ کہاں متواتر الہامات اور کہاں یہ عاجزی اور تملق کا اظہار! الہام پر ایمان ہوتا تو ایسی ذلیل درخواست کیوں کرتے؟۔
١٥٧
ان خطوط اور ان کے انجام سے نتائج ذیل مستنبط ہوتے ہیں۔
- ١...... تمام الہامات متعلق نکاح غلط اور بناوٹ تھے۔ اگر ان پر مرزا قادیانی کو
ایمان تھا۔ جیسا کہ خود قسم کھا کر کہتے ہیں۔ تو پھر ایسے خطوط لکھ کر الہام کو پورا کرنے کی کوشش کی کیا ضرورت تھی۔ نکاح جو آسمان پر ہو چکا تھا۔ زمین پر بھی ضرور ہو جاتا۔
- ٢...... جھوٹی قسمیں کھائیں جو صرف لڑکی کے والدین اور متعلقین کو یقین
دلانے کے لئے تھیں۔
- ٣...... خدا تعالیٰ کا بھروسہ چھوڑ کر عاجزی اور چاپلوسی سے عاجز انسانوں کی ذلیل
منتیں اور سماجتیں کیں۔ جو نہ صرف وقار نبوت کے منافی ہیں۔ بلکہ ایک عام شریف آدمی بھی ایسی بے حیائی نہیں کر سکتا۔
- ٤...... خدا پر بہتان اور افتراء باندھنا کہ اس نے آسمان پر میرا نکاح محمدی بیگم
سے کر دیا ہے۔
- ٥...... مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ اگر میں خدا کا ہوں تو وہ مجھے بچا لے گا۔ مگر نکاح
نہ ہونے سے ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی منجانب اللہ نہیں تھے۔
- ٦...... اپنی سمدھن کو بھائی کے ساتھ لڑنے کی ترغیب دی اور جبکہ احمد بیگ محمدی
بیگم کا رشتہ کسی دوسری جگہ کر چکا تھا تو اسے اس عہد کے توڑنے کے لئے کہا اور سمدھی اور سمدھن کو لکھا کہ اس سے یہ عہد توڑ دیں۔ حالانکہ عہد شکنی کی اسلام میں سخت ممانعت ہے۔
- ٧...... شریعت کی رو سے عاق بیٹا محروم الارث نہیں ہو سکتا۔ مگر مرزا قادیانی نے
بار بار اسے محروم الارث کرنے کی دھمکی دی۔ اس لئے شریعت کو منسوخ کرنے کا ارتکاب جرم کیا۔
- ٨...... تہذیب اخلاق اور حیاء کو بالائے طاق رکھ دیا کہ اپنی مطلوبہ کی خاطر بیٹے
کو مجبور کیا کہ وہ اپنی منکوحہ بیوی کو طلاق دے دے۔ اس بیچارے نے اخلاقی جرأت سے کام لیا کہ اپنی بے گناہ اور عفیفہ بیوی کو طلاق نہیں دی۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس نے بظاہر باپ کی خوشی کے لئے بیوی کو طلاق دے دی تھی۔ مگر اس کو گھر میں ہی رکھا اور تعلقات زنا شوئی منقطع نہیں کئے۔ اس لئے مرزا قادیانی نے اس سے قطع تعلق کر لیا اور اس کے جنازہ کی نماز بھی نہیں پڑھی۔
- ٩...... اپنے نفس کی خواہش پوری نہ ہوتے دیکھ کر اللہ کی رضا پر راضی نہ رہے۔
بلکہ اس غصہ میں آکر معمولی اہل دنیا کی طرح بیوی اور بیٹیوں سے قطع تعلق کر لیا اور بندہ نفس وشہوت ہونے کا پورا ثبوت دیا۔
١٥٨
- ١٠......... یہ سارے ڈھکوسلے ہی تھے جنہیں الہام کے رنگ میں پیش کیا گیا اور
اللہ تعالیٰ کی منظوری کے پروانے بھی دکھائے گئے۔ لیکن درحقیقت یہ صرف ایک نفسانی خواہش تھی جس کے لئے نہایت کمزور چالیں اور منصوبے اور تدبیریں کیں جو ایک سچے حیا دار مسلمان کی شان سے بھی بعید ہیں۔ ١؎
اخیر میں ایک اور لطیفہ درج کیا جاتا ہے۔ مرزا قادیانی نے اپنی سمدھن اور سمدھی کو اس امر کی تحریص دلائی کہ اگر یہ نکاح ہو گیا تو تمہاری لڑکی اور فضل احمد ہی میرے وارث ہوں گے اور اگر فضل احمد نہ مانے گا تو اسے محروم الارث کیا جائے گا۔ ادھر محمدی بیگم کے والد مرزا احمد بیگ کو بھی یہی لکھا کہ یہ نکاح تمہاری لڑکی کے لئے انواع و اقسام کی برکات کا موجب ہوگا۔ گویا سمدھی، سمدھن، بیٹے اور خسر موعود کو مال و جائیداد وراثت کی طمع دلاتے ہیں۔ لیکن احادیث صحیحہ سے واضح ہے کہ نبیوں کا مال کسی کی میراث نہیں ہوتا۔ بعض احادیث کے الفاظ مع ترجمہ اس طرح سے ہیں۔
- الف......... ”النبی لا يورث انما ميراثه فى فقراء المسلمين والمساكين
(امام احمد ج ١ ص ٢٤٠ حدیث ٧٨، عن ابی بکر)“ جناب رسالت مآب ﷺ فرماتے ہیں کہ نبی کسی کو وارث نہیں چھوڑتے ان کی میراث فقراء و مساکین کے لئے ہے۔
- ب......... ”كل مال النبی صدقته الا ما اطعمه وكساهم انا لا نورث
(ابو داؤد شریف ج ٢ ص ١٨ باب فی وصايا رسول الله)“
(ابو داؤد عن الزبیر) نبی کا تمام مال فقراء کے لئے صدقہ ہے۔ مگر جس قدر اس کے اہل و عیال کھا لیں۔ کیونکہ ہم کسی کو وارث نہیں چھوڑتے۔
- ج......... ”والله لا يقتسم ورثتى ديناراً ما تركت بعد نفقة
نسائى ومئونة عاملى فهو صدقة (بخاری ، مسلم ج ٢ ص ٩٢ ، باب ابی داؤد،
امام احمد عن ابی هریره)“
١؎ مذکورہ بالا بیان کا مقابلہ مرزا اور مرزائیوں کے اس ادعاء کے ساتھ کرو جو وہ آیت ”قد لبثت فيكم عمرا“ سے استدلال کر کے مرزا قادیانی کی گذشتہ زندگی کو مقدس اور مطہر ثابت کیا کرتے ہیں۔ کیا انبیائے کرام اور بزرگان دین اسلام میں کوئی ایسی مثال موجود ہے کہ کسی نے ایک عورت کے نکاح کے لئے ایسے پاپڑ بیلے ہوں؟۔ مرزائی صاحبان ذرا منہاج النبوت کی کسوٹی پر اسے پرکھ کر دیکھیں۔
( ١٥٩ )
خدا کی قسم میرے وارثوں میں روپیہ کی تقسیم نہ ہوگی ۔ جو کچھ میں چھوڑوں وہ میری بیبیوں کے نان نفقہ اور عامل کی مزدوری کے بعد صدقہ ہے۔ (اس جگہ آنحضرتﷺ نے قسم کھا کر تقسیم ترکہ کی ممانعت فرمائی ہے ۔)
- و ....... ”لا نورث ما تركنا صدقة (مسلم شریف ج٢ ص٩٠ باب حكم
الفئ، امام احمد، بخاری ج٢ ص٩٩٥ باب) “ ہم کسی کو وارث نہیں بناتے ہمارا ترکہ تو صدقہ بن جاتا ہے۔
- ہ ....... ”نحن معاشر الانبياء لا نرث ولا نورث“ ہم جملہ گروہ انبیاء
کی سنت یہ ہے کہ نہ کسی مردہ کا مال سنبھالتے ہیں اور نہ کوئی ہمارا وارث ہوتا ہے۔
(البداية والنهاية ج٤ ص١٥٤)
ادھر تو یہ احادیث ہیں جن کا صاف مطلب یہ ہے کہ نبیوں کا مال کسی کی میراث نہیں ہوتا۔ ادھر مرزا قادیانی وراثت وراثت پکار رہے ہیں اور پھر دعویٰ کرتے ہیں نبوت ورسالت کا پس انہی کے اقوال سے صاف طور پر ظاہر و ثابت ہے کہ وہ نبی نہ تھے اور نہ انہیں اپنی نبوت پر دلی ایمان ویقین تھا۔ ورنہ یہ میراث کا جھگڑا کیوں درمیان میں لاتے؟۔
- ٩ ....... مرزا قادیانی اور تصوف
مرزا قادیانی اپنی تحریرات میں اکثر صوفیائے کرام وصلحائے عظام کے حالات واقوال نقل کیا کرتے تھے۔ ان کے مرید بھی کہا کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی صوفی المشرب تھے۔ سو ان کے تصوف کی بھی پڑتال کی جاتی ہے۔
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ تصوف اور شریعت دو متغائر امور نہیں ہیں۔ تصوف عین شریعت ہے اور شریعت عین تصوف بلکہ عام مسلمانوں کی نسبت صوفیاء کے لئے قسم قسم کے مجاہدے، ریاضت، نفس کشی اور زہد وعبادت کی ضرورت ہے۔ چونکہ مرزا قادیانی اور ان کے مرید عام مسلمانوں کی طرح حضرت جنید بغدادیؒ کو ایک بزرگ مانتے ہیں۔ اس لئے ان کے حالات کا مرزا قادیانی کے حالات سے کسی قدر مقابلہ کیا جاتا ہے۔ جس سے مرزا قادیانی کی ریاضت ومجاہدہ کا حال بھی خوب معلوم ہو جائے گا۔
( ١٦٠ )
سید الطائفہ حضرت جنیدؒ
- الف ....... آپ کہتے ہی
بے خوابی اور ترک لذات دنیا و م
- ب ....... آپ فرما
قرآن شریف اور بائیں ہاتھ میں چلے۔ تاکہ گمراہی کے گڑھے اور بد
- ج ....... آپ فرما
قضا کرتا اور اگر آخرت کا اندیشہ نما
- د ....... فرماتے ہی
مجھے ہاتف غیب سے آواز آئی ک دخل مت دے تجھے جو حکم دیا گیا سے کیا کام ۔
- ہ ....... فرماتے ہ
غیب سے صدا آئی کہ تجھے شرم نہی
- و ....... حضرت ج
رہ۔ برہنگی اور بھوک خدا اپنے دوس اور ساری دنیا میں شکایت کرتے ہی
باخب
- ز ....... فرماتے
عبودیت کے علم کی پہچان دوسر شان کو پوری طرح سمجھ لے۔
مرزا قادیانی
- الف ....... مرزا قاد
سید الطائفہ حضرت جنیدؒ
- الف...... آپ کہتے ہیں کہ میں نے دو سو پیروں کی خدمت کی مجھ کو نعمت فقر، گرسنگی،
بے خوابی اور ترک لذات دنیا و مافیھا حاصل ہوئیں۔
- ب...... آپ فرماتے ہیں کہ راہ فقراء کو وہی شخص پاتا ہے۔ جو دائیں ہاتھ میں
قرآن شریف اور بائیں ہاتھ میں سنت رسول اللہ ﷺ کو لے اور ان دونوں شمعوں کی روشنی میں چلے۔ تا کہ گمراہی کے گڑھے اور بدعت کی ظلمت میں نہ جا پڑے۔
- ج...... آپ فرماتے ہیں کہ اگر مجھے کسی نماز میں دنیا کا خیال آ جاتا تو میں اسے
قضا کرتا اور اگر آخرت کا اندیشہ نماز میں آ جاتا تو سجدہ سہو ادا کرتا۔
- د...... فرماتے ہیں کہ ایک بار میں نے کسی بیمار کے لئے شفاء کی دعا کر دی۔
مجھے ہاتف غیب سے آواز آئی کہ اے جنید ! خدا اور اس کے بندے کے درمیان تیرا کیا کام ۔ تو دخل مت دے تجھے جو حکم دیا گیا ہے کرتا رہ اور جس حال میں تجھے رکھا ہے صبر کر۔ تجھ کو اختیار سے کیا کام ۔
- ہ...... فرماتے ہیں کہ ایک بار میرا پاؤں درد کرتا تھا۔ میں سورۂ فاتحہ پڑھ کر دم کیا۔
غیب سے صدا آئی کہ تجھے شرم نہیں آتی کہ ہمارے کلام کو اپنے نفس کے حق میں صرف کرتا ہے۔
- و...... حضرت جنیدؒ سے کسی نے عرض کیا کہ ننگا اور بھوکا ہوں۔ فرمایا جا آرام سے
رہ۔ برہنگی اور بھوک خدا اپنے دوستوں اور صدیقوں کو دیتا ہے۔ ان کو نہیں دیتا۔ جو خدا پر طعنہ کریں اور ساری دنیا میں شکایت کرتے پھریں، سچ ہے۔
باخبر گشتہ انداز مولائے خویش
- ز...... فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے دو علم چاہتا ہے۔ ایک تو
عبودیت کے علم کی پہچان دوسرے علم ربوبیت یعنی بندے کو چاہئے کہ اپنی حیثیت اور خدا تعالیٰ کی شان کو پوری طرح سمجھ لے۔
مرزا قادیانی
- الف...... مرزا قادیانی نے کسی پیر کی خدمت نہیں کی ، خوب عیش کئے، لذیذ اور مقوی
١٩١
اغذیہ اور ادویہ کا شوقین رہا۔ کبھی خواب و آرام نہیں چھوڑا۔ نہ فارغ از خیالات دنیاوی ہو کر عبادت ہی کی یوں زبانی دعوے سے ہر ایک ولی بن سکتا ہے۔
- ب...... مرزا قادیانی نے مسیح موعود اور نبی بننے کے لئے قرآن وحدیث کو چھوڑا
اجماع امت کے خلاف کیا۔ حیات مسیح کے متعلق قرآن وحدیث کے سارے مضامین کی تاویلیں کیں۔ معجزات کو مسمریزم بتایا۔ ملائکہ کو ارواح کواکب ظاہر کیا۔ اپنی تصویر اتروا کر مریدوں کے پاس فروخت کی۔ گویا ایسے شرک کو رواج دیا۔ جو تیرہ سو برس سے بند کیا جا چکا تھا۔ توحید کے ساتھ پاک تثلیث اور لم یلد ولم یولد کے ساتھ ولدیت و بنیت کی انوکھی تعریفیں شامل کیں۔
(دیکھو فصل دوم و چہارم کتاب ہذا)
- ج...... مرزا قادیانی کو جنہیں ساری عمر خودستائی خود پسندی اور کتابوں رسالوں
اور اشتہاروں کی پتنگ بازی سے ہی فرصت نہ تھی اور ہر وقت روپیہ حاصل کرنے کی تدابیر میں مصروف رہتے تھے۔ کب ایسی نماز نصیب ہو سکتی تھی ہرگز نہیں۔
- د...... حضرت جنیدؒ کے الہام میں عبودیت والوہیت کا تفاوت دیکھو اور پھر
مرزا قادیانی کے الہامات پر غور کرو ”لولاک لما خلقت الافلاک اصنع ماشئت“ تو سردار ہے۔ تیرا تخت سب انبیاء کے تخت سے اونچا بچھایا گیا ہے۔ ”کل لک والامرک“ کبھی روپیہ لے کر بیٹے دلانے کے دعوے کہیں قسم قسم کی تحریص وترغیب وغیرہ وغیرہ۔
حضرت جنیدؒ کے الہام کے مقابلہ میں یہ وساوس ہیں یا نہیں کیوں کہ خودستائی وتکبر ان سے پایا جاتا ہے اور کشفوں میں تو خدا ہی بن گئے بلکہ زمین و آسمان بھی پیدا کئے۔
(دیکھو فصل چہارم)
کیا کوئی مثال ہے کہ مرزا قادیانی کو کسی لغزش پر ان کے خدا نے تنبیہ کی ہے۔ مرزا قادیانی نے اپنے خیالات واہی کو ہمیشہ الہام سمجھا اور انہی کا اتباع کرتے رہے۔ گویا یہ بھی کتاب لاریب فیہ کا درجہ رکھتے تھے۔
- ہ...... یہاں جتنے الہام ہیں کوئی نفسانیت سے خالی نہیں۔ تیرے دشمن تباہ ہوں
گے۔ تو عیسیٰ ہے، تو محمد ہے، احمد ہے، نوح ہے، یہ ہے، وہ ہے، جہاں تک کہ آدم ہے، خدا تیری مدد کو لشکر لے کر آ رہا ہے، خدا تیرے ساتھ ہے، جہاں تو ہو، جو تیرا ارادہ وہی خدا کا ارادہ، جس سے تو راضی اس سے خدا راضی، جس سے تو ناخوش اس سے خدا ناخوش...... کیا ان میں کوئی بھی وسوسہ نہیں تھا۔؟۔ کیا کبھی مرزا قادیانی کو ان کی غلطی پر مطلع کیا گیا۔
١٦٢
- و....... مرزا قادیانی کی پندرہ روپیہ ماہوار کی نوکری، قانونی امتحان کی کوشش اور
اس میں ناکامی اور آخر اس پیری مریدی کے کیمیاوی نسخہ سے (خود انہی کے قول کے مطابق) لاکھوں روپیہ کی آمد کا خیال کرو۔ جو آخری دم تک ہل من مزید ہی کہتے چلے گئے اور پھر طرہ یہ کہ اس دست غیب (مال مریداں) کو نشان صداقت ونبوت قرار دیا جاتا ہے۔
- ز....... مرزا قادیانی کے الہامات ہیں۔
”سرک سری انت منی بمنزلۃ، بروزی انت منی بمنزلۃ توحیدی وتفریدی“ میں خدا میں سے ہوں خدا مجھ میں سے ہے۔ میں ابن اللہ ہوں۔ احدیت کے پردے میں ہوں۔ میں نے آسمان کو پیدا کیا وغیرہ وغیرہ۔ جیسا کہ کئی جگہ بیان ہوا۔ اس سے معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی علم عبودیت سے نا آشنا تھے اور علم الوہیت سے قطعاً نا آگاہ۔
خدا شناس نہ میرزا خطا اینجاست
اب ناظرین! خود انصاف فرمالیں کہ صوفی کیسے ہوتے ہیں اور مرزا قادیانی کا اس مسلک میں کتنا دخل ہے۔ کیا وہ شخص سچا صوفی ہوسکتا ہے؟۔ جو جلب منفعت دنیوی کے لئے طرح طرح کی تدابیر اور مکر سے کام لے۔ جھوٹ بولے۔ دھوکا دے۔ اللہ پر افتراء کرے۔ بدعہدی کرے۔ دنیا کے عیش وآرام سے نفس کو لذت دے۔ اپنے دشمنوں کو ڈانٹتا رہے۔ بعض وقت اخلاق کو ہاتھ سے دے کر عامیانہ اور سوقیانہ بکواس پر اتر آئے اور پھر منہ سے کہے کہ میں فنافی اللہ ہوں بقاء باللہ ہوں۔ فنافی الرسول ہوں۔ فنافی الشیخ ہوں۔ میں نے لذات دنیا کو ترک کردیا ہے۔ دنیا جیفہ (مردار ہے) میں اس سے کنارہ کش ہوں وغیرہ وغیرہ۔
کیا ایسے شخص اور معمولی جاہل اور پیشہ ور پیروں میں کچھ فرق ہے۔ جو مریدوں کو اپنے پھندوں میں پھنسائے رکھ کر محض اپنا سالانہ نذرانہ وصول کرلینا کافی سمجھتے ہیں۔ حلال وحرام کی بھی کچھ تمیز وپرواہ نہیں کرتے۔ نہ مریدوں کی اصلاح حالت کا خیال کرتے ہیں۔ انہیں صرف اپنی رقم مقررہ وصول کرنے سے غرض ہے۔
مرزا قادیانی کے خسر میر ناصر نواب نے اس بارے میں خوب لکھا ہے۔
منقول از اشاعت السنہ
ہو ہمارے حال میں تم بھی شریک ہم تمھیں دیں فیض تم دو ہم کو بھیک
مال ودولت اور بیٹے پاؤ گے گر بجا خدمت ہماری لاؤ گے
١٦٣
جو نہ دے کچھ مال وہ کیسا مرید شمر اس کو جان لو یا ہے یزید
ہے مریدی واسطے پیسوں کے اب ہائے دنیا میں پڑا ہے کیا غضب
ہر گھڑی ہے مالداروں کی تلاش تا کہ حاصل ہو کہیں وجہ معاش
قرض سے اک دفعہ ہو جائے نجات گو ملے صدقہ کہ مل جائے زکوٰۃ
ہو یتیموں کا ہی یا رانڈوں کا ہو رنڈیوں کا مال یا بھانڈوں ٢؎ کا ہو
کچھ نہیں تفتیش سے ان کو غرض
حرص کا ہے اس قدر ان کو مرض
حضرت امام غزالیؒ بحوالہ ایک حدیث کے فرماتے ہیں کہ عبادات کے دس حصے ہیں۔ ان میں سے نو حصے محض طلب حلال ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ حلال کھانا کھاؤ۔ تا کہ دعا قبول ہو۔ حضرت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دس درم میں ایک درم حرام کا ہو اور اس رقم سے کپڑا خریدا جائے تو اس کپڑے سے نماز نہیں ہو گی۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمرؓ نے کہیں دودھ پیا معلوم ہوا کہ وجہ حلال سے نہ تھا۔ فوراً اُنگلی مار کر قے کر دی۔
ایسا ہی اہل اللہ کی سینکڑوں مثالیں موجود ہیں۔ ادھر مرزا قادیانی کو دیکھو لاکھوں روپیہ وصول ہوتا تھا۔ کیا مرزائی ایسی مثالیں پیش کر سکتے ہیں کہ کبھی وصول شدہ روپیہ کی نسبت تحقیق کیا گیا ہو کہ وجہ حلال سے ہے یا نہیں؟۔ دہندہ کی حالت کیسی ہے۔ آمدنی کس قسم کی ہے؟۔ اس میں رشوت یا حرام وغیرہ کا تو شبہ نہیں؟۔ اگر کبھی شبہ ہوا تو کوئی رقم واپس بھی کی گئی؟۔
اس کے ساتھ براہین احمدیہ، سراج منیر، منن الرحمن، رسائل ماہواری وغیرہ کے چندوں کا روپیہ بھی شامل کرو کہ جو بالکل غرض معہودہ کے خلاف خرچ کیا گیا۔ جو بوجہ عہد کے صریح ناجائز ہے اور اس روپیہ پر مرزا قادیانی کی ذاتی گذران تھی۔ تو کیا اس مشتبہ اور بے تحقیق مال کو کھانے والا اور ایفائے عہد نہ کرنے والا ۔ مدارج فنا فی اللہ و بقا باللہ اور الہام و نبوت کا مدعی ہو سکتا
١؎ جیسے فتح اسلام میں مولوی نورالدین کی تعریف محض ان کے زیادہ روپیہ دینے کی وجہ سے کی گئی ہے اور مقدمہ براہین احمدیہ میں خلیفہ محمد حسین مرحوم وزیر ریاست پٹیالہ کی تعریف محض پانچ سو روپے کی خاطر کی گئی ہے۔ جو شیعی المذہب تھے۔
٢؎ جیسے الہ دیا نامی طوائف کا روپیہ قادیان منگا کر اس کو جائز کر لیا۔
(دیکھو اشاعۃ السنۃ نمبر ٩ ج ١٥، سیرۃ المہدی ج ١ ص ٢٦١، ٢٦٢، روایت نمبر ٢٧٢)
١٦٤
ہے؟ ہرگز نہیں! ہرگز نہیں! اگر منہاج نبوت کی رو سے کوئی ایسی مثال ملتی ہے تو پیش کی جائے اور قرآن کریم کی نص صریح لا یسئلکم علیہ من اجر ان اجری الا علی اللہ کو بھی مدنظر رکھا جائے۔
١٠...... بہشتی مقبرہ
ہندوستان کی مشہور درگاہوں، سرہند، اجمیر، پیران کلیر وغیرہ میں ان مزاروں کے معتقدوں نے مکان کا کچھ حصہ بہشتی گلی کے نام سے موسوم کیا ہوا ہے۔ جاہل لوگ سمجھتے ہیں کہ اس جگہ سے گزرنا بہشتی بنا دیتا ہے جو بروئے شرع شریف بالکل بے اصل اور لغویات ہے۔ لیکن عام خیالات کو وزن کر کے مرزا قادیانی نے بھی اس مجرب نسخہ کا استعمال کیا اور رسالہ الوصیت ١؎ میں ایک بہشتی مقبرہ کا اعلان کیا اور اس میں لکھا کہ:
”ہر ایک شخص جو اس قبرستان میں مدفون ہونا چاہتا ہے وہ اپنی حیثیت کے لحاظ سے ان مصارف کے لئے چندہ داخل کرے اور جو شخص اسلامی خدمات کے لئے بہشتی مقبرہ کے نام پر اپنی جائداد منقولہ وغیر منقولہ کا دسواں حصہ وقف کرے گا۔ اس کو اس مقبرہ میں (دفن ہونے کی) جگہ ملے گی اور وہ بہشتی ہو گا۔“
(الوصیت ص ١٧، خزائن ج ٢٠ ص ٣١٨، ٣١٩)
اس اعلان پر خوب کھنا کھن روپیہ برسنے لگا۔ چنانچہ ١٩٠٦ء میں اس مقبرہ پر تین ہزار روپیہ صرف کیا اور ١٩٠٧ء کے لئے گیارہ ہزار کا مطالبہ ہوا اور صاف لفظوں میں اعلان کیا گیا کہ جو کوئی اس مقبرہ میں مدفون ہوگا بہشتی ہوگا۔
اب غور کا مقام ہے کہ کیا اس اعلان سے کل انبیاء کرام خصوصاً حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ، خلفائے راشدینؓ اور صحابہ کرامؓ کی سخت تکذیب وتوہین نہیں ہوتی؟ کہ صرف دسواں حصہ جائداد دے کر جو وہاں دفن ہوا، بہشتی ہو گیا۔ خواہ ٢؎ اعمال کی کچھ ہی حالت ہو۔ آج تک مکہ مکرمہ، مدینہ طیبہ، بیت المقدس سب اس شرف سے محروم رہے۔ کیا کسی آسمانی صحیفہ سے اس مسئلہ کا پتہ چلتا ہے؟۔ غالباً یہی وجہ تھی کہ مرزائیوں نے اپنا قبلہ و کعبہ اور ملجاوماویٰ قادیان کو ہی سمجھ لیا تھا اور سمجھا
١؎ چنانچہ (الوصیت حاشیہ ص ٢١، خزائن ج ٢٠ ص ٣٢١) میں لکھتے ہیں کہ ”خدا کے کلام کا مطلب یہ ہے کہ صرف بہشتی ہی اس میں دفن کیا جائے گا۔“
٢؎ الوصیت میں مرزا قادیانی نے دفن ہونے والوں کے لئے متقی ہونے کی بھی شرط لگائی ہے۔ لیکن یہ محض ایک چال ہے ورنہ متقی ہونے کی تحقیقات ہونی بھی بوقت واصلات چندہ یا دفن ہونے سے پہلے ضروری تھی۔
١٦٥
ہوا ہے۔ چنانچہ بدر ٩ اگست ١٩٠٦ء میں مرزا قادیانی کی مدح میں یہ شعر لکھا گیا:
اب اس کو فخر سارے زمین وزمن پہ ہے
کیا مرزائی طنبورہ (آرگن) کے اس بے سرے گیت پر مرزا قادیانی یا ان کے خلفاء وحواریوں نے کوئی اظہار ملامت کیا۔ جس میں بیت المقدس اور حرمین شریفین کی حد درجہ بے ادبی۔ ہتک کی گئی ہے؟ ۔ بالکل نہیں۔
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ "ولا تزر وازرۃ وزر اخری" اور "لا تجزی نفس عن نفس شیئاً" جب کوئی شخص کسی کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا اور نہ کوئی نفس کسی کے کام آسکتا ہے، تو اس کا مقبرہ کسی کو کیا سہارا دے سکتا ہے؟ ۔ احادیث صحیحہ میں صاف ارشاد ہے کہ قبریں اونچی اور پختہ نہ بنائی جائیں نہ ان پر عمارتیں تعمیر کی جائیں ۔ نہ کتبہ لکھے جائیں ۔ یہود ونصاریٰ پر اس وجہ سے لعنت فرمائی گئی کہ وہ قبروں کی پرستش کرتے تھے۔
پھر قرآن شریف واحادیث صحیحہ کی تعلیم کے برخلاف مرزا قادیانی کا اس بدعت قبر پرستی کی تجدید و تشہیر کرنا جس کے انسداد واستئصال کے لئے علمائے کرام از حد کوششیں کرتے رہے تھے اور کرتے رہتے ہیں۔ دین کی تخریب نہیں تو اور کیا ہے؟ ۔ مگر مرزا قادیانی کو قرآن وحدیث و اسلام سے کیا غرض ان کو تو وہی تدابیر پسند تھیں ۔ جن سے روپیہ حاصل ہو ۔ عقل کے اندھے اور گانٹھ کے پورے دنیا میں ہمیشہ مل ہی جاتے ہیں ۔ تلك عشرة كاملة!
