قادیانیت — ثبوت حاضر ہیں جلد 1 · محمد متین خالد
Saboot · Vol. 1
PDF 1

نئے اضافوں کے ساتھ

عالمِ اسلام میں اپنی نوعیّت کی مُنفرِد کتاب

قادیانیت

ثبوت حاضر ہیں !

قادیانیوں کے بدترین کُفریہ عقائد و عزائم پر مبنی عکسی شہادتیں

1

ترتیب و تحقیق

محمّد متین خالد

PDF 2

چیلنج

”ثبوت حاضر ہیں“

یہ کتاب، اپنے اندر قادیانی مذہب کے بانی آنجہانی، مرزا غلام احمد قادیانی اس کے بیٹوں، اس کے نام نہاد خلیفوں اور دیگر اہم قادیانیوں کی مستند تصانیف اور اخبارات و رسائل کی قابل اعتراض اور دل آزار کفریہ عبارتوں کی عکسی نقول لیے ہوئے ہے۔ قادیانی جرائم کے یہ ثبوت اتنے واضح ہیں کہ دنیا کی کسی بھی عدالت میں ان عکسی دستاویزات کی صداقت کو چیلنج کرنا کسی بھی قادیانی کے لیے ممکن نہیں ہے۔ میں اس کتاب میں درج تمام حوالوں اور عکسی نقول کے مصدقہ ہونے کی ذمہ داری قبول کرتا ہوں اور قادیانی جماعت کے موجودہ سربراہ سمیت دنیا کے تمام قادیانیوں (بشمول لاہوری گروپ) کو چیلنج کرتا ہوں کہ اگر اس کتاب میں موجود، کوئی بھی عکس غیر حقیقی ہو، یا میری طرف سے کسی بھی نوع کی ترمیم و اضافہ کیا گیا ہو، یا ایک بھی خانہ ساز حوالہ پایا جائے تو میں اس کے لیے ہر قسم کی سزا پانے کے لیے تیار ہوں! بصورت دیگر انہیں ضد اور ہٹ دھرمی چھوڑ کر آخرت کی فکر کرتے ہوئے اسلام کی آغوش میں آجانا چاہیے ہے کسی قادیانی میں جرأت جو میرے اس چیلنج کو قبول کرے؟ محمد متین خالد

PDF 3

نئے اضافوں کے ساتھ

عالم اسلام میں اپنی نوعیت کی منفرد کتاب

قادیانیت

ثبوت حاضر ہیں!

جلد اوّل

قادیانیوں کے بدترین کفریہ عقائد و عزائم پر مبنی عکسی شہادتیں

محمد متین خالد

علم و عرفان پبلشرز

الحمد مارکیٹ 40- اردو بازار، لاہور، فون: 7352332-7232336-8405100

PDF 4

جملہ حقوق محفوظ

نام کتاب ثبوت حاضر ہیں ! جلد اوّل مصنف محمد متین خالد ناشر علم و عرفان پبلشرز قانونی مشیر محمد نوید شاہین ایڈووکیٹ ہائی کورٹ مطبع جوہر رحمانیہ پرنٹرز، لاہور سرورق فضیل کیانی کمپوزنگ تاج کمپوزنگ سنٹر، لاہور سن اشاعت (نئے اضافوں کے ساتھ) 2010ء قیمت 700/- روپے

علم و عرفان پبلشرز

الحمد مارکیٹ 40-اردو بازار، لاہور فون: 7352332-7232336-8405100

PDF 5

انتساب

بہت سے قادیانیوں نے ”قادیانیت، ثبوت حاضر ہیں“ کے عمیق مطالعے کے بعد اس میں درج تمام حوالہ جات کو دیکھا، پرکھا، جانچا اور مکمل سیاق و سباق کے ساتھ اصل قادیانی کتب سے ان کا لفظ بہ لفظ موازنہ کیا...... پھر حق کی تلاش میں تذبذب کا شکار ہوئے....... انہوں نے اللہ رب العزت کے حضور خوب توبہ کی اور صدق دل سے گڑگڑا کر اپنی ہدایت کی دعا مانگی....... کہتے ہیں طلب اگر صادق ہو تو انسان منزل پر پہنچ ہی جاتا ہے....... قدرت حق نے مہربانی کرتے ہوئے انہیں ایمان کی عظیم دولت سے نوازا....... یوں وہ قادیانیت سے تائب ہو کر واپس اسلام کی آغوش میں آگئے....... میں اس کتاب کا انتساب ان خوش نصیب سابق قادیانیوں کے نام کرتے ہوئے ایک عجیب روحانی خوشی اور ایمانی جلا محسوس کرتا ہوں۔ اللہ رب العزت انہیں دین اسلام پر استقامت نصیب فرمائے اور مجھے تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر مزید کام کرنے کی ہمت عطا فرمائے۔ آمین!

ایں سعادت بزور بازو نیست
تا نہ بخشد خدائے بخشندہ
PDF 6
صفحہ 7

ترتیب عنوانات

صفحہ 8

عقیدہ ختم نبوت 91

نبوت بند ہے 153

صفحہ 9

View Proof نبوت جاری ہے 171

صفحہ 10
صفحہ 11

اللہ تعالیٰ کی توہین View Proof 191

صفحہ 12

حضور نبی کریم حضرت محمد ﷺ کی توہین 211

صفحہ 13
صفحہ 14

انبیائے کرام علیہم السلام کی توہین 241

صفحہ 15

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین 255

صفحہ 16

حضرت مریم علیہا السلام کی توہین 281

صفحہ 17

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم واہل بیت ؓ کی توہین 293

صفحہ 18

View Proof قرآن وسنت کی توہین 307

View Proof حرمین شریفین کی توہین 319

صفحہ 19

حضرت اولیائے عظامؒ و علمائے کرامؒ کی توہین 327

مسلمانوں کو گندی گالیاں اور کفر کا فتویٰ 335

صفحہ 20
صفحہ 21

مسلمانوں سے نفرت اور معاشرتی بائیکاٹ 359

دینے کے متعلق احکامات 364

مرزا قادیانی کے دعوے 369

صفحہ 22
صفحہ 23

مرزا قادیانی مرد یا عورت؟

View Proof

صفحہ 24

مرزا قادیانی کے فرشتے 399

مرزا قادیانی کے الہامات اور خواب 405

صفحہ 25

مرزا قادیانی ...... امیر الجہلا 423

صفحہ 26

View Proof متفرقات 431

۞.......۞.......۞

صفحہ 27

توجہ فرمائیں!

خیزیوں کو نمبر شمار لگا کر ایک ترتیب سے درج کیا گیا ہے۔

دیئے گئے ہیں۔ مثلاً ”اللہ تعالیٰ کی توہین“ کے باب میں توہین نمبر 70 کا عکسی ثبوت، کتاب کے آخر میں حوالہ نمبر 70 کے تحت دے دیا گیا ہے۔

صرف ایک دفعہ دیا گیا ہے، اس کے لیے دیکھیے صفحہ نمبر 29 تا 31

دی گئی ہے۔

ہو جاتا ہے کہ ان کی گستاخانہ اور متنازعہ عبارات سیاق و سباق سے ہٹ کر بیان کی جاتی ہیں۔

اور گستاخانہ قادیانی عبارات پڑھتے وقت کثرت سے استغفار کریں۔ شکریہ!

صفحہ 28

أَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ. بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ. وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِأَعْدَآئِكُمْ وَكَفٰى بِاللّٰهِ وَلِيًّا وَّكَفٰى بِاللّٰهِ نَصِيْرًا. لَعْنَتُ اللّٰهِ عَلَى الْكٰذِبِيْنَ. اَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ الَّذِىْ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْحَىُّ الْقَيُّوْمُ وَاَتُوْبُ اِلَيْهِ. وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ الْعَلِىِّ الْعَظِيْمِ. اَللّٰهُمَّ اِنِّىْٓ اَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَآئِثِ.

صفحہ 29

فہرست ٹائٹل کتب

صفحہ نمبر

صفحہ 30
صفحہ 31
صفحہ 32
صفحہ 33

حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے فرمایا:

سيكون فى امتى كذابون ثلثون كلهم يزعم انه نبى و انا خاتم النبيين لا نبى بعدى.

(مسلم شریف)

ترجمہ: ”حضرت ثوبانؓ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ قریب ہے کہ میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہوں گے جن میں سے ہر ایک یہی کہے گا کہ میں نبی ہوں، حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔“

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

گے اور کہیں گے: میں مسیح ہوں اور بہت سے لوگوں کو گمراہ کریں گے۔“

(متی باب 24 فقرہ 5)

PDF 34
صفحہ 35

قادیانی عقائد کی بھیانک تصویر

قادیانیت منکرین ختم نبوت کا ایسا گروہ ہے جسے انگریز نے عالم اسلام کی بیخ کنی کے لیے خود کاشت کیا اور پھر اس کے تمام مفادات کا تحفظ کیا۔ یہ لوگ اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونے کے باعث دن رات پوری امت مسلمہ، اسلام اور وطن عزیز کے خلاف تباہ کن ریشہ دوانیوں میں مصروف ہیں۔ یہ مار آستین ہیں۔ یہ لوگ بیرونی ممالک میں اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اسلام دشمن طاقتوں کی جاسوسی، اسلام کی تخریب اور پاکستان کی جڑیں کاٹنے کا کام کرتے ہیں۔ عالم اسلام کے اول دشمن اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب میں ان کا مشن پوری سرگرمی سے کام کر رہا ہے۔ اسرائیل کی فوج میں باقاعدہ قادیانی موجود ہیں۔ ان حالات میں اس فتنہ کے تدارک کی ذمہ داری امت محمدیہ ﷺ کے ہر فرد پر عائد ہوتی ہے۔ قادیانیت کے خلاف خواص و عوام میں ایک نیا شعور پیدا ہو رہا ہے جس سے قادیانیت کی زہرناکیوں اور ریشہ دوانیوں کے خلاف نفرت کا احساس عام ہو رہا ہے۔

ان حالات میں عزیزی محمد متین خالد کا وجود ایک نعمت مترقبہ سے کم نہیں۔ وہ دینی حلقوں بالخصوص تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ انہیں مسئلہ ختم نبوت سے جو لگاؤ اور انس ہے، وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ آج کے نوجوانوں میں قادیانیت کا اتنا ماہر اور اس کے متعلق نئی معلومات سے باخبر شاید اور کوئی نہیں۔ تحفظ ختم نبوت پر ان کی متعدد کتابیں شائع ہو کر دوام شہرت پاچکی ہیں جو ان کے عشق رسول ﷺ پر شاہد ہیں، اب ان کی تازہ تصنیف ”ثبوت حاضر ہیں!“ منظر عام پر آ رہی ہے۔ میں نے اس کتاب کے مسودہ کو اپنی مصروفیات اور ناسازی طبع کے باوجود بڑے غور سے پڑھا۔ مزید براں انہوں نے زبانی طور پر بھی مجھے اس کتاب کے بارے میں بتایا۔

قادیانیت ایسے سنگین فتنہ کو سمجھانے کا یہ انداز، یہ تخیل، یہ فکر اور یہ اسلوب بالکل نیا ہے جس کی مثال شاید پہلے سے موجود نہیں ہے۔ انہوں نے جس چھان پھٹک اور تحقیق سے

صفحہ 36

قادیانیت کے سربستہ رازوں سے پردہ اٹھایا اور پوشیدہ گوشے بے نقاب کیے ہیں، اسے تمام دینی حلقوں میں یقینی طور پر سراہا جائے گا اور ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور انہیں اپنی محنت کی داد ملتی رہے گی۔

قادیانی مکتب کے مستند حوالوں کی موجودگی میں اب قادیانیت کے کفر میں کسی شک و شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ قادیانیوں کو آنکھیں بند کر کے نہیں بلکہ آنکھیں کھول کر اپنے عقائد کی بھیانک تصویر کو بغور غائر دیکھنا چاہیے اور اس سے عبرت حاصل کرنی چاہیے۔ یہ کتاب اپنی تحقیق کے لحاظ سے ایک ایسا چشمہ ہے جس سے قادیانی سیراب ہو کر مشرف بہ اسلام ہو سکتے ہیں اور یوں یہ کتاب مسلمانوں اور قادیانیوں دونوں کے لیے مفید ثابت ہوگی۔

عزیزی متین خالد کا کمال یہ ہے کہ اس نے بڑے سلیقہ اور مہارت سے قادیانیت کے ”جن“ کو یوں قابو کیا ہے کہ اسے گھڑے کی مچھلی بنا دیا۔ اس سے نہ صرف اس کا اپنا قد بلند ہوا ہے بلکہ ملت اسلامیہ کو بھی بلند قامتی عطا ہوئی ہے۔ مجھے اس خوش قسمت نوجوان پر فخر ہے۔

میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ خالد کی اس محنت شاقہ کو حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے وسیلۂ جلیلہ سے اپنی بارگاہ اقدس میں قبول فرمائے اور اس کی عمر اور قلم میں برکت فرمائے تاکہ وہ پہلے سے بڑھ کر مزید اس محاذ پر کام کر سکے۔ آمین بحرمۃ نبی الامی الکریم

دعا گو (جسٹس) پیر محمد کرم شاہ الازہری جج سپریم کورٹ آف پاکستان سجادہ نشین آستانہ عالیہ امیریہ بھیرہ شریف۔سرگودھا

۞.......۞.......۞

صفحہ 37

قادیانیت کا اصل چہرہ

پاکستان ایک اسلامی ملک ہے جس کا سرکاری مذہب اس کے آئین کی رو سے اسلام قرار دیا گیا ہے۔ اسلامی تعلیمات میں عقیدہ توحید اور عقیدہ ختم نبوت بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔ مسلمانوں کے نزدیک حضور اکرم ﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں اور ان کے بعد کوئی نبی نہیں۔ ختم نبوت کا یہ عقیدہ تاریخ کے ہر دور میں، ہر مسلک کے مسلمانوں کے درمیان متفقہ طور پر موجود رہا ہے۔ اجماع امت کے حامل مسلمانوں کے اس عقیدے سے انحراف نہ صرف قرآن وسنت کی تعلیمات کے خلاف ہے بلکہ یہ اتحاد امت کو پارہ پارہ کرنے کی مذموم کوشش کے مترادف بھی ہے۔ اس عقیدہ کا تحفظ وطن عزیز کی جغرافیائی حدود کی حفاظت سے بھی زیادہ لازمی ہے۔ یوں تو لا تعداد مسلمانوں نے تحفظ ختم نبوت ﷺ کی ترجمانی کا فریضہ سرانجام دیا ہے مگر میں یہاں مفکر پاکستان حضرت علامہ اقبال کے ان کلمات کا ذکر کرنا چاہوں گا جو انہوں نے پنڈت جواہر لال نہرو سے بحث کے دوران ادا کیے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ”حضور ﷺ کی ختم نبوت پر ایمان لائے بغیر کسی مسلمان کا ایمان کامل نہیں ہو سکتا اور اب جو کوئی، کسی بھی قسم کا دعوئی نبوت کرتا ہے، وہ جھوٹا، کاذب، کافر اور مرتد ہے“۔ ربوہ والے حضور ﷺ کے بجائے نعوذ باللہ مرزا صاحب کی ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔ جب وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم بھی ختم نبوت کے قائل ہیں تو ان کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ مرزا صاحب کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور یہی وجہ ہے کہ پہلے قادیان اور اب ربوہ میں صرف ”خلیفے“ آ رہے ہیں کوئی نبی نہیں آیا۔ لاہوری حضرات مرزا صاحب کو نبی نہیں صرف مصلح قرار دیتے ہیں حالانکہ مرزا صاحب نے دعوئی نبوت کیا تھا اور ان کی جھوٹی نبوت پر ایمان لانے والے لوگ بھی خاصی تعداد میں موجود ہیں۔ ظاہر ہے کہ جھوٹی نبوت کے دعویدار کو مصلح ماننے والے بھی انہی کے بھائی بند ہو سکتے ہیں اور انہی کی صف میں شامل ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ قادیانی مسئلہ دور غلامی کی یادگار ہے۔ اگر ہم غلام نہ ہوتے تو یہ

صفحہ 38

مسئلہ کبھی پیدا نہ ہوتا۔ گذشتہ تیرہ سو سال میں کسی بھی آزاد اسلامی یا مسلمان ملک میں یہ مسئلہ پیدا نہیں ہوا۔ کسی بھی اسلامی یا مسلمان ملک میں کسی دیوانے یا پاگل نے بھی دعویٰ نبوت کی جرأت نہیں کی۔ ایران میں بہائی مذہب کے بانی کا جو حشر ہوا، اس سے کون ناواقف ہے؟ بہاء اللہ نے خود ہی اپنے آپ کو اسلام سے خارج کر لیا۔ مسلمان کہلانے کی اسے بھی جرأت نہ ہوئی لیکن ایران نے اس کے باوجود اسے اور اس کے مقلدین کو برداشت نہ کیا۔ ہمیں افسوس ہے کہ آزادی کے بعد 26، 27 سال تک ہم نے اس مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش نہ کی، حالانکہ ہم نے یہ ملک اللہ، اس کے رسول ﷺ اور اسلام کے نام پر حاصل کیا تھا۔ اگر ختم نبوت پر ہمارا جزو ایمان ہے تو رسول کریم ﷺ کو خاتم النبیین ماننے کے بعد ختم نبوت کی مختلف تاویلیں کرتے ہوئے دعویٰ نبوت کرنے والے اور اس جھوٹے نبی کی امت کے لیے پاکستان میں کیا جگہ رہ جاتی ہے؟ یہ پنجاب کی بدقسمتی تھی کہ یہ پودا اس سرزمین میں ہی لگ سکا اور اس نے یہیں نشوونما پائی۔ یہ پنجابیوں کی مذہب کے معاملے میں سادہ لوحی اور اسلام کی طرف سے عطا کردہ فراخدلی کا نتیجہ تھا کہ انگریز کا یہ خودکاشتہ پودا تناور درخت بن گیا۔

قادیانیوں کی امنگوں اور آرزوؤں کا مرکز قادیان ہے جو بھارت میں واقع ہے۔ یہ تصور ان کا جزو ایمان ہے کہ وہ ایک نہ ایک دن ضرور واپس قادیان جائیں گے۔ ان کے قادیان جانے کے دو ہی طریقے ہو سکتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ قادیانی حضرات مشرقی پنجاب کو بزور بازو فتح کر کے قادیان پہنچیں، یہ بڑی ناقابل عمل سی بات ہے، ویسے بھی قادیانی حضرات جہاد پر یقین نہیں رکھتے اور ان سے توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ لڑ کر مشرقی پنجاب فتح کر سکیں۔ دوسرا ذریعہ اکھنڈ بھارت کا ہے یعنی مغربی پاکستان بھی خدانخواستہ بھارت کا حصہ بن جائے یا پنجاب اور تین پاکستانوں میں تقسیم ہو جائے۔ جنہیں بھارت کی زیر سرپرستی بنگلہ دیش جیسا درجہ حاصل ہو جائے۔ ہمارے خیال میں یہ صورت کسی بھی باغیرت پاکستانی کو پسند نہیں ہوگی۔

قادیانیت کی تاریخ سے شناسا لوگوں کو علم ہوگا کہ قادیانیت کی تحریک کا واحد مقصد دنیا کے مسلمانوں کو احمدی بنانا تھا۔ وہ ہندوستان کو اس لیے اکھنڈ رکھنا چاہتے تھے کہ ”وسیع پیمانے“ پر اس مقصد کے لیے کام کیا جائے۔ وہ برصغیر کی تقسیم کو عارضی سمجھتے تھے۔ ان کے عزائم کی تصدیق قادیانیوں کے ترجمان روزنامہ الفضل قادیان کے 15 اپریل 1947ء کے

صفحہ 39

اس اشارے سے بخوبی ہو جاتی ہے جس میں قادیانی جماعت کے دوسرے سربراہ مرزا بشیر الدین محمود کا سر ظفر اللہ چوہدری کے بھتیجے کے نکاح کے موقع پر خطبہ شائع ہوا تھا۔ اس خطبہ میں قادیانی جماعت کے سربراہ نے بڑے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ

قومیں شیر و شکر ہو کر رہیں تاکہ ملک کے حصے بخرے نہ ہوں۔۔۔ممکن ہے عارضی طور پر کچھ افتراق پیدا ہو اور دونوں قومیں جدا رہیں مگر یہ حالت عارضی ہوگی اور ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ جلد دور ہو جائے۔ بہر حال ہم چاہتے ہیں کہ اکھنڈ ہندوستان بنے اور ساری قومیں باہم شیر و شکر رہیں۔“

سماجی اور سیاسی اعتبار سے یہ فرقہ خود کو سواد اعظم سے الگ تصور کرتا ہے۔ واقعات کے لحاظ سے یہ گروہ برطانیہ، اسرائیل اور بھارت کے ففتھ کالمسٹ کی حیثیت رکھتا ہے جو پاکستان میں سرگرم عمل ہے اور اس کی وفاداری بھی مشکوک ہے۔ انھوں نے تقسیم ہند کے بعد سے جان بوجھ کر اپنی جماعت کا ایک حصہ قادیان میں متعین کر رکھا ہے تا کہ ضرورت پڑنے پر ان سے کام لیا جائے۔ قادیانی حضرات خود ہی اپنے آپ کو مسلمانوں سے الگ سمجھتے ہیں، وہ مسلمانوں کو اپنے میں سے نہیں سمجھتے، ان کے ساتھ شادی بیاہ نہیں کرتے، ان کی نماز اور جنازے میں شرکت نہیں کرتے۔ ان کی دعا میں ان کے ساتھ ہاتھ اٹھا کر شامل ہونا پسند نہیں کرتے۔ ایسے طرز عمل کے بعد انہیں بطور مسلمان وہ تمام مراعات حاصل کرنے کا حق نہیں ہونا چاہیے جو انہیں دفاعی اور سول ملازمتوں میں میسر ہیں یا بینکنگ، صنعت اور زندگی کے دیگر تمام دوسرے شعبوں میں حاصل ہیں۔

قادیانی جماعت میں سے زیادہ پڑھا لکھا اور روشن خیال سر ظفر اللہ چوہدری تھے لیکن انہوں نے بھی بانی پاکستان بابائے قوم حضرت قائد اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی نماز جنازہ میں شرکت کرنے کی بجائے غیر مسلم سفیروں کے ساتھ زمین پر بیٹھنا پسند کیا تھا اور جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ وزیر خارجہ ہیں لیکن جنازہ میں شریک نہیں ہوئے، اس کی وجہ کیا ہے؟ اس پر سر ظفر اللہ خاں نے کہا کہ ”مجھے کافر حکومت کا مسلمان وزیر خارجہ سمجھ لیا جائے یا مسلمان حکومت کا کافر وزیر خارجہ۔“ عقیدہ کے لحاظ سے اس سے بڑھ کر کسی کی پختہ زناری اور کیا

صفحہ 40

ہوسکتی ہے؟ اس طرح انہوں نے تاریخ میں یہ شہادت ریکارڈ کروائی کہ مسلمانوں کا مذہب الگ ہے اور قادیانی ان سے الگ ایک نئے مذہب کے پیروکار ہیں۔

علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ اس گروہ کو یہودیت کا چربہ قرار دیتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں:

ظاہر ہونے کے لیے برسوں چاہئیں۔ تحریک کے دو گروہوں کے باہمی نزاعات اس امر پر شاہد ہیں کہ خود ان لوگوں کو جو بانی تحریک کے ساتھ ذاتی رابطہ رکھتے تھے، معلوم نہ تھا کہ تحریک آگے چل کر کس راستہ پر پڑ جائے گی؟ ذاتی طور پر میں اس تحریک سے اس وقت بیزار ہوا تھا۔ جب ایک نئی نبوت ۔۔۔ بانی اسلام کی نبوت سے اعلیٰ نبوت ۔۔۔ کا دعویٰ کیا گیا اور تمام مسلمانوں کو کافر قرار دیا گیا۔ بعد میں یہ بیزاری بغاوت کی حد تک پہنچ گئی، جب میں نے تحریک کے ایک رکن کو اپنے کانوں سے آنحضرت ﷺ کے متعلق نازیبا کلمات کہتے سنا۔ درخت جڑ سے نہیں، پھل سے پہچانا جاتا ہے۔“

(”سن رائز کے جواب میں“ حرف اقبال از لطیف شیروانی)

علامہ صاحب مزید فرماتے ہیں:

فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ بانی تحریک نے ملت اسلامیہ کو سڑے ہوئے دودھ سے تشبیہ دی تھی اور اپنی جماعت کو تازہ دودھ سے اور اپنے مقلدین کو ملت اسلامیہ سے میل جول رکھنے سے اجتناب کا حکم دیا تھا۔ علاوہ بریں ان کا بنیادی اصولوں سے انکار، اپنی جماعت کا نیا نام (احمدی)، مسلمانوں کی قیام نماز سے قطع تعلق، نکاح وغیرہ کے معاملات میں مسلمانوں سے بائیکاٹ اور ان سب سے بڑھ کر یہ اعلان کہ دنیائے اسلام کافر ہے، یہ تمام امور قادیانیوں کی علیحدگی پر دال ہیں بلکہ واقعہ یہ ہے کہ وہ اسلام سے اس سے کہیں دور ہیں، جتنے سکھ، ہندوؤں سے، کیونکہ سکھ ہندوؤں سے باہمی شادیاں کرتے ہیں۔ اگرچہ وہ ہندوؤں میں پوجا نہیں کرتے۔“

(”سٹیٹسمین کے جواب میں“ حرف اقبال از لطیف شیروانی)

بھٹو حکومت کے دور میں ستمبر 1974ء میں پارلیمنٹ میں بڑی مفصل بحث کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکاروں کو غیر مسلم قرار دے دیا گیا تھا۔ بھٹو حکومت نے اس طرح نوے سالہ پرانا مسئلہ حل کرنے کی سعادت حاصل ہونے کا بھی دعویٰ کیا تھا۔ یہ دعویٰ بے جا

صفحہ 41

بھی نہیں تھا لیکن اس آئینی ترمیم کے بعد مروجہ تعزیرات میں ترمیم کے لیے جن قانونی اقدامات کی ضرورت تھی، ان کے اہتمام کو بوجوہ موخر کر دیا تھا۔ اس مقصد کے لیے اس زمانے میں قومی اسمبلی میں ایک نجی مسودہ قانون بھی پیش کیا گیا لیکن اسے دبا دیا گیا تھا اور اس طرح مسلمانوں کے اس ضمن میں یہ مطالبات پورے نہ ہو سکے اور دس سال تک وجہ اضطراب بنے رہے۔ بعد ازاں حکومت پاکستان کی طرف سے امتناع قادیانیت کے نام سے نافذ کیے جانے والے آرڈیننس سے قانونی اقدامات پورے ہو گئے۔ اس آرڈیننس کے نفاذ نے مسلمانوں کے مطالبہ، توقع اور خواہش پورا کرنے والے قانونی اور منطقی اقدام کا اہتمام کیا۔

قادیانیوں کے اسلام اور پاکستان دشمنی پر مبنی عزائم کے آگے بند باندھنے کے لیے جہاں قانونی و آئینی اقدامات ضروری ہیں وہاں علمی محاذ پر ان کا تعاقب کرنا بھی بہت اہم ہے۔ اس حوالے سے متعدد اہل قلم نے اپنے اپنے انداز میں خدمات سرانجام دی ہیں مگر نوجوان محقق جناب محمد متین خالد کی تازہ کاوش ”ثبوت حاضر ہیں“ قادیانیت کا اصل چہرہ بے نقاب کرنے کے حوالے سے اپنی مثال آپ ہے۔ متین صاحب تبریک و تحسین کے مستحق ہیں کہ انہوں نے کمال محنت سے قادیانی کتابوں کو کھنگال کر، قادیانی عقائد کی عکسی نقول کتابی صورت میں پیش کی ہیں۔ یہ ایک بلند پایہ تحقیقی کتاب ہے جو قادیانیوں کے متعلق نادر معلومات، حیرت انگیز انکشافات اور قادیانیوں کی مذموم سرگرمیوں کے خفیہ گوشوں کو لیے ہوئے ہے۔

یہ نہایت محنت طلب کام تھا جسے خالد نے بڑی خوبی سے نبھایا۔ میرے نزدیک یہ محض کتاب ہی نہیں بلکہ ایک ایسا تیشہ بھی ہے جو مسلمانوں کے اندر کی بے حمیتی کو توڑ کر انہیں تحفظ ختم نبوت کی شاہراہ پر گامزن کرے گا اور خود قادیانی بھی اس معرکہ آراء کتاب سے ایمان کی روشنی حاصل کر سکتے ہیں۔ مجھے اُمید ہے خالد کے اس کارنامہ کی ہر علمی حلقے میں قدر ہوگی۔ میں اس کے لیے تہہ دل سے دعا گو ہوں۔

مجید نظامی چیف ایڈیٹر روزنامہ نوائے وقت لاہور

صفحہ 42

دعوت فکر

الحمدللہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے جس کے آئین کے سیکشن 7 الف میں قرآن وسنت کی بالادستی کا اقرار کیا گیا ہے۔ قرآن وسنت کی رُو سے عقیدہ ختم نبوت دین اسلام کی اساس ہے۔ یہ ایک ایسا عقیدہ ہے جس کی بدولت امت مسلمہ انتشار سے محفوظ ہے۔ یہی عقیدہ پوری امت مسلمہ کے اتحاد، یکجہتی، وحدت، استحکام اور سالمیت کا آئینہ دار ہے۔

قادیانی جماعت اس عقیدہ کی منکر ہے۔ قادیانیوں کا اس عقیدے سے انکار، امت مسلمہ کی یکجہتی اور استحکام کو نقصان پہنچانے اور انتشار و تفریق پیدا کرنے کا باعث ہے، لہٰذا مسلمانوں کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ ایسی جماعت کی مذموم سرگرمیوں کے خلاف اپنا دفاع کریں۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلام اور قادیانیت دو الگ الگ مذاہب ہیں، مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ نبوت ورسالت حضور نبی کریم ﷺ پر ختم ہوگئی ہے جبکہ قادیانی حضرات مرزا غلام احمد کو نیا نبی اور رسول مانتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے نزدیک غیر قادیانی یعنی مسلمان، کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔ دراصل قادیانیت، برطانوی سامراج کی بدترین یادگار ہے جو اس کی حمایت اور سرپرستی میں کام کر رہی ہے۔ یہ ایک مذہب ہی نہیں بلکہ ایک ایسی تحریک بھی ہے جس کی اسلام اور پاکستان سے وفاداری مشکوک ہے۔ پاکستان کے مذہبی حلقوں کا ہمیشہ سے یہ تاثر رہا ہے کہ قادیانی حضرات امت مسلمہ کے ہر معاملے کی بھرپور مخالفت کرتے رہتے ہیں اور یہود و ہنود کے ہر اس منصوبے کی حمایت کرتے ہیں جس کا مقصد مسلمانوں یا اسلام کو نقصان پہنچانا ہو۔ ایسے شواہد بھی سامنے آئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ اسلام دشمن طاقتوں سے تعاون کرتے ہوئے اسلامی عقائد اور تعلیمات کو مسخ کرنے اور ان میں تحریف کرنے کے لیے ان کے ایجنٹ کے طور پر بھی کام کرتے رہے ہیں۔ یہ اطلاعات بھی ملتی رہی ہیں کہ قادیانی لابی غیر محسوس طریقے سے پاکستان کو اندر ہی اندر سے کمزور کرنے میں

صفحہ 43

مصروف ہے۔ کراچی اور پنجاب میں جو تخریب کاری دہشت گردی اور قتل و غارت ہو رہی ہے، قادیانی لابی کو بھی اس ضمن میں شک کی نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔ ہمارے بعض مذہبی حلقوں کا یہ خیال ہے کہ یہی وہ خفیہ ہاتھ ہے جو ملک کی معاشی ترقی اور استحکام کا دشمن ہے۔ خود علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس خطرناک گروہ کی نشاندہی پنڈت جواہر لعل نہرو کے نام اپنے تاریخی مکتوب میں یہ کہہ کر، کر دی تھی کہ ”قادیانی اسلام اور ملک دونوں کے غدار ہیں“۔ 1974ء میں پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر دوسری آئینی ترمیم کے ذریعے قادیانیوں کو ان کے کفریہ عقائد کی بناء پر آئین کے آرٹیکل 106 اور آرٹیکل 260 کی ذیلی شق (3) کے تحت غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ یہ ترمیم طویل صلاح مشورے، علمی بحث و مباحثے اور مسئلے کی مکمل چھان بین کے بعد جمہوری، پارلیمانی اور عدالتی طریقے پر کی گئی تھی۔ پارلیمنٹ میں انہیں غیر مسلم قرار دیئے جانے والے اجلاس میں یہ قرارداد بھی پیش کی گئی کہ ”احمدی اندرونی اور بیرونی سطح پر تخریبی سرگرمیوں میں مصروف ہیں، حکومت پاکستان اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے ان سرگرمیوں کے سدباب کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کرے۔“ درج بالا حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے ضرورت اس بات کی ہے کہ اس گروہ کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جائے اور مسلمانوں کو ان کی حقیقت اور مذموم عقائد و عزائم سے آگاہ کیا جائے۔ مسلمانوں کے لیے جہاں عقیدہ ختم نبوت کی تفصیلات سے آگاہی ضروری ہے، وہاں ان کے لیے قادیانیوں کے اصل چہرے سے شناسائی بھی ضروری ہے۔

میرے لیے یہ بڑی ہی خوشی کی بات ہے کہ نوجوان محقق جناب محمد متین خالد نے ”ثبوت حاضر ہیں“ کے نام سے ایک ایسی کتاب مرتب کی ہے جس میں قادیانیوں کے عقائد و تعلیمات (جو کہ انتہائی قابل اعتراض ہیں) کو ان کی مستند کتابوں سے عکسی دستاویزی شہادتوں کے ساتھ پیش کیا ہے۔ انہوں نے یہ دستاویز تیار کر کے جہاں قادیانیوں کے مکروہ چہرے کو بے نقاب کیا ہے، وہاں تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے کارکنوں، علمائے کرام اور وکلا حضرات سمیت تمام مسلمانوں کو قادیانیت کے خلاف نئے علمی دلائل سے مسلح کیا ہے۔ یہ بات پورے ادراک سے کہی جاسکتی ہے کہ ان کی تحقیق سے نہ صرف مسلمانوں کو ایک نئی تڑپ، سوز جگر، اور دعوت فکر ملے گی، بلکہ اس کتاب کے مطالعے سے قادیانیوں کو بھی اپنے عقائد پر نظر ثانی کرنے کا سنہری موقع ملے گا اور ان تمام نام نہاد دانشوروں کی بھی جو ایک خاص منصوبے

صفحہ 44

کے تحت انہیں مسلمان قرار دیتے ہیں، بدنیتی واشگاف ہوگی۔ قادیانیت کی اصل حقیقت کو سمجھنے کے لیے اس سے بہتر کتاب میری نظر سے نہیں گزری۔ انشاء اللہ یہ کتاب قادیانیت کے لیے آکاس بیل اور مصنف کے لیے اخروی نجات کا باعث ہوگی۔ میں اس عبقری نوجوان کو قادیانیت کا اصل چہرہ سامنے لانے پر مبارک باد پیش کرتا ہوں اور اس کی تحقیق و جستجو اور جذبہ تحفظ ناموس رسالتﷺ کی پاسداری کی دعا کرتا ہوں۔ آمین

لیفٹیننٹ جنرل (ر) حمید گل (سابق) سربراہ آئی ایس آئی اسلام آباد

صفحہ 45

جعلی نبوت کا خاتمہ

ہمارے عزیز محمد متین خالد نے اپنی تالیف ”ثبوت حاضر ہیں“ پر جب ہم سے تبصرہ کرنے کی درخواست کی تو ہم شش و پنج میں پڑ گئے کہ ہم اس پر کیا تبصرہ کریں کیونکہ ”آفتاب آمد دلیل آفتاب“ کے مصداق جب انہوں نے قادیانیوں کی اپنی تحریروں کی عکسی شہادتیں پیش کر دیں تو اب اس کے مزید کسی ثبوت یا تبصرے کی کیا ضرورت باقی رہ جاتی ہے۔ حضرت علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ ہمارے پیر و مرشد ہیں۔ انہوں نے امت مسلمہ کے بارے میں یہ کہہ کر بات ختم کر دی ہے کہ:

دل بہ محبوب حجازی بستہ ایم
زیں جہت با یک دگر پیوستہ ایم

امت مسلمہ کو باہم پیوستہ کرنے والا رشتہ ہی حب رسول ﷺ ہے۔ جو شخص اس رشتہ کو کمزور کرنے کی کوشش کرے گا، وہ اس امت کا دوست نہیں بلکہ دشمن ہو گا۔ وہ تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ عالم عربی کی حدود و ثغور بھی حضور ﷺ ہی کی ذات کی وجہ سے ہیں، لہٰذا

محمد ﷺ عربی سے ہے عالم عربی

عرب ممالک پہلے بھی موجود تھے لیکن عالم عرب حضور ﷺ کی تشریف آوری کے بعد وجود میں آیا۔ لہٰذا عالم عرب ہو یا عالم اسلام ہو، اس کی اساس حضور ﷺ کی ذات گرامی قدر ہی ہے۔ اگر بہ او نرسیدی تمام بولہبی است۔ جو شخص اس بنیاد کو کمزور کرے گا وہ بولہبی فرقے کا فرد شمار ہوگا۔ حضرت علامہ رحمۃ اللہ علیہ نے پنڈت جواہر لعل نہرو کے نام اپنے خط میں اسی لیے فرمایا تھا کہ احمدی صرف اسلام ہی کے غدار نہیں بلکہ وہ ہندوستان کے بھی غدار ہیں۔ انہوں نے ایک ایسی حکومت کی تقویت کے لیے لٹریچر تیار کیا جس نے سات سمندر پار سے آ کر ہندوستان پر غاصبانہ قبضہ کر رکھا تھا۔ حضرت علامہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک بہائی فرقہ قادیانیوں سے بدرجہا زیادہ مخلص اور بہتر ہے کیونکہ بہائی کھلے طور پر اسلام سے بغاوت کا

صفحہ 46

اعلان کرتے ہیں لیکن قادیانی فرقہ اسلام کے اندر رہ کر اس کی جڑیں کاٹنا چاہتا ہے۔ ہم ذوالفقار علی بھٹو کے زبردست ناقد ہیں لیکن اس کی یہ خدمت کبھی نہیں بھول سکتے کہ اس نے قادیانیوں کو اسلام سے خارج کر کے غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا۔ یعنی جو کام قادیانیوں کو خود کرنا چاہیے تھا، وہ حکومت کو کرنا پڑا۔ سوال یہ ہے کہ قادیانی جب نئی نبوت کا اجراء کر کے مسلمانوں سے علیحدہ ہو چکے ہیں تو وہ ان کے اندر رہنے پر کیوں مصر ہیں؟ اب بھی وہ مردم شماری کے موقع پر اپنے نام مسلمانوں کے طور پر لکھواتے ہیں اور خود کو غیر مسلم ماننے پر تیار نہیں ہیں وہ مسلمانوں کے اندر رہ کر ان کی جڑیں کاٹنا چاہتے ہیں لیکن خدا کا شکر ہے کہ اب ساری دنیا میں وہ غیر مسلم تسلیم کر لیے گئے ہیں۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب قادیانیوں کو ابھی غیر مسلم ڈکلیئر نہیں کیا گیا تھا کہ ہمارے کالج میں ایک قادیانی پروفیسر ہوا کرتے تھے جن کا نام رحمت علی تھا لیکن "مسلم" تخلص کرنے کے بعد وہ خود کو "رحمت علی مسلم" لکھا کرتے تھے۔ وہ پیریڈ پڑھانے کے لیے جس کلاس میں بھی جاتے، طلباء ان کے پہنچنے سے پہلے بلیک بورڈ پر ان کا نام "رحمت علی غیر مسلم" لکھ دیا کرتے تھے۔ ہم نے اس وقت اندازہ لگا لیا تھا کہ ایک نہ ایک روز قادیانی غیر مسلم قرار پا جائیں گے کیونکہ زبان خلق نقارۂ خدا ہوتی ہے۔

حضرت علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ ختم نبوت کو خدا کا بہت بڑا احسان قرار دیتے ہیں کیونکہ اس ختم نبوت کے نظریے نے امت مسلمہ کو متحد رکھا ہوا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ:

لا نبی بعدی ز احسان خدا است
پردۂ ناموس دین مصطفیٰ است
قوم را سرمایہ ملت ازو
حفظ سر وحدت ملت ازو

گزشتہ چودہ صدیوں میں یہی عقیدہ ختم نبوت مسلمانوں کے اتحاد کا ضامن رہا ہے۔ نبوت کے کتنے ہی دعویدار کھڑے ہوئے لیکن امت مسلمہ نے کبھی انہیں درخور اعتنا نہیں سمجھا۔ ہمارے نزدیک اگر کوئی مسلمان کسی مدعی نبوت سے اپنے دعویٰ کے ثبوت میں کوئی معجزہ یا دلیل طلب کرتا ہے تو وہ اپنی کمزوری ایمان کا مظاہرہ کرتا ہے۔ جب حضور اکرم ﷺ فرما گئے ہیں کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے، تو اب کسی مدعی نبوت سے یہ کہنا کہ اگر تم سچے ہو تو کوئی معجزہ دکھاؤ، درست نہیں ہے۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ آپ اس کی سچائی کے امکان کے قائل

صفحہ 47

ہیں ۔ جب کوئی نبی آ ہی نہیں سکتا تو خواہ کوئی مدعی نبوت سورج کو مشرق کی بجائے مغرب سے نکال کر دکھا دے، ہم کیسے اس پر ایمان لا سکتے ہیں؟ اس لیے ہم مرزا غلام احمد قادیانی کے دعوے کے رد میں زیادہ بحث مباحثے کے قائل نہیں۔ ہمارے نزدیک اس کے جھوٹے ہونے کے لیے یہی دلیل کافی ہے کہ ہمارے حضور ﷺ نے فرما دیا ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔

ہم جھنگ کالج میں پڑھایا کرتے تھے۔ ہمارے ایک ساتھی پروفیسر نظام خاں بڑے بذلہ سنج آدمی تھے۔ ایک مرتبہ وہ ایف اے کے امتحان میں سپرنٹنڈنٹ بن کر تعلیم الاسلام کالج ربوہ تشریف لے گئے۔ وہاں انہیں پندرہ بیس روز تک قیام کرنا پڑا۔ قادیانی رعب ڈالنے کے لیے اپنے بڑے لوگوں کی مہمانوں سے ملاقات کروایا کرتے ہیں۔ چنانچہ ایک روز سر ظفر اللہ جو ان دنوں عالمی عدالت کے جج تھے، نظام خاں صاحب سے ملنے آئے، انہوں نے خاں صاحب سے از راہ مروت پوچھا کہ آپ یہاں ہمارے مہمان ہیں، آپ کو کوئی تکلیف تو پیش نہیں آئی؟ خاں صاحب نے جواب دیا کہ مجھے یہاں خطرہ ایمان تو محسوس نہیں ہوا لیکن خطرہ جان ضرور محسوس ہو رہا ہے۔ سر ظفر اللہ نے حیران ہو کر پوچھا، کیوں؟ کسی کی طرف سے آپ کو دھمکی ملی ہے یا کسی طالب علم نے نقل کرنے کے لیے آپ پر دباؤ ڈالا ہے؟ خاں صاحب فرمانے لگے کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے، لیکن یہاں کے پانی سے مجھے ”دست شریف“ لگ گئے ہیں۔ سر ظفر اللہ بات کی تہہ کو نہ پہنچ سکے۔ حیران ہو کر کہنے لگے کہ دست شریف؟ چہ معنی؟ خاں صاحب نے جواب دیا کہ جناب! چونکہ یہ ”پیغمبری بیماری“ ہے لہٰذا اس ڈر سے کہ کہیں اس کی توہین نہ ہو جائے یا آپ کے جذبات کو ٹھیس نہ پہنچے، میں نے ”دست شریف“ کہہ کر عزت سے اس کا نام لیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کے بعد سر ظفر اللہ کو پروفیسر نظام خاں سے دوبارہ ملاقات کی جرأت نہیں ہوئی۔

سر ظفر اللہ کو اسی قسم کی شرمندگی ایک اور موقع پر بھی اٹھانا پڑی۔ جنیوا کے کسی ہوٹل میں وہ قدرت اللہ شہاب اور ان کی بیگم کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے۔ جب کوفتوں کی ڈش آئی تو قدرت اللہ شہاب کی بیگم کہنے لگی کہ خدا جانے یہ قیمہ کیسا ہے، اس لیے میں تو نہیں کھاؤں گی۔ سر ظفر اللہ کہنے لگے کہ جب ہوٹل والے کہتے ہیں کہ یہ حلال گوشت کا قیمہ ہے تو ہمیں حضور کے اس فرمان پر عمل کرنا چاہیے کہ کھانے کے معاملے میں زیادہ شک و شبے میں نہیں پڑنا

صفحہ 48

چاہیے ۔ بیگم شہاب کہنے لگیں کہ یہ ہمارے حضور ﷺ کا فرمان ہے یا آپ کے حضور کا ؟ اگر ہمارے حضور ﷺ کا فرمان ہے تو سر آنکھوں پر ! اس پر سر ظفر اللہ خاں اپنا سا منہ لے کر رہ گئے ۔

مدعیان نبوت پہلے بھی پیدا ہوتے رہے ہیں لیکن آج تک نبوت کا کوئی ایسا دعویدار پیدا نہیں ہوا تھا ، جس نے کسی قوت کے گماشتے کے طور پر نبی ہونے کا دعویٰ کیا ہو ۔ یہ شرف قادیان کے نبی کو حاصل ہے کہ اس نے ایک استعماری قوت کے ایجنٹ کے طور پر نبی ہونے کا دعویٰ کیا اور اپنی ممدوح قوت کی مدح میں کتابیں لکھ لکھ کر الماریاں بھر دیں ۔ چاہیے تو یہ تھا کہ اس استعماری قوت کی رخصتی کے ساتھ ہی اس کی ایجنٹ نبوت بھی پاکستان سے رخصت ہو جاتی لیکن یہ ناخوشگوار فریضہ اہل پاکستان کو سرانجام دینا پڑا ۔ ”پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا“ کے مصداق آج اس جعلی نبوت کے خلیفہ برطانیہ میں مقیم ہیں اور عالم اسلام کے خلاف ریشہ دوانیوں میں مصروف ہیں ۔ امت مسلمہ کو یقین ہے کہ جس طرح نبوت کے سابقہ دعویدار نسیاً منسیاً ہو چکے ہیں ، اسی طرح وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ خانہ ساز نبوت بھی اپنے فطری انجام کو پہنچ جائے گی کیونکہ ”لانبی بعدی“ کا یہی تقاضا ہے ۔

ہم اپنے عزیز محمد متین خالد کے شکر گزار ہیں کہ ”ثبوت حاضر ہیں“ کے عنوان سے کتاب لکھ کر انہوں نے جعلی نبوت کے خاتمے کے پراسس میں اپنا حصہ ڈالا ہے ۔ انہوں نے ہم سے دیباچہ لکھنے کا مطالبہ کیا تھا ۔ لہذا ”دیباچہ حاضر ہے ! “

پروفیسر محمد سلیم مدیر ”سرِ راہے“ روزنامہ نوائے وقت لاہور

صفحہ 49

شاہکار کتاب

الحمدللہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفیٰ۔ اما بعد مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی سے جھوٹے مدعیان نبوت کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا، اس کا سلسلہ گذشتہ صدی کے دجال لعین مرزا غلام احمد قادیانی تک پہنچا ہوا ہے اور موجودہ دور میں اس دجال کی جھوٹی نبوت کی تبلیغ جاری ہے۔ یوں تو مسیلمہ کذاب سے لے کر مرزا غلام احمد قادیانی تک تمام جھوٹے نبیوں نے اپنے اور اپنے مذہب پر ملمع سازی کی ایسی دبیز چادر چڑھانے کی کوشش کی جس کی وجہ سے عام مسلمانوں کے ذہنوں کی رسائی، ان کے اس مکر و فریب اور جھوٹ کی طرف بڑی مشکل سے ہوئی ہے لیکن مرزا قادیانی نے دجل و فریب میں تمام ائمہ تلبیس کو پیچھے چھوڑ دیا اور اپنے عقائد پر لفاظی اور تصنع کا ایسا لبادہ اوڑھے رکھا کہ ابتداء میں اکثر علماء کرام اس کے کفر کے بارے میں متذبذب رہے اور علماء کا ایک طبقہ تو مناظر اسلام کی حیثیت سے اس کا معتقد رہا۔ لیکن حق اور باطل کا امتیاز ہو کر رہتا ہے۔ جلد ہی مرزا کی اس ملمع سازی سے پردہ اُٹھا اور علماء امت نے متفقہ طور پر مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی ذریت کے کفر کا فتویٰ صادر فرمایا۔ یہ اس امت محمدیہ ﷺ پر علماء حق کا بہت بڑا احسان ہے۔ پاکستان بننے کے بعد بھی ہمارے مسلمانوں اور حکمران طبقے کی اکثریت، قادیانیت کی اس ملمع سازی کے دامن میں جکڑی رہی اور اس مسئلہ کو فرقہ وارانہ حیثیت دے کر عام طور پر قادیانیوں کی بے جا حمایت کرتی رہی۔ علماء کرام نے ابتداء ہی سے قادیانیت کے اس فریب کا پردہ چاک کرنے کے لیے ان کے عقائد کی روشنی میں کتابیں تحریر کیں اور عام مسلمانوں تک قادیانیوں کے کفریہ عقائد پہنچاتے رہے تاکہ مسلمان قادیانیت کے فریب سے بچ سکیں۔ میری رائے میں جتنے جھوٹے مدعیان نبوت پیدا ہوئے، ان میں دجل و فریب اور تلبیس کے اعتبار سے مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی ذریت کو پہلے نمبر پر قرار دیا جاسکتا ہے۔ ایک جھوٹی نبوت اور اس کے اوپر تسلسل سے جھوٹ، مرزا قادیانی کا طرۂ امتیاز ہے۔ ایک ہی کتاب میں کئی

صفحہ 50

جھوٹی اور متضاد باتیں درج ہیں۔ کون سی بات سچ ہے اور کون سی جھوٹی؟ خود مرزا قادیانی بھی اس کے بارے میں کچھ نہیں بتا سکتا تھا۔ مرزا قادیانی سے لے کر موجودہ خلیفہ تک بڑے اطمینان سے اپنی اور اپنے بڑوں کی باتوں سے اس طرح انکار کردیں گے کہ آدمی حیرت میں مبتلا ہو جائے۔ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جھوٹ بولنے کا محاورہ غالباً مرزا قادیانی اور اس کی ذریت کے لیے وضع کیا گیا ہے۔ تحریری خط و کتابت اور زبانی گفتگو دونوں میں مرزا قادیانی کا طریقہ کار یہی رہا ہے کہ عین وقت پر جھوٹ بول کر اپنی سابقہ گفتگو کا انکار کر دیتا تھا۔ اسی بناء پر عام طور پر علماء کرام نے مرزا قادیانی سے گفتگو، زبانی کی بجائے تحریری کرنا مناسب سمجھی، اس میں بھی وہ اپنی تحریر سے منکر ہوجاتا۔ 1974ء میں جب مرزا قادیانی کے خلیفہ مرزا ناصر پر، مولانا مفتی محمود رحمۃ اللہ علیہ نے اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار کی وساطت سے قادیانی عقائد کے سلسلے میں سوالات کیے تو مرزا ناصر احمد مکمل طور پر مرزا قادیانی کی تحریروں کا انکار کر دیتا۔ اس پر مولانا مفتی محمود، مولانا شاہ احمد نورانی اور دیگر علماء کرام عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے تعاون سے کتاب پیش کرتے تو بعض دفعہ ان کتابوں سے بھی انکار کر دیتا۔ یہ طریقہ آج کل موجودہ قادیانی خلیفہ نے نہ صرف خود اختیار کیا ہوا ہے بلکہ اپنی ذریت کو بھی ہدایت کی ہوئی ہے کہ جب بھی علماء ان سے گفتگو کریں اور کوئی کتاب پیش کریں تو صاف طور پر ان کتابوں اور حوالہ جات سے منکر ہو جاؤ۔ اس بناء پر بعض مرتبہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو اس بات کی ضرورت محسوس ہوئی کہ مرزا کی وہ کتابیں جو نایاب ہورہی ہیں، ان کو محفوظ کیا جائے تاکہ قادیانیوں کے خلاف عدالتی کاروائیوں یا مباحثوں میں ان کتابوں کو پیش کیا جاسکے۔ بہرحال مرزا قادیانی اور اس کی جماعت کے اس طرزعمل کی وجہ سے قادیانی کتب اور حوالہ جات کو محفوظ کرنے کی ضرورت تھی اور بے شمار کتابوں کی طباعت ایک مشکل مرحلہ تھا۔ خدا بھلا کرے عزیزی متین خالد صاحب کا جن کو اللہ تعالیٰ نے قادیانیت کی تردید کا خصوصی ملکہ اور شغف عطا فرمایا ہے اور اس سلسلے میں ان کی تصانیف کو عام لوگوں میں مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے پہلے قادیانیوں کے ایک ایک کفریہ عقیدہ کو ان کی کتابوں سے چن کر ایک جگہ جمع کیا۔ پھر ان کفریہ عقائد کے بارے میں قادیانیوں کی کتابوں سے حوالہ جات جمع کیے اور ہر عقیدہ کے ساتھ قادیانیوں کی کتاب سے فوٹو لے کر اصل حوالے کو بھی طباعت میں شامل کر دیا۔ اس طرح قادیانیت کے تمام جھوٹے عقائد بھی ایک جگہ جمع ہوگئے اور اس کے ساتھ

صفحہ 51

تمام حوالہ جات اپنی اصلی کتابوں کے فوٹو کی صورت میں جمع ہو گئے اور یوں قادیانیت پر اصل حوالہ جات کے حوالے سے ایک بہت بڑا ذخیرہ جمع ہو گیا ہے جو عدالتی کاروائیوں، مناظروں اور مباحثوں میں ریکارڈ اور ثبوت کے طور پر پیش کیا جاسکے گا۔ یہ کتاب اپنی نوعیت کی پہلی کتاب ہے اور اپنے موضوع کے اعتبار سے ایک شاہکار ہے۔ سینکڑوں صفحات پر مشتمل اس کتاب کے مطالعے سے ہر مسلمان قادیانیت کے ایک ایک پہلو سے نہ صرف آگاہ ہو جائے گا بلکہ قادیانیت کے تمام عقائد اور عزائم روز روشن کی طرح واضح ہو جائیں گے۔

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی تالیفات میں یہ ایک گراں قدر اضافہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو شرف قبولیت عطا فرمائے اور اسے مسلمانوں کے لیے نافع بنائے اور ہر مسلمان کو قادیانیت کے شر سے محفوظ فرمائے۔ وصلی اللہ علی نبیہ محمد و آلہ وصحبہ اجمعین

(مولانا) محمد یوسف (لدھیانوی) عفا اللہ عنہ مرکزی نائب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان (کراچی)

۞.......۞.......۞

صفحہ 52

قادیانیت کا KALEIDOSCOPE

تمام دنیا کے اہل ادیان، جس میں عیسائی، یہودی اور مسلمان سبھی شامل ہیں، ان کا عقیدہ اور عمل یہی ہے کہ کسی شخص یا گروہ کے کسی امت میں شامل قرار دیئے جانے یا اس سے خارج کیے جانے کی بنیاد عقیدہ ”نبوت“ ہے۔

ایک شخص سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کا آخری نبی تسلیم کرتا ہے اور ان کے بعد مبعوث ہونے والے رسول، سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو تسلیم نہیں کرتا، اسے یہودی کہا جائے گا۔ کوئی مذہب اور دنیا کا کوئی ملک حتیٰ کہ دہریہ ممالک بھی، اس شخص کو عیسائی تسلیم نہیں کریں گے اور اگر یہ شخص باوجود عیسیٰ علیہ السلام کو رسول تسلیم نہ کرنے کے یہ اصرار کرے کہ اسے عیسائی مانا جائے تو اس کے اصرار کو سیاسی اور دینی، دونوں طبقے اصرار بے جا قرار دیں گے اور اس کی دماغی صحت کو مخدوش تصور کریں گے یا اس کے اس اصرار کو اس کی نیت کے فساد اور عیسائیوں کے خلاف اس کی کسی سازش پر مبنی سمجھیں گے۔

اسی طرح، ایک ایسا شخص جو سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے بعد، سیدنا عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو اللہ کا برحق نبی مانتا ہے، جونہی وہ ان کی نبوت کو تسلیم کرنے کا اعلان کرے گا، اسے یہودیوں سے خارج اور عیسائیوں میں شامل سمجھا جائے گا اور اگر یہ شخص اس پر احتجاج کرے کہ جب وہ موسیٰ علیہ السلام ایسے عظیم اور صاحب شریعت و ناسخ شریعت سابقہ نبی کو تسلیم کرتا ہے، اور ان کے بعد اس نے جس حضرت مسیح علیہ السلام کو نبی اللہ تسلیم کیا تو یہ نبی نہ تو نئی شریعت لائے تھے اور نہ ہی انہوں نے شریعت موسوی کو منسوخ قرار دیا بلکہ وہ تو شریعت موسوی کے مجدد تھے، ان کو نبی تسلیم کرنے سے اسے یہودیوں سے خارج کیوں قرار دیا جا رہا ہے اور یہ مطالبہ کرے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نبی ماننے کے باوجود اسے یہودیوں ہی میں شامل سمجھا جائے اور یہودی سٹیٹ میں جو حقوق ایک یہودی کو حاصل ہیں، اسے وہ دیئے جائیں تو آج کی دنیا کے مذہبی اور دہریہ دونوں قسم کے ممالک اس کے اس دعویٰ اور مطالبہ کو

صفحہ 53

رد کر دینے پر مجبور ہوں گے اور اسے یہودیوں سے خارج اور عیسائیوں میں شامل تصور کریں گے اور اسی کی بنیاد پر اس کے سیاسی، معاشرتی اور مذہبی حقوق وفرائض کا تعین ہوگا۔ یہ قانون ابتدائے آفرینش سے جاری ہے، کل بھی اسے بین الاقوامی حیثیت حاصل تھی اور آج بھی کمیونسٹ، عیسائی، یہودی، ہندو، پارسی اور لامذہب (سیکولر) ممالک اور اقوام اس قانون کو تسلیم کرتی ہیں اور دنیا کا پورا نظام سیاست و مذہب اسی کے مطابق چل رہا ہے۔ "نبوت" کی بنیاد پر قومیت اور مذہب کی تبدیلی کو بے جا تعصب، تنگ دلی اور باہمی نفرت کا نام نہ ماضی میں دیا گیا اور نہ آج کوئی عیسائی، یہودی اور کمیونسٹ اس پر نکتہ چینی کا جواز رکھتا ہے۔

ملت اسلامیہ از اول تا ایں دم، سید الرسل، امام الانبیاء، احمد مجتبیٰ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو خاتم النبیین اور سلسلہ نبوت کی آخری کڑی تسلیم کرتی ہے اور حضور ﷺ کے عہد میں مسیلمہ کذاب سے آج تک ہر مدعی نبوت کو مسلمانوں نے حضور اکرم ﷺ کی امت سے خارج قرار دیا ہے اور ان سے تمام معاملات اسی خروج از ملت اور دین کو ترک کرنے والوں ہی کی حیثیت سے کیے ہیں۔

آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی، حضور سرور کونین ﷺ کی امت سے معاملہ اسی اساس پر کیا ہے جو "دعویٰ نبوت" کو تسلیم کرنے اور نہ کرنے کی صورت میں ابتدائے آفرینش سے آج تک معمول رہا ہے۔ (اس اضافے کے ساتھ کہ انہوں نے مسلمانوں کو اپنی چراگاہ بنایا) مرزا قادیانی نے سن شعور کے بعد اپنے خاندان کی روایات کے مطابق، انگریزی حکومت سے رابطہ قائم کیا اور بات باقاعدہ ملازمت تک پہنچی۔ ملازمت کے دوران اس کا تعلق عیسائی مشنریوں سے ہوا اور وہ تعلق گہرا ہوتا چلا گیا۔ ترک ملازمت کے بعد مرزا قادیانی نے ایک جانب عیسائی پادریوں سے مناظرے شروع کیے اور دوسری طرف عیسائی حکومت کو اللہ ذوالجلال کا سایۂ عاطفت قرار دیا اور ہندوستان و بیرون ہند انگریزی حکومت کی اطاعت کو مذہبی فریضہ قرار دیا اور برطانوی حکومت کی مخالفت کو نمک حرامی اور دین اسلام سے انحراف ثابت کرنے کی مسلسل کوشش کی۔

آنجہانی مرزا غلام احمد اپنے دعویٰ الہام سے وفات تک انگریزوں کے لیے جاسوسی کو دینی کام تصور کرتا رہا اور ایسے مسلمانوں اور غیر مسلمین کے کوائف وائسرائے ہند کو بھجواتا رہا

صفحہ 54

جو خفیہ یا اعلانیہ، برطانوی حکومت کے مخالف تھے یا ہندوستان آزاد کرانے کی جدوجہد کے معاون تھے۔

اسی دوران مرزا غلام احمد قادیانی نے ان تمام مسلم ممالک میں اپنی کتابیں شائع کیں اور بعض ممالک میں مبلغ بھی بھجوائے جو ان لوگوں کی جاسوسی کرتے تھے جو برطانیہ کی غلامی سے نجات حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے تھے اور انگریز انہیں اپنے بہیمانہ مظالم کا نشانہ بنائے ہوئے تھے (بالخصوص عرب ممالک اور افغانستان و ترکی) اور یہ قادیانی کارکن، ان ممالک کے باشندوں کو ”جہاد“ کے بارے میں بددل کرتے تھے۔

ایک عرصے تک، مختلف قسم کے مذہبی دعاوی کے بعد، مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ مسلمانوں کا ایک اہم طبقہ مرزا قادیانی کو آغاز ہی سے مخبوط الحواس شخص تصور کرتا تھا۔ اس کے الہامات کو وہ ”دعویٰ نبوت“ یا اس دعویٰ کی تمہید قرار دیتا تھا اور مرزا مسلسل و پیہم دعویٰ نبوت سے انکار بھی کرتا تھا۔ ختم نبوت کو اساسِ ایمان بھی تسلیم کرتا تھا اور برملا کہتا تھا کہ میں نبوت کا دعویٰ کروں تو اسلام سے خارج اور کفار میں شامل تصور کیا جاؤں گا۔ لیکن جب اس نے واضح الفاظ میں اور قسمیں اٹھا کر اپنے آپ کو نبی کی حیثیت سے پیش کرنا شروع کر دیا تو مسلمانان ہند نے چودہ سو سالہ اسلامی تاریخ کے اجماع کے مطابق مرزا قادیانی کو کافر، مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا۔

مسلمانوں اور قادیانیوں کے مابین اختلاف کا آغاز تو مرزا قادیانی کے دعاوی سے ہوا، دعویٰ نبوت نے اس اختلاف کو فیصلہ کن مرحلے میں داخل کر دیا، اسی دوران مرزا نے، دوسرے جملہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے بالمقابل اپنی انفرادیت اور عظمت کا ادعا کیا تو امت مسلمہ کے جذبات میں اور زیادہ شدت پیدا ہوئی۔ مرزا قادیانی نے بعض انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام بالخصوص سیدنا مسیح علیہ السلام اور انہی کے ساتھ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، سیدنا علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ، سیدنا حسین ابن علی رضی اللہ عنہ، اہل بیت رضی اللہ عنہم اور بعض دوسرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شان میں گستاخیاں کیں اور اپنے آپ کو ان سب سے برتر اور افضل ثابت کرنے کی کوشش کی تو اس کا ردعمل بھی شدید صورت میں رونما ہوا۔

یہ سلسلہ جاری ہی تھا کہ مرزا قادیانی اس دنیا سے کوچ کر گیا۔ اس کے مرنے (مئی 1908ء) کے بعد حکیم نور الدین بھیروی، خلیفہ بنا۔ حکیم نور الدین کو چونکہ علم تھا کہ جس گدھی

صفحہ 55

پر وہ فائز ہوئے ہیں، آخر کار یہ مرزا غلام احمد کے گھر ہی واپس لوٹے گی، لہٰذا 1913-14ء میں جب مرزا محمود، حکیم نور الدین کی اولاد اور متعدد اکابرین، جن میں مولوی محمد علی، خواجہ کمال الدین وغیرہ زیادہ اہم تھے، ان سب کو پچھاڑ کر جماعت پر مستولی ہو گئے تو ان سے شکست کھانے والوں، مولوی محمد علی، خواجہ کمال الدین وغیرہ نے لاہور کو اپنا مرکز بنایا اور کچھ دنوں بعد جب انہوں نے دوبارہ مسلمانوں سے قریبی تعلقات رکھنے کی ضرورت شدت سے محسوس کی تو وہ اپنے اس بنیادی عقیدے سے ہی منحرف ہو گئے کہ وہ مرزا غلام احمد کو نبی مانتے ہیں، (درآنحالیکہ وہ اس سے پہلے اپنے حلفیہ بیانات میں، برملا مرزا غلام احمد کو نبی اور اس کے نہ ماننے والوں کو کافر قرار دیتے رہے تھے)۔

دوسری طرف مرزا محمود نے جماعت پر قابض ہونے کے فوراً بعد انگریز سے اپنا رشتہ مستحکم کیا، جنگ عظیم اول (1914ء، 1919ء) میں نہ صرف یہ کہ انگریز کی کھلم کھلا حمایت کی بلکہ جب انگریز بغداد پر قابض ہوا تو مرزا محمود نے اس پر انتہائی مسرت کا اظہار کیا، قادیان میں شیرینی تقسیم ہوئی اور چراغاں کیا گیا۔ ایسی ہی خوشی کا اظہار، ترکی کی شکست اور دوسرے مسلمان ملکوں پر انگریزی اقتدار کے مستحکم ہونے کے مواقع پر کیا گیا۔

جنگ عظیم اول کے بعد، مرزا محمود نے اپنی جماعت کی سیاسی برتری کے ساتھ ساتھ معاشی استحکام کو زیادہ اہمیت دی اور بالخصوص معاشی میدان میں مسلمانوں کی پسماندگی سے فائدہ اٹھا کر اپنی جماعت کی معاشیات کو مستحکم کیا، اور نوبت بایں جا رسید کہ جہاں قادیانی، حکومت کے دفاتر میں گھسے اور انہوں نے اپنے ساتھیوں کے لیے سرکاری محکموں میں مواقع فراہم کیے، وہاں قادیان میں یہاں تک ہو گیا کہ قادیانی، قادیان کے مسلم دکانداروں سے ”تجارتی معاہدہ“ کے عنوان سے ایک فارم پر کرایا کرتے جس میں دوسری اہم شرائط کے علاوہ یہ عہد ہوتا کہ وہ کسی ایسے گروہ سے تعلق نہیں رکھیں گے جو مذہبی بنیادوں پر قادیانیوں کا مخالف ہو اور وہ اپنے محلوں میں چھوٹے چھوٹے مسلمان دکانداروں سے سالانہ ٹیکس قسم کی رقوم حاصل کیا کرتے تھے۔

ان عوامل نے مسلمانوں اور قادیانیوں میں نزاع کو، زندگی کے تمام شعبوں تک وسیع کر دیا اور جب قادیانیوں نے اپنے سے اختلاف کرنے والے قادیانیوں تک کو، قادیان بدر کرنے انہیں سوشل، اقتصادی اور معاشی بائیکاٹ کا ہدف بنایا اور 1937ء میں عبدالکریم مباہلہ

صفحہ 56

اور حکیم عبدالعزیز پر قاتلانہ حملہ کیا گیا اور فخر الدین ملتانی ایسے فعال و گرم جوش قادیانی کو قتل کر دیا گیا تو مسلمانوں نے اس گروہ کی جارحانہ ذہنیت کو اپنی حقیقی صورت میں سمجھا اور انہوں نے یہ محسوس کیا کہ ملت اسلامیہ کو قادیانیوں سے صرف اعتقادی ارتداد ہی کا نہیں، معاشی، معاشرتی اور مجلسی استبداد کا بھی خطرہ ہے اور سیاسی پہلو سے قادیانی، مسلمانوں کے جس قدر دشمن ہیں، اتنا دشمن شاید انگریز بھی نہیں۔

حالات و واقعات کے اس تسلسل کے دوران کانگرس کا عروج ہوا تو مرزا محمود نے پنڈت جواہر لال نہرو سے گرمجوشانہ تعاون کا رشتہ استوار کیا اور اگرچہ پنڈت نہرو، انگلستان کے ایک سفر سے واپسی کے بعد، اس کا برملا اظہار اپنے خصوصی رفقاء سے کر چکے تھے کہ انگریز کو ہندوستان بدر کرنے کی مہم کی کامیابی کا ایک اہم تقاضا یہ ہے کہ قادیانیوں کی قوت کمزور ہو ۔۔۔ مگر جب پنڈت نہرو نے ڈاکٹر شنکر داس کے اس نقطہ نظر کو اپنا لیا کہ ہندوؤں کے قومی مقاصد کے لیے ایک ”ہندوستانی نبی“ بہت زیادہ مفید ہے اور یہ ”ہندوستانی نبی“ ہی ہو سکتا ہے جو عرب اور مدینہ سے مسلمان کا رشتہ کمزور کر کے، ایک بھارتی قصبہ قادیان سے اس کا تعلق مضبوط کرے تو پنڈت نہرو قادیانیوں کے سرپرست کی حیثیت سے اٹھ کھڑے ہوئے تا آنکہ علامہ اقبال علیہ الرحمہ کو میدان میں کودنا پڑا اور انہوں نے عقائد کی اہمیت، قوموں کے اجتماعی شعور اور ملت اسلامیہ کی اساس ختم نبوت ایسے اہم عنوانات پر دلائل و براہین سے بحث کی جو مذہب کے اعتقادی اور امت مسلمہ کے اجتماعی پہلوؤں پر، مدت تک دانشوروں اور سیاستدانوں کے لیے مشعل راہ ثابت ہوگی، علامہ نے ایک جملے میں ایک عظیم حقیقت بیان کر دی۔ فرماتے ہیں:

اختیار کرتے ہیں تو پھر سیاسی طور پر مسلمانوں میں شامل ہونے کے لیے کیوں مضطرب ہیں؟“

انگریز اور ہندو دونوں کی مصلحتوں کا تقاضا یہی تھا کہ وہ قادیانیوں کو مسلمانوں میں شامل رکھیں اور اس جونک کو ملت اسلامیہ کا خون چوسنے کا موقع زیادہ سے زیادہ فراہم کریں اور اس مدعی نبوت کے طفیل امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوۃ والسلام میں انتشار کی جو خلیج وسیع ہو، اس سے کماحقہ فائدہ اٹھائیں۔ انگریز جب بے بسی کے عالم میں، برصغیر سے بھاگنے لگا تو اس

صفحہ 57

نے اس عالم سراسیمگی میں بھی اپنے ہوش و حواس بحال رکھے اور بانی پاکستان کو مجبور کر دیا کہ وہ قادیانیوں کے سرخیل سر ظفر اللہ کو پاکستان کا پہلا وزیر خارجہ بنائیں۔

وزارت خارجہ ایسے اہم ترین منصب کے علاوہ قادیانیوں نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت، حکومت کے حسب ذیل محکموں پر قابض ہونے کی سکیم بنائی اور وہ اس میں کامیاب ہوئے، محکمے یہ تھے:

(1) فوج (2) پولیس (3) ایڈمنسٹریشن (4) ریلوے (5) فنانس (6) سائنس (7) کسٹمز (8) انجینئرنگ

قادیانی، حکومت کے اعلیٰ ترین مناصب پر فائز ہوئے اور ان مناصب سے انہوں نے وہ دونوں فائدے حاصل کیے جو آنجہانی مرزا محمود احمد نے ان الفاظ میں واضح کیے تھے:

جگہ ہماری آواز پہنچ سکے اور ہماری جماعت فائدہ اٹھا سکے۔“

(روزنامہ الفضل ربوہ 11 جنوری 1954ء)

اسی کے ساتھ ساتھ قادیانی اس کوشش میں مصروف رہے کہ پاکستان کے کسی ایک علاقے کو خالص قادیانی علاقہ بنایا جائے۔ 1952ء میں انہوں نے ”بین الاقوامی سیاسی سازش“ کے تحت بلوچستان کو ”قادیانی علاقہ“ بنانا چاہا مگر بات نہ بن سکی تو اس کے بعد انہوں نے جہاں ربوہ کو ایک مضبوط مرکز بنانے کے لیے خصوصی کوششیں کیں، وہاں انہوں نے حکومت کے تمام اہم شعبوں کو اس طرح گرفت میں لیا کہ قادیانی پورے نظام حکومت کو اپنے سیاسی ذہن کے ساتھ لے چلنے میں بسا اوقات کامیاب ہوئے۔

1969ء میں قادیانیوں نے پہلی مرتبہ کھل کر ایک سیاسی طالع آزما جماعت کی صورت اختیار کی اور معرکہ انتخابات میں کودے۔ پیپلز پارٹی کے حلیف بنے اور کمیونسٹوں سے مل کر انہوں نے ریاست کو سیکولر بنانے اور زندگی کے تمام شعبوں بالخصوص سیاسی محاذ پر مسلمانوں کی نمائندگی کی سند حاصل کرنے کی بھر پور کوشش کی۔

1971ء میں پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئی تو مرزا ناصر نے بار بار انتخابی معرکوں میں قادیانی کارکنوں کی خدمات کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا اور اندرونی سطح پر مرزا طاہر احمد کے ذریعہ مسٹر بھٹو اور مسٹر کھر سے مضبوط تعلقات قائم رکھے اور اس کوشش میں بڑی حد تک

صفحہ 58

کامیاب بھی رہے کہ حکومت پاکستان کی پالیسیاں قادیانیوں کے حسب منشا طے ہوں۔ قادیانیوں سے شدید مذہبی اختلافات رکھنے والے کو حکومت کے ہاتھوں ختم یا بے اثر کیا جائے اور مثبت طور پر قادیانی، حکومت کے ہر شعبہ اور اقتصادی مفادات سے متعلق محکموں میں کارفرما قوت بن جائیں۔

1973ء میں جلسہ سالانہ ربوہ کے موقع پر پاک فضائیہ کے دو طیاروں نے ایئر مارشل ظفر چوہدری قادیانی کی قیادت میں مرزا ناصر کو سلامی دی مگر جب مولانا مفتی محمود صاحب نے قومی اسمبلی میں اس مسئلے کو زیر بحث لانا چاہا تو مرکزی کمیونسٹ وزیر خورشید حسن میر آڑے آئے اور مفتی صاحب کو اپنی قرارداد پڑھنے تک کا موقع نہ دیا۔

1973ء میں اولاً ربوہ کے ایک کالج کو قومیانے، ثانیاً دستور پاکستان میں دفعات بالخصوص عقیدۂ ختم نبوت کے شامل کرنے اور ثالثاً آزاد کشمیر میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیئے جانے کی قرارداد کی منظوری پر قادیانی مشتعل ہوئے اور انہوں نے ان مواقع پر جارحانہ لب و لہجے میں بات کی اور ”موت“ کو محبوب بنانے اور اپنے مخالفین کی ذلت و نامرادی کے کھلے و مبہم ہونے کے اعلانات کیے مگر عملاً قادیانی اتنے جری ہو چکے تھے کہ فضائیہ میں انہوں نے موجودہ حکومت کے خلاف سازش کی، اس سازش کا انکشاف جن اشخاص نے کیا، فضائیہ کے قادیانی سربراہ ظفر چوہدری نے انہیں ہدف بنایا اور صریح دھاندلی و قانون شکنی کرتے ہوئے انہیں طرح طرح کے مظالم کے بعد ریٹائرڈ کیا۔ نوبت بایں جا رسید کہ وزیراعظم بھٹو نے کیس کا خود مطالعہ کیا، حقائق ان کے سامنے آئے تو انہوں نے ظفر چوہدری کو اس کلیدی عہدے سے الگ کیا مگر قادیانی ہنوز انتہائی اہم مناصب پر فائز ہیں، حکومت کی قوت کو قادیانیت کے فروغ اور اپنے مخالفین کی سرکوبی کے لیے استعمال کر رہے ہیں، بیرون پاکستان یہ تاثر دے رہے ہیں کہ قادیانی ہی پاکستان کے کرتا دھرتا ہیں۔

مرزا ناصر نے خلافت سنبھالنے کے معاً بعد (1965ء میں) آئندہ بیس پچیس برس میں متعدد بار قادیانی حکومت کے قیام کی پیش گوئی کی اور اسے بار بار دہرایا، اس پیش گوئی کو پاکستان میں عملاً پورا کرنے کے لیے انواع و اقسام کی فوجی اور غیر فوجی تیاریاں کیں مثلاً

صفحہ 59

بوقت ضرورت بوجھ لاد کر دوڑ سکیں۔

شائع کیا جائے۔

آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی کی امت اپنے مذموم عقائد کی برآوری کے لیے ملک کے کلیدی عہدوں کے طفیل اپنا ہی کھیل، کھیل رہی تھی، وہ ملک عزیز میں اپنا غلبہ چاہتے تھے۔ ان کی جرأتیں اور جسارتیں یہاں تک بڑھ گئی تھیں کہ ملک کے تعلیمی اداروں میں طلبہ یونین کے انتخابات میں علی الاعلان حصہ لیتے اور شکست کو اپنی انا کا مسئلہ بنا لیتے۔ نشتر میڈیکل کالج ملتان کی طلبہ یونین کے انتخابات میں ایک قادیانی طالب علم کے ہارنے کا انتقام انہوں نے اس انداز سے لیا کہ پوری امت ان کے خلاف شعلہ جوالہ بن گئی۔ 22 مئی 1974ء کو نشتر میڈیکل کالج کے طلبہ کا ایک گروپ تفریح اور مطالعاتی دورے پر پشاور کے لیے چناب ایکسپریس سے روانہ ہوا۔ گاڑی جونہی ربوہ پہنچی تو وہاں حسب معمول قادیانی لڑکوں اور طلبہ کی بوگی کے لیے خصوصاً لڑکیوں (قادیانی حوروں) نے اپنا کفریہ لٹریچر تقسیم کرنا شروع کر دیا جس پر طلباء نے اظہار ناپسندیدگی کیا اور ختم نبوت زندہ باد کے نعرے لگائے، اس کے جواب میں قادیانی مشتعل ہو گئے اور احمدیت زندہ باد، محمدیت مردہ باد (نعوذ باللہ) مرزا غلام احمد کی جے، ایسے کفریہ اور اشتعال انگیز نعرے لگائے اور طلبہ کو زدوکوب کیا۔ اسی اثناء میں گاڑی چل پڑی اور یوں ایک بڑا حادثہ ٹل گیا۔ لیکن جب طلبہ کی واپسی اسی ٹرین سے ہوئی اور گاڑی جیسے ہی 29 مئی 1974ء کو سرگودھا سٹیشن پر پہنچی تو قادیانی نوجوان ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مذکورہ بوگی میں بغیر کسی استحقاق کے سوار ہو گئے، جیسے ہی ربوہ سٹیشن آیا، بوگی کو چاروں طرف سے گھیر لیا گیا۔ طلبہ کو مار مار کر لہولہان کر دیا گیا۔ قادیانی سٹیشن ماسٹر نے گاڑی کو نہ جانے دیا۔ جب یہ لٹا پٹا قافلہ فیصل آباد پہنچا تو ایک قیامت کا سماں تھا۔ ریلوے

صفحہ 60

سٹیشن پر مولانا تاج محمود رحمۃ اللہ علیہ کی قیادت میں لوگ قادیانی دہشت گردی کے خلاف سراپا احتجاج تھے۔ قادیانیت کے خلاف مسلمانوں کی نفرت اور غم و غصہ کی لہر پورے ملک میں پھیل گئی۔ قائد حزب اختلاف علامہ رحمت اللہ ارشد، حاجی سیف اللہ خاں اور جناب تابش الوری نے مطالبہ کیا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ اسی روز قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مولانا مفتی محمود رحمۃ اللہ علیہ نے سانحہ ربوہ کے بارے میں آواز بلند کی کہ وہ اس مسئلہ کو زیر بحث لانا چاہتے ہیں۔ وزیر تعلیم عبد الحفیظ پیرزادہ نے یہ استدلال پیش کیا کہ چونکہ امن وامان کا مسئلہ صوبائی نوعیت کا ہے اور یہ مسئلہ صوبائی اسمبلی میں پیش ہو چکا ہے، اس لیے قومی اسمبلی میں اس کی ضرورت نہیں۔ پورے ملک میں قادیانیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے۔ 31 مئی کو سانحہ ربوہ کی انکوائری کے لیے لاہور ہائی کورٹ کے جج جناب جسٹس کے ایم صمدانی پر مشتمل ایک رکنی ٹربیونل کا اعلان کیا گیا۔ صوبہ سرحد کی صوبائی اسمبلی نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی جبکہ صوبہ سندھ کی اسمبلی میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے درمیان اس مسئلہ پر سمجھوتہ ہو گیا ۔ 28 جون 1974ء کو پنجاب اسمبلی کے ستر ارکان نے قرارداد پیش کی لیکن اس وقت کے سپیکر شیخ رفیق احمد نے قرارداد خلاف ضابطہ قرار دے دی۔ 28 جون کو مولانا مفتی محمود رحمۃ اللہ علیہ نے مجلس عمل کا اجلاس اسلام آباد منعقد کیا تاکہ قومی اسمبلی میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی قرارداد پیش کی جائے۔ مجلس عمل نے مسلمانوں سے قادیانیوں کے سوشل بائیکاٹ کی اپیل کی۔ 30 جون کو مولانا شاہ احمد نورانی نے قومی اسمبلی میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی تحریک پیش کی۔ یکم جولائی کو وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کر لیا۔ تحریک کا مورال ایسا تھا کہ قوم کا ہر فرد خود کو تحریک کا حصہ سمجھتا تھا، پوری قوم نے اندرون ملک تمام قومی بینکوں سے اپنا سرمایہ نکلوا کر بیرون ملک یا غیر ملکی بنکوں میں منتقل کرانا شروع کر دیا تا کہ ملک میں معاشی ابتری پیدا ہو سکے۔ ادھر لندن میں بیٹھے سابق وزیر خارجہ پاکستان سر ظفر اللہ خاں، حکومت پاکستان کو دھمکیاں دے رہے تھے کہ پاکستان میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تو اس فرقے کے تمام لوگ بھر پور مزاحمت کریں گے اور کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ قومی اسمبلی میں 13 روز تک قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا ناصر احمد اور لاہوری جماعت کے سربراہ صدرالدین لاہوری پر خصوصی جرح ہوئی اور ان

صفحہ 61

کا حلفی بیان قلمبند کیا گیا۔ اس سلسلہ میں انصاف کے تمام تقاضے پورے کیے گئے۔ مرزا ناصر احمد نے قومی اسمبلی میں اپنی جماعت کی طرف سے محضر نامہ پیش کیا، جس کا جواب مجلس عمل نے علماء کرام کے مشورہ سے دیا جسے ”ملت اسلامیہ کا موقف“ کے نام سے شائع کرانے کے بعد اراکین اسمبلی میں تقسیم کیا گیا۔ لاہوری گروپ کے محضر نامہ کا جواب مولانا غلام غوث ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ نے دیا۔ قادیانی ولاہوری جماعت کے سربراہوں کے مفصل بیانات، ان پر علماء کی جرح اور یحییٰ بختیار کے وضاحتی نوٹس کے دوران قادیانی مسئلہ کا ایک ایک گوشہ اراکین اسمبلی کے سامنے واضح ہو گیا ورنہ اسمبلی کے اکثر اراکین اس مسئلہ کو فرقہ وارانہ مسئلہ سمجھتے تھے۔ اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار کی طرف سے قادیانی جماعت کے سربراہوں پر کی گئی جرح اپنی مثال تھی اور اس کے نتیجے میں ارکان پارلیمنٹ کو فیصلے تک پہنچنے کے لیے کسی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ وزیر اعظم بھٹو نے 7 ستمبر 1974ء فیصلہ کی تاریخ مقرر کر دی۔ پوری قوم کی نگاہیں اس یوم سعید پر مرکوز ہو کر رہ گئیں۔ 7 ستمبر 1974ء ملت اسلامیہ کی تاریخ کا وہ سنہری اور ناقابل فراموش دن ہے جب قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا اور دستور میں ترمیم کے ذریعے مسلمان کی تعریف، ختم نبوت پر ایمان اور قادیانیت سے برأت کو شامل کیا گیا اور یوں آئین پاکستان کی دفعہ 106 کی شق (3) اور آئین کی دفعہ 260 کی شق (2) میں ترمیم کر کے منکرین ختم نبوت کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا۔

قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے بعد آئین اور قانون کا تقاضا تھا کہ انہیں شعائر اسلامی، اسلام کی مقدس شخصیات کے القابات وغیرہ استعمال کرنے، خود کو مسلمان کہلوانے اور قادیانی مذہب کو بطور اسلام پیش کرنے سے روکا جائے۔ اس سلسلہ میں اسمبلی میں کچھ پیش رفت بھی ہوئی تھی مگر بعد میں اس پر کام کو روک دیا گیا۔ یہاں تک کہ 26 اپریل 1984ء کو صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق شہید نے امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری کیا جس کی رو سے کوئی قادیانی اپنے مذہب کی شخصیات کے لیے اسلامی القابات اور شعائر اسلامی استعمال نہیں کر سکتا۔ خود کو مسلمان ظاہر نہیں کر سکتا اور نہ ہی اپنے مذہب کو اسلام کے طور پر پیش کر سکتا ہے، خلاف ورزی کرنے کی صورت میں وہ قید اور جرمانہ کا مستحق ہوگا۔ اس آرڈیننس نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جانے والی آئینی ترمیم کے قانونی تقاضوں کو مکمل کیا۔ پورے ملک میں اس آرڈیننس کو سراہا گیا۔ قادیانی جماعت کے چوتھے سربراہ مرزا طاہر

صفحہ 62

احمد نے اس قانون کی نہ صرف خود خلاف ورزی کی بلکہ اپنے خطبات کے ذریعے اپنے مذہب کے تمام پیروکاروں کو بھی خلاف ورزی پر اکسایا اور حکم دیا کہ وہ اعلانیہ طور پر پورے ملک میں انفرادی اور اجتماعی طور پر اس قانون کی خلاف ورزی کریں، جس پر مرزا طاہر احمد کے خلاف قانون کے تحت مقدمات درج ہو گئے اور وہ گرفتاری سے بچنے کی خاطر رات کی تاریکی میں ملک سے مجرمانہ طور پر فرار ہو کر برطانیہ چلا گیا، ”پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا۔“ مرزا طاہر اب جہنم میں اپنے دادا ابلیس کے پاس پہنچ چکا ہے۔

پاکستان میں قادیانی جماعت کے سالانہ جلسہ پر پابندی لگنے کے بعد قادیانی جماعت ہر سال برطانیہ میں اپنا جلسہ منعقد کرتی ہے جس کا توڑ کرنے کے لیے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ہر سال باقاعدگی کے ساتھ برطانیہ میں انٹرنیشنل ختم نبوت کانفرنس منعقد کرواتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہماری محنت کے نتیجہ میں آج برطانیہ ایسے آزاد خیال ملک میں بیداری کی لہر دوڑ رہی ہے۔ ہر شخص سمجھتا ہے کہ یہ لوگ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر منافقت سے کام لیتے ہیں اور ان سے سوشل بائیکاٹ کی تحریک بھی چل رہی ہے۔ یہ بھی خبریں آ رہی ہیں کہ مرزا طاہر احمد برطانیہ سے جرمنی شفٹ ہو رہا ہے۔ انشاء اللہ بزرگوں کے عزم کے مطابق قادیانی اگر چاند پر بھی چلے گئے تو ان کا وہاں بھی محاسبہ کیا جائے گا۔

اسلام دشمن مغربی طاقتوں نے مرزا طاہر احمد اور اس کے حواریوں کے پروپیگنڈہ سے متاثر ہو کر اس صدارتی آرڈینینس کو قادیانیوں کے انسانی حقوق کے منافی قرار دیا اور انڈیا سمیت پورا مغربی میڈیا کھل کر قادیانیوں کی حمایت میں آ گیا اور اس اقدام کے خلاف واویلا شروع کر دیا۔ امریکی سینٹ کی خارجہ تعلقات کی کمیٹی نے پاکستان کی فوجی اور اقتصادی امداد کے لیے اپنی قرارداد میں جو شرائط شامل کی تھیں، ان میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ ”امتناع قادیانیت آرڈینینس“ ختم کیا جائے کیونکہ اس سے قادیانیوں کی مذہبی آزادی اور سرگرمیوں میں رکاوٹ آ رہی ہے۔

ادھر پاکستان میں قادیانیوں نے امتناع قادیانیت آرڈینینس کو وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کیا جہاں وہ بڑی تیاری اور بڑے کروفر کے ساتھ آئے۔ اللہ کے فضل سے وہ یہاں بھی ذلیل و رسوا ہوئے اور ان کی رٹ مسترد ہو گئی۔

آنجہانی مرزا قادیانی نے 23 مارچ 1889ء کو قادیانی فتنہ کی بنیاد رکھی، چنانچہ اس

صفحہ 63

فتنہ کے سو سال پورے ہونے پر قادیانی 23 مارچ 1989ء کو صد سالہ جشن منانا چاہتے تھے۔ اس کے لیے انہوں نے اپنے پاکستانی مرکز ربوہ میں عالمی سطح پر اہتمام کیا جس میں خدام احمدیہ کی طرف سے عسکری طاقت کا مظاہرہ بھی شامل تھا۔ جھوٹ کے سو سال مکمل ہونے پر صد سالہ جشن اور وہ بھی آئین و قانون کے خلاف، یہ مسلمانوں کے لیے اشتعال کا باعث تھا۔

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اس تشویشناک صورت حال پر غور کرنے کے لیے اپنے اجلاس منعقدہ 12 مارچ 1989ء کو اہم فیصلے کیے۔ مجلس کا ایک وفد ہوم سیکرٹری پنجاب سے ملا اور ان کی توجہ حالات کی سنگینی کی طرف متوجہ کروائی جس پر پنجاب حکومت نے ہوش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے قادیانی جشن پر فوری پابندی عائد کردی۔ قادیانیوں نے اس پابندی کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا۔ جناب جسٹس خلیل الرحمٰن خان صاحب نے اس اہم کیس کی سماعت کی۔ انہوں نے قادیانیوں سے کہا کہ جشن کا وقت گزر گیا۔ اب یہ رٹ بعد از وقت ہے۔ مگر قادیانی مُصر تھے کہ نہیں! فیصلہ ہونا چاہیے کہ جشن پر پابندی جائز تھی یا ناجائز۔ بہر حال عدالتی کاروائی شروع ہوئی۔ دونوں طرف سے وکلاء پوری تیاری کے ساتھ پیش ہوئے۔ 22 مئی 1991ء کو کیس کی سماعت مکمل ہو گئی۔ جناب جسٹس خلیل الرحمٰن خان صاحب نے 1 ستمبر 1991ء کو فیصلہ سنایا اور قرار دیا کہ جشن پر پابندی آئین، قانون اور انصاف کے عین مطابق ہے۔ انہوں نے اپنے فیصلہ میں لکھا کہ ”جب قادیانی اپنے سینہ پر کلمہ کے بیج لگاتے ہیں تو وہ توہین رسالت ﷺ کے مرتکب ہوتے ہیں کیونکہ قادیانی، مرزا قادیانی کو ”محمد رسول اللہ“ سمجھتے ہیں۔“

(PLD 1992 Lahore-1)

اسی طرح پاکستان کی متعدد ہائی کورٹوں میں قادیانیوں نے جتنے بھی کیس دائر کیے، اس میں انہیں منہ کی کھائی۔ آخری مرتبہ وہ 1993ء میں اپنے خلاف صادر ہونے والے تمام فیصلوں کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان میں آئے جہاں انہوں نے یہ موقف اختیار کیا کہ امتناع قادیانیت آرڈیننس ”بنیادی انسانی حقوق“ کے خلاف ہے۔ سپریم کورٹ کے فل بینچ نے 5 دن مسلسل راولپنڈی میں اس کیس کی سماعت کی۔ اس بینچ نے متفقہ طور پر قادیانیوں کی تمام اپیلیں خارج کردیں اور اس تاریخی آرڈیننس کو قرآن وسنت اور بنیادی انسانی حقوق کے عین مطابق قرار دیا۔ سپریم کورٹ کے فل بینچ کا یہ فیصلہ تاریخ ساز ہے اور میرے خیال میں ہر مسلمان کو اس کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔ سپریم کورٹ نے متفقہ طور پر اپنے فیصلہ میں لکھا: ”ہر قادیانی

صفحہ 64

اپنے کفریہ عقائد کی بناء پر ”سلمان رشدی کی طرح ہے۔“ (1993 SCMR 1718) مرزا طاہر نے سپریم کورٹ کے ان ریمارکس پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے نہ صرف اس تاریخی فیصلہ پر کڑی تنقید کی بلکہ ججوں کے بارے میں بھی اپنے دادا مرزا قادیانی کی طرح غلیظ زبان استعمال کی۔

حضور نبی کریم ﷺ کی عزت وناموس کے تحفظ کی خاطر 1988ء میں تعزیراتِ پاکستان میں 295-C کا اضافہ کیا گیا جس کی رُو سے توہین رسالت ﷺ کے مرتکب کی سزا، سزائے موت ہے جبکہ اس سے پہلے اس کی سزا صرف تین سال تھی۔ قادیانیوں کا مطالبہ ہے کہ اس قانون کو ختم کیا جائے۔ وہ اسے کالا اور امتیازی قانون کہتے ہیں۔ کلیدی عہدوں پر فائز قادیانیوں اور اسلام دشمن مغربی طاقتوں کی کوشش سے کئی بار اس سلسلہ میں کوشش ہو چکی ہے مگر اسلامیان پاکستان کی حضور نبی کریم ﷺ سے بے پناہ عقیدت ومحبت کی بناء پر وہ اپنی کوششوں میں ناکام رہے اور انشاء اللہ ناکام رہیں گے۔

یہ ہے قادیانیوں کی سرگرمیوں، ان کی تاریخ اور ان کے مقاصد کی ایک ہلکی سی عکاسی اور ”ثبوت حاضر ہیں“ ان عنوانات کے دستاویزی شواہد کی ترجمان ہے۔ یہ کتاب انہی حقائق کو آشکارا کرے گی جس کے مطالعہ سے آپ قادیانیت کے بارے میں علی وجہ البصیرت ایک قطعی رائے قائم کرنے میں سہولت حاصل کر سکیں گے۔

برادرم عزیز جناب محمد متین خالد کی چشمِ بصیرت نے خوردبین کے بغیر قادیانیت شناسی کا حق ادا کر دیا ہے جس طرح خوشبو کسی تعارف کی محتاج نہیں ہوتی، وہ پھیلتی ہے تو اپنا تعارف خود کرواتی ہے، اسی طرح خالد کی کتاب اپنا تعارف خود کرواتی ہے۔ وہ نوجوان ہیں اور بہت سی گوناگوں خوبیوں کے مالک ہیں۔ انہوں نے انتھک محنت، ریاضت، دیدہ وری اور ذہانت کے ساتھ سینکڑوں قادیانی کتابوں کو کھنگال کر اس کتاب کو ایسی تہذیب وترتیب سے پیش کیا ہے کہ مذہبی دنیا ان کی تحقیق پر ورطہ حیرت میں ڈوب جائے گی۔ یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ ان کی تحقیق کی ضیاء پاشیوں سے بے شمار لوگ فیض یاب ہوں گے۔ ختم نبوت کے ہر کارکن کے لیے یہ کتاب KALEIDOSCOPE ہے جس کی پھرکی گھومتی (ورق الٹتا) ہے تو قادیانیت کے بارے میں ہر نیا انکشاف سامنے ہوتا اس کے ساتھ ساتھ یہ تاریخی کتاب قادیانی اذہان میں بھی تلاطم برپا کرے گی۔ جناب محمد متین خالد عام مسلمانوں کی طرف سے

صفحہ 65

تحسین و ستائش کے مستحق ہیں۔ یہ کتاب میرے خیال میں ان کے لیے باعث افتخار اور ملت اسلامیہ کے لیے موجب نازش ثابت ہوگی۔ میں اس کی اشاعت پر بے حد خوشی و انبساط محسوس کر رہا ہوں۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ان کے علم و عمل میں برکت نصیب فرمائے۔ آمین۔

بہ احترامات فراواں (فقیر) اللہ وسایا ایڈیٹر ہفت روزہ ختم نبوت انٹرنیشنل (کراچی) حال مقیم ملتان

صفحہ 66

قادیانیوں پر اتمام حجت

قادیانی عقائد و نظریات بلکہ مغالطوں اور التباسات پر گزشتہ سوا سو سال کے دوران ہزار ہا کتابیں، کتابچے اور لاکھوں صفحات لکھے جا چکے ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے معاصر اور ہم وطن علماء سے لے کر دور جدید کے عرب و عجم کے اہل علم تک ہر صاحب بصیرت نے اتمام حجت کرنے میں کوتاہی نہیں کی۔ جن کو اللہ تعالیٰ نے قلب سلیم سے نوازا ہے، ان کے لیے ایک ہی مدلل تحریر کافی ہوتی ہے لیکن جن کے دلوں پر مہر لگ چکی ہو، ان کے لیے دفتر کے دفتر بے معنی ہی رہتے ہیں۔

مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے ماننے والوں کو اور کوئی تعلیم دی ہو یا نہ دی ہو، ضد اور ڈھٹائی خوب سکھا رکھی ہے۔ ان لوگوں کے سامنے چاہے ادھر کی دنیا اُدھر ہو جائے، یہ اپنی گمراہیوں پر ذرہ برابر غور کرنے کو تیار نہیں ہوتے اور ہر بات کے جواب میں یہی کہتے رہتے ہیں کہ یہ مخالفین کا پروپیگنڈا ہے۔ اس لیے گزشتہ سو سال کا تجربہ یہی ہے کہ آپ ان کے سامنے جیسا چاہے ثبوت پیش کر دیں، یہ اپنی ہی کہتے رہتے ہیں۔

جناب محمد متین خالد کی کتاب اتمام حجت بھی اس سو سالہ اور مخلصانہ کاوش کا ایک اور قابل ذکر نمونہ ہے۔ انہوں نے مرزائیوں کے سارے لٹریچر سے سینکڑوں شواہد ان کی کفریات و خرافات کے جمع کر کے مرزا قادیانی اور ان کے متبعین کی اصل کتابوں کی عکسی نقول کے ساتھ پیش کر دیئے ہیں۔ ان شواہد سے وہ مسلمان خاص طور پر استفادہ کر سکتے ہیں جن کو قادیانیوں کے اصل مآخذ کے ذریعہ ان کے کفریات و خرافات سے براہ راست واقف ہونے کا موقع نہیں ملا۔

مصنف نے مرزا صاحب کی کتابوں سے منتخب مواد کو مختلف ابواب کے تحت بڑے سلیقہ سے مرتب کر دیا ہے، ان ابواب میں نبوت، ختم نبوت، توہین باری تعالیٰ، توہین انبیاء، مسلمانوں کی تکفیر اور مرزا قادیانی کی شخصیت اور ذاتی کردار جیسے اہم موضوعات سے بحث کی

صفحہ 67

گئی ہے۔

کتاب کا علمی معیار اس کے اصل مآخذ کے حوالوں سے ظاہر ہے، معیار طباعت اونچا اور ترتیب منطقی ہے۔ ملک کے ممتاز ترین اور جید ترین اہل علم و دانش کی تقریظات و آراء نے کتاب کی اہمیت اور ثقاہت میں اور بھی اضافہ کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کاوش کو مصنف کے لیے بلندی درجات کا، مسلمان قارئین کے لیے اطمینان قلبی کا اور قادیانی قارئین کے لیے ہدایت کا ذریعہ بنائے۔

محمود احمد غازی وفاقی وزیر برائے مذہبی امور

۞......۞......۞

صفحہ 68

”ثبوت حاضر ہیں“: ایک مطالعہ

حقیقت یہ ہے کہ علامہ اقبال نے قادیانیت پر جو کچھ لکھا ، اور جس بصیرت کے ساتھ اس کا تجزیہ کر کے اس کا تار و پود بکھیر کر رکھ دیا، وہ اُن کی دکھتی رگوں کو چھیڑنے کے مترادف تھا۔ ایک تو علامہ اقبال کی شخصیت، دوسرے ایسی ”ضرب کلیم“ قادیانی اس چوٹ کو آج تک نہیں بھولے۔ اس چوٹ کی دکھن، وہ اس لیے بھی محسوس کرتے ہیں کہ 1974ء میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی پارلیمنٹ نے انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دے کر، علامہ اقبال کی تجویز یا مطالبے پر صاد کیا۔ اقبال نے 64 سال پہلے قادیانیت کا جو تجزیہ کیا تھا، اس کا علمی جواب تو قادیانیوں سے آج تک نہیں بن پڑا۔ مگر وہ علامہ کو کسی نہ کسی حوالے سے بدنام و رسوا کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ ان کی تحریک انہدام اقبال کا دائرہ اب پاکستان سے باہر بھارت اور یورپ خصوصاً برطانیہ تک وسیع ہو رہا ہے۔ مگر یہ ایک الگ موضوع ہے۔ سر دست قادیانیت کی اصلیت اور ان کے عزائم کے بارے میں ایک تازہ کتاب ”ثبوت حاضر ہیں“ کا تعارف کرانا مقصود ہے۔

قادیانیوں نے ایک مہم کے تحت مرزا غلام احمد کی کتابیں معدوم کرنے کی کوشش کی ہے اور اس میں وہ خاصی حد تک کامیاب ہوئے ہیں۔ جہاں بھی مرزا کی کسی کتاب کا سراغ ملے، وہ اسے حاصل کر کے ضائع کر دیتے ہیں۔ جناب محمد متین خالد کی زیر نظر کتاب قادیانیت کے اصل چہرے کو بے نقاب کرتی ہے۔ وہ مرزا غلام احمد کے عقائد و عزائم کو، ان کی قدیم اور اصل کتابوں کے عکسی نقول کی صورت میں سامنے لائے ہیں۔ قادیانیوں کی اپنی ہی مطبوعہ کتابوں کی یہ شہادتیں، قادیانیت کی ایک ایسی تصویر پیش کرتی ہیں، جس سے عام مسلمان ناواقف ہیں۔ امت مسلمہ اور عالم اسلام کے لیے یہ تصویر بے حد خوفناک ہے اور انسانیت و اخلاق کی سطح پر نہایت پست اور شرمناک ہے۔

قادیانیت کی ان کتابوں میں اس طرح کی بہت کچھ لغویات و خرافات ملتی ہیں۔

صفحہ 69

ان تحریروں کا ایک حصہ تو بالکل کوک شاستر قسم کا ہے اور ہر طرح کے احساس شرم و حیا کو بالائے طاق رکھے بغیر اس میں سے کوئی اقتباس نقل کرنا ممکن نہیں۔ مرزا کا اسلوب تضاد بیانی، ذہنی مجہولیت اور انتشار خیالات کا ملغوبہ ہے۔ ایک جگہ کہتے ہیں: ”ناحق گالیاں دینا سفلوں اور کمینوں کا کام ہے“۔ (ست بچن صفحہ 21 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 133 از مرزا قادیانی) مگر خود مخالفین پر بکثرت لعنت بھیجتے ہیں اور ان کے لیے شیطان، منحوس، ملعون، کذاب، خبیث، سفیہوں کا نطفہ، بدکار، ولد الحرام اور رنڈیوں کی اولاد۔۔۔۔ جیسے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ لغویت اور مضحکہ خیزی کی حد تو یہ ہے کہ جب کسی پر ہزار بار لعنت بھیجنا چاہتے ہیں تو طرز تحریر یہ ہوتا ہے کہ لعنت 1، لعنت 2۔۔۔۔۔۔۔ اور اس طرح کئی صفحے سیاہ کر نے کے بعد 1000 لعنت تک پہنچ کر ہی ان کی تسکین ہوتی ہے۔ (نورالحق صفحہ 118 تا 122 مندرجہ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 158 تا 162 از مرزا قادیانی)

کیا قادیانی مملکت پاکستان کے وفادار ہیں؟ یہ سوال اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کے بارے میں قادیانیت اور بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس کے خیالات اور مقاصد میں حیرت انگیز مماثلت پائی جاتی ہے۔ دونوں کا مقصود ”اکھنڈ بھارت“ ہے۔ یہ جملے: ”ہم ہندوستان کی تقسیم پر رضامند ہوئے تو خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری سے اور پھر یہ کوشش کریں گے کہ کسی نہ کسی طرح متحد ہو جائیں“۔۔۔۔۔۔ کسی پٹیل، نہرو یا گاندھی کے نہیں بلکہ قادیانی خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود کے ہیں (روزنامہ ”الفضل“ 17 مئی 1947ء)

حقیقت یہ ہے کہ خوئے غلامی، قادیانیت کی سرشت میں شامل ہے۔ محکومی، ہندو کی ہو، یہود کی ہو یا انگریز کی، اسے بہ خوبی راست آتی ہے۔ کسی آزاد فضا اور پاکیزہ ماحول میں اس کی نشوونما ممکن نہیں۔ اس لیے جب پاکستان میں ان پر گرفت ہوئی اور عدالتوں کا سامنا کرنے کا خدشہ پیدا ہوا تو قادیانی خلیفہ مرزا طاہر احمد، لندن جا کر انگریزوں کے ”سایہ رحمت کے نیچے“ جا بیٹھے۔ انگریزوں کے اس ”خودکاشتہ“ گروہ کو اماں ملی تو کہاں ملی۔ ”حیات احمد“ کے مصنف کا یہ اقتباس: ”جھوٹے آدمی کی یہ نشانی ہے کہ جاہلوں کے روبرو تو بہت لاف گزاف مارتے ہیں، مگر جب کوئی دامن پکڑ کر پوچھے کہ ذرا ثبوت دے کر جاؤ تو جہاں سے نکلے تھے وہیں داخل ہو جاتے ہیں“ (حیات احمد، حضرت مسیح موعود کے سوانح حیات جلد دوم نمبر اوّل صفحہ 25 از یعقوب علی عرفانی) اس صورت حال پر صادق آتا ہے۔ مختصر یہ کہ

صفحہ 70

قادیانیت، اس وقت یہود، ہنود اور نصاریٰ (بطور خاص برطانیہ) کے تعاون و اعانت سے پرورش پارہی ہے۔...... بہ مصداق بعضہم اولیاء بعض (المائدہ 5-50)

محمد متین خالد نے بڑی دیدہ ریزی اور جانفشانی سے یہ تحقیق کی ہے اور اس پر بہ ہر طور تعریف و تحسین کے مستحق ہیں۔ سو سال پرانی کتابوں کی تلاش و دریافت ہی جان جوکھم کا کام ہے۔ پھر خالد صاحب نے پورے مواد کو مختلف عنوانات کے تحت بڑے سلیقے سے مرتب کیا ہے۔ قادیانیت پر یہ ایک مستند دستاویز ہے۔ اس موضوع پر کام کرنے والوں کے لیے ”ثبوت حاضر ہیں“ سے اعتنا و استفادہ ناگزیر ہوگا۔

رفیع الدین ہاشمی منصورہ، لاہور

صفحہ 71

احمدی احباب کے لیے

”اک حرف مخلصانہ“

جناب پروفیسر منور احمد ملک پیدائشی احمدی تھے۔ انہوں نے 40 سال جماعت احمدیہ کی بھرپور خدمت اور تبلیغ میں گزارے۔ پروفیسر منور احمد ملک ایک سائنس دان کی حیثیت سے شہرت رکھتے ہیں۔ وہ شمسی توانائی کی چند ایجادات کے موجد بھی ہیں اور ایک ریسرچ سکالر کی حیثیت سے مختلف میدانوں میں اپنے جوہر بھی دکھاتے رہتے ہیں۔ 1999ء میں اللہ کے فضل و کرم سے وہ احمدیت کو اچھی طرح سمجھ پرکھ کر اس پر تین حروف بھیج کر اسلام قبول کر چکے ہیں، اور آج کل وہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو استعمال کر کے قادیانیت کے خفیہ گوشوں کو بے نقاب کرنے کا فریضہ ادا کر رہے ہیں تاکہ ایک عام احمدی کو ”وہ سب کچھ“ معلوم ہو سکے جو دانستہ طور پر اس سے چھپایا جاتا ہے۔ خدا تعالیٰ ان کی مساعی میں برکت ڈالے۔ آمین!....... (م۔م۔خ)

احباب جماعت: اس عاجز نے آپ کے ساتھ مل کر 35 سال سے زائد عرصہ تک احمدیت کی ترقی و تبلیغ کے لیے اپنی استعداد سے بڑھ کر خدمت کی ہے۔ اپنے زمانہ طالب علمی میں ہر مقام پر جماعت کی عزت کو بڑھانے اور جماعت کی خاطر ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار رہتا تھا۔ اس دور میں جبکہ مجھے ساری توجہ اور وقت تعلیم کی طرف دینا چاہیے تھا۔ بہت سارا وقت بلکہ بہت زیادہ وقت جماعتی کاموں میں خرچ کیا۔ ظاہر ہے اس کے نتیجہ میں تعلیمی ترقی متاثر ہوئی۔ مگر اس وقت ایک مذہبی جنون طاری تھا۔

پنجاب یونیورسٹی میں ایم ایس سی کے دوران قائد (زعیم) خدام الاحمدیہ نیو کیمپس لاہور (حلقہ نیو کیمپس ہاسٹلز) اور قیادت ماڈل ٹاؤن میں بطور ناظم تعلیم اور ضلع لاہور کی سطح پر نائب ناظم اصلاح و ارشاد (تبلیغ) کے طور پر کام کرتے ہوئے بہت زیادہ وقت جماعت کو دیا۔ 1984ء تا 1986ء راولپنڈی میں قیام کے دوران ناظم تعلیم قیادت خدام الاحمدیہ علاقہ راولپنڈی کی حیثیت سے کام کیا۔ چکوال کالج میں سروس کے دوران نگران خدام الاحمدیہ ضلع چکوال کے طور پر خدمات انجام دیں۔ گورنمنٹ ڈگری کالج جہلم میں ٹرانسفر ہونے کے بعد مقامی جماعت کے عہدیدار کے علاوہ ناظم تعلیم ضلع جہلم اور نائب امیر جماعت ضلع جہلم کے طور

صفحہ 72

پر خدمات انجام دیتا رہا۔ درج بالا عہدوں پر کام کرنا کوئی باعث فخر نہ سمجھتا تھا بلکہ ایک مخلص احمدی کی طرح سر جھکائے ہر خدمت میں آگے بڑھنا ایک سعادت سمجھتا تھا مگر پھر کیا ہوا؟

1990ء تا 1995ء جماعت کے ساتھ تمام قسم کے اخلاص کے باوجود بعض ایسے واقعات ہوئے جنہوں نے جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ آہستہ آہستہ جماعت کی مذہبی اور اخلاقی حالت منکشف ہوتی چلی گئی۔ نظام جماعت ”برہنہ“ ہوتا چلا گیا۔ اخلاقی اقدار کے محل زمین بوس ہوتے گئے اور اپنے آباؤ اجداد کی طرف سے ورثے میں ملے ہوئے دین پر نظر ثانی کا موقع ملا۔ چنانچہ غور و خوض کے بعد جو کم از کم پانچ سال کے عرصہ پر محیط ہے، میں ایک نتیجہ پر پہنچا جو پندرہ جنوری 1999ء بروز جمعۃ الوداع اپنے بھائی اور والد محترم سمیت کل 13 افراد کے ساتھ قبول اسلام کے اعلان کی صورت میں ظاہر ہوا۔ بعد میں مزید چھ افراد اور شامل ہوگئے۔

احباب جماعت: میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے اپنی سیالکوٹ میں سروس کے دوران چند عیسائی لوگوں سے بحث کے نتیجہ میں مذہبی مناظروں کی طرف رخ کیا۔ اس وقت عیسائیوں کی حکومت کے نتیجہ میں مسلمانوں پر خاصا دباؤ تھا۔ مسلمانوں نے مرزا صاحب کی حوصلہ افزائی کی۔ مرزا صاحب مزید تیز ہوگئے۔ اپنے محل وقوع میں عیسائیوں کے خلاف تقاریر و تحریر کا سلسلہ شروع کیا۔ مسلمانوں نے ان کی حوصلہ افزائی جاری رکھی۔ مزید آگے بڑھتے ہوئے مرزا صاحب نے اعلان کیا کہ وہ اسلام کی حقانیت کو واضح کرنے کے لیے 50 جلدوں پر مشتمل ”براہین احمدیہ“ نامی کتاب لکھیں گے، اس کے لیے مسلمان حضرات کو 50 جلدوں کی کل رقم ایڈوانس دینے پر قائل کیا۔ اسلام کی تبلیغ کا جوش رکھنے والے مخیر حضرات نے اس پر لبیک کہا اور 50 جلدوں کی رقم اکٹھی کردی۔

مرزا صاحب نے چار جلدیں لکھیں اور خوب اشتہار بازی بھی کی۔ اس سے مسلمانوں میں عزت سے دیکھے جانے لگے۔ واضح رہے کہ باوجود مسلمانوں کے اصرار کے، صرف پانچ جلدیں لکھ کر اعلان کردیا کہ میں نے اپنا وعدہ پورا کردیا کیونکہ 50 اور 5 میں صفر کا فرق ہے۔ یہ مذاق میں بات نہ کی بلکہ اس دعوے کو شائع بھی کردیا۔

اب جو لوگ ان کی طرف مائل ہوچکے تھے، ان کو کسی ”بیعت“ میں لانے کی ضرورت تھی اور اپنی کوئی حیثیت بھی بنانے کی ضرورت تھی۔ لہٰذا اس پبلسٹی کو کیش کرواتے ہوئے چودھویں صدی کے مجدد کا دعویٰ کردیا اور ایک حدیث تلاش کر لی کہ ہر صدی کے سر پر

صفحہ 73

ایک مجدد آئے گا اور پھر خود ہی کچھ صدیوں کے مجدد دریافت کر دیئے۔ اس دعوے سے کچھ لوگ ان کے مزید قریب ہو گئے اور چند لوگ پیچھے ہٹ گئے جبکہ ایک اعتراض شروع ہو گیا کہ چودھویں صدی کا مجدد تو امام مہدی ہوگا۔ کیونکہ ایک تصور اسلامی لٹریچر میں موجود تھا کہ امام مہدی چودھویں صدی میں آئیں گے۔ اسے مرزا صاحب نے بھی خوب ایکسپلائیٹ کیا۔ جب اعتراض زیادہ شدت اختیار کر گیا کہ چودھویں صدی کا مجدد تو امام مہدی ہوگا، اس لیے آپ کیسے مجدد بن گئے؟ تو مرزا صاحب نے ”ڈیمانڈ“ پوری کرتے ہوئے امام مہدی کا دعویٰ بھی کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی باقاعدہ جماعت بنانے کے لیے لوگوں کو مرید اکٹھا کرنے اور پابند رکھنے کے لیے 1889ء میں بیعت لینے کا سلسلہ شروع کر دیا۔

اب اعتراض یہ ہونے لگا کہ امام مہدی تو اس وقت ظاہر ہوں گے جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے یعنی دونوں کا ایک زمانہ ہو گا، تو پھر عیسیٰ علیہ السلام کہاں ہیں؟ اس ”ڈیمانڈ“ کو پورا کرنے کے لیے اعلان کر دیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں اور ان کی قبر سری نگر (کشمیر) میں محلہ خانیار میں موجود ہے اور ایک حدیث تلاش کر لی کہ ”حضرت عیسیٰ کے سوا مہدی نہیں ہے“ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی امام مہدی ہیں اور وہ درجنوں حدیثیں نظر انداز کر گئے جو ان دونوں کو الگ الگ پیش کر رہی ہیں۔ اب دعویٰ یوں بنا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو فوت ہو چکے ہیں اور جس عیسیٰ کے آنے کی پیشگوئی ہے، وہ اصل میں مثیل عیسیٰ ہوں گے چنانچہ میں عیسیٰ کا مثیل ہوں۔ میں ہی امام مہدی ہوں۔ میں ہی مسیح موعود ہوں۔ اس طرح بحث، مناظروں اور تقاریر و تحریر کا لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا۔

اس عرصہ میں وہ ختم نبوت کے قائل تھے اور نبی اکرمﷺ کے اس فرمان ”لانبی بعدی“ کا یہی مطلب لیتے تھے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ درج بالا دعوؤں کے بعد علماء اسلام نے اس ابھرنے والے ”فساد“ کو روکنے کے لیے زور لگانا شروع کر دیا، کیونکہ اس سے امت میں ایک عجیب سا تلاطم برپا ہونے والا تھا۔ علماء نے یہ اعتراض کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو نبی اللہ تھے اور آپ ایک امتی۔ پھر آپ کیسے ان کے مثیل بن سکتے ہیں؟ اس اعتراض کو کافی عرصہ برداشت کیا اور پھر مجبوراً اس ”ڈیمانڈ“ کو پورا کرنے کا پروگرام بنایا۔ اور بہت بڑا قدم اٹھاتے ہوئے 1902ء میں ”امتی نبی“ کا دعویٰ کر دیا اور ختم نبوت کی نئی تاویلیں شروع

صفحہ 74

کر دیں اور قرآن کی آیات کے نئے معنی ایجاد ہو گئے۔ حالانکہ 1835ء تا 1902ء (مرزا صاحب کی 67 سالہ زندگی) تک قرآن مجید کی ان آیات کا ترجمہ معمول کے مطابق رہا مگر 1902ء میں یکسر اس کے معنی بدل گئے۔ مرزا صاحب کا یہ ایک ایسا قدم تھا جس نے مرزا صاحب کو سخت پریشان کیا اور ان کے بعد ان کی جماعت کو اس قدر اس دعوے سے نقصان ہوا ہے کہ جس کی تلافی کسی طرح بھی ممکن نہیں۔ اگر وہ پہلے دعوؤں کو ہی کافی سمجھتے تو یہ جماعت احمدیہ یا اسلام پر ان کا ایک احسان ہوتا۔ ہزاروں انسانوں کا خون ان کی گردن پر نہ جاتا۔

مرزا صاحب نے "امتی نبی" کے جواز کے لیے حضرت محمد ﷺ کی عزت کو بڑھانے کی طرف توجہ دی اور انہیں استاد اور اپنے آپ کو شاگرد ظاہر کر کے یہ ثابت کرنے لگے کہ جتنا بڑا استاد ہو گا اتنا بڑا شاگرد۔ دیکھو یہ استاد کتنی بڑی شان والا ہے کہ اس کا شاگر نبوت کے عہدے تک پہنچ گیا ہے۔ مقصد نبی اکرم ﷺ کی شان بڑھانا نہ تھا بلکہ اپنے دعوے کا جواز مہیا کرنا تھا۔ جب کچھ عرصہ اس پر گزر گیا اور اس دعوے پر پکے ہو گئے تو پھر استاد سے آگے بڑھ گئے اور کہا

میں کبھی آدم کبھی موسیٰ کبھی یعقوب ہوں
نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار

(درثمین از مرزا قادیانی)

پھر اپنے استاد کے ماننے والوں کو کافر اور غیر مسلم کہنا شروع کر دیا اور ان سے ہر قسم کے تعلقات قطع کرنے کے کا اعلان کر دیا۔ یہاں تک کہ استاد کا پیروکار جہنمی اور شاگرد کا پیروکار بہشتی کے فلسفے تک پہنچ گئے۔

احباب جماعت: مرزا صاحب نے اتنے زیادہ دعوے کیے اور پھر کتابوں کے پڑھنے سے ان کے دعوؤں میں اختلاف نظر آتا ہے کہ آدمی کنفیوز ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک جماعت احمدیہ کا ایک فرد بھی مرزا صاحب کے اصل دعوے کو بیان نہیں کر سکتا۔ ان کے دعوؤں کا خلاصہ کر کے اپنی شناخت نہیں بتا سکتا۔ کبھی وہ ایک طرف سے مسلمانوں سے الگ ہوں گے تو دوسری طرف سے مسلمانوں میں گھسنے کی کوشش کریں گے۔ اگر کوئی احمدی مرزا صاحب کا مکمل دعویٰ اور فائنل حیثیت بیان کر سکتا ہے تو ضرور مجھے بتائے، میں اس کا شکر گزار ہوں گا۔

صفحہ 75

احباب جماعت: 1974ء کے بعد سے جماعت نے اس بات پر بہت زور دیا ہے کہ مسلمانوں نے احمدیوں کو کافر یا غیر مسلم قرار دیا ہے جو اصولاً غلط ہے کیونکہ کسی کو یہ اختیار نہیں کہ وہ کسی کو غیر مسلم قرار دے۔ یہ بندے اور خدا کے درمیان تعلق ہے۔ خدا بہتر جانتا ہے کہ کون ایماندار ہے۔ مسلمانوں میں تکفیر بازی کو اچھال کر یہ ثابت کیا جاتا رہا ہے کہ مسلمانوں کا گویا کام ہی یہ ہے کہ ایک دوسرے کو کافر قرار دیں، اور احمدیوں کو بھی اسی تکفیر بازی کا نشانہ بنایا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے (مجھے بھی 40 سال بعد پتہ چلا ہے) کہ مرزا صاحب نے اپنے دور میں ہی عام مسلمانوں کو کافر اور غیر مسلم قرار دے دیا تھا۔ مرزا بشیر الدین محمود احمد جو نہ صرف مرزا صاحب کے بیٹے تھے بلکہ جماعت کے دوسرے خلیفہ بھی، نے واضح طور پر عام مسلمانوں کو غیر مسلم اور کافر قرار دیا۔ جبکہ مرزا بشیر احمد ایم اے جو نہ صرف مرزا صاحب کے بیٹے تھے بلکہ جماعت انہیں ”قمر الانبیاء“ کا خطاب دیتی ہے، نے مرزا صاحب نبی نہ ماننے والے مسلمان کے لیے ”کافر بلکہ پکا کافر“ جیسے الفاظ استعمال کر کے انتہا کر دی۔

احباب جماعت: یہ بھی تو دیکھیں کہ مرزا صاحب نے کہا کہ میرے پاس پیسے نہیں۔ کتابیں شائع کرنے کے لیے چندہ کی روایت ڈالی اور پھر منظم طریق سے دینی اغراض کے لیے چندہ اکٹھا کرنا شروع کر دیا مگر ہم دیکھتے ہیں جب پاکستان بننے پر مرزا صاحب کی فیملی پاکستان میں داخل ہوئی تو ہر فرد کے حصے میں کلیم کے کئی کئی مربے زمین آئی اور بہت سی زمین خریدی گئی بلکہ سندھ میں تو بہت سے گاؤں (سٹیٹس States احمد آباد، محمود آباد، طاہر آباد، عامر آباد، بشیر آباد وغیرہ) آباد کر دیئے گئے۔ پھر مرزا صاحب کی فیملی کے تمام افراد کی رہائش، آسائش اور بودوباش کو دیکھو تو آپ کی ضرور آنکھیں کھل جانی چاہیے کہ بغیر کسی کاروبار کے، بغیر کسی سروس کے، اتنے شاہانہ اخراجات، اتنی جائیداد اور دولت کہاں سے آ رہی ہے؟

یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ہر احمدی (خواہ وہ غریب ہو) نے اپنی آمدنی کا تقریباً 10 فیصد ہر ماہ ادا کرنا ہے۔ کیا یہ ٹیکس ہے؟ جی ہاں، یہ ٹیکس ہے کیونکہ اس کا دینا لازمی ہے۔ اگر آپ نہیں دیتے تو آپ احمدی نہیں رہ سکتے۔ آپ ووٹ نہیں دے سکتے۔ آپ عہدیدار نہیں بن سکتے۔ اگر چندہ دیتے ہیں تو پھر مذہبی اور اخلاقی حالت کیسی ہی کیوں نہ ہو، آپ ”مخلص احمدی“ تصور ہوں گے۔

احباب جماعت: یہ بھی تو دیکھیں کہ پاکستان میں آپ کے اردگرد موجود احمدی

صفحہ 76

جماعتوں کی کیا حالت ہے۔ پچھلے 30 سالوں میں کتنے نئے لوگ جماعت میں داخل ہوئے اور کتنے احمدی جماعت چھوڑ گئے؟ آپ یقیناً دیکھیں گے کہ آنے والوں کی نسبت، جانے والوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔ دل کو آپ یہ سوچ کر تسلی دیں گے کہ دوسرے شہروں میں آنے والوں کی تعداد بہت ہو گئی ہے۔ مگر یہ صرف اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے مترادف ہوگا۔ پورے پاکستان میں تمام جماعتیں روز بروز تنزلی کا شکار ہیں اور آپ یہ یقین کر لیں کہ آج سے 50 سال پہلے جتنے خاندان احمدی تھے، وہ آہستہ آہستہ جماعت سے علیحدہ ہو رہے ہیں نہ کہ نئے خاندان جماعت میں آ رہے ہیں۔ خصوصاً احمدی خاندانوں کے تعلیم یافتہ افراد نئی روشنی سے فائدہ اٹھا کر روشنی کی طرف سفر کرتے ہوئے اسلام کی پاکیزہ تعلیم کو قبول کر لیتے ہیں۔ اگر آپ یہ سمجھیں کہ باہر کی دنیا میں خاصے لوگ احمدی ہو رہے ہیں اور تعداد لاکھوں سے بڑھ کروڑوں تک پہنچ گئی ہے جیسا کہ نام نہاد ”عالمگیر بیعت“ سے دھوکہ لگ رہا ہے تو :

پہلی بات یہ کہ آج سے 50 سال قبل کے احمدی خاندان، احمدیت کو بہتر طور پر سمجھ چکے ہیں، اس لیے جماعت کو آہستہ آہستہ چھوڑ رہے ہیں جبکہ باہر کے ”بھولے لوگ“ اصل بات کو جانتے نہیں لہٰذا دھوکے سے جماعت کے شکنجے میں کچھ آ رہے ہیں۔

دوسری بات یہ کہ آپ ذرا غور فرمائیں کہ 2000ء میں اعلان ہوا کہ 4 کروڑ افراد نے بیعت کی ہے جبکہ پچھلے سال کا ”سکور“ ایک کروڑ تھا۔ اس طرح گویا صرف دو سالوں میں پانچ کروڑ افراد نئے احمدی ہو چکے ہیں۔ اب جماعت تو کسی شخص کو (احمدی کو) چندے کے حوالے سے بخش نہیں سکتی، کیونکہ یہ چندے تو مرزا صاحب نے لاگو کیے تھے، اسی لیے انہیں ”لازمی چندہ“ کہا جاتا ہے۔ اس طرح اگر فی کس ایک ڈالر فی مہینہ تصور کر لیں (یورپ، امریکہ میں ڈالر پاکستانی روپے کے برابر حیثیت رکھتا ہے۔ ایک روپیہ فی کس کسی طرح بھی جماعت برداشت نہیں کر سکتی لازماً زیادہ چندہ وصول کرے گی) تو 12 ڈالر فی کس سالانہ بنتا ہے جبکہ پانچ کروڑ افراد (نو احمدی) کا سالانہ چندہ 60 کروڑ ڈالر بنتا ہے جو کہ پاکستانی روپیہ کے مطابق 36 ارب روپے بنتا ہے۔ یہ چندہ تو صرف دو سال میں نئے شامل ہونے والے احمدیوں کی طرف سے بنتا ہے جبکہ گذشتہ 10 سالوں میں نئے شامل ہونے والے افراد اور پہلے سے موجود احمدی افراد کا چندہ اس کے علاوہ ہے۔

اگر 36 ارب روپے کے برابر جماعت کے پاس چندہ آ رہا ہے تو پھر پاکستانی

صفحہ 77

احمدیوں سے چندہ وصول کرنا نہ صرف زیادتی ہے بلکہ انتہا درجہ کا ظلم ہے جو ایک صدی سے غربت کے باوجود بڑے اخلاص سے چندہ دیتے آرہے ہیں، اب جبکہ جماعت کے پاس اربوں روپیہ آرہا ہے تو جماعت کو ان غریبوں کو ریلیف دینا چاہیے۔

احباب جماعت: جماعت احمدیہ اب ایک مذہبی تحریک سے نکل کر ایک تجارتی یا مالیاتی نیٹ ورک کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ اگر پیسے کی کلیکشن باہر نکال دیں تو باقی کچھ نہ بچے گا۔ جماعت احمدیہ کی قیادت احمدی افراد کو اسلام سے بہت دور لے کر جا چکی ہے۔ ایک احمدی فرد کے دل میں مکہ، مدینہ کا احترام نہیں ہوگا جتنا احترام ربوہ، قادیان یا لندن کا ہوگا۔ ایک احمدی بچے سے دوسرے خلیفہ کا نام پوچھیں تو وہ حضرت عمرؓ کی بجائے مرزا بشیر الدین کا نام بتائے گا۔ زکوٰۃ سے احمدی کوسوں دور جاچکے ہیں۔ حج سے جماعت تو پہلے ہی منہ موڑ چکی ہے۔

1974ء میں احمدیوں پر حج کے حوالے سے پابندی لگی۔ 1974ء میں مرزا طاہر احمد جماعت کی طرف سے ترتیب دیئے گئے اس گروپ میں شامل تھے جو قومی اسمبلی میں جماعت کی ترجمانی کے لیے پیش ہوتا رہا ہے، گویا مرزا طاہر احمد صاحب اس وقت خاص حیثیت کے مالک تھے۔ کیا مرزا طاہر احمد اس وقت تک 10/5 حج کرچکے تھے یا 20/10 عمرے کرچکے تھے؟ جواب نفی میں ہوگا۔ پھر کیونکر پوری جماعت نے ان کو مذہبی لحاظ سے سب سے افضل پایا کہ ان کو اپنا خلیفہ چن لیا۔ مرزا طاہر احمد نے بھی حج اس لیے نہیں کیے اور جماعت نے بھی اسی لیے اس بات کو اہمیت نہیں دی کہ ان کے نزدیک حج کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس ”فضول کام“ (نعوذ باللہ) پر وہ کیوں پیسہ برباد کریں؟

احباب جماعت: یہ بھی تو دیکھیں کہ مرزا صاحب نے خود ایک فیصلہ کن معرکہ لڑ کر شکست کھائی ہے اور اس بارے میں خود فیصلہ دیا ہے کہ جو جھوٹا ہوگا، شکست کھائے گا۔ ہوا یوں کہ ڈاکٹر عبدالحکیم آف پٹیالہ احمدی تھے۔ 20 سال احمدی رہنے کے بعد وہ علیحدہ ہو گئے اور مرزا صاحب کو چیلنج کر دیا۔ ان کو جھوٹا قرار دیا اور پیشگوئی کی کہ وہ 4 اگست 1908 تک ہلاک ہو جائیں گے۔ یعنی مرزا صاحب چونکہ جھوٹے ہیں، اس لیے 4 اگست 1908ء تک ہلاک ہو جائیں گے۔ مرزا صاحب نے چیلنج قبول کیا اور مقابل میں اس پیشگوئی کو اس پر الٹتے ہوئے کہا کہ جو جھوٹا ہوگا، وہ 4 اگست 1908 تک ہلاک ہو جائے گا اور یہ مقدمہ خدا کی عدالت میں ہے اور خدا صادق کا ساتھ دے گا۔ پھر یوں ہوا کہ مرزا صاحب نے چیلنج قبول

صفحہ 78

کر کے اپنی کتاب چشمہ معرفت میں یہ اعلان شائع کر دیا ۔ (دیکھئے چشمہ معرفت از مرزا غلام احمد قادیانی صفحہ 322)

خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ اس اعلان کے شائع ہونے یعنی کتاب کے شائع ہونے کے صرف 11 دن بعد مرزا صاحب 26 مئی 1908ء کو یعنی مقررہ تاریخ سے دو ماہ قبل اس میعاد کے اندر پیشگوئی کے مطابق فوت ہو گئے۔ ’’کیا فرماتے ہیں علماء احمدیت بیچ اس مسئلہ کے؟‘‘

احباب جماعت: ذرا غور فرمائیں کہ 50 سال سے زائد عمر کا ایک بزرگ جو نہ صرف عالم ہے بلکہ ایک مذہبی جماعت کا سربراہ بھی ہے، ایک شریف زادی 11 سالہ لڑکی (محمدی بیگم) کے ساتھ شادی کرنے کے لیے ہر غیر اخلاقی حربہ اختیار کرتا ہے اور مسلسل 19 سال تک اشتہار بازی کے ذریعہ اس کی عزت کو اچھالتا ہے۔ کیا یہ کسی شریف آدمی کو زیب دیتا ہے؟ (مزید تفصیل کے لیے دیکھیں آئینہ کمالات اسلام از مرزا قادیانی)

ایک بات مزید عرض کرتا چلوں کہ کسی کی بات، انداز مخاطب، تحریر و تقریر، اس کی ذہنی اپروچ اور ذہنیت کی عکاسی کرتی ہے۔ ذرا اس کتاب کے صفحہ 344 تا 345 اور 391 تا 394 کو ضرور پڑھئے اور دل تھام کر جواب دیجئے کہ ’’حضرت مسیح موعود‘‘ کی یہ تحریر کیا آپ اپنی بہن، بیٹی یا ماں کے سامنے اپنے گھر والوں کو سنا سکتے ہیں؟ اگر یہ اخلاقی معیار پر پورا نہیں اترتی تو سمجھ لیں کہ اس تحریر سے آپ کی طرف سے بیزاری آپ پر فرض ہو چکی ہے۔

احباب جماعت: زیر نظر کتاب ’’ ثبوت حاضر ہیں‘‘ مکمل طور پر ایک بار ضرور پڑھیں۔ کتاب پڑھنے کے بعد یقیناً آپ حقیقت کو پالیں گے اور اسلام کے دامن یقیناً وابستہ ہو جائیں گے۔ اگر آپ اس کتاب کو مکمل طور پر پڑھنے کے بعد بھی اپنے پرانے نظریات پر قائم رہیں تو پھر یقیناً سمجھیں کہ ہماری الہامی کتاب قرآن مجید میں آپ لوگوں کی مثال ایک آیت میں یوں بیان ہوئی ہے۔ صم بکم عمی ............. اور آپ اس کے یقینی مصداق ہیں۔ اس کتاب کے بعد دلائل کی ضرورت نہیں بلکہ ایک بار پھر 1974ء کی تحریک کی تجدید کی ضرورت ہے۔ میرے خیال میں آج تک جتنی کتابیں احمدیت کے خلاف لکھی گئی ہیں، ان سب سے بڑھ کر محترم محمد متین خالد صاحب کی یہ کاوش ہے۔ متین صاحب نے ایک ایسا کام کر دیا ہے جو انتہائی مشکل اور ایک بڑے نیٹ ورک کا متقاضی تھا۔ ان کی انتھک محنت ایک ایسا شاہکار وجود میں لائی کہ اب اس سے آگے مزید کسی کتاب کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔

صفحہ 79

ماسوائے کسی تحریک ختم نبوت کے۔

خاکسار عرض کرتا ہے کہ اگر آپ کی عمر 30 سال سے زائد ہوچکی ہے تو آپ ابھی اسلام سے زیادہ دور نہیں گئے۔ آپ پیدائشی طور پر مسلمان ہیں۔ 1974ء کے بعد آپ غیر مسلم قرار پائے، لہٰذا آپ کے ذائقے میں ابھی تک مسلمانی کا ذائقہ قائم ہوگا۔ ابھی تک آپ کوئی فارم پُر کرتے ہوئے مسلمان کے کالم کو چھوڑ کر غیر مسلم کے خانے میں اپنا اندراج کرواتے ہوئے جھجکتے ہوں گے تو آؤ! اس ذائقہ کو بحال کرو۔ اور ہر اس ملاوٹ کو ختم کردو جو نبی اکرم ﷺ کے قدموں میں جانے سے روکے، جو مدینہ اور مکہ کی طرف جانے والے راستوں پر ناکے لگائے اور اسلام کی مقدس تعلیم سے دور کرے۔

خدا تعالیٰ آپ کو خالص اسلام اپنانے کی توفیق بخشے۔ آمین!

پروفیسر منور احمد ملک سابق نائب امیر جماعت احمدیہ ضلع جہلم

صفحہ 80

کوزے میں دریا

قادیانیت اسلام کے متوازی ایک ایسا مذہب ہے جو اسلام دشمن سامراجی طاقتوں کا سیاسی لے پالک ہے۔ اس کا مقصد اُن طاقتوں کی سرپرستی میں اسلام کی بنیادوں کو منہدم کرنا اور پاکستان میں عجمی اسرائیل کی زمین تیار کرنا ہے۔ یہ لوگ دن رات وطن عزیز کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔ 1974ء میں تمام مسلمانوں نے آپس کے تمام اختلافات ختم کر کے بے مثال اتفاق و اتحاد کا مظاہرہ کیا تھا جس کی برکت سے منکرینِ ختمِ نبوت کا یہ گروہ غیر مسلم اقلیت قرار پایا۔ آج پھر وہی یکجہتی، اتفاق و اتحاد، وحدت اور جذبہ کی ضرورت ہے تاکہ اس فتنہ کا مکمل قلع قمع ہو سکے۔ اس فتنہ کی سرکوبی کے لیے کوشش کرنا ہر مسلمان کا اولین ایمانی فریضہ ہے۔ عزیزی محمد متین خالد خوش قسمت نوجوان ہیں جنھوں نے قادیانی کفریہ عقائد وعزائم کی عکسی شہادتوں کے حوالہ سے ”ثبوت حاضر ہیں“ نامی تاریخی کتاب تیار کر کے اپنی ذمہ داری پوری کی ہے۔ وہ تحفظِ ختمِ نبوت کو اپنی زندگی کا واحد مقصد سمجھتے ہیں اور اس کے لیے ہر وقت اور مسلسل کوشاں رہتے ہیں۔ یہی ان کی شناخت ہے، انھوں نے برسوں کا سفر دنوں میں طے کیا ہے۔ زیر نظر کتاب ”ثبوت حاضر ہیں“ کے حوالے سے وہ ایک بڑے محقق کے روپ میں سامنے آئے ہیں۔ انھوں نے ایک ماہر وکیل کی طرح ملتِ اسلامیہ کی طرف سے ایک مضبوط کیس پیش کیا ہے جس کا قادیانیوں کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ تحقیق و جستجو کی دنیا میں قادیانیت کے حوالہ سے یہ اپنی نوعیت کی منفرد کتاب ہے۔ عزیزی خالد نے اس کوزے کے لیے بلاشبہ بہت سے دریاؤں کی تہوں میں اُتر کر حقیقتِ حال کا جائزہ لیا ہے، اور یوں بیحد کدوکاوش، تحقیق و جستجو، بے پناہ مطالعہ، غوروفکر، عرق ریزی، شبانہ روز محنت اور خداداد صلاحیتوں کے سبب جو دستاویز تیار کی ہے، اس سے انھوں نے اپنی عاقبت سدھارنے کا انصرام کیا ہے اور بخشش کا سامان بھی۔ میں اس تاریخی دستاویز کی اشاعت پر انھیں دل کی اتھاہ

صفحہ 81

گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ میری دعائیں ہمہ وقت ان کے ساتھ ہیں۔

؎ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ

فقیر ابوالخلیل (خواجہ) خان محمد امیر مرکزیہ، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان خانقاہ سراجیہ، کندیاں شریف

PDF 82

s s@PAGE 82

تاریخ ساز آئینہ

تحفظ ختم نبوت ایک ایسا خداداد جذبہ ہے جو بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔ یہ ہر کسی کا مقدر نہیں کہ وہ قدرت کے ایسے عظیم عطیہ اور انمول نعمت سے سرفراز ہو جائے۔ نگاہ کرم جن دلوں کو اس انعام کے لیے چن لیتی ہے، صرف وہی اس سعادت سے بہرہ اندوز ہوتے ہیں ۔

ایں سعادت بزور بازو نیست
تا نہ بخشد خدائے بخشندہ

ایسے ہی خوش نصیبوں میں برادر عزیز محمد متین خالد کا شمار ہوتا ہے جو اپنے سینے میں تحفظ ناموس رسالتﷺ کی شمع جلائے مسلسل اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہیں۔ وہ قادیانیت کے معتبر نبض شناس ہیں اور بات سمجھانے بلکہ دل میں اتارنے کا ادراک جانتے ہیں۔ وہ اپنی تحریروں میں حیرت انگیز معلومات اور ہوش ربا انکشافات کا رنگ بھرتے ہیں جس سے اس کے ڈانڈے سنجیدگی اور تفکر سے جاملتے ہیں۔ زیر نظر کتاب ”ثبوت حاضر ہیں“ اس کی تازہ مثال ہے۔ قادیانیت نے اپنے برص زدہ چہرے کے خدوخال چھپانے کے لیے ان پر اسلام کے گل صد رنگ ریشم کی خوبصورت نقاب اوڑھ رکھی ہے جسے عزیزی خالد نے تحقیق کے محدب شیشے سے بے نقاب کیا ہے۔ بلکہ یوں کہئے کہ انھوں نے قادیانیت کے اندر گھس کر اس کے عقائد کا محاصرہ کیا ہے تاکہ وہ اسے چھپا نہ سکیں۔ خالد نے قادیانیت کے بعض ایسے روح فرسا عقائد بے نقاب کیے ہیں کہ انھیں پڑھ کر کلیجہ پھٹنے کو آتا ہے، دل ٹکڑے ہوتا ہے، سینہ چھلنی ہوتا ہے، آنکھیں خون کے آنسو روتی ہیں، ہاتھ پاؤں شل ہوجاتے ہیں، روح میں زہر آلود نشتر چبھتے اور دماغ مفلوج ہوتا محسوس ہوتا ہے۔ یہ کتاب ایک بار پڑھنے اور سو بار سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ اس کا مطالعہ بہت سے ذہنوں سے شکوک و شبہات کے کانٹے نکال دے گا۔ میرے خیال میں یہ کتاب قادیانیت کے موضوع پر عہد حاضر کی منفرد، بہترین

صفحہ 83

اور جامع کتاب ہے۔ بلاشبہ انھوں نے تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے خداداد جذبہ، کمال محنت و ریاضت اور بے پایاں ذوق وشوق سے یہ دستاویز تیار کی ہے۔ ایسی کتاب وقت کی ضرورت تھی جسے خالد نے اپنی موقر کوشش سے بروقت پورا کر کے تحفظ ختم نبوت سے اپنی بے پایاں محبت کا ثبوت دیا ہے۔ قادیانیت کے خلاف جدوجہد میں تحفظ ختم نبوت کے ہر کارکن کے لیے یہ کتاب ایک راہنما مبلغ کا کام دے گی۔ اس طرح ہر مسلمان کے لیے اس کا مطالعہ ناگزیر ہے۔ یہ کتاب بغیر توفیق الٰہی ممکن نہیں تھی۔ ان شاء اللہ یہ کتاب خالد کے لیے دین و دنیا میں فوز و فلاح کا ذریعہ ثابت ہوگی۔

عزیز الرحمٰن جالندھری مرکزی ناظم اعلیٰ، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان

۞......۞......۞

صفحہ 84

نفیر قلم

عقیدہ ختم نبوت اسلام کا بنیادی اور اساسی عقیدہ ہے۔ قرآن وسنت میں اس عقیدہ کی اہمیت وعظمت واضح طور پر بیان کی گئی ہے۔ اس عقیدہ کا تحفظ ہر مسلمان پر فرض ہے۔ یہ عقیدہ اتنا نازک اور حساس ہے کہ اگر اس پر ذرا سا بھی شک وشبہ کا گردو غبار پڑ جائے یا اس کے تحفظ کے سلسلہ میں ذرا سی بھی بے حمیتی، کمزوری یا لاپروائی برتی جائے تو آدمی ایمان کی لازوال دولت سے محروم ہوسکتا ہے۔ اسے ایک چلتی پھرتی لاش تو کہا جاسکتا ہے ــــــ مگر وہ مسلمان کہلانے کا ہرگز مستحق نہیں رہ سکتا۔ یہ عقیدہ اپنی اہمیت کے اعتبار سے ایمانیات کی معراج ہے۔ یہی وہ عقیدہ ہے جس پر ہر مسلمان اپنا سب کچھ قربان کرسکتا ہے اور یہی اسلامی غیرت وحمیت کا تقاضا ہے۔ یہ عقیدہ اسلام کے ازلی دشمنوں کی آنکھ میں شروع سے ہی کھٹکتا رہا ہے۔ انہوں نے ہمیشہ مسلمانوں کی صفوں میں گھس کر اس مستحکم عقیدہ کو کمزور کرنے کی کوشش کی مگر انہیں ہمیشہ منہ کی کھانا پڑی۔ اسلامی تاریخ کے کسی بھی دور میں اگر کسی نے بھولے سے بھی اس عقیدہ پر حملہ کرنے کی جرأت کی تو اس کی موت کو عبرت کا نشان بنا کر اس عقیدہ کی عظمت کا اعتراف کیا گیا۔

عہد حاضر میں قادیانی فتنہ، منکرین ختم نبوت کا منظم گروہ ہے جو حکومت برطانیہ کے زیر سایہ پروان چڑھا جس کا مقصد اسلام کی بنیادوں کو مسخ کرنا، امت مسلمہ میں انتشار وتفریق پیدا کرنا اور انگریز کے مفادات کے لیے کام کرنا تھا۔ اس کی تخلیق (بلکہ تولید) مسلمانوں کی نظریاتی سرحدوں پر ایک سنگین اور منظم حملہ ہے اور یہ فتنہ، اسلام کے لیے ایک مستقل خطرہ ہے۔ یہ لوگ اپنے عقائد کے لحاظ سے شیطان سے بڑھ کر ہیں۔ ان کے اذہان خباثت کی حمل گاہیں ہیں۔ یہ لوگ گفتار کے ساحر اور جھوٹ کو سچ میں بدل دینے کے ماہر ہیں۔ ان کی شریانوں میں توہین اسلام کا وہ فاسد خون ہے جس کی بنا پر انہیں ملک وملت کے لیے بجا طور پر سرطان کہا جاسکتا ہے۔

ہر مسلمان کی خواہش ہے کہ اس کے عقائد کا تحفظ ہو اور اس کے مذہبی جذبات کی

صفحہ 85

دل آزاری نہ ہو۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ایک اقلیتی گروہ سامراجی اسلام دشمن طاقتوں کی شہہ پر دین اسلام اور اس کی مقدس شخصیات پر رکیک حملے کرے، نبی کریم ﷺ کی عظیم نبوت کے مقابلہ میں اپنی نئی نبوت قائم کرے، اور پھر یہ مطالبہ اور اصرار بھی کرے کہ اسے ان عقائد کی تبلیغ و تشہیر کی مکمل اجازت دی جائے۔ ہمارے بعض نام نہاد دانشور ایک خاص منصوبے کے تحت انہیں مظلوم قرار دیتے ہیں۔ ان پر عائد پابندیوں کو ”حقوق انسانی“ کے منافی قرار دیتے ہیں اور انہیں مکمل آزادی دینے کا مطالبہ کرتے ہیں خواہ اس سے پورا معاشرہ جزع و فزع کا شکار ہو جائے۔

الحمدللہ مجھے ایک عرصہ تک تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر ایک کارکن کی حیثیت سے کام کرنے کی سعادت حاصل رہی ہے۔ اپنی تبلیغی جدوجہد کے دوران مجھے بے شمار تجربات و مشاہدات سے گزرنا پڑا۔ ایک مشکل یہ پیش آتی رہی کہ ہر وہ شخص جس سے قادیانیت کے کفریہ عقائد و عزائم کے بارے میں بحث ہوتی، اس کا پہلا مطالبہ یہ ہوتا کہ اسے قادیانی کتابوں کے اصل حوالہ جات دکھائے جائیں، ایسے حوالہ جات اور ثبوت اس کے لیے دلچسپی اور حیرانی کا باعث ہوتے۔ ایسے میں ایک ایسی کتاب کی شدت سے ضرورت محسوس ہوئی جسے پڑھ کر ہر شخص قادیانیت کے اصل عقائد و عزائم سے آگاہ ہوسکے اور جو عام یا رسمی انداز کی کتاب نہ ہو بلکہ ایک ایسی تحقیقی کاوش ہو جو اپنے اندر ٹھوس اور مضبوط دلائل لیے ہوئے ہو اور اس کے بعد کسی بھی شخص کے لیے قادیانیوں کے کفریہ عقائد و عزائم سے انکار کی گنجائش نہ ہو۔

اس مسئلہ کا حل یہی تھا کہ ایک ایسی کتاب مرتب کی جائے جس میں قادیانی کفریہ معتقدات کے تقریباً تمام دستاویزی ثبوت ان کی مستند کتابوں سے عکسی صورت میں پیش کر دیے جائیں تاکہ ہر شخص کم از کم مذکورہ کتاب پڑھ کر قادیانی عقائد کی ”اصلیت“ سے واقفیت حاصل کرسکے۔ مجھے معلوم تھا کہ یہ کوئی آسان کام نہیں ہے بلکہ خاردار وادی میں اترنے کے برابر ہے مگر میں نے کمر ہمت باندھی، اللہ تعالیٰ سے مدد اور توفیق کی دعا کی اور ا یک آہنی عزم کے ساتھ کتاب کی تدوین میں مشغول ہوگیا۔ اس دوران مجھے جن جانگسل مراحل کے پل صراط سے گزرنا پڑا، وہ ایک لمبی داستان ہے۔

قادیانیوں کی مستند ترین کتابوں، رسائل اور اخبارات کو حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔ بعد ازاں ایک طویل عرصہ تک تقریباً پچاس ہزار سے زائد صفحات کو پوری

صفحہ 86

چھان پھٹک سے، کھنگال کر ان کی قابل اعتراض کفریہ عبارتوں کو تلاش کرنا ایک صبر آزما کام تھا۔ پھر نہایت ذمہ داری کے ساتھ اصل حوالہ جات کی فوٹو کاپی کروانا، اسے علیحدہ کاغذ پر چسپاں کر کے متعلقہ حصہ کو نمایاں کرنے کے لیے نشانات لگانا، اس کے پازیٹو تیار کروانا اور ان عکسی حوالہ جات کی بڑی احتیاط سے ترتیب و تدوین کرنا ایک نہایت کٹھن اور مشکل کام تھا جو محض توفیق الہی سے ممکن ہوا۔ زندگی میں جن خواہشات کے پورا ہونے کی اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی تھی، ان میں ایک اس کتاب کی تکمیل تھی۔ آج اس کی اشاعت پر میں اپنے رب کا جتنا بھی شکر ادا کروں، کم ہے۔

میں نے کوشش کی ہے کہ مرزا قادیانی کی تحریروں ہی کو مختلف عنوانات کے تحت جمع کر دیا جائے تاکہ قاری کو قادیانیت کے عقائد وعزائم اور خیالات کا براہ راست علم ہو سکے اور وہ خود کسی واضح فیصلہ پر پہنچ سکیں۔ میرے خیال میں یہ کتاب ایک ایسا ”بیرو میٹر“ ہے جس سے قادیانیت کی سنگینی اور اس کے منافقانہ رویوں کا اندازہ آسانی سے لگایا جاسکتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اس کے مطالعہ سے نہ صرف ہر مسلمان قادیانیت کے اصل چہرہ کو پہچان سکے گا بلکہ تعصب کی عینک اتار کر اس کا مطالعہ کرنے والے قادیانی بھی راہ ہدایت پاسکتے ہیں۔

مجھے اکثر قادیانی مبلغوں سے مباحثہ یا مناظرہ کا موقع ملتا رہتا ہے۔ مناظرہ کے شروع میں، میں ان سے پوچھتا ہوں کہ آپ نے مرزا قادیانی اور اس کے بیٹوں وغیرہ کی کتنی کتابیں پڑھی ہیں؟ تو اس غیر متوقع سوال پر وہ پریشان ہو جاتے ہیں۔ آنجہانی مرزا قادیانی نے تقریباً 83 کتابیں لکھی ہیں۔ دو جلدوں پر مشتمل مجموعہ اشتہارات، پانچ جلدوں پر مشتمل ملفوظات، وحی و الہامات پر مبنی کتاب تذکرہ اور شاعری پر مبنی درثمین اس کے علاوہ ہیں۔ اس طرح اگر ان کو بھی شامل کر لیا جائے تو مرزا قادیانی کی کتابوں کی تعداد 100 سے کم بنتی ہے۔ میں اپنے تجربہ اور یقین کے ساتھ چیلنج کرتا ہوں کہ کسی بھی قادیانی نے مرزا قادیانی کی تمام کتب کا مطالعہ نہیں کیا۔ بلکہ شاید انہیں مرزا قادیانی کی کتب کے نام بھی یاد نہیں۔ حالانکہ مرزا قادیانی کا کہنا ہے کہ جس قادیانی نے میری تمام کتب 3 دفعہ نہ پڑھی ہوں، مجھے اس کے ایمان پر شک ہے، گویا وہ قادیانی بھی نہیں ہے۔ مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر احمد ایم اے اپنی کتاب ”سیرت المہدی“ میں لکھتا ہے:

صفحہ 87

کرتے تھے کہ ہمارے آدمیوں کو چاہیے کہ کم از کم تین دفعہ ہماری کتابوں کا مطالعہ کریں اور فرماتے تھے کہ جو ہماری کتب کا مطالعہ نہیں کرتا۔ اس کے ایمان کے متعلق مجھے شبہ ہے۔“

(سیرت المہدی از مرزا بشیر احمد ایم اے جلد دوم صفحہ 78)

الحمد للہ

پاکستان اور بھارت میں اس کتاب کے درجنوں ایڈیشن شائع ہو کر مقبول عام ہو چکے ہیں۔ اب پاکستان میں یہ کتاب تازہ اضافوں کے ساتھ شائع ہو رہی ہے۔ پوری دنیا میں ہر خاص و عام نے اس کتاب کو بے حد پسند کیا۔ اس کتاب کے مطالعہ سے اندرون اور بیرون ممالک میں مقیم تقریباً 70 قادیانیوں کو اللہ تعالیٰ نے ایمان کی دولت عطا کی۔ اس سے بوکھلا کر قادیانی قیادت نے تمام قادیانیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس کتاب کا مکمل بائیکاٹ کریں اور ہرگز مطالعہ نہ کریں۔ مزید برآں اس کتاب کی موجودگی میں بے شمار قادیانی مناظروں کو منہ کی کھانا پڑی اور انہیں اعتراف کرنا پڑا کہ اس کتاب کا ہمارے پاس کوئی جواب نہیں۔ الحمد للہ! میرے لیے یہ بہت بڑے اعزاز کی بات ہے۔ میں اس پر اللہ تعالیٰ کے حضور سربسجود ہوں کہ اس نے میری محنت کو قبول کیا۔ اللہ تعالیٰ مجھے اس محاذ پر کام کرنے کی مزید توفیق اور استقامت نصیب فرمائے! میں تمام مسلمانوں کی دعاؤں کا محتاج ہوں۔

محمد متین خالد

PDF 88
PDF 89

قادیانیت

ثبوت حاضر ہیں!

PDF 90
PDF 91

ثبوت حاضر ہیں!

عقیدۂ ختم نبوّت

Back

PDF 92
صفحہ 93
لکھتا ہوں خونِ دل سے یہ الفاظِ احمریں
بعد از رسول ہاشمی ﷺ کوئی نبی نہیں

حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کسی قسم کا کوئی تشریعی، غیر تشریعی، ظلی، بروزی یا نیا نبی نہیں آئے گا۔ آپ ﷺ کے بعد جو شخص بھی نبوت کا دعویٰ کرے، وہ کافر، مرتد، زندیق اور واجب القتل ہے۔ قرآن مجید کی ایک سو سے زائد آیات مبارکہ اور حضور نبی کریم ﷺ کی تقریباً دو سو دس احادیث مبارکہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ حضور خاتم النبیین ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ اس حقیقت پر ایمان ”عقیدہ ختم نبوت“ کہلاتا ہے۔

ختم نبوت اسلام کا متفقہ، اساسی اور اہم ترین عقیدہ ہے۔ دین اسلام کی پوری عمارت اس اعتقاد پر کھڑی ہے۔ یہ ایک ایسا حساس عقیدہ ہے کہ اگر اس میں شکوک و شبہات کا ذرا سی بھی رخنہ پیدا ہو جائے تو ایک مسلمان نہ صرف اپنی متاع ایمان کھو بیٹھتا ہے بلکہ اپنی بدقسمتی سے وہ حضرت محمد ﷺ کی امت سے بھی یک قلم خارج ہو جاتا ہے۔

پوری امت مسلمہ کا اس امر پر اجماع ہے کہ سب سے اوّل نبی حضرت آدم علیہ السلام اور سب سے آخری حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں۔ جیسا کہ ملا علی قاری نے لکھا ہے:

(شرح فقہ اکبر صفحہ 202 از ملا علی قاری)

(ترجمہ) ”ہمارے نبی اکرم ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ باجماع امت کفر ہے۔“

حضور نبی کریم ﷺ پر ہر قسم کی نبوت کا خاتمہ ہو چکا ہے اور آپ ﷺ خاتم الانبیا بمعنی آخر الانبیا ہیں۔ آپ ﷺ کو تمام انبیائے سابقین علیہم السلام کے بعد آخری نبی ماننا ضروریات دین اور عقائد اسلام میں سے ہے۔ آپ ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا کفر و

صفحہ 94

ضلالت ہے اور جو شخص آپ ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے، وہ مردود، کافر، دائرہ اسلام سے خارج، مرتد، واجب القتل اور دائمی جہنمی ہے۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن وسنت کی موجودگی میں کسی نبی کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے؟ یہ رشد و ہدایت کے دو مستقل سرچشمے ہیں جو قیامت تک عالم اسلام کو سیراب کرنے کے لیے کافی ہیں۔ ان کے ہوتے ہوئے کسی کا مدعی نبوت ہونا صریح گمراہی ہے۔ عقیدۂ ختم نبوت ہر اعتبار سے ضروریاتِ دین میں داخل ہے۔ اس کا انکار یقیناً کفر و ارتداد ہے جس سے کوئی بھی تاویل نہیں بچاسکتی۔

ختم نبوت کا تحفظ بھی ہر مسلمان پر فرض اولین ہے۔ اس کی حفاظت میں کوتاہی بہت بڑا گناہ ہے۔ جس کی پاداش میں روزِ قیامت ہم سے لازماً سوال ہوگا۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں جھوٹے مدعیان نبوت اور ان کے پیروکار ہمیشہ لایعنی تاویلات اور بے اصل باتوں کو بنیاد بنا کر دین اسلام میں تبدیلی و تحریف کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ منکرین ختم نبوت اپنی شپرہ چشمی کو آفتاب، کج فہمی کو دلیل، بکائن کو انگور، زہر کو امرت، ظلمت کو اُجالا اور پیتل کو زرِ خالص تسلیم کروانے پر مُصر رہے، مگر امت مسلمہ نے دین اسلام میں ذرا سا بھی تغیر، تصرف یا کمی بیشی کو گوارا نہ کیا۔ بلکہ ہر قسم کے مشکل اور نامساعد حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے دل و جان سے عقیدۂ ختم نبوت کی حفاظت کی اور منکرین ختم نبوت کے خلاف بھرپور جہاد کیا۔ منکرین ختم نبوت ٹانک وائن کی بدمستی میں ختم نبوت کا چراغ پھونکوں سے بجھانے کی ناپاک سازشیں کرتے رہے مگر نور ایمان کے حامل مجاہدین ختم نبوت نے کاذب مدعیان نبوت اور ان کے پیروکاروں کے خلاف ناقابل فراموش سرفروشی اور جانثاری کے ایسے ایمان پرور مناظر پیش کیے جس سے نہ صرف حق کا سر بلند ہوا بلکہ منکرین ختم نبوت کو ان کے مکروہ عزائم سمیت ملیا میٹ کر دیا۔

موجودہ دور میں منکرین ختم نبوت کا گروہ فتنہ قادیانیت کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ اس فتنہ کا بانی آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی ہے جس نے انگریزوں کے اشارے پر قادیان (گورداسپور، بھارت) میں نبوت کا دعویٰ کیا۔ پھر سلطنتِ برطانیہ کی سرپرستی میں اپنی بھونڈی تاویلات اور تحریفات کے ذریعے امتِ محمدیہ کے مستحکم قلعہ میں شگاف ڈالنے اور ملتِ اسلامیہ کو پارہ پارہ کرنے کی ناپاک سازشیں کیں۔ مرزا قادیانی اور اس کے پیروکاروں نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ نبی کریم ﷺ اور شعائر اسلامی کی توہین بھی شروع کر دی۔ اسلام اور اس کی مقدس شخصیات کے خلاف قادیانیوں کی گستاخیوں اور ہرزہ سرائیوں کو اکٹھا کیا جائے تو

صفحہ 95

کئی دفتر تیار ہو سکتے ہیں۔ قادیانیوں کی طرف سے شان رسالت ﷺ میں کی جانے والی بعض گستاخیاں ایسی ہیں جنہیں پڑھ کر کلیجہ منہ کو آتا اور آنکھوں میں خون اتر آتا ہے۔

پوری ملت اسلامیہ کا متفقہ فیصلہ ہے کہ قادیانی کافر، مرتد اور زندیق ہیں اور اس فتنہ کا استیصال اور قلع قمع کرنا ہر مسلمان کا اولین فریضہ ہے۔ علامہ اقبالؒ نے فرمایا تھا: ”قادیانی اسلام اور ملک دونوں کے غدار ہیں۔“ قادیانیوں کے کفریہ عقائد و عزائم اور علامہ اقبالؒ کے مذکورہ قول کی روشنی میں پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ نے 7 ستمبر 1974ء کو قادیانیوں کو متفقہ طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا۔ اس کے بعد ایک صدارتی آرڈی نینس کے ذریعے 26 اپریل 1984ء کو قادیانیوں کو شعائر اسلامی کے استعمال اور اپنے مذہب (قادیانیت) کی تبلیغ سے روک دیا گیا۔ بعدازاں پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں نے بھی حکومت کے ان فیصلوں کی توثیق کرتے ہوئے نہ صرف قادیانیوں کو اپنے کفریہ عقائد وعزائم کی تبلیغ وتشہیر سے منع کر دیا بلکہ اس کی خلاف ورزی پر سزا بھی مقرر کی۔ اس حوالے سے تعزیرات پاکستان کی دفعات 298-B، 298-C اور 295-C خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

ختم نبوت اور قرآن مجید

قرآن مجید، کہنے کو تو ایک کتاب ہے مگر یہ سراپا اعجاز ہے۔ اس کا ایک ایک لفظ علم و حکمت کا بے مثل خزینہ ہے۔ اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ ہر دور کے، ہر خطہ کے، ہر انسان کی مکمل راہنمائی کے لیے ہدایت کا عظیم سرچشمہ ہے۔ دشمنان اسلام کی طرف سے اسلام کی بیخ و بنیاد کو ہلا دینے والے خطرناک طوفانوں میں بھی اس کے عظمت و وقار میں رتی بھر فرق آیا، نہ قیامت تک آئے گا (ان شاء اللہ!) کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور اس کی حفاظت کا ذمہ بھی اللہ تعالیٰ نے خود لیا ہوا ہے۔ جس طرح قرآن مجید ہر مسئلہ میں انسانوں کی راہنمائی کرتا ہے، اسی طرح وہ عقیدۂ ختم نبوت کو بھی بڑے واضح اور غیر مبہم الفاظ میں بیان کرتا ہے۔ قرآن مجید کی ایک سو سے زائد آیات مبارکہ ختم نبوت کے ہر پہلو کو کھول کھول کر بیان کرتی ہیں اور واشگاف الفاظ میں اعلان کر رہی ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ قیامت تک اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کسی بھی قسم کا کوئی نیا نبی نہیں۔ صفحات

صفحہ 96

کی قلت کی وجہ سے صرف چند آیاتِ مبارکہ اور ان کا ترجمہ پیش خدمت ہے: (ان کی باقاعدہ تشریح کے لیے قارئین کرام تفاسیر سے رجوع فرمائیں)۔

النَّبِيّٖنَ ط وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا. (احزاب: 40)

ترجمہ: ”نہیں ہیں محمد ﷺ تمھارے مردوں میں سے کسی کے باپ لیکن آپ ﷺ اللہ کے رسول اور تمام انبیا کے ختم کرنے والے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔“

عرب سماج میں ایک قدیم رسم یہ بھی تھی کہ وہ اپنے متبنٰی یعنی لے پالک بیٹے کو حقیقی اور نسبی بیٹا سمجھتے۔ یہ لے پالک بیٹا وراثت میں بھی برابر کا شریک ہوتا۔ مزید برآں جس طرح ایک حقیقی بیٹا مر جاتا اور اس کی بیوی باپ کے لیے حرام ہوتی، اسی طرح لے پالک بیٹا جب مر جاتا یا وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا تو وہ عورت لے پالک بیٹے کے باپ کے لیے بطور منکوحہ حرام ہوتی۔ حضرت زید بن حارثہؓ، نبی کریم ﷺ کے لے پالک بیٹے تھے۔ تمام لوگ انھیں ”زید بن محمد“ کہہ کر پکارتے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں اس قبیح رسم کو ختم کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت محمد ﷺ تمھارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں بلکہ آپ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔ یعنی دنیا میں انبیا کے آنے کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا ہے اور حضور نبی کریم ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ (واقعہ یہ ہے کہ جب حضور ﷺ نے حضرت زیدؓ کی مطلقہ حضرت زینبؓ سے نکاح فرما لیا تو جہلا زبان طعن دراز کرنے لگے کہ اپنی بہو کو عقد میں لے آیا گیا ہے، تو اللہ پاک نے اس شہادت کو تاریخ کا حصہ بنا دیا کہ محمد ﷺ تو کسی جوان مرد کے باپ ہی نہیں ہیں، سو جب زیدؓ کی اہلیہ آپ ﷺ کی بہو ہیں ہی نہیں تو انھیں زوجیت میں لانا قابل اعتراض کیسے ہوا؟ نیز اگر کسی کو پیار سے منہ بولا بیٹا کہہ دیا جائے تو وہ حقیقی فرزند نہیں بن جاتا...... اور آپ ﷺ کا اس ضمن میں اقدام بطور رسول اللہ کے ہے اور رسول کا منصب ہی یہ ہے کہ وہ ”اپنے“ احکامات نافذ نہیں کرتا بلکہ اپنے رب سے پا کر آگے پہنچاتا ہے۔ گویا اصول یہ طے ہو گیا کہ لے پالک بیٹا یا بیٹی حقیقی بیٹا یا بیٹی نہیں بن جاتے...... اور عربوں کا اس حوالے سے رائج Taboo حضور ﷺ نے ذاتی حیثیت میں نہیں بلکہ بطور رسول اللہ پاش پاش کیا ہے۔ کسی غلط سماجی رسم کا خاتمہ ناممکن کے قریب قریب مشکل ہوا کرتا ہے اور ایسا انقلابی

صفحہ 97

قدم، اللہ کا رسول ﷺ ہی اٹھا سکتا تھا، چنانچہ آپ ﷺ نے قرنوں سے مروج نامعقول تصور کو اپنے حسن عمل سے بھسم کر رکھ دیا۔ پھر یاد رہے ایسا آپ ﷺ نے بطور رسول اللہ کے کیا۔ ”لیکن اس بری رسم کو، کوئی بھی آئندہ مبعوث ہونے والا رسول ختم کر سکتا تھا؟“ ہاں منطقی طور پر یقیناً یہ سوال ذہنوں میں جگہ پا سکتا تھا، سو وہ حکیم خدا جو سب جانتا ہے (وَکَانَ اللّٰهُ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا) نے عین اسی موقع پر اس استفسار کا جواب ”خاتم النبیین“ فرما کر فراہم کر دیا کہ جب آپ ﷺ کے بعد کسی بھی قسم کا کوئی رسول، کوئی نبی نہیں آنے والا تو اس قضیے کو مستقبل کے لیے تشنہ نہیں چھوڑا جا سکتا تھا۔ آپ ﷺ سلسلۂ انبیا کے آخری فرد ہیں، ہر کجی کو راستی میں آپ ﷺ ہی کے ذریعے بدلا جائے گا۔ نہ صرف متذکرہ فکری گمراہی کو بلکہ جملہ بگاڑ آپ ﷺ ہی کے ذریعے ہی درستی میں مبدل ہوں گے۔ آپ ﷺ کے مبارک ہاتھوں سے اصلاحات کا عمل اس طرح مکمل ہو گا کہ پھر کسی وحی، کسی ”مکالمہ و مخاطبہ“ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔ بنی نوع انسان کی رہنمائی کے تناظر میں کوئی زاویہ جب ادھورا نہیں رہے گا، کوئی پہلو کم نہیں رہے گا تو نبوت کی ضرورت ہی باقی نہیں رہے گی....... اس پس منظر میں یہ آیت مبارکہ آپ ﷺ کے سر پر ختم نبوت کا نہایت خوبصورت تاج رکھ رہی ہے اور قادیانی ہیں کہ تاویلات کے گورکھ دھندے کے ذریعے آپ ﷺ کی نبوت کو ناقص ثابت کرنے پر تلے رہتے ہیں۔ کتنے عجیب ہیں یہ لوگ کہ ایک طرف ”خاتم الانبیا“ کا ترجمہ ”افضل الانبیا“ کرتے ہیں اور دوسری جانب نئے نبی کی ”اپائنٹ منٹ“ کے بغیر ان ﷺ کی نبوت و رسالت کو غیر مکمل یقین کرتے ہیں۔ بے شک خاتم الانبیا کا مفہوم افضل الانبیا ہے لیکن آپ ﷺ اسی صورت میں افضل و اکمل ہیں جب آپ ﷺ کے بعد کسی نئے نبی کی احتیاج نہ رہے۔ قرآن کی تکمیل کے معانی ہی حضور ﷺ کی نبوت کی تکمیل ہے۔ اگر قرآن آخری آسمانی کتاب ہے تو حضور ﷺ آخری رسول اور آخری نبی ہیں۔ اور بے شک قرآن کے بعد کسی وحی کی ضرورت نہیں اور حضور ﷺ کے بعد کسی نبی کی ضرورت نہیں!!!)

لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا.

(المائدہ:3)

ترجمہ: ”آج میں نے مکمل کر دیا ہے تمھارے لیے تمہارا دین اور پوری کر دی ہے تم پر اپنی نعمت، اور میں نے پسند کر لیا ہے تمھارے لیے اسلام کو بطور دین۔“

یہ آیت حضور نبی رحمت ﷺ کے آخری حج میں عرفہ کے دن جمعہ کے روز نازل

صفحہ 98

ہوئی۔ بعض حضرات کے نزدیک یہ آخری آیت تھی جو آپ ﷺ پر نازل ہوئی۔ اس آیت کریمہ کی بہت بڑی فضیلت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک یہودی نے حضرت عمر فاروق ؓ سے کہا تھا کہ اگر یہ آیت ہم پر اترتی تو ہم اس دن عید مناتے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر بیان فرمایا کہ دین اسلام مکمل ہو چکا ہے۔ اب قیامت تک اس میں ترمیم و اضافہ کی کوئی گنجائش ہے نہ کوئی ضرورت۔ اب یہ امت قیامت تک کسی اور دین کی محتاج ہے، نہ کسی نبی کی، نہ کسی کتاب کی۔ اس آیت سے یہ بھی واضح ہوا کہ دین اسلام قیامت تک رہنے والا ہے۔ یہ کبھی ختم نہ ہوگا (ان شاء اللہ)! بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ آیت آیات احکام میں سے آخری آیت ہے اور آئندہ کے لیے وحی ونبوت کے بند ہونے کی واضح خبر دے رہی ہے۔

جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَلَتَنْصُرُنَّهٗ

(آل عمران: 81)

ترجمہ: ’’اور یاد کرو جب لیا اللہ تعالیٰ نے انبیا سے پختہ وعدہ کہ قسم ہے تمھیں اس کی جو دوں میں تم کو کتاب اور حکمت سے۔ پھر تشریف لائے تمھارے پاس وہ رسول (یعنی محمد ﷺ) جو تصدیق کرنے والا ہو ان (کتابوں) کی جو تمھارے پاس ہیں تو تم ضرور ایمان لانا اس پر اور ضرور ضرور مدد کرنا اس کی۔‘‘

خلاصۂ تفسیر آیت کا یہ ہے کہ ازل میں جس وقت حق تعالیٰ نے تمام مخلوق کی ارواح پیدا فرما کر ان سے اپنے رب ہونے کا عہد واقرار لیا، تمام انبیا علیہم السلام سے اس عہد عام کے علاوہ ایک عہد خاص بھی لیا گیا، جو ایک جملہ شرطیہ کی صورت میں تھا کہ اگر آپ میں سے کسی کی حیات میں محمد ﷺ مبعوث ہو کر تشریف لے آئیں تو آپ ان پر ایمان لائیں اور ان کی مدد کریں۔

اور اس جگہ ہمارا مطمح نظر ثُمَّ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ الخ کے الفاظ ہیں جن میں نبی کریم ﷺ کے تمام انبیا کے بعد تشریف لانے کو لفظ ثُمَّ کے ساتھ ادا کیا گیا ہے جو لغتِ عرب میں تراخی یعنی مہلت کے لیے آتا ہے، جب کہا جاتا ہے جَاءَنِيْ الْقَوْمُ ثُمَّ عُمَرُ تو لغت

صفحہ 99

عرب میں اس کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ پہلے تمام قوم آگئی اور پھر کچھ مہلت کے بعد سب سے آخر میں عمر آیا۔

اس لیے اَلنَّبِيّٖنَ کے بعد ثُمَّ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ کے یہ معنی ہوں گے کہ تمام انبیا علیہم السلام کے آنے کے بعد سب سے آخر میں آنحضرت ﷺ تشریف لائیں گے اور جبکہ اخذ میثاق میں سے کوئی نبی ورسول مستثنیٰ نہیں تو آنحضرت ﷺ کا تمام انبیا علیہم السلام سے آخری نبی ہونا متعین ہوگیا، اور یہ واضح ہوگیا کہ آپ ﷺ کے بعد کسی بھی قسم کا کوئی نبی پیدا نہ ہوگا، تشریعی و غیر تشریعی ، ظلی و بروزی، ذیلی ضمنی وغیرہ کی خود ساختہ قسموں میں سے کوئی بھی اب باقی نہیں ہے۔

ترجمہ: ”(اے محمد ﷺ) آپ فرمائیے: اے لوگو! بے شک میں اللہ کا رسول ہوں تم سب کی طرف۔“ اس آیت سے معلوم ہوا کہ نبی رحمت ﷺ پوری دنیا کے تمام انسانوں کے لیے رسول بن کر تشریف لائے خواہ وہ آپ کے زمانہ میں موجود ہوں یا آپ ﷺ کے بعد قیامت تک پیدا ہوں۔ نبی کریم ﷺ کی ایک حدیث مبارکہ ہے کہ ”میں ان لوگوں کے لیے بھی رسول ہوں جن کو اپنی زندگی میں پاؤں اور ان کے لیے بھی جو میرے بعد پیدا ہوں گے۔ لہٰذا یہ آیت بھی حضور سرور کائنات ﷺ کے آخری نبی ہونے کی بین دلیل ہے۔

ترجمہ: ”اور نہیں بھیجا ہم نے آپ کو مگر تمام جہان والوں کے لیے رحمت بنا کر۔“ اس آیت سے واضح ہوا کہ حضور نبی رحمت ﷺ تمام اہل عالم کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ یعنی آپ ﷺ صرف اس دنیا کے لیے نہیں بلکہ آپ کا وجود ہر عالم کے لیے سراپا رحمت ہے۔ پس آپ ﷺ پر ایمان لانا دنیوی واخروی نجات کے لیے کافی ہے۔

صفحہ 100

اِلَی اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَسِرَاجًا مُّنِيْرًاہ (احزاب: 45، 46) ترجمہ: ”اے نبیؐ (مکرم) ہم نے بھیجا ہے آپؐ کو (سب سچائیوں کا) گواہ بنا کر اور خوشخبری سنانے والا اور ہر وقت ڈرانے والا اور دعوت دینے والا اللہ کی طرف اس کے اذن سے اور آفتاب روشن کر دینے والا۔“

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ کو ”سراجاً منیراً“ کے دلنواز لقب سے نوازا ہے۔ یعنی جس طرح دنیاوی سورج بذات خود روشنیوں کا منبع اور دوسرے سیاروں کو خود روشنی بخشتا ہے۔ یعنی سب ستارے اپنی روشنی میں سورج کے محتاج ہیں، اسی طرح حضور نبی کریم ﷺ صرف نبی ہی نہیں بلکہ ”نبی الانبیا“ ہیں۔ سب انبیا آپ ﷺ ہی کے فیض سے نبی ہوئے ہیں۔ حضور نبی کریم ﷺ آفتاب نبوت ہیں کہ آپ ﷺ کی تعلیمات میں جملہ انبیا و رسل کی تعلیمات شامل ہیں، واقعہ تو یہ ہے کہ آپ کی تعلیمات بمنزلہ خورشید ہیں اور باقی انبیا کی تعلیمات بمنزلہ کرنیں ہیں۔ سورج کرن کا محتاج نہیں، کرن سورج کی محتاج ہے۔ آپ ﷺ کی نبوت کی روشنی قیامت تک کے لیے ہے۔ یہ وصف صرف اور صرف حضور نبی کریم ﷺ ہی کو حاصل ہے۔ اس لیے آپ ﷺ آخری نبی ہیں۔

ختم نبوت اور احادیث مبارکہ

قرآن مجید کی طرح احادیث مبارکہ میں بھی عقیدہ ختم نبوت نہایت وضاحت اور صراحت کے ساتھ مذکور ہے۔ تقریباً دو سو دس احادیث مبارکہ اس بات پر بیّن دلالت کرتی ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ اب قیامت تک کسی بھی مسئلہ میں جس شخص نے بھی ہدایت و راہنمائی حاصل کرنا ہے، اسے نبی کریم علیہ التحیۃ والثنا کی اطاعت اختیار کرنا ہوگی۔ ذیل میں عقیدہ ختم نبوت کے موضوع پر چند اہم احادیث مبارکہ درج کی جاتی ہیں:

صفحہ 101

الانبیاء من قبلی کمثل رجل بنی بیتا فاحسنه واجمله الا موضع لبنة من زاویة فجعل الناس یطوفون به و یعجبون له و یقولون هلا وضعت هذه اللبنة وانا خاتم النبیین

(بخاری ومسلم شریف)

ترجمہ: ”حضرت ابوہریرہؓ آنحضرت ﷺ سے روایت فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میری مثال مجھ سے پہلے انبیاء کے ساتھ ایسی ہے جیسے کسی شخص نے گھر بنایا اور اس کو بہت عمدہ اور آراستہ و پیراستہ بنایا، مگر اس کے ایک گوشہ میں ایک اینٹ کی جگہ تعمیر سے چھوڑ دی، پس لوگ اس کے دیکھنے کو جوق در جوق آتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں اور کہتے جاتے ہیں کہ یہ ایک اینٹ بھی کیوں نہ رکھ دی گئی (تاکہ مکان کی تعمیر مکمل ہو جاتی)؟ چنانچہ میں نے اس جگہ کو پُر کیا اور مجھ سے ہی قصر نبوت مکمل ہوا، اور میں ہی خاتم النبیین ہوں، (یا) مجھ پر تمام رسل ختم کر دیے گئے۔“

احمد وانا الماحی الذی محی الله بی الکفر و انا حاشر الذی یحشر الناس علی عقبی و انا العاقب والعاقب الذی لیس بعده نبی.

(بخاری ومسلم شریف)

ترجمہ: ”حضرت جبیر بن مطعمؓ روایت فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: میں محمد ہوں اور میں احمد ہوں اور ماحی ہوں یعنی میرے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کفر کو مٹائے گا، اور میں حاشر ہوں، یعنی میرے بعد ہی قیامت آ جائے گی اور حشر برپا ہوگا (اور کوئی نبی میرے اور قیامت کے درمیان نہ آئے گا) اور میں عاقب ہوں اور عاقب اس شخص کو کہا جاتا ہے جس کے بعد اور کوئی نبی نہ ہو۔“

امتی کذابون ثلثون کلهم یزعم انه نبی و انا خاتم النبیین لا نبی بعدی.

(مسلم شریف)

ترجمہ: ”حضرت ثوبانؓ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ

صفحہ 102

قریب ہے کہ میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہوں گے جن میں سے ہر ایک یہی کہے گا کہ میں نبی ہوں، حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔“

الانبیاء بست اعطیت جوامع الکلم ونصرت بالرعب واحلت لی الغنائم وجعلت لی الارض مسجدا و طھورا و ارسلت الی الخلق کافة و ختم بی النبیون. (مسلم شریف)

ترجمہ: ”حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: مجھے تمام انبیا پر چھ باتوں میں فضیلت دی گئی ہے۔ اول یہ کہ مجھے جوامع الکلم دیے گئے اور دوسرے یہ کہ رعب سے میری مدد کی گئی (یعنی مخالفین پر میرا رعب پڑ کر ان کو مغلوب کر دیتا ہے) تیسرے میرے لیے غنیمت کا مال حلال کر دیا گیا (بخلاف انبیائے سابقین کے کہ مال غنیمت ان کے لیے حلال نہ تھا، بلکہ آسمان سے ایک آگ نازل ہوتی تھی جو تمام مال غنیمت کو جلا کر خاک سیاہ کر دیتی تھی، اور یہی جہاد کی مقبولیت کی علامت سمجھی جاتی تھی) اور چوتھے میرے لیے تمام زمین نماز پڑھنے کی جگہ بنا دی گئی (بخلاف امم سابقہ کے کہ ان کی نماز صرف مسجدوں ہی میں ہو سکتی تھی) اور زمین کی مٹی میرے لیے پاک کرنے والی بنا دی گئی (یعنی وقت ضرورت تیمم جائز کیا گیا جو کہ پہلی امتوں کے لیے جائز نہ تھا) پانچویں میں تمام مخلوق کی طرف نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں (بخلاف انبیائے سابقین کے کہ وہ خاص خاص قوموں کی طرف کسی خاص اقلیم میں ایک محدود زمانہ تک کے لیے مبعوث ہوتے تھے) چھٹے یہ کہ مجھ پر انبیا ختم کر دیے گئے۔“

انا خاتم الانبیاء و مسجدی خاتم مساجد الانبیاء (کنز العمال)

ترجمہ: ”میں خاتم الانبیا ہوں اور میری مسجد، مساجد انبیا کی خاتم اور آخر ہے۔“

صفحہ 103

عن انس بن مالک قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ان الرسالة والنبوة قد انقطعت فلا رسول بعدی ولا نبی۔ (ترمذی شریف) ترجمہ: ”رسالت اور نبوت منقطع ہوچکی، پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہوگا اور نہ نبی۔“

عن عقبة بن عامر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لو كان بعدی نبی لكان عمر بن الخطاب (ترمذی شریف) ترجمہ: ”اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطابؓ ہوتے۔

ختم نبوت اور صحابہ کرامؓ

حضور خاتم النبیین ﷺ کے دور مبارک میں اسود عنسی نامی ایک بدبخت نے دعویٰ نبوت کیا تو آپ ﷺ کے حکم اور خواہش پر آپ ﷺ کے ایک صحابی حضرت فیروز دیلمیؓ نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اسے جہنم واصل کیا۔ اسی طرح حضور نبی کریم ﷺ کی حیات طیبہ کے آخری دنوں میں مسیلمہ کذاب نامی ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ بہت سارے لوگ اس کے پیروکار بن گئے۔ آقائے نامدار ﷺ کی رحلت کے بعد حضرت ابوبکر صدیقؓ نے مسیلمہ کذاب کے خلاف جہاد کے لیے جید صحابہ کرامؓ پر مشتمل ایک لشکر بھیجا۔ یہ تحفظ ختم نبوت اور اس کے منکرین کے مرتد اور واجب القتل ہونے پر صحابہ کرامؓ و تابعین کا پہلا اجماع تھا۔ حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ”ان امتی تجتمع علی ضلالة“ میری امت گمراہی پر کبھی متفق نہیں ہوسکتی۔ مسیلمہ کذاب اور اس کی جماعت کے خلاف وہی معاملہ کیا گیا جو مفسد کفار کے ساتھ کیا جاتا ہے حالانکہ مسیلمہ کذاب (قادیانیوں کی طرح) نماز، روزہ پر ایمان رکھتا تھا۔ وہ آپ ﷺ کی نبوت پر ایمان لانے کے ساتھ ساتھ اپنی نبوت کا بھی مدعی تھا۔ یہاں تک کہ اس کی اذان میں برابر ”اشھد ان محمد رسول اللہ“ پکارا جاتا تھا اور وہ خود بھی اس کی تصدیق کرتا تھا۔ اس کے باوجود صحابہ کرامؓ نے بغیر مطالبہ معجزات متفقہ طور پر

صفحہ 104

مسیلمہ کذاب کے خلاف جہاد کا اعلان کیا کیونکہ اس نے حضور خاتم النبیین ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کیا تھا جو صحابہ کرام کے لیے قطعی طور پر ناقابل برداشت تھا۔ صحابہ کرام میں سے کسی ایک نے بھی مسیلمہ کذاب کے خلاف جہاد سے انکار نہ کیا اور نہ کسی نے یہ کہا کہ یہ لوگ اہل قبلہ ہیں، نماز پڑھتے ہیں، روزہ رکھتے ہیں، قرآن پڑھتے ہیں، حج اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں، ان کو کیسے کافر سمجھ لیا گیا ہے؟ (جیسا کہ آج کل ہمارے ہاں قادیانیوں کو سمجھا جاتا ہے) بلکہ صحابہ کرام نے بہ اجماع مسیلمہ کذاب اور اس کے پیروکاروں کو ادعائے نبوت کی وجہ سے کافر، مرتد اور واجب القتل سمجھا۔ خلیفہ اوّل حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے دس ہزار صحابہ کرام پر مشتمل ایک عظیم الشان لشکر حضرت خالد بن ولیدؓ کی قیادت میں مسیلمہ کذاب اور اس کے پیروکاروں کے خلاف جہاد کے لیے یمامہ روانہ فرمایا۔ اس لشکر میں بعض بدری صحابہ کرام بھی شریک ہوئے حالانکہ وہ بہت ضعیف ہو چکے تھے مگر تحفظ ختم نبوت کی خاطر وہ اس عظیم جہاد میں شریک ہوئے۔ مسیلمہ کذاب کے خلاف اس جہاد میں تقریباً بارہ سو صحابہ کرام شہید ہوئے جن میں تقریباً 9 سو حفاظ قرآن تھے۔ مسیلمہ کذاب کے لشکر کی تعداد چالیس ہزار مسلح جوانوں پر مشتمل تھی۔ ان میں سے 28 ہزار کے قریب ہلاک ہوئے۔ مسیلمہ کذاب کو حضرت وحشیؓ نے اپنے نیزے سے واصل جہنم کیا۔ مسیلمہ کی فوج کے باقی لوگوں نے ہتھیار ڈال دیے۔

ان واقعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ صحابہ کرام کی کتنی بڑی جماعت جھوٹے مدعی نبوت سے مقابلہ کے لیے میدان میں آئی۔ صحابہ کرام نے نہ وقت کی نزاکت کا خیال کیا، نہ مسلمانوں کی بے سروسامانی کا، اور نہ اس جماعت کے نماز، روزہ، حج، تلاوت یا دیگر احکام اسلامی کے ادا کرنے کا۔ انھوں نے محض اس بات پر جہاد کیا کہ حضور خاتم النبیین ﷺ کے بعد نبوت کا ہر مدعی کذاب، مرتد اور واجب القتل ہے اور اس کی سرکوبی ہر مسلمان کا اولین فریضہ ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ حضور نبی کریم ﷺ کے بعد کسی بھی شخص کا دعویٰ نبوت خواہ کسی بھی تاویل سے ہو، اس کی کتنی ہی بڑی جماعت کیوں نہ ہو، وہ ظاہری شکل وصورت سے کتنے ہی ”اسلامی“ کیوں نہ ہوں، خواہ وہ زبان سے کلمہ پڑھتے ہوں، تمام اسلامی شعائر کی پابندی کرتے ہوں، وہ سب لوگ بالاتفاق قرآن وسنت و اجماع صحابہ کرام، کافر، مرتد اور واجب القتل ہیں۔

صفحہ 105

ختم نبوت اور اکابرین امت

حضور نبی کریم ﷺ پر ہر قسم کی نبوت کا اختتام قرآن وحدیث و اجماع صحابہ کرامؓ سے ثابت ہے۔ اس سلسلہ میں حضرات محدثین، مفسرین اور فقہا کی چند ایک آرا پیش خدمت ہیں:

قاضی عیاضؒ

کوئی نبی نہیں ہو سکتا، اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر دی ہے کہ آپ ﷺ انبیا کے ختم کرنے والے ہیں، اور اس پر امت کا اجماع ہے کہ یہ کلام بالکل اپنے ظاہری معنوں پر محمول ہے، اور جو اس کا مفہوم ظاہری الفاظ سے سمجھ میں آتا ہے، وہ ہی بغیر کسی تاویل یا تخصیص کے مراد ہے۔ پس ان لوگوں کے کفر میں کوئی شبہ نہیں ہے جو اس کا انکار کریں، اور یہ قطعی اور اجماعی عقیدہ ہے۔“

(کتاب الشفا از قاضی عیاضؒ صفحہ 62)

اور ایسا ہی معاملہ بہت سے خلفا اور بادشاہوں نے اس جیسے مدعیان نبوت کے ساتھ کیا ہے اور اس زمانہ کے علما نے اس پر اتفاق کیا ہے کہ ان کا یہ فعل صحیح و درست تھا اور جو ان کے کافر کہنے کا مخالف ہے وہ خود کافر ہے۔“ (ایضاً)

دعویٰ کرے یعنی آپ ﷺ کے زمانہ مبارک میں دعویٰ کرے جیسے مسیلمہ اور اسود عنسی نے کیا، یا آپ ﷺ کے بعد کرے، اس لیے کہ آپ ﷺ خاتم النبیین ہیں، بتصریح قرآن وحدیث۔ پس دعویٰ نبوت اللہ اور اس کے رسول کی تکذیب ہے مثل عیسائیوں کے۔“ (ایضاً)

علامہ سید محمود آلوسیؒ

کتابیں ناطق ہیں، اور احادیث نبویہ ﷺ اس کو بوضاحت بیان کرتی ہیں اور تمام امت کا اس

صفحہ 106

اجماع ہے، پس اس کے خلاف کا مدعی کافر ہے، اگر توبہ نہ کرے تو قتل کر دیا جائے۔“

(تفسیر روح المعانی صفحہ 65 ج 1 از مفتی بغداد علامہ سید محمود آلوسی)

علامہ ابن حجر مکیؒ

(فتاویٰ ابن حجر مکیؒ)

ملا علی قاریؒ

(شرح فقہ اکبر صفحہ 202 از ملا علی قاریؒ)

ابن حبانؒ

منقطع نہیں ہوئی، یا یہ عقیدہ رکھے کہ ولی نبی سے افضل ہے تو یہ شخص زندیق ہے۔ اس کا قتل کرنا واجب ہے۔“ (زرقانی صفحہ 188 جلد 6)

حضرت امام ابو حنیفہؒ

سراج الامت حضرت امام اعظم نعمان بن ثابت ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے زمانہ میں ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ اور ایک شخص (البطونیؒ) نے کہا کہ میں جا کر اس سے کوئی نشانی اور معجزہ طلب کرتا ہوں۔ تاکہ اس کا صدق و کذب عیاں ہو۔ اس پر حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ:

ترجمہ: ”جو شخص اس سے علامت طلب کرے گا تو وہ کافر ہو جائے گا کیونکہ آنحضرت محمد ﷺ کا، فرمان ہے کہ میرے بعد کسی کو نبوت نہیں مل سکتی۔“

(مناقب صدر الائمہ المکیؒ جلد اول صفحہ 161 طبع دائر المعارف، حیدر آباد دکن)

الغرض ختم نبوت کا مسئلہ اس طرح واضح اور بے غبار ہے کہ اس میں کسی قدر تامل کرنا بھی خالص کفر ہے۔

صفحہ 107

فتاویٰ عالمگیری

اگر کہے کہ میں رسول اللہ ہوں یا فارسی میں کہے کہ میں پیغمبر ہوں اور مراد یہ ہو کہ میں پیغام پہنچاتا ہوں، تب بھی کافر ہو جاتا ہے۔“

(فتاویٰ عالمگیری صفحہ 263 ج 3)

محمدؐ مصطفےٰ کا ہے یہ فرماں ”لا نبی بعدی“
نہ ہو قائل جو اس کا وہ مسلماں ہو نہیں سکتا
نہیں یہ جزو ایماں بلکہ ہے بنیاد ایماں کی
نہ ہو جس کا یہ ایماں اہل ایماں ہو نہیں سکتا

اب نبی کی آخر ضرورت کیا ہے؟

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ لکھتے ہیں:

”حضور ﷺ کے بعد نبوت کے دروازے کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند تسلیم کرنا ہر زمانے میں تمام مسلمانوں کا متفق علیہ عقیدہ رہا ہے اور اس امر میں مسلمانوں کے درمیان کبھی کوئی اختلاف نہیں رہا کہ جو شخص محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد رسول یا نبی ہونے کا دعویٰ کرے اور جو اس کے دعوے کو مانے، وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔

اب یہ دیکھنا ہر صاحب عقل آدمی کا اپنا کام ہے کہ لفظ خاتم النبیین کا جو مفہوم لغت سے ثابت ہے، جو قرآن کی عبارت کے سیاق و سباق سے ظاہر ہے، جس کی تصریح نبی ﷺ نے خود فرما دی ہے، جس پر صحابہ کرامؓ کا اجماع ہے، اور جسے صحابہ کرامؓ کے زمانے سے لے کر آج تک تمام دنیا کے مسلمان بلا اختلاف مانتے رہے ہیں، اس کے خلاف کوئی دوسرا مفہوم لینے اور کسی نئے مدعی کے لیے نبوت کا دروازہ کھولنے کی کیا گنجائش باقی رہ جاتی ہے۔ ایسے لوگوں کو کیسے مسلمان تسلیم کیا جا سکتا ہے، جنھوں نے باب نبوت کے مفتوح ہونے کا محض خیال ہی ظاہر نہیں کیا ہے، بلکہ اس دروازے سے ایک صاحب، حریم نبوت میں داخل بھی ہو گئے ہیں اور یہ لوگ ان کی نبوت پر ایمان بھی لے آئے ہیں۔

اس سلسلے میں تین باتیں قابل غور ہیں:

صفحہ 108

پہلی بات یہ ہے کہ نبوت کا معاملہ ایک بڑا ہی نازک معاملہ ہے۔ قرآن مجید کی رُو سے یہ اسلام کے اُن بنیادی عقائد میں سے ہے، جن کے ماننے یا نہ ماننے پر آدمی کے کفر و ایمان کا انحصار ہے۔ ایک شخص نبی ہو اور آدمی اس کو نہ مانے تو کافر اور وہ نبی نہ ہو اور آدمی اس کو مان لے تو کافر۔ ایسے نازک معاملے میں تو اللہ تعالیٰ سے کسی بے احتیاطی کی بدرجہ اولیٰ توقع نہیں کی جا سکتی۔ اگر محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی آنے والا ہوتا تو اللہ تعالیٰ خود قرآن میں صاف صاف اس کی تصریح فرماتا، رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ سے اس کا کھلا کھلا اعلان کراتا اور حضور ﷺ دنیا سے کبھی تشریف نہ لے جاتے، جب تک اپنی اُمت کو اچھی طرح خبردار نہ کر دیتے کہ میرے بعد بھی انبیاء آئیں گے اور تمھیں ان کو ماننا ہوگا۔ آخر اللہ اور اس کے رسول کو ہمارے دین و ایمان سے کیا دشمنی تھی کہ حضور ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ تو کھلا ہوتا اور کوئی نبی آنے والا بھی ہوتا، جس پر ایمان لائے بغیر ہم مسلمان نہ ہو سکتے، مگر ہم کو نہ صرف یہ کہ اس سے بے خبر رکھا جاتا، بلکہ اس کے برعکس اللہ اور اس کا رسول، دونوں ایسی باتیں فرما دیتے جن سے تیرہ سو برس تک ساری امت یہی سمجھتی رہی اور آج بھی سمجھ رہی ہے کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے۔

اب اگر بفرض محال نبوت کا دروازہ واقعی کھلا بھی ہو اور کوئی نبی آ بھی جائے تو ہم بے خوف و خطر اس کا انکار کر دیں گے۔ خطرہ ہو سکتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی باز پرس ہی کا تو ہو سکتا ہے۔ وہ قیامت کے روز ہم سے پوچھے گا تو ہم یہ سارا ریکارڈ برسر عدالت لا کر رکھ دیں گے جس سے ثابت ہو جائے گا کہ معاذ اللہ اس کفر کے خطرے

صفحہ 109

دوسری قابل غور بات یہ ہے کہ نبوت کوئی ایسی صفت نہیں ہے، جو ہر اُس شخص میں پیدا ہو جایا کرے، جس نے عبادت اور عملِ صالح میں ترقی کر کے اپنے آپ کو اس کا اہل بنا لیا ہو۔ نہ یہ کوئی ایسا انعام ہے، جو کچھ خدمات کے صلے میں عطا کیا جاتا ہو بلکہ یہ ایک منصب ہے جس پر ایک خاص ضرورت کی خاطر اللہ تعالیٰ کسی شخص کو مقرر کرتا ہے۔ وہ ضرورت جب داعی ہوتی ہے تو ایک نبی اس کے لیے مامور کیا جاتا ہے اور جب ضرورت نہیں ہوتی یا باقی نہیں رہتی تو خواہ مخواہ انبیا پر انبیا نہیں بھیجے جاتے۔

قرآن مجید سے جب ہم یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ نبی کے تقرر کی ضرورت کن کن حالات میں پیش آئی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ صرف چار حالتیں ایسی ہیں، جن میں انبیاؑ مبعوث ہوئے ہیں:

اب یہ ظاہر ہے کہ ان میں سے کوئی ضرورت بھی حضور نبی کریم ﷺ کے بعد باقی نہیں رہی ہے۔ قرآن خود کہہ رہا ہے کہ حضور ﷺ کو تمام دنیا کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا گیا ہے اور دنیا کی تمدنی تاریخ بتا رہی ہے کہ آپ ﷺ کی بعثت کے وقت سے مسلسل ایسے حالات موجود رہے ہیں کہ آپ ﷺ کی دعوت سب قوموں کو پہنچ سکتی تھی اور ہر وقت پہنچ سکتی ہے۔ اس کے بعد الگ الگ قوموں میں انبیاؑ آنے کی کوئی حاجت باقی نہیں رہتی۔

قرآن اس پر بھی گواہ ہے اور اس کے ساتھ حدیث و سیرت کا پورا ذخیرہ اس امر کی شہادت دے رہا ہے کہ حضور ﷺ کی لائی ہوئی تعلیم بالکل اپنی صحیح صورت میں محفوظ ہے۔ اس میں مسخ و تحریف کا کوئی عمل نہیں ہوا ہے۔ جو کتاب آپ ﷺ لائے تھے، اس میں ایک لفظ کی بھی کمی بیشی آج تک نہیں ہوئی، نہ قیامت تک ہو سکتی ہے۔ جو ہدایت آپ ﷺ نے

صفحہ 110

اپنے قول وعمل سے دی، اس کے تمام آثار آج بھی اس طرح ہمیں مل جاتے ہیں کہ گویا ہم آپ ﷺ کے زمانے میں موجود ہیں۔ اس لیے دوسری ضرورت بھی ختم ہو گئی۔

پھر قرآن مجید یہ بات بھی صاف صاف کہتا ہے کہ حضور ﷺ کے ذریعہ سے دین کی تکمیل کر دی گئی۔ لہٰذا تکمیل دین کے لیے بھی اب کوئی نبی درکار نہیں رہا۔ اب رہ جاتی ہے چوتھی ضرورت، تو اگر اس کے لیے کوئی نبی درکار ہوتا تو وہ حضور ﷺ کے زمانے میں آپ ﷺ کے ساتھ مقرر کیا جاتا۔ ظاہر ہے کہ جب وہ مقرر نہیں کیا گیا تو یہ وجہ بھی ساقط ہو گئی۔

اب ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ وہ پانچویں وجہ کون سی ہے، جس کے لیے آپ ﷺ کے بعد ایک نبی کی ضرورت ہو؟ اگر کوئی کہے کہ قوم بگڑ گئی ہے، اس لیے اصلاح کی خاطر ایک نبی کی ضرورت ہے، تو ہم اُس سے پوچھیں گے کہ محض اصلاح کے لیے نبی دنیا میں کب آیا ہے کہ آج صرف اس کام کے لیے وہ آئے؟ نبی تو اس لیے مقرر ہوتا ہے کہ اس پر وحی کی جائے اور وحی کی ضرورت یا تو کوئی نیا پیغام دینے کے لیے ہوتی ہے یا پچھلے پیغام کی تکمیل کرنے کے لیے، یا اس کو تحریفات سے پاک کرنے کے لیے۔ قرآن اور سنت محمدیہ ﷺ کے محفوظ ہو جانے اور دین کے مکمل ہو جانے کے بعد جب وحی کی سب ممکن ضرورتیں ختم ہو چکی ہیں، تو اب اصلاح کے لیے صرف مصلحین کی حاجت باقی ہے نہ کہ انبیاء کی۔

تیسری قابل توجہ بات یہ ہے کہ نبی جب بھی کسی قوم میں آئے گا، فوراً اس میں کفر وایمان کا سوال اٹھ کھڑا ہوگا۔ جو اس کو مانیں گے، وہ ایک امت قرار پائیں گے اور جو اس کو نہ مانیں گے، وہ لامحالہ دوسری امت ہوں گے۔ ان دونوں امتوں کا اختلاف محض فروعی اختلاف نہ ہوگا بلکہ ایک نبی پر ایمان لانے اور نہ لانے کا ایسا بنیادی اختلاف ہوگا، جو انھیں اس وقت تک جمع نہ ہونے دے گا جب تک ان میں سے کوئی اپنا عقیدہ نہ چھوڑ دے۔ پھر ان کے لیے عملاً بھی ہدایت اور قانون کے ماخذ الگ الگ ہوں گے، کیونکہ ایک گروہ اپنے تسلیم کردہ نبی کی پیش کی ہوئی وحی اور اس کی سنت سے قانون لے گا اور دوسرا گروہ اس کے ماخذ قانون ہونے کا سرے سے منکر ہوگا۔ اس بنا پر ان کا ایک مشترک معاشرہ بن جانا کسی طرح بھی ممکن نہ ہوگا۔

ان حقائق کو اگر کوئی شخص نگاہ میں رکھے تو اُس پر یہ بات بالکل واضح ہو جائے گی

صفحہ 111

کہ ختم نبوت اُمت مسلمہ کے لیے اللہ کی ایک بہت بڑی رحمت ہے، جس کی بدولت ہی اُس اُمت کا ایک دائمی اور عالمگیر برادری بننا ممکن ہوا ہے۔ اس چیز نے مسلمانوں کو ایسے ہر بنیادی اختلاف سے محفوظ کر دیا ہے، جو ان کے اندر مستقل تفریق کا موجب ہو سکتا ہو، اب جو شخص بھی محمد ﷺ کو اپنا ہادی و رہبر مانے اور ان کی دی ہوئی تعلیم کے سوا کسی اور ماخذ ہدایت کی طرف رجوع کرنے کا قائل نہ ہو، وہ اس برادری کا فرد ہے اور ہر وقت ہو سکتا ہے۔ یہ وحدت اس امت کو کبھی نصیب نہ ہو سکتی تھی، اگر نبوت کا دروازہ بند نہ ہو جاتا کیونکہ ہر نبی کے آنے پر یہ پارہ پارہ ہوتی رہتی۔

آدمی سوچے تو اس کی عقل خود یہ کہہ دے گی کہ جب تمام دنیا کے لیے ایک نبی بھیج دیا جائے اور جب اس نبی کے ذریعہ سے دین کی تکمیل بھی کر دی جائے، تو نبوت کا دروازہ بند ہو جانا چاہیے تاکہ اس آخری نبی کی پیروی پر جمع ہو کر تمام دنیا میں ہمیشہ کے لیے اہل ایمان کی ایک ہی امت بن سکے اور بلا ضرورت نئے نئے نبیوں کی آمد سے اس امت میں بار بار تفرقہ نہ برپا ہوتا رہے۔ نبی خواہ ”ظلی“ ہو یا ”بروزی“ امتی ہو یا صاحب شریعت یا صاحب کتاب، بہر حال جو شخص نبی ہوگا اور خدا کی طرف سے بھیجا ہوا ہوگا، اس کے آنے کا لازمی نتیجہ یہی ہوگا کہ اس کے ماننے والے ایک امت بنیں اور نہ ماننے والے کافر قرار پائیں۔ یہ تفریق اس حالت میں تو ناگزیر ہے، جب کہ نبی کے بھیجے جانے کی فی الواقع ضرورت ہو۔ مگر جب اس کے آنے کی کوئی ضرورت باقی نہ رہے تو خدا کی حکمت اور اس کی رحمت سے یہ بات قطعی بعید ہے کہ وہ خواہ مخواہ اپنے بندوں کو کفر و ایمان کی کشمکش میں مبتلا کرے اور انھیں کبھی ایک امت نہ بننے دے، لہٰذا جو کچھ قرآن سے ثابت ہے اور جو کچھ سنت اور اجماع سے ثابت ہے، عقل بھی اسی کو صحیح تسلیم کرتی ہے اور اس کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اب نبوت کا دروازہ بند ہی رہنا چاہیے۔“

اوصافِ نبوت اور مرزا قادیانی

اس زمانہ میں حکومتیں اور بڑے بڑے ادارے اپنا نظم و نسق چلانے کے لیے کلیدی عہدوں (سفارت و وزارت) پر ایسے افراد کا انتخاب کرتے ہیں جو پوری اہلیت اور قابلیت کے مالک ہوں۔ مثلاً وہ عقل و فہم میں یگانہ روزگار ہوں، حکومت کے وفادار اور اطاعت شعار

صفحہ 112

ہوں۔ صادق اور امانت دار ہوں۔ جھوٹے اور مکار نہ ہوں۔ زیرک اور دانا ہوں کہ حکومت کے احکامات کو سمجھنے میں غلطی نہ کریں۔ اگر ان میں یہ اوصاف نہ ہوں تو حکومت انھیں اہم عہدوں پر فائز نہیں کرے گی۔ جب دنیاوی حکومتوں اور اداروں کے سفیروں، وزیروں اور ڈائریکٹروں کے یہ اوصاف ہیں تو ظاہر ہے اللہ تعالیٰ کے نبیوں اور رسولوں کے اوصاف حمیدہ ان سے ان گنت درجہ بڑھ کر ہوں گے۔ نبی اور رسول ایسی غیر معمولی خوبیوں اور حیران کن صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہیں کہ لوگ ان کی سیرت اور کردار کو دیکھ کر عش عش کر اٹھتے ہیں۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے بعد بے شمار لوگوں نے نبوت کے دعوے کیے جن میں ایک قادیان کا مرزا قادیانی بھی ہے۔ آئیے! دیکھتے ہیں کہ کیا اس میں اوصاف نبوت میں سے کوئی ایک چیز بھی موجود تھی یا نہیں؟

ہو۔ نبی اپنے دور میں عقل وفہم کے لحاظ سے اس قدر بلند درجے پر فائز ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں اس کی کوئی نظیر نہ ہو۔ نبی اپنی تمام امت سے عقل سلیم اور دانائی و حکمت میں سب سے بالا اور برتر ہوتا ہے۔ کسی بڑے سے بڑے عاقل، فلاسفر اور دانشور کی ذہانت اور فہم اس کے ہم پلہ اور پاسنگ نہیں ہوتی۔ جبکہ مرزا قادیانی دائیں بائیں جوتے کی تمیز نہیں کر سکتا تھا۔ (سیرت المہدی 1 صفحہ 67 از مرزا بشیر احمد ایم اے) اپنی قمیض کے کاج بٹن الٹے لگاتا تھا۔ (سیرت المہدی جلد دوم صفحہ 126 از مرزا بشیر احمد ایم اے)

جبکہ مرزا قادیانی نبی کے بجائے غبی تھا۔ وہ ایک ناقص العقل اور بیوقوف شخص تھا۔ وہ اپنے کردار کے لحاظ سے عجیب و غریب حماقتوں کا مجموعہ تھا۔ اس کے بیٹے مرزا بشیر احمد ایم اے نے اپنے باپ کے حالات زندگی پر ایک کتاب ”سیرت المہدی“ کے عنوان سے لکھ رکھی ہے۔ یہ کتاب مرزا قادیانی کے مضحکہ خیز، مخبوط الحواس اور احمقانہ کردار پر شاہد ہے۔

حافظ، حضور نبی اکرم ﷺ ہیں۔ میں یہ استفسار کرنے کی جسارت کرتا ہوں، کیا مرزا قادیانی بھی

صفحہ 113

اپنے الہامات، کشوف اور رویا وغیرہ کا حافظ تھا؟ مگر افسوس اس کا معاملہ تو ...... را حافظہ نہ باشد والا تھا، اسی لیے تو اس کے ”روحانی خزائن“ تناقضات و تضادات کا بے مثال مرقع ہیں۔) اگر نبی کا حافظہ کمزور یا خراب ہو تو اسے اللہ تعالیٰ کی وحی بھی صحیح طریقے سے یاد نہ رہے گی اور ایک لفظ کی کمی و بیشی سے اللہ کے حکم میں زمین و آسمان کا فرق پیدا ہو جائے گا اور اس سے بجائے ہدایت کے گمراہی پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ شان رسالت کی پہلی شرط یہ ہے کہ مدعی نبوت کو دماغی عارضہ نہ ہو اور جسمانی بیماریوں سے بھی اس کے جسمانی حالات مشتبہ نہ ہوں تا کہ تبلیغ رسالت کا کام اچھی طرح انجام دے سکے۔

جبکہ

مرزا قادیانی کا حافظہ بہت خراب تھا۔ بقول مرزا قادیانی ”حافظہ کی یہ ابتری (یعنی بدترین حالت) ہے کہ بیان نہیں کر سکتا۔“ (مکتوبات احمد جلد دوم صفحہ 483 طبع جدید از مرزا قادیانی) مرزا قادیانی نے اپنی تحریروں میں مالیخولیا، مراق اور خرابی حافظہ کا خود اقرار اور اعتراف کیا ہے۔ دنیا کے کسی شخص کے کلام اور تحریروں میں اتنا تضاد نہیں جتنا کہ مرزا قادیانی کے کلام اور تحریروں میں موجود ہے۔ اس کا حافظہ اتنا کمزور تھا کہ گڑ کے ڈھیلے اور مٹی کے ڈھیلوں میں فرق نہ کر سکا۔

بلکہ براہ راست اللہ تعالیٰ اُسے علم لدنی سے سرفراز فرماتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیا و جہاں کے تمام علوم اور معارف پر مکمل دسترس رکھتا ہے۔

جبکہ

”سلطان القلم“ مرزا قادیانی کو صحیح اردو تک نہ آتی تھی۔ اس کی نثر میں مذکر مونث اور واحد جمع کی بے شمار اغلاط ہیں۔ یہی حال فارسی اور عربی کا ہے۔ انگریزی ایسی تھی کہ اگر کوئی انگریز سن لے تو مارے حیرت کے اُسے ہارٹ اٹیک ہو جائے۔ مرزا قادیانی ایسا جاہل تھا کہ وہ اسلامی مہینہ صفر کو چوتھا مہینہ قرار دیتا ہے۔ (تریاق القلوب صفحہ 42 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 218 از مرزا قادیانی) مرزا قادیانی کی تحریریں اس قدر بے ربط اور سب و شتم سے بھری ہوئی ہیں کہ کوئی شریف

صفحہ 114

آدمی ان کتابوں کے دو صفحات نہیں پڑھ سکتا۔ مرزا قادیانی کی شاعری ایسی ہے کہ خود قادیانی خجالت کے مارے اُسے پڑھنے سے گھبراتے ہیں۔ مثلاً اس کا ایک مشہور شعر ہے:

کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں
ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار

(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 97 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 127 از مرزا قادیانی)

کیا کوئی قادیانی اس کا ترجمہ اور تشریح کر سکتا ہے؟

اور ناخوش رہتا ہے۔

جبکہ

مرزا قادیانی نے پوری زندگی اسلام کی مخالفت میں گزاری اور حکومت برطانیہ کی مسلسل خوشامد کر کے جہاد کو حرام قرار دیا اور اس کے فروغ کے لیے دعائیں کرتا رہا۔ مرزا قادیانی خود تو انگریزوں کا ”خودکاشتہ پودا“ تھا ہی مگر ساتھ ہی وہ مسلمانوں کو بھی یہ تعلیم دیتا تھا کہ وہ انگریزوں کی اطاعت کریں اور ہر قسم کا جہاد چھوڑ دیں۔

(مجموعہ اشتہارات جلد سوم صفحہ 21، 584 از مرزا قادیانی)

کا کردار اس قدر شفاف اور اُجلا ہوتا ہے کہ مخالفین بھی اس کی اس خوبی کا برملا اعتراف کرتے ہیں۔

جبکہ

مرزا قادیانی پرلے درجہ کا جھوٹا، خائن اور کذاب تھا۔ اس کے جھوٹ پر علمائے کرام نے مستقل کتابیں تحریر کی ہیں۔ اس کی تمام پیش گوئیاں جھوٹ اور غلط ثابت ہوئیں۔ اس نے اپنے جھوٹ کا نام پراپیگنڈا رکھ لیا تھا، اس لیے بعض بدنصیب اس کے جال میں پھنس گئے۔ ورنہ مرزا قادیانی جس اعلیٰ درجے کا جھوٹ بولتا تھا، اس سے شیطان بھی شرماتا تھا۔

کا کوئی وارث ہوتا ہے۔ وہ کوئی ترکہ نہیں چھوڑتا۔ حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد

صفحہ 115

گرامی ہے: ”ہم گروہ انبیاء نہ ہم کسی کے وارث اور نہ ہمارا کوئی وارث۔ ہم جو کچھ چھوڑتے ہیں، وہ خدا کے لیے وقف ہوتا ہے۔“

جبکہ

مرزا قادیانی کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ وہ اپنے باپ کی جائیداد اور مال و دولت کا وارث ہوا اور انگریزی عدالت سے اس کی باضابطہ رجسٹری ہوئی اور اس کے مرنے کے بعد اس کی تمام جائیداد اور مال و زر پر اس کی اولاد قابض ہوئی اور اس پر باقاعدہ جھگڑے بھی ہوئے۔

کی شہوات اور لذات سے بے تعلق ہوتا ہے کیونکہ شہوت پرستی اللہ کے بندوں کو خدا پرست نہیں بنا سکتی۔

جبکہ

مرزا قادیانی میں زہد نام کی کوئی چیز سرے سے موجود نہ تھی۔ اس کے بیٹے مرزا بشیر احمد کی تصنیف ”سیرت المہدی“ (جلد دوم صفحہ 132) میں موجود مرزا قادیانی کی خوراک پڑھ لی جائے تو پیٹو آدمی بھی کانوں کو ہاتھ لگاتا ہے۔ اس بسیار خور کے بارے ہر شخص کہتا کہ یہ پیٹ ہے یا بے ایمان کی قبر؟ اگر مرزا قادیانی اتنی خوراک کھانے کا مظاہرہ کسی سرکس میں کرتا تو اپنی جھوٹی نبوت سے زیادہ پیسہ اور شہرت کماتا۔ انبیا کی جسمانی طاقت اور دماغی قویٰ، مشک وعنبر کے مرکبات کے محتاج نہیں ہوتے (سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 50، 51) بلکہ روکھی سوکھی کھا کر فطرتی طور پر انوار شباب کو ساٹھ سال بلکہ سو سال تک نمایاں طور پر دنیا کے سامنے پیش کرتے رہتے ہیں۔ مرزا قادیانی کی طرح مریل اور دائم المریض نہیں ہوتے کہ مذہبی فرائض ادا کرنے سے بھی معذور ہوں۔ مرزا قادیانی نے مختلف حیلے بہانوں سے اس قدر روپیہ جمع کیا کہ وہ آج کے دور کے اربوں روپے بنتے ہیں۔

جبکہ

مرزا قادیانی مغل برلاس قوم سے تعلق رکھتا تھا، اور اس کا خاندان کئی نسلوں سے

صفحہ 116

انگریز کا وفادار اور مسلمانوں کا مخبر چلا آ رہا ہے۔ (مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 376، طبع جدید، از مرزا قادیانی)

قریب بھی کذب پھٹک نہیں سکتا اور نہ کذب کے شائبہ کا اس کی زندگی میں تصور ہو سکتا ہے۔ یہی وہ بنیاد ہے جس کی وجہ سے نبی اپنی تصدیق کے لیے صدق کو معیار اور کسوٹی بناتا ہے۔

جبکہ

مرزا قادیانی اپنے قول و فعل اور سیرت کے اعتبار سے نہایت جھوٹا اور کذاب تھا۔ خود اس کا اپنی زبان سے اپنا تعارف، پیش گوئیاں اور اپنے دعوؤں میں صدق کی دھجیاں اڑتی نظر آتی ہیں۔ یہ ایسے امور ہیں جنھیں سمجھنے کے لیے بیش بہا علم کی ضرورت نہیں ہے۔

دین اور عقل کا ناقص ہونا محال ہے۔ عورت کے لیے پردہ ضروری ہے۔ اگر عورت نبی ہو تو لوگ اسے کیسے دیکھیں گے، نبیہ کو دیکھے بغیر صحابی کیسے بنیں گے۔ اگر وہ پردہ نہیں کرے گی تو موجب فتنہ ہو گی۔ نبی کی آواز بھی حسین و جمیل اور خوش نوا ہوتی ہے۔ اگر وہ نبیہ ہو گی تو مختلف فتنوں کا دروازہ کھولے گی۔

جبکہ

مرزا قادیانی کا کہنا ہے کہ میں مریم ہوں۔ خدا نے میرے ساتھ رجولیت کا اظہار کیا، جس کے نتیجہ میں، میں حاملہ ہوا اور دس مہینے کے بعد میرے میں سے، میں نکلا۔ (کشتی نوح صفحہ 47 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 50 از مرزا قادیانی) ظاہر ہے مریم اور حاملہ تو صرف عورت ہی ہو سکتی ہے نہ کہ مرد۔ لہٰذا (پارٹ ٹائم) عورت ہونے کے ناتے مرزا قادیانی نبی نہ ہوا۔

نہیں ہوتا۔

صفحہ 117

جبکہ

مرزا قادیانی بدگو اور بدکلام تھا۔ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر اپنے مخالفین کو گالیاں دیتا تھا۔ وہ انھیں جہنمی، کافر، کنجریوں کی اولاد، کتے، سور، شیطان، بدذات، دجال، خبیث اور کذاب وغیرہ کے ناموں سے یاد کرتا۔ لعنت بازی تو اس کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ حالانکہ خود اس کا کہنا ہے کہ گالیاں دینا سفلوں اور کمینوں کا کام ہے۔

(ست بچن صفحہ 20 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 133 از مرزا قادیانی)

نازل نہ ہوئی تھی۔

اشاعت کا بھاری معاوضہ وصول کرتا رہا۔

فارسی، اردو، عبرانی، عربی، انگریزی اور پنجابی میں وحی ہوتی تھی جن میں بعض کے مفاہیم کو وہ خود بھی نہ سمجھ سکتا تھا۔

سیالکوٹ کچہری میں ملازم تھا۔

جبکہ مرزا قادیانی کا نام جمع یعنی دو ناموں غلام اور احمد کا مرکب ہے یعنی غلام ہوکر آقا کے تخت پر بیٹھنے کی ناپاک جسارت کی۔

نہیں۔ وہ روح القدس کی وساطت سے تعلیم پاتا ہے جبکہ مرزا قادیانی کے اردو، فارسی، عربی اور انگریزی کے کئی استاد تھے۔ جن میں فضل الٰہی، فضل احمد، گل علی شاہ اور ڈاکٹر امیر شاہ مشہور ہیں۔

صفحہ 118

خطبات و ملفوظات تضادات سے بھرے پڑے ہیں۔

(بھارت) میں دفن ہوا۔

مفہوم کو سمجھنے کے لیے ہندو لڑکوں اور اپنے مریدوں کا محتاج تھا۔

غلط ثابت ہوئیں۔

تثلیث پرست انگریزوں کی حکومت کے استحکام کی خاطر جہاد فی سبیل اللہ کو منسوخ کرنے اور ان کی اطاعت کرنے کے لیے تاحیات کوشاں رہا۔

خود مرزا قادیانی کا اعتراف ہے:

کرتے ہیں۔ جیسا کہ یہ ذکر ”صحیح بخاری“ میں بھی موجود ہے۔ چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی مصر سے کنعان کی طرف ہجرت کی تھی اور ہمارے نبی ﷺ نے بھی مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی تھی۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ صفحہ 350 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 350 از مرزا قادیانی)

کافی ہوتی ہے جبکہ مرزا قادیانی نے اپنے دعویٰ کی صداقت میں ایک سو کتب تصنیف کیں مگر لوگ پھر بھی اسے کذاب ہی کہتے رہے۔

اعتراف کرتا ہے کہ اسے مراق، ہسٹیریا، مالیخولیا اور کثرتِ بول کے امراض لاحق تھے۔

صفحہ 119

کے دعویٰ کی بنیاد ہی جھوٹ پر تھی۔

جائے جبکہ مرزا قادیانی خود برائی کے پاس چل کر جاتا تھا۔ مرزا قادیانی شراب پیتا، زنا کرتا تھا اور سود کھاتا تھا۔ یہ تمام حوالے مستند قادیانی کتب میں موجود ہیں۔

بعد اذنِ خداوندی سے مخلوق کے سامنے اپنی نبوت کا اعلان کر دیتا ہے۔ بتدریج، مرحلہ بہ مرحلہ اور آہستہ آہستہ اسے درجہ نبوت نہیں ملتا جبکہ مرزا قادیانی نے بتدریج آہستہ آہستہ اپنی نبوت کا دعویٰ کیا۔ پہلے عالم، پھر مناظر، پھر محدث، پھر مہدی، پھر مسیح موعود اور آخر میں نبوت و رسالت کا دعویٰ کیا۔

کسی غیر نبی کو نہ ملا ہو جبکہ مرزا قادیانی انتہائی بدصورت، مکروہ شکل اور کریہہ خدوخال کا مالک تھا۔ اکثر مائیں اپنے شریر بچوں کو مرزا قادیانی کی تصویر دکھا کر ڈراتی ہیں!

شک یا تذبذب کا شکار نہیں ہوتا جبکہ مرزا قادیانی مدت العمر اپنی نبوت کے حوالے سے معمے کا ہی شکار رہا۔ صادق انبیا میں سے ایک مثال بھی نہیں پیش کی جاسکتی کہ اسے اللہ نبی کہتا ہو اور وہ تاویل کرے کہ میں نبی نہیں ہوں۔ سوچنے کا مقام ہے، آخر مرزا قادیانی کی کیا پرابلم تھی جو 1882ء سے 1902ء تک وہ اپنے ادعائے نبوت کے تناظر میں نہ خود واضح ہوا نہ اپنے مریدین پر اپنی حقیقی پوزیشن واضح کر سکا؟

سچے نبیوں کا اقرار ضروری ہے
جھوٹے نبیوں کا انکار ضروری ہے
ختم نبوت کی نگری میں چور گھسے
نگری والے ہوں بیدار ضروری ہے
صفحہ 120

ختم نبوت پر قادیانی اعتراضات اور اُن کے جوابات

کے کہتے ہیں:

يٰبَنِیْ اٰدَمَ اِمَّا يَاْتِيَنَّکُمْ رُسُلٌ مِّنْکُمْ يَقُصُّوْنَ عَلَيْکُمْ اٰيٰتِیْ فَمَنِ اتَّقٰی وَاَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ (الاعراف:35)

(ترجمہ): ”اے اولادِ آدم! اگر تمہارے پاس پیغمبر آئیں جو تم ہی میں سے ہوں، جو میرے احکام تم سے بیان کریں، تو جو شخص تقویٰ اختیار کرے اور اپنی اصلاح کرے تو ان لوگوں پر نہ کچھ اندیشہ ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔“

یہ آیت حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوئی، لہٰذا اس میں نبی ﷺ کے بعد آنے والے رسولوں کا تذکرہ ہے۔ نبی ﷺ کے بعد بنو آدم کو خطاب ہے، لہٰذا جب تک اولادِ آدم دنیا میں موجود ہے، اس وقت تک نبوت کا سلسلہ جاری رہے گا؟

قادیانیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس آیت کا پس منظر دیکھنے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہاں کوئی نیا حکم اس امت کو نہیں دیا جا رہا ہے، بلکہ زمانہ ماضی کے واقعہ کی حکایت بیان ہو رہی ہے۔ چنانچہ سورہ اعراف کے دوسرے رکوع میں حضرت آدم اور حضرت حوا علیہما السلام کی پیدائش کا ذکر ہے، اس کے بعد ان کے جنت میں رہنے، اور پھر وہاں سے اتارے جانے کا قصہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ اسی ضمن میں یہ بتایا گیا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کو زمین پر اتارنے کے بعد ان کی اولاد سے منجانب خداوندی خطاب کیا گیا تھا اور یہ خطاب عالم ارواح کا ہے۔ جیسے قرآن کریم میں حسب ذیل چار آیتوں میں ذکر کیا گیا ہے:

صفحہ 121

ان چاروں جگہوں میں اس وقت اولاد آدم کو خطاب کیا گیا ہے۔ یہ براہ راست امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کو خطاب نہیں ہوا بلکہ ان کے سامنے یہ ماضی کی حکایت بیان کی گئی ہے۔ اس لیے کہ قرآن مجید کے اسلوب پر نظر ڈالنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضور اکرم ﷺ کی امت دعوت کو یایھا الناس اور امت اجابت کو یا الذین امنو کے الفاظ سے مخاطب کیا گیا ہے۔ قرآن کریم نے اس واقعہ اور الفاظ خطاب کو ذکر کرنے کے بعد متعدد انبیا الوالعزم کا ذکر کیا ہے۔ گویا کہ یہ امایاتینکم رسل منکم کی تشریح وتفصیل کی جارہی ہے۔ سب کا ذکر کرنے کے بعد آخر میں حضور سرور کائنات فخر دو عالم خاتم الانبیا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا ذکر مبارک ان الفاظ میں ہوتا ہے: الذین یتبعون الرسول النبی الامی الذی یجدونه مکتوبا عندهم فی التوراة والانجیل۔ (اعراف: 157) اور پھر آپ ﷺ ہی کی زبانی اعلان کرایا جاتا ہے۔ قل یاایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا۔ (اعراف: 158) ’’اے نبی ﷺ! آپ فرما دیجیے، میں تم سب (لوگوں) کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔‘‘ اور اسی پر بس نہیں بلکہ اس با عظمت اعلان کی قرآن کریم کی متعدد سورتوں میں مختلف پیرایوں میں تاکید و تائید فرمائی گئی ہے تاکہ اس بارے میں کوئی الجھن باقی نہ رہے کہ رسول اکرم ﷺ آخری رسول ہیں اور آخری شریعت لے کر آنے والے ہیں۔ چنانچہ کبھی ارشاد ہوا: وما ارسلنک الا کافة للناس۔ (سباء: 28) کبھی ارشاد ہوا: وما ارسلنک الا رحمة للعالمین۔ (انبیاء: 107) پھر مکمل وضاحت کے ساتھ اعلان کیا گیا۔ ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین۔ (احزاب: 40) (حضرت) محمد ﷺ تمھارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں، لیکن اللہ کے رسول نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں)۔ اور پھر احادیث مبارکہ میں بھی اس مضمون اور اعلان کی تشریح میں غیر معمولی اہمیت کا مظاہرہ کیا گیا، کیونکہ علم خداوندی میں یہ بات تھی کہ مرزا قادیانی جیسے جھوٹے مدعی نبوت اس امت میں پیدا ہوں گے اور سادہ لوح مسلمانوں کو جہنم کا ایندھن بنائیں گے۔ چنانچہ ارشاد نبویؐ ہوا: ان النبوة والرسالة قد انقطعت فلا رسول بعدی ولا نبی (ترمذی جلد 2 صفحہ 51) ’’بیشک نبوت و رسالت کا سلسلہ قطعاً ختم ہو گیا، لہٰذا میرے بعد کوئی رسول آئے گا اور نہ کوئی نبی۔‘‘ تو اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے بنی آدم سے

صفحہ 122

رسولوں کے بھیجنے کا وعدہ کیا تھا۔ چنانچہ انبیا و رسل بھیجے گئے اور وعدہ کا پوری طرح ایفا کیا گیا تا آنکہ ہدایت کا سورج، ذاتِ مصطفیٰ ﷺ کی صورت میں طلوع ہوا جس کے بعد رسول کی ضرورت باقی رہی اور نہ کسی نئی شریعت کی۔ اب قیامت تک حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نبی اور رسول ہیں، انہی کی شریعت کا سکہ چلے گا اور انہی پر سلسلۂ رسل و انبیا کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔

اگر حضور اکرم ﷺ کی امت اجابت یا امت دعوت میں نبوت و رسالت کا سلسلہ جاری ہوتا تو ”یایہا الذین آمنوا“ یا ”یایہا الناس“ کے الفاظ سے خطاب کر کے نبیوں اور رسولوں کی آمد بتائی جاتی۔ میں تمام قادیانیوں کو چیلنج کرتا ہوں کہ پورے قرآن میں کہیں کسی ایک جگہ ”یایہا الذین آمنوا“ یا ”یایہا الناس“ کے خطاب کے بعد رسولوں کی آمد کا تذکرہ دکھا دیں، میں انہیں منہ مانگا انعام دینے کے لیے تیار ہوں۔

اگر اس سے مراد تمام بنو آدم ہیں تو بنو آدم میں تو ہندو، عیسائی، مجوسی، یہودی، سکھ، بدھ مت وغیرہ سبھی افراد شامل ہیں۔ کیا ان میں سے بھی نبی پیدا ہو سکتا ہے؟ اگر جواب نفی ہے تو پھر انہیں اس آیت کے عموم سے خارج کرنے کی دلیل کیا ہے؟ اس پر مستزاد یہ کہ بنی آدم میں تو عورتیں اور ہیجڑے بھی شامل ہیں، تو کیا اس عموم سے انہیں خارج نہیں کیا جائے گا؟ لہٰذا ثابت ہوا کہ خطاب عام ہونے کے باوجود حالات و واقعات اور قرائن کے باعث اس عموم سے کئی چیزیں خارج ہیں۔

قادیانیوں کے نزدیک نبوت کی کئی اقسام ہیں۔ ایک نبوت تشریعی اور دوسری نبوت غیر تشریعی۔ پھر غیر تشریعی نبوت کی مزید قسمیں ہیں۔ ایک بلا واسطہ اور دوسری بالواسطہ۔ گویا آپ کے نزدیک نبوت کی کل 3 قسمیں ہوئیں۔ (1) تشریعی نبوت (2) غیر تشریعی بلا واسطہ نبوت (3) غیر تشریعی نبوت بالواسطہ۔ قادیانیوں کے نزدیک نبوت کی دو قسمیں تشریعی، غیر تشریعی نبوت بلا واسطہ، بند ہیں جبکہ صرف ایک جاری ہے، یعنی غیر تشریعی نبوت بالواسطہ۔ لہٰذا قادیانی قرآن مجید کی وہ آیات پیش کریں جو خاص اس دعویٰ کو ثابت کریں کہ نبوت کی دو قسمیں بند ہیں البتہ نبوت غیر تشریعی بالواسطہ جاری ہے۔

اگر فرض محال اس آیت کو اجرائے نبوت کی دلیل تسلیم کر بھی لیا جائے، تب بھی مرزا قادیانی روز قیامت تک نبی قرار نہیں پاتا۔ اس لیے کہ وہ بقول خود آدم علیہ السلام کی اولاد ہی

صفحہ 123

نہیں، جبکہ آیت تو صرف اولاد آدم سے متعلق ہے کیونکہ مرزا قادیانی اپنا تعارف یوں کراتا ہے:

ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار

(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 97 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 127 از مرزا قادیانی)

جو شخص خود کو بشر کی جائے نفرت (شرمگاہ) قرار دے اور اپنے اولاد آدم ہونے کی نفی کرے، وہ کس طرح اس آیت سے اپنے نبی ہونے کا دعویٰ کر سکتا ہے؟ لہٰذا اگر مرزا قادیانی بنی آدم سے تھا، تو پھر اس نے اپنی آدمیت سے انکار کر کے سفید جھوٹ بولا ہے اور جھوٹا شخص نبی نہیں ہو سکتا اور اگر وہ واقعی دائرہ آدمیت سے خارج تھا تو پھر مذکورہ آیت سے اس کی نبوت کا اثبات چہ معنی دارد؟

بعض قادیانیوں کا کہنا ہے کہ مرزا صاحب بہت زیادہ متواضع، منکسر المزاج اور سادہ تھے۔ انہوں نے اس شعر میں اپنی عاجزی کا اظہار کیا ہے۔ قادیانیوں کو معلوم ہونا چاہیے یہ کہاں کی عاجزی اور انکساری ہے کہ کوئی شخص اپنے انسان ہونے سے ہی انکار کر دے اور خود کو ”بشر کی جائے نفرت“ (شرمگاہ) قرار دے۔ انکساری، عاجزی اور سادگی شخصیت کا مستقل حصہ ہوتی ہے۔ یہ نہیں کہ کبھی عاجزی کا اظہار اور کبھی غرور تکبر کے نشے میں بڑے بڑے کفریہ دعوے کرنا۔ مثلاً مرزا قادیانی نے اپنے متعلق تعلی بگھاری:

ہوں، میں اسماعیل ہوں، میں موسیٰ ہوں، میں داؤد ہوں، میں عیسیٰ ابن مریم ہوں، میں محمد ﷺ ہوں۔“

(تتمہ حقیقت الوحی صفحہ 521 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 521 از مرزا قادیانی)

منم محمد ﷺ و احمد ﷺ کہ مجتبیٰ باشد“

ترجمہ: ”میں مسیح زماں ہوں، میں کلیم خدا یعنی موسیٰ ہوں، میں محمد ﷺ ہوں، میں احمد مجتبیٰ ہوں۔“

(تریاق القلوب صفحہ 6 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 134 از مرزا قادیانی)

صفحہ 124
❏ ”انبیاء گرچہ بودہ اند بسے
من بعرفان نہ کمترم ز کسے
آدمم نیز احمد مختار
در برم جامۂ ہمہ ابرار
آنچہ داد ست ہر نبی را جام
داد آں جام را مرا بہ تمام
زندہ شد ہر نبی بآمدنم
ہر رسولے نہاں بہ پیرہنم
کم نیم زاں ہمہ بروئے یقین
ہر کہ گوید دروغ ہست لعین“

ترجمہ:

سے کم نہیں ہوں۔

دیا ہے۔

جھوٹ کہتا ہے وہ لعنتی ہے۔“

(نزول المسیح صفحہ 100، مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 477، 478 از مرزا قادیانی)

❏ ”کربلائیست سیر ہر آنم
صد حسین است در گریبانم“

ترجمہ: ”میری سیر ہر وقت کربلا میں ہے۔ سو (100) حسینؓ ہر وقت میری جیب میں ہیں۔“

(نزول المسیح صفحہ 99 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 477 از مرزا قادیانی)

صفحہ 125

مرزا قادیانی کا بیٹا اور قادیانی جماعت کا دوسرا خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود، مرزا قادیانی کے مندرجہ بالا شعر کی تشریح کرتے ہوئے لکھتا ہے:

کربلائیست سیر ہر آنم
صد حسین است در گریبانم

میرے گریبان میں سو حسین ہیں، لوگ اس کے معنی یہ سمجھتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے فرمایا ہے، میں سو حسین کے برابر ہوں۔ لیکن میں کہتا ہوں اس سے بڑھ کر اس کا یہ مفہوم ہے کہ سو حسین کی قربانی کے برابر میری ہر گھڑی کی قربانی ہے۔ وہ شخص جو اہل دنیا کے فکروں میں گھلا جاتا ہے۔ جو ایسے وقت میں کھڑا ہوتا ہے جبکہ ہر طرف تاریکی اور ظلمت پھیلی ہوئی ہے اور اسلام کا نام مٹ رہا ہے۔ وہ دن رات دنیا کا غم کھاتا ہوا، اسلام کو قائم کرنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے، کون کہہ سکتا ہے کہ اس کی قربانی سو حسین کے برابر نہ تھی۔ پس یہ تو ادنیٰ سوال ہے کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) امام حسین کے برابر تھے یا اعلیٰ؟ حضرت امام حسین ولی تھے مگر ان کو وہ غم اور صدمہ کس طرح پہنچ سکتا تھا جو اسلام کو مٹتا دیکھ کر حضرت مسیح موعود کو ہوا۔ حضرت امام حسین اس وقت ہوئے جبکہ لاکھوں اولیا موجود تھے۔ اسلام اپنی شان وشوکت میں تھا۔ ایسی حالت میں ان کو وہ غم کہاں ہو سکتا تھا جو اس شخص کو ہوا، جو ایسے ہی حالات میں مبعوث ہوا جن حالات میں خود محمد ﷺ کی بعثت ہوئی تھی۔ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ حضرت امام حسین کی شہادت رسول کریم ﷺ کی شہادت سے بڑی تھی؟ نہیں! اس لیے کہ جو غم اور تکلیف آپ کو اسلام کے لیے اٹھانی پڑی، وہ حضرت امام حسین کو نہیں اٹھانی پڑی۔ اسی طرح حضرت مسیح موعود کی شہادت بھی بہت بڑی ہوئی تھی۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ مرزا صاحب اپنے گھر پر بیٹھے رہے۔ پھر کس طرح امام حسین سے بڑھ گئے۔ میں کہتا ہوں کیا محمد ﷺ اسی طرح فوت ہوئے، جس طرح امام حسین فوت ہوئے تھے؟ نہیں! مگر کوئی ہے جو کہے، محمد ﷺ کی قربانی حضرت امام حسین کی قربانی سے کم تھی۔ محمد ﷺ کی ایک ایک سیکنڈ کی قربانی حضرت امام حسین کی ساری عمر کی قربانی سے بڑھ کر تھی۔ پس جس طرح محمد ﷺ کی قربانی بڑی تھی، اسی طرح وہ شخص جو انہی حالات میں کھڑا ہو گا جن میں محمد ﷺ کھڑے ہوئے اس کی قربانی بھی بہت بڑھ کر ہوگی۔ اسی لیے حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے کہا ہے:

صفحہ 126
کربلائیست سیر ہر آنم
صد حسین است در گریبانم

کہ مجھ پر تو ہر لمحہ سو سو کربلا کی مصیبتیں گزرتی ہیں اور میں تو ہر گھڑی کربلا کی سیر کر رہا ہوں۔“

(خطبہ مرزا بشیر الدین محمود، ابن مرزا قادیانی روزنامہ الفضل قادیان شمارہ نمبر 80 جلد نمبر 13، 26 جنوری 1926ء)

اس سے بہتر غلام احمد ہے

(دافع البلاء صفحہ 24 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 240 از مرزا قادیانی)

پھر کہا:

ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار

(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 97 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 127 از مرزا قادیانی)

قادیانی بتائیں، کیا یہ عاجزی اور انکساری ہے یا تکبر و غرور؟ اگر یہ عاجزی اور انکساری ہے تو تمام قادیانی یہ شعر اپنے اپنے گھروں اور دکانوں پر نمایاں طور پر لکھوائیں تاکہ سب کی عاجزی و انکساری ہر شخص پر عیاں ہو جائے۔ ہمیں تو اس شعر کی تشریح کرتے ہوئے شرم آتی ہے کہ انسان کی جائے نفرت کے دو مقام ہیں۔ لیکن قادیانی بتائیں کہ مرزا قادیانی جائے نفرت کی کونسی جگہ تھا؟ ....... یا.......؟؟؟

وَمَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَالرَّسُوْلَ فَاُولٰٓئِكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَ الصِّدِّيْقِيْنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَالصّٰلِحِيْنَ . (النساء:69) ترجمہ: ”اور جس نے اطاعت کی اللہ اور رسول (ﷺ) کی تو یہ لوگ ان کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے اپنا انعام کیا، یعنی انبیاء، صدیقین، شہدا اور صالحین۔“ کا مطلب ہے کہ جو اللہ اور رسول کی اطاعت کریں گے، وہ نبی ہوں

صفحہ 127

گے، صدیق ہوں گے، شہید ہوں گے اور صالح ہوں گے۔ اس آیت میں چار درجات ملنے کا ذکر ہے۔ اگر انسان صدیق، شہید اور صالح بن سکتا ہے تو نبی کیوں نہیں بن سکتا؟ تین درجات کو ماننا اور ایک کا انکار کرنا قرآن میں تحریف نہیں تو اور کیا ہے؟ اگر آیت میں صرف معیت مراد ہو تو کیا حضرت ابو بکر و عمرؓ صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ ہوں گے؟ وہ بذات خود صدیق اور شہید نہ تھے؟

قادیانیوں کا یہ اعتراض بالکل جہالت پر مبنی ہے۔ انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ مذکورہ آیت کی یہ تفسیر تحریف قرآن کے زمرے میں آتی ہے۔ اس آیت کو بار بار پڑھنے اور غور کرنے سے اشارہ تک بھی نہیں ملتا کہ نبوت کا سلسلہ جاری ہے۔ اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ اس آیت میں معیت مراد ہے، عینیت مراد نہیں، کیونکہ معیت فی الدنیا ہر مومن کو حاصل نہیں، اس لیے معیت فی الآخرۃ ہی مراد ہے۔ جیسا کہ علامہ مجدد جلال الدین سیوطیؒ جنھیں مرزا قادیانی نے دسویں صدی کا مسلمہ مجدد تسلیم کیا ہے، اپنی تفسیر جلالین میں اس آیت کی شان نزول یوں بیان کرتے ہیں:

”بعض صحابہ کرام ؓ نے نبی کریم ﷺ سے عرض کی کہ آپ تو جنت کے بلند وبالا مقامات میں ہوں گے اور ہم جنت کے نچلے درجات میں ہوں گے تو آپ ﷺ کی زیارت کیسے ہوگی؟ تو یہ آیت نازل ہوئی: ”ومن یطع اللہ و الرسول“ یہاں رفاقت سے مراد جنت کی رفاقت ہے کہ صحابہ کرامؓ انبیاء علیہم السلام کی زیارت سے فیض یاب ہوں گے، اگر چہ ان (انبیاء علیہم السلام) کا قیام بلند و بالا مقامات میں ہوگا۔“

(تفسیر جلالین، ص: 80)

اس طرح کی روایت امام فخر الدین رازیؒ نے بھی حضرت ثوبانؓ کے حوالے سے بیان کی ہے جس سے یہ حقیقت اظہر من الشمس ہوتی ہے کہ اس ”معیت“ سے مراد جنت کی ”رفاقت“ بھی ہے۔ اگر یہاں معیت کی بجائے، عینیت مراد ہے تو نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے:

”سچا اور امانت دار تاجر (قیامت کے دن) نبیوں، صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ ہوگا۔“

(مسند احمد)

صفحہ 128

قادیانی بتائیں کہ اس زمانے میں کتنے امین و صادق تاجر، نبی ہوئے ہیں؟

قادیانیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ : ”مَن یُّطِعِ اللّٰہَ“ میں مَنْ عام ہے جس میں عورتیں، بچے اور ہجڑے سب شامل ہیں۔ اگر یہاں معیت کی بجائے عینیت مراد ہے تو پھر کیا یہ سب نبی ہو سکتے ہیں؟ اگر نبوت اطاعت کاملہ کا نتیجہ ہے تو پھر عورت کو بھی نبوت ملنی چاہیے، کیونکہ اعمالِ صالحہ کے نتائج میں مرد و عورت کو یکساں حیثیت حاصل ہے جس کی صراحت قرآن مجید کی کئی آیات میں موجود ہے۔ مثال کے لیے دیکھیے سورۃ النحل کی آیت: 97

اگر نبوت، اطاعت کاملہ کا نتیجہ ہے تو کیا 13 سو سال میں کسی نے نبی ﷺ کی اطاعت کاملہ نہیں کی؟ اگر کی ہے تو نبی کیوں نہ بنے؟ اگر کسی نے بھی اطاعت نہیں کی تو (نعوذ باللہ!) آپ ﷺ کی امت خیر الامۃ کی بجائے شر الامۃ ہوئی جس میں کسی نے بھی اپنے نبی کی کامل اطاعت نہیں کی۔ حالانکہ سورۂ توبہ میں اللہ تعالیٰ نے خود صحابہؓ کے متعلق شہادت دی ہے: وَيُطِيعُونَ اللّٰهَ وَرَسُولَهُ (التوبہ: 71) ”وہ (صحابہؓ) اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرتے ہیں۔“

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جماعت جو اللہ تعالیٰ اور رسول اکرم ﷺ کی اتباع میں اعلیٰ ترین مرتبہ پر فائز تھی جس نے اتباع نبوت کا ایسا نمونہ دنیا کے سامنے پیش کیا کہ رہتی دنیا تک پوری امت مل کر بھی اس کی نظیر پیش نہیں کر سکتی۔ انھیں دنیا ہی میں اللہ تعالیٰ نے ابدی رضوان اور جنت کا سرٹیفکیٹ دے دیا تھا اور بقول مرزا قادیانی ان میں حقیقت محمدیہ متحقق ہو چکی تھی۔ ان سب فضائل و امتیازات کے باوجود ان میں سے کوئی ایک بھی مقام نبوت پر فائز نہ ہو سکا۔ بلکہ حضرت ابوبکر صدیقؓ باوجود کمال اتباع کے صدیق ہی رہے اور حضرت عمرؓ باوجود عدل بے مثال کے شہید اور محدث کے درجہ پر ہی رکے رہے، ان میں سے کوئی ظلی اور بروزی نبی بھی نہ بنا تو کیا ان کے بعد امت کا کوئی شخص یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ اس نے ان حضرات سے بڑھ کر رسول ﷺ کی اتباع کی ہے اور نبوت کا حق دار ہو گیا ہے۔ مرزا قادیانی جیسے نافرمان خدا اور رسول اور انگریز کے خود کاشتہ پودے کے بارے میں تو کوئی باہوش آدمی، اُسے نبی تو کیا، ایک شریف آدمی کہنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔

قادیانی بتائیں کہ اگر اطاعت سے نبوت ملتی تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ نبوت حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمر فاروقؓ جیسے جلیل القدر صحابہ کو کیوں نہ ملی؟ کیا وہ قیامت

صفحہ 129

کے روز یہ سوال کرنے میں حق بجانب نہیں ہوں گے کہ یا اللہ! ہم نے تیری اور تیرے رسول برحق ﷺ کی اتباع میں اپنا سب کچھ قربان کر دیا، مگر تو نے ہمیں نبوت نہ دی اور ایک ایسے شخص مرزا قادیانی کو جو تیرے پکے دشمنوں یعنی انگریز کا ایجنٹ اور جاسوس تھا، اس نعمت سے سرفراز فرما دیا، کیا تیرے انصاف کا تقاضا یہی تھا؟ ہر آدمی سمجھ سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسی بے انصافی ہرگز نہیں کر سکتا۔ مذکورہ آیت سے چار آیات قبل اللہ تعالیٰ نے انبیاء ورسل کے متعلق فرمایا ہے:

وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللَّهِ (النساء: 64)

اور ہم نے ہر رسول صرف اسی لیے بھیجا کہ اللہ کے حکم سے اس کی فرمانبرداری کی جائے۔“

مطلب یہ کہ ہر رسول مطاع اور امام بنانے کے لیے بھیجا جاتا ہے نہ کہ اس لیے بھیجا جاتا ہے کہ وہ کسی دوسرے رسول کا مطیع اور تابع ہو، جبکہ قادیانیوں کا استدلال و من یُطِعِ الله وَالرَّسُوْلَ سے ہے جس میں مطیعون (اطاعت کرنے والوں) کا ذکر ہے۔ اور مطیع کسی بھی صورت میں نبی اور رسول نہیں ہوتا۔ مختصر یہ کہ نبی ورسول (لوگوں کا) مطاع ومتبوع بن کر آتا ہے نہ کہ مطیع و تابع۔ عربی زبان کے قواعد کی رو سے اس مقام پر مع، من کے معنی میں ہرگز استعمال نہیں ہوا۔ اگر یہاں مع کا معنی من لیا جائے تو حسب ذیل آیت کے معنی کیا ہوں گے؟

ان الله مع الصابرين، لا تحزن ان الله معنا، محمد رسول الله والذين معه اشداء على الكفار رحماء بينهم.

پھر سب سے اہم بات یہ ہے کہ آیت کا آخری حصہ وحسن اولئک رفیقا اس کی واضح تفسیر کر رہا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرنے سے نبیوں، صدیقوں، شہیدوں اور صالحین کی رفاقت نصیب ہوگی۔ یعنی ”اور کیا ہی اچھے ہیں یہ ساتھی!“ اس آخری جملہ میں لفظ رفیق نے یہ بات واضح کر دی کہ یہاں سوائے ساتھی بننے کے کوئی اور مطلب نہیں۔

اَللَّهُ يَصْطَفِي مِنَ الْمَلٰئِكَةِ رُسُلاً وَّمِنَ النَّاسِ (الحج: 75)

اور کہتے ہیں: ”يَصْطَفِیْ“ مضارع کا صیغہ ہے جو حال، استقبال اور استمرار کے لیے ہے۔ مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں اور انسانوں سے رسول منتخب کرتا ہے، کرے گا اور کرتا رہے گا۔ حضور ﷺ مفرد ہیں

صفحہ 130

اور ’رسل‘ جمع کا صیغہ ہے۔ واحد پر جمع کا اطلاق نہیں ہوسکتا۔

قادیانیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ انتہائی جاہل اور بے عقل بھی یہ سمجھتا ہے کہ ہر مضارع استمرار کے معنی میں ہوتا ہے۔ آیت مذکورہ میں صیغہ مضارع فعل کے اثبات کے لیے ہے نہ کہ استمرار تجدد کے لیے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

هُوَ الَّذِي يُنَزِّلُ عَلَى عَبْدِهِ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ (الحدید: 9)

یہاں بھی صیغہ مضارع ہے۔ اگر یہاں بھی استمرار ہے تو ماننا پڑے گا کہ قرآن مجید قیامت تک نازل ہوتا رہے گا۔ قادیانی بتائیں، کیا آپ اس کے قائل ہیں؟ مرزا قادیانی کا ایک الہام ہے:

کسی پلیدی اور ناپاکی پر اطلاع پائے، مگر خدا تعالیٰ تجھے اپنے انعامات دکھائے گا جو متواتر ہوں گے اور تجھ میں حیض نہیں بلکہ وہ بچہ ہوگیا ہے ایسا بچہ جو بمنزلہ اطفال اللہ ہے۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص 581 مندرجہ روحانی خزائن ج 22 ص 581 از مرزا قادیانی)

یہاں بھی صیغہ مضارع ہے۔ اگر یہ استمرار کے لیے ہے تو ثابت ہوا کہ بابو الٰہی بخش ، مرزا قادیانی کا حیض قیامت تک دیکھتے رہنے کا خواہش مند تھا۔ مزید یہ کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ فرشتوں اور انسانوں میں رسول منتخب کرتا ہے جبکہ مرزا قادیانی نہ تو فرشتہ ہے اور نہ انسان۔ بلکہ وہ کہتا ہے:

□ کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں
ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار

(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 97 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 127 از مرزا قادیانی)

اس شعر کی تشریح پہلے گزر چکی ہے۔

يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحاً. (المومنون: 51)

(ترجمہ) ”اے برگزیدہ پیغمبرو! پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ اور نیک عمل کرو۔“

اور کہتے ہیں، یہ آیت حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوئی۔ آپ ﷺ کا

صفحہ 131

نام ”محمد“ واحد ہے جبکہ رسل جمع کا صیغہ ہے۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ نبی ﷺ اور آپ کے بعد آنے والے رسول مراد ہیں جنہیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ ”میرے رسولو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو۔“ ورنہ کیا اللہ تعالیٰ وفات شدہ رسولوں کو حکم دے رہا ہے کہ اٹھو پاک کھانے کھاؤ اور نیک کام کرو؟

قادیانیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ سورۃ المومنون کے دوسرے رکوع سے مذکورہ بالا آیت کریمہ تک سابقہ انبیاء علیہم السلام کا ذکر ہے۔ سب سے آخر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا: وَجَعَلْنَا ابْنَ مَرْيَمَ وَاُمَّهٗ اٰيَةً وَّاٰوَيْنٰهُمَا اِلٰى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّمَعِيْنٍ.

(المومنون:50)

(ترجمہ) ”اور ہم نے ابن مریم اور ان کی والدہ کو بڑی نشانی بنایا اور ہم نے ان دونوں کو بلند، صاف، قرار والی اور جاری پانی والی جگہ میں پناہ دی۔“ اس سے آگے آیت 52 میں فرمایا: وَاِنَّ هٰذِهٖ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّاَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُوْنِ. (المومنون:52) اور یقیناً تمہارا یہ دین ایک ہی دین ہے اور میں ہی تم سب کا رب ہوں، پس تم مجھ سے ڈرتے رہو۔“

ان آیات میں حکایت ماضیہ کے ضمن میں یہ بتانا مقصود ہے کہ پاکیزہ اور نفیس چیزوں کا استعمال کرو۔ مطلب یہ کہ اصول دین کا طریق کسی شریعت میں مختلف نہیں ہوا۔ گویا انبیاء علیہم السلام کو اپنی امتوں کا نمونہ بننے کے لیے رزق حلال و طیب استعمال کرنے اور کردار صالح اپنانے کا حکم دیا جارہا ہے۔ تو فی الحقیقت امتوں کو حکم دینا مقصود ہے۔ جیسا کہ آیت:53 میں فرقہ بازی کے ارتکاب پر متنبہ کیا گیا ہے اور ظاہر ہے کہ تفرقہ کا شکار امت ہوتی ہے نہ کہ انبیائے کرام۔

حضرت مریم علیہا السلام اور ان کے بیٹے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا واقعہ ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ حضرت مسیح ہوں یا اور رسول، ہم نے ان سب کو حکم دیا تھا کہ پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور اچھے عمل کرو اور میں تمہارے اعمال سے بخوبی واقف ہوں۔ یہ سب لوگ امتِ واحدہ تھے۔ میں تم سب کا رب ہوں، لہٰذا مجھ سے ڈرو۔ مگر اس تاکید کے بعد بھی انبیا علیہم السلام کی اقوام نے دینِ الٰہی میں پھوٹ ڈال دی اور اسے ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور ہر گروہ

صفحہ 132

اپنی جگہ خوش ہے کہ وہ حق پر ہے۔ غرض آیات اپنے مطلب کو صاف صاف ظاہر کر رہی ہیں کہ یہ امر ہر ایک رسول کو اپنے اپنے وقت پر ہوتا رہا ہے۔ اس سے اگلی آیت فتقطعوا امرهم بينهم زبرا كل حزب بما لديهم فرحون۔ (المؤمنون:53) نے تو بات بالکل واضح کر دی کہ یہ ان امتوں کا ذکر ہے جو گزر چکی ہیں، جنہوں نے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا تھا۔ لہٰذا یہاں گزشتہ واقعہ کی خبر حکایت کی گئی ہے نہ کہ بعد میں آنے والے رسولوں کا ذکر کیا گیا ہے۔

اگر یہاں ”رسل“ سے مراد نبی ﷺ کے بعد آنے والے رسول ہیں تو قادیانی حضور نبی کریم ﷺ کے بعد صرف ایک رسول کی نبوت ہی کے کیوں قائل ہیں؟ جبکہ آیت میں ”يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ“ جمع کے الفاظ آئے ہیں نہ کہ يا ايها الرسولان جس سے ثابت ہوتا ہے کہ بہت سے رسول آسکتے ہیں۔ اس طرح یہ آیت خود قادیانیوں کے عقیدے کے خلاف ہے کیونکہ قادیانی صرف مرزا قادیانی کی نبوت کے قائل ہیں جس کی کوئی دلیل نہیں۔

اهدنا الصراط المستقيم صراط الذين انعمت عليهم

(الفاتحہ:7)

”اے اللہ ہمیں ان لوگوں کا سیدھا راستہ دکھا جن پر تو نے انعام کیا۔“ یعنی ہمیں بھی وہ نعمتیں عطا فرما جو پہلے لوگوں کو عطا کی گئیں۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ نعمتیں کیا تھیں؟ قرآن مجید میں ہے: يٰقَوْمِ اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ اِذْ جَعَلَ فِيكُمْ اَنْبِيَاءَ وَجَعَلَكُمْ مُّلُوكاً۔ (المائدہ:20)

”(موسیٰ علیہ السلام نے کہا:) اے میری قوم! اللہ کی نعمت کو یاد کرو جب اس نے تم میں نبی بنائے اور تم کو بادشاہ بنایا۔“ لہٰذا ثابت ہوا کہ نبوت اور بادشاہی دونوں نعمتیں ہیں جو خدا تعالیٰ کسی کو دیا کرتا ہے۔ خدا تعالیٰ نے سورۂ فاتحہ میں دعا سکھائی ہے اور خود ہی نبوت کو نعمت قرار دیا ہے اور دعا سکھانا بتاتا ہے کہ خدا تعالیٰ اس کی قبولیت کا فیصلہ فرما چکا ہے۔ لہٰذا امت محمدیہ ﷺ میں نبوت ثابت ہوئی۔

صفحہ 133

قادیانیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ آیت مذکورہ میں ’مُنْعَم عَلَيْهِمْ‘ کی راہ پر چلنے اور قائم رہنے کی دعا ہے نہ کہ نبی بننے کی۔ اگر انبیاء علیہم السلام کی پیروی سے بندہ نبی بن سکتا ہے تو کیا اللہ تعالیٰ کی پیروی سے اللہ بن جائے گا؟ (نعوذ باللہ من ذلک)! فرمانِ الٰہی ہے: ”وان ہذا صراطی مستقیما فاتبعوہ“ (الانعام: 153) ”اور یقیناً یہ میرا ہی سیدھا راستہ ہے پس تم اس کی پیروی کرو۔“ کیا گورنر کے راستے پر چلنے والا گورنر یا وزیر کے راستے پر چلنے والا وزیر بن جاتا ہے؟

قادیانیوں کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ پوری تاریخ نبوت میں ایک مثال بھی نہیں ملتی کہ کسی شخص کو اس کی ذاتی دعاؤں کے صلہ میں نبوت عطا کی گئی ہو اور ایسی چیز کی دعا کرنا لغو اور باطل ہے۔ نبوت تو عطیہ خداوندی ہے اور سورہ فاتحہ پڑھنے کا حکم پوری امت کو ہے۔ گویا پوری امت کا ہر فرد اپنے لیے نبوت کی دعا کر رہا ہے اور یہ بداہتاً باطل ہے۔ انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام میں تشریعی نبی بھی تھے تو لازم ہوا کہ تشریعی نبوت کی بھی دعا کی جائے اور ہر شخص صاحبِ شریعت ہوا کرے۔ نبوت کسی پیغمبر کو دعاؤں سے نہیں ملی تھی، کیونکہ نبوت وہبی ہے نہ کہ اکتسابی۔ اگر نبوت دعاؤں سے ملتی تو تیرہ سو برس میں کوئی نبی نہیں بنا، جس کا مطلب تو پھر یہی ہوا کہ کسی کی دعا قبول نہیں ہوئی۔ جس دین میں اربوں انسانوں کی دعا قبول نہ ہو، وہ بہترین امت نہیں کہلا سکتی اور نہ اسے کہلانے کا حق ہے۔

”اِہْدِنَا“ جمع کا صیغہ ہے، اس حوالے سے قادیانیوں کے مطابق اس کا ترجمہ ہونا چاہیے: ”اے اللہ تعالیٰ ہم سب کو نبی بنا۔“ اس سے معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی کی دعا بھی قبول نہیں ہوئی، ورنہ سب قادیانیوں کو نبی ہونا چاہیے تھا۔ اور اگر سب نبی بن جائیں تو پھر امتی کہاں سے آئیں گے؟ تو کیا مرزائیوں میں سے کوئی نبوت چھوڑ کر امتی بننے کے لیے تیار ہے؟ نیز یہی دعا عورتوں کو بھی سکھائی گئی ہے۔ اسی طرح عورتیں بھی منصب نبوت پر فائز ہو سکتی ہیں۔ اگر جواب نفی میں ہے تو یہ دعا انہیں کیوں سکھائی گئی؟ اگر اثبات میں ہے تو خود قادیانی مذہب کے خلاف ہے۔ یہ دعا نبی ﷺ نے اس وقت مانگی جب آپ ﷺ نبی منتخب ہو چکے تھے اور قرآن مجید بھی آپ ﷺ پر اترنا شروع ہو چکا تھا جس سے پتہ چلتا ہے کہ نبی کریم ﷺ اس دعا سے نبی نہیں بنے تو پھر اس دعا کا فائدہ کیا ہوا؟ مزید یہ کہ چودہ سو سال میں کسی ایک شخص کی یہ دعا قبول ہوئی یا نہ ہوئی؟ اگر ہوئی تو وہ کون ہے جو اس دعا سے نبی بنا؟ اور اگر یہ نبوت

صفحہ 134

طلب کرنے کی دعا ہے تو پھر مرزا قادیانی نبی بن جانے کے بعد یہ دعا کیوں مانگتا تھا؟ کیا اسے اپنی نبوت پر یقین نہ تھا (اور یقین تو واقعی اسے نہیں تھا کہ عمر بھر اسی تذبذب میں مبتلا رہا کہ وہ نبی ہے یا نہیں؟) یا اسے نبوت کے چھن جانے کا خطرہ تھا؟ (تاہم امت محمدیہ کی دعا بحمد اللہ پوری ہوئی ہے کہ اسے زمین پر بادشاہت بھی نصیب ہوئی ہے اور تمام رسولوں سے بے نیاز کر دینے والی دائمی رسالت بھی..... سو سلام ہو آخری رسول ﷺ پر کہ ہر امتی آپ کی نبوت ورسالت سے فیض یاب ہے)!!

کرتے ہیں:

”وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِى الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمُ الَّذِى ارْتَضٰى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا“ (النور: 55)

(ترجمہ) ”تم میں سے ان لوگوں سے جو ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک اعمال کیے ہیں، اللہ وعدہ فرما چکا ہے کہ انہیں ضرور زمین میں خلیفہ بنائے گا جیسے کہ ان لوگوں کو خلیفہ بنایا تھا جو ان سے پہلے تھے، اور یقیناً ان کے لیے ان کے دین کو مضبوطی کے ساتھ محکم کر کے جما دے جو وہ ان کے لیے پسند فرما چکا ہے۔ اور ضرور ان کے خوف و خطر کو وہ امن وامان سے بدل دے گا۔“

قادیانی بزرجمہروں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو سلطنت عنایت کرے گا، نہ یہ کہ نبی اور اس کے خلفا ہوں گے۔ اگر یہاں خلیفہ سے مراد غیر تشریعی انبیا ہیں تو حسب ذیل آیت کا کیا مطلب ہوگا:

”عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ يُّهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِى الْاَرْضِ“

(الاعراف: 129)

”قریب ہے کہ تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے اور تمہیں زمین کا خلیفہ بنا دے۔“

بلکہ یہ آیت تو ختم نبوت پر دلالت کرتی ہے اور بتاتی ہے کہ نبی ﷺ کے بعد نبوت

صفحہ 135

کا سلسلہ بند ہے۔ آگے صرف خلفا ہوں گے۔ پھر یہ وعدۂ خلافت بھی اس سے ہے جو مومن ہونے کے ساتھ ساتھ اعمال صالحہ سے بھی متصف ہو۔ کیا صحابہ کرام ان دونوں صفات سے متصف نہ تھے؟ اگر تھے تو تشریعی یا غیر تشریعی نبوت کا دعویٰ انہوں نے کیوں نہ کیا؟

قابل غور بات یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے خود اس آیت سے ایسے خلفا مراد لیے ہیں جن کے مصداق خلفائے راشدین ہیں، چنانچہ آیت مذکورہ کے تحت مرزا قادیانی لکھتا ہے:

فوقتاً روحانی زندگی کے کرشمے نہ دکھلاویں تو پھر اسلام کی روحانیت کا خاتمہ ہے۔“

(شہادت القرآن ص 59 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 ص 355)

مزید کہتا ہے:

کے لفظ کو اشارہ کے لیے اختیار کیا گیا کہ وہ نبی کے جانشین ہوں گے۔“

(شہادت القرآن ص 43 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 339 از مرزا قادیانی)

پھر کہا:

محمل اخر فانظر على وجه التحقيق واخش الله ولاتكن من المتعصبين.“

(سر الخلافۃ صفحہ 17 مندرجہ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 336 از مرزا قادیانی)

ترجمہ: ”خلاصہ کلام یہ ہے کہ یہ تمام آیات سیّدنا ابوبکر صدیقؓ کی خلافت پر دال ہیں۔ ان کا دوسرا کوئی اور محل نہیں۔ (انھیں کسی اور جگہ پر محمول نہیں کیا جا سکتا) آپ انھیں تحقیق کی نگاہ سے دیکھیں۔ آپ اللہ تعالیٰ سے ڈریں اور نافرمانوں سے نہ ہو جائیں۔“

ان حوالوں میں واضح طور پر تسلیم کیا گیا ہے کہ امت محمدیہ ﷺ کی اصلاح و تربیت کے لیے کوئی نبی مبعوث نہیں ہوگا بلکہ انبیا کی بجائے مجددین اور خلفا آتے رہیں گے۔ استخلاف فی الارض سے مراد زمین کی حکومت و سلطنت ہے جیسا کہ سورۃ الاعراف میں ہے ”ویستخلفکم فی الارض“ اور مرزا قادیانی، حکمران تو کجا غلام ابن غلام تھا، پھر اس کو

صفحہ 136

تشریعی یا غیر تشریعی نبوت سے کیا سروکار؟ آیت میں وعدہ کیا گیا ہے کہ تمکین دین ہو گی جبکہ مرزا قادیانی زندگی بھر انگریز عدالتوں کی خاک چھانتا رہا اور انہیں کا رہین منت رہا اور ان کا خود کاشتہ پودا ہونے پر فاخر رہا۔

آیت بتا رہی ہے کہ خوف کے بعد امن ہوگا، جبکہ مرزا قادیانی کے امن کا حال یہ تھا کہ بوجہ خوف اپنی حفاظت کے لیے حفاظتی کتا رکھتا تھا اور محض خوف کی وجہ سے حج نہ کر سکا۔ اس سلسلہ میں مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر احمد لکھتا ہے:

حفاظت کے لیے ایک دفعہ گدی کتا بھی رکھا تھا۔ وہ دروازے پر بندھا رہتا تھا اور اس کا نام شیرو تھا۔" (سیرت المہدی جلد 3 صفحہ 298) (طرفہ لطیفہ ہے کہ نسلاً سگ ہے اور نام کا "شیرو"۔ گویا "آنریری لائن" ہونے کے باوجود کتے کا کتا ہی ہے)۔

مذکورہ آیت میں خلفا کی صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ اللہ سے شرک نہیں کریں گے جبکہ مرزا قادیانی پکا مشرک تھا، کیونکہ وہ پچاس سال سے زائد عرصے تک حیات عیسیٰؑ کے عقیدے پر قائم رہا، پھر خود ہی اسے شرک قرار دے دیا تو وہ بقول خود پچاس سال سے زائد عرصہ تک مشرک رہا۔ ظاہر ہے کوئی مشرک، نبی ہو سکتا اور نہ مسیح موعود، بلکہ کافر ہوتا ہے۔ جس امت کا نبی مشرک ہو، اس کے امتی کیا ہدایت پائیں گے؟ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے:

اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَآءُ ۚ وَمَنْ يُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰى اِثْمًا عَظِيْمًا o (النساء:48)

(ترجمہ) بے شک اللہ تعالیٰ کسی مشرک کو نہیں بخشے گا اور اس کے علاوہ جس کو چاہے، بخش دے!

المحدثین یا خاتم المفسرین استعمال کرتے ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کے لیے لفظ خاتم النبیین استعمال کیا۔

قادیانیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ خاتم المحدثین، خاتم المفسرین یا خاتم المحققین وغیرہ

صفحہ 137

انسان کا کلام ہے۔ اس میں مبالغہ آمیزی شامل ہو سکتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے کلام میں مبالغہ نہیں ہو سکتا۔ وہ حقیقت پر مبنی کلام ہے۔ ایسے الفاظ کوئی شخص اپنے حسن ظن یا اپنے محدود علم کی بنا پر کہتا ہے اور درحقیقت وہ اسے ایسا ہی سمجھتا ہے۔ مگر یاد رکھنا چاہیے کہ اس کے الفاظ وحی یا الہام نہیں اور کہنے والا رسول نہ خدا ہے۔ بس اس میں یہی فرق ہے۔

قادیانی مزید کہتے ہیں کہ اگر لفظ ”خاتم“ کے ساتھ جمع کا صیغہ ہو تو اس کا ترجمہ آخری نہیں بنتا کیونکہ عربی میں اس کی کوئی مثال نہیں۔ انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ خود مرزا قادیانی نے اپنی کتاب تریاق القلوب صفحہ 351 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 479 پر اپنے متعلق لفظ ”خاتم الاولاد“ استعمال کیا ہے۔ کیا یہ عربی کا لفظ نہیں ہے؟ قادیانی ایک اور اعتراض کرتے ہیں کہ لفظ خاتم کا ترجمہ ہے افضل اور خاتم النبیین کا مطلب ہے، تمام نبیوں سے افضل۔ قادیانیوں کی یہی بات ان کی جہالت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ دنیا کی کسی لغت یا ڈکشنری میں لفظ خاتم کا معنی افضل نہیں ہے۔ میرا تمام قادیانیوں کو چیلنج ہے کہ اگر وہ خاتم کا معنی ”افضل“ کسی بھی ڈکشنری سے دکھا دیں تو میں ان کو منہ بولا انعام دوں گا۔ قادیانی ایک اور تاویل کرتے ہیں کہ خاتم النبیین میں لفظ خاتم کا ترجمہ ہے مہر، لہٰذا خاتم النبیین کا معنی ہے نبیوں کی مہر۔ یعنی نبی کریم ﷺ جس شخص پر مہر لگائیں گے وہ نبی بن جائے گا۔ قادیانیوں کی یہ دلیل غلط اور باطل ہے کیونکہ اگر ”خاتم النبیین کا معنی آپ ﷺ کی مہر سے نبی بنتے ہیں“ تو پھر کلام عرب سے قادیانی ایک مثال ہی پیش کر دیں۔ اگر قادیانیوں کا پیش کردہ یہ معنی تسلیم کر لیا جائے تو پھر وہ بتائیں کہ خاتم الاقوام کا کیا معنی ہوگا؟ یعنی اس کی مہر سے قوم بنتی ہے۔ خاتم الاولاد کا کیا معنی ہوگا؟ یعنی اس کی مہر سے اولاد بنتی ہے۔

قادیانیوں کا یہ موقف سراسر غلط، باطل، تحریف اور جعل سازی پر مبنی ہے۔ قادیانیوں کو چاہیے کہ خاتم النبیین کا معنی نبیوں کی مہر قرآن مجید کی کسی ایک آیت، احادیث نبویہ میں سے کسی ایک حدیث (خواہ ضعیف ہی کیوں نہ ہو)، کسی ایک صحابی رسول کا قول، کسی ایک تابعی کا قول یا کسی بھی عربی لغت سے صرف ایک مثال پیش کر دیں تو ان کو منہ مانگا انعام دیا جائے گا۔ میں پورے چیلنج کے ساتھ کہتا ہوں کہ تمام قادیانی الٹے لٹک جائیں تب بھی کوئی مثال پیش نہیں کر سکتے۔ ”ھاتوا برھانکم ان کنتم صادقین۔“

قادیانیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ خود مرزا قادیانی نے خاتم النبیین کا ترجمہ ”ختم

صفحہ 138

کرنے والا نبیوں کا“ کیا ہے۔ مرزا قادیانی نے اپنی تحریروں میں مختلف مقامات پر لفظ خاتم کو جمع کی طرف مضاف کیا ہے۔ ایک جگہ پر لکھا ہے ”بنی اسرائیل کے خاتم الانبیاء کا نام جو عیسیٰ ہے۔“

(نصرۃ الحق ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 412 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 412)

فی الاصل شروع میں مرزا قادیانی ختم نبوت کا قائل تھا اور عام مسلمانوں کی طرح حضور نبی کریم ﷺ کو آخری نبی مانتا تھا۔ اس سلسلہ میں مرزا قادیانی کی مندرجہ ذیل تحریریں ملاحظہ فرمائیں:

(الاحزاب:40) یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم تم میں سے کسی مرد کا باپ نہیں ہے مگر وہ رسول اللہ ہے اور ختم کرنے والا ہے نبیوں کا۔ یہ آیت بھی صاف دلالت کر رہی ہے کہ بعد ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کوئی رسول دنیا میں نہیں آئے گا۔“

(ازالۃ اوہام صفحہ 614 روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 431، از مرزا قادیانی)

(یعنی محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں۔ ہاں وہ اللہ کے رسول اور نبیوں کو ختم کرنے والے ہیں۔ کیا تو نہیں جانتا کہ فضل اور رحم کرنے والے رب نے ہمارے نبی کا نام بغیر کسی استثنا کے خاتم الانبیاء رکھا اور آنحضرتؐ نے لا نبی بعدی سے طالبوں کے لیے بیان واضح سے اس کی تفسیر کی ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں، اور اگر ہم آنحضرتؐ کے بعد کسی نبی کے ظہور کو جائز قرار دیں تو ہم وحی نبوت کے دروازہ کے بند ہونے کے بعد اس کا کھلنا جائز قرار دیں گے جو بالبداہت باطل ہے۔ جیسا کہ مسلمانوں پر مخفی نہیں اور ہمارے رسولؐ کے بعد کوئی نبی آ کیسے سکتا ہے جبکہ آپ ﷺ کی وفات کے بعد وحی منقطع ہوگئی ہے اور اللہ نے آپؐ کے ذریعہ نبیوں کا سلسلہ ختم کردیا۔“

(حمامۃ البشریٰ صفحہ 34 مندرجہ روحانی خزائن نمبر 7 صفحہ 200، از مرزا قادیانی)

النبیین میں صریح نبوت کو آنحضرت ﷺ پر ختم کر چکا ہے اور صریح لفظوں میں فرما چکا ہے کہ آنحضرت ﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔ جیسا کہ فرمایا ہے ولکن رسول اللہ و خاتم النبیین۔“

(تحفہ گولڑویہ صفحہ 51 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 174 از مرزا قادیانی)

صفحہ 139

بلکہ میں ان تمام امور کا قائل ہوں جو اسلامی عقائد میں داخل ہیں۔ اور جیسا کہ اہل سنت جماعت کا عقیدہ ہے، ان سب باتوں کو مانتا ہوں، جو قرآن اور حدیث کی رو سے مسلم الثبوت ہیں اور سیدنا و مولانا حضرت محمد مصطفیٰ خاتم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی رسالت حضرت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب رسول اللہ محمد مصطفیٰ پر ختم ہوگئی۔“

(مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 214 (طبع جدید) از مرزا قادیانی)

مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ کے قائل ہیں اور آنحضرت ﷺ کے ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔“

(مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 2 (طبع جدید) از مرزا قادیانی)

ایک اور موقع پر اپنی کتاب میں لکھا:

لڑکی پیٹ میں سے نکلی تھی اور بعد اس کے میں نکلا تھا اور میرے بعد میرے والدین کے گھر میں اور کوئی لڑکی یا لڑکا نہیں ہوا اور میں ان کے لیے خاتم الاولاد تھا۔“

(تریاق القلوب صفحہ 351 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 479 از مرزا قادیانی)

مرزا قادیانی کے مذکورہ بیان سے صاف واضح ہو رہا ہے کہ اس کے نزدیک آخر کے معنی ”سب سے آخر میں آنے والا، جس کے بعد کوئی دوسرا نہ ہو“ ہی تھے۔ اگر خاتم الاولاد کا یہ ترجمہ ہے کہ مرزا قادیانی اپنے ماں باپ کے ہاں آخری ولد تھا اور مرزا قادیانی کے بعد اس کے ماں باپ کے ہاں کوئی لڑکی یا لڑکا، صحیح یا بیمار، چھوٹا یا بڑا، ظلی یا بروزی کسی قسم کا پیدا نہیں ہوا تو خاتم النبیین کا بھی یہی ترجمہ ہوگا کہ رحمت دو عالم ﷺ کے بعد کوئی ظلی، بروزی، مستقل، غیر مستقل تشریعی یا غیر تشریعی کسی قسم کا کوئی نبی نہیں بنایا جائے گا اور اگر خاتم النبیین کا معنی ہے کہ حضور ﷺ کی مہر سے نبی بنیں گے تو خاتم الاولاد کا بھی یہی ترجمہ قادیانیوں کو کرنا ہوگا کہ مرزا قادیانی کی مہر سے مرزا قادیانی کے والدین کے ہاں بچے پیدا ہوں گے۔ اس صورت میں مرزا قادیانی کے بعد مرزا کا باپ فارغ۔ اب مرزا قادیانی مہر لگاتا جائے گا اور مرزا قادیانی کی ماں بچے جنتی چلی جائے گی۔ قادیانیوں میں ہمت ہے تو وہ خاتم کا یہی ترجمہ کیا

صفحہ 140

کریں۔ اے کاش! قادیانی خاتم کا ترجمہ ”مہر“ کرتے ہوئے Seal اور Stamp کے فرق کو ہی ملحوظ خاطر رکھ لیا کریں۔

”قال النبی ﷺ لعلی انت منی بمنزلۃ ہارون من موسیٰ“

(ترمذی، رواہ احمد وابن ماجہ)

”رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی سے فرمایا: اے علی! تو مجھ سے ایسے ہی ہے جیسے ہارون موسیٰ سے۔ چونکہ حضرت ہارون علیہ السلام نبی تھے لہٰذا حضرت علی کو بھی وہی درجہ حاصل ہے جو حضرت ہارون علیہ السلام کو حاصل تھا۔

قادیانیوں کا یہ اعتراض جہالت پر مبنی ہے۔ انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ حضور نبی کریم ﷺ ایک دفعہ جہاد پر روانہ ہو رہے تھے۔ آپ ﷺ نے حضرت علی سے فرمایا کہ اے علی! تم میرے بعد مدینہ طیبہ کا تمام انتظام سنبھالنا اور لوگوں کے فیصلے کرنا۔ حضرت علی کے دل میں خیال آیا کہ اس طرح میں جہاد کے ثواب سے محروم ہو جاؤں گا۔ چنانچہ وہ غمزدہ ہوئے اور جہاد میں شامل ہونے کے لیے اپنی خواہش کا اظہار کیا۔ اس پر نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا، اے علی! کیا تو سمجھتا ہے کہ میں تجھے معذوروں، اپاہج مردوں، عورتوں کی حفاظت اور دیگر معاملات کے لیے یہاں چھوڑ کر جا رہا ہوں؟ یہ بات نہیں بلکہ میرے ہاں تیری وہی حیثیت ہے جو حضرت ہارون علیہ السلام کی حضرت موسیٰ سے تھی۔ چونکہ دونوں خدا کے نبی ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام جب کبھی باہر تشریف لے جاتے تو اپنے بھائی کو اپنا قائم مقام بنا کر جاتے تھے۔ اس سے یہ شبہ پیدا ہو سکتا تھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی نبی اور حضرت ہارون علیہ السلام بھی نبی۔ جس طرح وہاں ایک نبی اپنے جس جانشین کو چھوڑ کر جا رہا تھا، وہ نبی تھا، یہاں بھی یہی صورت حال ہے؟ حضور کریم ﷺ نے اس شبہ کا ازالہ کرتے ہوئے فرمایا ”انت منی بمنزلۃ ہارون من موسیٰ الا انہ لا نبی بعدی“ یعنی اے علی! تو مجھ سے ایسے ہی ہے جیسے ہارون، موسیٰ کے لیے، لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ قادیانیوں کو شرم کرنی

صفحہ 141

چاہیے کہ وہ حدیث بیان کرتے ہوئے کس قدر خیانت اور بددیانتی کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ اس حدیث مبارکہ کا آخری جملہ حذف کر دیتے ہیں جس سے مفہوم میں شک و شبہ پیدا ہو جاتا ہے۔

مخاطب کر کے فرمایا تھا: اے میرے چچا! آپ مطمئن ہو جائیں کہ آپ خاتم المہاجرین ہیں لیکن اس کے باوجود ہجرت اب بھی ہوتی ہے۔

قادیانیوں کے اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ صحیح اور صریح دلائل سے ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مطابق نبوت اور رسالت کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو چکا ہے۔ خود مرزا قادیانی کا کہنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی تفسیر اور شرح کے بعد کسی کی بھی شرح اور تفسیر کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔

پیارے اور بزرگ نبی حضرت رسول اللہ ﷺ تھے۔ پس اگر آنحضرت ﷺ سے کوئی تفسیر ثابت ہو جائے تو مسلمان کا فرض ہے کہ بلا توقف اور بلا دغدغہ قبول کرے۔ نہیں تو اس میں الحاد اور فلسفیت کی رگ ہوگی۔“

(برکات الدعاء صفحہ 10 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 18 از مرزا قادیانی)

اسی لیے مرزا قادیانی یہ کہنے پر مجبور ہو گیا:

حدیث لا نبی بعدی ایسی مشہور تھی کہ کسی کو اس کی صحت میں کلام نہ تھا اور قرآن شریف جس کا لفظ لفظ قطعی ہے، اپنی آیت کریمہ ولکن رسول اللہ و خاتم النبیین سے بھی اس بات کی تصدیق کرتا تھا کہ فی الحقیقت ہمارے نبی ﷺ پر نبوت ختم ہو چکی ہے۔“

(کتاب البریہ صفحہ 184 حاشیہ مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 217، 218 از مرزا قادیانی)

فرض محال اس روایت کو صحیح بھی تسلیم کر لیا جائے تو بھی یہ دلیل نہیں بنتی، کیونکہ فتح مکہ سے پہلے جو بھی مسلمان مکہ میں مقیم تھا، اس کے لیے مدینہ کی طرف ہجرت کرنا فرض اور واجب تھا۔ حضرت عباسؓ مکہ فتح ہونے سے تھوڑا سا پہلے ہی مسلمان ہوئے تھے اور مدینے کی

صفحہ 142

طرف ہجرت کی۔ حضرت عباس ابھی راستے ہی میں تھے کہ آنحضرت ﷺ سے ملاقات ہو گئی تو ہجرت مکمل نہ ہونے پر انھوں نے افسوس ظاہر کیا تو اس وقت رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا تھا، اے میرے چچا! آپ مطمئن ہو جائیں، آپ ”خاتم المہاجرین“ ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے یہ بات فتح مکہ کا وقت قریب ہونے کی وجہ سے فرمائی جیسا کہ ”مجاشع بن مسعود سلمی“ اور ان کے بھائی ”مجالد بن مسعود سلمی“ ہجرت پر بیعت کرنے کے لیے آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے لیکن اسلام پر بیعت ہے۔ (بخاری شریف) چنانچہ اس اعتبار سے حضرت عباس مکہ سے ہجرت کرنے والوں میں سے آخری مہاجر ہوئے۔

المساجد“ ظاہر ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ کی مسجد کے بعد بھی دنیا میں روزانہ مسجدیں بن رہی ہیں، اس طرح نبی بھی بن سکتے ہیں۔“

قادیانیوں کی یہ بات ان کے دجل و تلبیس کا شاہکار ہے۔ جہاں ”مسجدی آخر المساجد“ کے الفاظ حدیث میں آتے ہیں، وہاں ”آخر المساجد الانبیاء“ کے الفاظ بھی آتے ہیں۔ حضرت امی عائشہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”انا خاتم الانبیاء ومسجدی خاتم المساجد الانبیاء“ ”میں خاتم الانبیاء ہوں اور میری مسجد، مساجد انبیا کی خاتم اور آخر ہے۔“ (کنزالعمال) انبیا کی مساجد میں سے آخری مسجد ”مسجد نبوی“ ہے۔ اس کے بعد کوئی نبی نہیں آیا اور نہ دنیا میں اس کی کوئی مسجد ہے۔ لہٰذا یہ حدیث مبارکہ ختم نبوت کی بین دلیل ہے۔

الانبیاء ولا تقولوا لانبی بعدہ. ”تم رسول اللہ ﷺ کو ”خاتم الانبیاء“ کہہ لیا کرو اور ”لا نبی بعدہ“ نہ کہا کرو کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ۔“ اس سے معلوم ہوا کہ ام المومنین کے نزدیک رسول اکرم ﷺ کے بعد کسی نبی کا آنا ممکن ہے

صفحہ 143

اور سلسلہ نبوت ختم نہیں ہوا۔

قادیانیوں کا یہ استدلال بھی صریح دھوکے اور التباس پر مبنی ہے۔ انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ ام المومنین حضرت سیدہ عائشہؓ کا یہ قول حدیث کی کسی بھی معروف کتاب میں موجود نہیں۔ البتہ "مجمع البحار" کے تکملہ میں مذکور ہے اور وہاں بھی اس کی کوئی سند مذکور نہیں۔ لہٰذا نصوص شرعیہ و صحیحہ ثابتہ کے بالمقابل بے سند قول کی علمی دنیا میں کچھ بھی حیثیت نہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر قول کو اس کے سیاق و سباق سے ملا کر پڑھا جائے تو اس کا صحیح مفہوم اور ام عائشہؓ کی مراد واضح ہو جاتی ہے۔ چنانچہ وہاں اصل اور مکمل عبارت یوں ہے:

الحلال اى يزيد فى حلال نفسه بان يتزوج و يولد له وكان لم يتزوج قبل رفعه الى السماء فزاد بعد الهبوط فى الحلال فحينئذ يومن كل احد من اهل الكتاب يتيقن بانه بشر و عن عائشة: قولوا: انه خاتم الانبياء ولا تقولوا: لا نبى بعده، وهذا ناظر الى نزول عيسى و هذا ايضا لا ينافى حديث لا نبى بعدى لانه اراد لا نبى ينسخ شرعه.

(تکملہ مجمع البحار، صفحہ 58)

"سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں آیا ہے کہ وہ (دنیا میں نزول کے بعد) خنزیر کو قتل کریں گے اور صلیب کو توڑ ڈالیں گے اور جو چیزیں ان کے لیے حلال تھیں (اور ان سے اپنی زندگی میں مستفید نہ ہو پائے تھے) ان میں اضافہ کریں گے اور ان کے ہاں اولاد ہو گی۔ آسمان کی طرف اٹھائے جانے سے قبل انھوں نے نکاح نہیں کیا تھا۔ تب تمام اہل کتاب ان پر ایمان لے آئیں گے اور یقین کرلیں گے کہ بلاشبہ وہ ایک بشر ہیں، اللہ نہیں جیسا کہ عیسائی قبل ازیں ان کو اللہ یا اللہ کا جزو سمجھتے رہے اور ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ سے جو یہ بات مروی ہے کہ انھوں نے فرمایا: تم رسول اللہ ﷺ کو خاتم الانبیا کہا کرو اور یوں نہ کہا کرو کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ آپ ﷺ کا یہ ارشاد نزول عیسیٰ کی روشنی میں ہے۔ نیز عیسیٰ علیہ السلام کا نزول حدیث "لا نبی بعدی" کے منافی نہیں۔ کیونکہ رسولِ اکرم ﷺ کی مراد یہ ہے کہ آپ کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آئے گا جو آپ کی شریعت کو منسوخ کر کے نئی شریعت پیش کرے جبکہ عیسیٰ علیہ السلام تو شریعت محمدی ﷺ ہی کے متبع ہوں گے۔"

صفحہ 144

اس عبارت سے واضح ہوا کہ ام المومنین سیدہ عائشہؓ کو نہ تو عقیدۂ ختم نبوت سے انکار ہے اور نہ وہ رسول اللہ ﷺ کے بعد نبوت کے اجرا یا جواز کی قائل ہیں۔ ان کی مراد صرف یہ ہے کہ ”لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ“ کے عموم سے یہ سمجھنا کہ عیسیٰ علیہ السلام نازل نہ ہوں گے، یہ درست نہیں۔ اس تفصیل سے سیدہ عائشہؓ کے فرمان اور عقیدہ کی وضاحت ہوگئی۔

مزید یہ کہ قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں ”خاتم النبیین“ اور ”لا نبی بعدی“ سے تمام اہل اسلام نے یہ مفہوم لیا ہے کہ یہ ارشادات نئے پیدا ہونے والے انبیا کے بارے میں ہیں، جبکہ عیسیٰ علیہ السلام نئے نہیں بلکہ گزشتہ نبی ہیں۔ چنانچہ تفسیر کشاف میں علامہ زمخشری رقم طراز ہیں:

قلت معنى كونه آخر الانبياء انه لا ينبا احد بعده و عيسى ممن نبى قبله.“

(الکشاف جلد 2، صفحہ 215)

”کہ اگر آپ کہیں کہ رسول اللہ ﷺ آخری نبی کیونکر ہیں جبکہ آخری زمانہ میں عیسیٰ علیہ السلام زمین پر نازل ہوں گے تو آپ کے سوال کے جواب میں کہتا ہوں کہ آپ کے ”آخر الانبیا“ ہونے کا معنی یہ ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کسی کو نبوت سے نوازا نہیں جائے گا۔ جبکہ عیسیٰ علیہ السلام تو آپ ﷺ سے قبل نبوت سے سرفراز ہو چکے ہیں۔“

ام المومنین سیدہ عائشہؓ عقیدۂ ختم نبوت کی قائل تھیں۔

لا يبقى بعده من النبوة الا المبشرات، قالو يارسول الله وما المبشرات؟ قال: الرويا الصالحة يراها المسلم او ترى له. (مسند الامام احمد بن حنبل جلد 6، صفحہ 129)

”ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے، نبی ﷺ نے فرمایا ”میرے بعد نبوت میں سے سوائے ”مبشرات“ کے کوئی چیز باقی نہیں رہے گی۔ صحابہ کرامؓ نے دریافت کیا، اے اللہ کے رسول ﷺ! ”مبشرات“ سے کیا مراد ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کوئی مسلمان خود کوئی اچھا خواب دیکھے یا اس کے متعلق کوئی دوسرا آدمی اچھا خواب دیکھے۔“

نیز ام المومنین سیدہ عائشہؓ ہی سے ایک اور حدیث مروی ہے:

(مسند الامام احمد بن حنبل، جلد 5، صفحہ 361)

صفحہ 145

”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، میں آخری نبی ہوں اور میری مسجد انبیا کی تعمیر کردہ مساجد میں سے آخری مسجد ہے۔“

کیا اس قدر وضاحت کے بعد بھی کوئی دیانت دار یہ کہہ سکتا ہے کہ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ عقیدہ ختم نبوت کی انکاری یا رسول اکرم ﷺ کے بعد اجرائے نبوت کی قائل تھیں؟ حاشا وکلا ہرگز نہیں!

قادیانی لاہوری جماعت کے امیر محمد علی لاہوری نے اپنی کتاب بیان القرآن جلد 2 صفحہ 1103 پر لکھا ہے:

خاتم النبیین، ولا تقولوا لانبی بعدہ“ ”خاتم النبیین کہو، اور یہ نہ کہو کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں“ اور اس کا یہ مطلب لیا جاتا ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہؓ کے نزدیک ”خاتم النبیین“ کے معنی کچھ اور تھے۔ کاش وہ معنی بھی کہیں مذکورہ ہوتے۔ حضرت عائشہؓ کے اپنے قول میں ہوتے، کسی صحابی کے قول میں ہوتے۔ نبی کریم ﷺ کی حدیث میں ہوتے، مگر وہ معنی و مطلب گھڑ لیے ہیں اور اس قدر حدیثوں کی شہادت جن میں ”خاتم النبیین“ کے معنی ”لانبی بعدی“ کیے گئے ہیں، ایک بے سند قول پر پس پشت پھینکی جاتی ہیں۔ یہ غرض پرستی ہے، خدا پرستی نہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی تیس حدیثوں کی شہادت ایک بے سند قول کے سامنے رد کی جاتی ہے۔ اگر اس قول کو صحیح مانا جائے تو کیوں اس کے معنی یہ نہ کیے جائیں کہ حضرت عائشہؓ کا مطلب یہ تھا کہ دونوں باتیں اکٹھی کہنے کی ضرورت نہیں ”خاتم النبیین“ کافی ہے۔ جیسا کہ مغیرہ بن شعبہؓ کا قول ہے کہ ایک شخص نے آپ کے سامنے کہا ”خاتم الانبیاء لا نبی بعدہ“ تو آپ نے کہا ”خاتم الانبیاء“ کہنا تجھے بس ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کا مطلب ہو کہ جب اصل الفاظ ”خاتم النبیین“ واضح ہیں تو وہی استعمال کرو یعنی الفاظ قرآنی کو الفاظ حدیث پر ترجیح دو۔ اس سے یہ کہاں نکلا کہ آپ الفاظ حدیث کو صحیح نہ سمجھتی تھیں؟ اور اتنی حدیثوں کے مقابل اگر ایک حدیث ہوتی تو وہ بھی قابل قبول نہ ہوتی۔ چہ جائیکہ صحابی کا قول ہو جو شرعاً حجت نہیں۔“

محمد علی لاہوری قادیانی نے سیدنا مغیرہ بن شعبہؓ کے جس قول کی طرف اشارہ کیا ہے، وہ یوں ہے:

صفحہ 146

محمد خاتم الانبیاء لا نبی بعدہ، فقال المغيرة بن شعبة: حسبک اذا قلت: خاتم الانبیاء، فانا کنا نحدث ان عیسیٰ علیه السلام خارج فان هو خرج فقد کان قبله و بعدہ.“ (تفسیر الدرالمنثور جلد 5، صفحہ 204)

”شعبی سے منقول ہے کہ ایک آدمی نے مغیرہ بن شعبہؓ کے سامنے یوں کہا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو محمد ﷺ پر جو کہ ”خاتم الانبیا“ ہیں اور ان کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں تو مغیرہ نے فرمایا: تمھارے لیے ”خاتم الانبیا“ کہہ دینا ہی کافی ہے۔ (یعنی اس کے ساتھ ”لا نبی بعدہ“ کہنے کی ضرورت نہیں) کیونکہ ہم تک یہ حدیث پہنچی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام (دوبارہ) ظہور کریں گے۔ پس جب وہ آئیں گے تو ان کی ایک بار آمد آپ ﷺ سے قبل اور دوسری آمد آپ کے بعد ہوگی۔“

اس پوری تفصیل اور سیاق و سباق سے سیدنا مغیرہؓ کے ارشاد اور ان کی مراد کی بھی وضاحت ہو گئی کہ وہ بھی حتمی طور پر ختم نبوت کے قائل ہیں۔ البتہ عقیدہ نزول عیسیٰ ؑ بن مریم کے پیش نظر انھوں نے ”لا نبی بعدہ“ کہنے سے منع فرمایا تاکہ ان کے نزول کا انکار نہ ہو۔

امت محمدیہ ﷺ میں باقی ہے۔ اس جزو کے اعتبار سے نبوت باقی ہے اور اب نبی آسکتے ہیں۔“

قادیانیوں کی اس دلیل کی اساس بھی جہل ہے۔ انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ اچھا اور نیک خواب مبشرات میں سے ہے جسے حدیث پاک میں نبوت کا چھیالیسواں حصہ کہا گیا ہے۔ کہاں مکمل نبوت اور کہاں نبوت کا چھیالیسواں حصہ! جس طرح آپ ایک اینٹ کو مکان، نمک کو پلاؤ ایک دھاگے کو کپڑا اور ایک ٹائر کو گاڑی نہیں کہہ سکتے، اس طرح نبوت کے 1/46 حصہ کو بھی نبوت نہیں کہہ سکتے۔

اسمه احمد“ میں لفظ احمد سے مراد مرزا غلام احمد ہے۔“

صفحہ 14

قادیانیوں کی یہ بات توہین رسالت ﷺ کے زمرے میں آتی ہے۔ چودہ سو سال سے آپ ﷺ کی امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ اس سے مراد حضور نبی کریم ﷺ کی ذات گرامی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہ بشارت ”من بعدی“ کے الفاظ کے ساتھ دی تو ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد نبی کریم ﷺ تشریف لائے تو اس کا مصداق آپ ﷺ ہوئے۔ نبی کریم ﷺ خود ارشاد فرماتے ہیں: ”انا بشارۃ عیسٰی“ مرزا قادیانی کا نام غلام احمد تھا۔ اس کا نام احمد نہیں تھا۔ اس لیے وہ اسمہ احمد کا مصداق کیسے بن گیا؟

1953ء کی تحریک ختم نبوت کے اسباب کا جائزہ لینے کے لیے منیر انکوائری ٹربیونل قائم ہوا جس میں جید علمائے کرام پیش ہوئے۔ قادیانیوں کی طرف سے قادیانی خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود پیش ہوا۔ ایک موقع پر مرزا بشیر الدین محمود نے مذکورہ بالا آیت پڑھی اور کہا کہ اس میں ”احمد“ سے مراد مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔ وہاں عدالت میں موجود امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے کہا کہ آیت میں تو فقط احمد ہے جبکہ اس کے باپ کا نام غلام احمد تھا۔ اس پر بشیر الدین نے کہا کہ غلام کاٹ دیں، احمد رہ جائے گا۔ اس پر شاہ جی نے برجستہ کہا کہ میرا نام عطاء اللہ ہے۔ عطاء کاٹ دیں، اللہ رہ جاتا ہے۔ لہٰذا میں نے اس اُلو کے پٹھے کو نبی بنا کر بھیجا ہی نہیں۔ اس پر کمرہ عدالت کشت زعفران بن گیا اور بشیر الدین محمود فوراً عدالت سے نو دو گیارہ ہو گیا۔

ہیں، آئندہ آنے والے نبیوں کے لیے نہیں۔

اگر قادیانیوں کی اس بات کو تسلیم کر لیا جائے تو پھر خاتم النبیین کا وصف آپ ﷺ کے ساتھ مخصوص نہیں رہتا۔ کیونکہ اس طرح تو ہر نبی (حضرت آدم علیہ السلام کے علاوہ) اپنے سے پہلے نبی کا خاتم اور آخر ہے۔

گے۔ باقی سچے آئیں گے۔“

صفحہ 148

قادیانیوں کی یہ دلیل نہایت احمقانہ اور تلبیس پر مبنی ہے۔ حالانکہ اس حدیث مبارکہ کے آخر میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ ”لا نبی بعدی“ یعنی میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا آپ ﷺ کے بعد بے شمار مدعیان نبوت پیدا ہوئے مگر جن جھوٹے مدعیان نبوت کی وجہ سے اسلام کو بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا یا جن جھوٹے مدعیان نبوت کی حکومتیں قائم ہوئیں، یا جن کا مذہب پھلا پھولا، ان کی تعداد تیس ہوگی۔ امت مسلمہ کے متفقہ فیصلہ کے مطابق مرزا قادیانی ان تیس دجالوں کذابوں میں شامل ہے۔

حق اور باطل کو اس طرح ملایا جائے کہ حق لوگوں کے سامنے باطل کے ساتھ ملوث ہو کر رہ جائے، اسے دجل کہتے ہیں۔ مرزا قادیانی کا شمار کاذبین کے ساتھ ساتھ دجالین میں بھی بجا طور پر ہوتا ہے۔ وہ اپنے تمام دعاوی میں ایسی چال چلا ہے کہ اپنے ہر غلط موقف کے ساتھ اس نے کسی سچائی کو جوڑا اور پھر سچ کو ملتبس و مشتبہ کر دیا۔

تشریف لائیں گے تو اس سے ختم نبوت کی مہر ٹوٹ جائے گی۔ حضور ﷺ کی ختم نبوت کے بعد حضرت عیسیٰ کا تشریف لانا ختم نبوت کے منافی ہے۔“

قادیانیوں کی یہ بات بھی دجل پر مبنی ہے کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دنیا میں دوبارہ نزول اور مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نبوت و رسالت آپ ﷺ سے پہلے کی مل چکی ہے۔ اس کے باوجود جب وہ دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے تو شریعت محمدی ﷺ کی مکمل پیروی کریں گے۔ بات صرف اتنی ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی شخص نئے سرے سے منصب نبوت پر فائز نہیں ہو سکتا۔

سے کیوں محروم ہو گئی ہے؟

صفحہ 149

قادیانیوں کے اس بھونڈے سوال کا یہ جواب دینا چاہیے کہ کیا قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی نعمت نہیں۔ جب اس میں اضافہ و ترمیم نہیں ہو سکتا تو قادیانیوں کو نبوت کے بند ہونے پر کیوں اعتراض ہے؟ جس طرح سورج کے طلوع ہونے کے بعد کسی چراغ کی ضرورت نہیں، اسی طرح آپ ﷺ کی تشریف آوری کے بعد کسی نبی کی ضرورت نہیں۔ اگر نبوت نعمت ہے اور یہ جاری رہنی چاہیے تو قادیانی بتائیں کہ مرزا قادیانی کے بعد کون نبی ہے؟ مرزا قادیانی کے بعد یہ نعمت کیوں بند ہو گئی؟ اور نبوت کا دروازہ چودہویں صدی میں صرف مرزا قادیانی پر کھل کر کیوں بند ہو گیا؟ مرزا قادیانی سے پہلے کسی مدعی نبوت کا پتہ چلتا ہے اور نہ اس کے بعد قادیانی جماعت میں کوئی نبی تسلیم کیا جاتا ہے۔ مرزا قادیانی کی پیروی میں مولوی یار محمد قادیانی، احمد نور کابلی قادیانی، عبداللطیف گناچور قادیانی، الہی بخش ملتانی قادیانی، محمد بخش قادیانی، چراغ دین جمونی قادیانی اور عبداللہ تیماپوری قادیانی وغیرہ نے نبوت کے دعوے کیے اور کہا کہ ہم بھی نبوت کی کھڑکی سے گزر کر آئے ہیں۔ اس سے زیادہ منصب نبوت کی تذلیل اور کیا ہو گی؟

کے بارے میں بھی مسلمان استخارہ کر لیں۔“

قادیانیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ استخارہ بے شک سنت ہے مگر یہ ایسے کاموں میں ہوتا ہے جن کا کرنا یا نہ کرنا مباح ہو۔ کسی ایسے امر میں استخارہ کرنا جس کا حلال یا حرام شریعت نے واضح کر دیا ہو، جائز نہیں۔ جیسے ایک ماں نکاح کے لحاظ سے اپنے بیٹے پر حرام ہے۔ لیکن کوئی بیٹا یہ استخارہ نہیں کر سکتا کہ میری ماں مجھ پر حلال ہے یا حرام۔ ایسا کرنے والا حدود اللہ کو توڑنے والا کہلائے گا۔ مزید کوئی مسلمان نماز کی فرضیت یا عدم فرضیت پر استخارہ نہیں کر سکتا۔ اسی طرح کوئی مسلمان حضور نبی کریم ﷺ کی ختم نبوت پر استخارہ نہیں کر سکتا۔ حضور نبی کریم ﷺ آخری نبی ہیں۔ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ جو شخص کسی جھوٹے مدعی نبوت کے لیے استخارہ کرے گا، وہ فی الفور دائرہ اسلام سے خارج ہو جائے گا کیونکہ ایسے شخص کو نبی کریم ﷺ کے آخری نبی ہونے پر (نعوذ باللہ) شک ہے۔

صفحہ 150

قادیانیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ مرزا قادیانی کے دور میں ہی اس کے صدق و کذب پر استخارہ ہو گیا تھا جس کا اعتراف خود مرزا قادیانی نے اپنی کتاب ازالہ اوہام میں کیا ہے:

استخارہ پر وہ بئس القرین ترت حاضر ہو گیا اور ان کی زبان پر جاری کرا دیا کہ وہ شخص یعنی یہ عاجز (مرزا قادیانی) جہنمی ہے اور ملحد ہے اور ایسا کافر ہے کہ ہرگز ہدایت پذیر نہیں ہوگا۔"

(ازالہ اوہام صفحہ 128 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 228 از مرزا قادیانی)

مرزا قادیانی نے بھی ایک دفعہ استخارہ کیا تھا۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ غلام حسین نامی ایک شخص مرزا قادیانی کا رشتہ دار تھا۔ وہ 25 سال سے غائب تھا۔ اس کی جائیداد اس کی بیوی جو مرزا احمد بیگ کی ہمشیرہ تھی، کے نام منتقل ہو گئی۔ اب وہ عورت اپنی جائیداد اپنے بیٹے کے نام ٹرانسفر کرنا چاہتی تھی مگر اس کے لیے مرزا قادیانی کی عدالت میں گواہی یا بیان ضروری تھا۔ اس نے مرزا قادیانی سے درخواست کی کہ آپ اس سلسلہ میں متعلقہ دستاویز پر دستخط کر دیں۔ اس پر مرزا قادیانی نے اسے کہا کہ وہ اس سلسلہ میں استخارہ کرے گا۔ استخارہ اس لیے کہ اگر غلام حسین زندہ ہے تو اس کا حق نہ مارا جائے اور اگر غلام حسین زندہ نہیں تو آپ کا حق نہ مارا جائے۔ لہٰذا چند دنوں بعد مرزا قادیانی نے استخارہ کرنے کے بعد کہا کہ مجھے اشارہ ہوا ہے اگر مرزا احمد بیگ اپنی لڑکی محمدی بیگم (جس کی عمر 12 سال تھی) کا نکاح میرے ساتھ کر دے تو میں عدالت میں بیان دوں گا ورنہ میرا صاف جواب ہے۔ یعنی اگر محمدی بیگم سے نکاح ہو جائے تو غلام حسین مر گیا اور جائیداد کے سلسلہ میں بیان دے دوں گا۔ اگر محمدی بیگم کا رشتہ نہ دیا تو غلام حسین زندہ ہے اور جائیداد کے سلسلہ میں بیان دوں گا نہ کسی دستاویز پر دستخط کروں گا۔ مرزا قادیانی کی عیاری اور چالاکی ملاحظہ کریں کہ استخارہ غلام حسین کے متعلق کہ وہ زندہ ہے یا مردہ اور جواب محمدی بیگم کے رشتہ کے متعلق۔ لعنت ہے مرزا قادیانی کے استخارہ پر!

میرے خیال میں قادیانیوں سے نبوت ختم یا نبوت جاری کی بحث نہیں کرنی چاہیے کیونکہ مسلمان اور قادیانی دونوں ختم نبوت پر یقین رکھتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ مسلمان حضور نبی

صفحہ 151

کریم ﷺ کو خاتم النبیین مانتے ہیں جبکہ قادیانی جماعت مرزا قادیانی کو خاتم النبیین مانتی ہے۔ مسلمانوں کے نزدیک آپ ﷺ کے بعد قیامت تک کوئی نیا نبی نہیں بن سکتا جبکہ قادیانیوں کے نزدیک مرزا قادیانی کے بعد قیامت تک کوئی نبی نہیں۔ فرق واضح ہو گیا کہ مسلمان نبی کریم ﷺ پر نبوت کو بند مانتے ہیں جبکہ قادیانی گروہ مرزا قادیانی پر۔ عجیب بات ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ کے بعد ساڑھے چودہ سو سال کے عرصہ میں اگر کوئی نبی آیا تو مرزا قادیانی آیا اور اس کے بعد اب کوئی نبی نہیں۔ قادیانی، قرآن مجید کی کوئی ایک آیت یا احادیث نبویہ میں سے کوئی ایک حدیث دکھا دیں جس سے ثابت ہو کہ اب مرزا قادیانی کے بعد قیامت تک اور کوئی نبی نہیں بنے گا۔ قادیانیوں نے قرآنی آیات اور احادیث مبارکہ میں ختم نبوت کا انکار ثابت کرنے کے لیے جو تحریفات کی ہیں، ان کا مقصد صرف اور صرف مرزا قادیانی کی نبوت ثابت کرنا ہے۔ ورنہ مرزا قادیانی کے بعد قادیانی بھی نبوت بند تسلیم کرتے ہیں۔ اس سلسلہ میں درج ذیل حوالے ملاحظہ فرمائیں:

فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گزر چکے ہیں، ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لیے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔“

(حقیقۃ الوحی صفحہ 391 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 406، 407 از مرزا قادیانی)

نبوت مجھے عطا کی گئی اور اس نبوت کے مقابل پر اب تمام دنیا بے دست و پا ہے کیونکہ نبوت پر مہر ہے۔ ایک بروز محمدی جمیع کمالات محمدیہ کے ساتھ آخری زمانہ کے لیے مقدر تھا۔ سو وہ ظاہر ہو گیا۔ اب بجز اس کھڑکی کے اور کوئی کھڑکی نبوت کے چشمہ سے پانی لینے کے لیے باقی نہیں۔“

(ایک غلطی کا ازالہ صفحہ 11 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 215 از مرزا قادیانی)

نے مجھے پہچانا۔ میں خدا کی سب راہوں میں سے آخری راہ ہوں اور میں اس کے سب نوروں میں سے آخری نور ہوں۔ بدقسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے کیونکہ میرے بغیر سب تاریکی

صفحہ 152

ہے۔" (کشتی نوح صفحہ 56 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 60، 61 از مرزا قادیانی)

نبی کریم ﷺ نے اپنی امت سے صرف ایک نبی اللہ کے آنے کی خبر دی ہے جو مسیح موعود ہے اور اس کے سوا قطعاً کسی کا نام نبی اللہ یا رسول اللہ نہیں رکھا جائے گا اور نہ کسی اور نبی کے آنے کی خبر آپ ﷺ نے دی ہے بلکہ لا نبی بعدی فرما کر اوروں کی نفی کر دی اور کھول کر بیان فرما دیا کہ مسیح موعود کے سوا میرے بعد قطعاً کوئی نبی یا رسول نہیں آئے گا۔“

(رسالہ تشحیذ الاذہان قادیان مارچ 1914ء)

مرزا قادیانی نے اگرچہ چھوٹی بڑی 100 کے قریب کتب چھوڑی ہیں۔ اگر وہ اس بات کا قائل نہ ہوتا کہ وہ آخری نبی ہے تو وہ اپنے بعد آنے والے نبی کی بشارت دیتا اور اپنی امت کو اس کی نشانیاں بتاتا تا کہ وہ اسے پہچان سکے لیکن اس نے ایسی کوئی بات نہیں کہی۔ قادیانی گروہ بھی کسی نئے نبی کا منتظر نہیں ہے بلکہ وہ مرزا قادیانی کو ہی آخری نبی مانتا ہے۔

PDF 153

ثبوت حاضر ہیں!

نبوّت بند ہے

Back

PDF 154
صفحہ 155

ختم نبوت اسلام کی اساس اور اہم ترین بنیادی عقیدہ ہے۔ دین اسلام کی پوری عمارت اس عقیدہ پر کھڑی ہے۔ یہ ایک ایسا حساس عقیدہ ہے کہ اس میں شکوک و شبہات کا ذرا سا بھی رخنہ پیدا ہو جائے تو ایک مسلمان نہ صرف اپنی متاع ایمان کھو بیٹھتا ہے بلکہ وہ حضرت محمد ﷺ کی امت سے بھی خارج ہو جاتا ہے۔ ایمان و ہدایت محض نبی کریم ﷺ کو سچا جاننے کا نام نہیں بلکہ آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کو آخری تسلیم کرنا، ایمان و ہدایت کی بنیاد ہے۔ قرآن مجید کی ایک سو سے زائد آیات مبارکہ اور حضور نبی کریم ﷺ کی تقریباً دو سو دس احادیث مبارکہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام قیامت تک اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ اس عقیدے سے انکار یقیناً کفر و ارتداد ہے جس سے کوئی تاویل نہیں بچا سکتی۔ صحابہ کرام سے لے کر آج تک امت مسلمہ کا اس پر اجماع ہے۔ عقیدہ ختم نبوت کا منکر وہی شخص ہو سکتا ہے جو حضور نبی کریم ﷺ کی نبوت پر ایمان نہ رکھتا ہو کیونکہ اگر یہ شخص آپ ﷺ کی رسالت کا قائل ہوتا تو جن چیزوں کی آپ ﷺ نے خبر دی ہے، ان میں آپ ﷺ کو سچا سمجھتا۔ جن دلائل اور طریق تواتر سے آپ کی رسالت، نبوت اور دعوت ہمارے لیے ثابت ہوئی ہے، ٹھیک اسی درجہ کے تواتر سے یہ بات بھی ثابت ہوئی ہے کہ آپ ﷺ آخری نبی ہیں۔ اب قیامت تک کوئی نیا نبی نہ ہوگا اور جس شخص کو ختم نبوت کے اس مفہوم میں شک ہو، اسے خود رسالت محمدی ﷺ میں بھی یقیناً شک ہوگا۔

مسلمانوں اور قادیانیوں کے مابین اولین وجہ علیحدگی، آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ نبوت ہے، ہم تأسف کے ساتھ یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ مرزا قادیانی اور ان کی امت کا رویہ، زیر بحث مسئلہ میں دیانت اور مذہبی تقدس کی نفی کے مترادف ہے۔ قادیانی امت کا قادیانی یا ربوی فرقہ اگرچہ قطعی طور پر مرزا قادیانی کو نبی تسلیم کرتا ہے اور ان کا لاہوری مرزائیوں سے نزاع اسی عنوان پر ہے، بیسیوں مناظرے ان دونوں گروہوں کے مابین ہو چکے

صفحہ 156

ہیں اور قادیانی، لاہوری مرزائیوں کو مرزا غلام احمد قادیانی کی تعلیمات سے منحرف قرار دینے کی سب سے بڑی وجہ اسی امر کو قرار دیتے ہیں کہ لاہوری گروہ نے 1914ء میں مرزا محمود سے شکست کھانے کے بعد مرزا قادیانی کی نبوت سے انکار کر دیا تھا اور اب تک وہ اسی طرز کو اپنائے ہوئے ہیں۔ حالانکہ 1913ء تک تمام لاہوری مرزائی، اہل قادیان وربوہ ہی کی طرح مرزا قادیانی کو نبی اور رسول تسلیم کرتے تھے۔

اسی طرح قادیانی، تمام امت مسلمہ کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیتے ہیں اور اس کی سب سے بڑی دلیل ان کے ہاں یہ ہے کہ مسلمان مرزا قادیانی کی نبوت کے منکر ہیں۔ یہی نہیں بلکہ قادیانی، مسلمانوں کا مذہبی، سوشل اور معاشرتی بائیکاٹ بھی اسی وجہ سے کیے ہوئے ہیں کہ مسلمان اس وقت کے نبی کے منکر ہیں۔

امت کے اس تیرہ سوسالہ اجتماعی ایمان وعقیدے ہی کا نتیجہ تھا کہ مرزا قادیانی ایسا شخص جو اپنے اقوال واعمال کی قطعی شہادتوں کے باعث اس معاملے میں انتہائی خائن شخص ثابت ہوا، اپنی تمام تر ضلالت کے باوجود اپنے ابتدائی دعوٰی الہام ---- زمانہ براہین احمدیہ ---- کے ربع صدی بعد تک اسی مفہوم ختم نبوت کو پیش کرتا رہا۔ ملاحظہ فرمائیں چند واضح اعترافات:۔

وحی رسالت بند ہے

ہو یا پرانا ہو۔ کیونکہ رسول کو علم دین بتوسط جبرائیل ملتا ہے اور باب نزول جبرائیل بہ پیرایہ وحی رسالت مسدود ہے۔" View Proof

(ازالہ اوہام صفحہ 411، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 511 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ 533 پر)

وحی رسالت کے ساتھ حضرت جبرائیل علیہ السلام کی آمد، ناممکن

رسالت کے ساتھ زمین پر آمدورفت شروع ہو جائے اور ایک نئی کتاب اللہ جو مضمون میں قرآن شریف سے توارد رکھتی ہو، پیدا ہو جائے اور جو امر مستلزم محال ہو، وہ محال ہوتا ہے۔ فتَدَبَّر۔"

(ازالہ اوہام صفحہ 314، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 414 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 534 پر)

View Proof

صفحہ 157

حضرت جبرائیل علیہ السلام کو وحی نبوت لانے سے منع کر دیا گیا ہے

میں وعدہ دیا گیا ہے اور جو حدیثوں میں بتصریح بیان کیا گیا ہے کہ اب جبرئیل بعد وفات رسول اللہ ﷺ ہمیشہ کے لیے وحی نبوت کے لانے سے منع کیا گیا ہے۔“

(ازالہ اوہام صفحہ 577 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 412 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 535 پر)

View Proof

وحی رسالت تاقیامت منقطع ہے

حاصل کرے اور ابھی ثابت ہو چکا ہے کہ اب وحی رسالت تاقیامت منقطع ہے۔“

(ازالہ اوہام صفحہ 614 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 432 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 536 پر)

View Proof

نئی شریعت، نیا الہام ...... ناممکن

پر تاریکی شرک اور مخلوق پرستی کا بھی چھا جانا عندالعقل محال اور ممتنع ہوا تو نئی شریعت اور نئے الہام کے نازل ہونے میں بھی امتناع عقلی لازم آیا کیونکہ جو امر مستلزم محال ہو، وہ بھی محال ہوتا ہے۔ پس ثابت ہوا کہ آنحضرت ﷺ حقیقت میں خاتم الرسل ہیں۔“

(براہین احمدیہ صفحہ 112 مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 103 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 537 پر)

View Proof

خاتم الانبیاء ﷺ کی نبوت میں کوئی شریک نہیں

سردار امام ہے جو رسول امی امین ہے۔ پس جیسا کہ عبادت صرف خدا کے لیے ہے اور وہ وحدہ لاشریک ہے، اسی طرح ہمارا رسول اس بات میں واحد ہے کہ اس کی پیروی کی جائے اور اس بات میں واحد ہے کہ وہ خاتم الانبیاء ہے۔“

(منن الرحمٰن صفحہ 39 مندرجہ روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 164 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 538 پر)

View Proof

صفحہ 158

ختم نبوت پر ایمان اور اصرار، قرآن مجید کی روشنی میں

(الاحزاب:40) یعنی محمد ﷺ تم میں سے کسی مرد کا باپ نہیں ہے مگر وہ رسول اللہ ہے اور ختم کرنے والا ہے نبیوں کا۔ یہ بھی صاف دلالت کر رہی ہے کہ بعد ہمارے نبی ﷺ کے کوئی رسول دنیا میں نہیں آئے گا“۔

(ازالہ اوہام صفحہ 331، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 431 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 539 پر)

View Proof

النبیین“ یعنی محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں۔ ہاں وہ اللہ کے رسول اور نبیوں کو ختم کرنے والے ہیں۔ کیا تو نہیں جانتا کہ فضل اور رحم کرنے والے رب نے ہمارے نبی ﷺ کا نام بغیر کسی استثناء کے خاتم الانبیاء رکھا اور آنحضرت ﷺ نے لا نبی بعدی سے طالبوں کے لیے بیان واضح سے، اس کی تفسیر کی ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں اور اگر ہم آنحضرت ﷺ کے بعد کسی نبی کے ظہور کو جائز قرار دیں تو ہم وحی نبوت کے دروازہ کے بند ہونے کے بعد اس کا کھلنا جائز قرار دیں گے جو بالبداہت باطل ہے جیسا کہ مسلمانوں پر مخفی نہیں اور ہمارے رسول ﷺ کے بعد کوئی نبی آ کیسے سکتا ہے جبکہ آپ کی وفات کے بعد وحی منقطع ہو گئی ہے اور اللہ نے آپ ﷺ کے ذریعہ نبیوں کا سلسلہ ختم کر دیا“۔

(حمامۃ البشریٰ صفحہ 34، مندرجہ روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 200 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 540 پر)

View Proof

تمام آدم زادوں کے لیے محمد مصطفیٰ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں

زادوں کے لیے اب کوئی رسول اور شفیع نہیں مگر محمد مصطفیٰ ﷺ۔

(کشتی نوح صفحہ 15 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 13 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 541 پر)

View Proof

صفحہ 159

حدیث لا نبی بعدی مستند ہے

گستاخی ہے کہ خیالات رکیکہ کی پیروی کر کے نصوص صریحہ قرآن کو عمداً چھوڑ دیا جائے اور خاتم الانبیاء کے بعد ایک نبی کا آنا مان لیا جائے اور بعد اس کے جو وحی نبوت منقطع ہو چکی تھی پھر سلسلہ وحی نبوت کا جاری کر دیا جائے۔"

(ایام الصلح صفحہ 167 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 393 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 542 پر)

View Proof

حدیث لا نبی بعدی ایسی مشہور تھی کہ کسی کو اس کی صحت میں کلام نہ تھا اور قرآن شریف جس کا لفظ لفظ قطعی ہے، اپنی آیت کریمہ ولکن رسول اللہ و خاتم النبیین سے بھی اس بات کی تصدیق کرتا تھا کہ فی الحقیقت ہمارے نبی ﷺ پر نبوت ختم ہو چکی ہے۔"

(کتاب البریہ صفحہ 199، 200 مندرجہ روحانی خزائن، جلد 13 صفحہ 217، 218 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 543، 544 پر)

View Proof

حضور خاتم النبیین ﷺ پر ہر قسم کی نبوت ختم ہو گئی

(12) "ہست او ختم الرسل خیر الانام
ہر نبوت را بروشد اختتام"

(سراج منیر صفحہ 9 مندرجہ روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 93 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 545 پر)

View Proof

ہر شخص جو علم ادب سے واقف ہے، بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ لفظ ”ہر“ میں تمام اقسام نبوت شامل ہیں۔ خواہ وہ حقیقی ہو یا غیر حقیقی، مستقل ہو یا غیر مستقل، تشریعی ہو یا غیر تشریعی، ظلی ہو یا بروزی، سب کے اختتام پر دلیل ہے۔

صفحہ 160

نبی کریم ﷺ پر نبوت کا ہر کمال ختم ہو گیا

”ختم شد بر نفس پاکش ہر کمال
لا جرم شد ختم ہر پیغمبری“

(براہین احمدیہ ضمیمہ صفحہ 10 مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 19 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 546 پر)

View Proof

دین ورسالت کمال تک پہنچ گیا

کیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کی اور آیت کو اس طور سے نہ فرمایا کہ اے نبی، آج میں نے قرآن کو کامل کر دیا۔ اس میں حکمت یہ ہے کہ تا ظاہر ہو کہ صرف قرآن کی تکمیل نہیں ہوئی بلکہ ان کی بھی تکمیل ہو گئی کہ جن کو قرآن پہنچایا گیا اور رسالت کی علت غائی کمال تک پہنچ گئی۔“

(نورالقرآن صفحہ 23 مندرجہ روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 352 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 547 پر)

View Proof

کا وجود تھا، کمال کو پہنچ گئیں۔“

(اسلامی اصول کی فلاسفی صفحہ 53 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 367 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 548 پر)

View Proof

تمام نبوتیں رسول اللہ ﷺ پر ختم

اس پر ختم ہیں اور اس کی شریعت خاتم الشرائع ہے۔“

(چشمہ معرفت صفحہ 324 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 340 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 549 پر)

View Proof

صفحہ 161

میرا نبوت کا کوئی دعویٰ نہیں

ہیں ۔ کیا یہ ضروری ہے کہ جو الہام کا دعویٰ کرتا ہے وہ نبی بھی ہو جائے ۔ میں تو محمدی اور کامل طور پر اللہ و رسول کا متبع ہوں اور ان نشانوں کا نام معجزہ رکھنا نہیں چاہتا بلکہ ہمارے مذہب کے رو سے ان نشانوں کا نام کرامات ہے جو اللہ و رسول ﷺ کی پیروی سے دیے جاتے ہیں ۔“

(جنگ مقدس صفحہ 74 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 156 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 550 پر)

View Proof

ختم المرسلین ﷺ کے بعد مدعی نبوت ورسالت کاذب اور کافر ہے

بلکہ میں ان تمام امور کا قائل ہوں جو اسلامی عقائد میں داخل ہیں اور جیسا کہ اہلسنت جماعت کا عقیدہ ہے، ان سب باتوں کو مانتا ہوں جو قرآن اور حدیث کی رُو سے مسلم الثبوت ہیں اور سیدنا ومولانا حضرت محمد ﷺ ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی رسالت حضرت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب رسول اللہ محمد مصطفیٰ ﷺ پر ختم ہوگئی...... اس میری تحریر پر ہر ایک شخص گواہ رہے۔“

(مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 214، 215 طبع جدید، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 551، 552 پر)

View Proof

نبوت کا دعویٰ کرنے والے پر لعنت

مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ کے قائل ہیں اور آنحضرت ﷺ کے ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں ۔“

(مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 2 طبع جدید، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 553 پر)

View Proof

نبوت کا دعویٰ کرنے والا کافر

صفحہ 162

کافرین ...... ادعى النبوة وانا من المسلمين. (ترجمہ:) مجھے کہاں حق پہنچتا ہے کہ میں نبوت کا دعویٰ کروں اور اسلام سے خارج ہو جاؤں اور کافروں سے جاملوں اور یہ کیونکر ممکن ہے کہ میں مسلمان ہو کر نبوت کا دعویٰ کروں۔“

(حمامۃ البشریٰ صفحہ 131 مندرجہ روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 297 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 554 پر)

View Proof

نبوت کا دعویٰ کرنے والا دائرہ اسلام سے خارج

(21) ”خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ میں مسلمان ہوں اور ان سب عقائد پر ایمان رکھتا ہوں جو اہلسنت والجماعت مانتے ہیں اور کلمہ طیبہ لا اله الا الله محمد رسول الله کا قائل ہوں اور قبلہ کی طرف نماز پڑھتا ہوں۔ اور میں نبوت کا مدعی نہیں بلکہ ایسے مدعی کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔“

(آسمانی فیصلہ صفحہ 3 مندرجہ روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 313 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 555 پر)

View Proof

مدعی نبوت، مسیلمہ کذاب کا بھائی

(22) ”اور اصل حقیقت جس کی میں علی رؤس الاشہاد گواہی دیتا ہوں۔ یہی ہے جو ہمارے نبی ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا نہ کوئی پرانا اور نہ کوئی نیا۔ ومن قال بعد رسولنا و سيّدنا انّی نبیّ او رسول علیٰ وجہ الحقیقۃ والافتراء وترک القرآن و احکام الشریعۃ الغراء فھو کافر کذاب. غرض ہمارا مذہب یہی ہے کہ جو شخص حقیقی طور پر نبوت کا دعویٰ کرے اور آنحضرت ﷺ کے دامنِ فیوض سے اپنے تئیں الگ کر کے اور اس پاک سر چشمہ سے جدا ہو کر آپ ہی براہِ راست نبی اللہ بننا چاہتا ہے تو وہ ملحد بیدین ہے اور غالباً ایسا شخص اپنا کوئی نیا کلمہ بنائے گا اور عبادات میں کوئی نئی طرز پیدا کرے گا اور احکام میں کچھ تغیر و تبدل کر دے گا۔ پس بلاشبہ وہ مسیلمہ کذاب کا بھائی ہے اور اس کے کافر ہونے میں کچھ شک نہیں۔ ایسے خبیث کی نسبت کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ وہ قرآن شریف کو مانتا ہے۔“

(انجام آتھم صفحہ 27، 28 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 27، 28 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 556، 557 پر)

View Proof

صفحہ 163

وحی نبوت کا نیا سلسلہ جاری کر کے دشمن قرآن نہ بنو

النبیین کے بعد وحی نبوت کا نیا سلسلہ جاری نہ کرو اور اس خدا سے شرم کرو جس کے سامنے حاضر کیے جاؤ گے۔“

(آسمانی فیصلہ صفحہ 25 مندرجہ روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 335 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 558 پر)

View Proof

ختم نبوت کا منکر بے دین اور دائرہ اسلام سے خارج ہے

اور معجزات کا انکاری اور معراج کا منکر اور نیز نبوت کا مدعی اور ختم نبوت سے انکاری ہے، یہ سارے الزامات بالکل اور دروغ محض ہیں۔ ان تمام امور میں میرا وہی مذہب ہے جو دیگر اہل سنت و جماعت کا مذہب ہے اور میری کتاب توضیح مرام اور ازالہ اوہام سے جو اعتراض نکالے گئے ہیں، یہ نکتہ چینیوں کی سراسر غلطی ہے۔ اب میں مفصلہ ذیل امور کا مسلمانوں کے سامنے صاف صاف اقرار اس خانہ خدا مسجد (جامع مسجد دہلی) میں کرتا ہوں کہ میں جناب خاتم الانبیاء ﷺ کی ختم نبوت کا قائل ہوں اور جو شخص ختم نبوت کا منکر ہو، اس کو بیدین اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔“

(مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 232 طبع جدید، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 559 پر)

View Proof

آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والا بدبخت ہے

پر ایمان رکھ سکتا ہے اور کیا ایسا وہ شخص جو قرآن شریف پر ایمان رکھتا ہے اور آیت ولکن رسول اللہ و خاتم النبیین کو خدا کا کلام یقین رکھتا ہے وہ کہہ سکتا ہے کہ میں بھی آنحضرت ﷺ کے بعد رسول اور نبی ہوں۔“

(انجام آتھم صفحہ 27 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 27 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 560 پر)

View Proof

صفحہ 164

ختم نبوت کے منکر کو ملعون سمجھتا ہوں

محمد حسین کا یہ سراسر افترا ہے کہ ہماری طرف یہ بات منسوب کرتے ہیں کہ گویا ہمیں معجزات انبیاء علیہم السلام سے انکار ہے یا ہم خود دعویٰ نبوت کرتے ہیں یا نعوذ باللہ حضرت سید المرسلین محمد مصطفیٰ ﷺ کو خاتم الانبیاء نہیں سمجھتے یا ملائک سے انکاری یا حشر و نشر وغیرہ اصول عقائد اسلام سے منکر ہیں۔ یا صوم و صلوٰۃ وغیرہ ارکان اسلام کو نظر استخفاف سے دیکھتے یا غیر ضروری سمجھتے ہیں۔ نہیں۔ بلکہ خدا تعالیٰ گواہ ہے کہ ہم ان سب باتوں کے قائل ہیں اور ان عقائد اور ان اعمال کے منکر کو ملعون اور خسر الدنیا والآخرہ یقین رکھتے ہیں۔“

(انجام آتھم صفحہ 45 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 45 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 561 پر)

View Proof

یہ جھوٹ ہے کہ میں نے نبوت کا دعویٰ کیا

تہمت لگاتے ہیں کہ گویا ہم نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور گویا ہم معجزات اور فرشتوں کے منکر ہیں۔ لیکن یاد رہے کہ یہ تمام افترا ہیں۔“

(کتاب البریہ صفحہ 197 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 215 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 562 پر)

View Proof

معاذ اللہ، میں نبوت کا مدعی کیوں بنوں

المصطفیٰ صلی الله عليه وسلم خاتم النبيين.“

ترجمہ: خدا کی پناہ، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی اور سردار دو جہاں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو خاتم النبیین بنا دیا تو میں نبوت کا مدعی بنتا۔

(حمامة البشریٰ صفحہ 136 مندرجہ روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 302 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 563 پر)

View Proof

صفحہ 165

اب نبی نہیں، مجدد آئیں گے

(نورالقرآن صفحہ 10 مندرجہ روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 339 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 564 پر)

View Proof

ہمارا مذہب

(30) ز عشق فرقان و پیغمبرم
بدیں آمدیم و بدیں بگذریم

ہمارے مذہب کا خلاصہ اور لب لباب یہ ہے کہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہمارا اعتقاد جو ہم اس دنیوی زندگی میں رکھتے ہیں جس کے ساتھ ہم بفضل و توفیق باری تعالیٰ اس عالم گزران سے کوچ کریں گے، یہ ہے کہ حضرت سیدنا ومولانا محمد مصطفیٰ ﷺ خاتم النبیین وخیر المرسلین ہیں جن کے ہاتھ سے اکمال دین ہو چکا اور وہ نعمت بمرتبہ اتمام پہنچ چکی جس کے ذریعہ سے انسان راہ راست کو اختیار کر کے خدائے تعالیٰ تک پہنچ سکتا ہے اور ہم پختہ یقین کے ساتھ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ قرآن شریف خاتم کتب سماوی ہے اور ایک شمہ یا نقطہ اس کی شرائع اور حدود اور احکام اور اوامر سے زیادہ نہیں ہو سکتا اور نہ کم ہو سکتا ہے اور اب کوئی ایسی وحی یا ایسا الہام منجانب اللہ نہیں ہو سکتا جو احکام فرقانی کی ترمیم یا تنسیخ یا کسی ایک حکم کے تبدیل یا تغیر کر سکتا ہو اگر کوئی ایسا خیال کرے تو وہ ہمارے نزدیک جماعت مومنین سے خارج اور ملحد اور کافر ہے اور ہمارا اس بات پر بھی ایمان ہے کہ ادنیٰ درجہ صراط مستقیم کا بھی بغیر اتباع ہمارے نبی ﷺ کے ہرگز انسان کو حاصل نہیں ہو سکتا چہ جائیکہ راہ راست کے اعلیٰ مدارج بجز اقتدا اس امام الرسل علیہ السلام کے حاصل ہو سکیں کوئی مرتبہ شرف و کمال کا اور کوئی مقام عزت اور قرب کا بجز سچی اور کامل متابعت اپنے نبی ﷺ کے ہم ہرگز حاصل کر ہی نہیں سکتے۔ ہمیں جو کچھ ملتا ہے ظلی اور طفیلی طور پر ملتا ہے۔“

(ازالہ اوہام صفحہ 146، 147 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 169، 170 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 565، 566 پر)

View Proof

صفحہ 166

اجماعی عقیدہ کا منکر لعنتی ہے

بجز قرآن کے نہیں رکھتا۔ اور میرا کوئی پیغمبر بجز محمد مصطفیٰ ﷺ کے نہیں، جس پر خدا نے بے شمار رحمتیں اور برکتیں نازل کی ہیں، اور اس کے دشمنوں پر لعنت بھیجی ہے۔ گواہ رہو کہ میرا تمسک قرآن شریف ہے اور رسول اللہ ﷺ کی حدیث کی جو چشمۂ حق و معرفت ہے، میں پیروی کرتا ہوں اور تمام باتوں کو قبول کرتا ہوں جو کہ اس خیرالقرون باجماع صحابہ صحیح قرار پائی ہیں۔ نہ ان پر کوئی اضافہ کرتا ہوں اور نہ ان میں کوئی کمی اور اسی اعتقاد پر میں زندہ رہوں گا اور اسی پر میرا خاتمہ اور انجام ہوگا، اور جو شخص ذرہ بھر بھی شریعت محمدیہؐ میں کمی بیشی کرے یا کسی اجماعی عقیدہ کا انکار کرے، اس پر خدا اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہو۔"

(انجام آتھم صفحہ 143، 144، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 143، 144 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 567، 568 پر)

View Proof

اہل سنت کی اجماعی رائے کو ماننا فرض ہے

امور جو اہل سنت کی اجماعی رائے سے اسلام کہلاتے ہیں، ان سب کا ماننا فرض ہے اور ہم آسمان اور زمین کو اس بات پر گواہ کرتے ہیں کہ یہی ہمارا مذہب ہے۔"

(ایام الصلح صفحہ 87 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 323 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 569 پر)

View Proof

اعتراف حقیقت

(راز حقیقت صفحہ 13 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 165 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 570 پر)

View Proof

اہم نکات

قارئین کرام: اس باب میں آنجہانی مرزا قادیانی کی کتب سے جو مذکورہ بالا

صفحہ 167

اقتباسات پیش کیے گئے، ان کا خلاصہ اور اہم نکات درج ذیل ہیں۔ بقول مرزا قادیانی:

نبوت لانے سے منع کر دیا گیا ہے۔

ہے۔ پس ثابت ہوا کہ آنحضرت ﷺ حقیقت میں خاتم الرسل ہیں۔

و خاتم النبیین (الاحزاب: 40) صاف دلالت کر رہی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ کے بعد کوئی رسول دنیا میں نہیں آئے گا۔

کے دروازہ کے بند ہونے کے بعد اس کا کھلنا جائز قرار دیں گے جو باطل ہے۔

رسول نہیں۔

کہ خیالات رکیکہ کی پیروی کر کے خاتم الانبیا کے بعد کسی نبی کا آنا مان لیا جائے۔

بات کی تصدیق کرتا ہے کہ فی الحقیقت ہمارے نبی ﷺ پر نبوت ختم ہو چکی ہے۔

کامل کیا۔ اس کا مطلب ہے کہ رسالت کمال تک پہنچ گئی۔

صفحہ 168

کمال کو پہنچ گئیں۔

ختم ہیں اور ان کی شریعت خاتم الشرائع ہے۔

داخل ہیں۔

اور کافر جانتا ہوں۔

مصطفیٰ ﷺ پر ختم ہو گئی۔ میری اس تحریر پر ہر ایک شخص گواہ رہے۔

سے جاملوں۔

ہونے میں کچھ شک نہیں۔ ایسے خبیث کے متعلق کیسے کہہ سکتے ہیں کہ وہ قرآن شریف کو مانتا ہے۔

نبوت کا سلسلہ جاری نہ کرو۔ خدا سے شرم کرو جس کے سامنے حاضر کیے جاؤ گے۔

میں حضور خاتم الانبیاء ﷺ کی ختم نبوت کا قائل ہوں اور جو شخص ختم نبوت کا منکر ہو، اس کو بے دین اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔

سے انکار ہے یا میں نبوت کا دعویدار ہوں یا نعوذ باللہ حضرت سید المرسلین محمد مصطفیٰ ﷺ

صفحہ 169

کو خاتم الانبیا نہیں سمجھتا، یہ سراسر افترا ہے۔ خدا گواہ ہے کہ میں ان سب باتوں کا قائل ہوں اور ان عقائد کے منکر کو ملعون اور خسر الدنیا والآخرہ یقین رکھتا ہوں۔

کیا ہے۔

کروں۔

خاتم النبیین و خیرالمرسلین ہیں جن کے ہاتھ سے اکمال دین ہو چکا۔ اگر کوئی اس کے برخلاف عقیدہ رکھے تو وہ جماعت مومنین سے خارج، ملحد اور کافر ہے۔

تمام انسانوں کی لعنت ہو۔

ہوں۔ آسمان اور زمین کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ یہی میرا مذہب ہے۔

PDF 170
PDF 171

ثبوت حاضر ہیں!

نُبُوَّت جاری ہے

Back

PDF 172
صفحہ 173

مسلمانان عالم کا حضور نبی کریم ﷺ کے آخری نبی ہونے پر اجماع اور عقیدۂ جہاد 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد اسلام دشمن طاقتوں بالخصوص انگریزوں کے لیے سوہان روح بنا ہوا تھا اور ہے۔ ان کی شدید خواہش تھی اور ہے کہ کسی طرح کوئی ایسا اہتمام ہو جائے کہ مسلمانوں کے دل سے حضور نبی کریم ﷺ کی محبت وعقیدت اور جہاد کی روح دونوں ختم ہو جائیں، اب چونکہ ایک نبی کے حکم میں ترمیم وتنسیخ دوسرے نبی کے ذریعے ہی سے ہوتی ہے۔ چنانچہ حکومت برطانیہ کے ایما اور لالچ پر سیالکوٹ کی ضلع کچہری کے ایک منشی مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کیا۔ یہ بدبخت شخص گورداسپور (بھارت) کی تحصیل بٹالہ کے ایک پسماندہ گاؤں قادیان کا رہنے والا تھا۔ آنجہانی مرزا قادیانی نے پہلے خود کو عیسائیت اور ہندو مخالف مناظر کی حیثیت سے متعارف کرایا اور مسلمانوں کی جذباتی اور نفسیاتی ہمدردیاں حاصل کیں۔ پھر بتدریج مجدد، محدث، امتی نبی، ظلی نبی، بروزی نبی، مثیل مسیح اور مسیح موعود کا دعویٰ کرتے ہوئے انجام کار امر و نہی کے حامل ایک صاحب شریعت نبی ہونے کے ادعا تک جا پہنچا۔ یعنی باقاعدہ نبی ورسول ہونے کا دعویٰ کیا حتیٰ کہ اعلان کیا وہ خود ”محمد رسول اللہ“ ہے۔ (نعوذ باللہ)!