ناظرین ! یہ نمونہ ہے مرزا قادیانی کی تعلیم اور عمل بالقرآن وحدیث کا چونکہ اختصار مد نظر ہے۔ اس لئے بہت سے خلاف شرع اور خلاف اصول اسلام باتوں میں سے چند یہاں درج ہوئیں۔ ورنہ اس موضوع پر اور بہت ١؎ کچھ لکھا جا سکتا ہے ۔ لیکن خدا ترس اور معاملہ فہم طبیعتوں کے لئے یہی کافی ہے۔
دسویں فصل
دس اقبالی ڈگریاں
تو گرفتار ہوئی اپنی صدا کے باعث
١؎ جیسے مسئلہ بروز ، بعثت ثانی ، تعمیر منارہ وغیرہ وغیرہ ۔
١٦٦
گذشتہ فصلوں میں مرزا قادیانی کے دعوائے نبوت کی نوعیت ان کے الہامات وکشوف کی حالت ان کے جھوٹ اور افتراء علی اللہ کے نمونے ان کے مستجاب الدعوات ہونے کے ادعاء کی حقیقت اور ان کے اسلام کا مختصر خاکہ ہدیہ ناظرین ہو چکا ہے۔ مرزا قادیانی کہا کرتے تھے کہ مفتری اور کذاب کو غیرت الہی فوراً ہلاک کر ڈالتی ہے اور اپنی اس چند روزہ ظاہری کامیابی اور دینار و درہم کے حصول پر نازاں تھے۔ بلکہ اس کو اپنی صداقت کے ثبوت میں پیش کیا کرتے تھے۔ (اور اب ان کے مرید پیش کرتے ہیں ۔) لیکن شاید انہیں قرآن شریف میں یہ آیات نظر نہیں آئی تھیں۔
الف ...... ”فلما نسوا ماذكروا به فتحنا عليهم أبواب كل شيئى حتى اذا فرحوا بما اوتوا اخذ ناهم بغتة فاذاهم مبلسون (انعام:٤٤)“ ٭یعنی جولوگ ہمارے احکام اور نصیحتوں کو بھلا دیتے ہیں اور دنیا طلبی میں لگ جاتے ہیں ہم ان پر دنیا کی سب چیزوں کے دروازے کھول دیتے ہیں۔ حتی کہ جب وہ ان چیزوں سے خوش ہو جاتے ہیں تو ہم انہیں اچانک ہی پکڑ لیتے ہیں اور وہ ناامید رہ جاتے ہیں۔٭ کیا سچ کہا ہے:
دیر گیرد سخت گیرد مر ترا
ب ...... ”والذين كذبوا بايتنا سنستد رجهم من حيث لا يعلمون . واملى لهم ان كيدى متين (اعراف: ١٨٢) “ ٭جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا۔ یعنی احکام کو مان کر عمل نہ کیا ہم انہیں بتدریج ہلاکت کی طرف لے جائیں گے۔ایسے طریقہ سے کہ انہیں خبر تک نہ ہوگی اور ہم انہیں مہلت دیں گے۔ ہماری گرفت بہت مضبوط اور سخت ہے۔٭ اس آیت کی تفسیر میں امام رازیؒ تحریر فرماتے ہیں کہ:
”(اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) میں انہیں مہلت دوں گا اور ان کی عمر دراز کروں گا اور ان کی سزا میں جلدی نہیں کروں گا۔ تاکہ وہ لوگ گناہوں میں ترقی کریں اور جب ان کے گناہوں کی زیادتی اس حد کو پہنچ جائے گی۔ جس حد پر انہیں سزا دینا حکمت الہی میں مقرر ہو چکا ہے۔ اس وقت انہیں موت آئے گی اور خدا تعالیٰ کی پکڑ ہوگی۔ اس لئے ارشاد ہے کہ میری پکڑ سخت ہے۔“
(تفسیر رازی ص ٢٢٥ ج٦)
ان آیتوں کے متعلق ثبوت دینے کی کوئی لمبی چوڑی ضرورت نہیں۔ فرعون ، شداد، نمرود اور ان کذابوں کے حالات جن کا ذکر پہلی فصل میں کیا گیا ہے۔ دیکھ لینے کافی ہیں کہ ان کی ابتداء
کیا تھی اور انجام کیا ہوا؟۔
اس سنت الہی کے موافق مرزا قادیانی بالکل معمولی حالت سے ترقی کرتے کرتے جب انانیت کی اس منزل تک پہنچ گئے کہ صاف صاف نبوت و رسالت کے مدعی ہو گئے اور دنیا بھر کے تیس پینتیس کروڑ مسلمانوں کو اپنی مٹھی بھر جماعت کے مقابلہ میں کافر قرار دے دیا۔ کل پیغمبروں پر فوقیت اور فضیلت کے دعویدار ہوئے۔ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات اقدس کے متعلق بھی گستاخیاں کرنے سے نہ رکے اور (خاک بدہنش) اس ذات پاک کو خاطی، اور ناقص الفہم قرار دیا۔ تو غیرت الہی نے دفعۃً جوش کھایا اور عین اس روز جس دن کہ اخبار عام میں مرزا قادیانی نے اپنی نبوت و رسالت کا صاف صاف دعویٰ شائع کرایا۔ یعنی ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو آپ بحالت غریب الوطنی مقام لاہور یکا یک ہیضہ میں مبتلا ہوئے اور صرف گیارہ گھنٹے میں ٹھنڈے ہو گئے۔
”فاعتبروا یا اولی الابصار“ ایک متقی کے لئے مرزا قادیانی کا یہ حسرت ناک انجام ہی کافی نصیحت ہے۔ لیکن اس فصل میں ہم یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کی متحدیانہ پیش گوئیوں کی کیا حقیقت ہے۔ جس کی نسبت انہوں نے لکھا ہے کہ:
”ہمارا صدق یا کذب جانچنے کے لئے ہماری پیش گوئیوں سے بڑھ کر اور کوئی محک امتحان نہیں ہو سکتا۔“
(دافع الوساوس ص ٢٨٨، خزائن ج ٥ ص ٢٨٨)
اور ان پیش گوئیوں میں اپنی باطل نبوت، رسالت اور الہام کے گھمنڈ میں مخالفوں کی نسبت نہایت دریدہ دہنی سے جو ذلیل ترین اور گندے الفاظ لکھ دیا کرتے تھے۔ کس طرح سے اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی کو ان الفاظ کا مستحق ومستوجب گردانا اور جو برے الفاظ وہ دوسروں پر چسپاں کرنا چاہتے تھے۔ کس طرح پورے طور سے ان پر وارد ہوئے۔ یہ عبارتیں اور الفاظ خود مرزا قادیانی کی اپنی تحریرات سے نقل کئے گئے ہیں اور امر واقعہ کی رو سے نتیجہ درج کر دیا گیا ہے۔ ان میں کوئی لفظ ہمارا نہیں ہے۔ اس لئے ہم مرزائی صاحبان سے امید رکھتے ہیں کہ وہ ٹھنڈے دل سے اس پر غور کریں گے اور صرف اظہار حق کی وجہ سے ہم پر خفا نہیں ہوں گے۔ کیونکہ بقول نظیر:
کیا خوب سودا نقد ہے اس ہاتھ دے اس ہاتھ لے
- ١....... ذلیل، روسیاہ، پھانسی کے قابل اور تمام شیطانوں بدکاروں لعنتیوں
سے زیادہ لعنتی
مسٹر عبداللہ آتھم عیسائی سے جون ١٨٩٣ء میں مباحثہ ہونے کے بعد مرزا قادیانی نے
ایک کتاب بنام جنگ مقدس لکھی تھی۔ جس کے (صفحہ ٢١١، خزائن ج ٦ ص ٢٩٣) میں لکھتے ہیں کہ: ”میں اس وقت یہ اقرار کرتا ہوں کہ اگر یہ پیش گوئی جھوٹی نکلی۔ یعنی وہ فریق جو خدا تعالیٰ کے نزدیک جھوٹ پر ہے۔ وہ پندرہ ماہ کے اندر آج کی تاریخ سے بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا کے اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔ مجھ کو ذلیل کیا جائے، روسیاہ کیا جائے، میرے گلے میں رسہ ڈال دیا جائے، مجھے پھانسی دیا جائے، ہر ایک بات کے لئے تیار ہوں اور میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ ضرور ایسا ہی کرے گا۔ ضرور کرے گا۔ ضرور کرے گا۔ زمین و آسمان ٹل جائیں پر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی.... اب ناحق ہنسنے کی جگہ نہیں۔ اگر میں جھوٹا ہوں تو میرے لئے سولی تیار رکھو اور تمام شیطانوں بدکاروں اور لعنتیوں سے زیادہ مجھے لعنتی قرار دو۔“
اس سے پہلے اصل پیش گوئی یوں لکھتے ہیں کہ: ”آج رات جو مجھ پر کھلا وہ یہ ہے کہ جب میں نے بہت تضرع اور ابتہال سے جناب الٰہی میں دعا کی کہ تو اس امر میں فیصلہ کر اور ہم عاجز بندے ہیں۔ تیرے فیصلہ کے سوائے کچھ نہیں کر سکتے تو اس نے مجھے یہ نشان بشارت کے طور پر دیا ہے کہ اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور سچے خدا کو چھوڑ رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے۔ وہ انہی دونوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لے کر یعنی پندرہ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جائے گا اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی۔ بشرط یہ کہ حق کی طرف رجوع نہ کرے اور جو شخص سچ پر ہے اور سچے خدا کو مانتا ہے۔ اس کی اس سے عزت ظاہر ہو گی اور اس وقت جب یہ پیش گوئی ظہور میں آئے گی۔ بعض اندھے سوجاکھے کئے جائیں گے اور بعض لنگڑے چلنے لگیں گے۔ اور بعض بہرے سننے لگیں گے۔“
(جنگ مقدس ص ٢٩١، ٢٩٢، خزائن ج ٦ ص ٢٠٩، ٢١٠)
اس اصل پیش گوئی کا مطلب یہ ہے کہ آتھم آج سے پندرہ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جائے گا۔ بشرط یہ کہ حق کی طرف رجوع نہ کرے اور ہاویہ کے معنی جیسا کہ ٢٩٣ کا حوالہ دیا گیا ہے۔ سزائے موت کے لئے گئے ہیں۔ ایسا ہی (حقیقت الوحی ص ١٨٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٩٢) میں لکھتے ہیں: ”آتھم کی بابت پیش گوئی کے یہ الفاظ تھے کہ وہ پندرہ مہینے میں ہلاک ہوگا۔“
غرض مطلب ہے کہ اگر آتھم رجوع الی الحق نہ کرے گا تو بسزائے موت پندرہ ماہ کے اندر ہاویہ (دوزخ) میں گرایا جائے گا۔ یعنی مر جائے گا اور اگر رجوع الی الحق کر لے
١٦٩
گا۔ یعنی عیسائیت پر قائم نہ رہے گا اور اس کے افعال یا اقوال سے رجوع الی الحق ثابت ہوگا۔ تو اس سزا سے بچ رہے گا۔
یہ پیش گوئی اپنے الفاظ کی رو سے بڑی شاندار تھی۔ لیکن نتیجہ کیا ہوا کہ بالکل جھوٹ نکلی۔ یعنی آتھم پانچ ستمبر ١٨٩٤ء تک نہ مرا۔ جس سے مرزا قادیانی کو سخت ذلت اور شرمندگی اٹھانی پڑی۔
جب آتھم میعاد کے اندر فوت نہ ہوا تو مرزا قادیانی نے جھٹ اشتہار دے دیا کہ اس نے (دل میں) رجوع الی الحق کر لیا تھا۔ اس لئے موت سے بچ گیا۔ اس مضمون کو انہوں نے بیسیوں کتابوں اور رسالوں میں لکھا ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں کہ:
”جس شخص کا خوف ایک مذہبی پیش گوئی سے اس حد تک پہنچ جائے کہ اس کو سانپ وغیرہ ہولناک چیزیں نظر آئیں۔ یہاں تک کہ وہ ١؎ ہراساں اور لرزاں اور پریشان اور بیتاب اور دیوانہ سا ہو کر شہر بہ شہر بھاگتا پھرے اور سراسیموں اور خوفزدوں کی طرح جا بجا بھٹکتا پھرے۔ ایسا شخص بلاشبہ یقینی یا ظنی طور پر اس مذہب کا مصدق ہو گیا ہے جس کی تائید میں وہ پیش گوئی کی گئی ہے۔ یہی معنی رجوع الی الحق کے ہیں۔“
(ضیاء الحق ص١٤ مطبوعہ ١٨٩٥ء، خزائن ص٢٦٠، ج٩ ملخصاً)
لیکن دوسرے مقام پر آتھم کی اسی گھبراہٹ اور پریشانی کو جس کا نام رجوع الی الحق رکھا ہے۔ ہاویہ سے تعبیر کرتے ہیں ملاحظہ ہو۔
”پس اے حق کے طالبو یقیناً سمجھ لو کہ ہاویہ میں گرنے کی پیش گوئی پوری ہو گئی اور اسلام کی فتح ہوئی اور عیسائیوں کو ذلت پہنچی۔ ہاں اگر مسٹر عبداللہ آتھم اپنے پر جزع فزع کا اثر نہ ہونے دیتا اور اپنے افعال سے اپنی استقامت دکھاتا اور اپنے مرکز سے جگہ بہ جگہ بھٹکتا نہ پھرتا اور اپنے دل پر وہم اور خوف اور پریشانی غالب نہ کرتا۔ بلکہ اپنی معمولی خوشی اور استقلال میں ان تمام دنوں کو گزارتا۔ تو بے شک کہہ سکتے تھے کہ وہ ہاویہ میں گرنے سے دور رہا۔ مگر اب تو اس کی بے مثال ہوئی کہ قیامت دیدہ ام پیش از قیامت اس پر وہ غم کے پہاڑ پڑے جو اس نے اپنی تمام زندگی میں اس کی نظیر نہیں دیکھی تھی۔ پس کیا یہ سچ نہیں کہ وہ ان تمام دنوں میں درحقیقت ہاویہ میں رہا۔“
(انوار الاسلام ص٧، خزائن ج ٩ ص ٧)
١؎ عبارت کو دیکھئے کیسا فضول طور پر طول دیا گیا ہے۔
١٧٠
سبحان اللہ! کیا عجیب وغریب منطق ہے۔ خود مرزا قادیانی کے ایک گریجویٹ مرید نے اس عبارت آرائی پر جو نوٹ دیا ہے۔ قابل ملاحظہ ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ:
”مضمون صاف ہے کہ اگر آتھم رجوع الی الحق نہ کرے تو ہاویہ میں گرایا جائے گا۔ یعنی اگر رجوع کرے گا تو ہاویہ کی سزا سے بچ جائے گا۔ رجوع الی الحق اور سزائے ہاویہ ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے آتھم کے بھاگے پھرنے اور سراسیمہ ہونے کا نام رجوع الی الحق بھی رکھا ہے اور ہاویہ میں گرنا بھی اب سوال یہ ہے کہ رجوع اور ہاویہ کا جمع ہونا تو الہام کی رو سے ناممکن ہے۔ بیچارہ آتھم اگر رجوع کر چکا تو پھر ہاویہ اس پر کہاں سے آ گیا۔ یا تو رجوع ہی کرتا یا ہاویہ میں گرتا۔ یہ تاویل جس میں اجتماع ضدین ہے۔ ما ينطق عن الهوى والے الہام کے ماتحت ہو کر وحی الٰہی سے ہوا تھا یا نہیں؟ لے
(انجم الثاقب ص٢٣)
غرض یہ کہ اپنوں اور بیگانوں سب کی نظروں میں پیش گوئی اپنے الفاظ و شرح کی رو سے قطعاً غلط نکلی اور مرزا قادیانی اپنی مقبولہ ومسلمہ سزا کے مستوجب ٹھہرے۔ جو جنگ مقدس کی عبارت ص١٨٩،١٩٠ کے حوالہ سے عنوان میں درج کی گئی ہے۔
مرزا قادیانی نے اس کلنک کے ٹیکے کے اتارنے کے لئے بہت ہاتھ پاؤں مارے۔ ایک اشتہار دے دیا کہ مسٹر آتھم اگر قسم کھائیں کہ انہوں نے رجوع الی الحق نہیں کیا تو دو ہزار پھر لکھا کہ چار ہزار روپیہ انعام لیں۔
آتھم رجوع سے بالکل انکاری تھا۔ اس نے جواب دیا کہ حلف ہمارے مذہب میں جائز نہیں جیسا کہ سور کھانا اسلام میں جائز نہیں اگر مرزا قادیانی بھرے جلسہ میں سور ع کھا لیں تو میں ان کو انعام دینے کو تیار ہوں۔ البتہ عدالت میں حلف اٹھا سکتا ہوں۔ بشرط یہ کہ مرزا قادیانی مجھ پر دعویٰ کریں لیکن مرزا قادیانی نے کوئی دعویٰ نہیں کیا۔
آخر کل نفس ذائقة الموت آتھم ستر سال کے قریب عمر میں تھا اور وہ مرزا قادیانی کی پیش گوئی کی میعاد ختم ہونے کے تیس ماہ بعد فوت ہو گیا۔ تو مرزا قادیانی نے
لے ماشاء الله کیسا زبر دست اعتراض ہے کیا کوئی مرزائی اس کا جواب دے سکتا ہے؟۔
ع کیا یہی رجوع الی الحق تھا کہ وہ کھلے طور پر مرزا قادیانی کو سخت الفاظ سے مخاطب کر رہا ہے۔
١٧١
فوراً پیش گوئی کا پورا ١؎ ہونا مشتہر کر دیا اور اپنی متعدد تصانیف میں لکھا کہ ”میں نے مباحثہ کے وقت قریباً ساٹھ آدمیوں کے روبرو یہ کہا تھا کہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے وہ پہلے مرے گا۔ سو آتھم بھی اپنی موت سے میری سچائی کی گواہی دے گیا ۔“ (دیکھو اشتہار انعامی پانچ سو روپیہ ص ٧، اربعین بار دوم نمبر ٣ ص ١٠، خزائن ج ١٧ ص ٣٩٦ ، کشتی نوح ص ٦ ، روحانی خزائن ج ١٩ ص ٦)
اس جھوٹ کی نسبت مرزا قادیانی کے وہی گریجویٹ مرید یوں لکھتے ہیں کہ:
”انصافاً فرمائیے کہ کیا اس طرح کا خلاصہ لکھنا جائز ہے۔ کیا پندرہ ماہ کی مدت کو پس انداز کرنے سے رجوع الی الحق کی شرط کو چھوڑنے سے پیش گوئی کی وہی حیثیت رہی؟۔ جو پہلے تھی یقیناً نہ رہی۔ اس طرح کا خلاصہ اور مختصر بیانی سے ایک فریق کو یعنی مرزا قادیانی کو بہت زیادہ ناجائز فائدہ پہنچ جاتا ہے۔ کیونکہ برسوں کے بعد جب آتھم دنیا سے گزر چکا ہے۔ ایک ناواقف کشتی نوح کی عبارت کو پڑھتا ہے اور دیکھتا ہے کہ ایک فریق زندہ موجود ہے اور دوسرا مرچکا۔ وہ فوراً زندہ فریق کے حق میں ڈگری دے دیتا ہے۔ حالانکہ اگر اصل کیفیت معلوم ہو کہ مدت پندرہ ماہ مقرر تھی۔ شرط رجوع الی الحق تھی اور سزا ہاویہ میں گرایا جانا۔ جس کے معنی صرف ٢؎ گھبرا کر سراسیمہ پھرنا کیا گیا تھا۔ تو قرینہ غالب ہے کہ وہ اس پیش گوئی کے بارے میں کچھ اور رائے قائم کر سکتا تھا۔ اس پیش گوئی کو اس طرح مختصر کرنے سے ایک ناواقف کو دھوکا لگنے کا احتمال ہے یا نہیں۔ میرے خیال میں ضرور احتمال ہے اور قوی احتمال ہے احتیاط اور حزم کے خلاف ہے۔ صاف کیوں نہیں کہتے کہ دیانت اور راست بازی کے خلاف ہے۔ (مؤلف)
١؎ اگر پیش گوئی پوری ہوئی تو کتنے اندھے سوجاکھے کئے گئے اور کتنے لنگڑے چلنے لگے۔ جیسا کہ پیش گوئی میں ذکر تھا۔ حالانکہ مرزا قادیانی کے مخلص مریدوں میں اس وقت کانے اور لنگڑے موجود تھے۔ مگر اچھا تو کوئی بھی نہ ہوا۔
٢؎ یہ بھی ایک چالاکی ہی تھی ورنہ اصل پیش گوئی اور اس کی تفسیر میں موت کا لفظ موجود ہے۔ جس کا مفصل حوالہ شروع میں دیا گیا ہے۔ (مؤلف)
١٧٢
اب ناظرین مکرر غور کر سکتے ہیں کہ مرزا قادیانی کی یہ بعد کی تاویلیں ١؎ بھی پہلے تاویلوں کی طرح کیسی صاف طور سے عذر گناہ بدتر از گناہ کی مصداق ثابت ہوتی ہیں۔
٢...... ہر ایک سے بدتر اور کاذب
نکاح آسمانی کے متعلق مفصل حالات فصل ششم نمبر ٤ تا ١٠ اور فصل گذشتہ کے نمبر ٨ میں لکھے گئے ہیں۔ اسی سلسلہ میں ایک جگہ مرزا قادیانی تحریر کرتے ہیں کہ: ”یاد رکھو کہ اس پیش گوئی کی دوسری جزو (یعنی احمد بیگ کے داماد کی موت اور محمدی بیگم سے مرزا قادیانی کا نکاح) پوری نہ ہوئی تو میں ہر ایک سے بدتر ٹھہروں گا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج ١١ ص ٣٣٨)
ایک دوسری جگہ لکھتے ہیں کہ:
خود معیار می گردانم و من نگفتم الا بعد زانکہ از رب خود خبر دادہ شدم“
(انجام آتھم ص ٢٢٣، خزائن ج ١١ ص ٢٢٣)
یہ ظاہر ہے کہ نہ داماد مرزا احمد بیگ مرا، نہ محمدی بیگم مرزا قادیانی کے نکاح میں آئی۔ پس مرزا قادیانی اپنے مقبولہ خطابوں کے مستحق ہیں۔
٣...... نادان، بدگوہر، احمق، بے وقوف، نکٹے
ان کے منحوس چہرہ پر ذلت کے سیاہ داغ، بندروں اور سوروں کی طرح کئے گئے
١؎ یہ سب تاویلیں مرزا قادیانی کو آتھم کے میعاد مقررہ پر فوت نہ ہونے کے بعد سوجھیں۔ ورنہ آخری تاریخ ٥ ستمبر ١٨٩٤ء تک مرزا قادیانی کو ضرور اس کی موت کا ہی یقین تھا۔ چنانچہ سیرت المہدی میں میاں عبداللہ سنوری کا ایک بیان درج ہے کہ ”اس آخری تاریخ کو اس پیش گوئی کے متعلق مرزا قادیانی معہ متعلقین نہایت جزع و فزع سے دعائیں کرتے رہے اور کچھ دانہ نخود پڑھ کر مجھے دیئے کہ انہیں جنگل میں جا کر چاہ میں پھینک آؤ اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھو۔“
(سیرت المہدی ج ٢ ص ١٧٨، روایت ٣١٢)
گویا مرزا قادیانی کے ملہم نے ان کو آخری دن تک بھی نہ آتھم کے رجوع الی الحق سے مطلع نہیں کیا اور مرزا قادیانی کو دھوکے میں رکھا۔ پس یہ تاویلیں جو بعد کو گھڑی گئیں یہ سب فضول ہیں۔
١٧٣
ہیں ۔ پیش گوئی مذکورہ (نکاح آسمانی) کے متعلق (انجام آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧) میں لکھتے ہیں کہ : ” چاہئے تھا کہ ہمارے نادان مخالف انجام کے منتظر رہتے اور پہلے سے اپنی بدگوہری ظاہر نہ کرتے ۔ بھلا جس وقت یہ سب باتیں پوری ہو جائیں گی تو کیا اس دن یہ احمق مخالف جیتے ہی رہیں گے اور کیا اس دن یہ تمام لڑنے والے سچائی کی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہو جائیں گے۔ ان بے وقوفوں کو کوئی بھاگنے کی جگہ نہ رہے گی اور نہایت صفائی سے ناک کٹ جائے گی اور ذلت کے سیاہ داغ ان کے منحوس چہروں کو بندروں اور سوروں کی طرح کر دیں گے ۔“
اللہ اکبر! اس تعلی ، شیخی ، تکبر ، زبان درازی اور بدزبانی کی کوئی حد ہے اور اس تہذیب وشائستگی کا کچھ ٹھکانا ہے؟۔ کیوں نہ ہو چودہویں صدی کے نبی اور مسیح جو ہوئے !! اگر خدانخواستہ یہ پیش گوئی پوری ہو جاتی یعنی محمدی بیگم کا مرزا قادیانی سے نکاح ہو جاتا تو کیا مرزائی اور مرزا قادیانی یہی الفاظ کل مسلمانان کے خلاف عائد نہ کر دیتے؟ جن میں اکابر علماء اور صوفیائے کرام ومشائخ عظام شامل ہیں۔ لیکن خدا کی شان ! مرزا قادیانی کا غرور اور تکبر ان کے آگے آیا اور نکاح نہ ہوا۔ اس لئے اب ہمیں حق حاصل ہے کہ مرزا قادیانی کی گل فشانیوں کا مذکورہ بالا نولکھا ہار عطائے تو بلقائے تو کہہ کر انہی کے گلے میں ڈال دیں جو ان کا حق بھی ہے۔
کایں زر قلب بہر کس کہ وہی بازدہند
- ٤....... نامراد، ذلیل، مردود ، ملعون ، دجال ، ہمیشہ کی لعنتوں کا نشانہ
اشتہار انعامی چار ہزار بمرتبہ چہارم مورخہ ٢٧؍ اکتوبر ١٨٩٤ء لکھتے ہیں کہ: ”میں بالآخر دعا کرتا ہوں کہ اے خدائے قادر و علیم ۔ اگر آتھم کا عذاب مہلک میں گرفتار ہونا اور احمد بیگ کی دختر کلاں کا آخر اس عاجز کے نکاح میں آنا۔ یہ پیش گوئیاں تیری طرف سے ہیں تو ان کو ایسے طور پر ظاہر فرما جو خلق اللہ پر حجت ہو اور کور باطن حاسدوں کا منہ بند ہو جائے اور اگر اے خداوند! یہ پیش گوئیاں تیری طرف سے نہیں ہیں تو مجھے نامرادی اور ذلت کے ساتھ ہلاک کر۔ اگر میں تیری نظر میں مردود اور ملعون اور دجال ہی ہوں جیسا کہ مخالفوں نے سمجھا ہے اور تیری وہ رحمت میرے ساتھ نہیں جو ؎١ انبیائے کرام علیہم السلام ...... اور اولیائے امت محمدیہ کے
؎١ یہاں مرزا قادیانی نے حسب عادت عبارت کو طول دینے کے لئے ہر ایک نبی علیہم السلام کا نام علیحدہ علیحدہ لکھا ہے جو بنظر اختصار چھوڑ دیا ہے۔
١٧٤
ساتھ تھی۔ تو مجھے فنا کر ڈال اور ذلتوں کے ساتھ مجھے ہلاک کر دے اور ہمیشہ کی لعنتوں کا نشانہ بنا اور تمام دشمنوں کو خوش کر اور ان کی دعائیں قبول فرما۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ١١٥، ١١٦)
یہ ظاہر ہے کہ نہ مطابق پیش گوئی عبداللہ آتھم پر کوئی مہلک عذاب آیا۔ نہ محمدی بیگم سے مرزا قادیانی کا نکاح ہوا۔ اس لئے ثابت ہوا کہ دونوں پیش گوئیاں اللہ کی طرف سے نہیں تھیں اور مرزا قادیانی بمقابلہ مولوی ثناء اللہ اور ڈاکٹر عبدالحکیم صاحبان موت کی پیش گوئیاں کرتے کرتے دفعۃً لاہور (مسافرت میں) بمرض ہیضہ انتقال کر گئے۔ پس حسب اقرار خود وہ الفاظ مندرجہ عنوان کے ہر طرح حقدار ہیں۔
- ٥...... جھوٹا، کاذب، دجال، مفتری اور ذلیل
’’میں نے خدا تعالیٰ سے دعا کی ہے کہ وہ مجھ میں اور محمد حسین میں آپ فیصلہ کرے اور وہ دعا جو میں نے کی ہے یہ ہے کہ اے میرے ذوالجلال پروردگار! اگر میں تیری نظر میں ایسا ہی ذلیل جھوٹا اور مفتری ہوں جیسا کہ محمد حسین بٹالوی نے اپنے رسالہ اشاعۃ السنۃ میں بار بار مجھ کو کذاب، دجال اور مفتری کے لفظ سے یاد کیا ہے اور جیسا کہ اس نے اور محمد بخش جعفر زٹلی اور ابوالحسن تبتی نے اس اشتہار میں جو ١٠ نومبر ١٨٩٧ء کو چھپا ہے۔ میرے ذلیل کرنے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا۔ تو مجھ پر تیرہ ماہ کے اندر یعنی ١٥ دسمبر ١٨٩٨ء سے ١٥ جنوری ١٩٠٠ء تک ذلت کی مار وارد کر اور ان لوگوں کی عزت و وجاہت ظاہر کر اور اگر تیری جناب میں میری کچھ عزت ہے تو میں عاجزی سے دعا کرتا ہوں کہ ان تیرہ مہینوں میں شیخ محمد حسین، جعفر زٹلی اور تبتی مذکور کو ذلت کی مار سے دنیا میں رسوا کر اور ضربت علیہم الذلۃ کا مصداق کر۔ آمین! ثم آمین۔‘‘
(اشتہار ٢١ نومبر ١٨٩٨ء، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٦٠)
اس سے آگے لکھا ہے کہ ’’اس دعا کی قبولیت کا الہام بھی ہو گیا ہے۔‘‘ لیکن یہ میعاد گزر گئی اور مرزا قادیانی کے یہ تینوں مخالفین بفضلہ تعالیٰ بخیر و عافیت رہے اور مرزا قادیانی کی دعا مردود ہوئی۔ میعاد ختم ہونے پر آئی تو مرزا قادیانی نے بہت حیلے کئے۔ ایک غیر معلوم شخص کی معرفت علماء سے فتویٰ حاصل کیا کہ حضرت مہدی کا منکر کافر ہے اور ٧ جنوری ١٨٩٩ء کو اشتہار شائع کیا۔
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١١٠)
- ١...... ’’کہ جس طرح مولوی محمد حسین نے مجھ پر کفر کا فتویٰ لگایا تھا۔ اس پر بھی
١٧٥
لگ گیا۔ پس اس کی ذلت ہوئی اور پیش گوئی سے یہی مراد تھی۔ قریباً سال بھر بعد ١٧؍ دسمبر ١٨٩٩ء کو پھر ایک اشتہار دیا۔ اس میں ذلت کے اسباب مزید حسب ذیل گنائے:۔
- ٢...... ”مولوی محمد حسین نے میرے الہامی جملہ عجبت لہ پر اعتراض کیا۔
حالانکہ عجبت کا صلہ لام فصحاء کے کلام میں موجود ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص١٩٦، ١٩٧ ملخص)
- ٣...... ”ہمارے مقدمہ میں ڈپٹی کمشنر گورداسپور نے اس کو سخت سست کہا بلکہ اس
سے عہد لیا کہ آئندہ کو وہ مجھے دجال قادیانی کافروغیرہ نہ کہے گا۔“
(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص١٩٩)
- ٤...... ”مولوی محمد حسین نے لفظ ڈسچارج کا ترجمہ غلط کیا۔“
(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٢٠٨)
- ٥...... ”اس کو زمین مل گئی۔ یہ بھی ذلت ہے۔ کیونکہ حدیث میں آیا ہے کہ جس
گھر میں کھیتی کے آلات داخل ہوں ۔ وہ ذلیل ہو جاتا ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٢١٥، ٢١٦)
اب پیش گوئی اور الہام کی طرف دیکھئے اور ادھر مرزا قادیانی کی بیان کردہ ذلتوں پر غور کیجئے، کہاں تو الہام میں درج تھا کہ میں ظالم کو ذلیل اور رسوا کر دوں گا اور وہ اپنے ہاتھ کاٹے گا۔ ”ضرب اللہ اشد من ضرب الناس“ کہاں تعبیر اس کی کی جاتی ہے۔ مندرجہ بالا رکیک تاویلات سے اور ان کی نسبت بھی غور فکر کرنے سے نتائج ذیل نکلتے ہیں:
- ١...... عام طور پر جس مہدی کا آنا مانا جاتا ہے۔ اس سے آپ بھی منکر ہیں اور
مولی محمد حسین بھی پس اس طرح اگر یہ ذلت ہے تو دونوں کو پہنچتی ہے۔
- ٢...... عجبت لہ والی تقریر سے مولوی محمد حسین کو انکار ہے اور مرزا قادیانی کی
غلطیوں کا ایک طومار مولوی محمد حسین اور مولوی ثناء اللہ اور دیگر علماء نے شائع کر دیا ہے۔ ایک عجبت لہ پر ہی اکتفا نہیں کیا۔ اس طرح آپ ڈبل ذلیل ثابت ہوتے ہیں۔
- ٣...... مقدمہ گورداسپور میں مرزا قادیانی اور مولوی دونوں سے یکساں نمونہ کے
اقرار نامہ جات داخل کرائے گئے تھے۔ بلکہ مرزا قادیانی کا اقرار نامہ جو ان کے نبی ہونے کے لحاظ سے بہت بڑی ذلت ہے۔
- ٤...... مرزا قادیانی باوجود الہامی تفہیم کے بیسیوں الہامی الفاظ کے معنی غلط کر
جاتے تھے اور پھر کہہ دیتے تھے کہ شاید کچھ اور معنی ہوں یا مجھے یاد نہیں رہا وغیرہ وغیرہ۔ اگر یہ ذلت نہیں تو مولوی محمد حسین کا لفظ ڈسچارج کا ترجمہ بھی کوئی ذلت نہیں۔
١٧٦
- ٥...... زمیندار
بنے۔ حراث بنے اور زمینداری صاحب مذکور سے بدرجہا زیادہ اس سے زیادہ تو تھیں۔ تین آدمیوں کی نسبت صاحبوں کی نسبت اور اشتہارات ہیں۔ (چلو ستے چھوٹے) افسوس! کہ اس اٹھایا۔ لکھ دینا تھا کہ محمدی بیگم وہ بھی مر گیا۔ پس پیش گوئی
غرض یہ کہ پیش گوئی ثابت ہوا۔ اس لئے حسب اند
- ٦...... شریر، پلید، مردود،
مرزا قادیانی اپنے عجیب وغریب تدابیر سے کام کے خاتمہ سے کچھ پہلے ایک دو دوسری طرف متوجہ رہیں۔ چنا قریب دو اڑھائی ماہ باقی تھے کہ ”اے میرے م مستجاب الدعوات ہوں تو ایہ اور نشان دکھلا اور اپنے بندے ١؎ کچھ کسر ہے! ذرا
- ٥...... زمینداری کی ذلت کی بھی خوب کہی! مرزا قادیانی خود الہامی طور پر حارث
بنے۔ حارث بنے اور زمینداری کی ذلت میں پشتہا پشت سے مبتلاء رہے تو خود بدولت مولوی صاحب مذکور سے بدرجہا زیادہ اور پشتینی ذلیل ہیں۔
اس سے زیادہ تعجب یہ ہے کہ پیش گوئی تو ہے مولوی محمد حسین اور جعفر زٹلی اور ابوالحسن تفتی۔ تین آدمیوں کی نسبت اور ذلتیں گنائی ہیں۔ صرف مولوی محمد حسین کی اور باقی دونوں صاحبوں کی نسبت اور اشتہار سترہ دسمبر ١٨٩٩ء میں لکھ دیا کہ ان کی عزت اور ذلت دونوں طفیلی ہیں۔ (چلو سستے چھوٹے)
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢١٦)
افسوس! کہ اس نسخہ مجرب سے محمدی بیگم والے معاملہ میں مرزا قادیانی نے فائدہ نہ اٹھایا۔ لکھ دینا تھا کہ محمدی بیگم کی نانی مر گئی۔ محمدی بیگم کے خاوند کی موت طفیلی تھی۔ اس لئے سمجھ لو کہ وہ بھی مر گیا۔ پس پیش گوئی پوری ہو گئی۔ واہ حضرت! کیا کہنے ہیں اس نبوت کے:
گربہ شاشید گفت باراں شد
غرض یہ کہ پیش گوئی بھی بالکل غلط اور اس کی منظوری کا الہام محض جھوٹ اور فضول ثابت ہوا۔ اس لئے حسب اندراج اشتہار خود مرزا قادیانی الفاظ مندرجہ عنوان کے مصداق ہیں۔
- ٦...... شریر، پلید، مردود، ملعون، کافر، بے دین، کذاب، خائن، دجال، فاسد
مرزا قادیانی اپنے دام افتادوں کے اطمینان قلب اور ان کے پھنسے رہنے کے لئے عجیب و غریب تدابیر سے کام لیتے تھے۔ ایک پیش گوئی ابھی پوری نہیں ہوتی تھی کہ اس کی میعاد کے خاتمہ سے کچھ پہلے ایک دوسری پیش گوئی کر دیتے تھے۔ تا کہ غلط پیش گوئی کا خیال چھوڑ کر مرید دوسری طرف متوجہ رہیں۔ چنانچہ مولوی محمد حسین وغیرہ کے متعلق تیرہ ماہ پیش گوئی کی میعاد میں قریب دو اڑھائی ماہ باقی تھے کہ پانچ نومبر ١٨٩٩ء کو ایک اور اشتہار دے دیا جس میں لکھا کہ:
”اے میرے مولا! قادر خدا اب مجھے راہ بتلا! اگر میں تیری جناب میں مستجاب الدعوات ہوں تو ایسا کر کہ جنوری ١٩٠٠ء سے اخیر دسمبر ١٩٠٢ء تک میرے لئے کوئی اور نشان دکھلا اور اپنے بندے کے لئے گواہی دے جس کو زبانوں سے کچلا گیا ہے۔ دیکھ میں
١؎ کچھ کسر ہے! ذرا آٹھویں فصل تو دیکھو۔
١٧٧
تیری جناب میں عاجزانہ ہاتھ اٹھاتا ہوں کہ تو ایسا ہی کر کہ اگر میں تیرے حضور میں سچا ہوں اور جیسا کہ خیال کیا گیا ہے۔ کافر، کاذب نہیں ہوں تو ان تین سال میں جو اخیر دسمبر ١٩٠٢ء تک ختم ہو جائیں گے۔ کوئی ایسا نشان دکھلا جو انسانی ہاتھوں سے بالا تر ہو۔“
(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص١٧٨)
آگے چل کر لکھتے ہیں کہ:
”اگر تو اے خدا اس تین برس کے اندر میری تائید میں اور میری تصدیق میں کوئی نشان نہ دکھلائے اور بندے کو ان لوگوں کی طرح رد کر دے۔ جو تیری نظر میں شریر ١؎ اور پلید اور بے دین اور کذاب اور دجال اور خائن اور مفسد ہیں۔ تو میں تجھے گواہ کرتا ہوں کہ میں اپنے تئیں صادق نہیں سمجھوں گا اور ان تمام تہمتوں اور الزاموں اور بہتانوں کا اپنے تئیں مصداق سمجھ لوں گا۔ جو میرے پر لگائے جاتے ہیں۔۔۔۔۔ میں نے اپنے لئے یہ قطعی فیصلہ کر لیا ہے کہ اگر میری ہی دعا قبول نہ ہو تو میں ایسا ہی مردود اور ملعون کافر اور بے دین اور خائن ہوں۔ جیسا کہ مجھے سمجھا گیا ۔“
(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص١٧٨)
مرزا قادیانی کے مرید نہ مانیں! ہم تو مرزا قادیانی کی اس عبارت پر امنا وصدقنا کہتے ہیں۔ کیونکہ یہ تین سال بھی خالی گزر گئے اور کوئی نشان آسمانی جو انسانی ہاتھوں سے بالاتر ہو نہیں دکھایا گیا ٢؎۔ اس لئے وہ اپنی منہ مانگی تعریفوں کے ہر طرح سے مستحق ہیں۔
١؎ سلطان القلم کی قلم کے جواہر ریزے ملاحظہ ہوں کیا کوئی بھٹیاری بھی اس فحش گوئی کا مقابلہ کر سکتی ہے؟۔ ایک دریائے فساد ہے جو امڈا چلا آ رہا ہے۔