قارئین محترم! گزشتہ باب میں آپ مرزا غلام احمد قادیانی کا عقیدہ ملاحظہ فرما چکے ہیں کہ ”نبوت بند ہے!“ اور حضور نبی کریم ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری رسول اور نبی ہیں۔ قرآن مجید کے متعلق اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اگر یہ کلام، اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت سے اختلافات پائے جاتے۔ اس آیت کریمہ نے فیصلہ کردیا کہ اگر مدعی نبوت کے اقوال میں اختلاف ہو تو وہ اپنے دعویٰ نبوت میں سچا نہیں بلکہ جھوٹا ہے، اور آنجہانی مرزا قادیانی بھی اس کی تائید کرتے ہوئے لکھتا ہے:

مخبوط الحواس کون؟

صفحہ 174

اپنے کلام میں رکھتا ہے۔"

(حقیقۃ الوحی صفحہ 184 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 191 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 571 پر)

پاگل اور منافق کون؟

(35) ”ظاہر ہے کہ ایک دل سے دو متناقض باتیں نہیں نکل سکتیں کیونکہ ایسے طریق سے یا انسان پاگل کہلاتا ہے یا منافق۔“

(ست بچن صفحہ 31 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 143 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 572 پر)

سچے، عقل مند اور صاف دل انسان کے کلام کی نشانی

(36) ”کسی سچے یار اور عقلمند اور صاف دل انسان کی کلام میں ہرگز تناقض نہیں ہوتا۔ ہاں اگر کوئی پاگل اور مجنوں یا ایسا منافق ہو کہ خوشامد کے طور پر ہاں میں ہاں ملا دیتا ہو، اس کا کلام بیشک متناقض ہو جاتا ہے۔“

(ست بچن صفحہ 30 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 142 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 573 پر)

چونکہ مرزا قادیانی خود مدعی نبوت ہے، اس لیے اس کے صدق و کذب کے پرکھنے کی ایک آسان سی صورت یہ بھی ہے کہ دیکھا جائے آیا خود مرزا قادیانی کے کلام میں تناقض تو نہیں پایا جاتا؟ اگر اس کی تحریروں میں تناقض و تعارض پایا جاتا ہو تو بحوالہ فیصلہ قرآنی، مرزا قادیانی اپنے دعویٰ نبوت میں کاذب قرار پاتا ہے۔ آنجہانی مرزا قادیانی نے پینترہ بدلتے ہوئے اپنے سابقہ عقیدہ میں بددیانتی سے انحراف کیا اور ختم نبوت کے مسلمہ عقیدہ پر چوٹ لگاتے ہوئے نبوت کے جاری ہونے پر اصرار کیا اور خود نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کر دیا۔ جبکہ قرآن مجید میں ارشاد خداوندی ہے:

شَیْءٌ. (الانعام: 93)

ترجمہ: اور اس سے زیادہ ظالم کون جو باندھے اللہ پر بہتان یا کہے مجھ پر وحی اتری اور اس پر وحی نہیں اتری کچھ بھی (جیسا کہ مسیلمہ کذاب یا مرزا قادیانی)۔

یہ آیت کریمہ ان تمام جھوٹے مدعیان نبوت کی سرکوبی کرتی ہے جو اللہ تعالیٰ پر بہتان اور ناحق تہمت لگاتے ہیں کہ ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی نازل ہوتی ہے۔ حالانکہ

صفحہ 175

حضور خاتم النبیین ﷺ کے بعد نبوت و وحی کا دروازہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند ہو چکا ہے۔

ترجمہ: سو اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے اور سچی بات کو جبکہ وہ اس کے پاس پہنچی، جھٹلا دے۔

ترجمہ: اور لعنت کریں اللہ کی ان پر کہ جو جھوٹے ہیں۔

آئیے! مرزا قادیانی کے نئے عقیدہ کی چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں:

نبی نہیں محدث

(37) ”تمام مسلمانوں کی خدمت میں گزارش ہے کہ اس عاجز کے رسالہ فتح الاسلام و توضیح مرام وازالہ اوہام میں جس قدر ایسے الفاظ موجود ہیں کہ محدث ایک معنی میں نبی ہوتا ہے یا یہ کہ محدثیت جزوی نبوت ہے یا یہ کہ محدثیت نبوۃ ناقصہ ہے، یہ تمام الفاظ حقیقی معنوں پر محمول نہیں ہیں بلکہ صرف سادگی سے ان کے لغوی معنوں کے رو سے بیان کیے گئے ہیں۔ ورنہ حاشا وکلا، مجھے نبوت حقیقی کا ہرگز دعویٰ نہیں ہے۔ بلکہ جیسا کہ میں کتاب ازالہ اوہام کے صفحہ 137 میں لکھ چکا ہوں، میرا اس بات پر ایمان ہے کہ ہمارے سید ومولیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔ سو میں تمام مسلمان بھائیوں کی خدمت میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اگر وہ ان لفظوں سے ناراض ہیں اور ان کے دلوں پر یہ الفاظ شاق ہیں تو وہ ان الفاظ کو ترمیم شدہ تصور فرما کر بجائے اس کے محدث کا لفظ میری طرف سے سمجھ لیں کیونکہ کسی طرح مجھ کو مسلمانوں میں تفرقہ اور نفاق ڈالنا منظور نہیں ہے۔ جس حالت میں ابتداء سے میری نیت میں جس کو اللہ جل شانہ خوب جانتا ہے اس لفظ نبی سے مراد نبوت حقیقی نہیں ہے بلکہ صرف محدث مراد ہے، جس کے معنی آنحضرت ﷺ نے مکلم مراد لیے ہیں۔ یعنی محدثوں کی نسبت فرمایا ہے: عن ابى هريرة قال قال النبى ﷺ قد كان فيمن قبلكم من بنى اسرائيل رجال يكلمون من غير ان يكونوا انبیاء فان يك فى امتى منهم احد فعمر۔ صحیح بخاری جلد اول صفحہ 521 پارہ 14 باب مناقب عمرؓ تو پھر مجھے اپنے مسلمان بھائیوں کی دلجوئی کے لیے اس لفظ کو دوسرے پیرایہ میں بیان کرنے سے کیا عذر ہو سکتا ہے۔ سو دوسرا پیرایہ یہ ہے کہ بجائے لفظ

صفحہ 176

نبی کے محدث کا لفظ ہر ایک جگہ سمجھ لیں اور اس کو (یعنی لفظ نبی کو) کاٹا ہوا خیال فرمالیں۔“

(مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 257، 258، طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 574، 575 پر)

View Proof

محدث نہیں نبی

مقابل پر کھڑا ہو کر نبوت کا دعویٰ کرتا ہوں، یا کوئی نئی شریعت لایا ہوں۔ صرف مراد میری نبوت سے کثرت مکالمت و مخاطبت الٰہیہ ہے جو آنحضرت ﷺ کی اتباع سے حاصل ہے۔ سو مکالمہ و مخاطبہ کے آپ لوگ بھی قائل ہیں۔ پس یہ صرف لفظی نزاع ہوئی۔ یعنی آپ لوگ جس امر کا نام مکالمہ و مخاطبہ رکھتے ہیں میں اس کی کثرت کا نام بحکم الٰہی نبوت رکھتا ہوں۔ ولکل ان یصطلح ۔ اور میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اسی نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے۔“ (تتمہ حقیقت الوحی صفحہ 68)

پس آپ کے دعویٰ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی اور نہ ہی آپ کا کوئی الہام یا آپ کی کوئی تحریر منسوخ ہوئی بلکہ نبوت کی مسلمانوں میں رائج تعریف کے پیش نظر 1901ء سے پہلے آپ نبی کے لفظ کو ظاہر سے پھیر کر بمعنی محدث لیتے تھے لیکن 1901ء کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ پر جو نبوت کی حقیقت کا انکشاف کیا، اسی پہلی چیز کا نام بحکم الٰہی نبوت رکھا اور اس نئی تعریف کے ماتحت اپنے آپ کو نبی قرار دیا۔“

(روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 9 دیباچہ قادیانی مبلغ مولوی جلال الدین شمس) (عکس صفحہ نمبر 576 پر)

View Proof

ختم نبوت، ایک باطل عقیدہ، اسلام شیطانی مذہب

کے وحی الٰہی کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا ہے اور آئندہ کو قیامت تک اس کی کوئی بھی امید نہیں۔ صرف قصوں کی پوجا کرو۔ پس کیا ایسا مذہب کچھ مذہب ہو سکتا ہے جس میں براہ راست خدا تعالیٰ کا کچھ بھی پتہ نہیں لگتا۔ جو کچھ ہیں، قصے ہیں اور کوئی اگرچہ اس کی راہ میں

صفحہ 177

اپنی جان بھی فدا کرے، اس کی رضا جوئی میں فنا ہو جائے اور ہر ایک چیز پر اس کو اختیار کرلے، تب بھی وہ اس پر اپنی شناخت کا دروازہ نہیں کھولتا اور مکالمات اور مخاطبات سے اس کو مشرف نہیں کرتا۔

میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس زمانہ میں مجھ سے زیادہ بیزار ایسے مذہب سے اور کوئی نہ ہوگا۔ (دریں چہ شک ۔ ناقل) میں ایسے مذہب کا نام شیطانی مذہب رکھتا ہوں نہ کہ رحمانی، اور میں یقین رکھتا ہوں کہ ایسا مذہب جہنم کی طرف لے جاتا ہے اور اندھا رکھتا ہے اور اندھا ہی مارتا اور اندھا ہی قبر میں لے جاتا ہے۔“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ضمیمہ صفحہ 184، روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 354 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 577 پر)

View Proof

ایک غلطی کا ازالہ

(40) ”ہماری جماعت میں سے بعض صاحب جو ہمارے دعویٰ اور دلائل سے کم واقفیت رکھتے ہیں جن کو نہ بغور کتابیں دیکھنے کا اتفاق ہوا اور نہ وہ ایک معقول مدت تک صحبت میں رہ کر اپنے معلومات کی تکمیل کرسکے، وہ بعض حالات میں مخالفین کے کسی اعتراض پر ایسا جواب دیتے ہیں کہ جو سراسر واقعہ کے خلاف ہوتا ہے، اس لیے باوجود اہل حق ہونے کے ان کو ندامت اٹھانی پڑتی ہے۔ چنانچہ چند روز ہوئے ہیں کہ ایک صاحب پر ایک مخالف کی طرف سے یہ اعتراض پیش ہوا کہ جس سے تم نے بیعت کی ہے، وہ نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کا جواب محض انکار کے الفاظ سے دیا گیا حالانکہ ایسا جواب صحیح نہیں ہے۔ حق یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے، اس میں ایسے الفاظ، رسول اور مرسل اور نبی کے موجود ہیں نہ ایک دفعہ بلکہ صد ہا دفعہ۔ پھر کیونکر یہ جواب صحیح ہو سکتا ہے کہ ایسے الفاظ موجود نہیں ہیں بلکہ اس وقت تو پہلے زمانے کی نسبت بھی بہت تصریح اور توضیح سے یہ الفاظ موجود ہیں۔“

(ایک غلطی کا ازالہ صفحہ 3، روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 206 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 578 پر)

View Proof

میرے پاس جبرائیل آیا

(41) ”میرے پاس آئیل آیا اور اس نے مجھے چن لیا اور اپنی انگلی کو گردش دی اور یہ

صفحہ 178

اشارہ کیا کہ خدا کا وعدہ آ گیا ...... اس جگہ آئیل خدا تعالیٰ نے جبرائیل کا نام رکھا ہے، اس لیے کہ بار بار رجوع کرتا ہے۔“

(حقیقۃ الوحی صفحہ 103، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 106 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 579 پر)

View Proof

امور غیبیہ کی نعمت

(42) ”یہ بات ایک ثابت شدہ امر ہے کہ جس قدر خدا تعالیٰ نے مجھ سے مکالمہ و مخاطبہ کیا ہے اور جس قدر امور غیبیہ مجھ پر ظاہر فرمائے ہیں تیرہ سو برس ہجری میں کسی شخص کو آج تک بجز میرے یہ نعمت عطا نہیں کی گئی۔“

(حقیقۃ الوحی صفحہ 391 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 406 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 580 پر)

View Proof

خدا تعالیٰ کی وحی

(43) ”میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ خدا تعالیٰ کا کلام ہے جو میرے پر نازل ہوا ............ اور یہ دعویٰ امت محمدیہ میں سے آج تک کسی اور نے ہرگز نہیں کیا کہ خدا تعالیٰ نے میرا یہ نام رکھا ہے اور خدا تعالیٰ کی وحی سے صرف میں اس نام کا مستحق ہوں۔“

(حقیقۃ الوحی صفحہ 378، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 503 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 581 پر)

View Proof

کثرت وحی

(44) ”غرض اس حصہ کثیر وحی الٰہی اور امور غیبیہ میں اس امت میں سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں گزر چکے ہیں، ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لیے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں کیونکہ کثرت وحی اور کثرت امور غیبیہ اس میں شرط ہے اور وہ شرط ان میں پائی نہیں جاتی۔“

(حقیقۃ الوحی صفحہ 391، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 406، 407 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 582، 583 پر)

View Proof

صفحہ 179

بارش کی طرح وحی نازل ہوئی

(45) ”مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی، اس نے مجھے عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا مگر اس طرح سے کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی۔“

(حقیقۃ الوحی صفحہ 150، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 153، 154 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 584، 585 پر)

View Proof

23 برس کی متواتر وحی

(46) ”میں خدا تعالیٰ کی تئیس برس کی متواتر وحی کو کیونکر رد کرسکتا ہوں۔ میں اس کی اس پاک وحی پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ ان تمام خدا کی وحیوں پر ایمان لاتا ہوں جو مجھ سے پہلے ہوچکی ہیں۔“

(حقیقۃ الوحی صفحہ 150، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 154 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 586 پر)

View Proof

امتی بھی، نبی بھی

(47) ”جس قدر نبی گزرے ہیں، ان سب کو خدا نے براہ راست چن لیا تھا۔ حضرت موسیٰ کا اس میں کچھ بھی دخل نہیں تھا لیکن اس امت میں آنحضرت ﷺ کی پیروی کی برکت سے ہزار ہا اولیاء ہوئے ہیں اور ایک وہ بھی ہوا جو امتی بھی ہے اور نبی بھی۔ اس کثرت فیضان کی کسی نبی میں نظیر نہیں مل سکتی۔“

(حقیقۃ الوحی صفحہ 28 (حاشیہ) روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 30 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 587 پر)

View Proof

خدا کا فرستادہ

(48) ”اب ظاہر ہے کہ ان الہامات میں میری نسبت بار بار بیان کیا گیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ، خدا کا مامور، خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے۔ جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔“

(انجام آتھم صفحہ 62 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 62 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 588 پر)

View Proof

صفحہ 180

ہم نبی اور رسول ہیں

(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 447، طبع جدید، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 589 پر)

View Proof

خدا نے اپنے رسول کو دین حق کے ساتھ بھیجا

تہذیب اخلاق کے ساتھ بھیجا۔“

(اربعین نمبر 3 صفحہ 36، مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 426 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 590 پر)

View Proof

سچا خدا

(دافع البلاء صفحہ 11، مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 231 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 591 پر)

View Proof

تو بھی ایک رسول ہے

ہیں کہ تو بھی ایک رسول ہے جیسا کہ فرعون کی طرف ایک رسول بھیجا گیا تھا۔“

(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 17، طبع جدید، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 592 پر)

View Proof

قادیان، رسول کا تخت گاہ

تک کہ طاعون دنیا میں رہے گو ستر برس تک رہے، قادیان کو اس کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے اور یہ تمام امتوں کے لیے نشان ہے۔“

(دافع البلاء صفحہ 14، روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 230 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 593 پر)

View Proof

صفحہ 181

خدا نے میرا نام نبی رکھا، تصدیق کے لئے تین لاکھ نشان دیئے

(54) "اور میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اسی نے مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اسی نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے اور اس نے میری تصدیق کے لیے بڑے بڑے نشان ظاہر کیے ہیں جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔"

(حقیقۃ الوحی صفحہ 387، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 503 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 594 پر)

سب لوگوں کی طرف خدا کا رسول

(55) "وقل یاایہا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعاً۔" اور کہہ دو کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف خدا تعالیٰ کا رسول ہو کر آیا ہوں۔

(تذکرہ مجموعہ وحی مقدس والہامات صفحہ 292، طبع چہارم، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 595 پر)

ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجا

(56) "انا ارسلنا الیکم رسولاً شاہداً علیکم کما ارسلنا الی فرعون رسولا۔" "ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجا ہے، اسی رسول کی مانند جو فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا۔"

(حقیقۃ الوحی صفحہ 102 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 105 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 596 پر)

خدا کا مرسل

(57) "یٰسٓ۔ انک لمن المرسلین۔" اے سردار تو خدا کا مرسل ہے۔

(حقیقۃ الوحی صفحہ 107 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 110 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 597 پر)

صفحہ 182

تیری خبر قرآن وحدیث میں

مصداق ہے کہ ”ہو الذی ارسل رسولہ بالہدی و دین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ۔“

(اعجاز احمدی صفحہ 7 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 113 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 598 پر)

View Proof

نبوت کا دروازہ کھلا ہے

نبوت کا دروازہ کھلا ہے۔ مگر نبوت صرف آپ کے فیضان سے مل سکتی ہے، براہ راست نہیں مل سکتی۔ اور پہلے زمانہ میں نبوت براہ راست مل سکتی تھی۔ کسی نبی کی اتباع سے نہیں مل سکتی تھی۔“

(حقیقۃ النبوۃ حصہ اوّل صفحہ 226، مندرجہ انوار العلوم جلد 2 صفحہ 540، از مرزا بشیر الدین محمود)

(عکس صفحہ نمبر 599 پر)

View Proof

مرزا قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر الدین محمود کی گواہی

جس میں وہ مرزا قادیانی کے حوالہ جات نقل کر کے استدلال کرتا ہے کہ نبوت جاری ہے اور مرزا قادیانی نبی ہے۔

(نزول المسیح صفحہ 48)

محمدیؐ نبوت کا کامل انعکاس ہے۔“

(نزول المسیح صفحہ 3 حاشیہ)

رسول رکھا ہے۔ اور تمام خدا تعالیٰ کے نبیوں نے اس کی تعریف کی ہے اور اس کو تمام انبیاء کی صفات کاملہ کا مظہر ٹھہرایا ہے۔“

(نزول المسیح صفحہ 48)

صفحہ 183

کیا ہے؟ وہ اس کا نبی ہوگا۔‘‘ (چشمہ معرفت صفحہ 318)

ہے اور عیسیٰ ایک نبی ہے پس میرا نام مریم اور عیسیٰ رکھنے سے یہ ظاہر کیا گیا کہ میں امتی بھی ہوں اور نبی بھی۔‘‘۔ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 189)

تباہی سے محفوظ رکھے گا، کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے۔ سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔‘‘ (دافع البلاء)

بیعت کی ہے، وہ نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کا جواب محض انکار کے الفاظ میں دیا گیا حالانکہ ایسا جواب صحیح نہیں ہے۔‘‘ (ایک غلطی کا ازالہ صفحہ 1)

خود دیکھ چکا ہوں کہ صاف طور پر پوری ہوگئیں تو میں اپنی نسبت نبی یا رسول کے نام سے کیونکر انکار کرسکتا ہوں۔‘‘ (ایک غلطی کا ازالہ صفحہ 3)

میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی ہوں۔‘‘ (ایک غلطی کا ازالہ صفحہ 4)

(آخری خط مرزا قادیانی مندرجہ اخبار عام 26 مئی 1908ء)

ہیں کہ خدا سے الہام پا کر بکثرت پیشین گوئی کرنے والا اور بغیر کثرت کے یہ معنی متحقق نہیں ہوسکتے۔‘‘ (آخری خط مرزا قادیانی مندرجہ اخبار عام 26 مئی 1908ء)

مخاطبہ الہیہ اور کثرت اطلاع بر علوم غیب صرف مجھے ہی عطا کی گئی ہے۔‘‘ (آخری خط مرزا قادیانی مندرجہ اخبار عام 26 مئی 1908ء)

صفحہ 184

جس کے ساتھ ایسا مکالمہ مخاطبہ کرے کہ جو بلحاظ کمیت و کیفیت دوسروں سے بہت بڑھ کر ہو اور اس میں پیشین گوئیاں بھی کثرت سے ہوں اسے نبی کہتے ہیں اور یہ تعریف ہم پر صادق آتی ہے پس ہم نبی ہیں۔“ (بدر 5مارچ 1908ء)

پر قائم ہوں، اس وقت تک جو اس دنیا سے گزر جاؤں۔“

(آخری خط مرزا قادیانی مندرجہ اخبار عام 26مئی 1908ء)

آنے والا مسیح امتی بھی ہوگا اور نبی بھی ہوگا۔“

(آخری خط مندرجہ اخبار عام 26مئی 1908ء)

وحی ایک امر میں کثرت سے اور واضح ہوتی ہے۔ پس میں اس سے انکار نہیں کرسکتا کہ کبھی میری وحی بھی خبر واحد کی طرح ہو اور مجمل ہو۔“ (لیکچر سیالکوٹ صفحہ 33)

ایک ہی شخص کے وجود میں ان کے نمونے ظاہر کیے جائیں۔ سو وہ میں ہوں۔ اسی طرح اس زمانے میں تمام بدوں کے نمونے بھی ظاہر ہوئے۔ فرعون ہو یا وہ یہود ہوں جنہوں نے حضرت مسیح کو صلیب پر چڑھایا یا ابوجہل ہو، سب کی مثالیں اس وقت موجود ہیں۔“ (براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 90)

(حقیقۃ النبوۃ حصہ اول صفحہ 208 تا 211، مندرجہ انوار العلوم جلد 2 صفحہ 523 تا 526، از مرزا بشیر الدین محمود)

(عکس صفحہ نمبر 600، 603 پر)

امر حق کے پہچاننے میں کسی قسم کا اخفاء نہ رکھنا چاہیے

ڈائری کے ذیل میں مذکور ہے کہ ایک احمدی سے ایک نواب ریاست نے سوال کیا کہ کیا حضرت مرزا صاحب رسالت کے مدعی ہیں جس کے جواب میں اس احمدی دوست نے کہا

صفحہ 185

کہ ان کا ایک شعر ہے۔

من نیستم رسول و نیاوردہ ام کتاب
ہاں ملہم استم وزخداوند منذرم

اس سوال و جواب کا ذکر اس احمدی دوست نے حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی خدمت میں کیا جس پر حضور نے فرمایا کہ ”اس کی تشریح کردینا تھا کہ ایسا رسول ہونے سے انکار کیا گیا ہے جو صاحب کتاب ہو۔ دیکھو جو امور سماوی ہوتے ہیں ان کے بیان کرنے میں ڈرنا نہیں چاہیے اور کسی قسم کا خوف کرنا اہل حق کا قاعدہ نہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے طرز عمل پر نظر کرو، وہ بادشاہوں کے درباروں میں گئے اور جو کچھ ان کا عقیدہ تھا، وہ صاف صاف کہہ دیا اور حق کہنے سے ذرا نہیں جھجکے، جبھی تو لا يخافون لومة لائم کے مصداق ہوئے۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔ دراصل یہ نزاع لفظی ہے۔ خدا تعالیٰ جس کے ساتھ ایسا مکالمہ مخاطبہ کرے کہ جو بلحاظ کمیت و کیفیت دوسروں سے بہت بڑھ کر ہو اور اس میں پیش گوئیاں بھی کثرت سے ہوں، اسے نبی کہتے ہیں اور یہ تعریف ہم پر صادق آتی ہے۔ پس ہم نبی ہیں۔ ہاں یہ نبوت تشریعی نہیں جو کتاب اللہ کو منسوخ کرے اور نئی کتاب لائے۔ ایسے دعوے کو تو ہم کفر سمجھتے ہیں، بنی اسرائیل میں کئی ایسے نبی ہوئے ہیں جن پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی، صرف خدا کی طرف سے پیش گوئیاں کرتے تھے جس سے موسوی دین کی شوکت و صداقت کا اظہار ہو، پس وہ نبی کہلائے۔ یہی حال اس سلسلہ میں ہے۔ بھلا اگر ہم نبی نہ کہلائیں تو اس کے لیے اور کونسا امتیازی لفظ ہے جو دوسرے ملہموں سے ممتاز کرے۔ دیکھو اور لوگوں کو بھی بعض اوقات سچے خواب آ جاتے ہیں بلکہ بعض دفعہ کوئی کلمہ بھی زبان پر جاری ہو جاتا ہے جو سچ نکل آتا ہے۔ یہ اس لیے تا ان پر حجت پوری ہو اور وہ یہ نہ کہہ سکیں کہ ہم کو یہ حواس نہیں دیئے گئے، پس ہم سمجھ نہیں سکتے کہ یہ کس بات کا دعویٰ کرتے ہیں۔

آپ کو سمجھانا تو چاہیے تھا کہ وہ کس قسم کی نبوت کے مدعی ہیں، ہمارا مذہب تو یہ ہے کہ جس دین میں نبوت کا سلسلہ نہ ہو، وہ مردہ ہے۔ یہودیوں، عیسائیوں، ہندوؤں کے دین کو جو ہم مردہ کہتے ہیں تو اسی لیے کہ ان میں اب کوئی نبی نہیں ہوتا۔ اگر اسلام کا بھی یہی حال ہوتا تو پھر ہم بھی قصہ گو ٹھہرے۔ کس لیے اس کو دوسرے دینوں سے بڑھ کر کہتے ہیں،

صفحہ 186

آخر کوئی امتیاز بھی ہونا چاہیے، صرف سچے خوابوں کا آنا تو کافی نہیں کہ یہ تو چوہڑے چماروں کو بھی آ جاتے ہیں۔ مکالمہ مخاطبہ الٰہیہ ہونا چاہیے اور وہ بھی ایسا کہ جس میں پیش گوئیاں ہوں اور بلحاظ کمیت و کیفیت کے بڑھ چڑھ کر ہو، ایک مصرع سے تو شاعر نہیں ہو سکتے، اسی طرح معمولی ایک دو خوابوں یا الہاموں سے کوئی مدعی رسالت ہو تو وہ جھوٹا ہے۔ ہم پر کئی سالوں سے وحی نازل ہو رہی ہے اور اللہ تعالیٰ کے کئی نشان اس کے صدق کی گواہی دے چکے ہیں۔ اسی لیے ہم نبی ہیں، امر حق کے پہنچانے میں کسی قسم کا اخفاء نہ رکھنا چاہیے۔“ (بدر 5 مارچ 1908ء جلد 7 نمبر 9 صفحہ 2) (ملفوظات جلد پنجم صفحہ 447، از مرزا قادیانی)

(حقیقتہ النبوۃ صفحہ 272 مندرجہ انوار العلوم جلد 2 صفحہ 580، 581 از مرزا بشیر الدین محمود)

(عکس صفحہ نمبر 604، 605 پر)

گردن پر تلوار

(62) ”اگر میری گردن کے دونوں طرف تلوار بھی رکھ دی جائے اور مجھے کہا جائے کہ تم یہ کہو کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو میں اسے کہوں گا، تو جھوٹا ہے۔ کذاب ہے۔ آپ کے بعد نبی آ سکتے ہیں۔ اور ضرور آ سکتے ہیں۔“

(انوار خلافت صفحہ 65 مندرجہ انوار العلوم جلد 3 صفحہ 127، از مرزا بشیر الدین محمود) (عکس صفحہ 606 پر)

نبوت کا قادیانی تصور

(63) ”مثلاً ایک شخص جو قوم کا چوہڑہ یعنی بھنگی ہے اور ایک گاؤں کے شریف مسلمانوں کی تیس چالیس سال سے یہ خدمت کرتا ہے کہ دو وقت ان کے گھروں کی گندی نالیوں کو صاف کرنے آتا ہے اور ان کے پاخانوں کی نجاست اٹھاتا ہے اور ایک دو دفعہ چوری میں بھی پکڑا گیا ہے اور چند دفعہ زنا میں بھی گرفتار ہو کر اس کی رسوائی ہو چکی ہے اور چند سال جیل خانہ میں قید بھی رہ چکا ہے اور چند دفعہ ایسے برے کاموں پر گاؤں کے نمبرداروں نے اس کو جوتے بھی مارے ہیں اور اس کی ماں اور دادیاں اور نانیاں ہمیشہ ایسے ہی نجس کام میں مشغول رہی ہیں اور سب مردار کھاتے اور گوہ اٹھاتے ہیں۔ اب خدا تعالیٰ کی قدرت پر خیال کر کے ممکن تو ہے کہ وہ اپنے کاموں سے تائب ہو کر مسلمان ہو جائے۔ اور پھر یہ بھی ممکن

صفحہ 187

ایسا فضل اس پر ہو کہ وہ رسول اور نبی بھی بن جائے۔“

(تریاق القلوب صفحہ 152 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 279، 280 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 607، 608 پر)

View Proof

منافق کون ہے؟

(64) ”یاد رکھو منافق وہی نہیں ہے جو ایفائے عہد نہیں کرتا یا زبان سے اخلاص ظاہر کرتا ہے مگر دل میں اس کے کفر ہے بلکہ وہ بھی منافق ہے جس کی فطرت میں دورنگی ہے۔“

(ملفوظات جلد سوم صفحہ 455، طبع جدید، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 609 پر)

View Proof

کتوں، سوروں اور بندروں سے بدتر

(65) ”ایسا آدمی جو ہر روز خدا پر جھوٹ بولتا ہے اور آپ ہی ایک بات تراشتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ یہ خدا کی وحی ہے جو مجھ کو ہوئی ہے۔ ایسا بدذات انسان تو کتوں اور سؤروں اور بندروں سے بدتر ہوتا ہے۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 126 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 292 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 610 پر)

View Proof

اہم نکات

آنجہانی مرزا قادیانی اور اس کے بیٹے مرزا محمود کی مذکورہ بالا تحریروں سے مندرجہ ذیل نتائج اخذ ہوتے ہیں۔ مرزا قادیانی کا کہنا ہے:

ہو گیا ہے، لغو اور باطل عقیدہ ہے۔ ایسا مذہب، شیطانی مذہب ہے جو جہنم کی طرف

صفحہ 188

لے جاتا ہے۔ (نعوذ باللہ)

اور نبی کے الفاظ سیکڑوں دفعہ استعمال ہوتے ہیں۔ (نعوذ باللہ)

سو برس میں میرے علاوہ کسی کو یہ نعمت عطا نہیں ہوئی۔ (نعوذ باللہ)

دوسرے تمام لوگ اولیاء، ابدال اور اقطاب جو اس امت میں گزر چکے ہیں، نبوت کے مستحق نہیں۔ (نعوذ باللہ)

دوسری وحیوں پر جو مجھ سے پہلے نازل ہوئیں۔ (نعوذ باللہ)

وہ خدا کی طرف سے آیا ہے۔ وہ جو کچھ کہتا ہے، اس پر ایمان لاؤ۔ اس کا دشمن جہنمی ہے۔ (نعوذ باللہ)

ہے اور تمام امتیوں کے لیے نشان ہے۔ (نعوذ باللہ)

بھیجا ہے، اس نے میرا نام نبی رکھا ہے اور میری تصدیق کے لیے بڑے بڑے نشان ظاہر کیے جو 3 لاکھ کے قریب ہیں۔ (نعوذ باللہ)

جمیعاً دوبارہ مجھ پر نازل کی کہ اے مرزا! کہہ دو کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف

صفحہ 189

خدا تعالیٰ کا رسول ہو کر آیا ہوں۔ (نعوذ باللہ)

نازل کی اور کہا اے مرزا تو خدا کا مرسل ہے۔ (نعوذ باللہ)

آیت ھو الذی ارسل رسولہ بالھدیٰ و دین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ کا مصداق ہے۔ (نعوذ باللہ)

کھلا ہے۔ (نعوذ باللہ)

رہ چکا ہو، گاؤں کے نمبرداروں نے اسے جوتے مارے ہوں، اس کی ماں، دادیاں اور نانیاں ایسے ہی نجس کام میں مشغول ہوں، سب مردار کھاتے اور گوہ اٹھاتے ہوں۔ ممکن ہے وہ مسلمان ہو جائے اور رسول اور نبی بھی بن جائے۔ (نعوذ باللہ)

ہے۔ ایسا شخص کتوں، سوروں اور بندروں سے زیادہ بدتر ہوتا ہے۔

قادیانی جماعت کے لاہوری گروپ کا عقیدہ

1908ء میں مرزا قادیانی جہنم واصل ہوا۔ اس کے بعد حکیم نور الدین خلیفہ بنا۔ 1914ء میں اس کے مرنے کے بعد قادیانی جماعت میں جھگڑا پیدا ہوگیا۔ مرزا قادیانی کا دیرینہ دوست مولوی محمد علی لاہوری چاہتا تھا کہ وہ قادیانی خلافت کا زیادہ حق دار ہے۔ لیکن مرزا قادیانی کے خاندان والے چاہتے تھے کہ "خلافت" خاندان سے باہر نہ جائے۔ چنانچہ مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا محمود اس قادیانی گدی پر سوار ہو گیا۔ اس کے بعد محمد علی لاہوری اپنے ساتھیوں سمیت قادیان چھوڑ کر لاہور آ گیا اور یہاں اپریل 1914ء میں "احمدیہ انجمن اشاعت اسلام" کے نام سے نئی تنظیم بنا کر کام شروع کر دیا۔ لاہوری جماعت کا عقیدہ ہے کہ ہم مرزا قادیانی کو دوسرے مجددوں کی طرح ایک مجدد مانتے ہیں۔ حالانکہ محمد علی لاہوری مرزا

صفحہ 190

قادیانی کے دعویٰ نبوت ورسالت کو نہ صرف مانتا تھا بلکہ پورے زور وشور کے ساتھ اسکی تبلیغ و تشہیر بھی کرتا تھا۔ اس نے پورے زور قلم کے ساتھ اپنے پرچہ میں تحریر کیا:

جاتا ہے۔...... اس طرح مرزا صاحب کے ساتھ نہیں کیا۔ پس جس شخص کے ساتھ خدا تعالیٰ اپنی کتاب کے مقرر کردہ قوانین کی رو سے جھوٹوں والا سلوک نہیں کرتا بلکہ صادقوں اور سچے رسولوں والا سلوک کرتا ہے، اس کی صداقت پر شبہ کرنا خدا تعالیٰ سے جنگ کرنا اور اس کے کلام کی خلاف ورزی کرنا ہے۔ اس سے بڑھ کر اور کوئی ثبوت کسی کی صداقت کا نہیں ہو سکتا اور اگر یہ ثبوت کافی نہیں تو پھر کسی نبی کی نبوت ثابت نہیں ہو سکے گی۔“

(ریویو آف ریلیجنز جلد 7 صفحہ 294)

رکھنے والے اصحاب یا ان میں سے کوئی ایک سیدنا و ہادینا حضور حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود کے مدارج عالیہ کو اصلیت سے کم استخفاف کی نظر سے دیکھتا ہے۔ ہم تمام احمدی جن کا کسی نہ کسی صورت میں اخبار پیغام صلح سے تعلق ہے۔ خدا تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر علی الاعلان کہتے ہیں کہ ہماری نسبت اس قسم کی غلط فہمی محض بہتان ہے۔ ہم حضرت مسیح موعود کو اس زمانہ کا نبی، رسول اور نجات دہندہ مانتے ہیں اور جو درجہ حضرت مسیح موعود نے اپنا بیان فرمایا ہے اس سے کم و بیش کرنا موجب سلب ایمان سمجھتے ہیں۔“

(اخبار پیغام صلح جلد 1 صفحہ 42، 16 اکتوبر 1913ء)

(مرزا قادیانی) اللہ تعالیٰ کے سچے رسول تھے اور اس زمانہ کی ہدایت کے لیے دنیا میں نازل ہوئے۔ آج آپ کی متابعت میں ہی دنیا کی نجات ہے۔“

(اخبار پیغام صلح جلد 1 صفحہ 35، 7 ستمبر 1913ء)

بقول پروفیسر محمد الیاس برنی: ”قادیانیوں کی ان دونوں جماعتوں میں درحقیقت کوئی فرق نہیں بلکہ یہ اختلاف اور نزاع صرف اقتدار کا ہے اگر مولوی محمد علی کو مرزا محمود کی جگہ خلافت مل جاتی تو وہ بھی وہی کہتا جو عام قادیانی کہتے ہیں۔...... ان دونوں فرقوں میں صرف اتنا فرق ہے کہ ایک کا رنگ گہرا عنابی اور دوسرے کا ہلکا گلابی ہے۔ ان دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے کو کافر نہیں کہتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ ان میں اختلاف حقیقی نہیں بلکہ بناوٹی ہے۔“

(قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ از پروفیسر محمد الیاس برنی)

❁......❁......❁

PDF 191

ثبوت حاضر ہیں!

اللہ تعالیٰ ﷻ

کی توہین

PDF 192
صفحہ 193

1974ء میں ملک کی منتخب پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو ان کے کفریہ عقائد کی بنا پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فل بنچ کے تاریخی فیصلہ (1993 SCMR 1718) کی رو سے کوئی قادیانی خود کو مسلمان نہیں کہلوا سکتا اور نہ اپنے مذہب کی تبلیغ ہی کر سکتا ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-C اور 298-C کے تحت سزائے موت کا مستوجب ہے۔ اس کے باوجود قادیانی آئین، قانون اور اعلیٰ عدالتی فیصلوں کا مذاق اڑاتے ہوئے خود کو مسلمان کہلواتے، اپنے مذہب کی تبلیغ کرتے، گستاخانہ لٹریچر تقسیم کرتے، شعائر اسلامی کا تمسخر اڑاتے اور اسلامی مقدس شخصیات و مقامات کی توہین کرتے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ قادیانیوں کی ان آئین شکن، خلاف قانون اور انتہائی اشتعال انگیز سرگرمیوں پر قانون نافذ کرنے والے ادارے مجرمانہ غفلت اور خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں جس سے بعض اوقات لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔ نقل کفر، کفر نہ باشد کے مصداق، آئیے بوجھل دل کے ساتھ روح فرسا قادیانی عقائد پر ایک نظر ڈالتے ہیں جنھیں پڑھ کر کلیجا پھٹنے کو آتا، دل ٹکڑے ٹکڑے ہوتا، آنکھیں خون کے آنسو روتی، سینہ چھلنی ہوتا، روح میں زہر آلود نشتر چبھتے اور دماغ مفلوج ہوتا محسوس ہوتا ہے۔ افسوس صد افسوس! اسلام کے نام پر حاصل کیے جانے والے ملک میں ایسے گستاخانہ، دل آزار اور کفریہ عقائد کی سرعام تبلیغ و تشہیر ہوتی ہے!!!

؎ آواز دو انصاف کو، انصاف کہاں ہے؟

اللہ تعالیٰ کی توہین

اللہ تعالیٰ تمام کائناتوں اور جہانوں کا واحد حقیقی خالق و مالک اور پروردگار ہے۔

صفحہ 194

وہ وحدہ لاشریک ہے۔ وہ زندگی، رزق اور موت بلکہ دنیا و آخرت کی ہر چیز پر قادر مطلق ہے۔ وہ روزِ قیامت کا مالک ہے۔ وہ سب جہانوں کو پالنے والا ہے۔ سب تعریفیں صرف اُسی کے لیے ہیں۔ وہ سب سے بڑا ہے۔ اس کی ذات ہر عیب و نقص سے پاک ہے۔ اس کا کوئی ہمسر یا برابری کرنے والا نہیں۔ وہ ازل سے ابد تک یکتا و یگانہ ہے۔ وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا، وہ اکیلا ہے جسے فنا نہیں۔ اسے کسی نے جنم نہیں دیا اور نہ اُس نے ہی کسی کو جنم دیا۔ وہ ہر ایک چیز سے بے نیاز ہے۔ وہی عبادت کے لائق ہے۔ کسی صفت میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ وہ بے نظیر و بے مثل ہے۔ وہ حی و قیوم ہے۔ اُسے نیند آتی ہے نہ اونگھ۔ وہ تھکتا بھی نہیں۔ وہ نہایت رحیم و کریم ہے۔ اس کا باب رحمت کبھی بند نہیں ہوتا۔ اس کا غضب محدود اور رحمت لا محدود ہے۔ ایک ماں کو اپنے بچے سے جس قدر محبت ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ اس سے ستر گنا زیادہ اپنے بندوں سے پیار کرتا ہے۔ حتیٰ کہ وہ اپنے منکروں کو بھی مایوس نہیں کرتا۔ وہ ستار العیوب ہے۔ وہ ہمارا اصل محافظ و نگہبان ہے۔ اولاد، زندگی، موت، صحت، بیماری، عزت، ذلت، کامیابی، ناکامی، خوشی، غمی، امیری، غریبی سب اُسی کے ہاتھ میں ہے۔ وہ اپنے بندوں کو بن مانگے عطا کرتا ہے۔ وہ ہر پکارنے والے کی پکار سنتا ہے۔ وہ ہر انسان کی رگِ گردن سے بھی زیادہ قریب ہے۔ وہ دلوں کے راز جانتا ہے، وہ دعاؤں اور خواہشات کو پورا کرتا ہے۔ وہ بخشنے والا، رحم کرنے والا اور توبہ قبول کرنے والا ہے۔ وہ کُن کہتا ہے تو ہر چیز جو وہ چاہتا ہے، خود بخود وجود میں آ جاتی ہے۔ کائنات کے ذرے ذرے پر اس کی حکومت ہے۔ رات کی تاریکی ہو یا دن کا اجالا، وہ ہر چیز سے علیم و خبیر اور سمیع و بصیر ہے۔ وہ کسی کا محتاج نہیں۔ اس کی ذات، صفات اور کمالات لامحدود اور بے پایاں ہے۔ پوری کائنات میں صرف اُسی کی تجلیات کا ظہور ہے۔ وہی اوّل و آخر اور وہی ظاہر و باطن ہے۔ اس کی عظمتِ حیطۂ ادراک میں نہیں آ سکتی۔ اس کا جلال انسانی عقل میں نہیں سما سکتا۔ صد شکر کہ اس نے بغیر کسی محنت و کوشش کے ہمیں ایمان و اسلام کی نعمت کے علاوہ دیگر بے شمار نعمتوں سے نوازا۔ لیکن قادیان کے دہقان جھوٹے مدعی نبوت آنجہانی مرزا قادیانی نے جس دیدہ دلیری سے خالقِ ارض و سما کے بارے میں ہرزہ سرائی کی اور اپنی خود ساختہ نبوت کے ثبوت کے لیے اللہ تعالیٰ کے متعلق خرافات کا پلندہ گھڑا ہے، اسے پڑھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ ایسے عقائد مرزائی جماعت کی نامرادی کا سب سے بڑا ثبوت ہیں۔ دل پر ہاتھ رکھ کر ان مزخرفات کو

صفحہ 195

پڑھیں اور زبان سے استغفار کریں۔

اللہ تعالیٰ کے بے شمار ہاتھ پیر

(66) ”قیوم العالمین ایک ایسا وجود اعظم ہے جس کے بے شمار ہاتھ بے شمار پیر اور ہر ایک عضو اس کثرت سے ہے کہ تعداد سے خارج اور لاانتہا عرض اور طول رکھتا ہے اور تیندوے کی طرح اس وجود اعظم کی تاریں بھی ہیں جو صفحہ ہستی کے تمام کناروں تک پھیل رہی ہیں۔“

(توضیح مرام، صفحہ 42، مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 90 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 611 پر)

اللہ کی زبان پر مرض

(67) ”کیا کوئی عقلمند اس بات کو قبول کر سکتا ہے کہ اس زمانہ میں خدا سنتا تو ہے مگر بولتا نہیں۔ پھر بعد اس کے یہ سوال ہوا کہ کیوں نہیں بولتا۔ کیا (اس کی) زبان پر کوئی مرض لاحق ہوگئی ہے؟“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 144 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 312 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 612 پر)

اللہ اور چور

(68) ”وہ خدا جس کے قبضہ میں ذرہ ذرہ ہے، اس سے انسان کہاں بھاگ سکتا ہے۔ وہ فرماتا ہے کہ میں چوروں کی طرح پوشیدہ آؤں گا۔“

(تجلیات الٰہیہ صفحہ 4 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 396 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 613 پر)

اللہ خطا کرتا ہے

مرزا قادیانی کی وحی ہے کہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے: (69) ”انی مع الافواج اتیک بغتۃ۔ انی مع الرسول اجیب۔ اخطی و اصیب۔“

صفحہ 196

میں فوجوں کے ساتھ ناگہانی کے طور پر آؤں گا۔ میں رسول کے ساتھ ہو کر جواب دوں گا۔ میں غلطی بھی کرتا ہوں اور ٹھیک بھی کرتا ہوں۔

(حقیقۃ الوحی صفحہ 103 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 106 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 614 پر)

View Proof

قادیان میں خدا

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 358، طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 615 پر)

View Proof

سچا خدا

(دافع البلاء صفحہ 11، مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 231 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 616 پر)

View Proof

اس کا مطلب یہ ہوا کہ سچے خدا کی نشانی صرف یہ ہے کہ اس نے مرزا قادیانی کو قادیان میں رسول بنا کر بھیجا ہے اور اگر مرزا قادیانی رسول نہیں ہے تو پھر خدا کی سچائی مشکوک ہے۔ (نعوذ باللہ)

اولاد کی طرح ہے

مرزا قادیانی کہتا ہے کہ مجھ پر وحی نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا:

” (اے مرزا) تو میرے نزدیک میری اولاد کی طرح ہے۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 345 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 617 پر)

View Proof

صفحہ 197

میرے بیٹے کی طرح ہے

(اے مرزا) تو مجھ سے بمنزلہ میرے بیٹے کے ہے۔

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 442 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 618 پر)

View Proof

اے میرے بیٹے!

ترجمہ: ”اے میرے بیٹے سن“

(البشریٰ مجموعہ الہامات و مکاشفات مرزا قادیانی جلد اوّل صفحہ 49 از محمد منظور الٰہی قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 619 پر)

View Proof

لڑکا اور خدا

آسمان سے خدا اترے گا۔“

(حقیقۃ الوحی صفحہ 95، 96، مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 98، 99 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 620، 621 پر)

View Proof

تو ہمارے پانی سے ہے

تو ہمارے پانی سے ہے اور وہ بزدلی سے۔

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 164، طبع چہارم، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 622 پر)

View Proof

میں چاند، اللہ سورج، میں سورج، اللہ چاند

صفحہ 198

اسلام کے پھیلانے کی خوشخبری دی جیسا کہ اس نے فرمایا۔ یا قمر یا شمس انت منی وانا منک۔ یعنی اے چاند اور اے سورج! تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں۔ اس وحی الٰہی میں ایک دفعہ خدا تعالیٰ نے مجھے چاند قرار دیا اور اپنا نام سورج رکھا۔ اس سے یہ مطلب ہے کہ جس طرح چاند کا نور سورج سے فیضیاب اور مستفاد ہوتا ہے، اسی طرح میرا نور خدا تعالیٰ سے فیضیاب اور مستفاد ہے۔ پھر دوسری دفعہ خدا تعالیٰ نے اپنا نام چاند رکھا اور مجھے سورج کر کے پکارا۔ اس سے یہ مطلب ہے کہ وہ اپنی جلالی روشنی میرے ذریعہ سے ظاہر کرے گا۔ وہ پوشیدہ تھا۔ اب میرے ہاتھ سے ظاہر ہو جائے گا اور اس کی چمک سے دنیا بے خبر تھی مگر اب میرے ذریعہ سے اسکی جلالی چمک دنیا کی ہر ایک طرف پھیل جائے گی اور جس طرح تم بجلی کو دیکھتے ہو کہ ایک طرف سے روشن ہو کر ایک دم میں تمام سطح آسمان کو روشن کر دیتی ہے۔ اسی طرح اس زمانہ میں بھی ہوگا۔ خدا تعالیٰ مجھے مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ تیرے لیے میں زمین پر اترا اور تیرے لیے میرا نام چمکا۔‘‘

(تجلیات الٰہیہ صفحہ 5 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 397 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 623 پر)

View Proof

مرزا قادیانی سے اللہ تعالیٰ کی تعزیت

(78) ”میں اس بات کو فراموش نہیں کروں گا کہ میرے والد صاحب کی وفات کے وقت خدا تعالیٰ نے میری عزاپرسی کی اور میرے والد کی وفات کی قسم کھائی جیسا کہ آسمان کی قسم کھائی۔ جن لوگوں میں شیطانی روح جوش زن ہے وہ تعجب کریں گے کہ ایسا کیونکر ہو سکتا ہے کہ خدا کسی کو اس قدر عظمت دے کہ اس کے والد کی وفات کو ایک عظیم الشان صدمہ قرار دے کر اس کی قسم کھاوے۔ مگر میں پھر دوبارہ خدائے عزوجل کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ واقعہ حق ہے اور وہ خدا ہی تھا جس نے عزاپرسی کے طور پر مجھے خبر دی اور کہا کہ والسماء والطارق اور اسی کے موافق ظہور میں آیا۔‘‘

(حقیقة الوحی صفحہ 219 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 219 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 624 پر)

View Proof

صفحہ 199

مرزا قادیانی، اللہ کے ساتھ ایک پلنگ پر

(79) ”میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک نہایت وسیع اور مصفےٰ مکان ہے، اس میں ایک پلنگ بچھا ہوا ہے اور اس پر ایک شخص حاکم کی صورت میں بیٹھا ہے۔ میرے دل میں ڈالا گیا کہ یہ احکم الحاکمین یعنی رب العالمین ہیں اور میں اپنے آپ کو ایسا سمجھتا ہوں، جیسے حاکم کا کوئی سررشتہ دار ہوتا ہے۔ میں نے کچھ احکام قضا و قدر کے متعلق لکھے ہیں اور ان پر دستخط کرانے کی غرض سے ان کے پاس لے چلا ہوں۔ جب میں پاس گیا تو انھوں نے مجھے نہایت شفقت سے اپنے پاس پلنگ پر بٹھا لیا۔ اس وقت میری ایسی حالت ہوگئی کہ جیسے ایک بیٹا اپنے باپ سے بچھڑا ہوا سالہا سال کے بعد ملتا ہے اور قدرتاً اس کا دل بھر آتا ہے یا شاید فرمایا اس کو رقت آ جاتی ہے اور میرے دل میں اس وقت یہ بھی خیال آیا کہ یہ احکم الحاکمین یا فرمایا رب العالمین ہیں اور کس محبت اور شفقت سے انھوں نے مجھے اپنے پاس بٹھا لیا ہے اس کے بعد میں نے وہ احکام جو لکھے تھے، دستخط کرانے کی غرض سے پیش کیے۔“

(سیرت المہدی جلد اول صفحہ 82 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی) (عکس صفحہ 625 پر)

اللہ تعالیٰ کے دستخط

(80) ”ایک دفعہ تمثیلی طور پر مجھے خدا تعالیٰ کی زیارت ہوئی اور میں نے اپنے ہاتھ سے کئی پیش گوئیاں لکھیں جن کا یہ مطلب تھا کہ ایسے واقعات ہونے چاہئیں تب میں نے وہ کاغذ دستخط کرانے کے لیے خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کیا اور اللہ تعالیٰ نے بغیر کسی تامل کے سرخی کے قلم سے اس پر دستخط کیے اور دستخط کرنے کے وقت قلم کو جھٹکا جیسا کہ جب قلم پر زیادہ سیاہی آجاتی ہے تو اسی طرح پر جھاڑ دیتے ہیں۔ اور پھر دستخط کر دیئے اور میرے پر اس وقت نہایت رقت کا عالم تھا، اس خیال سے کہ کس قدر خدا تعالیٰ کا میرے پر فضل اور کرم ہے کہ جو کچھ میں نے چاہا، بلا توقف اللہ تعالیٰ نے اس پر دستخط کر دیئے۔ اور اسی وقت میری آنکھ کھل گئی اور اس وقت میاں عبداللہ سنوری مسجد کے حجرہ میں میرے پیر دبا رہا تھا کہ اس کے روبرو غیب سے سرخی کے قطرے میرے کرتے اور اس کی ٹوپی پر گرے اور عجیب بات یہ ہے کہ اس سرخی کے قطرے گرنے اور قلم کے جھاڑنے کا ایک ہی وقت تھا، ایک سیکنڈ کا بھی فرق نہ تھا۔ ایک غیر

صفحہ 200

آدمی اس راز کو نہیں سمجھے گا اور شک کرے گا کیونکہ اس کو صرف ایک خواب کا معاملہ محسوس ہوگا۔ مگر جس کو روحانی امور کا علم ہو وہ اس میں شک نہیں کر سکتا۔ اسی طرح خدا نیست سے ہست کر سکتا ہے۔ غرض میں نے یہ سارا قصہ میاں عبداللہ کو سنایا اور اس وقت میری آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ عبداللہ جو ایک روایت کا گواہ ہے، اس پر بہت اثر ہوا اور اس نے میرا کرتہ بطور تبرک اپنے پاس رکھ لیا جو اب تک اس کے پاس موجود ہے۔“

(حقیقۃ الوحی صفحہ 255، مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 267 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 626 پر)

View Proof

میں خود خدا ہوں

ترجمہ ”میں (مرزا قادیانی) نے خواب میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں۔ میں نے یقین کر لیا کہ میں وہی ہوں۔“

(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 564، مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 564 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 627 پر)

View Proof

(کتاب البریہ صفحہ 85، مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 103 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 628 پر)

View Proof

”خدا تیرے اندر اتر آیا“

مجھ سے اور میں تجھ سے ہوں، اور زمین و آسمان تیرے ساتھ ہیں جیسا کہ میرے ساتھ ہیں، اور تُو ہمارے پانی میں سے ہے اور دوسرے لوگ خشکی سے، اور تو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ میری توحید، اور تُو مجھ سے اس مقام اتحاد میں ہے جو کسی مخلوق کو معلوم نہیں۔ خدا اپنے عرش سے تیری تعریف کرتا ہے۔ تُو اس سے نکلا اور اس نے تمام دنیا سے تجھ کو چنا۔ تو میری درگاہ میں وجیہ ہے۔ میں نے اپنے لیے تجھ کو پسند کیا۔ تُو جہان کا نور ہے۔ تیری شان عجیب ہے۔ میں تجھے

صفحہ 201

اپنی طرف اٹھاؤں گا اور تیرے گروہ کو قیامت تک غالب رکھوں گا۔ تُو برکت دیا گیا۔ خدا نے تیری مجد کو زیادہ کیا۔ تُو خدا کا وقار ہے۔ پس وہ تجھے ترک نہیں کرے گا۔ تُو کلمتہ الازل ہے پس تو مٹایا نہیں جائے گا۔ میں فوجوں کے سمیت تیرے پاس آؤں گا۔ میرا لوٹا ہوا مال تجھے ملے گا۔ میں تجھے عزت دوں گا اور تیری حفاظت کروں گا۔ یہ ہوگا یہ ہوگا یہ ہوگا اور پھر انتقال ہوگا۔ تیرے پر میرے کامل انعام ہیں۔ لوگوں کو کہہ دے کہ اگر تم خدا سے پیار کرتے ہو تو آؤ میرے پیچھے چلو تا خدا بھی تم سے پیار کرے۔ میری سچائی پر خدا گواہی دیتا ہے پھر کیوں تم ایمان نہیں لاتے۔ تُو میری آنکھوں کے سامنے ہے۔ میں نے تیرا نام متوکل رکھا۔ خدا عرش سے تیری تعریف کرتا ہے۔ ہم تیری تعریف کرتے ہیں اور تیرے پر درود بھیجتے ہیں۔ لوگ چاہیں گے کہ اس نور کو بجھا دیں مگر خدا اس نور کو جو اس کا نور ہے کمال تک پہنچائے گا۔ ہم ان کے دلوں میں رعب ڈالیں گے۔ ہماری فتح آئے گی اور زمانہ کا کاروبار ہم پر ختم ہوگا۔ اس دن کہا جائے گا کہ کیا یہ حق نہ تھا، میں تیرے ساتھ ہوں جہاں تو ہے، جس طرف تیرا منہ اس طرف خدا کا منہ۔ مجھ سے بیعت کرنا ایسا ہے جیسا کہ مجھ سے۔ تیرا ہاتھ میرا ہاتھ ہے۔ لوگ دور دور سے تیرے پاس آئیں گے اور خدا کی نصرت تیرے پر اترے گی۔ تیرے لیے لوگ خدا سے الہام پائیں گے اور تیری مدد کریں گے۔ کوئی نہیں جو خدا کی پیشگوئیوں کو ٹال سکے۔ اے احمد تیرے لبوں پر رحمت جاری کی گئی اور تیرا ذکر بلند کیا گیا۔ خدا تیری حجت کو روشن کرے گا۔ تُو بہادر ہے۔ اگر ایمان ثریا میں ہوتا تو تُو اس کو پالیتا۔ خدا کی رحمت کے خزانے تجھے دیے گئے۔ تیرے باپ دادے کا ذکر منقطع ہو جائے گا اور خدا ابتدا تجھ سے کرے گا۔ میں نے ارادہ کیا کہ اپنا جانشین بناؤں تو میں نے آدم کو یعنی تجھے پیدا کیا ہے۔ آواہن (خدا تیرے اندر اتر آیا) خدا تجھے ترک نہیں کرے گا اور نہ چھوڑے گا جب تک کہ پاک اور پلید میں فرق نہ کرے۔ میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا۔ پس میں نے چاہا کہ پہچانا جاؤں۔ تُو مجھ میں اور تمام مخلوقات میں واسطہ ہے۔ میں نے اپنی روح تجھ میں پھونکی۔ تُو مدد دیا جائے گا اور کسی کو گریز کی جگہ نہیں رہے گی۔ تُو حق کے ساتھ نازل ہوا اور تیرے ساتھ نبیوں کی پیشگوئیاں پوری ہوئیں۔ خدا نے اپنے فرستادہ کو بھیجا تا اپنے دین کو قوت دے اور سب دینوں پر اس کو غالب کرے۔ اس کو خدا نے قادیاں کے قریب نازل کیا اور وہ حق کے ساتھ اترا اور حق کے ساتھ اتارا گیا اور ابتدا سے ایسا ہی مقرر تھا۔ تم گڑھے کے کنارے پر تھے خدا نے تمھیں نجات دینے

صفحہ 202

کے لیے اسے بھیجا۔ اے میرے احمد تو میری مراد اور میرے ساتھ ہے۔ میں نے تیری بزرگی کا درخت اپنے ہاتھ سے لگایا۔ میں تجھے لوگوں کا امام بناؤں گا اور تیری مدد کروں گا۔ کیا لوگ اس سے تعجب کرتے ہیں کہ خدا عجیب ہے چن لیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور اپنے کاموں سے پوچھا نہیں جاتا۔ خدا کا سایہ تیرے پر ہوگا اور وہ تیری پناہ رہے گا۔ آسمان بندھا ہوا تھا اور زمین بھی۔ ہم نے دونوں کو کھول دیا۔ تو وہ عیسیٰ ہے جس کا وقت ضائع نہیں کیا جائے گا۔ تیرے جیسا موتی ضائع نہیں ہو سکتا۔ ہم تجھے لوگوں کے لیے نشان بنائیں گے اور یہ امر ابتدا سے مقدر تھا۔ تو میرے ساتھ ہے۔ تیرا بھید میرا بھید ہے۔ تو دنیا اور آخرت میں وجیہ اور مقرب ہے۔ تیرے پر انعام خاص ہے اور تمام دنیا پر تجھے بزرگی ہے۔ بخرام کہ وقت تو نزدیک رسید و پائے محمدیاں بر منار بلند تر محکم افتاد۔ میں اپنی چمکار دکھلاؤں گا اپنی قدرت نمائی سے تجھ کو اٹھاؤں گا۔ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا۔ اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔ اس کے لیے وہ مقام ہے جہاں انسان اپنے اعمال کی قوت سے پہنچ نہیں سکتا۔ تو میرے ساتھ ہے۔ تیرے لیے رات اور دن پیدا کیا گیا۔ تیری میری طرف وہ نسبت ہے جس کی مخلوق کو آگاہی نہیں۔ اے لوگو! تمھارے پاس خدا کا نور آیا۔ پس تم منکر مت ہو۔ ”وغیرہ الخ۔“

(کتاب البریہ صفحہ 82 تا 85 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 100 تا 103 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 629 تا 632 پر)

View Proof

ہوں اور میرا اپنا کوئی ارادہ اور کوئی خیال اور کوئی عمل نہیں رہا۔ اور میں ایک سوراخ دار برتن کی طرح ہو گیا ہوں، یا اس شے کی طرح جسے کسی دوسری شے نے اپنی بغل میں دبا لیا ہو اور اسے اپنے اندر بالکل مخفی کر لیا ہو یہاں تک کہ اس کا کوئی نام و نشان باقی نہ رہ گیا ہو۔ اس اثنا میں میں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کی روح مجھ پر محیط ہو گئی اور میرے جسم پر مستولی ہو کر اپنے وجود میں مجھے پنہاں کر لیا۔ یہاں تک کہ میرا کوئی ذرہ بھی باقی نہ رہا اور میں نے اپنے جسم کو دیکھا تو میرے اعضاء اس کے اعضاء اور میری آنکھ اس کی آنکھ اور میرے کان اس کے کان اور میری زبان اس کی زبان بن گئی تھی۔ میرے رب نے مجھے پکڑا اور ایسا پکڑا کہ میں بالکل اس میں محو

صفحہ 203

ہو گیا اور میں نے دیکھا کہ اس کی قدرت اور قوت مجھ میں جوش مارتی اور اس کی الوہیت مجھ میں موجزن ہے۔ حضرت عزت کے خیمے میرے دل کے چاروں طرف لگائے گئے اور سلطان جبروت نے میرے نفس کو پیس ڈالا۔ سو نہ تو میں میں ہی رہا اور نہ میری کوئی تمنا ہی باقی رہی۔ میری اپنی عمارت گر گئی اور رب العالمین کی عمارت نظر آنے لگی اور الوہیت بڑے زور کے ساتھ مجھ پر غالب ہوئی اور میں سر کے بالوں سے ناخن پا تک اس کی طرف کھینچا گیا۔ پھر میں ہمہ مغز ہو گیا جس میں کوئی پوست نہ تھا اور ایسا تیل بن گیا کہ جس میں کوئی میل نہیں تھی اور مجھ میں اور میرے نفس میں جدائی ڈال دی گئی۔ پس میں اس شے کی طرح ہو گیا جو نظر نہیں آتی یا اس قطرہ کی طرح جو دریا میں جا ملے اور دریا اس کو اپنی چادر کے نیچے چھپا لے۔ اس حالت میں میں نہیں جانتا تھا کہ اس سے پہلے میں کیا تھا اور میرا وجود کیا تھا۔ الوہیت میری رگوں اور پٹھوں میں سرایت کر گئی اور میں بالکل اپنے آپ سے کھویا گیا، اور اللہ تعالیٰ نے میرے سب اعضاء اپنے کام میں لگائے اور اس زور سے اپنے قبضہ میں کر لیا کہ اس سے زیادہ ممکن نہیں۔ چنانچہ اس کی گرفت سے میں بالکل معدوم ہو گیا اور میں اس وقت یقین کرتا تھا کہ میرے اعضاء میرے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے اعضاء ہیں۔ اور میں خیال کرتا تھا کہ میں اپنے سارے وجود سے معدوم اور اپنی ہویت سے قطعاً نکل چکا ہوں، اب کوئی شریک اور مناع روک کرنے والا نہیں رہا۔ خدا تعالیٰ میرے وجود میں داخل ہو گیا اور میرا غضب اور حلم اور تلخی اور شیرینی اور حرکت اور سکون سب اسی کا ہو گیا اور اس حالت میں میں یوں کہہ رہا تھا کہ ہم ایک نیا نظام اور نیا آسمان اور نئی زمین چاہتے ہیں۔ سو میں نے پہلے تو آسمان اور زمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا جس میں کوئی ترتیب اور تفریق نہ تھی۔ پھر میں نے منشاء حق کے موافق اس کی ترتیب و تفریق کی۔ اور میں دیکھتا تھا کہ میں اس آفرینش پر قادر ہوں۔ پھر میں نے آسمان دنیا کو پیدا کیا اور کہا: انا زینا السماء الدنیا بمصابیح۔ پھر میں نے کہا اب ہم انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کریں گے۔ پھر میری حالت کشف سے الہام کی طرف منتقل ہو گئی اور میری زبان پر جاری ہوا اردت ان استخلف فخلقت آدم. انا خلقنا الانسان فی احسن تقویم۔“

(کتاب البریہ صفحہ 87 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 103 تا 105 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 633 تا 635 پر)

صفحہ 204

(85) ”خدا تعالیٰ میرے وجود میں داخل ہو گیا اور میرا غضب اور حلم اور تلخی اور شیرینی اور حرکت اور سکون سب اسی کا ہو گیا اور اسی حالت میں، میں یوں کہہ رہا تھا کہ ہم ایک نیا نظام اور نیا آسمان اور نئی زمین چاہتے ہیں۔ سو میں نے پہلے تو آسمان اور زمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا۔ جس میں کوئی ترتیب اور تفریق نہ تھی، پھر میں نے منشاء حق کے موافق اس کی ترتیب و تفریق کی اور میں دیکھتا تھا کہ میں اس کے خلق پر قادر ہوں۔ پھر میں نے آسمان دنیا کو پیدا کیا اور کہا انا زینا السماء الدنیا بمصابیح پھر میں نے کہا اب ہم انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کریں گے۔ پھر میری حالت کشف سے الہام کی طرف منتقل ہو گئی اور میری زبان پر جاری ہوا۔ اردت ان استخلف فخلقت آدم. انا خلقنا الانسان فی احسن تقویم. “

(کتاب البریہ صفحہ 86، 87، مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 104، 105 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 636، 637 پر)

View Proof

کن فیکون

(86) انما امرک اذا اردت شيئا ان تقول له کن فیکون. ”تو جس بات کا ارادہ کرتا ہے، وہ تیرے حکم سے فی الفور ہو جاتی ہے۔“

(حقیقت الوحی صفحہ 108، مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 108 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 638 پر)

View Proof

اب دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ مرزا قادیانی کا یہ الہام قرآن مجید کی آیت میں تحریف کے مترادف ہے۔ سورۃ یٰسین کے آخر میں اللہ تعالیٰ کی عظمت و شان کے بارے میں اس طرح ارشاد ہے۔ انما امره اذا اراد شيئا ان يقول له كن فيكون. (یٰسین: 82) یعنی اللہ تعالیٰ کی یہ شان ہے کہ جب کسی چیز کے ہو جانے کا ارادہ کرے اور اسے کہہ دے کہ ہو جا تو وہ فوراً ہو جاتی ہے۔

مرزا قادیانی اپنی وحی والہام میں مذکورہ آیت کو اپنے لیے بیان کرتا ہے۔ صرف فرق یہ ہے کہ اس میں خدا تعالیٰ مرزا قادیانی کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ تیری شان یا تیرا مرتبہ یہ ہے کہ جب تو کسی چیز کا ارادہ کرے اور کہہ دے کہ ہو جا، تو وہ فوراً ہو جاتی ہے۔ اس کا حاصل یہ ہوا کہ خدا تعالیٰ کی وہ خاص صفت جس سے اس کی کامل قدرت ہر

صفحہ 205

شے پر ظاہر ہوتی ہے اور جو کسی ولی اور کسی عالی مرتبہ نبی کو بھی نہیں دی گئی، مرزا قادیانی کہتا ہے کہ مجھے دی گئی۔ مرزا قادیانی کی یہ وحی بتاتی ہے کہ جو قدرت اور فضیلت و مرتبہ مرزا قادیانی کو دیا گیا، وہ کسی نبی اور کسی بزرگ کو نہیں دیا گیا۔ یہ وہ عظیم الشان صفت ہے جس کی حد و انتہا نہیں ہے۔ اس کے عطا ہونے کے یہ معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے گویا اپنی خدائی مرزا قادیانی کے حوالے کر دی اور اپنا شریک بنا لیا اور مرزا قادیانی وہی کام کر سکتا ہے جو خدا تعالیٰ کر سکتا ہے۔ صرف فرق یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ خود ہی قادر تھا اور ہے، اور مرزا قادیانی کو خدا نے یہ قدرت دے دی اور اس خاص صفت میں اپنے شریک کر لیا بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ اپنی خدائی میں شریک کر لیا اور مرزا قادیانی کو قادر مطلق کر دیا۔ اس وحی نے تو مرزا قادیانی کو خدائی کے درجہ تک پہنچا دیا اور خدا تعالیٰ میں اور مرزا قادیانی میں صرف بالذات اور بالغیر کا فرق رہ گیا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ خود بخود بغیر کسی کے بنائے اس صفت کے ساتھ موجود ہے اور مرزا قادیانی کو خدا تعالیٰ نے یہ صفت عنایت کی، اس وجہ سے وہ قادر مطلق ہو گیا۔ مرزا قادیانی نے اس وحی کی تشریح دوسرے مقام پر یوں کی ہے:

فنا کرنے اور زندہ کرنے کی صفت

(87) ”اعطیت صفۃ الافناء والاحیاء من الرب الفعال۔“

(خطبہ الہامیہ صفحہ 55، 56 مندرجہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 55، 56 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 639، 640 پر)

ترجمہ: ”مجھے (مرزا قادیانی) کو فنا کرنے اور زندہ کرنے کی صفت دی گئی ہے اور یہ صفت خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھ کو ملی ہے۔“

خدا سے نہانی تعلق

(88) ”در حقیقت میرے اور میرے خدا کے درمیان ایسے باریک راز ہیں جن کو دنیا نہیں جانتی اور مجھے خدا سے ایک نہانی تعلق ہے جو قابل بیان نہیں۔“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 63 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 81 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 641 پر)

صفحہ 206

اللہ مرد، مرزا قادیانی عورت؟

کشف کی حالت آپ پر اس طرح ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا تھا، سمجھنے والے کے لیے اشارہ کافی ہے۔“ View Proof

(اسلامی قربانی ٹریکٹ نمبر 34، از قاضی یار محمد قادیانی مرید مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 642 پر)

اللہ تعالیٰ کی ذات بابرکات پر اس سے بڑھ کر کمینہ حملہ اور اوباشانہ بہتان اور کیا ہو سکتا ہے!!! نعوذ باللہ! خدا تعالیٰ کی ذات اقدس بھی مرزا قادیانی اور اس کے پیروکاروں سے نہ بچ سکی۔ ایسا فاسد خیال اور لغو عقیدہ ابلیس سے لے کر آج تک کسی بھی گستاخ، منہ پھٹ اور زبان دراز سے نہیں سنا گیا۔ چونکہ مرزا قادیانی کا مرید اس سانحہ پر اصرار کرتا ہے۔ ممکن ہے کہ شیطان نے ایک انتہائی با رعب اور وجیہہ نورانی شخصیت کے روپ میں مرزا قادیانی کو ورغلا پھسلا کر رجولیت کی طاقت کا اظہار (یعنی جنسی بدفعلی) کیا ہو اور پھر مرزا قادیانی نے اسے اللہ تعالیٰ سے منسوب کر دیا ہو۔ جب سے یہ دنیا قائم ہوئی ہے، آج تک کسی شخص نے بھی اللہ تعالیٰ پر ایسا بے ہودہ، گھٹیا اور بدترین کفریہ الزام نہیں لگایا۔ یہ ذلت و رسوائی صرف مرزا قادیانی کو ہی نصیب ہوئی، جس کا نقد انعام اسے دنیا میں لیٹرین میں عبرتناک موت کی صورت میں ملا! فاعتبروا یا اولی الابصار!!!

حاملہ

جیسا کہ ”براہین احمدیہ“ سے ظاہر ہے دو برس تک صفت مریمیت میں، میں نے پرورش پائی اور پردہ میں نشو ونما پاتا رہا۔ پھر جب اس پر دو برس گزر گئے تو جیسا کہ براہین احمدیہ کے حصہ چہارم صفحہ 496 میں درج ہے۔ مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینہ کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں، بذریعہ اس الہام کے جو سب سے آخر براہین احمدیہ کے حصہ چہارم صفحہ 556 میں درج ہے، مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ پس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا۔“

(کشتی نوح صفحہ 47، مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 50 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 643 پر)

View Proof

صفحہ 207

درد زہ

(91) ”خدا نے مجھے پہلے مریم کا خطاب دیا اور پھر نفخ روح کا الہام کیا۔ پھر بعد اس کے یہ الہام ہوا تھا۔ فاجاءھا المخاض الیٰ جذع النخلۃ قالت یا لیتنی مت قبل ھذا و کنت نسیا منسیا۔ یعنی پھر مریم کو جو مراد اس عاجز سے ہے۔ درد زہ تنہ کھجور کی طرف لے آئی۔“

(کشتی نوح صفحہ 48 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 51 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 644 پر)

View Proof

خدا پر بہتان کا نتیجہ

(92) ”اے بدقسمت بدگمانو! کیا ممکن ہے کہ کوئی خدا پر جھوٹ باندھے اور پھر اس کے دست قہر سے بچ رہے۔ خدا جھوٹوں کو ہلاک کرے گا۔ اور وہ جو اپنے دل سے باتیں بناتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ یہ خدا کا الہام ہے وہ ہلاک کیے جائیں گے کیونکہ انھوں نے دلیری کر کے خدا پر بہتان باندھا۔“

(ایام الصلح صفحہ 115 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 341 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 645 پر)

View Proof

بدکاروں کو سچی خوابیں

(93) ”نبیوں اور ولیوں پر امور غیبیہ کھلتے ہیں تو دوسرے لوگوں پر بھی کبھی کبھی کھل جاتے ہیں بلکہ بعض فاسقوں اور غایت درجہ کے بدکاروں کو بھی سچی خوابیں آ جاتی ہیں اور بعض پرلے درجہ کے بدمعاش اور شریر آدمی اپنے ایسے مکاشفات بیان کیا کرتے ہیں کہ آخر وہ سچے نکلتے ہیں۔ پس جبکہ ان لوگوں کے ساتھ جو اپنے تئیں نبی یا کسی اور خاص درجہ کے آدمی تصور کرتے ہیں ایسے ایسے بدچلن آدمی بھی شریک ہیں جو بدچلنیوں اور بدمعاشیوں میں پھنسے ہوئے اور شہرۂ آفاق ہیں تو نبیوں اور ولیوں کی کیا فضیلت باقی رہی۔“

(توضیح مرام صفحہ 84 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 94، 95 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 646، 647 پر)

View Proof

صفحہ 208

جو خود کو خدا کہے، وہ کافر

ہو کر خدا یا خدا کا بیٹا ہونا اپنے تئیں بیان کرتا ہے، وہ سخت گنہگار بلکہ کافر ہے۔“

(مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 380، طبع جدید، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 648 پر)

View Proof

دجال کی نشانی

کا دعویٰ کرے گا اور پھر خدائی کا دعویدار بن جائے گا۔“

(تحفہ گولڑویہ صفحہ 147 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 233 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 649 پر)

View Proof

قرآن کا فتویٰ

الظلمین ہ (الانبیاء: 29)

ترجمہ: اور جو ان میں سے یہ کہے کہ میں خدا ہوں، اللہ تعالیٰ کے سوا، تو ہم اسے جہنم رسید کریں گے۔ ہم ظالموں کو یونہی سزا دیا کرتے ہیں۔

اہم نکات

جھوٹے مدعی نبوت آنجہانی مرزا قادیانی کی مذکورہ بالا تحریروں سے یہ نتائج مرتب ہوتے ہیں۔ مرزا قادیانی کا کہنا ہے:

تاریں ہیں جو دنیا کے تمام کناروں تک پھیل جاتی ہیں۔ (نعوذ باللہ)

صفحہ 209

ہے ۔ (نعوذ باللہ)

تیری وجہ سے میرا نام چمکا۔ (نعوذ باللہ)

والد کی قسم کھائی جس طرح آسمان کی قسم کھائی اور یہ آیت نازل کی۔ والسماء والطارق. (نعوذ باللہ)

کے لیے اللہ تعالیٰ کے پاس گیا۔ اللہ تعالیٰ نے باپ کی طرح اس پر شفقت کی اور اپنے ساتھ پلنگ پر بٹھا لیا۔ (نعوذ باللہ)!

نے دستخط کرنے کے لیے قلم کو چھڑکا تو ”سیاہی“ کے قطرے مرزا قادیانی کے کرتے اور ٹوپی پر جا گرے۔ مرزا قادیانی کے مرید عبداللہ سنوری نے وہ کرتا بطور تبرک اپنے پاس رکھ لیا۔ (نعوذ باللہ)!

ہوں۔ (نعوذ باللہ)!

سے تیری تعریف کرتا ہے اور تیرے پر درود بھیجتا ہے۔ تو اس سے نکلا ہے۔ تو خدا کا وقار ہے۔“ (نعوذ باللہ)!

صفحہ 210

کو پیدا کیا۔ (نعوذ باللہ)!

بنا۔ (نعوذ باللہ)!

رجولیت کی۔ (نعوذ باللہ) ثم نعوذ باللہ!!

۞......۞......۞

PDF 211

ثبوت حاضر ہیں!

نبی کریم حضرت محمد ﷺ

کی توہین

PDF 212
صفحہ 213

ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ سید الانبیاء اور خاتم النبیین ہیں، آپ ﷺ کا مقام بہت اعلیٰ اور ارفع ہے۔ آپ ﷺ پر قرآن جیسی حکیمانہ کتاب نازل ہوئی، آپ ﷺ کی شریعت گذشتہ تمام شریعتوں کی تنسیخ کرتی ہے، قرآن گذشتہ تمام کتابوں کو منسوخ کرتا ہے، آپ ﷺ کی امت تمام امتوں میں افضل ہے، آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے محشر میں مقام محمود، لواء الحمد، حوض کوثر اور جنت میں سب سے اعلیٰ و افضل مقام ’وسیلہ‘ عطا فرمایا ہے، انبیاء و رسل میں آپ ﷺ ہی جنت کا دروازہ کھولیں گے اور سب سے پہلے جنت میں داخل ہوں گے، آپ ﷺ کی امت تمام امتوں میں سب سے پہلے جنت میں داخل ہوگی، اللہ تعالیٰ نے خود آپ ﷺ کے بلند اخلاق کی شہادت دی ہے، اللہ تعالیٰ اور اس کے تمام ملائکہ آپ ﷺ ہی پر درود و سلام بھیجتے ہیں، اللہ نے آپ ﷺ کو آپ کی دنیوی زندگی ہی میں معراج سے سرفراز کیا، آپ ﷺ کی دیانت و امانت کی شہادت آپ ﷺ کے جانی و بدترین دشمن ابو جہل اور مشرکین قریش بھی دیتے تھے۔ آپ ﷺ کی صداقت کی گواہی مکہ کے شجر و حجر بھی دیتے تھے، آپ کی شجاعت و بہادری پر غزوہ حنین اور مدینہ کی خوف ناک راتیں شاہد ناطق ہیں، آپ ﷺ کی عفت و پاک دامنی کی شہادت آپ ﷺ کی ازواج مطہرات دیتی ہیں، آپ ﷺ کی عدالت کی شہادت اسامہ کے والد اور چچا دیتے ہیں، آپ ﷺ کے تحمل و بردباری کی گواہی عرب کے بدو، مدینہ کے یہودی اور ثمامہ بن اثال دیتے ہیں، آپ ﷺ کے افضل ترین میزبان ہونے کی شہادت وہ اعرابی دیتا ہے جس نے آپ ﷺ کے بستر و حجرہ کو پاخانہ کی غلاظت سے آلودہ کر دیا تھا، آپ ﷺ کی دینی استقامت کی شہادت اسامہ کی سفارش والا واقعہ دیتا ہے، آپ ﷺ کی شب بیداری و تہجد گزاری کی شہادت آپ ﷺ کے سوجے ہوئے قدم دیتے ہیں، آپ ﷺ کے حسن عبادت کی شہادت ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت دیتی ہے، آپ ﷺ کے حسن سلوک کے بارے دس سالہ انس رضی اللہ عنہ سے

صفحہ 214

دریافت کرو، آپ ﷺ کے حسن اخلاق کے بارے معلوم کرنا ہو تو قرآن کی سورہ القلم کا مطالعہ کرو، آپ ﷺ کے عفو و درگزر کا دریا مشاہدہ کرنا ہو تو فتح مکہ کے وقت مکہ کے خون کے پیاسے باسیوں سے دریافت کرو، آپ ﷺ کا مقام و مرتبہ معلوم کرنا ہو تو آیت فلا وربک لا یؤمنون حتی یحکموک فیما شجر بینہم کی تفسیر پڑھو، یہ داخلی شہادت مشتے نمونہ از خروارے کے مصداق ہے ورنہ اہل علم نے آپ ﷺ کی سیرت پر کتابوں کے پشتے لگا دیئے ہیں، غرض آپ ﷺ کی کس خوبی کا ذکر کریں اور کس کو ترک کریں۔

آپ ﷺ کی شان جامعیت یہ ہے کہ آپ ﷺ کی ذات اقدس تمام انبیائے کرام علیہم السلام اور تمام رسولان عظام کے اوصاف و محاسن اور فضائل و شمائل کا بھر پور مجموعہ اور حسین مرقع ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ کی شخصیت میں آدم علیہ السلام کا خلق، شیث علیہ السلام کی معرفت، نوح علیہ السلام کا جوش تبلیغ، لوط علیہ السلام کی حکمت، صالح علیہ السلام کی فصاحت، ابراہیم علیہ السلام کا ولولہ توحید، اسماعیل علیہ السلام کی جاں نثاری، اسحاق علیہ السلام کی رضا، یعقوب علیہ السلام کا گریہ و بکا، ایوب علیہ السلام کا صبر، لقمان علیہ السلام کا شکر، یونس علیہ السلام کی انابت، دانیال علیہ السلام کی محبت، یوسف علیہ السلام کا حسن، موسیٰ علیہ السلام کی کلیمی، یوشع علیہ السلام کی سالاری، داؤد علیہ السلام کا ترنم، سلیمان علیہ السلام کا اقتدار، الیاس علیہ السلام کا وقار، زکریا علیہ السلام کی مناجات، یحییٰ علیہ السلام کی پاکدامنی اور عیسیٰ علیہ السلام کا زہد جمع ہے بلکہ یوں کہیے کہ پوری کائنات کی ہمہ گیر سچائی اور ہر ہر خوبی آپ ﷺ کی ذات والا صفات میں سمائی ہوئی ہے۔ آپ ﷺ کی صفات حمیدہ اتنی ہیں کہ شمار نہیں ہوسکتیں۔ ماحصل یہ ہے کہ:

حسن یوسف، دم عیسیٰ، ید بیضا داری
آنچہ خوبان ہمہ دارند تو تنہا داری

اور سب کا خلاصہ یہ ہے کہ:

یا صاحب الجمال و یا سید البشر
من وجہک المنیر لقد نور القمر
لا یمکن الثناء کما کان حقہ
بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر
صفحہ 215

حضور خاتم النبیین علیہ التحیۃ والثناء سے لامحدود اور غیر مشروط محبت و احترام ہر مسلمان کے ایمان کی بنیاد ہے۔ وہ جب تک نبی کریم ﷺ کو اپنے والدین، اولاد، عزیز رشتہ دار، دولت و کاروبار حتیٰ کہ خود اپنی جان سے زیادہ عزیز ترین نہ جانے، مسلمان نہیں کہلا سکتا۔ یہ قانون، قرون اولیٰ کے صحابہ کرام سے لے کر قیامت کی ساعت اوّل کے آغاز تک اسلام قبول کرنے والے ہر شخص پر یکساں لاگو ہے۔ اس سے ذرہ برابر روگردانی، رتی بھر انحراف، معمولی لاپروائی اور ادنیٰ سی بے توجہی بھی ایک مسلمان کو احسن تقویم کی چوٹیوں سے اٹھا کر اسفل السافلین کی اتھاہ گہرائیوں میں گرا دیتی ہے۔

مسیلمہ کذاب کے جانشین اور ولید بن مغیرہ کی معنوی اولاد جھوٹے مدعی نبوت آنجہانی مرزا قادیانی نے ہمارے پیارے نبی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بارے میں جو بکواس کی، اُسے پڑھ کر سینہ شق ہونے لگتا ہے۔ اس کے بے لگام اور گستاخ قلم سے شافع محشر حضور نبی کریم ﷺ کے متعلق وہ دلخراش عبارتیں نکلیں کہ الامان والحفیظ!! ایسی جسارت تو ابلیس اعظم علیہ ما علیہ بھی نہ کر سکا۔ ہم ان کفریہ عبارات کو دل پر پتھر رکھ کر نقل کر رہے ہیں۔ آپ بھی ہزار بار استغفار کرتے ہوئے ان ملعون تحریرات کو دیکھ کر مرزائی اور مرزائی نوازوں کو آئینہ دکھائیے!

مرزا قادیانی محمد رسول اللہ ہے

(96) ”پھر اسی کتاب میں اس مکالمہ کے قریب ہی یہ وحی اللہ ہے محمد رسول اللہ والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینہم اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔“

(ایک غلطی کا ازالہ صفحہ 4، مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 207 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 650 پر)

View Proof

(97) ”اور چونکہ میں ظلی طور پر محمد ہوں ﷺ پس اس طور سے خاتم النبیین کی مہر نہیں ٹوٹی۔ کیونکہ محمد ﷺ کی نبوت محمد تک ہی محدود رہی۔ یعنی بہرحال محمد ﷺ ہی نبی رہے نہ اور کوئی۔ یعنی جب کہ میں بروزی طور پر آنحضرت ﷺ ہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالات

صفحہ 216

محمدی مع نبوت محمدیہ کے میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں تو پھر کونسا الگ انسان ہوا جس نے علیحدہ طور پر نبوت کا دعویٰ کیا ۔“

(ایک غلطی کا ازالہ صفحہ 8، مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 212 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 651 پر)

View Proof

(98) ”خدا تعالیٰ نے آج سے چھبیس برس پہلے میرا نام براہین احمدیہ میں محمد اور احمد رکھا ہے اور آنحضرت ﷺ کا بروز مجھے قرار دیا ہے۔“

(حقیقۃ الوحی تتمہ صفحہ 67، مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 502 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 652 پر)

View Proof

(99) ”مجھے بروزی صورت نے نبی اور رسول بنایا ہے اور اسی بنا پر خدا نے بار بار میرا نام نبی اللہ اور رسول اللہ رکھا مگر بروزی صورت میں۔ میرا نفس درمیان نہیں ہے بلکہ محمد مصطفےٰ ﷺ ہے۔ اسی لحاظ سے میرا نام محمدؐ اور احمدؐ ہوا۔ پس نبوت اور رسالت کسی دوسرے کے پاس نہیں گئی۔ محمد کی چیز محمدؐ کے پاس ہی رہی۔“

(ایک غلطی کا ازالہ صفحہ 12 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 216 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 653 پر)

View Proof

مرزا قادیانی خاتم النبیین ہے

(100) ”مگر میں کہتا ہوں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد جو درحقیقت خاتم النبیین تھے، مجھے رسول اور نبی کے لفظ سے پکارے جانا کوئی اعتراض کی بات نہیں اور نہ اس سے مہر ختمیت ٹوٹتی ہے۔ کیونکہ میں بارہا بتلا چکا ہوں کہ میں بموجب آیت و آخرین منھم لما یلحقوبھم بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیا ہوں اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں، میرا نام محمد ﷺ اور احمد ﷺ رکھا ہے اور مجھے آنحضرت ﷺ کا ہی وجود قرار دیا ہے۔ پس اس طور سے آنحضرت ﷺ کے خاتم الانبیا ہونے میں میری نبوت سے کوئی تزلزل نہیں آیا کیونکہ ظل اپنے اصل سے علیحدہ نہیں ہوتا۔“

(ایک غلطی کا ازالہ صفحہ 10، مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 212 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 654 پر)

View Proof

صفحہ 217

ہوں ۔ اور میں اس کے سب نوروں میں سے آخری نور ہوں ۔ بدقسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے کیونکہ میرے بغیر سب تاریکی ہے۔''

(کشتی نوح صفحہ 56، مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 61 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 655 پر)

View Proof

مرزا قادیانی تمام نبیوں کا مجموعہ

ہوں، میں اسماعیل ہوں، میں موسیٰ ہوں، میں داؤد ہوں، میں عیسیٰ ابن مریم ہوں، میں محمد ﷺ ہوں۔''

(تتمہ حقیقت الوحی صفحہ 521، مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 521 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 656 پر)

View Proof

قادیان میں محمد رسول اللہ

کوئی دُوئی (فرق) باقی نہیں کہ ان دونوں کے وجود بھی ایک وجود کا ہی حکم رکھتے ہیں جیسا کہ خود مسیح موعود نے فرمایا ہے کہ صار وجودی وجودہ (دیکھو خطبہ الہامیہ صفحہ 171) اور حدیث میں بھی آیا ہے کہ حضرت نبی کریم نے فرمایا کہ مسیح موعود (مرزا قادیانی) میری قبر میں دفن کیا جائے گا جس سے یہی مراد ہے کہ وہ میں ہی ہوں یعنی مسیح موعود (مرزا قادیانی) نبی کریم ﷺ سے الگ کوئی چیز نہیں ہے بلکہ وہی ہے جو بروزی رنگ میں دوبارہ دنیا میں آئے گا تاکہ اشاعت اسلام کا کام پورا کرے اور ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی و دین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ کے فرمان کے مطابق تمام ادیان باطلہ پر اتمام حجت کر کے اسلام کو دنیا کے کونوں تک پہنچا دے تو اس صورت میں کیا اس بات میں کوئی شک رہ جاتا ہے کہ قادیان میں اللہ تعالیٰ نے پھر محمد ﷺ کو اتارا تا کہ اپنے وعدہ کو پورا کرے جو اس نے آخرین منھم لما یلحقوا بھم میں فرمایا تھا۔''

(کلمۃ الفصل صفحہ 104، 105، از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 657، 658 پر)

View Proof

صفحہ 218

محمد رسول اللہ ﷺ کے تمام کمالات مرزا قادیانی میں

(104) ”ہر ایک نبی کو اپنی استعداد اور کام کے مطابق کمالات عطا ہوتے تھے کسی کو بہت، کسی کو کم۔ مگر مسیح موعود کو تو تب نبوت ملی جب اس نے نبوت محمدیہ ﷺ کے تمام کمالات کو حاصل کر لیا اور اس قابل ہو گیا کہ ظلی نبی کہلائے پس ظلی نبوت نے مسیح موعود کے قدم کو پیچھے نہیں ہٹایا بلکہ آگے بڑھایا اور اس قدر آگے بڑھایا کہ نبی کریم ﷺ کے پہلو بہ پہلو لا کھڑا کیا۔“

(کلمۃ الفصل صفحہ 113، از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 659 پر)

View Proof

قادیانی کلمہ

(105) ”ہم کو نئے کلمہ کی ضرورت پیش نہیں آتی کیونکہ مسیح موعود (مرزا قادیانی) نبی کریم ﷺ سے کوئی الگ چیز نہیں ہے جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے صار وجودی وجودہ نیز من فرق بینی وبین المصطفی فما عرفنی و مارأی اور یہ اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ایک دفعہ اور خاتم النبیین کو دنیا میں مبعوث کرے گا جیسا کہ آیت آخرین منھم سے ظاہر ہے، پس مسیح موعود خود محمد ﷺ رسول اللہ ہے جو اشاعت اسلام کے لیے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے، اس لیے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں، ہاں اگر محمد ﷺ رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی ۔“

(کلمۃ الفصل صفحہ 158 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 660 پر)

View Proof

جناب نور محمد قریشی لکھتے ہیں: اب ایک قادیانی کے نزدیک مرزا قادیانی اسی مقام و منصب پر فائز ہے جو مسلمانوں کے نزدیک محمد رسول اللہ ﷺ کا ہے اگر کوئی قادیانی اس سے انکار کرتا ہے تو وہ یا تو خود کو فریب دے رہا ہوتا ہے یا دوسروں کو فریب دینے کی کوشش کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ فریب کا دوسرا نام ”قادیانیت“ ہے۔ ایک قادیانی کے نزدیک کس طرح محمد رسول اللہ ﷺ اور مرزا قادیانی میں فرق نہیں ہے اس کو ایک مساوات کے ذریعے سمجھتے ہیں۔

صفحہ 219

مساوات کا ایک سوال

4 = 2 + 2 4 = 3 + 1 پس ثابت ہوا کہ 2 + 2 = 3 + 1

مساوات کا دوسرا سوال

مرزا غلام احمد قادیانی کا انکار = کفر حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا انکار = کفر مرزا غلام احمد قادیانی کا انکار = حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا انکار پس ثابت ہوا مرزا غلام احمد قادیانی = حضرت محمد رسول اللہ ﷺ

میں قادیانی امت کو چیلنج کرتا ہوں کہ وہ مساوات کے مذکورہ بالا حل شدہ سوال کو غلط ثابت کر سکتے ہوں تو کریں! چونکہ قادیانی امت کے نزدیک مرزا قادیانی اسی مقام و منصب پر فائز ہے جو محمد رسول اللہ ﷺ کا ہے، اس لیے قادیانی امت مرزا قادیانی کا یہ حق تسلیم کرتی ہے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کی تعلیم میں جو تبدیلی چاہے، کر دے یا پوری تعلیم کی تصدیق کر دے۔ اسی طرح وہ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی کو یہ حق حاصل ہے کہ قرآن کریم میں جو تبدیلی چاہے، کر دے۔‘‘ (حیات مسیح اور ختم نبوت از نور محمد قریشی ایڈووکیٹ)

افضلیت مرزا قادیانی

(106) ”اُس (نبی کریم ﷺ) کے لیے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لیے چاند اور سورج دونوں کا، اب کیا تو انکار کرے گا۔“

(اعجاز احمدی صفحہ 71، مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 183 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 61 پر)

View Proof

صفحہ 220

مرزا قادیانی پر درود

مرزا قادیانی کے مندرجہ بالا عقائد و نظریات، جن سے مسلمانوں کو شدید صدمہ پہنچا ہے اور ان کے جذبات مجروح ہوئے ہیں، کے بعد مرزا قادیانی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی طرح درود و سلام کا مستحق ہے۔ بقول مرزا قادیانی اللہ تعالیٰ اس پر درود بھیجتا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں۔

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 661، طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 662 پر)

سلام ہو۔“

(سیرت المہدی جلد سوئم صفحہ 208 از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 663 پر)

ترجمہ: (اے مرزا) تم پر سلام تم پاک ہو۔ ہم تیری تعریف کرتے ہیں اور تیرے پر درود بھیجتے ہیں۔ عرش سے فرش تک تیرے پر درود ہے۔

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 553 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 664 پر)

مرزا قادیانی دعویٰ کرتا ہے کہ مندرجہ ذیل وحی اس پر اتری ہے:

الدمع یصلون علیک۔ / ترجمہ: صفہ کے رہنے والے اور تو کیا جانتا ہے کہ کیا ہیں صفہ کے رہنے والے۔ تو دیکھے گا کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوں گے۔ وہ تیرے (مرزا قادیانی) پر درود بھیجیں گے۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 197 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 665 پر)

صفحہ 221

مطلب یہ ہے کہ اصحاب صفہ مرزا قادیانی پر درود بھیجتے ہیں۔ پس اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قادیانی، مرزا غلام احمد قادیانی کے لیے درود و سلام پڑھتے ہیں اور ساتھ ہی مرزا قادیانی کو حضور اکرم حضرت محمد ﷺ کے برابر گردانتے ہیں۔ (نعوذ باللہ) قادیانیوں کی اس حرکت اور فعل سے واضح طور پر حضور اکرم حضرت محمد ﷺ کے مقدس اور مبارک نام کی تحقیر اور بے حرمتی ثابت ہوتی ہے۔

(111) "اللہم صلی علی محمد و علی عبدک المسیح الموعود" (روزنامہ الفضل قادیان 31 جولائی 1937ء صفحہ 5 کالم 2) (عکس صفحہ نمبر 666 پر) ترجمہ: اے اللہ محمد ﷺ اور اپنے بندے مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر درود و سلام بھیج۔

مرزا قادیانی پر درود و سلام

(112) اے امام الوریٰ سلام علیک
مہ بدر الدجیٰ سلام علیک
مہدی عہد و عیسیٰ موعود
احمد ﷺ مجتبیٰ سلام علیک
مطلع قادیان پہ تو چمکا
ہو کے شمس الہدیٰ سلام علیک
تیرے آنے سے سب نبی آئے
مظہر الانبیاء سلام علیک
مہبط وحی مہبط جبرئیل
سدرۃ المنتہیٰ سلام علیک
مانتے ہیں تیری رسالت کو
اے رسول خدا سلام علیک
ہے مصدق تیرا کلام خدا
اے میرے میرزا سلام علیک
صفحہ 222
تیرے یوسف کا تحفہ صبح و مسا
ہے درود و دعا سلام علیک

(قاضی محمد یوسف قادیانی کی نظم، روزنامہ الفضل قادیان جلد 7 شمارہ نمبر 100 مورخہ 30 جون 1920ء)

(عکس صفحہ نمبر 667 پر)

View Proof

مرزا قادیانی پر درود و سلام کے اعتراض کا قادیانی جواب

مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی کتاب اربعین نمبر 2 میں مندرجہ ذیل دعویٰ کیا ہے:

(113) "بعض بے خبر یہ اعتراض بھی میرے پر کرتے ہیں کہ اس شخص کی جماعت اس پر فقرہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا اطلاق کرتے ہیں اور ایسا کرنا حرام ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ میں مسیح موعود ہوں اور دوسروں کا صلوٰۃ یا سلام کہنا تو ایک طرف، خود آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اس کو پاوے، میرا سلام اس کو کہے اور احادیث اور تمام شروح احادیث میں مسیح موعود کی نسبت صدہا جگہ صلوٰۃ و سلام کا لفظ لکھا ہوا موجود ہے۔ پھر جبکہ میری نسبت نبی علیہ السلام نے یہ لفظ کہا، صحابہ نے کہا بلکہ خدا نے کہا، تو میری جماعت کا میری نسبت یہ فقرہ بولنا کیوں حرام ہو گیا۔"

(اربعین نمبر 2 صفحہ نمبر 6، مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 349 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 668 پر)

View Proof

نبی کریم ﷺ سورج، مرزا قادیانی چاند

(114) "مگر تم خوب توجہ کر کے سن لو کہ اب اسم محمد کی تجلی ظاہر کرنے کا وقت نہیں۔ یعنی اب جلالی رنگ کی کوئی خدمت باقی نہیں کیونکہ مناسب حد تک وہ جلال ظاہر ہو چکا۔ سورج کی کرنوں کی اب برداشت نہیں۔ اب چاند کی ٹھنڈی روشنی کی ضرورت ہے اور وہ احمد کے رنگ میں ہو کر میں ہوں۔"

(اربعین نمبر 4، صفحہ 103، مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 445، 446 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 669، 670 پر)

View Proof

صفحہ 223

مرزا قادیانی بعینہ محمد رسول اللہ

اس نبی کریم ﷺ کے لطف اور جود کو میری طرف کھینچا، یہاں تک کہ میرا وجود اس کا وجود ہو گیا پس جو میری جماعت میں داخل ہوا، درحقیقت میرے سردار خیر المرسلین ﷺ کے صحابہؓ میں داخل ہوا۔ اور یہی معنی آخرین منھم کے لفظ کے بھی ہیں جیسا کہ سوچنے والوں پر پوشیدہ نہیں اور جو شخص مجھ میں اور مصطفیٰ ﷺ میں تفریق کرتا ہے، اس نے مجھے نہیں دیکھا ہے اور نہیں پہچانا ہے۔“

(خطبہ الہامیہ صفحہ 171، مندرجہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 258، 259 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 671، 672 پر)

پہلے محمد رسول اللہ سے بڑھ کر

رکھتی ہے جیسا کہ پانچویں ہزار سے تعلق رکھتی تھی پس اس نے حق کا اور نص قرآن کا انکار کیا۔ بلکہ حق یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی روحانیت چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی ان دنوں میں بہ نسبت ان سالوں کے اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے بلکہ چودھویں رات کے چاند کی طرح ہے۔“

(خطبہ الہامیہ صفحہ 182 مندرجہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 271، 272 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 673، 674 پر)

نبی کریم ﷺ کے تین ہزار معجزات

سے ظہور میں آئے اور حدیبیہ کی پیش گوئی کو بار بار ذکر کرے کہ وہ وقت اندازہ کردہ پر پوری نہیں ہوئی۔“

(تحفہ گولڑویہ صفحہ 67، مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 153 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 675 پر)

صفحہ 224

مرزا قادیانی کے 10 لاکھ نشانات

(118) ”ان چند سطروں میں جو پیش گوئیاں ہیں، وہ اس قدر نشانوں پر مشتمل ہیں جو دس لاکھ سے زیادہ ہوں گے اور نشان بھی ایسے کھلے کھلے ہیں جو اول درجہ پر خارق عادت ہیں۔“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 72، مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 72 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 676 پر)

View Proof

نشان اور معجزہ ایک ہی ہے

(119) ”امتیازی نشان جس سے وہ شناخت کیا جاتا ہے پس یقیناً سمجھو کہ سچا مذہب اور حقیقی راست باز ضرور اپنے ساتھ امتیازی نشان رکھتا ہے اور اسی کا نام دوسرے لفظوں میں معجزہ اور کرامت اور خارق عادت امر ہے۔“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 63 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 63 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 677 پر)

View Proof

نبی کریم ﷺ کے معجزات پر سیکڑوں مستقل کتابیں لکھی گئی ہیں اور ہر ہر معجزہ کو علیحدہ علیحدہ سند متصل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ مرزا قادیانی کے چیلوں کو چاہیے کہ وہ مرزا قادیانی کے دس لاکھ معجزات پر کوئی کتاب لکھ کر دنیا کے سامنے پیش کریں تا کہ دنیا کو علم ہو سکے کہ آخر وہ کیا معجزات تھے؟ کبھی ہم تفصیل سے مرزا قادیانی کے ”معجزات“ پر کتاب تحریر کریں گے تو ان کی ماہیت اور جزئیات کو پڑھ کر قارئین ہنسیں گے بھی اور روئیں گے بھی کہ نیم خواندہ مرزا قادیانی تو چلیے معمولی آئی کیو لیول کا مالک تھا، اس کے اعلیٰ تعلیم یافتہ مریدین اس سے بھی زیادہ گئے گزرے ہیں جو اس کے اوٹ پٹانگ نشانات کو معجزات تسلیم کرنے کے دھوکے میں مبتلا ہیں۔

صفحہ 225

محمدؐ دیکھنے ہوں جس نے

(از قاضی ظہور الدین اکمل قادیانی)

(120)

”امام اپنا عزیزو اس زماں میں
غلام احمد ہوا دارالاماں میں
غلام احمد ہے عرش رب اکرم
مکاں اس کا ہے گویا لامکاں میں
غلام احمد رسول اللہ ہے برحق
شرف پایا ہے نوع انس و جاں میں
محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شاں میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں“

(روزنامہ بدر قادیان، 25 اکتوبر 1906ء از مرقع قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 678 پر)

View Proof

یہ محض ”مریداں می پرانند“ والی شاعری نہیں ہے، بلکہ یہ اشعار، شاعر نے خود مرزا قادیانی کو سنائے اور اسے لکھ کر پیش کیے۔ مرزا قادیانی نے اس پر جزاک اللہ کہہ کر شاعر کو داد دی اور اس قطعہ کو اپنے ساتھ گھر لے گیا۔ چنانچہ ملعون قاضی اکمل 22 اگست 1944ء کے الفضل میں لکھتا ہے:

(121) ”وہ اس نظم کا ایک حصہ ہے جو حضرت مسیح موعود کے حضور میں پڑھی گئی اور خوش خط

صفحہ 226

لکھے ہوئے قطعے کی صورت میں پیش کی گئی اور حضور اُسے اپنے ساتھ اندر لے گئے۔ اس وقت کسی نے اس شعر پر اعتراض نہ کیا، حالانکہ مولوی محمد علی صاحب (امیر جماعت لاہور) اور اَعْوَانُہُم موجود تھے اور جہاں تک حافظہ مدد کرتا ہے، بوثوق کہا جا سکتا ہے کہ سن رہے تھے اور اگر وہ اس سے بوجہ مرور زمانہ انکار کریں تو یہ نظم ”بدر“ میں چھپی اور شائع ہوئی۔ اس وقت ”بدر“ کی پوزیشن وہی تھی بلکہ اس سے کچھ بڑھ کر جو اس عہد میں ”الفضل“ کی ہے، حضرت مفتی محمد صادق صاحب ایڈیٹر سے ان لوگوں کے محبانہ اور بے تکلفانہ تعلقات تھے۔ وہ خدا کے فضل سے زندہ موجود ہیں ان سے پوچھ لیں اور خود کہہ دیں کہ آیا آپ میں سے کسی نے بھی اس پر ناراضی یا ناپسندگی کا اظہار کیا اور حضرت مسیح موعود کا شرف سماعت حاصل کرنے اور جزاک اللہ تعالیٰ کا صلہ پانے اور اس قطعے کو اندر خود لے جانے کے بعد کسی کو حق ہی کیا پہنچتا تھا کہ اس پر اعتراض کر کے اپنی کمزوری ایمان اور قلت عرفان کا ثبوت دیتا۔“

(روزنامہ الفضل قادیان، 22 اگست 1944ء جلد 32،نمبر 196،صفحہ 6 کالم 1) (عکس صفحہ نمبر 679 پر)

اس سے واضح ہے کہ یہ محض شاعرانہ مبالغہ آرائی نہ تھی، بلکہ ایک مذہبی عقیدہ تھا۔ جس کی مرزا قادیانی نے بذات خود نہ صرف تصدیق بلکہ تحسین کی تھی۔

رسولِ قَدنی

(از قاضی ظہور الدین اکمل قادیانی)

(122) اے مرے پیارے مری جان رسول قدنی
تیرے صدقے، ترے قربان رسول قدنی
تو نے ایمان ثریا سے ہمیں لا کے دیا
نازش دودۂ سلمان رسول قدنی
انت منی و انا منک خدا فرمائے
میں بتاؤں تری کیا شان رسول قدنی
صفحہ 227
عرش اعظم پہ تری حمد خدا کرتا ہے
ہم ہیں ناچیز سے انسان رسولِ قَدَنی
دست قادر مطلق تری نسلوں پہ کرے
اللہ اللہ ! یہ تری شان رسولِ قَدَنی
آسمان اور زمیں تو نے بنائے ہیں نئے
تیرے کشفوں پہ ہے ایمان رسولِ قَدَنی
پہلی بعثت میں محمد ﷺ ہے تو اب احمد ﷺ ہے
تجھ پہ پھر اترا ہے قرآن رسولِ قَدَنی
سر چشم تری خاک قدم بنوائے
غوث اعظم شہ جیلان رسولِ قَدَنی
عرش بلقیس معانی ہے ترے قبضے میں
اس زمانہ کے سلیمان رسولِ قَدَنی

(نغمۂ اکمل از قاضی ظہور الدین اکمل قادیانی، صفحہ 167، روزنامہ الفضل قادیان جلد 10

شمارہ نمبر 30، 16 اکتوبر 1922ء) (عکس صفحہ نمبر 680 اور 846 پر)

مندرجہ بالا نظم بھی ملعون قاضی ظہور الدین اکمل قادیانی کی ہے جس میں اس نے نبی کریم ﷺ، جن کو تمام مسلمان ان ﷺ کے شہر مبارک ”مدینہ طیبہ“ کی نسبت سے ”رسولِ مدنی“ کہتے ہیں، کی نقل اتارتے ہوئے مرزا قادیانی کی شان میں اس کے شہر ”قادیان“ کی نسبت سے ”رسولِ قَدَنی“ کے عنوان سے نظم لکھی۔

صفحہ 228

محمد رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر

(123) ”یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پاسکتا ہے حتیٰ کہ محمد رسول اللہ ﷺ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔“

(مرزا بشیر الدین محمود کی ڈائری، اخبار الفضل قادیان نمبر 5، جلد 10، 17 جولائی 1922ء) (عکس صفحہ نمبر 681 پر)

View Proof

حضور نبی کریم ﷺ سُور کی چربی استعمال کرتے تھے

(نعوذ باللہ و لعنۃ اللہ علی الکاذبین والمزورین)

(124) ”آنحضرت ﷺ اور آپؐ کے اصحابؓ..... عیسائیوں کے ہاتھ کا پنیر کھا لیتے تھے حالانکہ مشہور یہ تھا کہ سُور کی چربی اس میں پڑتی ہے۔“

(مرزا قادیانی کا مکتوب، روزنامہ الفضل قادیان 22 فروری 1924ء) (عکس صفحہ نمبر 682 پر)

مرزا قادیانی پر لعنت بے شمار..... مرزائی نوازوں پر لعنت بے شمار!

View Proof

روضۂ رسول ﷺ کی توہین

(125) ”ہم بارہا لکھ چکے ہیں کہ حضرت مسیح کو اتنی بڑی خصوصیت آسمان پر زندہ چڑھنے اور اتنی مدت تک زندہ رہنے اور پھر دوبارہ اترنے کی جو دی گئی ہے، اس کے ہر ایک پہلو سے ہمارے نبی ﷺ کی توہین ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ کا ایک بڑا تعلق جس کا کچھ حد و حساب نہیں، حضرت مسیح سے ہی ثابت ہوتا ہے۔ مثلاً آنحضرت ﷺ کی سو برس تک بھی عمر نہ پہنچی مگر حضرت مسیح اب قریباً دو ہزار برس سے زندہ موجود ہیں اور خدا تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے چھپانے کے لیے ایک ایسی ذلیل جگہ تجویز کی جو نہایت متعفن اور تنگ اور تاریک اور حشرات الارض کی نجاست کی جگہ تھی۔ مگر حضرت مسیح کو آسمان پر جو بہشت کی جگہ اور فرشتوں کی ہمسائیگی کا مکان ہے، بلا لیا۔ اب بتاؤ محبت کس سے زیادہ کی۔ عزت کس کی زیادہ کی۔ قرب کا مقام کس کو دیا اور پھر دوبارہ آنے کا شرف کس کو بخشا۔“

(تحفہ گولڑویہ صفحہ 112 (حاشیہ) مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 205 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 683 پر)

View Proof

صفحہ 229

وہ نبی بھی کیسا نبی ہے؟

(126) ”اسی طرح اس قوم کا جس کے جوشیلے آدمی قتل کرتے ہیں، خواہ انبیاء کی توہین کی وجہ سے ہی وہ ایسا کریں، فرض ہے کہ پورے زور کے ساتھ ایسے لوگوں کو دبائے اور ان سے اظہار برأت کرے۔ انبیاء کی عزت کی حفاظت قانون شکنی کے ذریعہ نہیں ہو سکتی، وہ نبی بھی کیسا نبی ہے جس کی عزت کو بچانے کے لیے خون سے ہاتھ رنگنے پڑیں، جس کے بچانے کے لیے اپنا دین تباہ کرنا پڑے۔ یہ سمجھنا کہ محمد رسول اللہ کی عزت کے لیے قتل کرنا جائز ہے، سخت نادانی ہے۔...... وہ لوگ (غازی علم الدین شہید، ناقل) جو قانون کو ہاتھ میں لیتے ہیں، وہ بھی مجرم ہیں اور اپنی قوم کے دشمن ہیں اور جو ان کی پیٹھ ٹھونکتا ہے، وہ بھی قوم کا دشمن ہے۔ میرے نزدیک تو اگر یہی شخص (راج پال کا) قاتل ہے جو گرفتار ہوا ہے تو اس کا سب سے بڑا خیر خواہ وہی ہو سکتا ہے جو اس کے پاس جاوے اور اسے سمجھائے کہ دنیاوی سزا تو تمہیں اب ملے گی ہی، لیکن قبل اس کے کہ وہ ملے، تمہیں چاہیے، خدا سے صلح کر لو۔ اس کی خیر خواہی اسی میں ہے کہ اسے (غازی علم الدین شہید کو) بتایا جائے کہ تم سے غلطی ہوئی ہے۔“

(خطبہ جمعہ مرزا محمود خلیفہ قادیان مندرجہ روزنامہ الفضل قادیان جلد 16 نمبر 82 صفحہ 8، 9 مورخہ 19 اپریل 1929ء)

(عکس صفحہ نمبر 684 پر)

View Proof

تکمیل اشاعت ہدایت

(127) ”چونکہ آنحضرت ﷺ کا دوسرا فرض منصبی جو تکمیل اشاعت ہدایت ہے، آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں بوجہ عدم وسائل اشاعت غیر ممکن تھا، اس لیے قرآن شریف کی آیت و آخرین منھم لما یلحقوا بھم میں آنحضرت ﷺ کی آمد ثانی کا وعدہ دیا گیا ہے۔ اس وعدہ کی ضرورت اسی وجہ سے پیدا ہوئی کہ تا دوسرا فرض منصبی آنحضرت ﷺ کا یعنی تکمیل اشاعت ہدایت دین جو آپ کے ہاتھ سے پورا ہونا چاہیے تھا ، اس وقت بباعث عدم وسائل پورا نہیں ہوا، سو اس فرض کو آنحضرت ﷺ نے اپنی آمد ثانی سے جو بروزی رنگ میں تھی، ایسے زمانہ میں پورا کیا جبکہ زمین کی تمام قوموں تک اسلام پہنچانے کے لیے وسائل پیدا ہو گئے تھے۔“

(تحفہ گولڑویہ (حاشیہ) صفحہ 177 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 263 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 685 پر)

View Proof

صفحہ 230

مرزا قادیانی کی تعلیم نوح کی کشتی

(128) ”چونکہ میری تعلیم میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور شریعت کے ضروری احکام کی تجدید ہے۔ اس لیے خدا تعالیٰ نے میری تعلیم کو اور اس وحی کو جو میرے پر ہوتی ہے فلک یعنی کشتی کے نام سے موسوم کیا جیسا کہ ایک الہام الٰہی کی یہ عبارت ہے۔ واصنع الفلک باعیننا و وحینا ان الذین یبایعونک انما یبایعون الله ید الله فوق ایدیھم یعنی اس تعلیم اور تجدید کی کشتی کو ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی سے بنا۔ جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں، وہ خدا سے بیعت کرتے ہیں۔ یہ خدا کا ہاتھ ہے جو ان کے ہاتھوں پر ہے۔ اب دیکھو، خدا نے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لیے اس کو مدار نجات ٹھہرایا جس کی آنکھیں ہوں دیکھے اور جس کے کان ہوں سنے۔“

(اربعین نمبر 4، صفحہ 93 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 435 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 686 پر)

View Proof

مرزا قادیانی، تمام انبیا کا لباس

(129) ”خاکسار عرض کرتا ہے کہ مکرم ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے اپنی اس روایت میں ایک وسیع دریا کو کوزے میں بند کرنا چاہا ہے۔ ان کا نوٹ بہت خوب ہے اور ایک لمبے اور ذاتی تجربہ پر مبنی ہے اور ہر لفظ دل کی گہرائیوں سے نکلا ہوا ہے۔ مگر ایک دریا کو کوزے میں بند کرنا، انسانی طاقت کا کام نہیں۔ ہاں خدا کو یہ طاقت ضرور حاصل ہے اور میں اس جگہ، اس کوزے کا خاکہ درج کرتا ہوں جس میں خدا نے دریا کو بند کیا ہے۔ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

جری الله فی حلل الانبیاء
یعنی خدا کا رسول جو تمام نبیوں کے لباس میں ظاہر ہوا ہے۔

اس فقرہ سے بڑھ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کوئی جامع تعریف نہیں ہو سکتی۔ آپ ہر نبی کے ظل اور بروز تھے اور ہر نبی کی اعلیٰ صفات اور اعلیٰ اخلاق اور اعلیٰ طاقتیں آپ میں جلوہ فگن تھیں۔ کسی نے آنحضرت ﷺ کے متعلق کہا اور کیا خوب کہا ہے:

صفحہ 231
حسن یوسف دم عیسیٰ ید بیضا داری
آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری

یہی ورثہ آپ کے ظل کامل (مرزا قادیانی) نے بھی پایا۔ مگر لوگ صرف تین نبیوں کو گن کر رہ گئے۔ لیکن خدا نے اپنے کوزے میں سب کچھ بھر دیا۔“

(سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 308 از صاحبزادہ مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 687 پر)

View Proof

اے مومنو! اپنی آواز مرزا قادیانی کی آواز سے بلند نہ کرو

(130) ”حافظ محمد ابراہیم صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ 1903ء کا واقعہ ہے کہ میں ایک دن مسجد مبارک کے پاس والے کمرہ میں بیٹھا ہوا تھا کہ مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم تشریف لائے اور اندر سے حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) بھی تشریف لے آئے اور تھوڑی دیر میں مولوی محمد احسن صاحب امروہی بھی آگئے اور آتے ہی حضرت مسیح موعود سے حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اول کے خلاف بعض باتیں بطور شکایت بیان کرنے لگے۔ اس پر مولوی عبدالکریم صاحب کو جوش آ گیا اور نتیجہ یہ ہوا کہ ہر دو کی ایک دوسرے کے خلاف آوازیں بلند ہوگئیں اور آواز کمرے سے باہر جانے لگی۔ اس پر حضرت اقدس نے فرمایا لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی (یعنی اے مومنو! اپنی آوازوں کو نبی کی آواز کے سامنے بلند نہ کیا کرو) اس حکم کے سنتے ہی مولوی عبدالکریم صاحب تو فوراً خاموش ہوگئے اور مولوی محمد احسن صاحب تھوڑی دیر تک آہستہ آہستہ اپنا جوش نکالتے رہے اور حضرت اقدس وہاں سے اٹھ کر ظہر کی نماز کے واسطے مسجد مبارک میں تشریف لے آئے۔“

(سیرت المہدی جلد دوم صفحہ 30 از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 688 پر)

View Proof

”احمد“ سے مراد مرزا قادیانی

(131) ”اور اس آنے والے (مرزا قادیانی) کا نام جو احمد رکھا گیا ہے، وہ بھی اس کے مثیل ہونے کی طرف اشارہ ہے کیونکہ محمد ﷺ جلالی نام ہے اور احمد جمالی۔ اور احمد اور عیسیٰ اپنے جمالی معنوں کے رو سے ایک ہی ہیں۔ اسی کی طرف یہ اشارہ ہے ومبشراً برسول

صفحہ 232

یاتى من بعدى اسمه احمد مگر ہمارے نبی ﷺ فقط احمد ہی نہیں بلکہ محمد ﷺ بھی ہیں یعنی جامع جلال و جمال ہیں لیکن آخری زمانہ میں برطبق پیش گوئی مجرد احمد جو اپنے اندر حقیقت عیسویت رکھتا ہے، بھیجا گیا۔“ (ازالہ اوہام صفحہ 673، مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 463 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 300 پر) اس عبارت سے ظاہر ہے کہ آپ اس آیت کا مصداق اپنے آپ کو ہی قرار دیتے ہیں کیونکہ آپ نے اس میں دلیل کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ اگر رسول کریم ﷺ اس جگہ مراد ہوتے تو محمد ﷺ و احمد ﷺ کی پیش گوئی ہوتی۔ لیکن یہاں صرف احمد کی پیش گوئی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی اور شخص ہے جو مجرد احمد ہے۔ پس یہ حوالہ صاف طور پر ثابت کر رہا ہے کہ آپ (مرزا قادیانی) احمد تھے بلکہ یہ کہ اس پیشگوئی کے آپ ہی مصداق ہیں۔“

(انوار خلافت صفحہ 37 مندرجہ انوار العلوم جلد 3 صفحہ 101 از مرزا بشیر الدین محمود ابن مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 689 پر)

View Proof

مرزا قادیانی کو دیکھنے کے لیے نبیوں کی خواہش

(132) ”اے عزیزو! تم نے وہ وقت پایا ہے جس کی بشارت تمام نبیوں نے دی ہے اور اس شخص کو یعنی مسیح موعود کو تم نے دیکھ لیا جس کے دیکھنے کے لیے بہت سے پیغمبروں نے بھی خواہش کی تھی۔“

(اربعین نمبر 14 صفحہ 100، مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 442 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 690 پر)

View Proof

مرزا قادیانی کے کئی نام

(133) ”پھر ایک یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ مرزا صاحب نے اپنے کئی نام رکھے ہیں۔ حالانکہ کسی اور نبی نے اپنے کئی نام نہیں رکھے۔ اس لیے یہ نبی نہیں ہو سکتے۔ اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ ان لی اسماء انا محمد وانا احمد وانا الماحی الذی یمحو اللہ بی الکفر وانا الحاشر الذی یحشر الناس علی قدمی وانا

صفحہ 233

العاقب والعاقب الذى ليس بعده نبى یعنی آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ میرے پانچ نام ہیں ۔ پس اگر حضرت مسیح موعود کے بھی خدا تعالیٰ نے کئی نام رکھ دیئے اور آپ کو مہدی اور کرشن بنا دیا۔ تو اس سے آپ کی نبوت کس طرح باطل ہوگئی۔ آپ نے اپنے آقا سے تو ایک نام کم ہی پایا ہے۔ پس آنحضرت ﷺ کی نبوت پانچ نام رکھنے کے باوجود ثابت ہو سکتی ہے۔ تو پھر کیا وجہ ہے کہ آپ کی نبوت چار نام رکھنے کی وجہ سے ثابت نہیں ہو سکتی۔ وہ لوگ جو یہ اعتراض کرتے ہیں، سوچیں اور بتائیں کہ حضرت مسیح موعود کی نبوت کیوں ثابت نہیں ہو سکتی ۔“

(انوار خلافت صفحہ 59 مندرجہ انوار العلوم جلد 3 صفحہ 121 از مرزا بشیر الدین محمود ابن مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 691، 692 پر)

مرزا قادیانی، احمد مجتبیٰ

(134) ”منم مسیح زمان و منم کلیم خدا
منم محمد ﷺ و احمد ﷺ کہ مجتبیٰ باشد“

ترجمہ: ”میں مسیح زماں ہوں، میں کلیم خدا یعنی موسیٰ ہوں، میں محمد ﷺ ہوں، میں احمد مجتبیٰ ہوں۔“

(تریاق القلوب صفحہ 6 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 134 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 693 پر)

اپنی وحی پر ایمان

(اربعین نمبر 4 صفحہ 19 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 454 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 694 پر)

قادیانی عقیدہ کے مطابق مرزا قادیانی پر نازل ہونے والی وحی

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 235 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 695 پر)

صفحہ 234

(137) ”انا اعطینک الکوثر یعنی ہم تجھے بہت سے ارادتمند عطا کریں گے اور ایک کثیر جماعت تجھے دی جائے گی۔ دیکھو اس پیشگوئی کو بیس برس گزر گئے اور اب وہ کثیر جماعت ہوئی اور نہ صرف ستر ہزار بلکہ اب تو یہ جماعت لاکھ کے قریب ہوگئی اور ان دنوں میں ایک بھی نہ تھا۔“

(نزول المسیح صفحہ 133 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 509 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 696 پر)

View Proof

(138) ”ورفعناک لک ذکرک“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 236 طبع چہارم ،از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 697 پر)

View Proof

(139) ”ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی و دین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 538 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 698 پر)

View Proof

(140) ”وما ینطق عن الھویٰ۔ ان ھو الا وحی یوحیٰ۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 321 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 699 پر)

View Proof

(141) ”دنی فتدلی فکان قاب قوسین او ادنی۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 542 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 700 پر)

View Proof

(142) وقل یایھا الناس انی رسول اللّٰہ الیکم جمیعا۔

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 292 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 701 پر)

View Proof

(143) ”وداعیا الی اللّٰہ و سراجا منیرا“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 541 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 702 پر)

View Proof

(144) ”سبحان الذی اسریٰ بعبدہ لیلا۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 63، 543 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 703 پر)

View Proof

صفحہ 235

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 546 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 704 پر)

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 547 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 705 پر)

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 547 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 706 پر)

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 39 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 707 پر)

اگر تجھے پیدا نہ کرتا......

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 525، طبع چہارم، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 708 پر)

سب جانتے ہیں کہ یہ حدیث قدسی ہے اور اس کے مصداق صرف اور صرف حضور نبی کریم ﷺ ہیں جبکہ ملعون مرزا قادیانی اس حدیث کو اپنے اوپر منطبق کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مرزا قادیانی کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ اے مرزا، اگر میں تجھے پیدا نہ کرتا تو آسمان و زمین اور جو کچھ اس میں ہے، کچھ پیدا نہ کرتا۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ دنیا میں جس قدر انبیائے کرام اور اولیائے عظام تشریف لائے اور انھیں مراتب عالیہ عنایت ہوئے، یہ سب مرزا قادیانی کے طفیل سے ہوا۔ یعنی تمام انبیا اور اولیا، مرزا قادیانی کے طفیلی اور زلہ ربا ہیں۔ قادیانی عقیدہ کے مطابق اس میں حضور سرور عالم ﷺ بھی شامل ہیں۔ (نعوذ باللہ)

صفحہ 236

روضہ آدم اور مرزا قادیانی

(150) ”روضہ آدم کہ تھا وہ نامکمل اب تلک
میرے آنے سے ہوا کامل بجملہ برگ و بار“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 114، مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 144، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 709 پر)

آخری اینٹ کون؟

مرزا قادیانی نے نہ صرف رحمت عالم ﷺ کے مقابلہ میں نبوت کا اعلان کیا بلکہ حضور علیہ السلام کے مقابلہ میں اپنے عقائد باطلہ و نظریات فاسدہ کی بنیاد رکھی۔ مثلاً حضور نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ نبوت بند ہے۔ مرزا قادیانی نے مقابلہ میں کہا کہ نبوت جاری ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ جہاد جاری ہے۔ مرزا قادیانی نے مقابلہ میں کہا کہ جہاد بند ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ مدار نجات میری ذات ہے۔ مرزا قادیانی نے مقابلہ میں کہا کہ مدار نجات میری ذات ہے۔ جو مجھے نہیں مانتا، وہ کافر ہے۔

حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ”نبوت کے محل کی آخری اینٹ میں ہوں اور میں ہی نبیوں کا (سلسلہ) ختم کرنے والا ہوں ۔“ (بخاری، مسلم) جبکہ مرزا قادیانی نے اس کے جواب میں کہا:

(151) ”پس خدا نے ارادہ فرمایا کہ اس پیش گوئی کو پورا کرے اور آخری اینٹ کے ساتھ بنا کو کمال تک پہنچا دے۔ پس میں وہی اینٹ ہوں۔“ (خطبہ الہامیہ صفحہ 178، مندرجہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 178 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 710 پر)

جس طرح شیطان نے حضرت آدم علیہ السلام کا مقابلہ کیا تھا، اسی طرح ملعون مرزا قادیانی ہر بات میں حضور نبی کریم ﷺ کا مقابلہ کرتا ہے۔

صفحہ 237

حضور نبی کریم ﷺ کے معراج جسمانی کا انکار

(152) ”حقیقت میں معراج ایک کشف تھا جو بڑا عظیم الشان اور صاف کشف تھا، اور اتم اور اکمل تھا۔ کشف میں اس جسم کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ کشف میں جو جسم دیا جاتا ہے اس میں کسی قسم کا حجاب نہیں ہوتا بلکہ بڑی بڑی طاقتیں اس کے ساتھ ہوتی ہیں۔ اور آپ ﷺ کو اسی جسم کے ساتھ جو بڑی طاقتوں والا ہوتا ہے، معراج ہوا۔“

(ملفوظات جلد دوم صفحہ 446، طبع جدید، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 711 پر)

View Proof

(153) ”نیا اور پرانا فلسفہ بالاتفاق اس بات کو محال ثابت کرتا ہے کہ کوئی انسان اپنے اس خاکی جسم کے ساتھ کرۂ زمہریر تک بھی پہنچ سکے۔ بلکہ علم طبعی کی نئی تحقیقاتیں اس بات کو ثابت کر چکی ہیں کہ بعض بلند پہاڑوں کی چوٹیوں پر پہنچ کر اس طبقہ کی ہوا ایسی مضر صحت معلوم ہوتی ہے کہ جس میں زندہ رہنا ممکن نہیں۔ پس اس جسم کا کرۂ ماہتاب یا کرۂ آفتاب تک پہنچنا کس قدر لغو خیال ہے۔“

(ازالہ اوہام صفحہ 47 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 126 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 712 پر)

View Proof

حضور نبی کریم ﷺ کی معراج یعنی حالت بیداری میں آسماں کی طرف جانا قرآن مجید، احادیث متواترہ، اقوال صحابہؓ اور جمہور علمائے کرام سے ثابت ہے۔ جید فقہا و مفسرین نے لکھا ہے کہ جو شخص حضور رحمت عالم ﷺ کی معراج جسمانی کا انکار کرے، وہ گمراہ اور پرلے درجے کا بدبخت ہے۔ یقیناً آنجہانی مرزا قادیانی ایسے ہی بدبختوں میں شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے مردود الاعتقاد سے ہر مسلمان کو اپنی پناہ میں محفوظ رکھے! (آمین)

کثیف جسم

(154) ”اس جگہ اگر کوئی اعتراض کرے کہ اگر جسم خاکی کا آسمان پر جانا محالات میں سے ہے تو پھر آنحضرت ﷺ کا معراج اس جسم کے ساتھ کیونکر جائز ہوگا۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ سیر معراج اس جسم کثیف کے ساتھ نہیں تھا بلکہ وہ نہایت اعلیٰ درجہ کا کشف تھا۔“

(ازالہ اوہام صفحہ 47 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 126 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 713 پر)

View Proof

صفحہ 238

حضور خاتم النبیین حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا جسم اطہر مظہر نور الانوار تھا۔ آپ ﷺ جس طرح آگے دیکھتے تھے، اسی طرح آپ ﷺ پیچھے بھی دیکھتے تھے۔ آپؐ کے جسم مبارک پر کبھی مکھی نہ بیٹھتی تھی۔ اس لیے آپؐ کے جسم مبارک کا سایہ نہ تھا۔ لیکن مرزا قادیانی بدبخت نے آپؐ کے جسم اطہر کو کثیف لکھا ہے جو شان رسالت ﷺ میں بدترین توہین کے زمرے میں آتا ہے۔

گستاخ رسول حرامی ہے

(155) ”اس کے مقابلہ میں آنحضرت ﷺ کو دیکھو۔ آپؐ کا دعویٰ کل جہان کے لیے اور سخت سے سخت دکھ اور تکالیف آپؐ کو پہنچے۔ جنگیں بھی آپؐ نے کیں۔ ایک لاکھ سے زیادہ صحابہؓ آپؐ کی زندگی میں موجود تھے۔ پھر ان باتوں کے ہوتے ہوئے جو شخص آنحضرت ﷺ کی شان میں کوئی ایسا کلمہ زبان پر لائے گا۔ جس سے آپؐ کی ہتک ہو وہ حرامی نہیں تو اور کیا ہے؟“

(ملفوظات جلد سوم صفحہ 208، طبع جدید، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 714 پر)

اہم نکات

مرزا قادیانی کی مذکورہ بالا تحریروں سے یہ نکات مرتب ہوتے ہیں: (استغفر اللہ، خاکم بدہن)

آخری نور ہے۔ جو اسے چھوڑتا ہے، وہ بدقسمت ہے۔ مرزا قادیانی کے بغیر سب تاریکی ہے۔ (نعوذ باللہ)

بھیجا۔ (نعوذ باللہ)

صفحہ 239

لیے چاند اور سورج گرہن دونوں لگے۔ (نعوذ باللہ)

ہے۔ (نعوذ باللہ)

ہیں۔ (نعوذ باللہ)

جس نے محمد رسول اللہ ﷺ کو مکمل طور پر دیکھنا ہو، وہ مرزا قادیانی کو قادیان میں دیکھ لے۔ (نعوذ باللہ)

سے پورا نہ کر سکے۔ اب وہ فرض منصبی مرزا قادیانی نے پورا کیا۔ (نعوذ باللہ)

اب جو شخص مرزا قادیانی کی بیعت کرے گا، صرف اسی کی نجات ہو گی۔ (نعوذ باللہ)

مراد مرزا قادیانی ہے۔ (نعوذ باللہ)

اب قادیانی خود فیصلہ کریں کہ مرزا قادیانی کیا تھا؟؟؟

PDF 240
PDF 241

ثبوت حاضر ہیں!

انبیائے کرام علیہم السلام

کی توہین

Back

PDF 242
صفحہ 243

اللہ تعالیٰ کی رنگا رنگ مخلوقات میں انسان سب سے اعلیٰ و اشرف ہے، جسے اشرف المخلوقات ہونے کا شرف حاصل ہے۔ پھر گروہ انسانیت میں وہ سعادت مند بڑی عظمتوں کے حامل ہیں، جنہیں وحی ربانی کی تسلیم و اطاعت کا شرف حاصل ہوا اور اس گروہ مسلمین میں سے لاتعداد عظمتوں کے امین و حامل وہ ہیں جنہیں نبوت ورسالت کا تاج پہنایا گیا، جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی سب سے بڑی امانت کا امین قرار دیا اور سب سے بڑی نعمت سے نوازا۔ یہ گروہ پاک باز، انسان ہو کر بھی اتنا عظیم المرتبت ہے کہ معصومیت ان کے لوازم میں سے ہے۔ بچپن سے آخر تک ان کی تعلیم و تربیت اللہ تعالیٰ کی خاص نگرانی اور حفاظت میں ہوتی ہے کہ معمولی گناہ بھی ان کے گھر کا رخ نہیں کر سکتا۔ وہ اللہ تعالیٰ کی مقدس وحی کے حامل اور اس کے مبلغ ہوتے ہیں۔ اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر اس کی تبلیغ کرتے اور اف تک نہیں کرتے، چاہے اس راستہ میں ان کا جسم آرے سے چیرا جائے۔ نبی اور رسول ایسی اعلیٰ ترین خوبیوں، صلاحیتوں اور اوصاف حمیدہ کے مالک ہوتے ہیں کہ لوگ ان کی سیرت اور کردار کو دیکھ کر عش عش کر اٹھتے ہیں۔

اسلامی تعلیمات میں سے یہ بھی ہے کہ جس طرح ہم اپنے آقا حضور نبی کریم ﷺ پر ایمان لا کر مسلمان کہلوانے کے حق دار ہوئے ہیں، ایسے ہی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے پہلے تمام انبیاء و رسل پر ایمان لانا بھی نہایت ضروری ہے۔ ہر لحاظ سے ان کا احترام لازم ہے۔ کسی رسول یا نبی کی شان میں ادنیٰ سی بھی گستاخی موجب کفر و ارتداد ہے۔ لیکن قادیان کے شیطان مجسم مرزا قادیانی نے اس گروہ پاک باز کو جس طرح یاد کیا، ان کی توہین و تحقیر کی اور اپنے ناپاک وجود کو ان سے برتر قرار دیا، وہ اس کے واضح کفر کا بین ثبوت ہے۔ اس شیطنت آمیز تحریرات کی نقل و مطالعہ کسی شریف انسان کے بس کا روگ نہیں لیکن ضرورت و مجبوری سے انہیں لکھا جا رہا ہے۔

صفحہ 244

نبی کی تحقیر غضب الٰہی کا موجب

(156) ”اسلام میں کسی نبی کی تحقیر کفر ہے اور سب پر ایمان لانا فرض ہے۔..........کسی نبی کی اشارہ سے بھی تحقیر سخت معصیت ہے اور موجب نزول غضب الٰہی۔“

(چشمہ معرفت صفحہ 390، مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 390 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 715 پر)

View Proof

تمام انبیاء سے اجتہاد میں غلطی ہوئی

(157) ”میں اس بات کا خود قائل ہوں کہ دنیا میں کوئی ایسا نبی نہیں آیا جس نے کبھی اجتہاد میں غلطی نہیں کی۔“

(تتمہ حقیقت الوحی صفحہ 135، مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 573 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 716 پر)

View Proof

رسولوں کی وحی میں شیطانی کلمہ

(158) ”دراصل وہ شیطانی کلمہ ہوتا ہے۔ یہ دخل کبھی انبیاء اور رسولوں کی وحی میں بھی ہو جاتا ہے۔“

(ازالہ اوہام صفحہ 629 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 439 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 717 پر)

View Proof

چار سو نبیوں کی پیشگوئی جھوٹی نکلی

(159) ”ایک بادشاہ کے وقت میں چار سو نبیوں نے اس کی فتح کے بارے میں پیشگوئی کی اور وہ جھوٹے نکلے۔“

(ازالہ اوہام حصہ دوم صفحہ 629 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 439 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 718 پر)

View Proof

صفحہ 245

تمام انبیا کا مجموعہ

(160) ”خدا تعالیٰ نے مجھے تمام انبیاء علیہم السلام کا مظہر ٹھہرایا ہے اور تمام نبیوں کے نام میری طرف منسوب کیے ہیں۔ میں آدم ہوں، میں شیث ہوں، میں نوح ہوں، میں ابراہیم ہوں، میں اسحاق ہوں، میں اسمعیل ہوں، میں یعقوب ہوں، میں یوسف ہوں، میں موسیٰ ہوں، میں داؤد ہوں، میں عیسیٰ ہوں اور آنحضرت ﷺ کے نام کا میں مظہر اتم ہوں یعنی ظلی طور پر محمد ﷺ اور احمد ہوں۔“

(حقیقت الوحی (حاشیہ) صفحہ 73، مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 76 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 719 پر)

View Proof

(161) ”میں کبھی آدم کبھی موسیٰ کبھی یعقوب ہوں
نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 103 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 133 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 720 پر)

View Proof

بقول شخصے: ”پھر اس پر بھی غور کیجیے کہ مرزا قادیانی ابراہیم ہے تو اسماعیل بھی ہے۔ مرزا قادیانی اسحاق ہے تو یعقوب اور یوسف بھی ہے۔ تاریخ اسلام میں حضرت ابراہیم، حضرت اسماعیل، حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب اور حضرت یوسف علیہم السلام کے رشتے بتلائے گئے ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دو فرزند حضرت اسماعیلؑ اور حضرت اسحاقؑ خدا نے عطا فرمائے تھے، حضرت اسحاق کے ہاں حضرت یعقوب عطا کیے گئے۔ حضرت یوسف علیہ السلام، حضرت یعقوب علیہ السلام کے چہیتے بیٹے تھے۔ اب دیکھیے کہ ان کا شجرہ نسب کیا کہتا ہے؟ حضرت ابراہیم علیہ السلام باپ، حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق ان کے بیٹے اور آئندہ نسل چلتی چلتی حضرت یعقوب سے حضرت یوسف تک پہنچتی ہے۔ اس شجرہ نسب کے مطابق اگر مرزا قادیانی ابراہیم ہے، اگر مرزا قادیانی اسماعیل ہے، اگر مرزا قادیانی اسحاق ہے، اگر مرزا قادیانی یعقوب اور یوسف ہے تو ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی بیک وقت باپ بھی ہے، بیٹا بھی ہے، تو پوتا بھی ہے اور پڑپوتا بھی ہے۔ تو کوئی صاحب! جو مسئلہ تناسخ آوا گون

صفحہ 246

کے ماہر ہوں، اس طالب حق کو بتائیں کہ یہ کیا گورکھ دھندہ ہے؟“

مرزا قادیانی کی ہزاروں پیش گوئیاں

(162) ”میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ ہزارہا میری ایسی کھلی کھلی پیشگوئیاں ہیں جو نہایت صفائی سے پوری ہوگئیں جن کے لاکھوں انسان گواہ ہیں۔ ان کی نظیر اگر گذشتہ نبیوں میں تلاش کی جائے تو بجز آنحضرت ﷺ کے کسی اور جگہ ان کی مثل نہیں ملے گی۔“

(کشتی نوح صفحہ 6 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 6 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 721 پر)

مرزا قادیانی، ہزار نبیوں پر بھاری

(163) ”خدا تعالیٰ نے اس بات کے ثابت کرنے کے لیے کہ میں اس کی طرف سے ہوں اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کیے جائیں تو ان کی بھی ان سے نبوت ثابت ہو سکتی ہے۔“

(چشمہ معرفت صفحہ 317 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 332 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 722 پر)

حضرت آدم علیہ السلام سے مماثلت

(164) ”دنیا میں کوئی روحانی انسان موجود نہ تھا جس سے یہ آدم روحانی تولد پاتا۔ اس لیے خدا نے خود روحانی باپ بن کر اس آدم کو پیدا کیا اور ظاہری پیدائش کے رو سے اسی طرح نر اور مادہ پیدا کیا جس طرح کہ پہلا آدم پیدا کیا تھا یعنی اس نے مجھے بھی جو آخری آدم ہوں جوڑا پیدا کیا جیسا کہ الہام یا آدم اسکن انت و زوجک الجنۃ میں اس کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے اور بعض گذشتہ اکابر نے خدا تعالیٰ سے الہام پا کر یہ پیشگوئی بھی کی تھی کہ وہ انتہائی آدم جو مہدی کامل اور خاتم ولایت عامہ ہے، اپنی جسمانی خلقت کے رُو سے جوڑا پیدا ہوگا۔ یعنی آدم صفی اللہ کی طرح مذکر اور مونث کی صورت پر پیدا ہوگا اور خاتم الاولاد ہوگا کیونکہ آدم نوع انسان میں سے پہلا مولود تھا۔ سو ضرور ہوا کہ وہ شخص جس پر بکمال و تمام دورۂ حقیقت

صفحہ 247

آدمیہ ختم ہو، وہ خاتم الاولاد ہو یعنی اس کی موت کے بعد کوئی کامل انسان کسی عورت کے پیٹ سے نہ نکلے۔ اب یاد رہے کہ اس بندۂ حضرت احدیت کی پیدائش جسمانی اس پیشگوئی کے مطابق بھی ہوئی۔ یعنی میں توام پیدا ہوا تھا اور میرے ساتھ ایک لڑکی تھی جس کا نام جنت تھا اور یہ الہام کہ یا آدم اسکن انت و زوجک الجنۃ جو آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ کے صفحہ 496 میں درج ہے۔ اس میں جو جنت کا لفظ ہے اس میں یہ ایک لطیف اشارہ ہے کہ وہ لڑکی جو میرے ساتھ پیدا ہوئی اس کا نام جنت تھا اور یہ لڑکی صرف سات ماہ تک زندہ رہ کر فوت ہو گئی تھی۔ غرض چونکہ خدا تعالیٰ نے اپنے کلام اور الہام میں مجھے آدم صفی اللہ سے مشابہت دی تو یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ اس قانون قدرت کے مطابق جو مراتب وجود دوریہ میں حکیم مطلق کی طرف سے چلا آتا ہے، مجھے آدم کی خو اور طبیعت اور واقعات کے مناسب حال پیدا کیا گیا ہے۔ چنانچہ وہ واقعات جو حضرت آدم پر گزرے، منجملہ ان کے یہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش زوج کے طور پر تھی۔ یعنی ایک مرد اور ایک عورت ساتھ تھی اور اسی طرح پر میری پیدائش ہوئی۔ یعنی جیسا کہ میں ابھی لکھ چکا ہوں میرے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہوئی تھی جس کا نام جنت تھا۔ اور پہلے وہ لڑکی پیٹ میں سے نکلی تھی اور بعد اس کے میں نکلا تھا اور میرے بعد میرے والدین کے گھر میں اور کوئی لڑکی یا لڑکا نہیں ہوا اور میں ان کے لیے خاتم الاولاد تھا۔ اور یہ میری پیدائش کی وہ طرز ہے جس کو بعض اہل کشف نے مہدی خاتم الولایت کی علامتوں میں سے لکھا ہے اور بیان کیا ہے کہ وہ آخری مہدی جس کی وفات کے بعد اور کوئی مہدی پیدا نہیں ہوگا، خدا سے براہ راست ہدایت پائے گا۔ جس طرح آدم نے خدا سے ہدایت پائی اور وہ اُن علوم اور اسرار کا حامل ہوگا جن کا آدم خدا سے حامل ہوا اور ظاہری مناسبت آدم سے اس کی یہ ہوگی کہ وہ بھی زوج کی صورت پیدا ہوگا۔ یعنی مذکر اور مونث دونوں پیدا ہوں گے۔ جس طرح آدم کی پیدائش تھی کہ ان کے ساتھ ایک مونث بھی پیدا ہوئی تھی یعنی حضرت حوا علیہا السلام۔ اور خدا نے جیسا کہ ابتدا میں جوڑا پیدا کیا، مجھے بھی اس لیے جوڑا پیدا کیا کہ تا اولیت کو آخریت کے ساتھ مناسبت تام پیدا ہو جائے۔“

(تریاق القلوب صفحہ 352 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 478 تا 480 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 723 تا 725 پر)

View Proof

صفحہ 248

حضرت آدم علیہ السلام کی طرح مرزا قادیانی کے لیے سجدہ

(165) ”جیسا کہ آدم توام پیدا ہوا تھا میری پیدائش بھی توام ہے اور جس طرح آدم جمعہ کے روز پیدا ہوا تھا میں بھی جمعہ کے دن ہی پیدا ہوا تھا اور جس طرح آدم کی نسبت فرشتوں نے اعتراض کیا میری نسبت بھی وہ وحی الٰہی نازل ہوئی جو یہ ہے۔ قالوا اتجعل فیها من یفسد فیها. قال انی اعلم مالا تعلمون. اور جس طرح آدم کے لیے سجدہ کا حکم ہوا، میری نسبت بھی وحی الٰہی میں یہ پیشگوئی ہے۔ یخرون علی الاذقان سجداً ربنا اغفرلنا انا کنا خاطئین.“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 99 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 260 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 726 پر)

View Proof

حضرت آدم علیہ السلام کی توہین

(166) (ترجمہ) ”اللہ تعالیٰ نے آدم کو پیدا کر کے انھیں تمام ذی روح انس و جن پر سردار، حاکم اور امیر بنایا جیسا کہ آیت اسجدوا لادم سے معلوم ہوتا ہے۔ پھر شیطان نے انھیں بہکایا اور جنتوں سے نکلوا دیا اور حکومت اس اژدہے کی طرف لوٹائی گئی۔ اس جنگ و جدال میں آدم کو ذلت و رسوائی نصیب ہوئی اور جنگ کبھی اس رخ اور کبھی اس رخ ہوتی ہے اور رحمٰن کے ہاں پرہیز گاروں کے لیے نیک انجام ہے۔ اس لیے اللہ نے مسیح موعود کو پیدا کیا تا کہ آخر زمانہ میں شیطان کو شکست دے اور یہ وعدہ قرآن میں لکھا ہوا تھا۔“

(خطبہ الہامیہ صفحہ 312 مندرجہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 312 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 727 پر)

View Proof

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی توہین

(167) ”موسیٰؑ نے کئی لاکھ بے گناہ بچے مار ڈالے، کوئی عیسائی نہیں کہتا کہ برا کام کیا۔“

(نورالقرآن صفحہ 24 مندرجہ روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 353 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 728 پر)

View Proof

صفحہ 249

حضرت نوح علیہ السلام پر فضیلت

وہ نشان دکھلائے جاتے تو وہ لوگ غرق نہ ہوتے۔“

(تتمہ حقیقت الوحی صفحہ 137، مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 575 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 729 پر)

حضرت یوسف علیہ السلام پر فضیلت

ہے کیونکہ یہ عاجز قید کی دعا کر کے بھی قید سے بچایا گیا مگر یوسف بن یعقوب قید میں ڈالا گیا۔“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 99، مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 99 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 730 پر)

حضرت موسیٰ علیہ السلام پر فضیلت

(حقیقۃ الوحی تتمہ صفحہ 83 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 519 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 731 پر)

حضرت ابراہیم علیہ السلام پر فضیلت

علی ابراہیم صافیناہ و نجیناہ من الغم. واتخذوا من مقام ابراہیم مصلی. قل رب لا تذرنی فردا و انت خیر الوارثین. یعنی سلام ہے ابراہیم پر (یعنی اس عاجز پر) ہم نے اس سے خالص دوستی کی اور ہر ایک غم سے اس کو نجات دے دی اور تم جو پیروی کرتے ہو تم اپنی نماز گاہ ابراہیم کے قدموں کی جگہ بناؤ یعنی کامل پیروی کرو تا نجات پاؤ۔ اور پھر فرمایا کہ اے میرے خدا، مجھے اکیلا مت چھوڑ اور تو بہتر وارث ہے۔ اس الہام میں یہ اشارہ ہے کہ خدا اکیلا نہیں چھوڑے گا اور ابراہیم کی طرح کثرت نسل کرے گا اور بہتیرے اس نسل سے برکت پائیں گے۔ اور یہ جو فرمایا کہ واتخذوا من مقام ابراہیم مصلی یہ قرآن شریف کی آیت ہے اور

صفحہ 250

اس مقام میں اس کے یہ معنی ہیں کہ یہ ابراہیم (مرزا غلام احمد قادیانی) جو بھیجا گیا، تم اپنی عبادتوں اور عقیدوں کو اس کی طرز پر بجالاؤ، اور ہر ایک امر میں اس کے نمونہ پر اپنے تئیں بناؤ۔ اور جیسا کہ آیت ومبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد میں یہ اشارہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کا آخر زمانہ میں ایک مظہر ظاہر ہوگا۔ گویا وہ اس کا ایک ہاتھ ہوگا جس کا نام آسمان پر احمد ہوگا اور وہ حضرت مسیح کے رنگ میں جمالی طور پر دین کو پھیلائے گا۔ ایسا ہی یہ آیت واتخذوا من مقام ابراھیم مصلی اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ جب امت محمدیہ میں بہت فرقے ہو جائیں گے۔ تب آخر زمانہ میں ایک ابراہیم پیدا ہوگا اور ان سب فرقوں میں وہ فرقہ نجات پائے گا کہ اس ابراہیم کا پیرو ہوگا۔“

(اربعین نمبر 3 صفحہ 38 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 420، 421 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 732، 733 پر)

View Proof

مرزا قادیانی بلندی کے مینارہ پر

(172) ”اور میں اپنے خدا کی طرف سے تمام تر قوت اور برکت اور عزت کے ساتھ بھیجا گیا ہوں اور یہ میرا قدم ایک ایسے منارہ پر ہے جو اس پر ہر ایک بلندی ختم کی گئی ہے۔“

(خطبہ الہامیہ صفحہ 70 مندرجہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 70 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 734 پر)

View Proof

پرلے درجہ کی بے غیرتی

(173) ”علاوہ اس کے ہمیں یہ بھی تو دیکھنا چاہیے کہ مسیح موعود تمام انبیاء کا مظہر ہے جیسا کہ اس کی شان میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ جری اللّٰہ فی حلل الانبیاء اس لیے اس کے آنے سے گویا امت محمدیہ میں تمام گذشتہ نبی پیدا کیے گئے پس نبیوں کی تعداد کے لحاظ سے بھی محمدی سلسلہ موسوی سلسلہ سے بڑھ کر رہا کیونکہ علاوہ ان نبیوں اور رسولوں کے جو توریت کی خدمت کے لیے موسیٰ کو عطا ہوئے تھے اس امت میں وہ تمام نبی بھی مبعوث کیے گئے جو موسیٰ سے پہلے گزر چکے تھے بلکہ خود موسیٰؑ بھی دوبارہ دنیا میں بھیجے گئے اور یہ سب کچھ مسیح موعود کے وجود باجود میں پورا ہوا۔ پس اب کیا یہ پرلے درجہ کی بے غیرتی نہیں کہ جہاں ہم لا نفرق

صفحہ 251

بین احد من رسلہ میں داؤد اور سلیمان، زکریا اور یحییٰ کو شامل کرتے ہیں وہاں مسیح موعود جیسے عظیم الشان نبی کو چھوڑ دیا جاوے۔‘‘

(کلمۃ الفصل صفحہ 117، از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 735 پر)

ہر رسول میری قمیض میں چھپا ہوا ہے

(174)

”انبیاء گرچہ بودہ اند بسے
من بعرفان نہ کمترم ز کسے
آدمم نیز احمد مختار
در برم جامہ ہمہ ابرار
آنچہ داد ست ہر نبی را جام
داد آں جام را مرا بہ تمام
زندہ شد ہر نبی بآمدم
ہر رسولے نہاں بہ پیرہنم
کم نیم زاں ہمہ بروئے یقین
ہر کہ گوید دروغ ہست لعین“

ترجمہ

سے کم نہیں ہوں۔

دیا ہے۔

جھوٹ کہتا ہے وہ لعنتی ہے۔“

(نزول المسیح صفحہ 100، مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 477، 478 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 736، 737 پر)

صفحہ 252

نبوت کا قادیانی تصور

(175) ”مثلاً ایک شخص جو قوم کا چوہڑہ یعنی بھنگی ہے اور ایک گاؤں کے شریف مسلمانوں کی تیس چالیس سال سے یہ خدمت کرتا ہے کہ وہ وقت ان کے گھروں کی گندی نالیوں کو صاف کرنے آتا ہے اور ان کے پاخانوں کی نجاست اٹھاتا ہے اور ایک دو دفعہ چوری میں بھی پکڑا گیا ہے اور چند دفعہ زنا میں بھی گرفتار ہو کر اس کی رسوائی ہو چکی ہے۔ اور چند سال جیل خانہ میں قید بھی رہ چکا ہے اور چند دفعہ ایسے برے کاموں پر گاؤں کے نمبرداروں نے اس کو جوتے بھی مارے ہیں اور اس کی ماں اور دادیاں اور نانیاں ہمیشہ سے ایسے ہی نجس کام میں مشغول رہی ہیں اور سب مردار کھاتے اور گوہ اٹھاتے ہیں۔ اب خدا تعالیٰ کی قدرت پر خیال کر کے ممکن تو ہے کہ وہ اپنے کاموں سے تائب ہو کر مسلمان ہو جائے اور پھر یہ بھی ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ کا ایسا فضل اس پر ہو کہ وہ رسول اور نبی بھی بن جائے۔“

(تریاق القلوب صفحہ 152 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 279، 280 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 738، 739 پر)

View Proof

اہم نکات

مرزا قادیانی کی مندرجہ بالا تحریروں سے یہ نکتے سامنے آتے ہیں:

ثابت ہو سکتی ہے۔

کے لیے بھی سجدے کا حکم ہوا۔ (نعوذ باللہ)

صفحہ 253

چھپا ہوا ہے۔ (نعوذ باللہ)

بدکار اور نجس ہو، اس کی دادیاں اور نانیاں زنا کار ہوں، ایسا شخص بھی نبی اور رسول بن سکتا ہے۔ (نعوذ باللہ)

PDF 254
PDF 255

ثبوت حاضر ہیں!

حضرت عیسیٰ علیہ السلام

کی توہین

PDF 256
صفحہ 257

حضرات انبیائے کرام علیہم السلام میں سے سیدنا مسیح علیہ الصلوۃ والسلام والتسلیم اپنی بعض خصوصیات کے پیش نظر امتیازی مقام کے حامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ سے بن باپ پیدا ہونا، ایک خاص موقع پر زندہ آسمان پر اٹھایا جانا اور قرب قیامت میں دوبارہ دنیا میں واپسی، ایسی امتیازی خصوصیات ہیں جن میں ان کا کوئی دوسرا مقابل نہیں۔ بقول شخصے: عیسائی اور قادیانی اس حقیقت سے بے خبر ہیں کہ مسلمان حضرت مسیح علیہ السلام اور بی بی مریم علیہ السلام سے ہمیشہ جو ولولہ انگیز محبت کا اظہار کرتے آئے ہیں، اس کا منبع قرآن حکیم ہی ہے۔ وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ مسلمان مسیح علیہ السلام کا نام زبان پر لانے سے پہلے حضرت اور بعد میں علیہ السلام کا اضافہ کرتے ہیں۔ اور جو مسلمان بھی حضرت مسیح علیہ السلام کا نام ان مؤدبانہ الفاظ کے بغیر ادا کرتا ہے، اسے گستاخ سمجھا جاتا ہے۔ عیسائیوں کو یہ بھی معلوم نہیں کہ قرآن مجید میں حضرت مسیح علیہ السلام کا نام حضرت محمد ﷺ کے نام مبارک سے پانچ گنا زیادہ مرتبہ مذکور ہے یعنی حضرت مسیح علیہ السلام کا نام (25) مرتبہ اور حضرت محمد ﷺ کا نام (5) مرتبہ۔“ اگر چہ قرآن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا (25) مرتبہ براہِ راست نام مذکور ہے لیکن اس کے علاوہ بھی قرآن مجید میں انھیں کئی ایک مؤدبانہ القابات دیے گئے ہیں۔ مثلاً ابن مریم (بمعنی مریم کا بیٹا) مسیح علیہ السلام (عبرانی مسایا) جس کا انگریزی میں کرائسٹ ترجمہ کیا گیا۔ عبداللہ (اللہ کا بندہ یا خادم) رسول اللہ (اللہ کا پیغمبر)۔

اس کے علاوہ قرآن مجید میں ان کو کلمۃ اللہ، خدا کی رُوح اور خدا کی نشانی جیسے کئی اور پیارے القابات سے بھی یاد کیا گیا اور جن کا ذکر قرآن مجید کی پندرہ سورتوں پر محیط ہے۔ قرآن مجید نے اللہ تعالیٰ کے اس جلیل القدر پیغمبر کا ذکر انتہائی مؤدبانہ انداز سے کیا ہے۔ اسی وجہ سے مسلمان پچھلے چودہ سو سال سے ان کے اس بلند پایہ مقام کی قدر و منزلت کرتے چلے

صفحہ 258

آئے ہیں۔ اور ان سے بھولے سے بھی اس میں کوئی کمی سرزد نہیں ہوئی ہے۔ سارے قرآن مجید میں کوئی ایک لفظ، جملہ یا مقام بھی ایسا نہیں جس سے اللہ تعالیٰ کے اس جلیل القدر پیغمبر کی تحقیر ہوتی ہو اور جسے ایک حاسد ترین عیسائی یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بدترین دشمن قادیانی بھی قابل اعتراض سمجھتا ہو۔

قرآن مجید میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سات معجزات درج ہیں:۔

سے بیٹا عطا ہوگا۔

طاقت نہیں ہوتی، اپنی والدہ کی تصدیق فرمائی۔

سے کھا کر آئے، اس کو بتا دینا۔

مرزا قادیانی، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ان معجزات کا انکاری ہے۔ اس کی وجہ سوائے اس کے اور کوئی نہیں ہو سکتی کہ وہ حضرت مسیح علیہ السلام کو حضرات انبیاءؑ میں سے یقین نہیں کرتا یا ان سے کوئی خاص عداوت رکھتا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی مغضوب و مردود قوم یہود نے سب سے بڑھ کر سیدنا مسیح علیہ السلام اور ان کی پاک دامن و عفت مآب والدہ محترمہ سیدتنا مریم صدیقہ طاہرہ سلام اللہ تعالیٰ علیہا و رضوانہ، پر طرح طرح کے الزامات لگائے۔۔۔ انہیں اذیت پہنچائی۔ سیدنا مسیح علیہ السلام کے قتل کے منصوبے بنائے اور تکلیف و اذیت کے حوالہ سے جو ہو سکا، انہوں نے کیا۔ صدیوں بعد اس روایت کو قادیانی دہقان مرزا قادیانی نے دُہرایا اور اپنے گستاخ و بے لگام قلم سے سیدنا مسیح علیہ السلام اور ان کی عظیم المرتبت والدہ کے خلاف وہ بہتان طرازیاں کیں کہ یہود کی روح بھی شاید شرما اٹھی ہو۔ یہ بدزبانی اور دوں نہادی جس کا رویہ ہو،

صفحہ 259

اسے شریف انسان کہنا بھی مشکل ہے۔

کئی سال پیشتر حکومت نے موجودہ شناختی کارڈوں کی جگہ کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ جاری کرنے کا پروگرام بنایا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس نئے کارڈ پر بلڈ گروپ اور مذہب کا خانہ بھی ہونا چاہیے تاکہ معلوم ہو سکے کہ کون کس مذہب سے تعلق رکھتا ہے؟ مجلس کے اس مطالبہ کی تمام دینی جماعتوں نے نہ صرف حمایت کی بلکہ بھر پور انداز میں تحریک کا ساتھ بھی دیا۔

مذہب کا اظہار فخر کی علامت ہے۔ اگر مذہب کا اظہار شرمندگی کا باعث بنتا ہے تو اس پر لعنت بھیج کر اسے چھوڑ دینا چاہیے۔ یہودیوں کو اپنے یہودی ہونے پر فخر ہے، عیسائیوں کو اپنے عیسائی ہونے پر فخر ہے، مسلمانوں کو اپنے مسلمان ہونے پر فخر ہے اور ہر مسلمان لاکھوں کے مجمع میں ڈنکے کی چوٹ پر اپنے دین کا اظہار کرنے میں خوشی محسوس کرتا ہے، خواہ اس کے لیے اسے کوئی بھی قربانی کیوں نہ دینا پڑے۔ آئین اور تعزیرات پاکستان کی رو سے قادیانی خود کو مسلمان کہہ سکتے اور نہ اپنا مذہب اسلام کے طور پر پیش کر سکتے ہیں۔ لیکن ڈھٹائی کی حد دیکھیے کہ قادیانی خود کو غیر مسلم اقلیت تسلیم نہیں کرتے بلکہ وہ مسلمانوں کو غیر مسلم کہتے ہیں اور خود کو مسلمان کہتے ہیں، اس لیے آئین اور قانون کی رُو سے قابل تعزیر ہیں۔ حکومت نے مجلس تحفظ ختم نبوت کے اس مطالبہ کو تسلیم کر لیا، جس پر پورے ملک میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ قادیانیوں نے اس مطالبہ کی منظوری کو اپنی موت سمجھا، لہٰذا انہوں نے عیسائی اقلیت کو ورغلایا اور پورے ملک میں احتجاجی تحریک شروع کر دی۔ پاکستان میں اسلام دشمن سیکولر لابیاں امریکی سفیر کی سرپرستی میں حسب سابق ان کی حمایت میں کھل کر میدان میں آگئیں، جس کے نتیجے میں حکومت نے شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ ختم کر دیا۔ اس کامیابی پر عیسائی اور قادیانی اقلیت نے خوب جشن منایا حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ قادیانیوں نے عیسائی اقلیت کو استعمال کر کے پاکستان اور بیرون ملک اپنے مذہب کی تبلیغ کی راہ ہموار کی۔ عیسائی اقلیت سے تعلق رکھنے والوں کے لیے یہ بات لمحہ فکریہ ہے!

مسیحی برادری جو آج کل قادیانیوں کی سرپرستی کر کے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے، ذرا مرزا قادیانی کی ان تحریرات اور عقائد کو ملاحظہ کرے کہ کیا وہ ان کی

صفحہ 260

حمایت کر کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی خوشنودی حاصل کر رہی ہے یا ناراضی؟ قادیانیت کے جال میں پھنسنے والے اور ان سے نرم گوشہ رکھنے والے مسلمان بھی ذرا مرزا قادیانی کی ان تحریرات کا مطالعہ کر کے فیصلہ کریں کہ کیا ایسا شخص مسلمان ہو سکتا ہے؟ قادیانیوں کی ان گستاخانہ عبارات پر کاش آسمان سے ان پر پتھروں کی بارش برستی اور وہ نیست و نابود ہو جاتے!

اعتراف عظمت

(176) ”ہم اس بات کے لیے بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا تعالیٰ کا سچا اور پاک اور راستباز نبی مانیں اور ان کی نبوت پر ایمان لاویں۔ سو ہماری کسی کتاب میں کوئی ایسا لفظ بھی نہیں ہے جو ان کی شان بزرگ کے برخلاف ہو اور اگر کوئی ایسا خیال کرے تو وہ دھوکا کھانے والا اور جھوٹا ہے۔“

(ایام الصلح [ٹائٹل پیج] صفحہ 2 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 228 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 740 پر)

View Proof

خبیث لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر تہمتیں لگاتے ہیں

(177) ”آپ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) خدا کے مقبول اور پیارے تھے۔ خبیث ہیں وہ لوگ جو آپ پر یہ تہمتیں لگاتے ہیں۔“

(نزول المسیح (ضمیمہ) صفحہ 30 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 134 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 741 پر)

View Proof

نعوذ باللہ

(178) ”وہ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) ایک عورت کے پیٹ میں نو مہینہ تک بچہ بن کر رہا اور خون حیض کھاتا رہا اور انسانوں کی طرح ایک گندی راہ سے پیدا ہوا۔ اور پکڑا گیا اور صلیب

صفحہ 261

پر کھینچا گیا۔“

(ست بچن صفحہ 141 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 265 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 742 پر)

(179) ”عیسیٰ بن مریم، مریم کے خون سے اور مریم کی منی سے پیدا ہوا۔“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 40 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 50 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 743 پر)

(180) ”ایک ضعیفہ عاجزہ کے پیٹ سے تولد پا کر (بقول عیسائیوں) وہ ذلت اور رسوائی اور ناتوانی اور خواری عمر بھر دیکھی کہ جو انسانوں میں سے وہ انسان دیکھتے ہیں کہ جو بدقسمت اور بے نصیب کہلاتے ہیں۔ اور پھر مدت تک ظلمت خانہ رحم میں قید رہ کر اور اس ناپاک راہ سے کہ جو پیشاب کی بدر رو ہے، پیدا ہو کر ہر یک قسم کی آلودہ حالت کو اپنے اوپر وارد کر لیا اور بشری آلودگیوں اور نقصانوں میں سے کوئی ایسی آلودگی باقی نہ رہی، جس سے وہ بیٹا باپ کا بدنام کنندہ ملوث نہ ہو۔“

(براہین احمدیہ صفحہ 368 مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 440 (حاشیہ) از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 744 پر)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام گالیاں دیتے تھے

(181) ”آپ (عیسیٰ علیہ السلام) کو گالیاں دینے اور بدزبانی کی اکثر عادت تھی، ادنیٰ ادنیٰ بات میں غصہ آجاتا تھا، اپنے نفس کو جذبات سے نہیں روک سکتے تھے، مگر میرے نزدیک آپ کی یہ حرکات جائے افسوس نہیں کیونکہ آپ تو گالیاں دیتے تھے اور یہودی ہاتھ سے کسر نکال لیا کرتے تھے۔ یہ بھی یاد رہے کہ آپ (عیسیٰ علیہ السلام) کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔“

(حاشیہ انجام آتھم صفحہ 5 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 289 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 745 پر)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے انجیل چرا کر لکھی

(182) ”نہایت شرم کی بات یہ ہے کہ آپ نے پہاڑی تعلیم کو جو انجیل کا مغز کہلاتی ہے،

صفحہ 262

یہودیوں کی کتاب طالمود سے چرا کر لکھا ہے اور پھر ایسا ظاہر کیا ہے کہ گویا یہ میری تعلیم ہے۔“

(حاشیہ انجام آتھم صفحہ 6 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 290 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 746 پر)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کوئی معجزہ نہیں

(183) ”عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا اور اس دن سے کہ آپ نے معجزہ مانگنے والوں کو گندی گالیاں دیں اور ان کو حرام کار اور حرام کی اولاد ٹھہرایا، اسی روز سے شریفوں نے آپ سے کنارہ کیا۔“

(حاشیہ انجام آتھم صفحہ 5 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 290 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 747 پر)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزوں کی حقیقت

(184) ”سو کچھ تعجب کی جگہ نہیں کہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح کو عقلی طور سے ایسے طریق پر اطلاع دے دی ہو جو ایک مٹی کا کھلونا کسی کل کے دبانے یا کسی پھونک مارنے کے طور پر ایسا پرواز کرتا ہو جیسے پرندہ پرواز کرتا ہے یا اگر پرواز نہیں تو پیروں سے چلتا ہو کیونکہ حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس برس کی مدت تک نجاری کا کام بھی کرتے رہے ہیں اور ظاہر ہے کہ بڑھئی کا کام درحقیقت ایک ایسا کام ہے جس میں کلوں کے ایجاد کرنے اور طرح طرح کی صنعتوں کے بنانے میں عقل تیز ہو جاتی ہے اور جیسے انسان میں قوٰی موجود ہوں انہیں کے موافق اعجاز کے طور پر بھی مدد ملتی ہے۔“

(ازالہ اوہام صفحہ 154، 155 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 254، 255 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 748، 749 پر)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مکر و فریب

(185) ”آپ کے ہاتھ میں سوا مکر اور فریب کے اور کچھ نہیں تھا۔“

(انجام آتھم صفحہ 7 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 291 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 750 پر)

صفحہ 263

(186) ”مسیح کے معجزات تو اس تالاب کی وجہ سے بے رونق اور بے قدر تھے جو مسیح کی ولادت سے بھی پہلے مظہر عجائبات تھا جس میں ہر قسم کے بیمار اور تمام مجذوم، مفلوج، مبروص وغیرہ ایک ہی غوطہ مار کر اچھے ہو جاتے تھے۔“

(ازالہ اوہام صفحہ 322 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 263 (حاشیہ) از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 751 پر)

(187) ”یہ اعتقاد بالکل غلط اور فاسد اور مشرکانہ خیال ہے کہ مسیح مٹی کے پرندے بنا کر اور ان میں پھونک مار کر انھیں سچ مچ کے جانور بنا دیتا تھا۔ نہیں بلکہ صرف عمل الترب تھا جو روح کی قوت سے ترقی پذیر ہو گیا تھا۔“

(ازالہ اوہام صفحہ 322 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 263 (حاشیہ) از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 752 پر)

حالانکہ قرآن مجید حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ معجزہ بڑے واضح الفاظ میں بیان کرتا ہے۔ (دیکھئے آل عمران: 49، 50) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزوں کا انکار کرنا کفر ہے جیسا کہ مرزا قادیانی نے اختیار کیا۔

(188) ”یہ بھی ممکن ہے کہ مسیح ایسے کام کے لیے اس تالاب کی مٹی لاتا تھا جس میں روح القدس کی تاثیر رکھی گئی تھی۔ بہر حال یہ معجزہ صرف ایک کھیل کی قسم میں سے تھا اور وہ مٹی در حقیقت ایک مٹی ہی رہتی تھی، جیسے سامری کا گوسالہ۔“

(ازالہ اوہام صفحہ 322 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 263 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 753 پر)

(189) ”ماسواہ اس کے یہ بھی قرین قیاس ہے کہ ایسے ایسے اعجاز طریق عمل الترب یعنی مسمریزی طریق سے بطور لہو ولعب نہ بطور حقیقت ظہور میں آسکیں کیونکہ عمل الترب میں جس کو زمانہ حال میں مسمریزم کہتے ہیں، ایسے ایسے عجائبات ہیں کہ اس میں پوری پوری مشق کرنے والے اپنی روح کی گرمی دوسری چیزوں پر ڈال کر ان چیزوں کو زندہ کے موافق کر دکھاتے ہیں۔“

(ازالہ اوہام صفحہ 155، 156 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 255، 256 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 754، 755 پر)

صفحہ 264

(190) ”مگر یاد رکھنا چاہیے کہ یہ عمل ایسا قدر کے لائق نہیں، جیسا کہ عوام الناس اس کو خیال کرتے ہیں۔ اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خدا تعالیٰ کے فضل و توفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان عجوبہ نمائیوں میں حضرت مسیح ابن مریم سے کم نہ رہتا۔“

(ازالہ اوہام صفحہ 158 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 257، 258 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 756، 757 پر)

View Proof

حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور کیڑے مکوڑے

(191) ”جس حالت میں برسات کے دنوں میں ہزارہا کیڑے مکوڑے خود بخود پیدا ہو جاتے ہیں اور حضرت آدم علیہ السلام بھی بغیر ماں باپ کے پیدا ہوئے تو پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اس پیدائش سے کوئی بزرگی ان کی ثابت نہیں ہوتی بلکہ بغیر باپ کے پیدا ہونا بعض قویٰ سے محروم ہونے پر دلالت کرتا ہے۔“

(چشمہ مسیحی صفحہ 24 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 356 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 758 پر)

View Proof

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیش گوئیاں

(192) ”ہائے کس کے آگے یہ ماتم لے جائیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تین پیشگوئیاں صاف طور پر جھوٹی نکلیں، اور آج کون زمین پر ہے جو اس عقدہ کو حل کر سکے۔“

(اعجاز احمدی، ضمیمہ نزول المسیح صفحہ 17 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 121 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 759 پر)

View Proof

(193) ”یسوع کی تمام پیشگوئیوں میں سے جو عیسائیوں کا مُردہ خدا ہے، اگر ایک پیشگوئی بھی اس پیشگوئی کے ہم پلہ اور ہموزن ثابت ہو جائے تو ہم ہر ایک تاوان دینے کو تیار ہیں۔ اس درماندہ انسان کی پیشگوئیاں کیا تھیں۔ صرف یہی کہ زلزلے آئیں گے، قحط پڑیں گے لڑائیاں ہوں گی پس ان دلوں پر خدا کی لعنت جنھوں نے ایسی ایسی پیشگوئیاں اس کی خدائی پر دلیل ٹھہرائیں اور ایک مُردہ کو اپنا خدا بنا لیا۔ کیا ہمیشہ زلزلے نہیں آتے؟ کیا ہمیشہ قحط نہیں

صفحہ 265

پڑتے؟ کیا کہیں نہ کہیں لڑائی کا سلسلہ شروع نہیں رہتا؟ پس اس نادان اسرائیلی نے ان معمولی باتوں کا پیشگوئی کیوں نام رکھا، محض یہودیوں کے تنگ کرنے سے۔ اور جب معجزہ مانگا گیا تو یسوع صاحب فرماتے ہیں کہ حرامکار اور بدکار لوگ مجھ سے معجزہ مانگتے ہیں۔ ان کو کوئی معجزہ دکھایا نہیں۔“

(انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 4 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 288 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 760 پر)

(194) ”مسیح کے معجزات اور پیشگوئیوں پر جس قدر اعتراضات اور شکوک پیدا ہوتے ہیں، میں نہیں سمجھ سکتا کہ کسی اور نبی کے خوارق یا پیش خبریوں میں کبھی ایسے شبہات پیدا ہوئے ہوں۔ کیا تالاب کا قصہ مسیحی معجزات کی رونق دُور نہیں کرتا؟ اور پیشگوئیوں کا حال اس سے بھی زیادہ تر ابتر ہے۔ کیا یہ بھی کچھ پیشگوئیاں ہیں کہ زلزلے آئیں گے، مری پڑے گی، لڑائیاں ہوں گی، قحط پڑیں گے۔ اور اس سے زیادہ تر قابل افسوس یہ امر ہے کہ جس قدر حضرت مسیح کی پیشگوئیاں غلط نکلیں اس قدر صحیح نہیں نکل سکیں۔“

(ازالہ اوہام صفحہ 6 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 106 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 761 پر)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام شراب پیتے تھے

(195) ”یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا ہے، اس کا سبب تو یہ تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔“

(کشتی نوح حاشیہ صفحہ 73 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 71 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 762 پر)

بقول مرزا قادیانی، حضرت عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے، اس جگہ ”پیا کرتے تھے“ صیغہ ماضی استمراری کے ہیں اور ہمیشگی پر دال ہیں۔ یعنی (نعوذ باللہ) ہمیشہ پیا کرتے تھے۔ مرزا قادیانی چونکہ خود ٹانک وائن شراب پیتا تھا۔ اس لیے اس نے اپنے لیے جواز پیدا کرنے کے لیے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر جھوٹا الزام لگا دیا۔

صفحہ 266

شراب کی تخم ریزی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کی

(196) ”پھر شراب کو دیکھو کہ تمام گناہوں کی جڑ ہے۔ اس کی تخم ریزی مسیح نے کی۔“

(ملفوظات جلد دوم صفحہ 423، طبع جدید، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 763 پر)

View Proof

شراب اور افیون

(197) ”ایک دفعہ مجھے ایک دوست نے یہ صلاح دی کہ ذیابیطس کے لیے افیون مفید ہوتی ہے پس علاج کی غرض سے مضائقہ نہیں کہ افیون شروع کر دی جائے۔ میں نے جواب دیا کہ یہ آپ نے بڑی مہربانی کی کہ ہمدردی فرمائی لیکن اگر میں ذیابیطس کے لیے افیون کھانے کی عادت کر لوں تو میں ڈرتا ہوں کہ لوگ ٹھٹھا کر کے یہ نہ کہیں کہ پہلا مسیح تو شرابی تھا اور دوسرا افیونی۔“

(نسیم دعوت صفحہ 69 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 434، 435 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 764، 765 پر)

View Proof

شراب اور خدائی کا دعویٰ

(198) ”یسوع اس لیے اپنے تئیں نیک نہیں کہہ سکا کہ لوگ جانتے تھے کہ یہ شخص شرابی کبابی ہے اور یہ خراب چال چلن نہ خدائی کے بعد بلکہ ابتداء ہی سے ایسا معلوم ہوتا ہے چنانچہ خدائی کا دعویٰ شراب خواری کا ایک بد نتیجہ ہے۔“

(ست بچن حاشیہ صفحہ 172 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 296 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 766 پر)

View Proof

مسیح کا چال چلن

(199) ”مسیح کا چال چلن آپ کے نزدیک کیا تھا۔ ایک کھاؤ پیو۔ شرابی، نہ زاہد نہ عابد، نہ حق کا پرستار، متکبر، خود بین، خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔“

(نورالقرآن صفحہ 12 مندرجہ روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 387 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 767 پر)

View Proof

صفحہ 267

حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور کنجریاں

(200) ”آپ (عیسیٰ علیہ السلام) کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا مگر شاید یہ بھی خدائی کے لیے ایک شرط ہو گی۔ آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگا وے اور زناکاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے۔“

(انجام آتھم صفحہ 7 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 291 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 768 پر)

View Proof

(201) ”ایک کنجری خوبصورت ایسی قریب بیٹھی ہے گویا بغل میں ہے۔ کبھی ہاتھ لمبا کر کے سر پر عطر مل رہی ہے، کبھی پیروں کو پکڑتی ہے اور کبھی اپنے خوشنما اور سیاہ بالوں کو پیروں پر رکھ دیتی ہے اور گود میں تماشہ کر رہی ہے۔ یسوع صاحب اس حالت میں وجد میں بیٹھے ہیں اور کوئی اعتراض کرنے لگے تو اس کو جھڑک دیتے ہیں اور طرفہ یہ کہ عمر جوان اور شراب پینے کی عادت اور پھر مجرد۔ اور ایک خوبصورت کسبی عورت سامنے پڑی ہے جسم کے ساتھ جسم لگا رہی ہے۔ کیا یہ نیک آدمیوں کا کام ہے اور اس پر کیا دلیل ہے کہ اس کسبی کے چھونے سے یسوع کی شہوت نے جنبش نہیں کی تھی۔ افسوس کہ یسوع کو یہ بھی میسر نہیں تھا کہ اس فاحشہ پر نظر ڈالنے کے بعد اپنی کسی بیوی سے صحبت کر لیتا۔ کمبخت زانیہ کے چھونے سے اور ناز و ادا کرنے سے کیا کچھ نفسانی جذبات پیدا ہوئے ہوں گے۔ اور شہوت کے جوش نے پورے طور پر کام کیا ہوگا۔ اسی وجہ سے یسوع کے منہ سے یہ بھی نہ نکلا کہ اے حرام کار عورت مجھ سے دور رہ۔ اور یہ بات انجیل سے ثابت ہوتی ہے کہ وہ عورت طوائف میں سے تھی اور زنا کاری میں سارے شہر میں مشہور تھی۔“

(نورالقرآن صفحہ 74 مندرجہ روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 449 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 769 پر)

View Proof

صفحہ 268

شراب اور فاحشہ عورتیں

(202) ”لیکن مسیح کی راستبازی اپنے زمانہ میں دوسرے راستبازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آکر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا یا ہاتھوں اور اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی، اسی وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔“

(دافع البلاء مقدمہ صفحہ 4 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 220 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 770 پر)

View Proof

(203) ”مسیح تو خود کنجریوں سے میل ملاواتا رہا۔ اگر استغفار کرتے تو یہ حالت نہ ہوتی...... مفتی محمد صادق صاحب جو کتاب سنایا کرتے ہیں جس میں مشیحہ مہنت کا طعمہ مشیح یہودی عاشق سلویٰ کا ذکر ہے کہ وہ محنت سلویٰ مشیح کو چھوڑ کر یسوع کے شاگردوں میں جاملیں اس لیے اس مشیح نے یہ سارا منصوبہ صلیب کا بنایا۔ گویا ایک عورت کے واقعہ نے ان کی صلیب تک نوبت پہنچائی...... ان کے نزدیک زیادہ شادیاں کرنا گناہ ہے مگر ایک بازاری عورت عطر ملتی ہے، تیل بالوں کو لگاتی ہے، بالوں میں کنگھی کرتی ہے اور یہ مہنت کی طرح بیٹھے ہوئے مزے سے سب کرواتے جاتے ہیں...... ان کو کنجریوں سے کیا تعلق تھا۔ اور اگر کہو کہ اس کنجری نے توبہ کی تھی تو کنجری کی توبہ کا اعتبار کیا۔ ایک طرف توبہ کرتی ہیں۔ ایک طرف پھر موڑھے پر بازار میں جا بیٹھتی ہیں...... پھر شراب کو دیکھو کہ تمام گناہوں کی جڑ ہے۔ اس کی خم ریزی مسیح نے کی۔“

(ملفوظات جلد دوم صفحہ 422، 423، طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 771، 772 پر)

View Proof

حرام کار عورتوں کے خمیر سے!

(204) ”اور نہ عیسائی مذہب کی طرح یہ سکھلاتا ہے کہ خدا (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) نے انسان کی طرح ایک عورت کے پیٹ سے جنم لیا اور نہ صرف نو مہینہ تک خون حیض کھا کر ایک گنہگار جسم سے جو بنت سبع اور تمر اور راحاب جیسی حرام کار عورتوں کے خمیر سے اپنی فطرت میں انانیت کا

صفحہ 269

حصہ رکھتا تھا، خون اور ہڈی اور گوشت کو حاصل کیا بلکہ بچپن کے زمانہ میں جو جو بیماریوں کی صعوبتیں ہیں جیسے خسرہ چیچک، دانتوں کی تکالیف وغیرہ تکلیفیں، وہ سب اٹھائیں اور بہت سا حصہ عمر کا معمولی انسانوں کی طرح کھو کر آخر موت کے قریب پہنچ کر خدائی یاد آ گئی مگر چونکہ صرف دعویٰ ہی دعویٰ تھا اور خدائی طاقتیں ساتھ نہیں تھیں، اس لیے دعویٰ کے ساتھ ہی پکڑا گیا۔‘‘

(ست بچن صفحہ 173 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 297، 298 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 773، 774 پر)

View Proof

کاش ایسا شخص دنیا میں نہ آیا ہوتا!

بے تکلف دیکھنا عادت ہو گیا۔ اول تو نظر کی بدکاریاں ہوئیں اور پھر معانقہ بھی ایک معمولی امر ہو گیا۔ پھر اس سے ترقی ہو کر بوسہ لینے کی بھی عادت پڑی، یہاں تک کہ استاد جوان لڑکیوں کو اپنے گھروں میں لے جا کر یورپ میں بوسہ بازی کرتے ہیں، اور کوئی منع نہیں کرتا۔ شیرینیوں پر فسق و فجور کی باتیں لکھی جاتی ہیں۔ تصویروں میں نہایت درجہ کی بدکاری کا نقشہ دکھایا جاتا ہے۔ عورتیں خود چھپواتی ہیں کہ میں ایسی خوبصورت ہوں اور میری ناک ایسی اور آنکھ ایسی ہے۔ اور ان کے عاشقوں کے ناول لکھے جاتے ہیں اور بدکاری کا ایسا دریا بہہ رہا ہے کہ نہ تو کانوں کو بچا سکتے ہیں نہ آنکھوں کو نہ ہاتھوں کو۔ نہ منہ کو۔ یہ یسوع صاحب کی تعلیم ہے۔ کاش! ایسا شخص دنیا میں نہ آیا ہوتا۔‘‘

(نورالقرآن صفحہ 42 مندرجہ روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 417 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 775 پر)

View Proof

حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور سؤروں کا شکار

(مرزا قادیانی) اکثر ذکر فرمایا کرتے تھے کہ بقول ہمارے مخالفین کے جب مسیح آئے گا اور لوگ اس کو ملنے کے لیے اس کے گھر پر جائیں گے تو گھر والے کہیں گے کہ مسیح صاحب باہر جنگل میں سور مارنے کے لیے گئے ہوئے ہیں پھر وہ لوگ حیران ہو کر کہیں گے کہ یہ کیسا مسیح

صفحہ 270

ہے کہ لوگوں کی ہدایت کے لیے آیا ہے اور باہر سوروں کا شکار کھیلتا پھرتا ہے۔ پھر فرماتے ہیں کہ ایسے شخص کی آمد سے تو سانسیوں اور گنڈیلوں کو خوشی ہو سکتی ہے جو اس قسم کا کام کرتے ہیں، مسلمانوں کو کیسے خوشی ہو سکتی ہے۔ یہ الفاظ بیان کر کے آپ بہت ہنستے تھے۔ یہاں تک کہ اکثر اوقات آپ کی آنکھوں میں پانی آجاتا تھا۔“

(سیرت المہدی جلد 3 صفحہ 291، 292 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 776، 777 پر)

View Proof

کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کبھی سُؤر بھی کھایا تھا؟

(207) ”سچ ہے ”عیسائی باش ہر چہ خواہی بکن۔“ سور کو حرام ٹھہرانے میں توریت میں کیا کیا تاکیدیں تھیں، یہاں تک کہ اس کا چھونا بھی حرام تھا اور صاف لکھا تھا کہ اس کی حرمت ابدی ہے۔ مگر ان لوگوں نے اس سور کو بھی نہیں چھوڑا جو تمام نبیوں کی نظر میں نفرتی تھا۔ یسوع کا شرابی کبابی ہونا تو خیر ہم نے مان لیا مگر کیا اس نے کبھی سُؤر بھی کھایا تھا۔“

(سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب صفحہ 47 مندرجہ روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 373 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 778 پر)

View Proof

اخلاقی تعلیم؟

(208) ”پھر تعجب ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے خود اخلاقی تعلیم پر عمل نہیں کیا۔ انجیر کے درخت کو بغیر پھل کے دیکھ کر اس پر بددعا کی اور دوسروں کو دعا کرنا سکھلایا، اور دوسروں کو یہ بھی حکم دیا کہ تم کسی کو احمق مت کہو۔ مگر خود اس قدر بد زبانی میں بڑھ گئے کہ یہودی بزرگوں کو ولد الحرام تک کہہ دیا اور ہر ایک وعظ میں یہودی علماء کو سخت سخت گالیاں دیں اور بڑے بڑے ان کے نام رکھے۔ اخلاقی معلم کا فرض یہ ہے کہ پہلے آپ اخلاق کریمہ دکھلا دے۔ پس کیا ایسی تعلیم ناقص جس پر انھوں نے آپ بھی عمل نہ کیا خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو سکتی ہے؟“

(چشمہ مسیحی صفحہ 14 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 346 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 779 پر)

View Proof

صفحہ 271

دماغ میں خلل

اور ان کو یقین تھا کہ آپ کے دماغ میں ضرور کچھ خلل ہے اور وہ ہمیشہ چاہتے رہے کہ کسی شفاخانہ میں آپ کا باقاعدہ علاج ہو، شاید خدا تعالیٰ شفا بخشے۔“

(انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 6 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 290 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 780 پر)

View Proof

دیوانہ

(ست بچن صفحہ 171 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 295 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 781 پر)

View Proof

حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایک شرمناک بہتان

صفت نہیں۔ جیسے بہرہ اور گونگا ہونا کسی خوبی میں داخل نہیں۔ ہاں یہ اعتراض بہت بڑا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام مردانہ صفات کی اعلیٰ ترین صفت سے بے نصیب محض ہونے کے باعث ازواج سے بچی اور کامل حسن معاشرت کا کوئی عملی نمونہ نہ دے سکے۔“

(نور القرآن صفحہ 17، 18 مندرجہ روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 392، 393 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 782، 783 پر)

View Proof

پہلے مسیح سے بڑھ کر

بہت بڑھ کر ہے اور اس نے اس دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا۔“

(دافع البلاء صفحہ 13 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 233 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 784 پر)

View Proof

صفحہ 272

پیٹ میں باتیں

(213) ”یہ عجیب بات ہے کہ حضرت مسیح نے تو صرف مہد میں ہی باتیں کیں مگر اس (مرزا قادیانی کے) لڑکے نے پیٹ میں ہی دو مرتبہ باتیں کیں۔“

(تریاق القلوب صفحہ 89 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 217 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 785 پر)

View Proof

حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر فضیلت

(214) ”ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے“

(دافع البلاء صفحہ 20 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 240 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 786 پر)

View Proof

(215) ”ایک منم کہ حسب بشارات آمدم
عیسیٰ کجاست تابہ نہد پا بممبرم“ View Proof

(ازالہ اوہام صفحہ 158 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 180 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 787 پر)

ترجمہ: میں (مرزا) حسب بشارت آگیا ہوں عیسیٰ کہاں ہے کہ میرے منبر پر قدم رکھے۔

(216) ”دنیا میں بہت سے نبی گزرے ہیں مگر ان کے شاگرد محدثیت کے درجہ سے آگے نہیں بڑھے سوائے ہمارے نبی صلعم کے کہ اس کے فیضان نے اس قدر وسعت اختیار کی کہ اس کے شاگردوں میں سے علاوہ بہت سے محدثوں کے، ایک (مرزا قادیانی) نے نبوت کا بھی درجہ پایا اور نہ صرف یہ کہ نبی بنا بلکہ اپنے مطاع کے کمالات کو ظلی طور پر حاصل کر کے بعض اولو العزم نبیوں سے بھی آگے نکل گیا چنانچہ خدا تعالیٰ نے مسیح ناصری جیسے اولوالعزم نبی پر اسے فضیلت دی۔“

(حقیقۃ النبوۃ صفحہ 257 مندرجہ انوار العلوم جلد 2 صفحہ 568، از مرزا بشیر الدین محمود)

(عکس صفحہ نمبر 788 پر)

View Proof

صفحہ 273

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوسرے نام

(راز حقیقت صفحہ 19 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 171 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 789 پر)

View Proof

جن کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں“۔

(توضیح مرام صفحہ 4 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 52 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 790 پر)

View Proof

مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ وہ نبی اور رسول ہے، اس سے ہرگز توقع نہ تھی کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ایسی عامیانہ زبان استعمال کرتا۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی محض اس لیے کردار کشی کی ہے کہ وہ ان کی بلند پایہ شخصیت کو مسخ کر کے آنے والے مسیح کے طور پر اپنی جگہ بنانا چاہتا تھا تاکہ مسلمان حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے متنفر ہو کر ان کی آمد ثانی کو بھول جائیں اور اسے (یعنی مرزا قادیانی کو) مسیح موعود تسلیم کر لیں۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق مرزا قادیانی کی مذکورہ بالا توہین آمیز عبارات کے بارے میں قادیانیوں کا کہنا ہے کہ یہ عبارات انجیل سے لی گئیں ہیں جبکہ مرزا قادیانی انجیل و توریت کے بارے میں لکھتا ہے۔

توریت و انجیل تحریف شدہ ہیں

کے ہاتھوں سے اس قدر محرف و مبدل ہو گئی ہیں کہ اب ان کتابوں کو خدا کا کلام نہیں کہہ سکتے۔“

(تذکرۃ الشہادتین صفحہ 3 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 4 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 791 پر)

View Proof

صفحہ 274

چکی تھیں اور بہت جھوٹ ان میں ملائے گئے تھے جیسا کہ کئی جگہ قرآن شریف میں فرمایا گیا ہے کہ وہ کتابیں محرف مبدل ہیں اور اپنی اصلیت پر قائم نہیں رہیں۔ چنانچہ اس واقعہ پر اس زمانہ میں بڑے بڑے محقق انگریزوں نے بھی شہادت دی ہے۔“

(چشمہ معرفت صفحہ 255 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 266 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 792 پر)

View Proof

(221) ”غرض یہ چاروں انجیلیں جو یونانی سے ترجمہ ہو کر اس ملک میں پھیلائی جاتی ہیں، ایک ذرہ قابل اعتبار نہیں۔“

(تریاق القلوب صفحہ 14 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 142 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 793 پر)

View Proof

مرزا قادیانی مزید اعتراف کرتے ہوئے لکھتا ہے:

میں نے جو کچھ لکھا، وہ یہودیوں کے الفاظ ہیں

(222) ”ہمارے قلم سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت جو کچھ خلاف شان ان کے نکلا ہے، وہ الزامی جواب کے رنگ میں ہے اور وہ دراصل یہودیوں کے الفاظ ہم نے نقل کیے ہیں۔“

(چشمہ مسیحی صفحہ 4 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 336 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 794 پر)

View Proof

شمع قربت بجھ گئی یہ کس نے ٹھنڈی سانس لی
ہائے ہمدردی کے پردے میں اندھیرا ہو گیا

مرزا قادیانی فراموش کر گیا کہ یہودیوں کے ہاں حضرت مسیح علیہ السلام گردن زدنی تھے اور ہمارے ہاں وہ ایک اولوالعزم رسول ہیں۔ کیا ایک مسلمان کے لیے مناسب ہے کہ وہ یہودیوں کا ہم آہنگ ہو کر ایک جلیل المرتبت پیغمبر کے خلاف زبان کھولے؟ یہودی تو ہمارے حضور پرنور ﷺ کو بھی گالیاں دیتے ہیں، کیا ہم (نعوذ باللہ) اس معاملے میں بھی ان کی تقلید کریں؟

مرزا قادیانی لکھتا ہے:

صفحہ 275

یہودیوں کی پیروی

(223) ”جس طرح یہود محض تعصب سے حضرت عیسیٰؑ اور ان کی انجیل پر حملے کرتے ہیں ۔ اسی رنگ کے حملے عیسائی قرآن شریف اور آنحضرت ﷺ پر کرتے ہیں۔ عیسائیوں کو مناسب نہ تھا کہ اس بدطریق میں یہودیوں کی پیروی کرتے۔“

(چشمہ مسیحی صفحہ 4 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 337 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 795 پر)

View Proof

اگر عیسائیوں کے لیے یہود کے ”طریق بد“ کی پیروی نامناسب تھی تو مرزا قادیانی کے لیے اسی پیروی کا جواز کہاں سے نکل آیا۔“ حالانکہ مرزا قادیانی کا کہنا ہے:

مسلمان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گالی نہیں دے سکتا

(224) ”مسلمان سے یہ ہرگز نہیں ہوسکتا کہ اگر کوئی پادری ہمارے نبی ﷺ کو گالی دے تو ایک مسلمان اس کے عوض میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گالی دے۔“

(تریاق القلوب صفحہ 363 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 491 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 796 پر)

View Proof

میں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہر لحاظ سے ایک ہی ہیں

(225) ”میں وہ شخص ہوں جس کی روح میں بروز کے طور پر یسوع مسیح کی روح سکونت رکھتی ہے۔“

(تحفہ قیصریہ صفحہ 21 مندرجہ روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 273 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 797 پر)

View Proof

(226) ”خدا نے میرا نام مسیح موعود رکھا، یعنی ایک شخص جو عیسیٰ مسیح کے اخلاق کے ساتھ ہم رنگ ہے۔“

(کشف الغطاء صفحہ 16 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 192 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 798 پر)

View Proof

صفحہ 276

(227) ”اس مسیح کو ابن مریم سے ہر ایک پہلو سے تشبیہ دی گئی ہے۔“

(کشتی نوح صفحہ 49 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 53 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 799 پر)

View Proof

(228) ”مجھے خدا نے جو مسیح موعود کر کے بھیجا ہے اور حضرت مسیح ابن مریم کا جامہ مجھے پہنا دیا ہے۔“

(گورنمنٹ انگریزی اور جہاد صفحہ 14 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 14 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 800 پر)

View Proof

(229) ”حضرت مسیح کے اوتار کی سخت ضرورت تھی۔ سو میں وہی اوتار ہوں جو حضرت مسیح کی روحانی شکل اور خو اور طبیعت پر بھیجا گیا ہوں۔“

(ضمیمہ رسالہ جہاد صفحہ 4 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 26 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 801 پر)

View Proof

میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی کا نمونہ ہوں

(230) ”اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ خاکسار اپنی غربت اور انکسار اور توکل اور ایثار اور آیات اور انوار کے رُو سے مسیح کی پہلی زندگی کا نمونہ ہے، اور اس عاجز کی فطرت اور مسیح کی فطرت باہم نہایت ہی مشابہ واقع ہوئی ہے، گویا ایک ہی جوہر کے دو ٹکڑے یا ایک ہی درخت کے دو پھل ہیں۔“

(براہین احمدیہ جلد 1 صفحہ 499 مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 593 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 802 پر)

View Proof

میں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام دونوں بھائی ہیں

(231) ”میں ایسے شخص کو جو عورت کے پیٹ سے نکل کر خدا ہونے کا دعویٰ کرے، بہت ہی بڑا گنہگار اور ناپاک انسان سمجھتا ہوں۔ مگر ہاں میرا یہ مذہب ہے کہ مسیح ابن مریم رسول اس الزام سے پاک ہے۔ اس نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا۔ میں اسے اپنا ایک بھائی سمجھتا ہوں۔

صفحہ 277

اگرچہ خدا تعالیٰ کا فضل مجھ پر اس سے بہت زیادہ ہے۔ اور وہ کام جو میرے سپرد کیا گیا ہے۔ اس کے کام سے بہت ہی بڑھ کر ہے۔ تاہم میں اس کو اپنا ایک بھائی سمجھتا ہوں اور میں نے اسے بار ہا دیکھا ہے۔ ایک بار میں نے اور مسیح نے ایک ہی پیالہ میں گائے کا گوشت کھایا تھا۔ اس لیے میں اور وہ ایک ہی جوہر کے دو ٹکڑے ہیں۔‘‘

(ملفوظات جلد دوم صفحہ 251، طبع جدید، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 803 پر)

View Proof

عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی

(232) ’’اس نے براہین احمدیہ کے تیسرے حصہ میں میرا نام مریم رکھا۔ پھر جیسا کہ براہین احمدیہ سے ظاہر ہے دو برس تک صفت مریمیت میں میں نے پرورش پائی اور پردہ میں نشو و نما پاتا رہا۔ پھر جب اس پر دو برس گزر گئے تو جیسا کہ براہین احمدیہ کے حصہ چہارم صفحہ 496 میں درج ہے۔ مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینہ کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں بذریعہ اس الہام کے جو سب سے آخر براہین احمدیہ کے حصہ چہارم صفحہ 556 میں درج ہے، مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ پس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا۔‘‘

(کشتی نوح صفحہ 52 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 50 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 804 پر)

View Proof

مرزا قادیانی کے ان مذکورہ بالا دعوؤں کے باعث سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس نے اپنی تحریروں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر جن نازیبا اور غیر اخلاقی الزامات کی بوچھاڑ کی ہے، کیا وہ خود اس کی زد میں نہیں آتا؟؟؟

اعتراف

(233) ’’کوئی دانشمند اور قائم الحواس آدمی ایسے دو متضاد اعتقاد ہرگز نہیں رکھ سکتا۔‘‘

(ازالہ اوہام صفحہ 239 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 220 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 805 پر)

View Proof

صفحہ 278

(234) ”کسی سچے اور عقلمند اور صاف دل انسان کے کلام میں ہرگز تناقض نہیں ہوتا۔ ہاں اگر کوئی پاگل اور مجنوں یا ایسا منافق ہو کہ خوشامد کے طور پر ہاں میں ہاں ملا دیتا ہو۔ اس کا کلام بے شک متناقض ہو جاتا ہے۔“

(ست بچن صفحہ 30 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 142 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 806 پر)

View Proof

(235) ”جھوٹے کے کلام میں تناقض ضرور ہوتا ہے۔“

(براہین احمدیہ (ضمیمہ) حصہ پنجم صفحہ 111 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 275 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 807 پر)

View Proof

اہم نکات

مرزا قادیانی کے مندرجہ بالا حوالہ جات سے پتہ چلتا ہے کہ:۔

جوہر کے دو ٹکڑے یا ایک ہی درخت کے دو پھل ہیں۔

ملاقات کی۔ دونوں نے ایک ہی پیالہ میں کھایا۔

روحانی شکل، خو اور طبیعت پر بھیجا گیا۔

لہٰذا ان حوالہ جات کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ صورت حال منظر عام پر آتی ہے کہ خود:

صفحہ 279

اور گندی راہ سے پیدا ہوا۔

ہے، پیدا ہو کر ہر قسم کی آلودہ حالت کو اپنے اوپر وارد کر لیا۔

آ جاتا تھا۔ اپنے نفس کو جذبات سے روک نہیں سکتا تھا۔

خون سے اس کا جنم ہوا۔

ملواتا تھا۔ آپ خود سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے؟

زنا کاری میں اضافہ ہوا۔

PDF 280
PDF 281

ثبوت حاضر ہیں!

حضرت مریم علیہا السلام

کی توہین

Back

PDF 282
صفحہ 283

حضرت مریم علیہا السلام، اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ نبی اور رسول حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ ماجدہ ہیں۔ قرآن حکیم میں حضرت مریم کا بنت عمران (التحریم: 12) اور ”اخت ہارون“ کے نام سے بھی ذکر کیا گیا ہے۔ ان کی ولادت اور ابتدائی حالات کا ذکر سورۂ آل عمران میں آیا ہے اور بعد کے حالات، بالخصوص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کا مفصل ذکر، سورۂ مریم میں آیا ہے، جو حضرت مریم ہی کے نام سے منسوب ہے۔

عمران کی اولاد نہ تھی۔ ان کی بیوی حنہ بنت فاقوذ، جو بعد میں حضرت مریم علیہ السلام کی والدہ بنیں، بانجھ تھیں۔ ایک روز حنہ نے ایک پرندے کو دیکھا، جو اپنے بچے کی چونچ بھر رہا تھا۔ دل پر چوٹ لگی اور بچے کی آرزو سے بیتاب ہوگئیں۔ بے ساختہ بارگاہ ایزدی میں دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیے۔ اللہ تعالیٰ نے دعا قبول فرمائی اور تھوڑے ہی عرصے بعد وہ امید سے ہوگئیں۔ اس حالت امید میں انھوں نے یہ نذر مانی کہ وہ ہونے والے بچے کو بیت المقدس کی خدمت کے لیے وقف کر دیں گی، چنانچہ قرآن عزیز میں ہے:

(ترجمہ) ”اللہ اس وقت سن رہا تھا جب عمران کی بیوی کہہ رہی تھیں کہ میرے رب کریم! میں اس بچے کو، جو میرے پیٹ میں ہے، تیری نذر کرتی ہوں، وہ تیرے ہی کام کے لیے وقف ہوگا، میری اس پیشکش کو قبول فرما، تُو سننے اور جاننے والا ہے۔ پھر جب وہ بچی اس کے ہاں پیدا ہوئی تو اس نے کہا: رب کریم! میرے ہاں تو لڑکی پیدا ہوئی ہے حالانکہ جو کچھ اس نے جنا تھا، اللہ کو اس کی خبر تھی اور...... لڑکا لڑکی کی طرح نہیں ہوتا، میں نے اس کا نام مریم رکھ دیا ہے اور میں اسے اور اس کی آئندہ نسل کو شیطان مردود کے فتنے سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔“

(آل عمران: 35 تا 36)

علامہ ابن کثیرؒ نے لکھا ہے کہ ام مریم نے بچی کے پیدا ہونے پر تاسف کا اظہار اس

صفحہ 284

لیے کیا کہ اس زمانے میں یہود بیت المقدس کی خدمت کے لیے اپنی نرینہ اولاد ہی وقف کیا کرتے تھے۔ حنہ نے بچی کا نام مریم رکھ دیا۔ سریانی میں اس کے معنی خادم کے ہیں۔ البیضاوی، الخازن اور النسفی نے اس کے معنی عابدہ اور خادمہ کے تحریر کیے ہیں۔ حنہ نے اپنی نذر کی نیت کو نہ بدلا، البتہ مریم چونکہ سدانت اور کاہنوں کے سے فرائض انجام نہ دے سکتی تھی، اس لیے اسے زہد وعبادت کے لیے وقف کر دیا اور اس بچی کے لیے اور اس کی آئندہ اولاد کے لیے بارگاہِ ایزدی میں یہ دعا کی کہ رب کریم انھیں شیطان مردود کے فتنے سے محفوظ رکھے۔ یہ دعا سب سے بڑا ہدیہ اور تحفہ ہے، جو کوئی ماں اپنے جگر گوشہ کے لیے پیش کر سکتی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے ام مریم کے دل کی گہرائیوں سے نکلی ہوئی اس دعا کو بھی شرف قبول بخشا۔ حضرت ابو ہریرہؓ نے حضور ﷺ کا یہ ارشاد بیان کیا ہے۔ ”ما من مولود يولد الا مسه الشيطان حين يولد فيستهل صارخا من مسه اياه الا مريم و ابنها“ یعنی ہر بچے کی پیدائش پر شیطان بچے کو مس کرتا ہے تو اس کے مس سے بچہ چیخ اٹھتا ہے، مگر مریم اور ابن مریم اس کے مس سے محفوظ رہے ہیں۔

قرآن عزیز نے حضرت مریم علیہا السلام کی والدہ کی اس دعا کو قبول ہونے اور ان کے بہترین ہاتھوں میں تربیت پانے کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے: ”چنانچہ اس کے رب کریم نے اس لڑکی کو پسندیدگی کے ساتھ قبول فرما لیا اور اسے بڑی اچھی صفات سے آراستہ کر کے پروان چڑھایا اور حضرت زکریا علیہ السلام کو اس کا متکفل بنا دیا۔“ (آل عمران: 37)

جب حضرت مریم علیہا السلام سن رشد کو پہنچ گئیں اور بیت المقدس کی عبادت گاہ (ہیکل) میں ایک حجرے میں جسے یہود کے ہاں محراب کہا جاتا ہے، شب و روز عبادت میں مشغول رہنے لگیں اور جب کبھی حضرت زکریا علیہ السلام خبر گیری کے لیے ان کے پاس جاتے تو ان کے ہاں اللہ کی نعمتیں پاتے: ”یعنی زکریا علیہ السلام جب کبھی ان کے پاس محراب میں جاتے تو ان کے پاس کچھ نہ کچھ کھانے پینے کا سامان پاتے، پوچھتے، مریم! یہ تیرے پاس کہاں سے آیا؟ وہ جواب دیتیں: اللہ کے پاس سے آیا ہے، اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے۔“ (آل عمران: 37)

قرآن عزیز نے حضرت مریم علیہا السلام کو عفیفہ، پاکباز اور اپنے زمانے کی سیدۃ نساء العالمین بیان کیا ہے۔ ان کے زہد وعبادت کا ذکر کرتے ہوئے ان کے علو مرتبت کے

صفحہ 285

بارے میں یہ بتایا ہے کہ فرشتے ان کے پاس آتے تھے: ”اور (اس وقت کو یاد کرو) جب فرشتوں نے مریم علیہا السلام سے آ کر کہا: اے مریم! اللہ نے تجھے برگزیدہ کیا اور پاکیزگی عطا کی اور تمام دنیا کی عورتوں پر تجھ کو ترجیح دے کر اپنی خدمت کے لیے چن لیا۔ اے مریم علیہا السلام! اپنے رب کی تابع فرمانی کرنا، اس کے آگے سجدہ کرنا اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرنا۔“ (آل عمران: 42 تا 43) اس ضمن میں غیر معمولی اہمیت اور عظمت و فضیلت رکھنے والی خواتین کے بارے میں متعدد احادیث نقل کی ہیں، چنانچہ عورتوں میں سے حضرت مریم علیہا السلام، حضرت خدیجہ بنت خویلد، حضرت فاطمہ بنت محمد ﷺ اور آسیہ امراۃ فرعون کو افضل قرار دیا گیا ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ کی عظمت کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

قرآن مجید ان لمحات کا بھی ذکر کرتا ہے جب کنواری مریم کو فرشتوں نے بیٹے کی خوشخبری سنائی تو وہ حیرت و استعجاب کا پیکر بن کر رہ گئیں: ”جب فرشتوں نے کہا اے مریم! اللہ تجھے اپنی طرف سے ایک کلمہ کی خوشخبری دیتا ہے۔ اس کا نام مسیح ابن مریم ہوگا۔ وہ دنیا اور آخرت میں معزز اور اللہ کے مقرب بندوں میں سے ہوگا، لوگوں سے گہوارے میں بھی کلام کرے گا اور بڑی عمر کو پہنچ کر بھی اور نیکو کاروں میں ہوگا۔ یہ سن کر مریم بولی: پروردگار! میرے ہاں بچہ کیونکر ہوگا، مجھے تو کسی انسان نے ہاتھ تک نہیں لگایا۔ فرمایا: ایسا ہی ہوگا۔ اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، جب وہ کسی کام کے کرنے کا فیصلہ فرماتا ہے تو بس کہتا ہے کہ ہو جا تو وہ ہو جاتا ہے۔“ (آل عمران: 45 تا 47)

حضرت مسیح علیہ السلام کی معجزانہ ولادت کا ذکر مفصل طور پر سورۂ مریم میں ہوا ہے اور قرآن حکیم نے اتنی صراحت کے ساتھ معجزانہ ولادت کا ذکر کیا ہے کہ کسی قسم کا کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہتا۔ یہود و نصاریٰ نے چونکہ ولادت مسیح علیہ السلام سے متعلق بہت سے بے سروپا قصے مشہور کر رکھے تھے اس بنا پر سورۂ مریم میں ولادت مسیح علیہ السلام کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: (ترجمہ) ”اور اے نبی ﷺ! اس کتاب میں مریم علیہا السلام کا حال بیان کرو، جبکہ وہ اپنے لوگوں سے الگ ہو کر مشرقی جانب گوشہ نشین ہو گئی تھی اور پردہ ڈال کر ان سے چھپ کر بیٹھی تھی، اس حالت میں، ہم نے اس کے پاس اپنے خاص فرشتے کو بھیجا اور وہ اس کے سامنے ایک پورے انسان کی شکل میں نمودار ہو گیا۔ مریم علیہا السلام یکا یک بول اٹھی کہ اگر تو کوئی خدا ترس آدمی ہے تو میں تجھ سے رحمٰن کی پناہ مانگتی ہوں۔ اس نے کہا: میں تو تیرے رب

صفحہ 286

کا فرستادہ ہوں اور اس لیے بھیجا گیا ہوں کہ تجھے ایک پاکیزہ لڑکا دوں۔ مریم نے کہا: میرے ہاں کیسے لڑکا ہوگا جبکہ مجھے کسی بشر نے چھوا تک نہیں ہے اور میں کوئی بدکار عورت بھی نہیں ہوں۔ فرشتے نے کہا: ایسا ہی ہوگا۔ تیرا رب فرماتا ہے کہ ایسا کرنا میرے لیے بہت آسان ہے اور ہم یہ اس لیے کریں گے کہ اس لڑکے کو لوگوں کے لیے ایک نشانی بنائیں اور اپنی طرف سے ایک رحمت، اور یہ ایک طے شدہ بات ہے۔ مریم علیہا السلام کو اس بچے کا حمل رہ گیا اور اس حمل کو لیے ہوئے ایک دور کے مقام پر چلی گئی۔ پھر زچگی کی تکلیف نے اسے کھجور کے درخت کے نیچے پہنچا دیا۔ وہ کہنے لگی: کاش میں اس سے پہلے ہی مر جاتی اور میرا نام و نشان نہ رہتا۔ فرشتے نے پائنتی سے اس کو پکار کر کہا: غم نہ کر، تیرے رب نے تیرے نیچے ایک چشمہ رواں کر دیا ہے اور تو ذرا اس درخت کے تنے کو ہلا: تیرے اوپر تروتازہ کھجوریں ٹپک پڑیں گی پس تو کھا، پی اور اپنی آنکھیں ٹھنڈی کر۔ پھر اگر کوئی آدمی تجھے نظر آئے تو اس سے کہہ دے کہ میں نے رحمٰن کے لیے روزے کی نذر مانی ہے، اس لیے آج میں کسی سے نہ بولوں گی۔ پھر وہ اس بچے کو لیے ہوئے اپنی قوم میں آئی۔ لوگ کہنے لگے: اے مریم! یہ تو نے بڑا پاپ کیا ہے۔ اے ہارون کی بہن، نہ تیرا باپ کوئی برا آدمی تھا اور نہ تیری ماں ہی کوئی بدکار عورت تھی۔ مریم نے بچے کی طرف اشارہ کیا۔ لوگوں نے کہا: ہم اس سے کیا بات کریں جو گہوارے میں پڑا ہوا ایک بچہ ہے۔ بچہ بول اٹھا: میں اللہ کا بندہ ہوں۔ اس نے مجھے کتاب دی اور نبی بنایا اور مجھے بابرکت کیا ہے جہاں بھی رہوں اور زندگی بھر کے لیے نماز اور زکوٰۃ کی پابندی کا حکم دیا اور اپنی والدہ کا حق ادا کرنے والا بنایا اور مجھ کو شقی نہیں بنایا۔ سلام ہے مجھ پر جب کہ میں پیدا ہوا اور جبکہ میں مروں اور جبکہ میں زندہ کر کے اٹھایا جاؤں۔ یہ ہے عیسیٰ ابن مریم اور یہ ہے اس کے بارے میں وہ سچی بات جس میں لوگ شک کر رہے ہیں۔“ (مریم: 16 تا 34)

امام رازیؒ کے بقول حضرت مریم علیہا السلام کو معمول کے مطابق مدتِ حمل گزارنی نہ پڑی، بلکہ نفخ کے فوری بعد ولادت ہی عمل میں آگئی۔

یہاں مناسب ہوگا کہ حضرت مریم علیہا السلام سے متعلق یہودی اور نصرانی تصور کا بھی مختصر سا جائزہ لے لیا جائے۔ سورۃ النساء میں یہود کے گھناؤنے کردار کا ذکر کرتے ہوئے قرآن عزیز نے بتایا ہے کہ انھوں نے دیگر سنگین جرائم کے ارتکاب کے ساتھ ساتھ اس جرم کا بھی ارتکاب کیا کہ حضرت مریم علیہا السلام پر بہتان لگایا۔

صفحہ 287

”یعنی یہود اپنے کفر میں اتنے بڑھے کہ مریم پر سخت بہتان لگایا۔“ جیسا کہ سورۂ مریم میں مذکور ہوا ہے۔ یہود کو ابتدا میں حضرت مریم علیہا السلام پر شبہ گزرا، لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی معجزانہ ولادت کا ثبوت جب ان کے گہوارے میں معجزانہ کلام سے انھیں مل گیا تو ایک محیر العقول عظیم شخصیت کے بارے میں یہودیوں کو کسی قسم کا شک و شبہ باقی نہ رہا۔ چنانچہ انھوں نے نہ تو عفیفہ مریم علیہا السلام پر تیس برس کے عرصے میں تہمت لگائی اور نہ ہی عیسیٰ علیہ السلام کو کبھی ناجائز ولادت کا طعن کیا۔ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عمر تیس برس ہو گئی اور انھوں نے نبوت کے کام کی ابتدا کی اور اخلاقی بنیادوں پر نئی تعلیم پیش کی تو یہود جو مسیح منتظر سے عسکری توقعات وابستہ کیے ہوئے تھے، ان کے مخالف ہو گئے، اور انھوں نے نہ صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر زبان طعن دراز کی بلکہ ان کی پاکباز والدہ پر بہتان عظیم کے مرتکب ہوئے۔ اس وقت سے یہودی لٹریچر میں حضرت مریم علیہا السلام سے عیسیٰ علیہ السلام کی معجزانہ ولادت کا انکار کیا جاتا ہے، نیز اس امر کو بھی ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ حضرت مریم علیہا السلام کو کوئی اعلیٰ روحانی مقام حاصل نہ تھا، بلکہ وہ بھی موروثی گناہ کے داغ سے بچ نہ سکی تھیں۔

جہاں تک نصرانیوں کا تعلق ہے وہ حضرت مریم علیہا السلام کا غلو کی حد تک احترام کرتے ہیں۔ ان کے آرٹ، میوزک اور ادب میں حضرت مریم علیہا السلام کو ایک اہم مقام حاصل ہے۔ عیسائیوں کے ہاں مریم Mary کی شخصیت تدریجاً ارتقا پذیر ہوئی ہے جس کا اندازہ ان القابات سے لگایا جاسکتا ہے جو وقتاً فوقتاً انھیں دیے جاتے رہے ہیں، مثلاً کنواری ماں (Virgin Mother)، حوا ثانی (Second Eve)، مادر خداوند (Mother of (God، عذرا (Ever Virgin) وغیرہ (تفصیل کے لیے دیکھیے: The New " Encyclopaedia Britannica" شکاگو 1974، 6: 662)

اس بارے میں ایک خاص بات یہ قابل ذکر ہے کہ خود اناجیل میں حضرت مریم علیہا السلام کے بارے میں یہ ادب و احترام مفقود نظر آتا ہے۔

قرآن حکیم جو خدا کا محفوظ اور ابدی کلام ہے اور جس کی روش وقتی و سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہے، یہود کی روش اور نصاریٰ کے موقف کی واضح تردید کرتا ہے۔ یہود اور نصاریٰ دونوں کے مقامات لغزش کی نشاندہی بھی کرتا ہے، اس میں حضرت مریم علیہا السلام کو ایک طاہرہ، زاہدہ، عفیفہ، عابدہ، سیدہ نساء العالمین، فرشتوں سے مکالمہ کرنے والی اور رب کریم سے

صفحہ 288

مناجات کرنے والی اعلیٰ روحانی شخصیت کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے (دیکھیے آل عمران: 36، 37، 42، 45) سورۂ مائدہ میں انھیں صدیقہ کہا گیا ہے۔ سورۃ الانبیا میں حضرت مریم علیہا السلام کا تابناک کردار ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: یعنی وہ خاتون جس نے اپنی عصمت کی حفاظت کی تھی، ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی اور اسے اور اس کے بیٹے کو دنیا بھر کے لیے نشانی بنا دیا۔ (الانبیاء: 91)

سورۃ التحریم کی ایک جامع اور بلیغ آیت میں حضرت مریم علیہا السلام کا کردار ایک عظیم روحانی شخصیت کی صفاتِ حسنہ سے آراستہ ومزین پیش کیا گیا ہے: یعنی (اور اللہ تعالیٰ) عمران کی بیٹی مریم علیہا السلام کی مثال دیتا ہے جس نے اپنی عصمت کی حفاظت کی تھی، پھر ہم نے اس میں اپنی طرف سے روح پھونک دی اور اس نے اپنے رب کے ارشادات اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی اور وہ اطاعت گزار لوگوں میں سے تھی۔ (التحریم: 12)

(ماخوذ از اردو دائرہ معارف اسلامیہ)

بقول جناب احمد دیدات ”قرآن مجید کا پورا ایک باب سورۃ مریم حضرت مسیح علیہ السلام کی والدہ ماجدہ حضرت بی بی مریم علیہا السلام کے نام سے منسوب ہے۔ ایسا بلند پایہ مقام بی بی مریم علیہا السلام کو بائبل میں بھی حاصل نہیں ہے۔ رومن کیتھولک کی 73 اور پروٹسٹنٹ کی 66 کتابوں میں سے ایک کتاب بھی ایسی نہیں جس کا نام بی بی مریم علیہا السلام یا ان کے بیٹے حضرت یسوع علیہ السلام کے نام سے منسوب ہو۔ آپ کو بائبل میں متی، مرقس، لوقا، یوحنا، پطرس، پولوس اور ایسے ہی بیسیوں گمنام ناموں سے منسوب کتابیں تو ملیں گی۔ لیکن کوئی ایک واحد کتاب بھی ایسی نہیں جس کا نام حضرت عیسیٰ علیہ السلام یا ان کی والدہ بی بی مریم علیہا السلام کے نام سے منسوب ہو ۔“

حضرت مریم علیہا السلام ولیہ اور صدیقہ تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں ایمانی جمال اور علمی وعملی کمال عطا فرمایا تھا۔ نبی کریم ﷺ کی صحیح حدیث ہے کہ ”مرد تو بہت سارے کامل ہوئے ہیں لیکن عورتوں میں صرف فرعون کی بیوی آسیہ اور عمران کی بیٹی مریم صاحب کمال ہوئی ہیں اور تمام عورتوں پر عائشہ کو وہی فضیلت حاصل ہے جو ثرید کو سارے کھانوں پر حاصل ہے۔“

حضرت مریم علیہا السلام کو بہت ساری وہی خصوصیات کی بنا پر اپنے زمانے کی عورتوں پر فضیلت حاصل تھی۔ جو لوگ اللہ کے زیادہ قریب ہوتے ہیں وہ اتنے ہی زیادہ تابع

صفحہ 289

فرمان اور عبادت گزار ہوتے ہیں۔ امام اوزاعی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت مریم علیہا السلام نماز میں اتنا طویل قیام فرماتی تھیں کہ ان کے قدموں میں ورم آ جاتا تھا۔

قارئین کرام! آپ نے قرآن وحدیث کی روشنی میں حضرت مریم علیہا السلام کی شان اور عظمت ملاحظہ فرمائی کہ وہ کس قدر اعلیٰ خوبیوں اور روشن سیرت سے آراستہ تھیں۔ مگر آنجہانی مرزا قادیانی نے اپنی کتابوں میں اس عظیم روحانی شخصیت کا ذکر جس بازاری زبان میں کیا، اسے پڑھ کر ہر مسلمان کا دل خون کے آنسو روتا ہے۔ آئیے دل پر ہاتھ رکھ کر دیکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے حضرت مریم علیہا السلام کے بارے میں کیا ہرزہ سرائی کی؟

حضرت مریم علیہا السلام کی صدیقیت؟؟؟

(236) ”مولوی محمد ابراہیم صاحب بقاپوری نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا: ایک دفعہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ کی اللہ تعالیٰ نے صدیقہ کے لفظ سے تعریف فرمائی ہے۔ اس پر حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے اس جگہ حضرت عیسیٰ کی الوہیت توڑنے کے لیے ماں کا ذکر کیا ہے اور صدیقہ کا لفظ اس جگہ اس طرح آیا ہے، جس طرح ہماری زبان میں کہتے ہیں ”بھرجائی کانیے سلام آکھناں واں!“ جس سے مقصود کانا ثابت کرنا ہوتا ہے نہ کہ سلام کہنا۔ اسی طرح اس آیت میں اصل مقصود حضرت مسیح کی والدہ ثابت کرنا ہے جو منافی الوہیت ہے نہ کہ مریم کی صدیقیت کا اظہار۔“

(سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 230 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 808 پر)

View Proof

حضرت مریم کی اولاد؟

(237) ”یسوع مسیح کے چار بھائی اور دو بہنیں تھیں۔ یہ سب یسوع کے حقیقی بھائی اور حقیقی بہنیں تھیں یعنی سب یوسف اور مریم کی اولاد تھی۔“

(کشتی نوح صفحہ 20 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 18 (حاشیہ) از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 809 پر)

View Proof

صفحہ 290

حضرت مریم علیہا السلام کا دوسرا نکاح؟

(238) ”اور مریم کی وہ شان ہے جس نے ایک مدت تک اپنے تئیں نکاح سے روکا، پھر بزرگان قوم کے نہایت اصرار سے بوجہ حمل کے نکاح کر لیا۔ گو لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ برخلاف تعلیم توریت عین حمل میں کیونکر نکاح کیا گیا اور بتول ہونے کے عہد کو کیوں ناحق توڑا گیا اور تعدد ازواج کی کیوں بنیاد ڈالی گئی۔ یعنی باوجود یوسف نجار کی پہلی بیوی کے ہونے کے پھر مریم کیوں راضی ہوئی کہ یوسف نجار کے نکاح میں آوے۔ مگر میں کہتا ہوں کہ یہ سب مجبوریاں تھیں جو پیش آگئیں۔ اس صورت میں وہ لوگ قابل رحم تھے نہ قابل اعتراض۔“

(کشتی نوح صفحہ 20 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 18 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 810 پر)

View Proof

حضرت مریم صدیقہؓ کا اپنے منسوب سے نکاح سے پہلے تعلق

(239) ”پانچواں قرینہ ان کے وہ رسوم ہیں جو یہودیوں سے بہت ملتے ہیں۔ مثلاً ان کے بعض قبائل ناطہ اور نکاح میں کچھ چنداں فرق نہیں سمجھتے اور عورتیں اپنے منسوب سے بلا تکلف ملتی ہیں اور باتیں کرتی ہیں۔ حضرت مریم صدیقہ کا اپنے منسوب یوسف کے ساتھ قبل نکاح کے پھرنا اس اسرائیلی رسم پر پختہ شہادت ہے مگر خوانین سرحدی کے بعض قبائل میں یہ مماثلت عورتوں کی اپنے منسوبوں سے حد سے زیادہ ہوتی ہے حتیٰ کہ بعض اوقات نکاح سے پہلے حمل بھی ہو جاتا ہے جس کو برا نہیں مانتے بلکہ ہنسی ٹھٹھے میں بات کو ٹال دیتے ہیں کیونکہ یہود کی طرح یہ لوگ ناطہ کو ایک قسم کا نکاح ہی جانتے ہیں جس میں پہلے مہر بھی مقرر ہو جاتا ہے۔“

(ایام الصلح صفحہ 74 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 300 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 811 پر)

View Proof

نکاح سے دو ماہ بعد (نعوذ باللہ)

(240) ”مریم کو ہیکل کی نذر کر دیا گیا تا وہ ہمیشہ بیت المقدس کی خادمہ ہو۔ اور تمام عمر خاوند نہ کرے لیکن جب چھ سات مہینے کا حمل نمایاں ہو گیا۔ تب حمل کی حالت میں ہی قوم کے بزرگوں نے مریم کا یوسف نام ایک نجار سے نکاح کر دیا اور اس کے گھر جاتے ہی ایک دو ماہ

صفحہ 291

کے بعد مریم کو بیٹا پیدا ہوا۔ وہی عیسیٰ یا یسوع کے نام سے موسوم ہوا۔“

(چشمہ مسیحی صفحہ 24 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 355، 356 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 812، 813 پر)

View Proof

قارئین کرام: مرزا قادیانی نے حضرت مریم صدیقہ علیہا السلام کی پاکباز شخصیت پر جو بہتان ترازی کی ہے، وہ سراسر جھوٹ ہے۔ جھوٹ کے بارے مرزا قادیانی کا کہنا ہے:

کنجر اور ولدالزنا بھی جھوٹ بولتے ہوئے شرماتے ہیں

(241) ”وہ کنجر جو ولدالزنا کہلاتے ہیں، وہ بھی جھوٹ بولتے ہوئے شرماتے ہیں۔“

(شحنہ حق صفحہ 60 مندرجہ روحانی خزائن جلد 2 صفحہ 386 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 814 پر)

View Proof

جھوٹ بولنا اور گوہ کھانا ایک برابر ہے

(242) ”جھوٹ بولنا اور گوہ کھانا ایک برابر ہے۔“

(حقیقۃ الوحی صفحہ 206 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 215 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 815 پر)

View Proof

اہم نکات

مرزا قادیانی کی مذکورہ بالا تحریروں سے ثابت ہوا:

جھوٹ بولنے سے شرماتے ہیں۔

PDF 292
PDF 293

ثبوت حاضر ہیں!

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین

واہلِ بیت رضوان اللہ علیہم اجمعین

کی توہین

PDF 294
صفحہ 295

حضرات انبیائے علیہم الصلوٰۃ والسلام جیسے مبارک اور پاک طینت افراد کے بعد اس دھرتی پر انسانی آبادی میں جو طبقہ سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا مورد بنا، وہ حضرات صحابہ کرام علیہم الرضوان کا ہے۔ ان کی تربیت اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری رسول ﷺ سے بذریعہ وحی کروائی۔ صحابہ کرام کے دل نور ایمان سے روشن، پیشانیاں سجود عاشقانہ سے مزین، قلب حب خدا اور حب رسولؐ سے سرشار، زبانیں ذکر الٰہی سے تر و تازہ اور اعضا اطاعت الٰہی سے مہکتے تھے۔ اسی لیے ہر مسلمان کے لیے اسوہ صحابہؓ کو اپنانا اور ان کے نقش قدم کی پیروی کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ قرآن عزیز اس پاک باز جماعت کو ”اللہ کی جماعت“ قرار دیتا ہے۔ ایسی جماعت کہ فلاح اور کامیابی اس کا مقدر ہے اور وہ ہر حال میں کامیاب ہو کر رہے گی۔ اللہ تعالیٰ نے اس جماعت راشدہ صادقہ کو اپنی رضا کے سرٹیفکیٹ سے نوازا اور جنت عطا کرنے کا وعدہ فرمایا۔ حضور نبی مکرم، رسول رحمت، خاتم النبیین ﷺ نے اس جماعت راشدہ کو آسمان ہدایت کے ستارے قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”میرے صحابہؓ ستاروں کی مانند ہیں جس کی بھی چاہے پیروی کر لو، ہدایت پا جاؤ گے۔“ (مشکوٰۃ شریف) مزید ارشاد فرمایا ”خبردار ان کو اذیت پہنچانا، مجھے اذیت پہنچانا ہے، اور مجھے اذیت پہنچانا، اللہ رب العزت کے غضب کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔“ ایک اور موقع پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میرے صحابی کو گالیاں نہ دو، اگر تم میں سے کوئی شخص احد پہاڑ جتنا سونا اللہ تعالیٰ کے راستہ میں خرچ کر ڈالے تو ان کے ایک مٹھی بھر صدقہ کو نہیں پہنچ سکتا بلکہ مٹھی کے نصف کے نصف کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔“ ایک اور حدیث پاک میں آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو صحابہ کرامؓ کو گالیاں دیتے ہیں، تم کہو لعنت ہے تمہاری بدکلامی پر۔“ (ترمذی شریف)

اہل بیت عظام کا نسب نہایت پاکیزہ و عالی ہے۔ وہ تمام لوگوں میں سے بہتر، برگزیدہ اور پاکباز ہیں۔ ان کے حق میں قرآن کریم کی کئی آیات نازل ہوئیں اور کئی احادیث

صفحہ 296

نبویہ ان کی شان میں وارد ہوئیں۔ وہ طیب شجر نبوی کی مقدس شاخیں ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے ہر آلائش کو دور کر دیا ہے اور ان کا تزکیہ کیا ہے۔ اسلام کی سربلندی کے لیے ان کی خدمات، اسلامی تاریخ کا روشن باب ہیں۔ وہ سب مسلمانوں کے احترام، توقیر اور ان کی محبت کے لائق اور مستحق ہیں۔ ہر مسلمان اہل بیت سے محبت اپنے لیے سرمایہ حیات سمجھتا ہے۔ حضور نبی مکرم ﷺ نے اس گروہ صفا پر طعن و تشنیع کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت کا مستحق قرار دیا۔ لیکن اس دنیا میں ایسے بدبختوں اور نامرادوں کی کمی نہیں جو درسگاہ نبوت کے ان تربیت یافتہ رجال کار اور اہل بیت عظام کے خلاف اپنی گز گز بھر لمبی زبانیں کھولتے ہیں۔ ایسے ہی نامرادوں میں ایک آنجہانی مرزا قادیانی ہے جس کی سوقیانہ زبان اور بدبختی کے چند نمونے پیش نظر ہیں:۔

نادان صحابی

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 285 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 285 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 816 پر)

View Proof

حضرت ابوہریرہؓ کی توہین

(اعجاز احمدی صفحہ 18 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 127 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 817 پر)

View Proof

ردی متاع کی طرح پھینک دے۔"

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 410 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 410 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 818 پر)

View Proof

صفحہ 297

(246) ”بعض کم تدبر کرنے والے صحابی جن کی درایت اچھی نہیں تھی (جیسے ابو ہریرہ)...... اکثر باتوں میں ابوہریرہ بوجہ اپنی سادگی اور کمی درایت کے ایسے دھوکوں میں پڑ جایا کرتا تھا۔ چنانچہ ایک صحابی کے آگ میں پڑ جانے کی پیشگوئی میں بھی اس کو یہی دھوکہ لگا تھا اور آیت و ان من اھل الکتب الا لیومنن بہ قبل موتہ کے ایسے الٹے معنی کرتا تھا جس سے سننے والے کو ہنسی آتی تھی۔“

(حقیقۃ الوحی صفحہ 34 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 36 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 819 پر)

View Proof

حضرت ابوبکر صدیقؓ کی توہین

(247) ”میں وہی مہدی ہوں جس کی نسبت ابن سیرین سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ حضرت ابوبکرؓ کے درجہ پر ہے؟ تو انھوں نے جواب دیا کہ ابوبکرؓ کیا، وہ تو بعض انبیا سے بہتر ہے۔“

(مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 396، طبع جدید، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 820 پر)

View Proof

حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمرؓ کی توہین

(248) ”ابوبکرؓ وعمرؓ کیا تھے وہ تو حضرت غلام احمد (قادیانی) کی جوتیوں کے تسمے کھولنے کے لائق نہ تھے۔“

(قادیانی ماہنامہ المہدی بابت جنوری، فروری 1915ء - 3/2 صفحہ 57 احمدیہ انجمن اشاعت اسلام)

(عکس صفحہ نمبر 821 پر)

View Proof

قادیانی خلیفہ حکیم نورالدین ابوبکرؓ ہے

(249) ”خاکسار عرض کرتا ہے کہ مجھ سے ہماری ہمشیرہ مبارکہ بیگم صاحبہ نے بیان کیا ہے کہ جب حضرت صاحب آخری سفر میں لاہور تشریف لے جانے لگے تو آپ نے ان سے کہا مجھے ایک کام درپیش ہے، دعا کرو اور اگر کوئی خواب آئے تو مجھے بتانا۔ مبارکہ بیگم نے خواب دیکھا کہ وہ چوبارہ پر گئی ہیں اور وہاں حضرت مولوی نورالدین صاحب ایک کتاب لیے بیٹھے

صفحہ 298

ہیں اور کہتے ہیں کہ دیکھو اس کتاب میں میرے متعلق حضرت صاحب کے الہامات ہیں اور میں ابوبکر ہوں اور دوسرے دن صبح مبارکہ بیگم سے حضرت صاحب نے پوچھا کہ کیا کوئی خواب دیکھا ہے؟ مبارکہ بیگم نے یہ خواب سنائی تو حضرت صاحب نے فرمایا۔ یہ خواب اپنی اماں کو نہ سنانا۔ مبارکہ بیگم کہتی ہیں کہ اس وقت میں نہیں سمجھتی تھی کہ اس سے کیا مراد ہے۔“

(سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 37 از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 822 پر)

خلیفہ راشد حضرت علیؓ کے بارے میں مرزا قادیانی زبان دراز کرتے ہوئے لکھتا ہے:

زندہ علی، مردہ علی

(250) ”پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑو۔ اب نئی خلافت لو۔ ایک زندہ علی تم میں موجود ہے۔ اس کو چھوڑتے ہو اور مردہ علی کو تلاش کرتے ہو۔“

(ملفوظات جلد اول صفحہ 400، طبع جدید، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 823 پر)

نواسہ رسول ﷺ اور شہید کربلا حضرت امام حسینؓ کے بارے میں مرزا قادیانی لکھتا ہے:

حضرت امام حسینؓ کی توہین

(251) ”اور انہوں نے کہا اس شخص (مرزا قادیانی) نے امام حسن اور حسین سے اپنے تئیں اچھا سمجھا، میں کہتا ہوں کہ ہاں اور میرا خدا عنقریب ظاہر کر دے گا۔“

(اعجاز احمدی صفحہ 52 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 164 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 824 پر)

مرزا قادیانی اور حضرت امام حسینؓ میں فرق

(252) ”اور مجھ میں اور تمہارے حسین میں بہت فرق ہے، کیونکہ مجھے تو ہر ایک وقت خدا کی تائید اور مدد مل رہی ہے۔“

(اعجاز احمدی صفحہ 71 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 181 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 825 پر)

صفحہ 299

(253) ”اور میں خدا کا کشتہ ہوں لیکن تمہارا حسین دشمنوں کا کشتہ ہے پس فرق کھلا کھلا اور ظاہر ہے“

(اعجاز احمدی صفحہ 81 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 193 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 826 پر)

پس فرق نہایت ظاہر ہے۔ عاشقان رسول ﷺ دیکھیں کہ مرزا قادیانی کہہ رہا ہے کہ تمہارا حسینؓ یعنی ہم سے کوئی تعلق نہیں۔ تمہارا ہے۔ کیا کوئی مسلمان اس طرح کہہ سکتا ہے؟ حضرت امام حسینؓ کے عالی مقام کے بارے میں بے حد گستاخانہ زبان استعمال کرتے ہوئے مزید لکھا:

(254) ”تم نے خدا کے جلال اور مجد کو بھلا دیا۔ اور تمہارا ورد صرف حسین ہے کیا تو انکار کرتا ہے۔ پس یہ اسلام پر ایک مصیبت ہے۔ کستوری کی خوشبو کے پاس گوہ (ذکر حسینؓ) کا ڈھیر ہے۔“ (نقل کفر کفر نباشد) مرزا قادیانی پر لعنت بے شمار۔

(اعجاز احمدی صفحہ 82 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 194 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 827 پر)

کربلا کی سیر

(255) ”کربلائیست سیر ہر آنم
صد حسین است در گریبانم“

ترجمہ: ”میری سیر ہر وقت کربلا میں ہے۔ سو (100) حسینؓ ہر وقت میری جیب میں ہیں۔“

(نزول المسیح صفحہ 99 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 477 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 828 پر)

مرزا قادیانی کا بیٹا اور قادیانی جماعت کا دوسرا خلیفہ مرزا بشیر الدین، مرزا قادیانی کے مندرجہ بالا شعر کی تشریح کرتے ہوئے لکھتا ہے:

صفحہ 300

سو حسینؓ کی قربانی، مرزا قادیانی کی ایک گھڑی کے برابر

(756) ’’شہادت کا یہی مفہوم ہے جس کو مدنظر رکھ کر حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے فرمایا:

کربلائیست سیر ہر آنم
صد حسین است در گریبانم

میرے گریبان میں سو حسین ہیں، لوگ اس کے معنی یہ سمجھتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے فرمایا ہے، میں سو حسین کے برابر ہوں۔ لیکن میں کہتا ہوں اس سے بڑھ کر اس کا یہ مفہوم ہے کہ سو حسین کی قربانی کے برابر میری ہر گھڑی کی قربانی ہے۔ وہ شخص جو اہل دنیا کے فکروں میں گھلا جاتا ہے۔ جو ایسے وقت میں کھڑا ہوتا ہے جبکہ ہر طرف تاریکی اور ظلمت پھیلی ہوئی ہے اور اسلام کا نام مٹ رہا ہے۔ وہ دن رات دنیا کا غم کھاتا ہوا، اسلام کو قائم کرنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے، کون کہہ سکتا ہے کہ اس کی قربانی سو حسین کے برابر نہ تھی۔ پس یہ تو ادنیٰ سوال ہے کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) امام حسین کے برابر تھے یا ادنیٰ۔ حضرت امام حسین ولی تھے مگر ان کو وہ غم اور صدمہ کس طرح پہنچ سکتا تھا جو اسلام کو مٹتا دیکھ کر حضرت مسیح موعود کو ہوا۔ حضرت امام حسین اس وقت ہوئے جبکہ لاکھوں اولیا موجود تھے۔ اسلام اپنی شان وشوکت میں تھا۔ ایسی حالت میں ان کو وہ غم کہاں ہوسکتا تھا جو اس شخص کو ہوا، جو ایسے ہی حالات میں مبعوث ہوا جن حالات میں خود محمد ﷺ کی بعثت ہوئی تھی۔ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ حضرت امام حسین کی شہادت رسول کریم ﷺ کی شہادت سے بڑی تھی۔ نہیں۔ اس لیے کہ جو غم اور تکلیف آپ کو اسلام کے لیے اٹھانی پڑی، وہ حضرت امام حسین کو نہیں اٹھانی پڑی۔ اسی طرح حضرت مسیح موعود کی شہادت بھی بہت بڑی ہوئی تھی۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ مرزا صاحب اپنے گھر پر بیٹھے رہے۔ پھر کس طرح امام حسین سے بڑھ گئے۔ میں کہتا ہوں کیا محمد ﷺ اسی طرح فوت ہوئے، جس طرح امام حسین فوت ہوئے تھے؟ نہیں۔ مگر کوئی ہے جو کہے۔ محمد ﷺ کی قربانی حضرت امام حسین کی قربانی سے کم تھی۔ محمد ﷺ کی ایک ایک سیکنڈ کی قربانی حضرت امام حسین کی ساری عمر کی قربانی سے بڑھ کر تھی۔ پس جس طرح محمد ﷺ کی قربانی بڑی تھی، اسی طرح وہ شخص جو انہی حالات میں کھڑا ہوگا جن میں محمد ﷺ کھڑے ہوئے اس کی قربانی بھی بہت بڑھ کر ہوگی۔ اسی لیے حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے کہا ہے:

صفحہ 301
کربلائیست سیر ہر آنم
صد حسین است در گریبانم

کہ مجھ پر تو ہر لمحہ سو سو کربلا کی مصیبتیں گزرتی ہیں اور میں تو ہر گھڑی کربلا کی سیر کر رہا ہوں۔“

(خطبہ مرزا بشیر الدین محمود، مندرجہ روزنامہ الفضل قادیان شمارہ نمبر 80 جلد نمبر 13، 26 جنوری 1926ء)

(عکس صفحہ نمبر 829 پر)

View Proof

حضرت امام حسینؓ سے بڑھ کر

(257) ”اے عیسائی مشنریو! اب ربنا المسیح مت کہو اور دیکھو کہ آج تم میں ایک ہے جو اس مسیح سے بڑھ کر ہے اور اے قوم شیعہ! اس پر اصرار مت کرو کہ حسین تمہارا منجی ہے کیونکہ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں ایک ہے کہ اس حسین سے بڑھ کر ہے۔“

(دافع البلاء صفحہ 17، مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 233 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 830 پر)

View Proof

عبداللطیف قادیانی کی فضیلت

(258) ”امام حسینؓ کی شہادت سے بڑھ کر حضرت مولوی عبداللطیف صاحب (قادیانی) کی شہادت ہے جنھوں نے صدق اور وفا کا نہایت اعلیٰ نمونہ دکھایا اور جن کا تعلق شدید بوجہ استقامت سبقت لے گیا تھا۔“

(ملفوظات جلد چہارم صفحہ 364، طبع جدید، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 831 پر)

View Proof

(259) ”صاحبزادہ عبداللطیف صاحب کی نسبت حضرت اقدس نے فرمایا کہ وہ ایک اسوۂ حسنہ چھوڑ گئے ہیں اور اگر غور سے دیکھا جائے تو ان کا واقعہ حضرت امام حسین علیہ السلام کے واقعہ سے کہیں بڑھ چڑھ کر ہے۔“

(ملفوظات جلد سوم صفحہ 496، طبع جدید، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 832 پر)

View Proof

صفحہ 302

حضرت امام حسینؓ کی توہین سے ایمان ضائع ہو جاتا ہے

(260) ’’غرض یہ امر نہایت درجہ کی شقاوت اور بے ایمانی میں داخل ہے کہ حسینؓ کی تحقیر کی جائے اور جو شخص حسینؓ یا کسی اور بزرگ کی جو ائمہ مطہرین میں سے ہے، تحقیر کرتا ہے یا کوئی کلمہ استخفاف کا اس کی نسبت اپنی زبان پر لاتا ہے، وہ اپنے ایمان کو ضائع کرتا ہے کیونکہ اللہ جل شانہ اس شخص کا دشمن ہو جاتا ہے جو اس کے برگزیدوں اور پیاروں کا دشمن ہے۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 654، طبع جدید، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 833 پر)

View Proof

آبروئے کائنات، خاتون جنت، جگر گوشہ رسولؐ، سیدہ طاہرہ، حضرت فاطمۃ الزہراؓ کی عظمت و شان سے کون واقف نہیں۔ حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ’’بے شک فاطمۃ الزہراؓ جنت کی عورتوں کی سردار ہیں اور حسنؓ و حسینؓ دونوں جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔‘‘ (ترمذی) کتب صحاح میں حضرت بتولؓ کے بے شمار فضائل و محاسن موجود ہیں۔ آپ کی جلالت شان اور مقام معصومیت کے متعلق سید الانبیاء ﷺ نے فرمایا: ’’قیامت کے وسط عرش سے مناد، ندا کرے گا کہ اے اہل محشر! اپنے سروں کو جھکا دو اور اپنی آنکھوں کو بند کر لو کہ فاطمہؓ بنت محمد ﷺ پل صراط سے گزر جائے۔ اس وقت ستر ہزار حوریں ان کے ہمراہ بجلی کی طرح پل صراط سے گزر جائیں گی۔‘‘ لیکن بدبخت ملعون مرزا قادیانی حضرت فاطمہؓ کے بارے میں نہایت دل آزار اور نہایت گستاخانہ بکواس کرتے ہوئے لکھتا ہے:

سیدہ النساء حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شرمناک توہین

(261) جگر گوشہ رسول ﷺ، سیدہ النساء حضرت فاطمۃ الزہراؓ کی ذات پاک کے بارے میں مرزا قادیانی نے جو بکواس کی ہے، ہمارا قلم اسے لکھنے کا حوصلہ نہیں رکھتا۔ اگر کسی نے یہ بکواس دیکھنی ہو تو ملعون مرزا قادیانی کی کتاب کا حوالہ درج ہے۔

(ایک غلطی کا ازالہ (حاشیہ) صفحہ 11 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 834 پر)

View Proof

صفحہ 303

پنج تن ظلی کی توہین

(262) ”میری اولاد سب تیری عطا ہے
ہر اک تیری بشارت سے ہوا ہے
یہ پانچوں جو کہ نسلِ سیدہ ہے
یہی ہیں پنج تن جن پر بنا ہے“

(درثمین اُردو صفحہ 29 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 835 پر)

View Proof

مرزا قادیانی کی بیوی...... ام المومنین؟

(263) ”ام المومنین“ کا لفظ جو مسیح موعود کی بیوی کی نسبت استعمال کیا جاتا ہے اس پر بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں۔ حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام نے سن کر فرمایا: ”اعتراض کرنے والے بہت ہی کم غور کرتے اور اس قسم کے اعتراض صاف بتاتے ہیں کہ وہ محض کینہ اور حسد کی بنا پر کیے جاتے ہیں، ورنہ نبیوں یا ان کے اظلال کی بیویاں اگر امہات المومنین نہیں ہوتی ہیں تو کیا ہوتی ہیں؟ خدا تعالیٰ کی سنت اور قانون قدرت کے اس تعامل سے بھی پتہ لگتا ہے کہ کبھی کسی نبی کی بیوی سے کسی نے شادی نہیں کی۔ ہم کہتے ہیں کہ ان لوگوں سے جو اعتراض کرتے ہیں کہ ام المومنین کیوں کہتے ہو؟ پوچھنا چاہیے کہ تم بتاؤ جو مسیح موعود تمہارے ذہن میں اور جسے تم سمجھتے ہو کہ وہ آ کر نکاح بھی کرے گا۔ کیا اس کی بیوی کو تم ام المومنین کہو گے یا نہیں؟“

(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 555 ،طبع جدید، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 836 پر)

View Proof

مرزا قادیانی کے 313 صحابی

(264) ”میاں امام الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تین سو تیرہ اصحاب کی فہرست تیار کی تو بعض دوستوں نے خطوط لکھے کہ حضور ہمارا نام بھی اس فہرست میں درج کیا جائے۔ یہ دیکھ کر ہم کو بھی خیال پیدا

صفحہ 304

ہوا کہ حضور علیہ السلام سے دریافت کریں کہ آیا ہمارا نام درج ہو گیا ہے یا کہ نہیں؟ تب ہم تینوں برادران مع منشی عبدالعزیز صاحب حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دریافت کیا۔ اس پر حضور نے فرمایا کہ میں نے آپ کے نام پہلے ہی درج کیے ہوئے ہیں۔ مگر ہمارے ناموں کے آگے ”مع اہل بیت“ کے الفاظ بھی زائد کیے تھے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ فہرست حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے 1896-97ء میں تیار کی تھی اور اسے ضمیمہ انجام آتھم میں درج کیا تھا۔ احادیث سے پتہ لگتا ہے کہ آنحضرت صلعم نے بھی ایک دفعہ اسی طرح اپنے اصحاب کی ایک فہرست تیار کروائی تھی۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ تین سو تیرہ کا عدد اصحاب بدر کی نسبت سے چنا گیا تھا۔ کیونکہ ایک حدیث میں ذکر آیا ہے کہ مہدی کے ساتھ اصحاب بدر کی تعداد کے مطابق 313 اصحاب ہوں گے جن کے اسماء ایک مطبوعہ کتاب میں درج ہوں گے۔ دیکھو ضمیمہ انجام آتھم صفحہ 40 تا 45۔“

(سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 128 از مرزا بشیر الدین محمود) (عکس صفحہ نمبر 837 پر)

View Proof

سید کون؟

مرزا قادیانی کا بیٹا اور قادیانی جماعت کا خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود لفظ ”سید“ کی تعریف کرتے ہوئے لکھتا ہے:

(265) ”اب جو سید کہلاتا ہے اس کی یہ سیادت باطل ہو جائے گی۔ اب وہی سید ہوگا جو حضرت مسیح موعود (مرزا) کی اتباع میں داخل ہوگا۔ اب پرانا رشتہ کام نہیں آئے گا۔“

(قول الحق صفحہ 32 مندرجہ انوار العلوم جلد 8 صفحہ 80 از مرزا بشیر الدین محمود) (عکس صفحہ نمبر 838 پر)

View Proof

اہم نکات

مرزا قادیانی کی مذکورہ بالا تحریروں سے معلوم ہوتا ہے کہ:

صفحہ 305

ہنسی آتی تھی۔ (نعوذ باللہ)

مرزا قادیانی کی جوتیوں کے تسمے کھول سکیں۔ (نعوذ باللہ)

حیثیت حاصل ہے۔ (نعوذ باللہ)

وقت خدا کی تائید اور مدد مل رہی ہے۔ (نعوذ باللہ)

ہیں۔ (نعوذ باللہ)

جیب میں ہیں۔ (نعوذ باللہ)

سے بڑھ کر ہے۔ (نعوذ باللہ)

(حضور نبی کریمﷺ کا) کام نہیں آئے گا۔ (نعوذ باللہ)

۞.......۞.......۞

PDF 306
PDF 307

ثبوت حاضر ہیں!

قُرآن وسُنّت

کی توہین

PDF 308
صفحہ 309

اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی ہدایت کے لیے جہاں سلسلہ نبوت قائم فرمایا اور اس کا اختتام حضرت محمد ﷺ پر کر دیا، وہاں مختلف اوقات میں آسمانی کتابیں بھی نازل فرمائیں۔ اس سلسلہ کتب کی آخری کڑی قرآن مجید ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضور خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوئی۔ یہ کتاب مبین پوری انسانیت کے لیے قیامت تک رحمت، ہدایت اور شفا ہے۔ اس کے ایک ایک لفظ کی حفاظت وصیانت کا وعدہ خود اللہ تعالیٰ نے کیا جس کی آیات کے سامنے بڑے بڑے زبان آور، دم بخود رہ گئے اور اس کی کوئی ایک آیت کا مقابلہ کرنے کی تاب نہ لا سکے۔

یہ عظیم کتاب صدیوں سے اپنی عظمت کا لوہا منوارہی ہے۔ آنجہانی مرزا قادیانی کی سرپرست برطانوی سرکار نے اسے مٹانے کی عجیب احمقانہ تدابیر کیں لیکن ہمیشہ منہ کی کھائی۔ ”عربی مبین“ میں نازل ہونے والی اس کتاب کے بالمقابل قادیانی گنوار نے وحی والہام کا جس طرح ڈھونگ رچایا اور اسے قرآن سے برتر و بالا قرار دیا اور جابجا فخریہ اس کا اظہار کیا، وہ ایسی ناروا جسارت ہے جس پر آسمان ٹوٹ پڑے اور زمین پھٹ جائے تو عجب نہیں! قرآن کے بالمقابل خرافاتی الہام کے لیے مرزا کی تحریرات دیکھیں اور سوچیں کہ آیا یہ شخص صحیح الدماغ تھا یا اس کا ذہنی توازن خراب تھا؟

قرآن مجید قادیان کے قریب نازل ہوا

(266) ”انا انزلناہ قریباً من القادیان“

اس کی تفسیر یہ ہے کہ انا انزلناہ قریباً من دمشق بطرف شرقی عند المنارۃ البیضاء کیونکہ اس عاجز کی سکونتی جگہ قادیان کے شرقی کنارہ پر ہے۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 59 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 839 پر)

صفحہ 310

مرزا قادیانی کا عقیدہ ہے کہ مندرجہ بالا عبارت قرآن مجید کی آیت ہے اور قرآن مجید میں موجود ہے اور قرآن مجید میں قادیان کا نام درج ہے۔ قادیانیوں سے سوال ہے کہ وہ بتائیں کہ یہ آیت قرآن مجید کے کس پارہ اور رکوع میں درج ہے؟ قادیانی قیامت تک ہمارے اس سوال کا جواب نہ دے سکیں گے۔ قادیانیوں کو ٹھنڈے دل سے غور کرنا چاہیے کہ مرزا قادیانی نے اس عبارت کے ذریعے قرآن مجید میں تحریف کرنے کی ناپاک جسارت کی ہے اور ایسا کرنے والا ملحد اور کافر ہے جیسا کہ مرزا قادیانی نے خود لکھا:

قرآن مجید میں تبدیلی کرنے والا ملحد اور کافر ہے

(267) ”ہم پختہ یقین کے ساتھ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ قرآن شریف خاتم کتب سماوی ہے اور ایک شوشہ یا نقطہ اس کی شرائع اور حدود اور احکام اور اوامر سے زیادہ نہیں ہوسکتا اور نہ کم ہوسکتا ہے اور اب کوئی ایسی وحی یا ایسا الہام منجانب اللہ نہیں ہوسکتا جو احکام فرقانی کی ترمیم یا تنسیخ یا کسی ایک حکم کے تبدیل یا تغیر کر سکتا ہو اگر کوئی ایسا خیال کرے تو وہ ہمارے نزدیک جماعت مومنین سے خارج اور ملحد اور کافر ہے۔“

(ازالہ اوہام صفحہ 70 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 170 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 840 پر)

لیجیے! مرزا قادیانی خود اپنے ہی عقیدہ اور الہامی تحریر سے جماعت مومنین سے خارج، ملحد اور کافر ہو گیا ہے۔ اب مزید کسی فتوے کی ضرورت نہیں رہی۔ مولانا محمد رفیق دلاوریؒ اپنی کتاب میں مرزا قادیانی کی عظمت قرآن کے حوالہ سے ایک واقعہ تحریر کرتے ہیں:

مقامات (ص 236 و 252) پر مولوی میر حسن صاحب سیالکوٹی کا ذکر کیا ہے۔ مولوی صاحب مرحوم مرے کالج سیالکوٹ میں عربی، فارسی اور اردو کے پروفیسر اور علامہ سر ڈاکٹر محمد اقبال مرحوم کے استاد تھے۔ یاد رہے کہ علامہ مرحوم دراصل سیالکوٹ کے باشندہ تھے۔ لیکن عرصہ دراز سے لاہور میں بود و باش اختیار کر لی تھی۔ سیرۃ المہدی جلد اوّل کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مولوی میر حسن صاحب مسیح قادیاں کے خاص سیالکوٹی احباب میں سے تھے۔ اسی بنا پر ایک

صفحہ 311

مرتبہ بشیر احمد صاحب نے سیرۃ المہدی کی تالیف کے وقت ان سے اپنے باپ کے وہ حالات دریافت کیے جو مرزا قادیانی کے قیام سیالکوٹ کے دوران میں ان کے علم و مشاہدہ میں آئے تھے۔ چنانچہ اس استدعا کے بموجب انھوں نے مرزا قادیانی کے چشم دید حالات لکھ بھیجے۔ چونکہ مولوی صاحب خدانخواستہ مرزائی نہیں تھے، اس لیے قرینہ ہے کہ انھوں نے ہر قسم کے بھلے برے حالات بے کم و کاست لکھ بھیجے ہوں گے لیکن بشیر احمد صاحب نے ان میں سے صرف مفید مطلب چیزیں انتخاب کر لی ہوں گی۔ مثلاً مولوی میر حسن صاحب کا مندرجہ ذیل بیان جو ایک سیالکوٹی پروفیسر صاحب نے خاکسار راقم الحروف سے بیان کیا ”سیرۃ المہدی“ میں درج نہیں ہے اور نہ اس قسم کے واقعات کے اندراج کی کوئی توقع ہو سکتی تھی۔ واقعہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ مولوی میر حسن مرحوم کے سامنے مسیح قادیان کے سوانح حیات جو کسی مرزائی گم کردہ راہ نے ترتیب دیے ہوں گے، پڑھے جا رہے تھے، ان میں لکھا تھا کہ مرزا قادیانی کے دل میں قرآن پاک کی بڑی عظمت تھی۔ یہ سن کر مولوی میر حسن صاحب مرحوم نے فرمایا کہ ”ہاں عظمت قرآن کا اندازہ اس سے بخوبی ہو سکتا ہے کہ مرزا قادیانی کی تلاوت کا جو قرآن تھا، اس میں مرزا قادیانی نے خاتمہ قرآن پر یعنی سورۂ ناس کے اختتام پر قوت باہ کا ایک نسخہ لکھ رکھا تھا۔“ (رئیس قادیان صفحہ 55، 56 از مولانا محمد رفیق دلاوریؒ)

قادیان کا نام قرآن مجید میں

(268) مرزا قادیانی نے ایک کشف میں دیکھا کہ قادیان کا نام قرآن مجید میں درج ہے۔ مرزا قادیانی چونکہ نبوت و رسالت کا دعویدار ہے، اس لیے اس کے کشف پر شک نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن کیا کیجیے کہ مسلمانوں کے قرآن میں قادیان کا ذکر کہیں نہیں ہے۔ مرزا قادیانی کا کشف ملاحظہ فرمائیں: ”اس روز کشفی طور پر میں نے دیکھا کہ میرے بھائی صاحب مرحوم مرزا غلام قادر میرے قریب بیٹھ کر بآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے ہیں اور پڑھتے پڑھتے انھوں نے ان فقرات کو پڑھا کہ انا انزلناہ قریباً من القادیان تو میں نے سن کر بہت تعجب کیا کہ کیا قادیان کا نام بھی قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے؟ تب انھوں نے کہا کہ یہ دیکھو، لکھا ہوا ہے۔

صفحہ 312

تب میں نے نظر ڈال کر جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ فی الحقیقت قرآن شریف کے دائیں صفحہ میں شاید قریب نصف کے موقع پر یہی الہامی عبارت لکھی ہوئی موجود ہے۔ تب میں نے اپنے دل میں کہا کہ ہاں واقعی طور پر قادیان کا نام قرآن شریف میں درج ہے اور میں نے کہا کہ تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج کیا گیا ہے۔ مکہ اور مدینہ اور قادیان۔“

(ازالہ اوہام صفحہ 40 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 140 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 841 پر)

View Proof

(269) ”خواب میں دیکھا کہ میرے پاس مرزا غلام قادر میرے بھائی کھڑے ہیں اور میں یہ آیت قرآن شریف کی پڑھتا ہوں۔ غلبت الروم فی ادنی الارض وہم من بعد غلبہم سیغلبون اور کہتا ہوں کہ ادنی الارض سے قادیان مراد ہے اور میں کہتا ہوں کہ قرآن شریف میں قادیان کا نام درج ہے۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 649 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 842 پر)

View Proof

کیا قادیانی بتا سکتے ہیں کہ قرآن مجید کی کس سورہ یا رکوع میں یہ آیت موجود ہے جس میں قادیان کا نام درج ہے؟ قادیانی کہتے ہیں کہ یہ کشف ہے۔ ظاہر ہے کہ نبی کا کشف اور خواب وحی ہوتا ہے۔ چنانچہ قادیانیوں کو چاہیے، اب ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کشفی آیت کو قرآن کے متن میں شامل کرلیں۔ لیکن یہ ایسا کبھی نہیں کرسکیں گے کہ در حقیقت کسی قادیانی کا مرزا قادیانی پر سچا ایمان ہی نہیں ہے۔ مرزا قادیانی کشف کی اہمیت کے بارے میں کہتا ہے:

ناقصوں کا کشف، خواب اور الہام ناقص ہوتا ہے

(270) ”حالانکہ کشف اور خواب بھی ہر ایک کے یکساں نہیں ہوتے۔ وہ کامل کشف جس کو قرآن شریف میں اظہار علی الغیب سے تعبیر کیا گیا ہے جو دائرہ کی طرح پورے علم پر مشتمل ہوتا ہے وہ ہر ایک کو عطا نہیں کیا جاتا، صرف برگزیدوں کو دیا جاتا ہے اور ناقصوں کا کشف اور الہام ناقص ہوتا ہے جو بالآخر ان کو بہت شرمندہ کرتا ہے۔“

(حقیقت المہدی صفحہ 16 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 442 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 843 پر)

View Proof

صفحہ 313

الہام اور کشف قرآن مجید کے برابر

ایک صداقت تو اسلام کے لیے وہ اعلیٰ درجہ کا نشان ہے جو قیامت تک بے نظیر شان وشوکت اسلام کی ظاہر کر رہا ہے یہی تو وہ خاص برکتیں ہیں جو غیر مذہب والوں میں پائی نہیں جاتیں۔“

(ازالہ اوہام صفحہ 153 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 178 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 844 پر)

View Proof

قرآن، مرزا قادیانی پر دوبارہ اترا

کیا ضرورت تھی۔ مشکل تو یہی ہے کہ قرآن دنیا سے اٹھ گیا ہے۔ اسی لیے تو ضرورت پیش آئی کہ محمد رسول اللہؐ (مرزا قادیانی) کو بروزی طور پر دوبارہ دنیا میں مبعوث کر کے آپ پر قرآن شریف اتارا جاوے۔“

(کلمۃ الفضل صفحہ 173 از صاحبزادہ مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 845 پر)

View Proof

”تجھ پہ پھر اترا ہے قرآن، رسول قدنی“

(273) ”تو نے ایمان ثریا سے ہمیں لا کے دیا
نازش دودۂ سلمانؓ رسول قدنی
آسمان اور زمیں تو نے بنائے ہیں نئے
تیرے کشفوں پہ ہے ایمان رسول قدنی
پہلی بعثت میں محمدؐ ہے تو اب احمدؐ ہے
تجھ پہ پھر اترا ہے قرآن رسول قدنی“

(روزنامہ الفضل قادیان جلد 10 شمارہ نمبر 30 مورخہ 16/اکتوبر 1922ء) (عکس صفحہ نمبر 846 پر)

View Proof

صفحہ 314

20 سپارے

(274) ”خدا کا کلام اس قدر مجھ پر ہوا ہے کہ اگر وہ تمام لکھا جائے تو بیس جزو (سپارے) سے کم نہیں ہوگا۔“

(حقیقۃ الوحی صفحہ 407 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 407 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 847 پر)

View Proof

میں قرآن کی طرح ہوں

(275) ”ما انا الا كالقرآن و سيظهر على يدى ماظهر من الفرقان.“ میں تو بس قرآن ہی کی طرح ہوں اور عنقریب میرے ہاتھ پر ظاہر ہوگا جو کچھ فرقان سے ظاہر ہوا۔

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 570 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 848 پر)

View Proof

قرآن شریف، مرزا قادیانی کی باتیں

(276) ”قرآن شریف خدا کی کتاب اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 77 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 849 پر)

View Proof

مرزا قادیانی کے الہامات، قرآن کی طرح

(277) ”میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ان الہامات پر اسی طرح ایمان لاتا ہوں جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دوسری کتابوں پر اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں، اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتا ہے۔ خدا کا کلام یقین کرتا ہوں۔“

(حقیقۃ الوحی صفحہ 220 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 220 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 850 پر)

View Proof

قادیانیوں سے سوال ہے کہ وہ اپنی نمازوں اور عبادات میں مرزا قادیانی کی وحیاں

صفحہ 315

اور الہامات کیوں نہیں پڑھتے؟ جبکہ مرزا قادیانی نے اسے قرآن کے مساوی قرار دیا ہے۔

خدا کی قسم میری وحی کلام مجید ہے

(278)

"آنچہ من بشنوم ز وحی خدا
بخدا پاک دانمش ز خطاء
ہمچوں قرآن منزہ اش دانم
از خطاہا ہمینست ایمانم
بخدا ہست ایں کلام مجید
از دہان خدائے پاک و وحید
آں یقینے کہ بود عیسیٰ را
بر کلامے کہ شد برو القاء
وان یقین کلیم بر تورات
وان یقین ہائے سید سادات
کم نیم زاں ہمہ بروئے یقین
ہر کہ گوید دروغ ہست لعین"

ترجمہ: ”جو کچھ میں اللہ کی وحی سے سنتا ہوں۔ خدا کی قسم اسے ہر قسم کی خطا سے پاک سمجھتا ہوں۔ قرآن کی طرح میری وحی خطاؤں سے پاک ہے۔ یہ میرا ایمان ہے۔ خدا کی قسم یہ کلام مجید ہے، جو خدائے پاک یکتا کے منہ سے نکلا ہے۔ جو یقین عیسیٰ کو اپنی وحی پر، موسیٰ کو توریت پر اور حضور ﷺ کو قرآن مجید پر تھا، میں از روئے یقین ان سب سے کم نہیں ہوں، جو جھوٹ کہے وہ لعنتی ہے۔“

(نزول المسیح صفحہ 99 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 477، 478 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 851، 852 پر)

View Proof

صفحہ 316

قرآن شریف میں گندی گالیاں بھری ہیں! (معاذ اللہ)

(279) ”قرآن شریف جس آواز بلند سے سخت زبانی کے طریق کو استعمال کر رہا ہے، ایک غایت درجہ کا غبی اور سخت درجہ کا نادان بھی اس سے بے خبر نہیں رہ سکتا۔ مثلاً زمانہ حال کے مہذبیں کے نزدیک کسی پر لعنت بھیجنا ایک سخت گالی ہے۔ لیکن قرآن شریف کفار کو سنا سنا کر اُن پر لعنت بھیجتا ہے۔ ایسا ہی ظاہر ہے کہ کسی انسان کو حیوان کہنا بھی ایک قسم کی گالی ہے۔ لیکن قرآن شریف نہ صرف حیوان بلکہ کفار اور منکرین کو دنیا کے تمام حیوانات سے بدتر قرار دیتا ہے۔ جیسا کہ فرماتا ہے۔ ان شر الدواب عنداللہ الذین کفروا ۔ ایسا ہی ظاہر ہے کہ کسی خاص آدمی کا نام لے کر یا اشارہ کے طور پر اس کو نشانہ بنا کر گالی دینا زمانہ حال کی تہذیب کے برخلاف ہے لیکن خدائے تعالیٰ نے قرآن شریف میں بعض کا نام ابولہب اور بعض کا نام کلب اور خنزیر کہا اور ابوجہل تو خود مشہور ہے۔ ایسا ہی ولید بن مغیرہ کی نسبت نہایت درجہ کے سخت الفاظ جو بصورت ظاہر گندی گالیاں معلوم ہوتی ہیں، استعمال کیے ہیں۔“

(ازالہ اوہام صفحہ 28 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 116 (حاشیہ) از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 853، 854 پر)

View Proof

احادیث رسول ﷺ کی توہین

(280) ”میرے اس دعویٰ کی حدیث بنیاد نہیں بلکہ قرآن اور وہ وحی ہے جو میرے پر نازل ہوئی۔ ہاں تائیدی طور پر ہم وہ حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں جو قرآن شریف کے مطابق ہیں اور میری وحی کے معارض نہیں اور دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔“

(اعجاز احمدی [ضمیمہ نزول المسیح] صفحہ 36 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 140 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 855 پر)

مرزا قادیانی کا کہنا ہے:

View Proof

صفحہ 317

جب انسان حیا کو چھوڑ دیتا ہے......

(281) ”جب انسان حیا کو چھوڑ دیتا ہے تو جو چاہے بکے، کون اس کو روکتا ہے۔“

(اعجاز احمدی (نزول المسیح) صفحہ 5 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 109 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 856 پر)

View Proof

اہم نکات

آنجہانی مرزا قادیانی کی مذکورہ بالا تحریروں کا خلاصہ یہ ہے کہ:

جائیں۔ (نعوذ باللہ)

چاہیے۔ (نعوذ باللہ)

۞......۞......۞

PDF 318
PDF 319

ثبوت حاضر ہیں!

حرمین شریفین

کی توہین

PDF 320
صفحہ 321

انوار و تجلیات، فیوض و برکات، عقیدت و افتخار کے لحاظ سے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ دو ایسے روحانی و نورانی مراکز ہیں جن کی روئے زمین پر نظیر نہیں ملتی۔ مکہ فضیلتوں کا شہر ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ کا وہ گھر ہے جسے ابراہیم علیہ السلام و اسماعیل علیہ السلام نے مل کر از سر نو بنایا۔ اس شہر میں انبیا کے امام حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادت باسعادت ہوئی۔ یہی وہ شہر ہے جس کی اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں قسمیں کھاتا ہے۔ یہی وہ شہر ہے جسے مختلف محبوب ناموں سے کبھی بلد الامین، کبھی ام القریٰ اور کبھی حرم امن کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔ اس شہر کو ارض قرآن ہونے کا شرف حاصل ہے۔ بیت اللہ میں پڑھی جانے والی ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ نمازوں کے برابر ہے۔

مدینہ منورہ میں سرکار دو عالم ﷺ کا روضہ اقدس ہے جو مرجع خلائق ہے۔ کل روئے زمین پر ایسے آستانہ جود و کرم کی مثال نہیں ملتی۔ یہاں شاہ و گدا سبھی بھکاری ہیں۔ اس سرزمین کی فضیلت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کی مٹی کے ذروں نے رحمت عالم ﷺ کی قدم بوسی کا اعزاز حاصل کیا۔ اس سرزمین کی معراج قسمت کہ امام الانبیا ﷺ اسی میں پردہ نشین ہیں۔ مسجد نبوی میں ایک نماز ادا کرنے کا ثواب پچاس ہزار نمازوں کے برابر ہے، حضرت ابن عمرؓ حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ جو شخص اس کی طاقت رکھتا ہو کہ مدینہ طیبہ میں مرے، اسے چاہیے کہ وہیں مرے، اس لیے کہ میں اس شخص کا سفارشی ہوں گا جو مدینہ میں مرے گا۔ دوسری حدیث میں ہے کہ میں اس کا گواہ بنوں گا۔‘‘ (ترمذی، ابن ماجہ) حج بیت اللہ اسلام کے ارکان خمسہ میں سے ایک ہے جو سچے عشق اور صادق جنون کا سفر ہے اور جس میں اللہ تعالیٰ کے بندے اپنی نیاز مندی کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہیں۔ محمد عربی علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مخلص امتیوں کے لیے ارض مدینہ کی زیارت بھی گویا اس مبارک سفر کا ایک حصہ ہے۔ یہی وہ شہر ہے جہاں گنبد خضریٰ کی بہاروں سے فضا گلفام ہے۔

صفحہ 322

ستر ہزار ملائکہ روزانہ درود و سلام کے لیے حاضر ہوتے ہیں۔ مدینہ طیبہ میں ہر دن عید اور ہر شب شب سعید ہے۔

سراجاً منیرا نگار مدینہ
تجلی مکہ بہار مدینہ

جھوٹے مدعی نبوت آنجہانی مرزا قادیانی کا دل حضور رسالت مآب ﷺ کی ذات اور آپ ﷺ کے دونوں شہروں کے بارہ میں بغض اور عداوت سے بھرا پڑا تھا۔ وسائل کے باوجود اس کا ارتدادی جذبہ اور زندقیت اسے مکہ اور مدینہ نہ لے جاسکی اور نہ اسے مراکز مہر و وفا کا دیدار ہی کرنے کی توفیق ہوئی۔ مرزا قادیانی کے زمانہ حیات (1891ء) میں معروف سیرت نگار قاضی سلمان منصور پوری نے فرمایا تھا کہ احادیث کی رو سے حضرت مسیح علیہ السلام حج کریں گے، عمرہ کریں گے، مدینہ طیبہ میں حاضری دیں گے اور نزول کے پینتالیس سال بعد فوت ہو کر روضہ طیبہ میں دفن ہوں گے۔ مرزا قادیانی خود کو مسیح کہتا ہے لیکن:

کے نصیب میں نہیں۔ میری اس پیشگوئی کو سب صاحب یاد رکھیں۔“ (تائید اسلام صفحہ 116)

اس اعلان کے پندرہ سال بعد تک آنجہانی مرزا قادیانی زندہ رہا مگر اسے حرمین کی حاضری سے قدرت نے محروم رکھا۔ جس طرح حضور رسالت مآب ﷺ کے مقابل مرزا قادیانی نے اپنی جھوٹی اور خانہ ساز نبوت کا ڈھونگ رچایا، اسی طرح مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے مرکز قادیان کو مکہ و مدینہ سے برتر ثابت کرنے میں مختلف نوعیت کے دعوے کیے۔

آیئے بوجھل دل کے ساتھ دیکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی جیسے شاطر، فریبی اور یہود و نصاریٰ کے ایجنٹ نے کس طرح ان پاک شہروں کی توہین کی! اپنی جنم بھومی قادیان کا ان سے کس طرح جوڑ جوڑا بلکہ اسے قرآن میں مندرج قرار دے کر اسے مکہ و مدینہ سے بھی بہتر وافضل قرار دیا اور قادیان ہی کی زیارت کو حج سے تعبیر کر کے بیت اللہ اور مناسک حج کی شرمناک توہین کی۔

قرآن شریف میں تین شہروں کے نام

(282) ”اس روز کشفی طور پر میں نے دیکھا کہ میرے بھائی صاحب مرحوم مرزا غلام قادر میرے قریب بیٹھ کر بآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے ہیں اور پڑھتے پڑھتے انہوں نے ان

صفحہ 323

فقرات کو پڑھا کہ انا انزلناہ قریباً من القادیان تو میں نے سن کر بہت تعجب کیا کہ کیا قادیان کا نام بھی قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے؟ تب انہوں نے کہا یہ دیکھو، لکھا ہوا ہے۔ تب میں نے نظر ڈال کر جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ فی الحقیقت قرآن شریف کے دائیں صفحہ میں شاید قریب نصف کے موقع پر یہی الہامی عبارت لکھی ہوئی موجود ہے۔ تب میں نے اپنے دل میں کہا کہ ہاں واقعی طور پر قادیان کا نام قرآن شریف میں درج ہے اور میں نے کہا کہ تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج کیا گیا ہے۔ مکہ اور مدینہ اور قادیان ۔“

(ازالہ اوہام (حاشیہ) حصہ اول صفحہ 40 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 40 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 857 پر)

View Proof

مسجد اقصیٰ کی توہین

(283) ”مسجد اقصیٰ سے مراد مسیح موعود کی مسجد ہے جو قادیان میں واقع ہے جس کی نسبت براہین احمدیہ میں خدا کا کلام یہ ہے۔ مبارک و مبارک و کل امر مبارک یجعل فیہ۔ اور یہ مبارک کا لفظ جو بصیغہ مفعول اور فاعل واقع ہوا، قرآن شریف کی آیت بارکنا حولہ کے مطابق ہے۔ پس کچھ شک نہیں جو قرآن شریف میں قادیان کا ذکر ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ سبحان الذی اسری بعبدہ لیلا من المسجد الحرام الی المسجد الاقصا الذی بارکنا حولہ“

(خطبہ الہامیہ حاشیہ صفحہ 21 مندرجہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 21 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 858 پر)

View Proof

(284) ”والمسجد الاقصیٰ المسجد الذی بناہ المسیح الموعود فی القادیان“ مسجد اقصیٰ سے مراد وہ مسجد ہے جسے قادیان میں مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے بنایا۔

(خطبہ الہامیہ صفحہ 25 مندرجہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 25 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 859 پر)

View Proof

(285) ”معراج میں جو آنحضرت ﷺ مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ تک سیر فرما ہوئے وہ مسجد اقصیٰ یہی ہے جو قادیان میں بجانب مشرق واقع ہے جس کا نام خدا کے کلام نے مبارک رکھا ہے۔“

(خطبہ الہامیہ صفحہ 22 مندرجہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 22 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 860 پر)

View Proof

صفحہ 324

”وَمَنْ دَخَلَهُ كَانَ اٰمِنًا۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 82، طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 861 پر)

View Proof

یہ قرآن مجید کی آیت ہے (آل عمران:97) جو اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ جو اس میں داخل ہو گیا، اسے امن مل گیا۔ لیکن مرزا قادیانی اسے قادیان میں اپنی عبادت گاہ پر منطبق کر رہا ہے۔

قادیان کی فضیلت

آنا۔ ناقل) نفلی حج سے ثواب زیادہ ہے اور غافل رہنے میں نقصان اور خطرہ کیونکہ سلسلہ آسمانی ہے اور حکم ربانی۔“

(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 352 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 352 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 862 پر)

View Proof

ہجوم خلق سے ارض حرم ہے“

(درثمین صفحہ 56 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 863 پر)

View Proof

مکہ اور مدینہ کی چھاتیوں کا دودھ

یہاں نہیں آتے، مجھے ان کے ایمان کا خطرہ ہے۔ پس جو قادیان سے تعلق نہیں رکھے گا، وہ کاٹا جائے گا۔ تم ڈرو کہ تم میں سے نہ کوئی کاٹا جائے۔ پھر یہ تازہ دودھ کب تک رہے گا۔ آخر ماؤں کا دودھ بھی سوکھ جایا کرتا ہے۔ کیا مکہ اور مدینہ کی چھاتیوں سے یہ دودھ سوکھ گیا کہ نہیں۔“

(حقیقۃ الرؤیاء صفحہ 46 طبع اوّل از مرزا بشیر الدین محمود ابن مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 864 پر)

View Proof

صفحہ 325

قادیان تمام دنیا کی بستیوں کی ماں

(290) ”اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے قادیان کو تمام دنیا کی بستیوں کی اُم قرار دیا ہے۔ اس لیے اب وہی بستی پورے طور پر روحانی زندگی پائے گی جو اس کی چھاتیوں سے دودھ پیئے گی ۔“

(حقیقۃ الرؤیا، صفحہ 45 طبع اول از مرزا بشیر الدین محمود) (عکس صفحہ نمبر 865 پر)

View Proof

قادیانی جلسہ، حج کی طرح

(291) ”آج جلسہ کا پہلا دن ہے اور ہمارا جلسہ بھی حج کی طرح ہے۔ حج خدا تعالیٰ نے مومنوں کی ترقی کے لیے مقرر کیا تھا، آج احمدیوں کے لیے دینی لحاظ سے حج تو مفید ہے مگر اس سے جو اصل غرض یعنی قوم کی ترقی تھی، وہ انھیں حاصل نہیں ہو سکتی کیونکہ حج کا مقام ایسے لوگوں کے قبضہ میں ہے، جو احمدیوں کو قتل کر دینا بھی جائز سمجھتے ہیں۔ اس لیے خدا تعالیٰ نے قادیان کو اس کام کے لیے مقرر کیا ہے۔ ہمارے آدمیوں میں سے جن کو خدا تعالیٰ توفیق دیتا ہے، حج کرتے ہیں مگر وہ فائدہ جو حج سے مقصود ہے، وہ سالانہ جلسہ پر ہی آ کر اٹھاتے ہیں۔“

(برکات خلافت صفحہ 5، طبع اول از مرزا بشیر الدین محمود) (عکس صفحہ نمبر 866 پر)

View Proof

اہم نکات

مرزا قادیانی کی مذکورہ بالا تحریروں سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے:۔

اقصیٰ تک گئے۔

PDF 326
PDF 327

ثبوت حاضر ہیں!

اولیائے عظام رَحْمَةُ اللهِ عَلَيْهِم

وعلمائے کرام رَحْمَةُ اللهِ عَلَيْهِم

کی توہین

PDF 328
صفحہ 329

حضرات اولیائے عظام اور علمائے کرام، اللہ تعالیٰ کی انسانی مخلوق کا نہات بیش قیمت حصہ ہے۔ ایسا حصہ جسے اللہ رب العزت نے خود اپنا دوست قرار دیا۔ انہیں ایمان وتقویٰ کا علمبردار بتلایا اور واضح فرمایا کہ دنیا و آخرت میں ہر قسم کی بشارتیں ان کے لیے ہیں۔ اہل علم کے لیے قرآن وسنت میں جابجا تعریف آمیز کلمات ہیں اور کیوں نہ ہوں کہ علم نور ہے۔ اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔ اس سے کسی کو حصہ ملنا بڑی ہی سعادت ہے۔ علمائے کرام کی توہین و تذلیل کو حضور نبی کریم ﷺ نے بدترین جرم قرار دیا اور ایسے لوگوں کے متعلق واضح کیا کہ ان لوگوں کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔ لیکن صد ہزار حیف مرزا قادیانی مردود پر کہ اس نے قریب العہد اور قریب العصر نامور علما وصلحا کا نام لے لے کر انہیں مغلظات سنائیں اور برا بھلا کہا۔ بھلا ایسا آدمی اس قابل ہے کہ اسے کوئی منہ لگائے؟ حیرت ہے ان لوگوں پر جو اس کمینے شخص کو نبی بنا کر بیٹھے ہیں!!!

پرلے درجہ کی خباثت اور شرارت

خباثت اور شرارت سمجھتے ہیں۔“

(براہین احمدیہ صفحہ 102 مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 92 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 867 پر)

View Proof

مرزا قادیانی، خاتم الاولیا

مجھ سے ہوگا اور میرے عہد پر ہوگا۔“

(خطبہ الہامیہ صفحہ 70 مندرجہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 70 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 868 پر)

View Proof

صفحہ 330

حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی توہین

(294) ”سلطان عبدالقادر، اس الہام میں میرا نام سلطان عبدالقادر رکھا گیا کیونکہ جس طرح سلطان دوسروں پر حکمران اور افسر ہوتا ہے، اسی طرح مجھ کو تمام روحانی درباریوں پر افسری عطا کی گئی ہے۔ یعنی جو لوگ خدا تعالیٰ سے تعلق رکھنے والے ہیں۔ ان کا تعلق نہیں رہے گا جب تک وہ میری اطاعت نہ کریں۔ اور میری اطاعت کا جوّا اپنی گردن پر نہ اٹھائیں۔ یہ اسی قسم کا فقرہ ہے جیسا کہ یہ فقرہ قدمی ھذہ علی رقبۃ کل ولی اللہ یہ فقرہ سید عبدالقادر رضی اللہ عنہ کا ہے جس کے معنی ہیں کہ ہر ایک ولی کی گردن پر میرا قدم ہے۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 599 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 869 پر)

View Proof

(295) ”حافظ نور محمد صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضور (مرزا قادیانی) نے فرمایا کہ میں نے خواب میں ایک مرتبہ دیکھا کہ سید عبدالقادرؒ صاحب جیلانی آئے ہیں اور آپؒ نے پانی گرم کرا کر مجھے غسل دیا ہے اور نئی پوشاک پہنائی ہے اور گول کمرے کی سیڑھیوں کے پاس کھڑے ہو کر فرمانے لگے کہ آؤ ہم اور تم برابر برابر کھڑے ہو کر قد ناپیں۔ پھر انہوں نے میرے بائیں طرف کھڑے ہو کر کندھے سے کندھا ملایا تو اس وقت دونوں برابر برابر رہے۔“

(سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 16 از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 870 پر)

View Proof

حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ کی توہین

پاسبان ختم نبوت، تاجدار گولڑہ شریف حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ نے مرزا قادیانی کے کفریہ عقائد کے رد میں ایک معرکۃ الآراء کتاب ”سیف چشتیائی“ لکھی اور اسے مرزا قادیانی کو بھجوایا۔ مرزا قادیانی اسے پڑھ کر آپے سے باہر ہو گیا اور اول فول بکنے لگا۔ اس نے کہا:

(296) ”مجھے ایک کتاب کذاب (حضرت پیر مہر علی شاہ) کی طرف سے پہنچی ہے۔ وہ خبیث کتاب اور بچھو کی طرح نیش زن۔ پس میں نے کہا کہ اے گولڑہ کی زمین، تجھ پر

PDF 331

لعنت۔ تو ملعون کے سبب سے ملعون ہو گئی پس تو قیامت کو ہلاکت میں پڑے گی۔"

(اعجاز احمدی صفحہ 75 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 188 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 871 پر)

View Proof

مرزا قادیانی کی ذہنی حالت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ قادیانی عقائد کے مخالفانہ کتاب ملنے پر اس نے نہ صرف پیر صاحب کو برا بھلا کہا بلکہ اس پورے علاقے اور اس کے مکینوں کو بھی ملعون قرار دے ڈالا۔ جبکہ قادیانی جماعت کا نعرہ ہے: ”محبت سب کے لیے، نفرت کسی سے نہیں۔“

سے ایک تمام و کمال کتاب کا خود چور ثابت ہو گیا اور نہ صرف چور بلکہ کذاب بھی کہ ایک گندہ جھوٹ اپنی کتاب میں شائع کیا اور کتاب میں لکھ مارا کہ یہ میری تالیف ہے حالانکہ یہ اس کی تالیف نہیں۔ کیوں پیر جی اب اجازت ہے کہ اس وقت ہم بھی کہہ دیں کہ لعنۃ اللہ علی الکاذبین۔ رہا محمد حسن پس چونکہ وہ مر چکا ہے، اس لیے اس کی نسبت لمبی بحث کی ضرورت نہیں، وہ اپنی سزا کو پہنچ گیا۔ اس نے جھوٹ کی نجاست کھا کر وہی نجاست پیر صاحب کے منہ میں رکھ دی۔“

(نزول المسیح حاشیہ صفحہ 72 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 448 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 872 پر)

View Proof

پہنچتا کہ ایک دانا معمار کی نکتہ چینی کرے۔ آپ کی ذاتی لیاقت تو یہ ہے کہ ایک سطر بھی عربی نہیں لکھ سکتے۔ چنانچہ سیف چشتیائی میں بھی آپ نے چوری کے مال کو اپنا مال قرار دیا تو پھر اس لیاقت کے ساتھ کیوں آپ کے نزدیک شرم نہیں آتی۔ اے بھلے آدمی پہلے اپنی عربی دانی ثابت کر، پھر میری کتاب کی غلطیاں نکال اور فی غلطی ہم سے پانچ روپیہ لے اور بالمقابل عربی رسالہ لکھ کر میرے اس کلامی معجزہ کا باطل ہونا دکھلا۔ افسوس کہ دس برس کا عرصہ گزر گیا، کسی نے شریفانہ طریق سے میرا مقابلہ نہیں کیا۔ غایت کار اگر کیا تو یہ کیا کہ تمہارے فلاں لفظ میں فلاں غلطی ہے اور فلاں فقرہ فلاں کتاب کا مسروقہ معلوم ہوتا ہے۔ مگر صاف ظاہر ہے کہ جب تک خود انسان کا صاحب علم ہونا ثابت نہ ہو کیونکر اس کی نکتہ چینی صحیح مان لی جائے، کیا ممکن نہیں کہ وہ خود غلطی کرتا ہو اور جو شخص بالمقابل لکھنے پر قادر نہیں، وہ کیوں کہتا ہے کہ کتاب

صفحہ 332

میں بعض فقرے بطور سرقہ ہیں، اگر سرقہ سے یہ امر ممکن ہے تو کیوں وہ مقابل پر نہیں آتا اور لومڑی کی طرح بھاگا پھرتا ہے۔ اے نادان، اول کسی تفسیر کو عربی فصیح میں لکھنے سے اپنی عربی دانی ثابت کر، پھر تیری نکتہ چینی بھی قابل توجہ ہو جاوے گی ورنہ بغیر ثبوت عربی دانی کے میری نکتہ چینی کرنا اور کبھی سرقہ کا الزام دینا اور کبھی صرفی نحوی غلطی کا۔ یہ صرف گوہ کھانا ہے۔ اے جاہل، بے حیا، اول عربی بلیغ فصیح میں کسی سورۃ کی تفسیر شائع کر، پھر تجھے ہر ایک کے نزدیک حق حاصل ہوگا کہ میری کتاب کی غلطیاں نکالے یا مسروقہ قرار دے۔‘‘

(نزول المسیح صفحہ 65 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 441 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 873 پر)

علمائے کرام کی توہین

مولانا ثناء اللہ امرتسری کو

(اعجاز احمدی صفحہ 92 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 196 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 874 پر)

اہل حدیث راہنما مولانا محمد حسین بٹالوی کے متعلق لکھا:

بے ناموس، لاف زن، شیطان، گمراہ شیخ مفتری۔‘‘

(انجام آتھم صفحہ 241، 242 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 241، 242، 243 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 875، 876، 877 پر)

مولانا رشید احمد گنگوہی کے متعلق لکھا ہے:

(انجام آتھم صفحہ 252 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 252 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 878 پر)

مولانا سعد اللہ کے بارے میں لکھا:

صفحہ 333

کا نطفہ، بدگو ہے اور خبیث اور مفسد اور جھوٹ کو ملمع کر کے دکھانے والا، منحوس ہے جس کا نام جاہلوں نے سعد اللہ رکھا ہے۔‘‘

(حقیقة الوحی تتمہ صفحہ 445 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 445 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 879 پر)

View Proof

سلطان القلم کی گل افشانیاں

ہوئی کہ میری کلام جیسی کلام بنالاؤ۔ اور عبدالجبار کی جماعت میں سے ایک موذی نے کہا کہ یہ شخص دجال اور اکفر الکفار ہے اور ان میں سے ایک غزنوی شخص ہے جس کو عبدالحق کہتے ہیں اور اسنے گالیاں دیں اور پِشہ کی طرح اچھلا اور وہ ایک چوہا ہے شیروں کو اپنے سوراخ میں آواز سے ڈراتا ہے اور ایک شیخ لمبی زبان والا بہت ہذیان والا عبدالحق سے مشابہ ہے۔ اس نے گمان کیا ہے کہ وہ زمانہ کے فاضلوں میں سے ہے اور یہ شیخ نجدی ہے اور شیعہ ہے۔ اور اس نے عربی میں میری طرف ایک خط لکھا۔ بلکہ اسنے باوجود اس کے سب اور شتم کو کمال تک پہنچا دیا۔ اور کسی گالی کو نہ چھوڑا جسکو کمینہ رذیلوں کی طرح نہ لکھا۔ اور نہیں جانتا کہ ایمان کیا ہے اور مومنوں کی خصلتیں کیا ہیں۔ اور ہم گالی کی طرح رجوع نہیں کرتے جیسا کہ اس نے عناد سے کیا۔ مگر تو کمینوں اور سفلوں میں سے تھا۔ اور تمام تر تعجب یہ ہے کہ عبدالحق غزنوی پانچ برس سے مجھے گالیاں نکال رہا ہے۔ اور ہم نے فحش گوئی سے پرہیز کیا ہے اور ہر ایک درخت پھل سے پہچانا جاتا ہے۔ اور امید رکھتا ہوں کہ وہ اپنے تجاوز سے باز آجائیں گے اور بکواس سے باز نہ آئے۔ پس میں نے جان لیا کہ وہ مردود اور مخذول ہیں۔ اور بدبخت اور محروم ہیں اپنے تئیں تو بہت نیک آدمیوں میں سے خیال کرتا ہے اور بدبختوں کے طریق پر چلتا ہے۔ فاسقوں کی طرح تو زندگی بسر کرتا ہے۔ تیری باطنی پلیدی نے تیری صورت کو حقیر کر دیا تو ایک بھیڑیا ہے نہ انسان کی قسم اور شریروں میں سے ہے اور تو بوڑھا ہو گیا اور چمڑا پرانا ہو گیا اور خبث اور فساد کے طریقوں کو تو نہیں چھوڑتا۔ قبل اس کے جو تجھ کو کیڑے کھالیں اور موت آجائے اور تو نے مجھ سے دشمنی کی پس خدا تجھے تباہ کرے اور جلد بازوں کی طرح بکواس مت کر پس خدا نے تیرا منہ کالا کیا۔ کلب العناد، پس اے مسخ شدہ اور تیرا سر تیرے ہی جوتوں کے ساتھ نرم کیا جائے گا۔

تجھ پر لعنت، اے غزنی کے بندر، تو کتوں کی طرح تھا، بک بک کرنے والا، کم معرفت لکنت لسان کا داغ رکھنے والا اور کتا ایک صورت ہے اور تو اسکی روح ہے۔

صفحہ 334

پس تیرے جیسا آدمی کتے کی طرح بھونکتا ہے اور فریاد کرتا ہے۔ ہم نے تنبیہہ کے لیے تجھے طمانچہ مارا مگر تو نے طمانچہ کو کچھ نہ سمجھا۔ پس کاش ہماری پاس مضبوط اونٹ کے چمڑے کا جوتا ہوتا۔ اور جو گالی تو دینا چاہے گا وہ ہم سے سنے گا۔ اور اگر تو بات اور حملہ میں نرمی کرے گا تو ہم بھی نرمی کریں گے۔ اور میں تیرے نفس میں علم اور عقل نہیں دیکھتا۔ اور تو خنزیر کی طرح حملہ کرتا ہے اور گدھوں کی طرح آواز کرتا ہے۔ اور تو نے بدکار عورت کی طرح رقص کیا۔ اور مجھے فاسق ٹھہرایا حالانکہ تو سب سے زیادہ فاسق ہے۔ اے شیخ شقی سوچ۔ اور انسان کی طرح فکر کر اور گدھے کی طرح آواز نہ کر۔ پس میں قسم کھاتا ہوں کہ اگر خدا کا خوف اور حیا نہ ہوتا۔ تو میں قصد کرتا کہ گالیوں سے تجھے فنا کر دیتا۔

(حجۃ اللہ ص 12 تا 18 مندرجہ روحانی خزائن جلد نمبر 12 ص 172 تا 236 از مرزا قادیانی)

قارئین کرام! آپ نے مرزا قادیانی کی مندرجہ بالا مغلظات و ہفوات پڑھ لی ہیں۔ اس کے باوجود اس کا دعویٰ ہے:

گالیاں دینا سفلوں اور کمینوں کا کام ہے

(303) ”ناحق گالیاں دینا سفلوں اور کمینوں کا کام ہے۔“

(ست بچن صفحہ 21 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 133 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 880 پر)

View Proof

بدزبان ہر ایک سے بدتر ہے

(304)

”بد تر ہر ایک بد سے وہ ہے جو بد زبان ہے
جس دل میں یہ نجاست بیت الخلاء یہی ہے“

(قادیان کے آریہ اور ہم صفحہ 42 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 458 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 881 پر)

View Proof

PDF 335

ثبوت حاضر ہیں!

مسلمانوں کو گندی گالیاں

اور کفر کا فتویٰ

PDF 336
صفحہ 337

حضور نبی کریم ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ آپ ﷺ کی امت آخری امت ہے۔ جس طرح آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں، اس طرح آپ ﷺ کی امت کے بعد کوئی امت نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی امت کو ”خیر امۃ“ قرار دیا۔ اس امت کی فضیلت ملاحظہ فرمائیں کہ بڑے بڑے انبیاء و رسل نے اس امت میں شامل ہونے کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعا قبول ہوئی اور وہ قرب قیامت دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے۔ ان کی حیثیت نبی کی نہیں بلکہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے امتی کی ہوگی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دیگر مسلمانوں کی طرح آپ ﷺ کی تعلیمات کی اتباع کریں گے۔

امت مسلمہ کا ہر فرد اس لحاظ سے خوش قسمت ہے کہ وہ حضور نبی کریم ﷺ کی امت میں سے ہے۔ آپ ﷺ کی سچی اطاعت اور اتباع سے دنیا و آخرت میں کامیابی ہے۔ اس کے برعکس جھوٹا مدعی نبوت آنجہانی مرزا قادیانی اپنی اطاعت اور فرماں برداری کو ہر شخص پر لازم قرار دیتا ہے۔ مرزا قادیانی کا کہنا ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ کی اطاعت سے جنت مل سکتی ہے نہ جہنم سے نجات، بلکہ جو شخص اسے (مرزا قادیانی کو) نبی نہیں مانتا، وہ کافر، جہنمی، عیسائی، یہودی، مشرک، کنجریوں کی اولاد، خنزیر اور ولد الحرام ہے۔ غلام ہندوستان میں غیروں کی ضروریات کی تکمیل کے لیے نبوت کا ڈھونگ رچانے والے آنجہانی مرزا قادیانی نے اپنے مخالفین کے خلاف جو زبان استعمال کی، وہ اس کا سب سے بڑا ثبوت ہے کہ مرزا قادیانی کا مقام انسانیت سے بھی کوئی تعلق نہیں۔ آئیے! ملاحظہ فرمائیں کہ مرزا قادیانی اور اس کی ذریت نے امت مسلمہ کے خلاف کیا ہرزہ سرائی کی ہے:

مرزا قادیانی نے کہا تھا:

صفحہ 338

جب دل بگڑتا ہے

(305) ”جب دل بگڑتا ہے تو زبان ساتھ ہی بگڑ جاتی ہے۔“

(آسمانی فیصلہ، ص 37 مندرجہ روحانی خزائن جلد 4 ص 347 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 882 پر)

View Proof

اخلاقی معلم کا فرض

(306) ”اخلاقی معلم کا فرض یہ ہے کہ پہلے آپ اخلاق کریمہ دکھلاوے۔“

(چشمہ مسیحی صفحہ 12 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 346 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 883 پر)

View Proof

میری فطرت

(307) ”میری فطرت اس سے دور ہے کہ کوئی تلخ بات منہ پر لاؤں۔“

(آسمانی فیصلہ صفحہ 10 مندرجہ روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 320 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 884 پر)

View Proof

تہذیب اخلاق

(308) ”خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کو یعنی اس عاجز کو ہدایت اور دین حق...... اور تہذیب اخلاق کے ساتھ بھیجا۔“

(اربعین نمبر 3 صفحہ 84 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 426 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 885 پر)

View Proof

گالیاں سن کے دعا دو

(309) ”گالیاں سن کر دعا دو پا کے دکھ آرام دو
کبر کی عادت جو دیکھو تم دکھاؤ انکسار“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 114 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 144 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 886 پر)

View Proof

صفحہ 339

سخت زبانی سے برکت جاتی رہتی ہے

(310) "مخالف جو گالیاں دیتے ہیں اور گندے اور ناپاک اشتہار شائع کرتے ہیں، ہم کو ان کا جواب گالیوں سے کبھی دینا نہیں چاہیے۔ ہم کو سخت زبانی کی ضرورت نہیں کیونکہ سخت زبانی سے برکت جاتی رہتی ہے اس لیے ہم نہیں چاہتے کہ اپنی برکت کو کم کریں۔"

(ملفوظات جلد دوم صفحہ 161، طبع جدید، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 887 پر)

View Proof

مرزا قادیانی کے بڑے بیٹے مرزا بشیر الدین محمود کا کہنا ہے:

گالیاں شکست کو ثابت کرتی ہیں

(311) "جب انسان دلائل سے شکست کھاتا اور ہار جاتا ہے تو گالیاں دینی شروع کر دیتا ہے اور جس قدر کوئی زیادہ گالیاں دیتا ہے اس قدر اپنی شکست کو ثابت کرتا ہے۔"

(انوار خلافت صفحہ 20 مندرجہ انوار العلوم جلد 3 صفحہ 80 از مرزا بشیر الدین محمود) (عکس صفحہ نمبر 888 پر)

View Proof

مرزا قادیانی اور اس کے بیٹے کی مذکورہ بالا تحریروں سے مندرجہ ذیل باتیں اخذ ہوتی ہیں:

ساتھ رسول بنا کر بھیجا۔

برکت جاتی رہتی ہے۔

دیتا ہے، اور جس قدر زیادہ گالیاں دیتا ہے، اسی قدر اپنی شکست کو ثابت کرتا ہے۔

صفحہ 340

اب آئیے! ان ”فرمودات عالیہ“ کے برعکس مرزا قادیانی کا تضاد دیکھتے ہیں:

ولد الحرام

(312) ”اور ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا تو صاف سمجھا جاوے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں۔“

(انوارِ اسلام صفحہ 30 مندرجہ روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 31 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 889 پر)

View Proof

عیسائی، یہودی، مشرک

(313) ”جو میرے مخالف تھے، ان کا نام عیسائی اور یہودی اور مشرک رکھا گیا۔“

(نزول المسیح (حاشیہ) صفحہ 4 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 382 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 890 پر)

View Proof

کنجریوں کی اولاد

(314) ”تلک کتب ینظر الیھا کل مسلم بعین المحبة والمودة وینتفع من معارفھا ویقبلنی و یصدق دعوتی۔ الا ذریة البغایا۔“

ترجمہ ”میری ان کتابوں کو ہر مسلمان محبت کی نظر سے دیکھتا ہے اور اس کے معارف سے فائدہ اٹھاتا ہے اور میری دعوت کی تصدیق کرتا ہے اور اسے قبول کرتا ہے مگر کنجریوں (بدکار عورتوں) کی اولاد نے میری تصدیق نہیں کی۔“

(آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 547، 548 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 547، 548 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 891، 892 پر)

View Proof

”اصل عبارت عربی میں ہے۔ اس کا ترجمہ ہم نے لکھا ہے۔ مرزا کے الفاظ یہ ہیں الا ذریة البغایا۔ عربی کا لفظ البغایا جمع کا صیغہ ہے۔ واحد اس کا بغیة ہے جس کا معنی بدکار، فاحشہ، زانیہ ہے۔

صفحہ 341

(315) خود مرزا نے خطبہ الہامیہ صفحہ 49 (مندرجہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 49) پر لفظ بغايا کا ترجمہ بازاری عورتیں کیا ہے۔ (عکس صفحہ نمبر 893 پر) View Proof

(316) ”اور ایسے ہی انجام آتھم کے صفحہ 282 (مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 282) (عکس صفحہ نمبر 894 پر) View Proof

(317) نور الحق حصہ اول صفحہ 123 (مندرجہ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 163) پر لفظ بغایا کا ترجمہ نسل بدکاران، زنا کار، زن بدکار وغیرہ کیا ہے۔ نیز قرآن پاک میں ہے کہ جب یہودیوں نے حضرت مریم کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کے بعد کہا تھا:

ترجمہ: تیری ماں زنا کار اور بدکار نہ تھی۔

مسلمان مرد خنزیر، ان کی عورتیں کتیاں

(318) ان العدا صاروا خنازير الفلا
و نساء هم من دونهن الاكلب

”دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہو گئے۔ اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئی ہیں۔“ (نجم الہدیٰ صفحہ 53 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 53 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 895 پر) View Proof

مرزا قادیانی کو نہ ماننے والا پکا کافر

(319) ”ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمدؐ کو نہیں مانتا اور یا محمدؐ کو مانتا ہے پر مسیح موعود کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“ (کلمۃ الفصل صفحہ 110 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 896 پر) View Proof

صفحہ 342

مرزا قادیانی کا انکار کفر

(320) ”اب معاملہ صاف ہے، اگر نبی کریم کا انکار کفر ہے تو مسیح موعود کا انکار بھی کفر ہونا چاہیے۔ کیونکہ مسیح موعود نبی کریم سے الگ کوئی چیز نہیں ہے بلکہ وہی ہے اور اگر مسیح موعود کا منکر کافر نہیں تو نعوذ باللہ نبی کریم کا منکر بھی کافر نہیں کیونکہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ پہلی بعثت میں تو آپ کا انکار کفر ہو مگر دوسری بعثت میں جس میں بقول حضرت مسیح موعود آپ کی روحانیت اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے، آپ کا انکار کفر نہ ہو۔“

(کلمۃ الفصل صفحہ 146، 147 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 897، 898 پر)

(321) ”خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا، وہ مسلمان نہیں ہے۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 519 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 899 پر)

(322) ”اس الہام کی تشریح میں حضرت مسیح موعود نے لفظ کفر کو غیر احمدی مسلمانوں کو قرار دیا ہے۔“

(کلمۃ الفصل صفحہ 143 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 900 پر)

خواہ نام بھی نہیں سنا

(323) ”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے، خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا نام بھی نہیں سنا، وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“

(آئینہ صداقت صفحہ 35 مندرجہ انوارالعلوم جلد 6 صفحہ 110 از مرزا بشیر الدین محمود ابن مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 901 پر)

صفحہ 343

جہنمی

مخالف رہے گا۔ وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 280 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 902 پر)

View Proof

بندروں اور سوروں کی طرح

رہیں گے؟ اور کیا اس دن یہ تمام لڑنے والے سچائی کی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہو جائیں گے؟ ان بیوقوفوں کو کوئی بھاگنے کی جگہ نہیں رہے گی اور نہایت صفائی سے ناک کٹ جائے گی اور ذلت کے سیاہ داغ ان کے منحوس چہروں کو بندروں اور سؤروں کی طرح کر دیں گے۔“

(انجام آتھم صفحہ 53 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 337 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 903 پر)

View Proof

خنزیر سے زیادہ پلید لوگ

سے زیادہ پلید وہ لوگ ہیں جو اپنے نفسانی جوش کے لیے حق اور دیانت کی گواہی کو چھپاتے ہیں۔ اے مردار خور مولویو اور گندی روحو تم پر افسوس کہ تم نے میری عداوت کے لیے اسلام کی سچی گواہی کو چھپایا۔ اے اندھیرے کے کیڑو۔“

(انجام آتھم صفحہ 21 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 305 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 904 پر)

View Proof

جیسا کہ سنڈاس پاخانہ سے

نجاست سے اپنی کتاب عصائے موسیٰ کو ایسا بھر دیا ہے جیسا کہ ایک نالی اور بدر رو گندے کیچڑ سے بھری جاتی ہے یا جیسا کہ سنڈاس پاخانہ سے۔“

(اربعین نمبر 4 حاشیہ صفحہ 114، 115 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 456، 457 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 905، 906 پر)

View Proof

صفحہ 344

کتوں کی طرح جھوٹ کا مردار کھانے والے

(328) ”مگر کیا یہ لوگ قسم کھالیں گے؟ ہرگز نہیں۔ کیونکہ یہ جھوٹے ہیں اور کتوں کی طرح جھوٹ کا مردار کھا رہے ہیں۔“

(انجام آتھم (ضمیمہ) صفحہ 25 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 309 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 907 پر)

View Proof

خراب عورتیں اور دجال کی نسل

(329) ”اور جاننا چاہیے کہ ہر ایک شخص جو ولد الحلال ہے اور خراب عورتوں اور دجال کی نسل میں سے نہیں ہے، وہ دو باتوں میں سے ایک بات ضرور اختیار کرے گا یا تو بعد اس کے دروغگوئی اور افترا سے باز آ جائے گا یا ہمارے اس رسالہ جیسا رسالہ بنا کر پیش کرے گا۔“

(نور الحق صفحہ 163 مندرجہ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 163 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 908 پر)

View Proof

پیٹ سے چوہا ؟

(330) ”اب عبدالحق کو ضرور پوچھنا چاہیے کہ اس کا وہ مباہلہ کی برکت کا لڑکا کہاں گیا؟ کیا اندر ہی اندر پیٹ میں تحلیل پا گیا یا پھر رجعت قہقری کر کے نطفہ بن گیا ------- اور اب تک اس کی عورت کے پیٹ میں سے ایک چوہا بھی پیدا نہ ہوا۔“

(انجام آتھم صفحہ 311، 317 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 311، 317 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 909، 910 پر)

View Proof

رحم پر مُہر

(331) ”خدا تعالیٰ نے اس (عبدالحق غزنوی) کی بیوی کے رحم پر مُہر لگا دی“

(تتمہ حقیقۃ الوحی صفحہ 444 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 444 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 911 پر)

View Proof

صفحہ 345

عضو تناسل کاٹ دیتا......

(332) ”حضرت مسیح موعود کے قریباً ہم عمر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی بھی تھے۔ ان کے والد کا جس وقت نکاح ہوا، اگر ان کو حضرت اقدس مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی حیثیت معلوم ہوتی اور وہ جانتے کہ میرا ہونے والا بیٹا محمد رسول اللہ ﷺ کے ظل اور بروز کے مقابلہ میں وہی کام کرے گا جو آنحضرت ﷺ کے مقابلہ میں ابو جہل نے کیا تھا تو وہ اپنے آلہ تناسل کو کاٹ دیتا اور اپنی بیوی کے پاس نہ جاتا۔“

(مرزا بشیر الدین محمود کا خطبہ نکاح۔ روزنامہ الفضل قادیان مورخہ 2 نومبر 1922ء جلد 10 شمارہ 35)

(عکس صفحہ نمبر 912 پر)

View Proof

جہاں سے نکلے تھے......

(333) ”جھوٹے آدمی کی یہ نشانی ہے کہ جاہلوں کے رو برو تو بہت گزاف مارتے ہیں مگر جب کوئی دامن پکڑ کر پوچھے کہ ذرا ثبوت دے کر جاؤ تو جہاں سے نکلے تھے، وہیں داخل ہو جاتے ہیں۔“

(حیات احمد، حضرت مسیح موعود کے سوانح حیات جلد دوم نمبر اول صفحہ 25 از یعقوب علی عرفانی ایڈیٹر الحکم قادیان)

(عکس صفحہ نمبر 913 پر)

View Proof

افغانوں کی شکلیں اور رسوم

(334) ”افغانوں کی شکلیں بھی اسرائیلیوں سے بہت ملتی ہیں۔ اگر ایک جماعت یہودیوں کی ایک افغانوں کی جماعت کے ساتھ کھڑی کی جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ ان کا منہ اور ان کا اونچا ناک اور چہرۂ بیضاوی ایسا باہم مشابہ معلوم ہوگا کہ خود دل بول اٹھے گا کہ یہ لوگ ایک ہی خاندان میں سے ہیں۔

چوتھا قرینہ افغانوں کی پوشاک بھی ہے۔ افغانوں کے لمبے کرتے اور جبے یہ وہی وضع اور پیرایہ اسرائیلیوں کا ہے جس کا انجیل میں بھی ذکر ہے۔

صفحہ 346

پانچواں قرینہ ان کے وہ رسوم ہیں جو یہودیوں سے بہت ملتے ہیں۔ مثلاً ان کے بعض قبائل ناطہ اور نکاح میں کچھ چنداں فرق نہیں سمجھتے اور عورتیں اپنے منسوب سے بلا تکلف ملتی ہیں اور باتیں کرتی ہیں۔ حضرت مریم صدیقہ کا اپنے منسوب یوسف کے ساتھ قبل نکاح کے پھرنا اس اسرائیلی رسم پر پختہ شہادت ہے۔ مگر خوانین سرحدی کے بعض قبائل میں یہ مماثلت عورتوں کی اپنے منسوبوں سے حد سے زیادہ ہوتی ہے۔ حتیٰ کہ بعض اوقات نکاح سے پہلے حمل بھی ہو جاتا ہے جس کو برا نہیں مانتے بلکہ ہنسی ٹھٹھے میں بات کو ٹال دیتے ہیں کیونکہ یہود کی طرح یہ لوگ ناطہ کو ایک قسم کا نکاح ہی جانتے ہیں جس میں پہلے مہر بھی مقرر ہو جاتا ہے۔

چھٹا قرینہ افغانوں کے بنی اسرائیل ہونے پر یہ ہے کہ افغانوں کا یہ بیان کہ قیس ہمارا مورث اعلیٰ ہے ان کے بنی اسرائیل ہونے کی تائید کرتا ہے کیونکہ یہودیوں کی کتب مقدسہ میں سے جو کتاب پہلی تاریخ کے نام سے موسوم ہے اس کے باب 9 آیت 36 میں قیس کا ذکر ہے اور وہ بنی اسرائیل میں سے تھا۔ اس سے ہمیں پتہ ملتا ہے کہ یا تو اسی قیس کی اولاد میں سے کوئی دوسرا قیس ہو گا جو مسلمان ہو گیا ہو گا اور یا یہ کہ مسلمان ہونے والے کا کوئی اور نام ہو گا اور وہ اس قیس کی اولاد میں سے ہو گا اور پھر باعث خطا و حافظہ اس کا نام بھی قیس سمجھا گیا۔ بہرحال ایک ایسی قوم کے منہ سے قیس کا لفظ نکلنا جو کتب یہود سے بالکل بے خبر تھی اور محض ناخواندہ تھی، یقینی طور پر سمجھا جاتا ہے کہ یہ قیس کا لفظ انھوں نے اپنے باپوں سے سنا تھا کہ ان کا مورث اعلیٰ ہے۔ پہلی تاریخ آیت 29 کی یہ عبارت ہے۔ ”اور نیر سے قیس پیدا ہوا اور قیس سے ساؤل پیدا ہوا اور ساؤل سے یہونتن۔“

ساتواں قرینہ اخلاقی حالتیں ہیں۔ جیسا کہ سرحدی افغانوں کی زود رنجی اور تلون مزاجی اور خود غرضی اور گردن کشی اور کج مزاجی اور کج روی اور دوسرے جذبات نفسانی اور خونی خیالات اور جاہل اور بے شعور ہونا مشاہدہ ہو رہا ہے۔ یہ تمام صفات وہی ہیں جو توریت اور دوسرے صحیفوں میں اسرائیلی قوم کی لکھی گئی ہیں۔ اور اگر قرآن شریف کھول کر سورۃ بقرہ سے بنی اسرائیل کی صفات اور عادات اور اخلاق اور افعال پڑھنا شروع کرو تو ایسا معلوم ہو گا کہ گویا سرحدی افغانوں کی اخلاقی حالتیں بیان ہو رہی ہیں۔“

(ایام الصلح صفحہ 74 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 300 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 914 پر)

صفحہ 347

’’سلطان القلم‘‘ کی گل افشانیاں

ہوئی کہ میری کلام جیسی کلام بنا لاؤ۔ اور عبدالجبار کی جماعت میں سے ایک موذی نے کہا کہ یہ شخص دجال اور اکفر الکفار ہے اور ان میں سے ایک غزنوی شخص ہے جس کو عبدالحق کہتے ہیں اور اسنے گالیاں دیں اور پیشہ کی طرح اچھلا اور وہ ایک چوہا ہے شیروں کو اپنے سوراخ میں آواز سے ڈراتا ہے اور ایک شیخ لمبی زبان والا بہت ہذیان والا عبدالحق سے مشابہ ہے۔ اس نے گمان کیا ہے کہ وہ زمانہ کے فاضلوں میں سے ہے اور یہ شیخ نجدی ہے اور شیعہ ہے۔ اور اس نے عربی میں میری طرف ایک خط لکھا۔ بلکہ اسنے باوجود اس کے سب اور شتم کو کمال تک پہنچا دیا۔ اور کسی گالی کو نہ چھوڑا جسکو کمینہ رذیلوں کی طرح نہ لکھا۔ اور نہیں جانتا کہ ایمان کیا ہے اور مومنوں کی خصلتیں کیا ہیں۔ اور ہم گالی کی طرح رجوع نہیں کرتے جیسا کہ اس نے عناد سے کیا۔ مگر تو کمینوں اور سفلوں میں سے تھا۔ اور تمام تر تعجب یہ ہے کہ عبدالحق غزنوی پانچ برس سے مجھے گالیاں نکال رہا ہے۔ اور ہم نے فحش گوئی سے پرہیز کیا ہے اور ہر ایک درخت پھل سے پہچانا جاتا ہے۔ اور امید رکھتا ہوں کہ وہ اپنے تجاوز سے باز آ جائیں گے اور بکواس سے باز نہ آئے۔ پس میں نے جان لیا کہ وہ مردود اور مخذول ہیں۔ اور بدبخت اور محروم ہیں اپنے تئیں تو بہت نیک آدمیوں میں سے خیال کرتا ہے اور بدبختوں کے طریق پر چلتا ہے۔ فاسقوں کی طرح تو زندگی بسر کرتا ہے۔ تیری باطنی پلیدی نے تیری صورت کو خنزیر کر دیا تو ایک بھیڑیا ہے نہ انسان کی قسم اور شریروں میں سے ہے اور تو بوڑھا ہو گیا اور چمڑا پرانا ہو گیا اور خبث اور فساد کے طریقوں کو تو نہیں چھوڑتا۔ قبل اس کے جو تجھ کو کیڑے کھا لیں اور موت آجائے اور تو نے مجھ سے دشمنی کی پس خدا تجھے تباہ کرے اور جلد بازوں کی طرح بکواس مت کر پس خدا نے تیرا منہ کالا کیا۔ کلب العناد، پس اے مسخ شدہ اور تیرا سر تیرے ہی جوتوں کے ساتھ نرم کیا جائے گا۔

تجھ پر لعنت، اے غزنی کے بندر، تو کتوں کی طرح تھا، بک بک کرنے والا، کم
معرفت لکنت لسان کا داغ رکھنے والا
اور کتا ایک صورت ہے اور تو اسکی روح ہے۔
پس تیرے جیسا آدمی کتے کی طرح بھونکتا ہے اور فریاد کرتا ہے۔
ہم نے تنبیہ کے لیے تجھے طمانچہ مارا مگر تو نے طمانچہ کو کچھ نہ سمجھا۔
پس کاش ہمارے پاس مضبوط اونٹ کے چمڑے کا جوتا ہوتا۔
صفحہ 348
اور جو گالی تو دینا چاہے گا وہ ہم سے سنے گا۔
اور اگر تو بات اور حملہ میں نرمی کرے گا تو ہم بھی نرمی کریں گے۔
اور میں تیرے نفس میں علم اور عقل نہیں دیکھتا۔
اور تو خنزیر کی طرح حملہ کرتا ہے اور گدھوں کی طرح آواز کرتا ہے۔
اور تو نے بدکار عورت کی طرح رقص کیا۔
اور مجھے فاسق ٹھہرایا حالانکہ تو سب سے زیادہ فاسق ہے۔
اے شیخ شقی سوچ۔
اور انسان کی طرح فکر کر اور گدھے کی طرح آواز نہ کر۔
پس میں قسم کھاتا ہوں کہ اگر خدا کا خوف اور حیا نہ ہوتا۔
تو میں قصد کرتا کہ گالیوں سے تجھے فنا کر دیتا۔

(حجۃ اللہ ص 12 تا 18 مندرجہ روحانی خزائن جلد نمبر 12 ص 172 تا 236 از مرزا قادیانی)

قادیانی جماعت کے خلیفہ مرزا مسرور نے 4 دسمبر 2005ء کو جلسہ سالانہ ماریشس کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”ایک اور خرابی زبان کا غلط استعمال ہے، گالی دینا، نامناسب الفاظ کا استعمال اور دوسروں کے جذبات کو مجروح کرنا۔ جبکہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ ہمیشہ لوگوں کو اچھی بات کہو۔ ہر احمدی کا فرض ہے کہ وہ جھوٹ اور زبان کے غلط استعمال سے بچے۔“ (روزنامہ الفضل 17 دسمبر 2005ء) قادیانیوں کو زبان کے استعمال پر وعظ و نصیحت کرنے سے پہلے مرزا مسرور کو اپنے دادا مرزا قادیانی کی بازاری زبان پر مشتمل تحریروں پر بھی ایک نظر ضرور ڈالنی چاہیے تھی۔ مزید براں قادیانی جماعت کا نعرہ ہے۔ "Love for all hatred for none" یعنی محبت سب سے نفرت کسی سے نہیں۔ اس سلسلہ میں میری ہر قادیانی سے دردمندانہ درخواست ہے کہ وہ مرزا قادیانی کے اخلاق و محبت کے بارے میں مرزا قادیانی کی کتاب انجام آتھم صفحہ 329 تا 340 (مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 329 تا 340) کا بھی ضرور مطالعہ کریں۔ انھیں خود اندازہ ہو جائے گا کہ اس طرح کی گفتگو تو کوئی بھٹیارن بھی نہیں کرتی جبکہ مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے:

صفحہ 349

ناحق گالیاں دینا سفلوں اور کمینوں کا کام ہے

(335) ”ناحق گالیاں دینا سفلوں اور کمینوں کا کام ہے۔“

(ست بچن صفحہ 21 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 133 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 915 پر)

View Proof

میری طرف سے گالیوں کا جواب خدا دے گا

(336) ”غرض خداوند قادر و قدوس میری پناہ ہے اور میں تمام کام اپنا اسی کو سونپتا ہوں اور گالیوں کے عوض میں گالیاں نہیں دینا چاہتا اور نہ کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ ایک ہی ہے جو کہے گا۔“

(آسمانی فیصلہ صفحہ 25 مندرجہ روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 25 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 916 پر)

View Proof

کتا پن

(337) ”ایک بزرگ کو کتے نے کاٹا۔ گھر آیا تو گھر والوں نے دیکھا کہ اسے کتے نے کاٹ کھایا ہے۔ ایک بھولی بھالی چھوٹی لڑکی بھی تھی۔ وہ بولی آپ نے کیوں نہ کاٹ کھایا؟ اس نے جواب دیا۔ بیٹی۔ انسان سے کتا پن نہیں ہوتا۔ اسی طرح سے انسان کو چاہیے کہ جب کوئی شریر گالی دے تو مومن کو لازم ہے کہ اعراض کرے نہیں تو وہی کتا پن کی مثال صادق آئے گی۔“

(ملفوظات جلد اول صفحہ 64 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 917 پر)

View Proof

بدتر ہر ایک بد سے

(338) ”بدتر ہر ایک بد سے وہ ہے جو بدزباں ہے
جس دل میں یہ نجاست بیت الخلا یہی ہے“

(قادیان کے آریہ اور ہم صفحہ 61 مندرجہ روحانی خزائن، جلد 20 صفحہ 458، از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 918 پر)

View Proof

صفحہ 350

مرزا قادیانی اس شعر کا خود مصداق ہے۔ اس نے اپنی کتابوں میں مختلف لوگوں کو جو گالیاں دی ہیں، ان کی تعداد ہزاروں میں بنتی ہے۔ صفحات کی کمی کے پیش نظر صرف چند مثالیں پیش خدمت ہیں۔

(انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 21 / حاشیہ، مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 305 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 21، حاشیہ، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 305 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 45، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 329 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 45، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 329 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 46، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 330 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 48، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 332 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 50، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 334 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 21 / حاشیہ، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 305 از مرزا قادیانی)

(ضمیمہ براہین احمدیہ پنجم صفحہ 165، روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 332 از مرزا قادیانی)

(اتمام الحجۃ صفحہ 24، روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 303 از مرزا قادیانی)

(ایام الصلح صفحہ 166؛ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 413 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 58، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 342 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم صفحہ 224، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 224، از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم صفحہ 241، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 241 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم صفحہ 251، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 251 از مرزا قادیانی)

(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 601، روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 601 از مرزا قادیانی)

(آئینہ کمالات اسلام صفحہ (و)، روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 608 از مرزا قادیانی)

(آئینہ کمالات اسلام صفحہ (و)، روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 608 از مرزا قادیانی)

(ازالہ اوہام صفحہ 105، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 105 از مرزا قادیانی)

(مواہب الرحمٰن صفحہ 131، روحانی خزائن صفحہ 352 ج 19 از مرزا قادیانی)

صفحہ 351

(نور الحق حصہ 1 ، روحانی خزائن جلد 8 ص 4، 5 از مرزا قادیانی)

سے بے بہرہ اور برہنہ

(مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 69 از مرزا قادیانی)

(ایام الصلح صفحہ 165، روحانی خزائن جلد 14 ص 413 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 22 / حاشیہ، روحانی خزائن جلد 11 ص 306 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 45، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 329 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 53، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 337 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ص 59، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 59 از مرزا قادیانی)

(شہادت القرآن ص 84، روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 380 از مرزا قادیانی)

(نور الحق صفحہ 3 حصہ اوّل، روحانی خزائن جلد 8 ص 5 از مرزا قادیانی)

(اعجاز احمدی صفحہ 39، روحانی خزائن جلد 19 ص 150 از مرزا قادیانی)

(اعجاز احمدی صفحہ 75، روحانی خزائن جلد 19 ص 188 از مرزا قادیانی)

(تذکرہ الشہادتین ص 38، روحانی خزائن جلد 20 ص 40 از مرزا قادیانی)

(حقیقۃ الوحی تتمہ ص 107، روحانی خزائن ج 22 ص 543 از مرزا قادیانی)

(ایام الصلح ص 165، روحانی خزائن جلد 14 ص 413 از مرزا قادیانی)

(ایام الصلح ص 166، روحانی خزائن جلد 14 ص 414 از مرزا قادیانی)

(ایام الصلح ص 166، روحانی خزائن جلد 14 ص 413 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 4، روحانی خزائن جلد 11 ص 288 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 46، روحانی خزائن جلد 11 ص 330 از مرزا قادیانی)

(اعجاز احمدی ص 43، روحانی خزائن جلد 19 ص 155 از مرزا قادیانی)

ذرہ مس نہیں

(اعجاز احمدی ص 51، روحانی خزائن جلد 19 ص 163 از مرزا قادیانی)

دودھ پلایا گیا

(انجام آتھم ضمیمہ ص 18 / حاشیہ، روحانی خزائن جلد 11 ص 302 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 49، روحانی خزائن جلد 11 ص 333 از مرزا قادیانی)

صفحہ 352
صفحہ 353

(ازالہ اوہام ص 510، روحانی خزائن جلد 3 ص 373 از مرزا قادیانی)

(استفتاء ص 20، روحانی خزائن جلد 12 ص 128 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ص 47، روحانی خزائن جلد 11 ص 47 از مرزا قادیانی)

(مجموعہ اشتہارات جلد اول ص 125 از مرزا قادیانی)

(ضیاء الحق ص 35، روحانی خزائن جلد 9 ص 296 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ص 204، روحانی خزائن جلد 11 ص 204 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ص 206، روحانی خزائن جلد 11 ص 206 از مرزا قادیانی)

(مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 69 از مرزا قادیانی)

(ایام الصلح ص 166، روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 413 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 53، روحانی خزائن جلد 11 ص 337 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 24 / ح، روحانی خزائن جلد 11 ص 308 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 59، روحانی خزائن جلد 11 ص 343 از مرزا قادیانی)

اندر غرق

(انجام آتھم ضمیمہ ص 46، روحانی خزائن جلد 11 ص 330 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ص 241، روحانی خزائن جلد 11 ص 241 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ص 241، روحانی خزائن جلد 11 ص 241 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ص 251، روحانی خزائن جلد 11 ص 251 از مرزا قادیانی)

(آئینہ کمالات اسلام ص 548، روحانی خزائن جلد 5 ص 548 از مرزا قادیانی)

(آئینہ کمالات اسلام ص 599، روحانی خزائن جلد 5 ص 599 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 53، روحانی خزائن جلد 11 ص 337 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 53، روحانی خزائن جلد 11 ص 337 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 229، روحانی خزائن جلد 11 ص 229 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 251، روحانی خزائن جلد 11 ص 251 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 253، روحانی خزائن جلد 11 ص 253 از مرزا قادیانی)

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص 14، روحانی خزائن جلد 22 ص 445 از مرزا قادیانی)

صفحہ 354

(نورالحق ص 23 حصہ 1، روحانی خزائن جلد 8 ص 32 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 62، روحانی خزائن جلد 11 ص 346 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 4، روحانی خزائن جلد 11 ص 288 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 18/حاشیہ، روحانی خزائن جلد 11 ص 302 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 198، روحانی خزائن جلد 11 ص 198 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 241، روحانی خزائن جلد 11 ص 241 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 251، روحانی خزائن جلد 11 ص 251 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 252، روحانی خزائن جلد 11 ص 252 از مرزا قادیانی)

(آئینہ کمالات اسلام ص 604، روحانی خزائن جلد 5 ص 295 از مرزا قادیانی)

(آئینہ کمالات اسلام ص 301، روحانی خزائن جلد 5 ص 301 از مرزا قادیانی)

(آئینہ کمالات اسلام ص 306، روحانی خزائن جلد 5 ص 306 از مرزا قادیانی)

(کرامات الصادقین ص 27، روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 69 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ص 9، روحانی خزائن جلد 11 ص 9 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ص 241، روحانی خزائن جلد 11 ص 241 از مرزا قادیانی)

(اعجاز احمدی ص 76، روحانی خزائن جلد 19 ص 188 از مرزا قادیانی)

(کرامات الصادقین ص 22، روحانی خزائن جلد 7 ص 65 از مرزا قادیانی)

(نزول المسیح ص 11، روحانی خزائن جلد 18 ص 389 از مرزا قادیانی)

(آریہ دھرم ص 31، روحانی خزائن جلد 10 ص 31 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ص 241، روحانی خزائن جلد 11 ص 241 از مرزا قادیانی)

(حقیقۃ الوحی ص 311، روحانی خزائن جلد 22 ص 324 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 23/حاشیہ، روحانی خزائن جلد 11 ص 307 از مرزا قادیانی)

(دفع البلاء ص 18، روحانی خزائن جلد 18 ص 238 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 46، روحانی خزائن جلد 11 ص 330 از مرزا قادیانی)

الف مرۃ

(انجام آتھم ضمیمہ ص 58، روحانی خزائن جلد 11 ص 342 از مرزا قادیانی)

صفحہ 355

حسین بٹالوی

صفحہ 356

(الہدی ص 18، روحانی خزائن جلد 18 ص 262 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ص 206، روحانی خزائن جلد 11 ص 206 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 25، روحانی خزائن جلد 11 ص 309 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ص 265، روحانی خزائن جلد 11 ص 265 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 21 / حاشیہ، روحانی خزائن جلد 11 ص 305 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 47، روحانی خزائن جلد 11 ص 331 از مرزا قادیانی)

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص 115، روحانی خزائن جلد 21 ص 320 از مرزا قادیانی)

(مواہب الرحمٰن ص 13، روحانی خزائن جلد 19 ص 352 از مرزا قادیانی)

(نور الحق ص 89 ج 1، روحانی خزائن جلد 8 ص 120 از مرزا قادیانی)

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص 14-15 ح، روحانی خزائن جلد 22 ص 445 از مرزا قادیانی)

(براہین احمدیہ پنجم ص 149، روحانی خزائن جلد 21 ص 317 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 21 / حاشیہ، روحانی خزائن جلد 11 ص 305 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 53، روحانی خزائن جلد 11 ص 337 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 58، روحانی خزائن جلد 11 ص 342 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ص 252، روحانی خزائن جلد 11 ص 252 از مرزا قادیانی)

(آئینہ کمالات اسلام ص 402، روحانی خزائن جلد 5 ص 402 از مرزا قادیانی)

(نزول المسیح ص 224، روحانی خزائن جلد 18 ص 602 از مرزا قادیانی)

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص 14-15 ح، روحانی خزائن جلد 22 ص 445 از مرزا قادیانی)

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص 14-15 ح، روحانی خزائن جلد 22 ص 445 از مرزا قادیانی)

(آسمانی فیصلہ ص 32، روحانی خزائن جلد 4 ص 342 از مرزا قادیانی)

(استفتاء ص 20، روحانی خزائن جلد 12 ص 128 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 28 / حاشیہ، روحانی خزائن جلد 11 ص 312 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ص 24 / ح، روحانی خزائن جلد 11 ص 24 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ص 24 / ح، روحانی خزائن جلد 11 ص 24 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ص 224، روحانی خزائن جلد 11 ص 224 از مرزا قادیانی)

صفحہ 357

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص 14، روحانی خزائن جلد 22 ص 445 از مرزا قادیانی)

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص 115، روحانی خزائن جلد 22 ص 551 از مرزا قادیانی)

(آسمانی فیصلہ ص 14، روحانی خزائن جلد 4 ص 324 از مرزا قادیانی)

(ایام الصلح ص 165، روحانی خزائن جلد 14 ص 413 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ص 20 / حاشیہ، روحانی خزائن جلد 11 ص 20 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ص 24 / حاشیہ، روحانی خزائن جلد 11 ص 24 از مرزا قادیانی)

(مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 69 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ص 45، روحانی خزائن جلد 11 ص 45 از مرزا قادیانی)

(نزول المسیح ص 8، روحانی خزائن جلد 18 ص 386 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 24 (حاشیہ)، روحانی خزائن جلد 11 ص 308 از مرزا قادیانی)

(براہین احمدیہ پنجم ص 120، روحانی خزائن جلد 21 ص 285 از مرزا قادیانی)

(ضیاء الحق ص 27، روحانی خزائن جلد 9 ص 285 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 23 / ح، روحانی خزائن جلد 11 ص 308 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 47، روحانی خزائن جلد 11 ص 331 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 49، روحانی خزائن جلد 11 ص 333 از مرزا قادیانی)

(انوار اسلام ص 30، روحانی خزائن جلد 9 ص 31 از مرزا قادیانی)

(انوار اسلام ص 29، روحانی خزائن جلد 9 ص 31 از مرزا قادیانی)

(انوار اسلام ص 30، روحانی خزائن جلد 9 ص 40 از مرزا قادیانی)

بڑے بھائی

(انجام آتھم ص 251، روحانی خزائن جلد 11 ص 251 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 56، روحانی خزائن جلد 11 ص 340 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ص 59 حاشیہ، روحانی خزائن جلد 11 ص 59 از مرزا قادیانی)

(اعجاز احمدی ص 43، روحانی خزائن جلد 19 ص 154 از مرزا قادیانی)

(مجموعہ اشتہارات جلد دوم ص 77 از مرزا قادیانی)

(مواہب الرحمٰن ص 131، روحانی خزائن جلد 19 ص 352 از مرزا قادیانی)

صفحہ 358

(مواہب الرحمٰن ص 138، روحانی خزائن جلد 19 ص 359 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 3، روحانی خزائن جلد 11 ص 287 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 19 / ح، روحانی خزائن جلد 11 ص 303 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ص 24 / ح، روحانی خزائن جلد 11 ص 24 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 45، روحانی خزائن جلد 11 ص 329 از مرزا قادیانی)

(اعجاز احمدی ص 76، روحانی خزائن جلد 19 ص 188 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 24 / ح، روحانی خزائن جلد 11 ص 308 از مرزا قادیانی)

(انجام آتھم ضمیمہ ص 21 / ح، روحانی خزائن جلد 11 ص 305 از مرزا قادیانی)

(کرامات الصادقین صفحہ، (4)، روحانی خزائن جلد 7 ص 152 از مرزا قادیانی)

۞ ┄ ۞ ┄ ۞

PDF 359

ثبوت حاضر ہیں!

مُسلمانوں سے نفرت

اور معاشرتی بائیکاٹ

Back

PDF 360
صفحہ 361

مرزائیوں کا عجب معاملہ ہے کہ وہ ایک طرف تو مسلمانوں سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ انہیں اپنا حصہ سمجھا جائے، انہیں برابر کے حقوق ملیں اور مسلمان معاشرتی زندگی میں ان سے مل جل کر رہیں۔ اس کو آپ حقیقت کا نام دیں گے یا منافقت کا کہ ان کی یہ جملہ خواہشیں اور جملہ تقاضے ان کے گرو اور ان کے پسماندگان کی تعلیمات کے یکسر خلاف ہیں۔ قادیانی ”مذہب“ میں شادی بیاہ سے لے کر جنازہ اور تدفین تک جملہ معاملات میں مسلمانوں سے بائیکاٹ اور انقطاع کی تعلیم ہے اور اس پر بھر پور زور دیا گیا ہے کہ مسلمانوں سے کسی قسم کا معاملہ نہ رکھیں حتیٰ کہ ان کے معصوم بچوں کا جنازہ نہ پڑھیں۔ مرزا قادیانی کے سلسلہ کے تمام لوازم اور مناسبات کو دیکھتے ہوئے اس امر کا فیصلہ کرنے میں کوئی دقت نہیں ہوگی کہ وہ اپنے پیروؤں کو تمام مسلمانوں سے ایک الگ امت بنانے میں کسی درجہ ساعی و کوشاں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب مرزا قادیانی اور اس کی ”ذریۃ البغایا“ کی تعلیمات یہ ہیں تو پھر وہ مسلمانوں سے باہمی روابط کی کیوں شدید تمنا رکھتے ہیں؟ اس دوغلے پن اور منافقانہ رول کا اندازہ کرنے کے لیے درج ذیل تحریرات سب سے بڑا ثبوت ہے۔ حسب ذیل تصریحات ملاحظہ فرمائیں:

مسلمانوں سے ہر چیز میں اختلاف

اور ہے اور ہمارا خدا اور ہے، ہمارا حج اور ہے اور ان کا حج اور۔ اسی طرح ان سے ہر بات میں اختلاف ہے۔“

(روزنامہ الفضل قادیان 21 اگست 1917ء جلد 5 نمبر 15 صفحہ 8) (عکس صفحہ نمبر 919 پر)

صفحہ 362

میں گونج رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا یہ غلط ہے کہ دوسرے لوگوں (مسلمانوں) سے ہمارا اختلاف صرف وفات مسیح یا اور چند مسائل میں ہے آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی ذات، رسول کریمؐ، قرآن، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، غرض کہ آپ نے تفصیل سے بتایا کہ ایک ایک چیز میں ہمیں ان سے اختلاف ہے۔“

(خطبہ جمعہ مرزا بشیر الدین خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان، جلد 19، نمبر 13، مورخہ 30 جولائی 1931ء)

مسلمانوں سے تعلقات حرام

جائز رکھا ہے جو نبی کریمؐ نے عیسائیوں کے ساتھ کیا۔ غیر احمدیوں سے ہماری نمازیں الگ کی گئیں، ان کو لڑکیاں دینا حرام قرار دیا گیا، ان کے جنازے پڑھنے سے روکا گیا، اب باقی کیا رہ گیا ہے جو ہم ان کے ساتھ مل کر کر سکتے ہیں۔ دو قسم کے تعلقات ہوتے ہیں، ایک دینی، دوسرے دنیوی۔ دینی تعلق کا سب سے بڑا ذریعہ عبادت کا اکٹھا ہونا ہے اور دنیوی تعلقات کا بھاری ذریعہ رشتہ و ناطہ ہے۔ سو یہ دونوں ہمارے لیے حرام قرار دیئے گئے۔ اگر کہو کہ ہم کو ان کی لڑکیاں لینے کی اجازت ہے تو میں کہتا ہوں نصاریٰ کی لڑکیاں لینے کی بھی اجازت ہے۔ اور اگر یہ کہو کہ غیر احمدیوں کو سلام کیوں کہا جاتا ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ حدیث سے ثابت ہے کہ بعض اوقات نبی کریمؐ نے یہود تک کو سلام کا جواب دیا ہے۔“

(کلمۃ الفصل صفحہ 169، 170 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 920، 921 پر)

مسلمانوں کے پیچھے نماز قطعی حرام

اور مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو۔ بلکہ چاہیے کہ تمہارا وہی امام ہو جو تم میں سے ہو۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 318 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 922 پر)

صفحہ 363

مسلمانوں کے پیچھے نماز ؟؟

(342) ”کسی نے سوال کیا کہ جو لوگ آپ کے مرید نہیں، ان کے پیچھے نماز پڑھنے سے آپ نے اپنے مریدوں کو کیوں منع فرمایا ہے؟ حضرت نے فرمایا: ”جن لوگوں نے جلد بازی کے ساتھ بدظنی کر کے اس سلسلہ کو جو اللہ تعالیٰ نے قائم کیا ہے، رد کر دیا ہے اور اس قدر نشانوں کی پروا نہیں کی اور اسلام پر جو مصائب ہیں، اس سے لاپرواہ پڑے ہیں، ان لوگوں نے تقویٰ سے کام نہیں لیا اور اللہ تعالیٰ اپنے پاک کلام میں فرماتا ہے۔ انما یتقبل اللہ من المتقین (المائدہ:28) خدا صرف متقی لوگوں کی نماز قبول کرتا ہے۔ اس واسطے کہا گیا ہے کہ ایسے آدمی کے پیچھے نماز نہ پڑھو جس کی نماز خود قبولیت کے درجہ تک پہنچنے والی نہیں۔“

(ملفوظات جلد اول صفحہ 449 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 923 پر)

مسلمانوں کے پیچھے نماز نہ پڑھنے کی حکمت

(343) ”صبر کرو اور اپنی جماعت کے غیر (مسلمانوں) کے پیچھے نماز مت پڑھو۔ بہتری اور نیکی اسی میں ہے اور اسی میں تمہاری نصرت اور فتح عظیم ہے اور یہی اس جماعت کی ترقی کا موجب ہے۔ دیکھو دنیا میں روٹھے ہوئے اور ایک دوسرے سے ناراض ہونے والے بھی اپنے دشمن کو چار دن منہ نہیں لگاتے اور تمہاری ناراضگی اور روٹھنا تو خدا کے لیے ہے، تم اگر ان میں رلے ملے رہے تو خدا تعالیٰ جو خاص نظر تم پر رکھتا ہے، وہ نہیں رکھے گا۔ پاک جماعت جب الگ ہو، تو پھر اس میں ترقی ہوتی ہے۔“

(ملفوظات جلد اول صفحہ 525، طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 924)

مسلمانوں کی نماز جنازہ

(344) ”اب ایک اور سوال رہ جاتا ہے کہ غیر احمدی حضرت مسیح موعود کے منکر ہوئے، اس لیے ان کا جنازہ نہیں پڑھنا چاہیے، لیکن اگر کسی غیر احمدی کا چھوٹا بچہ مر جائے تو اس کا جنازہ

صفحہ 364

کیوں نہ پڑھا جائے، وہ تو مسیح موعود کا منکر نہیں۔ میں یہ سوال کرنے والے سے پوچھتا ہوں کہ اگر یہ بات درست ہے تو پھر ہندوؤں اور عیسائیوں کے بچوں کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا جاتا؟ اور کتنے لوگ ہیں جو ان کا جنازہ پڑھتے ہیں؟ اصل بات یہ ہے کہ جو ماں باپ کا مذہب ہوتا ہے، شریعت وہی مذہب ان کے بچہ کا قرار دیتی ہے۔ پس غیر احمدی کا بچہ بھی غیر احمدی ہی ہوا۔ اس لیے اس کا جنازہ بھی نہیں پڑھنا چاہیے۔“

(انوار خلافت صفحہ 93 مندرجہ انوار العلوم، جلد 3 صفحہ 150 از مرزا بشیر الدین محمود) (عکس صفحہ نمبر 925 پر)

View Proof

مسلمانوں کے پیچھے نماز نہ پڑھنے اور انہیں قادیانی لڑکیوں

کا رشتہ نہ دینے کے متعلق احکامات

(345) چنانچہ حضرت مسیح موعود اپنی جماعت کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں: ”یاد رکھو کہ جیسا کہ خدا نے مجھے اطلاع دی ہے، تمہارے پر حرام اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر یا مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو۔ بلکہ چاہیے کہ تمہارا وہی امام ہو جو تم میں سے ہو۔ اسی کی طرف حدیث بخاری کا ایک پہلو میں اشارہ ہے کہ امامکم منکم یعنی جب مسیح نازل ہوگا تو تمہیں دوسرے فرقوں کو جو دعویٰ اسلام کرتے ہیں ، بکلی ترک کرنا پڑے گا اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا۔“

دوسری ہدایت جو آپ نے اپنی جماعت کے لیے جاری فرمائی ، وہ احمدیوں کے رشتہ ناطہ کے متعلق تھی۔ اس وقت تک جیسا کہ احمدیوں اور غیر احمدی مسلمانوں کی نماز مشترک تھی یعنی احمدی لوگ غیر احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھ لیتے تھے، اسی طرح باہمی رشتہ ناطہ کی بھی اجازت تھی یعنی احمدی لڑکیاں غیر احمدی لڑکوں کے ساتھ بیاہ دی جاتی تھیں مگر 1898ء میں حضرت مسیح موعود نے اس کی بھی ممانعت فرما دی اور آئندہ کے لیے ارشاد فرمایا کہ کوئی احمدی لڑکی ، غیر احمدی مرد کے ساتھ نہ بیاہی جائے۔ یہ اس حکم کی ایک ابتدائی صورت تھی جس کے بعد اس میں مزید وضاحت ہوتی گئی اور اس حکم میں حکمت یہ تھی کہ طبعاً اور قانوناً ازدواجی زندگی میں مرد کو عورت پر انتظامی لحاظ سے غلبہ حاصل ہوتا ہے پس اگر ایک احمدی لڑکی غیر احمدی کے ساتھ بیاہی جائے تو اس بات کا قوی اندیشہ ہو سکتا ہے کہ مرد، عورت کے دین کو

صفحہ 365

خراب کرنے کی کوشش کرے گا اور خواہ اسے، اس میں کامیابی نہ ہو لیکن بہر حال یہ ایک خطرہ کا پہلو ہے جس سے احمدی لڑکیوں کو محفوظ رکھنا ضروری تھا۔ علاوہ ازیں چونکہ اولاد عموماً باپ کی تابع ہوتی ہے اس لیے اس قسم کے رشتوں کی اجازت دینے کے یہ معنی بھی بنتے ہیں کہ ایک احمدی لڑکی کو اس غرض سے غیر احمدیوں کے سپرد کر دیا جائے کہ وہ اس کے ذریعہ غیر احمدی اولاد پیدا کریں۔ اس قسم کی وجوہات کی بنا پر آپ نے آئندہ کے لیے یہ ہدایت جاری فرمائی کہ گو حسب ضرورت غیر احمدی لڑکی کا رشتہ لیا جاسکتا ہے مگر کوئی احمدی لڑکی غیر احمدی کے ساتھ نہ بیاہی جائے بلکہ احمدیوں کے رشتے صرف آپس میں ہوں۔‘‘

(سلسلہ احمدیہ صفحہ 84، 85 از صاحبزادہ مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 926، 927 پر)

View Proof

(346) ”ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں، کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خدا تعالیٰ کے ایک نبی کے منکر ہیں۔‘‘

(انوار خلافت صفحہ 90 مندرجہ انوار العلوم جلد 3 صفحہ 148 از مرزا بشیر الدین محمود) (عکس صفحہ نمبر 928 پر)

View Proof

قائد اعظم کی نماز جنازہ

اپنے مذہب اور خلیفہ کے حکم کی تعمیل میں چودھری ظفر اللہ خاں سابق وزیر خارجہ پاکستان نے قائد اعظم کی نماز جنازہ میں بھی شرکت نہیں کی۔ منیر انکوائری کمیشن کے سامنے تو اس کی وجہ اس نے یہ بیان کی۔

قرار دے چکے تھے، اس لیے میں اس نماز میں شریک ہونے کا فیصلہ نہ کرسکا جس کی امامت مولانا کر رہے تھے۔“ (رپورٹ تحقیقاتی عدالت پنجاب صفحہ 212)

لیکن عدالت سے باہر جب اس سے یہ بات پوچھی گئی کہ آپ نے قائد اعظم کی نماز جنازہ کیوں ادا نہیں کی؟ تو اس نے کہا:

(زمیندار لاہور 8 فروری 1950ء)

صفحہ 366

جب اخبارات میں یہ واقعہ منظر عام پر آیا تو قادیانیوں کی طرف سے اس کا یہ جواب دیا گیا:

قائداعظم کا جنازہ نہیں پڑھا۔ تمام دنیا جانتی ہے کہ قائداعظم احمدی نہ تھے، لہٰذا جماعت احمدیہ کے کسی فرد کا ان کا جنازہ نہ پڑھنا کوئی قابل اعتراض بات نہیں۔“

(ٹریکٹ 22 بعنوان ”احراری علماء کی راست گوئی“ کا نمونہ ناشر: مہتمم نشر و اشاعت نظارت

دعوت و تبلیغ صدر انجمن احمدیہ ربوہ ضلع جھنگ)

مرزا قادیانی نے اپنے بیٹے کا جنازہ نہ پڑھا

(347) ”آپ (مرزا قادیانی) کا ایک بیٹا فوت ہوگیا جو آپ کی زبانی طور پر تصدیق بھی کرتا تھا، جب وہ مرا تو مجھے یاد ہے، آپ ٹہلتے جاتے اور فرماتے کہ اس نے کبھی شرارت نہ کی تھی بلکہ میرا فرمانبردار ہی رہا ہے۔ ایک دفعہ میں سخت بیمار ہوا اور شدت مرض میں مجھے غش آ گیا، جب مجھے ہوش آیا تو میں نے دیکھا کہ وہ میرے پاس کھڑا نہایت درد سے رو رہا تھا۔ آپ یہ بھی فرماتے کہ یہ میری بڑی عزت کیا کرتا تھا۔ لیکن آپ نے اس کا جنازہ نہ پڑھا۔ حالانکہ وہ اتنا فرمانبردار تھا کہ بعض احمدی بھی اتنے نہ ہوں گے۔ محمدی بیگم کے متعلق جب جھگڑا ہوا تو اس کی بیوی اور اس کے رشتہ دار بھی ان کے ساتھ شامل ہوگئے۔ حضرت صاحب نے اس کو فرمایا کہ تم اپنی بیوی کو طلاق دے دو۔ اس نے طلاق لکھ کر حضرت صاحب کو بھیج دی کہ آپ کی جس طرح مرضی ہے، اسی طرح کریں۔ لیکن باوجود اس کے جب وہ مرا تو آپ نے اس کا جنازہ نہ پڑھا۔“

(انوار خلافت صفحہ 91 مندرجہ انوار العلوم جلد 3 صفحہ 149 از مرزا بشیر الدین محمود) (عکس صفحہ نمبر 929 پر)

View Proof

مرزا قادیانی کا بیٹا فضل احمد سمجھتا تھا کہ اس کے والد نے نبوت کا دعویٰ کر کے امت مسلمہ سے غداری کی ہے، اس لیے اس نے اپنے باپ کے ”دعویٰ نبوت“ کو کبھی تسلیم نہیں کیا جس کی بنا پر مرزا قادیانی نے اپنے فرماں بردار بیٹے کا نماز جنازہ نہ پڑھا کیونکہ وہ

صفحہ 367

اپنے بیٹے کو غیر مسلم سمجھتا تھا۔

مسلمانوں کو لڑکی دینا

(348) ”ایک اور بھی سوال ہے کہ غیر احمدیوں کو لڑکی دینا جائز ہے یا نہیں۔ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے اس احمدی پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے جو اپنی لڑکی غیر احمدی کو دے۔ آپ سے ایک شخص نے بار بار پوچھا اور کئی قسم کی مجبوریاں کو پیش کیا۔ لیکن آپ نے اس کو یہی فرمایا کہ لڑکی کو بٹھائے رکھو لیکن غیر احمدیوں میں نہ دو۔ آپ کی وفات کے بعد اس نے غیر احمدیوں کو لڑکی دے دی تو حضرت خلیفہ اول (حکیم نورالدین) نے اس کو احمدیوں کی امامت سے ہٹا دیا اور جماعت سے خارج کر دیا۔ اور اپنی خلافت کے چھ سالوں میں اس کی توبہ قبول نہ کی۔ باوجودیکہ وہ بار بار توبہ کرتا رہا۔“

(انوار خلافت صفحہ 93،94 مندرجہ انوار العلوم جلد 3 صفحہ 151 از مرزا بشیر الدین محمود ابن مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 930 پر)

View Proof

پیارے مسلمان بھائیو!