٢؎ البتہ ایک رسالہ بنام اعجاز احمدی مرزا قادیانی نے لکھ کر مولوی ثناء اللہ کے پاس ضرور بھیجا اور لکھا کہ اس کا جواب بیس یوم کے اندر اندر لکھ کر بھیجو۔ اس سے پیش گوئی سہ سالی پوری ہو گئی۔ مولوی ثناء اللہ نے اس قصیدے میں بیسیوں صرفی نحوی غلطیاں نکال کر مرزا قادیانی کو لکھا کہ پہلے ان غلطیوں کو درست کرو پھر میں آپ کے زانو بزانو بیٹھ کر عربی نویسی کروں گا۔ آپ ایک غیر معلوم مدت میں سارا زور لگا کر ایک کتاب لکھیں اور فریق ثانی کو چند یوم میں اس کا جواب دینے پر مجبور کریں۔ یہ فضول بات ہے مرزا قادیانی نے اس کا کوئی جواب تک نہیں دیا۔ اب ناظرین انصاف کر لیں کہ کہاں ایک عظیم الشان نشان کی پیش گوئی جو انسانی ہاتھوں سے بالا تر ہو۔ کہاں اس کا ظہور ایک مختصر رسالہ کی شکل میں: (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)
١٧٨
٧...... جھوٹا اور جھوٹے دعوے
مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”میرا کام جس کے لئے میں اس میدان میں کھڑا ہوں۔ یہی ہے کہ میں عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑ دوں اور بجائے تثلیث کے توحید کو پھیلاؤں اور آنحضرتﷺ کی جلالت اور عظمت اور شان دنیا پر ظاہر کروں پس اگر مجھ سے کروڑ نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علت غائی ظہور میں نہ آئے تو میں جھوٹا ہوں۔ پس دنیا مجھ سے کیوں دشمنی کرتی ہے۔ وہ انجام کو کیوں نہیں دیکھتی۔ اگر میں نے اسلام کی حمایت میں وہ کام کر دکھایا جو مسیح موعود مہدی موعود کو کرنا چاہئے تھا۔ تو پھر میں سچا ہوں اور اگر کچھ نہ ہوا اور مر گیا تو پھر سب گواہ رہیں میں جھوٹا ہوں۔“
(بدر ج ٢ ش ٢٩ ص ٢، ١٦ جولائی ١٩٠٦ء، مکتوبات ج ٦ حصہ اوّل ص ١٦٢)
ناظرین! مرزا قادیانی کے اس صاف و صریح اقرار کو ملاحظہ فرمائیں اور نتیجہ کے طور پر اسلام کی موجودہ شان وشوکت کا حال بھی دیکھیں۔ جب مرزا قادیانی نے دعوائے مجددیت ومہدویت ومسیحیت وغیرہ کیا تھا۔ اس وقت ممالک اسلامی اور سلطنت ہائے اسلامی کی حالت زمانہ موجودہ سے ہزار درجہ بہتر تھی۔ شاید یہ مرزا قادیانی کی ہی سبز قدمی کی برکت ہے کہ ان میں سے اکثر ممالک اب ہلال کے بجائے صلیب کے زیرِ حکومت ہیں۔ یہاں تک کہ حرم کعبہ بھی عیسائی طاقتوں کے زیرِ اثر ہو گیا اور جہاں بجائے شعائر اسلام کے اب ہر قسم کے فسق وفجور و شراب وزنا وغیرہ کی عام آزادیاں ہو گئی ہیں۔ اگر اسی کا نام کسرِ صلیب ہے ترقی اسلام اور پیغمبر عربی (روحی فدا) ﷺ کی عظمت و شان کا اظہار ہے تو خیر! اگر نہیں تو پھر مرزا قادیانی کو ان کے اقرار
(بقیہ حاشیہ گزشتہ صفحہ)
جو چیرا تو اک قطرہ خون نکلا
اور پھر حسبِ قول و اصولِ مسلمہ مرزا قادیانی ان کا لکھا ہوا یہ رسالہ انسانی ہاتھوں سے بالا تر نہیں کہلا سکتا۔ بلکہ ایسے کہنے والے کو مرزا قادیانی ”سودائی، مخبوط الحواس، عقل کا اندھا، کور باطن اور ناقص الفہم نادان مغرور بے ایمان وغیرہ وغیرہ بتلاتے ہیں۔“
(دیکھو براہین احمدیہ حاشیہ ص ١٥٦ تا ١٩٣ ملخصاً، خزائن ج ١ ص ١٦١، ٢٠٩، تمہید فصل ششم کتاب ہذا)
١٧٩
کے بموجب کیوں جھوٹا نہ سمجھا جائے۔ ورنہ اس بربادی اسلام و مسلمین کو ترقی ثابت کرنا چاہئے۔ اگر کسی مرزائی میں ہمت ہو!
٨...... کاذب، کافر، بے دین اور خارج از اسلام
نبوت ورسالت کے متعلق مرزا قادیانی کے عقائد پہلے یہ تھے۔
الف...... ”بعد ختم المرسلین میں کسی دوسرے مدعی رسالت ونبوت کو کافر اور کاذب جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے وحی رسالت حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوئی اور جناب محمدﷺ پر ختم ہوگئی۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٠، اشتہار ٢؍ اکتوبر ١٨٩١ء مقام دہلی)
ب...... ”میں قائل ختم نبوت ہوں۔ اس کے منکر کو بے دین اور خارج از اسلام سمجھتا ہوں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٥٥، تقریر جامع مسجد دہلی ٢٣؍ اکتوبر ١٨٩١ء)
ج...... ”میرا ایمان ہے کہ ہمارے رسول حضرت محمدﷺ تمام رسولوں سے افضل اور خاتم الانبیاء ہیں۔ پھر مجھے کب جائز ہے کہ نبوت کا دعویٰ کر کے اسلام سے خارج ہو کر کافروں کی جماعت میں جاملوں۔“
(حمامۃ البشریٰ ترجمہ از ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧)
نبوت کے متعلق ایسے بیسیوں فقرے مرزا قادیانی کی تحریرات میں موجود ہیں۔ لیکن جب نبی بننے کا انہیں خیال آیا تو کئی طرح کے ایچ پیچ ڈال کر نبوت کی اقسام ظلی، بروزی، مجازی، حقیقی، غیر حقیقی، تشریعی، غیر تشریعی وغیرہ وغیرہ وضع کی گئیں اور بالآخر صاف لفظوں میں نبوت کا دعویٰ کر دیا۔ چنانچہ ملاحظہ ہو۔
الف...... ”اشتہار ایک غلطی کا ازالہ جس میں حضرت محمد مصطفیٰﷺ کے بروز اور ظل بن کر امتی نبی ہونے کا اظہار کیا گیا ہے۔“
(خزائن ج ١٨ ص ٣٨١)
ب...... (اخبار بدر ٥؍ مارچ ١٩٠٨ء، ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٧) میں لکھتے ہیں کہ ”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔ دراصل یہ نزاع لفظی ہے۔ خدا تعالیٰ جس کے ساتھ ایسا مکالمہ مخاطبہ کرے جو بلحاظ کمیت و کیفیت کے دوسروں سے بہت بڑھ کر ہو اور اس میں پیش گوئیاں بھی بکثرت ہوں اسے نبی کہتے ہیں اور یہ تعریف ہم پر صادق آتی ہے۔ پس ہم نبی ہیں۔“ آگے لکھتے ہیں:
”ہمارا مذہب تو یہ ہے کہ جس دین میں نبوت کا سلسلہ نہ ہو وہ مردہ ہے۔ یہودیوں، عیسائیوں اور ہندوؤں کے دین کو جو ہم مردہ کہتے ہیں تو اسی لئے کہ ان میں کوئی نبی نہیں ہوتا۔ اگر
١٨٠
اسلام کا بھی یہی حال ہوتا تو پھر ہم بھی قصہ گو ٹھہرے۔ کس لئے اس کو دوسرے دینوں سے بڑھ کر کہتے ہیں۔...... ہم پر کئی سالوں سے وحی نازل ہورہی ہے اور اللہ تعالیٰ کے کئی نشان اس کے صدق کی گواہی دے چکے ہیں۔ اسی لئے ہم نبی ہیں۔ امر حق کے پہنچانے میں کسی قسم کا اخفاء نہ رکھنا چاہئے۔
(حقیقت النبوۃ ص ٢٧٢)
ج ...... ٢٣ مئی ١٩٠٨ء کو ایک مکتوب بنام ایڈیٹر اخبار عام مرزا قادیانی نے لکھا جو ٢٦ مئی کے اخبار مذکور میں شائع ہوا۔ اس میں بھی بکثرت پیش گوئیاں کرنے کی بناء پر اپنا نبی ہونا ظاہر کیا ہے اور صاف صاف نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔
(حقیقت النبوۃ ص ٢٧٠)
اب پہلے تینوں حوالوں سے بعد کے تینوں حوالوں کا مقابلہ کیا جائے تو اور ہی رنگ نظر آتا ہے۔ پہلے نبوت کا صاف انکار تھا اور بعد میں صاف اقرار موجود ہے۔ پہلے وحی نبوت کو حضرت محمد ﷺ پر ختم شد مانتے تھے اور پچھلے حوالوں میں اپنے اوپر وحی کا نزول بیان کر کے خدا تعالیٰ کی گواہی بھی ثبت کر دی ہے۔
حدیث شریف لا نبی بعدی میں بھی مطلق نبوت کا ہی ذکر ہے اور مرزا قادیانی کے پہلے حوالوں میں بھی لفظ نبوت کا ہی انکار ہے۔ پس بعد میں نبی بننے کے لئے جو سوانگ اور بہروپ بنائے گئے ہیں قابل غور ہیں۔ لا محالہ یا تو مرزا قادیانی کے پہلے اقرار غلط ہیں یا آخری دعوٰی فضول۔ ہاں مرزا قادیانی حسب قول خود خطابات مندرجہ عنوان کے ہر طرح سے سزاوار ہیں۔
٩...... کاذب، شریر اور اصحاب فیل کی طرح نابود
ڈاکٹر عبدالحکیم خان اسسٹنٹ سرجن پٹیالہ مرزا قادیانی کے ایک بار با اخلاص مرید تھے۔ جو بیس سال تک مرزا قادیانی کے معتقد رہے۔ بعد میں مرزا قادیانی کی اصلیت کو معلوم کر کے انہوں نے رجوع الی الحق کر لیا تھا۔ مرزا قادیانی پہلے ان کے اخلاص کے مداح تھے۔ پھر ان کے سخت خلاف ہو گئے۔ ڈاکٹر صاحب نے تردید مرزائیت میں متعدد رسالے اور پمفلٹ لکھے۔ بالآخر دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف موت کی پیش گوئی کی۔ اس کے متعلق مرزا قادیانی کا اشتہار ہی ذیل میں نقل کیا جاتا ہے لکھتے ہیں کہ:
”خدا سچے کا حامی ہو، میاں عبدالحکیم خان اسسٹنٹ سرجن پٹیالہ نے میری نسبت یہ پیش گوئی کی ہے۔ مرزا مسرف ہے، کذاب اور عیار ہے۔ صادق کے سامنے شریر فنا ہو جائے گا اور
: ١٨١
اس کی میعاد تین سال بتائی گئی ۔ اس کے مقابل پر وہ پیش گوئی ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے میاں عبدالحکیم اسسٹنٹ سرجن پٹیالہ کی نسبت مجھے معلوم ہوئی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں۔ خدا کے مقبولوں میں قبولیت کے نمونے اور علامتیں ہوتی ہیں اور وہ سلامتی کے شہزادے ؎١ کہلاتے ہیں۔ ان پر کوئی غالب نہیں آسکتا ۔ فرشتوں کی کھنچی ہوئی تلوار تیرے آگے ہے۔ پر تو نے وقت کو نہ پہچانا ۔ نہ دیکھا نہ جانا ؎٢ رب فرق بین صادق وکاذب انت تری کل مصلح وصادق اے میرے رب تو صادق اور کاذب میں فرق کر کے دکھلا تو ہر مصلح اور صادق کو دیکھتا ہے۔“
(١٦؍ اگست ١٩٠٦ء مطابق ٢٤ جمادی الثانی ١٣٢٤ھ المشتہر مرزا قادیانی مسیح موعود قادیانی، مجموعہ اشتہارات ج٣
ص ٥٥٩، ٥٦٠)
اس کے بعد ڈاکٹر عبدالحکیم خان نے ایک اور الہام شائع کیا کہ جولائی ١٩٠٧ء سے چودہ ماہ تک مرزا قادیانی مرجائے گا۔ اس کے جواب میں مرزا قادیانی نے ایک اشتہار بعنوان تبصرہ ٥؍ نومبر ١٩٠٧ء کو لکھا جس میں درج کیا کہ:
” (خدا نے فرمایا) کہ میں تیری عمر کو بھی بڑھا دوں گا۔ یعنی دشمن جو کہتا ہے کہ صرف جولائی ١٩٠٧ء سے چودہ مہینہ تک تیری عمر کے دن رہ گئے ہیں۔ یا ایسا جو دوسرے دشمن پیش گوئی کرتے ہیں۔ ان سب کو میں جھوٹا کروں گا اور تیری عمر کو بڑھا دوں گا۔ تا معلوم ہو کہ میں خدا ہوں
؎١ ”خدا تعالیٰ کا یہ فقرہ کہ وہ سلامتی کے شہزادے کہلاتے ہیں۔ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے عبدالحکیم خان کے اس فقرہ کا رد ہے۔ جو مجھے کاذب اور شریر قرار دے کر کہتا ہے کہ صادق کے سامنے شریر فنا ہو جائے گا۔ گویا میں کاذب ہوں اور وہ صادق اور وہ مرد صالح ہے اور میں شریر، خدا تعالیٰ اس کے رد میں فرماتا ہے کہ جو خدا کے خاص لوگ ہیں وہ سلامتی کے شہزادے کہلاتے ہیں۔ ذلت کی موت اور ذلت کا عذاب ان کو نصیب نہ ہوگا۔ اگر ایسا ہو تو دنیا تباہ ہو جائے اور صادق وکاذب میں کوئی امر فارق نہ رہے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص ٥٥٩ حاشیہ)
؎٢ ”یعنی اے میرے خدا تو صادق اور کاذب میں فرق کر کے دکھلا۔ تو جانتا ہے کہ صادق اور مصلح کون ہے۔ اس فقرہ الہامیہ میں عبدالحکیم خان کے اس قول کا رد ہے جو وہ کہتا ہے کہ صادق کے سامنے شریر فنا ہو جائے گا۔ پس چونکہ اپنے تئیں صادق ٹھہراتا ہے۔ خدا فرماتا ہے کہ تو صادق نہیں ہے۔ میں صادق اور کاذب میں فرق کر کے دکھلاؤں گا۔“
(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص ٥٦٠ حاشیہ)
١٨٢
اور ہر ایک امر میرے اختیار میں شکست اور میری عزت اور دشمن غضب اور عقوبت کا وعدہ کیا ہے نصرت اور فتح تیرے شامل حال روبرو ع اصحاب الفیل کی طرح
اس کے بعد ڈاکٹر ع ١٩٠٨ء تک مرجائے گا۔ (دیکھو دونوں صاحبان کی ا مطابق مرزا قادیانی نے ٢٦ مئی وعدے فتح ونصرت، عزت واق صاحب کاذب اور شریر ثابت ہو
لکھا کذب
١٠....... مفسد ، کذاب ، مرزا قادیانی نے ١٥ ہے۔ ”مولوی ثناء اللہ کے ساتھ آ اس اشتہار میں مولو مرزائیت کا شکوہ و شکایت کر کے ”اگر میں ایسا ہی کذ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آہ
آگے چل کر لکھتے ہی
؎١ بدنام اگر ہوں گے ؎٢ مرزا کی صاحبان الفیل کی طرح نابود ہوا؟۔
اور ہر ایک امر میرے اختیار میں ہے۔ یہ عظیم الشان پیش گوئی ہے۔ جس میں میری فتح اور دشمن کی شکست اور میری عزت اور دشمن کی ذلت اور میرا اقبال اور دشمن کا ادبار بیان فرمایا ہے اور دشمن پر غضب اور عقوبت کا وعدہ کیا ہے۔ مگر میری نسبت لکھا ہے کہ دنیا میں تیرا نام ١ بلند کیا جائے گا اور نصرت اور فتح تیرے شامل حال ہوگی اور دشمن جو میری موت چاہتا ہے وہ خود میری آنکھوں کے روبرو ٢ اصحاب الفیل کی طرح نابود اور تباہ ہوگا۔
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٩١)
اس کے بعد ڈاکٹر صاحب نے ایک اور الہام شائع کیا کہ مرزا قادیانی چار اگست ١٩٠٨ء تک مر جائے گا۔
(دیکھو چشمہ معرفت ص ٣٢١، ٣٢٢ مصنفہ مرزا قادیانی، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٧)
دونوں صاحبان کی اس قلمی جنگ کا یہ نتیجہ ہوا کہ ڈاکٹر صاحب کی پیش گوئیوں کے مطابق مرزا قادیانی نے ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو مقام لاہور انتقال کیا اور ان کے الہام کنندہ کے سب وعدے فتح و نصرت، عزت و اقبال کے غلط نکلے اور مرزا قادیانی حسب قول خود بمقابلہ ڈاکٹر صاحب کاذب اور شریر ثابت ہوئے۔ کسی نے خوب کہا ہے:
کذب میں سچا تھا پہلے مر گیا
- ١٠...... مفسد، کذاب، مفتری اور خدا کی طرف سے نہیں
مرزا قادیانی نے ١٥؍اپریل ١٩٠٧ء کو ایک پیش گوئی بطریق دعاء شائع کی جس کا نام ہے۔ ”مولوی ثناء اللہ کے ساتھ آخری فیصلہ!“
اس اشتہار میں مولوی ثناء اللہ کو مخاطب کر کے اور ان کی تحریرات متعلق ابطال و تردید مرزائیت کا شکوہ و شکایت کر کے مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ:
”اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر ایک پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤں گا۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٧٨)
آگے چل کر لکھتے ہیں کہ:
١ بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا۔
٢ مرزائی صاحبان یا کرشن کے چیلے دھرم سے بتائیں کہ کون کس کے روبرو اصحاب الفیل کی طرح نابود ہوا؟۔
١٨٣
١٨٣
”پس اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے ہے جیسے طاعون، ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں آپ پر میری زندگی میں ہی وارد نہ ہوئیں۔ تو میں خدا کی طرف سے نہیں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٧٨)
اخیر میں لکھتے ہیں کہ ”(یا اللہ) اب میں تیرے ہی تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور جو تیری نگاہ میں درحقیقت مفسد اور کذاب ہے اس کو صادق کی زندگی میں ہی دنیا سے اٹھالے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٧٩)
مرزا قادیانی کی یہ دعا ان کے حق میں تو نہیں مگر ان کے خلاف قبول ہوگئی۔ کیونکہ اس کی قبولیت کا الہام ١؎ بھی مرزا قادیانی کو ہو چکا تھا اور مولوی ثناء اللہ کی زندگی میں مر کر اور ہیضہ سے مر کر انہوں نے نہ صرف اپنے ہی صدق و کذب کا بلکہ اپنے مشن کے بھی کاذب ہونے کا فیصلہ کر دیا اور حسب اقرار خود مفسد، کذاب اور مفتری ثابت ہوئے اور دنیا کو معلوم ہو گیا کہ وہ اللہ کی طرف سے نہیں تھے۔
مولوی ثناء اللہ صاحب کے لئے ہیضہ اور طاعون مانگتے تھے۔ مگر خود بدولت کو ہی ہیضہ نے آ دبوچا۔ کسی نے آپ کی تاریخ وفات لکھی ہے:
اس کے بیماروں کا ہو گا کیا علاج کالرہ سے خود مسیحا مر گیا
٥١٣٢٦ تلك عشرة كاملة!
ناظرین! اس فصل کے پڑھنے سے آپ کو معلوم ہو گیا ہو گا کہ مرزا قادیانی کا کیا انجام ہوا اور اپنی تحریر اپنی تقریر اپنے مسلمات اور اپنے منہ کے الفاظ سے وہ کیا کچھ ثابت ہوتے ہیں۔
١؎ مرزا قادیانی کے مرنے کے بعد ان کے مرید اس دعا کے الہامی ہونے سے منکر ہو گئے آخر مرزائیوں کی طرف سے مولوی قاسم علی قادیانی کا مولوی ثناء اللہ کے ساتھ اس دعا کے الہامی ہونے نہ ہونے کا مقام لدھیانہ مباحثہ ہوا اور بشرط کامیابی مرزائیوں نے تین سو روپیہ مولوی صاحب کو دینے کا وعدہ کیا۔ جس میں مرزائیوں کو شکست فاش اور مولوی صاحب کو فتح مبین حاصل ہوئی اور تین سو روپیہ مولوی صاحب نے لے لیا۔ جس سے مرزائیوں کو دین و دنیا دونوں طرح کا خسارہ ہوا۔ (دیکھو رسالہ فاتح قادیان مصنفہ مولوی ثناء اللہ امرتسریؒ شامل احتساب قادیانیت ج ٨)
١٨٤
ہم خود لکھتے ہیں یا اپنی طرف سے کچھ کہتے تو مرزائی صاحبان ضرور خفا ہوجاتے۔ لیکن یہاں جو کچھ لکھا گیا وہ خود مرزا قادیانی کا مقولہ و مسلمہ ہے۔ خود اپنے بیان سے زیادہ اور کوئی تحریر مانع تقریر مخالف نہیں ہو سکتی۔ ملزم یا مدعاعلیہ کے اقبال کا اثر ہمیشہ اس کے خلاف لیا جاتا ہے۔ "قضی الرجل علی نفسہ" "آدمی نے خود اپنے اوپر ڈگری کرلی۔ نیز مثل مشہور ہے۔ "یوخذ المرء باقراره" "آدمی اپنے اقرار سے پکڑا جاتا ہے۔ اس فصل میں مرزا قادیانی کے متعدد بیانات دکھلائے گئے ہیں۔ جن کے پورا نہ ہونے پر انہوں نے اپنا کافر، کاذب، بے دین، دجال، کذاب، مفسد، ذلیل، مفتری، شریر، پلید، خائن، ملعون، مردود، روسیاہ، شیطان، بدکار اور خارج از اسلام وغیرہ وغیرہ ہونا قبول کیا ہے اور چونکہ ان بیانات اور دعوؤں کا غلط ہونا ثابت کیا جاچکا ہے۔ اس لئے ہمارا بھی اس پر صاد ہے۔ ہر کہ شک آرد کافر گردد:
لو خود ہی اپنے دام میں صیاد پھنس گیا
خاتمہ
برادران اسلام! اس کتاب سے بفضلہ تعالیٰ روز روشن کی طرح ثابت ہوچکا ہے کہ مرزا قادیانی کاذب مدعیان نبوت میں سے تھے اور ان کے سب دعوے اور پیش گوئیاں محض دکانداری اور ابلہ فریبی کا ایک سلسلہ تھا۔ جس طرح اور جھوٹے مدعی پیدا ہوئے اور انہوں نے اپنے فرقے بنائے۔ یہی حال اس فرقہ مرزائیہ کا ہے اور جیسا کہ ان باطل فرقوں کا نام مٹ گیا ہے۔ اسی طرح سے یہ فرقہ بھی دیر سویر سنت الٰہی کے تحت اپنا وقت پورا کر کے دنیا سے رخصت ہوگا۔ عیسائیوں کی الوہیت کی طرح ایک فرقہ کے تین مرزائی فرقے تو بن چکے ہیں۔ اسی طرح کسی دن ان کا بھی نام ہی یادگار رہ جائے گا۔ دین حق کا نور نہ کسی کے بجھائے بجھ سکتا ہے۔ نہ باطل کا گرد و غبار اسے دبا سکتا ہے۔
"يريدون ليطفئوا نور الله بافواههم والله متم نوره ولو كره الكافرون" یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھادیں اور اللہ تو اپنے نور کو کامل طور پر پھیلا کر ہی رہے گا۔ خواہ کافروں کو برا ہی کیوں نہ لگے۔
والسلام علی من اتبع الہدی! خاکسار! محمد یعقوب خلف مولوی محمد علی مرحوم سنوری
١٨٥
تقریظ
عالی جناب عمدۃ الکاملین زبدۃ العارفین فخر المحدثین رأس الناظرین حضرت اقدس مولانا الحاج مولوی خلیل احمد صاحب مدظلہم العالی ناظم مدرسہ مظاہر العلوم سہارنپور الحمد لله وکفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفیٰ!
اما بعد! احقر الناس بندہ خلیل احمد عرض کرتا ہے کہ میں نے یہ رسالہ عشرہ کاملہ جس کو میرے عنایت فرما شیخ محمد یعقوب پٹیالوی نے تالیف کیا ہے۔ اوّل سے آخر تک سنا شیخ صاحب موصوف اگر چہ بہت بڑے عالم نہیں ہیں۔ لیکن انہوں نے یہ رسالہ ایسی قابلیت اور متانت کے ساتھ لکھا ہے کہ بہت سے علماء بھی اس سے قاصر ہیں۔ یہ رسالہ صاحب موصوف نے قادیانیوں کے عقائد باطلہ کی تردید میں لکھا ہے۔ مرزا غلام احمد آنجہانی کے دعوؤں اور عقیدوں کو خود ان کے کلام سے اور ان کی کتابوں سے رد کیا ہے۔ میری یہ دلی تمنا تھی کہ کوئی اللہ کا بندہ اس جدید مذہب کی تردید اس طریق پر کرے کہ جس طرح حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز صاحب نے تحفہ اثناء عشریہ میں روافض کے مذہب کی تردید فرمائی۔
اس رسالہ کے دیکھنے سے مجھ کو اس محدث مذہب کے ابطال میں اسی انداز کی خوشبو آتی ہے۔ جو حضرت شاہ صاحب نے اختیار فرمایا تھا کہ آج تک فرقہ اثناء عشریہ سے اس کا جواب نہیں بن پڑا۔ باوجود یہ کہ بڑے بڑے دفاتر لکھے۔ مگر پھر بھی ناقص و ناتمام ہی رہے۔ اس مبارک رسالہ کے متعلق بھی میرا یہ ہی خیال ہے کہ علمائے مذہب مرزائیہ اس کتاب کے جواب سے انشاء اللہ کبھی بھی عہدہ برآ نہیں ہو سکیں گے۔
میرا یہ بھی خیال ہے کہ اگر جماعت مرزائیہ نے اس رسالہ کو انصاف سے دیکھا اور نیز حق تعالیٰ کی توفیق نے بھی دستگیری فرمائی تو ان کے لئے یہ مبارک رسالہ انشاء اللہ تعالیٰ چراغ راہ ہدایت بلکہ رہنما ہو گا۔ میں دعا کرتا ہوں کہ حق تعالیٰ شانہ مؤلف موصوف کو اپنی خاص نعمتوں سے مالا مال فرمائیں اور ان کی دینی اور دنیوی امور میں برکات اور ترقیات عطا فرمائیں۔ آمین!
فقط ! (مولانا) خلیل احمد ناظم مدرسہ مظاہر العلوم سہارنپور ٢٧؍ذی الحجہ ١٣٤٢ھ
الحمد لله ثم الحمد لله یہ دعاء میرے لئے تیر بہدف ثابت ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے مجھے دینی و دنیوی نعمتیں عطا فرمائیں۔ اللہم زد فزد ! (مؤلف)
١٨٦
فہرست تفصیلی ...... عشرہ کاملہ
تحقیق لاثانی متعلق نکاح آسمانی مرزا قادیانی ٣٢٠
ایک ہزار روپیہ انعام ٣٣٠
انتساب ٣٣١
دیباچہ طبع ثانی ٣٣٢
پہلی فصل دس کاذب مدعیان نبوت والہام مہدویت ٣٣٩
دوسری فصل مرزا قادیانی کی روحانی و جسمانی ترقیوں کی دس منازل ٣٥٥
مرزا قادیانی کا حیض اور بچہ ٣٥٧
اللہ تعالیٰ کا نطفہ ٣٥٧
اللہ تعالیٰ سے ہم بستری اور زنا شوئی کے فعل کا وقوع (معاذ اللہ) ٣٥٧
استقرار حمل ٣٥٧
درد زہ ٣٥٧
مرزا کی دوستو ٣٥٨
خدائی کا دعویٰ ٣٥٨
خدا کے باپ ہونے کا دعویٰ ٣٥٨
تیسری فصل مرزا قادیانی کے دس غلط الہام ٣٥٩
مرزا قادیانی کا الہام ان کی عمر کے متعلق ٣٦٠
تازہ نشان، تازہ نشان کا دھکا ٣٦٤
میرا دشمن ہلاک ہو گیا ٣٦٦
ریاست کابل میں پچاسی ہزار آدمی مریں گے ٣٦٦
مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کے قادیان آنے کی بابت ٣٦٦
ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں ٣٦٦
١٨٧
چوتھی فصل دس خلاف کشوف والہام ٣٧٠ پانچویں فصل دس اختلاف بیانیاں ٣٧٩ دعوائے مجددیت ونبوت کا نفی اثبات ٣٨١ متعلق کفر و اسلام محمدیان ٣٨٢ ختم نبوت ٣٨٤ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کے متعلق ٣٨٥ سکھوں کے گورو بابا نانک کا چولہ ٣٨٦ نزول حضرت مسیح علیہ السلام ٣٨٨ ڈاکٹر عبدالحکیم خان ٣٨٩ حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق ٣٨٩ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا معجزہ ٣٩٠ دسویں فصل دجال کے متعلق مرزا قادیانی کی تحقیقات ٣٩١ چھٹی فصل دس افتراء ٣٩٢ ساتویں فصل دس جھوٹ اور دھوکے ٤٠٧ آٹھویں فصل مرزا قادیانی کی دس مردود دعائیں اور ان کا خود تجویز کردہ کفر ٤٢٠ نویں فصل مرزا قادیانی کے معتقدات ایمانیہ اور ان کی تعلیم اور اخلاق کے دس نمونے ٤٣١ توحید و ذات باری کے متعلق مشرکانہ اقوال ٤٣١ نبوت کا دعویٰ ٤٣٢ ملائکہ کے وجود سے انکار ٤٣٨ قرآن وحدیث پر مرزا قادیانی کا ایمان ٤٤٣ حضرت عیسیٰ اور ان کے معجزات کے متعلق مرزا قادیانی کے یہودیانہ خیالات ٤٤٧ قول مرزا قادیانی ٤٥٣ تردید بروئے قرآن شریف ٤٥٣ چند اور تحریرات ٤٥٤
١٨٨
تصویر کا دوسرا رخ ٤٥٥ مرزا قادیانی کی اخلاقی حالت ٤٥٨ مرزا قادیانی اپنے منہ میاں مٹھو ٤٥٩ پادریوں کی نسبت ٤٦٤ مولوی عبدالحق غزنوی کی نسبت ٤٦٤ صوفیائے کرام کی نسبت ٤٦٤ مولوی سعداللہ لدھیانوی کی نسبت ٤٦٥ ایفائے عہد اور حصول زر ٤٦٨ مرزا قادیانی کا توکل علی اللہ تزکیہ باطن اور نفس کشی ٤٧٣ مرزا قادیانی اور تصوف ٤٧٨ سید الطائفہ حضرت جنیدؒ ٤٧٩ بہشتی مقبرہ ٤٨٣ دسویں فصل دس اقبالی ڈگریاں ٤٨٤ ذلیل، روسیاہ، پھانسی کے قابل ٤٨٦ ہر ایک سے بدتر اور کاذب ٤٩١ نادان، بدگوہر، احمق، بے وقوف، نکمے ٤٩١ نامراد، ذلیل، مردود، ملعون، دجال، ہمیشہ کی لعنتوں کا نشانہ ٤٩٢ جھوٹا، کاذب، دجال، مفتری اور ذلیل ٤٩٣ شریر، پلید، مردود، ملعون، کافر، بے دین، کذاب، خائن، دجال، فاسد ٤٩٥ جھوٹا اور جھوٹے دعوے ٤٩٧ کاذب، کافر، بے دین اور خارج از اسلام ٤٩٨ کاذب، شریر اور اصحاب فیل کی طرح نابود ٤٩٩ مفسد، کذاب، مفتری اور خدا کی طرف سے نہیں ٥٠١ خاتمہ ٥٠٣ تقریظ ٥٠٤
( ١٨٩ )
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
بارقہ ضیغمیہ
یعنی مختصر تبصرہ بر تصنیف قادیانی
الموسومہ بہ تفہیمات ربانیہ
علامہ نصیری بی۔اے۔ فاضل بھیروی
بسم الله الرحمن الرحیم!
جو چیرا تو اک قطرۂ خون نکلا
الحمدلله نحمده ونصلى على رسوله الكريم .
واهل بيت الطيبين الطاهرين واصحابه المكرمين ، اما بعد!
ایک کتاب لاجواب ”عشرۂ کاملہ فی ابطال الفتنة المرزائية والنبوة الباطلة“ مصنفہ جناب شیخ محمد یعقوب صاحب خلف جناب مولانا مولوی محمد علی صاحب مرحوم سنوری پٹیالوی عرصہ سے قادیانی تحریک کے متعلق ہندوستان کے طول و عرض میں خاص اثر پیدا کر چکی ہے۔ جس کا مطالعہ کسی سنجیدہ انسان کو طلسم کدہ قادیان کے متعلق غلط فہمی کا کبھی شکار نہیں ہونے دیتا اور جس کے دلائل و براہین نے قصر قادیانیت میں زلزلہ ڈال دیا ہے۔ مصنف کتاب نے نہایت متانت و سنجیدگی سے اس تحریک کے ہر پہلو پر روشنی ڈالی ہے اور ثابت کر دیا ہے کہ قادیانی تعلیم کوئی مذہبی تحریک نہیں۔ بلکہ محض ایک لمیٹڈ کمپنی کا کاروبار ہے۔ کتاب کی خوبی اسی سے واضح ہے کہ قادیانی مرکز میں چھ سال سے بڑے بڑے ریٹائرڈ حضرات اس کے جواب کے لئے سرتوڑ کوشش کرتے رہے ہیں۔ لیکن سوائے حسرت ندامت کچھ ہاتھ نہ آیا۔ اخیر ایک صاحب ١؎ نے داستان امیر حمزہ کی شان کی ایک کتاب حال میں شائع کر کے دنیا کو دھوکا دینے کی کوشش کی ہے کہ عشرۂ کاملہ کا جواب بھی ممکن ہے۔
یہ کتاب کیا ہے۔ ہر قسم کے مرزائی رطب و یابس کا مجموعہ ہے اور ایک قسم کی قادیانی تبلیغ ہے۔ جس کو ”جواب کتاب عشرۂ کاملہ“ کہنا کھلی حماقت ہے۔ چونکہ یہ ممکن ہے کہ بعض ناخواندہ دوست اس غلط فہمی کا شکار ہو جائیں کہ قادیانی حضرات نے اپنا قرضہ بے باق کر دیا ہے۔ اس لئے میں نے اخلاقی فرض سمجھا کہ ایک مختصر تبصرہ میں اس قادیانی ایجنٹ کے دلائل کی
١؎ جو مرزائی مشن کے تنخواہ دار ملازم ہیں۔ جو بقول خود اپنی زندگی قادیانیت کے لئے وقف کر چکے ہیں اور صرف ٢٣ روپے ماہوار گزارہ لیتے ہیں۔ (ملاحظہ ہو آپ کا بیان بحلفہ در اخبار الفضل قادیان مورخہ مبلغہ گویا آپ قادیانی کمپنی کے پیڈ ایجنٹ ہیں۔)
٢
حقیقت بیان کروں تا کہ حق و باطل میں تمیز ہو سکے اور دنیا کو معلوم ہو جائے کہ قادیانیت میں یا تو قحط الرجال ہے اور ان میں کوئی بھی ایسا آدمی نہیں جو مسلمانوں کی کسی کتاب کا معقول جواب لکھ سکے۔ یا یہ کہ اہل فن موجود تو ہیں لیکن مسلمانوں کی باطل شکن، جہالت سوز اور علم اندوز کتابوں کو دیکھ کر انہیں جواب دینے کی جرات نہیں ہوتی اور وہ نہیں چاہتے کہ مستحکم براہین کے مقابل میں پھیکی باتوں اور پھس پھسی دلیلوں سے اہل علم کے سامنے اپنی تضحیک کرائیں۔ چونکہ مصنف عشرۂ کاملہ کے لئے ایسی جاہلانہ تحریروں کا جواب لکھنا تضیع اوقات ہے۔ اس لئے میں نے چند مقامات سے بعض چیدہ مسائل پر تبصرہ کرنا ہی کافی سمجھا تاکہ قادیانی دلائل کی قلعی کھل جائے۔ اگر اس تحریر کا جواب قادیانی کمپنی نے کسی سنجیدہ ١؎ ذمہ دار کارکن سے دلایا۔ تو پھر انشاء اللہ مکمل طور پر جواب الجواب لکھا جائے گا۔ فی الحال اس قادیانی سانپ کی کچلیاں نکالنے کے لئے یہی کافی ہے۔ اس مضمون میں عشرہ کاملہ کے لئے ’ع‘ اور تفہیمات ربانیہ کے لئے ’ت‘ کی علامتیں ہوں گی۔ اور پھر تبصرہ ہوگا۔ اس کو یاد رکھئے تاکہ مفہوم سمجھنے میں آسانی ہو۔
١...... نبی قادیان اور قادیانیوں کی تہذیب و شائستگی
”مؤلف عشرۂ کاملہ نے اپنی کتاب کے دیباچہ میں لکھا تھا کہ اس کتاب میں ناظرین بعض جگہ ایسے الفاظ بھی دیکھیں گے۔ جو سنجیدگی اور متانت کی رو سے قابل اعتراض اور غیر مانوس معلوم ہوتے ہیں۔ لیکن اس کے متعلق صرف اتنا عرض کیا جاتا ہے کہ ایسے الفاظ کا استعمال الزامی طور پر مرزا قادیانی کی ہی تصانیف و تقاریر سے کیا گیا ہے اور اپنی طرف سے کسی جگہ زیادتی و سبقت نہیں کی گئی ۔“
(ع ص ١٥)
(ت ص ٤،٣) مؤلف تفہیمات کی دیانتداری ملاحظہ ہو کہ عشرۂ کاملہ کی سنجیدگی، متانت اور شائستگی پر حملہ کرنے کے لئے اس عبارت میں سے محض عبارت خط کشیدہ نقل کر کے مؤلف عشرہ کاملہ کو مطعون کرتا ہے اور اس کو لاکھوں انسانوں (نہیں معلوم یہ لکھوکھا انسان کہاں آباد ہیں) مرزائیوں کے پیشوا، جان، مال اور عزت سے بدرجہا محبوب پیشوا (مرزا قادیانی) پر حملہ اور اسے ناواجب اور سوقیانہ قرار دے کر لاکھوں بندگان خدا (مرزائیوں) (کیا مرزائی کمپنی اپنی مقدار ایک
١؎ گو سنجیدگی اور قادیانی دو متضاد چیزیں ہیں۔
٣
لاکھ بھی ثابت کر سکتی ہے) کے دل دکھانے والا بیان کرتا ہے۔ اور خود مدعی ہے کہ میں نے ہر ممکن طریق سے تفہیمات میں تہذیب کو مدنظر رکھا ہے۔ کیونکہ صداقت اور نیکی درشت کلامی کی محتاج نہیں۔ اس کے ساتھ مرزا قادیانی کے اس شعر کو بطور نصیحت پیش نظر رکھنا ظاہر کرتا ہے۔
کبر کی عادت جو دیکھو تم دکھاؤ انکسار
(ب م ٢،٣)
نصیری: لیکن حقیقت یہ ہے کہ گرو (مرزا قادیانی) تو بد زبانی میں یکتائے روزگار تھے ہی، چیلہ (مؤلف تفہیمات قادیانی) بھی ان سے کم نہیں رہے۔ کوئی اخلاقی گالی نہیں جو مؤلف عشرہ کاملہ کے حق میں استعمال نہ کی گئی ہو۔ مثلاً دشمن، گندہ دہن، مکذب، نادان، مفتری، مفسد، جاہل، بے علم، کندہ ناتراش وغیرہ وغیرہ۔
مرزا قادیانی کی نثر و نظم گالیوں کی تفصیل عشرہ کاملہ میں دی گئی ہے۔ لیکن مرزا قادیانی کی شان میں ان مغلظات کی تعداد اور کیفیت کے لحاظ سے ١٠٠/١ حصہ کے الفاظ بھی استعمال نہیں ہوئے۔ عشرہ کاملہ اور تحقیق لاثانی ملاحظہ ہوں۔
مؤلف تفہیمات صاحب عشرہ کاملہ کے اس دعویٰ کو رد نہیں کر سکا کہ گالیوں کی ابتداء مرزا قادیانی سے ہی ہوا کرتی تھی۔ بلکہ انجام آتھم ص ٢٤٥، خزائن ج ١١ ص ایضاً اور ازالہ اوہام ص ٢٩، خزائن ج ٣ ص ١١٧ سے خود مرزا قادیانی کے اقرار گالیوں میں پہل دستی کرنے کے متعلق عشرہ کاملہ میں درج ہیں اور اس پر مرزا قادیانی کو ’انک لعلی خلق عظیم!‘ کا بھی دعویٰ ہے۔“ دیکھو ضرورۃ الامام ص ٨، خزائن ج ١٣ ص ٤٧٨ (ع ص ١٢٤)۔ ہم اس جگہ مرزا قادیانی کی تہذیب و شائستگی کے چند اور نمونے درج کرتے ہیں۔ اور تمام قادیانی ایجنٹوں سے دریافت کرتے ہیں کہ کیا اس بکواس سے دنیا بھر کے ٤٥ کروڑ مسلمانوں اور ان کے پیشواؤں کی ہتک
١؎ یہ طریقہ ایک سال سے ایجاد ہوا۔ جس بات کا جواب نہ بنے اس کے متعلق کہہ دیا جاتا ہے کہ یہ بات لاکھوں انسانوں کے دل دکھانے کا موجب ہے۔ مطلب یہ کہ حکومت زبان بندی کرے ورنہ مرزائی منافقانہ وفاداری بھی چھوڑ دیں گے۔ اراکین انجمن مباہلہ پر قادیانی مظالم اور واقعہ قتل محتاج بیان نہیں۔ مگر درحقیقت یہ طریق ان کی بے بسی ظاہر کرنے کے لئے کافی ہے۔
٤
تضحیک کر کے ان کا دل نہیں دکھایا گیا اور کیا بزرگان اسلام اور علمائے کرام وصلحائے عظام ہر ایک مسلمان کی آنکھ کا تارا نہیں ہیں؟ ۔ جن پر مرزا قادیانی کے دہن مبارک سے نجاست اور مغلظات کے گولے پھینکے گئے ہیں۔
- ١...... ”کل مسلم یقبلنی ویصدق دعوتی الا ذریۃ البغایا“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٤٧، ٥٤٨، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
یعنی سب مسلمانوں نے مجھے مان لیا مگر بدکار (زانیہ) عورتوں کی اولاد نے نہیں مانا۔
- ٢...... (پیش گوئی آتھم کے متعلق) ”جو شخص ہماری فتح کا قائل نہ ہوگا۔ تو صاف
سمجھا جائے گا کہ اسے والد الحرام بننے کا شوق ہے۔ اور حلال زادہ نہیں۔...... حرامزادہ کی یہی نشانی ہے کہ سیدھی راہ اختیار نہ کرے۔“
(انوار الاسلام ص ٣٠، خزائن ج ٩ ص ٣١، ٣٢)
- ٣...... ”ان العدا صاروا خنازير الفلا ونسائهم من دونهن الا
کلب“
(نجم الہدیٰ ص ١٠، خزائن ج ١٤ ص ٥٣)
یعنی ہمارے مخالف جنگلی سور بن گئے ہیں اور ان کی عورتیں کتیوں سے بدتر ہیں۔
- ٤...... اذيتنى خبثاً فلست بصادق
(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٥، خزائن ج ٢٢ ص ٤٣٦)
یعنی تو نے مجھے تکلیف دی ہے۔ اے زانیہ کے بیٹے (حرامزادے) اگر تو ذلت سے نہ مرا تو میں جھوٹا ہوں۔
اپنے دعویٰ کے نہ ماننے والوں کو مرزا قادیانی نے حرامزادے، زانیہ عورتوں کی اولاد، جنگلی سور اور عورتوں کو کتیاں بتلایا ہے۔ اب ہر شخص جس کے دماغ میں ایک ماشہ بھر بھی عقل ہے جانتا ہے کہ ولد الحلال یا ولد الحرام ہونا تعلقات زوجیت کے جواز و عدم جواز پر منحصر ہے۔ اگر کسی کی پیدائش جائز تزوج و مناکحت کی رو سے ہو تو وہ ولد الحلال ہے۔ ورنہ حرامزادہ کہلائے گا۔ پس کیا فرماتے ہیں۔ حضرت مرزا قادیانی کے حواریان خصوصاً جناب خلیفہ قادیانی مع اس مسئلہ کے کہ خلیفہ کے بھائی مرزا فضل احمد اور مرزا سلطان احمد اور ماموں ناصر نواب وغیرہم مرزا قادیانی کی اس فلاسفی کی رو سے کتنا عرصہ ...... زادہ رہے اور کب سے ...... زادہ ہیں اور ایسا ہی
٥
ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب مرحوم پٹیالوی ، صوفی عباس علی مرحوم لدھیانوی اور دیگر ایسے اصحاب جو پہلے مرزائی پھندے میں پھنس گئے تھے اور پھر اپنی خوش نصیبی سے اس بلا سے رہا ہو گئے کس خطاب کے مستحق ہیں؟۔بینوا و توجروا!