آج کل قادیانی پوری قوت کے ساتھ ختم نبوت کے قلعے پر حملہ آور ہیں۔ حضور نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں بے شمار گستاخیوں پر مشتمل لٹریچر باقاعدگی کے ساتھ شائع ہو رہا ہے، اور پوری آزادی کے ساتھ مسلمانوں میں تقسیم ہو رہا ہے۔ قادیانی اپنی مذموم کارروائیوں کے ساتھ ملت اسلامیہ کو ختم اور شمع اسلام کو بجھانا چاہتے ہیں...... جبکہ ہم خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں...... خواب غفلت کے مزے لوٹ رہے ہیں...... سوچیے! شافع محشر حضور نبی کریم ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لیے ہم آخر کب بیدار ہوں گے؟ اسلام کی غیرت اور لاج کے لیے آخر کب متحرک ہوں گے؟ عقیدۂ ختم نبوت پر پے در پے یورشوں سے بچاؤ کے لیے آخر کب میدان کارزار میں اتریں گے؟ نبی کریم ﷺ، صحابہ کرام اور اہل بیت عظام کی بے حرمتی اور ان کی عزتوں کو پامال کرنے والے بدبختوں کے خلاف آخر کب ایک آہنی دیوار بن کر کھڑے ہوں گے؟ یاد رکھیے! جس جگہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ختم نبوت پر ڈاکہ زنی ہو رہی ہو، وہاں ختم نبوت کی حفاظت کرنا آپ کا فرض عین ہے، اس سے ذرا سا بھی

صفحہ 368

اعراض کرنا خود کو حضور نبی کریم ﷺ کی شفاعت سے محروم کرنے کے مترادف ہے۔

تحفظ ختم نبوت اور جنت الفردوس لازم وملزوم ہیں۔ اس حقیقت میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے کام کرنے والا ہر شخص جنتی ہے۔ دلیل اس کی یہ ہے کہ جب مرزا قادیانی اور اس کے پیروکار جہنم میں ہوں گے اور فرض کریں کہ وہاں تحفظ ختم نبوت کا کام کرنے والا کوئی شخص بھی موجود ہو تو مرزا قادیانی اس شخص کو طعنہ دے گا کہ ”میں تو جھوٹے دعویٰ نبوت کے جرم میں یہاں آیا ہوں۔ تم دنیا میں میرے دعویٰ کی تکذیب اور سرکوبی میں پیش پیش تھے، تمھیں کیا ملا؟ میں دعویٰ نبوت کے جرم میں جہنمی اور تم تحفظ ختم نبوت کا کام کرنے پر جہنمی، تو پھر فرق کیا ہوا؟“ خدا کی قسم! ایسا ممکن ہی نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب مکرم ﷺ کو یہ گوارا ہی نہیں کہ کوئی شخص تحفظ ختم نبوت کا کام کرے اور وہ جہنم میں جائے۔ حضور نبی کریم ﷺ کے ایک ارشاد پاک کا مفہوم ہے ”اگر کسی نے ہم پر کوئی احسان کیا ہے تو ہم نے اس کا بدلہ دے دیا ہے سوائے حضرت ابو بکر صدیق ؓ کے کہ ان کے احسانات کا بدلہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ دے گا۔“ یہ قاعدہ و قانون اب بھی موجود ہے۔ آج بھی اگر کوئی شخص حضور نبی کریم ﷺ کی ختم نبوت اور عزت و ناموس کے تحفظ کے لیے کام کرتا ہے تو حضور علیہ الصلوٰۃ السلام اس کے اس فعل سے نہ صرف بے حد خوش ہوتے ہیں بلکہ آپ ﷺ، اس شخص کے اس احسان کا بدلہ قیامت کے دن اپنی شفاعت کے ذریعے ادا فرمائیں گے....... ایک گنہگار امتی کو اس سے بڑھ کر اور کیا انعام چاہیے! آئیے تحفظ ختم نبوت کی روشنی کو پھیلائیں...... شفاعت محمدی ﷺ آپ کی منتظر ہے!

نماز اچھی، حج اچھا، روزہ اچھا، زکوٰۃ اچھی
مگر میں باوجود اس کے مسلماں ہو نہیں سکتا
نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ بطحا ﷺ کی حرمت پر
خدا شاہد ہے کامل میرا ایمان ہو نہیں سکتا

❁......❁......❁

PDF 369

ثبوت حاضر ہیں!

مرزا قادیانی

کے دعوے

Back

PDF 370
صفحہ 371
ہم طالب شہرت ہیں ہمیں ننگ سے کیا کام
بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا

بڑے بڑے مستند ڈاکٹروں اور حکیموں کا کہنا ہے کہ مراق یا ہسٹیریا ایسا موذی مرض ہے کہ یہ جسے لاحق ہو جائے وہ خود کو مافوق الفطرت چیز سمجھنے لگتا ہے۔ بھارت کے ضلع گورداسپور کی تحصیل بٹالہ کے ایک پسماندہ گاؤں قادیان کا رہنے والا جھوٹا مدعی نبوت آنجہانی مرزا قادیانی مختلف دائمی بیماریوں کا ”موبائل ہسپتال“ تھا۔ ان میں مرگی، مراق اور ہسٹیریا سرفہرست ہیں۔ ڈاکٹروں کے بقول مراق کے اسباب میں سب سے بڑا سبب ورثہ میں ملا ہوا طبعی میلان ہے۔ جب کسی خاندان میں اس مرض کی ابتدا ہو جائے تو پھر یہ اگلی نسل میں منتقل ہو جاتا ہے۔ یہ مالیخولیا کی ایک قسم ہے۔ یہ مرض تیز سودا جو معدہ میں جمع ہوتا ہے، سے پیدا ہوتا ہے اور جس عضو میں یہ مادہ جمع ہو جاتا ہے، اس سے سیاہ بخارات اٹھ کر دماغ کی طرف چڑھتے ہیں جس سے مریض میں احساس برتری کے خیالات پیدا ہو جاتے ہیں اور وہ ہر ایک بات میں مبالغہ آرائی کرتا ہے۔ بعض مریضوں میں گاہے گاہے یہ فساد اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو غیب دان سمجھنے لگتے ہیں اور بعض میں یہ بیماری یہاں تک ترقی کر جاتی ہے کہ مراقیوں کو اپنے متعلق یہ خیال ہوتا ہے کہ وہ ملائکہ میں سے ہیں۔ پھر وہ نبوت اور معجزات کے دعوے کرنے لگتے ہیں، خدائی کی باتیں کرتے ہیں اور لوگوں کو اس کی تبلیغ کرتے ہیں۔

معروف قادیانی ڈاکٹر شاہنواز کا کہنا ہے:

کا مرض تھا تو اس کے دعوے کی تردید کے لیے پھر کسی اور ضرب کی ضرورت نہیں رہتی۔ کیونکہ یہ ایسی چوٹ ہے جو اس کی صداقت کی عمارت کو بیخ و بن سے اکھاڑ دیتی ہے۔“

(ماہنامہ ریویو آف ریلیجنز قادیان اگست 1926ء)

صفحہ 372

مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر احمد لکھتا ہے:

موعود سے سنا ہے کہ مجھے ہسٹریا ہے۔ بعض اوقات آپ مراق بھی فرمایا کرتے تھے لیکن دراصل بات یہ ہے کہ آپ کو دماغی محنت اور شبانہ روز تصنیف کی مشقت کی وجہ سے بعض ایسی عصبی علامات پیدا ہو جایا کرتی تھیں جو ہسٹریا کے مریضوں میں بھی عموماً دیکھی جاتی ہیں۔ مثلاً کام کرتے کرتے یک دم ضعف ہو جانا، چکروں کا آنا، ہاتھ پاؤں کا سرد ہو جانا، گھبراہٹ کا دورہ ہو جانا، ایسا معلوم ہونا کہ ابھی دم نکلتا ہے یا کسی تنگ جگہ یا بعض اوقات زیادہ آدمیوں میں گھر کر بیٹھنے سے دل کا سخت پریشان ہونے لگنا وغیرہ ذالک۔"

(سیرۃ المہدی حصہ دوم، صفحہ 55، روایت نمبر 369، از مرزا بشیر احمد ایم اے) (عکس صفحہ نمبر 931 پر)

View Proof

آنجہانی مرزا قادیانی ایک متلون مزاج اور مخبوط الحواس شخص تھا۔ اس نے اپنی زندگی میں اتنے مضحکہ خیز دعوے کیے، اگر انھیں یکجا کر دیا جائے تو اچھی خاصی ضخیم کتاب تیار کی جا سکتی ہے۔ اس کے دعوؤں سے خود اس کے اپنے ماننے والے بھی پریشان وحیران ہیں۔ بقول شخصے مرزا قادیانی نے شاید بچپن میں اتنی جوتیاں نہ تبدیل کی ہوں جتنے اس نے دعاوی کیے ہیں۔ جس طرح گرگٹ اپنا رنگ بدلتا اور چھلاوا اپنی ہیئت تبدیل کرتا ہے، اسی طرح مرزا قادیانی نے بھی ہر روز ایک نیا دعویٰ کر کے بڑی عیاری سے اپنا بہروپ بدلا۔ اس نے عالم سے مناظر، مناظر سے محدث، محدث سے نبی، نبی سے خدا اور خدا کے بعد نجانے کیا کیا سوانگ رچائے کہ

؎ ناطقہ سر بگریباں ہے اسے کیا کہیے

والا معاملہ ہے۔ مرزا قادیانی آج زندہ ہوتا تو ہالی وڈ کا معروف مزاحیہ اداکار Mr. Bean اُسے دیکھ کر اپنا سر پیٹ کر رہ جاتا۔ آنجہانی مرزا قادیانی کے تقریباً 100 سے زائد مختلف دعوے ہیں۔ صفحات کی کمی کے پیش نظر محض اہم دعوے پیش خدمت ہیں۔ پڑھیے اور اپنی حیرانی میں اضافہ کیجئے کہ

؎ اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں
صفحہ 373

میں بشر ہوں

بقول مرزا قادیانی، اللہ تعالیٰ نے اُسے الہام کیا:

”کہو میں صرف تمھارے جیسا ایک آدمی ہوں۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات، صفحہ 70 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 932 پر)

View Proof

میں غلام احمد قادیانی ہوں

دیکھ یہی مسیح ہے کہ جو تیرھویں صدی کے پورے ہونے پر ظاہر ہونے والا تھا۔ پہلے سے یہی تاریخ ہم نے نام میں مقرر کر رکھی تھی اور وہ یہ نام ہے:

غلام احمد قادیانی

اس نام کے عدد پورے تیرہ سو ہیں اور اس قصبہ قادیان میں بجز اس عاجز کے اور کسی شخص کا غلام احمد نام نہیں، بلکہ میرے دل میں ڈالا گیا ہے کہ اس وقت بجز اس عاجز کے تمام دنیا میں غلام احمد قادیانی کسی کا بھی نام نہیں اور اس عاجز کے ساتھ اکثر یہ عادت اللہ جاری ہے کہ وہ سبحانہ بعض اسرار اعداد حروف تہجی میں میرے پر ظاہر کر دیتا ہے۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات، صفحہ 144 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 933 پر)

View Proof

میں کرم خاکی، بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار ہوں

(352) ”کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں
ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار“

(براہین احمدیہ، حصہ پنجم، صفحہ 97، مندرجہ روحانی خزائن جلد 21، صفحہ 127، از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 934 پر)

View Proof

صفحہ 374

میں سُور مار ہوں

(353) ”ایک دفعہ قادیان میں آوارہ کتے بہت ہو گئے۔ اور ان کی وجہ سے شور و غل رہتا تھا۔ پیر سراج الحق صاحب نے بہت سے کتوں کو زہر دے کر مار ڈالا۔ اس پر بعض لڑکوں نے پیر صاحب کو چڑانے کے واسطے ان کا نام پیر کتے مار رکھ دیا۔ پیر صاحب حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی خدمت میں شاکی ہوئے کہ لوگ مجھے کتے مار کہتے ہیں۔ حضرت صاحب نے تبسم کے ساتھ فرمایا کہ اس میں کیا حرج ہے۔ دیکھیے حدیث شریف میں میرا نام ”سور مار“ لکھا ہے۔ کیونکہ مسیح کی تعریف میں آیا ہے کہ یقتل الخنزیر“

(ذکر حبیب، صفحہ 162، از مفتی محمد صادق قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 935 پر)

مَیں امین الملک جے سنگھ بہادر ہوں

بقول مرزا قادیانی، اللہ تعالیٰ نے اُسے الہام کیا: (354) ”امین الملک جے سنگھ بہادر۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات، صفحہ 568 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 936 پر)

میں کرشن ہوں

(355) ”اور جیسا کہ خدا نے مجھے مسلمانوں اور عیسائیوں کے لیے مسیح موعود کر کے بھیجا ہے ایسا ہی میں ہندوؤں کے لیے بطور اوتار کے ہوں۔ اور میں عرصہ بیس برس سے یا کچھ زیادہ برسوں سے اس بات کو شہرت دے رہا ہوں کہ میں ان گناہوں کے دُور کرنے کے لیے جن سے زمین پُر ہو گئی ہے جیسا کہ مسیح ابن مریم کے رنگ میں ہوں ایسا ہی راجہ کرشن کے رنگ میں بھی ہوں جو ہندو مذہب کے تمام اوتاروں میں سے ایک بڑا اوتار تھا، یا یوں کہنا چاہیے کہ روحانی حقیقت کے رُو سے میں وہی ہوں۔ یہ میرے خیال اور قیاس سے نہیں ہے بلکہ وہ خدا جو زمین و آسمان کا خدا ہے اس نے یہ میرے پر ظاہر کیا ہے اور نہ ایک دفعہ بلکہ کئی دفعہ مجھے بتلایا ہے کہ تو ہندوؤں کے لیے کرشن اور مسلمانوں اور عیسائیوں کے لیے مسیح موعود ہے۔ میں

صفحہ 375

جانتا ہوں کہ جاہل مسلمان اس کو سن کر فی الفور یہ کہیں گے کہ ایک کافر کا نام اپنے اوپر لے کر کفر کو صریح طور پر قبول کیا ہے۔ لیکن یہ خدا کی وحی ہے جس کے اظہار کے بغیر میں رہ نہیں سکتا اور آج یہ پہلا دن ہے کہ ایسے بڑے مجمع میں اس بات کو میں پیش کرتا ہوں کیونکہ جو لوگ خدا کی طرف سے ہوتے ہیں وہ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے۔“

(لیکچر سیالکوٹ، صفحہ 24، 25 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 228 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 937 پر)

(356) ”خدا تعالیٰ نے کشفی حالت میں بارہا مجھے اس بات پر اطلاع دی ہے کہ آریہ قوم میں کرشن نام ایک شخص جو گزرا ہے، وہ خدا کے برگزیدوں اور اپنے وقت کے نبیوں میں سے تھا، اور ہندوؤں میں اوتار کا لفظ درحقیقت نبی کے ہم معنی ہے۔ اور ہندوؤں کی کتابوں میں ایک پیشگوئی ہے اور وہ یہ کہ آخری زمانہ میں ایک اوتار آئے گا، جو کرشن کے صفات پر ہوگا اور اس کا بروز ہوگا۔ اور میرے پر ظاہر کیا گیا ہے کہ وہ میں ہوں۔ کرشن کی دو صفت ہیں۔ ایک رُودر یعنی درندوں اور سوروں کو قتل کرنے والا، یعنی دلائل اور نشانوں سے۔ دوسرے گوپال یعنی گائیوں کو پالنے والا یعنی اپنے انفاس سے نیکوں کا مددگار۔ اور یہ دونوں صفتیں مسیح موعود کی صفتیں ہیں اور یہی دونوں صفتیں خدا تعالیٰ نے مجھے عطا فرمائی ہیں۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات، صفحہ 311 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 938 پر)

میں آریوں کا بادشاہ ہوں

(357) ”اور ہر ایک نبی کا مجھے نام دیا گیا ہے۔ چنانچہ جو ملک ہند میں کرشن نام ایک نبی گزرا ہے جس کو رُودَر گوپال بھی کہتے ہیں (یعنی فنا کرنے والا اور پرورش کرنے والا) اس کا نام بھی مجھے دیا گیا ہے۔ پس جیسا کہ آریہ قوم کے لوگ کرشن کے ظہور کا ان دنوں میں انتظار کرتے ہیں، وہ کرشن میں ہی ہوں۔ اور یہ دعویٰ صرف میری طرف سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ نے بار بار میرے پر ظاہر کیا ہے کہ جو کرشن آخری زمانہ میں ظاہر ہونے والا تھا وہ تو ہی ہے آریوں کا بادشاہ۔“

(حقیقۃ الوحی، صفحہ 521، 522 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 521، 522 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 939، 940 پر)

صفحہ 376

میں کرشن جی رُودر گوپال ہوں

(358) ”شام کے وقت حضرت اقدس نے ذیل کی رؤیا بیان فرمائی کہ ایک بڑا تخت مربع شکل کا ہندوؤں کے درمیان بچھا ہوا ہے جس پر میں بیٹھا ہوا ہوں۔ ایک ہندو کسی کی طرف اشارہ کر کے کہتا ہے کہ کرشن جی کہاں ہیں؟ جس سے سوال کیا گیا وہ میری طرف اشارہ کر کے کہتا ہے کہ یہ ہے۔ پھر تمام ہندو روپیہ وغیرہ نذر کے طور پر دینے لگے۔ اتنے ہجوم میں سے ایک ہندو بولا۔ ہے ”کرشن جی رُودر گوپال“

(ملفوظات، جلد سوم صفحہ 444 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 941 پر)

View Proof

میں سلطان القلم ہوں

(359) ”اللہ تعالیٰ نے اس عاجز کا نام سلطان القلم رکھا اور میرے قلم کو ذوالفقار علی فرمایا۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات، صفحہ 58، طبع چہارم، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 942 پر)

View Proof

میں غازی ہوں

(360) ”اس عاجز کا نام مکاشفات میں غازی رکھا گیا ہے۔“

(نشان آسمانی صفحہ 15 مندرجہ روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 375 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 943 پر)

View Proof

میں گورنمنٹ برطانیہ کے لیے پناہ اور تعویذ ہوں

(361) ”پس میں یہ دعویٰ کر سکتا ہوں کہ میں ان خدمات میں یکتا ہوں اور میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں ان تائیدات میں یگانہ ہوں اور میں کہہ سکتا ہوں کہ میں اس گورنمنٹ کے لیے بطور ایک تعویذ کے ہوں اور بطور ایک پناہ کے ہوں جو آفتوں سے بچاوے اور خدا نے مجھے بشارت دی اور کہا کہ خدا ایسا نہیں کہ ان کو دکھ پہنچاوے اور تو ان میں ہو۔ پس اس گورنمنٹ کی خیر خواہی اور مدد میں کوئی دوسرا شخص میری نظیر اور مثیل نہیں اور عنقریب یہ گورنمنٹ جان لے گی، اگر مردم شناسی کا اس میں مادہ ہے۔“

(نورالحق، صفحہ 33، مندرجہ روحانی خزائن جلد 8، صفحہ 44، 45 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 944، 945 پر)

View Proof

صفحہ 377

میں محدث ہوں

بقول مرزا قادیانی، اللہ تعالیٰ نے اُسے الہام کیا:

(362) ”انت محدث اللہ۔“

تو محدث اللہ ہے۔

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات، صفحہ 82، طبع چہارم، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 946 پر)

View Proof

میں عبدالقادر ہوں

بقول مرزا قادیانی، اللہ تعالیٰ نے اُسے الہام کیا:

(363) ”یا عبدالقادر انی معک۔ اے عبدالقادر میں تیرے ساتھ ہوں۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات، صفحہ 296، طبع چہارم، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 947 پر)

View Proof

میں ذوالقرنین ہوں

(364) ”سو میں سچ سچ کہتا ہوں کہ قرآن شریف کی آئندہ پیشگوئی کے مطابق وہ ذوالقرنین میں ہوں جس نے ہر ایک قوم کی صدی کو پایا۔“

(براہین احمدیہ جلد پنجم صفحہ 146 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 314 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 948 پر)

View Proof

میں آدم ہوں، میں احمد ہوں، میں مریم ہوں

میں موسیٰ ہوں، میں عیسیٰ ہوں، میں داؤد ہوں

بقول مرزا قادیانی، اللہ تعالیٰ نے اُسے الہام کیا:

(365) ”یٰا اٰدَمُ اسْکُنْ اَنْتَ وَزَوْجُکَ الْجَنَّةَ یَامَرْیَمُ اسْکُنْ. مرزا قادیانی اس الہام کی تشریح کرتے ہوئے کہتا ہے۔ ”مریم سے مریم ام عیسیٰ مراد نہیں اور نہ آدم سے آدم

صفحہ 378

ابوالبشر مراد ہے اور نہ احمد سے اس جگہ حضرت خاتم الانبیاء ﷺ مراد ہیں، اور ایسا ہی ان الہامات کے تمام مقامات میں کہ جو موسیٰ اور عیسیٰ اور داؤد وغیرہ نام بیان کیے گئے ہیں، ان ناموں سے بھی وہ انبیاء مراد نہیں ہے بلکہ ہر ایک جگہ یہی عاجز مراد ہے۔ اب جبکہ اس جگہ مریم کے لفظ سے کوئی مونث مراد نہیں بلکہ مذکر مراد ہے تو قاعدہ یہی ہے کہ اس کے لیے صیغہ مذکر ہی لایا جائے یعنی یا مریم اسکن کہا جائے ...... اور زوج کے لفظ سے رفقاء اور اقرباء مراد ہیں زوج مراد نہیں ہے اور لغت میں یہ لفظ دونوں طور پر اطلاق پاتا ہے اور جنت کا لفظ اس عاجز کے الہامات میں کبھی اس جنت پر بولا جاتا ہے کہ جو آخرت سے تعلق رکھتا ہے اور کبھی دنیا کی خوشی اور فتحیابی اور سرور اور آرام پر بولا جاتا ہے۔“ (مکتوبات احمدیہ، جلد اول صفحہ 82، 83 مکتوب بنام میر عباس علی شاہ صاحب)

(تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات، صفحہ 55، 56 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 949، 950 پر)

میں خاتم الاولیاء ہوں

بقول مرزا قادیانی، اللہ تعالیٰ نے اُسے الہام کیا:

(366) ”وانا خاتم الاولیاء.“

اور میں خاتم الاولیاء ہوں۔

(خطبہ الہامیہ، صفحہ 35، مندرجہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 70 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 951 پر)

میں معجون مرکب ہوں

(367) ”میں اپنے خاندان کی نسبت کئی دفعہ لکھ چکا ہوں کہ وہ ایک شاہی خاندان ہے اور بنی فارس اور بنی فاطمہ کے خون سے ایک معجون مرکب ہے۔“

(تریاق القلوب، صفحہ 159، مندرجہ روحانی خزائن جلد 15، صفحہ 287 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 952، 953 پر)

صفحہ 379

میں خلیفۃ اللہ ہوں

(368) ”میرے لیے زمین نے بھی گواہی دی اور آسمان نے بھی۔ اسی طرح میرے لیے آسمان بھی بولا اور زمین بھی کہ میں خلیفۃ اللہ ہوں۔“

(ایک غلطی کا ازالہ، صفحہ 6 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 210 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 954 پر)

View Proof

میں امام الزماں ہوں

(369) ”امام الزماں میں ہوں۔“

(ضرورۃ الامام صفحہ 24، مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 495 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 955 پر)

View Proof

میں مجدد ہوں، میں مہدی ہوں، میں مسیح موعود ہوں

وَالْمَسِيْحُ الْمَوْعُوْدُ.“ اور (میں) وہ مجدد ہوں کہ جو خدا تعالیٰ کے حکم سے آیا ہے اور بندہ مدد یافتہ ہوں اور وہ مہدی ہوں جس کا آنا مقرر ہو چکا ہے اور وہ مسیح ہوں جس کے آنے کا وعدہ تھا۔

(خطبہ الہامیہ، صفحہ 18 مندرجہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 51 از مرزا قادیانی)

میں حجر اسود ہوں

(370) ”یکے پائے من مے بوسید و من مے گفتم کہ حجر اسود منم۔“ (ترجمہ) ایک شخص نے میرے پاؤں کو چوما اور میں نے (اسے) کہا کہ حجر اسود میں ہوں۔

(تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات، صفحہ 29 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 956 پر)

View Proof

صفحہ 380

میں بیت اللہ ہوں

(تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات، صفحہ 28، طبع چہارم، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 657 پر)

View Proof

میں قرآن ہوں

بقول مرزا قادیانی، اللہ تعالیٰ نے اُسے الہام کیا:

ترجمہ: میں تو بس قرآن ہی کی طرح ہوں۔

(تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 570 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 658 پر)

View Proof

میں میکائیل ہوں

ایل نبی نے اپنی کتاب میں میرا نام میکائیل رکھا ہے اور عبرانی میں لفظی معنی میکائیل کے ہیں خدا کی مانند۔“

(اربعین 3 (حاشیہ) صفحہ 25، مندرجہ روحانی خزائن جلد 17، صفحہ 413، از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 659 پر)

View Proof

میں حضرت حسینؓ سے بڑھ کر ہوں

جو اُس مسیح سے بڑھ کر ہے۔ اور اے قوم شیعہ اس پر اصرار مت کرو کہ حسین تمہارا منجی ہے کیونکہ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں ایک ہے کہ اُس حسین سے بڑھ کر ہے۔“

(دافع البلاء، صفحہ 17، مندرجہ روحانی خزائن جلد 18، صفحہ 233، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 660 پر)

View Proof

صفحہ 381

میں زندہ علی ہوں

اس کو چھوڑتے ہو اور مردہ علی کی تلاش کرتے ہو۔“

(ملفوظات، جلد اوّل، صفحہ 400، طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 961 پر)

View Proof

میں مدینۃ العلم ہوں

بقول مرزا قادیانی، اللہ تعالیٰ نے اُسے الہام کیا:

(تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات، صفحہ 320، طبع چہارم، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 962 پر)

View Proof

میں مریم اور عیسیٰ ہوں

ہیں ۔ ان آیتوں میں جس عیسیٰ کو لوگوں نے ناجائز پیدائش کا انسان قرار دیا ہے، اسی کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم اس کو اپنا نشان بنائیں گے اور یہی عیسیٰ ہے جس کی انتظار تھی اور الہامی عبارتوں میں مریم اور عیسیٰ سے میں ہی مراد ہوں۔“

(کشتی نوح، صفحہ 54، مندرجہ روحانی خزائن جلد 19، صفحہ 52، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 963 پر)

View Proof

میں مریم ہوں، میں عیسیٰ ہوں، میں ابن مریم ہوں

کہ براہین احمدیہ سے ظاہر ہے دو برس تک صفت مریمیت میں مَیں نے پرورش پائی اور پردہ میں نشوونما پاتا رہا۔ پھر جب اس پر دو برس گزر گئے تو جیسا کہ براہین احمدیہ کے حصہ چہارم صفحہ 496 میں درج ہے، مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینہ کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں بذریعہ اس الہام کے جو

صفحہ 382

سب سے آخر براہین احمدیہ کے حصہ چہارم صفحہ 556 میں درج ہے مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ پس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا۔“

(کشتی نوح، صفحہ 52، مندرجہ روحانی خزائن جلد 19، صفحہ 50، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 964 پر)

View Proof

میں ابن مریم سے افضل ہوں

(379) ”ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے“

(دافع البلاء، صفحہ 20، مندرجہ روحانی خزائن جلد 18، صفحہ 240، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 965 پر)

View Proof

میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی ہوں

(380) ”میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی ہوں۔ یعنی بھیجا گیا بھی اور خدا سے غیب کی خبریں پانے والا بھی۔“

(ایک غلطی کا ازالہ، صفحہ 7، مندرجہ روحانی خزائن جلد 18، صفحہ 211، از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 966 پر)

View Proof

میں آدم اور احمد مختار ہوں

(381) ”آدم نیز احمد مختار
میں آدم اور احمد مختار ہوں“

(نزول المسیح، صفحہ 99، مندرجہ روحانی خزائن جلد 18، صفحہ 477، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 967 پر)

View Proof

میں مسیح زماں ہوں، میں کلیم خدا ہوں، میں محمد ہوں، میں احمد ہوں

(382) ”منم مسیح زمان و منم کلیم خدا
منم محمد و احمد کہ مجتبیٰ باشد“
صفحہ 383

(ترجمہ) ”میں مسیح زماں ہوں، میں کلیم خدا یعنی موسیٰ ہوں، میں محمد ہوں، میں احمد مجتبیٰ ہوں۔“

(تریاق القلوب، صفحہ 6، مندرجہ روحانی خزائن، جلد 15، صفحہ 134، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 968 پر)

میں تمام انبیا کا مجموعہ ہوں

(383) ”خدا تعالیٰ نے مجھے تمام انبیاء علیہم السلام کا مظہر ٹھہرایا ہے اور تمام نبیوں کے نام میری طرف منسوب کیے ہیں۔ میں آدم ہوں، میں شیث ہوں، میں نوح ہوں، میں ابراہیم ہوں، میں اسحق ہوں، میں اسمعیل ہوں، میں یعقوب ہوں، میں یوسف ہوں، میں موسیٰ ہوں، میں داؤد ہوں، میں عیسیٰ ہوں اور آنحضرت ﷺ کے نام کا میں مظہر اتم ہوں یعنی ظلّی طور پر محمدؐ اور احمدؐ ہوں۔“

(حقیقت الوحی، (حاشیہ) صفحہ 73، مندرجہ روحانی خزائن، جلد 22، صفحہ 76، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 969 پر)

میں محمد ہوں

(384) ”پھر اسی کتاب میں اس مکالمہ کے قریب ہی یہ وحی اللہ ہے۔ محمد رسول اللّٰہ والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینھم۔ اس وحی الہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔“

(ایک غلطی کا ازالہ، صفحہ 3، مندرجہ روحانی خزائن، جلد 18، صفحہ 207، از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 970 پر)

میں احمد ہوں

(385) ”وسمانی ربی احمد فاحمدونی۔“ میرے رب نے میرا نام احمد رکھا ہے۔ پس میری تعریف کرو۔“

(خطبہ الہامیہ، صفحہ 21، مندرجہ روحانی خزائن، جلد 16، صفحہ 53، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 971 پر)

صفحہ 384

میں رحمۃ للعالمین ہوں

بقول مرزا قادیانی، اللہ تعالیٰ نے اُسے الہام کیا:

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات، صفحہ 64 طبع چہارم، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 972 پر)

View Proof

میں خاتم الانبیاء ہوں

(ایک غلطی کا ازالہ، صفحہ 8، مندرجہ روحانی خزائن، جلد 18، صفحہ 212، از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 973 پر)

View Proof

میں توحید خدا اور تفرید خدا ہوں

بقول مرزا قادیانی، اللہ تعالیٰ نے اُسے الہام کیا:

تو مجھ سے ایسا ہے جیسا میری توحید اور تفرید۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات، صفحہ 53، طبع چہارم، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 974 پر)

View Proof

میں عرش خدا ہوں

بقول مرزا قادیانی، اللہ تعالیٰ نے اُسے الہام کیا:

تُو میرے نزدیک عرش کی مانند ہے۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات، صفحہ 427، طبع چہارم، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 975 پر)

View Proof

صفحہ 385

میں مالک کن فیکون ہوں

بقول مرزا قادیانی، اللہ تعالیٰ نے اُسے الہام کیا:

(ترجمہ) تو جس بات کا ارادہ کرتا ہے، وہ تیرے حکم سے فی الفور ہو جاتی ہے۔

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات، صفحہ 443، طبع چہارم، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 976 پر)

View Proof

میں زندہ کرنے والا اور مارنے والا ہوں

بقول مرزا قادیانی، اللہ تعالیٰ نے اُسے الہام کیا:

اور مجھ کو فانی کرنے اور زندہ کرنے کی صفت دی گئی ہے۔“

(خطبہ الہامیہ، صفحہ 21، مندرجہ روحانی خزائن، جلد 16، صفحہ 56، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 977 پر)

View Proof

میں نطفۂ خدا ہوں

بقول مرزا قادیانی، اللہ تعالیٰ نے اُسے الہام کیا:

تو ہمارے پانی سے ہے اور وہ بزدلی سے ہیں۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات، صفحہ 164، طبع چہارم، از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 978 پر)

View Proof

(نوٹ) عربی لغت میں ماء سے مراد اکثر جگہ نطفہ ہے۔ مثلاً ھو الذی خلق من الماء بشرا (الفرقان:54) اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جس نے انسان کو پانی (نطفہ) سے پیدا کیا۔ دوسری جگہ فلينظر الانسان مم خلق ٥ خلق من ماء دافق ٥ یخرج من بین الصلب والترائب. (الطارق:5 تا 7) ترجمہ: پس انسان کو چاہیے کہ دیکھے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا۔ وہ اچھلنے والے پانی سے پیدا کیا گیا جو کہ باپ کی پیٹھ اور ماں کی چھاتیوں سے

صفحہ 386

نکلتا ہے۔ اور بھی کئی آیات ہیں۔ جن میں ماء سے مراد نطفہ لیا گیا ہے۔ لہٰذا مرزا قادیانی کا الہام ”انت من ماء نا“ اس کے معنی ہوں گے۔ ”انت من نطفتنا“ تُو ہمارے نطفہ میں سے ہے اور لوگ بزدلی کے کیچڑ سے۔

میں خدا کا بیٹا ہوں

بقول مرزا قادیانی، اللہ تعالیٰ نے اُسے الہام کیا:

تُو مجھ سے بمنزلہ اولاد کے ہے۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات، صفحہ 325، 326 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 979، 980 پر)

View Proof

میں خدا کی بیوی ہوں

کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا تھا، سمجھنے والے کے لیے اشارہ کافی ہے۔“

(اسلامی قربانی ٹریکٹ نمبر 34 از قاضی یار محمد قادیانی مرید آنجہانی مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 981 پر)

View Proof

حالانکہ قرآن مجید میں ہے:

وَلَمْ تَكُنْ لَّهُ صَاحِبَةٌ۔

”اس (اللہ تعالیٰ) کے لیے کوئی بیوی نہیں ہے۔“ (انعام: 101)

میں خدا کا باپ ہوں

بقول مرزا قادیانی، اللہ تعالیٰ نے اُسے الہام کیا:

صفحہ 387

ہم ایک لڑکے کی تجھے بشارت دیتے ہیں جس کے ساتھ حق کا ظہور ہوگا۔ گویا آسمان سے خدا اترے گا۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات، صفحہ 554 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 982 پر)

نوٹ: اس الہام میں مرزا قادیانی نے اپنے بیٹے کو خدا قرار دیا تو اس کا معنی یہ ہوا کہ مرزا قادیانی خدا کا باپ ہوا۔ (نعوذ باللہ)! View Proof

میں خود خدا ہوں

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات، صفحہ 152، طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 983 پر)

جھوٹ ہیں باطل ہیں دعوے قادیانی آپ کے
بات سچی ایک بھی ہم نے نہ پائی آپ کی
ڈھیٹ اور بے شرم بھی عالم میں ہوتے ہیں مگر
سب پہ سبقت لے گئی ہے بے حیائی آپ کی

حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔ جب کسی میں حیا ختم ہو جائے تو وہ جو چاہے کرتا پھرے۔“ View Proof

بلاشبہ قادیانی جماعت کا بانی آنجہانی مرزا قادیانی اس حدیث مبارکہ کا مصداق ہے۔ لیکن افسوس ان پڑھے لکھے قادیانیوں پر ہے جو ایسے مخبوط الحواس اور فاتر العقل شخص کے پیروکار ہیں۔ قادیانیوں کا کہنا ہے کہ ہم مرزا قادیانی کو صرف مہدی یا مسیح موعود مانتے ہیں جبکہ اس نے 100 سے زائد مختلف دعوے کیے ہیں۔ قادیانیوں کو چاہیے کہ وہ ہر قسم کے تعصب، ضد، لالچ اور خود غرضی سے علیحدہ ہو کر مرزا قادیانی کے ان مذکورہ دعوؤں کو دیکھیں، پڑھیں، سوچیں اور اپنے ضمیر کی آواز پر صدق نیت کے ساتھ قادیانی عقائد سے تائب ہو کر واپس اسلام کی آغوش میں آ جائیں کیونکہ اسلام ہی وہ سچا دین ہے جس میں دنیا و آخرت کی بھلائی ہے۔

✿.......✿.......✿

PDF 388
PDF 389

ثبوت حاضر ہیں!

مرزا قادیانی

مَرد یا عَورت

PDF 390
صفحہ 391

مرزا قادیانی کی زندگی بھی ایک عجیب مسخرانہ اور مضحکہ خیز تھی۔ اس میں درجنوں ایسے نادر واقعات ملتے ہیں جن کے مطالعے سے بے اختیار ہنسی آتی ہے اور ضبط کرنے پر بھی ضبط نہیں ہوتی۔ پنجابی نبی کے حالات زندگی اور تحریرات کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ پتہ لگانا مشکل ہے کہ وہ مرد تھا یا عورت؟ حیرانی ہوتی ہے کہ کیا لکھیں اور کیا کہیں؟ قارئین کرام خود ملاحظہ فرمائیں:

اللہ کا بچہ

(397) ”اسی طرح میری کتاب اربعین نمبر 4 صفحہ 19 میں بابو الہی بخش صاحب کی نسبت یہ الہام ہے....... یعنی بابو الہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے یا کسی پلیدی اور ناپاکی پر اطلاع پائے مگر خدا تعالیٰ تجھے اپنے انعامات دکھلائے گا جو متواتر ہوں گے اور تجھ میں حیض نہیں بلکہ وہ بچہ ہو گیا ہے۔ ایسا بچہ جو بمنزلہ اطفال اللہ ہے۔“

(تتمہ حقیقت الوحی صفحہ 581 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 581 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 984 پر)

View Proof

کم بخت بابو الٰہی بخش کو سوجھی بھی تو کیا سوجھی اور دیکھا بھی تو کیا دیکھا! مرزا قادیانی کا حیض و نفاس اور وہ بھی کن دنوں میں جبکہ مرزا قادیانی ایام ماہواری کی مصیبت میں دوچار تھا۔

یا مظہر العجائب
بچہ معہ زچہ کے غائب

اللہ مرد، مرزا عورت؟

(398) ”حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک موقع پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی ہے کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت

صفحہ 392

کی طاقت کا اظہار فرمایا تھا، سمجھنے والے کے لیے اشارہ کافی ہے۔"

(اسلامی قربانی ٹریکٹ نمبر 34، از قاضی یار محمد قادیانی مرید مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 985 پر)

اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس پر اس سے بڑھ کر کمینہ حملہ اور اوباشانہ بہتان اور کیا ہو سکتا ہے۔ نعوذ باللہ خدا تعالیٰ کی ذات اقدس بھی مرزا قادیانی اور اس کے پیروکاروں سے نہ بچ سکی۔ ایسا فاسد خیال اور لغو عقیدہ ابتدائے آفرینش سے لے کر آج تک کسی بھی گستاخ، منہ پھٹ زبان دراز سے نہیں سنا گیا۔ چونکہ مرزا قادیانی کے مرید اس سانحہ پر اصرار کرتے ہیں، چنانچہ حکایت بیان کی جاتی ہے کہ ایک دفعہ رات کا وقت تھا۔ عراق کا ایک اجاڑ اور بیابان صحرا تھا۔ اس ویرانے میں خدا کا ایک نیک بندہ دنیا و مافیہا سے بے خبر اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول تھا۔ یہ کوئی عام آدمی نہیں بلکہ تمام ولیوں کے سردار سید عبدالقادر جیلانیؒ تھے۔ آپ عبادت الٰہی میں مصروف تھے کہ یکا یک آپؒ نے ایک روشنی دیکھی۔ اس روشنی سے سارا آسمان روشن ہو گیا۔ پھر آپؒ کو ایک آواز سنائی دی:

"اے عبدالقادر! میں تیرا رب ہوں۔ میں تیری عبادت سے راضی ہوا اور خوش ہو کر آج سے تجھے اپنی ہر قسم کی عبادت کی تکلیف سے آزاد کرتا ہوں۔"

سید عبدالقادر جیلانیؒ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے اس آواز کو سن کر اپنے ظاہری اور باطنی علوم پر توجہ کی تو مجھے اس آزادی کا کوئی بھی جواز دکھائی نہ دیا اور میں نے سوچا کہ حضور نبی کریم ﷺ کے اس عظیم مرتبے کے باوجود بھی آپ کو عبادت کی تکلیف سے آزادی نہیں ملی تو پھر دوسرا کوئی کس طرح اس معاملے میں معافی کا حق دار ہو سکتا ہے۔ اس خیال کے آتے ہی میں نے فوراً بلند آواز سے لاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم پڑھا تو اس پر پھر آواز آئی۔ "اے عبدالقادر! مبارک ہو! آپ اپنے علم کی وجہ سے بچ گئے ہیں۔" اس پر میں نے ایک مرتبہ پھر بلند آواز سے لاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم پڑھا اور کہا "اے لعین دفع ہو جا، میں اپنے علم کی وجہ سے نہیں بلکہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی مدد فضل و کرم کی وجہ سے محفوظ رہا ہوں۔" اس پر فوراً شیطان مردود اپنی اصلی شکل میں میرے سامنے آگیا اور اپنا سر پیٹتے ہوئے مجھ سے کہنے لگا۔ "اے عبدالقادر! میں نے اس سے پہلے بے شمار لوگوں کو اسی طریقے سے گمراہ کیا ہے۔"

صفحہ 393

یقیناً شیطان مرزا قادیانی کے پاس بھی آیا ہوگا۔ مرزا قادیانی نے پوچھا ہوگا، کیا حکم ہے میرے آقا! اس پر شیطان نے اپنی ہوس کا اظہار کیا ہوگا۔ تب مرزا قادیانی شیطان کی خدمت بجا لایا۔ مگر افسوس اس نے اللہ تعالیٰ پر الزام لگا دیا۔

جب سے یہ دنیا قائم ہوئی ہے، آج تک کسی شخص نے بھی اللہ تعالیٰ پر ایسا بے ہودہ، گھٹیا اور بدترین کفریہ الزام نہیں لگایا۔ یہ ذلت و رسوائی صرف مرزا قادیانی کو ہی نصیب ہوئی، جس کا نقد انعام اُسے دنیا میں لیٹرین میں موت کی صورت میں ملا۔ فاعتبروا یا اولی الابصار۔

خدا سے نہانی تعلق

جانتی اور مجھے خدا سے ایک نہانی تعلق ہے جو قابل بیان نہیں۔“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 63 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 81 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 986 پر)

یہ نہانی تعلق کہیں وہ تو نہیں جس کی پردہ دری مرزا قادیانی کے مرید قاضی یار محمد کے ہاتھوں ہوئی؟ (استغفراللہ)!

حاملہ

براہین احمدیہ سے ظاہر ہے، دو برس تک صفت مریمیت میں مَیں نے پرورش پائی اور پردہ میں نشوونما پاتا رہا۔ پھر جب اس پر دو برس گزر گئے تو جیسا کہ براہین احمدیہ کے حصہ چہارم صفحہ 496 میں درج ہے۔ مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینہ کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں، بذریعہ اس الہام کے جو سب سے آخر براہین احمدیہ کے حصہ چہارم صفحہ 556 میں درج ہے، مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ پس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا۔“

(کشتی نوح صفحہ 47 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 50 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 987 پر)

صفحہ 394

مرزا قادیانی کو درد زہ

(401) ”خدا نے مجھے پہلے مریم کا خطاب دیا اور پھر نفخ روح کا الہام کیا۔ پھر بعد اس کے یہ الہام ہوا تھا۔ فاجاء ھا المخاض الی جذع النخلۃ قالت یالیتنی مت قبل ھذا وکنت نسیا منسیا۔ یعنی پھر مریم کو جو مراد اس عاجز سے ہے۔ درد زہ تنہ کھجور کی طرف لے آئی۔“

(کشتی نوح صفحہ 48 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 51 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 988 پر)

View Proof

درد زہ عورتوں کو ہوتی ہے۔ کیا کوئی قادیانی یہ بتانے کی زحمت گوارا کرے گا کہ کون سے زمانہ میں مرزا صاحب پر نسوانیت غالب آئی اور وہ درد زہ سے کانپتے رہے؟

مرزا قادیانی عیسیٰ ابن مریم کیسے بنا؟

(402) ”سورہ تحریم میں صریح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ بعض افراد اس امت کا نام مریم رکھا گیا ہے اور پھر پوری اتباع شریعت کی وجہ سے اس مریم میں خدا تعالیٰ کی طرف سے روح پھونکی گئی اور روح پھونکنے کے بعد اس مریم سے عیسیٰ پیدا ہو گیا اور اسی بنا پر خدا تعالیٰ نے میرا نام عیسیٰ بن مریم رکھا کیونکہ ایک زمانہ میرے پر صرف مریمی حالت کا گزرا۔ اور پھر جب وہ مریمی حالت خدا تعالیٰ کو پسند آ گئی تو پھر مجھ میں اُس کی طرف سے ایک روح پھونکی گئی۔ اس روح پھونکنے کے بعد میں مریمی حالت سے ترقی کر کے عیسیٰ بن گیا، جیسا کہ میری کتاب، براہین احمدیہ حصص سابقہ میں مفصل اس بات کا تذکرہ موجود ہے کیونکہ براہین احمدیہ حصص سابقہ میں اول میرا نام مریم رکھا گیا۔ جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے: یا مریم اسکن انت و زوجک الجنۃ یعنی اے مریم! تو اور وہ جو تیرا رفیق ہے، دونوں بہشت میں داخل ہو جاؤ۔ اور پھر اسی براہین احمدیہ میں مجھے مریم کا خطاب دے کر فرمایا ہے: نفخت فیک من روح الصدق یعنی اے مریم! میں نے تجھ میں صدق کی روح پھونک دی۔ پس استعارہ کے رنگ میں روح کا پھونکنا اس حمل سے مشابہ تھا جو مریم صدیقہ کو ہوا تھا۔ اور پھر اس حمل کے بعد آخر کتاب میں میرا نام عیسیٰ رکھ دیا، جیسا کہ فرمایا کہ یا عیسیٰ انی متوفیک و رافعک الی۔ یعنی اے عیسیٰ میں تجھے وفات دوں گا اور مومنوں کی طرح میں تجھے اپنی طرف

صفحہ 395

اٹھاؤں گا اور اس طرح پر میں خدا کی کتاب میں عیسیٰ بن مریم کہلایا۔ چونکہ مریم ایک امتی فرد ہے اور عیسیٰ ایک نبی ہے۔ پس میرا نام مریم اور عیسیٰ رکھنے سے یہ ظاہر کیا گیا کہ میں امتی بھی ہوں اور نبی بھی۔ مگر وہ نبی جو اتباع کی برکت سے ظلی طور پر خدا تعالیٰ کے نزدیک نبی ہے اور میرا نام عیسیٰ بن مریم ہونا وہی امر ہے جس پر نادان اعتراض کرتے ہیں کہ حدیثوں میں تو آنے والے عیسیٰ کا نام عیسیٰ بن مریم رکھا گیا ہے۔ مگر یہ شخص تو ابن مریم نہیں ہے اور اس کی والدہ کا نام مریم نہ تھا اور نہیں جانتے کہ جیسا کہ سورہ تحریم میں وعدہ تھا میرا نام پہلے مریم رکھا گیا اور پھر خدا کے فضل نے مجھ میں نفخ روح کیا۔ یعنی اپنی ایک خاص تجلی سے اس مریمی حالت سے ایک دوسری حالت پیدا کی اور اس کا نام عیسیٰ رکھا۔“

(براہین احمدیہ (ضمیمہ) صفحہ 189 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 361 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 989 پر)

بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی

قارئین کرام! مرزا قادیانی نے اپنے ”عیسیٰ“ بننے کی کہانی جس مضحکہ خیز انداز میں پیش کی، اس پر مجھے ایک لطیفہ یاد آ گیا۔ ملاحظہ فرمائیں:

ڈاکٹر نے پاگل خانے میں آنے والے نئے مریض کا معائنہ کیا۔ وہ مریض ڈاکٹر صاحب کو صحت مند دکھائی دیا۔

ڈاکٹر ”کیوں میاں کیسے پہنچے؟“

مریض: دراصل کچھ عرصہ قبل میں نے ایک بیوہ سے شادی کر لی۔ عورت کی ایک جواں سال بیٹی بھی تھی۔ اتفاق سے وہ لڑکی میرے باپ کو پسند آ گئی۔ میرے باپ نے اس سے نکاح کر لیا۔ یوں میری بیوی میرے باپ کی ساس بن گئی۔ کچھ عرصہ بعد میرے باپ کے گھر ایک بچی پیدا ہوئی۔ یہ رشتے میں میری بہن لگتی تھی کیونکہ میں اس کے باپ کا بیٹا تھا۔ دوسری طرف وہ میری نواسی بھی لگتی تھی، کیونکہ میں اس کی نانی کا خاوند تھا۔ گویا میں اپنی بہن کا نانا بن گیا۔ پھر کچھ مدت کے بعد میرے گھر بیٹا پیدا ہوا، ایک طرف وہ لڑکی میرے بیٹے کی سوتیلی بہن لگتی تھی کیونکہ وہ بچہ اس کی ماں کا بیٹا تھا۔ دوسری طرف وہ اس کی دادی بھی لگتی تھی،

صفحہ 396

کیونکہ وہ میری سوتیلی ماں تھی، چنانچہ میرا بیٹا اپنی دادی کا بھائی بن گیا۔

مریض ”ڈاکٹر صاحب، ذرا سوچئے میرا باپ میرا داماد ہے اور میں باپ کا سسر ہوں۔ میری سوتیلی ماں میرے بیٹے کی بہن ہے اور یوں میرا بیٹا میرا ماموں بن گیا اور میں اپنے بیٹے کا بھانجا۔

ڈاکٹر صاحب نے دونوں ہاتھوں سے سر پکڑ لیا اور چیخ کر کہا ”خاموش ہو جاؤ، ورنہ میں بھی پاگل ہو جاؤں گا ۔“

بقول شخصے : ”کسی مسئلہ میں ایسے تشابہات سے، جن کی طرف ذہن بھی نہ جاتا ہو، استدلال کرنا اور اس باب میں محکمات کو چھوڑ دینا الحاد نہیں تو اور کیا ہے؟ چنانچہ مرزا قادیانی ملعون نے ان امور کو، جو کتابوں میں بیدین و بے ایمان لوگوں کے وساوس و شبہات کے طور پر ذکر کیے گئے ہیں، جمع کر کے انھیں اپنا دین و مذہب بنا لیا ہے اور جب کسی کو اسلام سے متنفر کرنا چاہتا ہے تو (صریح نصوص میں) شیطانی شبہات کھڑے کر دیتا ہے اور جب اپنی جانب کھینچنا چاہتا ہے تو طمع کاری کے ساتھ مناسبتیں پیدا کرتا ہے اور نصوص قطعیہ کو استعارہ و مجاز پر محمول کرنے کی تاویل جس کو اس نے اپنے ذخیرۂ الحاد کا موضوع بنا رکھا ہے، اس کے ذریعہ وہ اکثر اسلامی عقائد اور بعض احکام شرعیہ، مثلاً زکوٰۃ، حج اور جہاد سے سبکدوش ہو چکا ہے اور اس کے مرید عنقریب دیگر احکام سے بھی بے باق ہو جائیں گے اور صرف الفاظ کی گردان کافی ہوگی، اور ذخیرۂ آخرت اور ہدیۂ بارگاہ الٰہی کے لیے لے دے کر چند تاویلیں رہ جائیں گی اور بس۔ کیونکہ ہم نے دیکھا ہے کہ وہ افعال میں بھی استعارہ مانتا ہے۔

اس فعلی استعارہ کو سن رکھو جو اس کے خاص علوم میں سے ہے اور جس کے ذریعہ وہ خارج میں حاملہ بھی ہو سکا (پس اس ”استعاراتی حمل“ کے ذریعہ جب وہ عیسیٰ کو جنم دے کر خود عیسیٰ بن سکتا ہے تو دیگر افعال کے بارے میں یہ کیوں نہیں کہا جا سکتا کہ مثلاً ہم نے استعارہ کے طور پر زکوٰۃ دے دی، استعارہ کے طور پر حج کر لیا، استعارہ کے طور پر نماز پڑھ لی، اور استعارہ کے طور پر روضۂ اطہر میں دفن ہو گئے۔ وغیرہ وغیرہ)“

اب اگر کوئی مرزا قادیانی سے یہ پوچھ لے کہ جناب! اگر آپ نے ”ابن مریم“ بننا تھا تو چاہیے یہ تھا کہ آپ کی والدہ میں پہلے مریمی صفات آتیں، نہ کہ آپ میں (یہ دوسری بات ہے کہ آپ کی حقیقی والدہ نہیں تو اُن کی کوئی مثیل ہوتیں) وہی حاملہ ہوتیں، وہیں اَجَاءَ

صفحہ 397

هَا الْمَخَاضُ کا مصداق بنتیں یعنی درد زہ کی مثالی کیفیت سے انہیں واسطہ پڑتا اور پھر انہی سے آپ کا ظہور ہوتا، پھر تو شاید کوئی بات بھی بن جاتی لیکن یہ وحدۃ الوجودی فلسفہ، یعنی مولود اور والدہ کا ایک ہونا، نہ حکمائے اشراقیین پیش کر سکے ہیں نہ مشائین، ایسی نکتہ سنجی تو نہ علمائے اسلام کے حصے میں آئی ہے نہ دانایان یورپ کے۔ بہت ممکن ہے کہ اس اعتراض کے جواب میں قادیانی ٹکسال سے نکلنے والے فضلا کچھ موشگافیاں کرنے لگیں۔ لیکن ہمارے نزدیک یہ فلسفہ پیغمبرانہ دعوت کے نام پر عقل وخرد کا منہ چڑانے کے مترادف ہے اور بس۔

حدیث شریف میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پہیلیوں سے منع فرمایا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد گرامی ہے: نَهَی عَنِ الْأُغْلُوطَاتِ۔ اور یہاں یہ حال ہے کہ مرزا قادیانی کی دعوت کی بنیاد ہی معموں اور لفظی گورکھ دھندوں پر ہے۔ أَفَلَا تَعْقِلُوْنَ؟ جبکہ مرزا قادیانی کا کہنا ہے:

”سلطان القلم“ کا دعویٰ

(403) ”میں بار بار یہی کہتا ہوں کہ دو قسم کی برکتیں جن کا نام عیسوی برکتیں اور محمدی برکتیں ہیں، مجھ کو عطا کی گئی ہیں۔ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے علم پا کر اس بات کو جانتا ہوں کہ جو دنیا کی مشکلات کے لیے میری دعائیں قبول ہو سکتی ہیں، دوسروں کی ہرگز نہیں ہو سکتیں اور جو دینی اور قرآنی معارف حقائق اور اسرار مع لوازم بلاغت اور فصاحت کے میں لکھ سکتا ہوں، دوسرا ہرگز نہیں لکھ سکتا۔ اگر ایک دنیا جمع ہو کر میرے اس امتحان کے لیے آوے تو مجھے غالب پائے گی اور اگر تمام لوگ میرے مقابل پر اٹھیں تو خدا تعالیٰ کے فضل سے میرا ہی پلہ بھاری ہوگا۔“

(ایام الصلح صفحہ 160 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 407 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 990 پر)

شیطان اس کو دیکھ کے کہتا تھا رشک سے
بازی یہ مجھ سے لے گیا تقدیر دیکھیے
PDF 398
PDF 399

ثبوت حاضر ہیں!

مرزا قادیانی

کے فرشتے

Back

PDF 400
صفحہ 401

اللہ تعالیٰ کے چار فرشتے بہت زیادہ مشہور ہیں۔ حضرت عزرائیل علیہ السلام، حضرت میکائیل علیہ السلام، حضرت اسرافیل علیہ السلام اور حضرت جبرائیل علیہ السلام۔ حضرت عزرائیل علیہ السلام کے ذمہ ہر جاندار کی روح قبض کرنا ہے۔ حضرت میکائیل علیہ السلام کے ذمہ ہواؤں اور بارشوں کا نظام سپرد ہے، حضرت اسرافیل علیہ السلام کے ذمہ روزِ قیامت صور پھونکنا ہے جس سے پوری کائنات درہم برہم ہو جائے گی اور زمانہ آخرت شروع ہو جائے گا۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام اللہ تعالیٰ کا پیغام (وحی نبوت ورسالت) لے کر تمام انبیاء ورسل تک پہنچاتے رہے۔ حضور نبی کریم ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ آپ ﷺ پر سلسلۂ نبوت اور رسالت ختم ہو گیا اور وحی کا دروازہ بھی۔ لہٰذا حضرت جبرائیل علیہ السلام کی ڈیوٹی (اللہ کے نبیوں پر وحی پہنچانا) بھی ختم ہو گئی۔ ان چاروں فرشتوں کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ کے بے شمار فرشتے ہیں جو اپنے اپنے فرائض منصبی انجام دے رہے ہیں۔

جھوٹے مدعیانِ نبوت کا ہمیشہ یہ دعویٰ رہا ہے کہ ان پر بھی فرشتے نازل ہوتے ہیں۔ کہاوت مشہور ہے: جیسی روح، ویسے فرشتے!! یہ ضرب المثل جھوٹے مدعی نبوت آنجہانی مرزا قادیانی پر پوری طرح صادق آتی ہے۔ جس طرح مرزا قادیانی ایک مخبوط الحواس اور مضحکہ خیز شخصیت کا مالک تھا، اس کے نام نہاد فرشتے بھی ایسی ہی خصلت رکھتے تھے۔ آئیے! ملتے ہیں مرزا قادیانی کے ”خصوصی“ فرشتوں سے۔

ٹیچی ٹیچی

(404) ”کوئی شخص ہے اس سے میں کہتا ہوں کہ تم حساب کرلو۔ مگر وہ نہیں کرتا۔ اتنے میں ایک شخص آیا اور اس نے ایک مٹھی بھر کر روپے مجھے دیے ہیں۔ اس کے بعد ایک اور شخص آیا جو الٰہی بخش کی طرح ہے مگر انسان نہیں بلکہ فرشتہ معلوم ہوتا ہے۔ اس نے دونوں ہاتھ روپوں کے

صفحہ 402

بھر کر میری جھولی میں ڈال دیے ہیں تو وہ اس قدر ہو گئے ہیں کہ میں ان کو گن نہیں سکتا۔ پھر میں نے اس کا نام پوچھا تو اس نے کہا۔ میرا کوئی نام نہیں۔ دوبارہ دریافت کرنے پر کہا کہ میرا نام ہے ٹچی۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع دوم صفحہ 526 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 991 پر)

View Proof

ٹچی ٹچی مرزا قادیانی کا عجیب فرشتہ تھا۔ مرزا قادیانی نے اس سے نام پوچھا تو پہلے اس نے جھوٹ بولتے ہوئے کہا، میرا کوئی نام نہیں۔ پھر دوبارہ دریافت کرنے پر بتایا کہ میرا نام ٹچی ہے۔ قادیانیوں کا کہنا ہے کہ ٹچی ٹچی تیز رفتار فرشتہ ہے جو ٹچ کر کے جاتا ہے اور ٹچ کر کے آتا ہے۔ لیکن یہ بھی عجیب بات ہے کہ جب قادیانیوں کو ٹچی ٹچی کہا جاتا ہے تو وہ اس کا برا محسوس کرتے ہیں بلکہ بعض دفعہ تو وہ غصے میں آ کر جھگڑنا شروع کر دیتے ہیں۔ آزمائش شرط ہے۔

شیر علی

(405) ”میں نے کشفی حالت میں دیکھا کہ ایک شخص جو مجھے فرشتہ معلوم ہوتا ہے مگر خواب میں محسوس ہوا کہ اس کا نام شیر علی ہے۔ اس نے مجھے ایک جگہ لٹا کر میری آنکھیں نکالی ہیں اور صاف کی ہیں اور میل اور کدورت ان میں سے پھینک دی اور ہر ایک بیماری اور کوتاہ بینی کا مادہ نکال دیا ہے اور ایک مصفا نور جو آنکھوں میں پہلے سے موجود تھا مگر بعض مواد کے نیچے دبا ہوا تھا، اس کو ایک چمکتے ہوئے ستارہ کی طرح بنا دیا ہے۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 24 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 992 پر)

View Proof

معلوم ہوتا ہے کہ اس فرشتے (آئی سپیشلسٹ) نے مرزا قادیانی کی آنکھیں صحیح طریقے سے صاف نہیں کیں کیونکہ مرزا قادیانی آخر وقت تک آنکھوں کی بیماری ”مائی اوپیا“ میں مبتلا رہا جس کی وجہ سے وہ چاند بھی نہ دیکھ سکتا تھا۔ (سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 119 از مرزا بشیر احمد ایم اے)

صفحہ 403

مرزا غلام قادر

(406) ”میں نے کشفی حالت میں دیکھا کہ میرے بڑے بھائی مرزا غلام قادر مرحوم کی شکل پر ایک شخص آیا ہے۔ مگر مجھے فوراً معلوم کرایا گیا کہ یہ فرشتہ ہے۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 151 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 993 پر)

View Proof

خیراتی

(407) ”عرصہ قریباً پچیس برس کا گزرا ہے کہ مجھے گورداسپور میں ایک رویا ہوا کہ میں ایک چارپائی پر بیٹھا ہوں اور اسی چارپائی پر بائیں طرف مولوی عبداللہ صاحب غزنوی مرحوم بیٹھے ہیں۔ اتنے میں میرے دل میں تحریک پیدا ہوئی کہ میں مولوی صاحب موصوف کو چارپائی سے نیچے اتار دوں۔ چنانچہ میں نے ان کی طرف کھسکنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ وہ چارپائی سے اتر کر زمین پر بیٹھ گئے۔ اتنے میں تین فرشتے آسمان کی طرف سے ظاہر ہو گئے جن میں سے ایک کا نام خیراتی تھا۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 23 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 994 پر)

View Proof

مٹھن لال

(408) ”فرمایا، نصف رات سے فجر تک مولوی عبدالکریم کے لیے دعا کی گئی۔ صبح کے بعد جب سویا تو یہ خواب آئی۔ میں نے دیکھا کہ عبداللہ سنوری میرے پاس آیا ہے اور وہ ایک کاغذ پیش کر کے کہتا ہے کہ اس کاغذ پر میں نے حاکم سے دستخط کرانا ہے اور جلدی جانا ہے میری عورت سخت بیمار ہے اور کوئی مجھے پوچھتا نہیں۔ دستخط نہیں ہوتے۔ اس وقت میں نے عبداللہ کے چہرے کی طرف دیکھا تو زرد رنگ اور سخت گھبراہٹ اس کے چہرہ پر ٹپک رہی ہے۔ میں نے اس کو کہا کہ یہ لوگ روکے ہوئے ہیں۔ نہ کسی کی سفارش مانیں اور نہ کسی کی شفاعت۔ میں تیرا کاغذ لے جاتا ہوں۔ آگے جب کاغذ لے کر گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک شخص مٹھن لال نام جو کسی زمانہ میں بٹالہ میں ایکسٹرا اسسٹنٹ تھا۔ کرسی پر بیٹھا ہوا کچھ کام کر رہا

صفحہ 404

ہے اور گرد اس کے عملہ کے لوگ ہیں۔ میں نے جا کر کاغذ اس کو دیا اور کہا کہ یہ ایک میرا دوست ہے اور پرانا دوست ہے اور واقف ہے۔ اس پر دستخط کر دو۔ اس نے بلا تامل اسی وقت لے کر دستخط کر دیے۔ پھر میں نے واپس آ کر وہ کاغذ ایک شخص کو دیا اور کہا خبردار ہوش سے پکڑو، ابھی دستخط گیلے ہیں اور پوچھا کہ عبداللہ کہاں ہے؟ انھوں نے کہا کہ کہیں باہر گیا ہے۔ بعد اس کے آنکھ کھل گئی اور ساتھ پھر غنودگی کی حالت ہو گئی۔ تب میں نے دیکھا کہ اس وقت میں کہتا ہوں۔ مقبول کو بلاؤ۔ اس کے کاغذ پر دستخط ہو گئے ہیں۔ فرمایا۔ یہ جو مٹھن لال دیکھا گیا ہے، ملائک طرح طرح کے تمثلات اختیار کر لیا کرتے ہیں۔ مٹھن لال سے مراد ایک فرشتہ تھا۔

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 474 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 995، 996 پر)

View Proof

حفیظ

”بڑے مرزا صاحب پر ایک مقدمہ تھا۔ میں نے دعا کی تو ایک فرشتہ مجھے خواب میں ملا جو چھوٹے لڑکے کی شکل میں تھا۔ میں نے پوچھا تمہارا کیا نام ہے، وہ کہنے لگا، میرا نام حفیظ ہے۔ پھر وہ مقدمہ رفع دفع ہو گیا۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 643 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 997 پر)

View Proof

درشنی

انگریزوں کے تھی اور میز کرسی لگائے ہوئے بیٹھا ہے۔ میں نے اس سے کہا کہ آپ بہت ہی خوبصورت ہیں۔ اس نے کہا ہاں میں درشنی آدمی ہوں۔“

(ملفوظات جلد چہارم صفحہ 69 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 998 پر)

View Proof

PDF 405

ثبوت حاضر ہیں!

مرزا قادیانی

کے الہامات اور خواب

Back

PDF 406
صفحہ 407

جھوٹے مدعی نبوت آنجہانی مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ اس پر عربی، اردو، فارسی، انگریزی، پنجابی، عبرانی اور دوسری زبانوں میں وحیاں اور الہامات نازل ہوئے۔ اس کی بعض وحیاں اور الہامات اس قدر مضحکہ خیز اور مہمل ہیں کہ خود مرزا قادیانی کو بھی اس کی سمجھ نہیں آئی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کی وحی اور الہامات من جانب الرحمن تھے یا منجانب الشیطان؟ قرآن مجید میں ارشاد خداوندی ہے:

السمع واكثرهم كذبون. (الشعراء: 221 تا 223)

ترجمہ: کیا میں تم کو بتا دوں کہ شیطان کن پر اترتے ہیں۔ وہ ہر جعل ساز بدکار (مرزا قادیانی ایسے جھوٹے مدعیان نبوت) پر اترا کرتے ہیں، جو سنی سنائی بات (اپنے پیروکاروں کے دلوں میں) ڈالتے ہیں اور ان سے بھی اکثر جھوٹے ہی ہوتے ہیں۔

(الشعراء: 221 تا 223)

مرزا قادیانی خود بھی اس اصول کو مانتا ہے۔

شیطانی الہامات کا ہونا حق ہے

(ضرورۃ الامام صفحہ 13 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 483 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 999 پر)

مزید کہا:

View Proof

صفحہ 408

شیطان بڑا جھوٹا ہے لیکن کبھی سچی بات بتلا کر دھوکا دیتا ہے تا ایمان چھین لے۔“

(حقیقة الوحی صفحہ 3 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 3 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1000 پر)

وحی خواہ کسی زبان کی بھی ہو، کوئی انسان اس کی مثال ونظیر پیش نہیں کر سکتا کیونکہ وہ خدا کا کلام ہوتا ہے۔ آئندہ سطور میں مرزا قادیانی کی ہر زبان یعنی اردو، عربی، فارسی، انگریزی اور پنجابی کی وحیاں درج کی جا رہی ہیں۔ صاحب ذوق حضرات انھیں پڑھ کر سنجیدگی سے غور فرمائیں کہ کیا یہ خدائی کلام ہو سکتا ہے؟ کیا زبان کے اعتبار سے مرزا قادیانی کی کسی وحی میں بھی فصاحت و بلاغت یا ادبیت کی شان پائی جاتی ہے؟ کیا یہ اس درجہ کا بھی کلام کہلایا جا سکتا ہے، جو ایک عام عالم یا ادیب پیش کرتا ہے؟

حضرت موسیٰ علیہ السلام ملک کنعان سے تعلق رکھتے تھے، اس لیے ان پر توریت عبرانی زبان میں نازل ہوئی۔ حضرت داؤد علیہ السلام کے ملک کی زبان شریانی تھی، اس لیے زبور شریانی زبان میں نازل ہوئی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ملک کی زبان یونانی تھی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے انجیل کو یونانی زبان میں نازل فرمایا اور حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ عرب میں مبعوث فرمائے گئے، اس لیے قرآن مجید کو عربی زبان میں نازل فرمایا گیا۔ ایک نبی کا فرض منصبی ہی یہ ہے کہ جو وحی بھی من جانب اللہ نازل ہو، اس کا معنی و مفہوم لوگوں کو بتائے جیسا کہ قرآن میں واضح ارشاد باری تعالیٰ ہے:

ویہدی من یشاء وهو العزیز الحکیم ۝ (ابراہیم: 4)

ترجمہ: اور ہم نے کسی رسول کو نہیں بھیجا مگر اپنی قوم کی زبان کے ساتھ تاکہ وہ ان کے لیے (پیغام حق) خوب واضح کر سکے، پھر اللہ جسے چاہتا ہے، گمراہ ٹھہرا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت بخشتا ہے، اور وہ غالب حکمت والا ہے۔

مرزا قادیانی اس حقیقت کی تائید میں لکھتا ہے۔

صفحہ 409

غیر معقول اور بے ہودہ امر

(413) ”یہ بالکل غیر معقول اور بیہودہ امر ہے کہ انسان کی اصل زبان تو کوئی ہو اور الہام اس کو کسی اور زبان میں ہو جس کو وہ سمجھ بھی نہیں سکتا کیونکہ اس میں تکلیف مالا یطاق ہے اور ایسے الہام سے فائدہ کیا ہوا جو انسانی سمجھ سے بالاتر ہے۔“

(چشمہ معرفت صفحہ 209 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 218 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1001 پر)

جبکہ اس کے برعکس مرزا قادیانی خود اعتراف کرتا ہے: View Proof

تعجب کی بات

(414) ”مگر اس سے زیادہ تر تعجب کی یہ بات ہے کہ بعض الہامات مجھے ان زبانوں میں بھی ہوتے ہیں جن سے مجھے کچھ بھی واقفیت نہیں جیسے انگریزی یا سنسکرت یا عبرانی وغیرہ۔“

(نزول المسیح صفحہ 57 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 435 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1002 پر)

View Proof

آنجہانی مرزا قادیانی ہندوستان میں پیدا ہوا اور وہیں نبوت کا دعویٰ کیا۔ اس لیے ضروری تھا کہ اسے اردو یا پنجابی میں وحی ہوتی لیکن اس پر ایسی زبانوں میں وحی و الہام ہوئے جس کو بیچارہ خود بھی سمجھنے یا سمجھانے سے قاصر تھا۔ دراصل مرزا قادیانی کے ”خدا“ کا بھی کچھ پتہ نہیں کہ وہ کون ہے؟ کیونکہ مرزا قادیانی خود اپنی کتاب میں لکھتا ہے:

ربنا عاج

(415) ”ربنا عاج“ ”ہمارا رب عاجی ہے۔“ (اس کے معنی ابھی تک معلوم نہیں ہوئے)

(براہین احمدیہ، صفحہ 556 مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 663 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1003 پر)

View Proof

اس عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کو اپنے خدا کا بھی علم نہیں کہ وہ کون ہے؟ افسوس! جس شخص کو اپنے خدا کا بھی پتہ نہ ہو، اس کے الہاموں کا کیا پتہ ہو سکتا ہے کہ وہ

صفحہ 410

کیا ہیں؟ پھر کیا اعتبار کہ وہ الہام واقعی رحمانی ہیں یا شیطانی؟ ایسے الہامات پر کوئی یقین کرے تو کیسے؟ مرزا قادیانی لکھتا ہے:

ھوشعنا نعسا

(416) ”پھر بعد اس کے فرمایا ھوشعنا نعسا۔ یہ دونوں فقرے شاید عبرانی ہیں اور ان کے معنی ابھی تک اس عاجز پر نہیں کھلے۔ پھر بعد اس کے دو فقرے انگریزی ہیں جن کے الفاظ کی صحت باعث سرعت الہام ابھی تک معلوم نہیں اور وہ یہ ہیں آئی لو یو۔ آئی شیل گو ٹو ء لارج پارٹی اوف اسلام۔ چونکہ اس وقت یعنی آج کے دن اس جگہ کوئی انگریزی خوان نہیں اور نہ اس کے پورے پورے معنی کھلے ہیں۔ اس لیے بغیر معنوں کے لکھا گیا ہے۔“

(براہین احمدیہ صفحہ 557 مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 664 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1004 پر)

View Proof

اس عبارت سے ثابت ہے کہ مرزا قادیانی کا عاجی خدا مرزا قادیانی پر ایسے الہام کرتا ہے جس کا مفہوم دونوں کو معلوم نہیں۔ یہ عجیب بات ہے کہ مرزا قادیانی جن زبانوں کے سمجھنے سے بالکل عاری اور نابلد ہے، اسے انہی زبانوں میں بار بار الہامات ہوتے ہیں۔ اس سے مرزا قادیانی اور اس کے عاجی خدا کی جہالت اور بے علمی ثابت ہوتی ہے۔ کیونکہ اگر مرزا قادیانی کے خدا کو معلوم ہوتا کہ مرزا قادیانی عبرانی، انگریزی اور عربی زبان سے بالکل ناواقف اور عاری ہے تو وہ کبھی ایسے الہام یا وحی نازل نہ کرتا۔ الہامات کی حقیقت کے بارے میں مرزا قادیانی کا کہنا ہے:

ظن اور شک کی تاریکی

(417) ”جس دل پر درحقیقت آفتاب وحی تجلی فرماتا ہے، اس کے ساتھ ظن اور شک کی تاریکی ہرگز نہیں رہتی۔“

(نزول المسیح صفحہ 89 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 467 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1005 پر)

View Proof

صفحہ 411

بے یقینی کا کلام

(نزول المسیح صفحہ 108 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 486 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1006 پر)

View Proof

عجیب وغریب الہامات جن کی سمجھ نہیں آئی

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 161 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1007 پر)

View Proof

پریشن، عمریراطوس، یا پلاطوس۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 91 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1008 پر)

View Proof

دن یا گیارہ ہفتے یا کیا۔ یہی ہندسہ 11 کا دکھایا گیا ہے)۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 327 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1009 پر)

View Proof

لَا يَمُوتُ اَحَدٌ مِّنْ رِّجَالِكُمْ. فرمایا۔ اس کے حقیقی معنی کہ تمھارے رجال میں کوئی نہ مرے گا، تو ہو نہیں سکتے کیونکہ موت تو انبیاء تک کو آتی ہے اور نہ قیامت تک کسی نے زندہ رہنا ہے۔ شاید کوئی اور معنی ہوں۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 377 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1010 پر)

View Proof

صفحہ 412

(423) ”میں ان کو سزا دوں گا۔ میں اس عورت کو سزا دوں گا۔ معلوم نہیں یہ کس کے متعلق ہے۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 564 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1011 پر)

View Proof

(424) ”عورت کی چال۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 509 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1012 پر)

View Proof

(425) ”موت، تیراں ماہ حال کو۔ غالباً تیراں ماہ حال سے مراد تیراں ماہ شعبان ہے۔ واللہ اعلم۔ اور میں نہیں جانتا کہ تیراں ماہ حال سے یہی شعبان ہے یا کسی اور شعبان کی تیراں تاریخ، اور میں قطعی طور پر نہیں جانتا کہ کس کے حق میں ہے۔ اس لیے طبیعت غمگین ہے۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 570 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1013 پر)

View Proof

(426) ”افسوسناک خبر آئی ہے۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 589 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1014 پر)

View Proof

(427) ”بہتر ہوگا کہ اور شادی کرلیں۔“ فرمایا: معلوم نہیں کہ کس کی نسبت یہ الہام ہے۔

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 589 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1015 پر)

View Proof

(428) ”کمترین کا بیڑا غرق ہو گیا۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 574 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1016 پر)

View Proof

(429) ”غَمَّ لَہٗ ۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 266 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1017 پر)

View Proof

صفحہ 413

”آخر کا لفظ ٹھیک یاد نہیں اور یہ بھی پختہ نہیں کہ یہ الہام کس امر کے متعلق ہے۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 358 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1018 پر)

(تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 71 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1019 پر)

(تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 563 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1020 پر)

(تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 568 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1021 پر)

(تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 590 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1022 پر)

(تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 614 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1023 پر)

۱۔۲۔۱۔۱۷۔۲۔۲۴۔۱۷۔۱۰۔۱۔۱۸۔۲۷۔۱۶۔۱۱۔۲۴۔۱۴۔۱۱ ۱۔۱۔۲۳۔۱۴۔۷۔۱۱۔۲۳۔۲۳۔۵۔۳۲۔۱۔۷ ۱۴۔۵۔۷۔۱۔۲۔۷۔۱۴۔۱۔۱۶۔۱۱۔۷۔۳۳۔۱۔۷۔۲۸۔۵۔۱۴ ۱۴۔۲۔۲۸۔۷“

(تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 157 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1024 پر)

صفحہ 414

نہیں ۔ نہ حقیقی نہ رشتہ کی۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 665 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1025 پر)

محترم قارئین! آپ نے مرزا قادیانی کے ”انسانی سمجھ سے بالاتر“ اٹ سنٹ الہامات ملاحظہ کیے۔ اب آپ خود فیصلہ کریں کہ کیا یہ غیر معقول اور بے ہودہ امر نہیں ہے کہ مرزا قادیانی کی اصل زبان تو کوئی اور ہو اور اسے الہام کسی اور زبان میں ہو جس کو وہ خود بھی نہیں سمجھ سکتا۔

عربی الہامات

(438) وقالوا لولا نزل على رجل من قريتين عظيم. وقالوا انى لك هذا ان هذا لمكر مكرتموه في المدينة. ......قل ان كنتم تحبون الله فاتبعونى يحببكم الله. عسى ربكم ان يرحمكم. .......وما ارسلنك الا رحمة للعالمين. .......اليس الله بكاف عبده. انت منى بمنزلة توحيدى و تفريدی. فحان ان تعان و تعرف بين الناس. انت منى بمنزلة عرشى. انت منى بمنزلة ولدى. انت منى بمنزلة لا يعلمها الخلق......انا انزلناه قريبا من القاديان. وبالحق انزلناه و بالحق نزل. صدق الله ورسوله. وكان امر الله مفعولا. الحمد لله الذى جعلك المسيح ابن مريم.

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 547، 548، 549 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 1026، 1027، 1028 پر)

انگریزی الہامات

you. He shall help you. Words of God cannot exchange.

صفحہ 415

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 92 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1029 پر)

View Proof

مرزا قادیانی کے خدا کو اتنا بھی معلوم نہیں کہ ضلع کی انگریزی Zilla نہیں بلکہ District ہوتی ہے۔

the Lord.

(حقیقة الوحی صفحہ 304 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 316 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1030 پر)

View Proof

(441) ”ایک دفعہ کی حالت یاد آتی ہے کہ انگریزی میں اول یہ الہام ہوا۔ آئی لو یو یعنی میں تم سے محبت رکھتا ہوں۔ پھر یہ الہام ہوا۔ آئی ایم ود یو یعنی میں تمھارے ساتھ ہوں پھر الہام ہوا۔ آئی شیل ہیلپ یو یعنی میں تمہاری مدد کروں گا۔ پھر الہام ہوا آئی کین ویٹ آئی ول ڈو۔ یعنی میں کر سکتا ہوں جو چاہوں گا۔ پھر بعد اس کے بہت ہی زور سے جس سے بدن کانپ گیا یہ الہام ہوا۔ وی کین ویٹ وی ول ڈو۔ یعنی ہم کر سکتے ہیں جو چاہیں گے اور اس وقت ایک ایسا لہجہ اور تلفظ معلوم ہوا کہ گویا ایک انگریز ہے جو سر پر کھڑا ہوا بول رہا ہے۔“

(براہین احمدیہ صفحہ 480 مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 571، 572 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 1031، 1032 پر)

کم بخت ٹپچی بڑا گستاخ تھا کیا اسے یہ معلوم نہ تھا کہ ع نازک مزاج شاہاں تاب سخن ندارند آمیزش کسی چیز میں صرف دھوکا دینے اور دنیاوی منفعت چاہنے کے لیے ہی کی جاتی ہے مثلاً دودھ میں پانی اسی لیے ملایا جاتا ہے کہ دھوکا دے کر زیادہ پیسہ کمایا جائے، یا اصلی

View Proof

صفحہ 416

گھی میں ڈالڈا وغیرہ ملانے کا مقصد بھی دھوکا، فریب اور دنیاوی مال و دولت کمانا ہی مقصود ہوتا ہے مگر اس سے آخرت برباد ہو جاتی ہے۔ بطور نمونہ صرف ایک ٹکڑا ملاحظہ فرمائیں جس میں قرآنی وحی کے الفاظ، انگریزی لفظ (Feeling) اور اردو عبارت کی آمیزش کر کے عوام کو دھوکا دیا گیا ہے کہ یہ الفاظ مرزا قادیانی پر بطور وحی نازل ہوئے ہیں۔

(442) الم تعلم ان الله على كل شىء قدير. يلقى الروح على من يشاء من عباده. كل بركة من محمد صلى الله عليه وسلم. فتبارک من علم و تعلم۔ خدا کی فیلنگ اور خدا کی مہر نے کتنا بڑا کام کیا۔ ان معک و مع اهلک و مع كل من احبک۔

(حقیقۃ الوحی صفحہ 96 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 99 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1033 پر)

View Proof

فارسی الہامات

شیخ سعدی شیرازی (1184ء تا 1292ء) شہرہ آفاق فارسی ادیب، شاعر، صوفی اور مصنف گلستان و بوستان ہیں۔ ان کا ایک مشہور شعر ہے:

مکن تکیہ بر عمر ناپائدار
مباش ایمن از بازی روزگار

مرزا قادیانی نے اس شعر کو اپنے الہامات میں شامل کر لیا۔

(443) 17 مئی 1908ء ”مکن تکیہ بر عمر ناپائیدار“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 640 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1034 پر)

View Proof

(444) 26 اپریل 1908ء ”مباش ایمن از بازی روزگار“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 640 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1035 پر)

View Proof

اس کے علاوہ مرزا قادیانی نے فارسی کی مشہور ضرب الامثال کو اپنا الہام قرار دیا۔ مثلاً

صفحہ 417

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 434 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1036 پر)

View Proof

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 104 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1037 پر)

عقل حیران ہے کہ خالق نے مخلوق کے کلام کو اپنا کلام بتا کر کیسے نازل کر دیا؟ شاعری کی اصطلاح میں ایسے کلام کو توارد یا سرقہ کہتے ہیں۔ کیا قادیانیوں کے پاس اس کا کوئی جواب ہے؟

View Proof

پنجابی الہامات

”مرزا غلام احمد قادیانی نے محمدی بیگم کے ساتھ شادی کروانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ ترغیب، لالچ، دھمکیاں، ڈرانے اور دھمکانے کا ہر حربہ استعمال کیا مگر ناکام رہے۔ آخر محمدی بیگم کی شادی اس کے رشتہ دار سلطان محمد سے ہو گئی۔ سلطان محمد موضع ”پٹی“ ضلع لاہور کا رہنے والا تھا۔ مرزا قادیانی نے کہا کہ اسے الہام ہوا ہے:

یعنی ”پٹی“ تباہ ہو جائے گی۔

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 681 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1038 پر)

View Proof

فرمایا۔ یہ پنجابی فقرہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ کج طبع آدمی درست ہو گیا ہے۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 631 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1039 پر)

View Proof

محترم قارئین! آخر میں ایک دلچسپ واقعہ ملاحظہ فرمائیں: مرزا قادیانی کے ایک

صفحہ 418

مرید میر عباس علی شاہ تھے۔ وہ پہلے حضرت شاہ سلیمان تونسویؒ کے مرید تھے۔ ان کی وفات کے بعد میر عباس علی شاہ صاحب بدقسمتی سے بغیر تحقیق کیے مرزا قادیانی کے کشفی دعوؤں سے متاثر ہو کر اس کے حلقہ ارادت میں آگئے۔ یہ وہ دور تھا کہ مرزا قادیانی نے ابھی تک نبوت کا اعلان نہ کیا تھا۔ میر عباس علی شاہ صاحب نے ایسی وفاداری اور تابع فرمانی کا مظاہرہ کیا کہ وہ تمام قادیانیوں سے سبقت لے گئے۔ مکتوبات احمد کی پہلی اور سب سے ضخیم جلد ان خطوط پر مشتمل ہے جو مرزا قادیانی نے میر عباس کو لکھے۔

ایک دفعہ مرزا قادیانی کو میر عباس لدھیانوی کے بارے میں الہام ہوا:

(449) ”مسجا ارادت مند. اصلها ثابت و فرعها فی السماء. یعنی اس کی ارادت ایسی قوی اور کامل ہے کہ جس میں نہ کچھ تزلزل ہے نہ نقصان ہے۔“ (تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 45 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1040 پر) View Proof

9 سال تک تاریکی میں بھٹکنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے انھیں ہدایت دی اور وہ دوبارہ دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے۔ ان کے قبول اسلام کی وجوہات کا بڑا سبب ایک اہم خط ہے جو مرزا قادیانی نے میر عباس علی شاہ صاحب کو لکھا اور ان سے اپنے الہامات کے سلسلہ میں راہنمائی اور علمی معاونت طلب کی۔ میر عباس علی شاہ صاحب نے سوچا کہ یہ کیسا نبی ہے جو اپنے امتی سے راہنمائی حاصل کرتا ہے۔ اس واقعہ نے ان کی کایا پلٹ دی اور وہ قادیانیت پر تین حروف بھیج کر اسلام کی آغوش میں آ گئے۔ اب آپ میر عباس علی شاہ صاحب کے نام مرزا قادیانی کا خط پڑھیے اور قادیانی نبوت کے بارے میں خود فیصلہ کیجیے۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

(450) ”مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہٗ۔ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ! بعد ہذا چونکہ اس ہفتہ میں بعض کلمات انگریزی وغیرہ الہام ہوئے ہیں اور اگرچہ بعض ان میں سے ایک ہندو لڑکے سے دریافت کیے ہیں مگر قابل اطمینان نہیں، اور بعض منجانب اللہ بطور ترجمہ الہام ہوا تھا اور بعض کلمات شاید عبرانی ہیں۔ ان سب کی تحقیق تنقیح ضرور ہے تا بعد

صفحہ 419

تنقیح جیسا کہ مناسب ہو آخیر جزو میں کہ اب تک چھپی نہیں درج کیے جائیں۔ آپ جہاں تک ممکن ہو، بہت جلد دریافت کر کے صاف خط میں جو پڑھا جاوے اطلاع بخشیں۔ اور وہ کلمات یہ ہیں۔ پریشن۔ عمر براطوس، یا پلاطوس یعنی پراطوس لفظ ہے یا پلاطوس لفظ ہے۔ بباعث سرعت الہام دریافت نہیں ہوا اور عمر عربی لفظ ہے اس جگہ براطوس اور پریشن کے معنی دریافت کرنے ہیں کہ کیا ہیں اور کس زبان کے یہ لفظ ہیں؟ پھر دو لفظ اور ہیں ھو شعنا نعسا معلوم نہیں کس زبان کے ہیں؟ اور انگریزی یہ ہیں اوّل عربی فقرہ ہے یا داؤد عامل بالناس رفقاً و احساناً. یوسٹ ڈوُ وہاٹ آئی ٹولڈ یو۔ تم کو وہ کرنا چاہیے جو میں نے فرمایا ہے۔ یہ اردو عبارت بھی الہامی ہے۔ پھر بعد اس کے ایک اور انگریزی الہام ہے اور ترجمہ اُس کا الہامی نہیں۔ بلکہ اس ہندو لڑکے نے بتلایا ہے۔ فقرات کی تقدیم تاخیر کی صحت بھی معلوم نہیں۔ اور بعض الہامات میں فقرات کا تقدم تاخر بھی ہو جاتا ہے۔ اُس کو غور سے دیکھ لینا چاہیے اور وہ الہام یہ ہیں دو آل مَن شُڈ بی انگری بٹ گاڈ از ود یو۔ ہی شل ہلپ یو۔ واڑڈس آف گاڈ ناٹ کین ایکس چینج۔ ترجمہ: اگر تمام آدمی ناراض ہوں گے۔ لیکن خدا تمھارے ساتھ ہوگا وہ تمہاری مدد کرے گا۔ اللہ کے کلام بدل نہیں سکتے۔ پھر بعد اس کے ایک دو اور الہام انگریزی ہیں، جن میں سے کچھ تو معلوم ہے اور وہ یہ ہے:

آئی شل ہلپ یو۔ مگر بعد اس کے یہ ہے۔ یو ہیٹو گو امرتسر۔ پھر ایک فقرہ ہے، جس کے معنی معلوم نہیں اور وہ یہ ہے: ہی بل ٹس ان دی ضلع پشاور۔ یہ فقرات ہیں ان کو تنقیح سے لکھیں اور براہ مہربانی جلد تر جواب بھیج دیں تا اگر ممکن ہو تو اخیر جزو میں بعض فقرات بموضع مناسب درج ہوسکیں۔ بخدمت مولوی عبدالقادر صاحب وخواجہ علی صاحب سلام مسنون پہنچے۔“ 12 دسمبر 83ء مطابق 11 صفر 1301ھ

(مکتوبات احمد جلد اول صفحہ 583 مکتوب نمبر 36 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1041، 1042 پر)

ایک اور ہندو کاتب وحی

رکھا ہوا تھا۔ اور بعض امور غیبیہ جو ظاہر ہوتے تھے، اس کے ہاتھ سے ناگری اور فارسی میں قبل

صفحہ 420

از وقوع لکھائے جاتے تھے اور اس پر اس کے دستخط بھی کرائے جاتے تھے۔“

(تریاق القلوب صفحہ 59 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 260 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1043 پر)

View Proof

مرزا قادیانی کے الہامات بارے قادیانی کہتے ہیں کہ مرزا صاحب انٹرنیشنل نبی تھے، اس لیے ان پر متعدد زبانوں میں وحی نازل ہوئی۔ قادیانیوں کی یہ تاویل جہالت پر مبنی ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ ساری کائنات کے نبی اور رسول ہیں۔ آپ پر متعدد زبانوں میں وحی کیوں نہ آئی؟ جبکہ مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ وہ ”محمد رسول اللہ“ کا بروز ہے۔ عجیب بات ہے کہ بروز اصل سے بڑھ جائے۔ اس وقت دنیا میں تقریباً 4 ہزار سے زائد زبانیں بولی جاتی ہیں۔ اگر مرزا قادیانی ”انٹرنیشنل نبی“ تھا تو پھر اس کو 4 ہزار زبانوں میں وحی ہونی چاہیے تھی۔ علاوہ ازیں مرزا قادیانی کو ایسی زبانوں میں بھی وحی ہوتی تھی، جو اسے سمجھ بھی نہ آتی تھیں۔ وہ اس کا ترجمہ دوسروں سے پوچھتا پھرتا تھا بلکہ اس نے اس کام کے لیے ایک ہندو لڑکا رکھا ہوا تھا۔ (مکتوبات احمد جلد اوّل صفحہ 583 مکتوب نمبر 36 طبع جدید از شیخ یعقوب علی عرفانی)

سچے نبیوں (تقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار) کے پاس حضرت جبرائیل علیہ السلام، اللہ تعالیٰ کی وحی لے کر آتے تھے اور اس کام کے لیے صرف وہی مخصوص تھے لیکن حیرانی ہے کہ مرزا قادیانی کے لیے جو فرشتہ وحی لے کر آتا تھا، اس کا نام ”ٹیچی ٹیچی“ ہے۔

(حقیقت الوحی صفحہ 332، مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 346 از مرزا قادیانی)

مرزا قادیانی کے الہاموں کی بجلی خود مرزا قادیانی پر گر گئی۔ وہ اعتراف کرتا ہے:

(452) ”یہ کیا بات ہو گئی کہ ان کے الہاموں کی بجلی انھی پر گر گئی۔ کیا کوئی ہے کہ اس کا جواب دے؟“

(حقیقت الوحی تمہ صفحہ 125 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 561 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1044 پر)

View Proof

صفحہ 421

مرزا قادیانی کے عجیب و غریب خواب

بلی کو پھانسی

(453) ”میں نے دیکھا کہ ایک بلی ہے اور گویا کہ ایک کبوتر ہمارے پاس ہے۔ وہ اس پر حملہ کرتی ہے۔ بار بار ہٹانے سے باز نہیں آتی تو آخر میں نے اس کا ناک کاٹ دیا ہے اور خون بہہ رہا ہے۔ پھر بھی باز نہ آئی تو میں نے اسے گردن سے پکڑ کے اس کا منہ زمین سے رگڑنا شروع کیا۔ بار بار رگڑتا تھا لیکن پھر بھی سر اٹھاتی جاتی تھی تو آخر میں نے کہا کہ آؤ اسے پھانسی دے دیں۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 402، 403 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1045، 1046 پر)

View Proof

نامرد ہاتھی

(454) ”ہم ایک جگہ جا رہے ہیں۔ ایک ہاتھی دیکھا۔ اس سے بھاگے اور ایک اور کوچہ میں چلے گئے۔ لوگ بھی بھاگے جاتے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ ہاتھی کہاں ہے؟ لوگوں نے کہا کہ وہ کسی اور کوچہ میں چلا گیا ہے۔ ہمارے نزدیک نہیں آیا۔ پھر نظارہ بدل گیا۔ گویا گھر میں بیٹھے ہیں۔ قلم پر میں نے دو نوک لگائے ہیں جو ولایت سے آئے ہیں۔ پھر میں کہتا ہوں یہ بھی نامرد ہی نکلا۔ اس کے بعد الہام ہوا۔ ان اللہ عزیز ذوانتقام ۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 421 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1047 پر)

View Proof

مرغ، بکرا، بلی، چوہا

(455) ”چند آدمی سامنے ہیں۔ ایک چادر میں کوئی شے ہے۔ ایک شخص نے کہا کہ یہ آپ لے لیں۔ دیکھا تو اس میں چند مرغ ہیں اور ایک بکرا ہے۔ میں ان مرغوں کو اُٹھا کر اور سر سے اونچا کر کے لے چلا تا کہ کوئی بلی وغیرہ نہ پڑے۔ راستہ میں ایک بلی ملی جس کے منہ میں کوئی شے مثل چوہا ہے مگر اس بلی نے اس طرف توجہ نہیں کی اور میں ان مرغوں کو

صفحہ 422

محفوظ لے کر گھر پہنچ گیا۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 472 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1048 پر)

View Proof

مرغی کے الفاظ

(456) ”دیکھا کہ ایک دیوار پر ایک مرغی ہے۔ وہ کچھ بولتی ہے۔ سب فقرات یاد نہیں رہے مگر آخری فقرہ جو یاد رہا، یہ تھا۔ ان کنتم مسلمین۔ اس کے بعد بیداری ہوئی۔ یہ خیال تھا کہ مرغی نے یہ کیا الفاظ بولے ہیں؟ پھر الہام ہوا۔ انفقوا فی سبیل اللہ ان کنتم مسلمین۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 492 طبع چہارم از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1049 پر)

View Proof

بلا عنوان !

(457) ”بارک اللہ فی الہامک و وحیک و رؤیاک۔ برکت دی اللہ تعالیٰ نے تیرے الہام میں اور تیری وحی میں اور تیری خوابوں میں۔“

(تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 569 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1050 پر)

View Proof

قسم ہے قادیاں کے گل رخوں کی گل عذاری کی
غلام احمد کی الماری پٹاری ہے مداری کی
PDF 423

ثبوت حاضر ہیں!

مرزا قادیانی

اَمِیرُ الْجُہَلَاء

PDF 424
صفحہ 425

اسلام میں علم کی بہت زیادہ فضیلت بیان ہوئی ہے۔ قرآن اور حدیث کی رُو سے علم اور اہل علم کا درجہ بہت بڑا ہے۔ علم ایک نور ہے اور جہالت تاریکی۔ جس طرح نور اور ظلمت یا روشنی اور تاریکی دونوں برابر نہیں ہو سکتے، اسی طرح ایک عالم اور جاہل دونوں ہمسر نہیں ہو سکتے۔ قرآن مجید کی رُو سے ایک اندھا اور ایک آنکھوں والا شخص دونوں مساوی نہیں ہو سکتے۔ قادیان کے جھوٹے مدعی نبوت و رسالت مرزا غلام احمد قادیانی کو زعم تھا کہ وہ بہت بڑا عالم ہے اور اسے تمام علوم خود خدا نے سکھائے ہیں۔ وہ اپنی کتب میں بار بار کہتا ہے کہ میری معلومات خدائی ہیں اور میں نے علم براہ راست اللہ سے حاصل کیا ہے۔ مرزا قادیانی اپنی وحی و الہام میں کہتا ہے:

ترجمہ: تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے، ہم نے تیرا نام متوکل رکھا، اپنی طرف سے علم سکھلایا۔“

(ازالہ اوہام صفحہ 698 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 476 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1051 پر)

View Proof

یعلم غیری من المعاصرین.“

ترجمہ: ”اللہ نے مجھے پاک مقدس علوم نیز صاف و روشن معارف عطا کیے۔ اور وہ کچھ سکھایا جو میرے سوا کسی اور انسان کو اس زمانے میں معلوم نہ تھا۔“

(انجام آتھم صفحہ 75 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 75 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1052 پر)

View Proof

صفحہ 426

(خطبہ الہامیہ صفحہ 163 مندرجہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 249 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1053 پر)

قارئین کرام! آئیے دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مرزا صاحب کو کون کون سے صاف اور روشن معارف عطا کیے:

View Proof

نبی کریم ﷺ کے والد محترم

چند دن بعد ہی فوت ہو گیا۔ اور ماں صرف چند ماہ کا بچہ چھوڑ کر مرگئی تھی۔“

(پیغام صلح صفحہ 28 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 465 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1054 پر)

View Proof

سیرت النبی ﷺ کا ہر طالب علم بخوبی جانتا ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ کے والد محترم حضرت عبداللہ آپ ﷺ کی ولادت باسعادت سے چند ماہ پہلے ایک تجارتی سفر میں انتقال کر گئے تھے اور آپ ﷺ کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ کا سانحہ ارتحال آپ ﷺ کی ولادت باسعادت کے 6 سال بعد ہوا تھا۔ مگر مرزا قادیانی کو ان تاریخی حقائق کا علم نہیں۔ بقول ڈاکٹر غلام جیلانی برق: ”مت بھولیے کہ یہ مرزا صاحب کی آخری تحریر تھی جو اکہتر برس کے علمی مطالعہ کا نچوڑ تھی۔ پھر تحریر بھی اس ہستی کے متعلق جن کا ذکر ہر زبان پر اور چرچا ہر گھر میں ہے۔ اور واقعہ بھی ایسا جسے ہمارے لاکھوں واعظین تیرہ سو برس سے گلی گلی سنا رہے ہیں اور جس سے ہمارے چھوٹے چھوٹے بچے بھی آگاہ ہیں۔ حیرت ہے کہ جناب مرزا صاحب تاریخِ نبویؐ کے اس مشہور ترین واقعہ سے بھی بے خبر نکلے۔“ (حرفِ محرمانہ، از ڈاکٹر غلام جیلانی برق)

اس عبارت میں مرزا قادیانی نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی والدہ ماجدہ کے بارے میں ”مرگئی“ ایسے الفاظ استعمال کر کے بدترین توہین کا ارتکاب کیا ہے۔

صفحہ 427

نبی کریم ﷺ کے گیارہ لڑکے

(462) ”تاریخ دان لوگ جانتے ہیں کہ آپ ﷺ کے گھر میں گیارہ لڑکے پیدا ہوئے تھے اور سب کے سب فوت ہو گئے تھے۔“

View Proof

(چشمہ معرفت صفحہ 286 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 299 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1055 پر)

مذکورہ بات مرزا قادیانی کی جہالت پر بین دلیل ہے، حالانکہ سب جانتے ہیں کہ حضور خاتم النبیین ﷺ کے صاحبزادوں کی تعداد 3 تھی۔ (1) حضرت قاسم (2) حضرت عبداللہ (ان کا لقب طیب و طاہر بھی ہے) (3) حضرت ابراہیم۔

نبی کریم ﷺ کی 12 لڑکیاں

(463) ”دیکھو ہمارے پیغمبر خدا کے ہاں 12 لڑکیاں ہوئیں۔ آپؐ نے کبھی نہیں کہا کہ لڑکا کیوں نہ ہوا۔“

View Proof

(ملفوظات جلد سوم صفحہ 372 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1056 پر)

یہ عبارات مرزا قادیانی کے مراق اور مالیخولیا کا نتیجہ ہیں یا پھر ٹانک وائن کا اثر کہ کبھی کہتا ہے آپ ﷺ کے 11 بیٹے تھے اور کبھی کہتا ہے 12 لڑکیاں تھیں۔

امام بخاریؒ

مرزا قادیانی اپنی کتاب میں لکھتا ہے:

(364) ”یہ وہ حدیث ہے جو صحیح مسلم میں امام مسلم صاحب نے لکھی ہے جس کو ضعیف سمجھ کر رئیس المحدثین امام محمد اسماعیل بخاری نے چھوڑ دیا ہے۔“

(ازالہ اوہام صفحہ 110 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 210 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 1057، 1058 پر)

تاریخ کا ہر طالب علم جانتا ہے کہ نامور محدث اور صاحب الجامع الصحیح بخاری شریف کا اصل نام امام ابو عبداللہ محمد ہے۔ ان کے والد گرامی کا نام محمد اسماعیل تھا جبکہ مرزا

View Proof

صفحہ 428

قادیانی کا کہنا ہے کہ امام بخاری کا نام محمد اسماعیل بخاری تھا۔ یہ بات مرزا قادیانی کے جہل کا ایک اور ثبوت ہے۔

چوتھا مہینہ صفر، چوتھا دن چارشنبہ

مرزا قادیانی نے اپنے بیٹے کی پیدائش کے بارے میں لکھا:

(465) ”اور جیسا کہ وہ چوتھا لڑکا تھا۔ اسی مناسبت کے لحاظ سے اس نے اسلامی مہینوں میں سے چوتھا مہینہ لیا یعنی ماہ صفر۔ اور ہفتہ کے دنوں میں سے چوتھا دن لیا یعنی چارشنبہ اور دن کے گھنٹوں میں سے دوپہر کے بعد چوتھا گھنٹہ لیا۔“

(تریاق القلوب صفحہ 41 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 218 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1059 پر)

اسلامی سال محرم سے شروع ہوتا ہے جس کا دوسرا مہینہ صفر ہے لیکن مرزا قادیانی اسے چوتھا قرار دیتا ہے۔ پھر اسلامی ہفتہ شنبہ سے شروع ہو کر جمعہ پر ختم ہوتا ہے۔

1 2 3 4 5 6 7 شنبہ یک شنبہ دوشنبہ سہ شنبہ چارشنبہ پنج شنبہ جمعہ

چارشنبہ پانچواں دن ہے لیکن مرزا قادیانی اسے چوتھا کہتے ہیں۔

مرزا قادیانی کی زبان اور قلم صدیقوں کی طرح خدا کی حفاظت میں نہ تھیں بلکہ شیطان کے زیر اثر تھیں۔ اس لیے وہ معمولی معمولی باتوں میں غلط گوئی کر جاتا تھا۔ اس کی ہم ایسی مثال پیش کرتے ہیں کہ جسے پڑھ کر معمولی علم رکھنے والا شخص بھی اپنی ہنسی پر قابو نہ رکھ سکے گا۔

قادیان؟

(466) ”قادیان جو ضلع گورداسپور پنجاب میں ہے جو لاہور سے گوشہ مغرب اور جنوب میں واقع ہے۔“

(ضمیمہ خطبہ الہامیہ صفحہ جلد مندرجہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 22، 23 از مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 1060، 1061 پر)

پنجاب کا ہر باشندہ جانتا ہے کہ قادیان ضلع گورداسپور میں واقع ہے اور گورداسپور

صفحہ 429

لاہور سے شمال مشرق کو ہے مگر مرزا قادیانی اس کو مغرب میں لکھتا ہے۔ جب یہ حوالہ قادیانیوں کو سنایا جاتا ہے تو وہ بے حد شرمندہ ہوتے ہیں اور دل میں سوچتے ہیں ہمارے مرزا قادیانی کا کمال علمی کیسا تھا کہ اسے مشرق ومغرب کی بھی خبر نہ تھی۔

چائے

(467) ’’کہتے ہیں کہ امام حسن رضی اللہ عنہ کے پاس ایک نوکر چائے کی پیالی لایا جب قریب آیا تو غفلت سے وہ پیالی آپ کے سر پر گر پڑی۔ آپ نے تکلیف محسوس کر کے ذرا تیز نظر سے غلام کی طرف دیکھا۔ غلام نے آہستہ سے پڑھا۔ وَالْکَاظِمِیْنَ الْغَیْظَ۔ (آل عمران:135) یہ سن کر امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا کظمت۔ غلام نے پھر کہا وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ۔ کظم میں انسان غصہ دبا لیتا ہے اور اظہار نہیں کرتا ہے مگر اندر سے پوری رضا مندی نہیں ہوتی۔ اس لیے عفو کی شرط لگا دی ہے۔ آپ نے کہا کہ میں نے عفو کیا۔ پھر پڑھا۔ وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۔ محبوب الٰہی وہی ہوتے ہیں جو کظم اور عفو کے بعد نیکی بھی کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا۔ جا آزاد بھی کیا۔ راستبازوں کے نمونے ایسے ہیں کہ چائے کی پیالی گرا کر آزاد ہوا۔ اب بتاؤ کہ یہ نمونہ اصول کی عمدگی ہی سے پیدا ہوا ۔‘‘

(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 115 طبع جدید از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1062 پر)

یہ واقعہ بھی مرزا قادیانی کی جہالت کا بین ثبوت ہے۔ حضرت امام حسنؓ نے چائے کا استعمال کیا ہو، ایسا کوئی واقعہ تاریخ میں نہیں ملتا۔

کروڑ ہا انسانوں کی موت

(468) ’’دیکھو زمین پر ہر روز خدا کے حکم سے ایک ساعت میں کروڑ ہا انسان مر جاتے ہیں اور کروڑ ہا اس کے ارادہ سے پیدا ہو جاتے ہیں۔‘‘

(کشتی نوح صفحہ 37 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 41 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1063 پر)

یہ تحریر بھی مرزا قادیانی کی نام نہاد علمیت کا پول کھول دینے کے لیے کافی ہے۔ دنیا میں ایسا واقعہ کہیں رونما نہیں ہو رہا۔ جھوٹ پر مبنی ایسی مبالغہ آرائی قادیانیت ہی کا خاصہ ہے۔

صفحہ 430

آسمانی روح

(469) ”میری زبان کی تائید میں ایک اور زبان بول رہی ہے، اور میرے ہاتھ کی تقویت کے لیے ایک اور ہاتھ چل رہا ہے جس کو دنیا نہیں دیکھتی مگر میں دیکھ رہا ہوں۔ میرے اندر ایک آسمانی روح بول رہی ہے، جو میرے لفظ لفظ اور حرف حرف کو زندگی بخشتی ہے۔“

(ازالہ اوہام صفحہ 563 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 403 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1064 پر)

View Proof

علمی قوت کی ضرورت

(470) ”امام الزمان کو مخالفوں اور عام سائلوں کے مقابل پر اس قدر الہام کی ضرورت نہیں جس قدر علمی قوت کی ضرورت ہے کیونکہ شریعت پر ہر ایک قسم کے اعتراض کرنے والے ہوتے ہیں۔ طبابت کے رُو سے بھی، ہیئت کے رُو سے بھی، طبعی کے رو سے بھی، جغرافیہ کے رُو سے بھی اور کتب مسلمہ اسلام کے رُو سے بھی اور عقلی بنا پر بھی اور نقلی بنا پر بھی۔“

(ضرورۃ الامام صفحہ 10 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 480 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1065 پر)

View Proof

میں زمین کی باتیں نہیں کہتا

(471) ”میں زمین کی باتیں نہیں کہتا کیونکہ میں زمین سے نہیں ہوں بلکہ میں وہی کہتا ہوں جو خدا نے میرے منہ میں ڈالا ہے۔“

(پیغام صلح صفحہ 47 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 485 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1066 پر)

View Proof

PDF 431

ثبوت حاضر ہیں!

متفرّقات

PDF 432
صفحہ 433

قادیانی کلمہ کی حقیقت

یہ تصویر نائیجیریا (افریقہ) میں قادیانیوں کی بڑی عبادت گاہ ”احمدیہ سنٹرل ماسک“ کی ہے، جو قادیانی جماعت کے تیسرے بڑے سربراہ مرزا ناصر احمد کے دورۂ افریقہ پر تصویری کتاب ”AFRICA SPEAKS“ سے لی گئی ہے۔ قادیانیوں کی اس عبادت گاہ پر کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی بجائے لا الہ الا اللہ احمد رسول اللہ لکھا ہوا ہے، جس کا ترجمہ ہے ”اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، احمد (مرزا غلام احمد قادیانی) اللہ کے رسول ہیں۔“ قادیانی کلمہ کی مزید وضاحت مرزا قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر الدین محمود کے مندرجہ ذیل اقتباس سے ہو جاتی ہے۔

احمد سے مراد مرزا قادیانی

(472) ”اور اس آنے والے (مرزا قادیانی) کا نام جو احمد رکھا گیا ہے، وہ بھی اس کے مثیل ہونے کی طرف اشارہ ہے کیونکہ محمد جلالی نام ہے اور احمد جمالی۔ اور احمد اور عیسیٰ اپنے جمالی معنوں کے رُو سے ایک ہی ہیں۔ اسی کی طرف یہ اشارہ ہے ومبشراً برسول یأتی من بعدی اسمه احمد مگر ہمارے نبی ﷺ فقط احمد ہی نہیں بلکہ محمد بھی ہیں یعنی جامع جلال وجمال ہیں لیکن آخری زمانہ میں برطبق پیش گوئی مجرد احمد جو اپنے اندر حقیقت عیسویت رکھتا ہے، بھیجا گیا۔“ (ازالہ اوہام صفحہ 673 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 463 از مرزا قادیانی) اس عبارت سے ظاہر ہے کہ آپ (مرزا قادیانی) اس آیت کا مصداق اپنے آپ کو ہی قرار دیتے ہیں کیونکہ آپ نے اس میں دلیل کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ اگر رسول کریم ﷺ اس جگہ مراد ہوتے تو محمد واحمد کی پیش گوئی ہوتی۔ لیکن یہاں صرف احمد کی پیش گوئی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی اور شخص ہے جو مجرد احمد ہے۔ پس یہ حوالہ صاف طور پر ثابت کر رہا ہے کہ آپ (مرزا قادیانی) احمد تھے بلکہ یہ کہ اس پیش گوئی کے آپ ہی مصداق ہیں۔“

(انوار خلافت صفحہ 37 مندرجہ انوار العلوم جلد 3 صفحہ 101 مرزا بشیر الدین محمود ابن مرزا قادیانی)

(عکس صفحہ نمبر 1067 پر)

صفحہ 434

AFRICA SPEAKS

Published by:

Majlis Nusrat Jahan Tahrik-i-Jadid,

Rabwah - West Pakistan

صفحہ 435
صفحہ 436

تصویر بولتی ہے

اسرائیل میں نام نہاد مذہبی جماعت (قادیانی جماعت) کی موجودگی اس بات کا بین ثبوت ہے کہ قادیانی مذہبی نہیں بلکہ ایک خالص سیاسی جماعت ہے۔ یہودی دوسرا بنیا ہے جو کبھی خسارے کا سودا نہیں کرتا۔ اسرائیل نے قادیانیوں کو اپنے نظریاتی ملک میں جو مذہبی آزادی دے رکھی ہے، وہ اس کے اصول اور قواعد وضوابط کے صریحاً خلاف ہے۔ قادیانی جماعت یہودی ٹکڑوں پر پلنے والا استعماری پٹھو ہے۔ قادیانیوں اور اسرائیل کے باہمی تعلقات اور روابط کا اندازہ قومی اخبارات میں 22 فروری 1985ء کے ”یروشلم پوسٹ“ کے حوالے سے چھپنے والی اس تصویر سے لگایا جاسکتا ہے، جس میں دو قادیانی مبلغوں کو اسرائیلی صدر کے ساتھ نہایت مودب انداز میں ملاقات کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس تصویر میں اسرائیل میں سبکدوش ہونے والے قادیانی سربراہ شیخ شریف امینی نئے سربراہ شیخ محمد حمید کا اسرائیل کے صدر سے تعارف کروا رہے ہیں۔ اس موقع پر شیخ شریف نے قادیانیوں کو اسرائیل میں مکمل مذہبی آزادی دینے پر اسرائیلی حکومت کی تعریف کی اور ان کا شکریہ ادا کیا۔ یہ تصویر قادیانیوں کی اسلام دشمنی اور یہودی دوستی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

صفحہ 437

”یروشلم پوسٹ“ کے حوالہ سے شائع ہونے والی تصویر میں اصل عبارت سے قادیانیوں کے اسرائیل کے ساتھ باہمی روابط کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ہندوستان میں بٹالہ کے نزدیک واقع قادیان اور پاکستان میں ربوہ کے بعد ان کا سب سے منظم مرکز اسرائیل کے شہر ”حیفہ“ میں ہے۔ اس وقت بھی جب اسرائیل میں مسلمانوں کا رہنا دوبھر ہے، قادیانیوں کو اسرائیل میں کام کرنے کی پوری آزادی ہے۔ فلسطینی عرب مسلمان آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں اور قادیانی اسرائیلی وزیراعظم، صدر اور میئر وغیرہ سے ملاقاتیں کرتے ہیں۔ اسرائیل کا مسلمانوں پر ظلم وستم اور قادیانیوں پر اتنی عنایات ! آخر کس صیہونی منصوبے کا حصہ ہیں؟

جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے

صدر ایوب خان مرحوم کے دور میں 1962ء کی قومی اسمبلی میں میاں عبدالخالق مرحوم رکن قومی اسمبلی نے سوال اٹھایا کہ آیا اسرائیل میں قادیانی مشن موجود ہے؟ اس پر اس وقت کے وزیر خارجہ جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے کہا کہ اگر کوئی صاحب اس سلسلہ میں ٹھوس معلومات فراہم کریں تو حکومت پاکستان ان کی ممنون ہوگی۔ اس موقع پر بھٹو صاحب نے یہ بھی بتایا کہ پاکستانی شہری اسرائیل نہیں جاسکتے اور نہ پاکستان سے ہی اسرائیل رقم بھیجی جاسکتی ہے، کیونکہ پاکستان کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔ چنانچہ میرے والد تاج محمود مرحوم نے ربوہ لائبریری سے چنیوٹ کے ایک طالب علم پرویز کی معرفت قادیانی جماعت کے بیرونی مشنوں کے متعلق کتابیں منگوائیں۔ ایک کتاب آور فارن مشن (Our Foreign Mission) جو قادیانی جماعت کے زیر اہتمام ربوہ میں چھپی تھی اس کے صفحہ 97 پر قادیانی جماعت کے اسرائیل میں حیفہ کے مقام پر قادیانی مشن کی تفصیلات کا ذکر موجود ہے۔ میرے والد گرامی نے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کو بذریعہ ٹیلی گرام یہ دستاویزی ثبوت بہم پہنچائے۔ بعد ازاں آغا شورش کاشمیری نے اپنے ہفت روزہ جریدہ چٹان لاہور میں اس کتاب کی تحریر کے فوٹو شائع کیے۔ اس طرح پہلی مرتبہ یہ بات منظر عام پر آئی۔ اسرائیل میں قادیانی مشن کی بابت تفصیلات کا عکس ملاحظہ فرمائیں۔.......... یہ کتاب مرزا غلام احمد کے پوتے مرزا مبارک احمد کی تصنیف کردہ ہے۔

صفحہ 438

OUR FOREIGN MISSIONS A brief Account of the Ahmadiyya Work to push Islam in various parts of the World

A TABSHIR BOOK

MIRZA MUBARAK AHMAD

ISRAEL MISSION

The Ahmadiyya Mission in Israel is situated in Haifa at Mount Karmal. We have a mosque there, a Mission House, a library, a book depot, and a school. The mission also brings out a monthly, entitled Al-Bushra which is sent out to thirty different countries accessible through the medium of Arabic. Many works of the Promised Massih have been translated into Arab- ic through this mission.

In many ways this Ahmadiyya Mission has been deeply affected by the Partition of what formerly was called Palestine. The small number of Muslims left in Israel derive a great deal of strength from the presence of our mission which never misses a chance of being of service to them. Some time ago, our missionary had an interview with the Mayor of Haifa, when during the discussion on many points, he offered to build for us a school at Kababeer, a village near Haifa, where we have a strong and well-established Ahmadiyya community of Palestinian Arabs. He also promised that he would come to see our missionary at Kababeer, which he did later, accompanied by four notables from Haifa. He was duly received by members of the community, and by the students of our school, a meeting having been held to welcome the guests. Before his return he entered his impressions in the Visitors' Book.

Another small incident, which would give readers some idea of the position our mission in Israel occupies, is that in 1956 when our missionary Choudhry Muhammad Sharif, returned to the Headquarters of the movement in Pakistan, the President of Israel sent word that he (our missionary) should see him before embarking on the journey back: Choudhry Muhammad Sharif utilized the opportunity to present a copy of the German translation of the Holy Quran to the President, which he gladly accepted. This interview and what transpired at it was widely reported in the Israeli Press, and a brief account was also broadcast on the radio.

( OUR FOREIGN MISSIONS )

( by Mirza Mubarak Ahmad )

صفحہ 439

تفصیل آمد خرچ مشنھائے بیرون

(۱۳) حیفا

زائد از بجٹ پیش = ۲۵۶۹ روپے

خرچ آمد نمبر شمار نام مدات اصل اعداد ۶۴-۶۳ بجٹ ۶۵-۶۴ بجٹ ۶۶-۶۵ نمبر شمار نام مدات اصل اعداد ۶۴-۶۳ بجٹ ۶۵-۶۴ بجٹ ۶۶-۶۵ ۱ مرکزی مبلغین ۹۷۲ ۹۷۲ ۹۷۲ ۱ چندہ تحریک جدید ۱۳۵۰ ۱۴۰۰ ۲ ۲ " عام و حصہ آمد ۱۷۰۰ ۱۶۰۰ میزان عملہ ۹۷۲ ۹۷۲ ۹۷۲ ۳ زکوٰۃ ۱۰۰ ۴ عید فنڈ ۳۳۰۰ سائر ۵ فطرانہ ۱۲۵ ۱۲۵ نمبر شمار نام مدات اصل اعداد ۶۴-۶۳ بجٹ ۶۵-۶۴ بجٹ ۶۶-۶۵ ۶ متفرق ۱۲۵ ۱۲۵ ۱ اشاعت لٹریچر ۴۰ ۴۰ ۲ تبلیغی مجالس و عیدین ۴۰ ۴۰ میزان آمد ۳۳۰۰ ۳۳۰۰ ۳۳۰۰ ۳ دورہ و سفر خرچ ۴۰ ۴۰ ۴ مہمان نوازی ۵۰ ۵۰ ۵ کرایہ مکان فرنیچر ۱,۵۵۹ خلاصہ ۶ بجلی، پانی، گیس وغیرہ آمد ۳,۳۰۰ ۷ سٹیشنری ۱۵ ۱۵ خرچ ۳,۳۰۰ ۸ ڈاک تار و ٹیلیفون ۵۰ ۵۰ خالص - ۹ کتب، اخبارات ۵۰ ۵۰ ۱۰ متفرق ۵۰ ۵۰ ۱۱ اخراجات رسالہ بشریٰ ۷۰۰ ۷۰۰

میزان سائر ۱,۰۵۰ ۱,۰۵۰ ۱,۵۵۹ کل خرچ عملہ و سائر ۲,۰۲۲ ۲,۰۲۲ ۲,۵۳۱ ریزروہ مرکزی ۱۲۷۸ ۱۲۷۸ ۷۶۹ کل میزان ۳۳۰۰ ۳۳۰۰ ۳۳۰۰

(احمدیہ تحریک جدید کے سالانہ بجٹ 67-1966ء کے صفحہ 25 کا عکس)

صفحہ 440

ترجمہ: "احمدیہ مشن اسرائیل میں حیفہ (ماؤنٹ کرمل) کے مقام پر واقع ہے اور وہاں ہماری ایک مسجد، ایک مشن ہاؤس، ایک لائبریری، ایک بک ڈپو اور ایک سکول موجود ہے۔ ہمارے مشن کی طرف سے ”البشریٰ“ کے نام سے ایک ماہانہ عربی رسالہ جاری ہے جو تیس مختلف ممالک میں بھیجا جاتا ہے۔ مسیح موعود کی بہت سی تحریریں اس مشن نے عربی میں ترجمہ کی ہیں۔

فلسطین کے تقسیم ہونے سے یہ مشن کافی متاثر ہوا۔ چند مسلمان جو اس وقت اسرائیل میں موجود ہیں، ہمارا مشن ان کی ہرممکن خدمت کر رہا ہے اور مشن کی موجودگی سے ان کے حوصلے بلند ہیں۔ کچھ عرصہ قبل ہمارے مشنری کے لوگ حیفہ کے میئر سے ملے اور ان سے گفت وشنید کی۔ میئر نے وعدہ کیا کہ احمدیہ جماعت کے لیے کبابیر میں حیفہ کے قریب وہ ایک سکول بنانے کی اجازت دے دیں گے۔ یہ علاقہ ہماری جماعت کا مرکز اور گڑھ ہے۔ کچھ عرصہ بعد میئر صاحب ہماری مشنری دیکھنے کے لیے تشریف لائے۔ حیفہ کے چار معززین بھی ان کے ہمراہ تھے۔ ان کا پروقار استقبال کیا گیا، جس میں جماعت کے سرکردہ ممبر اور سکول کے طالب علم بھی موجود تھے۔ ان کی آمد کے اعزاز میں ایک جلسہ بھی منعقد ہوا، جس میں انہیں سپاس نامہ پیش کیا گیا۔ واپسی سے پہلے میئر صاحب نے اپنے تاثرات مہمانوں کے رجسٹر میں بھی تحریر کیے۔ ہماری جماعت کے موثر ہونے کا ثبوت ایک چھوٹے سے مندرجہ ذیل واقعہ سے ہوسکتا ہے۔ 1956ء میں جب ہمارے مبلغ چودھری محمد شریف صاحب ربوہ پاکستان واپس تشریف لا رہے تھے، اس وقت اسرائیل کے صدر نے ہماری مشنری کو پیغام بھیجا کہ چودھری صاحب روانگی سے پہلے صدر صاحب سے ملیں۔ موقع سے فائدہ اٹھا کر چودھری صاحب نے ایک قرآن حکیم کا نسخہ جو جرمن زبان میں تھا، صدر محترم کو پیش کیا، جس کو خلوص دل سے قبول کیا گیا۔ چودھری صاحب کا صدر صاحب سے انٹرویو اسرائیل کے ریڈیو سے نشر کیا گیا، اور ان کی ملاقات کو اخبارات میں جلی سرخیوں سے شائع کیا گیا ۔“

”لندن سے شائع ہونے والی کتاب ”اسرائیل اے پروفائل“ (ISRAEL A PROFILE) میں انکشاف کیا گیا ہے کہ حکومت اسرائیل نے اپنی فوج میں پاکستانی قادیانیوں کو بھرتی ہونے کی اجازت دے دی ہے۔ یہ کتاب پولیٹیکل سائنس کے ایک یہودی پروفیسر آئی۔ آئی۔ نومانی نے لکھی ہے اور اسے ادارہ پال مال، لندن نے شائع کیا ہے۔ اس

صفحہ 441

کتاب میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ”1972ء تک اسرائیلی فوج میں چھ سو پاکستانی قادیانی شامل ہو چکے ہیں۔“ (روزنامہ نوائے وقت لاہور صفحہ 5، 29 دسمبر 1975ء)

مندرجہ بالا کرب انگیز انکشاف پر اہل فکر تشویش کا اظہار کر رہے تھے کہ قومی اسمبلی کے فاضل رکن ظفر احمد انصاری صاحب نے ایک ہفت روزہ کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ وہ آئندہ اجلاس میں اس مسئلے کو زیر بحث لانا چاہتے ہیں۔ اس سوال کے جواب میں کہ اسرائیلی فوج میں احمدیوں کی موجودگی ایک خوفناک انکشاف ہے، یہودیوں اور احمدیوں میں اس تعاون کی کیا تفصیل ہے اور آپ اسے پاکستان کی قومی اسمبلی میں کیوں زیر بحث لانا چاہتے ہیں؟ آپ نے جواب دیا:

پاکستان مسلم مملکت ہے اور یہودی ہر مسلم مملکت کو نیست و نابود کرنے کا عہد کر چکے ہیں۔ وہ اس کے لیے ہر ذریعے اور ہر واسطے کو استعمال میں لا رہے ہیں۔ ان کے آلہ کار بننے والوں میں یہ مرزائی یا قادیانی بھی شامل ہیں جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں۔ اسرائیل یہودی صیہونیت کا ہتھیار ہے، جس کے ذریعے یہودی عالم اسلام کو زیر کرنا چاہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 1972ء تک اسرائیل میں موجود ”احمدیوں“ کی تعداد چھ سو تھی جن پر اسرائیلی فوج میں ”خدمت“ کے دروازے کھول دیے گئے تھے۔ یہ تفصیل پولیٹیکل سائنس کے یہودی پروفیسر آئی۔ آئی نومانی کی کتاب (ISRAEL A PROFILE) کے صفحہ 75 پر موجود ہے۔ یہ کتاب پال مال لندن سے 1972ء میں چھپی ہے۔ دلچسپ چیز یہ ہے کہ اس کتاب کے صفحہ 54 پر صاف طور پر بتایا گیا ہے کہ عربوں میں یہ پابندی اب بھی قائم ہے کہ وہ کسی سرسبز گاؤں میں نہیں رہ سکتے اور اسرائیلی فوج میں بھرتی نہیں ہو سکتے۔ اس کتاب کے صفحہ 75 پر یہ بھی موجود ہے کہ یہ ”احمدی“ پاکستان سے ہیں اور مسلمان بالخصوص پاکستانی مسلمان کے لیے یہ بات یوں بھی انتہائی افسوس کا موجب ہے کہ ان احمدیوں کو پاکستانی قرار دیا گیا ہے۔ اس لیے بھی یہ تحریک التوا کے ذریعہ اسے پاکستان کے مقتدر ترین ایوان میں زیر بحث لانا چاہتے ہیں۔

اب اسرائیل سے احمدیوں کے گٹھ جوڑ کی مصدقہ کہانی خود ان کے رسائل و جرائد سے حاضر ہے۔ ان شرمناک سرگرمیوں اور استحصالی ہتھکنڈوں کا سلسلہ تو بہت پرانا اور طویل ہے۔ تاہم چند واقعات ملاحظہ کریں۔ تحریک جدید کے مبلغ فلسطین رشید احمد چغتائی اسرائیل سے پاکستان ارسال کردہ ماہ اگست تا اکتوبر 1948ء اپنی رپورٹ میں لکھتے ہیں:

صفحہ 442

”فلسطین کے شہر صور اپنے حیفا کے احمدی بھائیوں تک پہنچنے کے سلسلہ میں گیا۔ جہاں فلسطینی پناہ گزینوں میں تبلیغ کی۔ احمدی بھائیوں کی خواہش پر دو یوم قیام رہا۔ تبلیغ کے علاوہ ان کی تربیت کے لیے بھی وقت صرف کیا۔ یہاں 29 کس کو تبلیغ کی۔ ایک شخص سے خاص طور پر تبادلہ خیالات دو روز تک چار سے چھ گھنٹے تک ہوتا رہا۔ انہیں بعض کتب بھی مطالعہ کے لیے دی گئیں۔“ (اخبار ”الفضل“ 12 مارچ 1949ء)

تاریخی حقائق

اسرائیل مشن کے بارے میں قادیانیوں کا یہی موقف رہا ہے کہ یہ مشن قادیان (بھارت) کے ماتحت ہیں، حالانکہ دنیا جانتی ہے کہ ربوہ (پاکستان) قادیانیوں کا ہیڈ کوارٹر ہے اور قادیانی جماعت کی تمام تنظیمیں اسی مرکز سے وابستہ ہیں اور اسی کے زیر انتظام چلتی ہیں۔ قادیانی اپنے نام نہاد اور جعلی نبی کی طرح جھوٹ بولنے میں ماہر ہیں۔ اسرائیل میں قادیانی مشن کی موجودگی اور قادیانیوں کے اسرائیل کی حکومت کے ساتھ سفارتی تعلقات اور روابط کی قلعی تاریخی دستاویزات اور حقائق سے کھل جاتی ہے۔

میں جماعت احمدیہ کا مشن کس کے زیر اہتمام چل رہا ہے؟ اس بجٹ کے صفحہ 25 کا فوٹوسٹیٹ ملاحظہ فرمائیں اور فیصلہ کریں کہ قادیانی اپنے موقف میں سچے ہیں یا جھوٹے؟

۞......۞......۞

PDF 443

اکھنڈ بھارت

یہ تصویر پاکستان میں قادیانیوں کے مرکز ربوہ ضلع جھنگ کے قادیانی قبرستان میں نصرت جہاں بیگم (مرزا قادیانی کی بیوی) اور مرزا بشیر الدین محمود کی بیوی کی قبروں کی ہے جن پر مرزا بشیر الدین محمود کے حسب ذیل فرمودات کا بورڈ آویزاں ہے:

”ارشاد حضرت خلیفۃ المسیح ثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ“

”جماعت کو نصیحت ہے کہ جب بھی ان کو توفیق ملے، حضرت ام المومنین (مرزا قادیانی کی بیوی) اور دوسرے اہل بیت (مرزا قادیانی کے گھر والے) کی نعشوں کو مقبرہ بہشتی قادیان میں لے جا کر دفن کریں، چونکہ مقبرہ بہشتی کا قیام اللہ تعالیٰ کے الہام سے ہوا ہے، اس میں حضرت ام المومنین اور خاندان حضرت مسیح موعود کے دفن کرنے کی پیشگوئی ہے، اس لیے یہ بات فرض کے طور پر ہے، جماعت کو اسے کبھی نہیں بھولنا چاہیے۔“

صفحہ 444

ایک اور موقع پر مرزا بشیر الدین محمود نے کہا تھا کہ

یہ کوشش کریں گے کہ کسی نہ کسی طرح پھر متحد ہو جائیں۔“

(روزنامہ الفضل قادیان 17 مئی 1947ء)

باؤنڈری کمیشن میں قادیانیوں کا موقف

صاحبزادہ طارق محمود اپنی شہرہ آفاق کتاب ”قادیانیت کا سیاسی تجزیہ“ میں لکھتے ہیں:

اور پاکستان کا قیام ممکن نظر آنے لگا تو قادیانیوں نے پاکستان کی جغرافیائی صورت کو نقصان پہنچانے کی بھیانک کوشش کی۔ کشمیر اپنی تاریخی ہیئت اور جغرافیائی محل وقوع کے اعتبار سے پاکستان کا حصہ ہونا چاہیے تھا۔ چونکہ پاکستان میں بہنے والے سارے دریاؤں کا منبع اور سرچشمہ کشمیر ہے، بھارت ہمارے دریاؤں کا پانی بند کر کے ہمارے سرسبز کھیتوں اور لہلہاتی فصلوں کو تباہ کر سکتا تھا۔ کشمیر اور پاکستان مذہبی، سیاسی اور ثقافتی نقطہ نظر سے بھی ایک دوسرے کے لیے لازم وملزوم تھے۔ اس لیے قائداعظم رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ حد بندی کمیشن جن دنوں بھارت اور پاکستان کی حد بندی کی تفصیلات طے کر رہا تھا، کانگریس اور مسلم لیگ کے نمائندے اپنا اپنا موقف بیان کر رہے تھے۔ مسلم لیگ کی طرف سے سر ظفر اللہ خان قادیانی وکالت کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ باؤنڈری کمیشن اس وقت ورطۂ حیرت میں پڑ گیا، جب جماعت احمدیہ کی طرف سے الگ میمورنڈم (محضر نامہ) پیش کیا گیا، جس میں قادیانی جماعت نے اپنے بانی کے مولد ومرکز قادیان کو ویٹیکن سٹی (Vatican City) قرار دینے کا مطالبہ کیا۔

جماعت احمدیہ کے میمورنڈم میں علیحدہ مذہب، سول و فوجی ملازمین کی مبالغہ آمیز تعداد، کیفیت اور آبادی کی تفصیلات درج ہیں۔ گزشتہ چند برس پہلے حکومت پاکستان کی طرف سے شائع ہونے والی کتاب (Partition of the Punjab) جلد 1، صفحہ 428 تا 469 میں قادیانی عرضداشت اور اس کی جملہ تفصیلات موجود ہیں۔

صفحہ 445

قادیانی جماعت نے ریڈکلف کمیشن کو اپنا نقشہ بھی پیش کیا، جس میں قادیانیوں کی آبادی کو مسلمانوں سے علیحدہ ظاہر کیا گیا۔ جماعت احمدیہ نے یہ نقشہ 1940ء میں تیار کیا تھا۔ حد بندی کمیشن کو الگ میمورنڈم پیش کرنے کا افسوسناک پہلو یہ تھا کہ قادیانی جماعت کا ممبر ظفر اللہ خان ایک طرف تو کمیشن کے سامنے پاکستان کیس کی وکالت کر رہا تھا، جبکہ دوسری طرف اس کی جماعت کی طرف سے الگ میمورنڈم پیش کیا جا رہا تھا۔ ......... قادیانیوں کا (Vatican City) مطالبہ تو تسلیم نہ کیا گیا، البتہ باؤنڈری کمیشن نے احمدیوں کے محضر نامہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے احمدیوں کو مسلمانوں سے خارج کر کے گورداسپور کو مسلم اقلیت کا ضلع قرار دے کر اس کے اہم علاقے بھارت میں شامل کر دیئے۔ اس طرح نہ صرف گورداسپور کا ضلع پاکستان سے گیا بلکہ بھارت کو کشمیر ہڑپ کر لینے کی راہ میسر آ گئی۔ نتیجتاً کشمیر پاکستان سے کٹ گیا۔‘‘

سید میر نور احمد سابق ڈائریکٹر تعلقات عامہ اپنی یادداشتوں: ”مارشل لا سے مارشل لا تک‘‘ میں برصغیر پاک و ہند کی تقسیم پر قادیانی جماعت کے منافقانہ کردار کا پوسٹ مارٹم کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں:

”لیکن اس سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ایوارڈ پر ایک مرتبہ دستخط ہونے کے بعد ضلع فیروز پور کے متعلق، جس میں 17 اور 19 اگست کے درمیانی عرصہ میں ردوبدل کیا گیا اور ریڈکلف سے ترمیم شدہ ایوارڈ حاصل کیا گیا۔

کیا ضلع گورداسپور کی تقسیم اس ایوارڈ میں شامل تھی جس پر ریڈکلف نے 18 اگست کو دستخط کیے تھے یا ایوارڈ کے اس حصہ میں بھی ماؤنٹ بیٹن نے نئی ترامیم کرائی؟ افواہ یہی ہے اور ضلع فیروز پور والی فائل سے اس کی تصدیق ہوتی ہے۔ اگر ایوارڈ کے ایک حصہ میں ناجائز طریق پر ردوبدل ہو سکتی تھی تو دوسرے حصوں کے متعلق بھی یہ شبہ پیدا ہوتا ہے۔ پنجاب حد بندی کمیشن کے مسلمان ممبروں کا تاثر ریڈکلف کے ساتھ آخری گفتگو کے بعد یہی تھا کہ گورداسپور، جو بہر حال مسلم اکثریت کا ضلع تھا، قطعی طور پر پاکستان کے حصے میں آ رہا ہے، لیکن جب ایوارڈ کا اعلان ہوا تو نہ ضلع فیروز پور کی تحصیلیں پاکستان میں آئیں اور نہ ضلع گورداسپور (ماسوا تحصیل شکرگڑھ) پاکستان کا حصہ بنا۔ کمیشن کے سامنے وکلاء کی بحث کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ کمیشن کے سامنے کشمیر کے نقطہ نگاہ سے ضلع گورداسپور کی

صفحہ 446

تحصیل پٹھان کوٹ کی اہمیت کا کوئی ذکر آیا تھا یا نہیں، غالباً نہیں آیا تھا، کیونکہ یہ پہلو کمیشن کے نقطہ نگاہ سے قطعاً غیر متعلق تھا۔ ممکن ہے ریڈکلف کو اس نکتے کا کوئی علم ہی نہ ہو، لیکن ماؤنٹ بیٹن کو معلوم تھا کہ تحصیل پٹھانکوٹ کے ادھر ادھر ہونے سے کن امکانات کے راستے کھل سکتے ہیں اور جس طرح وہ کانگریس کے حق میں ہر قسم کی بے ایمانی کرنے پر اتر آیا تھا، اس کے پیش نظر یہ بات ہرگز بعید از قیاس نہیں کہ ریڈکلف عواقب اور نتائج کو پوری طرح سمجھا ہی نہ ہو اور اس پاکستان دشمنی کی سازش میں کردار اعظم ماؤنٹ بیٹن نے ادا کیا ہو۔

ضلع گورداسپور کے سلسلے میں ایک اور بات بھی قابل ذکر ہے۔ اس کے متعلق چودھری ظفر اللہ خان، جو مسلم لیگ کی وکالت کر رہے تھے، خود ہی ایک افسوسناک حرکت کر چکے تھے۔ انہوں نے جماعت احمدیہ کا نقطہ نگاہ عام مسلمانوں سے (جن کی نمائندگی مسلم لیگ کر رہی تھی) جداگانہ حیثیت میں پیش کیا۔ جماعت احمدیہ کا نقطہ نگاہ بے شک یہی تھا کہ وہ پاکستان میں شامل ہونا پسند کریں گی، لیکن جب سوال یہ تھا کہ مسلمان ایک طرف اور باقی سب دوسری طرف تو کسی جماعت کا اپنے آپ کو مسلمانوں سے علیحدہ ظاہر کرنا مسلمانوں کی عددی قوت کو کم ثابت کرنے کے مترادف تھا۔ اگر جماعت احمدیہ یہ حرکت نہ کرتی تب بھی ضلع گورداسپور کے متعلق شاید فیصلہ وہی ہوتا جو ہوا، لیکن یہ حرکت اپنی جگہ بہت عجیب تھی۔“

(روزنامہ ”مشرق“ 3 فروری 1964ء)

اب اس سلسلہ میں خود حد بندی کمیشن کے ایک ممبر جسٹس منیر کا ایک حوالہ بھی ملاحظہ فرمائیں:

کوئی شک نہیں کہ اس ضلع میں مسلم اکثریت بہت معمولی تھی، لیکن پٹھانکوٹ تحصیل اگر بھارت میں شامل کر دی جاتی تو باقی ضلع میں مسلم اکثریت کا تناسب خود بخود بڑھ جاتا۔ مزید برآں مسلم اکثریت کی تحصیل شکرگڑھ کو تقسیم کرنے کی مجبوری کیوں پیش آئی۔ اگر اس تحصیل کو تقسیم کرنا ضروری تھا تو دریائے راوی کی قدرتی سرحد یا اس کے ایک معاون نالے کو کیوں نہ قبول کیا گیا، بلکہ اس مقام سے اس نالے کے مغربی کنارے کو سرحد قرار دیا گیا، جہاں یہ نالہ ریاست کشمیر سے صوبہ پنجاب میں داخل ہوتا ہے۔ کیا گورداسپور کو اس لیے بھارت میں شامل کیا گیا کہ اس وقت بھی بھارت کو کشمیر سے منسلک رکھنے کا عزم و ارادہ تھا۔

صفحہ 447

اس ضمن میں، میں ایک بہت ناگوار واقعہ کا ذکر کرنے پر مجبور ہوں۔ میرے لیے یہ بات ہمیشہ ناقابل فہم رہی ہے کہ احمدیوں نے علیحدہ نمائندگی کا کیوں اہتمام کیا۔ اگر احمدیوں کو مسلم لیگ کے موقف سے اتفاق نہ ہوتا تو ان کی طرف سے علیحدہ نمائندگی کی ضرورت ایک افسوسناک امکان کے طور پر سمجھ میں آسکتی تھی۔ شاید وہ علیحدہ ترجمانی سے مسلم لیگ کے موقف کو تقویت پہنچانا چاہتے تھے۔ لیکن اس سلسلہ میں انہوں نے شکرگڑھ کے مختلف حصوں کے لیے حقائق اور اعداد و شمار پیش کیے۔ اس طرح احمدیوں نے یہ پہلو اہم بنا دیا کہ نالہ بھین اور نالہ بسنتر کے درمیانی علاقہ میں غیر مسلم اکثریت میں ہیں اور اسی دعویٰ کے لیے دلیل میسر کردی کہ اگر نالہ اچھ اور نالہ بھین کا درمیانی علاقہ از خود بھارت کے حصہ میں آجائے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ علاقہ ہمارے (پاکستان) کے حصے میں آگیا ہے، لیکن گورداسپور کے متعلق احمدیوں نے اس وقت ہمارے لیے سخت مخمصہ پیدا کردیا۔ (روزنامہ ”نوائے وقت“ 7 جولائی 1964ء)

1953ء کی تحریک ختم نبوت کے متعلق حالات و واقعات کی تحقیقات کرنے والی عدالت میں باؤنڈری کمیشن کے سامنے قادیانی جماعت کی دوغلی پالیسی کا کردار سامنے آیا تھا۔ قادیانیوں نے اس الزام کے جواب میں واقعات کا سرے سے انکار کیا تھا۔ حد یہ کہ تحقیقاتی عدالت کے ایک رکن چیف جسٹس منیر نے قادیانیوں کی صفائی میں قادیانیوں سے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا اور بڑے تند و تیز لہجے میں الزام عائد کرنے والوں کا استخفاف کیا تھا لیکن دس گیارہ برس کے بعد منیر صاحب کو ہوش آیا یا شاید حالات نے ثابت کردکھایا کہ جماعت احمدیہ پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد نہ تھے، بلکہ وہ حقائق پر مبنی تھے۔

ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

ان حقائق سے معلوم ہوتا ہے کہ سر ظفر اللہ خان نے تقسیم کے عمل میں کس قدر گھناؤنا کردار ادا کیا۔ روزنامہ مشرق کے ایک اداریہ سے قادیانی جماعت کے راہنما چوہدری ظفر اللہ خان کے منافقانہ کردار اور خبث باطنی کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

”بھارت کے مشہور اخبار ”ہندوستان ٹائمز“ میں بھارت کے سابق کمشنر سری پرکاش کی قسط وار خود نوشت سوانح عمری چھپ رہی ہے، جس میں انہوں نے پاکستان کے

صفحہ 448

نقشہ ماحول قادیان

(جو اضلاع گورداسپور ، کانگڑہ ، ہوشیار پور ، جالندھر کے حصہ پر مشتمل ہے)

پیمانہ بحساب ۴ میل ایک انچ

دریائے بیاس جو ضلع ہوشیار پور کو گورداسپور سے جدا کرتا ہے

تحصیل دسوہہ ضلع ہوشیار پور

ریاست کپورتھلہ

PDF 449

نام علامات تحصیل حد دیہات مقام دفتری ریلوے لائن داسٹیشن پختہ سڑک کچے راستے دریا صدر مقام ڈاکخانہ " تار گھر " معہ تار گھر ڈسپنسری ، ہسپتال ڈاک بنگلہ ، ریسٹ ہاؤس پولیس چوکی و تھانہ پرائمری سکول مڈل سکول ہائی سکول سکھوں کی آبادی احمدی آبادی سنی آبادی عیسائی آبادی شیعہ آبادی نہر سیم زدہ اراضی غیر آباد اراضی مسجد (جس گاؤں میں ہے)

تحصیل گورداسپور ضلع گورداسپور

تحصیل بٹالہ ضلع گورداسپور

بٹالہ

تجویز کردہ و شائع کردہ مرزا بشیر احمد قادیان ١٥ / ٤ / ٤٠

صفحہ 450

سابق وزیر خارجہ اور عالمی عدالت کے جج سر ظفر اللہ کے بارے میں لکھا ہے کہ 1947ء میں انہوں نے قائد اعظم محمد علی جناح کو بیوقوف قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اگر پاکستان بن گیا تو اس سے ہندوؤں سے زیادہ مسلمانوں کو نقصان پہنچے گا۔“ مسٹر سری پرکاش نے مزید لکھا ہے کہ ”کچھ عرصہ بعد جب کراچی میں سر ظفر اللہ خان سے ملاقات ہوئی اور میں نے ان سے پوچھا کہ اب قائد اعظم اور پاکستان کے بارے میں کیا خیال ہے تو انہوں نے کہا ”میرا جواب اب بھی وہی ہے جو پہلے دن تھا۔“ (روزنامہ مشرق لاہور 15 فروری 1964ء)

تقسیم ہند کے وقت مسلمان 51 فیصد تھے، ہندو 49 فیصد قادیانی 2 فیصد جب یہ مسلمانوں سے علیحدہ ہو گئے تو مسلمان 51 کی بجائے 49 فیصد ہو گئے۔ اس سے گورداسپور جاتا رہا اور کشمیر کا مسئلہ پیدا ہو گیا۔

صفحہ 451

سپریم کورٹ آف پاکستان کا تاریخ ساز فیصلہ

7 ستمبر 1974ء کو پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ نے تقریباً 14 روز کی علمی بحث کے بعد متفقہ طور پر قادیانیوں کو ان کے کفریہ عقائد کی بنا پر غیر مسلم قرار دے دیا۔ اسمبلی میں قادیانیوں کے سربراہ مرزا ناصر احمد کو مکمل صفائی کا موقع فراہم کیا گیا۔ ان دنوں ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے وزیراعظم تھے۔ ان کے بعد صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے 26 اپریل 1984ء کو امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری کیا، جس میں قادیانیوں کو شعائر اسلامی استعمال کرنے اور خود کو مسلمان ظاہر کرنے پر پابندی لگا دی گئی۔ قادیانیوں نے اس قانون کی صریحاً خلاف ورزی کی اور آئین شکنی پر اتر آئے جس پر قادیانیوں کے خلاف مقدمات، سول عدالتوں سے ہائی کورٹوں تک پہنچے۔ چاروں صوبوں کی ہائی کورٹوں نے بھی قادیانیوں کے کفریہ عقائد پر مہر تصدیق ثبت کی۔ قادیانیوں نے ہائی کورٹوں کے ان فیصلوں کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان میں اپیلیں دائر کیں۔ جوں جوں ہائی کورٹوں میں ان کے خلاف فیصلے ہوتے گئے، قادیانی سپریم کورٹ سے رجوع کرتے گئے۔ 1992ء تک ان اپیلوں کی تعداد آٹھ ہوگئی۔

جولائی 1993ء میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب محمد افضل ظلہ نے ان اپیلوں کی سماعت کے لیے پانچ رکنی بنچ تشکیل دیا، جو جسٹس شفیع الرحمن، جسٹس عبدالقدیر چوہدری، جسٹس محمد افضل لون، جسٹس ولی محمد خاں اور جسٹس سلیم اختر پر مشتمل تھا۔ سپریم کورٹ کے اس بنچ نے متفقہ طور پر قادیانیوں کے کفریہ عقائد پر تاریخ ساز فیصلہ دیا جو پڑھنے کے لائق ہے۔

اس فیصلہ کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں قادیانیوں کے کفریہ عقائد پر سیر حاصل بحث کی گئی اور آخر میں جج صاحبان اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ ہر قادیانی اپنے کفریہ عقائد کی بناء پر ”سلمان رشدی“ کی طرح ہے۔

ذیل میں اس فیصلہ کے چند اقتباسات دیئے جارہے ہیں جو اس فیصلہ کی روح ہیں، ملاحظہ فرمائیں:

صفحہ 452

(473) ”سادہ الفاظ میں جو لوگ دوسروں کو دھوکا دیتے ہیں، ان کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے، خواہ ان کی حرکت سے پہنچنے والے نقصان کی مالیت چند کوڑیوں کے برابر ہو۔ ہمارے ہاں قائد اعظم اور اس کے مماثل لقب کی حفاظت کے لیے قانون وضع کیا گیا ہے جسے کسی حلقے نے چیلنج نہیں کیا۔ بہرحال پاکستان جیسی نظریاتی ریاست میں اپیل کنندگان (قادیانی) جو کہ غیر مسلم ہیں، اپنے عقیدہ کو اسلام کے طور پر پیش کر کے دھوکہ دینا چاہتے ہیں؟ یہ بات خوش آئند اور لائق تحسین ہے کہ دنیا کے اس خطے میں عقیدہ آج بھی مسلمان کے لیے سب سے قیمتی متاع ہے، وہ ایسی حکومت کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا جو اسے ایسی جعل سازیوں اور دسیسہ کاریوں سے تحفظ فراہم کرنے کو تیار نہ ہو۔

دوسری طرف اپیل کنندگان اصرار کر رہے ہیں کہ انہیں نہ صرف اپنے مذہب کو اسلام کے طور پر پیش کرنے کا لائسنس دیا جائے بلکہ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ انتہائی محترم و مقدس شخصیات کے ساتھ استعمال ہونے والے القابات اور خطابات وغیرہ کو ان بدعتی غیر مسلموں کے ناموں کے ساتھ چسپاں کیا جائے، جو مسلم شخصیات کے پاسنگ بھی نہیں۔ حقیقتاً مسلمان اس اقدام کو اپنی عظیم ہستیوں کی بے حرمتی اور توہین و تنقیص پر محمول کرتے ہیں۔ پس اپیل کنندگان اور ان کی برادری کی طرف سے ممنوعہ القابات اور شعائر اسلام کے استعمال پر اصرار اس بارے میں کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہنے دیتا کہ وہ قصداً ایسا کرنا چاہتے ہیں جو نہ صرف ان مقدس ہستیوں کی بے حرمتی کرنے بلکہ دوسروں کو دھوکا دینے کے مترادف بھی ہے۔ اگر کوئی مذہبی گروہ دھوکہ دہی و فریب کاری کو اپنا بنیادی حق سمجھ کر اس پر اصرار کرے اور اس سلسلے میں عدالتوں سے مدد کا طلب گار ہو تو اس کا خدا ہی حافظ ہے۔ امریکہ کی سپریم کورٹ ”Cantwell vs Connecticut (310US 296 at 306)“ نامی مقدمہ میں قرار دے چکی ہے کہ

”مذہب یا مذہبی عقیدہ کا لبادہ کسی شخص کو، عام لوگوں کو فریب دینے پر تحفظ فراہم نہیں کرتا۔“

علاوہ ازیں اگر اپیل کنندگان یا ان کی برادری، دوسروں کو دھوکہ دینے کا ارادہ نہیں رکھتے تو وہ اپنے لیے نئے القاب وغیرہ کیوں وضع نہیں کر لیتے؟ کیا انہیں اس بات کا احساس نہیں کہ دوسرے مذاہب کے شعائر، مخصوص نشانات، علامات اور اعمال پر انحصار کر کے، وہ خود

صفحہ 453

اپنے مذہب کی ریا کاری کا پردہ چاک کریں گے۔ اس صورت میں اس کے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ ان کا نیا مذہب، اپنی طاقت، میرٹ اور صلاحیت کے بل پر ترقی نہیں کر سکتا یا فروغ نہیں پاسکتا بلکہ اسے جعل سازی وفریب پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے؟ آخر کار دنیا میں اور بھی بہت سے مذاہب ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں یا دوسرے لوگوں کے القابات وغیرہ پر کبھی غاصبانہ قبضہ نہیں کیا۔ بلکہ وہ اپنے عقائد کی پیروی اور اس کی تبلیغ بڑے فخر سے کرتے ہیں اور اپنے ہیروز کی، اپنے طریقہ سے مدح وستائش کرتے ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں ایسا کوئی قانون نافذ نہیں جو احمدیوں کو ان کے اپنے القابات تخلیق کرنے اور انہیں مخصوص افراد کے ساتھ استعمال کرنے سے روکتا ہو نیز ان کے مذہب پر کسی قسم کی دوسری پابندیاں عائد نہیں ہیں۔

”ہر مسلمان کے لیے جس کا ایمان پختہ ہو، لازم ہے کہ وہ رسول اکرمؐ کے ساتھ اپنے بچوں، خاندان، والدین اور دنیا کی ہر محبوب ترین شے سے بڑھ کر پیار کرے۔“

(صحیح بخاری کتاب الایمان، باب حب الرسول من الایمان)

کیا ایسی صورت میں کوئی کسی مسلمان کو مورد الزام ٹھہرا سکتا ہے، اگر وہ ایسا توہین آمیز مواد جیسا کہ مرزا صاحب نے تخلیق کیا ہے، سننے، پڑھنے یا دیکھنے کے بعد اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکے؟

احمدیوں کے اعلانیہ رویہ کا تصور کرنا چاہیے اور اس ردّعمل کے بارے میں سوچنا چاہیے جس کا اظہار مسلمانوں کی طرف سے ہو سکتا تھا۔ اس لیے اگر کسی احمدی کو انتظامیہ کی طرف سے یا قانوناً شعائر اسلام کا اعلانیہ اظہار کرنے یا انہیں پڑھنے کی اجازت دے دی جائے تو یہ اقدام اس کی شکل میں ایک اور ”رشدی“ تخلیق کرنے کے مترادف ہوگا۔ کیا اس صورت میں انتظامیہ اس کی جان، مال اور آزادی کے تحفظ کی ضمانت دے سکتی ہے اور اگر دے سکتی ہے تو کس قیمت پر؟ مزید برآں اگر گلیوں یا جائے عام پر جلوس نکالنے یا جلسہ کرنے کی اجازت دی جائے تو یہ خانہ جنگی کی اجازت دینے کے برابر ہے۔ یہ محض قیاس آرائی نہیں، حقیقتاً ماضی میں بارہا ایسا ہو چکا ہے اور بھاری جانی و مالی نقصان کے بعد اس پر قابو پایا گیا (تفصیلات کے لیے منیر رپورٹ دیکھی جاسکتی ہے) ردّعمل یہ ہوتا ہے کہ جب کوئی احمدی یا قادیانی سرعام کسی پلے کارڈ، بیج یا پوسٹر پر کلمہ کی نمائش کرتا ہے، یا دیوار یا نمائشی دروازوں یا جھنڈیوں پر لکھتا ہے یا

صفحہ 454

دوسرے شعائر اسلامی کا استعمال کرتا یا انہیں پڑھتا ہے تو یہ اعلانیہ رسول اکرمؐ کے نام نامی کی بے حرمتی اور دوسرے انبیا کرام کے اسمائے گرامی کی توہین کے ساتھ ساتھ مرزا صاحب کا مرتبہ اونچا کرنے کے مترادف ہے جس سے مسلمانوں کا مشتعل ہونا اور طیش میں آنا ایک فطری بات ہے اور یہ چیز امن عامہ کو خراب کرنے کا موجب بن سکتی ہے، جس کے نتیجہ میں جان و مال کا نقصان ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت حال میں احتیاطی تدابیر بروئے کار لانا لازمی ہے تاکہ امن و امان برقرار رکھا جاسکے اور جان و مال خصوصاً احمدیوں کے نقصان سے بچا جاسکے۔ اس صورت حال میں مقامی انتظامیہ نے جو فیصلے کیے، یہ عدالت انہیں کالعدم نہیں کر سکتی۔ وہ اس معاملے میں بہترین جج ہیں تاوقتیکہ قانون یا حقیقت کے ذریعے اس کے برعکس ثابت نہ کیا جائے۔

خطاب، القاب یا نام وضع کرنے میں کسی دشواری کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آخر کار ہندوؤں، عیسائیوں، سکھوں اور دیگر برادریوں نے بھی تو اپنے بزرگوں کے لیے القاب و خطاب بنا رکھے ہیں اور وہ اپنے تہوار، امن و امان کا کوئی مسئلہ یا الجھن پیدا کیے بغیر پُر امن طور پر مناتے ہیں۔ انتظامیہ جو امن و امان قائم رکھنے اور شہریوں کے جان و مال نیز عزت و آبرو کا تحفظ کرنے کی ذمہ دار ہے، بہر حال مذکورہ بالا اقدار میں سے کسی کو خطرہ لاحق ہونے کی صورت میں مداخلت کرے گی۔

مذکورہ بالا بحث کے نتیجہ میں اس سے متعلقہ اپیلیں بھی نامنظور کی جاتی ہیں۔

دستخط جسٹس عبدالقدیر چودھری جسٹس محمد افضل لون جسٹس ولی محمد خان جسٹس سلیم اختر جسٹس شفیع الرحمن (عکس صفحہ نمبر 1068، 1069 پر) (SCMR 1993 1718)

View Proof

صفحہ 455

پندرھویں صدی کا آغاز اور قادیانیوں کے لیے لمحہ فکریہ

مرزا قادیانی اپنی کتاب میں ایک حدیث نقل کرتا ہے:

(474) ”قال رسول الله صلی الله علیه وسلم ان الله یبعث لهذه الامة علی رأس کل مائة سنة من یجدد لها دینها۔ (رواہ ابوداؤد) یعنی خدا ہر ایک صدی کے سر پر اس امت کے لیے ایک شخص مبعوث فرمائے گا جو اس کے لیے دین کو تازہ کرے گا۔“

(حقیقۃ الوحی صفحہ 193 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 200 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1070 پر)

مرزا قادیانی کا دعویٰ تھا کہ میں چودھویں صدی کا مجدد ہوں۔ اور چونکہ آخری زمانہ جس میں آخری مجدد کو آنا تھا، یہی صدی ہے، اس لیے میں مسیح موعود بھی ہوں۔ لیکن اب چودھویں صدی ختم ہوکر پندرھویں صدی شروع ہوگئی ہے۔ اس لیے ارشاد نبوی ﷺ کے مطابق اس صدی میں بھی کسی مجدد کا آنا ضروری ہے اور مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ کہ چونکہ وہ چودھویں صدی کا مجدد ہے، اس لیے مسیح موعود بھی ہے، غلط ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ مسیح موعود تو آخری مجدد ہوگا جو آخری زمانے میں ظاہر ہوگا۔

قادیانیوں سے درخواست ہے کہ وہ آنحضرت ﷺ کے مندرجہ بالا ارشاد کی روشنی میں غور کریں کہ آیا نئی صدی کے لیے کوئی مجدد آئے گا یا نہیں؟ اگر آئے گا اور ضرور آئے گا تو مرزا قادیانی آخری مجدد نہ ہوا؟ اور جب زمانے نے ثابت کر دیا کہ وہ آخری مجدد نہیں تو مسیح موعود بھی نہ ہوا، کیونکہ مرزا قادیانی لکھتا ہے:

(475) ”یہ بھی اہل سنت میں متفق علیہ امر ہے کہ آخری مجدد اس امت کا مسیح موعود ہے جو آخری زمانہ میں ظاہر ہوگا۔“

(حقیقۃ الوحی صفحہ 193 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 201 از مرزا قادیانی) (عکس صفحہ نمبر 1071 پر)

اور ظاہر ہے جب مسیح موعود نہ ہوا تو نبی بھی نہ ہوا۔

کیا قادیانیوں میں کوئی ایسا رجل رشید ہے جو حضور خاتم النبیین ﷺ کے مذکورہ بالا فرمان پر غور کر کے اپنے عقیدے کی اصلاح کے لیے تیار ہو؟

PDF 456
PDF 457

ثبوت حاضر ہیں!

عکسی شہادتیں

PDF 458
صفحہ 459

ازالۃ الاوہام ۱۰۱ حصہ اول

نقل ٹائٹل بار اول

حصہ اول

يٰيَحْيٰى خُذِ الْكِتٰبَ بِقُوَّةٍ وَمُبَشِّرًۢا بِرَسُوْلٍ يَّاْتِيْ مِنْۢ بَعْدِى اسْمُهٗٓ اَحْمَدُ لِيُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّيْنِ كُلِّهٖ

ازالۃ الاوہام

فِيْهِ بَاْسٌ شَدِيْدٌ وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ

الحمد والمنت کہ بامداد یکے ذی المجد ۱۳۰۸ھ یہ کتاب

جامع معارف قرآنی و کاشف اسرار کلام ربانی از

تالیفات مرسل یزدانی و مامور رحمانی

جناب میرزا غلام احمد صاحب قادیانی

مطبع ریاض ہند امرتسر میں شیخ نور احمد مالک مطبع کے اہتمام سے طبع ہوئی

تعداد جلد ۷۰۰ قیمت فی جلد مجلد

صفحہ 460

رُوحانی خزائن

تصنیفاتِ

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی

مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام

جلد ۱

براہین احمدیہ

چہار حصص

صفحہ 461

روحانی خزائن

بسم اللہ الرحمن الرحیم

نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم

- خَلَقَ الْإِنْسَانَ عَلَّمَهُ الْبَيَانَ -

مِنَنُ الرَّحمٰن

جس میں

عربی کو ام الالسنہ ثابت کیا گیا ہے

تصنیف لطیف حضرت مرزا غلام احمد مسیح موعود علیہ السلام

جسے

باجازت حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز

مینیجر بکڈپو تالیف و اشاعت قادیان نے شائع کیا

مطبع ضیاء الاسلام قادیان ۔ ۳۲۰۰

صفحہ 462

١٦٥

حمامتنا تطير بجيش شوق وفى منقارها تحف السلام
الى وطن النبى حبيب ربى وسيد رسله خير الانام

الرِّسَالَة

اللطيفة المشتملة على معارف القرآن ودقائقه المسماة

حَمَامَةُ البُشْرٰى

الى

اَهْلِ مَكَّةَ وَصُلَحَاءِ أُمِّ الْقُرٰى

لِحَضْرَةِ اَحْمَدَ الْمَسِيحِ الْمَوْعُودِ وَالْمَهْدِيِّ الْمَعْهُودِ

عَلَيْهِ وَعَلٰى مُطَاعِهِ الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ

الطبعة الاولٰى فى رجب بالسنة الهجرية

صفحہ 463

ٹائٹل پیج جلد اول

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ

إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ فَمَنْ نَكَثَ فَإِنَّمَا يَنْكُثُ عَلَى نَفْسِهِ

رسالہ آسمانی نیا جو طاعون کے بارے میں اپنی جماعت کیلئے تیار کیا گیا

کشتی نوح

موسوم بہ

دعوت الایمان

و تقویۃ الایمان

طبع اول

مصنفہ

حضرت مسیح موعود

علیہ السلام

وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ

إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَالَّذِينَ هُمْ مُحْسِنُونَ

مطبع ضیاء الاسلام قادیان میں باہتمام حکیم فضل الدین صاحب طبع ہو کر شائع ہوا

تعداد جلد ۵۰۰۰

صفحہ 464

ٹائٹل بار اول

الحمد للہ والمنۃ کہ یہ رسالہ

موسومہ

ایّامُ الصّلح

قیمت فی جلد عہ

تعداد اشاعت ۴۰۰

مطبع ضیاء الاسلام قادیان میں باہتمام حکیم حافظ فضل الدین صاحب

بھیروی مالک مطبع سے مطبوع ہوا

یکم جنوری ۱۸۹۹ء

صفحہ 465

یہ حاشیہ در حاشیہ جو اس صفحہ پر ہے ص ۴۵ کے حاشیہ در حاشیہ کا بقیہ ہے جو سہو کاتب سے اس صفحہ پر آ گیا ہے ناظرین ص ۴۵ کے حاشیہ در حاشیہ کے ساتھ ملا کر پڑھیں۔ منہ

لیکن مسلمانوں میں تو کوئی ایسا فرقہ نہیں جو ایسا عقیدہ رکھتا ہو کیونکہ تمام شیعہ اور سنی اس بات پر متفق ہیں کہ مہدی خونی ہوگا اور مسیح بھی خونی ہو گا بلکہ ان کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ مہدی کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ بنی فاطمہ میں سے ہو اور ایسا ہی ان کا یہ بھی اتفاق ہے کہ جو مسیح آسمان سے اترے گا وہ بھی قتل اور خون کے لئے آئے گا۔ تو پھر میں نہیں سمجھ سکتا کہ یہ لوگ ایسے شخص کی کیوں انتظار کر رہے ہیں جو ان دونوں کے حق میں یعنی مہدی اور مسیح کے حق میں اپنے ظہور کے وقت خونی ہونے کا فتویٰ دے گا۔ کیا وہ ان کے نزدیک قابل قبول ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ غرض جب تک کوئی آسمان سے نہ اترے اور دنیا میں آکر خون نہ کرے، اس وقت تک ان کے نزدیک کوئی مسیح نہیں، اور جب تک کوئی فاطمی نہ ہو، اس وقت تک ان کے نزدیک کوئی مہدی نہیں۔ پھر ان کے نزدیک ایک شخص جو نہ فاطمی ہے، اور نہ آسمان سے اترا ہے، نہ خون کرتا ہے، اور نہ خون کرنے کی تعلیم دیتا ہے، نہ جبر کرتا ہے، نہ جبر کی تعلیم دیتا ہے، بلکہ وہ ایسا مہدی اور ایسا مسیح ہے جو صلح کاری کا وعظ کرتا ہے اور دین کے لئے جبر اور اکراہ کو منع فرماتا ہے، اور خون ریزی کو قطعی طور پر بند کرتا ہے، اور غازیوں اور جہادوں کے نام سے بیزار ہے، ایسا مہدی اور مسیح جو قرآنی حکم لا اکراہ فی الدین کا پابند ہے اور لڑائیوں اور فسادوں کو منع کرتا ہے اور کہتا ہے کہ دین کے لئے لڑنا حرام ہے، کیا وہ ایسے مہدی اور مسیح کو قبول کریں گے؟ ہرگز نہیں۔ بلکہ ان کے عقیدہ کے لحاظ سے ان پر واجب ہے کہ ایسے مہدی اور مسیح کے قتل کے درپے ہوں اور اس کا نام دجال اور کافر رکھیں۔ سو جب کہ ان کے عقیدہ کی رو سے میرے قتل کا ان کو فتویٰ مل چکا، تو پھر میں کیونکر ان کا مہدی بنوں؟ ہاں البتہ میں ان کے نزدیک کافر ہوں۔ مہدی وہ ہوگا جو خونی ہوگا، سو ان کو مبارک ہو۔ (منہ)

اور یہ جو میں نے لکھا ہے کہ میرے قتل کا ان کو فتویٰ مل چکا، یہ وہ فتویٰ ہے جو پنجاب اور ہندوستان کے مولویوں نے میرے پر لگایا ہے اور مجھے کافر ٹھہرایا ہے اور میرے قتل کا فتویٰ دیا ہے اور میری نسبت یہ حکم دیا ہے کہ اگر کوئی میرا مال لوٹ لے تو اس کے لئے حلال ہے۔ اور اگر کوئی مجھے قتل کرے تو اس پر قصاص نہیں۔ (منہ)

یہ بات کسی طرح میرے دل میں جگہ نہیں پکڑتی کہ یہ لوگ نیک نیتی سے ایسی باتیں میری نسبت بناتے ہیں بلکہ میں تو صاف دیکھ رہا ہوں کہ ان کی مراد بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ کسی طرح مجھے مورد عتاب گورنمنٹ کرادیں۔ ورنہ کیا ان کی اپنی کتابیں ایسے امور سے بھری ہوئی نہیں ہیں۔ کیا یہ سچ نہیں کہ یہ لوگ اسی عقیدہ کے ہیں کہ مہدی موعود ایک خونی مہدی ہوگا اور وہ آتے ہی صلیبوں کو توڑے گا اور عیسائیوں کو قتل کرے گا اور جبر سے دین کو پھیلائے گا اور کیا یہ سچ نہیں کہ ان کے اکثر لوگوں کا اب تک یہ عقیدہ ہے کہ جس حالت میں ممکن ہو عیسائیوں پر جہاد کرنا فرض ہے۔ پس تعجب کہ ایک شخص جو جہاد کا منکر ہے اور اس بات پر دلائل پیش کر رہا ہے کہ جہاد کا عقیدہ ان دنوں میں سراسر غلط اور احکام قرآنی کے برخلاف ہے، وہ تو باغی ٹھہرایا جاوے، اور یہ لوگ جو ایسے پرجوش خیالات رکھتے ہیں، یہ وفادار سمجھے جاویں۔ یہ کیسی اندھیر کی بات ہے۔ میں ہرگز اس بات کو

جنوری ۱۸۹۸ء

کِتَابُ البَرِّيَّة

مع

آيَاتُ البَرِّيَّة

مطبع ضیاء الاسلام قادیان میں چھپی

تعداد جلد ٤٠٠

باور نہیں کر سکتا کہ یہ لوگ سچے دل سے مجھے مفسد قرار دیتے ہیں۔ بلکہ وہ اپنے دلوں میں خوب سمجھتے ہیں کہ میں ان پرجوش خیالات سے کیسا بری اور بیزار ہوں۔ مگر کیا کریں، بغض اور کینہ ان کو اس بات پر آمادہ کر رہا ہے کہ حق پوشی کر کے ناحق مجھ پر افتراء کریں۔ اور تعجب یہ ہے کہ باوجود اس کے کہ وہ خود ایسے عقائد رکھتے ہیں جن سے بغاوت کی بو آتی ہے، نہایت بے حیائی سے مجھ پر الزام لگاتے ہیں۔ حالانکہ وہ خوب جانتے ہیں کہ میں ان کے ان عقائد کو سراسر باطل سمجھتا ہوں۔ اور میں نے بارہا اپنی تصانیف میں ان کے ان خیالات کی تردید کی ہے اور ثابت کیا ہے کہ جہاد کا مسئلہ جو ان کے دلوں میں راسخ ہے، وہ کیسا اسلام کی پاک تعلیم کے برخلاف ہے۔

صفحہ 466

ٹائٹل طبع اوّل

مطبع ضیاء الاسلام

۱۳۱۴ھ

سِرَاج مُنِیْر

مشتمل بر نشانہائے ربّ قدیر

قادیان دارالامان

مئی ۱۸۹۷ء

صفحہ 467

ٹائیٹل طبع اوّل

إِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْإِسْلَامُ

نُوْرُ القُرْآن

اطلاع

یہ رسالہ نور القرآن اصل میں ہر ۳ ماہ کے بعد یعنی چوتھے مہینے شائع ہوا کرے گا ہدیہ ہٰذا ۴ ماہ مئی جون جولائی اگست ۱۹۳۸ء کے بارے میں ہے قیمت بالفعل ہی ایک روپیہ سالانہ ہے

راقم خاکسار سراج الحق جمالی نعمانی

م ۳۴

صفحہ 468

اسلامی اصول کی فلاسفی

ازقلم

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام بانی جماعت احمدیہ

صفحہ 469

نقل مطابق اصل یہ صفحہ بغیر استثناء ہر ایک کتاب کے شروع پر چسپاں ہے

فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ؕ فَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ
وَ اِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَآءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِیْنَ

ہم ظالموں کی جڑ کاٹنے سے فراغت کر چکے سو اس خدا کی سب تعریف ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے اور جب ہم ایک قوم پر چڑھائی کرتے ہیں تو ان کے صحن میں اترتے ہیں پس برا دن ان کی بیداری کا ہوتا ہے جو تباہی کی خبر دیئے گئے ہیں

یہ کتاب مسلمانوں کے اس فرقہ حقہ کی طرف سے جس کی تائید میں خدا تعالیٰ اپنے نشان ظاہر کر رہا ہے اور جو ہر روز ترقی پر ہے اس آریہ مصنف کے رد میں لکھی گئی ہے جس نے نہایت بے باکی اور دریدہ دہنی سے ایک ایسا رسالہ تالیف کیا ہے جس میں اس نے ہمارے سید و مولیٰ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت نہایت شوخی سے ایسی گالیاں دے کر اور بے بنیاد تہمتیں لگا کر مقدس ذات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین اور مسلمانوں کو سخت مشتعل کرنے کی نیت سے یہ طوفان اس کتاب میں اٹھایا ہے

چشمۂ معرفت

از مؤلفات حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی جو ۱۵ مئی ۱۹۰۸ء کو مطبع انوار احمدیہ مشین پریس قادیان ضلع گورداسپور میں طبع ہوئی باہتمام شیخ یعقوب علی تراب مینجر

حقوق ہر چہار گونہ محفوظ ہیں قیمت مجلد تین روپے

صفحہ 470

جنگِ مُقَدّس

یعنے

تحقیق حق کیواسطے اہل اسلام اور عیسائیان امرتسر میں بمقام امرتسر

مباحثہ

۲۲؍ مئی ۱۸۹۳ء سے شروع ہو کر ۵؍ جون ۱۸۹۳ء کو ختم ہُوا

اہل اسلام کی طرف سے حضرت مرزا غلام احمد صاحبؔ قادیانی بحث کیلئے قادیان سے امرتسر تشریف لائے۔ اور عیسائی صاحبان کیطرف سے ڈپٹی عبداللہ آتھم صاحب پنشنر انتخاب ہوکر جلسہ مباحثہ میں پیش ہوئے۔ راقم کو مصدّقہ تحریریں چھاپکر مشتہر کرنے کی جلسہ بحث میں ہر دو جانب سے اجازت دی گئی۔ جو حرف بحرف مطابق روئدادِ مصدّقہ بحث ہر دو جانب چھپکر شائع ہوا کے بعد وہ سب کاپیاں فروخت ہو گئیں۔ اب بار دوم اُسی حیثیت سے شائقین کیلئے چھاپی گئیں۔ راقم شیخ نور احمدؔ مالک و مہتمم ریاض ہند پریس امرتسر (پنجاب)

مطبوعہ ریاض ہند پریس امرتسر

صفحہ 471

مجموعہ

اشتہارات

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی

مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام

جلد اوّل

صفحہ 472

مجموعہ

اشتہارات

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی

مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام

جلد دوم

صفحہ 473

ٹائیٹل پیج بارِ اوّل

جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا

بفضلہ تعالیٰ یہ رسائل اربعہ جن کے نام بتفصیل ذیل ہیں

انجامِ آتھم

خُدائی فیصلہ ۔ دَعْوَتِ قوم

مکتُوبِ عربی بنام عُلماء

مطبع ضیاء الاسلام میں طبع ہو کر عام فائدہ کے لئے شائع کئے گئے

بمقام قیمت فی جلد ۱/۱۲ قادیان

صفحہ 474

ٹائیٹل طبع اول

فویل للذین یکتبون

الکتاب بایدیھم ثم یقولون

ھذا من عند اللہ لیشتروا بہ

ثمنا قلیلا فویل لھم مما کتبت

ایدیھم و ویل لھم مما یکسبون

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم

والذین کفروا وکذبوا بآیاتنا

اولئک اصحاب النار ھم فیھا خالدون

هٰذَا الَّذِيْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ

یہ وہی ہے جس کے لئے تم جلدی کرتے تھے

میاں نذیر حسین صاحب دہلوی و محمد حسین بٹالوی کو جو مؤلف رسالہ ہذا و صاحب کتاب

ازالۃ الاوہام و توضیح المرام کو کافر اور دجال اور کذاب اور ملحد اور بے ایمان اور مرتد

اور ذرہ برابر محبت نہ رکھنیوالا بتاتے ہیں اور ایسا ہی انکے تمام ہمخیالوں۔

مولویوں صوفیوں پنڈتوں قسیسوں بھلے مانسوں کو

آسمانی فیصلہ کیطرف دعوت اور نیز اُن کے

گزشتہ مباحثات کی کیفیت

والحمد للہ والمنۃ

کہ یہ رسالہ موسوم بہ

آسمانی فیصلہ

مطبع ریاض ہند امرتسر میں چھپا

ایک ہزار نسخہ فی سبیل اللہ تقسیم کیلیے چھپا

مؤلفہ

مرزا غلام احمد

رئیس قادیان

لکھا گیا ۱۳۰۹ھ

بمقام قادیان

ضلع گورداسپور

پنجاب

۲۰۹

صفحہ 475

نحمدہ ونصلی

اے خدا اے چشمۂ نورِ ہدیٰ
از کرم ہا چشم ایں اُمت کشا
یک نظر کُن سوئے ایں رازِ نہاں
تا رہی اے طالب از وہم و گماں

الحمد للہ

کہ یہ رسالہ جس کا نام

رازِ حقیقت

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے صحیح اور سچے سوانح ظاہر کرتا ہے اور اسے بپایہ تحقیق

پہنچا کر اصل غرض کو باہر نکالتا ہے

بمقام قادیان مطبع ضیاء الاسلام میں باہتمام حکیم فضل الدین صاحب

بھیروی مالک مطبع چھپا ہے ؁ ۱۳۱۶ھ

۳۰؍ نومبر ۱۸۹۸ء

کو شائع ہوا

صفحہ 476

ٹائیٹل پیج (باطن)

قادر کے کاروبار نمودار ہوگئے ۔ کافر جو کہتے تھے وہ گرفتار ہوگئے

وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِيْنَ O اِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنْصُوْرُوْنَ O

وَاِنَّ جُنْدَنَا لَهُمُ الْغٰلِبُوْنَ O (الصافات)

وَكَفَانِيْ مِمَّا اَوْحٰى اِلَيَّ هٰذَا الْوَحْيُ الْمُبَشِّرُ

قُلْ رَبِّ اِنَّهُ نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَايُغْنِي الْقَوْمَ اِنْ تَنْزِلْ اٰيَةً اِنْ يَّرَوْا اٰيَةً

مَّا اُرْسِلَ نَبِيٌّ اِلَّا اُخْزِيَ فِيْهِ قَوْمُهُ اَلَا يَوْمَئِذٍ لَّمْ يَبْقَ صَالِحٌ مِّنَ الْقَوْمِ

اِنَّ الَّذِيْنَ هُمْ خُصُوْمُكَ وَبِئْسَ الْقَوْمُ اُخْزُوْا فِى اَيَّامِ الْفِتَنِ وَاِنَّهُ مِنْ

نُوْرِيْ وَاِنِّيْ مُكَافِئٌ مَّنْ كَافَاكَ لَاُعْلِمَنَّ الْمُرْسَلُوْنَ اِنَّهُمْ كَانُوْا فِى شَكٍّ

ـــ وَلَدَيَّ الْمُرْسَلُوْنَ ـــ

حقيقة الوحى

خدا تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ یہ کتاب جامع جس میں لاکھوں

حقائق اور معارف اور سچے آسمانی نشان درج ہیں محض اسی کے

فضل اور کرم اور خاص اُس کی توفیق اور تائید سے مرتب و تالیف ہوکر

مطبع میگزین قادیان میں باہتمام مینجر مطبع کے چھپی

تعداد ایک ہزار جلد تاریخ طباعت ۱۵ مئی ۱۹۰۷ء

صفحہ 477

قیمت ۸ آنہ

ومن يبتغ غير الاسلام دينا فلن يقبل منه

جو شخص اسلام کے سوائے کوئی دین تلاش کرے گا اس سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا

ست بچن

آریہ دھرم

مطبع ضیاء الاسلام قادیان میں فخر الدین ناظم المطبع

کے اہتمام سے چھپے

صفحہ 478

جاء الحق وزھق الباطل ان الباطل کان زھوقاً

آنانکہ بر دعاوی ما حملہ ہا کنند وز راہِ جہل غرۂ بے جا بپا کنند

گر یک نظر کنند بدل سوئے کتب ہست ایں یقیں کہ تاریکیہا رہا کنند

باور نمی کنم کہ نیایند عذر خواہ ایں امرِ دیگر است کہ ترکِ حیا کنند

براہین احمدیہ

حصہ پنجم

(۵)

الملقب

بالبراہین الاحمدیۃ علی حقیقۃ کتاب اللّٰہ القرآن والنبوۃ المحمدیۃ

مؤلفہ

حضرت اقدس مرزا غلام احمد مسیح موعود علیہ السلام

صفحہ 479

ایک غلطی کا ازالہ

از:-

حضرت مسیح موعود علیہ السلام

پبلشر:- ناظر تالیف و تصنیف

تعداد طبع نومبر ۸۲ ربوہ ضلع جھنگ

صفحہ 480

ملفوظات

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی

مسیح موعود و مہدی معہود

بانی جماعت احمدیہ

جنوری ۱۹۰۶ء تا مئی ۱۹۰۸ء

جلد پنجم

صفحہ 481

ٹائیٹل بار اول

الحمدللہ والمنّۃ

کہ تمام مخالفوں پر الٰہی حجت پوری کرنے کیلئے

یہ رسالہ

جس کا نام ہے

اربعین

لِاِتْمَامِ الحُجَّۃِ عَلَی المُخَالِفِین

بمقام قادیان مطبع ضیاء الاسلام میں باہتمام حکیم فضل دین صاحب

مالک مطبع چھپکر

شائع ہوا

جلد ۷۰۰ قیمت ۵ ؍

۱۵۔ دسمبر ۱۹۰۰ء

صفحہ 482

ٹائٹل طبع اول

رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَ بَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَ اَنْتَ خَيْرُ

الْفَاتِحِيْنَ

الحمد للہ کہ زمانہ کی ضرورت کے موافق بہتوں کو طاعون سے نجات

دینے کے لئے یہ رسالہ تالیف کیا گیا اور اس کا نام

ہے

دَافِعُ الْبَلَاءِ وَمِعْيَارُ اَهْلِ الْاِصْطِفَاءِ

بمقام

قادیان دارالامان

باہتمام حکیم فضل دین صاحب مطبع ضیاء الاسلام

میں چھپا

تعداد جلد ۵۰۰

اپریل ۱۹۰۲ء

صفحہ 483

تذکرہ

مجموعہ

الہامات، کشوف و رؤیا

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی

مسیح موعود ومہدی معہود علیہ السلام

صفحہ 484

ٹائیٹل پیج اول

اَلَيْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ اَلَيْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ اَلَيْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ اَلَيْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ اَلَيْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ اَلَيْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ اَلَيْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ اَلَيْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ اَلَيْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ اَلَيْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ اَلَيْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ اَلَيْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ اَلَيْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ

الحمد لله والمنۃ کہ ضمیمہ نزول المسیح جسکے ساتھ

دس ہزار روپیہ کا اشتہار ہے

حسب استدعا مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کے محض پانچ دن میں ابتداء ۲۰ فروری ۱۹۰۲ء سے طیار ہو کر اس کا نام

اعجاز احمد

رکھا گیا اور اس رسالہ میں پیر مہر علی شاہ صاحب اور مولوی اصغر علی صاحب ومولوی علی حائری صاحب شیعہ وغیرہ بھی مخاطب ہیں جن کا نام رسالہ میں مفصل درج ہے (تالیف ۱۵ فروری ۱۹۰۲ء) بمقام قادیان باہتمام حکیم فضل الدین صاحب مطبع ضیاء الاسلام میں طبع ہوا

اَلَيْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ اَلَيْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ اَلَيْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ اَلَيْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ

تعداد اشاعت ۴۰۰۰

صفحہ 485

الہامی

مقام او مبیں از راہِ تحقیر
بدرگہش رسولاں ناز کردند

عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلٰى غَيْبِهٖ اَحَدًا اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ (ترجمہ) وہ غیب کا جاننے والا ہے پس نہیں مطلع کرتا اپنے غیب پر کسی کو مگر جس کو پسند کر لے رسولوں میں سے (پ ۲۹ سورۃ الجن)

اشعار حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام

آنچہ داد است ہر نبی را جام
داد آں جام را مرا بتمام
انبیاء گرچہ بودہ اند بسے
من بعرفاں نہ کمترم ز کسے
کم نیم زاں ہمہ بفضل یقین
ہر کہ گوید دروغ ہست لعین

الحمد للہ ثم الحمد للہ کہ کتاب

حقیقت النبوۃ

سنة ۱۹۱۵ء

حصّہ اوّل

از افادات حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز جس میں اصولی طور پر حضرت اقدس مسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نبوت و رسالت پر ایسی قطعی و یقینی بحث کی گئی ہے کہ ہر پہلو سے اس پر روشنی پڑ گئی ہے۔ پس اب یہ نادر تصنیف پہلی دفعہ طبع ہو کر انجمن ترقی اسلام کی طرف سے شائع ہوئی۔ ٭ بمطبع ضیاء الاسلام قادیان میں طبع

بار اول مارچ ۱۹۱۵ء تعداد ۱۰۰۰ باہتمام میر قاسم علی

صفحہ 486

انوار خلافت

یعنی

ان تقریروں کا مجموعہ جو حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب

خلیفۃ المسیح ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے عہد خلافت کے دوسرے سالانہ

جلسہ پر ۲۶ - ۲۷ - ۲۸ - اور ۳۰ دسمبر ۱۹۱۵ء کو فرمائیں

پہلی طباعت ۱۰۰۰

مرتبہ

منشی غلام نبی (پٹواری)

اکتوبر ۱۹۱۶ء

مطبع روز بازار سٹیم پریس امرتسر میں

٭ یہ کتاب باہتمام مکرم میر حامد شاہ صاحب مہتمم صیغہ اشاعت قادیان دارالامان نے مطبع روز بازار سٹیم پریس امرتسر میں چھپوا کر شائع کی

تعداد جلد ۱۰۰۰

قیمت ۱/-

صفحہ 487

۱۲۷

ان ھذا الکتاب یدفع وساوس الخناس۔ وفیہ

شفاء للناس۔ ویھب السکینۃ

ویجلو الکروب۔ وسمیتہ۔

تریاق القلوب

تصنیف

امام ربانی حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی

مسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام۔

صفحہ 488

ملفوظات

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی

مسیح موعود و مہدی معہود

بانی جماعت احمدیہ

جلد سوم

صفحہ 489

جاء الحق وزهق الباطل ان الباطل كان زهوقا

آناں کہ بر دعویٰ ما حملہ کنند

وز راہ جہل عربدہ ہا برپا کنند

گر یک نظر کنند دریں نسخۂ کتاب

است ایں یقیں کہ ترک جفا و دغا کنند

باور نمی‌کنم کہ بیایند عذر خواہ

وایں بامید مگراست کہ ترک حیا کنند

براہین احمدیہ

حصہ (۵) پنجم

ملقب

بالبراہین الاحمدیة علی حقیة کتاب اللہ القرآن والنبوة المحمدیة

مؤلفہ

حضرت اقدس مرزا غلام احمد مسیح موعود علیہ السلام

صفحہ 490

۴۹

ٹائٹل پیج طبع اول

حصہ دوم رسالہ فتح اسلام از تالیفات مجدّد زمان

و مسیح الزمان مرزا غلام احمد صاحب رئیس قادیان حجۃ اللہ المبین ہے

المسمی

توضیح مرام

الہامی

کیا ہی عمدہ نسخہ ہے جس کے ہر ایک کلمہ میں برکات و نفحات جاری ہیں

الہامی

اور ہر ایک سطر میں اسرار عجیبہ ربانی لبریز ہیں جو اس کو پڑھتا ہے پاتا ہے

منطبع باہتمام شیخ نور احمد مالک پریس

بمطبع ریاض ہند پریس امرتسر میں چھپا

صفحہ 491

ٹائٹل پیج طبع اول

وَمَا اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ

تجلیات الٰہیہ

تصنیف حضرت مرزا غلام احمد مسیح موعود علیہ السلام

باجازت حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ

منیجر بک ڈپو تالیف و اشاعت قادیان نے شائع کیا

یہ رسالہ پہلی بار مطبع ضیاء الاسلام قادیان میں چھپ کر شائع ہوا

مطبع ضیاء الاسلام قادیان

صفحہ 492

بمراحم خداوندِ بخشش و رحمتِ ابد

مکمل ہوا ہماری پاک کتاب کا حصہ اول

البُشریٰ

جلد اول

الہامات و مکاشفات و رؤیائے صادقہ برکات ربانی مصدقہ انوار قرآنی حقانیت مسیح موعود

و امام مہدی علیہ السلام یعنی حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلوٰۃ والسلام مجدد حضرت سیدنا و مرشدنا

محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم برائے امت اسلامیہ

ہیں

جن کو ایک ادنیٰ خادم دین بفضل رب غفور احمدی موعودی مجددی قادیانی پیر منظور محمد

نے

بعہد خلافت حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

طبع اول ماہ فروری ۱۹۳۴ء مطابق شوال ۱۳۵۲ھ میں

چھپوا کر

باہتمام حافظ ظفر الدین صاحب فقیر

احمدیہ سٹیم پریس لاہور میں چھپ کر شائع ہوا

تعداد ... 1000 ...

صفحہ 493

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم نحمدہ و نصلی

وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِى الزَّبُوْرِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ اَنَّ الْاَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِىَ الصّٰلِحُوْنَ

سیرت المہدی

حصہ اوّل

مُؤَلَّفَہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم ۔ اے بفضلہ تعالیٰ

باہتمام مکرم و محترم مولوی سید محمد اسمٰعیل صاحب فاضل ناظر اشاعت صدر انجمن احمدیہ قادیان نے شیخ فخر الدین (دہلوی) مہتمم احمدیہ کتاب گھر قادیان کو شائع کرنیکا فخر بخشا

طبع جدید سنة ١٣٥٨ھ ١٩٣٩ء

صفحہ 494

ٹائٹل طبع اول

الحمدللہ والمنت کہ بتائید و توفیق حق نعم المولیٰ ونعم النصیر وعنایات اُس ذات جلیل وعظیم کے یہ حصہ اولیٰ کتاب لاجواب موسوم بہ

آئینہ کمالات اسلام

جس کا دوسرا نام دافع الوساوس بھی ہے

بماہ فروری سنہ ۱۸۹۳ء

مطبع ریاض ہند قادیان میں باہتمام شیخ نور احمد مہتمم ومالک مطبع طبع ہو کر شائع ہوا

صفحہ 495

ٹائٹل پمفلٹ

هذا هو الكتاب الذى الهمت مضامينه من رب العباد . فوالله فيه من الاسرار . ما لم يهتد اليه المحققون . ينطق الوحى الامين . من غير بدعة وتأثيم وانه دين . لا يشك فيه آية من الآيات . وما كان لبشر ان يخلق مثله ويكمله مستحقاً لفضل هذه العبارات . وكان الناس يرجون طبعه وترقبه امانيهم ويستطلعون بعيون المشتاق اليه . لما الهم الله قلبى لاتمام مقصودهم بعد الانتظار وجدوا مطلوبهم كبستان مذللة اغصانه من الثمار . وانه صنيعة احسان الحظوة . ومطية مجلبة الناس الى السعادة والله يبعث من يشاء بعدما امحلت البلاد وعم الفساد . ولم يجد علماء المعارضين بالآثار المروية المدونة من الخطاب . بل هى حقائق ادمجت فى صدف الكتاب . وانه الهام تام . وهل بعد الله من متكلم . وهل بعد خاتم الخلفاء على السنّة متعلّم . وليس من العجب ان تسمع من خاتم الولاية . كلمات ما سمعت قبل من سيد الامانة . بل العجب كل العجب ان يأتى مهدى موعود بالالهام والمكالمات . فتكفّر اناس من عين الجفاء . ثم يأتى اجيال جديدة مصنعة من الجهل . ويتكلم ككلام السفهاء . من غير معرفة وبرهان يتسترون بثياب الكذب والخطيئة والعياذ بالله الصمد

مع ترجمة هذه الرسالة

خُطْبَةُ الْاِلْهَامِيَّة

وَاِنِّىْ عُلِّمْتُهَا اِلْهَامًا مِّنْ رَّبِّىْ كَانَتْ اٰيَةً

تمت طباعة ٢١٠٠

سنة ١٩٠١ م

وانها طبع فى مطبع ضياء الاسلام قاديان باهتمام الحكيم فضل الدين البهيروى فى سنة ١٣١٩ من الهجرة المقدسة

صفحہ 496

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نحمده ونصلى على رسوله الكريم

یہ عقیدہ حقہ ہے نبی کہتا آتا تو

کہ خاتم النبیین کے معنی ہیں آخر

چار باتیں سنتا جا مدینہ کے مسافر

کہ خاتم النبیین کا منکر ہے کافر

ٹریکٹ موسومہ

اسلامی قربانی

نمبر (۳۴) ۔ (مسیح)

مؤلفہ

قاضی یار محمد صاحب بی ۔ اے ۔ ایل ایل بی پلیڈر

خیرپور

ضلع کا نگرہ

جنوری ۱۹۳۰ء

ریاض ھند پریس امرتسر میں بہتمام شیخ نور احمد پرنٹر چھپا

اور

قاضی یار محمد پلیڈر خیرپور ضلع کانگڑہ سے شائع ہوا ۔

صفحہ 497

ٹائٹل پیج طبع اوّل

الحمد للّٰہ و کفیٰ

کہ یہ رسالہ پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی اور ان کے مریدوں اور ہمخیال لوگوں پر اتمام حجت کے لئے محض نصحاً للہ شائع کیا گیا ہے اور بغرض اس کے کہ عام لوگوں پر حق واضح ہو جائے اس رسالہ کے ساتھ پچاس روپیہ کے انعام کا اشتہار بھی دیا گیا ہے جو اسی ٹائٹل پیج کے دوسرے صفحہ پر مندرج ہے اور یہ رسالہ موسوم بہ

تحفہ گولڑویہ

ہو کر مطبع ضیاء الاسلام قادیان ضلع گورداسپور میں باہتمام حکیم فضل الدین صاحب بھیروی مالک مطبع چھپ کر یکم ستمبر ۱۹۰۲ء کو شائع ہوا

قیمت ۱/ تعداد ۵۰۰ مجلد ۱/۴

صفحہ 498

آؤ لوگو کہ یہیں نور خدا پاؤ گے * تمھیں طور تسلی کا بتاتا ہوں مے

ریویو آف ریلیجنز

یعنی

دنیا کا مذہبی اخبار

جلد ۱۴ بابت ماہ مارچ و اپریل ۱۹۱۵ء نمبر ۳، ۴

مطابق جمادی الاول و جمادی الثانی ۱۳۳۳ھ

چندہ سالانہ

حصہ اردو ۲ روپیہ

فہرست مضامین

کلمۃ الفصل ۹۱ - ۱۸۴

صفحہ 499

نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم

سیرت المہدی

حصہ سوم

مؤلفہ

حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے

جسے

خاکسار

پبلشر محمد اسمعیل مولوی فاضل منشی فاضل قادیان دارالامان نے

شائع کیا

ایڈیشن اول صفر ١٣٥٨ھ اپریل ١٩٣٩ء

صفحہ 500

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللهُ

سیرت المہدی

(حصّہ دوم)

تالیف لطیف حضرت صاحبزادہ میرزا بشیر احمد صاحب ایم اے۔

جسے

منیجر بک ڈپو تالیف و اشاعت قادیان دارالامان

نے

ماہ دسمبر ۱۹۳۲ء میں شائع کیا ۔

اسلامیہ سٹیم پریس لاہور میں چھپ کر قادیان سے شائع ہوا

صفحہ 501

ملفوظات

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی

مسیح موعود و مہدی معہود

بانی جماعت احمدیہ

جلد دوم

صفحہ 502

ٹائیٹل پیج نقل

كُنْتُ نَائِمًا فَأُنْزِلَ عَلَيَّ كَمَا يُنْزَلُ عِنْدَ الْمُذَكَّرِ وَالْمُؤَنَّثِ

خدائے تعالیٰ کے بے انتہا احسانوں میں سے یہ بھی ایک عظیم الشان فضل و احسان ہے۔

کہ کتبِ سماویہ میں دونوں مسلم ہیں

مسودہ نزول المسیح کا

یہ حصہ طبع نہیں ہوا تھا

نزول المسیح

مسودہ نزول المسیح پر

فی آخر الزمان

یہ عبارت بھی درج تھی جو متن میں ہے

خود مسیح موعود علیہ السلام کے قلم سے نکلی ہوئی جس میں نزول جمالی اور جلالی

رنگوں میں حضرت خاتم الرسل صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے

مطابق دو آخری زمانوں کے متعلق جنہیں اسوقت کے اولیاء اللہ والاصفیاء

نے براہین احمدیہ میں مشاہدہ کیا

مطبع ضیاء الاسلام قادیان میں چھپ کر کتب خانہ حضرت مسیح موعود

علیہ السلام کے زیر نگرانی شائع ہوئی۔ ٹائٹل پیج مطبع میگزین قادیان میں چھپ کر لگایا گیا۔

بار اول تعداد اشاعت ۲۹۰۰

شعبان المعظم ۱۳۲۷ھ

قیمت ۸؍

ماہ اگست ۱۹۰۹ء

صفحہ 503

ٹائٹل در اصل

الحمد للہ المنۃ

یہ رسالہ ایک عیسائی کی کتاب ینابیع الاسلام کے

جواب میں تالیف ہو کر اس کا نام مندرجہ ذیل رکھا گیا

یعنے

چشمۂ مسیحی

اور یہ

مطبع میگزین قادیان میں باہتمام چوہدری

الہ داد صاحب ۵ مارچ ۱۹۰۶ء کو طبع ہو کر

شائع ہوا

تعداد جلد (۱۰۰۰)

صفحہ 504

(ٹائٹل بار اول)

وہ خدا جس نے تمام روحیں اور ذرہ ذرہ عالم علوی اور سفلی کا پیدا کیا اُسی نے اپنے فضل و کرم سے اس رسالہ کا مضمون ہمارے دل میں پیدا کیا۔

اور

اس کا نام

نسیم دعوت

نام اس کا نسیم دعوت ہے آریوں کے لئے یہ رحمت ہے
دل بیمار کا یہ درماں ہے طالبوں کا یہ یار خلوت ہے
کفر کے زہر کو یہ ہے تریاق ہر ورق اس کا جام صحت ہے
غور کر کے اسے پڑھو پیارو یہ خدا کے لئے نصیحت ہے
خاکساری سے ہم نے لکھا ہے نہ تو سختی نہ کوئی شدّت ہے
قوم سے مت ڈرو خدا سے ڈرو آخر اس کی طرف ہی رحلت ہے
سخت دل کیسے ہو گئے ہیں لوگ سر پہ طاعون ہے پھر بھی غفلت ہے
ایک دُنیا ہے مرچکی اب تک پھر بھی توبہ نہیں یہ حالت ہے

مطبع ضیاء الاسلام قادیان میں باہتمام حکیم فضل الدین صاحب بھیروی بتاریخ ۲۸ فروری ۱۹۰۳ء چھپ کر شائع ہُوا

صفحہ 505

(ٹائیٹل طبع اول)

سراجُ الدّین

عیسائی

کے چار سوالوں کا

جواب

سنه ١٨٩٧ء

٢٢؍ جون

مطبع ضیاء الاسلام قادیان میں باہتمام حکیم فضل دین صاحب

کے چھپا

قیمت ٤ ؍

تعداد ٧٠٠

صفحہ 506

(ٹائیٹل پیج نقل)

الحمد للہ والمنۃ کہ یہ رسالہ مبارکہ جس میں آخوند زادہ سرآمد علماء کابل اور شیخ اجل افغانستان ورئیس اعظم مرحوم مولوی محمد عبداللطیف صاحب مرحوم کی شہادت کا ذکر ہے اور نیز انکے شاگرد رشید میاں عبدالرحمن کے شہید ہونے کے حالات مذکور ہیں تالیف ہو کر نام اس کا مندرجہ ذیل رکھا گیا یعنے

تذکرۃ الشہادتین

مع رسالہ عربی وعلامات المقربین اور یہ رسالہ مطبع ضیاء الاسلام قادیان میں باہتمام حکیم مولوی فضل الدین صاحب مالک مطبع اکتوبر کے مہینہ میں چھپ کر شائع کیا گیا۔

تعداد جلد ۸۰۰ قیمت فی جلد ۷ ٫

صفحہ 507

۲۵۱ ٹائیٹل پیج (داخل)

الہدیۃ المبارکہ

یعنی کتاب

تحفہ قیصریہ

بمقام قادیان

مطبع ضیاء الاسلام میں چھپا

۲۵؍مئی ۱۸۹۷ء

۱

صفحہ 508

ٹائٹل پیج طبع اول ۱۷۷ کشف الغطاء

اے قادرِ خدا ! اس گورنمنٹ عالیہ انگلشیہ کو ہماری طرف سے نیک جزا دے اور اس سے نیکی کر جیسا کہ اس نے ہم سے نیکی کی۔ آمین۔

كَشْفُ الغِطَاءِ

یعنے

ایک اسلامی فرقہ کے پیشوا مرزا غلام احمد قادیانی کی طرف سے

بحضور گورنمنٹ عالیہ اس فرقہ کے حالات اور خیالات کے بارے میں اطلاع اور نیز اپنے خاندان کا کچھ ذکر اور اپنے مشن کے اصولوں اور ہدائتوں اور تعلیموں کا بیان اور نیز ان لوگوں کی خلاف واقعہ باتوں کا ردّ جو اس فرقہ کی نسبت خلاف حقانیت پھیلانا چاہتے ہیں

اور یہ مؤلف

تاجِ عزت جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دام اقبالہا کا واسطہ ڈال کر

بخدمت گورنمنٹ عالیہ انگلشیہ کے اعلیٰ افسروں اور معزز حکّام کے بادب گذارش کرتا ہے کہ براہِ غریب پروری و کرم گستری اس رسالہ کو اوّل سے آخر تک پڑھنا یا سننا چاہئے۔

یہ رسالہ تالیف ہو کر ۲۷؍ دسمبر ۱۸۹۸ء کو مطبع ضیاء الاسلام قادیان میں باہتمام حکیم فضل الدین صاحب مالک مطبع کے مطبوع ہوا۔

تعداد ۴۵۰

صفحہ 509

ٹائیٹل بلافصل

هَلْ جَزَآءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ

گورنمنٹ انگریزی

اور

جہاد

۲۲ مئی ۱۹۰۰ء

مطبع ضیاء الاسلام قادیان میں باہتمام حکیم فضل الدین صاحب چھپا

تعداد ۴۰۰۰

صفحہ 510

ضمیمہ رسالہ جہاد ۲۳ روحانی خزائن جلد ۱۷

ضمیمہ رسالہ جہاد

عیسیٰ مسیح اور محمد مہدی کے دعویٰ کی اصل حقیقت اور جناب

نواب وائسرائے صاحب بلند اقبال کی خدمت میں ایک

درخواست

اگرچہ مَیں نے اپنی بہت سی کتابوں میں اس بات کی تشریح کر دی ہے کہ میرے یہ دعوے کہ مَیں عیسیٰ مسیح ہوں اور نیز محمد مہدی ہوں اس خیال پر مبنی نہیں ہیں کہ مَیں درحقیقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہوں اور نیز درحقیقت حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔ مگر پھر بھی وہ لوگ جنہوں نے غور سے میری کتابیں نہیں دیکھیں وہ اس شبہ میں مبتلا ہو گئے ہیں کہ گویا مَیں نے تناسخ کے طور پر اس دعویٰ کو پیش کیا ہے۔ اور گویا مَیں اس بات کا مدعی ہوں کہ سچ مچ ان دو بزرگ نبیوں کی روحیں میرے اندر حلول کر گئی ہیں۔ لیکن واقعی امر ایسا نہیں ہے۔ بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ آخری زمانہ کی نسبت پہلے نبیوں نے یہ پیشگوئی کی تھی کہ وہ ایک زمانہ ایسا ہوگا کہ جو دو قسم کے ظلم سے بھر جائے گا ایک ظلم مخلوق کے حقوق کی نسبت ہو گا اور دوسرا ظلم خالق کے حقوق کی نسبت۔ مخلوق کے حقوق کی نسبت یہ ظلم ہو گا کہ جہاد کا نام رکھ کر نوع انسان کی خونریزیاں ہوں گی یہاں تک کہ جو شخص ایک بے گناہ کو قتل کرے گا وہ خیال کرے گا کہ گویا وہ ایسی خونریزی سے ایک ثواب عظیم کو حاصل کرتا ہے اور اس کے سوا اور بھی کئی قسم کی ایذائیں محض دینی غیرت کے بہانہ پر نوع انسان کو پہنچائی جائیں گی۔ چنانچہ وہ زمانہ یہی ہے کیونکہ جیسا درند خصلت

صفحہ 511

لَنْ يَّجْعَلَ اللّٰهُ لِلْكٰفِرِيْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ سَبِيْلًا

قرآن شریف جزو پنجم

یہ ہرگز نہیں ہوگا کہ کافر مومنوں کو ملزم کرنے کے لئے راہ پاسکیں۔

کتاب لاجواب

شحنۂ حق

جِس کا دُوسرا نام یہ ہے

آریوں کی کسی قدر خدمت

اور

اُن کے ویدوں اور نکتہ چینیوں کی کچھ ماہیت

یہ رسالہ جو تالیفات مرزا غلام احمد صاحب مؤلف براہین احمدیہ میں سے ہے

اُس پُر افترا رسالہ کا جواب ہے جو چند قادیان کے ہندؤوں کی طرف سے بامداد لالا

لیکھ رام پشاوری چشمہ نور امرتسر میں چھپا تھا بعام فائدہ کے لئے مرزا صاحب

موصوف کی طرف سے

مطبع ریاض ہند امرتسر میں باہتمام شیخ نور احمد مالک مطبع طبع ہو کر شائع ہوا

۳۲۳

صفحہ 512

ملفوظات

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی

مسیح موعود و مہدی معہود

بانی جماعت احمدیہ

آغاز مئی ۱۹۰۳ء تا اواخر ۱۹۰۵ء

جلد چہارم

صفحہ 513

دُرِّ ثمین

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی

مسیح موعود و مہدی معہود

بانی جماعت احمدیہ

کا

پُر معارف اُردو منظوم کلام

صفحہ 514

انوار العلوم جلد ۸ ۴۷ قول الحق

قول الحق

از

سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد

خلیفۃ المسیح الثانی

صفحہ 515

ٹائیٹل بار اول

As the Muslims of India entertain different beliefs with regard to the coming "Mahdi" and especially the nature of his appearance among the Muslims, according to some Muslims he will be a reformer and engenderer of new life, like a true lover of peace and tranquility and a person pure in heart; the Muslims of his party considering his appearance as merely spiritual, while other Muslims, such as Maulvi Mohammad Hussain of Batala, editor of Isha-at-us-Sunnah and leader and advocate of Ahl-i-hadis or Wahabis of his class, believe that the "coming Mahdi" will be Ghazi, general slaughterer and uprooter of the empires of the nations other than Muslims, especially the bitter opponent of the British Empire and speak of the terrible consequences resulting from the bloody deeds of this Mahdi, I have written this pamphlet to show which of these two Muslim parties is right in its beliefs with regard to "the coming Mahdi".

It will be better that our benign government will get this pamphlet translated into English and hence make itself acquainted with these differences concern- ing "the coming Mahdi".

Haqiqat-ul-Mahdi

حقیقت المہدی

The true nature of Almehdi

مؤلفہ مرزا غلام احمد رئیس قادیان

صفحہ 516

فوٹو ٹائٹل پیج اول

خدائے کریم کا شکر ہے کہ ہزارہا لوگوں نے جن میں کئی آریہ بھی ہیں دیکھا ہے جن کی بابت کئی لوگوں نے کہا ہے کہ یہ پیشینگوئی میں میرے ساتھ وہی معاملہ کیا ہے جو کہ اس شخص نے مکاری اور دھوکہ دہی سے کیا ہے اور اس رسالہ کا نام ہے

قادیان کے آریہ اور ہم

اور یہ رسالہ باہتمام منشی محمد صاحب منیجر میگزین پریس قادیان میں مطبع میگزین میں طبع ہوا

تعداد بار اول قیمت چار آنہ

صفحہ 517

بسم الله الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم

حَقِيقَةُ الرُّؤيَا

سَنَة ١٣٣٦ هـ

حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ

کی معرکۃ الآراء خواب پر یہ دوسری تقریر جو آپ نے سالانہ جلسہ پر فرمائی

مرتبہ

غلام نبی نائب ایڈیٹر الفضل قادیان

قیمت فی جلد : ۱/-

صفحہ 518

نَحْمَدُهٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ

وَاذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْکُمْ اِذْ کُنْتُمْ اَعْدَآءً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِکُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهٖٓ اِخْوَانًا

برکاتِ خلافت

یعنے

اُن تقریروں کا مجموعہ جو

حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفۃ المسیح الثانی

نے اپنے عہد خلافت کے

پہلے سالانہ جلسہ پر بتاریخ ۲۶۔ ۲۷۔ ۲۸۔ دسمبر ۱۹۱۴؁ء فرمائیں

اور

وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا

تعداد (۱۰۰۰)

قیمت ۴؍

صفحہ 519

ٹائٹل پیج جلد اول

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّيْ عَلٰى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ

اَنْوَارُ الاِسْلَام

بحکم حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ

تعداد اشاعت (۳۰۰۰)

صفحہ 520

ماشآء الله لا قوة الا بالله

يٰاَهلَ الكِتٰبِ تَعالَوا اِلىٰ كَلِمَةٍ سَوَآءٍ بَينَنَا وَبَينَكُم اَلّا نَعبُدَ اِلّا اللّٰهَ

الحمد لله الموفق انى كتبت هذه الرسالة والصحيفة العجالة لعلاج مرض المتنصرين الذى امتد مداه وغرهم عداه واكلتهم نار انكار الفرقان، والصول على كتاب الله القراٰن، فاردنا ان ننجيهم من مخلب الحمام، ونريهم سوء داءهم ونهديهم الى دواء السقام، فالفت هذا الكتاب مع انعام كثير لمن اجاب. وهو خمسة الاف من الدراهم لكل من اتى بمثله وارى العجائب. وهو بفضل الله حسن وطيب ، والحق وادق ، وسميته الحصة الاولى من

نور الحق

" عسى ربكم ان يرحمكم وان عدتم عدنا وجعلنا جهنم للكافرين حصيرا ان هذا القراٰن يهدى للتى هى اقوم ويبشر المؤمنين الذين يعملون الصالحات ان لهم اجرا كبيرا "

قد طبع فى المطبع المصطفائى بريس فى لاهور سنة ١٣١١ هجرى

بار اول حصہ ۔۔ ۱

صفحہ 521

شروع اللہ کے نام سے

بسم الله الرحمن الرحيم

جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے

خادم شریعت و طریقت

پیر محمد قاسم نقشبندی

صفحہ 522

آئینہ صداقت

جسمیں امام ہمام امیر سیدنا حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی نے مولوی محمد علی صاحب اور ان کے معدودے چند رفقاء کی جماعت احمدیہ سے علیحدگی کے اسباب صحیح واقعات اور سچے حالات کا انکشاف اور سلسلہ میں پیدا کئے ہوئے دل خراش فتنوں کا استیصال فرمایا ہے

خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ

مطبوعہ مطبع ضیاء الاسلام قادیان

طبع اول

۱۹۲۱ء

باہتمام قاسم علی مینیجر

صفحہ 523

بسم الله الرحمن الرحيم

وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِيْنَ

سوانح

حیاتِ یوسف

حضرت مولانا محمد یوسف صاحب کے سوانح حیات

جلد دوم و سوم

سابق امیر تبلیغی جماعت مرکز نظام الدین دھلی نور الله مرقده

مرتبہ مولانا محمد ثانی حسنی ندوی

استاذ دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ

جسے اب ادارہ ھذا نے

بڑے اہتمام سے نئے ٹائپ میں

شائع کیا ہے

ناشر : ادارہ تالیفات اشرفیہ بیرون بوہڑ گیٹ ملتان

صفحہ 524

بتقریب خلافت جوبلی

سلسلہ احمدیہ

تصنیف لطیف

حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم ۔ اے

جس میں سلسلہ احمدیہ کی پچاس سالہ تاریخ کے علاوہ سلسلہ کے غرض و غایت اور سلسلہ

کے مخصوص عقائد اور سلسلہ کے مستقبل کے متعلق سیر کن بحث کی گئی ہے

O

نظارت تالیف و تصنیف قادیان نے

حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی کے خلافت جوبلی کے موقع پر

طبع کرا کے شائع کیا

O

دسمبر ۱۹۳۹ء

صفحہ 525
ذکرِ حبیبؐ کم نہیں وصلِ حبیبؐ سے

ذکرِ حبیبؐ

مُصَنَّفَہ

حضرت مفتی محمّد صادق

صفحہ 526

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

ہُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ

رسید مژدہ زغیبم کہ من ہماں مہدیم کہ او مجدد ایں دین و رہنما باشد
منم مسیح زمانم بصدقے گویم منم خلیفہ شاہے کہ بیہما باشد
چنیں زمانہ چنیں روز ایں چنیں برکات زہے نصیب ولے وائے ہر کہ نابینا باشد
سیاہ باد رُخ بخت من اگر بہ دلم مگر غرض بجز از یار آشنا باشد

خدا کے مُرسل

حضرت مسیح موعود و مہدی معہود

عالیجناب مرزا غلام احمد صاحب قادیانی

کا لیکچر مسمّی بہ

اسلام

جو ۳؍نومبر ۱۹۰۴ء کو بمقام سیالکوٹ ایک عظیم الشان جلسہ میں پڑھا گیا

جسکو

چوہدری مہر بخش صاحب احمدی بھٹی نائب محافظ دفتر ضلع سیالکوٹ نے

مفید عام پریس سیالکوٹ میں چھپوا کر شائع کیا

صفحہ 527

ٹائٹل طبع اوّل

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَابْتَغُوا اِلَيْهِ الْوَسِيْلَةَ وَجَاهِدُوا فِيْ سَبِيْلِهٖ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ

وَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَسْتَ مُرْسَلًا

قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيْدًا بَيْنِيْ وَبَيْنَكُمْ وَمَنْ عِنْدَهٗ عِلْمُ الْكِتٰبِ

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ

کہ یہ رسالہ جس کا نام ہے

ضرورة الامام

صرف ڈیڑھ دن میں طیار ہو کر

مطبع

ضیاء الاسلام قادیان میں

قیمت با محصول علاوہ مجلد

اس کا حق طبع و تقسیم بحق ضیاء الدین مالک و مہتمم مطبع

صفحہ 528

مکتوباتِ احمد

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی

مسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصلوٰۃ والسلام

کے

خطوط اور مکاتیب

جلد اوّل

صفحہ 529

ملفوظات

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی

مسیح موعود و مہدی معہود

بانی جماعت احمدیہ

صفحہ 530

پیغامِ صلح

رقم فرمودۂ

حضرت اقدس مرزا غلام احمد مسیح موعود علیہ السلام

صفحہ 531

AFRICA SPEAKS

Published by: Majlis Nusrat Jahan Tahrik-i-Jadid, Rabwah — West Pakistan

صفحہ 532

REGD. No. L-7734 GRAMS : LADECISION

BY PERMISSION OF THE GOVERNMENT OF PAKISTAN MINISTRY OF JUSTICE

VOL. XXVI No. 8

The Supreme Court

Monthly Review

COMPRISING OF SUPREME COURT CASES

Editors : KHAWAJA MUHAMMAD ASAF, B.A., LL.B. MR. MUHAMMAD ZUBAIR SAEED, B.A., LL.B.

— AUGUST, 1993 —

Citation : 1993 S C M R 1687

[pp. 1557—1792]

SUPREME COURT MONTHLY REVIEW 35-NABHA ROAD, LAHORE (Phones : 213697/214883)

Printed and Published by Malik Muhammad Saeed at the Pakistan Educational Press, Lahore.

Monthly for regular subscribers Rs. 40/- Annual Subscription : Rs. 480/- For non-subscribers Rs. 50/- (Postage/carriage extra)

560

صفحہ ۵۱۱

روحانی خزائن جلد ۳ ۵۱۱ ازالہ اوہام حصہ دوم

بعد کتاب اللہ اصح الکتب سمجھی گئی ہے۔ اس میں فلما توفیتنی کے معنی وفات ہی لکھے ہیں۔ اسی وجہ سے امام بخاری اس آیت کو کتاب التفسیر میں لایا ہے۔

آئے گا۔ لیکن نبیوں کے ہمنام اس اُمت میں آئیں گے۔

ہو یا پُرانا ہو۔ کیونکہ رسول کو علم دین بتوسط جبرائیل ملتا ہے اور باب نزول جبرائیل بہ پیرایہ وحیِ رسالت مسدود ہے۔ اور یہ بات خود ممتنع ہے کہ دنیا میں رسول تو آوے مگر سلسلہ وحی رسالت نہ ہو۔

رنگ میں آئے گا۔ چنانچہ اس کو امتی کر کے بیان بھی کیا گیا ہے جیسا کہ حدیث امامکم

(۷۲)

منکم سے ظاہر ہے اور نہ صرف بیان کیا گیا بلکہ جو کچھ اطاعت اور پیروی اُمت پر لازم ہے وہ سب اس کے لازم حال ٹھہرائی گئی۔

حلیہ بتایا گیا ہے اور آنے والے مسیح ابن مریم کا اور حلیہ ظاہر کیا گیا ہے۔ اب ان قرائن قویہ کے رو سے صریح اور صاف طور پر ثابت ہے کہ آنے والا مسیح ہرگز وہ مسیح نہیں ہے جس پر انجیل نازل ہوئی تھی بلکہ اس کا مثیل ہے اور اس وقت اُس کے آنے کا وعدہ تھا کہ جب کروڑ ہا افراد مسلمانوں میں سے یہودیوں کے مثیل ہو جائیں گے تا خدائے تعالیٰ اس اُمت کی دونو قسموں کی استعدادیں ظاہر کرے نہ یہ کہ اس اُمت میں صرف یہودیوں کی نجس صورت قبول کرنے کی استعداد ہو اور مسیح بنی اسرائیل میں سے آوے۔ بلاشبہ ایسی صورت میں اس مقدس اور روحانی معلم اور پاک نبی کی

ازالہ اوہام صفحہ 411 روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 511 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 156 پر درج ہے

صفحہ ۴۱۴

روحانی خزائن جلد ۳ ۴۱۴ ازالہ اوہام حصہ دوم

یہی ہے کہ وہ بھی موت کے بعد ہی اُٹھایا گیا تھا۔ پھر لکھتے ہیں کہ شیعہ کا یہ بھی قول ہے کہ آسمان سے آنیوالا عیسیٰ کوئی بھی نہیں درحقیقت مہدی کا نام ہی عیسیٰ ہے پھر بعد اس کے تحریر فرماتے ہیں کہ بعض صوفیوں نے اپنے کشف سے اسی کے مطابق اس حدیث کے معنے کہ لا مہدی الا عیسیٰ یہ کئے ہیں کہ مہدی جو آنے والا ہے درحقیقت عیسیٰ ہی ہے کسی اور عیسیٰ کی حاجت نہیں جو آسمان سے نازل ہو۔ اور صوفیوں نے اس طرح آخر الزمان کے مہدی کو عیسیٰ ٹھہرایا

﴿۵۸۲﴾

ہے کہ وہ شریعت محمدیہ کی خدمت کے لئے اُسی طرز اور طریق سے آئے گا جیسے عیسیٰ شریعت موسویہ کی خدمت اور اتباع کے لئے آیا تھا۔

پھر صفحہ ۴۳۱ میں لکھتے ہیں کہ احادیث سے ثابت ہے کہ عیسیٰ پر اس کے نزول کے بعد رسولوں کی طرح وحی نبوت نازل ہوتی رہے گی۔ جیسا کہ مسلم کے نزدیک نواس بن سمعان کی حدیث میں ہے کہ یقتل عیسیٰ الدجال عند باب لد الشرقی فبینہما ھم کذالک اذ اوحی اللہ تعالیٰ الی عیسیٰ بن مریم یعنی جب عیسیٰ دجال کو قتل کرے گا تو اس پر اللہ تعالیٰ وحی نازل کرے گا۔ پھر لکھتے ہیں کہ وحی کا لانیوالا جبرائیل ہوگا کیونکہ جبرائیل ہی پیغمبروں پر وحی لاتا ہے۔

اس تمام تقریر سے معلوم ہوا کہ چالیس ۴۰ سال تک برابر جو مدّت توقف حضرت مسیح کی دنیا میں بعد دوبارہ آنے کے لئے قرار دی گئی ہے حضرت جبرائیل وحی الٰہی لے کر نازل ہوتے رہیں گے۔ اب ہر یک دانشمند اندازہ کر سکتا ہے کہ جس حالت میں تیئیس برس میں تیس جزو

﴿۵۸۳﴾

قرآن شریف کی نازل ہو گئی تھیں تو بہت ضروری ہے کہ اس چالیس ۴۰ برس میں کم سے کم پچاس جزو کی کتاب اللہ حضرت مسیح پر نازل ہو جائے۔ اور ظاہر ہے کہ یہ بات مستلزم محال ہے کہ خاتم النبیین کے بعد پھر جبرائیل علیہ السلام کی وحی رسالت کے ساتھ زمین پر آمد و رفت شروع ہو جائے اور ایک نئی کتاب اللہ گو مضمون میں قرآن شریف سے توارد رکھتی ہو پیدا ہو جائے۔ اور جو امر مستلزم محال ہو وہ محال ہوتا ہے فتدبر۔

صفحہ ۴۱۲

روحانی خزائن جلد ۳ ازالہ اوہام حصہ دوم

نازل ہونا برابر ہے۔ ہر یک دانا سمجھ سکتا ہے کہ اگر خدائے تعالیٰ صادق الوعد ہے اور جو آیت خاتم النبیین میں وعدہ دیا گیا ہے اور جو حدیثوں میں بتصریح بیان کیا گیا ہے کہ اب جبرائیل بعد وفات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ کے لئے وحی نبوت لانے سے منع کیا گیا ہے یہ تمام باتیں سچ اور صحیح ہیں تو پھر کوئی شخص بحیثیت رسالت ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہرگز ۵۷ نہیں آسکتا۔ لیکن اگر ہم فرض کے طور پر مان بھی لیں کہ مسیح ابن مریم زندہ ہو کر پھر دنیا میں آئے گا تو ہمیں کسی طرح اس سے انکار نہیں ہو سکتا کہ وہ رسول ہے اور بحیثیت رسالت آئے گا اور جبرائیل کے نزول اور کلام الٰہی کے اترنے کا پھر سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ جس طرح یہ بات ممکن نہیں کہ آفتاب نکلے اور اس کے ساتھ روشنی نہ ہو۔ اسی طرح ممکن نہیں کہ دنیا میں ایک رسول اصلاح خلق اللہ کے لئے آوے اور اس کے ساتھ وحی الٰہی اور جبرائیل نہ ہو۔ علاوہ اس کے ہر یک عاقل معلوم کر سکتا ہے کہ اگر سلسلہ نزول جبرائیل اور کلام الٰہی کے اُترنے کا حضرت مسیح کے نزول کے وقت بکلی منقطع ہوگا تو پھر وہ قرآن شریف کو جو عربی زبان میں ہے کیوں کر پڑھ سکیں گے۔ کیا نزول فرما کر دو چار سال تک مکتب میں بیٹھیں گے اور کسی مُلّا سے قرآن شریف پڑھ لیں گے۔ اگر فرض کر لیں کہ وہ ایسا ہی کریں گے تو پھر وہ بغیر وحی نبوت کے تفصیلات مسائل دینیہ مثلاً نماز ظہر کی سُنت جو اتنی رکعت ہیں اور نماز مغرب کی نسبت ۱؎ جو اتنی رکعات ہیں اور یہ کہ زکوٰۃ کن لوگوں پر فرض ہے۔ اور نصاب کیا ہے کیوں کر ۵۸ قرآن شریف سے استنباط کر سکیں گے۔ اور یہ تو ظاہر ہو چکا ہے کہ وہ حدیثوں کی طرف رجوع بھی نہیں کریں گے۔ اور اگر وحی نبوت سے ان کو یہ تمام علم دیا جائے گا تو بلاشبہ جس کلام کے ذریعہ سے یہ تمام تفصیلات اُن کو معلوم ہوں گی وہ بوجہ وحی رسالت ہونے کے کتاب اللہ کہلائے گی۔ پس ظاہر ہے کہ اُن کے دوبارہ آنے میں کس قدر خرابیاں اور کس قدر مشکلات ہیں۔ منجملہ اُن کے یہ بھی کہ وہ بوجہ اس کے کہ وہ قوم کے قریشی نہیں ہیں کسی حالت میں امیر نہیں ہو سکتے۔ ناچار اُن کو کسی دوسرے امام اور امیر کی بیعت کرنی پڑے گی۔ بالخصوص جبکہ

۱؎ ایڈیشن اول میں سہواً کتابت سے ”نسبت“ لکھا گیا ہے۔ سیاق کلام سے یہ لفظ ”سُنت“ صحیح معلوم ہوتا ہے۔

صفحہ ۴۱۲

ازالہ اوہام حصہ دوم روحانی خزائن جلد ۳

نازل ہونا برابر ہے۔ ہر ایک دانا سمجھ سکتا ہے کہ اگر خدائے تعالیٰ صادق الوعد ہے اور جو آیت خاتم النبیین میں وعدہ دیا گیا ہے اور جو حدیثوں میں بتصریح بیان کیا گیا ہے کہ اب جبرائیل بعد وفات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ کے لئے وحی نبوت لانے سے منع کیا گیا ہے یہ تمام باتیں سچ اور صحیح ہیں تو پھر کوئی شخص بحیثیت رسالت ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہرگز ۵۷ نہیں آسکتا۔ لیکن اگر ہم فرض کے طور پر مان بھی لیں کہ مسیح ابن مریم زندہ ہو کر پھر دنیا میں آئے گا تو ہمیں کسی طرح اس سے انکار نہیں ہو سکتا کہ وہ رسول ہے اور بحیثیت رسالت آئے گا اور جبرئیل کے نزول اور کلام الٰہی کے اُترنے کا پھر سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ جس طرح یہ بات ممکن نہیں کہ آفتاب نکلے اور اس کے ساتھ روشنی نہ ہو۔ اسی طرح ممکن نہیں کہ دنیا میں ایک رسول اصلاح خلق اللہ کے لئے آوے اور اس کے ساتھ وحی الٰہی اور جبرائیل نہ ہو۔ علاوہ اس کے ہر ایک عاقل معلوم کر سکتا ہے کہ اگر سلسلہ نزول جبرائیل اور کلام الٰہی کے اُترنے کا حضرت مسیح کے نزول کے وقت بکلی منقطع ہوگا تو پھر وہ قرآن شریف کو جو عربی زبان میں ہے کیوں کر پڑھ سکیں گے۔ کیا نزول فرما کر دو چار سال تک مکتب میں بیٹھیں گے اور کسی مُلّا سے قرآن شریف پڑھ لیں گے۔ اگر فرض کر لیں کہ وہ ایسا ہی کریں گے تو پھر وہ بغیر وحی نبوت کے تفصیلات مسائل دینیہ مثلاً نماز ظہر کی سُنت جو اتنی رکعت ہیں اور نماز مغرب کی نسبت١؎ جو اتنی رکعات ہیں اور یہ کہ زکوٰۃ کن لوگوں پر فرض ہے ۔ اور نصاب کیا ہے کیوں کر ۵۸ قرآن شریف سے استنباط کر سکیں گے ۔ اور یہ تو ظاہر ہو چکا ہے کہ وہ حدیثوں کی طرف رجوع بھی نہیں کریں گے۔ اور اگر وحی نبوت سے ان کو یہ تمام علم دیا جائے گا تو بلاشبہ جس کلام کے ذریعہ سے یہ تمام تفصیلات اُن کو معلوم ہوں گی وہ بوجہ وحی رسالت ہونے کے کتاب اللہ کہلائے گی۔ پس ظاہر ہے کہ اُن کے دوبارہ آنے میں کس قدر خرابیاں اور کس قدر مشکلات ہیں ۔ منجملہ اُن کے یہ بھی کہ وہ بوجہ اس کے کہ وہ قوم کے قریشی نہیں ہیں کسی حالت میں امیر نہیں ہو سکتے۔ ناچار اُن کو کسی دوسرے امام اور امیر کی بیعت کرنی پڑے گی۔ بالخصوص جبکہ

١؎ ایڈیشن اول میں سہو کتابت سے ”نسبت“ لکھا گیا ہے۔ سیاق کلام سے یہ لفظ ”سُنت“ صحیح معلوم ہوتا ہے۔

444 / 727

ازالۃ الاوہام صفحہ 614 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 432 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 157 پر درج ہے

Back

صفحہ ۱۰۳

براہین احمدیہ حصہ دوم روحانی خزائن جلد ۱

کہ جو لوگ اس تحقیق اور تدقیق کے مالک ہیں اور جن کے وید مقدس میں بجز آگ اور ہوا اور سورج اور چاند وغیرہ مخلوق چیزوں کے خدا کا پتہ بھی مشکل سے ملتا ہے وہ حضرت موسیٰ اور حضرت مسیح اور حضرت خاتم الانبیاء کو مفتری ٹھہراویں اور ان کے ادوار مبارک کو مکر اور فریب کے دور قرار دیں اور ان کی کامیابیوں کو جو تائید الٰہی کے بڑے نمونے ہیں بخت اور اتفاق پر حمل کریں اور ان کی پاک کتابیں جو خدا کی طرف سے بین ضرورتوں کے وقتوں ۱۱۲ ؎ میں ان کو ملیں جن کے ذریعہ سے بڑی اصلاح دنیا کی ہوئی وہ وید کے مضامین مسروقہ خیال کئے جائیں۔ اور تماشا یہ کہ اب تک یہ پتہ نہیں دیا گیا کہ کس طور کے سرقہ کا ارتکاب

بقیہ حاشیہ نمبر ۱

اور بت پرستی نے توحید کی جگہ نہیں لی۔ اور آئندہ بھی عقل اس پیشین گوئی کی سچائی پر کامل یقین رکھتی ہے کیونکہ جب اوائل ایام میں کہ مسلمانوں کی تعداد بھی قلیل تھی ۔ تعلیم توحید میں کچھ تزلزل واقع نہیں ہوا بلکہ روز بروز ترقی ہوتی گئی۔ تو اب کہ جماعت اس موحد قوم کی بیس کروڑ سے بھی کچھ زیادہ ہے کیونکر تزلزل ممکن ہے۔ علاوہ اس کے زمانہ بھی وہ آ گیا ہے کہ مشرکین کی طبیعتیں بباعث متواتر استماع تعلیم فرقانی اور دائمی صحبت اہل توحید کے کچھ کچھ توحید کی طرف میل کرتی جاتی ہیں۔ جدھر دیکھو دلائل وحدانیت کے بہادر سپاہیوں کی طرح شرک کے خیالی اور وہمی برجوں پر گولہ اندازی کررہے ہیں اور توحید کے قدرتی جوش نے مشرکوں کے دلوں پر ایک ہلچل ڈال رکھی ہے اور مخلوق پرستی کی عمارت کا بودا ہونا عالی خیال لوگوں پر ظاہر ہوتا جاتا ہے اور وحدانیت الٰہی کی پرزور بندوقیں شرک کے بدنما جھونپڑوں کو اڑاتی جاتی ہیں۔ پس ان تمام آثار سے ظاہر ہے کہ اب اندھیرا شرک کا ان اگلے دنوں کی طرح پھیلنا کہ جب تمام دنیا نے مصنوع چیزوں کی ٹانگ صانع کی ذات اور صفات میں پھنسا رکھی تھی۔ ممتنع اور محال ہے اور جبکہ فرقان مجید کے اصول حقہ کا محرف اور مبدل ہو جانا ۔ یا پھر ساتھ اس کے تمام خلقت پر تاریکی شرک اور مخلوق پرستی کا بھی چھا جانا عند العقل محال اور ممتنع ہوا۔ تو نفی شریعت اور نئے الہام کے نازل ہونے میں بھی امتناع عقلی لازم آیا۔ کیونکہ جو امر مستلزم محال ہو وہ بھی محال ہوتا ہے۔ پس ثابت ہوا کہ آنحضرتؐ حقیقت میں خاتم الرسل ہیں۔ منہ

براہین احمدیہ صفحہ 112 مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 103 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 157 پر درج ہے

Back

صفحہ ۱۶۴

روحانی خزائن جلد ۹ منن الرحمن

و اراعی شئون صدوق امین. و ما ھٰذا الا فضل ربی انہ ارانی اور صدوق امین کے کاموں کی حفاظت کروں اور یہ خاص فضل الٰہی ہے اسی نے مجھ کو صادقوں کی راہیں سبل الصادقین. و علمنی فاحسن تعلیمی و فھمنی فاکمل تفھیمی دکھلائیں۔ اور اس نے مجھ کو سکھلایا اور اچھا سکھلایا اور سمجھایا اور کامل سمجھایا اور وعصمنی من طرق الخاطئین. و اوحی الیّ ان الدین ھو الاسلام و ان خطا کی راہوں سے مجھے بچا لیا۔ اور مجھے الہام کیا کہ دین اللہ اسلام ہی ہے اور الرسول ھو المصطفی السید الامام رسول أمّی امین. فکما ان ربنا أحد سچا رسول مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سردار امام ہے جو رسولِ امّی امین ہے۔ پس جیسا کہ عبادت صرف خدا کے یستحق العبادۃ وحدہ فکذالک رسولنا المطاع واحد لا نبی بعدہ ولا شریک لئے مسلّم ہے اور وہ وحدہٗ لاشریک ہے اسی طرح ہمارا رسول اس بات میں واحد ہے کہ اس کی پیروی کی جاوے اور اس بات میں واحد ہے معہ و انہ خاتم النبیین. فاھتدیت بھداہ و رأیت الحق بسناہ و رفعتنی کہ وہ خاتم الانبیاء ہے۔ پس میں نے اس کی ہدایت سے ہدایت پائی اور اس کی روشنی سے میں نے حق کو دیکھا اور اس کے دونوں یداہ و ربانی ربی کما یربی عبادہ المجذوبین و ھدانی و ادرانی ہاتھوں نے مجھے اٹھا لیا اور میرے رب نے میری ایسی پرورش کی جیسا کہ وہ ان لوگوں کی پرورش کرتا ہے جن کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور اس نے مجھ کو ہدایت دی ۲۱ و ارانی ما ارانی حتی عرفت الحق بالدلائل القاطعۃ و وجدت الحقیقۃ اور علم بخشا اور دکھلایا جو دکھلایا یہاں تک کہ میں نے دلائل قاطعہ کے ساتھ حق کو پہچان لیا اور روشن براہین کے بالبراھین الساطعۃ و وصلت الی حق الیقین. فاخذنی الاسف علی ساتھ حقیقت کو پا لیا اور میں حق الیقین تک پہنچ گیا۔ تب مجھے ان دلوں پر سخت افسوس

بقیہ حاشیہ بقیہ حاشیہ : اہل علم ہیں اب دیکھو کہ کس قدر تحقیق السنہ کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اس کو خدا شناسی کا مدار ٹھہرا دیا ہے کیا کوئی ایسی آیت انجیل میں بھی موجود ہے؟ میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ ہرگز نہیں پس جائے شرم ہے +

منن الرحمٰن صفحہ 39 مندرجہ روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 164 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 157 پر درج ہے

Back

صفحہ ۴۳۱

روحانی خزائن جلد ۳ ازالۃ اوہام حصہ دوم

(۱۹) انیسویں آیت یہ ہے وَمَا أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِينَ إِلَّا إِنَّهُمْ لَيَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَيَمْشُونَ فِي الْأَسْوَاقِ ۱؂ الجزء نمبر ۱۸ سورۃ الفرقان یعنی ہم نے تجھ سے پہلے جس قدر رسول بھیجے ہیں وہ سب کھانا کھایا کرتے تھے اور بازاروں میں پھرتے تھے۔ اس آیت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اب وہ تمام نبی نہ کھانا کھاتے ہیں اور نہ بازاروں میں پھرتے ہیں اور پہلے ہم بہ نصِ قرآنی ثابت کر چکے ہیں کہ دنیوی حیات کے لوازم میں سے طعام کا کھانا ہے سو چونکہ وہ اب تمام نبی طعام نہیں کھاتے لہٰذا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ سب فوت ہوچکے ہیں جن میں بوجہ کلمہ حصر مسیح بھی داخل ہے۔

(۲۰) بیسویں آیت یہ ہے وَالَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَا يَخْلُقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ أَمْوَاتٌ غَيْرُ أَحْيَاءٍ ۙ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ ۲؂ سورۃ النحل الجزء نمبر ۱۴ یعنی جو لوگ بغیر اللہ کے پرستش کئے جاتے اور پکارے جاتے ہیں وہ کوئی چیز پیدا نہیں کر سکتے بلکہ آپ پیدا شدہ ہیں۔ مر چکے ہیں زندہ بھی تو نہیں ہیں اور نہیں جانتے کہ کب اٹھائے جائیں گے۔ دیکھو یہ آیتیں کس قدر صراحت سے مسیح اور اُن سب انسانوں کی وفات پر دلالت کررہی ہیں جن کو یہود اور نصاریٰ اور بعض فرقے عرب کے اپنا معبود ٹھہراتے تھے اور اُن سے دعائیں مانگتے تھے۔ اگر اب بھی آپ لوگ مسیح ابن مریم کی وفات کے قائل نہیں ہوتے تو سیدھے یہ کیوں نہیں کہہ دیتے کہ ہمیں قرآن کریم کے ماننے میں کلام ہے۔ قرآن کریم کی آیتیں سُن کر پھر وہیں ٹھہر نہ جانا کیا ایمانداروں کا کام ہے۔

(۲۱) اکیسویں آیت یہ ہے مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ ۳؂ یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم تم میں سے کسی مرد کا باپ نہیں ہے مگر وہ رسول اللہ ہے اور ختم کرنے والا نبیوں کا۔ یہ آیت بھی صاف دلالت کر رہی ہے کہ بعد ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کوئی رسول دنیا میں نہیں آئے گا۔ پس اس سے بھی بکمالِ وضاحت ثابت ہے کہ مسیح ابن مریم رسول اللہ دنیا میں آ نہیں سکتا۔ کیونکہ

۱؂ الفرقان: ۲۱ ۲؂ النحل: ۲۱،۲۲ ۳؂ الاحزاب: ۴۱

ازالۃ الاوہام صفحہ 331 روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 431 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 158 پر درج ہے

Back

صفحہ 200

روحانی خزائن جلد ۷ ۲۰۰ حمامة البشری

بقية الحاشية

في حديث ذُكِرَ رفع المسيح حيًّا بجسمه العنصرى، بل نجد ذكر وفاة المسيح في البخاري والطبراني وغيرهما من كتب الحديث، فليرجع إلى تلك الكتب من كان من المرتابين. وأما ذِكْرُ نزول عيسى ابن مريم فما كان لمؤمن أن يحمل هذا الاسم المذكور في الأحاديث ﴿۲۰ على ظاهر معناه، لأنه يخالف قول الله عز وجل ﴿مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِيّٖنَ﴾ ألا تعلم أن الربّ الرحيم المتفضّل سمّى نبيّنا صلى الله عليه وسلم خاتمَ الأنبياء بغير استثناء ، وفسّره نبيُّنا في قوله لَا نَبِيَّ بَعْدِي ببيان واضح للطالبين؟ ولو جوّزنا ظهورَ نبي بعد نبينا ﷺ لجوّزنا انفتاح باب وحى النبوة بعد تغليقها، وهذا خُلْفٌ كما لا يخفى على المسلمين. وكيف يجيء نبى بعد رسولنا صلعم وقد انقطع الوحى بعد وفاته وختم الله به النبيّين ـ أتعتقد كثيرا من الجاهلين.

وأما الاختلافات التي توجد في هذه الأحاديث فلا يخفى على مهرة الفن تفصيلها، وقد ذكرنا شطرًا منها في رسالتنا "الإزالة"، فليرجع الطالب إليها. وقد جاء في حديث أن المسيح والمهدي يجيئان في زمن واحد، وجاء في حديث آخر أنه لا مهدي إلا عيسى، وجاء في حديث أن المسيح والمهدى يتلاقيان ويُشاور المهدي المسيح في مهمات الخلافة، ويكون زمانهما زمانًا واحدًا. وفي حديث آخر أن المهدي يُبعث في وسط قرون هذه الأمة والمسيح ينزل في آخرها، وفي حديث من البخاري أن المسيح يجيء حكَمًا عدلًا فيكسر الصليب.. يعنى يجيء في وقت غلبة عبدة الصليب فيكسر شوكة الصليب ويقتل خنازير النصارى. وفي حديث آخر أنه يجيء في وقت غلبة الدجّال على وجه الأرض فيقتله بحربته. فاعلم أن هذا المقام مقام حيرة وتعجّب ﴿۲۱ للناظرين. وتفصيله أن مجيء المسيح لكسر صليب النصارى وقتل خنازيرهم يشهد بصوت عالٍ على أن المسيح الموعود لا يجيء إلا في وقت غلبة النصارى

۱ الاحزاب : ۴۱

یہ حوالہ صفحہ 158 پر درج ہے حوالہ نمبر 34 درج ہے روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 200 پر مرزا قادیانی

Back

صفحہ ۱۳

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۱۳ کشتی نوح

آسمان پر تم سے خدا راضی ہو تو تم باہم ایسے ایک ہو جاؤ جیسے ایک پیٹ میں سے دو بھائی ۔ تم میں سے زیادہ بزرگ وہی ہے جو زیادہ اپنے بھائی کے گناہ بخشتا ہے اور بد بخت ہے وہ جو ضد کرتا ہے اور نہیں بخشتا سو اس کا مجھ میں حصہ نہیں۔ خدا کی لعنت سے بہت خائف رہو کہ وہ قدوس اور غیور ہے بدکار خدا کا قرب حاصل نہیں کر سکتا۔ متکبر اس کا قرب حاصل نہیں کر سکتا۔ ظالم اس کا قرب حاصل نہیں کر سکتا خائن اس کا قرب حاصل نہیں کر سکتا۔ اور ہر ایک جو اس کے نام کیلئے غیرت مند نہیں اس کا قرب حاصل نہیں کر سکتا۔ وہ جو دنیا پر کتوں یا چیونٹیوں یا گِدھوں کی طرح گرتے ہیں اور دنیا سے آرام یافتہ ہیں وہ اس کا قرب حاصل نہیں کر سکتے ہر ایک ناپاک آنکھ اس سے دور ہے ہر ایک ناپاک دل اس سے بے خبر ہے وہ جو اس کے لئے آگ میں ہے وہ آگ سے نجات دیا جائے گا وہ جو اس کے لئے روتا ہے وہ ہنسے گا۔ وہ جو اس کے لئے دنیا سے توڑتا ہے وہ اس کو ملے گا تم سچے دل سے اور پورے صدق سے اور سرگرمی کے قدم سے خدا کے دوست بنو تا وہ بھی تمہارا دوست بن جائے ۔ تم ماتحتوں پر اور اپنی بیویوں پر اور اپنے غریب بھائیوں پر رحم کرو تا آسمان پر تم پر بھی رحم ہو۔ تم سچ مچ اُس کے ہو جاؤ۔ تا وہ بھی تمہارا ہو جاوے۔ دنیا ہزاروں بلاؤں کی جگہ ہے جن میں سے ایک طاعون بھی ہے سو تم خدا سے صدق کے ساتھ پنجہ مارو تا وہ یہ بلائیں تم سے دور رکھے کوئی آفت زمین پر پیدا نہیں ہوتی جب تک آسمان سے حکم نہ ہو اور کوئی آفت دور نہیں ہوتی جب تک آسمان سے رحم نازل نہ ہو سو تمہاری عقلمندی اسی میں ہے کہ تم جڑ کو پکڑو نہ شاخ کو۔ تمہیں دوا اور تدبیر سے ممانعت نہیں ہے مگر اُن پر بھروسہ کرنے سے ممانعت ہے اور آخر وہی ہوگا جو خدا کا ارادہ ہو گا اگر کوئی طاقت رکھے تو توکل کا مقام ہر ایک مقام سے بڑھ کر ہے اور تمہارے لئے ایک ضروری تعلیم یہ ہے کہ قرآن شریف کو مہجور

﴿۱۳﴾

کی طرح نہ چھوڑ دو کہ تمہاری اسی میں زندگی ہے جو لوگ قرآن کو عزت دیں گے وہ آسمان پر عزت پائیں گے جو لوگ ہر ایک حدیث اور ہر ایک قول پر قرآن کو مقدم رکھیں گے اُن کو آسمان پر مقدم رکھا جائے گا۔ نوع انسان کے لئے روئے زمین پر اب کوئی کتاب نہیں مگر قرآن۔ اور تمام آدم زادوں کیلئے اب کوئی رسول اور شفیع نہیں مگر محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سو تم کوشش کرو کہ سچی محبت اس جاہ و جلال کے نبی کے ساتھ رکھو اور اس کے غیر کو اس پر کسی نوع کی بڑائی مت دو تا آسمان پر

کشتی نوح صفحہ 15 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 13 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 158 پر درج ہے

صفحہ ۳۹۳

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۹۳ ایام الصلح

نہیں لیکن ختم نبوت کا بکمال تصریح ذکر ہے اور پُرانے یا نئے نبی کی تفریق کرنا یہ شرارت ہے نہ حدیث میں نہ قرآن میں یہ تفریق موجود ہے اور حدیث لا نبی بعدی میں بھی نفی عام ہے۔ پس یہ کس قدر جرأت اور دلیری اور گستاخی ہے کہ خیالاتِ رکیکہ کی پیروی کر کے نصوصِ صریحہ قرآن کو عمداً چھوڑ دیا جائے اور خاتم الانبیاء کے بعد ایک نبی کا آنا مان لیا جائے اور بعد اس کے جو وحی نبوت منقطع ہو چکی تھی پھر سلسلہ وحی نبوت کا جاری کر دیا جائے کیونکہ جس میں شان نبوت باقی ہے اُس کی وحی بلاشبہ نبوت کی وحی ہوگی۔ افسوس یہ لوگ خیال نہیں کرتے کہ مسلم اور بخاری میں فقرہ اِمَامُكُمْ مِّنْكُمْ اور اَمَّكُمْ مِّنْكُمْ صاف موجود ہے۔ یہ جواب سوال مقدر کا ہے یعنی جبکہ ﴿۱۴۷﴾ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں مسیح ابن مریم حَکَم عدل ہو کر آئے گا تو بعض لوگوں کو یہ وسوسہ دامنگیر ہو سکتا تھا کہ پھر ختم نبوت کیونکر رہے گا۔ اس کے جواب میں یہ ارشاد ہوا کہ وہ تم میں سے ایک امتی ہوگا اور بروز کے طور پر مسیح بھی کہلائے گا۔ ☆ چنانچہ مسیح کے مقابل پر جو مہدی کا آنا لکھا ہے اس میں بھی یہ اشارات موجود ہیں کہ مہدی بروز کے طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت کا مورد ہوگا۔ اسی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اُس کا خلق میرے خلق کی طرح ہوگا اور یہ حدیث کہ لَا مَهْدِیَّ اِلَّا عِيْسٰی ایک لطیف اشارہ اس بات کی طرف کرتی ہے کہ وہ آنے والا ذوالبروزین ہو گا اور دونوں شانیں مہدویت اور مسیحیت کی اُس میں جمع ہوں گی یعنی اس وجہ سے کہ اُس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت اثر کرے گی مہدی کہلائے گا کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی مہدی تھے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

☆ نوٹ: اگر حدیث میں یہ مقصود ہوتا کہ عیسیٰ باوجود نبی ہونے کے پھر امتی بن جائے گا تو حدیث کے لفظ یوں ہونے چاہیے تھے۔ اِمَامُكُمْ الَّذِىْ يَصِيْرُ مِنْ أُمَّتِیْ بَعْدَ نُبُوَّتِهٖ یعنی تمہارا امام جو نبوت کے بعد میری اُمت میں سے ہو جائے گا۔ منہ

ایام الصلح صفحہ 167 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 393 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 159 پر درج ہے

صفحہ ۲۱۷

روحانی خزائن جلد ۱۳ کتاب البریہ

﴿۱۸۴﴾ کرتے تھے میں مٹھیاں بھرتا تھا۔ اور وہ مجھ سے پیار کیا کرتے تھے۔ مرزا صاحب نے کہا تھا کہ ۲۰، ۳۰ سیر کا پتھر اٹھا کر سوتے وقت یا اور موقعہ پا کر کلارک صاحب کو مارنا اور مار دینا۔ میں نے یہ سب حال قطب الدین کو بتلایا تھا۔ اور اس نے کہا تھا کہ بیشک تو یہ کام کر اور میرے پاس چلا آ۔ (بسوال عدالت) اس وقت برہان الدین اور سلطان محمود مجھ سے ناراض ہیں کہ میرا روپیہ و جائداد ان کے پاس ہے اور وہ دینا نہیں چاہتے۔ مولوی نورالدین کے پاس اس واسطے خط بھیجا تھا کہ مرزا صاحب اور وہ ایک ہی ہیں۔ جب میں امرتسر ہسپتال میں تھا میرا کوئی تعلق قطب الدین سے نہیں رہا تھا اور نہ کسی کے پاس میں نے کوئی خط لکھا تھا۔ خط ؂۱ میں میں نے بیاس میں

بقیہ حاشیہ

﴿۱۸۴﴾ غیر معقول بات ہرگز مقصود نہ تھی کہ ایک نبی جو اپنی زندگی کے دن پورے کر کے عادۃ اللہ کے موافق خدا تعالیٰ اور نعیم آخرت کی طرف بلایا گیا پھر وہ اس دار تکالیف اور دارالمحن میں بھیجا جائے گا اور وہ نبوت جس پر مہر لگ چکی ہے اور وہ کتاب جو خاتم الکتب ہے فضیلت ختمیت سے محروم رہ جائے گی۔ بلکہ نہایت لطیف استعارہ کے طور پر یہ پیشگوئی کی گئی کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ جب عیسائی لوگ اپنی مخلوق پرستی اور صلیب کے باطل خیالات میں انتہا درجہ کے تعصب تک پہنچ جائیں گے اور اپنی کمال تحریف اور دجل کی وجہ سے مسیح دجال ہو جائیں گے تب خدا تعالیٰ اپنی رحمت سے ان کی اصلاح کے لئے ایک آسمانی مسیح پیدا کرے گا جو دلائل شافیہ سے ان کی صلیب کو توڑ دے گا۔

اس پیشگوئی کے سمجھنے میں اہل عقل اور تدبر کرنے والوں کے لئے کچھ بھی دقت نہ تھی کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ مقدسہ ایسے صاف تھے کہ خود اس مطلب کی طرف رہبری کرتے تھے کہ ہرگز اس پیشگوئی میں نبی اسرائیلی کا دوبارہ دنیا میں آنا مراد نہیں ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار فرما دیا تھا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور حدیث لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ ایسی مشہور تھی کہ کسی کو اس کی صحت میں کلام نہ تھا اور قرآن شریف جس کا لفظ لفظ قطعی ہے اپنی آیت کریمہ

یہ حوالہ صفحہ 159 پر درج ہے | کتاب البریہ صفحہ 199۔200 مطبوعہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 217۔218 از مرزا قادیانی

Back

صفحہ 218

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۱۸ کتاب البریہ

۱۸۰ ڈاکٹر صاحب کو لکھا تھا۔ (بسوال وکیل ملزم) لقمان جب میں چھ سال کی عمر کا تھا مر گیا تھا۔ میں نے ۷۷ روپیہ بغیر علم سلطان محمود کے گھر سے لئے تھے۔ گھر والی عورتوں کو اطلاع کر دی تھی اور نہر پر چلا گیا تھا۔ میرے دو بھائی اور محمد کامل و محمد عالم گھر پر ہیں۔ میں نے محمد عالم کا زیور نہیں لیا۔ اس نے جھوٹا دعویٰ کیا تھا کہ اس کے پاس میرا روپیہ تھا۔ پانچ چھ سال کی بات ہے۔ باپ کی زمین پر دوسرے بھائی میرے قابض ہیں۔ حصہ پیداوار لیتا ہوں وہ میری طرف سے کاشت کرتے ہیں۔ جائداد کی وجہ سے اور سوتیلے بھائی ہونے کی وجہ سے مجھ سے خفا رہتے ہیں۔ سات ماہ سے جہلم سے نکلا ہوا ہوں۔ برہان الدین کا لڑکا محمد کامل کی لڑکی سے منسوب ہے

بقیہ حاشیہ ۱۸۱ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ ۱؂ نے بھی اس بات کی تصدیق کرنا تھا کہ فی الحقیقت ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت ختم ہو چکی ہے۔ پھر کیونکر ممکن تھا کہ کوئی نبی نبوت کے حقیقی معنوں کے رو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تشریف لاوے۔ اس سے تو تمام تار و پود اسلام درہم برہم ہو جاتا تھا۔ اور یہ کہنا کہ ”حضرت عیسیٰ نبوت سے معطل ہو کر آئے گا“۔ نہایت بے حیائی اور گستاخی کا کلمہ ہے۔ کیا خدا تعالیٰ کے مقبول اور مقرب نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسے اپنی نبوت سے معطل ہو سکتے ہیں؟ پھر کون سا راہ اور طریق تھا کہ خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ دنیا میں آتے۔ غرض قرآن شریف میں خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام خاتم النبیین رکھ کر اور حدیث میں خود آنحضرت نے لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ فرما کر اس امر کا فیصلہ کر دیا تھا کہ کوئی نبی نبوت کے حقیقی معنوں کے رو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہیں آ سکتا اور پھر اس بات کو زیادہ واضح کرنے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرما دیا تھا کہ آنے والا مسیح موعود اسی امت میں سے ہوگا۔ چنانچہ صحیح بخاری کی حدیث اِمَامُکُمْ مِنْکُمْ اور صحیح مسلم کی حدیث فَاَمَّکُمْ مِنْکُمْ جو عین مقام ذکر مسیح موعود میں ہے صاف طور پر بتا رہی ہے کہ وہ مسیح موعود اسی امت میں سے ہوگا۔ !!! پھر دوسرا فیصلہ کہ جو اس بارے میں قرآن اور حدیث نے کر دیا یہ موجود تھا کہ

۱؂ الاحزاب: ۴۱

کتاب البریہ صفحہ 199، 200 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 217، 218 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 159 پر درج ہے

Back

صفحہ ۹۵

روحانی خزائن جلد ۱۲ سراج منیر

کس بچشم یار صدیقے نہ شد تا بچشم غیر زندیقے نہ شد
کافرم گفتند و دجال و لعین بہر قتلم ہر لئیمے درکمین

﴿ح﴾

بنگر ایں بازی کناں راچون جہند از حسد برجان خود بازی کنند
مومنے را کافرے دادن قرار کار جاں بازیست نزد ہوشیار
زانکہ تکفیرے کہ از ناحق بود واپس آید بر سر اہلش فتد
سفلۂ کو غرق در کفر نہاں ہرزہ نالد بہرکفر دیگران
گر خبر زان کفر باطن داشتے خویشتن را بدترے انگاشتے
تامرا از قوم خود ببریدہ اند بہر تکفیرم چہا کوشیدہ اند
افتراہا پیش ہرکس بردہ اند وزخباثتہا سخن پروردہ اند
تا مگر لغزد کسے زاں افترا سادہ لوحے کافر انگارد مرا
در رہ ما فتنہ ہا انگیختند با نصاریٰ رائے خود آمیختند
کافرم خواندند از جہل و عناد ایں چنیں کورے بدنیا کس مباد
بخل و نادانی تعصب ہا فزود کیں بجوشید و دوچشم شان ربود
ما مسلمانیم از فضل خدا مصطفیٰ ما را امام و مقتدا
اندرین دین آمدہ از ما دریم ہم برین از دار دنیا بگذریم
آن کتاب حق کہ قرآن نام اوست بادۂ عرفاں ما از جام اوست
آں رسولے کش محمد ہست نام دامن پاکش بدست ما مدام
مہر او باشیر شد اندر بدن جان شد و باجان بدر خواہد شدن
ہست او خیر الرسل خیرالانام ہر نبوت را بروشد اختتام
ما ازو نوشیم ہر آبے کہ ہست زو شدہ سیراب سیرابے کہ ہست
آنچہ مارا وحی و ایمائے بود آں نہ از خود ازہماں جائے بود
ما ازو یابیم ہر نور و کمال وصل دلدار ازل بے او محال
اقتدائے قول او درجان ماست ہرچہ زو ثابت شود ایمان ماست

سراج منیر صفحہ 8 مندرجہ روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 93 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 159 پر درج ہے

Back

صفحہ ۱۹

براہین احمدیہ حصہ اوّل ۱۹ روحانی خزائن جلد ۱

آفتاب و مہ چہ میماند بدو در دلش از نور حق صد نیرے
یک نظر بہتر ز عمر جاودان گرفتہ کس را برآن خوش پیکرے
منکہ از حسنش ہمی دارم خبر جان فشانم گر دہد دل دیگرے
یاد آن صورت مرا از خود برد ہر زمان مستم کند از ساغرے
می پریدم سوئے کوئے او مدام من اگر میداشتم بال و پرے
لالہ و ریحان چہ کار آید مرا من سرے دارم بآں روے و سرے
خوبیٔ او دامن دل می کشد موکشانم می برد زور آورے
دیدہ ام کو ہست نور دیدہ ہا در اثر مہرش چو مہر انورے
تافت آن روئے کزاں رو سر بتافت یافت آن درمان کہ بگزید آں درے
ہر کہ بے او زد قدم در بحر دین کرد در اول قدم گم معبرے
اُمی و در علم و حکمت بے نظیر زین چہ باشد حجتی روشن ترے
آن شراب معرفت دادش خدا کز شعاعش خیرہ شد ہر اخترے
شد عیان از وے علیٰ الوجہ الاتم جوہر انسان کہ بود آں مضمرے
ختم شد بر نفس پاکش ہر کمال لا جرم شد ختم ہر پیغمبرے
آفتاب ہر زمین و ہر زمان رہبر ہر اسود و ہر احمرے
مجمع البحرین علم و معرفت جامع الامین ابر و خاورے

۱۱

چشم من بسیار گردید و ندید چشمہ چون دین او صافے ترے
سالکان را نیست غیر از وے امام رہروان را نیست جز وے رہبرے
جائے او جائے کہ طیر قدس را سوزد از انوار آں بال و پرے
آں خداوندش بداد آں شرع و دین کاں نگردد تا ابد متغیرے
تافت اول بُرد بار تازیان تازیانش را شود درمان گرے

براہین احمدیہ ضمیمہ صفحہ 10 مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 19 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 160 پر درج ہے

صفحہ ۳۵۲

روحانی خزائن جلد ۹ نور القرآن نمبر ۱ )

۱۶ تنزیل قرآن اور تکمیل نفوس سے کامل نہ کیا گیا ٭ اور یہی ایک خاص علامت منجانب اللہ

بقیہ حاشیہ: ہے کہ بت پرستی کے خیال کو بھی عیسیٰ پرستی کے خیال نے ہی قوت دی اور عیسائیوں کی ریس سے وہ لوگ بھی مخلوق پرستی پر زیادہ جم گئے۔ یادر ہے کہ عرب کے جنگلی لوگ شراب کو جانتے بھی نہیں تھے کہ کس بلا کا نام ہے مگر جب حضرات عیسائی وہاں پہنچے اور انہوں نے بعض نومریدوں کو بھی تحفہ دیا۔ تب تو یہ خراب عادت دیکھا دیکھی عام طور پر پھیل گئی اور نماز کے پانچ وقتوں کی طرح شراب کے پانچ وقت مقرر ہو گئے۔ یعنی جاشریہ ۱ صبح قبل طلوع آفتاب کی شراب ہے۔ صبوح ۲ جو بعد طلوع کے شراب پی جاتی ہے۔ غبوق ۳ جو ظہر اور عصر کی شراب کا نام ہے۔ قیل ۴ جو دوپہر کی شراب کا نام ہے۔ فحتم ۵ جو رات کی شراب کا نام ہے۔ اسلام نے ظہور فرما کر یہ تبدیلی کی۔ جو ان پانچ وقتوں کے شرابوں کی جگہ پانچ نمازیں مقرر کر دیں اور ہر ایک بدی کی جگہ نیکی رکھ دی اور مخلوق پرستی کی جگہ خدا تعالیٰ کا نام سکھا دیا۔ اس پاک تبدیلی سے انکار کرنا کسی سخت بدذات کا کام ہے نہ کسی سعید انسان کا کیا کوئی مذہب ایسی بزرگ تبدیلی کا نمونہ پیش کر سکتا ہے ہرگز نہیں اور اس وقت ہم عیسائیوں کے اقراری اشعار میں سے اسی پر کفایت کرتے ہیں۔ لیکن اگر کسی نے چوں چرا کیا تو کئی سو اسی طور کے شعر ان کی نذر کیا جائے گا مگر میں یقین رکھتا ہوں کہ اس موقعہ پر کوئی بھی نہیں بولے گا۔ کیونکہ ایسے ہزار ہا شعر جو جرائم ورزی کے اقرار پر مشتمل ہیں کیونکر چھپ سکتے ہیں۔

اب کوئی پادری ٹھا کر داس صاحب سے جنہوں نے عدم ضرورت قرآن پر ناحق بے جا تعصب سے یاوہ گوئی کی ہے پوچھے کہ کیا اب بھی ضرورت قرآن کے بارے میں آپ کو اطلاع ہوئی یا نہیں یا کیا ہم نے ثابت نہیں کر دیا کہ قرآن اس وقت نازل ہوا کہ جب تمام عیسائی جذامیوں کی طرح گل سڑ گئے

٭ حاشیہ: خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں صحابہ کو مخاطب کیا کہ میں نے تمہارے دین کو کامل کیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کی اور آیت کو اس طور سے نہ فرمایا کہ اے نبی آج میں نے قرآن کو کامل کر دیا۔ اس میں حکمت یہ ہے کہ تا ظاہر ہو کہ صرف قرآن کی تکمیل نہیں ہوئی بلکہ ان کی بھی تکمیل ہوگئی کہ جن کو قرآن پہنچایا گیا اور رسالت کی علت غائی کمال تک پہنچ گئی۔ منہ

نورالقرآن صفحہ 23 مندرجہ روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 352 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 160 پر درج ہے

Back

صفحہ ۳۶۷

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۶۷ اسلامی اصول کی فلاسفی

چشمہ سے مالا مال کرنے کو تیار ہے جیسا کہ پہلے تھا اور اب بھی اس کے فیضان کے ایسے دروازے کھلے ہیں جیسے کہ پہلے تھے۔ ہاں ضرورتوں کے ختم ہونے پر شریعتیں اور حدود ختم ہو گئے اور تمام رسالتیں اور نبوتیں اپنے آخری نقطہ پر آکر جو ہمارے سید ومولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود تھا۔ کمال کو پہنچ گئیں۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عرب سے ظاہر ہونے میں حکمت

اس آخری نور کا عرب سے ظاہر ہونا بھی خالی حکمت سے نہ تھا۔ عرب وہ بنی اسماعیل کی قوم تھی جو اسرائیل سے منقطع ہوکر حکمت الٰہی سے بیابان فاران میں ڈال دی گئی تھی اور فاران کے معنی ہیں دو فرار کرنے والے یعنی بھاگنے والے ۔ پس جن کو خود حضرت ابراہیم ؑ نے بنی اسرائیل سے علیحدہ کر دیا تھا اُن کا توریت کی شریعت میں کچھ حصہ نہیں رہا تھا۔جیسا کہ لکھا ہے کہ وہ اسحاقؑ کے ساتھ حصہ نہیں پائیں گے۔ پس تعلق والوں نے انہیں چھوڑ دیا اور کسی دوسرے سے ان کا تعلق اور رشتہ نہ تھا۔ اور دوسرے تمام ملکوں میں کچھ کچھ رسوم عبادات اور احکام کی پائی جاتی تھیں جن سے پتہ لگتا ہے کہ کسی وقت ان کو نبیوں کی تعلیم پہنچی تھی۔ مگر صرف عرب کا ملک ہی ایک ایسا ملک تھا جو ان تعلیموں سے محض ناواقف تھا اور تمام جہان سے پیچھے رہا ہوا تھا۔ اس لئے آخر میں اُس کی نوبت آئی اور اس کی نبوت عام ٹھہری تا تمام ملکوں کو دوبارہ برکات کا حصہ دیوے

﴿۴۰﴾

اور جو غلطی پڑ گئی تھی اس کو نکال دے۔ پس ایسی کامل کتاب کے بعد کس کتاب کا انتظار کریں جس نے سارا کام انسانی اصلاح کا اپنے ہاتھ میں لے لیا اور پہلی کتابوں کی طرح صرف ایک قوم سے واسطہ نہیں رکھا۔ بلکہ تمام قوموں کی اصلاح چاہی اور انسانی تربیت کے تمام مراتب بیان فرمائے ۔ وحشیوں کو انسانیت کے آداب سکھائے ۔ پھر انسانی صورت بنانے کے بعد اخلاق فاضلہ کا سبق دیا۔

قرآن کریم کا دنیا پر احسان

یہ قرآن نے ہی دنیا پر احسان کیا کہ طبعی حالتوں اور اخلاق فاضلہ میں فرق کر کے دکھلایا۔

اسلامی اصول کی فلاسفی صفحہ 53 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 367 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 160 پر درج ہے

صفحہ ۳۴۰

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۳۴۰ چشمہ معرفت

میں اکیلا اپنے خدا کی جناب میں کسی امر کے لئے رجوع کروں تو خدا میری ہی تائید کرے گا مگر نہ اس لئے کہ سب سے میں ہی بہتر ہوں بلکہ اس لئے کہ میں اُس کے رسول پر دلی صدق سے ایمان لایا ہوں اور جانتا ہوں کہ تمام نبوتیں اُس پر ختم ہیں اور اُس کی شریعت خاتم الشرائع ہے مگر ایک قسم کی نبوت ختم نہیں یعنی وہ نبوت جو اُس کی کامل پیروی سے ملتی ہے اور جو اُس کے چراغ میں سے نور لیتی ہے وہ ختم نہیں کیونکہ وہ محمدی نبوت ہے یعنی اُس کا ظل ہے اور اُسی کے ۳ ذریعہ سے ہے اور اُسی کا مظہر ہے ٭ اور اُسی سے فیضیاب ہے۔ خدا اُس شخص کا دشمن ہے جو قرآن شریف کو منسوخ کی طرح قرار دیتا ہے اور محمدی شریعت کے برخلاف چلتا ہے اور اپنی شریعت چلانا چاہتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی نہیں کرتا بلکہ آپ کچھ بننا چاہتا ہے۔ مگر خدا اُس سے پیار کرتا ہے جو اس کی کتاب قرآن شریف کو اپنا دستور العمل قرار دیتا ہے اور اُس کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ

صفحہ ۱۵۶

روحانی خزائن جلد ۶ جنگ مقدس

سے انکار کر دیا پھر اس سے بھی عجب طرح کا ایک اور مقام دیکھئے کہ جب مسیح صلیب پر کھینچے گئے تو تب یہودیوں نے کہا کہ اُس نے اوروں کو بچایا پر آپ کو نہیں بچا سکتا اگر اسرائیل کا بادشاہ ہے تو اب صلیب سے اُتر آوے تو ہم اسپر ایمان لاویں گے اب ذرا نظر غور سے اس آیت کو سوچیں کہ یہودیوں نے صاف عہد اور اقرار کر لیا تھا کہ اب صلیب سے اُتر آوے تو وہ ایمان لاویں گے لیکن حضرت مسیح اُتر نہیں سکے ان تمام مقامات سے صاف ظاہر ہے کہ نشان دکھلانا اقتداری طور پر انسان کا کام نہیں ہے بلکہ خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے جیسا کہ ایک اور مقام میں حضرت مسیح فرماتے ہیں یعنی متی ب ۱۲۔آیت ۳۸ کہ اس زمانہ کے بد اور حرام کار لوگ نشان ڈھونڈتے ہیں پر یونس نبی کے نشان کے سوا کوئی نشان دکھلایا نہ جائیگا اب دیکھئے کہ اس جگہ حضرت مسیح نے اُنکی درخواست کو منظور نہیں کیا بلکہ وہ بات پیش کی جو خدا تعالیٰ کی طرف سے اُنکو معلوم تھی اسی طرح مَیں بھی وہ بات پیش کرتا ہوں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھ کو معلوم ہے میرا دعوٰیٰ نہ خدائی کا اور نہ اقتدار کا اور مَیں ایک مسلمان آدمی ہوں جو قرآن شریف کی پیروی کرتا ہوں اور قرآن شریف کی تعلیم کے رُو سے اس موجودہ نجات کا مدعی ہوں ۔ میرا نبوت کا کوئی دعوٰی نہیں یہ آپ کی غلطی ہے یا آپ کسی خیال سے کہہ رہے ہیں کیا یہ ضروری ہے کہ جو الہام کا دعویٰ کرتا ہے وہ نبی بھی ہو جائے مَیں تو محمدی اور کامل طور پر اللہ و رسول کا متبع ہوں اور ان نشانوں کا نام معجزہ رکھتا نہیں چاہتا بلکہ ہمارے مذہب کی رُو سے ان نشانوں کا نام کرامات ہے جو اللہ رسول کی پیروی سے دیئے جاتے ہیں تو پھر مَیں دعوتِ حق کی غرض سے دوبارہ اتمامِ حُجّت کرتا ہوں کہ یہ حقیقی نجات اور حقیقی نجات کے برکات اور ثمرات صرف اُنھیں لوگوں میں موجود ہیں جو حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنے والے اور قرآن کریم کے احکام کے سچے تابعدار ہیں اور میرا دعویٰ قرآن کریم کے مطابق صرف اتنا ہے کہ اگر کوئی حضرت عیسائی صاحب اس نجات حقیقی کے منکر ہوں جو قرآن کریم

جنگ مقدس صفحہ 74 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 156 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 161 پر درج ہے

Back

صفحہ ٢٣٠

مجموعہ اشتہارات جلد اول

(۶۱) بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَاَنْتَ خَيْرُ الْفَاتِحِيْنَ

ایک عاجز مسافر کا اشتہار قابل توجہ

جمیع مسلمانان انصاف شعار و حضرات

علمائے نامدار

اے اخوان مومنین اے برادران سکنان دہلی ومتوطنان ایں سرزمین !!! بعد سلام مسنون و دعائے درویشانہ آپ سب صاحبوں پر واضح ہو کہ اس وقت یہ حقیر غریب الوطن چند ہفتے کے لئے آپ کے اس شہر میں مقیم ہے اور اس عاجز نے سُنا ہے کہ اس شہر کے بعض اکابر علماء میری نسبت یہ الزام مشہور کرتے ہیں کہ یہ شخص نبوت کا مدعی ملائک کا منکر بہشت و دوزخ کا انکاری اور ایسا ہی وجود جبریل اور لیلۃ القدر اور معجزات اور معراج نبوی سے بکلی منکر ہے ۔ لہٰذا میں اظہاراً للحق عام و خاص اور تمام بزرگوں کی خدمت میں گذارش کرتا ہوں کہ یہ الزام سراسر افتراء ہے ۔ میں نہ نبوت کا مدعی ہوں اور نہ معجزات اور ملائک اور لیلۃ القدر وغیرہ سے منکر۔ بلکہ میں ان تمام امور کا قائل ہوں جو اسلامی عقائد میں داخل ہیں ۔ اور جیسا کہ اہلسنت جماعت کا عقیدہ ہے ان سب باتوں کو مانتا ہوں ۔ جو قرآن اور حدیث کی رُو سے مسلم الثبوت ہیں ۔ اور سیدنا و مولانا حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو کاذب

صفحہ ۲۳۱

مجموعہ اشتہارات جلد 1

اور کافر جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی رسالت حضرت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب رسول اللہ محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہو گئی۔ اٰمنت بالله وملئكته وكتبه ورسله والبعث بعد الموت و اٰمنت بكتاب الله العظيم القرآن الكريم ۔ واتبعت افضل رسل الله وخاتم انبياء الله محمداً المصطفىٰ و انا من المسلمين ۔ واشهد ان لا اله الا الله وحده لاشريك له واشهد ان محمداً عبده ورسوله ۔ رب احينى مسلما وتوفنى مسلما واحشرنی فى عبادك المسلمين ۔ وانت تعلم ما فى نفسى ولا يعلم غيرك وانت خير الشاهدين ۔ اس میری تحریر پر ہر ایک شخص گواہ رہے اور خداوند علیم و خبیر اول الشاہدین ہے کہ میں ان تمام عقائد کو مانتا ہوں جن کے ماننے کے بعد ایک کافر بھی مسلمان تسلیم کیا جاتا ہے اور جن پر ایمان لانے سے ایک غیر مذہب کا آدمی بھی عموماً مسلمان کہلانے لگتا ہے ۔ میں ان تمام امور پر ایمان رکھتا ہوں جو قرآن کریم اور احادیث صحیحہ میں درج ہیں اور مجھے مسیح ابن مریم ہونے کا دعوےٰ نہیں اور نہ میں تناسخ کا قائل ہوں ۔ بلکہ مجھے تو فقط مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ ہے جس طرح محدثیت نبوت سے مشابہ ہے ایسا ہی میری رُوحانی حالت مسیح ابن مریم کی رُوحانی حالت سے اشد درجہ کی مناسبت رکھتی ہے۔ غرض میں ایک مسلمان ہوں۔ ایہا المسلمون انا منکم و امامکم منکم بامراللہ تعالٰے خلاصہ کلام یہ کہ میں محدث اللہ ہوں اور مامور من اللہ ہوں اور بایں ہمہ مسلمانوں میں سے ایک مسلمان ہوں جو صدی چہار دہم کے لئے مسیح ابن مریم کی خصلت اور رنگ میں مجدد دین ہو کر ربّ السمٰوات والارض کی طرف سے آیا ہوں۔ میں مفتری نہیں ہوں وقد خاب من افترىٰ ۔ خدا تعالٰی نے دنیا پر نظر کی اور اس کو ظلمت میں پایا اور مصلحت عباد کے لئے ایک اپنے عاجز بندہ کو خاص کر دیا۔ کیا تمہیں اس سے کچھ تعجب ہے کہ وعدہ کے موافق صدی کے سر پر ایک مجدد بھیجا گیا اور جس نبی کے رنگ میں چاہا۔

مجو ۴

صفحہ ۲۹۷

مجموعہ اشتہارات جلد دوم

سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انتہائی میعاد اثر مباہلہ کی ایک برس رکھا ہے۔ ہاں یہ سچ ہے کہ آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا تعالیٰ سے وحی پا کر اپنے مباہلہ کا اثر بہت جلد مباہلین پر وارد ہونے والا بیان فرمایا ہے۔ سو اس سے برس کی میعاد منسوخ نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ حدیث میں جو ایک برس کی قید ہے اس سے بھی یہ مراد نہیں ہے کہ برس کا پورا گذر جانا ضروری ہے۔ بلکہ مراد یہ ہے کہ برس کے اندر عذاب نازل ہو۔ گو دو منٹ کے بعد نازل ہو جائے۔ سو میں بھی اس بات پر ضد نہیں کرتا کہ ضرور برس پورا ہو جائے۔ شاید خدا تعالیٰ بہت جلد اس تکفیر اور تکذیب کی پاداش میں آسمانی عذاب نازل کرے۔ مگر مجھے معلوم نہیں کہ برس کے کس حصہ میں یہ عذاب نازل ہوگا۔ آیا ابتداء میں یا درمیان میں یا اخیر میں۔ اور میں مامور ہوں کہ مباہلہ کے لئے برس کی میعاد پیش کروں۔ اور مولوی صاحب موصوف اور ہر ایک شخص خوب جانتا ہے کہ برس کی میعاد مسنون ہے۔ کیونکہ لما حال الحول کا وہ لفظ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلا ہے۔ اگر مباہلہ کے لئے فوراً عذاب نازل ہونا شرط ہوتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حول کا لفظ مونہہ سے نہ نکالتے کیونکہ اس صورت میں کلام میں تناقض پیدا ہو جاتا ہے۔

ہاں یہ بات صحیح اور درست ہے کہ اگر مولوی غلام دستگیر صاحب مباہلہ میں کاذب اور کافر اور مفتری پر بمقابلہ مومن اور راستباز کے فوری عذاب نازل ہونا ضروری سمجھتے ہیں تو بہت خوب ہے ۔ وہ اپنا فوری عذاب ہم پر نازل کر کے دکھلاویں۔ ان کا یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ "میں تو نبوت کا مدعی نہیں کہ تا فوری عذاب نازل کروں" ان پر واضح رہے کہ ہم بھی نبوت کے مدعی پر لعنت بھیجتے ہیں اور لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ کے قائل ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔ اور وحی نبوت نہیں بلکہ وحی ولایت جو زیر سایہ نبوت محمدیہ اور باتباع

صفحہ ۲۹۷

روحانی خزائن جلد ۷ ۲۹۷ حمامة البشرى

وما قلت للناس إلا ما كتبت في كتبي من أنني محدَّث ويكلمني الله كما يكلّم المحدَّثين . والله يعلم أنه أعطاني هذه المرتبة، فكيف أردّ ما أعطاني الله ورزقني من رزق.. أأعرض عن فيض ربّ العالمين وما كان لي أن أدّعى النبوة وأخرج من الإسلام وألحق بقوم كافرين. وها إنني لا أصدّق إلهامًا من إلهاماتي إلا بعد أن أعرضه على كتاب الله، وأعلم أنه كل ما يخالف القرآن فهو كذب وإلحاد وزندقة، فكيف أدّعى النبوة وأنا من المسلمين؟ وأحمد الله على أني ما وجدت إلهامًا من إلهاماتي يخالف كتاب الله، بل وجدت كلها موافقا بكتاب رب العالمين.

ومن الناس من يقول إن باب الإلهام مسدودٌ على هذه الأمة، وما تدبَّرَ في القرآن حق التدبر، وما لقى المُلهَمين. فاعلم أيها الرشيد أن هذا القول باطل بالبداهة، ويخالف الكتاب والسنة وشهادات الصالحين. أما كتاب الله.. فأنت تقرأ في القرآن الكريم آياتٍ تؤيد قولنا هذا، وقد أخبر الله تعالى في كتابه المحكم عن بعض رجال ونساء كلّمهم ربهم وخاطبهم وأمرهم ونهاهم، وما كانوا من الأنبياء ولا رسل رب العالمين. ألا تقرأ في القرآن "لَا تَخَافِي وَلَا تَحْزَنِي ۖ إِنَّا رَادُّوهُ إِلَيْكِ وَجَاعِلُوهُ مِنَ الْمُرْسَلِينَ "١.

فتدبَّرْ أيها المنصف العاقل كيف لا يجوز مكالماتُ الله ببعض رجال هذه الأمة التي هي خير الأمم وقد كلّم الله نساءَ قومٍ خلوا من قبلكم، وقد أتاكم مثل الأولين فإن كان بعض الناس في شك من إلهامي، وكان لهم

﴿٨٠﴾

عجبٌ من أن يخاطب الله أحدا من هذه الأمة ويكلّمه من غير أن يكون نبيّا.. فلمَ لا يحكِّمون القرآن فيما شجر بينهم؟ ولِمَ لا يردّون الأمر إلى الله ورسوله إن كانوا مؤمنين وقد قال الله تعالى : لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَوةِ

١ القصص:٨

حمامة البشرى صفحہ 131 مندرجہ روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 297 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 161، 162 پر درج ہے

صفحہ ۳۲۷

روحانی خزائن جلد ۴ آسمانی فیصلہ

﴿۴﴾

ساٹھ یا ستر ہزار کے قریب مسلمان ہوگا لیکن ان میں سے واللہ اعلم شاذ و نادر کوئی ایسا فرد ہو گا جو اس عاجز کی نسبت گالیوں اور لعنتوں اور ٹھٹھوں کے کرنے یا سننے میں شریک نہ ہوا ہو یہ تمام ذخیرہ میاں صاحب کے ہی اعمال نامہ سے متعلق ہے جس کو انہوں نے اپنی زندگی کے آخری دنوں میں اپنی عاقبت کیلئے اکٹھا کیا انہوں نے سچی گواہی پوشیدہ کر کے لاکھوں دلوں میں جما دیا کہ در حقیقت یہ شخص کافر اور لعنت کے لائق اور دین اسلام سے خارج ہے اور میں نے انہیں دنوں میں جب کہ میں دہلی میں مقیم تھا شہر میں تکفیر کا عام غوغا دیکھ کر ایک خاص اشتہار انہیں میاں صاحب کو مخاطب کر کے شائع کیا اور چند خط بھی لکھے اور نہایت انکسار اور فروتنی سے ظاہر کیا کہ میں کافر نہیں ہوں۔ اور خدائے تعالیٰ جانتا ہے کہ میں مسلمان ہوں اور ان سب عقائد پر ایمان رکھتا ہوں جو اہل سنت والجماعت مانتے ہیں اور کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا قائل ہوں اور قبلہ کی طرف نماز پڑھتا ہوں اور میں نبوت کا مدعی نہیں بلکہ ایسے مدعی کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں اور یہ بھی لکھا کہ میں ملائک کا منکر بھی نہیں بخدا میں اسی طرح ملائک کو مانتا ہوں جیسا کہ شرع میں مانا گیا اور یہ بھی بیان کیا کہ میں لیلۃ القدر کا بھی انکاری نہیں بلکہ میں اس لیلۃ القدر پر ایمان رکھتا ہوں جس کی تصریح قرآن اور حدیثوں میں وارد ہو چکی ہے اور یہ بھی ظاہر کر دیا کہ میں وجود جبرائیل اور وحی رسالت پر ایمان رکھتا ہوں انکاری نہیں اور نہ حشر و نشر اور یوم البعث سے منکر ہوں اور نہ خام خیال نیچریوں کی طرح اپنے مولیٰ کی کامل عظمتوں اور کامل قدرتوں اور اس کے نشانوں میں شک رکھتا ہوں اور نہ کسی استبعاد عقلی کی وجہ سے معجزات کے ماننے سے منہ پھیرنے والا ہوں اور کئی دفعہ میں نے عام جلسوں میں ظاہر کیا کہ خدائے تعالیٰ کی غیر محدود قدرتوں پر میرا یقین ہے بلکہ میرے نزدیک قدرت کی غیر محدودیت الوہیت کا ایک ضروری لازمہ ہے اگر خدا کو مان کر پھر کسی امر کے کرنے سے اس کو عاجز قرار دیا جائے تو ایسا خدا خدا ہی نہیں اور اگر نعوذ باللہ وہ ایسا ہی ضعیف ہے تو اس پر بھروسہ کرنے والے جیتے جی مر گئے اور تمام امیدیں ان کی خاک میں مل گئیں بلاشبہ کوئی بات اس سے انہونی نہیں ہاں وہ بات ایسی چاہئے کہ خدا تعالیٰ کی شان اور تقدس کو زیبا ہو اور اس کے صفات کاملہ اور اس کے مواعید صادقہ کے برخلاف نہ ہو۔ لیکن میاں صاحب نے باوجود میرے

آسمانی فیصلہ صفحہ 3 مندرجہ روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 313 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 162 پر درج ہے Back

صفحہ ۴۳۳

روحانی خزائن جلد ۴ ۴۳۳ آسمانی فیصلہ

(۴) ساٹھ یا ستر ہزار کے قریب مسلمان ہو گا لیکن ان میں سے واللہ اعلم شاذ و نادر کوئی ایسا فرد ہو گا جو اس عاجز کی نسبت گالیوں اور لعنتوں اور تکفیروں کے کرنے یا سننے میں شریک نہ ہوا ہو یہ تمام ذخیرہ میاں صاحب کے ہی اعمال نامہ سے متعلق ہے جس کو انہوں نے اپنی زندگی کے آخری دنوں میں اپنی عاقبت کیلئے اکٹھا کیا انہوں نے سچی گواہی پوشیدہ کر کے لاکھوں دلوں میں جما دیا کہ درحقیقت یہ شخص کافر اور لعنت کے لائق اور دینِ اسلام سے خارج ہے اور میں نے انہیں دنوں میں جب کہ میں دہلی میں مقیم تھا شہر میں تکفیر کا عام غوغا دیکھ کر ایک خاص اشتہار انہیں میاں صاحب کو مخاطب کر کے شائع کیا اور چند خط بھی لکھے اور نہایت انکسار اور فروتنی سے ظاہر کیا کہ میں کافر نہیں ہوں۔ اور خدائے تعالیٰ جانتا ہے کہ میں مسلمان ہوں اور ان سب عقائد پر ایمان رکھتا ہوں جو اہلِ سنت والجماعت مانتے ہیں اور کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا قائل ہوں اور قبلہ کی طرف نماز پڑھتا ہوں اور میں نبوت کا مدعی نہیں بلکہ ایسے مدعی کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں اور یہ بھی لکھا کہ میں ملائک کا منکر بھی نہیں بخدا میں اسی طرح ملائک کو مانتا ہوں جیسا کہ شرع میں مانا گیا اور یہ بھی بیان کیا کہ میں لیلۃ القدر کا بھی انکاری نہیں بلکہ میں اس لیلۃ القدر پر ایمان رکھتا ہوں جس کی تصریح قرآن اور حدیثوں میں وارد ہو چکی ہے اور یہ بھی ظاہر کر دیا کہ میں وجود جبرائیل اور وحی رسالت پر ایمان رکھتا ہوں انکاری نہیں اور نہ حشر ونشر اور یوم البعث سے منکر ہوں اور نہ خام خیال نیچریوں کی طرح اپنے مولیٰ کی کامل عظمتوں اور کامل قدرتوں اور اس کے نشانوں میں شک رکھتا ہوں اور نہ کسی استبعاد عقلی کی وجہ سے معجزات کے ماننے سے منہ پھیرنے والا ہوں اور کئی دفعہ میں نے عام جلسوں میں ظاہر کیا کہ خدائے تعالیٰ کی غیر محدود قدرتوں پر میرا یقین ہے بلکہ میرے نزدیک قدرت کی غیر محدودیت الوہیت کا ایک ضروری لازمہ ہے اگر خدا کو مان کر پھر کسی امر کے کرنے سے اس کو عاجز قرار دیا جائے تو ایسا خدا خدا ہی نہیں اور اگر نعوذ باللہ وہ ایسا ہی ضعیف ہے تو اس پر بھروسہ کرنے والے جیتے جی مر گئے اور تمام امیدیں ان کی خاک میں مل گئیں بلاشبہ کوئی بات اس سے انہونی نہیں ہاں وہ بات ایسی چاہئے کہ خدا تعالیٰ کی شان اور تقدس کو زیبا ہو اور اس کے صفات کاملہ اور اس کے مواعید صادقہ کے برخلاف نہ ہو۔ لیکن میاں صاحب نے باوجود میرے

انجام آتھم صفحہ 27، 28 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 27، 28 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 162 پر درج ہے

صفحہ ۲۸

روحانی خزائن جلد ۱۱ ۲۸ انجام آتھم

﴿۲۸﴾ آتے ہماری طرف سے ناجائز حملے ہوئے۔ ہم نے اس کو اپنے پہلے اشتہاروں میں بہت غیرت دلائی اور غیرت دینے والے الفاظ استعمال کئے مگر کچھ ایسا دھڑکا اس کے دل میں بیٹھ گیا تھا کہ وہ سر نہ اٹھا سکا۔ پھر ہم نے نہایت الحاح اور انکسار کے ساتھ یسوع کی عزت اور مرتبہ کو یاد دلا کر قسم دی اور جہاں تک الفاظ ہمیں مل سکے ہم نے اس بات پر زور دیا کہ وہ اس بہتان کو جو ہم پر لگاتا ہے ثابت کرے یا قسم کھاوے۔ لیکن وہ ان بدبخت جھوٹوں کی طرح چپ رہا جن کا کانسنس ہر وقت ان کو ملامت کرتا ہے کہ تم خدا کی لعنت کے نیچے کارروائی کر رہے ہو۔ یقیناً اس کو یہ خوف کھا گیا کہ تحقیق کرانے کے وقت اس کے جھوٹے منصوبہ کے تمام پر و بال گر جائیں گے اور قسم کھانے کی حالت میں خدا کا قہر اس پر نازل ہوگا۔ سو اس نے نہ نالش کی اور نہ قسم کھائی

کلمہ بنائے گا۔ اور عبادات میں کوئی نئی طرز پیدا کرے گا اور احکام میں کچھ تغیر و تبدل کردے گا۔ پس بلاشبہ وہ مسیلمہ کذاب کا بھائی ہے اور اس کے کافر ہونے میں کچھ شک نہیں۔ ایسے خبیث کی نسبت کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ وہ قرآن شریف کو مانتا ہے۔

لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ جیسا کہ ابھی ہم نے بیان کیا ہے بعض اوقات خدائے تعالیٰ کے الہامات میں ایسے الفاظ استعارہ اور مجاز کے طور پر اس کے بعض اولیاء کی نسبت استعمال ہو جاتے ہیں اور وہ حقیقت پر محمول نہیں ہوتے سارا جھگڑا یہ ہے جس کو نادان متعصب اور طرف کھینچ کر لے گئے ہیں۔ آنے والے مسیح موعود کا نام جو صحیح مسلم وغیرہ میں زبان مقدس حضرت نبویؐ سے نبی اللہ نکلا ہے وہ انہیں مجازی معنوں کے رو سے ہے جو صوفیہ کرام کی کتابوں میں مسلم اور ایک معمولی محاورہ مکالمات الٰہیہ کا ہے۔ ورنہ خاتم الانبیاء کے بعد نبی کیسا۔

قولہ۔ حضرت اقدس میرزا صاحب نے اپنے صادق یا کاذب ہونے کا معیار اپنی پیش بہا اور لاثانی کتاب شھادۃ القرآن میں درج فرمایا ہے (یعنی آتھم اور احمد بیگ ہوشیار پوری کے داماد کی موت کی پیشگوئی اور لیکھرام پشاوری کی موت کی نسبت پیش خبری) اب ناظرین خود بخود سمجھ لیں گے کہ وہ سچا دعویٰ ہے یا دروغ بے فروغ۔

اقول۔ میں کہتا ہوں کہ لیکھرام کی پیشگوئی کی میعاد تو ابھی بہت باقی ہے سو اس کا ذکر پیش از وقت ہے ہاں آتھم اور احمد بیگ اور داماد احمد بیگ کی نسبت جو پیشگوئی تھی اس کی میعاد گزر چکی ہے۔ درحقیقت یہ دو پیشگوئیاں تھیں۔ ایک آتھم کی موت کی نسبت دوسری احمد بیگ اور اس کے داماد کی موت کی نسبت سو آتھم ۲۷؍ جولائی ۱۸۹۶ء کو بروز دوشنبہ فوت ہوگیا۔ اور ایک آنکھیں رکھنے والا سمجھ سکتا ہے کہ پیشگوئی

بقیہ حاشیہ

انجام آتھم صفحہ 27-28 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 27-28 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 162 پر درج ہے

Back

صفحہ ۳۵۹

روحانی خزائن جلد ۴ ۳۵۹ آسمانی فیصلہ

خلق و عالم جملہ در شور و شراند طالبانت در مقام دیگر اند
آن یکے را نورے بخشی بدل واں دگر را می گزاری پایگل
چشم و گوش و دل ز تو گیرد ضیاء ذات تو سرچشمۂ فیض و ہدا

غرض خداوند قادر وقدوس میری پناہ ہے اور میں تمام کام اپنا اسی کو سونپتا ہوں اور گالیوں کے عوض میں گالیاں دینا نہیں چاہتا اور نہ کچھ کہنا چاہتا ہوں ایک ہی ہے جو کہے گا افسوس کہ ان لوگوں نے تھوڑی سی بات کو بہت دور ڈال دیا اور خدائے تعالیٰ کو اس بات پر قادر نہ سمجھا کہ جو چاہے کرے اور جسکو چاہے مامور کر کے بھیجے کیا انسان اس سے لڑ سکتا ہے یا آدم زاد کو اس پر اعتراض کرنے کا حق پہنچتا ہے کہ تو نے ایسا کیوں کیا ایسا کیوں نہیں کیا۔ کیا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ ایک کی قوت اور طبع دوسرے کو عطا کرے اور ایک کا رنگ اور کیفیت دوسرے میں رکھ دیوے اور ایک کے اسم سے دوسرے کو موسوم کر دیوے اگر انسان کو خدائے تعالیٰ کی وسیع قدرت پر ایمان ہو تو وہ بلا تامل ان باتوں کا یہی جواب دے گا کہ ہاں بلاشبہ اللہ جل شانہ ہر ایک بات پر قادر ہے اور اپنی باتوں اور اپنی پیشگوئیوں کو جس طرز اور طریق اور جس پیرایہ سے چاہے پورا کر سکتا ہے ناظرین تم آپ ہی سوچ کر دیکھو کہ کیا آنیوالے عیسیٰ کی نسبت کسی جگہ یہ بھی لکھا تھا کہ وہ دراصل وہی بنی اسرائیلی ناصری صاحب انجیل ہوگا بلکہ بخاری میں جو بعد کتاب اللہ اصح الکتاب کہلاتی ہے بجائے ان باتوں کے امامکم منکم لکھا ہے اور حضرت مسیح کی وفات کی شہادت دی ہے جسکی آنکھیں ہیں دیکھے۔ منصفو! سوچ کر جواب دو کہ کیا قرآن کریم میں کہیں یہ بھی لکھا ہے کہ کسی وقت کوئی حقیقی طور پر صلیبوں کو توڑنے والا اور ذمیوں کو قتل کرنیوالا اور قتل خنزیر کا نیا حکم لانے والا اور قرآن کریم کے بعض احکام کو منسوخ کرنیوالا ظہور کرے گا اور آیت اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ ؎ ۱ اور آیت حَتّٰى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدٍ ؎ ۲ اس وقت منسوخ ہو جائے گی اور نئی وحی قرآنی وحی پر خطِ نسخ کھینچ دے گی۔ اے لوگو! اے مسلمانوں کی ذریت کہلانے والو دشمنِ قرآن نہ بنو اور خاتم النبیین کے بعد وحی نبوت کا نیا سلسلہ جاری نہ کرو اور اُس خدا سے شرم کرو جس کے سامنے حاضر کئے جاؤ گے۔ اور بالآخر میں ناظرین کو مطلع کرنا چاہتا ہوں کہ جن باتوں پر حضرت مولوی نذیر حسین صاحب اور ان کی جماعت نے تکفیر کا فتویٰ دیا ہے اور میرا نام کافر اور دجال رکھا ہے اور وہ گالیاں دی ہیں کہ کوئی مہذب آدمی غیر قوم کے آدمی کی نسبت بھی پسند نہیں کرتا اور یہ دعویٰ کیا ہے کہ گویا یہ باتیں میری کتاب توضیح مرام اور ازالۃ اوہام میں درج ہیں۔ میں انشاء اللہ القدیر عنقریب ایک مستقل رسالہ

۱ ؂ المائدۃ : ۳ ۲ ؂ التوبۃ : ۲۹

یہ حوالہ صفحہ 163 پر درج ہے آسمانی فیصلہ صفحہ 25 مندرجہ روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 335 از مرزا قادیانی

Back

صفحہ ۲۵۵

مجموعہ اشتہارات جلد اول

اور قطعیۃ الدلالت اور احادیث صحیحہ مرفوعہ متصلہ سے ثابت کر دیں تو میں دعوے مسیح موعود ہونے سے خود دست بردار ہو جاؤں گا اور مولوی صاحب کے سامنے توبہ کروں گا۔ بلکہ اس مضمون کی تمام کتابیں جلا دوں گا اور دوسرے الزامات جو میرے پر لگائے جاتے ہیں کہ یہ شخص لیلۃ القدر کا منکر ہے اور معجزات کا انکاری اور معراج کا منکر اور نیز نبوت کا مدعی اور ختم نبوت سے انکاری ہے یہ سارے الزامات باطل اور دروغ محض ہیں۔ ان تمام امور میں میرا وہی مذہب ہے ۔ جو دیگر اہل سنت و جماعت کا مذہب ہے۔ اور میری کتاب توضیح مرام اور ازالہ اوہام سے جو اعتراض نکالے گئے ہیں۔ یہ نکتہ چینوں کی سراسر غلطی ہے۔ اب میں مفصلہ ذیل امور کا مسلمانوں کے سامنے صاف صاف اقرار اس خانۂ خدا مسجد میں کرتا ہوں کہ میں جناب خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کا قائل ہوں ۔ اور جو شخص ختم نبوت کا منکر ہو اس کو بے دین اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔ ایسا ہی میں ملائکہ اور معجزات اور لیلۃ القدر وغیرہ کا قائل ہوں اور یہ بھی اقرار کرتا ہوں کہ جو کچھ بد فہمی سے بعض کوتہ فہم لوگوں نے سمجھ لیا ہے ان اوہام کے ازالہ کے لئے عنقریب ایک مستقل رسالہ تالیف کر کے شایع کروں گا۔ غرض میری نسبت جو بجز میرے دعویٰ وفات مسیح اور مثیل مسیح ہونے کے اور اعتراض تراشے گئے ہیں وہ سب غلط اور ہیچ ہیں اور صرف غلط فہمی کی وجہ سے کئے گئے ہیں :

پھر بعد اس کے خواجہ صاحب نے اس بات پر زور دیا کہ جب کہ ان عقاید میں در حقیقت کوئی نزاع نہیں۔ فریقین بالاتفاق مانتے ہیں تو پھر ان میں بحث کیونکر ہو سکتی ہے۔ بحث کے لایق وہ مسئلہ ہے جس میں فریقین اختلاف رکھتے ہیں۔ یعنی وفات حیات مسیح کا مسئلہ جس کے طے ہونے سے سارا فیصلہ ہو جاتا ہے۔ بلکہ بصورت ثبوت حیات مسیح مسیح موعود ہونے کا دعویٰ سب ساتھ ہی باطل ہوتا ہے ۔ اور یہ بھی بار بار اس عاجز کا نام لے کر کہا کہ انہوں نے خود وعدہ کر لیا ہے کہ اگر نصوص بیّنہ قطعیہ قرآن و

صفحہ ۲۷

روحانی خزائن جلد ۱۱ ۲۷ انجام آتھم

﴿۲۷﴾ اُس پر وارد ہوگا اُس کے جلد مرنے کا موجب ہو گئی اور جیسا کہ ہم کئی مرتبہ لکھ چکے ہیں وہ ہمارے اشتہار ۳۰؍دسمبر ۱۸۹۵ء کے بعد جو ہمارا آخری اشتہار بطور اتمام حجت تھا پورے سات مہینے بھی زندہ نہ رہ سکا۔ پس کیا یہ خدا کا فعل نہیں ہے کہ اس نے آتھم کے اصرار انکار پر موت کی سزا سے اس کا تمام جھوٹ اور افترا یک لخت ظاہر کردیا۔

اب بیان کرو کہ کونسا قانونی سقم ہماری اس تقریر میں ہے۔ اور آتھم کو ملزم قرار دینے کے لئے کس ثبوت کی کسر رہ گئی ہے۔ بلا شبہ اُسی کی عملی حالت نے اس پر فردِ قرار داد جرم لگا دی جس پر وہ ایک بھی صفائی کا گواہ پیش نہ کر سکا۔ اب عیسائیوں کو اس کی ناحق کی حمایت سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ ہم نے بہت صفائی سے بار بار اس بات پر زور دیا کہ آتھم اس بیان میں بالکل جھوٹا ہے کہ اس کے قتل کے

﴿۲۷﴾

ہوں اور قرآن شریف کو مانتا ہوں کیا ایسا بدبخت مفتری جو خود رسالت اور نبوت کا دعویٰ کرتا ہے قرآن شریف پر ایمان رکھ سکتا ہے اور کیا ایسا وہ شخص جو قرآن شریف پر ایمان رکھتا ہے۔ اور آیت وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ کو خدا کا کلام یقین رکھتا ہے وہ کہہ سکتا ہے کہ میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد رسول اور نبی ہوں۔ صاحبِ انصاف طالب کو یاد رکھنا چاہئے کہ اس عاجز نے کبھی اور کسی وقت حقیقی طور پر نبوت یا رسالت کا دعویٰ نہیں کیا اور غیر حقیقی طور پر کسی لفظ کو استعمال کرنا اور لغت کے عام معنوں کے

حاشیہ

لحاظ سے اس کو بول چال میں لانا مستلزم کفر نہیں۔ مگر میں اس کو بھی پسند نہیں کرتا کہ اس میں عام مسلمانوں کو دھوکہ لگ جانے کا احتمال ہے۔ لیکن وہ مکالمات اور مخاطبات جو اللہ جلّ شانہٗ کی طرف سے مجھ کو ملے ہیں جن میں یہ لفظ نبوت اور رسالت کا بکثرت آیا ہے ان کو میں بوجہ مامور ہونے کے مخفی نہیں رکھ سکتا۔ لیکن بار بار کہتا ہوں کہ ان الہامات میں جو لفظ مُرْسَل یا رسول یا نبی کا میری نسبت آیا ہے ٭ وہ اپنے حقیقی معنوں پر مستعمل نہیں ہے۔ اور اصل حقیقت جس کی میں علیٰ رؤس الاشہاد گواہی دیتا ہوں یہی ہے جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں۔ اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا نہ کوئی پرانا اور نہ کوئی نیا۔ و من قال بعد رسولنا وسیدنا انی نبی او رسول علیٰ وجہ الحقیقۃ والافتراء و ترک القرآن و احکام الشریعۃ الغرّاء فھو کافر کذّاب۔ غرض ہمارا مذہب یہی ہے کہ جو شخص حقیقی طور پر نبوت کا دعویٰ کرے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دامنِ فیض سے اپنے تئیں الگ کر کے اور اس پاک سرچشمہ سے جدا ہو کر آپ ہی براہ راست نبی اللہ بننا چاہے تو وہ ملحد ہے بے دین ہے اور غالباً ایسا شخص اپنا کوئی نیا

٭ نوٹ۔ ایسے لفظ نہ اب سے بلکہ سولہ برس سے میرے الہامات میں درج ہیں چنانچہ براہین احمدیہ میں ایسے کئی مخاطبات الہیہ میری نسبت پاؤ گے۔ منہ

۱؂ الاحزاب : ۴۱

انجام آتھم صفحہ 27 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 27 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 163 پر درج ہے

Back

صفحہ ۴۵

روحانی خزائن جلد ۱۱ ۴۵ رسالہ دعوت قوم بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ٭ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّيْ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ ﴿۴۵﴾ (رسالہ دعوت قوم)

اشتہار مباہلہ

بغرض دعوت ان مسلمان مولویوں کے جو اس عاجز کو

کافر اور کذّاب اور مفتری اور دجّال اور جہنمی قرار دیتے ہیں

رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَاَنْتَ خَيْرُ الْفَاتِحِيْنَ اے ہمارے خدا ہم میں اور ہماری قوم میں سچا فیصلہ کر دے اور تو سب فیصلہ کرنے والوں سے بہتر ہے

چونکہ علماء پنجاب اور ہندوستان کی طرف سے فتنہ تکفیر و تکذیب حد سے زیادہ گزر گیا ہے اور نہ فقط علماء بلکہ فقراء اور سجادہ نشین بھی اس عاجز کے کافر اور کاذب ٹھہرانے میں مولویوں کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں۔ اور ایسا ہی ان مولویوں کے اغوا سے ہزار ہا ایسے لوگ پائے جاتے ہیں کہ وہ ہمیں نصاریٰ اور یہود اور ہنود سے بھی اکفر سمجھتے ہیں۔ اگرچہ اس تمام فتنہ تکفیر کا بوجھ نذیر حسین دہلوی کی گردن پر ہے مگر تاہم دوسرے مولویوں کا یہ گناہ ہے کہ انہوں نے اس نازک امر تکفیر مسلمانوں میں اپنی عقل اور اپنی تفتیش سے کام نہیں لیا۔ بلکہ نذیر حسین کے دجالانہ فتویٰ کو دیکھ کر جو محمد حسین بٹالوی نے طیار کیا تھا بغیر تحقیق اور تنقیح کے اس پر ایمان لے آئے۔ ہم کئی مرتبہ لکھ چکے ہیں کہ اس نالائق نذیر حسین اور اس کے نا سعادت مند شاگرد محمد حسین کا یہ سراسر افترا ہے کہ ہماری طرف یہ بات منسوب کرتے ہیں کہ گویا ہمیں معجزات انبیاء علیہم السلام سے انکار ہے یا ہم خود دعویٰ نبوت کرتے ہیں یا نعوذ باللہ حضرت سید المرسلین محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء نہیں سمجھتے یا ملائک سے انکاری یا حشر و نشر وغیرہ اصول عقائد اسلام سے منکر ہیں۔ یا صوم و صلوٰۃ وغیرہ ارکان اسلام کو نظر استخفاف سے دیکھتے یا غیر ضروری سمجھتے ہیں۔ نہیں۔ بلکہ خدا تعالیٰ گواہ ہے کہ ہم ان سب باتوں کے قائل ہیں۔ اور ان عقائد اور ان اعمال کے منکر کو ملعون اور خسر الدنیا و الآخرۃ یقین رکھتے ہیں۔

اگر ہمیں ہمارے دعویٰ کے موافق قبول کرنے کے لئے یہی مابہ النزاع ہے تو ہم بلند آواز سے بار بار سناتے ہیں کہ ہمارے یہی عقائد ہیں جو ہم بیان کر چکے ہیں۔ ہاں ایک بات ضرور ہے جس کے

صفحہ ۲۱۵

روحانی خزائن جلد ۱۳ کتاب البریہ

٭ کر دینا۔ میرے باپ کا نام لقمان ہے۔ سلطان محمود غلطی سے لکھایا تھا۔ سلطان محمود کے ساتھ شادی مکرر میری ماں نے کی تھی۔ پہلے غلطی سے لکھایا ہے کہ لقمان سے شادی ہوئی تھی۔ سلطان محمود کی ایک لڑکی ہے۔ لقمان کا اور بیٹا ہے جو میرا بھائی ہے۔ ہم تین بھائی ہیں۔ میں نے پنشن کبھی نہیں لیا ملازم رہا تھا۔ مالاکنڈ میں فوج کے ساتھ نہیں گیا تھا۔ بوجہ کام نہ ہو سکنے کے مجھے برخاست کیا گیا تھا۔ جب واپس مالا کنڈ سے آیا ملازم نہ تھا۔ مجرد تھا۔ دو سال کے قریب اس بات کو ہوئے ہیں۔ قادیان آنے سے پہلے سلطان محمود مجھ سے ناراض ہوا تھا۔

بقیہ حاشیہ ٭ ا۔ اسی امت میں سے ہوگا۔ اور اسی طرح صحیح مسلم میں فَاَمَّكُمْ مِّنْكُمْ لکھا تھا یعنی مسیح تم میں سے ایک امتی آدمی ہو گا اور تمہارا امام ہوگا۔ کیا یہ باتیں تسلی پانے کے لئے کافی نہ تھیں؟ کیا یہ امر تسلی بخش نہ تھا کہ قرآن نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا فوت ہو جانا بیان فرمایا؟ حدیثوں میں ان کی عمر ایک سو بیس برس لکھ کر یہ اشارہ فرمایا کہ وہ ۱۲۰ برس کی عمر میں ضرور فوت ہو گئے ہیں۔ توفی کے معنے مارنا بیان فرمایا گیا اور آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِیْ نے صاف طور پر خبر دے دی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوگئے اور وہ جھگڑا جو اس سے پہلے ہو چکا ہے جو یہود اور حضرت عیسیٰ میں ایلیا نبی کے نزول کے بارے میں تھا کوئی ایسا مسلمان نہیں کہ اس میں یہود کو سچا قرار دے۔ سو دنیا میں دوبارہ آنے کے معنے جو ایک نبی نے کئے وہی معنے ہم حضرت عیسیٰ کے نزول کے بارے میں کرتے ہیں۔ مگر ہمارے مخالف مولوی جو معنے کرتے ہیں ان کے پاس ان معنوں کی کوئی سند موجود نہیں۔ اب سوچنا چاہیے کہ ہم تو اس عقیدہ کو پیش کرتے ہیں جس کی پہلی کتابوں میں نظیر موجود ہے اور جس کا قرآن مصدق ہے۔ اور ہمارے مخالف حضرت عیسیٰ کے نزول کے بارے میں اس عقیدہ کو پیش کرتے ہیں جس کی تمام انبیاء کے سلسلہ میں کوئی نظیر موجود نہیں اور قرآن اس کا مکذب ہے۔ پھر ہمارے مخالف جبکہ اس بحث میں عاجز آ جاتے ہیں تو افترا کے طور پر ہم پر یہ تہمت لگاتے ہیں کہ گویا ہم نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور گویا ہم معجزات اور فرشتوں کے منکر ہیں۔ لیکن یاد رہے کہ یہ تمام افترا ہیں۔ ہمارا ایمان ہے

ا المائدۃ : ۱۱۸

کتاب البریہ صفحہ 197 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 215 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 164 پر درج ہے

صفحہ ۳۰۲

روحانی خزائن جلد ۷ ۳۰۲ حمامة البشرى

فخُذْها منى ولا تخفْ إلا الله، وادْعُ الله أن تكون من العارفين. هذا ما قلنا في بعض كتبنا استنباطًا من الأحاديث النبوية والقرآن الكريم، وما قال بعض السلف فهو أكبر من هذا، ألا ترى إلى قول ابن سيرين أنه ذُكر المهدى عنده وسئل عنه هل هو أفضل من أبى بكر فقال ما أبو بكر هو أفضلُ من بعض النبيين!

هذا ما كتب صاحب ”فتح البيان“ صدّيق حسن فى كتابه ”الحُجج“، ومثله أقوال أخرى ولكنا نتركها خوفا من الإطناب وعليكَ أن تدقّق النظر بالإنصاف ۸۳ الكامل ليتضح لك الحق الحقيق وتكون من الفائزين. وقد بيّنت لك كلّ ما هو كلمة الكفر فى أعين المستعجلين، فانظر. أين هذا وأين ادعاء النبوة؟ فلا تظن يا أخى أنى قلت كلمة فيه رائحةُ ادّعاء النبوة كما فهم المتهوّرون فى إيمانى وعرضى، بل كلّ ما قُلت إنما قلتها تبيينًا لمعارف القرآن ودقائقه، وإنما الأعمال بالنّيات ومعاذَ الله أن أدّعى النبوة بعدما جعل الله نبيّنا وسيدنا محمّدًا المصطفى صلى الله عليه وسلم خاتم النبيين.

ومن اعتراضاتهم أنهم قالوا إن المسيح الموعود لا يأتى إلا عند قُرب القيامة وظهور أماراتها الكبرى. يعنى ظهور يأجوج ومأجوج، ودابة الأرض، والدجّال الذى تسير معه الجنة والنار، وطلوع الشمس من مغربها، وما ظهر شىء من هذه العلامات.. فمن أين جاء المسيح الموعود مع عدم مجىء آيات أخرى؟ وكيف يطمئن القلب على هذا وكيف يحصل الثلج واليقين؟

أما الجواب فاعلم أن هذه الأنباء قد تمّتْ كلها، ووقعت كما كان فى الآثار المنتقاة المدوّنة عن الثقات، ولكن الناس ما عرفوها وكانوا غافلين. والكلام المفصّل فى ذلك أن أمارات القيامة على قسمين : الأمارات الصغرى،

حمامۃ البشریٰ صفحہ 136 مندرجہ روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 302 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 164 پر درج ہے

صفحہ ۳۳۹

روحانی خزائن جلد ۹ نورالقرآن نمبر ۱

کے عمیق کنوئیں میں ڈوب گئی ہیں۔ یہ بات سچ ہے کہ انجیل میں بھی کسی قدر یہودیوں کی بدچلنیوں کا ذکر ہے لیکن مسیح نے کہیں یہ ذکر تو نہیں کیا کہ جس قدر دنیا کے صفحہ میں لوگ موجود ہیں جن کو عالمین کے نام سے نامزد کر سکتے ہیں وہ بگڑ گئے مر گئے اور دنیا شرک اور بدکاریوں سے بھر گئی اور نہ رسالت کا عام دعویٰ کیا۔ پس ظاہر ہے کہ یہودی ایک تھوڑی

﴿۷﴾

سی قوم تھی جو مسیح کی مخاطب تھی بلکہ وہی تھی جو مسیح کی نظر کے سامنے اور چند دیہات کے باشندے تھے۔ لیکن قرآن کریم نے تو تمام زمین کے مر جانے کا ذکر کیا ہے اور تمام قوموں کی بری حالت کو وہ بتلاتا ہے اور صاف بتلاتا ہے کہ زمین ہر قسم کے گناہ سے مر گئی ٭ یہودی تو نبیوں کی اولاد اور تورات کو اپنے اقرار سے مانتے تھے گو عمل سے قاصر تھے لیکن قرآن کے زمانہ میں علاوہ فسق اور فجور کے عقائد میں بھی فتور ہو گیا تھا۔ ہزار ہا لوگ دہریہ تھے۔ ہزار ہا وحی اور الہام سے منکر تھے اور ہر قسم کی بدکاریاں زمین پر پھیل گئی تھیں اور دنیا میں اعتقادی اور عملی خرابیوں کا ایک سخت طوفان برپا تھا۔ ماسوا اس کے مسیح نے اپنی چھوٹی سی قوم یہودیوں کی بدچلنی کا کچھ ذکر تو کیا جس سے البتہ یہ خیال پیدا ہوا کہ اس وقت یہود کی ایک خاص قوم کو ایک مصلح کی ضرورت تھی مگر جس دلیل کو ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منجانب اللہ ہونے کے بارے میں بیان کرتے ہیں۔ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فساد عام کے وقت میں آنا اور کامل اصلاح کے بعد واپس

٭نوٹ: اگر کوئی کہے کہ فساد اور بدعقیدگی اور بداعمالیوں میں یہ زمانہ بھی تو کم نہیں پھر اس میں کوئی نبی کیوں نہیں آیا۔ تو جواب یہ ہے کہ وہ زمانہ توحید اور راست روی سے بالکل خالی ہو گیا تھا اور اس زمانہ میں چالیس کروڑ لا الہ الا اللہ کہنے والے موجود ہیں اور اس زمانہ کو بھی خدا تعالیٰ نے مجدد کے بھیجنے سے محروم نہیں رکھا۔ منہ

نور القرآن صفحہ 10 مندرجہ روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 339 از مرزا قادیانی | حوالہ صفحہ 165 پر درج ہے

Back

صفحہ ۱۶۹

ازالۃ اوہام حصہ اول روحانی خزائن جلد ۳

لَا يَخْرُجُ اِلَّا نَكِدًا ۱؎ ایسا ہی قرآن شریف میں بیسیوں نظیریں موجود ہیں جو پڑھنے والوں پر پوشیدہ نہیں ماسوا اس کے روحانی واعظوں کا ظاہر ہونا اور ان کے ساتھ فرشتوں کا آنا ایک روحانی قیامت کا نمونہ ہوتا ہے جس سے مردوں میں حرکت پیدا ہو جاتی ہے اور جو قبروں کے اندر ہیں وہ باہر آ جاتے ہیں اور نیک اور بد لوگ اپنی سزا جزا پا لیتے ہیں سو اگر سورۃ الزلزال کو قیامت کے آثار میں سے قرار دیا جائے تو اس میں بھی کچھ شک نہیں کہ ایسا وقت روحانی طور پر ایک قسم کی قیامت ہی ہوتی ہے خدائے تعالیٰ کے تائید یافتہ بندے قیامت کا ہی رُوپ بن کر آتے ہیں اور انہیں کا وجود قیامت کے نام سے موسوم ہو سکتا ہے جن کے آنے سے روحانی مردے زندہ ہونے شروع ہو جاتے ہیں اور نیز اس میں بھی کچھ شک نہیں کہ جب ایسا زمانہ آ جائے گا کہ تمام انسانی طاقتیں اپنے کمالات کو ظاہر کر دکھائیں گی اور جس حد تک بشری عقول اور افکار کا پرواز ممکن ہے اُس حد تک وہ پہنچ جائیں گی اور جن مخفی حقیقتوں کو ابتدا سے ظاہر کرنا مقدّر ہے وہ سب ظاہر ہو جائیں گی تب اس عالم کا دائرہ پورا ہو کر یک دفعہ اس کی صف لپیٹ دی جائے گی۔

كُلُّ شَيْءٍ فَانٍ وَّ يَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلٰلِ وَالْاِكْرَامِ

ہمارا مذہب

زِعشقِ فرقان و پیغمبرِیم بدیں آمدیم و بدیں بگذریم

ہمارے مذہب کا خلاصہ اور لب لباب یہ ہے کہ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ ہمارا اعتقاد جو ہم اس دنیوی زندگی میں رکھتے ہیں جس کے ساتھ ہم بفضل وتوفیق باری تعالیٰ اس عالم گذران سے کوچ کریں گے یہ ہے کہ حضرت سیدنا ومولانا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم

۱؎ الاعراف: ۵۹

ازالۃ اوہام صفحہ 146، 147 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 169، 170 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 165 پر درج ہے Back

صفحہ ۱۷۰

روحانی خزائن جلد ۳ ۱۷۰ ازالہ اوہام حصہ اول

خاتم النبیین وخیر المرسلین ہیں جن کے ہاتھ سے اکمال دین ہو چکا اور وہ نعمت بمرتبہ اتمام پہنچ چکی جس کے ذریعہ سے انسان راہ راست کو اختیار کر کے خدائے تعالیٰ تک پہنچ سکتا ہے اور ہم پختہ یقین کے ساتھ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ قرآن شریف خاتم کتب سماوی ہے اور ایک شمّہ یا نقطہ اس کی شرائع اور حدود اور احکام اور اوامر سے زیادہ نہیں ہو سکتا اور نہ کم ہو سکتا ہے اور اب کوئی ایسی وحی یا ایسا الہام منجانب اللہ نہیں ہو سکتا جو احکام فرقانی کی ترمیم یا تنسیخ یا کسی ایک حکم کے تبدیل یا تغیر کر سکتا ہو اگر کوئی ایسا خیال کرے تو وہ ہمارے نزدیک جماعت مومنین سے خارج اور ملحد اور کافر ہے اور ہمارا اس بات پر بھی ایمان ہے کہ ادنیٰ درجہ صراط مستقیم کا بھی بغیر اتباع ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہرگز انسان کو حاصل نہیں ہو سکتا چہ جائیکہ راہ راست کے اعلیٰ مدارج بجز اقتداء اُس امام الرسل کے حاصل ہو سکیں کوئی مرتبہ شرف و کمال کا اور کوئی مقام عزت اور قرب کا بجز سچی اور کامل متابعت اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم ہرگز حاصل کر ہی نہیں سکتے۔ ہمیں جو کچھ ملتا ہے ظلی اور طفیلی طور پر ملتا ہے اور ہم اس بات پر بھی ایمان رکھتے ہیں کہ جو راستباز اور کامل لوگ شرف صحبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرف ہو کر تکمیل منازل سلوک کر چکے ہیں اُن کے کمالات کی نسبت بھی ہمارے کمالات اگر ہمیں حاصل ہوں بطور ظل کے واقع ہیں اور اُن میں بعض ایسے جُزئی فضائل ہیں جو اب ہمیں کسی طرح سے حاصل نہیں ہو سکتے۔ غرض ہمارا اُن تمام باتوں پر ایمان ہے جو قرآن شریف میں درج ہیں اور جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خدائے تعالیٰ کی طرف سے لائے اور تمام محدثات اور بدعات کو ہم ایک فاش ضلالت اور جہنم تک پہنچانے والی راہ یقین رکھتے ہیں مگر افسوس کہ ہماری قوم میں ایسے لوگ بہت ہیں جو بعض حقائق اور معارف قرآنیہ اور دقائق آثار نبویہ کو جو اپنے وقت پر بذریعہ کشف و الہام زیادہ تر صفائی سے کھلتے ہیں محدثات اور بدعات میں ہی داخل کر لیتے ہیں حالانکہ معارف مخفیہ قرآن و حدیث ہمیشہ اہل کشف پر کھلتے رہے ہیں

202 / 727

یہ حوالہ صفحہ 165 پر درج ہے | ازالہ اوہام صفحہ 146، 147 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 169، 170 از مرزا قادیانی

Back

صفحہ 143

روحانی خزائن جلد ۱۱ ۱۴۳ مکتوب احمد

﴿۱۴۳﴾

وَمَكَثَ عِنْدِىْ إِلٰى مُدَّةٍ، فَيَكْشِفُ اللّٰهُ عَلَيْهِ سِرِّىْ فِىْ صُحْبَتِىْ، وَيَرَاهُ ٭ مِنْ بَعْضِ

و تا مدتے در صحبتِ من بماند۔ پس خدا تعالیٰ برو راز من خواہد کشود و از بعض نشانہا

آيَاتٍ وَعَجَائِبَ لِإِرَاءَةِ مَنْزِلَتِىْ، إِلَّا الَّذِيْنَ يَجِيْئُوْنَنِىْ غَافِلِيْنَ مُنَافِقِيْنَ، وَ لَا

وعجائب ہا او را خواہد نمود۔ تا شناسائی رتبہ من گردد۔ مگر آنانکہ بصورت غافلان ومنافقان می آیند و

يَطْلُبُوْنَ الْحَقَّ كَالْخَاشِعِيْنَ التَّائِبِيْنَ، فَأُولٰئِكَ الَّذِيْنَ بَعُدُوْا مِنِّىْ وَ

حق راہمچو خاشعان وتائبان نمی جویند۔ پس اینان از من دور ہستند اگرچہ نزدیکان

لَوْ كَانُوْا قَرِيْبِيْنَ. رَضُوْا بِالْبُعْدِ وَالْحِرْمَانِ، وَمَا أَرَادُوْا أَنْ يُعْطَوْا حَظًّا مِّنَ الْعِرْفَانِ،

باشند ایشان بدوری ومحرومی راضی شدہ اند۔ ونمی خواہند کہ حظے از معرفت ایشان را

وَمَا حَمَلَهُمْ عَلٰى ذٰلِكَ إِلَّا فَسَادُ نِيَّاتِهِمْ، وَقِلَّةُ مُبَالَاتِهِمْ، وَغَفْلَتُهُمْ فِىْ أَمْرِ الدِّيْنِ.

حاصل گردد۔ وہیچ چیزے بجز فساد نیت ولا پروائی وغفلت دینیہ برین امر ایشان را آمادہ نہ کردہ۔

وَالْحَقَّ وَالْحَقَّ أَقُوْلُ، إِنَّ أَحَدًا مِّنَ النَّاسِ لَا يَرَانِىْ، إِلَّا بَعْدَ تَرْكِ الْأَهْوَاءِ

و راست ست و راست میگویم کہ مرا ہماں کس خواہد دید کہ از ہوا و ہوس و آرزوہا

وَالْأَمَانِىْ، وَلَيْسَ مِنِّىْ مَنْ يَّقُوْلُ: ’’أَبْنَائِىْ وَنِسْوَانِىْ وَبَيْتِىْ وَبُسْتَانِىْ‘‘ وَإِنَّهٗ مِنَ

دست بردار گردد۔ وآں کسے از من نیست کہ میگوید پسران من وزنان من۔ وخانہ من وباغ من بلکہ او از

الْمَحْجُوْبِيْنَ. وَإِنِّىْ جِئْتُ قَوْمِىْ لِأَمْنَعَهُمْ مِّنْ مَسَاوِى الْأَخْلَاقِ وَشُعَبِ النِّفَاقِ،

محجوبان ست۔ ومن برائے این آمدم کہ از اخلاق بد منع کنم وطریق اخلاص وتوحید بنمائم۔

وَأُرَاهِمْ ٭ طَرِيْقَ الْمُخْلِصِيْنَ الْمُوَحِّدِيْنَ. وَلَا دِيْنَ لَنَا إِلَّا دِيْنُ الْإِسْلَامِ، وَلَا كِتَابَ لَنَا

و ہیچ دینے نداریم بجز دین اسلام و ہیچ کتابے نداریم

﴿۱۴۴﴾

إِلَّا الْفُرْقَانُ كِتَابُ اللّٰهِ الْعَلَّامِ، وَلَا نَبِيَّ لَنَا إِلَّا مُحَمَّدٌ خَاتَمُ النَّبِيِّيْنَ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

بجز قرآن شریف و ہیچ پیغمبرے نداریم بجز حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہ خاتم الانبیاء

٭ سَہْوِ کِتَابَت مَعْلُوْم ہوتا ہے ’’ یُرِیَہٗ ‘‘ ہونا چاہیے۔ (ناشر) ٭ سَہْوِ کِتَابَت مَعْلُوْم ہوتا ہے ’’ اُرِیَهُمْ ‘‘ ہونا چاہیے۔ (ناشر)

انجام آتھم صفحہ 143،144 روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 143،144 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 166 پر درج ہے

صفحہ ۱۴۴

روحانی خزائن جلد ۱۱ مکتوب احمد

وبَارَکَ وَجَعَلَ أعدَاءَهُ مِنَ الملعونين. اشهدوا أنّا نتمسّك است خدا برو درود ہا فرستاد و برکت نازل کرد و بردشمنان او لعنت فرود آورد۔ گواہ باشید کہ ما بكتاب اللّٰهِ القرآنِ، ونتبع أقوال رسول اللّٰه منبع الحق والعرفان، ونقبل بکتاب الٰہی کہ قرآن شریف است پنجہ می زنیم۔ وسخنان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم را کہ چشمہ حق و معرفت است ما انعقد عليه الإجماع بذٰلك الزمان، لا نزيد عليها ولا ننقص منها، پیروی مے کنیم و ہمہ آن امور را قبول مے کنیم کہ در آن زمانہ باجماع صحابہ صحیح قرار یافتہ۔ نہ بران امور وعليها نحيا وعليها نموت، ومَن زاد على هذه الشريعة مثقال ذرّةٍ أو نقص زیادہ می کنیم و نہ از آنہا کم میسازیم۔ وبر آنہا زندہ خواہیم ماند وبر آنہا خواہیم مرد۔ و ہر کہ بمقدار یک ذرہ بریں شریعت منها، أو كفر بعقيدةٍ إجماعيّةٍ، فعليه لعنة اللّٰهِ والملائكة والناس أجمعين. زیادہ کرد یا کم نمود یا انکار عقیدہ اجماعیہ کرد۔ پس برو لعنت خدا ولعنت فرشتگان و ہمہ آدمیان ست۔ هٰذَا اِعتِقَادِيْ، وَهُوَ مَقصُودى و مرادى، و لا أخالف ایں اعتقاد من است وہمیں مقصود من است ومراد من۔ ومن قومى فى الأصول الإجماعية، وَمَا جِئتُ بمحدثاتٍ كَالفرق المبتدعة، باقوم خود در اصول اجماعیہ اختلافے ندارم۔ وہمچو بدعتیان چیزہائے نو پیدا نیاوردہ ام۔ بيد أنى أُرسلتُ لتجديد الدّين وإصلاح الأُمّةِ، على رأس هذه المائة، فَأذكّرهم مگر ایں ست کہ من برائے تازہ کردنِ دین واصلاح امت برسر ایں صدی فرستادہ شدہ ام۔ پس ایشان را بعض ما نسوا من العلوم الحكميّةِ . والواقعات الصّحيحة الأصليّة. وَجَعَلَنى بعض آن امور از علوم حکمیہ وواقعات صحیحہ یاد دہانم کہ آن را فراموش کردہ بودند ومرا پروردگار من رَبّى عيسى ابن مريم على طريق البروزات الروحانية لمصلحةٍ أراد لنفع العامة، برطریق بروزات روحانیہ عیسیٰ بن مریم گردانید۔ برائے مصلحتے کہ بغرض افادہ مخلوقات

انجام آتھم صفحہ 143، 144 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 143، 144 از مرزا قادیانی | حوالہ صفحہ 166 پر درج ہے

صفحہ ۳۲۳

روحانی خزائن جلد ۱۴ ایام الصلح

جب تک کسی دل میں ایک ذرہ بھی تقویٰ ہو ایسے افترا نہیں کر سکتا۔ جن پانچ چیزوں پر اسلام کی بناء رکھی گئی ہے وہ ہمارا عقیدہ ہے اور جس خدا کی کلام یعنی قرآن کو پنجہ مارنا حکم ہے ہم اس کو پنجہ مار رہے ہیں اور فاروق رضی اللہ عنہ کی طرح ہماری زبان پر حَسْبُنَا کِتَابُ اللّٰہ ہے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرح اختلاف اور تناقض کے وقت جب حدیث اور قرآن میں پیدا ہو قرآن کو ہم ترجیح دیتے ہیں۔ بالخصوص قصوں میں جو بالاتفاق نسخ کے لائق بھی نہیں ہیں۔ اور ہم اس بات پر ایمان لاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور سیدنا حضرت

﴿۸۷﴾

محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اُس کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں۔ اور ہم ایمان لاتے ہیں کہ ملائک حق اور حشر اجساد حق اور روز حساب حق اور جنت حق اور جہنم حق ہے اور ہم ایمان لاتے ہیں کہ جو کچھ اللہ جلّ شانہٗ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے اور جو کچھ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے وہ سب بلحاظ بیان مذکورہ بالا حق ہے۔ اور ہم ایمان لاتے ہیں کہ جو شخص اس شریعت اسلام میں سے ایک ذرہ کم کرے یا ایک ذرہ زیادہ کرے یا ترک فرائض اور اباحت کی بنیاد ڈالے وہ بے ایمان اور اسلام سے برگشتہ ہے۔ اور ہم اپنی جماعت کو نصیحت کرتے ہیں کہ وہ سچے دل سے اس کلمہ طیبہ پر ایمان رکھیں کہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ اور اسی پر مریں اور تمام انبیاء اور تمام کتابیں جن کی سچائی قرآن شریف سے ثابت ہے اُن سب پر ایمان لاویں اور صوم اور صلوٰۃ اور زکوٰۃ اور حج اور خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کے مقرر کردہ تمام فرائض کو فرائض سمجھ کر اور تمام منہیات کو منہیات سمجھ کر ٹھیک ٹھیک اسلام پر کاربند ہوں۔ غرض وہ تمام امور جن پر سلفِ صالح کو اعتقادی اور عملی طور پر اجماع تھا اور وہ امور جو اہل سنت کی اجماعی رائے سے اسلام کہلاتے ہیں اُن سب کا ماننا فرض ہے اور ہم آسمان اور زمین کو اس بات پر گواہ کرتے ہیں کہ یہی ہمارا مذہب ہے اور جو شخص مخالف اس مذہب کے کوئی اور الزام ہم پر لگاتا ہے وہ تقویٰ اور دیانت کو چھوڑ کر ہم پر افترا کرتا ہے۔ اور قیامت میں ہمارا اُس پر یہ دعویٰ ہے کہ کب اُس نے ہمارا سینہ چاک کر کے دیکھا کہ ہم باوجود ہمارے اس قول کے دل سے

ایام الصلح صفحہ 87 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 323 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 166 پر درج ہے

صفحہ ۱۶۵

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۱۶۵ راز حقیقت

۱۳ ؂

میں نے تو اُس کی زندگی میں یہ بھی لکھ دیا تھا کہ اگر مَیں کاذب ہوں تو مَیں پہلے مروں گا۔ ورنہ مَیں آتھم کی موت کو دیکھوں گا سو اگر شرم ہے تو آتھم کو ڈھونڈ کر لاؤ کہ کہاں ہے۔ وہ میری عمر کے قریب قریب تھا اور عرصہ تیس برس سے مجھ سے واقفیت رکھتا تھا۔ اگر خدا چاہتا تو وہ تیس برس تک اور زندہ رہ سکتا تھا۔ پس یہ کیا باعث ہوا کہ وہ انہی دنوں میں جب کہ اُس نے عیسائیوں کی دلجوئی کے لئے الہامی پیشگوئی کی سچائی اور اپنے دلی رجوع کو چھپایا خدا کے الہام کے موافق فوت ہو گیا۔ خدا اُن دلوں پر لعنت کرتا ہے جو سچائی کو پا کر پھر اس کا انکار کرتے ہیں۔ اور چونکہ یہ انکار جو اکثر عیسائیوں اور بعض شریر مسلمانوں نے کیا خدا تعالیٰ کی نظر میں ظلم صریح تھا اس لئے اُس نے ایک دوسری عظیم الشان پیشگوئی کے پورا

بقیہ حاشیہ سے عیسائی مذہب کا خاتمہ ہے۔ خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ انہی قدرتوں سے وہ پہچانا گیا ہے۔ دیکھو کیسے عمدہ معنے اس آیت کے ثابت ہوئے کہ مَا قَتَلُوہُ وَمَا صَلَبُوہُ وَلٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ ۱؎ یعنی قتل کرنا اور صلیب سے مسیح کا مارنا سب جھوٹ ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ان لوگوں کو دھوکا لگا ہے اور مسیح خدا تعالیٰ کے وعدہ کے موافق صلیب سے بچ کر نکل گیا۔ اور اگر انجیل کو غور سے دیکھا جائے تو انجیل بھی یہی گواہی دیتی ہے۔ کیا مسیح کی تمام رات کی دردمندانہ دعا رد ہو سکتی تھی۔ کیا مسیح کا یہ کہنا کہ میں یونس کی طرح تین دن قبر میں رہوں گا اس کے یہ معنے ہو سکتے ہیں کہ وہ مردہ قبر میں رہا۔ کیا یونس مچھلی کے پیٹ میں تین دن مرا رہا تھا۔ کیا پیلاطوس کی بیوی کے خواب سے خدا کا یہ منشا نہیں معلوم ہوتا کہ مسیح کو صلیب سے بچالے۔ ایسا ہی مسیح کا جمعہ کی آخری گھڑی صلیب پر چڑھائے جانا اور شام سے پہلے اتارے جانا اور رسم قدیم کے موافق تین دن تک صلیب پر نہ رہنا اور ہڈی نہ توڑے جانا اور خون کا نکلنا کیا یہ تمام وہ امور نہیں ہیں جو بآواز بلند پکار رہے ہیں کہ یہ تمام اسباب مسیح کی جان بچانے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں اور دعا کرنے کے ساتھ ہی یہ رحمت کے اسباب ظہور میں آئے۔ بھلا مقبول کی ایسی دعا جو تمام رات رو رو کر کی گئی کب رد ہو سکتی تھی۔ پھر مسیح کا صلیب کے بعد حواریوں کو ملنا اور زخم دکھلانا کس قدر مضبوط دلیل اس بات پر ہے کہ وہ صلیب پر نہیں مرا۔ اور اگر یہ صحیح نہیں ہے تو بھلا اب مسیح کو پکارو کہ تمہیں آ کر مل جائے جیسا کہ حواریوں کو ملا تھا۔ غرض ہر ایک پہلو سے ثابت ہے کہ حضرت مسیح کی صلیب سے جان بچائی گئی اور وہ اس ملک ہند میں آئے۔ کیونکہ بنی اسرائیل کے دس فرقے ان ہی ملکوں میں آ گئے تھے جو آخر کار مسلمان ہو گئے اور پھر اسلام کے بعد بموجب وعدہ توریت کے اُن میں کئی بادشاہ بھی ہوئے۔ اور یہ ایک دلیل صدق نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ہے کیونکہ

۱؎ النساء: ۱۵۸

راز حقیقت صفحہ 13 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 165 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 166 پر درج ہے

Back

صفحہ ۱۹۱

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۹۱ حقیقۃ الوحی

اب دیکھو کہ ایک طرف تو یہ شخص میرے مسیح موعود ہونے کا اقرار کرتا ہے اور نہ صرف اقرار بلکہ میری تصدیق کے بارہ میں ایک خواب بھی پیش کرتا ہے جو سچی نکلی۔

پھر اسی کتاب کے آخر میں اور نیز اپنے رسالہ المسیح الدجال میں میرا نام دجال اور شیطان بھی رکھتا ہے اور مجھے خائن اور حرامخور اور کذّاب ٹھہراتا ہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ عبدالحکیم خان نے اپنے ان دونوں تناقض بیانوں میں چند روز کا بھی فرق نہیں رکھا۔ ایک طرف تو مجھے مسیح موعود کہا اور اپنے خواب کے ساتھ میری تصدیق کی اور پھر ساتھ ہی دجال اور کذّاب بھی کہہ دیا۔ مجھے اس بات کی پروا نہیں کہ ایسا کیوں کیا۔ مگر ہر ایک کو سوچنا چاہئے کہ اس شخص کی حالت ایک مخبط الحواس انسان کی حالت ہے کہ ایک کھلا کھلا تناقض اپنے کلام میں رکھتا ہے۔ ایک طرف تو مجھے سچا مسیح قرار دیتا ہے بلکہ میری تصدیق میں ایک سچی خواب پیش کرتا ہے جو پوری ہو گئی اور دوسری طرف مجھے سب کافروں سے بدتر سمجھتا ہے کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور تناقض ہوگا اور جن عیبوں کو وہ میری طرف منسوب کرتا ہے اُس کو خود سوچنا چاہئے تھا کہ جب خواب کی رُو سے میری سچائی کی اُس کو تصدیق ہو چکی تھی بلکہ میری تصدیق کے لئے خدا نے حسن بیگ کو طاعون سے ہلاک بھی کر دیا تھا ☆ تو کیا ایک دجال کے لئے خدا نے اس کو مارا اور کیا خدا کو وہ عیب معلوم نہ تھے جو بائیس سال کے بعد اُس کو معلوم ہو گئے ٭ اور یہ عذر اُس کا قابل قبول نہ ہو گا کہ مجھ کو شیطانی خوابیں آتی ہوں گی اور یہ بھی ایک شیطانی خواب تھی۔ کیونکہ یہ تو ہم قبول کر سکتے ہیں کہ اُس کو بوجہ فطرتی مناسبت کے شیطانی خوابیں آتی ہوں گی اور شیطانی الہام

☆ اب عبدالحکیم کے لئے لازم ہے کہ محمد حسن بیگ کی قبر پر جا کر رووے کہ اے بھائی تو تکذیب میں سچا تھا اور میں جھوٹا۔ میرا گناہ معاف کر اور خدا سے معلوم کر کے مجھے بتلا کہ ایک کذّاب اور دجال کے لئے کیوں اُس نے تجھے ہلاک کر دیا۔ منہ

٭ یہ بات بھی غور کے لائق ہے کہ جو شخص بائیس سال تک تحریر اور تقریر میں میری تائید کرتا رہا اور مخالفوں کے ساتھ جھگڑتا رہا۔ اب بائیس سال کے بعد کونسی نئی بات اُس کو معلوم ہوئی جو عیب اُس نے لکھے ہیں وہ تو وہی ہیں جن کا جواب وہ آپ دیا کرتا تھا۔ منہ

حقیقۃ الوحی صفحہ 184 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 191 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 173، 174 پر درج ہے

Back

صفحہ ۱۴۳

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۴۳ ست بچن

﴿۳۱﴾ کرتے ہیں اور ہم تسلیم کر لیں گے کہ شاید کسی مسلمان نے موقعہ پا کر گرنتھ میں داخل کر دیئے ہیں لیکن اگر دلائل قاطعہ سے یہ ثابت ہو جائے کہ باوا صاحب نے اسلام کے عقائد قبول کر لئے تھے اور وید پر ان کا ایمان نہیں رہا تھا تو پھر وہ چند اشعار جو باوا صاحب کے اکثر حصہ کلام سے مخالف پڑے ہیں جعلی اور الحاقی تسلیم کرنے پڑیں گے یا ان کے ایسے معنے کرنے پڑیں گے جن سے تناقض دور ہو جائے اور ظاہر ہے کہ ایک دل سے دو متناقض باتیں نکل نہیں سکتیں۔ کیونکہ ایسے طریق سے یا انسان پاگل کہلاتا ہے یا منافق۔ پس بڑی بے ادبی ہوگی کہ متناقض باتوں کا مجموعہ باوا صاحب کی طرف منسوب کیا جائے۔ ہاں یہ ممکن ہے کہ باوا صاحب نے ایسے مسلمانوں اور قاضیوں مفتیوں کو بھی اپنے اشعار میں سرزنش کی ہو جنہوں نے اس

صفحہ 142

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۴۲ ست بچن

کے رنگ میں ہیں اس لئے انہوں نے باوا صاحب کے اشعار میں اپنی طرف سے اشعار ملا دیئے ۔ جس کا یہ نتیجہ ہوا کہ ان اشعار میں تناقض پیدا ہو گیا۔ مگر صاف ظاہر ہے کہ کسی سچے اور عقلمند اور صاف دل انسان کی کلام میں ہرگز تناقض نہیں ہوتا۔ ہاں اگر کوئی پاگل اور مجنون یا ایسا منافق ہو کہ خوشامد کے طور پر ہاں میں ہاں ملا دیتا ہو اس کا کلام بے شک تناقض ہو جاتا ہے۔ رہا یہ فیصلہ کہ ہم کیونکر ان تمام اشعار میں سے کھرے کھوٹے میں فرق کرسکیں اور کیونکر سمجھیں کہ ان میں سے یہ یہ اشعار باوا صاحب کے منہ سے نکلے ہیں اور یہ یہ اشعار جو ان پہلے شعروں کی نقیض پڑے ہیں وہ کسی اور نے باوا صاحب کی طرف منسوب کر دیئے ہیں۔ تو واضح رہے کہ یہ فیصلہ نہایت آسان ہے چنانچہ طریق فیصلہ یہ ہے کہ ان تمام دلائل پر غور اور انصاف سے نظر ڈالی جاوے جو باوا صاحب کے مسلمان ہو جانے پر ناطق ہیں سو بعد غور اگر یہ ثابت ہو کہ وہ دلائل صحیح نہیں ہیں اور دراصل باوا صاحب ہندو ہی تھے اور وید کو مانتے تھے۔ اور اپنی عملی صورت میں انہوں نے اپنا اسلام ظاہر نہیں کیا بلکہ اسلام کی عداوت ظاہر کی تو اس صورت میں ہمیں اقرار کرنا پڑے گا کہ جو کچھ باوا صاحب کی نسبت مسلمانوں کا یہ پرانا خیال چلا آتا ہے کہ درحقیقت وہ مسلمان ہی تھے اور پانچ وقت نماز بھی پڑھتے تھے اور حج بھی کیا تھا۔ یہ خیال صحیح نہیں ہے اور اس صورت میں وہ تمام اشعار الحاقی مانے جائیں گے جو باوا صاحب کے اسلام پر دلالت

بقیہ حاشیہ یہ فیصلہ لکھا ہے چاہئے کہ کوئی جلدی سے انکار نہ کرے یہی سچ ہے اور ماننا پڑے گا۔ پھر یہ بھی یاد رہے کہ صوفی لوگ اسی زندگی میں ایک قسم کے اواگون کے قائل ہیں۔ اور ہر یک آن کو وہ ایک عالم سمجھتے ہیں اور نیز کہتے

صفحہ 574

حوالہ نمبر 37

۲۵۷

۸۱

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

جو مباحثہ لاہور میں مولوی عبدالحکیم صاحب اور مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے درمیان چند روز سے بابت مسئلہ دعویٰ نبوت مندرجہ کتب مرزا صاحب کے ہورہا تھا آج مولوی صاحب کی طرف سے تیسرا پرچہ جواب الجواب کے جواب میں لکھا جا رہا تھا۔ اثنائے تحریر میں مرزا صاحب کی عبارت مندرجہ ذیل کے بیان کرنے پر جلسہ عام میں فیصلہ ہوگیا جو عبارت درج ذیل ہے۔ المرقوم ۳؍ فروری ۱۸۹۲ء مطابق ۳؍ رجب ۱۳۰۹ھ

العبد العبد العبد العبد فضل دین خاکسار کریم بخش محی الدین المعروف صوفی برکت علی کماہو بعینہ کاتب پنجاب العبد العبد العبد العبد حبیب اللہ ابو یوسف محمد مبارک علی رحیم اللہ دستخط محمد اکرم

الحمدلله والصلوة والسلام علی رسوله خاتم النبیین ۔ اما بعد ۔ تمام مسلمانوں کی خدمت میں گزارش ہے کہ اس عاجز کے رسالہ فتح الاسلام و توضیح مرام و ازالہ اوہام میں جس قدر ایسے الفاظ موجود ہیں کہ محدث ایک معنی میں نبی ہوتا ہے یا یہ کہ محدثیت جزوی نبوت ہے۔ یا یہ کہ محدثیت نبوت ناقصہ ہے۔ یہ تمام الفاظ حقیقی معنوں پر محمول نہیں ہیں بلکہ صرف سادگی سے ان کے لغوی معنوں کے رو سے بیان کئے گئے ہیں۔ ورنہ حاشا و کلا مجھے نبوت حقیقی کا ہرگز دعویٰ نہیں ہے۔ بلکہ جیسا کہ میں کتاب ازالہ اوہام کے صفحہ ۱۳۷ میں لکھ چکا ہوں۔ میرا اس بات پر ایمان ہے کہ ہمارے سیّد و مولیٰ محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں۔ اور میں تمام مسلمان بھائیوں کی خدمت میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اگر وہ ان لفظوں سے ناراض ہیں اور ان کے دلوں پر یہ الفاظ شاق ہیں تو وہ ان الفاظ کو ترمیم شدہ تصور فرما کر بجائے ان کے محدث کا لفظ میری طرف سے سمجھ لیں۔ کیونکہ کسی طرح مجھ کو مسلمانوں میں تفرقہ اور نفاق ڈالنا منظور نہیں ہے۔ جس حالت میں ابتداء سے میری نیت یہی ہے کہ اسطرح کے لفظ نبی سے مراد نبوت حقیقی نہیں ہے بلکہ صرف محدث مراد ہے جس کے معنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے متکلم مراد لئے ہیں یعنی محدثوں کی نسبت فرمایا ہے۔ من ابی ھریرة رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال قال النبی صلے اللہ علیہ وسلم قد کان فی من قبلکم من بنی اسرائیل رجال یکلمون من غیر ان یکونوا انبیاء فان یک فی امتی منھم احد فعمر ۔ صحیح بخاری جلد اول صفحہ ۵۲۱

مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 257-258 طبع جدید، از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 175 پر درج ہے

صفحہ 575

حوالہ نمبر 37

۲۵۸

پس اب جبکہ مجھے اپنے مسلمان بھائیوں کی دلجوئی کے لیے اس لفظ کو دوسرے پیرایہ میں بیان کرنے سے کیا عذر ہو سکتا ہے۔ سو وہ صریح پیرایہ یہ ہے کہ بجائے لفظ نبی کے محدث کا لفظ ہر ایک جگہ سمجھ لیں اور اس جگہ لفظ نبی کو کٹا ہوا خیال فرماویں۔ اور نیز عنقریب یہ عاجز ایک رسالہ مستقل لکھنے والا ہے جس میں ان شبہات کی تفصیل اور بسط سے تشریح کی جائے گی جو میری کتابوں کے پڑھنے والوں کے دلوں میں پیدا ہوتے ہیں اور میری بعض تحریرات کو خلاف عقیدہ اہلسنت والجماعت خیال کرتے ہیں۔ سو میں انشاء اللہ تعالیٰ عنقریب ان اوہام کے ازالہ کے لیے پوری تصریح کے ساتھ اس رسالہ میں لکھ دوں گا اور مطابق اہل سنت والجماعت کے بیان کر دوں گا۔

راقم خاکسار مرزا غلام احمد قادیانی مؤلف رسالہ توضیح مرام و ازالۃ الاوہام

vgw8208 ۲ فروری ۱۸۹۲ء 48wrw4 (محمدی پریس لاہور) 2068698 غلام نبی سنگساز و کاتب

مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 257، 258 طبع جدید، از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 175، 176 پر درج ہے

Back

صفحہ 576

حوالہ نمبر 38

۹

" اے نادانو! میری مراد نبوت سے یہ نہیں کہ میں نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابل پر کھڑا ہو کر نبوت کا دعویٰ کرتا ہوں ۔ یا کوئی نئی شریعت لایا ہوں ۔ صرف مراد میری نبوت سے کثرت مکالمت و مخاطبت الٰہیہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع سے حاصل ہے ۔ سو مکالمہ مخاطبہ کے آپ لوگ بھی قائل ہیں ۔ پس یہ صرف لفظی نزاع ہوئی ۔ یعنی آپ لوگ جس امر کا نام

"اے نادانو! میری مراد نبوت سے یہ نہیں ہے کہ میں نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابل پر کھڑا ہو کر نبوت کا دعویٰ کرتا ہوں یا کوئی نئی شریعت لایا ہوں۔ صرف مراد میری نبوت سے کثرت مکالمت و مخاطبت الٰہیہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع سے حاصل ہے۔ سو مکالمہ و مخاطبہ کے آپ لوگ بھی قائل ہیں۔ پس یہ صرف لفظی نزاع ہوئی۔ یعنی آپ لوگ جس امر کا نام مکالمہ و مخاطبہ رکھتے ہیں میں اس کی کثرت کا نام بموجب حکم الٰہی نبوت رکھتا ہوں۔ ولکل ان یصطلح ۔ اور میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اسی نے مجھے بھیجا ہے اور اُسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اُسی نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے۔" (تتمہ حقیقۃ الوحی۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۵۰۳)

پس آپ کے دعویٰ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی اور نہ ہی آپ کا کوئی الہام یا آپ کی کوئی تحریر منسوخ

XII

ہوئی۔ بلکہ نبوت کی مسلمانوں میں رائج تعریف کے پیش نظر ۱۹۰۱ء سے پہلے آپ نبی کے لفظ کو ظاہر سے پھیر کر بمعنی محدث لیتے تھے لیکن ۱۹۰۱ء کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ پر جو نبوت کی حقیقت کا انکشاف کیا اسی پہلی چیز کا نام بحکم الٰہی نبوت رکھا اور اس نئی تعریف کے ماتحت اپنے آپ کو نبی قرار دیا۔

دافع البلاء و معیار اہل الاصطفاء

یہ حوالہ صفحہ 176 پر درج ہے روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 9 دیباچہ از قادیانی مبلغ مولوی جلال الدین شمس

Back

صفحہ ۳۵۴

ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد ۲۱

کیا عزت اور کیا مرتبہ اور کیا تاثیر اور کیا قوت قدسیہ اپنی ذات میں رکھتا ہے جس کی پیروی کے دعویٰ کرنے والے صرف اندھے اور نابینا ہوں۔ اور خدا تعالیٰ اپنے مکالمات ومخاطبات سے اُن کی آنکھیں نہ کھولے۔ یہ کس قدر لغو اور باطل عقیدہ ہے کہ ایسا خیال کیا جائے کہ بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وحی الٰہی کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہو گیا ہے اور آئندہ کو قیامت تک اس کی کوئی بھی امید نہیں۔ صرف قصوں کی پوجا کرو پس کیا ایسا مذہب کچھ مذہب ہوسکتا ہے جس میں براہِ راست خدا تعالیٰ کا کچھ بھی پتہ نہیں لگتا جو کچھ ہیں قصّے ہیں۔ اور کوئی اگرچہ اس کی راہ میں اپنی جان بھی فدا کرے اُس کی رضا جوئی میں فنا ہو جائے اور ہر ایک چیز پر اُس کو اختیار کر لے تب بھی وہ اس پر اپنی شناخت کا دروازہ نہیں کھولتا اور مکالمات اور مخاطبات سے اس کو مشرف نہیں کرتا۔

میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس زمانہ میں مجھ سے زیادہ بیزار ایسے مذہب سے اور کوئی نہ ہوگا۔ میں ایسے مذہب کا نام شیطانی مذہب رکھتا ہوں نہ کہ رحمانی۔ اور میں یقین رکھتا ہوں کہ ایسا مذہب جہنم کی طرف لے جاتا ہے اور اندھا رکھتا اور اندھا ہی مارتا اور اندھا ہی قبر میں لے جاتا ہے مگر میں ساتھ ہی خدائے کریم و رحیم کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اسلام ایسا مذہب نہیں ہے بلکہ دنیا میں صرف اسلام ہی یہ خوبی اپنے اندر رکھتا ہے کہ وہ بشرط سچی اور کامل اتباع ہمارے سیّد ومولیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مکالمات الٰہیہ سے مشرف کرتا ہے۔ اسی وجہ سے تو حدیث میں آیا ہے کہ علماء امّتی کانبیاء بنی اسرائیل یعنی میری اُمت کے علماء ربّانی بنی اسرائیل کے نبیوں کی طرح ہیں۔ اس حدیث میں بھی علماء ربّانی کو ایک طرف امتی کہا اور دوسری طرف نبیوں سے مشابہت دی ہے۔

اور خود ظاہر ہے کہ جب کہ خدا تعالیٰ قدیم سے اپنے بندوں کے ساتھ ہمکلام ہوتا آیا ہے یہاں تک کہ بنی اسرائیل میں عورتوں کو بھی خدا تعالیٰ کے مکالمہ اور مخاطبہ کا شرف حاصل ہوا ہے جیسے حضرت موسیٰ کی ماں اور مریم صدیقہ کو۔ تو پھر یہ اُمت کیسی بدقسمت اور بے نصیب ہے

براہین احمدیہ حصہ پنجم ضمیمہ صفحہ 184 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 354 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 177, 177 پر درج ہے

صفحہ ۲۰۶

روحانی خزائن جلد ۱۸ ایک غلطی کا ازالہ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّيْ عَلٰى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ

ایک غلطی کا ازالہ

ہماری جماعت میں سے بعض صاحب جو ہمارے دعوے اور دلائل سے کم واقفیت رکھتے ہیں جن کو نہ بغور کتابیں دیکھنے کا اتفاق ہوا اور نہ وہ ایک معقول مدت تک صحبت میں رہ کر اپنے معلومات کی تکمیل کر سکے۔ وہ بعض حالات میں مخالفین کے کسی اعتراض پر ایسا جواب دیتے ہیں کہ جو سراسر واقعہ کے خلاف ہوتا ہے۔ اس لئے باوجود اہل حق ہونے کے ان کو ندامت اُٹھانی پڑتی ہے۔ چنانچہ چند روز ہوئے ہیں کہ ایک صاحب پر ایک مخالف کی طرف سے یہ اعتراض پیش ہوا کہ جس سے تم نے بیعت کی ہے وہ نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کا جواب محض انکار کے الفاظ سے دیا گیا حالانکہ ایسا جواب صحیح نہیں ہے۔ حق یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے اس میں ایسے لفظ رسول اور مُرسل اور نبی کے موجود ہیں نہ ایک دفعہ بلکہ صدہا دفعہ۔ پھر کیونکر یہ جواب صحیح ہوسکتا ہے کہ ایسے الفاظ موجود نہیں ہیں بلکہ اس وقت تو پہلے زمانہ کی نسبت بھی بہت تصریح اور توضیح سے یہ الفاظ موجود ہیں اور براہین احمدیہ میں بھی جس کو طبع ہوئے بائیس برس ہوئے یہ الفاظ کچھ تھوڑے نہیں ہیں چنانچہ وہ مکالمات الٰہیہ جو براہین احمدیہ میں شائع ہو چکے ہیں اُن میں سے ایک یہ وحی اللہ ہے هُوَالَّذِيْ اَرْسَلَ رَسُوْلَهُ بِالْهُدٰى وَ دِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّيْنِ كُلِّهٖ دیکھو صفحہ ۴۹۸ براہین احمدیہ۔ اس میں صاف طور پر اس

ایک غلطی کا ازالہ صفحہ 3 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 206 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 177 پر درج ہے

Back

صفحہ ١٠٦

روحانی خزائن جلد ۲۲ حقيقة الوحى

مِنْ لَدُنِ رَبٍّ كَرِيمٍ ـ در کلام تو چیزے ست کہ شعرا را دران فصیح کیا گیا ہے۔ تیرے کلام میں ایک چیز ہے جس میں شاعروں کو ح دخلے نیست ـ رَبِّ عَلِّمْنِیْ مَا ھُوَ خَیْرٌ عِنْدَکَ ـ یَعْصِمُكَ اللّٰہُ مِنَ دخل نہیں۔ اے میرے خدا مجھے وہ سکھلا جو تیرے نزدیک بہتر ہے تجھے خدا دشمنوں سے الْعِدَا و یَسْطُوْ بِكُلِّ مَنْ سَطَا ـ بَرِّزْ مَا عِنْدَھُمْ مِّنَ الرِّمَاحِ ـ اِنِّیْ بچائے گا اور حملہ کرنے والوں پر حملہ کر دیا۔ انہوں نے جو کچھ اُن کے پاس ہتھیار تھے سب ظاہر کر دئے سَاُخِّرُہٗ فِیْ اٰخِرِالْوَقْتِ ـ اِنَّکَ لَسْتَ عَلَی الْحَقِّ ـ اِنَّ اللّٰہَ رَءُوْفٌ مَیں مولوی محمد حسین بٹالوی کو آخر وقت میں خبر دیدونگا کہ تُو حق پر نہیں ہے۔ خدا رؤف و رَحِیْمٌ ـ اِنَّا اَلَنَّا لَكَ الْحَدِیْدَ ـ اِنِّیْ مَعَ الْاَفْوَاجِ اٰتِیْکَ بَغْتَةً ـ رحیم ہے۔ ہم نے تیرے لئے لوہے کو نرم کر دیا۔ مَیں فوجوں کے ساتھ ناگہانی طور پر آؤں گا۔ اِنِّیْ مَعَ الرَّسُوْلِ اُجِیْبُ اُخْطِیُٔ وَ اُصِیْبُ ٭ وَ قَالُوْا اَنّٰی لَکَ مَیں رسول کے ساتھ ہو کر جواب دُونگا اپنے ارادہ کو کبھی چھوڑ بھی دونگا اور کبھی ارادہ پورا کرونگا۔ اور کہیں گے کہ تجھے یہ مرتبہ کہاں ھٰذَا ـ قُلْ ھُوَ اللّٰہُ عَجِیْبٌ ـ جَآءَ نِیْ اَیْلٌ ❁ وَ اخْتَارَ ـ وَ اَدَارَ اِصْبَعَہٗ سے حاصل ہوا۔ کہہ خدا ذوالعجائب ہے۔ میرے پاس آیل آیا اور اُس نے مجھے چن لیا۔ اور اپنی انگلی کو گردش دی وَ اَشَارَ ـ اِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ اٰتِیْ ـ فَطُوْبٰی لِمَنْ وَجَدَ وَ رَاٰی ـ الامراض اور یہ اشارہ کیا کہ خدا کا وعدہ آگیا۔ پس مبارک وہ جو اُس کو پاوے اور دیکھے۔ طرح طرح کی بیماریاں

بقیہ حاشیہ ٭ اس وحی الٰہی کے ظاہری الفاظ یہ معنے رکھتے ہیں کہ مَیں خطا بھی کرونگا اور صواب بھی یعنی جو مَیں چاہوں گا کبھی کروں گا اور کبھی نہیں اور کبھی میرا ارادہ پورا ہوگا اور کبھی نہیں۔ ایسے الفاظ خدا تعالیٰ کی کلام میں آجاتے ہیں۔ جیسا کہ احادیث میں لکھا ہے کہ مَیں مومن کی قبضِ رُوح کے وقت تردّد میں پڑتا ہوں۔ حالانکہ خدا تردّد سے پاک ہے اسی طرح یہ وحی الٰہی ہے کہ کبھی میرا ارادہ خطا جاتا ہے اور کبھی پورا ہو جاتا ہے۔ اس کے یہ معنی ہیں کہ کبھی مَیں اپنی تقدیر اور ارادہ کو منسوخ کر دیتا ہوں اور کبھی وہ ارادہ جیسا کہ چاہا ہوتا ہے۔ منہ

❁ اس جگہ آیل خدا تعالیٰ نے جبریل کا نام رکھا ہے اس لئے کہ بار بار رجوع کرتا ہے۔ منہ

حقیقة الوحی صفحہ 103 روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 106 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 178,177 پر درج ہے

Back

صفحہ ۴۰۶

روحانی خزائن جلد ۲۲ حقيقة الوحی

آجاتے ہیں کسی مسلمان کا کام نہیں بلکہ ان لوگوں کا کام ہے جو در حقیقت اسلام کے دشمن ہیں۔ اور پھر ایک اور نادانی یہ ہے کہ جاہل لوگوں کو بھڑکانے کے لئے کہتے ہیں کہ اس شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے حالانکہ یہ اُن کا سراسر افترا ہے بلکہ جس نبوت کا دعویٰ کرنا قرآن شریف کے رو سے منع معلوم ہوتا ہے ایسا کوئی دعویٰ نہیں کیا گیا صرف یہ دعویٰ ہے کہ ایک پہلو سے میں اُمتی ہوں اور ایک پہلو سے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیضِ نبوت کی وجہ سے نبی ہوں اور نبی سے مراد صرف اس قدر ہے کہ خدا تعالیٰ سے بکثرت شرف مکالمہ و مخاطبہ پاتا ہوں بات یہ ہے کہ جیسا کہ مجدّد صاحب سرہندی نے اپنے مکتوبات میں لکھا ہے کہ اگر چہ اس اُمت کے بعض افراد مکالمہ و مخاطبہ الٰہیہ سے مخصوص ہیں اور قیامت تک مخصوص رہیں گے لیکن جس شخص کو بکثرت اس مکالمہ ومخاطبہ سے مشرف کیا جائے اور بکثرت امور غیبیہ اس پر ظاہر کئے جائیں وہ نبی کہلاتا ہے۔ اب واضح ہو کہ احادیث نبویہ میں یہ پیشگوئی کی گئی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں سے ایک شخص پیدا ہو گا جو عیسیٰ اور ابن مریم کہلائے گا۔ اور نبی کے نام سے موسوم کیا جائے گا یعنی اس کثرت سے مکالمہ ومخاطبہ کا شرف اس کو حاصل ہوگا اور اس کثرت سے امور غیبیہ اس پر ظاہر ہوں گے کہ بجز نبی کے کسی پر ظاہر نہیں ہو سکتے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے فَلَا یُظْھِرُ عَلٰی غَیْبِہٖ اَحَدًا اِلَّا مَنِ ارْتَضٰی مِنْ رَّسُوْلٍ ۱؂ یعنی خدا اپنے غیب پر کسی کو پوری قدرت اور غلبہ نہیں بخشتا جو کثرت اور صفائی سے حاصل ہو سکتا ہے بجز اس شخص کے جو اس کا برگزیدہ رسول ہو اور یہ بات ایک ثابت شدہ امر ہے کہ جس قدر خدا تعالیٰ نے مجھ سے مکالمہ و مخاطبہ کیا ہے اور جس قدر امور غیبیہ مجھ پر ظاہر فرمائے ہیں تیرہ سو برس ہجری میں کسی شخص کو آج تک بجز میرے یہ نعمت عطا نہیں کی گئی۔ اگر کوئی منکر ہو تو بار ثبوت اس کی گردن پر ہے۔ غرض اس حصہ کثیر وحی الٰہی اور امور غیبیہ میں اس اُمت میں سے مَیں ہی ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس اُمت میں سے گزر چکے ہیں ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے

۱؂ الجن: ۲۷،۲۸

حقیقۃ الوحی صفحہ 391 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 406 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 178 پر درج ہے

صفحہ ۵۰۳

روحانی خزائن جلد ۲۲ تتمہ حقیقۃ الوحی

وحی الٰہی نے مجھے ٹھہرایا ہے اور بصریح بیان فرمایا کہ وہ میرے حق میں ہے اور میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ خدا تعالیٰ کا کلام ہے جو میرے پر نازل ہوا۔ ومن ينكر به فليبارز للمباهلة ولعنة الله على من كذب الحق او افترى على حضرة العزّة . اور یہ دعوٰی اُمّت محمدیہ میں سے آج تک کسی اور نے ہرگز نہیں کیا کہ خدا تعالیٰ نے میرا یہ نام رکھا ہے اور خدا تعالیٰ کی وحی سے صرف مَیں اِس نام کا مستحق ہوں۔ اور یہ کہنا کہ نبوت کا دعوٰی کیا ہے کس قدر جہالت کس قدر حماقت اور کس قدر حق سے خروج ہے اے نادانو! میری مُراد نبوت سے یہ نہیں ہے کہ مَیں نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابل پر کھڑا ہو کر نبوت کا دعوٰی کرتا ہوں یا کوئی نئی شریعت لایا ہوں صرف مُراد میری نبوت سے کثرت مکالمت ومخاطبت الٰہیہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع سے حاصل ہے سو مکالمہ ومخاطبہ کے آپ لوگ بھی قائل ہیں۔ پس یہ صرف لفظی نزاع ہوئی یعنی آپ لوگ جس امر کا نام مکالمہ ومخاطبہ رکھتے ہیں مَیں اُس کی کثرت کا نام بموجب حکم الٰہی نبوت رکھتا ہوں۔ ولكلّ ان يصطلح.

اور میں اُس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اُسی نے مجھے بھیجا ہے اور اُسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اُسی نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے اور اُس نے میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے نشان ظاہر کئے ہیں جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں جن میں سے بطور نمونہ کسی قدر اس کتاب میں بھی لکھے گئے ہیں۔ اگر اس کے معجزانہ افعال اور کھلے کھلے نشان جو ہزاروں تک پہنچ گئے ہیں میرے صدق پر گواہی نہ دیتے تو میں اُس کے مکالمہ کو کسی پر ظاہر نہ کرتا اور نہ یقیناً کہہ سکتا کہ یہ اُس کا کلام ہے پر اُس نے اپنے اقوال کی تائید میں وہ افعال دکھائے جنہوں نے اُس کا چہرہ دکھانے کے لئے ایک صاف اور روشن آئینہ کا کام دیا۔

تتمہ حقیقۃ الوحی صفحہ 503، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 503 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 178 پر درج ہے Back

صفحہ ۴۰۶

( روحانی خزائن جلد ۲۲ ۴۰۶ حقیقۃ الوحی

آجاتے ہیں کسی مسلمان کا کام نہیں بلکہ ان لوگوں کا کام ہے جو درحقیقت اسلام کے دشمن ہیں۔ اور پھر ایک اور نادانی یہ ہے کہ جاہل لوگوں کو بھڑکانے کے لئے کہتے ہیں کہ اس شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے حالانکہ یہ اُن کا سراسر افترا ہے بلکہ جس نبوت کا دعویٰ کرنا قرآن شریف کے رو سے منع معلوم ہوتا ہے ایسا کوئی دعویٰ نہیں کیا گیا صرف یہ دعویٰ ہے کہ ایک پہلو سے مَیں اُمّتی ہوں اور ایک پہلو سے مَیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیضِ نبوت کی وجہ سے نبی ہوں اور نبی سے مراد صرف اس قدر ہے کہ خدا تعالیٰ سے بکثرت شرف مکالمہ ومخاطبہ پاتا ہوں بات یہ ہے کہ جیسا کہ مجدّد صاحب سرہندی نے اپنے مکتوبات میں لکھا ہے کہ اگرچہ اس اُمت کے بعض افراد مکالمہ ومخاطبہ الٰہیہ سے مخصوص ہیں اور قیامت تک مخصوص رہیں گے لیکن جس شخص کو بکثرت اس مکالمہ ومخاطبہ سے مشرف کیا جائے اور بکثرت امور غیبیہ اس پر ظاہر کئے جائیں وہ نبی کہلاتا ہے۔ اب واضح ہو کہ احادیث نبویہ میں یہ پیشگوئی کی گئی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں سے ایک شخص پیدا ہوگا جو عیسیٰ اور ابن مریم کہلائے گا۔ اور نبی کے نام سے موسوم کیا جائے گا یعنی اس کثرت سے مکالمہ ومخاطبہ کا شرف اس کو حاصل ہوگا اور اس کثرت سے امور غیبیہ اس پر ظاہر ہوں گے کہ بجز نبی کے کسی پر ظاہر نہیں ہو سکتے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے فَلا يُظْهِرُ عَلٰى غَيْبِهِ اَحَدًا اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُولٍ لے یعنی خدا اپنے غیب پر کسی کو پوری قدرت اور غلبہ نہیں بخشتا جو کثرت اور صفائی سے حاصل ہو سکتا ہے بجز اُس شخص کے جو اس کا برگزیدہ رسول ہو اور یہ بات ایک ثابت شدہ امر ہے کہ جس قدر خدا تعالیٰ نے مجھ سے مکالمہ ومخاطبہ کیا ہے اور جس قدر امور غیبیہ مجھ پر ظاہر فرمائے ہیں تیرہ سو ۱۳۰۰ برس ہجری میں کسی شخص کو آج تک بجز میرے یہ نعمت عطا نہیں کی گئی۔ اگر کوئی منکر ہو تو بار ثبوت اس کی گردن پر ہے۔ غرض اس حصہ کثیر وحی الٰہی اور امور غیبیہ میں اس اُمت میں سے مَیں ہی ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس اُمت میں سے گزر چکے ہیں ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے

لے الجن: ۲۸، ۲۷

حقیقۃ الوحی صفحہ 391 ، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 406، 407 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 178 پر درج ہے

Back

صفحہ ۴۰۷

روحانی خزائن جلد ۲۲ حقیقۃ الوحی

میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں کیونکہ کثرت وحی اور کثرت امور غیبیہ اس میں شرط ہے اور وہ شرط اُن میں پائی نہیں جاتی اور ضرور تھا کہ ایسا ہوتا تاکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی صفائی سے پوری ہو جاتی کیونکہ اگر دوسرے صلحاء جو مجھ سے پہلے گزر چکے ہیں وہ بھی اسی قدر مکالمہ ومخاطبہ الہیہ اور امور غیبیہ سے حصہ پالیتے تو وہ نبی کہلانے کے مستحق ہوجاتے تو☆ اِس صورت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی میں ایک رخنہ واقع ہو جاتا اس لئے خدا تعالیٰ کی مصلحت نے ان بزرگوں کو اس نعمت کو پورے طور پر پانے سے روک دیا تا جیسا کہ احادیث صحیحہ میں آیا ہے کہ ایسا شخص ایک ہی ہوگا وہ پیشگوئی پوری ہو جائے۔ اور یاد رہے کہ ہم نے محض نمونے کے طور پر چند پیشگوئیاں اس کتاب میں لکھی ہیں مگر دراصل وہ کئی لاکھ پیشگوئی ہے جن کا سلسلہ ابھی تک ختم نہیں ہوا اور خدا کا کلام اس قدر مجھ پر نازل ہوا ہے کہ اگر وہ تمام لکھا جائے تو بیس جزو سے کم نہیں ہوگا اب ہم اسی قدر پر کتاب کو ختم کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ سے چاہتے ہیں کہ اپنی طرف سے اس میں برکت ڈالے اور لاکھوں دلوں کو اس کے ذریعہ سے ہماری طرف کھینچے۔ آمین۔ وآخر دعوانا ان الحمدلله ربّ العالمین۔

تَمَّتْ

☆ خدا کے کلام میں یہ امر قرار یافتہ تھا کہ دوسرا حصہ اس اُمت کا وہ ہوگا جو مسیح موعود کی جماعت ہوگی۔ اسی لئے خدا تعالیٰ نے اس جماعت کو دوسروں سے علیحدہ کر کے بیان کیا جیسا کہ وہ فرماتا ہے وَاٰخَرِیْنَ مِنْهُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِهِمْ ۱؎ یعنی اُمتِ محمدیہ میں سے ایک اور فرقہ بھی ہے جو بعد میں آخری زمانہ میں آنیوالے ہیں اور حدیث صحیح میں ہے کہ اس آیت کے نزول کے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ سلمان فارسی کی پشت پر مارا اور فرمایا لو کان الايمان معلّقًا بالثريا لناله رجلٌ من فارس اور یہ میری نسبت پیشگوئی تھی۔ جیسا کہ خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں اس پیشگوئی کی تصدیق کے لئے وہی حدیث بطور وحی میرے پر نازل کی اور وحی کی رو سے مجھ سے پہلے اس کا کوئی مصداق متعیّن نہ تھا اور خدا کی وحی نے مجھے متعیّن کر دیا۔ فالحمدللّٰہ۔ منہ

۱؎ الجمعۃ: ۳

یہ حوالہ صفحہ 100 پر درج ہے | حقیقۃ الوحی صفحہ 391 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 406، 407 از مرزا قادیانی

صفحہ ۱۵۳

روحانی خزائن جلد ۲۲ حقيقة الوحی

میں میں نے یہ لکھا تھا کہ مسیح ابن مریم آسمان سے نازل ہوگا ۔ مگر بعد میں یہ لکھا کہ آنے والا مسیح ﴿۱۴۹﴾ میں ہی ہوں اس تناقض کا بھی یہی سبب تھا کہ اگرچہ خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں میرا نام عیسیٰ رکھا اور یہ بھی مجھے فرمایا کہ تیرے آنے کی خبر خدا اور رسول نے دی تھی ۔ مگر چونکہ ایک گروہ مسلمانوں کا اس اعتقاد پر جما ہوا تھا اور میرا بھی یہی اعتقاد تھا کہ حضرت عیسیٰ آسمان پر سے نازل ہوں گے اس لئے میں نے خدا کی وحی کو ظاہر پر حمل کرنا نہ چاہا بلکہ اس وحی کی تاویل کی اور اپنا اعتقاد وہی رکھا جو عام مسلمانوں کا تھا اور اسی کو براہین احمدیہ میں شائع کیا لیکن بعد اس کے اس بارہ میں بارش کی طرح وحی الٰہی نازل ہوئی کہ وہ مسیح موعود جو آنے والا تھا تو ہی ہے اور ساتھ اس کے صدہا نشان ظہور میں آئے اور زمین و آسمان دونوں میری تصدیق کے لئے کھڑے ہو گئے اور خدا کے چمکتے ہوئے نشان میرے پر جبر کر کے مجھے اس طرف لے آئے کہ آخری زمانہ میں مسیح آنے والا میں ہی ہوں ورنہ میرا اعتقاد تو وہی تھا جو میں نے براہین احمدیہ میں لکھ دیا تھا اور پھر میں نے اس پر کفایت نہ کر کے اس وحی کو قرآن شریف پر عرض کیا تو آیات قطعیۃ الدلالت سے ثابت ہوا کہ درحقیقت مسیح ابن مریم فوت ہو گیا ہے اور آخری خلیفہ مسیح موعود کے نام پر اسی اُمت میں سے آئے گا ۔ اور جیسا کہ جب دن چڑھ جاتا ہے تو کوئی تاریکی باقی نہیں رہتی اسی طرح صدہا نشانوں اور آسمانی شہادتوں اور قرآن شریف کی قطعیۃ الدلالت آیات اور نصوص صریحہ حدیثیہ نے مجھے اس بات کے لئے مجبور کر دیا کہ میں اپنے تئیں مسیح موعود مان لوں ۔ میرے لئے یہ کافی تھا کہ وہ میرے پر خوش ہو مجھے اس بات کی ہرگز تمنا نہ تھی ۔ میں پوشیدگی کے حُجرہ میں تھا اور کوئی مجھے نہیں جانتا تھا اور نہ مجھے یہ خواہش تھی کہ کوئی مجھے شناخت کرے ۔ اُس نے گوشہ تنہائی سے مجھے جبراً نکالا ۔ میں نے چاہا کہ میں پوشیدہ رہوں اور پوشیدہ مروں مگر اُس نے کہا کہ مَیں تجھے تمام دنیا میں عزت کے ساتھ شہرت دوں گا ۔ پس یہ اُس خدا سے پوچھو کہ ایسا تو نے کیوں کیا ؟ میرا اس میں کیا قصور ہے ۔ اسی طرح اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے ۔ اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اُس کو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا ۔ مگر بعد میں جو ﴿۵۰﴾ خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اُس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور

صفحہ ۱۵۲

حقیقۃ الوحی ۱۵۲ روحانی خزائن جلد ۲۲

☆ صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا مگر اِس طرح سے کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے اُمّتیؔ اور جیسا کہ مَیں نے نمونہ کے طور پر بعض عبارتیں خدا تعالیٰ کی وحی کی اِس رسالہ میں بھی لکھی ہیں اُن سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ مسیح ابن مریم کے مقابل پر خدا تعالیٰ میری نسبت کیا فرماتا ہے۔ مَیں خدا تعالیٰ کی تئیس ۲۳ برس کی متواتر وحی کو کیونکر رَدّ کر سکتا ہوں۔ مَیں اُس کی اِس پاک وحی پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ اُن تمام خدا کی وحیوں پر ایمان لاتا ہوں جو مجھ سے پہلے ہوچکی ہیں اور مَیں یہ بھی دیکھتا ہوں کہ مسیح ابن مریم آخری خلیفہ موسیٰ علیہ السلام کا ہے اور مَیں آخری خلیفہ اُس نبی کا ہوں جو خیر الرسل ہے اِس لئے خدا نے چاہا کہ مجھے اُس سے کم نہ رکھے۔ مَیں خوب جانتا ہوں کہ یہ الفاظ میرے اُن لوگوں کو گوارا نہ ہوں گے جن کے دلوں میں حضرت مسیح کی محبت پرستش کی حد تک پہنچ گئی ہے مگر مَیں اُن کی پرواہ نہیں کرتا۔ مَیں کیا کروں کس طرح خدا کے حکم کو چھوڑ سکتا ہوں اور کس طرح اُس روشنی سے جو مجھے دی گئی تاریکی میں آ سکتا ہوں خلاصہ یہ کہ میری کلام میں کچھ تناقض نہیں مَیں تو خدا تعالیٰ کی وحی کا پیروی کرنے والا ہوں۔ جب تک مجھے اس سے علم نہ ہوا مَیں وہی کہتا رہا جو اوائل میں مَیں نے کہا اور جب مجھ کو اُس کی طرف سے علم ہوا تو مَیں نے اُسکے مخالف کہا۔ مَیں انسان ہوں مجھے عالم الغیب ہونے کا دعویٰ نہیں۔ بات یہی ہے جو شخص چاہے قبول کرے یا نہ کرے۔ مَیں نہیں جانتا کہ خدا نے ایسا کیوں کیا۔ ہاں مَیں اس قدر جانتا ہوں کہ آسمان پر خدا تعالیٰ کی غیرت عیسائیوں کے مقابل پر بڑا جوش مار رہی ہے انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے مخالف وہ توہین کے الفاظ استعمال کئے ہیں کہ قریب ہے کہ اُن سے آسمان پھٹ جائیں۔ پس خدا دکھلاتا ہے

☆ یاد رہے کہ بہت سے لوگ میرے دعوے میں نبی کا نام سن کر دھوکہ کھاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ گویا مَیں نے اُس نبوت کا دعویٰ کیا ہے جو پہلے زمانوں میں براہ راست نبیوں کو ملی ہے لیکن وہ اس خیال میں غلطی پر ہیں میرا ایسا دعویٰ نہیں ہے بلکہ خدا تعالیٰ کی مصلحت اور حکمت نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے افاضہ روحانیہ کا کمال ثابت کرنے کے لئے یہ مرتبہ بخشا ہے کہ آپ کے فیض کی برکت سے مجھے نبوت کے مقام تک پہنچایا۔ اس لئے مَیں صرف نبی نہیں کہلا سکتا بلکہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے اُمّتی اور میری نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ظلی نبوت ۔ اِسی وجہ سے حدیث اور میرے الہام میں جیسا کہ میرا نام نبی رکھا گیا ایسا ہی میرا نام اُمّتی بھی رکھا گیا ہے تا معلوم ہو کہ ہر ایک کمال مجھ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور آپ کے ذریعہ سے ملا ہے۔ منہ

صفحہ 586

حوالہ نمبر 46

بعض اعتراضوں کے جواب ۱۵۴ حقیقة الوحی

صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا مگر اس طرح سے کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی ہوں اور جیسا کہ میں نے نمونہ کے طور پر بعض عبارتیں خدا تعالیٰ کی وحی کی اس رسالہ میں لکھی بھی ہیں ان سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ مسیح ابن مریم کے مقابل پر خدا تعالیٰ میری نسبت کیا فرماتا ہے۔ میں خدا تعالیٰ کی تیئیس برس کی متواتر وحی کو کیونکر رد کر سکتا ہوں۔ میں اس کی اس پاک وحی پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ ان تمام خدائی وحیوں پر ایمان لاتا ہوں جو مجھ سے پہلے ہو چکی ہیں اور میں یہ بھی دیکھتا ہوں کہ مسیح ابن مریم آخری خلیفہ موسیٰ علیہ السلام کا تھا اور میں آخری خلیفہ اس نبی کا ہوں جو خیر الرسل ہے۔ اسلئے خدا نے چاہا کہ مجھے اس سے کم نہ رکھے۔ میں خوب جانتا ہوں کہ یہ الفاظ میرے ان لوگوں کو گوارا نہ ہوں گے جن کے دلوں میں حضرت عیسیٰ کی محبت پرستی کی حد تک پہنچ گئی ہے مگر میں ان کی پروا نہیں کرتا۔ کیونکہ خدا کا کلمہ اس محل تک مجھے لے پہنچا ہے کہ اس میں کسی طرح سر مو تخلف نہیں ہو سکتا تاویلیں ہیں مگر تاویلوں کا خلاصہ یہ کہ میری کلام میں کچھ تناقض نہیں میں تو خدا تعالیٰ کی وحی کا پیروی کرنے والا ہوں۔ جب تک مجھے اس علم نہ تھا میں وہی کہتا رہا جو اوائل میں میں نے کہا اور جب مجھ کو اس کی طرف سے علم ہوا تو میں نے اس کے مخالف کہا۔ میں انسان ہوں۔ مجھے عالم الغیب ہونے کا دعویٰ نہیں۔ بات یہی ہے جو شخص چاہے قبول کرے یا رد کرے۔ میں نہیں جانتا کہ خدا نے ایسا کیوں کیا۔ ہاں میں جس قدر جانتا ہوں کہ آسمان پر خدا تعالیٰ کی غیرت عیسائیوں کے مقابل پر بڑا جوش مار رہی ہے انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے مخالف وہ توہین کے الفاظ استعمال کئے ہیں کہ قریب ہے کہ ان سے آسمان پھٹ جائیں پس خدا کے قہر نے چاہا

٭ چاہا ہے کہ یہ مسیح کا کلمہ میرے منہ سے پورا ہو۔ ناسمجھ دھوکہ کھاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ گویا میں نے اس نبوت کا دعویٰ کیا ہے جو پہلے زمانوں میں براہ راست نبیوں کو ملی ہے لیکن وہ اس خیال میں غلطی پر ہیں میرا ایسا دعویٰ نہیں ہے بلکہ خدا تعالیٰ کی مصلحت اور حکمت نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے افاضہ روحانی کا کمال ثابت کرنے کیلئے یہ مرتبہ بخشا ہے کہ آپکے فیض کی برکت سے مجھے نبوت کے مقام تک پہنچایا۔ اس لئے میں صرف نبی نہیں کہلا سکتا بلکہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی اور میری نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ظل ہے نہ کہ اصلی نبوت۔ اسی وجہ سے حدیثوں اور میرے الہام میں جیسا کہ میرا نام نبی رکھا گیا ایسا ہی میرا نام امتی بھی رکھا گیا تا معلوم ہو کہ ہر ایک کمال مجھ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور آپکے ذریعہ سے ملا ہے۔ منہ

حقیقة الوحی صفحہ 150، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 154 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 179 پر درج ہے

صفحہ ۱۵۴

روحانی خزائن جلد ۲۲ حقیقة الوحي

صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا مگر اس طرح سے کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے اُمّتی ٭ اور جیسا کہ مَیں نے نمونہ کے طور پر بعض عبارتیں خدا تعالیٰ کی وحی کی اس رسالہ میں بھی لکھی ہیں اُن سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ مسیح ابن مریم کے مقابل پر خدا تعالیٰ میری نسبت کیا فرماتا ہے۔ میں خدا تعالیٰ کی تئیس۲۳ برس کی متواتر وحی کو کیونکر رَدّ کر سکتا ہوں۔ مَیں اُس کی اس پاک وحی پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ اُن تمام خدا کی وحیوں پر ایمان لاتا ہوں جو مجھ سے پہلے ہوچکی ہیں اور میں یہ بھی دیکھتا ہوں کہ مسیح ابن مریم آخری خلیفہ موسیٰ علیہ السلام کا ہے اور میں آخری خلیفہ اُس نبی کا ہوں جو خیرالرسل ہے اس لئے خدا نے چاہا کہ مجھے اس سے کم نہ رکھے۔ میں خوب جانتا ہوں کہ یہ الفاظ میرے اُن لوگوں کو گوارا نہ ہوں گے جن کے دلوں میں حضرت مسیح کی محبت پرستش کی حد تک پہنچ گئی ہے مگر میں اُن کی پرواہ نہیں کرتا۔ مَیں کیا کروں کس طرح خدا کے حکم کو چھوڑ سکتا ہوں اور کس طرح اُس روشنی سے جو مجھے دی گئی تاریکی میں آسکتا ہوں خلاصہ یہ کہ میری کلام میں کچھ تناقض نہیں مَیں تو خدا تعالیٰ کی وحی کا پیروی کرنے والا ہوں۔ جب تک مجھے اس سے علم نہ ہوا میں وہی کہتا رہا جو اوائل میں مَیں نے کہا اور جب مجھ کو اُس کی طرف سے علم ہوا تو مَیں نے اُسکے مخالف کہا۔ میں انسان ہوں مجھے عالم الغیب ہونے کا دعویٰ نہیں۔ بات یہی ہے جو شخص چاہے قبول کرے یا نہ کرے۔ میں نہیں جانتا کہ خدا نے ایسا کیوں کیا۔ ہاں میں اس قدر جانتا ہوں کہ آسمان پر خدا تعالیٰ کی غیرت عیسائیوں کے مقابل پر بڑا جوش مار رہی ہے انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے مخالف وہ توہین کے الفاظ استعمال کئے ہیں کہ قریب ہے کہ اُن سے آسمان پھٹ جائیں۔ پس خدا دکھلاتا ہے

٭ یادرہے کہ بہت سے لوگ میرے دعوے میں نبی کا نام سن کر دھوکہ کھاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ گویا مَیں نے اُس نبوت کا دعویٰ کیا ہے جو پہلے زمانوں میں براہ راست نبیوں کو ملی ہے لیکن وہ اس خیال میں غلطی پر ہیں میرا ایسا دعویٰ نہیں ہے بلکہ خدا تعالیٰ کی مصلحت اور حکمت نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے افاضہ روحانیہ کا کمال ثابت کرنے کے لئے یہ مرتبہ بخشا ہے کہ آپ کے فیض کی برکت سے مجھے نبوت کے مقام تک پہنچایا۔ اس لئے مَیں صرف نبی نہیں کہلا سکتا بلکہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے اُمّتی اور میری نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ظل ہے نہ کہ اصلی نبوت۔ اسی وجہ سے حدیث اور میرے الہام میں جیسا کہ میرا نام نبی رکھا گیا ایسا ہی میرا نام اُمّتی بھی رکھا ہے تا معلوم ہو کہ ہر ایک کمال مجھ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور آپ کے ذریعہ سے ملا ہے۔ منہ

صفحہ ۶۲

روحانی خزائن جلد ۱۱ ۶۲ رسالہ دعوت قوم

يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ۔ ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ وَثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ۔ وَھٰذَا تَذْکِرَۃٌ فَمَنْ شَاءَ اور گروہ پہلوں میں سے اور ایک پچھلوں میں سے۔ اور یہ تذکرہ ہے پس جو چاہے خدا اتَّخَذَ اِلٰی رَبِّہٖ سَبِیْلًا۔ اِنَّ النَّصَارٰی حَوَّلُوا الْاَمْرَ۔ سَنَرُدُّھَا عَلَی النَّصَارٰی۔ کی راہ کو اختیار کرے۔ نصارٰی نے حقیقت کو بدل دیا ہے سو ہم ذلت اور شکست کو نصارٰی پر واپس پھینک دیں گے لَیُنْبَذَنَّ فِی الْحُطَمَۃِ۔ اِنَّا نُبَشِّرُکَ بِغُلَامٍ حَلِیْمٍ مَظْھَرِ الْحَقِّ وَالْعَلَاءِ اور آتھم نابود کرنے والی آگ میں ڈال دیا جاوے گا۔ ہم تجھے ایک حلیم لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں جو حق اور بلندی کَاَنَّ اللّٰہَ نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ۔ اِسْمُہٗ عِمَانُوَایِل۔ یُوْلَدُ لَکَ الْوَلَدُ۔ وَيُدْنٰی مِنْکَ کا مظہر ہوگا گویا خدا آسمان سے اترا۔ نام اس کا عمّانوایل ہے۔ جس کا ترجمہ یہ ہے کہ خدا ہمارے ساتھ ہے۔ تجھے الْفَضْلُ۔ اِنَّ نُوْرِیْ قَرِیْبٌ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ۔ لڑکا دیا جائے گا اور خدا کا فضل تجھ سے نزدیک ہوگا۔ میرا نور قریب ہے کہہ میں شریر مخلوقات سے خدا کی پناہ مانگتا عِجْلٌ جَسَدٌ لَّہٗ خُوَارٌ۔ فَلَہٗ نَصَبٌ وَّ عَذَابٌ۔ ہوں۔ یہ بے جان گوسالہ ہے اور بیہودہ گو یعنی لیکھرام پشاوری سو اس کو دکھ کی مار اور عذاب ہوگا یعنی اسی دنیا میں۔

(فارسی وارد و الہام)

بخرام کہ وقت تو نزدیک رسید و پائے محمدیاں بر منار بلند تر محکم افتاد۔ خدا تیرے سب کام درست کر دے گا اور تیری ساری مرادیں تجھے دے گا۔ میں اپنی چمکار دکھلاؤں گا۔ اپنی قدرت نمائی سے تجھ کو اٹھاؤں گا اور تیری برکتیں پھیلاؤں گا۔ یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا

آمِین

یہ کسی قدر نمونہ ان الہامات کا ہے جو وقتاً فوقتاً مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوئے ہیں اور ان کے سوا اور بھی بہت سے الہامات ہیں مگر میں خیال کرتا ہوں کہ جس قدر میں نے لکھا ہے وہ کافی ہے۔ اب ظاہر ہے کہ ان الہامات میں میری نسبت بار بار بیان کیا گیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ، خدا کا مامور، خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے اور نیز ان تمام الہامات میں اس عاجز کی اس قدر تعریف اور توصیف ہے کہ اگر یہ تعریفیں درحقیقت خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں تو ہر ایک مسلمان کو چاہئے کہ تمام تکبر اور نخوت اور شیخی سے الگ ہو کر ایسے

صفحہ 589

حوالہ نمبر 49

۲۴۷

مسیح موعود علیہ السلام کا دعویٰ نبوت

ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں۔ اصل میں یہ نزاع لفظی ہے۔ خدا تعالیٰ جس کے ساتھ ایسا مکالمہ مخاطبہ کرے کہ جو بلحاظ کمیت وکیفیت دوسروں سے بڑھ کر ہو اور اس میں پیشگوئیاں بھی کثرت سے ہوں اُسے نبی کہتے ہیں اور یہ تعریف ہم پر صادق آتی ہے پس ہم نبی ہیں۔ ہاں یہ نبوت تشریعی نہیں جو کتاب اللہ کو منسوخ کرے اور نئی کتاب لائے۔ ایسے دعویٰ کو تو ہم کفر کہتے ہیں۔ بنی اسرائیل میں کئی ایسے نبی ہوئے ہیں جن پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی، صرف خدا کی طرف سے پیشگوئیاں کرتے تھے جن سے موسوی دین کی شوکت اور صداقت کا اظہار ہوتا۔ پس وہ نبی کہلائے۔ یہی حال اس سلسلہ میں ہے۔ ہمارا۔ اگر ہم نبی نہ کہلائیں تو اس کے لیے اور کونسا امتیازی لفظ ہے جو دوسرے شخصوں سے ممتاز کرے۔

دیکھو! اور لوگوں کو بھی بعض اوقات سچے خواب آجاتے ہیں بلکہ بعض دفعہ کوئی کلمہ بھی زبان پر جاری ہو جاتا ہے جو سچ نکل آتا ہے۔ یہ اس لیے تا ان پر حجت پوری ہو اور وہ یہ نہ کہہ سکیں کہ ہم کو یہ حواس نہ دیئے گئے پس ہم سمجھ نہیں سکتے کہ یہ کیسی بات کا دعویٰ کرتے ہیں۔ آپ کے سمجھانا تو یہ چاہتا تھا کہ وہ کس قسم کی نبوت کے مدعی ہیں۔

ہمارا مذہب تو یہ ہے کہ جس دین میں نبوت کا سلسلہ نہ ہو وہ مردہ ہے۔ یہودیوں، عیسائیوں، ہندوؤں کے دین کو جو ہم مردہ کہتے ہیں تو اسی لیے کہ اُن میں اب کوئی نبی نہیں ہوتا۔ اگر اسلام کا بھی یہی حال ہوتا تو پھر ہم بھی قصہ گو ٹھہرے۔ کس لیے اس کو دوسرے دینوں سے بڑھ کر کہتے ہیں۔ آخر کوئی امتیاز بھی ہونا چاہئیے صرف سچے خوابوں کا آنا تو کافی نہیں کہ یہ تو چوہڑے چماروں کو بھی آجاتے ہیں۔ مکالمہ مخاطبہ الٰہیہ ہونا چاہئیے اور وہ بھی ایسا کہ جس میں پیشگوئیاں ہوں اور بلحاظ کمیت و کیفیت کے بڑھ چڑھ کر ہو، ایک مصرعہ سے تو شاعر نہیں بن جاتے ہیں پس حصول ایک دو خوابات یا الہاموں سے کوئی مدعی رسالت ہو تو وہ جھوٹا ہے۔ ہم پر کئی سالوں سے وحی نازل ہو رہی ہے اور اللہ تعالیٰ کے کئی نشان اس کے صدق کی گواہی دے چکے ہیں۔ اسی لیے ہم نبی ہیں۔ امر حق کے پہنچانے میں کسی قسم کا اخفاء نہ رکھنا چاہئیے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک زندگی

فرمایا:- آریہ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پرُ نور نہیں تھی یہ ان لوگوں کی سخت غلطی ہے کیونکہ پاک زندگی پر ثبات بہت کچھ دال ہے باطن مخفی ہے اور اس کا حال سوائے اللہ کے اور کسی کو معلوم نہیں۔ پس پاک وہ ہے جس کے پاک ہونے پر خدا گواہی دے۔ دیکھو ابو جہل نے دُعا کی تھی کہ جو ہم میں اَعَزّ وَ اَكْرَم ہو وہ اَعَزّ وَ اَكْرَم آج اسے ہلاک کرے۔ اسی روز ہلاک ہو گیا۔ ایسا

ملفوظات جلد پنجم صفحہ 447 طبع جدید از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 180 پر درج ہے

صفحہ ۴۲۶

روحانی خزائن جلد ۱۷ اربعین نمبر ۳

ممن افتریٰ علی اللّٰہ کذبا۔ تنزیل من اللّٰہ العزیز الرحیم۔ لتنذر قومًا ما انذر آباء ھم ولتدعو قومًا آخرین۔ عسی اللّٰہ ان یجعل بینکم وبین الذین عادیتم مودۃً۔ یخرّون علی الاذقان سجدا ربنا اغفرلنا انا کنّا خاطئین۔ لا تثریب علیکم الیوم یغفر اللّٰہ لکم و ھو ارحم الراحمین۔ انی انا اللّٰہ فاعبدنی ولا تنسانی واجتھد ان تصلنی واسئل ربک و کن سئولا۔ اللّٰہ ولیّ حنّان۔ علّم القرآن۔ فبایّ حدیث بعدہ تحکمون۔ نزّلنا علیٰ ھٰذا العبد رحمۃ۔ وما ینطق عن الھویٰ۔ ان ھو الا وحی یوحٰی۔ دنٰی فتدلّٰی فکان قاب قوسین او ادنٰی۔ ذرنی والمکذبین۔ انی مع الرسول اقوم۔ انّ یومی لفصل عظیم۔ وانک علیٰ صراط مستقیم۔ وانا نرینک بعض الذی نعد ھم او نتوفینک۔ وانی رافعک الیّ۔ و یاتیک نصرتی۔ انی انا اللّٰہ ذو السلطان۔ ترجمہ:۔ اور کہتے ہیں کہ یہ بناوٹ ہے اور یہ شخص دین کی بیخ کنی کرتا ہے کہہ حق آیا اور باطل بھاگ گیا۔ کہہ اگر یہ امر خدا کی طرف سے نہ ہوتا تو تم اس میں بہت سا اختلاف پاتے یعنی خدا تعالیٰ کی کلام سے اس کے لئے کوئی تائید نہ ملتی۔ اور قرآن جو راہ بیان فرماتا ہے یہ راہ اس کے مخالف ہوتی اور قرآن سے اس کی تصدیق نہ ملتی اور دلائل حقہ میں سے کوئی دلیل اس پر قائم نہ ہوسکتی اور اس میں ایک نظام اور ترتیب اور علمی سلسلہ اور دلائل کا ذخیرہ جو پایا جاتا ہے یہ ہرگز نہ ہوتا اور آسمان اور زمین میں سے جو کچھ اس کے ساتھ نشان جمع ہورہے ہیں ان میں سے کچھ بھی نہ ہوتا۔ اور پھر فرمایا خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کو یعنی اس عاجز کو ہدایت اور دین حق.... اور تہذیب اخلاق کے ساتھ بھیجا۔ ان کو کہہ دے کہ اگر مَیں نے افترا کیا ہے تو

صفحہ ۲۴۱

روحانی خزائن جلد ۱۸ دافع البلاء

تو کچھ تعجب نہیں کہ اس معجزہ نما جانور کی گورنمنٹ جان بخشی کر دے۔ اسی طرح عیسائیوں کو چاہیے کہ کلکتہ کی نسبت پیشگوئی کر دیں کہ اس میں طاعون نہیں پڑے گی کیونکہ بڑا بشپ برٹش انڈیا کا کلکتہ میں رہتا ہے۔ اسی طرح میاں شمس الدین اور اُن کی انجمن حمایت اسلام کے ممبروں کو چاہیے کہ لاہور کی نسبت پیشگوئی کر دیں کہ وہ طاعون سے محفوظ رہے گا۔ اور منشی الٰہی بخش اکونٹنٹ جو الہام کا دعویٰ کرتے ہیں اُن کے لئے بھی یہی موقع ہے کہ اپنے الہام سے لاہور کی نسبت پیشگوئی کر کے انجمن حمایت اسلام کو مدد دیں۔ اور مناسب ہے کہ عبدالجبار اور عبدالحق شہر امرتسر کی نسبت پیشگوئی کر دیں اور چونکہ فرقہ وہابیہ کی اصل جڑ دلی ہے اس لئے مناسب ہے کہ نذیر حسین اور محمد حسین دلی کی نسبت پیشگوئی کریں کہ وہ طاعون سے محفوظ رہے گی۔ پس اس طرح سے گویا تمام پنجاب اس مہلک مرض سے محفوظ ہو جائے گا۔ اور گورنمنٹ کو بھی مفت میں سبکدوشی ہو جائے گی۔ اور اگر ان لوگوں نے ایسا نہ کیا تو پھر یہی سمجھا جائے گا کہ سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیاں میں اپنا رسول بھیجا۔

اور بالآخر یاد رہے کہ اگر یہ تمام لوگ جن میں مسلمانوں کے ملہم اور آریوں کے پنڈت اور عیسائیوں کے پادری داخل ہیں چپ رہے تو ثابت ہو جائے گا کہ یہ سب لوگ جھوٹے ہیں اور ایک دن آنے والا ہے جو قادیاں سورج کی طرح چمک کر دکھلا دے گی کہ وہ ایک سچے کا مقام ہے۔ بالآخر میاں شمس الدین صاحب کو یاد رہے کہ آپ نے جو اپنے اشتہار میں آیت اَمَّنْ يُّجِيبُ الْمُضْطَرَّ لے لکھی ہے اور اس سے قبولیت دعا کی امید کی ہے۔ یہ امید صحیح نہیں ہے کیونکہ کلام الٰہی میں لفظ مضطر سے وہ ضرر یافتہ مراد ہیں جو محض ابتلا کے طور پر ضرر یافتہ ہوں نہ سزا کے طور پر لیکن جو لوگ سزا کے طور پر کسی ضرر کے تختہ مشق ہوں وہ اس آیت کے مصداق نہیں ہیں ورنہ لازم آتا ہے کہ قوم نوح اور قوم لوط اور قوم فرعون وغیرہ کی دعائیں اس اضطرار کے وقت میں قبول کی جاتیں مگر ایسا نہیں ہوا اور خدا کے ہاتھ نے اُن قوموں کو ہلاک کر دیا۔ اور

لے النمل : ۶۳

Back

صفحہ 592

حوالہ نمبر 52

۱۷

۱۴؍ اپریل ۱۹۰۶ء

طوری مشاہدات

فرمایا : خدا تعالیٰ اپنے وجود کو آپ دوبارہ ثابت کرنا چاہتا ہے جیسا کہ کوہِ طور پر تجلیاتِ الٰہیہ کا نمونہ دکھایا گیا تھا۔ ایسا ہی اب بھی دکھایا جائے گا۔ جس طرح فرعون کے پاس رَسُول بھیجا گیا تھا وہی الفاظ ہم کو بھی الہام ہوئے ہیں کہ تُو بھی ایک رَسُول ہے جیسا کہ فرعون کی طرف ایک رَسُول بھیجا گیا تھا۔ بغیر طوری مشاہدات کے اب دُنیا کے لوگ سیدھے نہیں ہو سکتے۔

۱۷؍ اپریل ۱۹۰۶ء

معجزات کے بارہ میں سُنّتِ الٰہی

فرمایا : بعض لوگ یہ خواہش رکھتے ہیں کہ اُن کے مانگے ہوئے معجزات ان کو دکھائے جائیں یہ دُرست نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی یہ سُنّت نہیں جس حد تک خدا تعالیٰ کا قانون قدرت تسلّی دینے کا ہے اگر اس حد تک تسلّی نہ ہو جائے تو پھر مؤاخذہ کے لائق انسان ہو جاتا ہے۔

جماعت میں داخل ہونیوالوں کی قبولیت

فرمایا : خدا تعالیٰ نے ہمیں فرمایا ہے کہ جو لوگ اس جماعت میں داخل ہوں گے وہ اُن کو قبول کرے گا۔ باقی جو لوگ اپنی ضد پر قائم رہتے ہیں اور شقاوت کی راہ سے انکار کرتے ہیں وہ راستباز نہیں ٹھہر سکتے۔

دینی عقل تقویٰ سے تیز ہوتی ہے

فرمایا : دینی عقل اَور ہے اور دُنیوی عقل اَور ہے۔ جو لوگ دُنیوی عقل میں ریاضت کرنے والے ہیں وہ یہ دعویٰ

۱؂ بدر جلد ۲ نمبر ۱۰ صفحہ ۲ مورخہ ۲۶؍ اپریل ۱۹۰۶ء

ملفوظات جلد پنجم صفحہ 17 طبع جدید از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 180 پر درج ہے

صفحہ ۲۳۰

روحانی خزائن جلد ۱۸ دافع البلاء

نہیں ہوتا کہ ایک رسول کے انکار سے دنیا میں کوئی تباہی بھیجی جائے بلکہ اگر لوگ شرافت اور تہذیب سے خدا کے رسولوں کا انکار کریں اور دست درازی اور بد زبانی نہ کریں تو اُن کی سزا قیامت میں مقرر ہے۔ اور جس قدر دنیا میں رسولوں کی حمایت میں مری بھیجی گئی ہے وہ محض انکار سے نہیں بلکہ شرارتوں کی سزا ہے۔ اسی طرح اب بھی جب لوگ بد زبانی اور ظلم اور تعدّی اور اپنی خباثتوں سے باز آجائیں گے اور شریفانہ برتاؤ اُن میں پیدا ہو جائے گا۔ تب یہ تنبیہ اُٹھالی جائے گی مگر اس تقریب پر بہت سے سعادت مند خدا کے رسول کو قبول کر لیں گے اور آسمانی برکتوں سے حصہ لیں گے اور زمین سعادتمندوں سے بھر جائے گی (۳) تیسری بات جو اس وحی سے ثابت ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ بہر حال جب تک کہ طاعون دنیا میں رہے گو ستّرہ برس تک رہے قادیاں کو اس کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا کیونکہ یہ اُس کے رسول کا تخت گاہ ہے اور یہ تمام امتوں کے لئے نشان ہے۔

اب اگر خدا تعالیٰ کے اس رسول اور اس نشان سے کسی کو انکار ہو اور خیال ہو کہ فقط رسمی نمازوں اور دعاؤں سے یا مسیح کی پرستش سے یا گائے کے طفیل سے یا ویدوں کے ایمان سے باوجود مخالفت اور دشمنی اور نافرمانی اس رسول کے طاعون دُور ہو سکتی ہے تو یہ خیال بغیر ثبوت کے قابل پذیرائی نہیں ۔ پس جو شخص ان تمام فرقوں میں سے اپنے مذہب کی سچائی کا ثبوت دینا چاہتا ہے تو اب بہت عمدہ موقع ہے ۔ گویا خدا کی طرف سے تمام مذاہب کی سچائی یا کذب پہچاننے کے لئے ایک نمائش گاہ مقرر کیا گیا ہے ۔ اور خدا نے سبقت کر کے اپنی طرف سے پہلے قادیاں کا نام لے دیا ہے ۔ اب اگر آریہ لوگ وید کو سچا سمجھتے ہیں تو اُن کو چاہئے کہ بنارس کی نسبت جو وید کے درس کا اصل مقام ہے ایک پیشگوئی کر دیں کہ اُن کا پرمیشر بنارس کو طاعون سے بچا لے گا ۔ اور سناتن دھرم والوں کو چاہئے کہ کسی ایسے شہر کی نسبت جس میں گائیاں بہت ہوں مثلاً امرتسر کی نسبت پیشگوئی کر دیں کہ گئو کے طفیل اس میں طاعون نہیں آئے گی اگر اس پیشگوئی کے

صفحہ ۵۰۳

روحانی خزائن جلد ۲۲ تتمہ حقیقۃ الوحی وحی الٰہی نے مجھے ٹھہرایا ہے اور بتصریح بیان فرمایا کہ وہ میرے حق میں ہے اور میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ خدا تعالیٰ کا کلام ہے جو میرے پر نازل ہوا ۔ ومن ینکر بہ فلیبارز للمباہلۃ ولعنۃ اللّٰہ علی من کذب الحق وافتریٰ علی حضرۃ العزۃ۔ اور یہ دعویٰ اُمّت محمدیہ میں سے آج تک کسی اور نے ہرگز نہیں کیا کہ خدا تعالیٰ نے میرا یہ نام رکھا ہے اور خدا تعالیٰ کی وحی سے صرف مَیں اس نام کا مستحق ہوں۔ اور یہ کہنا کہ نبوت کا دعویٰ کیا ہے کس قدر جہالت کس قدر حماقت اور کس قدر حق سے خروج ہے اے نادانو! میری مُراد نبوت سے یہ نہیں ہے کہ مَیں نعوذ باللّٰہ آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے مقابل پر کھڑا ہو کر نبوت کا دعویٰ کرتا ہوں یا کوئی نئی شریعت لایا ہوں صرف مُراد میری نبوت سے کثرت مکالمت ومخاطبت الٰہیہ ہے جو آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی اتباع سے حاصل ہے سو مکالمہ ومخاطبہ کے آپ لوگ بھی قائل ہیں۔ پس یہ صرف لفظی نزاع ہوئی یعنی آپ لوگ جس امر کا نام مکالمہ ومخاطبہ رکھتے ہیں مَیں اُس کی کثرت کا نام بموجب حکم الٰہی نبوت رکھتا ہوں ۔ ولکلّ ان یصطلح۔ اور میں اُس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اُسی نے مجھے بھیجا ہے اور اُسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اُسی نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے اور اُس نے میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے نشان ظاہر کئے ہیں جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں جن میں سے بطور نمونہ کسی قدر اس کتاب میں بھی لکھے گئے ہیں۔ اگر اس کے معجزانہ افعال اور کھلے کھلے نشان جو ہزاروں تک پہنچ گئے ہیں میرے صدق پر گواہی نہ دیتے تو مَیں اُس کے مکالمہ کو کسی پر ظاہر نہ کرتا اور نہ یقیناً کہہ سکتا کہ یہ اُس کا کلام ہے پر اُس نے اپنے اقوال کی تائید میں وہ افعال دکھائے جنہوں نے اُس کا چہرہ دکھانے کے لئے ایک صاف اور روشن آئینہ کا کام دیا۔

صفحہ 595

(حوالہ نمبر 55)

۲۹۲

نے فرمایا کہ ”یہی میں نے شرح عقائد میں لکھا دیکھا ہے۔ کہ

مبارک

یہ بھی قبولیت کا نشان ہے“

(الحکم جلد ۷ نمبر ۱۷ مورخہ یکم مئی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۵)

اپریل ۱۹۰۳ء = ”ایک دفعہ مرزا ایوب بیگ ؎۱ کی زندگی میں جبکہ بہت اس کی شفا کے لئے دُعا کی تب خواب میں دیکھا کہ ایک سڑک ہے گھبراہٹ کے ساتھ ایک بکری کٹے ہوئے گلے کو بتاتی گئی ہے اور ایک شخص ایوب بیگ کو اس سڑک پر سے لے جا رہا ہے اور وہ سڑک آسمان کی طرف جاتی ہے اور نہایت روشن اور چمکیلی ہے۔ گویا زمین پر چاند بچھایا گیا ہے میں نے یہ خواب اپنی جماعت میں بیان کی اور تسلی کے طور پر یہ کہا کہ یہ صحت کی طرف اشارہ ہے لیکن دل نہیں مانتا تھا کہ اس خواب کی تعبیر صحت ہو سب کو اس خواب کی تعبیر تشویش آئی۔ اِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ“

(مکتوب بنام ڈاکٹر سید محمد حسین بیگ صاحب مندرجہ الحکم جلد ۷ نمبر ۱۸ مورخہ ۱۷ مئی ۱۹۰۳ء صفحہ ۴)

۵؍ اپریل ۱۹۰۳ء = ”اس خط کے لکھنے کے وقت یوں ہی جب میری مرحوم کی طرف توجہ تھی کہ وہ کیونکر جلد ہماری آنکھوں سے ناپدید ہو گیا اور تمام تعلقات کو خواب و خیال کر گیا کہ یک دفعہ الہام ہوا:

مبارک وہ آدمی جو اس دروازہ کے راہ سے داخل ہو

یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عزیز مرزا ایوب بیگ ؎۲ کی موت نہایت نیک طور پر ہوئی ہے، اور خوش نصیب وہ ہے جس کی ایسی موت ہو“

(مکتوب بنام ڈاکٹر سید محمد حسین بیگ صاحب مندرجہ الحکم جلد ۷ نمبر ۱۸ مورخہ ۱۷ مئی ۱۹۰۳ء صفحہ ۴)

۱۹۰۰ء = ”خدا نے مجھے کہا کہ اُٹھ اور ان لوگوں کو کہہ دے کہ میرے پاس خدا کی گواہی ہے پس کیا تم خدا کی گواہی ردّ کرو گے۔ خدا کا کلام جو میرے پر نازل ہوا اُس کے یہ الفاظ ہیں: قُلْ عِنْدِيْ شَهَادَةٌ مِّنَ اللّٰهِ فَهَلْ أَنْتُمْ مُّؤْمِنُوْنَ. قُلْ عِنْدِيْ شَهَادَةٌ مِّنَ اللّٰهِ فَهَلْ أَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ. قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ. وَقُلْ يٰأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ إِلَيْكُمْ جَمِيْعًا. أَيْ مُرْسَلٌ مِّنَ اللّٰهِ“

(تریاق القلوب ص ۱۳۰ خزائن ص ۲۶۷ ج ۱۵ حاشیہ، ضمیمہ رسالہ الاستفتاء ص ۸۴ خزائن ص ۷۰۶ ج ۲۲)

(ترجمہ: ان کو کہہ کہ میرے پاس خدا کی گواہی ہے پس کیا تم ایمان لاتے ہو یا نہیں۔ ان کو کہہ کہ میرے

؎۱ مرزا ایوب بیگ صاحب (مرتب) ؎۲ مرزا ایوب بیگ صاحب (مرتب)

تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 282 طبع چہارم از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 181 پر درج ہے

صفحہ 596

حوالہ نمبر 56

باب چہارم ۱۰۵ حقیقت الوحی

کمثل زمن موسیٰ - انا ارسلنا الیکم رسولاً شاہداً کی طرح ایک زمانہ آئے گا ۔ ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجا ہے اس رسول علیکم کما ارسلنا الی فرعون رسولاً - آسمان سے بہت دُودھ کی مانند جو فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا ۔ آسمان سے بہت دُودھ اُترا ہے محفوظ رکھو۔ انی انرتک و اخترتک - تیری ۱۰ اترا ہو یعنی معارف اور حقائق کا دُودھ میں نے تجھے روشن کیا اور چُن لیا ۔ اور تیری خوش زندگی کا سامان ہو گیا۔ واللہ خیر من کل شئی عندی خوش زندگی کا سامان ہو گیا ہے ۔ خدا ہر چیز سے بہتر ہے ۔ میرے قرب حسنة ھی خیر من جبل - بہت سے سلام میرے تیرے پر میں ایک نیکی ہے جو وہ ایک پہاڑ سے زیادہ ہو تیرے پر بہ کثرت میرے سلام ہوں ۔ انا اعطیناک الکوثر ان اللہ مع الذین اھتدوا والذین ہیں ۔ ہم نے کثرت سے تجھے دیا ہے ۔ خدا اُن کے ساتھ ہے جو راہ راست اختیار کرتے ہیں اور صادقون - ان اللہ مع الذین اتقوا والذین ھم محسنون - جو صادق ہیں ۔ خدا اُن کے ساتھ ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور نیکو کار ہیں ۔ اراد اللہ ان یبعثک مقاماً محموداً ۔ دو نشان ظاہر ہونگے۔ خدا نے ارادہ کیا ہے جو تجھے وہ مقام بخشے جس میں تو تعریف کیا جائیگا ۔ دو نشان ظاہر ہوں گے ۔ وامتازوا الیوم ایھا المجرمون - یکاد البرق یخطف اور اے مجرمو ! آج تم الگ ہو جاؤ ۔ خدا کے نشانوں کی برق انکی آنکھیں اچک کر ابصارھم ھذا الذی کنتم بہ تستعجلون یا احمد لے جائے گی ۔ یہ وہی بات ہے جس کے لئے جلدی کرتے تھے ۔ اے احمد ! فاضت الرحمۃ علیٰ شفتیک - کلام افصحت من تیرے لبوں پر رحمت جاری ہے ۔ تیرا کلام خدا کی طرف سے

ھذا

حقیقة الوحی صفحہ 102 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 105 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 181 پر درج ہے

صفحہ 597

حوالہ نمبر 57

حقیقة الوحی ١١٠ باب چهارم

الحمد لله الذی جعل لکم الصهر والنسب ۱؎ الحمد لله الذی اذهب اس خدا کی تعریف ہو جس نے تمھارے لئے دامادی اور نسب کے رشتے بنائے۔ اس خدا کی تعریف ہے جس نے میرا عنى الحزن واٰتانى مالم يؤت احداً من العالمين۔یٰسٓ۔انک غم دُور کیا۔ اور مجھ کو وہ چیز دی جو اس زمانہ کے لوگوں میں سے کسی کو نہیں دی۔ اے سردار تو خدا کا لمن المرسلین علٰی صراط مستقیم تنزیل العزیز الرحیم اردت مُرسل ہے راہ راست پر اُس خدا کی طرف سے جو غالب اور رحیم ہے۔میں نے ارادہ ان استخلف فخلقت اٰدم۔ یحی الدین ویقیم الشریعة۔ کیا کہ اس زمانہ میں اپنا خلیفہ مقرر کروں سو میں نے آدم کو پیدا کیا۔ وہ دین کو زندہ کرے گا اور شریعت کو قائم کرے گا۔

چو دورِ خسروی آغاز کردند ۲؎ + مسلمان را مسلماں باز کردند

جبکہ مسیح نے بادشاہی کا دور شروع کیا تو جاہل مسلمانوں کو جو موجودہ مسلمان تھے نئے سرے سے مسلمان بنایا یعنی ان السمٰوات والارض کانتا رتقا ففتقنھما۔قرب اجلک آسمانوں میں ایک بندش تھی اور ایسا ہی زمین میں سو ہم نے دونوں کو کھولا۔ یعنی زمین والوں کو آسمانیوں سے ملایا۔ اور تیری وفات المقدّر۔ ان ذا العرش یدعوک۔ ولا نبق لک من المخزیات موت قریب آگئی۔ ذوالعرش تجھے بلاتا ہے۔ اور ہم تیرے لئے کوئی امر رسوا کنندہ نہیں چھوڑیں گے۔ ذکراً قل جاء میعاد ربک ولا نبق لک من المخزیات شیئاً۔ تیرے رب کا وعدہ آ پہنچا ہے اور ہم تیرے لئے کوئی امر رسوا کنندہ باقی نہیں چھوڑیں گے۔ بہت تھوڑے دن رہ گئے ہیں اُس دن خدا کی طرف سے زندگی کے دن بہت تھوڑے رہ گئے ہیں۔ اُس دن سب جماعت دلی رنج و اندوہ میں ہو گی۔ اور سب پر اداسی چھا جائے گی۔ یہ ہوگا۔ یہ ہوگا۔ یہ ہوگا۔ اور اداسی ہو جائے گی ۔ کئی واقعات کے ظہور کے بعد

۱؎ یعنی خدائے تعالٰی نے مجھ پر دو قسم کے احسان فرمائے۔ ایک یہ کہ معزز اور شریعت یافتہ اور باوجاہت فاضلوں سے مجھے پیدا کیا اور دوسرے یہ کہ ایک معزز و نیک سادات خاندان سے میری بیوی بنائی۔ منہ ۲؎ یہ دونوں پیش گوئیاں ہیں جو اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء میں درج ہیں بادشاہ کے نام سے جو یاد کیا گیا ہے اس سے مراد آسمانی بادشاہی ہے یعنی وہ گیتی کا ایک بادشاہ ہو گا اور بڑے بڑے اکابر اُس کے پیرو ہوں گے ۔ منہ

حقیقة الوحی صفحہ 107 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 110 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 181 پر درج ہے

صفحہ 598

حوالہ نمبر 58 ضمیمہ ۱۴۳ نزول المسیح

وحی سے بیان کرتا ہوں اور مجھے کب اس بات کا دعویٰ ہو کہ میں عالم الغیب ہوں جب تک مجھے خدا نے اس طرف توجہ نہ دی اور بار بار نہ سمجھایا کہ تو مسیح موعود ہے اور عیسیٰ فوت ہو گیا ہے تب تک میں اسی عقیدہ پر قائم تھا جو تم لوگوں کا عقیدہ ہے اسی وجہ سے کمال سادگی سے میں نے مسیح کے دوبارہ آنے کی نسبت براہین میں لکھا پھر جب خدا نے مجھ پر اصل حقیقت کھول دی تو میں اس عقیدے سے باز آگیا۔ پیشتر جو کمال یقین مجھ پر محیط ہو گیا تھا کہ میں نے اُس رسمی عقیدہ کو نہ چھوڑا حالانکہ اسی براہین میں میرا نام عیسیٰ رکھا گیا تھا۔ اور مجھ کو ان تمام صفات کا ٹھہرایا گیا تھا اور میری نسبت کہا گیا تھا کہ تو ہی کسر صلیب کریگا۔ اور مجھے بتلایا گیا تھا کہ تیری خبر قرآن اور حدیث میں موجود ہے اور تو ہی اس آیت کا مصداق ہے کہ ھوالذی ارسل رسولہ بالھدیٰ ودین الحق لیظھرہ علیٰ الدین کلہ۔ تاہم یہ الہام جو براہین احمدیہ میں لکھے گئے بظاہر مجھ پر مخفی تھا خدا کی حکمتِ عملی نے میری نظر سے پوشیدہ رکھا اور اسی وجہ سے باوجودیکہ میں براہین احمدیہ میں صاف اور روشن طور پر مسیح موعود ٹھہرایا گیا تھا مگر پھر بھی میں نے براہین میں جہل سے جو میرے دل پر ڈالا گیا حضرت عیسیٰ کی آمد ثانی کا عقیدہ براہین احمدیہ میں لکھ دیا۔ پس میری کمال سادگی اور ذہول پر یہ دلیل ہے کہ وحی الہیٰ مندرجہ براہین احمدیہ تو مجھے مسیح موعود بتاتی تھی مگر میں نے اس رسمی عقیدہ کو براہین میں لکھ دیا۔ پس جو تعجب کرتا ہے کہ میں نے باوجود کھلی کھلی وحی کے جو براہین احمدیہ میں مجھے مسیح موعود بتاتی تھی کیونکر اسی کتاب میں وہ رسمی عقیدہ لکھ دیا۔

پھر میں قریباً بارہ برس تک جو ایک زمانہ دراز ہے بالکل اس سے بے خبر اور غافل رہا کہ خدا نے مجھے بڑی شدّو مدّ سے براہین میں مسیح موعود قرار دیا ہے اور میں حضرت عیسیٰ کی آمد ثانی کے رسمی عقیدہ پر جما رہا جب بارہ برس گزر گئے تب وہ وقت آ گیا کہ میرے پر اصل حقیقت کھول دیجائے تب تواتر سے اس بارہ میں الہامات شروع ہوئے کہ تو ہی مسیح موعود ہے۔

پس جب اس بارہ میں انتہا تک خُدائی وحی پہنچی اور مجھے حکم ہوا کہ اپنا عقیدہ چھوڑ دوں تو میں نے جو مجھے حکم ہوا وہ کھولکر لوگوں کو سناؤں اور بہت سے نشان مجھے دیئے گئے اور ہزارہا میری تصدیق میں

منہ المصنف ۱۰۴ Back اعجاز احمدی صفحہ 7 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 113 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 182 پر درج ہے

صفحہ 599

حوالہ نمبر 59

انوار العلوم جلد ۲ ۵۴۲ عقیدۃ الامۃ (حصہ اول)

اس حوالہ سے مندرجہ ذیل نتائج نکلتے ہیں۔

روحانی بند ہے۔ بلکہ یہ معنے ہیں۔ کہ آپ کے بعد ایسا فیضان جاری ہے۔

تھی۔ اور اس نبوت کا پانے والا امتی نبی کہلاتا ہے۔

اب پہلے حوالہ اور اس حوالہ کو ملا کر دیکھو۔ کیا نتیجہ پیدا ہوتا ہے۔ پہلے حوالہ میں فرماتے ہیں۔ کہ محدث جسے جزوی نبی بھی کہہ سکتے ہیں۔ پہلی امتوں میں ہوتے رہے ہیں۔ اور اس حوالہ میں فرماتے ہیں۔ کہ امتی نبی وہ درجہ ہے جو پہلے نبیوں کی اتباع سے نہیں ملا کرتا تھا۔ اور ان کا درجہ ایسا ہوتا تھا کہ ان کی اتباع سے کوئی فرد ان کی امت کا نبی بن جائے۔

پس ان حوالوں کو ملا کر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ پہلی امتوں میں محدث یا جزوی نبی تو ہوتے تھے۔ لیکن پہلے نبیوں میں اس قدر طاقت نہ تھی کہ ان کے فیضان سے امتی نبی ہو سکے جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی امت میں صرف محدثیت ہی جاری نہیں۔ بلکہ اس سے اوپر نبوت کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ کیونکہ محدث یا جزوی نبی کا درجہ تو وہ ہے جو پہلی امتوں کے بعض افراد کو بھی مل جایا کرتا تھا لیکن امتی نبی کا وہ درجہ ہے جو پہلے رسولوں کی اتباع سے نہیں مل سکتا تھا۔ کیونکہ وہ خاتم النبیین نہ تھے۔ اور جزوی نبی کے اوپر کا درجہ سوائے نبی کے اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ جزو کے بعد کل ہی ہوتا ہے۔ پس یہ بات بالکل روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ کھلا ہے۔ مگر نبوت صرف آپ کے فیضان سے مل سکتی ہے۔ براہ راست نہیں مل سکتی۔ اور پہلے زمانہ میں نبوت براہ راست مل سکتی تھی۔ کسی نبی کی اتباع سے نہیں مل سکتی تھی۔ کیونکہ وہ اس قدر صاحب کمال نہ تھے جیسے آنحضرت ﷺ ۔ اور جبکہ نبوت کا دروازہ علاوہ محدثیت کے امت محمدیہ میں کھلا ثابت ہو گیا۔ تو یہ بھی ثابت ہو گیا کہ مسیح موعود بھی نبی اللہ تھے۔ نہ یہ کہ آپ کا اصل درجہ تو محدث ہونے کا تھا۔ نبی کا خطاب بعض مشابہتوں کی وجہ سے دے دیا گیا۔ کیونکہ آپ کو خود رسول اللہ ﷺ نے نبی کہا ہے۔

اگر کوئی شخص کہے کہ یہ بات آپ نے کہاں سے نکال لی۔ کہ محدث پہلے نبیوں کی اتباع سے ہو سکتے تھے؟ حدیث میں تو یہ ہے کہ ایسے لوگ بنی اسرائیل میں ہوا کرتے تھے۔ یہ تو نہیں فرمایا۔ کہ وہ امتی بھی ہوا کرتے تھے۔ پس ہم ان دونوں حوالوں کو ملا کر یہ نتیجہ نکالتے ہیں۔ کہ رسول اللہ

(حقیقۃ النبوۃ حصہ اول صفحہ 226 و مندرجہ انوار العلوم جلد 2 صفحہ 542 از مرزا بشیر الدین محمود) یہ حوالہ صفحہ 182 پر درج ہے

صفحہ 600

حوالہ نمبر 60

انوار العلوم جلد ۵ ۵۲۵ حقیقت النبوۃ (حصہ اول)

انہوں نے کونسی تکذیب کی تھی سو یاد رہے کہ جب خدا کے کسی مرسل کی تکذیب کی جاتی ہے خواہ وہ تکذیب کوئی خاص قوم کرے یا کسی خاص حصہ زمین میں ہو مگر خدا تعالیٰ کی غیرت عام عذاب نازل کرتی ہے۔" (حقیقۃ الوحی --- روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۶۶)

گا۔ ورنہ قوم پر لازم ہو گا کہ خدا تعالیٰ سے ڈر کر آئندہ طریق تکذیب اور انکار کو چھوڑ دیں۔ اور خدا کے مرسل کا مقابلہ کر کے اپنی عاقبت خراب نہ کریں۔"

(حقیقۃ الوحی --- روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۴۰۱)

نہیں۔" (حقیقۃ الوحی --- روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۴۰۶۔۴۰۷ )

رکھا اور جب وہ نبی مبعوث ہو گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تب وہ وقت آگیا کہ ان کو اپنے جرائم کی سزا دی جاوے۔" (تتمہ حقیقۃ الوحی --- روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۴۸۶)

ہے۔ اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے۔" (تتمہ حقیقۃ الوحی --- روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۵۰۳)

میں ایک رسول کا مبعوث ہونا ظاہر ہوتا ہے۔ اور وہی مسیح موعود ہے۔"

(تتمہ حقیقۃ الوحی --- روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۵۰۰)

ظاہر ہونے کی نسبت ایک پیشگوئی ہے۔" (تتمہ حقیقۃ الوحی --- روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۵۰۲)

ہوں تو اس صورت میں جو شخص پہلے مسیح کو افضل سمجھتا ہے اس کو نصوص حدیثیہ اور قرآنیہ سے ثابت کرنا چاہئے کہ آنے والا مسیح کچھ چیز ہی نہیں۔ نہ نبی کہلا سکتا ہے نہ حکم، جو کچھ ہے پہلا ہے۔"

(حقیقۃ الوحی --- روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۵۶)

یہ حوالہ صفحہ 182 تا 184 پر درج ہے

یہ حوالہ رسالہ صفحہ 208 تا 211 میں انوار العلوم جلد ۵ صفحہ 525 تا 528 از مرزا بشیر الدین محمود

صفحہ 601

حوالہ نمبر 60 انوار العلوم جلد ۲ ۵۲۶ حقیقۃ النبوۃ (حصہ اول)

(نزول المسیح ص ۴۷، روحانی خزائن جلد ۱۸ ص ۴۲۵)

شکل اور محمدی نبوت کا کامل انعکاس ہے۔“ (نزول المسیح صفحہ ۵ حاشیہ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۳۸۱)

رکھا ہے۔ اور تمام خدا تعالیٰ کے نبیوں نے اس کی تعریف کی ہے۔ اور اس کو تمام انبیاء کی صفات کاملہ کا مظہر ٹھہرایا ہے۔“ (نزول المسیح صفحہ ۵۰، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۴۲۸)

وہ اس کا نبی ہوگا۔“ (چشمہ معرفت صفحہ ۳۱۵، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۳۳۳)

اور عیسیٰ ایک نبی ہے پس میرا نام مریم اور عیسیٰ رکھنے سے یہ ظاہر کیا گیا کہ میں امتی بھی ہوں۔ اور نبی بھی۔“ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۲۶۱)

تباہی سے محفوظ رکھے گا۔ کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے...... سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“ (دافع البلاء ص ۱۰، روحانی خزائن جلد ۱۸ ص ۲۲۹-۲۳۰، ۲۳۱)

کی ہے وہ نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ اور اس کا جواب محض انکار کے الفاظ سے دیا گیا۔ حالانکہ ایسا جواب صحیح نہیں ہے۔“ (ایک غلطی کا ازالہ صفحہ ۲، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۲۰۶)

چکا ہوں کہ صاف طور پر پوری ہو گئیں تو میں اپنی نسبت نبی یا رسول کے نام سے کیونکر انکار کر سکتا ہوں۔“ (ایک غلطی کا ازالہ صفحہ ۶، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۲۱۰)

میں رسول بھی ہوں۔ اور نبی بھی ہوں۔“ (ایک غلطی کا ازالہ صفحہ ۷، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۲۱۱)

(آخری خط حضرت اقدس مندرجہ اخبار عام ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء بحوالہ بدر ۱۱ جون ۱۹۰۸ء ص ۵)

یہ حوالہ صفحہ 182، 184 پر درج ہے حقیقۃ النبوۃ (حصہ اول) صفحہ 208 تا 211 مطبوعہ انوار العلوم جلد 2 صفحہ 525 تا 526 مصنفہ بشیر محمود 526 مصنفہ بشیر الدین احمد

صفحہ 602

حوالہ نمبر 60

انوار العلوم جلد ۲ ۵۲۷ حقیقۃ النبوۃ حصہ اول

کہ خدا سے الہام پا کر بکثرت پیشگوئی کرنے والا۔ اور بغیر کثرت کے یہ معنی متحقق نہیں ہو سکتے۔

(آخری خط مندرجہ اخبار عام ۲۶؍ مئی ۱۹۰۸ء)

(۳۰) ”پس اسی بناء پر خدا نے میرا نام نبی رکھا ہے کہ اس زمانے میں کثرت مکالمہ مخاطبہ الٰہیہ اور کثرت اطلاع بر علوم غیب صرف مجھے ہی عطا کی گئی ہے۔“

(آخری خط حضرت اقدس مندرجہ اخبار عام ۲۶؍ مئی ۱۹۰۸ء)

(۳۱) ”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں، دراصل یہ نزاع لفظی ہے خدا تعالیٰ جس کے ساتھ ایسا مکالمہ مخاطبہ کرے کہ جو بلحاظ کمیت و کیفیت دوسروں سے بہت بڑھ کر ہو۔ اور اس میں پیشگوئیاں بھی کثرت سے ہوں اسے نبی کہتے ہیں۔ اور یہ تعریف ہم پر صادق آتی ہے۔ پس ہم نبی ہیں۔“ (بدر ۵؍ مارچ ۱۹۰۸ء)

(۳۲) ”جس حالت میں خدا میرا نام نبی رکھتا ہے تو میں کیونکر انکار کر سکتا ہوں۔ میں اس پر قائم ہوں اس وقت تک جو اس دنیا سے گزر جاؤں۔“

(آخری خط حضرت اقدس مندرجہ اخبار عام ۲۶؍ مئی ۱۹۰۸ء)

(۳۳) ”میں نبی بھی ہوں اور امتی بھی ہوں تاکہ ہمارے سید و آقا کی وہ پیشگوئی پوری ہو کہ آنے والا مسیح امتی بھی ہو گا۔ اور نبی بھی ہو گا۔“ (آخری خط مندرجہ اخبار عام ۲۶؍ مئی ۱۹۰۸ء)

(۳۴) ”یہ نکتہ بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ جب آسمان سے مقرر ہو کر ایک نبی یا رسول آتا ہے تو اس نبی کی برکت سے عام طور پر ایک نور حسب مراتب استعدادات آسمان سے نازل ہوتا ہے۔ اور انتشار روحانیت ظہور میں آتا ہے تب ہر ایک شخص خوابوں کے دیکھنے میں ترقی کرتا ہے اور الہام کی استعداد رکھنے والے الہام پاتے ہیں اور روحانی امور میں عقلیں بھی تیز ہو جاتی ہیں۔ کیونکہ جیسا کہ جب بارش ہوتی ہے ہر ایک زمین کچھ نہ کچھ اس سے حصہ لیتی ہے۔ ایسا ہی اس وقت ہوتا ہے جب رسول کے بھیجے سے بہار کا زمانہ آتا ہے۔ تب ان ساری برکتوں کا موجب دراصل وہ رسول ہوتا ہے۔ اور جس قدر لوگوں کو خوابیں یا الہام ہوتے ہیں۔ دراصل ان کے کھلنے کا دروازہ وہ رسول ہی ہوتا ہے کیونکہ اس کے ساتھ دنیا میں ایک تبدیلی واقع ہوتی ہے اور آسمان سے عام طور پر ایک روشنی اترتی ہے۔ جس سے ہر ایک شخص حسب استعداد حصہ لیتا ہے وہی روشنی خواب اور الہام کا موجب ہو جاتی ہے اور نادان خیال کرتا ہے کہ میرے ہنر سے ایسا ہوا ہے مگر وہ چشمہ الہام اور خواب کا صرف اس نبی کی برکت سے دنیا پر کھولا جاتا ہے۔ اور اس کارخانہ ایک

؎ حاشیہ بحوالہ بدر ۱۱ جون ۱۹۰۸ء منہ

حوالہ نمبر 60 حقیقۃ النبوۃ حصہ اول صفحہ 211 مندرجہ انوار العلوم جلد 2 صفحہ 525 تا 528 مصنفہ مرزا بشیر الدین محمود یہ حوالہ صفحہ 182 تا 184 پر درج ہے

صفحہ 603

حوالہ نمبر 60 انوار العلوم جلد ۲ ۵۲۸ عقیدۃ النبوۃ (حصہ اول)

لیلة القدر کا زمانہ ہوتا ہے جس میں فرشتے اترتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تَنَزَّلُ الْمَلَئِكَةُ وَالرُّوْحُ فِيْهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ مِّنْ كُلِّ اَمْرٍ (القدر: ۵،۶) جب سے خدا نے دنیا پیدا کی ہے یہی قانون قدرت ہے۔ سنۃ اللہ یطوی -

روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۶۹)

ہیں"

(چشمہ معرفت صفحہ ۷۷‘ روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۸۵)

ایک امر میں کثرت سے اور واضح ہوتی ہے۔۔۔ پس میں اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ کبھی میری وحی بھی خبر واحد کی طرح ہو اور مجمل ہو۔

(تجلیات الہٰیہ صفحہ ۴۴‘ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۴۲۵)

ہی شخص کے وجود میں ان کے نمونے ظاہر کئے جائیں۔ سو وہ میں ہوں اسی طرح اس زمانہ میں تمام بدوں کے نمونے بھی ظاہر ہوئے۔ فرعون ہو یا وہ یہود ہوں جنہوں نے حضرت مسیح کو صلیب پر چڑھایا۔ یا ابو جہل ہو۔ سب کی مثالیں اس وقت موجود ہیں۔"

(براہین احمدیہ حصہ پنجم - روحانی

خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۱۱۸٬۱۱۷)

ہوتا ہے۔۔۔ ہاں جو شخص سرسری طور پر رسول کا تابع ہو گیا۔ اور اس کو شناخت نہیں کیا۔ اور اس کے انوار سے مطلع نہیں ہوا اور اس کا ایمان بھی کچھ چیز نہیں اور آخر وہ ضرور مرتد ہو گا۔ جیسا کہ مسیلمہ کذاب اور عبداللہ بن ابی سرح اور عبیداللہ بن جحش آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں۔ اور یہود اسکریوطی اور ہانسو اور عیسائی مرتد حضرت عیسیٰ کے زمانہ میں۔ اور جموں والا چراغ دین اور عبدالحکیم خان ہمارے اس زمانہ میں مرتد ہوئے۔"

(حقیقۃ الوحی - روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۶۴)

فرماتا ہے وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُوْلًا۔ پھر یہ کیا بات ہے کہ ایک طرف تو طاعون ملک کو کھا رہی ہے اور دوسری طرف ہیبت ناک زلزلے پیچھا نہیں چھوڑتے۔ اے نادانو! تلاش تو کرو شاید تم میں خدا کی طرف سے کوئی نبی قائم ہو گیا ہے۔ جس کی تم تکذیب کر رہے ہو۔"

(تجلیات الہٰیہ صفحہ ۱۹ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۴۰۱٬۴۰۰)

آٹھویں دلیل۔ حضرت مسیح موعود کے نبی ہونے پر یہ ہے کہ قرآن کریم میں نبیوں کے

یہ حوالہ صفحہ 182 تا 184 پر درج ہے یہ حوالہ صفحہ 208 تا 211 عقیدۃ النبوۃ (حصہ اول) انوار العلوم جلد 2 صفحہ 525 تا 528 از مرزا بشیر الدین محمود

Back

صفحہ 604

حوالہ نمبر 61 انوار العلوم جلد ۶ ۵۸۲ حقیقۃ النبوۃ (حصہ اول)

ہمارے نبی ﷺ خاتم الانبیاء نہیں رہیں گے۔ وَالسَّلَامُ عَلٰي مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰي۔ الراقم خاکسار المفتقر اِلَی اللّٰہِ الْاَحَد غلام احمد عفی اللہ عَنْہُ ۲۳؍ مئی ۱۹۰۸ء از شہر لاہور

ضمیمہ نمبر ۳

”امر حق کے پہنچانے میں کسی قسم کا اخفاء نہ رکھنا چاہئے“

۵ مارچ ۱۹۰۸ء کے پرچہ اخبار بدر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ڈائری کے ذیل میں مذکور ہے کہ ایک احمدی سے ایک نواب ریاست نے سوال کیا کہ کیا حضرت مرزا صاحب رسالت کے مدعی ہیں جس کے جواب میں اس احمدی دوست نے کہا کہ ان کا ایک شعر ہے

من نیستم رسول و نیاوردہ ام کتاب
بلیٰ ہم امتم وز خداوند مہتدیم

اس سوال و جواب کا ذکر اس احمدی دوست نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں کیا۔ جس پر حضور نے فرمایا کہ:۔

”اس کی تشریح کر دینا تھا کہ ایسا رسول ہونے سے انکار کیا گیا ہے جو صاحب کتاب ہو۔ دیکھو جو امور سماوی ہوتے ہیں ان کے بیان کرنے میں ڈرنا نہیں چاہئے۔ اور کسی قسم کا خوف کرنا اہل حق کا قاعدہ نہیں۔ صحابہؓ کرام کے طرزِ عمل پر نظر کرو۔ وہ بادشاہوں کے درباروں میں گئے اور جو کچھ ان کا عقیدہ تھا وہ صاف صاف کہہ دیا۔ اور حق کے کہنے سے ذرا نہیں جھجکے تبھی تو لَا يَخَافُونَ لَوْمَةَ لَائِمٍ کے مصداق ہوئے ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔ دراصل یہ نزاع لفظی ہے خدا تعالیٰ جس کے ساتھ ایسا مکالمہ مخاطبہ کرے کہ جو بلحاظ کمیت و کیفیت دوسروں سے بہت بڑھ کر ہو اور اس میں پیشگوئیاں بھی کثرت سے ہوں اسے نبی کہتے ہیں اور یہ تعریف ہم پر صادق آتی ہے۔ پس ہم نبی ہیں۔ ہاں یہ نبوت تشریعی نہیں جو کتاب اللہ کو منسوخ کرے اور نئی کتاب لائے ایسے دعوے کو تو ہم کفر سمجھتے ہیں بنی اسرائیل میں کئی ایسے نبی ہوئے ہیں جن پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی صرف خدا کی طرف سے پیشگوئیاں کرتے تھے جن سے موسوی دین کی شوکت و صداقت کا

حقیقۃ النبوۃ صفحہ 271، 272 مندرجہ انوار العلوم جلد 2 صفحہ 582، 583 از مرزا بشیر الدین محمود یہ حوالہ صفحہ 184، 186 پر درج ہے

صفحہ 605

حوالہ نمبر 61 انوار العلوم جلد ۲ ۵۸۳ حقیقۃ النبوۃ حصہ اول

اظہار ہو پس وہ نبی کہلائے یہی حال اس سلسلہ میں ہے۔ بھلا اگر ہم نبی نہ کہلائیں تو اس کے لئے اور کونسا امتیازی لفظ ہے جو دوسرے ملہموں سے ممتاز کرے۔ دیکھو! اور لوگوں کو بھی بعض اوقات سچے خواب آجاتے ہیں بلکہ بعض دفعہ کوئی کلمہ بھی زبان پر جاری ہو جاتا ہے جو سچ نکل آتا ہے اس لئے تا ان پر حجت پوری ہو اور وہ یہ نہ کہہ سکیں کہ ہم کو یہ حواس نہیں دیئے گئے پس ہم سمجھ نہیں سکتے کہ یہ کس بات کا دعویٰ کرتے ہیں۔

آپ کو سمجھنا تو یہ چاہئے تھا کہ وہ کس قسم کی نبوت کے مدعی ہیں ہمارا مذہب تو یہ ہے کہ جس دین میں نبوت کا سلسلہ نہ ہو وہ مردہ ہے۔ یہودیوں، عیسائیوں، ہندوؤں کے دین کو جو ہم مردہ کہتے ہیں تو اسی لئے کہ ان میں اب کوئی نبی نہیں ہوتا۔ اگر اسلام کا بھی یہی حال ہو تا تو پھر ہم بھی قصہ گو ٹھہرے کس لئے اس کو دوسرے دینوں سے بڑھ کر کہتے ہیں آخر کوئی امتیاز بھی ہونا چاہئے صرف سچے خوابوں کا آنا تو کافی نہیں کہ یہ تو چوہڑے چماروں کو بھی آجاتے ہیں۔ مکالمہ مخاطبہ الٰہیہ ہونا چاہئے اور وہ بھی ایسا کہ جس میں بیشمار سچائیاں ہوں اور بلحاظ کمیت و کیفیت کے بڑھ چڑھ کر ہو۔ ایک مصرع سے تو شاعر نہیں ہو سکتے۔ اسی طرح معمولی ایک دو خوابوں یا الہاموں سے کوئی مدعی رسالت ہو تو وہ جھوٹا ہے۔ ہم پر کئی سالوں سے وحی نازل ہو رہی ہے اور اللہ تعالیٰ کے کئی نشان اس کے صدق کی گواہی دے چکے ہیں اسی لئے ہم نبی ہیں۔ امر حق کے پہنچانے میں کسی قسم کا اخفاء نہ رکھنا چاہئے"

(بدر ۵ مارچ ۱۹۰۸ء جلد ۷ نمبر ۹ صفحہ ۲)

حوالہ صفحہ 271، 272 مندرجہ انوار العلوم جلد 2 صفحہ 582، 583 از مرزا بشیر الدین محمود یہ حوالہ صفحہ 184، 186 پر درج ہے

صفحہ 606

حوالہ نمبر 62

انوار خلافت ۱۲۷ انوار العلوم جلد ۳۰

سخت ہتک ہے جس کو ہم کسی مخالفت کی وجہ سے برداشت نہیں کر سکتے۔ وہ تو مخالفت سے ڈراتے ہیں لیکن اگر میری گردن کے دونوں طرف تلوار بھی رکھ دی جائے اور مجھے کہا جائے کہ تم یہ کہو کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو میں اسے کہوں گا تو جھوٹا ہے کذاب ہے آپ کے بعد نبی آسکتے ہیں اور ضرور آسکتے ہیں۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ کی شان ہی ایسی ہے کہ آپ کے ذریعہ سے نبوت حاصل ہو سکتی ہے۔ آپ نے رحمۃ للعالمین ہو کر رحمت کے دروازے کھول دیئے ہیں اس لئے اب ایک انسان ایسا نبی ہو سکتا ہے جو کئی پہلے انبیاءؑ سے بھی بڑا ہو مگر اس صورت میں کہ آنحضرت ﷺ کا غلام ہو۔

ہمارے لئے کتنی عزت کی بات ہے کہ قیامت کے دن تمام نبی اپنی اپنی امتوں کو لے کر کھڑے ہوں گے اور ہم کہیں گے کہ ہمارے نبی کی وہ شان ہے کہ آپ کا غلام ہی ہمارا نبی ہے۔ لیکن مسلمان کہتے ہیں کہ ہمارے لئے وہی مسیحؑ آئے گا جو بنی اسرائیل کے لئے آیا تھا۔ اگر وہی آیا تو یہ قیامت کے دن کیا کہیں گے کہ ہمارے نبی آنحضرت ﷺ کی وہ شان ہے کہ آپ کی امت کی اصلاح کے لئے بنی اسرائیل کا ہی ایک نبی آیا تھا۔ اس بات کو سوچو اور غور کرو کہ آنحضرت ﷺ کی ہتک تم کر رہے ہو یا ہم۔ آنحضرت ﷺ کی اسی میں عزت ہے کہ آپ کی امت میں سے کسی کو نبی کا درجہ ملے نہ کہ بنی اسرائیل کا کوئی نبی آپ کی امت کی اصلاح کے لئے آئے۔ حضرت مسیح موعودؑ نے اسی لئے فرمایا کہ

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس سے بہتر غلام احمد ہے

یعنی ابن مریم کا تم کیوں انتظار کر رہے ہو مجھے دیکھو کہ میں احمدؑ کا غلام ہو کر اس سے بڑھ کر ہوں۔ کوئی کہے کہ اس شعر میں مرزا صاحب کہتے ہیں کہ میں غلام احمد ہوں اس لئے آپ کا یہی نام ہوا۔ میں کہتا ہوں کون مسلمان ہے جو اپنے آپ کو غلام احمد نہیں کہتا۔ ہر ایک سچا مسلمان اور مؤمن یہی کہے گا کہ میں احمدؑ کا غلام ہوں۔ اسی طرح حضرت صاحب نے فرمایا ہے۔ چنانچہ آپ ایک اور جگہ فرماتے ہیں۔

کرامت گرچہ بے نام و نشان است بیا بنگر ز غلامانِ محمدؐ

اب اس شعر سے کوئی احمق ہی یہ نتیجہ نکالے گا کہ جس شخص کا نام غلام محمد ہو وہ کرامت دکھا سکتا ہے۔ پس پہلے شعر میں صرف یہ دکھانا مقصود ہے کہ آنحضرت ﷺ کا ایک غلام مسیحؑ سے بہتر ہو سکتا ہے۔

انوار خلافت صفحہ 65 مندرجہ انوار العلوم جلد 3 صفحہ 127، از مرزا بشیر الدین محمود ابن مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 186 پر درج ہے

صفحہ 607

حوالہ نمبر 63 ۲۷۹ اور رسولوں اور محدثوں کے بارے میں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہو کر آتے ہیں اور تمام قوموں کے لئے واجب الاطاعت ٹھہرتے ہیں۔ قدیم سے خدا تعالیٰ کا ایک خاص قانون ہے جو ہم ذیل میں لکھتے ہیں:۔

ہم اس سے پہلے ابھی بیان کر چکے ہیں کہ ایسے ملہمین یا مشائخ جو مامور نہیں ہوتے۔ یعنے نبی یا رسول یا محدث نہیں ہوتے اور اُن میں سے نہیں ہوتے جو دُنیا کو خُدا کے حکم اور الہام سے خدا کی طرف بُلاتے ہیں۔ ایسے ولیوں کو کسی اعلیٰ خاندان یا اعلیٰ قوم کی ضرورت نہیں کیونکہ اُن کا سب معاملہ اپنی ذات تک محدود ہوتا منہ ہے۔ لیکن اُن کے مقابل پر ایک دُوسری قوم کے ولی ہیں جو رسول یا نبی یا محدث کہلاتے ہیں اور وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک منصب حکومت اور قضا کا لیکر آتے ہیں اور لوگوں کو حکم ہوتا ہے کہ ان کو اپنا امام اور سردار اور پیشوا سمجھیں۔ اور جیسا کہ وہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کرتے ہیں اس کے بعد خدا کے اُن نائبوں کی اطاعت کریں۔ اس منصب کے بزرگوں کے متعلق قدیم سے خدا تعالیٰ کی یہی عادت ہے کہ اُنکو اعلیٰ درجہ کی قوم اور خاندان میں سے پیدا کرتا ہے۔ تا اُنکے قبول کرنے اور اُنکی اطاعت کا جُوا اُٹھانے میں کسی کو کراہت نہ ہو۔ اور چونکہ خدا نہایت رحیم و کریم ہے اس لئے نہیں چاہتا کہ لوگ ٹھوکر کھاویں اور اُن کو ایسا ابتلا پیش آوے جو اُنکو اس سعادت عظمیٰ سے محروم رکھے کہ وہ اُس کے مامور کے قبول کرنے سے اس طبع پر رُک جائیں کہ اس شخص کی نیچ قوم کے لحاظ سے ننگ اور عار اُنپر غالب ہو۔ اور وہ دلی نفرت کے ساتھ اس بات سے کراہت کریں کہ اُسکے تابعدار بنیں اور اُسکو اپنا بزرگ قرار دیں۔ اور انسانی جذبات اور تصورات پر نظر کر کے یہ بات خوب ظاہر ہے کہ یہ ٹھوکر طبعاً نوع انسان کو پیش آجاتی ہے۔ مثلاً ایک شخص جو قوم کا چوہڑہ یعنے بھنگی ہے۔ اور ایک

۱۵۱

یہ حوالہ صفحہ 186, 187 پر درج ہے تریاق القلوب صفحہ 152 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 279-280 از مرزا قادیانی

صفحہ 608

حوالہ نمبر 63

۲۸۰

گاؤں کے شریف مسلمانوں کی تیس چالیس سال سے یہ خدمت کرتا ہے کہ وہ وقت اُٹھتے گھروں کی گندی نالیوں کو صاف کرتا آتا ہے اور اُنکے پاخانوں کی نجاست اُٹھاتا ہے اور ایک دو دفعہ چوری میں بھی پکڑا گیا ہے اور چند دفعہ زنا میں بھی گرفتار ہو کر اُس کی رُسوائی ہو چکی ہے۔ اور چند سال جیلخانہ میں قید بھی رہ چکا ہے اور چند دفعہ ایسے بُرے کاموں پر گاؤں کے نمبرداروں نے اُسکو جوتے بھی مارے ہیں اور اُسکی ماں اور دادیاں اور نانیاں ہمیشہ سے ایسے ہی بُرے کام میں مشغول رہی ہیں اور سب مردار کھاتے اور گُوہ اُٹھاتے ہیں۔ اب خدا تعالیٰ کی قدرت پر خیال کر کے ممکن تو ہے کہ وہ اپنے کاموں سے تائب ہو کر مسلمان ہو جائے۔ اور پھر یہ بھی ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ کا ایسا فضل اُسپر ہو کہ وہ رسول اور نبی بھی بنجائے اور اُسی گاؤں کے شریف لوگوں کی طرف دعوت کا پیغام لیکر آوے اور کہے کہ جو شخص تم میں سے میری اطاعت نہیں کریگا خدا اُسے جہنم میں ڈالے گا۔ لیکن باوجود اس امکان کے جب سے کہ دُنیا پیدا ہوئی ہے کبھی خدا نے ایسا نہیں کیا۔ کیونکہ ایسا کرنا اُسکی حکمت اور مصلحت کے خلاف ہے اور وہ جانتا ہے کہ لوگوں کے لئے یہ ایک فوق الطاقت ٹھوکر کی جگہ ہے کہ ایک ایسا شخص جو پُشت در پشت رذیل چلا آتا ہے اور لوگوں کی نظر میں نہ صرف وہ نیچ ہے بلکہ اُس کا باپ اور دادا اور پڑدادا اور جہاں تک معلوم ہے قوم کے نیچ ہیں اور ہمیشہ سے شریر اور بدکار ہوتے چلے آتے ہیں۔ اور مویشیوں کی طرح اَدنیٰ خدمتیں کرتے رہے ہیں۔ اب اگر لوگوں سے اُسکی اطاعت کرائی جائے تو بلاشبہ لوگ اُسکی اطاعت سے کراہت کریں گے۔ کیونکہ ایسی جگہ میں کراہت کرنا انسان کیلئے ایک طبعی امر ہے۔ اسلئے خدا تعالیٰ کا قدیم قانون اور سُنّت یہی ہے کہ وہ صرف اُن لوگوں کو منصب دعوت یعنے نبوت وغیرہ پر مامور کرتا ہے جو اعلیٰ خاندان میں سے ہوں۔ اور ذاتی طور پر بھی پہلا چلن اچھے رکھتے

۱۵۲

تریاق القلوب صفحہ 152 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 279-280 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 186, 187 پر درج ہے

صفحہ 609

حوالہ نمبر 64

۴۵۵ ہاتھ سے بویا گیا ہو اس کا کچھ پتہ نہیں کہ کب بویا گیا ہو لیکن مگر وہ تخم عمدہ ہوتا ہے اور اس میں نشوونما کی قوت موجود ہوتی ہے تو خدا کے فضل سے اور اس کسان کی سعی سے وہ اُوپر آتا ہے اور ایک دانہ کا ہزار دانہ بنتا ہے اسی طرح سے انسان بیعت کنندہ کو کمال انکساری اور عجز اختیار کرنی پڑتی ہے اور اپنی خودی اور نفسانیت سے خالی ہونا پڑتا ہے تب وہ نشوونما کے قابل ہوتا ہے لیکن جو بیعت کے ساتھ نفسانیت بھی رکھتا ہے اُسے کچھ فیض حاصل نہیں ہوتا۔ صوفیوں نے بعض جگہ لکھا ہے کہ اگر مرید کو اپنے مرشد کے بعض مقامات پر بظاہر غلطی نظر آوے تو اسے چاہیئے کہ اس کا اظہار نہ کرے مگر اظہار کریگا تو مبتلا فتنہ ہو جاوے گا (کیونکہ اصل میں وہ غلطی نہیں ہوتی صرف اس کے فہم کا اپنا قصور ہوتا ہے) اسی لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا دستور تھا کہ آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں اس طرح سے بیٹھتے تھے جیسے سر پر کوئی پرندہ ہوتا ہے اور اس کی وجہ سے انسان سر کو ہلا یا اُٹھا نہیں سکتا۔ یہ تمام ان کا ادب تھا کہ حتی الوسع خود کبھی کوئی سوال نہ کرتے۔ ہاں اگر باہر سے کوئی نیا آدمی آکر کچھ پوچھتا تو اس ذریعہ سے جو کچھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے نکلتا وہ سُن لیتے صحابہ بڑے متادب تھے اس لیے کہا ہے کہ اَلطَّرِیقَۃُ کُلُّھَا اَدَبٌ ۔ جو شخص ادب کی حدود سے باہر نکل جاتا ہے اُسپر شیطان تصرف پاتا ہے اور رفتہ رفتہ اس کی نوبت ارتداد تک آجاتی ہے۔ اس ادب کو مدنظر رکھنے کے بعد انسان کو لازم ہے کہ وہ فارغ نشین نہ ہو ہمیشہ توبہ و استغفار کرتا رہے اور جو جو مقامات اسے حاصل ہوتے جاویں ان پر یہی خیال کرے کہ میں ابھی قابل اصلاح ہوں اور یہ سمجھ کر کہ بس میرا تزکیہ نفس ہو گیا وہاں ہی نہ اڑ بیٹھے۔

منافق کون ہے

یاد رکھو منافق وہی نہیں ہے جو اپنے عمل سے یا زبان سے اخلاص ظاہر کرتا ہے مگر دل میں اس کے کفر ہے۔ بلکہ یہ بھی منافق ہے جس کی فطرت میں دو رنگی ہے۔ اگر چہ وہ اس کے اختیار میں نہ ہو۔ صحابہ کرامؓ کو اس دو رنگی کا بہت خطرہ رہتا تھا۔ ایک دفعہ حضرت حنظلہ رو رہے تھے تو حضرت ابو بکرؓ نے پوچھا کہ کیوں روتے ہو؟ کہا کہ اس لیے روتا ہوں کہ مجھ میں نفاق کے آثار معلوم ہوتے ہیں جب میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہوتا ہوں تو اس وقت دل نرم اور اس کی حالت بدلی ہوئی معلوم ہوتی ہے مگر جب ان سے جُدا ہوتا ہوں تو وہ حالت نہیں رہتی۔ ابو بکر نے فرمایا کہ یہ حالت تو میری بھی ہے چنانچہ دونوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور جُملہ ماجرا بیان کیا۔ آپؐ نے فرمایا کہ تم منافق نہیں ہو۔ انسان کے دل میں قبض اور بسط ہوا کرتی ہے۔ جو حالت تمہاری میرے پاس ہوتی ہے اگر وہ ہمیشہ رہے تو فرشتے تم سے مصافحہ کریں۔ تو اب دیکھو کہ صحابہ کرام اس نفاق اور دو رنگی سے کس قدر ڈرتے تھے۔ جب انسان جُرات اور دلیری

ملفوظات جلد سوم صفحہ 455 طبع جدید از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 187 پر درج ہے

صفحہ 610

حوالہ نمبر 65 ضمیمہ براہین احمدیہ ۲۹۲ حصہ پنجم

ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کوئی اعتقاد نہیں رکھتا کہ آپ بھی پھر آئیں گے۔ کیونکہ آنجناب نے اپنی تصدیقوں میں بھی کافروں کو وہ واقعے دکھلائے جو اب تک یاد کرتے ہیں اور پوری کامیابی کے ساتھ آپ کا انتقال ہوا۔

اور معلوم ہوتا ہے کہ ابن مریم عیسیٰ نے آخر عمر میں اپنے پہلے قول سے رجوع کر لیا تھا۔ اس لئے ان کا آخری بیان پہلے بیان سے متناقض ہے۔ عیسائیوں کے بعض فرقے عورتوں کے کھلے طور پر حضرت عیسیٰ کی وفات کے قائل ہیں۔ اور ہم ابھی بیان کر چکے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت صحابہ رضی اللہ عنہم کا اجماع ہو گیا تھا جو کہ انبیاء گذشتہ جن میں

۱۴۶

حضرت عیسیٰ بھی شامل ہیں فوت ہو چکے ہیں۔ جن میں سے ایک بھی زندہ نہیں پھر جیسے جیسے مذہب اسلام میں جہالت اور بدعت پھیلتی گئیں یہ بدعت بھی دین کا ایک جزو ہو گئی کہ حضرت عیسیٰ مرنے والوں کی جماعت میں سے نکل کر پھر دنیا میں واپس آئیں گے اس عقیدہ نے اسلام کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔ کیونکہ تمام دنیا میں سے صرف ایک ہی انسان کو یہ خصوصیت دی ہے کہ وہ آسمان پر مع جسم چلا گیا اور کسی زمانہ میں مع جسم واپس آئیگا۔ یہ عقیدہ حضرت عیسیٰ کو خدا بنانے کی پہلی اینٹ ہے کیونکہ ان کو ایک خصوصیت دی گئی ہے جس میں کوئی دوسرا شریک نہیں۔ خدا جلد یہ داغ اسلام کے چہرہ سے دور کرے۔ آمین

پھر میں مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب کو محض حسبتہ للہ نصیحت کرتا ہوں کہ آپ تو اس عمر تک پہنچ گئے ہیں اب خدا تعالیٰ کے مقابل پر بے ہودہ چالاکیوں کو چھوڑ دیں۔ آپ نے بہت زور لگایا ہر ایک قسم کا مکر کیا اور نور خدا کے بجھانے کے لئے کمال شوم منصوبوں سے کام لیا مگر انجام کار نامراد رہے۔ اگر نبی مفتری ہوتا تو آپ کا کہیں نہ کہیں ہاتھ پڑ جاتا اور میں کب کا تباہ ہو جاتا ایسا آدمی جو ہر روز خدا پر جھوٹ بولتا ہے اور آپ ہی ایک بات تراشتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ یہ خدا کی وحی ہے جو مجھ کو ہوئی ہے۔ ایسا بدذات انسان تو کتوں اور سوروں اور بندروں سے بدتر ہوتا ہے پھر کب ممکن ہے کہ خدا اس کی حمایت کرے۔ مگر یہ کاروبار

ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 128 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 292 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 187 پر درج ہے

صفحہ 611

حوالہ نمبر 66

توضیح مرام ٩٠ مسیح کا دعویٰ خدائی آنا

پیدا ہوتی ہے وہی حرکت اس اندام کے کلی اعضاء یا بعض میں جیسا کہ اُس قیوم کی ذات کا تقاضا ہو پیدا ہو جاتی ہے۔

اس بیان مذکورہ بالا کی تصویر دکھلانے کے لئے تخیلی طور پر ہم فرض کر سکتے ہیں کہ قیوم العالمین ایک ایسا وجود اعظم ہے جس کے لئے بے شمار ہاتھ بے شمار پیر اور ہر یک عضو اس کثرت سے ہے کہ تعداد سے خارج اور لا انتہا عرض اور طول رکھتا ہے اور تیندوی کی طرح اس وجود اعظم کی تاریں بھی ہیں جو صفحہ ہستی کے تمام کناروں تک پھیل رہی ہیں اور کشش کا کام دے رہی ہیں۔ یہ وہی اعضاء ہیں جن کا دوسرے لفظوں میں عالم نام ہے جب قیوم عالم کوئی حرکت جنبش ارادی کرے گا تو اُس کی حرکت کے ساتھ اُس کے اعضاء میں حرکت پیدا ہو جانا ایک لازمی امر ہوگا۔ اور وہ اپنے تمام ارادوں کو انہیں اعضاء کے ذریعہ سے ظہور میں لائے گا نہ کسی اور طرح سے۔ پس یہی ایک عام قہر، شامل کشش روحانی امری ہے کہ جو کہا گیا ہے کہ مخلوقات کی ہر یک جزو خدا تعالیٰ کے ارادوں کی تابع اور اس کے مقاصد مخفیہ کو اپنے خادمانہ چہرہ میں ظاہر کر رہی ہے بلکہ کمال درجہ کی اطاعت سے اُس کے ارادوں کی راہ میں محو ہو رہی ہے اور یہ اطاعت اُس قسم کی ہرگز نہیں ہے جس کی صرف حکومت اور زبردستی پر بنا ہو۔ بلکہ ہر یک چیز کو خدا تعالیٰ کی طرف ایک مقناطیسی کشش پائی جاتی ہے اور ہر ایک ذرہ ایسا بالطبع اُس کی طرف جھکتا ہوا معلوم ہوتا ہے جیسے ایک وجود کے متفرق اعضاء اس وجود کی طرف جھکے ہوئے ہوتے ہیں۔ پس درحقیقت یہی سچ ہے اور بالکل سچ ہے کہ یہ تمام عالم اُس وجود اعظم کے لئے بطور اعضاء کے واقعہ ہے اور اسی وجہ سے وہ قیوم العالمین کہلاتا ہے کیونکہ جیسی جان اپنے بدن کی قیوم ہوتی ہے ایسا ہی وہ تمام مخلوقات کا قیوم ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو نظام عالم کا بالکل بگڑ جاتا۔

ہر یک ارادہ اُس قیوم کا خواہ وہ ظاہری ہے یا باطنی۔ دینی ہے یا دنیوی اسی

توضیح مرام صفحہ 42 مطبوعہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 90 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 195 پر درج ہے

صفحہ 612

حوالہ نمبر 67 ۳۱۲ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم

تو اس صورت میں وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے مذہب نہیں ٹھہر سکتا ۔ بھلا ایک شخص اسلام کے ہر ایک پاک عقیدہ کے موافق اپنا عقیدہ رکھتا ہے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مفتری سمجھتا ہے جیسا کہ یہود یسوع کو سمجھتے ہیں تو اس خیال کے مسلمان اس کے آگے اپنے مذہب کا ما بہ الامتیاز کیا پیش کر سکتے ہیں ۔ جو صرف قصے کہانیاں نہ ہوں بلکہ ایک ایسی شہود و محسوس نعمت ہو جو ان کو دی گئی ۔ اور ان کے غیر کو نہیں دی گئی ۔ پس اے بدبخت اور بدقسمت قوم ! وہ وہی نعمت ہے جو مکالمات اور مخاطبات الٰہیہ ہیں ۔ جن کے ذریعہ سے علم غیوب حاصل ہوتے اور خدا کی تائیدی قدرتیں ظہور میں آتی ہیں اور خدا کی وہ نصرتیں جن پر وحی الٰہی کی مہر ہوتی ہے ظاہر ہوتی ہیں اور وہ لوگ اُس مہر سے شناخت کئے جاتے ہیں ۔ اس کے سوا کوئی ما بہ الامتیاز نہیں ۔ اور جب تم خود مانتے ہو جو خدا دونوں کو سنتا ہے ۔ پس اے سُست ایمانو ! اور دلیل کے اندھو ! جبکہ وہ سُن سکتا ہے تو کیوں بول نہیں سکتا ؟ اور جبکہ سُننے میں اس کی کوئی ہتکِ عزت نہیں تو پھر اپنے بندوں کے ساتھ بولنے سے کیوں اُس کی ہتکِ عزت ہو گئی ! ورنہ یہ اعتقاد رکھو کہ جیسا کہ کچھ مُدت سے الہام الٰہی پر مہر لگ گئی ہے ویسا ہی اُسی مُدت سے خدا کی شنوائی پر بھی مہر لگ گئی ہے ۔ اور اب خدا نعوذ باللہ صُمٌّ بُکْمٌ میں داخل ہے ۔ کیا کوئی عقلمند اس بات کو قبول کر سکتا ہے کہ اس زمانہ میں خدا سُنتا تو ہے مگر بولتا نہیں ۔ پھر بعد اس کے یہ سوال ہو گا کہ کیوں نہیں بولتا ۔ کیا زبان پر کوئی مرض لاحق ہو گئی ہے مگر کان مرض سے محفوظ ہیں ۔ جبکہ وہی بندے ہیں اور وہی خدا ہے اور تکمیلِ ایمان کے لئے وہی حاجتیں ہیں ۔ بلکہ اس زمانہ میں جو دلوں پر دہریت غالب ہو گئی ہے بولنے کی اسی قدر ضرورت تھی جس قدر سُننے کی ۔ تو پھر کیا وجہ کہ سُننے کی صفت تو اب تک ہے مگر بولنے کی صفت معطل ہو گئی ہے ۔

افسوس کہ چودھویں صدی میں سے بھی بائیس برس گزر گئے اور ہنوز دھوکے کا زمانہ

ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 144 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 312 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 195 پر درج ہے

صفحہ 613

حوالہ نمبر 68

تجلیات الٰہیہ

۳۹۶

دوں گا۔ جس طرح فرعون کے ہاتھ سے موسیٰ نبی اور اس کی جماعت کو رہائی دی گئی۔ اور یہ معجزات اسی طرح ظاہر ہونگے جس طرح موسیٰ نے فرعون کے سامنے دکھلائے اور خدا فرماتا ہے کہ میں صادق اور کاذب میں فرق کر کے دکھلاؤں گا۔ اور میں اُسے مدد دونگا جو میری طرف سے ہے۔ اور میں اُس کا مخالف ہو جاؤں گا جو اس کا مخالف ہے۔ ؂ سو اے سُننے والو! تم سب یاد رکھو کہ اگر یہ پیشگوئیاں صرف معمولی طور پر ظہور میں آئیں تو سمجھ لو کہ میں خدا کی طرف سے نہیں ہوں۔ لیکن اگر ان پیشگوئیوں نے اپنے پورے ہونے کے وقت دنیا میں ایک تہلکہ برپا کر دیا اور شدت گھبراہٹ سے دیوانہ سا بنا دیا اور اکثر مقامات میں عمارتوں اور جانوں کو نقصان پہنچایا تو تم اس خدا سے ڈرو جس نے میرے لئے یہ سب کچھ کر دکھلایا۔ وہ خدا جس کے قبضہ میں قدرت ہے اس سے انسان کیونکر بھاگ سکتا ہے۔ وہ فرماتا ہے کہ میں چوروں کی طرح پوشیدہ آؤں گا۔ یعنی کسی خوشی یا غم یا خواب میں گو اُس وقت کی خبر نہیں دی جائے گی بجز اس قدر خبر کے جو اس نے اپنے مسیح موعود کو دے دی یا آئندہ اس پر کچھ زیادہ کرے۔ ان نشانوں کے بعد دنیا میں ایک تبدیلی پیدا ہوگی اور اکثر دل خدا کی طرف کھینچے جائیں گے اور اکثر سعید دلوں پر دنیا کی محبت ٹھنڈی ہو جائیگی اور غفلت کے پردے درمیان سے اُٹھا دیئے جائیں گے اور حقیقی اسلام کا ثمرہ بہشتی انہیں دیا جائیگا۔ جیسا کہ خدا تعالیٰ خود فرماتا ہے :۔

چو غلبہ خسروی آغاز کردند ۔ مسلماں را مسلماں باز کردند

غلبہ خسروی سے مراد اس عاجز کا عہد دعوت ہے۔ گو اس جگہ دنیا کی بادشاہت مراد نہیں بلکہ آسمانی بادشاہت مراد ہے جو مجھ کو دی گئی۔ خلاصہ معنی اس الہام کا یہ ہے

؂ تھوڑے دنوں کی بات ہے کہ خدا تعالیٰ نے ایک کاغذ پر لکھا ہوا مجھے یہ دکھلایا کہ مخالفین سخت کج طبع ہیں۔ یعنی قرآن شریف کی سچائی پر یہ نشان ہوں گے۔ منہ

۴

تجلیات الٰہیہ صفحہ 24 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 396 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 195 پر درج ہے

صفحہ 614

حوالہ نمبر 69 باب چہارم ١٠٦ حقیقة الوحی

۳۳ لَدنْ رَبِّ كَرِیْمٍ۔ دَر کلام تو چیزے ست کہ شعراء را دراں نصیب کیا گیا ہے ۔ تیرے کلام میں ایک چیز ہے جس میں شاعروں کو نصیبے نیست ۔ رَبِّ عَلِّمْنِیْ مَا ھُوَ خَیْرٌ عِنْدَکَ ۔ یَعْصِمُکَ اللّٰہُ مِنَ دَخل نہیں ۔ اے میرے خدا مجھے وہ سکھا جو تیرے نزدیک بہتر ہے۔ تجھے خدا دشمنوں سے الْعِدَا وَیَسْطُو بِكُلِّ مَنْ سَطَا۔ بِرزَ مَنْ عِنْدَھُمْ مِنَ الرِّمَاحِ۔ اِنِّی بچائے گا اور حملہ کرنے والوں پر حملہ کر دے گا۔ انہوں نے جو کچھ اُن کے پاس ہتھیار تھے سب ظاہر کر دئے۔ سَاُخْسِرُہٗ فِی اٰخِرِ الْوَقْتِ۔ اِنَّکَ لَسْتَ عَلَی الْحَقِّ۔ اِنَّ اللّٰہَ رَءُوْفٌ میں مولوی محمد حسین بٹالوی کو آخر وقت میں خسارہ میں ڈالوں گا۔ تُو حق پر نہیں ہے۔ خدا رؤف و رَحِیْم۔ اَلَنَّا لَکَ الْحَدِیْدَ۔ اِنِّی مَعَ الْاَفْوَاجِ اٰتِیْکَ بَغْتَةً ۔ رحیم ہے۔ ہم نے تیرے لئے لوہے کو نرم کر دیا۔ میں فوجوں کے ساتھ ناگہانی طور پر آؤں گا ۔ اِنِّی مَعَ الرَّسُوْلِ اُجِیْبُ اُخْطِی وَاُصِیْبُ۔ وَقَالُوْا اَنّٰی لَکَ میں رسول کے ساتھ ہو کر جواب دوں گا اپنے ارادہ کو کبھی چھوڑ بھی دوں گا اور کبھی پورا کروں گا۔ کہیں گے کہ تجھے یہ مرتبہ کہاں ھٰذَا قُلْ ھُوَ اللّٰہُ عَجِیْب۔ جَاءَ نِی اَیْلٌ وَاخْتَار۔ وَاَدَارَ اِصْبَعَہٗ سے حاصل ہوا۔ کہہ خدا وہ العجائب ہے۔ میرے پاس آئل آیا اور اُس نے مجھے چن لیا۔ اور اپنی انگلی گردش دی وَ اَشَارَ۔ اِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ اٰتٍ۔ فَطُوْبٰی لِمَنْ وَجَدَ وَرَاٰی۔ اَلْاَمْرَاضُ اور اشارہ کیا۔ کہ خدا کا وعدہ آگیا۔ پس مبارک وہ جو اس کو پاوے اور دیکھے ۔ طرح طرح کی بیماریاں

(حاشیہ۔ اس وحی الٰہی کے ظاہری الفاظ یہ معنے رکھتے ہیں کہ میں خطا بھی کرتا ہوں اور صواب بھی یعنی میری چاہت اور مراد کبھی کرونگا اور کبھی نہیں۔ اور کبھی میرا ارادہ پورا ہو گا اور کبھی نہیں۔ ایسے الفاظ خدا تعالیٰ کے کلام میں آجاتے ہیں۔ جیسا کہ احادیث میں لکھا ہے کہ میں مومن کی قبضِ رُوح کے وقت تردّد میں پڑتا ہوں۔ حالانکہ خدا تردّد سے پاک ہے اسی طرح یہ وحی الٰہی ہے کہ کبھی میرا ارادہ خطا جاتا ہے اور کبھی پورا ہو جاتا ہے۔ اسکے یہ معنے ہیں کہ کبھی مَیں اپنی تقدیر اور ارادہ کو منسوخ کر دیتا ہوں اور کبھی وہ ارادہ جیسا کہ چاہا ہو تا ہے۔ منہ) ٭ اِس جگہ اَیْلٌ خدا تعالیٰ نے جبرئیل کا نام رکھا ہے اِس لئے کہ بار بار رجوع کرتا ہے۔ منہ

١٠٦

حقیقة الوحی صفحہ 103 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 106 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 195 پر درج ہے

صفحہ 615

حوالہ نمبر 70

۲۴۸

جن کے آگے امکان، رفعیہ وغیرہ سب جاتے رہتے ہیں اور سدرہ میں داخل ہیں، وہ بھی جہنم میں داخل ہوں گے جو کہ سمجھے ہوئے تو ہیں مگر بعض تعلقات دنیوی کی وجہ سے قبول نہیں کرتے معلوم ہوتا ہے اس میں کوئی تجویز ہے اور اس کو ابھی مخفی رکھا ہے، یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ترقی ہونے والی ہے اور اللہ کریم کچھ چشم نمائی کرنیوالے ہیں، اور یہ بھی فرمایا کہ جو کچھ ہمارے ارادہ میں ہے وہ ہو چکا اب ٹل نہیں سکتا۔"

(البدر جلد ۱ نمبر ۲۸ مورخہ ۷۔ نومبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۱۱۰)

۱۹۰۲ء "طاعون کا تذکرہ ہو رہا تھا فرمایا، ایک بار مجھ پر الہام ہوا تھا کہ خدا قادیان میں نازل ہوگا، اپنے وعدہ کے موافق اور پھر یہی تھا۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا وَعْدُ اللهِ لَا يُخْلِفُ

(البدر جلد ۱ نمبر ۶ مورخہ ۱۷۔ اپریل ۱۹۰۲ء صفحہ ۱ بحوالہ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ اول)

۲۰۔ اکتوبر ۱۹۰۲ء

آخر کا لفظ ٹھیک یاد نہیں اور یہ بھی ہنوز پتہ نہیں کہ یہ الہام کس امر کے متعلق ہے"

(البدر جلد ۱ نمبر ۴ مورخہ ۲۴۔ اکتوبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۱۶)

(الحکم جلد ۶ نمبر ۴۰ مورخہ ۱۰۔ نومبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۱۱)

۲۱ نومبر ۱۹۰۲ء "۲۱ نومبر ۱۹۰۲ء کو شام کو سیر میں میر شفا کو ایک قصیدہ مقامیہ کے مباحثہ کے متعلق سنایا:"

۱۹۰۲ء

فَقَدْ مَزَّقَ ۱؎ فِي هَذِهِ القُبُورِ سُورَةٌ
يُدَمِّرُ ۲؎ رَبِّي كُلَّمَا كَانَ يَعْمُرُ

۱؎ (ترجمہ از مرتب) دوڑے یہ خنزیر اور پھاڑ گئے قبروں کو۔ ۲؎ هَذَا الشِّعْرُ مِنْ وَحْيِ اللهِ تَعَالَى جَلَّ شَأْنُهُ (البشریٰ صفحہ ۲۳ حاشیہ، نزول المسیح صفحہ ۵۸) (ترجمہ از مرتب) یہ شعر اللہ تعالیٰ کی وحی ہے۔

یہ حوالہ صفحہ 196 پر درج ہے تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 358 طبع چہارم از مرزا قادیانی

صفحہ 616

حوالہ نمبر 71

۲۳۱

تو کچھ تعجب نہیں کہ اس معجزہ نما مائدہ کی گورنمنٹ جاں بخشی کرے۔ اسی طرح عیسائیوں کو چاہئے کہ کلکتہ کی نسبت پیشگوئی کر دیں کہ اس میں طاعون نہیں پڑیگی۔ کیونکہ بڑا بشپ برٹش انڈیا کا کلکتہ میں رہتا ہے۔ اسی طرح میاں شمس الدین اور اُنکی انجمن حمایت اسلام کے ممبروں کو چاہئے کہ لاہور کی نسبت پیشگوئی کر دیں کہ وہ طاعون سے محفوظ رہے گا۔ اور مُنشی الٰہی بخش اکونٹنٹ جو الہام کا دعویٰ کرتے ہیں اُنکے لئے بھی یہی موقع ہے کہ اپنے الہام سے لاہور کی نسبت پیشگوئی کر کے انجمن حمایت اسلام کو مدد دیں ۔ اور مناسب ہے کہ عبدالجبار اور عبدالحق شہر امرتسر کی نسبت پیشگوئی کریں۔ اور چونکہ فرقہ وہابیہ کی اصل جڑ دہلی ہے اسلئے مناسب ہے کہ نذیر حسین اور محمد حسین دہلی کی نسبت پیشگوئی کریں کہ وہ طاعون سے محفوظ رہیگی۔ پس اس طرح سے گویا تمام پنجاب اس مہلک مرض سے محفوظ ہو جائے گا۔ اور گورنمنٹ کو بھی مفت میں تسلّی بخشی ہو جائیگی۔ اور اگر ان لوگوں نے ایسا نہ کیا تو پھر یہی سمجھا جائے گا کہ سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔ اور بالآخر یاد رہے کہ اگر یہ تمام لوگ جن میں مسلمانوں کے ملہم اور آریوں کے پنڈت اور عیسائیوں کے پادری داخل ہیں چُپ رہے تو ثابت ہو جائے گا کہ یہ سب لوگ جھوٹے ہیں اور ایک دن آنے والا ہے جو قادیان سورج کی طرح چمک کر دکھلا دیگی کہ وہ ایک سچے کا مقام ہے۔ بالآخر میاں شمس الدین صاحب کو یاد رہے کہ آپ نے جو اپنے اشتہار میں آیت امن یجیب المضطر ۱۵ لکھی ہے اور اس سے قبولیت دُعاء کی اُمید کی ہے۔ یہ اُمید صحیح نہیں ہے کیونکہ کلام الٰہی میں لفظ مضطر سے وہ ضرر یافتہ مُراد ہیں جو محض ابتلا کے طور پر ضرر یافتہ ہوں نہ سزا کے طور پر لیکن جو لوگ سزا کے طور پر کسی ضرر کے تختہ مشق ہوں وہ اس آیت کے مصداق نہیں ہیں ورنہ لازم آتا ہے کہ قوم نوح اور قوم لوط اور قوم فرعون وغیرہ کی دُعائیں اس اضطرار کے وقت میں قبول کی جاتیں مگر ایسا نہیں ہوا اور خدا کے ہاتھ نے اُن قوموں کو ہلاک کر دیا۔ اور

؎ النمل : ۶۳

۱۵

دافع البلاء صفحہ 11 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 231 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 196 پر درج ہے

صفحہ 617

حوالہ نمبر 72

۳۴۵

سُوءَ يَتِكَ . اَلْأَمْرَاضُ تُشَاعُ. وَالنُّفُوسُ تُضَاعُ . إِلَّا الَّذِيْنَ آمَنُوْا. وَلَمْ يَلْبِسُوْا إِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ . أُولٰئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُمْ مُّهْتَدُوْنَ . إِنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا . إِنَّى مُجَهِّزٌ لَجَيْشِى فَأَصْبَحُوْا فِي دَارِهِمْ جَاثِمِيْنَ . سَنُرِيْهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ لِنُبَيِّنَ لَهُمُ وَنُتِمُّ مُبِيْنٌ . إِنِّيْ مَاعِشْتُ يَامَيْسُوْنَ رَبِّيْ . أَنْتَ مِنِّيْ بِمَنْزِلَةِ اَوْلَادِي . أَنْتَ مِنِّيْ وَأَنَا مِنْكَ . عَسٰى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا . اَلْقَوْلُ مَعَكَ وَاللّٰهُ مَعَامُ أَحْمَدَ إِلَيْكَ . فَاصْبِرْ حَتّٰى يَأْتِيَ اللّٰهُ بِأَمْرِهِ . يَأْتِيْ عَلَى جَهَنَّمَ زَمَانٌ لَيْسَ فِيْهَا أَحَدٌ ۔

ترجمہ :۔ خدا تیرا نہیں کہتا یا یوں کہے لوگوں کو عذاب دے حالانکہ تو ان میں ہوتا ہے۔ وہ اِس گائوں کو طاعون کی دستبرد اور اس کی تباہی سے بچالے گا۔ اگر تیرا پاس مجھے نہ ہوتا، اور تیرا اکرام مدِّنظر نہ ہوتا تو میں اس گائوں کو

۱؎ اللہ تعالیٰ نے کئی بار مجھے بذریعہ وحی فرمایا ہے کہ اِنِّیْ اُحَافِظُ كُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ ۔ (کہ میں ان سب کو بچائوں گا جو تیرے گھر میں ہیں) ۔ اور اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ”یہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعویٰ کا ذکر ہے کہ انہوں نے الہام کے ذریعہ سے یہ کلام فرمایا ہے کہ میرا غضب زمین پر اُتر چکا ہے مگر تو اس زمانہ میں مخلوق کی مصیبت اور دُکھ میں شریک ہونے والا ایک فرد ہو گیا ہے جس کو خدا تعالیٰ بھی اپنی امان میں کرنا ارادہ فرماتا ہے۔ اور وہ جس کی طرف سے یہ حق کے لئے بھیجا گیا ہے ، اُس سے حق کا پانا ہے ، اور یہ منشاء اور مرضی خدا سے ظہور میں آیا ہے۔ پس خدا فرماتا ہے کہ میں تجھے اس جگہ سے بچالوں گا۔ جبکہ مکر و انسانی حیلے تجھ میں نہیں ہیں بلکہ تو سچائی کا ایک پودا ہوگا ، اور تیرے دشمن وہ لوگ ہوں گے جن کے خیال و گمان میں ہے کہ یہ مخلوق سے جھوٹ بول کر ان سے دغا کرسکتا ہے یا اپنے پاس سے کچھ بنالاتا ہے پس خدا فرماتا ہے کہ میں نے یہ ارادہ کیا ہے کہ جو تیرے پاس ہیں میں ان کو ان درندوں کے حملوں سے بچائوں اور سچائی کی حمایت میں ان کی تسکین خاطر کروں۔ (اشتہار ۲۸؍ مئی ۱۹۰۳ء مجموعہ اشتہارات جلد ۳ صفحہ ۵۸۱)

۲؎ "یاد رہے کہ خدا تعالیٰ شرک سے پاک ہے۔ نہ اس کا کوئی شریک ہے اور نہ شبیہ ہے اور نہ کسی کو حق پہنچتا ہے کہ وہ یہ کہے کہ میں خدا ہوں یا خدا کا بیٹا ہوں لیکن یہ فقرہ اس جگہ من قبیل مجاز اور استعارہ میں سے ہے۔ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا ہاتھ فرمایا اور فرمایا يَدُ اللّٰهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ ۔ ایسا ہی بجائے قُلْ لِعِبَادِیْ کے قُلْ يَا عِبَادِیْ بھی فرمایا فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَذِكْرِكُمْ آبَاءَكُمْ پس جس خدا کے کلام میں یہ شیوہ اور یہ امتیاز پایا جاتا ہے وہ قبیل متشابہات سمجھ کر ایمان لاؤ اور اس کی کیفیت میں دخل نہ دو اور حقیقت حوالہ بخدا کرو اور یقین رکھو کہ خدا تعالیٰ ازواج و اولاد سے پاک ہے۔ یہ سب مقامات کے رنگ میں بہت کچھ اس کے کلام میں پایا جاتا ہے۔ پس اس کے متشابہات کی پیروی نہ کرو اور ہلاک نہ ہو جائو اور میری نسبت حقیقت میں یہ ہے کہ یہ الہام بھی ان ہی میں سے ہے قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوْحٰى إِلَيَّ أَنَّمَا إِلٰهُكُمْ إِلٰهٌ وَاحِدٌ وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي الْقُرْآنِ ۔

( دافع البلاء صفحہ ۷ ۔ حاشیہ ۔ روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۲۲۷ )

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 345 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 196 پر درج ہے

صفحہ 618

حوالہ نمبر 73 ۴۴۲

اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِيْلِ ۔ اَلَمْ يَجْعَلْ كَيْدَهُمْ فِيْ تَضْلِيْلٍ -

(کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۴۴، ۴۵)

۲۷ جنوری ۱۹۰۵ء

۲۷ جنوری ۱۹۰۵ء کو حضرت اقدس کے دائیں رخسارہ مبارک پر ایک آماس سا نمودار ہوا۔ اُس سے بہت تکلیف ہوئی۔ حضورؑ نے دعا فرمائی تو ذیل کے فقرات الہام ہوئے۔ دَم کرنے سے فوراً صحت حاصل ہو گئی۔ ۲؎ بِسْمِ اللّٰهِ الْكَافِي - بِسْمِ اللّٰهِ الشَّافِي - بِسْمِ اللّٰهِ الْغَفُورِ الرَّحِيْمِ - بِسْمِ اللّٰهِ الْبَرِّ الْكَرِيمِ - يَا حَفِيْظُ يَا عَزِيْزُ يَا رَفِيْقُ - يَا وَلِيُّ اشْفِنِيْ -

(البدر جلد ۱ نمبر ۴ مورخہ یکم فروری ۱۹۰۵ء صفحہ ۲۔ الحکم جلد ۹ نمبر ۴ مورخہ ۳۱ جنوری ۱۹۰۵ء صفحہ ۴۔

کاپی الہامات صفحہ ۴۵)

یکم فروری ۱۹۰۵ء

۳؎ ۱۔ اِنِّیْ مَعَکَ وَمَعَ يَوْمِكَ لَوْلَا أَنْ تُفَنِّدُونِ - ۲۔ اِنِّیْ مَعَ الرُّوْحِ مَعَكَ وَمَعَ أَهْلِكَ -

(البدر جلد ۱ نمبر ۴ مورخہ یکم فروری ۱۹۰۵ء صفحہ ۲۔ الحکم جلد ۹ نمبر ۴ مورخہ ۳۱ جنوری ۱۹۰۵ء صفحہ ۶۔

کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۴۵)

یکم فروری ۱۹۰۵ء

۴؎ أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ تَوْحِيدِيْ وَتَفْرِيدِيْ - اَنْتَ سِرِّي بِمَنْزِلَةِ عَرْشِي - أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ وَلَدِي - اَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةٍ لَا يَعْلَمُهَا الْخَلْقُ - اِنِّیْ مَعَ الرُّوْحِ مَعَكَ وَمَعَ أَهْلِكَ - اَفْرُدُكَ وَاَحْشُرُكَ - أَنْتَ وَجِيهٌ ۱؎

اپنے بندے کے لئے کافی نہیں۔ اے پادشاہ جس کے ساتھ تجھ سا پادشاہ ہو وہ ڈرتا نہیں۔ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ تیرے ربّ نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا۔ کیا اُن کا مکر برباد ناکام نہ ہو گیا۔

۱؎ کاپی الہامات مطبوعہ میں اَنْتَ الْوَجِيْهُ لکھا ہے۔ ۲؎ (ترجمہ از ناقل) میں اللہ کے نام سے مدد چاہتا ہوں جو کافی ہے میں اللہ کے نام سے مدد چاہتا ہوں جو شافی ہے میں اللہ کے نام سے مدد چاہتا ہوں جو غفور رحیم ہے میں اللہ کے نام کے ساتھ مدد چاہتا ہوں جو احسان کرنے والا کریم ہے۔ اے حفاظت کرنے والے۔ اے غالب۔ اے رفیق۔ اے ولی مجھے شفا دے۔ ۳؎ (ترجمہ از مرتب) اگر ایسا نہ ہو کہ تم مجھے جوٹھلاؤ تو تمھیں ضرور کہوں گا کہ مجھے یقیناً یوسف کی خوشبو آ رہی ہے۔ (۲) میں مع جبریل کے تیرے ساتھ اور تیرے اہل کے ساتھ ہوں۔ ۴؎ (ترجمہ از مرتب) تُو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ میری توحید اور تفرید۔ تُو مجھ سے بمنزلہ عرش کے ہے۔ تُو مجھ سے بمنزلہ بیٹے کے ہے۔ تُو مجھ سے اس مرتبہ پر ہے جس کو دُنیا نہیں جانتی۔ میں مع جبریل کے تیرے ساتھ ہوں اور تیرے اہل کے ساتھ۔ میں نے تجھے

تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 442 طبع چہارم از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 197 پر درج ہے

صفحہ 619

حوالہ نمبر 74

۴۹ بقیہ حاشیہ صفحہ ۷۸

(۲۴) اجازہ : تشریح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ بیان فرمایا کہ مرزا غلام قادر صاحب کی وفات سے ایک دم پہلے، الہام ہوا۔ (نزول المسیح صفحہ ۲۲۵ تاریخ نزول الہام قریباً سنہ ۱۸۸۳ء)

(۲۵) حُسنِ قبولِ دعا بنگر کہ چہ زود دُعا قبول میکنم (مکتوبات احمدیہ جلد اول صفحہ ۵۳

تاریخ نزول الہام ۲۰؍ مئی ۱۸۸۳ء ۔ ۲۱؍ جمادی الثانیہ ۱۳۰۰ھ)

(۲۶) لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَكَ بِہٖ عِلْمٌ وَلَا تَقُلْ لِشَیْئٍ اِنِّیْ فَاعِلٌ ذٰلِكَ غَدًا (ترجمہ) جس چیز کا تجھ کو علم نہیں اس کے پیچھے مت پڑ۔ اور کسی شے کی نسبت یہ نہ کہہ میں اس کو کل کروں گا

(مکتوبات احمدیہ جلد اول صفحہ ۶۰ ۔ تاریخ نزول الہام سنہ ۱۸۸۳ء)

(۲۷) کُذِبَ عَلَیْكَ الْحَدِیْثُ كُذِبَ عَلَیْكَ الْخَبَرُ رُحِمَتْ اٰیَۃُ اللّٰہِ حَافِظَۃً اِنِّیْ مَعَكَ اِسْمَعُ وَاَرٰی۔ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ ۔ فَبَرَّاَہُ اللّٰہُ مِمَّا قَالُوْا وَکَانَ عِنْدَ اللّٰہِ وَجِیْھًا (ترجمہ) یہ حدیث تیرے پر جھوٹ بنائی گئی یہ خبر تیرے پر جھوٹ بنائی گئی۔ خدا کی ایک نشانی رحمت کی گئی ۔ خدا حافظ ہے۔ میں تیرے ساتھ ہوں۔ میں سنتا ہوں اور دیکھتا ہوں۔ کیا اللہ اپنے بندے کے لئے کافی نہیں پس اللہ تعالیٰ نے اس کو ان کی باتوں سے بری کیا اور وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وجیہہ تھا۔

(مکتوبات احمدیہ جلد اول صفحہ ۶۰ ۔ تاریخ نزول الہام ۱۲؍ جون سنہ ۱۸۸۳ء بمطابق ۵؍ شعبان ۱۳۰۰ھ)

(۲۸) قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ ۔ اِنِّیْ مُتَوَفِّیْكَ وَرَافِعُكَ اِلَیَّ وَجَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ وَقَالُوْا اَنّٰی لَكَ ھٰذَا ۔ قُلْ ھُوَ اللّٰہُ عَجِیْبٌ یَّجْتَبِیْ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہٖ وَتِلْكَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُھَا بَیْنَ النَّاسِ (ترجمہ) انہیں کہہ دے کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو۔ اللہ تم سے محبت کریگا۔ میں تجھے پوری وفات دونگا اور اپنی طرف رفع کرونگا اور تیرے تابعداروں کو تیرے منکروں پر قیامت تک غلبہ دونگا اور انہوں نے کہا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہہ دے اللہ تعالیٰ عجیب ہے اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے برگزیدہ کر لیتا ہے اور ان ایام کو ہم لوگوں میں پھیرتے رہتے ہیں

(مکتوبات احمدیہ جلد اول صفحہ ۶۲ تاریخ نزول الہام ۱۶؍ جون سنہ ۱۸۸۳ء بمطابق ۹؍ شعبان ۱۳۰۰ھ)

(۲۹) وَجَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ

البشریٰ مجموعہ الہامات و مکاشفات مرزا قادیانی جلد اول صفحہ 149 | مرتبہ منظور الٰہی قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 197 پر درج ہے

صفحہ 620

حوالہ نمبر 75

حقیقۃ الوحی ۹۸ باب چہارم

وانت فيهم ؔ ۔ امن است در مکانِ محبت سرّاً ۔ يا محيى الـ کہ جن میں تو ہو انکو عذاب کرے۔ ہماری محبت کا گھر باطن کا گھر ہے۔ ایک زندہ کرنیوالا آیا اور شدت سے آیا ۔ زمین تہ و بالا کر دی ۔ یوم تاتی السماء آئے گا اور بڑی سختی سے آئے گا۔ اور زمین کو زیر و زبر کر دے گا۔ اُس دن آسمان سے بدخان مبين ؔ ۔ وترى الارض يومئذ خامدة ایک کھلا کھلا دھواں نازل ہوگا۔ اور اس دن زمین زرد پڑ جائے گی یعنی سخت قحط کے آثار ظاہر ہونگے ۹۵ مصفرّة ۔ اكرمك بعد توهينك ۔ يريدون ان لا يتمّ کہ یہ اسلئے ہو گا تاکہ تیری توہین کے بعد تجھے عزت دے، گمان کرتے ہیں کہ یہ کام پورا نہ ہو۔ وہ ارادہ کرتے ہیں کہ یہ کام ناتمام رہے امرك ۔ والله يأبى الا ان يتمّ امرك ۔ انّى انا الرّحمٰن ساجعل اور خدا نہیں چاہتا مگر یہ کہ وہ تیرے تمام کام پورے نہ کرے۔ میں رحمان ہوں۔ ہر ایک امر لك سهولة فى كلّ امر ۔ اريك بركات من كلّ طرف ؔ ۔ میں تجھے سہولت دوں گا۔ ہر ایک طرف سے تجھے برکتیں دکھلاؤں گا ۔ نزلت الرحمة على ثلث العين وعلى الاخرين ۔ تردّ اليك میری رحمت تیرے تین عضو پر نازل ہوئی ایک آنکھیں اور دو اور عضو پر یعنی انکو سلامت رکھے گا۔ اور جوانی کے نور [ انوار الشباب ۔ ترى نسلاً بعيداً ۔ انا نبشّرك بغلام مظهر تیری طرف لوٹائیں گے ۔ اور تو اپنی ایک دُور کی نسل کو دیکھ لیگا۔ ہم ایک لڑکے کی تجھے بشارت دیتے ہیں جس کے ساتھ ]

♠ یعنی اس زلزلہ کے لئے جو قیامت کا نمونہ ہو گا یہ علامتیں ہیں کہ کچھ دن پہلے سخت قحط پڑیگا نہریں خشک رہ جائیں گی ۔ یہ معلوم نہیں کہ زلزلہ اس کے بعد یا کچھ دیر کے بعد نازل آئے گا ۔ منہ

※ یعنی وہ چشمے فتح کے جو دُنیا میں ظاہر ہوں گے ضرور ہے کہ پہلے ان کی توہین کی جائے اور طرح طرح کی بُری باتیں کی جائیں اور الزام لگائے جائیں ۔ تب بعد اس کے آسمان سے خوفناک نشان ظاہر ہونگے یہی سُنّت اللہ ہے کہ پہلی نوبت منکروں کی ہوتی ہے اور دوسری خدا کی ۔ منہ ٭

٭ یہ خدا تعالیٰ کی وحی یعنی تریٰ نسلاً بعیداً تقریباً بیس سال کی ہے ۔ منہ ٭

حقیقۃ الوحی صفحہ 95-96 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 98-99 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 197 پر درج ہے

صفحہ 621

باب چہارم ۹۹ حوالہ نمبر 75 حقیقۃ الوحی

یہ اس جملہ کا ترجمہ ہے ورفعك کہ تیرا نام اونچا کروں گا ۔ منہ

الحق والعلی وکان الله نزل من السماء اِنَّا نبشرک بغلام حق کا ظہور ہوگا گویا آسمان سے خدا اُترے گا ہم ایک لڑکے کی تجھے بشارت دیتے ہیں نافلة لك ۖ سُبْحٰنَكَ الله ورفعك ۖ وعَلَّمك ما لم تعلم جو تیرا پوتا ہوگا خدا نے ہر ایک عیب سے تجھے پاک کیا اور تیرا نام بلند کیا اور وہ معارف تجھے سکھلائے جن کا تجھے علم نہ تھا انَّہٗ كريم یمشی امامك وعادى الله من عاداك ۔ وقالوا ان هذا وہ کریم ہے وہ تیرے آگے آگے چلا اور تیرے دشمنوں کا وہ دشمن ہوا اور کہیں گے کہ یہ تو الا اختلاق ۖ الم تعلم ان الله على كل شئ قدير ۖ يلقى الروح ایک بناوٹ ہے ۔ اے معترض کیا تو نہیں جانتا کہ خدا ہر ایک بات پر قادر ہے جس پر اپنے بندوں میں سے على من يشاء من عباده ۖ كل بركة من محمد صلَّى الله عليه وسلم چاہتا ہے اپنی رُوح ڈالتا ہے یعنی منصبِ نبوت اسکو بخشتا ہے ہر ایک برکت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے فتبارك من علم وتعلم ۖ خدا کی فیلنگ اور خدا کی ۹۱ پس بہت بابرکت ہے وہ جس نے سکھایا یعنی بندہ کو تعلیم دی اور بہت بابرکت ہے وہ جس نے تعلیم پائی۔ پھر اس کے خسروں اور اس کے صہر نے کتنا بُرا کام کیا ۖ اِنِّىْ مَعَكَ وَمَعَ اَهْلِكَ بہنوئی کی نسبت یہ وحی ہوئی صہر نے کتنا بُرا کام کیا یعنی جو بُرا کام کیا ۔ میں تیرے ساتھ ہوں اور تیرے اہل وَمَعَ كُلِّ مَنْ اَحَبَّكَ ۔ تیرے لئے میرا نام ہو چکا ۔ اور تیرے تمام دوستوں کے ساتھ ہوں ۔ تیرے لئے میرا نام ہو چکا اور تو میرے لئے ہے جیسا کہ میری توحید ۔ تیرے نام پر ایک رُوحانی عالم تیرے پر کھولا گیا۔ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيْدٌ ۖ رُوحانی عالم تیرے پر کھُلا گیا ۔ پس نگاہ تیری آج تیز ہے ۔

حاشیہ :- وہ الہام کہ خدا کی فیلنگ اور خدا کی تعلیم کے یہ معنی ہیں کہ خدا نے اس زمانہ میں محسوس کیا کہ یہ ایسا فاسد زمانہ آگیا ہے جس میں ایک عظیم الشان مصلح کی ضرورت ہے اور خدا کی فیلنگ نے یہ کام کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنے والا اس درجہ کو پہنچا کہ ایک پہلو سے وہ اُمتی ہوا اور ایک پہلو سے نبی ۔ منہ

۹۹

حقیقۃ الوحی صفحہ 95-96 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 98-99 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 197 پر درج ہے

Back

صفحہ 622

حوالہ نمبر 76

۱۹۲

پیارے خدا ! کیا میری والدہ فوت ہو گئی ہے اور اس لئے میرے چھوٹے بھائی کو کوئی سنبھالنے والا نہیں ہے اور پھر خط کے آخر میں یہ بھی لکھا ہوا تھا کہ اُسکی بچی فوت ہو گئی ہے اور بڑی جلدی سے چلے آؤ دیکھتے ہی چلے آؤیں۔ اِس خط کے پڑھنے سے بڑی تشویش ہوئی کیونکہ اس وقت میرے گھر کے لوگ بھی سخت تپ سے بیمار تھے .... تب مجھے اس تشویش میں یک دفعہ غنودگی ہوئی اور یہ الہام ہوا :۔

إِنَّ كَيْدَ كُنَّ عَظِيمٌ

یعنی اے عورتو ! تمہارے فریب بہت بڑے ہیں۔ .... اس کے ساتھ ہی تفہیم ہوئی کہ یہ ایک خلاف واقعہ بہانہ بنایا گیا ہے تب میں نے .... شیخ حامد علی کو جو میرا نوکر تھا پٹیالہ روانہ کیا جس نے واپس آکر بیان کیا کہ یہ خبر غلط اور اس کی بچی اور والدہ ہر دو زندہ موجود ہیں : (ضمیمہ انجام آتھم صفحہ ۲۶ تا ۲۷ ۔ روحانی خزائن جلد ۱۱ صفحہ ۳۱۱، ۳۱۲)

۳۰؍ ستمبر ۱۸۹۴ء

قُلْ لَّهُ إِنَّ الْأَمْرَ عَصِيبٌ ۔ يُهْلِكُ اللهُ الْوَلَدَ وَيُذِلُّ عِنْدَ النَّعْشِ - آيَةُ الْمَوْتِ أُعْطِيَتْ كَمَا وُعِدْتُمْ هَذِهِ الْآيَةُ (رجسٹر مطبوعہ رویا و الہامات حصہ نمبر ۲ صفحہ ۵۰)

۴؍ اکتوبر ۱۸۹۴ء

۱؎ عَذَابُ اللهِ مُعَلَّقٌ لَّهُ - آيَاتٌ لَّهُمْ - آيَاتٌ مُعَلَّقَةٌ - إِنَّ اللهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوْا مَا بِأَنْفُسِهِمْ - أَنْتَ بَرِئٌ مِّنْ ذِمَّتِهِمْ - إِنَّ أَمْرِيْ إِذَا أَرَدْتُهُ يَقَعُ - وَأَنْ تَقُوْلَ لَهُ كُنْ فَيَكُوْنُ - إِنِّيْ مَعَكَ جَعَلْتُكَ زَوْجَ الْأَصْغَرِ ۲؎ أَنْتَ بِاسْمِي الْأَعْلَى - إِنَّمَا أَمْرُكَ إِذَا أَرَدْتَ شَيْئًا أَنْ تَقُوْلَ لَهُ كُنْ فَيَكُوْنُ - أَنْعَمْتُ عَلَيْكَ رَحْمَةً مِّنْ فَضْلِيْ - أَنْتَ مِنَّا بِمَسْمَعٍ - إِنِّي أَمْرُكَ إِذَا أَرَدْتَ شَيْئًا أَنْ تَقُوْلَ لَهُ كُنْ فَيَكُوْنُ - أَنْتَ مِحْنَةٌ نَّازِلَةٌ فَرْجِعْ -

۱؎ ترجمہ (از مرتب) : اللہ تعالیٰ کے عذاب ان کے لئے لٹکائے گئے ہیں ۔ ان کے لئے نشان ہیں اور نشان ایسے ہیں کہ جو ہمیشہ سر پر لٹکتے رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب کو ٹالنے کے لئے میں بہت دیر سے آیا ہوں اور فضل تیرے نزدیک ہو جو ہمیشہ ضرور قریب ہے۔ میں جناب باری سے آتا ہوں۔

۲؎ ترجمہ (از مرتب) : اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں کا تو مظہر ہے تیرا کام یہ ہے کہ جب تو کسی چیز کا ارادہ کرے تو اُسے کہے کہ ہو جا تو ہو جائے گی۔ تو ہم سے سننے والا ہے۔ تیرا کام یہ ہے کہ جب تو کسی چیز کا ارادہ کرے تو اُسے کہے کہ ہو جا تو وہ ہو جائے گی۔ میں تیرے پاس آیا ہوں گویا تیری اعلٰی توجہ نے بلایا ۔ تو ہم سے سننے والا ہے۔ تیرا کام یہ ہے کہ جب تو کسی چیز کا ارادہ کرے تو اسے کہے کہ ہو جا تو وہ ہو جائے گی۔ تو بہتا ہوا پانی ہے اور وہ تیرے لئے ہے۔ تو ہم سے سننے والا ہے۔ تیرا کام یہ ہے کہ جب تو کسی چیز کا ارادہ کرے تو اُسے کہے کہ ہو جا تو وہ ہو جائے گی ۔ تو مجھ سے ایسا ہے جیسے میری توحید اور

Back

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 184 طبع چہارم از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 197 پر درج ہے

صفحہ 623

حوالہ نمبر 77

تجلیات الٰہیہ ۳۹۷

کہ جب وہ تخمِ خردل یعنے رائی جو خدا کے نزدیک آسمانی بادشاہت کہلاتی ہے ششم ہزار کے آخر میں شروع ہوا جیسا کہ خدا کے پاک نبیوں نے پیشگوئی کی تھی تو اس کا یہ اثر ہوا کہ وہ جو صرف نام ہی کے مسلمان تھے سچے مسلمان بننے لگے جیسا کہ اب تک چار لاکھ کے قریب بن چکے ہیں۔ اور میرے لئے یہ شکر کی جگہ ہے کہ میرے ہاتھ پر دولاکھ کے قریب لوگوں نے اپنے معاصی اور گناہوں اور شرک سے توبہ کی اور ایک جماعت ہنود وغیرہ اور انگریزوں کی بھی مشرف باسلام ہوئی۔ چنانچہ کل کے دن ہی ایک ہندو میرے ہاتھ پر مشرف باسلام ہوا جس کا نام محمد اقبال رکھا گیا ۔ سو میں کل کے دن چند دفعہ اس الہام الہی کو پڑھ رہا تھا کہ یک دفعہ میری نیند میں یہ عبارت پڑھی گئی جو پہلے الہام کے بعد میں ہے:۔

مقام تو مبیں از راہِ تحقیر ۔ بدرویشاں رسولاں ناز کردند

پھر اسی خدا تعالیٰ نے اس وحی الٰہی میں جو لکھی جاتی ہے۔ میرے ہاتھ پر دین اسلام کے پھیلانے کی خوشخبری دی جیسا کہ اُس نے فرمایا :۔ یا قمر یا شمس انت منی وانا منک ۔ یعنی اے چاند اور اے سورج ! تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں ۔ اس وحی الٰہی میں ایک دفعہ خدا تعالیٰ نے مجھے چاند قرار دیا اور اپنا نام سورج رکھا ۔ اس سے یہ مطلب ہے کہ جس طرح چاند کا نور سورج سے فیضیاب اور مستفاد ہوتا ہے اسی طرح میرا نور خدا تعالیٰ سے فیضیاب اور مستفاد ہے۔ پھر دوسری دفعہ خدا تعالیٰ نے اپنا نام چاند رکھا اور مجھے سورج کر کے پکارا۔ اس سے یہ مطلب ہے کہ وہ اپنی جلالی روشنی میرے ذریعہ سے ظاہر کرے گا ۔ وہ پوشیدہ تھا ۔ اب میرے ہاتھ سے ظاہر ہو جائیگا اور اُس کی چمک سے دنیا بے خبر تھی مگر اب میرے ذریعہ سے اس کی جلالی چمک دنیا کی ہر ایک نظر میں جلوہ فگن ہوگی ۔ جس طرح تم بجلی کو دیکھتے ہو کہ ایک طرف سے روشن ہو کر ایک دم میں تمام سطح آسمان کی روشن کر دیتی ہے۔ اسی طرح اس زمانہ میں بھی ہو گا۔ خدا تعالیٰ مجھے مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ تیرے لئے میں زمین پر اترا اور تیرے لئے میرا نام چمکا اور

یہ حوالہ صفحہ 198 پر درج ہے تجلیات الٰہیہ صفحہ 5 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 397 از مرزا قادیانی

صفحہ 624

حوالہ نمبر 78

حقیقة الوحی ۲۱۹ بعض اعتراضوں کے جواب

اگر چار پائی پر لیٹتے تو بیٹھتے ہی جان کندنی کا غرغرہ شروع ہوتا۔ اُس غرغرہ کی حالت میں اُنہوں نے مجھے کہا کہ دیکھا یہ کیا ہے اور پھر لیٹ گئے اور پہلے اِس سے مجھے کبھی اِس بات کے دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا کہ کوئی شخص غرغرہ کے وقت میں بول سکے اور غرغرہ کی حالت میں صفائی اور استقامت سے کلام کر سکے۔ بعد اس کے عین اس وقت جب کہ آفتاب غروب ہوا وہ اس جہان فانی کو انتقال فرما گئے اِنا للہ و انا الیہ راجعون۔ اور یہ اُنہی سب الہاموں سے پہلا الہام اور پہلی ۲۱۹ پیشگوئی تھی جو خدا نے مجھ پر ظاہر کی دو پہر کے وقت خدا نے مجھے اس کی اطلاع دی کہ ایسا ہونے والا ہے اور غروب کے بعد یہ خبر پوری ہوگئی فالحمد للہ علی ذالک۔ اور میں اس بات کو فراموش نہیں کروں گا کہ میرے والد صاحب کی وفات کے وقت خدا تعالیٰ نے میری عزّا پرسی کی اور میرے والد کی وفات کی قسم کھائی جیسا کہ آسمان کی قسم کھائی۔ جن لوگوں میں شیطانی روح جوش زن ہو وہ تعجب کریں گے کہ ایسا کیونکر ہو سکتا ہے کہ خدا کسی کو اس قدر عظمت دے کہ اُسکے والد کی وفات کو ایک عظیم الشان صدمہ قرار دیکر اس کی قسم کھائے مگر میں پھر دوبارہ خدائے عزّوجل کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ واقعہ حق ہے اور وہ خدا ہی تھا جس نے عزا پرسی کے طور پر مجھے خبر دی و کہا کہ والسماء والطارق وہ اسی حوادثِ ظہور میں آیا۔ فالحمد للہ علی ذالک۔

۲۲۔ بائیسواں نشان یہ ہے کہ جیسا کہ میں ابھی لکھ چکا ہوں جب مجھے یہ خبر دی گئی کہ میرے والد صاحب آفتاب غروب ہونے کے بعد فوت ہو جائیں گے تو بموجب مقتضائے بشریت کے مجھے اس خبر کے سُننے سے درد پہنچا ۔ اور چونکہ ہماری معاش کے اکثر وجوہ اُنہیں کی زندگی سے وابستہ تھے اور وہ سرکار انگریزی کی طرف سے پنشن پاتے تھے اور نیز ایک رقم کثیر انعام کی پاتے تھے۔ جو اُن کی حیات سے مشروط تھی۔ اس لئے یہ خیال گزرا کہ اُن کی وفات کے بعد کیا ہوگا۔ اور دل میں خوف پیدا ہوا کہ شاید تنگی اور تکلیف کے دن ہم پر آئیں گے اور یہ سارا خیال بجلی کی چمک کی طرح ایک سیکنڈ سے بھی کم عرصہ میں دل میں گزر گیا تب اُسی وقت غنودگی ہوکر یہ دُوسرا الہام ہوا اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ یعنی کیا خدا اپنے بندہ کیلئے کافی نہیں ہے

۲۱۹

Back

حقیقة الوحی صفحہ 219 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 219 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 198 پر درج ہے

صفحہ 625

حوالہ نمبر 79

۸۲

کہتے ہیں۔ کہ مجھے کئی دفعہ خدا تعالیٰ کی زیارت اپنے والد کی شکل میں ہوئی ہے۔ نیز فرماتے ہیں۔ کہ ایک دفعہ مجھے اللہ تعالیٰ کی زیارت ہوئی اور خدا تعالیٰ نے مجھے ایک ہلدی کی گٹھی دی۔ کہ یہ میری معرفت ہے۔ اسے سنبھال کر رکھنا۔ جب وہ بیدار ہوئے۔ تو ہلدی کی گٹھی ان کی مٹھی میں موجود تھی اور ایک بزرگ جن کا حضور نے نام نہیں بتایا تہجد کے وقت اپنے حجرہ کے اندر بیٹھے مصلےٰ پر کچھ پڑھ رہے تھے۔ انہوں نے کشف میں دیکھا کہ کوئی شخص باہر سے آیا ہے اور ان کے نیچے کا مصلےٰ نکال کر لے گیا ہے۔ جب وہ بیدار ہوئے تو دیکھا کہ فی الواقع مصلےٰ ان کے نیچے نہیں تھا۔ جب دن نکلنے پر حجرہ سے باہر نکلے تو کیا دیکھتے ہیں کہ مصلےٰ صحن میں پڑا ہے۔ یہ واقعات سنا کر حضرت صاحب نے فرمایا کہ یہ کشف کی باتیں تھیں۔ مگر خدا تعالیٰ نے ان بزرگوں کی کرامت ظاہر کرنے کے لئے خارج میں بھی ان کا وجود ظاہر کر دیا۔ اب ہمارا قصہ سنو۔ جس وقت تم حجرہ میں ہمارے پاس پڑے رہتے تھے۔ میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک نہایت وسیع اور مصفےٰ مکان ہے اس میں ایک پلنگ بچھا ہوا ہے۔ اور اس پر ایک شخص حاکم کی صورت میں بیٹھا ہے۔ میرے دل میں ڈالا گیا کہ یہ احکم الحاکمین یعنی اللہ جلشانہ ہیں اور میں اپنے آپ کو ایسا سمجھتا ہوں جیسے حاکم کا کوئی سررشتہ دار ہوتا ہے۔ یعنے کچھ احکام قضاء و قدر کے متعلق لکھے ہیں اور ان پر دستخط کرانے کی غرض سے ان کے پاس لے چلا ہوں۔ جب میں پاس گیا۔ تو انہوں نے مجھے نہایت شفقت سے اپنے پاس پلنگ پر بٹھا لیا۔ اس وقت میری ایسی حالت ہو گئی۔ کہ جیسے ایک بیٹا اپنے باپ سے بچھڑا ہوا سالہا سال کے بعد ملتا ہے۔ اور قدرتاً اس کا دل بھر آتا ہے۔ یا شاید فرمایا اس کو رقت آجاتی ہے۔ اور میرے دل میں اس وقت یہ بھی خیال آیا کہ یہ احکم الحاکمین یا فرمایا رب العالمین ہیں اور کس محبت اور شفقت سے انہوں نے مجھے اپنے پاس بٹھا لیا ہے۔ اس کے بعد میں نے وہ احکام جو لکھے تھے۔ دستخط کرانے کی غرض سے پیش کئے۔ انہوں نے قلم سُرخی کی دوات میں جو پاس پڑی تھی

سیرت المہدی جلد اول صفحہ 82 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 199 پر درج ہے

صفحہ 626

حوالہ نمبر 80 حقیقۃ الوحی ۲۶۷ بعض اعتراضوں کے جواب

معلوم ہوا کہ خدا نے اُن کی زندگی کے پندرہ دن پندرہ سال سے بدل دیئے ہیں یہ پہلا اثر ۲۵۵ جو اپنی پیشگوئیوں کے بدلانے پر بھی قادر ہے مگر ہمارے مخالف کہتے ہیں کہ قادر نہیں۔

نشان ۱۰۶۔ ایک دفعہ کشفی طور پر مجھے خدا تعالیٰ کی زیارت ہوئی اور میں نے اپنے ہاتھ سے کئی پیشگوئیاں لکھیں جن کا یہ مطلب تھا کہ ایسے واقعات ہونے چاہئیں۔ تب میں نے وہ کاغذ دستخط کرانے کے لئے خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کیا اور اللہ تعالیٰ نے بغیر کسی تامل کے سُرخی کے قلم سے اُس پر دستخط کئے اور دستخط کرنے کے وقت قلم کو چھڑکا جیسا کہ جب قلم پر زیادہ سیاہی آجاتی ہے تو اسی طرح پر جھاڑ دیتے ہیں۔ اور پھر دستخط کر دیئے اور میرے پر اُس وقت نہایت رقت کا عالم تھا اس خیال سے کہ کس قدر خدا تعالیٰ کا میرے پر فضل ہے کہ جو کچھ میں نے چاہا بلا توقف اللہ تعالیٰ نے اُس پر دستخط کر دیئے اور اُسی وقت میری آنکھ کھل گئی اور اُس وقت میاں عبداللہ سنوری مسجد کے حجرہ میں میرے پیر دبا رہا تھا کہ اُس کے رُو برو میں نے سُرخی کے قطرے میرے کُرتے اور اُس کی ٹوپی پر بھی گرے اور عجیب بات یہ ہے کہ اس سُرخی کے قطرے گرنے اور قلم کے جھاڑنے کا ایک ہی وقت تھا ایک سیکنڈ کا بھی فرق نہ تھا ۔ ایک غیر آدمی اس راز کو نہیں سمجھے گا اور شک کریگا کیونکہ اس کو صرف ایک خواب کا معاملہ محسوس ہو گا لیکن جس کو روحانی امور کا علم ہو وہ اس میں شک نہیں کر سکتا ۔ اسی طرح خدائے سبحانہ و تعالیٰ کے ہاتھ ، پاؤں بھی ہیں۔ میں نے واقعہ میاں عبداللہ کو سُنایا اور اُس وقت میری آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ عبداللہ جو اس رویت کا گواہ ہے اور اس نے بقیہ حصہ اُس کُرتے کا بطور تبرک اپنے پاس رکھ لیا جو ابتک اُس کے پاس موجود ہے۔

۱۰۷۔ کئی مرتبہ زلزلوں سے پہلے اخباروں میں میری طرف سے شائع ہو چکا ہے کہ دُنیا میں بڑے بڑے زلزلے آئیں گے یہاں تک کہ زمین زیر و زبر ہو جائیگی پس وہ زلزلے جو سان فرانسسکو اور فار موسا وغیرہ میں میری پیشگوئی کے مطابق آئے وہ تو سب کو معلوم ہیں لیکن حال میں ۳۱ اگست ۱۹۰۶ء کو جو جنوبی امریکہ یعنی چلی کے صوبہ میں ایک سخت زلزلہ آیا ۔ وہ پہلے زلزلوں سے کم نہ تھا۔ جس سے پندرہ چھوٹے بڑے شہر اور قصبے برباد ہو گئے اور ہزار ہا جانیں تلف ہوئیں اور

حقیقۃ الوحی صفحہ 255 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 267 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 199، 200 پر درج ہے

صفحہ 627

حوالہ نمبر 81

۵۴۴

فانهم لا يقبلون الاصلاح - فصرف الوقت فى نصحهم فى حكم اضاعة الوقت وطمع قبول الحق منهم كطمع العطاء من المضنين ، ورأيت انه يحبنى و ويصدقنى ويرحم على ويشير الى ان عكازته معى وهو من المناصرين . ورأيتنى فى المنام عين الله وتيقنت اننى هو ولم يبق فى ارادة ولا خطرة ولا عمل من جهة نفسى وصرت كإناء مثلم بل كشئ قابله شئ آخر و اخفاه فى نفسه حتى ما بقى منه اثر ولا رائحة وصار كالمفقودين ۔ و اعنى بعين الله رجوع الظل الى اصله وغيبوبته فيه كما يجرى مثل هذه الحالات فى بعض الاوقات على الصديقين ۔ وتفصيل ذالك ان الله اذا اراد شيئاً من نظام الخير جعلنى من تجلياته الذاتية بمنزلة مشيته وعلمه وجوارحه و توحيده وتفريده لاتمام مراده وتكميل مواعيده كما جرت عادته بالابدال والاقطاب والصديقين، فرايت ان روحه احاط على واستوى على جسمى ولفنى فى ضمن وجوده حتى ما بقى منى ذرة وكنت من الغائبين ۔ ونظرت الى جسدى فاذا جوارحى جوارحه وعينى عينه واذنى اذنه ولسانى لسانه ۔ اخذنى ربّى و استوفانى واشد الاستيفاء حتى كنت من الفانين ۔ ووجدت قدرته وقوته تفور فى نفسى والوهيته تتموج فى روحى وضربت حول قلبى سرادقات الحضرة ودق نفسى سلطان الجبروت ۔ فما بقيت وما بقى ارادتى ولا تمناى ۔ وانهدمت عمارة نفسى كلها وتراءت عمارات رب العالمين ۔ وانمحت اطلال وجودى وعفت بقايا انانيتى وما بقيت ذرة من هويتى، والالوهية غلبت على غلبة شديدة تامة و

آئینہ کمالات اسلام صفحہ 564 بمعہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 564 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 200 پر درج ہے

صفحہ 628

حوالہ نمبر 82 ۱۳

خدا کا سایہ تیرے پر ہو گا اور وہ تیری پناہ رہے گا۔ آسمان بندھا ہوا تھا اور زمین بھی۔ ہم نے دونوں کو کھولدیا۔ تو وہ عیسیٰ ہے جس کا وقت ضائع نہیں کیا جائے گا۔ تیرے جیسا موتی ضائع نہیں ہو سکتا۔ ہم تجھے لوگوں کے لئے نشان بنائیں گے۔ اور یہ امر ابتدا سے مقدر تھا۔ تو میرے ساتھ ہے۔ تیرا بھید میرا بھید ہے۔ تو دُنیا اور آخرت میں وجیہہ اور مقرب ہے۔ تیرے پر انعام خاص ہو۔ اور تمام دُنیا پر تجھے بزرگی ہے۔

بخرام کہ وقت تو نزدیک رسید و پائے محمداں برمنار بلند تر محکم افتاد

میں اپنی چمکار دکھلاؤنگا اپنی قدرت نمائی سے تجھ کو اُٹھاؤنگا۔ دُنیا میں ایک نذیر آیا پر دُنیا نے اُسکو قبول نہ کیا لیکن خدا اُسے قبول کریگا۔ اور بڑے زور آور حملوں سے اُسکی سچائی ظاہر کر دیگا۔ اُس کے لئے وہ مقام ہے جہاں انسان اپنے اعمال کی قوت سے پہنچ نہیں سکتا تو میرے ساتھ ہے۔ تیرے لئے رات اور دن پیدا کیا گیا۔ تیری میری طرف وہ نسبت ہے جس کی مخلوق کو آگاہی نہیں۔ اے لوگو تمہارے پاس خدا کا نور آیا۔ پس تم منکر مت ہو۔“ وغیر ذلک۔

اس الہام کے ساتھ اور مکاشفات ہیں جو ان کی تائید کرتے ہیں چنانچہ ایک کشف میں میں نے دیکھا کہ میں اور حضرت عیسیٰ ایک ہی جوہر کے دو ٹکڑے ہیں۔ یہی کشف گو حصہ براہین میں چھپ چکا ہوں۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کی تمام صفات روحانی میرے اندر ہیں اور جن کمالات سے وہ موصوف ہو سکتے ہیں وہ مجھ میں بھی ہیں۔ اور پھر ایک اور کشف ہے جو آئینہ کمالات اسلام صفحہ ۵۴۸ و ۵۴۹ میں مدّت سے چھپ چکا ہے اُسکو بعینہِ ذیل میں درج کرتا ہوں ۔ وہ یہ ہے

ترجمہ :۔ میں نے اپنے ایک کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں اور میرا اپنا کوئی ارادہ اور کوئی خیال اور کوئی عمل نہیں رہا اور میں ایک سوراخدار برتن کی طرح ہو گیا ہوں ۔

۸۵

کتاب البریہ صفحہ 85 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 103 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 200 پر درج ہے

Back

صفحہ 629

حوالہ نمبر 83

رکھتے ۔ لہٰذا بہتیرے ہندو بتوں کے آگے اپنی زبان یا ہاتھ یا پیر کاٹ دیتے ہیں اور بہتیرے نادان ہندو اپنے بچے کو گنگا میں ڈال کر اس کا نام جل پرواہ رکھتے ہیں۔ اور ان میں سے بہتیرے ایسے گزرے ہیں کہ جگن ناتھ کے رتھ کے پہیے کے نیچے کچلے گئے ہیں۔ سو ایسی بیہودہ حرکات فخریہ کہنے کے لائق نہیں اور نہ وہ خدا تعالیٰ کا قانونِ قدرت کہلا سکتی ہیں۔ ہمارا تو یہ اعتراض تھا کہ بہشت کے دروازے کے لئے اپنی جان ضایع کرنا قانونِ قدرت کے مخالف ہے۔ پس کاش آریہ لوگ پہلے قانون قدرت کی تعریف میں غور کرتے تو اس فاش غلطی میں نہ پڑتے۔ کیا ہم بعض ہندوؤں کی بے ہودہ حرکات کو جن پر خود قانون قدرت کا اعتراض ہے قانون قدرت کا حکم دے سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔

اور پھر لطف یہ کہ اس بحث میں پنڈت کو بھی رنگ عیسائیوں کا چڑھ رہا ہے۔ کیونکہ وہ اس بات کے قائل نہیں کہ درحقیقت اقنوم ثانی کو جس کا دوسرا نام اُن کے نزدیک ابن اللہ ہے ۔ پھانسی دی گئی تھی وہ یہ بکواس کرتے ہیں کہ مارا تو ناسوت گیا ہے مگر گویا خدا تین دن تک مرا رہا۔ پس جبکہ خدا ہی مرا رہا تو اس عرصہ تک اس دنیا کا انتظام کون کرتا ہوگا؟

یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ یہ باتیں حضرت مسیح کی تعلیم میں نہیں ہیں اور ان کی تعلیم میں تثلیث پر کوئی بھی شہادت نہیں تھی۔ انہوں نے صاف صاف کہا تھا کہ میں انسان ہوں۔ ہاں جیسا کہ خدا کے مقبولوں کو بموجب قربت اور محبت کے خدا تعالیٰ کی طرف سے القاب ملتے ہیں۔ اور یا جیسا کہ وہ لوگ خود عشق الٰہی کی محویت میں محبّت اور یکدلی کے الفاظ منہ پر لاتے ہیں ایسا ہی اُن کا بھی حال تھا۔ اس میں کیا شک ہے کہ جب کوئی انسان سے محبت کرے یا خدا سے تو جب وہ محبت کمال کو پہنچتی ہے تو محب کو ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ اس کی روح اور اُس کے محبوب کی روح ایک ہو گئی ہے اور فنا نظری کے مقام میں بسا اوقات وہ اپنے تئیں محبوب سے ایک ہی دیکھتا ہے۔ جیسا کہ اس عاجز کو اپنے الہامات میں خدا تعالیٰ مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ ”تو مجھ سے اور میں

٭ نوٹ ۔ یعنی پنڈتوں کی کتاب وید میں تو یہ لکھا ہے کہ پرمیشور تمام روحوں کو اپنے اندر سے پیدا کرتا ہے مگر ان کی فلاسفی اس کو نہیں مانتی۔ منہ

کتاب البریہ صفحہ 85 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 100 تا 103 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 202 پر درج ہے

صفحہ 630

حوالہ نمبر 83

101

تجھ سے ہوں اور زمین و آسمان تیرے ساتھ ہیں جیسا کہ میرے ساتھ ہیں اور تو ہمارے پانی میں سے ہے اور دوسرے لوگ خشکی سے اور تو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ میری توحید اور تو مجھ سے اس مقام اتحاد میں ہے جو کسی مخلوق کو معلوم نہیں۔ خدا اپنے عرش سے تیری تعریف کرتا ہے۔ تو اُس سے نکلا اور اُس نے تمام دُنیا سے تجھ کو چُنا۔ تو میری درگاہ میں وجیہہ ہے۔ میں نے اپنے لئے تجھ کو پسند کیا۔ تو جہان کا نور ہے۔ تیری شان عجیب ہے۔ میں تجھے اپنی طرف اُٹھاؤنگا۔ اور تیرے گروہ کو قیامت تک غالب رکھوں گا۔ تو برکت دیا گیا۔ خدا نے تیری مجد کو زیادہ کیا۔ تو خدا کا وقار ہے پس وہ تجھے ترک نہیں کریگا۔ تو کلمۃ الازل ہے پس تو مٹایا نہیں جائے گا۔ میں فوجوں کے سمیت تیرے پاس آؤں گا۔ میرا لوٹا ہوا مال تجھے ملیگا۔ میں تجھے عزت دونگا۔ اور تیری حفاظت کرونگا۔ یہ ہوگا یہ ہوگا یہ ہوگا اور پھر انتقال ہوگا۔ تیرے لئے میرے کامل انعام ہیں۔ لوگوں کو کہہ دے کہ اگر تم خدا سے پیار کرتے ہو تو آؤ میرے پیچھے چلو تا خدا بھی تم سے پیار کرے۔ میری سچائی پر خدا گواہی دیتا ہے پھر کیوں تم ایمان نہیں لاتے۔ تو میری آنکھوں کے سامنے ہو۔ میں نے تیرا نام متوکل رکھا۔ خدا عرش سے تیری تعریف کرتا ہے۔ ہم تیری تعریف کرتے ہیں اور تیرے پر درود بھیجتے ہیں۔ لوگ چاہیں گے کہ اِس نور کو بجھا دیں مگر خدا اس نور کو جو اُس کا نور ہے کمال تک پہنچائیگا۔ ہم اُنکے دلوں میں رُعب ڈالیں گے۔ ہماری فتح آئے گی اور زمانہ کا کار و بار ہم پر ختم ہو گا اُسدن کہا جائے گا کہ کیا یہ حق نہ تھا۔ میں تیرے ساتھ ہوں جہاں تو ہے۔ جس طرف تیرا منہ اُس طرف خدا کا منہ۔ تجھ سے بیعت کرنا

کتاب البریہ صفحہ 82 تا 85 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 100 تا 103 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 200 تا 202 پر درج ہے

صفحہ 631

حوالہ نمبر 83

١٠٣

ایسا ہو جیسا کہ مجھ سے۔ تیرا ہاتھ میرا ہاتھ ہے۔ لوگ دُور دُور سے تیرے پاس آئیں گے اور خدا کی نصرت تیرے پر اُترے گی۔ تیرے لئے لوگ خدا سے الہام پائیں گے اور تیری مدد کریں گے۔ کوئی نہیں جو خدا کی پیشگوئیوں کو ٹال سکے۔ اے احمد تیرے لبوں پر رحمت جاری کی گئی اور تیرا ذکر بلند کیا گیا۔ خدا تیری حجت کو روشن کریگا۔ تو بہادر ہے۔ اگر ایمان ثُریّا میں ہوتا تو تو اسکو پالیتا۔ خدا کی رحمت کے خزانے تجھے دیئے گئے۔ تیرے باپ دادے کا ذکر منقطع ہو جائیگا اور خدا ابتدا تجھ سے کریگا۔ میں نے ارادہ کیا کہ اپنا جانشین بناؤں تو میں نے آدم کو یعنے تجھے پیدا کیا ہے۔ اَوَاِہْنَ [خدا تیرے انصار آیا] خدا تجھے ترک نہیں کرے گا اور نہ چھوڑے گا جب تک کہ پاک اور پلید میں فرق نہ کرے۔ میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا۔ پس میں نے چاہا کہ پہچانا جاؤں تو پھر میں اور تمام مخلوقات میں واسطہ ہو۔ میں نے اپنی روح تجھ میں پھونکی۔ تو در دیا جائیگا اور کسی کو گریز کی جگہ نہیں رہیگی۔ تو حق کیساتھ نازل ہوا اور تیرے ساتھ نبیوں کی پیشگوئیاں پوری ہوئیں۔ خدا نے اپنے فرستادہ کو بھیجا تا اپنی دین کو قوت دے اور سب دینوں پر اُسکو غالب کرے۔ اُسکو خدا نے قادیاں کے قریب نازل کیا اور وہ حق کیساتھ اُترا اور حق کیساتھ اُتارا گیا۔ اور ابتدا سے ایسا ہی مقرر تھا۔ تم گڑھے کے کنارے پر تھے خدا نے تمہیں نجات دینے کیلئے اُسے بھیجا۔ اے میرے احمد تو میری مراد اور میرے ساتھ ہے۔ میں نے تیری بزرگی کا درخت اپنے ہاتھ سے لگایا۔ میں تجھے لوگوں کا امام بناؤنگا اور تیری مدد کرونگا۔ کیا لوگ اس سے تعجب کرتے ہیں کہ خدا عجیب ہے چُن لیتا ہے جسکو چاہتا ہے۔ اور اپنے کاموں سے پوچھا نہیں جاتا۔

۸۴

کتاب البریہ صفحہ 82 تا 85 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 100 تا 103 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 200 تا 202 پر درج ہے

صفحہ 632

حوالہ نمبر 83

۱۳

خدا کا سایہ تیرے پر ہوگا۔ اور وہ تیری پناہ رہے گا۔ آسمان بندھا ہوا تھا اور زمین بھی، ہم نے دونوں کو کھول دیا۔ تو وہ عیسیٰ ہے جس کا وقت ضائع نہیں کیا جائے گا۔ تیرے جیسا موتی ضائع نہیں ہو سکتا۔ ہم تجھے لوگوں کے لئے نشان بنائیں گے۔ اور یہ امر ابتداء سے مقدر تھا۔ تو میرے ساتھ ہے۔ تیرا بھید میرا بھید ہے۔ تو دنیا اور آخرت میں وجیہ اور مقرب ہے۔ تیرے پر انعام خاص ہو۔ اور تمام دُنیا پر تجھے بزرگی ہے۔ بخرام کہ وقت تو نزدیک رسید و پائے محمدیاں بر منار بلند تر محکم افتاد میں اپنی چمکار دکھلاؤنگا اپنی قدرت نمائی سے تجھ کو اُٹھاؤنگا۔ دُنیا میں ایک نذیر آیا پر دُنیا نے اُسکو قبول نہ کیا لیکن خدا اُسے قبول کریگا۔ اور بڑے زور آور حملوں سے اُسکی سچائی ظاہر کر دیگا۔ اُس کے لئے وہ مقام ہے جہاں انسان اپنے اعمال کی قوت سے پہنچ نہیں سکتا تو میرے ساتھ ہے۔ تیرے لئے رات اور دن پیدا کیا گیا۔ تیری میری طرف وہ نسبت ہے جس کی مخلوق کو آگاہی نہیں۔ اے لوگو تمہارے پاس خدا کا نور آیا۔ پس تم مت شک کرو ۔" وغیر ذالک اور اس کے ساتھ اور مکاشفات ہیں جو ان کی تائید کرتے ہیں چنانچہ ایک کشف میں میں نے دیکھا کہ میں اور حضرت عیسیٰ ایک ہی جوہر کے دو ٹکڑے ہیں۔ اس کشف کو بھی میں براہین میں چھاپ چکا ہوں۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کی تمام صفات روحانی میرے اندر ہیں اور جن کمالات سے وہ موصوف ہو سکتے ہیں وہ مجھ میں بھی ہیں۔ اور جو ایک اور کشف ہے جو آئینہ کمالات اسلام صفحہ ۵۶۴ و ۵۶۵ میں مدت سے چھپ چکا ہے۔ اُسکو بعینہ ذیل میں درج کرتا ہوں۔ وہ یہ ہے ترجمہ :۔ میں نے اپنے ایک کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں اور میرا اپنا کوئی ارادہ اور کوئی خیال اور کوئی عمل نہیں رہا اور میں ایک سوراخدار برتن کی طرح ہو گیا ہوں ۔

۸۵

کتاب البریہ صفحہ 82 تا 85 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 100 تا 103 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 200 تا 202 پر درج ہے

صفحہ 633

حوالہ نمبر 84

۱۴

خدا کا سایہ تیرے پر ہوگا اور وہ تیری پناہ رہے گا۔ آسمان بندھا ہوا تھا اور زمین بھی۔ ہم نے دونوں کو کھول دیا۔ تو وہ عیسیٰ ہے جس کا وقت ضائع نہیں کیا جائے گا۔ تیرے جیسا موتی ضائع نہیں ہو سکتا۔ ہم تجھے لوگوں کے لئے نشان بنائیں گے۔ اور یہ امر ابتداء سے مقدر تھا۔ تو میرے ساتھ ہے۔ تیرا بھید میرا بھید ہے۔ تو دُنیا اور آخرت میں وجیہ اور مقرب ہے۔ تیرے پر انعام خاص ہے۔ اور تمام دُنیا پر تجھے بزرگی ہے۔ بخرام کے وقت تو نزدیک رسید و پائے محمدیاں برمنار بلند تر محکم افتاد۔ میں اپنی چمکار دکھلاؤں گا اپنی قدرت نمائی سے تجھ کو اُٹھاؤں گا۔ دُنیا میں ایک نذیر آیا پر دُنیا نے اُسکو قبول نہ کیا لیکن خدا اُسے قبول کریگا۔ اور بڑے زور آور حملوں سے اُسکی سچائی ظاہر کر دیگا۔ اُس کے لئے وہ مقام ہے جہاں انسان اپنے اعمال کی قوت سے پہنچ نہیں سکتا تو میرے ساتھ ہے۔ تیرے لئے رات اور دن پیدا کیا گیا۔ تیری میری طرف وہ نسبت ہے جس کی مخلوق کو آگاہی نہیں۔ اے لوگو تمہارے پاس خدا کا نور آیا۔ پس تم منکر مت ہو۔“ وغیرہ۔ اور اس کے ساتھ اور مکاشفات ہیں جو ان کی تائید کرتے ہیں چنانچہ ایک کشف میں میں نے دیکھا کہ میں اور حضرت عیسیٰ ایک ہی جوہر کے دو ٹکڑے ہیں۔ اس کشف کو بھی میں براہین میں چھاپ چکا ہوں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کی تمام صفات جسمانی میرے اندر ہیں اور جن کمالات سے وہ موصوف ہو سکتے ہیں وہ مجھ میں بھی ہیں۔ اور پھر ایک اور کشف ہے جو آئینہ کمالات اسلام صفحہ ۵۶۴ و ۵۶۵ میں مدت سے چھپ چکا ہے جسکو بعینہ ذیل میں درج کرتا ہوں۔ وہ یہ ہے ترجمہ :۔ میں نے اپنے ایک کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں اور میرا اپنا کوئی ارادہ اور کوئی خیال اور کوئی عمل نہیں رہا اور میں ایک سوراخدار برتن کی طرح ہو گیا ہوں۔ ۸۵

کتاب البریہ صفحہ 87 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 103 تا 105 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 202 تا 203 پر درج ہے

صفحہ 634

حوالہ نمبر 84

!

۱۰۲

یا اس شے کی طرح جسے کسی دوسری شے نے اپنی بغل میں دبا لیا ہو اور اُسے اپنے اندر بالکل مخفی کر لیا ہو یہاں تک کہ اُس کا کوئی نام و نشان باقی نہ رہ گیا ہو۔ اس اثنا میں مَیں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کی روح مجھ پر محیط ہو گئی اور میرے جسم پر مستولی ہو کر اپنے وجود میں مجھے پنہاں کر لیا۔ یہاں تک کہ میرا کوئی ذرہ بھی باقی نہ رہا اور مَیں نے اپنے جسم کو دیکھا تو میرے اعضاء اُس کے اعضاء اور میری آنکھ اُس کی آنکھ اور میرے کان اُس کے کان اور میری زبان اُس کی زبان بن گئی تھی میرے ربّ نے مجھے پکڑا اور ایسا پکڑا کہ میں بالکل اس میں محو ہو گیا اور مَیں نے دیکھا کہ اُس کی قدرت اور قوت مجھ پر جوش مارتی اور اُس کی الوہیت مجھ میں موجزن ہے۔ حضرت عزت کے خیمے میرے دل کے چاروں طرف لگائے گئے اور سلطان جبروت نے میرے نفس کو پیس ڈالا۔ سو نہ تو میں میں ہی رہا اور نہ میری کوئی تمنا ہی باقی رہی۔ میری اپنی عمارت گر گئی اور ربّ العالمین کی عمارت نظر آنے لگی اور الوہیت بڑے زور کے ساتھ مجھ پر غالب ہوئی اور میں سر کے بالوں سے ناخن پا تک اسکی طرف کھینچا گیا۔ پھر میں ہر مغز ہو گیا جس میں کوئی پوست نہ تھا اور ایسا تیل بن گیا جس میں کوئی میل نہیں تھی اور مجھ میں اور میرے نفس میں جدائی ڈال دی گئی پس میں اُس شے کی طرح ہو گیا جو نظر نہیں آتی یا اُس قطرہ کی طرح جو دریا میں جا ملے اور دریا اُس کو اپنی چادر کے نیچے چھپالے۔ اس حالت میں مَیں نہیں جانتا تھا کہ اس سے پہلے میں کیا تھا اور میرا وجود کیا تھا۔ الوہیت میری رگوں اور پٹھوں میں سرایت کر گئی اور مَیں بالکل اپنے آپ سے کھویا گیا اور اللہ تعالیٰ نے میرے سب اعضا اپنے کام میں لگائے اور اس زور سے اپنے قبضہ میں کر لیا کہ اُس سے زیادہ ممکن نہیں۔ چنانچہ اس کی گرفت سے مَیں بالکل معدوم ہو گیا اور مَیں اُس وقت یقین کرتا تھا کہ میرا اعضاء میرے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے اعضا ہیں۔ اور میں خیال کرتا تھا کہ مَیں اپنے سارے وجود سے معدوم اور اپنی ہویت سے قطعا نکل چکا ہوں اب کوئی شریک اور منازع روک کرنے والا نہیں رہا۔ خدا تعالیٰ میرے وجود میں داخل ہو گیا اور میرا غضب اور حلم اور تلخی اور شیرینی اور حرکت اور سکون سب اُسی کا ہو گیا۔ اور اس حالت میں مَیں یوں کہہ رہا تھا کہ ہم ایک نیا نظام

۵۸

یہ حوالہ صفحہ 202 تا 203 پر درج ہے کتاب البریہ صفحہ 87 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 103 تا 105 از مرزا قادیانی

صفحہ 635

حوالہ نمبر 84

١٠٥

اور نیا آسمان اور نئی زمین پیدا کرتے ہیں۔ سو میں نے پہلے تو آسمان اور زمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا جس میں کوئی ترتیب اور تفریق نہ تھی پھر میں نے منشاء حق کے موافق اس کی ترتیب و تفریق کی۔ اور میں دیکھتا تھا کہ میں اس کے خلق پر قادر ہوں۔ پھر میں نے آسمان دنیا کو پیدا کیا اور کہا اِنَّا زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ ۔ پھر میں نے کہا اب ہم انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کریں گے۔ پھر میری حالت کشف سے الہام کی طرف منتقل ہو گئی اور میری زبان پر جاری ہوا اَرَدْتُ اَنْ اَسْتَخْلِفَ فَخَلَقْتُ اٰدَمَ۔ اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ ۔

یہ الہامات ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے میری نسبت میرے پر ظاہر ہوئے اور اس قسم کے اور بھی بہت سے الہامات ہیں جن کو میں قریباً پچیس برس سے شائع کر رہا ہوں۔ اور بہت سے ان میں سے میری کتاب براہین احمدیہ اور دوسری کتابوں میں چھپ کر شائع ہو چکے ہیں۔ اب حضرات پادری صاحبان سوچیں اور غور کریں اور ان الہامات کو یسوع مسیح کے الہامات سے مقابلہ کریں اور پھر انصافاً گواہی دیں کہ کیا یسوع کے وہ الہامات جن سے وہ اس کی خدائی نکالتے ہیں ان الہامات سے بڑھ کر ہیں۔ کیا یہ سچ نہیں کہ اگر کسی کی خدائی ایسے الہامات اور کلمات سے نکل سکتی ہے تو ان میرے الہامات سے نعوذ باللہ میری خدائی یسوع کی نسبت بدرجہا اولیٰ ثابت ہوگی اور سب سے بڑھ کر ہمارے سیّد و مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدائی ثابت ہو سکتی ہے۔ کیونکہ آپ کی وحی میں صرف یہی نہیں کہ سبقت تجلّی سے بیعت کی نسبت خدا سے بیعت کی اور نہ صرف یہ کہ خدا تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ کو اپنا ہاتھ قرار دیا ہے۔ اور آپ کے ہر ایک فعل کو اپنا فعل ٹھہرایا ہے۔ اور یہ کہہ کر وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْھَوٰی اِنْ ھُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰی ۱؎ آپ کی تمام کلام کو اپنی کلام ٹھہرایا ہے۔ بلکہ ایک جگہ اور تمام لوگوں کو آپ کے بندے قرار دیا ہے جیسا کہ فرمایا ہے قُلْ یٰعِبَادِیَ ۔ یعنی کہہ کہ اے میرے بندو۔ پس ظاہر ہے کہ جس قدر مراتب اور درجات سے اور پاک کلمات سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی

۱؎ النجم : ۴، ۵

کتاب البریہ صفحہ 87 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 103 تا 105 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 202 تا 203 پر درج ہے

صفحہ 636

حوالہ نمبر 85

۱۰۲

یا اس شے کی طرح جیسے کسی دوسری شے نے اپنی بغل میں دبا لیا ہو اور اُسے اپنے اندر بالکل مخفی کر لیا ہو یہاں تک کہ اُس کا کوئی نام و نشان باقی نہ رہ گیا ہو۔ اس اثنا میں مَیں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کی روح مجھ پر محیط ہو گئی اور میرے جسم پر مستولی ہو کر اپنے وجود میں مجھے پنہاں کر لیا۔ یہاں تک کہ میرا کوئی ذرہ بھی باقی نہ رہا اور مَیں نے اپنے جسم کو دیکھا تو میرے اعضاء اُس کے اعضاء اور میری آنکھ اُس کی آنکھ اور میرے کان اُس کے کان اور میری زبان اُس کی زبان بن گئی تھی۔ میرے ربّ نے مجھے پکڑا اور ایسا پکڑا کہ مَیں بالکل اُس میں محو ہو گیا اور مَیں نے دیکھا کہ اُس کی قدرت اور قوت مجھ میں جوش مارتی اور اُس کی الوہیت مجھ میں موجزن ہے۔ حضرت عزت کے خیمے میرے دل کے چاروں طرف لگائے گئے اور سلطان جبروت نے میرے نفس کو پیس ڈالا۔ سو نہ تو مَیں مَیں ہی رہا اور نہ میری کوئی تمنا ہی باقی رہی۔ میری اپنی عمارت گر گئی اور ربّ العالمین کی عمارت نظر آنے لگی اور الوہیت بڑے زور کے ساتھ مجھ پر غالب ہوئی اور مَیں سر کے بالوں سے ناخن پا تک اُس کی طرف کھنچا گیا۔ پھر مَیں ہمہ مغز ہو گیا جس میں کوئی پوست نہ تھا اور ایسا تیل بن گیا جس میں کوئی میل نہیں تھی اور مجھ میں اور میرے نفس میں جدائی ڈال دی گئی۔ پس مَیں اس شے کی طرح ہو گیا جو نظر نہیں آتی یا اُس قطرہ کی طرح جو دریا میں سما لے اور دریا اُس کو اپنی چادر کے نیچے چھپا لے۔ اس حالت میں مَیں نہیں جانتا تھا کہ اس سے پہلے مَیں کیا تھا اور میرا وجود کیا تھا۔ الوہیت میری رگوں اور پٹھوں میں سرایت کر گئی اور مَیں بالکل اپنے آپ سے کھویا گیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے میرے سب اعضاء اپنے کام میں لگائے اور اس زور سے اپنے قبضہ میں کر لیا کہ اُس سے زیادہ ممکن نہیں۔ چنانچہ اس کی گرفت سے مَیں بالکل معدوم ہو گیا۔ اور مَیں اُس وقت یقین کرتا تھا کہ میرے اعضاء میرے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے اعضاء ہیں، اور مَیں خیال کرتا تھا کہ مَیں اپنے سارے وجود سے معدوم اور اپنی ہویت سے قطعا نکل چکا ہوں اب کوئی شریک اور منازع روک کرنے والا نہیں رہا۔ خدا تعالیٰ میرے وجود میں داخل ہو گیا اور میرا غضب اور حلم اور تلخی اور شیرینی اور حرکت اور سکون سب اُسی کا ہو گیا۔ اور اُس حالت میں مَیں یوں کہہ رہا تھا کہ ہم ایک نیا نظام

۸۵

کتاب البریہ صفحہ 86، 87 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 104، 105 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 204 پر درج ہے

صفحہ 637

حوالہ نمبر 85

۱۰۵

اور نیا آسمان اور نئی زمین چاہتے ہیں۔ سو مَیں نے پہلے تو آسمان اور زمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا جس میں کوئی ترتیب اور تفریق نہ تھی پھر مَیں نے منشاءِ حق کے موافق اس کی ترتیب و تفریق کی۔ اور مَیں دیکھتا تھا کہ مَیں اس کے خلق پر قادر ہوں۔ پھر مَیں نے آسمانِ دنیا کو پیدا کیا اور کہا انا زيّنا السماء الدنيا بمصابيح ۔ پھر مَیں نے کہا اب ہم انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کریں گے۔ پھر میری حالت کشف سے الہام کی طرف منتقل ہو گئی اور میری زبان پر جاری ہوا اردت ان استخلف فخلقت آدم۔ انا خلقنا الانسان فی احسن تقویم۔

یہ الہامات ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے میری نسبت میرے پر ظاہر ہوئے اور اس قسم کے اور بھی بہت سے الہامات ہیں جن کو میں قریباً پچیس برس سے شائع کر رہا ہوں۔ اور بہت سے ان میں سے میری کتاب براہین احمدیہ اور دوسری کتابوں میں چھپ کر شائع ہو چکے ہیں ۔ اب حضرات پادری صاحبان سوچیں اور غور کریں اور ان الہامات کو یسوع مسیح کے الہامات سے مقابلہ کریں اور پھر انصافاً گواہی دیں کہ کیا یسوع کے وہ الہامات جن سے وہ اس کی خدائی نکالتے ہیں ان الہامات سے بڑھ کر ہیں ۔ کیا یہ سچ نہیں کہ اگر کسی کی خدائی ایسے الہامات اور کلمات سے نکل سکتی ہے تو ان میرے الہامات سے نعوذ باللہ میری خدائی یسوع کی نسبت بدرجہا اولیٰ ثابت ہوگی اور سب سے بڑھ کر ہمارے سیّد و مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدائی ثابت ہو سکتی ہے ۔ کیونکہ آپ کی وحی میں صرف یہی نہیں کہ جس نے تجھ سے بیعت کی اُس نے خدا سے بیعت کی اور نہ صرف یہ کہ خدا تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ کو اپنا ہاتھ قرار دیا ہے۔ اور آپ کے ہر ایک فعل کو اپنا فعل ٹھہرایا ہے ۔ اور یہ کہہ کر کہ وما ینطق عن الھویٰ اِن ھو الا وحی یوحٰی آپ کی تمام کلام کو اپنی کلام ٹھہرایا ہے بلکہ ایک جگہ اور تمام لوگوں کو آپ کے بندے قرار دیا ہے جیسا کہ فرمایا ہے قُل یٰعبادی ۔ یعنی کہہ کہ اے میرے بندو ۔ پس ظاہر ہے کہ جس قدر صراحت اور زور سے اور پاک کلمات سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی

۱ النجم : ۴، ۵ ۸۷

کتاب البریہ صفحہ 86، 87 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 104، 105 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 204 پر درج ہے

صفحہ 638

حوالہ نمبر 86

حقیقت الوحی ۱۰۸ باب چہارم

مثلاً انما امرك اذا اردت شيئا ان تقول له كن فيكون ۔ تو در منزل ام بیارامیدی تو جس بات کا ارادہ کرے تیرے حکم سے فی الفور ہو جاتی ہے۔ اے میرے بندے چونکہ تو میری فرودگاہ میں آرام کرتا ہے اسلیے اب تو خود دیکھ لے کہ تیرے پر رحمت کی بارش ہوئی۔ یا درکھ ہم نے چودہ بیماریوں کو ہلاک کر دیا ۔ ذالك بما عصوا وكانوا يعتدون ۔ سرانجام جاہل جہنم بود * کیونکہ وہ نافرمانی میں حد سے گزر گئے تھے ۔ جاہل کا انجام جہنم ہے ۔ کہ جاہل نکو عاقبت کم بود + میری فتح ہوئی میرا غلبہ ہوا ۔ جاہل کا خاتمہ بالخیر کم ہوتا ہے میری فتح ہوئی میرا غلبہ ہوا انى امرت من الرحمن فاتونى ۔ انى حمى الرحمن ۔ انى لاجد میں خدا کی طرف سے خلیفہ کیا گیا ہوں پس تم میری طرف آجاؤ ۔ میں خدا کا چرا گاہ ہوں ۔ اور مجھے البتہ ريح يوسف لولا ان تفندون۔ الم تركيف فعل یوسف کی خوشبو آتی ہے اگر تم یہ نہ کہو کہ شخص بہک رہا ہے کیا تو نے نہیں دیکھا کہ تیرے ربك باصحاب الفيل - الم يجعل كيدهم في تضليل ربّ نے اصحاب فیل کے ساتھ کیا کیا ۔ کیا اُس نے اُن کے مکر کو اُلٹا کر انہیں پر نہیں مارا ۔ وہ کام جو تم نے کیا خدا کی مرضی کے موافق نہیں ہوگا۔ یہ کام جو تم نے کیا خدا کی مرضی کے موافق نہیں ہوگا۔ انا عفو ناعنك - لقد نصركم الله ببدر و انتم اذلة ہم نے تجھے معاف کیا ۔ خدا نے بدر میں یعنی چودھویں صدی میں تمہیں ذلت میں پا کر تمہاری مدد کی۔ وقالوا ان هذا الا اختلاق ۔ قل لو كان من عند غير الله اور کہیں گے کہ یہ تو ایک بناوٹ ہے ۔ اُنکو کہہ کہ اگر یہ کارو بار بجز خدا کے کسی اور کا ہوتا تو اس کی تصریح کہیں مل گئی ۔ واللہ اعلم ۔ منہ

حقیقت الوحی صفحہ 108 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 108 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 204 پر درج ہے

صفحہ 639

حوالہ نمبر 87

خطبہ الہامیہ

۵۵

النِّسَاءِ وَالرِّجَالِ * يَجْعَلُنِيْ مَظْهَرَ الْمَسِيحِ عِيْسٰى از زناں و مرداں کہ پدید آید پس مرا جائے ظہور مسیح عیسیٰ عورتوں اور مردوں میں سے جو پیدا کیا جائے پس مجھ کو مسیح عیسیٰ ابْنِ مَرْيَمَ لِدَفْعِ الضُّرِّ وَ اِبَادَةِ مَوَادِّ الْغَوَايَةِ ۚ بن مریم کہ برای دفع کردن ضرر و نابود کردن مواد گمراہی گردانید بن مریم کا مظہر بنایا تاکہ ضرر اور گمراہی کے مادوں کو دفع فرمائے وَجَعَلَنِيْ مَظْهَرَ النَّبِيِّ الْمَهْدِيِّ اَحْمَدَ اَكْرَمَ و مرا مظہر مہدی احمد اکرم فرمود اور مجھ کو مہدی احمد اکرم کا مظہر بنایا لِاِفَاضَةِ الْخَيْرِ وَ اِعَادَةِ عِهَادِ الدِّرَايَةِ وَالْهِدَايَةِ ۚ کہ تا بمردم خیر را برساند و بارش درایت و ہدایت را دوباره فرستد تاکہ لوگوں کو فائدہ پہنچاوے اور درایت اور ہدایت کی بارشوں کو دوبارہ لاوے وَتَطْهِيرِ النَّاسِ مِنْ دَرَنِ الْغَفْلَةِ وَ الْجِنَايَةِ ۚ و مردم را از چرک غفلت و گناہگاری پاک کند اور لوگوں کو غفلت اور گناہگاری کے میل سے پاک کرے فَجِئْتُ فِي الْحُلَّتَيْنِ الْمَهْرُوْدَتَيْنِ الْمَصْبُوْغَتَيْنِ پس من در دو حُلہ زرد رنگ آمدہ ام کہ رنگیں ہستند پس میں زرد رنگ والے دو لباسوں میں آیا ہوں بِصِبْغِ الْجَلَالِ وَ صِبْغِ الْجَمَالِ ۤ وَاُعْطِيْتُ صِفَةَ برنگ جلال و رنگ جمال و دادہ شدم صفت جو جلال اور جمال کے رنگ سے رنگے ہوئے ہیں اور مجھ کو

خطبہ الہامیہ صفحہ 55-56 مندرجہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 55-56 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 205 پر درج ہے

صفحہ 640

(حوالہ نمبر 87)

خطبہ الہامیہ ۵۶

[ الْإِفْنَاءِ وَالْإِحْيَاءِ مِنَ الرَّبِّ الْفَعَّالِ ۖ فَأَمَّا الْجَلَالُ فانی کردن و زنده کردن از پروردگارے کہ بر ہر کار قادر است پس جلالی که داده شدم فانی کرنے اور زندہ کرنے کی صفت دی گئی ہے اور یہ صفت خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھ کو ملی ہے لیکن وہ جلال الَّذِيْ أُعْطِيْتُ فَهُوَ أَثَرٌ لِبُرُوْزِيَ الْعِيْسَوِيِّ مِنَ پس آں اثر ببروز من است که عیسوی است از جو مجھ کو دیا گیا ہے وہ میرے اُس بروز کا اثر ہے جو عیسوی بروز ہے اور جو خدا کی اللّٰهِ ذِي الْجَلَالِ ۚ لِيُبِيْدَ بِهِ سُوْءَ الشِّرْكِ الْمَوَّاجِ خدائے که ذوالجلال است تا به آں بدی شرک را نیست کند که موج زن طرف سے ہے تاکہ میں اُس شرک کی بدی کو نابود کروں جو الْمَوْجُوْدِ فِيْ عَقَائِدِ أَهْلِ الضَّلَالِ ۖ الْمُشْتَعِلِ بِكَمَالِ که موجود در عقائد گمراهان است و بکمال اشتعال گمراہوں کے عقیدوں میں موج مار رہی ہے اور موجود ہے اور اپنی پوری بھڑک میں الِاشْتِعَالِ ۖ الَّذِيْ هُوَ أَكْبَرُ مِنْ كُلِّ شَرٍّ فِيْ مشتعل است آنکه در چشم خدائے داننده احوال از ہر شر بھڑک رہی ہے اور جو حالات جاننے والے خدا کی نظر میں ہر ایک بدی سے

+ بقیہ حاشیہ صفحہ ۵۵ قَدْ قُلْتُ غَيْرَ مَرَّةٍ أَنِّيْ مَا أُتِيْتُ بِالسَّيْفِ وَلَا السِّنَانِ ۖ وَإِنَّمَا أُتِيْتُ بِالْآيَاتِ بارہا گفتم که من بتیغ و نیزه نیامده ام و جز این نیست که آمدن من به نشانها میں نے کئی دفعہ بتلایا ہے کہ میں تلواروں اور نیزوں کے ساتھ نہیں آیا ہوں بلکہ میری آمد نشانوں ہی اور وَالْقُوَّةِ الْقُدْسِيَّةِ وَحُسْنِ الْبَيَانِ ۖ فَمَا مَجِيْئِيْ لِلْجِهَادِ بِالْجُنُوْدِ وَالْأَعْوَانِ ۖ و قوت قدسیه و حسن بیان ۔ پس آمدن من بجهاد نیست نه بلشکرہا و مددگاراں ۔ نه قوت قدسیہ اور حسن بیان سے ہے ۔ پس میرا آنا جہاد کے لئے نہیں ہے نہ لشکروں اور مددگاروں کے ساتھ ۔ نہ

خطبہ الہامیہ صفحہ 55، 56 مندرجہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 55-56 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 205 پر درج ہے

صفحہ 641

حوالہ نمبر 88

۴۱

براہین احمدیہ حصہ پنجم

میرے حالات کو کچھ اپنے عقائد کے برخلاف پا کر اپنے دلوں میں کہا کہ یا الٰہی کیا تو ایسے انسان کو اپنا خلیفہ بنائے گا کہ جو ایک مفسد آدمی ہے جو ناحق قوم میں پھوٹ ڈالتا ہے اور علماء کے مسلّمات سے باہر جاتا ہے۔ تب خدا نے جواب دیا کہ جو مجھے معلوم ہے وہ تمہیں معلوم نہیں۔ یہ خدا کا کلام ہے کہ جو مجھ پر نازل ہوا اور درحقیقت میرے اور میرے خدا کے درمیان ایسے باریک راز ہیں جن کو دنیا نہیں جانتی اور مجھے خدا سے ایک نہانی تعلّق ہے جو قابل بیان نہیں۔ اور اس زمانہ کے لوگ اس سے بے خبر ہیں پس یہی معنے ہیں اس وحی الٰہی کے کہ قال انی اعلم مالا تعلمون ۔ پھر بقیہ ترجمہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ شخص مجھ سے نزدیک ہوا۔ اور میرا قرب کامل اس نے پایا۔ اور پھر بعد اس کے بعدہ کی خلائق کے لئے اُسکی طرف متوجہ ہوا اور مجھ میں اور مخلوق میں ایک واسطہ ہو گیا جیسا کہ دو قوسوں میں وتر ہو۔ اور اس لئے کہ وہ اس درمیانی مقام پر ہے وہ دین کو از سر نو زندہ کریگا اور شریعت کو قائم کر دیگا۔ یعنی بعض غلطیاں جو مسلمانوں میں رائج ہو گئی ہیں اور ناحق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ان غلطیوں کو منسوب کیا جاتا ہے۔ ان سب غلطیوں کو ایک حَکَم کے منصب پر ہو کر دُور کر دے گا۔ اور شریعت کو جیسا کہ ابتدائ میں سیدھی تھی سیدھی کر کے دکھلا دے گا ۔

پھر انہی پیشگوئیوں کے بارے میں براہین احمدیہ میں اور بھی الہام ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔ نُصِرْتَ وقالوا لات حین مناص۔ ام یقولون نحن جمیع منتصر ۔ سیھزم الجمع ویولون الدبر۔ وان یروا آیۃ یعرضوا ویقولوا سحر مستمر۔ قل ان کنتم تحبّون اللّٰہ فاتبعونی یحببکم اللّٰہ۔ واعلموا انّ اللّٰہ یحیی الارض بعد موتھا۔ ومن کان اللّٰہ کان اللّٰہ لہ۔ قیل ان افتریته فعلیّ اجرامی شدید ۔ یا احمدی انت مرادی ومعی رمیت کذالک بیدی۔ اکاد للناس جمعا۔ قل ھواللّٰہ عجیب ۔ و یشمل

براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 63 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 81 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 205 پر درج ہے

صفحہ 642

حوالہ نمبر 89

اسلامی قربانی

ظاہر ہے کہ مجمع البحرین میں اشیاء اشارے کے طور پر ہے۔ اور مدارج میں سے ایک درجے کی علامت کنایہ مقرر فرمائی گئی ہیں۔ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک موقعہ پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی ہے کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی۔ جو گویا آپ عورت ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا تھا سمجھنے والے کے لئے اشارہ کافی ہے پس جن لوگوں کو میرا وہ رقعہ جو میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں لکھا تھا اور اُس میں اپنی کشفی حالت ظاہر کی تھی میرے جنون کی دلیل نظر آتا ہے وہ اپنے ایمان کی فکر کریں اور قرآن کے الفاظ وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتٰنِ وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ پڑھ کر کسوٹی پر اپنے ایمان کو پرکھیں یہاں اللہ تعالیٰ ڈرنے والے کو دو جنت عطا فرمانے کا وعدہ فرماتا ہے جس کی تعریف درمیانی فقرات میں ۔ یعنے اون میں چشمے ہونگے۔ لولو اور مرجان ہونگے سراہنے ہونگے وغیرہ وغیرہ اخیر میں فرماتا ہے کہ اون دو جنتوں سے درجے دو جنت اور بھی ہیں یعنے جیسے مرنے کے بعد اون کو دو جنت ملیں گے ایسے ہی اسی ادنیٰ زندگی میں بھی دو جنت ملیں گے اور الفاظ مَنْ کَانَ فِی ھٰذِہٖ اَعْمٰی فَھُوَ فِی الْاٰخِرَةِ اَعْمٰی۔ اس کی تشریح ہے۔

اب میاں صاحب اور مولوی محمد علی صاحب مہربانی فرما کر کھول کر کہیں کہ اُن کو وہ جنت کون سے حاصل ہیں۔ زبانی اعتراض کر دینا تو بڑا آسان ہے خود کسی صفت کے موصوف بنکر بتاویں۔ اب میں مختصر طور پر اون خوابوں اور کشفوں کو ظاہر کرتا ہوں جو بطور پیشگوئی ظاہر ہوئے اور ہونے والے ہیں ایک سال سے زیادہ عرصہ گزرا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ پشاور کے گرد کسی مسلمان بادشاہ کی چھاؤنی پڑی ہے۔ انجام کچھ معلوم نہ ہوا تھا۔ مگر تا ہم میں نے

اسلامی قربانی ٹریکٹ نمبر 34 از قاضی یار محمد قادیانی مرید مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 206 پر درج ہے

صفحہ 643

حوالہ نمبر 90

تقویۃ الایمان کشتی نوح

کہا جائے کہ میں کیوں مریم کہا گیا۔ اور کیا آج سے بیس بائیس برس پہلے بلکہ اس سے بھی زیادہ میری طرف سے یہ منصوبہ ہو سکتا تھا کہ میں اپنی طرف سے الہام تراش کر اول میں نام مریم رکھتا اور پھر آگے چلکر افتراء کے طور پر یہ الہام بناتا کہ پہلے زمانہ کی مریم کی طرح مجھ میں بھی عیسیٰ کی روح نفخ کی گئی اور پھر آخر کار صفحہ ۵۵۶ براہین احمدیہ میں یہ الہام لکھتا کہ میں مریم میں سے عیسیٰ بن گیا اے عزیزو غور کرو اور خدا سے ڈرو ہرگز یہ انسان کا فعل نہیں یہ باریک اور دقیق حکمتیں انسان کے فہم اور قیاس سے بالاتر ہیں مگر براہین احمدیہ کی تالیف کے وقت جس پر ایک زمانہ گزر گیا مجھے اس منصوبہ کا خیال ہوتا۔ تو میں اُسی براہین احمدیہ میں یہ کیوں لکھتا کہ عیسیٰ مسیح ابن مریم آسمان سے دوبارہ آئے گا۔ سو چونکہ خدا جانتا تھا کہ اس نکتہ پر علم ہونے سے یہ دلیل ضعیف ہو جائیگی۔ اسلئے گو اُس نے براہین احمدیہ کے تیسرے حصہ میں میرا نام مریم رکھا۔ پھر جیسا کہ براہین احمدیہ سے ظاہر ہے دو برس تک صفت مریمیت میں میں نے پرورش پائی اور پردہ میں نشوونما پاتا رہا۔ پھر جب اسپر دو برس گزر گئے تو جیسا کہ براہین احمدیہ کے حصہ چہارم صفحہ ۴۹۶ میں درج ہے مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینہ کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں بذریعہ اس الہام کے جو سب سے آخر براہین احمدیہ کے حصہ چہارم صفحہ ۵۵۶ میں درج ہے مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا پس اسطرح سے میں ابن مریم ٹھہرا۔ اور خدا نے براہین احمدیہ کے وقت میں اس سرّ مخفی کی مجھے خبر نہ دی۔ حالانکہ وہ سب خدا کی وحی جو اس راز پر مشتمل تھی میرے پر نازل ہوئی اور براہین میں درج ہوئی۔ تو مجھے اسکے معنے اور حقیقت پر اطلاع نہ دیگئی۔ اسی واسطے میں نے مسلمانوں کا رسمی عقیدہ براہین احمدیہ میں لکھ دیا۔ تا میری سادگی اور عدم بناوٹ پر وہ گواہ ہو۔ وہ میرا لکھنا جو الہامی نہ تھا محض رسمی تھا۔ مخالفوں کے لئے قابل استناد نہیں کیونکہ مجھے خود بخود غیب کا دعویٰ نہیں جبتک کہ خود خدا تعالیٰ مجھے نہ سمجھا دے۔ سو اُس وقت تک حکمت الٰہی کا یہی

یہ حوالہ صفحہ 206 پر درج ہے | کشتی نوح صفحہ 47 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 50 از مرزا قادیانی

صفحہ 644

حوالہ نمبر 91 کشتی نوح ۵۱ عقوبت الہیہ

تقاضا تھا کہ براہین احمدیہ کے بعض الہام پر اسرار میری سمجھ میں نہ آتے۔ مگر جب وقت آگیا تو وہ اسرار مجھے سمجھائے گئے۔ تب میں نے معلوم کیا کہ میرے اس دعویٰ مسیح موعود ہونے میں کوئی نئی بات نہیں وہ یہی دعویٰ ہے جو براہین احمدیہ میں بار بار بتصریح لکھا گیا پھر اب میں ایک ایسے الہام کا بھی ذکر کرتا ہوں۔ اور مجھے یاد نہیں کہ میں نے وہ الہام پہلے کسی رسالہ یا اشتہار میں شائع کیا ہے یا نہیں۔ لیکن یہ یاد ہے کہ صد ہا لوگوں کو میں نے سنایا تھا۔ اور میری یادداشت کے الہامات میں موجود ہے اور وہ اس زمانہ کا ہے جبکہ خدا نے مجھے پہلے پہل مکالمہ مخاطبہ کا شرف دیا اور پھر نفخ روح کا الہام کیا۔ پھر بعد اسکے یہ الہام ہوا تھا۔ فَأَجَاءَهَا الْمَخَاضُ إِلَى جِذْعِ النَّخْلَةِ قَالَتْ يَا لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هَذَا وَكُنْتُ نَسْيًا مَنْسِيًّا۔ یعنے پھر مریم کو جو مراد اس عاجز سے ہے۔ دردِ زہ کھجور کی طرف لے آئی یعنے عوام الناس اور جاہلوں اور بے سمجھ علماء سے واسطہ پڑا۔ جن کے پاس ایمان کا پھل نہ تھا۔ جنہوں نے تکلیف دی جنہوں نے گندی گالیاں دیں اور ایک طوفان برپا کیا۔ تب مریم نے کہا کہ کاش میں اس سے پہلے مرجاتی اور میرا نام و نشان باقی نہ رہتا۔ یہ اس شور کی طرف اشارہ ہے جو ابتداء میں مولویوں کی طرف سے بہ نیت خونریزی پڑا اور وہ اِس وجہ سے کہ برداشت نہ کرسکے اندھے ہوچکے جو نہ سوجھا وہ پیش کرنا چاہا۔ تب اُسوقت جبکہ ایسا وقت پڑا کہ گویا شور و غوغا دجّالیت سے دل بیٹھا جاتا تھا۔ تو پھر خدا تعالیٰ نے فقرہ ذیل میرے پر الہام کیا اور یہی الہام ہے جس سے بریت ہوتی ہے فَبَرَّأَهَا مَا كَانَ أَبُوكِ امْرَأَ سَوْءٍ وَمَا كَانَتْ أُمُّكِ بَغِيًّا۔ اور پھر اسکے ساتھ کا الہام براہین احمدیہ کے صفحہ ۵۵۶ میں موجود ہے اور وہ یہ ہے ۔ اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ فَلَا تَکُنْ مِّنَ الْمُمْتَرِیْنَ ۔ وَلِنَجْعَلَهُ آيَةً لِّلنَّاسِ وَرَحْمَةً مِّنَّا وَكَانَ أَمْرًا مَّقْضِيًّا۔ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِيْ فِيْهِ تَمْتَرُوْنَ۔ دیکھو براہین احمدیہ صفحہ ۵۵۶ سطر ۲۳۔ ترجمہ ان لوگوں نے کہا کہ اے مریم تو نے یہ کیا کیا اور افترا کا کام کیا۔ جو دیانت سے دور ہے۔ تیرا باپ تو بُرا آدمی نہ تھا اور تیری ماں بغیہ نہ تھی

نوٹ :- اس الہام میں ایک جگہ شور و غوغا دجّالیت بھی الہام میں ہے ۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ

کشتی نوح صفحہ 48 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 51 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 207 پر درج ہے

صفحہ 645

حوالہ نمبر 92

روحانی خزائن [۲۶]

مجھے معلوم ہوتی تھی اور وہ یہ ہے کہ ان الله لا یغیر ما بقوم حتى یغیروا ما بانفسهم۔ منہ الترجمۃ ۔ یعنی خدا تعالیٰ اُس نیکی یا بدی کو جو کسی قوم کے شامل حال ہے متغیر نہیں کرتا جب تک وہ قوم ان باتوں کو اپنے سے دُور نہ کرے جو اُس کے دل میں ہیں۔ بَس خُدا نے اس گریہ کو جو اُس کے علم میں ہے ارادہ سے محفوظ رکھا۔ افسوس کہ بعض نادان کہتے ہیں کہ الہام آپ بنا لیا ہے۔ ان کے جواب میں کیا کہیں اور کیا لکھیں۔ اے بدقسمت لوگو ! یہ کیونکر ممکن ہے کہ کوئی خدا پر جھوٹ باندھے اور پھر اُس کے دست قہر سے بچ رہے۔ خدا جھوٹوں کو ہلاک کرے گا۔ اور وہ جو اپنے دل سے باتیں بناتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ یہ خدا کا الہام ہے وہ ہلاک کئے جائیں گے کیونکہ انہوں نے دلیری کر کے خدا پر بہتان باندھا۔ راستبازوں کے لئے یہی دن مقرر ہیں۔ اور جھوٹے مفتریوں کے لئے بھی وقت مقرر کئے گئے ہیں۔ جب وہ وقت آئیں گے تو خدا تعالیٰ دکھا دے گا کہ کس نے شوخی سے باتیں کیں اور کس نے رُوح القدس کی قوت کی پیروی کی۔ خدا کی باتوں کو خدائی نشانوں سے تم شناخت کرو گے سچائی پوشیدہ نہیں رہے گی اور نہ باطل مخفی رہے گا۔ خدا جو ہمیشہ اپنے تئیں ظاہر کرتا رہا ہے وہ اب بھی دکھا دے گا کہ وہ حق کے ساتھ ہے جو دلی طور پر اُس سے ڈرتے اور نیکی اور پرہیزگاری کی راہوں کو اختیار کرتے ہیں۔

اے لوگو ! خدا سے ڈرو۔ اور درحقیقت اس سے صلح کرو۔ اور سچ مچ صلاحیت کا جامہ پہن لو۔ اور چاہیے کہ ہر ایک شرارت تم سے دُور ہو جائے۔ خدا میں بے انتہا عجیب قدرتیں ہیں۔ خدا میں بے انتہا طاقتیں ہیں۔ خدا میں بے انتہا رحم اور فضل ہے۔ وہی ہے جو ایک ہولناک سیلاب کو ایک دم میں خشک کر سکتا ہے۔ وہی ہے جو مہلک بلاؤں کو یک ہی اشارہ سے اپنے ہاتھ سے اُٹھا کر دُور پھینک دیتا ہے۔ مگر اس کی یہ عجیب قدرتیں اُن ہی پر کھلتی ہیں جو اس کے ہی ہو جاتے ہیں۔ اور وہی یہ خوارق دیکھتے ہیں جو اس کے لئے اپنے اندر ایک پاک تبدیلی کرتے ہیں۔ صدہا کچی اِینٹیں پختہ ہو گئی ہیں اور اُس قطرے کی طرح جس سے موتی بنتا ہے صاف ہو جاتے ہیں۔ اور محبت اور صدق اور صفا کی سوزش سے پگھل کر اس کی طرف بہنے لگتے ہیں تب وہ مصیبتوں میں

لہ الرعد : ۱۲

ایام الصلح صفحہ 115 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 341 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 207 پر درج ہے

صفحہ 646

حوالہ نمبر 93 توضیح مرام ۹۴ مسیح کا دوبارہ نازل ہونا

اول : کہ جب رحم میں ایک شخص کے وجود کے لئے نطفہ پڑتا ہے جس کی فطرت کو اللہ جلشانہ اپنی ربوبیت کے تقاضا سے جس میں انسان کے عمل کو کچھ دخل نہیں مہبط الوہیت بنانا چاہتا ہے تو اُس پر اُسی نطفہ ہونے کی حالت میں جبرئیلی نور کا سایہ ڈال دیتا ہے تب ایسے شخص کی فطرت میں الوہیت اور الہامی خاصیت پیدا کر لیتی ہے اور الہامِ خاص اُس کو مل جاتے ہیں۔

پھر دوسرا مرتبہ الہام کا یہ ہے کہ جب بندہ کی محبت خدائے تعالیٰ کی محبت کے درجہ پر آ جاتی ہے تو خدا تعالیٰ کی پرزور حرکت کی وجہ سے جس میں جبرئیل بھی ایک حرکت پیدا ہو کر محب صادق کے دل پر وہ نور جا پڑتا ہے یعنے اُس نور کا عکس محب صادق کے دل پر پڑ کر ایک عکسی تصویر جبرئیل کی اُس میں پیدا ہو جاتی ہے یہی عکسی تصویر یا تو جاگنے کی حالت میں اپنے معہود کلمات الہامیہ کے ملہم کے اندر بولتی ہے ۔ ایک جزو اُس کا غیب الغیب کے نور میں غرق ہوتا ہے اور دوسرا ملہم کے دل کے اندر داخل ہوتا ہے جس کو دوسرے لفظوں میں روح القدس یا اُس کی تصویر کہہ سکتے ہیں ۔

تیسرا کام جبرئیل کا یہ ہے کہ جب خدا تعالیٰ کی طرف سے کسی کلام کا ظہور ہوتا ہے تو ہوا کی طرح موج میں آکر اُس کلام کو دل کے کانوں تک پہنچا دیتا ہے اور مستعد کے حواس میں افروختہ ہو کر اُس کو ملہم کے سامنے کر دیتا ہے یا صورت پکڑ کر کے بیداری میں تمثّل پیدا کر کے زبان کو الہامی الفاظ کی طرف چلا دیتا ہے۔

اُس جگہ میں اُن لوگوں کا وہم بھی دُور کرنا چاہتا ہوں جو اِن شکوک اور شبہات میں مبتلا ہیں کہ اولیاء اور انبیاء کے الہامات اور مکاشفات کو برسامی اور دیوانے لوگوں کی نسبت کی خصوصیت پر رکھتے ہیں۔ کیونکہ اگر مجذوبوں اور دیوانوں پر امور غیبیہ کھلتے ہیں تو دوسرے لوگوں پر بھی کبھی کبھی کھل جاتے ہیں۔ بلکہ بعض فاسقوں اور قحبہ عورتوں کے

توضیح مرام صفحہ 84 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 94-95 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 207 پر درج ہے

صفحہ 647

توضیح مرام حوالہ نمبر 93 مسیح کا دجال دنیا میں آنا ۹۵

بدکاروں کو بھی سچی خوابیں آجاتی ہیں۔ اور بعض پرلے درجہ کے بدمعاش اور شریر آدمی اپنے ایسے مکاشفات بیان کیا کرتے ہیں کہ آخر وہ سچے نکلتے ہیں۔ پس جب کہ اُن لوگوں کے ساتھ جو اپنے تئیں نبی یا کسی اور خاص درجہ کے آدمی تصور کرتے ہیں ویسے ایسے بدچلن آدمی بھی شریک ہیں جو بدکاریوں اور بدمعاشیوں میں پھنسے ہوئے اور مشہرۂ آفاق ہیں تو نبیوں اور ولیوں کی کیا فضیلت باقی رہی۔ سو میں اس کے جواب میں کہتا ہوں کہ درحقیقت یہ سوال جس قدر اپنی اصل کیفیت رکھتا ہے وہ سب درست اور صحیح ہے اور جب ربانی نور کا چھینٹا بمنزلہ حصّہ تمام جہان میں پھیلا ہوا ہے جس سے کوئی فاسق اور فاجر اور پرلے درجہ کا بدکار بھی باہر نہیں۔ بلکہ میں یہاں تک مانتا ہوں کہ تجربہ میں آچکا ہے کہ بعض اوقات ایک نہایت درجہ کی فاسقہ عورت جو کنجریوں کے گروہ میں سے ہے جس کی تمام جوانی بدکاری میں ہی گزری ہے کیسی سچی خواب دیکھ لیتی ہے۔ اور زیادہ تر تعجب یہ ہے کہ ایسی عورت کبھی ایسی رات میں بھی کہ جب وہ بادہ بسرو آشنا بستر کا مصداق ہوتی ہے کوئی خواب دیکھ لیتی ہے اور وہ سچی نکلتی ہے۔ مگر یاد رکھنا چاہیئے کہ ایسا ہی ہونا چاہیئے تھا کیونکہ جبرئیلی نور آفتاب کی طرح جو اُس کا مبدءِ انوار ہے تمام معمورہ عالم پر حسب استعداد اُن کی مُتَجَلّی ہورہا ہے اور کوئی نفس بشر دنیا میں ایسا نہیں کہ بالکل تاریک ہو کم سے کم ایک ذرّہ سی محبت وطن اصلی اور محبوب اصلی کی ادنیٰ سے ادنیٰ سرشت میں بھی ہے۔ اس صورت میں یہ ضروری تھا کہ تمام بنی آدم پر یہاں تک کہ اُن کے مجانین پر بھی کسی قدر وہ نور اپنا اثر ڈالتا اور فی الواقعہ ہے بھی۔ کیونکہ مجانین بھی جن کو عوام الناس مجذوب کہتے ہیں بعض اوقات میں بوجہ اپنے ایک طور کے انقطاع کے جو بشری قویٰ کے ایک حد پر پہنچتے ہیں تو کچھ کچھ اُن کی باطنی آنکھوں پر اس نور کی روشنی پڑتی ہے جس سے وہ خدا تعالیٰ کے تصرّفات خفیہ کو کچھ کچھ دیکھنے لگتے ہیں گو ویسی خوابیں یا ایسے مکاشفات

توضیح مرام صفحہ 84 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 94-95 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 207 پر درج ہے

صفحہ 648

حوالہ نمبر 94

۳۸۰

درجہ کے معصوم ہیں مگر مسلمانوں کے نزدیک اس سے بڑھ کر کوئی بھی گناہ نہیں کہ انسان اپنے تئیں یا کسی اور کو خدا کے برابر ٹھہراوے۔ غرض یہ طریق مختلف فرقوں کے لیے ہرگز حق نما تسلی کا معیار نہیں ہو سکتا جو بشپ صاحب نے اختیار کیا ہے۔ ہاں یہ طریق نہایت عمدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مقدس محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا علمی اور عملی اور اخلاقی اور تمدنی اور برکاتی اور تاثیری اور ایمانی اور عرفانی اور افاضہ خیر اور تزکیہ معاشرت وغیرہ وجوہ فضائل میں باہم موازنہ اور مقابلہ کیا جائے۔ یعنی یہ دکھلایا جائے کہ ان تمام امور میں کس کی فضیلت اور فوقیت ثابت ہے اور کس کی ثابت نہیں۔ کیونکہ جب ہم کلام کلی کے طور پر تمام طرق فضیلت کو مدنظر رکھ کر ایک نبی کے وجوہ فضائل بیان کریں گے تو ہم پر یہ طریق بھی کھلا ہوگا کہ اسی تقریب پر ہم اس نبی کی پاک باطنی اور تقدس اور طہارت اور معصومیت کے وجوہ بھی جس قدر ہمارے پاس ہوں بیان کر دیں۔ اور چونکہ اس قسم کا بیان صرف ایک جزوی بیان نہیں ہے بلکہ بہت سی باتوں اور شاخوں پر مشتمل ہے اس لیے پبلک کے لیے آسانی ہوگی کہ اس تمام مجموعہ کو زیر نظر رکھ کر اس حقیقت تک پہنچ جائیں کہ ان دونوں نبیوں میں سے درحقیقت افضل اور اعلیٰ شان کس نبی کو حاصل ہے اور گو ہر ایک شخص فضائل کو بھی اپنے مذاق پر ہی قرار دیتا ہے مگر چونکہ یہ انسانی فضائل کا ایک کافی مجموعہ ہوگا اس لیے اس طریق سے افضل اور اعلیٰ کے جانچنے میں وہ مشکلات نہیں پڑیں گی جو صرف معصومیت کی بحث میں پڑتی ہیں بلکہ ہر ایک مذاق کے انسان کے لیے اس مقابلہ اور موازنہ کے وقت ضرور ایک ایسا قدر مشترک حاصل ہو جائے گا جس سے بہت صاف اور سہل طریقہ پر نتیجہ نکل آئے گا کہ ان تمام فضائل میں سے فضائل کثیرہ کا مالک اور جامع کون ہے پس اگر ہماری بحثیں محض خدا کے لیے ہیں تو ہمیں وہی راہ اختیار کرنی چاہئے جس میں کوئی اشتباہ اور کدورت نہ ہو۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ معصومیت کی بحث میں پہلے قدم میں ہی یہ سوال پیش آئے گا کہ مسلمانوں اور یہودیوں کے عقیدہ کی رو سے جو شخص عورت کے پیٹ سے پیدا ہو کر خدایا خدا کا بیٹا ہونا اپنے تئیں بیان کرتا ہے وہ سخت گنہگار بلکہ کافر ہے تو پھر اس صورت میں معصومیت کیا باقی رہی اور اگر کہو کہ ہمارے نزدیک ایسا دعویٰ نہ گناہ نہ کفر کی بات ہے تو پھر اسی الجھن میں آپ پڑ گئے جس سے بچنا چاہتے تھے کیونکہ جیسا آپ کے نزدیک حضرت مسیح کے لیے خدائی کا دعویٰ کرنا گناہ کی بات نہیں ہے ایسا ہی ایک شاکت مت والے کے نزدیک ماں بہن سے بھی زنا کرنا گناہ کی بات نہیں ہے اور آریہ صاحبوں کے نزدیک ہر ایک ذرہ کو اپنے وجود کا آپ ہی خدا جاننا اور اپنی پیاری بیوی کو بوجہ اپنی بے اولادی کے کسی دوسرے سے ہم بستر کرا دینا کچھ بھی گناہ کی بات نہیں اور سناتن دھرم والوں کے نزدیک راجہ رامچندر اور کرشن کو اوتار جاننا اور پرمیشر ماننا اور پتھروں کے آگے سجدہ کرنا کچھ گناہ کی بات نہیں اور ایک گبر کے نزدیک آگ کی پوجا کرنا کچھ گناہ کی بات نہیں۔ اور ایک فرقہ یہودیوں کے مذہب موافق غیر قوموں کے مال کو چوری کر لینا اور ان کو نقصان پہنچا دینا کچھ گناہ کی بات نہیں اور بجز مسلمانوں کے

مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 380 طبع جدید، از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 208 پر درج ہے

Back

صفحہ 649

حوالہ نمبر 95 تحفہ گولڑویہ ۲۳۳

ایسا ہے؟ اور اگر یہ سوال ہو کہ جب کہ دجال کا بھی حدیثوں میں ذکر پایا جاتا ہے کہ وہ دنیا میں ظاہر ہوگا اور پہلے نبوت کا دعویٰ کرے گا اور پھر خدائی کا دعویدار بن جائے گا تو اس حدیث کی ہم کیا تاویل کریں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اب تمہاری بھول کا کچھ علاج نہیں ۔ واقعات کے ظہور نے خود اس حدیث کے معنے کھول دیئے ہیں یعنی یہ حدیث ایک ایسی قوم کی طرف اشارہ کرتی ہے جو اپنے افعال سے دکھلا دیں گے کہ انہوں نے نبوت کا دعویٰ بھی کیا ہے اور خدائی کا دعویٰ بھی ۔ نبوت کا دعویٰ اس طرح پر کہ وہ لوگ خدا تعالیٰ کی کتابوں میں اپنی تحریف اور تبدیل اور انواع و اقسام کی بیجا دست اندازیوں سے جو نہایت جرأت اور بیباکی اور شوخی سے ہونگی اسقدر دخل دینگے اور اسقدر اپنی طرف سے تصرفات کرینگے اور ترجموں کو عمداً بگاڑینگے کہ گویا وہ خود نبوت کا دعویٰ کر رہے ہیں پس یہ تو نبوت کا دعویٰ ہوا ۔ اب خدائی کے دعوے کی بھی تشریح سن لیجئے اور وہ یوں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ وہ لوگ ایجاد اور صنعت اور خدائی کے کاموں کی کنہ معلوم کرنے میں اور اس دھن میں کہ الوہیت کے ہر ایک کام اور صنعت کی نقل اتاریں اسقدر حریص ہونگے کہ گویا وہ خدائی کا دعویٰ کر رہے ہیں ؏ وہ چاہیں گے کہ حصہء کبریا میں بانٹیں

+ احدیت کے تحت اور جبروت کے جلال اور صفات باری کی وحدانیت کو ملحوظ رکھ کر منجملہ امور ادب عبودیت کے میدان میں ایجاد اور صنعت کی طرف بوجہ اتم مشغول ہونا یہ اور امر ہے مگر شوخی اور تکبر کو اپنے دماغ میں جگہ دے کر اور قضاء و قدر کے سلسلہ پر ٹھٹھا مار کر خدا کے پہلو میں اپنی انانیت کو کسی فعل معارض وغیرہ سے ظاہر کرنا یہی دجالیت ہے۔ اور دجال کے لفظ سے ہماری وہ مراد نہیں ہے جو جہال کے اذہان میں ہے اور اُس کو ایسا شخص سمجھتے ہیں جس سے وہ طمانچہ کھائینگے کیونکہ ہمارے نزدیک شیطان ہو یا کوئی ہو اُس سے دین کیلئے طمانچہ کھانا منع ہے۔ ہر ایک مخلوق سے بچنے کی حد ہونی چاہئیے ۔ اور لڑائی کے خیالات سب باطل ہیں اور دجال سے مراد صرف وہ فرقہ ہے جو کلام الٰہی میں تحریف کرتے ہیں یا دہریہ کے رنگ میں خدا سے لاپروا ہیں ۔ اور اس مسئلہ میں کوئی معما اور بھید ہر کسی مسلم پر مخفی نہیں ہے بلکہ یہ لفظ تحریف کے لفظ یا دہریہ کے لفظ سے مترادف ہے۔ منہ

۱۴۷

یہ حوالہ صفحہ 208 پر درج ہے تحفہ گولڑویہ صفحہ 147 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 233 از مرزا قادیانی

صفحہ 650

حوالہ نمبر 96 ۲۰۷

عاجز کو رسول کر کے پکارا گیا ہے پھر اسکے بعد اسی کتاب میں میری نسبت یہ وحی اللہ ہے۔ جری اللہ فی حلل الانبیاء یعنی خدا کا رسول نبیوں کے حلوں میں (دیکھو براہین احمدیہ ص ۵۵۴) پھر اسی کتاب میں اس مکالمہ کے قریب ہی یہ وحی اللہ ہے محمد رسول اللہ والذین معہ اشدّاء علی الکفار رحماء بینھم اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔ پھر یہ وحی اللہ ہے جو ۵۵۴ براہین میں درج ہے۔ دنیا میں ایک نذیر آیا۔ اس کی دوسری قراءت یہ ہے کہ دنیا میں ایک نبی آیا۔ اسی طرح براہین احمدیہ میں اور کئی جگہ رسول کے لفظ سے اس عاجز کو یاد کیا گیا۔ سو اگر یہ کہا جائے کہ آنحضرتؐ تو خاتم النبیین ہیں۔ پھر آپ کے بعد اور نبی کس طرح آسکتا ہے۔ اس کا جواب یہی ہے کہ بیشک اس طرح سے تو کوئی نبی نیا ہو یا پرانا نہیں آسکتا۔ جس طرح سے آپ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آخری زمانہ میں اُتارتے ہیں اور پھر اس حالت میں انکو نبی بھی مانتے ہیں۔ بلکہ چالیس برس تک سلسلۂ وحی نبوت کا جاری رہنا اور زمانہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی بڑھ جانا آپ لوگوں کا عقیدہ ہے۔ بیشک ایسا عقیدہ تو معصیت ہے اور آیت ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین اور حدیث لا نبی بعدی اس عقیدہ کے کذب صریح ہونے پر کامل شہادت ہے۔ لیکن ہم اس قسم کے عقاید کے سخت مخالف ہیں۔ اور ہم اس آیت پر سچا اور کامل ایمان رکھتے ہیں جو فرمایا کہ ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین ۱؎ اور اس آیت میں ایک پیشگوئی ہے جس کی ہمارے مخالفوں کو خبر نہیں اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پیشگوئیوں کے دروازے قیامت تک بند کر دیئے گئے۔ اور ممکن نہیں کہ اب کوئی ہندو یا یہودی یا عیسائی یا کوئی رسمی مسلمان نبی کے لفظ کو اپنی نسبت ثابت کر سکے۔ نبوت کی تمام کھڑکیاں بند کی گئیں مگر ایک کھڑکی سیرۃ صدیقی کی کھلی ہے یعنی فنا فی الرسول کی۔ پس جو شخص اس کھڑکی کی راہ سے خدا کے پاس آتا ہے

۱؎ الاحزاب : ۴۰

ایک غلطی کا ازالہ صفحہ 4 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 207 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 215 پر درج ہے

صفحہ 651

حوالہ نمبر 97

۲۱۳

میرے مخالف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت کہتے ہیں کہ وہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دوبارہ دنیا میں آئیں گے۔ اب چونکہ وہ نبی ہیں اس لئے اُنکے آنے میں بھی خاتم النبیین کی مہر کا ٹوٹنا لازم آتا ہے۔ یعنی خاتم النبیین کی مہر ٹوٹ جائے گی۔ غرض کہتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو درحقیقت خاتم النبیین تھے مجھے رسول اور نبی کے لفظ سے پکارے جانا کوئی اعتراض کی بات نہیں اور نہ اس سے مہر ختمیت ٹوٹتی ہے۔ کیونکہ میں بارہا بتلا چکا ہوں کہ میں بموجب آیت وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں۔ اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے۔ اور مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود قرار دیا ہے۔ پس اس طور سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم الانبیاء ہونے میں میری نبوت سے کوئی تزلزل نہیں آیا۔ کیونکہ ظل اپنے اصل سے جدا نہیں ہوتا۔ اور چونکہ میں ظلی طور پر محمد ہوں صلی اللہ علیہ وسلم پس اس طور سے خاتم النبیین کی مہر نہیں ٹوٹی۔ کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت محمدؐ تک ہی محدود رہی۔ یعنی بہرحال محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی نبی رہے۔ نہ اور کوئی۔ یعنی جب کہ میں بروزی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدی مع نبوت محمدیہ کے میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں تو پھر کونسا الگ انسان ہوا جس نے علیحدہ طور پر نبوت کا دعویٰ کیا۔ اگر مجھے قبول نہیں کرتے تو اُس محمد کو جو مہدی موعود خلق اور خلق میں ہم رنگ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہوگا اور اس کا نام آنجناب کے اسم سے مطابق ہوگا، یعنی اس کا نام بھی محمد اور احمد ہوگا اور اُس کے اہلبیت میں سے ہوگا٭ الخ اور طبرانی میں ہے کہ مجھ میں سے ہوگا۔ یعنی منشاء اس بات کا صرف یہ ہے کہ وہ روحانیت کے رُو سے اسی میں سے ہوگا اور اسی کی رُوح کا مظہر ہوگا۔ اس پر نہایت قوی قرینہ یہ ہے کہ جن الفاظ کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تصریح بیان کی ۔ یہاں تک کہ مدقق کے تمام شک رفع کر دیئے ان الفاظ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اُس موعود کو اپنا بروز بیان فرمانا چاہتے ہیں جیسا کہ محی الدین ابن عربی کا یہ فرما دینا تھا۔ اور بروز

٭ حاشیہ ۔ یہ بات میر حامد لاہوری کی تاریخ سے ثابت ہے کہ ایک دادی ہماری شریف خاندان سادات سے اور بنی فاطمہ میں سے تھی۔ اسکی تصدیق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کی اور خواب میں مجھے فرمایا کہ سَلْمَانُ مِنَّا اَهلَ الْبَيتِ عَلٰی مَشْرَبِ الْحَسَنِ میرا نام سلمان رکھا یعنی دو سلم ۔ اور سلمان اُن دو صلح کو کہتے ہیں یعنی مقدر ہے کہ دو صلح میرے ہاتھ پر ہوگی۔ ایک اندرونی جو اندرونی فتن اور عقائد کو دور کریگی۔ دوسری بیرونی جو تمام بیرونی عداوت کے وجوہ کو پامال کر کے اور اسلام کی عظمت

١؂ الجمعة : ۳

یہ حوالہ صفحہ 215, 216 پر درج ہے ایک غلطی کا ازالہ صفحہ 8، مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 212 از مرزا قادیانی

Back

صفحہ 652

حوالہ نمبر 98

تتمہ ۵۰۲ حقيقة الوحى

شخص کے نام ہیں جیسا کہ قرآن شریف میں اسی کی طرف اشارہ فرمایا ہے اور وہ یہ ہے وَاٰخَرِیْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ ۱؎ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک اور فرقہ ہے جو ابھی ظاہر نہیں ہوا۔ یہ تو ظاہر ہے کہ اصحاب وہی کہلاتے ہیں جو نبی کے وقت میں ہوں۔ اور ایمان کی حالت میں اسکی صحبت سے مشرف ہوں اور اسکی تعلیم اور تربیت پاویں۔ پس اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آنیوالی قوم میں ایک نبی ہو گا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بروز ہوگا اس لئے اسکے اصحاب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کہلائیں گے اور جس طرح صحابہ رضی اللہ عنہم نے اپنے رنگ میں خدا تعالیٰ کی راہ میں دینی خدمتیں ادا کی تھیں۔ وہ اپنے رنگ میں ادا کرینگے۔ بہر حال یہ آیت آخری زمانہ میں ایک نبی کے ظاہر ہونے کی نسبت ایک پیشگوئی ہے ورنہ کوئی وجہ نہیں کہ ایسے لوگوں کا نام اصحاب رسول اللہ رکھا جائے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پیدا ہونیوالے تھے جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا۔ آیت ممدوحہ بالا میں یہ تو نہیں فرمایا واٰخرین من الامة بلکہ یہ فرمایا و آخرین منھم۔ اور ہر ایک جانتا ہے کہ منھم کی ضمیر اصحاب رضی اللہ عنہم کی طرف راجع ہے۔ لہٰذا وہی فرقہ منھم میں داخل ہو سکتا ہے جس میں ایسا رسول موجود ہو کہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بروز ہے۔ اور خدا تعالیٰ نے آج سے چھبیس برس پہلے میرا نام براہین احمدیہ میں محمد اور احمد رکھا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بروز مجھے قرار دیا ہے۔ اسی وجہ سے براہین احمدیہ میں لوگوں کو مخاطب کر کے فرمایا ہے قل ان کنتم تحبون الله فاتبعونی یحببکم الله اور نیز فرمایا ہے کل برکة من محمد صلی الله علیه وسلم فتبارک من علم وتعلم اور اگر کوئی یہ کہے کہ کس طرح معلوم ہوا کہ حدیث لو کان الایمان معلقاً بالثریا لنالہ رجل من فارس اس عاجز کے حق میں ہے اور کیوں جائز نہیں کہ اُمت محمدیہ میں سے کسی اور کے حق میں ہو تو اس کا جواب یہ ہے کہ براہین احمدیہ میں بار بار اس حدیث کا مصداق

۱؎ الجمعة : ۴

حقیقۃ الوحی صفحہ 67 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 502 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 216 پر درج ہے

Back

صفحہ 653

حوالہ نمبر 99

۲۱۶

ثابت ہو رہا ہے جیسا کہ آیت وٰاخرین منھم سے ظاہر ہے۔ اس آیت میں ایک لطیف بیان یہ ہے کہ اس گروہ کا آخری زمانہ میں پیدا ہونا صحابہ میں سے ٹھہرائے گئے۔ لیکن اس جگہ اس عہد پر بروز کا بصریح ذکر نہیں کیا یعنی مسیح موعود کا جس کے ذریعہ سے وہ لوگ صحابہ ٹھہرے اور صحابہؓ کی طرح زیر تربیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سمجھے گئے۔ اس ترکِ ذکر سے یہ اشارہ مطلوب ہے کہ مورد بروز حکم نفی وجود کا رکھتا ہے اس لئے اسکی بروزی نبوت اور رسالت سے مہر ختمیت نہیں ٹوٹتی۔ پس آیت میں اسکو ایک وجود مخفی کی طرح رہنے دیا اور اسکے عوض میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کر دیا ہے۔ اور اسی طرح آیت اِنَّآ اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرَ میں ایک بروزی وجود کا وعدہ دیا گیا جسکے زمانہ میں کثرت ظہور میں آئے گی یعنی وہی برکات کے چشمے بہ نکلیں گے اور بکثرت دنیا میں سچے اہل اسلام ہو جائیں گے۔ اس آیت میں بھی ظاہری اولاد کی ضرورت کو نظر حقیر سے دیکھا اور بروزی اولاد کی پیشگوئی کی گئی۔ اور گو خدا نے مجھے یہ شرف بخشا ہے کہ میں اسرائیلی بھی ہوں اور فاطمی بھی۔ اور دونوں خونوں سے حصہ رکھتا ہوں لیکن میں روحانیت کی نسبت کو مقدم رکھتا ہوں جو بروزی نسبت ہے۔ اب اس تمام تحریر سے مطلب میرا یہ ہے کہ جاہل مخالف میری نسبت الزام لگاتے ہیں کہ یہ شخص نبی یا رسول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے مجھے ایسا کوئی دعویٰ نہیں۔ میں اس طور سے جو وہ خیال کرتے ہیں نہ نبی ہوں نہ رسول ہوں۔ ہاں میں اس طور سے نبی اور رسول ہوں جس طور سے ابھی میں نے بیان کیا ہے۔ پس جو شخص میرے پر شرارت سے یہ الزام لگاتا ہے کہ دعویٰ نبوت اور رسالت کا کرتے ہیں وہ جھوٹا اور ناپاک خیال ہے۔ مجھے بروزی طور سے خدا نے نبی اور رسول بنایا ہے اور اسی بنا پر خدا نے بار بار میرا نام نبی اللہ اور رسول اللہ رکھا مگر بروزی صورت میں۔ میرا نفس درمیان نہیں ہے بلکہ محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اسی لحاظ سے میرا نام محمدؐ اور احمدؐ ہوا۔ پس نبوت اور رسالت کسی دوسرے کے پاس نہیں گئی محمدؐ کی چیز محمدؐ کے پاس ہی رہی۔ علیہ الصلوٰۃ والسلام۔

خاکسار میرزا غلام احمد از قادیان

۵؍ نومبر ۱۹۰۱ء

۱؎ الجمعۃ : ۴ ۲؎ الکوثر : ۲

یہ حوالہ صفحہ 216 پر درج ہے

ایک غلطی کا ازالہ صفحہ 12 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 216 از مرزا قادیانی

صفحہ 654

حوالہ نمبر 100 ۲۳

میرے مخالف حضرت عیسیٰ بن مریم کی نسبت کہتے ہیں کہ وہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دوبارہ دنیا میں آئیں گے۔ اور چونکہ وہ نبی ہیں اس لئے انکے آنے پر بھی وہی اعتراض وارد ہوتا ہے جو مجھ پر کیا جاتا ہے۔ یعنی یہ کہ خاتم النبیین کی مہر نبوت ٹوٹ جائے گی۔ مگر میں کہتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو درحقیقت خاتم النبیین تھے مجھے رسول اور نبی کے لفظ سے پکارے جانا کوئی اعتراض کی بات نہیں اور نہ اس سے مہر نبوت ٹوٹتی ہے۔ کیونکہ میں بارہا بتلا چکا ہوں کہ میں بموجب آیت وَاٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں۔ اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے۔ اور مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود قرار دیا ہے۔ پس اس طور سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم الانبیاء ہونے میں میری نبوت سے کوئی تزلزل نہیں آیا۔ کیونکہ ظل اپنے اصل سے علیحدہ نہیں ہوتا۔ اور چونکہ میں ظلی طور پر محمد ہوں صلی اللہ علیہ وسلم پس اس طور سے خاتم النبیین کی مہر نہیں ٹوٹی ۔ کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت محمد تک ہی محدود رہی۔ یعنی بہرحال محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی نبی رہے۔ نہ اور کوئی۔ یعنی جب کہ میں بروز ہوں اور محو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدی مع نبوت محمدیہ کے میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں تو پھر کونسا الگ انسان ہوا جس نے علیحدہ طور پر نبوت کا دعویٰ کیا۔ پھر اگر حجت قبول نہیں کرتے تو میں کہوں کہ مہدی موعود خلق اور خُلق میں ہم رنگ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہو گا اور اُس کا نام آنجناب کے نام سے ملایا جائے گا یعنی اُس کا نام بھی محمد اور احمد ہوگا اور وہ اہلبیت میں سے ہوگا۔ اور بعض حدیثوں میں ہے کہ مجھ میں سے ہو گا۔ یہ تمام استعارہ اس بات کی طرف ہے کہ وہ روحانیت کے رُو سے اسی نبی میں سے نکلے گا جو آخری نبی کی رُوح کا مظہر ہوگا۔ اس پر نہایت قوی قرینہ یہ ہے کہ جن الفاظ کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسکو بیان کیا۔ یہاں تک کہ دونوں کے نام ایک کر دیئے ان الفاظ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اُس موعود کو اپنا بروز بیان فرمانا چاہتے ہیں جیسا کہ موسیٰ کا یشوعا بروز تھا۔ اور بروز

* حاشیہ ۔ یہ بات میرے اجداد کی تاریخ سے ثابت ہو چکی کہ ایک دادی ہماری شریف خاندان سادات سے بنی فاطمہ میں سے تھی۔ اس کی تصدیق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کی اور خواب میں مجھے فرمایا کہ سلمان منا اهل البيت علی مشرب الحسن میرا نام سلمان رکھا یعنی دو سلم ۔ اور سلم عربی میں صلح کو کہتے ہیں یعنی مقدر ہے کہ دو صلح میرے ہاتھ پر ہوگی۔ ایک اندرونی جو اندرونی بغض اور عناد کو دور کریگی۔ دوسری بیرونی کہ جو بیرونی عداوت کے وجوہ کو باطل کر کے اُصول اسلام کی عظمت

١ الجمعة : ۴

ایک غلطی کا ازالہ صفحہ 8 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 212 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 216 پر درج ہے

صفحہ 655

(حوالہ نمبر 101)

کشتی نوح 41 تقویۃ الایمان

جنہوں نے ایک برگزیدہ رسول کو قبول نہ کیا۔ مبارک وہ جس نے مجھے پہچانا۔ پس خدا کی سب راہوں میں سے آخری راہ ہوں۔ اور میں اُس کے سب نوروں میں سے آخری نور ہوں۔ بدقسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے۔ کیونکہ میرے بغیر سب تاریکی ہے۔ دوسرا ذریعہ ہدایت کا جو مسلمانوں کو دیا گیا ہے سُنت ہے یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی کارروائیاں جو آپؐ نے قرآن شریف کے احکام کی تشریح کے لئے کر کے دکھائیں مثلاً قرآن شریف میں اقامِ نماز کا حکم ہے مگر نمازوں کی رکعات معلوم نہیں ہوتیں کہ صبح کس قدر اور دوسرے وقتوں میں کس قدر اور یہ کہ سُنت نے سب کچھ کھول دیا۔ یہ دھوکہ نہ لگے کہ سُنت اور حدیث ایک چیز ہے۔ کیونکہ حدیث تو سو ڈیڑھ سو برس کے بعد جمع کی گئی مگر سُنت تو قرآن شریف کے ساتھ ہی وجود تھا۔ مسلمانوں پر قرآن شریف کے بعد بڑا احسان سُنت کا ہے۔ خلاصہ رسول کی ذمہ داری ۷۵ کا فرض صرف دو امر ہی تھے۔ اوّل یہ کہ خدا تعالیٰ قرآن کو نازل کر کے مخلوقات کو بذریعہ اپنے قول کے اپنے منشاء سے اطلاع دے۔ یہ تو خدا کے قانون کا فرض تھا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرض تھا کہ خدا کے کلام کو عملی طور پر دکھلا کر بخوبی لوگوں کو سمجھا دیں۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مخفی باتیں کردنی کے پیرایہ میں دکھلا دیں۔ اور اپنی سُنت یعنے عملی کارروائی سے معضلات اور مشتبہات مسائل کو حل کر دیا۔ یہ کہنا بیجا ہے کہ یہ عملی نمونہ حدیث پر موقوف تھا۔ کیونکہ حدیث کے وجود سے پہلے اسلام زمین پر قائم ہو چکا تھا۔ کیا جب تک حدیثیں جمع نہ ہوئی تھیں لوگ نماز نہ پڑھتے تھے۔ یا زکوٰۃ نہ دیتے تھے۔ یا حج نہ کرتے تھے یا حلال حرام سے واقف نہ تھے۔ ہاں تیسرا ذریعہ ہدایت کا حدیث ہی ہے کیونکہ بہت سے اسلام کے تاریخی اور اخلاقی اور فقہ کے امور کو حدیثیں کھول کر بیان کرتی ہیں۔ اور نیز بڑا فائدہ حدیث کا یہ ہے کہ وہ قرآن کی خادم اور سُنت کی خادم ہے۔ جن لوگوں کو ادب قرآن

ہاں اہل حدیث قولی و فعلی احوالِ رسول دونوں کا نام حدیث ہی رکھتے ہیں۔ یعنی اپنی اصطلاح سے کچھ تفریق نہیں۔ دراصل سُنت وہ ہے جس کی ابتدا رسول کریم سے ہے اور حدیث بذات خود فرمایا اور حدیث وہ ہے جو بعد میں جمع ہوئی۔ منہ

کشتی نوح صفحہ 56 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 61 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 217 پر درج ہے

صفحہ 656

حوالہ نمبر 102

تتمہ ۵۲۱ حقیقة الوحی

اسکے نور کو نابود نہ کر سکی۔ سو خدا نے جو ہر ایک کام نرمی سے کرتا ہے اس زمانہ کے لئے یہ سب سے پہلے میرا نام عیسیٰ ابن مریم رکھا کیونکہ ضرور تھا کہ میں اپنے ابتدائی زمانہ میں ابن مریم کی طرح قوم کے ہاتھ سے دُکھ اُٹھاؤں اور کافر اور ملعون اور دجّال کہلاؤں اور دانتوں میں پیسا جاؤں سو میرے لئے ابن مریم ہونا پہلا زینہ تھا مگر میں خدا کے دفتر میں صرف عیسیٰ ابن مریم کے نام سے موسوم نہیں بلکہ اور بھی میرے نام ہیں جو آج سے چھبیس برس پہلے خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں میرے ہاتھ سے لکھوائے ہیں اور دُنیا میں کوئی نبی نہیں گذرا جس کا نام مجھے نہیں دیا گیا۔ سو جیسا کہ براہین احمدیہ میں خدا نے فرمایا ہے۔ میں آدم ہوں۔ میں نوح ہوں۔ میں ابراہیم ہوں میں اسحاق ہوں۔ میں یعقوب ہوں۔ میں اسمعیل ہوں۔ میں موسٰی ہوں۔ میں داؤد ہوں۔ میں عیسیٰ ابن مریم ہوں۔ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوں یعنی بروزی طور پر جیسا کہ خدا نے اسی کتاب میں یہ سب نام مجھے دیئے اور میری نسبت جَرِیُّ اللّٰہِ فِیْ حُلَلِ الْاَنْبِیَاءِ فرمایا یعنے خدا کا رسول نبیوں کے پیرایوں میں۔ سو ضرور ہو کہ ہر ایک نبی کی شان مجھ میں پائی جائے اور ہر ایک نبی کی ایک صفت کا میرے ذریعہ سے ظہور ہو۔ مگر خدا نے یہی پسند کیا کہ سب سے پہلے ابن مریم کے صفات مجھ میں ظاہر کرے۔ سو میں نے اپنی قوم سے وہ سب دُکھ اُٹھائے جو ابنِ مریم نے یہود سے اُٹھائے بلکہ تمام قوموں میں اُٹھائے۔ یہ سب کچھ ہوا مگر پھر خدا نے کسر صلیب کے لئے میرا نام مسیح قائم رکھا تا جس صلیب نے مسیح کو توڑا تھا اور اُسکو زخمی کیا تھا وہ مسیح وقت میں مسیح اُسکو توڑے۔ مگر آسمانی نشانوں کے ساتھ نہ انسانی ہاتھوں کے ساتھ۔ کیونکہ خدا کے نبی مغلوب نہیں ہو سکتے۔ سو سنّت عیسوی کی پیروی ہی میں پھر خدا نے ارادہ فرمایا کہ صلیب کو مسیح کے ہاتھ سے مغلوب کرے۔ لیکن جیسا کہ میں ابھی بیان کر چکا ہوں مجھے اور نام بھی دیئے گئے ہیں اور ہر ایک نبی کا مجھے نام دیا گیا ہے چنانچہ جو ملک ہند میں کرشن نام ایک نبی گذرا ہے جس کو رُدّر گوپال بھی کہتے ہیں یعنے فنا کرنیوالا اور پرورش کرنیوالا۔ اس کا نام بھی مجھے دیا گیا ہے پس جیسا کہ آریہ قوم کے لوگ کرشن کے ظہور کا ان دنوں میں انتظار کرتے ہیں وہ کرشن مَیں ہی ہوں

تتمہ حقیقت الوحی صفحہ 521 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 521 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 217 پر درج ہے

صفحہ 657

۱۰۴ کلمۃ الفصل حوالہ نمبر 103 جلد ۱۴

ہرگز نہیں۔ کیا کوئی عقلمند کا نام لیوا اس بات کو تسلیم کر سکتا ہے کہ گو اس زمانہ کا اشد کافر تیرہ سو سال پہلے عرب میں پیدا کیا جاتا تو ابو جہل سے جہالت میں کم رہتا اور کیا اگر اس زمانہ کا مرتد پیشوا دعویٰ رسالت (کرنے) کے وقت کو پاتا تو مسیلمہ کذاب کی طرح اپنے جھوٹے دعویٰ پر دست و پا مارتا تم نے عقل کو کیسا کامل طاق پر رکھا ہے وہاں احمد کے منکرین کو محمد کے منکرین کا کامل بروز مانتے ہو پھر تمھیں کونسی بات روکتی ہے۔ اور پھر اس پر بھی تو غور کرو کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم کی دو بعثتوں کا قرآن کریم میں ذکر فرمایا ہے جیسا کہ آتا ہے ھو الذی بعث فی الامیین رسولا منھم یتلوا علیھم اٰیتہ و یزکیھم و یعلمھم الکتب و الحکمۃ وان کانوا من قبل لفی ضلال مبین ہ و اخرین منھم لما یلحقوا بھم و ھو العزیز الحکیم ۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے صاف فرمایا ہے کہ جس طرح نبی کریم کو امیوں میں یعنی مکہ والوں میں رسول بنا کر بھیجا گیا ہے اسی طرح ایک اور قوم میں بھی آپ کو مبعوث کیا جائے گا جو ابھی تک دنیا میں پیدا نہیں کی گئی۔ لیکن چونکہ قانون قدرت کے خلاف ہے کہ ایک شخص جب فوت ہو جاوے تو اسے پھر دنیا میں لایا جاوے اور جبکہ اللہ تعالیٰ نے مردوں کے متعلق قرآن کریم میں صاف فرما دیا ہے کہ انھم لا یرجعون پس یہ وعدہ اس صورت میں پورا ہو سکتا ہے کہ جب نبی کریم کی بعثت ثانی کے لئے ایک ایسے شخص کو چنا جاوے جس نے آپ کے کمالات نبوت سے پورا حصہ لیا ہو اور جو من و عن اور بعینہ خلق اللہ میں آپ کا مشابہ ہو اور جو آپکی اتباع میں اسقدر آگے نکل گیا ہو کہ بس آپ کی ایک زندہ تصویر بن جاوے تو بلا ریب ایسے شخص کا دنیا میں آنا خود نبی کریم کا دنیا میں آنا ہے اور چونکہ مشابہت تامہ کی وجہ سے یہ مسیح موعود اور نبی کریم میں کوئی دوئی باقی نہیں رہی حتیٰ کہ ان دونوں کے وجود بھی ایک وجود کا ہی حکم رکھتے ہیں جیسا کہ خود مسیح موعودؑ نے فرمایا ہے کہ صارَ وجودی وجودہٗ (خطبہ الہامیہ صفحہ ۱۷۱) اور حدیث میں بھی آتا ہے کہ حضرت نبی کریم نے فرمایا کہ مسیح موعود میری قبر میں دفن کیا جاوے گا جس سے یہی مراد ہے کہ وہ میں ہی ہوں یعنی مسیح موعود نبی کریم سے الگ کوئی چیز نہیں ہے بلکہ وہی ہے جو بروز کے رنگ میں دوبارہ دنیا میں آئیگا۔ تو اس تمام

کلمۃ الفصل صفحہ 104 ۔ 105 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 217 پر درج ہے

صفحہ 658

حوالہ نمبر 103 نمبر ۲

ربوہ کا ایک یتیم بچھڑا

۱۰۵

کا کام پورا کرے اور ھوالذی ارسل رسوله بالھدی ودین الحق لیظهره علی الدین کله کے فرمان کے مطابق تمام ادیان باطلہ پر اتمام حجت کر کے اسلام کو دنیا کے کونوں تک پہنچا دے تو اس صورت میں کیا اس بات میں کوئی شک رہ جاتا ہے کہ قادیان میں اللہ تعالیٰ نے پھر محمد صلعم کو اتارا تا اپنے وعدہ کو پورا کرے جو اس نے آخرین منهم لما یلحقوا بهم میں فرمایا تھا یہ میں اپنی طرف سے نہیں کہتا بلکہ مسیح موعود نے خود خطبہ الہامیہ صفحہ ۱۸۰ میں آیت آخرین منھم کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرمایا ہے کہ ”کیونکر آخرین منھم کے لفظ کا مفہوم تحقق ہو اگر رسول کریم آخرین میں موجود نہ ہوں جیسا پہلوں میں موجود تھے“ پس وہ جس نے مسیح موعود اور نبی کریم کو دو وجودوں کے رنگ میں لیا اس نے مسیح موعود کی مخالفت کی کیونکہ مسیح موعود کہتا ہے صار وجودی وجودہ اور جس نے مسیح موعود اور نبی کریم میں تفریق کی اس نے بھی مسیح موعود کی تعلیم کے خلاف قدم مارا کیونکہ مسیح موعود صاف فرماتا ہے کہ من فرق بینی و بین المصطفیٰ فما عرفنی و ما راٰنی ، دیکھو خطبہ الہامیہ صفحہ ۱۸۰ پس جو شخص محمد کریم کو مسیح کی بعثت ثانی نہ جانا اس نے قرآن کو پس پشت ڈال دیا کیونکہ قرآن پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ محمد صلعم ایک دفعہ پھر دنیا میں آئے گا۔ پس ان سب باتوں کے سمجھ لینے کے بعد اس بات میں کوئی شک باقی نہیں رہتا کہ وہ جس نے مسیح موعود کا انکار کیا اس نے مسیح موعود کا انکار نہیں کیا بلکہ اس نے اُس کا انکار کیا جسکی بعثت ثانی کے وعدہ کو پورا کرنے کے لئے مسیح موعود بن کر آیا تھا اور جس نے اُس کا انکار کیا جس نے آخرین میں آنا تھا اور پھر اس نے اُس کا انکار کیا جس نے اپنی قبر سے اُٹھ کر حسب وعدہ بروزی قبر میں جانا تھا پس اے نادان ! تو مسیح موعود کے انکار کو کوئی معمولی بات نہ جان کیونکہ محمد نے اپنے ہاتھوں سے اپنی نبوت کی چادر اس پر چڑھائی ہے اور اگر تیرا دل غیروں کے پنجے میں گرفتار ہے اور انکی محبت تجھے چین نہیں لینے دیتی تو جا پہلے آخرین منھم کی آیت قرآن سے نکال پھینک اور پھر جو تیرے دل میں آئے کر۔ کیونکہ جب تک یہ آیت قرآن کریم میں موجود ہے اُس وقت تک تو یہی ہے کہ مسیح موعود کو محمد کی شان میں قبول کرے اور یا مسیح موعود سے عداوت

حوالہ نمبر 217 پر درج ہے کلمۃ الفصل صفحہ 104، 105 میاں مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی

صفحہ 659

حوالہ نمبر 104

نمبر ۳ ریویو آف ریلیجنز ۱۱۳

مستقل اور حقیقی نبوتوں کا دروازہ بند ہو گیا۔ اور ظلی نبوت کا دروازہ کھولا گیا پس اب جو ظلی نبی ہوتا ہے وہ نبوت کی مہر کو توڑنے والا نہیں کیونکہ اسکی نبوت اپنی ذات میں کچھ چیز نہیں بلکہ وہ محمدی نبوت کا ظل ہے نہ کہ مستقل نبوت۔ اور یہ جو بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ظلی یا بروزی نبوت گھٹیا قسم کی نبوت ہے۔ محض ایک نفس کا دھوکہ ہے جس کی کوئی بھی حقیقت نہیں کیونکہ ظلی نبوت کے لیئے یہ ضروری ہے کہ انسان نبی کریم صلعم کی اتباع میں اسقدر غرق ہو جاوے کہ من تو شدم تو من شدی کے درجہ کو پالے ایسی صورت میں وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جیسے کمالات کو عکس کے رنگ میں اپنے اندر اُتار لیتا ہے چنانچہ ان دونوں میں قرب تام طبعی ہو کہ نبی کریم صلعم کی نبوت کی چادر بھی اس پر چڑھائی جائیگی تب جا کر وہ ظلی نبی کہلائیگا پس جب ظل کا یہ تقاضا ہے کہ اپنے اصل کی پوری تصویر ہو اور اسی پر تمام انبیاء کا اتفاق ہے تو وہ آدمی جو مسیح موعود کی ظلی نبوت کو ایک گھٹیا قسم کی نبوت سمجھتا ہے اسکے معنی ناقص نبوت کے کرتا ہے وہ ہوش میں آوے اور اپنے اسلام کی فکر کرے کیونکہ اس نے حق نبوت کی شان پر حملہ کیا ہے جو تمام نبوتوں کی سرتاج ہے۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ لوگوں کو کیوں حضرت مسیح موعود کی نبوت پر ٹھوکر لگی ہے اور کیوں بعض لوگ آپ کی نبوت کو ناقص نبوت سمجھتے ہیں کیونکہ میں تو دیکھتا ہوں کہ آپ آنحضرت صلعم کے بروز ہونے کی وجہ سے ظلی نبی تھے اور اس ظلی نبوت کا پایہ بہت بلند ہے۔ یہ ظاہر بات ہے کہ پہلے زمانوں میں جو نبی ہوتے تھے انکے لیئے یہ ضروری نہ تھا کہ ان میں وہ تمام کمالات رکھے جاویں جو نبی کریم صلعم میں رکھے گئے مگر ہر ایک نبی کو اپنی استعداد اور کام کے مطابق کمالات عطا ہوتے تھے کسی کو بہت کسی کو کم ۔ مگر مسیح موعود کو ظلی نبوت ملی جب اس نے نبوت محمدیہ کے تمام کمالات کو حاصل کر لیا اور اس قابل ہو گیا کہ ظلی نبی کہلائے پس ظلی نبوت نے مسیح موعود کے قدم کو پیچھے نہیں ہٹایا بلکہ آگے بڑھایا اور اسقدر آگے بڑھایا کہ نبی کریم کے پہلو بہ پہلو لا کھڑا کیا۔ اس بات سے کون انکار کر سکتا ہے کہ عیسیٰ کے لیئے یہ ضروری نہ تھا کہ وہ نبی کریم کے تمام کمالات حاصل کر لینے کے بعد نبی بنایا جاتا۔ وہ تو بنی اسرائیل کے لئے مبعوث تھا ۔ مگر ظلی نبی کو خطاب تب دیا جاتا جب وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام کمالات سے پورا حصہ لے لے اور پھر نبوت پائے یہی وجہ تھی کہ موسیٰ کے لیئے یہ بھی ضروری نہ تھا

کلمۃ الفصل صفحہ 113 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 218 پر درج ہے

صفحہ 660

(حوالہ نمبر 105)

١٥٨ کلمۃ الفصل جلد ١٤

معترض کا یہ خیال ہے کہ کلمہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم مبارک اس غرض سے رکھا گیا ہے کہ وہ آخری نبی ہیں جبھی تو یہ اعتراض کرتا ہے کہ اگر محمد رسول اللہ کے بعد کوئی اور نبی آیا تو اس کا کلمہ بناؤ نادان اتنا نہیں سوچتا کہ محمد رسول اللہ کا نام کلمہ میں تو اس لیے رکھا گیا ہے کہ آپ نبیوں کے سرتاج اور خاتم النبیین ہیں اور آپ کا نام لینے سے باقی سب نبی خود اندر آجاتے ہیں ہر ایک کا علیحدہ نام لینے کی ضرورت نہیں ہے ہاں حضرت مسیح موعود کے آنے سے ایک فرق ضرور پیدا ہو گیا ہے اور وہ یہ کہ مسیح موعود کی بعثت سے پہلے تو محمد رسول اللہ کے مفہوم میں صرف آپ سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء شامل تھے مگر مسیح موعود کی بعثت کے بعد محمد رسول اللہ کے مفہوم میں ایک اور رسول کی زیادتی ہو گئی لہٰذا مسیح موعود کے آنے سے نعوذ باللہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا کلمہ باطل نہیں ہوتا بلکہ اور بھی زیادہ شان سے چمکنے لگ جاتا ہے ۔ الغرض اب بھی اسلام میں داخل ہونے کے لئے یہی کلمہ ہے صرف فرق اتنا ہے کہ مسیح موعود کی آمد نے محمد رسول اللہ کے مفہوم میں ایک رسول کی زیادتی کر دی ہے اور بس ۔ علاوہ اسکے اگر ہم بفرض محال یہ بات مان بھی لیں کہ کلمہ شریف میں نبی کریم کا اسم مبارک اس لیے رکھا گیا ہے کہ آپ آخری نبی ہیں تو تب بھی کوئی حرج واقع نہیں ہوتا اور ہم کو نئے کلمہ کی ضرورت پیش نہیں آتی کیونکہ مسیح موعود نبی کریم سے کوئی الگ چیز نہیں ہے جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے صار وجودی وجودہ نیز من فرق بینی و بین المصطفےٰ فما عرفنی و ما رانی اور یہ اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ایک دفعہ اور خاتم النبیین کو دنیا میں مبعوث کرے گا جیسا کہ آیت آخرین منہم سے ظاہر ہے پس مسیح موعود خود محمد رسول اللہ ہے جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے ۔ اس لیے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں ہاں اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی ۔ فتدبروا ۔

چھٹا اعتراض :۔ یہ ہے کہ لا نفرق بین احد من رسلہ کے لفظ رسول کے مفہوم میں صرف وہی رسول شامل ہیں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے گزر چکے ہیں اور اس کا ثبوت یہ دیا جاتا ہے کہ سورۃ بقر کے پہلے رکوع میں متقی کی شان میں

کلمۃ الفصل صفحہ 158 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 218 پر درج ہے

صفحہ 661

(حوالہ نمبر 106)

ضمیمہ ۱۸۳ نزول المسیح

اتزعم ان رسولنا سيّد الورى على زعم شانئه توفى ابتر کیا تو گمان کرتا ہے کہ ہمارا سید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بے اولاد ہونے کی حالت میں وفات پا گیا جیسا کہ دشمن کا گمان ہے فلا والذی خلق السماء لاجله له مثلنا ولد الى يوم يُحشر مجھے اس کی قسم جس نے آسمان بنایا کہ ایسا نہیں ہے۔ بلکہ سچے پیرو اس فرزند کی طرح ہیں یہ سلسلہ قیامت کے دن تک ہے وانا ورثنا مثل ولدٍ متاعه فایّ ثبوت بعد ذلك يُحضر اور ہم نے اولاد کی طرح اس کی وراثت پائی ۔ پس اس سے بڑھ کر اور کونسا ثبوت ہے جو پیش کیا جائے ۔ له خسف القمر المنير وان لى خسفا القمران المشرقان لتفكرا اُس کے لئے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا ۔ اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا کیا تو اس پر غور کریگا ۔ وكان كلام معجز آيةً له كذلك لى قول على الكلّ يبهر اور اُس کے معجزات میں سے معجزانہ کلام بھی تھا۔ اسی طرح مجھے وہ کلام دیا گیا جو سب پر غالب ہے اذا القوم قالوا يدعى الوحى عامداً فحجّت فانّى ظلّ بدر يُنوّر جب قوم نے کہا کہ یہ تو عمداً وحی کا دعویٰ کرتا ہے۔ پس میں نے انکو حجت پکڑی کہ میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ظل ہوں وانّى لظلّ ان يخالف اصله فما فيه فى وجهى يلوح و يزهر اور سایہ کیونکر اپنے اصل سے مخالف ہو سکتا ہے پس وہ روشنی جو اُس میں ہے وہ مجھ میں چمک رہی ہے وانّى لذو نسب كاصل الطيعه ومن طينه المعصوم طينى عُطّر اور میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح ذو نسب ہوں اور اس کی پاک مٹی کا مجھ میں خمیر ہے ۔ كفى العبد تقوى القلب عند حسيبنا وليس لنسب ذو صلاح يُعيّر اور بندہ کو دلی کا تقویٰ کافی ہے۔ اور ایک صالح کو اس لئے سرزنش نہیں کر سکتے کہ اسکی نسب اعلیٰ نہیں۔ ولكن قضى ربّ السماء لائمّة لهم نسب كيلا يهيج التنفّر مگر خدا نے اماموں کے لئے چاہا کہ وہ ذو نسب ہوں تاکہ لوگوں کو اُنکی کم نسبی کا تصور کر کے نفرت پیدا نہ ہو ومن كان ذا نسب كريم ولم يكن له حسب فهو الدّنيّ المحقّر اور جو شخص اچھی نسب رکھتا ہے مگر اُس میں ذاتی صفات کچھ نہیں وہ کمینہ اور حقیر ہے ۔

۷۹

یہ حوالہ صفحہ 219 پر درج ہے اعجاز احمدی صفحہ 71 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 183 از مرزا قادیانی

صفحہ 662

حوالہ نمبر 107 ۶۶۱

۱۸ اکتوبر ۱۸۹۹ء ؎ یہ بفضل خدا تعالیٰ نے میرے دل میں یہی ڈالا ہے کہ بیعت کرنے والے دو قسم میں رکھے جائیں گے ایک جو اعلیٰ اور صاف تر زندگی کے خواہشمند اور خدا تعالیٰ کے منشاء کی اطاعت کے لئے حاضر ہیں ہاں ایک درجہ کو کسی قدر محدود ہیں“ ۱؎

(اقتباس مکتوب نمبر ۲ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مورخہ ۱۸ اکتوبر ۱۸۹۹ء

مندرجہ تشحیذ الاذہان جلد ۵ نمبر ۶ جون ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۴۳ و ۲۴۴)

۱۸۹۹ء ”حضرت اقدس کو رویا ہوئی کہ حامد علی آکر کہتا ہے کہ باہر ایک ہندو کھڑا ہے اور داخلہ کے لئے درخواست کرتا ہے حضور اقدس اسے کہتے ہیں کہ بے نذر لئے ہم دُعا کرنے کے نہیں۔ پھر حامد علی دوبارہ واپس آتا ہے تو ایک چھوہڑا تک اور دو چار آنے ہیں اُن میں روپیہ بھر کر لاتا ہے۔ فرمایا ہندو سے مراد ایسا شخص ہُوا کرتا ہے جو دنیا کے غم و ہم میں پھنسا ہو اور چوہڑے کو کسی طرح خوشبو نہیں ۔ لہٰذا اُس سے نجات ہو“

(مکتوب مروی عبد الکریم صاحبؒ مندرجہ تشحیذ الاذہان جلد ۵ نمبر ۶ جون ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۲۲)

۵ جنوری ۱۹۰۰ء (الف) ۵ جنوری ۱۹۰۰ء کو صبح کی نماز کے وقت حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ پرسوں کی نماز میں جب میں التحیات کے لئے بیٹھا تو بجائے التحیات کے یہ دُعا پڑھنے لگ گیا صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلَیْکَ وَبَارِکْ وَسَلَّمْ اَھْدِ اِلَیْکَ عَلَیْھِمْ ۔ حضرت صاحبؒ فرماتے تھے کہ میں نے خیال کیا کہ یہ کیا پڑھ رہا ہوں تو معلوم ہوا کہ الہام ہے۔

(روایت منشی محی الدین صاحبؒ واصل باقی نویس ۔ رجسٹر روایات صحابہ

جلد ۱۱ صفحہ ۳۱۴، و نیز رجسٹر روایات صحابہ جلد ۱۳ صفحہ ۱۴۳)

(ب) صاحبزادہ پیر سراج الحق صاحب نعمانی نے بیان کیا کہ :۔ ”ایک روز مغرب کی نماز پڑھی گئی اور میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس کھڑا تھا۔ جب نماز کا سلام پھیرا گیا تو آپؑ نے بایاں ہاتھ میری دائیں ران پر رکھ کر فرمایا کہ صاحبزادہ صاحب ! اِس وقت میں التحیات پڑھتا تھا اِلہاماً میری زبان پر جاری ہوا کہ :۔ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْکَ وَعَلٰی مُحَمَّدٍ “ ۲؎

(الحکم جلد ۲۹ نمبر ۱۹ مورخہ ۲۱؍ مئی ۱۹۲۵ء صفحہ ۵)

۱؎ (نوٹ از مرتب) یہ مکتوب حضرت صاحبؒ نے افریقہ کے ایک شخص کو لکھا اور اس میں یہ بھی لکھا کہ ”آپ کا وعدہ ارسال روپیہ آنے سے ایک ہفتہ قبل حضور اقدسؑ کو رویا ہوئی ۔۔۔۔ پھر جب نام بنام فہرست چندہ پر مشتمل خط آیا تو تاویل و تصدیق واضح ہو گئی“ (مکتوب مذکور)

۲؎ (تبصرہ از مرتب) اللہ تعالیٰ محمدؐ پر صلوٰۃ بھیجے اور تجھ پر بھی ، اور تیرے دشمنوں کی بددُعائیں اِن پر لوٹادی جائیں گی۔

تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 661 بطبع چہارم از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 220 پر درج ہے

صفحہ 663

(حوالہ نمبر 108)

۲۰۸

خاکسار عرض کرتا ہے کہ کپور تھلہ کی جماعت ایک خاص جماعت تھی۔ اور نہایت مخلص تھی۔ ان میں سے تین دوست خاص طور پر ممتاز تھے یعنی میاں محمد خاں صاحب مرحوم منشی اروڑے خاں صاحب مرحوم اور منشی ظفر احمد صاحب۔ اوّل الذکر بزرگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں فوت ہو گئے تھے اور ثانی الذکر خلافت ثانیہ میں فوت ہوئے اور مؤخر الذکر ابھی تک زندہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں تادیر سلامت رکھے اور ہر طرح حافظ و ناصر ہو۔ آمین۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ مکرم منشی ظفر احمد صاحب کے اس اخلاص کے اظہار میں تین طاقتیں ہیں۔ ایک تو یہ کہ جو رقم جماعت سے مانگی گئی تھی وہ انہوں نے خود فی الفور پیش کر دی۔ دوسرے کہ پیش بھی اس طرح کی کہ نقد موجود نہیں تھا تو زیور فروخت کر کے روپیہ حاصل کیا۔ تیسرے یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جتایا تک نہیں کہ میں خود اپنی طرف سے زیور بیچکر لایا ہوں۔ بلکہ حضرت صاحب یہی سمجھتے رہے کہ جماعت نے چندہ جمع کر کے یہ رقم بھجوائی ہے۔ دوسری طرف منشی اروڑے خاں صاحب کا اخلاص بھی ملاحظہ ہو کہ اس غصہ میں منشی ظفر احمد صاحب سے چھ ماہ تک ناراض رہے کہ اس خدمت کے موقعہ کی اطلاع مجھے کیوں نہیں دی یہ اخلاص کس درجہ مدح پرور کس درجہ ایمان افروز ہے۔ اے گمنام سلسلہ کے برگزیدہ مسیح! تجھ پر خدا کا لاکھ لاکھ درود اور لاکھ لاکھ سلام ہو کہ تیرا شجر کیسا شجر حیا ہے۔ اور اے محمدی مسیح کے حلقہ بگوشو! تم پر خدا کی لاکھ لاکھ رحمتیں ہوں کہ تم نے اپنے عہد اخلاص و وفا کو کس خوبی سے اور جاں نثاری کے ساتھ نبھایا ہے۔

۱۷۷ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ اوائل میں جب میرا قادیان جانا ہوا تو اس کمرے میں ٹھہرا تھا جو مسجد مبارک سے ملحق ہے اور جس میں سے ہو کر حضرت صاحب مسجد میں تشریف لے جاتے تھے ایک دفعہ ایک مولوی مدعی علم شخص تھا۔ قادیان آیا۔ بارہ نمبردار اس کے ساتھ تھے۔ وہ مناظرہ وغیرہ نہیں کرتا تھا بلکہ صرف حالات کا مشاہدہ کرتا تھا ایک مرتبہ رات کو تنہائی میں میرے پاس اس کمرہ میں آیا۔ اور کہا کہ ایک بات مجھے بتائیں کہ مرزا صاحب کی عربی تصانیف ایسی ہیں کہ ان جیسی کوئی فصیح بلیغ عبارت نہیں لکھ سکتا۔ ضرور مرزا صاحب کچھ علماء سے مدد لے کر لکھتے ہونگے۔ اور وہ وقت رات کا ہی ہو سکتا ہے تو کیا رات کو کچھ آدمی ایسے آپ کے پاس رہتے ہیں جو اس کام میں مدد دیتے ہوں۔ میں نے کہا مولوی

سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 208 از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 220 پر درج ہے

صفحہ 664

حوالہ نمبر 109

۶۵۴

كُلُّ مَنْ فِي الدَّارِ ، اَرِيْكَ مَا يُرْضِيْكَ ، ذُوْ فُنُوْنِ اِكْسِيْر ، كَرَمَاتِيْ ، دَوَائِيْ ، كَامِ ہوتی ہے مگر میں جو اس کی تاثیر کو بڑھا دوں تو یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ جو شخص اس کو کھائے خصی ہو بلکہ وہ تو دکھلانے کا وقت آ گیا ہے۔ اِنَّا فَتَحْنَالَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا لِيَغْفِرَ لَكَ اللهُ مَا تَقَدَّمَ عجائب و غرائب کام دکھانے کا وقت آ گیا ہے یعنی ایک عظیم فتح تجھ کو عطا کروں گا جو کھلی کھلی فتح ہو گی تا تیرے تمام مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ ، اِنِّيْ اَنَا التَّوَّابُ ، مَنْ جَاءَكَ جَاءَنِيْ ، سَلَامٌ عَلَيْكُمْ گناہ بخش دے جو پہلے ہیں اور پچھلے ہیں میں ہی توبہ قبول کرنے والا ہوں۔ جو شخص تیرے پاس آیا گویا وہ میرے پاس آیا، طِبْتُمْ ، نَحْمَدُكَ وَنُصَلِّيْ : صَلٰوةُ الْعَرْشِ اِلَى الْفَرْشِ ، نَزَلَتْ لَكَ تم پر سلام تم پاک ہو ہم تیری تعریف کرتے ہیں اور درود بھیجتے ہیں۔ عرش سے فرش تک تم پر درود ہے، میں تیرے لئے ذَلِكَ تَرٰى اٰيَاتٍ . اَلْاَمْرَاضُ تُشَاعُ . وَالنُّفُوْسُ تُضَاعُ . وَمَا كَانَ اللهُ اترا ہوں اور تیرے لئے اپنے نشان دکھاؤں گا۔ لوگ بیماریوں میں پھنسیں گے اور جانیں ضائع ہوں گی۔ اور خدا ایسا نہیں ہے لِيُعَذِّبَهُمْ وَاَنْتَ فِيْهِمْ : اِنَّهٗ اَوَى الْقَرْيَةَ . جو ان کو عذاب کرے اور تو ان میں ہو۔ وہ گاؤں کو پناہ دے گا یعنی اس گاؤں کو طاعون سے بچائے گا جس میں تو رہتا ہے۔ لَوْلَا الْاِكْرَامُ لَهَلَكَ الْمَقَامُ اِنِّيْ اُحَافِظُ كُلَّ مَنْ فِي الدَّارِ ، مَا كَانَ اللهُ اگر پاس نہ ہوتا تو یہ مقام ہلاک ہو جاتا۔ میں ان سب کو پناہ دوں گا جو اس گھر میں ہیں۔ خدا ایسا نہیں کہ ان کو عذاب کرے اور تو لِيُعَذِّبَهُمْ وَاَنْتَ فِيْهِمْ : اِنَّهٗ مَعِيْ، رُسُلِيْ لَا يَخَافُوْنَ. ان میں ہو۔ وہ میرے ساتھ ہے، میرے رسول خوف نہیں کرتے۔

۱؎ علم الطب کا قاعدہ ہے کہ ادویہ کے اوصاف میں یہ بات خصوصیت کے ساتھ درج کی جاتی ہے کہ یہ دوا باہ کو زیادہ کرتی ہے اور مقوی باہ ہے۔ چنانچہ طب کی کتابوں میں مقوی باہ ادویہ کثرت کے ساتھ لکھی ہیں ان میں سے بہتوں کے آخر میں یہی لکھا ہے کہ جو شخص اس کو کھائے خصی ہو بلکہ یہ اس کی طاقت کو زیادہ کرتا ہے جس سے اس دوا کی برأت ظاہر ہوتی ہے۔ لِيَغْفِرَ لَكَ اللهُ کے یہی معنے ہیں۔ منہ

(تریاق القلوب صفحہ ۱۳۰ حاشیہ۔ روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۲۶۶ حاشیہ)

۲؎ اَوَى الْقَرْيَةَ کی زبانِ عرب میں مقررہ اصطلاح یہ ہے کہ جس وقت تکلیف کے بعد کسی شخص کو اپنی پناہ میں لیا جائے جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًا فَاٰوٰى ۔ اور جیسا کہ فرماتا ہے اٰوَيْنَاهُمَا اِلَى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّ مَعِيْنٍ ۔ منہ

(حقیقت الوحی صفحہ ۹۷ حاشیہ ۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۹۹ حاشیہ)

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 553 طبع چہارم از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 220 پر درج ہے

صفحہ 665

حوالہ نمبر 110

194

اَلْمُتَوَكِّلُ . يَحْمَدُكَ اللّٰهُ مِنْ عَرْشِهٖ . نَحْمَدُكَ وَنُصَلِّیْ . يَا اَحْمَدُ يَبْقٰی اِسْمُكَ وَلَا يَبْقٰی اِسْمِیْ . كُنْ فِی الدُّنْيَا كَاَنَّكَ غَرِيْبٌ اَوْ عَابِرُ سَبِيْلٍ . وَكُنْ مِنَ الصّٰلِحِيْنَ الصِّدِّيْقِيْنَ . اَنَا لِنَصْرَتِكَ وَاَلْقَيْتُ عَلَيْكَ مَحَبَّةً مِّنِّیْ . خُذُوا التَّوْحِيْدَ التَّوْحِيْدَ يَا اَبْنَاءَ الْفَارِسِ . وَبَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا اَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلَا تُصَعِّرْ لِخَلْقِ اللّٰهِ وَلَا تَسْأَمْ مِنَ النَّاسِ وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُسْلِمِيْنَ . اَصْحَابُ الصُّفَّةِ وَمَا اَدْرٰكَ مَا اَصْحَابُ الصُّفَّةِ تَرٰی اَعْيُنَهُمْ تَفِيْضُ مِنَ الدَّمْعِ يُصَلُّوْنَ عَلَيْكَ رَبَّنَآ اِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُّنَادِیْ لِلْاِيْمَانِ رَبَّنَآ اٰمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِيْنَ . شَأْنُكَ عَجِيْبٌ وَّ اَجْرُكَ قَرِيْبٌ . وَصَلَّتْ جُنْدُ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ عَلَيْكَ . اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَةِ تَوْحِيْدِیْ وَتَفْرِيْدِیْ فَحَانَ اَنْ تُعَانَ وَ تُعْرَفَ بَيْنَ النَّاسِ . بُوْرِكَ يَا اَحْمَدُ وَكَانَ مَا بُوْرِكَ فِيْكَ حَقًّا يَّقِيْنًا . اَنْتَ وَجِيْهٌ فِیْ حَضْرَتِیْ . اِخْتَرْتُكَ لِنَفْسِیْ وَاَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَةٍ لَّا يَعْلَمُهَا الْخَلْقُ وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيَتْرُكَكَ حَتّٰی يَمِيْزَ الْخَبِيْثَ

فیصلہ کرے اور سب فیصلہ کرنے والوں سے بہتر ہے۔ اور تجھے یہ لوگ ڈراتے ہیں ۔ تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے میں نے تیرا نام متوکل رکھا۔ خدا عرش سے تیری تعریف کر رہا ہے، ہم تیری تعریف کرتے ہیں اور تیرے پر درود بھیجتے ہیں۔ اے احمد تیرا نام تو باقی رہے گا اور میرا نام باقی نہ رہے گا۔ تو دنیا میں ایسے طور پر رہ کہ گویا تو ایک غریب الوطن بلکہ ایک راہرو ہے اور صالح اور راستباز لوگوں میں سے ہو۔ میں تیری مدد کے لئے ہوں اور اپنی محبت تیرے پر ڈال دی۔ توحید کو پکڑو۔ توحید کو پکڑو اے فارس کے بیٹو! اور تُو ان لوگوں کو جو ایمان لائے یہ خوشخبری سُنا کہ ان کا قدم خدا کے نزدیک صدق کا قدم ہے اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق سے رُخ گردانی نہ کر اور لوگوں کے ملنے سے نہ تھک اور اطاعت اختیار کرنے والوں کے لئے اپنے بازو کو جھکا ۔ صُفّہ میں رہنے والے ہیں اور تو کیا جانتا ہے کہ کیا ہیں صُفّہ میں رہنے والے ۔ تو دیکھے گا کہ اُن کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوں گے ۔ وہ تیرے پر درود بھیجیں گے اور کہیں گے کہ اے ہمارے ربّ! ہم نے ایک منادی کرنے والے کی آواز سنی جو ایمان کی طرف بُلاتا ہے۔ اے ہمارے ربّ! ہم ایمان لائے پس ہمیں بھی گواہوں میں لکھ۔ تیری شان عجیب ہے اور تیرا اجر قریب ہے۔ اور آسمانوں اور زمینوں کی ایک فوج تیرے ساتھ ہے۔ تو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ میری توحید اور تفرید پس وہ وقت آتا ہے کہ تو مدد دیا جائے گا اور لوگوں میں مشہور کیا جائے گا۔ اے احمد! تُو برکت دیا گیا اور جو کچھ تجھے برکت دی گئی وہ تیرا ہی حق تھا۔ تو میری درگاہ میں وجیہہ ہے۔ میں نے تجھے اپنے لئے چنا۔ تو مجھ سے بمنزلہ اس قُرب کے ہے جس کو دُنیا نہیں جانتی اور خدا ایسا نہیں کہ تجھ کو چھوڑ دے جب تک

تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 197 طبع چہارم از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 220 پر درج ہے

صفحہ 666

حوالہ نمبر 111

حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی دعا کا معجزانہ اثر

اللہ تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ دوبارہ اشاعت کے لئے اپنا وہ وعدہ پورا فرمایا کہ وہ جو پیشتر کتابوں میں اشتہار دے چکا تھا۔ اور جس کا ثبوت یہ ہے کہ وہ روز بروز زیادہ سے زیادہ احمدیت کی طرف کھنچتے چلے آتے ہیں۔ آج ایک عالم احمدیت کی قبولیت میں سرگرم عمل ہے۔ اس روحانیت کے چشمہ صافی سے بیشتر حصہ ہدایت و ایمان لے کر اپنے سینوں کے لئے جاری فرمایا ہے احباب متوجہ ہوں ۔ اور قادیان عزیز کی ایک تازہ خبر سناتا ہوں کہ جب عالم اسباب کی ساری دوائیاں ختم ہو چکی تھیں ۔ اس وقت سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی دعا نے کیا مسیحائی کی ۔ میرے خسر شاہ محمد توحید صاحب جو اسی کیمپ میں حوالدار ہیں۔ یکم اپریل 1937ء کو فیلڈ ہسپتال میں بخار ہونے کی حالت میں گئے۔ وہاں کا ڈاکٹر ہندو تھا تشخیص نہ کر سکا۔ حالت نازک ہونے پر سول ہسپتال بھیج دیا گیا وہاں گئے ۔ مگر چار پانچ دن میں ہی ان کو یہ خیال پیدا ہو گیا کہ اب میرے مرنے پر مجھ کو اپنے گاؤں میں دفن کیا جائے۔ چنانچہ انہوں نے وصیت اور تاکید کی خدا تعالیٰ کے فضل سے ہم بفضلہ تعالیٰ کہ اس نے ایک نہیں کر سکتے اس کی قوی طاقت

ناگہانی طور پر جاتی رہی ۔ بلکہ مجھ میں کوئی سستی نہیں رہی ۔ اور میں اپنے آپ کو بالکل تندرست پاتا ہوں ۔ میں حیران تھا کہ یہ کیا ماجرا ہے کہ اچانک پسینے بہت آنے لگے ۔ قے پر قے آتی تھی ۔ جس میں خون کی بھی خفیف سی آمیزش تھی ۔ پیشاب بالکل بند ہو گیا تھا۔ پنڈلی کو سخت تشنج تھا۔ جس سے تکلیف کے مارے چیخیں نکلتی تھیں ۔ بواسیر خونی طبعاً جو عارضہ ہو چکا تھا۔ پیشاب کے راستے کے بند ہونے کا ذکر تو ڈاکٹر بالعموم فرماتے رہے ۔ مگر Albumin پیشاب میں تھا ۔ اور Micro- scopic examination سے گردوں کی حالت کے متعلق کسی خرابی کا پتہ چلا ۔ کہ Uraemia یعنی زہر کا سارے بدن میں پھیلنے کا پراسس جاری ہو چکا تھا۔ دل کی حرکت کمزور ہو چکی تھی ۔ نبض دھیمی پڑتی تھی غشی پر غشی آتی تھی۔ ہچکیاں پیدا ہو گئی تھیں ڈاکٹروں نے مایوسی کے عالم میں ہاتھ دھو لئے ۔ پاؤں کی رگوں کو کاٹ کر پانی دینا شروع کیا ۔ اس سے بھی پسینہ کی بوندیں پیدا ہوئیں ۔ آنکھیں بے نور و بے طاقت ہو گئیں۔ چونکہ پیشاب کئی گھنٹے سے بالکل بند تھا۔ سونے نہ دیا گیا کہ غفلت طاری نہ ہو سکے۔ موت کی علامات پیدا ہونے لگیں۔ نبض پورے طور پر ساقط ہو گئی۔ دل کی دھڑکن محض خفیف سی رہ گئی ۔ پینے کے لئے پانی بند کر دیا گیا ۔ ڈاکٹر صاحبان سو گئے تھے۔ اور حامد جو کہ میری بڑی بہن کا لڑکا تھا وہ میرے پاس بیٹھا تھا۔ اور میں نے کہا کہ یہ کیا ماجرا ہے۔ اس پر میں نے دیکھا کہ محمد توحید کا جسم سرد ہو گیا ہے اور آنکھیں سفید ہو گئی ہیں۔

باہر سے آیا ۔ کہ اپنی بہن کو جو کہ ادھر کھڑی رو رہی ہے کہہ دو ۔ ایک تعویذ لا کر پہنایا جائے ۔ میں نے اس سے کہا کہ اندر آ کر لڑکے کی حالت دیکھ لے ۔ مگر میں نے احمدیت سے دل کو مضبوط کر لیا ۔ اور عورتوں کو بھی دعائیں کرنے کے لئے آمادہ کر لیا ۔ میں نے اسی وقت کہہ دیا کہ سب لوگ زمین پر لیٹ کر دعائیں مانگنے لگ جائیں ۔ اور اپنے رب کے آگے روئیں اور سجدے میں گر جائیں ۔ میں نے ایک تار حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی کی خدمت میں روانہ کیا کہ حضور تخلیہ میں پر درد دعا کریں اور ایک تار حضرت نواب محمد علی خان صاحب کی خدمت میں روانہ کیا ۔ میں نے رو رو کر دعائیں کیں۔ کیونکہ اس وقت ہم لوگ بے کس ہوئے تھے ۔ اور خطرہ عظیم تھا کہ بچہ یتیم نہ ہو جائے۔ اس روز عجیب عالم تھا۔ مایوسی اور یاسیت کی ایک ہیبت ناک گھٹا چھائی ہوئی تھی۔ اور میں نے کل سات تار دیئے ۔ جن پر پندرہ روپیہ خرچ آیا۔ ایک تار میں نے رات کے پونے دس بجے دی تھی۔ تار بھیجنے کے بعد ہم لوگ پھر دعاؤں میں لگ گئے ۔ خدا تعالیٰ سے اپنا فضل مانگا ۔ میری ساس ۔ اور عورتیں سب بے حد روئیں۔ کچھ عرصہ کے بعد تار ملی۔ جس میں حضور نے تحریر فرمایا تھا ۔ کہ میں نے پر درد دعا کی ہے۔ خدا تعالیٰ فضل فرمائے۔ اس تار کے ملنے پر ہم کو ایک گونہ تسلی ہوئی ۔ کہ اب خدا تعالیٰ اسے بچا لے گا ۔ چنانچہ تار ملنے کے چند منٹ بعد ہی اس کے جسم میں حرکت پیدا ہوئی ۔ اور اس نے آنکھیں کھول دیں۔ اور پیشاب کیا ۔ اور پھر وہ بولنے لگا ۔ اور اس کی طبیعت سنبھلنے لگی ۔ میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میرے خسر کو کوئی دوائی نہیں دی گئی ۔ اور نہ ہی ان کو ہسپتال سے کوئی فائدہ پہنچا ۔ بلکہ یہ صرف حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ کی دعاؤں کا اعجاز تھا جس نے ان کو موت کے منہ سے بچا لیا۔

روزنامہ الفضل قادیان 31 جولائی 1937ء صفحہ 5 کالم 2 | یہ حوالہ صفحہ 221 پر درج ہے

صفحہ 667

حوالہ نمبر 112

قاضی محمد یوسف قادیانی کی قلم سے اخبار الفضل قادیان جلد 7 شمارہ نمبر 100 مورخہ 30 جون 1920ء

یہ حوالہ صفحہ 221، 222 پر درج ہے

Back

صفحہ 668

حوالہ نمبر 113

٣٤٩

اربعین نمبر ٢

وہ عیب میں داخل ہیں یا چند ایسی پیشگوئیاں پیش کریں جو ان کے نزدیک وہ پوری نہیں ہوئیں۔ مگر وہ امور ایسے ہوں جو انبیاء کے سوانح یا انکی پیشگوئیوں میں اُن کی نظیر مل نہ سکے۔ مگر یاد رہے کہ اگر وہ ایسی مہذب اور دانشمند مجلس میں یہ تصفیہ کرنا چاہیں تو ضرور ثابت ہو جائیگا کہ وہ صرف بہتان اور افتراء کرنے والے ہیں۔ غائبانہ ذکر تو صرف غیبت کہلاتا ہے۔ اس سے زیادہ نہیں اور اُس سے کچھ ثابت نہیں ہوتا کیونکہ اس میں شخص غیبت کنندہ کو بوجہ اکیلا ہونے کے ہر ایک کذب اور افتراء کی بہت گنجائش ہوتی ہے پس بلاشبہ ایسی غیبت جس مجلس میں سُنی جاتی ہے وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک ملعونوں کی مجلس ہوتی ہے۔ اگر انسان اپنے دل میں سچائی کی طلب رکھتا ہے تو جو بات اس کو سمجھ نہ آوے اس کو پوچھ لینا چاہئے۔ اگر میرے پر یہ الزام لگایا جائے کہ کوئی پیشگوئی میری پوری نہیں ہوئی یا پورا ہونے کی اُمید جاتی رہی تو اگر میں نے بحوالہ انبیاء علیہم السلام کی پیشگوئیوں کے یہ ثابت نہ کر دیا کہ درحقیقت وہ تمام پیشگوئیاں پوری ہو گئی ہیں یا بعض امتداد کے لائق ہیں اور وہ اُسی رنگ کی ہیں جیسا کہ نبیوں کی پیشگوئیاں تھیں۔ تو بلاشبہ میں ہر ایک مجلس میں جھوٹا ٹھیرونگا۔ لیکن اگر میری باتیں نبیوں کی باتوں سے مشابہ ہیں تو جو مجھے جھوٹا کہتا ہے اُس کو خدا تعالیٰ کا خوف نہیں ہے۔ بعض بے خبر ایک یہ اعتراض بھی میرے پر کرتے ہیں کہ اس شخص کی جماعت اس پر فقرہ علیہ الصلوٰۃ والسلام اطلاق کرتے ہیں اور ایسا کرنا حرام ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ میں مسیح موعود ہوں۔ اور دوسروں کا صلوٰۃ یا سلام کہنا تو ایک طرف خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص اس کو پاوے۔ میرا سلام اُس کو کہے۔ اور احادیث اور تمام شروح احادیث میں مسیح موعود کی نسبت صدہا جگہ صلوٰۃ اور سلام کا لفظ لکھا پڑا موجود ہے۔ پھر جبکہ میری نسبت نبی علیہ السلام نے یہ لفظ کہا صحابہ نے کہا بلکہ خدا نے کہا تو میری جماعت کا میری نسبت یہ فقرہ بولنا کیوں حرام ہوگیا۔ خود عام طور پر تمام مومنوں کی نسبت قرآن شریف میں

اربعین نمبر 2 صفحہ نمبر 6 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 349 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 222 پر درج ہے

صفحہ 669

حوالہ نمبر 114 اربعین نمبر 4 ۴۲۵

امتحان ہے۔ اور وہ تمہیں آزماتا ہے کہ تم اس نمونہ کے دکھلانے میں کیسے ہو۔ تم سے پہلے جلالی زندگی کا نمونہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے قابل تعریف دکھلایا اور وہ ایسا ہی وقت تھا کہ جلالی طرز کی زندگی کا نمونہ دکھلایا جاتا کیونکہ ایماندار لوگ بتوں کی تعظیم کے لئے اور مخلوق پرستی کی حمایت میں بھیڑ بکری کی طرح قتل کئے جاتے تھے۔ اور پتھروں اور ستاروں اور عناصر اور دوسری مخلوق کو خدا کی جگہ دی تھی۔ سو وہ زمانہ بے شک جہاد کا زمانہ تھا تا جو لوگ ظلم سے تلوار اُٹھاتے ہیں وہ تلوار ہی سے قتل کئے جائیں ۔ سو صحابہ رضی اللہ عنہم نے تلوار اٹھانے والوں کو تلوار ہی سے خاموش کیا اور اسم محمّد جو مظہر جلال اور شان محبوبیت اپنے اندر رکھتا ہے اس کی تجلّی ظاہر کرنے کے لئے خوب جوہر دکھلائے اور دین کی حمایت میں اپنے خون بہا دئیے ۔ پھر بعد اس کے وہ کذاب پیدا ہوئے جو اسم محمّد کا جلال ظاہر کرنے والے نہیں تھے بلکہ اکثر ان کے چوروں اور ڈاکوؤں کی طرح تھے جو مجھ سے پہلے گزر گئے جو جھوٹے طور پر مہدی کہلاتے تھے اور لوگ ان کو خود غرض سمجھتے تھے۔ جیسا کہ آجکل بھی بعض سرحدی نادان اس قسم کے مولویوں کی تعلیم سے دھوکا کھا کر مہدوی جلال کے ظاہر کرنے کے بہانہ سے لوٹ مار اپنا شیوہ رکھتے ہیں اور آئے دن ناحق کے خون کرتے ہیں مگر تم خوب توجہ کر کے سُن لو کہ اب اسم محمد کی تجلّی ظاہر کرنے کا وقت نہیں۔ یعنی اب جلالی رنگ کی کوئی خدمت باقی نہیں۔ کیونکہ مناسب حد تک وہ جلال ظاہر ہو چکا۔ سورج کی کرنوں کی اب برداشت نہیں۔ اب چاند کی ٹھنڈی روشنی کی ضرورت ہے

یہاں نہایت پُر زور پیشگوئی ہے یہ الہام بمنزلہ بیت اللہ مکّہ ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ چونکہ اس بیت اللہ کو ظاہراً گرنا چاہئے اس لئے اسے علامت ظاہری نشانوں کا خدا نے ٹھہرایا چنانچہ میں دیکھتا ہوں کہ ہر یک ایذاء کے وقت جو مجھ تک پہنچے خدا تعالیٰ کی طرف سے اس بارہ میں الہام ہے ۔ یکے پائے من می بوسید و من میگفتم کہ حجر اسود منم۔ منہ

۱۰۳

یہ حوالہ صفحہ 222 پر درج ہے اربعین نمبر 4 صفحہ 103 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 445-446 از مرزا قادیانی

صفحہ 670

حوالہ نمبر 114 اربعین نمبر ۴ ۲۲۶

اور وہ احمد کے رنگ میں ہو کر ملے۔ اب اسم احمد کا نمونہ ظاہر کرنے کا وقت ہے۔ یعنی جمالی طور کی صفات کے ایام ہیں اور اخلاقی کمالات ظاہر کرنے کا زمانہ ہے۔ ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مثیل موسیٰ بھی تھے اور مثیل عیسیٰ بھی۔ موسیٰ جلالی رنگ میں آیا تھا اور جلال اور الہی غضب کا رنگ اُس پر غالب تھا مگر عیسیٰ جمالی رنگ میں آیا تھا اور فروتنی اس پر غالب تھی۔ سو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مکی اور مدنی زندگی میں یہ دونوں نمونے جلال اور جمال کے ظاہر کر دیئے اور پھر چاہا کہ آپ کے بعد آپ کی فیض یافتہ جماعت بھی جو آپ کے روحانی وارث ہیں انہی دونوں نمونوں کو ظاہر کرے۔ سو آپ نے محمدی یعنی جلالی نمونہ دکھلانے کے لئے صحابہ رضی اللہ عنہم کو مقرر فرمایا کیونکہ اس زمانہ میں اسلام کی مظلومیت کے لئے یہی علاج قرین مصلحت تھا پھر جب وہ زمانہ جاتا رہا اور کوئی شخص زمین پر ایسا نہ رہا کہ مذہب کے لئے اسلام پر جبر کرے اس لئے خدا نے جلالی رنگ کو منسوخ کر کے اسم احمد کا نمونہ ظاہر کرنا چاہا یعنی جمالی رنگ دکھلانا چاہا۔ سو اس نے قدیم وعدہ کے موافق اپنے مسیح موعود کو پیدا کیا جو عیسیٰ کا اوتار اور احمدی رنگ میں ہو کر جمالی اخلاق کو ظاہر کرنے والا ہے اور خدا نے تمہیں اس عیسیٰ احمد صفت کے لئے بطور اعضا کے بنایا ۔ سو اب وقت ہے کہ اپنی اخلاقی قوتوں کا حُسن اور جمال دکھلاؤ۔ چاہیئے کہ تم میں خدا کی مخلوق کے لئے عام ہمدردی ہو اور کوئی بخل اور دھوکا تمہاری طبیعت میں نہ ہو تم اسم احمد کے مظہر ہو ۔ سو چاہیئے کہ دن رات خدا کی حمد و ثنا تمہارا کام ہو اور حامدانہ حالت جو حامد ہونے کے لئے لازم ہے اپنے اندر پیدا کرو اور تم کامل طور پر خدا کی کیونکر حمد کر سکتے ہو جب تک تم اس کو رب العالمین یعنی تمام دنیا کا پالنے والا نہ سمجھو اور تم کیونکر اس اقرار میں سچے ٹھہر سکتے ہو جب تک ایسا ہی اپنے تئیں بھی نہ بناؤ۔ کیونکہ اگر تو کسی نیک صفت کے ساتھ کسی کی تعریف کرے

۱۰۴

اربعین نمبر 4 صفحہ 103 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 445-446 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 222 پر درج ہے

صفحہ 671

(حوالہ نمبر 115)

۲۵۸ خطبہ الہامیہ

هُوَ نَبِيُّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنِّسْبَةُ بَيْنِيْ نبی کریم ماست صلی اللہ علیہ وسلم و نسبت من بجناب وے ہمارے نبی کریم ہیں صلی اللہ علیہ وسلم اور میری نسبت ان کی

وَبَيْنَهُ كَنِسْبَةِ مُعَلِّمٍ وَمُتَعَلِّمٍ وَإِلَيْهِ أَشَارَ نسبت اُستاد و شاگرد است و بسوئے ایں سخن جناب کے ساتھ اُستاد و شاگرد کی نسبت ہے ۔ اور خدا تعالیٰ کا

سُبْحَانَهُ فِيْ قَوْلِهِ وَآخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا اشارہ مے کند بایں قول خداوندی و آخرین منھم لما یلحقوا بھم یہ قول کہ و اخرین منھم لما یلحقوا بھم اِسی بات کی طرف اشارہ کرتا ہے

بِهِمْ فَفَكِّرْ فِي قَوْلِهِ آخَرِيْنَ ۔ وَاَنْزَلَ اللهُ عَلَىَّ پس در لفظ آخرین فکر بکنید ۔ و خدائے مجید پس آخرین کے لفظ میں فکر کرو ۔ اور خدائے مجید

فَيْضَ هَذَا اَلرَّسُوْلِ فَأَتَمَّهُ وَأَكْمَلَهُ وَجَذَبَ فیض ایں رسولِ کریم فرود آورد و آں را کامل گردانید و نے اس رسولِ کریم کا فیض نازل فرمایا اور اس کو کامل بنایا اور اس

إِلَىَّ لُطْفَهُ وَجُوْدَهُ حَتّٰى صَارَ وُجُوْدِيْ وُجُوْدَهُ لطف و جود آں نبی کریم را بسوے من بکشید تا ایں کہ وجودِ من وجود او گردید نبی کریم کے لطف اور جود کو میری طرف کھینچا یہاں تک کہ میرا وجود اس کا وجود ہو گیا

فَمَنْ دَخَلَ فِيْ جَمَاعَتِيْ دَخَلَ فِيْ صَحَابَةِ پس آنکہ در جماعت من داخل شد فی الحقیقت در صحابہ پس جو شخص میری جماعت میں داخل ہوا در حقیقت وہ صحابہ میں

سَيِّدِ اَلْمُرْسَلِيْنَ :اھ

خطبہ الہامیہ صفحہ 171 مندرجہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 258، 259 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 223 پر درج ہے

صفحہ 672

حوالہ نمبر 115

۲۵۹

خطبہ الہامیہ

سَيِّدِ خَاتَمِ الْمُرْسَلِيْنَ ۔ وَهٰذَا هُوَ مَعْنٰى مَا خُبِّرْتُمْ اَنَّهُ بسرائے سید خاتم المرسلین داخل شد و ایں معنی است مرآنکہ خبر دادند شما را سردار خاتم المرسلین کے خیمہ میں داخل ہوا ۔ اور یہی معنے اُس خبر کے ہیں جو تمھیں دی گئی کہ

كَمَا لَا يَخْفٰی عَلَی الْمُتَدَبِّرِيْنَ ۔ وَمَنْ فَرَّقَ بَيْنِیْ وَ چنانکہ بر اندیشہ کنندگاں پوشیدہ نیست و آنکہ در من و در مصطفیٰ جیسا کہ سوچنے والوں پر پوشیدہ نہیں اور جو شخص مجھ میں اور مصطفیٰ میں

بَيْنَ الْمُصْطَفٰی فَمَا عَرَفَنِیْ وَمَا رَاٰی وَاِنَّ تفریق میکند مرا نہ دیدہ است و نشناختہ است ۔ و ہرآئینہ تفریق کرتا ہے اُس نے مجھے نہیں دیکھا ہے اور نہیں پہچانا ہے ۔ اور بے شک

نَبِيَّنَا صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ اٰدَمَ خَاتِمَةِ پیمبر ما صلی اللہ علیہ وسلم آدم خاتمہ دنیا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کے خاتمہ کے آدم

الدُّنْيَا وَمُنْتَهَی الْاَيَّامِ وَخُلِقَ كَاٰدَمَ بَعْدَ و پایاں روز ہائے زمانہ بودند ۔ و آنحضرت مانند آدم مخلوق شدند اور زمانہ کے دنوں کے منتہیٰ تھے ۔ اور آنحضرت آدم کی طرح پیدا کئے گئے

مَا خُلِقَ عَلَی الْاَرْضِ كُلُّ نَوْعٍ مِّنَ الدَّوَابِّ بعد زاں کہ بر زمیں ہر گونہ حشرات اس کے بعد کہ زمین پر ہر طرح کے کیڑے مکوڑے

وَكُلُّ صِنْفٍ مِّنَ السِّبَاعِ وَالْاَنْعَامِ وَلَمَّا خُلِقَ و وحوش و درندہا پیدا شدند و ہرگاہ اور چارپائے اور درندے پیدا ہو گئے اور جس وقت

خطبہ الہامیہ صفحہ 171 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 258، 259 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 223 پر درج ہے

صفحہ 673

(حوالہ نمبر 116)

خطبہ الہامیہ ۲۷۱

لَفْظٍ مِّنْهُمْ مِنْ غَيْرِ اَنْ يَكُوْنَ الرَّسُوْلُ مَوْجُوْدًا مفہوم متحقق شود مگر رسول کرم در آخرین موجود کا مفہوم متحقق ہو اگر رسول کریم آخرین میں موجود

فِى الْاٰخِرِيْنَ كَمَا كَانَ فِى الْاَوَّلِيْنَ - فَلَا بُدَّ مِنْ نباشد ہمچناں کہ در اولیں موجود بود پس از نہ ہوں جیسا کہ پہلوں میں موجود تھے پس جو کچھ

تَسْلِيْمِ مَا ذَكَرْنَاهُ وَلَا مَفَرَّ لِلْمُنْكِرِيْنَ - وَ تسلیم آنچہ ذکر کردیم چارہ نیست و برائے منکراں راہ گریز بند است و ہم نے ذکر کیا اُس کی تسلیم سے چارہ نہیں اور منکروں کے لئے بھاگنے کا راستہ بند ہے اور

مِنْ اَنْكَرَ مِنْ اَنْ بَعَثَ النَّبِىَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ کسے کہ ایں معنی انکار کرد کہ بعثت نبی علیہ السلام جس نے اس بات سے انکار کیا کہ نبی علیہ السلام کی بعثت

يَتَعَلَّقُ بِالْاَلْفِ السَّادِسِ كَتَعَلُّقِهِ بِالْاَلْفِ با ہزار ششم تعلق دارد ہمچناں کہ با ہزار پنجم چھٹے ہزار سے تعلق رکھتی ہے جیسا کہ پانچویں ہزار سے

الْخَامِسِ فَقَدْ اَنْكَرَ الْحَقَّ وَنَصَّ الْفُرْقَانِ وَصَارَ تعلق داشت او یقیناً منکر حق و نص فرقان شد و از تعلق رکھتی تھی پس اُس نے حق کا اور نصِ قرآن کا انکار کیا

مِنَ الظَّالِمِيْنَ - بَلِ الْحَقُّ اَنَّ رُوْحَانِيَّتَهُ عَلَيْهِ ظالماں گردید بلکہ حق آنکہ روحانیت آں حضرت علیہ السلام بلکہ حق یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی روحانیت

خطبہ الہامیہ صفحہ 182 مندرجہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 271، 272 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 223 پر درج ہے

صفحہ 674

حوالہ نمبر 116

خطبہ الہامیہ ۲۷۲

اَلسَّلَامُ كَانَ فِي اٰخِرِ الْاَلْفِ السَّادِسِ اَعْنِيْ فِيْ در آخر ہزار ششم یعنے چھٹے ہزار کے آخر میں یعنے

هٰذِهِ الْاَيَّامِ اَشَدَّ وَاَقْوٰى وَاَكْمَلَ مِنْ تِلْكَ دریں ایام نسبت بآں سالہا اکمل و اقوی و اشد است ان دنوں میں بہ نسبت اُن سالوں کے اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے ۔

الْاَعْوَامِ بَلْ كَالْبَدْرِ التَّامِّ وَلِذٰلِكَ لَا نَحْتَاجُ بلکہ مانند بدر کامل است ازینجا ھست کہ ما احتیاج بلکہ چودھویں رات کے چاند کی طرح ہے ۔ اور اس لئے ہم

اِلَى الْحُسَامِ وَلَا اِلٰى حِزْبٍ مِّنْ مُّحَارِبِيْنَ - وَ بشمشیر و گروہ مردم آمادہ محاربین و تلوار اور لڑنے والے گروہ کے محتاج نہیں اور

لِاَجْلِ ذٰلِكَ اِخْتَارَ اللهُ سُبْحَانَهُ لِبَعْثِ الْمَسِيْحِ بجہت ایں معنی ھست کہ خداوند سبحانہٗ تعالیٰ برائے بعثت مسیح موعود اسی لئے خدا تعالیٰ نے مسیح موعود کی بعثت کے لئے

الْمَوْعُوْدِ عِدَّةً مِّنَ الْمِاٰتِ كَعِدَّةِ لَيْلَةِ الْبَدْرِ مِنْ شمار صدہا را مانند شمار شب بدر از صدیوں کے شمار کو رسول کریم کی ہجرت کے بعد کی راتوں

هِجْرَةِ سَيِّدِنَا خَيْرِ الْكَائِنَاتِ لِتَدُلَّ تِلْكَ الْعِدَّةُ ہجرت رسول کریم اختیار فرمود تا آں شمار بر مرتبہ آں کے شمار کی مانند اختیار فرمایا تا وہ شمار اس مرتبہ پر

خطبہ الہامیہ صفحہ 182 مندرجہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 271، 272 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 223 پر درج ہے

صفحہ 675

حوالہ نمبر 117

تحفہ گولڑویہ ۱۵۳

بعد میں تاریخ میں دیکھ کر اس کا تحقق ہونا بیان کیا گیا تھا اسی طرح سے یہ امر متحقق ہوا اور کئی سو لوگوں نے گواہی دی کہ وہ پیشگوئی بہت صفائی سے پوری ہو گئی ۔ چنانچہ اب تک وہ محضر نامہ میرے پاس موجود ہے جس پر ہندوؤں کی گواہیاں بھی ثبت ہیں ایسا ہی پیشگوئی کے مطابق میرے گھر میں چار لڑکے پیدا ہوئے اور پسر چہارم کی پیدائش تک پیشگوئی کے مطابق عبدالحق غزنوی زندہ رہا۔ جس میں کیسی قدرت الٰہی پائی جاتی ہے ایسا ہی لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ مکرمی اخویم مولوی حکیم نور الدین صاحب کے گھر میں ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا بدن پھوڑوں سے بھرا ہوا تھا اور وہ پھوڑے یک سال سے بھی کچھ زیادہ دنوں تک اس لڑکے کے بدن پر رہے جو بڑے بڑے اور خطرناک اور بد نما اور موٹے اور ناقابل علاج معلوم ہوتے تھے جن کے اب تک داغ موجود ہیں۔ کیا یہ طاقتیں بجز خدا کے کسی اور میں بھی پائی جاتی ہیں؟ پھر یہ پیشگوئیاں کچھ ایک دو پیشگوئیاں نہیں بلکہ اسی قسم کی سو سے زیادہ پیشگوئیاں ہیں جو کتاب تریاق القلوب میں درج ہیں۔ پھر ان سب کا کچھ بھی ذکر نہ کرنا ۔ اور بار بار احمد بیگ کے داماد یا آتھم کا ذکر کرتے رہنا کس قدر مخلوق کو دھوکہ دینا ہے ۔ اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ مثلاً کوئی شریر النفس ان تین ہزار معجزات کا کبھی ذکر نہ کرے جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ظہور میں آئے اور حدیبیہ کی پیشگوئی کو بار بار ذکر کرے کہ وہ وقتِ اندازہ کردہ پر پوری نہیں ہوئی ۔ یا مثلاً حضرت مسیح کی صاف اور صریح پیشگوئیوں کا کبھی کسی کے پاس ذکر تک نہ کرے اور بار بار یہی شوشے کے طور پر لوگوں کو یہ کہے کہ کیونکر مانیں کہ وہ وعدہ پورا ہو گیا جو حضرت مسیح نے فرمایا تھا کہ ابھی تم میں سے کئی لوگ زندہ ہونگے جو مجیءِ پسر میں آئینگے۔ یا مثلاً شرارت کے طور پر داؤد کا تخت دوبارہ قائم کرنے کی پیشگوئی کو بیان کر کے پھر شوشے سے کہے کہ کیوں صاحب کیا یہ سچ ہے کہ حضرت مسیح بادشاہ بھی ہو گئے تھے اور داؤد کا تخت اُن کو مل گیا تھا۔ مسیح مفتری نہیں ٹھہرتا

تحفہ گولڑویہ صفحہ 67 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 153 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 223 پر درج ہے

صفحہ 676

حوالہ نمبر 118

نعمة الحق ٧٢

شہرت دی جائیگی۔ اور تو اس سے کیوں تعجب کرتا ہے کہ خدا ایسا کرے گا۔ کیا تیرے پر وہ وقت نہیں آیا کہ تو محض معدوم تھا اور تیرے وجود کا دنیا میں نام و نشان نہ تھا۔ پھر کیا خدا کی قدرت سے یہ بعید ہے کہ تیری ایسی تائیدیں کرے۔ اور یہ وعدے پورے کر کے دکھلاوے۔ اور تو اُن لوگوں کو جو ایمان لائے یہ خوشخبری سُنا کہ اُن کا قدم خدا کے نزدیک صدق کا قدم ہے۔ سو اُن کو وہ وحی سُنا دے جو تیری طرف تیرے رب سے ہوئی۔ اور یاد رکھ کہ وہ زمانہ آتا ہے کہ لوگ کثرت سے تیری طرف رجوع کریں گے۔ سو تیرے پر واجب ہے کہ تو اُن سے بدخلقی نہ کرے اور تجھے لازم ہے کہ تو اُن کی کثرت کو دیکھ کر تھک نہ جائے۔ اور ایسے لوگ بھی ہونگے جو اپنے وطنوں سے ہجرت کر کے تیرے مجاوروں میں آکر آباد ہونگے۔ وہی ہیں جو خدا کے نزدیک اصحاب الصّفّہ کہلاتے ہیں۔ اور تو جانتا ہے کہ وہ کس شان اور کس ایمان کے لوگ ہونگے جو اصحاب الصّفّہ کے نام سے موسوم ہیں وہ بہت قوی الایمان ہونگے۔ تو دیکھے گا کہ اُن کی آنکھوں سے آنسو جاری ہونگے۔ وہ تیرے پر درود بھیجیں گے اور کہیں گے کہ اے ہمارے خدا ! ہم نے ایک آواز دینے والے کی آواز سُنی جو ایمان کی طرف بلاتا ہے۔ سو ہم ایمان لائے ۔ اِن تمام پیشگوئیوں کو تم دیکھ لو کہ وقت پر واقع ہوئیں۔

ان چند سطروں میں جو پیشگوئیاں ہیں وہ اس قدر نشانوں پر مشتمل ہیں جو دس لاکھ سے زیادہ ہونگے اور نشان بھی ایسے کھلے کھلے ہیں جو عقل اور تجربہ پر خارق عادت ہیں اور ہم بغرض صفائی بیان ان پیشگوئیوں کے اقسام بیان کرتے ہیں بعد اس کے یہ ثبوت دیں گے کہ یہ پیشگوئیاں پوری ہو گئی ہیں۔ اور درحقیقت یہ خارق عادت نشان ہیں اور اگر بہت ہی سخت گیری اور زیادہ سے زیادہ احتیاط سے بھی ان کا شمار کیا جائے تب بھی یہ نشان جو ظاہر ہوئے دس لاکھ سے زیادہ ہونگے۔

پیشگوئیوں کے اقسام میں سے اوّل وہ پیشگوئی ہے جس کی طرف وحی الٰہی یالفتٰی امرالزمان الیک میں اشارہ ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تو صرف لڑکی نہیں پیدا ہوا بلکہ لڑکا

براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 72 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 72 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 224 پر درج ہے

صفحہ 677

حوالہ نمبر 119

٦٣ نبوۃ الحق

متفق خیال ہوں گے ۔ جواب یہی ہو گا کہ دیکھتے ہیں لیکن حکیم مطلق نے سونے میں ایک امتیازی نشان رکھا ہے جس کو صرّاف فی الفور شناخت کر لیتے ہیں ۔ اور بہتیرے سفید اور چمکتے ہوئے پتھر ایسے ہیں کہ جو ہیرے سے بہت ہی مشابہ ہیں اور بعض نادان اُن کو ہیرا سمجھ کر ہزار ہا روپیہ کا نقصان اٹھا لیتے ہیں۔ لیکن صانع عالم نے ہیرے کے لئے ایک امتیازی نشان رکھا ہوا ہے جس کو ایک دانشمند جوہری شناخت کر سکتا ہے ۔ ایسا ہی دنیا کے کل جواہرات اور عمدہ چیزوں کو دیکھ لو کہ اگرچہ بظاہر نظر کتنی ہی ردی اور ادنیٰ درجہ کی چیزیں اُن سے شکل میں مل جاتی ہیں مگر ہر ایک پاک اور کامل جوہر اپنے اندر ایک امتیازی نشان لئے اپنی خصوصیت کو ظاہر کر دیتا ہے ۔ اور اگر ایسا نہ ہوتا تو دنیا میں اندھیر پڑ جاتا ۔ اور خود انسان کو دیکھو کہ اگرچہ وہ صورت اور ہیئت میں حیوانات سے مشابہت رکھتا ہے جیسا کہ بندر سے تاہم اُس میں ایک امتیازی نشان ہے جس کی وجہ سے ہم کسی بندر کو انسان نہیں کہہ سکتے ۔ پھر جبکہ اس مادی دنیا میں جو نا پائیدار اور بے ثبات ہے اور جس کا نقصان بھی بمقابلہ آخرت کے کچھ چیز نہیں ہے ہر ایک عمدہ اور نفیس جوہر کیلئے حکیم مطلق نے امتیازی نشان قائم کر دیا ہے جس کی وجہ سے وہ جوہر بسہولت شناخت کیا جاتا ہے ۔ تو پھر مذہب جس کی غلطی جہنم تک پہنچاتی ہے اور بیدینی ایک ابدی اور لازوال عذاب کا موجب ہے اُس کا غلط شناخت ہلاکت کے گڑھے میں ڈالتا ہے کیونکر یقین کیا جائے کہ اُس کی شناخت کے لئے کوئی بھی قطعی اور یقینی نشان نہیں پس ایسے شخص سے زیادہ کون احمق اور نادان ہے کہ جو خیال کرتا ہے کہ سچے مذہب اور سچے راستباز کے لئے کوئی امتیازی نشان خدا نے قائم نہیں کیا ۔ سچ تو یہ ہے کہ خدا تعالیٰ قرآن شریف میں آپ فرماتا ہے کہ کتاب برحق جو مذہب کی بنیاد ہے امتیازی نشان اپنے اندر رکھتی ہے جس کی نظیر منہ کوئی پیش نہیں کر سکتا ۔ اور نیز فرماتا ہے کہ ہر ایک مومن کو فراست عطا ہوتی ہے یعنی امتیازی نشان جس سے حق شناخت کیا جاتا ہے پس یقیناً سمجھو کہ سچا مذہب اور سچا راستباز ضرور اپنے ساتھ امتیازی نشان رکھتا ہے اور اسی کا نام دوسرے لفظوں میں معجزہ اور کرامت اور خوارق عادت امر ہے ۔

براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 63 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 63 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 224 پر درج ہے

صفحہ 678

حوالہ نمبر 120 البدر جلد ۲ نمبر ۴۳ ۲۵ اکتوبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۱۴

شعر و سخن

نظم

(از اکمل آف گوپیکے)

امام اپنا عزیزو اس زمان میں غلام احمد ہوا دارالامان میں
غلام احمد ہے عرش ربّ اکرم مکاں اس کا ہے گویا لامکاں میں
غلام احمد رسول اللہ ہے برحق شرف پایا ہے نوع انس و جان میں
غلام احمد مسیحا سے ہے افضل بروز مصطفےٰ ہو کر جہان میں
غلام احمد کا خادم ہے جو دل سے بلاشک جائیگا باغ جنان میں
تسلی دل کو ہو جاتی ہے حاصل یہ ہے اعجاز احمد کی زبان میں
بھلا اس معجزے سے بڑھ کے کیا ہو خدا اک قوم کا مارا ۔ جہان میں
قلم سے کام جو کر کے دکھایا کہاں طاقت تھی یہ سیف و سنان میں
محمد پھر اتر آئے ہیں ۔ ہم میں اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل غلام احمد کو دیکھے قادیان میں
غلام احمد محمدؐ ہو کر ۔ یہ رتبہ تو نے پایا ہے جہان میں
تری مدح سرائی مجھ سے کیا ہو کہ سب کچھ لکھ دیا قرآن میں
فدا ہے تو ۔ خدا تجھ پہ ہے واللہ
ترا رتبہ نہیں آتا بیان میں

اخبار بدر

حکیم فضل دین صاحب قادیانی حال وارد بھیرہ ۔ جو کہ اخبار کی مالی حالت پر ہمیشہ مہربانی کی نظر رکھا کرتے ہیں ۔ اس لئے ہم انکے واسطے نصف حصہ چندہ معاف کرتے ہیں ۔ منیجر ۔

روز نامہ بدر قادیان 25 اکتوبر 1906ء بابت مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 225 پر درج ہے

صفحہ 679

(حوالہ نمبر 121)

روزنامہ الفضل قادیان و دارالامان ۲۲ اگست ۱۹۴۴ء

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ تم کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ تم اپنے پاس سے شرائط مقرر کر کے کسی مامور کو کہو کہ تو ان کو پورا کر ۔ یہ تیرا کام نہیں ۔ یہ تو خدا کا کام ہے اور جس کے لیے وہ مامور ہے ۔ جس کو وہ ضروری سمجھے گا وہ پورا کرے گا۔ پس تم تمہیں کیا حق پہنچتا ہے کہ تم اس سے کہو کہ ہم یہ شرائط پیش کرتے ہیں ۔ اگر تم ان کو پورا کرو گے تو ہم بیعت کر لیں گے ۔ یاد رکھو کہ جو شخص اس طرح شرائط پیش کرتا ہے وہ دراصل بیعت نہیں کرتا بلکہ وہ تو بیعت لیتا ہے ۔ ایسے شخص کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ اس طریق سے خدا کی توہین کرتا ہے ۔ اور خدا کی توہین کرنے والا کبھی فلاح نہیں پا سکتا ۔

کیا احمدیوں کی یہ شرط ہے کہ وہ پہلے اکیلے جائیں اور اس وقت کوئی نیا نبی نہ آئے

روزنامہ الفضل قادیان، 22 اگست 1944ء جلد 32، نمبر 196، صفحہ 6 کالم 1

یہ حوالہ صفحہ 225,226 پر درج ہے

Back

صفحہ 680

حوالہ نمبر 122

صیغہ اشاعت قرآن دفتر قادیان

الفضل کا مالی سال ختم ہورہا ہے

روزنامہ اخبار الفضل قادیان جلد 10 شمارہ نمبر 30، 16 اکتوبر 1922ء

یہ حوالہ صفحہ 226، 227 پر درج ہے

صفحہ 681

(حوالہ نمبر 123)

۵ اخبار الفضل قادیان دارالامان مورخہ ۱۷ جولائی ۱۹۲۲ء نمبر ۵ جلد ۱۰

حضرت خلیفۃ المسیح کی ڈائری

(۱۴ جون ۱۹۲۲ء)

فرمایا کہ آج دوپہر کو ہی معلوم ہوا ایک دوست نے جو ایک خط میں کسی کے متعلق خفگی کی وجہ سے ناراضی ظاہر کی کا غصہ ہے۔ میری زبان پر بات تھا ۔ پھر کہا گیا کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ جب دارالضیافت کے مہمان ایک دفعہ آتے ہیں اس کو فرمایا البتہ یہ بھی ہے ہر ایک کو حقانیت کے ہاتھوں میں دے دیا کریں۔ اور سردیوں کا بھی انتظام تاکہ یہ کام اچھے طریق سے انجام پاسکے۔ ایک سوال پیش آیا فرمایا مباہلہ تو پتا ہے کہ اس میں جان کا حق لیا جائے۔ تو ایک صداقت کو ناکام اور باطل ہونا کیا جائے۔ اور جب تک مباہلہ سے ظہور ہدایت نہ ہو جائے یہ کام نہ چھوڑا جائے۔ اس جنگ کے سلسلہ میں ایک یورپی نے اخبار میں ایک آرٹیکل لکھا کہ جب سے مباہلہ شروع ہوا ہے طاعون کی وبا تھم گئی ہے۔ پھر کہا کہ اس وقت تک گویا یہ ایک احمقانہ بات ہے کہ ایک چیز جس میں کوئی دخل نہیں ہوئی اس کو ایک بزرگ کے سامنے پیش کرتے تھے پھر ایک خون میں ابتلا ہوا۔ اس کے طریق بتلائے۔ فرمایا کتنا سخت ہے۔ اب تو خلیفہ وقت کے الفاظ میں اس کے متعلق جو فیصلا ہے وہ یہ شائع ہو چکے تھے۔ اگر اس پر چمٹیں گے تو تباہ ہو جائیں گے۔ پھر فرمایا میری طبیعت بالکل خالی ہے، پیشگوئیوں سے۔ اور میں اس قسم کی کسی پیشین گوئی کو ماننے کے لئے تیار نہیں جو میرے کو کسی غیر اللہ سے ڈرائے۔ مدت تک کوئی خط آیا تھا ایک صاحب نے کہا کہ ایک دفعہ تو یہ جگہ صاف تھرا ہے۔ اور کوئی غلاظت یا گند دور دور تک نہیں۔ پاس ہی ایک دریا ہے۔ میں تو اس وقت یہ ہی کہتا ہوں کہ یہ بھی تیری کتاب کے اندر کوئی بات لکھی ہے۔ سوال ہوا۔ اگر اندر سے دیکھا جائے تو کیسا لگتا ہے؟ فرمایا جائز ہے۔ فرمایا بعض دفعہ کیا ہوتا ہے کہ ایک وہ سوالوں میں پڑ کر الجھ جاتا ہے۔ سوال ہوا۔ کہ سچا خواب بھی تو بعض دفعہ سچا ہو جاتا ہے ہے۔ یہ کتاب کے مطالعہ کے بعد میں نے کئی چیزیں ایسی دیکھی ہیں جن میں بہت کچھ سچائی ہونے کے ثبوت پائے جاتے ہیں۔

(۱۵ جون ۱۹۲۲ء)

بعض قسم کی کتابوں کی نسبت فرمایا کہ بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ انسان کسی کتاب کو پڑھ کر کہتا ہے کہ یہ عقیدہ احمدی صاحب نے فلاں کتاب سے نکالا ہے۔ اس کے متعلق احمدی صاحب کا یہ جواب تھا کہ بابا یہ جو کچھ تم کہہ رہے ہو کہ میں نے فلاں کتاب سے اخذ کیا ہے، تم مجھے بتاؤ کہ شروع سے یہ کہاں سے آیا۔ فرمایا میں تو اس کتاب کو منسوخ جانتا ہوں ہمارے لئے حضرت مسیح موعود کی کتاب ہے۔ اس کے متعلق ایک دفعہ مجھے یاد ہے کہ ایک شخص نے مجھے ایک چیز دی اور کہا کہ یہاں سے لاؤ۔ میں نے اسے فرمایا کہ یہ ایک بڑا کام ہے، مجھے نہیں آتا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ باقی اس نے کئی دفعہ ایک ہی کام نہیں کئے، بلکہ ہمیشہ بدلتے رہے۔ اس کے بعد آپ نماز کے لئے مسجد میں تشریف لے گئے۔

(۱۶ جون ۱۹۲۲ء)

فرمایا کہ مجھے خواب یاد نہیں رہتے ۔ تو ایک شخص نے عرض کیا کہ مجھے تو بعض دفعہ خواب کے قصے یاد رہتے ہیں تو فرمایا کہ مجھے یاد نہیں رہتا۔ صاحبزادی کے بارہ میں میں نے بہت کچھ کہا تھا ۔ مجھے یہ دعویٰ ہے کہ یہ بات بالکل سچی ہے۔ بہت سی باتیں ایسی ہیں جو اپنے اندر ایک ایسا رنگ رکھتی ہیں کہ پڑھنے والے پر ان کی فضیلت کا رعب پڑتا ہے۔ اور انسان سوچتا ہے کہ میں کیا ہوں جو ایسا چاہئے۔ مگر مسلمان کا یہ حال کہ کہ ہمیشہ اللہ تعالٰی کے فضل کا امیدوار رہ کر جتنا بھی ہو سکتا تھا میں نے کیا ہے۔ جب میں نے اتنے انسانوں کے طریقوں کو اختیار کیا ہے بہت سے ایسے ہیں جن پر وہ عمل کر رہا ہے۔ یہ وہ باتیں ہیں جو کوئی انسان نہیں کہہ سکتا۔ اس لئے میں ان کو جھوٹا نہیں کہہ سکتا۔ وہ ان باتوں کو ضرور کہتا ہے۔ اس وقت تک تمام کائنات میں ترتیب دی ہے۔ دوستوں کو مشورہ دیا کہ بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک شخص نے ایک کام کیا۔ بہت خوش ہوا کہ میں نے کتنا اچھا کام کیا ہے، مگر کچھ عرصہ بعد اس کا نتیجہ نکلا کہ اس نے ایک اور چیز اس میں شامل کر لی ۔ اب اسے افسوس ہے کہ میں نے یہ کیا کیا ۔ اس لئے میں کہتا ہوں کہ آپ اپنے سامنے مدنظر اس بات کو رکھیں۔ ورنہ ایک بات ایک شخص کی ناکامی کا باعث بن سکتی ہے۔ اس لئے میں کہتا ہوں کہ آپ محتاط رہیں۔ پھر فرمایا کہ میں نے خود لوگوں کو یہ کہتے سنا ہے، جن کے متعلق مجھے علم تھا کہ وہ دنیا میں نیک نامی حاصل کر چکے ہیں۔ اگر وہ اس کو نہ بھی کرتے تو بھی ان کو کوئی نہیں پوچھتا تھا۔ اس لئے میرا اس میں کوئی قصور نہیں ۔ اگر ایک آدمی دوسروں کو کہتا ہے۔ یہ تو اس کی غرض ہے کہ موقع ملے تو وہ اپنا اثر چھوڑ جائے۔

(۱۷ جون ۱۹۲۲ء)

ایک صاحب نے دریافت کیا کہ حضور مذہبی گفتگو کرتے ہیں ؟ فرمایا ہاں کرتے ہیں ۔ مگر وہ گفتگو بھی محدود ہے ۔ پھر فرمایا کہ ایک معلم نے لکھا ہے کہ یہ بڑی خوبی ہے کہ سخت ہے۔ میں اسے خوبی نہیں کہتا بلکہ یہ سلسلہ چلانے کے لئے ایک بہت بڑی مصیبت ہے۔ مصیبت یہ ہے کہ ہم مانتے ہیں کہ یہ ایک ایسا ذریعہ ہے

حوالہ خلیفۃ المسیح کی ڈائری اخبار الفضل قادیان نمبر 5 جلد 10 ، 17 جولائی 1922ء یہ حوالہ صفحہ 228 پر درج ہے

Back

صفحہ 682

حوالہ نمبر 124

۹ اخبار الفضل قادیان دارالامان ۲۲ فروری ۱۹۲۴ء نمبر ۶۸ جلد ۱۱

حضرت مسیح موعود کا ایک تازہ مکتوب

۲۵ جنوری کو مکرمی قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل ایڈیٹر ریویو آف ریلیجنز اردو نے ایک خط بغرض اشاعت ارسال فرمایا ہے جو درج ذیل ہے:۔ مکرمی ایڈیٹر صاحب الفضل قادیان السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ایک دوست نے مجھ کو ایک خط ارسال فرمایا ہے جو حضرت مسیح موعود کا تحریر فرمودہ معلوم ہوتا ہے جس کی نقل ذیل میں درج کی جاتی ہے۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم مخدومی مکرمی۔ آپ کا عنایت نامہ پہنچا۔ مجھے اس بات کے پڑھنے سے نہایت رنج ہوا کہ آپ کو میرے دعویٰ کی نسبت اس قدر سخت غلط فہمی ہے۔ میں نے نبوت کا کوئی دعویٰ نہیں کیا اور نہ میں نے یہ کہا ہے کہ میں نبی ہوں بلکہ میں نے تو ایک محدث ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور خدا تعالیٰ مجھ سے ہمکلام ہوتا ہے اور میں نے بارہا اپنی کتابوں میں لکھ دیا ہے کہ میرا دعویٰ نبوت کا نہیں ہے۔ اگرچہ آپ لوگوں نے میری نسبت جو چاہا سو کہہ دیا اور میرے حق میں کفر کے فتوے شائع کر دیئے مگر میں آپ لوگوں کے لئے ہمیشہ دعائے خیر کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ آپ کو سمجھ دے۔ اور اگر آپ کو میرے الہامات میں کوئی شبہ ہے تو آپ کو اختیار ہے کہ آپ قادیان آکر تسلی کر لیں۔ کیونکہ میں نے کوئی بات اپنی طرف سے نہیں بنائی بلکہ جو کچھ خدا تعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا ہے وہی میں نے لوگوں تک پہنچا دیا ہے۔ میں ایک مسلمان ہوں اور خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتا ہوں اور قرآن شریف کو خدا کی کتاب جانتا ہوں۔ والسلام خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان ۲۰ ستمبر ۱۹۰۵ء

اس مکتوب پر بحث ہے جو ایک شخص نے شروع کیا ہے کہ حضرت مسیح موعود نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا ۔ مگر اس مکتوب سے صاف ظاہر ہے کہ آپ نے ایسا کوئی دعویٰ نہیں کیا ۔ اور آپ کا دعویٰ صرف یہ تھا کہ آپ ایک محدث ہیں ۔ پس یہ بات بالکل غلط ہے کہ آپ نے نبوت کا دعویٰ کیا ۔ اور جو لوگ ایسا کہتے ہیں وہ آپ پر صریح بہتان باندھتے ہیں ۔ حضرت مسیح موعود کی تمام کتابیں اس بات کی گواہ ہیں کہ آپ نے ہمیشہ نبوت کے دعویٰ سے انکار کیا اور اپنے آپ کو امت محمدیہ کا ایک فرد قرار دیا ۔ لہٰذا تمام احمدیوں کو چاہئے کہ وہ ان افتراء پردازوں کی باتوں میں نہ آئیں اور حضرت مسیح موعود کے اصل دعویٰ کو سمجھیں جو آپ نے خود بیان فرمایا ہے ۔ اور وہ یہی ہے کہ آپ خدا تعالیٰ کی طرف سے اس امت کی اصلاح کے لئے مبعوث ہوئے ہیں ۔ اور آپ کا مرتبہ محدثیت کا ہے ۔ پس جو شخص آپ کے دعویٰ کو اس سے بڑھا کر پیش کرتا ہے وہ آپ کی تعلیم کے خلاف کرتا ہے اور آپ کی جماعت میں فتنہ پیدا کرتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو حق سمجھنے کی توفیق دے اور باطل سے بچائے ۔ آمین ۔

ضلع مظفر گڑھ میں مباحثہ

رپورٹ مدرسہ احمدیہ کی اشاعت میں مولوی عبدالرحیم صاحب سے تحریر فرماتے ہیں:۔ بندہ عالی! مورخہ ۲۴ جنوری کو موضع کوٹلہ میں ایک مباحثہ ہوا ۔ تمام مجمع نہایت غور اور توجہ سے سنتا رہا اور وہ احمدی جو وہاں موجود تھے ان کے ایمان تازہ ہو گئے ۔ اول یہ کہ مولوی محمد علی صاحب کے مقابلہ میں ایک اور مولوی صاحب کھڑے ہوئے اور انہوں نے حضرت مسیح موعود کے دعویٰ کے متعلق کچھ اعتراضات کئے ۔ مگر مولوی محمد علی صاحب نے ان کے تمام اعتراضات کے ایسے مسکت جواب دیئے کہ وہ مولوی صاحب لاجواب ہو گئے اور تمام مجمع پر حق واضح ہو گیا ۔ دوم یہ کہ مباحثہ کے بعد بہت سے لوگوں نے احمدیت قبول کی اور بیعت میں داخل ہوئے ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے حق کو غالب کیا اور باطل کو ذلیل اور رسوا کیا ۔ ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے ہمیں اس مباحثہ میں کامیابی عطا فرمائی اور مخالفین کو شکست ہوئی ۔

مرزا قادیانی کا مکتوب، روزنامہ الفضل قادیان 22 فروری 1924ء یہ حوالہ صفحہ 228 پر درج ہے

صفحہ 683

حوالہ نمبر 125

۲۰۵ تحفہ گولڑویہ

البتہ تم میں سے کئی بستیوں میں یہ مادہ موجود ہے۔ پس خبردار رہو اور دُعا میں مشغول رہو تا ٹھوکر نہ کھاؤ۔ اور اس آیت کا دوسرا فقرہ جو الضالین ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ ہمیں اے ہمارے پروردگار اس بات سے بھی بچا کہ ہم عیسائی بن جائیں۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ

بقیہ حاشیہ

ماننا پڑتا ہے کہ وہ ان دِنوں میں ایک برزخ ہے اور پھر دنیوی زندگی میں بھی کچھ فخر نہیں یہ بھی جہنم کی بھٹی ہے اور اُس جہان میں بھی۔ گویا دونوں طرف اپنے منہ پر تھپیڑے کھائے ہیں۔ ایک پیر دنیا میں اور دوسرا پیر فوت شدہ رُوحوں میں۔ اور دنیوی زندگی بھی عجیب کہ باوجود اس قدر امتداد مدّت کے کھانے پینے کی محتاجی نہیں اور نیند سے بھی فارغ ہے اور پھر آخری زمانہ میں بڑے کَرّ و فَر اور جلال فرشتوں کے ساتھ آسمان پر سے اُترے گا۔ اور گو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معراج کی رات میں نہ چڑھنا دیکھا گیا نہ اُترنا مگر مسیح کا اُترنا دیکھا جائیگا تمام دنیا کے روبرو فرشتوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے اُترے گا۔ پھر اسی پر بس نہیں بلکہ مسیح نے وہ کام دکھلائے جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم باوجود اصرار مخالفوں کے دکھلا نہ سکے۔ بار بار قرآنی اعجاز کا ہی حوالہ دیا۔ بقول تمہارے مسیح کئی مُردوں کو زندہ کرتا رہا۔ شہر کے لاکھوں انسان ہزاروں برسوں کے مرے ہوئے زندہ کر ڈالے۔ ایک دفعہ شہر کا شہر زندہ کر دیا۔ مگر

ہم بار ہا لکھ چکے ہیں کہ حضرت مسیح کو اتنی بڑی خصوصیت آسمان پر زندہ چڑھنے اور اتنی مدّت تک زندہ رہنے اور پھر دوبارہ اترنے کی جو دی گئی ہے اسکے ہر ایک پہلو سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین ہوتی ہے اور خداتعالیٰ کا ایک بڑا تعصب جس کا کچھ حد و حساب نہیں حضرت مسیح سے ہی ثابت ہوتا ہے مثلاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سو برس تک بھی عمر نہ پہنچی مگر حضرت مسیح اب قریباً دو ہزار برس سے زندہ موجود ہیں۔ اور خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چھپانے کیلئے ایک ایسی ذلیل جگہ تجویز کی جو نہایت متعفّن اور تنگ اور تاریک اور حشرات الارض کی نجاست کی جگہ تھی مگر حضرت مسیح کو آسمان پر جو بہشت کی جگہ اور فرشتوں کی ہمسائیگی کا مکان ہے جو دیا۔ اب بتلاؤ محبت کس سے زیادہ کی؟ عزت کس کی زیادہ کی؟ قرب کا مکان کس کو دیا اور پھر دوبارہ آنے کا شرف کس کو بخشا؟ منہ

۱۱۹

تحفہ گولڑویہ صفحہ 112 (حاشیہ) مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 205 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 228 پر درج ہے

صفحہ 684

حوالہ نمبر 126

اخبار الفضل قادیان دارالامان مورخہ 6 اپریل 1928ء

مگر خدا کے سامنے اس قوم کا جس کے پاس خیر الامم کا پیشوا ہے کیا عذر ہو گا۔ کیا وہ یہ کہیں گے کہ ہمیں یہ وہم ہو گیا تھا۔ پس سچے کو کبھی یہ دھوکا نہیں لگ سکتا اور سچے پر کبھی یہ وقت نہیں آسکتا کہ وہ اپنے پہلو چھوڑ دے۔ انبیاء کی عصمت کی حفاظت قانونِ الٰہی سے ہوتی ہے ورنہ وہ کیسے سچا ہو سکتا ہے جس کی امت کو قاتل کے ہاتھ

خون کے ہاتھ دھونے

پڑیں ۔ جس کے بچانے کے لئے جان و مال تباہ کرے۔ پھر وہ کس قوت اور جلال کا مالک ہے۔ قرآن بتاتا ہے۔ سنت بتاتی ہے کہ محمد رسول اللہ کی عزت اتنی ہی ہے کہ ایک شخص کے فعل سے اس کی ہتک ہو سکتی ہے۔ بعض نادان لوگ کہہ دیتے ہیں کہ محمد رسول اللہ کی ہتک کا مسئلہ قرآنی ہے۔ میں کہتا ہوں یہ قرآنی

ایک مثال

ہی نہیں۔ پیش کی جائے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی ایک انسان کو بھی قتل کرایا ہو۔ بجز اس کے کہ اس قتل میں کسی

پولیٹیکل جرم کا دخل

نہ ہو۔ کوئی ثابت کرے کہ کسی آدمی کو اس کی گستاخی کی بناء پر قتل کیا گیا ہو۔ یا اس نے یہ دعویٰ کیا ہو کہ مسلمانوں پر حملہ کرے گا۔ یہ روایتیں کہ فلاں شخص جس کے متعلق یہ واقعہ بیان کیا جاتا ہے صرف آپکی ہجو کا مجرم تھا۔ ہرگز نہیں ۔ کسی کو قتل نہیں کیا گیا۔ کسی کی عزت پر حملہ ہوا۔ تو رسول اللہ نے یہودیوں کو قتل کیوں نہیں کرایا ۔ حالانکہ اس نے حق کا اعلان کیا تھا۔ کہ مخربین اخلاق منافقوں کو بھی سزائے موت نہیں دی۔ جنہوں نے براہ راست ایذاء پہنچائی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تو یہ کیفیت تھی کہ آپ کی شان میں بدگوئی کرنے والی ایک بڑھیا تھی۔ جو ہر روز آپ کی راہ میں کانٹے بچھاتی تھی۔ کیا آپ نے اس کو قتل کرا دیا ؟ نہیں ۔ رسول کریم نے فرمایا نہیں۔ لوگ کیا کہیں گے کہ محمد نے اپنے ساتھیوں کو قتل کر دیا۔ مگر قتل جائز ہوتا تو منافقوں کو ضرور قتل کیا جاتا۔ جو ہر روز آپ کے خلاف منصوبے کرتے تھے۔ پس آپ کی یہ شان نہ تھی۔ آپ کی شان تو یہ تھی کہ لوگ

گالیاں دیتے

رہیں اور آپ ان کو دعائیں دیتے رہیں۔ یہ شان ہے اس شخص کی جو دنیا میں سب سے بڑا ثابت ہوا ہے۔ اگر آج لوگ اس کی ہتک کرتے ہیں تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کی زندگی دنیا میں سب سے بڑی ثابت ہوئی ہے۔ زندہ نبی

بلکہ یہ بھی کہتا ہے کہ وقت آ گیا ہے۔ پس سچے رسول پر یہ وقت نہیں آتا ۔ میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ دنیا میں کوئی

ایک شخص بھی

نہیں دکھا سکتا ۔ جس نے ان کو برا بھلا کہا اور انہوں نے اس کو سزا دی ہو۔ ایک شخص بھی قتل نہیں ہوا۔ کہ جس کے بارے میں یہ کہا جا سکے کہ اس نے کوئی اور جرم نہیں کیا تھا۔ تو قتل کیا ہو۔ یہ تمام مسلمانوں کو بتا دینا چاہیے اور صاف بتانا چاہیے۔ اس اخبار نویس کے مجنونانہ حملوں کو اور ان سے بہت زیادہ کام لینا ہے۔ ایک مربی ایک مباحثہ کے سلسلہ میں گئے۔ سامنے کھڑے ہو کر انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان پر فضیلت دی ہے مثلاً موسیٰ کے بارے میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول ہے کہ تم مجھے موسیٰ پر فضیلت نہ دو۔ حالانکہ موسیٰ کے پیرووں نے تو کہا تھا کہ تم جاؤ اور تمہارا خدا جا کر لڑے ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔

رسول کے صحابہ نے بدر میں

یہ کہا کہ

ہم وہ نہیں کہلائیں گے جو موسیٰ کی قوم نے کہا۔ ہم تو آپ کی دائیں طرف بھی لڑیں گے اور بائیں طرف بھی۔ آپ کے آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی ہم تو وہ نہیں جو کہیں کہ تم اور تمہارا خدا لڑے ہم یہاں بیٹھے ہیں۔ اس

نور کی شعاعیں

سب سے پہلی شعاع یہ ہے۔ کہ یہ خیال کرو کہ کسی کے چھپانے سے چھپ سکے۔ ایک پیام جو خدا نے دیا ہے۔ وہ چھپ نہیں سکتا۔ جو شعاعیں سورج کی نکلتی ہیں۔ ان کو کون روک سکتا ہے۔ دوسری شعاع یہ ہے کہ جو شخص محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا اور اس نے نبی مانا۔ وہ اپنے اخلاق سے یہ ظاہر کرے گا کہ میں ایک ایسے شخص کا متبع ہوں۔ جس کے اخلاق بہت بلند ہیں۔ جو شخص محبت کا دعویٰ کرے اور پھر اس کے اخلاق خراب ہوں وہ جھوٹا ہے۔ اور جس کے اخلاق پاک ہوں وہ سچا ہے۔ پس تم کو چاہیے کہ اپنے اخلاق کو اتنا بلند کرو کہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ یہ ایسے شخص کی امت ہیں جس کے اخلاق خراب تھے۔ بلکہ وہ یہ کہیں کہ جس کے یہ متبعین ہیں۔ وہ کیسا ہوگا۔

خط کشیدہ عبارت کے علاوہ بقیہ مضمون الفضل قادیان جلد 16 نمبر 82 صفحہ 7 مورخہ 6 اپریل 1928ء

یہ حوالہ صفحہ 229 پر درج ہے

صفحہ 685

حوالہ نمبر 127

تحفہ گولڑویہ ۲۶۳

یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم تمام خدام حاضر ہیں اور غرض اشاعت پورا کرنے کیلئے بدل و جان سرگرم ہیں۔ آپ تشریف لائیے اور اس اپنے فرض کو پورا کیجیئے کیونکہ آپ کا دعویٰ ہے کہ میں تمام کافۃ الناس کیلئے آیا ہوں اور اب یہ وہ وقت ہے کہ آپ اُن تمام قوموں کو جو زمین پر رہتی ہیں قرآنی تبلیغ کر سکتے ہیں اور اشاعت کو کمال تک پہنچا سکتے ہیں اور اتمام حجّت کے لئے تمام لوگوں میں دلائل حقانیت قرآن پھیلا سکتے ہیں تب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت نے جواب دیا کہ دیکھو میں بروز کے طور پر آتا ہوں مگر میں مکہ ہند میں آؤنگا۔ کیونکہ جوش مذاہب و اجتماع جمیع ادیان اور مقابلہ جمیع ملل و نحل اور امن اور آزادی اسی جگہ ہے اور نیز آدم علیہ السلام اسی جگہ نازل ہوا تھا۔ پس ختم دَور زمانہ کے وقت بھی وہ جو آدم کے رنگ میں آتا ہے اسی ملک میں اس کو آنا چاہیئے تا آخر اور اول کا ایک ہی جگہ اجتماع ہو کر دائرہ پورا ہو جائے۔ اور چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حسب آیت وآخرین منھم دوبارہ تشریف لانا بجز صورت بروز غیر ممکن تھا اسلئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت نے ایک ایسے شخص کو اپنے لئے منتخب کیا جو خُلق اور خَلق اور ہمت اور ہمدردی خلائق میں اس کے مشابہ تھا اور مجازی طور پر اپنا نام احمد اور محمد اس کو عطا کیا تا یہ سمجھا جائے کہ گویا اس کا ظہور بعینہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور تھا لیکن یہ امر کہ یہ دوسرا بعث کس زمانہ میں چاہیئے تھا ؟ اس کا یہ جواب ہے کہ چونکہ

+ چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دوسرا فرض منصبی جو تکمیل اشاعت ہدایت ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بوجہ عدم وسائل اشاعت غیر ممکن تھا اسلئے قرآن شریف کی آیت وآخرین منھم اور الحدیث لو کان الدین عند الثریا میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد ثانی کا وعدہ دیا گیا ہے۔ اس وعدہ کی ضرورت اسی وجہ سے پیدا ہوئی کہ تا دوسرا فرض منصبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یعنی تکمیل اشاعت ہدایت دین جو آپکے ہاتھ سے پورا ہونا چاہیئے تھا اُسوقت بباعث عدم وسائل پورا نہیں ہوا سو اِس فرض کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آمد ثانی سے جو بروز کے رنگ میں تھی ایسے زمانہ میں ادا کیا جبکہ زمین کی تمام قوموں تک رسالت پہنچانے کیلئے رَستے پیدا ہو گئے تھے۔ منہ

۱؎ الصّف : ۱۰ ۱۷۷

تحفہ گولڑویہ حاشیہ صفحہ 177 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 263 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 229 پر درج ہے

صفحہ 686

حوالہ نمبر 128 ۲۴۵ اربعین نمبر ۴

ایک دلیل ہے کہ خدا تعالیٰ کے قول کی تصدیق تبھی ہوتی ہے کہ جھوٹا دعویٰ کرنیوالا ہلاک ہو جائے ورنہ یہ قول قرآن کریم حجت نہیں ہو سکتا اور نہ اس کے لئے بطور دلیل ٹھہر سکتا ہے بلکہ وہ کہہ سکتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تئیس برس تک ہلاک نہ ہونا اس وجہ سے نہیں کہ وہ صادق ہے بلکہ اسوجہ سے ہے کہ خدا پر افتراء کرنا ایسا گناہ نہیں ہے جس سے خدا اسی دنیا میں کسی کو ہلاک کرے کیونکہ اگر یہ کوئی گناہ ہوتا اور سنت اللہ اس پر جاری ہوتی کہ مفتری کو اسی دنیا میں سزا دینا چاہیئے تو اس کے لئے نظیریں ہونی چاہئے تھیں۔ اور تم قبول کرتے ہو کہ اس کی کوئی نظیر نہیں بلکہ بہت سی ایسی نظیریں موجود ہیں کہ لوگوں نے تئیس برس تک بلکہ اس سے زیادہ خدا پر افتراء کئے اور ہلاک نہ ہوئے۔ تو اب بتلاؤ کہ اس اعتراض کا کیا جواب ہو گا؟ اور اگر کہو کہ صاحب الشریعت افترا کر کے ہلاک ہوتا ہے نہ ہر ایک مفتری۔ تو اول تو یہ دعویٰ بے دلیل ہے۔ خدا نے افترا کے ساتھ شریعت کی کوئی قید نہیں لگائی ۔ ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امر اور نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب الشریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کے رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی* ۔ مثلاً یہ الہام قل للمومنین

* یہ میری تعلیم میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور شریعت کے ضروری احکام کی تجدید ہے اسلئے خدا تعالیٰ نے میری تعلیم کو اور اس وحی کو جو میرے پر ہوتی ہے فُلک یعنی کشتی کے نام سے موسوم کیا جیسا کہ ایک الہام میں کی یہ عبارت ہے۔ واصنع الفلک باعیننا و وحینا ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللہ ید اللہ فوق ایدیھم یعنی اس تعلیم اور تجدید کی کشتی کو ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی سے بنا۔ جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں وہ خدا سے بیعت کرتے ہیں۔ یہ خدا کا ہاتھ ہے جو ان کے ہاتھوں پر ہے۔ اب دیکھو خدا نے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لئے اس کو مدارِ نجات ٹھہرایا جسکی آنکھیں ہوں دیکھے اور جسکے کان ہوں سنے۔ منہ

اربعین نمبر 4 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 435 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 230 پر درج ہے

صفحہ 687

حوالہ نمبر 129

۳۰۸

دو برس کا بچہ تھا۔ پھر آپ میری ان آنکھوں سے اس وقت غائب ہوئے جب میں ۷۰ سال کا جوان تھا۔ مگر میں خدا کی قسم کھا کر بیان کرتا ہوں کہ میں نے آپ سے بہتر آپ سے زیادہ خلیق آپ سے زیادہ نیک، آپ سے زیادہ بزرگ، آپ سے زیادہ اللہ اور رسول کی محبت میں غرق کوئی شخص نہیں دیکھا۔ آپ ایک نور تھے، جو انسانوں کے لئے دنیا پر ظاہر ہوا۔ اور ایک رحمت کی بارش تھے جو ایام قحط کی لمبی خشک سالی کے بعد اس زمین پر برسی۔ اور اسے شاداب کر گئی۔ اگر حضرت عائشہؓ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت یہ بات سچی کہی تھی کہ کان خلقہ القرآن” تو ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نسبت اسی طرح یہ کہہ سکتے ہیں کہ کان خلقہ حب محمد و اتباعہ علیہ الصلوٰۃ والسلام“

خاکسار عرض کرتا ہے کہ مکرم ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے اپنی اس روایت میں ایک وسیع دریا کو کوزے میں بند کرنا چاہا ہے۔ ان کا نوٹ بہت خوب ہے اور ایک لمبے اور ذاتی تجربہ پر مبنی ہے اور ہر لفظ دل کی گہرائیوں سے نکلا ہے مگر ایک دریا کو کوزے میں بند کرنا انسانی طاقت کا کام نہیں۔ ہاں خدا کو یہ طاقت ضرور حاصل ہے اور میں اس جگہ اس کوزے کا خاکہ درج کرتا ہوں جس میں خدا نے دریا کو بند کیا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

جری اللہ فی حلل الانبیاء

یعنی خدا کا رسول جو تمام نبیوں کے لباس میں ظاہر ہوا،

اس فقرہ سے بڑھ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کوئی جامع تعریف نہیں ہو سکتی۔ آپ ہر نبی کے ظلی اور بروزی تھے اور ہر نبی کی اعلیٰ صفات اور اعلیٰ اخلاق اور اعلیٰ طاقتیں آپ میں جلوہ فگن تھیں کسی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کہا ہے اور کیا خوب کہا ہے:۔

حسن یوسف دم عیسےٰ ید بیضا داری آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری

یہ شعر اپنے ظل کامل نے بھی پایا چونکہ لوگ دو تین نبیوں کو گن کر رہ گئے لیکن خدا نے اپنے کوزے میں سب کچھ بھر دیا۔ اللھم صل علیٰ محمد و بارک وسلم واحشرنا فی زمرتہ مع احبائک طوبیٰ لمن احبہ من عبادک

ـــــ آمین ثم آمین ـــــ

پس یہاں سیرت المہدی کا حصہ سوم ختم ہوا۔

وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین

سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 308 از صاحبزادہ مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا غلام احمد قادیانی یہ حوالہ صفحہ 230, 231 پر درج ہے

صفحہ 688

(حوالہ نمبر 130) ۳۰

پر اس قدر نامناسب زور دیا ہے اور اتنا مبالغہ سے کام لیا ہے کہ شریعت کی اصل روح سے وہ باتیں باہر ہوگئی ہیں۔ اب اصل مسئلہ یہ ہے کہ نماز میں دو نمازیوں کے درمیان کوئی جگہ خالی نہیں پڑی رہنی چاہئے بلکہ نمازیوں کو مل کر کھڑا ہونا چاہئے تاکہ غلبہ توجہ کا فائدہ عبث ضائع نہ جاوے۔ اور یہ بے ترتیبی واقع نہ ہو جیسے بے پڑھے آدمیوں کو یہ بہانہ نہ ملے کہ وہ بڑائی کی وجہ سے اپنے سے کم درجہ کے لوگوں سے ذرا ہٹ کر الگ کھڑے ہو سکیں۔ وغیرہ ذلک۔ مگر اس پر اہل حدیث نے اتنا زور دیا اور اس قدر مبالغہ سے کام لیا ہے کہ یہ مسئلہ ایک مضحکہ خیز بات بن گئی۔ اب گویا ایک اہل حدیث کی نماز ہو نہیں سکتی جب تک وہ اپنے ساتھ والے نمازی کے کندھے سے کندھا اور ٹخنہ سے ٹخنہ اور پاؤں سے پاؤں رگڑتے ہوئے نماز ادا نہ کرے۔ حالانکہ اس قدر قرب بجائے مفید ہونے کے نماز میں خواہ مخواہ پریشانی کا موجب ہوتا ہے ۔

(۳۴۳) بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ حافظ محمد ابراہیم صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ بمقام قادیان کا واقعہ ہے کہ میں ایک دن مسجد مبارک کے پاس والے کمرہ میں بیٹھا ہوا تھا کہ مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم تشریف لائے اور اندر سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی تشریف لے آئے اور تھوڑی دیر میں مولوی محمد احسن صاحب امروہی بھی آ گئے۔ اور آتے ہی حضرت مسیح موعود سے حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اول کے خلاف بعض باتیں بطور شکایت بیان کرنے لگے۔ اس پر مولوی عبد الکریم صاحب کو جوش آ گیا۔ اور نتیجہ یہ ہوا کہ ہر دو کی ایک دوسرے کے خلاف آوازیں بلند ہو گئیں اور آواز کمرے سے باہر جانے لگی۔ اس پر حضرت اقدس نے فرمایا لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی (یعنے اے مومنو! اپنی آوازوں کو نبی کی آواز کے سامنے بلند نہ کیا کرو) اس حکم کے سنتے ہی مولوی عبد الکریم صاحب تو فوراً خاموش ہو گئے اور مولوی محمد احسن صاحب تھوڑی دیر تک آہستہ آہستہ اپنا جوش نکالتے رہے اور حضرت اقدس وہاں سے اُٹھ کر ظہر کی نماز کے واسطے مسجد مبارک میں تشریف لے گئے ۔

(۳۴۴) بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ میاں غلام نبی صاحب سیٹھی نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ جبکہ میں قادیان میں تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام آئینہ کمالات اسلام تصنیف فرما رہے تھے۔ حضرت صاحب نے جماعت کے ساتھ مشورہ فرمایا کہ علماء اور گدی نشینوں میں تبلیغ

سیرت المہدی جلد دوم صفحہ 30 از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 231 پر درج ہے

صفحہ 689

حوالہ نمبر 131 انوارالعلوم جلد ۔۳ ١٠١ انوار خلافت

ہوں" اس عبارت کو پڑھ کر ہر ایک شخص معلوم کر سکتا ہے کہ الوصیت کے اس حکم کی کہ میرے نام پر بیعت لیں۔ انجمن اشاعت اسلام نے یہ تاویل کی ہے کہ احمد کے نام پر لوگوں کی بیعت لینی شروع کی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر حضرت مسیح موعودؑ کا نام احمد نہیں تو میرے نام پر بیعت لینے کا حکم کس طرح پورا ہوا۔ اور اگر آپ کا نام احمد ہے جیسا کہ ان الفاظ بیعت سے ظاہر ہے تو پھر اس بات پر بحث کیوں ہے کہ حضرت صاحب کا نام احمد نہ تھا اور کیوں جو الزام ہم پر دیا جاتا ہے اس کے خود مرتکب ہو رہے ہیں اور کیوں غلام احمد کو احمد بنا رہے ہیں لیکن ہر ایک شخص جو تعصب سے خالی ہو کر اس امر پر غور کرے سمجھ سکتا ہے کہ در حقیقت ہمارے مخالفین کے دل بھی یہی گواہی دے رہے ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ کا نام احمد تھا۔ اور ہم پر جو اعتراض کئے جاتے ہیں وہ صرف دکھانے کے دانت ہیں اور ان کے کھانے کے دانت اور ہیں۔

نواں ثبوت

نواں ثبوت حضرت مسیح موعودؑ کا نام احمد ہونے کا یہ ہے کہ خود آپ نے اس آیت کا مصداق اپنے آپ کو قرار دیا ہے۔ چنانچہ آپ ازالہ اوہام جلد ۲ صفحہ ۳۷۳ میں تحریر فرماتے ہیں:

"اور اس آنے والے کا نام جو احمد رکھا گیا ہے وہ بھی اس کے مثیل ہونے کی طرف اشارہ ہے کیونکہ محمد جلالی نام ہے اور احمد جمالی۔ اور احمد اور عیسیٰ اپنے جمالی معنوں کی رو سے ایک ہی ہیں۔ اسی کی طرف یہ اشارہ ہے وَ مُبَشِّرًاۢ بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِی اسْمُهٗ اَحْمَدُ ؕ مگر ہمارے نبی ﷺ فقط احمد ہی نہیں بلکہ محمدؐ بھی ہیں یعنی جامع جلال و جمال ہیں۔ لیکن آخری زمانہ میں برطبق پیشگوئی مجرد احمد جو اپنے اندر حقیقتِ عیسویت رکھتا ہے بھیجا گیا۔"

(روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۴۶۳)

اس عبارت سے ظاہر ہے کہ آپ اس آیت کا مصداق اپنے آپ کو ہی قرار دیتے ہیں کیونکہ آپ نے اس میں دلیل کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ اگر رسول کریم ﷺ اس جگہ مراد ہوتے تو محمد و احمد کی پیشگوئی ہوتی۔ لیکن یہاں صرف احمد کی پیشگوئی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی اور شخص ہے جو مجرد احمد ہے پس یہ حوالہ صاف طور پر ثابت کر رہا ہے کہ آپ احمد تھے بلکہ یہ کہ اس پیشگوئی کے آپ ہی مصداق ہیں اور اگر کسی دوسری جگہ پر آپ نے رسول کریم ﷺ کو بھی اس آیت کا مصداق قرار دیا ہے تو اس کے یہی معنی ہیں کہ بوجہ اس

انوار خلافت صفحہ 37 مندرجہ انوارالعلوم جلد 3 صفحہ 101 از مرزا بشیر الدین محمود ابن مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 231, 232 پر درج ہے

صفحہ 690

حوالہ نمبر 132 ۴۴۴ اربعین نمبر ۴

اِطّلاَع

میں نے اپنا ارادہ یہ ظاہر کیا تھا کہ اس رسالہ اربعین کے چالیس اشتہار جدا جدا شائع کروں۔ اور میرا خیال تھا کہ میں صرف ایک ایک صفحہ کا اشتہار یا کبھی ڈیڑھ صفحہ یا غایت کار دو صفحہ کا اشتہار شائع کرونگا اور یا کبھی شاید تین یا چار صفحہ لکھنے کا اتفاق ہو جائیگا۔ لیکن ایسے تعمّقات پیش آگئے کہ اس کے برخلاف ظہور میں آیا ۔ اور نمبر ۱۔ اور نمبر ۲۔ اور ۳ ۔ ۴ رسالوں کی طرح ہو گئے۔ چنانچہ اس رسالہ نمبر ۴ کی ستر صفحہ تک نوبت پہنچ گئی اور درحقیقت وہ امر پورا ہو چکا جس کا میں نے ارادہ کیا تھا اس لئے میں نے ان رسائل کو صرف چار نمبر تک ختم کر دیا اور آئندہ شائع نہیں ہوگا۔ جس طرح ہمارے خدائے عزّوجلّ نے اوّل پچاس نمازیں فرض کیں پھر تخفیف کر کے پانچ کو بجائے پچاس کے قرار دے دیا۔ اسی طرح میں بھی اپنے ربّ کریم کی سنّت پر ناظرین کے لئے تخفیف تجویز کر کے نمبر چار کو بجائے نمبر چالیس کے قرار دے دیتا ہوں اور اپنی اس تحریر کو اپنی جماعت کے لئے چند نصیحتوں پر ختم کرتا ہوں ۔

نَصَائِح

اور اُس شخص کو یعنی مسیح موعود کو تم نے دیکھ لیا جس کے دیکھنے کے لئے بہت سے پیغمبروں نے بھی خواہش کی تھی۔ اس لئے اب اپنے ایمانوں کو خوب مضبوط کرو اور اپنی روحیں درست کرو ۔ اپنے دلوں کو پاک کرو اور اپنے ربّ کو راضی کرو ۔ دوستو ! تم اس مسافر خانہ میں محض چند روز کے لئے ہو۔ اپنے اصلی گھروں کو

۱۰۰

اربعین نمبر 14 صفحہ 100 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 442 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 232 پر درج ہے

صفحہ 691

حوالہ نمبر 133

انوار العلوم جلد ۳ ۱۶۱ انوار خلافت

نبی جو خاتم النبیین ہے اور جو تمام نبیوں کا سردار ہے۔ اس کی نبوت بھی اس دلیل کے مطابق (نعوذ باللہ) باطل ٹھہرتی ہے۔ کیونکہ آپ سے پہلے پانچ شخص ایسے گزرے ہیں جن کا نام محمد تھا۔ چنانچہ آپ سے پہلے بنو سواءۃ میں محمد الشمی گزرا ہے۔ اور ایک محمد اس ابرہہ کے دربار میں تھا جس نے مکہ پر حملہ کیا تھا۔ اور یہ حملہ رسول کریم ﷺ کی پیدائش سے ایک سال پہلے ہوا۔ اس کی نسبت جاہلیت کا ایک شعر بھی ہے ؂ قَدْ اَدْرَكَ ذَا التَّاجِ مِنَّا مُحَمَّدٌ ۔ وَرَايَتُهُ مِنْ حَوْمَةِ الْمَوْتِ تُخْفَقُ تیسرا شخص اس نام کا بنو تمیم میں گزرا ہے اور یہ شخص پادری تھا۔ چوتھا محمد الاسیدی تھا۔ پانچواں محمد الفقیمی۔ پس اگر یہی دلیل حضرت مسیح موعود کی نبوت کو باطل کرنے والی ہے تو حضرت یحییٰؑ ، حضرت زکریاؑ ، حضرت مسیح اور آنحضرت ﷺ کی نبوت بھی ثابت نہیں ہوتی۔ کیسے تعجب کی بات ہے کہ ہمارے مخالفین ہماری مخالفت میں ان ہتھیاروں پر اتر آئے ہیں کہ جن سے پہلے نبیوں کی نبوت بھی باطل ہو جاتی ہے۔ قرآن شریف میں خدا تعالیٰ کفار کی نسبت فرماتا ہے کہ یہ ہمارے رسول (محمد ﷺ) پر ایسے اعتراض کرتے ہیں جو ان کے نبیوں پر بھی پڑتے ہیں جن کو یہ مانتے ہیں یعنی یہ کہتے ہیں کہ آسمان پر چڑھ جا۔ اور ہمارے لئے کتاب لا۔ وغیرہ وغیرہ۔ تو جیسے اعتراضات وہ لوگ آنحضرت ﷺ پر کیا کرتے تھے ایسے ہی اعتراضات یہ لوگ آج حضرت مسیح موعود پر کرتے ہیں جن کو اگر سچا مان لیا جائے تو سب نبیوں کی نبوت باطل ہو جاتی ہے۔

ایک اور اعتراض اور اس کا جواب

پھر ایک یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ مرزا صاحب نے اپنے کئی نام نہیں رکھے اس لئے یہ نبی نہیں ہو سکتے۔ اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ اِنَّ لِيْ اَسْمَاءً اَنَا مُحَمَّدٌ وَّ اَنَا اَحْمَدُ وَ اَنَا الْمَاحِی الَّذِيْ يَمْحُو اللّٰهُ بِيَ الْكُفْرَ وَ اَنَا الْحَاشِرُ الَّذِيْ يُحْشَرُ النَّاسُ عَلٰى قَدَمَىَّ وَ اَنَا الْعَاقِبُ وَ الْعَاقِبُ الَّذِيْ لَيْسَ بَعْدَهُ نَبِیٌّ ۔ (مشکوٰۃ کتاب الاداب باب اسماء النبی وصفاتہ) یعنی آنحضرتؐ فرماتے ہیں کہ میرے پانچ نام ہیں۔ پس اگر حضرت مسیح موعودؑ کے بھی خدا تعالیٰ نے کئی نام رکھ دیئے اور آپ کو مہدی اور کرشن بنا دیا۔ تو اس سے آپ کی نبوت کس طرح باطل ہو گئی۔ آپ نے اپنے آقا سے تو ایک نام کم ہی پایا ہے۔ پس آنحضرت ﷺ کی نبوت پانچ نام رکھنے کے باوجود ثابت ہو سکتی ہے۔ تو پھر کیا وجہ ہے کہ آپ کی نبوت چار نام رکھنے کی وجہ

(انوار خلافت صفحہ 59 مندرجہ انوار العلوم جلد 3 صفحہ 121، 122 از مرزا بشیر الدین محمود ابن مرزا قادیانی) یہ حوالہ صفحہ 232، 233 پر درج ہے

صفحہ 692

حوالہ نمبر 133

انوار العلوم جلد - ۳ ۱۲۲ انوارِ خلافت

سے ثابت نہیں ہو سکتی۔ وہ لوگ جو یہ اعتراض کرتے ہیں سوچیں اور بتائیں کہ حضرت مسیح موعود کی نبوت کیوں ثابت نہیں ہو سکتی۔

پھر یہ کہا جاتا ہے کہ نبی کے لئے شرط ہے کہ وہ

نبی کے لئے شریعت لانا شرط نہیں

کتاب یعنی شریعت لائے۔ لیکن حضرت مسیح موعود چونکہ کوئی کتاب نہیں لائے۔ اس لئے نبی نہیں ہو سکتے۔ یہ اعتراض جن کی طرف سے کیا جاتا ہے وہ اپنے آپ کو احمدی کہتے اور حضرت مسیح موعود کے شیدائی کہلاتے ہیں لیکن اتنا نہیں جانتے کہ حضرت مسیح موعود اس کے متعلق خود لکھ گئے ہیں کہ ”نبی کے حقیقی معنوں پر غور نہیں کی گئی۔ نبی کے معنی صرف یہ ہیں کہ خدا سے بذریعہ وحی خبر پانے والا ہو اور شرف مکالمہ اور مخاطبہ الٰہیہ سے مشرف ہو۔ شریعت کا لانا اس کے لئے ضروری نہیں اور نہ یہ ضروری ہے کہ صاحب شریعت رسول کا متبع نہ ہو“ (براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ ۱۳۸‘ روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۳۰۶)

پھر آپ لکھتے ہیں کہ ”نبی کے لئے شارع ہونا شرط نہیں ہے۔ یہ صرف موہبت ہے جس کے ذریعہ سے امور غیبیہ کھلتے ہیں (ایک غلطی کا ازالہ صفحہ ۸‘ روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۲۱۰)

اسی طرح آپ فرماتے ہیں ”بعد توریت کے صدہا ایسے نبی بنی اسرائیل میں سے آئے کہ کوئی نئی کتاب انکے ساتھ نہیں تھی۔ بلکہ ان انبیاء کے ظہور کے مطلب یہ ہوتے تھے کہ ان کے موجودہ زمانہ میں جو لوگ تعلیم توریت سے دور پڑ گئے ہوں۔ پھر ان کو توریت کے اصلی منشاء کی طرف کھینچیں۔ (شہادۃ القرآن صفحہ ۲۷‘ روحانی خزائن جلد ۶ صفحہ ۳۲۰)

پھر آپ لکھتے ہیں ”بنی اسرائیل میں کئی ایسے نبی ہوئے ہیں۔ جن پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ صرف خدا کی طرف سے پیشگوئیاں کرتے تھے“ (بدر ۵۔مارچ ۱۹۰۵ء)

اب یہ لوگ کہتے ہیں کہ کوئی ایک نبی بھی ایسا نہیں ہوا جو شریعت نہ لایا ہو۔ لیکن حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ کئی نبی ایسے ہوئے ہیں۔ ہم کہتے ہیں جب بنی اسرائیل میں ایسے نبی آ چکے ہیں جو کوئی کتاب نہیں لائے تو پھر یہ مطالبہ حضرت مرزا صاحب کے لئے کیوں پیش کیا جاتا ہے۔ لیکن افسوس تو یہ ہے کہ یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ ہم کیا کر رہے ہیں اور ہمارا وار کہاں پڑتا ہے۔ کیسا نادان ہے وہ شخص جو کسی کو تیر مارے اور سامنے اس کا اپنا باپ کھڑا ہو مگر وہ یہ خیال نہ کرے کہ اگر میں نے تیر مارا تو تیر پہلے میرے باپ کو چھیدے گا اور پھر کہیں اس تک پہنچے گا۔

انوار خلافت صفحہ 59 مندرجہ انوارالعلوم جلد 3 صفحہ 121, 122 از مرزا بشیر الدین محمود بن مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 232, 233 پر درج ہے

صفحہ 693

۱۳۲

(حوالہ نمبر 134)

بدیں خطاب مرا ہرگز التفات نبود چہ جرم من چو چنیں حکم از خدا باشد
بتاج و تخت زمیں آرزو نمی دارم نہ شوق افسر شاہی بدل مرا باشد
مرا بس است کہ ملک سما بدست آید کہ ملک پاک زمیں را بقا کجا باشد
حوالتم بفلک کردہ اند روز نخست کنوں نظر بمتاع زمیں چرا باشد
مراکہ جنّت علیاست مسکن و ماوا چرا بمزبلہ ایں نشیب جا باشد
اگر جہاں ہمہ تحقیر من کند چہ غمے ؟ کہ با من ست قدیرے کہ ذوالعُلیٰ باشد
منم مسیح زماں و منم کلیم خدا منم محمد احمدؐ کہ مجتبیٰ باشد
نہ بیم است کہ برتر ز جلوہ گاہ ناز کہ جنگ او بکلیم حق از ہوا باشد
ازاں کس نپذیرم خوں کہ در خیالم کنار دجلہ کہ عرش جائے ما باشد
مرا بکشنی رضائے حق شدست گذر مقام من بیں قدس و صفا باشد
کمال پاکئی صدق و صفا دلم شدہ بود دوبارہ از سخن دعوت من بپا باشد
مرنج از سخنم اینکہ سخت بے خبری کہ ایں نگفتہ ام جز وحی کبریا باشد
کسی کہ گم شدہ از خود بخویش پیوست ہر آنچہ تا ز دہنش بشنوی بجا باشد
نیامدم پئے جنگ کارزار و جہاد غرض ز آمدنم درسِ اتّقا باشد
بجنگ ذلّت و کین کساں رضا دادیم بدیں غرض کہ بُت ہستی ما باشد
دروں من ہمہ پُر از محبت نوریست کہ در زمیں فیوضات او ضیا باشد
بجز اسیری عشقی ز حق رہائی نیست کہ وصلت او ہمہ امراض را دوا باشد
حکایت کرمش بر دہن مرا ہر دم بہ بینیش اگرت چشم روشنا باشد
بکارخانہ قدرت ہزار ہا نقش اند مگر تجلی رحماں بہ ز نقش ہا باشد
بیامدم کہ روئے صدق را درخشاں کنم بدوستاں برم آنرا کہ پارسا باشد
بیامدم کہ مجدّد دین محمد ایم بملک نیز نمایم کہ در سما باشد

تریاق القلوب صفحہ 158 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 134 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 233 پر درج ہے

صفحہ 694

حوالہ نمبر 135

اربعین ۲ ۲۵۴

جو ہری گوپالڈی نے میرے مقابل پر کی ۔ کیا میں نے اس کو اس لئے بلایا تھا کہ میں اس سے ایک منقولی بحث کر کے بیعت کروں ۔ جس حالت میں میں بار بار کہتا ہوں کہ خدا نے مجھے مسیح موعود کر کے بھیجا ہے اور مجھے بتلا دیا ہے کہ فلاں حدیث سچی ہے اور فلاں جھوٹی ہے اور قرآن کے صحیح معنوں سے مجھے اطلاع بخشی ہے تو پھر میں کس بات میں اور کس غرض کے لئے ان لوگوں سے منقولی بحث کروں جبکہ مجھے اپنی وحی پر ایسا ہی ایمان ہے جیسا کہ توریت اور انجیل اور قرآن کریم پر تو کیا انہیں مجھ سے یہ توقع ہو سکتی ہے کہ میں اُن کے ظنیات بلکہ موضوعات کے ذخیرہ کو سُنکر اپنے یقین کو چھوڑ دوں جس کی حق الیقین پر بنا ہے اور وہ لوگ بھی اپنی ضد کو چھوڑ نہیں سکتے کیونکہ میرے مقابل پر جھوٹی کتابیں شائع کر چکے ہیں اور اب انکو رجوع اشد من الموت ہے تو پھر ایسی حالت میں بحث سے کونسا فائدہ مترتب ہو سکتا تھا اور جس حالت میں مَیں نے اشتہار دے دیا کہ آئندہ کسی مولوی وغیرہ سے منقولی بحث نہیں کرونگا تو انصاف اور نیک نیتی کا تقاضا یہ تھا کہ ان منقولی بحثوں کا میرے سامنے نام بھی

* چونکہ آپ اسلام سے مرتد ہو جائیں کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اجتہاد بھی حدیث نخل وغیرہ کے رو سے غلط نکلا لہٰذا اس غلطی کی وجہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی آپکے اصول کے رو سے کاذب ٹھہرے۔ پہلے اس سوال کا جواب دو پھر میرے پر اعتراض کرو۔ اسی طرح احمد بیگ کے داماد کے متعلق بھی شرعی پیشگوئی ہے اگر کچھ ایمان باقی ہے تو کیوں شرط کی انتظار نہیں کرتے اور یہ کیسی دیانت تھی کہ مدعی کذاب نے لیکھرام کے متعلق پیشگوئی کا ذکر بھی نہیں کیا۔ کیا یہ پیشگوئی پوری ہوئی یا نہیں ؟ کیا احمد بیگ پیشگوئی کے مطابق میعاد کے اندر مرگیا یا نہیں۔ اسی قول کی بابت کہو کہ آپکے معزز دوست ڈپٹی فتح علی شاہ صاحب نے میرے استفسار پر بڑے یقین سے گواہی دی تھی کہ نہایت صفائی سے لیکھرام کے متعلق پیشگوئی پوری ہو گئی۔ اب اسی جماعت میں ہو کر آپ تکذیب کرنے لگے۔ منہ

۱۱۴

اربعین نمبر 4 صفحہ 19 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 454 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 233 پر درج ہے

صفحہ 695

حوالہ نمبر 136 ٢٢٥

أَهٰذَا الَّذِيْ بَعَثَ اللّٰهُ. قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوْحٰى إِلَيَّ أَنَّمَا إِلٰهُكُمْ إِلٰهٌ وَّاحِدٌ. وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي الْقُرْاٰنِ. وَلَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهِ أَفَلَا تَعْقِلُوْنَ. وَقَالُوْا إِنْ هٰذَا إِلَّا اخْتِلَاقٌ. قُلْ إِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدَى. أَلَا إِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْغَالِبُوْنَ. إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا لِّيَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ. أَلَيْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ. فَبَرَّأَهُ اللّٰهُ مِمَّا قَالُوْا وَكَانَ عِنْدَ اللّٰهِ وَجِيْهًا. وَاللّٰهُ مُوَهِّنُ كَيْدِ الْكَافِرِيْنَ. وَنَجْعَلُهُ اٰيَةً لِّلنَّاسِ وَرَحْمَةً مِّنَّا. وَكَانَ أَمْرًا مَّقْضِيًّا. قَوْلُ الْحَقِّ الَّذِيْ فِيْهِ تَمْتَرُوْنَ. يَا أَحْمَدُ فَاضَتِ الرَّحْمَةُ عَلَى شَفَتَيْكَ. إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ. فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ. إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ. يَلْقَى الْمُرَادَ قَمَرُ الْأَنْبِيَاءِ وَأَمْرُكَ يُتْلٰى. يَوْمَ يُتْلٰى. اَلْحَقُّ وَ

چاک ہو شگافتہ کیا جاؤ۔ زمین و آسمان بندھے ہوئے تھے سو ہم نے دونوں کو کھول دیا۔ اور تجھے انہوں نے ایک ہنسی کی جگہ بنا رکھا ہے۔ کیا یہی ہے جو خدا کی طرف سے بھیجا گیا۔ کہہ میں ایک آدمی ہوں تم جیسا مجھے خدا سے الہام ہوتا ہے کہ تمہارا خدا ایک خدا ہے۔ اور تمام بھلائی قرآن میں ہے۔ اور میں اس سے پہلے ایک مدت سے تم میں ہی رہتا تھا کیا تمہیں میرے حالات معلوم نہیں۔ اور انہوں نے کہا کہ یہ باتیں افترا ہیں۔ کہہ حقیقی ہدایت جو رہتی ہے وہ خدا کی ہدایت ہے۔ اور خبردار ہو کہ خدا کا گروہ ہی آخر کار غالب ہوتا ہے۔ ہم نے تجھے کھلی کھلی فتح دی ہے تا تیرے اگلے اور پچھلے گناہ معاف کئے جائیں۔ کیا خدا اپنے بندہ کے لئے کافی نہیں ہے۔ سو خدا نے ان کے الزاموں سے اس کو بری کیا۔ اور وہ خدا کے نزدیک وجیہ ہے۔ اور خدا کافروں کے مکر کو سست کر دے گا۔ اور ہم اس کو لوگوں کے لئے نشان بنائیں گے۔ اور رحمت کا نمونہ ہوگا۔ اور یہی مقدر تھا۔ یہ وہ سچا قول ہے جس میں لوگ شک کرتے ہیں۔ اے احمد ! رحمت تیرے لبوں پر جاری ہورہی ہے۔ ہم نے تجھے بہت سے حقائق اور معارف اور برکات بخشے ہیں اور ذریت نیک عطا کی ہے سو خدا کے لئے نماز پڑھ اور قربانی کر۔ تیرا بدگو ابتر ہے یعنی خدا اسے بے نشان کر دے گا۔ اور وہ نامور مرے گا نبیوں کا چاند آئے گا

۱؎ "يَا أَحْمَدُ فَاضَتِ الرَّحْمَةُ عَلٰى شَفَتَيْكَ" اس عاجز پر خدا تعالیٰ کی طرف سے القا ہوا کہ جب ایک شخص ایک مسلم نما نے ایک نظم گالیوں سے بھری ہوئی اس عاجز کی طرف بھیجی تھی اور اس میں اس عاجز کی نسبت اس ہندو زادہ نے وہ الفاظ استعمال کئے تھے کہ جب تک ایک شخص درحقیقت شقی ، خبیث طینت ، فاسد الطبع نہ ہو ایسے الفاظ استعمال نہیں کر سکتا ۔ ۔ ۔ ۔ سو خدا نے اس کے اشتہار اور رسالہ کے پڑھنے کے وقت بتلایا کہ اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ ۔ پس اگر اس ہندو زادہ بدفطرت کی نسبت ایسا وقوع میں نہ آیا اور وہ نامراد اور ذلیل اور رسوا نہ مرا تو سمجھو کہ یہ خدا کی طرف سے نہیں ۔ ( ”انجام آتھم“ حاشیہ صفحہ ۵۸ ، ۵۹ ۔ روحانی خزائن جلد ۱۱ صفحہ ۵۸ ، ۵۹ )

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 235 طبع چہارم از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 233 پر درج ہے

صفحہ 696

حوالہ نمبر 137

۵۰۹

نزول المسیح

اس میں جس میں سے یہی ثبوت مل گیا ہو ۔ اسی میں میں نے مندرجہ ذیل خارق عادت پیشگوئیاں سنائی ہیں جو دنیا پر ظاہر ہو چکیں

پیشنگوئی نمبر ۱۳۱ أَلَيْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ فَبَرَّأَهُ اللّٰهُ مِمَّا قَالُوا وَكَانَ عِنْدَ اللّٰهِ وَجِيْهًا (دیکھو براہین احمدیہ صفحہ ۵۰۱) ترجمہ۔ کیا خدا اپنے بندہ کیلئے کافی نہیں۔ پس خدا اسکو ان تمام الزامات سے بری کریگا جو اسپر لگائے جائینگے اور وہ خدا کے نزدیک وجاہت رکھتا ہے۔ پیشگوئی اسطرح پوری ہوئی کہ قادیان کی کوٹھی میں مسٹر مارٹن کے وقت میں میرے پر خون کا الزام لگایا گیا خدا نے اس سے مجھے بری کر دیا۔ اور پھر مسٹر ڈوئی ڈپٹی کمشنر کے وقت میں مجھ پر الزام لگایا گیا اُس سے بھی خدا نے مجھے بری کر دیا اور پھر مجھ پر جاہل ہونے کا الزام لگایا سو مخالف مولویوں کی خود جہالت ثابت ہوئی اور پھر پادریوں نے مجھ پر سارق ہونے کا الزام لگایا سو اس کا خود سارق ہونا ثابت ہوا۔ دنیا میں بدگمان کبھی نہیں گذر سکے جب تک خدا سچ بولنے انسانوں کو نہ دکھلا دے کہ یہ میرا بندہ میری طرف سے تھا۔ تب بہتوں کی آنکھیں کھلیں گی مگر کیا فائدہ ۔ اکنون ہزار عذر بیارند گناہ را * مرشدے کہ رو بماندہ زین دختر چہ یہ پیشگوئی بھی زمانہ سے پہلے کی ہے کہ جب کہ کوئی الزام نہیں تھا پھر سب پورے ہوئے اور خدا نے مجھے بری کر کے دکھلایا۔

پیشنگوئی نمبر ۱۳۲ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ (یعنی ہم تجھے بہت سا ذریت عطا کرینگے اور ایک کثیر جماعت تجھے دی جائے گی۔ دیکھو اس پیشگوئی کو بیس برس گذر گئے۔ اور اب وہ کثیر جماعت ہوئی ۔ بعد نہ صرف ستر ہزار بلکہ اب تو یہ جماعت لاکھ کے قریب ہو گئی اور اُن دنوں میں ایک بھی نہ تھا۔ طاعون سے تو اس کثرت سے بڑھی

بڑھنے اور ترقی پانے جن مقامات میں خدا نے مجھے بری کیا جو بڑے افتراء اور نفاق سے پیدا کئے گئے تھے اُن کے لکھنے کی کچھ ضرورت نہیں سرکاری کاغذات موجود ہیں اور جن صدہا نشانوں کے ساتھ تہمت اور کذب اور افتراء اور جہل سے خدا نے مجھے بری کیا وہ نشانوں میں سے بطور نمونہ اسی فہرست میں موجود ہیں اور منصف کے لئے کافی ہو سکتی ہیں۔

۶۳

نزول المسیح مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 509 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 234,233 پر درج ہے

صفحہ 697

حوالہ نمبر 138

۲۳۶

يَنْكَشِفُ الْغِطَاءُ وَيُبْصَرُ الْقَاصِرُوْنَ . اٰتِيْكَ الصَّلٰوةَ يُوَالِيْكَ . اَنْتَ مَعِيْ وَاَنَا مَعَكَ سِرُّكَ سِرِّيْ . وَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ . الَّذِيْ اَنْقَضَ ظَهْرَكَ . وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ . يُخَوِّفُوْنَكَ مِنْ دُوْنِهِ - اَئِمَّةَ الْكُفْرِ . لَا تَخَفْ اِنَّكَ اَنْتَ الْاَعْلٰى . غَرَسْتُ لَكَ بِيَدِيْ رَحْمَتِيْ وَقُدْرَتِيْ . لَنْ يَّجْعَلَ اللّٰهُ لِلْكَافِرِيْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ سَبِيْلًا . يَنْصُرُكَ اللّٰهُ فِيْ مَوَاطِنَ . كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ . لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ . اِنَّهُ الَّذِيْ جَعَلَكَ الْمَسِيْحَ ابْنَ مَرْيَمَ . قُلْ هٰذَا فَضْلُ رَبِّيْ وَاِنِّيْ اَجُرُّ نَفْسِيْ مِنْ ذُنُوْبِ الْخَطَايَا . يَا عِيْسٰى اِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ اِلَيَّ وَجَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ . نَصْرُ اللّٰهِ اِلَيْكَ مَعْقُوْدٌ . وَقَالُوْا اَتَجْعَلُ فِيْهَا مَنْ يُّفْسِدُ فِيْهَا . قَالَ اِنِّيْ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ . وَقَالُوْا كَذَّابٌ اَشِرٌ . سَيَعْلَمُوْنَ مَنِ الْكَذَّابُ الْاَشِرُ . قُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَاءَنَا وَاَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَاَنْفُسَنَا وَاَنْفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَةَ اللّٰهِ عَلَى الْكَاذِبِيْنَ . سَلَامٌ عَلَى اِبْرَاهِيْمَ صَافَيْنَاهُ وَ نَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ . تَفَرَّدَ بِآيَةِ الْاَدْيَانِ . وَتَعَامَلْ بِالنَّاسِ رِفْقًا وَّرَحْمَةً . يَمُوْتُ وَاَنَا رَاضٍ عَنْهُ . وَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ . كَذَّبُوْا بِآيَاتِيْ وَكَانُوْا بِهَا يَسْتَهْزِئُوْنَ ۔

اور تیرا کام تجھے حاصل ہو جائے گا۔ اس دن حق آئے گا اور سچ کھولا جائے گا اور جو خسران میں ہیں اُن کا خسران ظاہر ہو جائے گا۔ میری راہیں تجھ پر ظاہر ہو گئیں۔ تو میرے ساتھ اور میں تیرے ساتھ ہوں۔ تیرا بھید میرا بھید ہے۔ ہم نے تجھ سے تیرا وہ بوجھ اُتار دیا جس نے تیری کمر توڑ دی۔ اور ہم نے تیرے ذکر کو بہت بلند کیا ۔ تجھے خدا کے سوا اوروں سے ڈراتے ہیں۔ یہ کفر کے پیشوا ہیں۔ مت ڈر یقیناً تو ہی غالب رہے گا۔ میں نے اپنی رحمت اور قدرت کے درخت سے تیرے لئے پھل لگائے۔ خدا کافروں کا مومنوں پر کچھ الزام نہ ہونے دے گا۔ خدا تجھے کئی میدانوں میں فتح دے گا۔ خدا کا نوشتہ یہ ہے کہ میں اور میرے رسول غالب رہیں گے۔ اس کے کلموں کو کوئی بدل نہیں سکتا۔ وہ خدا جس نے تجھے مسیح ابن مریم بنایا۔ کہہ یہ خدا کا فضل ہے اور میں تو کسی خطاب کو نہیں چاہتا۔ اے عیسیٰ میں تجھے وفات دوں گا اور اپنی طرف اُٹھاؤں گا اور تیرے تابعداروں کو تیرے مخالفوں پر قیامت تک غلبہ بخشوں گا۔ خدا نے تیرے پر نصرت کی نظر کی اور لوگوں نے دلوں میں کہا کہ اے خدایا کیا تو ایسے مفسد کو اپنا خلیفہ بنائے گا۔ خدا نے کہا کہ جو کچھ میں جانتا ہوں تمہیں معلوم نہیں۔ اور لوگوں نے کہا کہ یہ کذاب اَشِر (بڑا کذاب) ہے۔ عنقریب معلوم کریں گے کہ کون ہے کذاب اَشِر ۔ کہہ آؤ ہم اور تم اپنے بیٹوں اور عورتوں اور عزیزوں سمیت ایک جگہ اکٹھے ہوں پھر مباہلہ کریں اور جھوٹوں پر لعنت بھیجیں۔ ابراہیم یعنی اس عاجز پر سلام ہم نے اس سے دلی دوستی کی اور غم سے نجات دی۔ یہ ہمارے ہاتھ کا کام تھا جو ہم نے کیا اسے دائمی لوگوں سے نرمی اور احسان کے ساتھ معاملہ کر۔ گو کس حالت میں مرے گا کہ میں تجھ سے راضی ہوں گا۔ اور خدا تجھ کو لوگوں کے

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 236 طبع چہارم از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 234 پر درج ہے

صفحہ 698

حوالہ نمبر 139

۵۴۸

۱۰ جولائی ۱۹۰۶ء "میں آسمان سے تیرے لئے برساؤں گا اور زمین سے نکالوں گا۔ پر وہ جو میرے مخالف ہیں پکڑے جائیں گے۔" (بدر جلد ۲ نمبر ۳۳ مورخہ ۱۶ اگست ۱۹۰۶ء صفحہ ۲۔ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۲۹ مورخہ ۱۷ اگست ۱۹۰۶ء صفحہ ۱)

۱۹۰۶ء

يَا اَحْمَدُ بَارَكَ اللّٰهُ فِيْكَ وَمَا رَمَيْتَ اِذْ رَمَيْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى۔ اے احمد خدا نے تجھ میں برکت رکھ دی ہے جو کچھ تو نے چلایا وہ تو نے نہیں چلایا بلکہ خدا نے چلایا۔ اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ ۚ لِيُنْذِرَ قَوْمًا مَّا اُنْذِرَ اٰبَآؤُهُمْ وَلِتَسْتَبِيْنَ خدا نے تجھے قرآن سکھایا یعنی اسکے صحیح معنے تجھ پر ظاہر کئے تاکہ تو اُن لوگوں کو ڈرائے جنکے باپ دادے ڈرائے نہیں گئے اور تاکہ سَبِيْلُ الْمُجْرِمِيْنَ ۚ قُلْ اِنِّيْ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِيْنَ ۚ مجرموں کی راہ کھل جائے یعنی معلوم ہو جائے کہ کون تجھ سے برگشتہ ہوتا ہے۔ کہہ میں خدا کی طرف سے مامور ہوں اور میں سب سے پہلا ماننے والا ہوں۔ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۚ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا ۚ كُلُّ بَرَكَةٍ مِّنْ مُّحَمَّدٍ کہہ حق آیا اور باطل بھاگ گیا۔ اور باطل بھاگنے والا ہی تھا۔ ہر ایک برکت محمد صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ۚ فَتَبَارَكَ مَنْ عَلَّمَ وَتَعَلَّمَ ۚ وَقَالُوْا اِنْ هٰذَا صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہے۔ پس بڑا مبارک وہ ہے جس نے تعلیم دی اور جس نے تعلیم پائی۔ اور کہیں گے کہ یہ اِلَّا اخْتِلَاقٌ ۚ قُلِ اللّٰهُ ثُمَّ ذَرْهُمْ فِيْ خَوْضِهِمْ يَلْعَبُوْنَ ۚ قُلْ وحی نہیں ہے یہ کلمات تو اپنی طرف سے بنائے ہیں۔ کہو کہ وہ خدا ہے جس نے یہ کلمات نازل کئے پھر انکو خوض و لعب میں پڑا رہنے دے۔ کہو اِنِ افْتَرَيْتُهُ فَعَلَيَّ اِجْرَامِيْ وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى اگر یہ کلمات میرا افترا ہے اور خدا کا کلام نہیں تو میں سخت سزا کے لائق ہوں اور اُس انسان سے زیادہ تر کون ظالم ہے عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا ۚ هُوَ الَّذِيْ اَرْسَلَ رَسُوْلَهُ بِالْهُدٰى وَدِيْنِ الْحَقِّ جس نے خدا پر افترا کیا اور جھوٹ باندھا۔ خدا وہ خدا ہے جس نے اپنا رسول اور اپنا فرستادہ اپنی ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا۔ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّيْنِ كُلِّهِ ۚ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهِ ۚ يَقُوْلُوْنَ اَنّٰى لَكَ تا اُس دین کو ہر قسم کے دین پر غالب کرے۔ خدا کی باتیں پوری ہو کر رہتی ہیں کوئی اُن کو بدل نہیں سکتا۔ وہ لوگ کہیں گے کہ

۱؂ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے الاستفتاء صفحہ ۶۹ مطبوعہ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم (روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۶۸۳) میں اِس الہام کا عربی میں ترجمہ فرماتے ہوئے اُس کی تاریخ "۱۰ جولائی ۱۹۰۶ء" تحریر فرمائی ہے۔ اس لئے اسے یہاں درج کیا گیا۔ (مرتب)

تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 538 طبع چہارم از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 234 پر درج ہے

صفحہ 699

حوالہ نمبر 140

۳۲۱

نفس پر قائم ہے زندہ خدا کا مظہر اور مجھ سے امر مقصود کا مبدء ہے اور وہ ہمارے پانی سے ہے اور دوسرے لوگ خشکی سے۔ کیا یہ کہتے ہیں کہ ہم ایک بڑی جماعت ہیں انتقام لینے والے۔ یہ سب بھاگ جائیں گے اور پیٹھ پھیریں گے۔ وہ خدا قابل تعریف ہے جس نے تجھے دامادی اور آبائی عزت بخشی۔ اپنی قوم کو ڈرا اور کہہ کہ میں خدا کی طرف سے ڈرانے والا ہوں۔ ہم نے کئی کھیت تیرے لئے تیار کر رکھے ہیں اے ابراہیم اور لوگوں نے کہا کہ ہم تجھے ہلاک کریں گے مگر خدا نے اپنے بندہ کو کہا یہ کچھ خوف کی جگہ نہیں ہیں اور ہمیشہ رسول غالب ہوں گے۔ اور میں اپنی فوجوں کے ساتھ عنقریب آؤں گا یعنی سمندر کی طرح موجزنی کروں گا۔ خدا کا فضل آنے والا ہے اور کوئی نہیں جو اس کو رَد کر سکے۔ اور مجھے خدا کی قسم یہ بات سچ ہے اس میں تبدیلی نہیں ہوگی اور نہ وہ چھپی رہے گی، اور وہ امر نازل ہو گا جس سے تو تعجب کرے گا۔ یہ خدا کی وحی ہے جو اونچے آسمانوں کا بنانے والا ہے۔ جس کے سوا کوئی خدا نہیں۔ ہر ایک چیز کو جانتا ہے اور دیکھتا ہے۔ اور وہ خدا اُن کے ساتھ ہے جو اُس سے ڈرتے ہیں اور نیکی کو نیک طور پر ادا کرتے ہیں اور اپنے نیک عملوں کو خوبصورتی کے ساتھ انجام دیتے ہیں۔ وہی ہیں جن کے لئے آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے۔ اور دُنیا کی زندگی میں بھی اُن کو بشارتیں ہیں۔ تو نبی کی کنار عاطفت میں پرورش پا رہا ہے.... ۱؎ وہ وحی برحق۔ اِنّی میں تیرے ساتھ ہوں۔ اور پھر فرمایا :- وَ قَالُوْا اِنْ هٰذَا اِلَّا اخْتِلَاقٌ - اِنْ هٰذَا الرَّجُلُ يَجْزِمُ الدِّيْنَ - قُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُ - قُلْ لَّوْ كَانَ الْاَمْرُ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللّٰهِ لَوَجَدْتُّمْ فِيْهِ اخْتِلَافًا كَثِيْرًا - هُوَ الَّذِيْ اَرْسَلَ رَسُوْلَهُ بِالْهُدٰی وَ دِيْنِ الْحَقِّ وَ تَهْذِيْبِ الْاَخْلَاقِ - قُلْ اِنِ افْتَرَيْتُهُ فَعَلَيَّ اِجْرَامِيْ - وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰهِ كَذِبًا - تَنْزِيْلٌ مِّنَ اللّٰهِ الْعَزِيْزِ الرَّحِيْمِ - لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّا اُنْذِرَ اٰبَآؤُهُمْ - وَلِتَدْعُوَ قَوْمًا اٰخَرِيْنَ - عَسَی اللّٰهُ اَنْ يَّجْعَلَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ الَّذِيْنَ عَادَيْتُمْ مَّوَدَّةً - يَخِرُّوْنَ عَلَی الْاَذْقَانِ سُجَّدًا رَّبَّنَا اغْفِرْ لَنَا اِنَّا كُنَّا خَاطِئِيْنَ - لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ يَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ وَهُوَ اَرْحَمُ الرَّاحِمِيْنَ - اِنِّيْ اَنَا اللّٰهُ فَاعْبُدْنِيْ وَلَا تَنْسَنِيْ وَاجْتَهِدْ اَنْ تَعْبُدَنِيْ وَاسْئَلْ رَّبَّكَ وَكُنْ سَمْحًا - اَللّٰهُ وَلِيُّكَ تَعَلَّمَ الْقُرْاٰنَ - فَبِاَيِّ حَدِيْثٍ بَعْدَهُ تُؤْمِنُوْنَ - تَرْبِيَتُنَا عَلٰی هٰذَا الْمَبْدِ رَحْمَةً وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰی - اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْيٌ يُوْحٰی - دَنٰی فَتَدَلّٰی فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰی - ذَرْنِيْ وَالْمُكَذِّبِيْنَ اِنِّيْ مَعَ الرَّسُوْلِ اَقُوْمُ - اِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ مِيْقَاتُهُمْ - وَ اِنَّكَ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ - وَ اِنَّ رَبَّكَ يُحِقُّ الْحَقَّ

۱؎ ترجمہ قریب، اور تو جہانوں کی چوٹیوں پر رہتا ہے۔

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 321 طبع چہارم از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 234 پر درج ہے

صفحہ 700

حوالہ نمبر 141

۵۴۲

فَأَتَتِ الرَّحْمَةُ عَلَى شَفَتَيْكَ ، اِنَّكَ بِاَعْيُنِنَا، سَمَّيْتُكَ الْمُتَوَكِّلُ، تیرے لبوں پر رحمت جاری کی گئی۔ تو میری آنکھوں کے سامنے ہے۔ میں نے تیرا نام متوکل رکھا۔ يَرْفَعُ اللهُ ذِكْرَكَ ، وَيُتِمُّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، بُورِكْتَ خدا تیرا ذکر بلند کرے گا۔ اور اپنی نعمت دنیا اور آخرت میں تجھ پر پوری کرے گا۔ اے احمد! تو يَا أَحْمَدُ وَكَانَ مَا بَارَكَ اللهُ فِيكَ حَقًّا فِيْكَ ، شَأْنُكَ عَجِيْبٌ وَ اَجْرُكَ برکت دیا گیا اور جو کچھ تجھے برکت دی گئی وہ تیرے میں حق تھا تیری شان عجیب ہے اور تیرا اجر قَرِيبٌ ، الْاَرْضُ وَالسَّمَاءُ مَعَكَ كَمَا هُوَ مَعِي ، أَنْتَ وَجِيْهٌ فِي حَضْرَتِي قریب ہے۔ آسمان اور زمین تیرے ساتھ ہیں جیسے کہ وہ میرے ساتھ ہیں۔ تو میری درگاہ میں وجیہہ ہے۔ اِخْتَرْتُكَ لِنَفْسِى ، سُبْحَانَ اللهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى زَادَ مَجْدَكَ میں نے تجھے اپنے لئے چن لیا۔ خدا تعالیٰ پاک برکتوں والا اور برتر بزرگ ہے وہ تیری بزرگی کو زیادہ کرے گا۔ يَنْقَطِعُ آبَاءُكَ وَيُبْدَأُ مِنْكَ ، وَمَا كَانَ اللهُ لِيَتْرُكَكَ حَتَّى تیرے باپ دادوں کا ذکر منقطع ہو جائے گا اور تیرا سلسلہ خاندان تجھ سے شروع ہو گا۔ اور خدا ایسا نہیں کہ تجھ کو چھوڑ دے يَمِيزَ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ ، إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ جب تک کہ پاک اور پلید میں فرق کر کے نہ دکھلاوے۔ اور جب خدا تعالیٰ کی مدد اور فتح آئے گی اور خدا کا وعدہ پورا ہو گا هٰذَا الَّذِي كُنتُم بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ ، أَرَدْتُ أَنْ أَسْتَخْلِفَ فَخَلَقْتُ تب کہا جائے گا کہ یہ وہی امر ہے جس کیلئے تم جلدی کرتے تھے۔ میں نے ارادہ کیا کہ اپنا خلیفہ بناؤں سو میں نے اس کو آدَمَ، دَنَى فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى يُحْيِى الدِّينَ وَ پیدا کیا۔ وہ خدا کے نزدیک ہوا پھر لوگوں کی طرف جھکا اور خدا اور مخلوق کے درمیان ایسا ہو گیا جیسا کہ دو کمانوں کی کمان کا خط ہوتا ہے۔ يُقِيمُ الشَّرِيعَةَ، يَا آدَمُ اسْكُنْ أَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ، يَا مَرْيَمُ دین کو زندہ کرے گا اور شریعت کو قائم کرے گا۔ اے آدم تُو اور تیری زوجہ بہشت میں داخل ہو۔ اے مریم اسْكُنْ أَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ ، يَا أَحْمَدُ اسْكُنْ أَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ تُو اور تیری زوجہ بہشت میں داخل ہو۔ اے احمد تو اور تیری زوجہ بہشت میں داخل ہو۔

لے یادرہے کہ ظاہری بزرگی اور وجاہت کے لحاظ سے بھی خاکسار کا خاندان بہت شہرت رکھتا تھا بلکہ اس زمانہ تک بھی اس خاندان کو زمینداری شوکت اور امارت بادشاہی کے قریب قریب تھی۔ میرے دادا صاحب کے پاس پچاسی گاؤں اپنی ملکیت کے تھے اور پہلے اس سے وہ والیان ملک کے رنگ میں بسر کرتے تھے سکھ سلطنت کے ماتحت نہ تھے اور پھر رفتہ رفتہ حکمت اور مشیت ایزدی سے سکھوں کے زمانہ میں جبر و تعدی کی وجہ سے سب کچھ کھو بیٹھے اور صرف چھ گاؤں ان کے قبضہ میں رہے اور پھر وہ گاؤں بھی ہاتھ

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 542 طبع چہارم از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 234 پر درج ہے

صفحہ 701

حوالہ نمبر 142

٧٩٢

نے فرمایا کہ ”ابھی میں نے صریح لفظوں میں تجھے کہا ہے کہ مبارک“ یہ گویا قبولیت کا نشان ہے۔

(الحکم جلد ۴ نمبر ۱۶ مورخہ یکم مئی ۱۹۰۰ء صفحہ ۵)

اپریل ۱۹۰۰ء: ”ایک دفعہ عزیز مریم کی بیماری میں بخلوت اس کی شفا کے لئے دُعا کی، تب خواب میں دیکھا کہ ایک سڑک ہے۔ گویا وہ چاند کے ٹکڑے اکٹھے کر کے بنائی گئی ہے اور ایک شخص ایوب بیگ کو اس سڑک پر سے لے جا رہا ہے اور وہ سڑک آسمان کی طرف جاتی ہے اور نہایت خوشنما اور چمکیلی ہے۔ گویا زمین پر چاند بچھایا گیا ہے۔ میں نے یہ خواب اپنی جماعت میں بیان کی اور تخویف کے طور پر دیکھا کہ یہ موت کی طرف اشارہ ہے لیکن دل نہیں مانتا تھا کہ اس خواب کی تعبیر موت ہو۔ سو اب اس خواب کی تعبیر ظہور میں آئی۔ اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّا اِلَیْهِ رَاجِعُوْنَ۔“

(از مکتوب بنام محترم ۱؎ صاحب مندرجہ الحکم جلد ۴ نمبر ۱۷ مورخہ ۱۰ مئی ۱۹۰۰ء صفحہ ۴)

۱۵ اپریل ۱۹۰۰ء: ”اس خط کے لکھنے کے وقت میں جو ایوب بیگ مرحوم کی طرف توجہ تھی کہ وہ کیونکر جلد ہماری آنکھوں سے ناپدید ہو گیا اور تمام تعلقات کو خواب و خیال کر گیا کہ یک دفعہ الہام ہوا: مبارک وہ آدمی جو اس دروازہ کے راہ سے داخل ہو یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عزیز مرزا ایوب بیگ کی موت نہایت نیک طور پر ہوئی ہے، اور خوش نصیب وہ ہے جس کی ایسی موت ہو۔“

(از مکتوب بنام محترم ۲؎ صاحب مندرجہ الحکم جلد ۴ نمبر ۱۷ مورخہ ۱۰ مئی ۱۹۰۰ء صفحہ ۴)

۱۹۰۰ء: ”خدا نے مجھے کہا کہ اُٹھ اور ان لوگوں کو کہہ دے کہ میرے پاس خدا کی گواہی ہے پس کیا تم خدا کی گواہی پر ایمان لاؤ گے خدا کا کلام جو مجھ پر نازل ہوا اُس کے یہ الفاظ ہیں: قُلْ عِنْدِیْ شَهَادَةٌ مِّنَ اللّٰهِ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّؤْمِنُوْنَ۔ قُلْ عِنْدِیْ شَهَادَةٌ مِّنَ اللّٰهِ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ۔ قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ۔ قُلْ یَا اَیُّهَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ جَمِیْعًا۔ اِنِّیْ مُرْسَلٌ مِّنَ اللّٰهِ۔“

(از اشتہار معیار الاخیار صفحہ ۳ مورخہ ۲۵ مئی ۱۹۰۰ء مجموعہ اشتہارات جلد ۳ صفحہ ۲۶۹، ۲۷۰)

(ترجمہ: ان کو کہہ کہ میرے پاس خدا کی گواہی ہے پس کیا تم ایمان لاؤ گے یا نہیں۔ ان کو کہہ کہ میرے

۱؎ مرزا ایوب بیگ صاحب (مرتب) ۲؎ مرزا یعقوب بیگ صاحب (مرتب)

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 292 طبع چہارم از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 234 پر درج ہے

صفحہ 702

حوالہ نمبر 143

۵۴۱

مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ يَأْتُوْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ يَنْصُرُكَ اللَّهُ مِنْ عِنْدِهِ کی راہ سے تجھے پہنچے گی اور ایسی راہوں سے پہنچے گی کہ وہ دور دراز ہوں گی بہت سے لوگ تیری مدد کے لئے آئیں گے اور تیرے پاس ان کے ہدیے يَنْصُرُكَ رِجَالٌ نُوحِي إِلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَاءِ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِ اللَّهِ آئیں گے ان کی مدد خدا کرے گا ان لوگوں کی خدا مدد کرے گا جن کے دلوں میں ہم آسمان سے وحی کریں گے۔ تیری مدد کے لئے آئیں گے کوئی قَالَ رَبُّكَ إِنَّهُ نَازِلٌ مِّنَ السَّمَاءِ مَا يُرْضِيكَ إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا ہماری باتوں کو ٹال نہیں سکتا۔ تیرا رب فرماتا ہے کہ ایک ایسا امر آسمان سے نازل ہو گا جو تجھے راضی کر دے گا۔ ہم مُّبِينًا نِعْمَ الْمَوْلَى نِعْمَ وَقَرَّبْنَاهُ نَجِيًّا أَشْجَعُ النَّاسِ وَلَوْ كَانَ ایک کھلی کھلی فتح تیرے لئے کریں گے وہ کیا ہی اچھا مولیٰ ہے ہم نے اس کو اپنے قریب کر لیا ہے درآنحالیکہ وہ ہم سے راز و نیاز الْإِيْمَانُ مُعَلَّقًا بِالثُّرَيَّا لَنَالَهُ أَنَا رَافِعُ بُرْهَانَهُ كُنْتُ كَنْزًا کرتا ہے وہ سب سے زیادہ بہادر ہے اگر ایمان ثریا پر بھی ہوتا تو وہ اس کو لے لیتا۔ خدا اس کی حجت روشن کرے گا میں ایک خزانہ مَخْفِيًّا فَأَحْبَبْتُ أَنْ أُعْرَفَ . يَا قَمَرُ يَا شَمْسُ أَنْتَ مِنِّي وَأَنَا پوشیدہ تھا پس میں نے چاہا کہ ظاہر کیا جاؤں۔ اے چاند! اور اے سورج! تو مجھ سے ظاہر ہوا۔ اور میں مِنْكَ ۔ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَانْتَهَى أَمْرُ الزَّمَانِ إِلَيْنَا وَتَمَّتْ كَلِمَةُ تجھ سے ۔ جب خدا کی مدد آئے گی اور زمانہ ہماری طرف رجوع کرے گا تب کہا جائے گا کہ کیا یہ شخص ہو بہو رَبِّكَ أَلَيْسَ هَذَا بِالْحَقِّ وَلَا تُصَعِّرْ لِخَلْقِ اللَّهِ وَلَا تَسْئَمْ کیا حق پر نہ تھا۔ اور چاہیے کہ تو مخلوق الٰہی کے ملنے کے وقت پیشانی پر بل نہ لائے اور ان کی کثرت ملاقات سے تھک مِنَ النَّاسِ وَوَسِّعْ مَكَانَكَ وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ نہ جائے اور تجھے لازم ہے کہ اپنے مکان کو وسیع کرے اور ان لوگوں کو بشارت دے جنہوں نے ایمان قبول کیا کہ ان کے صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَاتْلُ عَلَيْهِمْ مَّا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ خوشی کی بات خدا کے حضور میں متحقق ہو گئی ہے اور جو کچھ تیرے پر وحی ہو چکی ہے وہ ان کو پڑھ کر سنا۔ اَصْحَابُ الصُّفَّةِ، وَمَا أَدْرٰيكَ مَا أَصْحَابُ الصُّفَّةِ تَرَى أَعْيُنَهُمْ تیری جماعت میں داخل ہونے والے لوگ صفہ کے لوگ اور تو کیا جانتا ہے کہ کیا ہیں صفہ کے رہنے والے تو دیکھے گا کہ ان کی آنکھوں تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ يُصَلُّونَ عَلَيْكَ رَبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا آنسو جاری ہوں گے وہ تیرے پر درود بھیجیں گے اور کہیں گے کہ اے ہمارے خدا ہم نے ایک منادی کو ندا مارتے يُنَادِي لِلْإِيْمَانِ وَدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ وَسِرَاجًا مُّنِيرًا يَا نِعْمَةُ سنا کہ وہ بلاتا ہے ایمان کی طرف بلاتا ہے اور خدا کی طرف بلاتا ہے اور ایک چمکتا ہوا چراغ ہے اے ہما رے وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ اور خدا کا وعدہ پورا ہو گا (ترجمہ از مرتب)

یہ حوالہ صفحہ 234 پر درج ہے تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 541 طبع چہارم از مرزا قادیانی

صفحہ 703

حوالہ نمبر 144

۶۳

یَحْمَدُهُ اللّٰهُ وَ یَمْشِیْ اِلَیْکَ خدا تیری تعریف کرتا ہے اور تیری طرف چلا آتا ہے

اَلَا اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ خبردار ہو خدا کی مدد نزدیک ہے

سُبْحٰنَ الَّذِیْ اَسْرٰی بِعَبْدِهٖ لَیْلًا پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندہ کو رات کے وقت میں سیر کرایا۔ یعنی ضلالت اور گمراہی کے زمانہ میں جو رات سے مشابہ ہے، مقامات معرفت اور یقین تک لدنی طور سے پہنچایا۔

یُخْلَقُ اٰدَمُ فَاُكْرِمُهٗ پیدا کیا آدم کو پس اکرام کیا اس کا

جَرِیُّ اللّٰهِ فِیْ حُلَلِ الْاَنْبِیَاءِ جرئی اللہ نبیوں کے حُلوں میں

اس فقرہ الہامی کے یہ معنے ہیں کہ منصب ارشاد اور ہدایت اور مورد وحی الٰہی ہونا دراصل حُلّۂ انبیاء ہے اور اُنہی کے قد کے لئے یہ تیار بنتا ہے اور یہ حُلّۂ انبیاء اُمتِ محمدیہ کے بعض افراد کو بغرض تکمیل ناقصین عطا ہوتا ہے اور اُسی کی طرف اشارہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عُلَمَاءُ اُمَّتِیْ کَاَنْبِیَاءِ بَنِیْٓ اِسْرَائِیْلَ ۔ پس یہ لوگ اُمت میں نبیوں کے قائم مقام ہوکر نبیوں کا کام اُن کو سپرد کیا جاتا ہے۔

وَكُنْتُمْ عَلٰي شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَکُمْ مِّنْهَا اور تھے تم ایک گڑھے کے کنارے پر سو اُس سے تم کو خلاصی بخشی۔ یعنی خلاصی کا سامان عطا فرمایا۔

عَسٰی رَبُّکُمْ اَنْ یَّرْحَمَ عَلَیْکُمْ وَاِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا وَجَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْکٰفِرِیْنَ حَصِیْرًا خدا تعالیٰ کا ارادہ اس بات کی طرف متوجہ ہے جو تم پر رحم کرے۔ اور اگر تم نے گناہ اور سرکشی کی طرف رجوع کیا تو ہم بھی سزا اور عقوبت کی طرف رجوع کریں گے اور ہم نے جہنم کو کافروں کے لئے قید خانہ بنا رکھا ہے۔۔۔۔۔

تُوْبُوْا وَ اٰمِنُوْا وَاِلَی اللّٰهِ تَوَجَّهُوْا وَعَلَی اللّٰهِ تَوَکَّلُوْا وَاسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ توبہ کرو اور فسق اور فجور اور کفر اور معصیت سے باز آؤ اور اپنے حال کی اصلاح کرو اور خدا کی طرف متوجہ ہو جاؤ اور اُس پر توکل کرو اور صبر اور صلوٰۃ کے ساتھ اس سے مدد چاہو کیونکہ نیکیوں سے بدیاں دُور ہو جاتی ہیں۔

بُشْرٰی لَکَ یَا اَحْمَدِیْ اَنْتَ مُرَادِیْ وَمَعِیْ غَرَسْتُ کَرَامَتَکَ بِیَدِیْ ۔

۱؎ حضرت اقدس نے اس الہام کو براہین احمدیہ صفحہ ۵۲۷، حاشیہ در حاشیہ نمبر ۳، طبع اول صفحہ ۴۲۵ پر اور اس کے علاوہ کئی اور مقامات پر بھی درج فرمایا ہے۔ احمدیہ لغات میں عَسٰی کے معنے لکھا ہے "امید دلائی جاتی ہے" (مرتب) براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحہ ۵۲۸ سے معلوم ہوتا ہے کہ حُلَل کا لفظ سہوِ کتابت ہے۔ (مرتب)

تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 63، طبع چہارم از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 234 پر درج ہے

صفحہ 704

حوالہ نمبر 145 ۸۴۶

وَاِنْ يُّكَذِّبُوْكَ ٥ الَّذِيْ كَفَرَ ٥ أَوْقِدْ لِيْ يَا هَامَانُ لَعَلِّيْ أَبْلُغُ ٥ حَتَّى پر ہے اور جوکہ وہ واقعہ برحق ہے پس تمسخر کرتے ہیں سو ان کے تمسخر کی جزا ان کو ملے گی اے ہامان میرے لئے اسباب پیدا کر تا کہ میں اِلَيْهِ مُوْسٰى ٥ وَاِنِّيْ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الْكَاذِبِيْنَ ٥ تَبَّتْ يَدَا اَبِيْ لَهَبٍ موسیٰ کے خدا پر اطلاع پاؤں اور میں اُس کو جھوٹا سمجھتا ہوں۔ ہلاک ہو گئے دونوں ہاتھ ابی لہب کے وَتَبَّ ٥ مَا كَانَ لَهٗ اَنْ يَّدْخُلَ فِيْهَا اِلَّا خَآئِفًا ٥ وَمَا اَصَابَكَ فَمِنَ اللّٰهِ ٥ اور وہ آپ بھی ہلاک ہو گیا اُس کو نہیں چاہیئے تھا کہ اس معاملہ میں دخل دیتا مگر ڈرتے ڈرتے اور جو کچھ تجھے پہنچیگا وہ خدا کی الْفِتْنَةُ هٰهُنَا ٥ فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ ٥ اَلَا اِنَّهَا فِتْنَةٌ مِّنَ اللّٰهِ ٥ طرف سے ہے اور یہ ایک فتنہ برپا ہوگا پس صبر کر جیسا کہ اولوالعزم نبیوں نے صبر کیا ۔ وہ فتنہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوگا لِيُحِبَّ حُبًّا جَمًّا ٥ مِّنْ بَيْنِ اللّٰهِ الْمُتَوَفِّيْهِ وَلَا تَذَرُوْهُ ٥ شَاتَمَانِ قَدْ بَغَانِ ٥ وَكُلُّ مَنْ تا وہ تجھ سے محبت کرے ۔ وہ اللہ اُس کو محبت دے جو بہت غالب اور بہت بڑھ کر ہے ۔ وہ تیرا پاسبان ہے۔ اُس کو مت چھوڑ عَلَيْهَا فَانٍ ٥ وَلَا تَهِنُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا ٥ اَلَيْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗ ٥ اَلَمْ تَعْلَمْ جو زمین پر ہے فانی ہے وہ تیرا نگہبان ہے تم مت سست ہو اور اندوہگین مت ہو ۔ کیا خدا اپنے بندے کیلئے کافی نہیں کیا تو نہیں جانتا اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ ٥ وَاِنْ يَّتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا هُزُوًا ٥ اَهٰذَا الَّذِيْ کہ خدا ہر ایک چیز پر قادر ہے۔ اور تجھے اُنھوں نے ٹھٹھے کی جگہ بنا رکھا ہے۔ وہ ہنسی کی راہ سے کہتے ہیں کیا یہی ہے بَعَثَ اللّٰهُ ٥ قُلْ اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوْحٰى اِلَيَّ اَنَّمَا اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ جس کو خدا نے مبعوث فرمایا ! ان کو کہہ کہ میں تو ایک انسان ہوں میری طرف وحی ہوتی ہے کہ تمہارا خدا ایک خدا ہے وَالْخَيْرُ كُلُّهٗ فِي الْقُرْاٰنِ ٥ لَا يَمَسُّهٗ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَ ۔ قُلْ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ اور تمام بھلائی اور نیکی قرآن میں ہے کسی دوسری کتاب میں نہیں۔ اس کے اسرار تک نہیں پہنچتے ہیں بجز اُنکے جو پاک دل ہیں کہہ ہدایت

۱؂ محقّر سے مراد مولوی ابو سعید محمد حسین بٹالوی ہے کیونکہ اس نے اشتہار لکھ کر توثیق کے لئے پیش کیا اور اس ملک میں تکفیر کا آگ بھڑکانے والا بدتر ساعی ہی تھا ۔ عَلَيْهِ مَا يَسْتَحِقُّهُ ۔ منہ

( حقیقت الوحی صفحہ ۱۰۱ حاشیہ ۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۰۴)

۲؂ اس جگہ جو ابی لہب کی نسبت وحی ہو رہی ہے یہ پوری ہو چکی ہے اور یہ پیشگوئی ۲۵ برس کے بعد جو براہین احمدیہ میں درج ہے اور یہ اس زمانہ میں شائع ہو چکی ہے جبکہ میری نسبت تکفیر کا فتویٰ بیگانوں اور اپنوں کی طرف سے نکلا تھا۔ تعجب کہ شر کا بانی جس پر ابی لہب کا اسم لاگو تھا اس کا نام خدا تعالیٰ نے ابی لہب رکھا اور تکفیر کے ایک عرصہ سے پہلے مجھ پر ہوئی جو براہین احمدیہ میں درج ہے ۔ منہ

(حقیقت الوحی صفحہ ۱۰۱ حاشیہ ۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۰۴)

تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 546 طبع چہارم از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 235 پر درج ہے

صفحہ 705

حوالہ نمبر 146

۵۲۷

هُوَ الْهُدَى، وَقَالُوا لَوْلَا نُزِّلَ هَذَا عَلَى رَجُلٍ مِّنْ قَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ در اصل خدا کی ہدایت یہی ہے۔ اور کہیں گے کہ یہ وحی کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہیں ہوئی، جو مکہ اور طائف کے کسی بڑے شہر کا باشندہ وَقَالُوا أَنَّى لَكَ هَذَا إِنْ هَذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوهُ فِي الْمَدِينَةِ يَنْظُرُونَ ہے۔ اور کہیں گے کہ تجھے یہ رتبہ کہاں حاصل ہو گیا۔ یہ تو ایک مکر ہے جو تم لوگوں نے مل کر بنایا۔ یہ لوگ تیری طرف دیکھتے ہیں إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ ، قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ مگر اُنہیں سجھائی نہیں دیتا۔ ان کو کہہ کہ اگر تم خدا سے محبت کرتے ہو تو آؤ میری پیروی کرو تا خدا بھی تم سے محبت کرے۔ عَسَى رَبُّكُمْ أَن يَرْحَمَكُمْ وَإِنْ عُدْتُمْ عُدْنَا وَجَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكَافِرِينَ خدا آیا ہے تا تم پر رحم کرے۔ اور اگر تم پھر شرارت کی طرف عود کرو گے تو ہم بھی عذاب دینے کی طرف عود کریں گے اور ہم نے جہنم کو حَصِيرًا وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ قُلِ اعْمَلُوا عَلَى مَكَانَتِكُمْ کافروں کیلئے قید خانہ بنایا ہے اور ہم نے تجھے تمام دنیا پر رحمت کرنے کیلئے بھیجا ہے، تو کہہ کہ تم اپنے مکانوں پر اپنے طور پر عمل کرو إِنِّي عَامِلٌ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ، لَا يُقْبَلُ عَمَلٌ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِّن اور میں اپنے طور پر عمل کر رہا ہوں پھر تھوڑی دیر کے بعد تم دیکھ لوگے کہ کس کی خدا مدد کرتا ہے، کوئی عمل بغیر تقویٰ کے ایک ذرہ غَيْرِ التَّقْوَى، إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَالَّذِينَ هُم مُّحْسِنُونَ قبول نہیں ہو سکتا۔ خدا ان کے ساتھ ہوتا ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں۔ اور ان کے ساتھ جو نیک کاموں میں مشغول ہیں قُلْ إِنِ افْتَرَيْتُهُ فَعَلَيَّ إِجْرَامِي وَلَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُرًا مِّن کہہ اگر میں نے یہ افترا کیا ہے تو میری گردن پر میرا گناہ ہے۔ اور میں پہلے اس سے ایک مدت تک تم میں ہی رہا قَبْلِهِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ ، أَلَيْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ وَلِنَجْعَلَهُ آيَةً تھا کیا تم کو سمجھ نہیں؟ کیا خدا اپنے بندہ کے لئے کافی نہیں ہے۔ اور ہم اس کو لوگوں کے لئے لِلنَّاسِ وَرَحْمَةً مِّنَّا وَكَانَ أَمْرًا مَّقْضِيًّا قَوْلُ الْحَقِّ الَّذِي فِيهِ ایک نشان اور ایک نمونہ رحمت بنائیں گے۔ اور یہ ابتداء سے مقدر تھا۔ یہ وہی امر ہے جس میں تم تَمْتَرُونَ سَلَامٌ عَلَيْكَ جُعِلْتَ مُبَارَكًا أَنْتَ مُبَارَكٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ شک کرتے تھے۔ تیرے پر سلام۔ تو مبارک کیا گیا۔ تو دنیا اور آخرت میں مبارک ہے

۱؎ یعنی اِس شخص کو کیسا موعود ہونے کا دعویٰ ہے جو پنجاب کے ایک چھوٹے سے گاؤں قادیان کا رہنے والا ہے۔ کیوں اوس مشہور مکہ یا مدینہ میں مبعوث نہ ہوا جو سر زمینِ اسلام ہے۔ منہ (حقیقۃ الوحی صفحہ ۷۲ حاشیہ۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۷۵)

۲؎ الہام کے الفاظ فِي الْمَدِينَةِ کا ترجمہ ”شہر میں“ حقیقۃ الوحی کے پہلے ایڈیشن میں بھی موجود نہیں ہے۔ (مرتب)

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 547 طبع چہارم از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 235 پر درج ہے

صفحہ 706

حوالہ نمبر 147 ۵۴۷

هُوَ الْهُدٰى وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ عَلٰى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيْمٍ وہ اصل ھدیٰ و ہدایت ہے ۔ اور کہتے ہیں کہ یہ وحی اس شخص پر کیوں نہ اترا جو ان دونوں شہروں میں سے کسی ایک شہر کا باشندہ ١ وَقَالُوْا أَنّٰى لَكَ هٰذَا ۖ اِنَّ هٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوْهُ فِى الْمَدِيْنَةِ ۖ يَنْظُرُوْنَ ہے ۔ اور کہتے ہیں تجھے یہ مرتبہ کیونکر حاصل ہو گیا ۔ یہ تو ایک مکر ہے جو تم لوگوں نے مل کر بنایا ہے ۔ لوگ تیری طرف دیکھتے ہیں إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ ۖ قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِىْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ مگر تو انہیں دکھائی نہیں دیتا ۔ ان کو کہہ کہ اگر تم خدا سے محبت کرتے ہو تو آؤ میری پیروی کرو تا خدا بھی تم سے محبت کرے ۔ عَسٰى رَبُّكُمْ أَنْ يَّرْحَمَكُمْ ۚ وَإِنْ عُدْتُمْ عُدْنَا ۘ وَجَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكَافِرِيْنَ خدا چاہتا ہے تا تم پر رحم کرے ۔ اور اگر تم پھر شرارت کی طرف عود کرو گے تو ہم بھی عذاب دینے کی طرف عود کریں گے اور ہم نے جہنم کو حَصِيْرًا ۖ وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِيْنَ ۖ قُلِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ کافروں کیلئے قید خانہ بنایا ہے ۔ اور ہم نے تجھے تمام دنیا پر رحمت کر کے بھیجا ہے۔ انکو کہہ کہ تم اپنے مکانوں پر اپنے طور پر عمل کرو إِنِّىْ عَامِلٌ ۖ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ۖ لَا يُقْبَلُ عَمَلٌ مِّثْقَالُ ذَرَّةٍ مِّنْ اور میں اپنے طور پر عمل کر رہا ہوں پھر تھوڑی دیر کے بعد تم دیکھ لو گے کہ کس کی خدا مدد کرتا ہے کوئی عمل بغیر تقویٰ کے ایک ذرہ غَيْرِ التَّقْوَى ۖ إِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا وَالَّذِيْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ ۖ قبول نہیں ہو سکتا۔ خدا ان کے ساتھ ہوتا ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور ان کے ساتھ جو نیک کاموں میں مشغول ہیں قُلْ إِنِ افْتَرَيْتُهُ فَعَلَىَّ إِجْرَامِىْ ۖ وَلَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُرًا مِّنْ کہہ اگر میں نے یہ افترا کیا ہے تو مجھ پر گناہ ہے اور میں پہلے ہی سے ایک مدت تک تم میں ہی رہا قَبْلِهِ ۖ أَفَلَا تَعْقِلُوْنَ ۖ أَلَيْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ ۖ وَلِنَجْعَلَهُ آيَةً تھا کیا تم کو سمجھ نہیں ؟ کیا خدا اپنے بندہ کے لئے کافی نہیں ہے ۔ اور ہم اس کو لوگوں کے لئے لِّلنَّاسِ وَرَحْمَةً مِّنَّا ۚ وَكَانَ أَمْرًا مَّقْضِيًّا ۖ قَوْلُ الْحَقِّ الَّذِىْ فِيْهِ ایک نشان اور ایک نمونہ رحمت بنائیں گے ۔ اور یہ ابتداء سے مقدر تھا ۔ یہ وہی امر ہے جس میں تم تَمْتَرُوْنَ ۖ سَلَامٌ عَلَيْكَ ۖ جُعِلْتَ مُبَارَكًا ۖ أَنْتَ مُبَارَكٌ فِى الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ۖ شک کرتے تھے ۔ تیرے پر سلام ۔ تو مبارک کیا گیا ۔ تو دنیا اور آخرت میں مبارک ہے

١؎ یعنی اس شخص پر جو دو شہروں مکہ اور طائف میں سے بڑا ہے۔ کیوں اس کو خدا نے مکہ یا مدینہ میں مبعوث نہ کیا ۔ جو مرتبہ میں ان سے کم ہے ۔ منہ

(حقیقۃ الوحی صفحہ ۷۰ حاشیہ ۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۷۳)

٭ الہام کے الفاظ فِى الْمَدِيْنَةِ کا ترجمہ "شہر میں" حقیقۃ الوحی کے پہلے ایڈیشن میں بھی موجود نہیں ہے ۔ (مرتب)

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 547 طبع چہارم از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 235 پر درج ہے

صفحہ 707

حوالہ نمبر 148

وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللهِ تَبْدِيْلًا۔ كُنْ مَعَ اللهِ حَيْثُ اَنْتَ۔ اَيْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللهِ۔ كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ وَالْفِخَارُ لِلْمُؤْمِنِيْنَ۔ وَلَا تَيْئَسْ مِنْ رَّوْحِ اللهِ اَلَا اِنَّ رَوْحَ اللهِ قَرِيْبٌ۔ اَلَا اِنَّ نَصْرَ اللهِ قَرِيْبٌ۔ يَاْتِيْكَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيْقٍ۔ يَاْتُوْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيْقٍ۔ يَنْصُرُكَ اللهُ مِنْ عِنْدِہٖ۔ يَنْصُرُكَ رِجَالٌ نُّوْحِيْ اِلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَاءِ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللهِ۔ اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا۔ فَتْحُ الْوَلِيِّ فَتْحٌ وَّقَرَّبْنٰهُ نَجِيًّا۔ اَشْجَعُ النَّاسِ۔ وَلَوْ كَانَ الْاِيْمَانُ مُعَلَّقًا بِالثُّرَيَّا لَنَالَہٗ۔ اَنَارَ اللهُ بُرْهَانَہٗ۔ يَا اَحْمَدُ فَاضَتِ الرَّحْمَةُ عَلٰى شَفَتَيْكَ۔ اِنَّكَ بِاَعْيُنِنَا يَرْحَمُكَ اللهُ وَ يُتِمُّ نِعْمَتَہٗ عَلَيْكَ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ۔ وَوَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰى۔ وَيُفَضَّلُ رَاْيُكَ وَقُلْنَا يَا نَارُ كُوْنِيْ بَرْدًا وَّسَلٰمًا عَلٰى اِبْرٰهِيْمَ۔ حَرَّرْتُ نِعْمَةً تُرِيْكَ۔ يَا اَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَاَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ۔ يَا اَحْمَدُ يَتِمُّ اسْمُكَ

ان کو عذاب کے لیے چُن تیرے ساتھ ہوں سو تُو ہر ایک جگہ میرے ساتھ رہ۔۱؎ تم بہترین اُمت ہو جو لوگوں کے فائدہ کیلئے نکالے گئے ہو۔ تم مومنوں کا فخر ہو اور تو خدا کی رحمت سے نومید مت ہو۔ خبردار ہو کہ خدا کی رحمت قریب ہے۔ خبردار ہو کہ خدا کی مدد تجھ سے قریب ہے۔ وہ مدد ہر ایک دُور کی راہ سے تجھے پہنچے گی اور ایسی راہوں سے پہنچے گی کہ وہ راہ لوگوں کے بہت چلنے سے جو تیری طرف آئیں گے گہرے ہو جائیں گے۔ اور اِس کثرت سے لوگ تیری طرف آئیں گے کہ جن راہوں پر وہ چلیں گے وہ عمیق ہو جائیں گے۔ خدا اپنی طرف سے تیری مدد کرے گا۔ تیری مدد وہ لوگ کریں گے جن کے دلوں میں ہم اپنی طرف سے الہام کریں گے۔ خدا کی باتوں کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔ ہم ایک کھلی کھلی فتح تجھ کو عطا کریں گے۔ ولی کی فتح ایک بڑی فتح ہے اور ہم نے اس کو ایک ایسا قرب بخشا کہ ہمراز اپنا بنا لیا۔ وہ تمام لوگوں سے زیادہ بہادر ہے۔ اور اگر ایمان ثریا سے معلق ہوتا تو وہیں سے جاکر اُس کو لے لیتا۔ خدا اس کی حجت روشن کرے گا۔ اے احمد تیرے لبوں پر رحمت جاری کی گئی۔ تُو میری آنکھوں کے سامنے ہے۔ خدا تجھ پر رحم کرے گا اور اپنی نعمت دُنیا اور آخرت میں تجھ پر پوری کریگا۔ اور تجھ کو اُس نے۲؎

۱؎ (بقیہ حاشیہ) پس تو خدا تعالیٰ کے ساتھ رہ۔ تو ہمارے لیے ہم تیرے لیے۔ (مترجم) اللہ تعالیٰ کی توجہ ہوگی۔ ۲؎ (بقیہ ترجمہ) اور اُس نے تجھے طالب ہدایت پایا پس اُس نے تیری رہنمائی کی۔ ۳؎ (بقیہ ترجمہ) تیرے رب کی رحمت کے۔ الہام کے ماخذ نے تجھے وہ چشمے دئیے جن میں سے پینے والے پئیں اور سنے والے سنیں اور لوگوں کو آنے والے خطرات سے ڈرا اور اپنے رب کی بڑائی بیان کر۔

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 39 طبع چہارم از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 235 پر درج ہے

Back

صفحہ 708

حوالہ نمبر 149 ۵۲۵

۴ مئی ۱۹۰۶ء

" اِنِّیْ مَعَ الْاَفْرَامِ ۔ لَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الْاَفْلَاكَ لے

(بدر جلد ۲ نمبر ۱۹ مورخہ ۱۰ مئی ۱۹۰۶ء صفحہ ۲ ۔ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۱۶ مورخہ ۱۰ مئی ۱۹۰۶ء صفحہ ۱)

۵ مئی ۱۹۰۶ء

رؤیا : ایک شخص نے ایک دوائی گول نما ٹین کی ایک بوتل دی جو سرخ رنگ کی دوائی ہے اور بوتل بند کی ہوئی ہے اور اس پر پٹیاں لپیٹی ہوئی ہیں۔ ظاہر دیکھنے میں تو بوتل ہی نظر آتی ہے مگر جس شخص نے دی ہے وہ کہتا ہے کہ یہ کتاب دیتا ہوں۔ دیکھنے میں تو بوتل ہی نظر آتی تھی لیکن کہنے میں وہ شخص اس کا نام کتاب رکھتا ہے۔ اس وقت میں کہتا ہوں کہ اس کا وقت آ گیا ہے۔ اس کو نوکر رکھا جائے ۔ اور میں نے اس کتاب پر دستخط کر دیئے ہیں۔ پھر الہام ہوا۔ یہ میری کتاب ہے اس کو کوئی ہاتھ نہ لگاوے مگر وہی جو میرے خاص خدمت گار ہیں۔ پھر الہام ہوا:۔ اَللّٰهُ يُعْلِيْكُمْ وَلَا تُعْلَوْا ۲؎ فرمایا۔ اس سے مطلب یہ ہے کہ ہم دشمنوں پر غالب ہوں گے اور دشمن سے مغلوب نہ ہوں گے ۔"

(بدر جلد ۲ نمبر ۱۹ مورخہ ۱۰ مئی ۱۹۰۶ء صفحہ ۲ ۔ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۱۶ مورخہ ۱۰ مئی ۱۹۰۶ء صفحہ ۱)

۸ مئی ۱۹۰۶ء

"پھر بہار آئی، تو آئے ثلج کے آنے کے دن

ثلج کا لفظ عربی ہے۔ اس کے ایک تو یہ معنے ہیں کہ وہ برف جو آسمان سے پڑتی ہے اور شدتِ سردی کا موجب ہو جاتی ہے اور بارش اس کے لوازم سے ہوتی ہے اس کو عربی میں ثلج کہتے ہیں۔ ان معنوں کی بناء پر اس پیشگوئی کے یہ معنے معلوم ہوتے ہیں کہ بہار کے دنوں میں آسمان سے ہمارے ملک میں خدا تعالیٰ غیر معمولی طور پر یہ آفتیں نازل کرے گا اور برف اور اس کے لوازم سے شدتِ سردی اور کثرتِ بارش ظہور میں آئے گی اور دوسرے معنے اس کے عربی میں اطمینانِ قلب حاصل کرنا ہے یعنی انسان کو کسی امر پر ایسے دلائل اور شواہد میسر آجاویں جس سے اس کا دل مطمئن ہو جائے ۔ یہی وجہ سے کہتے ہیں کہ فلاں تقریر موجب ثلج قلب ہو گئی یعنی ایسے دلائلِ قاطعہ بیان کئے گئے جن سے تسلی اطمینان ہو گئی۔ اور یہ لفظ کبھی خوشی اور راحت پر بھی استعمال کیا جاتا ہے جو اطمینانِ قلب کے بعد پیدا ہوتی ہے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ جب انسان کا دل کسی

لے (ترجمہ) تحقیق میں بزرگوں کے ساتھ ہوں۔ اگر تو نہ ہوتا تو میں آسمانوں کو پیدا نہ کرتا۔ ۲؎ (ترجمہ) اللہ تعالیٰ تمہیں بلند کرے گا تم نیچے نہیں کئے جاؤ گے۔

تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 525 طبع چہارم ، از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 235 پر درج ہے

صفحہ 709

حوالہ نمبر 150

براہین احمدیہ حصہ پنجم ۱۴۴

روضۂ آدم کہ تھا وہ نامکمل اب تلک میرے آنے سے ہوا کامل بجملہ برگ و بار
وہ خدا جس نے نبی کو تھا غنی خالص دیا زیورِ دیں کو بناتا ہے وہ اب مثلِ نثار
وہ دکھاتا ہے کہ دیں میں کچھ نہیں مکر و دغا دل کو خود کھینچتی ہے دل کشی رُخسار یار
پس یہی ہے رمز جو اُس نے کیا منع از جہاد تا اُٹھائے دیں کی راہ سے جو اُٹھا تھا اک غبار
تا دِکھائے منکروں کو دیں کی ذاتی خوبیاں جن سے ہوں شرمندہ جو اسلام پر کرتے ہیں وار
کہتے ہیں یہ پکے باتوں میں یہ کامل نہیں وحشیوں میں دیں کو پھیلانا یہ کیا مشکل تھا کار
پر بنانا آدمی وحشی کو ہے اک معجزہ معنی بر نبوت ہے یہی بے شرم و عار
نورِ ہدیٰ اس میں ہے خود ہی وہ اک نور تھے قومِ وحشی میں اگر پیدا ہوئے کیا جائے عار
روشنی میں مہر تاباں کی بھلا کیا فرق ہو گرچہ مکے میں ہو کیا ترک یا از زنگبار
اے مرے یارو دیکھو قوم عرب کی عادات کو وہ اگر سیلاب میں بدتر تھے تم جو ہو مکتب دار
نفس کو مطلق اس جیسا کوئی دشمن نہیں جو چپکے چپکے کرتا ہے پیدا سامان کار
جس نفس نے دین کو ہمت کر کے زیر کیا چیز کیا ہیں اس کے آگے رستم و اسفندیار
گالیاں سن کر دعا دو پا کے دکھ اقوامِ دیں کبر و عداوت پر دیکھو تم دکھاؤ انکسار
تم نہ بولو اگر گالیاں دیں وہ ہزار چھوڑ دو ان کو کہ چھپوا دیں وہ ایسے اشتہار
چپ رہو تم دیکھ کر ان کے رسالوں کے ستم دم نہ مارو گرچہ ماریں اور کریں حال زار
دیکھ کر لوگوں کا جوش غیظ مت کچھ غم کرو شدت گرمی کا ہے محتاج باران بہار
مفتریوں کی نگاہوں میں ہمارا کام ہے یہ خیال احمقانہ کس قدر ہے نابکار
خیر خواہی جان کی خون کیا ہم نے جگر جنگ یہی تھی تا کی بچے دین حملے سے خوار
پاک دلی پہچانتی ہے حقیقت کا نشان اب تو آنکھیں بند ہیں دیکھیں گے پر انجام کار

براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 114 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 144 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 236 پر درج ہے

صفحہ 710

حوالہ نمبر 151

خطبہ الہامیہ ۱۷۸

فَاَرَادَ اللّٰهُ اَنْ یُتِمَّ النَّبَاَ وَیُکْمِلَ الْبِنَاءَ بِاللَّبِنَةِ پس خدا ارادہ کرد کہ پیشگوئی را بکمال رساند و بخشت آخری بناء پس خدا نے ارادہ فرمایا کہ اس پیشگوئی کو پورا کرے اور آخری اینٹ کے ساتھ

الْاَخِیْرَةِ فَاَنَا تِلْکَ اللَّبِنَةُ اَیُّهَا النَّاظِرُوْنَ ۔ وَکَانَ تمام کند ۔ پس من ہماں خشت ہستم ۔ اے تماشا گان ۔ و چوں بنا کو کمال تک پہنچا دے ۔ پس میں وہی اینٹ ہوں ۔ اے دیکھنے والو ۔ اور

عِیْسٰی عِلْمًا لِّبَنِیْ اِسْرَائِیْلَ وَاَنَا عِلْمٌ لَّکُمْ اَیُّهَا عیسیٰ نشانے برائے بنی اسرائیل بود ہمچناں من برائے شما اے کند فہماں جیسا کہ عیسیٰ بنی اسرائیل کے لئے نشان تھا ۔ ویسا ہی میں تمہارے لئے اے کند فہمو

الْمُفَرِّطُوْنَ ۔ فَسَارِعُوْا اِلَی التَّوْبَةِ اَیُّهَا الْغَافِلُوْنَ ۔ یک نشان ہستم ۔ پس سوئے توبہ بشتابید ۔ ایک نشان ہوں ۔ پس توبہ کی طرف جلدی کرو ۔

وَاِنِّيْ جُعِلْتُ فَرْدًا اَکْمَلَ مِنَ الَّذِیْنَ اُنْعِمَ عَلَیْهِمْ و من از جملہ منعم علیہم فردِ کامل کردہ شدم ۔ اور میں منعم علیہم گروہ میں سے فردِ اکمل کیا گیا ہوں ۔

فِيْ اٰخِرِ الزَّمَانِ وَلَا فَخْرَ وَلَا رِیَاءَ وَاللّٰهُ فَعَلَ در آخر زمان ۔ و ایں از فخر و ریا نیست ۔ و خدا چناں کرد آخر زمانہ میں ۔ اور یہ فخر اور ریا نہیں ۔ خدا نے جیسا

کَیْفَ اَرَادَ وَشَاءَ فَهَلْ اَنْتُمْ تُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَتُنَازِعُوْنَ ۔ خواست ۔ پس آیا شما با خدا جنگ و پیکار مے کنید ۔ چاہا کیا ۔ پس کیا تم خدا کے ساتھ لڑتے ہو ۔

خطبہ الہامیہ صفحہ 178 مندرجہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 178 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 236 پر درج ہے

صفحہ 711

حوالہ نمبر 152

۴۴۶

کہ کر مسیح موعود کو اپنا بنوا لیتا ہے۔

معراج ایک کشف تھا

بعض لوگ کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم معراج کی رات اسی جسم کے ساتھ آسمان پر گئے ہیں مگر وہ نہیں دیکھتے کہ قرآن شریف اس کو ردّ کرتا ہے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی رؤیا کہتی ہیں۔

حقیقت میں معراج ایک کشف تھا جو بڑا عظیم الشان اور صاف کشف تھا اور اتم اور اکمل تھا کشف میں اس جسم کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ کشف میں جو جسم دیا جاتا ہے اس میں کسی قسم کا حجاب نہیں ہوتا بلکہ بڑی بڑی طاقتیں اس کے ساتھ ہوتی ہیں اور آپ کو اسی جسم کے ساتھ جو بڑی طاقتوں والا ہوتا ہے معراج ہوا۔

پھر آپ نے اس امر کی تائید میں چند آیات سے استدلال کیا کہ جسم آسمان پر نہیں جاتا یہ باتیں قریباً پہلے ہم بار ہا درج کر چکے ہیں بخوف طوالت اعادہ نہیں کرتے۔

مسیح کی پیدائش اور خارق عادت اُمور

مسیح کی پیدائش کے ذکر پر فرمایا کہ خدا کی سنت دو طرح پر ہوتی ہے ایک کثرتی جیسے عموماً عورت سے بچہ نکلتا ہے مگر بعض اوقات نر سے بھی نکلا کرتا ہے ایسے واقعات دنیا میں ہوئے ہیں یہ قلیل الوقوع واقعات خارق عادت کہے جاتے ہیں

۲۴؍ اکتوبر ۱۹۰۲ء

دربار شام

برادر مکرم محمد یوسف صاحب عرضی نویس نے اپنے گاؤں میں بعض لوگوں کے شکوک کے رفع کرنے کے واسطے بعض احباب کو حضرت اقدس کے ایما سے لے جانا چاہا اس کی تجویز ہوئی کہ مولوی عبداللہ صاحب اور مولوی سرور شاہ صاحب کو بھیجا جاوے۔

۱۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۳۸ صفحہ ۵ مورخہ ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۲ء

ملفوظات جلد دوم صفحہ 446، طبع جدید، از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 237 پر درج ہے

صفحہ 712

حوالہ نمبر 153 ازالہ اوہام ۱۲۷ حصہ اول

اور وہ یہ ہے وكنت عليهم شهيدا مادمت فيهم فلما توفيتنى كنت انت الرقيب عليهم وانت على كل شىء شهيد اب جبکہ فوت ہونا ثابت ہوا تو اس سے ظاہر ہے کہ اُن کا جسم اُن سب لوگوں کی طرح جو مر جاتے ہیں زمین میں مدفون کیا گیا ہو گا کیونکہ قرآن شریف بصراحت ناطق ہے کہ فقط ان کی روح آسمان پر گئی نہ کہ جسم ۔ تب ہی تو حضرت مسیح نے آیت موصوفہ بالا میں اپنی موت کا صاف اقرار کر دیا۔ اگر وہ نزول کی شکل پر خاکی جسم کے ساتھ آسمان کی طرف پرواز کرتے تو اپنے مرجانے کا ہرگز ذکر نہ کرتے ؎ اور ایسا ہرگز نہ کہتے کہ میں وفات پا کر اس جہان سے رخصت کیا گیا ہوں۔ اب ظاہر ہی ہے کہ آسمان پر انکی روح ہی گئی تو پھر نازل ہونے کے وقت جسم کہاں سے ساتھ آجائے گا۔

از انجملہ ایک یہ اعتراض ہے کہ نیا اور پرانا فلسفہ بالاتفاق اس بات کو محال ثابت کرتا ہے کہ کوئی انسان اپنے اس خاکی جسم کے ساتھ کرۂ زمہریر تک بھی پہنچ سکے۔ بلکہ علم طبعی کی نئی تحقیقاتیں اس بات کو ثابت کرچکی ہیں کہ بعض بلند پہاڑوں کی چوٹیوں پر پہنچ کر اسی طبقہ کی ہوا ایسی مضر صحت معلوم ہوتی ہے کہ جس میں زندہ رہنا ممکن نہیں پس اس جسم کا کرهٔ ماہتاب یا کرهٔ آفتاب تک پہنچنا کس قدر لغو خیال ہے ۔

+ اس جگہ اگر کوئی اعتراض کرے کہ اگر جسم خاکی کا آسمان پر جانا محالات میں سے ہے تو پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کس طرح اس جسم کے ساتھ سیر کرایا گیا۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ سیر معراج اس جسم کثیف کے ساتھ نہیں تھا بلکہ وہ نہایت اعلیٰ درجہ کا کشف تھا جسکو بیداری سے تعبیر کرنا چاہیئے۔ ایسے کشف کی حالت میں انسان ایک نوری جسم کے ساتھ حسب استعداد نفس ناطقہ اپنے کے آسمانوں کی سیر کر سکتا ہے۔ پس چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نفس ناطقہ کی اعلیٰ درجہ کی استعداد تھی لہذا انتہائی نقطہ تک پہنچی ہوئی تھی اس لئے وہ اپنی معراجی سیر میں نفوس عالم کے انتہائی نقطہ تک جو عرش عظیم سے تعبیر کیا جاتا ہے پہنچ گئے ۔ سو درحقیقت یہ سیر کشفی تھا جو بیداری سے اشد درجہ پر مشابہ تھا۔ مگر ایک قسم کی بیداری ہی ہے ۔ میں اس کا نام خواب ہرگز نہیں رکھتا اور نہ کشف کے ادنیٰ درجوں میں سے اسکو سمجھتا ہوں بلکہ یہ کشف کا وہ گہرا اور سچا مقام ہے جو درحقیقت بیداری بلکہ اس کثیف بیداری سے پرے حالت زیادہ اصلی اور اعلیٰ ہوتی ہے اور اس قسم کے کشفوں میں مؤلف خود صاحب تجربہ ہے۔ اس جگہ زیادہ لکھنے کی گنجائش نہیں ۔ انشاء اللہ کسی اور جگہ میں اس پر مفصل طور پر بیان کیا جائے گا۔ منه

؎ المائدۃ : ۱۱۸

ازالہ اوہام صفحہ 47 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 126 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 237 پر درج ہے

Back

صفحہ 713

(حوالہ نمبر 154)

ازالہ اوہام ۱۲۶ حصہ اوّل

اور وہ یہ ہے وكنت عليهم شهيدا مادمت فيهم ج فلما توفيتني كنت انت الرقيب عليهم وانت على كل شيء شهيد اب جبکہ فوت ہونا ثابت ہوا تو اس سے ظاہر ہے کہ اُن کا جسم اُن سب لوگوں کی طرح جو مر جاتے ہیں زمین میں دفن کیا گیا ہو گا کیونکہ قرآن شریف بصراحت ناطق ہے کہ فقط اُن کی روح آسمان پر گئی نہ کہ جسم ۔ تب ہی تو حضرت مسیح نے آیت موصوفہ بالا میں اپنی موت کا صاف اقرار کر دیا ۔ اگر وہ زندہ ملک کی شکل پر خاکی جسم کے ساتھ آسمان کی طرف پرواز کرتے تو اپنے مر جانے کا ہرگز ذکر نہ کرتے اور ایسا ہرگز نہ کہتے کہ میں وفات پا کر اس جہان سے رخصت کیا گیا ہوں۔ اب ظاہر ہو کہ جبکہ آسمان پر اُنکی روح ہی گئی تو پھر نازل ہونے کے وقت جسم کہاں سے ساتھ آجائے گا۔ از انجملہ ایک یہ اعتراض ہے کہ فلاسفہ بالاتفاق اس بات کو محال ثابت کرتا ہے کہ کوئی انسان اپنے اس خاکی جسم کے ساتھ کرۂ زمہریر تک بھی پہنچ سکے۔ بلکہ علم طبعی کی نئی تحقیقاتیں اس بات کو ثابت کر چکی ہیں کہ بعض بلند پہاڑوں کی چوٹیوں پر پہنچ کر اس طبقہ کی ہوا ایسی مضر صحت معلوم ہوتی ہے کہ جس میں زندہ رہنا ممکن نہیں۔ پس اس جسم کا کرۂ ماہتاب یا کرۂ آفتاب تک پہنچنا کس قدر لغو خیال ہے +

حاشیہ + اس جگہ اگر کوئی اعتراض کرے کہ اگر جسم خاکی کا آسمان پر جانا محالات میں سے ہے تو پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معراج اس جسم کے ساتھ کیونکر جائز ہوگا۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ معراج اس جسم کثیف کے ساتھ نہیں تھا بلکہ وہ نہایت اعلیٰ درجہ کا کشف تھا جسکو بہ نسبت بیداری کہنا چاہیئے۔ ایسے کشف کی حالت میں انسان ایک نوری جسم کے ساتھ حسب استعداد نفس مسافات طے کر کے آسمانوں کی سیر کر سکتا ہے۔ پس چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نفس ناطقہ کی اعلیٰ درجہ کی استعداد تھی اور انتہائی نقطہ تک پہنچی ہوئی تھی اس لئے بہ حالتِ معراج سیر میں معمورہ عالم کے انتہائی نقطہ تک جو عرش عظیم سے تعبیر کیا جاتا ہے پہنچ گئے ۔ سو درحقیقت یہ سیر کشفی تھا جو بیداری سے اشد درجہ پر مشابہ تھا بلکہ ایک قسم کی بیداری ہی ہے ۔ میں اس کا نام خواب ہرگز نہیں رکھتا اور نہ کشف کے ادنیٰ درجوں میں سے اسکو سمجھتا ہوں بلکہ یہ کشف کا وہ اکمل ترین مقام ہے جو درحقیقت بیداری بلکہ اس کثیف بیداری سے یہ حالت زیادہ پاکی اور صفا رکھتی ہے اور اس قسم کے کشفوں میں مؤلف خود صاحبِ تجربہ ہے۔ اس جگہ زیادہ لکھنے کی گنجائش نہیں انشاء اللہ کسی اور محل میں مفصل طور پر بیان کیا جائے گا۔ منہ

۱؎ المائدۃ : ۱۱۸

ازالہ اوہام صفحہ 47 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 128 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 237 پر درج ہے

صفحہ 714

حوالہ نمبر 155

۲۰۸

آپؐ کو ہمیشہ کوئی بھی خوبی کسی دوسرے نبی میں ایسی نہیں جو کہ آپؐ کو نہ دی گئی ہو ۔ یہ

آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری

کیا تم یہ قبول کرتے ہو کہ ایک کے ہاں بہت سے مہمان ہوں تو ان میں سے ایک کو پر تکلف کھانا پلاؤ وغیرہ دے اور دوسرے کو معمولی کھانا، شہد یا روٹی وغیرہ تو باقی مہمان کہیں گے کہ کاش ہم اس گھر میں مہمان نہ ہوتے۔ اسی طرح ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر جو گزرے ہیں انہوں نے کیا گناہ کیا کہ جو فضیلت اور عمر عیسیٰ علیہ السلام کو دیا جاتا ہے ان میں سے ایک کو بھی نہ ملا۔ ان سب کو فوت مانتے ہو اور ایک عیسیٰ کو زندہ اور وہ بھی آسمان پر۔

قرآن فرماتا ہے رَبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا (طہ : ۱۱۴) اور حضرت تو اس دعا کو برابر مانگتے رہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر ۶۳ برس کی ہوئی۔ دوسرے تمام پیغمبروں کو گھٹانا اور مسیح کو سب سے بڑھ کر فضیلت دینا ہمیں سمجھ نہیں آتی کہ کونسی فضیلت مسیح کو اور حاصل ہے ۔ انہوں نے نہ ساری دنیا کی اصلاح کا دعویٰ کیا ۔ نہ کوئی دکھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح ان کو پہنچا ۔ نہ مقابلہ کی نوبت آئی ۔ نہ کوئی شکست اُٹھانی پڑی ۔ چند آدمی صرف ایمان لائے وہ بھی بھاگ گئے۔ اس کے مقابل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھو۔ آپؐ کا دعویٰ کل جہان کے لیے اور سخت سے سخت دکھ اور تکالیف آپؐ کو پہنچے ۔ جنگیں بھی آپؐ نے کیں ۔ ایک لاکھ سے زیادہ صحابہ آپؐ کی زندگی میں موجود تھے پھر ان باتوں کے ہوتے ہوئے جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کوئی ایسا کلمہ زبان پر لائے جس سے آپؐ کی ہتک ہو وہ مومن نہیں تو مرتد ہے ۔ اور ہم سے کوئی پوچھے کہ پھر تم محمد رسول اللہ کیوں کہتے ہو عیسیٰ رسول اللہ ہی کہو۔

اب تم کیا کہتے ہو جب ایک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تو فوت شدہ مانے اور عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ نبی تو تم اسے مانتے ہو کہ جس سے تم کو فیض اور فائدہ کچھ بھی حاصل نہ ہوا۔ اُس کو مجرد فضیلت دینے سے تم کو کیا حاصل؟

تم مسلمانوں کا سرچشمہ قرآن ہے نہ انجیل و تورات۔ جو قرآن کو چھوڑ کر ان کی طرف جھکتا ہے وہ مرتد ہے اور کافر، مگر جو قرآن کی طرف جھکتا ہے وہ مسلمان ہے۔ کیا ان کو شرم نہیں آتی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جب مصیبت پیش آئی تو خدا تعالیٰ نے آپؐ کو غار میں جگہ دی اور عیسیٰ کو جب وہ موقعہ پیش آیا تو آسمان پر جا بٹھایا۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر ۶۳ برس کی کہتے ہیں اور عیسیٰ کو اب تک زندہ مانتے ہیں۔ ان تمام باتوں کا آخری نتیجہ یہ ہے کہ عیسائیوں کا دین غالب ہے۔ آج مسلمان کم ہیں اور عیسائی زیادہ ۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ یہی دلائل بیان کر کے پادریوں نے مسلمانوں کو عیسائی بنایا ہے۔

خدا تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ عیسیٰ مر گیا فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی کی آیت موجود ہے۔ اگر تمہارا مذہب قرآن ہے تو اس پر

ملفوظات جلد سوم صفحہ 208 طبع جدید ، از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 238 پر درج ہے

صفحہ 715

حوالہ نمبر 156

۲۹۰

پھر نہ کچھ حمیت دل میں رکھ لیتا ہے کیونکہ اسلام میں کسی نبی کی تحقیر کفر ہے اور سب پر ایمان لانا فرض ہے۔ پس مسلمانوں کو بڑی مشکلات پیش آتی ہیں کہ دونوں طرف اُن کے پیارے ہوتے ہیں۔ بہر حال جاہلوں کے مقابل پر صبر کرنا بہتر ہے کیونکہ کسی نبی کی اش

صفحہ 716

حوالہ نمبر 157 تتمہ ص ۱۳۵ حقیقۃ الوحی

فضل و کرم سے ابتک زندہ ہیں پس خدا کے علم میں مرنے والے کی طرف وہ پیشگوئی منسوب نہیں ہو سکتی اور خدا کے نزدیک وہ کالعدم ہے اور خدا کی پیشگوئی ایک جینے والے لڑکے کے متعلق تھی۔ خدا کا ایسا کوئی الہام نہیں کہ وہ عمر پانے والا لڑکا پہلے حمل سے ہی پیدا ہو گا اور ۱۳۵ اگر کوئی اجتہادی خیال ہو تو اس پر اعتراض کرنا اُن لوگوں کا کام ہے جو نبی کے اپنے اجتہاد کو واجب الوقوع سمجھتے ہیں تعجب کہ یہ لوگ کیسے اپنے افتراء سے ایک اعتراض بنا لیتے ہیں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ جب انسان جھوٹ بولنا روا رکھ لیتا ہے تو حیاء اور خدا کا خوف بھی گم ہو جاتا ہے۔ ناظرین یاد رکھیں کہ میری طرف سے کبھی کوئی ایسی پیشگوئی شائع نہیں ہوئی جسکے الہامی الفاظ میں یہ تصریح کی گئی ہو کہ اسی حمل سے لڑکا پیدا ہو گا۔ رہا اجتہاد تو میں اس بات کا خود قائل ہوں کہ دنیا میں کوئی ایسا نبی نہیں آیا جس نے کبھی اجتہاد میں غلطی نہیں کی۔ جب وہ نبی جو تمام انبیاء سے افضل تھا اجتہادی غلطی سے بچ نہ سکا۔ چنانچہ حدیبیہ کا سفر اجتہادی غلطی تھی۔ یمامہ کی ہجرت گاہ قرار دینا اجتہادی غلطی تھی تو پھر دُوسروں پر کیا اعتراض۔ ایک نبی اپنے اجتہاد میں غلطی کر سکتا ہے مگر خدا کی وحی میں غلطی نہیں ہوتی۔ ہاں اسکے سمجھنے میں اگر احکام شریعت کے متعلق نہ ہو کسی نبی سے غلطی ہو سکتی ہے جیسا کہ ملاکی نبی اس راز کو سمجھ نہ سکا کہ الیاس نبی کا دوبارہ آسمان سے نازل ہونا حقیقت پر محمول نہیں بلکہ استعارہ کے رنگ میں ہے اور اسرائیلی کوئی نبی توریت کی پیشگوئی سے یہ نہ سمجھ سکا کہ آخری نبی بنی اسمعیل میں سے ہے۔ ایسا ہی حضرت عیسیٰ نے بھی اجتہادی غلطی سے اپنے تئیں بادشاہ بنی اسرائیل کر لیا اور کپڑے بیچ کر ہتھیار بھی خریدے گئے۔ یہودا اسکریوطی کو بہشت کا ایک تخت بھی دیا گیا۔ پھر اسی زمانہ میں آسمان پر واپس آنے کا بھی پختہ وعدہ دیا آخر وہ سب پیشگوئیاں غلط نکلیں۔ پس جس امر میں تمام انبیاء شریک ہیں اور ایک بھی ان میں سے باہر نہیں اسکو اعتراض کی صورت میں پیش کرنا کسی متقی کا کام نہیں ہے۔ خدا تعالیٰ نے یہ اجتہادی غلطی انبیاء کیلئے اس واسطے مقرر کر رکھی ہے تا وہ معبود نہ ٹھہرائے جائیں مگر اس سے انکی اتمام حجت میں کچھ فرق نہیں آتا۔ کیونکہ معجزات کثیرہ سے انکی حقیقت ثابت ہو جاتی

تتمہ حقیقت الوحی صفحہ 135 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 573 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 244 پر درج ہے

صفحہ 717

(حوالہ نمبر 158)

حصہ دوم (۴۳۹) ازالۃ اوہام کہ شخص ایسا ملحد اور کافر ہے کہ ہرگز ہدایت پذیر نہیں ہو گا۔ اور ظاہر ہے کہ جس کافر کا مآل کار کفر ہی ہو وہ شقی یعنی جہنمی ہوتا ہے۔ غرض ان دونوں صاحبوں نے کہ خدا انہیں بہشت نصیب کرے اس عاجز کی نسبت بدعت اور کفر کا فتویٰ دے دیا اور بڑے زور سے اپنے الہامات کو شائع کر دیا۔ ہم اس جگہ ان صاحبوں کے الہامات کی نسبت کچھ زیادہ لکھنا ضروری نہیں سمجھتے۔ صرف اس قدر تحریر کرنا کافی ہے کہ الہام رحمانی بھی ہوتا ہے اور شیطانی بھی۔ اور جب انسان اپنے نفس اور خیال کو دخل دے کر کسی بات کے انکشاف کے لئے بطور استخارہ یا استمداد وغیرہ کے توجہ کرتا ہے۔ خاص کر اس حالت میں کہ جب اس کے دل میں یہ تمنا مخفی ہوتی ہے کہ میری مرضی کے موافق کسی کی نسبت کوئی بُرا یا بھلا کلمہ بطور الہام مجھے معلوم ہو جائے تو شیطان اُس وقت اُس کی آرزو میں دخل دیتا ہے اور کوئی کلمہ اس کی زبان پر جاری ہو جاتا ہے اور دراصل وہ شیطانی کلم

صفحہ 718

حوالہ نمبر 159

ازالہ اوہام (۴۳۹) حصہ دوم

کہ شخص ایسا ملحد اور کافر ہے کہ ہرگز ہدایت پذیر نہیں ہوگا ۔ اور ظاہر ہے کہ جس کا فریق باطل کافر ٹھہرا ہی ہو وہ بھی جہنمی ہی ہوتا ہے۔ غرض ان دونوں صاحبوں نے کہ خدا انہیں بہشت نصیب کرے اس عاجز کی نسبت جہنم اور کفر کا فتویٰ دے دیا اور بڑے زور سے اپنے الہامات کو شائع کر دیا ۔ ہم اس جگہ ان صاحبوں کے الہامات کی نسبت کچھ زیادہ لکھنا ضروری نہیں سمجھتے ۔ صرف اس قدر تحریر کرنا کافی ہے کہ الہام رحمانی بھی ہوتا ہے اور شیطانی بھی ۔ اور جب انسان اپنے نفس اور خیال کو دخل دے کر کسی بات کے استکشاف کے لئے بطور استخارہ یا استمداد وغیرہ کے توجہ کرتا ہے۔ خاص کر اس حالت میں کہ جب اس کے دل میں یہ تمنا مخفی ہوتی ہے کہ میری مرضی کے موافق کسی کی نسبت کوئی بُرا یا بھلا کلمہ بطور الہام مجھے معلوم ہو جائے تو شیطان اس وقت اس کی آرزو میں دخل دیتا ہے اور کوئی کلمہ اس کی زبان پر جاری ہو جاتا ہے اور دراصل یہ شیطانی کلمہ ہوتا ہے۔ یہ دخل کبھی انبیاء اور رسولوں کی وحی میں بھی ہو جاتا ہے مگر وہ بلا توقف مٹایا

الحج : ۵۲

جاتا ہے۔ اسی کی طرف اللہ جلشانہ قرآن کریم میں اشارہ فرماتا ہے وما ارسلنا من قبلک من رسول ولا نبیّ الا اذا تمنّٰی القی الشیطان فی امنیّتہ ۔ اور ایسا ہی انجیل میں بھی لکھا ہے کہ شیطان اپنی شکل نوری فرشتوں کے ساتھ بدل کر بعض لوگوں کے پاس آجاتا ہے دیکھو خط دوم قرنتیان باب ۱۱ آیت ۱۴۔ اور مجموعہ توریت میں سے سلاطین اول باب ۲۲ بائیس آیت اکیس میں لکھا ہے کہ ایک بادشاہ کے وقت میں چارسو نبی نے اس کی فتح کے بارے میں پیشگوئی کی اور وہ جھوٹے نکلے اور بادشاہ کو شکست آئی بلکہ وہ اُسی میدان میں مرگیا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ دراصل وہ الہام ایک ناپاک روح کی طرف سے تھا نوری فرشتہ کی طرف سے نہیں تھا اور ان نبیوں نے دھوکا کھا کر ربانی سمجھ لیا تھا۔ اب خیال کرنا چاہیے کہ جس حالت میں قرآن کریم کی رُو سے الہام اور وحی میں دخلِ شیطان ممکن ہے اور پہلی کتابیں توریت اور انجیل اس دخل کی مصدّق ہیں اور اسی بناء پر

ازالہ اوہام حصہ دوئم صفحہ 629 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 438 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 244 پر درج ہے

صفحہ 719

حوالہ نمبر 160

حقیقۃ الوحی ۷۹ باب چہارم

لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ وَهُمْ مِّنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَیَغْلِبُوْنَ ط میں اور میرے رسول غالب رہیں گے ۔ اور وہ مغلوب ہونے کے بعد غلبہ پائیں گے ۔ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّالَّذِیْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ ط خدا اُن کے ساتھ ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور وہ جو نیکوکار ہیں ۔ اُرِیْکَ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ ط اِنِّیْ اُحَافِظُ كُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ قیامت کے مشابہ ایک زلزلہ آنے والا ہے جو تجہیں دکھاؤں گا اور میں ہر ایک کو جو اس گھر میں ہو نگہ رکھوں گا۔ وَامْتَازُوا الْيَوْمَ اَيُّهَا الْمُجْرِمُوْنَ ۔ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ اے مجرمو! آج تم الگ ہو جاؤ ۔ حق آیا اور باطل الْبَاطِلُ ط هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ ط بھاگ گیا ۔ یہ وہی ہے جس کے بارے میں تم جلدی کرتے تھے ۔ بِشَارَةٌ تَلَقَّاهَا النَّبِيُّوْنَ ط اَنْتَ عَلٰی بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ ط یہ وہ بشارت ہے جو نبیوں کو ملی تھی ۔ تو خدا کی طرف سے کھلی کھلی دلیل کے ساتھ ظاہر ہوا ہے كَفَيْنٰكَ الْمُسْتَهْزِءِیْنَ ط هَلْ اُنَبِّئُكُمْ عَلٰی مَنْ تَنَزَّلُ وہ لوگ جو تیرے پر ہنسی ٹھٹھا کرتے ہیں اُن کے لئے ہم کافی ہیں۔ کیا میں تمہیں بتلاؤں کہ کن لوگوں پر الشَّيٰطِیْنُ ۔ تَنَزَّلُ عَلٰی كُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍ ۔ وَلَا تَيْئَسْ شیطان اترا کرتے ہیں۔ ہر ایک کذاب بدکار پر شیطان اترتے ہیں ۔ اور تو خدا کی مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ ط اَلَا اِنَّ رَوْحَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ ط اَلَا اِنَّ نَصْرَ رحمت سے نومید مت ہو۔ خبردار ہو کہ خدا کی رحمت قریب ہے ۔ خبردار ہو کہ خدا کی مدد

اُس وحی الٰہی میں خدائے عزوجل نے میرا نام رسول رکھا کیونکہ جیسا کہ براہین احمدیہ میں لکھا گیا ہے خدا تعالیٰ نے مجھے تمام انبیاء علیہم السلام کا مظہر ٹھہرایا ہے اور تمام نبیوں کے نام مجھ پر اطلاق کئے ہیں۔ میں آدم ہوں میں شیث ہوں میں نوح ہوں میں ابراہیم ہوں میں اسحق ہوں میں اسمعیل ہوں میں یعقوب ہوں میں یوسف ہوں میں موسیٰ ہوں میں داؤد ہوں میں عیسیٰ ہوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کا میں مظہر اتم ہوں یعنی ظلی طور پر محمد اور احمد ہوں ۔ منہ

۷۹

حقیقت الوحی (حاشیہ) صفحہ 73 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 76 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 245 پر درج ہے

صفحہ 720

(حوالہ نمبر 161)

۱۳۳ براہین احمدیہ حصہ پنجم

غیر کیا جانے کہ دلبر سے ہمیں کیا ربط ہے وہ ہمارا ہو گیا اُسکے ہوئے ہم جاں نثار
میں کبھی آدم کبھی موسیٰ کبھی یعقوب ہوں نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بیشمار
اک شجر ہوں جسکو داؤدی صفت کے پھل لگے میں ہوا داؤد اور جالوت ہے میرا شکار
پر مسیحا بن کے میں بھی دیکھتا روئے صلیب گر نہ ہوتا نام احمدؔ جس پہ میرا سب مدار
دشمنو ! ہم اُسکی راہ میں مر رہے ہیں ہر گھڑی کیا کرو گے تم ہماری نیستی کا انتظار
سر سے میرے پاؤں تک وہ یار مجھ میں ہے نہاں اے مرے بدخواہ کرنا ہوش کر کے مجھ پہ وار
کیا کروں تعریف حُسن یار کی اور کیا لکھوں اک ادا سے ہو گیا میں سیلِ نفسِ دوں سے پار
اس قدر عرفاں بڑھا میرا کہ کافر ہو گیا آنکھ میں اُسکی کہ ہے وہ دُور تر از فہمِ یار
اُس رُخِ روشن سے میری آنکھ بھی روشن ہوئی ہو گئے اسرار اُس دلبر کے مجھ پر آشکار
قوم کے لوگو ! اِدھر آؤ کہ نکلا آفتاب وادیٔ ظلمت میں کیا بیٹھے ہو تم لیل و نہار
کیا تماشہ ہے کہ میں کافر بنا تم مومن ہو پھر بھی اِس کافر کا حامی ہے وہ مقبولوں کا یار
کیا اچنبھی بات ہے کافر کی کرتا ہے مدد وہ خدا جو چاہئے تھا مومنوں کا دوستدار
اہلِ تقویٰ تھا مکرم میں بھی تمہاری آنکھ میں جس نے ناحق ظلم کی رہ سے کیا تھا مجھ پہ وار
بے معاون میں نہ تھا تھی نصرتِ حق میرے ساتھ فتح کی دیتی تھی وحی حق بشارت بار بار
پر مجھے اُس نے نہ دیکھا آنکھ اُس کی بند تھی پھر سزا پا کر لگایا سُرمۂ دنبالہ دار
نام بھی کذاب اس کا دفتروں میں رہ گیا اب مٹا سکتا نہیں یہ نام تا روزِ شمار
اب کہو کس کی ہوئی نصرت جناب پاک سے کیوں تمہارا متقی پکڑا گیا ہو کر کے خوار
پھر اِدھر بھی کچھ نظر کرنا خدا کے خوف سے کیسے میرے یار نے مجھ کو بچایا بار بار
قتل کی ٹھانی شریروں نے چلائے تیر مکر بن گئے شیطان کے چیلے وہ نسلِ ہو نہار

براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 103 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 133 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 245 پر درج ہے

صفحہ 721

حوالہ نمبر 162

تقویۃ الایمان ۶ کشتی نوح

نشانہائے الٰہی کے نتیجہ میں ہوگا۔ طاعون کے ذریعہ سے یہ جماعت بہت بڑھے گی اور خارقِ عادت ترقی کریگی اور انکی یہ ترقی تعجب سے دیکھی جائیگی اور مخالف جو ہر ایک موقعہ پر شکست پاتے رہے ہیں جیسا کہ کتاب نزول المسیح میں میں نے لکھا ہے ۔ اگر اس پیشگوئی کے مطابق خدا نے اس جماعت اور دوسری جماعتوں میں کچھ فرق نہ دکھلایا تو میں سچا نہیں بلکہ میری تکذیب کریں ۔ اب تک جو انہوں نے تکذیب کی ہے اس میں تو شرمناک لعنت کو خریدا ہے مثلاً بار بار شور مچایا کہ آتھم زندہ رہا اور مرا نہیں۔ حالانکہ پیشگوئی نے صاف لفظوں میں کہہ دیا تھا کہ اگر وہ حق کی طرف رجوع کریگا تو پندرہ مہینے میں نہیں مریگا۔ سو اُس نے اسی پندرہ ماہ میں جو موعودہ زمانہ تھا روبرو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دجال کہنے سے رجوع کیا اور نہ صرف یہی بلکہ اُس نے پندرہ مہینہ تک اپنی خاموشی اور خوف سے ہم کو بھی اور تمام دنیا کو جتا دیا کہ اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دجال کہا تھا۔ لہٰذا اُس کا رجوع کیسا صاف ظاہر تھا گو بوجہ پندرہ مہینے کے بعد مارا گیا۔ بے شک جو کہ پیشگوئی میں ہے ۔ میں نے لکھا تھا کہ یہ شخص اپنے عقیدہ کے رو سے جھوٹا ہو ورنہ ظاہر تھا کہ وہ مجھ سے پہلے مر گیا۔ اس طرح وہ غیب کی باتیں جو خدا نے مجھے بتلائی ہیں اور پھر اپنے وقت پر پوری ہوئیں وہ دس ہزار سے کم نہیں مثلاً کتاب نزول المسیح میں جو چھپ رہی ہے نمونہ کے طور پر صرف ڈیڑھ سو ان میں سے مع ثبوت اور گواہوں کے لکھی گئی ہیں۔ اور کوئی ایسی پیشگوئی میری نہیں جو کہ وہ پوری نہیں ہوئی یا اسکے دو حصوں میں سے ایک حصہ پورا نہیں ہوچکا۔ اگر کوئی تلاش کر کے مجھے بتائے تو ایسی کوئی پیشگوئی جو میرے منہ سے نکلی ہو یا میری کسی کتاب میں ملے گی جسکی نسبت وہ کہہ سکتا ہو کہ خالی گئی ۔ مگر بے شرمی سے یا بیخبری سے جو چاہے کہے ۔ ایمانداری سے میں دعوٰی سے کہتا ہوں کہ ہر ماہ میری ایسی کئی کھلی پیشگوئیاں ہیں جو نہایت صفائی سے پوری ہوئیں جن کے لاکھوں انسان گواہ ہیں۔ میرے خیال میں گزشتہ نبیوں میں تلاش کی جائے تو بجز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی اور جگہ انکی مثل نہیں ملے گی۔ اگر میرے مخالف اسی طریق سے فیصلہ کرتے تو کب سے اُنکی آنکھیں کُھل جاتیں اور میں انکو ایک کثیر تعداد ایسے نشانوں کی دکھلا سکتا تھا کہ وہ دُنیا میں کوئی

یہ حوالہ صفحہ 246 پر درج ہے کشتی نوح صفحہ 6 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 6 از مرزا قادیانی

صفحہ 722

کیا تو نے نہیں دیکھا کہ ہم نے شیاطین کو کفار پر چھوڑ رکھا ہے وہ ان کو خوب ابھارتے ہیں۔

اس آیت میں یُؤُزُّوْنَھُمْ اَزًّا کا لفظ کس قدر زور دار ہے۔ کیا اِس کے یہی معنی ہیں کہ شیطان اُن کے دل میں وسوسہ ڈالتا ہے۔ یہ تو کوئی بات نہیں، وسوسہ تو ہر ایک دل میں آسکتا ہے مگر اس میں تو شیطان کا اس قدر غلبہ اور تسلط پایا جاتا ہے کہ کفار اُس کے ہاتھ میں ایسے ہو جاتے ہیں جیسے ایک بچہ کے ہاتھ میں گیند، وہ جدھر چاہتا ہے اُدھر اُن کو اچھالتا ہے اور بے اختیار اُچھالتا ہے۔ دیکھو اس مقام میں شیطان کو کفار پر کس قدر غلبہ دیا گیا ہے کہ وہ ان کا متصرف ہو گیا ہے۔

وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَیْمَانَ وَأَلْقَیْنَا عَلَىٰ كُرْسِیِّهِ جَسَدًا ثُمَّ أَنَابَ (ص: ٣٥)

(ص: ٣٥)

اور ہم نے سلیمان کی آزمائش کی اور اُس کی کرسی پر ایک جسم ڈال دیا اور پھر اس نے رجوع کیا۔

اس آیت کی تفسیر میں جو بعض لوگ کہتے ہیں کہ سلیمان کی کرسی پر اس کی انگوٹھی کے ذریعہ سے جو اس کی طاقت کی کُنجی تھی، ایک شیطان قابض ہو گیا تھا اور سلیمان کو ملک بدر کر دیا گیا تھا یہ یہودیوں کی خرافات میں سے ہے قرآن اس کو ہرگز صحیح نہیں کہتا بلکہ یہ ایک کشف تھا جو سلیمان کو دکھایا گیا کہ ایک جسدِ بے رُوح اس کی کرسی پر بیٹھا ہے۔ اس کی تعبیر اس کو یہی دی گئی کہ ایک نالائق بیٹا اور بے رُوح انسان اس کا جانشین ہو گا جس کے وقت میں سلطنت میں بڑا رخنہ واقع ہو گا۔ چونکہ یہ ایک سخت صدمہ کی بات تھی، اس لئے سلیمان نے رجوع کیا اور اپنے بعد اس کا متدارک کرنے کے لئے دُعا کی۔

وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ وَلَا نَبِیٍّ إِلَّا إِذَا تَمَنَّىٰ أَلْقَى الشَّیْطَانُ فِی أُمْنِیَّتِهِ فَیَنسَخُ اللَّهُ مَا یُلْقِی الشَّیْطَانُ ثُمَّ یُحْكِمُ اللَّهُ آیَاتِهِ ۗ وَاللَّهُ عَلِیمٌ حَكِیمٌ (الحج: ٥٣)

(الحج: ٥٣)

اور ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول یا نبی ایسا نہیں بھیجا جس کے دل میں جب کوئی آرزو اور تمنا پیدا ہوئی ہو تو شیطان نے اس کی تمنا میں کوئی نہ کوئی وسوسہ نہ ڈالا ہو اور اس میں رخنہ اندازی کی کوشش نہ کی ہو۔ لیکن اللہ شیطان کے وسوسوں کو باطل کر دیتا ہے اور اپنی آیات کو محکم اور مضبوط کر دیتا ہے۔ اور اللہ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔

اس آیت میں انبیاء اور رُسل پر بھی شیطان کے وسوسہ اندازی کا ذکر ہے مگر ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ شیطان کے وسوسوں کو باطل کر دیتا ہے اور انبیاء کی تمناؤں کو پورا کر دیتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شیطان انبیاء کے دلوں میں وسوسہ ڈالنے سے بھی باز نہیں آتا مگر چونکہ انبیاء محفوظ ہوتے ہیں اس لئے شیطان کا وسوسہ اُن پر کوئی اثر نہیں کر سکتا بلکہ اللہ تعالیٰ اس وسوسہ کو باطل کر دیتا ہے اور اُن کی مرادوں کو پورا کر دیتا ہے۔

وَقُل رَّبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَمَزَاتِ الشَّیَاطِینِ * وَأَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَن یَحْضُرُونِ (المؤمنون: ٩٨، ٩٩)

(المؤمنون: ٩٨، ٩٩)

اور کہہ اے میرے رب! میں شیاطین کے وسوسوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور اے رب میں اس سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس حاضر ہوں۔

اس آیت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دُعا سکھائی گئی ہے کہ وہ شیاطین کے وسوسوں اور ان کے حاضر ہونے سے اللہ کی پناہ مانگیں۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جیسی ہستی کو یہ دُعا سکھائی گئی ہے تو اور لوگوں کا کیا حال ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ شیطان کا وسوسہ ایک ایسی چیز ہے جس سے ہر وقت خدا کی پناہ مانگنی چاہئے۔

غرض قرآن مجید میں جابجا شیطان کا ذکر آیا ہے اور اس کے وسوسوں اور فریبوں سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے۔ جو شخص قرآن کو غور سے پڑھے گا اسے معلوم ہو جائے گا کہ شیطان کا وجود کوئی خیالی یا وہمی چیز نہیں ہے بلکہ وہ ایک مستقل اور بااختیار ہستی ہے جو انسانوں کو گمراہ کرنے کے درپے رہتی ہے اور خدا تعالیٰ کے فضل اور اس کی پناہ کے بغیر اس کے شر سے بچنا ممکن نہیں۔

حوالہ نمبر 163 چشمہ معرفت ۳۳۲ چشمہ معرفت

۱۷] اور خدا تعالیٰ نے اس بات کے ثابت کرنے کے لئے کہ میں اُس کی طرف سے ہوں اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کئے جائیں تو اُن کی بھی اُن سے نبوت ثابت ہو سکتی ہے لیکن چونکہ یہ آخری زمانہ تھا اور شیطان کا معہ اپنی تمام ذریت کے آخری حملہ تھا اس لئے خدا نے شیطان کو شکست دینے کے لئے ہزار ہا نشان ایک جگہ جمع کر دیئے لیکن پھر بھی جو لوگ انسانوں میں سے شیاطین ہیں وہ نہیں مانتے اور محض افتراء کے طور پر ناحق کے اعتراض پیش کر دیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ کسی طرح خدا کا قائم کردہ سلسلہ نابود ہو جائے مگر خدا چاہتا ہے کہ اپنے سلسلہ کو اپنے ہاتھ سے مضبوط کرے جب تک کہ وہ کمال تک پہنچ جاوے۔

میں ابھی لکھ چکا ہوں اور پھر لکھتا ہوں کہ خدا نے میری تائید

صفحہ 723

حوالہ نمبر 164

۴۷۸

کر کے اس میں اپنی رُوح پھونکی ۔ کیونکہ دنیا میں کوئی رُوحانی انسان موجود نہ تھا جس سے یہ آدم رُوحانی تولد پاتا۔ اس لئے خدا نے خود رُوحانی باپ بن کر اس آدم کو پیدا کیا اور ظاہری پیدائش کے رُو سے اسی طرح نر اور مادہ پیدا کیا جس طرح کہ پہلا آدم پیدا کیا تھا یعنے اس نے مجھے بھی جو آخری آدم ہوں جوڑا پیدا کیا جیسا کہ الہام یا آدم اسکن انت و زوجك الجنة میں اس کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے اور بعض گزشتہ اکابر نے خدا تعالیٰ سے الہام پاکر یہ پیشگوئی بھی کی تھی کہ وہ انتہائی آدم جو مہدی کامل اور خاتم ولایت عامہ ہے۔ اپنی جسمانی خلقت کے رُو سے جوڑا پیدا ہو گا۔ یعنے آدم صفی اللہ کی طرح مذکر اور مؤنث کی صورت پر پیدا ہو گا۔ اور خاتم الاولاد ہو گا۔ کیونکہ آدم نوع انسان میں سے پہلا مولود تھا۔ سو ضرور ہوا کہ وہ شخص

نبویہ کو بنظر غور دیکھا جائے تو بہت کچھ ان سے ان مکاشفات کو مدد ملتی ہے لیکن یہ قول اسی حالت میں صحیح ٹھہرتا ہے جبکہ مہدی موعود اور مسیح موعود کو ایک ہی شخص مان لیا جائے۔ ۱۔ اور یاد رہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اُمت کی وہ حدیں مقرر کر دی ہیں اور فرما دیا ہے کہ وہ اُمت ضلالت سے محفوظ ہے جس کے اوّل میں میرا وجود اور آخر میں مسیح موعود ہے۔ یعنے ایک طرف وجود باجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دیوار روئیں ہے اور دوسری طرف وجود با برکت مسیح موعود کی دیوار دشمن کش ہے۔ اسی ۲۔ حدیث سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے لوگوں کو اپنی اُمت میں داخل نہیں کیا جو مسیح موعود کے زمانہ کے بعد ہونگے۔ اور مسیح موعود کا زمانہ اس حد تک ہے جس روز تک اُسکے دیکھنے والے یا دیکھنے والوں کے دیکھنے والے اور × یا پھر دیکھنے والوں کے دیکھنے والے دُنیا میں پائے جائینگے اور اُسکی تعلیم پر قائم ہونگے۔ غرض قرونِ ثلثہ کا ہونا برعایتِ ظلِّ نبوت ضروری ہے اور پھر نیکی اور پاکیزگی کا خاتمہ ہے اور بعد میں اس گھڑی اور اس ساعتِ افناء کی انتظار ہے جس کا علم بجز خدا تعالیٰ کے فرشتوں کو بھی نہیں ۔ منہ

۳۵۰

تریاق القلوب صفحہ 352 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 478 تا 480 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 246، 247 پر درج ہے

صفحہ 724

حوالہ نمبر 164

۴۷۹

جسپر بکمال و تمام وہ حقیقت آدمیہ ختم ہو ۔ وہ خاتم الاولاد ہو۔ یعنے اس کی موت کے بعد کوئی کامل انسان کسی عورت کے پیٹ سے نہ نکلے۔ اب یاد رہے کہ اس بندۂ حضرت احدیت کی پیدایش جسمانی اس پیشگوئی کے مطابق بھی ہوئی ۔ یعنے میں توام پیدا ہوا تھا اور میرے ساتھ ایک لڑکی تھی جس کا نام جنت تھا۔ اور یہ الہام کہ یا آدم اسکن انت و زوجك الجنّة جو آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ کے صفحہ ۴۹۶ میں درج ہے۔ اس میں جو جنت کا لفظ ہے اس میں یہ ایک لطیف اشارہ ہے کہ وہ لڑکی جو میرے ساتھ

۱۵۵

پیدا ہوئی اس کا نام جنت تھا۔ اور یہ لڑکی صرف سات ماہ تک زندہ رہ کر فوت ہوگئی تھی۔ غرض چونکہ خدا تعالیٰ نے اپنے کلام اور الہام میں مجھے آدم صفی اللہ سے مشابہت دی تو یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا ۔ کہ اس قانونِ قدرت کے مطابق جو مراتب وجود دوریہ میں حکیم مطلق کی طرف سے چلا آتا ہے ۔ مجھے آدم کی خو اور طبیعت اور واقعات کے مناسب حال پیدا کیا گیا ہو۔ چنانچہ وہ واقعات جو حضرت آدم پر گزرے۔ منجملہ ان کے یہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائیش زوج کے طور پر تھی۔ یعنے ایک مرد اور ایک عورت ساتھ تھی ۔ اور اسی طرح پر میری پیدائیش ہوئی۔ یعنے جیسا کہ میں ابھی لکھ چکا ہوں میرے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہوئی تھی جس کا نام جنت تھا۔ اور پہلے وہ لڑکی پیٹ میں سے نکلی تھی اور بعد اس کے میں نکلا تھا۔ اور میرے بعد میرے والدین کے گھر میں اور کوئی لڑکی یا لڑکا نہیں ہوا۔ اور میں اُن کیلئے خاتم الاولاد تھا۔ اور یہ میری پیدائش کی وہ طرز ہے جس کو بعض اہل کشف نے مہدی خاتم الولایت کی علامتوں میں سے لکھا ہے اور بیان کیا ہے کہ وہ آخری مہدی جس کی وفات کے بعد اور کوئی مہدی پیدا نہیں ہوگا۔ خدا سے براہِ راست

۴۵۱

تریاق القلوب صفحہ 352 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 478 تا 480 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 246، 247 پر درج ہے

صفحہ 725

حوالہ نمبر 164

۴۸۰

ہدایت پائے گا۔ جس طرح آدم نے خدا سے ہدایت پائی۔ اور وہ اُن علوم اور اسرار کا حامل ہو گا جن کا آدم خدا سے حامل ہوا۔ اور ظاہری مناسبت آدم سے اس کی یہ ہوگی۔ کہ وہ بھی زوج کی صورت پیدا ہوگا۔ یعنے مذکر اور مؤنث دونوں پیدا ہوں گے۔ جس طرح آدم کی پیدائش تھی کہ اُن کے ساتھ ایک مؤنث بھی پیدا ہوئی تھی یعنے حضرت حوّا علیہا السلام۔ اور خدا نے جیسا کہ ابتداء میں جوڑا پیدا کیا۔ مجھے بھی اِس لئے جوڑا پیدا کیا کہ تا اولیت کو آخریت کے ساتھ مناسبت تام پیدا ہو جائے۔ یعنے چونکہ ہر ایک دور سلسلہ بروزات میں دور کرتا رہتا ہے اور آخری بروز اُس کا بہ نسبت درمیانی بروزات کے اتم اور اکمل ہوتا ہے۔ اِس لئے حکمتِ الٰہیہ نے تقاضا کیا کہ وہ شخص کہ جو آدم صفی اللہ کا آخری بروز ہے وہ اسکے واقعات سے اشد مناسبت پیدا کرے۔ سو آدم کا ذاتی واقعہ یہ ہے کہ خدا نے آدم کے ساتھ حوّا کو بھی پیدا کیا۔ سو یہی واقعہ بروز اتم کے مقام میں آخری آدم کو پیش آیا کہ اسکے ساتھ بھی ایک لڑکی پیدا کی گئی۔ اور اُسی آخری آدم کا نام عیسیٰ بھی رکھا گیا۔ تا اِس بات کی طرف اشارہ ہو کہ حضرت عیسیٰ کو بھی آدم صفی اللہ کے ساتھ ایک مشابہت تھی۔ لیکن آخری آدم جو بروزی طور پر عیسیٰ بھی ہے آدم صفی اللہ سے اشد مشابہت رکھتا ہے۔ کیونکہ آدم صفی اللہ کے لئے جس قدر بروزات کا دور ممکن تھا وہ تمام مراتب بروزی وجود کے طے کر کے آخری آدم پیدا ہوا ہے اور اس میں اتم اور اکمل بروزی حالت دکھائی گئی ہے۔ جیسا کہ براہین احمدیہ کے صفحہ ۵۰۵ میں میری نسبت ایک یہ خدا کا کلام اور الہام ہے کہ خَلَقَ آدَمَ فَاَكْرَمَه یعنے خدا نے آخری آدم کو پیدا کر کے پہلے آدموں پر ایک قسم کی اسکو فضیلت بخشی۔ اس الہام اور کلام الٰہی کے یہی معنے ہیں کہ گو آدم

۲۵۲

تریاق القلوب صفحہ 352 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 478 تا 480 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 246، 247 پر درج ہے

صفحہ 726

حوالہ نمبر 165 ضمیمہ براہین احمدیہ ۲۶۰ حصہ پنجم

جو مسیح موعود چھٹے ہزار کے اخیر پر قائم ہونا تھا وہ قائم ہو چکا ہے+ ۔ اور یہ جو کہا جاتا ہے کہ قیامت کی گھڑی معلوم نہیں اس کے یہ معنے نہیں کہ خدا نے قیامت کے بارے میں انسان کو کوئی اجمالی علم بھی نہیں دیا ورنہ قیامت کے علامات بھی بیان کرنا ایک لغو کام ہو جاتا ہے کیونکہ جس چیز کو خدا تعالیٰ اس طرح پر مخفی رکھنا چاہتا ہے اُس کے علامات بیان کرنے کی بھی

۹۹

کیا ضرورت ہے ۔ بلکہ ایسی آیات سے مطلب یہ ہے کہ قیامت کی خاص گھڑی تو کسی کو معلوم نہیں مگر خدا نے حَمل کے وقتوں کی طرح انسانوں کو اس قدر علم دے دیا ہے کہ ساتویں ہزار کے گذرنے تک اِس زمین کے باشندوں پر قیامت آجائے گی۔ اِس کی ایسی ہی مثال ہے

+ خدا نے آدم کو چھٹے دن بروز جمعہ بوقت عصر پیدا کیا۔ توریت اور قرآن اور احادیث سے یہی ثابت ہے اور خدا تعالیٰ نے انسانوں کے لئے سات دن مقرر کئے ہیں اور ان دنوں کے مقابل پر خدا کا ہر ایک دن ہزار سال کا ہے اس کی رُو سے استنباط کیا گیا ہے کہ آدم سے عمر دنیا کی سات ہزار سال ہے اور چھٹا ہزار جو چھٹے دن کے مقابل پر ہے وہ آدم ثانی کے ظہور کا دن ہے یعنی تقدیر یوں ہے کہ چھٹے ہزار کے اندر دینداری کی رُوح دنیا سے مفقود ہو جائیگی اور لوگ سخت غافل اور بے دین ہو جائیں گے تب ضعف کی حالت میں سلسلہ کو قائم کرنے کیلئے مسیح موعود آئیگا۔ اور وہ پہلے آدم کی طرح بروز ششم کے اخیر میں جو خدا کا چھٹا دن ہے ظاہر ہوگا۔ چنانچہ وہ ظاہر ہو چکا اور وہ وہی ہے جو اس وقت اس تحریر کی رُو سے تبلیغ حق کر رہا ہے۔ میرا نام آدم رکھنے سے اس جگہ یہ مقصود ہے کہ نوع انسان کا دور پہلا آدم سے ہی شروع ہوا اور آدم پر ہی ختم ہوا۔ کیونکہ اس عالم کی وضع دوری ہے اور دائرہ کا کمال اسی میں ہے کہ جس نقطہ سے شروع ہوا ہے اُسی نقطہ پر ختم ہو جائے۔ پس خاتم الخلفاء کا آدم ہونا ایک ضروری تھا اور اسی وجہ سے جیسا کہ آدم توام پیدا ہوا تھا میری پیدائش بھی توام ہے اور جس طرح آدم جمعہ کے روز پیدا ہوا تھا مَیں بھی جمعہ کے دن ہی پیدا ہوا تھا اور جس طرح آدم کی نسبت فرشتوں نے اعتراض کیا میری نسبت بھی وہ وحی الٰہی نازل ہوئی جو یہ ہے۔ قالوا اتجعل فیھا من یفسد فیھا۔ قال انی اعلم ما لا تعلمون۔ اور جس طرح آدم کیلئے سجدہ کا حکم ہوا میری نسبت بھی وحی الٰہی میں یہ پیشگوئی ہے۔ یخرون علی الاذقان سجداً ربنا اغفر لنا انا کنا خاطئین۔ منہ

ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 99 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 260 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 248 پر درج ہے

صفحہ 727

خطبہ الہامیہ

۳۱۲

حوالہ نمبر 166

ومعدلته، يمسك النفس التى قضى عليها الموت ويعلم لا يخلف وعده فكيف زعمتم قبل ان تقرءوا حرفا انه يرسل عيسى الى الدنيا ويردّه اليها الى اربعين سنة ويجعله خاتم الانبياء وينسخ قوله ويكون رسول الله وخاتم النبيين سبحانه وتعالى عما تصفون - ان تتبعون الا الظن ولا تعلمون مغبتها ولو ردّوه يوماً الى حُكْمِ عبد الله الذى ارسل اليكم كان خيراً لكم ان كنتم تعقلون - يا حسرة عليكم انكم جعلتم علم الدين سمرًا، و تجادلون عليه بخلاً وحسداً - وطبع الله على قلوبكم فلا تفقهون - الا ترون الى السلسلتين المتقابلتين، ولما غلبتكم شقوتكم فلا تتوبون - ويقولون ليس ذكر المسيح الموعود في القرآن - وقد مُلِئَ القرآن من ذكره، ولكن لا يراه العمون - الا ان لعنة الله على الكاذبين الذين يكذبون بكتاب الله ويحرفونه ولا يخافون - واذا قيل لهم تعالوا نُبَيِّن لكم حجج الله قالوا انا نحن المهتدون - وما في ايديهم الا قصص باطلة ولا يتقون - ويسخرون من الذين آمنوا وهم يلعبون - وما كان عيسى في آخر السلسلة المحمدية - الا لكامل المماثلة - ولتوفية سُنن المقابلة - وليردّ مكره بختم بعد الكسرة الشيطانية - فما لهم لا يتفكرون - أكان عسيرًا على الله ان يخلق كعيسى بن مريم عيسى بامره سبحانه اذا قضى امرًا فانما يقول له كن فيكون - هو الله الذى بعث مثيل موسى فى اول السلسلة المحمدية - فظهر منه انه كان يريد ان يخلق مثل عيسى في آخرها ليتشابه السلسلتان بالمشابهة التامة - فما لكم لا تبصرون - ايها الناس آمنوا او لا تؤمنوا ان الله لن يترك هذه السلسلة حتّى يتمّها و لن يترك حيّة أدم حتّى يقتلها فَرُدّوا ما اراد الله ان كنتم تقدرون - اتردّون

عُلِمَ من آية تسليط الشيطان وخروجه من الجنان - سر الكلمة ان هذا الشيطان وسوس لآدم فأزلّه وأخرجه من هذه الجنان الى الهوان وهو ليل بهيم ولا بد للّيل أن يتبعه نهار مشرق فبعث مسيح فى آخر الايام ليكون عكسا لذلك الليل فافهم

خطبہ الہامیہ صفحہ 312 مطبوعہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 312 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 248 پر درج ہے

صفحہ 728

حوالہ نمبر 167 روحانی خزائن جلد ۹ ۳۵۳

ہونے کی ہے وہ کاذب کو ہرگز نہیں دی جاتی بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے

بقیہ حاشیہ: قصے اور ان کی بحث سے سرے سے الگ ہو لیتا ہوں یہ سچے جھوٹے قصوں کا نام ہے۔ یاد رہو جو جاہلوں کے آگے پیش کئے گئے ہیں اور سمجھنے والے کے لئے یہی وجہ کافی ہے کہ جو ان کے ظاہری معنوں پر اڑتا ہے وہ اس پر الحاد و بے شرعی کے فتوے دیں۔ یہ جو مخالفین نے اپنی ابوالہوسی کا اظہار کیا ہے۔ اب بھی ہوس پرستی اور شرک اور کذب سے بھری پڑی ہے۔ ان میں ایسا غلبہ شرک کا ہم دیکھتے ہیں کہ صرف ایک شہر ولایت میں قریب تیس لاکھ طوائفیں ہیں جن کا حساب کیا گیا کہ وہاں کے ایک سال میں حرامیوں کی تعداد پچاس ہزار تک ہے۔ جن کی پیدائش میں اس قدر کثرت ہے کہ خاص لندن میں ایک لاکھ سے کچھ زیادہ طوائفیں ہیں۔ اور جو خفیہ طوائفیں ہیں یا کہ کسی اور پیشہ کی آڑ میں پردہ پوش رہ کر نام بناتی ہیں بعض نے حساب کیا ہے کہ وہ پچیس لاکھ ہیں۔ غرض ان کا وہ تذکرہ شوم ہے کہ خدا کی پناہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس قوم کے دلوں سے حیا بالکل اٹھ گئی ہے۔ انسان کو خدا بنا بیٹھی ہے۔ وہاں کوئی سمجھتا ہے کہ زنا کاری کوئی بری شے ہے بلکہ گویا مسئلہ کفارہ نے احکام ربانیوں سے بچنے کی فکر اور نیک و بد کے پرکھنے کے کھٹکھٹے سے سب کو فراغت دی ہے۔ اسلام سے اس قدر دشمنی ان لوگوں کو ہے جس قدر شیاطین کو دشمنی سچائی سے ہے کوئی ان میں سے پسند نہیں کرتا کہ اسلام کی کسی صداقت کو سنے یا کوئی مانے۔ سو حق یہ ہے کہ اس قدر تعصب اور دشمنی عیسائیوں میں ہے کہ کوئی عیسائی نہیں کہہ سکتا۔ گو ہم گنہگار ہیں ہمارے سید و مولیٰ آنحضرت صلعم نے ان پر جو احسانات کئے ہیں کہ پہلے مردے تھے اور ان کی دعاؤں سے پھر زندہ ہو گئے ہیں مگر پھر بھی پادریوں کی یہ جرات ہے کہ انہوں نے ناحق تکذیب کر کے اور جھوٹا بنا کر اس رسول کو بلکہ بدتر منہ سے یاد کیا ہے۔ یہی سزا کی دھمکی ان پر بائبل کی رو سے معلوم ہوتی ہے۔ جو پاپ ہم پے در پے کرتے ہیں کیا اس سے ثابت نہیں ہوتا کہ حسد سے اور بغض سے ان کے دل سیاہ ہو گئے غضب کی بات ہے کہ عاجز انسان کو خدا کہہ کر ان کا دل نہیں کانپتا کچھ بھی خدا کا خوف ان کے دلوں میں نہیں آتا۔ اگر حضرت مسیح ایک دن

۲۴

نور القرآن صفحہ 24 مندرجہ روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 353 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 248 پر درج ہے

صفحہ 729

حوالہ نمبر 168

تتمہ ۵۷۵ حقیقۃ الوحی

بجز اس کے کیا کہیں کہ لعنۃ اللہ علی الکاذبین ۔

(۲) دوسرے یہ کہ جس شخص کی نسبت واقعی طور پر ایک پیشگوئی تو ہو مگر وہ پیشگوئی وعید اور ۱۳۷ عذاب کے رنگ میں تھی اور اپنی شرط کے موافق پوری ہو گئی یا کسی وقت اُس کا ظہور ہو جائے گا۔

(۳) تیسرے یہ کہ محض ایک اجتہادی امر ہے اور اُسکو خدا کا کلام قرار دے کر پھر اعتراض کرتے ہیں کہ یہ پیشگوئی تھی جو پوری نہیں ہوئی جبکہ یہ حال ہے تو ظاہر ہے کہ کوئی نبی اِس طعن سے بچ نہیں سکتا ۔

مَیں بار بار کہتا ہوں کہ اگر یہ تمام مخالف مشرق اور مغرب کے جمع ہو جاویں تو میرے پر کوئی ایسا اعتراض نہیں کر سکتے کہ جس اعتراض میں گزشتہ نبیوں میں سے کوئی نبی شریک نہ ہو اپنی چالاکیوں کیوجہ سے ہمیشہ رسوا ہوتے ہیں اور پھر باز نہیں آتے۔ اور خدا تعالیٰ میرے لئے اِس کثرت سے نشان دکھلا رہا ہے کہ اگر نوح کے زمانہ میں وہ نشان دکھلائے جاتے تو وہ لوگ غرق نہ ہوتے ۔ مگر مَیں اِن لوگوں کو کس سے مثال دوں وہ اُس خیرہ طبع انسان کی طرح ہیں جو روزِ روشن کو دیکھ کر پھر بھی اِس بات پر ضد کرتا ہو کہ رات ہے دن نہیں۔ خدا تعالیٰ نے اُن کو پیش از وقت طاعون کی خبر دی اور فرمایا الامراض تشاع والنفوس تضاع مگر انہوں نے اِس نشان کی کچھ بھی پروا نہ کی۔ پھر خدا نے غیر معمولی زلزلہ کی خبر دی جو اِس ملک میں ۴؍ اپریل ۱۹۰۵ء کو آنیوالا تھا اور وہ آیا اور صدہا آدمیوں کو ہلاک کر گیا۔ مگر ان لوگوں نے اُسکی بھی کچھ پروا نہ کی۔ پھر خدا نے فرمایا کہ بہار میں ایک اور زلزلہ آئیگا۔ سو وہ بھی آیا مگر ان لوگوں نے اُسکو بھی نظر انداز کیا۔ پھر خدا نے ایک آتشی شعلہ کی خبر دی تھی سو ۳۱؍ مارچ ۱۹۰۶ء کو ظاہر ہوا اور قریباً ہزار میل تک عجیب شکل میں مشاہدہ کیا گیا ۔ لیکن ان لوگوں نے اِس سے بھی کچھ سبق حاصل نہ کیا۔ پھر خدا نے یہ پیشگوئی کی کہ بہار کے موسم میں سخت بارشیں ہونگی سخت برف اور اولے پڑینگے اور سخت درجہ کی سردی ہوگی مگر ان لوگوں نے اِس عظیم الشان نشان کی طرف نظر اُٹھا کر بھی نہ دیکھا۔ پھر خدا نے اِسی ۱۱؍ مارچ ۱۹۰۶ء میں ایک اور زلزلہ کی خبر دی جو پشاور

تتمہ حقیقۃ الوحی صفحہ 137 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 575 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 249 پر درج ہے

صفحہ 730

حوالہ نمبر 169 99 براہین احمدیہ حصہ پنجم

کرتی ہیں۔ خلاصہ مطلب یہ کہ اگر کوئی عورت ایسی خواہش کرے تو میں اپنے نفس کے لئے اس امر قید ہونا زیادہ پسند کرتا ہوں۔ یہ یوسف بن یعقوب علیہما السلام کی دعا تھی جس دعا کی وجہ سے وہ قید ہو گئے اور میرا بھی یہی کلمہ ہے جس کو خدا تعالیٰ نے آج سے پچیس برس پہلے براہین احمدیہ میں لکھ دیا۔ صرف یہ فرق ہے کہ یوسف بن یعقوب اپنی اس دعا کی وجہ سے قید ہو گیا ۔ مگر خدا نے براہین احمدیہ کے صفحہ ۵۱۰ میں میری نسبت یہ فرمایا۔ یعصمک اللہ من عندہا وان لم یعصمک الناس یعنی خدا تعالیٰ تجھے خود بچالے گا اگرچہ لوگ تیرے پھنسانے پر آمادہ ہوں۔ سو ایسا ہی ہوا کہ مسمی کرم دین کے فوجداری مقدمہ میں ایک ہندو مجسٹریٹ کا ارادہ تھا کہ مجھے قید کی سزا دے مگر خدا تعالیٰ نے کسی غیبی سامان سے اُس کے دل کو اس ارادہ سے روک دیا۔ اور یہ بھی ظاہر کیا کہ وہ آخر کار سزا دینے کے ارادہ سے قطعاً ناکام رہے گا۔ پس اس اُمت کا یوسف یعنی یہ عاجز اسرائیلی یوسف سے بڑھکر ہے کیونکہ یہ عاجز قید کی دعا کر کے بھی قید سے بچایا گیا مگر یوسف بن یعقوب ، قید میں ڈالا گیا۔ اور اس اُمت کے یوسف کی برأت کیلئے پچیس برس پہلے ہی خدا نے آپ گواہی دے دی اور اور بھی نشان دکھلائے مگر یوسف بن یعقوب اپنی برأت کے لئے انسانی گواہی کا محتاج ہوا ۔ اور ان پیشگوئیوں کی گواہی کے بعد زلزلہ شدیدہ نے بھی گواہی دی جسکی گیارہ مہینے پہلے مَیں نے خبر دی تھی۔ کیونکہ زلزلہ کی پیشگوئی کے ساتھ یہ وحی الٰہی بھی ہوئی تھی ۔ قُلْ عِنْدِيْ شَهَادَةٌ مِّنَ اللّٰهِ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّؤْمِنُوْنَ +۔ پس یہ دو گواہ ہو گئے اور نہ معلوم کہ بعد میں ان کے کتنے گواہ ہیں ۔

+ اسجگہ پر خدا تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ قل عندی شهادة من الله فھل انتم مؤمنون یعنی ان کو کہدے کہ میرے پاس خدا کی گواہی ہے جو انسانوں کی گواہی پر مقدم ہے ۔ وہ یہی گواہی ہے کہ خدا نے ایک مدت دراز پہلے ان بے جا بہتانوں کی خبر دی ۔ منہ

براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 99 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 99 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 249 پر درج ہے

صفحہ 731

(حوالہ نمبر 170)

تتمہ ۵۱۹ حقیقۃ الوحی

دیکھا گیا ہے۔ پس یہ کہنا بالکل صحیح ہے کہ تنبیہہ کے طور پر ان ممالک میں خدا تعالیٰ کی طرف سے آگ برسی ہے جیسا کہ میں نے شائع کیا تھا کہ آسمان اے غافلو اب آگ برسائے گا سو خدا نے یہ پیشگوئی پوری کی۔ اگرچہ اس سے کوئی نقصان نہیں ہوا۔ صرف بعض آدمی بیہوش ۸۴ ہو گئے مگر یہ آگ کی بارش آئندہ کسی بڑے عذاب کی خبر دے رہی ہے۔ اے سننے والو ! ہشیار ہو جاؤ بعد میں پچھتاؤ گے یہ ایک نشان ان نشانوں میں سے ہے جنکی خدا نے مجھے خبر دی اور فرمایا تھا کہ میں ساٹھ یا ستر اور نشان دکھلاؤنگا اور آخری نشان یہ ہوگا کہ زمین کو تہ و بالا کر دیا جائے گا اور ایک ہی دم میں لاکھوں انسان مر جائینگے۔ کیونکہ لوگوں نے اس کے فرستادہ کو قبول نہ کیا۔ ہولناک زلزلے آئیں گے اور ہولناک طور پر موتیں وقوع میں آئیں گی ! اور نمونے طور پر عذاب نازل ہوں گے۔ یہاں تک کہ انسان کہے گا کہ یہ کیا ہونیوالا ہے۔ یہ سب کچھ اس لئے ہو گا کہ زمین مر گئی اور انسانوں نے خدا کے نشان دیکھے اور پھر انکو قبول نہ کیا۔ وہ اِن کیڑوں سے بدتر ہو گئے جو نجاست میں ہوتے ہیں اور خدا کے وجود پر اُن کا ایمان نہ رہا اسلئے خدا فرماتا ہے کہ میں ایک ہولناک تجلی کروں گا اور خوفناک نشان دکھلاؤنگا اور لاکھوں کو زمین پر رُلا دوں گا مگر کون ہے جو ہم پر ایمان لایا اور کس نے ہماری یہ باتیں قبول کیں۔

آج سے چھبیس برس پہلے خدائے عزوجل براہین احمدیہ میں فرماتا ہے۔ میں اپنی چمتکار دکھلاؤں گا اور اپنی قدرت نمائی سے تجھ کو اُٹھاؤں گا ۔ دُنیا میں ایک نذیر آیا پر دُنیا نے اُسکو قبول نہ کیا لیکن خُدا اُسے قبول کریگا اور بڑے زور آور حملوں سے اُسکی سچائی ظاہر کر دے گا۔ سو اُن حملوں میں سے یہ آتشی اشتہار بھی ہے جس کی اِس مُلک میں بارش ہوئی یہ اسی قسم کے نشان ہیں جیسا کہ موسیٰ نبی نے فرعون کے سامنے دکھائے تھے بلکہ وہ نشان جو ظاہر ہونیوالے ہیں وہ موسیٰ نبی کے نشانوں سے بڑھ کر ہونگے۔ اسلئے خدا میرا نام موسیٰ رکھ کر فرماتا ہے۔ ایک موسیٰ ہے کہ میں اُس کو ظاہر کروں گا اور لوگوں کے سامنے اُس کو عزت دُونگا پر جس نے

حقیقۃ الوحی تتمہ صفحہ 83 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 519 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 249 پر درج ہے

صفحہ 732

حوالہ نمبر 171 اربعین نمبر ۴ ۴۲۰

ایسا ہی خدا تعالیٰ یہ بھی جانتا تھا کہ دشمن یہ بھی تمنا کرینگے کہ یہ شخص منقطع النسل رہ کر نابود ہو جائے ۔ تا نادانوں کی نظر میں یہ بھی ایک نشان ہو ۔ لہٰذا اس نے پہلے سے براہین احمدیہ میں خبر دے دی کہ ینقطع آباؤك ویبدء منك یعنی تیرے بزرگوں کی پہلی نسلیں منقطع ہو جائیں گی ۔ اور ان کے ذکر کا نام و نشان نہ رہے گا۔ اور خدا تجھ سے ایک نئی بنیاد ڈالے گا ۔ اسی بنیاد کی مانند جو ابراہیم سے ڈالی گئی اسی مناسبت سے خدا نے براہین احمدیہ میں میرا نام ابراہیم رکھا۔ جیسا کہ فرمایا سلام علیٰ ابراهيم صافيناه ونجيناه من الغم۔ واتخذوا من مقام ابراهيم مصلیٰ۔ قل رب لا تذرني فردا وانت خير الوارثین ۔ یعنی ۳۱ سلام ہے ابراہیم پر (یعنی اس عاجز پر) ہم نے اس سے خالص دوستی کی اور ہر ایک غم سے اس کو نجات دیدی۔ اور تم جو پیروی کرتے ہو تم اپنی نماز گاہ ابراہیم کے قدموں کی جگہ بناؤ۔ یعنی کامل پیروی کرو تا نجات پاؤ ۔ اور پھر فرمایا کہ اے میرے خدا ! مجھے یکہ و تنہا مت چھوڑ اور تو بہتر وارث ہے ۔ اس الہام میں یہ اشارہ ہے کہ خدا اکیلا نہیں چھوڑے گا اور ابراہیم کی طرح کثرت نسل کرے گا اور بہتیرے اس نسل سے برکت پائیں گے ۔ اور یہ جو فرمایا کہ واتخذوا من مقام ابراھیم مصلیٰ یہ قرآنی شر کی آیت ہے اور اس مقام میں اس کے یہ معنے ہیں کہ یہ ابراہیم جو بھیجا گیا تم اپنی

بقیہ حاشیہ

جن کی خدا تعالیٰ نے تصریح نہیں کی تھی پر بھی یہی رحمت نازل ہوئی اور ان کی قوتوں اور طاقتوں میں فتور نہیں آئیگا ۔ اب بولو تم نے دنیا میں کس کذاب کو دیکھا کہ اپنی عمر بتلاتا ہے ۔ اپنی صحت بصری اور دوسرے قویٰ واعضائے صحت کا اخیر عمر تک دعویٰ کرتا ہے۔ ایسا ہی چونکہ خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ لوگ قتل کے منصوبے کرینگے اُس نے پہلے سے براہین میں خبر دیدی يعصمك الله ولو لم يعصمك الناس ۔ منہ ۷۸

اربعین نمبر 3 صفحہ 38 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 420، 421 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 249, 250 پر درج ہے

صفحہ 733

حوالہ نمبر 171 دلیل نمبر ۲ ۳۲۱

جماعتوں اور عقیدوں کو اس کی طرز پر بجا لاؤ۔ اور ہر ایک امر میں اس کے نمونہ پر اپنے تئیں بناؤ۔ اور جیسا کہ آیت ومبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد ۱ میں یہ اشارہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری زمانہ میں ایک مظہر ظاہر ہوگا۔ گویا وہ اس کا ایک ۳۸ ہاتھ ہو گا جس کا نام آسمان پر احمد ہو گا اور وہ حضرت مسیح کے رنگ میں جمالی طور پر دین کو پھیلاوے گا۔ ایسا ہی یہ آیت واتخذوا من مقام ابراہیم مصلی ۲ اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ جب امت محمدیہ میں بہت فرقے ہو جائیں گے تب آخری زمانہ میں ایک ابراہیم پیدا ہوگا اور ان سب فرقوں میں وہ فرقہ نجات پائیگا کہ اس ابراہیم کا پیرو ہوگا۔

اب ہم بہ دو نمونہ چند الہامات دوسری کتابوں میں سے لکھتے ہیں۔ چنانچہ ازالہ اوہام میں صفحہ ۶۴۳ سے اخیر تک اور نیز دوسری کتابوں میں یہ الہام ہیں :۔ جعلناک المسیح ابن مریم۔ ہم نے تجھ کو مسیح ابن مریم بنایا ۔ یہ کہیں گے کہ ہم نے پہلوں سے ایسا نہیں سنا۔ سو تو ان کو جواب دے کہ تمہارے معلومات وسیع نہیں تم ظاہر لفظ اور الہام پر قانع ہو۔ اور پھر ایک اور الہام ہے اور وہ یہ ہے ۔ الحمد للہ الذی

* یادرہے کہ جیسا کہ خدا تعالیٰ کے دو ہاتھ جلالی و جمالی ہیں اسی نمونہ پر چونکہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ جل شانہ کے مظہر اتم ہیں لہٰذا خدا تعالیٰ نے آپ کو بھی وہ دونوں ہاتھ رحمت اور شوکت کے عطا فرمائے۔ جمالی ہاتھ کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے کہ قرآن شریف میں ہے وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین ۳ یعنی ہم نے تمام دنیا پر رحمت کر کے تجھے بھیجا ہے اور جلالی ہاتھ کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے وما رمیت اذ رمیت ولکن اللہ رمی ۴ اور چونکہ خدا تعالیٰ کو منظور تھا کہ یہ دونوں صفتیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنے اپنے وقتوں میں ظہور پذیر ہوں۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے صفت جلالی کو صحابہ رضی اللہ عنہم کے ذریعہ ظہور فرمایا اور صفت جمالی کو مسیح موعود اور اس گروہ کے ذریعہ سے کمال تک پہنچایا۔ اسی کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے واخرین منہم لما یلحقوا بہم ۵ ۔ منہ

۱؎ الصف : ۶ ۲؎ البقرۃ : ۱۲۵ ۳؎ الانبیاء : ۱۰۷ ۴؎ الانفال : ۱۷ ۵؎ الجمعہ : ۳

اربعین نمبر 3 صفحہ 38 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 420، 421 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 249 ، 250 پر درج ہے

صفحہ 734

حوالہ نمبر 172

۷۰ خطبہ الہامیہ

عَلٰى مَقَامِ الْخَتْمِ مِنَ النُّبُوَّةِ - وَاِنَّهٗ خَاتَمُ الْاَنْبِيَاءِ - بروے ختم گردیدہ و او خاتم الانبیاء است نبوت کے سلسلہ کو ختم کرنے والے تھے اور وہ خاتم الانبیاء ہیں ۔ وَاَنَا خَاتَمُ الْاَوْلِيَاءِ - لَا وَلِيَّ بَعْدِيْ - اِلَّا الَّذِيْ هُوَ و من خاتم اولیاء ہیچ ولی بعد من نیست مگر آنکہ اور میں خاتم الاولیاء ہوں میرے بعد کوئی ولی نہیں مگر وہ جو مِنِّيْ وَعَلٰى عَهْدِيْ - وَاِنِّيْ اُرْسِلْتُ مِنْ رَّبِّيْ بِكُلِّ از من باشد و بر عہد من باشد و من از خدائے خود بتمام تر مجھ سے ہو گا اور میرے عہد پر ہو گا اور میں اپنے خدا کی طرف سے تمام تر قُوَّةٍ وَّبَرَكَةٍ وَّعِزَّةٍ - وَاِنَّ قَدَمِيْ هٰذِهٖ عَلٰى قوت و برکت و عزت فرستادہ شدہ ام و ایں قدم من بریں قوت اور برکت اور عزت کے ساتھ بھیجا گیا ہوں اور یہ میرا قدم ایک ایسے مَنَارَةٍ تَمَّتْ عَلَيْهَا كُلُّ رِفْعَةٍ - فَاتَّقُوا اللّٰهَ اَيُّهَا منار است کہ برو بلندی ختم گردیدہ پس از خدا بترسید اے منارہ پر ہے جو اس پر ہر ایک بلندی ختم کی گئی ہے پس خدا سے ڈرو اے الْفِتْيَانُ - وَاعْرِفُوْنِيْ وَاَطِيْعُوْنِيْ وَلَا تَمُوْتُوْا جواناں و مرا بشناسید و اطاعت من کنید و بر نافرمانی جوانمردو اور مجھے پہچانو اور میری اطاعت کرو اور نافرمانی پر بِالْعِصْيَانِ - وَقَدْ قَرُبَ الزَّمَانُ - وَحَانَ اَنْ نہ میرید و بہ تحقیق زمانہ نزدیک رسید و آں وقت مت مرو اور زمانہ نزدیک آگیا ہے اور وہ وقت

خطبہ الہامیہ صفحہ 70 مندرجہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 70 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 250 پر درج ہے

صفحہ 735

حوالہ نمبر 173

نمبر ۳ ریویو آف ریلیجنز ۱۱۷

جو مشابہ ہو۔ اب اسکے مقابل اگر اسرائیل خاندان کے سارے بیٹے بھی ترازو میں رکھے جاویں تو تب بھی اسمعیلی پلہ اُونچا رہے گا۔ اسی طرح اور ٹھیک اسی طرح بیشک تورات کو بہت سے نبی خدمت کے لئے عطا ہوئے لیکن قرآن کی خدمت کے لیئے جو نبی امت محمدیہ میں پیدا کیا گیا۔ وہ اپنی شان میں کچھ اور ہی رنگ رکھتا ہے۔ علاوہ اسکے ہمیں یہ بھی تو دیکھنا چاہئے کہ مسیح موعود تمام انبیاء کا مظہر ہے جیسا کہ اسکی شان میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جری اللہ فی حلل الانبیاء۔ یعنے اسکے آنے سے گویا امتِ محمدیہ میں تمام گذشتہ نبی پیدا کیئے گئے پس نبیوں کی تعداد کے لحاظ سے بھی محمدی سلسلہ موسوی سلسلہ سے بڑھ کر رہا کیونکہ علاوہ ان نبیوں اور رسولوں کے جو توریت کی خدمت کے لیئے موسیٰ کو عطا ہوئے تھے اس امت میں وہ تمام نبی بھی مبعوث کیئے گئے جو موسیٰ سے پہلے گذر چکے تھے بلکہ خود موسیٰؑ بھی دوبارہ دنیا میں بھیجے گئے اور یہ سب کچھ مسیح موعودؑ کے وجود مسعود میں پورا ہوا۔ یعنے کیا یہ بے ادبی و بے غیرتی نہیں کہ جہاں ہم لا نفرق بین احد من رسلہ میں داؤد اور سلیمان زکریا اور یحییٰ علیہم السلام کو شامل کرتے ہیں وہاں مسیح موعودؑ جیسے عظیم الشان نبی کو چھوڑ دیا جاوے۔ کیا اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں حقیقی اور مستقل نبیوں کا ذکر کیا ہے۔ اگر ایسا ہے تو اس کا ثبوت پیش کیا جاوے ظاہر ہے کہ اس آیت کریمہ میں رسول کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ اب جس طرح رسول کا لفظ حقیقی اور مستقل نبیوں پر بولا جائیگا اسی طرح ظلی اور بروزی نبی پر بھی بولا جائیگا ورنہ اگر ظلی اور بروزی نبی کو صرف نبی کے نام سے پکارنا جائز نہیں تو کیوں اللہ تعالیٰ نے مسیح موعودؑ کو بارہا نبی اور رسول کے الفاظ سے یاد کیا۔ خدا نے تو اپنے کلام میں کبھی بھی ظلی یا بروزی کا لفظ استعمال نہیں کیا بلکہ ہمیشہ صرف نبی اور رسول کے الفاظ استعمال کرتا رہا پس اگر مسیح موعودؑ کو صرف نبی کے نام سے پکارنا جائز نہیں تو نعوذ باللہ سب سے پہلے ناجائز حرکت کرنیوالا خود خدا ہے۔ مگر دراصل یہ سارا نفس کا دھوکا ہے کیونکہ جس طرح حقیقی اور مستقل نبوتیں نبوت کی اقسام ہیں اسی طرح ظلی اور بروزی نبوت بھی نبوت کی ایک قسم ہے اگر حقیقی یا مستقل نبیوں کو ہمیشہ صرف نبی کے نام سے پکارتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ ظلی نبی کو نبی کے نام سے

یہ حوالہ صفحہ 250, 251 پر درج ہے

کلمۃ الفصل صفحہ 117 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی

صفحہ 736

حوالہ نمبر 174

۴۷۷ نزول المسیح

۹۹ آنچناں عشق بتو مرکب راند کہ از ان گشت فلک پیچانماند گشتہ دلبردہ و دلدار مے از تپ ہجر رنگ او زار مے
صید عشق و تہی بہر آں سوے قصہ کوتاہ کہ کو در آں سوے اے فدائی یقیں کز گوش شنید کہ دل از غیر حق ببرید
رفتہ بیروں زحلقہ اغیار دل بریدہ زغیر ای دلدار گشتہ وارستہ ز ہستی خویش مات از بادہ منصوری خویش
آنچناں بیاد او گم و مست کہ ندانید ہیچ در پا و دست قدمے زدہ براه عدم کہ بیادش ز فرق تا بقدم
ذکر دلبر غذای او گشتہ ہمہ دلبر برائے او گشتہ سوختہ بہر عشق ہمچو نار دوختہ چشم دل زغیر نگار
دل و جان بر رخے فدا کردہ وصل او اصل مدعا کردہ مردہ در عشق تن رہا کردہ عشق جوشیدہ کار ہا کردہ
از خودی ہائے خود فنا و جدا سیل پر زور بیحد و بیجا تن چو فرسودہ استخاں ماند دل بیمار بدست جاناں ماند
عشق دلبر بروے او بارید ابر رحمت بکوے او بارید آں یقیں کز سر قضا است در دل او درست بخدا است
ہر خطابی کہ یکے سبب دارد داند آں کو بیدار قلب دارد پس چنیں شورش محبت یار کشتہ وہم از خودی زنار
بالخصوص آں سخی کہ اندر دار خاصیت امداد خیل ابرار گشتہ او نیک نہ رفتہ بزار ای قتیلان او بوی زخمار
ہوائے قتیل تازہ بدست خانہ لیلئے او بہم شد مست ایں سعادت چہ بود قسمت ما رفتہ رفتہ رسید نوبت ما
گرچہ ما سگ شیر ببر آنم صد حسیں است در گریبانم آدمم نیز احمد مختار در برم جامہ ہمہ ابرار
گلہ ہائے کہ کرد با من یار برتر از دفتر است و ہم اخبار آنچہ داد است پیر من با جام داد آں جام را مرا پیغام
دل ببرد الفت خود دار خود مرا شد ندیم و بخود یار حق او را عجب اثر دیدم یعنے بے گل ہزار گل چیدم
دیدم از خلق مدح و مکروہات و انچہ پیدا است خبیث مطلقات دیدم از بحر عشق جلوہ یار کہ رہید دلم از یک کار
آنچہ پیدا شد منم حق خدا بخدای کہ ہمش کرد عطا ہمچو قرص مہش روشن دانم از خطا پوشی اوست ایمانم
من خدا را بدو شناختہ ام دل بدیں پادشہ گداختہ ام معجزہ است ایں کلام مجید او ہماں خدای پاک و مجید
آنچہ بر من عیاں شد از داد او آنچہ پیداست با دو صد بیداد او ایں مجلہ ست مبتدا و ختام بگرد آورم از او تا بکام
انبیایم گوہر پروردہ اند مے برند دل کہ شرمندہ اند حالت مصطفیٰ شدم یقیں سرمہ گیں رنگ دیں
ای یقینی کہ بروی چشمے ز ابر کلاہ کہ شود مقبول درگاہ درحقیقت کلیم در تورات ویں یقیں ہم مسلم سادات

نزول المسیح صفحہ 100 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 477، 478 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 251 پر درج ہے

صفحہ 737

نزول المسیح 737 حوالہ نمبر 174 ۴۷۸

گویم ز طول ہجر و غم قصہ گر بگوید در غایت یقین لیک آنچنانم از ولت غنی از پے صورت مہو جانی
ہرگز دلم بمیل من جولت نہ میلم بعدل و نه حسن ملیح خالص آمد کلام حق و اوار زین سبب شد دلم ز یار نفور
است حق وحی قہر و محنتی کہ نیامد است بقرین سخن لیک ازیں بایقین خدا است ہر کلام از قہر حقین شد روا
آمد ز کوئے خلق بوی جان کہ دلیر با حق بود بیان در مشائخ نماند جز تزویر عالمان ہم نشستند چوزیر
عاشق نہ شد ولت بدلہ دل تپید ز محنت قہر شاہ اندریں وقت اے چوشاہ آدم را دید حق بحالت زار
پس مردودین میباید بگوید صد لعن بر آن کافرین عنید صد با من دشمنی شد افگند خود مراد شد کہ دست ہر پیوند
گر دیو صد جفا داد است پیش ہزار در گزند خلق سوختم بحق آستانم زار چشم نابینا ز یاد خود چوند
من نیم کہ بتابع کمدانی گویم چپ و راست زن آور پر زندہ کاں عطیہ یار چوں ز دست افتم بپائے تو زار
گر بہرانے دشمنی خیزد تیغ کینہ کہ خون من ریزد من نہ آنم کہ ترک او گویم جان من نیست یار مدار غم
وقت ہر کینہ کہ چو حق جویم بزمان در خواندم دکلم نالہ قہر کہ دشمن صورت یار از قہر خوانم ایں اغیار
قہر حق عشق است ہوتا کہ یکے خیرہ در گریبان تا سخن با خبر ز عالم نیست گویم اے شوم بے وفا کم نیست
کہ مہربان بحمد تو قدم بکشور تیغ با وقارم زدم شور افگندہ ام کہ تا دیار خلق گرد و ز خواب خود بیدار
نخلہا من ز بار کندہ ام ہمچو باد بہار آمدہ ام ایں ندائم زمانہ گلزار موسیم لالہ زار و وقت بہار
آمدم تا بخیر باز آید بہر سلک و بہ قہر باز آید دست تسلیم ہر دو بر ہردم کہ دہ پیش من ثقہ امم
قہر الہام ہجر باد صبا نزد مرآت غیب باشم با زندہ شد ہر نبی بآمدنم ہر رسولے نہاں بہ پیرہنم
زود اثر قہر من بنماید حق سر عداوت بہ سخن نگین باند چنگ کجی بہیہات ایں چہ جورو جفائے حیہات
قہر تو روح و روان پہلوی با ہوش کی با ولت ہم سخن نے پے نطق و چنگ ہم رسن تا غنی ز در حضرت قیوم
رو بدر کن کہ دولت ہجر است بھر دعوات دلم عطار است حق حق را چوبشنوی از ما ایں گواہ جہانست چریا
کہ در کلہ ولت بغل برسد بہر ولایت ز ولستان برسد تا کند خندہ می بہم گردی تا نہ ترجان آشنا گردی
تا بہ بینی ز نفس خود بیرون تا نہ گردی بپے کوہ مجنون تا نہ خاک شوم سفل غبار تا نہ گرد و غبار کہ تو سوبار
تا کہ خونم بکار خانہ کسے تاز ہائے خدائے من کسے ایں دہن رے گوئے حالم را ایں ولایت ازیں درگاہ

نزول المسیح صفحہ 100 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 477-478 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 251 پر درج ہے

Back

صفحہ 738

حوالہ نمبر 175

۲۷۹

اور رسولوں اور محدثوں کے بارے میں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہو کر آتے ہیں اور تمام قوموں کے لئے واجب الاطاعت ٹھہرتے ہیں۔ قدیم سے خدا تعالیٰ کا ایک خاص قانون ہے جو ہم ذیل میں لکھتے ہیں۔ ہم اس سے پہلے ابھی بیان کر چکے ہیں کہ ایسے اولیاء اللہ جو مامور نہیں ہوتے۔ یعنے نبی یا رسول یا محدث نہیں ہوتے اور اُن میں سے نہیں ہوتے جو دُنیا کو خدا کے حکم اور الہام سے خدا کی طرف بُلاتے ہیں۔ ایسے ولیوں کو کسی اعلیٰ خاندان یا اعلیٰ قوم کی ضرورت نہیں کیونکہ اُن کا سب معاملہ اپنی ذات تک محدود ہوتا ۱؎ ہے۔ لیکن ان کے مقابل پر ایک دوسری قوم کے ولی ہیں جو رسول یا نبی یا محدث کہلاتے ہیں اور وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک منصب حکومت اور قضا کا لیکر آتے ہیں اور لوگوں کو حکم ہوتا ہے کہ ان کو اپنا امام اور سردار اور پیشوا سمجھیں۔ اور جیسا کہ وہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کرتے ہیں اس کے بعد خدا کے اُن نائبوں کی اطاعت کریں۔ اِس منصب کے بزرگوں کے متعلق قدیم سے خدا تعالیٰ کی یہی عادت ہے کہ انکو اعلیٰ درجہ کی قوم اور خاندان میں سے پیدا کرتا ہے۔ تا انکے قبول کرنے اور انکی اطاعت کا جُوا اُٹھانے میں کسی کو کراہت نہ ہو۔ اور چونکہ خدا نہایت رحیم و کریم ہے اِس لئے نہیں چاہتا کہ لوگ ٹھوکر کھاویں اور اُن کو ایسا ابتلا پیش آوے جو اُنکو اِس سعادت عظمیٰ سے محروم رکھے کہ وہ اُس کے مامور کے قبول کرنے سے اِس طرح پر رُک جائیں کہ اس شخص کی نیچ قوم کے لحاظ سے ننگ اور عار اُن پر غالب ہو۔ اور وہ اپنی عزت کے ساتھ اس بات سے کراہت کریں کہ اُسکے تابعدار بنیں اور اُسکو اپنا بزرگ قرار دیں۔ اور انسانی جذبات اور تصورات پر نظر کر کے یہ بات خوب ظاہر ہے کہ یہ ٹھوکر کثیر نوع انسان کو پیش آجاتی ہے۔ مثلاً ایک شخص جو قوم کا چوہڑا یعنے بھنگی ہے۔ اور ایک

تریاق القلوب صفحہ 152 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 279، 280 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 252 پر درج ہے

صفحہ 739

حوالہ نمبر 175

۲۸۰

گاؤں کے شریف مسلمانوں کی تیس چالیس سال سے یہ خدمت کرتا ہے کہ دو وقت اُنکے گھروں کی گندی نالیوں کو صاف کرنے آتا ہے اور اُنکے پاخانوں کی نجاست اُٹھاتا ہے اور ایک دو دفعہ چوری میں بھی پکڑا گیا ہے اور چند دفعہ زنا میں بھی گرفتار ہوکر اُس کی رسوائی ہو چکی ہے۔ اور چند سال جیلخانہ میں قید بھی رہ چکا ہے اور چند دفعہ ایسے بُرے کاموں پر گاؤں کے نمبرداروں نے اُسکو جوتے بھی مارے ہیں اور اُسکی ماں اور دادیاں اور نانیاں ہمیشہ سے ایسے ہی نجس کام میں مشغول رہی ہیں اور سب مُردار کھاتے اور گُوہ اُٹھاتے ہیں۔ اب خدا تعالیٰ کی قدرت پر خیال کر کے ممکن تو ہے کہ وہ اپنے کاموں سے تائب ہو کر مسلمان ہو جائے۔ اور پھر یہ بھی ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ کا ایسا فضل اُسپر ہو کہ وہ رسول اور نبی بھی بنجائے اور اُسی گاؤں کے شریف لوگوں کی طرف دعوت کا پیغام لیکر آوے اور کہے کہ جو شخص تم میں سے میری اطاعت نہیں کریگا خدا اُسے جہنم میں ڈالے گا۔ لیکن باوجود اِس امکان کے جب سے کہ دُنیا پیدا ہوئی ہے کبھی خدا نے ایسا نہیں کیا۔ کیونکہ ایسا کرنا اُسکی حکمت اور مصلحت کے خلاف ہے اور وہ جانتا ہے کہ لوگوں کے لئے یہ ایک فوق الطاقت ٹھوکر کی جگہ ہے کہ ایک ایسا شخص جو پشت درپشت رذیل چلا آتا ہے اور لوگوں کی نظر میں نہ صرف وہ نیچ ہے بلکہ اُس کا باپ اور دادا اور پڑدادا اور جہانتک معلوم ہے قوم کے نیچ ہیں اور ہمیشہ سے شریر اور بدکار ہوتے چلے آئے ہیں۔ اور مویشیوں کی طرح اَدنیٰ خدمتیں کرتے رہے ہیں۔ اَب اگر لوگوں سے اُسکی اطاعت کرائی جائے تو بلاشبہ لوگ اُسکی اطاعت سے کراہت کریں گے۔ کیونکہ ایسی جگہ میں کراہت کرنا انسان کیلئے ایک طبعی امر ہے۔ اِسلئے خدا تعالیٰ کا قدیم قانون اور سُنت یہی ہے کہ وہ صرف اُن لوگوں کو منصبِ دعوت یعنی نبوت وغیرہ پر مامور کرتا ہے جو اعلیٰ خاندان میں سے ہوں۔ اور ذاتی طور پر بھی پاک چلن اچھے رکھتے

ہوں

تریاق القلوب صفحہ 152 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 279 و 280 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 252 پر درج ہے

صفحہ 740

حوالہ نمبر 176 پیام اصلح ۲۲۸

اشتہار عام اطلاع کے لئے

مجھ پر یہ کہ میں نے متفرق مقامات میں عیسائیوں کے معبود کا جو عیب ذکر کیا ہے اور ان کو مخاطب کر کے جو کچھ سنایا ہے یہ بوجہ اس بات کے کہ عیسائیوں کی کتب اور اخبارات اور ٹریکٹوں نے دلوں میں سخت اشتعال پیدا کیا ہے مگر پھر بھی ہم نے اس کتاب میں جو ان کو جواب دیا ہے بہت نرمی اور تہذیب اور ملائمت سے کام لیا ہے اور گو پادریوں کی عادت ہے کہ وہ دل دکھانے والی گالیاں ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتے ہیں اور ہمارا حق تھا کہ ہم بالمقابل کے طور پر سختی کا سختی سے جواب دیتے مگر ہم نے حق اور حیا کے تقاضا سے جو انسان کی صفت لازمی ہے ہر ایک سخت زبانی سے احتراز کیا اور وہی امور لکھے ہیں جو واقعہ اور سچ ہیں پس اے فہمیدہ اور منصف مزاج لوگو ! تم ان باتوں کو پڑھو کہ اس کتاب میں بمقابلہ اس تحریر قبیحہ اور سبّ و شتم اور بدزبانیوں اور سخت کلامیوں کے جو پادریوں کی طرف سے شائع ہوتی ہیں کیسا حلم اور وقار سے کام لیا گیا ہے دراصل یہ سچ ہے کہ جو لوگ نیکی اور تقویٰ پر قدم مارتے ہیں وہ گالیوں کے مقابل پر گالیاں اور بے ہودہ گوئی کے مقابل پر بے ہودہ گوئی نہیں کرتے بلکہ ان کی سخت بات کا نرمی سے جواب دیتے ہیں۔ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم یہی ہے پس وہ لوگ جو عیسائیوں کی ان سخت کلامیوں اور گالیوں کو جو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں دی گئی ہیں دیکھتے ہیں اور پھر ہماری کسی تحریر کے خلاف جوش میں آتے ہیں وہ یا تو بے غیرت ہیں یا ان کو پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ محبت نہیں اور وہ نرے نام کے مسلمان کہلاتے ہیں یا عیسائیوں کے ہمدرد ہیں اور ہماری تالیفات پر جو درحقیقت عیسائیوں کے حملوں کی مدافعت میں لکھی گئی ہیں محض ناحق اور بے جا اعتراض کرتے ہیں۔ سو ہماری التماس تمام ناظرین سے یہی ہے کہ وہ ہماری اس کتاب کو اور دوسری کتابوں کو بھی جو ہم نے تالیف کی ہیں اول سے آخر تک پڑھیں تو ان کو معلوم ہو جائے گا کہ ہم نے کس قدر صبر اور حلم اور وقار سے کام لیا ہے اور کیونکر مخالفوں کی سخت گوئی اور بدزبانی کے مقابل پر ہم نے نرمی کو اختیار کیا ہے ۔ اور ہم سچ سچ کہتے ہیں کہ ہم کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کوئی عداوت نہیں ہے بلکہ ہم تو ان کو خدا تعالیٰ کا ایک سچا اور پیارا نبی مانتے ہیں اور ان کی نبوت پر ایمان لاتے ہیں سو ہماری کسی کتاب میں کوئی ایسا لفظ نہیں ہے جو ان کی شان بزرگ کے برخلاف ہو ۔ اور اگر کوئی ایسا خیال کرے تو وہ دھوکا کھانے والا اور جھوٹا ہے۔ والسلام علیٰ من اتبع الہدیٰ

المشتہر مرزا غلام احمد از قادیان

پیام اصلح 17 اپریل 1934ء صفحہ 2 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 228 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 260 پر درج ہے

صفحہ 741

ضمیمہ ۱۴۴ نزول المسیح

حوالہ نمبر 177

ایک شریر یہودی اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ ایک مرتبہ ایک بیگانہ عورت پر آپ عاشق ہو گئے تھے لیکن بوجہ علت خصّی کے تمتع سے رُکے وہ قابل اعتبار نہیں۔ آپ خدا کے مقبول اور پیارے تھے۔ خبیث ہیں وہ لوگ جو آپ پر یہ تہمتیں لگاتے ہیں۔ ہاں آپ نے اجتہادی غلطی سے داؤد کے تخت کی تمنا کی تھی مگر وہ تمنا پوری نہ ہوئی اور مطابق مثل مشہور کہ بن مانگے موتی ملیں مانگے ملے نہ بھیک ۔ آپ تو داؤد کے تخت سے محروم رہے مگر وہ برگزیدہ خدا سیّدنا المرسل جسنے دنیا کی بادشاہت سے منہ پھیر کر کہا تھا کہ اَلْفَقْرُ فَخْرِیْ یعنی فقر میرا فخر ہے اُس کو خدا نے بادشاہت دیدی۔ اُس نے کہا تھا کہ میں ایک دن فاقہ چاہتا ہوں اور ایک دن روٹی مگر خدا نے اُسکو فقر و فاقہ سے بچایا۔ یہ خاص فضل ہے۔ حضرت عیسیٰ کے اجتہاد جو اکثر غلط نکلے اسکا سبب شاید یہ ہوگا کہ اوائل میں جو آپکے حواریین تھے وہ پورے نہ ہونگے۔ غرض ان باتوں سے نبوت میں کچھ خلل نہیں آیا نبی کے ساتھ صدہا انوار ہوتے ہیں جن سے وہ شناخت کیا جاتا ہے اور جو بدی اُسکے دعویٰ کی سچائی کھولتی ہیں اگر کوئی اجتہادی غلطی ہو تو اصل دعویٰ میں کچھ فرق نہیں آتا مثلاً آنکھ اگر دُور کے فاصلہ سے انسان کو بیل تصوّر کرے تو یہ نہیں کہہ سکتے کہ آنکھ کا وجود ہی فاسد ہے یا اُسکی رویت قابل اعتبار نہیں پس نبی کیلئے اُسکے دعویٰ اور تعلیم کی ایسی مثال ہے جیسا کہ قریب سے آنکھ چیزوں کو دیکھتی ہے اور ان میں غلطی نہیں کرتی۔ اور بعض اجتہادی امور میں غلطی کی ایسی مثال ہے جیسے دُور دراز کی چیزوں کو آنکھ دیکھتی ہے تو کبھی انکی تشخیص میں غلطی کر جاتی ہے۔ اِسی بناء پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ کو جو یہودیوں کی بھلائی کیلئے اپنی بادشاہت کا خیال تھا۔ اسلئے بموجب آیت کریمہ اِلَّا اِذَا تَمَنّٰی اَلْقَی الشَّیْطَانُ فِیْ اُمنِیَّتِہٖ شیطان نے آپ کو دھوکا دیا اور داؤد کے تخت کا لالچ دل میں ڈال دیا۔

بیوقوف عیسائی بھی یہی بکواس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کیا کرتے ہیں اور حضرت موسیٰ پر بھی ایک مرتبہ ایسا ہی الزام لگایا گیا تھا۔ منہ

۱؂ الحج : ۵۳

نزول المسیح (ضمیمہ) صفحہ 30 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 134 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 260 پر درج ہے

صفحہ 742

(حوالہ نمبر 178)

۲۶۵

خدا پوجا چاہتے ہیں۔ پس گویا مجلہ صاحب بزبان حال ہر یک فرقہ کے عوام کو کہہ رہا ہے ۔ کہ اے غافل تو کہاں جاتا ہے اور کن خیالات میں لگا ہے اگر سچے مذہب کا طالب ہے تو ادھر آ اور اُس خدا پر ایمان لا جس کی طرف لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ بلاتا ہے کہ وہی غیر فانی اور کامل خدا اور تمام عیبوں سے منزہ اور تمام صفات کاملہ سے متصف ہے۔

باوا نانک صاحب پر پادریوں کا حملہ

یہ عجیب بات ہے کہ اس زمانہ کے پادری جس قدر دوسرے مذاہب پر نکتہ چینی کرنے کیلئے اپنا وقت اور اپنا مال خرچ کر رہے ہیں اس کا کروڑواں حصہ بھی اپنے مذہب کی آزمائش اور تحقیق میں خرچ نہیں کرتے حالانکہ جو شخص ایک عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے اور اُس مردہ اور بے خبر ہستی کو جو بوجہ مصیبت دعا مانگتا ہے کہ وہ ایک حسرت کے پیرایہ میں فوت ہو گیا اور قبر میں کچھ بن نہ سکا اور شروع میں خدا کہلا اور بندہ کی طرح ایک گندے پیٹ سے پیدا ہوا اور پکڑا گیا اور صلیب پر کھینچا گیا ایسے قابل شرم اعتقاد والوں کو چاہیے تھا کہ کفارہ کا ایک جھوٹا منصوبہ پیش کرنے سے پہلے اس قابل رحم انسان کی خدائی ثابت کرتے اور پھر دوسرے لوگوں کو اس عجیب خدا کی طرف بلاتے۔ مگر میں دیکھتا ہوں کہ ان لوگوں کو اپنے مذہب کا ذرہ بھی شرم نہیں ۔ تھوڑے دن ہوئے ہیں کہ ایک پرچہ امرتسر کے مشن پریس یا لدھیانہ میں سے پنجاب ریلیجس بک سوسائٹی کی کارروائیوں کیواسطے ایک منادی کی تائید کے نام سے نکلا ہے جس کا سرنامہ یہ ہے۔ وہ گرو جو انسان کو خدا کا فرزند بنا دیتا ہے اس پرچہ میں سکھ صاحبوں پر حملہ کرنے کے لئے آد گرنتھ کی صریح توہین میں لکھا ہے۔

جے سو چندا اُگوین سورج چڑھے ہزار ایتے چانن ہویاں گور بن گھور اندھار

یعنی اگر سو چاند اُگیں اور ہزار سورج طلوع کرے تو اتنی روشنی ہونے پر بھی گرو (یعنے مرشد اور ہادی) کے بغیر سخت اندھیرا ہے۔ پھر اس کے بعد لکھا ہے کہ افسوس کہ ہمارے سکھ بھائی ناحق ان پیشواؤں کو گرو مان بیٹھے ہیں اور اس مردہ گرو کو بھو ندیوں کے پتن کا پار اتارتا بتاتے ہیں

۱۴۱

ست بچن صفحہ 141 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 265 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 260, 261 پر درج ہے

صفحہ 743

حوالہ نمبر 179

ضمیمہ براہین ۵۰

اب جس حالت میں ایسی مشہور شدہ کرامات کو قبول نہیں کیا گیا جنکے قبول کرنے میں چنداں حرج نہ تھا تو پھر کیوں ایسے شخص کی طرف وہ باتیں منسوب کی جاتی ہیں جو نہ صرف قرآن شریف کی منشاء کے برخلاف ہیں بلکہ مخلوق پرستی کے شرک کو اُن سے مدد ملتی ہے جس نے چالیس کروڑ انسانوں کو خدا تعالیٰ کی توحید سے محروم کر دیا ہے پس نہیں سمجھ سکتا کہ حضرت عیسیٰ بن مریم کو اور نبیوں پر کیا زیادتی اور کیا خصوصیت ہے پھر اُس کو ایک خصوصیت دینا جو شرک کی جڑ ہے کسقدر کھلی کھلی ضلالت ہے جس سے ایک بڑی قوم تباہ ہو چکی ہے۔ ہائے افسوس کہ انہوں نے محض مصنوعی تکلف پر بھروسہ کر کے اپنے تئیں ہلاک کیا اور یہ خیال نہ کیا کہ بغیر باپ کے پیدا ہونا کوئی ایسی خوبی ہے کہ اپنی ہستی اپنے ہاتھ سے بناتا ہو اور ایک کیڑا جو پلیدی اور گندگی سے پیدا ہو جاتا ہے تب خدائی کی صفت اس میں کہاں سے آ گئی یہ کیسی جہالت ہے کہ ایک انسان جو ایک نطفہ سے پیدا ہوا ہو دوسرے انسان پر اپنی نجات کے لئے بھروسہ کرے اور کسی کی حیاتی قوت کو اپنی روحانی زندگی کے لئے مفید سمجھے۔ خدا کا قانون ہے کہ اُس نے کسی انسان کو کسی امر میں خصوصیت نہیں دی اور کوئی انسان نہیں کہہ سکتا کہ مجھ میں ایک ایسی بات ہے جو دیگر انسانوں میں نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو ایسے انسان کو واقعی طور پر معبود ٹھہرانے کے لئے بنیاد پڑ جاتی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں بعض عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی یہ خصوصیت پیش کی تھی کہ وہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے ہیں تو فی الفور اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کی اس آیت میں جواب دیا کہ ان مثل عیسیٰ عند اللہ کمثل اٰدم خلقہ من تراب ثم قال لہ کن فیکون یعنی عیسیٰ کی مثال آدم کی مثال ہے خدا نے اس کو مٹی سے پیدا کیا پھر اس کو کہا کہ ہو جا سو وہ ہو گیا ۱؂ عیسائی عیسیٰ بن مریم مریم کے خون سے اور مریم کی منی سے پیدا ہوا اور پھر خدا نے کہا کہ ہو جا سو ہو گیا۔ پس اس بات میں کونسی خدائی اور کونسی خصوصیت اُس میں پیدا ہو گئی۔ موسم برسات میں ہزارہا کیڑے مکوڑے بغیر ماں باپ کے خود بخود زمین سے

۱؂ آل عمران : ۶۰

براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 40 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 50 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 261 پر درج ہے

صفحہ 744

حوالہ نمبر 180 براہین احمدیہ حصہ چہارم حاشیہ در حاشیہ

۳۹۵ اسی قدر پر آپ بندوبست کرتا۔ لیکن اُسکی اولاد کے لئے یہ ضرورت پیش نہیں آئی کیونکہ اب کروڑ ہا انسان مختلف بولیاں بولتے اور اپنے بچوں کو سکھاتے ہیں۔ ماسوا اِس کے جیسا کہ ہم نے ابھی اُوپر بیان کیا ہے۔ ذاتی قابلیت بھی کہ ۳۹۶ تم سے سچ کہتا ہوں کہ اس زمانہ کے لوگوں کو کوئی نشانی دیا نہ جائے گا اور اس کے مصلوب ہونے کے وقت بھی یہودیوں نے کہا کہ اگر وہ اب ہمارے روبرو زندہ ہو جائے تو ہم ایمان لائیں گے لیکن اُسنے ان کو زندہ ہو کر نہ دکھلایا اور اپنی خدائی اور قدرت کاملہ کا ایک ذرہ ثبوت نہ دیا۔ اور اگر عیسیٰ معجزات بھی دکھلاتے تو وہ دکھلاتے کہ اس سے پہلے اور نبی کثرت دکھلا چکے تھے۔ بلکہ اُسی زمانہ میں ایک حوض کے پانی سے بھی ایسے ہی عجائبات ظہور میں آتے تھے (دیکھو باب ۵ یوحنا) غرض اپنے زمانہ میں تو اُنہوں نے کوئی نشان نہ دکھلایا ۔مگر جیسا کہ آیت مذکورہ بالا میں خود اُن کا اقرار موجود ہے۔ بلکہ ایک ضعیف عاجز ہو کر پکڑے گئے یا کہ بقول عیسائیوں وہ ذلت اور رسوائی اور ناتوانی اور نومیدی عمر بھر دیکھی کہ جو انسانوں میں سے وہ انسان دیکھتے ہیں کہ جو بدقسمت اور بدنصیب کہلاتے ہیں۔ اور پھر ذلت تک پہنچی کہ خانہ رحم میں قید رہ کر اور اس ناپاک راہ سے کہ جو پیشاب کی بدرَو ہے پیدا ہو کر ہر یک قسم کی آلودہ حالت کو اپنے اُوپر ہموار کر لیا۔ اور بشری آلودگیوں اور نجاستوں میں سے کوئی ایسی آلودگی باقی نہ رہی جس سے وہ پیشاب کا پرنالہ ملوث نہ ہو۔ اور پھر اُس نے اپنی جہالت اور بے علمی اور بے قدرتی اور نیز اپنے نیک نہ ہونے کا اپنی کتاب میں آپ ہی اقرار کر لیا۔ اور پھر درصورتیکہ وہ عاجز بندہ کہ خواہ مخواہ خدا کا بیٹا قرار دیا گیا۔ بعض بزرگ نبیوں سے فضائل علمی اور عملی میں کم ہی تھا۔ اور اُس کی تعلیم بھی ایک ناقص تعلیم تھی کہ جو موسٰی کی شریعت کی ایک فرع تھی۔ تو پھر کیونکر جائز ہے نے آپ کو کہاں سے کہاں تک پہنچایا۔ اور ابھی ٹھہرئیے اِسی پر ختم نہیں، آپ کے اس اعتقاد سے تو خدا کی ہستی کی بھی خیر نظر نہیں آتی۔ کیونکہ جیسا ہم پہلے لکھ چکے ہیں۔ بڑا بھاری

براہین احمدیہ صفحہ 368 مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 440 (حاشیہ) از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 261 پر درج ہے

صفحہ 745

۲۸۹ حوالہ نمبر 181

کیسے خبر نہیں تھی کہ آتھم کی موت کو جو عین الہام کے موافق میعاد ہی کے بعد بالآخر قضاً ظاہر ہو گئی اس کی سچائی اس کو نشان الٰہی قرار نہ دیا۔ وہ گندے بیغیرت مولوی جو آتھم کے مرنے سے پیشگوئی کی حقیقت کھلنے کے بعد ایسے خجالت سے چپ ہوئے کہ گویا مر گئے۔ اب آنکھیں کھولو اور اُٹھو اور جاگو اور تلاش کرو۔ کہ آتھم کہاں ہے؟ کیا خدا کے حکم نے اس کو قبر میں نہ پہنچا دیا۔ ہر ایک منصف اس پیشگوئی کو تسلیم کرلے گا

جائے گا۔ دیکھو یسوع کی کیسی ٹھٹھی اور کیسی نیش زنی کی۔ اب کوئی حیا دار اور بیدار ہے تو اس سے سبق لے۔ یہ تو حق بات تھی کہ میں نے ایک شریر کے بارے میں جس سرتاسر یسوع کی روح تھی لوگوں پر ظاہر کیا کہ میں ایک سچا اور راستباز ہوں جس کے پڑھنے سے پہلی ہی رات میں خدا نے مجھے ان کی پیشینگوئیوں پر ہنستا ہوا صبح کو بیدار کیا۔ جب مولوی صاحب موصوف نے مجھے کہا کہ مجھے پیشینگوئیوں سے خدا نظر نہیں آیا۔ آخر ہر ایک طبعی کو ہنسنا ہی پڑتا تھا کہ مولوی صاحب موصوف کی پیشینگوئیوں میں صدہا دروغ اور فریب بھری ہوئی تھی اور چھپانے کے لئے راہ دیکھ رہا تھا۔ یہی ایک طریق تھا کہ ایک مرتبہ کسی یہودی نے آپ کی قوت شہوت آزمانے کے لئے سوال کیا کہ اے اُستاد قیصر کو خراج دینا روا ہے یا نہیں آپ کو یہ سوال سنتے ہی اپنی جان کی فکر پڑ گئی کہ کہیں باغی کہہ کر پکڑا نہ جاؤں۔ سو جیسا کہ معجزہ مانگنے والوں کو ایک لطیفہ سنا کر معجزہ مانگنے سے روک دیا تھا۔ اس جگہ بھی وہی کارروائی کی اور کہا کہ قیصر کا قیصر کو دو اور خدا کا خدا کو یہ حالت مغلوبیت کا پتہ دیتی ہے۔ کہ کہہ کیوں نہ دیا کہ میں ہی بادشاہ ہوں نہ کہ قیصر ۔ اسی بناء پر ہم یقیناً کہتے شرماتے ہیں کہ ہادی کیسے ہو۔ اگر قصہ یہ نہ ہوتا تو ہادی نہ بنتے۔

متی کی انجیل سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی عقل بہت موٹی تھی۔ آپ جاہلوں اور غبیوں اور مجنونوں کی طرح مرگی کی بیماری نہیں سمجھتے تھے بلکہ جن کا آسیب خیال کرتے تھے۔

ہاں یہ سچ ہے کہ آپ کو گالیاں دینے اور بد زبانی کی اکثر عادت تھی۔ ادنیٰ ادنیٰ بات میں غصہ آجاتا تھا۔ اپنے نفس کو جذبات سے روک نہیں سکتے تھے۔ مگر میرے نزدیک آپ کی یہ حرکات جائے طعن نہیں کیونکہ آپ تو گالیاں دیتے تھے اور یہودی ہاتھ سے کسر نکال لیا کرتے تھے۔

یہ بھی یاد رہے کہ آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی جن جن پیشگوئیوں کی اپنی ذات کی نسبت توریت میں پایا جانا آپ نے فرمایا ہے۔ ان کتابوں میں ان کا نام و نشان نہیں پایا جاتا

حاشیہ انجام آتھم صفحہ 5 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 289 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 261 پر درج ہے

صفحہ 746

حوالہ نمبر 182 ۳۹۰

مگر خلیفہ محض بدذات مولوی منہ سے اقرار نہ کریں مگر دل اقرار کر گئے ہیں۔

پھر ایک اور پیشگوئی نشان الہی ہے جس کا ذکر براہین احمدیہ کے صفحہ ۲۳۸ میں ہے اور وہ یہ ہے یا احمد فاضت الرحمة علی شفتیک۔ اے احمد فصاحت بلاغت کے چشمے تیرے لبوں پر جاری کئے گئے۔ اس کی تصدیق کئی سال سے ہو رہی ہے۔ کئی کتابیں عربی بلیغ فصیح میں تالیف کر کے

حاشیہ بقیہ صفحہ ۳۹۰

بلکہ وہ اوروں کے حق میں تھیں جو آپ کے تولد سے پہلے پوری ہوگئیں اور یہ بہت شرم کی بات یہ ہے کہ آپ نے پہاڑی تعلیم کو جو انجیل کا مغز کہلاتی ہے یہودیوں کی کتاب طالمود سے چرا کر لکھا ہے اور پھر ادعا یہ کیا ہے کہ گویا یہ میری تعلیم ہے لیکن جب سے یہ چوری پکڑی گئی عیسائی بہت شرمندہ ہیں۔ آپ نے یہ حرکت شاید اس لئے کی ہوگی کہ کسی عمدہ تعلیم کا نمونہ دکھلا کر رسوخ حاصل کریں۔ لیکن آپ کی اس بیجا حرکت سے عیسائیوں کی سخت روسیاہی ہوئی اور پھر افسوس یہ ہے کہ وہ تعلیم بھی کچھ عمدہ نہیں عقل اور کانسنس دونوں اس تعلیم کے منہ پر طمانچے مار رہے ہیں۔ آپ کا ایک یہودی استاد تھا جس سے آپ نے توریت کو سبقاً سبقاً پڑھا تھا۔ معلوم ہوتا ہے کہ یا تو قسمت نے آپ کو زیرکی سے کچھ بہت حصہ نہیں دیا تھا اور یا اس اُستاد کی یہ شرارت ہے کہ اس نے آپ کو محض سادہ لوح رکھا۔ بہرحال آپ علمی اور عملی قویٰ میں بہت کچے تھے۔ اسی وجہ سے آپ ایک مرتبہ شیطانی کے پیچھے پیچھے چلے گئے۔

ایک فاضل پادری صاحب فرماتے ہیں کہ آپ کو اپنی تمام زندگی میں تین مرتبہ شیطانی الہام بھی ہوا تھا چنانچہ ایک مرتبہ آپ اسی الہام سے خدا سے منکر ہونے کے لئے بھی تیار ہو گئے تھے۔ آپ کی انہی حرکات سے آپ کے حقیقی بھائی آپ سے سخت ناراض رہتے تھے اور ان کو یقین تھا کہ آپ کے دماغ میں ضرور کچھ خلل ہے اور وہ ہمیشہ چاہتے رہے کہ کسی شفاخانہ میں آپ کا باقاعدہ علاج ہو شاید خدا تعالیٰ شفا بخشے۔

عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا اور اس دن سے کہ آپ نے معجزہ مانگنے والوں کو گندی گالیاں دیں اور ان کو حرام زادہ اور حرام کی اولاد ٹھہرایا ۔ اسی روز سے شریفوں نے آپ سے کنارہ کشی کی۔ اور نہ چاہا کہ معجزہ مانگ کر گالیاں سنیں۔

۹

حاشیہ انجام آتھم صفحہ 6 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 290 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 261, 262 پر درج ہے

صفحہ 747

حوالہ نمبر 183

۲۹۰

گوشاید بعض صفات مولوی منہ سے اقرار نہ کریں مگر دل اقرار کر گئے ہیں۔ پھر ایک اور پیشگوئی نشان الٰہی ہے جس کا ذکر براہین احمدیہ کے صفحہ ۲۴۲ میں ہے اور وہ یہ ہے یا اَحْمَدُ فَاضَتِ الرَّحْمَةُ عَلَیٰ شَفَتَیْکَ۔ اے احمد فصاحت بلاغت کے چشمے تیری لبوں پر جاری کئے گئے۔ سو اس کی تصدیق کئی سال سے ہو رہی ہے۔ کئی کتابیں عربی بلیغ فصیح میں تالیف کر کے

بلکہ عیسائیوں کے حق میں پیشین گوئیاں آپ کے تولد سے پہلے ہی ہو گئیں اور نہایت شرم کی بات یہ ہے کہ آپ نے عیسائی تعلیم کو جو انجیل کا مغز کہلاتی ہے یہودیوں کی کتاب طالمود سے چرا کر لکھا ہے۔ اور پھر ایسا ظاہر کیا ہے کہ گویا یہ میری تعلیم ہے لیکن جب سے یہ چوری پکڑی گئی عیسائی بہت شرمندہ ہیں۔ آپ نے یہ حرکت شاید اس لئے کی ہو گی کہ کسی عمدہ تعلیم کا نمونہ دکھا کر رسوخ حاصل کریں۔ لیکن آپ کی اس بیجا حرکت سے عیسائیوں کی سخت رو سیاہی ہوئی اور پھر افسوس یہ ہے کہ وہ تعلیم بھی کچھ عمدہ نہیں احمق اور کج فہم دونوں اس تعلیم کے منہ پر طمانچے مار رہے ہیں۔ آپ کا ایک یہودی استاد تھا جس سے آپ نے توریت کو سبقاً سبقاً پڑھا تھا معلوم ہوتا ہے کہ یا تو توریت نے آپ کو کودن پایا کہ بہت حصہ نہیں دیا تھا اور یا اس اُستاد کی یہ شرارت ہے کہ اس نے آپ کو محض سادہ لوح دیکھا اور چاہا کہ آپ کی عقل اور بیوقوفی کی شہرت کرے۔ اسی وجہ سے آپ ایک مرتبہ شیطان کے پیچھے پیچھے چلے گئے۔

ایک عاقل پادری صاحب فرماتے ہیں کہ آپ کو اپنی تمام زندگی میں تین مرتبہ شیطانی الہام بھی ہوا تھا چنانچہ ایک مرتبہ آپ اسی الہام سے خدا کے منکر ہونے کے لئے بھی تیار ہو گئے تھے۔ آپ کی انہیں حرکات سے آپ کے حقیقی بھائی آپ سے سخت ناراض رہتے تھے اور ان کو یقین تھا کہ آپ کے دماغ میں ضرور کچھ خلل ہے اور وہ ہمیشہ چاہتے رہے کہ کسی شفاخانہ میں آپ کا باقاعدہ علاج ہو شاید خدا تعالیٰ شفا بخشے۔

عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا اور اس دن سے کہ آپ نے معجزہ مانگنے والوں کو گندی گالیاں دیں اور ان کو حرامکار اور حرام کی اولاد ٹھہرایا۔ اسی روز سے شریفوں نے آپ سے کنارہ کیا۔ اور نہ چاہا کہ معجزہ مانگ کر خفگی کا موجب ہوں

حاشیہ انجام آتھم صفحہ 6 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 290 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 262 پر درج ہے

صفحہ 748

حوالہ نمبر 184

ازالہ اوہام ۲۵۴ حصہ اول

۳۴۱ اور اگر یہ کہا جاوے کہ قرآن شریف کے ایسے معنی کرنا کہ جو پہلوں سے منقول نہیں ہیں غلط ہے جیسے مولوی عبدالرحمن صاحبزادہ مولوی محی الدین لکھوی نے اس عاجز کی نسبت لکھا ہے تو میں کہتا ہوں کہ میں نے کوئی ایسے معنی نہیں کئے جو مخالف ان معنوں کے ہوں جن پر صحابہ کرام اور تابعین اور تبع تابعین کا اجماع ہو۔ اکثر صحابہ مسیح کا فوت ہو جانا مانتے رہے، اور کل صحابہ کا فوت ہو جانا مانتے رہے پھر مخالفت اجماع کہاں سے ثابت ہوا۔ قرآن شریف میں تیس کے قریب ایسی شہادتیں ہیں جو مسیح ابن مریم کے فوت ہونے پر دلالت قطعی کر رہی ہیں۔ غرض یہ بات کہ مسیح جسم خاکی کے ساتھ آسمان پر چڑھ گیا اور اسی جسم کے ساتھ اُترے گا نہایت لغو

۳۴۲ اور باطل ہے جسے انسان کی طبیعت تسلیم کر کے تسلی نہیں پاتی جیسے عوام الناس جلدی سے یقین کر لیتے ہیں بلکہ یہ معجزہ خدا تعالیٰ کی توحید اور قدرت پر ایک زبردست دلیل تھا اور اس کی حقانیت ظاہر کرنے کے لئے اس کو دکھایا تھا وہ پرندے محض مٹی کے تھے معجزہ اسے کہتے ہیں جو اس خارق عادت فعل کے ذریعہ سے ظہور پذیر ہوتے ہیں ۔ معلوم ہوتا ہے کہ جیسے حضرت سلیمان کا یہ معجزہ جو صَرْحٌ مُمَرَّدٌ مِنْ قَوَارِيْرَ ۱؎ ہے جس کو دیکھ کر بلقیس کو ایمان نصیب ہوا ۔

۳۴۳ اب یہ بات سنئے کہ ظاہر میں معلوم ہوتا ہے کہ یہ پرندوں کا معجزہ حضرت سلیمان کے معجزے کی طرح صرف عقلی تھا جسے علم ہندسہ سے کامل دخل ہے اور ایسے امور کی طرف لوگوں کے خیالات جھکے ہوئے تھے کہ شعبدہ بازی کی قسم میں سے تھے اور دراصل بے سود اور عوام کو فریفتہ کرنے والے تھے۔ وہ لوگ جو فرعون کے وقت میں مصر میں ایسے ایسے کام کرتے تھے جو سانپ بنا کر دکھلا دیتے تھے اور کئی قسم کے جانور طیار کر کے ان کو زندہ جانوروں کی طرح چلوا دیتے تھے۔ وہ حضرت عیسیٰ کے وقت میں

۳۴۴ عام طور پر یہودیوں کے ملکوں میں پھیل گئے تھے اور یہودیوں نے ان کے بہت سے ساحرانہ کام سیکھ لئے تھے جیسا کہ قرآن کریم بھی اس بات کا شاہد ہے سو کچھ تعجب کی جگہ نہیں کہ خدائے تعالیٰ نے حضرت مسیح کو عقلی طور سے ایسے طریق کی اطلاع دے دی ہو جو ایک مٹی کا کھلونا کسی کل کے دبانے یا کسی پھونک مارنے کے طور پر ایسا پرواز کرتا ہو جیسے پرندہ پرواز کرتا ہے یا اگر پرواز نہیں تو پیروں سے چلتا ہو۔ کیونکہ حضرت عیسیٰ ابن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس برس کی مدت تک

۱؎ النمل : ۴۵

ازالہ اوہام صفحہ 154-155 حصہ اول روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 254-255 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 262 پر درج ہے

صفحہ 749

ازالۃ الاوہام

(حوالہ نمبر 184)

حصہ اول

اور بے اصل بات ہے صحابہ کا ہرگز اس پر اجماع نہیں ہوا ۔ اگر ہے تو ثبوت پیش کرو تم کو چاہئے کہ ان صحابہ کا نام لیجئے جو اس بارہ میں اپنی شہادت ادا کر گئے ہیں ورنہ ایک بیہودہ بات کہہ کر تمام امت کو احمق ٹھہراتے ہیں ۔ ماسوا اس کے یہ بھی ان حضرات کی صریح غلطی ہے کہ قرآن کریم کے معانی کو زمانہ گذشتہ تک محدود سمجھتے ہیں گویا ان کی اس حالت کو تسلیم کر لیا جاوے تو پھر قرآن شریف معجزہ نہیں رہ سکتا ۔ اور اگر ہو بھی تو شاید ان عربوں کے لئے ہو جو لغت شناسی کا مذاق رکھتے ہیں۔ جاننا چاہئے کہ کلام الٰہی کی تو یہ شان ہے کہ وہ ہمیشہ ایک زندہ اور روشن معجزہ ہے ۔ کیا اس کو ہم ایک ایسی کتاب مان لیں جو زمانہ گذشتہ میں تو معجزہ تھی مگر اب نہیں ۔

[ تمہاری کلام میں کیا نور ہے یہی مقفی عبارت ہے جس میں معنی کا نام و نشان نہیں۔ اور کلام پر چھیڑ چھاڑ کرتے ہو بلکہ لوہے اور طرح طرح کی صنعتوں کے بنانے میں وحی الٰہی کو کیا دخل ۔ بھلا ایسے انسانوں میں قرآنی نور اور تجلی الٰہی کے عجائبات کا کیا ظہور ہو سکتا ہے ۔ میرے بھائی بے شبہ وہ دل جن میں اللہ تعالیٰ کے روحانی قویٰ جو خالق اور مبداء تک پہنچنے میں نہایت تیز روی کرتے ہیں ان کو قرآن شریف کا معجزہ دیا گیا ہے وہ جامع تمام کمالات و معارف الٰہیہ ہیں۔ پس اس سے کچھ تعجب نہیں کہ وہ اپنے پیدا کرنے والے خداوند عالم کی طرح اس وقت کے مخالفین کو یہ تسلی بخش جواب دیں کہ ہم معجزہ دکھانے کو بھی تیار ہیں مگر تم حال کے زمانہ میں بھی ایسا ہی کلام پیش کرو کہ ہم تم کو ایسا ہی نشان دکھلادیں ۔ حالانکہ وہ ماضی میں بھی ایسا ہی کلام پیش کر چکے ہیں ۔ پس اس سے کیا تعجب ہے کہ بعض بد زبان کلمہ گو ایسے بکواس بکتے ہیں ۔ بمبئی اور کلکتہ میں ایسے کھلونے بنتے ہیں اور یورپ اور امریکہ کے ملکوں میں بکثرت ہزارہا ہر سال نئے نئے نکلتے آتے ہیں ۔ اور چونکہ قرآن شریف اکمل اور اتم کمالات سے بھرا ہوا ہے اس لئے ان آیات کے روحانی طور پر معنی یہی ہو سکتے ہیں کہ جن کی مردوں سے زیادہ ہستی اور گمان نہ تھی ۔ پس ان کو حضرت عیسیٰ نے اپنا رفیق بنایا اور اپنی صحبت میں رکھ کر ایک پرند کی صورت پر خاک کو گوندھا پھر ہدایت کی روح ان میں پھونک دی پس وہ پرواز کرنے لگے۔

[ دیکھو یہ معجزہ تو ایک نبی کی قوت قدسیہ کے لائق ہے کہ وہ ایک مردہ کو جو بصورت خاک تھا انسان بنادے ]

ازالۃ الاوہام صفحہ 154-155 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 254-255 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 262 پر درج ہے

صفحہ 750

حوالہ نمبر 185 ۲۹۱

ہزار ہا روپیہ کے انعام کے ساتھ علماء اسلام اور عیسائیوں کے سامنے پیش کی گئیں مگر کسی نے سر نہ اٹھایا اور کوئی مقابل پر نہ آیا۔ کیا یہ خدا کا نشان ہے یا انسان کا افترا ہے۔ پھر ایک اور پیشگوئی نشان الہی ہے جو براہین کے صفحہ ۲۳۸ میں درج ہے۔ اور وہ یہ ہے الرَّحْمٰنِ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے علم قرآن کا وعدہ دیا تھا۔ سو اس وعدہ کو کیسے ظہور میں

کی علامتیں بتلائے ہیں کہ یہ کہ میرے پیرو ایسے ہوں گے اور ان کو کچھ اثر نہیں ہوگا۔ یہ بالکل جھوٹ نکلا۔ کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ زہر کے پینے سے یورپ میں بہت خودکشی ہورہی ہے۔ ہزار ہا مرتے ہیں۔ ایک پادری ایک اونس سنکھیا محض کھانے سے دو گھنٹے تک بچ نہیں سکتا ہے۔ پھر یہ معجزہ کیسا ہے۔ ایسا ہی آپ فرماتے ہیں کہ میرے پیرو پہاڑ کو کہیں گے کہ یہاں سے اُٹھ اور وہ اُٹھ جائے گا یہ کس قدر جھوٹ ہے بھلا ایک پادری صرف بات سے ایک ٹیڑھی سوئی کو سیدھا کر کے تو دکھلائے۔

ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۲۹۰

ممکن ہے کہ آپ نے معمولی تدبیر کے ساتھ کسی شب کور وغیرہ کو اچھا کیا ہو۔ یا کسی اور ایسی بیماری کا علاج کیا ہو۔ مگر آپ کی بدقسمتی سے اُس زمانہ میں ایک تالاب بھی موجود تھا جس سے بڑے بڑے نشان ظاہر ہوتے تھے۔ خیال ہو سکتا ہے کہ اس تالاب کی مٹی آپ بھی استعمال کرتے ہونگے اسی تالاب سے آپکے معجزات کی پوری پوری حقیقت کھلتی ہے اور اسی تالاب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ اگر آپ سے کوئی اعجاز بھی ظاہر ہوا ہو تو وہ معجزہ آپکا نہیں بلکہ اس تالاب کا معجزہ ہے۔ اور آپ کے ہاتھ میں سوائے مکر اور فریب کے اور کچھ نہیں تھا پھر افسوس کہ نالائق عیسائی ایسے شخص کو خدا بنارہے ہیں۔

آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زناکار اور کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔ مگر شاید یہ بھی خدائی کے لئے ایک شرط ہوگی۔ آپ کا کنجریوں سے میلان اور محبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقعہ نہیں دے سکتا۔ کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگاوے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے۔

ایام الصلح صفحہ 7 بقیہ حاشیہ نمبر 11 صفحہ 291 کا دوسرا حوالہ باقی یہ حوالہ صفحہ 262 پر درج ہے

صفحہ 751

حوالہ نمبر 186 ازالہ اوہام ۲۸۲ حصہ اول

تقی کے بعض مکتوبات بھی عاجز کے پاس موجود ہیں انشاء اللہ بوقت ضرورت شائع کئے جائیں گے۔

۳۲۲

اب مولوی عبدالرحمن صاحب براہ مہربانی فرمادیں کہ جبکہ سلف صالح کے برخلاف قرآن شریف کے معنے کرنے سے انسان ملحد ہو جاتا ہے اور اسی وجہ سے یہ عاجز بھی اُن کی نظر میں ملحد ہے کہ خدا تعالیٰ کے الہام سے بعض آیات کے معانی مخفی

۳۲۳

ظاہر کرتا ہے تو پھر مولوی عبداللہ صاحب مرحوم غزنوی کی نسبت جو اسکے مرشد ہیں کیا فتویٰ ہے؟

صاف ظاہر ہے کہ مسیح جو کام اپنی قوم کو دکھاتا تھا وہ دعا کے ذریعہ سے ہرگز نہیں تھے اور قرآن شریف میں بھی کسی جگہ یہ ذکر نہیں کہ مسیح بیماروں کے چنگا کرنے یا پرندوں کے بنانے کے وقت دعا کرتا تھا مگر ہاں اپنے دعوے کے ذریعہ سے جس کو روح القدس کے فیضان سے برکت بخشی گئی تھی ایسے ایسے کام اقتداری طور پر دکھاتا

حاشیہ

تھا چنانچہ جس نے کبھی اپنی عمر میں مسمریزم کی تحصیل کی ہو گی وہ سمجھ لے گا اور میری اس بات کی یقیناً تصدیق کریگا۔ قرآن شریف کی آیات بھی بآواز بلند یہی پکار رہی ہیں کہ مسیح کے ایسے عجائب کاموں میں اسکی مشق کو بھی دخل تھا اور خدا تعالیٰ نے صاف فرما دیا ہے کہ وہ ایک فطرتی طاقت تھی جو ہر ایک فرد بشر کی فطرت میں مودع ہے مسیح سے اس کی کچھ خصوصیت نہیں چنانچہ اس بات کا تجربہ اس زمانہ میں ہو رہا ہے۔ مسیح کے معجزات تو اس تالاب کی وجہ سے بے رونق اور بے قدر تھے جو مسیح کی ولادت سے بھی پہلے مظہر عجائبات تھا جس میں ہر قسم کے بیمار اور تمام مجذوم مفلوج مبروص وغیرہ ایک ہی غوطہ مار کر اچھے ہو جاتے تھے لیکن حال کے زمانوں میں جن لوگوں نے اس قسم کے خوارق دکھائے اُس وقت تو کوئی تالاب بھی موجود نہیں تھا

حاشیہ

غرض یہ اعتقاد بالکل غلط اور فاسد اور مشرکانہ خیال ہے کہ مسیح مٹی کے پرندے بنا کر ان میں پھونک مار کر انہیں سچ مچ کے جانور بنا دیتا تھا۔ نہیں بلکہ صرف عمل الترب تھا جو روح کی قوت سے ترقی پذیر ہو گیا تھا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مسیح ایسے کام کے لئے اس تالاب کی مٹی لاتا تھا جس میں روح القدس کی تاثیر رکھی گئی تھی۔ بہر حال یہ معجزہ صرف ایک کھیل کی قسم سے تھا اور وہ مٹی درحقیقت ایک مٹی ہی رہتی تھی۔ جیسے سامری کا گوسالہ۔ فتدبر فانه نكتة جليلة ما يلقها إلا ذو حظ عظيم . منه

ازالہ اوہام صفحہ 322 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 263 (حاشیہ) از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 263 پر درج ہے

Back

صفحہ 752

حوالہ نمبر 187 ازالہ اوہام حصہ اول

جن کے بعض مکتوبات اس عاجز کے پاس موجود ہیں انشاء اللہ بوقت ضرورت شائع کئے جائیں گے۔ ۲۷۲ اب مولوی عبد الرحمٰن صاحب براہ مہربانی فرماویں کہ کیا سلف صالح کے برخلاف قرآن شریف کے معنے کرنے سے انسان ملحد ہوتا ہے اور اسی وجہ سے یہ عاجز بھی اُن کی نظر میں ملحد ہے کہ خدا تعالےٰ کے الہام سے بعض آیات کے معانی مخفی ۲۷۳ ظاہر کرتا ہے تو پھر مولوی عبد اللہ صاحب مرحوم غزنوی کی نسبت بھلا شریعت میں کیا فتویٰ ہے؟

حاشیہ صاف ظاہر ہے کہ مسیح جو کام اپنی قوم کو دکھاتا تھا وہ ملائکہ کے ذریعہ سے ہرگز نہیں تھے اور نہ انکی توریت [ میں کسی جگہ یہ ذکر ہے کہ مسیح بیماروں کے چنگا کرنے یا پرندوں کے بنانے کے وقت ملائکہ سے مدد مانگتا اور اپنے روح کے منہ پھونکنے میں کہ روح القدس کے فیضان سے برکت بخشتی تھی کسی ایسے ذریعہ کا محتاج تھا جو اس کی طرف سے کام کرتا ۔ حالانکہ پچھلوں نے بھی اپنی عمر میں بڑے بڑے کام کئے ہیں جو ملائکہ کے ذریعہ سے ان میں ظاہر ہوئے اور اب بھی وہ قوتیں بتمام تصدیق کے بعد قرآن شریف کی آیات بھی بڑے زوروں سے پکاری جا رہی ہیں مگر مسیح کے ایسے عجائب کاموں میں اسی طاقت کو جو اسکی مخفی تھی اور خدا تعالےٰ نے صاف فرما دیا ہے کہ وہ ایک طبعی طاقت تھی جو ہر ایک فرد بشر کی فطرت میں مودع ہے مسیح سے اس کی کچھ خصوصیت نہیں۔ چنانچہ اس بات کا تجربہ اس زمانہ میں ہو رہا ہے مسیح کے معجزات تو اس تالاب کی وجہ سے بے رونق اور بے قدر تھے جو مسیح کی ولادت سے بھی پہلے مظہر عجائبات تھا جس میں ہر قسم کے بیمار اور تمام مجذوم مفلوج مبروص وغیرہ ایک ہی غوطہ مار کر اچھے ہو جاتے تھے لیکن گذشتہ زمانوں میں جو لوگوں نے اس قسم کے خوارق دکھائے اُسوقت تو کوئی تالاب بھی موجود نہیں تھا [ غرض یہ اعتقاد بالکل غلط اور فاسد اور مشرکانہ خیال ہے کہ مسیح مٹی کے پرندے بنا کر اور ان میں پھونک مار کر انہیں سچ مچ کے جانور بنا دیتا تھا۔ نہیں بلکہ صرف عمل الترب تھا جو روح کی قوت سے ترقی پذیر ہو گیا تھا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مسیح ایسے کام کے لئے اُس تالاب کی مٹی لاتا تھا جس میں روح القدس کی تاثیر رکھی گئی تھی۔ بہر حال یہ مجسمہ صرف ایک کھیل کی قسم میں سے تھا اور وہ مٹی درحقیقت ایک مٹی ہی رہتی تھی۔ جیسے سامری کا گوسالہ ۔ فتدبر ولا تكن من الجاهلين (لا يلقاها الا ذو حظ عظيم ۔ منه) *

ازالہ اوہام صفحہ 322 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 263 (حاشیہ) از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 263 پر درج ہے

صفحہ 753

حوالہ نمبر 188

ازالہ اوہام حصہ اول

انکے بعض مکتوبات اس عاجز کے پاس موجود ہیں انشاءاللہ بوقت ضرورت شائع کئے جائیں گے۔

۴۷۷ اب مولوی عبد الرحمٰن صاحب براہ مہربانی فرماویں کہ جب کہ سلف صالح کے برخلاف قرآن شریف کے معنے کرنے سے انسان ملحد ہوتا ہے اور اب یہ عاجز بھی ان کی تفسیر میں ملحد ہے کہ خدا تعالےٰ کے الہام سے بعض آیات کے معانی مخفی ۴۷۸ ظاہر کرتا ہے تو پھر مولوی عبد اللہ صاحب مرحوم غزنوی کی نسبت بجا طور پر اب کیا فتوٰی ہے؟

صاف ظاہر ہے کہ مسیح جو کام اپنی قوم کے لئے کرتا تھا وہ دل کے اندھے اور گونگے تھے اور توریت میں بھی اس جگہ دیگر اندھوں گونگوں بہروں کے شفا پانے کے بارہ میں ذکر ہے نہ کہ بدنی بیماروں کا ذکر ہے۔ البتہ روحانی علاج کرتے تھے۔ جن کی روح ان کے فیضان سے ایک روشنی پاتی تھی ایسے بیماروں کا وہ اپنی طرف سے اچھا کرنا قیاس چاہتا ہے۔ کہ جیسے دین میں جو اندھے بہرے باطنی طور پر اندھے ہو گئے ہیں ان کو اچھا کیا اور ایسا ہی وہ یقینی تمام تصدیق کہ مجھ کو قرآن شریف کی آیات بھی شہادت دے رہی ہیں کہ یہی ہے کہ مسیح کے ایسے عجائب کاموں میں اس کو ایک طاقت بخشی گئی تھی۔ اور خدا تعالےٰ نے صاف فرما دیا ہے کہ وہ ایک روحانی طاقت تھی جو ہر ایک نبی کی فطرت میں ہوتی ہے۔ مسیح سے اس کی کچھ خصوصیت نہیں۔ چنانچہ اس بات کا تجربہ اس زمانہ میں ہو رہا ہے۔ مسیح کے معجزات تو اس تالاب کی وجہ سے بے رونق ہو رہے تھے جو کہ مسیح کی ولادت سے بھی پہلے محل عجائبات تھا جس میں ہر قسم کے بیمار اور تمام اندھے لنگڑے مفلوج مبروص وغیرہ ایک ہی غوطہ مار کر اچھے ہو جاتے تھے لیکن مسیح کے ہاتھوں میں جو لوگوں نے اسی قسم کے فوائد دیکھے تو انکو کیا تعجب ہو سکتا تھا

۴۷۹ غرض یہ اعتقاد بالکل غلط اور فاسد اور مشرکانہ خیال ہے کہ مسیح مٹی کے پرندے بنا کر ان میں پھونک مار کر انہیں سچ مچ کے جانور بنا دیتا تھا نہیں بلکہ صرف عمل الترب تھا جو روح کی قوت سے ترقی پذیر ہو گیا تھا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مسیح ایسے کام کے لئے اس تالاب کی مٹی لاتا تھا جس میں روح القدس کی تاثیر رکھی گئی تھی۔ بہر حال یہ معجزہ صرف ایک کھیل کی قسم میں سے تھا اور وہ مٹی درحقیقت ایک مٹی ہی رہتی تھی۔ جیسے سامری کا گوسالہ۔ فتَدبّر فانہ نکتة جلیلة ما یلقّٰہا اِلّا ذو حظٍ عظیمٍ ۔ منہ

ازالہ اوہام صفحہ 322 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 263 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 263 پر درج ہے

صفحہ 754

حوالہ نمبر 189

ازالۃ الاوہام ۲۵۵ حصہ اول

اور یہ بے اصل بات ہے صحابہ کا ہرگز اس پر اجماع نہیں ہوا۔ اگر ہے تو تم اے کم بین ثبوت پیش کر جو صحابہ کا نام لیتے ہو اس بارہ میں اپنی شہادت ادا کر گئے ہیں وہ تو ایک یا دو آدمی کے بیان کا نام اجماع رکھنا سخت بددیانتی ہے۔ ماسوا اس کے یہ بھی ان حضرات کی صریح غلطی ہے کہ قرآن کریم کے معانی کو زمانہ گذشتہ تک محدود سمجھتے ہیں۔ اگر اس خیال کو تسلیم کر لیا جاوے تو پھر قرآن شریف معجزہ نہیں رہ سکتا۔ اور اگر ہو بھی تو شاید ان عزیزوں کے لئے ہو جو بلاغت شناسی کا مذاق رکھتے ہیں۔

جاننا چاہئے کہ کلام الہٰی جو قرآن شریف کے نام سے موسوم ہے انسانی باتوں کی طرح دو شعبوں پر منقسم ہے۔ ایک تو اس کی وہ صورت ہے جو اس کے ظاہری الفاظ کے ذریعہ سے ادا ہوتی ہے جس کو ہم غلاف کا نام بھی دے سکتے ہیں۔ اور دوسری صورت وہ ہے جو بمنزلہ مغز کے ہے۔ اور جیسے انسانوں میں قویٰ مختلف ہیں اور طرح طرح کی صنعتوں کے بنانے میں عقل تیز ہو جاتی ہے اور بعض ایسے انسان ہیں جن کے جوہر بوجہ اس کے کہ بطریق خارق عادت کے طور پر پیدا کئے گئے ہیں جیسے ہمارے سید ومولیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی قویٰ چونکہ غایت درجہ تک پہنچے ہوئے تھے اور نہایت تیز و قوی تھے سو اسی لئے جو وحی قرآنی آپ پر نازل ہوئی وہ اپنے اعلیٰ درجہ کے کمالات اور سحر الفصاحت میں اس سے کچھ تعجب نہیں کہ ایک ادنیٰ درجہ کے صحابی نے بھی اس وقت کے مخالفین کو یہ عقلی معجزہ دکھلایا ہو اور حق کو چمکایا ہو۔ جیسا کہ اب بھی انہی دنوں میں بھی دیکھا جاتا ہے کہ اکثر مشرک ایسے جاہل و نادان ہیں کہ وہ باتوں ہی میں رہ جاتے ہیں اور یہ نہیں سمجھتے کہ بعض مدعیانِ الہام کے کلام بھی اعجاز کے مستحق ہوتے ہیں اور ان کے دعوے کی سچائی کی دلیل ہیں۔ جیسے اور کلام میں ویسے کلمات نہیں ہوتے اور نہ وہ اور طرح کے معجزے دکھاتے ہیں اور ہر روز نئے نئے نکلتے آتے ہیں۔ اور چونکہ قرآن شریف ایک ہمیشہ رہنے والا معجزہ ہے اس لئے اس کی آیات کے روحانی طور پر معنی بھی کر سکتے ہیں کہ مردے سے مراد وہ اُمی اور نادان لوگ ہیں جن کو حضرت عیسیٰ نے اپنا رفیق بنایا اور اپنی صحبت میں رکھ کر ایک طیور کی صورت کا خاکہ کھینچا پھر ہدایت کی روح ان میں پھونک دی نہ کہ اس سے وہ پرندے بن گئے۔

دیکھو قرآن کریم میں قوی اشارہ ہے کہ ایک زمانہ ایسا آوے گا جب مسلمان ان لوگوں سے جو ان کی مخالفت کرتے ہیں ایسے عاجز آویں گے کہ مثل ان مردوں کے ہو جاویں گے جن کو

ازالۃ الاوہام صفحہ 155-156 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 255-256 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 263 پر درج ہے

صفحہ 755

حوالہ نمبر 189

ازالہ اوہام ۲۵۶ حصہ اول

ہو سکتا ہے جس کو پیش کر کے ہم ہر ایک ملک کے آدمی کو خواہ ہندی ہو یا پارسی یا یوروپین یا امریکن یا کسی اور ملک کا ہو ملزم و ساکت و لاجواب کر سکتے ہیں۔ وہ غیر محدود معارف و حقائق و علوم حکمیہ قرآنیہ ہیں جو ہر زمانہ میں اس زمانہ کی حاجت کے موافق کھلتے جاتے ہیں اور ہر ایک زمانہ کے خیالات کا مقابلہ کرنے کے لئے مستعد سپاہیوں کی طرح کھڑے ہیں اگر قرآن شریف اپنے حقائق و دقائق کے لحاظ سے ایک محدود چیز ہوتی تو ہرگز وہ معجزہ تامہ نہیں ٹھہر سکتا تھا۔ فقط بلاغت و فصاحت ایسا امر نہیں ہے جس کی اعجازی کیفیت ہر ایک مجادل ناخواندہ کو معلوم ہو جائے بلکہ کھلا اعجاز اس کا تو یہی ہے کہ وہ غیر محدود معارف و دقائق

سے مملو ہے۔ بے شبہ یہ حقیقت قویہ جس کے کامل الثبوت ہونے میں کسی کو جائے دم زدن نہیں دلیل ہے کہ نباتات میں بھی اس صانع نے ایک نوع کی کشش کرنے والی روح رکھی ہے اور دوسری جوہرِ دل پر نازل کر کے ان جوہروں کو زندہ معانی سے پر کر دیتی ہے۔ انسان کی روح میں کچھ ایسی خاصیت ہے کہ وہ اپنی زندگی کا ایک حصہ جوہرِ دماغی پر بھی ڈالتی ہے۔ پس جوہرِ دماغی اس کو کھینچتا ہے۔ تب ہمارے دماغ سے ایسی حرکات صادر ہوتی ہیں۔ جو تعقل سے حصہ رکھتی ہیں۔ یہ تمام کارخانہ اس عالم مشہود کا ہے جس کو ہم دیکھ رہے ہیں اور جس سے ہم کو کمال انس ہے۔ اب تم تھوڑی دیر کے لئے فرض کر لو کہ اس کارخانہ کی طرح ایک اور کارخانہ روح کے ایک مخفی گوشہ میں کھڑا ہے۔ اس پر سوار ہونے اور اس کی تیزی اور حرکت میں ایک گونہ تصرف ہے۔ یعنی یہ تجربہ بتلاتا ہے کہ جو شخص اس فن میں کامل مشق رکھنے والا ہو وہ ایک پرندہ کی طرح ہوا پر اڑتا ہوا نظر آتا ہے۔ اور یہ کچھ بعید نہیں کیونکہ ہم اندازہ نہیں کر سکتے کہ اس فن کے کمال کی کہاں تک انتہا ہے۔ اور جبکہ ہم چشم خود دیکھتے ہیں کہ اس فن کے ذریعہ سے ایک جماد میں حرکت پیدا ہو جاتی ہے اور وہ جانداروں کی طرح چلنے لگتا ہے تو پھر اگر اس میں پرواز بھی ہو تو کیا تعجب ہے۔ عملِ مقناطیسیت نے ایک ایسا پتلا جو مٹی یا لکڑی وغیرہ سے بنایا جاوے اور محض عمل التقرب سے اپنی روح کی گرمی اس کو پہنچائی جاوے تو وہ درحقیقت زندہ نہیں ہوتا بلکہ بدستور بے جان اور جماد ہوتا ہے صرف عامل کی روح کی گرمی اور قوت قلبی اس کو جنبش میں لاتی ہے۔ اور یہی باور کرنا چاہئے کہ ان پرندوں کا پرواز روئے قرآن شریف سے

ازالہ اوہام صفحہ 155 تا 158 مطبوعہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 255 تا 258 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 263 پر درج ہے

صفحہ 756

(حوالہ نمبر 190)

اپنے اندر رکھتا ہے جو شخص قرآن شریف کے اس اعجاز کو نہیں مانتا وہ منکر قرآن ہو کر بے نصیب ہے بے دین ۔ لا یؤمن بذالك الا مجاوز حده ما قدر القران حق قدره وما عرف الله حق معرفته وما وقر الرسول حق توقیره ۔ اے بندگان خدا یہ یقینا باور رکھو کہ قرآن شریف میں غیب پر غیب اور معارف و حقائق کا اعجاز ایسا کامل اعجاز ہے جس نے ہر ایک زمانہ میں تلوار سے زیادہ کام کیا ہے اور ہر یک زمانہ کی نئی حالت کے ساتھ جو کچھ شبہات پیش آتے ہیں یا جس قسم کے باطل معارف کا دعویٰ کوئی کرتا ہے اس کی پوری مدافعت اور پورا الزام اور پورا ہی استیصال قرآن شریف میں موجود ہے کوئی شخص

ہرگز یہ گمان نہیں کر سکتا کہ انکا وجود مجرد تخیل ہو بلکہ درحقیقت ان کا یہی ہونا ثابت ہوتا ہے۔ اس جگہ یہ بھی جاننا چاہیے کہ سلب امراض کرنا یا ان کو روح کی گرمی پہنچانا جسے اہل عمل توجہ کہتے ہیں یہ سب عمل الترب کی شاخیں ہیں۔ ہر یک زمانہ میں ایسے لوگ ہوتے رہے ہیں اور اب بھی ہیں جو اس خاکی عمل کے ذریعہ سے سلب امراض کرتے رہے ہیں جو بوجہ ضعف دماغ اور قوت تمیز نہ ہونے کے محض کسی کی توجہ سے اچھے ہوتے رہے ہیں جن لوگوں کے معلومات وسیع ہیں وہ میرے اس بیان پر شہادت دے سکتے ہیں کہ پیشتر کے بعض نقشبندیہ یا سہروردیہ وغیرہ میں بھی جو درویشوں کا طریقہ توجہ کا تھا وہ اصل میں مسمریزم ہی تھا مگر وہ اس کو اتفاقاً کرتے تھے کہ بیماروں کو بے ہوش کر کے یا ویسا ہی بٹھا کر صرف توجہ سے اچھا کر دیتے تھے اور بعض ان میں ابن عربی صاحب کی بھی اس میں خاص درجہ کی مشق تھی یہ سب اسی عمل الترب کی شاخیں ہیں اور سوانح اولیاء کے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کاملین ایسے عملوں سے پرہیز کرتے رہے ہیں بلکہ سفلے لوگ اپنی وہمی تاریک قوت جتانے کی غرض سے یا کسی اور نیت سے ان مشغلوں میں مبتلا ہوتے تھے اور اب یہ بات قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہو چکی ہے کہ مسیح ابن مریم ایلیا اور الیسع نبی کی طرح اس عمل الترب میں کمال رکھتے تھے گو ویسے درجے کا دعویٰ نہیں کرتے تھے کیونکہ الیسع کی نعش کی ہڈیوں کے لگنے سے ایک مردہ زندہ ہو گیا تھا جو بات مسیح کے جسم کے مس ہونے سے ہرگز ظہور میں نہ آئی یعنی وہ چور جو مسیح کے ساتھ مصلوب ہوئے تھے بہرحال مسیح کو نہ بچا سکے۔ اور آسمان پر اڑنے کے دعویداروں پر تو یہ بھاری حجت ہے کہ مسیح کا عمل ناقص رہا۔ جیسا کہ

ازالہ اوہام صفحہ 158 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 257-258 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 264 پر درج ہے

صفحہ 757

ازالہ اوہام

حصہ اول

۲۵۸

حوالہ نمبر 190

پر برہمو یا دہر مذہب والا یا آریہ یا کسی اور رنگ کا فلسفی کوئی ایسی انوکھی صداقت نکال نہیں سکتا جو ۴۹ قرآن شریف میں پہلے سے موجود نہ ہو۔ قرآن شریف کے عجائبات کبھی ختم نہیں ہو سکتے اور جس طرح صحیفہ فطرت کے عجائب وغرائب خواص کسی پہلے زمانہ تک ختم نہیں ہو چکے بلکہ جدید در جدید پیدا ہوتے جاتے ہیں یہی حال اس صحف مطہرہ کا ہے تا خدائے تعالیٰ کے قول اور فعل میں مطابقت ثابت ہو۔ اور میں اس سے پہلے لکھ چکا ہوں کہ قرآن شریف کے عجائبات اکثر بذریعہ ۵۰ الہام میرے پر کھلتے رہتے ہیں اور اکثر ایسے ہوتے ہیں کہ تفسیروں میں اُن کا نام و نشان نہیں پایا جاتا۔ مثلاً یہ جو اس عاجز پر کھلا ہے کہ ابتدائے خلقت آدم سے جس قدر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم

[ تمام امراض میں کوڑھیوں کی تداوی ۔ مگر عاجز اس قول کو مکروہ اور قابل نفرت سمجھتا تو خدا تعالیٰ کے فضل و توفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان عجوبہ نمائیوں میں حضرت مسیح ابن مریم سے کم نہ رہتا لیکن مجھے وہ روحانی طریق ] ۵۱ پسند ہے جس پر ہمارے نبی صلے اللہ علیہ وسلم نے قدم مارا ہے اور حضرت مسیح نے بھی اس تخم جسمانی کو یہودیوں کے جسمانی اور پست خیالات کی وجہ سے جو ان کی فطرت میں مرکوز تھے باذن و حکم الہٰی اختیار کیا تھا ورنہ دراصل مسیح کو بھی یہ عمل پسند نہ تھا۔ واضح ہو کہ اس عمل جسمانی کا ایک نہایت بُرا خاصہ یہ ہے کہ جو شخص اپنے تئیں ۵۲ اس مشغولی میں ڈالے اور جسمانی مرضوں کے دفع و رفع کرنے کے لئے اپنی دلی اور دماغی طاقتوں کو خرچ کرتا رہے وہ اپنی اُن روحانی تاثیروں میں جو روح پر اثر ڈال کر روحانی بیماریوں کو دور کرتی ہیں بہت ضعیف اور نکما ہو جاتا ہے اور مرتبہ تاثیر باطنی یعنے تزکیہ نفوس کا جو دراصل مقصد ہے اس کے ہاتھ بہت کم انجام پذیر ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ گو حضرت مسیح جسمانی بیماروں کو اس عمل کے ذریعہ سے اچھا کرتے رہے مگر ہدایت اور توحید اور دینی ۵۳ استقامتوں کے کامل طور پر دلوں میں قائم کرنے کے بارے میں انکی کارروائیوں کا نمبر ایسا کم درجہ کا رہا کہ قریب قریب ناکام کے رہے لیکن ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چونکہ ان جسمانی امور کی طرف توجہ نہیں فرمائی اور تمام زور اپنی روح کا دلوں میں ہدایت پیدا ہونے کیلئے ڈالا اسی وجہ سے تکمیل نفوس میں سب سے بڑھ کر رہے اور ہزار ہا بندگان خدا کو کمال کے درجہ تک پہنچا دیا اور اصلاح خلق اور اندرونی تبدیلیوں میں وہ نمونہ دکھلایا کہ جس کی ابتدائے دنیا سے آج تک نظیر نہیں پائی جاتی حضرت مسیح کے عمل التنویم سے وہ مردے جو زندہ ہوئے تھے محض قریباً ہلاکت کو ہی پہونچے ہوئے زندہ ہوئے تھے وہ یا تو قضا

ازالہ اوہام صفحہ 158 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 257-258 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 264 پر درج ہے

صفحہ 758

حوالہ نمبر 191

چشمہ مسیحی

۲۵۶

قوم کے بزرگوں نے مریم کا یوسف نام ایک نجار سے نکاح کر دیا اور اس کے گھر جاتے ہی ایک دو ماہ کے بعد مریم کو بیٹا پیدا ہوا۔ وہی عیسیٰ یا یسوع کے نام سے موسوم ہوا۔ اب

۱۵

اعتراض یہ ہے کہ اگر درحقیقت معجزہ کے طور پر یہ حمل تھا تو کیوں وضع حمل تک صبر نہیں کیا گیا۔ تیسرا اعتراض یہ ہے کہ عہد تو یہ تھا کہ مریم بیت المقدس کی خدمت میں رہے گی پھر کیوں عہد شکنی کرکے اور اس کو خدمت بیت المقدس سے الگ کر کے یوسف نجار کی بیوی بنایا گیا۔ تیسرا اعتراض یہ ہے کہ توریت کے رُو سے باطل حرام زادے کا بچہ خدا کی جماعت میں کبھی داخل نہ کیا جائے۔ پھر کیوں خلاف حکم توریت مریم کا نکاح عین حمل کی حالت میں یوسف سے کیا گیا حالانکہ یوسف اس نکاح سے ناراض تھا اور اس کی پہلی بیوی موجود تھی۔ وہ لوگ جو تعدد ازواج سے منکر ہیں شاید اُن کو یوسف کے اس نکاح کی اطلاع نہیں غرض اس جگہ ایک معترض کا حق ہے کہ وہ یہ گمان کرے کہ اس نکاح کی یہی وجہ تھی کہ قوم کے بزرگوں کو مریم کی نسبت ناجائز حمل کا شبہ پیدا ہو گیا تھا۔ اگر چہ ہم قرآن شریف کی تعلیم کی رُو سے یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ وہ حمل محض خدا کی قدرت سے تھا تا خدا تعالیٰ یہودیوں کو قیامت

۲۸

کا نشان دے اور جس حالت میں برسات کے دنوں میں ہزارہا کیڑے مکوڑے خود بخود پیدا ہو جاتے ہیں اور حضرت آدم علیہ السلام بھی بغیر ماں باپ کے پیدا ہوئے تو پھر حضرت عیسیٰ کی اس پیدائش سے کوئی خدا کی قدرت کی ہتک نہیں ہوتی مگر بغیر باپ کے پیدا ہونا بعض قویٰ سے محروم ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ غرضیکہ حضرت مریم کا نکاح محض شبہ کی وجہ سے ہوا تھا۔ ورنہ جو عورت بیت المقدس کی خدمت کرنے کے لئے نذر ہو چکی تھی اس کے نکاح کی کیا ضرورت تھی افسوس ! اس نکاح سے بڑے فتنے پیدا ہوئے اور یہود نا بکار نے بہتان تراشی کے شبہات شائع کئے۔ پس اگر کوئی اعتراض قابل حل ہے تو یہ اعتراض ہے نہ کہ مریم کا باردار ہونا کوئی اعتراض ہے۔ قرآن شریف میں تو یہ بھی لفظ نہیں کہ یوسف نجار کی مریم منسوبہ تھی۔ صرف ہارون کا نام ہے نجار کا لفظ وہاں موجود نہیں ۔ اصل بات یہ ہے

۲۳

چشمہ مسیحی صفحہ 24 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 356 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 264 پر درج ہے

صفحہ 759

حوالہ نمبر 192 ضمیمہ ۱۲۱ نزول المسیح صلبوہ ولکن شبہ لہم (الجزء نمبر ۶ نساء) اس آیت میں دونوں حملوں کا جواب ہے اور خلاصہ آیت کا یہ ہے کہ نہ تو عیسیٰ کی نامشروع ولادت ہے اور نہ وہ صلیب پر مرا بلکہ دھوکے سے کچھ کا کچھ کر دیا ہے۔ اس لئے وہ مقبول ہے اور اُس کا اور نبیوں کی طرح خدا کی طرف رفع ہو گیا ہے۔ اب کہاں ہیں وہ مولوی جو آسمان پر حضرت عیسیٰ کا جسم پہنچاتے ہیں، جبکہ سب جھگڑا اُنہی کی رُوح کے متعلق تھا، جسم سے اُس کو کچھ علاقہ نہیں۔

غرض قرآن شریف نے حضرت مسیح کو سچا قرار دیا ہے لیکن افسوس ہے کہ باایں ہمہ کہ اُن کی پیشگوئیوں پر یہود کے سخت اعتراض ہیں جو ہم کسی طرح اُن کو دفع نہیں کر سکتے۔ صرف قرآن کے سہارے سے ہم نے مان لیا ہے اور سچے دل سے قبول کیا ہے اور بجز اس کے اُنکی نبوّت پر ہمارے پاس کوئی بھی دلیل نہیں۔ عیسائی تو اپنی نادانی کو روتے ہیں مگر یہاں نبوّت بھی اُن کی ثابت نہیں ہو سکتی۔ ہائے کس کے آگے یہ ماتم لے جائیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تین پیشگوئیاں صاف طور پر جھوٹی نکلیں اور آج کوئی زمین پر ہے جو اس عقدہ کو حل کر سکے ان لوگوں پر واویلا ہے جو میرے معاملہ میں سچ کو جھوٹ بنارہے ہیں۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر خدا تعالیٰ کا نہایت فضل ہوا کہ کبھی وہ شخص لوگوں کے سامنے شرمندہ نہیں ہوگا جو اس نبی مقبول کا سچا تابع ہے۔ میں اُن نادانوں کو کیا کہوں اور کیونکر اُنکے دل میں سچائی کی محبت ڈال دوں جو بطالوں کی طرح پھرتے ہیں اور ٹھٹھا اور ہنسی اُن کا کام ہے اور سفلہ پن اُن کا شیوہ ہے۔ صد ہا نشان آفتاب کی طرح چمک رہے ہیں مگر اُن کے نزدیک ابتک کوئی نشان ظاہر نہیں ہوا۔ میں نے سُنا ہے بلکہ مولوی ثناء اللہ امرتسری کی چٹھی بخطہ میں نے دیکھی ہے جس میں وہ یہ درخواست کرتا ہے کہ میں اس طور کے فیصلہ کیلئے بدل و جان مستعد ہوں کہ فریقین یعنی میں اور وہ یہ دُعا کریں کہ جو شخص ہم دونوں میں سے جھوٹا ہو وہ سچے کی زندگی میں ہی مر جائے اور نیز یہ بھی خواہش ظاہر کی ہے کہ وہ اعجاز المسیح کی مانند کتاب تیار کرے جو ایسی ہی فصیح بلیغ ہو اور انہیں مقاصد پر مشتمل ہو۔ سو اگر مولوی ثناء اللہ صاحب مع ۱۷ النساء : ۱۵۷ - ۱۵۸ اعجاز احمدی ضمیمہ نزول المسیح صفحہ 17 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 121 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 264 پر درج ہے

صفحہ 760

حوالہ نمبر 193 ۲۸۸

اس سے پوری ہو گئی کیونکہ آپ نے فرمایا تھا کہ عیسائیوں اور اہل اسلام میں آخری زمانہ میں ایک جھگڑا ہوگا۔ عیسائی کہینگے کہ ہم حق پر ہیں اور مسلمان کہینگے کہ حق ہم میں ظاہر ہوا۔ اس وقت عیسائیوں کیلئے شیطان آواز دیگا کہ حق آل عیسیٰ کے ساتھ ہے اور مسلمانوں کے لئے آسمان سے آواز آئیگی کہ حق آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہے سو یادرہے کہ یہ پیشگوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آتھم کے قصہ کے متعلق ہے کیونکہ زمین کے شیطانوں نے آتھم کے مقدمہ میں عیسائیوں کا ساتھ دیا اور یہ کہا کہ عیسائی فتح پاگئے چنانچہ پادری عمادالدین اور بعض اخباریوں نے جنہیں شیطانوں میں سے گنتے ہیں حق آل عیسیٰ کی طرف دیا۔ اور کوئی عیسائی ایسا نہ ہوگا جس نے یہ آواز نہ سنی ہو۔ اور ادھر خدا تعالیٰ کا پاک الہام بتائید اس عاجز پر نازل ہوا۔ اس الہام نے بار بار گواہی دی کہ اسلام کی فتح ہے۔ آخر زمین کے شیطانوں نے شکست کھائی اور آسمان کی آواز کی سچائی ثابت ہوئی۔ یہ ایسی کھلی سچائی ہے کہ کوئی اس سے انکار نہیں کر سکتا پھر کیا عیسائی تھے کہ پولیٹیکل لوگوں نے بھی یہ پیشگوئی سنی اور سمجھ لیا کہ گویا اس کے ساتھ کوئی بھی شرائط نہیں

چشمہ معرفت حصہ دوم

ہونے کے بارے میں جو سچے ثبوت صداقت قرآن و اسلام اور رسالت سیدنا محمد خاتم ہم دے چکے ہیں اور اب بھی ہم بیان کر چکے ہیں کہ اس پیشگوئی کی بنیاد نہ آج سے بلکہ پندرہ برس پہلے سے ڈالی گئی تھی جس کا مفصل ذکر براہین احمدیہ کے صفحہ ۱۴۶ میں موجود ہے۔ سو ایسے اتمام حجۃ کے ساتھ پیشگوئی کو پورا کرنا انسان کا کام نہیں ہے۔ یسوع کی تمام پیشگوئیوں میں سے جو عیسائیوں کا فخر و خلاصہ ہے۔ اگر ایک پیشگوئی بھی اس پیشگوئی کے ہم پلہ اور ہموزن ثابت ہو جائے تو ہم ہر ایک تاوان دینے کو تیار ہیں۔ اس درماندہ انسان کی پیشگوئیاں کیا تھیں۔ صرف یہی کہ زلزلے آئیں گے قحط پڑیں گے لڑائیاں ہوں گی پس لعنت ان کی عقل پر جنہوں نے ایسی واہی پیشگوئیاں اس کی خدائی پر دلیل ٹھہرائیں اور ایک مُردہ کو اپنا خدا بنا لیا۔ کیا ہمیشہ زلزلے نہیں آتے کیا ہمیشہ قحط نہیں پڑتے۔ کیا کہیں کہیں لڑائی کا سلسلہ شروع نہیں رہتا۔ پس اس نادان اسرائیلی نے ان معمولی باتوں کا پیشگوئی کیوں نام رکھا۔ محض یہودیوں کے تنگ کرنے سے۔ اور جب معجزہ مانگا گیا تو یسوع صاحب فرماتے ہیں کہ حرامکار اور بدکار لوگ مجھ سے معجزہ مانگتے ہیں۔ ان کو کوئی معجزہ دکھایا نہیں

یہ حوالہ صفحہ 264 پر درج ہے انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 4 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 288 از مرزا قادیانی

صفحہ 761

حوالہ نمبر 194

ازالہ اوہام ۱۰۶ حصہ اول نہیں آتا بلکہ مسیح کے معجزات اور پیشگوئیوں پر جس قدر اعتراضات اور شکوک پیدا ہوتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ کسی اور نبی کے خوارق یا پیشگوئیوں میں بھی ایسے شبہات پیدا ہوتے ہوں کیا تالاب کا قصہ مسیحی معجزات کی رونق دُور نہیں کرتا ؟ اور پیشگوئیوں کا حال اس سے بھی زیادہ تر ابتر ہے کیا یہ کچھ سچی پیشگوئیاں ہیں کہ زلزلے آئیں گے مری پڑے گی ۵ لڑائیاں ہوں گی قحط پڑیں گے اور اس سے زیادہ تر قابل افسوس یہ امر ہے کہ جس قدر حضرت مسیح کی پیشگوئیاں غلط نکلیں اس قدر صحیح نہیں نکل سکیں ۔ انہوں نے یہودا اسکریوطی کو حواریوں کے بارہ تختوں میں سے ایک تخت دیا تھا جس سے آخر وہ محروم رہ گیا اور پطرس کو نہ صرف تخت بلکہ آسمان کی کنجیاں بھی دیدی تھیں اور بہشت کے دروازے کسی پر بند ہونے یا کھُلنے اُسی کے اختیار میں رکھے تھے مگر پطرس جس آخری کلمہ کے ساتھ حضرت مسیح سے الوداع ہوا وہ یہ تھا کہ ۱۰ اُس نے مسیح کے رُوبرو مسیح پر لعنت بھیجی اور قسم کھا کر کہا کہ میں اس شخص کو نہیں جانتا ۔ ایسی ہی اور بھی بہت سی پیشگوئیاں ہیں جو سچی نہیں نکلیں مگر یہ بات الزام کے لائق نہیں کیونکہ امور اخباریہ و مکاشفہ میں اجتہادی غلطی انبیاء سے بھی ہو جاتی ہے حضرت موسیٰ کی بعض پیشگوئیاں بھی اس صورت پر ظہور پذیر نہیں ہوئیں جس صورت پر حضرت موسیٰ نے اپنے دل میں امید باندھ لی تھی۔ غایت ما فی الباب یہ ہے کہ حضرت مسیح کی پیشگوئیاں اوروں سے زیادہ غلط نکلیں مگر یہ غلطی نفس الہام ۱۵ میں نہیں بلکہ سمجھ اور اجتہاد کی غلطی ہے۔ چونکہ انسان تھے اور انسان کی رائے خطا اور صواب دونوں کی طرف جا سکتی ہے اس لئے اجتہادی طور پر یہ لغزشیں پیش آگئیں ۔

اس مقام میں زیادہ تر تعجب یہ ہے کہ حضرت مسیح معجزہ نمائی سے صاف انکار کرتے آئے ہیں کہ میں ہرگز کوئی معجزہ دکھا نہیں سکتا مگر پھر بھی عوام الناس ایک انبار معجزات کا انکی طرف منسوب کر رہے ہیں۔ نہیں دیکھتے کہ وہ تو کھلے کھلے انکار کئے جاتے ہیں۔ چنانچہ ہیرودیس ۲۰ کے سامنے حضرت مسیح جب پیش کئے گئے تو ہیرودیس مسیح کو دیکھ کر بہت خوش ہوا کیونکہ اُسے اُس کی کوئی کرامت دیکھنے کی اُمید تھی پر ہیرودیس نے بہرچند اس بارہ میں مسیح سے

ازالہ اوہام صفحہ 6 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 106 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 265 پر درج ہے

صفحہ 762

حوالہ نمبر 195

کشتی نوح ۷۱ تقویۃ الایمان

کیلئے عادت کر لیا جاتا ہے سو وہ دماغ کو خراب کرتا اور آخر ہلاک کرتا ہے۔ سو تم اس سے بچو۔ ہم نہیں سمجھ سکتے کہ تم کیوں بدتر چیزوں کو استعمال کرتے ہو جن کی شامت سے ہر ایک سال ہزار ہا تمہارے جیسے نشہ کے عادی اس دنیا سے کوچ کر جاتے ہیں۔ اور آخرت کا عذاب الگ رہا۔ پرہیز گار انسان بن جاؤ تا تمہاری عمریں زیادہ ہوں اور تم خدا سے برکت پاؤ۔ حد سے زیادہ عیاشی میں بسر کرنا لعنتی زندگی ہے۔ حد سے زیادہ بد مستی اور بے خبر ہونا لعنتی زندگی ہے۔ حد سے زیادہ خدا یا اُسکے بندوں کی ہمدردی سے لاپروا ہونا لعنتی زندگی ہے۔ ہر ایک امیر سے خُدا کے حقوق اور انسانوں کے حقوق میں ایسا ہی پوچھا جائیگا جیسا کہ ایک فقیر بلکہ اُس سے زیادہ پس کیا ہی بُری قسمت وہ شخص ہے جو اس مختصر زندگی پر بھروسہ کر کے کلی طور سے خُدا سے پھر جاتا ہے اور خدا کے حرام کو بے باکی سے استعمال کرتا ہے کہ گویا وہ حرام اُس کیلئے حلال ہے غصّہ کی حالت میں دیوانوں کی طرح کسی کو گالی کسی کو زخمی اور کسی کو قتل کرنے کیلئے تیار ہو جاتا ہے اور شہوات کے جوش میں بھی انہی طریقوں کو انتہا تک پہنچا دیتا ہے۔ سو وہ سچی خوشحالی کو نہیں پائیگا یہانتک کہ مر جائے۔ اے لوگو جو تم تھوڑے دنوں کیلئے دنیا میں آئے ہو۔ اور وہ بھی بہت کچھ گزر چکے۔ سو اپنے مولیٰ کو ناراض مت کرو۔ ایک انسانی گورنمنٹ جو بہت زور آور ہے اگر تم سے ناراض ہو تو وہ تمہیں تباہ کر سکتی ہے پس تم سوچ لو کہ خدا تعالیٰ کی ناراضگی سے کیونکر تم بچ سکتے ہو۔ اگر تم خُدا کی آنکھوں کے آگے مُتقی ٹھہر جاؤ تو تمہیں کوئی بھی تباہ نہیں کر سکتا اور وہ خود تمہاری حفاظت کریگا۔ اور دشمن جو تمہاری جان کے درپے ہے تم پر قابو نہیں پائیگا۔ ورنہ تمہاری جان کا کوئی حافظ نہیں۔ اور تم دشمنوں سے ڈر کر یا اور آفات میں مبتلا ہو کر بیقراری سے زندگی بسر کرو گے۔ اور تمہاری عمر کے آخری دن بڑے غم

٭ یہ جو کچھ لوگوں میں مشہور ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔ شاید کسی بیماری کی وجہ یا پرانی عادت کی وجہ سے ہو ۔ مگر اسلام تو بہر حال اس سے پاک اور معصوم ہے جیسا کہ اُس کی حقیقت بھی معصوم ہے ہم تو مسلمان کہلا کر کس کی پیروی کرتے ہیں۔ قرآن مجید تو کسی طرح شراب کو حلال نہیں ٹھہراتا۔ پھر تم کس کی سند سے شراب کو حلال ٹھہراتے ہو کیا مرنا نہیں ہے ؟ منہ

۷۳

کشتی نوح حاشیہ صفحہ 73 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 71 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 265 پر درج ہے

صفحہ 763

حوالہ نمبر 196

ہیں ایک طوائف کا مردہ لاتے ہیں بازار میں جا پڑی نعش ہیں۔ پھر شراب کو دیکھو کہ تمام گناہوں کی جڑ ہے اس کو ام الخبائث کہتے ہیں۔ شراب کے جائز رکھنے سے کروڑہا لوگوں کی گردن پر چھری پھر گئی جب انسان نشہ کا عادی ہو جاتا ہے تو پھر چھوڑنا مشکل ہے یہ نشہ بھی کیا شے ہے کہ ایک طرف دین کو روکا جاتا ہے دوسری طرف دنیا کا کیا نتیجہ نکلتا ہے نشہ بازوں کو نشہ نہ ملے تو موت تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔

ایک نو مسلم کا حال

ایک دفعہ ایک عورت میرے پاس آئی اور کہنے لگی کہ مجھے تین دن سے نشہ نہیں ملا اس کی حالت بہت بری تھی اور نشہ کے لئے مجھ سے پیسہ طلب کرتی تھی میں نے تعجب کیا کہ یہ نہ روٹی کا سوال کرتی ہے نہ کپڑے کا اور نشہ کے لئے بے قرار ہے، اسے عادت ہو گئی اور اب اس کی زندگی کا کیا جزو ہو گیا ہے اس لئے اس کو اپنے بیان میں سچا جان کر میں نے ایک پیسہ اسے دے دیا۔ اس موقعہ پر حضرت اقدس نے حکیم نورالدین صاحب سے سوال کیا کہ کتنے عرصہ کے بعد انسان کسی نشہ کا ایسا عادی ہو جاتا ہے کہ پھر اسے چھوڑ نہیں سکتا اور مجبور ہو جاتا ہے۔ حکیم صاحب نے کہا کہ کسی جگہ شاید نظر سے تو نہیں گزرا مگر چالیس دن میں ایسا ہو سکتا ہے۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ :۔ ہر ایک طبیعت کے لئے چالیس دن ہی ہیں باعث یہ ہے کہ شراب اور اس کے بہن بھائی (بھنگ افیون وغیرہ) ایسی خراب چیزیں ہیں کہ ان سے تسلی پذیر ہوتی ہے مگر پھر وہ مذہب کیسا اچھا ہو سکتا ہے جس میں ایسی تعلیم ہو ہاں ایک صورت ہے یہ نشہ چھوٹ سکے کہ جیلخانہ میں بند ہو داروغہ بھی ایسا ہو کہ کسی سے سازش نہ کرے پھر شاید یہ عادت چھوٹ جاوے۔ فرمایا کہ :۔ مسیح خود نشہ پیتے تھے تو معلوم ہوا کہ اس وقت بھی نشہ تھا مسیح نے مرشد کی تقلید کیوں نہ کی۔ شاید کوئی یہ اعتراض کرے کہ اوائل اسلام میں تو بہت سی چیزیں حرام نہ تھیں۔ ۱۳ برس کے بعد حرمت ہوئی تو جواب یہ ہے کہ اسلام تو خباثت آہستہ آہستہ مٹانا چاہتا تھا اور قوم بن رہی تھی جب قوم بن گئی تو حکم آگیا ابتداء میں تو صحابہؓ کو یہ مصیبت تھی کہ پانی ہی میسّر نہ ہوتا شراب کا کیا ذکر ہے۔

ملفوظات جلد دوم صفحہ 423 طبع جدید، از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 266 پر درج ہے

صفحہ 764

حوالہ نمبر 197 نسیم دعوت ۴۶۳

پیدا کرتا ہے۔ جن سے اب یورپ بھی دن بدن واقف ہوتا جاتا ہے۔ آخر جیسے بمبئی سے تہذیب کے بعد طلاق کا قانون پاس ہو گیا ہے۔ اسی طرح کسی دن دیکھ لو گے کہ تنگ آکر اسلامی پردہ کے مشابہ یورپ میں بھی کوئی قانون شائع ہوگا۔ ورنہ انجام یہ ہوگا ۔ کہ چارپایوں کی طرح عورتیں اور مرد ہو جائیں گے۔ اور مشکل ہوگا کہ یہ شناخت کیا جائے کہ فلاں شخص کس کا بیٹا ہے۔ اور وہ لوگ کیونکر پاک دل ہوں۔ پاک دل تو وہ ہوتے ہیں ۔ جن کی آنکھوں کے آگے ہر وقت خدا رہتا ہے۔ اور نہ صرف ایک موت اُن کو یاد ہوتی ہے۔ بلکہ وہ ہر وقت عظمت الٰہی کے اثر سے مرتے رہتے ہیں ۔ مگر یہ حالت ۶۹ خنزیر خوری میں کیونکر پیدا ہو۔ شراب اور خدا ترسی ایک وجود میں اکٹھی نہیں ہو سکتیں ۔ خونِ مسیح کی دلیری اور شراب کا جوش تقویٰ کی بیخکنی میں کام یاب ہو گیا ہے۔ ہم اندازہ نہیں لگا سکتے کہ آیا کفارہ کے مسئلہ نے یہ خرابیاں زیادہ پیدا کی ہیں یا شراب نے ۔ اگر اسلام کی طرح پردہ کی رسم ہوتی۔ تو پھر بھی کچھ پردہ رہتا۔ مگر یورپ تو پردہ کی رسم کا دشمن ہے۔ ہم یورپ کے اس فلسفہ کو نہیں سمجھ سکتے ۔ کہ وہ اس امر سے باز نہیں آتے۔ اور شوق سے شراب پیا کریں کہ اس کے ذریعہ سے کفارہ کے فوائد بہت ظاہر ہوتے ہیں ۔ کیونکہ مسیح کے خون کے سہارے پر جو لوگ گناہ کرتے ہیں ۔ شراب کے وسیلہ سے ان کی میزان بڑھتی ہے۔ ہم اس بحث کو زیادہ طول نہیں دینا چاہتے۔ کیونکہ فطرت کا تقاضا الگ الگ ہے ہمیں تو ناپاک چیزوں کے استعمال سے کسی سخت مرض کے وقت بھی ڈر لگتا ہے۔ چہ جائیکہ پانی کی جگہ بھی شراب پی جائے ۔ مجھے اس وقت ایک اپنا سرگذشت قصہ یاد آتا ہے۔ اور وہ یہ کہ مجھے کئی سال سے ذیابیطس کی بیماری ہے۔ پندرہ بیس مرتبہ روز پیشاب آتا ہے۔ اور بعض وقت سو سو دفعہ ایک ایک دن میں پیشاب آیا ہے۔ اور بوجہ اس کے کہ پیشاب میں شکر ہے۔ کبھی کبھی خارش کا عارضہ بھی ہو جاتا ہے۔ اور کثرت پیشاب سے بہت ] ضعف تک نوبت پہنچتی ہے۔ ایک دفعہ مجھے ایک دوست نے یہ صلاح دی کہ ذیابیطس [

نسیم دعوت صفحہ 69 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 434-435 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 266 پر درج ہے

Back

صفحہ 765

حوالہ نمبر 197

نسیم دعوت

۴۱۴

کے لئے افیون مفید ہوتی ہے۔ پس علاج کی غرض سے مضائقہ نہیں کہ افیون شروع کر دی جائے۔ میں نے جواب دیا کہ یہ آپ نے بڑی مہربانی کی کہ ہمدردی فرمائی۔ لیکن اگر میں ذیابیطس کے لئے افیون کھانے کی عادت کر لوں۔ تو میں ڈرتا ہوں کہ لوگ ٹھٹھا کر کے یہ نہ کہیں کہ پہلا مسیح تو شرابی تھا۔ اور دوسرا افیونی۔ پس اس عذر کو جب میں نے ظاہر کیا تو خدا نے مجھے وہ نصیحتیں دیں کہ محتاج نہیں کیا ۔ اور بار ہا جب مجھے غلبہ مرض کا ہوا۔ تو خدا نے فرمایا کہ دیکھ میں نے تجھے شفا دیدی۔ تب اسی وقت مجھے آرام ہو گیا۔ انہی باتوں سے میں جانتا ہوں کہ ہمارا خدا ہر ایک چیز پر قادر ہے۔ جھوٹے ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ نہ اُس نے رُوح پیدا کی اور نہ ذرات اجسام۔ وہ خدا سے غافل ہیں۔ ہم ہر روز اُس کی نئی پیدائش دیکھتے ہیں۔ اور ترقیات سے

۵۷

نئی نئی رُوح مادہ ہم میں پیدا کرتا ہے۔ اگر وہ نیست سے ہست کرنیوالا نہ ہوتا۔ تو ہم تو زندہ ہی مر جاتے۔ عجیب ہے۔ وہ خدا جو ہمارا خدا ہے۔ کون ہے جو اس کی مانند ہے۔ اور عجیب ہیں اُس کے کام۔ کون ہے جس کے کام اس کی مانند ہیں۔ وہ قادر مطلق ہے۔ ہاں بعض وقت حکمت اس کی ایک کام کرنے سے اُسے روکتی ہے۔ چنانچہ مثال کے طور پر ظاہر کرتا ہوں۔ کہ مجھے دو مرض دامنگیر ہیں۔ ایک جسم کے اُوپر کے حصہ میں کہ سر درد اور دورانِ سر اور دھڑکن خون کم ہو کر ہاتھ پیر سرد ہو جانا۔ نبض کم ہو جانا۔ دُوسرے جسم کے نیچے کے حصہ میں کہ پیشاب کثرت سے آنا اور اکثر دست آتے رہنا۔ یہ دونوں بیماریاں قریباً بیس برس سے ہیں۔ کبھی دُعا سے ایسی رخصت ہو جاتی ہیں کہ گویا دُور ہو گئیں۔ گو پھر شروع ہو جاتی ہیں۔ ایک دفعہ میں نے دُعا کی ۔ کہ یہ بیماریاں بالکل دُور کر دی جائیں۔ تو جواب ملا۔ کہ ایسا نہیں ہوگا۔

٭ الغرض جبتک بندہ خدا کی تجلّی سے اور خدا کے وسیلہ سے اس کے وجود پر اطلاع نہ پاوے۔ تب تک وہ خدا کی پرستش نہیں کرتا۔ بلکہ اپنے خیال کی پرستش کرتا ہے۔ محض خیال کی پرستش کرنا اندرونی گندگی کو صاف نہیں کرتا۔ ایسے لوگ جو زعم عقل کے طور پر متصوفانہ ہو کر خود اس کا پتہ آپ لگاتے ہیں۔ منہ

Back

نسیم دعوت صفحہ 69 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 434-435 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 266 پر درج ہے

صفحہ 766

حوالہ نمبر 198

۲۹۶

یہ حوالہ جس میں عیسائیوں کے خدا کو نالائق عاجز اور گناہوں سے بچانے پر قادر نہ ہونے کا ذکر ہے براہین احمدیہ میں ہے۔ لیکن ہم نے چشمہ مسیحی سے نقل کیا ہے کیونکہ چشمہ مسیحی میں ان حوالوں کا ایک جگہ مجموعہ ہے۔

کیونکہ مقابلہ میں باہم رکھا جاوے تو شاید ایک مسافر کی دو منزل طے کرنے تک کبھی وہ دکھلائی نہ دیں۔ عبادات سے فراغت ہے غرقاب معاصی اور دنیا پرستی کے کاموں میں ہیں تاہم تحقیقات سے ثابت ہوا کہ یسوع کے مصلوب ہونے سے اس پر ایمان لانیوالے گناہ سے بچ نہیں سکتے بلکہ جیسا کہ بند ٹوٹنے سے ایک تیز دھار دریا کا پانی ارد گرد کے دیہات کو تباہ کر جاتا ہے ایسا ہی کفارہ پر ایمان لانے والوں کا حال ہو رہا ہے اور میں جانتا ہوں کہ عیسائی لوگ اس پر زیادہ بحث نہیں کریں گے کیونکہ جس حالت میں ان نبیوں کو جن کے پاس خدا کا فرشتہ آتا تھا یسوع کا کفارہ بدکاریوں سے نہ روک سکا تو پھر کیا توقع ہو اور ہمیشہ دھول اور خشک پتوں کو تباہی کے کاموں سے روک سکتا ہے۔ غرض عیسائیوں کے خدا کی کیفیت یہ ہے جو ہم بیان کر چکے۔

تیسرا مذہب ان دو مذہبوں کے مقابل پر جس کا ابھی ہم ذکر کر چکے ہیں اسلام ہے اس مذہب کی خداشناسی نہایت صاف صاف اور انسانی فطرت کے مطابق ہے۔ اگر تمام مذہبوں کی کتابیں نابود ہو کر اُن کے سارے تعلیمی خیالات اور قصصات بھی محو ہو جائیں تب بھی وہ خدا جس کی طرف قرآن رہنمائی کرتا ہے۔ آئینہ قانون قدرت میں صاف صاف نظر آئیگا اور اس کی قدرت اور حکمت سے بھری ہوئی صنعت ہر یک ذرہ میں چمکتی ہوئی دکھائی دے گی غرض وہ خدا جس کا پتہ قرآن شریف دیتا ہے اپنی موجودات پر فقط قہری حکومت نہیں رکھتا بلکہ موافق آیتہ کریمہ الست بربکم قالوا بلی کے ہر یک ذرہ ذرہ اپنی طبیعت اور روحانیت سے اس کا حکم بردار ہے۔ اس کی طرف جھکنے کے لئے ہر یک طبیعت میں ایک کشش پائی جاتی ہے۔ اس کشش سے ایک ذرہ بھی خالی نہیں اور یہ ایک بڑی دلیل اس بات پر ہے کہ وہ ہر یک چیز کا خالق ہے کیونکہ نور قلب اس بات کو مانتا ہے کہ وہ کشش جو اس کی طرف جھکنے کیلئے سب چیزوں میں پائی جاتی ہے وہ بلاشبہ اسی کی طرف سے ہے جیسا کہ قرآن شریف نے اس آیت میں اسی بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ان من شیئ الا یسبح بحمدہ یعنی ہر یک چیز اس کی پاکی اور اس کی محامد بیان کر رہی ہے۔ اگر یہ کورانہ اور بیہودہ کوئی بات تھی تو ان ذروں میں خدا کی طرف کشش کیوں پائی جاتی ہے۔

کے پردے کے ماتحت ان سے یہ کام ہوتا ہے جو اپنی خداداد قوتوں کو نیکی کی طرف لگا رہے ہیں ۱۷۲

ست بچن حاشیہ صفحہ 172 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 296 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 266 پر درج ہے

صفحہ 767

۳۸۷

(حوالہ نمبر 199)

روحانی خزائن جلد ۸

لکھتا ہوں ذرا آنکھیں کھول کر پڑھو اور وہ یہ ہے۔ اس وقت سخت اعداء اللہ عیسائیوں نے مٹی سے صنم گھڑ لیا فخرِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت عقیدہ رکھتے ہیں کہ لو كنت عنده لغسلت عن قدمیہ دیکھو! یعنی یہ تو مجھے معلوم تھا کہ نبی آخر الزمان آنے والا ہے مگر مجھ کو یہ خبر نہیں تھی کہ وہ تم میں سے ہی پیدا ہوگا پس اگر میں اس کی خدمت میں پہنچ سکتا تو میں بہت ہی تکلیف اٹھاتا تاکہ اس کا دیدار مجھے نصیب ہو اور اگر میں اس کی خدمت میں ہوتا تو میں اس کے پاؤں دھوتا ۔ اب اگر کچھ غیرت اور شرم ہے تو مسیح کے لئے یہ تعظیم کسی بادشاہ کی طرف سے جو اس کے زمانہ میں تھا پیش کرو اور نقد ہزار روپیہ ہم سے لو اور کچھ ضرورت نہیں کہ انجیل سے ہی یہ ذکر پیش کرو ۔ اگر چہ کسی تاریخ میں ہی دکھا دو ۔ اور اگر کوئی بادشاہ نہ ملے تو کوئی چھوٹا سا نواب ہی پیش کرو ۔ اور یاد رکھو کہ ہرگز پیش نہ کر سکو گے۔ پس یہی عذاب بھی جہنم کے عذاب سے کچھ کم نہیں کہ آپ کی ہر بات کو الٹا کر آپ ہی پر الزام لگایا گیا ۔ شاباش شاباش شاباش خوب پادری ہو ۔

مسیح کا حال سن آپ کے نزدیک کیا تھا ایک کھاؤ پیو ۔ شرابی ۔ نہ زاہد نہ عابد نہ حق کا پرستار بلکہ خود بین ۔ خدائی کا دعوےٰ کرنے والا مگر اس سے پہلے اور بھی کئی خدائی کا دعوےٰ کرنے والے گزر چکے ہیں ۔ ایک مصر میں ہی موجود تھا ۔ دونوں کو الگ کر کے کوئی اخلاقی حالت جو فی الحقیقت ثبوت ہو نمائش تو کرو ۔ حقیقت معلوم ہو ۔ کسی کی محض باتیں اس کے اخلاق میں داخل نہیں ہو سکتیں آپ اعتراض کرتے ہیں کہ وہ مرتد و باغی اور اپنے جرائم سے سزا کے لائق ٹھہر چکے تھے

۱۲

نور القرآن نمبر 12 مطبوعہ روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 387 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 266 پر درج ہے

صفحہ 768

حوالہ نمبر 200

۴۹۱

ہزار روپیہ کے انعام کے ساتھ طلبہ دارالعلوم اور عیسائیوں کے سامنے پیش کی گئیں مگر کسی نے سر نہ اٹھایا اور کوئی مقابل پر نہ آیا۔ کیا یہ خدا کا نشان ہے یا انسان کا ہذیان ہے۔ پھر ایک اور پیشگوئی نشان الٰہی ہے جو براہین کے صفحہ ۲۳۳ میں درج ہے۔ اور وہ یہ ہے اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے علم قرآن کا وعدہ دیا تھا سو اُس وعدہ کو ایسے طور سے

ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۳۲۷ از مرزا قادیانی

تحفہ گولڑویہ روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۶۷ از مرزا قادیانی

کہ یوں نہیں تو یہ کہے کہ یہ کتب میرے نزدیک بھیجے گئے اور جن کو کچھ اثر نہیں ہوا یہ بالکل جھوٹ ہے کیونکہ ہیضہ کے ذریعہ سے پنجاب میں بہت خلقت تلف ہو رہی ہے جو اڑا مرتے ہیں۔ ایک باری ایسا سنکھیا مشاہدہ میں رتی بھر بھی کھانے سے دو گھنٹے تک بآسانی مار سکتا ہے۔ پھر یہ معجزہ کہاں گیا۔ ایسا ہی آپ فرماتے ہیں کہ میرے پیروں پر گر کر کہیے کہ یہاں سے اُٹھ اور وہ اُٹھ جائے گا یہ کس قدر جھوٹ ہے بھلا ایک مادرزاد اندھے بات سے یک لخت الٹی ہوئی کو سیدھا کر کے تو دکھلائے۔

جس نے پہلے جھوٹی نبوت کے ساتھ شیخی کی ڈینگوں کو اچھالا ہو۔ کیا کسی اور ایسی بیماری کا علاج کیا ہو۔ کہ جس کی بدقسمتی سے کسی دور میں ایک کذاب ہی موجود تھا جس سے بڑے بڑے نشان ظاہر ہوتے تھے خیال ہو سکتا ہے کہ اس کذاب کی مٹی آپ میں اثر کر کے پھر اُسکے اسی قالب سے سچے معجزات کی پوری پوری حقیقت کھلتی ہے۔ اور اسی قالب سے فیصلہ کر لیا ہے کہ آپ کا کوئی بھی الہام پورا ہوا ہو تو ثبوت ہے مگر نہیں بلکہ اس کذاب کا ہذیان ہے۔ اور آپ کے ہاتھ میں مکر اور فریب کے سوا کچھ نہیں تھا پھر افسوس کہ آج عیسائی ایسے شخص کو خدا بنا رہے ہیں۔ آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ جس میں ماں اور بہنیں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔ مگر شاید یہ بھی خدائی کے لئے ایک شرط ہو گی۔ آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ چونکہ مناسبت در میان ہے ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقعہ نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگاوے اور زنا کاری کی کمائی کا قیمتی عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے دیکھنے والے سمجھ لیں کہ کیسا انسان کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے۔

انجام آتھم صفحہ 7 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 291 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 267 پر درج ہے

صفحہ 769

حوالہ نمبر 201

۴۶۹ روحانی خزائن جلد ۱

پڑ گیا ہے کہ یہ کھاؤ پیو ہے۔ اس سے کس تقویٰ اور نیک بختی کی امید ہو سکتی ہے ہمارے سید و مولیٰ افضل الانبیاء خیر الاصفیاء محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا تقویٰ دیکھئے کہ ان عورتوں کے ہاتھ سے بھی ہاتھ نہیں ملاتے تھے جو پاکدامن اور نیک بخت ہوتی تھیں اور بیعت کر لینے کے لئے آتی تھیں بلکہ دور ٹھہرا کر صرف زبانی تلقین تو کرتے تھے مگر کون عقلمند اور پرہیزگار ایسے شخص کو پاک باطن سمجھے گا جو جوان عورتوں کے چھونے سے پرہیز نہیں کرتا۔ ایک کنجری خوبصورت انکے قرب بیٹھی ہے گودا شلیل میں ہے یہی ہاتھ لمبا کر کے سر پر عطر مل رہی ہے کبھی پیروں کو دباتی ہے اور کبھی اپنے خوشنما اور سیاہ بالوں کو پیروں پر رکھ دیتی ہے۔ اور گود میں تماشہ کر رہی ہے یسوع صاحب اس حالت میں وجد میں بیٹھے ہیں اور کوئی اعتراض کرنے لگے تو اس کو جھڑک دیتے ہیں مزید بر طرہ یہ کہ خود جوان اور شراب پینے کی عادت اور پھر مجرد۔ اور ایک خوبصورت کسبی عورت سامنے پڑی ہے جس کے ساتھ جسم لگا رہی ہے کیا یہ نیک آدمیوں کا کام ہے اور اس پر کیا دلیل ہے کہ اس کسبی کے چھونے سے یسوع کی شہوت نے جنبش نہیں کی تھی افسوس کہ یسوع کو یہ بھی تمیز نہیں تھا کہ اس فاسقہ پر نظر ڈالنے کے بعد اپنی کسی بیوی سے صحبت کر لیتا۔ سخت زانیہ کے چھونے سے اور ناز و ادا کرنے سے کیا کچھ نفسانی جذبات پیدا ہوئے ہوں گے۔ اور شہوت کے جوش نے پورے طور پر کام کیا ہوگا۔ اسی وجہ سے یسوع کے منہ سے یہ بھی نہ نکلا کہ اے حرام کار عورت مجھ سے دور رہ ۔ بلکہ یہ بات انجیل سے ثابت ہوتی ہے کہ وہ عورت طوائف میں سے تھی ۔ اور زنا کاری میں سارے شہر میں مشہور تھی۔

۷۲

نور القرآن صفحہ 74 مندرجہ روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 449 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 267 پر درج ہے

صفحہ 770

حوالہ نمبر 202

۲۲۰

قیامت تک نجات کا پھل کھلانے والا وہ ہے جو زمین حجاز میں پیدا ہُوا تھا اور تمام دُنیا اور تمام زمانوں کی نجات کے لئے آیا تھا اور اب بھی آیا مگر بروز کے طور پر ۔ خدا اُس کی برکتوں سے تمام زمین کو متمتع کرے۔ آمین خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان

انسان جب حیاء اور انصاف کو چھوڑ دے تو جو چاہے کہے اور جو چاہے کرے۔ لیکن مسیح کی راستبازی اپنے زمانہ میں دُوسرے راستبازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سُنا گیا ۱؎ کہ کسی فاحشہ عورت نے آکر اپنی کمائی کے مال سے اُسکے سر پر عطر ملا تھا۔ یا ہاتھوں اور اپنے سر کے بالوں سے اُسکے بدن کو چھوا تھا۔ یا کوئی بے تعلق جوان عورت اُسکی خدمت کرتی تھی۔ اِسی وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا کیونکہ ایسے قصّے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔ اور پھر یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یحییٰ کے ہاتھ پر جس کو عیسائی یوحنا کہتے ہیں جو پیچھے دیوانہ بنایا گیا اپنے گناہوں سے توبہ کی تھی اور اُسکے خاص مُریدوں میں ۲؎ داخل ہوئے تھے۔ اور یہ بات حضرت یحییٰ کی فضیلت کو بداہت ثابت کرتی ہے کیونکہ بمقابلہ اسکے یہ ثابت نہیں کیا گیا کہ کسی نے یحییٰ کے ہاتھ پر توبہ کی تھی۔ پس اس کا معصوم ہونا بدیہی امر ہے اور مسلمانوں میں یہ جو مشہور ہے کہ عیسیٰ اور اُسکی ماں مَسِّ شیطان سے پاک ہیں اس کے معنے نادان لوگ نہیں سمجھتے۔ اصل بات یہ ہے کہ یہودی حضرت عیسیٰ اور اُنکی ماں پر سخت ناپاک الزام لگاتے تھے اور وہ اُن کی نسبت نعوذ باللہ شیطانی کاموں کی تہمت لگاتے تھے۔ سو اس افراط کا ردّ ضروری تھا پس اس میں یحییٰ پر ترجیح دینا کوئی معنے نہیں رکھتا بلکہ یہ الزام جو حضرت مسیح اور اُن کی ماں پر لگائے گئے ہیں صحیح نہیں ہیں بلکہ اوروں کے لئے بھی یہ ثبوت اس پاکیزگی کا پیش کرنا جس کو یہ لوگ بھول گئے ہیں۔ غرض اس ایک دفعہ

۲؎ آل عمران : ۴۰

دافع البلاء مقدّمہ صفحہ 4 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 220 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 268 پر درج ہے

صفحہ 771

حوالہ نمبر 203

۲۲۲ کہ۔ حضرت اقدس نے فرمایا :۔ کیا وجہ ہے کہ اس نے مسیح کا ذکر نہ کیا کہ ایک انجیر کے درخت کی طرف گیا اور جانتا تھا کہ اس میں پھل نہیں ہے پھر نہ جانتا تھا کہ صلیب ملتی ہے اور دعائیں کرتا رہا کہ مجھے نجات ملے۔ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم تو اپنے ثبوت میں لَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُرًا

(یونس : ۱۷)

کی دلیل پیش کرتے ہیں اس کے مقابلہ کا ایک فقرہ بھی انجیل میں نہیں ہے اور پیغمبر خدا کی تمام عمر کا یہ حوالہ ہے لَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُرًا

(یونس : ۱۷)

استغفار کے اصل معنے تو یہ ہیں کہ یہ خواہش کرنا کہ مجھ سے کوئی گناہ نہ ہو یعنی میں معصوم رہوں اور دوسرے معنے جو اس سے نیچے درجے پر ہیں کہ میرے گناہ کے بد نتائج جو مجھے ملنے ہیں میں ان سے محفوظ رہوں لے مسیح تو خود گناہوں سے جل بھنا رہا۔ اگر استغفار کرتے تو یہ حالت نہ ہوتی۔

(بعد از نماز مغرب) پھر اس کے بعد اذان ہو کر نماز مغرب ہوئی اور حضرت اقدس حسب معمول شہ نشین پر جلوہ گر ہوئے اور فرمایا کہ :۔

الزامی جواب

مفتی محمد صادق صاحب جو کتاب سنایا کرتے ہیں جس میں شیعہ عورت اور شمعی یہودی عاشق معشوق کا ذکر ہے کہ وہ عورت سلویٰ شمعی کو چھوڑ کر یسوع کے شاگردوں میں جا ملی۔ اس لئے اس شمعی نے یہ سارا منصوبہ صلیب کا بنایا گویا ایک عورت کے واقعہ نے ان کی صلیب تک نوبت پہنچائی۔ جس طرح بدعتیں ان لوگوں نے نکالی ہیں ویسے ہی ہمارا بھی حق ہے ان کے نزدیک عقد و شادیاں کرنا گناہ ہے مگر ایک بازاری عورت عطر ملتی ہے تیل بالوں کو لگاتی ہے بالوں میں کنگھی کرتی ہے اور یہ مورت کی طرح بیٹھے ہوئے مزے سے سب کرواتے جاتے ہیں یہ بھی نہ پوچھا کہ گناہ ہے یا نہیں۔ ان کو لازم تھا کہ اعتراض نہ کرتے جو واقعات ان کے ہاتھ کے لکھے ہوئے ہیں وہی پیش کرنے پڑتے ہیں اور کیا جواب دیویں۔ یہ کوئی چھوٹا اعتراض نہیں ہے کہ ان کو کنجریوں سے کیا تعلق تھا اور اگر کہو کہ اس کنجری نے توبہ کی تھی تو کنجری کی توبہ کا اعتبار کیا۔ ایک طرف تو یہ کہتی

لے البدر جلد ۱ نمبر ۱۲ صفحہ ۹۳ مورخہ ۱۶ جنوری ۱۹۰۳ء

ملفوظات جلد دوم صفحہ 423،422 طبع جدید از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 268 پر درج ہے

صفحہ 772

حوالہ نمبر 203

۴۲۲

ہیں ایک طرف پھر کوٹھے پر بازار میں جا بیٹھتی ہیں۔ پھر شراب کو دیکھو کہ تمام گناہوں کی جڑ ہے جسے ام الخبائث سچ کہا گیا ہے۔ شراب کے جائز رکھنے سے کتنے لوگوں کی گردن پر چھری پھر گئی جب انسان نشہ کا عادی ہو جاتا ہے تو پھر چھوڑنا مشکل ہے یہ نشہ بھی کیا چیز ہے۔ کہ ایک طرف زندگی کو کھا جاتا ہے دوسری طرف زندگی کا شیشہ بھی ہے نشہ بازوں کو نشہ نہ ملے تو موت تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔

ایک نو مسلم

ایک دفعہ ایک عورت میرے پاس آئی اور کہنے لگی کہ مجھے تین دن ہوئے نشہ نہیں ملا اس کی حالت بہت ردی تھی اور نشہ کے لئے مجھ سے پیسہ طلب کرتی تھی میں نے تعجب کیا کہ یہ نہ روٹی کا سوال کرتی ہے نہ کپڑے کا اور نشہ کے لئے بے قرار ہے۔ اسے عادت ہو گئی اور اب اس کی زندگی کا گویا جزو ہو گیا ہے اس لئے اس کو اپنے بیان میں سچا جان کر میں نے ایک پیسہ اسے دے دیا۔ اس موقعہ پر حضرت اقدس نے حکیم نور الدین صاحب سے سوال کیا کہ کتنے عرصہ کے بعد انسان کسی نشہ کا ایسا عادی ہو جاتا ہے کہ پھر اسے چھوڑ نہیں سکتا اور مجبور ہو جاتا ہے حکیم صاحب نے کہا کہ کسی جگہ شاید نظر سے تو نہیں گزرا مگر چالیس دن میں ایسا ہو سکتا ہے۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ :۔ ہر ایک طبقے کے لئے چالیس دن ہی ہیں بات یہ ہے کہ شراب اور اس کے بہن بھائی (بھنگ افیون وغیرہ) ایسی خراب چیزیں ہیں کہ ان سے تسلی پیدا ہوتی ہے مگر پھر وہ مذہب کیسے اچھا ہو سکتا ہے جس میں ایسی تعلیم ہو ہاں ایک صورت ہے یہ نشہ چھوڑنے کی کہ بتدریج چھوڑے ورنہ طبیب ایسا ہو کہ کسی سے سازش نہ کرے پھر شاید یہ عادت چھوٹ جاوے۔ فرمایا کہ :۔ طب کی جو کتابیں دیکھی ہیں تو معلوم ہوا کہ اس وقت بھی طب تھا مسیح نے مرہم عیسیٰ کیوں نہ کی ۔ شاید کوئی یہ اعتراض کرے کہ اوائل اسلام میں تو حرمت تھی نہیں۔ مدت کے بعد حرمت ہوئی تو جواب یہ ہے کہ اسلام تو مجسمہ رحمت بنانا چاہتا تھا اور قوم بن رہی تھی جب قوم بن گئی تو حکم آیا ابتداء میں تو صحابہ کو یہ مصیبت تھی کہ پانی بھی میسر نہ ہوتا تو شراب کا کیا ذکر

یہ حوالہ صفحہ 268 پر درج ہے ملفوظات جلد دوم صفحہ 422، 423 طبع جدید از مرزا قادیانی

صفحہ 773

حوالہ نمبر 204

۲۹۷

ایک غور کرنے والا انسان ضرور اس بات کو قبول کریگا کہ کسی مخفی تعلق کی وجہ سے کشش ہے پس اگر یہ تعلق خدا کا مخلوق پر مانیں تو کوئی اندیشہ نہیں اس بات کا ماننا کہ دین کا اس تعلق کی وجہ وغیرہ میں کیا ماہیت رکھی ہے اور اس کا کیا نام ہے کیا یہی سچ ہے کہ خدا صرف زبر دستی ہر ایک چیز پر حکومت کر رہا ہے اور ان چیزوں میں کوئی ایسی قوت اور شوق خدا تعالیٰ کی طرف جھکنے کا نہیں ہے معاذ اللہ ہرگز ایسا نہیں بلکہ ایسا خیال کرنا نہ صرف حماقت بلکہ پرلے درجہ کی خباثت بھی ہے مگر افسوس کہ آریوں کے وید نے خدا تعالیٰ کی خالقیت سے انکار کر کے اس روحانی تعلق کو قبول نہیں کیا جس پر طبعی اطاعت ہر ایک چیز کی موقوف ہے اور چونکہ دقیق معرفت اور دقیق گیان سے وہ ہزاروں کوس دور تھے لہٰذا یہ سچا فلسفہ اُن سے پوشیدہ رہا ہے کہ ضرور تمام اجسام اور ارواح کو ایک فطرتی تعلق اس ذات قیوم سے پڑا ہوا ہے اور خدا کی حکومت صرف بناوٹ اور زبر دستی کی حکومت نہیں بلکہ ہر ایک چیز اپنی روح سے اس کو سجدہ کر رہی ہے کیونکہ ذرہ ذرہ اس کے بے انتہا احسانوں میں مستغرق اور اس کے ہاتھ سے نکلا ہوا ہے مگر افسوس کہ تمام مخالف مذہب والوں نے خدا تعالیٰ کی وسیع اور بے حد وسعت اور قدرتوں کو اپنی تنگ دلی کی وجہ سے زبر دستی روکنا چاہا ہے اور انہیں وہم ہے کہ فرضی خداؤں پر گندگی اور ناپاکی اور بناوٹ اور بے اصل اور بے جا حکومت کی طرح طرح کے داغ لگ گئے ہیں لیکن ایک مسلم نے خدا تعالیٰ کی صفات کاملہ کی تمیز رکھی ہے اور عادل آدمیوں کی طرح مکار اور جہول کے اس عقیدہ کی نسبت نہیں دی ہے کہ زمین و آسمان کی رگوں میں اور تمام اجسام اپنے اپنے وجود کے آپ ہی خدا ہیں اور جس دھرم میں ایسا عقیدہ ہے وہ کسی راستہ سے خدا نہیں بلکہ ایک راجہ کے طور پر اُن پر حکمران ہے اور نہ عیسائی مذہب کی طرح یہ سکھلاتا ہے کہ خدا نے انسان کی طرح ایک عورت کے پیٹ سے جنم لیا اور نہ نو مہینہ تک خون حیض کھا کر ایک گندے جسم سے جو بنت سبع اور تمر اور راعاب جیسی بدکار عورتوں کے خمیر سے اپنی فطرت میں انسانیت کا حصہ رکھتا تھا خون اور ہڈی اور گوشت کو حاصل کیا بلکہ بچپن کے زمانہ میں جو جو بچوں کی بیماریاں ہیں جیسے خسرہ چیچک دانتوں کی تکالیف وغیرہ بھگتیں وہ سب

۲۹۷

ست بچن صفحہ 173 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 297-298 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 268 پر درج ہے

صفحہ 774

حوالہ نمبر 204 ۲۹۸

امعاء اور بہت سے حصہ جسمانی انسانوں کی طرح کھوکھلا تھا موت کے قریب پہنچ کر دہائی یاد آ گئی مگر چونکہ موت سر پر کھڑی تھی وہ کھوٹی تھی اور خدائی طاقتیں ساتھ نہیں تھیں اس لئے دھوکے کے ساتھ ہی پکڑا گیا۔ پس اسلام ان سب نقصانوں اور ناپاک حالتوں سے خدائے حقیقی ذوالجلال کو منزہ اور پاک سمجھتا ہے اور اس قدر غیور مذہب ہے یہی اس کی ذات کو برتر قرار دیتا ہے کہ بیشک کسی کے گلے میں پھانسی کا رسہ ڈالے مگر نیک بے غرض بندوں کے بخشنے کیلئے کوئی سبیل اس کی یاد نہ آوے اور خدا تعالیٰ کے وجود اور صفات کے بارے میں قرآن کریم یہ سچا اور پاک اور کامل معرفت سکھاتا ہے کہ اس کی قدرت اور رحمت اور حکمت اور تقدس بے انتہا ہے اور یہ کہنا قرآنی تعلیم کے رو سے سخت مکروہ گناہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی تقدیس اور حکمتیں اور رحمتیں ایک حد پر جاکر ٹھہر جاتی ہیں یا کسی موقعہ پر پہنچ کر اُس کا ضعف اُسے مانع آجاتا ہے بلکہ اس کی تمام قدرتیں اس مستحکم قاعدہ پر چل رہی ہیں کہ باستثناء ان امور کے جو اس کے تقدس اور کمال اور صفات کاملہ کے خلاف ہیں یا اس کے مواعید غیر متبدل کے منافی ہیں باقی جو چاہتا ہے کر سکتا ہے مثلاً یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ اپنی قدرت کاملہ سے اپنے تئیں ہلاک کر سکتا ہے کیونکہ یہ بات اُس کی صفت قدیم حیّ و قیوم ہونے کے مخالف ہے اور یہ کہ وہ پہلے ہی اپنے فعل اور قول میں ظاہر کر چکا ہے کہ وہ ازلی ابدی اور غیر فانی ہے اور موت اُس پر جائز نہیں ایسا ہی یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ وہ کسی عورت کے رحم میں داخل ہوتا اور خون حیض کھاتا اور قریباً نو ماہ وہاں کے گندے پیٹوں میں رہ کر جونہی عورتوں کی پیشاب گاہ سے روتا چلاتا پیدا ہوتا ہے اور پھر روٹی کھاتا اور پاخانہ جاتا اور پیشاب کرتا اور تمام دُکھ اس فانی زندگی کے اُٹھاتا ہے اور آخر چند ساعت جان کنی کی عذاب اُٹھا کر اس جہان فانی سے رخصت ہو جاتا ہے کیونکہ یہ تمام امور نقصان اور منقصت میں داخل ہیں اور اس کے جلال قدیم اور کمال تام کے برخلاف ہیں۔