نیز ایک فتویٰ اور مطلوب ہے۔ انہی صاحبان سے کہ فرمایا ہے مرزا قادیانی نے کہ:
جس دل میں یہ نجاست بیت الخلاء یہی ہے
(قادیان کے آریہ اور ہم ص ٦١ ، خزائن ج ٢٠ ص ٤٥٨)
ذرا ایمان سے بتانا کہ بیت الخلاء کون ہوا اور بد سے بدتر کون؟۔
٢...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کے متعلق
الف...... (ع ص ٥٧) ”اس بات کو عقل قبول کرتی ہے کہ انہوں (حواریوں) نے فقط ندامت کا کلنک اپنے منہ سے اتارنے کی غرض سے ضرور یہ حیلہ بازی کی ہوگی کہ رات کے وقت جیسا کہ ان پر الزام لگا تھا۔ یسوع کی نعش کو اس کی قبر میں سے نکال کر کسی دوسری قبر میں رکھ دیا ہوگا اور پھر حسب مثل مشہور کہ خواجہ کا گواہ ڈڈو کہہ دیا ہوگا کہ لو جیسا کہ تم درخواست کرتے تھے۔ یسوع زندہ ہو گیا۔“
(ست بچن ص ١٦٢، خزائن ج ١٠ص ٢٨٦)
بقول مرزا قادیانی یہ قبر یروشلم میں ہے۔ جہاں حضرت یسوع مسیح کو صلیب دی گئی۔
ب...... ” یہ تو سچ ہے کہ مسیح اپنے وطن گلیل میں جا کر فوت ہو گیا۔ لیکن یہ ہرگز سچ نہیں کہ وہی جسم جو دفن ہو چکا تھا۔ پھر زندہ ہو گیا۔“
(ازالۃ اوہام ص ٤٧٣، خزائن ج ٣ ص ٣٥٣)
ج...... ”ہاں بلاد شام میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کی پرستش ہوتی ہے اور مقررہ تاریخوں پر ہزار ہا عیسائی سال بسال اس قبر پر جمع ہوتے ہیں۔“
(ست بچن حاشیہ ص ١٦٤، خزائن ج ١٠ ص ٣٠٩ حاشیہ )
د...... ”اور حضرت مسیح اپنے ملک سے نکل گئے اور جیسا کہ بیان کیا گیا ہے کشمیر میں جا کر وفات پائی اور اب تک کشمیر میں ان کی قبر موجود ہے۔“
(ست بچن ص ز، خزائن ج ١٠ ص ٣٠٧ حاشیہ )
٦
اب ناظرین! ہر چہار اقوال پر غور کر کے خود ہی نتیجہ نکال لیں کہ مرزا قادیانی کی کون سی بات کو سچ مانا جائے۔ پہلے مسیح کی قبر یروشلم میں بتاتے ہیں۔ پھر ان کے وطن گلیل میں۔ پھر بلاد شام میں اور پھر ان تینوں مقامات کو چھوڑ کر سری نگر کشمیر میں۔ کیا حضرت عیسیٰ ؑ چار جگہ مرے؟۔ اور چار مقامات پر مدفون ہوئے۔ یہ مختلف باتیں الہامی دماغ سے منسوب ہو سکتی ہیں؟۔ یا ان کو خلل دماغ کہا جائے۔ (ختم شد عبارت عشرہ)
(ت ص ٢٢٦) یہ ایک کھلی جہالت ہے کہ صاحب عشرہ نے مختلف مقامات سمجھ لئے ہیں۔ حالانکہ یروشلم اس شہر کا نام ہے۔ گلیل اس شہر کے علاقہ یا صوبہ کا نام ہے اور شام اس تمام ملک کا نام ہے۔ تینوں لفظ ایک وقت میں درست ہیں۔ جیسا کہ قادیان، پنجاب، ہندوستان۔ ان میں کوئی اختلاف نہیں۔..... الخ!
نصیری: علم جغرافیہ سے قادیانی مصنف نے یہ سمجھا کہ جس طرح بمقابلہ پادری عبد اللہ آتھم مرزا غلام احمد نے علاقہ منجمد شمالی وجنوبی کے متعلق مسئلہ صوم پر اپنی جغرافیہ دانی ١؎ کا مضحکہ خیز ثبوت دیا تھا اور اس کے حواریوں نے دفع الوقتی کے طور پر قادیانی کرشن کے جواب کو صحیح سمجھ لیا تھا۔ (جنگ مقدس) اسی طرح عشرہ کاملہ کے جواب میں اس جہالت کے مظاہرہ پر عام مسلمان اور خصوصاً قادیانی بوجہ عدم واقفیت جغرافیہ لبیک کہہ دیں گے۔ لیکن مرزائیت کے اس ایجنٹ کو معلوم ہونا چاہئے کہ سرزمین ہند پر صرف قادیانی خوش اعتقاد مرید ہی نہیں رہتے ہیں۔ بلکہ وہ حضرات بھی موجود ہیں جو ایک ایک سطر کا جائزہ لے کر سائنس، فلسفہ و جغرافیہ کی روشنی میں فیصلہ کریں گے۔ جب آپ کو اس قدر بھی علم نہیں تھا کہ بیت المقدس، گلیل اور شام کے متعلق صحیح معلومات بیان کر سکیں تو کیوں عشرہ کاملہ کے جواب میں قلم اٹھا کر رسوا ہوئے۔ دیکھو نقشے ارض مقدس کے جو سر ولیم اور ریورنڈ وائٹ ڈی۔ ڈی نے برٹش فارن بائبل سوسائٹی کے لئے تیار کئے ہیں اور جو اکثر بائبل کے ساتھ منسلک ہوتے ہیں۔ ان میں حضرت عیسیٰ ؑ کے وقت کا بھی نقشہ دکھایا گیا ہے اور ہر ملک وصوبہ کے حدود واضح کئے گئے ہیں۔
١؎ ایسا ہی مرزا قادیانی نے ”قادیان ضلع گورداسپور پنجاب میں ہے۔ جو لاہور سے گوشہ جنوب غرب میں ہونا بتلایا ہے۔“ (دیکھو اشتہار چندہ منارۃ المسیح ، خطبہ الہامیہ ص ٢٢، ٢٣، خزائن ج١٦ ص ایضاً) حالانکہ وہ شمال مشرق میں ہے۔
٧
حضرات! ملک کنعان یا فلسطین ایک صوبہ ہے اور اس کے ساتھ شام بھی باقاعدہ علیحدہ صوبہ ہے۔ جیسا کہ پنجاب کے ساتھ بلوچستان سمجھ لیجئے۔ یہ تو ٹھیک ہے کہ یہ صوبے ہندوستان کے ہیں۔ لیکن ان کے باقاعدہ باضابطہ حدود موجود ہیں۔ اسی طرح بیت المقدس کو ملک کنعان میں ایک علاقہ سمجھ لیجئے۔ جس کا دارالخلافہ بھی بیت المقدس ہے اور بیت اللحم مقام پیدائش مسیح اسی علاقہ کا مشہور شہر ہے۔ اس علاقہ کے شمال میں صاف اور واضح حدود کا علاقہ سامریا ہے۔ جہاں حضرت یعقوب کا کنواں مشہور ہے اور اس کے شمال میں گلیل کا علاقہ جداگانہ حدود کے ساتھ ہے۔ جس کا مشہور شہر ناصرہ ہے۔ جو حضرت مسیح ؑ کا حقیقی وطن ہے اور اکثر حضرت مسیح ؑ کو ناصری اسی لئے لکھا جاتا ہے اور ملک شام کا دارالخلافہ دمشق ہے۔ جس کا مشہور مقام بیروت بھی ہے اور یہ شام کا علاقہ وہی ہے جہاں بنی امیہ کی حکومت تھی۔ آج کل کنعان کا ملک سرکار برطانیہ کو جمعیت اقوام کی طرف سے سپرد ہے اور شام فرانسیسیوں کو اور دیوار گریہ کا جھگڑا ملک کنعان کے مشہور مقام یروشلم ( بیت المقدس ) کا ہے۔ یہ ہے مختصر خاکہ اس ملک کا۔ اب فیصلہ کیجئے کہ قادیان والی مثال کب صادق آ سکتی ہے؟۔ کیونکہ قادیان پنجاب میں ہے اور پنجاب ہندوستان کا مشہور صوبہ ہے۔ اگر بقول مرزا غلام احمد قادیانی مسیح کی قبر یروشلم میں ہے تو گلیل میں کس طرح ممکن ہے؟۔ جو سامریا کے شمال میں ایک مستقل صوبہ ہے اور قادیانی ایجنٹ کی منطق یہاں کس طرح کام دے سکتی ہے؟۔ بقول قادیانی ایجنٹ تو یہ ثابت ہوا کہ اگر کوئی کہے کہ فلاں ولی کی قبر بمبئی میں ہے اور پھر یہ بھی کہے کہ ولی موصوف اپنے وطن پنجاب میں جاکر فوت ہو گئے اور پھر یہ بھی کہے کہ ان کی قبر کی پرستش ملک برما میں ہوتی ہے اور یہ بھی کہہ دے کہ ولی صاحب نے چین میں جاکر وفات پائی اور پیکین میں مدفون ہیں۔ تو قادیانی منطق کی رو سے کہہ سکتے ہیں کہ یہ کوئی اختلاف اقوال نہیں۔ کیونکہ بمبئی اس شہر کا نام ہے اور پنجاب اس شہر کے علاقہ یا صوبہ کا نام ہے اور ہندوستان تمام ملک کا نام ہے۔ جس میں برما بھی شامل ہے اور چین ایشیاء میں ہے۔ جس میں ہندوستان بھی شامل ہے۔ اس لئے یہ تمام الفاظ ایک وقت میں درست ہیں۔ شرم! شرم!!
قادیانی ایجنٹ صاحب! اگر مسیح بیت المقدس میں مدفون ہیں تو گلیل والی گپ کیسی؟۔ اور اگر گلیل کا قصہ صحیح ہے تو ملک شام کا افسانہ کیسا؟۔ اور اگر شام میں ہیں تو کشمیر سری نگر کی اٹکل کیسی؟۔ اور یہ ایسی واضح باتیں ہیں کہ جماعت ہشتم کا طالب علم بھی سمجھ سکتا ہے۔ لیکن نہ سمجھے ہیں اور نہ سمجھیں گے۔ تو یہ قادیانی دوست، لطف کی بات تو یہ ہے کہ انجیل کی اندرونی شہادت ہی کافی ٨
ہے کہ یروشلم گلیل سے علیحدہ صوبہ ہے۔ کیونکہ پیلاطس یہی کہتا تھا کہ مسیح ؑ کا مقدمہ گلیل میں بھیجا جائے کیونکہ مسیح ؑ گلیلی ہے اور ہیروڈیس اتفاقاً اس دن بیت المقدس میں تھا۔
حضرات! حقیقت یہ ہے کہ مرزا قادیانی کو یہ دکھلانا تھا کہ حضرت عیسیٰ ؑ فوت ہو گئے تاکہ خود مثیل بن سکیں ۔ پس ڈوبتے کو تنکے کا سہارا جس جگہ کوئی صورت ظاہری دیکھی اسی مقام کو مدفن قرار دے دیا۔ حالانکہ کون نہیں جانتا کہ بعض دفعہ ایک بزرگ کے متعلق مختلف مقامات پر قبر پرستی کے شوقین عوام قبریں بنا کر پرستش شروع کر دیتے ہیں اور لاکھوں کا مجمع سالانہ میلہ کی صورت میں ہو جاتا ہے۔ لیکن سنجیدہ طبقہ ہمیشہ متواترات کو دیکھتا ہے۔ مثلاً دیکھو اسلام دنیا کے ہیرو امیر المومنین علی کرم اللہ وجہہ کا روضہ مبارک نجف اشرف میں مشہور و معروف زیارت ہے۔ لیکن مزار شریف (افغانستان) اور دیگر مقامات پر بھی (روضے) موجود ہیں اور اکثر قصوں اور افسانوں کی بناء پر جہلاء ہر مقام پر لاکھوں روپے چڑھاوا نذر و نیاز کی صورت میں پیش کرتے ہیں۔ ایسا ہی حضرت قلندر صاحب اور حضرت مسعود سالار غازی وغیرہ بزرگان کے مزار کئی کئی جگہ واقع ہیں۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ ؑ کا واقعہ ہے کہ دراصل آپ کی قبر کہیں بھی نہیں ہے۔ کیونکہ آپ فوت نہیں ہوئے۔ لیکن مرزا قادیانی ہیں کہ کبھی روسی ناول کی بنا پر محلہ خان یار (سری نگر کشمیر) میں مدفن کی تلاش ہے اور کبھی ملک شام کی طرف اشارہ کر دیا جاتا ہے۔ اتنی سمجھ نہیں کہ جب عہد نامہ قدیم و جدید ، قرآن مجید اور تاریخ اور آثار قدیمہ سے کہیں بھی حضرت عیسیٰ ؑ کی قبر کا کوئی اشارہ تک موجود نہیں۔ تو شیخ چلی کے افسانوں یا غیر معروف ناولسٹ کے تخیلات کی بناء پر ایسے اہم مسئلہ کا فیصلہ سنجیدہ طبقہ کے نزدیک کب قبول ہو سکتا ہے؟ سکندر اعظم نے جب قبل مسیح ؑ ہندوستان پر حملہ کیا تو اس کے سفر کے حالات ہم آج بھی بخوبی مطالعہ کر سکتے ہیں اور باقاعدہ وہ راستہ نقشہ پر دکھایا جا سکتا ہے۔ جو اس یونانی جرنیل و بادشاہ کی افواج نے اختیار کیا اور بابل نینوا کے آثار قدیمہ بھی شہادت دیتے ہیں کہ یونانیوں کا حملہ ایک تاریخی صداقت ہے اور ہندوستان میں بھی یونانی تہذیب اور اس حملہ کے اثرات اب تک آثار قدیمہ سے ایک مسلمہ صداقت ثابت کئے جا چکے ہیں ١؎۔
١؎ سکھوں کے گرو صاحبان اثنائے سفر میں جہاں جہاں ٹھہرے ہیں وہی گوردوارے بن گئے ہیں۔ لیکن حضرت مسیح ؑ کا کنعان سے کشمیر تک راستہ میں کوئی نشان نہیں ملتا۔
٩
لیکن قیامت یہ ہے کہ ایک عظیم الشان نبی ملک کنعان سے بقول قادیانی کرشن صلیب سے زندہ بچ کر کشمیر کی طرف رخ کرتا ہے اور کوئی راستہ تجویز نہیں کیا جاتا جو اس نبی نے اختیار کیا ہو اور یہ نہیں بتلایا جاتا کہ آخر اتنا دور دراز کا سفر اس زمانہ میں جب کہ نہ کوئی ریل تھی نہ ہوائی جہاز اور نہ ہی باقاعدہ پختہ سڑکیں۔ تو یہ ارض مقدس کا مسیح کس طرح سری نگر پہنچ گیا۔ راستہ میں کیا کیا واقعات پیش آئے؟۔ کس کس جگہ قیام کیا؟۔ اتنے لمبے سفر میں کسی قوم یا قبیلہ سے بھی ملاقات ہوئی یا نہیں؟۔ کوئی حواری بھی ساتھ تھا یا نہیں؟۔ اور کس ملک کی کس تاریخ کے کس صفحہ پر اس غیر معمولی نبی کے غیر معمولی سفر کا حال لکھا ہوا موجود ہے؟۔ اور خاص کر تاریخ کشمیر میں ایسا تذکرہ کہاں لکھا ہے کہ مغرب کا کوئی بزرگ ہجرت کر کے سری نگر پہنچا اور اس وقت کی حکومت نے اس کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ نیاز مند نے کئی دفعہ ریاست کشمیر کا دورہ سیر و سیاحت کے لئے کیا ہے اور ہر مشہور و غیر معروف مقام کو بھی دیکھا ہے۔ اس علاقہ میں شاہ ہمدان کا روضہ خاص سری نگر میں دریا جہلم کے کنارے اپنی خاص شان سے موجود ہے۔ جہاں لاکھوں انسان سالانہ عرس پر جمع ہوتے ہیں اور حضرت بل کا اجتماع تو اپنی مثال آپ ہے کہ صرف حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے بال مبارک کی زیارت کے لئے لاکھوں انسان اپنی عقیدت کا اظہار غیر معمولی طریقہ سے کرتے ہیں کہ پتھر دل بھی اس وقت اثر لئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ بلبل شاہ کا تذکرہ ہر کہ و مہ کی زبان پر ہے اور کوئی مقام ایسا کشمیر میں نہیں جہاں کسی بزرگ کا مزار ہو اور کشمیری حضرات غیر معمولی طریقہ سے اپنے عقیدت کا اظہار نہ کریں۔ کیونکہ کشمیریوں کی خوش اعتقادی بطور ضرب المثل مشہور ہے۔ محلہ خان یار کی طرف جو سڑک شاہی مسجد کو جاتی ہے۔ اس سڑک پر پیر عبدالقادر جیلانی کا روضہ ہے جس کی جاگیر لاکھوں روپے کی ریاست سے مقرر ہے۔ حالانکہ دنیا جانتی ہے کہ ان ہندوستانیوں کے مقتدر پیر کا مزار بغداد میں مشہور مقام ہے۔ لیکن اسی سری نگر کشمیر میں رسول قادیانی ایک غیر معمولی نبی کی قبر کا نشان دیتے ہیں اور یہی خوش اعتقاد کشمیری ہیں کہ ان کو معلوم ہی نہیں کہ یہ کس صاحب کا مزار ہے۔ نہ ہی کوئی سالانہ عرس اور نہ ہی کوئی خاص عقیدت کا اظہار کیا۔ ایسے الہام کو اضغاث و احلام سمجھیں یا خود غرضی کی کلام؟۔ قادیانی نبی لکھتا ہے کہ ارض مقدس سے مسیح بھاگ کر محلہ خان یار میں مدفون ہوا ہے۔
١٠
اگر ایسی تاویلوں سے ایسے مسائل کا حل ممکن ہے تو پھر مرزائی منطق کے مطابق کیوں نہیں کہہ دیا جاتا کہ جس تخت بلقیس کا ذکر قرآن کریم میں پ ١٩ سورہ النحل میں ہے اور جس کو حضرت سلیمان کا وزیر آصف برخیا معجزانہ طور پر لایا تھا۔ وہ تخت اسی سری نگر میں ڈل گیٹ کے پاس موجود ہے۔ کیونکہ مقام تخت سلیمان سری نگر میں مشہور جگہ ہے۔ گو اب وہاں ایک مندر ہی دکھائی دیتا ہے۔ خواجہ غلام الثقلین صاحب پانی پتی مرحوم آئینہ قادیان ص ٩ میں بالکل صحیح فرما گئے ہیں کہ ”سرزمین قادیان میں تاویل کو معنی پہناتے پہناتے تاویل بھی شرمانے لگی۔ کوئی مسئلہ نہیں جس کو تاویلی رنگ میں حل کرنے کی کوشش نہ کی گئی ہو۔ اگر کسی زبان میں کوئی ایسا لفظ دکھائی دیا جس سے مطلب نکلتا ہو تو بغیر اس کے کہ عقل سے کام لیا جاتا۔ اس لفظ کو بھی ہزار قسم کے معنی پہنانے کی کوشش کی گئی ۔“ حقیقت تو یہ ہے کہ قادیانی دوست بھی ان رکیک تاویلوں سے اچھی طرح واقف ہیں اور نور دین صاحب کی یہ خاص مہربانی مرزا قادیانی کے حال پر ہے کہ جب دنیا کے کسی ملک یا خطہ پر حضرت عیسیٰ ؑ کی قبر کا کوئی نشان نظر نہ آیا تو کشمیر میں حکیم صاحب نے اشارہ کر دیا اور اپنے قیام کشمیر کا فائدہ اس صورت میں اٹھایا کہ چند کوتاہ اندیش کشمیریوں کو جام تزویر میں پھنسا لیا گیا تا کہ محض عیسائی حضرات کی مخالفت کے لئے وہ صاحبان اس شیخ چلی کے نظریہ کی تائید کریں اور اب جو قادیانی ایجنٹ تائید کر رہے ہیں تو یہ سب مجبور ہیں۔ تا کہ اس لمیٹڈ کمپنی کا کاروبار فیل نہ ہو جائے۔ ورنہ ہر ایک کو حصہ رسدی کے حساب نقصان کا خوف ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ عنوان جمادیا جاتا ہے۔ صحابہ کرام کے دو عظیم الشان اجتماع وفات مسیح پر لیکن جب عبارت دیکھو تو قادیانی تحریک کی تردید کے لئے یہی کافی ہے۔ قادیانی ایجنٹ صاحب نے جو طبقات کبیر جلد ٣ ص ٢٨ سے خطبہ امام حسن بہ شہادت علی کرم اللہ وجہہ کا پیش کیا۔ اس کے الفاظ قابل نوٹ ہیں۔ بقول قادیانی دوست امام حسینؓ فرماتے ہیں کہ آج رات وہ انسان فوت ہوا کہ پہلے اور پچھلے اس کے مرتبہ کو نہیں پاسکتے ۔ بولو مرزائی دھرم کی جے !! اگر یہ روایت صحیح ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ مرزائی دوست نبوت کا ڈھونگ رچا رہے ہیں۔ اور مرزا قادیانی کے ان دعاوی کا کیا حشر ہوا کہ اپنے کو ہر نبی و امام سے افضل ٹھہرایا ہے اور اس قول سے حضرت علیؓ مرزا قادیانی سے بھی عالی مرتبہ ثابت ہوتے ہیں۔ باقی رہا وفات مسیح اور امام حسینؓ کا فتویٰ اس کے متعلق حیوۃ القلوب ص ٤٠٠ اور زیادہ تفصیل کے
١۔ (ضمیمہ تفہیمات ص٢٤)
١١
لئے رسالہ تنویر البصر مصنفہ مرزا احمد علی امرتسری بی ۔ اے مصلح قادیان وغیرہ کتب دیکھو اب تیسرا مسئلہ شروع کرتا ہوں۔
٣...... ولادت مسیح علیہ السلام
- الف ...... ”(ع ص ١١٤) افغان یہودیوں کی طرح نسبت اور نکاح میں کچھ فرق نہیں