پھر یہ بھی سننا چاہیئے کہ چونکہ اسلامی عقیدہ میں وقتاً فوقتاً خدا تعالیٰ تمام مخلوقات کا پیدا کرنے والا ہے اور کیا ارواح اور کیا اجسام سب اُسی کے پیدا کردہ ہیں اور اُس کی قدرت تخلیق کبھی معطل نہیں

یہ حوالہ صفحہ 269 پر درج ہے حوالہ نمبر 173 چشمہ معرفت روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 297-298 از مرزا قادیانی

صفحہ 775

حوالہ نمبر 205

روحانی خزائن جلد ۹ ۴۱۷ کے ساتھ لگے ہوئے ہیں اور تجربہ بلند آواز سے پکار کر ہمیں بتلا رہا ہے کہ بیگانہ عورتوں کو دیکھنے میں ہرگز انجام بخیر نہیں ہوتا۔ اور یہ جو زناکاری حد سے بڑھ گئی اس کا کیا سبب ہے یہی تو ہے کہ نامحرم عورتوں کو بے تکلف دیکھنا عادت ہو گیا۔ اول تو نظر کی بدکاریاں ہوئیں بعد پھر مصافحہ بھی ایک معمولی امر ہو گیا پھر اس سے ترقی ہو کر بوسہ لینے کی بھی عادت پڑی یہاں تک کہ استاد جوان لڑکیوں کو اپنے سکولوں میں بے محابا کمروں میں ہمبستری کرتے ہیں۔ اور کوئی منع نہیں کرتا۔ تھیٹروں میں پُر عشق و جنوں کی باتیں لکھی جاتی ہیں تصویروں میں نہایت درجہ کی بدکاری کا نقشہ دکھلایا جاتا ہے عورتیں خود چھپواتی ہیں کہ میں ایسی خوبصورت ہوں اور میری ناک ایسی اور آنکھ ایسی ہے اور ان کے عاشقوں کے ناول لکھے جاتے ہیں اور بدکاری کا ایسا دریا بہ رہا ہے کہ نہ تو کانوں کو بچا سکتے ہیں نہ آنکھوں کو نہ ہاتھوں کو۔ نہ منہ کو۔ یہ

یسوع صاحب کی تعلیم ہے کاش! ایسا شخص دنیا میں نہ آیا ہوتا

تا یہ بدکاریاں ظہور میں نہ آتیں۔ اس شخص نے پارسائی اور تقویٰ کا خون کر دیا اور نرا الحاد اور اباحت کو تمام ملک میں پھیلا دیا۔ کوئی عبادت نہیں کوئی مجاہدہ نہیں بجز کھانے پینے اور بد نظریوں کے اور کوئی بھی فکر نہیں۔ پس زہر پلا کر ایک جھوٹے قطرہ کی امید دے کر گناہوں پر دلیر کر دیا۔ کون عقلمند اس بات کو باور کرے گا کہ زہر کو پی لیا جائے اور پھر اس کے زہریلے مواد اس سے نکل جائیں ۔ یہ یقینی طور پر محال اور بدیہی ہے کہ جب نیکی اس کی جگہ لے لے یہی قرآنی تعلیم ہے کسی کی خودکشی سے دوسرے کو کیا فائدہ ۔ کس قدر یہ نادانی کا خیال اور قانون فطرت کے ۴۶

نورالقرآن صفحہ 42 مندرجہ روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 417 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 269 پر درج ہے

صفحہ 776

حوالہ نمبر 206 ۲۹۱ سیرۃ المہدی حصہ سوم

فرمایا۔ وہ ہمارے مقابل پر جو بن سکے۔ خدا اس کا سارا علم سلب کرلیگا۔ سو ویسا ہی ظہور میں آیا کہ وہ کوئی جواب نہیں دے سکا۔

خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس میں شبہ نہیں کہ ظاہری علم کے لحاظ سے مولوی محمد حسین بٹالوی بہت بڑے عالم تھے اور کسی زمانہ میں ہندوستان کے علم دوست طبقہ میں ان کی بڑی قدر تھی۔ مگر خدا کے مسیح کے مقابلہ پر کھڑے ہو کر انہوں نے سب کچھ کھو دیا۔

بسم الله الرحمن الرحیم۔ میاں امام الدین صاحب سیکھوانی نے مجھ سے بیان کیا کہ مصنف حسان کے مرتد ۹۶۳ ہونے کے قریب لاہور میں طاعون ہوا۔ تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس یہ بات پیش ہوئی کہ بعضوں نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ مولوی محمد حسین اور مصنف حسان سے طاعون رجوع کر لیں گے۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ ان کے حق میں طاعون کی تاویل یہی ہو سکتی ہے۔ آخروہ طاعون سے ہی مرگیا۔

خاکسار عرض کرتا ہے کہ مصنف حسان سے مراد منشی الہی بخش کا اکاونٹنٹ مراد ہے جو شروع میں معتقد ہوتا تھا۔ مگر آخر سخت مخالفت ہو گئی۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نعوذ باللہ فرعون قرار دیکر اس کے مقابلہ پر اپنے آپ کو موسیٰ کے طور پر پیش کیا مگر بالآخر حضرت صاحب کے سامنے طاعون سے ہلاک ہو کر خاک میں مل گیا۔

بسم الله الرحمن الرحیم۔ میاں امام الدین صاحب سیکھوانی نے مجھ سے بیان کیا کہ میں ایک ۹۶۴ روز بٹالہ میں جمعہ پڑھنے کے لئے گیا۔ اس وقت میں جب بٹالہ جاتا تھا تو مولوی محمد حسین صاحب کے پیچھے جمعہ پڑھا کرتا تھا۔ انہوں نے محلہ خلیلیاں والی مسجد میں جمعہ پڑھانا تھا جب انہوں نے خطبہ شروع کیا تو کہنے لگے کہ دیکھو مرزا حضرت مسیح ناصری کو زانیوں اور کنجریوں سے تشبیہ دیتا ہے۔ مجھے یہ سن کر نہایت جوش پیدا ہوا۔ اور میں نے اسی وقت اٹھ کر مولوی صاحب کو ٹوکا کہ یہ حوالہ کہاں آپ پیش کرتے ہیں۔ اسکے سنتے ہی وہ رکے اور کسی نے شور نہ کیا مگر مولوی صاحب نے میری بات کا کوئی جواب نہ دیا۔ اور نہ ہی یہ کہا کہ خطبہ میں بولنا منع ہے۔ بلکہ خاموش رہے بات کو پی گئے۔ اس وقت اچھی جماعت کے پیچھے نماز پڑھنے کی ممانعت نہ ہوئی تھی۔

بسم الله الرحمن الرحیم۔ میاں امام الدین صاحب سیکھوانی نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت ۹۶۵ مسیح موعود علیہ السلام اکثر ذکر فرمایا کرتے تھے کہ بقول ہمارے مخالفوں کے جب مسیح آئیگا اور لوگ اسکو

سیرت المہدی جلد 3 صفحہ 291، 292 از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 269، 270 پر درج ہے

صفحہ 777

حوالہ نمبر 206

۲۹۲

ملنے کے لئے اس کے گھر پر جائیں گے تو گھر والے کہیں گے کہ مسیح صاحب باہر جنگل میں سور مارنے کے لئے گئے ہوئے ہیں۔ پھر وہ لوگ حیران ہو کر کہیں گے کہ یہ کیسا مسیح ہے کہ لوگوں کی ہدایت کے لئے آیا ہے اور باہر سوروں کا شکار کھیلتا پھرتا ہے۔ پھر فرماتے تھے کہ ایسے شخص کی آمد سے تو عیسائیوں اور انگریزوں کو خوشی ہو سکتی ہے جو اس قسم کا کام کرتے ہیں۔ مسلمانوں کو کیسے خوشی ہو سکتی ہے۔ یہ الفاظ بیان کر کے آپ بہت ہنستے تھے یہاں تک کہ اکثر اوقات آپ کی آنکھوں میں پانی آ جاتا تھا۔

۱۴۷ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو عربی کے رواج دینے کی طرف توجہ تھی تو ان دنوں میں حضرت صاحب مجھے بھی عربی فقرات لکھواتے تھے اور ان میں نصیحت کے لئے بھی کبھی کبھی مناسب فقرے لکھوا دیتے تھے چنانچہ ایک دفعہ کا سبق شعروں میں بنا کر دیا تھا۔ پھر میں نے دیکھا کہ دو تین سال بعد تھوڑے سے تغیر کے ساتھ وہی اشعار آپ نے انجامِ آتھم میں درج کر دیئے اور وہ شعر جو اس وقت یاد کرائے تھے یہ ہیں:-

١۔ اَطِعْ رَبَّكَ الْجَبَّارَ اَهْلَ الْاَوَامِرِ وَخَفْ قَهْرَهُ وَاتْرُكْ طَرِيْقَ التَّجَاسُرِ
اپنے جبار اور صاحبِ حکم رب کی اطاعت کر اور اس کے قہر سے ڈر اور دلیری کا طریقہ چھوڑ دے
٢۔ وَ كَيْفَ عَلَى النَّارِ التَّهَابِ بِتَصَبُّرٍ وَ اَنْتَ تَأَذَّى عِنْدَ حَرِّ الْهَوَاجِرِ
اور دوزخ کی آگ پر کس طرح صبر کرے گا حالانکہ تجھے دوپہر کی گرمی سے بھی تکلیف ہوتی ہے۔
٣۔ وَ وَاللّٰهِ اِنَّ الْفِسْقَ سُمٌّ مُّدَمِّرٌ كَمَسْكِ اَفْعَى زَاهِرٍ فِى النَّوَاظِرِ
اللہ کی قسم بدکاری ایک ہلاک کرنیوالا زہر ہے جو سانپ کی کھال کی طرح دیکھنے میں اچھی معلوم ہوتی ہے
٤۔ فَلَا تَغْتَرُّوْا بِالطَّغْوٰى فَاِنَّ اِلٰهَنَا غَيُوْرٌ عَلَى حُرُمَاتِهٖ خَيْرُ قَادِرِ
پس سرکشی نہ اختیار کرو کیونکہ ہمارا خدا اپنی حرمتوں پر بڑی غیرت کرنیوالا اور بہترین قادر ہے۔
٥۔ وَلَا تَقْعُدَنْ يَا بَا الْكِرَامِ بِمَفْسَدٍ فَتُرْجَمَ مِنْ حُبِّ الشَّرِيْرِ بِخَاسِرِ
اے ابوالکرام! تو شریروں کے پاس نہ بیٹھا کر کہ تو شریروں کے پیار میں ہلاکت کے نقصان ہی اٹھائیگا۔
٦۔ وَلَا تَحْسَبَنَّ ذَنْبًا صَغِيْرًا كَهَيِّنٍ فَاِنَّ ازْدِرَاءَ الذَّنْبِ اِحْدَى الْكَبَائِرِ
اور چھوٹے گناہ کو ہلکا نہ سمجھ کیونکہ چھوٹے گناہ کو ہلکا سمجھنا ایک کبیرہ گناہ ہے۔
٧۔ وَ اُخْرَى لَعَمْرِىْ تَوْبَةٌ ثُمَّ تَوْبَةٌ وَ مَوْتُ الْفَتٰى خَيْرٌ لَّهٗ مِنْ مَّنَاكِرِ

سیرت المہدی جلد 3 صفحہ 291، 292 از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 270,269 پر درج ہے

صفحہ 778

حوالہ نمبر 207

۲۷۳

غیر عورتوں کے دیکھنے سے اپنے تئیں بچانا پڑتا ہے۔ شراب اور ہر ایک نشے سے اپنے تئیں دُور رکھنا پڑتا ہے خدا کے مواخذہ سے خوف کر کے حقوق عباد کا لحاظ رکھنا پڑتا ہے۔ اور ہر ایک سال میں برابر تیس یا انتیس روز خدا تعالیٰ کے حکم سے روزہ رکھنا پڑتا ہے اور تمام مالی و بدنی و جانی عبادت کو بجالانا پڑتا ہے۔ پھر جب ایک بدبخت جو پہلے مسلمان تھا عیسائی ہو گیا تو ساتھ ہی یہ تمام بوجھ اپنے سر پر سے اُتار لیتا ہے۔ اور سونا اور کھانا اور شراب پینا اور اپنے بدن کو آرام میں رکھنا اُس کا کام ہوتا ہے اور یکدفعہ تمام اعمالِ شاقہ سے دستکش ہو جاتا ہے اور حیوانوں کی طرح بجز اکل و شرب اور ناپاک عیاشی کے اور کوئی کام اُس کا نہیں ہوتا۔ پس اگر یسوع کے گذشتہ مغالطہ کے یہی معنے ہیں کہ میں تمہارا بار اُٹھاؤں گا تو بیشک ہم قبول کرتے ہیں کہ درحقیقت عیسائیوں کو اس چند روزہ سفلی زندگی میں بوجہ اپنی بے قیدی کے بہت ہی آرام ہے۔ یہانتک کہ ان کی دُنیا میں نظیر نہیں۔ وہ مکھی کی طرح ہر ایک چیز پر بیٹھ سکتے ہیں۔ اور وہ خنزیر کی طرح ہر ایک چیز کھا سکتے ہیں۔ ہندو گائے سے پرہیز کرتے ہیں اور مسلمان سُور سے۔ مگر یہ بلا نوش دونوں ہضم کر جاتے ہیں۔ سچ ہے کہ عیسائی باش ہر چہ خواہی بکن۔ سُور کو حرام ٹھہرانے میں توریت میں کیا کیا تاکیدیں تھیں یہانتک کہ اُس کا چھونا بھی حرام تھا اور صاف لکھا تھا کہ اس کی حرمت ابدی ہے۔ مگر ان لوگوں نے اُس سُور کو بھی نہیں چھوڑا جو تمام نبیوں کی نظر میں نفرتی تھا۔ یسوع کا شرابی کبابی ہونا تو خیر ہم نے مان لیا۔ مگر کیا اُس نے کبھی سُور بھی کھایا تھا؟ وہ تو ایک مثال میں بیان کرتا ہے کہ تم اپنے موتی سُوروں کے آگے مت پھینکو۔ پس اگر موتیوں سے مراد پاک کلمے ہیں تو سُوروں سے مراد پلید آدمی ہیں۔ اس مثال میں یسوع صاف گواہی دیتا ہے کہ سُور پلید ہے کیونکہ مُشبہ اور مُشبہ بہ میں مُناسبت شرط ہے۔

غرض عیسائیوں کا آرام جو اُنکو ملا ہے وہ بے قیدی اور اباحت کا آرام ہے۔

۴۰

سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب صفحہ 47 مندرجہ روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 373 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 270 پر درج ہے

صفحہ 779

حوالہ نمبر 208

چشمہ مسیحی ۲۴۶

بدی کی گئی مگر جو کوئی عفو کرے اور اس عفو میں کوئی اصلاح مقصود٭ ہو تو اس کا اجر خدا کے پاس ہے ۔ یہ تو قرآن شریف کی تعلیم ہے۔ مگر انجیل میں بغیر کسی شرط کے ہر ایک جگہ عفو اور درگذر کی ترغیب دی گئی ہے اور انسانی دوسرے مصالح کو جن پر تمام سلسلہ تمدن کا چل رہا ہے پامال کر دیا ہے اور انسانی قوٰی کے درخت کی تمام شاخوں میں سے صرف ایک شاخ کے بڑھنے پر زور دیا ہے اور باقی شاخوں کی پرداخت قطعاً ترک کر دی گئی ہے۔ پھر تعجب ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے خود اخلاقی تعلیم پر عمل نہیں کیا ۔ انجیر کے درخت کو بغیر پھل کے دیکھ کر اُس پر بددعا کی اور دوسروں کو دعا کرنا سکھایا ۔ اور دوسروں کو یہ بھی حکم دیا کہ تم کسی کو احمق مت کہو۔ مگر خود اس قدر بدزبانی میں بڑھ گئے کہ یہودی بزرگوں کو ولدالحرام تک کہہ دیا اور ہر ایک وعظ میں یہودی علماء کو سخت سخت گالیاں دیں اور بُرے بُرے اُن کے نام رکھے ۔ اخلاق معلم کا فرض یہ ہے کہ پہلے آپ اخلاق کریمہ دکھلاوے پس کیا ایسی تعلیم ناقص جس پر انہوں نے آپ بھی عمل نہ کیا خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو سکتی ہے ؟ پاک اور کامل تعلیم قرآن شریف کی ہے جو انسانی درخت کی ہر ایک شاخ کی پرورش کرتی ہے اور قرآن شریف صرف ایک پہلو پر زور نہیں ڈالتا بلکہ کبھی تو عفو اور درگذر کی تعلیم دیتا ہے مگر اس شرط سے کہ عفو کرنا قرین مصلحت ہو اور کبھی مناسب محل اور وقت کے مجرم کو سزا دینے کے لئے فرماتا ہے۔ پس درحقیقت قرآن شریف خدا تعالیٰ کے اس قانون قدرت کی تصویر ہے جو ہمیشہ ہماری نظر کے سامنے ہے۔ یہ بات نہایت معقول ہے کہ خدا کا قول اور فعل دونوں مطابق ہونے چاہئیں۔ یعنی جس رنگ اور طرز پر دنیا میں خدا تعالیٰ کا فعل نظر آتا ہے ضرور ہے کہ خدا تعالیٰ کی سچی کتاب اپنے فعل کے مطابق تعلیم کرے۔ نہ

٭ قرآن شریف نے بلا شرط عفو اور درگذر کا پہلو نہیں رکھا۔ کیونکہ اس سے انسانی اخلاق بگڑتے ہیں اور شریروں کو ظلم پر اور جری بناتا ہے بلکہ وہی عفو کی اجازت دی ہے جس سے کوئی اصلاح ہو سکے۔ منہ

چشمہ مسیحی صفحہ 14 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 346 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 270 پر درج ہے

صفحہ 780

حوالہ نمبر 209

۴۰

کو شاید بعض بدذات مولوی منہ سے اقرار نہ کریں مگر دل اقرار کر گئے ہیں۔ پھر ایک اور پیشگوئی نشان الہی ہے جس کا ذکر براہین احمدیہ کے صفحہ ۴۹۶ میں ہے اور وہ یہ ہے يَا أَحْمَدُ فَاضَتِ الرَّحْمَةُ عَلَى شَفَتَيْكَ ۔ اے احمد فصاحت بلاغت کے چشمے تیرے لبوں پر جاری کئے گئے سو اس کی تصدیق کئی سال سے ہو رہی ہے۔ کئی کتابیں عربی بلیغ فصیح میں تالیف کر کے

حاشیہ صفحہ نمبر ۲۹۰ روحانی خزائن جلد ۱۱

بلکہ عیسائیوں کے حق میں انہی باتوں کے پڑھنے سے ہمدردی پیدا ہو گئی ہے اور نہایت شرم کی بات یہ ہے کہ آپ نے پہاڑی تعلیم کو جو انجیل کا فخر کہلاتی ہے یہودیوں کی کتاب طالمود سے چرا کر لکھا ہے اور پھر ادعا ہو رہا ہے کہ گویا یہ میری تعلیم ہے لیکن جب سے یہ چوری پکڑی گئی عیسائی بہت شرمندہ ہیں۔ آپ نے یہ حرکت شاید اس لئے کی ہوگی کہ کسی عمدہ تعلیم کا نمونہ دکھا کر رسوخ حاصل کریں۔ لیکن آپ کی اس بیجا حرکت سے عیسائیوں کی سخت روسیاہی ہوئی اور پھر افسوس یہ ہے کہ وہ تعلیم بھی کچھ عمدہ نہیں عقل اور سائنس دونوں اس تعلیم کے منہ پر طمانچے مار رہے ہیں۔ آپ کا ایک یہودی استاد تھا جس سے آپ نے توریت کو سبقاً سبقاً پڑھا تھا۔ معلوم ہوتا ہے کہ یا تو قدسیت نے آپ کو اس میں سے کچھ بہت حصہ نہیں دیا تھا اور یا اس استاد کی یہ شرارت ہے کہ اس نے آپ کو محض سادہ لوح رکھا بہر حال آپ علمی اور عملی قویٰ میں بہت کچے تھے۔ اسی وجہ سے آپ ایک پیشگوئی کے پیچھے پکڑے گئے۔

ایک فاضل پادری صاحب فرماتے ہیں کہ آپ کو اپنی تمام زندگی میں تین مرتبہ شدید صرع کا الہام بھی ہوا تھا۔ چنانچہ ایک مرتبہ آپ اسی الہام سے خدا سے منکر ہونے کے لئے بھی تیار ہو گئے تھے۔

آپ کی انہی حرکات سے آپ کے حقیقی بھائی آپ سے سخت ناراض رہتے تھے اور ان کا یقین تھا کہ آپ کے دماغ میں خلل پڑ گیا ہے اور وہ ہمیشہ چاہتے رہے کہ کسی شفا خانہ میں آپ کا باقاعدہ علاج ہو شاید خدا تعالیٰ شفا بخشے۔

عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا اور اس دن سے کہ آپ نے معجزہ مانگنے والوں کو گندی گالیاں دیں اور ان کو حرام کار اور حرام کی اولاد ٹھہرایا۔ اسی روز سے شریفوں نے آپ سے کنارہ کیا۔ اور یہ جانا کہ معجزہ مانگ کر زنا کاروں میں

انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 6 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 290 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 271 پر درج ہے

صفحہ 781

(حوالہ نمبر 210)

۲۹۵

کہ وہ خود ہی پلیدی کا ینبوع ہے۔ مگر افسوس کہ انکا یہ یسوع اس کی تمام عصمت کو برباد کر گیا ہے کوئی بات پاکی کی اس کے رگوں میں باقی نہیں رہی لیکن اس نے پاک نبیوں کو زانیوں اور شرابیوں کے نام سے موسوم کیا ہے اس کی زبان پر دوسروں کیلئے ہروقت بے ایمان حرام کار کا لفظ چڑھا ہوا ہے کسی کی نسبت اچھا لفظ استعمال نہیں کیا کیوں نہ ہو خدا کا فرزند جو ہوا ۔ اور پھر جب دیکھتے ہیں کہ یسوع کے گناہ نے حواریوں کے دلوں پر کیا اثر کیا۔ کیا وہ اس پر ایمان لا کر گناہ سے بچائے گئے تو اس جگہ بھی تہذیب و نیکی کا نمونہ خالی ہی معلوم ہوتا ہے یہ تو ظاہر ہے کہ وہ لوگ سولی ملنے کی خبر کو سن کر ایمان سے پھر گئے تھے لیکن پھر بھی تجربہ یہ ہے کہ یسوع کی گرفتاری پر پطرس نے سامنے کھڑے ہو کر اس پر لعنت بھیجی باقی سب بھاگ گئے اور کسی کے دل میں اعتقاد کا نور باقی نہ رہا۔ پھر بعد اس کے گناہ سے رکنے کا ابتک یہ حال ہے کہ خاص یورپ کے محققین کے اقراروں سے یہ بات ثابت ہے کہ یورپ میں حرام کاری کا اس قدر زور ہے۔ کہ خاص لنڈن میں ہر سال ہزاروں حرامی بچے پیدا ہوتے ہیں اور اس قدر گندے واقعات یورپ کے شائع ہوئے ہیں کہ پڑھ کر نیکوں کے پسینے چھوٹتے ہیں۔ قحبہ کاری کا اس قدر زور ہے۔ کہ اگر ان دوکانوں کو بند کیا جائے تو شاید کوئی گھر ایسا نہ ہو جس میں یہ خبیث رنگ نہ لگے یہ کروڑوں روپیہ چندہ جمع کرنے والی سوسائٹیاں کچھ نہیں کرسکتیں۔ انکو چاہیے کہ خدا کے غضب سے ڈریں۔ اور جب ایسا نہیں کرسکتے ۔ تو کمال بے شرمی ہے۔ کہ جس کی باطنی حالت تو یہ ہے اور وہ نبیوں کی مخالفت میں شیطانی جوشوں سے بغاوت پر اترا ہوا ہے اس کی شرم و حیا کو کیا روئیں جو یہ خبیث چیزیں استعمال کرتے رہتے ہیں اور حرام کے ٹکڑے کھاتے پھرتے ہیں۔ تو پھر بتلاؤ ہو سکتا ہے کہ ایک شخص اس طرح خدا کی پاکیزگی کو منہ چڑھاتا ہو۔ کہ وہ عورتوں کے صندوقوں سے لیتا تھا۔ غرض یسوع کا یہ واقعہ بیان کرنا جو ایک خدا مرجع صفات کمال ہے اور ہمارے پاس اس دعویٰ پر کہ محض جھوٹے کی کبھی نصرت نہیں ہوسکتی یہ دلیل ہے کہ محقق عیسائی جو یورپ میں ہیں وہ اس رائے سے اتفاق رکھتے ہیں نہ کہ انکے مشنری کہ جو چندہ خوار پادری ہیں گو انکی باتوں سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ مسیح کے سچے پیرو حقانیت سے جلد بھاگتے ہیں۔ اور ان میں یہ قوت مدرکہ قوی نہیں ہے کہ وہ حق کو سن کر جلد قبول کر لیں۔ یہ کمال حماقت ہے۔ کہ کیونکر خدا تعالیٰ کا ایک کامل الہام جو حقانیت کی طرف بلاتا ہے۔ اور مخالفوں سے جھگڑتے ہوئے بھی وہ اس بات کے لیئے کیوں تیار نہیں ہوتا کہ جو ایک سچے دین کی تائید میں اسکو کرنی چاہیے یہ ہماری تحقیق ہے کہ یسوع کی تعلیم میں کوئی روحانیت نہیں ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ عیسائی جس کو خدا بناتے ہیں وہ انکی گواہیوں سے نفسانیت کا بیمار ثابت ہوا ہے۔ اس کی ہر ایک بات میں جھوٹ کی ملاوٹ ہے۔ خاص وقت کی گفتگو میں غلاظت بھری ہوتی تھی۔ پس جو شخص اس کی نسبت یہ کہتا ہے کہ وہ نہ نبیوں میں رہا اور نہ وحی رسالت کے چشمہ میں داخل کیا گیا بلکہ اس کے افعال کو خالق کل کا مظہر ٹھہرانا اور قومی مقاصد میں معین جاننا اس بات پر دلیل ہے کہ یسوع درحقیقت وجود باری تعالیٰ کے لئے ایک ننگ تھا۔ الخ۔ † سوال یہ ہے کہ شیطان کو کس نے یسوع کے ساتھ دیکھا۔

ست بچن صفحہ 171 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 295 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 271 پر درج ہے

Back

صفحہ 782

حوالہ نمبر 211 روحانی خزائن جلد ۹ ۳۹۳

ہمکنار کیا۔ بلکہ خدا نے اس کی چھاتی گرم کرنے کو ایک اور لڑکی بھی اُسے دی اور آپ کے خدا کی شہادت بھی یہی ہے کہ داؤد اوریا کے قصہ کے سوا اپنے تمام کاموں میں راستباز ہے کیا کوئی عقلمند قبول کر سکتا ہے۔ کہ اگر کثرت ازدواج خدا کی نظر میں بُری تھی تو خدا اسرائیلی نبیوں کو جو کثرت ازدواج میں سب سے بڑھ کر تھے ایک مرتبہ بھی اس فعل پر سرزنش نہ کرتا پس یہ سخت بے ایمانی ہے کہ جو بات خدا کے پہلے نبیوں میں موجود ہے اور خدا نے اسے قابلِ اعتراض نہیں ٹھہرایا اب شرارت اور خباثت سے جنابِ اقدس نبویؐ کی نسبت قابلِ اعتراض ٹھہرائی جاوے۔ افسوس یہ لوگ ایسے بے شرم ہیں کہ اِتنا بھی نہیں سوچتے کہ اگر ایک سے اوپر بیوی کرنا زنا کاری ہے تو حضرت مسیح جو داؤد کی اولاد کہلاتے ہیں ان کی پاک ولادت کی نسبت سخت شُبہ پیدا ہو گا۔ اور کون ثابت کر سکے گا۔ کہ ان کی بڑی نانی حضرت داؤد کی پہلی ہی بیوی تھی ٭

پھر آپ حضرت عائشہ صدیقہؓ کا نام لے کر اعتراض کرتے ہیں کہ جنابِ اقدس نبویؐ کا ان سے بدن لگنا اور زبان چوسنا خلافِ شرع تھا۔ اب اس ناپاک تعصّب پر کہاں تک روئیں۔ ایسے نادان جو حلال اور جائز نکاح میں حالانکہ یہ سب باتیں جائز ہوتی ہیں یہ اعتراض کیسا ہے۔ کیا جنہیں خبر نہیں کہ مردی اور رجولیت انسان کی صفاتِ محمودہ میں سے ہے۔ ہجڑا ہونا کوئی اچھی صفت نہیں۔ جیسے بہرا اور گونگا ہونا کسی خوبی میں داخل نہیں۔ ہاں یہ اعتراض بہت بجا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السّلام مردانہ صفت کی اعلیٰ ترین صفت سے بے نصیب محض ہونے کے باعث ازواج سے بھی اور کامل

16

نورالقرآن صفحہ 17-18 مندرجہ روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 392-393 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 271 پر درج ہے

صفحہ 783

حوالہ نمبر 211

روحانی خزائن جلد ۸ ۴۹۴

[ حسن معاشرت کا کوئی عملی نمونہ نہ دے سکے اس لئے یورپ کی عورتیں نہایت ] قابل شرم آزادی سے قدم اٹھا کر اعتدال کے دائرہ سے باہر صدہا درجہ نکل گئیں اور آخر تا نوبت فسق و فجور تک نوبت پہنچی *

اے نادان فطرت انسانی اور اس کے سچے پاک جذبات سے اپنی بیویوں سے پیار کرنا اور حسن معاشرت کے طریق کو جانوروں میں بھی برتنا انسان کا طبعی اور اضطراری خاصہ ہے اسلام کے بانی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی اُسے برتا اور اپنی جماعت کو ایک نمونہ دیا ۔ مسیح نے اپنے نقص تعلیم کی وجہ سے اپنے ملفوظات اور اعمال میں یہ کمی رکھ دی ۔ گو جو کچھ طبعی تقاضا تھا ۔ اس لئے یورپ اور عیسویت نے خود اس کے لئے ضوابط نکالے ۔ اب تم خود انصاف سے دیکھو کہ گندی سیاہ کاری اور ملک کا ملک رنڈیوں کا ناپاک چکلہ میں ہونا یا ہائیڈ پارکوں میں ہزاروں ہزار کاروائیوں میں کتوں اور کتیوں کی طرح اوپر تلے ہونا اور آخر اس ناجائز آزادی سے تنگ آکر آہ و فغان کرنا اور برسوں بیوگیوں اور سیاہ روئیوں کے مصائب جھیل کر اخیر میں مسودۂ طلاق پاس کرانا کس بات کا نتیجہ ہے ۔ کیا اس مقدس مطہر ، مزکّیٰ نبی اُمّی کی معاشرت کے اس نمونہ کا جس پر خباثت باطنی کی تحریک سے آپ معترض ہیں ۔ یہ نتیجہ ہے ۔ اور ممالک اسلامیہ میں تمدن اور رہبری ہمہ گیر کی ہوئی ہے یا ایک سخت ناقص نالائق کتاب پولوسی انجیل کی مخالف فطرت اور ادھوری تعلیم کا یہ اثر ہے ۔ اب دوزانو ہو کر دیکھو ۔ اور یوم الجزاء کی تصویر کھینچ کر غور کرو *

١٨

نورالقرآن صفحہ 17، 18 مطبوعہ روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 392-393 از مرزا قادیانی || یہ حوالہ صفحہ 271 پر درج ہے

صفحہ 784

حوالہ نمبر 212 ۲۳۳

یہ خدا کا کلام ہے اس کے یہ معنے ہیں کہ اے جو خلقت کے لئے مسیح کر کے بھیجا گیا ہے ۔ ۱۲ ہماری اس مہلک بیماری کیلئے شفاعت کر ۔ تم یقیناً سمجھو کہ آج تمہارے لئے بجز اس مسیح کے اور کوئی شفیع نہیں۔ باستثناء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور شفیع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جُدا نہیں بلکہ اسکی شفاعت حقیقت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی شفاعت ہے ۔ اے عیسائی مشنریو ! اب ربنا المسیح مت کہو! اور دیکھو کہ آج تم میں ایک مسیح ہے اُس مسیح سے بڑھکر ہے ۔ اور اے قوم شیعہ! اسپر اصرار مت کرو کہ حسین تمہارا منجی ہے کیونکہ مَیں سچ سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں ایک ہے کہ اُس حسین سے بڑھ کر ہے۔ اور اگر مَیں اپنی طرف سے یہ باتیں کہتا ہوں تو مَیں جھوٹا ہوں ۔ لیکن اگر مَیں ساتھ اس کے خدا کی گواہی رکھتا ہوں تو تم خدا سے مقابلہ مت کرو۔ ایسا نہ ہو کہ تم اُس سے لڑنے والے ٹھہرو ۔ اب میری طرف دوڑو کہ وقت ہے جو شخص اسوقت میری طرف دَوڑتا ہے مَیں اسکو اُس سے تشبیہ دیتا ہوں کہ جو عین طوفان کے وقت جہاز پر بیٹھ گیا۔ لیکن جو شخص مجھے نہیں مانتا مَیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ طوفان میں اپنے تئیں ڈال رہا ہے اور کوئی بچنے کا سامان اُسکے پاس نہیں ۔ سچا شفیع وہی ہے جو اُس بزرگ شفیع کا سایہ ہے اور اُس کا ظل ہے جس کو اِس زمانہ کے اندھوں نے قبول نہ کیا اور اُسکی بہت ہی تحقیر کی یعنی حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ اِس لئے خدا نے اِسوقت اِس گناہ کا ایک ہی لفظ کے ساتھ پادریوں سے بدلہ لے لیا کیونکہ عیسائی مشنریوں نے عیسیٰ بن مریم کو خُدا بنایا اور ہمارے سید و مولیٰ حقیقی شفیع کو گالیاں دیں اور بد زبانی کی کتابوں سے زمین کو نجس کر دیا اِس لئے اُس مسیح کے مقابل پر جس کا نام خُدا رکھا گیا۔ خُدا نے اس اُمّت میں سے مسیح موعود بھیجا۔ جو اُس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے اور اُس نے اِس دوسرے مسیح کا نام غلام احمدؑ رکھا۔ تا یہ اشارہ ہو کہ عیسائیوں کا مسیح کیسا خُدا ہے جو احمدؑ کے ۱۳ ادنیٰ غلام سے بھی مقابلہ نہیں کر سکتا یعنے وہ کیسا مسیح ہے جو اپنے قرب اور شفاعت کے

۱۶

یہ حوالہ صفحہ 271 پر درج ہے دافع البلاء صفحہ 13 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 233 از مرزا قادیانی

صفحہ 785

(حوالہ نمبر 213)

۲۱۷

یعنے کہہ تھوڑا عرصہ صبر کر کہ میں تجھے ایک پاک لڑکا عنقریب عطا کرونگا۔ اور یہ دوشنبہ کا دن تھا۔ اور ذی الحج ۱۳۰۳ھ کی نویں تاریخ تھی جبکہ یہ الہام ہوا۔ اور اس الہام کے ساتھ ہی یہ الہام ہوا۔ رَبِّ اَصْلِحْ زَوْجَتِیْ ھٰذَا ۔ یعنے اے میرے خدا میری اس بیوی کو بیمار ہونے سے بچا۔ اور بیماری سے تندرست کر۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ اس بچہ کے پیدا ہونے کے وقت کسی بیماری کا اندیشہ ہے۔ سو اس الہام کو میں نے اس تمام جماعت کو سنا دیا جو میرے پاس قادیان میں موجود تھے اور اخویم مولوی عبد الکریم صاحبؒ وغیرہ تمام معزز دوستوں کو اس الہام سے خبر کر دی۔ اور پھر جب ۱۴؍ جون ۱۸۸۹ء کا دن چڑھا جبکہ الہام مذکور کی تاریخ کو جو ۱۵؍ اپریل ۱۸۸۶ء کو ہوا تھا پورے دو مہینے ہوتے تھے تو خدا تعالیٰ کی طرف سے اُسی لڑکے کی مجھ میں رُوح بولی اور الہام کے طور پر یہ کلام اُس کا میں نے سُنا۔ اِنّیِ اَسْقُطُ مِنَ اللّٰهِ وَ اُصِیْبُہٗ۔ یعنے اب میرا وقت آگیا۔ اور میں اب خدا کی طرف سے اور خدا کے ہاتھوں سے زمین پر گرونگا۔ اور پھر اسی کی طرف جاؤں گا۔ اور اسی لڑکے نے اسی طرح پیدائش سے پہلے یکم جنوری ۱۸۸۶ء میں بطور الہام یہ کلام مجھ سے کیا اور مخاطب بھائی تھے کہ مجھ میں اور تم میں ایک دن کی میعاد ہے۔ یعنے اے میرے بھائیو۔ میں پورے ایک دن کے بعد تمہیں ملوں گا۔ اس جگہ ایک دن سے مراد دو برس تھے۔ اور تیسرا برس وہ ہے جس میں پیدائش ہوئی۔ اور یہ عجیب بات ہے کہ عیسیٰؑ نے تو صرف مہد میں ہی باتیں کیں مگر اس لڑکے نے پیٹ میں ہی دو مرتبہ باتیں کیں۔ اور پھر بعد اسکے ۱۴؍ جون ۱۸۸۹ء کو وہ پیدا ہوا۔ اور جیسا کہ وہ چوتھا لڑکا تھا۔ اسی مناسبت سے

٭ بچہ پیدا ہونے کے بعد جبکہ الہام کا منشاء تھا میری بیوی بیمار ہو گئی چنانچہ ابتک بعض عوارض مرض موجود ہیں اور اعراض شدیدہ سے بفضلہ تعالیٰ صحت ہو گئی ہے۔ منہ

تریاق القلوب صفحہ 89 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 217 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 272 پر درج ہے

صفحہ ۲۴۰

حوالہ نمبر 214 786

منہ سمجھتے ہیں۔ پس ہم قرآن کو چھوڑ کر اور کس کتاب کو تلاش کریں اور کیونکر اسکو نا کامل سمجھ لیں۔ خدا نے ہمیں تو یہ بتلایا ہے کہ عیسائی مذہب بالکل مر گیا ہے اور انجیل ایک مردہ اور ناتمام کلام ہے- پھر زندہ کو مُردہ سے کیا جوڑ۔ عیسائی مذہب ہماری کوئی صلح نہیں وہ سب کا سب ردی اور باطل ہے اور آج آسمان کے نیچے بجز قرآن مجید کے اور کوئی کتاب نہیں۔ آج سے بائیس برس پہلے براہین احمدیہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے میری نسبت یہ الہام درج ہے جو اسکے صفحہ ۲۴۱ میں پاؤ گے اور وہ یہ ہے:- ولن ترضى عنك اليهود ولا النصارى وخرقوا له بنین و بنات بغير علمه قل هو الله احد الله الصمد لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا احد. ويمكرون ويمكر الله والله خير الماكرين۔ الفتنة ههنا فاصبر كما صبر اولوا العزم وقل رب ادخلنى مدخل صدق۔ یعنے تیرا اور یہود اور نصاریٰ کا کبھی مصالحہ نہیں ہو گا اور وہ کبھی تجھ سے راضی نہیں ہونگے (نصاریٰ سے مراد پادری اور انجیلوں کے حامی ہیں) اور پھر فرمایا کہ ان لوگوں نے ناحق اپنے دل سے خدا کیلئے بیٹے اور بیٹیاں تراش رکھی ہیں اور نہیں جانتے کہ یسوع مریم ایک عاجز انسان تھا۔ مگر خدا جو چاہے تو جیسے ابن مریم کی مانند کوئی اور آدمی پیدا کر دے یا اس سے بھی بہتر جیسا کہ اُس نے کیا۔ مگر وہ خدا تو واحد لاشریک ہے جو موت اور توّلد سے پاک ہے اُس کا کوئی ہمسر نہیں۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عیسائیوں نے یہ دھوکا کھایا تھا کہ مسیح بھی اپنے قرب اور وجاہت کے رُو سے واحد لاشریک ہے۔ اب خدا بتلاتا ہے کہ دیکھو میں اُس کا ثانی پیدا کرونگا جو اُس سے بھی بہتر ہے۔ جو غلام احمد ہے یعنے احمد کا غلام۔

زنگ کش جہان احمد ہے کیا ہی پیارا یہ نام احمد ہے
لاکھ ہوں انبیاء مگر بخدا سب سے بڑھ کر مقام احمد ہے
باغ احمد سے ہم نے پھل کھایا میرا بُستاں کلام احمد ہے
ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اُس سے بہتر غلام احمد ہے

یہ باتیں شاعرانہ نہیں بلکہ واقعی ہیں اور اگر غور کے رُو سے خدا کی تائید مسیح ابن مریم سے

۲۴

روح البقاء صفحہ 20 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 240 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 272 پر درج ہے

Back

صفحہ 787

ازالہ اوہام ۱۸۰

حوالہ نمبر 215

حصہ اول

مسیح کا مثیل بن کر آوے کیونکہ نبیوں کے مثیل ہمیشہ دنیا میں ہوتے رہتے ہیں بلکہ خدائے تعالیٰ نے ایک قطعی اور یقینی پیشگوئی میں میرے پر ظاہر کر رکھا ہے کہ تیری ہی ذریت سے ایک شخص پیدا ہوگا جس کو مسیح عیسیٰ بن مریم سے مشابہت ہوگی وہ آسمان سے اترے گا اور زمین والوں کی راہ سیدھی کرے گا وہ اسیروں کو رستگاری بخشے گا اور ان کو جو شبہات کے زنجیروں میں مقیّد ہیں رہائی دیگا۔ فرزند دلبند گرامی وارجمند مظہر الحق والعلاء کانّ اللہ نزل من السماء جس کے ساتھ ایک خاص پیشگوئی کے مطابق جو خدائے تعالیٰ کی مقدس کتابوں میں پائی جاتی ہے مسیح موعود کے نام پر آیا ہے۔ واللّٰہ اعلم وعلمہ احکم۔

جائیکہ از مسیح و ز بوالہوس سخن رود
گویم سخن اگرچہ بیازارند بیاورم
کَاندر دلم دمید خداوند کردگار
کآں برگزیدہ راز و صدق مضمرم
موعودم و بحلیۂ ماثور آمدم
حیف است گر بدیدہ نہ بینند منظرم
رنگم چو گندم است ولے خرقہ نیمہ است
زاں سال کہ آمد آیت و اخبار سرورم
ایں مقدم نہ جاہ و شکوہست التباس
سیّد جدا کند ز مسیحائے احمرم
از کلمۂ مستانۂ مشرق عجب مدار
چوں خود ز مشرق است تجلّی نیّرم
اینک منم کہ حسب بشارات آمدم
عیسیٰ کجا است تا بنہد پا بمنبرم

ازالہ اوہام صفحہ 158 طبع جدید روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 180 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 272 پر درج ہے

صفحہ 788

حوالہ نمبر 216

ازالہ اوہام جلد ۶ ۵۶۸ حقیقۃ النبوۃ حصہ اول

کر اسے ہٹایا ۔ لیکن وہ پھر آکر بیٹھ گئی ۔ اس نے پھر ہٹایا تو وہ پھر بیٹھ گئی ۔ پھر ہٹایا تو وہ پھر بیٹھ گئی ۔ اس پر اسے مکھی پر سخت طیش آیا اور ایک بڑا پتھر اٹھا کر اس مکھی پر دے مارا کہ یہ کمبخت میرے آقا کو سونے نہیں دیتی لیکن اس کا کیا نتیجہ ہوا کہ اس کا آقا اس مکھی کے ساتھ ہی اس جہان سے رخصت ہو گیا ۔ آہ ! مسیح موعود کی نبوت کا انکار کرنے والے یہ نہیں خیال کرتے کہ وہ بھی اس نوکر کی طرح ایک مکھی کے اڑانے کے لئے جو درحقیقت اس کے اپنے وہم کا نتیجہ ہے (ورنہ اسکی حقیقت کوئی نہیں) اپنے آقا کا سر کچلنے پر تیار ہو گیا ہے۔ اسلام کو تباہ کر رہا ہے جو شخص ایک شاخ کے بچانے کے لئے جڑ کو کاٹتا ہے وہ یاد رکھے کہ نہ جڑ رہتی ہے نہ شاخ ۔ اسلام میں نبوت کا مسئلہ ہی تو ایک زبردست مسئلہ ہے جو اسے پچھلے ادیان پر فضیلت دیتا ہے آنحضرت ﷺ کے فیض سے نبوت کامل جامع تو ایک کمال ہے جو آپ کو دوسرے انبیاء سے افضل ثابت کرتا ہے ورنہ محدث تو پہلے انبیاء کی امتوں میں بھی ہوتے تھے پس اگر آنحضرت ﷺ کی امت میں بھی محدث ہی آسکتے ہیں تو آپ کو دوسرے انبیاء پر کیا فضیلت ہوئی ؟ ہمارا نبی خاتم النبیین ہے وہ کل کمالات کا جمع کرنے والا ہے کل خوبیاں اس پر ختم ہو گئیں وہ خاتم النبیین ہی نہیں وہ خاتم المومنین بھی ہے دنیا کے پردہ پر کسی جگہ کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک اس سے فیض نہ پائے لیکن اس کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ وہ خاتم النبیین ہے یعنی نہ صرف نبی ہے بلکہ نبی گر ہے دنیا میں بہت سے نبی گزرے ہیں مگر ان کے شاگرد محدثیت کے درجہ سے آگے نہیں بڑھے سوائے ہمارے نبی ﷺ کے کہ اس کے فیضان نے اس قدر وسعت اختیار کی کہ اس کے شاگردوں میں سے علاوہ بہت سے محدثوں کے ایک نے نبوت کا درجہ بھی پایا اور نہ صرف یہ کہ نبی بنا بلکہ اپنے مطاع کے کمالات کو جلی طور پر حاصل کر کے بعض اولو العزم نبیوں سے بھی آگے نکل گیا ۔ چنانچہ خدائے تعالیٰ نے مسیح ناصری جیسے اولوالعزم نبی پر اسے فضیلت دی اور یہ سب کچھ صرف آنحضرت ﷺ کے فیضان سے ہوا نہ اس کے اپنے زور سے ۔ پس اے آنحضرت ﷺ کی محبت کا دم بھرنے والو ! مسیح موعود کی نبوت کا انکار کرنا درحقیقت آنحضرت ﷺ کی قوت فیضان کا انکار کرنا ہے اور مسیح موعود کے نبی ہونے سے آنحضرت ﷺ کی شان میں نقص نہیں آتا۔ اور نہ آپ ﷺ کی اس میں ہتک ہے بلکہ یہ سراسر عزت ہے اور وہ عزت ہے جس میں کوئی اور رسول آپ کے ساتھ شامل نہیں جہاں غیر وارث ہو وہاں غیرت ہوتی ہے۔ لیکن جہاں اپنا شاگرد اور روحانی فرزند وارث ہو وہاں غیرت کا کیا تعلق شاگرد کا بڑھنا تو استاد کی قابلیت پر دلیل ہوتا ہے نہ کہ اس سے استاد کی قابلیت پر کوئی حرف آتا ہے پس مسیح

حوالہ صفحہ 257 مندرجہ انوارالعلوم جلد 2 صفحہ 568 ، از مرزا بشیر الدین محمود یہ حوالہ صفحہ 272 پر درج ہے

صفحہ 789

حوالہ نمبر 217

161 حقیقت

[حضرت مسیح موعود کا مزار بہشتی مقبرہ قادیان کے حصہ خاص میں ہے جو ایک مشہور سی جگہ ٹھہری ہے اور بموجب شہادت کثیر کے متوفی کی قبر زمین میں ہوئی اور اس کے قریب زمین میں اور کوئی قبر ملحقہ نہیں پائی ہے۔]

شمال مشرق دیوار احاطہ مقبرہ دیوار مقبرہ قبر حضرت مسیح موعود فاصلہ قبر حضرت اماں جان دیوار مقبرہ دروازہ دروازہ دیوار احاطہ مقبرہ گلی جو مقبرہ کی طرف جاتی ہے چبوترہ مغرب صحن روضہ راستہ گلی جنوب گلی جو روضہ کی طرف جاتی ہے

یہ نقشہ رسالہ ”الفرقان“ ربوہ بابت ماہ فروری 1968ء کے صفحہ 14 سے لیا گیا ہے یہ حوالہ صفحہ 273 پر درج ہے

صفحہ 790

حوالہ نمبر 218 توضیح مرام ۵۶ مسیح کا دوبارہ دنیا میں آنا

پھنسیں گے پس مدعی ہو کر مقابلہ پر کھڑے ہو جانا اُن کے لئے سخت حجاب ہو جائے گا جس سے باہر نکلنا ایام گزشتہ کی اپنی رائے سے رجوع کرنا اُن کے لئے مشکل بلکہ محال ہو گا کیونکہ ہمیشہ یہی دیکھا جاتا ہے کہ جب کوئی مولوی ایک رائے کو علیٰ رؤس الاشهاد ظاہر کر دیتا ہے اور اپنا فیصلہ یقینی اسکو قرار دیتا ہے تو پھر اس رائے سے عود کرنا اُسکو موت سے بدتر دکھائی دیتا ہے لہٰذا میں نے قرین دانشمندی جانا کہ قبل اس کے کہ وہ مقابل بن کر ہٹ دھرمی کی بلا میں پھنس جائیں پہلے ہی اُنکو ایسے صاف اور مدلل طور پر سمجھا دیا جائے کہ جو ایک دانا اور منصف اور طالب حق کی تسلی کیلئے کافی ہو۔ مگر بعد میں پھر لکھنے کی ضرورت پڑے گی تو شاید ایسے لوگوں کے لئے وہ ضرورت پیش آوے کہ جو غایت درجہ کے سادہ لوح اور غبی ہیں جن کو سابقین کے کلام کے استعارات مصطلحات و حقائق تأویلات کی کچھ بھی خبر نہیں بلکہ محض ایک تخیل اور لا یعقل کی شق کے نیچے داخل ہیں۔

[دیکھو صفحہ ۷۹ حاشیہ]

اب پہلے ہم اتمامِ بیان کے لئے یہ لکھنا چاہتے ہیں کہ بائبل اور ہماری احادیث اور ہندوؤں کی کتابوں کے رو سے بھی دو شخصوں یعنی جسموں کے ساتھ آسمان پر جانا تصور کیا گیا ہے وہ دو نبی جنکا نام بائبل اور احادیث میں آیا ہے۔ وہ یہ ہیں مسیح اور الیاس جن کو عیسیٰ اور ادریس بھی کہتے ہیں۔ ان دونوں نبیوں کی نسبت توریت اور احادیث کے بعض صحیفے بیان کر رہے ہیں کہ وہ دونوں آسمان کی طرف اُٹھائے گئے اور پھر کسی زمانہ میں زمین پر اُتریں گے اور تم اُن کو آسمان سے آتے دیکھو گے۔ یا ان ہی کتابوں کے کسی قدر ملتے جلتے الفاظ احادیث نبویہ میں بھی پائے جاتے ہیں لیکن حضرت ادریس کی نسبت جو بائبل میں حنوک یا اخنوک کے نام سے پکارے گئے ہیں بائبل میں یہ فیصلہ دیا گیا ہے کہ یوحنا کے پیدا ہونے سے ان کا آسمان سے اُترنا وقوع میں آگیا چنانچہ حضرت مسیح صاف صاف الفاظ میں فرماتے ہیں کہ ”یہ الیاس جو آنیوالا تھا یہی ہے چاہو تو قبول کرو“ ت سو ایک نبی کے حکم سے ایک آسمان پر جانے والے اور پھر کسی وقت اُترنے والے یعنی الیاس کا مقدمہ

ت دیکھو الیاس پہلے آئے گا ۔ متی

توضیح مرام صفحہ ۵۶ مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 52 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 273 پر درج ہے

صفحہ 791

حوالہ نمبر 219

تذکرة الشہادتین ۴

زمانہ میں براہ راست خدا سے ہدایت پانے والا اور اُس آسمانی مائدہ کو نئے سرے انسانوں کے آگے پیش کرنیوالا مجھ کو ہی اس جگہ میں مقرر کیا گیا تھا۔ جس کی بشارت آج سے تیرہ سو برس پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی۔ وہ محل یہی ہے۔ اور مکالمات الٰہیہ اور مخاطبات رحمانیہ اس صفائی اور تواتر سے اس بارے میں ہوئے کہ شک و شبہ کی جگہ نہ رہی۔ ہر ایک وحی جو ہوتی ایک فولادی میخ کی طرح دل میں دھنستی تھی اور یہ تمام مکالمات الٰہیہ ایسی عظیم الشان پیشگوئیوں سے بھرے ہوئے تھے کہ روزِ روشن کی طرح وہ پوری ہوتی تھیں۔ اور اُن کے تواتر اور کثرت اور اعجازی طاقتوں کے کرشمہ نے مجھے اس بات کے اقرار کیلئے مجبور کیا کہ یہ اُسی وحدہٗ لاشریک خدا کا کلام ہے۔ جس کا کلام قرآن شریف ہے۔ اور میں اس جگہ توریت اور انجیل کا نام نہیں لیتا۔ کیونکہ توریت اور انجیل تحریف کرنے والوں کے ہاتھوں سے اس قدر محرف و مبدل ہوگئی ہیں کہ اب ان کتابوں کو خدا کا کلام نہیں کہہ سکتے۔ غرض وہ خدا کی وحی جو میرے پر نازل ہوئی ایسی یقینی اور قطعی ہے کہ جس کے ذریعہ سے میں نے اپنے خدا کو پایا۔ اور وہ وحی نہ صرف آسمانی نشانوں کے ذریعہ مرتبہ حق الیقین تک پہنچی۔ بلکہ ہر ایک حصہ اُس کا جب خدا تعالیٰ کے کلام قرآن شریف پر پیش کیا گیا۔ تو اس کے مطابق ثابت ہوا۔ اور اس کی تصدیق کے لئے بارش کی طرح نشان آسمانی برسے۔ انہیں دنوں میں رمضان کے مہینہ میں سورج اور چاند کا گرہن بھی ہوا جیسا کہ لکھا تھا کہ اس مہدی کے وقت میں ماہِ رمضان میں سورج اور چاند کا گرہن ہوگا۔ اور انہیں ایّام میں طاعون بھی کثرت سے پنجاب میں ہوئی۔ جیسا کہ قرآن شریف میں یہ خبر موجود ہے۔ اور پہلے نبیوں نے بھی یہ خبر دی ہے کہ ان دنوں میں مری بہت پڑیگی۔ اور ایسا ہوگا کہ کوئی گاؤں اور شہر اُس مری سے باہر نہیں رہیگا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور ہو رہا ہے۔ اور خدا نے اُس وقت کہ اس ملک میں طاعون کا نام و نشان نہ تھا۔ قریباً بائیس برس طاعون کے پھوٹنے سے پہلے مجھے اُس کے پیدا ہونے کی خبر دی۔ پھر اس بارہ میں الہامات بارش کی طرح ہوئے اور مکرر ان فقرات کا مختلف پیرایوں میں نزول ہوا۔ چنانچہ مندرجہ ذیل وحی میں اس طرح پر مجھے مخاطب کر کے فرمایا۔ اِنْ اٰوَتْہُ فَلَا تَسْتَعْجِلْہُ بِسُنَّةٍ تَلَقَّاهَا النَّبِيُّونَ۔ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا

تذکرہ الشہادتین صفحہ 3 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 4 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 273 پر درج ہے Back

صفحہ 792

حوالہ نمبر 220

چشمہ معرفت ۲۸۶ بقیہ حاشیہ

آیا ہے اور اس وقت آیا ہے جب کہ دنیا خدا کی راہ کو بُھول چکی تھی اور جن یہود کو دیئے گئے تھے گو اُس نے پیشاب کر کے دکھلایا اور توریت اور انجیل اور صحف کی اصلاح کی اور قرآن شریف نے مکمل کیا کیونکہ توریت کی تعلیم پر چلنے والے یعنی یہودی ہمیشہ بار بار بت پرستی میں پڑتے رہے چنانچہ تاریخ جاننے والے اس پر گواہ ہیں اور وہ کتابیں کیا باعتبار علمی تعلیم کے اور کیا باعتبار عملی تعلیم کے سراسر ناقص تھیں اس لئے اُن پر چلنے والے بہت جلد گمراہی میں پھنس گئے۔ انجیل کی بھی یہی حالت تھی پچاس برس بھی نہیں گزرے تھے کہ بجائے خدا کی پرستش کے ایک عاجز انسان کی پرستش نے جگہ لے لی یعنی حضرت عیسیٰ خدا بنائے گئے اور تمام نیک اعمال کو 255 چھوڑ کر نرا عیسائی عقیدہ یہ ٹھہرا دیا کہ اُن کے صلیب پر مرنے اور خدا کا بیٹا ہونے پر ایمان لایا جائے پس کیا یہی کتابیں تھیں جن کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نقل کی بلکہ سچ تو یہ ہے کہ وہ کتابیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ تک ردی کی طرح ہو چکی تھیں اور بہت جھوٹ اُن میں ملائے گئے تھے جیسا کہ کئی جگہ قرآن شریف میں فرمایا گیا ہے کہ وہ کتابیں محرف مبدل ہیں اور اپنی اصلیت پر قائم نہیں رہیں چنانچہ اس واقعہ پر اس زمانہ میں بڑے بڑے محقق انگریزوں نے بھی شہادت دی ہے پس جب کہ بائبل محرف مبدل ہو چکی تھی اور جو بائبل کے حامی تھے وہ بقول پادری فنڈر اور دوسرے محقق عیسائیوں کے اس زمانہ میں نہایت درجہ بدچلن ہو چکے تھے اور زمین پاپ اور گناہ سے بھر گئی تھی اور آسمان کے نیچے بجز معصیت اور مخلوق پرستی کے اور کوئی عمل نہ تھا اس طرف آریہ ورت بھی خراب ہو چکا تھا اس کے لئے پنڈت دیانند کی گواہی ستیارتھ پرکاش میں کافی ہے اور قرآن شریف نے خود اپنے آنے کی ضرورت پیش کی ہے کہ اس زمانہ میں ہر ایک قسم کی بدچلنی اور بد اعتقادی اور بدکاری زمین کے رہنے والوں پر محیط ہو گئی تھی تو اب خدا کا خوف کر کے سوچنا چاہیئے کہ کیا باوجود جمع ہونے اتنی ضرورتوں کے پھر بھی خدا نے نہ چاہا کہ اپنے تازہ اور زندہ کلام سے

چشمہ معرفت صفحہ 255 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 286 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 274,273 پر درج ہے

صفحہ 793

(حوالہ نمبر 221)

۱۴۲

حالانکہ حضرت مسیح کی مادری بولی عبرانی تھی۔ کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ کبھی حضرت مسیح نے ایک فقرہ یونانی کا بھی کسی سے پڑھا تھا اور نہ حواریوں نے جو اُمّی محض تھے کسی مکتب میں یونانی سیکھی بلکہ وہ ہمیشہ ماہی گیروں کے کام کرتے رہے۔ اب چونکہ عیسائیوں کو یہ سخت مصیبت پیش آئی کہ کوئی عبرانی انجیل موجود نہیں صرف قریباً ساٹھ انجیلیں یونانی ہیں پھر جو باہم متناقص ہیں۔ جن میں سے یہ چار جن کی آیتیں خود بھی باہم مخالفت رکھتی ہیں۔ بلکہ ہر ایک انجیل اپنی ذات میں بھی مجموعہ تناقضات ہے۔ ان مشکلات کے لحاظ سے یونانی کو اصل زبان ٹھہرایا گیا ہے۔ لیکن یہ اس قدر بیہودہ بات ہے کہ اس کا اندازہ ہو سکتا ہے کہ ان پادری صاحبوں نے کس قدر جھوٹ اور جعل سازی پر کمر باندھی ہے حضرت مسیح کے وقت میں رُوم کی سلطنت تھی اور گورنمنٹ کی لاطینی زبان تھی۔ اور حضرت مسیح کو چونکہ گورنمنٹ سے کوئی تعلق ملازمت نہ تھا اور نہ ریاست اور جاہ طلبی کی خواہش تھی اس لئے انہوں نے لاطینی کو بھی نہیں سیکھا۔ وہ ایک مسکین اور غریب اور غریب طبع اور سادہ وضع انسان تھا۔ اُس کو وُہی بولی یاد تھی جو ناصرہ میں اپنی ماں سے سیکھی تھی یعنے عبرانی جو یہودیوں کی قومی بولی ہے اور اسی بولی میں توریت وغیرہ خدا کی کتابیں تھیں حاشیہ غرض یہ چاروں انجیلیں جو یونانی سے ترجمہ ہو کر اس ملک میں پھیلائی جاتی ہیں۔ ایک ذرہ قابل اعتبار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی پیروی میں کچھ بھی برکت نہیں۔ خدا کا جلال اُس شخص کو ہرگز نہیں ملتا جو ان انجیلوں کی پیروی کرتا ہو بلکہ یہ انجیلیں حضرت مسیح کو بدنام کر رہی ہیں۔ کیونکہ ایک طرف تو ان انجیلوں میں سچے عیسائی کی یہ علامتیں ٹھہرائی گئی ہیں کہ وہ آسمانی نشانوں کے دکھلانے پر قادر ہو ۔ اور دوسری طرف عیسائیوں کا یہ حال ہے کہ وہ ایک مُردہ حالت میں پڑے ہوئے ہیں اور ایک ذرہ آسمانی برکت ان کے ساتھ نہیں اور کوئی نشانی دکھلا نہیں سکتے ۔ اس لئے وہ علامتوں کا ذکر کرنے کے وقت ہمیشہ یہ عذر پیش کر دیتے ہیں کہ اب معجزات معلوم ہوتا ہے اُس وقت بھی عبرانی فقرہ زبان پر جاری ہوا۔ موقوف ہو گئے ہیں۔ اور وہ یہ ہے کہ ایلی ایلی لما سبقتانی ۔ منہ

تریاق القلوب صفحہ 14 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 142 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 274 پر درج ہے

صفحہ 794

(حوالہ نمبر 222)

ضمیمہ ۲۳۶ چشمہ مسیحی

مجھ کو ایک خط پہنچا ہے۔ اور وہ اپنے خط میں کتاب ینابیع الاسلام کی نسبت جو ایک عیسائی کی کتاب ہے ایک خوفناک غصہ کا اظہار کرتے ہیں۔ افسوس کہ اکثر مسلمان اپنی غفلت کی وجہ سے ہماری کتابوں کو نہیں دیکھتے۔ اور وہ برکات جو خدا تعالیٰ نے ہم پر نازل کئے یہ لوگ بالکل اس سے بے خبر ہیں۔ اور نادان مولویوں نے ہمیں کافر کافر کہنے سے ہم میں اور عام مسلمانوں میں ایک دیوار کھینچ دی ہے۔ ان لوگوں کو معلوم نہیں کہ اب وہ زمانہ جاتا رہا کہ جس میں عیسائیت کے مکر و فریب کچھ کام کر سکتے تھے۔ اور اب چھٹا ہزار آدم کی پیدائش سے آخر پر ہے جس میں خدا کے سچے سلسلہ کو فتح ہوگی۔ اور یہ سنتہ اللہ گزر چکی ہے۔ آخری جنگ ہے جس میں روشنی مظفر اور منصور ہو جائیگی۔ اور تاریکی کا خاتمہ ہے۔ اور کچھ تعجب نہ تھا کہ پادری صاحبوں کے ان بوسیدہ خیالات پر کچھ لکھا جاتا لیکن ایک شخص کے اصرار سے جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے یہ مختصر رسالہ لکھنا پڑا۔ خدا تعالیٰ اس میں برکت ڈالے اور لوگوں کی ہدایت کا موجب کرے۔ آمین ص یاد رہے کہ ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عزت کرتے ہیں اور ان کو خدا کا سچا نبی سمجھتے ہیں

کے جہاد خدا تعالیٰ نے منع کر دیئے ہیں کیونکہ ضرور تھا کہ مسیح موعود کے وقت میں اس قسم کے جہاد منع کئے جاتے یہ جنگ تو خونریزی سے بالکل پاک ہے اور صحیح بخاری میں آچکی ہے کہ اس کی نسبت یہ حدیث ہے کہ یضع الحرب ۔ منہ

فرضی نبی ہے۔ اور وہ دراصل یہودیوں کے الزام ہم نے نقل کئے ہیں۔ افسوس کہ بعض پادری صاحبان تہذیب اور شرافت سے کام نہیں لینا چاہتے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیں تو ہماری طرف سے مقابلہ میں ایسی کڑوی سچی باتیں سنتے ہیں تو عتاب کا محل ہے۔ منہ

یہ حوالہ صفحہ 274 پر درج ہے چشمہ مسیحی صفحہ 4 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 336 از مرزا قادیانی

صفحہ 795

حوالہ نمبر 223

مقدمہ ۳۳۷ چشمہ مسیحی

کہ ہم ان یہودیوں کے ان اعتراضات کے مخالف ہیں جو آجکل شائع ہوتے ہیں ۔ مگر ہمیں یہ دیکھ کر تعجب ہے کہ جس طرح یہود محض تعصب سے حضرت عیسیٰؑ کی توہین پر حملے کرتے ہیں۔ اسی رنگ کے حملے عیسائی قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کرتے ہیں۔ عیسائیوں کو مناسب نہ تھا کہ اس بدطریق میں یہودیوں کی پیروی کرتے۔ لیکن یہ قاعدہ ہے کہ جب انسان سچائی اور انصاف کے رُو سے کسی مذہب پر حملہ نہیں کر سکتا تو بہتیرے ایسے لوگ ہوتے ہیں کہ ناحق کی تہمتوں کے ذریعہ سے حملہ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ سو اسی قسم کے مطاعن شنیع لئام کے حملے ہیں۔ دنیا کی محبت سے یہ خراب عادتیں پیدا ہوتی ہیں۔ ورنہ اس زمانہ میں آسمانی دین اور آسمانی مذہب صرف اسلام ہی ہے جس کی برکات تازہ بہ تازہ موجود ہیں۔ اور یہ اسلام کے پاک چشمہ کی ہی برکت ہے کہ وہ زندہ خدا تعالیٰ تک پہنچاتا ہے۔ ورنہ وہ مصنوعی خدا جو سری نگر محلہ خانیار کشمیر میں مدفون ہے وہ کسی کی دستگیری نہیں کر سکتا۔ اب ہم پمفلٹ کے صاحب راقم کی طرف متوجہ ہو کر اپنے مختصر رسالہ کو تحریر کرتے ہیں۔ واللّٰہ الموفق

الراقم مرزا غلام احمد مسیح موعود قادیانی یکم مارچ ۱۹۰۶ء

۵

چشمہ مسیحی صفحہ 4 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 337 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 275 پر درج ہے

Back

صفحہ 796

حوالہ نمبر 224

۴۹۱

بعض مسلمان جو پادری عمادالدین وغیرہ لوگوں کی تیز اور گندی تحریروں سے اشتعال میں آچکے تھے یکدفعہ اُن کے اشتعال فرو ہو گئے۔ کیونکہ انسان کی یہ عادت ہے کہ جب سخت الفاظ کے مقابل پر اُس کا عوض دیکھ لیتا ہے تو اُس کا وہ جوش نہیں رہتا۔ باایں ہمہ میری تحریر پادریوں کے مقابل پر بہت نرم تھی گویا کچھ بھی نسبت نہ تھی۔ ہماری محسن گورنمنٹ خوب سمجھتی ہے کہ مسلمان سے یہ ہرگز نہیں ہو سکتا کہ اگر کوئی پادری ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دے۔ تو ایک مسلمان اُس کے عوض میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گالی دے کیونکہ مسلمانوں کے دلوں میں دُودھ کے ساتھ یہی اثر پہنچایا گیا ہے کہ وہ جیسا کہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتے ہیں ایسا ہی وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے محبت رکھتے ہیں۔ سو کسی مسلمان کا یہ حوصلہ ہی نہیں کہ تیز زبانی کو اس حد تک پہنچاوے۔ جس حد تک ایک متعصب عیسائی پہنچا سکتا ہے۔ اور مسلمانوں میں یہ ایک عمدہ سیرت ہے جو فخر کرنے کے لائق ہے کہ وہ تمام نبیوں کو جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے ہوچکے ہیں ایک عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور حضرت مسیح علیہ السلام سے بعض وجوہ سے ایک خاص محبت رکھتے ہیں۔ جس کی تفصیل کے لئے اس جگہ موقع نہیں سو مجھ سے پادریوں کے مقابل پر جو کچھ وقوع میں آیا یہی ہے کہ حکمت عملی سے بعض وحشی مسلمانوں کو خوش کیا گیا۔ اور میں دعوے سے کہتا ہوں کہ میں تمام مسلمانوں میں سے اوّل درجہ کا خیرخواہ گورنمنٹ انگریزی کا ہوں۔ کیونکہ مجھے تین باتوں نے خیر خواہی میں اوّل درجہ کا بنادیا ہے۔ (۱) اوّل والد مرحوم کے اثر نے۔ (۲) دوم اس گورنمنٹ عالیہ کے احسانوں نے۔ (۳) تیسرے خدا تعالیٰ کے الہام نے۔

اب میں اس گورنمنٹ محسنہ کے زیر سایہ ہر طرح سے خوش ہوں صرف ایک رنج اور درد و غم ہر وقت مجھے لاحق حال ہے جس کا استغاثہ پیش کرنے

کے

تریاق القلوب صفحہ 363 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 491 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 275 پر درج ہے

صفحہ 797

حوالہ نمبر 225

۲۷۳

ص ۱۲ رکھتا ہے۔ لیکن جیسا کہ گمان کیا گیا ہے خدا نہیں ہے۔ ہاں خدا سے واصل ہے اور ان کاملین میں سے ہے جو تھوڑے ہیں۔

اور غایت عجیب باتوں میں سے جو مجھے ملی ہیں۔ ایک یہ بھی ہے جو میں نے عین بیداری میں جو کشفی بیداری کہلاتی ہے۔ یسوع مسیح سے کئی دفعہ ملاقات کی ہے۔ اور اس سے باتیں کر کے اس کے اصل دعوےٰ اور تعلیم کا حال دریافت کیا ہے۔ یہ ایک بڑی بات ہے۔ جو توجہ کے لائق ہے۔ کہ حضرت مسیح ان باطل عقائد سے جو کفر اور تثلیث اور ابنیت سے ایسے متنفر پائے جاتے ہیں کہ گویا ایک بھاری افترا جو ان پر کیا گیا ہے وہ یہی ہے۔ یہ مکاشفہ کی شہادت بے دلیل نہیں ہے۔ بلکہ میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر کوئی طالب حق نیت کی صفائی سے ایک مدت تک میرے پاس رہے۔ اور وہ حضرت مسیح کو کشفی حالت میں دیکھنا چاہے۔ تو میری توجہ اور دعا کی برکت سے وہ ان کو دیکھ سکتا ہے ان سے باتیں بھی کر سکتا ہے [اور ان کی نسبت ان سے گواہی بھی لے سکتا ہے کیونکہ میں وہ شخص ہوں جس کی رُوح میں بروز کے طور پر یسوع مسیح کی رُوح سکونت رکھتی ہے۔ یہ ایک ایسا تحفہ ہے جو حضرت ملکہ معظمہ قیصرہ ہند و انگلستان کی خدمت عالیہ میں پیش کرنے کے لائق ہے۔]

دُنیا کے لوگ اس بات کو نہیں سمجھیں گے کیونکہ وہ آسمانی اسرار پر کم ایمان رکھتے ہیں۔ لیکن تجربہ کرنے والے ضرور اس سچائی کو پائیں گے۔ میری سچائی پر اور بھی آسمانی نشان ہیں جو ہمیشہ ظاہر ہورہے ہیں۔ اور اس ملک کے لوگ ان کو دیکھ رہے ہیں۔ اب میں اس آرزو میں ہوں کہ جو مجھے یقین بخشا گیا ہے۔ وہ دوسروں کے دلوں میں کیونکر اُتارا جائے میرا شوق مجھے بیتاب کر رہا ہے

۲۱

تحفہ قیصریہ صفحہ 21 مندرجہ روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 273 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 275 پر درج ہے

صفحہ 798

حوالہ نمبر 226 کشف الغطاء ۱۹۲

محبوب حقیقی کو ملے اور کشمیر کے خطے کو اپنے پاک نزول سے ہمیشہ کے لئے فخر بخشا۔ کیا ہی خوش قسمت ہے سرینگر اور محلہ خانیار کا حصہ جس کی خاک پاک میں اس ہدیٰ شہزادہ خدا کے مقدس نبی نے اپنا مطہر جسم ودیعت کیا۔ اور بہت سے کشمیر کے رہنے والوں کو حیات جاودانی اور حقیقی نجات سے حصہ دیا۔ ہمیشہ خدا کا جلال اس کے ساتھ ہو۔ آمین سو جیسا کہ وہ نبی شہزادہ دنیا میں غربت اور مسکینی سے آیا۔ اور غربت اور مسکینی اور حلم کا دنیا کو نمونہ دکھلایا۔ اس زمانے میں خدا نے چاہا کہ اس کے نمونے پر مجھے بھی جو امیری اور حکومت کے خاندان سے ہوں اور ظاہری طور پر بھی اس شہزادہ نبی اللہ کے حالات سے مشابہت رکھتا ہوں ان لوگوں میں کھڑا کرے جو حکومتی اخلاق سے بہت بُعد جا پڑے ہیں۔ سو اس نمونے پر میرے لئے خدا نے یہی چاہا ہے کہ میں غربت اور مسکینی سے دنیا میں رہوں ۔ خدا کے کلام میں قدیم سے وعدہ تھا کہ ایسا انسان دنیا میں پیدا ہو ۔ اسی لحاظ سے خدا نے میرا نام مسیح موعود رکھا ۔ یعنی ایک شخص جو یعنے مسیح کے اخلاق کے ساتھ ہمرنگ ہے ۔ خدا نے مسیح علیہ السلام کو رومی سلطنت کے ماتحت جگہ دی تھی اور اس سلطنت نے حق کے حق میں عمداً کوئی کسر نہیں کیا مگر یہودیوں نے جو ان کی قوم تھے بہت ستم کیا اور بڑی توہین کی اور کوشش کی کہ سلطنت کی نظر میں اس کو باغی ٹھہرا دیں ۔ مگر میں جانتا ہوں کہ ہماری یہ سلطنت جو سلطنت برطانیہ ہے خدا اس کو سلامت رکھے رومیوں کی نسبت قوانین معدلت بہت صاف اور اس کے حکام پیلاطوس سے زیادہ تر زیرکی اور فہم اور عدالت کی روشنی اپنے دل میں رکھتے ہیں اور اس سلطنت کی عدالت کی چمک رومی سلطنت کی نسبت اعلیٰ درجہ پر ہے ۔ سو خدا تعالیٰ کے فضل کا شکر ہے کہ اس نے ایسی سلطنت کے ظلِ حمایت کے نیچے مجھے رکھا ہے جس کی تحقیق کا پلہ شبہات کے پلے سے بڑھ کر ہے ۔ غرض مسیح موعود کا نام جو آسمان سے میرے لئے مقرر کیا گیا ہے اس کے معنے

۱۴

Back

کشف الغطاء صفحہ 16 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 192 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 275 پر درج ہے

صفحہ 799

حوالہ نمبر 227

کشتی نوح ۵۳ روحانی خزائن

مماثلت کا حصہ لیا ہے۔ مگر اس اُمت کا مسیح موعود کھلے کھلے طور پر خدا کے حکم اور اذن سے اسرائیلی مسیح کے مقابل پر کھڑا کیا گیا ہے۔ تاکہ موسوی اور محمدی سلسلہ کی مماثلت ہو جائے۔ اسی غرض سے اس مسیح کو ابن مریم سے ہر ایک پہلو سے تشبیہ دی گئی ہے۔ یہاں تک کہ اس ابن مریم پر ابتلاء بھی اسرائیلی ابن مریم کی طرح آئے۔ اوّل جیسا کہ عیسیٰ بن مریم محض خدا کے فضل سے پیدا کیا گیا۔ اسی طرح یہ مسیح بھی سورۃ تحریم کے وعدہ کے موافق محض خدا کے فضل سے مریم کے اندر سے پیدا کیا گیا۔ اور جیسا کہ عیسیٰ بن مریم کی پیدائش پر بہت شور اُٹھا۔ اور اندھے مخالفوں نے مریم کو کہا۔ لَقَدْ جِئْتِ شَيْئًا فَرِيًّا ۱؂ یہ کیسا بدکاری کو اُٹھایا اور شور قیامت مچایا گیا۔ اور جیسا کہ خُدا نے اسرائیلی مریم کے وضع حمل کے وقت مخالفوں کو عیسیٰ کی نسبت یہ جواب دیا وَلِنَجْعَلَهُ آيَةً لِلنَّاسِ وَرَحْمَةً مِنَّا وَكَانَ أَمْرًا مَقْضِيًّا ۲؂ یہی جواب خدا تعالیٰ نے میری نسبت براہین احمدیہ میں رُوحانی وضع حمل کے وقت جو استعارہ کے رنگ میں تھا۔ مخالفوں کو دیا۔ اور کہا کہ تم اپنے فریبوں سے اس کو نابود نہیں کر سکتے۔ میں اِس کو لوگوں کے لئے رحمت کا نشان بناؤں گا۔ اور ایسا ہونا ابتدا سے مقدر تھا۔ اور پھر جس طرح یہودیوں کے علماء نے حضرت عیسیٰ پر فتویٰ تکفیر کا لگایا اور ایک شریر فاضل یہودی نے وہ استفتاء طیار کیا۔ اور دوسرے فاضلوں نے اس پر فتویٰ دیا۔ یہاں تک کہ بیت المقدس میں صدہا عالم فاضل جو اکثر اہلحدیث تھے۔ انہوں نے حضرت عیسیٰ پر تکفیر کی مہریں لگائیں*۔ یہی معاملہ مجھ سے ہوا۔ اور پھر جیسا کہ اُس تکفیر کے بعد جو حضرت عیسیٰ

* حاشیہ ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وقت میں یہودی اگرچہ بہت فرقے تھے مگر جو حق پر سمجھے جاتے تھے وہ دو فرقے ہو گئے تھے۔ (1) ایک وہ جو توریت کے پابند تھے۔ اسی سے اجتہاد کے طور پر مسائل استنباط کرتے تھے وہی لوگ فرقہ اہلحدیث تھا جو توریت پر احادیث کو قاضی سمجھتے تھے۔ یہ اہلحدیث اسرائیلی بلاد میں بہت پھیل گئے تھے اور ایسی لایعنی حدیثوں پر عمل کرتے تھے جو اکثر توریت کی معارض اور نقیض تھیں اور انکی یہ سخت غلطی تھی بعض مسائل فروعیہ مثلاً عبادات اور معاملات اور تمدن و طہارت کے مسائل توریت سے ملتے نہیں ہیں۔ ان پر حدیثوں کی رو سے انہوں نے

۱؂ مریم : ۲۸ ۲؂ مریم : ۲۲

۵۵

کشتی نوح صفحہ 49 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 53 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 276 پر درج ہے

صفحہ 800

حوالہ نمبر 228 گورنمنٹ انگریزی اور جہاد ۱۴

سکھوں کے زمانہ کے عوض ہم کو ملی ہے یوں ہی رد کردیں ۔ اور میں اس وقت اپنی جماعت کو جو مجھے مسیح موعود مانتی ہے خاص طور پر سمجھاتا ہوں کہ وہ ہمیشہ ان ناپاک عادتوں سے پرہیز کریں ۔ مجھے خدا نے جو مسیح موعود کر کے بھیجا ہے اور حضرت مسیح بن مریم کا جامہ مجھے پہنا دیا ہے اس لئے میں نصیحت کرتا ہوں کہ شر سے پرہیز کرو اور نوع انسان کے ساتھ حق ہمدردی بجا لاؤ۔ اپنے دلوں کو بغضوں اور کینوں سے پاک کرو کہ اس عادت سے تم فرشتوں کی طرح ہو جاؤ گے۔ کیا ہی گندہ اور ناپاک وہ مذہب ہے جس میں انسان کی ہمدردی نہیں اور کیا ہی ناپاک وہ راہ ہے جو نفسانی بغض کے کانٹوں سے بھرا ہے ۔ سو تم جو میرے ساتھ ہو ایسے مت ہو ۔ تم سوچو کہ مذہب سے حاصل کیا ہے ۔ کیا یہی کہ ہر وقت مردم آزاری تمہارا شیوہ ہو ؟ نہیں بلکہ مذہب اس زندگی کے حاصل کرنے کے لئے ہے جو خدا میں ہے اور وہ زندگی نہ کسی کو حاصل ہوئی اور نہ آئندہ ہوگی بجز اس کے کہ خدائی صفات انسان کے اندر داخل ہو جائیں ۔ خدا کے لئے سب پر رحم کرو تا آسمان سے تم پر رحم ہو۔ آؤ میں تمہیں ایک ایسی راہ سکھاتا ہوں جس سے تمہارا نور تمام نوروں پر غالب رہے اور وہ یہ ہے کہ تم تمام سفلی کینوں اور حسدوں کو چھوڑ دو۔ اور ہمدرد نوع انسان ہو جاؤ اور خدا میں کھوئے جاؤ ۔ اور اس کے ساتھ اعلیٰ درجہ کی صفائی حاصل کرو کہ یہی وہ طریق ہے جس سے کرامتیں صادر ہوتی ہیں اور دعائیں قبول ہوتی ہیں اور فرشتے مدد کے لئے اترتے ہیں ۔ مگر یہ ایک دن کا کام نہیں ترقی کرو ترقی کرو۔ اس دھوبی سے سبق سیکھو جو کپڑوں کو اول بھٹی میں جوش دیتا ہے اور دیئے جاتا ہے یہاں تک کہ آگ کی تاثیریں تمام میل اور چرک کو کپڑوں سے علیحدہ کر دیتی ہیں۔ تب صبح اٹھتا ہے اور پانی پر پہنچتا ہے اور پانی میں کپڑوں کو تر کرتا ہے اور بار بار پتھروں پر مارتا ہے۔ تب وہ میل جو کپڑوں کے اندر تھی اور اُن کا جزو بن گئی تھی کچھ آگ سے صدمات اٹھا کر اور کچھ پانی میں دھوبی کے ہاتھ سے مار کھا کر یکدفعہ جدا ہونی شروع ہو جاتی ہے یہاں تک کہ کپڑے ایسے سفید ہو جاتے ہیں جیسے ابتداء میں تھے ۔ یہی انسانی نفس کے سفید ہونے

گورنمنٹ انگریزی اور جہاد صفحہ 14 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 14 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 276 پر درج ہے

صفحہ 801

حوالہ نمبر 229

ضمیمہ رسالہ جہاد ۲۶

جس حالت میں اسلامی قوموں میں سے کروڑ ہا لوگ روئے زمین پر ایسے پائے جاتے ہیں جو جہاد کا بہانہ رکھ کر خونریزیوں کو مثل کُرد و تاتار اپنا شیوہ بنا رکھا ہے۔ بلکہ بعض تو ان میں محض گوشت کے پیرو ہیں وہ کبھی پوری صفائی سے ان سے محبت نہیں کر سکتے ۔ سچی ہمدردی کو کمال تک نہیں پہنچا سکتے اور نہ نفاق اور دورنگی سے بکلی پاک ہو سکتے ہیں اس لئے حضرت مسیح کے اوتار کی سخت ضرورت تھی۔ سو میں وہی اوتار ہوں جو حضرت مسیح کی روحانی شکل اور خواص اور طبیعت پر بھیجا گیا ہوں ۔

اور دوسری قسم ظلم کی جو خالق کی نسبت ہے۔ وہ اس زمانہ کے عیسائیوں کا عقیدہ ہے جو خالق کی نسبت کمال غلو تک پہنچ گیا ہے۔ اس میں تو کچھ شک نہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا تعالیٰ کے ایک بزرگ نبی ہیں اور بلاشبہ عیسیٰ مسیح خدا کا پیارا خدا کا بر

صفحہ 802

حوالہ نمبر 230 براہین احمدیہ ۵۹۳ پہلی فصل

تمہید ہشتم ۔ جو امر خارق عادت کسی ولی سے صادر ہوتا ہے۔

۴۹۹ وہ حقیقت میں اُسی نبی کا معجزہ ہے جس کی وہ اُمت ہے اور یہ بدیہی امر بقیہ حاشیہ در حاشیہ ۴۹۹ کہ قادر مطلق کہ جس کے علم قدیم سے ایک ذرّہ مخفی نہیں اور جس کی طرف کوئی نقصان اور خرابی راہ نہیں پاسکتا۔ اور جو ہر یک قسم کے جہل اور آلودگی اور ناتوانی اور غم اور حزن اور درد اور رنج اور گرفتاری سے پاک ہے وہ کیوں کر اُس چیز کا عین ہو سکتا ہے کہ جو ہر روز نقص کا نیا چولہ پہنا کرتی ہے۔ پھر بعد اسکے فرمایا۔ اِنَّا اَنْزَلْنَاهُ قَرِيبًا مِّنَ الْقَادِيَانِ۔ وَبِالْحَقِّ اَنْزَلْنَاهُ وَبِالْحَقِّ نَزَلَ ۔ صَدَقَ اللهُ وَرَسُوْلُهُ وَكَانَ اَمْرُ اللهِ مَفْعُولاً ۔ یعنے ہم نے ان نشانوں اور عجائبات کو اور نیز اس الہام پُر معارف و حقائق کو قادیان کے قریب اُتارا ہے اور ضرورت حقہ کے ساتھ اُتارا ہے اور بضرورت حقہ اُترا ہے۔ خدا اور اُسکے رسول نے خبر دی تھی کہ جو اپنے وقت پر پوری ہوئی اور جو کچھ خدا نے چاہا تھا وہ ہونا ہی تھا۔ یہ آخری فقرات اِس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس شخص کے ظہور کیلئے درج حاشیہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حدیث متذکرہ بالا میں اشارہ فرما چکے ہیں اور خدا نے قرآن میں اپنے کلامِ مقدّس میں اشارہ فرمایا ہے چنانچہ یہ عاجز حصہ سوم کے الہامات میں درج کر چکا ہے اور قرآنی اشارہ اس آیت میں ہے هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ لے ۔ یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیشگوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دینِ اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ۴۹۹ ظہور میں آئے گا۔ اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اِس دُنیا میں تشریف لائیں گے تو اُن کے ہاتھ سے دینِ اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔ لیکن اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ خاکسار اپنی غربت اور انکسار اور توکل اور ایثار اور آیات اور انوار کے رُو سے مسیح کی پہلی زندگی کا نمونہ ہے اور اِس عاجز کی فطرت اور مسیح کی فطرت باہم نہایت ہی متشابہ واقع ہوئی ہے گویا ایک ہی جوہر کے دو ٹکڑے یا ایک ہی درخت کے دو پھل ہیں اور بیحد اتحاد ہے کہ نظر کشفی میں نہایت ہی باریک امتیاز ہے اور نیز ظاہر کیا گیا ہے

لے الصف : ۱۰

براہین احمدیہ جلد 4 صفحہ 499 مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 593 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 276 پر درج ہے

صفحہ 803

حوالہ نمبر 231

۲۵۱

پر لعنت اللہ اس نے خدا کی اس ٹھٹھول پر ہنسی کی ہے جو اس نے اپنے مخالفوں کے لئے کی ہے کہ میرے مخالف ہلاک ہو جائیں گے غیور نبی حضرت یونس کے لئے بے پناہ اور پُرشوکت الفاظ میں لکھا ہے کہ :

"کل مسلمانوں کو ہلاک کرنے کی کوئی ضرورت نہیں اور علاوہ ازیں یہ امر مشکوک ہو سکتا ہے اس کو یہ لکھ دینا بھی عبث ہے کہ مسلمان ہلاک تو ہو ہی جائیں گے مگر پچاس یا ساٹھ سال کے بعد۔ اور وہ خود اس عرصہ میں ہلاک ہو جائے گا۔ پھر کون اس سے پوچھنے والا ہو گا، اس لیے بہتر ہے کہ سارے مسلمانوں کو چھوڑ کر کٹر عقائد میں پختہ اور سچے عیسائیوں کے خود ساختہ خدا کی نسبت تمام مسلمانوں سے زیادہ عداوت اور نفرت رکھتا ہوں یہاں تک کہ اگر کل مسلمانوں کی قوت عیسائیوں کے خدا کی قسم ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دی جاوے اور میری قوت ایک طرف تو میرا پلڑا اس سے بھاری ہو گا۔ اور میں اپنے نفس کو جو عیسیٰ پرست سے نکل کر خدا ہونے کا دعویٰ کرے بہت ہی بڑا گنہگار اور ناپاک انسان سمجھتا ہوں ، مگر ہاں میری یہ غیرت ہے کہ میری ماں مریم بتول اس الزام سے پاک ہے۔ اس نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا، میں اسے اپنا ایک بھائی سمجھتا ہوں ، اگر چہ خدا تعالیٰ کا فضل مجھ پر اس سے بہت زیادہ ہے۔ اور وہ کام جو میرے سپرد کیا گیا ہے، اس کے کام سے بہت ہی بڑھ کر ہے، تاہم میں اس کو اپنا ایک بھائی سمجھتا ہوں اور میں نے اسے بارہا دیکھا ہے۔ ایک بار میں نے اور مسیح نے ایک ہی پیالہ میں گائے کا گوشت کھایا تھا۔ اس لیے میں اور وہ ایک ہی جوہر کے دو ٹکڑے ہیں۔

غرض اس طرح پر حضرت مسیح موعود نے ان الفاظ پُرشوکت میں جو تمام جماعت مسیحیہ اور خدا تعالیٰ کے ہاں مقبول اور مسلمانوں کے برخلاف حضرت مسیح موعود کے شایاں حال ہیں توریہ یا نصیحت اور تبلیغ کے طور پر ذکر فرمایا اور یہ ثابت کیا کہ

" میں خدا سے ہوں اور مسیح مجھ سے ہے"

ان امور کے پیش کرنے کے بعد آپ نے پھر ایک اور تحدی کے ساتھ اس کو مقابلہ کے لیے دعوت دی ہے کہ

اگر وہ سچا ہے تو اُسے چاہیے کہ مقابلہ کے لیے نکلے اور یہ دعا کرے کہ

ہم دونوں میں سے جو کاذب ہے وہ صادق کے سامنے ہلاک ہو

یہ خلاصہ ہے اس تحریر کا جو ہم نے اپنے طور پر لکھا ہے اصل چٹھی نومبر کے اخیر تک انشاء اللہ شائع ہو سکے گی۔

مکتوبات جلد دوم صفحہ 251، طبع جدید، از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 276، 277 پر درج ہے

صفحہ 804

حوالہ نمبر 232 بقیہ حاشیہ ۵۰ کشتی نوح

کیا جائے کہ تو ہی کیوں ابن مریم کہا جائے۔ اور کیا آج سے بیس بائیس برس پہلے بلکہ اس سے بھی زیادہ میری طرف سے یہ منصوبہ ہو سکتا تھا کہ میں اپنی طرف سے الہام تراش کر اول اپنا نام مریم رکھتا اور پھر آگے چل کر افتراء کے طور پر یہ الہام بناتا کہ پہلے زمانہ کی مریم کی طرح مجھ میں بھی عیسیٰ کی روح پھونکی گئی اور پھر آخر کار صفحہ ۵۵۶ براہین احمدیہ میں یہ لکھ دوں کہ اب میں مریم نہیں عیسیٰ بن گیا اے صوفیو غور کرو اور خدا سے ڈرو۔ ہرگز انسان کا فعل نہیں یہ باریک اور دقیق حکمتیں انسان کے فہم اور قیاس سے بالاتر ہیں ۔ مگر براہین احمدیہ کی تالیف کے وقت جس پر ایک زمانہ گزر گیا مجھے اس منصب کا خیال ہوتا تو میں اُسی براہین احمدیہ میں یہ کیوں لکھتا کہ عیسیٰ مسیح ابن مریم آسمان سے دوبارہ آئے گا۔ سو چونکہ خدا جانتا تھا کہ اس نکتہ پر علم ہونے سے یہ دلیل ضعیف ہو جائیگی ۔ اسلئے گو اُس نے براہین احمدیہ کے تیسرے حصہ میں میرا نام مریم رکھا ۔ پھر جیسا کہ براہین احمدیہ سے ظاہر ہے دو برس تک صفت مریمیت میں میں نے پرورش پائی اور پردہ میں نشو و نما پاتا رہا ۔ پھر جب اس پر دو برس گزر گئے تو جیسا کہ براہین احمدیہ کے حصہ چہارم صفحہ ۴۹۶ میں درج ہے مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینہ کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں بذریعہ اس الہام کے جو سب سے آخر براہین احمدیہ کے حصہ چہارم صفحہ ۵۵۶ میں درج ہے مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ پس اس طرح سے میں ابن مریم ٹھہرا۔ اور خدا نے براہین احمدیہ کے وقت میں اس بھید مخفی کی مجھے خبر نہ دی۔ حالانکہ وہ سب خدا کی وحی جو اس راز پر مشتمل تھی میرے پر نازل ہوئی اور براہین میں درج ہوئی ۔ مگر مجھے اسکے معنوں پر اطلاع نہ دی گئی ۔ اسی واسطے میں نے مسلمانوں کا رسمی عقیدہ براہین احمدیہ میں لکھ دیا ۔ تا میری سادگی اور عدم بناوٹ پر وہ گواہ ہو۔ وہ میرا لکھنا جو الہامی نہ تھا محض رسمی تھا ۔ مخالفوں کے لئے قابل استناد نہیں ۔ کیونکہ مجھے خود بخود غیب کا دعویٰ نہیں جب تک کہ خود خدا تعالیٰ مجھے نہ سمجھا دے ۔ سو اُس وقت تک حکمت الٰہی کا یہی

کشتی نوح صفحہ 52 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 50 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 277 پر درج ہے

صفحہ 805

ازالہ اوہام ۲۲۰ حوالہ نمبر 233 حصہ اوّل

قتل کردیں اور بھی ایک خدمت تھی جو اُن کے سپرد کی گئی تھی۔ اس سوال کا جواب ہم بخوبی اس حدیث کے اندر کسی طور سے دے نہیں سکتے کہ آخری زمانہ میں دجال معہود کا آنا سراسر غلط ہے۔ اب حاصل کلام یہ ہے کہ وہ قطعی حدیث جو امام مسلم نے پیش کی ہے خود مسلم کی دوسری حدیث سے ساقط الاعتبار ٹھہرتی ہے اور صریح ثابت ہوتا ہے کہ نواس راوی نے اُس حدیث کے بیان کرنے میں دھوکہ کھایا ہے یہ فرض صاحب مسلم کے سر پر تھا کہ وہ اپنی ذکر کردہ حدیث کا تعارض اپنی قلم سے دفع کرتے مگر انہوں نے ایسے تعارض کا ذکر تک نہیں کیا تو اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ محمد بن المُنکدر کی حدیث کو نہایت قطعی اور 19 یقینی اور صاف اور صریح سمجھتے تھے اور نواس بن سمعان کی حدیث کو از قبیل استعارات وکنایات خیال کرتے تھے اور اُس کی حقیقت حوالہ بخدا کرتے تھے۔

غرض یہ روایتیں بوجوہ محکم یہ بتاتی ہیں کہ ہر ایک آدمی کہہ سکتا ہے کہ کسی صدر اوّل کے لوگوں نے دجال معہود کے بارہ میں ہرگز اس بات پر اتفاق نہیں کیا کہ وہ آخری زمانہ میں آئے گا اور مسیح ابن مریم خود آسمان سے اُتر کر اس کو قتل کرے گا بلکہ وہ تو ابن صیاد کو ہی دجال معہود سمجھتے رہے اور یہ بات خود ظاہر ہے کہ جب انہوں نے ابن صیاد کو دجال معہود یقین کیا اور پھر یہ بھی اپنی زندگی میں دیکھ لیا کہ وہ مشرف باسلام ہو گیا اور پھر یہ بھی دیکھ لیا کہ وہ مدینہ منورہ میں فوت بھی ہو گیا اور مسلمانوں نے اس کے جنازہ کی نماز پڑھی پھر ایسی صورت میں اُن بزرگوں کا اس بات پر کیونکر ایمان یا اعتقاد ہو سکتا تھا کہ مسیح ابن مریم آخری زمانہ میں دجال معہود کے قتل کرنے کے لئے آسمان سے اتریں گے کیونکہ وہ بزرگ لوگ تو پہلے ہی دجال معہود کا فوت ہو جانا تسلیم کر چکے تھے پھر اس اعتقاد کے ساتھ یہ دوسرا اعتقاد کیونکر جمع ہو سکتا ہے کہ ایک تو مسیح ابن مریم کے ہاتھ 20 سے ایک اور دجال معہود کے قتل کرنے کی انتظار کی جاتی تھی یہ تو صریح اجتماع ضدین ہے اور کوئی دانشمند اور قائم الحواس آدمی ایسے دو متضاد اعتقاد ہرگز نہیں رکھ سکتا۔

ازالہ اوہام صفحہ 239 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 220 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 277 پر درج ہے

صفحہ 806

حوالہ نمبر 234 ۱۴۴

کے ننگ دین ہیں۔ اس لئے اُنہوں نے جان بوجھ کر اپنے اشعار میں اپنی طرف سے اشعار ملا دیئے ہیں جس سے یہ نتیجہ ہوا کہ ان اشعار میں تناقض پیدا ہو گیا۔ مگر صاف ظاہر ہے کہ کسی سچے یار اور عقلمند اور صاف دل انسان کے کلام میں ہرگز تناقض نہیں ہوتا۔ ہاں اگر کوئی پاگل اور مجنوں یا ایسا منافق ہو کہ خوشامد کے طور پر ہاں میں ہاں ملا دیتا ہو۔ اُس کا کلام بے شک متناقض ہو جاتا ہے۔ رہا یہ فیصلہ کہ ہم کیونکر ان تمام اشعار میں سے کھرے کھوٹے میں فرق کر سکیں اور کیونکر سمجھیں کہ ان میں سے یہ یہ اشعار باوا صاحب کے مُنہ سے نکلے ہیں اور یہ یہ اشعار جو ان پہلے شعروں کی نقیض پڑے ہیں وہ کسی اور نے باوا صاحب کی طرف منسوب کر دیئے ہیں۔ تو واضح رہے کہ یہ فیصلہ بہت آسان ہے۔ چنانچہ طریق فیصلہ یہ ہے کہ ان تمام دلائل پر غور اور انصاف سے نظر ڈالی جاوے جو باوا صاحب کے مسلمان ہو جانے پر ناطق ہیں سو بعد غور اگر یہ ثابت ہو کہ وہ دلائل صحیح نہیں ہیں اور دراصل باوا صاحب ہندو ہی تھے اور وید کو مانتے تھے۔ اور اپنی عملی صورت میں اُنہوں نے اپنا اسلام ظاہر نہیں کیا بلکہ اسلام کی عداوت ظاہر کی تو اس صورت میں ہمیں اقرار کرنا پڑے گا کہ جو کچھ باوا صاحب کی نسبت مسلمانوں کا یہ پرانا خیال چلا آتا ہے کہ درحقیقت وہ مسلمان ہی تھے اور پانچ وقت نماز بھی پڑھتے تھے اور حج بھی کیا تھا یہ خیال صحیح نہیں ہے۔ اور اس صورت میں وہ تمام اشعار الحاقی مانے جائیں گے جو باوا صاحب کے اسلام پر دلالت بقیہ حاشیہ پس یہ فیصلہ کر لینا چاہئے کہ آواگون کے ہونے اور نہ ہونے کے پہلو یکساں ہیں اور ماننا پڑے گا۔ چہ جائیکہ یاد رہے کہ صوفی لوگ اسی زندگی میں ایک قسم کے آوا گون کے قائل ہیں۔ اور بعضے ان کو بروز کا نام دیتے ہیں اور نیز کہتے ہیں کہ انسان جب تک کمال تک نہیں پہنچتا وہ طرح طرح کے حیوانوں سے مشابہ ہوتا ہے کبھی خنزیر کی خصلت کبھی کتے کی سرشت میں دیکھتے ہیں اور پھر دوسرے وقت میں بلی کی صورت پر اس کو پاتے ہیں ایسا ہی صوفیاء میں بھی یہ بات مانی گئی ہے اور مدت کے بعد انسان بنتا ہے تب جنموں کی لڑی ٹوٹتی ہے۔ پس کیا تعجب کہ باوا صاحب کی بھی یہی مراد ہو ورنہ کوئی کہہ سکتا ہے کہ باوا صاحب بھی ہندؤوں میں

ست بچن صفحہ 30 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 142 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 278 پر درج ہے

صفحہ 807

ضمیمہ براہین احمدیہ ۲۷۵ حوالہ نمبر 235 حصہ پنجم

کہ یہ درحقیقت میرے ہی قلم سے نکلی ہے۔ چنانچہ وہ عبارت جو آپ نے محض جعلسازی سے میری طرف منسوب کر دی ہے وہ یہ ہے ۔ " براہین احمدیہ کی پیشگوئی سے مجھے یہ بات صفائی سے خدا کی طرف سے یہ خبر مل چکی تھی کہ اس سے زلزلہ مراد ہے، پر میں نے قوم کی بدگمانی اور ہنسی کے خوف سے اُس کو چھپایا اور عربی کا ترجمہ اردو میں کر کے شائع نہ کیا ۔ اور میں اس فعل سے خدا کے گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوا ۔ اور پچیس برس تک اسی گناہ پر قائم اور مصر رہا ۔" اے مفتری بھلے مانس ! کیا اب بھی ہم نہ کہیں کہ جھوٹے پر خدا کی لعنت جس نے ایسی عبارت بنا کر میری طرف منسوب کر دی ۔ اے سخت دل ظالم ! مجھے مولوی کہلا کر شرم نہ آئی کہ تو نے ناحق اس قدر میرے پر جھوٹ بولا ۔ کیا تو دکھلا سکتا ہے کہ میرے اشتہار ۲۹؍ مئی ۱۹۰۵ء میں یا کسی اور اشتہار میں یا کسی رسالہ میں یہ عبارت موجود ہے جو تو نے لکھی : لعنة الله على الكاذبين ۔

اسجگہ ان لوگوں کو متنبہ رہنا چاہیئے کہ جو ایسے لوگوں کو مولوی اور دیانتدار سمجھ کر اُن کے قول پر عمل کرنے کو تیار ہوتے ہیں۔ یہ حال ہے ان لوگوں کی دیانت کا اور جھوٹے کے کلام میں تناقض ضرور ہوتا ہے۔ اس لئے مولوی صاحب موصوف کا یہ بیان بھی تناقض سے بھرا ہوا ہے۔ چنانچہ وہ اخبار مذکور کے صفحہ پانچ کالم تیسرے میں پندرہویں سطر و چوبیسویں سطر میں میرے اشتہار کی عبارت یہ لکھتے ہیں کہ " میں نے براہین احمدیہ میں اس زلزلہ کی خبر دی تھی اور اگرچہ اس وقت اس خارق عادت بات کی طرف ذہن منتقل نہ ہو سکا۔ لیکن اب ان پیشگوئیوں پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آئندہ آنیوالے زلزلہ کی نسبت تھیں جو اُس وقت نظر سے مخفی رہ گئیں۔"

اب ناظرین خود دیکھ لیں کہ اس عبارت مذکورہ بالا کا یہی مطلب ہے کہ اُسی زمانہ میں کہ جب براہین احمدیہ کے لکھنے کا زمانہ تھا ذہن اس طرف منتقل نہ ہو سکا کہ زلزلہ سے مراد درحقیقت زلزلہ ہے اور یہ امر اُسوقت نظر سے مخفی رہا اور اب پچیس برس

یہ حوالہ صفحہ 278 پر درج ہے براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 111 مطبوعہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 275 از مرزا قادیانی

صفحہ 808

حوالہ نمبر 236 ۲۴۰ آپ کے سر پر زری کا کلاہ تھا۔ اور نیچے دونوں قدموں تک زری دار لنگی تھی۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت خلیفہ اول کا دوسرا نکاح خود پیر صاحب کی ہمشیرہ سے ہوا تھا۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ عام طور پر حضرت صاحب کے سر پر سفید ململ کی پگڑی ہوتی تھی جس کے اندر نرم رومی ٹوپی ہوا کرتی تھی۔

۸۰۱ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ مولوی محمد ابراہیم صاحب بقاپوری نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا۔ ایک دفعہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ کی اللہ تعالیٰ نے صدیقہ کے لفظ سے تعریف فرمائی ہے۔ اس پر حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے اس جگہ حضرت عیسیٰ کی الوہیت توڑنے کے لئے ماں کا ذکر کیا ہے اور صدیقہ کا لفظ اس جگہ اس طرح آیا ہے جس طرح ہماری زبان میں کہتے ہیں بھلی مانس تینوں سلام آکھناں واں جس سے غصہ کا اظہار کرنا ہوتا ہے۔ ذکر مقام کہتا ہے اس طرح اس آیت میں اصل مقصود حضرت مسیح کی والدہ ثابت کرنا ہے جو منافی الوہیت ہے نہ کہ مریم کی حقیقت کا اظہار۔

خاکسار عرض کرتا ہے کہ پنجابی کا محاورہ ”بھلی مانس تینوں سلام“ ہے اس لئے شاید ابراہیم صاحب کو الفاظ کے متعلق کچھ سہو ہو گیا ہے۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کو یہ منشا نہیں تھا کہ نعوذ باللہ حضرت مریم صدیقہ نہیں تھیں بلکہ غرض یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ کی والدہ کے ذکر سے خدا تعالیٰ کی اصل غرض یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ کو انسان ثابت کرے۔

۸۰۲ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ مولوی محمد ابراہیم صاحب بقاپوری نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ ایام جلسہ میں نماز جمعہ کے لئے مسجد اقصیٰ میں تمام لوگ جمع ہو گئے تھے۔ کہ کچھ لوگ جن میں خواجہ کمال الدین صاحب بھی تھے۔ ان کوٹھوں پر (جو اب مسجد میں شامل ہوگئے ہیں اور پہلے ہندوؤں کے گھر تھے) نماز ادا کرنے کے لئے چڑھ گئے۔ اس پر ایک ہندو مالک مکان نے گالیاں دینا شروع کر دیں کہ تم لوگ یہاں شور مچانے کے لئے آجاتے ہو اور میرا مکان گرانے لگے ہو غرضیکہ کافی عرصہ تک بدزبانی کرتا رہا۔ نماز سے سلام پھیرتے ہی حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ چھتوں سے نیچے آجائیں۔ چنانچہ سب دوست آگئے اور بعد میں صفیں درست ہو گئیں۔

سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 220 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 289 پر درج ہے

صفحہ 809

تقویۃ الایمان ١٨ حوالہ نمبر 237 کشتی نوح

شخص جو مجھے کہتا ہے کہ میں مسیح ہوں مریم کی قوت نہیں کہ وہ ایک مسیح تو پیدا کر دے مگر خدا تو بھائیوں کی بھی عزت کرتا ہے اور ایک ہی پیٹ میں جگہ دیتے ہیں۔ نہ صرف یہی قدر بلکہ یہ تو حضرت مسیح کی وہ خلق تھی کہ عیسائی مشنریوں کو بھی اسقدر حصہ ملا ہے لیکن سب رنگ میری تحقیر کے برت رہے ہیں۔ اور مریم کی وہ شان ہے جس نے ایک مدت تک اپنے تئیں نکاح سے روکا ۔ پھر بزرگوں قوم کے نہایت اصرار سے بوجہ حمل کے نکاح کر لیا ۔ گو لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ برخلاف تعلیم توریت میں حمل میں کیونکر نکاح کیا گیا ۔ اور بتول ہونے کے عہد کو کیوں ناحق توڑا گیا اور تعدد ازواج کی کیوں بنیاد ڈالی گئی ۔ یعنی باوجود یوسف نجار کی پہلی بیوی کے ہونے کے پھر مریم کیوں راضی ہوئی کہ یوسف نجار کے نکاح میں آوے ۔ گو میں کہتا ہوں کہ یہ سب مجبوریاں تھیں جو پیش آگئیں ۔ اس صورت میں وہ لوگ قابل رحم تھے نہ قابل اعتراض *

۱۷ ان سب باتوں کو اور میری کتابوں کو پڑھ کر یہ خیال نہ کرو کہ ہم نے ظاہری طور پر بیعت کرلی ہے ۔ ظاہر کچھ چیز نہیں۔ خدا تمہارے دلوں کو دیکھتا ہے اور اسی کے موافق تم سے معاملہ کریگا۔ دیکھو میں یہ کہہ کر فرض تبلیغ سے سبکدوش ہوتا ہوں کہ گناہ ایک زہر ہے اس کو مت کھاؤ۔ خدا کی نافرمانی ایک گندی موت ہے اس سے بچو ۔ دُعا کرو تا تم میں طاقت ملے ۔ جو شخص دعا کے وقت خدا کو ہر ایک بات پر قادر نہیں سمجھتا بجز وعدہ کی مستثنیات کے وہ میری جماعت میں نہیں ہے۔ جو شخص جھوٹ اور فریب کو نہیں چھوڑتا وہ میری جماعت میں سے نہیں۔ جو شخص دنیا کے لالچ میں پھنسا ہوا ہے اور آخرت کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھتا وہ میری جماعت میں نہیں ہے۔ جو شخص درحقیقت دین کو دُنیا پر مقدم نہیں رکھتا وہ میری جماعت میں سے نہیں۔ جو شخص بُرے طور پر ہر ایک بدی سے اور ہر ایک بدعملی سے یعنی شراب سے اور قمار بازی سے ۔ بدنظری سے

* حاشیہ ۔ یسوع کے چار بھائی اور دو بہنیں تھیں۔ یہ سب یسوع کے حقیقی بھائی اور حقیقی بہنیں تھیں یعنی سب یوسف اور مریم کی اولاد تھی۔ چار بھائیوں کے نام یہ ہیں ۔ یہودہ ۔ یعقوب ۔ شمعون ۔ یوسیس ۔ اور دو بہنوں کے نام یہ تھے آسیا ۔ لیڈیا ۔ دیکھو کتب تاریخ طبع کلودیوس مندرجہ حواشی بائبل مطبوعہ لندن سنہ ۱۸۹۹ء * منه

کشتی نوح صفحہ 20 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 18 (حاشیہ) از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 289 پر درج ہے

صفحہ 810

(حوالہ نمبر 238) بقیہ حاشیہ ۱۸ کشتی نوح 1

وہ شخص جو مجھے کہتا ہے کہ میں مسیح ہوں ہرگز سچا نہیں کیونکہ بلکہ مسیح تو مسیح میں تو اسکے چاروں بھائیوں کی بھی عزت کرتا ہوں کیونکہ پاکیزہ ماں کے بیٹے ہیں۔ نہ صرف اسی قدر بلکہ میں تو حضرت مسیح کی دونوں حقیقی ہمشیروں کو بھی مقدسہ سمجھتا ہوں کیونکہ یہ سب بزرگ مریم بتول کے پیٹ سے ہیں۔ اور مریم کی وہ شان ہے جسنے ایک مدت تک اپنے تئیں نکاح سے روکا۔ پھر بزرگان قوم کے نہایت اصرار سے بوجہ حمل کے نکاح کر لیا۔ گو لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ بر خلاف تعلیم توریت عین حمل میں کیونکر نکاح کیا گیا اور بتول بننے کے عہد کو کیوں ناحق توڑا گیا اور تعدد ازواج کی کیوں بنیاد ڈالی گئی یعنی باوجود یوسف نجار کی پہلی بیوی کے ہونے کے پھر مریم کیوں اسکی بیوی ہو کر یوسف نجار کے نکاح میں آئے۔ مگر میں کہتا ہوں کہ یہ سب مجبوریاں تھیں جو پیش آگئیں۔ اس صورت میں وہ لوگ قابل رحم تھے نہ قابل اعتراض*

ان سب باتوں کے بعد میں کہتا ہوں کہ بیعت تمثیل کو دیکھو ہم نے ظاہری طور پر بیعت کر لی پر ظاہر کچھ چیز نہیں ۔ خدا تمہارے دلوں کو دیکھتا ہے اور اسی کے موافق تم سے معاملہ کریگا۔ دیکھو میں یہ کہہ کر فرض تبلیغ سے سبکدوش ہوتا ہوں کہ گناہ ایک زہر ہے اس کو مت کھائو۔ خدا کی نافرمانی ایک گندی موت ہے اس سے بچو۔ دعا کرو تا تمہیں طاقت ملے جو شخص دعا کے وقت خدا کو ہر ایک بات پر قادر نہیں سمجھتا بجز وعدہ کی استثناء کے وہ میری جماعت میں سے نہیں۔ جو شخص جھوٹ اور فریب کو نہیں چھوڑتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ جو شخص دنیا کے لالچ میں پھنسا ہوا ہے اور آخرت کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ جو شخص درحقیقت دین کو دنیا پر مقدم نہیں رکھتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ جو شخص ایسے طور پر ہر ایک بدی سے اور ہر ایک بدعملی سے یعنی شراب سے اور قمار بازی سے، بد نظری سے

*حاشیہ:- یسوع مسیح کے چار بھائی اور دو بہنیں تھیں۔ یہ سب یسوع کے حقیقی بھائی اور حقیقی بہنیں تھیں یعنی سب یوسف اور مریم کی اولاد تھی۔ چار بھائیوں کے نام یہ ہیں۔ یعقوب۔ یوسیس۔ شمعون۔ یہودا۔ اور دو بہنوں کے نام یہ تھے آسیہ۔ لیدیا۔ دیکھو کتاب پادریوں کا مکر و فریب مصنفہ پادری علین فلپائر مطبوعہ لندن ۱۸۶۴ء صفحہ ۲۱

یہ حوالہ صفحہ 290 پر درج ہے | کشتی نوح صفحہ 16 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 18 از مرزا قادیانی

صفحہ 811

(حوالہ نمبر 239)

ایام الصلح ۲۰۰ ۱؎ یہ لوگ اصاغل یہود ہی ہیں ۔ اور برنیر صاحب اپنی کتاب وقائع عالمگیر میں یہ بھی ثابت کرتے ہیں کہ افغانوں کے نام ایوب ۔ داؤد ۔ یحییٰ ۔ وغیرہ رکھتے تھے دکھاتا ۔ ۲؎ تیسرا قرینہ ان کا یہ ہے کہ افغانوں کی شکلیں یہودیوں سے بہت ملتی ہیں ۔ گو ایک جماعت عیسائیوں کی ایک افغان کی یہود سے موازنہ کی جائے تو قیاس کرتے ہیں کہ ان کا وہ چہرہ اور ان کا اونچا ناک اور چہرہ یہود ہی سے باہم مشابہ معلوم ہوگا کہ خود دل بول اٹھے گا کہ یہ لوگ ایک ہی خاندان میں سے ہیں ۔ ۳؎ چوتھا قرینہ افغانوں کی پوشاک بھی ہے۔ افغانوں کے لمبے کرتے اور کھلے پاجامے و طیلسان اور پیرہن اور اسی وضع کا ہے جس کا انجیل میں بھی ذکر ہے ۔ ۴؎ پانچواں قرینہ ان کے وہ رسوم ہیں جو یہودیوں سے بہت ملتے ہیں ۔ مثلاً ان کے بعض قبائل ناتہ اور شادیوں میں کچھ عوض لڑکیوں کا نہیں لیتے اور یہ رسم ہے کہ منسوب بہ یہود لڑکوں کا ختنہ بھی کراتے ہیں حالانکہ یہ سنت صرف یہود کی ہے پس یہ قیاس ہو سکتا ہے کہ انکا نسب یہود کے ساتھ ملتا ہے کیونکہ اس امر میں باہم انکی مشابہت ہے ۔ کہ نیز بعض سرحدی قبائل میں یہ عادت مروج ہے کہ انکے ہاں ایام حیض میں عورتیں علیحدہ رہتی ہیں ۔ حتی کہ بعض اوقات نکاح سے پہلے بھی یہ جانچتے ہیں کہ لڑکی اپنے ایام حیض دیکھ لے اور بالغ ہو جاوے ۔ یعنی کہ کم از کم پندرہ برس کی ہو ۔ گو یہ ایک امر ایسا ہے جو کہ یہودیوں میں بھی پایا جاتا ہے ۔ کہ وہ اپنی لڑکیوں کو چھوٹی عمر میں بیاہ دیتے ہیں ۔ مگر یہ امر بھی ان کی تواریخ میں ہے کہ اب بھی بہت سے یہودی ایسے ہیں کہ اسی لئے باب ۳۶ پیدائش کی تعمیل کو ناگزیر سمجھتے ہیں ۔ اور وہ بھی اسرائیل میں سے تھا ۔ جس سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنی قوم کی لڑکیوں سے ہی شادیاں کرتے ہیں ۔ یہ بھی ایک بڑا بھاری ثبوت ہے کہ افغانوں کے مسلمان ہونے کے باوجود کئی سو سال گزر گئے اور وہ قیس کی اولاد میں سے ہیں ۔ مگر اب تک وہ سوائے اپنے طائفہ کے کسی اجنبی قوم کی یعنی ایک ایسی قوم کے مرد عورتوں سے جن کا تعلق ان کے مذہب سے بالکل جدا ہو اور اجنبی ہوں شادی کرنا برا جانتے ہیں ۔ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ یہ انکا اعتقاد انہوں نے اپنے باپوں سے سنا تھا کہ جس کی بابت یہ حدیث آتی ہے یعنی لعنت ان ہی کی جماعت پر ہے ۔ " اور تم سے نفرت پیدا ہوا اور تمہی سے سفاکی پیدا ہوا اور ملال سے چھوٹے " ساتواں قرینہ افغانی عادتیں ہیں ۔ جیسا کہ یہود اخلاق کی رو سے بخیل اور کینہ ور مزاج اور خود غرض اور آدم کشی کے عادی اور بے رحم اور بے جذبات نفسانی اور خونی خیالات اور جاہل اور بے شعور ہونا مشاہدہ ہو رہا ہے ۔ یہ تمام صفات وہی ہیں جو توریت اور دوسرے صحیفوں میں اسرائیلی قوم کی لکھی گئی ہیں ۔ اور اگر قرین انصاف کریں کہ بنی اسرائیل کی صفات اور عادات اور اخلاق اور افعال پر غور شروع کرو تو ایسا معلوم ہوگا کہ گویا ہو بہو افغانوں کی اخلاقی حالتیں بیان ہو رہی ہیں ۔ اور یہ رائے صرف ہماری نہیں ہے بلکہ اکثر مورخوں نے بھی یہی خیال کیا ہے ۔ برنیر نے یہاں یہ لکھا ہے کہ کشمیریوں کی شکلیں بھی در اصل بنی اسرائیل ہیں ۔ اس نے انکو افغانوں کا ہم طائفہ قرار دیا ہے ۔ اور ان تمام باتوں کو جن میں افغانوں سے مشارکہ ہے پیش کیا ہے ، جن کا اب اس زمانہ میں پتہ لگتا ہے کہ وہ حقیقت سے کچھ بہت الگ ہو گئے ۷۲

ایام الصلح صفحہ 74 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 300 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 290 پر درج ہے

Back

صفحہ 812

حوالہ نمبر 240 ۳۵۵ چشمہ مسیحی

تو یہ اکثر تفرقہ میں نہ پڑتے ۔ خدا تو تمہیں یہ ترغیب دیتا ہے کہ تم اس رسول کی کامل پیروی کی برکت سے تمام رسولوں کے متفرق کمالات اپنے اندر جمع کر سکتے ہو ۔ اور تم صرف ایک نبی کے کمالات حاصل کرنا کفر جانتے ہو ۔

غرض آپ پر لازم ہے کہ اس راہ کی طرف توجہ کرو ۔ کیونکہ ایک سچا مذہب جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے ہمیشہ شناخت ہو سکتا ہے۔ پس یہ بدیہی ہے کہ وہی سچا مذہب ہے جس کے ذریعہ سے خدا کا پتہ ملتا ہے۔ دوسرے مذاہب میں صرف انسانی کوششیں پیش کی جاتی ہیں۔ گویا انسانی خدا پر احسان ہے جو اس نے اس کا پتہ دیا۔ مگر خود خدا تعالیٰ ہر ایک زمانہ میں اپنی اَنَا الْمَوْجُوْدُ کی آواز سے اپنی ہستی کا پتہ دیتا ہے۔ جیسا کہ اس زمانہ میں بھی وہ مجھ پر ظاہر ہوا۔ پس اس رسول پر ہزاروں سلام اور برکات جس کے ذریعہ ہم نے خدا کو شناخت کیا۔

الغرض میں بغایت افسوس سے لکھتا ہوں کہ آپ کا یہ قول کہ حضرت مریم کا اتنی بار حاملہ ہونا آپ پر بد اثر ڈالتا ہے میری نگاہ میں آپ کی بہت ناواقفیت ظاہر کرتا ہے۔ اس بے ہودہ اعتراض پر پہلے علماء نے بھی بہت کچھ لکھا ہے۔ اگر استعارہ کے رنگ میں یا بوجہ قرابت کے مریم کو ہارون کی ہمشیرہ ٹھہرایا ہو تو آپ کو اس سے کیوں تعجب ہوا۔ جبکہ قرآن شریف بجا طور پر بیان کر چکا ہے کہ ہارون بھی حضرت موسیٰ کے وقت میں تھا۔ اور یہ مریم حضرت عیسیٰ کی والدہ تھی جو چودہ سو برس بعد ہارون کے پیدا ہوئی۔ تو کیا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ ان واقعات سے بے خبر ہے اور نعوذ باللہ اس نے مریم کو ہارون کی ہمشیرہ ٹھہرانے میں غلطی کی ہے کس درجہ کے خبیث طبع یہ لوگ ہیں کہ بیہودہ اعتراضات کر کے خوش ہوتے ہیں۔ اور ممکن ہے کہ مریم کا کوئی بھائی ہو جس کا نام ہارون ہو۔ عدم علم سے عدم شے تو لازم نہیں آتا۔ مگر یہ لوگ اپنے گریبان میں منہ نہیں ڈالتے اور نہیں دیکھتے کہ انجیل کس قدر اعتراضات کا نشانہ ہے۔ دیکھو یہ کیسا کڑا اعتراض ہے کہ مریم کو ہیکل کی نذر کر دیا گیا تا وہ ہمیشہ بیت المقدس کی خادمہ ہو۔ اور تمام عمر خاوند نہ کرے لیکن جب حمل نمایاں ہو گیا۔ تب ہیکل کی خدمت میں ہی

چشمہ مسیحی صفحہ 24 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 356-355 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 290, 291 پر درج ہے

صفحہ 813

حوالہ نمبر 240 چشمہ مسیحی ٣٥٦

قوم کے بزرگوں نے مریم کا یوسف نام ایک نجار سے نکاح کر دیا اور اس کے گھر جاتے ہی ایک دو ماہ کے بعد مریم کو بیٹا پیدا ہوا۔ وہی عیسیٰ یا یسوع کے نام سے موسوم ہوا۔ اب ۱۵ اعتراض یہ ہے کہ اگر یہ حقیقت معجزہ کے طور پر حمل تھا تو کیوں وضع حمل تک صبر نہیں کیا گیا دوسرا اعتراض یہ ہے کہ عہد تو یہ تھا کہ مریم بیت المقدس ہیکل کی خدمت میں رہے گی پھر کیوں عہد شکنی کر کے اور اس کو خدمت بیت المقدس سے الگ کر کے یوسف نجار کی بیوی بنایا گیا؟ تیسرا اعتراض یہ ہے کہ توریت کی رُو سے بالکل حرام اور ناجائز تھا کہ حمل کی حالت میں کسی عورت کا نکاح کیا جائے۔ پھر کیوں خلاف حکم توریت مریم کا نکاح عین حمل کی حالت میں یوسف سے کیا گیا حالانکہ یوسف اس نکاح سے ناراض تھا اور اس کی پہلی بیوی موجود تھی۔ وہ لوگ جو تعدد ازواج سے منکر ہیں شاید ان کو یوسف کے اس نکاح کی اطلاع نہیں غرض اس جگہ ایک معترض کا حق ہے کہ وہ یہ گمان کرے کہ اس نکاح کی یہی وجہ تھی کہ قوم کے بزرگوں کو مریم کی نسبت ناجائز حمل کا شبہ پیدا ہو گیا تھا۔ اگرچہ ہم قرآن شریف کی تعلیم کی رُو سے یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ وہ حمل محض خدا کی قدرت سے تھا، خدا تعالیٰ یہودیوں کو قیامت کا نشان دے وہ کس حالت میں برسات کے دنوں میں ہزارہا کیڑے مکوڑے خود بخود پیدا ہو جاتے ہیں اور حضرت آدم علیہ السلام بھی بغیر ماں باپ کے پیدا ہوئے تو پھر حضرت عیسیٰ کی ۲۵ اس پیدائش سے کوئی بزرگی ان کی ثابت نہیں ہوتی بلکہ بغیر باپ کے پیدا ہونا بعض قویٰ سے محروم ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ غرض حضرت مریم کا نکاح محض شبہ کی وجہ سے ہوا تھا۔ ورنہ جو عورت بیت المقدس کی خدمت کرنے کے لئے نذر ہو چکی تھی اس کے نکاح کی کیا ضرورت تھی؟ افسوس! اس نکاح سے بڑے فتنے پیدا ہوئے اور یہود ناہکار نے ناجائز تعلق کے شبہات شائع کئے۔ پس اگر کوئی اعتراض قابل حل ہے تو یہ اعتراض ہے نہ کہ مریم کو بدون باپ قرار دینا کچھ اعتراض ہے۔ قرآن شریف میں تو یہ بھی لفظ نہیں کہ ہارون نبی کی مریم ہمشیرہ تھی صرف ہارون کا نام ہے نبی کا لفظ وہاں موجود نہیں۔ اصل بات یہ ہے

چشمہ مسیحی صفحہ 24 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 355، 356 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 291,290 پر درج ہے

Back

صفحہ 814

حوالہ نمبر 241 ۶۰

عجیب قدرت دکھلاتا ہے کہ جب امام مذکور بحالت زار نزار گھر واپس آیا تو اثناء السفر ہی میں اسکے لڑکے کے آثار صحت دیکھے خوش ہو کر وہ منحوس سے یہ کہہ اٹھتا ہی تھا کہ دم بدم لڑکے کو آرام ہونے لگا ۔ جب لوگوں نے مجیب الدعوات صاحب کو دیکھا کہ لفظ ہندو کی لیاقت کا ہے، کی ہنسی اڑائی تو جواب دیا کہ الہام غلط نہیں ہوسکتا۔ دائم یہ بچہ زندہ نہیں رہ سکتا۔ تمام شاخسانہ پُر افترا آریہ کا۔ اب دیکھنا چاہئے کہ وہ کمبخت و ملحد جو یہ کہتے ہیں وہ بھی جھوٹ بولتے ہوئے شرماتے ہیں مگر اس آریہ میں اس قدر بھی شرم باقی نہ رہی۔ جس قوم میں اس جنس کے شریر بے دین لوگ ہیں وہ کیا کچھ ترقیاں نہیں کریں گے۔ اب اس نیک ذات آریہ پر فرض ہے کہ ایک جلسہ کرا کر ہمارے روبرو اس بہتان کی تصدیق کراوے تا اصل راوی کو حلف سے پوچھا جائے اور اس بے اصل بہتان کے لئے نہ صرف ہم اس راوی کو حلف دیں گے بلکہ آپ بھی حلف اٹھائیں گے فریقین کے حلف کا یہ مضمون ہو گا کہ اگر میں نے اپنے حافظہ کی پوری یادداشت سے بلا دروغ و کم و بیش یہ بیان نہیں کیا تو اے خدائے قادر مطلق اور اے ہمیشہ ہر شے پر محیط ہستی مجھے ایک سال تک اپنے قہر عظیم سے میں میری بیخ کنی کر اور ایسا ہیبت ناک عذاب نازل فرما کہ دیکھنے والوں کو عبرت ہو اور پھر اگر ایک سال تک آسمانی عذاب سے اصل راوی محفوظ رہا تو ہم اپنے جھوٹا ہونے کا پختہ لکھ دیں گے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ خدا تعالیٰ ایسے بہتان صریح کو بے فیصلہ نہیں چھوڑے گا۔ یہ تو ہمارے لئے اور ایک ملہم من اللہ کے لئے ممکن بلکہ کثیرالوقوع ہے کہ کوئی خواب یا الہام مشتبہ طور پر معلوم ہو جس کے احتمالی طور پر کئی معنے کئے جائیں مگر افترا قطعی طور پر نہیں کہ الہام ہو گیا کہ دین محمد نام ایک شخص کا لڑکا اب مرے گا اس کی قبر کھودو

۲۸۹

محولہ صفحہ 60 مندرجہ روحانی خزائن جلد 2 صفحہ 386 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 291 پر درج ہے

صفحہ 815

حوالہ نمبر 242

حقیقت الوحی ۲۱۵ بعض اعتراضوں کے جواب معلوم نہیں کہ کہاں تک خدا تعالیٰ کے علم میں میرے ایام دعوت کا سلسلہ ہے اسلئے یہ لوگ با وجود اسکے کہدیتے ہیں کہ ایک خدا پر افترا کرنیوالا اور جھوٹا ملہم بننے والا اپنے ابتدائے افترا سے تیس سال تک بھی زندہ رہ سکتا ہے اور خدا اُس کی نصرت اور تائید کر سکتا ہے اور اس کی کوئی نظیر پیش نہیں کرتے۔ اے بیباک لوگو ! جھوٹ بولنا اور گوہ کھانا ایک برابر ہے۔ جو کچھ خدا نے اپنے لطف و کرم سے میرے ساتھ معاملہ کیا یہاں تک کہ جس وقت مخالفت میں ہر ایک دن میرے لئے ترقی کا دن تھا۔ اور ہر ایک مقدمہ جو میرے تباہ کرنے کے لئے اُٹھایا گیا خدا نے دشمنوں کو رسوا کیا۔ مگر اس وقت اور اس تائید اور نصرت کی تمہارے پاس کوئی نظیر ہے تو پیش کرو۔ ورنہ بموجب آیت لو تقول علینا یہ نشان بھی ثابت ہو گیا اور قہر الٰہی کے نیچے جاؤ گے۔

کے لئے ایک خواب دیکھا جس کی بنا پر میری محبت خدا تعالیٰ نے اُنکے دل میں ڈالی اور اُسی بنا پر

ص ۲۰۶

کتاب اشارات فریدی میں جو خواجہ صاحب موصوف کے ملفوظات ہیں جابجا خواجہ صاحب موصوف میری تصدیق فرماتے ہیں۔ اہل فقر کی یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ ظاہری جھگڑوں میں بہت کم پڑتے ہیں اور جو کچھ خدا تعالیٰ کی طرف سے اُنکو بذریعہ خواب یا کشف یا الہام پتہ ملتا ہے اُسی پر ایمان لاتے ہیں۔ پس چونکہ خواجہ غلام فرید صاحب پیر صاحب ممدوح کی طرح پاک باطن تھے اسلئے خدا نے اُن پر میری سچائی کی حقیقت کھول دی اور کئی مولوی جیسے مولوی غلام دستگیر خواجہ صاحب کو میرا مکذب بنانے کیلئے چاچڑاں میں پہنچے جیسا کہ کتاب اشارات فریدی میں خواجہ صاحب نے خود یہ حالات بیان کئے ہیں اور بعض غزنویوں کا بھی خواجہ صاحب موصوف کے پاس خط پہنچا مگر آپ نے

اس سال سے میرے الہام کے زمانہ کو ستائیس سال کے قریب ہوتے ہیں اور جب براہین احمدیہ کے چہارم حصہ سے شمار کیا جائے تو تب پچیس سال گزر گئے ہیں اور جب وہ زمانہ لیا جائے کہ جب پہلے الہام شروع ہوئے تب تیس سال ہوتے ہیں۔ منہ

۲۱۵

حقیقت الوحی صفحہ 206 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 215 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 291 پر درج ہے

صفحہ 816

حوالہ نمبر 243

ضمیمہ براہین احمدیہ ۲۸۵ حصہ پنجم

اثر صحابہ کے دل پر کیا کہ وہ مدینہ کے بازاروں میں یہ آیت پڑھتے پھرتے تھے گویا ابھی ان پر نازل ہوئی تھی۔ اور اسلام میں یہ اجماع تمام اجماعوں سے پہلا تھا کہ تمام نبی فوت ہو چکے ہیں۔ مگر اے مولوی صاحب! آپ کو صحابہ کے اس اجماع سے کیا غرض۔ آپکا مذہب تو غضب ہے نہ کہ اسلام ۔ مذہب اسلام ایسے باطل عقیدوں سے دن بدن تباہ ہوتا جاتا ہے مگر آپ لوگ خوش ہوتے ہیں ؎

مدعی دین حقیقت بندہ ؂ بر ہستاں شاد و یار آئندہ

معلوم ہوتا ہے کہ اس اجماع سے پہلے جو تمام انبیاء علیہم السلام کی وفات پر پڑا بعض نادان صحابی جن کو روایت سے کچھ حصہ نہ تھا وہ بھی اس عقیدہ سے بے خبر تھے کہ کل انبیاء فوت ہو چکے ہیں۔ اور اسی وجہ سے صدیق رضی اللہ عنہ کو اس آیت کے سنانے کی ضرورت پڑی اور اس آیت کے سُننے کے بعد سب نے یقین کر لیا کہ تمام گذشتہ لوگ داخلِ قبور ہو چکے ہیں۔ اسی وجہ سے حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے یہ چند شعر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مرثیہ میں بنائے ہیں جن میں سے اسی طرف اشارہ کیا ہے اور وہ یہ ہیں ؎

کنت السواد لناظری فعمى علیک الناظر ؂ من شاء بعدک فلیمت فعلیک کنت احاذر

ترجمہ : تو میری آنکھوں کی پتلی تھا پس میں تو تیرے مر پیچھے اندھا ہو گیا۔ اب بعد تیرے جو شخص چاہے مرے (یعنی میرا ما بقی ہی) مجھے تو تیرے ہی مرنے کا خوف تھا جزاہ اللہ خیر الجزاء محبت اسی کا نام ہے۔

+ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا اس امت پر اس قدر احسان ہے کہ اس کو شرک سے بچا لیا۔ اگر وہ تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کو یہ آیت پڑھ کر نہ سناتے اور یہ یقین نہ دلاتے کہ تمام گذشتہ نبی فوت ہو چکے ہیں تو یہ امت ہلاک ہو جاتی۔ کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام کی حیات نے تو نصاریٰ کو ہلاک کیا ہے۔ اگر صحابہ رضی اللہ عنہم کا بھی یہی مذہب ہوتا کہ حضرت عیسیٰ زندہ ہیں۔ تو اب صدیق اکبر کی آیت ممدوحہ پیش کرنے سے اس بات پر کل صحابہ کا اجماع ہو چکا کہ کل گذشتہ نبی فوت ہو چکے ہیں پھر

ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 285 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 285 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 296 پر درج ہے

صفحہ 817

حوالہ نمبر 244

ضمیمہ ۱۲۷ نزول المسیح

جن کی درایت عمدہ نہیں تھی۔ عیسائیوں کے اقوال سُنکر جو ارد گرد رہتے تھے۔ پہلے کچھ یہ خیال تھا کہ عیسیٰ آسمان پر زندہ ہے جیسا کہ ہر ہر بدعتی ہوتا تھا اور درایت اچھی نہیں رکھتا تھا لیکن جب حضرت ابوبکر نے جن کو خدا نے علمِ قرآن عطا کیا تھا یہ آیت پڑھی تو سب صحابہ پر موت عیسیٰ عیاناً ثابت ہو گئی اور وہ اِس آیت سے بہت خوش ہوئے اور اُن کا وہ صدمہ جو اُن کے پیارے نبی کی موت کا اُن کے دل پر تھا۔ جاتا رہا۔ اور مدینہ کی گلیوں کوچوں میں یہ آیت پڑھتے پھرے۔ اِسی تقریب پر حسّان بن ثابت نے مرثیہ کے طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جُدائی میں یہ شعر بھی بنائے۔ شعر

كُنْتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِي + فَعَمِیَ عَلَيْكَ النَّاظِرُ
مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمُتْ + فَعَلَيْكَ كُنْتُ اُحَاذِرُ

یعنی تو اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میری آنکھوں کی پتلی تھا۔ پس مَیں تیری جدائی سے اندھا ہو گیا اب جو چاہے مرے میری پروا نہیں۔ مجھے تو تیری ہی موت کا دھڑکا تھا یعنی تیرے مرنے کے ساتھ ہم نے یقین کر لیا کہ دُوسرے تمام نبی مر گئے ہمیں اُن کی کچھ پروا نہیں۔ مصرعہ

عجب تھا عشق اِس دل میں مُحبّت ہو تو ایسی ہو

پھر آپ لوگ خدا تعالٰی کو اس طرح بیہودہ قرار دیتے ہیں کہ خدانخواستہ بکواسی ہو۔ واقعہ صلیب کے بعد عیسیٰ اور اُسکی ماں کو ہم نے ایک ٹیلہ پر جگہ دی جس میں صاف پانی بہتا تھا یعنی چشمے جاری تھے۔ بہت آرام کی جگہ تھی اور جنّت نظیر تھی جیسا کہ فرماتا ہے وَ اٰوَیْنٰہُمَا اِلٰی رَبْوَۃٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّ مَعِیْنٍ یعنی ہم نے واقعہ صلیب کے بعد جو ایک بڑی مصیبت تھی عیسیٰ اور اُسکی ماں کو ایک بڑے ٹیلہ پر جگہ دی جو بڑے آرام کی جگہ اور پانی خوشگوار تھا یعنی خطۂ کشمیر۔ اب اگر آپ لوگوں کو عربی سے کچھ بھی مَس ہو تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اٰوٰی کا لفظ اُسی موقعہ پر آتا ہے کہ جب کسی مصیبت پیش آمدہ سے بچا کر پناہ دیجاتی ہے یہی محاورہ تمام قرآن شریف میں اور تمام اقوالِ عرب میں اور احادیث میں موجود ہے اور خدا تعالٰی کے کلام پر ثابت ہو کہ

۱؎ المومنون : ۵۱

یہ حوالہ صفحہ 296 پر درج ہے | اعجاز احمدی صفحہ 18 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 127 از مرزا قادیانی

صفحہ 818

حوالہ نمبر 245 براہین احمدیہ ۴۱۰ حصہ پنجم

نہیں سمجھتی تو دوسری قرأت میں موتاہم کیوں آیا ؟ دیکھو تفسیر ثنائی کہ اس میں بڑے زور سے ہمارے اس بیان کی تصدیق موجود ہے اور اس میں یہ بھی لکھا ہے کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے نزدیک یہی معنے ہیں مگر صاحب تفسیر لکھتا ہے کہ ”ابو ہریرہ فہم قرآن میں ناقص ہے اور اس کی روایت پر محدثین کو اعتراض ہے۔ ابو ہریرہ میں نقل کرنے کا مادہ تھا اور درایت اور فہم سے بہت ہی کم حصہ رکھتا تھا۔ اور میں کہتا ہوں کہ اگر ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ویسے معنے کئے ہیں تو یہ اس کی غلطی ہے جیسا کہ اور کئی مقام میں محدثین نے ثابت کیا ہے کہ جو امر فہم اور درایت کے متعلق ہیں اکثر ابو ہریرہؓ اس کے سمجھنے میں غلطی کھاتا ہے اور غلطی کرتا ہے۔ یہ مسلّم امر ہے کہ ایک صحابی کی رائے شرعی حجت نہیں ہو سکتی۔ شرعی حجت صرف اجماع صحابہ ہے۔ سو ہم بیان کر چکے ہیں کہ اس بات پر اجماع صحابہ ہو چکا ہے کہ تمام انبیاء فوت ہو چکے ہیں۔

اور یاد رکھنا چاہئے کہ جبکہ آیت قبل موتہ کی دوسری قرأت قبل موتاہم موجود ہے جو بموجب اصول محدثین کے حکم صحیح حدیث کا رکھتی ہے یعنی ایسی حدیث جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ۱۲۹ سے ثابت ہے تو اس صورت میں حق ابو ہریرہ کا اپنا قول رد کرنے کے لائق ہے کیونکہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودہ کے مقابل میں ہے اور لغو ہے اور اس پر صحابہ کا کفر تک پہنچتا ہے۔ اور پھر صرف اسی قدر نہیں بلکہ ابو ہریرہ کے قول سے قرآن شریف کا باطل ہونا لازم آتا ہے کیونکہ قرآن شریف تو جابجا فرماتا ہے کہ یہود و نصاریٰ قیامت تک رہیں گے ان کا کلی استیصال نہیں ہو گا اور ابو ہریرہ کہتا ہے کہ یہود کا استیصال کلی ہو جائیگا اور یہ صراسر مخالفت قرآن شریف کی ہے۔ پس جو شخص قرآن شریف پر ایمان لاتا ہے انکو چاہئے کہ ابو ہریرہ کے قول کو ایک ردی متاع کی طرح پھینک دے۔ بلکہ چونکہ قرأت ثانی حسب اصول محدثین صحیح حدیث کا حکم رکھتی ہے اور جبکہ آیت قبل موتہ کی دوسری قرأت قبل موتاہم موجود ہے جس کو حدیث صحیح سمجھنا چاہئے اس صورت میں ابو ہریرہ کا قول قرآن اور حدیث دونوں کے مخالف ہے۔ فلا شک انه باطل ومن تبعه فانه مفسد بطال۔

نمبر 245 براہین احمدیہ صفحہ 410 حصہ پنجم روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 410 حوالہ قادیانی یہ حوالہ صفحہ 296 پر درج ہے

صفحہ 819

حوالہ نمبر 246

عقیدہ اولیٰ ۳۶

پیش گو کی غلطی دور کردی۔ اور اسلام میں یہ پہلا اجماع تھا کہ سب نبی فوت ہو چکے ہیں۔ غرض اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض کم تدبّر کرنیوالے صحابی جن کی درایت اچھی نہیں تھی۔ جیسے ابوہریرہ۔ وہ ایسی غلط فہمی سے عیسیٰ موعود کے آنے کی پیشگوئی پر نظر ڈال کر یہ خیال کرتے تھے کہ حضرت عیسیٰ ہی آجائیں گے۔ جیسا کہ ابتداء میں ابوہریرہ کو بھی یہی دھوکہ لگا ہوا تھا۔ اکثر باتوں میں ابوہریرہ بوجہ اپنی سادگی اور کمی درایت کے ایسے دھوکوں میں پڑ جایا کرتا تھا۔ چنانچہ ایک صحابی کے آگ میں پڑجانے کی پیشگوئی میں بھی اسکو یہی دھوکہ لگا تھا اور آیت وَاِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ کے ایسے اُلٹے معنی کرتا تھا جس کے سُننے والے کو ہنسی آتی تھی کیونکہ وہ اس آیت سے یہ ثابت کرنا چاہتا تھا کہ حضرت عیسیٰ کی موت سے پہلے سب اُنپر ایمان لے آئیں گے۔ حالانکہ دوسری قرأت اس آیت میں بجائے قَبْلَ مَوْتِهٖ کے قَبْلَ مَوْتِهِمْ موجود ہے اور یہ عقیدہ کھُلے طور پر قرآنِ شریف کے مخالف ہے کہ کوئی زمانہ ایسا بھی آئیگا کہ سب لوگ حضرت عیسیٰ کو قبول کر لیں گے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔

يٰعِيْسٰى اِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ اِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَجَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ ۚ یعنی اے عیسیٰ میں تجھے فوت دُونگا اور پھر موت کے بعد مومنوں کی طرح اپنی طرف تجھے اُٹھاؤں گا اور پھر تمام تہمتوں سے تجھے بَری کرونگا اور پھر قیامت تک تیرے مُتبعین کو تیرے مخالفوں پر غالب رکھوں گا۔ اب ظاہر ہے کہ اگر قیامت سے پہلے تمام لوگ حضرت عیسیٰ پر ایمان لے آئیں گے تو پھر وہ کونسے مخالف ہیں جو قیامت تک رہیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ ایک اور مقام میں فرماتا ہے۔

وَاَلْقَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ اِلٰى يَوْمِ الْقِيَامَةِ یعنی یہود اور نصاریٰ میں قیامت تک عداوت رہیگی۔ پس ظاہر ہے کہ اگر تمام یہود قیامت سے پہلے ہی حضرت عیسیٰ پر ایمان لے آوینگے تو قیامت تک عداوت رکھنے والا کون رہے گا۔

١؂ النساء : ١٥٩ ٢؂ آل عمران : ٥٦ ٣؂ المائدة : ٦٥

حقیقة الوحی صفحہ 34 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 36 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 297 پر درج ہے

صفحہ 820

حوالہ نمبر 247

۲۹۶

مولوی عبداللہ غزنوی سے بہتر سمجھوں گا اور سمجھتا ہوں کیونکہ خدا تعالیٰ نے ان کو وہ نشان دکھلایا ہے کہ جو مولوی عبداللہ صاحب نے نہیں دیکھے اور ان کو وہ معارف سمجھائے ہیں کہ مولوی عبداللہ کو کچھ بھی خبر نہیں تھی اور انہوں نے اپنی خوش قسمتی سے مسیح موعود کو پایا اور اُسے قبول کیا مگر مولوی عبداللہ اس نعمت سے محروم رہ گئے۔ آپ میری نسبت کیسا ہی بدگمان کریں اس کا فیصلہ تو خدا تعالیٰ کے پاس ہے لیکن میں بلکہ یہ کہتا ہوں کہ میں وہی ہوں اور اس جگہ میں میرا پودہ لگایا گیا ہے جس نور کا وارث مہدی آخر زماں چاہئے تھا۔ میں وہی مہدی ہوں جس کی نسبت ابن سیرین سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ حضرت ابوبکرؓ کے درجہ پر ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ ابوبکرؓ کیا وہ تو بعض انبیاء سے بہتر ہے۔ یہ خدا تعالیٰ کی عطا کی تقسیم ہے اگر کوئی بخل سے مر بھی جائے تو اس کو کیا پرواہ ہے اور جو شخص مولوی عبداللہ صاحب غزنوی کے ذکر پر مجھ سے ناراض ہوتا ہے اس کو تو وہ خدا سے شرم کر کے اپنے نفس سے یہی سوال کرنا چاہئے کہ کیا یہ عبداللہ اس مہدی و مسیح موعود کے درجہ پر ہو سکتا ہے جس کو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کہا اور فرمایا کہ خوش قسمت ہے وہ اُمت جو دو پناہوں کے اندر ہے۔ ایک میں جو خاتم الانبیاء ہوں اور ایک مسیح موعود جو ولایت کے تمام کمالات کو ختم کرتا ہے اور فرمایا کہ یہی لوگ ہیں جو نجات پائیں گے۔ اب فرمائیے کہ جو شخص مسیح موعود سے کنارہ کر کے عبداللہ غزنوی کی وجہ سے اس سے ناراض ہوتا ہے اس کا کیا حال ہے۔ کیا سچ نہیں ہے کہ تمام مسلمانوں کا متفق علیہ عقیدہ یہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کے صلحاء اور اولیاء اور ابدال اور قطبوں اور غوثوں میں سے کوئی بھی مسیح موعود کی شان اور مرتبہ کو نہیں پہنچتا۔ پھر اگر یہ سچ ہے تو آپ کا مسیح موعود کے مقابل پر مولوی عبداللہ غزنوی کا ذکر کرنا اور بار بار یہ شکایت کرنا کہ عبداللہ کے حق میں یہ کہا ہے۔ کس قدر خدا تعالیٰ کے احکام اور اس کے رسولِ کریمؐ کی وصیتوں سے لاپروائی ہے۔ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نصیحت فرمائی تھی کہ عبداللہ غزنوی غزنی سے نکالا جائے گا اور پنجاب میں آئے گا اس کو تم مان لینا اور میرا سلام اس کو پہنچانا؟ یا یہ نصیحت فرمائی تھی کہ غلبہ صلیب کے وقت مسیح موعود ظاہر ہو گا اور وہ نبیوں کی شان لے کر آئے گا اور خدا اس کے ہاتھ پر صلیبی مذہب کو شکست دے گا اس کی نافرمانی نہ کرنا اور اس کی میری طرف سے بیعت کرنا؟ اور اگر یہ کہو کہ وہ آ کر نصاریٰ سے ڈرے گا اور ان کی صلیبوں کو توڑے گا اور ان کے خنزیروں کو قتل کرے گا تو میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ علماء اسلام کی غلطیاں ہیں بلکہ ضرور تھا کہ مسیح موعود نرمی اور صلحکاری کے ساتھ آتا اور صحیح بخاری میں بھی لکھا ہے کہ مسیح موعود جنگ نہیں کرے گا اور نہ تلوار اٹھائے گا بلکہ اس کا حربہ آسمانی حربہ ہو گا اور اس کی تلوار دلائل قاطعہ ہو گی۔ سو وہ اپنے وقت پر آ چکا۔ اب کسی فرضی مہدی اور فرضی مسیح موعود کی انتظار کرنا اور خونی مہدی کے زمانہ کا منتظر رہنا سراسر کوتاہ فہمی کا نتیجہ ہے جبکہ خدا نے میرے ہاتھ پر بہت سے نشان دکھلائے اور وہ ایسے یقینی طور پر ظاہر ہوئے کہ تیرہ سو برس کے زمانہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم

یہ حوالہ صفحہ 297 پر درج ہے مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 396 طبع جدید ، از مرزا قادیانی

صفحہ 821

حوالہ نمبر 248

الہدیٰ نمبر ۲ ۵۷

کی زندگی میں تو کسی نے کبھی نبی نہ کہا۔ ان کے ایام میں درحقیقت جو میاں محمود صاحب کو نبی اللہ اور رسول اللہ جانتے اور مانتے ہیں۔ گو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتاب انجام آتھم میں بایں الفاظ اس کی تردید فرمائی ہے۔ "سواے متعصب کذاب یا منتقم کے کسی کا یہ کام نہیں جو ایسا افترا مجھ پر کرے۔ پس جو شخص ہماری طرف اس نام سے میری نسبت یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ گویا میری جماعت درحقیقت مجھے رسول اللہ جانتی ہے اور گویا میں نے درحقیقت نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ حالانکہ میں سب کے سب فرمانوں کو جو اسلام میں اور قرآن شریف میں ہیں مانتا ہوں۔ اور یہ دوسری تہمت ہے جس میں ظاہر کیا گیا ہے کہ میں نبوت کا مدعی ہوں۔ اور یہ بدترین کذب ہے جو مجھ پر لگایا گیا ہے۔ میں ظاہر کر چکا ہوں کہ میں خدا اور قرآن شریف کو مانتا ہوں اور میں نبوت کا مدعی نہیں ہوں۔ جو شخص نبوت کا دعویٰ کرتا ہے وہ قرآن شریف پر ایمان نہیں رکھ سکتا۔ اور کیا ایسا شخص جو قرآن شریف پر ایمان رکھتا ہے، اور آیت خاتم النبیین کو خدا کا کلام یقین کرتا ہے وہ کہہ سکتا ہے کہ میں بھی نبی اور رسول ہوں؟" اور پھر گو میں حضرت اقدس کی یہ تعلیم ان کو سناؤں۔ مگر چونکہ وہ امامت کے مدعی ہیں۔ اس لئے میں مجبور ہوں کہ آیت ہے لا تطع المکذبین ودوا لو تدھن فیدھنون۔ اسلئے مروت کی خواہش اور طعن و ملامت سے بچنے کی آرزو مجھے سچ کہنے اور حق لکھنے سے باز نہیں رکھ سکتی۔ خدا جانتا ہے کہ جھوٹی تعریف کی تمنا میرے دل میں نہیں ہو سکتی۔ مجھے اہل بیت مسیح موعود علیہ السلام سے خاص محبت اور عاشقانہ تعلق تھا۔ مجھے اس وقت بھی تمام خاندان مسیح موعود کے ساتھ دلی ارادت ہے اور میں ان کی کفش برداری اپنا فخر سمجھتا ہوں۔ مجھے اس خاندان کی طفیل سے بڑے بڑے نفع ہوئے ہیں میں ان کے احسانات کا شکر ادا نہیں کر سکتا۔ میرے ایک محب تھے جو اسوقت مولوی فاضل بھی ہیں۔ اور اہل بیت مسیح موعود کے خاص مقربین میں ہیں۔ انہوں نے مجھے ایک دفعہ فرمایا کہ سچ تو یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ ہی نہیں۔ جوکچھ ہیں حضرت مسیح موعود ہی ہیں۔ پھر انہوں نے یہ بھی کہا کہ میاں محمود اپنے دلائل میں بولے کہ ابوبکر و عمر کیا تھے۔ وہ تو حضرت غلام احمد کی جوتیاں اٹھانے کے بھی لائق نہ تھے۔ ان فقروں نے مجھے حیران کر دیا اور ان کے سننے سے مجھے جیسی تکلیف ہوئی۔ گو میری تمام ارادت اور محبت اہل بیت مسیح موعود میں سے ہونے کی ان کی نسبت تھی۔ مگر یہ سب ہوا ہو گئی۔ پھر اس تشریح کے بعد بقول شخصے یہ مصرعہ یاد آ گیا ع

چو کفر از کعبہ برخیزد کجا ماند مسلمانی

(باقی آئندہ)

یہ حوالہ صفحہ 297 پر درج ہے قادیانی ماہنامہ الہدیٰ بابت جنوری و فروری 1915ء نمبر 2/3 صفحہ 157 از میر قاسم جماعت اسلام

صفحہ 822

حوالہ نمبر 249 ٨٢٢ سیرۃ المہدی حصہ سوم

کیا۔ خلیفہ اول پر یہ سخت شاق تھی کہ دروازوں پر ٹکٹ دیکھے جاتے تھے اور صرف ٹکٹ والے اندر جانے پاتے تھے۔ میں بچہ ہی تھا اور ساتھ چلا گیا تھا مگر کپور تھلہ کا ایک نوابزادہ بھائی بھی ہمراہ تھا۔ ہم نے حضرت صاحب سے کہا کہ ہم بھی اندر چلیں گے۔ اس وقت ٹکٹ پورے ہو چکے تھے۔ اور ہم تماشہ کو پوری طرح نہیں دیکھ سکتے تھے۔ مگر حضرت صاحب نے ہماری درخواست پر ایک آدمی ڈپٹی عبداللہ آتھم یا پادری عمادالدین کے پاس بھیجا۔ کہ ہمارے ہمراہ دو لڑکے آگئے ہیں اگر آپ اجازت دیں تو ہم ان کو اپنے ہمراہ لے آئیں۔ انہوں نے اجازت دیدی اور ہم سب کے ساتھ اندر چلے گئے کوئی اور جاتا تو اس کو واپس کر بھیجتے بلکہ تمہارا یہاں کوئی کام نہیں۔ مگر حضرت صاحب ہی کی دلیری تھی جو آپ نے ایسا کیا۔

ہے کہ جب حضرت صاحب آخری سفر میں لاہور تشریف لے جانے لگے تو آپ نے ان سے کہا کہ مجھے ایک کام درپیش ہے دعا کرو اور اگر کوئی خواب آئے تو مجھے بتانا۔ مبارکہ بیگم نے خواب دیکھا کہ وہ چوبارہ پر گئی ہیں اور وہاں حضرت مولوی نورالدین صاحب ایک کتاب لئے بیٹھے ہیں اور کہتے ہیں کہ دیکھو اس کتاب میں میرے متعلق حضرت صاحب کے الہامات ہیں اور میں ابو بکر ہوں۔ دوسرے دن صبح مبارکہ بیگم سے حضرت صاحب نے پوچھا کہ کیا کوئی خواب دیکھا ہے؟ مبارکہ بیگم نے یہ خواب سُنائی تو حضرت صاحب نے فرمایا یہ خواب اپنی اماں کو نہ سنانا۔ مبارکہ بیگم کہتی ہیں کہ اس وقت میں نہیں سمجھی تھی کہ اس سے کیا مراد ہے۔

خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ خواب بہت واضح ہے اور اس سے یہ مراد تھی کہ حضرت صاحب کی وفات کا وقت آن پہونچا ہے اور یہ کہ آپ کے بعد حضرت مولوی صاحب خلیفہ ہونگے۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس وقت ہمشیرہ مبارکہ بیگم صاحبہ کی عمر گیارہ سال کی تھی۔ دوسری روایتوں سے پتہ لگتا ہے کہ حضرت صاحب اس سفر پر تشریف لے جاتے ہوئے بہت متامل تھے کیونکہ حضور کو یہ احساس ہو چکا تھا کہ اسی سفر میں آپ کو سفر آخرت پیش آنے والا ہے۔ مگر حضور نے سوائے اشارے کنائے کے اس کا اظہار نہیں فرمایا۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ مبارکہ بیگم والا یہ خواب غیر مبائعین کے خلاف بھی حجت ہے کیونکہ اس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد خلافت کی طرف صریح اشارہ ہے۔

سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 37 از مرزا بشیر احمد ایم اے

یہ حوالہ صفحہ 298,297 پر درج ہے

صفحہ 823

(حوالہ نمبر 250)

میں تو بدیہی کہتا ہوں کہ ہمارا تو یہ مذہب ہے کہ نئے سرے سے مسلمان بنو۔ پھر اللہ تعالیٰ اس بیعت کو قبول و منظور فرماتا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اگر وہ امام حسین جن سے یہ اس قدر محبت کا غلو کرتے ہیں زندہ ہوں تو آج وہ سخت بیزاری ظاہر کریں۔

جب یہ بے ایمان ہم سے اعراض کرتے ہیں تو ہم کہتے ہیں کہ تم نے کیا اعراض کیا، ہمیں تو صحابہؓ و ائمہ اطہار سے ہمیں غایت عقیدت ہے۔ تم سے تبرا ہے۔ مگر ہم ایسی باتوں کی کیا پروا کر سکتے ہیں، ہم تو وہ ہیں جو خدا کا نام لیتے ہیں۔ اس لیے ہم تم کو کہتے ہیں کہ پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑ دو اب نئی خلافت لو۔ ایک زندہ علی تم میں موجود ہے، اس کو چھوڑتے ہو اور مُردہ علی کی تلاش کرتے ہو؟

اور دعویٰ نمبر 14

ایک الہام یا اپنی وحی پر یقین فرمایا ! کل رات میری بائیں پسلی کے پہلو میں خدا جانے اس شدت کے ساتھ درد ہوا کہ میں بے خود ہو گیا۔ اور محسوس ہوا کہ اختلاج شروع ہوئی اور ایسا غلبہ ہوا کہ میں سہارا ڈھونڈتا۔ اور خدا کا لفظ میں خود بولنے پایا تھا کہ غش کھا کر گر پڑوں دل کہیں جواب نہ دے۔

نیز فرمایا کہ:

ہم کو تو خداتعالیٰ کے اس کلام پر جو ہم پر وحی کے ذریعہ نازل ہوتا ہے، اس قدر یقین ہے جتنا کہ قرآن شریف پر یقین ہے کہ بیت اللہ میں کھڑے ہو کر اس کی سچائی کی قسم کھا سکتا ہوں۔ بلکہ میرا تو یقین یہاں تک ہے کہ اگر میں اس بات کا انکار کروں یا وہم بھی کروں کہ یہ خدا کی طرف سے نہیں تو کافر ہو جاؤں۔

اور دعویٰ نمبر 15

نبوت الٰہی فیصلہ کن ہوتی ہے اپنی تصنیف لطیف چشمہ معرفت میں حضرت اقدس نے فرمایا:

"خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ کسی کی مقبولیت کو پرکھنے کے لیے بس خدا کے چند لفظوں کا کام ہے، اس کا نام نبی ہے جو خدا کی باتوں میں"

ملفوظات جلد اول صفحہ 400 طبع جدید مصنفہ مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 298 پر درج ہے

صفحہ 824

حوالہ نمبر 251 اعجاز احمدی ۱۴۴ ضمیمہ

اِلَيْكَ اَرُدُّ مَحَامِدِىْ وَ رُدَّتْ كُلُّهَا وَمَا اَنَا اِلَّا مِثْلُ ذَرٍّ فِىْ يَعْفَرٍ تیری ہی طرف میں تمام تعریفیں لوٹاتا ہوں کیونکہ وہ سب کی سب تیری ہی ہیں اور میں نہیں ہوں مگر ایک خاک کے ذرہ کی مانند جو بیابان میں ہو

يُقَالُ لِاَهْلِ الْحُسْنِ فِىْ فَضْلِ حُسْنِهِ اَقُوْلُ نَعَمْ وَاللهِ رَبِّيْ سَيَظْهَرُ یہ بات کہی جاتی ہے ان کو جو حسن پر فخر کرتے ہیں میں کہتا ہوں کہ ہاں خدا کی قسم میرا خدا عنقریب ظاہر کرے گا

وَلَوْ كُنْتَ كَذَّابًا لَمَا كُنْتَ بَعْدَهَا كَمِثْلِ يَهُوْدِىٍّ وَ مِمَّنْ يَتَنَصَّرُ اور اگر میں جھوٹا ہوتا تو پھر اس کے بعد میں ایک یہودی کی طرح ہوتا اور ان میں سے جو نصرانی ہو گئے ہیں

وَلٰكِنَّنِىْ مِنْ اَمْرِ رَبِّىْ خَلِيْفَةٌ مَسِيْحٌ مُصَفًّى وَّعْدُهُ فَتَفَكَّرُوْا مگر میں اپنے خدا کے حکم سے خلیفہ مسیح موعود ہوں اب تم سوچ لو ۔

فَمَا مَثَلِىْ مَوْجُوْدٌ وَمَا فِيْهِ عِنْدَكُمْ مِنَ الْقَوْلِ قِيْلٌ بَيِّنَاتٌ تَدَبَّرُوْا پس میری کوئی مثال موجود نہیں اور جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ صرف ایک قول ہے یہ کھلے کھلے نشان ہیں پس تم تدبر کرو

حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ عِنْدَكُمْ تَقْرَءُوْنَهُ فَلَا تَكْتُمُوْا مَا تَعْلَمُوْنَ وَاَظْهِرُوْا تمہارے پاس ایک حدیث صحیح موجود ہے جس کو تم پڑھتے ہو پس جو کچھ تم جانتے ہو اس کو مت چھپاؤ اور اس کو ظاہر کرو

وَمَنْ يَكْتُمَنْ شَهَادَةً كَانَ عِنْدَهُ فَسَوْفَ يَرٰى تَعْذِيْبَ نَارٍ تُسَعَّرُ اور جو شخص اس گواہی کو جو اس کے پاس ہے چھپائے گا پس وہ عنقریب بھڑکائی ہوئی آگ کا عذاب دیکھے گا

فَلَا تَجْعَلُوْا كِذْبًا عَلَيْكُمْ بِفِرْيَةٍ وَدَعْ يَا ثَنَاءَ اللهِ قَوْلًا تُزَوِّرُ پس تم جھوٹ اور افترا بول کر اپنے پر جھوٹ کو لازم نہ کرو اور اے ثناء اللہ تو جھوٹ بولنا چھوڑ دے

۵۲ تَرَكْتَ طَرِيْقَ كِرَامِ قَوْمٍ وَ خُلْقَهُمْ فَجِئْتَ بِمُذْيٍ هَامِذًا تَتَقَطَّرُ تو نے شریفوں کے خلق اور طریق کو چھوڑ دیا اور تو نے ایک ایسی شرمناک بات کو اختیار کیا ہے

وَ شَتَّانَ مَا بَيْنَ الْكِرَامِ وَ بَيْنَكُمْ وَاِنَّ الْفَتٰى يَعْفُوْ عَنِ السَّيِّءِ يُعْذَرُ اور کہاں شریف اور کہاں تم لوگ صادق جوان برائی سے درگزر کرتا ہے اور معذور رکھتا ہے

تَرَكْنَاكَ حَتَّى قِيْلَ لَا يَعْرِفُ الْقِلٰى فَجِئْتَ خَصِيْمًا أَيُّهَا الْمُسْتَكْبِرُ ہم نے تجھے چھوڑ دیا یہاں تک کہ کہا گیا کہ یہ کچھ کینہ نہیں رکھتا پس تُو خود مقابلہ کے لئے آیا اے متکبر ۔

اعجاز احمدی صفحہ 52 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 164 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 298 پر درج ہے

صفحہ 825

حوالہ نمبر 252

ضمیمہ نزول المسیح ١٨١ القصيدة

تَكَادُ السَّمٰوَاتُ العُلٰی مِنْ كَلَامِكُمْ تَفَطَّرْنَ لَولَا وَقْتُهَا مُتَقَرِّرُ

قریب ہے کہ آسمان تمہاری کلام سے پھٹ جائیں اگر اُن کے پھٹنے کا وقت مقرر نہ ہو

أ كَانَ حُسَيْنٌ أَفْضَلَ الرُّسْلِ كُلِّهِمْ أَ كَانَ شَفِيْعَ الْأَنْبِيَاءِ وَ مُؤْثَرُ

کیا حسین تمام نبیوں سے بڑھ کر تھا۔ کیا انبیاء کا شفیع اور سب سے برگزیدہ تھا۔

اَلَا لَعْنَةُ اللّٰهِ الْغَیُورِ عَلَی الَّذِی یَھِیْمُ بِاِطْرَاءٍ وَّ لَا یَتَبَصَّرُ ٩١

خبر دار ہو کہ خدائے غیور کی لعنت اُس شخص پر ہے جو مبالغہ آمیز باتوں پر بکتا ہے اور نہیں دیکھتا

وَ أَمَّا مَقَامِی فَاعْلَمُوا أَنَّ خَالِقِی یُمَجِّدُنِی مِنْ عَرْشِہٖ وَ یُوَقِّرُ

اور میرا مقام یہ ہے کہ میرا خدا عرش پر سے میری تعریف کرتا ہے اور عزت دیتا ہے

لَنَا جَنَّةُ سُبُلِ الْهُدٰی اَزْهَارُهَا نَسِيْمُ الصَّبَا مِنْ شَانِهَا تَتَحَيَّرُ

ہمارے لیے ایک بہشت ہے کہ ہدایت کی راہیں اُس کے پھول ہیں۔ نسیم صبا اس کی شان سے حیران ہو رہی ہے۔

تَکَدَّرَ مَاءُ السَّابِقِیْنَ وَ عَیْنَنَا اِلٰی آخِرِ الْاَیَّامِ لَا تَتَکَدَّرُ

پہلوں کا پانی گدلا ہو گیا اور ہمارا پانی اخیر زمانہ تک گدلا نہیں ہوگا۔

رَأَیْنَا وَ اَنْتُمْ تَذْکُرُوْنَ رُوَاتَکُمْ وَ هَلْ مِنْ نُقُولٍ عِنْدَ عَیْنٍ تُبَصِّرُ

ہم نے دیکھ لیا اور تم اپنے راویوں کا ذکر کرتے ہو۔ اور کیا قصّے دیکھنے کے مقابل پر کچھ چیز ہیں۔

وَ شَتَّانَ مَا بَیْنِی وَ بَیْنَ حُسَیْنِکُمْ فَاِنِّی أُؤَيَّدُ كُلَّ آنٍ وَّ أُنْصَرُ

اور میرے اور تمہارے حسین میں بہت فرق ہے۔ کیونکہ مجھے تو ہر ایک آن خدا کی تائید اور مدد مل رہی ہے۔

وَ اَمَّا حُسَیْنٌ فَاذْکُرُوا دَشْتَ كَرْبَلَا اِلٰی ھٰذِهِ الْاَیَّامِ تَبْكُونَ فَانْظُرُوا

مگر حسین پس تم دشت کربلا کو یاد کر لو۔ اب تک تم روتے ہو پس سوچ لو۔

وَ اِنِّی بِفَضْلِ اللّٰهِ فِی حِجْرِ خَالِقِی أُرَبّٰى وَ أُعْصَمُ مِنْ لِئَامٍ تَنَمَّرُوا

اور میں خدا کے فضل سے اپنے خالق کی حفاظت میں ہوں پرورش پاتا ہوں اور کمینوں کے حملہ سے جو پلنگ صفت ہیں بچایا جاتا ہوں ۔

وَلَنْ یَّأْتِیَ الْاَعْدَاءُ بِالسَّیْفِ وَ الْقَنَا فَوَاللّٰهِ اِنِّی اُحْفَظَنَّ وَ اُظْفَرُ

اور ہرگز نہیں دشمن تلوار اور نیزوں کے ساتھ میرے پاس آئیں گے۔ پس بخدا میں بچایا جاؤں گا اور مجھے فتح ملے گی۔

اعجاز احمدی صفحہ 70 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 181 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 298 پر درج ہے

صفحہ 826

حوالہ نمبر 253

القصيدة ۱۹۳ ضمیمہ نزول المسیح

ويوم فعلتم ما فعلتم بغدركم باخ الحسين وولدہ اذ أُسِروا

اور جب تم نے دغہ کا یہ کیا جو کیا حسین کے بھائی مسلم کے ساتھ اور اس کی اولاد کے ساتھ اور وہ قید کئے گئے۔

فظل الاسارى يلعنون وفاءكم فررتم واهل البيت أوذوا ودُمِّروا

پس قیدی یعنی اہل بیت تمہاری وفا پر لعنت کرتے تھے تم بھاگ گئے اور اہل بیت دکھ دیئے گئے اور قتل کئے گئے

هناك تراءى بحر من تحسبونه شفيعي النبي محمد فتفكروا

تب جوہر کھلا اس شخص کا جس کو تم حسین کا قاتل جانتے ہو۔ یعنی میرا جو شفیع نبی محمد ہے پس تم فکر کرو کہ میں سچا ہوں یا تم

زعمتم حسينا انه سيد الورى وكل نبي منه يرجو ويظفر

تم گمان کرتے ہو کہ حسین تمام مخلوق کا سردار ہے اور ہر ایک نبی اس کی شفاعت سے نجات پاتا ہے اور فتح یاب ہوتا ہے

فان كان هذا الشرك في الدين جائزا فيا للغو رسل الله في الناس نشروا

پس اگر یہ شرک دین میں جائز ہوتا۔ تو تمام پیغمبر اس لغو طور پر مبعوث کئے جاتے ۔

وذلك بهتان وتوهين شانهم لك الويل يا غول الفلا كيف تجسر

اور یہ بہتان ہے اور انبیاء علیہم السلام کی کسر شان ہے اے جنگلوں کے غول تجھ پر ویل ہے تو کیا دلیری کرتا ہے

طلبتم بغوثا من قتيل بكربلا فخيبكم رب غيور مدبر

تم نے اس کشتہ سے نجات چاہی کہ جو کربلا میں مارا گیا پس تم کو خدا نے بے مراد کیا رب غیور مدبر نے

و والله ليست فيه منى زيادة وعندى شهادات من الله فانظروا

اور بخدا اُسے مجھ سے کچھ زیادت نہیں۔ اور میرے پاس خدا کی گواہیاں ہیں پس تم دیکھ لو

وانى قتيل الحبّ لكن حُسَينكم قتيل العدا فالفرق اجلى واظهر

اور میں خدا کا کشتہ ہوں لیکن تمہارا حسین دشمنوں کا کشتہ ہے پس فرق کھلا کھلا اور ظاہر ہے

حدرنا سفائنكم الى اسفل الثرى واوثانكم في كل وقت نكسر

ہم نے تمہاری کشتیاں تحت الثری کی طرف اُتار دیں اور تمہارے بت ہر وقت توڑ رہے ہیں ۔

و والله ان الدهر في كل وقته ينصح لكم في نصحه لا يقصر

اور بخدا کہ زمانہ اپنے ہر ایک وقت میں تمہیں نصیحت کر رہا ہے اور نصیحت میں کچھ قصور نہیں کرتا

اعجاز احمدی صفحہ 81 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 193 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 299 پر درج ہے

صفحہ 827

ضمیمہ نزول المسیح ۱۹۴

حوالہ نمبر 254

القصیدہ

تَنَاهَى لِسَانُ النَّاسِ عَوْجًا لِمَجَّةٍ وَقَوْلُكُمْ يَهْجُرُنِى وَلَا يُعْتَصَرُ تمام لوگوں نے بدزبانی کی عادت چھوڑ دی۔ اور تمہاری یہ بات کہ سخت بیہودہ بکتا ہے جو کبھی نہیں تھمتی ۔

اَسَأْتُمْ طَرِيْقَ اللَّعْنِ فِى اَهْلِ سُنَّةٍ فَاَبْصِرِ الْحَقَّ يَنْقَطِعُ طَرِيْقُكُمْ فَانْظُرُوْا تم نے لعنت بازی کی راہ میں کیسا اہل سنت پر ظلم کیا۔ پس انصاف سے دیکھو یہ طریق جلدی تباہ کیا جائے گا تم دیکھ لو

فَيَالَيْتَ مِتُّمْ قَبْلَ تِلْكَ الطَّرَائِقِ وَلَمْ يَكُ دِيْنُ اللّٰهِ مِنْكُمْ يُنَفَّرُ پس کاش تم ان تمام طریقوں سے پہلے ہی مر جاتے۔ اور خدا کا دین تمہارے سبب سے تباہ نہ ہوتا۔

جَعَلْتُمْ حُسَيْنًا اَفْضَلَ الرُّسُلِ كُلِّهِمْ وَجُزْتُمْ حُدُوْدَ الصِّدْقِ وَاللّٰهُ يَنْظُرُ تم نے حسین کو تمام انبیاء سے افضل ٹھہرا دیا۔ اور سچائی کی حدوں سے آگے گذر گئے ۔

وَعِنْدَ النَّوَائِبِ وَالْاَذٰى تَذْكُرُوْنَهُ كَاَنَّ حُسَيْنًا رَبُّكُمْ يَا مُزَوِّرُ اور مصیبتوں اور دکھوں کے وقت تم اسی کو یاد کرتے ہو۔ گویا حسین تمہارا رب ہے اے جھوٹ بولنے والو!

وَتَخِرُّوْنَ لَهُ خُرُوْرَ مِثْلِ سَاجِدٍ فَمَا جَرَمَ قَوْمٌ اَشْرَكُوْا اَوْ تَنَصَّرُوْا اور تم اس کے لئے گر کر مثل ساجد کے گرتے ہو۔ پس اب مشرکوں یا نصرانیوں کا کیا گناہ ہے۔

نَسِيْتُمْ جَلَالَ اللّٰهِ وَالْمَجْدَ وَالْعُلٰى وَمَا وِرْدُكُمُ اِلَّا الْحُسَيْنُ اَتُنْكِرُ تم نے خدا کے جلال اور مجد کو بھلا دیا۔ اور تمہارا ورد صرف حسین ہے کیا تم انکار کرتے ہو۔

فَهٰذَا عَلَى الْاِسْلَامِ اِحْدَى الْمَصَائِبِ لَدٰى نَفَثَاتِ الْمِسْكِ قَذَرٌ مُقَطَّرُ پس یہ اسلام پر ایک مصیبت ہے۔ کستوری کی خوشبو کے پاس گند کا ڈھیر ہے۔

وَاِنْ كَانَ هٰذَا الشِّرْكُ فِى الدِّيْنِ جَائِزًا فَبِاللَّغْوِ رُسُلُ اللّٰهِ فِى النَّاسِ بُعِثُوْا اور اگر شرک دین میں جائز ہے۔ پس خدا کے پیغمبر بیہودہ طور پر لوگوں میں بھیجے گئے

وَاَيُّ صَلَاحٍ سَاقَ جُنْدَ نَبِيِّنَا اِلَى حَرْبِ حِزْبِ الْمُشْرِكِيْنَ فَدُمِّرُوْا اور کیا غرض تھی کہ ہمارے نبیؐ کا لشکر چلایا گیا۔ مشرکوں کی لڑائی کے مقابل پر پس ان کو ہلاک کیا۔

حاشیہ :۔ یہ مشرک بظاہر کہتے ہیں کہ مشرک اور موحد کا فرق عقیدہ میں ہوتا ہے نہ افعال میں حالانکہ یہ بالکل جھوٹ ہے مسلمانوں کو شرک کی شکلوں کی قطعی ممانعت ہے اور مسلمانوں کی عبادت ہوتی ہی کیا ہے جس میں مشرکوں کا

اعجاز احمدی صفحہ 82 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 194 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 299 پر درج ہے

صفحہ 828

حوالہ نمبر 255

۴۷۷ نزول المسیح

اپنی ہستی نیز برگیرد بماند کہ آں ذات بے چوں پنہاں نہ گشتہ دیو را آوارہ مے آرد سوئے تا در آرد سوئے خود بے خویش
پر ز عشق و بے نیازی آمدے قصہ کوتہ کرو آں نورے حق نخواہد جفت گیری در خرید کار او در بند و بیخودی برید
ہفتہ بیرون و مطلق انجماد دل بدید غیر حق اغیار برگشتہ زاں ہمہ نقش و نگار در تماشاے روئے حق خویش
آنچناں بادہ بہ کونے ریخت کہ خانہ دیدی بے دیانت قدمے خندہ بریں بوم و شوم کہ بیادش غرقے ما قدم
فکر ہر بلقائے او گشتہ تہ دلبر برائے او گشتہ سوختہ ہر خرمن و گیتی مدار در خروشے دم زلِ بے خویشتم
دل براں روئے خدا کردہ واصل او بصل دعا کردہ صرفہ و خویشتن فدا کردہ عشقے ہر سوئے کار ہا کردہ
تا ز خودی ہائے خود گشتہ خجل سیل ہجر آمد بخویش از جاہ تجرید فرسود و دست از مال مال باید او دست و نجاتی آید
عشق دلبر بر صف ما جایدے بہر جمیعت بکوئے او بارید ہیچے نگذشتہ گذرد از ما صد لیاقست بجوئے ما آمد
ہر ہوسے کے بسب داویاں تا کجکی در دلہاست پنہاں پس چنوں شمشیر حق صیقل کشید کز شدی ہم از خودی برآمد
ایں ہوسے خود ز نہاد ہو جلتی ہائے خیر و شرم عشق کہ بندید نیز در یار نیز دگر بر خیزد در گفتار
بالحوس میں حق کز اندر دار خاصیت ہمدا ز ایں اسرار گشتہ او نیک در و بندے بدار ایں چنیں او بعل بندے شد
ہر زمانے حیلتی تازہ بخواست خانہ اے دیو و شرارت ایں سعادت ہم و قسمت ما رفتہ رفتہ بسہولت ہا
[ گر ندائست تیز بر آرم صدا ایں سعادت ہم ملازم بستہ آدمم نیز احمد مختار در برم جامہ ہمہ ابرار ]
[ گلہ ہائے کہ کرد با من یار برتر آں دفتر معمائے اغیار آنچہ داد است ہر نبی را جام داد آں جام را مرا بتمام ]
[ دل ببریده در غضب خود دار خود سرانہ ایں ہمہ استعداد وحی او را بعجب اثر دیدم طلعتے گوئے چوں قمر دیدم ]
[ دیدم از خلق رنج و صدمات و آنچہ دیدم زمیں بے ثبات دیدم از بحرِ عشق جلوہ یار کہ دگر برامد از یک کار ]
[ آنچہ می بشنوم نہ وحی خدا خدا یک دمش نرفت ہبا بجز فرقے نہ زرہ اش دانم از خطا جوییم لمت و جانم ]
من خدا را بدو شناختم دل بیں نقش طاعتش بستم فخر است ایں کہ احمدیم در دلم برائے پاکاں عید
آنچہ بر من عیاں شد از دلدار آنچہ مقصود است بدیدم یار ایں خلافت ز دست او یابم بنگر کژدم اعادی ما بکم
انبیا ہم گرچہ بودہ اند بسے لیک بر قول دگر ہم کسے عادتے نیست بزم ریشِ شد اندریں رنگ یابد ایں
آں یقینے کہ بود پیشترے وابرو کج شد و بے وفاترے حق یقینے کہ بود در ذات مدعی گشتی چو مال و مات

نزول المسیح صفحہ 99 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 477 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 299 پر درج ہے

صفحہ 829

حوالہ نمبر 256

کہ ہم دیکھتے ہیں محمد رسول اللہ خاتم الانبیاء علیہ الصلوۃ والسلام کی امت

بجز تو از اولیاء ہستی

کہ ہم کو تو اولیاء سے بھی بڑھا کر وہ مرتبہ بخشا گیا ہے کہ ہم انبیاء کہلا سکیں اور اس قدر اولیاء ہم نے پیدا کئے ہیں کہ ان کا کوئی شمار نہیں۔ پھر اگر ہم نے ایک نبی بھی پیدا کر دیا تو کون سا حرج ہے۔ ہاں اگر ہم نہ پیدا کر سکتے تو اور بات تھی۔ پس اس کا پیدا کرنا ہمارے لئے موجب فخر ہے کہ ایک ایسی امت پیدا کر دی جو نبی پیدا کر سکتی ہے۔ پس اے لوگو جو اس وقت موجود ہو اگر تمہارے دل میں ذرہ بھی رسول کریمؐ کی محبت ہے تو اس کی قدر کرو۔

رسول کریمؐ کا ایک اور معجزہ

یہاں سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک اور معجزہ ثابت ہوتا ہے جو کسی اور نبی کا نہیں ہوا۔ کہ آپ کے طفیل اور آپ کی پیروی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ایک شخص کو نبی کے درجہ تک پہنچا دیا۔ پس ہمارے نبی کا یہ کمال ہے کہ اس نے ایک نبی پیدا کر دیا۔

نبی کی ایک اور قسم

پھر نبیوں کی بھی قسمیں ہیں۔ ایک وہ نبی ہیں جو خدا تعالیٰ سے براہ راست نبوت پاتے ہیں۔ جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت عیسیٰ علیہ السلام، حضرت ابراہیم علیہ السلام۔ اور ایک وہ نبی ہیں جو کسی کی پیروی سے نبی بنتے ہیں۔ پس حضرت مسیح موعود ان نبیوں میں سے ہیں جو کسی کی پیروی سے نبی بنتے ہیں۔ اور اس قسم کا نبی رسول کریمؐ کے سوا اور کسی نبی نے پیدا نہیں کیا۔ پس یہ بھی رسول کریمؐ کا ہی فخر ہے۔ کہ آپؐ کی امت میں ایک ایسا نبی پیدا ہوا۔ جس نے نبوت کا درجہ آپؐ کی پیروی سے پایا۔

یہاں تک کہ وہ نبی

کہلائے۔ پھر وہ نبی جو رسول کریمؐ کی پیروی سے نبی بنے ہیں ان کے متعلق خدا تعالیٰ کا یہ منشاء ہے کہ ان کو ساری دنیا مانے۔ اور جو ان کو نہ مانے وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک نافرمان اور جہنمی ہے۔ پس جو لوگ ان کو نہیں مانتے وہ یقیناً خدا تعالیٰ کے نزدیک مجرم ہیں۔ اور ان کا یہ عذر کہ ہم نے رسول کریمؐ کو مان لیا ہے، خدا تعالیٰ کے نزدیک کوئی عذر نہیں۔ کیونکہ جب خدا تعالیٰ نے ایک نبی بھیجا ہے تو اس کا ماننا بھی فرض ہو گیا۔

کہ خدا کا نبی ہوں تو یہ لوگ بے شک کہیں کہ یہ مفتری ہے۔ یہ مجھے سچا مانتے ہیں مگر وہی عزت جو خدا نے مجھے دی ہے وہ مجھے نہیں دیتے۔ یہ ان کا قصور ہے۔ پھر جو اس وجہ سے نہیں مانتے کہ ان کے خیال میں رسول کریمؐ کے بعد کوئی نبی نہیں آ سکتا۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ میں نے کب کہا ہے کہ میں مستقل نبی ہوں۔ میں تو امتی نبی ہوں۔ اور آپؐ کی پیروی سے مجھے یہ درجہ ملا ہے۔

حضرت مسیح موعود کی مخالفت

سو میرا مذہب یہ ہے کہ وہ لوگ جو آپ کو نبی نہیں مانتے وہ کافر ہیں۔ کیونکہ انہوں نے مسیح موعود کو وہ درجہ نہیں دیا جو اللہ تعالیٰ نے اس کو دیا تھا۔ پس ایسے لوگوں کے متعلق خدا تعالیٰ کا منشاء یہ ہے کہ ان پر ثابت کرے کہ تم نے مسیح موعود کی قدر نہیں پہچانی۔ میں اس کو وہ مرتبہ دیتا ہوں اور میں اس کا نام نبی رکھتا ہوں۔ سو ایسے شخص پر جو اسے نبی نہیں مانتا حجت پوری ہو گئی۔ کیونکہ اس نے اس کو وہ درجہ نہیں دیا جو خدا نے دیا تھا۔

جزا و سزا کا وقت

یاد رکھو کہ جزا و سزا کا وقت تب آتا ہے جب حجت پوری ہو جائے۔ اور حجت پوری ہو چکی ہے۔ کیونکہ خدا تعالیٰ نے مسیح موعود کو وہ درجہ دیا ہے جو تم نے نہیں دیا۔ پس خدا تعالیٰ کے نزدیک تم مجرم ہو۔ اور تم اس قابل ہو کہ تم کو سزا دی جائے۔

قادیان کی طرف ہجرت

پس تم قادیان کی طرف ہجرت کرو۔ کیونکہ یہ وہ جگہ ہے جہاں خدا تعالیٰ نے اپنے نبی کو بھیجا ہے۔ پس جو شخص اس جگہ ہجرت کر کے آئے گا وہ خدا تعالیٰ کے فضلوں کا وارث ہو گا۔

خطبہ مرزا بشیر الدین محمود مندرجہ روزنامہ الفضل قادیان جلد نمبر 15 شمارہ نمبر 80، 28 جنوری 1928ء

یہ حوالہ صفحہ 300, 301 پر درج ہے

صفحہ 830

حوالہ نمبر 257

۲۳۳

یہ خدا کا کلام ہے اس کے یہ معنے ہیں کہ اسے بدطینت کے لئے مسیح کر کے بھیجا گیا ہے ۔ ۱۷ جلدی اس مہلک بیماری کیلئے شفاعت کر۔ تم یقیناً سمجھو کہ آج تمہارے لئے بجز اس مسیح کے اور کوئی شفیع نہیں باستثناء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور شفیع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا نہیں جبکہ اسکی شفاعت درحقیقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی شفاعت ہے۔ اے عیسائی مشنریو ! اب ربنا المسیح مت کہو ۔ اور دیکھو کہ آج تم میں ایک ہے جو اس مسیح سے بڑھ کر ہے ۔ اور اے قوم شیعہ ! اس پر اصرار مت کرو کہ حُسین تمہارا شفیع ہے کیونکہ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں ایک ہے کہ اُس حُسین سے بڑھ کر ہے۔ اور اگر میں اپنی طرف سے یہ باتیں کہتا ہوں تو میں جھوٹا ہوں ۔ لیکن اگر میں ساتھ اِس کے خدا کی گواہی رکھتا ہوں تو تم خدا سے مقابلہ مت کرو ۔ ایسا نہ ہو کہ تم اُس سے لڑنے والے ٹھہرو ۔ اب میری طرف دوڑو کہ وقت ہے جو شخص اِسوقت میری طرف دوڑتا ہے میں اُسکو اُس سے تشبیہ دیتا ہوں کہ جو عین طوفان کے وقت جہاز پر بیٹھ گیا ۔ لیکن جو شخص مجھے نہیں مانتا میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ طوفان میں اپنے تئیں ڈال رہا ہے اور کوئی بچنے کا سامان اُسکے پاس نہیں ۔ سچا شفیع میں ہوں جو اُس برنگ شفیع کا سایہ ہوں اور اُس کا ظل جس کو اِس زمانہ کے اندھوں نے قبول نہ کیا اور اُسکی بہت ہی تحقیر کی یعنی حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ اِس لئے خدا نے اِسوقت اِس گناہ کا ایک ہی لفظ کے ساتھ پادریوں سے بدلہ لے لیا کیونکہ عیسائی مشنریوں نے عیسیٰ بن مریم کو خدا بنایا اور ہمارے سید و مولیٰ حقیقی شفیع کو گالیاں دیں اور بدزبانی کی کتابوں سے زمین کو نجس کر دیا اِس لئے اُس مسیح کے مقابل پر جس کا نام خدا رکھا گیا۔ خدا نے اِس اُمت میں سے مسیح موعود بھیجا۔ جو اُس پہلے مسیح سے اپنی تمام شانوں میں بہت بڑھ کر ہے اور اُس نے اِس دُوسرے مسیح کا نام غلام احمدؑ رکھا ۔ تا یہ اشارہ ہو کہ عیسائیوں کا مسیح کیسا خدا ہے جو احمدؑ کے ۱۸ ادنیٰ غلام سے بھی مقابلہ نہیں کر سکتا یعنے وہ کیسا مسیح ہے جو اپنے قرب اور شفاعت کے

۱۷

دافع البلاء صفحہ 17 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 233 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 301 پر درج ہے

صفحہ 831

۴۶۲ (حوالہ نمبر 258)

مخالفین کو معلوم ہے جبکہ ہماری کتابوں میں پیشگوئی درج تھی کہ نبی آخرالزمان کسی کے ہاتھ سے قتل نہ ہوگا۔ پھر اس قسم خرافات کا سہارا لیکر کمال بیباکی و کذب سے جرات کرتے ہیں ۔ خدا تعالیٰ کی پاک کتاب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے افضل قرار دیا امام حسین نے یہ کہیں دعویٰ نہیں کیا کہ میں سب سے افضل ہوں ۔ ہاں اگر ان کا کوئی ایسا دعویٰ ہوتا تب بھی ماننے کے قابل نہ تھا کیونکہ نبی تمام امت سے افضل ہیں ۔ اور اگر ان کا کوئی ایسا دعویٰ ہوتا تب بھی ماننے کے قابل نہ تھا کیونکہ قرآن شریف کے برخلاف تھا ۔ امام حسین کی شہادت سے بڑھ کر حضرت مولوی عبد اللطیف صاحب کی شہادت ہے ، جنہوں نے باوجود اس کے کہ لاکھہا مخالف مدعی نبوت کاذب کہتے تھے جس قدر شدید سنگساری پر جو استقامت دکھلائی ہے سو خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ لوگوں کے مراتب اور درجات کیا ہیں۔ اس نے مجھے الہام کیا ہے انی فَضَّلْتُكَ عَلَى الْعَالَمِيْنَ اگر سارا زمانہ ایک طرف ہو جاوے اور میں اکیلا ایک طرف ہو جاؤں تب بھی خدا تعالیٰ کے الہام کے بالمقابل کسی کو مان نہیں سکتا ۔ مگر امام حسین کو یہ وحی ہوتی تھی کہ وہ قیامت تک سب سے افضل ہیں تو دوسری وحی اسی خدا نے اس کے برخلاف مجھے کس طرح کر دی مگر یہ وحی شیطانی ہے تو دن رات خدا تعالیٰ کی تائید اور نصرت اس کے ساتھ کیوں ہے ۔ عجب خدا ہے جو تئیس برس سے مفتری کو مہلت دیتا ہے بلکہ دن بدن اس کے سلسلہ کو ترقی دیتا ہے اور اس کے مخالفوں کو ہلاک کرتا ہے ۔ اسی طرح سچے انبیاء کی صداقت پر شبہ پڑ سکتا ہے۔ الغرض اس کذاب کو ایک سیکنڈ زندہ رہنے نہیں دیتا ہمارا کیا بگڑ سکتا ہے خدا اس کو خوار کر سکتا ہے۔ ہمارے دشمن تو ہمیشہ منتشر رہتے ہیں کہ یہ اب مارے گئے اور اب ہلاک ہوئے مگر ہر دفعہ ان کو ندامت اُٹھانی پڑتی ہے ہر طرح سے دغا دیتے ہیں قتل کی دھمکیاں دیتے ہیں ۔ میرے قتل کے جہاد کے فتوے دیتے ہیں خون کے مقدمات بناتے ہیں مگر خدا تعالیٰ ہر امر میں صادق کی طرفداری کرتا ہے ۔ ہماری دشمنی کے سبب ان کی شریعت بھی بدل گئی خدا تعالیٰ جو صادق کا معاون ہوا کرتا تھا اب اُن کے نزدیک کاذب کا معاون ہونے لگا۔ یہ عداوت ان کو کشاں کشاں کہاں لے جائے گی۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ یہ عناد انکو بکلی اسلام کے دائرہ سے باہر نکال دے گا ۔ صادق کے لیے ایک امر مابہ الامتیاز ہوتا ہے اگر یہ تمیز نہ ہو تو ناپاک سے پاک صداقت مشتبہ ہو جاتی ہے۔

۱؎ بدر جلد ۱ نمبر ۲۴ صفحہ ۲ مورخہ ۲۴ ستمبر ۱۹۰۳؁ نیز الحکم جلد ۷ نمبر ۳۲ صفحہ ۵ مورخہ ۲۴ ستمبر ۱۹۰۳؁

ملفوظات جلد چہارم صفحہ 364، طبع جدید، از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 301 پر درج ہے

صفحہ 832

حوالہ نمبر 259

احمقانہ الزام تو یہ دیتا ہے یہ اس لئے کہ اس نے قویٰ کو معطل کر دیا۔ بڑی خوش قسمتی یہ ہے کہ انسان کو حقیقی طور پر معلوم ہو جاوے کہ خدا ہے۔ جس قدر جرائم، معاصی اور غفلت وغیرہ ہوتی ہے ان سب کی جڑ خدا شناسی میں نقص ہے۔ اسی نقص کی وجہ سے گناہ میں دلیری ہوتی ہے، بدی کی طرف رجوع ہوتا ہے اور آخر کار بدی کی وجہ سے ہلاکت کی نوبت آتی ہے پھر اس سے جذام ہوتا ہے جس سے نوبت موت تک پہنچتی ہے۔ حالانکہ اگر دیکھو آدمی بیکاری میں وقت ضائع نہ کرے تو خدا تعالیٰ اسے قوت اور ترقی دے دیگا یا اس کے جائز وسائل بہم پہنچاوے گا۔ مثلاً اگر چور چوری کرنا ترک کر دے تو خدا تعالیٰ اسے مقدر رزق ایسے طریق سے دیدے گا کہ حلال ہو اور جو اسکا دارالمکافات دیکھے تو خدا تعالیٰ نے اس پر حلال صدقات کا دروازہ بند نہیں کر دیا۔ اسی لیے بد نظری اور بیکاری سے بچنے کے لیے ہم نے اپنی جماعت کو کثرت ازدواج کی بھی نصیحت کی ہے کہ تقویٰ کے لحاظ سے اگر وہ ایک سے زیادہ بیویاں کرنا چاہیں تو کرلیں مگر خدا تعالیٰ کی معصیت کے مرتکب نہ ہوں۔ پس گناہ کرکے جو شخص ایمان کا دعویٰ کرتا ہے وہ جھوٹا ہے۔

(البدر جلد ۲ نمبر ۱۰ صفحہ ۳۰ مورخہ ۸ جنوری ۱۹۰۳ء)

۲۲؍ دسمبر ۱۹۰۲ء

صاحبزادہ عبداللطیف صاحب کی نسبت حضرت اقدس نے

صاحبزادہ عبداللطیف صاحب کی شہادت کا درجہ

فرمایا کہ :۔

وہ ایک اُسوہ حسنہ چھوڑ گئے ہیں اور اگر غور سے دیکھا جاوے تو اُن کا واقعہ حضرت امام حسین علیہ السلام کے واقعہ سے کہیں بڑھ چڑھ کر ہے کیونکہ وہ تو مقید نہ تھے۔ نہ اُن کو زنجیریں ڈالی گئی تھیں۔ صرف ایک قسم کی جنگ تھی امام حسین علیہ السلام کے ساتھ بھی کچھ فوج تھی۔ مگر اُن کے آدمی مارے گئے تو اکیلے اٹھے اور انہوں نے بھی تو یزید کے آدمیوں کو مارا۔ اور جان بچانے کا کوئی موقعہ اُن کو نہ ملا۔ مگر یہاں عبداللطیف صاحب مقید تھے۔ زنجیریں اُن کے ہاتھ پاؤں میں پڑی ہوئی تھیں۔ مقابلہ کرنے کی ان کو طاقت نہ تھی اور بار بار جان بچانے کا موقعہ دیا جاتا تھا یہ اس قسم کی شہادت واقع ہوئی ہے کہ اس کی نظیر تیرہ سو سال میں ملنی محال ہے۔ عام معمولی زندگی کا چھوڑنا محال ہوا کرتا ہے حالانکہ اُن کی زندگی ایک قسم کی ناموری تھی۔ مال، دولت، جاہ و ثروت سب کچھ موجود تھا۔ اور اگر وہ امیر کو ہاں کہتے تو اُن کی عزت اور بڑھ جاتی مگر انہوں نے ان سب پر لات مار کر اور دیدہ دانستہ بال بچوں

یہ حوالہ صفحہ 301 پر درج ہے ملفوظات جلد سوم صفحہ 496 طبع جدید ، از مرزا قادیانی

صفحہ 833

(حوالہ نمبر 260)

۶۵۴ ہو جاتے ہیں اور ہر ایک چیز جو بُت کی طرح خدا سے روکتی ہے خواہ وہ اخلاقی حالت ہو یا اعمالِ فاسقانہ ہوں یا غفلت اور کسل ہو سب سے اپنے تئیں دُور کرتے جاتے ہیں، لیکن بد نصیب یزید کو یہ باتیں کہاں حاصل تھیں دُنیا کی محبّت نے اس کو اندھا کر دیا تھا مگر حسین رضی اللہ عنہ طاہر مطہّر تھا اور بلاشبہ وہ اُن برگزیدوں میں سے ہے جن کو خدا تعالیٰ اپنے ہاتھ سے صاف کرتا اور اپنی محبّت سے معمور کر دیتا ہے اور بلاشبہ وہ سردارانِ بہشت میں سے ہے اور ایک ذرّہ کینہ رکھنا اس سے موجب سلبِ ایمان ہے اور اس امام کی تقوٰے اور محبّتِ الہٰی اور صبر اور استقامت اور زہد اور عبادت ہمارے لیے اسوۂِ حسنہ ہے اور ہم اس معصوم کی ہدایت کے اقتداء کرنے والے ہیں جو اس کو ملی تھی۔ تباہ ہو گیا وہ دل جو اس کا دشمن ہے اور کامیاب ہو گیا وہ دل جو عملی رنگ میں اس کی محبّت ظاہر کرتا ہے اور اس کے ایمان اور اخلاق اور شجاعت اور تقویٰ اور استقامت اور محبّتِ الہٰی کے تمام نقوش، انعکاسی طور پر کامل پیروی کے ساتھ اپنے اندر لیتا ہے جیسا کہ ایک صاف آئینہ میں ایک خوبصورت انسان کا نقش۔ یہ لوگ دُنیا کی آنکھوں سے پوشیدہ ہیں، کون جانتا ہے ان کا قدر مگر وہی جو ان میں سے ہیں۔ دُنیا کی آنکھ وہ شناخت نہیں کر سکتی کیونکہ وہ دُنیا سے بہت دُور ہیں۔ یہی وجہ حسینؓ کی شہادت کی تھی کیونکہ وہ شناخت نہیں کیا گیا۔ دُنیا نے کس پاک اور برگزیدہ سے اس کے زمانہ میں محبّت کی جو حسینؓ سے بھی محبّت کی جاتی۔ غرض یہ امر نہایت درجہ کی شقاوت اور بے ایمانی میں داخل ہے کہ حسین رضی اللہ عنہ کی تحقیر کی جائے اور جو شخص حسینؓ یا کسی اور بزرگ کی جو آئمۂِ مطہّرین میں سے ہے تحقیر کرتا ہے یا کوئی کلمہ استخفاف کا اس کی نسبت اپنی زبان پر لاتا ہے ۔ وہ اپنے ایمان کو ضائع کرتا ہے کیونکہ اللہ جلّشانہ اس شخص کا دشمن ہو جاتا ہے جو اس کے برگزیدوں اور پیاروں کا دشمن ہے جو شخص مجھے بُرا کہتا ہے یا لعن طعن کرتا ہے اس کے عوض میں کسی برگزیدہ اور محبوب الہٰی کی نسبت شوخی کا لفظ زبان پر لانا سخت معصیت ہے ۔ ایسے موقع پر درگزر کرنا اور نادان دشمن کے حق میں دُعا کرنا بہتر ہے کیونکہ اگر وہ لوگ مجھے جانتے کہ میں کس کی طرف سے ہوں تو ہرگز بُرا نہ کہتے وہ مجھے ایک دجّال اور مفتری خیال کرتے ہیں ۔ میں نے جو کچھ اپنی نسبت دعویٰ کیا اور جو کچھ اپنے مرتبہ کی نسبت کہا وہ میں نے نہیں کہا بلکہ خدا نے کہا۔ پس مجھے کیا ضرورت ہے کہ ان بحثوں کو طول دوں اگر میں درحقیقت مفتری اور دجّال ہوں اور اگر درحقیقت میں اپنے ان مراتب کے بیان کرنے میں جو مَیں خدا کی وحی کی طرف ان کو منسوب کرتا ہوں کاذب اور مفتری ہوں تو میرے ساتھ اس دُنیا اور آخرت میں خدا کا وہ معاملہ ہو گا جو کاذبوں اور مفتریوں سے ہوا کرتا ہے کیونکہ محبوب اور مردود یکساں نہیں ہوا کرتے۔ سو اے عزیزو! صبر کرو کہ آخر وہ امر جو مخفی ہے کھُل جائے گا۔ خدا جانتا ہے کہ مَیں اُس کی طرف سے ہوں اور وقت پر آیا ہوں۔ مگر وہ دل جو سخت ہو گئے اور وہ آنکھیں جو بند ہو گئیں میں ان کا کیا علاج کر سکتا ہوں۔ خدا میری نسبت اشارہ کر کے فرماتا ہے کہ دُنیا میں ایک نذیر آیا پر دُنیا نے اُس کو قبول نہ کیا

یہ حوالہ صفحہ 302 پر درج ہے

مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 654 طبع جدید، از مرزا قادیانی

صفحہ 834

حوالہ نمبر 261

11

چونکہ میں ظلی طور پر محمد ہوں صلی اللہ علیہ وسلم پس اس طور سے خاتم النبیین کی مُہر نہیں ٹوٹتی۔ کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت محمد تک ہی محدود رہی یعنی بہرحال محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی نبی رہے نہ اور کوئی یعنی جبکہ میں بروزی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدی مع نبوت محمدیہ کے میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں تو پھر کونسا الگ انسان ہوا جس نے علیحدہ طور پر نبوت کا دعویٰ کیا ۔ بھلا اگر مجھے قبول نہیں کرتے تو یوں سمجھو کہ مہدی موعود قریشی اور ہاشمی ہیں پھر مجھ تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہے اور اس کا نام آسمان پر مجھ سے مطابق ہوگا یعنی اس کا نام بھی محمد اور احمد ہو گا اور اسکے اہلبیت میں سے ہوگا۔ ۷ اور بعض حدیثوں میں ہے کہ مجھ میں ہو گا یہ بھی اشارہ اس بات کیطرف ہے کہ وہ روحانیت کے رُو سے اسی نبی میں ہو کر ظاہر ہوگا اور اسی کی روح کا رُوپ ہوگا۔ اسپر نہایت قوی قرینہ یہ ہے کہ جن لفظوں کے

٭ حاشیہ ۔ یہ بات میرے اجتہاد کی رُو سے نہیں ہے بلکہ ایک دادی میری شریف خاندان سادات سے جو بنی فاطمہ میں سے تھی ۔ اسکی تصدیق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کی اور خواب میں مجھے فرمایا کہ سلمان منا اھل البیت علیٰ مشرب الحسن ۔ میرا نام سلمان رکھا یعنے دو سلم ۔ اور سلم عربی میں ۷ صلح کو کہتے ہیں یعنے تقدیر ہے کہ دو صلح میرے ہاتھ پر ہونگی ۔ ایک اندرونی جو اندرونی فتنوں اور عناد کو دُور کریگی ۔ دُوسری بیرونی کہ جو بیرونی عداوت کے وجوہ کو پامال کر کے اور اسلام کی عظمت دکھا کر خیرہ سر لوگوں کو اسلام کیطرف جھکا دے گی معلوم ہوتا ہے کہ حدیث میں جو سلمان آیا ہے اُس سے بھی میں مراد ہوں ۔ ورنہ اُس سلمان پر دو صلح کی پیشگوئی صادق نہیں آتی ۔ اور میں خدا سے وحی پا کر کہتا ہوں کہ میں بنی فارس میں سے ہوں اور بموجب اُس حدیث کے جو کنزالعمال میں درج ہے بنی فارس بھی بنی اسرائیل اور اہلبیت میں سے ہیں اور حضرت عائشہ نے کشفی حالت میں اپنی ران پر میرا سر رکھا اور مجھے لڑکا پا کر فرمایا کہ مجھ میں سے ہے ۔ چنانچہ یہ کشف براہین احمدیہ میں موجود ہے ۔ منہ

یہ حوالہ صفحہ 302 پر درج ہے ایک غلطی کا ازالہ (حاشیہ) صفحہ 11 از مرزا قادیانی

صفحہ 835

حوالہ نمبر 262

یہی آئینہ خالق نما ہے یہی اک جوہر سیفِ دُعا ہے
ہر اک نیکی کی جو یہ انتہا ہے اگر یہ جو رہی سب کچھ رہا ہے*
یہی اک فخرِ شانِ اولیاء ہے بجز تقویٰ شرافت ان میں کیا ہے
مُجھے تقویٰ سے اُس نے یہ جزا دی
فَسُبْحَانَ الَّذِيْ اَخْزَى الْاَعَادِيْ
خُدایا تیرے فضلوں کو کروں یاد بشارت تُو نے دی اور پھر یہ اولاد
کہا ہرگز نہیں ہوں گے یہ برباد پھلیں گے جیسے باغوں میں ہوں شمشاد
مری اولاد سب تیری عطا ہے ہر اک تیری بشارت سے ہرا ہے
یہ پانچوں جو کہ نسلِ سیّدہ ہے یہی ہیں پنج تن جن پر بنا ہے
یہ تیرا فضل ہے اے میرے ہادی
فَسُبْحَانَ الَّذِيْ اَخْزَى الْاَعَادِيْ
دیے تُو نے مجھے یہ مہر و مہتاب یہ سب ہیں میرے پیارے تیرے اسباب

* خاکی مہر

درثمین اُردو صفحہ 29 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 303 پر درج ہے

صفحہ 836

(حوالہ نمبر 263)

تو وہ دنیا کی طرف سے توڑتا ہے اور خدا میں پیوند کرتا ہے اور یہ تب ہوتا ہے جب کہ کمال ترقی ہو جیسے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کامل ترقی پر تھے ویسے ہی کامل نزول بھی تھا۔ یعنی یہ وجہ ہے کہ اتنے درجات خدا سے اور قرب کی اُس نے سوسائٹی کی ذرا بھی پروا نہیں کی اور ان کی مخالفت سے کچھ بھی متاثر نہ ہوئے۔ آپؐ میں ایک غرق تامہ تھا یعنی خدا تعالیٰ کی ذات پر تھا۔ اسی لیے اس قدر عظیم الشان بوجھ کو آپؐ نے اٹھا لیا اور ساری دنیا کی مخالفت کی اور دعویٰ کیا کہ سچی ہستی وہی ہے بڑا اندھا ہے جو کسی کی نفع و زیاں پر نظر نہیں۔ اسی لیے کہ اس میں خدا کو پسند کرنے دنیا کو فنا بتا دیا جاتا ہے۔ کہ یہ جماعت پیدا نہیں ہوتی جب تک گویا خدا کو نہ دیکھ لے۔ بیشک یہ امید نہ ہو کہ اس کے بعد ثمرہ اور اجر نقد ملنے والا ہے۔ جب یہ امید اور یقین ہو جاتا ہے تو وہ عزیزوں کو خاک راہ میں دشمن بنالیتا ہے۔ اس لیے کہ وہ جانتا ہے کہ خدا ان دوستوں سے بہتر پناہ دے گا۔ جائیداد کو چھوڑتا ہے کہ اس سے بہتر ملنے کو یقینی ہوتا ہے۔

غرض خلاصہ کلام یہ ہے کہ خدا ہی کی رضا کو مقدم کر لو تو ترقی ہے اور پھر نزول اور توکل تام ہیں۔ توکل کا مدار ہے تبتل اور توکل کی شرط ہے تبتل یہی ہمارا مذہب اس امر میں ہے۔

۱۲؍ ستمبر ۱۹۰۱ء بوقت مغرب

امّ المومنین کے لفظ کا استعمال : ۔ امّ المومنین کا لفظ ایسے وسیع دعویٰ کی بیوی کی نسبت استعمال کیا جاتا ہے اس پر بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں۔ حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہنس کر فرمایا : ”اعتراض کرنے والے بہت ہی کم غور کرتے ہیں اور اس قسم کے اعتراض حماقت بتاتے ہیں کہ وہ محض کینہ اور حسد کی بناء پر کیے جاتے ہیں۔ ورنہ بیویوں یا ان کے اقوال کی پیروی اگر اُمہات المومنین نہیں ہوتی ہیں تو کیا ہوتا ہے؟ خدا تعالیٰ کی سنت اور قانونِ قدرت کے اس تعامل سے ہمیں پتا لگتا ہے کہ کسی نبی کی بیوی سے کسی نے شادی نہیں کی۔ ہم کہتے ہیں کہ ان لوگوں سے جو اعتراض کرتے ہیں کہ اُمّ المومنین کیوں کہتے ہو پوچھنا چاہیے کہ تم بتاؤ جس کا دعویٰ تمہارے ذہن میں ہے اسے تم کیا کہتے ہو؟ اور اگر گمان میں گزرے گا کیا اس کی بیوی کو تم اُمّ المومنین کہو گے یا نہیں؟ مسلّم ہے کہ سچے مدعی کو نبی ہی کہا گیا ہے اور قرآن شریف میں انبیاء علیہم السلام

الحکم جلد ۵ نمبر ۳۴ ص ۳، ۴ پرچہ ۱۷؍ ستمبر ۱۹۰۱ء

ملفوظات جلد اوّل صفحہ 555 طبع جدید از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 303 پر درج ہے

صفحہ 837

حوالہ نمبر 264 ۱۴۱

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ میاں امام الدین صاحب سیکوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تین سو تیرہ اصحاب کی فہرست تیار کی، تو بعض دوستوں نے خطوط لکھے کہ حضور ہمارا نام بھی اس فہرست میں درج کیا جائے۔ یہ دیکھ کر ہم کو بھی خیال پیدا ہوا کہ حضور علیہ السلام سے دریافت کریں، کہ آیا ہمارا نام درج ہو گیا ہے یا کہ نہیں، تب ہم تینوں باہم مل کر منشی عبدالکریم صاحب حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اور دریافت کیا، اس پر حضور نے فرمایا کہ میں نے تو تمہارے نام پہلے ہی درج کئے ہوئے ہیں، مگر ہمارے ناموں کے آگے مع اہل بیت کے الفاظ بھی زائد کئے تھے۔

خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ فہرست حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۱۸۹۶ء میں تیار کی تھی۔ اور اسے ضمیمہ انجام آتھم میں درج کیا تھا۔ احادیث سے پتہ لگتا ہے کہ آنحضرت صلعم نے بھی ایک دفعہ ۲۹۱ اسی طرح اپنے اصحاب کی ایک فہرست تیار کروائی تھی۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ تین سو تیرہ کا عدد اصحاب بدر کی نسبت سے چنا گیا تھا۔ کیونکہ ایک حدیث میں ذکر آتا ہے کہ مہدی کے ساتھ اصحاب بدر کی تعداد کے مطابق ۳۱۳ اصحاب ہوں گے جن کے اسماء ایک مطبوعہ کتاب میں درج ہونگے (دیکھو ضمیمہ انجام آتھم صفحہ ۴۰ تا ۴۵)

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ میاں امام الدین صاحب سیکوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت اقدس نے بیان فرمایا، کہ طاعون دنیا سے اس وقت تک نہیں جائیگی، کہ یا ۲۹۲ تو یہ گناہ کو کھا جائے گی۔ اور یا آدمیوں کو کھا جائے گی۔

خاکسار عرض کرتا ہے کہ معنوی رنگ میں طاعون کے اندر وہ دوسرے عذاب بھی شامل ہیں جو خدا کی طرف سے اپنے مسیح کی تائید کے لئے نازل ہوئے یا آئندہ ہونگے۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ میاں امام الدین صاحب سیکوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا، بسا اوقات اگر کوئی شخص اس گورنمنٹ کے آگے ۲۹۳ سچ بولے، تو وہ پکڑا جاتا ہے۔ لیکن اگر خدا تعالیٰ کے سامنے سچ بولے تو چھوٹ جاتا ہے۔

سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 128 از مرزا بشیر الدین محمود

یہ حوالہ صفحہ 304,303 پر درج ہے

صفحہ 838

حوالہ نمبر 265 انوار العلوم جلد ۸ ۸۰ قول حق

پہن لیں۔ اور کونسی مصیبت باقی ہے جس کی انتظار میں تم لوگ بیٹھے ہو کاش اب بھی تم لوگ سمجھتے اور خدا کے غضب کو اور نہ بھڑکاتے مگر افسوس ہے جسے خدا اندھا کرے اسے کوئی دکھا نہیں سکتا۔

ہم کس مقام پر کھڑے ہیں

خدا نے ہم کو اس مقام پر کھڑا نہیں کیا کہ ہم ان لوگوں کی دل آزاریوں اور تکلیف دہیوں سے گھبرا جائیں کیونکہ جیسا کہ ہمیشہ سے سنت ہے ضرور ہے کہ ان پر ہمیں ظاہری فتح بھی حاصل ہو جو فاتح قادیان کہلاتے ہیں اُس وقت ان کی اولاد اسی طرح ان کے نام سے شرمائے گی جس طرح ابو جہل کی اولاد شرماتی تھی۔ دنیا دیکھے گی کہ میری یہ باتیں جو لکھی اور چھاپی جائیں گی پوری ہوں گی اور ضرور پوری ہوں گی ان لوگوں کی نسلیں جو بعد میں آئیں گی وہ یہ کہنا پسند نہ کریں گی کہ محمد حسین یا ثناء اللہ کی اولاد ہیں وہ یہ کہنے سے شرمائیں گی ان کے نام سن کر ان کی گردنیں نیچی ہو جائیں گی اور مرتضیٰ حسن جو سید کہلاتا ہے اس کی یہ سیادت باطل ہو جائے گی اب وہی سید ہو گا جو حضرت مسیح موعود کی اتباع میں داخل ہو گا اب یہ امارت کام نہ آئے گا کہ ان رشتہ داروں نے اس کی ہتک کی۔ مسلمان کہلا کر اسلام کے نام لیوا کہلا کر انہوں نے لیکچر دیئے کیا احمدی آریوں سے بھی بدتر ہیں پس خدا کی کتاب سے ان کی سیادت مٹائی گئی اور یہ ذلیل اور حقیر کئے گئے اور کئے جائیں گے اگر انہوں نے توبہ نہ کی ان کے تمام دعوٰی باطل اور تمام خوشیاں ہیچ ہو جائیں گی کیا وہ اپنی اس وقت تک کی حالت پر نظر نہیں کرتے کسی امر میں بھی انہیں کامیابی اور خوشی نصیب ہوئی؟ ہرگز نہیں لیکن ان کے مقابلہ میں ہماری یہ حالت ہے اگر ہمیں ایک غم آیا تو خدا تعالیٰ نے چار خوشیاں دکھائیں پس ہم انکی مخالفتوں اور شرارتوں سے گھبراتے نہیں کیوں کہ خدا تعالیٰ کی تائید ہمارے ساتھ ہے پس اے عزیزو! اور دوستو! میں تم سے کہتا ہوں کہ خدا کے ہو کر خدا کے بن کر اسلام کی خدمت کے لئے کھڑے ہو جاؤ۔ تمہارے سامنے یہ لوگ ہیں جن کے متعلق تم دیکھ سکتے ہو کہ ایک نبی کا انکار اور مخالفت کرنے سے ان کی حالت کیا سے کیا ہو گئی ہے پس تم خدا کے لئے ہو جاؤ اور پھر نہ ڈرو جو کچھ ہوتا ہے ہو جائے کہ جو خدا کا ہو جاتا ہے پھر وہ کسی سے نہیں ڈرتا۔

(الفضل ۳ جولائی ۱۹۲۳ء)

۱ یسٓ : ۳۱ ۲۔ ال عمران : ۵۶ ۳۔ البقرۃ : ۱۴۱ ۴۔ الحج : ۵۲ ۵ تفسیر بیضاوی جلد ۲ صفحہ ۲۱ تفسیر سورۃ الحج زیر آیت وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَّسُوْلٍ ...... الخ

قول الحق صفحہ 32 مندرجہ انوار العلوم جلد 8 صفحہ 180 از مرزا بشیر الدین محمود یہ حوالہ صفحہ 304 پر درج ہے

صفحہ 839

حوالہ نمبر 266

۷۹

يَبْغُوْنَهَا وَيَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِهِمْ مَّا لَيْسَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ ۔ وَاسْتَيْقَنَتْهَا اَنْفُسُهُمْ ۔ وَقَالُوْا لَا مَسَاسَ مَسَاسَ۔ فَمَا تَنْفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيْنَ ۔ عَمُوْا وَصُمُّوْا عَلَيْهِمْ ۔ وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيْظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ ۔ قُلْ اِنَّمَا اَنَا مُنْذِرٌ وَّبِيَ الْاِيْصَالُ ۔ کیا کہتے ہیں کہ ہم ایک قومی جماعت ہیں جواب دیدے کہ انہیں عنقریب یہ ساری جماعت بھاگ جائیگی اور پیٹھ پھیریں گے۔ اور پیٹھ پر لوگ کوئی نشان دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ ایک معمولی اور قومی مہر ہے۔ حالانکہ سچے دل اُن نشانوں پر یقین کر گئے ہیں اور دلوں میں انہوں نے سمجھ لیا ہے کہ اب گریز کی جگہ نہیں۔ اور یہ خدا کی رحمت ہے کہ تو ان پر نرم ہوا۔ اور اگر تو سخت دل ہوتا تو یہ لوگ تیرے نزدیک نہ آتے اور تجھ سے الگ ہو جاتے۔ مگر یہ کہ ان کی شفاعت کیسے ہو سکتی ہے۔

یہ آیات اُن بعض لوگوں کے حق میں بطور الہام القا ہوئیں جن کا ایسا ہی خیال اور حال تھا اور شاید ایسے ہی اور لوگ بھی نکل آویں جو اس قسم کی باتیں کریں اور بدرجہ یقین کامل پہنچ کر پھر منکر رہیں۔

(براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحہ ۵۲۷ و ۵۲۸ حاشیہ در حاشیہ ۔ روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۶۲۴ - ۶۲۵)

۱۸۸۴ء پھر اسی کے صفحہ میں :- اِنَّا اَنْزَلْنٰهُ قَرِيْبًا ۱ مِّنَ الْقَادِيَانِ ۔ وَبِالْحَقِّ اَنْزَلْنٰهُ وَبِالْحَقِّ نَزَلَ ۲ ۔ صَدَقَ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ وَكَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا ۳ ۔

یعنی ہم نے ان نشانوں اور عجائبات کو اور نیز اس الہام پُر بشارت و حقائق کو قادیان کے قریب اتارا ہے۔ اور بضرورتِ حقہ کے ساتھ اتارا ہے اور بضرورتِ حقہ اُترا ہے۔ سچے اللہ اور اُس کے رسول نے خبر دی تھی کہ جو اپنے وقت پر پوری ہوئی۔ اور جو کچھ خدا نے چاہا تھا وہ ہونا ہی تھا۔ یہ آخری فقرات اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس شخص کے ظہور کے لئے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی

؎۱ : قریہ اور قرب ، اس سے ہم معنی رکھتے ۔ ۱۲ منہ ؎۲ : اس الہام پر غور کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ قادیان میں خدا تعالیٰ کی طرف سے اس عاجز کا ظاہر ہونا اسی نوشتہ اور الہامی پیشگوئی کے پہلے سے لکھا گیا تھا ۔۔۔۔۔ جبکہ ایک نئے الہام سے یہ بات پایۂ ثبوت تک پہنچ گئی کہ قادیان کو خدا تعالیٰ کے نزدیک دمشق سے مشابہت ہے تو اس پہلے الہام کے معنے بھی اس سے کھل گئے ۔۔۔۔ اس کی تفسیر یہ ہے کہ اِنَّا اَنْزَلْنٰهُ قَرِيْبًا مِّنْ دِمَشْقَ بِطَرْفٍ شَرْقِيٍّ عِنْدَ الْمَنَارَةِ الْبَيْضَاءِ ۔ کیونکہ اس عاجز کی سکونت گاہ قادیان کے شرقی کنارہ پر ہے ۔ (براہین احمدیہ صفحہ ۵۰۳ و ۵۰۴ حاشیہ ۔ روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۵۹۹ و ۶۰۰) ؎۳ اصل الہام میں یہ فقرہ یوں ہے وَكَانَ وَعْدُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا ۔ (ازالہ اوہام صفحہ ۷۱)

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 59 طبع چہارم از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 309 پر درج ہے

Back

صفحہ 840

حوالہ نمبر 267 ازالہ اوہام 171 حصہ اول

خاتم النبیین جو خیرالمرسلین ہیں جن کے ہاتھ سے اکمال دین ہو چکا اور وہ نعمت بمرتبہ اتم پہنچ چکی جس کے ذریعہ سے انسان راہ راست کو اختیار کر کے خدائے تعالیٰ تک پہنچ سکتا ہے اور ہم پختہ یقین کے ساتھ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ قرآن شریف خاتم الکتب ہے اور اس میں ایک شوشہ یا نقطہ اس کی شرائع اور حدود اور احکام اور اوامر سے زیادہ نہیں ہو سکتا اور نہ کم ہو سکتا ہے اور اب کوئی ایسی وحی یا ایسا الہام منجانب اللہ نہیں ہو سکتا جو احکام قرآنی کی ترمیم یا تنسیخ یا کسی ایک حکم کی تبدیلی یا تغیر کر سکتا ہو اگر کوئی ایسا خیال کرے تو وہ ہمارے نزدیک جماعت مومنین سے خارج اور ملحد اور کافر ہے اور ہمارا اس بات پر بھی ایمان ہے کہ ادنیٰ درجہ صراط مستقیم کا بھی بغیر متابعت ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہرگز انسان کو حاصل نہیں ہو سکتا چہ جائیکہ راہ راست کے اعلیٰ مدارج بجز اقتداء اس امام الرسل کے حاصل ہو سکیں کوئی مرتبہ شرف و کمال کا اور کوئی مقام عزت اور قرب کا بجز سچی اور کامل متابعت اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم ہرگز حاصل کر نہیں سکتے۔ ہمیں جو کچھ ملتا ہے ظلی اور طفیلی طور پر ملتا ہے اور ہم اس بات پر بھی ایمان رکھتے ہیں کہ جو راستباز اور کامل لوگ شرف صحبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرف ہو کر تکمیل منازل سلوک کر چکے ہیں اُن کے کمالات کی نسبت بھی ہمارے کمالات اگر ہمیں حاصل ہوں بطریق ظل کے واقع ہیں اور اُن میں بعض ایسے جزئی فضائل ہیں جو اب ہمیں کسی طرح سے حاصل نہیں ہو سکتے۔ غرض ہمارا انہیں تمام باتوں پر ایمان ہے جو قرآن شریف میں درج ہیں اور جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خدائے تعالیٰ کی طرف سے لائے اور تمام محدثات اور بدعات کو ہم ایک فاحش ضلالت اور جہنم تک پہنچانے والی راہ یقین رکھتے ہیں گو افسوس کہ ہماری قوم میں ایسے لوگ بہت ہیں جو بعض حقائق اور معارف قرآنیہ اور دقائق آثار نبویہ کو جو اپنے وقت پر بذریعہ کشف و الہام زیادہ تر صفائی سے کھلتے ہیں محدثات اور بدعات میں ہی داخل کر لیتے ہیں حالانکہ معارف خفیہ قرآنیہ و حدیث ہمیشہ اہل کشف پر کھلتے رہے ہیں

ازالہ اوہام صفحہ 70 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 170 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 310 پر درج ہے

صفحہ 841

حوالہ نمبر 268 ازالۃ الاوہام حصہ اول ۱۴۰

حالانکہ وہ بجائے خود اپنے تئیں معذور سمجھتے تھے کیونکہ ان کی بائبل کے ظاہری الفاظ پر نظر تھی۔ افسوس کہ ہمارے مسلمان بھائی بھی اسی گرداب میں پڑے ہوئے ہیں اور حضرت مسیح کی نسبت یہودیوں کی طرح ان کے دلوں میں بھی یہی خیال جما ہوا ہے کہ ہم انہیں سچ مچ آسمان سے اترتے دیکھیں گے اور وہ اعجوبہ ہم بچشم خود دیکھیں گے کہ حضرت مسیح زرد رنگ کی پوشاک پہنے ہوئے آسمان سے اترتے چلے آتے ہیں اور دائیں بائیں فرشتے اُن کے ساتھ ہیں اور تمام بازاری لوگ اور دیہات کے آدمی ایک بڑے میلہ کی طرح اکٹھے ہو کر دور سے اُن کو دیکھ رہے ہیں اور

فیہ اختلافا کثیرا ۔ ولو اتبع الحق اھواءھم لفسدت السموات والارض و من فیھن ۔ ولبطلت حکمتہ و کان اللہ عزیزا حکیما ۔ قل لو کان البحر مدادا لکلمات ربی لنفد البحر قبل ان تنفد کلمات ربی ولو جئنا بمثلہ مددا ۔ قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ وکان اللہ غفورا رحیما ۔ پھر اس کے بعد الہام کیا گیا کہ ان علماء نے میرے گھر کو بدل ڈالا ۔ میری عبادت گاہ میں ان کے چولہے ہیں میری پرستش کی جگہ میں ان کے پیالے اور ٹھوٹھیاں رکھی ہوئی ہیں اور چوہوں کی طرح میرے نبی کی حدیثوں کو کتر رہے ہیں (ٹھوٹھیاں وہ چھوٹی پیالیاں ہیں جن کو ہندوستان میں کٹوریاں کہتے ہیں ۔ عبادت گاہ سے مراد اس الہام میں وہ خالص دل ہے جو خدا پرستوں کے دل میں ہونا چاہئے بھرے ہوئے ہیں) اس جگہ مجھے یاد آیا کہ جس روز یہ الہام مذکورہ بالا جس میں ٹھوٹھیاں کا ذکر ہے پڑھا تھا اس روز کشفی طور پر میں نے دیکھا کہ میرے بھائی صاحب مرحوم مرزا غلام قادر میرے قریب بیٹھ کر بآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے ہیں اور پڑھتے پڑھتے انہوں نے بعض ان فقرات کو پڑھا کہ انا انزلنہ قریبا من القادیان تو میں نے سنکر بہت تعجب کیا کہ کیا قادیان کا نام بھی قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے ؟ تب انہوں نے کہا کہ یہ دیکھو لکھا ہوا ہے تب میں نے نظر ڈال کر جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ فی الحقیقت قرآن شریف کے دائیں صفحہ میں شاید قریب نصف کے موقعہ پر یہی الہامی عبارت لکھی ہوئی موجود ہے تب میں نے اپنے دل میں کہا کہ ہاں واقعی طور پر قادیان کا نام قرآن شریف میں درج ہے اور میں نے کہا کہ تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج کیا گیا ہے مکہ اور مدینہ اور قادیان ۔ یہ کشف تھا

ازالۃ الاوہام صفحہ 140 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 140 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 311، 312 پر درج ہے

صفحہ 842

حوالہ نمبر 269

۶ جنوری ۱۸۹۱ء

(الف) ”خواب میں دیکھا کہ میرے پاس مرزا غلام قادر میرے بھائی کھڑے ہیں اور میں یہ آیت شریفہ اُن پر پڑھتا ہوں غُلِبَتِ الرُّوْمُ فِيْ أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُمْ مِّنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُوْنَ اور کہتا ہوں کہ اَدْنَی الْاَرْضِ سے قادیان مُراد ہے اور میں کہتا ہوں کہ قرآن شریف میں قادیان کا نام درج ہے“

(مکتوب پیر سراج الحق صاحب نعمانی جو مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دست مبارک کے لکھے ہوئے میں سے)

(ب) ”ایک دفعہ ہمیں یہ الہام ہوا کہ :۔ ”غُلِبَتِ الرُّوْمُ فِيْ أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُمْ مِّنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُوْنَ۔ اور مجھے دکھایا گیا کہ اس وعدہ کی آخری آیت تک جس قدر حروف ہیں ان میں کامل اور اخلص موافقین کے نام بھی مخفی ہیں اور جو اشد انکار وعناد و مخالفت میں اپنی قوم میں سے ہیں ان کے نام بھی اس میں پوشیدہ ہیں“

پھر بیداری یا نوم میں مَیں نے دیکھا کہ ایک شخص نے أَدْنَى الْأَرْضِ پر قرآن شریف میں ہاتھ رکھا ہوا ہے اور کہتا ہے کہ یہ قادیان کا نام ہے“

(تذکرۃ المہدی حصہ دوم صفحہ ۲۷ و مکتوب پیر سراج الحق صاحب نعمانی)

۲۷؍ فروری ۱۸۹۱ء

” ذُبِحَتْ بِالْکِتَابِ فَقُوْمُوْا“

(مکتوب پیر سراج الحق صاحب نعمانی، البشریٰ صفحہ ۵۸)

۱۸۹۱ء

محترم خواجہ حسن نظامی صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک خط شائع کیا ہے جس کا اقتباس درج ذیل ہے :۔

”ہم نے آپ کی صحت کے لئے خدا سے دُعا مانگی اور ہم کو الہام ہوا کہ خواجہ حسن نظامی ابھی بہت دن جیویں گے اور مسلمانوں کے بڑے بڑے کام کریں گے“

(الفضل جلد ۳ نمبر ۳۹، مورخہ ۱۱؍ اکتوبر ۱۹۱۵ء صفحہ ۴ بحوالہ اخبار منادی دہلی بابت ۱۷ ستمبر ۱۹۱۵ء صفحہ ۴۷)

۱؎ (نوٹ از مرتب) چونکہ الہام کی بعض مخفی خبریں بعد میں پوری ہوئیں۔ اس لئے یہاں سب لکھے گئے ہیں۔ یہ الہام حضرت اقدس علیہ السلام کے دست مبارک کے لکھے ہوئے سے نقل کئے گئے ۔

۲؎ البشریٰ مجموعہ الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام طبع مطبع احمدیہ قادیان مؤلفہ پیر سراج الحق صاحب نعمانی۔ (مرتب)

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 649 طبع چہارم از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 312 پر درج ہے

صفحہ 843

حوالہ نمبر 270

حقیقت المہدی ۴۴۲

اور اعتراض کا نام و نشان نہ رہے گا ۔ خوب یاد رکھنا چاہئے کہ میری پیشگوئیوں میں کوئی بھی امر ایسا نہیں ہے جس کی نظیر پہلے انبیاء علیہم السلام کی پیشگوئیوں میں نہیں ہے ۔ یہ جاہل اور بے تمیز لوگ جو نکتہ چین بنے باریک علوم اور معارف سے بے بہرہ ہیں ۔ اس لئے قبل اس کے جو عادۃ اللہ سے واقف ہوں جہل کے جوش سے اعتراض کرنے کے لئے دوڑتے ہیں اور ہمیشہ بموجب آیت کریمہ یتربصون بکم الدوائر تیری کسی گردش کے منتظر ہیں اور علیہم دائرة السوء کے مضمون سے بے خبر ۔ ان میں سے ایک نے علم جفر کا دعویٰ کر کے میری نسبت لکھا ہے کہ ”بذریعہ جفر ہمیں معلوم ہوا ہے کہ یہ شخص کاذب ہے ۔“ مگر یہ نادان نہیں سمجھتے کہ جفر وہی جھوٹا اور مردود علم ہے جس کے ذریعہ سے شیعہ یہ باتیں نکالا کرتے ہیں کہ ابوبکر اور عمر نعوذ باللہ ظالم اور دائرہ ایمان سے خارج ہیں بایں وجہ جھوٹے طریق کا وہی لوگ اعتبار کریں گے جن کے دل سچائی سے مناسبت نہیں رکھتے ۔ اگر اس قسم کے حساب سے کوئی ہندو یہ جواب نکالے کہ فقط ہندو مذہب ہی سچا ہے اور باقی تمام نبیوں کے مذاہب جھوٹے ہیں تو کیا وہ مذہب جھوٹے ہو جائیں گے ۔ افسوس یہ لوگ مسلمان کہلا کر کن کینہ خیالات میں مبتلا ہیں ۔ حالانکہ کشف اور خواب بھی ہر ایک کے یکساں نہیں ہوتے ۔ وہ کامل کشف جس کو قرآن شریف میں اظہار علی الغیب سے تعبیر کیا گیا ہے جو دائرہ کی طرح پورے علم پر مشتمل ہوتا ہے وہ ہر ایک کو عطا نہیں کیا جاتا صرف برگزیدوں کو دیا جاتا ہے ۔ اور ناقصوں کا کشف اور الہام ناقص ہوتا ہے جو بالآخر ان کو بہت شرمندہ کرتا ہے ۔ اظہار علی الغیب کی حقیقت یہ ہے کہ جیسے کوئی اونچے مکان پر چڑھ کر ارد گرد کی چیزوں کو دیکھتا ہے ۔ تو بلاشبہ آسانی سے ہر ایک چیز اس کو نظر آسکتی ہے لیکن جو شخص نشیب کے مکان سے ایسی چیزوں کو دیکھنا چاہتا ہے تو بہت سی چیزیں دیکھنے سے رہ جاتی ہیں ۔ اور برگزیدوں سے خدا کی یہ عادت ہے کہ اُن کی نظر کو اونچے مکان تک لے جاتا ہے ۔ تب وہ آسانی سے ہر ایک چیز کو دیکھ سکتے ہیں ۔ اور انجام کی خبر دیتے ہیں ۔ اور

۱۔ التوبۃ : ۹۸

حقیقت المہدی صفحہ 16 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 442 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 312 پر درج ہے

صفحہ 844

حوالہ نمبر 271 ازالۃ الاوہام ۱۷۸ حصہ اول

ہمارے نزدیک صحیح نہیں اور بہتیری حدیثیں موضوع ہیں اور آنحضرت کے قول سے بذریعہ کشف کے صحیح ہو جاتی ہیں تمت کلامہ اور فتوحات مکیہ میں ابن عربی صاحب نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اہل ذکر و خلوت پر وہ علوم لدنیہ کھلتے ہیں جو اہل نظر و استدلال کو حاصل نہیں ہوتے اور یہ علوم لدنیہ اور اسرار و معارف انبیاء اور اولیاء سے مخصوص ہیں اور جنید بغدادی نے نقل کیا ہے کہ انہوں نے تیس سال اس درجہ میں رہ کر یہ رتبہ حاصل کیا ہے اور ابویزید بسطامی نے نقل کیا ہے کہ علماء ظاہر نے علم مردوں سے لیا ہے اور ہم نے زندہ سے جو خدا تعالیٰ ہے۔ تمت کلامہ ایسا ہی مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب نے رئیس المحدثین حضرت شاہ ولی اللہ قدس سرہٗ کے کلمات قدسیہ اس بارہ میں بہت کچھ لکھے ہیں اور دوسرے علماء و فقراء کی بھی شہادتیں دی ہیں مگر ہم ان سب کو اس رسالہ میں نہیں لکھ سکتے اور نہ لکھنے کی کچھ ضرورت ہے الہام اور کشف کی عزت اور پایہ عالیہ قرآن شریف سے ثابت ہے وہ شخص جس نے کشتی کو توڑا اور ایک معصوم بچہ کو قتل کیا جس کا ذکر قرآن شریف میں ہے وہ صرف ایک ملہم ہی تھا نبی نہیں تھا باایں ہمہ کشف کا مسئلہ اسلام میں ایسا ضعیف نہیں سمجھا گیا کہ جس کا نورانی شعلہ صرف عوام الناس کے منہ کی پھونکوں سے منطفی ہو سکے یہی ایک دروازہ تو اسلام کے لئے وہ اعلیٰ درجہ کا نشان ہے جو قیامت تک بے نظیر شان و شوکت اسلام کی ظاہر کر رہا ہے یہی تو وہ خاص برکتیں ہیں جو غیر مذہب والوں میں پائی نہیں جاتیں۔ ہمارے علماء نہ اس الہام کے مخالف ہیں نہ مدعیان نبوت کے مکذب ٹھہرتے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ فرمایا ہے کہ ہر ایک صدی پر ایک مجدد کا آنا ضروری ہے اب ہمارے علماء جو بظاہر اتباع حدیث کا دم بھرتے ہیں انصاف کے

ازالۃ الاوہام صفحہ 153 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 178 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 313 پر درج ہے

صفحہ 845

حوالہ نمبر 272

نمبر ۲ ریویو آف ریلیجنز ۱۷۳

قرار دیا ۔ صاحب شریعت نبی جن کا قرآن میں ذکر ہے ، وہ تو یہی ہیں حضرت موسیٰ سلہ اور نبی کریم ۔ انکے سوا جتنے نبی ہیں وہ سب غیر شرعی ہیں ۔ تو گویا کہ معترض کے اس قول کی بنا پر ہم نے دو نبیوں کے اللہ تعالیٰ کے باقی تمام نبیوں کو جھوٹا ٹہرا دیا ہے ۔ نعوذ باللہ من ذلک ۔ خدا تو کہتا ہے کہ ہمارا یہ قول ہونا چاہئے کہ لا نفرق بین احد من رسلہ لیکن ہم کو یہ بتایا جاتا ہے کہ نہیں صرف دو نبیوں کو ماننا ضروری ہے باقیوں کو نہ ماننے سے کوئی حرج واقع نہیں ہوتا ۔ اے کاش ہمارے مخالف اعتراض کرنے سے پہلے قرآن شریف پر تو غور کر لیتے ۔ قرآن کیسے صاف اور قاطع الفاظ میں کہہ رہا ہے کہ ما نرسل المرسلین الا مبشرین ومنذرین یعنی مرسلین کے بھیجنے سے ہمارا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ ماننے والوں کو بشارتیں دیں اور نہ ماننے والوں کو عذاب الٰہی سے ڈرائیں پس جب مامورین کے مبعوث کرنے کی بڑی غرض ہی انذار و تبشیر ہوتی ہے تو شرعی اور غیر شرعی کا سوال ہی کیسا ہے اور پھر ہم کہتے ہیں کہ شرعی کو ماننے ہی کی ضرورت نہیں تو کیوں خود نبی کریم نے مسیح موعود پر ایمان لانے کو ضروری قرار دیا اور اس کا انکار کرنے والوں کو یہودی اور جہنمی ٹھہرایا ۔ اگر مسیح موعود پر ایمان لانے کو ضروری قرار دینا غلطی ہے تو یہ غلطی سب سے پہلے خود نبی کریم سے سرزد ہوئی نعوذ باللہ من ذلک ۔ اور پھر یہ غلطی اللہ تعالیٰ سے سرزد ہوئی جس نے ایک ایسے شخص کی خاطر جس پر ایمان لانا ضروری نہیں دنیا کو عذابوں سے بھر دیا ۔ مجھے تعجب پر تعجب آتا ہے کہ نبی کریم تو یہ فرماویں کہ ایک وقت میری امت پر ایسا آئے گا کہ ان کے درمیان سے قرآن اُٹھ جائے گا اور لوگ قرآن کو پڑھیں گے مگر وہ انکے حلق سے نیچے نہیں اُترے گا لیکن ہم کو یہ کہا جاتا ہے کہ قرآن کے ہوتے ہوئے کسی شخص کو ماننا ضروری کیسے ہو گیا ۔ ہم کہتے ہیں کہ قرآن کہاں موجود تھا اگر قرآن موجود ہوتا تو کسی کے آنے کی کیا ضرورت تھی ۔ حالت تو یہی ہے کہ قرآن دنیا سے اُٹھ گیا ہے ۔ اسی لئے تو ضرورت پیش آئی کہ محمد رسول اللہ کو بوجہ بروز دوبارہ دنیا میں مبعوث کر کے آپ پر قرآن شریف اُتارا جاوے ۔ معترض کو چاہئے کہ بعثت مامورین کی اغراض پر غور کرے کیونکہ یہ غلط فہمی عدم تدبر کی وجہ سے ہی پیدا ہوتی ہے۔ ہندوستان میں چونکہ اکثر آریہ مذہب کے لوگ ہیں اسلئے

سلہ حاشیہ ۔ اس جگہ موسیٰ اور انکے بعد کے انبیاء کا ذکر ہے ۔ منہ المولف

کلمۃ الفصل صفحہ 173 از صاحبزادہ مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 313 پر درج ہے

صفحہ 846

حوالہ نمبر 273

THE ALFAZL QADIAN جلد ۱۰ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم

دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کرے گا ۔ (الہام حقیقۃ الوحی)

اخبار الفضل قادیان دارالامان

مضامین بنام ایڈیٹر اور متعلق خط و کتابت بنام الفضل منیجر

فہرست مضامین ۱۔ المبشرات ۲۔ رسولِ قادیانی

ایڈیٹر:۔ غلام نبی * اسسٹنٹ :۔ فضل محمد خان ۔ جلد ۱۰ قادیان ۱۶۔ اکتوبر ۱۹۲۲ء مطابق ۲۴ صفر ۱۳۴۱ھ نمبر ۳۰

المبشرات

انسان کی طبیعت میں خدا نے یہ مادہ رکھا ہے کہ

رسولِ قادیانی

(از جناب قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل)

اے میرے پیارے میری جان رسول قادیانی
تیرے صدقے تیرے قربان رسول قادیانی
پہلی بعثت میں محمدؐ ہے تو اب احمد ہے
تجھ پہ پھر اترا قرآن رسول قادیانی

روزنامہ الفضل قادیان جلد 10 شمارہ نمبر 30 مورخہ 16 اکتوبر 1922ء | یہ حوالہ صفحہ 313 پر درج ہے Back

صفحہ 847

حوالہ نمبر 274

حقیقۃ الوحی ۴۰۷ نشانات صداقت

میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں کیونکہ کثرت وحی اور کثرت امور غیبیہ اس میں شرط ہے اور وہ شرط ان میں پائی نہیں جاتی اور ضرور تھا کہ ایسا ہوتا تاکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی صفائی سے پوری ہو جاتی ۔ کیونکہ اگر دوسرے صلحاء جو مجھ سے پہلے گذر چکے ہیں وہ بھی اسی قدر مکالمہ و مخاطبہ الٰہیہ اور امور غیبیہ سے حصہ پالیتے تو وہ نبی کہلانے کے مستحق ہو جاتے تو اس صورت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی میں ایک رخنہ واقع ہو جاتا اسلئے خدا تعالیٰ کی مصلحت نے ان بزرگوں کو اس نعمت کو پورے طور پر پانے سے روک دیا جیسا کہ احادیث صحیحہ میں آیا ہے کہ ایسا شخص ایک ہی ہو گا تا وہ پیشگوئی پوری ہو جائے اور یاد رہے کہ ہم نے محض نمونے کے طور پر چند پیشگوئیاں اس کتاب میں لکھی ہیں مگر دراصل وہ کئی لاکھ پیشگوئی ہے جس کا سلسلہ ابھی تک ختم نہیں ہوا اور خدا کا کلام اس قدر مجھ پر ہوا ہے کہ اگر وہ تمام لکھا جائے تو بیس جزو سے کم نہیں ہوگا۔ اب ہم اسی قدر پر کتاب کو ختم کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ سے چاہتے ہیں کہ اپنی طرف سے اس میں برکت ڈالے ۔ اور لاکھوں دلوں کو اسکے ذریعہ سے ہماری طرف کھینچے ۔ آمین ۔ واٰخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین ۔

تمت

یہ خدا کے کلام میں یہ امر قرار یافتہ تھا کہ وہ موعود اس اُمّت کا وہ گروہ ہوگا جو مسیح موعود کی جماعت ہوگی ۔ اسی لئے خدا تعالیٰ نے اس جماعت کو دوسروں سے علیحدہ کر کے بیان کیا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے وَاٰخَرِینَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ یعنی اُمّت محمدیہ میں سے ایک اور فرقہ بھی ہے جو بعد میں آخری زمانہ میں آنیوالے ہیں اور حدیث صحیح میں ہے کہ اس آیت کے نزول کے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ سلمان فارسی کی پشت پر مارا اور فرمایا لَوْ كَانَ الْاِيْمَانُ مُعَلَّقًا بِالثُّرَيَّا لَنَالَهُ رَجُلٌ مِّنْ فَارِسَ اور یہ میری نسبت پیشگوئی تھی۔ جیسا کہ خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں اس پیشگوئی کی تصدیق کیلئے وہی حدیث بطور وحی میرے پر نازل کی اور وحی کی رُو سے مجھ سے پہلے اس کا کوئی مصداق معین نہ تھا اور خدا کی وحی نے مجھے معین کر دیا ۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰهِ عَلٰی ذٰلِكَ

حقیقۃ الوحی صفحہ 407 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 407 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 314 پر درج ہے

صفحہ 848

حوالہ نمبر 275 ۵۷۰

(۴) كَتَبْتُ لِلَّذِينَ آمَنُوا رَحْمَةً وَكَتَبْتُ لَكَ نِعْمَةً فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ۔ (۵) نَزِيدُ فِي تَحْسِيْنِكَ وَمِدْحَتِكَ وَذَلِكَ ۔ (أی نَزِيدُ بَرَكَاتٍ یہ خدا کی طرف سے نہیں صرف تفہیم ہے میرے فرشتوں میں) (۶) كُلُّ مُكَذِّبٍ خَابَ ۔ يَا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنَا وَأَهْلَنَا الضُّرُّ وَجِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُزْجَاةٍ فَأَوْفِ لَنَا الْكَيْلَ وَتَصَدَّقْ عَلَيْنَا ۔ إِنَّ اللَّهَ يَجْزِي الْمُتَصَدِّقِينَ ۔ (۷) مَا أَنَا إِلَّا كَالْقُرْآنِ وَسَيَظْهَرُ عَلَى يَدَيَّ مَا ظَهَرَ مِنَ الْفُرْقَانِ ۔ (۸) رؤیا۔ دیکھا کہ میں ایک فراخ اور خوبصورت اور چمکدار چبوترہ پر بیٹھے ہوئے چند آدمیوں کے ساتھ ایک طرف جا رہا ہوں اور وہ چبوترہ شیشہ کا سا چمک رہا ہے اور نور کی شعاعیں اس میں سے نکل رہی ہیں۔ (۹) خدا اُس کو بچی بدہلاکت سے بچائے گا۔ (معلوم نہیں کس کے متعلق یہ الہام ہے۔) (۱۰) رؤیا دیکھا کہ ایک بھونچال آیا ۔ کچھ دہشت ناک معلوم ہوتا اور ہم چھت کے نیچے سے باہر آگئے مبارک میرے ساتھ تھا اور خفیف خفیف بارش کے قطرے خوشنما برس رہے تھے۔

(بدر جلد ۲ نمبر ۳۷ مورخہ ۲۰ ستمبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۲۔ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۳۲ مورخہ ۲۴ ستمبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۱)

۲۴ ستمبر ۱۹۰۶ء

(الف) موت، تیراں ماہ حال کو غالباً یہ تیراں ماہ حال سے مراد تیراں ماہ شعبان ہے۔ واللہ اعلم۔ اور میں نہیں جانتا کہ تیراں ماہ حال سے یہی شعبان ہے یا کسی اور شعبان کی تیراں تاریخ۔ اور میں قطعی طور پر نہیں جانتا کہ کس کے حق میں ہے اس لئے طبیعت غمگین ہے۔ خداوند تعالیٰ فضل کرے۔ آمین۔

(بدر جلد ۲ نمبر ۳۸ مورخہ ۲۷ ستمبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۲۔ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۳۳ مورخہ ۲۴ ستمبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۱)

۱؎ (۴) تجھ پر ایمان لانے والوں کے لئے میں نے رحمت لکھ دی ہے اور تیرے لئے دُنیا اور آخرت میں میں نے رحمت لکھ دی ہے۔ ۲؎ (۵) تیری وقعت اور صدق اور مدح میں ہم زیادتی کریں گے۔ یعنی تجھ پر برکات کی زیادتی کی جائے گی۔ ۳؎ (۶) سب مکذب خائب ہوئے اور کہنے لگے۔ اے عزیز ہم اور ہمارے اہل و عیال تکلیف میں ہیں اور ہم تھوڑی پونجی لائے ہیں۔ پس ہمیں پورا ماپ تول دے اور ہم پر صدقہ کر ۔ اللہ تعالیٰ صدقہ کرنے والوں کو جزائے خیر دیتا ہے۔ ۴؎ (۷) میں تو بس قرآن ہی کی طرح ہوں اور عنقریب میرے ہاتھ پر ظاہر ہو گا جو کچھ فرقان سے ظاہر ہوا۔

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 570 طبع چہارم از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 314 پر درج ہے

صفحہ 849

حوالہ نمبر 276

۷۷

الہامی طور پر زبان پر سوال جاری کرتا اور پھر یہ کہنا کہ یہ تیرا سوال منظور کیا گیا ہے۔“

(براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحہ ۵۲۰ حاشیہ در حاشیہ نمبر ۳ ۔ روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۶۲۱)

۱۸۸۴ء

”پھر ان الہامات کے بعد چند الہام فارسی اور اُردو میں اور ایک انگریزی میں ہوا ...... اور وہ یہ ہے :۔

بخرام کہ وقت تو نزدیک رسید وپائے محمدیاں برمنار بلند تر محکم افتاد۔ پاک محمد مصطفٰے نبیوں کا سردار ۔ خُدا تیرے سب کام درست کر دے گا اور تیری ساری مُرادیں تجھے دے گا۔ رَبُّ الافواج اِس طرف توجہ کرے گا۔ اِسّ نِشان کا مُدّعا یہ ہے کہ قرآن شریف خدا کی کتاب اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔ جنابِ الٰہی کے احسانات کا دروازہ کُھلا ہے اور اُس کی پاک رحمتیں اِس طرف متوجہ ہیں۔ دی ڈیز شیل کم وِہن گاڈ شیل ہیلپ یُو۔ گلوری بی ٹو دِس لارڈ گوڈ میکر اوف اَرتھ اینڈ ہیون۔

وہ دن آتے ہیں کہ خدا تمہاری مدد کرے گا۔ خدائے ذوالجلال آفریندۂ زمین و آسمان“

(براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحہ ۵۲۱، ۵۲۲ حاشیہ در حاشیہ ۳ ۔ روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۶۲۲)

لے (ترجمہ از حضرت مسیح موعود علیہ السلام) ”اب ظہور کا دن نکل آیا اور اب وہ وقت آگیا ہے کہ محمدی گلدستے میں سے نکال لئے جاویں گے اور ایک بلند اور مضبوط مینار پر اُن کا قدم پڑے گا“ (نزول المسیح صفحہ ۲۳۳۔ روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۵۱۱)

؎ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں ایک سوال پیش ہوا کہ حضور کو جو الہام ہوا ہے ”قرآن خدا کا کلام ہے اور میرے منہ کی باتیں“ اس الہام الٰہی میں ”میرے“ کی ضمیر کس کی طرف پھرتی ہے یعنی کس کے منہ کی باتیں۔ فرمایا:۔ خدا کے منہ کی باتیں۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے منہ کی باتیں ۔ اس طرح کے محاورات کی مثالیں قرآن شریف میں موجود ہیں۔ (بدر جلد ۶ نمبر ۴۸ ۔ ۱۱ جولائی ۱۹۰۷ء صفحہ ۶)

۳ 9. The days shall come when God shall help you. 10. Glory be to this Lord God Maker of earth and heaven.

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 77 طبع چہارم از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 314 پر درج ہے

صفحہ 850

حوالہ نمبر 277 حقیقۃ الوحی

بعض اعتراضوں کے جواب ۲۲۰

اس الہام الہی کے ساتھ ایسا دل قوی ہو گیا کہ جیسے ایک سخت دردناک زخم کسی مرہم سے ایک دم میں اچھا ہو جاتا ہے۔ درحقیقت یہ امر بارہا آزمایا گیا ہے کہ وحی الہی میں دلی تسلی دینے کے لئے ایک ذاتی خاصیت ہے اور جز ہذا اس خاصیت کے وہ یقین ہی جو وحی الہی پر ہو جاتا ہے۔ افسوس ان لوگوں کے کیسے الہام ہیں کہ باوجود دعویٰ الہام کے یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ ہمارے الہام ظنی امور ہیں نہ معلوم یہ شیطانی ہیں یا رحمانی ایسے الہاموں کا ۲۱ ضرر اُن کے نفع سے زیادہ ہے مگر میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ان الہامات پر اُسی طرح ایمان لاتا ہوں جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دوسری کتابوں پر۔ اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتا ہے۔ خدا کا کلام یقین کرتا ہوں کیونکہ اُس کے ساتھ الٰہی چمک اور نور دیکھتا ہوں اور اُسکے ساتھ خدا کی قدرتوں کے نمونے پاتا ہوں۔ غرض جب مجھ کو یہ الہام ہوا کہ الیس اللہ بکافٍ عبدہ تو میں نے اُسی وقت سمجھ لیا کہ خدا مجھے ضائع نہیں کریگا۔ تب میں نے ایک ہندو کھتری ملاوا مل نام کو جو ساکن قادیان ہو اور ابھی تک زندہ ہے وہ الہام لکھ دیا اور سارا قصہ اسکو سنایا اور اُس کو امرتسر بھیجا کہ تا حکیم مولوی محمد شریف کلانوری کی معرفت اسکو کسی نگینہ میں کھدوا کر اور مہر بنوا کر لے آوے اور میں نے اس ہندو کو اس کام کیلئے محض اس غرض سے اختیار کیا کہ تا وہ اس عظیم الشان پیشگوئی کا گواہ ہو جائے اور تا مولوی محمد شریف بھی گواہ ہو جاوے۔ چنانچہ مولوی صاحب موصوف کے ذریعہ سے وہ انگشتری بصرف (الیس اللہ بکاف عبدہ) مبلغ پانچ روپیہ تیار ہو کر میرے پاس پہنچ گئی جو اب تک میرے پاس موجود ہے جس کا نشان یہ ہے یہ اُس زمانہ میں الہام ہوا تھا جبکہ ہماری معاش اور آرام کا تمام دارومدار والد صاحب کی محض ایک مختصر آمدنی پر منحصر تھا اور بیرونی لوگوں میں سے ایک شخص بھی مجھے نہیں جانتا تھا اور میں ایک گمنام انسان تھا جو قادیان جیسے ویران گاؤں میں زاویۂ گمنامی میں پڑا ہوا تھا۔ پھر بعد اسکے خدا نے اپنی پیشگوئی کے موافق ایک دنیا کو میری طرف رجوع دے دیا اور ایسی متواتر فتوحات سے

۲۲۰

حقیقۃ الوحی صفحہ 220 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 220 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 314 پر درج ہے

صفحہ 851

حوالہ نمبر 278

نزول المسیح

۴۷۷

ص 99

آنچناں عشق تو مرکب راند کزانانیت نشانی ہیچ نماند کشتہ دلبر و دلدار اند مدتے بے خبر زنگار اند
بندِ عشق و ہوس زہر آبے قصہ کوتاہ کہ او آندے تُو ندانی یقیں کہ گوش شنید کہ کور و کر و خیرہ سرند
رفتہ بیرون ز حلقہ اغیار دل بریدہ بغیر آں دلدار پاک گشتہ ز لوثِ ہستی خویش مبتلائے ہوس پستی خویش
آنچناں یار در کنار انداخت کہ ندیدم بجز وے پرداخت قدمے چند زد براهِ عدم کہ بیادش ز فرق تا بقدم
ذکر دلبر غذائے او گشتہ ہمہ دلبر برائے او گشتہ ساختہ ہر غرض بحبِّ دلدار کہ در چشم شاں نہ جز نکوکار
دل و جاں برُخے فدا کردہ وصلِ او اصل مدّعا کردہ بندہ خویشتن فدا کردہ عشقِ پوشیدہ کار ہا کردہ
از خودی ہائے خود فتادہ جدا سیلِ پُر زور بحرِ کین و آز بپا تُو چُو فرسودہ استخواں آمد کہ چو از مشت خاکی جاں بر آمد
عشق دلبر زِ دستِ او بارید بہرِ رحمت بکوئے او بارید از یقینے کہ شد ز گفتہ طے مردِ حق اوست بگذر ز خامے
ہر ظہورے کہ بس عجب دارد واں نگاہے کہ دل طلب دارد پس چنیں شورشِ محبّت بیاد کہ کشیدہ سر از خودی تابد
ایں محبّتے نے شود زنہار بہر تسکین ہائے دیدِ دلدار عشق کرد و نیازمند و بیمار زیر گردوں بخیرہ در تفتند
بالخصوص آں سخی کہ زود لا الہ خاصیت دمدمہ اند ایں اسرار کشتہ او نیک زندہ تر بزار ایں قتیلان لوجهك برخاستہ اند
بوئے آید زِ تقبیلِ تازۂ کویت ہائے بروئے او دہم ثمرت ایں سعادت چو بود قسمت ما رفتہ رفتہ رسید وقت سحر
گو بہ امّت نیز فخر آرم صد ہزار است در گریبانم آدمم نیز احمد مختار در بزم جانانہ ہمہ ابرار
گُل ہائے کزو بامیار برتر آں دفتر است از افہام آنچہ دلدادست ہر بن مو بکام عاشق جام کامل تمام
دل من بردہ الفتِ دلدار خود نداند بویِ خود اُستاد عشق او را عجب اثر دیدم سوئے حق ہر زماں دویدم
دیدم از حق گنج و کرامات آنچہ پیداست خیرہ افتاد دیدم از حق تجلئ دلدار کہ دیوانہ نداند یک کار
آنچہ می شنوم بندہِ خدا را خدا پاک ہستیِ محض ہمچو قرآں منزہ اش دانم العطایا ہمیں است بیغم
من خدا را بدو شناختہ ام حلّ ایں نقش ہا کمتر اند نیست ہستی بجز مجید از دیارِ خدائے پاک مجید
آنچہ بر من عیاں شد ازاں آفتاب است جلوہ در خانہ ایں عطائے محبّتِ بے ریایم بجُہد آدم ازاں مائیم
انبیاء گرچہ بودہ اند بسے مریم جاں دگر شوم زکی مدتے مصطفٰے شوم بیقیں شوم در نگیں برنگ یار مبیں
آن یقینے کہ بود عیسیٰ را زاں بر کوئے کہ شد پر انوار واں پئے کلیم ہم باوقار واں پئے خیلے کہ ہم باوقار

نزول المسیح صفحہ 99 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 477، 478 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 315 پر درج ہے

صفحہ 852

حوالہ نمبر 278 نزول المسیح ۴۷۸

از پئے صیدت مبدءِ سنی لیک آئینہ ام ز دست غنی ہرکہ کرد در مدحت الٰہ یمین کمیتم زان چوبود ناقص عیار
خالصاً للہ گفتم ایں کلام نے شیاطینم بود عقل لئیم ہر کہ کو دارد بدل کیں وسخن است و کی در ضمیر عقل و یقیں
آدم خاکی زماں کو بادر خاں کرکرند ایں چنیں ایمان پاک کہ نیست ہرگز آلودہ بالہوس در مشائخ خانہ بسوزد ہمچو خاشاک
عاشق و رندم مرا با کفر و دیں اول ہم از عنایت آل شد درویشے نداند سرّ ما حالِ من ہست ...
پس مرا از جہانیاں بگوئید در علم ربّے پاک طینت دید مبدل بوجه من شد آئینہ کند مرا خدمتِ ہر دیوانہ
کہ ورا یاور و فریاد رس بست و یک ہزار و اند کشف حق داد و نمود مستم میکند تا برزم زیار خود پیوند
من نیم گمراہ تا چو کورانی گو بجانم دشنہ خیزو تیغ زہر خند که من بر یزد ...
گو بجانم دشنہ خیزو تیغ راست میگویم کہ تا پیش غنیم خوش مشربم مستِ ہوائے تو رو بدو کن کہ روئے یار است
راست میگویم کہ تا پیش غنیم خوش مشربم مستِ ہوائے تو رو بدو کن کہ روئے یار است آں کہ کو دولتِ بیدار رسد
خوش مشربم مستِ ہوائے تو آمدم چوں سحر جلوہ نما تا نیابی ز نفس خود بیروں آمدم تا ز خوں چکر بزند
آمدم چوں سحر جلوہ نما خلقان من فریاد رس آمدہ ام
خلقان من فریاد رس آمدہ ام آمدم تا کہ باز آید
آمدم تا کہ باز آید نے طمع دارم چو بوالہوساں
نے طمع دارم چو بوالہوساں بگذر از فخر و من نمائی من
بگذر از فخر و من نمائی من از تو من بروی تو بدلِ یا
از تو من بروی تو بدلِ یا رو بدو کن کہ روئے یار است
رو بدو کن کہ روئے یار است آں کہ کو دولتِ بیدار رسد
آں کہ کو دولتِ بیدار رسد تا نیابی ز نفس خود بیروں
تا نیابی ز نفس خود بیروں آمدم تا ز خوں چکر بزند
آمدم تا ز خوں چکر بزند

نزول المسیح صفحہ 99 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 477-478 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 315 پر درج ہے

Back

صفحہ ۱۱۵

روحانی خزائن جلد ۳ ازالۃ اوہام حصہ اول جس قدر مشرکین کا کینہ ترقی کر گیا تھا اس کا اصل باعث وہ سخت الفاظ ہی تھے جو اُن نادانوں نے دشنام دہی کی صورت پر سمجھ لئے تھے جن کی وجہ سے آخر لسان سے سنان تک ﴿۲۵﴾ نوبت پہنچی ورنہ اول حال تو وہ لوگ ایسے نہیں تھے بلکہ کمال اعتقاد سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کہا کرتے تھے کہ عَشِقَ مُحَمَّدٌ عَلٰی رَبِّہٖ ۔ یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب پر عاشق ہو گئے ہیں جیسے آج کل کے ہندو لوگ بھی کسی گوشہ نشین فقیر کو ہرگز بُرا نہیں کہتے بلکہ نذریں نیازیں دیتے ہیں۔

اس جگہ مجھے نہایت افسوس اور غمگین دل کے ساتھ اس بات کے ظاہر کرنے کی بھی حاجت پڑی ہے کہ یہ اعتراض جو مجھ پر کیا ہے یہ صرف عوام الناس کی طرف سے ہی نہیں بلکہ میں نے سنا ہے کہ بانی مبانی اس اعتراض کے بعض علماء بھی ہیں۔ سو میں ان کی شان میں یہ تو ظن نہیں کر سکتا کہ وہ قرآن شریف اور کتب سابقہ سے بے خبر ہیں اور نہ کسی طور ﴿۲۶﴾ سے جائے ظن ہے☆ لیکن میں جانتا ہوں کہ آج کل کی یورپ کی جھوٹی تہذیب نے

﴿۲۵﴾ ☆ قرآن شریف جس آواز بلند سے سخت زبانی کے طریق کو استعمال کر رہا ہے ایک غایت حاشیہ: درجہ کا غبی اور سخت درجہ کا نادان بھی اُس سے بے خبر نہیں رہ سکتا۔ مثلاً زمانہ حال کے ﴿۲۶﴾ مہذبین کے نزدیک کسی پر لعنت بھیجنا ایک سخت گالی ہے۔ لیکن قرآن شریف کفار کو سُنا سُنا کر ان پر لعنت بھیجتا ہے جیسا کہ فرماتا ہے اُولٰۤئِکَ عَلَیْہِمْ لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَالْمَلٰۤئِکَۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا ۱؎ الجزء ۲ سورۃ بقرہ۔ اُولٰۤئِکَ یَلْعَنُہُمُ اللّٰہُ وَ یَلْعَنُہُمُ اللّٰعِنُوْنَ الجزء نمبر ۲ ۲؎ ۔ ایسا ہی ظاہر ہے کہ کسی انسان کو حیوان کہنا بھی ایک قسم کی گالی ہے۔ لیکن قرآن شریف نہ صرف حیوان بلکہ کفار اور منکرین کو دنیا کے تمام حیوانات سے بدتر قرار دیتا ہے جیسا کہ فرماتا ہے اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰہِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ۳؎ ۔ ایسا ہی ظاہر ہے ﴿۲۷﴾ کہ کسی خاص آدمی کا نام لے کر یا اشارہ کے طور پر اس کو نشانہ بنا کر گالی دینا زمانہ حال کی ۱؎ سورۃ البقرۃ: ۱۶۱، ۱۶۲ ۲؎ البقرۃ: ۱۵۹ ۳؎ الانفال: ۵۵

ازالۃ اوہام صفحہ 28 مطبوعہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 115، 116 (حاشیہ) از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 316 پر درج ہے

صفحہ ۱۱۶

روحانی خزائن جلد ۳ ازالہ اوہام حصہ اول

جو ایمانی غیوری سے بہت دُور پڑی ہوئی ہے ہمارے علماء کے دلوں کو بھی کسی قدر دبا لیا ہے۔ اس سخت آندھی کے چلنے کی وجہ سے ان کی آنکھوں میں بھی کچھ غبار سا پڑ گیا ہے اور ان کی فطرتی کمزوری اس نزلہ کو قبول کر گئی ہے۔ اسی وجہ سے وہ ایسے خیالات پر زور دیتے ہیں جن کا کوئی اصل صحیح حدیث و قرآن میں نہیں پایا جاتا ہاں یورپ کی اخلاقی ﴿۲۷﴾ کتابوں میں تو ضرور پایا جاتا ہے اور ان اخلاق میں یورپ نے یہاں تک ترقی کی ہے کہ ایک جوان عورت سے ایک نامحرم طالب کی بے تکلفی نہ کرنا دل شکنی سمجھی گئی ۔ مگر کیا قرآن شریف یورپ کے ان اخلاق سے اتفاق رائے کرتا ہے؟ کیا وہ ایسے لوگوں کا نام دیوث نہیں رکھتا؟ میں ایسے علماء کو محض للہ متنبہ کرتا ہوں کہ وہ ایسی نکتہ چینیاں کرنے اور ایسے خیالات کو دل میں جگہ دینے سے حق اور حق بینی سے بہت دور جا پڑے ہیں اگر وہ مجھ ﴿۲۸﴾ سے لڑنے کو تیار ہوں تو اپنی خشک منطق سے جو چاہیں کہیں لیکن اگر وہ خدائے تعالیٰ سے خوف کر کے کسی قدر سوچیں تو یہ ایسی بات نہیں ہے جو ان کی نظر سے پوشیدہ رہ سکے نیک بخت

بقیہ حاشیہ تہذیب کے برخلاف ہے لیکن خدائے تعالیٰ نے قرآن شریف میں بعض کا نام ابولہب اور بعض کا نام کلب اور خنزیر رکھا اور ابوجہل تو خود مشہور ہے ایسا ہی ولید (بن) مغیرہ کی نسبت نہایت درجہ کے سخت الفاظ جو بصورتِ ظاہر گندی گالیاں معلوم ہوتی ہیں استعمال کئے ہیں جیسا کہ فرماتا ہے فَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِیْنَ ۔ وَدُّوْا لَوْ تُدْهِنُ فَیُدْهِنُوْنَ ۔ وَلَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِیْنٍ ۔ هَمَّازٍ مَّشَّآءٍۭ بِنَمِیْمٍ ۔ مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍ ۔ عُتُلٍّ بَعْدَ ذٰلِكَ زَنِیْمٍ ۔ ﴿۲۸﴾ ..... سَنَسِمُهٗ عَلَى الْخُرْطُوْمِ ؎ دیکھو سورہ القلم الجزء نمبر ۲۹۔ یعنی تو ان مُکذّبوں کے کہنے پر مت چل جو بدل اس بات کے آرزومند ہیں کہ ہمارے معبودوں کو بُرا مت کہو اور ہمارے مذہب کی ہجو مت کرو تو پھر ہم بھی تمہارے مذہب کی نسبت ہاں میں ہاں ملاتے رہیں گے اور ان کی چرب زبانی کا خیال مت کرو یہ شخص جو مداہنہ کا خواستگار ہے جھوٹی قسمیں کھانے والا اور ضعیف الرائے اور ﴿۲۹﴾ ذلیل آدمی ہے دوسروں کے عیب ڈھونڈنے والا اور سُخن چینی سے لوگوں میں تفرقہ ڈالنے والا اور نیکی کی

ا؂ القلم: ۹ تا ۱۶ ۲۲

ازالہ اوہام صفحہ 28 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 115, 116 (حاشیہ ) از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 316 پر درج ہے

Back

صفحہ 855

حوالہ نمبر 280

نزول المسیح ۱۴۰ ضمیمہ

اشاعۃ السنۃ میں کیا لکھا ہے اور اب کیا کہتے ہیں۔ صاحب ہم اقرار کے بھوکے قائل مقابلہ نہیں سن سکتا۔ آپ تو اقرار کرچکے ہیں کہ اہل کشف اور مکالمات کا مقام بلند ہو اُن کیلئے ضروری نہیں ہے کہ خواہ مخواہ محدثین کی تقلید کی اطاعت کریں بلکہ محدثین نے تو مردوں کی روایت کی ہے اور اہل کشف زندہ حیّ و قیوم سے سنتے ہیں پس آپکا اُس شخص کی نسبت کیا گمان ہو جس کا نام حکم رکھا گیا ہو کیا یہ مرتبہ اُسکو حاصل نہیں جو آپ دُوسروں کیلئے تجویز کرتے ہیں۔

پھر مولوی ثناء اللہ صاحب کہتے ہیں کہ آپکو مسیح موعود کی پیشگوئی کا خیال کیوں دِل میں آیا آخر وہ حدیثوں سے ہی لیا گیا پھر حدیثوں کی اور علامات کیوں قبول نہیں کی جاتیں یہ سادہ لوح یا تو افتراءاً ایسا کہتے ہیں اور یا محض حماقت سے کیونکہ ہم اسکے جواب میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر بیان کرتے ہیں کہ میرے اس دعویٰ کی حدیث بنیاد نہیں بلکہ قرآن اور وہ وحی ہے جو میرے پر نازل ہوئی۔ ہاں تائیدی طور پر ہم وہ حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں جو قرآن شریف کے مطابق ہیں اور میری وحی کے معارض نہیں۔ اور دُوسری حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔ اگر حدیثوں کا دُنیا میں وجود بھی نہ ہوتا تب بھی میرے اس دعوے کو کچھ حرج نہ پہنچتا تھا۔ ہاں خدا نے میری وحی میں جا بجا قرآن کریم کو پیش کیا ہے۔ چنانچہ تم براہین احمدیہ میں دیکھو گے کہ اس دعوے کے متعلق کوئی حدیث بیان نہیں کی گئی۔ جا بجا خدا تعالیٰ نے میری وحی میں قرآن کو پیش کیا ہے۔

میں اب خیال کرتا ہوں کہ جو کچھ مولوی ثناء اللہ صاحب نے مباحثہ وغیرہ میں فریب دہی کے طور پر اعتراض پیش کئے تھے سب کا کافی جواب ہو چکا ہے۔ ہاں یاد آیا ایک مجہول خیال اُنہوں نے پیش کیا تھا کہ جو کسوف خسوف کی حدیث مہدی کے ظہور کی علامت ہے جو دار قطنی اور کتب اکمال الدین میں موجود ہے۔ اس میں قمر کا خسوف تیرہ ۱۳ تاریخ کو پہلے کسی ایسی تاریخ میں ہوگا جس میں چاند کو قمر کہہ سکتے ہوں۔ پس یاد رہے کہ یہ بھی یہودیوں کی مانند تحریف ہے۔ خدا نے قمر کے خسوف کیلئے اپنی سُنت کے موافق تین راتیں مقرر کر رکھی

حوالہ کتاب نزول المسیح صفحہ 140 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 140 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 316 پر درج ہے

صفحہ 856

حوالہ نمبر 281 ضمیمہ ١٠٩ نزول المسیح

ہو کہ تم نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دجال کہا تھا سو تم اگر اس لفظ سے رجوع نہیں کرو گے تو پندرہ مہینہ میں ہلاک ہو جاؤ گے۔ سو آتھم نے اسی مجلس میں رجوع کیا اور کہا کہ معاذ اللہ میں نے آنجناب کی شان میں ایسا لفظ کوئی نہیں کہا اور دونوں ہاتھ اٹھائے اور زبان منہ سے نکالی اور لرزتے ہوئے زبان سے انکار کیا جس کے نہ صرف مسلمان گواہ بلکہ چالیس سے زیادہ عیسائی بھی گواہ ہونگے پس کیا یہ رجوع نہ تھا اور کیا اسکا ڈرنا اور میعاد پیشگوئی میں اُس بحث کو بالکل ترک کر دینا جو ہمیشہ میرے ساتھ کرتا تھا اور نیز شیخ غلام حسن صاحب مرحوم رئیس اعظم امرتسر کے ساتھ بھی اور میاں غلام نبی صاحب جاندریالی اسد اللہ صاحب مرحوم وکیل امرتسر کے ساتھ بھی کیا کرتا تھا۔ کیا یہ دلیل اس بات کی نہیں ہے کہ وہ ضرور ڈرا۔ اور کیا اسکا امرتسر کا چھوڑنا اور غربت میں خاموش زندگی بسر کرنا اور مکرتے رہنا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ اسکا دل ہراساں اور لرزاں ہوا۔ اور کیا اسکے باوجود چار ہزار روپیہ دینے کے قسم نہ کھانا حالانکہ ثابت کر دیا گیا تھا کہ عیسائی مذہب میں جواز قسم ہے اور خود مسیح نے بھی قسم کھائی اور پولوس نے بھی۔ اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ وہ ڈر گیا ؟ پس کیا اب تک دجال کہنے کے قول سے اُسکا رجوع ثابت نہیں ہوا؟ اور کون ثابت کر سکتا ہے کہ بعد اسکے اُس نے پیشگوئی کی میعاد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دجال کر کے پکارا ۔ اور پھر باوجود اس کے جب کہ میری پیشگوئی میں تھا کہ کاذب صادق کی زندگی میں مر جائے گا ۔ کیا وہ میری زندگی میں نہیں مرا۔ اگر پیشگوئی سچی نہیں تھی تو مجھے دکھلاؤ کہ آتھم کہاں ہے۔ اس کی عمر تو میری عمر کے برابر تھی یعنے قریب ٧١ سال کے ۔ اگر شک ہو تو اسکی پینشن کے کاغذات دفتر سرکاری میں دیکھ لو کہ کب اور کس عمر میں اُس نے پینشن پائی۔ پس اگر پیشگوئی صحیح نہیں تھی تو وہ کیوں میرے پہلے مر گیا۔ خدا کی لعنت اُن لوگوں پر جو جھوٹ بولتے ہیں۔ جب انسان حیا کو چھوڑ دیتا ہے تو جو چاہے بکے ۔ کون اُس کو روکتا ہے۔ دیکھو لیکھرام کی نسبت جو پیشگوئی کی گئی تھی اس میں صاف بتلایا گیا تھا کہ وہ چھ برس کے اندر قتل کے ذریعہ سے ہلاک کیا جائیگا اور عید کے دن سے وہ دن ملا جلا ہو گا ۔ وہ کیسی صفائی

۵

اعجاز احمدی (نزول المسیح) صفحہ 5 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 109 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 317 پر درج ہے

صفحہ 857

حوالہ نمبر 282 ازالہ اوہام حصہ اول ۱۴۰

حالانکہ وہ بجائے خود اپنے تئیں معذور سمجھتے تھے کیونکہ اُن کی بائبل کے ظاہری الفاظ پر نظر تھی۔ افسوس کہ ہمارے مسلمان بھائی بھی اسی گرداب میں پڑے ہوئے ہیں اور حضرت مسیح کی نسبت ؎١ یہودیوں کی طرح اُن کے دلوں میں بھی یہی خیال جمایا ہوا ہے کہ ہم اُنہیں سچ مچ آسمان پر اڑتے دیکھیں گے اور یہ اعجوبہ ہم بچشم خود دیکھیں گے کہ حضرت مسیح زرد رنگ کی پوشاک پہنے ہوئے آسمان سے اُترتے چلے آتے ہیں اور دائیں بائیں فرشتے اُن کے ساتھ ہیں اور تمام بازاری لوگ اور دیہات کے آدمی ایک بڑے میلہ کی طرح اکٹھے ہو کر بغور سے اُن کو دیکھ رہے ہیں اور

فيه اختلافا كثيرا ۔ قل لو انتم املکوا لفسدت السموات والارض و من فيهن ولبطلت حكمته وكان الله عزيزا حكيما ۔ قل لو كان البحر ؎٢ مدادا لكلمات ربى لنفد البحر قبل ان تنفد كلمات ربى ولو جئنا بمثله ؎٣ مددا ۔ قل ان كنتم تحبون الله فاتبعونى يحببكم الله وكان الله غفورا رحيما ۔ پھر اس کے بعد الہام کیا گیا کہ ان علماء نے میرے گھر کو بدل ڈالا ۔ میری عبادت گاہ ؎٤ میں کھڑے ہوتے ہیں میری پرستش کی جگہ میں اُن کے پیالے اور طشتیاں رکھی ہوئی ہیں اور چوہوں کی طرح میرے نبی کی حدیثوں کو کتر رہے ہیں (طشتیاں وہ چھوٹی پیالیاں ہیں جن کو ہندی بھاشا ؎٥ میں کٹوریاں کہتے ہیں) تعبیر کے طور پر اس الہام میں زمانہ حال کے اکثر مولویوں کے دل ہیں جو دنیا سے بھرے ہوئے ہیں) اس جگہ مجھے یاد آیا کہ جس روز وہ الہام مذکورہ بالا جس میں قادیان میں نازل ہونے کا ذکر ہے ہوا تھا اس روز کشفی طور پر میں نے دیکھا کہ میرے بھائی صاحب مرحوم میرزا غلام قادر میرے قریب بیٹھ کر بآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے ہیں اور پڑھتے پڑھتے انہوں نے ان فقرات کو پڑھا کہ انا انزلنہ قريبا من القاديان تو میں نے سنکر بہت تعجب کیا کہ کیا قادیان کا نام بھی قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے؟ تب انہوں نے کہا کہ یہ دیکھو لکھا ہوا ہے تب میں نے نظر ڈال کر جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ فی الحقیقت قرآن شریف کے دائیں صفحہ میں شاید قریب نصف کے موقع پر یہی الہامی عبارت لکھی ہوئی موجود ہے تب میں نے اپنے دل میں کہا کہ ہاں واقعی طور پر قادیان کا نام قرآن شریف میں درج ہے اور میں نے کہا کہ تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج کیا گیا ہے مکہ اور مدینہ اور قادیان یہ کشف تھا

ازالہ اوہام (حاشیہ) حصہ اول صفحہ 140 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 140 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 322، 323 پر درج ہے

صفحہ 858

حوالہ نمبر 283 ۲۱ خطبہ الہامیہ

وَ اَقْصٰی یعنی بَارَکْنَا حَولَہٗ ۔ یہ جس کے منارہ کا ذکر حدیث میں بھی ہے کہ مسیح کا نزول منارہ کے پاس ہوگا۔ دمشق کا ذکر اس حدیث میں جو مسلم نے بیان کی ہے اس غرض سے ہے کہ تین خدا بنانے کی تحریک اول دمشق سے شروع ہوئی ہے اور مسیح موعود کا نزول اس

حاشیہ نمبر ۲ قرآن شریف کی یہ آیت کہ سُبْحٰنَ الَّذِیْٓ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ بٰرَکْنَا حَوْلَہٗ معراج مکانی اور زمانی دونوں پر مشتمل ہے اور پیغمبروں کے معراج دو قسم پر ہوتے ہیں جیسا کہ سیر مکانی کے لحاظ سے خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد الحرام سے بیت المقدس تک پہنچا دیا تھا۔ ایسا ہی سیر زمانی کے لحاظ سے آنجناب کو شوکت اسلام کے زمانہ سے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ تھا برکاتِ اسلامی کے زمانہ تک جو مسیح موعود کا زمانہ ہے پہنچا دیا ؎۱ پس اس پہلو کے رو سے جو اسلام کے انتہاء زمانہ تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سیر کشفی ہے مسجد اقصیٰ سے مراد مسیح موعود کی مسجد ہے جو قادیان میں واقع ہے جس کی نسبت براہین احمدیہ میں خدا کا کلام یہ ہے ۔ مُبَارَکٌ وَّ مُبَارَکٌ وَّ کُلُّ اَمْرٍ مُّبَارَکٍ یُّجْعَلُ فِیْہِ ۔ اور یہ مبارک کا لفظ جو بصیغۂ مفعول اور فاعل واقع ہوا قرآن شریف کی آیت بٰرَکْنَا حَوْلَہٗ کے مطابق ہے۔ پس کچھ شک نہیں جو قرآن شریف میں قادیان کا ذکر ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ سُبْحٰنَ الَّذِیْٓ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ بٰرَکْنَا حَوْلَہٗ ۔ اس آیت کے ایک تو وہی معنے ہیں جو علماء میں مشہور ہیں ۔ یعنی یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مکانی معراج کا یہ بیان ہے۔ مگر

حاشیہ نمبر ۳ شوکتِ اسلام کا زمانہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ تھا اس کا اثر غالب یہ تھا کہ صولتِ دینی کی برکت نے مومنوں کو کفار کے حملہ سے نجات دی۔ اس لئے بیت اللہ کا نام بھی بیت الامن رکھا گیا ۔ لیکن زمانہ برکات کا جو مسیح موعود کا زمانہ ہے اس کا یہ اثر ہے کہ ہر قسم کے ثمرات زمین پر پیدا ہو جائیں اور نہ صرف امن بلکہ غلبہ بھی حاصل ہو۔ منہ

۱؎ بنی اسرائیل : ۲

خطبہ الہامیہ حاشیہ صفحہ 21 مندرجہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 21 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 323 پر درج ہے

صفحہ 859

حوالہ نمبر 284

۲۵

خطبہ الہامیہ

اب ہمارے مخالف گو اس دمشقی حدیث کو بار بار پڑھتے ہیں مگر وہ اس کا جواب نہیں دے سکتے کہ یہ جو اس حدیث میں بتلایا گیا ہے کہ مسیح موعود دمشق کی شرقی طرف ایک منارہ کے قریب نازل ہوگا اس میں کیا بھید ہے ؟ بلکہ انہوں نے محض ایک کہانی کی طرح

بقیہ حاشیہ صفحہ ۲۴ پس چونکہ مسیح اور مہدی موعود کا زمانہ زمان البرکات تھا اسی لئے خدا تعالیٰ نے اس کے حق میں فرمایا بارکنا حولہ یعنی مسیح موعود کی فرودگاہ کے اردگرد جہاں نظر ڈالو گے ہر طرف برکتیں نظر آئیں گی۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ زمین کیسی آباد ہو گئی۔ باغ کیسے بکثرت ہو گئے۔ نہریں کیسی بکثرت جاری ہو گئیں۔ تمدنی آرام کی چیزیں کیسی کثرت سے موجود ہو گئیں۔ پس یہ زمینی برکات ہیں۔ اور جیسے اس زمانہ میں زمینی اور آسمانی برکتیں بکثرت ظاہر ہو گئی ہیں ویسا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تائیدات کا بھی ایک دریا چل رہا تھا۔ فحاصل البیان ان الزمان زمانان ۔ زمان التائیدات ودفع الآفات۔ و زمان البرکات والطیبات۔ والیہ اشار عزاسمہ بقولہ سبحان الذی اسریٰ بعبدہ لیلا من المسجد الحرام الی المسجد الاقصیٰ الذی بارکنا حولہ۔ فاعلم ان لفظ المسجد الحرام فی قولہ تعالیٰ یدل علی زمان فیہ ظہرت عزۃ حرم اللہ بتائید من اللہ وظہرت عزۃ حدودہ واحکامہ وفرائضہ۔ وتزایدت شوکۃ دینہ ورعب ملتہ ۔ وھو زمان نبینا صلی اللہ علیہ وسلم والمسجد الحرام البیت الذی بناہ ابراہیم علیہ السلام فی مکۃ وھو موجود الی ھذا الوقت حرسہ اللہ من کل آفۃ۔ واما قولہ عزاسمہ بعد ھذا القول اعنی المسجد الاقصیٰ الذی بارکنا حولہ۔ فیدل علی زمان فیہ یظھر برکات فی الارض من کل جھۃ کما ذکرناہ آنفا وھو زمان المسیح الموعود والمھدی المعھود والمسجد الاقصیٰ المسجد الذی بناہ المسیح الموعود فی القادیان

خطبہ الہامیہ صفحہ 25 مندرجہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 25 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 323 پر درج ہے

صفحہ 860

حوالہ نمبر 285 خطبہ الہامیہ ۲۲

غرض یہ ہے کہ تثلیث کے خیالات کو محو کر کے پھر ایک خدا کا جلال دنیا میں قائم کرے۔ پس اس ایما کے لئے بیان کیا گیا کہ مسیح کا منارہ جس کے قریب اس کا نزول ہو گا دمشق سے شرقی طرف ہے۔ اور یہ بات صحیح بھی ہے کیونکہ قادیان جو ضلع گورداسپور پنجاب میں ہے جو لاہور سے

نتیجہ: قادیانیت میں مسجد اقصیٰ سے مراد مسجد قادیان ہے

کچھ شک نہیں کہ اس کے سوا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک نزولی عروج بھی تھا جس سے یہ غرض تھی کہ آپ کی فکر کشفی کا کمال ظاہر ہو اور نیز ثابت ہو کہ مسیح زمانہ کے برکات بھی بحقیقت آپ ہی کے برکات ہیں جو آپ کی توجہ اور ہمت سے پیدا ہوئی ہیں۔ اسی وجہ سے مسیح ایک طور سے آپ ہی کا روپ ہے۔ اور وہ معراج یعنی بلوغ فکر کشفی دنیا کی انتہا تک تھا جو مسیح کے زمانہ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اور اس معراج میں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ تک سیر فرما ہوئے وہ مسجد اقصیٰ یہی ہے جو قادیان میں بجانب مشرق واقع ہے جس کا نام خدا کے کلام نے مبارک رکھا ہے۔ یہ مسجد جسمانی طور پر مسیح موعود کے حکم سے بنائی گئی ہے اور روحانی طور پر مسیح موعود کے برکات اور کمالات کی تصویر ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بطور فیضیت ہیں۔ اور جیسا کہ مسجد الحرام کی روحانیت حضرت آدم اور حضرت ابراہیم کے کمالات ہیں۔ اور بیت المقدس کی روحانیت انبیاء بنی اسرائیل کے کمالات ہیں۔ ویسا ہی مسیح موعود کی یہ مسجد اقصیٰ جس کا قرآن شریف میں ذکر ہے اس کے روحانی کمالات کی تصویر ہے۔

پس اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی معراج میں زمانہ گذشتہ کی طرف صعود ہے اور زمانہ آئندہ کی طرف نزول ہے۔ اور ماحصل اس معراج کا یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خیر الاولین والآخرین ہیں۔ معراج جو مسجد الحرام سے شروع ہوا اس میں یہ اشارہ ہے کہ صفی اللہ آدم کے تمام کمالات اور ابراہیم خلیل اللہ کے تمام کمالات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں موجود تھے اور پھر اس جگہ سے قدم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکانی سیر

خطبہ الہامیہ صفحہ 22 مندرجہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 22 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 323 پر درج ہے

صفحہ 861

حوالہ نمبر 286

٨٢

١٨٨٣ء اَلْفِتْنَةُ ههُنَا فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ اس جگہ ایک فتنہ ہے سو اولوالعزم نبیوں کی طرح صبر کر فَلَمَّا تَجَلّٰی رَبُّهٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَهٗ دَكًّا جب خدا مشکلات کے پہاڑ پر تجلی کرے گا تو انہیں پاش پاش کر دے گا قُوَّةُ الرَّحْمٰنِ. يَتَبَيَّنُ اللهُ الصَّمَدُ یہ خدا کی قوت ہے کہ جو اپنے بندے کے لئے وہ غنی مطلق ظاہر کرے گا۔ تَعَلُّمُ الْاَسْرَارِ الَّتِیْ فِیْهِ يَسْعَی الْاَعْمَالِ. یعنی عبداللہ الصمد ہونا ایک مقام ہے کہ جو بطریق موہبت خاص عطا ہے کوششوں سے حاصل نہیں ہو سکتا۔

يَا دَاوُدُ عَامِلْ بِالنَّاسِ رِفْقًا وَّ اِحْسَانًا. وَ اِذَا حُيِّيْتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْهَا. وَ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ. يَرُشُّكَ وَهَّابٌ اَیْ تُرَشُّ بِطِيْبٍ كَمَا يُرَشُّ جو میں نے فرمایا ہے۔ اَلشُّكْرُ نِعْمَتِیْ وَاٰيَتِیْ خَدِيْجَتِیْ. اِنَّكَ الْيَوْمَ لَدَيْنَا مَكِیْنٌ اَمِیْنٌ. مُمِدُّكَ اللهُ. فِیْكَ مَادَّةٌ فَارُوْقِيَّةٌ. اے داؤد خلق اللہ کے ساتھ رفق اور احسان کے ساتھ معاملہ کر۔ اور سلام کا جواب احسن طور پر دے۔ اور اپنے ربّ کی نعمت کا لوگوں کے پاس ذکر کر۔ یعنی خدیجہ کا شکر کر کہ تُو نے اُس کو قبل از وقت پایا۔ آج تجھے مقامِ عظیم ہے۔ تُو مُؤیَّد مِنَ اللہ ہے تجھ میں مادۂ فاروقی ہے۔

سَلَامٌ عَلَيْكَ يَا اِبْرَاهِيْمُ. اِنَّكَ الْيَوْمَ لَدَيْنَا مَكِیْنٌ اَمِیْنٌ. ذُوْ عَقْلٍ مَّتِیْنٍ. حِبُّ اللهِ خَلِيْلُ اللهِ اَسَدُ اللهِ وَ سَيْفُ عَلِیٍّ مَّعَكَ. مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلٰی. اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ. اَلَمْ نَجْعَلْ لَكَ سُهُوْلَةً فِیْ كُلِّ اَمْرٍ. بَيْتُ الْفِكْرِ وَ بَيْتُ الذِّكْرِ. وَمَنْ دَخَلَهٗ كَانَ اٰمِنًا. تیرے پر سلام ہو اے ابراہیم ! تُو آج ہمارے نزدیک صاحبِ مرتبہ اور امانت دار اور قوی العقل ہے اور دوستِ خدا ہے خلیل اللہ ہے۔ اسدُ اللہ ہے اور سَیفِ علی تیرے ساتھ ہے۔ یعنی یہ اُس نبیِ کریم کی متابعت کا نتیجہ ہے۔ اور بقیہ ترجمہ یہ ہے کہ خدا نے تجھ کو ترک نہیں کیا اور نہ وہ تجھ پر ناراض ہے۔ کیا ہم نے تیرا سینہ نہیں

۷ You must do what I told you.

تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 82 طبع چہارم از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 324 پر درج ہے

صفحہ 862

حوالہ نمبر 287

۳۵۲

بذریعہ نشان آسمانی استخارہ کریں تو میں آپ کیلئے دعا کرونگا۔ کیا عجب ہو کہ یہ استخارہ میرے روبرو ہو۔ تاہم میرا اجر زیادہ ہو۔ آپ پر کچھ بھی مشکل نہیں لوگ معمولی اور مخفی طور پر حج کرنے کو بھی جاتے ہیں مگر اسکا فیض حج سے ثواب زیادہ ہے اور قابل ہے کہ اس میں تفصیل ہو۔ مسئلہ یہ کیونکہ سلسلہ آسمانی ہے اور حکم ربانی۔ سچی خواب اپنی سچائی کے انوار آپ ظاہر کر دیتی ہے۔ وہ دل پر ایک نور کا اثر ڈالتی ہے اور صبح کاذب کی طرح اندھیر نہیں مچاتی اور دل اُسکو قبول کرلیتا ہے اور اُسکی نورانیت اور ہیبت بال بال پر طاری ہو جاتی ہے۔ میں اُس سے عہد کرتا ہوں کہ اگر آپ میرے روبرو اور میری ہدایت اور تعلیم کے موافق اس کام میں مشغول ہوں تو میں آپکے لئے بہت کوشش کرونگا کیونکہ میرا خیال آپکی نسبت بہت نیک ہے اور خدا تعالیٰ سے چاہتا ہوں کہ آپکو منافع دے اور رشاد اور سعادت میں ترقی دے۔ اب میں نے آپکا وقت بہت لے لیا ختم کرتا ہوں۔ والسلام علیٰ من اتبع الہدیٰ۔

آپکا محررہ خط پڑھکر ایک بات کچھ زیادہ تفصیل کی محتاج معلوم ہوئی اور وہ یہ ہے کہ استخارہ کے لئے اُسی دعا کی جاوے کہ ہر یک قسم کا استخارہ شیطانی کے دخل سے محفوظ ہو۔ چونکہ منصب نبوت اور رسالت کے قانون قدرت کے بر خلاف ہے کہ وہ شیاطین کو انکے مواقع مناسب سے معطل کر دیوے۔ اللہ جلشانہ قرآن کریم میں فرماتا ہے وما ارسلنا من قبلك من رسول ولا نبي الا اذا تمنى القى الشيطان في امنيته فينسخ الله ما يلقى الشيطان ثم يحكم الله آياته والله عليم حكيم یعنے ہم نے کوئی ایسا رسول اور نبی نہیں بھیجا کہ اسکی یہ حالت نہ ہو کہ جب وہ کوئی تمنا کرے یعنے اپنے نفس سے کوئی بات چاہے تو شیطان اسکی خواہش میں کچھ نہ ڈالے یعنی جب کوئی رسول یا کوئی نبی اپنے نفس کی رو سے کسی بات کو چاہتا ہے تو شیطان اُس میں اپنا دخل دیتا ہے تب وحیِ محکم شوکت اور ہیبت اور روشنی تام و کامل سے ہر یک باطل کو اُٹھا دیتی ہے اور نوشتہ الٰہی کو مستحکم کر کے دکھلا دیتی ہے۔ یہاں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نبی کے دل میں جو خیالات اُٹھتے ہیں اور جو کچھ خواہشات نفس میں پیدا ہوتی ہیں درحقیقت وہ تمام وحی ہوتی ہیں جیسا کہ قرآن کریم اس پر شاہد ہے۔ وما ينطق عن الهوى ان هو الا وحی یوحٰی۔ لیکن قرآن کی وحی دوسری وحی سے جو صرف معانی منجانب اللہ ہوتی ہیں تعبیر کیجاتی ہے اور نبی کے اپنے تمام اقوال وحی غیر متلو میں داخل ہوتے ہیں کیونکہ روح القدس کی برکت اور پاک روح نبی کے شامل حال رہتی ہے اور ہر یک بات اُسکی برکت سے بھری ہوئی ہوتی ہے اور وہ برکت موج زن ہو کر اسکے کلام میں ایسی تاثیر رکھتی ہے کہ وہ ہر یک

۱؎ حاشیہ ع ص نمبر ۱۸۰۔

آئینہ کمالات اسلام صفحہ 352 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 352 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 324 پر درج ہے

صفحہ 863

حوالہ نمبر 288

۵۹

یہ توہیں کر کے پھل ویسا ہی پایا اہانت نے اُنہیں کیا کیا دکھایا
خدا نے پھر تمھیں اب ہے بلایا کہ سوچو عزّتِ خَیْرُ الْبَرَایا
ہمیں یہ رہ خدا نے خود دِکھا دی
فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْزَى الْأَعَادِي
کوئی مُردوں سے کیونکر راہ پائے مِرے تب بے گماں مُردوں میں جائے
خدا عیسیٰ کو کیوں مُردوں سے لائے وہ خود کیوں مُہرِ ختمیت بنائے
کہاں آیا کوئی تا وہ بھی آوے کوئی اِک نام ہی ہم کو بتادے
تمھیں کِس نے یہ تعلیمِ خطا دی
فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْزَى الْأَعَادِي
وہ آیا مُنتظر جس کے تھے دن رات معمّہ کھل گیا روشن ہوئی بات
دِکھائیں آسماں نے ساری آیات زَمیں نے وقت کی دیدیں شَہادات
پھر اس کے بعد کون آئیگا ہَیہَات خُدا سے کچھ ڈرو چھوڑو مَعَادات
سُنائے اِک جہاں کو یہ منادی
فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْزَى الْأَعَادِي
مسیحِ وقت اب دُنیا میں آیا خُدا نے مَکّہ کا دن ہے دکھایا
مُبارک وہ جو اب ایمان لایا صَحابہ سے مِلا جب مجھ کو پایا
وَہی مے اُن کو ساقی نے پِلا دی
فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْزَى الْأَعَادِي
خُدا کا ہم پہ بس لُطْف و کَرَم ہے وہ نِعمت کون سی باقی جو کم ہے
زَمینِ قادیاں اب مُحترم ہے ہجومِ خلق سے ارضِ حَرم ہے

درثمین صفحہ 56 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 324 پر درج ہے

صفحہ 864

حوالہ نمبر 289

اب لوگ شاید یہ کہیں کہ یہی طالب علم ہیں جو آیا کرتے ہیں ہماری ہی آنا کانی ہے ۔ مگر یہ ٹھیک نہیں ہے ۔ ہم چند باتوں میں اپنی طرف سے التزام کر لیتے ہیں کہ کسی کی مجال ہی نہیں رہتی کہ ذرا سا بھی ادھر ادھر ہوسکے ۔ پس جو دوست جلسہ کے ایام کے علاوہ بھی ہفتہ عشرہ کے لئے یہاں آتے ہیں ۔ علاوہ اور باتوں کے وہ یہاں سے بہت کچھ پاتے ہیں ۔ جو دوست صرف جلسوں میں آتے ہیں ۔ انہوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ چلو ان دنوں میں قادیان ہو آئیں ۔ اس لئے وہ کوئی علمی فائدہ اور کوئی دینی فائدہ نہیں اٹھا سکتے ۔ گو یہاں بہت آتے ہیں ۔ خیر اتنی بات تو غنیمت ہے ۔ کہ یہاں آتے تو ہیں ۔ ایک نہ ایک دن ان میں یہ بھی تحریک پیدا ہو جائیگی ۔ کہ ہم مدینہ میں آئے تھے تو کچھ سیکھ کر جاتے ۔ ان کا یہاں آنا بھی بتاتا ہے ۔ کہ انہیں قادیان سے پیار ہے ۔ ورنہ وہ کیوں آتے گویا آنا بہت ضروری ہے ۔ حضرت مسیح موعود نے اس کے متعلق بڑا زور دیا ہے ۔ اور فرمایا ہے ۔ کہ جو ہمارے پاس نہیں آتے ۔ مجھے ان کے ایمان کا خطرہ ہے پس جو قادیان سے تعلق نہیں رکھیگا وہ لازماً ایک دن سوکھ کر گر جائیگا ۔ اسے پھر تازہ غذا کہاں سے ملے گی یہ سچ ہے کہ کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے ۔ کہ ان مدینہ کی چھاتیوں سے یہ دودھ سوکھ جائیگا کہ نہیں ۔ میں یہی کہونگا کہ وقت تو آئیگا ۔ جبکہ ہماری اولادوں اور ان کی اولادوں کی اولادوں سے بھی پرے ایسے لوگ ہونگے ۔ جبکہ یہ دودھ سوکھ جائیگا ۔ لیکن یہ وقت آئیگا ضرور ۔ اس لئے تمہیں چاہیئے ۔ کہ ان دنوں کو غنیمت سمجھو ۔ یہ فائدہ اٹھاؤ ۔ سال میں صرف ایک دفعہ تمہارا آنا کوئی زیادہ نہیں ہو سکتا ۔ مگر افسوس ہے کہ اکثر لوگ اس طرف خیال نہیں کرتے ۔ پھر میری ان سے واقفیت بھی تو اسی وقت ہو سکتی ہے ۔ جب کہ میں ان سے اچھی طرح واقفیت بھی رکھتا ہوں ۔ اور ان کی عادات کو خوب جانتا ہوں ۔ مگر صرف جلسہ کے موقعہ پر آنے والے دوستوں سے میری ویسی واقفیت نہیں ہو سکتی بیسیوں لوگ ہونگے ۔ جو مجھے چاروں دن جلسہ میں ملے ہونگے ۔ اور انہوں نے اپنے نام بھی بتلائے ہونگے ۔ لیکن پھر بھی میں انہیں نہیں پہچان سکتا ۔ کیونکہ اس قدر ہجوم میں کوئی پتہ نہیں رہتا ۔ اور تعلیم بغیر پوری واقفیت کے دی نہیں جا سکتی ۔ اور واقفیت اسی طرح ہو سکتی ہے ۔ کہ دوست بار بار آئیں اور جلسہ کے ایام کے علاوہ اوقات میں آئیں ۔ ایسی صورت میں معلوم ہو سکے گا ۔ کہ فلاں کو کس طریق سے پڑھانے کی ضرورت ہے ۔ اور فلاں کو کس علم کی حاجت ۔ پھر اس کے مطابق اس کی تعلیم کا انتظام کیا جائیگا ۔ جو دوست یہاں آتے رہتے ہیں ۔ ان کو کسی نہ کسی رنگ میں تعلیم دیجاتی ہے ۔ اور انہیں بہت فائدہ ہوتا ہے ۔ کوئی یہ نہ سمجھے ۔ کہ ہمارے پاس حضرت مسیح موعود کی کتابیں موجود ہیں ۔

یہ حوالہ صفحہ 324 پر درج ہے حقیقۃ النبوۃ صفحہ 48 طبع اول از مرزا بشیر الدین محمود ابن مرزا قادیانی

صفحہ 865

(حوالہ نمبر 290)

۴۵

ہمیشہ صداقت کی اشاعت کرنے میں لگے رہیں چاہے غلط طریق پر ہی لڑتے رہیں۔ کہ دنیا کو بتلاؤ کہ ہمیں جیسے صحابہ کرام کے وقت لڑائی کی ضرورت تھی۔ اس لئے وہ جوش کے ساتھ وہیں پہنچے، لیکن میدان مقابلہ میں نکلے۔ اور جب تک مخالفین کے مقابلہ میں اس جوش کو استعمال کرتے رہے، اس سے بڑی بڑی عظیم الشان کامیابیاں ظہور میں آئیں۔ لیکن جب ان کے سامنے مخالفین نہ رہے، تو اس آگ نے اپنے لوگوں کو ہی جلانا شروع کر دیا۔ یہ ان کا وہی جوش تھا جو کفار کو تباہ اور برباد کرتا رہا۔ مگر جب یہ بیکار رہنا شروع ہوا۔ تو اپنوں ہی کو نقصان پہنچانے کا موجب ہو گیا۔ اس زمانہ میں وہ جوش جو ایک نہایت تازہ نبی کی جماعت کو ملا کرتا ہے۔ وہ تمہیں ملا ہے۔ تم اگر اس کو خدا کے ماتحت کام میں لاؤ گے۔ تو اس قدر کام پاؤ گے کہ تمہارے گھر بھر جائیں گے۔ لیکن اگر ٹھیک طور پر استعمال نہ کرو گے، تو ایسے خطرناک اور تباہ کن نقصانات اٹھاؤ گے کہ جن کا خیال کر کے ہی دل کانپ اٹھتا ہے۔ اور رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں پس جہاں تک ہو سکے، تم علم دین سیکھنے کی کوشش کرو۔ تم اپنے جوشوں کو اس کام میں لگاؤ ورنہ میں نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے۔ اور تمہیں بتا دیا ہے۔ کہ اگر اپنے جوشوں سے صحیح طور پر کام نہ لو گے۔ تو پھر اللہ ہی حافظ ہے۔

اب میں بتاتا ہوں کہ کس طرح تم اپنے جوشوں کو علم دین سیکھنے میں صرف کرو۔

علم دین سیکھنے کا

پہلا طریق

پہلا طریق تو یہ ہے۔ کہ تمہارا ایک ایسے مرکز سے تعلق ہو۔ جسے اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے تمام دنیا کی امّ بنایا ہے۔ اور خواہ نخواہ کوئی اسے مانے یا نہ مانے۔ اقرار کرے۔ یا نہ کرے۔ لیکن یہ بات حق ہے۔ کہ بچّہ کی صحیح تربیت اسی وقت ہوتی ہے۔ جبکہ اس کی اپنی ماں کے دودھ سے پرورش ہو۔ بکری، گائے، بھینس کے دودھ سے بچہ پل تو جاتا ہے۔ مگر پوری طاقت اور قوت حاصل نہیں کر سکتا۔ اصل قوت ماں ہی کے دودھ سے حاصل ہو سکتی ہے۔ اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے قادیان کو تمام دنیا کی بستیوں کی امّ قرار دیا ہے۔ اس لئے اب وہی صحیح طور پر روحانی زندگی پائے گی۔ جو اس کی چھاتیوں سے دودھ پیئے گی۔ اس لئے علم دین سیکھنے کا پہلا اور کامل طریق یہی ہے۔ کہ یہاں آکر سیکھا جائے گو کوئی کہے کہ دُور دراز جگہوں میں بھی ڈبّوں میں بند ہو کر آتا ہے۔ اس سے کیوں نہ فائدہ اٹھائیں۔ مگر کیا تازہ دودھ اور کیا باسی۔ بے شک یہ دودھ بھی ڈبّوں (اخباروں) میں بھر کر باہر بھیجا جاتا ہے۔ مگر اس میں وہی فرق ہے۔ جو تازہ اور باسی دودھ میں ہوتا ہے۔ پس اگر تم لوگ واقعی ایک حقیقی نفع حاصل کرنا چاہتے ہو۔ تو یہاں آکر کرو۔ ورنہ ڈبّوں کے ذریعہ تو ہم پہنچا ہی دینگے۔

حقیقۃ الرؤیا صفحہ 45 طبع اول از مرزا بشیر الدین محمود یہ حوالہ صفحہ 325 پر درج ہے

صفحہ 866

حوالہ نمبر 291

ہیں اس سے فائدہ اُٹھائیں یہ آیت جو میں نے پڑھی ہے اس میں حج کے متعلق احکام ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے الحج اشھر معلومات (یعنی شوال ۔ ذیقعدہ ۔ ذوالحج کے ساتھ مہینہ یا دس دن) پس جو کوئی ان میں حج کا قصد کرے اس کو کیا کرنا چاہیے۔ وہ یہ کہ نہ تو حج میں رفث ۔ فسوق اور جدال نہ کرے۔ یہ اس کے لئے جائز نہیں۔ ہر شخص جو حج کے لئے جاتا ہے اس کے لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حج میں رفث ۔ فسوق اور جدال نہ کرے۔ رفث کیا ہے۔ جماع کو کہتے ہیں یہ بھی حج میں منع ہے لیکن اس کے معنے اور بھی ہیں جو یہاں چسپاں ہوتے ہیں اور وہ یہ ہیں ۔ بدکلامی ۔ گالیاں دینا۔ گندی باتیں بیان کرنا۔ گندے قصے سنانا۔ لغو اور بیہودہ باتیں کرنا۔ یہ تمام باتیں حج میں رفث کہلاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اگر کوئی حج کو جاتا ہے تو اسے کسی قسم کی بدکلامی نہیں کرنی چاہیے۔ گندے قصے زبان پر نہ لائے جائیں گپیں نہ مارنی چاہئیں فسوق کے معنے ہیں اطاعت اور فرمانبرداری سے باہر نکل جانا۔ توقع یہ ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی فرمانبرداری سے باہر نہ نکلیں احکام کو بجالائیں پھر یہاں لوگوں کا مجمع ہوتا ہے وہاں لڑائیاں بھی ہوا کرتی ہیں کیونکہ لوگوں کی مختلف طبائع ہوتی ہیں اور بعض تو بالکل تنک مزاج ہوتے ہیں بات بات میں ذرا ذرا سی بات پر لڑائی ہو جاتی ہے خطرہ رہتا ہے کہ کہیں ان میں لڑائی جھگڑے لاٹھی مکہ دھکا وغیرہ نہ دیں۔ اس لئے فرمایا کہ لڑائی نہ کرنا۔ اس میں خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو بتایا ہے کہ جب تم حج کے لئے نکلو تو یہ تین باتیں یاد رکھو۔ آج جلسہ کا پہلا دن ہے اور ہمارا جلسہ بھی حج کی طرح ہے۔ حج خدا تعالیٰ نے مومنوں کی ترقی کے لئے مقرر کیا تھا کہ حج احمدیوں کے لئے دینی لحاظ سے تو حج مفید ہے مگر اس سے جو اصل غرض یعنی قوم کی ترقی تھی وہ انہیں حاصل نہیں ہو سکتی کیونکہ حج کا مقام ایسے لوگوں کے قبضہ میں ہے جو احمدیوں کو قتل کر دینا بھی جائز سمجھتے ہیں اس لئے خدا تعالیٰ نے قادیان کو اس کام کے لئے مقرر کیا ہے۔ ہمارے آدمیوں میں سے جن کو خدا تعالیٰ توفیق دیتا ہے۔ حج کرتے ہیں مگر وہ فائدہ جو حج سے مقصود ہے وہ سالانہ جلسہ پر ہی آکر اُٹھاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو اس غرض کے لئے نکلے وہ گندی اور لغو باتیں نہ کرے۔ خدا کے کسی حکم کی نافرمانی نہ کرے۔ اور لڑائی جھگڑا بھی نہ کرے۔ +

برکات خلافت صفحہ 5 طبع اول از مرزا بشیر الدین محمود یہ حوالہ صفحہ 325 پر درج ہے

صفحہ 867

حوالہ نمبر 292

۹۲

[ پہنانے والے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔ ایسے شریف لوگ ہر ایک قوم میں کم و بیش موجود ہوتے ہیں جو مفسدانہ اور غیر مہذب تقریروں کو بالطبع پسند نہیں کرتے اور مختلف فرقوں کے بزرگ ہادیوں کو بدی اور بے ادبی سے یاد کرنا پرلے درجہ کی خباثت اور شرارت سمجھتے ہیں۔ اور فی الواقع سچ یہی ہے کہ جن مقدسوں کو خدا نے اپنی خاص مصلحت اور ذاتی ارادہ سے مقتدا ] اور پیشوا قوموں کا بنایا۔ اور جن روشن جوہروں کو اُس نے دُنیا پر چمکا کر ایک عالم کو اُن کے ہاتھ سے نور خدا پرستی اور توحید کا بخشا۔ جن کی پُر زور تعلیمات سے شرک اور مخلوق پرستی جو امّ الخبائث ہے۔ اکثر حصہ میں زمین سے معدوم ہوگئی اور درخت ذکر وحدانیت الٰہی جو سوکھ گیا تھا۔ پھر سرسبز اور شاداب اور خوشنما ہو گیا۔ اور عمارت خدا پرستی کی جو گر پڑی تھی۔ پھر اپنے مضبوط پایوں پر بنائی گئی۔ جن مقبولوں کو خدا نے اپنے خاص سایۂ عاطفت میں لیکر ایسے عجائب طور پر تائید کی کہ وہ کروڑوں مخالفوں سے نہ ڈرے اور نہ تھکے اور نہ گھٹے۔ اور نہ اُن کی کارروائیوں میں کچھ تزلزل ہوا۔ اور نہ ان پر کچھ بلا آئی جب تک کہ انہوں نے راستی کو ہر ایک موذی سے امن میں رہ کر زمین پر قائم نہ کر لیا۔ ایسے مقبولانِ الٰہی کی نسبت زبان درازی کرنا نہایت درجہ کی ناپاکی اور نااہلی اور عبث دریدہ دہنی ہے۔

ہر کہ تُف افگند بہ مہر منیر ہم برویش فتد تفِ حقیر
تا قیامت تُف ست بر رویش قدسیان دور تر ز بد بویش

اور جو کچھ میں اس مقام میں ادب اور حفظ لسان کے بارے میں نصیحت کر رہا ہوں یہ بلا وجہ ١٠٢ اور بلا خاص معنے کے نہیں۔ اِس وقت میرے ذہن میں کئی ایک ایسے لوگ حاضر ہیں کہ جو انبیاء اور رسولوں کی تحقیر کر کے ایسا خیال کرتے ہیں کہ گویا ایک بڑے ثواب کا کام کر رہے

{بقیہ حاشیہ صفحہ ۹۱} ہیں ۔ اور قصوں اور کہانیوں کا ذخیرہ ہوگا۔ اور عقلمند اُس کو سودائیوں اور دیوانوں کی طرح بغیر سمجھنے کے ماننے کی اُمید رکھے گا۔ پس ظاہر ہے کہ ایسی کتاب کہ جس کے اصولوں کی سرسبزی عقل کی محک ہی پر موقوف ہے۔ انسان کو کسی قسم کی بھلائی نہیں پہنچا سکتی۔ منہ ؏

براہین احمدیہ صفحہ 102 مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 92 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 329 پر درج ہے

صفحہ 868

حوالہ نمبر 293

خطبہ الہامیہ

۷۰

عَلٰی مَقَامِ الْخَتْمِ مِنَ النُّبُوَّةِ ص وَاِنَّهٗ خَاتَمُ الْاَنْبِیَآءِ ص برے ختم گردیدہ و او خاتم الانبیاء است نبوت کے سلسلہ کو ختم کرنے والے تھے اور وہ خاتم الانبیاء ہیں ۔

وَاَنَا خَاتَمُ الْاَوْلِیَآءِ ص لَا وَلِیَّ بَعْدِیْ ص اِلَّا الَّذِیْ هُوَ و من خاتم اولیائم ہیچ ولی بعد من نیست مگر آنکہ اور میں خاتم الاولیاء ہوں میرے بعد کوئی ولی نہیں مگر وہ جو

مِنِّیْ وَعَلٰی عَهْدِیْ ص وَاِنِّیْ اُرْسِلْتُ مِنْ رَّبِّیْ بِکُلِّ از من باشد و بر عہد من باشد ۔ و من از خدائے خود ۔ بتمام تر مجھ سے ہو گا اور میرے عہد پر ہو گا اور میں اپنے خدا کی طرف سے تمام تر

قُوَّةٍ وَّبَرَکَةٍ وَّعِزَّةٍ ص وَاِنَّ قَدَمِیْ هٰذِهٖ عَلٰی قوت و برکت و عزت فرستادہ شدہ ام و ایں قدم من براں قوت اور برکت اور عزت کے ساتھ بھیجا گیا ہوں اور یہ میرا قدم ایک ایسے

مَنَارَةٍ خُتِمَ عَلَیْهَا کُلُّ رِفْعَةٍ ص فَاتَّقُوا اللّٰهَ اَیُّهَا منارہ است کہ برو بلندی ختم گردیدہ پس اے جواناں مینار پر ہے جو اس پر ہر ایک بلندی ختم کی گئی ہے پس خدا سے ڈرو

الْفِتْیَانُ ص وَاعْرِفُوْنِیْ وَاَطِیْعُوْنِیْ وَلَا تَمُوْتُوْا بترسید و مرا بشناسید و اطاعت من کنید و ہرگز نافرمان اے جوانمردو اور مجھے پہچانو اور میری اطاعت کرو اور نافرمانی پر

بِالْعِصْیَانِ ص وَقَدْ قَرُبَ الزَّمَانُ ص وَحَانَ اَنْ نہ میرید و بہ تحقیق زمانہ نزدیک رسید و آں وقت مت مرو اور زمانہ نزدیک آگیا ہے اور وہ وقت

خطبہ الہامیہ صفحہ 70 مندرجہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 70 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 329 پر درج ہے

صفحہ 869

حوالہ نمبر 294

۵۹۹

(بدر جلد ۲ نمبر ۱۳ صفحہ ۲۔ ۸ مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۳۔ الحکم جلد ۷ نمبر ۱۱ صفحہ ۱۶۔ ۱۷ مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۱)

یعنی عنقریب میرا دشمن ہلاک ہو جائے گا اور پھر اس کا خدا سے معاملہ پڑے گا۔

یعنی آئندہ عنقریب ہلاک ہوں گے۔

سے محفوظ نہیں رہے گا۔ یعنی جو شخص خدا سے تعلق رکھنے والا ہے اس کا تعلق قائم نہیں رہ سکتا جب تک وہ مجھے قبول نہ کرے اور جو شخص اس حکم سے لا پروا ہے وہ سزا سے محفوظ نہیں رہے گا۔

اس الہام میں میرا نام سلطان عبد القادر رکھا گیا۔ کیونکہ جس طرح سلطان دوسروں پر حکمران اور افسر ہوتا ہے اسی طرح مجھ کو تمام روحانی درباروں پر افسری عطا کی گئی ہے یعنی جو لوگ خدا تعالیٰ سے تعلق رکھنے والے ہیں ان کا تعلق نہیں رہے گا جب تک وہ میری اطاعت نہ کریں اور میری اطاعت کو حقارت کی نگاہ سے نہ دیکھیں یہ اسی قسم کا فقرہ ہے جیسا کہ یہ فقرہ کہ قَدَمِیْ هٰذِهِ عَلٰی رَقَبَةِ كُلِّ وَلِيِّ اللّٰهِ ۔ یہ فقرہ سید عبدالقادر رضی اللہ عنہ کا ہے جس کے معنے ہیں کہ میرا یہ پیر ہر ایک ولی کی گردن پر ہے۔

(تشریح) اس سلطان عبد القادر کے لئے وہ تمام چیزیں حلال کی گئیں جو پاک ہیں۔ کہہ میں نے ایسا کوئی کام نہیں کیا جو خدا کے حکم کے برخلاف ہو بلکہ وہی کیا جو خدا نے مجھے فرمایا۔

؎ (ترجمہ از مرتبہ) (۴) بے شک تجھے اللہ نے ہم پر ترجیح دی۔ ؎ (ترجمہ) خدا نیکوں کے ساتھ ہے۔

تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 599 طبع چہارم از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 330 پر درج ہے

صفحہ 870

حوالہ نمبر 295

١٦

۴۷۹ بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ ڈاکٹر سید ولی اللہ شاہ صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میں گھوڑی سے گر پڑا اور میری داہنی کلائی کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ اس لئے یہ ہاتھ کمزور ہو گیا تھا۔ کچھ عرصہ بعد میں قادیان میں حضور کی زیارت کے لئے حاضر ہوا۔ حضور نے پوچھا۔ شاہ صاحب آپ کا کیا حال ہے میں نے عرض کیا کہ کلائی کی ہڈی ٹوٹنے کی وجہ سے میرے ہاتھ کی انگلیاں کمزور ہوگئی ہیں اور اچھی طرح مٹھی بند نہیں ہوتی۔ حضور دعا فرمائیں کہ نتیجہ ٹھیک ہو جائے۔ مجھ کو یقین تھا کہ اگر حضور نے دعا فرمائی۔ تو شفا میں اپنا کام ضرور کرے گی۔ لیکن بلا تامل حضور نے فرمایا۔ کہ شاہ صاحب ہمارے مونڈھے پر بھی ضرب آئی تھی جس کی وجہ سے اب تک وہ کمزور ہے۔ ساتھ ہی حضور نے مجھے اپنا شانہ ننگا کر کے دکھایا۔ اور فرمایا۔ کہ آپ بھی صبر کریں۔ پس اس وقت سے وہی ہاتھ کی کمزوری مجھ کو بھول گئی اور میں نے سمجھ لیا کہ اب یہ تقدیر ٹلنے والی نہیں۔

خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت صاحب اپنے اصحاب کے ساتھ بے تکلف تھے کہ فوراً اپنا شانہ ننگا کر کے دکھا دیا۔ تا کہ شاہ صاحب اسے دیکھ کر تسلی پائیں۔

۴۸۰ بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ حافظ نور محمد صاحب ساکن فیض اللہ چک نے مجھ سے بیان کیا کہ بعض لوگ بیعت کے بعد حضرت مسیح موعود سے پوچھتے تھے۔ کہ یا حضرت! ہم کونسا وظیفہ پڑھا کریں۔ تو حضور فرماتے کہ الحمد للہ اور درود شریف اور استغفار اور دعا پر مداومت اختیار کرو اور دعاء اھدنا الصراط المستقیم کثرت سے پڑھا کرو۔

۴۸۱ بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ حافظ نور محمد صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ ایک دفعہ حضور نے فرمایا کہ میں نے خواب میں ایک مرتبہ دیکھا کہ سید عبدالقادر صاحب جیلانی آئے ہیں اور آپ نے پانی گرم کرا کر مجھے غسل دیا ہے اور نئی پوشاک پہنائی ہے اور گول کمرہ کی سیڑھیوں کے پاس کھڑے ہو کر فرما لگے کہ آؤ ہم اور تم برابر برابر کھڑے ہو کر تولتے ہیں پھر انہوں نے میرے بائیں طرف کھڑے ہو کر مجھ سے کندھا ملایا۔ تو اس وقت دونوں برابر برابر رہے۔

خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ اوائل زمانہ کا رویا ہو گا۔ کیونکہ بعد میں تو آپ کو وہ روحانی مرتبہ حاصل ہوا کہ امت محمدیہ میں آپ سب پر سبقت لے گئے جیسا کہ آپ کا یہ الہام بھی ظاہر کرتا ہے کہ آسمان سے کئی تخت اترے پر تیرا تخت سب سے اوپر بچھایا گیا “ اور آپ نے صراحت کے ساتھ لکھا

سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 16 از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 330 پر درج ہے

صفحہ 871

حوالہ نمبر 296

ضمیمہ نزول المسیح ۱۸۸ القصيده

لِتُصْبِحُوْنَ بِخَيْرٍ اٰمِنِيْنَ اِلٰى حَرَمٍ يَا ذَوِى الْحِلْمِ وَقَدْ تَمَّتِ الْاَخْبَارُ وَالْاٰيُ تُبْهَرُ

کیا تم محض بزدلی کے مارے اس شخص کا کفر کرتے ہو، تم اپنے کو بادشاہ کی حفظ و امان میں نہ سمجھو میری پوری مدد بھی فیصلہ پر لائے گی ۔ اور خبریں پوری ہو گئیں اور نشان چمکتے ہیں ۔

وَقَدْ قِيْلَ مِنْكُمْ يَاْتِيْكُمْ اِمَامُكُمْ وَذٰلِكَ فِى الْقُرْاٰنِ نَبَاٌ مُّكَرَّرُ

اور تم میں سے کہا گیا کہ تمہارا امام تم میں سے ہی آئے گا اور یہ خبر تو قرآن میں کئی مرتبہ آچکی ہے ۔

اَتَانِيْ كِتَابٌ مِّنْ كَذُوْبٍ يُزَوِّرُ كِتَابٌ خَبِيْثٌ كَالْعَقَارِبِ يَاْبِرُ

مجھے ایک کذاب کی کتاب گولڑہ سے پہنچی ہے وہ خبیث کتاب اور بچھو کی طرح نیش زن ہے

تَقَلَّدْتَ لَعْنَا الْوَيْلَاتِ يَا اَرْضَ جَوْلَرٍ لُعِنْتَ بِمَلْعُوْنٍ فَاَنْتَ تُدَمَّرُ

پس میں نے کہا کہ اے گولڑہ کی زمین تجھ پر لعنت تو ملعون کے پیچھے ملعون ہو کر پس تو ہلاک کیا جائیگا

بِتَكَلُّمِ هٰذَا النَّكْسِ كَالزُّمَعِ شَاتِمًا وَكُلُّ امْرِءٍ عِنْدَ التَّخَاصُمِ يُسْبَرُ

اس فرو مایہ نے کمینوں کی طرح گالی کے ساتھ بات کی اور ہر ایک آدمی خصومت کے وقت آزمایا جاتا ہے ۔

اَتَزْعَمُ يَا شَيْخَ الضَّلَالَةِ اِنَّنِيْ تَقَوَّلْتُ فَاعْلَمْ اَنَّ ذَيْلِيْ مُطَهَّرُ

کیا تو اے گمراہی کے شیخ یہ گمان کرتا ہے کہ میں نے یہ باتیں بنا لی ہیں پس جان لے کہ میرا دامن خباثت سے پاک ہے ۔

اَتَمْكُرُ حَقًّا جَاءَ مِنْ خَالِقِ السَّمَا سَيُبْدِيْ لَكَ الرَّحْمٰنُ مَا اَنْتَ مُنْكِرُ

کیا تو اس حق سے مکر کرتا ہے جو آسمان سے آیا خدا عنقریب تیرے پر ظاہر کرے گا جس چیز کا تو منکر ہے ۔

اِذَا مَا رَاَيْنَا اَنَّ قَلْبَكَ قَدْ قَسَا تَفَاضَتْ دُمُوْعُ الْعَيْنِ وَالْقَلْبُ يَضْجَرُ

جب ہم نے دیکھا کہ تیرا دل سیاہ ہو گیا۔ تو آنکھوں سے آنسو جاری ہوئے اور دل بیقرار تھا ۔

اَخَذْتُمْ طَرِيْقَ الْمُشْرِكِيْنَ بِدِيْنِكُمْ اَهٰذَا هُوَ الْاِسْلَامُ يَا مُتَكَبِّرُ

تم نے شرک کے طریق کو اپنے دین میں ملا لیا ہے۔ کیا یہی اسلام ہے اے متکبر ۔

وَمَا اَنَا اِلَّا نَائِبُ اللّٰهِ فِى الْوَرٰى فَعُوْجُوْا اِلَىَّ وَذَرُوا الْغَيَّ وَ

اور میں مخلوق کے لئے خدا کا نائب ہوں۔ پس میری طرف جھکو اور نادانی چھوڑ دو اور خدا

تَفَكَّرُوْا فِى اللّٰهِ لِتُهْتَدُوْا وَاِنَّ قَضَاءَ اللّٰهِ يَأْتِيْ مِنَ السَّمَا

کی ہستی پر غور کرو تاکہ تم ہدایت پاؤ ۔ اور خدا کی تقدیر آسمان سے آئے گی۔

یہ حوالہ صفحہ 330 , 331 پر درج ہے اعجاز احمدی صفحہ 75 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 188 از مرزا قادیانی

صفحہ 872

حوالہ نمبر 297

نزول المسیح

۴۴۸

مگر شرط یہ ہے کہ اُس طریق سے کرے جو اوّل شرط ہو یعنی ٹھیک ٹھیک عرصہ بیس یوم تک اُسی مقدار اور اُسی بلاغت فصاحت کے لحاظ سے اور انہیں مضامین کے مقابل پر اشعار بنا کر اور طبع کرا کر ملک میں شائع کر دیں ورنہ اشتہار کے ذریعہ سے اُن کا عجز شائع کر دیا جائے گا۔ اور ہم دوبارہ اقرار کرتے ہیں کہ اگر ان اشعار میں تاریخِ معیّنہ کے اندر وہ ہمارا مقابلہ کر سکیں گے اور اہل علم کی شہادت سے اُن کے اشعار ہمارے اشعار کے ہم رتبہ ہو سکیں گے اور تعداد میں بھی برابر

بقیہ حاشیہ : تھوڑی کسر رہتی ہے وہ طرف ثانی کے سر کے ساتھ پوری ہوگی ایک پیر جی کو کمال صداقت دیانت کا دعویٰ ہو گیا مگر اُن کو یہ سوجھی نہ تھی کہ جس میں کمالِ صداقت دیانت ہو اس کو مریدوں کے اموال غصب کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ پیر جی نے یہ کیا کہ ایک نیا مسودہ بنایا کہ کئی درزوں کی سلائی قابلِ شرم چوری کی ہے۔ اور جب اس کے دوستوں نے اس کی طرف خط لکھے کہ ایسا کرنا مناسب نہ تھا تو پیر صاحب نے جواب دیا کہ میں نے مورکھوں مہا مورکھوں سے بہلاوا لے لیا، تم پر صا ف ظاہر ہے کہ تم کو مجھ سے سِوا ارادت دینِ حقہ نہیں۔ تم کو میں ہی پیارا ہوں، اس کے پاس میں کیا نیزہ رکھ آؤں گا۔ تم نے مجھ سے بیعت کی، حنفیوں کے پاس سے جو کچھ لیا سو لیا، پھر بہر حال یہ ذکر تو کرنا چاہئیے تھا کہ میں نے یہ بات جو مریدوں پر ظاہر کی ہے بے شبہ یوں ہے کہ یہ سب بات مریدوں کو دینے کے لئے لی مگر کہاں ذکر کیا۔ بلکہ بڑے فخر سے دعویٰ کیا کہ یہ کتاب میں نے آپ بنائی ہے۔ دیکھو پیر جی چوری کرنے کا یہ اثر ہوتا ہے کہ مجھ جیسے فقیر کا صدق تو اندھے پر بخوبی روشن ہو گیا اور یہ تمام جہان کا چور ثابت ہو گیا اور نہ صرف چور بلکہ کذّاب بھی کہ ایک کورا جھوٹ اپنی کتاب میں شائع کیا اور کتاب میں لکھا کہ یہ میری تالیف ہے حالانکہ وہ اُس کی تالیف نہیں۔ کیوں پیر جی اب اجازت ہے کہ اس وقت ہم بھی کہہ دیں کہ لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَی الْكَاذِبِیْن ۔ رہا محمد حسن پس چونکہ وہ مَر چکا ہے اس لئے اُس کی نسبت لمبی بحث کی ضرورت نہیں وہ اپنی سزا کو پہنچ گیا۔ اُس نے جھوٹ کی نجاست کھا کر وہی نجاست پیر صاحب کے منہ میں رکھ دی۔ میں نے کتاب اعجاز المسیح کے سر پر بطریق پیشگوئی بیان کر دیا تھا کہ جو شخص اِس

۷۲

نزول المسیح حاشیہ صفحہ 72 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 448 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 331 پر درج ہے

صفحہ 873

حوالہ نمبر 298 ۴۴۱ نزول المسیح

۷۲ ٹھہرائے جائیں گے پھر اگر تمہارا رسالہ فصیح بلیغ ثابت ہوا تو میرا تمام دعویٰ باطل ہو جائیگا اور میں اب بھی اقرار کرتا ہوں کہ بالمقابل تفسیر لکھنے کے بعد اگر تمہاری تفسیر بلا غلط و ممتاز اعلیٰ ثابت ہوئی ۔ تو اُسوقت اگر تم میری تفسیر کی غلطیاں نکالو تو فی غلطی پانچ روپیہ انعام دُونگا ۔ غرض بیہودہ نکتہ چینی سے پہلے یہ ضروری ہے کہ مدعی تفسیر عربی اپنی عربی دانی ثابت کرے ۔ کیونکہ جس فن میں کوئی شخص دخل نہیں رکھتا اُس فن میں اُسکی نکتہ چینی قبول کے لائق نہیں ہوتی ۔ معمار معمار کی نکتہ چینی کر سکتا ہے اور حداد حداد کی مگر ایک خاکروب کو حق نہیں پہنچتا کہ ایک دانا معمار کی نکتہ چینی کرے ۔ آپکی ذاتی لیا قت یہ ہے کہ ایک سطر بھی عربی نہیں لکھ سکتے۔ چنانچہ مباحثہ چشتیاں میں بھی آپنے چوری کے مال کو اپنا مال قرار دیا تو پھر اس لیاقت کے ساتھ کیوں آپکو ایک ذرہ شرم نہیں آتی ۔ اے بھلے آدمی پہلے اپنی عربی دانی ثابت کر پھر میری کتاب کی غلطیاں نکال ادنیٰ غلطی پر ہم سے پانچروپیہ لے اور بالمقابل عربی رسالہ لکھ کر میرے اس کلام معجز نما کا باطل ہونا دکھلا ۔ افسوس کہ دس برس کا عرصہ گذر گیا کسی نے شریفانہ طریق سے میرا مقابلہ نہیں کیا۔ غایت کار اگر کیا تو یہ کیا کہ تمہارے فلاں لفظ میں فلاں غلطی ہے اور فلاں فقرہ فلاں کتاب سے مسروقہ معلوم ہوتا ہے ۔ مگر صاف ظاہر ہے کہ جبتک خود انسان کا صاحب علم ہونا ثابت نہ ہو کیونکر اُسکی نکتہ چینی صحیح مان لی جائے کیا ممکن نہیں کہ صانع غلطی کرتا ہو اور جو شخص بالمقابل لکھنے پر قادر نہیں بلکہ یہ کہتا ہو کہ کتاب میں بیسیوں فقرے بلفظہ مسروقہ ہیں اگر سرقہ سے یہ امر ممکن ہے تو کیوں وہ بالمقابل نہیں آتا اور خرگوش کی طرح بھاگا پھرتا ہے ۔ اے نادان نقل کرنا کب کسی کو عربی فصیح میں لکھنے پر قادر کر سکتا ہے تو سہی کوئی تفسیر عربی فصیح میں لکھ کر اپنی عربی دانی ثابت کر پھر تیری نکتہ چینی بھی قابل توجہ ہو جاوے گی اور بغیر ثبوت عربی دانی کے تیری نکتہ چینی کرنا اور کبھی سرقہ کا الزام دینا اور کبھی صرفی نحوی غلطی نکالنا ۔ یہ صرف گوہ کھانا ہے ۔ اے جاہل بیوقوف عربی بلیغ فصیح میں کسی سورۃ کی تفسیر شائع کر پھر تجھے ہر ایک کے نزدیک حق حاصل ہو گا کہ میری کتاب کی غلطیاں نکالے یا مسروقہ قرار دے ۔ جو شخص ہزار ہا جزو عربی بلیغ فصیح کی لکھ چکا ہو نہ صرف معمولی طور پر بلکہ معارف حقیقی کے بیان میں تو کیا صرف انکار سے اس کا جواب ہو سکتا ہے یا جبتک کلام کے مقابل پر کلام نہ دکھلایا جاوے صرف زبانی کی بک بک حجت ہو سکتی ہے اور اس بات کو ساری دنیا جانتی ہے

نزول المسیح صفحہ 65 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 441 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 331, 332 پر درج ہے

صفحہ 874

حوالہ نمبر 299

ضمیمہ نزول المسیح 194 القصيدة

عَلَى مِثْلِهَا لَمْ نَطَّلِعْ فِيْ مُكَلَّمٍ وَإِنْ كَانَ عِيْسَى أَوْ مِنَ الرُّسْلِ آخَرُ اُن تمام صفتوں کی ہم دیکھتے ہیں کہ نظیر نہیں پائی جاتی۔ خواہ عیسیٰ ہو یا کوئی اور نبی ہو

فَفَكِّرْ اَهٰذَا كُلُّهٗ كَانَ بَاطِلًا وَمَا كَانَ شِرْكُ النَّاسِ شَيْئًا يُغَيِّرُ پس سوچ کیا یہ تمام کارروائی باطل تھی۔ اور شرک کوئی ایسی چیز نہیں جس کو بدلا جائے۔

اَلَا يَا بَغِی عَارَ النِّسَاءِ اَبَا الْوَفَا اِلَامَ كَفِتْيَانِ الْوَغٰی تَتَنَمَّرُ اے عورتوں کے عار ثناء اللہ کب تک مردان جنگ کی طرح چیختا دھاڑتا پھریگا

اَرَدْتَ الْهُدٰی مِنْ بَعْدِ سِتِّيْنَ حِجَّةً وَذٰلِكَ رَاْیٌ لَا يَرَاهُ الْمُفَكِّرُ کیا تو نے ساٹھ برس کی عمر کے بعد ہدایت کی طمع کی یہ تو کسی عقلمند کی رائے نہ ہوگی۔

اَرَيْنَاكَ اٰيَاتٍ فَلَمْ تَعْدُ رِجْسَهَا وَاِنْ خِلْتَهَا تَخْفٰی عَلَی النَّاسِ تَظْهَرُ ہم تجھے ١؎ نشان دکھلائے اور تو اپنے کذب کی نجاست سے باز نہ آیا اور اگر تو خیال کرے کہ وہ پوشیدہ ہیں تو وہ ہرگز پوشیدہ نہ رہیں گے

اَرَدْتَ بِشُؤْمٍ ذِلَّتِیْ فَرَاَيْتَهَا وَمَنْ لَّا يُوَقِّرُ صَادِقًا لَا يُوَقَّرُ تو نے شامت سے میری ذلت کو چاہا پس خود ذلت اُٹھائی اور جو شخص صادق کی بے عزتی کرتا ہے وہ خود بے عزت ہوتا ہے۔

٭وَكَائِنْ مِّنَ الْاٰيَاتِ قَدْ مَرَّ ذِكْرُهَا رَاَيْتُمْ فَاَعْرَضْتُمْ وَقُلْتُمْ مُّسَحَّرُ اور بہت سے نشان ہیں جن کا ہم ذکر کر چکے ہیں۔ تم نے وہ نشان دیکھے اور منہ پھیر لیا اور کہا کہ یہ مسحور ہے

فَبَدَا لَنَا بَعْدَ التَّجَارِبِ حِيْلَةٌ لِنَكْتُبَ اَشْعَارًا بِهَا الْاٰيُ تُشْعَرُ پس ہمارے لئے بہت تجارب کے بعد ایک حیلہ ظاہر ہوا۔ تاکہ ہم یہ شعر لکھیں جن میں نشان معلوم ہو جائیں

فَهٰذَا هُوَ التَّبْكِيْتُ مِنْ فَاطِرِ السَّمَا وَهٰذَا هُوَ الْاِفْحَامُ مَتٰی تَفَكَّرُوْا پس خدا اِسی ذریعہ سے تمہارا منہ بند کرنا چاہتا ہے۔ اور یہی میری طرف سے اتمامِ حجت ہے۔

١؎ سہوِ کاتب سے کئی کا لفظ چھوٹ گیا ہے۔ اصل ترجمہ یوں ہوگا۔ ”ہم تجھے کئی ایک نشان دکھلاتے ہیں“ (ناقل) ٭ يُسْتَعْمَلُ لَفْظُ كَائِنْ كَمَا يُسْتَعْمَلُ كَاَيِّنْ فِى لِسَانِ الْعَرَبِ . مِنْهُ

اعجاز احمدی صفحہ 92 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 196 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 332 پر درج ہے

صفحہ 875

(حوالہ نمبر 300)

۲۴۱ وبين المعترضين المهلكين من شيخ ضال بطالوی ۔ وجاهل غوی ۔ يقال له ویکے از معترض کنندگان شیخ گمراہ ساکن بٹالہ است که ہمسایہ گراں است۔ او را محمد حسين - وقد سبق غيره في الكذب والمين ۔ وانه أبى محمد حسین می گویند ۔ و از ہمہ در دروغ و افترا سبقت بردہ است ۔ و او انکار کرد واستكبر واشاع الكبر واظهر حتى قيل انه امام المستكبرين - ورئيس و تکبر نمود ۔ و تکبر را شایع کرد و ظاهر ساخت تا آنکہ گفته شد کہ او امام متکبرین است ۔ و رئیس المعتدين - وبئس الخلوف هو الذي كفرني قبل ان يكفر الأخرون - واعترض معتدین است ۔ و بد جانشین است ۔ او ہماں شخص است کہ پیش از ہمہ مرا کافر گفت ۔ و بر کتابہائے على كتبى واظهر جهله المكنون - فقال ان تلك الكتب مشحونة من الاغلاط من اعتراض کرد ۔ و جہل خود ظاہر نمود ۔ پس گفت کہ ایں کتابہا از غلطی ہائے پر ستند و در محل وساقطة في وحل الانحطاط - وليست كماء معين - وان هذا الرجل من انحطاط فرو افتادہ اند ۔ و ہچو آب صافی نیست ۔ و ایں شخص از جاہلاں است الجاهلين - وكلما يوجد في كتبه من سجعها وقوافيها - فليس قريحته حجر و هر چه از کلمات مسجعه و قافیه ها در کلام او یافته می شود ۔ پس آں ہنر او اساسها بل تلك كلم خرجت من اقلام الأخرين - نیست بلکاں کلمات از قلمہائے دیگراں برآمدہ اند ۔ فقلت يا شيخ الغوى - وعدو العقل والنهى - ان كتبى منورة مما پس گفتم کہ اے شیخ احمق ۔ و دشمن عقل و دانش ۔ بہ تحقیق کتاب ہائے من آنچہ کمالات کہ فيها ومآثر قوة عاقلتي ۔ الا سهو الكاتبين ۔ او زيغ القلم بتغافل عنى لا درینست و مآثر قوة عاقلہ منست ۔ مگر سهو کاتبان ۔ یا لغزش قلم که بتغافل من نیست ۔ بل هو سهو كاتب ۔ أو زيغ فهم ناقل ۔ فجعل الجاهل بلکہ آں سہو کاتب ۔ یا کجی فہم ناقل است ۔ پس ایں جاہل من انجام آتھم صفحه ۲۴۱

انجام آتھم صفحہ 241، 242 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 241، 242، 243 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 332 پر درج ہے

صفحہ 876

حوالہ نمبر 300

۲۴۲

لجهل الجاهلين ۔ فان قدرت ان تثبت فيها عثارا فخذ حتى تخرّ واو كل لفظ غلط پس اگر تو میدانی کہ دریں کتابہا لغزشے ثابت کنی پس بگیر تا بیفتی ہرچند غلط و بیجاے بگیر دينارا۔ واجمع لجينا ونضاراً ۔ وكن من المتمولين ۔ وخذ امولة تلائم هواك ۔ و و سیم و نضار جمع کن ۔ و از مالداران بشو ۔ وایں آں انعام است که مناسب حال تو پیش تقر به عيناك ۔ وتستريح به رجلاك ۔ فتنجو من السفر الدائم ۔ ولا تتيه كالشحاذ است ۔ و چشم تو خنک خواہد شد ۔ و ہر دو پائے تو ازیں آرام خواہند گرفت پس از سفر دائمی نجات خواہی یافت ۔ الهائم وتقعد كالمتنعمين ۔ وتتغذي بلحم صيد حلال لا بغرور ومكائد شقوة اشاعة و در بدر سرگردان کوبکو نخواہی گردید و پیش منعمان خواہی نشست و بہ ایں مال تو پرواری شوی نہ ازاں کہ فریفتہ مکر و فریب اشاعته السنة ۔ ومال الدجال والذرية ۔ وتعيش كالمستريحين ، السنه که مال دجال و نسل اوست و ازین محنت و تعب بے نیاز خواہی شد ہمچو آرام یاباں زندگی خواہی گذرانید۔ بيد اني اردت ان ارى قبل هذا صليل سيف فصاحتك واشاهد رمح بلاغتك ۔ لافهم مگر ایں ہمت کہ می خواہم کہ قبل ازیں کہ جوہر شمشیر فصاحت ترا بینم و نیزہ بلاغت تو مشاہدہ کنم ۔ انك من علماء هذه الصناعة ۔ ومن اهل تلك الصولة ۔ ولست تا به بینم که تو از علمائے ایں صناعت ہستی ۔ و از آنان ہستی کہ اہل ایں حملہ ہستند ۔ و از من الجاهلين المحجوبين العمين ۔ جاہلان و محجوبان و نابینایان نیستی ۔ فاتفق لشؤم حظه المنحوس ۔ ونكد طالعه المعكوس ۔ انه ما قبل پس باعث کم نصیبی و بدبختی طالع منحوس او ایں اتفاق افتاد که او ایں مقام را قبول نکرد هذه الخطة ۔ وما رضى نفسه ليقبل هذه الشريطة ۔ وخشي الذلة و خویشتن را برین رضا مند نیاورد تا شرط ما را قبول کند ۔ واز ذلت و رسوائی

یہ حوالہ صفحہ 332 پر درج ہے انجام آتھم صفحہ 241 و 242 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 241 ، 242 ، 243 از مرزا قادیانی

صفحہ 877

حوالہ نمبر 300

۲۴۲

والنقيعة - وترى كالمتقززين - وقال لو نشاء لقلنا مثل هذا وكلنا ألسنا کہ بتو رسید ۔ و چوں ترش رویاں منقبض مے باشی نا گفتہ ۔ و گفت اگر بخواهیم مثل ایں بگوئیم ۔ و کینہ با فریفتنی بضارين ۔ ومما يخرج من بيته ۔ مسارقا ۔ موهبة زلة ۔ وما نفرق الا كما لتسلطين نیست ۔ واز خانہ خود بیرون نیاید ۔ و بدزدی ۔ ہبہ لغزش ۔ و جدا نہ فرق کنیم مگر بمحکمہ ۔ وتحترزين في ملحق مرضاته - لا نفقد بحيلة حيلة - والمخفق لنا - ونأوي جملة الله و پرہیز نمائی در جائے رضا جوئی او ۔ بکدام حیلہ باطل خدا نیابیم ۔ و باز پسنده ما۔ کہ پیوندیم در جملہ او فكان للناس وتلا آياته - او خناس حبب اليه آياته - فرأيت ان حمية بتوانیم ۔ پس گویا براے مردماں نشانی او خواند ۔ یا شیطاں براے دوست داشتن علامات او ۔ پس دیدم کہ تمام گرمی او قد بردت ۔ وعزمه هزم وشاخ ۔ وغشي كالمقهورين - سرد شد ۔ و قصد او ہزم و شاخ گشت ۔ و بمانند مقہوراں غش نمود ۔ وتالله اني استيقن بانه لا يقدر على املاء سطر او سطرين - وكلما و بخدا مرا یقین است کہ او بر نوشتن یک سطر یا دو سطر ہم قادر نیست ۔ و ہر چہ يقول يقوله من الملقنين - بل لا اظن ان يقدر على فهم مقالي - ويبدل فى المجلس بگوید از معلمے میگوید ۔ بلکہ مرا گمان ہم نیست که او سخن من بفہمد ۔ و در مجلس همچون حرباے كحرباء الوانه - وانه من الكاذبين - وانى اعرفه من قديم الزمان ۔ وكنت اكتم رنگ خود بدل مے کند ۔ و او از دروغگویان است ۔ و من او را از زمانہ قدیم می شناسم ۔ لیکن من حال او را استره دائما و اسعى للكتمان - بل اذا نطق احد لافشاء سره - فطويته على غرة - پوشیدہ می داشتم ۔ مگر چوں کسے برائے دریدن پردہ و افشاء کوشے ۔ پس من آں گفتگورا بر گونه وطويت حرصه - ولأخشين من شؤم بنيانه ان ينهدم بيت الله لا يكسد البته غوائله - ولا ينزع عن طے کردم تا آنکہ حرص او نماند ۔ و می ترسیدم از شومیہاۓ او کہ مبادا خانہ خدا منہدم شود ۔ و از فسادش کم نہ جائے خصلة من خصائل الكاذبين - الا ترى ان الخنزير لا يعاف الميتة - هیچ خصلتے از خصلتہاۓ دروغگویان ۔ آیا نمی بینی کہ خوک از مردار پرہیز نمی کند ۔ ولا الذباب يطير عن العذرة - فان اعرضتم عن هذا الرجل - وتركتم و نہ مگس از پلیدی می پرد ۔ پس اگر ازیں مرد روگردان شوید ۔ و ترک هذه السبل - فتبشروا - فانكم تهتدون - ایں راہ ہا بکنید ۔ پس بشارت باد شما را کہ شما ہدایت خواہید یافت ۔

انجام آتھم صفحہ 241 ، 242 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 241 ، 242 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 332 پر درج ہے

صفحہ 878

حوالہ نمبر 301

۲۵۲

واختنقت الصفارۃ بغرغرى كالذباب ۔ وخلى بي موالىّ كالكلاب ۔ ونطقوا بكلم و نالہ صفیر گلے میں آکر بسان مکھی آویخت ۔ و چھوڑا مجھ کو ساتھیوں نے بسان کتے بغایت ۔ اور بولے بر زبان خود

لا ينطق بمثلها الا شيطان لعين ۔ واغواهم الشيطان الاعمى والغول الاغوى ۔ کہ نہ گوید بمثل آن هیچکس جز شیطان ملعون ۔ و در گمراہی انداخت ایشان را شیطان کور و غول گمراہ ۔

يقال له رشيد الجنجوهي ـ وهو شقى كالامرئ القيس ـ ومن الملعونين ۔ کہ او را رشید احمد گنگوہی مے گویند ۔ و او همچو امرؤ القیس شقی است و از ملعونین است ۔

فهؤلاء تسعة رهط كفرونا وسبونا وكانوا مفسدين ۔ ونذكر ههنا الشيخين پس ایں ہا نه شخص اند کہ تکفیر ما کردند و دشنام ہا دادند ۔ و از مفسدان بودند ۔ و یاد میکنیم دریں جا شیوخ را

المشهورين ۔ یعنى الشيخ اله بخش التونسوى والشيخ غلام نظام الدين ۔ مشهور را ۔ یعنی شیخ اله بخش تونسوی و شیخ غلام نظام الدین بدایونی

وقد شاع وسيشاع فى الديار والبلدان ـ فيومئذ تسودّ وجوه المنكرين ـ وامدنا تحقیق شایع شد است ۔ و عنقریب ایں کتاب در شہرہا شائع کردہ خواہد شد ۔ پس در آں روز روئے منکرین سیاه

وايدنا بحول رب العالمين ـ ودسسنا فى افواه كل وقواص ـ الذين يقولون خواهند شد ۔ و امداد کرد مارا و تائید کرد بحول خدائے تعالیٰ ۔ و مهر زدیم بر دهن ہر وقواص ۔ کہ میگویند کہ عربی

ان العربية ما سبق غيرها فى السن ـ بل هى كاللباس المستبذل او الوعاء در سن خود بر غیر خود سبقت نبرده است ۔ بلکہ آں مثل لباس کاہندہ و پرانی کہنہ و ظرف مستعمل

المستعمل وكل شئ وهو سقط لا منفعة فيه ـ وقد دحضناها فى هذا الكتاب تدميرا ۔ بیکار است ۔ و ہر چیزے سقط بے سود است که ہیچ نفع نه بخشد ۔ و دریں کتاب بخوبی پامال کردیم ۔

وانا اثبتنا فى هذه القصيدة حق الاثبات ـ وارسلنا رسلنا بالاحكام والبينات تبيينا ـ و ما دریں قصیدہ چنانچہ حق ثابت کردن است ثابت کردیم ۔ و فرستادیم رسل باحکام و بینات تبیین ۔ و

انجام آتھم صفحہ 252 روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 252 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 332 پر درج ہے

صفحہ 879

حوالہ نمبر 302 تتمہ ۴۴۵ حقیقتہ الوحی

ویسا ہی یہ پیشگوئی بھی ظہور میں آگئی جو خدا تعالیٰ نے میرے ذریعہ سے ظاہر فرمائی۔ کیونکہ جیسا کہ میں بیان کرچکا ہوں اُسی روز سے جبکہ خدا تعالیٰ نے اسکی نسبت مجھے یہ خبر دی کہ اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَر یعنی تیرا شاتم لاولد رہے گا۔ اُسی وقت سے اولاد کا دروازہ سعداللہ پر بند کیا گیا اور اُس کی بددعاؤں کو اُسی کے مُنہ پر مار کر خدا تعالیٰ نے تین لڑکے بعد اس الہام کے مجھ کو دیئے اور کروڑہا انسانوں میں مجھے عزت کے ساتھ شہرت دی اور اس قدر مالی فتوحات اور آمدنی نقداً اور جنساً اور طرح طرح کے تحائف مجھ کو دیئے گئے کہ اگر وہ سب جمع کئے جاتے تو کئی ۱۷ حاشیہ کوٹھے اُن سے بھر سکتے تھے۔ سعداللہ چاہتا تھا کہ میں اکیلا رہ جاؤں کوئی میرے ساتھ نہ ہو پس خدا تعالیٰ نے اس آرزو میں اُسکو نامراد رکھ کر کئی لاکھ انسان میرے ساتھ کر دیا۔ اور وہ چاہتا تھا کہ لوگ میری مدد نہ کریں سو خدا تعالیٰ نے اُسکی زندگی میں ہی اُسکو دکھلا دیا کہ ایک جہان میری مدد کیلئے میری طرف متوجہ ہو گیا اور خدا تعالیٰ نے وہ میری مالی مدد کی کہ صد ہا برس میں کسی کی ایسی مدد نہیں ہوئی۔ اور وہ چاہتا تھا کہ مجھ کو کوئی عزت نہ ملے مگر خدا نے ہر ایک طبقہ کے ہزارہا انسانوں کی گردنیں میری طرف جھکادیں اور وہ چاہتا تھا کہ میں اُسکی زندگی میں ہی مرجاؤں اور میری اولاد بھی مرجائے مگر خدا تعالیٰ نے میری زندگی میں اُسکو ہلاک کیا اور الہام کے دن کے بعد تین لڑکے اور مجھ کو عطا کئے۔ پس یہ موت اُسکی بڑی نامرادی اور ذلّت کے ساتھ ہوئی۔ اور یہی پیشگوئی میں نے کی تھی جو خدا تعالیٰ کے فضل سے پوری ہوگئی۔ اور وہ پیشگوئی جس میں مَیں نے لکھا تھا کہ نامرادی اور ذلّت کے ساتھ میرے رُوبرو وہ مرے گا۔ وہ انجام آتھم میں عربی شعروں میں ہے اور وہ یہ ہے :۔

وَمِنَ اللِّئَامِ أَرَى رُجَيْلًا فَاسِقًا غُولًا لَّعِينًا نُطْفَةَ السُّفَهَاءِ
اور لئیموں میں سے ایک فاسق آدمی کو دیکھتا ہوں کہ ایک شیطان ملعون ہے سفیہوں کا نطفہ
شَكِسٌ خَبِيثٌ مُفْسِدٌ وَمُزَوِّرٌ نَحِسٌ يُسَمَّى السَّعْدَ فِي الْجُهَلَاءِ
بد خو خبیث مفسد اور جھوٹ کو ملمع کر کے دکھانے والا منحوس ہے جس کا نام جاہلوں نے سعد اللہ رکھا ہے

یہ بھی یاد رہے کہ یہ بندش شتر گربہ سخت بے معنے ہے کیونکہ یہ تو تین سو اٹھہتر کی ہندسی حد سے زیادہ گذر گئی تھی۔ منہ

حقیقۃ الوحی ص 445 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 445 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 332, 333 پر درج ہے

صفحہ 880

حوالہ نمبر 303

۱۴۳ بیدار نہ ہو جاتے تو کوئی بھی پنڈت اُن کو بُرا نہ کہتا ۔ اب تو باوا صاحب ان پنڈتوں کی نظر میں کچھ بھی نہیں وید کے مکذب جو ہوئے ۔ قولہ ۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے ویدوں کو نہ سُنا نہ دیکھا۔ کیا کریں جو سننے اور دیکھنے میں آوے تو پرمان مانے۔ جو کہ انتی وید گرہے نہیں وے سب سمپردای والے بید مت میں آجاتے ہیں۔ یعنی نانک وغیرہ اس کے سکھوں نے نہ ویدوں کو سُنا نہ دیکھا کیا کریں جو سُننے یا دیکھنے میں آویں تو جو عقلمند متعصب نہیں وہ فوراً اپنی سکھ بدیا چھوڑ کر وید کی ہدایت میں آجاتے ہیں۔ اقول اس تمام تقریر سے پنڈت صاحب کا مطلب صرف اتنا ہے کہ باوا نانک صاحب اور اُن کے پیرو ٹھگ ہیں اُنہوں نے دنیا کے لئے دین کو بیچ دیا۔ مگر پنڈت یہ تو سچ ہے کہ باوا نانک صاحب نے وید کو چھوڑ دیا اور اس کو گمراہ کرنے والا طومار سمجھا لیکن پنڈت صاحب پر لازم تھا کہ یوں ہی باوا صاحب کو برا نہ کہہ جاتے اور ٹھگ اور مکار اُن کا نام نہ رکھتے بلکہ اُن کے وہ تمام عقیدے جو گرنتھ میں درج ہیں اور مخالف وید ہیں اپنی کتاب کے کسی صفحہ کے ایک کالم میں لکھ کر دوسرے کالم میں اس کے مقابل پر وید کی تعلیمیں درج کرتے تا عقلمند خود مقابلہ کر کے دیکھ لیتے کہ ان دو تعلیموں سے سچی تعلیم کونسی معلوم ہوتی ہے۔ ظاہر ہے کہ صرف گالیاں دینے سے کام نہیں نکلتا ۔ ہر یک شے وقت مقابلہ کے وقت معلوم ہوتی ہے اور ناحق گالیاں دینا سفلیوں اور کمینوں کا کام ہے ۔

قولہ ۔ نانک جی بڑے دھناڈ اور رئیس بھی نہ تھے ۔ پرنتو اُن کے چیلوں نے نانک چندو دے اور جنم ساکھی وغیرہ میں بڑے پیسہ اور بڑے پرتاپ والے لکھے ہیں۔ نانک جی پرمھا ادی سے ملے بڑی بات چیت کی سب نے ان کا مان کیا ۔ جنک جی کے ویاہ میں گھوڑے ۔ رتھ ہاتھی سونا چاندی موتی پناہ دی رتنوں سے جڑے ہوئے ہار اور تاج لکھا ہے ۔ بھلا یہ گپوڑے نہیں تو کیا ہے بھلے نانک جی کہیں کے مالدار اور رئیس نہیں تھے۔ گو اُن کے چیلوں نے پوتھی نانک چندو دی اور جنم ساکھی وغیرہ میں بڑے دولتمند اور بھگت کر کے لکھا ہے

۲۱

ست بچن صفحہ 21 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 133 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 334 پر درج ہے

صفحہ 881

حوالہ نمبر 304

۴۵۸ قادیان کے آریہ اور ہم

اس راہ میں ایسے قصے تم کو میں کیا سناؤں تکفیر کے ہیں جھگڑے سب ماجرا یہی ہے
دل کر کے پارہ پارہ چاہوں میں اک نظارہ دیوانہ مت کہو تم عقل رسا یہی ہے
اے میرے سید جانی کر خود ہی مہربانی مت کہہ کہ سُن لے کوئی تجھ سے بجا یہی ہے
فرقت بھی کیا بنی ہے ہر دم میں جانکنی ہے عاشق یہاں پہ مرتے وہ کربلا یہی ہے
تیری وفا ہے پوری ہم میں ہے عیب غدری طاعت بھی ہے ادھوری ہم پر وبا یہی ہے
تجھ میں وفا ہے پیارے ہم بندے ہیں تمہارے ہم جائیں کس کنارے جائے بقا یہی ہے
ہم نے نہ عہد پالا یاری میں رخنہ ڈالا پر تو ہے فضل والا ہم پر عطا یہی ہے
اے میرے دل کے مدعا! پیارا ہے تیرا سودا کہتے ہیں جس کو دوزخ وہ جاں فزا یہی ہے
اک دین کی آفتوں کا غم لگ گیا ہے مجھ کو سینہ پہ دشمنوں کے پتھر پڑا یہی ہے
کیونکر نہ وہ ہلاوے کیونکر فسانہ ہووے ظالم جو حق کا دشمن وہ سوچتا یہی ہے
ایسا زمانہ آیا جس نے ہمیں رلایا جو بستی ہے دین کی وہ آسیا یہی ہے
شدائد و مخالفت ہیں دین کی کیا کہوں میں سب خشک ہو گئے ہیں میوہ بچا یہی ہے
آنکھیں ہر ایک دین کی بے نور ہم نے پائیں جلوے ہیں معرفت کے اک مہر و مہ یہی ہے
لعلِ یمن سبھی دیکھے دُرّ عدن بھی دیکھے سب جوہروں کو دیکھا دلربا یہی ہے
ٹھوکر کھا کے بے بصیرت بھٹکے بہت تم بنتا ہے جس سے سونا وہ کیمیا یہی ہے
بد کینوں کی آنکھیں اندھی ہو گئیں ہیں ایسی وہ گالیوں پہ اترے دل میں بھرا یہی ہے
بدتر ہر ایک بد سے وہ ہے جو بد زباں ہے جس دل میں یہ نجاست بیت الخلا یہی ہے

۴۲

قادیان کے آریہ اور ہم صفحہ 42 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 458 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 334 پر درج ہے

صفحہ 882

حوالہ نمبر 305 ۳۷ آسمانی فیصلہ

خشک کر دیتا ہے اور کاٹ دیتا ہے اور اُس کی جگہ اور ٹہنیاں پھلوں اور پھولوں سے لدی ہوئی پیدا کر دیتا ہے۔ بٹالوی صاحب یاد رکھیں کہ اگر اس جماعت کو ایک نخل جانئے گا تو خدائے تعالیٰ اُس کی جگہ ہمیں لائیگا۔ اور اِس آیت پر غور کریں فَسَوْفَ يَأْتِي اللّٰهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ أَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الْكَافِرِينَ ؎

بالآخر ہم ناظرین پر ظاہر کرتے ہیں کہ میر عباس علی صاحب نے ۱۲۔دسمبر ۱۸۹۱ء میں مخالفانہ طور پر ایک اشتہار بھی شائع کیا ہے جو ترک ادب اور تحقیر کے الفاظ سے بھرا ہوا ہے سو اُن الفاظ سے تو ہمیں کچھ غرض نہیں جب دل بگڑتا ہے تو زبان ساتھ ہی بگڑ جاتی ہے لیکن اُس اشتہار کی تین باتوں کا جواب دینا ضروری ہے:۔

اوّل یہ کہ میر صاحب کے دل میں دہلی کے مباحثات کا حال خلاف واقعہ جم گیا ہے۔ سو اس وسوسہ کے دُور کرنے کے لئے میرا یہی اشتہار کافی ہے بشرطیکہ میر صاحب اِس کو غور سے پڑھیں ۔

دوم یہ کہ میر صاحب کے دل میں سراسر فاش غلطی سے یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ گویا میں ایک نیچری آدمی ہوں معجزات کا منکر اور لیلۃ القدر سے انکاری اور نبوّت کا مدعی اور انبیاء علیہم السلام کی اہانت کرنے والا اور عقائد اسلام سے مُنہ پھیرنے والا ۔ سو اِن اوہام کے دُور کرنے کیلئے میں وعدہ کر چکا ہوں کہ عنقریب میری طرف سے اِس بارہ میں رسالہ مستقلہ شائع ہو گا۔ اگر میر صاحب توجہ سے اِس رسالہ کو دیکھیں گے تو بشرط توفیقِ ازلی اپنی بے بنیاد اور بے اصل بدظنیوں سے سخت ندامت اُٹھائیں گے۔

سوئم یہ کہ میر صاحب نے اپنے اُس اشتہار میں اپنے کمالات ظاہر فرما کر تحریر فرمایا ہے کہ گویا اُنکو رُسُل نُمائی کی طاقت ہے۔ چنانچہ وہ اِسی اشتہار میں اِس عاجز کی نسبت لکھتے ہیں کہ اِس بارہ میں میرا مقابلہ نہیں کیا۔ مَیں نے کہا تھا کہ ہم دونوں کسی ایک مسجد میں بیٹھ جائیں اور پھر یا تو مجھ کو رسول کریم کی زیارت کرا کر اپنے دعاویٰ کی تصدیق کرا دیجائے اور یا مَیں زیارت کرا کر اِس بارہ میں فیصلہ کرا دوں گا۔ میر صاحب کی اس تحریر نے نہ صرف مجھے ہی تعجب میں ڈالا بلکہ ہر ایک واقفِ حال سخت متعجب ہو رہا ہے کہ اگر میر صاحب میں

؎ مائدہ : ۵۵

یہ حوالہ صفحہ 338 پر درج ہے | آسمانی فیصلہ ص 37 مندرجہ روحانی خزائن جلد 4 ص 347 از مرزا قادیانی

Back

صفحہ 883

(حوالہ نمبر 306)

چشمہ مسیحی ۲۳۶

بدی کی گئی۔ مگر جو کوئی عفو کرے اور اس عفو میں کوئی اصلاح مقصود ہو تو اس کا اجر خدا کے پاس ہے۔ یہ تو قرآنی شریعت کی تعلیم ہے۔ کہ انجیل میں بغیر کسی شرط کے ہر ایک جگہ عفو اور درگذر کی ترغیب دی گئی ہے اور انسانی دوسرے مصالح کو جن پر تمام سلسلہ تمدن کا چل رہا ہے پامال کر دیا ہے اور انسانی قویٰ کے درخت کی تمام شاخوں میں سے صرف ایک شاخ کے بڑھنے پر زور دیا ہے اور باقی شاخوں کی رعایت قطعا ترک کی گئی ہے۔ پھر تعجب کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے خود اخلاقی تعلیم پر عمل نہیں کیا۔ انجیر کے درخت کو بغیر پھل کے دیکھ کر اس پر بد دعا کی اور دوسروں کو دعا کرنا سکھلایا۔ اور دوسروں کو یہ بھی حکم دیا کہ تم کسی کو احمق مت کہو۔ مگر خود اس قدر بد زبانی میں بڑھ گئے کہ یہودی بزرگوں کو ولد الحرام تک کہہ دیا اور ہر ایک وعظ میں یہودی علماء کو سخت سخت گالیاں دیں اور بُرے بُرے اُن کے نام رکھے۔ اخلاقی معلم کا فرض یہ ہے کہ پہلے آپ اخلاق کریمہ دکھلاوے پس کیا ایسی تعلیم ناقص جس پر انہوں نے آپ بھی عمل نہ کیا خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو سکتی ہے؟ پاک اور کامل تعلیم قرآنی شریعت کی ہے جو انسانی درخت کی ہر ایک شاخ کی پرورش کرتی ہے اور قرآنی شریعت صرف ایک پہلو پر زور نہیں ڈالتی بلکہ کبھی تو عفو اور درگذر کی تعلیم دیتا ہے مگر اس شرط سے کہ عفو کرنا قرین مصلحت ہو اور کبھی مناسب محل اور وقت کے مجرم کو سزا دینے کے لئے فرماتا ہے۔ پس درحقیقت قرآنی شریعت خدا تعالیٰ کے اس قانون قدرت کی تصویر ہے جو ہمیشہ ہماری نظر کے سامنے ہے۔ یہ بات نہایت معقول ہے کہ خدا کا قول اور فعل دونوں مطابق ہونے چاہئیں۔ یعنی جس رنگ اور طرز پر دنیا میں خدا تعالیٰ کا فعل نظر آتا ہے ضرور ہے کہ خدا تعالیٰ کی سچی کتاب اپنے فعل کے مطابق تعلیم کرے۔ نہ

* قرآن شریف نے بے جا عفو اور درگذر کو جائز نہیں رکھا۔ کیونکہ اس سے انسانی حقوق بگڑتے ہیں اور شیطان خصم ہم پر سر ہو جاتا ہے بلکہ اس عفو کی اجازت دی ہے جس سے کوئی اصلاح ہو سکے۔ منہ

چشمہ مسیحی صفحہ 12 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 346 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 338 پر درج ہے

صفحہ 884

حوالہ نمبر 307 آسمانی فیصلہ ۱۰

کرائی گئی اور بٹالوی کی کوئی بدگوئی میاں صاحب کو مکروہ معلوم نہ ہوئی اور میاں صاحب کے مکان میں بیٹھ کر ایک اور اشتہار تکفیر کا بھرا ہوا بٹالوی نے لکھا۔ جس میں عاجز کی نسبت یہ فقرہ مندرج تھا کہ یہ میرا شکار ہو کہ بدقسمتی سے چوہڑی میں میرے قبضہ میں آگیا اور میں خوش قسمت ہوں کہ بھاگا ہوا شکار پھر مجھے مل گیا۔ ناظرین با انصاف! کہو کہ یہ کیسے سفلہ پن کی باتیں ہیں۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس زمانہ کے مہذب ڈوم اور قوال بھی تھوڑا بہت حیا کو کام میں لاتے ہیں اور بھانڈوں کے سفلہ بھی ایسا گالیوں اور شیخی سے بھرا ہوا کلمہ اپنے حقیقت شناس کے سامنے زبان پر نہیں لاتے۔ اگر میں بٹالوی صاحب کا شکار ہوتا تو انکے اُستاد کو دہلی میں کیوں جا پکڑتا۔ کیا شاگرد اُستاد سے بڑا ہو جب اُستاد ہی چوہڑی گنڈے میرے پنجہ میں گرفتار ہو گیا تو پھر ناظرین سمجھ لیں کہ کیا میں بٹالوی کا شکار ہوا یا بٹالوی میرے شکار کا شکار۔ بٹالوی کی شوخیاں انتہا کو پہنچ گئی ہیں اور اسکی کھوپڑی میں ایک کیڑا ہے جسکو ضرور ایک دن خدائے تعالیٰ نکال دیگا افسوس کہ آجکل ہمارے مخالفوں کا جھوٹ اور بہتانوں پر ہی گزارہ ہے اور فرعونی رنگ کے تکبّر سے اپنی عزت بنانی چاہتے ہیں۔ فرعون اس روز تک جو معہ اپنے لشکر کے غرق ہو گیا یہی کہتا رہا کہ مُوسےٰ اُسکا شکار ہو آخر رود نیل نے دکھا دیا کہ واقعی طور پر کون شکار تھا۔ میں نادم ہوں کہ جاہل حریف کے مقابلہ نے کسی قدر مجھے درشت الفاظ پر مجبور کیا ورنہ میری فطرت اس کو ترجیح دیتی ہے کہ کوئی تلخ بات منھ پر لاؤں۔ میں کچھ بھی بولنا نہیں چاہتا تھا مگر بٹالوی اور اُسکے اُستاد نے مجھے بلایا۔ اب بھی بٹالوی کیلئے بہتر ہے کہ اپنی پالیسی بدل لیوے اور منھ کو لگام دیوے ورنہ اُن دنوں کو رو رو کے یاد کریگا۔ با درویشاں ہر کہ در افتاد بر افتاد وَمَا عَلَیْنَا اِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِیْن

ع گندم از گندم بروید جو ز جو از مکافات عمل غافل مشو

جو لوگ اُن چھپے ہوئے اشتہارات پر خوش ہو رہے ہیں جنمیں میاں نذیر حسین کی مصنوعی فتح کا ذکر ہے میں خالصاً لِلّٰہ اُنکو نصیحت کرتا ہوں کہ اس دروغگوئی میں ناحق کا گناہ اپنے ذمہ نہ لیں۔ میں ۲۸؍ اکتوبر ۱۸۹۱ء کے اشتہار میں مفصل بیان کر چکا ہوں کہ میاں صاحب ہی بحث کرنے سے گریز کر گئے یہ کیا شرارت اور بے حیائی کا بہتان ہے کہ میری نسبت اُڑایا گیا ہے کہ گویا میں میاں نذیر حسین سے ڈر گیا نَعُوذُ بِاللّٰہ میں ہرگز اُن سے نہیں ڈرا اور کیونکر ڈرتا میں اُس بصیرت کے ۲۳۰

آسمانی فیصلہ صفحہ 10 مندرجہ روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 320 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 338 پر درج ہے

صفحہ 885

حوالہ نمبر 308

براہین احمدیہ

۴۲۶

ممن افترى على الله كذبا - تنزيل من الله العزيز الرحيم - لتنذر قوماً ما انذر اباءهم ولتدعو قوماً آخرين - عسى الله ان يجعل بينكم وبين الذين عاديتم مودة - يخرون على الاذقان سجدا ربنا اغفر لنا انا كنا خاطئين - لا تثريب عليكم اليوم يغفر الله لكم - و هو ارحم الراحمين - انی انا الله فاعبدنی ولا تنسی واجتهد ان تصلى واسئل ربك وكن سئولا - الله ولیّ حنّان - علم القرآن - فبای حديث بعده تحكمون - نزلنا على هذا العبد مرحمة - وما ينطق عن الهوى - ان هو الا وحی یوحى - دنی فتدلی فكان قاب قوسين او ادنی - ذرنی والمكذبين انی مع الرسول اقوم - ان یومی لفصل عظيم - وانك على صراط مستقيم - وانا نريك بعض الذی نعدهم او نتوفينك - وانی رافعك الی - ویاتيك نصرتی - انی انا الله ذو السلطان ۔ ترجمہ :۔ اور کہتے ہیں کہ یہ بناوٹ ہے۔ اور یہ شخص دین کی بیخ کنی کرتا ہے ۔ کہہ حق آیا اور باطل بھاگ گیا ۔ کہہ اگر یہ امر خدا کی طرف سے نہ ہوتا تو تم اس میں بہت سا اختلاف پاتے یعنی خدا تعالیٰ کی کلام سے اس کے لئے کوئی تائید نہ ملتی اور قرآن جو راہ بیان فرماتا ہے یہ راہ اس کے مخالف ہوتی اور قرآن سے اس کی تصدیق نہ ملتی اور دلائل حقہ میں سے کوئی دلیل اس پر قائم نہ ہو سکتی اور اس میں ایک نظام اور ترتیب اور علمی سلسلہ اور دلائل کا ذخیرہ جو پایا جاتا ہے یہ ہرگز نہ ہوتا اور آسمان اور زمین میں سے جو کچھ اس کے ساتھ نشان جمع ہو رہے ہیں ان میں سے کچھ بھی نہ ہوتا ۔ اور پھر فرمایا خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کو یعنی اس عاجز کو ہدایت اور دین حق ...... اور تہذیب اخلاق کے ساتھ بھیجا ۔ ان کو کہہ دے کہ اگر میں نے افترا کیا ہے تو

۸۴

براہین نمبر 3 صفحہ 84 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 426 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 338 پر درج ہے

صفحہ 886

حوالہ نمبر 309 براہین احمدیہ حصہ پنجم ۱۴۱

وہ جو اُجڑا اک کوٹھا تھا وہ ناکمل اب تلک میرے آنے سے ہوا کامل بجملہ برگ و بار
مدتوں جس نے نبی کو تھا نہ کچھ خالص دیا زہر دی جس نے بتاتا ہے وہ اب مثلِ اشرار
وہ دکھاتا ہے کہ دیں میں کچھ نہیں مکر اور جبر دیں تو خود کھینچے ہے دل مثلِ رخِ سیمیں عذار
پس یہی ہے رمز جو اُس نے کیا منع از جہاد تا اُٹھا دے دیں کی راہ سے جو اُٹھا تھا یک غبار
تا دکھا دے منکروں کو دیں کی ذاتی خوبیاں جن سے ہوں شرمندہ جو اسلام پر کرتے ہیں وار
کشت و خوں ہو چکے، ہاں، یہ نبی کا کام نہیں جس میں دیں کو پھیلانے کی یہ شکل تھی درکار
پر بنانا آدمی دُشمن کو ہے اک معجزہ معنی اعجازِ نبوت ہے یہی اے ذی وقار
تو نے اس میں بدیاں جو دیکھیں وہ سب نور تھیں قوم وحشی تھی مگر کیا اس نے کیا اے ہوشیار
لاشیء ہیں ہستیوں کا بھلا کیا فرق ہو گرچہ مخدوم ہو تاتار یا زنگبار
اے مرے پیارو شکیب و صبر کی عادت کرو وہ اگر پیدا ہیں بد تو تم بنو نیک پندار
نفس کو مارو کہ اس جیسا کوئی دُشمن نہیں چپکے چپکے کر رہا ہے پنہاں سامانِ مار
جس نے نفسِ شوم کو ہمت کر کے زیرِ پا کیا چیز کیا ہیں اُس کے آگے رُستم و اسفندیار
گالیاں سُن کر دُعا دو، پا کے دُکھ آرام دو کبر کی عادت جو دیکھو تم دکھاؤ انکسار
تم نہ گھبراؤ اگر وہ گالیاں دیں ہر گھڑی چھوڑ دو اُن کو چھپوائیں وہ ایسے اشتہار
چپ رہو تم دیکھ کر اُن کے دلوں میں ہے ستم دَم نہ مارو گو وہ ماریں اور کر دیں حالِ زار
دیکھ کر لوگوں کا جوشِ فرطِ عداوت رحم کرو شدتِ گرمی کا ہے محتاج بارانِ بہار
افتراء اُن کی نگاہوں میں ہمارا کام ہے یہ خیالِ احمقانہ کس قدر ہے نابکار
خیر خواہی میں بھلا کیا کریں ہم ان سے جنگ جنگ بھی تو منع ہے اب کیوں کر ہو ان سے فرار
پاک کر لو بدگمانی ہے یہ شقاوت کا نشاں اب تو آنکھیں بند مت رکھو سوچو انجام کار

براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 144 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 144 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 338 پر درج ہے

صفحہ 887

حوالہ نمبر 310

۱۹۱

۱۵ جنوری ۱۹۰۴ء

مخالفانہ تحریروں کا جواب

مخالف گالیاں دیتے ہیں اور گندے اور ناپاک اشتہار شائع کرتے ہیں، ہم کو ان کا جواب گالیوں سے کبھی دینا نہیں چاہیے۔ ہم کو سخت زبانی کی ضرورت نہیں کیونکہ سخت زبانی سے برکت جاتی رہتی ہے، اس لیے ہم نہیں چاہتے کہ اپنی برکت کو کم کریں۔ ان کو تو مخاطب کرنے کی بھی ضرورت نہیں، یہ لوگ بجائے خود واجب الرحم ہیں۔ ہاں فضول باتوں کو نکال کر اگر کسی معقول اعتراض کا جواب عوام کو دھوکہ سے بچانے کے لیے دیا جاوے تو نامناسب نہیں۔ اگر ہم ان کے مقابل پر سخت زبانی کا استعمال کریں، تو یہ تو اپنے مرتبہ کا بھی تنزل ہے۔ مگر کبھی کوئی سخت لفظ استعمال کیا گیا ہے تو وہ حق کی لازمی مراعات ہے جو دعا کے طور پر ہے جس کی نظیر انجیل اور نبیوں کے کلام میں پائی جاتی ہے۔ دشنام اور تنقیص کرنا انبیاء کا کام نہیں، نام تو وہی ہوتا ہے جو آسمان پر رکھا جاتا ہے کسی کے ظالم، کافر کہنے سے کیا بنتا ہے۔ زمینی ناموں کا اکثر خاتمہ ہو جاتا ہے اور آسمانی نام ہی رہ جاتے ہیں پس دنیا کے کیڑوں کے ناموں کی کیا پروا! اس نام کی قدر کرو جو آسمان پر نیک لکھا جاوے۔

مسیح کے دو زرد چادروں میں نزول

زرد چادروں سے مراد گری ہوئی گندی خلعت بیان کرتے ہیں تو پھر عام ہندو، چوہڑوں اور مسیح میں کیا امتیاز کیا ہوگا۔ اصل میں خدا کی چادر اپنے رنگ یعنی رنگت سے اور ہی ہوتی ہے یہ معنی جو خدا تعالیٰ نے مجھ پر کھولے ہیں کہ دو زرد چادروں سے مراد دو بیماریاں ہیں جو مجھے لاحق حال ہیں۔

آداب مبلغ

دنیا میں تین قسم کے آدمی ہوتے ہیں۔ عوام، متوسط درجے کے، امراء۔ عوام الناس کم فہم ہوتے ہیں، اُن کی سمجھ موٹی ہوتی ہے، اس لیے اُن کو سمجھانا بہت ہی مشکل ہوتا ہے۔ امراء کے لیے بھی راہِ حق مشکل ہوتا ہے، کیونکہ وہ نازک مزاج ہوتے ہیں اور جلد گھبرا جاتے ہیں اور ایک متکبرانہ خصلت اُن میں سدِ راہ ہوتی ہے، اس لیے اُن کے ساتھ گفتگو کرنے والے کو چاہیے کہ وہ اُن کے طرز کے موافق اُن سے کلام کرے یعنی انکسار و تواضع سے مطلب کو ادا کرے۔ رہی عوام کو تبلیغ کرنے کے لیے تقریر بہت ہی صاف اور عام فہم ہونی چاہیے۔ بنسبت امراء و سلاطین کے متوسط درجے کا گروہ زیادہ مستعد اور اس قابل ہوتا ہے کہ ان کو تبلیغ کی جاوے۔ وہ بات کو سمجھ سکتے ہیں اور ان کے مزاج میں وہ تکبر اور رعونت نہیں ہوتی

ملفوظات جلد دوم صفحہ 161، طبع جدید، از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 339 پر درج ہے

صفحہ 888

حوالہ نمبر 311 انوار علوم جلد ۳ ۸۰ انوار خلافت

اور کچھ نصائح جو اللہ تعالیٰ سمجھائے کروں۔ لیکن آخر کار میری توجہ اس طرف پھری کہ جہاں نصیحتوں اور دیگر باتوں کی ضرورت ہے۔ وہاں یہ بھی ضرورت ہے کہ احباب کو ان مسائل سے بھی واقف کیا جائے جن سے انہیں روز مرہ واسطہ پڑتا ہے۔ اس لئے میں نے چاہا کہ ان کو بھی مختصراً بیان کردوں۔

پیغامیوں کی بد زبانی

اس وقت جماعت احمدیہ میں اختلاف کی وجہ سے بہت جھگڑا پیدا ہو گیا ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ فریق ثانی نے تہذیب اور شرافت کو بالکل ترک کر دیا ہے اور ہمیں اس قدر گالیاں دی ہیں کہ غیر احمدی اخباروں نے بھی آج تک نہیں دی تھیں۔ میری نسبت اس وقت تک جو کچھ انہوں نے کہا ہے وہ تو ایک بہت بڑی فہرست ہے جس کا اس مختصر وقت میں بیان کرنا مشکل ہے لیکن اس میں سے کسی قدر میں بتاتا ہوں۔ وہ عام طور پر اور کثرت سے مجھے نوح کا بیٹا کہتے ہیں یعنی وہ جو حضرت نوح کے کشتی پر سوار ہونے کے وقت باوجود حضرت نوح کے بلانے کے ان کے پاس نہ آیا اور ان کو اس نے قبول نہ کیا اور طوفان میں غرق ہو گیا اور وہ جو کافروں میں سے تھا بلکہ کفار کا سردار تھا اور جو شرارت میں اس قدر بڑھا ہوا تھا کہ قرآن کریم میں بھی اس کا ذکر کیا گیا ہے۔ اور اپنے قول کی وہ یہ دلیل دیتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام چونکہ خدا تعالیٰ نے نوح رکھا ہے اور تم ان کے بیٹے ہو پس تم نوح کے بیٹے ہو۔ ہم کہتے ہیں حضرت مسیح موعود کو تو ابراہیم بھی کہا گیا ہے جن کا بیٹا اسماعیل تھا تو اگر تمہاری ہی دلیل درست ہے تو پھر مجھے اسماعیل کیوں نہیں کہتے پھر وہ میری نسبت کہتے ہیں کہ یہ دجال ہے، کذاب ہے، مفتری ہے، خائن ہے لوگوں کے مال کھا جاتا ہے، خدا سے دور ہے، پوپ ہے وغیرہ وغیرہ۔ غرض یہ اور اسی قسم کے اور بہت سے الفاظ ہیں جو میری نسبت وہ استعمال کرتے ہیں لیکن مجھے ان کے اس طرح کہنے سے کچھ گھبراہٹ نہیں اور میرا دل ذرا بھی ان کی باتوں سے متاثر نہیں ہوتا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ جب انسان دلائل سے شکست کھاتا اور ہار جاتا ہے تو گالیاں دینی شروع کر دیتا ہے اور جس قدر کوئی زبان گالیاں دیتا ہے اسی قدر اپنی شکست کو ثابت کرتا ہے۔ آپ لوگوں نے کئی دفعہ دیکھا ہو گا کہ ایک کمزور شخص مار تو کھاتا جاتا ہے لیکن گالیاں بھی دے رہا ہوتا ہے تو اب چونکہ ہم ان کو شکست پر شکست دے رہے ہیں اور وہ ہار پر ہار کھاتے چلے جا رہے ہیں اس لئے وہ گالیوں پر اتر آئے ہیں ان کے آدمی ہم میں آکر مل رہے ہیں اور وہ دن بدن کم ہو رہے ہیں۔ ان کے

انوار خلافت صفحہ 20 مندرجہ انوار العلوم جلد 3 صفحہ 80 از مرزا بشیر الدین محمود | یہ حوالہ صفحہ 339 پر درج ہے

صفحہ 889

حوالہ نمبر 312 روحانی خزائن ۳۱ جلد

بلکہ میں بروقت نزول الہام یقین تام رکھتا ہوں کہ خدا ہی کہتا ہے۔ پھر کیونکر ہم اسی وقت بلا توقف وہ ہتیار ڈال دیں تو پھر لعنت اور جہنم کے سزاوار ہوئے اور ہمارا الہام جھوٹا ہو۔ مگر عبدالحکیم کے لئے جس کا تذکرہ ضمیمہ کے اندر چھپ چکا ہے۔ سو اس کے بعد ہمارا الہام سچا نکلا۔ پھر بھی اگر کوئی ظلم سے جلدی تکذیب کرے اور باایں ہمہ حق کی طرف متوجہ نہ ہو اور ناحق بیباکی پر پردہ ڈالنا چاہے تو بے شک وہ ولد الحلال اور نیک ذات نہیں ہو گا جو خواہ نخواہ حق سے روگردان ہوتا ہے اور اپنی شیطنت سے کوشش کرتا ہے کہ سچے جھوٹے ہو جائیں۔

اب اس سے زیادہ صاف اور کیا فیصلہ ہو گا کہ ہم دو مخالفوں کے حق میں مؤدبانہ صرف پیشینگوئی کرتے ہیں کہ ضرور وہ ہتیا ر ڈال دینگے۔ سو خدا تعالیٰ نے ہماری حقانیت کے عجائب نمونے دکھلا دیئے کہ جبکہ ان میں سے کسی نے مخالفت کی عادت سے رجوع نہیں کیا تو وہ مورد عذاب ہو کر ہلاکت میں ڈالے گئے حالانکہ ان دونوں کو پہلے ہم نے جان بوجھ کر سمجھایا تھا جس میں مجہول النسب کی حماقت کو میں نے شدید نفرت سے کہا کہ میرا اس مقابلہ سے کوئی مقصد نہیں مگر ایسے بندہ پر جس میں سچ زندہ تھا اور غلبہ مقدر کیا وہ ہم کو ہلاک کر سکتا تھا اور اب مر گیا ہے پس کون بک سکتا ہے کہ انہوں نے اپنے اشتہار میں یہ صریح اعلان دیا تھا کہ خدا تعالیٰ نے مشروط ہلاکت کی پیشینگوئی کر کے مجھے بچا لیا ورنہ سچ جان لیجئے کہ کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی کہ وہ ہلاکت کے گڑھے سے بچتا اور میں نے کیسی سخت شرط کی اور بے شک اللہ قدیر ہے۔ چاہتا ہے تو بے شک وہ بچاتا ہے اور وہ بچا بھی سکتا ہے۔ لیکن یہ جو اس کی ضد اور تعصب کی حد اور ہٹ دھرمی ہے کہ وہ سب باتیں بھولتے ہیں کہ اس کو سچے نے بچایا ہو تو وہ مردہ کیونکر ہلاکت سے بچتا اور ہرگاہ وہ گڑھے میں گرا ہوا تھا اور گر کر ہلاک ہو چکا تھا اور کامل خدا کے خوف نے اس کو بچایا پس اب جو ان عیسائیوں کی تحریک سے بھڑکتے ہیں اور کامل درجہ کی بے حیائی کی راہ سے اس کی ہر یک بات کی تکذیب کرتے ہیں ہم نے فیصلہ کی صاف صاف دعوت دی اور جھوٹے کے لئے ہلاکت کی پیشینگوئی کر دی۔ اب جو شخص اس صاف فیصلہ کے برخلاف محض عناد کی راہ سے ہمیں جھٹلائے گا اور اپنی شرارت سے اور اپنے کذاب ہونے کی خصلت سے اور کینہ اور شر سے ہمیں کاذب کہے گا بے شک ہم سمجھیں گے کہ وہ اپنے اس بے جا مخالفت کی راہ سے جہنم کے گڑھے تک پہنچے گا اور زانی اور زانیہ کی پیدائش ٹھہرے گا اور ہماری فتح کا منکر وہی ہو گا جس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اب معاملہ پوشیدہ نہیں پس ہم نے فیصلہ کے لئے ایسا کھلا فیصلہ لکھ دیا کہ سچے جھوٹے میں جو مابہ الامتیاز ہے وہ

انوار الاسلام صفحہ 30 مندرجہ روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 31 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 340 پر درج ہے

صفحہ 890

حوالہ نمبر 313 نزول المسیح ۳۸۲

جس زمانہ میں ان مولویوں اور اُن کے چیلوں نے میرے پر تکذیب اور بد زبانی کے حملے شروع کئے اُس زمانہ میں میری بیعت میں ایک آدمی بھی نہیں تھا مگر چند دوست جو اُنگلیوں پر شمار ہو سکتے تھے میرے ساتھ تھے ۔ اور اِس وقت خدا تعالیٰ کے فضل سے ستر ہزار کے

بقیہ حاشیہ ٹھیرا ہے اور پھر دونوں سلسلوں کا تقابل کرنے کے لئے یہ ضروری تھا کہ موسوی مسیح کے مقابل پر محمدی مسیح بھی شانِ نبوت کے ساتھ آوے تا اِس نبوت عظیمہ کی کسر معلوم نہ ہو۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے میرے وجود کو ایک کامل خلیفہ کے نمونہ پر پیدا کیا اور ظلی طور پر نبوت محمدی اِس میں رکھ دی تا ایک معنے سے مجھ پر نبی اللہ کا لفظ صادق آوے اور دوسرے معنوں سے ختم نبوت محفوظ رہے ۔ اس جگہ یہ بھی یادرہے کہ خدائے حکیم علیم نے وضع دنیا کی یہ حکمت رکھی ہے یعنی بعض نفوس بعض کے مشابہ ہوتے ہیں نیک نیکوں کے مشابہ اور بد بدوں کے مشابہ مگر با ایں ہمہ یہ امر مخفی ہوتا ہے اور زور شور سے ظاہر نہیں ہوتا لیکن آخری زمانہ کے لئے خدا نے مقرر کر رکھا تھا کہ وہ ایک عام رجعت کا زمانہ ہو گا تاکہ اُمّت مرحومہ دوسری اُمتوں سے کسی بات میں کم نہ ہو۔ پس اُس نے مجھے پیدا کر کے ہر ایک گذشتہ نبی سے مجھے اُس نے تشبیہ دی کہ وہی میرا نام رکھ دیا۔ چنانچہ آدم، ابراہیم، نوح، موسیٰ، داؤد، سلیمان، یوسف، یحیٰ، عیسیٰ وغیرہ یہ تمام نام براہین احمدیہ میں میرے رکھے گئے اور اِس صورت میں گویا تمام انبیاء گذشتہ اس اُمّت میں دوبارہ پیدا ہو گئے یہاں تک کہ مسیح آخر بھی پیدا ہو گیا اور جو میرے مخالف تھے اُن کا نام عیسائی اور یہودی اور مشرک رکھا گیا چنانچہ قرآن شریف میں بھی کیسا پیشینگوئیانہ پیرایہ فرمایا ہے اهدنا الصراط المستقيم صراط الذین انعمت عليهم غير المغضوب عليهم ولا الضالین پس یہ آیت صاف کہہ رہی ہے کہ اس اُمّت کے بعض افراد کو گذشتہ نبیوں کا کمال دیا جائے گا اور نیز یہ کہ گذشتہ کفار کی خصلت بھی بعض منکروں کو دی جائیں گی اور بڑی شدو مد سے

۱ الفاتحہ : ۶ ، ۷

نزول المسیح (حاشیہ) صفحہ 4 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 382 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 340 پر درج ہے

صفحہ 891

(حوالہ نمبر 314)

۵۴۷

ومنح لى من النعم الظاهرة والباطنة وجعلنى من المجددين ۔ وكنت شابا وقد شخت وما استفتحت بابا الا فتحت ۔ وما سألت من نعمة الا اعطيت وما استكشفت من اسرار الا كشفت ۔ وما ابتهلت فى دعاء الا اجيبت ۔ وكل ذالك من حبّى بالقرآن وحبّ سيدى وامامى سيّد المرسلين ۔ اللهم صل وسلم عليه بعدد نجوم السموت وذرات الارضين ومن اجل هذا الحبّ الذى كان فى فطرتى كان الله معى من اوّل امرى حين ولدت وحين كنت ضريعا عند ظئرى وحين كنت اقرء فى المتعلمين ۔ وقد حبب الىّ منذ ذقت العشرين ان انصر الدين ۔ واجادل البراهمة والقسيسين ۔ وقد الفت فى هذه المناظرات مصنفات عديدة ۔ ومؤلفات مفيدة منها كتابى البراهين ۔ كتاب نادر ما نسج على منواله فى ايام خالية فليقرءه من كان من المرتابين ۔ قد سللت فيه صوارم الحجج القطعية على اقوال الملحدين ۔ ورميت بشهبها الشياطين المبطلين ۔ قد خفض هام كل معاند بذالك السيف المسلول ۔ وتبيّنت فضيحتهم بين ارباب المنقول والمعقول ۔ وبين المصنفين ۔ فيه دقائق العلوم وشواردها والالهامات المطهرة الصحيحة و الكشوف الجلية ومواردها ۔ ومن كل ما يجلى درر مخزن الدين المتين ولى كتب اخرى تشابهه فى الكمال ۔ منها الكحل والتوضيح والازالة وفتح الاسلام وكتاب آخر سبق كلها الفته فى هذه الايام اسمه دافع الوساوس هو نافع جدا للذين يريدون ان يروا حسن الاسلام ويكفون افواه المخالفين ۔ تلك كتب ينظر اليها كل مسلم بعين المحبة والمودة وينتفع من معارفها ويقبلنى ويصدق

یہ حوالہ صفحہ 340 پر درج ہے آئینہ کمالات اسلام صفحہ 547-548 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 547-548 از مرزا قادیانی

صفحہ 892

حوالہ نمبر 314

۵۴۸

دعوتى - الا ذرية البغايا الذين ختم الله على قلوبهم فهم لا يقبلون - ولما بلغت اشد عمرى و بلغت اربعين سنة جاءتنى نسيم الوحى بريا عنايات ربّى ليزيد معرفتى و يقينى و يرتفع حجبى واكون من المستيقنين فاول ما فتح علىّ بابه هو الرؤيا الصالحة فكنت لا ارى رؤيا الا جاءت مثل فلق الصبح و انى رايت فى تلك الايام رؤيا صالحة صادقة قريباً من الفين او اكثر من ذلك - منها محفوظة فى حافظتى و كثير منها نسيتها - ولعل الله يكررها فى وقت آخر و نحن من الآملين - و رايت فى غلواء شبابى و عند دواعى التّصابى كانى دخلت فى مكان و فيه حفدتى و خدمى فقلت طهّروا فراشى فان وقتى قد جاء ثم استيقظت و خشيت علىّ نفسى و ذهب وهلى الى اننى من المائتين - و رايت ذات ليلة و انا غلام حديث السّن كانى فى بيت لطيف نظيف يذكر فيها رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت ايّها النّاس اين رسول الله صلى الله عليه وسلم فاشاروا الى حجرة فدخلت مع الدّاخلين - فبشّ بى حين وافيته - و حيّانى باحسن ما حيّيته و ما انسى حسنه و جماله و ملاحتـه و تحنّنه الىّ و هيبة - ثم خفق حبّاً و جذبنى بوجه حسين قال ما هذا بيمينك يا احمد فنظرت فاذا كتاب بيدى اليمنى و خطر بقلبى انه من مصنفاتى قلت يا رسول الله كتاب من مصنفاتى قال ما اسم كتابك فنظرت الى الكتاب مرّة اخرى و انا كالمتحيّرين - فوجدته يشابه كتاباً كان فى دار كتبى و اسمه قطبى قلت يا رسول الله اسمه قطبى قال ارنى كتابك القطبى فلما

آئینہ کمالات اسلام صفحہ 547-548 مندرجہ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 547-548 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 340 پر درج ہے

Back

صفحہ 893

۴۹

حوالہ نمبر 315

خطبہ الہامیہ

التَّزَيُّنَاتِ ۖ وَإِفْنَاءِ الْيَوْمِ كُلِّهِ فِي الْخُزَعْبِلَاتِ مَعَ زینت ہا و بیہودہ کردن ہمہ روز در کلمہ ہائے باطل عورتوں کے ساتھ سے تمام دن بے ہودہ باتوں میں ضائع کرنے میں

وَالْهَدَايَا مِنَ الْقَلَايَا وَالتَّفَاخُرِ بِلُحُومِ الْبَقَرَاتِ و ہدیہ ہا و گوشت ہا و فخر کردن بگوشت ہائے گاوان مع ایک دوسرے کو گوشت بھیجنے کا تحفہ سے باہم فخر کرنا گائے کے گوشت

وَالْجَدَايَا وَالْأَفْرَاحِ وَالْمَرَاحِ وَالْجَذَبَاتِ وَ و گوسپنداں و خوشی ہا و طرب و شادی و جذب ہائے نفس و اور بکریوں کے گوشت کے ساتھ ۔ اور خوشیوں اور ہنگامہ و تکبر کی شادیوں اور نفس کی کششوں اور

الْجِمَاحِ وَالتَّضَحُّكِ وَالْقَهْقَهَةِ بِإِبْدَاءِ النَّوَاجِذِ سرکشی و خندہ و قہقہہ بظاہر کردن دندان ہائے پسیں سرکشیوں اور ہنسی اور قہقہہ مار کر ہنسنا پچھلے دانتوں کے نکالنے سے

وَالثَّنَايَا وَالتَّشَوُّقِ إِلَى رَقْصِ الْبَغَايَا وَبُوْسِهِنَّ و دندان ہائے پیشیں و شوق کردن سوئے رقص زناں بازاری و بوسہ گرفتن ایشاں اور اگلے دانتوں کے نکالنے سے ۔ اور شوق کرنا بازاری عورتوں کے رقص کی طرف اور ان کا بوسہ

وَعِنَاقِهِنَّ ۖ وَبَعْدَ هٰذَا نِطَاقِهِنَّ ۖ فَإِنَّا نَبْكِي عَلٰى و بغل گیری ایشاں و پس ازیں جائے کمربند ایشاں یعنی بدکاری با ایشاں پس مے گریئم بر اور گلے ملنا اور بعد اس کے ان کا جائے کمربند ۔ پس ہم اسلام کی مصیبتوں پر

مَصَائِبِ الْإِسْلَامِ وَانْقِلَابِ الْأَيَّامِ مَاتَتِ الْقُلُوبُ مصیبت ہائے دین و برگردیدن روزہا مرده اند دل ہا غلغلہ کرتے ہیں اور نیز دنوں کی گردش پر دل مر گئے

خطبہ الہامیہ صفحہ 41 مندرجہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 49 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 341 پر درج ہے

صفحہ 894

حوالہ نمبر 316

۲۸۲

لعل المعادي جفوته بحاجة فالآن من جفوته مأوى لنا
شاید معادی را جفا دادنش بوجہ حاجتے بودے است پس اکنون از جفائے او جائے پناہ است
والا فتى أواه من يخطئ نحن نقهر بقدرة مولانا
ورنہ جوانمردے که خطا کند باز گردد ما مقہور قہر قادر مولیٰ مائیم
الفتى لا يتسلى بنار خديعة اني من النفاق لفي براء
جوانمرد تسلی نگیرد بنار مکر و فریب بدرستی که من از نفاق بکلی بریم
إني أراك تميس بالخيلاء أنسيت يوم الخطيئة والحساب
من می بینم تو را بخرامنده با تکبر آیا فراموش کردے روز خطیئه و حساب را
لا تتبعن اهواء نفسك شقوة تلقى عذاب النفس في العقباء
پیروی مکن ہوائے نفس خود را از شقاوت و بدبختی ملاقات می کنی عذاب نفس را در عقبیٰ
فر من صحبة غدار ذي وجهين فانه حقا يريك عداوة في قلبه
بگریز از صحبت غدار دو رویه زیرا که او حقا نشان می دهد ترا عداوتے در قلب او
ان السموم لشرما في العالم ومن السموم عداوة الصلحاء
بدرستی که زہر ہا بدترین چیزے است در عالم و از زہر ہا بدترین عداوتِ صلحاء است
إن تدعي محبة فلست بصادق إن لم تمت بالخزى يا ذا الرياء
اگر دعویٰ می کنی محبت را پس تو نیستی صادق اگر تو نمردی به رسوائی اے صاحب ریاء
الله يخزي من يلم ويجتنى حتى يجيء لنا نصر من إلهي
خدا رسوا می کند کسے را که ملامت می کند و جنایت می کند تا اینکه بیاید برائے ما نصرتِ خدائے من
يا رب إني قد بليت بغمة يا من يرى قلبي ويكشف غمتي
اے ربِ من بدرستی که من مبتلا گردیدم بغمے اے آنکہ می بیند قلب مرا و دور می کند غم مرا
يا من أرى ابوابه مفتحة للسائلين فلا ترد دعائي
اے کسے کہ می بینم در ہائے او کشادہ برائے سائلان پس رد مکن دعائے مرا
آمین

اليوم قضينا ما كان علينا من التبليغات وحسبنا انفسنا من مأثم ترك الواجبات ۔ و امروز پورے ادا کردیم فرضے کہ بر ما بود گوییم از تبلیغات و بازداشتیم نفس خود را از گناه ترکِ واجبات ۔ و وقت حان علينا وسود الوجوه من خذل المباهلات ۔ الا لعنة الله على الشياطين من الماكرين والخناسين آمده که با آخرین مباہلات رو بیاوریم ۔ و سیاه باد روہائے منکرین مباہلات ۔ الا لعنة الله على الشياطين من الماكرين والخناسين لا نخاطب العلماء بل نعمد في التوقيعات ۔ ولو سبونا بأفواههم من قبل من العابثات والمقاطيع ما علماء را مخاطب نمی کنیم بلکه قصد می کنیم در توقیعات ۔ گرچه دشنام ہائے بیباکانہ پیش ازین از غیظ و مقاطعہ بخود نمودہ اند ۔ وما لا نكترث بكلمات صدرت من الإهمال ۔ ونطرح كل هذه الشبهات في پروا نداریم کلماتِ شان را که از روی کمالِ بے باکی گفتہ اند پس ما این همه شبهات را در سيل العبرات ۔ وهذا منا خاتمة المخاطبات ۔ تمت سیل عبرات انداختیم ۔ و این است از ما خاتمه مخاطبات ۔ تمت

رساله ہذا جو مطبع ریاض ہند میں بطبع رسیدہ بود باینجا بپایان رسید ۔ 19 مئی 1893ء مطابق 3 ذیقعدہ 1310ھ ۔ مولوی آقا حسن سوداگر ۔

مخفی نماند کہ چوں مباہلہ ہونے کے لئے یہ بھی ضروری امر ہے کہ جس سے مباہلہ کیا جاوے وہ فریقِ ثانی کے دین پر نہ ہو یا ایسا ملحد اور بدعتی ہو کہ ضروریاتِ دین سے منکر ہو۔ سو اس وقت تک کہ کوئی مولوی اس بات کو اپنے پر ثابت نہ کرے کہ وہ میرے نزدیک کافر یا ملحد ہے کس طرح میں اس سے مباہلہ کر سکتا ہوں۔ پس اب ہر ایک مولوی کا جو میرے ساتھ مباہلہ کرنا چاہے اول یہ فرض ہے کہ مجھ پر اپنا کافر ہونا یا ملحد اور بے دین ہونا ثابت کرے تب اس کی درخواست مباہلہ کی قبول کی جائے گی۔ منہ

انجامِ کار صفحہ 282 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 282 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 341 پر درج ہے

صفحہ 895

حوالہ نمبر 318

اقوم لہ حق القیام ۔ وفعل ما شاء و کے لئے حکم کیا ۔ اور جو چاہا کیا ۔ اور ھو احکم الحاکمین ۔ ولا یعلم ما فی قلبی وہ احکم الحاکمین ہے ۔ ولا یعلم احد من العالمین ۔ سه حبیب لنا بمحبّتہ فنجتذب ہمارا ایک دوست ہے اور ہم اس کی محبت سے کھنچے ہیں و من المنازل و المراتب نترتّب اور ہر رتبہ اور منزل سے یہیں پر رہتے اور ٹھہرتے ہیں۔ انی اری الدنیا ذبلت باھلھا میں دیکھتا ہوں کہ دنیا اور اس کے طالبوں کی زمین قحط زدہ جدبت وارض ودادھا لا تجدب ہو گئی ہے یعنی شادابی تباہ ہو گئی ہے ہماری محبت کی زمین کبھی قحط یتمایلون علی النعیم و انّنا لوگ دنیا کی نعمت پر جھکتے ہیں ۔ مگر ہم اس منہ کی طرف ملنا الی وجہ یسوء ویطرب جھک گئے ہیں جو خوش بھی کرتا ہے اور برا بھی مناتا ہے۔ لمّا تعلّقنا بنور حبیبنا ہم اپنے پیارے کے نور سے نور لیتے ہیں ایسے کہ جو مقاصد حتّی استنار لنا الذی لا یغیب غائب نہیں ہو سکتا وہ بھی ہمارے لئے منور ہو گیا۔ رقّ العِدا صاروا خنازیر الفلا دشمن کتے یا بیابانوں کے خنزیر ہو گئے ۔ اور اُن کی و نساؤھم معدودات الاکلب عورتیں کتیوں سے بڑھ گئی ہیں ۔

آنچہ در اینجا است کہ او احکم الحاکمین است در خفا بماند آنچہ در دل من است و کسے ازاں آگاہ نہ ۔

اشعار

مرا حبیب است که از حب او کشیده می شویم ۔ و از مراتب و منازل برتر می رویم ۔
می بینم دنیا و اهلش با قحط و عطش پژمرده اند ۔ ولے زمین دوستی ما همواره سرسبز خواهد بود ۔
مردم بر نعمتهای دنیا فرو افتاده اند و لیکن مایل سوئے روئے شده ایم که شادی و غمی می بخشد ۔
دست بدان نور حبیب خود داده ایم تا چیزهای ناپدید بر ما روشن شده است ۔
دشمنان خنزیرهای بیابان شده اند و زنهای آنها سگ ماده ها را در پس انداخته اند ۔

نجم الہدیٰ صفحہ 53 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 53 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 341 پر درج ہے

صفحہ 896

(حوالہ نمبر 319) ۱۱۰ کلمۃ الفصل جلد ۱۴

جو اللہ اور اس کے رسولوں کا انکار کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسولوں میں تفریق کریں یعنی اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور رسولوں کو نہیں مانتے کہتے ہیں کہ ہم بعض رسولوں کو مانتے ہیں اور بعض کو نہیں بھی مانتے اور چاہتے ہیں کہ کوئی بین بین کی راہ نکالیں یہی لوگ پکے کافر ہیں اور اللہ نے کافروں کے لئے ذلیل کرنیوالا عذاب تجویز کیا ہے پس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے کھلے الفاظ میں ان لوگوں کا ذکر کیا ہے جو تمام رسولوں کا ماننا جزو ایمان نہیں سمجھتے۔ پس اس آیت کے ماتحت ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہو مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا، عیسیٰ کو مانتا ہو مگر محمد کو نہیں مانتا اور محمد کو مانتا ہے پر مسیح موعود کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے اور یہ فتویٰ ہماری طرف سے نہیں ہے بلکہ اُس کی طرف سے ہے جس نے اپنے کلام میں ایسے لوگوں کے لئے اولئک ھم الکافرون حقاً فرمایا۔ فتدبر!

اور اگر یہ کہا جاوے کہ اس آیت میں تو صرف رسولوں پر ایمان لانے کا سوال ہے مسیح موعود کا کوئی ذکر نہیں تو یہ ایک صریح ظلم ہو گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام میں مسیح موعود کے متعلق بیسیوں جگہ نبی اور رسول کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں جیسا کہ فرمایا ”دنیا میں ایک نبی آیا پر دنیا نے اسکو قبول نہ کیا“ یا جیسے فرمایا ایھا النبی اطعموا الجائع والمقتر یا جس طرح فرمایا انی مع الرسول اقوم اور مسیح موعود نے اپنی کتابوں میں اپنے دعویٰ رسالت اور نبوت کو بڑی صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے جیسا کہ آپ لکھتے ہیں کہ ”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں“ (بدر ۵ مارچ ۱۹۰۸ء صفحہ ۲ کالم ۱) یا جیسا کہ آپ نے لکھا ہے کہ ”میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں اور اگر میں اس سے انکار کروں تو میرا گناہ ہو گا۔ اور جس حالت میں خدا میرا نام نبی رکھتا ہے تو میں کیونکر اس سے انکار کر سکتا ہوں۔ میں اس پر قائم ہوں اسوقت تک جب اس دنیا سے گزر جاؤں“۔ (دیکھو خط حضرت مسیح موعود بطرف ایڈیٹر اخبار عام لاہور) یہ خط حضرت مسیح موعود نے اپنی وفات سے صرف تین دن پہلے یعنی ۲۰؍مئی ۱۹۰۸ء کو لکھا اور آپ کا یوم وصال ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو اخبار عام میں شائع ہوا۔ پھر اس بحث میں کہ مسیح موعود نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے یا کہ نہیں جبکہ احادیث میں مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی تو پرانے مسیح کا نام نبی اللہ رکھا جیسا کہ صحیح مسلم سے

کلمۃ الفصل صفحہ 110 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 341 پر درج ہے

صفحہ 897

حوالہ نمبر 320

١٤٦

كلمة الفصل

جلد ١

ھى الجماعة ۔ یعنی میری امت تہتر فرقوں پر منقسم ہو جائیگی۔ وہ سب فرقے دوزخ میں جائیں گے سوائے ایک کے۔ اور معاویہ سے روایت ہے کہ نبی کریم نے فرمایا کہ بہتر فرقے دوزخ میں پڑینگے اور ایک جنت میں جائیگا اور وہ جنت میں جانے والا جماعت کا فرقہ ہو گا۔ اب کہاں ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ مسیح موعود کا ماننا جزو ایمان نہیں ہے۔ اگر ایسا ہے تو کیوں مسیح موعود کی جماعت جنت میں جائیگی اور مسیح موعود کے منکر بقول نبی کریم فی النار ہونگے۔ یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ ہر ایک وہ بات جس پر نجات کا مدار ہے جزو ایمان ہوتی ہے کیونکہ نجات کا پہلا قدم ایمان ہے پس اگر مسیح موعود پر ایمان لانا جزو ایمان نہیں تو کیا وجہ ہے کہ مسیح موعود کے ماننے کے بغیر نجات نہیں ہے اور کیوں مسلمانوں کے بہتر فرقے آگ میں ڈالے جاویں گے ؟ اور پھر حدیث میں آتا ہے کہ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ايما رجل مسلم اكفر رجلاً فان كان كافراً والا كان هو الكافر (ابوداؤد) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس مسلمان نے کسی مسلمان کو کافر کہا پس اگر وہ کافر نہیں تو وہ خود کافر ہو جائیگا۔ اس حدیث سے پتہ لگتا ہے کہ ایک سچے مسلمان کو کافر قرار دینے سے انسان خود کافر ہو جاتا ہے۔ اب جن لوگوں نے مسیح موعود پر کفر کا فتویٰ لگایا ہے ہم کیونکر انہیں مومن جان سکتے ہیں ۔ اور ظاہر ہے کہ ہر ایک وہ شخص جو مسیح موعود کو سچا نہیں جانتا وہ آپ کو کافر قرار دیتا ہے کیونکہ اگر مسیح موعود سچا نہیں ہے تو نعوذ باللہ مفتری علی اللہ ہے اور مفتری علی اللہ قرآن شریف کی رو سے کافر ہوتا ہے پس اس حدیث سے پتہ لگا کہ نہ صرف وہ لوگ کافر ہیں جو صاف طور پر مسیح موعود پر کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں بلکہ ہر ایک شخص جو مسیح موعود کو نہیں مانتا وہ آپ کو کافر قرار دیکر بموجب حدیث صحیح خود کافر ہو جاتا ہے۔ نتیجہ ظاہر ہے ۔ ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم نے فرمایا کہ مسیح موعود میری قبر میں دفن ہو گا جسکے یہ معنی ہیں کہ مسیح موعود کوئی الگ چیز نہیں ہے بلکہ وہ میں ہی ہوں جو بروزی طور پر دنیا میں آؤنگا اور [ حدیث مذکورہ کے یہ معنی ہمنے اپنی طرف سے نہیں کیئے بلکہ خود حضرت مسیح موعود نے اسکی یہی تشریح فرمائی ہے ملاحظہ ہو کشتی نوح صفحہ ۱۵۔ اب معاملہ صاف ہے اگر نبی کریم کا انکار کفر ہے تو مسیح موعود کا انکار بھی کفر ہونا چاہیئے کیونکہ مسیح موعود نبی کریم سے الگ کوئی چیز نہیں ]

كلمة الفصل صفحہ 146، 147 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 342 پر درج ہے

صفحہ 898

حوالہ نمبر 320

نمبر ۶ ریویوآف ریلجنز ۱۴۷

بلکہ یہ ہی ہے اور اگر مسیح موعود کا منکر کافر نہیں تو نعوذ باللہ نبی کریم کا منکر بھی کافر نہیں کیونکہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ پہلی بعثت میں تو آپ کا انکار کفر ہو مگر دوسری بعثت میں جس میں بقول حضرت مسیح موعود آپ کی روحانیت اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے آپ کا انکار کفر نہ ہو۔

باب پنجم

اس باب میں حضرت خلیفہ اول کے فتاویٰ در بارہ مسئلہ کفر و اسلام درج کیئے جائیں گے تا اس بات کا پتہ لگے کہ مہدی علیہ السلام پر ایمان لانے کے دعویٰ میں کون سچا ہے اور کس کا دعویٰ نفاق اور مصلحت وقت پر مبنی ہے۔

معلوم ہو کہ ایک دفعہ حضرت خلیفہ اول کے سامنے سوال پیش ہوا کہ جو غیر احمدی مسلمان ہم سے یہ کہے کہ ہماری بابت تمہارا کیا خیال ہے اسے کیا جواب دیا جاوے۔ فرمایا " لا الہ الا اللہ کے ماننے کے نیچے خدا کے سارے ماموروں کے ماننے کا حکم آجاتا ہے۔ اللہ کو ماننے کا یہی حکم ہے کہ اسکے سارے حکموں کو مانا جاوے۔ ان سارے ماموروں کو ماننا کلمہ لا الہ الا اللہ کے معنوں میں داخل ہے حضرت آدم ۔ حضرت ابراہیم ۔ حضرت موسیٰ ۔ حضرت عیسیٰ ۔ ان سب کا ماننا اسی لا الہ الا اللہ کے ماتحت ہے حالانکہ انکا ذکر اس کلمہ میں نہیں ہے۔ قرآن مجید کا ماننا سیدنا حضرت محمد خاتم النبیین پر ایمان لانا۔ قیامت کا ماننا سب مسلمان جانتے ہیں کہ اس کلمہ کے مفہوم میں داخل ہے اور یہ جو کہتے ہیں کہ ہم مرزا صاحب کو نیک مانتے ہیں لیکن وہ اپنے دعویٰ میں جھوٹے تھے یہ لوگ بڑے جھوٹے ہیں خدا تعالیٰ فرماتا ہے ومن اظلم ممن افتریٰ علی اللہ کذبا او کذب بالحق لما جاءہ ۔ دنیا میں سب سے بڑھ کر ظالم وہ ہی ہے یا ایک وہ جو اللہ پر افترا کرے۔ دوم جو حق کی تکذیب کرے پس یہ کہنا کہ مرزا نیک ہے اور دعویٰ میں جھوٹا گو یا نور وظلمت کو جمع کرنا ہی جو ناممکن ہے" (مضمون چھپ چکا ہے دیکھو بدر نمبر ۱۹ جلد ۱۰ صفحہ ۹ - ۱۷ مارچ ۱۹۱۱ء)

پھر ایک دفعہ اور ایک دوست کا خط حضرت کی خدمت میں پیش ہوا کہ بعض غیر احمدی

کلمۃ الفصل صفحہ 146-147 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 342 پر درج ہے

صفحہ 899

حوالہ نمبر 321

۵۱۹

میں عذاب دینا چاہوں وہ عذاب میں گرفتار ہو اور جس کو میں چھوڑنا چاہوں وہ عذاب سے محفوظ رہے۔"

(بدر جلد ۲ نمبر ۱۲ مورخہ ۲۹؍ مارچ ۱۹۰۶ء صفحہ ۱ ۔ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۱۱ مورخہ ۳۱؍ مارچ ۱۹۰۶ء صفحہ ۱)

۲۸؍ مارچ ۱۹۰۶ء " اَخَّرَہُ اللہُ اِلىٰ وَقْتٍ مُّسَمًّی" ۱؎ فرمایا۔ چھوٹے زلزلے تو آتے ہی رہتے ہیں لیکن سخت زلزلہ جو آنے والا ہے اس کے وقت میں تاخیر ڈالی گئی ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ تاخیر کتنی ہے۔"

(بدر جلد ۲ نمبر ۱۲ مورخہ ۵؍ اپریل ۱۹۰۶ء صفحہ ۲۔ بدر جلد ۲ نمبر ۱۵ مورخہ ۲۶؍ اپریل ۱۹۰۶ء صفحہ ۲۔

الحکم جلد ۱۰ نمبر ۱۱ مورخہ ۳۱؍ مارچ ۱۹۰۶ء صفحہ ۱)

۲۹؍ مارچ ۱۹۰۶ء " میں پچاس یا ساٹھ اور نشان دکھلاؤں گا۔"۲؎

(بدر جلد ۲ نمبر ۱۳ مورخہ ۵؍ اپریل ۱۹۰۶ء صفحہ ۲۔ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۱۲ مورخہ ۱۰؍ اپریل ۱۹۰۶ء صفحہ ۱)

مارچ ۱۹۰۶ء " چند روز ہوئے یہ الہام ہوا تھا۔

اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمٍ نَّافِلَةً لَّكَ۔ ۳؎

ممکن ہے کہ اس کی یہ تعبیر ہو کہ محمود کے ہاں لڑکا ہو کیونکہ نافلہ پوتے کو بھی کہتے ہیں یا بشارت کسی اور وقت تک موقوف ہو۔"

(بدر جلد ۲ نمبر ۱۳ مورخہ ۵؍ اپریل ۱۹۰۶ء صفحہ ۲۔ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۱۲ مورخہ ۱۰؍ اپریل ۱۹۰۶ء صفحہ ۱)

مارچ ۱۹۰۶ء " خدا تعالیٰ مجھ پر ظاہر کرتا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اسنے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے اور خدا کے نزدیک قابل مؤاخذہ ہے۔"

(مکتوب بنام ڈاکٹر عبدالحکیم مرتد مندرجہ رسالہ "الذکر الحکیم" نمبر ۴ صفحہ ۲۴ مرتبہ ڈاکٹر عبدالحکیم مرتد۔ الفضل جلد ۹

نمبر ۵۱ مورخہ ۱۵؍ جنوری ۱۹۲۲ء صفحہ ۸)

۱؎ اخبار بدر میں یہ اللہ تعالیٰ نے اس میں تاخیر ڈال دی ہے وقت مقررہ تک۔ ۲؎ الحکم میں یہ الفاظ ہیں "میں پچاس یا ساٹھ نشان اور دکھلاؤں گا" ۳؎ ترجمہ الہام: "ہم ایک لڑکے کی تجھے بشارت دیتے ہیں جو تیرا پوتا ہوگا" (حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۱۵۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۹۶)

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 519 طبع چہارم از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 342 پر درج ہے Back

صفحہ 900

حوالہ نمبر 322

نمبر ۳ ریویو آف ریلیجنز ۱۴۳

اس الہام کی تشریح میں حضرت مسیح موعود نے المخاطبین کفروا واخرون سے ان کو ڈرایا ہے فتدبروا ۔ پھر حضرت صاحب کا یہ الہام بھی چھپ چکا ہے کہ ۔ یریدون لیطفئوا نور اللہ بافواھھم واللہ متم نورہ و لو کرہ الکافرون ۔ اس الہام میں تو صریح کافر کا لفظ موجود ہے۔ یہ الہام بھی حضرت مسیح موعود کو بہت دفعہ ہوا کہ :۔ وامتازوا الیوم ایھا المجرمون یعنی اے مجرمو ! تم بہت مدت سے اسلام کو بدنام کر رہے ہو آج کے دن سے تم کو الگ کر دیا جاتا ہے۔ پھر ایک اور الہام ہے جس میں انکار کی گنجائش باقی رہتی ہی نہیں سوائے اسکے کہ الہام کا انکار کر دیا جاوے۔ اور وہ الہام یہ ہے قل یا ایھا الکفار انی من الصادقین (دیکھو حقیقتہ الوحی صفحہ ۱۶۳) اب کہاں ہیں وہ لوگ جن کا یہ قول۔ جبکہ مسیح موعود کو ماننا جزو ایمان نہیں وہ دیکھیں کہ خدا مسیح موعود کو حکم دیتا ہے کہ تو کہہ اے کافرو میں صادقین میں سے ہوں۔ بات تو صاف ظاہر ہے کہ اس الہام میں مخاطب ہر ایک ایسا شخص ہے جو حضرت مسیح موعود کو صادق نہیں سمجھتا کیونکہ فقرہ انی من الصادقین اس کی طرف صاف طور پر اشارہ کر رہا ہے پس یہ کہنا کہ ہر ایک جو آپ کو صادق نہیں جانتا اور آپکے دعویٰ پر ایمان نہیں لاتا وہ کافر ہے۔ پھر اسکے ساتھ یہ الہام بھی قابل غور ہے کہ قطع دابر القوم الذین لا یومنون ۔ ہمیں حضرت مسیح موعود کے منکروں کو قوم لا یومنون کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ پھر حقیقتہ الوحی صفحہ ۱۶۳ پر حضرت صاحب کا یہ الہام درج ہے کہ :۔

چو در خسروی آغاز کردند مسلماں را مسلماں باز کردند

اس الہامی شعر میں اللہ تعالیٰ نے مسئلہ کفر و اسلام کو بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے اس میں خدا نے غیر احمدیوں کو مسلمان بھی کہا ہے اور پھر ان کے اسلام کا انکار بھی کیا ہے مسلمان تو اس لیے کہا ہے کہ وہ مسلمان کے نام سے پکارے جاتے ہیں اور جب تک یہ نام ان پر نہ لیا جاوے لوگوں کو پتہ نہیں چلتا کہ کون مراد ہے مگر ان کے اسلام کا اس لیے انکار کیا گیا ہے کہ وہ اب خدا کے نزدیک مسلمان نہیں ہیں بلکہ ضرورت ہے کہ انکو پھر نئے سرے سے مسلمان کیا جاوے۔ پھر حضرت مسیح موعود کا ایک اور الہام ہے جو آپ کی اپنی وفات سے چند ہی پہلے

یہ حوالہ صفحہ 342 پر درج ہے کلمۃ الفصل صفحہ 143 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی

صفحہ 901

(حوالہ نمبر 323)

آئینہ صداقت ۱۱۰ انوار العلوم جلد ۶

باب اوّل

ان خط و کتابت کی تردید میں جو مولوی محمد علی صاحب نے اختلاف سلسلہ کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے بیان کئے ہیں

مولوی محمد علی صاحب کا تبدیلی عقیدہ

کے متعلق مجھ پر بے جا الزام

میں نے خط نمبر ۲ میں ثابت کیا ہے کہ یہ جو مولوی محمد علی صاحب نے اختلاف کی ایک تاریخ بیان کی ہے جس میں انہوں نے اپنی طرف سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ کس طرح حضرت مسیح موعود کی وفات کے بعد بعض واقعات سے متاثر ہو کر میں نے دفعتاً اس عاجز نے ، اپنے عقائد میں تبدیلی پیدا کی ہے۔

تعداد عقائد

یہ تبدیلی عقیدہ مولوی صاحب تین امور کے متعلق بیان کرتے ہیں۔ اوّل یہ کہ میں نے حضرت مسیح موعود کے متعلق یہ خیال پھیلا دیا ہے کہ آپ فی الواقع نبی ہیں ۔ دوم یہ کہ آپ ہی کی نسبت اِسْمُهُ أَحْمَدُ کی پیشگوئی مذکورہ قرآن کریم (الصّفّ : ۶) کے مصداق ہیں ۔ سوم یہ کہ کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا۔ وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔

ہر سہ عقائد کا بیان

میں تسلیم کرتا ہوں کہ میرے یہ عقائد ہیں ۔ لیکن اس بات کو تسلیم نہیں کرتا کہ سنہ ۱۹۱۴ء یا اس سے تین چار سال پہلے سے میں نے یہ عقائد اختیار کئے ہیں بلکہ جیسا کہ میں آگے ثابت کروں گا، ان میں سے اوّل الذکر اور آخر الذکر حضرت مسیح موعود کے وقت سے ہیں۔ اور ثانی الذکر عقیدہ جیسا کہ خود میں نے اپنے لیکچروں میں بیان کیا ہے جو چھپ بھی چکے ہیں حضرت مسیح موعود کی وفات کے بعد حضرت استاذی المکرم خلیفۃ المسیح الاوّل سے گفتگو اور ان کی تعلیم کا نتیجہ ہے۔

آئینہ صداقت صفحہ 35 مشمولہ انوار العلوم جلد 6 صفحہ 110 از مرزا بشیر الدین محمود ابن مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 342 پر درج ہے

صفحہ 902

حوالہ نمبر 324

۲۸۰

۱۸۹۹ء

”جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہو گا اور تیرا مخالف رہے گا وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے“

(از خط حضرت اقدس بنام بابو الہی بخش صاحب ۲۶ جون ۱۸۹۹ء مجموعہ اشتہارات جلد ۳ صفحہ ۲۷۵۔ تبلیغ رسالت

جلد نہم صفحہ ۲۷)

۲۰ جون ۱۸۹۹ء

”۲۰ جون ۱۸۹۹ء میں مجھے الہام ہوا :

پہلے بیہوشی ۔ پھر غشی ۔ پھر موت

ساتھ ہی اس کے یہ تفہیم ہوئی کہ یہ الہام ایک مخلص دوست کی نسبت ہے جس کی موت سے ہمیں رنج پہنچے گا۔ چنانچہ اپنی جماعت کے بہت سے لوگوں کو یہ الہام سنایا گیا اور الحکم نمبر ۲۴ جلد ۳۔ ۱۰ جولائی ۱۸۹۹ء میں درج ہو کر شائع کیا گیا۔

پھر آخر جولائی ۱۸۹۹ء میں ہمارے ایک نہایت مخلص دوست یعنی ڈاکٹر محمد یوسف خاں اسسٹنٹ سرجن ایک ناگہانی موت سے قصبہ میں گزر گئے۔ اول بیہوش رہے پھر یکدم غشی طاری ہو گئی پھر اس ناپائیدار دُنیا سے کوچ کرگئے اور اُن کی موت اور اس الہام میں صرف بیس بائیس دن کا فرق تھا“

(حقیقتہ الوحی صفحہ ۳۱۳، ۳۱۴۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۳۲۷، ۳۲۸)

۱۸۹۹ء

”عریضہ حضرت اقدس کو یہ بتلاتا ہوا ہے کہ حضرت مخدومہ مکرمہ مستورہ محترمہ امۃ اللہ تعالیٰ آج حضرت اقدس کے گھر میں رونق افروز ہوئی ہیں۔ حضرت اقدس فرماتی ہیں ہمارا یہ قدم مبارک کیونکر اس وقت حضور اقدس کے پاس بیٹھا ہے۔ فرماتے ہیں کہ حضرت مخدومہ مکرمہ کی اس شفقت سے ہمارے ہاں قدم رنجہ فرما ہوئی ہیں۔ اور وہ روزِ قیامت کا ہے ان کا کوئی شکریہ بھی ادا کرنا چاہئے۔ اس پر خاکسار کی تعبیر یہ تھی کہ حضرت کے ساتھ کوئی نصرتِ الٰہی شاملِ حال ہوتی ہے“

(از خط مولاناعبد الکریم صاحب مندرجہ الحکم جلد ۳ نمبر ۲۴ مورخہ ۱۰ جولائی ۱۸۹۹ء صفحہ ۲)

۱؎ اس ہفتہ میں حسبِ ذیل ایک اور دلچسپ بات یہ واقع ہوئی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ ایک چٹھی کا مضمون ہے جس کے راقم نے مقدمہ ہی میں یہ ثبوت اور تفصیل سے لکھا ہے کہ جلال آباد (علاقہ کابل) کے علاقہ میں ایک پیغمبر نامی کا چبوترہ موجود ہے اور وہاں مشہور ہے کہ دو ہزار برس ہوئے کہ یہ نبی شام سے یہاں آیا تھا اور حاکمِ کابل کی طرف سے کچھ جاگیر بھی اس چبوترہ کے نام ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس خط سے حضرت اقدس اِس قدر خوش ہوئے کہ فرمایا ”اللہ تعالیٰ گواہ اور علیم ہے کہ اگر مجھے کوئی کروڑوں روپے لا دیتا تو میں کبھی اتنا خوش نہ ہوتا جیسا اس خط نے مجھے خوشی بخشی ہے“ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خدا کا فضل اور قدرت دیکھئے عسرت کے وقت

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 280 طبع چہارم از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 343 پر درج ہے

صفحہ 903

حوالہ نمبر 325

۳۲۰

سکتی تھی کہ ان لوگوں کو احمد بیگ کی وفات کے بعد اپنے عزیز داماد کی موت کا فکر کرنے لگتا۔ اور اس طرح ہراساں ہو کر رجوع الی الحق کرتے۔ کیا انسان میں یہ خاصیت نہیں کہ چشم دید تجربہ اس پر سخت اثر ڈالتا ہے سو در حقیقت ایسا ہی ہوا۔ احمد بیگ کی موت نے اس کے وارثوں کو خاک میں ملا دیا۔ اور ایسے غم میں ڈالا کہ گویا وہ مرگئے اور سخت خوف میں پڑ گئے اور دعائیں اور تضرع میں لگ گئے۔ سو ضرور تھا۔ کہ خدا تعالےٰ اس جگہ بھی تاخیر ڈالتا۔ جیسا کہ آتھم کے متعلق کی پیشگوئی میں تاخیر ڈالی۔ ہم عربی مکتوب میں لکھ چکے ہیں کہ یہ پیشگوئی بھی مشروط بہ شرط تھی اور ہم یہ بھی بار بار بیان کر چکے ہیں کہ وعید کی پیشگوئی بغیر شرط کے بھی تخلف پذیر ہو سکتی ہے جیسا کہ یونس کی پیشگوئی میں ہوا۔ ۱۲

سو چاہیے تھا کہ ہمارے نادان مخالف انجام کے منتظر رہتے اور پہلے ہی سے اپنی بدگوہری ظاہر نہ کرتے۔ بھلا جس وقت یہ سب باتیں پوری ہو جائیں گی۔ تو کیا اس دن یہ احمق مخالف جیتے ہی رہیں گے اور کیا اس دن یہ تمام اڑنے والے سچائی کی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہو جائیں گے ان بیوقوفوں کو کوئی بھاگنے کی جگہ نہیں رہے گی۔ اور نہایت صفائی سے ناک کٹ جائے گی۔ اور ذلت کے سیاہ داغ اُن کے منحوس چہروں کو بندروں اور سوروں کی طرح کر دیں گے۔ سُنو! اور یاد رکھو کہ سچی پیشگوئیوں میں کوئی ایسی بات نہیں کہ جو خدا کے نبیوں اور رسولوں کی پیشگوئیوں میں ان کا نمونہ نہ ہو۔ بیشک یہ لوگ میری تکذیب کریں۔ بیشک گالیاں دیں۔ لیکن مگر میری پیشگوئیاں نبیوں اور رسولوں کی پیشگوئیوں کے نمونہ پر ہیں تو اُن کی تکذیب اُنہیں پر لعنت ہے۔ چاہیے کہ اپنی جانوں پر رحم کریں اور رُوسیاہی کے ساتھ نہ مریں کیا یونس کا قصہ انہیں یاد نہیں کہ کیونکر وہ عذاب ٹل گیا۔ جس میں کوئی شرط بھی نہ تھی۔ اور اس جگہ تو شرطیں موجود ہیں۔ اور احمد بیگ کے اہل وارث جن کی تنبیہ کے لئے یہ نشان تھا اُس کے مرنیکے بعد پیشگوئی سے ایسے متاثر ہوئے تھے کہ اس پیشگوئی کا نام لے لیکر روتے تھے اور پیشگوئی کی عظمت دیکھ کر اس گاؤں کے تمام مرد عورت کانپ اُٹھے تھے اور عورتیں چھاتیاں مار کر کہتی تھیں کہ ہائے وہ باتیں سچی نکلیں چنانچہ وہ لوگ اُس دن تک غم اور خوف میں تھے جبتک اُن کے داماد سلطان کی میعاد گذر گئی پس اس تاخیر کا یہی سبب تھا جو خدا کی قدیم سنت کے موافق ظہور میں آیا۔ خدا کے الہام میں جو توفیق قبول

یہ احمد بیگ کی تکذیب کے لئے نہ پہلا الہام نہ یہ الہام واضح ہے بلکہ پیشگوئی فرمائی ہے کہ وہ حق کو قبول نہ کرے گا۔ یعنی بیٹی کا نکاح مرزا سے نہ کرے گا اور نیز یہ صاف الہام عبارت بالا میں ہے کہ تو ان سے اعراض کر گو تمام عالم پر مصیبتیں آئیں کہ انجام کار مرزا نے یہ کہا ہے کہ داماد

باقی حاشیہ صفحہ ۳۳۸ کا ۔ مگر افسوس کہ ان کی شرارتیں بڑھتی گئیں اور باز نہ آئے۔ اور اس طرح پر اس الہام کا پہلا حصہ ان کے حق میں پورا ہو گیا اور دوسرا حصہ احمد بیگ کی نسبت پورا ہوا۔ اب بھی اگر وہ لوگ اسلام قبول کر لیں تو امید ہے کہ خدا تعالیٰ ان پر رحم کرے گا کیونکہ الہام میں شرطی وعید ہے۔ منہ

انجام آتھم صفحہ 53 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 337 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 343 پر درج ہے

صفحہ 904

حوالہ نمبر 326

۳۰۵

بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ

مباہلہ کے بعد میری بددعا کے اثر سے ایک بھی ہلاک نہ ہوا تو میں اقرار کروں گا کہ میں جھوٹا ہوں واقعی وقت پیشگوئی میں کوئی قطعی فتح حاصل نہ ہوئی جیسا کہ میں آگے چل کر بیان کروں گا۔ ماسوا اس کے مباہلہ درحقیقت میری درخواست سے نہیں تھا اور نہ میرا اس میں بددعا کرنے کا قصد اور نیز میں نے بوجہ بدسمجھی اس بات کی طرف توجہ نہ کی۔ اس بات کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ میں نے کبھی پیشگوئی ہذا کو آتھم کی موت پر دلالت کرنے والی نہ سمجھا تھا۔ کیونکہ میں نے حرف جزم نہیں دیا۔ ابتدائی الہاموں میں جو مجمل ہیں یہ الہام بھی تھا۔ اس لئے اب میں دوسرے فیصلہ کے لئے خود ہر ایک سنجیدہ سے مباہلہ کی درخواست کرتا ہوں۔ اور اس لئے کہ بعد میں شبہات پیدا نہ ہوں میں نے یہ لازمی شرط ٹھہرا دی ہے کہ جو لوگ مباہلہ کے لئے بلائے گئے ہیں کم سے کم دس کو ان میں سے مباہلہ کی منظوری دینی تا خدا کی حجت صفائی سے ثابت ہو۔ اور کسی تاویل کی گنجائش نہ رہے اور تا کوئی بعد میں یہ نہ کہے کہ مباہلہ میں صرف ایک آدمی تھا۔ سو قضاءاً اس پر کوئی مصیبت آ گئی۔

بعض خبیث طبع مولوی جو یہودیت کا خمیر اپنے اندر رکھتے ہیں۔ سچائی پر پردہ ڈالنے کے لئے یہ بھی کہا کرتے ہیں کہ گذشتہ مباحثہ میں عبدالحق کو فتح ہوئی۔ کیونکہ آتھم کے متعلق جو پیشگوئی کی تھی اس میں آتھم نہیں مرا۔ مگر جاہل معترضین اور اسلام کے دشمن یہ نہیں سمجھتے کہ کب اور کس وقت یہ الہام ظاہر کیا گیا تھا کہ آتھم ضرور میعاد کے اندر مرے گا اور کس اشتہار یا کتاب میں ہم نے لکھا تھا کہ اس پندرہ مہینہ میں بغیر کسی شرط کے آتھم کی نسبت موت کا حکم ہے جن جاہلوں یا ظالموں نے زیادہ بڑھ کر یہ کہا کہ موت قطعی ہے مگر خنزیر سے زیادہ پلید وہ لوگ ہیں جو اپنے نفسانی جوش کے لئے حق اور دیانت کی گواہی کو چھپاتے ہیں۔ اے سورو! اور بندرو! اور کتو! اور پھر افسوس کہ تم نے میری عداوت کے لئے اسلام کی سچی گواہی کو چھپایا۔ اے اندھیرے کے کیڑو تم سچائی کی تیز شعاعوں کو کیا چھپا سکتے ہو۔ کیا ضرور نہ تھا کہ خدا اس پیشگوئی میں اپنی شرط نافذ رکھتا۔ اے بے ایمانو اور انصاف سے دور بھاگنے والو سچ تو یہ کہو کیا اس پیشگوئی میں کوئی ایسی شرط نہ تھی جس پر رجوع آتھم کا اس کی موت میں تاخیر ڈال سکتا تھا۔ سو تم جھوٹ مت بولو اور وہ نجاست نہ کھاؤ جو عیسائیوں نے کھائی۔

آنکھ کھول کر دیکھو کہ پیشگوئی اپنی تمام شرطوں کے ساتھ پوری ہو گئی اب اس پیشگوئی کو ایک پیشگوئی نہ کہو بلکہ وہ پیشگوئیاں ہیں جو اپنے وقت پر ظہور میں آئیں۔

(۱) اوّل یہ پیشگوئی جو براہین احمدیہ کے صفحہ ۵۲۱ میں درج ہے۔ جسے آج سے پندرہ برس

۲۱

انجام آتھم صفحہ 21 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 305 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 343 پر درج ہے

صفحہ 905

حوالہ نمبر 327

براہین احمدیہ ۴۵۶

کہتے ہیں کہ مہر علی شاہ صاحب لاہور میں آئے اُن سے مقابلہ نہ کیا ۔ جن دلوں پر خدا لعنت کرے میں اُن کا کیا علاج کروں ۔ میرا دل فیصلہ کے لئے دردمند ہے ۔ ایک زمانہ گزر گیا میری یہ خواہش اب تک پوری نہیں ہوئی کہ ان لوگوں میں سے کوئی راستی اور ایمانداری اور نیک نیتی سے فیصلہ کرنا چاہے مگر افسوس کہ یہ لوگ صدق دل سے میدان میں نہیں آتے ۔ خدا فیصلہ کے لئے تیار ہے اور اُس اونٹنی کی طرح جو بچہ جننے کے لئے دم اُٹھاتی ہے زمانہ خود فیصلہ کا تقاضا کر رہا ہے ۔ کاش اِن میں سے کوئی فیصلہ کا طالب ہو ۔ کاش ان میں سے کوئی رشید ہو میں بصیرت سے دعوت کرتا ہوں اور یہ لوگ ظن پر بھروسہ کر کے میرا انکار کر رہے ہیں ان کی آنکھیں بیتاب ہیں اس غرض سے کہ اوپر کسی جگہ ہاتھ پڑ جائے ۔ اے نادان قوم ! یہ سلسلہ آسمان سے قائم ہوا ہے۔ تم خدا سے مت لڑو ۔ تم اس کو نابود نہیں کر سکتے ۔ اس کا ہمیشہ بول بالا ہے۔ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے۔ بجز ان چند حدیثوں کے جو تہتر فرقوں نے بوٹی بوٹی کر کے باہم تقسیم کر رکھی ہیں روایت حق اور یقین کہاں ہے ؟ اور ایک دوسرے کے کذاب ہو ۔ کیا ضرور نہ تھا کہ خدا کا حکم یعنی فیصلہ کرنیوالا تم میں نازل ہو کر تمہاری حدیثوں کے انبار میں سے کچھ چنتا اور کچھ رَدّ کر دیتا۔ سو ایسا ہی وقت آ پہنچا۔ وہ محقق کس بات کا ہے جو تمہاری سب باتیں مانتا جائے۔ اور کوئی بات ردّ نہ کرے اپنے غصّہ پر نظر مت کرو اور اس سلسلہ کو بے قدری سے نہ دیکھو جو خدا کی طرف سے تمہاری اصلاح کیلئے پیدا ہوا ۔ اور یقیناً سمجھو کہ اگر یہ کارو بار انسان کا ہوتا اور کوئی پوشیدہ ہاتھ اس کے ساتھ نہ ہوتا تو یہ سلسلہ کب کا تباہ ہو جاتا اور ایسا مفتری ایسی جلدی ہلاک ہو جاتا کہ اسکی ہڈیوں کا بھی پتہ نہ ملتا۔ سو اپنی مخالفت کے معیار میں نظر ثانی کرو کہ کم سے کم یہ تو سوچو کہ شائد غلطی ہو گئی ہو اور شائد یہ لڑائی تمہاری خدا سے ہو۔ اور کیوں مجھ پر یہ الزام لگاتے ہو کہ براہین احمدیہ کا روپیہ کھا گیا ہے۔ اگر میرے پر تمہارا کچھ حق ہے + منشی الٰہی بخش صاحب نے جھوٹے الزاموں اور بہتان اور خلاف واقعہ کی نجاست

براہین احمدیہ 4 حاشیہ صفحہ 114 ، 115 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 456، 457 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 343 پر درج ہے

صفحہ 906

حوالہ نمبر 327

اربعین نمبر ۴ ۲۵۷ بقیہ حاشیہ

۱۱۴

جس کا ایماءً تم مواخذہ کر سکتے ہو یا اب تک میں نے تمہارا کوئی قرضہ ادا نہیں کیا ۔ یا تم نے اپنا حق مانگا اور میری طرف سے انکار ہوا تو ثبوت پیش کر کے وہ مطالبہ مجھ سے کرو ۔ مثلاً اگر میں نے براہین احمدیہ کی قیمت کا روپیہ تم سے

اپنی کتب مخالفہ کو ایسا بھر دیا ہے جیسا کہ ایک نالی اور بدر رو گندے کیچڑ سے بھری جاتی ہے یا جیسا کہ سنڈاس پاخانہ سے ۔ اور خدا سے بے خوف ہو کر میرے عرض پر افترا کے طور پر سخت دشمنوں کی طرح حملہ کیا ہے وہ یقیناً سمجھ لیں کہ یہ کام انہوں نے اچھا نہیں کیا۔ اور جو کچھ انہوں نے لکھا ہے ان گالیوں سے زیادہ نہیں جو حضرت موسیٰ کو دی گئیں اور حضرت مسیح کو دی گئیں۔ اور ہمارے سید صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئیں۔ افسوس انہوں نے آیت ویل لکل ھمزۃ لمزۃ کے ویل کے وعید سے کچھ بھی اندیشہ نہیں کیا۔ اور نہ انہوں نے آیت لا تقف ما لیس لک بہ علم کو بھی کچھ بھی یاد کیا۔ وہ بار بار میری نسبت لکھتے ہیں کہ میں نے ان کو تسلی دی تھی کہ میں آپ کے افتراء کی وجہ سے کسی انسانی عدالت میں آپ پر نالش نہیں کرونگا۔ سو میں کہتا ہوں کہ میں نہ صرف انسانی عدالت میں نالش نہ کرونگا بلکہ میں خدا کی عدالت میں بھی نالش نہیں کرتا۔ لیکن چونکہ آپ نے محض جھوٹے اور قابل شرم الزام میرے پر لگائے ہیں اور مجھے ناکردہ گناہ دکھ دیا ہے اس لئے میں ہرگز یقین نہیں رکھتا کہ میں اسوقت سے پہلے مروں جب تک کہ میرا قادر خدا ان جھوٹے الزاموں سے مجھے بری کر کے آپ کا کاذب ہونا ثابت نہ کرے۔ الا لعنۃ اللہ علی الکاذبین۔ اسی کے متعلق قطعی اور یقینی طور پر مجھ کو ۹؍ دسمبر ۱۸۹۸ ء روز پنجشنبہ کو یہ الہام ہوا بر مقام قادیان پنجاب ۔ نو امیدی و بیم و رعب ۔ بعد از انتہاء وقفہ یعنی میں نہیں جانتا کہ گیارہاں دن ہے یا گیارہاں ہفتہ یا گیارہاں مہینہ یا گیارہاں سال مگر بہر حال ایک نشان میری برائت کے لئے اس مدت میں ظاہر ہو گا جو آپ کو سخت شرمندہ

۱؎ الھمزۃ : ۲ ۱۱۵ ۲؎ بنی اسرائیل : ۳۷

اربعین نمبر 4 حاشیہ صفحہ 114، 115 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 456-457 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 343 پر درج ہے

صفحہ 907

حوالہ نمبر 328

۲۰۹

بالمقابل ایک بیگانہ قوم کہ زبان عربی میں اس کے مقابل میں سات آیت قرآنی کی تفسیر لکھیں اور ایک سال تک ان تمام واقعات سے سلسلہ جنبا دے تا اس کی بے خبری اس کی شفیع نہ ہو۔ پھر بعد اس کے قسم کھاوے کہ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے مضمون اور عبارت ہے ۔ پھر اگر وہ ایک سال تک اس قسم کے وبال سے تباہ نہ ہو جائے اور کوئی فوق العادت مصیبت اُس پر نہ پڑے تو دیکھو کہ میں سب کو گواہ کر کے کہتا ہوں کہ اس صورت میں میں اقرار کروں گا کہ میں جھوٹا ہوں ۔ اگر عبدالحق اس بات پر امید کرتا ہے تو وہی قسم کھاوے اور اگر غزنوی بھی اس خیال پر زور دے رہا ہے تو وہی میدان میں آوے ۔ اور اگر مولوی احمد اللہ امرتسری یا ثناء اللہ امرتسری ایسا ہی سمجھ رہا ہے تو انہیں پر فرض ہے کہ قسم کھانے سے اپنا تقویٰ دکھلاویں اور یقینا یاد رکھو کہ اگر اُن میں سے کسی نے قسم کھائی کہ آتھم کی نسبت پیشگوئی پوری نہیں ہوئی اور عیسائیوں کی فتح ہوئی ۔ تو خدا اس کو ذلیل کرے گا ۔ رُسوا کرے گا ۔ اور لعنت کی موت سے اس کو ہلاک کرے گا کیونکہ اس نے سچائی کو چھپانا چاہا۔ جو دین اسلام کے لئے خدا کے حکم اور ارادہ سے زمین پر ظاہر ہوئی ۔

مگر کیا یہ لوگ قسم کھالیں گے ؟ ہرگز نہیں۔ کیونکہ یہ جھوٹے ہیں ۔ اور کتوں کی طرح جھوٹ کا مُردار کھا رہے ہیں ۔

اب اگر کوئی یہ سوال کرے کہ اگرچہ عبدالحق کے مباہلہ میں اس طرف سے کسی بددُعا کا ارادہ نہ کیا گیا۔ مگر جو صدق کے ساتھ مباہلہ کے لئے آیا ہو۔ کسی قدر تو بعد مباہلہ ایسے امور کا پایا جانا چاہیے جن پر غور کرنے سے اس کی ذلت اور نامرادی پائی جائے اور اپنی عزت دکھلائی دے۔ سو جاننا چاہیئے کہ وہ امور بہ تفصیل ذیل ہیں جو بحکم للعاقبۃ للمتقین ہماری عزت کے موجب ہوئے ۔ اوّل ۔ آتھم کی نسبت جو پیشگوئی کی گئی تھی ۔ وہ اپنے واقعی معنوں کے رُو سے پوری ہو گئی ۔ اور اسی دن وہ پیشگوئی بھی پوری ہوئی ۔ جو پندرہ برس پہلے براہین احمدیہ کے صفحہ ۴۹۱ میں لکھی گئی تھی۔ آتھم اصل منشاء الہام کے مطابق مر گیا ۔ اور تمام مخالفوں کا مُنہ کالا ہوا ۔ اور اُن کی تمام جھوٹی خوشیاں خاک میں مل گئیں ۔ اس پیشگوئی کے واقعات پر اطلاع پاکر صدہا دلوں کا کفر ٹُوٹا اور ہزاروں خط اس کی تصدیق کے لئے پہنچے۔ اور مخالفوں اور مکذّبوں پر وہ لعنت پڑی جو اُفّ دم نہیں مار سکتے۔ دوسرا وہ امر جو مباہلہ کے بعد میری عزت کا موجب ہوا وہ اُن عربی رسالوں کا مجموعہ ہے جو مخالف مولویوں اور پادریوں کے ذلیل کرنے کے لئے یکے

ا۔ ھود : ۵۰

۲۵

انجام آتھم (ضمیمہ) صفحہ 25 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 309 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 344 پر درج ہے

صفحہ 908

حوالہ نمبر 329 ۱۶۳

وَأشهد الاحرار والأُسَرَاءَ انى اضع البركة واللعنة امام النصارى اور میں آزادوں اور قیدیوں کو گواہ کرتا ہوں کہ میں یہ برکت اور لعنت نصاریٰ کے آگے رکھتا ہوں اما البركة فينالهم بركة الدنيا عند مقابلة الكتاب وينالون انعاماً كثيراً برکت سے مراد دنیا کی برکت ہے کہ مقابلہ کے وقت جبکہ حاصل ہوگی اور وہ بہت سا انعام مع الفتح والغلب او ينالهم بركة الآخرة عند التوبة وترك توهين مع فتح اور غلبہ کے پائیں گے یا برکت سے مراد آخرت کی برکت ہے کہ توبہ اور ترک توہین قرآن القرآن وترك صفة المستهزئين و اما اللعنة فلا ترد عليهم الا عند سے ان کو ملے گی مگر لعنت ان پر صرف اس حالت میں وارد ہوگی کہ جب بالمقابل رسالہ نہ بنا سکیں اعراضهم عن الجواب ومع ذالك عدم امتناعهم عن الشتم والسب اور باوجود اس کے والقدح في كتاب رب الأرباب ربّ العالمين۔ قرآن شریف کی توہین اور تحقیر سے بھی باز نہ آئیں۔ واعلم ان كل من هو من وُلد الحلال وليس من ذرية البغايا اور جاننا چاہئے کہ ہر یک شخص جو ولد الحلال ہے اور خراب عورتوں ونسل الدجال فيفعل أمراً من امرين إما كفّ اللسان بعدُ وترك اور دجال کی نسل میں سے نہیں ہو گا وہ باتوں میں سے ایک بات ضرور اختیار کریگا یا تو بعد اسکے ہرزہ گوئی الافتراء والمين و إما تأليف الرسالة كرسالتنا وترصيع المقالة كمقالتنا اور افترا سے باز آجائے گا یا ہمارے اس رسالہ جیسا رسالہ بنا کر پیش کرے گا ولكن الذی ما انزجر من القدح فى بلاغة القرآن وما امتنع من الانكار مگر جو شخص کہ جس نے نہ تو ہمارے رسالہ جیسا رسالہ بنایا اور نہ قرآن کریم کی بلاغت پر جرح وقدح سے باز آیا من فصاحة الفرقان فعليه كلما قلنا وكتبنا في هذا القرطاس عليه اور نہ فصاحت قرآنی پر حملہ بیجا کرنے سے اپنے تئیں روکا پس اسپر وہ سب باتیں وارد ہونگی جو ہم اس رسالہ

۱۶۳

نور الحق صفحہ 163 مندرجہ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 163 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 344 پر درج ہے

صفحہ 909

حوالہ نمبر 330

٣١١

بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ

یک برس تک انتظار کریں۔ اور یا مباہلہ کرلیں۔ ششم ۔ اور اگر ان باتوں میں سے کوئی بھی تم میں اُٹھہ نہ کیا تم میں ایک بھی مرد حقانی نہیں جو اس بات کو سوچے ۔ کیا تم میں ایک بھی دل نہیں جو اس بات کو سمجھے۔ زمین نے عزت دی۔ آسمان نے عزت دی اور قبولیت پھیل گئی۔

پانچواں وہ امر جو مباہلہ کے بعد میرے لئے عزت کا موجب ہوا۔ علم قرآن میں ایک معجزہ ہے۔ میں نے یہ علم پا کر تمام مخالفوں کو کیا عبدالحق کا گروہ اور کیا بٹالوی کا گروہ۔ غرض سب کو بآوازِ نقارہ اس بات کے لئے مدعو کیا کہ مجھے علم حقائق اور معارف قرآن دیا گیا ہے۔ تم لوگوں میں سے کسی کی مجال نہیں کہ میرے مقابل پر قرآن شریف کے حقائق و معارف بیان کر سکے۔ سو اس اعلان کے بعد میرے مقابل ان میں سے کوئی بھی نہ آیا۔ اور اپنی جہالت پر جو تمام دشمنوں کی جڑ ہے انہوں نے ٹھپہ لگا دیا۔ سو یہ سب کچھ مباہلہ کے بعد ہوا۔ اور اسی زمانہ میں کتاب کرامات الصادقین لکھی گئی۔ اس کرامت کے مقابل پر کوئی شخص ایک حرف بھی نہ لکھ سکا۔ تو کیا اب تک عبدالحق اور اس کی جماعت ذلیل نہ ہوئی۔ اور کیا اب تک یہ ثابت نہ ہوا۔ کہ مباہلہ کے بعد یہ عزت خدا نے مجھے دی۔

چھٹا امر جو مباہلہ کے بعد میری عزت اور عبدالحق کی ذلّت کا موجب ہوا۔ یہ ہے کہ عبدالحق نے مباہلہ کے بعد اشتہار دیا تھا کہ ایک لڑکا اُس کے گھر میں پیدا ہوگا۔ اور میں نے بھی خدا تعالیٰ سے الہام پا کر یہ اشتہار دلی اور امرتسر میں شائع کیا تھا کہ خدا تعالیٰ مجھے ایک لڑکا دے گا۔ سو خدا تعالیٰ کے فضل اور کرم سے میرے گھر میں تو لڑکا پیدا ہو گیا۔ جس کا نام شریف احمد ہے اور قریباً پونے دو برس کی عمر رکھتا ہے۔ اب عبدالحق کو ضرور پوچھنا چاہیئے۔ کہ اس کا وہ مباہلہ کی برکت کا لڑکا کہاں گیا۔ کیا اندھی اندھیری میں تحلیل پا گیا یا پھر رجعت قہقری کر کے نطفہ بن گیا۔ کیا اس کے سوا کسی اور چیز کا نام ذلّت ہے کہ جو کچھ اس نے کہا وہ پورا نہ ہوا۔ اور جو کچھ میں نے خدا کے الہام سے کہا خدا نے اس کو پورا کر دیا۔ چنانچہ ضیاء الحق میں بھی اسی لڑکے کا ذکر لکھا گیا ہے۔

ساتواں امر جو مباہلہ کے بعد میری عزت اور قبولیت کا باعث ہوا خدا کے راستباز بندوں کا وہ مخلصانہ جوش ہے جو انہوں نے میری خدمت کے لئے دکھلایا۔ مجھے کبھی یہ طاقت نہ ہوگی کہ میں خدا کے ان احسانات کا شکر ادا کر سکوں۔ جو روحانی اور جسمانی طور پر مباہلہ کے بعد میرے مددگار ہو گئے۔ روحانی انعامات کا نمونہ میں لکھ چکا

۲۷

انجام آتھم صفحہ 311، 317 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 311، 317 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 344 پر درج ہے

صفحہ 910

حوالہ نمبر 330

۳۴۷

یعنی خدا تعالیٰ میرے ہاتھ سے وہ نشان ظاہر کرے جس سے اسلام کا بول بالا ہو اور جس سے کینہ کش اندھے دیکھ سکیں کہ سچی عزت خدا سے پائی ۔ کونسی قبولیت اس کی لوگوں میں پھیلی۔ کونسے مالی فتوحات کے دروازے اس پر کھلے۔ کونسی علمی فضیلت کی برکتیں اس کو پہونچائی گئیں۔ صرف فضول گوئی کے طور پر کچھ بے ربط مبہم الفاظ عربی میں ابتدا کر دی ۔ پھر حاشیہ بھی بنائے ۔ مگر اس کی بدقسمتی سے وہ دعوے بھی باطل نکلا ۔ اور اب تک اس کی طرف سے سکوت طاری ہے۔ ایک چٹھی یا ضمیمہ پیدا نہ ہوا۔ مگر اس کے مقابلہ میں خدا تعالیٰ نے میرے الہام کو پورا کر کے مجھے وحی عطا کیا :

یہ وہ پیشینگوئیاں ہیں جو میں نے لکھی ہیں۔ پھر کیسے خبیث وہ لوگ ہیں جو اس مباہلہ کو بے اثر سمجھتے ہیں۔ فھل لھم ان یتدبروا وتفکروا فی ھذہ العشرۃ الکاملۃ۔

چونکہ میں نے ہر ایک مخالف منکر مکذب پر ظاہر کر دیا ہے کہ وہ مباہلہ کے میدان میں آویں اور یقیناً سمجھیں کہ جس طرح خدا تعالیٰ نے عبدالحق کے مباہلہ کے بعد یہ دس قسم کا قہر اس پر نازل کیا اور اس کو ذلیل کیا اور اس کا غلبہ کا دعوے بھی جھوٹا نکلا اور کوئی عزت اس کو حاصل نہ ہوئی۔ اور خدا تعالیٰ نے اس کے تمام دعاوی کو رد کیا۔ اس سے بڑھ کر قہر اور کیا ہو گا۔ میں نے ہرگز بد دعا نہیں کی کیونکہ وہ ناسمجھ اور مغرور تھا ۔ اور اس کی جہالت اس کو قابل رحم ٹھہراتی تھی۔ مگر اب میں بد دعا کروں گا ۔ سو چاہیئے کہ ہر ایک مباہلہ کی درخواست کرنے والا اپنی طرف سے چھپا ہوا اشتہار شائع کرے ۔ اور یہ ضروری ہو گا کہ مباہلہ کرنے والا صرف ایک نہ ہو ۔ بلکہ کم سے کم دس ہوں ۔ اور چونکہ مباہلہ کے لئے ہر ایک شخص جو آئے گا خواہ پنجاب کا ہو یا ہندوستان کا۔ یا بلاد عرب کا یا بلاد فارس کا ۔ اس لئے یہ مشقت مخالفوں پر ہو گی کہ میں دس گنی کر دوں ۔ اور تواتر کے پہلو میں بلکہ حسب منطوق وجعلناكم شعوباً وقبائل لتعارفوا یرید الله بكم اليسر ولایرید بکم العسر ۔ یہ شرط قرار پائی ہے کہ ہر ایک شخص اشتہارات کے ذریعہ سے مباہلہ کرے گا۔ مگر یہ شرط ضروری ہے کہ جو الہامات میں نے رسالہ انجام آتھم میں صفحہ ۲۱ سے صفحہ ۲۸ تک لکھے ہیں ۔ وہ کل الہامات اپنے اشتہار مباہلہ میں لکھے۔ اور محض حیلہ نہ دے بلکہ کل الہامات بتمام و کمال اس اشتہار میں درج کرے۔ اور پھر بعد اس کے عبارت ذیل کی دعا اُس اشتہار میں لکھے ۔ اور وہ یہ ہے

دُعا

اے خدائے علیم و خبیر میں جو فلاں ابن فلاں ساکن قصبہ فلاں ہوں اس شخص کو

(بقیہ حاشیہ صفحہ گذشتہ) جس کو دنیا کی کوئی آنکھ دیکھ نہ سکے۔ اور میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس دس قسم کے قہر نے اس کو اس کے اقراری مباہلہ کے بعد ایسا پکڑا کہ اب تک کوئی اس کی نظیر پیش نہیں کر سکتا۔ پس اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہو گا کہ اس کے مباہلہ کے بعد اس کے مقابل پر دس قسم کی ذلت اور قہر نے احاطہ کر لیا۔ مگر اس بات کو وہی سمجھیں گے جو خدا تعالیٰ کا خوف دلوں میں رکھتے ہیں۔

میں مباہلہ پر جو بلایا گیا ہے وہاں کوئی شرط دس کی نہیں رکھی گئی ہے۔ پس یہ عبارت منسوخ ہے ۔ منسوخ کی بحث ضمیمہ انجام آتھم میں دیکھیے۔...

۳۲

انجام آتھم صفحہ 311-317 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 311-317 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 344 پر درج ہے

صفحہ 911

حوالہ نمبر 331

تتمہ ۴۴۴ حقیقۃ الوحی

جیسا کہ بیان کر چکا ہوں ان معنوں کے رُوسے بھی ابتر ہؤا کہ اُس وقت جبکہ اُسکی نسبت خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ گویا اُسی دَم سے خدا تعالیٰ نے اُسکی بیوی کے رحم پر مُہر لگا دی اور اُسکو یہ الہام کُھلے کُھلے لفظوں میں سُنایا گیا تھا کہ اب موت کے دن تک تیرے گھر میں اولاد نہ ہوگی اور نہ آگے سلسلہ اولاد کا چلے گا اور یقیناً اُسنے اس الہام کو توڑنے کے لئے اولاد حاصل کرنے کی غرض سے بہت کوشش کی ہوگی مگر وہ کوشش ضائع گئی۔ آخر نامُراد مرا۔ ابتر کے ہر ایک معنی اُسپر صادق آگئے۔ اور دُوسری طرف جو میری نسبت وہ بار بار بددُعائیں کرتا تھا کہ یہ شخص مفتری ہے ہلاک ہو جائیگا اور اولاد بھی مرے گی اور جماعت متفرق ہو جائیگی۔ اسکا نتیجہ یہ ہؤا کہ اس الہام کے بعد یعنی الہام اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ کے بعد تین لڑکے میرے گھر میں پیدا ہوئے اور تین لاکھ سے زیادہ جماعت ہو گئی اور کئی لاکھ روپیہ آیا اور کئی عیسائی اور ہندو میری دعوت سے مسلمان ہوئے۔ پس کیا یہ نشان نہیں اور کیا یہ پیشگوئی پُوری نہیں ہوئی۔ اور یہ کہنا کہ سعد اللہ کے لڑکے کی عبدالرحیم کی دختر سے نسبت ہو گئی ہے اور شادی ہو جائے گی اور اولاد بھی ہوگی یہ ایک خیالی پلاؤ ہے اور محض ایک گپ ہے جو ہنسی کے لائق ہے اور اس کا جواب بھی یہی ہے کہ خدا کے وعدے ٹل نہیں سکتے۔ یہ بات تو اُس وقت پیش کرنی چاہئیے کہ جب شادی ہو جائے اور اولاد بھی ہو جائے۔ بالفعل تو ایمانداری کا یہ تقاضا ہے کہ اس بات کو غور سے سوچیں کہ جیسا کہ قرآن شریف کی یہ پیشگوئی پُوری ہوئی کہ اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ

٭ حاشیہ ؎ یہ اسی طرح کی امید ہے جیسا کہ عبدالحق غزنوی ثُمَّ امرتسری نے مباہلہ کے بعد اپنی نسبت مباہلہ کا اثر یہ ظاہر کیا تھا کہ میرا بھائی مر گیا بھاوج جو اُسکی بیوی تھی اُس نے نکاح کیا ہے اور اُسکو حمل ہو گیا ہے اور اب اُسکو لڑکا پیدا ہو گا اور وہ مباہلہ کا اثر مجھ پر پڑیگا مگر اُس حمل کا انجام یہ ہؤا کہ بچہ بھی پیدا نہ ہؤا اور اب تک وہ باوجو د کبرسنی کے نہ لڑکا ہے اور نہ لڑکی اور ذلت کی زندگی بھگت رہا ہے اور برخلاف اسکے مباہلہ کے بعد میرے گھر میں کئی لڑکے پیدا ہوئے اور کئی لاکھ انسان میرے سلسلہ میں داخل ہوئے اور دُنیا کے کناروں تک عزّت کے ساتھ میری شہرت ہو گئی اور اکثر دشمن مباہلہ کے بعد مر گئے اور نشان آسمانی میرے ہاتھ پر ظاہر ہوئے۔ منہ ٭

تتمہ حقیقۃ الوحی صفحہ 444 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 444 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 344 پر درج ہے

صفحہ 912

حوالہ نمبر 332

دیں گے۔ غرض جو شخص دعویٰ کرے۔ تو دیکھا جائے گا کہ آیا اس کی باتیں اس دعوے کے مطابق ہیں یا نہیں۔ گو کہتا ہو میں نے کوئی دعویٰ نہیں کیا۔ اور چونکہ وہ دعویٰ کے آثار اس سے پائے جاتے ہیں۔ تو اسے سچا مانا جائے گا یا کاذب۔ تاہم اسے جھوٹا ہی سمجھا جائے گا۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اس نے دعویٰ تو کیا اور پھر اس کے ساتھ اس کے لوازمات پورے نہ کئے۔ پھر اگر وہ کہے کہ اس نے دعویٰ کیا ہے مگر دعویٰ کو وہ نہیں مانتا۔ تو اس سے یہ بھی دریافت کیا جائے گا کہ دعویٰ کیا ہے۔ پھر اگر وہ یہ کہے کہ میں تو صرف یہ کہتا ہوں کہ میں نے کوئی دعویٰ نہیں کیا۔ تو اس سے پوچھا جائے گا۔

حضرت مسلم کے دعوؤں کے لحاظ کا نتیجہ

یہ تو دعوؤں کا ذکر تھا۔ آگے ایک اور بات آتی ہے کہ ہر دعویٰ کے ساتھ کچھ لوازمات ہوتے ہیں۔ جب کوئی دعویٰ کیا جائے تو اس کے لوازمات پورے کرنے پڑتے ہیں۔ تاہم دعویٰ کے لوازمات بھی اس کے دعویٰ کے مطابق ہوتے ہیں۔ اور دعویٰ کے ساتھ کچھ دعوے ہوتے ہیں۔ جب ایک شخص نے دعویٰ کیا کہ میں خدا کی طرف سے آیا ہوں۔ تو اس کے دعویٰ کے لوازمات میں یہ بھی ہے کہ وہ اپنے دعویٰ کے لحاظ سے لوگوں کو اپنے ساتھ ملائے۔ پھر اس کے لوازمات میں یہ بھی ہے کہ وہ اپنے دعویٰ کی تبلیغ کرے۔ اس وقت میں یہ بیان نہیں کرتا کہ وہ کونسی باتیں ہیں جو ایک مسلم کے دعویٰ کے ساتھ لگی ہوئی ہیں۔ وہ بے شمار ہیں۔ جن میں سے پہلی یہ ہی ہے۔ اب تم دیکھو کہ اس وقت ہمارے لوگ کس قدر دعوے کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اور ان کے ساتھ کون ہے۔ اور پھر یہ بھی دیکھو کہ ان کے دعوے کے ساتھ کون کون سی باتیں لگی ہوئی ہیں۔ پس تم ان باتوں کو دیکھو گے تو تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ دعویٰ کیا ہوتا ہے۔ ہو تو اس کے دعویٰ کے لحاظ سے اس کی باتیں ہونی چاہئیں۔

حضرت مسیح موعود کا دعویٰ

اب میں دیکھتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود کے دعویٰ کے لوازمات کیا ہیں۔ آپ کا دعویٰ یہ تھا کہ میں نبی ہوں اور آپ نے یہ بھی فرمایا کہ میں امتی بھی ہوں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ نبی کے دعویٰ کے لوازمات کیا ہیں اور امتی کے لوازمات کیا ہیں۔ نبی کے دعویٰ کے لوازمات یہ ہیں کہ وہ کہے کہ خدا نے مجھے بھیجا ہے۔ اور امتی کے دعویٰ کے لوازمات یہ ہیں کہ وہ کہے کہ میں فلاں نبی کی امت میں سے ہوں پس حضرت مسیح موعود کے دعویٰ کے لوازمات بھی یہی ہیں۔ آپ نے فرمایا ہے کہ میں نبی ہوں۔ اس لئے آپ کا فرض تھا کہ آپ خدا کا پیغام پہنچاتے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ میں امتی ہوں۔ اس لئے آپ کا فرض تھا کہ آپ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کریں۔ غرض ایک طرف آپ کا دعویٰ یہ تھا کہ میں نبی ہوں اور دوسری طرف آپ کا دعویٰ یہ تھا کہ میں امتی ہوں۔ اب اگر آپ نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا تھا تو آپ کا فرض تھا کہ آپ ان لوازمات کو پورا کرتے جو نبی کے لئے ضروری ہیں۔ اور اگر آپ نے امتی ہونے کا دعویٰ کیا تھا تو آپ کا فرض تھا کہ آپ ان لوازمات کو پورا کرتے جو ایک امتی کے لئے ضروری ہیں۔ اور چونکہ آپ نے یہ دونوں دعوے کئے تھے اس لئے آپ کا فرض تھا کہ آپ ان دونوں دعووں کے لوازمات کو پورا کرتے۔ چنانچہ آپ نے ان دونوں دعووں کے لوازمات کو پورا کیا۔ اور اس طرح ثابت کر دیا کہ آپ اپنے دعوے میں سچے ہیں۔ پس اگر کوئی شخص یہ کہے کہ حضرت مسیح موعود نے کوئی دعویٰ نہیں کیا تو ہم اس کی بات کو کس طرح مان سکتے ہیں۔ جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ آپ نے دعویٰ بھی کیا اور اس کے لوازمات کو بھی پورا کیا۔

مرزا بشیر الدین محمود کا خطبہ نکاح ،روزنامہ الفضل قادیان مورخہ 2 نومبر 1922ء جلد 10 شمارہ 35 | یہ حوالہ صفحہ 345 پر درج ہے

Back

صفحہ 913

حوالہ نمبر 333

حیات احمد ۳۵۰ جلد اول حصہ سوم

اور جیسا کہ خدا نے ہم کو فرمایا ہے نجات سب مخلوقات کی اسلام میں سمجھتے ہیں۔ تم کو اگر حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر کچھ اعتراض ہے تو زبان تہذیب سے وہ اعتراض جو سب سے بھاری ہو تحریر کر کے پیش کرو۔ ہم تحریر کر دیتے ہیں کہ اگر وہ اعتراض تمہارا صحیح ہوا تو ہزار روپیہ (نقد) ہم تم کو دیں گے۔ اور تم ایک توبہ لکھ دو گے کہ اگر وہ اعتراض جھوٹا نکلا تو سو روپیہ بطور جرمانہ تم ہم کو دو گے۔ اور اب اگر ہماری یہ تحریر سن کر چپ ہو جاؤ اور اس شرط پر بحث شروع نہ کرو تو ہر ایک منصف سمجھ جائے گا کہ وہ سب توہین تم نے بے ایمانی سے کی تھی۔ اکثر لوگوں کا اکثر قاعدہ ہے کہ آفتاب پر تھوکتے ہیں اور بجھا ہوا چراغ لئے بیٹھے ہو۔ دنیا کو بڑی چیز سمجھ رکھا ہے کہ موت سے ڈرتے نہیں۔ ورنہ ایسے آفتاب کی توہین کرنا جو نور دنیا کا ہے نری حرامزدگی ہے۔ جھوٹے آدمی کی یہ نشانی ہے کہ جاہلوں کے روبرو تو بہت لاف گزاف مارتے ہیں مگر جب کوئی دامن پکڑ کر پوچھے کہ ذرا ثبوت دے کر جاؤ تو جہاں سے نکلے تھے وہیں داخل ہو جاتے ہیں۔ اب ہم نیچے وہ احکام فرقان مجید کے لکھتے ہیں کہ جن میں ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ وید میں یہ تمام احکام ضروریہ ہرگز موجود نہیں۔ اس لئے وید ناقص تعلیم ہے۔ اور تم کہتے ہو کہ ہیں اور ہم کہتے ہیں کہ ہرگز نہیں۔ اور لعنت اس شخص پر کہ جھوٹا ہے۔

اول ۔ خدا تعالیٰ کی نسبت جو احکام فرقان مجید کے ہیں۔ خلاصہ آیات کے نیچے لکھتا ہوں۔

تمہاری روحوں کو پیدا کیا۔ وہی تم سب کا خالق ہے۔ اس بن کوئی چیز موجود نہیں ہوئی۔

عمل کنندہ کے عمل کی پاداش نہیں ہیں۔ محض خدا کی رحمت ہے۔ کسی کو یہ دعویٰ نہیں پہنچتا کہ میری نیکیوں کے عوض میں خدا نے سورج بنایا زمین بچھائی یا سورج پیدا کیا۔

پرستش مت کر۔ تو مشتری ستارے کو مت پوجا کر۔ تو کسی آدم زاد یا اور کسی جسمانی چیز کو خدا مت سمجھ

حوالہ حضرت مسیح موعود کے سوانح حیات جلد دوئم نمبر اول صفحہ 25 مؤلفہ یعقوب علی عرفانی ایڈیٹر الحکم قادیان یہ حوالہ صفحہ 345 پر درج ہے

صفحہ 914

حوالہ نمبر 334

ایام الصلح

٣٠٠

بقیہ حاشیہ صفحہ گذشتہ نمبر ٦

یہ لوگ اصل یہودی ہی ہیں ۔ اور برنیر صاحب اپنی کتاب وقائع عالمگیر میں یہ بھی ثابت کرتے ہیں کہ کشمیر کے قدیم باشندے یہودی ہیں جو وہاں صدیوں رہتے چلے آئے تھے ۔ کشمیر کا تو یہ ذکر ہے ۔ افغانوں کی شکلیں بھی یہودیوں سے بہت ملتی ہیں ۔ کیونکہ جب یہودیوں کو ایک افغانوں کی جماعت کے ساتھ کھڑا کیا جائے تو میں کہتا ہوں کہ ان کا منہ مہاندرا اور ان کا قد و قامت اور چہرہ ایسا ہی باہم مشابہ معلوم ہوگا کہ خود دل بول اٹھے گا کہ یہ لوگ ایک ہی خاندان میں سے ہیں ۔ یہ تو جسمانی اور اخلاقی مشابہت ہے ۔ افغانوں کے لمبے کرتے اور لمبے چغے جو وہی وضع اور پرانے اسرائیلیوں کی ہے جس کا انجیل میں بھی ذکر ہے ۔ باقی بعض قرائن ایسے ہیں کہ وہ صریح یہودیوں سے بہت ملتے ہیں ۔ مثلاً ان کے بعض قبائل قاتلہ اور نکاری ہیں جو بنی قاتلہ اور بنی نکار سے اپنے کو منسوب کرتے ہیں جو قبیلہ بنی اسرائیل کی شاخیں ہیں ۔ نیز علاوہ بریں افغانوں کے بعض قبائل میں یہ رسم ہے کہ نکاح سے قبل مرد کو عورت کے پاس جانے دیتے ہیں ۔ حتیٰ کہ بعض اوقات نکاح سے پہلے حمل بھی ہو جاتا ہے جس کو برا نہیں مانتے بلکہ ہنسی ٹھٹھے میں بات کو ٹال دیتے ہیں کیونکہ یہودی شرع میں منگنی ایک قسم کا نکاح ہی سمجھی جاتی ہے جس میں پہلے مہر بھی مقرر ہو جاتا ہے ۔ جسمانی قرائن کے علاوہ ایک بڑی دلیل یہ ہے کہ افغانوں کا یہ بیان کہ قیس ہمارا مورث اعلیٰ ہے ان کے بنی اسرائیلی ہونے کی تائید کرتا ہے ۔ کیونکہ یہودیوں کی کتب مقدسہ میں سے جو کتاب پہلی تواریخ کے نام سے موسوم ہے اس کے باب ٩ آیت ٣٩ میں قیس کا ذکر ہے ۔ اور وہ بنی اسرائیل میں سے تھا ۔ اس سے یقینی پتہ ملتا ہے کہ یا تو اسی قیس کی اولاد میں سے کوئی افغان قیس ہوگا ۔ جو مسلمان ہو گیا اور صحابہ میں داخل ہونے سے اس کا کوئی اور نام رکھا گیا ہو گا ۔ اور پھر بباعث غلبہ عادت اس کا نام بھی قیس ہی مشہور ہو گیا ۔ بہرحال ایک ایسی قوم کے لئے جو صدہا برس سے بنی اسرائیل ہو کر بھی یہود سے بالکل بے خبر تھی اور محض نادانی اور سادہ لوحی سے کہا جاتا ہے کہ یہ قیس کا لفظ انہوں نے اپنے باپوں سے سنا تھا کہ ان کا مورث اعلیٰ ہے پہلی تواریخ آیت ٣٩ کی یہ عبارت ہے ۔ " اور نیر سے قیس پیدا ہوا اور قیس سے ساؤل پیدا ہوا اور ساؤل سے یہونتن ۔" علاوہ اس کے اخلاقی حالتیں ہیں ۔ جیسا کہ سرحدی افغانوں کی زر دوستی اور سخت مزاجی اور خود غرضی اور گداگری کی حد تک پہنچنے والی حرص اور بے جا جوش اور بے جا تعصبات اور نفسانی اور سفلی خیالات اور جاہل اور بے شعور ہونا یہ سب یہودیوں کی حالت سے مشابہت ہو رہی ہے ۔ یہ تمام صفات وہی ہیں جو توریت اور دوسرے صحیفوں میں اسرائیلی قوم کی لکھی گئی ہیں ۔ اور اگر قرآن شریف کھول کر سورۃ بقرہ میں سے بنی اسرائیل کی صفات اور عادات اور اخلاق اور افعال پڑھنا شروع کرو تو ایسا معلوم ہو گا کہ گویا سرحدی افغانوں کی اخلاقی حالتیں بیان ہو رہی ہیں ۔ اور یہ مشابہتیں یہاں تک

74

عیاں ہیں کہ اکثر مؤرخوں نے بھی یہی خیال کیا ہے ۔ برنیر نے جہاں یہ لکھا ہے کہ کشمیر کے قدیم باشندے بھی دراصل بنی اسرائیل ہیں وہاں بعض افغانوں کا بھی حوالہ دیا ہے ۔ اور ان تمام لوگوں کو بنی اسرائیل ہی میں سے ٹھہرایا ہے جو مشرق میں گم ہو گئے تھے جن کا اب اس زمانہ میں پتہ ملا ہے کہ وہ درحقیقت وہی یہودی مسلمان ہو گئے

یہ حوالہ صفحہ 345, 346 پر درج ہے ایام الصلح صفحہ 74 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 300 از مرزا قادیانی

Back

صفحہ 915

حوالہ نمبر 335

١٣٣ پیدا نہ ہو جاتے تو کوئی بھی پنڈت اُن کو بُرا نہ کہتا۔ اب تو باوا صاحب اپنے چیلوں کی نظر میں کچھ بھی نہیں دید کے مکذب جو ہوئے۔ قولہ ۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اُنہوں نے دیدوں کو نہ سُنا نہ دیکھا۔ کیا کریں جو سُننے اور دیکھنے میں آوے تو پرمان لگ ہے کہ ہٹی درگرہ ہے نہیں وے سب سمجھ داری والے بید مت میں آ جاتے ہیں۔ یعنی نانک وغیرہ اس کے سکھوں نے نہ دیدوں کو سُنا نہ دیکھا کیا کریں جو سُننے یا دیکھنے میں آویں تو جو عقلمند متعصب نہیں وہ فوراً بوجھ سمجھ کر دید کی ہدایت میں آجاتے ہیں۔ اقول اس تمام تقریر سے پنڈت صاحب کا مطلب صرف اتنا ہے کہ باوا نانک صاحب اور اُن کے پیرو لوگ کہ اُنہوں نے دنیا کے لئے دین کو بیچ دیا۔ مگر سوچا نہ یہ تو سچ ہے کہ باوا نانک صاحب نے دید کو چھوڑ دیا اور اس کو گمراہ کرنے والا طومار سمجھا لیکن پنڈت صاحب پر لازم تھا کہ یوں ہی باوا صاحب کے درپے نہ ہو جاتے اور ٹھگ اور مکار اُن کا نام نہ رکھتے بلکہ اُن کے وہ تمام عقیدے جو گرنتھ میں درج ہیں اور مخالفتِ دید میں اپنی کتاب کے کسی صفحہ کے ایک کالم میں لکھ کر دوسرے کالم میں اس کے مقابل پر دید کی تعلیمیں درج کرتے تا عقلمند خود مقابلہ کر کے دیکھ لیتے کہ ان دو تعلیموں سے سچی تعلیم کونسی معلوم ہوتی ہے۔ ظاہر ہے کہ صرف گالیاں دینے سے کام نہیں نکلتا۔ ہر یک حقیقت مقابلہ کے وقت معلوم ہوتی ہے اور ناحق گالیاں دینا سفلوں اور کمینوں کا کام ہے۔ قولہ: بھگت جی بڑے دیانتدار اور رئیس بھی نہ تھے۔ پرنتو اُن کے چیلوں نے نانک چندرودے اور جنم ساکھی وغیرہ میں بڑے بھدے اور بڑے بیشرم حوالے لکھے ہیں۔ بھگت جی غریب آدمی تھے۔ کہ بڑی بات حیرت کی سب نے ان کا مان کیا۔ بھگت جی کے بیاہ میں گھوڑے، رتھ، ہاتھی سونا چاندی موتی پنا اور رتنوں سے جڑے ہوئے ہار اور ٹھاٹھ لکھا ہے۔ بھلا یہ گپوڑے نہیں تو کیا ہے یہ نانک جی کہیں کے مالدار اور رئیس نہیں تھے۔ مگر اُن کے چیلوں نے چوتھی جنم ساکھی وغیرہ میں بڑے دولتمند اور بھگت کر کے لکھا ہے ۲۱

ست بچن صفحہ 21 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 133 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 349 پر درج ہے

صفحہ 916

حوالہ نمبر 336

آسمانی فیصلہ

۲۵

خلق وعالم خود وشہ وشاہ قاطبتہ در مقام ہیچ اند آں یکے جان بخشی بدل واں دگر را بخشد دہی بدگل چشمہ کوثر دہی بدل زکو یکہ و گدایاں فدایت تو سر چشمہ فیض و جودے

غرض خداوند قادر و قدوس نے ہی مجھ پر کلام کیا ہے اور حجت تمام عالم پر تمام کی کہ مرزا جاہل اور کاذبوں کے زمرہ میں داخل ہے۔ دنیا میں اپنا نام و نمود کیا چاہتا ہے۔ ایک ہی بات ہے جو کہی ہے افسوس کہ اس ظالم نے نبوّت کی بات کو بہت دور ڈالا۔ باللہ جھوٹے کو اس بات پر قادر نہ کرے گا جو چاہے کرلے اور جسکو چاہے ہلاک کر کے جئے۔ کیا انسان میں یہ ہو سکتا ہے یا آدم زاد کو اس بات کا دعویٰ کرنے کا حق ہے ہے کہ تو نے ایسا کیوں کیا ایسا کیوں نہیں کیا کیا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ ایک کی قوّت کو سلب دوسرے کو عطا کرے اور ایک کے رنگ اور کیفیت کو دوسرے میں رکھ دیوے حاشا و کلا ہم سو دفعہ کہہ دیویں کہ وہ شخص اگر انسان کو محیّر العقول امور دکھاوے تو کیا یہ ناممکن ہے یا محال ہے۔ باایں ہمہ ان باتوں کو جو احادیث میں لکھے ہیں بلا شبہ اور بلاشائبہ ہر ایک بات پر قادر ہے اور اپنی باطنی اور غیبی پیشنگوئیوں کو جس طرز اور طریق اور جس پیرایہ سے چاہے ظہور کر سکتا ہے۔ ناظرین تم آپ ہی سوچو اور دیکھو کہ کیا آنیوالے عیسیٰ کی نسبت کسی جگہ یہ بھی لکھا تھا کہ وہ دراصل وہی بنی اسرائیل عیسیٰ صاحب انجیل ہو گا بلکہ بخاری میں جو بعد کتاب اللہ اصح الکتب کہلاتی ہے بجائے ان باتوں کے إِمَامُكُمْ مِنْكُمْ لکھا ہے اور حضرت عیسیٰ کی وفات کی شہادت دی ہے پھر یہ کیسی بین کھلی کھلی صریح کذب ہے کہ کیا قرآن کریم میں کہیں یہ بھی لکھا ہے کہ کسی وقت کوئی عیسیٰ نام کا مہروں کو توڑنے والا اور وحیوں کو منسوخ کرنیوالا اور خود مختار بن کر نیا حکم لانے والا اور قرآن کریم کے بعض احکام کو منسوخ کرنیوالا ظہور کریگا اور آیت الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ اور آیت خَاتَمَ النَّبِيِّينَ اُس وقت منسوخ ہو جائیگی اور نئی وحی قرآنی وحی پر ناسخ ٹھہرے گی۔ اے لوگو مسلمانوں کی ذریت کہلانے والو ذرا سوچو تو سہی یہ خرافات تم مانتے ہو پھر دین حق کا نیا سلسلہ جاری نہ کرو اور اس خدا سے شرم کرو جسکے سامنے حاضر کئے جاؤ گے۔ بالاخر میں ناظرین کو مطلع کرنا چاہتا ہوں کہ جن باتوں پر حضرت مولوی نذیر حسین صاحب اور اُنکی جماعت نے تکفیر کا فتویٰ دیا ہے اور میرا نام کافر اور دجّال رکھا ہے اور وہ گالیاں دی ہیں کہ کوئی مہذب آدمی غیر قوم کے آدمی کی نسبت بھی پسند نہیں کرتا۔ اب یہ دعویٰ کیا ہے کہ گویا یہ باتیں میری کتاب توضیح مرام اور ازالۃ الاوھام میں درج ہیں۔ میں انشاء اللہ القوّی عنقریب ایک مفصل رسالہ

عہ حاشیہ : ص ۲۴ سے الی بقیہ ۲۹ ۴۳۵

آسمانی فیصلہ صفحہ 25 مندرجہ روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 315 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 349 پر درج ہے

صفحہ 917

(حوالہ نمبر 337)

۶۴

عمل میں خلل آسکتا ہے، الغرض آنحضرت کے اخلاق کا مسئلہ ایسے امور سے متعلّق ہے جو حق العباد و انفسہم الخ یعنی ان میں تفاوت نہ تھا۔

ہماری جماعت کو مناسب ہے کہ وہ اخلاقی ترقی کریں

پس ہماری جماعت کو مناسب ہے کہ وہ اخلاقی ترقی کریں کیونکہ آپ کے تمام دعویٰ کا حصر اسی پر ہے اور یاد رکھیں کہ اگر کوئی تندخو تیزی سے آوے تو میں اس کا جواب نرمی اور ملاطفت سے دوں غصہ اور جبر کی صورت اختیار کرنا کبھی نہ پسند کروں۔ خدا تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے کہ آپ اعلٰی خُلق پر ہیں، بلاشبہ اخلاق کی حالت میں انسان جاہل اور غصہ والے جاہل کو سنبھال نہیں سکتا اور اخلاق سے ٹل جانا اخلاق کی حالت سے گر جانا ہے، گو عالمیت اور بزرگی خیال میں ہو مگر یہ نخوت پیدا کرتی ہے اور تیزی والے انسان میں بدی ہے کہ ایک زمانہ کے لئے ڈراؤنا اور گندا کرے، گو مکر والوں نے دیکھ کر اُسے کتے سے ملا دیا ہے۔ ایک جاہل اور اوباش کی قوت کیسی ہوتی ہے ہاں جب وہ کسی کو تکلیف دیا کرتی ہے اس لئے جب جاہل کسی انسان سے پیش آتا ہے۔ اسی طرح سے انسان کو چاہیے کہ جب کوئی شریر آدمی اسے گالی دے تو اس کو لازم ہے کہ اعراض کرے، نہیں تو وہی آیت اس پر صادق آئے گی۔ خدا کے مقرّبوں کو بڑی بڑی گالیاں دی گئیں۔ بہت ہی ان کو برا بھلا کہا گیا، مگر اُنہوں نے اُف نہ کی ، خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ (الاعراف: ١٩٩) کا ہی لحاظ رکھا۔ خود اس انسان کا دل جلتا ہے تبھی تسلی ہوتی ہے، مگر آپ کی عظمتِ ذات نے اس کے مقابلہ میں کیا کیا، اُن کے لیے دعائیں کیں اور جو کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا کہ جاہلوں سے اعراض کرو تو اُن کی ذلت اور ہلاکت ہم تمھیں دکھلائیں گے اور یہ ہماری ذمّہ ہے کہ وہ تم پر حملہ نہ کر سکیں گے، چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ حضور کے مخالف آپ کی ہیبت سے موت کا شکار ہو گئے اور قوی دلائل دیکھ کر آپ کے قدموں پر گرے یا سامنے تباہ ہوئے۔ غرض یہ سنّتِ الٰہی ہے کہ جاہلوں کی گالیوں کو سہنے میں ہی اصلاح ہو سکتی ہے ورنہ تو بہیمیت ہے۔ اگر کوئی جاہل یا اوباش گالی دے یا کوئی شرارت کرے جس قدر اس سے اعراض کرو گے، اسی قدر اُس کے شر سے بچو گے اور جس قدر اس سے الجھ پڑو گے اور مقابلہ کرو گے تباہ ہو جاؤ گے اور ذلت خریدو گے۔ نفسِ امّارہ کی حالت میں انسان کا ملکہ شیطانی طور پر غالب ہو جاتا ہے، اور شیاطین کا وہی رنگ سفلی اخلاق کہلاتا ہے، جو دنیا میں چند اشرار اور دنیا داروں سے پیدا ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں شیاطین نہیں ہوتے، جہاں تمکنت ہوتی ہے، خدائی انوار نہیں آتے، وہاں کالا سانپ اندر زمین ہو جاتا ہے۔

جماعتِ احمدیہ کے لیے بشارتِ عظیم

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے: وَجَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا اِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ (آل عمران: ۵۶) یہ

ملفوظات جلد اول صفحہ 64 طبع جدید از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 349 پر درج ہے

صفحہ 918

حوالہ نمبر 338 قادیان کے آریہ اور ہم ۴۵۸

اے دل میں اپنا قصہ تم کو تو کیا سناؤں تجھ کو تو کچھ خبر ہے یہ ماجرا یہی ہے
دل کر کے پارہ پارہ پھرتی ہے اک نظارہ دیوانہ کر دیا ہے جو عقل رسا یہی ہے
اے میرے یار جانی کر خود ہی مہربانی مت کہہ کہ آشنائی تم بے وفا یہی ہے
فرقت میں کیا بنی ہے ہر دم میں جانکنی ہے عاشق ہیں ہم تمہارے سچا مدعا یہی ہے
تیری وفا ہے پوری ہم میں ہے عیب کوری طاعت بھی بے دلی کی ہم پر جفا یہی ہے
تجھ میں وفا ہے پیارے سچے ہیں عہد سارے ہم جائیں کس کنارے جائے بقا یہی ہے
ہم نے نہ عہد پالا یاری میں رخنہ ڈالا پر تو ہے فضل والا ہم سے خفا یہی ہے
اے میرے دل کے والی قدرت ہے اک نرالی بکتے ہیں کیوں معاند جو کچھ ہوا یہی ہے
اک دیں کی غربتوں کا غم کھا گیا ہے مجھ کو سینہ پہ دشمنوں کے پتھر پڑا یہی ہے
کیونکر نہ زار رووے کیونکر فدا نہ ہووے ظالم جو حق کا دشمن وہ مبتلا یہی ہے
کیسا زمانہ آیا جس میں یہ فتنہ اٹھایا جو بے کسی ہے دیں کی وہ آسرا یہی ہے
شیدائی بد چلن ہیں دیں کی کیا خاک لگن ہے سرچشمہ جو کفر کا ہے وہ ابتدا یہی ہے
آنکھیں ہر ایک دیں کی بے نور ہو رہی ہیں تنویر معرفت کی اب کیا ضیا یہی ہے
لیل و نہار میں دیکھو آؤ وہ دن بھی دیکھو سب جھوٹوں کو دیکھا دل میں دغا یہی ہے
اُٹھ کر یہاں سے بچنا آگے بہت خطرہ ہے کہتا ہے جس کو حق وہ اک کیمیا یہی ہے
پر کوروں کی آنکھیں اندھی ہوئی ہیں ایسی وہ گالیوں پہ اُترے دل میں بھرا یہی ہے
بدتر ہر ایک بد سے وہ ہے جو بد زباں ہے جس دل میں یہ خباثت بیت الخلا یہی ہے

۲۶

قادیان کے آریہ اور ہم صفحہ 61 مطبوعہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 458 یہ حوالہ صفحہ 349 پر درج ہے

Back

صفحہ 919

حوالہ نمبر 339

بقیہ خطبہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی فرمودہ ۱۷ اگست ۱۹۱۷ء

عادل و منصف کا تقاضا ہے کہ وہ بھی اپنے اثرات رکھ سکتے ہیں۔ پس ہم تھے جنہیں دیکھ کر میرا دل ان سے بغض رکھنے کے لئے تیار لوگوں نے بڑے فخر سے یہ مان لیا ہے۔ کہ اس جماعت نے اس کا فیصلہ کیا ہے کہ ہم میں وہ باتیں نہیں رہیں جو پہلے اور ہم نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ہم حضرت مسیح موعودؑ کی جماعت صلح کل ہیں۔ ہم نے اس بات کو نہیں سمجھا کہ صلح کل نہ صلح کل ہیں اور نہ سخت۔ ہم تو وہ ہیں جو خدا تعالیٰ فرماتا ہے ہم کہتے ہیں خدا تعالیٰ ہم پر رحم کرے اور ہمیں اس مقام ہم کہتے ہیں کہ ہم میں ایسا شخص پیدا ہو جو اس وقت کی ہم وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم میں ایسا شخص پیدا ہو جو ہمیں حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے ہمیں ذلیل سمجھا جاتا ہے ہم کہتے ہیں ہم میں یہ باتیں نہیں۔ ہمیں ذلیل سمجھا جاتا ہے صلح کل ہونے کے یہ معنی ہیں کہ شرائط کے ساتھ صلح کی جائے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم کو جو کوئی ایسی بات کہے تو ہم حضرت مسیح موعودؑ کو ایسا ہی سمجھتے ہیں جیسے خدا تعالیٰ جو شریعت لائے ہیں۔ اس میں بھی ہم کو صلح کل بنایا تو وہ اس وقت تک اپنے مقام میں کامیاب نہیں ہو سکتا صلح کل ہونے کی کیا وجہ ہے؟ کیا اس میں کسی کو بیشک نہیں ہوتی۔ آخر یہ صلح کل ہونے کی کیا وجہ ہے؟ سوائے اس کے کہ انسان اپنے دعویٰ میں سچا ہو۔ کیونکہ ہمیں بھی جب کوئی شخص اپنے دعویٰ میں سچا ہو تو وہ یہاں تک تو صلح کل ہونے کا تعلق ہے۔ اب میں دیکھتا ہوں پناہ مانگتا ہے۔ حضرت مسیح موعود نے فرمایا ہے کہ اس کا نام احمد ہے اور ہمارا عقیدہ ہے کہ یہ نام اسے خدا تعالیٰ نے دیا ہے اور یہ نام اسے اور اسے ہر بات میں اتباع سنت ہے۔

وفات مسیح

ایک اور بات میں اختلاف حضرت مسیح کی وفات کے متعلق ہے۔ اس کے متعلق بھی کچھ سننا چاہئے۔ اس میں ہم تو یہ کہتے ہیں کہ وفات مسیح کے متعلق جو ہمارا عقیدہ ہے۔ وہ یہ ہے کہ ہم مانتے ہیں کہ وہ فوت ہو گئے اور ان سے وفات پانے کا ذکر کیا ہے۔ یہ تو ایک کھلی اس قول کے سوا اور کیا معنی ہیں کہ وہ فوت ہو گئے اس کے سوا اور کیا معنی ہیں کہ ان کے بعد کوئی نبی وفات پانے کا ذکر قرآن کریم میں ہے۔ مگر وہ کہتے ہیں

میں آپ کو یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ آپ نے اپنے دل میں اس بات کو جگہ دی ہے۔ اور آپ کے دل میں یہ بات ہے کہ ہمیں صلح کل ہونا چاہئے۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ صلح کل کے کیا معنی ہیں اگر اس کے یہ معنی ہیں کہ انسان ہر ایک کی ہاں میں ہاں ملائے تو یہ منافقت ہے۔ اور اگر اس کے یہ معنی ہیں کہ ہر ایک کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کیا جائے تو میں کہتا ہوں کہ یہ بھی صلح کل نہیں ہے۔ کیونکہ قرآن شریف میں ہے کہ کفار کے ساتھ سختی کرو پس صلح کل ہونے کے یہ معنی نہیں ہیں۔ ہاں اگر کوئی یہ کہے کہ صلح کل ہونے کے یہ معنی ہیں کہ ہر ایک کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کیا جائے جب تک کہ وہ شرارت نہ کرے۔ تو یہ درست ہے۔ مگر اس کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ شرارت نہ کرے۔ پس میں کہتا ہوں کہ اگر تم صلح کل بننا چاہتے ہو تو پہلے اس بات کو سمجھ لو کہ صلح کل کیا ہے۔ اور پھر اس پر عمل کرو۔ میں نے دیکھا ہے کہ بعض لوگ صلح کل بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور اس کوشش میں وہ منافقت تک پہنچ جاتے ہیں۔ ان کو چاہئے کہ وہ اس بات کو سمجھیں کہ صلح کل ہونا کیا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ہر ایک کے ساتھ ہمدردی کرو۔ اور ہر ایک کی تکلیف دور کرنے کی کوشش کرو۔ مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ تم اس کے دین میں بھی اس کے ساتھ شریک ہو جاؤ بلکہ اس کے دین کی مخالفت کرو۔ اور اس کو سمجھاؤ کہ تو جس دین پر ہے وہ غلط ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ بعض لوگ صلح کل بننے کی کوشش میں اس حد تک پہنچ جاتے ہیں کہ وہ دوسروں کے عقائد کو بھی سچا ماننے لگتے ہیں۔ حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ہر ایک سے ہمدردی کرو۔ مگر اس کے عقائد کی مخالفت کرو۔ پس تم صلح کل بنو مگر اس طرح کہ ہر ایک کے ساتھ ہمدردی کرو۔ اور ہر ایک کی تکلیف دور کرنے کی کوشش کرو۔ مگر اس کے عقائد کی

میں تمہیں کہتا ہوں کہ تم اپنے اندر ایک تبدیلی پیدا کرو اور اپنے اندر ایک ایسی روح پھونکو کہ جس سے تم دنیا کو فتح کر سکو۔ میں دیکھتا ہوں کہ ہمارے اندر وہ روح نہیں ہے جو صحابہؓ میں تھی۔ صحابہؓ نے دنیا کو فتح کر لیا۔ مگر ہم ابھی تک اپنے نفس کو بھی فتح نہیں کر سکے۔ پس میں تمہیں کہتا ہوں کہ تم اپنے اندر ایک تبدیلی پیدا کرو۔ اور اپنے اندر ایک ایسی روح پھونکو کہ جس سے تم دنیا کو فتح کر سکو۔ میں دیکھتا ہوں کہ بہت سے لوگ محض باتوں سے کام لیتے ہیں مگر عمل ان کا کچھ نہیں ہوتا۔ یہ حالت بہت خطرناک ہے خدا تعالیٰ باتوں سے خوش نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ عمل کو دیکھتا ہے۔ پس تم اپنے عملوں کو درست کرو۔ اور خدا تعالیٰ کے احکام کی پوری پوری پابندی کرو۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بار بار اس بات کی تاکید کی ہے کہ تم اپنی حالتوں کو درست کرو۔ اور خدا تعالیٰ کے احکام پر چلو۔ اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو تمہارا انجام بہت برا ہوگا۔ پس تم ہوشیار ہو جاؤ اور اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے فضلوں کا وارث بناؤ۔ یہ دنیا ایک عارضی جگہ ہے۔ اور یہاں کی ہر چیز فنا ہونے والی ہے۔ اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے۔ پس تم اس زندگی کی فکر کرو۔ اور اس کے لئے تیاری کرو۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

روزنامہ الفضل قادیان 21 اگست 1917ء جلد 5 نمبر 15 صفحہ 8 یہ حوالہ صفحہ 361 پر درج ہے

صفحہ 920

حوالہ نمبر 340 نمبر ۴ ریویو آف ریلیجنز ۱۶۹

جس سے ظاہر ہے کہ مسیح کے ماننے والوں (خواہ حقیقی طور پر پیرو ہوں یا برائے نام) کا جب کبھی منکران مسیح سے مقابلہ ہوگا۔ تو متبعان مسیح ان منکران مسیح پر غالب رہے۔ حالانکہ موجودہ عیسائی مسیح کے پیرو نہیں بلکہ صرف اسمی طور پر اسکی طرف منسوب ہیں۔ اگر پیشگوئی کا تعلق غلبہ حقیقی متبعین سے ہوتا تو عیسائیوں کا غلبہ ہرگز نہ ہوتا۔ پس برائے نام پیرووں کا غلبہ ثبوت ہے اس بات کا کہ پیشگوئی کا تعلق اسم سے ہوتا ہے اسلئے جب تک موجودہ مدعیان اسلام جو اسمی طور سے مسلمان کہلاتے ہیں اور عیسائیوں اور یہودیوں میں مل نہیں جاتے۔ اسوقت تک اگر وہ مکہ مدینہ پر قابض رہیں تو پیشگوئی کے صدق پر کوئی نقص لازم نہیں آتا۔ پھر ہم کہتے ہیں کہ یہ اعتراض تو غیر احمدیوں کی طرف سے ہو سکتا ہے خلافت کے منکرین کی طرف سے نہیں ہو سکتا کیونکہ خلافت کے منکرین کے لئے تو اتنا سوچنا ہی کافی ہے کہ مکہ مدینہ کے علماء کی طرف سے بھی ان موجودہ پیشواؤں کا فتویٰ مانگ چکے ہیں پس وہ تو تکفیر کی وجہ سے کافر بن چکے ہیں اور تکفیر کا مسئلہ منکرین خلافت کے نزدیک بھی مسلم ہے۔ فتدبروا

گیارھواں اعتراض : پیش کیا جاتا ہے کہ اچھا اگر حضرت مسیح موعود واقعی اپنے منکروں کو کافر سمجھتے تھے تو کیوں آپ نے ان سے وہ سلوک روا رکھا جو کافروں سے جائز نہیں۔

تو اس کا جواب یہ ہے کہ ایسا اعتراض کرنا معترض کی ناواقفیت پر دلالت کرتا ہے کیونکہ ہم تو دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود نے غیر احمدیوں کے ساتھ صرف وہی سلوک جائز رکھا ہے جو نبی کریم نے عیسائیوں کے ساتھ کیا۔

غیر احمدیوں سے ہماری نمازیں الگ کی گئیں ان کو لڑکیاں دینا حرام قرار دیا گیا۔ انکے جنازے پڑھنے سے روکا گیا اب باقی کیا رہ گیا ہے جو ہم انکے ساتھ ملا کر سکتے ہیں۔ دو قسم کے تعلقات ہوتے ہیں ایک دینی دوسرے دنیوی۔ دینی تعلق کا سب سے بڑا ذریعہ عبادت کا اکٹھا ہونا ہے اور دنیوی تعلقات کا بھاری ذریعہ رشتہ و ناطہ ہے سو یہ دونوں ہمارے لئے حرام قرار دئے گئے ۔ اگر کہو کہ ہم کو ان کی لڑکیاں لینے کی اجازت ہے تو میں کہتا ہوں نصاریٰ کی لڑکیاں لینے کی بھی اجازت ہے۔ اور اگر یہ کہو کہ غیر احمدیوں کو سلام

کلمۃ الفصل صفحہ 169، 170 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 362 پر درج ہے

صفحہ 921

حوالہ نمبر 340

۱۷۰ کلمۃ الفصل جلد ۲

مجبور کیا جاتا ہے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ حدیث سے ثابت ہے کہ بعض وقت آنحضرت نبی کریم نے یہود تک کو سلام کا جواب دیا ہے ہاں شرارتیوں کو حضرت مسیح موعود نے کبھی سلام نہیں کیا اور نہ انکو سلام کہنا جائز ہے غرض ہر ایک طریقہ سے ہم کو حضرت مسیح موعود نے غیروں سے الگ کیا ہے اور اب کوئی تعلق نہیں جو اسلام نے مسلمانوں کے لئے خاص کیا ہو اور پھر ہم کو اس سے نہ روکا گیا ہو۔ اس جگہ یہ اعتراض پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ بات ہے تو کیوں ایک احمدی عورت کا نکاح فسخ نہیں قرار دیا جاتا اس کا خاوند غیر احمدی ہے یا کیوں ایک احمدی باپ کا ترکہ غیر احمدی بیٹے کو ملتا ہے حالانکہ مسلمان کا کافر وارث نہیں ہو سکتا تو اس کا جواب یہ ہے کہ شریعت کے احکام دو قسم کے ہیں ایک وہ جو ہر ایک انسان کے لئے ہیں اور ایک وہ جو صرف حکومت کے لئے ہیں مثلاً نماز پڑھنا ہر ایک کا فرض ہے لیکن چور کے ہاتھ کاٹنا ہر ایک کا فرض نہیں بلکہ حکومت کا فرض ہے اسی طرح روزہ رکھنا ہر ایک مسلمان کے لئے فرض ہے مگر زانی کو سنگسار کرنا ہر ایک مسلمان کا فرض نہیں بلکہ صرف اسلامی حکومت کا فرض ہے اب گو اس اصول کے ماتحت غیر احمدیوں اور احمدیوں کے تعلقات پر نظر ڈالی جاوے تو سارے جھگڑے کا فیصلہ ہو جاتا ہے اور وہ اس طرح کہ چونکہ نماز وغیرہ کے احکام حکومت کے ساتھ تعلق نہیں رکھتے اس لئے ان پر عملدرآمد کا حکم دیا گیا یہی حال جنازوں اور رشتے ناطوں کا ہے لیکن وراثت اور نکاح فسخ ہو جانے کا مسئلہ حکومت کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اس لئے حضرت مسیح موعود نے اس کے متعلق کچھ نہیں لکھا گویا اگر حکومت دی جاتی تو آپ اسکے متعلق بھی حکم جاری فرماتے پس مسئلہ وراثت کے متعلق ہم پر کوئی اعتراض نہیں ہاں اگر کوئی ایسا مسئلہ ہے جو حکومت کے ساتھ تعلق نہیں رکھتا اور پھر حضرت مسیح موعود نے اس کے متعلق فیصلہ نہیں فرمایا تو اسکو پیش کیا جاوے ورنہ یہ کہنا کہ غیر احمدیوں کے ساتھ بعض اسلامی سلوک جائز رکھے گئے ہیں ایک دعویٰ ہے جسکی کوئی بھی دلیل نہیں۔ فتدبروا

بارھواں اعتراض :۔ یہ کیا جاتا ہے کہ حضرت مسیح موعود نے جو عبدالحکیم کو خط لکھا ہے اس میں آپ نے لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا ہے کہ جسکو تیری دعوت پہنچی ہے اور اس نے تجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں اس سے پتہ لگتا ہے کہ کم از کم وہ لوگ کافر

کلمۃ الفصل صفحہ 169، 170 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 362 پر درج ہے

Back

صفحہ 922

حوالہ نمبر 341

۴۱۸ أُولُوا الْعَزْمِ . أَلَا إِنَّهَا فِتْنَةٌ مِّنَ اللّٰهِ لِيُحِبَّ حُبًّا جَمًّا . حُبًّا مِّنَ اللّٰهِ الْعَزِيْزِ الْأَكْرَمِ. عَطَاءً غَيْرَ مَجْذُوْذٍ . وَفِي اللّٰهِ اِبْدَالٌ وَ يُرْضِيْ عَنْكَ رَبُّكَ وَيُتِمُّ اسْمَكَ . وَعَسٰى أَنْ تُحِبُّوْا شَيْئًا وَّ هُوَ شَرٌّ لَّكُمْ وَعَسٰى أَنْ تَكْرَهُوْا شَيْئًا وَّ هُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ لے

ڈر نہ ۔ اور جو تجھے رنج پہنچے گا وہ تو خدا کی طرف سے ہے۔ جب وہ باران عظیم تامہ پر مہر لگاوے گا تو بڑا فتنہ برپا ہو گا۔ پس تو صبر کر جیسا کہ اولوالعزم نبیوں نے صبر کیا ۔۔۔۔ یہ فتنہ خدا کی طرف سے قدرتی ہو گا وہ تجھ سے بہت محبت کرے۔ جو دائمی محبت ہے جو کبھی منقطع نہیں ہو گی ۔ اور خدا میں تیرا ابدال ہے خدا تجھ سے راضی ہو گا اور تیرا نام کو پورا کرے گا۔ بہت ایسی باتیں ہیں کہ تم چاہتے ہو مگر وہ تمہارے لئے اچھی نہیں۔ اور بہت ایسی باتیں ہیں کہ تم نہیں چاہتے اور وہ تمہارے لئے اچھی ہیں ۔ اور خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ۔

(اربعین نمبر ۴ صفحہ ۲۳ ، ۲۴ ۔ روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۴۱۱ تا ۴۱۳ و ضمیمہ تحفہ گولڑویہ صفحہ ۱۴ تا ۱۶ ۔

روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۵۱ تا ۶۵)

١٩٠٠ء

"خدا نے مجھے اطلاع دی ہے تمہارے پر حرام ہے اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر اور مکذب یا متردد ے کے پیچھے نماز پڑھو ۔ بلکہ چاہئے کہ تمہارا وہی امام ہو جو تم میں سے ہو ۔ اسی کی طرف حدیث بخاری کے ایک پہلو میں اشارہ ہے کہ اِمَامُكُمْ مِّنْكُمْ "

(اربعین نمبر ۳ حاشیہ صفحہ ۲۸ ۔ روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۴۱۷)

١٩٠٠ء

" اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ جَعَلَكَ الْمَسِيْحَ ابْنَ مَرْيَمَ . اَنْتَ الشَّيْخُ الْمَسِيْحُ الَّذِيْ لَا يُضَاعُ وَقْتُهُ . كَمِثْلِكَ دُرٌّ لَا يُضَاعُ " یعنی خدا کی سب حمد ہے جس نے تجھ کو مسیح ابن مریم بنایا۔ تو وہ شیخ مسیح ہے جس کا وقت ضائع نہیں کیا جائے گا تیرے جیسا موتی ضائع نہیں کیا جاتا۔ اور پھر فرمایا :- " لَنُحْيِيَنَّكَ حَيٰوةً طَيِّبَةً . ثَمَانِيْنَ حَوْلًا أَوْ قَرِيْبًا مِّنْ ذٰلِكَ . وَتَرٰى نَسْلًا بَعِيْدًا.

لے چونکہ کئی دفعہ کئی ترتیبوں کے رنگ میں یہ الہامات ہو چکے ہیں اس لئے فقرات کے جوڑنے میں ایک خاص ترتیب کا لحاظ نہیں ۔ ہر ایک ترتیب فہم ملہم کے مطابق الہامی ہے

(اربعین نمبر ۴ صفحہ ۲۴ حاشیہ ۔ روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۴۱۳)

ے یعنی مُتَرَدِّد بَيْنَ التكفير والتكذيب ۔ (مرتب)

تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 318 طبع چہارم از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 362 پر درج ہے

صفحہ 923

حوالہ نمبر 342

۴۴۹ پھلنے میں دیر لگتا ہے ، حق اس کی راہ بھی طیار کرتا ہے ٭

۲۰ فروری ۱۹۰۱ء

استغفار

ایک شخص نے قرض کے واسطے دعا کے لیے عرض کی ، فرمایا : استغفار بہت پڑھا کرو ۱؂

عربی تفسیر کے لیے غیبی قوت

ترجمہ کے متعلق فرمایا : علماء تھوڑے رہ گئے ہیں۔ اب تو ہم اس طرح جلدی جلدی لکھتے ہیں ۔ جیسے ندی بہتی جاتی ہے بلکہ کئی دفعہ تو قلم برابر چلتا ہے اور ہم نہیں جانتے کہ کیا لکھ رہے ہیں ۲؂

غیروں کے پیچھے نماز

کسی نے سوال کیا کہ جو لوگ آپ کے مرید نہیں، ان کے پیچھے نماز پڑھنے سے آپ نے اپنے مریدوں کو کیوں منع فرمایا ہے، حضرت نے فرمایا : جن لوگوں نے جلد بازی کے ساتھ بدظنی کر کے اس سلسلہ کو جو اللہ تعالیٰ نے قائم کیا ہے، ردّ کر دیا ہے اور اس قدر نشانوں کی پروا نہیں کی اور اسلام پر جو مصائب ہیں، اس سے لاپروا پڑے ہیں۔ ان لوگوں نے تقویٰ سے کام نہیں لیا۔ اور اللہ تعالیٰ اپنے پاک کلام میں فرماتا ہے۔ اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰہُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ (المائدۃ) خدا صرف متقی لوگوں کی نماز قبول کرتا ہے۔ اس واسطے کہا گیا ہے کہ ایسے آدمی کے پیچھے نماز نہ پڑھو جس کی نماز خود قبولیت کے درجہ تک پہنچنے والی نہیں

مسیح موعود کو نہ ماننے کا نتیجہ

قدیم سے بزرگان دین کا یہی مذہب ہے کہ جو شخص حق کی مخالفت کرتا ہے اس کا سلب ایمان ہو جاتا ہے۔ جو پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ مانے وہ کافر ہے، مگر جو مہدی اور مسیح کو نہ مانے اس کا بھی سلب ایمان ہو جائے گا۔ انجام ایک ہی ہے، پہلے مخالفت ہوتی ہے پھر اجنبیت، پھر عداوت، پھر کفر اور آخر کار سلب ایمان ہو جاتا ہے

۱؂ الحکم جلد ۵ نمبر ۶ ص ۱۰ پرچہ ۲۴ فروری ۱۹۰۱ء ۲؂ الحکم جلد ۵ نمبر ۶ ص ۱۰ پرچہ ۲۴ فروری ۱۹۰۱ء

ملفوظات جلد اول صفحہ 449 طبع جدید از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 363 پر درج ہے

صفحہ 924

حوالہ نمبر 343

۵۱۵ ہیں اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ بھی اُن کے ساتھ افراط و تفریط کا معاملہ کرتا ہے“

ایک شخص نے پوچھا کہ میں کیا وظیفہ پڑھا کروں ۔ فرمایا :

استغفار

بہت پڑھا کرو ۔ انسان کی دو ہی حالتیں ہیں ۔ یا وہ گناہ نہ کرے یا اللہ تعالیٰ اس گناہ کے انجام سے بچاوے ۔ استغفار پڑھنے کے وقت دونوں معنوں کا لحاظ رکھنا چاہیے ۔ ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ سے گزشتہ گناہوں کی پردہ پوشی چاہے اور دوسرا یہ کہ خدا سے توفیق چاہے کہ آئندہ گناہوں سے بچائے رکھے ۔ استغفار صرف زبان سے ہی نہیں ہوتا ، بلکہ دل سے چاہیے ۔ نماز میں اپنی زبان میں بھی دعا مانگنا یہ ضروری ہے ۔

ہر نیکی کی جڑ یہ اتقاء ہے

فرمایا : تقویٰ اختیار کرو ۔ تقویٰ ہر چیز کی جڑ ہے ۔ تقویٰ کے معنی ہیں ہر ایک باریک سے باریک گناہ سے بچنا ۔ تقویٰ اس کو کہتے ہیں کہ جس امر میں بدی کا شبہ بھی ہو ، اس سے بھی کنارہ کرے ۔

فرمایا : دل کی مثال ایک بڑی نہر کی سی ہے جس میں سے اور چھوٹی چھوٹی نہریں نکلتی ہیں ۔ جن کو کھال کہتے ہیں یا واہا بولتے ہیں ۔ دل کی نہر میں سے بھی چھوٹی چھوٹی نہریں نکلتی ہیں مثلاً زبان وغیرہ ۔ اگر چھوٹی نہر یا حصہ کا پانی خراب اور گندہ اور مکدر ہو تو قیاس کیا جاتا ہے کہ بڑی نہر کا پانی خراب ہے۔ پس جو کسی کو دیکھے کہ اُس کی زبان یا دست و پا وغیرہ میں سے کوئی فعل ناپاک ہے ، تو سمجھو کہ اس کا دل بھی بیمار ہے ۔

غیروں کے پیچھے نماز پڑھنے کی حکمت

(اپنی جماعت کا غیر کے پیچھے نماز پڑھنے کے متعلق ذکر تھا ۔ فرمایا :) ” میرا تو یہی مذہب ہے کہ اپنی جماعت کے غیر کے پیچھے نماز مت پڑھو ۔ یہ بڑی بے دینی کی بات ہے ۔ اس میں تمہاری نصرت اور فتح عظیم ہے ۔ اور یہی اس جماعت کی ترقی کا موجب ہے ۔ دیکھو دنیا میں بُرے سے بُرے اور ایک دوسرے سے ناراض ہونے والے بھی اپنے دشمن کا پانی منہ نہیں لگاتے اور تمہاری لڑائی اللہ تعالیٰ اور دین کے لیے ہے ۔ تم اگر ان میں ملے جلے رہے تو خدا تعالیٰ جو خاص فضل تم پر رکھتا ہے وہ نہیں رکھے گا ۔ ایک جماعت جب الگ ہو، تو پھر اس میں ترقی ہوتی ہے ۔“

ملفوظات جلد اول صفحہ 525 طبع جدید از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 363 پر درج ہے

صفحہ 925

حوالہ نمبر 344

انوار العلوم جلد - ۳ ۱۵۰ انوار خلافت

نے کہا آپ لوگوں کے بڑے دشمن ہیں جو یہ مشہور کرتے پھرتے ہیں کہ آپ ہم لوگوں کو کافر کہتے ہیں میں یہ نہیں مان سکتا کہ آپ ایسے وسیع حوصلہ رکھنے والے ایسا کہتے ہوں۔ اس سے شیخ یعقوب علی صاحب باتیں کر رہے تھے۔ میں نے ان کو کہا آپ کہہ دیں کہ واقعہ میں ہم آپ لوگوں کو کافر کہتے ہیں یہ سنکر وہ حیران سا ہو گیا۔ لیکن جب اس سے یہ پوچھا گیا کہ آپ جس مسیح کے آنے کے منتظر ہیں اس کے منکروں کو کیا کہتے ہیں۔ تو کہنے لگا بس بس میں سمجھ گیا بے شک آپ کا حق ہے کہ ہم کو کافر سمجھیں۔

پس تم لوگ دین کو اپنی جگہ پر رکھو اور دنیا کو اپنی جگہ پر۔ اور جہاں دین کا معاملہ آئے وہاں فورا الگ ہو جاؤ۔ وہ لوگ جو اس بات سے چڑتے ہیں کہ ہمیں کافر کیوں کہا جاتا ہے۔ ان سے پوچھو کہ جب تمہارا مسیح آئے گا اور جو لوگ اسے نہیں مانیں گے ان کو کیا کہو گے۔ یہی نا کہ ان کی گردن اڑادو۔ لیکن ہم تو کسی کی گردن نہیں اڑاتے ہم تو شریعت کا فتویٰ استعمال کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو کہو اگر تمہارے خیال میں ہم ایک جھوٹے مسیح کو مانتے ہیں تو پھر ہمارے جنازہ پڑھنے سے تمہارے مردہ کو فائدہ کیا ہو گا کیا جس صورت میں کہ ہم مسلمان ہی نہیں ہماری دعا سے آپ کا مردہ بخشا جا سکتا ہے۔ پس اگر ان باتوں پر کوئی غور کرے تو کوئی لڑائی جھگڑا نہیں ہو سکتا۔

اب ایک اور سوال رہ جاتا ہے کہ غیر احمدی تو حضرت مسیح موعود کے منکر ہوئے اس لئے ان کا جنازہ نہیں پڑھنا چاہئے۔ لیکن اگر کسی غیر احمدی کا بچہ مرجائے۔ تو اس کا جنازہ کیوں نہ پڑھا جائے۔ وہ تو مسیح موعود کا منکر نہیں۔ میں یہ سوال کرنے والے سے پوچھتا ہوں کہ اگر یہ بات درست ہے تو پھر ہندوؤں اور عیسائیوں کے بچوں کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا جاتا اور کتنے لوگ ہیں جو ان کا جنازہ پڑھتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ جو ماں باپ کا مذہب ہوتا ہے شریعت وہی مذہب ان کے بچہ کا قرار دیتی ہے۔ پس غیر احمدی کا بچہ بھی غیر احمدی ہی ہوا۔ اس لئے اس کا جنازہ بھی نہیں پڑھنا چاہئے۔ پھر میں کہتا ہوں بچہ تو گنہگار نہیں ہوتا اس کو جنازہ کی ضرورت ہی کیا ہے۔ بچہ کا جنازہ تو دعا ہوتی ہے اس کے پسماندگان کے لئے اور اس کے پسماندگان ہمارے نہیں بلکہ غیر احمدی ہوتے ہیں۔ اس لئے بچہ کا جنازہ بھی نہیں پڑھنا چاہئے۔ باقی رہا کوئی ایسا شخص جو حضرت صاحب کو تو سچا مانتا ہے لیکن ابھی اس نے بیعت نہیں کی یا احمدیت کے متعلق غور کر رہا ہے اور اسی حالت میں مرگیا ہے اس کو ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ کوئی

انوار خلافت صفحہ 93 مندرجہ انوار العلوم جلد 3 صفحہ 150 از مرزا بشیر الدین محمود یہ حوالہ صفحہ 364,363 پر درج ہے

صفحہ 926

(حوالہ نمبر 345)

۴۸۴

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس سال میں خدا سے علم پا کر جماعت کی تعلیم و تربیت کے متعلق دو مزید احکامات جاری فرمائے یعنی اوّل تو آپ نے اس بات کا اعلان فرمایا کہ آئندہ کوئی احمدی کسی غیر احمدی کی امامت میں نماز ادا نہ کرے بلکہ صرف احمدی امام کی اقتداء میں نماز ادا کی جاوے۔ یہ حکم ابتداءً ۱۸۹۸ء میں زبانی طور پر جاری ہوا تھا مگر بعد میں ۱۹۰۰ء میں تحریری طور پر بھی اس کا اعلان کیا گیا۔ آپ کا یہ فرمان جو خدائی منشاء کے ماتحت تھا اس حکمت پر مبنی تھا کہ جب غیر احمدی مسلمانوں نے آپ کے دعوٰیٰ کو ردّ کر کے اور آپ کو جھوٹا اور مفتری قرار دے کر اس خدائی سلسلہ کی مخالفت پر کمر باندھی ہے جو خدا نے اس زمانہ میں دنیا کی اصلاح کے لئے جاری کیا ہے اور جس سے دُنیا میں اسلام اور روحانی صداقت کی زندگی وابستہ ہے تو اب وہ اس بات کے مستحق نہیں رہے کہ کوئی شخص جو حضرت مسیح موعود پر ایمان لاتا ہے وہ اُنکے منکر کی امامت میں نماز ادا کرے۔ نماز ایک اعلیٰ درجہ کی روحانی عبادت ہے اور اس کا امام گویا خدا کے دربار میں اپنے مقتدیوں کا لیڈر اور زعیم ہوتا ہے۔ پس جو شخص خدا کے مامور کو ردّ کر کے اس کے غضب کا مورد بنتا ہے وہ ان لوگوں کا پیشرو نہیں ہو سکتا جو اس کے مامور کو مان کر اس کی رحمت کے ہاتھ کو قبول کرتے ہیں۔ اس میں کسی کے بُرا منانے کی بات نہیں ہے بلکہ یہ سلسلہ احمدیہ کے قیام کا ایک طبعی اور قدرتی نتیجہ تھا جو جلد یا بدیر ضرور ظاہر ہونا تھا چنانچہ حدیث میں بھی اس بات کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے کہ جب مسیح موعود آئیگا تو اس کے متبعین کا امام انہی میں سے ہو گا۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود اپنی جماعت کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں:۔

”یاد رکھو کہ جیسا کہ خدا نے مجھے اطلاع دی ہے تمہارے پر حرام اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفّر یا مکذّب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو۔ بلکہ چاہیے کہ تمہارا وہی امام ہو جو تمہیں میں سے ہو اسی کی طرف حدیث بخاری کے ایک پہلو میں اشارہ ہے کہ اِمَامُکُمْ مِنْکُمْ یعنی جب مسیح نازل ہو گا تو تمہیں دوسرے فرقوں کو جو دعوائے اسلام کرتے ہیں بکلی ترک کرنا پڑے گا اور تمہارا امام تم میں

سلسلہ احمدیہ صفحہ 84، 85 از صاحبزادہ مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 364، 365 پر درج ہے

صفحہ 927

حوالہ نمبر 345

سے ہو گا۔ ۱؎

دوسری ہدایت جو آپ نے اپنی جماعت کے لئے جاری فرمائی وہ احمدیوں کے رشتہ ناطہ کے متعلق تھی۔ اس وقت تک جیسا کہ احمدیوں اور غیر احمدی مسلمانوں کی نماز مشترک تھی یعنی احمدی لوگ غیر احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھ لیتے تھے اسی طرح باہمی رشتہ ناطہ کی بھی اجازت تھی یعنی احمدی لڑکیاں غیر احمدی لڑکوں کے ساتھ بیاہ دی جاتی تھیں مگر ۱۹۰۱ء میں حضرت مسیح موعودؑ نے اس کی بھی ممانعت فرما دی اور آئندہ کے لئے ارشاد فرمایا کہ کوئی احمدی لڑکی غیر احمدی مرد کے ساتھ نہ بیاہی جاوے۔ ۲؎ یہ اسی حکم کی ایک ابتدائی صورت تھی جس کے بعد اس میں مزید سختی ہوتی گئی اور اس حکم میں حکمت یہ تھی کہ عموماً بحیثیت قوام ازدواجی زندگی میں مرد کو عورت پر انتظامی لحاظ سے غلبہ حاصل ہوتا ہے پس اگر ایک احمدی لڑکی غیر احمدی کے ساتھ بیاہی جائے تو اس بات کا قوی اندیشہ ہو سکتا ہے کہ مرد عورت کے دین کو خراب کرنے کی کوشش کریگا اور خود اسے اس میں کامیابی نہ ہو لیکن بہر حال یہ ایک خطرہ کا پہلو ہے جس سے احمدی لڑکیوں کو محفوظ رکھنا ضروری تھا۔ علاوہ ازیں چونکہ اولاد عموماً باپ کی تابع ہوتی ہے اس لئے اس قسم کے رشتوں کی اجازت دینے کے یہ معنے بھی بنتے ہیں کہ ایک احمدی لڑکی کو اس غرض سے غیر احمدیوں کے سپرد کر دیا جائے کہ وہ اس کے ذریعہ غیر احمدی اولاد پیدا کریں۔ اس قسم کی وجوہات کی بناء پر آپ نے آئندہ کے لئے یہ ہدایت جاری فرمائی کہ گو حسب ضرورت غیر احمدی لڑکی کا رشتہ لیا جاسکتا ہے مگر کوئی احمدی لڑکی غیر احمدی کے ساتھ نہ بیاہی جاوے بلکہ احمدیوں کے رشتے صرف آپس میں ہوں ۔ لیکن جو لڑکیاں اس ہدایت سے پہلے غیر احمدیوں کے نکاح میں آچکی تھیں ان کے متعلق آپ نے یہ ہدایت نہیں دی کہ ان کے نکاح فسخ ہو گئے ہیں کیونکہ اول تو اس کا عملی اجراء اپنے اختیار میں نہیں تھا دوسرے اس قسم کے حکم سے فتنوں اور پیچیدگیوں کے پیدا ہونے کا احتمال تھا جس سے بہر صورت بچنا لازم ہے۔

۱؎ تحفہ گولڑویہ ۔ ۲؎ اشتہار مؤرخہ ۲۰ فروری ۱۹۰۱ء ۔

سلسلہ احمدیہ صفحہ 84، 85 از صاحبزادہ مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا غلام احمد قادیانی یہ حوالہ صفحہ 364، 365 پر درج ہے

صفحہ 928

حوالہ نمبر 346 انوار العلوم جلد - ۳ ۱۴۸ انوار خلافت

ہیں ۔ اور ہمیں اس وقت تک کسی کے پیچھے نماز نہیں پڑھنی چاہئے جب تک کہ وہ بیعت میں داخل نہ ہو جائے اور ہم میں شامل نہ ہو۔ خدا تعالیٰ کے مامور ایک بڑی چیز ہوتے ہیں جو ان کو قبول نہیں کرتا وہ خدا کی نظر میں قبول نہیں ہو سکتا، اس میں شک نہیں کہ بعض غیر احمدی ایسے ہوں گے جو سچے دل سے حضرت مسیح موعود کو صادق نہیں مانتے اس لئے قبول نہیں کرتے۔ لیکن ہم بھی مجبور ہیں کہ ایسے لوگوں کے پیچھے نماز نہ پڑھیں کیونکہ خواہ کسی وجہ سے سہی وہ حق کے منکر ہیں۔ غیر احمدیوں کا اس بات پر چڑنا کہ ہم ان کے پیچھے نماز کیوں نہیں پڑھتے ایک لغو امر ہے۔ وہ غیر احمدی جو یہ سمجھتا ہے کہ مرزا صاحب جھوٹے ہیں وہ ہم کو مسلمان کیونکر سمجھتا ہے اور کیوں اس بات کا خواہاں ہے کہ ہم اس کے پیچھے نماز پڑھیں ۔ ہمارا اس کے پیچھے نماز پڑھ لینا اسے کیا فائدہ پہنچا سکتا ہے ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں۔ کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خدا تعالیٰ کے ایک نبی کے منکر ہیں یہ دین کا معاملہ ہے اس میں کسی کا اپنا اختیار نہیں کہ کچھ کر سکے۔ لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ غیر احمدیوں سے ہم دیگر دنیاوی اور تمدنی تعلقات کو منقطع کر دیں۔ آنحضرت ﷺ نے تو عیسائیوں کو بھی اپنی مسجد میں نماز پڑھنے کی اجازت دے دی تھی۔ پس جب باوجود اس قدر اختلاف کے دین میں ایک دوسرے کو مذہبی سہولتیں بہم پہنچانے کا حکم ہے تو دنیاوی تعلقات کو ترک کرنا کس طرح جائز ہو سکتا ہے۔ دوسروں سے محبت کرو پیار کرو‘ ان کی مصیبت کے وقت ان کے کام آؤ‘ بیمار کا علاج کرو‘ بھوکے کو روٹی کھلاؤ‘ ننگے کو کپڑا پہناؤ ان باتوں کا تمہیں ضرور ثواب ملے گا۔ لیکن دین کے معاملہ میں تم ان کو اپنا امام نہیں بنا سکتے۔ حضرت مسیح موعود نے اس کے متعلق بار بار حکم دیا ہے۔ پس اس بات کو خوب یاد رکھو۔ اور سختی سے اس پر عملدرآمد کرو۔

غیر احمدی کا جنازہ پڑھنا

پھر ایک سوال غیر احمدی کے جنازہ پڑھنے کے متعلق کیا جاتا ہے۔ اس میں ایک یہ مشکل پیش کی جاتی ہے کہ حضرت مسیح موعود نے بعض صورتوں میں جنازہ پڑھنے کی اجازت دی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ بعض حوالے ایسے ہیں جن سے یہ بات معلوم ہوتی ہے۔ اور ایک خط بھی ملا ہے جس پر غور کیا جائے گا۔ لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا عمل اس کے برخلاف

انوار خلافت صفحہ 90 مندرجہ انوار العلوم جلد 3 صفحہ 148 از مرزا بشیر الدین محمود یہ حوالہ صفحہ 365 پر درج ہے

صفحہ 929

حوالہ نمبر 347

انوار العلوم جلد - ۳ ۱۴۹ انوار خلافت

ہے چنانچہ آپ کا ایک بیٹا فوت ہو گیا جو آپ کی زبانی طور پر تصدیق بھی کرتا تھا۔ جب وہ مرا تو مجھے یاد ہے آپ ٹہلتے جاتے اور فرماتے کہ اس نے کبھی شرارت نہ کی تھی بلکہ میرا فرمانبردار ہی رہا ہے۔ ایک دفعہ میں سخت بیمار ہوا اور شدت مرض میں مجھے غش آ گیا جب مجھے ہوش آیا تو میں نے دیکھا کہ وہ میرے پاس کھڑا نہایت درد سے رو رہا تھا۔ آپ یہ بھی فرماتے ہیں کہ یہ میری بڑی عزت کیا کرتا تھا۔ لیکن آپ نے اس کا جنازہ نہ پڑھا حالانکہ وہ اتنا فرمانبردار تھا کہ بعض احمدی بھی اتنے نہ ہوں گے۔ محمدی بیگم کے متعلق جب جھگڑا ہوا تو اس کی بیوی اور اس کے رشتہ دار بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔ حضرت صاحب نے اس کو فرمایا کہ تم اپنی بیوی کو طلاق دے دو اس نے طلاق لکھ کر حضرت صاحب کو بھیج دی کہ آپ کی جس طرح مرضی ہے اسی طرح کریں۔ لیکن باوجود اس کے جب وہ مرا تو آپ نے اس کا جنازہ نہ پڑھا۔

حدیث میں آیا ہے کہ جب ابو طالب جو آنحضرت ﷺ کے چچا تھے فوت ہونے لگے (بعض نے تو ان کو مسلمان لکھا ہے لیکن اصل بات یہی ہے کہ وہ مسلمان نہ تھے) تو آنحضرت ﷺ نے کہا کہ چچا ایک دفعہ تو لا الہ الا اللہ کہہ دو تاکہ میں آپ کی شفاعت خدا تعالیٰ کے حضور کر سکوں۔ لیکن انہوں نے کہا کہ کیا کروں جو کچھ تم کہتے ہو۔ اس کو دل تو مانتا ہے مگر زبان پر اس لئے نہیں لا سکتا کہ لوگ کہیں گے مرنے کے وقت ڈر گیا ہے۔ اسی حالت میں وہ فوت ہو گئے (السيرة النبوية لابن هشام جلد ۱ ص ۴۱۸ مطبوعہ از مؤسسہ علوم القرآن بیروت) حضرت علی ؓ کے چونکہ والد تھے اس لئے وہ چاہتے تھے کہ آنحضرت ﷺ سے ان کے متعلق کچھ فیض حاصل کریں۔ مگر ساتھ ہی ڈرتے تھے کہ یہ چونکہ مسلمان نہیں ہوئے اس لئے رسول کریم ناراض نہ ہو جائیں۔ اس لئے انہوں نے اپنے والد کے مرنے کی خبر رسول کریم ﷺ کو ان الفاظ میں پہنچائی کہ یا رسول اللہ آپ کا گمراہ بڈھا چچا مر گیا ہے۔ آپ نے فرمایا جاؤ اور جا کر ان کو غسل دو لیکن آپ نے ان کا جنازہ نہ پڑھا۔ قرآن شریف سے تو معلوم ہوتا ہے کہ ایسا شخص جو بظاہر اسلام لے آیا ہے لیکن یقینی طور پر اس کے دل کا کفر معلوم ہو گیا ہے تو اس کا جنازہ بھی جائز نہیں۔ پھر غیر احمدی کا جنازہ پڑھنا کس طرح جائز ہو سکتا ہے۔

یہ دین کی باتیں ہیں۔ ان میں جھگڑنے کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی۔ دنیا کے معاملات میں ہم دوسروں کے ساتھ ایک ہیں لیکن دین کے معاملہ میں فرق ہے اس میں ایک نہیں ہو سکتے۔ اور سمجھدار آدمی اس کو خوب سمجھ سکتے ہیں۔ لکھنو میں ہم ایک آدمی سے ملے جو بڑا عالم ہے اس

Back انوار خلافت صفحہ 91 مندرجہ انوار العلوم جلد 3 صفحہ 149 از مرزا بشیر الدین محمود یہ حوالہ صفحہ 366 پر درج ہے

صفحہ 930

حوالہ نمبر 348

انوار العلوم جلد - ۳ ۱۵۱ انوار خلافت

سزا نہ دے۔ لیکن شریعت کا فتوٰی ظاہری حالات کے مطابق ہوتا ہے اس لئے ہمیں اس کے متعلق بھی یہی کہنا چاہئے کہ اس کا جنازہ نہ پڑھیں۔

غیر احمدیوں کو لڑکی دینا

ایک اور بھی سوال ہے کہ غیر احمدیوں کو لڑکی دینا جائز ہے یا نہیں۔ حضرت مسیح موعودؑ نے اس احمدی پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے جو اپنی لڑکی غیر احمدی کو دے۔ آپ سے ایک شخص نے بار بار پوچھا اور کئی قسم کی مجبوریوں کو پیش کیا لیکن آپ نے اس کو یہی فرمایا کہ لڑکی کو بٹھائے رکھو لیکن غیر احمدیوں میں نہ

صفحہ 931

حوالہ نمبر 349

۵۵

(۳۶۹) بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے کئی دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سنا ہے کہ مجھے ہسٹیریا ہے۔ بعض اوقات آپ مراق بھی فرمایا کرتے تھے لیکن دراصل بات یہ ہے کہ آپ کو دماغی محنت اور شبانہ روز تصنیف کی مشقت کی وجہ سے بعض ایسی عصبی علامات پیدا ہو جایا کرتی تھیں جو ہسٹیریا کے مریضوں میں بھی عموماً دیکھی جاتی ہیں۔ مثلاً کام کرتے کرتے یکدم ضعف ہو جانا۔ چکروں کا آنا۔ ہاتھ پاؤں کا سرد ہو جانا۔ گھبراہٹ کا دورہ ہو جانا یا ایسا معلوم ہونا کہ ابھی دم نکلتا ہے یا کسی تنگ جگہ یا بعض اوقات زیادہ آدمیوں میں ملکر بیٹھنے سے دل کا سخت پریشان ہونے لگنا وغیرہ ذلک۔ یہ اعصاب کی ذکاوۃ حس یا تکان کی علامات ہیں جو ہسٹیریا کے مریضوں کو بھی ہوتی ہیں اور انہی معنوں میں حضرت صاحب کو ہسٹیریا یا مراق تھا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ دوسری جگہ جو مولوی شیر علی صاحب کی روایت میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ یہ جو بعض انبیاء کے متعلق لوگوں کا خیال ہے کہ ان کو ہسٹیریا تھا۔ ان کی غلطی ہے بلکہ حق یہ ہے کہ حس کی تیزی کی وجہ سے ان کے اندر بعض علامات پیدا ہو جاتی ہیں جو ہسٹیریا کی علامات سے ملتی جلتی ہیں اسلئے لوگ غلطی سے اسے ہسٹیریا کہنے لگ جاتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت صاحب جو کبھی کبھی یہ فرماتے تھے کہ مجھے ہسٹیریا ہے یہ اسی عام محاورہ کے مطابق تھا ورنہ آپ علمی طور پر یہ سمجھتے تھے کہ یہ ہسٹیریا نہیں بلکہ اس سے ملتی جلتی علامات ہیں جو ذکاوۃ حس یا سخت کام کی وجہ سے پیدا ہو گئی ہیں۔ نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب ایک بہت قابل اور لائق ڈاکٹر ہیں۔ چنانچہ زمانہ طالب علمی میں بھی وہ ہمیشہ اچھے نمبروں میں کامیاب ہوتے تھے اور ڈاکٹری کے امتحانی مقابلہ میں تمام صوبہ پنجاب میں اوّل نمبر پر رہے تھے اور بوجہ ملازمت بھی ان کی لیاقت و قابلیت مسلّم رہی ہے۔ اور چونکہ بوجہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بہت قریبی رشتہ دار ہونے کے ان کو حضرت صاحب کی طبعیت اور آپ کے علاج معالجہ کا بھی بہت کافی موقعہ ملتا رہتا تھا اس لئے ان کی رائے اس معاملہ میں ایک خاص وزن رکھتی ہے جو دوسری کسی رائے کو کم حاصل ہے۔

(۳۷۰) بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں گھر کے بچے کبھی شب برات وغیرہ کے موقع پر پٹاخے کھیل تفریح کے

سیرۃ المہدی حصہ دوم صفحہ 55 ، روایت نمبر 369 مصنفہ مرزا بشیر احمد ایم ۔ اے

یہ حوالہ صفحہ 372 پر درج ہے

صفحہ 932

حوالہ نمبر 350 ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر رحم کرنے والا بنے گا۔ يُؤْتِيْكَ اللَّهُ أَجْرَكَ . وَيَرْضٰى عَنْكَ رَبُّكَ وَيُتِمُّ اسْمَكَ وَعَسٰى أَنْ تُحِبُّوْا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ وَعَسٰى أَنْ تَكْرَهُوْا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۔ خدا تیرا بدلہ پورا دے گا۔ اور تجھ سے راضی ہوگا اور تیرے اسم کو پورا کرے گا۔ اور ممکن ہے کہ تم ایک چیز کو دوست رکھو اور اصل میں وہ تمہارے لئے بُری ہو۔ اور ممکن ہے کہ تم ایک چیز کو بُری سمجھو اور اصل میں وہ تمہارے لئے اچھی ہو اور خدائے تعالیٰ عواقب امور کو جانتا ہے تم نہیں جانتے۔ كُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُمْ يٰعِيْسٰى اِنِّىْ مُتَوَفِّيكَ رَبُّ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰهُمَا . وَ إِنْ يَتَّخِذُونَكَ إِلَّا هُزُوًا . أَهٰذَا الَّذِي بَعَثَ اللَّهُ قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوْحٰى إِلَيَّ أَنَّمَا إِلٰهُكُمْ إِلٰهٌ وَاحِدٌ . وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي الْقُرْآنِ لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ . فَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ ۔ میں ایک مُدّت تک تم میں رہا قبل اِس کے ، سو کیا تم نہیں سمجھتے ۔ آسمان اور زمین دونوں بند تھے سو ہم نے ان دونوں کو کھول دیا اور ٹھٹھا مار کر کہیں گے کیا یہی ہے جس کو خدا نے ہماری ہدایت کے لئے مقرر کیا۔ یعنی جن کا مذاق ہی پیشہ ہے اُن سے صلاحیت کی اُمید مت رکھ۔ اور کہہ دے کہ میں تو صرف تمہارے جیسا ایک آدمی ہوں۔ مجھ کو یہ وحی ہوتی ہے کہ بجز اللہ تعالیٰ کے اور کوئی تمہارا معبود نہیں۔ وہی اکیلا معبود ہے جس کے ساتھ کسی چیز کو شریک کرنا نہیں چاہئیے۔ اور تمام خیر اور بھلائی قرآن میں ہے بغیر اس کے اور کسی جگہ سے بھلائی نہیں مل سکتی۔ سُو قرآنی حقائق صرف اُنہیں لوگوں پر کھلتے ہیں جن کو خدائے تعالیٰ

”قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ“ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ براہین احمدیہ میں یہ فقرہ طبع سے پہلے ۱۸۸۰ء میں الہام ہو کر درج ہو گیا ہے۔

(احقاق الحق جلد ۲ صفحہ ۴۵۴) (مرتب)

کے معانی پر مہربانی فرماویں جو براہین احمدیہ کے حصہ چہارم کے آخر میں ہے ۔ آپ فرماتے ہیں کہ اس جملہ مبارکہ کے کیا معنی ہیں ۔ فرمایا ! کمالِ توجہ کے وقت مجھے یہ الہام ہوا تھا جس میں یہ فرمایا ہے کہ ان میں کافر بھی ہیں اور بدعات و رسوماتِ مخترعات پھیلی ہوئی ہیں اور خدا تعالیٰ کی معرفت اور اُس تک پہنچنے کی راہیں گم ہو چکی ہیں اور دل محبت و خشیت اللہ سے خالی ہو جاتے ہیں تو ایسے وقت اور ایسے زمانہ میں خدا تعالیٰ

تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 70 طبع چہارم از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 373 پر درج ہے

صفحہ 933

حوالہ نمبر 351

۱۴۴

۱۸۹۱ء

”خدا تعالیٰ نے ایک قطعی اور یقینی پیشگوئی میں میرے پر ظاہر کیا ہے کہ میری ہی ذریت سے ایک شخص پیدا ہو گا جس کو کئی باتوں میں مسیح سے مشابہت ہو گی وہ آسمان سے اترے گا اور زمین والوں کی راہ سیدھی کر دے گا۔ وہ اسیروں کو رستگاری بخشے گا اور اُن کو جو شبہات کی زنجیروں میں مقید ہیں رہائی دے گا۔ فرزند دلبند گرامی ارجمند ۔ مَظْهَرُ الْحَقِّ وَالْعَلَاءِ ۔ كَاَنَّ اللهَ نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ ؎

(ازالۃ الاوہام صفحہ ۱۵۷، ۱۵۸- روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۱۸۰)

۱۸۹۱ء

”چند روز کا ذکر ہے کہ اس عاجز نے اس طرف توجہ کی کہ کیا اس حدیث کا جو اِنَّ آیَاتِہٖ فِیْ مِائَتَیْنِ ہے ایک یہی منشاء ہے کہ تیرھویں صدی کے اوائل میں مسیح موعود کا ظہور ہو گا اور کیا اس حدیث کے مفہوم میں بھی یہ عاجز داخل ہے تو مجھے کشفی طور پر اس مندرجہ ذیل نام کے اعداد حروف کی طرف توجہ دلائی گئی کہ دیکھ یہی تاریخ ہے کہ تیرھویں صدی کے پورے ہونے پر ظاہر ہونے والا تھا۔ پہلے سے ہی تاریخ ہم نے نام میں مقرر کر رکھی تھی اور وہ یہ نام ہے :

غلام احمد قادیانی

اس نام کے عدد پورے تیرہ سو ہیں اور اس قصبہ قادیان میں بجز اس عاجز کے اور کسی شخص کا نام احمد نام نہیں بلکہ میرے دل میں ڈالا گیا ہے کہ اس وقت بجز اس عاجز کے تمام دنیا میں غلام احمد قادیانی کسی کا بھی نام نہیں اور اِس عاجز کے ساتھ اکثر یہ عادت اللہ جاری ہے کہ بے ساختہ بعض اسرار اعداد حروف تہجی میں میرے پر ظاہر کر دیتا ہے“

(ازالۃ الاوہام صفحہ ۱۸۵- روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۱۸۹، ۱۹۰)

۱۸۹۱ء

(و) ”ایک دفعہ میں نے آدم کے سنہ پیدائش کی طرف توجہ کی تو مجھے اشارہ کیا گیا کہ ان اعداد پر نظر ڈال جو سورۃ العصر کے حروف میں ہیں کہ انہیں میں سے وہ تاریخ نکلتی ہے“

(ازالہ اوہام صفحہ ۱۸۹- روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۱۹۰)

(ب) ”خدا تعالیٰ نے مجھے ایک کشف کے ذریعہ سے اطلاع دی ہے کہ سورۃ العصر کے اعداد سے بحساب ابجد معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک عصر تک جو عصر نبوت ہے یعنی قیام دین کا اتمام و کمال زمانہ کل مدت گذشتہ زمانہ کے ساتھ ملا کر ۴۷۳۹ برس ابتدائے دُنیا سے آنحضرت صلی اللہ

؎ ترجمہ: عنقریب فرزند دلبند ۔ بزرگ اور اقبال مند ۔ حق اور رفعت کا مظہر گویا خدا آسمان سے اتر آیا ہے۔

تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 144 طبع چہارم از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 373 پر درج ہے

Back

صفحہ ۱۲۷

روحانی خزائن جلد ۲۱ براہین احمدیہ حصہ پنجم

اے خدا اے کارساز و عیب پوش و کردگار اے مرے پیارے مرے محسن مرے پروردگار
کس طرح تیرا کروں اے ذوالمنن شکر و سپاس وہ زباں لاؤں کہاں سے جس سے ہو یہ کاروبار
بدگمانوں سے بچایا مجھ کو خود بن کر گواہ کر دیا دشمن کو اک حملہ سے مغلوب اور خوار
کام جو کرتے ہیں تیری رہ میں پاتے ہیں جزا مجھ سے کیا دیکھا کہ یہ لطف و کرم ہے بار بار
تیرے کاموں سے مجھے حیرت ہے اے میرے کریم کس عمل پر مجھ کو دی ہے خلعت قرب و جوار
کرم خاکی ہوں مرے پیارے نہ آدم زاد ہوں ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار
یہ سراسر فضل و احساں ہے کہ میں آیا پسند ورنہ درگہ میں تیری کچھ کم نہ تھے خدمت گزار
دوستی کا دم جو بھرتے تھے وہ سب دشمن ہوئے پر نہ چھوڑا ساتھ تو نے اے میرے حاجت برار
اے مرے یار یگانہ اے مری جاں کی پناہ بس ہے تو میرے لئے مجھ کو نہیں تجھ بن بکار
میں تو مرکز خاک ہوتا گر نہ ہوتا تیرا لطف پھر خدا جانے کہاں یہ پھینک دی جاتی غبار
اے فدا ہو تیری رہ میں میرا جسم و جان و دل میں نہیں پاتا کہ تجھ سا کوئی کرتا ہو پیار
ابتدا سے تیرے ہی سایہ میں میرے دن کٹے گود میں تیری رہا میں مثل طفل شیر خوار
نسل انساں میں نہیں دیکھی وفا جو تجھ میں ہے تیرے بن دیکھا نہیں کوئی بھی یار غمگسار
لوگ کہتے ہیں کہ نالائق نہیں ہوتا قبول میں تو نالائق بھی ہو کر پا گیا درگہ میں بار
اس قدر مجھ پر ہوئیں تیری عنایات و کرم جن کا مشکل ہے کہ تا روز قیامت ہو شمار
آسماں میرے لئے تو نے بنایا اک گواہ چاند اور سورج ہوئے میرے لئے تاریک و تار
تو نے طاعوں کو بھی بھیجا میری نصرت کے لئے تا وہ پورے ہوں نشاں جو ہیں سچائی کا مدار
ہو گئے بیکار سب حیلے جب آئی وہ بلا ساری تدبیروں کا خاکہ اڑ گیا مثل غبار
سر زمین ہند میں ایسی ہے شہرت مجھ کو دی جیسے ہووے برق کا اک دم میں ہرجا انتشار

براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 97 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 127 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 373 پر درج ہے

صفحہ 935

حوالہ نمبر 353

۱۶۲

نماز جنازہ میں شامل ہونے والے دس پندرہ آدمی ہی تھے۔ بعد سلام کسی نے عرض کی ، کہ حضور! میرے لئے بھی دُعا کریں ۔ فرمایا ۔ میں نے تو سب کی ہی جنازہ پڑھ لیا ہے۔ مُراد یہ تھی ۔ کہ جتنے لوگ نماز جنازہ میں شامل ہوئے تھے، اُن سب کے لئے نماز جنازہ کے اندر حضرت صاحبؓ نے دُعائیں کر دی تھیں :

بنیادی اینٹ

بعض نئی عمارتوں کے بننے کے وقت جب حضرت صاحبؓ سے درخواست کیجاتی کہ حضور تبرکاً بنیادی اینٹ رکھدیں۔ تو حضرت صاحبؓ فرمایا کرتے، کہ ایک اینٹ لے آؤ۔ میں اُسپر دُعا کر دوں گا۔ چنانچہ ایک اینٹ لائی جاتی۔ اور حضورؑ اس اینٹ کو اپنی گودی میں رکھکر ہاتھ اُٹھا کر دُعا کرتے ۔ اور پھر اُسپر دم کر کے۔ دے دیتے کہ جاؤ لگاؤ :

غم دُور کرنے کا ذریعہ

عاجز راقم کا اور اکثر احباب کا یہ تجربہ تھا۔ کہ جب کبھی طبیعت میں کسی وجہ سے کوئی غم پیدا ہو ۔ تو ہم حضرت مسیح موعودؑ کی مجلس میں جا بیٹھتے ۔ تو غم دُور ہو جاتا۔ اور طبیعت میں بشاشت اور فرحت پیدا ہو جاتی :

پیر کُتّے مار

ایک دفعہ قادیان میں آوارہ کُتّے بہت ہو گئے ۔ اور ان کی وجہ سے شور و غل رہتا تھا۔ پیر سراج الحق صاحبؓ نے بہت سے کُتّوں کو زہر دے کر مار ڈالا ۔ اسپر بعض لوگوں نے پیر صاحب کو چڑانے کے واسطے اُن کا نام پیر کُتّے مار رکھ دیا ۔ پیر صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں شاکی ہوئے ۔ کہ لوگ مجھے کُتّے مار کہتے ہیں ۔ حضرت صاحبؑ نے تبسّم کے ساتھ فرمایا۔ کہ اس میں کیا حرج ہے ۔ دیکھئے حدیث شریف میں میرا نام ”سُؤر مار“ لکھا ہے۔ کیونکہ مسیح کی تعریف میں آیا ہے ۔ کہ یقتل الخنزیر۔

ذکر حبیب، صفحہ 162، از مفتی محمد صادق قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 374 پر درج ہے

Back

صفحہ 936

حوالہ نمبر 354

۵۶۸

ہیں اور دعا سے ٹل سکتے ہیں تسلی بخش نہیں ہوتا۔"

(بدر جلد ۲ نمبر ۳۶ مورخہ ۱۳ ستمبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۴ ۔ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۳۲ مورخہ ۱۷ ستمبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۱)

۱۶ ستمبر ۱۹۰۶ء

نے فتح پائی۔

(بدر جلد ۲ نمبر ۳۷ مورخہ ۲۰ ستمبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۳ ۔ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۳۱ مورخہ ۱۰ ستمبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۱ ۔ الحکم جلد ۱۰

نمبر ۳۴ مورخہ ۲۷ ستمبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۱)

(بدر جلد ۲ نمبر ۳۸ مورخہ ۲۷ ستمبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۲ ۔ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۳۴ مورخہ ۲۷ ستمبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۱)

بقیہ حاشیہ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ہوں کہ وہ اس سفر میں شامل ہو اور موجب شفاعت احباب ہو جائے۔ اس کے گناہ خود میرے سر اور گھر کے لوگ بھی ۔ چنانچہ یہ بات سن کر میر صاحب نے بھی اپنی بیوی کا بٹالہ میں جانا ملتوی کر دیا اور جب صبح ہوئی تو پیشگوئی کے مطابق عزیز محمد اسحق کو سخت بخار ہو گیا اور اُس بخار کے ساتھ دائیں ران میں دو گلٹیاں نکل آئیں جس سے قطعی طور پر مایوس ہو گیا کہ اب صحت ہونا ایک قدرت خدا نما کا مرہون ہے اُنہی دنوں میں میر صاحب پر ایک وحشت طاری ہوئی اور حضرت مولوی حکیم نور الدین صاحب معالج تھے مگر یہ دیکھنے والے بھی ان گلٹیوں کے نکلنے سے وہ بھی دہشت زدہ ہو گئے تب حضرت مسیح موعود نے دعا کرنا شروع کی اور عنایت بفضلہٖ بے حد توجہ کی تب خدا کے فضل سے اس دعا کا یہ نتیجہ ہوا کہ ابھی دو تین گھنٹے سے زیادہ نہیں گزرا تھا کہ بخار بالکل ٹوٹ گیا اور بچہ کی گلٹیاں بھی کم ہو گئیں۔ گویا مرض کا نام و نشان نہ تھا اور تمام آثار طاعون کے جاتے رہے اور اب میاں محمد اسحق بخیر وعافیت باہر پھرتے ہیں۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰهِ عَلٰى ذَالِكَ ۔ (بدر جلد ۲ نمبر ۳۶ مورخہ ۱۳ ستمبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۳ بقیہ حاشیہ

بقیہ حاشیہ صفحہ ۵۶۶ ۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۴۰ ، ۴۳، ۴۴ ، نشان نمبر ۱۳۳)

تھا ایک دفعہ ایک دم میں پیٹ پھٹنے کے ساتھ مر گیا گو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے پیٹ میں کچھ مدت سے رسولی تھی لیکن کچھ محسوس نہیں کرتا تھا اور جوان مضبوط و توانا تھا ایک دفعہ پیٹ میں درد ہوا اور بالجملہ حال اس کا یہ تھا کہ اُس نے تین قے کیں اور کہا کہ میرا پیٹ پھٹ گیا یہ کہہ کر مر گیا : (توضیح چو ہدری منظور محمد- روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۴۳۶)

یہ حوالہ صفحہ 374 پر درج ہے تذکرہ مجموعہ وحی والہامات، صفحہ 568 طبع چہارم از مرزا قادیانی

Back

صفحہ 937

حوالہ نمبر 355

لیکچر سیالکوٹ ۲۲۸

خدا کو سننا نہیں چاہتے۔ اس سے بڑھ کر اور کیا نادانی ہوگی کہ خدا تعالیٰ کے قدیم قانون پر حملہ ہو۔

۳۳ اور یہ بھی واضح ہو کہ میرا اس زمانہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے آنا محض مسلمانوں کی اصلاح کے لئے ہی نہیں ہے بلکہ مسلمانوں اور ہندوؤں اور عیسائیوں تینوں قوموں کی اصلاح منظور ہے۔ اور جیسا کہ خدا نے مجھے مسلمانوں اور عیسائیوں کے لئے مسیح موعود کر کے بھیجا ہے ایسا ہی میں ہندوؤں کے لئے بطور اوتار کے ہوں اور میں عرصہ بیس برس سے یا کچھ زیادہ برسوں سے اس بات کو شہرت دے رہا ہوں کہ میں ان گناہوں کے دُور کرنے کے لئے جن سے زمین بھر گئی ہے جیسا کہ مسیح بن مریم کے رنگ میں ہوں ایسا ہی راجہ کرشن کے رنگ میں بھی ہوں جو ہندو مذہب کے تمام اوتاروں میں سے ایک بڑا اوتار تھا یا یوں کہنا چاہیے کہ روحانی حقیقت کے رو سے میں وہی ہوں یہ میرے خیال اور قیاس سے نہیں ہے بلکہ وہ خدا جو زمین و آسمان کا خدا ہے اس نے یہ میرے پر ظاہر کیا ہے۔ اور نہ ایک دفعہ بلکہ کئی دفعہ مجھے بتلایا ہے کہ تو ہندوؤں کے لئے کرشن اور مسلمانوں اور عیسائیوں کے لئے مسیح موعود ہے۔ میں جانتا ہوں کہ جاہل مسلمان اس کو سُن کر فی الفور یہ کہیں گے کہ ایک کافر کا نام اپنے اوپر رکھ کر کفر کو صریح طور پر قبول کیا ہے۔ لیکن یہ خدا کی وحی ہے جس کے اظہار کے بغیر میں رہ نہیں سکتا اور آج یہ پہلا دن ہے کہ ایسے بڑے مجمع میں اس بات کو میں پیش کرتا ہوں کیونکہ جو لوگ خدا کی طرف سے ہوتے ہیں وہ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے۔

۳۴ اب واضح ہو کہ راجہ کرشن جیسا کہ میرے پر ظاہر کیا گیا ہے درحقیقت ایک ایسا کامل انسان تھا جس کی نظیر ہندوؤں کے کسی رِشی اور اوتار میں نہیں پائی جاتی اور اپنے وقت کا اوتار یعنی نبی تھا جس پر خدا کی طرف سے روح القدس اُترتا تھا۔ وہ خدا کی طرف سے فتحمند اور با اقبال تھا۔ جس نے آریہ ورت کی زمین کو پاپ سے

۲۹

لیکچر سیالکوٹ۔ صفحہ 24، 25 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 228 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 375,374 پر درج ہے

صفحہ 938

حوالہ نمبر 356

۴۱۱

آلودہ ہیں اور یا سرے سے مصنوع ہیں۔

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ۸۵ حاشیہ ۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ ص ۵۲۱ حاشیہ)

۱۹۰۰ء (الف) "کشفی طور پر ایک مرتبہ مجھے ایک شخص دکھایا گیا گویا وہ سنسکرت کا ایک عالم آدمی ہے جو کرشن کا نہایت درجہ معتقد ہے وہ میرے سامنے کھڑا ہوتا اور مجھے مخاطب کر کے بولا کہ ”ہے رُودْر گوپال تیری استت گیتا میں لکھی ہے“ اُسی وقت میں نے سمجھا کہ تمام دُنیا ایک رُودْر گوپال کا انتظار کر رہی ہے کیا ہندو اور کیا مسلمان اور کیا عیسائی مگر اپنے اپنے لفظوں اور زبانوں میں۔ اور سب نے یہی وقت ٹھہرایا ہے۔ اور اس کی یہ دونوں صفتیں قائم کی ہیں یعنی سُوروں کو مارنے والا اور گائیوں کی حفاظت کرنے والا۔ اور وہ میں ہوں جس کی نسبت ہندوؤں میں پیشگوئی کرنے والے قدیم سے زور دیتے آئے ہیں کہ وہ آریہ ورت میں یعنی اسی ملک ہند میں پیدا ہو گا اور انہوں نے اس کے مسکن کے نام بھی لکھے ہیں مگر وہ تمام نام استعارہ کے طور پر ہیں جن کے نیچے ایک مخفی حقیقت ہے۔

(تحفہ گولڑویہ ص ۱۳۰ حاشیہ۔ روحانی خزائن جلد ۱۷ ص ۳۱۷ تا ۳۱۸)

(ب) ”خدا تعالیٰ نے کشفی حالت میں بارہا مجھے اس بات پر اطلاع دی ہے کہ آریہ قوم میں کرشن نام ایک شخص جو گزرا ہے وہ خدا کے برگزیدوں اور اپنے وقت کے نبیوں میں سے تھا اور ہندوؤں میں اَوَتار کا لفظ درحقیقت نبی کے ہم معنی ہے۔ اور ہندوؤں کی کتابوں میں ایک پیشگوئی ہے اور وہ یہ کہ آخری زمانہ میں ایک اَوَتار آئے گا۔ جو کرشن کے صفات پر ہو گا اور اس کا بروز ہو گا اور میرے پر ظاہر کیا گیا ہے کہ وہ میں ہوں۔ کرشن کی دو صفتیں ہیں ایک رُودْر یعنی درندوں اور سُوروں کو قتل کرنے والا یعنی دلائل اور نشانوں سے۔ دوسرے گوپال یعنی گائیوں کو پالنے والا یعنی اپنے انفاس سے نیکوں کا مددگار اور یہ دونوں صفتیں مسیح موعود کی صفتیں ہیں اور یہی دونوں صفتیں خدا تعالیٰ نے مجھے عطا فرمائی ہیں“

(تحفہ گولڑویہ ص ۱۳۰ حاشیہ در حاشیہ ۔ روحانی خزائن جلد ۱۷ ص ۳۱۷)

(ج) وہ خدا جو زمین و آسمان کا خدا ہے اُس نے یہ میرے پر ظاہر کیا ہے اور نہ ایک دفعہ بلکہ کئی دفعہ مجھے بتلایا ہے کہ تُو ہندوؤں کے لئے کرشن اور مسلمانوں اور عیسائیوں کے لئے مسیح موعود ہے۔

(لیکچر سیالکوٹ صفحہ ۳۳ ۔ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۲۲۸)

(د) اب واضح ہو کہ راجہ کرشن جیسا کہ میرے پر ظاہر کیا گیا ہے درحقیقت ایک ایسا کامل انسان تھا جس کی نظیر ہندوؤں کے کسی رشی اور اَوَتار میں نہیں پائی جاتی اور اپنے وقت کا اَوَتار یعنی نبی تھا جس پر خدا کی طرف سے رُوح القدس اُترتا تھا۔ وہ خدا کی طرف سے فتحمند اور با اقبال

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 311 طبع چہارم از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 375 پر درج ہے

صفحہ 939

حوالہ نمبر 357

تتمہ ۵۲۱ حقیقة الوحی

اسکے نور کو نابود کرسکی۔ سو خدا نے جو ہر ایک کام نرمی سے کرتا ہے اس زمانہ کے لئے سب سے پہلے میرا نام عیسیٰ ابن مریم رکھا کیونکہ ضرور تھا کہ میں اپنے ابتدائی زمانہ میں ابن مریم کی طرح قوم کے ہاتھ سے دُکھ اُٹھاؤں اور کافر اور عیسائی اور دجّال کہلاؤں اور عدالتوں میں کھینچا جاؤں سو میرے لئے ابن مریم ہونا پہلا زینہ تھا مگر مَیں خدا کے دفتر میں صرف عیسیٰ ابن مریم کے نام سے موسوم نہیں بلکہ اور بھی میرے نام ہیں جو آج سے چھبیس برس پہلے خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں میرے ہاتھ سے لکھوائے ہیں اور دُنیا میں کوئی نبی نہیں گزرا جس کا نام مجھے نہیں دیا گیا ۔ سو جیسا کہ براہین احمدیہ میں خدا نے فرمایا ہے۔ میں آدم ہوں۔ میں نوح ہوں۔ میں ابراہیم ہوں۔ میں اسحاق ہوں۔ میں یعقوب ہوں۔ میں اسمٰعیل ہوں۔ میں موسیٰ ہوں۔ میں داؤد ہوں۔ ۸۵ میں عیسیٰ ابن مریم ہوں۔ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوں یعنی بروزی طور پر جیسا کہ خدا نے اسی کتاب میں یہ سب نام مجھے دیئے اور میری نسبت جری اللّٰہ فی حلل الانبیاء فرمایا یعنی خدا کا رسول نبیوں کے پیرایوں میں۔ سو ضرور ہو کہ ہر ایک نبی کی شان مجھ میں پائی جاوے اور ہر ایک نبی کی ایک صفت کا میرے ذریعہ سے ظہور ہو ۔ سو خدا نے یہی پسند کیا کہ سب سے پہلے ابن مریم کے صفات مجھ میں ظاہر کرے۔ سو مَیں نے اپنی قوم سے وہ سب دُکھ اُٹھائے جو ابن مریم نے یہود سے اُٹھائے بلکہ تمام قوموں سے اُٹھائے۔ یہ سب کچھ ہُوا مگر پھر خدا نے کسر صلیب کے لئے میرا نام مسیح قائم رکھا تا جس صلیب نے مسیح کو توڑا تھا اور اُسکو زخمی کیا تھا وہ مسیح وقت میں مسیح اُسکو توڑے مگر آسمانی نشانوں کے ساتھ نہ انسانی ہتھیاروں کے ساتھ۔ کیونکہ خدا کے نبی مغلوب نہیں رہ سکتے ۔ سو سنہ عیسوی کی بیسویں صدی میں پھر خدا نے ارادہ فرمایا کہ اُسکو [ مسیح کے ہاتھ سے مغلوب کرے۔ لیکن جیسا کہ میں ابھی بیان کرچکا ہوں مجھے اور نام بھی دیئے گئے ہیں اور ہر ایک نبی کا مجھے نام دیا گیا ہے چنانچہ ملک ہند میں کرشن نام ایک نبی گزرا ہے جس کو رُدّر گوپال بھی کہتے ہیں یعنی فنا کرنیوالا اور پرورش کرنیوالا اس کا نام بھی مجھے دیا گیا ہے پس جیسا کہ آریہ قوم کے لوگ کرشن کے ظہور کا ان دنوں میں انتظار کرتے ہیں وہ کرشن میں ہی ہوں ]

حقیقۃ الوحی صفحہ 521، 522 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 521، 522 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 375 پر درج ہے

صفحہ 940

حوالہ نمبر 357

ضمیمہ ۵۲۲ حقیقت الوحی

اور یہ دعویٰ صرف میری طرف سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ نے بار بار میرے پر ظاہر کیا ہے کہ جو کرشن آخری زمانہ میں ظاہر ہونے والا تھا وہ تو ہی ہے آریوں کا بادشاہ۔ اور بادشاہت سے مراد صرف آسمانی بادشاہت ہے۔ ایسے لفظ خدا کے کلام میں آجاتے ہیں مگر معنی روحانی ہوتے ہیں۔ سو میں اس تصدیق کے لئے کہ وہی کرشن آریوں کا بادشاہ میں ہوں دہلی کے ایک اشتہار کو جو المکند نام ایک پنڈت نے ان دنوں میں شائع کیا ہے معہ ترجمہ حاشیہ میں لکھتا ہوں جس سے معلوم ہوگا کہ آریہ ورت کے محقق پنڈت بھی کرشن اوتار کا زمانہ یہی قرار دیتے ہیں۔ اور اس زمانہ میں اسکے آنے کے منتظر ہیں گو وہ لوگ ابھی مجھ کو شناخت نہیں کرتے مگر وہ زمانہ آتا ہے بلکہ قریب ہے کہ آئے ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ منہ

شری نشکلنک بھگوان کا اوتار

(شری ہنو مان جی کی جے)

سنسار کی پرتھوی کو ودت ہو کہ جیسے جیسے اوپدرو مہا بھارت دیش میں ہوتے ہیں وہ سب کو معلوم ہیں پنڈتوں استریوں کا چھیننا اور ساتھ میں ان بُری باتوں کا بھی ہونا جن کو پریم کہتے ہیں وہ بھی گندھرب ویاہ کا اس قدر گمان ہونا اور دھرم سنکٹ ہر ایک قسم کی مصیبتیں بھوگنے آریہ ورت پر آئی ہوئی ہیں کہ جن کا ذکر بھی پاپ ہے یہ کب تک ہوگا ضرور روشن ہو کہ جو طاقت آپکے پتا و دادا میں تھی وہ اب آپ میں کہاں۔ اور نہ ہی وہ حوصلہ طاقت و بدھی ہے نہ آپ کی اولاد میں ہے۔ بلکہ آئندہ ہو جانے کی امید ہو۔ بس اے سجنو اگر آپ لوگوں کو اس مہا کشٹ سے چھٹنے کی خواہش ہو اور نراکار دیامے کی اچھا ہو اور پرماتما میں پریم اور بھگتی پھلنے پھولنے کی خواہش ہو تو شری نشکلنک جی مہاراج کا ضرور سمرن و دھیان کیجئے کیونکہ ایشور پرماتما ہمیشہ بھگتوں کے بس میں ہوتے ہیں۔ ان کو اپنے بھگتوں کو سکھ دینے کی ہی اچھا یعنی خواہش رہتی ہے وہ ضرور پرگٹ ہو کر حال میں ہی ان سب اُوپدروں اور دشٹوں کو ناس کریں گے۔ مگر کسی کو یہ خیال ہووے کہ ابھی کلجگ کا پرتھم چرن ہی ہے اور مہاراج جی کا جنم کلجگ کے انت میں لکھا ہے تو آپ خود دیکھئے کہ اس سے زیادہ کیا کلجگ پرتیت ہو گا کہ استریاں اپنے پتیوں کو چھوڑ کر دوسروں پر نگاہ رکھیں۔ اور ماتا و پتا بالکوں کی پرورش میں نہ رہیں۔ اور دھرم یعنی پُن کو ادھرم کی طرح دیکھیں۔ یہاں تک کہ سبھی سبھائیں بھی جگت میں اپنے اپنے دھرموں سے باہر ہی ہوتی ہیں۔ اب کوئی صاحب یہ فرمائیں کہ ابھی شاستر دھارا

حقیقت الوحی صفحہ 522-521 مصنفہ | روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 522-521 | از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 375 پر درج ہے

صفحہ 941

حوالہ نمبر 358

۴۴۴

دوست ہو جاتا ہے تو کیا وہ پھر دوست کو دوزخ میں ڈال دیگا ؟ نَحْنُ اَوْلِیَآءُ اللّٰہ سے ظاہر ہے کہ احباء کو دوزخ میں نہیں ڈالتے۔

۳۰؍ اکتوبر ۱۹۰۲؁ء

ایک رؤیا

ایک بڑا تخت مربع شکل کا ہندوؤں کے درمیان بچھا ہوا ہے جس پر میں بیٹھا ہوا ہوں۔ ایک ہندو کسی کی طرف اشارہ کر کے کہتا ہے کہ کرشن جی کہاں ہیں؟ مجھ سے سوال کیا گیا وہ میری طرف اشارہ کر کے کہتا ہے کہ یہ ہے۔ پھر تمام ہندو روپیہ وغیرہ نذر کے طور پر دینے لگے۔ اتنے میں اُن میں سے ایک ہندو بولا

ہے کرشن جی تُو رُودر گوپال

(یہ ایک عرصہ دراز کی رؤیا ہے)

۳۱؍ اکتوبر ۱۹۰۲؁ء

امامت نہ کرانے کی وجہ

امامت نماز کی نسبت ایک شخص نے سوال کیا کہ حضور کس لیے نماز نہیں پڑھاتے؟ فرمایا کہ :۔ حدیث میں آیا ہے کہ مسیح جو آنے والا ہے وہ دوسروں کے پیچھے نماز پڑھے گا۔

(البدر جلد ۱ نمبر ۲ اور ۳ صفحہ ۱۲ تا ۱۴ مورخہ ۲۹ اکتوبر و ۷ نومبر ۱۹۰۲؁ء)

، ، ،

۱؂ ڈائری نویس یا کاتب کی غلطی معلوم ہوتی ہے۔ مضمون کے لحاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ غالباً حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے نَحْنُ اَبْنٰؤُا اللّٰهِ وَ اَحِبَّآؤُهُ ؕ قُلْ فَلِمَ يُعَذِّبُكُمْ بِذُنُوْبِكُمْ (المائدۃ: ۱۹) سے استدلال فرمایا ہو گا کہ "احباء کو دوزخ میں نہیں ڈالتے"۔ واللہ اعلم بالصواب (مرتب)

ملفوظات، جلد سوم صفحہ 444 طبع جدید از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 376 پر درج ہے

صفحہ 942

(حوالہ نمبر 359)

كِتَابُ الْوَلِيِّ ذُوالْفَقَارِ عَلِيٍّ ۔

وَحْی کی کتاب ولی کی تلوار کی طرح ہے یعنی مخالف کو پست و نابود کرنے والی ہے اور جیسے علی کی تلوار نے بڑے بڑے شجاعوں، سرکشوں میں نمایاں کارنامے دکھائے تھے ویسا ہی یہ بھی دکھلائے گی۔ اور یہ بھی ایک پیشگوئی ہے کہ یہ کتاب اپنے حیرت انگیز اور برکات آمیز ہونے پر دلالت کرتی ہے۔

(براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحہ ۵۲۵ حاشیہ در حاشیہ ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۵۹۱ ، ۵۹۲)

۱۸۸۴ء

پھر بعد اس کے فرمایا :-

لَوْ كَانَ الْإِيْمَانُ مُعَلَّقًا بِالثُّرَيَّا لَنَالَهُ

اگر ایمان ثریا سے لٹکتا ہوتا یعنی زمین سے بالکل اُٹھ جاتا تب بھی شخص مقدم الذکر اُس کو پالیتا۔

يَكَادُ زَيْتُهُ يُضِيءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ۔

عنقریب ہے کہ اُس کا تیل خود بخود روشن ہو جائے اگرچہ آگ اُس کو چھو بھی نہ جائے۔

أَوْ يَقُولُوْنَ نَحْنُ جَمِيعٌ مُّنْتَصِرٌ سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ۔ فَإِنْ يَرَوْا آيَةً

نوٹ ! ۱؂ ایک زمانہ وہ ذو الفقار کا کہ وہ گزر گیا کہ جب وہ ذو الفقار علی کما حقہ اُسکے ہاتھ میں تھا۔ مگر خدا تعالیٰ یہ ذو الفقار اس عاجز کو دے دے گا، بایں طرح پر کہ اُس کا چشمہ غیب اندر وہ کام کرے گا جو پہلے زمانہ میں وہ ذو الفقار کرتی تھی۔ سو وہ بات پوری ہو گئی اور وہ ذو الفقار علی کما حقہ اُسکو ملا ہے جو پیر کامل ہو گئی ہے۔

یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ امام سلطان اعظم ہو گا اور اُس کی قلم ہی ذو الفقار کا کام دے گی۔ (نعمت اللہ ولی کی)

یہ پیشگوئی کہ (تیغے میباشد کہ با او ہمہ در ۔ ۔ یا ہمچو ذوالفقارے چشمہ غیب) بعینہ اِس عاجز کے اُس الہام کا ترجمہ ہے جو اس وقت سے دس برس پہلے براہین احمدیہ میں چھپ چکا ہے اور وہ یہ ہے: كِتَابُ الْوَلِيِّ ذُوالْفَقَارِ عَلِيٍّ ۔ یعنی کتاب اس ولی کی ذوالفقار علی کی ہے۔ یہ اس عاجز کی طرف اشارہ ہے۔ اِسی بناء پر بارہا اس عاجز کا نام مکاشفات میں غازی رکھا گیا ہے۔ چنانچہ براہین احمدیہ کے بعض دیگر مقامات میں اسی کی طرف اشارہ ہے۔

(نشانِ آسمانی صفحہ ۱۵۔ روحانی خزائن جلد ۴ صفحہ ۳۷۵)

(ب) ”یہ مقام دعویٰ پر ہے پادریوں کے مقابلہ میں اس لئے ہم کو چاہئیے کہ ہر ایک حملہ پر نہ اٹھیں۔ مگر یاد رکھو کہ جس رنگ اور جن ہتھیاروں کے استعمال کے میدان میں وہ آئے ہیں اُسی رنگ کے ہتھیار ہم کو لے کر نکلنا چاہئیے اور وہ ہتھیار یہ قلم ہے جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے اس عاجز کا نام سلطان اعظم رکھا اور میرے قلم کو ذوالفقار علی فرمایا ۔“

(الملفوظات حصہ ۲ صفحہ ۱۸ جدید ایڈیشن صفحہ ۶ کالم۲)

۱؂ براہین احمدیہ (مرتب)

تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 58 طبع چہارم مؤلفہ مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 376 پر درج ہے

صفحہ 943

حوالہ نمبر 360 نشان آسمانی

۱۵

یدِ بیضا کہ با او تابندہ
باز باذوالفقار مے بینم

یعنی اُس کا وہ روشن ہاتھ جو اتمام کے حجت کی رُو سے تلوار کی طرح چمکتا ہے پھر مَیں اُس کو ذوالفقار کے ساتھ دیکھتا ہوں یعنی ایک زمانہ ذوالفقار کا تو وہ گزرا کہ جب ذوالفقار علی کرم اللہ وجہ کے ہاتھ میں تھی مگر خدا تعالیٰ پھر ذوالفقار اُس امام کو دے دے گا۔ اِس طرح پر کہ اُسکا چمکنے والا ہاتھ وہ کام کریگا جو پہلے زمانہ میں ذوالفقار کرتی تھی سو وہ ہاتھ ایسا ہو گا کہ گویا وہ ذوالفقار علی کرم اللہ وجہ ہے جو پھر ظاہر ہو گئی ہے یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ امام سلطان القلم ہوگا اور اُسکی قلم ذوالفقار کا کام دیگی۔ یہ پیشگوئی بعینہٖ اس عاجز کے اُس الہام کا ترجمہ ہے کہ جو اس وقت سے دس برس پہلے براہین احمدیہ میں چھپ چکا ہے اور وہ یہ ہے کتاب الولی ذوالفقار علی ۔ یعنی کتاب اس ولی کی ذوالفقار علی کی ہے یہ اِس عاجز کی طرف اشارہ ہے۔ اِسی بنا پر بار ہا اس عاجز کا نام مکاشفات میں غازی رکھا گیا ہے چنانچہ براہین احمدیہ کے بعض دیگر مقامات میں اِسی کی طرف اشارہ ہے۔

غازی دوست دار دشمن کش
ہمدم و یار غار مے بینم

وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک غازی ہے دوستوں کو بچانے والا اور دشمنوں کو مارنے والا۔

صورت و سیرتش چو پیغمبر
عِلم و حِلمش شِعار مے بینم

یعنی ظاہر و باطنی ہیئت نبی کی مانند رکھتا ہے اور شانِ نبوت اُس میں نمایاں ہے اور علم اور حلم اُسکا شِعار ہے مراد یہ کہ بباعث اپنی اتباع نبی کریم کے گویا وُہی صورت اور وُہی سیرت اُسکو حاصل ہو گئی ہے یہ اُس الہام کے مطابق ہے جو اِس عاجز کے بارے میں براہین میں چھپ

۳۷۵

نشان آسمانی صفحہ 15 مندرجہ روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 375 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 376 پر درج ہے

صفحہ 944

حوالہ نمبر 361

۴۴

بعض العلماء وكفرونى كالجهلاء فما باليتهم بعد تفهم الحق وانكشاف بعض علماء کے غضبناک ہونے کا موجب ہوئیں اور جہلاء نے مجھے کافر ٹھہرایا سو میں حق کے سمجھنے کے بعد اور راہِ طريق الاهتداء ورأيت ان هذا هو الحق فبينتها ولو كان قومي كارهين ہدایت کھلنے کے پیچھے اُن کی کچھ بھی پروا نہ کی اور میں نے دیکھا کہ یہی حق ہے سو میں نے بیان کر دیا اگرچہ میری قوم کراہت قَدْ أَثْبَت خلوصى الى هذا المقدار وبرهنت عليه بقدر كافٍ لاولى الابصار کرتی ہو۔ پس جبکہ میرا خلوص اس قدر ثابت ہوا اور میں نے اس پر کافی طور پر حجت قائم کر دی ان لوگوں فمن يظن ظن السوء فى امرى بعد الا الذى خبث عِرقه كالْفُجَّار وتدَرَّب کیلئے کافی ہیں۔ پس جو شخص اس کے بعد میرے پر بدگمانی کرے گا ایسا ہی بجز ناپاک فطرت اور بدمعاشوں کے جو گناہ میں بِالتمردِ والبدع وابى سير الاشراف وترك سير الصالحين . ہمیشہ نافرمانی اور بدعتوں پر دلیر ہو اور حقیقت میں اس کا کام یہی ہو شرافت کو پسند نہ کرے اور صالحین کی راہ کو چھوڑے۔ وما كان تاليفى فى العربية الا لمثل هذه الاغراض العظيمة ولم اور میرا عربی کتابوں کا تالیف کرنا تو انہیں عظیم الشان غرضوں کیلئے تھا اور یہ بھی مدعا تھا کہ عربوں کو يزل ينتاب العربيين كتبى حتى رأيت فيهم آثار التاثير وجاءنى برابر پے در پے پہنچتے رہیں۔ یہاں تک کہ میں نے ان میں تاثیر کے نشان پائے اور بعض بعض منهم وبعضهم راسلنى يسعى وبعضهم تحننوا وبعضهم صلحوا و ان میں سے بعض میرے پاس آئے اور بعض نے خط و کتابت کی اور بعض نے رجوع کی اور بعض صلاحیت پر آ گئے وافقوا كالمسترشدين . اور موافق ہو گئے جیسا کہ حق کے طالبوں کا کام ہو۔ وانى صرفت زماناً طويلاً فى هذه الامدادات حتى مضت على اور میں نے ان امدادوں میں ایک زمانہ طویل صرف کیا ہے۔ یہاں تک کہ مجھ پر گیارہ برس احدى عشر سنة فى شغل الاشاعات وما كنت من القاصرين . فل انہی اشاعتوں میں گزر گئے اور میں نے کچھ کوتاہی نہیں کی ۔ پس میں

۴۴

نورالحق حصہ اول مشمولہ روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 45-44 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 376 پر درج ہے

صفحہ 945

حوالہ نمبر 361 ۴۵

اِنْ اَدَّعَى التَّفَرُّدَ فِى هٰذِهِ الْخَدَمَاتِ وَلِىْ اَنْ اَقُوْلَ اِنَّنِىْ وَحِيْدٌ فِى هٰذِهِ میں دعویٰ کر سکتا ہوں کہ میں ان خدمات میں یکتا ہوں اور میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں ان التَّائِيْدَاتِ وَلِىْ اَنْ اَقُوْلَ اِنَّنِىْ حِرْزٌ لَّهَا وَ حِصْنٌ حَافِظٌ مِّنَ الْاٰفَاتِ وَ تائیدات میں یگانہ ہوں اور میں کہہ سکتا ہوں کہ میں اس گورنمنٹ کیلئے بطور ایک تعویذ کے ہوں اور بطور ایک پناہ بَشَّرَنِىْ رَبِّىْ وَقَالَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِيْهِمْ فَلَيْسَ لِلدَّوْلَةِ نَظِيْرِىْ کے ہوں جو آفتوں کو بچائے اور خدا نے مجھے بشارت دی اور کہا کہ خدا ایسا نہیں کہ اُنکو دکھ پہنچائے اور تُو اُن میں ہو پس وَمَثِيْلِىْ فِىْ نُصْرَتِىْ وَعَوْنِىْ وَسَتَعْلَمُ الدَّوْلَةُ اِنْ كَانَتْ مِنَ الْمُتَوَسِّمِيْنَ۔ گورنمنٹ کی خیر خواہی اور مدد میں کوئی دوسرا شخص میری نظیر اور مثیل نہیں اور عنقریب یہ گورنمنٹ معلوم کرلے گی اگر تفرس کا اُسمیں مادہ ہو۔ وَاَمَّا الَّذِيْنَ دَخَلُوْا فِى الْمِلَّةِ النَّصْرَانِيَّةِ تَارِكِيْنَ دِيْنَ الْاِسْلَامِ وَ مگر وہ لوگ جو عیسائی دین میں داخل ہو گئے اور دین اسلام اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چھوڑ دیا سو ہم اُن کو مُبَاعِدِيْنَ عَنْ ظِلِّ خَيْرِ الْاَنَامِ فَمَا حَسِبْتُهُمْ قَائِمِيْنَ لِخِدْمَةِ الدَّوْلَةِ وَالْمُخْلِصِيْنَ ایسے نہیں دیکھتے کہ سرکار انگریزی کی کچھ خدمت کرتے ہوں یا مخلص ہوں بلکہ ہم تو دیکھتے ہیں کہ وہ لِهٰذِهِ الْحَضْرَةِ بَلْ نَجِدُهُمْ مِّنْ اَخْبَثِ الْمُنَافِقِيْنَ - وَمَا دَخَلُوْا اَكْثَرُهُمْ فِىْ دِيْنِهِمْ منافق ہیں اور نفاق سے زندگی بسر کرتے ہیں۔ اور اکثر ان میں عیسائی دین میں محض اس لئے داخل ہوئے ہیں تاکہ اپنے اِلَّا لِيَسْتَطِبُّوْا لِوَجَعِ الْجُوْعِ وَلِيُفْعَمُوْا كَاْسَ الْوُلُوْعِ فَسَيَنْتَثِرُوْنَ ذَاتَ درد گرسنگی کا علاج کریں اور اپنے حرص کے پیالوں کو لبالب بھر دیں سو کسی صبح یہ لوگ تِتَّر بِتَّر بُكْرَةٍ اِذَا مَا رَاَوْا اَنَّهُمْ اُخْرِجُوْا مِنْ رَّوْضِ الْمَرْتُوْعِ وَيُعْجِبُوْنَ النَّاسَ ہو جائیں گے۔ جب دیکھیں گے کہ چرگاہ سے نکالے گئے اور لوگوں کو اپنے بدرویہ مِنْ وَشَكِ الرُّجُوْعِ وَنَحْنُ نَرَاهُمْ مُنْذُ اَعْوَامٍ مُّتَاَهِّبِيْنَ لِلْاِرْتِدَادِ كُلَّ سَاعَةٍ وَلَا سے تعجب میں ڈالیں گے اور ہم تو انکو کئی برسوں سے دیکھ رہے ہیں کہ وہ اپنا مذہبی قول و اقرار توڑنے کو تیار نَجِدُ فِيْهِمْ شَيْئًا مِّنَ الْاَوْصَافِ اِلَّا عِشْقَ التَّعَصُّبِ وَالصِّحَافِ الْمَلِيْئَةِ ہیں اور ہم اُن میں بجز اسکے کوئی خوبی نہیں پاتے کہ وہ تعصب اور خوش مزہ کھانوں کے عاشق ہوں جو پیالوں میں بھرے ہوئے ہوں

۴۵

نورالحق ، صفحہ 33 ، مندرجہ روحانی خزائن جلد 8 ، صفحہ 45-44 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 377 پر درج ہے

صفحہ 946

حوالہ نمبر 362

۸۲

۱۸۸۲ء الْفِتْنَةُ هٰهُنَا فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ اس جگہ ایک فتنہ ہے سو اولوالعزم نبیوں کی طرح صبر کر فَلَمَّا تَجَلّٰی رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكًّا جب خدا مشکلات کے پہاڑ پر تجلی کرے گا تو انہیں پاش پاش کر دے گا قُوَّةُ الرَّحْمٰنِ بِشِيْدِ اللهِ الصَّمَدِ یہ خدا کی قوت ہے کہ جو اپنے بندے کے لئے وہ غنی مطلق ظاہر کرے گا۔ تُقَادُ لَهُ تُشَقُّ الْقِمَّةِ عِنْدَ يَبْقَى الْكَمَالِ یعنی عبداللہ الصمد ہونا ایک مقام ہے کہ جو بطریق موہبت خاص عطا ہے کوششوں سے حاصل نہیں ہوسکتا۔

يٰدَاوُدُ عَامِلِ بِالنَّاسِ رِفْقًا وَّ اِحْسَانًا۔ وَرُدَّ تَحِيَّتَهُمْ بِتَحِيَّةٍ فَتَحَيَّوْا بِاَحْسَنَ مِنْهَا۔ وَ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ ۔ اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ اَىْ تُوْتَوْنَ بِهِ۔ تم کو وہ کرنا چاہیے جو میں نے فرمایا ہے۔ اُشْكُرْ نِعْمَتِيْ رَأَيْتُ خَدِيْجَتِيْ۔ اِنَّكَ الْيَوْمَ لَدَيْنَا مَكِيْنٌ اَمِيْنٌ۔ اَنْتَ مُحَدَّثُ اللهِ۔ فِيْكَ مَادَّةٌ فَارُوْقِيَّةٌ۔

اے داؤد خلق اللہ کے ساتھ رفق اور احسان کے ساتھ معاملہ کر۔ اور سلام کا جواب احسن طور پر دے اور اپنے رب کی نعمت کا لوگوں کے پاس ذکر کر۔ میری نعمت کا شکر کر کہ تو نے اُس کو قبل از وقت پایا۔ آج تجھے مرتبہ عظیم ہے۔ تو محدث اللہ ہے، تجھ میں مادہ فاروقی ہے۔

سَلَامٌ عَلَيْكَ يَا اِبْرَاهِيْمُ اِنَّكَ الْيَوْمَ لَدَيْنَا مَكِيْنٌ اَمِيْنٌ۔ ذُوْعَقْلٍ مَتِيْنٍ۔ حِبُّ اللهِ خَلِيْلُ اللهِ أَشَدُّ اللهِ وَ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ۔ مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰی۔ اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ۔ اَلَمْ نَجْعَلْ لَّكَ سُهُوْلَةً فِيْ كُلِّ اَمْرٍ۔ بَيْتُ الْفِكْرِ وَ بَيْتُ الذِّكْرِ۔ وَ مَنْ دَخَلَهُ كَانَ اٰمِنًا۔

تیرے پر سلام ہے اے ابراہیم! تو آج ہمارے نزدیک صاحب مرتبہ اور امانت دار اور قوی العقل ہے اور دوست خدا ہے، خلیل اللہ ہے، اشد اللہ ہے اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) پر درود بھیج۔ یعنی یہ اُس نبی کریم کی متابعت کا نتیجہ ہے۔ اور بقیہ ترجمہ یہ ہے کہ خدا نے تجھ کو ترک نہیں کیا اور نہ وہ تجھ پر ناراض ہے۔ کیا ہم نے تیرا سینہ نہیں

ے You must do what I told you.

یہ حوالہ صفحہ 377 پر درج ہے تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات، صفحہ 82، طبع چہارم از مرزا قادیانی

صفحہ 947

حوالہ نمبر 363

196

مَنْ يَّشَآءُ ۝ وَلَقَدْ اٰتَيْنٰكَ مَا لَمْ يُؤْتَ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ ۝ قُلْ جَآءَكُمْ نُوْرٌ مِّنَ اللّٰهِ فَلَا تَكْفُرُوْا بِهٖ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ ۝ اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ رَدَّ عَلَيْهِمْ مَكْرَهُمْ بُوْسًا لَّهُمْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا وَّالَّذِيْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ ۝ قُلْ اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهُ لَحٰفِظُوْنَ ۝ اِنِّيْ مَعَكَ يَامَسْرُوْرُ كُنْ مَّعِيْ حَيْثُمَا كُنْتَ ۝ قُلْ اِنِّيْ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِيْنَ ۝ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيْدُ ۝ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا يَصِفُوْنَ ۝ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمَ سَوْءٍ فَدَمَّرْنٰهُمْ تَدْمِيْرًا ۝ كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ ۝ ذٰلِكَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ عَلَيْنَا وَعَلَی النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُرُوْنَ ۝ اِنَّا نَصَرْنٰكَ كَمَا نَصَرْنَا النَّبِيّٖنَ ۝ يَسْـَٔلُوْنَكَ مَتٰی هٰذَا الْفَتْحُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ ۝ قُلْ اِيْ وَرَبِّيْ اِنَّهٗ لَحَقٌّ ۝ لَا يُسْـَٔلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْـَٔلُوْنَ ۝ مَا اَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ ۝ قُلْ لَّوْ كَانَ مَعَهُ اٰلِهَةٌ لَّابْتَغَوْا اِلٰی ذِي الْعَرْشِ سَبِيْلًا ۝ سُبْحٰنَهُ وَتَعَالٰی عَمَّا يَقُوْلُوْنَ ۝ اِنَّمَا اَمْرُهٗ اِذَاۤ اَرَادَ شَيْـًٔا اَنْ يَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ ۝ اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ ۝ قُلْ لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلٰی اَنْ يَّأْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا يَأْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيْرًا ۝ اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ الَّذِيْٓ اَنْقَضَ ظَهْرَكَ ۝ وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِي الْاَرْضِ مَرَحًا ۝ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍ ۝ اِنَّا رَآدُّوْهُ اِلَيْكَ ۝ اِنَّ الَّذِيْنَ يُبَايِعُوْنَكَ اِنَّمَا يُبَايِعُوْنَ اللّٰهَ ۝ يَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَيْدِيْهِمْ ۝ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ جَعَلَكَ مِنَ الْاٰوِيْنَ ۝ وَجَعَلَكَ مِنَ الْاٰمِنِيْنَ ۝ مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ ۝ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ فَقَلِيْلًا مَّا يُؤْمِنُوْنَ ۝ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِهٖ لِيَكُوْنَ لِلْعٰلَمِيْنَ نَذِيْرًا ۝ اِنَّكَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ ۝ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ ۝ تَنْزِيْلَ الْعَزِيْزِ الرَّحِيْمِ ۝ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اُنْذِرَ اٰبَآؤُهُمْ فَهُمْ غٰفِلُوْنَ ۝ وَجَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْاۤ اِلٰی يَوْمِ الْقِيٰمَةِ ۝ ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ ۝ وَثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ ۝ قُلْ اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوْحٰی اِلَيَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ۝ اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ ۝ اِنَّا كَفَيْنٰكَ الْمُسْتَهْزِءِيْنَ ۝ ایک نذیر آیا پر دُنیا نے اُس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اُسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اُس کی سچائی ظاہر کر دے گا ۔

یہ الہام بھی جو براہینِ احمدیہ میں صفحہ ۵۱۱ پر بایں طور درج ہے کہ جَاءَ نَبِيٌّ فِي الدُّنْيَا الخ (مرتب)

تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 296 طبع چہارم مصنفہ مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 377 پر درج ہے

صفحہ 948

حوالہ نمبر 364

ضمیمہ براہین احمدیہ ۲۱۲ حصہ پنجم

چشموں سے پانی پئیں لیکن اس بدبخت قوم نے اس دعوت کو ردّ کیا بعد اس کے دھوپ میں شدّتِ گرمی اور پیاس اور بھوک سے مرگئے ۔ اس لئے خدا فرماتا ہے کہ اُن کی جگہ میں دوسری قوم کو لاؤں گا جو ان درختوں کے ٹھنڈے سایہ میں بیٹھے گی اور ان پھلوں کو کھائیگی اور اس خوشگوار پانی کو پیئے گی ۔ خدا نے مثال کے طور پر قرآن شریف میں خوب فرمایا کہ ذوالقرنین نے ایک قوم کو دھوپ میں جلتے ہوئے پایا اور ان میں اور آفتاب میں کوئی اوٹ نہ تھی اور اس قوم نے ذوالقرنین سے کوئی مدد نہ چاہی ۔ اس لئے وہ اُسی بلا میں مبتلا رہی ۔ لیکن ذوالقرنین کو ایک دوسری قوم ملی جنہوں نے ذوالقرنین سے دھوپ سے بچنے کے لئے مدد چاہی ۔ سو ایک دیوار اُن کے لئے بنائی گئی اور وہ دُشمن کی دست برد سے بچ گئے۔

سو مَیں سچ سچ کہتا ہوں کہ قرآن شریف کی اس پیشگوئی کے مطابق وہ ذوالقرنین مَیں ہی ہوں ۔ جس نے ہر ایک قوم کی صدی کو پایا ۔ اور دھوپ میں جلنے والے وہ لوگ ہیں جنہوں نے مسلمانوں میں سے مجھے قبول نہیں کیا ۔ اور کیچڑ کے چشمے اور تاریکی میں بیٹھنے والے عیسائی ہیں جنہوں نے آفتاب کو نظر اُٹھا کر بھی نہ دیکھا ۔ اور وہ قوم جن کے لئے دیوار بنائی گئی وہ میری جماعت ہے ۔ مَیں سچ سچ کہتا ہوں کہ میری ہی جماعت اِن دشمنوں کے دست برد سے بچے گی ۔ ہر ایک بنیاد جو سست ہے اس کو شرک اور بدعت کھاتی جائیگی ۔ مگر اس جماعت کی بڑی عمر ہوگی اور شیطان ان پر غالب نہیں آئیگا ۔ اور یہ خدائی گروہ باطل پر غلبہ پاوے گا ۔ ان کی حجت تلوار سے زیادہ تیز اور نیزہ سے زیادہ اندر گھسنے والی ہوگی اور وہ قیامت تک ہر ایک مذہب پر غالب آتے رہیں گے ۔

ہائے افسوس ان نادانوں پر جنہوں نے مجھے شناخت نہ کیا ۔ وہ کیسی اندھی اور تاریک آنکھیں تھیں جو سچائی کے نور کو دیکھ نہ سکیں ۔ میں اُن کو نظر نہیں آسکتا کیونکہ تعصب نے ان کی آنکھوں کو تاریک کر دیا ۔ دلوں پر زنگ ہے اور آنکھوں پر پردے ۔ اگر وہ سچے طالب حق ہیں تو اپنے دلوں کو کینہ سے پاک کریں ۔ دین کو ٹھٹھے میں

یہ حوالہ صفحہ 377 پر درج ہے | براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 146 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 314 از مرزا قادیانی

صفحہ 949

حوالہ نمبر 365

تحقیق کامل رکھتا ہے۔ پس جاننا چاہئے کہ اس جگہ ایک ہی وجود میں ایک حالت اور نیت کے ساتھ دو قسم کا رجوع پایا گیا ایک خدائے تعالیٰ کی طرف جو وجودِ قدیم ہے اور ایک اُس کے بندوں کی طرف جو وجودِ حادث ہے اور دونوں قسم کا وجود یعنی قدیم اور حادث ایک دائرہ کی طرح ہے جس کی طرف اعلیٰ واجب الوجود اور اسفل امکان ہے۔ اب اُس دائرہ کے درمیان میں انسانِ کامل پیدا ہوا اور وہ اُن کے دونوں طرف سے بانضمامِ محکم مرکب ہو کر پرتوِ شانِ الٰہیہ پر مشتمل پیدا ہوتا ہے جیسے ایک وتر دائرہ کے دو قوسوں میں ہوتا ہے یعنی حق اور خلق میں واسطہ ٹھہر جاتا ہے۔ پہلے اس کو دُنو اور قُرب الٰہی کی خلعتِ خاص عطا کی جاتی ہے اور قُرب کے اعلیٰ مقام تک صعود کرتا ہے اور ہر خلقت کی طرف اُس کو لایا جاتا ہے۔ پس اس کا وہ صعود اور نزول دو قوس کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے اور اُس میں شئونِ الٰہیہ کا کمال ظہور ہو کر گویا عین قابِ قوسین کی طرح ہوتا ہے اور قابِ قوسین کے محاذات میں کمان کے چلہ پر اطلاق پاتا ہے۔ پس بجملہ وجوہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہو کر یعنی خدا سے پھر اُسی صفحۂ خلقت پر پس اپنی اسی صعود اور نزول کی وجہ سے دو قوسوں کے لئے ایک ہی وتر ہو گیا۔ اور چونکہ اُس کا وہ تخلق باخلاق اللہ سے ہے اس لئے اُس کی توجہ بمخلوق توجّہ خالق کے حکم میں ہے یا یوں سمجھو کہ چونکہ مالکِ حقیقی اپنی غایتِ شفقت علی العباد کی وجہ سے اس قدر بندوں کی طرف رجوع رکھتا ہے کہ گویا وہ بندوں کے پاس ہی ٹھہرتا ہے پس جبکہ سالک سیر الی اللہ کرتا کرتا اپنی کمالِ سیر کو پہنچ گیا تو جہاں خدا تھا وہیں اُس کو لوٹ کر آنا پڑا۔ پس اسی وجہ سے کمالِ تدلّیٰ یعنی قُربِ تام اُس کی تدلّیٰ یعنی ہبوط کا موجب ہو گیا۔

(براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحہ ۴۹۳ تا ۴۹۶ حاشیہ در حاشیہ)

(روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۵۸۶، ۵۸۷ حاشیہ در حاشیہ)

۱۸۸۴ء

يُحْيِ الدِّيْنَ وَيُقِيْمُ الشَّرِيْعَةَ زندہ کرے گا دین کو اور قائم کرے گا شریعت کو

يَا اٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ يَا مَرْيَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ يَا اَحْمَدُ اُسْكُنْ اَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ نَفَخْتُ فِيْكَ مِنْ لَّدُنِيْ رُوْحَ الصِّدْقِ۔ اے آدم بہشت میں رہ۔ اے مریم تو اور تیرا زوجہ بہشت میں رہ۔ اے احمد تو اور تیری زوجہ بہشت میں رہ۔ میں نے اپنی طرف سے سچائی کی رُوح تجھ میں پھونک دی ہے۔

عہ: صفحہ ۴۹۶ میں براہین احمدیہ کی اس عبارت کی تشریح خود مرزا صاحب نے یہ فرمائی تھی ”مریم سے مراد اس جگہ میری بعض عادات کے لحاظ سے میں ہوں“ حاشیہ در حاشیہ سے مراد یہ ہے کہ براہین احمدیہ میں اصل عبارت پر حاشیہ ہے پھر اس حاشیہ پر حاشیہ ہے اور اس حاشیہ میں یہ عبارات ہیں۔

تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 55-56 طبع چہارم از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 378,377 پر درج ہے

صفحہ 950

حوالہ نمبر 365

٥٦

اس آیت میں بھی روحانی آدم کا قصہ بیان کیا گیا یعنی جیسا کہ حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش بلا توسط اسباب ہے ایسا ہی روحانی آدم میں بلا توسط اسباب ظاہری نفخ روح ہوتا ہے۔ اور یہ نفخ روح جس طرح حقیقی طور پر انبیاء علیہم السلام سے خاص ہے اور پھر بوجہ تبعیت اور وراثت کے بعض افرادِ خاصہ اُمتِ محمدیہ کو یہ نعمت عطا کی جاتی ہے۔

(براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحہ ٤٩٦، ٤٩٧ حاشیہ در حاشیہ۔ روحانی خزائن جلد ١ صفحہ ٥٩٠، ٥٩١)

٣٨٣

وَكُنْتُ نَسْيًا مَّنْسِيًّا -

(کشتی نوح صفحہ ٢٨، روحانی خزائن جلد ١٩ صفحہ ٤١)

نسبت میری ہنسی اڑانے کے لئے یہ الہام ہوتا تھا۔

بقیہ حاشیہ:- میں کہ جو بطور یقینی اور متواتر طور پر مجھ پر کھل گئے ہیں کہ یہی ہیں۔ جن میں نہ زیادتی ہے نہ کمی ہے بلکہ درحقیقت میں عاجز بندہ ہوں اب میں کس جگہ سر رکھوں اور کس کی طرف جاؤں۔ پس جبکہ تواتر ہو چکا ہے کہ یہی ہے کہ اس کے لئے مجدد قرار دیا جائے۔ یعنی يَا مَرْيَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ ۔ اور میرے دعویٰ کے واسطے قوی ثبوت ہمارے پاس نہیں ہے اور قرآن میں سے جو کچھ ثبوت ملا اُس نے مجھ کو مطمئن کیا ہے اور حقیقتاً اس سے مجھ کو دل میں پوری تسلی ہے کہ یہ خدا کی طرف سے ہے اور کوئی شک نہیں ہے اور میں سچا کہلانے کا مستحق ہوں اور سچے الہام پر یقین ہوتا ہے

(مکتوبات احمدیہ جلد اول صفحہ ٤٣، مکتوب بنام منشی رستم علی صاحب)

یعنی اے مریم اپنے گھر والوں سمیت بہشت میں داخل ہو ۔ اور کہیں اُس نے کہا تو میرے پاس مقام امانت میں ہے اور تو میری آنکھوں کے سامنے ہے جیسا کہ تو نے مجھے پکارا ہے پس میں نے تجھے اسی کا حکم دیا ہے کہ یہاں مراد یہ ہے کہ اَسْكُنْ اَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ ۔ يَا عِيْسَى اِنِّىْ مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ اِلَىَّ ۔ پس جب مریم کو الہام ہوا کہ اے مریم تو اور تیرا گھر والا بہشت میں داخل ہو جاؤ اور پھر عیسٰی کو خطاب کیا کہ اے عیسٰی میں تجھے وفات دیتا ہوں اور اپنی طرف اٹھاتا ہوں ۔ پس ان باتوں میں سے ایک کا بھی ظہور نہ ہوا کہ جب تک مریم نے عیسٰی کی صورت نہ پکڑی اور پہلے مریمی الہام کا وقت تو پیشتر تھا ۔ پس اُس کے ظہور کا وقت پیشتر تھا جو مریم کو الہام میں بشارت دی گئی اور پھر عیسٰی کو جو خطاب ہوا اور اُس کے لئے جو بشارت دی گئی اُس کے ایک عرصہ کے بعد اُس نے ظہور میں آنا تھا جس وقت کہ وہ مریم عیسٰی کا بروز ہو کر مریم کے بطن سے پیدا ہو پس یہی وہ جگہ ہے جہاں احمقوں نے ٹھوکر کھائی ہے ۔

(کشتی نوح صفحہ ٤٧، ٤٨ ۔ روحانی خزائن جلد ١٩ صفحہ ٥٠)

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 55، 56 طبع چہارم از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 377, 378 پر درج ہے

صفحہ 951

حوالہ نمبر 366

خطبہ الہامیہ ۷۰

عَلٰی مَقَامِ الْخَتْمِ مِنَ النُّبُوَّةِ ط وَ اِنَّهٗ خَاتَمُ الْاَنْۢبِيَاءِ ط نبوت ختم گردیدہ و او خاتم الانبیاء است نبوت کے سلسلہ کو ختم کرنے والے پر اور وہ خاتم الانبیاء ہیں ۔ وَ اَنَا خَاتَمُ الْاَوْلِيَاءِ ط لَا وَلِيَّ بَعْدِيْ ط اِلَّا الَّذِيْ هُوَ و من خاتم الاولیاءم ہیچ ولی بعد من نیست مگر آنکہ اور میں خاتم الاولیاء ہوں میرے بعد کوئی ولی نہیں مگر وہ جو مِنِّيْ وَ عَلٰی عَهْدِيْ ط وَ اِنِّيْ اُرْسِلْتُ مِنْ رَّبِّيْ بِكُلِّ از من باشد و بر عہد من باشد و من از خدائے خود بتمام تر مجھ سے ہوگا اور میرے عہد پر ہوگا اور میں اپنے خدا کی طرف سے تمام تر قُوَّةٍ وَّ بَرَكَةٍ وَّ عِزَّةٍ ط وَ اِنَّ قَدَمِيْ هٰذِهِ عَلٰی قوت و برکت و عزت فرستادہ شدہ ام و ایں قدم من برایں قوت اور برکت اور عزت کے ساتھ بھیجا گیا ہوں اور یہ میرا قدم ایک ایسے مَنَارَةٍ خُتِمَ عَلَيْهَا كُلُّ رِفْعَةٍ ط فَاتَّقُوا اللّٰهَ اَيُّهَا منارہ است کہ بر او بلندی ختم گردیدہ پس اے جواناں منارہ پر ہے جس میں ہر ایک بلندی ختم کی گئی ہے پس خدا سے ڈرو الْفِتْيَانُ ط وَ اعْرِفُوْنِيْ وَ اَطِيْعُوْنِيْ وَ لَا تَمُوْتُوْا بترسید و مرا بشناسید و اطاعت من کنید و ممیرید اے جوانو اور مجھے پہچانو اور میری اطاعت کرو اور نافرمانی پر بِالْعِصْيَانِ ط وَ قَدْ قَرُبَ الزَّمَانُ ط وَ حَانَ اَنْ نافرمان و بتحقیق زمانہ نزدیک رسید و آں وقت مت مرو اور زمانہ نزدیک آگیا ہے اور وہ وقت

خطبہ الہامیہ صفحہ 35 ، مطبوعہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 70 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 378 پر درج ہے

صفحہ ۲۸۶

روحانی خزائن جلد ۱۵ تریاق القلوب

خدا کو تمام تعریفیں ہیں جس نے تیری دامادی کا رشتہ عالی نسب میں کیا اور خود تجھے عالی نسب اور شریف خاندان بنایا۔ یہ تو ہم ابھی بیان کر چکے ہیں کہ جن سادات کے خاندان میں دہلی میں میری شادی ہوئی تھی وہ تمام دہلی کے سادات میں سے سندی سید ہونے میں اوّل درجہ پر ہیں اور علاوہ اپنی آبائی بزرگی کے وہ خواجہ میر درد کے نبیرہ ہیں اور اب تک دہلی میں خواجہ میر درد کے وارث متصور ہو کر خواجہ ممدوح کی گدی انہی کو ملی ہوئی ہے کیونکہ خواجہ موصوف کا کوئی لڑکا نہ تھا یہی وارث ہیں جو ان کی لڑکی کی اولاد ہیں اور ان کی سیادت ہندوستان میں ایک روشن ستارہ کی طرح چمکتی ہے بلکہ سوچنے سے معلوم ہو گا کہ ان کا خاندان خواجہ میر درد کے آبائی خاندان سے بڑھ کر ہے۔ کیونکہ خواجہ میر درد نے ان کی عظمت کو قبول کر کے ان کے بزرگ کو لڑکی دی اور اس زمانہ میں یہ خیال اب سے بھی زیادہ تھا کہ لڑکی دینے کے وقت عالی خاندان کو ڈھونڈتے تھے۔ اور خواجہ میر درد باخدا اور بزرگ ہونے کی وجہ سے سلطنت چغتائیہ سے ایک بڑی جاگیر پاتے تھے اور دُنیوی حیثیت کے رُو سے ایک نواب کا منصب رکھتے تھے۔ اور پھر ان کی وفات کے بعد وہ جاگیر کے دیہات انہی میں تقسیم ہوئے۔ اور اس عظمت خاندانی کے علاوہ میرے الہامات میں جس قدر اس بات کی تصریح کی گئی ہے کہ یہ خالص سید اور بنی فاطمہ ہیں یہ ایک خاص فخر کا مقام ان لوگوں کے لئے ہے۔ اور میں خیال نہیں کر سکتا کہ تمام پنجاب اور ہندوستان بلکہ تمام اسلامی دنیا میں کوئی اور خاندان سادات کا ایسا ہو کہ نہ صرف ان کی سیادت کو اسلامی سلطنت نے مان کر ان کی تعظیم کی ہو بلکہ خدا نے اپنی خاص کلام اور گواہی سے اس کی تصدیق کر دی ہو۔ یہ تو ان کے خاندان کا حال ہے۔ اور میں اپنے خاندان کی نسبت کئی دفعہ لکھ چکا ہوں کہ وہ ایک

تریاق القلوب صفحہ 158 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 286, 287 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 378 پر درج ہے

Back

صفحہ ۲۸۷

روحانی خزائن جلد۱۵ تریاق القلوب

شاہی خاندان ہے اور بنی فارس اور بنی فاطمہ کے خون سے ایک معجون مرکب ہے۔ یہ شہرت عام کے لحاظ سے یوں کہو کہ وہ خاندان مغلیہ اور خاندان سیادت سے ایک ترکیب یافتہ خاندان ہے مگر میں اس پر ایمان لاتا اور اسی پر یقین رکھتا ہوں کہ ہمارے خاندان کی ترکیب بنی فارس اور بنی فاطمہ سے ہے کیونکہ اسی پر الہام الہی کے تواتر نے مجھے یقین دلایا ہے اور گواہی دی ہے۔

خدیجتی انک الیوم لدی حظ عظیم ۔ ترجمہ ۔ میری نعمت کا شکر کر ۔ تو نے میری خدیجہ کو پایا آج تو ایک حظ عظیم کا مالک ہے۔ براہین احمدیہ صفحہ ۵۵۸ اور اس زمانہ کے قریب ہی یہ بھی الہام ہوا تھا بکر و ثیب یعنی ایک کنواری اور ایک بیوہ تمہارے نکاح میں آئے گی۔ یہ مؤخر الذکر الہام مولوی محمد حسین بٹالوی ایڈیٹر اشاعۃ السنۃ کو بھی سنا دیا گیا تھا لیکن الہام مذکورہ بالا جس میں خدیجہ کے پانے کا وعدہ ہے براہین احمدیہ کے صفحہ ۵۵۸ میں درج ہو کر نہ صرف محمد حسین بلکہ لاکھوں انسانوں میں اشاعت پا چکا تھا۔ ہاں شیخ محمد حسین مذکور ایڈیٹر اشاعۃ السنۃ کو سب سے زیادہ اس پر اطلاع ہے کیونکہ اُس نے براہین احمدیہ کے چاروں حصوں کا ریویو لکھا تھا اور اس کو خوب معلوم تھا کہ ان صفات کی ایک باکرہ بیوی کا وعدہ دیا گیا ہے جو خدیجہ کی اولاد میں سے یعنی سید ہوگی جیسا کہ الہام موصوفہ بالا میں آیا ہے کہ تو میرا شکر کر اس لئے کہ تو نے خدیجہ کو پایا یعنی تو خدیجہ کی اولاد کو پائے گا۔ اسی کی تائید میں وہ الہام ہے جو براہین احمدیہ کے صفحہ ۴۹۲ حاشیہ دوم اور صفحہ ۴۹۶ میں درج ہے اور وہ یہ ہے۔ اردتُ ان استخلف فخلقت ادم۔

تریاق القلوب صفحہ 159 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 286, 287 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 378 پر درج ہے

صفحہ 954

حوالہ نمبر 368

۲۱۰

ایک لفظ ہے جو عربی اور عبرانی میں مشترک ہے یعنی عبرانی میں اس لفظ کو نابی کہتے ہیں اور یہ لفظ نابا سے مشتق ہے جس کے یہ معنی ہیں۔ خدا سے خبر پا کر پیشگوئی کرنا۔ اور نبی کیلئے شارع ہونا شرط نہیں ہے۔ یہ صرف موہبہ ہے جس کے ذریعہ سے امور غیبیہ کھلتے ہیں۔ پس میں جب کہ اس مُدّت تک ڈیڑھ سو پیشگوئی کے قریب خدا کی طرف سے پا کر بچشم خود دیکھ چکا ہوں کہ صاف طور پر پوری ہو گئیں تو میں اپنی نسبت نبی یا رسول کے نام سے کیونکر انکار کر سکتا ہوں۔ اور جب کہ خود خدا تعالیٰ نے یہ نام میرے رکھے ہیں تو میں کیونکر رَدّ کروں یا اُس کے سوا کسی دُوسرے سے ڈروں۔ مجھے اُس خدا کی قسم ہے جس نے مجھے بھیجا ہے اور جس پر افترا کرنا لعنتیوں کا کام ہے کہ اُس نے مسیح موعود بنا کر مجھے بھیجا ہے۔ اور میں جیسا کہ قرآن شریف کی آیات پر ایمان رکھتا ہوں۔ ایسا ہی بغیر فرق ایک ذرّہ کے خدا کی اس کھلی کھلی وحی پر ایمان لاتا ہوں جو مجھے ہوئی۔ جس کی سچائی اس کے متواتر نشانوں سے مجھ پر کھل گئی ہے۔ اور میں بیت اللہ میں کھڑے ہو کر یہ قسم کھا سکتا ہوں کہ وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے وہ اُسی خدا کا کلام ہے جس نے حضرت موسیٰؑ اور حضرت عیسیٰؑ اور حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنا کلام نازل کیا تھا۔ میرے لئے زمین نے بھی گواہی دی اور آسمان نے بھی۔ اُسی طرح پر میرے لئے آسمان بھی بولا اور زمین بھی کہ میں خلیفۃ اللہ ہوں۔ مگر پیشگوئیوں کے مطابق ضرور تھا کہ انکار بھی کیا جاتا۔ اس لئے جن کے دلوں پر پردے ہیں وہ قبول نہیں کرتے۔ میں جانتا ہوں کہ ضرور خدا میری تائید کریگا جیسا کہ ہمیشہ اپنے رسولوں کی تائید کرتا رہا ہے۔ کوئی نہیں جو میرے مقابل پر ٹھہر سکے کیونکہ خدا کی تائید اُن کے ساتھ نہیں۔ اور میں جس جگہ میں نے نبوت یا رسالت سے انکار کیا ہے صرف اِن معنوں سے کیا ہے کہ میں مستقل طور پر کوئی شریعت لانے والا نہیں ہوں اور نہ میں مستقل طور پر نبی ہوں۔ مگر اِن معنوں سے کہ میں نے اپنے رسول مقتداؐ سے

ایک غلطی کا ازالہ صفحہ 8 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 210 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 379 پر درج ہے

صفحہ 955

(حوالہ نمبر 369)

ضرورۃ الامام ۴۹۵

یاد رہے کہ امام الزمان کے لفظ میں نبی، رسول، محدّث، مجدّد سب داخل ہیں۔ مگر نرے ولی ارشاد اور ہدایت خلق اللہ کیلئے مامور نہیں ہوتے اور نہ وہ کمالات اُن کو دیئے گئے۔ وہ گو ولی ہوں یا ابدال ہوں۔ امام الزمان نہیں کہلا سکتے۔

اب بالآخر یہ سوال باقی رہا کہ اس زمانہ میں امام الزمان کون ہے جس کی پیروی تمام عالم مسلمانوں اور زاہدوں اور خواب بینوں اور ملہموں کو کرنی خدا تعالیٰ کی طرف سے فرض قرار دیا گیا ہے۔ سو میں اس وقت بے دھڑک کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے فضل اور عنایت سے وہ

اِمامُ الزَّمان مَیں ہُوں

اور مجھ میں خدا تعالیٰ نے وہ تمام علامتیں اور تمام شرطیں جمع کی ہیں کہ اس صدی کے سر پر مجھے مبعوث فرمایا ہے۔ جس میں سے پندرہ برس گزر بھی گئے۔ اور ایسے وقت میں مَیں ظاہر ہوا ہوں کہ جب کہ اسلامی عقیدے اختلافات سے بھر گئے تھے اور کوئی عقیدہ اختلاف سے خالی نہ تھا۔ ایسا ہی مسیح کے نزول کے بارے میں نہایت غلط خیال پھیل گئے تھے اور اس عقیدے میں بھی اختلاف کا یہ حال تھا کہ کوئی حضرت عیسیٰ کی حیات کا قائل تھا اور کوئی موت کا۔ اور کوئی جسمانی نزول مانتا تھا اور کوئی بروزی نزول کا معتقد تھا۔ اور کوئی دمشق میں انکو اُتار رہا تھا اور کوئی مکہ میں۔ اور کوئی بیت المقدس میں اور کوئی اسلامی لشکر میں اور کوئی خیال کرتا تھا کہ ہندوستان میں اُتریں گے۔ پس یہ تمام مختلف رائیں اور مختلف قول ایک فیصلہ کرنے والے حَکَم کو چاہتے تھے۔ سو وہ حَکَم میں ہوں۔ مَیں رُوحانی طور پر مسیح کے اِن تمام اختلافات کے دُور کرنے کیلئے بھیجا گیا ہوں۔ اور یہی دونوں باتوں نے تقاضا کیا کہ مَیں بھیجا جاؤں میرے لئے ضروری نہیں تھا کہ مَیں اپنی حجیّت کی کوئی اور دلیل پیش کروں کیونکہ ضرورت خود دلیل ہے۔ لیکن پھر بھی میری تائید میں خدا تعالیٰ نے کئی نشان ظاہر کئے ہیں۔ اور میں جیسا کہ احادیثِ نبویہؐ میں فیصلہ کرنے کے لئے حَکَم ہوں۔ ایسا ہی وفات حیات کے جھگڑے میں بھی حَکَم ہوں۔

ضرورۃ الامام صفحہ 24 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 495 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 379 پر درج ہے

صفحہ 956

حوالہ نمبر 370 ۲۹

یہ بھی بتلایا ہے خیمے بپائے کن پسر پیدا یعنی وہ تخم کہ سویدا شودنم"

(اربعین نمبر ۳ صفحہ ۲۸ حاشیہ ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۴۱۶ - ۴۱۷)

(ب) ایک بیٹا ذی المجد جس کی چمک سالہا سال تک دنیا میں رہے گی الخ"

"خیمے بپائے کن پسر پیدا یعنی وہ تخم کہ زنگ اسود شودنم" (اربعین نمبر ۳ صفحہ ۲۸، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۴۱۶)

۱۸۸۷ء میں :

"پھر فتح اسلام میں فرماتا ہے کہ میں نے خدا تعالیٰ سے الہام پا کر ہندوؤں آریوں کو ہندوؤں اور مسلمانوں میں سے اس بات کی خبر دی کہ خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ

إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ حَلِيمٍ

یعنی ہم تجھے ایک حلیم لڑکے کے پیدا ہونے کی خوشخبری دیتے ہیں۔

میں نے یہ الہام ایک شخص حافظ نور احمد امرتسری کو سنایا جو اب تک زندہ ہے اور وہ شخص میرے سلسلہ کی بیعت کے داخلوں میں سے ہے اور نیز یہی الہام شیخ حامد علی کو جو میرے پاس رہتا تھا سنایا اور وہ ہندوؤں کو جو کہ مخالفت رکھتے تھے یعنی شرمپت اور ملاوا مل ساکنان قادیان کو بھی سنایا اور لوگوں نے اس الہام سے تعجب کیا کیونکہ میری پہلی بیوی کو عرصہ بیس سال سے اولاد ہونی موقوف ہو چکی تھی اور دوسری کوئی میری زوجہ نہ تھی لیکن حافظ نور احمد نے کہا کہ خدا کی قدرت سے کیا تعجب کہ وہ بڑھاپے میں دے قریبا تین برس کے بعد ..... دہلی میں میری شادی ہوئی اور خدا نے وہ لڑکا مجھے دیا اور تین اور عطا کئے۔" (تریاق القلوب صفحہ ۱۳، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۲۰۱ ، ۲۰۲)

۱۸۸۸ء میں :

اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ يَحْيٰی

(براہین احمدیہ حصہ چہارم حاشیہ در حاشیہ نمبر ۳ صفحہ ۵۱۵ ۔ روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۶۱۶)

ترجمہ : میں بشارت کرتا ہوں تجھے ایک لڑکے کی

"یہ ایک بشارت کئی سال پہلے اس نکاح کی طرف تھی جو سادات کے گھر میں دہلی میں ہوا ۔ ۔ ۔ ۔ اور خدا نے اس لئے میری بیوی کا نام رکھا کہ وہ ایک مبارک نسل کی ماں بنے جس کا کہ اسی جگہ بھی مبارک نسل کا وعدہ تھا اور نیز یہ اس طرف اشارہ تھا کہ وہ میری سادات کی قوم میں سے ہوگی"

(تریاق القلوب صفحہ ۳۹ ، ۴۰، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۲۱۲ ، ۲۱۳)

۱؎ اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء میں ہے یہ نشان ذی المجد ہونے کے ساتھ مظہر الحق والعلاء بھی ہے۔ ۲؎ اس کے بعد الہام ہے كَانَ الْحَقُّ مَعَكَ شَجَرَةُ الزَّيْتُونِ لَا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ حُلَّةِ الْاَنْبِيَاءِ اُمِّيَّةُ مگر یہ عاجز اس سے مراد لیتا ہے کہ وہ قرشی امیہ ہوگا۔ واللہ اعلم۔ یہ قول حامد علی نے کہا ہے لیکن الہام میں جو اس سے مراد امیہ ہے ضرور سچی ہے۔

تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 29 طبع چہارم از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 379 پر درج ہے

صفحہ 957

حوالہ نمبر 371

۲۸

کپڑے پہنی ہوئی ہے جب میں اُس کو دائیں طرف چلاتا ہوں تو ہزاروں مخالف اُس سے قتل ہو جاتے ہیں اور جب بائیں طرف چلاتا ہوں تو ہزارہا دُشمن اُس سے مارے جاتے ہیں۔

تب حضرت عبداللہ صاحب مرحوم (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) میری یہ خواب سُن کر بہت خوش ہوئے اور بشاشت اور انبساط اور انشراح صدر کے علامات و امارات اُن کے چہرہ میں نمایاں ہو گئے۔ اور فرمانے لگے کہ اس کی تعبیر یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ آپ سے بڑے بڑے کام لے گا اور جو کچھ کہ دائیں طرف تلوار چلا کر مخالفوں کو قتل کیا جاتا ہے اس سے مراد وہ قوّتِ غضبیہ کا کام ہے کہ جو روحانی طور پر انوار و برکات کے ذریعہ سے انجام پذیر ہوگا۔ اور جو کچھ کہ بائیں طرف تلوار چلا کر ہزارہا دُشمنوں کو مارا جاتا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ آپ کے ذریعہ سے قطعی طور پر خدائے تعالیٰ الزام و اسکات خصم کرے گا اور دُنیوی دلائل عقلیہ سے اپنی حجّت پوری کرے گا۔ پھر بعد اس کے اُنہوں نے فرمایا کہ جب میں دُنیا میں تھا تو میں کثرت سے دُعا کرتا تھا کہ خدائے تعالیٰ ضرور کوئی ایسا آدمی پیدا کرے۔ پھر حضرت عبداللہ صاحب مرحوم مجھے ایک وسیع مکان کی طرف لے گئے جس میں ایک جماعت راستبازوں اور کامل لوگوں کی بیٹھی ہوئی تھی لیکن سب کے سب مسلح اور سپاہیانہ صورت میں ایسی مستعدی کا پہرہ دیئے ہوئے معلوم ہوتے تھے کہ گویا کوئی جنگی خدمت بجالانے کیلئے کسی ایسے حکم کے منتظر بیٹھے ہیں جو بہت جلد آنے والا ہے۔ ..... یہ رؤیا و الہام جو درحقیقت ایک کشف کی قسم ہے اسقدر کھلے طور پر بعض علامات پر دلالت کر رہی ہے جو توضیح کی نسبت ہم ابھی بیان کر آئے ہیں یعنی مسیح کا خنزیروں کو قتل کرنا اور علی العموم تمام کفّار کو مارنا انہیں معنوں کی رُو سے ہے کہ وہ حُجّت الٰہی پوری کرے گا اور فتنہ کی تلوار سے اُن کو قتل کرے گا۔ واللّہ اعلم بالصواب 12 (ازالۃ الاوہام صفحہ 63 ۔ 64 حاشیہ ۔ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 134 ، 135 حاشیہ)

۱۸۸۱ء (تقریباً) (1) "خدا نے اپنے الہامات میں میرا نام حُجّت اللہ بھی رکھا ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جس قدر اس حُجّت اللہ کو مخالف گرانا چاہیں گے اس میں سے معارف اور آسمانی نشانوں کے فوارے نکلیں گے چنانچہ میں دیکھتا ہوں کہ ہر ایک ایذاء کے وقت ضرور ایک خُزانہ کُھلتا ہے اور اس بارے میں الہام یہ ہے :۔ ممتاز الذین فی بدعھم ۔ (آئینہ کمالات اسلام صفحہ 589 ۔ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 589) (ترجمہ از مرتب) : وہ درجہ بڑھا ہے۔ اس سے قدر میں اعلٰی و معلّٰی رہا ہے گویا قطرہ سے چشمہ اور چشمہ سے دریا بہہ نکلے ۔ اور حضورؐ فرماتے ہیں:۔ "اور اس مُجاہدہ سے ایک غایت درجہ کی تجلّی ہے جیسا کہ آفتاب کو چمک ہوتی ہے اور میں تلوار دائیں طرف اور کبھی بائیں طرف چلاتا ہوں اور ہزارہا دُشمن اُس سے مارے جاتے ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ وہ تلوار اپنی لمبائی کی وجہ سے دُنیا کے کناروں تک کام کرتی ہے اور وہ ایک بجلی کی طرح ہے جو ایک دم میں ہزاروں کوس چلی جاتی ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ ہاتھ تو میرا ہی ہے مگر قوّت آسمان سے ہے اور میں ہر ایک دفعہ اپنے دائیں اور بائیں طرف اس تلوار کو چلاتا ہوں اور ایک مخلوق کثیر ہے جو مجھ سے کٹتی جاتی ہے ۔ (نزول المسیح صفحہ 245 ، 246 ۔ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 619 ، 620)

تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 28 طبع چہارم ، از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 379 پر درج ہے

صفحہ 958

حوالہ نمبر 372 ۵۷۰

(اُس کو یزید پڑھا ہے یہ خدا کی طرف سے نہیں صرف تفہیم ہے جیسے کہ لفظوں میں)

مُّزْجَاةٍ فَأَوْفِ لَنَا الْكَيْلَ وَتَصَدَّقْ عَلَيْنَا۔ اِنَّ اللّٰهَ يَجْزِي الْمُتَصَدِّقِيْنَ۔

ساتھ ایک طرف جا رہا ہوں اور وہ جبہ میرے پاؤں تک لٹک رہا ہے اور چمک کی شعاعیں اس میں سے نکل رہی ہیں۔

مبارک میرے ساتھ تھا اور خفیف خفیف بارش کے قطرے جو خوشنما ہیں برس رہے تھے۔

(بدر جلد ۱ نمبر ۳۸ مورخہ ۱۴ ستمبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۴۔ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۳۳ مورخہ ۲۴ ستمبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۱)

۲۴؍ ستمبر ۱۹۰۵ء (الف) ”موت۔ تیرہ ماہ حال کو“ غالباً تیرہ ماہ حال سے مراد تیرہ ماہ شعبان ہے۔ واللہ اعلم۔ اور میں نہیں جانتا کہ تیرہ ماہ حال سے یہی شعبان ہے یا کسی اور شعبان کی تیرہ تاریخ۔ اور میں قطعی طور پر نہیں جانتا کہ کس کے حق میں ہے اِس لئے طبیعت غمگین ہے۔ خدائے تعالٰی فضل کرے۔ آمین۔“

(بدر جلد ۱ نمبر ۳۹ مورخہ ۲۱ ستمبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۴۔ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۳۴ مورخہ ۲۴ ستمبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۱)

لکھ دی ہے۔

پس ہمیں پورا ماپ تول دے اور ہم پر صدقہ کر۔ اللہ تعالیٰ صدقہ کرنے والوں کو جزائے خیر دیتا ہے۔

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 570 طبع چہارم از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 380 پر درج ہے

صفحہ 959

۲۱۳

(حوالہ نمبر 373)

اربعین نمبر ۳

تو تو میری پیروی کر۔ تا خدا بھی تم سے محبت کرے۔ اور یہ لوگ مکر کرینگے اور خدا بھی مکر کرے گا ۔ اور خدا بہتر مکر کرنے والا ہے۔ اور خدا ایسا نہیں کریگا کہ وہ تجھے چھوڑ دے جب تک کہ پاک اور پلید میں فرق نہ کرلے ۔ اور تیرے پر دنیا اور دین میں میری رحمت ہے اور تو آج ہماری نظر میں صاحب مرتبہ ہے۔ اور ان میں سے ہے جن کو مدد دی جاتی ہے۔ اور مجھ سے تو وہ مقام اور مرتبہ رکھتا ہے جس کو دنیا نہیں جانتی۔ اور ہم نے دنیا پر رحمت کرنے کے لئے تجھے بھیجا ہے۔ اے احمد! اپنے زوج کے ساتھ بہشت میں داخل ہو۔ اے آدم! اپنے زوج کے ساتھ بہشت میں داخل ہو یعنی ہر ایک جو تجھ سے تعلق رکھنے والا ہے گو وہ تیری بیوی

٭ یہ مقام ہماری جماعت کے لئے سوچنے کا مقام ہے کیونکہ اس میں خداوند تعالیٰ فرماتا ہے کہ خدا کی محبت اسی سے وابستہ ہے کہ تم کامل طور پر پیرو ہو جاؤ اور تم میں ایک ذرہ مخالفت باقی نہ رہے اور اسجگہ جو میری نسبت کلام الٰہی میں رسول اور نبی کا لفظ اختیار کیا گیا ہے کہ یہ رسول اور نبی اللہ ہے یہ اطلاق مجاز اور استعارہ کے طور پر ہے کیونکہ جو شخص خدا سے براہ راست علم پاتا ہے اور یقینی طور پر خدا اس سے مکالمہ کرتا ہے جیسا کہ نبیوں سے کیا اسپر رسول یا نبی کا لفظ بولنا غیر موزوں نہیں ہے بلکہ یہ نہایت فصیح استعارہ ہے اسی وجہ سے صحیح بخاری اور صحیح مسلم اور انجیل اور دانی ایل اور دیگر نبیوں کی کتابوں میں بھی جہاں میرا ذکر کیا گیا ہے وہاں میری نسبت نبی کا لفظ بولا گیا ہے اور بعض نبیوں کی کتابوں میں میری نسبت بلفظ استعارہ فرشتہ کا لفظ آگیا ہے اور دانی ایل نبی نے اپنی کتاب میں میرا نام میکائیل رکھا ہے اور عبرانی میں میکا یعنی میکائیل کے معنی ہیں خدا کی مانند۔ یہ گویا اس الہام کے مطابق ہے جو براہین احمدیہ میں ہے انت منی بمنزلۃ توحیدی وتفریدی فحان ان تعان وتعرف بین الناس۔ یعنی تو مجھ سے ایسا قرب رکھتا ہے اور میں ایسا ہی تجھے چاہتا ہوں جیسا کہ اپنی توحید اور تفرید کو۔ سو جیسا کہ میں اپنی توحید کی شہرت چاہتا ہوں ایسا ہی تجھے دنیا میں مشہور کرونگا اور ہر یک جگہ جو میرا نام جائیگا تیرا نام بھی ساتھ ہوگا۔ منہ

41

اربعین 3 (حاشیہ) صفحہ 25 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 413 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 380 پر درج ہے

Back

صفحہ 960

حوالہ نمبر 374

۲۳۳

یہ خدا کا کلام ہے اس کے یہ معنے ہیں کہ اے بد خلقت کے لئے مسیح کر کے بھیجا گیا ہے۔ ۱۷ ہمارے پاس آ۔ تاکہ ہماری کیلئے شفاعت کر۔ تم یقیناً سمجھو کہ آج تمہارے لئے بجز اس مسیح کے اور کوئی شفیع نہیں۔ باستثناء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور شفیع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا نہیں بلکہ اسکی شفاعت حقیقت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی شفاعت ہے۔ اے عیسائی مشنریو! اب اپنا مسیح مت کہو! اور دیکھو کہ آج تم میں ایک مسیح ہے اُس مسیح سے بڑھکر ہے۔ اور اے قوم شیعہ! اصرار مت کرو کہ حسین تمہارا منجی ہے کیونکہ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں ایک ہے کہ اُس حسین سے بڑھ کر ہے۔ اور اگر میں اپنی طرف سے یہ باتیں کہتا ہوں تو میں جھوٹا ہوں۔ لیکن اگر میں ساتھ اس کے خدا کی گواہی رکھتا ہوں تو تم خدا سے مقابلہ مت کرو۔ ایسا نہ ہو کہ تم اُس سے لڑنے والے ٹھہرو۔ اب میری طرف دوڑو کہ وقت ہے جو شخص اسوقت میری طرف دوڑتا ہے میں اسکو اِس سے تشبیہ دیتا ہوں کہ جو عین طوفان کے وقت جہاز پر بیٹھ گیا۔ لیکن جو شخص مجھے نہیں مانتا میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ طوفان میں اپنے تئیں ڈال رہا ہے اور کوئی بچنے کا سامان اُسکے پاس نہیں۔ سچا شفیع میں ہوں جو اُس بزرگ شفیع کا سایہ ہوں اور اُس کا ظلّ ہوں کہ اس زمانہ کے اندھوں نے قبول نہ کیا اور اُسکی بہت ہی تحقیر کی یعنی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم۔ اِس لئے خدا نے اسوقت اس گناہ کا ایک بھاری لفظ کے ساتھ پادریوں سے بدلہ لے لیا کیونکہ عیسائی مشنریوں نے عیسیٰ بن مریم کو خدا بنایا اور ہمارے سیّد و مولیٰ حقیقی شفیع کو گالیاں دیں اور بد زبانی کی کتابوں سے زمین کو نجس کر دیا اِس لئے اُس مسیح کے مقابل پر جسکا نام خدا رکھا گیا۔ خدا نے اِس اُمت میں سے مسیح موعود بھیجا۔ جو اُس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھکر ہے اور اُس نے اِس دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا۔ تا یہ اشارہ ہو کہ عیسائیوں کا مسیح کیسا خدا ہے جو احمد کے ۱۳ ادنیٰ غلام سے بھی مقابلہ نہیں کر سکتا یعنے وہ کیسا مسیح ہے جو اپنے قرب اور شفاعت میں

۱۷

دافع البلاء صفحہ 17 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 233 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 380 پر درج ہے

صفحہ 961

حوالہ نمبر 375

۴۴۰

میں تو بار بار یہی کہتا ہوں کہ ہمارا طریق تو یہ ہے کہ نئے سرے سے مسلمان بنو۔ پھر اللہ تعالیٰ اصل حقیقت خود کھول دے گا۔ میں سچ کہتا ہوں کہ اگر وہ امام جن کے ساتھ یہ اس قدر محبت کا غلو کرتے ہیں زندہ ہوں ، تو ان سے سخت بیزاری ظاہر کریں۔

جب ہم ایسے لوگوں سے اعراض کرتے ہیں تو پھر کہتے ہیں کہ ہم نے ایسا اعتراض کیا جس کا جواب نہ آیا اور پھر بعض اوقات اشتہار دیتے پھرتے ہیں۔ مگر ہم ایسی باتوں کی کیا پروا کر سکتے ہیں۔ ہم کو تو وہ کرنا ہے جو ہمارا کام ہے۔ اس لیے یاد رکھو کہ پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑو۔ اب نئی خلافت لو۔ ایک زندہ علی تم میں موجود ہے اس کو چھوڑ کے مردہ علی کی تلاش کرتے ہو۔

۱۱؍ دسمبر ۱۹۰۱ء

ایک الہام اور اپنی وحی پر یقین

فرمایا اُس رات میری انگلی کے پوٹے میں درد تھا اور اس شدت کے ساتھ درد تھا کہ مجھے یاد آیا تھا کہ رات کیونکر بسر ہوگی۔ آخر خدا کا فضل ہوا اور الہام ہوا۔ کُفِیْتَ عَادِ سُمّ ۔ اور سُمّ کا لفظ ابھی ختم نہ ہونے پایا تھا کہ درد جاتا رہا ایسا کہ کبھی ہوا ہی نہیں تھا ۱؎

نیز فرمایا کہ : ہم کو تو خدا تعالیٰ کے اس کلام پر جو ہم پر وحی کے ذریعہ نازل ہوتا ہے اس قدر یقین اور حق الیقین ہے کہ بیت اللہ میں کھڑا ہو کر ہم قسم کھا دیویں۔ بلکہ میرا تو یقین یہاں تک ہے کہ اگر میں اس بات کا انکار کروں ، یا وہم بھی کروں کہ یہ خدا کی طرف سے نہیں تو مرتد کافر ہو جاؤں ۲؎

۱۳؍ دسمبر ۱۹۰۱ء

نصرت الٰہی فیصلہ کن قاضی ہے

اپنی بحث جو پوری خلافت کی جناب مولوی صاحب نے مؤلفہ کو تمام و کمال پڑھ کر حضرت اقدس نے فرمایا :

اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ اس کی مفتریات کو چھان کر چند گھنٹوں کا کام ہے اس کا جواب دے دینا لیکن میں

۱؎ الحکم جلد ۵ نمبر ۴۶ صفحہ ۱۰ ۔ مورخہ ۱۷؍ دسمبر ۱۹۰۱ء ۲؎ الحکم جلد ۵ نمبر ۴۶ صفحہ ۱۰ ۔ مورخہ ۱۷؍ دسمبر ۱۹۰۱ء

ملفوظات، جلد اوّل، صفحہ 400، طبع جدید از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 381 پر درج ہے

صفحہ 962

حوالہ نمبر 376

۳۲۰

اور خدا قادر تھا کہ ضرورت کے وقت میں اپنی برہان ظاہر کرتا ۔ اور پھر فرمایا :- إِنِّيْ أُرْسِلْتُ أَحْمَدَ إِلَى قَوْمِهِ فَأَعْرَضُوْا وَقَالُوْا كَذَّابٌ أَشِرٌ . وَجَعَلُوْا يَسْفَعُوْنَ عَلَيْهِ وَيَسِيْلُوْنَ كَسَيْلٍ مُّتَعَمِّدٍ . اِنَّ مَعِيَ وَلِيِّيْ مُسْتَتِرُ . يَاْتِيْكَ نَصْرِيْ . إِنِّي أَنَا الرَّحْمٰنُ . اَنْتَ قَابِلٌ يَاْتِيْكَ وَابِلٌ . اِنِّيْ حَاشِرٌ مِّنْ كُلِّ قَوْمٍ يَاْتِيْكَ جُنْدِيْ . وَاِنِّيْ نَوَّرْتُ مَكَانَكَ . تَنْزِيْلٌ مِّنَ اللّٰهِ الْعَزِيْزِ الرَّحِيْمِ . سِيْمَةُ اَيَاتِيْ وَلَمْ يَجْعَلِ اللّٰهُ لِلْكَافِرِيْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ سَبِيْلًا . اَنْتَ مَدِيْنَةُ الْعِلْمِ. اَنْتَ مَقْبُوْلُ الرَّحْمٰنِ . اَنْتَ رُوْحُ الْحَقِّ . يَسْرِيْ ذِكْرُكَ فِيْ هٰذِهِ الْاَيَّامِ . اَنْتَ سَيْفِيْ يَا اِبْرَاهِيْمُ . اَنْتَ الَّذِيْ سَمَّعْنَا نَفْسَهُ . مُظْهِرُ الْحَقِّ . وَاَنْتَ مِنِّيْ بِمَنْزِلَةِ الْاِبْنِ . اَنْتَ مِنِّيْ وَاَنَا مِنْكَ . اَنْتَ سِرِّيْ . اَلَّذِيْ يُخَادِعُكَ تَحْتَ جُبَّتِكَ مُسْتَتِرٌ . سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ . اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ جَعَلَ لَكَ الصِّهْرَ وَالنَّسَبَ . اَنْتَ مُرَادِيْ وَخَلِيْلِيْ . اَنْتَ نُوْرُ عَيْنِيْ . اِنَّا كَفَيْنَاكَ يُؤَيِّدُكَ رُوْحُ قُدُسِيْ يَا اِبْرَاهِيْمُ . قَالُوْا لَوْ هَلَكْتَ قُلْ لَا خَوْفٌ عَلَيَّ لَا خَبَلٌ بِيْ وَلَا وَجَلٌ . وَاِنِّيْ مَعَ الْاَفْوَاجِ اٰتِيْكَ بَغْتَةً . وَإِنِّيْ اَمُوْرُ مَوْرَ الْبَحْرِ . اِنَّ فَضْلَ اللّٰهِ لَا يَبُوْرُ . وَ لَيْسَ لِاَحَدٍ اَنْ يَرُدَّ مَا اٰتٰى . قُلْ اِنِّيْ وَلِيُّ اللّٰهِ فَحَقٌّ لَّا يَتَبَدَّلُ وَلَا يُلْهِيْنِيْ عَنْكَ مَا تَعْجَبُ مِنْهُ وَقَلَمُ مِدْحَةِ رَبِّ السَّمٰوَاتِ الْعُلٰى . لَا اِلٰهَ اِلَّا هُوَ . يَعْلَمُ كُلَّ شَيْءٍ وَ يَرٰى . اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا وَّالَّذِيْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ . اَلْيَوْمَ تُفَتَّحُ لَهُمْ اَبْوَابُ السَّمَاءِ . وَتَفْرَحُ بِرُؤْيَتِيْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا . اَنْتَ تَرٰى فِيْ جَيْشِكَ النَّبِيَّ . وَاَنْتَ تُسَكِّنُ خِيْفَتِي الْجِبَالَ . وَاِنِّيْ مَعَكَ فِيْ كُلِّ حَالٍ .

ترجمہ :- یہ ہم نے احمد کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تب لوگوں نے کہا کہ یہ کذاب ہے۔ اور انھوں نے اس پر گالیاں دیں اور سیلاب کی طرح اُس پر گرے۔ اُس نے کہا کہ میرا دوست قریب ہے مگر پوشیدہ مجھے میری مدد آئے گی۔ میں رحمٰن ہوں۔ تو قابلیت رکھتا ہے اس لئے تو ایک بزرگ بارش کو پائے گا ۔ میں ہر ایک قوم میں سے گروہ کے گروہ تیری طرف بھیجوں گا ۔ میں نے تیرے مکان کو روشن کیا ۔ یہ اُس خدا کا کلام ہے جو عزیز اور رحیم ہے اور اگر کوئی کہے کہ کیونکر ہم جانیں کہ یہ خدا کا کلام ہے تو اُن کے لئے یہ علامت ہے کہ یہ کلام شان کے ساتھ اترتا ہے اور خدا ہرگز کافروں کو یہ موقعہ نہیں دے گا کہ مومنوں پر کوئی واقعی اعتراض کر سکیں ۔ تو علم کا شہر ہے یعنے علمِ لَدُنِّی کا ۔ تو مقبولِ رحمٰن ہے ۔ تو روح الحق ہے ۔ تیرا ذکر ان دنوں میں جاری ہے ۔ اے ابراہیم تو میری تلوار ہے ۔ تو وہ ہے کہ ہم نے اُس کے

لہ یہ الہام جو عربی میں ہے بقیہ حاشیہ میں واقع ہے دیکھئے صفحہ ۲۴۱ ۔ (مرتب)

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات، صفحہ 320، طبع چہارم ، از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 381 پر درج ہے

Back

صفحہ 963

حوالہ نمبر 377 تقویۃ الایمان ۵۴ کشتی نوح

کہ خدا ان تہمتوں سے اپنے بندہ کو پاک کرے گا۔ اور ہم اس کو لوگوں کے لئے ایک نشان بنا دینگے۔ اور یہ بات ابتداء سے مقدّر تھی اور ایسا ہی ہونا تھا۔ یہ عیسیٰ بن مریم ہے۔ جس میں لوگ شک کر رہے ہیں۔ یہی قول حق ہے۔ یہ سب براہین احمدیہ کی عبارت ہے مگر یہ الہام اصل میں آیاتِ قرآنی ہیں جو حضرت عیسیٰ اور ان کی ماں کے متعلق ہیں۔ جن آیتوں میں جس عیسیٰ کو لوگوں نے ناجائز پیدائش کا انسان قرار دیا ہے۔ اس کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم اس کو اپنا نشان بنائیں گے۔ اور یہی عیسیٰ ہے جس کی انتظار تھی۔ اور الہامی عبارتوں میں مریم اور عیسیٰ سے میں ہی مراد ہوں میری نسبت ہی کہا گیا کہ ہم اس کو نشان بناویں گے۔ اور نیز کہا گیا کہ یہ وہی عیسیٰ بن مریم ہوبہو آنیوالا تھا جس میں لوگ شک کرتے ہیں۔ یہی حق ہے اور آنے والا یہی ہے۔ اور شک محض نابینائی سے ہے۔ چونکہ اسکے اسرار کو نہیں سمجھتے اور صورت پرست ہیں حقیقت پر ان کی نظر نہیں یہاں یاد رہے کہ سورۃ فاتحہ کے عظیم الشان مقاصد میں سے یہ دُعا ہے کہ اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ۔ اور جس طرح انجیل کی دُعا میں روٹی مانگی گئی ہے۔ اس دُعا میں خدا تعالیٰ سے وہ تمام نعمتیں مانگی گئی ہیں جو پہلے رسولوں اور نبیوں کو دیگئی تھیں۔ یہ مقابلہ بھی قابل نظارہ ہے۔ اور جسطرح حضرت مسیح کی دُعا قبول ہو کر عیسائیوں کو روٹی کا سامان بہت کچھ مل گیا ہے۔ اسی طرح یہ قرآنی دُعا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے قبول ہو کر اخیار و ابرار مسلمان بالخصوص انکے کامل فرد انبیاء بنی اسرائیل کے وارث ٹھہرائے گئے۔ اور دراصل اسی موعود کا اس امت میں سے پیدا ہونا یہ بھی اسی دُعاکی قبولیت کا نتیجہ ہے۔ کیونکہ جزئی طور پر بہت سے اخیار و ابرار نے انبیاء بنی اسرائیل کی طبیعت ۱؂ کا حصہ پایا تھا ۔ ۱؂ جب میرے دعوٰی مسیح موعود ہونے کی بعض نے ان کو خبر دی تو

سخت غصہ ہوئے ۔ اور کہا کہ مرزا صاحب بہت اچھے نمازی تھے ۔ سنّی تھے شرع کے پابند رہا کرتے تھے۔ ان کا باپ تو نیک مزاج اور مخبوط الحواس بھی نہ تھا۔ اور سیدھا اور صاف مسلمان تھا۔ ایسا ہی بعضوں نے کہا کہ تم نے اپنے خاندان کو داغ لگایا کہ ایسا دعوٰی کیا۔ منہ

کشتی نوح صفحہ 54 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 52 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 381 پر درج ہے

صفحہ 964

(حوالہ نمبر 378)

بقیہ حاشیہ ۵۰ کشتی نوح

کہا جائے گا تو میں کہیں ابن مریم کہا جائے گا۔ اور کیا آج سے بیس بائیس برس پہلے بلکہ اس سے بھی زیادہ میری طرف سے یہ منصوبہ ہو سکتا تھا کہ میں اپنی طرف سے الہام تراش کر اول اپنا نام مریم رکھتا اور پھر آگے چلکر افتراء کے طور پر یہ الہام بناتا کہ جیسے زمانہ کی لڑکیوں کی طرح مجھ میں بھی حیض کی ابتداء کی گئی اور پھر آخر کو اسقدر حمل بڑھا دیا کہ میں مریم سے حاملہ ہو کر اب میں مریم ہی سے عیسیٰ بن گیا ہوں سو یہ تو خود کہو کہ خدا سے ڈر کر ہرگز انسان کا فعل نہیں۔ یہ باریک اور دقیق حکمتیں انسان کے قوا و قیاس سے برتر ہیں۔ مگر براہین احمدیہ کی تالیف کے وقت جس پر ایک زمانہ گزر گیا مجھے اس منصب کا خیال ہی نہ تھا۔ میں اُسی براہین احمدیہ میں یہ کیوں لکھتا کہ عیسیٰ مسیح ابن مریم آسمان سے دوبارہ آئے گا۔ سو چونکہ خدا جانتا تھا کہ اس نکتہ پر علم ہونے سے یہ دلیل ضعیف ہو جائیگی۔ اسلئے گو اُس نے براہین احمدیہ کے تیسرے حصہ میں میرا نام مریم رکھا۔ پھر جیسا کہ براہین احمدیہ سے ظاہر ہے وہ دو برس تک صفت مریمیت میں ہی میں نے پرورش پائی اور پردہ میں نشوونما پاتا رہا۔ پھر جب اسپر دو برس گزر گئے تو جیسا کہ براہین احمدیہ کے حصہ چہارم صفحہ ۴۹۶ میں درج ہے مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینہ کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں بذریعہ اس الہام کے جو سب سے آخر براہین احمدیہ کے حصہ چہارم صفحہ ۵۵۶ میں درج ہے مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ پس اس سے میں ابن مریم ٹھہرا۔ اور خدا نے براہین احمدیہ کے وقت میں اس سرّ مخفی کی مجھے خبر نہ دی۔ حالانکہ وہ سب خدا کی وحی جو اس راز پر مشتمل تھی میرے پر نازل ہوئی اور براہین میں درج ہوئی ۔مگر مجھے اسکے معنی و حقیقت پر اطلاع نہ دی گئی۔ اسی واسطے میں نے مسلمانوں کا ہی عقیدہ براہین احمدیہ میں لکھ دیا۔ تا میری سادگی اور عدم بناوٹ پر وہ گواہ ہو۔ وہ میرا لکھنا جو الہامی نہ تھا۔ محض رسمی تھا۔ مخالفوں کے لئے قابلِ استناد نہیں۔ کیونکہ مجھے تو خود خبر نہ تھا۔ کوئی دعویٰ نہیں جب تک کہ خود خدا تعالیٰ مجھے نہ سمجھاوے۔ سواس وقت تک حکمت الٰہی کا یہی

یہ حوالہ صفحہ 381 ، 382 پر درج ہے کشتی نوح، صفحہ 52 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19، صفحہ 50 از مرزا قادیانی

صفحہ 965

حوالہ نمبر 379

۲۳۰

سمجھتے ہیں۔ پس ہم قرآن کو چھوڑ کر اور کس کتاب کو تلاش کریں اور کیونکر اسکو نا کامل سمجھ لیں۔ خدا نے ہمیں تو یہ بتلایا ہے کہ عیسائی مذہب بالکل مر گیا ہے اور انجیل ایک مُردہ اور ناتمام کلام ہے۔ پھر زندہ کو مُردہ سے کیا جوڑ۔ عیسائی مذہب سے ہماری کوئی صلح نہیں وہ سراپا سب ردی اور باطل ہے اس آسمان کے نیچے بجز قرآن مجید کے اور کوئی کتاب نہیں۔ آج سے بائیس برس پہلے براہین احمدیہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے میری نسبت یہ الہام درج ہے جو اسکے صفحہ ۲۴۱ میں پاؤ گے اور وہ یہ ہے:- ولن ترضى عنك اليهود ولا النصارى وخرقوا له بنين و بنات بغير علم قل هو الله احد الله الصمد لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفواً احد۔ ويمكرون ويمكر الله والله خير الماكرين - الفتنة ههنا فاصبر كما صبر اولو العزم وقل رب ادخلنى مدخل صدق - یعنے تیرا اور یہود اور نصاریٰ کا کبھی مصالحہ نہیں ہو گا اور وہ کبھی تجھ سے راضی نہیں ہونگے (نصاریٰ سے مراد پادری اور انجیلوں کے حامی ہیں) اور پھر فرمایا کہ ان لوگوں نے ناحق اپنے دل سے خدا کیلئے بیٹے اور بیٹیاں تراش رکھی ہیں اور نہیں جانتے کہ عیسیٰ مریم ایک عاجز انسان تھا۔ اگر خدا چاہے تو جیسے ابن مریم کی مانند کوئی اور آدمی پیدا کر دے یا اس سے بھی بہتر پیدا کرے۔ اُس نے کیا مگر وہ خدا تو واحد لاشریک ہے جو موت اور توّلد سے پاک ہے اُس کا کوئی ہمسر نہیں۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عیسائیوں نے شرک کر کے اتنا تو سچ کہا کہ یسوع اپنے قرب اور وجاہت کے رُو سے واحد لاشریک ہے۔ اب خدا بتلاتا ہے کہ دیکھو میں اُس کا ثانی پیدا کرونگا جو اُس سے بھی بہتر ہے۔ جو غلام احمد ہے یعنے احمدؐ کا غلام۔

زندگی بخش جانم احمدؐ ہے کیا ہی پیارا یہ نام احمدؐ ہے
لاکھ ہوں انبیاء مگر بخدا سب سے بڑھ کر مقام احمدؐ ہے
باغ احمدؐ سے ہم نے پھل کھایا میرا بستان کلام احمدؐ ہے
ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اُس سے بہتر غلام احمدؐ ہے

یہ باتیں شاعرانہ نہیں بلکہ واقعی ہیں اور اگر تجربہ کے رُو سے خدا کی تائید مسیح ابن مریم سے

دافِع البَلاء صفحہ 20 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 240 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 382 پر درج ہے

صفحہ 966

حوالہ نمبر 380

۲۱۱

باطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لئے اُس کا نام پا کر اُس کے واسطہ سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے ؎ رسول اور نبی ہوں مگر بغیر کسی جدید شریعت کے اس طور کا نبی کہلانے سے میں نے کبھی انکار نہیں کیا بلکہ انہی معنوں سے خدا نے مجھے نبی اور رسول کر کے پکارا ہے۔ سو اَب بھی میں ان معنوں سے نبی اور رسول ہونے سے انکار نہیں کرتا اور میرا یہ قول

”من نیستم رسول و نیاوردہ ام کتاب“

اِس کے معنی صرف اِس قدر ہیں کہ میں صاحب شریعت نہیں ہوں۔ ہاں یہ بات بھی ضرور یاد رکھنی چاہیئے اور ہرگز فراموش نہیں کرنی چاہیئے کہ میں باوجود نبی اور رسول کے لفظ سے پکارے جانے کے خدا کی طرف سے اطلاع دیا گیا ہوں کہ یہ تمام فیوض بلا واسطہ میرے پر نہیں ہیں بلکہ آسمان پر ایک پاک وجود ہے جس کا روحانی افاضہ میرے شامل حال ہے یعنی مُحَمَّدٌ مُّصْطَفٰے صلی اللہ علیہ وسلم۔ اِس واسطہ کو ملحوظ رکھ کر اور اس میں ہو کر اور اُس کے نام محمدؐ اور احمدؐ سے مسمّیٰ ہو کر میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی ہوں۔ یعنی بھیجا گیا بھی اور خدا سے غیب کی خبریں پانے والا بھی۔ اور اس طور سے خاتم النبیین کی مہر محفوظ رہی۔ کیونکہ میں نے انعکاسی اور ظلی طور پر محبّت کے آئینہ کے ذریعہ سے وہی نام پایا۔ اگر کوئی شخص اِس وحی الٰہی پر ناراض ہو کہ کیوں خدا تعالیٰ نے میرا نام نبی اور رسول رکھا ہے تو یہ اُس کی حماقت ہے کیونکہ میرے نبی اور رسول ہونے سے خدا کی مہر نہیں ٹوٹتی۔ یہ بات ظاہر ہے کہ جیسا کہ میں اپنی نسبت کہتا ہوں کہ خدا نے مجھے رسول اور نبی کے نام سے پکارا ہے ایسا ہی ؎

؎ یہ کیسی عمدہ بات ہے کہ اس طریق سے نہ تو خاتم النبیین کی پیشگوئی کی مہر ٹوٹی اور نہ امت کی کل اُمید فیوضِ نبوت سے جو لا ینقطع چلی آتی ہے کبھی محروم رہی۔ مگر سخت حیرت کہ وہ بادہ غفلت سے مست ہیں کہ عیسیٰ کی نبوت اسلام سے چھ سو برس پہلے قرار پا چکی ہے۔ اَب اس کا کچھ باقی نہیں رہا۔ بلکہ بنصِ آیت خاتم النبیین کے ایسے گئے گزرے معنی کئے ہیں کہ اس کے مقابلہ میں ہم صرف مخالفوں کی گالیاں سنیں گے۔ سو گالیاں دیں۔ وسيعلم الذين ظلموا ای منقلب ینقلبون

؎ الجن : ۲۸ ؎ الشعراء : ۲۲۸

ایک غلطی کا ازالہ صفحہ 7 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 211 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 382 پر درج ہے

صفحہ 967

حوالہ نمبر 381

نزول المسیح

۴۷۷

آنچہ من عشق تیر بر کوہ راند آواز این دشت خاکی پیچاند کشتہ دلبر و دلدار اسے شربت ہجر فرہنگ از نالے 99
ہمہ حق عشق در ہجر نہ کاستے قصہ کوتاہ کہ آوازے آوازے کشتہ کہ گوش نشنید کہ داد در قعر حق برید
خفتہ بیرون و خفتہ اغیار دل بریدہ ز خویش و دلدار روزگارے ز لذت ہمے خویش داستانے ز بے خودی خویش
آنچہ از یار در کنار انداخت کہ ندانیم بکس پرداخت صدمے خوردہ بر امیدم کہ بیایدش رزق تا بقدم
بکجا در فتادہ او کشتہ ہمہ دلبر برائے او کشتہ سوختہ ہر نفس بجز دلدار دوختہ چشم دل ز خویشتن کار
دل و جاں بر در خدا کردہ وصل او اصل مدعا کردہ مردہ خویشتن فدا کردہ عشق شیوہ کارہا کردہ
از خودی ہائے خود جدا بادا سیل پُر زور بودہ از جا آنچہ فرمود دلستاں بادا یار او را دوست دشمناں بادا
عشق دلبر بروی او ببارید ہمہ رحمت بکوئے او ببارید ہمہ چیزے شد ز کار خدائے در دل او بدست نکو لائے
ہر خطے را یکے سبب دارم از دعائی کہ در باطن دارم ایں چنیں چشمہ محبت دید کہ بشوند ہم از خودی ناپدید
ایں چنیں مے شود ز پندار جز سخن ہائے دلبر و دلدار عشق کرد فتنہ از دیدار نیز گوہر ضمیر و در گفتار
بالخصوص حق سخن کہ اندر دار خاصیت ہمدانہ ایں اسرار کشتہ او نیک نہ دوزخ نار ہر کہ کین آور بدی در نار
ہر ندائے عقل تو ز خول است خانہ مے کعبہ او در غول است ایں سعادت نبود قسمت ما رفتہ رفتہ بسوئے خدا
[ کہ عیاں است تیر بر آنم خستہ ایں است در گریبانم آہ گم نیز احمد مختار در دو عالم احمد ابرار ]
کہ ہائے و ہو بکوئے یار برتر آں دفتر است از اغیار تا بپوشد او است ہمی در انام عادت ایں خاص و عام او تام
و ہم ایں بودہ خصلت خود دار خود عیاں شد بجا خودکار مردے او در عجب اثر دیدم سنت حق بود ہمی فریادم
در دل یار حق بر می کرد ثبات آنچہ حق است چیز ایں لغات دیدہ ام جز عشق جلوہ یار کاردگر برامد از یک کار
آنچہ حق بشنوم ز حق خط ہمہ این با حق ز خط ہمچو قرآں منزہ اش دانم از خطا ہا مبرا است ایمانم
من خدا یابم و شناختہ ام دل بدیں عشق باختہ ام صبر ما جست ہمی کام جوید از دِہاں خدائے پاک تایید
آنچہ بر من جیاں شد اسرار آں دیانت بدار در انوار ایں جملہ است مدعایم بگدازم در انوار تابانم
انبیا در گریہ و اندوھے میبرند آہ دگر ھم نوحے مدتے مبتلائے شدم بہ ابلیس شد مصفا برنگ ادریس
آنچہ تلخے کہ در پیالے زہر گا ہے کہ شد در مقالے حق یقین کلیم بمقامات جائے تہی گشتم بصد لغات

نزول المسیح صفحہ 99۔ مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 477 مصنفہ مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 382 پر درج ہے

صفحہ 968

حوالہ نمبر 382

۱۳۴

بدیں خطاب مرا ہرگز التفات نبود چہ بیم من چو چنیں حکم از خدا باشد
بتاج و تخت زمیں آرزو نمی دارم نہ شوق افسر شاہی بدل مرا باشد
مرا بس است کہ ملک سما بدست آید کہ مُلک و مِلک زمیں را بقا کجا باشد
حوالتم بفلک کردہ اند روز نخست کنون نظر بمتاع زمیں چرا باشد
مرا کہ جنت علیاست مسکن و ماوا چرا بمزبلۂ ایں نشیب جا باشد
اگر جہاں ہمہ تحقیر من کنند چہ غمے کہ با من است خدائے کہ واقفی باشد
منم مسیح زماں و منم کلیم خدا منم محمد و احمد کہ مجتبیٰ باشد
نہ شیر است کہ درّندہ پہلویم بدرّد کہ ہیچگہ دل بکینم ز ناسزاہا باشد
ازاں کسے ببریدم بدل کہ دیدم او کشد بخط بندگی عرش جائے ما باشد
مرا بکشتی رضوان حق شدست گزر مقام من ہمہ چوں قدس اصفیا باشد
کمال پاکی و صدق و صفا دلم شدہ بود دوبارہ از طمع و حرص بے ریا باشد
دریغ از ستم یار سست عہد خبثی کہ دست کینہ دراز و در پی جفا باشد
کسیکہ گم شدہ از خود بخویش پیوست ہر انچہ از دہنش بشنوی بجا باشد
نیامدم ز پئے جنگ کارزار و جہاد غرض ز آمدنم درسِ اتّقا باشد
بجنگ و کُشتِ کَسی کی رضا دادیم بدیں غرض کہ رسم متقی بپا باشد
درین زمن چو پر از تہمت خدا نیست کہ در زبان شما لفظ ناسزا باشد
بجز امر حق آشتیش باش و باقی نیست بمدعا و ہمہ امر حق روا باشد
عنایت است کہ فیضش رسد مرا ہر دم ببینش وگرنہ ہر نقشش وا باشد
بخط خامہ قدرت ہزار نقش اند کہ حل ہر یک از نقشہا بجا باشد
بیامدم کہ نہال صدق را بکشت آرم بدست من ہمہ آثار پارسا باشد
بیامدم کہ دو عالم را رشد بخشم بجنگ دیو نمایم کہ حق کجا باشد

تریاق القلوب صفحہ 6 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 134 علامہ مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 382، 383 پر درج ہے

Back

صفحہ 969

حوالہ نمبر 383

حقیقۃ الوحی ۷۶ باب چہارم

لَاغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُوْنَ ؕ میں اور میرے رسول غالب رہیں گے۔ اور وہ مغلوب ہونے کے بعد جلد غالب ہو جائیں گے۔ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا وَّ الَّذِيْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ ؕ خدا ان کے ساتھ ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور وہ جو نیکو کار ہیں۔ اُرِيْكَ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ اِنِّيْ اُحَافِظُ كُلَّ مَنْ فِى الدَّارِ قیامت کے مشابہ ایک زلزلہ کا نمونہ دکھلاؤں گا۔ اور مَیں ہر ایک کو جو اِس گھر میں ہو گا رکھوں گا۔ وَامْتَازُوا الْيَوْمَ اَيُّهَا الْمُجْرِمُوْنَ ۔ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ اے مجرمو! آج تم الگ ہو جاؤ ۔ حق آیا اور باطل الْبَاطِلُ ؕ هٰذَا الَّذِيْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ ؕ بھاگ گیا ۔ یہ وہی ہے جس کے بارے میں تم جلدی کرتے تھے۔ بِشَارَةٌ تَلَقَّاهَا النَّبِيُّوْنَ ؕ اَنْتَ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ ؕ یہ وہ بشارت ہے جو نبیوں کو ملی تھی۔ تُو خدا کی طرف سے کھلی کھلی دلیل کے ساتھ ظاہر ہوا ہے كَفَيْنٰكَ الْمُسْتَهْزِئِيْنَ ؕ هَلْ اُنَبِّئُكُمْ عَلٰى مَنْ تَنَزَّلُ وہ لوگ جو تیرے پر ہنسی ٹھٹھا کرتے ہیں اُن کے لئے ہم کافی ہیں۔ کیا مَیں تمہیں بتلاؤں کہ کن لوگوں پر الشَّيَاطِيْنُ ۔ تَنَزَّلُ عَلٰى كُلِّ اَفَّاكٍ اَثِيْمٍ ۔ وَلَا تَيْئَسْ شیطان اُترا کرتے ہیں۔ ہر ایک کذّاب بدکار پر شیطان اُترتے ہیں۔ اور تُو خدا کی مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ ؕ اَلَا اِنَّ رَوْحَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ ؕ اَلَا اِنَّ نَصْرَ رحمت سے نومید مت ہو۔ خبردار ہو کہ خدا کی رحمت قریب ہے۔ خبردار ہو کہ خدا کی مدد

١ (یعنی وہی مَیں خدا نے میرا نام رسول رکھا کیونکہ جیسا کہ براہین احمدیہ میں لکھا گیا ہے خدا تعالیٰ نے مجھے تمام انبیاء علیہم السلام کا مظہر ٹھہرایا ہے اور تمام نبیوں کے نام میری طرف منسوب کئے ہیں۔ مَیں آدم ہوں مَیں شیث ہوں مَیں نوح ہوں مَیں ابراہیم ہوں مَیں اسحاق ہوں مَیں اسماعیل ہوں مَیں یعقوب ہوں مَیں یوسف ہوں مَیں موسیٰ ہوں مَیں داؤد ہوں مَیں عیسیٰ ہوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کا مَیں مظہر اتم ہوں یعنی ظلّی طور پر محمدؐ اور احمدؐ ہوں۔ منہ

۷۶

حقیقۃ الوحی (حاشیہ) صفحہ 73 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 76 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 383 پر درج ہے

صفحہ 970

حوالہ نمبر 384

۲۰۷

عاجز کو رسول کر کے پکارا گیا ہے۔ پھر اسکے بعد اسی کتاب میں میری نسبت یہ وحی اللہ ہے جری اللہ فی حلل الانبیاء یعنی خدا کا رسول نبیوں کے حلل میں (دیکھو براہین احمدیہ ص ۵۰۴) پھر اسی کتاب میں اس مکالمہ کے قریب ہی یہ وحی اللہ ہے محمد رسول اللہ والذين معه اشداء على الكفار رحماء بينهم اس وحی الہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔ پھر یہ وحی اللہ ہے جو ص ۵۵۷ براہین میں درج ہے۔ دنیا میں ایک نذیر آیا ۔ اس کی دوسری قرأت یہ ہے کہ دنیا میں ایک نبی آیا۔ اسی طرح براہین احمدیہ میں اور کئی جگہ رسول کے لفظ سے اس عاجز کو یاد کیا گیا۔ سو اگر یہ کہا جائے کہ آنحضرت تو خاتم النبیین ہیں۔ پھر آپ کے بعد اور نبی کس طرح آسکتا ہے۔ اس کا جواب یہی ہے کہ بیشک اس طرح سے تو کوئی نبی نیا ہو یا پرانا نہیں آسکتا۔ جس طرح سے آپ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آخری زمانہ میں اُتارتے ہیں اور پھر اس حالت میں انکو نبی بھی مانتے ہیں۔ بلکہ چالیس برس تک سلسلۂ وحیِ نبوت کا جاری رہنا اور زمانہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی بڑھ جانا آپ لوگوں کا عقیدہ ہے۔ بیشک ایسا عقیدہ تو معصیت ہے اور آیت ولكن رسول الله وخاتم النبيين اور حدیث لا نبي بعدی اس عقیدہ کے کذب صریح ہونے پر کامل شہادت ہے۔ لیکن ہم اس قسم کے عقاید کے سخت مخالف ہیں۔ اور ہم اس آیت پر سچا اور کامل ایمان رکھتے ہیں جو فرمایا کہ ولكن رسول الله وخاتم النبيين اور اس آیت میں ایک پیشگوئی ہے جس کی ہمارے مخالفوں کو خبر نہیں اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پیشگوئیوں کے دروازے قیامت تک بند کر دیئے گئے۔ اور ممکن نہیں کہ اب کوئی ہندو یا یہودی یا عیسائی یا کوئی رسمی مسلمان نبی کے لفظ کو اپنی نسبت ثابت کر سکے۔ نبوت کی تمام کھڑکیاں بند کی گئیں مگر ایک کھڑکی سیرۃ صدیقی کی کھلی ہے۔ یعنی فنا فی الرسول کی۔ پس جو شخص اس کھڑکی کی راہ سے خدا کے پاس آتا ہے

۱؎ الاحزاب : ۴۱

ایک غلطی کا ازالہ صفحہ 3 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 207 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 383 پر درج ہے

صفحہ 971

حوالہ نمبر 385 خطبہ الہامیہ ۵۳

وَلٰكِنْ تَحْدِيْثٌ بِنِعَمِ اللّٰهِ الَّذِي هُوَ غَارِسٌ لِهٰذَا کہ شکر نعمت ہائے آں خدائیست کہ او ایں نو نہال را نشانیدہ است مگر اس خدا کی نعمتوں کا شکر ہے جس نے اس نو نہال کو لگایا ہے۔

اَلْغِرَاسِ - وَاِنِّي غُسِلْتُ بِمَاءِ النُّوْرِ وَطُهِّرْتُ بِعَيْنِ و من بآب نور غسل دادہ شدم و بچشمہ اور میں نور کے پانی کے ساتھ غسل دیا گیا ہوں اور الٰہی پاکیزگی کے چشمہ

الْقُدُسِ مِنَ الْاَوْسَاخِ وَالْاَدْنَاسِ - وَسَمَّانِي رَبِّي پاکیزگی الٰہی پاکیزہ کردہ شدم از چرک ہا و کدورت ہا و نام من رب من میں پاکیزہ کیا گیا ہوں اور صاف کیا گیا ہوں تمام میلوں اور کثافتوں سے۔ اور میرے ربّ نے میرا نام

اَحْمَدَ فَاحْمَدُونِي وَلَا تَشْتِمُونِي وَلَا تَرُدُّوا اَمْرَكُمْ احمد نہاد - پس ستائش من کنید و مرا دشنام مدہید و امر خود را تا بدرجہ احمد رکھا ہے پس میری تعریف کرو اور مجھے دشنام مت دو اور اپنے امر کو نا امیدی کے

اِلَى الْاِبْلَاسِ - وَمَنْ حَمِدَنِي وَمَا غَادَرَ مِنْ نَوْعِ نومیدی مرسانید و ہر کہ ستائش من کرد و حصے از قسم ستائش نگذاشت درجہ تک مت پہنچاؤ اور جس نے میری تعریف کی اور کوئی قسم تعریف کی نہ چھوڑی

حَمْدٍ فَمَا مَاتَ - وَمَنْ كَذَّبَ هٰذَا الْبَيَانَ فَقَدْ پس او مردہ نہ گشت و ہر کہ تکذیب ایں بیاں کرد پس او پس وہ نہ مرا ۔ اور جس نے اس بیان کو جھٹلایا پس اس نے جھوٹ

مَانَ - وَاَغْضَبَ الرَّحْمٰنَ - فَوَيْلٌ لِّلَّذِي شَكَّ دروغ گفتہ است و خدائے رحمان را بغضب آوردہ - پس برآں شخص ویل است کہ شک کرد بولا ہے۔ اور اپنے خدا کے غصّے کو بھڑکایا ہے پس افسوس اس پر جس نے شک کیا ۔

خطبہ الہامیہ صفحہ 21 مندرجہ روحانی خزائن، جلد 16، صفحہ 53، از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 383 پر درج ہے

صفحہ 972

حوالہ نمبر 386

خوشخبری دیجئے اے میرے اللہ میں سن رہا ہوں، اور میرے ساتھ ہے، پس میں نے تیری کرامت کو اپنے ہاتھ سے دیکھا ہے۔

قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ

مومنین کو کہہ دے کہ اپنی آنکھوں کو نامحرموں سے بند رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کو اور کانوں کو نالائق باتوں سے بچائیں یہی ان کی پاکیزگی کے لئے ضرور ی اور لازم ہے۔

یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہر ایک مومن کے لئے منہیات سے پرہیز کرنا اور اپنے اعضاء کو نا جائز افعال سے محفوظ رکھنا لازم ہے اور یہی طریق اس کی پاکیزگی کا موجب ہے .....

وَأَنَا أَسْأَلُكَ مِنْ لَّدُنْكَ خَيْرًا فَإِنِّي نَوَيْتُ - لِيُعِيدَ دَعْوَةَ النَّبِيِّ إِذَا مَضَى بَنُوهُ أَنْ يَسْأَلَكَ إِلَّا نِعْمَةً رَّبَّانِيَّةً

اور میں تجھ سے تیرے پاس سے خیر چاہتا ہوں پس میں نے نیت کی ، پس وہ نبی کی دعوت کو قائم کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں ۔ اے میرے اللہ تجھ سے میں نے یہ چاہا ہے کہ ہم سب لوگوں کے لئے رحمت کا سامان پیش کروں۔

لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَالْمُشْرِكِينَ مُنْفَكِّينَ حَتَّى تَأْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُ وَمَا كَانَ لَهُمْ حُجَّةٌ ۔

اور جو لوگ اہل کتاب اور مشرکوں میں سے کافر ہو گئے ہیں یعنی کفر صریح اختیار کر لیا ہے وہ اپنے کفر سے نہیں ہٹیں گے یا ہٹنے والے نہیں تھے کہ ان کو کھلی نشانی دکھلائی جاتی اور ان کا شرک باطل ٹھہرتا۔

یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ چونکہ خدائے تعالیٰ نے آیات سماوی اور دلائل عقلی سے اس عاجز کے ہاتھ پر ظاہر کیا ہے وہ اتمام حجت کے لئے نہایت ضروری تھا اور اس زمانہ کے سیاہ باطن جن کو جہل اور غفلت کے کیڑے نے اندر ہی اندر کھا لیا ہے ویسے نہیں تھے جو بغیر ایسی قوی اور بدیہی تجلیات کے کفر سے باز آجاتے بلکہ وہ اُس سکر میں پڑے ہوئے تھے کہ جس کا علاج سوائے اس کے اور کچھ نہ تھا کہ ایسی تجلیات دکھلائی جاتیں۔

اَثَرُوا الدُّنْيَا لَهُمْ تَاجٌ وَّ ذَهَبٌ مِّنْ اَنَامِلِهِمْ يُرْجَانَا

یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ دنیا کی ان کو بہت ضرورت تھی اور دنیا کے لوگ جو اپنے فخر

۱؎ مکتوب حصہ دوم صفحہ ۳۱۵ میں یہ عبارت اس طرح ہے۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ اس کے بعد قادیان میں کیا قحط ہو گا کہا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ الفاظ مکرر لکھے گئے ہیں۔ باقی رہا یہ الہام تو پھر دنیا بنائی گئی اور درخت جن کی تجدید ہوتی ہے اور اس الہام کے ذکر سے پہلے لکھا ہے۔

"یہ ترجمہ یہاں غلط لکھا گیا ہے اس لئے کہتا ہوں یہ ترجمہ الہام میں سے کہاں سے آ گیا ہے؟"

(مکتوبات احمدیہ جلد اول صفحہ ۵۹) (مرتب)

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات ۔ صفحہ 84 طبع چہارم مطبوعہ قادیان

یہ حوالہ صفحہ 384 پر درج ہے

صفحہ 973

حوالہ نمبر 387

۲۱۲

میرے مخالف حضرت عیسیٰ ابن مریم کی نسبت کہتے ہیں کہ وہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دوبارہ دنیا میں آئیں گے۔ اور چونکہ وہ نبی ہیں اس لئے ان کے آنے پر بھی وہی اعتراض ہو گا جو مجھ پر کیا جاتا ہے یعنی یہ کہ خاتم النبیین کی مہر ٹوٹتی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ نبیوں کی کثرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو درحقیقت خاتم النبیین تھے مجھے رسول اور نبی کے لفظ سے پکارے جانا کوئی اعتراض کی بات نہیں اور نہ اس سے مہر ٹوٹتی ہے۔ کیونکہ میں بار ہا بتا چکا ہوں کہ میں بموجب آیت وَآخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ ہی خاتم الانبیاء ہوں۔ اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے۔ اور مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود قرار دیا ہے۔ پس اس طور سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم الانبیاء ہونے میں میری نبوت سے کوئی تزلزل نہیں آیا۔ کیونکہ ظل اپنے اصل سے جدا نہیں ہوتا۔ اور چونکہ میں ظلی طور پر محمد ہوں صلی اللہ علیہ وسلم پس اس طور سے خاتم النبیین کی مہر نہیں ٹوٹی۔ کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت محمد تک ہی محدود رہی۔ یعنی بہرحال محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی نبی رہے۔ نہ اور کوئی۔ یعنی جب کہ میں بروزی لحاظ سے ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہوں اور بروز کے رنگ میں تمام کمالات محمدی مع نبوت محمدیہ کے میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں تو پھر کونسا الگ انسان ہوا جس نے علیحدہ طور پر نبوت کا دعویٰ کیا۔ کیا یہ فریق تو مان نہیں لیتے کہ کوئی مجھ کو کہے کہ مہدی موعود خلق اور خلق میں ہم رنگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہو گا اور اس کا نام آنحضرت کے اسم سے مطابق ہو گا۔ یعنی اس کا نام بھی محمد اور احمد ہو گا اور اس کے اہلبیت میں سے ہوگا۔ اور بعض حدیثوں میں ہے کہ مجھ میں سے ہوگا۔ پیشینگوئی شدہ اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ روحانیت کے رُو سے اسی میں سے ہوگا۔ گویا وہ اسی کی روح کا ایک پرزہ ہوگا۔ اس پر نہایت قوی قرینہ یہ ہے کہ جن الفاظ کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خلق کو بیان کیا۔ یہاں تک کہ دونوں کے نام ایک کر دیئے ان الفاظ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس موعود کو اپنا ہمزاد بیان فرمانا چاہتے ہیں جیسا کہ حضرت مسیح کا شیطانی ہمزاد تھا۔ اور بروز

٭ یہ بات میرے اجداد کی تاریخ سے ثابت ہے کہ ایک دادی ہماری شریف النسب علوی سادات اور بنی فاطمہ میں سے تھی۔ اس کی تصدیق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کی اور خواب میں مجھے فرمایا کہ سلمان منا اہل البیت علیٰ مشرب الحسن میرا نام سلمان رکھا یعنی دو سلم ۔ اور سلم عربی میں صلح کو کہتے ہیں یعنی مقدر ہے کہ وہ صلح میرے ہاتھ پر ہوگی ۔ ایک اندرونی یعنی اندرونی بغض کو نکال کر بیرونی عداوت کے وجود کو پامال کر کے اب اسلام کی عظمت

الجمعة : ۴

ایک غلطی کا ازالہ صفحہ 8 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 212 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 384 پر درج ہے

صفحہ 974

(حوالہ نمبر 388)

۵۳

اَنْتَ مِنِّيْ بِمَنْزِلَةِ تَوْحِيْدِيْ وَتَفْرِيْدِيْ فَحَانَ اَنْ تُعَانَ وَتُعْرَفَ بَيْنَ النَّاسِ۔ تُو میرے نزدیک ایسا ہے جیسے میری توحید اور تفرید ۱؎ سو وہ وقت آگیا کہ تیری مدد کی جائے اور تُو لوگوں میں معروف و مشہور کیا جائے۔

هَلْ اَتٰی عَلَى الْاِنْسَانِ حِيْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْئًا مَّذْكُوْرًا۔ کیا انسان پر یعنی تجھ پر وہ وقت نہیں گذرا کہ تیرا دُنیا میں کچھ بھی ذکر نہ تھا، نہ نام تھا، نہ کوئی تجھے جانتا تھا کہ تُو کون ہے، اور کیا چیز ہے، اور کسی شمار و حساب میں نہ تھا، یعنی کچھ بھی نہ تھا۔

یہ گزشتہ مکاشفات و الہامات کا حوالہ ہے جو صفحہ ۳۸۳ پر آچکے ہیں بعضوں کے لئے ایک نمونہ تحریر ہے

سُبْحَانَ اللّٰهِ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی زَادَ مَجْدَكَ۔ يَنْقَطِعُ آبَآؤُكَ وَيُبْدَءُ مِنْكَ۔ سب خوبیاں پاک خدا کے لئے ہیں جو نہایت برکت والا اور عالی شان ہے، اُس نے تیرے مجد کو زیادہ کیا، تیرے آباء کا نام اور ذکر منقطع ہو جائے گا یعنی بطور مستقل اُن کا نام نہیں رہے گا، اور تجھ سے ابتدا ہو گی اور تیرا گھرانا کہلائے گا۔

نُصِرْتَ بِالرُّعْبِ۔ وَاُتْمِمْتَ بِالصِّدْقِ اَيُّهَا الصِّدِّيْقُ۔ لَيُسَرَّنَّ بِهِ اَوْلَادُكَ حِيْنَ يَنْتَهِيْ۔ تُو رُعب کے ساتھ مدد کیا گیا، اور صدق کے ساتھ پورا کیا گیا، اے صدّیق۔ تیرے لڑکے اس بات سے خوش ہوں گے، یعنی بمدادِ الٰہی اُس حد تک پہنچ جائیں گے کہ مخالفوں کے دل ٹوٹ جائیں گے، اور تیری سچائی پر پوری تسلی ہو جائے گی، اور تُو سچا ظاہر ہو جائے گا۔

وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيَذَرَكَ حَتّٰی يَمِيْزَ الْخَبِيْثَ مِنَ الطَّيِّبِ۔ اللّٰہ تعالیٰ ایسا نہیں ہے جو تجھے چھوڑ دے جب تک وہ خبیث اور طیّب میں صریح فرق نہ کر لے۔

وَاللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰی اَمْرِهِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ اللّٰہ تعالیٰ اپنے امر پر غالب ہے مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔

لے؎ ”توحید کے میرے نزدیک یہ معنی ہیں کہ وہ شخص بمنزلہ توحید کے ہوتا ہے جو کہ ایسے زمانہ میں مبعوث ہو کہ توحید کی حقیقت کا خون ہوتا ہو اور شرک کی ظلمت اور بُتوں کی پوجا ہو، اس شخص کو سچی توحید کی پیاس ایسی لگائی جاتی ہے کہ وہ تمام اپنے اغراض اور مقاصد کو ایک طرف رکھ کر توحید کے قیام تک چین نہیں لیتا، ایک مجسم توحید ہو جاتا ہے۔ اس کے اُٹھنے بیٹھنے اور حرکت اور سکون اور ہر ایک قول و فعل میں توحید کی جھلک لگی ہوئی ہوتی ہے۔ دُنیا میں لوگوں نے اپنے اپنے مقاصد کو بُت بنا رکھا ہے مگر جب تک خدا کسی کو یہ سوز و گداز توحید کے واسطے نہ لگائے تب تک نہیں لگ سکتا، جیسے لوگ عورتوں اور اپنی دوسری اغراض کے لئے بیقرار ہوتے ہیں، وہ توحید کا متوالا اسی طرح سچی توحید کے لئے بیقرار ہوتا ہے کہ خدا کی توحید اور عظمت اور جلال غالب آویں، اس وقت کہا جاتا ہے کہ اَنْتَ مِنِّيْ بِمَنْزِلَةِ تَوْحِيْدِيْ وَتَفْرِيْدِيْ۔“ (البدر جلد ۲ نمبر ۱۲ مورخہ ۸ اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ ۹۲ کالم ۲، ۳)

تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات، صفحہ ۵۳، طبع چہارم، از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 384 پر درج ہے

صفحہ 975

حوالہ نمبر 389

۴۲۷

وقت ہے۔

پھر فرمایا: ہمیشہ سے سُنت اللہ اسی طرح پر چلی آتی ہے کہ اس کے ماموروں کی راہ میں جو لوگ روک ہوتے ہیں اُن کو ہٹا دیا کرتا ہے۔ یہ خدا تعالیٰ کے بڑے فضل کے دن ہیں۔ ان کو دیکھ کر خدا تعالیٰ کی ہستی پر ایمان اور یقین بڑھتا ہے کہ وہ کس طرح ان اُمور کو ظاہر کر رہا ہے۔‘‘

(الحکم جلد ۷ نمبر ۱۴ مورخہ ۲۴ اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ ۱)

۱۹۰۴ء

ایک عورت قرآن پڑھ رہی تھی۔ اس سے اپنی جماعت کی نسبت تفاؤل کی نیّت سے پوچھا کہ پہلی سطر پر اوّل کیا لفظ ہے تو اس نے کہا کہ

غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ

مَیں نے سمجھا کہ یہ جماعت کے لئے ہے۔‘‘

(البدر جلد ۳ نمبر ۱۶، ۱۷ مورخہ ۲۴ اپریل و یکم مئی ۱۹۰۴ء صفحہ ۶۔ الحکم جلد ۸ نمبر ۱۲، ۱۳ مورخہ ۲۴ اپریل ۱۹۰۴ء صفحہ ۱۔

باختلاف الفاظ)

۲۰؍ اپریل ۱۹۰۴ء؁ ؎۱

اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَةٍ لَّا یَعْلَمُهَا الْخَلْقُ۔ اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَةِ
عَرْشِیْ ؎۲

(البدر جلد ۳ نمبر ۱۶، ۱۷ مورخہ ۲۴ اپریل و یکم مئی ۱۹۰۴ء صفحہ ۷۔ الحکم جلد ۸ نمبر ۱۲، ۱۳ مورخہ ۲۴ اپریل ۱۹۰۴ء صفحہ ۱)

’’عرش پر آپ نے فرمایا کہ یہ لفظ اس لئے بیان کیا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ کی تجلّیاتِ جمالی و جلالی کا اتم مظہر عرش ہے اور مسیح موعود اتم مظہر صفاتِ جمالیہ کا ہے جو کہ اس وقت ظاہر ہو رہی ہیں اور اس لئے کُل انبیاء کے ناموں سے مجھے خطاب کیا گیا ہے تاکہ اُن کے کُل صفات کا مظہر اتم مَیں ہو جاؤں۔ خدا تعالیٰ کی صفاتِ غضبی و رحیمیت برابر کام میں زور سے لگی ہوئی ہیں۔ ایک طرف تو لوگ زندہ ہو رہے ہیں اور ایک طرف مُردے ہیں پس چونکہ ان ایّام میں خدا کی صفات اپنی پوری تجلّی سے کام کر رہی ہیں اس مناسبت کے لحاظ سے عرش کہا گیا ہے۔‘‘

(البدر جلد ۳ نمبر ۱۶، ۱۷ مورخہ ۲۴ اپریل و یکم مئی ۱۹۰۴ء صفحہ ۸)

کے ہے۔

تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 427 طبع چہارم ملہم مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 384 پر درج ہے

صفحہ 976

حوالہ نمبر 390

۴۴۳

فِي حَضْرَتِيْ - يُشْقَرْ مُلْكُ يَنْقُوْسُ ١ - (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۲۵)

۴ فروری ۱۹۰۵ء

سَلَامٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِيْمٍ ٢ - وَامْتَازُوا الْيَوْمَ اَيُّهَا الْمُجْرِمُوْنَ سَلَامٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِيْمٍ - وَامْتَازُوا الْيَوْمَ اَيُّهَا الْمُجْرِمُوْنَ

(کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۲۵)

فروری ۱۹۰۵ء

انگریزی لکھا ہوا ہے مطلب جن کا یہ سمجھ میں آیا کہ ہم نے قدر و رتبہ بخشا ہے سب دے دیا جاوے گا ۔"

(البدر جلد ۲ نمبر ۶ مورخہ ۱۶ فروری ۱۹۰۵ء صفحہ ۲۔ الحکم جلد ۹ نمبر ۶ مورخہ ۱۰ فروری ۱۹۰۵ء صفحہ ۱۲)

ہے اس کا مطلب یہ سمجھ میں آیا کہ گویا کوئی میرا نام لے کر کہتا ہے کہ وہ جو چاہیں اس مد میں انہیں دیا جائے ۔"

(ریویو آف ریلیجنز جلد ۴ نمبر ۲ فروری ۱۹۰۵ء)

۲۰ فروری ۱۹۰۵ء

"وَاَنْتَ اَمْرُنَا إِذَا اَرَدْتَ شَيْئًا اَنْ تَقُوْلَ لَهُ كُنْ فَيَكُوْنُ"

(البدر جلد ۲ نمبر ۶ مورخہ ۲۴ فروری ۱۹۰۵ء صفحہ ۲۔ الحکم جلد ۹ نمبر ۷ مورخہ ۲۴ فروری ۱۹۰۵ء صفحہ ۱۳)

ترجمہ :۔ تو جس بات کا ارادہ کرتا ہے وہ تیرے حکم سے فی الفور ہو جاتی ہے ۔

(حقیقة الوحی صفحہ ۱۰۵۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۰۸)

۲۰ فروری ۱۹۰۵ء

"حضور کی طبیعت ناساز تھی۔ حالت کشفی میں ایک شیشی دکھائی گئی جس پر لکھا ہوا تھا:۔ خاکسار پیپرمنٹ"

(الحکم جلد ۹ نمبر ۷ مورخہ ۲۴ فروری ۱۹۰۵ء صفحہ ۱۲۔ ریویو آف ریلیجنز ماہ مارچ ۱۹۰۵ء صفحہ ۱۳۱)

۲۷ فروری ۱۹۰۵ء

"کشف دیکھا کہ دردناک موتوں سے عجیب طرح پر شورِ قیامت برپا ہے ہر سو ٣"

تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات، صفحہ 443 طبع چہارم ، از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 385 پر درج ہے

صفحہ 977

حوالہ نمبر 391

۵۵ خطبہ الہامیہ

النِّسَاءِ وَالرِّجَالِ ۚ فَجَعَلَنِىْ مَظْهَرَ الْمَسِیْحِ عِیْسَی ز زناں و ہم مرداں کہ آیند پس مرا جائے ظہور مسیح عیسیٰ مرد و زن جو کہ آئیں پس مجھ کو مسیح عیسےٰ ابْنِ مَرْيَمَ لِدَفْعِ الضُّرِّ وَ اِبَادَةِ مَوَادِّ الْغَوٰايَةِ ۚ پسر مریم کہ بجہت دفع اندوہائے سخت و تباہی را مادہ فریبہا بن مریم کا مظہر بنایا تاکہ ضرر اور گمراہی کے مادوں کو تلف فرماوے وَجَعَلَنِىْ مَظْهَرَ النَّبِیِّ الْمَهْدِیِّ اَحْمَدَ اَكْرَمَ و مرا مظہر مہدی احمد اکرم فرمود اور مجھ کو مظہر نبی مہدی کا مظہر بنایا لِاِفَاضَةِ الْخَيْرِ وَاِعَادَةِ عِهَادِ الدِّرَايَةِ وَالْهِدَايَةِ ۚ تا کہ بمردم خیر را برساند و باران درایت و ہدایت را دوبارہ فرستد تاکہ لوگوں کو فائدہ پہنچاوے اور درایت و ہدایت کی بارشوں کو دوبارہ برساوے وَ تَطْهِيرِ النَّاسِ مِنْ دَرَنِ الْغَفْلَةِ وَ الْجِنَايَةِ ۚ و مردم را از چرک غفلت و گناہکاری پاک کند اور لوگوں کو غفلت اور گناہکاری کے میل سے پاک کرے فَجِئْتُ فِى الْخُلَّتَيْنِ الْمَهْرُودَتَيْنِ الْمَصْبُغَتَيْنِ پس من در دو خلہ زرد رنگ شدہ ام کہ دو رنگی ہستند پس میں دو خلتوں یعنی دو خصلتوں میں رنگا گیا ہوں بِصِبْغَةِ الْجَلَالِ وَ صِبْغَةِ الْجَمَالِ ۚ وَ اُعْطِيْتُ صِفَةَ برنگ جلال و رنگ جمال و دادہ شدم صفت جو جلال اور جمال کے رنگ سے دو رنگے ہوئے ہیں اور مجھ کو الْاِفْنَاءِ وَالْاِحْيَاءِ مِنَ الرَّبِّ الْفَعَّالِ ۚ فَاَمَّا الْجَلَالُ فانی نمودن و زندہ کردن از پروردگارے کہ ہر چہ خواہد کنندہ است پس جلالے کہ دادہ شدم فانی کرنے اور زندہ کرنے کی صفت دی گئی ہے پروردگار فعال کی طرف سے پس جلالی رنگ تو یہ ہے کہ وہ جلال

خطبہ الہامیہ صفحہ 21 مندرجہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 55 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 385 پر درج ہے Back

صفحہ 978

حوالہ نمبر 392

۱۶۳

پٹیالہ سے خط آیا کہ میری والدہ فوت ہو گئی ہے اور اسحق میرے چھوٹے بھائی کو کوئی سنبھالنے والا نہیں ہے اور پھر خط کے اخیر میں یہ بھی لکھا ہوا تھا کہ اسحق بھی فوت ہو گیا ہے اور بڑی جلدی سے بُلایا کہ دیکھتے ہی چلے آویں۔ اس خط کے پڑھنے سے بڑی تشویش ہوئی کیونکہ اس وقت میرے گھر کے لوگ بھی سخت تپ سے بیمار تھے .... تب مجھے اس تشویش میں یک دفعہ غنودگی ہوئی اور یہ الہام ہوا :-

اِنَّ كَيْدَ كُنَّ عَظِيمٌ

یعنی اے عورتو! تمہارے فریب بہت بڑے ہیں .... اس کے ساتھ ہی تفہیم ہوئی کہ یہ ایک خلاف واقعہ بہانہ بنایا گیا ہے تب میں نے ... شیخ حامد علی کو جو میرا نوکر تھا پٹیالہ روانہ کیا جس نے واپس آکر بیان کیا کہ اسحق اور اس کی والدہ ہر دو زندہ موجود ہیں ۔

(تریاق القلوب صفحہ ۳۲، ۳۳ - روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۱۹۰ ، ۱۹۱)

۲۰ ستمبر ۱۸۹۴ء

ظُلُمَاتُ الْاِبْتِلَاءِ ۔ هٰذَا يَوْمٌ عَصِيبٌ . يُولَدُ لَكَ الْوَلَدُ وَيُدْنَى مِنْكَ الْفَضْلُ ۔ اِنَّ دَوْرِي قَرِيبٌ ۔ اَجِيءُ مِنْ حَضْرَةِ الْوَلِي -

(رجسٹر یادداشتیں ۔ مصنفہ مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۵۰)

۴؍ اکتوبر ۱۸۹۴ء

عَفَا اللّٰهُ عَنْكَ لِمَ أَذِنْتَ لَهُمْ ۔ اِنَّمَا أَمْرُكَ إِذَا أَرَدْتَ بِشَيْءٍ أَنْ تَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ ۔ أَنْتَ بِا لْحَقِّ تُرٰى ۔ اَمْرُكَ إِذَا أَرَدْتَ بِشَيْءٍ أَنْ تَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ ۔ اَتٰی لَكَ اللّٰهُ اِصْطَفَاكَ رَبُّكَ الْأَعْلَى ۔ أَنْتَ بِا سْمِي الْأَعْلَى ۔ أَنْتَ مِنَّا بِمَنْزِلَةٍ يَخْفَى ۔ اَمْرُكَ إِذَا أَرَدْتَ بِشَيْءٍ أَنْ تَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ ۔ أَنْتَ مِنْ مَّآئِنَا وَهٰذَا مِنْ فَضْلِي ۔ أَنْتَ مِنَّا بِمَنْزِلَةٍ يَخْفَى ۔ اَمْرُكَ إِذَا أَرَدْتَ بِشَيْءٍ أَنْ تَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ ۔ أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ تَوْحِيدِي

۱؎ ترجمہ : عنقریب ۔ ابتلاء کے اندھیرے یہ سخت دن ہے ۔ تجھے ایک بیٹا عطا ہو گا اور فضل تیرے نزدیک ہو گا میری دوڑ قریب ہے ۔ میں جناب باری سے آتا ہوں۔

۲؎ ترجمہ : اللہ نے تجھے معاف کیا ہے ان کو تو نے کیوں اجازت دی ۔ تیرا کام یہ ہے کہ جب تو کسی چیز کا ارادہ کرے تو اُسے کہے کہ ہو جا تو ہو جائے گی ۔ تو حق سے ملنے والا ہے ۔ تیرا کام یہ ہے کہ جب تو کسی چیز کا ارادہ کرے تو اُسے کہے کہ ہو جا تو وہ ہو جائے گی۔ اللہ تیرے پاس آیا اس نے تجھے چن لیا۔ تو میرے نام اعلیٰ کے ساتھ ہے ۔ تیرا کام یہ ہے کہ جب تو کسی چیز کا ارادہ کرے تو اسے کہے کہ ہو جا تو وہ ہو جائے گی۔ تو ہمارے پانی سے ہے اور وہ فضل سے۔ تو مجھ سے ملنے والا ہے تیرا کام یہ ہے کہ جب تو کسی چیز کا ارادہ کرے تو اُسے کہے کہ ہو جا تو وہ ہو جائے گی ۔ تو مجھ سے ایسا ہے جیسے میری توحید اور

یہ حوالہ صفحہ 385 پر درج ہے تذکرہ مجموعہ وحی والہامات ، صفحہ 164 طبع چہارم ، از مرزا قادیانی

صفحہ 979

حوالہ نمبر 393

۲۴۵ ۱۹۰۰ء میرے ایک دوست۱؎ نے اپنی نیک نیتی سے یہ عذر پیش کیا تھا کہ آیت لَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا۲؎ میں صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مخاطب ہیں۔ اس سے کیونکر سمجھا جائے کہ اگر کوئی دوسرا شخص افترا کرے۳؎ تو وہ بھی ہلاک کیا جائے گا۔ ۔ ۔ ۔ جس وقت میں نے اپنے اس دوست کو یہ باتیں سمجھائیں تو اسی رات مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے وہ حالت ہو کر جو وحی اللہ کے وقت مجھ پر طاری ہوتی ہے وہ نظارہ گفتگو کا دوبارہ دکھلایا گیا اور پھر الہام ہوا :۔

قُلْ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدٰى

یعنی خدا نے جو مجھے اس آیت لَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا کے متعلق سمجھایا ہے وہی معنے صحیح ہیں۔

(اربعین نمبر ۴ صفحہ ۵ حاشیہ ۔ روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۴۳۴ ، ۴۳۵)

۱۴؍اکتوبر ۱۹۰۶ء ۵؎ منشی الٰہی بخش اکونٹنٹ کی کتاب عصائے موسیٰ مجھ کو ملی جس میں میری ذریت کی نسبت محض سوء ظن سے اور خدا کی بعض سچی اور پاک پیشگوئیوں پر سراسر منشائے بشری سے حملے کئے گئے ہیں۔ وہ کتاب جب میں نے ہاتھ میں سے چھوڑی تو تھوڑی دیر کے بعد منشی الٰہی بخش صاحب کی نسبت یہ الہام ہوا :۔

یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّرَوْا طَمْثَکَ ۔ وَاللّٰهُ یُرِیْدُ اَنْ یُّرِیْکَ اِنْعَامَہٗ ۔ اَلْاِنْعَامَاتِ
الْمُتَوَاتِرَةِ ۔ اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَةِ اَوْلَادِیْ ۔ وَاللّٰهُ وَلِیُّکَ وَ رَبُّکَ ۔ فَطَنَایَا نَدَرُنِیْ
بَرَاءَةً مِّنَ اللّٰهِ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّالَّذِیْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ الْحُسْنٰی ۔ ع

۱؎ میاں ولایت علی صاحب کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دوست مولوی محمد احسن صاحب تھے۔ دیکھئے روایات صحابہ جلد ۴ صفحہ ۳۵۳۔ (مرتب)

۲؎ الحاقۃ : ۴۵

۳؎ یعنی اگر کوئی شخص بطور افترا کے نبوت اور مامور من اللہ ہونے کا دعویٰ کرے تو وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سچے نبی کے مانند ہرگز تاخیر نہیں پائے گا۔ ۴؎ (اربعین نمبر ۴ صفحہ ۱ ۔ روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۴۳۱)

۵؎ اخبار الحکم جلد ۱۰ نمبر ۳۳ مورخہ ۱۷؍اکتوبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۱ پر اس الہام کی نسبت لکھا ہے کہ :۔ " آپ نے ۱۷؍اکتوبر ۱۹۰۶ء کی صبح کو فرمایا کہ رات کو الٰہی بخش صاحب اکونٹنٹ کی کتاب کے آنے کا نقشہ میرے سامنے پیش کیا گیا اور پھر یہ الہام ہوا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس الہام پر حضرت نے فرمایا کہ "یہ الہام اپنے اندر ایک علمی اور فلسفیا نہ پہلو رکھتا ہے جو لغت کے لحاظ سے اور اس کے مقابلہ

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 325، 326 طبع چہارم از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 386 پر درج ہے

Back

صفحہ 980

حوالہ نمبر 393 ۳۴۹

ترجمہ :۔ یہ لوگ خون حیض تجھ میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ یعنی ناپاکی اور پلیدی اور خباثت کی تلاش میں ہیں۔ اور خدا چاہتا ہے کہ اپنی متواتر نعمتوں جو تجھ پر ہیں اور کمالات اور خوبیوں سے تجھے کیونکر مشابہت ہو۔ اور وہ کہاں تجھ میں باقی ہے۔ پاک چیزوں نے اس خون کو جو تجھ میں بھرا تھا جلایا۔ اور وہ لڑکا جو اس خون سے بنا جو مکروہ پانی سے پیدا ہوا اس لئے تو مجھ سے بمنزلہ اولاد کے ہے۔ یعنی بچوں کا گوشت پوست خون حیض سے ہی پیدا ہوتا ہے مگر وہ خون حیض کی طرح ناپاک نہیں کہلا سکتے اسی طرح تو بھی انسان کی سفلی نالی سے جو بوجہ بشریت ہے اور خون حیض سے مشابہ ہے ترقی کر گیا ہے۔ اب اس پاک لڑکے میں خون حیض کی تلاش کرنا حمق ہے۔ وہ تو خدا کے ہاتھ سے نطفہ ربانی بن گیا اور اس کے لئے بمنزلہ اولاد کے ہو گیا۔ یہ خدا تیرا مولیٰ اور تیرا پروردگار ہے اس لئے خاص طور پر پدری مشابہت درمیان ہے جس آگ کو اس اکذب جھوٹے مدعی نے بھڑکانا چاہا ہے ہم نے اس کو بجھا دیا ہے۔ خدا پرہیزگاروں کے ساتھ ہے جو نیک کاموں کو پوری خوبصورتی کے ساتھ انجام دیتے ہیں اور تقویٰ کے باریک پہلوؤں کا لحاظ رکھتے ہیں۔“

(اربعین نمبر ۴ صفحہ ۱۱ حاشیہ ۔ روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۴۵۶)

۸ دسمبر ۱۹۰۴ء ”یہ درد سر خدا کو کیسا پیارا ہے کہ دائیں آنکھ کے پردے میں درد تھا اور اس شدت کے ساتھ دَرد تھا کہ مجھے خیال آیا تھا کہ رات کیونکر بسر ہو گی۔ آخر ذرا سی غنودگی ہوئی اور الہام ہوا۔

كُونِيْ بَرْدًا وَّسَلَامًا

اور سَلَامًا کا لفظ ابھی ختم نہ ہونے پایا تھا کہ دَرد جاتا رہا، ایسا کہ کبھی ہوا ہی نہیں تھا۔“

(الحکم جلد ۸ نمبر ۴۴ مورخہ ۱۰ دسمبر ۱۹۰۴ء صفحہ ۹)

۱۱ دسمبر ۱۹۰۴ء

بقیہ حاشیہ :۔ یہاں تاویل اس کی وحی کے معنے میں دیکھنا چاہیے کیا مطلب کہ یہ مخاطب لوگ تو ہمیں ناپاک اور بُرے بھلے کہتے ہیں حالانکہ ان کو اتنی خبر نہیں ہے کہ اُمتِ بیضا کی ہستی تو اُسی پاک خون پر ہے کہ جو سید الاُمم کے صادق سینے پر نازل ہوا اور ہر ایک قطرہ خون کے رنگ میں نمایاں معلوم ہوتا ہے۔“

اور کمالِ بصیرت یقین ہے کہ بیت اللہ میں کھڑا کر کے جس قدر کہو، ہم قسم کھا لیں، بلکہ میرا تو یقین یہاں تک ہے کہ اگر میں اس بات کا انکار کروں یا وہم بھی کروں کہ یہ خدا کی طرف سے نہیں تو مرتد کافر ہو جاؤں۔“

(الحکم جلد ۸ نمبر ۴۴ مورخہ ۱۰ دسمبر ۱۹۰۴ء صفحہ ۹)

تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 325-326 طبع چہارم از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 386 پر درج ہے

صفحہ 981

حوالہ نمبر 394

۷۰

ظاہر ہے کہ یہ الہام الٰہی فی فم انبیاء اللہ کے لئے مطہر ہے۔ اور مدارج میں سے ایک درجے کی علامت کنایہ مقرر فرمائی گئی ہے۔ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک موقعہ پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی ہے کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی ۔ کہ گویا آپ عورت ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا تھا۔ سمجھنے والے کے لئے اشارہ کافی ہے پس جن لوگوں کو میرا وہ رقعہ جو میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں لکھا تھا اور اُس میں اپنی کشفی حالت ظاہر کی تھی میرے جنون کی دلیل نظر آتا ہے وہ اپنے ایمان کی فکر کریں اور قرآن کے الفاظ وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ ومِنْ دُونِهِمَا جَنَّتَانِ پڑھ کر کسی کسوٹی پر اپنے ایمان کو پرکھیں یہاں اللہ تعالیٰ ڈرنے والے کو دو جنت عطا فرمانے کا وعدہ فرماتا ہے جس کی تعریف درمیانی فقرات میں ہے ۔ اول میں چشمے ہونگے۔ لولو اور مرجان ہونگے سرہانے ہونگے وغیرہ وغیرہ اخیر میں فرماتا ہے کہ اون دو جنتوں سے ورے دو جنت اور بھی ہیں یعنے جیسے مرنے کے بعد اون کو دو جنت ملیں گے ایسے ہی اسی دنیوی زندگی میں بھی دو جنت ملیں گے اور الفاظ مَنْ كَانَ فِي هَذِهِ أَعْمَىٰ فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْمَىٰ۔ اس کی تشریح یہ ہے۔

اب میاں صاحب اور مولوی محمد علی صاحب مہربانی فرما کر کھول کر کہیں کہ اُن کو دو جنت کون سے حاصل ہیں۔ یوں ہی اعتراض کر دینا تو بڑا آسان ہے خود کسی صفت کے موصوف بن کر بتا دیں۔ اب میں مختصر طور پر اون خوابوں اور کشفوں کو ظاہر کرتا ہوں جو بطور پیشگوئی ظاہر ہوئے اور ہونے والے ہیں ایک سال سے زیادہ عرصہ گزرا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ پشاور کے گرد کسی مسلمان بادشاہ کی چھاؤنی پڑ رہی ہے۔ انجام کچھ معلوم نہ ہوا تھا۔ مگر تا ہم میں نے

یہ حوالہ صفحہ 386 پر درج ہے اسلامی قربانی ٹریکٹ نمبر 34 صفحہ 12 از قاضی یار محمد قادیانی مرید آنجہانی مرزا قادیانی

صفحہ 982

حوالہ نمبر 395

۵۹۴

آیا اور شدّت سے آیا زمین تہ و بالا کر دی۔ يَوْمَ تَاتِي السَّمَاءِ بِدُخَانٍ مُّبِيْنٍ؂۱ ایک زلزلہ آیا جو کہ بڑی سختی سے آیا۔ اور زمین کو زیر و زبر کر چکا۔ اُس دن آسمان سے ایک کھلا کھلا دھواں نکلے گا وَ تَرَى الْاَرْضَ يَوْمَئِذٍ خَامِدَةً مُصْفَرَّةً : اَلَوْمَاكَ بَعْدَ قَوْمِيْنَكَ اور اُس دن زمین زرد پڑ جائے گی یعنی سخت قحط کے آثار ہوں گے پس وہ دن جو باقی رہ گئے ہیں تجھے ملامت دیویں گے يُرِيْدُوْنَ اَنْ لَّا يُتِمَّ اَمْرَكَ : وَاللّٰهُ يَاْبٰى اِلَّا اَنْ يُتِمَّ اَمْرَكَ : اِنِّيْ کہ لوگ ارادہ کریں گے جو تیرا کام تمام نہ ہونے پاوے اور خدا نہیں چاہتا مگر یہ کہ تیرے تمام کام پورے کرے۔ میں اَنَا الرَّحْمٰنُ : سَاَجْعَلُ لَكَ سُهُوْلَةً فِيْ كُلِّ اَمْرٍ : اُوْتِيْنَكَ بَرَكَاتٍ مِّنْ كُلِّ رحمان ہوں۔ ہر ایک امر میں تجھے سہولت دوں گا۔ ہر ایک طرف سے تجھے برکتیں طَرَفٍ : تَنْزِلُ الرَّحْمَةُ عَلٰى ثَلَاثٍ اَمْنِيْ وَعَلَى الْاٰخَرِيْنَ : سُرَّرٌ دکھلاؤں گا۔ میری رحمت تین پر نازل ہے۔ ایک مجھ پر اور میری ذریت پر اور تیسری دوستوں پر۔ ان کو سلامت رکھوں گا اِلَيْكَ اَنْوَارُ الشَّبَابِ : مُوْسٰى عَصاً بِيَدِهِ : اَوْحٰى رَبُّكَ بِكَلَامٍ مُّقَدَّسٍ لِّحَقِّ اور جوانی کے نور تیری طرف کئے جائیں گے موسی ایک خلیفہ ہے کہ جس کے ہاتھ میں ایک عصا ہے تیرا رب تجھے بکلام مقدّس کے ساتھ حق وَالصِّدْقِ كَاَنَّ اللّٰهَ نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ : اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ كَامِلٍ نَّفْلٍ لَّكَ؂۲ کا ظہور ہوگا۔ گویا آسمان سے خدا اُترے گا۔ ہم ایک لڑکے کی تجھے بشارت دیتے ہیں جو تیرا پوتا ہوگا سُبْحٰنَكَ اللّٰهُ وَبِحَمْدِكَ : وَهَلُمَّكَ صِلْ لِّيْ حَبْلَكَ : اِنَّهُ كَوْبْ وَنَحْبِيْ خدا نے یہ ایک امر مجھ پر بھیجا کہ اب تو مجھ سے موافقت کر اور وہ معاملہ، تجھ سے کہدے کہ جو کچھ کہ میں نے قبول کیا ہے تو بھی قبول کر اَمَامَكَ وَعَادٰى قَوْمًا مَّنْ عَادَى وَ قَالُوْا اِنْ هٰذَا اِلَّا اخْتِلَاقُ : اَلَمْ آگے ہو اور تیرے دشمنوں کا وہ دشمن ہوا۔ اور کہیں گے کہ یہ تو ایک بناوٹ ہے۔ اے معترض کیا تو تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ : يُلْقِي الرُّوْحَ عَلٰى مَنْ يَّشَاءُ نہیں جانتا کہ خدا ہر ایک بات پر قادر ہے جس پر اپنے بندوں میں سے چاہتا ہے اپنی روح ڈالتا ہے پس حسب

؂۱ یعنی وہ روز جو بقیہ اُس کی عمر کے ہیں ہماری طرف سے تجھے ملیں گے پس وہ لوگ تیرے مخالفین کو ملامت کریں گے پس کیا وہ یہ کہنے کے مجاز نہیں۔ (حقیقة الوحی صفحہ ٩٤ حاشیہ۔ روحانی خزائن جلد ٢٢ صفحہ ٩٨ حاشیہ)

؂۲ یہ وہ الہام ہے کہ جس کا ظہور میرے بیٹے محمود سے پہلے کی مدت میں کہ جب وہ بطن مادر میں تھا یعنی یکم ذیقعدہ ١٣٠٦ھ میں آیا۔ پس بوجہ اس کے تولد کے تو اس کا نشان ظاہر ہوا۔ اور یہی سُنت اللہ ہے کہ جس میں تو ہوگا اسی میں میں ہوں گا اور یہ میری قدیم سُنت ہے (حقیقة الوحی صفحہ ٩٨ حاشیہ۔ روحانی خزائن جلد ٢٢ صفحہ ١٠٢ حاشیہ)

؂۳ یہ خدا تعالیٰ کی وحی یعنی تنزیل ہے جو تیس سال کی ہے۔ منہ

(حقیقة الوحی صفحہ ١٠١ حاشیہ۔ روحانی خزائن جلد ٢٢ صفحہ ١٠٥ حاشیہ)

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات ، صفحہ 554 طبع چہارم از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 387,386 پر درج ہے

صفحہ 983

حوالہ نمبر 396 ۱۵۲

۱۸۸۹ء "چونکہ میری توجہ پر مجھے اشارہ ہوچکا ہے کہ

اُدْعُوْنِیْٓ اَسْتَجِبْ لَکُمْ

اور مجھے یقین دلایا گیا ہے کہ اگر آپ تقویٰ کا طریق چھوڑ کر ہنسی ٹھٹھا ہی کریں گے اور اٰيَة لَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِہٖ عِلْمٌ کو نظر انداز کر دیں گے تو ایک سال تک اور اُس کا آپ پر ایسا گلا گھوٹا اثر پڑے گا جو دوسروں کے لئے بطور نشان کے ہو جائے گا"

(اشتہار ۱۷ اکتوبر ۱۸۸۹ء تبلیغ رسالت جلد دوم صفحہ ۱۸ ، مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ ۱۴۹)

نومبر ۱۸۸۹ء " رَأَيْتُنِي فِي الْمَنَامِ عَيْنَ اللهِ وَتَيَقَّنْتُ اَنَّنِي هُوَ وَ لَمْ يَبْقَ لِي اِرَادَةٌ وَّلَا خَطْرَةٌ وَّلَا عَمَلٌ وَّلَا حِفْظُ نَفْسٍ وَصِرْتُ كَاِنَاءٍ مُّسْتَسْلِمٍ مِّنْ كُلِّهِ فَاَخَذَهُ شَيْءٌ اَحْرَزَهُ اَخْذًا قَوِيًّا بِتَمَامِهِ حَتّٰى مَا بَقِيَ مِنْهُ اَثَرٌ وَّلَا رَائِحَةٌ وَصَارَ كَالْمَفْقُوْدِيْنِ۔ وَبَقِيَ يَقِيْنُ اللهِ يَنْزِعُ الطِّيْنَ اِلٰى اَصْلِهِ وَيُعَبَّرُ عَنْهُ بِمَا يُعَبَّرُ فِي مِثْلِ هٰذِهِ الْحَالَاتِ فِي بَعْضِ الْاَوْقَاتِ عَلَى الْمُرْسَلِيْنَ۔ وَتَفْصِيْلُ ذٰلِكَ اَنَّ اللهَ اِذَا اَرَادَ شَيْئًا مِّنْ مَّقَامِ الْغَيْبِ يَتَجَلّٰى عَلَيْهِ تَجَلِّيًا قَوِيًّا لَّا يَبْقٰى بِمَنْزِلَةٍ مُّسْتَتِرَةٍ وَيَغْلِبُ عِلْمُهُ وَمَوَاهِبُهُ وَتَوْحِيْدُهُ وَتَفْرِيْدُهُ فَلَا يَتَمَالَكُ مُرَادَهُ وَتَكْمِيْلِ مَوَاعِيْدِهِ كَمَا جَرَتْ عَادَتُهُ بِالْاَبْدَالِ وَالْاَقْطَابِ وَالصِّدِّيْقِيْنَ۔"

٭ (مضمون بالا کا مفہوم زبان اُردو مصنف کے الفاظ میں) "میں نے اپنے ایک کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں اور میرا اپنا کوئی ارادہ اور کوئی خیال اور کوئی عمل نہیں رہا اور میں ایک سوراخ دار برتن کی طرح ہو گیا ہوں یا اُس شے کی طرح جسے کسی دوسری شے نے اپنی بغل میں دبا لیا ہو اور اُسے اپنے اندر بالکل مخفی کر لیا ہو یہاں تک کہ اُس کا کوئی نام ونشان باقی نہ رہ گیا ہو۔ اس اثناء میں میں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کی رُوح مجھ پر محیط ہو گئی اور میرے جسم پر مستولی ہو کر اپنے وجود میں مجھے

لہ ۱۸۸۹ء کے بقیہ میں مکاتیب احمدیہ ص ۱۹۶ تا ۲۱۰ میں ایک طویل لمبی تحریر ہے، تمام دلائل قاطعہ سے ہم کو اُلّو فرماتے ہیں، ترقّم مبارک کہہ دیجئے کہ یہ باتیں صحیح نہیں ہیں اور یہی اُلو بننے کا نتیجہ ہے، کہ کفر بک کر مجدّد یا مہدی بنے، افترا باندھ کر ولایت لانے لگے ہیں۔

(اشتہار ۱۷ اکتوبر ۱۸۸۹ء تبلیغ رسالت جلد دوم صفحہ ۲۰ مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ ۲۲۸)

۲؎ خواب میں اُلو کو جو دیکھے کہ وہ خدا بن گیا ہے تو اس کی یہ تعبیر ہو گی"اِهْتَدَى اِلَى الصِّرَاطِ الْمُسْتَقِيْمِ"۔(تعطیر الانام فی تعبیر المنام باب الالف۔ المجلد ۱ میں یہ مصرح صفحہ ۱۹ کہ اس شخص کو سیدھی راہ کی طرف ہدایت ملی۔ مرتب)

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات، صفحہ 152، طبع چہارم، از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 387 پر درج ہے

صفحہ 984

(حوالہ نمبر 397) تحفہ ۵۸۱ حقیقت الوحی منہ کہ میں آپ کے افتراء کی وجہ سے کسی انسانی عدالت میں آپ پر نالش نہیں کرونگا ۔ سو میں کہتا ہوں کہ میں نہ صرف انسانی عدالت میں نالش کرونگا بلکہ میں خدا کی عدالت میں بھی نالش نہیں کرتا ۔ لیکن چونکہ آپ نے محض جھوٹے اور قابلِ شرم الزام مجھ پر لگائے ہیں اور مجھے ناکردہ گناہ دُکھ دیا ہے اسلئے میں ہرگز یقین نہیں رکھتا کہ میں اس وقت سے پہلے مروں جب تک کہ میرا قادر خدا ان جھوٹے الزاموں سے مجھے بری کر کے آپکا کاذب ہونا ثابت نہ کرے ۔ اَلا لَعْنَةُ اللّٰہِ عَلَی الْكَاذِبِیْنَ۔ اسی کے متعلق قطعی اور یقینی طور پر مجھ کو ۱۱؍ دسمبر ۱۸۹۸ء روز یکشنبہ کو یہ الہام ہوا :- برمقام ہلاک شدم یارب گر امیدے دہم مدار عجب۔ بعد ۱۱۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔ مگر بہر حال ایک نشان میری بریت کے لئے اِس مدّت میں ظاہر ہو گا جو آپ کو سخت شرمندہ کریگا ۔ خدا کی کلام پر ہنسی نہ کرو۔ پہاڑ ٹل جاتے ہیں۔ دریا خشک ہو سکتے ہیں۔ موسم بدل جاتے ہیں مگر خدا کا کلام نہیں بدلتا جبتک پورا نہ ہولے۔

اسی طرح میری کتاب اربعین نمبر ۴ صفحہ ۱۹ میں بابو الٰہی بخش صاحب کی نسبت یہ الہام ہے یریدون ان یروا طمثک واللہ یرید ان یریک انعامہ ۔ الا انعامات المتواترۃ ۔ انت منی بمنزلۃ اولادی۔ واللہ ولیک و ربک فقلنا یا نار کونی برداً ۔ یعنی بابو الٰہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے یا کسی پلیدی اور ناپاکی پر اطلاع پائے مگر خدا تعالیٰ تجھے اپنے انعامات دکھلائے گا جو متواتر ہونگے اور تجھ میں حیض نہیں بلکہ وہ بچہ ہو گیا ہے ایسا بچہ جو بمنزلہ اطفال اللہ ہے۔ یعنی حیض ایک ناپاک چیز ہے کہ بچہ کا جسم اسی سے تیار ہوتا ہے۔ اسی طرح جب انسان خدا کا ہو جاتا ہے تو جس قدر فطرتی ناپاکی اس میں ہوتا ہے جو انسان کی فطرت کو لگا ہوا ہوتا ہے اسی سے ایک روحانی جسم تیار ہوتا ہے۔ یہی طمث انسانی ترقّیات کا نتیجہ ہے۔ اسی بناء پر صوفیہ کا قول ہے کہ اگر گناہ نہ ہوتا تو انسان کوئی ترقی نہ کر سکتا۔ آدم کی ترقّیات کا بھی یہی موجب ہوا۔ اسی وجہ سے ہر ایک نبی حتّیٰ کہ روزِ اَوّل پر نظر کر کے آنحضرت

یہ حوالہ صفحہ 391 پر درج ہے | تحفہ حقیقت الوحی صفحہ 581 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 581 از مرزا قادیانی

صفحہ 985

(حوالہ نمبر 398)

۱۴ اس کا قرآنی

ظاہر ہے کہ مسیح الدجال کی ام الخبائث اشارے کے درجہ پر ہے۔ اور قرآن میں سے ایک درجہ کی علامت کنایہ مقرر فرمائی گئی ہیں۔ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک موقعہ پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی ہے کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی ۔ کہ گویا آپ عورت ہیں ۔ اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا تھا سمجھنے والے کے لئے اشارہ کافی ہے پس جن لوگوں کو میرا وہ رقعہ جو میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں لکھا تھا اور اُس میں اپنی کشفی حالت ظاہر کی تھی میرے جنون کی دلیل نظر آتا ہے وہ اپنے ایمان کی فکر کریں اور قرآن کے الفاظ ولمن خاف مقام ربہ جنتان ومن دونھما جنتان کی کسوٹی پر اپنے ایمان کو پرکھیں یہاں اللہ تعالیٰ ڈرنے والے کو دو جنت عطا فرمانے کا وعدہ فرماتا ہے جس کی تعریف درمیانی فقرات میں ۔ یعنے اون میں چشمے ہونگے ۔ لولو اور مرجان ہونگے سراہنے ہونگے وغیرہ وغیرہ اخیر میں فرماتا ہے کہ اون دو جنتوں سے درجے میں جنت اور بھی ہیں یعنے جیسے مرنے کے بعد اون کو دو جنت ملیں گے ایسے ہی اسی دُنیوی زندگی میں بھی دو جنت ملیں گے اور الفاظ من کان فی ھذہ اعمیٰ فھو فی الاخرۃ اعمیٰ۔ اس کی تشریح ہے۔

اب میاں صاحب اور مولوی محمد علی صاحب مہربانی فرما کر کھول کر کہیں کہ اُن کو دو جنت کون سے حاصل ہیں۔ یونہی اعتراض کر دینا تو بڑا آسان ہے خود کسی صفت کے موصوف بن کر بتا دیں۔ اب میں منصہ شہود پر اون خوابوں اور کشفوں کو ظاہر کرتا ہوں جو بطور پیشگوئی ظاہر ہو کر پورے ہونے والے ہیں ایک سال سے زیادہ عرصہ گذرا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ پشاور کے گرد کسی مسلمان بادشاہ کی چھاؤنی پڑ رہی ہے انجام کچھ معلوم نہ ہوا تھا مگر تاہم میں نے

یہ حوالہ صفحہ 391,392 پر درج ہے اسلامی قربانی ٹریکٹ نمبر 34 صفحہ 12 از قاضی یار محمد قادیانی مرید مرزا قادیانی

صفحہ 986

حوالہ نمبر 399 ۸۱ براہین احمدیہ حصہ پنجم میرے حالات کو کچھ اپنے عقائد کے برخلاف پا کر اپنے دلوں میں کہا کہ یا الٰہی کیا تو ویسے انسان کو اپنا خلیفہ بنائے گا کہ جو ایک مفسد آدمی ہے جو ناحق قوم میں پھوٹ ڈالتا ہے اور علماء کے مسلمات سے باہر جاتا ہے۔ تب خدا نے جواب دیا کہ جو مجھے معلوم ہے وہ تمہیں معلوم نہیں۔ یہ خدا کا کلام ہے کہ جو مجھ پر نازل ہوا اور درحقیقت میرے اور میرے خدا کے درمیان ایسے باریک راز ہیں جن کو دنیا نہیں جانتی اور مجھے خدا سے ایک نہانی تعلق ہے جو قابل بیان نہیں۔ اور اس زمانہ کے لوگ اس سے بے خبر ہیں پس یہی معنے ہیں اِس وحی الٰہی کے کہ قال انی اعلم ما لا تعلمون ۔ پھر بقیہ ترجمہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ شخص مجھ سے نزدیک ہوا اور میرا قرب کامل اس نے پایا ۔ اور پھر بعد اس کے بہت سی خلائق کے لئے اِسکی طرف متوجہ ہوا اور مجھ میں اور مخلوق میں ایک واسطہ ہو گیا جیسا کہ دو قوسوں میں وتر ہو۔ اور اس لئے کہ وہ اس درمیانی مقام پر ہے وہ دین کو از سر نو زندہ کریگا اور شریعت کو قائم کر دیگا۔ یعنی بعض غلطیاں جو مسلمانوں میں رائج ہو گئی ہیں اور ناحق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ان غلطیوں کو منسوب کیا جاتا ہے ۔ ان سب غلطیوں کو ایک حَکَم کے منصب پر ہو کر دُور کر دے گا ۔ اور شریعت کو جیسا کہ ابتداء میں سیدھی تھی سیدھی کر کے دکھلا دے گا۔

پھر انہی پیشگوئیوں کے بارے میں براہین احمدیہ میں اور بھی الہام ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :۔ شُعَبٌ وقالوا لا مَسَاسَ۔ ام یقولون نحن جمیع منتصر ۔ سیھزم الجمع ویولون الدبر ۔ وان یروا اٰیۃً یُعرضوا ویقولوا سحر مستمر ۔ قل ان کنتم تحبون اللّٰہ فاتبعونی یحببکم اللّٰہ ۔ واعلموا ان اللّٰہ یحیی الارض بعد موتھا۔ ومن کان للّٰہ کان اللّٰہ لہ ۔ قیل ان افتریٰتہ فعلیّ اجرامی شدیداً۔ یا احمدی انت مرادی ومعی۔ ھزمت اعدائک بیدی۔ اٰکان للناس عجباً ۔ قل ھو اللّٰہ عجیب لا یُسْئَل

براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 63 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 81 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 393 پر درج ہے

صفحہ 987

حوالہ نمبر 400

تقویۃ الایمان کشتی نوح

کیا یہ اسلئے کہ تمہیں کیوں ابن مریم کہا جائے۔ اور کیا آج سے بیس بائیس برس پہلے بلکہ اس سے بھی زیادہ میری طرف سے یہ منصوبہ ہو سکتا تھا کہ میں اپنی طرف سے الہام تراش کر اوّل اپنا نام مریم رکھتا اور پھر آگے چلکر افتراء کے طور پر یہ ال

صفحہ 988

حوالہ نمبر 401

کشتی نوح ۵۱ بقیہ حاشیہ

تقاضا تھا کہ براہین احمدیہ کے بعض الہامی اسرار میری سمجھ میں نہ آتے۔ مگر جب وقت آگیا تو وہ اسرار مجھے سمجھائے گئے۔ تب میں نے معلوم کیا کہ میرے اِس دعویٰ مسیح موعود ہونے میں کوئی نئی بات نہیں یہ وہی دعویٰ ہے جو براہین احمدیہ میں بار بار تصریحاً لکھا گیا ہے یا مجملًا اس الہام کا بھی ذکر کرتا ہوں۔ اور مجھے یاد نہیں کہ میں نے وہ الہام اپنے کسی رسالہ یا اشتہار میں شائع کیا ہے یا نہیں۔ لیکن یہ یاد ہے کہ صدہا لوگوں کو میں نے سنایا تھا۔ اور میری یادداشت کے الہامات میں موجود ہے اور وہ اُس زمانہ کا ہے جبکہ خدا نے مجھے پہلے مریم کا خطاب دیا اور پھر نفخ رُوح کا الہام کیا۔ پھر بعد اس کے یہ الہام ہوا تھا۔ فاجاءها المخاض الیٰ جذع النخلۃ قالت یٰلیتنی مت قبل ھٰذا و کنت نسیا منسیا۔ یعنے پھر مریم کو جو مراد اِس عاجز سے ہے۔ دردِ زہ کھجور کی طرف لے آئی یعنے عوام الناس اور جاہلوں اور بے سمجھ علماء سے واسطہ پڑا۔ جن کے پاس ایمان کا پھل نہ تھا جنہوں نے تکفیر و توہین کی اور گالیاں دیں اور ایک طوفان برپا کیا۔ تب مریم نے کہا کہ کاش میں اس سے پہلے مر جاتی اور میرا نام و نشان باقی نہ رہتا۔ یہ اُس شور کی طرف اشارہ ہے جو ابتداء میں مولویوں کی طرف سے بہ نسبت میرے برپا ہوا اور وہ اِس دعوے کو برداشت نہ کرسکے اور مجھے ہر ایک حیلہ سے نابود کرنا چاہا۔ تب اُس وقت جو تکفیر اور طعن و تشنیع کا شور و غوغا دیکھا۔ میرے دل پر گذرا کہ یہ کیا ہوا مگر خدا تعالیٰ نے فتنہ کو فرو کیا ۔ اور اُس کے متعلق اور بھی الہام تھے جیسا لَقَدْ جِئْتِ شَيْئًا فَرِيًّا - مَا كَانَ أَبُوكِ امْرَأَ سَوْءٍ وَمَا كَانَتْ أُمُّكِ بَغِيًّا - یہ براہین کے حاشیہ کا الہام براہین احمدیہ کے صفحہ ۵۲۱ میں موجود ہے اور وہ یہ ہے۔ یٰعیسیٰ اِنّی متوفیک و رافعک اِلَیَّ - الخ یٰمریم ادخلی الجنۃ - فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّيثَاقَهُمْ - قَوْلُ الْحَقِّ الَّذِي فِيهِ تَمْتَرُونَ دیکھو براہین احمدیہ صفحہ ۵۲۱ سطر ۱۱ و ۱۲۔ ترجمہ ان لوگوں نے کہا کہ اے مریم تو نے یہ کیا مکروہ اور قابلِ نفرین کام دکھلایا جو بستی سے دُور ہے۔ تیرا باپ اور تیری ماں تو ایسے نہ تھے۔

نوٹ۔ اِس الہام پر مجھے یاد آیا کہ میاں منشی فضل دین جو میرا قدیم مخلص ہے بلکہ میرے والد صاحب سے بیعت

کشتی نوح صفحہ 48 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 51 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 394 پر درج ہے

صفحہ 989

حوالہ نمبر 402

ضمیمہ براہین احمدیہ ۳۶۱ حصہ پنجم

نہ صرف حدیثوں میں بلکہ قرآن شریف سے بھی یہی مستنبط ہوتا ہے کیونکہ سورۃ تحریم میں جو اس طور پر بیان کیا گیا ہے کہ بعض افراد اس امت کا نام مریم رکھا گیا ہے اور پھر پوری اتباع شریعت کی وجہ سے اس مریم میں خدا تعالٰی کی طرف سے رُوح پھونکی گئی اور رُوح پھونکنے کے بعد اس مریم سے عیسیٰ پیدا ہو گیا۔ اور اسی بناء پر خدا تعالٰی نے میرا نام عیسیٰ بن مریم رکھا کیونکہ ایک زمانہ مجھ پر صرف مریمی حالت کا گزرا اور پھر جب وہ مریمی حالت خدا تعالٰی کو پسند آگئی تو پھر مجھ میں اُس کی طرف سے ایک رُوح پھونکی گئی اس رُوح پھونکنے کے بعد میں مریمی حالت سے ترقی کر کے عیسیٰ بن گیا جیسا کہ میری کتاب براہین احمدیہ حصص سابقہ میں مفصل اس بات کا تذکرہ موجود ہے ۔ کیونکہ براہین احمدیہ حصص سابقہ میں اوّل میرا نام مریم رکھا گیا۔ جیسا کہ وہ الہام فرماتا ہے۔ یا مریم اسکن انت وزوجک الجنۃ یعنی اے مریم تو اور تیرا رفیق دونوں بہشت میں داخل ہو جاؤ۔ اور پھر اسی براہین احمدیہ میں مجھے مریم کا خطاب دیکر فرمایا نَفَخْتُ فِيْكَ مِنْ رُوحِ الصِّدْقِ یعنی اے مریم میں نے تجھ میں صدق کی رُوح پھونک دی۔ پس استعارہ کے رنگ میں رُوح کا پھونکنا اس حمل سے مشابہ تھا جو مریم صدیقہ کو ہوا تھا۔ اور پھر اس حمل کے بعد آخر کتاب میں میرا نام عیسیٰ رکھ دیا ۔ جیسا کہ فرمایا کہ یَا عِيْسَى اِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ اِلَيَّ ۔ یعنی اے عیسیٰ میں تجھے وفات دوں گا اور پھر میں تجھے اپنی طرف اٹھاؤں گا۔ اور اس طرح پر میں خدا کی کتاب میں عیسیٰ بن مریم کہلایا ۔ چونکہ مریم ایک امّتی فرد ہے اور عیسیٰ ایک نبی ہے۔ پس میرا نام مریم اور عیسیٰ رکھنے سے یہ ظاہر کیا گیا کہ میں امتی بھی ہوں اور نبی بھی۔ گو وہ نبی جو اتباع کی برکت سے ١٩٠ ظلی طور پر خدا تعالٰی کے نزدیک نبی ہے اور میرا نام عیسیٰ بن مریم ہونا وہی امر ہے جس پر نادان اعتراض کرتے ہیں کہ حدیثوں میں تو آنے والے عیسیٰ کا نام عیسیٰ بن مریم رکھا گیا ہے ۔ مگر یہ شخص تو ابن مریم نہیں ہے۔ اور اس کی والدہ کا نام مریم نہ تھا۔ اور نہیں جانتے کہ جیسا کہ سورۃ تحریم میں وعدہ تھا میرا نام پہلے مریم رکھا گیا اور پھر خدا تعالٰی نے مجھ میں نفخ رُوح کیا ۔ یعنی اپنی ایک خاص تجلی سے اُس مریمی حالت سے ایک دوسری حالت پیدا کی اور اس کا نام عیسیٰ رکھا۔ اور چونکہ وہ حالت

حاشیہ احمدیہ (ضمیمہ صفحہ 189 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 361 از مرزا قادیانی) یہ حوالہ صفحہ 394, 395 پر درج ہے

صفحہ 990

حوالہ نمبر 403 ۴۰۷ ایام الصلح

ہو کر آنا پڑے گا۔ پس بار بار یہی کہتا ہوں کہ یہ دو قسم کی برکتیں جن کا نام عیسوی برکتیں اور محمدی برکتیں ہیں مجھ کو عطا کی گئی ہیں۔ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے علم پا کر اس بات کو جانتا ہوں کہ جو دنیا کی مشکلات کے لئے میری دُعائیں قبول ہو سکتی ہیں دوسروں کی ہرگز نہیں ہو سکتیں اور جو دینی اور قرآنی معارف حقائق اور اسرار مع لوازم بلاغت اور فصاحت کے میں لکھ سکتا ہوں دوسرا ہرگز نہیں لکھ سکتا ۔ اگر ایک دنیا جمع ہو کر میرے اس امتحان کے لئے آوے تو مجھے غالب پائے گی ٭ اور اگر تمام لوگ میرے مقابل پر اُٹھیں تو خُدا تعالیٰ کے فضل سے میرا ہی پلہ بھاری ہوگا ۔ دیکھو میں صاف صاف کہتا ہوں اور کھول کر کہتا ہوں کہ اسوقت اے مسلمانو! تم میں وہ لوگ بھی موجود ہیں جو مفسر اور محدّث کہلاتے ہیں اور قرآن کے معارف اور حقائق جاننے کے مدّعی ہیں اور بلاغت اور فصاحت کا دم مارتے ہیں اور وہ لوگ بھی موجود ہیں جو فقراء کہلاتے ہیں اور چشتی اور قادری اور نقشبندی اور سہروردی وغیرہ ناموں سے اپنے تئیں موسوم کرتے ہیں۔ اُٹھو اور اس وقت اُن کو میرے مقابلہ پر لاؤ ۔ پس اگر میں اس دعوے میں جھوٹا ہوں کہ یہ دونوں شاخیں یعنی شانِ عیسوی اور شانِ محمدی مجھ میں جمع ہیں۔ اگر میں وہ نہیں ہوں جس میں یہ دونوں شانیں جمع ہو گئی اور ذوالبروزین ہو گا تو میں اس مقابلہ میں مغلوب ہو جاؤں گا ورنہ غالب آ جاؤں گا ۔ مجھے خُدا کے فضل سے توفیق دی گئی ہے کہ میں شانِ عیسوی منہ کی طرز سے دنیوی برکات کے متعلق کوئی نشان دکھاؤں ٭ یا شانِ محمدی کی طرز سے حقائق و معارف اور نکات اور اسرار شریعت بیان کروں اور میدانِ بلاغت میں قوتِ ناطقہ کا گھوڑا دوڑاؤں ۔ اور میں یقین رکھتا ہوں کہ اب خدا تعالیٰ کے فضل سے اور محض اُسی کے

٭ جو ہو چکا ہے یہی اس کا امتحان ہو چکا ہے۔ میرا مضمون صدہا مولویوں کے مقابل پر پڑھو ۔ منہ ٭ شانِ عیسوی کے متعلق جو نشان ہیں یعنی دنیوی برکات کے نشان یہ بہت سے خدا تعالیٰ نے میرے ہاتھ پر ظاہر کئے ہیں جن کی میں اپنی بعض کتابوں میں تصریح کر چکا ہوں اور بعض نشان ایسے ہیں جو ابھی نہیں لکھے گئے۔ مگر یہ خدا کے فضل سے اسقدر بدیہی ہے اگر تسلی کے طالب جمع ہوں تو ہزاروں نشان ظاہر ہو سکتے ہیں ۔ منہ

۱۸۱

ایام الصلح صفحہ 160 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 407 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 397 پر درج ہے

صفحہ 991

حوالہ نمبر 404

۵۲۶

۸۲۲ ۱۹ اپریل ۱۹۰۵ء مجھے دکھایا گیا کہ ملک عذاب الٰہی سے مٹ جانے کو ہے۔ نہ مستقل سکونت امن کی جگہ رہے گی، نہ عارضی سکونت۔ مقاموں پر اور عارضی سکونت گاہوں پر آفت آئے گی۔

(اشتہار الدعوۃ ۱۹؍ اپریل ۱۹۰۵ء)

۸۲۳ ۲۴ اپریل ۱۹۰۵ء ”کوئی شخص ہے اس سے میں کہتا ہوں کہ تم حساب کرو۔ مگر وہ نہیں کرتا۔ اتنے میں ایک شخص آیا۔ اور اُس نے ایک مٹھی بھر کر روپے مجھے دئے ہیں۔ اس کے بعد ایک اور شخص آیا۔ جو الٰہی بخش کی طرح ہے۔ مگر انسان نہیں۔ بلکہ فرشتہ معلوم ہوتا ہے۔ اس نے دونوں ہاتھ روپوں کے بھر کر میری جھولی میں ڈال دئے ہیں۔ تو وہ اس قدر ہو گئے ہیں، کہ میں ان کو گن نہیں سکتا۔ پھر میں نے اس کا نام پوچھا۔ تو اس نے کہا۔ میرا کوئی نام نہیں۔ دوبدو دریافت کرنے پر کہا۔ کہ میرا نام ہے ٹیچی ٹیچی۔ میں نے بہت سا مال دیکھ کر دل میں کہا۔ کہ فلاں حاجتمند کو کچھ دے دوں گا۔ اور ایک حاجتمند دکھایا گیا خستہ حال قابل رحم۔“

(الحکم جلد ۹ نمبر ۱۴ صفحہ ۲ مورخہ ۲۴؍ اپریل ۱۹۰۵ء و البدر جلد ۱ نمبر ۱۵ صفحہ ۲ مورخہ ۲۷؍ اپریل ۱۹۰۵ء)

۸۲۴ ۲۶ اپریل ۱۹۰۵ء ”تھوڑی سی غنودگی ہوئی۔ تو دیکھتا ہوں کہ یہ مکان جو اب بن رہا ہے۔ اُس کی اُتّر کی کنی (دیوار) میں بدریا کیا تھا۔ سامنے آگیا ہے۔ اس پر ایک معمار

بقیہ حاشیہ: ”یہ ایک قیامت ہے۔ جو لوگ قیامت کے منکر ہیں۔ وہ اب دیکھ لیں کہ کس طرح ایک ہی سیکنڈ میں ساری دُنیا فنا ہو سکتی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور فرمایا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہم صبح یہی مضمون لکھ رہے تھے۔ اور اس الہام پر پہنچے تھے جو براہین احمدیہ میں درج تھا کہ دُنیا میں ایک نذیر آیا۔ پر دُنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا۔ اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی کو ظاہر کرے گا۔ ہم یہ الفاظ کہہ رہے تھے اور اس کے پورا ہونے کے ثبوت آگے درج کرنے کو تھے کہ یکدفعہ زلزلہ آیا۔ یہ ایک زور آور حملہ ہے۔ اور پیشگوئی میں حملوں کا لفظ جمع ہے۔ جو عربی میں تین پر اطلاق پاتا ہے۔ اس واسطے خوف ہے کہ طاعون اور زلزلہ کے سوائے خدا جانے تیسرا حملہ کونسا ہے جو ہماری سچائی کے ثبوت کے واسطے خدا تعالیٰ نے ظاہر فرمانا ہے“

(البدر سلسلہ جدید جلد ۱ نمبر ۱ مورخہ ۶؍ اپریل ۱۹۰۵ء صفحہ ۱)

نوٹ ”ٹیچی ٹیچی بزبان پراکرت مقررہ نام کو کہتے ہیں یعنی عین ضرورت کے وقت آنے والا۔“

(حقیقۃ الوحی صفحہ ۳۳۲)

۱؎ یہاں سے وہ مکان مراد ہے جس میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رہتے تھے۔ (مرتب)

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع دوم صفحہ 526 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 402 پر درج ہے

صفحہ 992

حوالہ نمبر 405

۲۶

آنکھ کھلتے ہی مجھے یقین ہو گیا کہ مولوی عبداللہ کی وفات قریب ہے اور میرے لئے آسمان پر ایک خاص فضل کا ارادہ ہے اور پھر میں ہر وقت محسوس کرتا رہا کہ ایک آسمانی کشش میرے اندر کام کر رہی ہے یہاں تک کہ وحیِ الٰہی کا سلسلہ جاری ہو گیا۔ وہی ایک ہی رات تھی جس میں اللہ تعالیٰ نے بتمام و کمال میری اصلاح کر دی اور مجھ میں ایک ایسی تبدیلی واقع ہو گئی جو انسان کے ہاتھ سے یا انسان کے ارادہ سے نہیں ہو سکتی تھی ۱؎ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ مولوی عبداللہ غزنوی اس امر کی گواہی کے لئے پنجاب کی طرف بھیجا تھا اور اس نے میری نسبت گواہی دی اور اس گواہی کو حافظ محمد یوسف اور اُن کے بھائی محمد یعقوب نے بھی بیان کیا مگر پھر دُنیا کی محبت اُن پر غالب آ گئی ۔

اور میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتی کا کام ہے کہ مولوی عبداللہ نے میرے خواب میں ہمیشہ دعوےٰ کی تصدیق کی اور میں دُعا کرتا ہوں کہ اگر یہ قسم جھوٹی ہے تو اے قادرِ خدا مجھے ان لوگوں کی ہی زندگی میں جو مولوی عبداللہ صاحب کی اولاد یا اُن کے مرید یا شاگرد ہیں سخت عذاب سے مار ورنہ مجھے غالب کر اور ان کو شرمندہ یا ہدایت یافتہ۔ مولوی عبداللہ صاحب کے اپنے مُنہ کے یہ لفظ تھے کہ آپ کو آسمانی نشانوں اور دوسرے دلائل کی تلوار دی گئی ہے اور جب مَیں دُنیا پر تھا تو اُمید رکھتا تھا کہ ایسا انسان خدا کی طرف سے دُنیا میں بھیجا جائے گا۔ یہ میری خواب ہے۔ ۲؎ اَلصِّدْقُ صِدْقُکَ يَا رَبِّ وَ آيَتُكَ مِنْ صِدْقٍ ۔

(نزول المسیح صفحہ ۲۳۸-۲۳۹ حاشیہ طبع اوّل ۔ روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۶۱۴-۶۱۹)

(سنہ ۱۸۸۹ء کا تخمینا ۳؎ ) "اور اس جگہ دُعاؤں میں شاید اس رات سے اوّل یا اس رات کے بعد مَیں نے کشفی حالت میں دیکھا کہ ایک شخص جو مجھے فرشتہ معلوم ہوتا ہے مگر خواب میں محسوس ہوا کہ اس کا نام

شیر علی

ہے ۔ اُس نے مجھے ایک جگہ لٹا کر میری آنکھیں نکالی ہیں اور صاف کی ہیں اور مَیل اور کدورت ان میں سے پونچھ دی اور ہر ایک بیماری اور کوتاہ بینی کا مادہ نکال دیا ہے اور ایک مصفّا نور جو آنکھوں میں پہلے سے موجود تھا مگر مخفی غلیظ مواد کے نیچے دبا ہوا تھا اس کو ایک چمکتے ہوئے ستارہ کی طرح بنا دیا ہے اور یہ عمل کر کے پھر وہ شخص غائب ہو گیا

۱؎ مولوی عبداللہ صاحب غزنوی کی وفات بروز منگل ۱۸۔ ربیع الاوّل ۱۳۰۹ھ مطابق ۲۶ اکتوبر ۱۸۹۱ء کو ہوئی۔ دیکھئے اشاعۃ السنۃ نمبر ۱۱ جلد ۱۴ (مرتب) ۲؎ یہ خواب تریاق القلوب صفحہ ۶۳ ، ۶۴ ۔ روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۱۹۳ ، ۱۹۴ میں بھی درج ہے ۔ (مرتب) ۳؎ یعنی جب رؤیا مذکورہ بالا دیکھا تھا ۔ (مرتب)

تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 24 طبع چہارم از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 402 پر درج ہے

صفحہ 993

حوالہ نمبر 406

۱۵۱

وَفِيْ اَعْيُنِهِمْ مَّحِيْصٌ۔

یعنی یہ لوگ توبہ کریں گے اور اپنی حالت کو درست کر لیں گے تب میں بھی ان کی طرف رجوع کروں گا اور انہیں ثواب اور اجر دوں گا۔ پس بعض وہ ہیں جن کے لئے ہم نے ہدایت کو آسان کر دیا اور بعض وہ ہیں جن پر عذاب ثابت ہوا۔ وہ شکر کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ بھی شکر کر رہا ہے اور وہ خیر الماکرین ہے اور اُس کی مغفرت بڑی ہے۔ اور تجھے شہروں میں ڈراتے ہیں۔ کیا یہی ہے جو مبعوث ہو کر آیا ہے۔ اُس نے گمراہ کیا اور اُسے کھو دیا۔ پس ہم انہیں جلدی اور کچھ عرصہ کے بعد قریب تر نشان دکھلائیں گے۔ ہم انہیں اُن کے ارد گرد اور خود اُنہیں میں اپنے نشان دکھلائیں گے۔ حجت قائم کی جائے گی اور فتح کلّی ہوگی۔ خدا تم میں فیصلہ کر دے گا۔ وہ کسی جھوٹے حد سے بڑھنے والے کا رہنما نہیں ہوتا ۔ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نور کو بجھا دیں مگر خدا اُسے پورا کرے گا اگرچہ منکر لوگ کراہت ہی کریں۔ ہمارا ارادہ یہ ہے کہ کچھ امور تیرے پر آسمان سے نازل کریں اور دُشمنوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں اور فرعون اور ہامان اور اُن کے لشکروں کو وہ باتیں دکھلا دیں جن سے وہ ڈرتے تھے۔ ہم نے دشمنوں کو تیرے پر مسلط کیا اور بدفعل کتے کی بات سے غصہ دلایا اور سخت آزمائش میں تجھے ڈال دیا سو تو اُن کی باتوں سے کچھ غم نہ کر۔ تیرا رب گھات میں ہے۔ وہ خدا جو رحمان ہے وہ اپنے خلیفہ کے لئے ممد ہے اور حتمی ارادہ کرتا ہے کہ حق کو ایک غلبہ عظیم دیا جائے گا اور سر بستہ علوم و معارف اس کے ہاتھ پر کھولے جائیں گے اور زمین اپنے رَبّ کے نور سے روشن ہو جائے گی یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے اور تمہاری آنکھوں میں عجیب۔ (الہامات صفحہ ۸ و ۵۶ و ۷۷ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۵۶۵ و ۵۶۶)

اِلْہَامٌ

جب مولوی محمد حسین صاحب نے ہمارے کفر کا فتویٰ دیا اور لوگوں کو بھڑکایا کہ یہ مسلمان نہیں ان کے جنازے درست نہیں اور ان کو مسلمانوں کے قبرستانوں میں دفن نہ ہونے دیا جاوے۔ اُس وقت چونکہ بغض و عداوت بڑھ گئی تھی۔ ہم گویا تنہا رہ گئے۔ اُس وقت میں نے کشفی حالت میں دیکھا کہ میرے بڑے بھائی مرزا غلام قادر مرحوم کی شکل پر ایک شخص آیا ہے مگر مجھے فوراً معلوم کرایا گیا کہ یہ فرشتہ ہے جس سے میں نے کہا کہ کہاں سے آئے ہو ؟ اُس نے کہا کہ

جِئْتُ مِنْ حَضْرَةِ الْبَارِيْ

مَیں جنابِ باری سے آیا ہوں مَیں نے کہا کہ کیوں ؟ اُس نے کہا کہ بہت سے لوگ تم سے الگ ہو گئے ہیں اور تمہاری عداوت میں بڑھتے جاتے ہیں۔ یہ پیغام دینے آیا ہوں۔ مَیں نے اُس کو الگ ہو کر ایک بات کہنی چاہی۔ جب وہ الگ ہوا تو میں نے کہا کہ لوگ تو مجھ سے علیحدہ ہو گئے ہیں مگر کیا تم بھی الگ ہو گئے ہو ؟ اُس نے کہا نہیں ہم تو تمہارے ساتھ ہیں۔ سو میر ی حالتِ کشف اس پر جاتی رہی۔"

(البشریٰ صفحہ ۱۴ منقول از ڈائری ۱۹۰۲ء صفحہ ۱۶ ، البدر جلد ۱ نمبر ۴ مورخہ ۱۹ جنوری ۱۹۰۲ء صفحہ ۲۹)

یعنے سچے مامور کی خدا تعالیٰ ہر حال میں حفاظت فرماتا ہے اور وہ منصور ہے۔

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 151 طبع چہارم از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 403 پر درج ہے

صفحہ 994

حوالہ نمبر 407 ۲۴ کرنے لگا ہے تب اس نے قبطی کو میرے سر پر ہی رہنے دیا اور کہا خیر ہے۔ خیر ہے ۔

(آئینہ کمالات اسلام صفحہ ۶۰۶، ۶۰۷۔ روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۶۰۶، ۶۰۷)

۱۸۷۷ء تقریباً :

ایک پرانا الہام کہ بائیس سال کا جو پہلے مجھ ناچیز نے کئی دفعہ سُنایا ہے اور آج پھر سُنایا۔۔۔

فَانْتَبَاهُ مَقَامًا فَاَوْهَبْتُهُ وَوَهَبْتُ لَهُ الْجُبَّةَ ١؎
اتنے میں طاقتِ بالا اس کو کھینچ کر لے گئی
يَسُوُا سَكْرِ يُوطِي

(بدر جلد ۱ نمبر ۴ مورخہ ۲۴ جنوری ۱۹۰۲ء صفحہ ۴ و الحکم جلد ۶ نمبر ۴ مورخہ ۲۴ جنوری ۱۹۰۲ء صفحہ ۱۰ حاشیہ)

۱۸۷۸ء تقریباً :

سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ

یعنی آریہ مذہب کا انہدام ہو گا کہ خدا اُن کو شکست دے گا اور آخر وہ آریہ مذہب سے بھاگیں گے اور پیٹھ پھیر لیں گے اور آخر کالعدم ہو جائیں گے۔ یہ الہام وقت دراز کا ہے جس پر قریباً بیس برس کا عرصہ گزرا ہے جس اس جگہ کے ایک آریہ مُنشی لالہ شرمپت کو اطلاع دی گئی تھی ۔

(تریاق القلوب صفحہ ۲۷۔ روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۲۰۶)

۱۸۷۸ء تقریباً :

” عرصہ قریباً پچیس برس کا گزرا ہے کہ مجھے ایک کشف یا ایک رؤیا ہوا کہ میں ایک چارپائی پر بیٹھا ہوں اور اس چارپائی پر بائیں طرف مولوی عبداللہ صاحب غزنوی مرحوم بیٹھے ہیں۔ اتنے میں میرے دل میں تحریک پیدا ہوئی کہ میں مولوی صاحب موصوف کو چارپائی سے نیچے اُتار دوں چنانچہ میں نے اُن کی طرف کھسکنا شروع کیا یہاں تک کہ وہ چارپائی سے اُتر کر زمین پر بیٹھ گئے۔ اتنے میں تین فرشتے آسمان کی طرف سے ظاہر ہو گئے جن میں سے ایک کا نام تیراک تھا۔ وہ تینوں بھی زمین پر بیٹھ گئے اور مولوی عبداللہ بھی زمین پر تھے اور میں چارپائی پر بیٹھا رہا۔ تب میں نے اُن سب سے کہا کہ میں دُعا کرتا ہوں تم سب آمین کہو تب میں نے یہ دُعا کی۔

رَبِّ اَذْهِبْ عَنِّي الرِّجْسَ وَ طَهِّرْنِي تَطْهِيرًا ٢؎

اس دُعا پر تینوں فرشتوں اور مولوی عبداللہ نے آمین کہی۔ اس کے بعد وہ تینوں فرشتے اور مولوی عبداللہ آسمان کی طرف اُڑ گئے اور میری آنکھ کھُل گئی۔

١؎ (ترجمہ از مرتب) پہرہ دوں گا۔ پہلے پاؤں وہیں دُھل گئے اور اس کو جبّہ عطا کیا گیا۔ ٢؎ (ترجمہ از مرتب) اے میرے ربّ مجھ سے ناپاکی کو دُور رکھ اور مجھے بالکل پاک کردے۔

تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 23 طبع چہارم از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 403 پر درج ہے

صفحہ 995

حوالہ نمبر 408 ۴۷۳

ہے جس کو پہرایا گیا ہے۔ فرمایا :۔ میں نے ان کے واسطے رات دعا کی تھی۔ رؤیا میں دیکھا کہ مولوی نور الدین صاحب ایک کپڑا اوڑھے بیٹھے ہیں اور رو رہے ہیں۔ فرمایا : ہمارا تجربہ ہے کہ خواب کے اندر رونا اچھا ہوتا ہے اور میری رائے میں طبیب کا رونا مریض صاحب کی صحت کی بشارت ہے۔"

(بدر جلد ۱ نمبر ۲۲ صفحہ ۲ ۔ ۱۶ اگست ۱۹۰۶ء و الحکم جلد ۱۰ نمبر ۲۸ صفحہ ۱۲۔ ۱۷ اگست ۱۹۰۶ء صفحہ ۲)

(ب) "ایک خواب میں ان کو دیکھا تھا کہ گو وہ صحت یاب ہیں مگر خود میں آثار غیر ہی طبیعی ہوتی ہیں ... .... خوابوں کی تعبیر میں کبھی موت سے مراد صحت اور کبھی صحت سے مراد موت ہوتی ہے اور کئی مرتبہ خواب میں ایک شخص کی موت دیکھی جاتی ہے اور اس کی تعبیر زیادت عمر ہوتی ہے"

(تتمہ حقیقۃ الوحی صفحہ ۲۶ ۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۴۵۸، ۴۵۹)

۳۰ اگست ۱۹۰۶ء

"رؤیا ۔ دیکھا کہ میرے ہاتھ میں چابیاں ہیں۔ ایک صندوق کو کھولنے کا ارادہ ہے۔ فرمایا۔ اس میں اشارہ حل مشکلات کی طرف ہے"

(بدر جلد ۱ نمبر ۲۲ صفحہ ۲ ۔ ۱۶ اگست ۱۹۰۶ء صفحہ ۲۔ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۲۸ صفحہ ۱۲ ۔ ۱۷ اگست ۱۹۰۶ء صفحہ ۲)

۳۱ اگست ۱۹۰۶ء

"ایک عورت مرگئی۔ اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ"

(کاپي الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۴۶)

۳۱ اگست ۱۹۰۶ء

"نماز پڑھ رہے تھے اور فاتحہ کے بعد سورۃ والعصر پڑھنا تھا۔ اتنے میں غنودگی ہو کر سورہ والعصر کی جگہ بڑے زور سے زبان پر یہ سورت بطور الہام جاری ہوئی : اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَالْفَتْحُ"

(بدر جلد ۱ نمبر ۲۲ صفحہ ۲ ۔ ۱۶ اگست ۱۹۰۶ء صفحہ ۲ ۔ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۲۸ صفحہ ۱۶ ۔ ۱۷ اگست ۱۹۰۶ء صفحہ ۱۷)

۳۱ اگست ۱۹۰۶ء

(الف) فرمایا ۔"نصف رات سے کچھ تک مولوی عبدالکریم کے لئے دعا کی

ل یعنی مولوی عبد الکریم صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ (مرتب)

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 473 ، 474 طبع چہارم از مرزا قادیانی | یہ حوالہ نمبر 404 پر درج ہے

صفحہ 996

حوالہ نمبر 408 ۴۷۲

تھی صبح کی نماز کے بعد جب سویا تو یہ خواب آئی ..... میں نے دیکھا کہ عبداللہ سنوری میرے پاس آیا ہے اور وہ ایک کاغذ پیش کر کے کہتا ہے کہ اس کاغذ پر میں نے حاکم سے دستخط کرانا ہے اور جلدی جانا ہے میری عورت سخت بیمار ہے اور کوئی مجھے پوچھتا نہیں۔ دستخط نہیں ہوتے۔ اس وقت میں نے عبداللہ کے چہرے کی طرف دیکھا تو زرد رنگ اور سخت گھبراہٹ اس کے چہرہ پر ٹپک رہی ہے۔ میں نے اُس کو کہا کہ یہ لوگ رُکے ہوئے ہیں نہ کسی کی سفارش مانیں اور نہ کسی کی شفاعت یہیں تیرا کاغذ لے جاتا ہوں۔ آگے جب کاغذ لے کر گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک شخص عظیم قال نام جو کسی زمانہ میں بٹالہ میں اکسٹرا اسسٹنٹ تھا کرسی پر بیٹھا ہوا کچھ کام کر رہا ہے اور گرد اس کے عملہ کے لوگ ہیں۔ میں نے جا کر کاغذ اس کو دیا اور کہا کہ یہ ایک میرا دوست ہے اور پُرانا دوست ہے اور واقف ہے اس پر دستخط کر دو۔ اس نے بلا تامل اسی وقت لے کر دستخط کر دئے۔ پھر میں نے واپس آ کر وہ کاغذ ایک شخص کو دیا اور کہا کہ جو ابھاش سے پیشتر ہی دستخط کیے ہیں اور پوچھا کہ عبداللہ کہاں ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ کہیں باہر گیا ہے۔ بعد اس کے آنکھ کھل گئی اور ساتھ ہی چھینک کی حالت ہو گئی تب میں نے دیکھا کہ اس وقت میں کہتا ہوں مقبول ہو گیا اُس کے کاغذ پر دستخط ہو گئے ہیں۔

یہ ہر دو سچی فال دی گئی ہے۔ بلاشک طاعون کے مخوف واقعہ پر دلالت کرتے ہیں عظیم قال سے مراد ایک فرشتہ قضا سنوری سے یہ مراد ہے کہ سنور عربی میں بلی کو کہتے ہیں اور بلی تعبیر میں ایک موذی بیماری کا نمونہ ہے۔ عبداللہ سنوری سے مراد ہوئے وہ عباداللہ جو بیماری سے ڈرے۔ بات تو ظاہر ہی ہے کہ پاک ہیں وہ ورنہ حکم پردہ میں ہے جب تک وہاں دستخط نہ ہو کچھ نہیں ہوتا۔

(بدر جلد ۱ نمبر ۶ و ۷ صفحہ ۱۶ ۔ اگست و ستمبر ۱۹۰۴ء و صفحہ ۱۷)

آگے ایسے آئے جن سے نااُمیدی ظاہر ہوتی تھی اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا موت کا وقت ہے ...... یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے بشارت نازل کی، اور عبداللہ سنوری والا خواب میں نے دیکھا جس سے نہایت درجہ تسکین دل کو تشفی ہوئی۔ ...... اس دعا میں میں نے ایک شفاعت کی تھی جیسا کہ خواب کے الفاظ سے بھی ظاہر ہے کہ یہ شخص میرا دوست ہے خدا کی قدرت اور اس کا حلم عجیب ہے۔ ظاہر ہوتا تھا کہ مولوی صاحب بچ گئے خدا کی کتب میں جس کے ماتحت رحمت کو جنت کہا جاتا ہے جیسا کہ قرآن شریف میں ایک جگہ نیک بندوں کو تشبیہ قرآن کی حوروں سے دی گئی ہے اور دوسری جگہ قرآن میں بیوی سے مشابہت دی گئی ہے۔ دراصل بیوی کے معنے تسکین دلداری اور اُمت کو دلجمعی تسلی دینے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ اُمت کے واسطے نبی کی ایسی ہی اطاعت لازم ہے جیسے کہ عورت کو مرد کی اطاعت کا حکم ہے۔ اسی واسطے ہماری رویا میں عبداللہ نے کہا کہ میری بیوی بیمار ہے۔ عبداللہ نبی کا نام ہے قرآن شریف میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام عبداللہ آیا ہے پس

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 473 ، 474 طبع چہارم از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 403، 404 پر درج ہے

صفحہ 997

حوالہ نمبر 409

۶۳۳

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

۱۸۷۹ء یا اس سے قبل

صوفی نبی بخش صاحب نے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا :- "بڑے مرزا صاحب ۱؎ کے ایک معتمد حقہ گیر نے دُعا کی تو ایک فرشتہ مجھے خواب میں طابو ۲؎ چھوٹے لڑکے کی شکل میں تھا۔ میں نے پوچھا تمہارا کیا نام ہے ؟ وہ کہنے لگا میرا نام حفیظ ہے۔ پھر وہ ۳؎ مقدمہ رفع دفع ہو گیا۔"

(الحکم جلد ۲۰ نمبر ۱۴ مورخہ ۲۱؍ اپریل ۱۹۱۶ء صفحہ ۳)

۱۸۷۹ء یا تقریباً

میاں امام الدین صاحب سیکھوانی نے بیان کیا :- حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو توجہ کے روزے رکھے ، اس دوران میں جو رُؤیا و کشوف ہوئے اُن کا ذکر فرماتے ہوئے حضور نے ایک دفعہ فرمایا :- "جب میں تین ماہ کے قریب پہنچا تو ایک شخص قداور جسیم ، رنگ سُرخ میرے سامنے کھڑا ہوا گویا مجسم تھا قوت ، قوت ، قوت !"

(رجسٹر روایات صحابہ جلد ۵ صفحہ ۸۴ ۔ الحکم جلد ۲۰ نمبر ۲۸ مورخہ ۲۱؍ اگست ۱۹۱۶ء صفحہ ۶)

۱۸۸۲ء

میاں عبداللہ صاحب سنوری نے بیان کیا :- "جب میں ۱۸۸۲ء میں پہلے پہل قادیان آیا تو اُس وقت ۔ ۔ ۔ ۔ میری ایک شادی ہو چکی تھی اور دوسری کا خیال تھا جس کے متعلق میں نے بعض خوابیں بھی دیکھی تھیں ۔ میں نے ایک دن حضرت صاحب کے ساتھ ذکر کیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آپ نے میرے ہاتھ میاں احمد جان صاحب مرحوم کو ۔ ۔ ۔ ۔ خط لکھا اور اس میں اسمٰعیل کے نام بھی ایک خط ڈالا

۱؎ یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے والد ماجد حضرت مرزا غلام مرتضیٰ صاحب مرحوم و مغفور ۔ (مرتب) ۲؎ یہ لفظ "طابو" صریحاً غلطی اور سہوِ کاتب ہے اصل میں طاہر ہے ۔ (مرتب) ۳؎ الحکم میں "پھر وہ" کے بجائے "پھر میں" ہے جو بظاہر اس الہام کا ترجمہ ہے جس کے ساتھ ہی درج ہے "توجہ کو قدرے دفع کیا" توجہ کو قدرے دفع کیا کے معنے یہ ہیں کہ ایک کشف تھا جس کے بعد وہ حالت کھل گئی اور وہ اصل حقیقت جو بظاہر توجہ سے معلوم ہوتی ہے اور کشف والا مضمون منکشف ہو گیا ہے ۔ واللہ اعلم ۔ (مرتب)

تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 643 طبع چہارم از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 404 پر درج ہے

صفحہ 998

(حوالہ نمبر 410)

۶۹

رویا میں فرشتے دیکھنا

فرشتوں پر ذکر چل پڑا کہ یہ خواب میں ہمیشہ خوبصورت لڑکوں کی صفت وشکل میں نظر آتے ہیں۔ اس پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے چند ایک سابقہ رویا بیان فرمائے جن کو ہم اس جگہ درج کر دیتے ہیں کہ اُن میں سے اگر کوئی شائع نہیں ہوا تو اب ہو جائے۔ +

(۱)

ایک فرشتہ ایک چبوترہ پر بیٹھا ہے اور ایک عجیب روٹی بن کی شکل بنی ہوئی اس کے ہاتھ میں ہے وہ روٹی بہت ہی عمدہ اور اعلیٰ قسم کی نظر آتی ہے۔ مجھے وہ روٹی دے کر کہتا ہے کہ یہ تمہارے لئے اور تمہارے ساتھ کے درویشوں کے لیے ہے۔ اس رویا کو عرصہ قریباً ۲۰ سال کا ہو گیا ہو گا۔

(۲)

فرمایا : ایک فرشتہ کو میں نے بیس برس کے نوجوان کی شکل میں دیکھا، صورت اس کی مثل انگریزوں کے تھی اور میز کرسی لگائے ہوئے بیٹھا ہے۔ میں نے اس سے کہا کہ آپ بہت ہی خوبصورت ہیں۔ اس نے کہا۔ ہاں میں درشتی کوئی نہیں، یہ رویا کوئی ۵ برس کا ہو گا۔

رجوع کا صحیح وقت نزول بلا سے پہلے ہوتا ہے

عادت اللہ یہی ہے کہ جب کوئی بلا اُس کے ارادہ میں ہو اور وقت گذر جاوے اور اس ابتلاء میں کوئی رجوع خدا تعالیٰ کی طرف سچائی اور اخلاص سے نہ کیا ہو تو پھر خطرناک زمانہ میں عادتاً شور مچانا اس کے کام نہیں آیا کرتے، یہ تو وہی فرعون کی مثال ہوئی کہ جب غرقاب ہونے لگا تو کہا کہ اب میں موسیٰ اور ہارون کے خدا پر ایمان لایا۔ مشکل یہ ہے کہ دُنیا داروں کو اُن کے اپنے سلسلوں اور پیچیدہ

۱؎ الحکم سے + "اس سلسلہ کی بناء سے پہلے میں نے دیکھا جب ہنوز مطب کرتا تھا۔ پس یک مکاشفہ ہوا۔ کہ میں لدھیانہ میں ایک مکان میں بیٹھا ہوں۔ مغرب کی طرف سے ایک گھٹا نمودار ہوئی اور مجھے کہنے لگی۔ میں اس گھر سے جانے کو تھی مگر تیرے واسطے رہ گئی۔ پھر نئی عمارت، اگر خواب میں دیکھی جاوے تو اس سے مراد دُنیا کے اقبال اور فتوحات ہوتے ہیں خواہ کسی قسم کی ہو۔"

(الحکم جلد ۶ نمبر ۲۴ صفحہ ۱۴ مورخہ ۲۴ جولائی ۱۹۰۲ء)

ملفوظات جلد چہارم صفحہ 69 طبع جدید از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 404 پر درج ہے

صفحہ 999

حوالہ نمبر 411

ضرورت الامام ۴۸۴

راہب عیسائی دین کے مرنے کے بعد اکثر ایسے ہی تھے۔

چھٹے کشوف اور الہامات کا سلسلہ ہے جو امام الزماں کیلئے ضروری ہوتا ہے۔ ائمہ الزماں اکثر بذریعہ الہامات کے خدا تعالیٰ سے علوم اور معارف پاتے ہیں اور چونکہ الہامات کا مرتبہ ہر قیاس نہیں ہو سکتا کیونکہ مکالمہ خداوندی میں اس اعلیٰ درجہ پر ہوتے ہیں کہ جس کی تہ کو انسان کے لئے ممکن نہیں اور انکے ذریعہ سے علوم کھلتے ہیں اور قرآنی معارف معلوم ہوتے ہیں بلکہ دینی عقدے اور معضلات حل ہوتے ہیں اور اعلیٰ درجہ کی پیشگوئیاں جو مخالف قوموں پر اثر ڈال سکیں ظہور میں آتی ہیں غرض جو لوگ امام الزماں ہوں انکے کشوف اور الہامات صرف ذاتیات تک محدود نہیں ہوتے۔ بلکہ نصرت دین اور تقویت ایمان کیلئے نہایت مفید اور مبارک ہوتے ہیں۔ اور خدا تعالیٰ ان کو نہایت صفائی سے مکالمہ کرتا ہے اور انکی دُعا کا جواب دیتا ہے۔ اور بسا اوقات سوال اور جواب کا ایک سلسلہ منعقد ہو کر ایک ہی وقت میں سوال کے بعد جواب اور پھر سوال کے بعد جواب اور پھر سوال کے بعد جواب ایسی صفائی سے بیان فصیح الہام کے پیرایہ میں شروع ہوتا ہے کہ صاحب الہام خیال کرتا ہے کہ گویا وہ خدا تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے۔ اور امام الزماں کا ایسا الہام نہیں ہوتا کہ جیسے ایک کلوخ انداز در پردہ ایک کلوخ پھینک جائے اور بھاگ جائے اور معلوم نہ ہو کہ وہ کون تھا۔ اور کہاں گیا۔ بلکہ خدا تعالیٰ اس سے بہت قریب ہو جاتا ہے اور کسی قدر پردہ اپنے پاک اور روشن چہرہ پر سے جو نور محض ہے اُتار دیتا ہے اور یہ کیفیت دُوسروں کو میسّر نہیں آتی۔ بلکہ قدما بسا اوقات اپنے تئیں ایسا پاتے ہیں کہ گویا اُن سے کوئی ٹھٹھا کر رہا ہے اور امام الزماں چونکہ امام ہوتا ہے یعنی انبیاء کی شبیہ کا مرتبہ رکھتے ہیں یعنی غیب کو ہر ایک پہلو سے اپنے قبضہ میں کر لیتے ہیں۔ جیسا کہ چابک سوار گھوڑے کو قبضہ میں کرتا ہے اور بے توقف اور انکشاف تام اُنپر الہام کیا جاتا ہے کہ تا اُنکے پاک الہام شیطانی الہامات سے مشتبہ نہ ہوں اور تا دُوسروں پر حجت ہو سکیں۔

واضح ہو کہ شیطانی الہامات ہونا حق ہے اور بعض نا فہم سالک لوگوں کو ہوا کرتے ہیں۔ اور حدیث النفس بھی ہوتی ہے جس کو اختلاط احلام کہتے ہیں۔ اور جو شخص اس سے انکار کرے۔ وہ

ضرورت الامام صفحہ 13 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 483 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 407 پر درج ہے

صفحہ 1000

حوالہ نمبر 412 ۳ ضمیمہ اول

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَیْرِ رُسُلِہٖ مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِہٖ وَ اَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ۔

بعد ہذا واضح ہو کہ مجھے اس رسالہ کے لکھنے کے لئے یہ ضرورت پیش آئی ہے کہ اس زمانہ میں جس طرح اور صدہا طرح کے فتنے اور بدعتیں پیدا ہو گئی ہیں اسی طرح یہ بھی ایک بزرگ فتنہ پیدا ہو گیا ہے کہ اکثر لوگ اس بات سے بے خبر ہیں کہ کس زمانہ اور حالت میں کوئی خواب یا الہام قابلِ اعتبار سمجھا جاوے اور کن حالتوں میں یہ اندیشہ ہے کہ وہ شیطان کا کلام ہو نہ خدا کا۔ اور حدیث النّفس ہو۔ بہرحال ہمیشہ یاد رکھنا چاہیئے کہ شیطان انسان کا سخت دشمن ہے۔ وہ طرح طرح کی راہوں سے انسان کو ہلاک کرنا چاہتا ہے۔ اور ممکن ہے کہ ایک خواب سچی بھی ہو اور پھر بھی وہ شیطان کی طرف سے ہو۔ ممکن ہے کہ ایک الہام سچا ہو اور پھر بھی وہ شیطان کی طرف سے ہو۔ کیونکہ اگرچہ شیطان بڑا جھوٹا ہے۔ لیکن کبھی کبھی بات بنا کر دھوکا دیتا ہے تا دلوں کو پھنسا لے۔ ہاں وہ لوگ جو اپنے صدق اور صفائے نیت میں کمال نہیں رکھتے اور سچی نیکی اور تقویٰ پر بوجہ مجاہدہ کے ثابت قدم نہیں وہ تو اس میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔ مگر جس پر خدا کا نور صاف طور سے چمکتا ہے اور نفس پر بھی پوری فتح پا چکا ہے شیطان کا غلبہ نہیں ہو سکتا۔ اگرچہ کبھی روشنی صاف طور سے اُس پر نہ پڑے۔ مگر یہ نہیں ہو سکتا کہ شیطانی کلام کو وہ خدا کا کلام سمجھ لے۔ کیونکہ سچائی اس کے ساتھ ہوتی ہے۔ پس پہلی علامت یہی ہے کہ سچے ملہموں کی یہ پہچان ہے کہ کمالات روحانی میں وہ کامل ہیں اور ان میں کوئی دھوکہ نہیں پھر دوسری علامت یہ ہے کہ الہامِ حقانی کلامِ الٰہی کی طرح پُر جلال ہوتا ہے اور اس میں ایک طاقت پائی جاتی ہے اور قبولیت کے آثار اُس میں موجود ہوں۔ اور نیز پیشین گوئیاں کہ جو سچی ہوں۔ جن کے سچا ہونے میں کسی کو شبہ نہ ہو۔ یہ امر بھی محال ہے کہ کسی جھوٹے مدعی کی تائید میں خدا تعالیٰ ایسی قدرت نمائی کا نشان ظاہر کرے اور ایسی عزت دینے کیلئے کوئی اخلاق و عادات اور صفاتِ حمیدہ اُس پر ظاہر کرے۔ تا اُس کے دعوے پر گواہ ہو۔ منہ

یہ حوالہ صفحہ 408, 407 پر درج ہے حقیقۃ الوحی صفحہ 3 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 3 از مرزا قادیانی

صفحہ 1001

حوالہ نمبر 413 چشمہ معرفت ۲۱۸ حصہ دوم میں تنزیلات ڈالتا ہے اور یہ بالکل غیر معقول اور بیہودہ امر ہے کہ انسان کی اصل زبان تو کوئی ہو اور الہام اس کو کسی اور زبان میں ہو جس کو وہ سمجھ بھی نہیں سکتا کیونکہ اس میں تکلیف مالا یُطاق ہے اور ایسے الہام سے فائدہ کیا ہوا جو انسانی سمجھ سے بالاتر ہے پس جب کہ بموجب اصول آریہ سماج کے وید کے رشیوں کی زبان ویدک سنسکرت نہیں تھی اور نہ وہ اُس کے بولنے اور سمجھنے پر قادر تھے اور پرمیشر کا ایسی بیگانہ زبان میں اُن کو الہام کرنا گویا دیدہ دانستہ اُن کو اپنی تعلیم سے محروم رکھنا تھا۔ اور اگر کہو کہ خدا اُن کو اُن کی زبان میں سمجھا دیتا تھا کہ جن عبارتوں کے یہ معنی ہیں تو اس صورت میں پرمیشر کا یہ دعویٰ بحال نہیں رہے گا کہ انسانی زبان میں اُس کو بولنا حرام ہے۔ مجھے تعجب ہے کہ ان نہایت کچی اور خام باتوں کے پیش کرنے سے نیوگیوں کو فائدہ کیا ہے کیا جو کچھ انسان کا ہے وہ سب کچھ پرمیشر کا نہیں ہے تو پھر کونسی پرمیشر کی ہتک عزت ہے کہ انسان کو اُسی کی زبان میں سمجھاوے کیا ہمارا خدا ہماری دعائیں ہماری زبان میں ہی نہیں سُنتا۔ پس جب کہ ہماری زبان میں ہی ہماری دعائیں سُننے سے اُس کی شان میں کچھ فرق نہیں آتا تو پھر ہماری زبان میں ہی ہمیں کوئی راہ راست سمجھانے سے کیوں اُس کی شان میں فرق آئے گا۔

۱۴۵

پس یاد رکھنا چاہئے کہ قدیم سُنت اللہ کے موافق تو یہی عادت الٰہی ہے کہ وہ ہر ایک قوم کے لئے اُسی زبان میں ہدایت کرتا ہے لیکن اگر کوئی زبان ایسی ہو کہ ملہم کو خوب یاد ہو اور گویا اُس کی مادری زبان کے حکم میں ہو تو بسا اوقات ملہم کو اس زبان میں الہام ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ قرآن شریف کے بعض الفاظ سے یہ سند ملتی ہے کیونکہ اوّل قرآن شریف قریش کی زبان میں ہی نازل ہونا شروع ہوا تھا کیونکہ اوّل مخاطب قریش ہی تھے مگر بعد اس کے قرآن شریف میں عرب کی اور اور زبانوں کے بھی الفاظ آگئے ہیں اور ہم لوگ جو قرآن شریف کے پیرو ہیں

صفحہ 1002

حوالہ نمبر 414 ۴۰۵ نزول المسیح

تحت میں اس سلسلہ عبارات میں بعض ایسے الفاظ کی حاجت پڑتی ہے کہ وہ مجھے معلوم نہیں ہیں تب اُن کی نسبت خدا تعالیٰ کی وحی رہنمائی کرتی ہے اور وہ لفظ وحی متلو کی طرح روح القدس میرے دل میں ڈالتا ہے اور زبان پر جاری کرتا ہے اور اسوقت غیبت یعنی حسّ سے غائب ہوتا ہوں۔ مثلاً عربی ۵۷ عبارت کے سلسلہ تحریر میں مجھے ایک لفظ کی ضرورت پڑی جو ٹھیک ٹھیک بیماری خیالی کا ترجمہ ہو اور مجھے معلوم نہیں اور سلسلہ عبارت رُکا پڑا ہے تب اُسی وقت میرے دل میں وحی کی طرح لفظ متوہم القاء ہو گیا جس کے معنے ہیں بیماری خیالی۔ یا سلسلہ تحریر میں مجھے ایسے لفظ کی ضرورت ہوئی جو کسی معنی کی علّت وغایت سے چسپاں ہو جاتا ہو مجھے وہ لفظ معلوم نہیں تب فی الفور دل پر وحی ہوتی ہے کہ وہ صمیم ہے۔ ویسا ہی عربی فقرات کا حال ہے عربی تحریر کے وقت میں صد ہا بنے بنائے فقرات وحی متلو کی طرح دل پر وارد ہوتے ہیں اور یا یہ کہ کوئی فرشتہ ایک کاغذ پر لکھے ہوئے وہ فقرات دکھا دیتا ہے اور بعض فقرات آیات قرآنیہ ہوتے ہیں یا انکے مشابہ کچھ تھوڑے تصرّف سے اور بعض اوقات کچھ اُونگھنے بعد پتہ لگتا ہے کہ فلاں عربی فقرہ جو خدا تعالیٰ کی طرف سے برنگِ وحی متلو القاء ہوا تھا وہ فلاں کتاب میں موجود ہے چونکہ ہر ایک چیز کا خالق خدا ہے اسلئے وہ یہ بھی اختیار رکھتا ہے کہ کوئی عمدہ فقرہ کسی کتاب کا یا کوئی عمدہ شعر کسی دیوان کا بطور وحی میرے دل پر نازل کرے ۔ یہ تو نشانِ عربی کے متعلق بیان ہو گیا اس سے زیادہ تر تعجب کی یہ بات ہے کہ بعض الہامات مجھے اُن زبانوں میں بھی ہوتے ہیں جن سے مجھے کچھ بھی واقفیت نہیں جیسے انگریزی یا سنسکرت یا عبرانی وغیرہ ۔ جیسا کہ براہین احمدیہ میں میں کچھ نمونہ اُس کا لکھ گیا ہوں اور مجھے اُس خدا کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ یہی عادت اللہ میرے ساتھ ہے اور یہ نشانوں کی قسم میں سے ایک نشان ہے جو مجھے دیا گیا ہے جو مختلف زبانوں میں مجھ پر غیب سے ظاہر ہوتے رہتے ہیں اور میرے خدا کو اُسکی کچھ بھی پرواہ نہیں کہ کوئی کلمہ جو میرے پر بطور وحی القاء ہو وہ کسی عربی یا انگریزی یا سنسکرت کی کتاب میں بظاہر کسی جوڑنے والے نے جوڑ دیا ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں بہت سے وہ قصے بیان کر کے ان کو علم غیب میں داخل کیا ہے کیونکہ قصے تو مشہور تھے مگر صلی اللہ علیہ وسلّم کیلئے علم غیب تھا گو یہودیوں کیلئے تو غیب نہ تھا پس یہی راز ہے جس کی وجہ سے باوُجودیکہ

نزول المسیح صفحہ 57 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 436 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 409 پر درج ہے

صفحہ 1003

(حوالہ نمبر 415)

براہین احمدیہ ۶۶۳ ۱۔ باب

خاتمہ ہو جاتا یا اگر خدائے تعالیٰ معین وقتوں پر رات اور دن اور سورج اور چاند اور ہوا اور بادل کو خدماتِ مقررہ میں نہ لگاتا تو تمام سلسلۂ عالم کا درہم برہم ہو جاتا اسی کی طرف اللہ تعالیٰ نے آپ اشارہ فرما کر کہا ہے اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰى عَلَی اللّٰهِ كَذِبًا فَاِنْ یَّشَاِ اللّٰهُ یَخْتِمْ عَلٰی قَلْبِكَ وَ یَمْحُ اللّٰهُ الْبَاطِلَ وَ یُحِقُّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ۔ وَ هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ مِنْۢ بَعْدِ مَا قَنَطُوْا وَ یَنْشُرُ رَحْمَتَهٗ وَ هُوَ الْوَلِیُّ الْحَمِیْدُ۔ دیکھو نمبر ۲۵۔ یعنے کیا یہ منکر لوگ کہتے ہیں کہ یہ خدا کا کلام نہیں اور خدا پر جھوٹ باندھا ہے۔ اگر خدا چاہے تو اس کا اُترنا بند کردے پر وہ بند نہیں کرتا کیونکہ اُس کی عادت اِسی پر جاری ہے کہ وہ احقاقِ حق اور ابطالِ باطل اپنے کلمات سے کرتا ہو۔ اور یہ

بقیہ حاشیہ در حاشیہ اپنے بے مثل و مانند ہونے کو تمام مخلوقات کے مقابلہ پر پیش کر رہا ہے اور بلند آواز سے هَلْ مِنْ مُّعَارِضٍ کا نقارہ بجا رہا ہے اور دقائق حقائق اُس کے صرف دو تین نہیں ۵۵۵ جن میں کوئی تاویل شائد بن بھی سکے بلکہ اُس کے دقائق تو بحرِ ذخار کی طرح جوش مار رہے ہیں اور آسمان کے ستاروں کی طرح جہاں نظر ڈالو چمکتے نظر آتے ہیں۔ کوئی مسابقت کیونکر کرے۔ جس کو اُس نے بھیجا ہے جس کو یہ فہمِ یقین نہیں ہے۔ یعنے خدائے تعالیٰ کا مُغیّبات ۵۵۶ کو ظاہر اور باطنیہ پر مطلع فرمانا اور پیش از وقوع پوشیدہ خبروں بتلانا اور دُعاؤں کو قبول کرنا اور مختلف زبانوں میں الہام فرمانا اور معارف اور حقائق غیبیہ سے اطلاع بخشنا یہ سب خدا کی شہادت ہے جو اُس کو قبول کرنا ایماندار کا فرض ہے۔ پھر بقیہ الہامات بالا کا یہ ہے کہ یہ فقرہ سینہ انت میرے ساتھ ہے وہ مجھے راہ بتلائے گا۔ اے میرے رب میرے گناہ بخش اور آسمانی رحم کر بزبانِ عبری ہے۔ اسکے معنے ابھی تک معلوم نہیں ہوئے۔ جن ہولناک باتوں کی طرف مجھ کو بُلاتے ہیں اُن سے اے میرے ربّ مجھے زندان بہتر ہے۔ اے میرے خدا مجھ کو میرے غم سے نجات بخش۔ اے میرے خدائے میرے خُدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔

سورہ الشوری : ۲۵ سورہ الشوری : ۲۹

براہین احمدیہ صفحہ 556 مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 663 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 409 پر درج ہے

Back

صفحہ 1004

حوالہ نمبر 416 براهین احمدیہ ٦٦٢ ابواب

بقیہ حاشیہ بقیہ نمبر ۵۵۱ ۵۵۲ منصب اُسی کو پہنچتا ہے کیونکہ امراضِ روحانی پر اُسی کو اطلاع ہو اور ازالہ مرض اور استرداد صحت پر وہی قادر ہو۔ پھر بعد اسکے بطور استدلال کے فرمایا کہ اللہ وہ ذات کامل الرحمت ہے کہ اُس کا قدیم سے یہی قانونِ قدرت ہے کہ اُس تنگ حالت میں وہ ضرور متوجہ ہوتا ہے کہ جب لوگ نا اُمید ہو چکتے ہیں۔ پھر زمین پر اپنی رحمت پھیلا دیتا ہے اور وہی کارسازِ حقیقی اور ظاہراً و باطناً قابلِ تعریف ہے غرضکہ جب مصیبت اپنی نہایت کو پہنچ جاتی ہو اور کوئی صورت مخلصی کی نظر نہیں آتی تو اِس صورت میں اُس کا یہی قانونِ قدیم ہے کہ وہ ضرور عاجز بندوں

۵۵۳ بقیہ حاشیہ بقیہ نمبر ۵۵۲ نہیں جو اُس سے باہر ہو۔ کوئی حکمت نہیں جو اُس کے محیط بیان سے رہ گئی ہو۔ کوئی ایسا امر نہیں جو صورتِ وہم سے کہا جاتا ہے مگر یہ وہ محقق اور بدیہی الثبوت صداقت ہے کہ جو تیرہ سو برس سے برابر اپنی روشنی دکھلاتی چلی آئی ہے اور ہم نے بھی اِس صداقت کو اپنی اِس کتاب میں نہایت تفصیل سے لکھا ہے اور دقائق اور معارف قرآنی کو اِس قدر بیان کیا ہے کہ جو ایک طالبِ صادق کی تسلی اور تشفی کے لئے بحرِ عظیم کی طرح

۵۵۴ بقیہ حاشیہ در حاشیہ نمبر ۵۵۳ تیری ستائش نے ہم کو مستغرق کر دیا۔ یہ سب امور ہیں کہ جو اپنے اپنے اوقات پر ظہور میں آئیں گے ۔ عِلْم حضرتِ عالم الغیب کو ہے پھر بعد اسکے فرمایا ھو شعنا نعساء یہ دونوں فقرے شاید عبرانی ہیں اور اِن کے معنے ابھی تک اِس عاجز پر نہیں کھلے ۔ پھر بعد اسکے دو فقرے انگریزی ہیں جن کے الفاظ کی صحت بباعث سرعتِ الہام ابھی تک معلوم نہیں اور وہ یہ ہیں آئی لَو یُو ۔ آئی شیل گُو ٹُو ہِز لارج پارٹی اوٹ اِسلام ۔ چونکہ اُس وقت یعنے آج کے دن اِس جگہ کوئی انگریزی خواں نہیں اور نہ اِسکے پُورے پُورے معنے کھلے ہیں اِس لئے بغیر معنوں کے لکھا گیا ہے۔ پھر بعد اِسکے یہ الہام ہوا۔ يَا عِيسَى اِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَ رَافِعُكَ اِلَىَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا اِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِينَ وَ ثُلَّةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ۔ معنے اِس کے یہ ہیں کہ مجھے

۱؎ یہ فقرہ سہو کاتب سے یہاں رہ گیا ہے۔ (براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ ۹۷ حاشیہ)

براهین احمدیہ صفحہ 557 مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 664 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 410 پر درج ہے

صفحہ 1005

حوالہ نمبر 417

بقیہ حاشیہ

۴۸۷

حملوں سے اُس کی سچائی ظاہر کر دیگا۔ سو ضرور ہے کہ یہ زمانہ گذر نہ پائے کہ تمام انبیاء سے کوچ نہ کریں۔ جبتک خدا کے وہ تمام وعدے پورے نہ ہوں جو شخص تاریکی میں پڑا ہوا ہے اور اس سے بے خبر ہے کہ خدا کا یقینی اور قطعی کلام بھی اُس کے بندوں پر نازل ہوا کرتا ہے اور وہ خدا کے وعدے سے بے خبر ہے لہٰذا وہ اپنی طرح تمام دنیا کو وساوس کے نیچے پامال دیکھتا ہے اور اُس کو یہی عقیدہ ہوتا ہے کہ بجز وساوس اور اضغاث احلام اور حدیث النفس کے اور کچھ نہیں اور غایت کار وہ ظنی طور پر نہ یقینی اور قطعی طور پر الہام الٰہی کا خیال دل میں لاتا ہے مگر ہم یہی کہتے ہیں کہ جس دل پر درحقیقت آفتاب وحی الٰہی تجلی فرماتا ہے اس کے ساتھ ظن اور شک کی تاریکی ہرگز نہیں رہتی۔ کیا خالص نور کے ساتھ ظلمت رہ سکتی ہے۔ پھر جس حالت میں موسیٰ کی ماں کو بھی یقینی الہام ہوا جس پر یقین رکھ کر اس نے اپنے بچہ کو معرض ہلاکت میں ڈال دیا اور خدا تعالیٰ کے نزدیک مجرم اقدام قتل نہ ٹھہری تو کیا یہ اُمت اسرائیل کے خاندان کی عورتوں سے بھی گئی گزری ہے اور پھر اسی طرح مریم کو بھی یقینی الہام ہوا جس پر بھروسہ کر کے اُس نے قوم کی کچھ پرواہ نہیں کی تو حیف ہے اس اُمت مخذول پر جو ان عورتوں سے بھی کمتر ہے۔ پس اس صورت میں یہ اُمت خیر الامم کاہے کو ہوئی بلکہ شر الامم اور اجہل الامم ہوئی۔ اس طرح خضر جو نبی نہیں تھا اور اس کو علم لدّنی دیا گیا تو کیا اس کا الہام ظنی تھا یقینی نہیں تھا تو کیوں اس نے ناحق ایک بچہ کو قتل کر دیا۔ اور اگر صحابہ رضوان اللہ عنہم کا یہ الہام کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دینا چاہیے یقینی اور قطعی نہ تھا تو کیوں انہوں نے اس پر عمل کیا پس اگر ایک شخص اپنی نابینائی سے میری وحی سے منکر ہے تاہم اگر وہ مسلمان کہلاتا ہے اور پوشیدہ دہریا نہیں تو اس کے ایمان میں یہ بات داخل ہونی چاہیے کہ یقینی قطعی مکالمہ الٰہیہ ہو سکتا ہے اور جیسا کہ خدا تعالیٰ کی وحی یقینی پہلی اُمتوں میں اکثر مردوں اور عورتوں کو ہوتی رہی ہے اور وہ نبی بھی نہ تھے اس اُمت میں بھی ایسی یقینی اور قطعی وحی کا وجود ضروری ہے۔ تا یہ اُمت بجائے خیر الامم ہونے کے احقر الامم نہ ٹھہر جائے۔ سو خدا نے آخری زمانہ

۹۱

یہ حوالہ صفحہ 410 پر درج ہے | نزول المسیح صفحہ 89 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 467 از مرزا قادیانی

صفحہ 1006

حوالہ نمبر 418 نزول المسیح ۴۸۶

* اور روزمرہ اور ہمیشہ اور زندہ روح سچ ہے کیونکہ اگرچہ قصہ اور نقل کے طور پر تمام ہی اسلام اس بات کو مانتے ہیں کہ خدا موجود ہے اور اُس کا رسول برحق مگر یہ ایمان کوئی یقینی بنیاد نہیں رکھتا اس لئے ایسے ضعیف ایمان کے ذریعہ سے یقینی رنگ کے آفتاب ظاہر ہونا اور گناہ سے بچنا قطعا غیر ممکن ہے اور بعد اس کے کہ اسلام پر تیرہ سو برس گزر گئے تمام معجزات گزشتہ برنگ نقل اور قصص ہو گئے ہیں اور قرآن شریف اگر چہ عظیم الشان معجزہ ہے مگر ایک کامل کے فہم کو چاہتا ہے کہ جو قرآن کے اعجازی جواہر پر مطلع ہو اور وہ اس تلوار کی طرح ہے جو درحقیقت بے نظیر ہے لیکن اپنا جوہر دکھانے میں ایک خاص دست و بازو کی محتاج ہے۔ اس پر دلیل ظاہر یہ آیہ ہے کہ لَّا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ ۱ پس وہ ناپاکوں کے دلوں پر معجزہ کے طور پر اثر نہیں کر سکتا بجز اس کے کہ اس کا اثر دکھلانے والا بھی قوم میں ایک موجود ہو اور وہ وہی ہو گا جس کو یقینی طور پر نبیوں کی طرح خدا تعالیٰ کا مکالمہ اور مخاطبہ نصیب ہوگا۔ غرض تمام برکات اور یقین کے حصول کا ذریعہ خدا کا مکالمہ اور مخاطبہ ہے اور انسان کی یہ زندگی جو شکوک اور شبہات سے بھری ہوئی ہے بجز مکالمات الہیہ کے سرچشمہ صافیہ کے یقین تک ہرگز نہیں پہنچ سکتی مگر خدا تعالیٰ کا وہ مکالمہ یقین تک پہنچاتا ہے جو یقینی اور قطعی ہو جس پر ایک ملہم قسم کھا کر کہہ سکتا ہے کہ وہ اُسی رنگ کا مکالمہ ہو جس رنگ کا مکالمہ آدم سے ہوا اور پھر شیث سے ہوا اور پھر نوح سے ہوا اور پھر ابراہیم سے اور پھر اسحاق سے اور پھر اسماعیل سے اور پھر یعقوب سے ہوا اور پھر یوسف سے اور پھر موسیٰ سے اور پھر یسوع بن نون سے ہوا اور پھر داؤد سے ہوا اور سلیمان سے اور الیسع نبی سے اور دانیال سے اور اسرائیلی سلسلہ کے آخر نبی عیسیٰ بن مریم سے ہوا اور سب سے اتم اور اکمل طور پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا۔ لیکن اگر کوئی کلام یقین کے مرتبہ سے کم تر ہو تو وہ شیطانی کلام ہے نہ ربانی ۔ کیونکہ تم جانتے ہو کہ جب آفتاب طلوع کرتا ہے اور اپنی کرنیں زمین پر چھوڑتا ہے تو اُس کی روشنی ایسی صاف دنیا پر پڑتی ہے کہ کسی دیکھنے والے کو اس کے دیکھنے میں شک

۱؂ الواقعة : ۸۰

نزول المسیح صفحہ 108 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 486 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 411 پر درج ہے

صفحہ 1007

حوالہ نمبر 419

١٩١

محمود کو پہنچتا ہے۔ مگر بظاہر خیریت ہے۔ الٰہی ہر یک تکلیف سے بچا۔ آمین۔

(بدر نمبر ۵۱، ۵۲ جلد ۱۔ مکتوبات احمدیہ جلد ۵ صفحہ ۲۳)

۲۶؍ اگست ۱۸۹۶ء

”آج رات خواب میں دیکھا کہ کوئی شخص کہتا ہے کہ لڑکے کہتے ہیں کہ

عید کل تو نہیں پر پرسوں ہوگی۔

معلوم نہیں کل اور پرسوں کی کیا تعبیر ہے۔“

(مکتوب بنام حضرت خلیفۃ المسیح الاولؒ صفحہ ۶۱ مورخہ ۲۶ اگست ۱۸۹۶ء مکتوبات احمدیہ جلد پنجم نمبر ۲ صفحہ ۱۲۲)

۱۸۹۶ء

”خلیفہ سید محمد حسن صاحب وزیر اعظم پٹیالہ کسی ابتلاء اور تفکر و فکر میں مبتلا تھے۔ ان کی طرف سے متواتر دُعا کی درخواست ہوئی۔ اتفاقاً ایک دن الہام ہوا:۔

” چل رہی ہے نسیم رحمت کی ٭ ہو دُعا کیجئے قبول ہے آج“

اُس وقت مجھے یاد آیا کہ آج انہیں کے لئے دُعا کی جائے چنانچہ دُعا کی گئی اور ان کو بذریعہ خط اطلاع دی گئی اور تھوڑے عرصہ کے بعد انہوں نے ابتلاء سے رہائی پائی اور بذریعہ خط اپنی رہائی سے اطلاع دی۔“

(نزول المسیح صفحہ ۲۲۵۔ روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۶۰۴)

۱۸۹۶ء

”میں نے اِس؎١ کی وفات کے بعد اس کو ایک مرتبہ خواب میں دیکھا کہ سیاہ کپڑے پہنے ہوئے ہے (جو سر سے پیر تک سیاہ ہیں) اور مجھ سے قریباً شَش قدم کے فاصلہ پر کھڑا ہے اور مجھ سے مدد کے طور پر کچھ مانگتا ہے۔ میں نے جواب دیا کہ اب وقت گزر گیا اب ہم میں اور تم میں بہت فاصلہ ہے تو میرے تک نہیں پہنچ سکتا۔“

(حقیقۃ الوحی صفحہ ۳۹۸، ۳۹۹۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۴۰۹)

۱۸۹۶ء

” طُوْبٰی لِمَنْ سَبَقَ وَ سَارَ ؎۲“

(آئینہ کمالات اسلام صفحہ ۲۔ روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۲)

۱۸۹۶ء

”لَا تَخَفْ اِنَّنِیْ مَعَكَ۔ وَ مَشٰی مَعَہٗ مَشْیَكَ۔ اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ اَوْلَادُنَا وَ الْمُعَانِقُ وَجَدْتُّكَ مَا وَجَدْتُّكَ۔ اِنِّیْ مُھِیْنٌ مَّنْ اَرَادَ اِھَانَتَكَ وَ اِنِّیْ مُعِیْنٌ مَّنْ اَرَادَ اِعَانَتَكَ

١؎ یہ ماسٹر علی محمد صاحب کی بابت ہے۔ (مرتب) ٢؎ ترجمہ از مرتب : جس شخص نے اس طریق کو اختیار کیا اور اس پر چل پڑا ، بہت ہی خوش نصیب ہے۔

تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 161 طبع چہارم از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 411 پر درج ہے

صفحہ 1008

حوالہ نمبر 420

۹۱

۱۸۸۳ء

میرے اس لڑکے کو اس کی موت کا صدمہ پہنچا“

(حقیقة الوحی صفحہ ۳۶۴۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۳۷۲)

”ہمارے بھائی مرزا غلام قادر صاحب مرحوم کی وفات سے ایک دن پہلے الہام ہوا :-

”جنازہ“

اور میں نے اس الہام کی بہت لوگوں کو خبر دے دی چنانچہ دوسرے روز بھائی صاحب فوت ہوگئے ۱؎

(نزول المسیح صفحہ ۲۲۰۔ روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۶۰۳)

دسمبر ۱۸۸۴ء

”اس ہفتہ میں بعض کلمات انگریزی وغیرہ الہام ہوئے ہیں ...... اور وہ کلمات یہ ہیں :-

پریشیس۔ عُمر۔ براطوس یا پلاطوس

یعنے پلاطوس لفظ ہے یا پلوطوس لفظ ہے یہ بوقت سرعت الہام دریافت نہیں ہوا اور عُمر عربی لفظ ہے، اس جگہ براطوس اور پریشیس کے معنے دریافت کرنے ہیں کہ کیا ہیں اور کس زبان کے یہ لفظ ہیں ؟ پھر دو فقرے یہ ہیں۔

اُوشَعْنَا نَعْشًا

معلوم نہیں کہ کس زبان کے ہیں اور انگریزی یہ ہیں۔ متصل عربی فقرہ ہے۔

يَا، وُدٌّ حَامِدٌ بِالنَّاسِ وِفَاقًا وَّإِحْسَانًا

يُو مَسْٹ ڈُو وُہاٹ آئی ٹولڈ یُو ۲؎ تم کو وہ کرنا چاہئیے جو میں نے فرمایا ہے۔

۱؎ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے حضرت اُمّ المومنین سے دریافت کیا کہ مرزا غلام قادر صاحب کی وفات کس سنہ میں ہوئی تھی تو آپ نے فرمایا کہ میری شادی سے ۳ ، ۴ مہینہ بعد ہوئی تھی ، چونکہ ۱۸۸۳ء میں آپ کی وفات ہو چکی تھی، نیز کتاب پنجاب چیفس میں بھی یہ سنہ وفات ۱۸۸۳ء ہی لکھا ہے۔

۲؎ (الف) یہ ایک عبرانی لفظ ہے جس کے معنے ہیں نجات دے خُدا یا کہ یارب ۔ ہوشعنا کا مضمون اس سے ملتا جلتا ہے۔ (البدر جلد ۲ نمبر ۱۶ ، ۱۶ اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۲۳ کالم نمبر ۳) (ب) چونکہ یہ یقین ان میں عام ہے اور الہام الٰہی میں ایک کثرت ہوتی ہے اسلئے ممکن ہے کہ بعض الفاظ کے املا میں تغیر فرما دیا ہو اور یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بعض وقت ربانی الہام ایسی عبارتوں پر مشتمل ہوتا ہے جو کہ بظاہر خلافِ نحو ہوتی ہیں باقی رہے وہ بعض لغات جو کہ بعد کو احتیاطاً کتاب سے دیکھے گئے ہیں ان کے معنی وہیں لکھے ہیں، رہا یہ کہ بعض الہام قواعدِ نحو کے خلاف ہوتے ہیں سو یہ کوئی نئی بات نہیں قرآن شریف میں بھی ایسی بعض آیات ہیں جیسے یہ آیت إِنَّ هَذَانِ لَسِحْرَانِ يُرِيدَانِ أَن يُخْرِجَاكُم مِّنْ أَرْضِكُم بِسِحْرِهِمَا وَيَذْهَبَا بِطَرِيقَتِكُمُ الْمُثْلَىٰ

You must do what I told you.

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 91 طبع چہارم از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 411 پر درج ہے

صفحہ 1009

حوالہ نمبر 421

۴۲۷

ان جھوٹے الہاموں سے مجھے تبری ...... بیعت نہ کرے ...... اسی کے متعلق قطعی اور یقینی طور پر مجھ کو ۳ روز پیشتر سنه ١٩٠٢ء روز پنجشنبہ کو یہ الہام ہوا :

برمقام خنک شد رباطت + گراُمیدے بہم بدار عجب

بعد ۱۱۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔ میں نہیں جانتا کہ گیارہ دن ہیں یا گیارہ ہفتہ یا گیارہ مہینے یا گیارہ سال مگر بہر حال ایک نشان میری بریت کے لئے اس مدت میں ظاہر ہوگا :

(اربعین نمبر ۳ صفحہ ۳۸ حاشیہ ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۴۲۸)

(خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تیری بنائی اب آسمان پر پہنچ گئی ہے اب پس اگر تجھے کوئی اثر یا دکھ پیش آوے تو تعجب مت کر میری سنت اور مصلحت کے خلاف نہیں) بعد ۱۱۔ انشاء اللہ (فرمایا اس کی تفہیم قلب میں ڈالی اور وہ یہ کہ یہ موقوف ہے گیارہ دن یا گیارہ ہفتے یا گیارہ مہینے یہ گیارہ پر رکھا گیا ہے )

(الحکم جلد ۶ نمبر ۴۶ مورخہ ۱۷ دسمبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۶)

ہے چنانچہ حضور تحفہ گولڑویہ کے حاشیہ میں تحریر فرماتے ہیں: ’’یہ الٰہی بخش محاسب گیارہ بیماریاں لے کر ہلاک ہونے کے بعد ۱۱ جنوری کو ہلاک کئے گئے جو یہ الہام اس ضمن میں ہے ؎ برمقام خنک شد رباطت ٭ گراُمیدے بہم بدار عجب عدد گیاراں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ محاسب کا بلا شبہ یہ طاعون اس کے وعدہ اور میعاد میں پورا ہو کر رہا ہے جو امر حق ہے‘‘

(تحفہ گولڑویہ حاشیہ صفحہ ۱۵، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۵۸)

چونکہ الہام الٰہی بخش ان الہامات میں شامل ہیں جن کے مصداق متعدد بار وقوع پذیر ہو کر مومنوں کے ایمان کو تازہ کرتے اور نیا عرفان پیدا کرتے ہیں۔ اس بناء پر اس پیشگوئی کا ایک اور عظیم مصداق حضرت مصلح موعود ایّدہ اللہ الودود کے وجود میں ظاہر ہوا چنانچہ حضرت ممدوح نے اس الہام کو ہجرت قادیان پر چسپاں کرتے ہوئے فرمایا :- ’’جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے الہامات کے مطالعہ سے میں نے سمجھا کہ ہماری ہجرت یقینی ہے اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ مجھے قادیان چھوڑنا چاہئے تو اس وقت غور و خوض کیا گیا کہ اب کس طرح ٹرانسپورٹ کا انتظام کیا جائے لیکن خدائے رحمن اور مالک نے کوئی راہ پیدا کیا اور ہم اس طرح نکلے کہ حکومت کو تو یہ بھی پتہ نہ چلنے دیا گیا تھا ۔ وگرنہ وہ اسے اغوا کرتی اس لئے کوئی گاڑی نہیں مل سکتی تھی۔ میں اس وقت متردد تھا اور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے الہامات کا مطالعہ کر رہا تھا۔ الہامات کا مطالعہ کرتے ہوئے مجھے ایک الہام نظر آیا ’’بعد گیارہ‘‘ میں نے خیال کیا کہ گیارہ سے مراد گیارہ تاریخ ہے اور میں نے سمجھا کہ شاید ٹرانسپورٹ کا انتظام آج گیارہ تاریخ کے بعد ہو گا مگر انتظار کرتے کرتے عیسوی ماہ کی ۲۸ تاریخ آگئی لیکن گاڑی کا کوئی انتظام نہ ہو سکا۔ ...... پس میں نے

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 327 طبع چہارم از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 411 پر درج ہے

صفحہ 1010

حوالہ نمبر 422 ۲۷۷

۲۸ جنوری ۱۹۰۳ء

رات میں نے ایک اور خواب بھی دیکھا کہ میں جنگل میں ہوں اور ڈپٹی صفاچند صاحب کے لڑکے میں ہوتا ہوا آگے کو مٹی کے ایک غار کی طرف جا رہا ہوں ۔

(البدر جلد ۲ نمبر ۱ ، ۲ مورخہ ۲۳، ۱۶ جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۸ ، البدر جلد ۲ نمبر ۶ مورخہ ۲۰ فروری ۱۹۰۳ء

صفحہ ۴۴ ۔ الحکم جلد ۷ نمبر ۶ مورخہ ۲۴ فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۲)

۲۹ جنوری ۱۹۰۳ء

" اِنِّیْ مَعَ الرَّسُوْلِ أَقُوْمُ ۱؎ ۔ اُصَلِّیْ وَ اَصُوْمُ ۔ یَا جِبَالُ اَوِّبِیْ مَعَهُ وَالطَّیْرَ ۔ قَدْ بَعُدَ زَامِنٌ مِّنَ الْحَیَاۃِ فَسَیِّفْهُمْ تَسْیِفًا "

(کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۴)

۳۰ جنوری ۱۹۰۳ء

" عشرہ سے قبل حضرت اقدس نے یہ الہام سُنایا :۔ لَا يَمُوْتُ اَحَدٌ ۳؎ مِّنْ رِّجَالِكُم ۲؎" اور فرمایا۔ اس کے حقیقی معنے تو خداے عزوجل کے سوا کوئی پا نہیں سکتا۔ کیونکہ موت تو انبیاء تک کو آتی ہے اور نہ قیامت تک کسی نے زندہ رہنا ہے مگر اس کے مفہوم کا پتہ نہیں ہے ۔ شاید کوئی اور معنے ہوں "

(البدر جلد ۲ نمبر ۳ مورخہ ۲ فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۹ ۔ الحکم جلد ۷ نمبر ۵ مورخہ ۱۷ فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۷)

۳۰ جنوری ۱۹۰۳ء

آج رات خواب میں دیکھا کہ گویا داروغہ کا سوٹا میرے ہاتھ میں ہے اور اس میں پوشیدہ طور پر بندوق کی نالی بھی ہے۔ دونوں کام نکالتا ہے۔ اور پھر دیکھا کہ وہ بادشاہ جس کے پاس ریل میں

۱؎ (ترجمہ از عربی) میں اپنے رسول کے ساتھ کھڑا ہوں گا میں خاص رحمتیں نازل کروں گا اور عذاب کو روکوں گا۔ اے پہاڑو ! اس پر درود بھیجو اس کے ساتھ رجوع کرو اور پرندوں کو بھی یہی حکم ہے۔ وہ زندگی کے پانی سے سیر ہو گئے ہیں پس تو انہیں ایک طرح تیغ بنا ۔ ۲؎ (ترجمہ از عربی) تمہارے آدمیوں میں سے کوئی نہیں مرے گا جو اس سے مراد طاعون کی موت معلوم ہوتی ہے یا یہ معنے ہیں کہ صحابہ کرام کی طرح جو بوجہ صلوٰۃ و سلام کے خاص اولیاء ٹھہر چکے ہیں بہشت میں رہے گا۔ واللہ اعلم بالصواب ۔ (مرتب) ۳؎ یعنی جس حالت اور جس وقت اَحَدٌ میں یہ تَجَلِّی ہوتا تھا ۔ (مرتب)

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 377 طبع چہارم از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 411 پر درج ہے

صفحہ 1011

حوالہ نمبر 423

بات کرنے میں سستی کرتے ہیں، پس مجھ کو چاہیے کہ ایسے کنوئیں سے دور رہنا چاہیے۔ زلزلہ کے وقت ایسے کنوئیں خطرناک ہوتے ہیں، ایسا نہ ہو کہ زمین کے اندر دھنس کر پانی نیچے چلا جائے یا زلزلہ کے سبب کنوئیں کے زیر و بالا ہونے کا بھی اندیشہ ہے۔"

(الحکم جلد ۷ نمبر ۱۷ مورخہ ۲۴ مئی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۵ و بدر جلد ۲ نمبر ۱۷ مورخہ ۱۸ مئی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱)

۵؍ مئی ۱۹۰۴ء

"اُرِيدُ مَا تُوَيِّقُوْنَ"

(الحکم جلد ۸ نمبر ۱۷ مورخہ ۲۴ مئی ۱۹۰۴ء صفحہ ۱ و بدر جلد ۳ نمبر ۱۹ مورخہ ۱۶ مئی ۱۹۰۴ء صفحہ ۲)

۶؍ مئی ۱۹۰۴ء

فرمایا کل میری طبیعت علیل تھی۔ بہت درد سر، بخار اور کھانسی بھی تھی۔ لوگوں کے لئے ابتلاء کا خوف ہوتا ہے میں نے رات بہت دعا کی (شیخ رحمت اللہ کو مخاطب کر کے) آپ کے لئے بھی دعا کی تھی۔ پہلے تو ایک پشتو سا الہام ہوا معلوم نہیں کس کے متعلق ہے اور وہ یہ ہے۔

کو سزادوں گا۔ معلوم نہیں یہ کس کے متعلق ہے۔ اس کے بعد گھر والوں کے متعلق یہ الہام ہوا۔

(بدر جلد ۳ نمبر ۱۸ مورخہ ۱۶ مئی ۱۹۰۴ء صفحہ ۲ و الحکم جلد ۸ نمبر ۱۷ مورخہ ۲۴ مئی ۱۹۰۴ء صفحہ ۱۳)

۲۸؍ مئی ۱۹۰۴ء

رُؤیا۔ اس وقت جبکہ مذکورہ بالا الہام ہوا جوکہ کسی نے کہا کہ آنے والے زلزلے کی یہ نشانی ہے۔ جب میں نے نظر اٹھائی تو دیکھا کہ اس ہمارے خیمہ کے سر پر سے جو باغ کے قریب نصب کیا ہوا ہے، ایک چیز اُڑی ہے۔ خیمہ کی چوب کا اُوپر کا سرا وہ چیز ہے۔ جب میں نے اُٹھایا تو وہ ایک ٹانگ ہے جو عورتوں کے گلے میں ڈالنے کا ایک زیور ہے اور ایک کاغذ کے اندر لپٹا ہوا ہے میرے دل میں خیال گزرا

۱؎ (توضیحاً و تقریباً) میں چاہتا ہوں جو تم چاہتے ہو۔ ۲؎ واللہ اعلم ۔ بقیہ یہ الہام کی تاریخ سنہ کی ایک علامت مقررہ ہو کہ ۲۴ مئی ۷۴ء ہے۔ ۳؎ (ترجمہ) خدا نے اس کی راحت اور خوشی لوٹا دی۔ ۴؎ (ترجمہ) تحقیق میں نے اس کی طرف اس کی راحت اور اس کی خوشی لوٹا دی۔ میں نے اس کی راحت اور خوش دلی کو پھر لوٹا دیا۔

تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 464 طبع چہارم از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 412 پر درج ہے

صفحہ 1012

حوالہ نمبر 424

۵۰۹

۱۹۰۶ء اَمْ حَسِبْتَ اَنَّ اَصْحَابَ الْكَهْفِ وَالرَّقِيْمِ كَانُوْا مِنْ اٰيَاتِنَا عَجَبًا ۱؎

(الحکم جلد ۱۰ نمبر ۶ مورخہ ۱۷ فروری ۱۹۰۶ء صفحہ ۲)

۱۶ فروری ۱۹۰۶ء رَبِّ اَرِنِيْ رَفِيْقِيْ هٰذِهِ وَاجْعَلْ لَّهَا بَرَكَاتٍ فِي السَّمَاءِ وَ بَرَكَاتٍ فِي الْاَرْضِ ۲؎ (بدر جلد ۲ نمبر ۸ مورخہ ۲۳ فروری ۱۹۰۶ء صفحہ ۲۔ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۶ مورخہ ۲۴ فروری ۱۹۰۶ء صفحہ ۱۔ کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۵۶)

۱۶ فروری ۱۹۰۶ء وَمَنْ يَّقِ هٰذِهِ الْاِمْرَاَةَ ۳؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۵۸)

۱۸ فروری ۱۹۰۶ء اِنِّيْ مَعَ الَّذِيْنَ هُمْ يَهْتَدُوْنَ ۴؎ ۔ اَيْ يَاْتُوْنَ اِلَى اللهِ جِيْئًا كَمَا قَالَ اللهُ تَعَالٰى قُلْ بَلْ مِلَّةَ اِبْرَاهِيْمَ حَنِيْفًا ۵؎

(کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۵۸)

۱۹ فروری ۱۹۰۶ء خبیث کی چال۔ ایلی ایلی لما سبقتانی۔ بریت۔ وَاِذْ كَفَفْتُ عَنْ بَنِيْ اِسْرَائِيْلَ۔

۱؎ (ترجمہ از مرتب) کیا تیرا خیال ہے کہ کہف اور رقیم والے ہمارے عجیب نشانات میں سے تھے۔ (نوٹ) چونکہ اس الہام کے سن کی تعیین نہیں ہو سکی اس لئے سن اشاعت کے لحاظ سے اسے یہاں درج کیا گیا۔ (مرتب)

۲؎ کاپی الہامات صفحہ ۵۶ میں اس کی تاریخ ۱۳ فروری ۱۹۰۶ء بھی ہے۔

۳؎ (ترجمہ از مرتب) اسے بچا جس بلا میں یہ عورت ہے یعنی اس کو بخش دے اسے آسانی دے اور زمینی برکتیں عطا فرما۔

۴؎ (ترجمہ از مرتب) یہ الہام صیغہ جمع کا بھی ہے۔

۵؎ (ترجمہ از مرتب) میں ان لوگوں کے ساتھ ہوں جو ہدایت پاتے ہیں یعنی خدا کی طرف یکسو ہو کر آتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کہہ بلکہ ابراہیم کی ملت کا پیرو کار ہو جو کہ یکسو تھا۔

۶؎ اس الہام کی پیشگوئی کا ایک ظہور جو واقعات کے رنگ میں اشخاص کے سامنے آیا وہ بھی ہے جو حضرت قاضی عبدالرحیم صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ایک مکتوب سے معلوم ہوتا ہے جو ایک احمدی کی وفات پر حضرت مفتی صاحب (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر ملاحظہ فرمائیں)

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 509 طبع چہارم از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 412 پر درج ہے

صفحہ 1013

حوالہ نمبر 425 ۵۷۰

(۴) كَتَبْتُ بِقَلَمِيْ اَنْوَاعَ نِعْمَةٍ وَّكَتَبْتُ لَكَ رَحْمَةً فِى الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ۔ (۵) نَزِيْدُكَ فِى مُحَبَّتِكَ وَصِدْقِكَ وَوَلَائِكَ۔ (اُفّ كَوْڑِیْءِ بَرْسَاتِ يہِ خُدَا كِی طَرَف سَے نَہِیں صِرْف تَفْہِيْمِ ہے مِیرَے لَفْظُوں مِیں) (۶) كُلُّ مُكَلَّبٍ جَآءَ ـ يَآ اَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ مَسَّنَا وَ اَهْلَنَا الضُّرُّ وَجِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجٰوةٍ فَاَوْفِ لَنَا الْكَيْلَ وَتَصَدَّقْ عَلَيْنَا ـ اِنَّ اللهَ يَجْزِى الْمُتَصَدِّقِيْنَ ه (۷) مَا اَنَا اِلَّا كَالْقُرْاٰنِ وَسَيَظْهَرُ عَلٰى يَدَىَّ مَا ظَهَرَ مِنَ الْفُرْقَانِ ع (۸) رُؤْيَا۔ دِيْكھَا كہ مَیں اَيک خَرَاْبَہ اَوْر وِيْرَانَہ مَیں ہُوں اَوْر اَيک دِيوَار پَر بَیْٹھے ہُوئے چَنْد آدْمِيوں كے سَاتْھ اَيک طَرَف جَا رَہا ہُوں اَوْر وُہ چُوْبِيْس پَايَہ كَا اَيک چَھکْڑَا نُمَا ہَے اَوْر پَہِيَّہ كِی شَاخِيں ہَیں مِیں سَے نِكَل رَہِی ہَیں۔ (۹) خُدَا اُس كَو بَچائے گا۔ بَار بَار ہَلَاكَت سَے بَچائے گا۔ (نَا مَعْلُوم كِس كے مُتَعَلِّق يہ اِلْہَام ہے)۔ (۱۰) رُؤْيَا دِيْكھَا كہ اَيک جَگہ چُوپَال سَا كُچْھ دَرْخْت رَنْگ مَعْلُوم ہَوتا اَوْر ہَم چَھت كے نِيْچَے سَے بَاہَر آئے مُبَارَک مِيرَے سَاتْھ تَھَا اَوْر خَفِيف خَفِيف بَارِش كے قَطْرَے پَڑْنَا شُرُوع ہَورَہَے تَھَے"۔

(بدر جلد ۲ نمبر ۴۱ صفحہ ۴۔ مورخہ ۲۴ اکتوبر ۱۹۰۳ء۔ الحکم جلد ۷ نمبر ۳۹ صفحہ ۱۵ مورخہ ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۳ء)

۲۴؍ ستمبر ۱۹۰۳ء

(الف) مَوت ، تِيرَتِھيَا ، آہ ، حَال كَو

غَالِباً تِيرَتِھيَا حَال سَے مُرَاد تِيرَتِھ رَام عِيْسَائِى ہے ۔ وَاللہُ اَعْلَم۔ اَوْر مَیں نَہِیں جَانْتَا كہ تِيرَتِھ اَوْر حَال سَے كِيَا مُرَاد ہے يَا كِسِی ہِنْدُو شَخْص كِی پِيش گَوئِی ہَے تَاہَنُوز كَوئِی قَطْعِی وَجْہ نَہِیں بَتَا سَكْتَا كہ كِس كے حَق مِیں ہَے اِس لِئے طَبِيعَت تَخْمِيْن سَے رُكْتِى ہَے خُدَائے تَعَالَى فَضْل كَرے ۔ آمِين"۔

(بدر جلد ۲ نمبر ۳۹ صفحہ ۴ مورخہ ۱۶ اکتوبر ۱۹۰۳ء ۔ الحکم جلد ۷ نمبر ۳۹ صفحہ ۱۵ مورخہ ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۳ء)

۷۔ (۱) قہر یہود طبع ہونے والوں کے لئے ہے ، خدائے محمدی ہے اور تیرے لئے دنیا اور آخرت میں بڑے درجہ ہے۔ ۷۔ (۲) تیرے پر بہت رحمت اور انعام ہوا پر زیادتی کریں گے یعنی تجھ پر برکات کی زیادتی کی جائے گی۔ ۷۔ (۳) سب کتوں کے لئے کتے لگائے ہوئے ہیں ہم ان سے اپنی مرادیں پوری کرتے ہیں اور ہم تیرے ہی ہیں اور تیرے ہی رہیں گے۔ پس ہمیں پورے پیمانے تول دے اور ہم پر صدقہ کر اللہ تعالیٰ صدقہ کرنے والوں کو جزا دیتا ہے۔ ۷۔ (۴) میں اسی قرآن ہی کا ظل ہوں اور عنقریب میرے ہاتھ پر ظاہر ہو گا جو فرقان سے ظاہر ہوا۔

تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 570 طبع چہارم از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 412 پر درج ہے

صفحہ 1014

حوالہ نمبر 426

۵۸۹

۲۰ فروری ۱۹۰۶ء (۱) اِنِّیْ مَعَ الرَّسُوْلِ اَقُوْمُ وَاَلُوْمُ مَنْ يَلُوْمُ۔ (۲) پُرسُو ہجوم۔ (۳) افسوسناک خبر آئی ہے۔ فرمایا: اس الہام پر وجع مفاصل، بعض امراء کے دوستوں کی طرف پیدا ہو کر انتقال، دکن، صوبہ بہار، نزلہ زکام بھی شاید اس کے متعلق ہو۔ (۴) بہتر ہو گا کہ اور تدارک کریں۔ فرمایا: معلوم نہیں کہ کس کی نسبت یہ الہام ہے۔

(بدر جلد ۱ نمبر ۷ مورخہ ۲۱ فروری ۱۹۰۶ء صفحہ ۳، الحکم جلد ۱۰ نمبر ۷ مورخہ ۲۴ فروری ۱۹۰۶ء صفحہ ۱)

۲۰ فروری ۱۹۰۶ء خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ :۔ مَیں ایک خُفیہ نشانِ قہر دِکھاؤں گا جس میں فتحِ عظیم ہو گی۔ وہ عام دُنیا کے لئے ایک نشان ہوگا اور خدا کے ہاتھوں سے اور آسمان سے ہوگا۔ چاہئے کہ ہر ایک آنکھ اس کی منتظر رہے کیونکہ خدا اس کو عنقریب ظاہر کرے گا تاکہ ہر ایک پر میری گواہی ہو جائے کہ تمام قومیں گالیاں دے رہی ہیں اور اُسکی طرف سے بے باک۔ وہ جو اس سے فائدہ اُٹھاتا ہے۔" (اشتہار ۲۰ فروری ۱۹۰۶ء مجموعہ اشتہارات طبع اول صفحہ ۷۱، قادیان کے آریہ اور ہم صفحہ ۲۔ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۴۱۸۔ مجموعہ اشتہارات جلد ۳ صفحہ ۵۶۲)

۱؎ (ترجمہ) (۱) میں اپنے رسول کے ساتھ کھڑا ہوں گا اور اس کے ملامت کنندہ کو ملامت کروں گا۔ ۲؎ (الف) خدا کی اس پیشگوئی کے بعد اس قدر زلزلہ آیا کہ لاکھوں بندے تباہ ہوئے ابھی اس کی اشاعت پر چند روز گزرے تھے کہ کانگڑہ کا واقعہ ہو گیا۔ پس ایک طالب حق کے لئے یہ ایک کافی دلیل ہے کہ پیشگوئی کیسی صادق آئی کیا وہ بے دین جن کو وحی قدس نے اس پیشگوئی میں لکھا ہے کہ وہ فتح عظیم کا نشان تمام دنیا کے لئے ہوگا اور وہ غضب الٰہی ہے جو کہ عنقریب ظاہر ہونے والا ہے پس اس سے زیادہ عنقریب اور کیا ہوگا کہ اس پیشگوئی کے بعد بمجرد سنتے ہی اپنی زندگی کے پیراہن کو چھوڑے ہوئے مرگیا اور خاک میں جا ملا۔ پھر یادرہے الہام ہذا کے ماتحت ڈوئی شدید بیمار تھا اب ہر ایک کو ڈوئی کی موت پر ضرور غور کرنا چاہئے۔ ۱۲

(تشحیذ الاذہان جلد ۳ صفحہ ۲۸۱ حاشیہ) ۔ (حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۵۷ حاشیہ)

(ب) ”اب ظاہر ہے کہ اس سے بڑھ کر اور کیا تکبر ہو گا کہ جو شخص ایک قادیان کے نامی اور خونی درندے کے برابر مقابلہ کا دعویٰ کیا کیونکہ وہ تمام دنیا میں اول درجہ پر دجال خبیث تھا جو پیغمبر ہونے کا دعویٰ کرتا تھا اور کہتا تھا کہ میری بددعا سے تمام مسلمان ہلاک ہو جائیں گے اور اسلام صفحہ ہستی سے نابود ہو جائے گا اور مکہ ویران ہو جائے گا سو خدا تعالیٰ نے میرے ہاتھ پر اس کو ہلاک کیا .... پس کیا میں قسم کھا سکتا ہوں کہ یہ وہی خنزیر تھا جس کے قتل کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی تھی جو مسیح موعود کے ہاتھ پر مارا جائے گا۔“

(تتمہ حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۵۷ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۵۹۳)

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 589 طبع چہارم از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 412 پر درج ہے

صفحہ 1015

حوالہ نمبر 427

۵۸۹

۲۰ فروری ۱۹۰۷ء "(۱) اِنِّیْ مَعَ الرَّسُوْلِ اَقُوْمُ وَاَلُوْمُ مَنْ يَّلُوْمُ۔ (۲) پسپائیڈو ہجرم۔ (۳) افسوسناک خبر آئی ہے۔ فرمایا: اس الہام میں ذہن کا انتقال بعض باتوں سے دوستوں کی طرف ہوا مگر یہ احتمال خواب ہی تھا بیدار ہی ہوا۔ الہام بھی شاید اس کے متعلق ہو۔ (۴) بہتر ہو گا کہ آؤد شادی کرلیں۔ فرمایا: معلوم نہیں کہ کس کی نسبت یہ الہام ہے ۱؎ (بدر جلد ۶ نمبر ۹ مورخہ ۱۲ مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ ۳ و الحکم جلد ۱۱ نمبر ۸ مورخہ ۲۴ فروری ۱۹۰۷ء صفحہ ۱)

۲۰ فروری ۱۹۰۷ء "خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ:۔ مَیں بھی ایک تازہ نشان ظاہر کروں گا جس میں فتح عظیم ہو گی۔ وہ عام دُنیا کے لئے ایک نشان ہو گا اور خدا کے ہاتھوں سے اور آسمان سے ہو گا۔ چاہئے کہ ہر ایک آنکھ اُس کی منتظر رہے کیونکہ خدا اس کو عنقریب ظاہر کرے گا تاکہ یہ گواہی دے کہ یہ عاجز جس کو تمام قومیں گالیاں دے رہی ہیں، اُسکی طرف سے ہے۔ مبارک وہ جو اس سے فائدہ اُٹھاوے۔" (اشتہار ۲۰ فروری ۱۹۰۷ء مطبوعہ احمدیہ نیشنل پریس قادیان کے ٹائٹل پیج صفحہ ۲ و روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۴۵۹۔ مجموعہ اشتہارات جلد ۳ صفحہ ۵۶۹)

۱؎ (ترجمہ) : (۱) میں اپنے رسول کے ساتھ کھڑا ہوں گا اور اس کے ملامت کنندہ کو ملامت کروں گا۔ نوٹ : لعنت ، آؤد کی، پسپائیڈو، ہجرم کی کے بعد اس قدر جلد ڈوئی کی موت جس پر چند دن ہی اس کی اشاعت پر گزرے تھے کہ ڈوئی کا خاتمہ ہو گیا۔ پس یہ ایک طالب حق کے لئے یہ ایک قطعی دلیل ہے کہ پیشگوئی مسٹر ڈوئی کے بارے میں تھی کیونکہ اول تو اس پیشگوئی میں یہ لکھا ہے کہ وہ فتح عظیم کا نشان تمام دنیا کے لئے ہوگا اور دوسرے یہ لکھا ہے کہ وہ عنقریب ظاہر ہونے والا ہے۔ پس اس سے زیادہ عنقریب اور کیا ہوگا کہ اس پیشگوئی کے بعد پندرہ روز میں ڈوئی اپنی زندگی کے بقیہ دن بھی پورے نہ کر سکا اور خاک میں جا ملا جن پادری صاحبوں نے احقر کے بارہ میں شور مچایا تھا اب اُن کو ڈوئی کی موت پر غور کرنا چاہیے۔ منہ (تتمہ حقیقتہ الوحی صفحہ ۷۵ حاشیہ و روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۵۱۱ حاشیہ )

(ب) "اب ظاہر ہے کہ اس سے بڑھ کر اور کیا معجزہ ہو گا ۔ جو عیسائیوں کا سرغنہ ہے۔ سو اُسی کے مرنے سے ایک بڑا حصہ صلیب کا ٹوٹ گیا کیونکہ وہ تمام دنیا سے اول درجہ پر صلیب کا پجاری تھا جو پیغمبر ہونے کا دعویٰ کرتا تھا اور کہتا تھا کہ میری دُعا سے تمام مسلمان ہلاک ہو جائیں گے اور اسلام نابود ہو جائے گا اور خدا کے بندوں پر بد دعائیں کا رسالہ شائع کیا اور اپنے آپ کو ہلاک کیا۔...... پس میں قسم کھا سکتا ہوں کہ یہ وہی خنزیر تھا جس کے قتل کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی تھی تا عیسیٰ موعود کے ہاتھ پر مارا جائے گا۔" (تتمہ حقیقتہ الوحی صفحہ ۷۷۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۵۱۳)

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 589 طبع چہارم از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 412 پر درج ہے

صفحہ 1016

حوالہ نمبر 428

۷۸۶

تَرْجَمَةُ الْاَوَّلِ ؂۱ إِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيْدٌ ؂۲

(الاستفتاء صفحہ ۸۷ ضمیمہ حقیقۃ الوحی ۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۷۰۸)

۲۴ اکتوبر ۱۹۰۶ء ؁ إِنَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُهُمْ ؂۳ ۔ يَزِيْدُ عُمْرَكَ ؁

(بدر جلد ۲ نمبر ۴۳ مورخہ ۲۵ اکتوبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۳ ، الحکم جلد ۱۰ نمبر ۳۷ مورخہ ۲۴ اکتوبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۱)

۳۰ اکتوبر ۱۹۰۶ء ؁ ”تب تپہ اور بخار کا الہام ہوا اور تیاری میں جو بہت سا حرج ہو گیا ہے اور ہونیوالا ہے اس کے متعلق خیال تھا تو الہام ہوا۔“ يَأْتِيْكَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيْقٍ يَأْتُوْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيْقٍ ۔ يَأْتِيْكَ رِجَالٌ نُّوْحِيْ إِلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَاءِ ؂۴

(بدر جلد ۲ نمبر ۴۴ مورخہ یکم نومبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۲ ۔ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۳۸ مورخہ ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۱)

۳۱ اکتوبر ۱۹۰۶ء ؁ ؂۵ ” يَنْصُرُكَ اللّٰهُ فِيْ دِيْنِهِ ؂۶ “

(بدر جلد ۲ نمبر ۴۵ مورخہ ۸ نومبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۲ ۔ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۳۹ مورخہ ۱۰ نومبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۱)

؂۱ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ الہامات اردو سے عربی میں ترجمہ کر کے الاستفتاء ضمیمہ حقیقۃ الوحی صفحہ ۸۶۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۷۰۸ میں درج فرمائے ہیں۔ الہام نمبر ۱ جو ۲۸ اکتوبر کو بھی نازل ہوا، اس کے الفاظ اُردو میں یہ ہیں۔ ”کذاب کا خمار دشمن ہے۔ وہ اُس کو جہنم میں پہنچائے گا“ اور الہام نمبر ۲ جو ۲۷ نومبر کو دوبارہ ہوا اس کے اُردو میں یہ الفاظ ہیں۔ ”کمترین کا خیمہ شاہطرق ہو گیا“ (مرتب)

؂۲ (ترجمہ از مرتب) تیرے رب کی گرفت بہت سخت ہے۔

؂۳ (ترجمہ) ہم تجھے یعنی وہ صدمہ دکھلادیں گے جو مخالفوں کی نسبت ہمارا وعدہ ہے اور تیری عمر زیادہ کریں گے۔

؂۴ (ترجمہ) ہر ایک دُور کی راہ سے لوگ تیرے پاس آئیں گے۔ اور ہر ایک دُور کی راہ سے تیرے پاس تحائف لائیں گے تیرے پاس وہ لوگ تحائف لائیں گے جن کو ہم آسمان سے وحی کریں گے۔

؂۵ چونکہ اخبار بدر سے شائع ہوا ہے۔ اس لئے بصیغہ مخاطب ہوا۔ مکتوب کے بعد کے درج ہیں۔ (ایڈیٹر الحکم)

؂۶ (ترجمہ) خدا اپنے دین میں تمہاری مدد کرے گا۔

تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 574 طبع چہارم از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 412 پر درج ہے

صفحہ 1017

حوالہ نمبر 429

۴۶۶

نے لکھ دیا کہ مرزا غلام احمد صاحب کا ایک شہرت یافتہ فرقہ ہے جن کی نسبت ہم بدظنی نہیں کر سکتے۔ یعنی جو کچھ فیصلہ کیا گیا ہے وہ واقعی درست ہے پس انکم ٹیکس معاف اور مسل داخل دفتر ہوئی

(نزول المسیح صفحہ ۲۲۸ ، ۲۲۹ ۔ روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۶۰۶ ، ۶۰۷)

۱۸۹۸ء

"میری طبیعت کچھ ایسی واقع تھی کہ میں پوشیدہ رہنے کو بہت چاہتا تھا اور میں ملنے والوں سے تنگ آجاتا تھا اور کوفتہ خاطر ہوتا تھا یہاں تک کہ میرا باپ مجھ سے نومید ہو گیا اور سمجھا کہ یہ ہم میں ایک شب باش مہمان کی طرح ہے جو صرف روٹی کھانے کا شریک ہوتا ہے اور گمان کیا کہ یہ شخص خلوت کا عادی ہے اور لوگوں سے وسیع مجلس کے ساتھ میل جول رکھنے والا نہیں، سو وہ ہمیشہ مجھے اس عادت پر غضب سے اور تیز نگاہوں سے ملامت کرتا اور مجھے دن رات اور ظاہراً اور درپردہ دُنیا کی ترقی کے لئے نصیحت کیا کرتا تھا اور دُنیا کی آرائشوں کی طرف رغبت دیتا تھا اور میرا دل خدا کی طرف کھینچا جارہا تھا اور ایسا ہی میرا بھائی مجھے پیش آیا اور وہ اپنی باتوں میں میرے باپ سے مشابہ تھا۔ پس خدا نے ان دونوں کو وفات دی اور زیادہ دیر تک زندہ نہ رکھا اور اس نے مجھے کہا کہ لائق یہی کرنا چاہیے تھا تا تجھ سے خصومت کرنے والے باقی نہ رہیں اور اُن کا الحاح تجھ کو حزن نہ کرے۔"۲؎

(نجم الہدیٰ طبع اوّل صفحہ ۱۰۔ روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحہ ۵۱ ، ۵۲)

۲ ستمبر ۱۸۹۸ء

(فی الہام .... جو حضرت اقدس کو ۲ ستمبر ۱۸۹۸ء کو ہوا اور جو جناب نے مسجد مبارک میں لکھوا کر چسپاں کر دیا ہے :-

" فَتَمَّ قَتْلُهُ غَمًّا لَّهُ وَقَمَّ اِلَيْهِ مِنْ مَّالِهِ دُفْعَةً " ۳؎

(الحکم جلد ۲ نمبر ۲۶، ۲۷ مورخہ ۶، ۱۳ ستمبر ۱۸۹۸ء صفحہ ۱۴)

(ب) " چند ہفتے ہوئے ہیں مجھے الہام ہوا تھا۔

فَتَمَّ لَهُ ، ذَمَّ اِلَيْهِ مِنْ مَّالِهِ دُفْعَةً "

۱؎ ۱۸۹۸ء ، ۲ ستمبر ۱۸۹۸ء انکم ٹیکس معاف کیا گیا۔ (مرتب)

۲؎ عربی میں الہام کی عبارت یہ ہے۔ " كَذَالِكَ يُفْنٰى كُلُّ مُنَازِعٍ فِيْكَ وَلَا يَغُرَّكَ اِلْحَاحُ الْاَغْيَارِ "

(نجم الہدیٰ حصہ عربی صفحہ ۱۰۔ روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحہ ۵۲)

۳؎ یہاں اصل میں ہے " فَتَمَّ لَهُ مِنْ قَبْلِ غَمًّا لَّهُ إِذَا ذَمَّ لَهُ دُفْعَةً " حاشیہ میں یوں ہے " فَتَمَّ لَهُ ، ذَمَّ لَهُ دُفْعَةً مِّنْ مَّالِهِ " یعنی اس تمام کو جو پہلے تھا اس نے اپنے مال میں سے یکجائی بہت سا حصہ یک ہی بار مانگ لیا۔ (مرتب)

تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 286 طبع چہارم از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 412 پر درج ہے

صفحہ 1018

حوالہ نمبر 430

۳۵۸

جن کے آنکھ، کان، فہم وغیرہ سب جاتے رہتے ہیں اور صدمۂ میں داخل ہیں۔ وہ بھی جہنم میں داخل ہوں گے جو کہ سمجھے ہوئے تو ہیں مگر بعض تعلقاتِ دُنیاوی کی وجہ سے وہ قبول نہیں کرتے معلوم ہوتا ہے اس میں کوئی تجوّز ہے اور اس کو ابھی مخفی رکھا ہے۔ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ترقی ہونے والی ہے اور اللہ کریم کچھ چشم نمائی کرنیوالے ہیں۔ اور یہ بھی فرمایا کہ جو کچھ ہمارے ارادہ میں ہے وہ ہو چکا اب ٹل نہیں سکتا۔“

(البدر جلد ۱ نمبر ۶ مورخہ ۷؍ نومبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۴۰ و ۴۱)

۱۹۰۲ء

”طاعون کا تذکرہ ہو پڑا، فرمایا: ایک بار مجھے یہ الہام ہوا تھا کہ خدا قادیان میں نازل ہو گا، اپنے وعدہ کے موافق

اور پھر یہ بھی تھا:۔

اِلَّا الَّذِيْنَ آمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحَاتِ ؂۱

(البدر جلد ۱ نمبر ۶ مورخہ ۷؍ نومبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۴۱ ۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۴۰ مورخہ ۱۰؍ نومبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۹ اول)

۳۰؍ اکتوبر ۱۹۰۲ء

آخِر کا لفظ ٹھیک یاد نہیں اور یہ بھی پختہ پتہ نہیں کہ یہ الہام کس امر کے متعلق ہے۔“

(البدر جلد ۱ نمبر ۶ مورخہ ۷؍ نومبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۴۶)

(الحکم جلد ۶ نمبر ۴۰ مورخہ ۱۰؍ نومبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۱۱)

۶؍ نومبر ۱۹۰۲ء

”۶؍ نومبر ۱۹۰۲ء کی شام کو میرے دل میں ڈالا گیا کہ ایک قصیدہ مقام حقہ کے مباحثہ کے متعلق بناؤں“

(اخبار احمدی صفحہ ۸۹ ۔ روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۲۰۴)

۱۹۰۲ء

”فَقَدْ سَرَّنِيْ فِيْ هٰذِهِ الصُّوْرِ صُوْرَةٌ
يَذُمُّ تَرَنِّيْ كُلَّمَا كَانَ يَحْشُرُ“ ؂۲

؂۱ (ترجمہ از مرتب) سوائے مومنوں اور نیک عمل کرنے والوں کے۔ ؂۲ ”فَلِلّٰهِ الشُّكْرُ مِنْ وَّحْيِ اللّٰهِ تَعَالَى جَلَّ شَأْنُهُ“ (اخبار احمدی صفحہ ۸۹ حاشیہ ۔ روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۲۰۴) (ترجمہ از مرتب) یہ شعر اللہ تعالیٰ کی وحی سے ہے۔

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 358 طبع چہارم از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 413 پر درج ہے

صفحہ 1019

حوالہ نمبر 431

اپنے ہاتھ سے صاف اور پاک کرتا ہے۔ اور میں ایک مُدّت تیری یاد میں رہتا رہا ہوں ۔ کیا تم کو جُنبش نہیں ..... قُلْ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدٰى وَاِنَّ مَعِيَ رَبِّيْ سَيَهْدِيْنِ رَبِّ، اغْفِرْ وَارْحَمْ مِنَ السَّمَاءِ رَبِّ، اِنَّ قَوْمِيْ كَذَّبُوْنِ، رَبِّ، لَا تَذَرْنِيْ فَرْدًا وَّاَنْتَ خَيْرُ الْوَارِثِيْنَ، اِنِّيْ مَعَكَ يَا أُنْسُ . کہہ ہدایت وہی ہے جو خدا کی ہدایت ہے اور میرے ساتھ میرا ربّ ہے عنقریب وہ میرا راہ کھول دے گا۔ اے میرے ربّ! آسمان سے رحم اور مغفرت کر۔ میں مغلوب ہوں میری طرف سے مقابلہ کر۔ اے میرے خدا، اے میرے خدا تُونے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔

آخری فقرہ اس الہام کا یعنی اِنّی مَعَکَ یَا اُنْسُ بواسطہ سرعتِ مدّ و جزر رہا ہے اور نہ اُس کے کچھ معنے کھلے۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ۔ (بقیہ حاشیہ)

مخفی خاوند کی طرح ہو جاتا ہے تو اس کے بعد خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ میں بھی دنیا پر ظاہر ہو جاؤں اور دنیا مجھے پہچانے تو خدا تعالیٰ ایک اپنے بندہ کو اپنے بندوں میں سے چُن لیتا ہے اور اُس کو خلعتِ خلافت عطا فرماتا ہے اُس کے ذریعہ سے خدا شناخت کیا جاتا ہے وہ اپنے بندوں اور برگزیدہ بندہ خدا تعالیٰ کی حجت زمین پر اور اسما و صفاتِ الٰہیہ کا مظہر اور اس کی معرفت کے اسرار لوگوں پر ظاہر کرتا ہے، ہر یک زمانہ میں سنتِ الٰہیہ یہی چلی آتی ہے کہ یہ صفاتِ اتمہ اور مظاہرِ کاملہ دنیا میں رہے ہیں یا تو انبیاء کے زمانہ میں بھی ایسا ہی ہوا کہ لوگ معرفتِ الٰہیہ کو یکے بعد دیگرے صفت الٰہیہ میں کچھ نہ کچھ اپنی طرف سے ملاتے گئے یہاں تک کہ خدا تعالیٰ سے غافل ہو گئے، اُس کی کتابوں اور صحیفوں کو ترک کر بیٹھے، اُس کے لئے شریک بنائے، پس خدا تعالیٰ جو غیور خاوند کی طرح ہو گیا، تو خدا تعالیٰ نے ہمیں اپنی معرفت اور محبت دے کر بھیجا تا کہ دُنیا کو راہِ راست پر لگایا جاوے، پس اسی واسطے ہم توحید سے، تنزیہ سے، تقدیس سے، اپنے چال چلن سے، اپنی شب بیداریوں سے، اور ہمہ تن اور ہمہ اسلوب سے جو خدا نے ہمیں عطا کئے اور صفاتِ رحمانیت و رحیمیت کا نقشہ اُن سے عیاں ہوتا ہے، ہوتے ہیں، اور ہم کیا خدا تعالیٰ نے ہمارے سب کاروبار اور افعال اور اقوال اور حرکات و سکنات کو اپنے قبضہ میں کر رکھا ہے جس طرح اُس کی مرضی ہوتی ہے وہ ہمیں چلاتا ہے اور ہم اُسی طرح چلتے ہیں، ہمارا اس میں کچھ اختیار نہیں۔ (الحکم جلد ۶ نمبر ۲۴ مورخہ ۲۴ جون ۱۹۰۲ء صفحہ ۱۱)

۱؎ فرمایا سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے مجھے اس وحی سے مشرف فرمایا کہ وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ ، أَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ اور اسی میں علیم الغیب خدا نے اس بات کی طرف اشارہ کیا تھا کہ کوئی مخالف کبھی تیری سوانح پر کوئی داغ نہیں لگا سکے گا چنانچہ اس وقت تک جو میری عمر قریباً پینسٹھ سال ہے کوئی شخص بتحدی ایک دفعہ ہماری کسی بُری سوانح پر کسی قسم کا داغ ثابت نہیں کر سکتا بلکہ گذشتہ زندگی کی پاکیزگی کی گواہی اللہ تعالیٰ نے خود مخالفین سے بھی دلوائی ہے جیسا کہ مولوی محمد حسین بٹالوی نے نہایت پُر زور الفاظ میں اپنے رسالہ اشاعۃ السنہ میں میری بابت اور ہمارے خاندان کی تعریف کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ اس شخص کی نسبت اور اس کے خاندان کی نسبت مجھ سے زیادہ کوئی واقف نہیں اور پھر انصاف کی پابندی سے یہ تصدیقیں حقیقت کے قرین بھی ہیں پس ایک ایسا مخالف جو تکفیر کی بنیاد کا بانی ہے پیش گوئی وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ کا مصداق ہے ۔

(نزولِ المسیح صفحہ ۱۱۲۔ روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۴۹۰)

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 71 طبع چہارم از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 413 پر درج ہے

صفحہ 1020

حوالہ نمبر 432 ۸۶۴

قضاءً بہت تھوڑے دن رہ گئے ہیں۔ اُس دن خدا کی طرف سے سب پر اُداسی ہو جائے گی۔ زندگی کے دن بہت تھوڑے رہ گئے ہیں۔ اس دن سب پر اداسی و گریہ و زاری سایہ انداختہ و اُداسی چھا جائے گی۔ یہ ہوگا۔ یہ ہوگا۔ یہ ہوگا۔ پھر تیرا واقعہ ہوگا۔ تمام عجائبات قدرت دکھلائے ہو جائیں گے۔ کئی واقعات کے ظہور کے بعد پھر تیرا واقعہ ظہور میں آئے گا۔ قدرت الٰہی کے کئی چشمے یا چشمے ظاہر کے بعد تمہارا حادثہ آئے گا۔ جِدٌّ وَّ فَشَلٌّ وَّتَفْرِيْقٌ وَّتَمْزِيْقٌ كُلَّ مُمَزَّقٍ يَا حَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ جائیں گے۔ پھر تمہاری موت کا واقعہ ظہور میں آئے گا۔ یاد رکھ وقت آگیا ہے۔ اب ہم تیرے لئے روشن شمع لا چکے ہیں۔ اے تیرا وَفَشَلٌ وَّ تَمْزِيْقٌ لَّكَ الْاَمْنُ يَا سَنَائِيْ رَبِّ تَوَفَّنِيْ مُسْلِمًا وَّ أَلْحِقْنِيْ وقت آگیا ہے۔ اب ہم تیرے لئے تحفے نشان لائیں گے۔ اے میرے خدا اسلام پر مجھے وفات دے اور بِالصَّالِحِيْنَ۔ اٰمِيْن ٭ نیکوں کے ساتھ مجھے ملا دے۔ آمین ٭

(حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۰۷۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۱۱)

۲۰ جولائی ۱۹۰۶ء " فرمایا آج مجھے ایک الہام ہوا جس کے پورے الفاظ یاد نہیں رہے اور جس قدر یاد رہا وہ یہ ہے مگر معلوم نہیں کس کے حق میں ہے لیکن خطرناک ہے اور وہ یہ ہے :۔

ایک دَم میں تُم رُخصت ہُؤا

یہ الہام ایک ہولناک عبارت میں ہے مگر ایک لفظ درمیان میں سے بھول گیا ہے۔"

(بدر جلد ۲ نمبر ۲۹ صفحہ ۲۔ ۲ اگست ۱۹۰۶ء و الحکم جلد ۱۰ نمبر ۲۷ صفحہ ۱۔ مورخہ ۱۰ اگست ۱۹۰۶ء)

یکم اگست ۱۹۰۶ء " دو بار زلزلہ آیا ہے پھر الہام ہوا :۔ (۱) اِنَّمَا نُؤَخِّرُكُمْ اِلٰی اَجَلٍ مُّسَمًّى ۔ (۲) اَتَعْجَبُ اَنْ اَسْتَخْلِفَ فَخَلَقْتُ اٰدَمَ ۱

(بدر جلد ۲ نمبر ۳۲ صفحہ ۳ مورخہ ۹ اگست ۱۹۰۶ء و الحکم جلد ۱۰ نمبر ۲۸ صفحہ ۱ مورخہ ۱۷ اگست ۱۹۰۶ء)

۱؂ الہام نمبر ۲ پر حضور کو اس کا علم دیا گیا کہ چوہان صاحب نومبایع کے متعلق تھا۔

(دیکھو ترجمہ حقیقۃ الوحی صفحہ ۳۴۰ ۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۳۵۴) (مرتب)

۲؂ (ترجمہ) (۱) ہمیں ہی تم کو مہلت دیں گے اجل مسمیٰ تک۔ ۳؂ (ترجمہ) (۲) کیا تو تعجب کرتا ہے کہ اپنا خلیفہ بناؤں سو میں نے آدم کو پیدا کیا۔

تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 563 طبع چہارم مرکز قادیان یہ حوالہ صفحہ 413 پر درج ہے

صفحہ 1021

حوالہ نمبر 433

۵۶۸

ہیں اور خدائے تعالیٰ کے حضور قطعی حکم نہیں ہے۔ ۱؂ (بدر جلد ۲ نمبر ۴۰ مورخہ ۲۴ اکتوبر ۱۹۰۳ء صفحہ ۳۱۶ کالم ۱ ، الحکم جلد ۷ نمبر ۳۹ مورخہ ۲۴ اکتوبر ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۵)

۱۶ ستمبر ۱۹۰۳ء

نے فتح پائی۔

(بدر جلد ۲ نمبر ۳۶ مورخہ ۱۸ ستمبر ۱۹۰۳ء صفحہ ۲۸۲ کالم ۲ ۔ الحکم جلد ۷ نمبر ۳۴ مورخہ ۱۷ ستمبر ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۵ ۔ البشریٰ جلد دوم صفحہ ۵۷۔ تذکرہ صفحہ ۴۲۹ طبع دوم)

(بدر جلد ۲ نمبر ۳۶ مورخہ ۱۸ ستمبر ۱۹۰۳ء صفحہ ۲۸۲ کالم ۲ ۔ البشریٰ جلد ۲ صفحہ ۵۷۔ تذکرہ صفحہ ۴۲۹ طبع دوم)

بقیہ حاشیہ:۔ جس کو درپردہ سخت مرض طاعون ہو اور بموجب شہادت اطباء بوجہ اس کے کہ وہ خود میر صاحب اور گھر کے لوگ بھی چنانچہ بیانات سُن کر میر صاحب نے بھی بالیقین مان لیا اور میں ۱۶ ستمبر کو قادیان میں پہنچا تو میر صاحب کے لڑکے محمد اسحق کو سخت بخار ہو گیا اور اُس بخار کے ساتھ رانوں میں دو گلٹیاں نکل آئیں جس سے قطعی طور پر یہ معلوم ہو گیا کہ طاعون ہے اور ایک نہایت خوفناک مرض میں آگیا اور گھر میں سب پر ایک دہشت طاری ہوئی اور صرف مولوی حکیم نورالدین صاحب معالج تھے جو کہ وہ بھی مایوس ہو گئے لڑکے کی والدہ سخت رو رہی تھیں تب میں نے یعنی مسیح موعود نے دعا کرنا شروع کیا اور نہایت اضطراب سے توجہ کی تب خدائے تعالیٰ نے اس دعا کا یہ نتیجہ دکھلایا کہ ابھی دعا میں گھنٹے سے زیادہ نہیں گزرا ہوگا کہ بخار بالکل ٹوٹ گیا اور بچہ باتیں بھی کرنے لگا گویا مرض کا نام و نشان نہ تھا اور تمام آثار طاعون کے جاتے رہے اور اب یہاں تک اسکی صحت حاصل ہو گئی ہے۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰهِ عَلٰی ذٰلِکَ۔ (بدر جلد ۲ نمبر ۳۶ مورخہ ۱۸ ستمبر ۱۹۰۳ء صفحہ ۲۸۲ و حقیقۃ الوحی صفحہ ۲۳۶۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۲۴۸ تا ۲۴۹۔ نشان نمبر ۱۲۳)

۱؂ (نزول المسیح صفحہ ۷۱) یہ پیشگوئی میرے سامنے پوری ہوئی۔ پس بالبدیہہ اس میں کوئی شک باقی نہ رہا۔

۲؂ ”۲۱ مئی ۱۹۰۳ء کے مطابق ۲۳ صفر ۱۳۲۱ھ میں میاں صاحب زادہ مبارک احمد صاحب کو جو اُس وقت صرف آٹھ سال کی عمر میں تھے یکایک ایک دم پیٹ پھٹنے کی سی درد اُٹھی اور معلوم ہوا کہ اس کے پیٹ میں کچھ شدت سے درد ہے لیکن بچہ محسوس نہیں کرتا تھا اور جان بلب تھا آخر ایک دفعہ پیٹ میں درد ہوئی اور آخری کلمہ اُس کا یہ تھا کہ اُس نے تین مرتبہ کہا کہ میرا پیٹ پھٹ گیا اور بعد اُس کے مر گیا“ (تذکرۃ المہدی حصہ اول صفحہ ۵۰ ۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۲۴۹)

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 568 طبع چہارم از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 413 پر درج ہے

صفحہ 1022

حوالہ نمبر 434

۷۹۰

۲۴ فروری ۱۹۰۶ء (۱) وَقْتٌ يَبْرُزُ آيَةٌ تَعْرِفُوْنَهَا وَيَقُوْلُوْنَ سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ (۲) سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَ يُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ ۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ وہ وقت آتا ہے کہ خدا کے نشانوں سے انکار کی گنجائش نہیں رہے گی اور نشان ایسے طور سے کھلیں گے کہ منہ بند ہو جائیں گے ۔

(۳) رؤیا میں گویا میں کہتا ہوں یا کسی نے کہا ہے کہ :۔

اَب بتاؤ وہ جاکر چھپیں گے

مگر یا کسی کا بقیہ فقرہ ہے جو پڑھا جاتا ہے۔

(۴) لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا ؎۲ کسی دوست کی اس میں تسلی دی گئی ہے گویا میں تسلی دوں گا ؎

(بدر جلد ۲ نمبر ۸ مورخہ ۲۶۔ فروری ۱۹۰۶ء صفحہ ۴)

۲۵ فروری ۱۹۰۶ء (۱) مِنَ النَّاسِ وَالنَّاسُ ۔ فرمایا ۔ یعنی مِنَ خَوَاصِ النَّاسِ وَ النَّاسُ ۔ یہ طاعون کی طرف اشارہ ہے کہ اس مرتبہ طاعون کے حملہ سے کچھ خاص لوگ بھی مری میں ہونگے جو معزز ہوتے ہیں یا سفید پوش ہوتے ہیں اور عام لوگوں میں بھی مری پڑے گی۔

(۲) تَرُدُّ الْاَمْوَاتَ لَهَلَكَ الْمَقَامُ ؎۳ اس الہام سے معلوم ہوتا ہے کہ قادیان میں سے بھی کچھ لوگ طاعون سے مریں گے اور یہ فقرۂ الہام اِنِّیْ اٰوِی الْقَرْيَةَ کے مخالف نہیں کیونکہ اٰوِی سے مُراد الہام الٰہی میں یہ ہے کہ اکثر قادیان کے لوگ بچائے جائیں گے بکُلّی استیصال نہیں ہو گا ؎

(بدر جلد ۲ نمبر ۸ مورخہ ۲۶۔ فروری ۱۹۰۶ء صفحہ ۴)

۲۶ فروری ۱۹۰۶ء "خُفْيَةُ الْمُلُوْكِ" اس کے معنے ابھی نہیں کھلے بہر حال ملوک سے اس کو کچھ نسبت ہے ؎

(بدر جلد ۲ نمبر ۸ مورخہ ۲۶۔ فروری ۱۹۰۶ء صفحہ ۴)

؎ (ترجمہ) (۱) جب کوئی نشان دیکھیں گے تو کہیں گے کہ یہ معمولی بات ہے کوئی خارق عادت امر نہیں یا کوئی فریب ہے ۔ (۲) عنقریب یہ لوگ بھاگ جائیں گے اور پیٹھیں پھیریں گے ۔ ؎۲ (ترجمہ) غم نہ کر خدا ہمارے ساتھ ہے ۔ ؎۳ یہ الہام ۲۰۔ مارچ ۱۹۰۶ء کے بدر میں چھپا ۔ (بدر جلد ۲ نمبر ۱۱ مورخہ ۲۲۔ مارچ ۱۹۰۶ء صفحہ ۳) اور ترجمہ ہے : اگر ترا اقربا کی موت کا پاس نہ ہوتا تو میں تمام قادیان کو ہلاک کر دیتا۔

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 590 طبع چہارم از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 413 پر درج ہے

صفحہ 1023

حوالہ نمبر 435

۹۱۴

۲۰ جولائی ۱۹۰۶ء = حضرت نے ایک خواب میں دیکھا کہ ہمارے مکان میں ایک بڑا وسیع چھپر گرا ہے اور اس کے نیچے حضرت مولوی نور الدین صاحب بیٹھے تھے چنانچہ اسی واسطے مولوی صاحب کو دوسرے مکان پر رکھا گیا ۱؎

(بدر جلد ۲ نمبر ۲۹ مورخہ ۱۹ ستمبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۵۔ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۳۲ مورخہ ۱۷ ستمبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۱ کالم ۲)

۲۱ جولائی ۱۹۰۶ء لَا يُقْطَعُ الْاَعْدَاءُ اِلَّا بِسُيُوْفِ اَعْدَائِهِمْ ۲؎

(بدر جلد ۲ نمبر ۳۱ مورخہ یکم اگست ۱۹۰۶ء صفحہ ۲۔ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۲۷ مورخہ ۱۰ اگست ۱۹۰۶ء صفحہ ۱)

۳۱ جولائی ۱۹۰۶ء

یہی لفظ ہیں۔ واللہ اعلم!

آپ دُہری لٹھہ کو پاکر کیا کرینگے اس کی تعبیر دو میتیں کے لئے تیاری کی ہے۔ ۳؎

(بدر جلد ۲ نمبر ۳۱ مورخہ یکم اگست ۱۹۰۶ء صفحہ ۲۔ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۲۷ مورخہ ۱۰ اگست ۱۹۰۶ء صفحہ ۱)

یکم اگست ۱۹۰۶ء

مَعَ الْاَفْوَاجِ اٰتِيْكَ بَغْتَةً ۴؎

(بدر جلد ۲ نمبر ۳۱ مورخہ یکم اگست ۱۹۰۶ء صفحہ ۲۔ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۲۷ مورخہ ۱۰ اگست ۱۹۰۶ء صفحہ ۱)

۸ اگست ۱۹۰۶ء (قریباً)

۱؎ دراصل اس سے صاحبزادہ مبارک احمد کی وفات مراد تھی جو ۱۶ ستمبر ۱۹۰۶ء کو وقوع میں آئی۔ (مرتب) ۲؎ ترجمہ : دشمن قطع نہیں ہوں گے مگر ان ہی کے دشمنوں کی تلواروں کے ساتھ۔ ۳؎ یہ الہام دراصل صاحبزادہ مبارک احمد کی وفات کی پیشگوئی ہے جس کے بعد سیدہ ام المومنین سخت بیمار ہو گئی تھیں جن کی نسبت گمان کیا گیا ہے کہ وہ فوت ہو جائیں گی۔ ترجمہ : اے میرے رب مجھے اپنے طیور میں سے مبارک کر۔ (طیور سے مراد ملائک ہیں) ۴؎ ترجمہ : میں فوجوں سمیت تیرے پاس اچانک آؤں گا۔ ۵؎ ترجمہ : تجھ سے میری غمت دور کی گئی۔ ۶؎ ترجمہ : وہ میری تکریم سے بخشی گئی۔

تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 814 طبع چہارم از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 413 پر درج ہے

صفحہ 1024

حوالہ نمبر 436 ۱۵۷ ہے اپنے سہو و نا امیدی کی گھڑی مجھ پر بخشتے ہو سن کر اے ہمارے ربّ! ہمارے قادر بخش ہم خطا پر تھے۔ یہ صدق کے جلابیب ہیں جوظاہر ہوں گے سو تو حیا کر تجھے حکم کیا گیا ہے۔ استقامت اختیار کر۔خوارق یعنی کرامات اُس محل پر ظاہر ہوتے ہیں جو انتہائی درجہ صدق قدم کا ہے۔ تُو رِضا خدائے کے لئے ہو جا۔ تو سارا خدا تیرے ساتھ ہو جائیگا تجھے اُس مقام پر اُٹھائے گا جس میں تُو تعریف کیا جائے گا۔"

(آسمانی فیصلہ صفحہ ۴۰ مطبوعہ بار سوم نومبر ۱۸۹۲ء ۔ روحانی خزائن جلد ۴ صفحہ ۳۴۲)

۱۸۹۱ء ایک الہام میں چند دفعہ تکرار اور کسی قدر اختلاف الفاظ کے ساتھ فرمایا کہ "میں تجھے عزت دوں گا اور بڑھاؤں گا اور تیرے آثار میں برکت رکھ دوں گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔"

(آسمانی فیصلہ صفحہ ۴۰ مطبوعہ بار سوم نومبر ۱۸۹۲ء ۔ روحانی خزائن جلد ۴ صفحہ ۳۴۲)

۲۷؍دسمبر ۱۸۹۱ء ۱۱-۱۵-۲۳-۱-۲۰-۲-۳۰-۲-۲۶-۲-۳-۱۳-۲۵-۲- ۱۱-۱۳-۳۳-۱۱-۱۶-۲۸-۴۷-۳۷-۱۵-۱۰-۴۳-۲۰-۲-۱ ۱-۱۰-۱۴-۶۳-۷-۵-۳۳-۲۴-۲۶-۵-۱-۷ ۱-۹-۱-۵-۷-۱-۲۰-۷-۱۳-۱۶-۱۱-۲۴-۷-۱-۳۲-۷-۲۸-۵-۱۴ المرقم ۷-۱۴-۲۸-۱-۷- نے

(اشتہار ۳۰؍دسمبر ۱۸۹۱ء ملحقہ رسالہ فیصلہ آسمانی مطبوعہ لدھیانہ صفحہ ۵ -

روحانی خزائن جلد ۴ صفحہ ۳۷۰)

۱۸۹۲ء "وحی الٰہی ہے کہ جب کوئی سخت عارضہ ہوتا ہے تو خداوند کریم اپنی طرف سے شفا بخشتا ہے۔ اسی طرح ایک دفعہ زحیر اور اسہال خونی کی سخت بیماری ہوئی۔ ...لیکن اس نازک حالت میں خدا تعالیٰ نے اپنی طرف سے ایک عجیب طور سے شفا بخشی۔...ایسا ہی اس دوسری بیماری میں بھی جب حال قریب موت پہنچا تو خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا :-

اَلْاَبْتَرَانِ

سو یقین رکھنا چاہیئے کہ خداوند کریم اس بیماری سے نجات بخشے گا"

(مکتوب بنام حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ مورخہ ۱۰؍اپریل ۱۸۹۲ء مکتوبات احمدیہ جلد پنجم نمبر ۲ صفحہ ۱۱۹)

؎ یہ اعداد اور ان کے اندر کی چابی سب الہام کا سربستہ راز جس کی حقیقت خدا تعالیٰ ہی جانتا ہے مگر انشاء اللہ العزیز اپنے وقت پر ضرور ظاہر ہوگی۔ (مرتب)

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 157 طبع چہارم از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 413 پر درج ہے

صفحہ 1025

حوالہ نمبر 437

۶۶۵

١٩٠٠ء

پیر سراج الحق صاحب نعمانی کا بیان ہے کہ ایک روز صبح کی نماز کے وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ آج تھوڑی دیر ہوئی عجیب الہام ہوا کہ جو سمجھ میں نہیں آیا۔ پہلے الہام ہوا :۔ "تائی آئی" ہمارے تو کوئی تائی ہے نہیں نہ نزدیک نہ دُور، ہاں ہمارے لڑکوں کی تائی ہے جو وہ ہماری دُشمن ہے پھر الہام ہوا: "تار آئی"

(البشریٰ ج ۲ پیر سراج الحق صاحب نعمانی صفحہ ۱۱۲ حاشیہ)

۲۵ فروری ۱۹۰۱ء

" كِتَابٌ تَتْلُوْهُ عِنْدَ وَعْظٍ مُّقْبِلٍ "

(الحکم جلد ۵ نمبر ۱۶، ۱۷ مورخہ ۱۷؍۲۴ مئی ۱۹۰۱ء صفحہ ۱۵)

١٩٠١ء

حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا :۔

حضور کی اولاد کی تائی صاحبہ جماعت میں شامل ہوں گی تیسرے تائی صاحبہ کی عمر کے متعلق پیشگوئی تھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہ وہ زندہ رہے گی اور آپ کی اولاد سے ایک خلیفہ ہو گا جس کی بیعت میں (وہ) شامل ہو گی"

(خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۶ اپریل ۱۹۴۶ء حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز مطبوعہ الفضل جلد ۱۵ نمبر ۱۲۱

مورخہ ۲۸ اپریل ۱۹۴۶ء صفحہ ۲)

(نوٹ از مرتب) تائی صاحبہ کا نام حرمت بی بی تھا اور آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بڑے بھائی مرزا غلام قادر صاحب کی زوجہ محترمہ تھیں۔ آپ نے ۱۹۲۳ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ہاتھ پر بیعت کی۔ (دیکھئے الفضل جلد ۱۲ نمبر ۳۹ مورخہ ۴ مارچ ۱۹۲۴ء)

اور یکم دسمبر ۱۹۳۵ء میں ۷۸ سال کی عمر میں وفات پائی۔ آپ موصیہ تھیں اور بہشتی مقبرہ کے قطعہ خاص میں مدفون ہوئیں۔

(الفضل جلد ۱۷ نمبر ۱۴۲ مورخہ ۸ دسمبر ۱۹۳۵ء صفحہ ۵ تا ۶)

اور تار آئی سے یہ مراد تھی کہ یہ خبر گویا خدا تعالیٰ آسمانی تار کے ذریعہ سے دے رہا ہے۔ (ایضاً)

شخص کی حالت کا بیان ہے کہ اس کا حال ایک پُر اثر وعظ کے وقت بھی رقت سے ایسا ہو رہا ہے گویا کمال تیزی کی کوئی تحریر ہو۔

تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 665 طبع چہارم از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 414 پر درج ہے

صفحہ 1026

حوالہ نمبر 438

۵۴۷

هُوَ الْهُدٰى، وَ قَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ عَلٰي رَجُلٍ مِّنْ قَرْيَتَيْنِ عَظِيْمٍ وہ اصل ھدایت یہی ہے اور کہیں گے یہ کیوں نہ اتارا گیا کسی بڑے آدمی پر ان دو شہروں میں سے یعنی مکہ یا طائف ۱؎۔ وَقَالُوْا اَنّٰی لَكَ هٰذَا ه اِنْ هٰذَا اِلَّا سِحْرٌ مُّفْتَرًى ه فِي الْمَدِيْنَةِ ۲؎ يَنْتَظِرُوْنَ یہ بے دین کہیں گے کہ تجھے یہ رتبہ کیونکر حاصل ہو گیا، یہ تو ایک مکر ہے جو تم لوگوں نے مل کر بنایا ہے۔ اب تیرے دن دیکھتے ہیں اِلَيْكَ وَ هُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ ه قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ مگر تو انہیں دکھائی نہیں دیتا۔ ان کو کہہ کہ اگر تم خدا سے محبت کرتے ہو تو آؤ میری پیروی کرو تا خدا بھی تم سے محبت کرے۔ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ يَّرْحَمَكُمْ ه وَاِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا ه وَجَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِيْنَ خدا چاہتا ہے تاکہ تم پر رحم کرے اور اگر تم پھر شرارت کی طرف عود کرو گے تو ہم بھی عذاب دینے کی طرف عود کریں گے اور ہم نے جہنم کو حَصِيْرًا ه وَ مَا اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِيْنَ ه قُلْ اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ کافروں کیلئے قید خانہ بنایا ہے اور ہم نے تجھے تمام دُنیا پر رحمت کر کے بھیجا ہے۔ ان کو کہہ کہ میں تمہاری ہی طرح ایک بشر ہوں کہ يُوْحٰى اِلَيَّ ه غَيْرَةً عَلٰى دِيْنِكَ ه فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ه لَا يُقْبَلُ عَمَلٌ مِّثْقَالُ ذَرَّةٍ مِّنْ مجھ پر وحی آتی ہے۔ غیرتِ دین اور تیری شرع ہے۔ ایک دن تم دیکھ لو گے کہ اس کی خدا مدد کرتا ہے۔ کوئی عمل بغیر تقویٰ کے ایک ذرہ غَيْرِ التَّقْوٰى ه اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا وَّ الَّذِيْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ ه قبول نہیں ہو سکتا۔ خدا ان کے ساتھ ہوتا ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور ان کے ساتھ جو نیک کاموں میں مشغول ہیں۔ قُلْ اِنِ افْتَرَيْتُهُ فَعَلَيَّ اِجْرَامِيْ ه وَ لَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُرًا مِّنْ کہہ اگر میں نے یہ افترا کیا ہے تو میری گردن پر میرا گناہ ہے۔ اور میں پہلے اس سے ایک مدت تک تم میں ہی رہتا رہا قَبْلِهِ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ ه اَلَيْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ ه وَ لِنَجْعَلَهُ اٰيَةً تھا کیا تم کو سمجھ نہیں ۔ کیا خدا اپنے بندہ کے لئے کافی نہیں ہے۔ اور ہم اس کو لوگوں کے لئے لِّلنَّاسِ وَرَحْمَةً مِّنَّا ه وَكَانَ اَمْرًا مَّقْضِيًّا ه قَوْلُ الْحَقِّ الَّذِيْ فِيْهِ ایک نشان اور ایک نمونہ رحمت بنائیں گے۔ اور یہ ابتداء سے مقدر تھا۔ یہ وہی امر ہے جس میں تم تَمْتَرُوْنَ ه سَلَامٌ عَلَيْكَ ه جُعِلْتَ مُبَارَكًا ه اَنْتَ مُبَارَكٌ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ ه شک کرتے تھے۔ تیرے پر سلام۔ تو مبارک کیا گیا۔ تو دُنیا اور آخرت میں مبارک ہے۔

۱؎ یعنی اس شخص کو مہدی موعود ہونے کا دعویٰ ہے جو پہلے سے ایک چھوٹے سے گاؤں قادیان کا رہنے والا ہے، کیوں کسی نامور مسلمان شہر میں مبعوث نہیں ہوا جو مرکزِ دین اسلام ہے۔ منہ (حقیقة الوحی صفحہ ۸۲ حاشیہ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۸۵)

۲؎ الہام کے الفاظ فِی الْمَدِيْنَةِ کا ترجمہ "شہر میں" حقیقة الوحی کے پہلے ایڈیشن میں بھی موجود نہیں ہے۔ (مرتب)

تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات طبع چہارم صفحہ 547، 548، 549 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 414 پر درج ہے

صفحہ 1027

(حوالہ نمبر 438)

۵۴۸

آمَنُوْا١؎ مِنَ النَّاسِ وَبَرَكَاتُ يُقِيْمُوْا ۔ کہ وقتِ تو نزدیک٢؎ رسید و پائے محمدیاں تیرے ذریعہ سے ہر بلندی پر اک تزلزل ہو گا۔ بر منار بلند تر محکم افتاد پاک محمد مصطفیٰ نبیوں کا سردار خُدا تیرے سب کام درست کرے گا اور تیری ساری مُرادیں تجھے دے گا۔ ربّ الافواج اس طرف توجہ کریگا۔ اس نشان کا مدعا یہ ہے کہ قرآن شریف خدا کی کتاب اور پیغمبر مُنہ کی باتیں ہیں۔ يَا عِيسٰى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ اے عیسیٰ میں تجھے وفات دوں گا اور تجھے اپنی طرف اُٹھاؤں گا اور میں تیرے تابعین کو تیرے منکروں كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ وَ ثُلَّةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ ۔ پر قیامت تک غالب رکھوں گا۔ ان میں سے ایک پہلا گروہ ہو اور ایک پچھلا۔ میں اپنی چمکار دکھلاؤں گا۔ اپنی قدرت نمائی سے تجھ کو اُٹھاؤں گا۔ دُنیا میں ایک نذیر آیا پر دُنیا نے اُس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اُسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اُس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔ أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ تَوْحِيدِي وَ تَفْرِيدِي ۔ فَحَانَ تُو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ میری توحید اور تفرید ۔ پس وہ وقت آتا ہے أَنْ تُعَانَ وَتُعْرَفَ بَيْنَ النَّاسِ وَأَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ عَرْشِي ۔ أَنْتَ کہ تُو مدد دیا جائے گا اور دُنیا میں مشہور کیا جائے گا۔ تُو مجھ سے بمنزلہ میرے عرش کے ہے ۔ تُو مِنِّي بِمَنْزِلَةِ وَلَدِي٣؎ ۔ أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةٍ لَّا يَعْلَمُهَا الْخَلْقُ ، نَحْنُ مجھ سے بمنزلہ میرے فرزند کے ہے۔ تُو مجھ سے بمنزلہ اُس انتہائی قُرب کے ہے جس کو دُنیا نہیں جان سکتی ہم

١؎ یہ تمام اقوال کہ جو خُدا کی طرف سے مرزا صاحب پر نازل ہو گئے۔ روحانی اور جسمانی دونوں قسم کے مرضوں پر مشتمل ہے۔ جسمانی طور پر بھی مثلاً سُننے کی باتیں یا کسی سے باتیں ہونا وغیرہ ایسے نسیان کرنے والے دیکھے ہیں کہ پہلے ان کی قویٰ حالتیں خراب تھیں اور پھر بہت علاج کے بعد کچھ قویٰ حالت درست ہو گئی اور اسی طرح کے مرض سے نفوسِ ناطقہ کی اور ملائکہ کی آوازیں سُننے لگے۔ اور یہی مدعا ایسے لوگ اپنی جماعت میں پاتے ہیں کہ جن کے دِلوں میں یہ شبہہ پیدا ہو گیا ہے کہ گوناگوں مرض اُٹھتے ہیں۔ خود یہ بے باک ہو کر اور جسمانی اور دینی قابلیت کی بناء پر یہ دعویٰ کیا ہے کہ اکثر دیوانے اور مریض میری دعا اور توجہ سے شفایاب ہوئے ہیں۔ (حقیقۃ الوحی صفحہ ٧٢ اور حاشیہ تریاق القلوب ضمیمہ نمبر ٣ صفحہ ١٦٨ و ١٧٧)

٢؎ (کہ وقتِ تو نزدیک رسید) یعنی تیرا وقت نزدیک آ پہنچا ہے اور محمدیوں کے پاؤں ایک بہت اُونچے مینار پر محکم ہو گئے ہیں۔

٣؎ خُدا تعالیٰ شرک سے پاک ہے یہ کلمہ بطور استعارہ کے ہے۔ چونکہ اس زمانہ میں ایسے ایسے الفاظ سے خداوند

تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات طبع چہارم صفحہ 547-548-549 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 414 پر درج ہے

Back

صفحہ 1028

حوالہ نمبر 438

أَوْلِيَاءُ اللهِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ. إِنَّا نَجَّيْنٰكَ نَجَّيْنٰكَ. وَكَلَّمَنَا الْمَيِّتُ تیرے دوست وہ ہیں جو دنیا اور آخرت میں میرے دوست ہیں ۔ ہم نے تجھے نجات دی ہم نے تجھے نجات دی اور ہم سے مردے أَجَابَتْ. مَنْ عَادٰى وَلِيًّا لِيْ فَقَدْ اٰذَنْتُهُ بِالْحَرْبِ. إِنِّي مَعَ الرَّسُوْلِ أَقُوْمُ نے بات کی اور اس نے جواب دیا ۔ جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی میں نے اس سے لڑائی کی تیاری کی ۔ میں رسول کے ساتھ کھڑا وَ اَلُوْمُ مَنْ يَّلُوْمُهُ وَ اُخْطِئُكَ مَا يُؤْذِيْكَ وَ يَاْتِيْكَ الْفَرَجُ. سَلَامٌ عَلٰى ہوں گا اور اس کو ملامت کروں گا جو اس کو ملامت کرے ۔ تیرے پاس سے ہر ایک ایذاء دور کی جائے گی ۔ اور تیری کشائش آئے گی ۔ إِبْرَاهِيْمَ ۙ صَافَيْنَاهُ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ ۙ تَفَرَّدَ دَاوُدُ بِالْفَقْرِ ۙ فَأَنْتُمُ الَّذِيْنَ ابراہیم پر سلام ۔ ہم نے اس سے صاف دلی کا معاملہ کیا اور اس کو غم سے نجات دی ۔ داؤد اکیلا فقیر ہے ۔ سو تم اس ابراہیم تَفَرَّدُوْا بِيْ. هٰذَا مُنْزَلٌ. إِنِّيْ أَنْزَلْتُهُ قَرِيْبًا مِّنَ الْقَادِيَانِ ۖ وَ بِالْحَقِّ کے مانند ہو جو مجھ سے اکیلا ہو گیا ۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں میں نے اس کو قادیان کے قریب اتارا ہے اور سچی بات أَنْزَلْنَاهُ وَبِالْحَقِّ نَزَلَ ۖ صَدَقَ اللهُ وَ رَسُوْلُهُ ۖ وَكَانَ أَمْرُ اللهِ مَفْعُوْلًا اُتاری ہے اور سچی بات کے ساتھ اُترا ہے خدا اور اس کے رسول نے سچ بولا ۔ اور خدا کا ارادہ پورا ہو کر ہی تھا ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ جَعَلَكَ الْمَسِيْحَ ابْنَ مَرْيَمَ ۖ لَا يُسْئَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَ اس اللہ کی حمد ہے جس نے تجھے مسیح بن مریم بنایا ہے ۔ وہ اپنے کاموں سے پوچھا نہیں جاتا اور هُمْ يُسْئَلُوْنَ ۖ أَشْرَكَ اللهُ حَقًّا عَلٰى حَقٍّ ۖ لوگ پوچھے جاتے ہیں۔ اللہ نے تجھے شریک حق پر حق دیا۔ آسمان سے کئی تخت اُترے پر تیرا تخت سب سے اوپر بچھایا گیا ۔ يُرِيْدُوْنَ أَنْ يُّطْفِئُوْا نُوْرَ اللهِ ۖ اَلَا اِنَّ حِزْبَ اللهِ ارادہ کریں گے کہ خدا کے نور کو بجھا دیں ۔ خبردار ہو کہ اللہ ہی کی جماعت هُمُ الْغَالِبُوْنَ. لَا تَرْتَعِدْ اِنَّكَ أَنْتَ الْأَعْلٰى ۖ لَا تَخَفْ ۖ إِنِّيْ لَا يَخَافُ لَدَيَّ غالب ہو گی ۔ کچھ خوف مت کر تو ہی غالب ہو گا ۔ کچھ خوف مت کر میرے دربار میں ڈرتے نہیں ۔ میں الْمُرْسَلُوْنَ ۖ إِنِّي اصْطَفَيْتُكَ يُرِيْدُوْنَ أَنْ يُّطْفِئُوْا نُوْرَ اللهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَ اللهُ مُتِمُّ نُوْرِهٖ نے تجھے چن لیا ہے وہ ارادہ کریں گے کہ اپنے منہ کی پھونکوں سے خدا کے نور کو بجھا دیں اور خدا اپنے نور کو پورا کریگا

بقیہ حاشیہ:۔ یہاں اللہ نے حضرت مریم کو فرمایا ہے کہ اے مریم میں تجھے ایک کلمہ کی بشارت دیتا ہوں اس سے بڑھ کر اور کیا کبریاء ہو گی جسے استعمال کرنا یعنی ایک نبی کو الٰہی کلمہ ہونے کا بھی کہہ دیا ہے جس سے مسیح کو یہ دعویٰ ہو گیا کہ میں ہی خدا ہوں حالانکہ اس امت میں ایک بندے کی نسبت اس سے بڑھ کر ایسے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں ۔۱۲ (حقیقۃ الوحی صفحہ ۹۶ ، حاشیہ ۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۹۹)

تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات طبع چہارم صفحہ 547-548-549 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 414 پر درج ہے

صفحہ 1029

حوالہ نمبر 439

یہ اُردو عبارت بھی الہامی ہے پھر بعد اس کے ایک اور انگریزی الہام ہے اور ترجمہ اس کا الہامی نہیں۔.. ... فقروں کی ترتیب مجھ کو بہت صحیح معلوم نہیں اور بعض الفاظ میں فقرات کا تقدیم تاخیر بھی ہو جاتا ہے۔... ... اور وہ الہام یہ ہیں:۔ دُوَآلِ مِن شُڈ بی اینگری بَٹ گاڈ اِز وِدْ یُو۔ ہِی شَیل ہِلْپ یُو۔ وَرڈس آف گاڈ کین ناٹ ایکس چینج ۔ ترجمہ :۔ اگر تمام آدمی ناراض ہوں گے لیکن خدا تمہارے ساتھ ہوگا۔ وہ تمہاری مدد کرے گا۔ اللہ کے کلام بدل نہیں سکتے۔ پھر بعد اس کے ایک فقرہ الہام انگریزی میں بھی ہے کچھ تو معلوم ہے اور وہ یہ ہے :۔

آئی شیل ہِلْپ یُو ۱؎

مگر بعد اس کے یہ ہے :۔

یُو ہَیو ٹو گُو اَمرت سَر ۲؎

پھر ایک فقرہ ہے جس کے معنے معلوم نہیں اور وہ یہ ہے :۔

ہی ہالٹس اِن دی ضلع پشاور ۳؎

(مکتوب ۱۳، ۱۸۸۴ء بحوالہ مکتوبات احمدیہ جلد اول صفحہ ۶۸ تا ۶۹)

جنوری ۱۸۸۴ء

"ابتداء میں جب یہ کتاب تالیف کی گئی تھی اُس وقت اس کی کوئی اور صورت تھی۔ پھر بعد اُس کے قدرت الہیہ کی ناگہانی تجلی نے اس احقر عباد کو موسیٰ کی طرح ایک ایسے عالم سے خبر دی جس سے پہلے خبر نہ تھی یعنی یہ عاجز بھی حضرت ابن مریم کی طرح اپنے خیالات کی شب تاریک میں سفر کر رہا تھا کہ ایک دفعہ پردہ

٭ یہ آخری غلط معلوم ہوتی ہے۔ کیا Can not exchange کے بجائے Can not change ہے؟۔ (مرتب) ۱؎ میں تیری مدد کروں گا۔ ۲؎ تمہیں امرتسر جانا ہوگا۔ ۳؎ وہ ضلع پشاور میں قیام کرتا ہے۔ Zilla : ضلع کا لفظ انگریزی زبان میں استعمال نہیں ہوتا بلکہ یہ Public Service Inquiries Act Section 8 اور پنجاب کورٹ ایکٹ The Punjab Court Act دیوانی وغیرہ میں ضلع کو ضلع ہی کے لفظ سے انگریزی میں لکھا ہے۔ (حاشیہ مکتوب صفحہ ۶۹ از مرتب)

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 92 طبع چہارم از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 414,415 پر درج ہے

صفحہ 1030

حوالہ نمبر 440

حقیقۃ الوحی ۲۱۶ بعض معترضین کے جواب

تمہاری فرودگاہ کے ارد گرد فرشتے پہرہ دے رہے ہیں پھر بعد اسکے الہام ہوا امن است درمقام محبت سرائے ہا! پھر چند روز کے بعد ایسا اتفاق پڑا کہ اردگرد کے دیہات ۳۰۲ میں سے ایک گاؤں کا باشندہ جو نامی چور تھا چوری کے ارادہ سے ہمارے باغ میں آیا اور اس کا نام بشیرے سنگی تھا۔ رات کا پچھلا حصہ تھا جب وہ اس ارادہ سے باغ میں داخل ہوا۔ مگر موقع نہ ملنے سے ایک پیاز کے کھیت میں بیٹھ گیا اور بہت سی پیاز اُسکی توڑ لی اور ایک ڈھیر لگادیا اور پھر کسی نے دیکھ لیا تب وہاں سے دوڑا۔ اور وہ اس قدر قوی ہیکل تھا کہ اسکو دس آدمی بھی پکڑ نہ سکتے مگر خدا کی پیشگوئی نے پہلے سے اسکو پکڑا ہوا رکھا تھا۔ دوڑنے کے وقت ایک گڑھے میں پڑا جس کا ماتھا پھٹ گیا۔ پھر دو شخصوں کو ساتھ لے کر اُسکے پیچھے جو لوگ چلے گئے اور اس طرح پر یہ تینوں سنگی باوجود اپنی سخت کوشش کے پکڑے گئے اور حوالات میں جاتے ہی سزایاب ہو گئے۔ بعد اسکے ہمارے سکونتی مکان میں سے جو باغ میں ہے جس میں ہم مقرر وقت رہتے تھے ایک بڑا سانپ نکلا جو ایک زہریلا سانپ تھا اور بڑا لمبا تھا۔ یہ بھی اس چور کی طرح اپنی سزا کو پہنچا اور اس طرح پر فرشتوں کی حفاظت کا ثبوت ہمیں دست بدست مل گیا۔ ۳۰۳ نشان ۔ میں انگریزی سے بالکل بے بہرہ ہوں تاہم خدا تعالیٰ نے بعض پیشگوئیوں کو بطور موہبت انگریزی میں میرے پر ظاہر فرمایا جو پیشتر براہین احمدیہ کے صفحہ ۴۸۰ و ۴۸۱ و ۴۸۲ و ۴۸۳ و صفحہ ۵۲۲ میں یہ پیشگوئی جو صفحہ ۵۲۵ میں گذر چکی وہ یہ ہے :۔

I love you. I am with you. Yes I am happy. Life of pain. I shall help you. I can, what I will do. We can, what we will do. God is coming by His army. He is with you to kill enemy. The days shall come when God shall help you. Glory be to the Lord. God maker of earth and heaven.

یہ الہام پیشگوئی کے بعض ٹکڑے تو متفرق تھے۔ اور پورا الہام یعنی پیشگوئی جو ہے وہ تمام عبارت کے اوپر ہے۔ اور یہ ترجمہ ساتھ نہ تھا

حقیقتہ الوحی صفحہ 304 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 316 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 415 پر درج ہے

Back

صفحہ 1031

حوالہ نمبر 441

براہین احمدیہ ۵۷۱ پہلی فصل

اور واقعات سے بیخبر اور ناواقف قرار دے سکیں۔ بلکہ وہ تمام لوگ ایسے تھے جن میں ۴۸۰ آنحضرت نے ابتدا عمر سے نشو و نما پایا تھا اور ایک حصہ کلاں عمر اپنی کا اُن کی مخالطت اور مصاحبت میں بسر کیا تھا پس اگر فی الواقعہ جناب ممدوح امّی نہ ہوتے تو ممکن نہ تھا کہ اپنے امّی ہونے کا اُن لوگوں کے سامنے نام بھی لے سکتے

بقیہ حاشیہ در حاشیہ نمبر ۲ تنزل کی تعلیم دی اور فرمایا اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ إِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ ۔ اسکے یہ معنے ہیں کہ اے مبدء تمام فیوض ہم تیری ہی پرستش کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں۔ یعنی تمام وجود میں اپنے کچھ بھی نہیں کر سکتے جبتک تیری توفیق اور تائید شامل حال نہ ہو۔ پس خدائے تعالیٰ نے ۴۸۱ دُعا میں ہوش دلانے کیلئے دو محرک بیان فرمائے۔ ایک اپنی عظمت اور رحمت شاملہ دوسرے بندوں کا عاجز اور ذلیل ہونا ۔ اب جاننا چاہیے کہ یہی دو محرک ہیں جن کا دُعا کے وقت خیال میں لانا دُعا کرنیوالوں کیلئے نہایت ضروری ہے جو لوگ دُعا کی کیفیت سے کسی قدر چاشنی حاصل رکھتے ہیں اُنہیں خوب معلوم ہے کہ بغیر جوش ہونے ان دونوں محرکوں کے دُعا ہو ہی نہیں سکتی اور بجز اُن کے آتش شوق الٰہی دُعا میں اپنے شعلوں کو بلند نہیں کرتی یہ بات نہایت ظاہر ہے

بقیہ حاشیہ نمبر ۳ زبان خدا کے ہاتھ میں ایک آلہ ہوتا ہے جس طرح اور جس طرف چاہتا ہے اُس آلہ کو اپنے ارادہ کے پھیرتا ہے اور اکثر ایسا ہی ہوتا ہے کہ لفظ زور کے ساتھ اور ایک جلدی سے نکلتے آتے ہیں اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جیسے کوئی لطف اور ناز سے قدم رکھتا ہے اور ایک قدم پر ۴۸۲ ٹھہر کر پھر دوسرا قدم اُٹھاتا ہے اور چلنے میں اپنی خوش وضع دکھلاتا ہے اور ان دونوں اندازوں کے اختیار کرنے میں حکمت ہے تاکہ ربانی الہام کو نفسانی اور شیطانی خیالات سے امتیاز کلی حاصل رہے اور خداوند مطلق کا الہام اپنی جلالی اور جمالی برکات سے فی الفور شناخت کیا جائے۔ ایک دفعہ کی حالت یاد آئی ہے کہ انگریزی میں اوّل یہ الہام ہوا۔ آئی لَو یُو یعنے میں تم سے محبت رکھتا ہوں۔ پھر یہ الہام ہوا۔ آئی ایم وِدْ یُو یعنے میں تمہارے ساتھ ہوں پھر الہام ہوا۔ آئی شیل ہیلپ یُو یعنے میں تمہاری مدد کرونگا۔ پھر الہام ہوا

یہ تمام الہامات فرداً فرداً براہین احمدیہ میں درج ہیں اور بعض ان میں سے حصص سابقہ میں چھپ چکے ہیں۔ منہ

براہین احمدیہ صفحہ 480 مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 571، 572 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 415 پر درج ہے

صفحہ 1032

حوالہ نمبر 441

براہین احمدیہ ۵۷۲ پہلا حصہ جن پر کوئی حال اُن کا پوشیدہ نہ تھا اور جو ہر وقت اس گھات میں لگے ہوئے تھے کہ کوئی خلاف گوئی ثابت کریں اور اُس کو مشتہر کریں۔ جن کا عناد اس درجہ تک پہنچ چکا تھا کہ اگر بس چل سکتا تو کچھ جھوٹ موٹ سے ہی ثبوت بنا کر پیش کر دیتے اور اسی جہت سے اُن کو اُن کی ہر ایک بدذاتی پر ایسا مسکت جواب

۴۸۱

دیا جاتا تھا کہ وہ ساکت اور لاجواب رہ جاتے تھے مثلاً جب مکہ کے بعض

بقیہ حاشیہ حاشیہ در حاشیہ نمبر ۲

کہ جو شخص خدا کی عظمت اور جبروت اور قدرت کاملہ کو یاد نہیں رکھتا وہ کسی طرح سے خدا کی طرف رجوع نہیں کر سکتا۔ اور جو شخص اپنی عاجزی اور درماندگی اور مسکینی کا اقراری نہیں اُس کی رُوح اس مولیٰ کریم کی طرف ہرگز جھک نہیں سکتی۔ غرض یہ ایسی صداقت ہے جس کے سمجھنے کیلئے کوئی عمیق فلسفہ درکار نہیں بلکہ جب خدا کی عظمت اور اپنی ذلّت اور عاجزی محقق طور پر دل میں منقش ہو تو وہ حالت خاصہ خود انسان کو سمجھا دیتی ہے کہ خالص دُعا کرنے کا وہی ذریعہ ہے سچے پرستار خوب سمجھتے ہیں کہ حقیقت میں انہیں دو چیزوں کا تصوّر دُعا کیلئے ضروری ہے یعنی اوّل اس بات کا تصوّر کہ خدائے تعالیٰ ہر یک قسم کی ربوبیت اور پرورش اور رحمت اور بدلہ دینے پر قادر ہے اور اُس کی یہ صفات کاملہ ہمیشہ اپنے کام میں لگی ہوئی ہیں۔

۴۸۲

بقیہ حاشیہ حاشیہ در حاشیہ نمبر ۲

آئی کین ویٹ آئی ول ڈو۔ یعنے میں کر سکتا ہوں جو چاہوں گا۔ پھر بعد اسکے بہت ہی زور سے جس سے بدن کانپ گیا یہ الہام ہوا۔ ہی کین ویٹ وی ول ڈو۔ یعنے ہم کر سکتے ہیں جو چاہیں گے اور اُسوقت ایک ایسا جلالی تلفظ معلوم ہوا کہ گویا ایک انگریز ہے جو سر پر کھڑا ہوا بول رہا ہے اور باوجود پُر دہشت ہونے کے پھر اس میں ایک لذت تھی جس سے رُوح کو معنے معلوم کرنے سے پہلے ہی ایک تسلّی اور تشفّی ملتی تھی۔ اور یہ انگریزی زبان کا الہام اکثر ہوتا رہا ہے۔ ایک دفعہ ایک طالب العلم انگریزی خواں ملنے کو آیا۔ اس کے رُوبرو ہی یہ الہام ہوا۔ دِس اِز مائی اینیمی۔ یعنے یہ میرا دشمن ہے۔ اگرچہ معلوم ہو گیا تھا کہ یہ الہام اُسی کی نسبت ہے۔ مگر اُس سے یہ معنی بھی دریافت

براہین احمدیہ صفحہ 480 مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 572-571 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 415 پر درج ہے

Back

صفحہ 1033

حوالہ نمبر 442

باب چہارم ۹۹ حقیقۃ الوحی

الحق والعلی وکان الله نزل من السماء و انا نبشرک بغلام حق کا ظہور ہو گا گویا آسمان سے خدا اترے گا ہم ایک لڑکے کی تجھے بشارت دیتے ہیں نافلۃ لک۔ سبحک اللہ ورافاک۔ وعلمک مالم تعلم جو تیرا پوتا ہو گا خدا نے ہر ایک عیب سے تجھے پاک کیا اور تجھ پر شفقت کی اور وہ معارف تجھے سکھائے جن کو تجھے علم نہ تھا انہ کریم یمشی امامک وعادی لک من عادی۔ وقالوا ان ھذا وہ کریم ہے وہ تیرے آگے آگے چلے گا اور تیرے دشمنوں کا وہ دشمن ہو گا اور کہیں گے کہ یہ تو الا اختلاق۔ الم تعلم ان اللہ علی کل شیء قدیر۔ یلقی الروح ایک بناوٹ ہے ۔ اے معترض کیا تو نہیں جانتا کہ خدا ہر ایک بات پر قادر ہے جس اپنے بندہ پر وہ علی من یشاء من عبادہ۔ کل برکۃ من محمد صلی اللہ علیہ وسلم چاہتا ہے اپنی روح ڈالتا ہے ۔ یعنی منصب نبوت اس کو بخشتا ہے ہر ایک برکت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہے۔ فتبارک من علّم وتعلّم۔ خدا کی فیلنگ اور خدا کی پس بہت برکتوں والا ہے وہ جس نے سکھلایا اور جس نے سیکھا۔ پھر حاشیہ پر فرماتے ہیں خدا کی فیلنگ اور خدا کی مہر نے کتنا بڑا کام کیا؟ انی معک ومع اھلک اور اسکی محسوس کرنے اور ہمدردی کی پرزور مہر نے اس وقت مقدمہ کا فیصلہ ہی کر دیا۔ کہ میں تیرے ساتھ ہوں اور تیرے اہل کے ساتھ ہوں ومع کل من احبک۔ تیرے لئے میرا نام چمکا ۔ اور ہر ایک کے ساتھ جو تجھ سے پیار کرتا ہے۔ تیرے نام کو چمکاؤں گا۔ روحانی عالم تیرے پر کھولا گیا۔ فبصرک الیوم حدید۔ روحانی عالم تیرے پر کھولا گیا۔ پس تیری نظر آج تیز ہے ۔

حاشیہ :۔ وہی الہام کہ خدا کی فیلنگ اور خدا کی مہر نے کتنا بڑا کام کیا اس کے یہ معنی ہیں کہ خدا نے اس زمانہ میں محسوس کیا کہ یہ ایسا فاسد زمانہ آگیا ہے جس میں ایک عظیم الشان مصلح کی ضرورت ہے اور خدا کی مہر نے یہ کام کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر لگوا کر آنے والا اس درجہ کو پہنچا کہ ایک پہلو سے وہ امتی ہوا اور ایک پہلو سے نبی کہلایا۔ یہ سب اس مہر کی برکت ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے

حقیقۃ الوحی صفحہ 99 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 99 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 416 پر درج ہے

صفحہ 1034

حوالہ نمبر 443

۶۴۰

۱۷؍ مئی ۱۹۰۸ء "مکن تکیہ بر عمر ناپایہ دار" ۱؎

(بدر جلد ۷ نمبر ۲۲ مورخہ ۲؍ جون ۱۹۰۸ء صفحہ ۴)

۲۰؍ مئی ۱۹۰۸ء "اَلرَّحِيْلُ ثُمَّ الرَّحِيْلُ وَ الْمَوْتُ قَرِيْبٌ" ۲؎

(بدر جلد ۷ نمبر ۲۲ مورخہ ۲؍ جون ۱۹۰۸ء صفحہ ۴)

تَـــــــــــــمَّ

٭ ٭ ٭

۱؎ (ترجمہ از مرتب) ناپایہ دار عمر پر بھروسہ مت کر۔ نوٹ :۔ اسی الہام میں سنہ وفات بھی پایا گیا ہے چنانچہ اس کے اعداد ۱۳۲۶ ہیں۔ (مرتب) ۲؎ (ترجمہ) اب کوچ کا وقت آگیا، ہاں کوچ کا وقت آگیا اور موت قریب ہے۔

تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 640 طبع چہارم از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 416 پر درج ہے

صفحہ 1035

حوالہ نمبر 444

۶۴۸

(۱۴) رحمت اور فضل کا کلام بشر کا کلام "

(بدر جلد ۷ نمبر ۱۵ مورخہ ۲۳؍اپریل ۱۹۰۸ء صفحہ ۴۔ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۲۷ مورخہ ۱۴؍اپریل ۱۹۰۸ء صفحہ ۴)

۱۸؍اپریل ۱۹۰۸ء ۱؎ " (۱) إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا (۲) زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ ۔ فَحَقَّ عَذَابٌ وَّتَدَلّٰی (۳) بشریٰ "

(الحکم جلد ۱۲ نمبر ۲۹ مورخہ ۱۸؍اپریل ۱۹۰۸ء صفحہ ۱)

۲۲؍اپریل ۱۹۰۸ء " (۱) میرے لئے ایک نشان آسمان پر ظاہر ہوا۔ (۲) خیر و خوبی کا نشان ۔ (۳) میری مُرادیں پوری ہوئیں "

(بدر جلد ۷ نمبر ۱۷ مورخہ ۲۳؍اپریل ۱۹۰۸ء صفحہ ۷ ۔ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۲۶ مورخہ ۲۲؍اپریل ۱۹۰۸ء صفحہ ۲)

۲۶؍اپریل ۱۹۰۸ء " مَبَاش ایمن از بازیِ روزگار ۲؎ "

(بدر جلد ۷ نمبر ۱۸ مورخہ ۳۰؍اپریل ۱۹۰۸ء صفحہ ۵۔ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۰ مورخہ ۲۶؍اپریل ۱۹۰۸ء صفحہ ۱)

۲۹؍اپریل ۱۹۰۸ء " اِنِّیْ اُحَافِظُ كُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ ۳؎ "

(بدر جلد ۷ نمبر ۱۸ مورخہ ۶؍مئی ۱۹۰۸ء صفحہ ۵۔ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۱ مورخہ ۶؍مئی ۱۹۰۸ء صفحہ ۱)

۱۹۰۸ء " جو کچھ خدا نے مجھے خبر دی ہے وہ یہی ہے کہ اگر دُنیا اپنی بَدعملی سے باز نہیں آئے گی اور بُرے کاموں سے توبہ نہیں کرے گی تو دُنیا پر سخت سخت بلائیں آئیں گی اور ایک بَلا ابھی ٹلی نہیں ہو گی کہ دوسری بَلا ظاہر ہو جائے گی۔ آخر انسان نہایت تنگ ہو جائیں گے کہ یہ کیا ہونے والا ہے اور بَہُتیرے مستی کے پیچ میں آکر دیوانوں کی طرح ہو جائیں گے " (پیغامِ صلح صفحہ ۶ ۔ روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۴۳۴)

؎ ۱ ترجمہ از مرتب : ہم نے تجھے کھلی فتح دی ہے۔ (۲) زمین پر زلزلہ آئے گا پس عذاب واقع ہو گا اور اُتر آئے گا۔ (۳) بشارت ہے۔ ؎ ۲ ترجمہ از مرتب : زمانے کے کھیل سے بے خوف نہ رہ۔ ؎ ۳ ترجمہ از مرتب : میں ان تمام لوگوں کی حفاظت کروں گا جو اس دار میں ہیں۔

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 638 طبع چہارم از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 416 پر درج ہے

صفحہ 1036

حوالہ نمبر 445 ۳۳۴

بعض لوگ اس کی راہ پر بیٹھ گئے ہیں۔ اتنے میں وہ حاکم جس کا میں نے آگے ذکر کیا ہے گھوڑے پر سوار ہے اور بہت ناراض ہے کہتا ہے یہ لوگ میری راہ پر کیوں بیٹھ گئے۔ اس فقیر اور اسکے مریدوں کو پکڑ لاؤ۔

(کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۲۹)

۱۸ جون ۱۹۰۳ء

"درشت اور دلدوز کلمے سننے پڑیں گے۔ ۱؎ اِنَّمَا اَمْرُهُ اِذَا اَرَادَ شَيْئًا اَنْ يَّقُوْلَ لَهُ كُنْ فَيَكُوْنُ ۔ تَجَلّٰى يَتَلَوّٰى طَلَّ ۔ قُلْ اَمْرٌ تَجَدَّلَ ۔ سَاَجْعَلُ لَكَ سُهُوْلَةً فِيْ اَمْرِكَ "

(کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۲۹)

۱۹ جون ۱۹۰۳ء

والدہ محمود کی طرف سے ۔ اَبْكِيْ وَ اَتَلَوّٰى ۲؎ مِنْ جَانِبِ اللّٰهِ ۔ اُرِيْدُ اَنْ اُخَلِّصَ ۳؎

(کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۲۹)

۲۱ جون ۱۹۰۳ء

" اَنَا الرَّحْمٰنُ فَاطْلُبْنِيْ تَجِدْنِيْ ۴؎ "

(کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۲۹)

۲۲ جون ۱۹۰۳ء

" اَحْسِنْ وِدَادَكَ ۔ سَاَجْعَلُ لَكَ سُهُوْلَةً فِيْ اَمْرِكَ ۔ ۵؎ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ۶؎ "

(کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۲۹)

۱؎ ترجمہ از مرتب: مشیّت الٰہی بھی کیسی غیرت سے اور تیز تیز آمدوں پر ہے کہ جب تو کسی چیز کا ارادہ کرے اور اسے کہے کہ ہو جا تو وہ ہو جاتی ہے۔ تاہم برکت اس میں ہے۔ چکرّات بدلتی ہوتی ہے، عنقریب میں تیرے لئے ہر امر میں سہولت کر دوں گا۔ ۲؎ ترجمہ از مرتب: ایک شخص روتا ہے بیتاب ہو رہا ہے۔ ۳؎ ترجمہ از مرتب: میں مخلصی دینا چاہتا ہوں۔ ۴؎ ترجمہ از مرتب: میں رحمٰن خدا ہوں۔ تو مجھے تلاش کرے گا تو پائے گا۔ ۵؎ ترجمہ از مرتب: اپنی دوستی کو سنبھال، میں عنقریب تیرے معاملے میں سہولت پیدا کر دوں گا۔ ۶؎ ترجمہ از مرتب: تم نیکی کو ہرگز حاصل نہیں کر سکتے جب تک کہ تم اپنی پسندیدہ چیزوں کو خرچ نہ کرو۔

تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 434 طبع چہارم از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 417 پر درج ہے

صفحہ 1037

حوالہ نمبر 446

۱۰۴

کے کام ہیں مگر افسوس کہ ہماری قوم دیکھتی ہے پھر آنکھ بند کر لیتی ہے۔"

(مکتوب بنام میر عباس علی صاحب لدھیانوی مندرجہ مکتوبات احمدیہ جلد پنجم حصہ اول صفحہ ۲۶ تا ۲۹)

(ب) عرصہ چھ ماہ کا ہوتا ہے کہ ایک خواب آئی تھی کہ چار لڑکے ہوں گے اور چوتھے لڑکے کا عقیقہ پیر کے دن ہوگا۔

(از مکتوب بنام ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مورخہ ۲۶ جون ۱۸۹۹ء)

۱۸۸۵ء

"میاں عبداللہ سنوری جو علاقہ پٹیالہ میں پٹواری ہیں ایک مرتبہ ان کو ایک کام پیش آیا جس کے ہونے کے لئے انہوں نے ہر طرح سے کوشش کی اور بعض وجوہ سے ان کو اس کام کے ہو جانے کی امید بھی ہو گئی تھی۔ پھر انہوں نے دعا کے لئے ہماری طرف التجا کی ہم نے جب دعا کی تو بلا توقف الہام ہوا :-

"اے بسا آرزو کہ خاک شدہ"

تب میں نے اُن کو کہہ دیا کہ یہ کام ہرگز نہیں ہوگا اور وہ الہام سنا دیا اور آخر کار ایسا ظہور میں آیا اور کچھ ایسے موانع پیش آئے کہ وہ کام ہوتا ہوتا رہ گیا"

(نزول المسیح صفحہ ۲۳۳ - روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۶۱۲)

۲۷، ۲۸ نومبر ۱۸۸۵ء

"۲۸ نومبر ۱۸۸۵ء کی رات کو یعنی اُس رات کو جو ۲۸ نومبر ۱۸۸۵ء کے دن سے پہلے آئی ہے اس قدر شہب کا تماشا آسمان پر ظاہر ہوا میں نے اپنی تمام عمر میں اس کی نظیر کبھی نہیں دیکھی اور آسمان کی فضا میں اس قدر ہزار ہا شعلے ہر طرف چل رہے تھے جو اُس رنگ کا دنیا میں کوئی بھی نمونہ نہیں تا ایں کہ میں کروڑہا کہوں ۔ مجھ کو یاد ہے کہ اُس وقت یہ الہام بکثرت ہوا تھا کہ

وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللهَ رَمَىٰ

سو اُس دن کو بھی شہب سے بہت مناسبت تھی۔

یہ شہب ثاقبہ کا تماشا جو ۲۷ نومبر ۱۸۸۵ء کی رات کو ایسا وسیع طور پر ہوا جو یورپ اور امریکہ اور ایشیا کی عام اخباروں میں بڑی حیرت کے ساتھ چھپ گیا لوگ خیال کرتے ہوں گے کہ یہ بے فائدہ عبثا لیکن خداوند کریم جانتا ہے کہ سب سے زیادہ غور سے اس تماشہ کے دیکھنے والا اور پھر اس سے حظ اور لذت اُٹھانے والا میں ہی تھا میری آنکھیں بہت دیر تک اس تماشہ کے دیکھنے کی طرف لگی رہیں اور وہ سلسلہ رمی شہب کا شام سے ہی شروع ہو گیا تھا جس کو میں صرف الہامی بشارتوں کی وجہ سے بڑے سرور کے ساتھ دیکھتا رہا کیونکہ میرے دل میں ڈالا گیا تھا کہ یہ تیرے لئے نشان ظاہر ہوا ہے۔

اور پھر اُس کے بعد یورپ کے لوگوں کو وہ ستارہ دُمدار دکھایا جو حضرت مسیح کے ظہور کے وقت میں نکلا تھا۔

لے "جو ہر قسم کے پادریوں کی قوم میں ایک زلزلہ ڈالنے والا ہے۔"

(حقیقة الوحی صفحہ ۲۰۰ - روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۲۰۸)

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 104 طبع چہارم از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 417 پر درج ہے

صفحہ 1038

حوالہ نمبر 447

۶۸۱

سبع مثانی کی تحقیق کا ذکر ہو تو کسی نے احمد کا نام بتلایا اور کسی نے دوسری امتوں کا اور کسی نے کہا کہ الحمد مستقلہ اور دو مرتبہ نازل ہوئی اس لئے دونوں مقام پر نازل ہونے کے باعث اس کا نام سبع مثانی ہوا حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ممکن ہے کہ ایسا ہی ہو ہمارے نزدیک اس سورۃ کا ایک بار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نزول ہونا اور دوسری بار مہدی و مسیح موعود پر نزول ہوتا ہے جس کے سبب سے اس کا نام سبع مثانی ہوا ۔ لے

(مکتوب صاحبزادہ پیر سراج الحق صاحب نعمانیؒ)

اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِىْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ ۔ نَحْنُ اَوْلِيٰٓـؤُكُمْ فِى الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِى الْاٰخِرَةِ ۚ " ؎۲

(مکتوب صاحبزادہ پیر سراج الحق صاحب نعمانیؒ ۔ البشریٰ جلد دوم ص ۲۴ و

الحکم جلد ۴ نمبر ۴۲ مورخہ ۲۴؍ نومبر ۱۹۰۰ء صفحہ ۱۰)

" نُوْرُ الدِّيْنِ "

(مکتوب پیر سراج الحق صاحب نعمانیؒ ۔ البشریٰ جلد دوم ص ۲۴)

" پِنِّی پِنِّی کُھجِیّے " ؎۳

(مکتوب پیر سراج الحق صاحب نعمانیؒ ۔ البشریٰ جلد دوم ص ۸۲)

لے یہ مکتوب قلمی رجسٹر صیغہ تصنیف صدر انجمن احمدیہ ربوہ میں بوقت تیاری تذکرہ طبع دوم موجود تھا جس سے خاکسار نے نقل کیا مگر اب کہیں غائب ہے۔ (مرتب)

؎۲ ترجمہ از مرتب : یقیناً وہ لوگ جنہوں نے کہا ہمارا ربّ اللہ ہے پھر اس پر مضبوطی سے قائم رہے ان پر فرشتے اترتے ہیں، یہ تسلی دیتے ہوئے کہ خوف نہ کھاؤ اور نہ غمگین ہو اور بشارت حاصل کرو اُس جنت کی جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا تھا ہم تمہارے دوست و مددگار ہیں اس دُنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی۔

نوٹ :- الحکم میں یہی ذکر ہے ہاں البشریٰ مطبوعہ میں فِى الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِى الْاٰخِرَةِ کی جگہ فِى الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ درج ہے اور صحیفہ مذکورہ بالا میں جن کی جگہ تَعَالٰی اِلَیْہِ کے الفاظ ہیں۔ (مرتب)

؎۳ پِنّی ایک قصبہ کا نام ہے جو ضلع گورداسپور میں ہوتا تھا مگر خط تقسیم کے وقت ضلع امرتسر میں چلا گیا۔ (مرتب)

تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 681 طبع چہارم از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 417 پر درج ہے

صفحہ 1039

حوالہ نمبر 448

٦٤٦

فرمایا :۔ یہ پنجابی فقرہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ سدھی طبع آدمی دوست ہو گیا ہے۔

(بدر جلد ٦ نمبر ٤٢ صفحہ ٢ مورخہ ٢٩ اکتوبر ١٩٠٨ء ۔ الحکم جلد ١٢ نمبر ٧١ مورخہ ٢٤ دسمبر ١٩٠٨ء صفحہ ٣)

ایام جلسہ ١٩٠٤ء يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ أَطْعِمُوا الْجَائِعَ وَالْمُعْتَرَّ :

(بدر جلد ١ نمبر ٤ مورخہ ٢٩ جنوری ١٩٠٥ء صفحہ ٣ ۔ الحکم جلد ٩ نمبر ٤ مورخہ ٣١ جنوری ١٩٠٥ء صفحہ ٢)

١؎ (ترجمہ) تحقیق تیرا دشمن جو ہے وہی ابتر ہے۔ ٢؎ (ترجمہ) وقت آگیا۔ ٣؎ (ترجمہ از مرتب) یعنی اے نبی ! بھوکوں اور محتاجوں کو کھانا کھلاؤ۔

(نوٹ) ”بعض صوفیوں کی اصطلاح میں لنگر خانے کے مہتمم یا منتظم کو مرتب (اَی مُرَتِّب) کہا جاتا ہے۔ درویش کافی تعداد میں تھے اور وقت بھی سخت تھا۔ جگہ تنگ تھی، جو وقت پر آئے وہی ایک وقت میں کھاسکتے تھے۔ اس واسطے بہت دیر ہو گئی اور بعض مصلی بغیر کھانا کھائے کے سونے کے مکانوں میں چلے گئے۔ ۔ ۔ خدا تعالیٰ کی یہ نامعلوم شفقتیں دیکھو کہ خاص بندے کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا اور براہ راست مخاطب ہے۔ اللہ کے رسول کے پاس رات کو پیام پہنچا کہ اَطْعِمُوا الْجَائِعَ وَالْمُعْتَرَّ بھوکے اور مضطر کو کھانا کھلاؤ صبح سویرے حضور نے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ رات کو بعض مہمان بغیر کھائے سوگئے تھے۔ آپ نے خزانچی لنگر کو بلایا اور بہت تاکید کی کہ مہمانوں کی ہر طرح سے خاطر داری کی جاوے اور ان کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو“

(بدر جلد ١ نمبر ٤ مورخہ ٢٩ جنوری ١٩٠٥ء صفحہ ٣)

حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب رضی اللہ عنہ اسی الہام کے متعلق فرماتے ہیں :۔ ”٢٧ دسمبر ١٩٠٤ء کا واقعہ ہے کہ صبح کے آٹھ بجے کھانا کھانے کے بعد یہ عاجز جلسہ میں تقریروں کے سننے میں لگ گیا۔ اسی روز قریباً ایک بجے تقریر بھی سنی اور خوب تسلی حاصل ہوئی۔ نماز مغرب و عشاء (جمع کردہ) ادا کی اور مسجد مبارک میں حسب الارشاد مجلس معتمدین صدر انجمن کے جنرل اجلاس میں شامل ہونے کی غرض سے بیٹھ گیا کہ اجلاس کے بعد کھانا کھالوں گا۔ اعلان کے مطابق اس میں جماعتوں کے عہدہ صاحبان اور سیکرٹریوں کی شمولیت ضروری تھی۔ میں اس وقت کمزور تھا۔ بھوکا تھا کہ صبح آٹھ بجے کا کھانا کھایا ہوا تھا۔ دن میں اور کچھ کھانے کو میسر نہ آیا تھا۔ میں دالان میں تھا۔ شاید ایک آدھ کے سوا باقی تمام احباب سنتوں وغیرہ سے فارغ ہو کر مسجد سے چلے گئے تھے۔ اس حال کے پیش نظر نفس طعنہ زنی کرتا تھا کہ اٹھ کر چلا جا کہ یقیناً ممبران صدر انجمن احمدیہ کھانا کھانے کے لئے چلے گئے ہیں اور سب لوگ لنگر میں کھانا کھا رہے ہیں تو بھی جا کر کھانا کھا کر چلا آ۔ لیکن غریب دل ڈرا کہ مبادا

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 631 طبع چہارم از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 417 پر درج ہے

صفحہ 1040

حوالہ نمبر 449

۲۰؍دسمبر ۱۸۸۲ء (الف) "ایک عجیب کشف سے مجھ کو ۲۰؍دسمبر ۱۸۸۲ء بروز شنبہ ایک دفعہ ہوا۔ آپ کے شہر میں سخت تنگی ہورہی تھی اور ایک شخص مجہول الاسم۱؎ کی امامت صادقہ خدا نے میرے پر ظاہر کی یا ہاتف آواز دی ہے، اس عالم کشف میں اُس کا نام پتہ و نشان سکونت بتلا دیا، جو اب مجھ کو یاد نہیں۔ ہاں صرف اتنا یاد رہا کہ سکونت خاص لدھیانہ۲؎ اور اُس کے بعد اُس کی صفت میں یہ الہام مجھ کو پیش کیا گیا:

اَصْلُهَا ثَابِتٌ وَّفَرْعُهَا فِى السَّمَاءِ

یعنی اس کی امامت ایسی قوی اور کامل ہے کہ جس میں نہ کچھ تزلزل ہے نہ نقصان ہے۔

(از مکتوبات احمدیہ جلد اول صفحہ ۲ خط بنام میر عباس علی صاحب۳؎)

(ب) میں نے قریب صبح کے کشف کے عالم میں دیکھا کہ ایک کاغذ میرے سامنے پیش کیا گیا اُس پر لکھا ہے کہ

"ایک مرد لدھیانہ میں ہے"

پھر اس کے مکان کا پتہ مجھے بتلایا گیا اور نام بھی بتایا گیا جو مجھے یاد نہیں اور پھر اس کی ارادت اور قوّتِ ایمانی کی یہ تعریف اُسی کاغذ میں لکھی ہوئی دکھائی:

"اَصْلُهَا ثَابِتٌ وَّفَرْعُهَا فِى السَّمَاءِ"

۱؎ میر عباس علی صاحب لدھیانوی۔ ۲؎ لدھیانہ۔ ۳؎ کہ شروع میں ایک صاحب میر عباس علی نام تھے جو بیعت کرنے والوں میں داخل تھے چند روز تک انہوں نے اخلاص میں ایسی ہی ترقی کی کہ اُن کی صفت کے لحاظ سے ایک دفعہ الہام ہوا اَصْلُهَا ثَابِتٌ وَّفَرْعُهَا فِى السَّمَاءِ اس الہام سے صرف اس قدر مطلب تھا کہ اس زمانہ میں وہ بحالتِ استقامت تھے اور ایسے ہی انہوں نے اُس زمانہ میں آثار ظاہر کئے کہ ان کے حُسنِ عقیدت کے ذکر کرنے کو کوئی حد نہ تھا اور ہر ایک میرے خط کو نہایت درجہ متبرک سمجھ کر اپنے ہاتھ سے اس کی نقل کرتے تھے اور لوگوں کو دکھلا کر بیعت کراتے تھے اور اگر ایک خشک ٹکڑا بھی دسترخوان کا ان کو ملتا تو متبرک سمجھ کر کھا جاتے تھے اور سب سے پہلے لدھیانہ سے وہی قادیان میں آئے تھے۔ ایک مرتبہ مجھ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے دکھایا گیا کہ عباس علی ٹھوکر کھائے گا اور برگشتہ ہو جائے گا۔ وہ میرا خط بھی انہوں نے اپنے مکتوبات میں درج کر لیا۔ بعد اس کے جب ان کی حالت بدلی تو انہوں نے مجھ کو کہا کہ مجھ کو اس کشف سے جو میری نسبت ہوا بڑا تعجب ہوا کیونکہ میں تو آپ کے لئے مرنے کو تیار ہوں۔ میں نے جواب دیا کہ جو کچھ آپ کے لئے مقدر ہے وہ پورا ہوگا۔ بعد اس کے جب وہ زمانہ آیا کہ میں نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تو وہ دعویٰ ان کو ناگوار گزرا۔ اوّل دبے دبے دل میں مخالفت کرتے رہے۔ بعد اس کے اس مباحثہ کے وقت کہ جو مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب سے لدھیانہ میں میری طرف سے ہوا تھا وہ اس تقریب سے چند دن میرے پاس رہے تو نوشتہ تقدیر ظاہر ہو گیا اور وہ صریح طور پر بگڑ گئے ۴؎

(حقیقۃ الوحی صفحہ ۳۹۲۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۴۰۷)

۴؎ (ترجمہ از مرتب) اس کی جڑ زمین میں محکم ہے اور اس کی شاخیں آسمان تک پہنچی ہیں۔

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 45 طبع چہارم از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 418 پر درج ہے

صفحہ 1041

حوالہ نمبر 450

مکتوبات احمد ۵۸۳ جلد اوّل

مگر بجز مرضی باری تعالیٰ کیونکر پورا ہو۔ مولوی عبد القادر صاحب موت کو بہت یاد رکھیں اور دلی اخلاص کے حصول میں کوشش کریں اور یہ عاجز بھی کوشش کرے گا۔ والسلام ۲۰؍ نومبر ۱۸۸۳ء مطابق ۱۹ محرم ۱۳۰۱ھ

مکتوب نمبر ۳۶

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ بعد ہٰذا چونکہ اس ہفتہ میں بعض کلمات انگریزی وغیرہ الہام ہوئے ہیں اور اگرچہ بعض ان میں سے ایک ہندو لڑکے سے دریافت کئے ہیں مگر قابل اطمینان نہیں۔ اور بعض منجانب اللہ بطور ترجمہ الہام ہوا تھا اور بعض کلمات شاید عبرانی ہیں۔ ان سب کی تحقیق تنقیح ضرور ہے تا بعد تنقیح جیسا کہ مناسب ہو، اخیر جزو میں کہ اب تک چھپی نہیں درج کئے جائیں۔ آپ جہاں تک ممکن ہو بہت جلد دریافت کر کے صاف خط میں جو پڑھا جاوے اطلاع بخشیں اور وہ کلمات یہ ہیں۔

پریشن، عمر براطوس، بابلاطوس یعنی پڑطوس لفظ ہے یا پلاطوس لفظ ہے۔ بباعث سرعت الہام دریافت نہیں ہوا اور عمر عربی لفظ ہے اس جگہ براطوس اور پریشن کے معنی دریافت کرنے ہیں کہ کیا ہیں اور کس زبان کے یہ لفظ ہیں۔ پھر دو لفظ اور ہیں۔ هُوَ شَعَنَا نَعْسَلُهُ ۲؂ معلوم نہیں کس زبان کے ہیں اور انگریزی یہ ہیں۔

اوّل عربی فقرہ ہے بِمَا دَاوُدُ عَمِلَ بِالنَّاسِ رِفْقًا وَّ اِحْسَانًا۔ یہ ”یومسٹ ڈو ۳؂ سُے وھاٹ آئی ٹولڈ یو“ ۱؂ تم کو وہ کرنا چاہئے جو میں نے فرمایا ہے یہ اُردو عبارت بھی الہامی ہے۔ پھر بعد اس کے ایک اور انگریزی الہام ہے اور ترجمہ اُس کا الہامی نہیں۔ بلکہ اُس ہندو لڑکے نے بتلایا ہے۔ فقرات کی تقدیم تاخیر کی صحت بھی معلوم نہیں۔ اور بعض الہامات میں فقرات کا تقدم تاخر بھی ہو جاتا ہے اُس کو غور سے دیکھ لینا چاہئے اور وہ الہام یہ ہیں۔ ۴؂

۱؂ تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحہ ۸۰ ۲؂ تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحہ ۸۲ ۳؂ مکتوب طبع اوّل میں سہواً یومسٹ ڈو چھپا ہے۔ (مرتب) ۴؂ تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحہ ۸۶

مکتوبات احمد جلد اوّل صفحہ 583, 584 طبع جدید از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 418, 419 پر درج ہے

صفحہ 1042

حوالہ نمبر 450 مکتوبات احمد ۵۸۴ جلد اوّل

”دو آل من مے بی انگری بٹ گاڈ از ود یو“ ۱؎ ”ہی شل ہیلپ یو“ ۔ ۲؎ ”ورڈس آف گاڑ ڈزٹ ناٹ کین ایکسچینج“ ۳؎ ترجمہ اگر تمام آدمی ناراض ہونگے لیکن خدا تمہارے ساتھ ہوگا وہ تمہاری مدد کرے گا۔ اللہ کے کلام بدل نہیں سکتے پھر بعد اس کے ایک دو اور الہام انگریزی ہیں جن میں سے کچھ تو معلوم ہے اور وہ یہ ہیں۔ ”آئی شل ہیلپ یو“۔ ۴؎مگر بعد اس کے یہ ہے۔ ”یو ہیو ٹو گو امرتسر“ ۵؎ پھر ایک فقرہ ہے جس کے معنی معلوم نہیں اور وہ یہ ہے۔ ”ہی ہالٹس ان دی ضلع پشاور“۔ ۶؎ یہ فقرات ہیں ان کو تنقیح سے لکھیں اور براہ مہربانی جلد تر جواب بھیج دیں تا اگر ممکن ہو تو اخیر جزو میں بعض فقرات بموضع مناسب درج ہو سکیں۔ بخدمت مولوی عبدالقادر صاحب و خواجہ علی صاحب سلام مسنون پہنچے۔ ۱۲/ دسمبر ۱۸۸۳ء بمطابق ۱۱/ صفر ۱۳۰۱ھ

مکتوب نمبر ۳۷

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہٗ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ بعد ہٰذا آں مخدوم کا عنایت نامہ پہنچا۔ موجب ممنونی ہوا۔ آج میرا ارادہ تھا کہ صرف ایک دن کے لئے آں مخدوم کی ملاقات کے لئے لودھیانہ کا قصد کروں۔ لیکن خط آمدہ مطبع ریاض ہند سے معلوم ہوا کہ حال طبع کتاب کا ابتر ہورہا ہے۔ اگر اُس کا جلدی سے تدارک نہ کیا جائے تو کاپیاں کہ جو ایک عرصہ کی لکھی ہوئی ہیں خراب ہو جائیں گی۔ بات یہ ہے کہ کاپیوں کی چھ سات جزیں مطبع ریاض ہند سے بباعث کم استطاعتی مطبع کے مطبع چشمۂ نور میں دی گئی تھیں۔ اور مہتمم چشمۂ نور نے وعدہ کیا تھا کہ ان کاپیوں کو جلد تر چھاپ دیں گے اور قبل اس کے جو پُرانی اور خراب ہوں چھپ جائیں گی۔ سو خط آمدہ مطبع ریاض ہند سے معلوم ہوا کہ وہ کاپیاں اب تک نہیں چھپیں اور خراب ہوگئیں

۱؎ تذکرہ صفحہ ۹۴،۷۸ ۲؎ تذکرہ صفحہ ۹۴،۷۸ ۳؎ مکتوب طبع اوّل میں غلطی سے ”واڈ ڈس آف گاڈ“ چھپا ہے۔ ۴؎ تذکرہ صفحہ ۹۲ ۵؎ تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحہ ۹۲ ۶؎ تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحہ ۹۲ ۷؎ تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحہ ۹۲

مکتوبات احمد جلد اوّل صفحہ 583 , 584 طبع جدید از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 419 پر درج ہے

صفحہ 1043

حوالہ نمبر 451

۲۶۰

کہ ہندو تو خود ہی ڈاک خانہ سے جا کر خط لاتے تھے جن کو علم بھی تھا بلکہ نورو ڈاکخانہ کا منشی بھی ایک ہندو تھا۔ ان ہی دنوں میں ایک ہندو الہامی پیشگوئی کے لکھنے کے لئے بطور مددگار میرے پاس نوکر رکھا ہوا تھا۔ اور بعض الہام جو عربی میں ظاہر ہوتے تھے اُسکے ہاتھ کی لکھی ہوئی کاپی میں قبل از وقوع لکھائے جاتے تھے اور اسپر اُسکے دستخط بھی کرائے جاتے تھے۔ چنانچہ یہ پیشگوئی بھی بدستخط لکھائی گئی۔ ابھی پانچ روز نہیں گزرے تھے کہ پینتالیس روپیہ کا منی آرڈر مجھکو آگیا۔ حساب کیا گیا تو منی آرڈر کے روانہ ہونے کا ٹھیک وہی دن تھا جس دن خدا تعالیٰ کی طرف سے خبر ملی تھی ۔اور یہ نشان آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں درج ہو کر ہزار ہا انسانوں میں شائع ہو چکا ہے۔ دیکھو براہین احمدیہ صفحہ ۲۷۵۔ اس نشان کے گواہ وہی آریہ ہیں اور حلفاً بیان کر سکتے ہیں۔ مگر حلف نمونہ نمبر ۲ کے موافق ہوگی۔

سے خط آیا ہے اور اس میں کسی قدر روپیہ دینے کا وعدہ ہے۔ خواب بدستخط لکھایا گیا اور محولہ بالا ہندو آریوں کو اطلاع دی گئی۔ پھر تھوڑے دن بعد حیدرآباد سے خط آیا۔ اور سو روپیہ نواب موصوف نے بھیجا۔ فالحمد للہ علیٰ ذالک۔ اس نشان کے گواہ وہی آریہ ہیں اور حلفاً بیان کر سکتے ہیں۔ مگر حلف نمونہ نمبر ۲ کے موافق ہوگی۔ اور یہ نشان آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں درج ہو چکا ہے۔ دیکھو براہین احمدیہ صفحہ ۲۷۵۔

ماخوذ ہے اور کوئی صورت رہائی کی نظر نہیں آتی ۔ اور دُعا کے لئے درخواست کی چنانچہ اُسی رات دُعا کی گئی اور قبولیت کے آثار معلوم ہوئے اور ایک آریہ کو اطلاع دیگئی۔

تریاق القلوب صفحہ 59 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 260 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 420 پر درج ہے

صفحہ 1044

حوالہ نمبر 452

حقیقت الوحی 541 تتمہ

اور کاذب کون ہے اور اس شخص کو ہم دیسی مچھر کی پرگندہ خبطی کی طرح کہ دینگہ میں ہلاک کر دینگے مگر اے الٰہی بخش تم پر سلامتی ہے خدا نے اپنے فضل سے رحمت لکھی ہے تم ہلاکت سے بچو گے ۱۲ اب سوچنے والے سوچ لیں کہ آخر انجام کیا ہوا؟ کیا وہ تباہی جو میری نسبت بابو صاحب کا الہام بتاتا ہے وہ انہیں پر آئی ہے یا نہیں؟ پھر اسی صفحہ میں لکھتے ہیں کہ ان کو الہام ہوا یا نارکونی برداً و سلاماً یعنے اے آگ ٹھنڈی ہو جا اور سلامتی ہو جا۔ ہمیں نہیں معلوم کہ کونسی آگ تھی جو ٹھنڈی ہو گئی صرف طاعون منہ کی آگ اُن پر نازل ہوئی تھی سو وہ تو ٹھنڈی نہ ہوئی اور اُن کا کام ایک لمحہ میں تمام کر گئی۔ صدہا آدمی لاہور میں طاعون میں مبتلا ہو کر آخر اچھے ہو گئے مگر یہ بابو صاحب جانبر نہ ہوسکے اور بے وقت موت نے ہزاروں حسرتوں کے ساتھ اِس دُنیا سے اُن کو اُٹھایا۔ اب وہ تو اِس جہان کو چھوڑ گئے صرف اُن کے دوستوں کے لئے حق و باطل جتانا پڑا ہے کیونکہ بابو صاحب کی موت کے بعد مجھ کو یہ الہام ہوا تھا فتنّا بعضہم من بعدی یعنی ہم نے الٰہی بخش کی موت سے اُن کے دوستوں کا امتحان کرنا چاہا ہے کہ کیا وہ اب بھی سمجھتے ہیں یا نہیں۔ یہ صاف ظاہر ہے کہ بابو الٰہی بخش صاحب میرے مقابل پر ایک بڑی سختی کے ساتھ کھڑے ہوئے تھے۔ اور کوئی دقیقہ اُنہوں نے تحقیر اور توہین کا اُٹھا نہیں رکھا تھا اور لوگوں کو اُنہوں نے اپنی کتاب سے گمراہ کیا تھا اور ہر روز میری موت اور تباہی کے منتظر تھے اور اپنے دوستوں کو صدہا الہامات اس قسم کے سُنایا کرتے تھے اور خاص کر طاعون سے میری موت اپنی کتاب میں شائع کی تھی پھر یہ کیا ہوا کہ وہ خود طاعون سے نامرادی کے ساتھ مر گئے

یہ تو ہو سکتا ہے کہ وہ بھی طاعون سے مریں ۔ یا یوں کہے کہ دوستوں پر بھی قہر پڑا تمہاری یہی سزا تھی کہ بابو صاحب میری زندگی میں ہی جس کی موت اور تباہی کے منتظر تھے طاعون سے مرجائیں ۔ اُن کے صدہا الہاموں سے جو میرے ہلاک ہونے کے بارے میں تھے ایک بھی پورا نہ ہوا کیا بات جو کہی گئی ان کے الہاموں کی بھی انہیں پر پڑ گئی۔ کیا کوئی ہے کہ اِس کا جواب دے۔ منہ

حقیقۃ الوحی صفحہ 125 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 561 کا عکس یہ حوالہ نمبر 420 پر درج ہے

صفحہ 1045

حوالہ نمبر 453

۴۰۲

ترجمہ: بخدا میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں عین حضرت فاطمہ ہو گئی ہوں۔“

(حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۰۵۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۰۸، ۱۰۹)

۲۴ اگست ۱۹۰۷ء

”خدا کی پناہ میں عمر گزارو“

(کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۵۱، بدر جلد ۱ نمبر ۳۲ مورخہ ۸؍ اگست ۱۹۰۷ء صفحہ ۲۵۴،

الحکم جلد ۱۱ نمبر ۲۶ مورخہ ۱۴؍ اگست ۱۹۰۷ء صفحہ ۳)

۲۴ اگست ۱۹۰۷ء

”۲۲ اگست ۱۹۰۷ء کو زبان عربی میں میں نے ڈوئی کے مقابل پر ایک اشتہار شائع کیا تھا اور بزور الہام الہی اس امر پر زور دے کر اس میں لکھا تھا کہ خواہ وہ میرے ساتھ مباہلہ کرے یا نہ کرے وہ خدا کے عذاب سے نہیں بچے گا اور خدا جھوٹے اور سچے میں فیصلہ کر کے دکھلائے گا“

(تتمہ حقیقۃ الوحی صفحہ ۳، حاشیہ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۵۰۹)

۲۴ اگست ۱۹۰۷ء

وہ اس پر حملہ کرتی ہے۔ باہر اور شیشے سے باہر ہمیں آتی تو نظر نہیں، نہ اس کا ناک کان وغیرہ ہے اور خون بہہ رہا ہے، پھر یہی ذکر تھا کہ پھر میں نے اسے گردن سے پکڑ کے اس کی تھوتھنی زمین سے رگڑنا شروع کیا، بار بار رگڑتا تھا لیکن

٭ خاکسار مرتب عرض کرتا ہے کہ یہ شخص امریکہ کا ایک جھوٹا نبی تھا، اسلام کا سخت دشمن اور عیسائیت کا پکا حامی تھا۔ اس نے بڑے دعویٰ کے ساتھ حضرت اقدس کے مقابلہ میں کھڑے ہونے کے بارہ میں اس نے اپنے پرچہ میں مضامین لکھے، نیز اس نے زبانی مباحثہ کا بھی چیلنج دیا اور شوخی اور شرارت میں بڑھنے لگا۔ آخر حضرت اقدس اور اس کے درمیان مباہلہ ہوا جس کے مضمون کو یورپ و امریکہ کے مختلف اخباروں نے شائع کیا۔ (بالتفصیل کے لئے دیکھیے تتمہ حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۱۱، ۱۱۲ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۵۰۸، ۵۰۹) پھر اس کا یہ حشر ہوا کہ اس کی زندگی کے بچے کھچے دنوں میں اس پر فالج گرا، اس کا مشن بھی تباہ ہوا اور وہ شراب نوشی و عیاشی میں مبتلا ہو کر اپنے تمام مشن کو پاش پاش اور برباد ہوتا دیکھتا رہا اور وہ اپنے اس کبر و غرور اور شیخی کے باعث حسرت کے ساتھ خالی ہاتھ رہ گیا۔ اس نے سخت دکھ اور بے بسی کی حالت میں جان دی، وہ عمارات، کروڑہا نقد روپیہ جو اس کے قبضہ میں تھا اس سے چھن گیا اور اس کی بیوی اور اس کا بیٹا اس کے دشمن ہو گئے اور اس کے باپ نے اس کو عاق کر دیا۔ وہ تڑپتا رہا..... آخر کار اس پر فالج گرا اور ایک مجبور کی طرح چند آدمی اس کو اٹھا کر لے جاتے رہے اور بوجہ کثرت خون کے بہاؤ کے پاگل ہو گیا اور حواس بجا نہ رہے..... آخر کار اپنے تمام دعووں کے جھوٹے ہونے میں بوجہ تمام حسرت و اندوہ اور غصے کے ساتھ مر گیا“

(تتمہ حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۱۱، ۱۱۲ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۵۰۸ تا ۵۱۰)

تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 402، 403 طبع چہارم از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 421 پر درج ہے

صفحہ 1046

حوالہ نمبر 453

ص ۴۰۳

پھر میں سرکتی جاتی تھی تو آواز آئی میں نے کہا کہ آؤ اسے پھانسی دے دیں :

(البدر جلد ۲ نمبر ۳۴ مورخہ ۱۱ ستمبر ۱۹۰۳ء صفحہ ۲۵۹ و کمالات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۵۱)

(کمالات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۵۱)

یکم ستمبر ۱۹۰۳ء

” فرمایا : آج خواب میں ایک شخص سے یہ مکالمہ ۔ فیر مین لے

(البدر جلد ۲ نمبر ۳۴ مورخہ ۱۱ ستمبر ۱۹۰۳ء صفحہ ۲۶۰)

۲ ستمبر ۱۹۰۳ء

” فرمایا ۔ اسہال آنے سے میری طبیعت میں کچھ کمزوری پیدا ہو گئی ۔ ایک تھوڑی سی غنودگی میں کیا دیکھتا ہوں کہ میرے دونوں طرف دو آدمی پستولیں لئے کھڑے ہیں پس اسی اثناء میں مجھے الہام ہوا : فِی حِفْظِ اللّٰہِ ٢

(البدر جلد ۲ نمبر ۳۴ مورخہ ۱۱ ستمبر ۱۹۰۳ء صفحہ ۲۶۰ و الحکم جلد ۷ نمبر ۳۲ مورخہ ۱۰ ستمبر ۱۹۰۳ء صفحہ ۷)

۵ ستمبر ۱۹۰۳ء ٣

” میں نے ایک کشفی نظر میں دیکھا کہ ایک درخت سرو کی ایک بڑی لمبی شاخ ۔۔۔ جو نہایت خوبصورت اور سرسبز تھی ہمارے باغ میں سے کاٹی گئی ہے اور وہ ایک شخص کے ہاتھ میں ہے تو کسی نے کہا کہ اس شاخ کو اس زمین میں بو دو جو میرے مکان کے قریب ہے اسے بیری کے پاس لگا دو جو اس سے پہلے کاٹی گئی تھی اور پھر دوبارہ اُگے گی اور ساتھ ہی مجھے یہ وحی الٰہی ہوئی کہ

”کابل سے کاٹا گیا اور سیدھا ہماری طرف آیا“ ۴

لے (ترجمہ از مرتب) اچھا آدمی (Fairman) ٢ (ترجمہ از مرتب) اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں ۔

٣ یہ تاریخ حضرت بیگم صاحبہ مدظلہا کے الہامات کی کاپی صفحہ ۲۱ میں درج ہے۔ (مرتب)

۴۔ حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس کشف کی عبارتوں کو بغور ملاحظہ فرما کر یہ پیشگوئی صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب اور مولوی نعمت اللہ صاحب پر چسپاں فرماتے ہوئے فرمایا : ”بیری جو پہلے کاٹی گئی تھی اس سے مراد سید عبد اللطیف تھے۔ انہیں بیری قرار دے کر اس طرف اشارہ کیا گیا کہ وہ پھلدار تھے جیسے صاحبزادہ مرحوم اور سرو کی شاخ سے یہ مراد تھی کہ بیری کے بعد یہ شاخ کاٹی جائے گی وہ پھلدار نہیں ہو گی چنانچہ مولوی نعمت اللہ خاں صاحب کی ابھی شادی چھ ماہ ہوئی تھی کہ شہید کر دیئے گئے“ (الفضل جلد ۱۲ نمبر ۶۳ مورخہ ۲۸ دسمبر ۱۹۲۴ء صفحہ ۷)

تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 402، 403 طبع چہارم از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 421 پر درج ہے

صفحہ 1047

حوالہ نمبر 454 ۴۲۱

۹ جنوری ۶۱۹۰۳

" لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ اَنْ تُوَافِیْ بِاَهْلِكُمْ اَجْمَعِيْنَ ؎۱ "

(کاپی الالہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۲۲)

۹ جنوری ۶۱۹۰۳

"میں نے دیکھا کہ گویا مبارک کے بدن پر کچھ لرزہ ہے میں اس کو گولی دینا چاہتا ہوں اور باہر قاضی ضیاء الدین کھڑا ہے میں چاہتا ہوں اس کو ایک روپیہ شیرینی لانے کے لئے دوں۔"

(کاپی الالہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۲۲)

۱۳ جنوری ۶۱۹۰۳

" رؤیا ۔ مولوی محمد علی صاحب نے مجھ سے کہا کہ آپ چلے جائیں میں قادیان کو چلا گیا ہوں اور میں وضو کر رہا ہوں اور تفکر میں ہوں کہ ہم کیوں چلے آئے ۔ پہلے کیا بگڑتا تھا خواجہ کمال الدین صاحب سے مشورہ کرلیتے۔ "

(الحکم جلد ۷ نمبر ۲ مورخہ ۱۷ جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۲)

۱۴ جنوری ۶۱۹۰۳

قریباً دو بجے رات کے الہام ہوا :۔ اَرَدْتُ اَنْ تَسْتَفْتِحَ ؎۲

(الحکم جلد ۷ نمبر ۲ مورخہ ۱۷ جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۲)

۱۴ جنوری ۶۱۹۰۳

رؤیا ۔ فرمایا ! ہم ایک جگہ جارہے ہیں ۔ ایک ہاتھی دیکھا ۔ اس سے بھاگے تو ایک اور کوچہ میں چلے گئے۔ لوگ بھی بھاگے جاتے ہیں میں نے پوچھا کہ ہاتھی کہاں ہے۔ لوگوں نے کہا کہ وہ کسی اور کوچہ میں چلا گیا ہے ہمارے نزدیک نہیں آیا۔ پھر نظارہ بدل گیا ۔ گویا گھر میں بیٹھے ہیں ۔ قورمہ پکا ہے ۔ نوکر لوگ لگائے ہیں جو ولایت سے آئے ہیں بٹیر میں کھاتا ہوں ۔ یہ بھی بھنا ہوا نکلا ۔ اس کے بعد الہام ہوا ۔ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ ذُوانْتِقَامٍ ؎۳

(الحکم جلد ۷ نمبر ۲ مورخہ ۱۷ جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۲)

تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 421 طبع چہارم از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 421 پر درج ہے

صفحہ 1048

حوالہ نمبر 455

۴۷۲

۲۲ اگست ۱۹۰۵ء

"چند آدمی سامنے ہیں۔ ایک چادر میں کوئی شے ہے۔ ایک شخص نے کہا کہ یہ ٹپ لے لیں۔ دیکھا تو اس میں چند مُرغ ہیں اور ایک بجو کا ہے۔ میں ان مُرغوں کو اُٹھا کر اور سر سے اُونچا کر کے لے چلا تاکہ کوئی بلی وغیرہ نہ پڑے۔ راستہ میں ایک بلی ملی جس کے منہ میں کوئی شے مثلِ چوہا ہے مگر اس بلی نے اس طرف توجہ نہیں کی اور میں ان مُرغوں کو محفوظ لے کر گھر پہنچ گیا"

(بدر جلد ۱ نمبر ۲۱ مورخہ ۱۷؍ اگست ۱۹۰۵ء صفحہ ۲۔ الحکم جلد ۹ نمبر ۳۰ مورخہ ۲۴؍ اگست ۱۹۰۵ء صفحہ ۱)

۲۴ اگست ۱۹۰۵ء

"پہاڑ گرا، اور زلزلہ آیا"

(بدر جلد ۱ نمبر ۲۱ مورخہ ۲۴؍ اگست ۱۹۰۵ء صفحہ ۲۔ الحکم جلد ۹ نمبر ۳۰ مورخہ ۲۴؍ اگست ۱۹۰۵ء صفحہ ۱ حاشیہ)

۲۴ اگست ۱۹۰۵ء

رؤیا : " میں ایک جگہ کھڑا ہوں۔ آگے ایک پردہ ہے۔ پردہ کے پیچھے سے آواز آئی :۔ تو جانتا ہے میں کون ہوں میں خدا ہوں جس کو چاہتا ہوں عزت دیتا ہوں جس کو چاہتا ہوں ذلت دیتا ہوں"

(بدر جلد ۱ نمبر ۲۱ مورخہ ۲۴؍ اگست ۱۹۰۵ء صفحہ ۲۔ الحکم جلد ۹ نمبر ۳۰ مورخہ ۲۴؍ اگست ۱۹۰۵ء صفحہ ۱)

۹ اگست ۱۹۰۵ء

"دیکھا کہ ایک شخص سامنے کھڑا ہے۔ اس نے نہایت زور کے ساتھ قلم چلایا جیسا کہ کوئی دیا سلائی رگڑتا ہے اور اس کے قلم کے لکھنے کی آواز بھی آئی۔ اس نے لکھا :۔ شَاهَتِ الْوُجُوْهُ فرمایا : اس کے معنے ہیں دشمنوں کے منہ کالے ہو گئے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی عظیم الشان نشان کے ذریعہ سے دشمنوں کو رو سیاہ کرنا چاہتا ہے۔"

(بدر جلد ۱ نمبر ۲۱ مورخہ ۲۴؍ اگست ۱۹۰۵ء صفحہ ۲)

۲۹ اگست ۱۹۰۵ء

"اے عمارت مفت میں تو تھک گئی"

(کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۴۸)

۳۰ اگست ۱۹۰۵ء

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات صفحہ 472 طبع چہارم از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 422 پر درج ہے

صفحہ 1049

حوالہ نمبر 456

۴۹۲

دن سب پر اُداسی چھا جائے گی (۴) تُوْبُ نَجْعَلُكَ الْمُقَدَّمَ وَلَا نُبْقِيْ لَكَ مِنَ الْمُخْزِيَاتِ ذِكْرًا ۔

(بدر جلد ۱ نمبر ۴۶ مورخہ ۸؍ دسمبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۴۔ الحکم جلد ۹ نمبر ۴۳ مورخہ ۱۰؍ دسمبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۱)

١٩٠٥ء

فرمایا۔ میرے ایک چچا صاحب فوت ہو گئے تھے۔ پھر وہ جو میں نے ایک مرتبہ ان کو عالمِ رویا میں دیکھا اور ان سے اس عالم کے حالات پوچھے کہ کس طرح انسان فوت ہوتا ہے اور کیا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اُس وقت عجیب نظارہ ہوتا ہے۔ جب انسان کا آخری وقت آتا ہے تو دو فرشتے جو سفید پوش ہوتے ہیں سامنے آتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ واپس نہ جائوں۔

فرمایا حقیقت میں ایسی حالت میں جب کوئی سفید وجود وہاں سے نکل جاتا ہے یہی لفظ تو واپس نہ جائوں ہوتا ہے۔

اور پھر وہ قریب آکر دونوں انگلیاں ناک کے آگے رکھ دیتے ہیں۔

اے رُوح جس راہ سے آئی تھی اسی راہ سے واپس چل آ۔

فرمایا بائیبل سے ثابت ہوتا ہے کہ ناک کی راہ سے رُوح داخل ہوتی ہے اسی راہ سے معلوم ہوا نکلتی ہے۔ توریت سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ نتھنوں کے ذریعہ زندگی کی رُوح پھونکی گئی۔ وہ عالم عجیب اسرار کا عالم ہے جن کو اس زندگی میں انسان پورے طور پر سمجھ بھی نہیں سکتا۔

(الحکم جلد ۹ نمبر ۴۳ مورخہ ۱۰؍ دسمبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۲)

۴؍ دسمبر ١٩٠٥ء

رؤیا۔ دیکھا کہ ایک دیوار پر ایک مرغی ہے۔ وہ کچھ بولتی ہے سب فقرے تو یاد نہیں رہے مگر آخری فقرہ جو یاد رہا یہ تھا :۔

اِنْ كُنْتُمْ مُسْلِمِيْنَ ؁

اس کے بعد بیداری ہوئی۔ یہ خیال تھا کہ مرغی نے یہ کیا الفاظ بولے ہیں۔ پھر الہام ہوا :۔

اَلْقُوْا فِىْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ مُسْلِمِيْنَ ؁

اے احمق! تیری اجل مقدر قریب ہے اور ہم تیرے لئے کوئی رسوا کرنے والا ذکر باقی نہ چھوڑیں گے۔ (بدر)

نوٹ: فرمایا، ان الفاظ پر غور کر کے یہی سمجھتا ہوں کہ وہ زمانہ بہت ہی قریب ہے پہلے بھی یہ الہام ہوا تھا اس وقت اس کے ساتھ ایک رؤیا بھی تھی۔

(الحکم جلد ۹ نمبر ۴۳ مورخہ ۱۰؍ دسمبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۲)

ع (ترجمہ) اگر تم مسلمان ہو۔ ع۲ اللہ کی راہ میں خرچ کرو اگر تم مسلمان ہو۔

تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 492 طبع چہارم از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 422 پر درج ہے

صفحہ 1050

حوالہ نمبر 457

۵۶۹

اس جماعت میں سے ایک شام میں ہیضہ سے رخصت ہو جائے گا اور پیٹ پھٹ جائے گا اور شعبان کے مہینہ میں وہ فوت ہو گا ۔

(مکتوب ضمیمہ تحفہ گولڑویہ صفحہ ۳)

۸ ستمبر ۱۹۰۶ء

رؤیا ۔ دیکھا کہ حضرت مولوی نور الدین صاحب نے ایک کاغذ بھیجا ہے جو پون کا سرخ ہے جو لڑکے نے کرایا ہے وہ کہتا ہے کہ اس کے حاشیہ پر سطر ہے ذرا پڑھ لینا۔ اُس کاغذ کے دائیں طرف کے حاشیہ پر لکھا ہے۔

دُشمن نہایت اضطراب میں ہے

(بدر جلد ۲ نمبر ۳۷ مورخہ ۱۳ ستمبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۲ ۔ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۳۲ مورخہ ۱۷ ستمبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۱)

۱۵ ستمبر ۱۹۰۶ء

" فرمایا ۔ حجرہ میں ایک چوکھٹ کے اندر ایک قطعہ ٹکا ہوا ہے جس پر لکھا ہے :۔

رَبِّ كُلُّ شَیْءٍ خَادِمُكَ

ہم نے آج کشفی نگاہ میں دیکھا کہ وہ الفاظ مٹے ہوئے ہیں مگر اس پر لکھا ہے۔ خیر ۔"

(بدر جلد ۲ نمبر ۳۹ مورخہ ۲۷ ستمبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۲ ۔ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۳۳ مورخہ ۲۴ ستمبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۱)

۱۶ ستمبر ۱۹۰۶ء ۱؎

تَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَ ۔

هُمْ مُّحْسِنُوْنَ ۔

۱؎ یہ الہام ۲۰ جولائی ۱۹۰۶ء کو بھی ہوا تھا۔ دیکھئے صفحہ ۵۶۳ ۔ (مرتب)

۲؎ (ترجمہ از مرتب) (۱) تیرے ربّ نے فرمایا ہے کہ تیرے لئے آسمان سے وہ چیز اُترنے والی ہے جو تجھے خوش کر دے گی اور ہم تیرے ربّ کے حکم کے سوائے کبھی نازل نہیں ہوتے ۔

۳؎ (ترجمہ) (۲) اللہ تعالیٰ سُنتا ہے جو دُعاؤں کا قبول کرنے والا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اُن لوگوں کے ساتھ ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور وہ جو نیکی کرتے ہیں ۔

۴؎ (۳) برکت دی اللہ تعالیٰ نے تیرے الہام میں اور تیری وحی میں اور تیری خوابوں میں ۔

تذکرہ مجموعہ وحی والہامات طبع چہارم صفحہ 569 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 422 پر درج ہے

صفحہ 1051

حوالہ نمبر 458

ازالۃ الاوہام ۴۷۶ حصہ دہم

معلوم ہے یہ پیدا ہو گیا۔ فالحمد للہ علیٰ ذلک۔

ازیں جملہ ایک یہ ہے کہ مسیح کے نزول کی علامت لکھی ہے کہ دو فرشتوں کے پروں پر ۶۷۷ اس نے ہاتھ رکھے ہوں گے سو یہ بات پوری ہوگئی۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس کا وہ الہام اور وحی جس پر اس کی تحصیل علم و تکمیل اور مدار باطنی کا مدار ہے آسمانی موکلوں کے سہارے پر ہو گا اور مکتبوں اور کتابوں اور مشائخ سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ سے علم لدنی پائے گا۔ اور اس کی تائیدات کلامی کا بھی خدا ہی متولی اور متکفل ہوگا۔ جیسا کہ عرصہ دس سال سے براہین احمدیہ میں اس عاجز کی نسبت یہ الہام چھپ چکا ہے کذلک باعیننا انت المتوکل و علمنہ من لدنا علماً یعنی تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے ہم نے تجھ پر تمام توکل رکھا اپنی طرف سے علم سکھایا۔ یادر ہے کہ فرشتوں سے مراد جو حدیث میں ہے صفات اور قویٰ ملکیہ ہیں جیسا کہ صاحب لمعات شارح مشکوٰۃ نے حدیث ابن مریم و دجال کی شرح میں یہی معنے لکھے ہیں عربی عبارت یہ ہے عن ثوبان قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طوبیٰ للشام قلنا لای شئی یا رسول اللہ قال لان ملائکۃ الرحمٰن باسطۃ اجنحتھا علیہ رواہ احمد والترمذی یہ بات بہت ہی ۶۷۸ روشن اور قرآن کریم سے ثابت ہے کہ جو شخص کامل الانقطاع اور کمال توکل کا مرتبہ پیدا کر لیتا ہے تو فرشتے اس کے خادم کئے جاتے ہیں اور ہر یک فرشتہ اپنے منصب کے موافق اس کی خدمت کرتا ہے۔ و قال اللہ تعالیٰ ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا تتنزل علیہم الملئکۃ الّا تخافوا ولا تحزنوا وابشروا بالجنۃ التی کنتم توعدون ایسا ہی خدا تعالیٰ فرماتا ہے وحملناھم فی البر و البحر یعنی اُٹھایا ہم نے اُنکو جنگلوں میں اور دریاؤں میں۔ اب کیا اس کے یہ معنے کرنے چاہئیں کہ حقیقت میں خدا تعالیٰ اپنی گود میں لے کر اُٹھائے پھرے اور اُسی طرح ملائکہ کے پروں پر ہاتھ رکھنا حقیقت پر محمول نہیں۔

اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ یہ عاجز اسی علامت مذکورہ بالا کے ساتھ آیا ہے اور اسکے کندھوں پر اس عاجز کے دونوں ہاتھ ہیں اور غیبی قوتوں کے سہارے سے علوم لدنی مل رہے ہیں۔ اگر کوئی

۱؎ حم السجدہ ۳۰ ۲؎ بنی اسرائیل ۷۰

ازالۃ الاوہام صفحہ 698 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 476 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 425 پر درج ہے

Back

صفحہ 1052

حوالہ نمبر 459

الإسلامية ليكون بلاغاً تاماً للطالبين ۔ فاعلموا يا معشر الكرام أنّ ہو جائے طالبین کیلئے ۔ پس خبر دار ہو اے گروہ بزرگاں کہ بلاشبہ أولى الأبصار والأفهام إنّ الله قد بعثني مجدداً على رأس هذه المائة بصیرت و فہم کہ خدائے عزوجل نے مجھے اس صدی کے سر پر مجدد مبعوث فرمایا ہے واختص بهذا الاصلاح العامة واعطاني علوماً ومعارف يجب لإصلاح ہے ۔ اور مجھے اس اصلاح عامہ کے لئے خاص کیا ہے اور عطا کئے مجھے علوم و معارف کہ واسطے اصلاح هذه الامة ووهب لي من لدنه علماً لدنياً لإتمام الحجة على الكفرة الفجرة ۔ و اس امت کے ہیں ۔ اور مجھے اپنے پاس سے علم لدنی بخشا تاکہ کافروں اور فاجروں پر حجت تمام ہو ۔ اور مجھے أعطاني شراباً غضاً طرياً لتغذية جياع الملة وكاساً دهاقاً لعطاشى ایک شربت تر و تازہ دیا تاکہ بھوکی ملت کو غذا دی جاوے ۔ اور پیالے بھرے ہوئے دئے تاکہ پیاسان الهداية والمعرفة وجعلني إماماً لكل من يريد صلاح نفسه ويبحث ہدایت و معرفت کے پلائے جاویں ۔ اور مجھے ہر ایک ایسے شخص کے لئے جو اپنے نفس کی اصلاح چاہتا ہے اور تلاش مرضاة ربّه وجعلني من المكلمين الملهمين وأكمل عليّ نعمه وأتمّ تفضّله رضائے رب اپنے کی ہے امام بنایا ہے ۔ اور مجھے مکالمہ پانے والوں ملہموں میں سے کیا ہے ۔ اور مجھ پر اپنی نعمت کامل کی اور فضل اپنا وسماني المسيح ابن مريم بالفضل والرحمة ۔ وقد يريني رؤى تتشابه القشرة پورا کیا ۔ اور میرا نام اپنے فضل سے مسیح ابن مریم رکھا ۔ اور گاہے مجھے رویا دکھاتا ہے جو مشابہ چھلکے کے كالجوهريين وفي المادة الواحدة ووهب لي علوماً مقدسة نقية ومعارف ہیں ۔ جیسے دو جوہر ایک مادہ میں ہوتے ہیں اور مجھے علوم مقدسہ نقیہ بخشے اور معارف صافية جلية وعلمني ما لم يعلم غيرى من المعاصرين، وصب في صافیہ جلیہ عطا کئے ۔ اور مجھے وہ باتیں سکھائیں جو میرے ہمعصروں میں سے کسی کو معلوم نہیں اور وہ ان سے بالکل بیخبر ہیں ۔ اور میرے دل میں وہ قلبي مالم يحيطوا بها علما ونور البصيرة لم ينور أحداً منهم وجعلني من عقائد ڈالے جن کو ان کا علم محیط نہیں اور میرے دل میں وہ نور بصیرت ڈالا کہ ان میں سے کسی کو بھی وہ نور نہیں دیا اور مجھے

انجام آتھم صفحہ 75 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 75 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 425 پر درج ہے

صفحہ 1053

حوالہ نمبر 460

خطبہ الہامیہ

۲۴۹

اَللِّئَامِ وَصَوْلِ الْمُخَالِفِيْنَ بِالْاَقْلَامِ وَالْمُكَذِّبِيْنَ بخیلان و صولت مخالفین با خامه ها و تکذیب کنندگان یعنی بخیلوں کی زیادتی اور دشمنوں کے حملوں سے جو قلم کے ساتھ ہیں اور تکذیب کرتے ھوئے یعنی وَكَادَ اَنْ لَّا يَبْقَى اَثَرٌ مِّنْهُ لَوْلَمْ يَتَدَارَكْهُ فَضْلُ و نزدیک بود اثری ازوے نماندے اگر فضل خدائے کریم وجہ سے کم ہو گئی ہے۔ اور قریب تھا کہ اس کا کچھ نشان بھی باقی نہ رہتا اگر خدائے کریم کا اللّٰهِ الْكَرِيْمِ الْمُعِيْنِ- فَاَقْتَضَتْ غَيْرَةُ اللّٰهِ او را در نیافتے بنا بر ایں مقتضی شد کہ غیرت خدائے کریم فضل اس کا تدارک نہ کرتا ۔ چنانچہ اسی سبب سے خدا کی غیرت نے تقاضا کیا کہ اَنْ يُبْعَثَ فِيْهِ مُجَدِّدٌ يُّشَابِهُ اٰدَمَ فَبُعِثْتُ کہ در وے مجددی را مبعوث فرماید کہ با آدم مشابہ باشد پس اس میں ایک مجدد کو پیدا کرے جو آدم سے مشابہ ہو ۔ پس فِيْ هٰذَا الْيَوْمِ فِيْ وَقْتِ الْعَصْرِ اَعْنِيْ سَاعَةَ دریں روز در وقت عصر یعنی در ساعت حشر مرا اس دن عصر کے وقت یعنی حشر کے وقت مجھ کو الْحَشْرِ وَ عَلَّمَنِيْ مِنْ لَّدُنْهُ وَ اَكْرَمَنِيْ وَ اَدْخَلَنِيْ برانگیخته و مرا از پیش خود بیاموخت و بنواخت و در مسلک پیدا کیا اور مجھ کو اپنے پاس سے سکھلایا اور عزت دی اور مجھ کو فِيْ عِبَادِهِ الْمُكْرَمِيْنَ - وَجَعَلَنِيْ حَكَمًا لِّلْاَقْوَامِ بندگان بزرگ خود درآورد و مرا حکم ساخت برائے آناں کہ بزرگ بندوں کے سلسلہ میں مجھ کو داخل کیا ۔ اور مجھے ان کے لئے جو اختلاف کرتے ہیں

خطبہ الہامیہ صفحہ 183 مندرجہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 249 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 426 پر درج ہے

صفحہ 1054

حوالہ نمبر 461

پیغام صلح ۴۶۵

اور حق پوشی میں حد سے گزر گئے ہیں۔ ہائے افسوس ان کو کیا ہو گیا کہ وہ عمداً صحیح واقعات سے مُنہ پھیر لیتے ہیں۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم عرب کے ملک میں ایک بادشاہ کی حیثیت سے ظہور فرما نہیں ہوئے تھے۔ تا یہ گمان کیا جاتا۔ کہ چونکہ وہ بادشاہی جبروت اور شوکت اپنے ساتھ رکھتے تھے اسلئے لوگ جان بچانے کے لئے اُن کے جھنڈے کے نیچے آگئے تھے۔ پس سوال تو یہ ہے کہ جب کہ آپ نے اپنی غریبی اور مسکینی اور تنہائی کی حالت میں خدا کی توحید اور اپنی نبوت کے بارے میں منادی شروع کی تھی تو اُسوقت کس تلوار کے خوف سے لوگ آپ پر ایمان لے آئے تھے۔ اور اگر ایمان نہیں لائے تھے تو پھر جبر کرنے کے لئے کس بادشاہ سے کوئی لشکر مانگا گیا تھا۔ اور مدد طلب کی گئی تھی۔ اے حق کے طالبو! تم یقیناً سمجھو کہ یہ سب باتیں اُن لوگوں کی افتراء ہیں۔ جو اسلام کے سخت دشمن ہیں۔ تاریخ کو دیکھو۔ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وہی ایک یتیم لڑکا تھا جس کا باپ پیدائش سے چند دن بعد ہی فوت ہو گیا۔ اور ماں صرف چند ماہ کا بچہ چھوڑ کر مرگئی تھی۔ تب وہ بچہ جس کے ساتھ خدا کا ہاتھ تھا۔ بغیر کسی کے سہارے کے خُدا کی پناہ میں پرورش پاتا رہا۔ اور اس مصیبت اور یتیمی کے ایام میں بعض لوگوں کی بکریاں بھی چرائیں۔ اور بجز خدا کے کوئی متکفل نہ تھا اور پچیس برس تک پہنچ کر بھی کسی چچا نے بھی آپ کو اپنی لڑکی نہ دی۔ کیونکہ جیسا کہ بظاہر نظر آتا تھا۔ آپ اس لائق نہ تھے کہ خانہ داری کے اخراجات کے متکفل ہو سکیں۔ اور نیز محض اُمّی تھے۔ اور کوئی حرفہ اور پیشہ نہیں جانتے تھے۔ پھر جب آپ چالیس برس کے سن تک پہنچے تو یک دفعہ آپ کا دل خدا کی طرف کھینچا گیا۔ ایک غار مکہ سے چند میل کے فاصلہ پر ہے۔ جس کا نام حرا ہے۔ آپ اکیلے وہاں جاتے اور غار کے اندر چھپ جاتے۔ اور اپنے خدا کو یاد کرتے۔ ایک دن اُسی غار میں آپ

پیغام صلح صفحہ 28 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 465 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 426 پر درج ہے

صفحہ 1055

حوالہ نمبر 462 چشمہ معرفت ۲۹۹ دوسرا حصہ کامل تعلق تبھی ثابت ہوتا ہے کہ بظاہر بہت سے تعلقات میں وہ گرفتار ہو۔ بیویاں ہوں اولاد ہو تجارت ہو زراعت ہو اور کئی قسم کے اُس پر بوجھ پڑے ہوئے ہوں اور پھر وہ ایسا ہو کہ گویا خدا کے سوا کسی کے ساتھ بھی اُس کا تعلق نہیں۔ یہی کامل انسانوں کے علامات ہیں مگر ایک شخص ایک بن میں بیٹھا ہے نہ اس کی کوئی جورو ہے نہ اولاد ہے نہ دوست ہیں اور نہ کوئی اور قسم کا تعلق اس کے دامن گیر ہے تو ہم کیونکر سمجھ سکتے ہیں کہ اس نے تمام اہل وعیال اور مال پر خدا کو مقدم کر لیا ہے اور بے امتحان ہم اُس کے کیونکر قائل ہو سکتے ہیں۔ مگر ہمارے سیّد و مولیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بیویاں رکھتے تھے پھر کیونکر سمجھیں ایسی سنگلاخ غزا کی راہ میں جاں فشانی کے موقع پر آپ ایسے بے تعلق تھے کہ گویا آپ کی کوئی بھی بیوی نہیں تھی مگر آپ نے بہت سی بیویاں اپنے نکاح میں لاکر صدہا امتحانوں کے موقعہ پر یہ ثابت کر دیا کہ آپ کو جسمانی لذت سے کچھ بھی غرض نہیں اور آپ کی ایسی مجردانہ زندگی ہے کہ کوئی چیز آپ کو خدا سے روک نہیں سکتی ۔ تاریخ دان لوگ جانتے ہیں کہ آپ کے گھر میں گیارہ لڑکے پیدا ہوئے تھے اور سب کے سب فوت ہو گئے تھے اور آپ نے ہر ایک لڑکے کی وفات کے وقت یہی کہا کہ مجھے اس سے کچھ تعلق نہیں میں خدا کا ہوں اور خدا کی طرف جاؤں گا۔ ہر ایک دفعہ اولاد کے مرنے میں جو سخت صدمہ ہوتا ہے یہی منہ سے نکلا تھا کہ اے خُدا ہر ایک چیز پر میں تجھے مقدّم رکھتا ہوں مجھے اس اولاد سے کچھ تعلق نہیں کیا اس سے ثابت نہیں ہوتا کہ آپ بالکل دنیا کی خواہشوں اور شہوات سے بے تعلق تھے اور خدا کی راہ میں ہر ایک وقت اپنی جان ہتھیلی پر رکھتے تھے ایک مرتبہ ایک جنگ کے موقعہ پر آپ کی اُنگلی پر تلوار لگی اور خون جاری ہوگیا۔ تب آپ نے اپنی اُنگلی کو مخاطب کر کے کہا کہ اے اُنگلی تو کیا چیز ہے صرف ایک اُنگلی ہے جو خدا کی راہ میں زخمی ہوگئی۔

ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ آپ کے گھر میں گئے اور دیکھا کہ گھر میں کچھ اسباب نہیں اور آپ ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے ہیں اور چٹائی کے نشان پیٹھ پر لگے ہیں تب عمرؓ کو یہ

چشمہ معرفت صفحہ 288 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 299 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 427 پر درج ہے Back

صفحہ 1056

حوالہ نمبر 463 ۳۷۲ تُو نے اعتراض کیوں کیا تھا۔ تیری اس خطا پر عتاب ہو رہا ہے۔ اس نے کسی سے کہا کہ میں کیا کروں؟ اس نے کہا کہ میری گردن میں رسی ڈال کر پتھروں پر گھسیٹ۔ پھر اس نے کہا کہ میں کیوں کروں؟ اس عابد نے کہا کہ جس طرح میں کہتا ہوں، اسی طرح کرو۔ آخر اس نے ایسا ہی کیا یہاں تک کہ اس کی دونو ٹانگیں چھل گئیں۔ پھر اس کے کہنے سے چھوڑا۔ تب خدا نے فرمایا کہ میں نے اب معاف کر دیا۔ اب دیکھو کہ لوگ کتنے اعتراض کرتے ہیں۔ ذرا زیادہ بارش ہو جاوے تو کہتے ہیں کہ دَم تو گھٹنے لگ گیا ہے اور ذرا توقف بارش میں ہو تو کہتے ہیں کہ اب ہم کو مارنے لگا ہے۔ یہ اعتراض کیسے بُرے ہوتے ہیں۔ دیکھو تقویٰ کیسے گُم ہو گیا ہے مگر ایک دو آنے رستے میں مل جاویں تو جلدی سے اُٹھا لیتا ہے اور پھر اس کو کسی سے نہیں کہتا۔ حالانکہ تقویٰ کا کام یہ تھا کہ اس کو سب کو سناتا اور جس کے ہوتے اس کے حوالہ کرتا۔ پھر کہتے ہیں کہ بارش نہیں ہوتی بارش کیسے ہو؟ اللہ تعالیٰ بہت سے گناہ تو معاف ہی کر دیتا ہے۔ اگر زیادہ بارش ہو تو دہائی دیتے ہیں۔ اگر دھوپ زیادہ ہو تو بھی دہائی دیتے ہیں۔ ان سب حالتوں میں انسان تقویٰ سے خالی ہوتا ہے۔ پس چاہئے کہ صبر کرے اگر صبر نہ کرے تو پھر کفر بکے۔ تو روٹی کھانی حرام ہے۔ انسان کو چاہئے کہ کبھی خدا تعالیٰ پر اعتراض نہ کرے۔

دیکھو ہمارے پیغمبر خدا کے ہاں ۴ لڑکیاں ہوئیں۔ آپؐ نے کبھی نہیں کہا کہ لڑکا کیوں نہ ہوا اور جب کوئی غم ہوتا تو اِنَّا لِلّٰہِ ہی کہتے رہے۔ اب اگر کسی کا لڑکا مر جاوے تو ہائے ہائے کر کے روتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ کشائش دیوے تو تعریف کرتے ہیں اگر ذرا تنگی آ جاوے تو فوراً پھر جاتے ہیں۔ ایک شخص کی بیویاں یکے بعد دیگرے فوت ہو گئیں وہ فوراً دہریہ ہو گیا۔ انسان کو چاہئے کہ علاقہ خدا تعالیٰ کے ساتھ ایسا رکھے کہ کیسی ہی سختی آوے تو قدم نہ ہٹے گویا کبھی نہیں آئی۔ حضرت ایوبؑ کتنے صابر تھے کہ خدا تعالیٰ نے شیطان سے کہا کہ دیکھ میرا بندہ کتنا صابر ہے۔ اس نے کہا کہ کیوں نہ ہو کہ مال بہت ہے آرام سے کھاتا پیتا ہے۔ خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے تجھ کو اس کی بکریوں پر مسلط کیا۔ اس نے سب کو فنا کر دیا اور حضرت ایوبؑ کے خادم نے خبر پہنچائی کہ تمہاری بکریاں سب مر گئیں۔ آپؑ نے فرمایا کہ تو یوں کیوں کہتا ہے کہ میری بکریاں مر گئیں وہ تو خدا تعالیٰ کی تھیں اس نے اپنی امانت واپس لے لی۔ پھر شیطان سے خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ دیکھ میرا بندہ ایوبؑ کیسا صابر ہے۔ اُس نے کہا کہ ہاں اس کو یہ خیال ہے کہ اُونٹ بہت سے ہیں بکریاں فنا ہو گئیں تو کیا ہو گیا۔ ان سے سب طرح کے کام چل سکتے ہیں خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے تجھ کو اُونٹوں پر بھی مسلط کیا۔ پھر سب اونٹ فنا ہو گئے اور اسی طرح خادم نے خبر دی تو حضرت ایوبؑ نے وہی کہا کہ میرے نہیں تھے یہ تو خدا تعالیٰ نے دیئے تھے اُس نے واپس لے لئے۔ پھر کیا افسوس ہے۔ پھر شیطان سے خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ دیکھ میرا بندہ کیسا صابر ہے۔ اس نے کہا کہ اس کے دل میں تقویت ہے کہ گائیاں بہت سی ہیں ان سے سب کچھ حاصل ہو سکتا ہے۔ آخر ان پر بھی اسی طرح شیطان کو مسلط کیا گیا۔ یہ بھی فنا

ملفوظات جلد سوم صفحہ 372 طبع جدید از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 427 پر درج ہے

صفحہ 1057

ازالہ اوہام

۲۰۹

حوالہ نمبر 464

حصہ اول

تب وہ شخص زندہ ہو کر ایک روشن اور چمکتے ہوئے چہرہ کے ساتھ اُس کے سامنے آجائے گا اور اس کی الوہیت سے انکار کرے گا سو دجال اسی قسم کی گمراہ کرنے کی کوششوں میں لگا ہوا ہوگا کہ ناگہاں مسیح ابن مریم ظاہر ہو جائے گا اور وہ ایک منارہ سفید کے پاس دمشق کے مشرقی طرف اُترے گا مگر ایں ہمہ قائل ہے کہ بیت المقدس میں اُترے گا اور بعض ۲۱۵ کہتے ہیں کہ نہ بیت المقدس اور نہ دمشق بلکہ بلقا کے شہر میں اُترے گا جو محلہ بصری میں ہے اور پھر فرمایا کہ جس وقت وہ اترے گا اُس وقت اُس کی زرد پوشاک ہوگی یعنی زرد رنگ کے دو کپڑے اُس نے پہنے ہوئے ہوں گے (یہ اس بات کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ اُس وقت اُس کی صحت کی حالت اچھی نہیں ہوگی) اور وہ صورت تمثیلی اُس کی دو فرشتوں کے ہاتھوں پر ہوگی۔ مگر بخاری کی ایک دوسری حدیث میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن مریم کو بجائے دو فرشتوں کے دو آدمیوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر طواف کرتے دیکھا۔ پس اس حدیث کے لحاظ سے بآسانی یہ بات کھلتی ہے کہ دمشقی حدیث میں جو دو فرشتے لکھے ہیں وہ دراصل وہی دو آدمی ہیں کہ دوسری حدیث میں بیان کئے گئے ہیں اور جن کے کندھوں پر ہاتھ رکھنے سے مطلب یہ ہے کہ وہ مسیح کے مددگار اور انصار ہو جائیں گے۔ اور پھر فرمایا کہ جس وقت اپنا سر جھکائے گا تو اُس کے پسینہ کے قطرات مترشح ہوں گے اور جب اوپر کو اُٹھائے گا تو بالوں سے قطرے پسینہ کے چاندی کے دانوں کی طرح گریں گے جیسے موتی ہوتے ہیں (کسی کافر کے لئے ممکن نہیں ہو گا کہ اُن کے دم کی ہوا پا کر ۲۱۶ جیتا رہے بلکہ فی الفور مر جائے گا اور جہاں تک اُن کی حدِ نظر تک پہنچے گا۔ پھر حضرت ابن مریم دجال کی تلاش میں نکلیں گے اور لُدّ کے دروازہ پر جو بیت المقدس کے دیہات میں سے ایک گاؤں ہے اس کو جا پکڑیں گے اور قتل کر ڈالیں گے۔ تمت ترجمة الحديث. یہ وہ حدیث ہے جو صحیح مسلم میں امام مسلم صاحب نے لکھی ہے جس کو ضعیف ٹھہرا کر رئیس المحدثین

ازالہ اوہام صفحہ 110 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 209, 210 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 427 پر درج ہے

Back

صفحہ 1058

حوالہ نمبر 464 ازالۃ الاوہام ۲۱۰ حصہ اول

امام محمد اسمعیل بخاری نے چھوڑ دیا ہے اس جگہ حیرانی کا یہ مقام ہے کہ جو کچھ کمالات و صفات اس حدیث میں لکھے گئے ہیں وہ جس طرح سے اس کے آنے کی خبر دیتی ہے یہ بیان دوسری حدیثوں کے بیان سے بالکل منافی اور مباین اور مخالف پایا جاتا ہے کیونکہ صحیحین میں یہ حدیث بھی ہے وعن محمد بن المنکدر قال رایت جابر بن عبداللّٰه یحلف باللّٰه ان ابن صیاد الدجال قلت تحلف بالله قال انی سمعت عمر یحلف علی ذالك عند النبی صلی اللّٰه علیه وسلم فلم ینکرہ النبی صلی اللّٰه علیه وسلم متفق علیه اور ایک دوسری حدیث یہ بھی ہے عن نافع قال کان ابن عمر یقول واللّٰه ما اشك ان المسیح الدجال ابن صیاد رواہ ابو داؤد والبیہقی فی کتاب البعث والنشور۔ ۱۲ پہلی حدیث کا ترجمہ یہ ہے کہ محمد بن منکدر تابعی سے روایت ہے کہ کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ کو دیکھا کہ خدا تعالیٰ کی قسم کھاتا تھا کہ ابن صیاد ہی دجال معہود ہے اور محمد بن منکدر کہتا ہے کہ میں نے جابر کو کہا کہ کیا تو خدا تعالیٰ کی قسم کھاتا ہے یعنی یہ امر تو ظنی ہے تو یقینی پھر قسم کیوں کھاتا ہے۔ جابر نے کہا کہ میں نے عمر کو بحضور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی بارہ میں قسم کھاتے سنا یعنی عمرؓ نے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے روبرو قسم کھا کر کہا کرتا تھا کہ ابن صیاد ہی دجال معہود ہے۔ پھر دوسری حدیث کا ترجمہ یہ ہے کہ نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر کہتے تھے کہ مجھے قسم ہے اللہ کی کہ میں ابن صیاد کے مسیح دجال ہونے میں شک نہیں کرتا۔ پھر ایک اور حدیث میں جو شق ثالث میں لکھی ہے یہ فقرہ درج ہے لم یزل رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم مشفقا انه هو الدجال یعنی ہمیشہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم اس خوف میں تھے کہ ابن صیاد دجال ہو گا یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہمیشہ گمانِ غالب یہی رہا کہ ابن صیاد ہی دجال ہے۔ اب جب کہ خاص ۱۲ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے بیان سے ثابت ہو گیا کہ ابن صیاد ہی دجال معہود ہے جو کہ مدینہ میں

ازالۃ الاوہام صفحہ 110 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 210,209 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 427 پر درج ہے

صفحہ 1059

(حوالہ نمبر 465)

۲۱۸

لکھا تھا۔ سو اُس نے اسلامی مہینوں میں سے چوتھا مہینہ لیا یعنی ماہ صفر۔ اور ہفتہ کے دنوں میں سے چوتھا دن لیا یعنی چہار شنبہ۔ اور دن کے گھنٹوں میں سے دوپہر کے بعد چوتھا گھنٹہ لیا۔ اور پیشگوئی ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کے مطابق پیر کے دن اُس کا عقیقہ ہوا۔ اور اس کی پیدائش کے دن یعنی بروز چہار شنبہ چوتھے گھنٹہ میں کئی دن کے امساک باراں کے بعد خوب بارش ہوئی۔

یہ چار لڑکے ہیں جن کی پیدائش سے پہلے ان کے پیدا ہونے کے بارے میں خدا تعالیٰ نے ہر ایک دفعہ مجھے خبر دی اور یہ پیشگوئیاں نہ صرف زبانی طور پر لوگوں کو سنائی گئیں بلکہ پیش از وقت اشتہاروں اور رسالوں کے ذریعہ لاکھوں انسانوں میں مشتہر کی گئیں۔ اور پنجاب اور ہندوستان میں بلکہ تمام دُنیا میں اس عظیم الشان غیب گوئی کی نظیر نہیں ملے گی۔ اور کسی کی کوئی پیشگوئی ایسی نہیں پاؤ گے کہ اوّل تو خدا تعالیٰ نے چار لڑکوں کے پیدا ہونے کی اکٹھی خبر دی اور پھر ہر ایک لڑکے کے پیدا ہونے سے پہلے اپنے الہام سے اطلاع کر دی کہ وہ پیدا ہونے والا ہے۔ اور پھر وہ تمام پیشگوئیاں لاکھوں انسانوں میں شائع کی گئیں۔ تمام دنیا میں پھرو۔ اگر اس کی کہیں نظیر ہو تو پیش کرو۔ اور عجیب تر یہ کہ چار لڑکوں کے پیدا ہونے کی خبر جو سب سے پہلے اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء میں دی گئی اس وقت ہر چہار لڑکوں میں سے ابھی ایک بھی پیدا نہیں ہوا تھا۔ اور اشتہار مذکور میں خدا تعالیٰ نے عربی فقرہ میں پسر چہارم کا نام مبارک رکھ دیا ہے۔ دیکھو صفحہ ۲۔ اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء دُوسرے کالم کی سطر نمبر ۶۔ سو جب اس لڑکے کا نام مبارک احمد رکھا گیا۔ تب اُس نام رکھنے کے بعد یکدفعہ وہ پیشگوئی ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کی یاد آگئی۔

اب ناظرین کے یاد رکھنے کے لئے ان ہر چہار پسر کی نسبت یہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ کس کس مہینا میں ان کے توّلد کی نسبت پیشگوئی ہوئی اور پھر کس کس تاریخ

تریاق القلوب صفحہ 41 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 218 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 428 پر درج ہے

صفحہ 1060

خطبہ الہامیہ ۲۲ حوالہ نمبر 466

غرض یہ ہے کہ تثلیث کے خیالات کو محو کر کے پھر ایک خدا کا جلال دنیا میں قائم کرے۔ پس اس لئے بیان کیا گیا کہ مسیح کا منارہ جس کے قریب اس کا نزول ہو گا دمشق سے شرقی طرف ہے۔ اور یہ بات صحیح بھی ہے کہ قادیان جو ضلع گورداسپور پنجاب میں ہے دمشق سے

بقیہ حاشیہ

کچھ شک نہیں کہ اس کے سوا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک کشفی معراج بھی تھا جس سے یہ غرض تھی کہ آپ کی قوت کشفی کا کمال ظاہر ہو اور نیز ثابت ہو کہ مسیح زمانہ کے برکات بھی درحقیقت آپ ہی کے برکات ہیں جو آپ کی قوت متبوعہ سے پیدا ہوئی ہیں۔ اسی وجہ سے مسیح ایک طور سے آپ ہی کا روپ ہے۔ اور وہ معراج یعنی سیر کشفی دنیا کی انتہا تک تھا جو مسیح کے زمانہ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اور اس معراج میں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک سیر فرما ہوئے وہ مسجد اقصیٰ یہی ہے جو قادیان میں بجانب مشرق واقع ہے جس کا نام خدا کے کلام نے مبارک رکھا ہے۔ یہ مسجد جسمانی طور پر مسیح موعود کے لئے بنائی گئی ہے اور روحانی طور پر مسیح موعود کے برکات اور کمالات کی تصویر ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بطور وراثت ملے ہیں۔ اور جیسا کہ مسجد الحرام کی روحانیت حضرت آدم اور حضرت ابراہیم کے کمالات ہیں۔ اور بیت المقدس کی روحانیت انبیاء بنی اسرائیل کے کمالات ہیں۔ ایسا ہی مسیح موعود کی یہ مسجد اقصیٰ جس کا قرآن شریف میں ذکر ہے اس کے روحانی کمالات کی تصویر ہے۔

پس اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی معراج میں زمانہ گزشتہ کی طرف صعود ہے اور زمانہ آئندہ کی طرف نزول ہے۔ اور ماحصل اس معراج کا یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خیرالمرسلین وخاتم النبیین ہیں۔ معراج جو مسجد الحرام سے شروع ہوتا ہے اس میں یہ اشارہ ہے کہ صفی اللہ آدم کے تمام کمالات اور ابراہیم خلیل اللہ کے تمام کمالات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں موجود تھے اور پھر اس جگہ سے قدم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اقصیٰ میں

تفسیر خطبہ الہامیہ صفحہ 22 روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 22، 23 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 428 پر درج ہے

صفحہ 1061

حوالہ نمبر 466

خطبہ الہامیہ ۲۳

گوشہ مغرب اور جنوب میں واقع ہے وہ دمشق سے ٹھیک ٹھیک شرقی جانب پڑی ہے۔ پس اس سے ثابت ہو گیا کہ یہ منارۃ المسیح بھی دمشق سے شرقی جانب واقع ہے۔ ہر ایک طالب حق کو چاہئے کہ دمشق کے نقشہ پر بغور غور کرے کہ اس میں حکمت کیا ہے کہ یہ

کے طور پر بیت المقدس کی طرف گیا اور اس میں یہ اشارہ تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں تمام اسرائیلی نبیوں کے کمالات جمع ہو گئے ہیں۔ اور پھر جس جگہ سے قدم اُٹھا کر بقیہ السیر اپنی انتہا تک پہنچائی یہ مکہ اور یہ ہی مسجد اقصیٰ تک گیا جو مسیح موعود کی مسجد ہے یعنی کشفی نظر اس کو قادیان زمانہ تک جو مسیح موعود کا زمانہ کہلاتا ہے پہنچا گئی۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ جو کچھ مسیح موعود کو دیا گیا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں موجود ہے اور پھر قدم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آسمانی سیر کے طور پر اوپر کی طرف گیا اور مرتبہ قاب قوسین کا پایا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مظہر صفات الہیہ اتم اور اکمل طور پر تھے۔ غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اس قسم کا معراج یعنی مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ تک جو زمانی مکانی دونوں رنگ کی سیر تھی اور نیز خدا تعالیٰ کی طرف ایک سیر تھا جو مکانی اور زمانی دونوں سے پاک تھا۔ اس دو رنگی معراج سے غرض یہ تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تجلیات میں ذو قوسین ہیں اور نیز خدا تعالیٰ کی طرف سیر ان کا اس نقطہ اور مقام پر ہے کہ اس سے بڑھ کر کسی انسان کو گنجائش نہیں۔ مگر اس حاشیہ میں ہماری صرف یہ غرض ہے کہ جیسا کہ براہین میں اس سے پہلے بیان ہوا مجھے کشفی طور پر دکھایا گیا تھا کہ قرآن شریف میں قادیان کا ذکر ہے۔ یہ کشف نہایت صحیح اور درست نکلا۔ کیونکہ زمانی رنگ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا معراج اور سیر اقصیٰ کی طرف سیر مسجد الحرام سے شروع ہو کر یہ کسی طرح سچ نہیں ہو سکتا جب تک اس مسجد تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سیر تسلیم نہ کیا جائے جو باعتبار قبلہ ہونے کے مکہ مسجد اقصیٰ ہونے کے ہم پلہ ہے۔ مسیح موعود کا وہ زمانہ ہے جو اسلامی صدی کا باعتبار زمانہ

تتمہ خطبہ الہامیہ صفحہ 16 مطبوعہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 22-23 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 428 پر درج ہے

Back

صفحہ 1062

حوالہ نمبر 467

ہے اسی لیے اللہ تعالیٰ بار بار فرماتا ہے اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا وَالَّذِيْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ۔

(النحل: ۱۲۸)

متقی اور محسن متقی کے معنی ہیں ڈرنے والا ۔ ایک خدا سے شرماتا ہے اور ایک بندے سے نیز متقی ایک شرم کا مفہوم اپنے اندر رکھتا ہے اور محسن کمال درجہ خیر کو چاہتا ہے۔ میں نے اس کے متعلق ایک حکایت پڑھی ہے کہ ایک دفعہ ایک عرب نے کسی کی دعوت کی اور اپنی طرف سے جود و سخا کا پورا اہتمام کیا اور حق ادا کیا جب وہ کھانا کھا چکے تو اس نے یہ عذر پیش کیا کہ میں تمہاری لائق خدمت نہیں کر سکا۔ مہمان نے کہا کہ آپ نے مجھ پر کوئی احسان نہیں کیا بلکہ میں نے احسان کیا ہے کیونکہ جس وقت تم مصروف تھے، میں تمہارے عیوب کو نظر انداز کرتا گیا ہوں۔ غرض متقی کا کام یہ ہے کہ برائیوں سے باز آوے اس سے آگے دوسرا درجہ افاضہ خیر کا ہے جس کو یہاں محسنوں کے لفظ سے ادا کیا گیا ہے کہ نیکیاں بھی کرے پس مراتب ابتدائی میں تب ہوتا ہے جب بدیوں سے پرہیز کر کے ملاحظہ کرے کہ نیکی کونسی کی ہے۔

سنتے ہیں کہ امام حسن رضی اللہ عنہ کے پاس ایک غلام شوربہ کا پیالہ لایا جب قریب آیا تو غفلت سے وہ پیالہ آپؓ کے کپڑوں پر پڑا۔ آپؓ نے نگاہ قہر آلود سے دیکھا تو غلام نے کلام مجید کی آیت سے پڑھا۔ وَالْكَاظِمِيْنَ الْغَيْظَ (آل عمران: ۱۳۴) آپؓ نے کلام سنتے ہی فرمایا میں نے غصہ پی لیا۔ غلام نے پھر پڑھا وَالْعَافِيْنَ عَنِ النَّاسِ۔ آپؓ نے فرمایا میں نے تجھے معاف کیا۔ اس نے پھر پڑھا وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ۔ جواب میں آپؓ فرماتے ہیں جا میں نے تجھے خدا کے واسطے آزاد کیا، اور نہ صرف یہ بلکہ میں اپنا آدھا مال تجھے بخش دیا ہے۔ پس یہ ہے متقی کی شان، یہی وجہ ہے کہ پیشتر اس کے کہ محسن بنے پہلے تقویٰ کی شرط ہے پھر مقام افاضہ خیر ہے۔ جذبات طبعی ہوتے ہیں جو حکم اللہ کے بعد نیکی میں لگتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ اکابر میں بھی اور انبیاء علیہم السلام کے سلسلے میں یہی طریقہ ہے کہ پہلے تقویٰ اختیار کیا جائے تب کہیں جا کر مقام احسان پیدا ہوتا ہے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوتِ قدسی

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ

(آل عمران: ۱۱۰)

یعنی سب سے بہتر امت تم ہو جو لوگوں کے نفع کے لیے نکالی گئی ہو۔ نور ایمانی یہاں تک ان میں پیدا ہوا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوتِ قدسی نے ایسا اثر کیا کہ بڑے بڑے جابر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں آگرے اور حق کے لیے سیدھے ہو گئے۔ گویا ایک بالکل نئی پیدائش ان کی ہو گئی۔ ان کی ایسی گری ہوئی حالت تھی کہ ان کو سیدھا کرنا اور انسانی درجہ تک پہنچانا پوری فرمانبرداری کرنا، یہاں تک انسان کی اپنی ذات سے توقع ہو سکتی ہے، ناممکن ہے مگر آپؐ نے اس کو پورا کر دکھایا لیکن خدا و رسول کا وہ پیارا بننا آسان نہیں ہے اس سے بڑھ کر یہ کہ عملی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی شان اور قوتِ قدسی کا پتہ ملتا ہے، اپنے ہاتھ سے آپ نے اس کام کی تکمیل کی، صحابہ کرام کی ایک جماعت تیار کر کے دکھا دی جو کہ نمونہ

ملفوظات جلد اول صفحہ 115 طبع جدید از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 429 پر درج ہے

صفحہ 1063

حوالہ نمبر 468

کشتی نوح

۴۱

تقویۃ الایمان

ابھی تک خدا کی زمین پر بادشاہت نہیں۔ دیکھو زمین پر ہر روز خدا کے حکم سے ایک ساعت میں کروڑہا انسان مرجاتے ہیں اور کروڑہا اُس کے ارادہ سے پیدا ہوجاتے ہیں۔ اور کروڑہا اُس کی مرضی سے فقیر سے امیر اور امیر سے فقیر ہوجاتے ہیں۔ پھر کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ ابھی تک زمین پر خدا کی بادشاہت نہیں۔ آسمانوں پر تو صرف فرشتے رہتے ہیں۔ مگر زمین پر آدمی بھی ہیں اور فرشتے بھی جو خدا کے کارکن اور اُسکی سلطنت کے خادم ہیں جو انسانوں کے مختلف کاموں کے محافظ چھوڑے گئے ہیں۔ اور وہ ہر وقت خدا کی اطاعت کرتے ہیں اور اپنی رپورٹیں بھیجتے رہتے ہیں۔ پس کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ زمین پر خدا کی بادشاہت نہیں۔ بلکہ خدا سب سے زیادہ اپنی زمینی بادشاہت کا نام بھی رکھتا ہے۔ کیونکہ ہر ایک شخص خیال کرتا ہے کہ آسمان کا مدار فرضی اور فرشتہ پر ہے۔ بلکہ حال کے زمانہ میں قریباً تمام عیسائی اور اُنکے فلاسفر آسمانوں کے وجود کے ہی قائل نہیں۔ جن پر خدا کی بادشاہت کا انجیلوں میں سارا دار و مدار رکھا گیا ہے۔ مگر زمین تو فی الواقع ایک کرہ ہمارے پاؤں کے نیچے ہے اور ہزارہا قضاء قدر کے اُمور اِس پر ظاہر ہو رہے ہیں۔ جو نظر آتا ہے کہ یہ سب کچھ تغیر و تبدل اور حدوث اور فنا کسی خاص مالک کے حکم سے ہو رہا ہے۔ پھر کیونکر کہا جائے کہ زمین پر ابھی خدا کی بادشاہت نہیں۔ بلکہ ایسا تسلیم ایسے زمانہ میں جبکہ عیسائیوں میں آسمانوں کا بڑے زور سے انکار کیا گیا ہے۔ نہایت نامناسب ہے۔ کیونکہ انجیل کی اس دُعا میں تو قبول کر لیا گیا ہے کہ ابھی زمین پر خدا کی بادشاہت نہیں۔ اور دوسری طرف تمام محققین عیسائیوں نے سچے دل سے یہ بات مان لی ہے یعنی اپنی تحقیقات جدیدہ سے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ آسمان کچھ چیز ہی نہیں کاہے کی بادشاہت ہے۔ پس ماحصل یہ ہوا کہ خدا کی بادشاہت نہ زمین میں ہے نہ آسمان میں۔ آسمانوں سے تو عیسائیوں نے انکار کیا۔ اور زمین کی بادشاہت سے اُن کی انجیل نے خُدا کو جواب دیدیا۔ تو اب بقول اُن کے خدا کے پاس نہ زمین کی بادشاہت رہی نہ آسمان کی۔ مگر ہمارے خُدائے عزوجل نے سورہ فاتحہ میں نہ آسمان کا نام لیا نہ زمین کا نام۔ اور یہ کہہ کر حقیقت

کو

کشتی نوح صفحہ 37 مشمولہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 41 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 429 پر درج ہے

صفحہ 1064

حوالہ نمبر 469 ازالۃ الاوہام ۳۰۴ حصہ دوم

میں نے اس کتاب میں بوجہ احسن و اتم ثبوتوں سے مسیح کا فوت ہو جانا اور اموات میں داخل ہونا ثابت کر دیا ہے اور میں نے براہین کی حد تک اس بات کو پہنچا دیا ہے کہ مسیح زمین پر سے جسم عنصری کے ساتھ ہرگز آسمان کی طرف اُٹھایا نہیں گیا بلکہ اور نبیوں کی موت کی طرح اُس پر بھی موت آئی اور دائمی طور پر وہ اس جہان سے رخصت ہوا مگر کوئی مسیح کا ہی پرستار ہے تو سمجھ لے کہ وہ مر گیا اور مرنے والوں کی جماعت میں ہمیشہ کے لئے داخل ہو گیا ۔ سو تم تائید حق کے لئے اس کتاب سے فائدہ اُٹھاؤ اور سرگرمی کے ساتھ پادریوں کے مقابل پر کھڑے ہو جاؤ۔ یاد رکھو کہ یہی ایک مسئلہ ہمیشہ تمہارے زیر توجہ اور پورا بھروسہ کے لائق ہو جو درحقیقت مسیح ابن مریم فوت شدہ گروہ میں داخل ہے۔ میں نے اس بحث کو اس کتاب میں بڑی دلچسپی کے ساتھ کامل اور قوی دلائل سے انجام تک ۴۳۰ پہنچایا ہے۔ اور خدا تعالیٰ نے اس تالیف میں میری وہ مدد کی ہے جو میں بیاں نہیں کر سکتا۔ اور میں بڑے دعوے اور استقلال سے کہتا ہوں کہ میں سچ پر ہوں اور خدا تعالیٰ کے فضل سے اس میدان میں میری ہی فتح ہے۔ اور جہاں تک میں قدرت فکر سے کام لیتا ہوں تمام دنیا اپنی سچائی کے تحت الاقدام دیکھتا ہوں۔ اور قریب ہے کہ میں ایک عظیم الشان فتح پاؤں کیونکہ میری زبان کی تائید میں ایک اور زبان بول رہی ہے اور میرے ہاتھ کی تقویت کے لئے ایک اور ہاتھ چل رہا ہے جس کو دنیا نہیں دیکھتی مگر میں دیکھ رہا ہوں۔ میرے اندر ایک آسمانی روح بول رہی ہے جو میرے لفظ لفظ اور حرف حرف کو زندگی بخشتی ہے اور آسمان پر ایک جوش اور اُبال پیدا ہوا ہے جس نے ایک پتلی کی طرح اس مشت خاک کو کھڑا کر دیا ہے۔ ہر ایک وہ شخص جس پر توبہ کا دروازہ بند نہیں عنقریب دیکھ لے گا کہ میں اپنی طرف سے نہیں ہوں۔ کیا وہ آنکھیں بینا ہیں جو صادق کو شناخت نہیں کر سکتیں کیا وہ بھی زندہ ہے جس کو اس آسمانی صدا کا احساس نہیں ؟

ازالۃ الاوہام صفحہ 563 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 403 از مرزا قادیانی | یہ حوالہ صفحہ 430 پر درج ہے

صفحہ 1065

حوالہ نمبر 470

ضرورۃ الامام ۴۸۰

پہنچا دیتی ہے۔ اسی طرح یہ شخص اپنے علوم روحانیہ سے صحبت یافتوں کو علمی رنگ سے رنگین کرتا رہتا ہے اور یقین اور معرفت میں بڑھاتا جاتا ہے مگر دوسرے طبعی اندھوں اور نامردوں کیلئے اس قسم کی بسطت علمی ضروری نہیں کیونکہ نوع انسان کی تربیت علمی بایک دفعہ نہیں کی جاتی۔ اور ایسے نااہلوں خواب بینوں میں اگر کچھ نقصان علم اور جہالت باقی ہو تو چنداں جائے اعتراض نہیں کیونکہ وہ کسی کشتی کے ملاح نہیں ہیں۔ بلکہ خود ملاح کے محتاج ہیں۔ ہاں انکو ان فضولیوں میں نہیں پڑنا چاہیئے کہ ہم اس روحانی ملاح کی کچھ حاجت نہیں رکھتے۔ ہم خود ایسے اور ویسے ہیں۔ اور ان کو یاد رکھنا چاہیئے کہ ضرور انکو حاجت ہے جیسا کہ عورت کو مرد کی حاجت ہو۔ خدا نے ہر ایک کو ایک کام کے لئے پیدا کیا ہے۔ پس جو شخص امامت کے لئے پیدا نہیں کیا گیا اگر وہ ایسا دعویٰ زبان پر لائیگا تو وہ لوگوں سے اسی طرح اپنی ہنسی کرائیگا جیسا کہ ایک ناداں ولی نے بادشاہ کے روبرو ہنسی کرائی تھی۔ اور قصہ یوں ہے کہ کسی شہر میں ایک زاہد تھا جو نیک بخت اور متقی تھا۔ مگر علم سے بے بہرہ تھا۔ اور بادشاہ کو اسپر اعتقاد تھا مگر بوجہ اسکی بے علمی کے اس درجہ معتقد نہیں تھا۔ ایک مرتبہ وہ زاہد اور بادشاہ دونوں اکٹھے ٹہلنے کیلئے گئے اور اُس نے محض فضول کی راہ سے اسلامی تاریخ میں دخل دیکر بادشاہ کو کہا کہ اسکندر رومی بھی اس اُمت میں بڑا بادشاہ گذرا ہے۔ تب وزیر کو نکتہ چینی کا موقعہ ملا اور فی الفور کہنے لگا کہ دیکھئے حضور فقیر صاحب کو علاوہ کمالات ولایت کے تاریخ دانی میں بھی بہت کچھ دخل ہے۔ سو امام الزمان کو مخالفوں اور عام سائلوں کے مقابل پر اسقدر الہام کی ضرورت نہیں جسقدر علمی قوت کی ضرورت ہے۔ کیونکہ شریعت پر ہر ایک قسم کے اعتراض کرنیوالے ہوتے ہیں۔ طب کے رُو سے بھی۔ ہیئت کے رُو سے بھی۔ طبعی کے رُو سے بھی۔ جغرافیہ کے بعضے بھی اور کتب مسلمہ اسلام کے رُو سے بھی اور عقلی بناء پر بھی اور نقلی بناء پر بھی اور امام الزمان حامی دین اسلام کہلاتا ہے۔ اور اس باغ کا خدا تعالیٰ کی طرف سے باغبان ٹھہرایا جاتا ہے۔ اور اسپر فرض ہوتا ہے کہ ہر ایک اعتراض کو دُور کرے اور ہر ایک معترض کا منہ بند کرے۔ اور صرف یہ نہیں بلکہ یہ بھی اس کا فرض ہوتا ہے کہ نہ صرف اعتراضات دُور کرے بلکہ اسلام کی خوبی اور خوبصورتی بھی دُنیا پر ظاہر کر دے۔ پس

ضرورۃ الامام صفحہ 10 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 480 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 430 پر درج ہے

صفحہ 1066

حوالہ نمبر 471

پیغام صلح ۴۸۵

سے نظر آوے اور کوئی کسی کونہ سے۔ یہی حال اسلام کا ہے کہ اس کی آسمانی روشنی صرف ایک ہی طرف سے نظر نہیں آتی۔ بلکہ ہر ایک طرف سے اس کے ابدی چراغ نمایاں ہیں۔ اس کی تعلیم بجائے خود ایک چراغ ہے۔ اور اس کے ساتھ جو خدا کی نصرت کے نشان ہیں۔ وہ ہر ایک نشان چراغ ہے۔ اور جو شخص اس کی سچائی کے اظہار کے لئے خدا کی طرف سے آتا ہے۔ وہ بھی ایک چراغ ہوتا ہے۔ میرا بڑا حصہ عمر کا مختلف قوموں کی کتابوں کے دیکھنے میں گزرا ہے ۔ مگر میں سچ سچ کہتا ہوں کہ میں نے کسی دوسرے مذہب کی تعلیم کو خواہ اُس کا عقائد کا حصہ ہو، خواہ اخلاقی حصہ ہو، خواہ تدبیر منزلی اور سیاست مدنی کا حصہ ہو، خواہ اعمال صالحہ کی تفسیر کا حصہ ہو ۔ قرآن شریف کے بیان کے ہم پہلو نہیں پایا۔ اور یہ قول میرا اس لئے نہیں کہ میں ایک مسلمان شخص ہوں۔ بلکہ سچائی مجھے مجبور کرتی ہے کہ میں گواہی دوں۔ اور یہ میری گواہی بے وقت نہیں۔ بلکہ ایسے وقت میں جب کہ دنیا میں مذاہب کی کشتی شروع ہے۔ مجھے خبر دی گئی ہے کہ اس کشتی میں آخر اسلام کو فتح ہے۔ میں زمین کی باتیں نہیں کہتا۔ کیونکہ میں زمین سے نہیں ہوں۔ بلکہ میں وہی کہتا ہوں جو خدا نے میرے منہ میں ڈالا ہے۔ زمین کے لوگ خیال کرتے ہوں گے۔ کہ شاید انجام کار عیسائی مذہب دُنیا میں پھیل جائے یا بُدھ مذہب دُنیا پر حاوی ہو جائے۔ مگر وہ اس خیال میں غلطی پر ہیں۔ یاد رہے کہ زمین پر کوئی بات ظہور میں نہیں آتی ۔ جب تک وہ بات آسمان پر قرار نہ پائے ۔ سو آسمان کا خدا مجھے بتلاتا ہے۔ کہ آخر اسلام کا مذہب دلوں کو فتح کریگا۔ اِس مذہبی جنگ میں مجھے حکم ہے کہ میں حق کے طالبوں کو بُلاؤں۔ اور میری مثال اُس شخص کی ہے ۔ کہ جو ایک خطرناک ڈاکوؤں کے گروہ کی خبر دیتا ہے۔ جو ایک گاؤں کی

پیغام صلح صفحہ 47 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 485 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 430 پر درج ہے

صفحہ 1067

(حوالہ نمبر 472)

انوار العلوم جلد ۳ ١٠١ انوار خلافت

ہوں ”اس عبارت کو پڑھ کر ہر ایک شخص معلوم کر سکتا ہے کہ الہام کے اس حکم کی کہ میرے نام پر بیعت لیں۔ انجمن اشاعت اسلام نے یہ تاویل کی ہے کہ احمد کے نام پر لوگوں کی بیعت لینی شروع کی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر حضرت مسیح موعود کا نام احمد نہیں تو میرے نام پر بیعت لینے کا حکم کس طرح پورا ہوا۔ اور اگر آپ کا نام احمد ہے جیسا کہ ان الفاظ بیعت سے ظاہر ہے تو پھر اس بات پر بحث کیوں ہے کہ حضرت صاحب کا نام احمد نہ تھا اور کیوں جو الزام ہم پر دیا جاتا ہے اس کے خود مرتکب ہو رہے ہیں اور کیوں غلام احمد کو احمد بنا رہے ہیں لیکن ہر ایک شخص جو تعصب سے خالی ہو کر اس امر پر غور کرے سمجھ سکتا ہے کہ در حقیقت ہمارے مخالفین کے دل بھی یہی گواہی دے رہے ہیں کہ حضرت مسیح موعود کا نام احمد تھا۔ اور ہم پر جو اعتراض کئے جاتے ہیں وہ صرف دکھانے کے دانت ہیں اور ان کے کھانے کے دانت اور ہیں۔

نواں ثبوت حضرت مسیح موعود کا نام احمد ہونے کا یہ ہے کہ خود آپ نے اس آیت کا مصداق اپنے آپ کو قرار دیا ہے۔ چنانچہ آپ ازالہ اوہام جلد ۲ صفحہ ۴۷۳ میں تحریر فرماتے ہیں:

”اور اس آنے والے کا نام جو احمد رکھا گیا ہے وہ بھی اس کے مثیل ہونے کی طرف اشارہ ہے کیونکہ محمد جلالی نام ہے اور احمد جمالی۔ اور احمد اور عیسیٰ اپنے جمالی معنوں کی رو سے ایک ہی ہیں۔ اسی کی طرف یہ اشارہ ہے وَ مُبَشِّرًاۢ بِرَسُوْلٍ یَّاتِیْ مِنْۢ بَعْدِی اسْمُهٗۤ اَحْمَدُ مگر ہمارے نبی ﷺ فقط احمد ہی نہیں بلکہ محمد بھی ہیں یعنی جامع جلال و جمال ہیں۔ لیکن آخری زمانہ میں برطبق پیشگوئی مجرد احمد جو اپنے اندر حقیقت عیسویت رکھتا ہے بھیجا گیا۔“

(روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۴۶۳)

اس عبارت سے ظاہر ہے کہ آپ اس آیت کا مصداق اپنے آپ کو ہی قرار دیتے ہیں کیونکہ آپ نے اس میں دلیل کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ اگر رسول کریم ﷺ اس جگہ مراد ہوتے تو محمد و احمد کی پیشگوئی ہوتی۔ لیکن یہاں صرف احمد کی پیشگوئی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی اور شخص ہے جو مجرد احمد ہے پس یہ حوالہ صاف طور پر ثابت کر رہا ہے کہ آپ احمد تھے بلکہ یہ کہ اس پیشگوئی کے آپ ہی مصداق ہیں اور اگر کسی دوسری جگہ پر آپ نے رسول کریم ﷺ کو بھی اس آیت کا مصداق قرار دیا ہے تو اس کے یہی معنی ہیں کہ بوجہ اس

یہ حوالہ صفحہ 433 پر درج ہے | انوار خلافت صفحہ 37 مندرجہ انوار العلوم جلد 3 صفحہ 101 از مرزا بشیر الدین محمود ابن مرزا قادیانی

صفحہ 1068

حوالہ نمبر 473

1993] Zaheeruddin v. State 1777 (Abdul Qadeer Chaudhry, J)

praise him. Therefore, if anything is said against the Prophet, it will injure the feelings of a Muslim and may even incite him to the breach of peace, depending on the intensity of the attack. The learned Judge in the High Court has quoted extensively from the Ahmadi literature to show how Mirza Ghulam Ahmad belittled also the other Prophets, particularly, Jesus Christ, whose place he wanted to occupy. We may not, however, repeat that material but two examples may suffice. Mirza Ghulam Ahmad wrote:

"The miracles that the other Prophets possessed individually were all granted to Muhammad (p.b.u.h.). They all were then given to me as I am his shadow. It is for this reason that my names are Adam, Abraham, Moses, Noha, David, Joseph, Solomon, John and Jesus Christ...." (Malfoozat, Vol. 3, page 270, printed Rabwah).

About Jesus Christ he stated:

"The ancestors of Jesus Christ were pious and innocent? His three paternal grandmothers and maternal grandmothers were prostitutes and whores and that is the blood he represents."

(Appendix Anjaame Atham, Note 7).

Qur'an on the other hand, praises Jesus Christ, his mother and his family. (See 3: 33-37, 3:45-47, 19: 16-32). Can any Muslim utter anything against Qur'an and can anyone who does so claim to be a Muslim? How can then Mirza Ghulam Ahmad or his followers claim to be Muslims? It may also be noted here that, for his above writings, Mirza Sahib could have been convicted and punished, by and English Court, for the offence of blasphemy, under the Blasphemy Act, 1679, with a term of imprisonment.

84. Again, as far the Holy Prophet Muhammad (p.b.u.h.) is concerned:

"every Muslim who is firm in his faith, must love him more than his children, family, parents and much more than any one else in the world."

(See Al-Bukhari, Kitabul Eeman, Bab Hubbal Rasool Min-al- Eeman).

Can then anyone blame a Muslim if he loses control of himself on hearing, reading or seeing such blasphemous material as has been produced by Mirza Sahib?

85. It is in this background that one should visualise the public conduct of Ahmadis, at the centenary celebrations and imagine the reaction that it might have attracted from the Muslims. So, if an Ahmadi is allowed by the administration or the law to display or chant in public, the Shaair-e-Islam, it is like creating a Rushdi out of him. Can the administration in that case guarantee his life, liberty and property, and if so at what cost? Again, if this permission is given to a procession or assembly on the streets or a public place, it is like permitting civil war. It is not a mere guesswork. It has happened, in

ظہیر الدین بنام سرکار 1993ء SCMR 1718

یہ حوالہ صفحہ 452 پر درج ہے

صفحہ 1069

حوالہ نمبر 473

1778 Supreme Court Monthly Review [Vol. XXV]

fact many a time, in the past, and had been checked at cost of colossal loss of life and property (For details, Munir's report may be seen). The reason is that when an Ahmadi or Ahmadis display in public on a placard, a badge or a poster or write on walls or ceremonial gates or buntings, the 'Kalima', or chant other 'Shaae're Islam' it would amount to publicly defiling the name of Holy Prophet (p.b.u.h.) and also other Prophets, and exalting the name of Mirza Sahib, thus infuriating and instigating the Muslims so that there may be a serious cause for disturbance of the public peace, order and tranquillity and it may result in loss of life and property. The preventive actions, in such situations are imperative in order to maintain law and order and save loss or damage to life and property particularly of Ahmadis. In that situation, the decisions of the concerned local authorities cannot be overruled by this Court, in this jurisdiction. They are the best judges unless contrary is proved in law or fact.

86. The action which gave rise to the present proceedings arose out of the order of the District Magistrate, passed under section 144, Cr.P.C. The Ahmadia community who are the predominant residents of Rabwah were informed of the order of the District Magistrate through their office-bearers, by the Resident Magistrate and directed to remove ceremonial gates, banners and illuminations and further ensure that no further writing will be done on the walls. The appellants could not show that the above practices are essential and integral part of their religion. Even the holding of centenary celebrations on the roads and streets was not shown to be the essential and integral part of their religion.

87. The question whether such a requirement is a part of freedom of religion and if they are subject to public safety, law and order etc. has already been discussed in detail, in the light of the judgments from countries like Australia, and the United States, where the fundamental rights are given top priority. We have also quoted judgments even from India. Nowhere the practices which are neither essential nor-integral part of the religion are given priority over the public safety and the law and order. Rather, even the essential religious practices have been sacrificed at the altar of public safety and tranquillity.

88. It is stated by the appellants that they wanted to celebrate the 100 years Ahmadia movement in a harmless and innocent manner, inter alia, by offering special thanks-giving prayers, distribution of sweets amongst children, and serving of food to the poor. We do not find any order stopping these activities, in private. The Ahmadis like other minorities are free to profess their religion in this country and no one can take away that right of theirs, either by legislation or by executive orders. They must, however, honour the Constitution and the law and should neither desecrate or defile the pious personage of any other religion including Islam, nor should they use their exclusive epithets, descriptions and titles and also avoid using the exclusive

ظہیر الدین بنام سرکار 1993ء SCMR 1718 یہ حوالہ صفحہ 452 پر درج ہے

صفحہ 1070

حوالہ نمبر 473

1993] Zaheeruddin v. State 1779 (Saleem Akhtar, J)

names like mosque and practice like 'Azan', so that the feelings of the Muslim community are not injured and the people are not misled or deceived as regards the faith.

coining new names, epithets, titles and descriptions for their personages, places and practices. After all Hindus, Christians, Sikhs and other communities have their own epithets etc., and are celebrating their festivals peacefully and without any law and order problem and trouble. However, the executive, being always under a duty to preserve law and order and safeguard the life, liberty, property and honour of the citizens, shall intervene if there is a threat to any of the above values.

detailed and well-reasoned order and has sagaciously and candidly taken into consideration judgments from such foreign jurisdictions which would infuse confidence in this hyper-sensitive, non-Muslim minority, i.e. Ahmadis. Therefore, we instead of further burdening the record, would adopt his reasoning also. The Ordinance is thus held to be not ultra vires of the Constitution. The result is that we find that neither is Article 20 of the Constitution attracted to the facts of the case nor is there any merit in this appeal. The appeal is dismissed.

dismissed.

(Sd.) Abdul Qadeer, Ch. J (Sd.) Muhammad Afzal Lone, J (Sd.) Wali Muhammad Khan, J

SALEEM AKHTAR, J.---The appellants have claimed protection of their right under Articles 19, 20 and 25 on the basis of being a minority as declared by the Constitution. They admit to be a minority in terms of the Constitution as distinguished from the Muslims. Their claim being that they should be treated equally under law like other minorities enjoying freedom of speech and expression and they should be allowed to profess, practice and propagate their religion. The first claim is covered by Articles 19 and 25 while the second one is based on Article 20.

of persons, but it should be founded on reasonable distinction and reasonable basis. Reference can be made to Government of Balochistan v. Azizullah Memon PLD 1993 SC 314. The Qadianis/Ahmadis on the basis of their faith and religion as elucidated by my learned brother Abdul Qadeer Chaudhry, J. vis-a-vis Muslims stand at a different pedestal as compared to other minorities. AAA Therefore, considering these facts and in order to maintain public order it was felt necessary to classify them differently and promulgate the impugned law to

ظہیر الدین بنام سرکار 1993 SCMR 1718 یہ حوالہ صفحہ 452 پر درج ہے

صفحہ 1071

حوالہ نمبر 474

بیس اعتراضوں کے جواب ۲۰۰ حقیقت الوحی

اُس کی سچائی ظاہر کردے گا۔ یہ پیشگوئی براہین احمدیہ میں لکھی گئی۔ اور اُن دنوں میں پوری ہو گی جب کہ مخالف طعنے دے رہے ہوں گے۔ ؎

یہ تو ہم نے وہ دو تین پیشگوئیاں لکھی ہیں جو ہمارے مخالف مولوی اور انہیں کا نیا چیلا عبد الحکیم خان بار بار اعتراض کرتے ہیں۔ اب ہم اُن کے مقابل یہ دکھلانا چاہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے آسمانی نشان ہماری شہادت کیلئے کس قدر ہیں لیکن افسوس کہ اگر وہ سب کے سب لکھے جائیں تو ہزار جزو کی کتاب میں بھی انکی گنجائش نہیں ہو سکتی اسلئے ہم محض بطور نمونہ کے ایک سو پچاس نشان اُن میں سے لکھتے ہیں۔ اُن میں سے بعض وہ پہلے نبیوں کی پیشگوئیاں ہیں جو میرے حق میں ۱۹۴ پوری ہوئیں۔ اور بعض اس اُمت کے اکابر کی پیشگوئیاں ہیں اور بعض وہ نشان خدا تعالیٰ کے ہیں جو میرے ہاتھ پر ظہور میں آئے اور چونکہ میری پیشگوئیوں پر اُن پیشگوئیوں کو تقدم زمانی ہے اِس لئے مناسب سمجھا گیا کہ تحریری طور پر بھی اُنہیں کو مُقدّم رکھا جائے اور یہ تمام پیشگوئیاں ایک ہی سلسلہ میں نمبر وار لکھی جائیں گی۔ اور وہ یہ ہیں :۔

عَلٰی رَاْسِ کُلِّ مِائَةِ سَنَةٍ مَّنْ یُّجَدِّدُ لَهَا دِیْنَهَا ۔ رواہ ابو داؤد یعنی خدا ہر ایک صدی کے سر پر اِس اُمت کے لئے ایک شخص مبعوث فرمایا کریگا جو اُس کیلئے دین کو تازہ کریگا۔ اور اب اِس صدی کا چوتھائی حصہ گزر جاتا ہے اور ممکن نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودہ میں تخلف ہو۔ اگر کوئی کہے کہ اگر یہ حدیث صحیح ہے تو بارہ صدیوں کے مجدّدوں کے نام بتلاویں۔ اِس کا جواب یہ ہے کہ یہ حدیث

جاننا چاہئے کہ طاعون، ہیضہ، بخاروں وغیرہ ہیں، زلزلے وغیرہ آفات آئیں گی کیونکہ میں صرف پنجاب کے لئے مبعوث نہیں ہوا بلکہ جہاں تک دُنیا کی آبادی ہے ان سب کی اصلاح کیلئے مامور ہوں پس میں سچ سچ کہتا ہوں کہ یہ آفتیں اور یہ زلزلے صرف پنجاب سے مخصوص نہیں ہیں بلکہ تمام دنیا ان آفات سے حصہ لے گی اور جیسا کہ امریکہ وغیرہ کے بہت حصے تباہ ہوچکے ہیں۔ یہی کچھ یورپ پر بھی پڑے گا۔ اور پیش از وقت ہو رہا ہے۔ غرضکہ یہ عذاب پنجاب اور ہند و سندھ اور ہر ایک حصہ ایشیاء کے لئے مقدر ہے۔ جو شخص زندہ رہیگا وہ دیکھ لے گا۔ منہ

حقیقۃ الوحی صفحہ 193 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 200 از مرزا قادیانی

یہ حوالہ صفحہ 455 پر درج ہے

صفحہ 1072

حوالہ نمبر 475

حقیقة الوحی ۲۰۱ بعض اعتراضوں کے جواب

علماء اُمت میں مسلم چلی آئی ہے اب اگر میرے دعوے کے وقت اس حدیث کو جو سچی تھی قرار دیا جائے تو ان مولوی صاحبوں سے یہ بھی پوچھو کہ بعض اکابر محدثین نے اپنے اپنے زمانہ میں خود مجدد ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ بعض نے کسی دوسرے کے مجدد بنانے کی کوشش کی ہے۔ پس اگر یہ حدیث صحیح نہیں تو انہوں نے دیانت سے کام نہیں لیا اور ہمارے لئے یہ ضروری نہیں کہ اقسام مجددین کے نام ہمیں یاد ہوں یہ علم محیط تو خاصہ خدا تعالیٰ کا ہے ہمیں عالم الغیب ہونے کا دعویٰ نہیں مگر اُسی قدر جو خدا بتلاوے ماسوا اسکے یہ امت ایک بڑے حصہ دنیا میں پھیلی ہوئی ہے اور خدا کی مصلحت کبھی کسی ملک میں مجدد پیدا کرتی ہے اور کبھی کسی ملک میں۔ پس خدا کے کاموں کا کون پورا علم رکھ سکتا ہے اور کون اُس کے غیب پر احاطہ کر سکتا ہے بھلا یہ تو بتلاؤ کہ حضرت آدم سے لیکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک ہر ایک قوم میں نبی گنے گئے ہیں مگر تم یہ بتلاؤ تو ہم مجدد بھی بتلادیں گے۔ ظاہر ہے کہ عدم علم سے عدم شئے لازم نہیں آتا۔ اور یہ بھی اہل سنت میں متفق علیہ امر ہے کہ آخری مجدد اس اُمت کا مسیح موعود ہے جو آخری زمانہ میں ظاہر ہو گا۔ اب تنقیح طلب یہ امر ہے کہ یہ آخری زمانہ ہے یا نہیں یہود و نصاریٰ دونوں قومیں اسپر اتفاق رکھتی ہیں کہ یہ آخری زمانہ ہے اگر چاہو تو پوچھ کر دیکھ لو۔ مری پلیگ وبائیں یاد دلانے آرہی ہیں۔ ہر ایک قسم کی ہلاکت و تباہی شروع ہے پھر کیا یہ آخری زمانہ نہیں؟ اور مسلمانو! اسلام نے بھی اس زمانہ کو آخری زمانہ قرار دیا ہے اور چودھویں صدی میں سے بھی تئیس سال گزر گئے ہیں۔ پس یہ قوی دلیل اس بات پر ہے کہ یہی وقت مسیح موعود کے ظہور کا وقت ہے اور میں ہی وہ ایک شخص ہوں جسنے اس صدی کے شروع ہونے سے پہلے دعویٰ کیا۔ اور میں ہی وہ ایک شخص ہوں جسکے دعوے پر پچیس برس گزر گئے اور اب تک زندہ موجود ہوں۔ اور میں ہی وہ ایک ہوں جسنے عیسائیوں اور دوسری قوموں کو خدا کے نشانوں کے ساتھ ملزم کیا۔ پس جبتک میرے اِس دعوے کے مقابل پر انھیں صفات کے ساتھ کوئی دوسرا مدعی پیش نہ کیا جائے تب تک میرا یہ دعویٰ ثابت ہے کہ وہ مسیح موعود جو آخری زمانہ کا مجدد ہے وہ میں ہی ہوں۔ زمانہ میں خدا نے نوبتیں رکھی ہیں۔

حقیقة الوحی صفحہ 193 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 201 از مرزا قادیانی یہ حوالہ صفحہ 455 پر درج ہے

Back

PDF 1073

Saboot Hazir Han Volume 2 Contents

ترتیب عنوانات

مرزا قادیانی کے حالات زندگی 41

PDF 1074
PDF 1075
PDF 1076
PDF 1077

مرزا قادیانی کے خانگی حالات 105

PDF 1078

مرزا قادیانی اور غیر محرم عورتیں 125

PDF 1079

شرمناک قادیانی تحریریں 141

PDF 1080
PDF 1081
PDF 1082
PDF 1083

مرزا قادیانی بحیثیت ایک طبیب 207

PDF 1084

مرزا قادیانی اور شاعری 223

PDF 1085

مرزا قادیانی ایک ڈرپوک اور بزدل شخص 235

قادیان 245

PDF 1086

بہشتی مقبرہ 253

مرزا قادیانی کے استاد 265

PDF 1087

مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے ”فیض یافتہ“ مرید 273

قادیانی جماعت، قادیانی قیادت کی نظر میں 285

PDF 1088

مرزا قادیانی کی بیماریاں 303

PDF 1089
PDF 1090

مرزا قادیانی کا عبرتناک انجام 321

عکسی شہادتیں 331

PDF 1091

Saboot Hazir Han Volume 3 Contents

ترتیب عنوانات

قادیانی اخلاق 53

Love for all, Hatred for none

PDF 1092
PDF 1093

لعنت بازی

مرزا قادیانی کا پسندیدہ مشغلہ 81

قادیانی ڈکشنری 87

PDF 1094

مرزا قادیانی کے سفید جھوٹ 105

PDF 1095
PDF 1096

مرزا قادیانی کی تضاد بیانیاں 125

PDF 1097
PDF 1098
PDF 1099

باپ سچا یا بیٹا؟ 151

PDF 1100

قادیانی تحریفات

PDF 1101

(اصل قرآنی آیات اور مرزا قادیانی کی تحریف شدہ آیات) 171

قرآن مجید میں تبدیلی کرنے والا ملحد اور کافر ہے 199

صفحہ 205

مرزا قادیانی کی پیش گوئیاں

(جو پوری نہ ہو سکیں)

PDF 1103
PDF 1104

قادیانیوں سے 30 انعامی سوالات 339

PDF 1105
PDF 1106

عکسی شہادتیں 393

۞ ۞ ۞

PDF 1107

Saboot Hazir Han Volume 4 Contents

ترتیب عنوانات

قادیانیت انگریز کا خودکاشتہ پودا 51

PDF 1108
PDF 1109
PDF 1110
PDF 1111
PDF 1112
PDF 1113
PDF 1114

حیات و نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام 183

PDF 1115

(احادیث مبارکہ کی روشنی میں) 252

PDF 1116
PDF 1117
PDF 1118

حیات ونزول عیسیٰ علیہ السلام اور قادیانیت 337

ریشہ میں داخل ہے 346

بزرگوں کا عقیدہ تھا 347

PDF 1119

روپے انعام 349

کر سمجھائے گئے ہیں 358

PDF 1120
PDF 1121
PDF 1122
PDF 1123
PDF 1124
PDF 1125
PDF 1126
PDF 1127
PDF 1128
PDF 1129

حیات ونزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر

قادیانی اعتراضات اور اُن کے جوابات 495

PDF 1130
PDF 1131

حق کے متلاشی قادیانیوں سے ایک 549

دردمندانہ درخواست

عکسی شہادتیں 599