کرتے۔ لڑکیوں کو اپنے منسوبوں کے ساتھ ملاقات اور اختلاط کرنے میں مضائقہ نہیں ہوتا۔ مثلاً مریم صدیقہ علیہا السلام کا اپنے منسوب یوسف کے ساتھ اختلاط کرنا اور اس کے ساتھ گھر سے باہر چکر لگانا اس رسم کی بڑی سچی شہادت ہے اور بعض پہاڑی خواتین کے قبیلوں میں لڑکیوں کا اپنے منسوب لڑکوں کے ساتھ اختلاط پایا جاتا ہے کہ نصف سے زیادہ لڑکیاں نکاح سے پہلے ہی حاملہ ہو جاتی ہیں۔“
(ایام الصلح حاشیہ ص ٦٦ ، خزائن ج ١٤ ص ٣٠٠ حاشیہ ملخص )
- ب ...... حوالہ تقویۃ الایمان المعروف بہ کشتی نوح ص ١٦، خزائن ج ١٩ ص ١٨،
مفصل دیکھو عشرہ کاملہ ص ١١٤
نتیجہ! مریم صدیقہ علیہا السلام اپنے منسوب یوسف نجار کے ساتھ قبل از نکاح اختلاط کرتی تھیں اور اس کے ساتھ گھر سے باہر چکر لگایا کرتی تھیں اور قوم افاغنہ کی لڑکیوں کی طرح قبل از نکاح ہی حاملہ ہو گئیں۔......الخ! پس ثابت ہو گیا کہ مرزا قادیانی بھی یہودیوں کی طرح مریم صدیقہ علیہا السلام کو زانیہ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ناجائز تعلقات کی پیدائش سمجھتے تھے۔ وھذا بہتان عظیم ! (تفہیمات ربانیہ ) قادیانی دوست پراکندہ ہو گئے ہیں اور تیر در ہوا و بے پر اڑان پر عمل کیا ہے۔
نصیری : بخدا صاحب عشرہ کاملہ کا یہ بے پناہ حملہ کچھ اس قسم کا تھا کہ قادیانی ایجنٹ کے ہوش وحواس قائم نہیں رہے اور وہ فبھت الذی کفر کے مصداق ہو کر صفحے کے صفحے سیاہ کرتے چلے گئے ہیں اور جن باتوں کو اصل موضوع سے کوئی واسطہ نہیں وہ بھی لکھ دی ہیں کہ حجم کتاب زیادہ ہو جائے اور اپنے مرشد کی طرح ایک بات کو بار بار لکھتے چلے گئے ہیں اور مشہور مرزائی طریقہ علم کلام پیش کیا ہے کہ جب عیسائیوں سے مقابلہ ہو تو یہودی بن جاؤ اور جب شیعہ سے برسر پیکار ہو تو خارجی بنو اور جب حنفی سے مناظرہ ہو تو وہابی بنو اور جب وہابی سے ہو تو
١٢
اہل قرآن و نیچر کا بہروپ ہو اور جب اہل کتاب سے مقابلہ ہو تو ملحد بن جاؤ۔ غرض یہ کہ گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے جاؤ اور دنیا کو یہ معلوم ہی نہ ہو سکے کہ مجیب کا مذہب کیا ہے اور نتیجہ یہ نکلے کہ سننے والے بھی مغالطہ میں ہی رہیں۔ (اس نکتہ کو سمجھنے کے لئے مرزائی لٹریچر کا مطالعہ کافی ہے اور انشاء اللہ ہر ایک صاحب اس کی تائید کرے گا۔ کیونکہ مرزائی حضرات جس بات پر فخر کرتے ہیں وہ یہی طریقہ مناظرہ و مجادلہ ہے کہ جامۂ تزویر سے مطلب نکالو ) کیا نہیں دیکھا کہ ایک وقت حضرت عیسیٰؑ کے حق میں گندگی اچھالی جا رہی ہے تو دوسرے وقت ببانگ دہل کہا جا رہا ہے کہ ماشاء اللہ مرزا قادیانی نہ صرف حضرت عیسیٰؑ کی عزت کرتے ہیں۔ بلکہ ان کے چاروں بھائیوں کی بھی عزت کرتے ہیں۔ لیکن قدرت کا تماشہ دیکھئے کہ آخر اسی کلام کے خاتمہ پر پھر فطرتاً مجبور ہو کر اپنے دلی اعتقاد کا اظہار کر دیتے ہیں۔
(دیکھو کشتی نوح ص ١٦، خزائن ج ١٩ ص ١٨)
اب یہاں نیاز مند کا ایک سوال ہے جو امید ہے کہ قادیانی ایجنٹ اور اس کے ہم پیشہ حضرات جواب دے کر خاص شکریہ کا موقعہ دیں گے۔ گو امید تو یہ ہے کہ جس طرح میرے مضمون ”اہل کتاب کا ناطقہ بند“ اور قادیانی مسیح کے جواب سے عاجز رہے ہیں۔ اس کے جواب میں بھی خاموشی ہی ہوگی۔ کیونکہ جانتے ہیں کہ ضربات نصیریہ سے قادیانیت کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہو جائے گا۔
سوال از جمیع علمائے مرزائیت
مرزا غلام احمد قادیانی اپنی مشہور کتاب کشتی نوح ص ١٦، خزائن ج ١٩ ص ١٨ پر اپنی تحقیق متعلق پیدائش مسیحؑ کا ذکر کرتے ہوئے کھلے بندوں ذیل کے الفاظ میں اعلان کرتے ہیں۔
”مگر میں کہتا ہوں کہ یہ سب مجبوریاں تھیں جو پیش آگئیں اس صورت میں وہ لوگ قابل رحم تھے نہ قابل اعتراض“
اب سوال یہ ہے کہ خدارا یہ بتلائے کہ وہ مجبوریاں کون سی تھیں جن پر ایمان رکھنا ہر سنجیدہ انسان کا فرض ہے اور خاص کر اس بات کو واضح کیجئے کہ جب قرآن کریم واحادیث سے
١٣
بغیر تاویل یہ امر روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ حضرت مسیح ؑ کی پیدائش معجزانہ ہے اور کسی قسم کی مجبوریوں کا اشارہ تک کسی آیت یا حدیث میں نہیں تو ان الفاظ کی موجودگی میں برخلاف قرآن کریم واحادیث رسول ﷺ نتیجہ نکالنے والا مسلمان ہے یا کافر؟ ۔ اور محض عیسائی حضرات کی مخالفت کی وجہ سے اس قدر غیر معمولی تعصب وضد و ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرنا کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی پیدائش کے متعلق خاص بدظنی پیدا ہو اور صاف الفاظ میں لکھنا کہ مریم علیہا السلام کو خاص مجبوریاں تھیں جو پیش آگئیں۔ کہاں تک ایک شریف النفس مسلمان کو زیب دیتا ہے؟۔ اگر بفرض محال کوئی ایسی مجبوریاں انجیل سے مرزا قادیانی کو ثابت ہوگئی تھیں تو پھر باوجود اس اعلان کے کہ انجیل میں تحریف ہو چکی ہے۔ مجبوریوں کا لفظ لکھنا کہاں کی شرافت اور دیانت ہے؟۔ اب ہمیں بتائیے کہ یہ کون سی مجبوریاں تھیں جن کی تائید قرآن کریم اور احادیث سے کی جاسکتی ہے اور لطف کی بات یہ ہے کہ جہاں تک نیازمند نے انجیل کا مطالعہ کیا ہے کوئی ایسی عبارت نظر سے نہیں گزری کہ مرزا قادیانی کا نتیجہ صحیح ثابت ہو۔ انجیل میں کہاں لکھا ہے کہ بوجہ خاص مجبوریوں کے مریم صدیقہ علیہا السلام کا نکاح یوسف سے کر دیا گیا۔ حالانکہ یوسف کی پہلی بیوی بھی بقول مرزا قادیانی موجود تھی اور بتول ہونے کے عہد کو بھی توڑ دیا گیا اور تعدد ازدواج کی بنیاد بھی ڈال دی گئی اور عہد نامہ قدیم پر خط تنسیخ کھینچ دیا گیا اور پھر یہ بھی کوئی قادیانی دوست نہیں دکھا سکتا کہ بلا تاویل عہد نامہ جدید سے یوسف کی اولاد مریم صدیقہ علیہا السلام سے ثابت ہو۔ کیونکہ خود پروٹسٹنٹ اور رومن کیتھولک فرقوں میں اس بارہ میں اختلاف ہے تو ایسے امر متنازع فیہ پر ایسے غیر معمولی مسئلہ کا فیصلہ دینا کار دانا نیست، اور نیازمند نے بھی انجیل میں دیکھا ہے کہ وہاں متن میں ایسے الفاظ موجود ہیں کہ جن سے حقیقی بہن بھائی مراد نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ Brethren اور Brothers کا فرق انگریزی صرف ونحو جاننے والے خوب سمجھتے ہیں۔ جب کہ متواترات سے یہ بات ثابت تھی کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی پیدائش بطور معجزہ ہوئی ہے اور خود قادیانی نبی صاحب بھی چاپلوسی کے طور پر تسلیم کر چکے تھے کہ پیدائش مسیح فی الواقعہ ایک معجزہ ہے تو کیا انبیاء کی یہی شان ہے کہ گرگٹ کی طرح رنگ بدلیں یا سیاسی شاطروں کا وطیرہ اختیار کر لیا جائے اور مذہبی دنیا میں بھی ڈپلومیسی سے کام لیا جائے اس اختلاف بیانی کا نتیجہ ہے کہ آج قادیانی امت میں بھی اختلاف ہے کہ لاہوری پارٹی معجزانہ پیدائش کی مقر بھی ہے اور کبھی انکار ١٤
بھی کرتی ہے اور الفضل کا گروہ لکھتے ہیں اور کبھی اسلامی اکثریت کی بولیاں سنائی دیتی ہیں۔ دیکھو
- ٤ ...... منکوحہ آسمانی ک
محمدی بیگم کی پیش گو اقتباسات کی ضرورت نہیں ۔ لیکر کیونکہ آپ نے باقاعدہ ایک قم سے پیش کیا ہے اور یہ ثابت کر نکلی ۔ قدرت کا معجزہ دیکھئے کہ ا آپ کر دی کہ قیامت تک امت
(شہادت القرآن ٢٢ ستمبر ١٨٩٣ء)
میں شائع کیا ہے اس کی حقیقت پروگرام میں کس طرح لکھا جا سک غیرت ہے۔ حمیت ہے تو ذرا بقل مرزا قادیانی سچے تھے یا جھوٹے بیگ کا محمدی بیگم کے نکاح ثانی ہیں۔ داماد اڑھائی سال تک احمد بھی ہر عاقل سمجھ سکتا ہے کہ احمد تھا۔ احمد بیگ بھی وہ شخص ہے ج کر دیا۔ اس لئے ضروری تھا داماد مر اور اس کی مرضی ب اسے عبرت حاصل ہوتی بھی پیش گوئی احمد بیگ
بھی کر دیتی ہے اور الفضل کا گروہ یعنی قادیانی کھلے بندوں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یوسف نجار کا لڑکا لکھتے ہیں اور کبھی اسلامی اکثریت کے خوف سے بن باپ بھی کہہ دیتے ہیں۔ غرض کہ رنگ برنگ کی بولیاں سنائی دیتی ہیں۔ دیکھو انگریزی اخبار لائٹ لاہور اور جدید رسالہ جامع احمدیہ قادیان!
٤...... منکوحہ آسمانی کی مشہور عالم پیش گوئی
محمدی بیگم کی پیش گوئی کے واقعات ہر کہ و مہ کو معلوم ہیں۔ اس لئے عشرہ کاملہ کے اقتباسات کی ضرورت نہیں۔ لیکن قادیانی ایجنٹ نے جو کچھ خامہ فرسائی کی ہے وہ قابل دید ہے۔ کیونکہ آپ نے باقاعدہ ایک قسم کا پروگرام کتاب شہادت القرآن ص٨٠، خزائن ج٦ ص٣٧٦ سے پیش کیا ہے اور یہ ثابت کرنے کی سعی لاحاصل کی ہے کہ یہ پیش گوئی پروگرام کے مطابق صحیح نکلی۔ قدرت کا معجزہ دیکھئے کہ ایجنٹ صاحب کا دماغی توازن قائم نہیں رہا اور اس طرح اپنی تردید آپ کر دی کہ قیامت تک امت قادیان کو رسوا کر دیا۔ اس دوست نے جب خود تسلیم کر لیا ہے کہ (شہادت القرآن ٢٢ ستمبر ١٨٩٣ء) کی تصنیف ہے۔ جب احمد بیگ مر چکا تھا، تو بتاؤ جو پروگرام اس میں شائع کیا ہے اس کی حقیقت کیا رہ جاتی ہے۔ احمد بیگ کا محمدی بیگم کے نکاح ثانی تک زندہ رہنا پروگرام میں کس طرح لکھا جا سکتا تھا؟۔ جب کہ پروگرام ہی احمد بیگ کی موت کے بعد شائع ہوا۔ - غیرت ہے۔ حمیت ہے تو ذرا قبل موت احمد بیگ ایسا پروگرام واضح دکھلاؤ پھر ہم فیصلہ کریں گے کہ مرزا قادیانی سچے تھے یا جھوٹے؟۔ یہ کہتے شرم نہیں آئی کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی تحریر سے احمد بیگ کا محمدی بیگم کے نکاح ثانی تک زندہ رہنا غیر احمدی دکھائے۔ پیش گوئی کے الفاظ صاف واضح ہیں۔ داماد اڑھائی سال تک احمد بیگ ٣ سال تک فوت ہو جائے گا۔ اگر لفظی بحث کو ترک کر دیں تو بھی ہر عاقل سمجھ سکتا ہے کہ احمد بیگ کا (بعد عدت) نکاح ثانی تک زندہ رہنا پیش گوئی کا صحیح مفہوم تھا۔ احمد بیگ بھی وہ شخص ہے جس نے مرزا قادیانی کی آرزو کو ٹھکرا دیا اور اپنی لڑکی دینے سے انکار کر دیا۔ اس لئے ضروری تھا کہ احمد بیگ زندہ رہتا اور دیکھتا کہ کس طرح اس کی موجودگی میں اس کا داماد مرا اور اس کی مرضی کے خلاف قدرت نے مرزا غلام احمد قادیانی ہی کو اس کا داماد بنا دیا۔ تا کہ اسے عبرت حاصل ہوتی اور وہ اس آسمانی داماد کی روحانی طاقت کو تسلیم کر لیتا اور مرزا قادیانی نے بھی پیش گوئی احمد بیگ کو پیغام نکاح دینے کے بعد کی ہے۔ جب کہ اس مرد خدا نے کھلے بندوں نہ
١٥
صرف لڑکی دینے سے انکار کر دیا بلکہ اس کا نکاح بھی اور جگہ کر دیا تا کہ دعوائے مسیحیت کرنے والا نبی دیکھ لے کہ کس طرح ایک زمین کا آدمی اس کی آسمانی تقدیر مبرم کو بھی ٹال سکتا ہے۔ خود سوچو کہ دو ہی صورتیں احمد بیگ کر سکتا تھا یا تو لڑکی کا نکاح کسی کے ساتھ نہ کرتا اور اس انتظار میں رہتا کہ قدرت کیا رنگ دکھاتی ہے اور کس طرح قادیانی مسیح کامیاب ہوتا ہے اور یا نکاح کر کے دکھا دیتا کہ اچھا اب دیکھتا ہوں کہ کس طرح اس کی لڑکی کی آرزوؤں کا خاتمہ ہوتا ہے اور اس کا داماد اس کے سامنے مرتا ہے اور وہی لڑکی اس کے دشمن غلام احمد کے نکاح میں آتی ہے۔ اگر بیوہ رہتی تو بھی ضروری تھا کہ احمد بیگ اس پیش گوئی کے آخری نتیجہ تک رہتا اور جب نکاح کر دیا تھا تو بھی ضروری تھا کہ سلطان محمد اس کا داماد اس کے سامنے دم توڑتا اور اس کی لڑکی غلام احمد کے نکاح میں آتی تاکہ اس کو معلوم ہو جاتا کہ انحراف کا نتیجہ کیا ہے؟۔ مگر قدرت کا تماشہ دیکھئے کہ احمد بیگ ہی چل بسا تا کہ محمدی بیگم کسی صورت بھی کسی وقت مرزا غلام احمد کو نہ مل سکے۔ کیونکہ ہر ایک شخص جانتا ہے کہ لڑکی پر اس کے والدین کا کتنا اثر اور رسوخ ہوتا ہے اور میکے والے جب چاہیں چیلنج دے کر نکاح فسخ کرا لیتے ہیں اور ہزاروں مقدمات و واقعات اس قسم کے ہر ایک شخص اچھی طرح جانتا ہے کہ معمولی معمولی باتوں پر جب میاں بیوی میں فساد ہو گیا تو ایک دفعہ لڑکی جب میکے گئی تو حلالہ کے بہانے یا دھمکی لالچ سے نکاح فسخ کرا دیا گیا۔ پس قدرت نے محمدی بیگم کے والد کا ہی فیصلہ کر دیا تا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کسی وقت بھی احمد بیگ پر ڈورے ڈال کر یا طمع لالچ دے کر اپنے بوڑھے رشتہ دار کو اس بات پر آمادہ نہ کر لے کہ محمدی بیگم اور سلطان محمد میں جدائی ہو جائے۔
اسلامی سوسائٹی سے واقف حضرات جانتے ہیں کہ محمدی بیگم کا نکاح فسخ کرانا احمد بیگ کے لئے بالکل معمولی بات تھی۔ کیونکہ وہ اعلان کر سکتا تھا کہ محمدی بیگم اور احمد بیگ قادیانی ہو چکے ہیں اور حنفیت سے تائب ہیں۔ پس فتویٰ پہلے موجود تھا کہ قادیانی عورت کا نکاح غیر قادیانی سے نہیں ہو سکتا پس نہ کوئی طلاق کی ضرورت تھی اور نہ کسی قسم کا درد سر مول لینا پڑتا۔ فی الفور صیغۂ نکاح کرشن قادیان کے ساتھ جاری کر دیا جاتا۔ گو سلطان محمد ہزار چلاتا۔ ایسے مقدمات کئی ہو چکے ہیں۔ کہ محض لڑکی کا نکاح فسخ کرانے کی خاطر لالچی والدین نے تبدیلی مذہب کی آڑ لی ہے۔ یا علمائے سوء کے فتوؤں سے فتنہ برپا کیا ہے۔
حضرات! (ازالہ اوہام ص ٣٩٦، خزائن ج ٣ ص ٣٠٥ ملخص!) کی یہ عبارت بھی ان کو رسوا
١٦
ھی اور جگہ کر دیا تا کہ دعوائے مسیحیت کرنے والا آسمانی تقدیر مبرم کو بھی ٹال سکتا ہے۔ خود سوچو کہ کسی کے ساتھ نہ کرتا اور اس انتظار میں رہتا کہ یج کامیاب ہوتا ہے اور یا نکاح کر کے دکھا دیتا آرزوؤں کا خاتمہ ہوتا ہے اور اس کا داماد اس کے محمد کے نکاح میں آتی ہے۔ اگر بیوہ رہتی تو بھی بھٹک رہتا اور جب نکاح کر دیا تھا تو بھی ضروری اور اس کی لڑکی غلام احمد کے نکاح میں آتی تا کہ رت کا تماشا دیکھنے کہ احمد بیگ ہی چل بسا تا کہ نہ مل سکے۔ کیونکہ ہر ایک شخص جانتا ہے کہ لڑکی پر میکے والے جب چاہیں چیلنج دے کر نکاح فسخ م قسم کے ہر ایک شخص اچھی طرح جانتا ہے کہ ہو گیا تو ایک دفعہ لڑکی جب میکے گئی تو حلالہ کے قدرت نے محمدی بیگم کے والد کا ہی فیصلہ کر دیا ڈورے ڈال کر یا طمع لالچ دے کر اپنے بوڑھے سلطان محمد میں جدائی ہو جائے۔ جانتے ہیں کہ محمدی بیگم کا نکاح فسخ کرانا احمد لان کر سکتا تھا کہ محمدی بیگم اور احمد بیگ قادیانی ما پہلے موجود تھا کہ قادیانی عورت کا نکاح غیر ت تھی اور نہ کسی قسم کا درد سر مول لینا پڑتا۔ فی ا کر دیا جاتا ۔ گو سلطان محمد ہزار چلاتا۔ ایسے فسخ کرانے کی خاطر لالچی والدین نے تبدیلی فتنہ بر پا کیا ہے۔ ٤ ص ٣٠٥ ملخص ! ) کی یہ عبارت بھی ان کو رسوا
کرنے کے لئے کافی ہے کہ خود جناب قادیانی نبی صاحب فرماتے ہیں کہ ”محمدی بیگم ضرور ان کے نکاح میں آئے گی۔ باکرہ ہونے کی حالت میں یا بیوہ ہوکر۔“
گویا مرزا قادیانی بھی اس پیش گوئی کا مفہوم پہلے تو یہ سمجھتے تھے کہ سلطان محمد ، احمد بیگ کی زندگی ہی میں مرے تاکہ اس کی لڑکی بیوہ ہو اور حق و باطل کا فیصلہ ہو سکے۔ لیکن قدرت نے مرزا قادیانی ہی کو ذلیل کر دیا اور احمد بیگ کو پہلے اٹھالیا۔ تا کہ اس کا داماد سلطان محمد مع اپنی زوجہ محمدی بیگم خوب پھلے پھولے اور مرزا قادیانی کے سینہ پر مونگ دلتا رہے اور مرزا قادیانی کی حسرتوں کا خاتمہ کرے اور آخر ربیع الثانی ١٣٢٦ھ کی وہ گھڑی بھی آن پہنچے جب مرزا قادیانی منکوحہ آسمانی کی حسرت میں چل بسیں اور تب سمجھ آئے ۔
اور الہامی عمر ٧٥ یا ٨٥ سال جو مقرر تھی اس میں سے بھی قدرت ١٠ یا ٢٠ سال کم کر دے اور نبوت کی آڑ میں عشق مجازی کا مزا معلوم ہو۔ اب ایجنٹ صاحب اگر مضمون کے صفحے کے صفحے سیاہ کر دیں تو کیا ہو سکتا ہے۔ کیونکہ جس کو خدا جھٹلائے اس کا صدق کون ثابت کرے۔ کبھی کہہ دیا کہ لڑکی نے رجوع کر دیا۔ حالانکہ الہام میں رجوع کی کوئی شرط نہ تھی اور پھر قیامت یہ کہ رجوع اور توبہ ثابت نہیں۔ کبھی سلطان محمد کے متعلق لکھ دیا جاتا ہے کہ اس پر خوف طاری ہو گیا اور رجوع کر لیا۔ حالانکہ اس کی آخری فیصلہ کن چٹھی ہر ایک صاحب بہ عنوان ” نکاح آسمانی اور خط سلطانی“ ١؎ نور افشاں ٢٠ فروری ١٩٣١ء سے پڑھ کر فیصلہ دے سکتا ہے کہ سلطان محمد پر کس قدر قادیانی جادو کا اثر ہوا۔ بالفرض مان بھی لیں کہ سلطان محمد نے کوئی اثر قبول کیا تھا تو پھر کیا وجہ ہے کہ محمدی بیگم کو طلاق نہ دی گئی تا کہ غلام احمد صاحب کی منکوحہ آسمانی ان کے گھر آباد ہو جاتی اور مخلص مرید ایک مثال قائم کر دیتا اور قیامت تو یہ ہے کہ اگر قادیانی دوستوں کی یہی تاویل ٹھیک ہوتی تو کیوں ان کی مختلف قسم کی بولیاں سنائی دیتیں اور کیوں اس قدر بے وقوفی کا مظاہرہ کیا جاتا اور قادیانی دوست یہاں تک بدحواس ہو جاتے ہیں کہ مرزا قادیانی کے ڈیفنس میں لکھ دیا گیا کہ اگر منکوحہ آسمانی مرزا قادیانی کے نکاح میں نہیں آئی تو ان کی اولاد کے نکاح
١؎ یہ چٹھی مفصل کتاب تحقیق لاثانی حصہ دوم عشرہ کاملہ میں بھی چھپ گئی ہے۔ نکاح آسمانی کی نہایت مکمل تاریخ ہے جو قابل ملاحظہ ہے۔
١٧
میں اس کی اولاد آ جائے گی۔ کسی نے لکھ دیا مرزا قادیانی سے پیش گوئی سمجھنے میں غلطی ہو گئی۔ کسی نے مرزا قادیانی کے ان الہاموں کو خواب (اضغاث احلام) قرار دے دیا۔ کسی نے تبدیل نشان کی تاویل کی۔ کسی نے نکاح کا فسخ ہو جانا ظاہر کیا۔ اب حصہ داران کمپنی سے کیا بن سکتا ہے۔ کیونکہ خود سنجیدہ قادیانی تسلیم کر چکے ہیں کہ اس پیش گوئی کے بارے میں ایسے امور پیش آئے جس سے دشمنوں کو ہنسی اور استہزا کا موقعہ ملا۔
(تشیذ مئی ١٩١٢ء)
قادیانی دوستو! خدا سے ڈرو کیوں جھوٹ سے اتنا پیار کرتے ہو۔ بات یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے اسلامی لٹریچر میں یہ الفاظ دیکھ لئے کہ مسیح موعود بیوی کرے گا اور صاحب اولاد ہوگا۔ لیکن یہ نہ سمجھے کہ تزوج سے مراد خاص تزوج ہے جو بطور نشان ہوگا اور چونکہ یہ نشان قادیانی مسیح میں پورا نہیں ہوا۔ اس لئے آخری زمانہ میں وہی حقیقی مسیح آئے گا۔ جو پہلے تھا نہ کہ اس کا مثیل بخدا اس پیش گوئی نے خوب لطف دکھایا ہے کہ آخر ٹھوکریں کھاتے کھاتے قادیانیوں سے شکست تسلیم کر لی ہے۔ دیکھو (تشیذ مئی ١٩١٣ء) کہ صاف لکھ دیا کہ یہ مرزا قادیانی سے اجتہادی غلطی ہو گئی۔ (بولو قادیانی تاویل کی جے)
اگر یہی بات تھی تو اس قدر صفحے سیاہ کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ اب جو اجتہادی غلطی کا مغالطہ ہے اس کے لئے صرف یہی اشارہ کافی ہے کہ الفاظ قادیانی لغت کے ہیں۔ جن کو عرف عام میں اعتراف گناہ کہتے ہیں۔ اب ہر صاحب ان اشعار کو با آواز بلند پڑھے۔
قدرت حق کا عجب ایک تماشہ ہوگا
جھوٹ اور سچ میں جو ہے فرق وہ پیدا ہوگا
کوئی پا جائیگا عزت کوئی رسوا ہوگا
٥...... آخری فیصلہ خود مرزا قادیانی کی زبان سے
حضرات ! اب آخری فیصلہ بھی سن لیجئے کہ قادیانی ایجنٹ کی اس کتاب کی حقیقت کھل جائے اور دنیا کو معلوم ہو کہ کس طرح اس لمیٹڈ فرم کے حصہ داروں نے روز روشن میں مغالطہ
١٨
دینا اور باطل کی حمایت کرنا فرض منصبی سمجھا ہوا ہے۔
(ع ص ١٦ نمبر ٧) جھوٹا اور جھوٹے دعوے، مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”میرا کام جس کے لئے میں اس میدان میں کھڑا ہوں یہی ہے کہ میں عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑ دوں اور بجائے تثلیث کے توحید کو پھیلاؤں ورنہ...... اگر مجھ سے کروڑوں نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علت غائی ظہور میں نہ آوے، تو میں جھوٹا ہوں۔ سب گواہ رہیں...... الخ!
(اخبار بدر نمبر ٢٩ ج ٢ ص ٢، ١٩؍ جولائی ١٩٠٦ء، مکتوبات احمدیہ ج ٦ ص ١٦٢)
(ت ص ٦١٨) بخاری شریف ج ٣ ص ١٤٦ ”ہو الذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ“ کی تفسیر کفر مٹنے کی تین اشکال پیش کئے ہیں۔
- ١...... کفر کا اکثری محو مراد ہے۔
- ٢...... صرف جزیرہ عرب مراد تھا۔
- ٣...... آنحضرت ﷺ کے ذریعہ آہستہ آہستہ کفر مٹ رہا ہے۔
یہاں تک کہ حضرت مسیح موعود کے زمانہ (٣ صدیوں) میں بالکل مضمحل ہو جائے گا۔
(زرقانی شرح مؤطا جلد ٤ ص ٣٥٠)
نصیری: قیامت! قیامت!! کذب وافتراء کی حد ہو گئی۔ لعنت اللہ علی الکاذبین!! ایجنٹ صاحب نے کس دیدہ دلیری سے شرح زرقانی کا حوالہ دیتے ہوئے ترجمہ میں تحریف سے کام لیا ہے۔ ہر منصف مزاج کو اس کتاب کے اس باب کے مطالعہ کے لئے پر زور سفارش کرتا ہوں۔ عربی عبارت دیکھئے اور پھر اس کا ترجمہ اور اس تنخواہ دار ایجنٹ سے پوچھئے کہ یہ کس عربی عبارت کا ترجمہ ہے کہ ”حضرت مسیح موعود کے زمانہ (٣ صدیوں) میں بالکل مضمحل ہو جائے گا۔“ کہاں ٣ صدیوں کا لفظ لکھا ہے؟۔ عربی عبارت تم نے خود لکھی ہے۔ وہ صرف یہ ہے ان یضمحل فی زمن عیسیٰ! اب یہ ایسی عام فہم عربی ہے کہ آٹھویں کا طالب علم بھی ترجمہ کر سکتا ہے۔ ٣ صدیوں کا لفظ کہاں سے لیا؟۔ شرم ! شرم !! بے حیا باش ہر چہ خواہی کن اسی کو کہتے ہیں۔
محض یہ دکھانے کے لئے کہ تمہارے مسیح قادیانی کی کوئی تائید قدرت نے نہ کی اور
١٩
ورک آف گاڈ نے ورڈ آف مرزا کو باطل کر دیا تو تم نے تین صدیوں کی پچر لگا دی۔ آنحضرتﷺ کے متعلق تو بالکل ٹھیک تھا کہ مسیح موعود کے زمانے تک کفر کے مٹنے کو ہر سنجیدہ انسان سمجھ سکے۔ لیکن جب مسیح موعود کا آنا ہی اس زمانے کی آخری انتہا ہے۔ جیسا کہ صاحب زرقانی وصاحب بخاری نے لکھا ہے تو پھر ٣صدیوں والی قادیانی تاویل کی گنجائش کیسی کہاں اور کس حدیث میں ہے کہ اسلام کے غلبہ کے لئے مسیح موعود کے زمانہ سے مراد ٣ صدیاں ہیں؟ ۔اب میرا کھلا چیلنج ہر قادیانی دوست کو ہے کہ تم سنی شیعہ کی کسی کتاب حدیث سے یا قرآن کریم سے یا متواترات سے یہ دکھا دو کہ مسیح موعود کے زمانہ سے مراد ٣ صدیوں کا زمانہ ہے تو نیازمند نہ صرف خود بلکہ مع احباب و خاندان خلیفہ قادیان کے ہاتھ پر بیعت کرنے کو تیار ہے۔ ورنہ تم کو جلسہ خصوصی میں مرزا قادیانی کے حق میں مطابق بدر ١٩؍جولائی ١٩٠٦ء اقبال ڈگری پر با ضابطہ مہر تصدیق ثبت کرنی ہو گی۔ اب ایجنٹ صاحب شرافت ودیانت کی رو سے قادیانی دھرم سے تائب ہو اور کھلے بندوں اعلان کرے کہ محض لمیٹڈ فرم کی حصہ داری نے اس کو اس قدر ضمیر فروشی و اخلاقی جرم پر آمادہ کیا کہ اسلامی مفسرین اور محدثین کی کتابوں سے عربی عبارت نقل کر کے تحریف لفظی ومعنوی کر دی گئی۔ پس ثابت ہو گیا کہ مسیح کاذب کے بعد مسیح صادق نزدیک ہے اور حقیقی مسیح کی آمد آمد ہے اور روحانی دنیا میں غیر معمولی انقلابات دکھائی دے رہے ہیں۔ (دہریت کفر) الحاد کا زور شور ہے اور کروڑوں انسانوں کی قسمت کے مالک با ضابطہ طور پر سٹیٹ ریلیجن دہریت قرار دے چکے ہیں۔ جیسا کہ بالشویک روس کا حال ہے اور یہی تحریک زور شور سے یورپ اور امریکہ میں بھی جاری ہے اور لطف یہ ہے کہ خود خلیفہ قادیان قادیانیوں کی زبوں حالی اقتصادی تباہی بے کاری اور خوفناک مخالف مذاہب تحریکوں کا رونا ان الفاظ میں رو رہا ہے۔
مرثیہ از خلیفہ ثانی گدی نشین قادیانی
خطاب بسوئے مرزا غلام احمد قادیانی
٢٠
کچھ یاد تو کیجئے ذرا ہم سے کوئی اقرار ہے
دیتے تھے تم ہر دم خبر بندھتی تھی جس سے یاں کمر مٹ جائے گا سب شور و شر موت آئے گی شیطان پر
پاؤ گے تم فتح و ظفر ہوں گے تمہارے بحر و بر آرام سے ہو گی بسر ہوگا خدا مدنظر
واں تھے یہ وعدے خوبتر یاں حالت ادبار ہے
ہر ایک کے سر میں مکیں ہے کبر کا دیو لعیں اک دم کو یاد آتی نہیں درگاہ رب العالمین
بے چین ہے جان حزیں حالت ہماری زار ہے
ظاہر میں سب ابرار ہیں باطن میں سب اشرار ہیں مصلح ہیں پر بدکار ہیں، ہیں ڈاکٹر پر زار ہیں
حالات پر اسرار ہیں، دل مسکن افکار ہے
ہم ہو رہے ہیں جاں بلب بنتا نہیں کوئی سبب ہیں منتظر اس کے کہ کب آوے ہمیں امداد رب
پیالہ بھرا ہے لب بلب ٹھوکر ہی اک درکار ہے
قسمت یونہی بدنام ہے، دل خود اسیر دام ہے اب کس جگہ اسلام ہے؟ باقی فقط اک نام ہے
ملتی نہیں مئے جام ہے بس اک یہی آزار ہے
(کلام محمود ص ٧٥ تا ٧٧، بحوالہ تشحیذ مارچ ١٩١٣ء ص ٢)
اس مرثیہ کی ظاہری اور باطنی غلطیوں سے قطع نظر کر کے بلحاظ اظہار واقعات کے مرزائیو!
بولو کرشن قادیانی کے دھرم کی جے !!!
کیا اب بھی ایجنٹ صاحب یہی ڈینگ ماریں گے اور رٹ لگائیں گے کہ پس حضور
- ١؎ کیا شام فرانسیسیوں کے قبضہ میں نہیں؟۔ (نصیری)
- ٢؎ کیا قادیان سے بھی اسلام رخصت ہو گیا؟۔ (نصیری)
(مرزا قادیانی) کا دعویٰ روحانی جماعت پیدا کرنے کا تھا۔ سو جماعت احمدیہ کی نیکی، پارسائی، اسلام کی خدمات، سرفروشانہ خدمات اور روحانی تنظیم، صاحب دل انسان کے لئے خضر راہ ہیں۔ آپ نے پاکبازوں کا ایک گروہ پیدا کیا۔ جو دن دوگنی، رات چوگنی ترقی کر رہا ہے۔
(تفہیمات ص٨٣)
خلیفہ صاحب کا اپنے مرثیہ میں قادیانیوں کی ابتر حالت کا اظہار اور ایجنٹ صاحب کا اس سے انکار اس مثل کا مصداق ہے کہ:
ادھر دل میں ہر قادیانی اچھی طرح سمجھتا ہے کہ اصل اصل ہے اور نقل نقل اور کندن کندن ہے اور پیتل پیتل۔ پراپیگنڈا ورک سے مہدی اور مسیح نہیں بنتے بلکہ صحیفہ الہام اور صحیفہ قدرت اور حق وصداقت کی تائید چاہئے۔ وقت ہے کہ حق کا دامن پکڑو اور ہلاکت کے فرزند (دیکھو عہد نامہ جدید) مسیح الدجال (دیکھو حدیث رسول) سے بچو اور مسیح ناصری کے الفاظ یاد رکھو کہ: ”نجات اس کی ہے جس نے آخر دم تک صبر کیا۔“
عیسیٰ نتواں گشت بتصدیقِ خرِے چند
ناظرین! اس مختصر تبصرہ سے واضح ہو گیا ہوگا کہ مؤلف تفہیمات نے عشرہ کاملہ و تحقیق لاثانی کا جواب دینے میں کہاں تک خوف خدا اور راست بازی کو مد نظر رکھا ہے۔ یہ نمونہ ہے اس کی ٧٠٠ صفحہ کی ضخیم تالیف کا جو حال تک کے تمام مرزائی خرافات کا مجموعہ ہے۔ اس سے آپ صحیح نتیجہ پر پہنچ سکتے ہیں۔ بقولکم!
بہر حال اگر کسی غیرت مند مرزائی نے اس مختصر تبصرہ کے جواب میں قلم اٹھائی تو ہم پھر خدمت کرنے کو حاضر ہیں۔
اب اس دعا پر اپنا یہ رسالہ ختم کرتا ہوں کہ اللہ کریم قادیانی حضرات کو ٹھنڈے دل سے غور و فکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اس رسالہ کو ان کی ہدایت کا ذریعہ بنائے۔
رد قادیانیت پر مشتمل اکابر امت ... نمبر شمار نام کتاب
- ١ احتساب قادیانیت جلد اوّل
- ٢ احتساب قادیانیت جلد دوم م
- ٣ احتساب قادیانیت جلد سوم ملا
- ٤ احتساب قادیانیت جلد چہارم حکا
- ٥ احتساب قادیانیت جلد پنجم شیخ
- ٦ احتساب قادیانیت جلد ششم م
- ٧ احتساب قادیانیت جلد ہفتم ہد
- ٨ احتساب قادیانیت جلد ہشتم
- ٩ احتساب قادیانیت جلد نہم
- ١٠ احتساب قادیانیت جلد دہم منا
- ١١ احتساب قادیانیت جلد یازدہم
- ١٢ احتساب قادیانیت جلد دوازدہم
- ١٣ احتساب قادیانیت جلد سیزدہم مختصر
- ١٤ احتساب قادیانیت جلد چہاردہم مبلغ
رد قادیانیت پر مشتمل اکابر امت کے قدیم رسائل کو شائع کرنے کی ایک تحریک!
نمبر شمار نام کتاب مصنف تعداد رسائل تعداد صفحات ١ احتساب قادیانیت جلد اوّل مناظر اسلام مولانا لال حسین اخترؒ ١٥ عدد ٣١٢ ٢ احتساب قادیانیت جلد دوم شیخ التفسیر مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ ١٠ عدد ٥٤٤ ٣ احتساب قادیانیت جلد سوم مناظر اسلام مولانا حبیب اللہ امرتسریؒ ١٨ عدد ٥٤٤ ٤ احتساب قادیانیت جلد چہارم امام العصر مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ ١٢ عدد ٦٨٠ حکیم الامت مولانا محمد اشرف علی تھانویؒ شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ محدث کبیر مولانا سید محمد بدر عالم میرٹھیؒ ٥ احتساب قادیانیت جلد پنجم شیخ المشائخ مولانا سید محمد علی مونگیریؒ ٢٣ عدد ٥٢٨ ٦ احتساب قادیانیت جلد ششم حضرت مولانا قاضی محمد سلیمان منصور پوریؒ ٥ عدد ٤٩٦ حضرت مکرم پروفیسر محمد یوسف سلیم چشتیؒ ٧ احتساب قادیانیت جلد ہفتم شیخ المشائخ مولانا سید محمد علی مونگیریؒ ١٠ عدد ٦٤٠ ٨ احتساب قادیانیت جلد ہشتم مناظر اسلام مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ ١٦ عدد ٥٧٦ ٩ احتساب قادیانیت جلد نہم مناظر اسلام مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ ١٨ عدد ٦١٦ ١٠ احتساب قادیانیت جلد دہم مناظر اسلام مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ ١٩ عدد ٥٧٥ عارف باللہ مولانا غلام دستگیر قصوریؒ ١١ احتساب قادیانیت جلد یازدہم جناب بابو پیر بخش لاہوریؒ ٩ عدد ٥٠٤ ١٢ احتساب قادیانیت جلد دوازدہم جناب بابو پیر بخش لاہوریؒ ٣ عدد ٥٢٨ ١٣ احتساب قادیانیت جلد سیزدہم مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی محمد شفیع دیوبندیؒ ١٣ عدد ٤٤٠ مفسر قرآن حضرت مولانا حفظ الرحمن سیوہارویؒ شیخ التفسیر حضرت مولانا شمس الحق افغانیؒ ١٤ احتساب قادیانیت جلد چہاردہم مبلغ اسلام جناب ابو عبیدہ نظام الدین بی اے ٢ عدد ٣٩٢
١٥ ....... احتساب قادیانیت جلد پانزدہم شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی ٦ عدد ٤٩٤ شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود شیر اسلام حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی
١٦ احتساب قادیانیت جلد شانزدہم مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھری ٢٧ عدد ٥٧٦ شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف بنوری مجاہد ختم نبوت حضرت مولانا تاج محمود مفکر ختم نبوت حضرت مولانا محمد شریف جالندھری مناظر اسلام حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر
١٧ احتساب قادیانیت جلد ہفدہم مناظر اسلام حضرت مولانا عبدالحق پتالوی ٧ عدد ٦٣٢ مناظر اسلام حضرت مولانا نور محمد خان سہارنپوری
١٨ احتساب قادیانیت جلد ہجدہم مناظر اسلام حضرت مولانا محمد منظور نعمانی ٧ عدد ٥٣٢ مناظر اسلام حضرت مولانا محمد یعقوب پتالوی محترم جناب علامہ نصیری بھیروی
الحمدللہ ثم الحمدللہ! کہ مندرجہ بالا بتیس (٣٢) علمائے کرام کی رد قادیانیت پر تقریباً سوا دو سو (٢٢٥) کتب ورسائل ، دس ہزار (١٠٠٠٠) صفحات، اٹھارہ (١٨) جلدوں پر مشتمل یہ خزینہ آپ کی لائبریری کی زینت بننا چاہیے۔ ١٨ جلدیں ایک ساتھ منگوانے پر اٹھارہ صد روپیہ کا منی آرڈر ارسال کر کے بذریعہ ڈاک حاصل کر سکتے ہیں۔
مرکزی ناظم اعلیٰ دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان