حرمت رسول ﷺ نمبر — ماہنامہ مسیحائی · ماہنامہ مسیحائی
Hurmat-e-Rasool Number — Mahana Masihai
PDF 1

ین تفسیر

القرآن

قیمت ۷۵۰ روپے یکشنز ۷۴۶۔ فون: ۳۶۲۸۴۷۹۰ E-mail: syed.a

نقیب اتحاد ملت اسلامیہ

ماہنامہ مسیحائی کراچی

جلد نمبر ۱۴ | ربیع الآخر / رجب المرجب ۱۴۳۲ ہجری بمطابق مئی / جون ۲۰۱۱ عیسوی | شمارہ نمبر ۶/۵

حرمت رسول ﷺ نمبر

ہدیہ اشاعت خاص ۲۰۰ روپے برائے پاکستان ہدیہ اشاعت خاص ۵۰ ریال برائے سعودی عربیہ

ناشر احمد خیر الدین انصاری

٭ بی۔ 197 بلاک اے شارع بابر نارتھ ناظم آباد کراچی۔ ۷۴۷۰۰، پاکستان فون نمبر: 92-021-36630641 موبائل: 3569913-0332 ای میل: Sanadeimtiaz@hotmail.com طابع محمد عارف قریشی مطبع قریشی آرٹ پریس ناظم آباد نمبر ۲، کراچی

PDF 2

مجلس ادارت

صدر مجلس : حافظ سید فضل الرحمن شاہ مدیر اعلیٰ : مخدوم زادہ احمد خیر الدین انصاری مدیر : مولانا ڈاکٹر شاہد محمد ثانی نائب مدیر : اختر احمد انصاری مدیر منتظم : مولانا ڈاکٹر حافظ حقانی میاں قادری خصوصی معاونین : مولانا ڈاکٹر سعید احمد صدیقی، مولانا وقاص سعید، رضی الدین سید، سید نعمت اللہ بخاری، ضیاء الرحمٰن گلرو، نعیم الحق بھاؤ نگری، قاری عبدالرحیم سعیدی، خالد الیاس، منیب وسیم انصاری۔

بیورو چیف پنجاب : چوہدری محمد اشفاق، میانوالی 0345-3440194 0300-2485566

کمپوزنگ، لے آؤٹ : ابواسد/ ایس ایم شاہد

نمائندگان

شاہد حنیف لاہور موبائل : 0333-4128743 شاکر کنڈان سرگودھا فون موبائل : 0321-6004961 آغا باقر موسوی پشاور، موبائل : 0301-8914779 صاحبزادہ باچہ آغا کوئٹہ موبائل : 0333-7916744

تقسیم

البلال بک سینٹر

سوبراج ہسپتال اردو بازار کراچی فون نمبر: 021-32632664 موبائل نمبر: 0344-2502141

مکتبہ معاویہ

جامعہ احرار اسلام چیچہ وطنی ضلع ساہیوال فون نمبر: 0405485953 موبائل 0300-6939453

پاکستان نیوز

ایجنسی سرگودھا شبیر بک اسٹال میزان چوک کوئٹہ

PDF 3

س ادارت

ین شاہ فخر الدین انصاری محمد ثانی

حافظ حقانی میاں قادری سعید احمد صدیقی، مولانا وقاص سعید، رضی الدین سید، للہ بخاری، ضیاء الرحمٰن گلو، نعیم الحق بھاؤ نگری، م سعیدی، خالد الیاس، منیب وسیم انصاری۔

چوہدری محمد اشفاق، میانوالی 0345-3440194 0300-2485566

اسد / ایس ایم شاہد

ائندگان : 0333-4128743 : 0321-6004961 : 0301-8914779 : 0333-7916744

تقسیم کنندگان

البلال بک سینٹر

سوبراج اسپتال اردو بازار کراچی فون نمبر: 32632664-021 موبائل نمبر: 2502141-0344

مکتبہ معاویہ

جامعہ احرار اسلام چیچہ وطنی ضلع ساہیوال فون نمبر: 0405485953 موبائل 6939453-0300

پاکستان نیوز

ایجنسی سرگودھا شبیر بک اسٹال میزان چوک کوئٹہ

صدیقی ٹرسٹ

المنظر اپارٹمنٹ پٹیل پاڑہ کراچی 021-32224292

بخاری اکیڈمی

مہربان کالونی ڈیرہ بنی ہاشم ملتان فون نمبر: 4511961-061

فضلی بک سپر مارکیٹ

اردو بازار کراچی۔

PDF 4

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

فہرست مضامین

نمبر شمار مضامین صفحہ نمبر ۱ دستک ....... ناموس رسالت ﷺ احمد خیر الدین انصاری ۷ ۲ نعت رسول مقبول ﷺ حضرت مولانا احمد رضا خان بریلوی ۱۴ ۳ کوئی حاجت ہو رکھتا ہوں تیری چوکھٹ پہ سر اپنا حضرت حکیم محمد اختر ۱۵ ۴ نعت شریف محمد عبداللہ تبسم ۱۶ ۵ نعت رسول مقبول ﷺ فاضل عثمانی ۱۸/۱۷ ۶ نظم ...... حرمت رسول ﷺ قاری محمد مسلم غازی ۱۹ ۷ توہین رسالت ....... امام کعبہ کا خطبہ جمعہ ۲۰ ۸ توہین رسالت کی سزا مولانا عبد الماجد دریا آبادیؒ ۳۵ ۸ توحید رسالت نبوت محمد ﷺ کا عقلی ثبوت مولانا ابو الاعلیٰ مودودیؒ ۶۵ ۹ قانون تحفظ ناموس رسالت ﷺ ڈاکٹر اسرار احمدؒ ۷۱ ۱۰ حرمت رسولِ کریم ﷺ ...... اور افراد و اشیاء مولانا اعجاز احمد خان سگہانوی ۸۱ ۱۱ معاشی بائیکاٹ ہی اصل حل ہے حضرت مفتی محمد تقی عثمانی ۱۰۲ ۱۲ دنیا کو تہذیبی تصادم سے بچایا جائے ڈاکٹر محمد طاہر القادری ۱۰۵ ۱۳ محسنِ انسانیت ﷺ کی تعظیم و توقیر ڈاکٹر حافظ محمد ثانی ۱۱۵ ۱۴ ناموس رسالت ﷺ ایک علمی و تحقیقی جائزہ مولانا ڈاکٹر سعید احمد صدیقی ۱۲۵ ۱۵ توہین آمیز خاکوں کا مسئلہ ثروت جمال اصمعی ۱۴۲ ۱۶ شہداء ناموس رسالت ﷺ گلزار احمد ساجد ۱۴۹ ۱۷ نعت رسول مقبول ﷺ اقبال عظیم ۱۷۲ ۱۸ عظمت رسول ﷺ کی گواہی ڈاکٹر محمد جنید ندوی ۱۷۳

نمبر شمار مضامین ۱۹ بتلا دو گستاخ نبی کو غیرت مسلم ۲۰ اللہ اللہ موت کو کسی نے مسیحا کر دیا ۲۱ حرمت رسول ﷺ اور درود شریف ۲۲ حضور اکرم ﷺ کے ساتھ ہمارے ۲۳ احترام رسول ﷺ ۲۴ عظمت رسول ﷺ اور گستاخانِ رسول ۲۵ وقار زیست ۲۶ اہل سایہ ۲۷ نعت رسول مقبول ﷺ ۲۸ قانون توہین رسالت کیا ضیاء الحق کا بنایا ۲۹ نعت رسول مقبول ﷺ ۵۰ حرمت رسول ﷺ ۵۱ حمد باری تعالیٰ ۵۲ ناموس رسالت ﷺ کا مسئلہ ۵۳ عظمت رسول ﷺ کے تقاضے ۵۴ قانون تحفظ ناموس رسالت کی اہمیت ۵۵ ورفعنا لک ذکرک سے مقام محمود تک ۵۶ یہی اپنی کائنات ۵۷ قانون توہین رسالت ﷺ کیا ہے ۵۸ مقدمہ توہین رسالت ﷺ ۵۹ قانون توہین رسالت ﷺ کے معنی و مفہوم ۶۰ شہیدان حرمت رسول ﷺ

صفحہ 5

ت مضامین صفحہ نمبر احمد خیر الدین انصاری ۷ حضرت مولانا احمد رضا خان بریلوی ۱۴ حکمت پر اپنا حضرت حکیم محمد اختر ۱۵ محمد عبداللہ تبسم ۱۶ فاضل عثمانی ۱۷ / ۱۸ قاری محمد مسلم غازی ۱۹ پوچھ ۲۰ مولانا عبدالماجد دریا آبادی ۲۵ وقت مولانا ابوالاعلیٰ مودودی ۶۵ ڈاکٹر اسرار احمد ۷۱ اور اشیاء مولانا اعجاز احمد خان سگہانوی ۸۱ حضرت مفتی محمد تقی عثمانی ۱۰۲ ڈاکٹر حضرت محمد طاہر القادری ۱۰۵ ڈاکٹر حافظ محمد ثانی ۱۱۵ تی جائزہ مولانا ڈاکٹر سعید احمد صدیقی ۱۲۵ ثروت جمال عصمی ۱۴۲ گلزار احمد ساجد ۱۴۹ اقبال عظیم ۱۷۲ ڈاکٹر محمد جنید ندوی ۱۷۳

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 5 ماہنامہ سبحانی کراچی نمبر شمار مضامین صفحہ نمبر ۱۹ بتلا دو گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے پروفیسر فائزہ احسان صدیقی ۱۸۱ ۲۰ اللہ اللہ موت کو کسی نے مسیحا کر دیا اختر ۲۱۶ ۲۱ حرمت رسول ﷺ اور درود شریف سید انور قدوائی ۲۱۷ ۲۲ حضور اکرم ﷺ کے ساتھ ہمارے تعلق کی بنیاد ڈاکٹر حافظ حقانی میاں قادری ۲۲۱ ۲۳ احترام رسول ﷺ ڈاکٹر محمد عبدالحی اچکزئی ۲۳۳ ۲۴ عظمت رسول ﷺ اور گستاخان رسول کا انجام ڈاکٹر عبیدالرؤف ظفر ۲۴۵ ۲۵ وقار زیست شاکر کنڈان ۲۷۳ ۲۶ اہل سایہ صادق علی ۲۸۵ ۲۷ نعت رسول مقبول ﷺ محمد انوار احمد ۳۲۲ ۲۸ قانون توہین رسالت کیا ضیاء الحق کا قانون ہے محمد متین خالد ۳۲۳ ۲۹ نعت رسول مقبول ﷺ آفتاب کریمی ۳۲۸ ۵۰ حرمت رسول ﷺ مولانا محمد صابر سرہندی ۳۲۹ ۵۱ حمد باری تعالیٰ صبیح رحمانی ۳۳۲ ۵۲ ناموس رسالت ﷺ کا مسئلہ قاری محمد حنیف جالندھری ۳۳۳ ۵۳ عظمت رسول ﷺ کے تقاضے مفتی خالد محمود ۳۴۷ ۵۴ قانون تحفظ ناموس رسالت کی اہمیت صادق علی زاہد ۳۸۹ ۵۵ ورفعنا لک ذکرک سے مقام محمود تک شفیع حیدر دانش ۴۰۵ ۵۶ یہی اپنی کائنات سید خورشید گیلانی ۴۱۳ ۵۷ قانون توہین رسالت ﷺ کیا ہے ڈاکٹر سمیعہ راحیل قاضی ۴۲۵ ۵۸ مقدمہ توہین رسالت ﷺ صادق علی زاہد ۴۳۵ ۵۹ قانون توہین رسالت ﷺ کے معنی و مفہوم محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ ۴۷۱ ۶۰ شہیدان حرمت رسول ﷺ محمد طیب طوفانی ۴۷۳

صفحہ 6

﴿قرآن کے بعد کیا ہے؟﴾

ارشاد فرمایا: تِلْكَ اٰيَاتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ ۚ فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢ بَعْدَ اللّٰهِ وَاٰيَاتِهٖ يُؤْمِنُوْنَ ﴿سورة الجاثية آیت نمبر ۶﴾ ترجمہ: یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم آپ کو بالکل ٹھیک پڑھ کر سناتے ہیں پس اللہ اور اس کی آیات کے بعد وہ کس بات پر ایمان لائیں گے۔

﴿قرآن کو نہ ماننے والے اندھے بہرے ہ

ارشاد فرمایا: اَفَرَاَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰـهَهٗ هَوٰٮهُ الآية ﴿سورة الجاثي ترجمہ: بھلا آپ نے اس کو بھی دیکھا جو اپنی خواہش کا بندہ بن اسے گمراہ کردیا اور اس کے کان اور دل پر مہر کردی اور اس کی آنکھوں بعد اسے کون ہدایت کر سکتا ہے پھر تم کیوں نہیں سمجھتے؟

ماہنامہ سبحانی کراچی 6 حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

نمبر شمار مضامین صفحہ نمبر ۶۱ حاسدوں کی شرارت اور عاشقوں کی سعادت : مولانا شعیب فردوس ۴۸۱ ۶۲ نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ پر اسلام دشمنوں : اُمّ صفیہ سلطانہ صدیقی ۴۸۵ کے اعتراضات ۶۳ ناموس رسالت ﷺ کا قلعہ پاکستان ضیاء الرحمن چترو ۴۸۹ ۶۴ مسلمان کے مرکز محبت پر حملہ سید منور حسن ۴۹۰ ۶۵ سر بیچ کر متاع دل و جان خریدنا پروفیسر اقبال جاوید ۴۹۷ ۶۶ کیا اب اقلیتیں ہی کریں گی ہماری تقدیر کا فیصلہ؟ رضی الدین سید ۵۰۱ ۶۷ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں صابرہ مقبول ۵۰۵ ۶۸ عائلی معاملات کے بارے میں شریعت کا مزاج رضیہ نور چوہدری ۵۱۳ ۶۹ خانہ کعبہ پر پہلی نظر مولانا ماہر القادری ۵۷۸ ۷۰ تبصرہ و خطوط مختلف شخصیات، اخبارات و جرائد ۵۷۹ کچھ کتابوں پر تبصرے : ضیاء الرحمن چترو

بَلَغَ الْعُلٰى بِكَمَالِهٖ
كَشَفَ الدُّجٰى بِجَمَالِهٖ
حَسُنَتْ جَمِيْعُ خِصَالِهٖ
صَلُّوْا عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 7

دستک

ناموس رسا

اللہ تعالیٰ نے انبیاء علیہم السلام کی ناموس کا جس قدر ا سے لگایا جاسکتا ہے کہ اپنے پہلے نبی حضرت آدم علی فرشتوں کو حکم دیا: جیسے ہی میں اس میں روح پھونکوں تم پھر فرشتوں نے حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کیا۔ ابلی راندۂ درگاہ قرار دیتے ہوئے اس کے جہنمی ہونے کا ا جہنمی ہوگا بلکہ جو بھی اس کے نقش قدم پر چلے گا وہ بھی کوئی تخفیف نہیں ہوگی۔

اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ ہی اپنے نبی (حضرت آدم بھی فرمایا کہ وہ زمین پر اللہ کے نائب ہوں گے۔ ال ہے سخر کر دیا گیا ہے۔ سخر لکم مافی السمٰوٰت فی ذالک لآیت لقوم یتفکرون (الجاثیہ: 31 ی آخر الزماں، خاتم النبین حضرت محمد صلی اللہ علیہ و س ہمارے لئے قابل احترام ہے۔ ہر نبی پر ایمان لانا ہم (البقره: 136) قولوا امنا بالله وما انزل الینا واسحق ويعقوب والاسباط وما اوتی موس ربهم، لانفرق بين احد منهم، ونحن له مسلم ترجمہ: (جو عالم آپ کو پسند ہو اس کا ترجمہ استعمال کر (النساء: 151۔ 150) میں ان لوگوں کے لئے ب رسولوں میں فرق کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ درمیا

صفحہ 7

قرآن کے بعد کیا ہے؟

ارشاد فرمایا: تِلْكَ آيَاتُ اللهِ نَتْلُوْهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ فَبِاَيِّ حَدِيْثٍ بَعْدَ اللهِ وَآيَاتِهِ يُؤْمِنُونَ

﴿سورۃ الجاثیۃ آیت نمبر ۶﴾

ترجمہ: یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم آپ کو بالکل ٹھیک پڑھ کر سناتے ہیں پس اللہ اور اس کی آیات کے بعد وہ کس بات پر ایمان لائیں گے۔

قرآن کو نہ ماننے والے اندھے بہرے

ارشاد فرمایا: أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوَاهُ الآية

﴿سورة الجاثیۃ

ترجمہ: بھلا آپ نے اس کو بھی دیکھا جو اپنی خواہش کا بندہ بن اسے گمراہ کر دیا اور اس کے کان اور دل پر مہر کر دی اور اس کی آنکھوں بعد اسے کون ہدایت کر سکتا ہے پھر تم کیوں نہیں سمجھتے؟

ماہنامہ سبحانی کراچی 6

صفحہ نمبر عاشقوں کی سعادت مولانا شعیب فردوس ۴۸۱ پر اسلام دشمنوں : ڈاکٹر عطیہ سلطانہ صدیقی ۴۸۵ پاکستان ضیاء الرحمٰن بھگرو ۴۹۵ سید منور حسن ۴۹۰ مدینہ پروفیسر اقبال جاوید ۴۹۷ کی ہماری تقدیر کا فیصلہ؟ رضی الدین سید ۵۰۱ فرماتے ہیں طاہرہ مقبول ۵۰۵ ے میں شریعت کا مزاج رضیہ نور چوہدری ۵۱۳ مولانا ماہر القادری ۵۷۸ مختلف شخصیات، اخبارات و جرائد ۵۷۹ ضیاء الرحمٰن بھگرو

الْعُلٰی بِكَمَالِهِ
الدُّجٰی بِجَمَالِهِ
تْ جَمِيْعُ خِصَالِهِ
لُوْا عَلَيْهِ وَآلِهِ

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 7 ماہنامہ سبحانی کراچی

دستک

ناموس رسالت ﷺ

اللہ تعالیٰ نے انبیاء علیہم السلام کی ناموس کا جس قدر اہتمام فرمایا ہے اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ اپنے پہلے نبی حضرت آدم علیہ السلام کو تخلیق کرنے سے پہلے ہی فرشتوں کو حکم دیا: جیسے ہی میں اس میں روح پھونکوں تم نے اس کو سجدہ کرنا ہے۔“ پھر فرشتوں نے حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کیا۔ ابلیس نے اس حکم کی تعمیل نہیں کی تو اسے راندہ درگاہ قرار دیتے ہوئے اس کے جہنمی ہونے کا بھی اعلان کر دیا۔ نہ صرف شیطان جہنمی ہوگا بلکہ جو بھی اس کے نقش قدم پر چلے گا وہ بھی جہنمی ہوگا۔ یہ سزا دائمی ہے۔ اس میں کوئی تخفیف نہیں ہوگی۔

اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ ہی اپنے نبی (حضرت آدم علیہ السلام) کے بارے میں یہ اعلان بھی فرمایا کہ وہ زمین پر اللہ کے نائب ہوں گے۔ ان کے لیے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے مسخر کر دیا گیا ہے۔ مسخر لكم مافى السمٰوات ومافى الارض جميعا منه، ان فى ذالك لآيات لقوم يتفكرون (الجاثیہ: 13) یہ اعزاز حضرت آدم علیہ السلام سے ہی آغاز فرما کر، خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سمیت تمام انبیاء کو حاصل ہے۔ ہر نبی ہمارے لئے قابل احترام ہے۔ ہر نبی پر ایمان لانا ہمارے لئے فرض ہے۔ (البقرہ: 136) قولوا امنا بالله وما انزل الينا وما انزل الى ابراهيم واسمعيل واسحق ويعقوب والاسباط وما اوتى موسى وعيسى وما اوتى النبيون من ربهم، لانفرق بين احد منهم، ونحن له مسلمون. ترجمہ: (جو عالم آپ کو پسند ہو اس کا ترجمہ استعمال کرلیں) (النساء: 151-150) میں ان لوگوں کے لئے بڑی سخت وعید ہے جو اللہ اور اس کے رسولوں میں فرق کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ درمیان کا کوئی راستہ اختیار کریں۔ وہ کہتے

صفحہ 8

قرآن کے بعد کیا ہے؟

ارشاد فرمایا:

تِلْكَ اٰيَاتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ ۚ فَبِاَیِّ حَدِيْثٍ بَعْدَ اللّٰهِ وَ اٰيَاتِهٖ یُؤْمِنُوْنَ ﴿سورة الجاثیة آیت نمبر ۶﴾

ترجمہ: یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم آپ کو بالکل ٹھیک پڑھ کر سناتے ہیں پس اللہ اور اس کی آیات کے بعد وہ کس بات پر ایمان لائیں گے۔

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 8 ماہنامہ مسیحائی کراچی

ہیں ہم بعض پر ایمان لاتے ہیں اور بعض پر ایمان نہیں لاتے۔ ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے پکا یا خالصتاً کافر قرار دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ ان کے لئے ذلت آمیز عذاب تیار کیا ہوا ہے۔

اجر کی ضمانت ان کو دی گئی ہے جو انبیاء علیہم السلام کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے۔

نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام و مرتبہ کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یقیناً اللہ اور اس کے فرشتے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں اور اس کے بعد ایمان والوں کو بھی حکم دیا گیا ہے کہ تم بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجو۔ دیکھیں سورہ الاحزاب آیت 56، ان الله وملیکته، یصلون علی النبی، یایها الذین امنوا صلوا عليه وسلموا تسليماً.

ہر شخص کی سمجھ میں یہ بات آ جانی چاہئے کہ جس نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہوں اور ایمان والوں کو حکم دیا گیا ہو کہ تم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجو۔ ایسے عالی مقام نبی آخر الزماں خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی ناپاک جسارت کیسے کی جا سکتی ہے۔ ایسے فعل کا تصور بھی محال ہے۔

یہ ہماری بدبختی ہوگی کہ اللہ تعالیٰ کے قائم کردہ درود و سلام کے حصار کو کمزور کر کے شیطان کو موقع فراہم کریں کہ وہ اس موقعہ سے فائدہ اٹھا کر ہمیں اپنے ساتھ جہنم میں لے جانے کی سازش میں کامیاب ہو سکے۔

توجہ فرمائیں اللہ تعالیٰ نے اپنا تعارف ”رب العالمین“ کے طور پر کرایا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں فرمایا ہے: (الانبیاء: 107) وما ارسلنک الا رحمته اللعالمین ”اور ہم نے آپ کو صرف ”رحمت اللعالمین“ بنا کر بھیجا ہے۔ اس حوالے مزید فرمایا کہ جس نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔ آیت ملاحظہ فرمائیں: (النساء: 80) ترجمہ: (الاحزاب: 71) ترجمہ:

قرآن کو نہ ماننے والے اندھے بہرے

ارشاد فرمایا:

اَفَرَاَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰهُ الآیة ﴿سورة الجاثیة

ترجمہ: بھلا آپ نے اس کو بھی دیکھا جو اپنی خواہش کا بندہ بن اسے گمراہ کر دیا اور اس کے کان اور دل پر مہر کر دی اور اس کی آنکھوں بعد اسے کون ہدایت کر سکتا ہے پھر تم کیوں نہیں سمجھتے؟

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

یہاں اللہ تعالیٰ نے اطاعت رسول کو عظیم کامیا وہ شخص جہنم کی آگ سے بچ جائے گا جس اطاعت کی۔ غور کیجئے!

اللہ کی اطاعت کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ کیا کوئی اطاعت گزار اپنی حیثیت سے آشنا ہو ادا کر سکتا ہے؟ ہر گز نہیں! ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔

ہمارے لئے صرف اور صرف ایک ہی راستہ ہر وقت خیال رکھیں۔ اور احترام کی حدود ہر وقت

آیت 2 میں ایمان والوں کو حکم دیا گیا ہے کہ نبی کریم بات نہیں کرنی ورنہ تمہارے اعمال غارت ہو

حکم کی روشنی میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ معاملہ رہنے کی ضرورت ہے۔ درست الفاظ اور صحیح کلمہ اونچی آواز بھی قابل قبول نہیں ہے۔

یہاں بات صرف قانون کی نہیں ہے۔ ایمان ک تو اللہ تعالیٰ کی متعین کردہ حدود کے اندر رہنا ہوگا

”جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے دراصل

اب آئیے غیر مسلموں کے ساتھ زیادتی کیے جا لیں۔ اس بارے میں دو رائے نہیں ہیں کہ غیر مسل اس حوالے سے واضح طور پر اپنا نقطہ نظر بیان کر ہونی چاہئے۔

پھر تنازعہ کیا ہے؟

تنازعہ یہ ہے کہ اس ضمن میں قانون سازی کا درس

صفحہ 9

﴿قرآن کے بعد کیا ہے؟﴾

ارشاد فرمایا: تِلْكَ آيَاتُ اللَّهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ ج فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللَّهِ وَآيَاتِهِ يُؤْمِنُونَ ﴿سورۃ الجاثیہ آیت نمبر ٦﴾ ترجمہ: یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم آپ کو بالکل ٹھیک پڑھ کر سناتے ہیں پس اللہ اور اس کی آیات کے بعد وہ کس بات پر ایمان لائیں گے۔

ماہنامہ مسیحائی کراچی 8

ہیں اور بعض پر ایمان نہیں لاتے ۔ ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے پکا فرمایا ہے کہ ان کے لئے ذلت آمیز عذاب تیار کیا ہوا ہے۔

جو انبیاء علیہم السلام کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے ۔

وسلم کے مقام ومرتبہ کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ اور اس کے فرشتے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں کو بھی حکم دیا گیا ہے کہ تم بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود آیت 56، ان الله وملئكته، يصلون على النبى، يه وسلموا تسليماً۔

نی چاہئے کہ جس نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ اور اس کے فرشتے ل کو حکم دیا گیا ہو کہ تم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام رالزمان خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بھی جاسکتی ہے۔ ایسے فعل کا تصور بھی محال ہے۔

کے قائم کردہ درود و سلام کے حصار کو کمزور کر کے شیطان کو مقصد سے فائدہ اٹھا کر ہمیں اپنے ساتھ جہنم میں لے جانے کی ہے۔

عارف ”رب العالمین“ کے طور پر کرایا ہے تو نبی کریم صلی اللہ ہے:

سلنک الا رحمته اللعالمین ”اور ہم نے آپ کو بھیجا ہے۔ اس حوالے مزید فرمایا کہ جس نے رسول صلی اللہ اللہ کی اطاعت کی۔ آیت ملاحظہ فرمائیں:

﴿قرآن کو نہ ماننے والے اندھے بہرے﴾

ارشاد فرمایا: أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوَاهُ الآیۃ ﴿سورۃ الجاثیۃ ترجمہ: بھلا آپ نے اس کو بھی دیکھا جو اپنی خواہش کا بندہ بن اسے گمراہ کر دیا اور اس کے کان اور دل پر مہر کر دی اور اس کی آنکھوں بعد اسے کون ہدایت کر سکتا ہے پھر تم کیوں نہیں سمجھتے؟

حرمت رسول نمبر 2011ء 9 ماہنامہ مسیحائی کراچی

یہاں اللہ تعالیٰ نے اطاعت رسول کو عظیم کامیابی قرار دیا ہے، عظیم کامیابی سے مراد یہ ہے کہ وہ شخص جہنم کی آگ سے بچ جائے گا جس نے نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی۔ غور کیجئے!

اللہ کی اطاعت کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کولازمی شرط قرار دیا گیا ہے۔ کیا کوئی اطاعت گزار اپنی حیثیت سے آشنا ہوتے ہوئے اس ہستی کی شان میں ایسے کلمات ادا کر سکتا ہے؟ ہرگز نہیں ! ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔

ہمارے لئے صرف اور صرف ایک ہی راستہ ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احترام کا ہر وقت خیال رکھیں۔ اور احترام کی حدود ہر وقت ہمارے سامنے رہیں۔ سورہ الحجرات آیت 2 میں ایمان والوں کو حکم دیا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محفل میں اونچی آواز میں بات نہیں کرنی ورنہ تمہارے اعمال غارت ہو جائیں گے اور تمہیں پتہ بھی نہیں چلے گا۔ اس حکم کی روشنی میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ معاملہ حد درجہ نازک ہے۔ ہر وقت اور ہر جگہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ درست الفاظ اور صحیح کلمات بھی بڑے ادب سے ادا کرنا ہوں گے۔ اونچی آواز بھی قابلِ قبول نہیں ہے۔

یہاں بات صرف قانون کی نہیں ہے۔ ایمان کا مسئلہ ہے۔ جب ایمان کا معاملہ درپیش ہو تو اللہ تعالیٰ کی متعین کردہ حدود کے اندر رہنا ہوگا۔ ہر وقت یاد رکھنا ہو گا کہ ”جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے دراصل اللہ کی اطاعت کی“

اب آئیے غیر مسلموں کے ساتھ زیادتی کیے جانے کے بارے میں صورت حال کا جائزہ لیں۔ اس بارے میں دو رائے نہیں ہیں کہ غیر مسلموں کے ساتھ زیادتی ہو۔ تمام مکاتب فکر اس حوالے سے واضح طور پر اپنا نقطہ نظر بیان کر چکے ہیں۔ سب متفق ہیں کہ زیادتی نہیں ہونی چاہئے۔

پھر تنازعہ کیا ہے؟

تنازعہ یہ ہے کہ اس ضمن میں قانون سازی کا درست طریقہ کار اختیار نہیں کیا گیا۔ اسلامی

صفحہ 10

﴿ قرآن کے بعد کیا ہے؟ ﴾

ارشاد فرمایا: تِلْكَ آيَاتُ اللَّهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ ج فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللَّهِ وَآيَاتِهِ يُؤْمِنُونَ ﴿ سورة الجاثية آیت نمبر 6 ﴾ ترجمہ: یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم آپ کو بالکل ٹھیک پڑھ کر سناتے ہیں پس اللہ اور اس کی آیات کے بعد وہ کس بات پر ایمان لائیں گے۔

﴿ قرآن کو نہ ماننے والے اندھے بہرے ہ

ارشاد فرمایا: أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوَاهُ الْآيَة ﴿ سورة الجاثي ترجمہ: بھلا آپ نے اس کو بھی دیکھا جو اپنی خواہش کا بندہ ہو ا اسے گمراہ کر دیا اور اس کے کان اور دل پر مہر کر دی اور اس کی آنکھو بعد اسے کون ہدایت کر سکتا ہے پھر تم کیوں نہیں سمجھتے؟

ماہنامہ مسیحائی کراچی 10 حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

نظریاتی کونسل ایک آئینی ادارہ ہے اس آئینی ادارے سے رائے نہیں لی گئی۔ علمائے کرام سے مشاورت نہیں کی گئی۔ قانون سازی کے لئے بنائی گئی کمیٹی کا سربراہ غیر مسلم کو بنا دیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی امریکی حکومت کی جانب سے ایسے بیانات آنے لگے جس سے اس تاثر کو تقویت ملی کہ قانونی اصلاحات امریکی دباؤ پر کی جارہی ہیں۔

دینی حلقوں کی جانب سے یہ سوال بار بار پوچھا گیا کہ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے قانون میں ترمیم کی ضرورت کیوں درپیش ہے؟ اس سوال کا جواب دیا گیا کہ اس قانون کا غلط استعمال ہو رہا ہے۔ بے گناہ لوگوں کو پھنسایا جا رہا ہے۔ لوگ ذاتی دشمنی کی بناء پر بھی اس قانون کا سہارا لیتے ہیں۔

اس سوال کے جواب میں دینی حلقوں کی جانب سے بیک زبان پوچھا گیا: کیا باقی تمام قوانین کے حوالے سے کہا جا سکتا ہے کہ ان کا غلط استعمال نہیں ہو رہا؟ قتل کے مقدمات میں بے گناہ لوگوں کو نہیں پھنسایا جاتا؟ کیا پولیس قانون کے مطابق کام کر رہی ہے؟ کیا ٹیکس وصولی کے قانون میں اصلاح کی ضرورت نہیں؟

حکومتی حلقوں کا جواب تھا: یقیناً ہر جگہ اصلاح کی ضرورت ہے! تو دینی حلقوں نے کہا: پھر اصلاح کے لئے صرف تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کا قانون ہی کیوں زیر بحث لایا جا رہا ہے؟ دینی حلقوں کی تشویش بجا طور پر درست ہے۔ حکومت کے پاس اس تشویش کو دور کرنے کے لئے مضبوط دلائل نہیں ہیں۔

ہمارے خیال میں اس مسئلے کا سیدھا اور سادہ حل یہ ہے کہ قانون تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ چھیڑا جائے۔ قومی اسمبلی میں ایک نیا قانونی مسودہ برائے منظوری پیش کیا جائے جس میں پاکستان میں رائج تمام قوانین کے حوالے سے غلط استعمال کی روک تھام کی جائے۔

اس قانون کے ذریعے انتہائی واضح الفاظ میں یہ درج ہو کہ ”اگر مدعی اپنا دعویٰ عدالت کے روبرو ثابت کرنے میں ناکام رہے تو اسے کوئی نیا مقدمہ قائم کئے بغیر مجاز عدالت یہ فیصلہ سنا دے کہ مدعی کو فوری طور پر وہی سزا دی جارہی ہے جس کا مطالبہ

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

کے ساتھ ہی امریکی حکومت کی جانب سے ایـ تقویت ملی کہ قانونی اصلاحات امریکی دباؤ پر کی دینی حلقوں کی جانب سے یہ سوال بار بار پوچھا قانون میں ترمیم کی ضرورت کیوں درپیش ہے؟ غلط استعمال ہو رہا ہے۔ بے گناہ لوگوں کو پھنسایا قانون کا سہارا لیتے ہیں۔

اس سوال کے جواب میں دینی حلقوں کی جانب قوانین کے حوالے سے کہا جا سکتا ہے کہ ان کا غلـ بے گناہ لوگوں کو نہیں پھنسایا جاتا؟ کیا پولیس قـ وصولی کے قانون میں اصلاح کی ضرورت نہیں؟

حکومتی حلقوں کا جواب تھا: یقیناً ہر جگہ اصلاح کـ اصلاح کے لئے صرف تحفظ ناموس رسالت صلی الـ جا رہا ہے؟ دینی حلقوں کی تشویش بجا طور پر درسـ کرنے کے لئے مضبوط دلائل نہیں ہیں۔

ہمارے خیال میں اس مسئلے کا سیدھا اور سادہ حل یـ علیہ وسلم کو نہ چھیڑا جائے۔ قومی اسمبلی میں ایک نیا جس میں پاکستان میں رائج تمام قوانین کے حوالے

اس قانون کے ذریعے انتہائی واضح الفاظ میں یہ در ”اگر مدعی اپنا دعویٰ عدالت کے روبرو ثابت کرنے کئے بغیر مجاز عدالت یہ فیصلہ سنا دے کہ مدعی کو فوری مدعی نے مدعا علیہ کے لئے کیا تھا۔“ ہمیں یقین ہے کہ ایسے قانون کی مخالفت میں ایک

صفحہ 11

﴿ قرآن کے بعد کیا ہے؟ ﴾

ارشاد فرمایا: تِلْكَ آيَاتُ اللهِ نَتْلُوْهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ ج فَبِأَيِّ حَدِيْثٍ بَعْدَ اللهِ وَآيَاتِهِ يُؤْمِنُوْنَ ﴿سورة الجاثية آیت نمبر ۶﴾ ترجمہ: یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم آپ کو بالکل ٹھیک پڑھ کر سناتے ہیں پس اللہ اور اس کی آیات کے بعد وہ کس بات پر ایمان لائیں گے۔

ماہنامہ مسیحائی کراچی

یہ ہے اس آئینی ادارے سے رائے نہیں لی گئی۔ علمائے کرام ن سازی کے لئے بنائی گئی کمیٹی کا سر براہ غیر مسلم کو بنا دیا گیا۔ ت کی جانب سے ایسے بیانات آنے لگے جس سے اس تاثر کو امریکی دباؤ پر کی جارہی ہیں۔ وال بار بار پوچھا گیا کہ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے یوں در پیش ہے؟ اس سوال کا جواب دیا گیا کہ اس قانون کا لوگوں کو پھنسایا جا رہا ہے۔ لوگ ذاتی دشمنی کی بناء پر بھی اس

حلقوں کی جانب سے بیک زبان پوچھا گیا: کیا باقی تمام سکتا ہے کہ ان کا غلط استعمال نہیں ہو رہا؟ قتل کے مقدمات میں اتا؟ کیا پولیس قانون کے مطابق کام کر رہی ہے؟ کیا ٹیکس کی ضرورت نہیں؟

ہر جگہ اصلاح کی ضرورت ہے! تو دینی حلقوں نے کہا: پھر موس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کا قانون ہی کیوں زیر بحث لایا تشویش بجا طور پر درست ہے۔ حکومت کے پاس اس تشویش کو دور نہیں ہیں۔

سیدھا اور سادہ حل یہ ہے کہ قانون تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ اسمبلی میں ایک نیا قانونی مسودہ برائے منظوری پیش کیا جائے قوانین کے حوالے سے غلط استعمال کی روک تھام کی جائے۔ واضح الفاظ میں یہ درج ہو کہ روبرو ثابت کرنے میں ناکام رہے تو اسے کوئی نیا مقدمہ قائم دے کہ مدعی کو فوری طور پر وہی سزا دی جا رہی ہے جس کا مطالبہ

﴿ قرآن کو نہ ماننے والے اندھے بہرے ﴾

ارشاد فرمایا: أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوَاهُ الآیة ﴿سورة الجاثية﴾ ترجمہ: بھلا آپ نے اس کو بھی دیکھا جو اپنی خواہش کا بندہ بن اسے گمراہ کردیا اور اس کے کان اور دل پر مہر کردی اور اس کی آنکھوں بعد اسے کون ہدایت کر سکتا ہے پھر تم کیوں نہیں سمجھتے؟

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

کے ساتھ ہی امریکی حکومت کی جانب سے ایسے بیانات آنے لگے جس سے اس تاثر کو تقویت ملی کہ قانونی اصلاحات امریکی دباؤ پر کی جارہی ہیں۔ دینی حلقوں کی جانب سے یہ سوال بار بار پوچھا گیا کہ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے قانون میں ترمیم کی ضرورت کیوں درپیش ہے؟ اس سوال کا جواب دیا گیا کہ اس قانون کا غلط استعمال ہو رہا ہے۔ بے گناہ لوگوں کو پھنسایا جا رہا ہے۔ لوگ ذاتی دشمنی کی بناء پر بھی اس قانون کا سہارا لیتے ہیں۔

اس سوال کے جواب میں دینی حلقوں کی جانب سے بیک زبان پوچھا گیا: کیا باقی تمام قوانین کے حوالے سے کہا جا سکتا ہے کہ ان کا غلط استعمال نہیں ہو رہا؟ قتل کے مقدمات میں بے گناہ لوگوں کو نہیں پھنسایا جاتا؟ کیا پولیس قانون کے مطابق کام کر رہی ہے؟ کیا ٹیکس وصولی کے قانون میں اصلاح کی ضرورت نہیں؟

حکومتی حلقوں کا جواب تھا: یقیناً ہر جگہ اصلاح کی ضرورت ہے! تو دینی حلقوں نے کہا: پھر اصلاح کے لئے صرف تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کا قانون ہی کیوں زیر بحث لایا جا رہا ہے؟ دینی حلقوں کی تشویش بجا طور پر درست ہے۔ حکومت کے پاس اس تشویش کو دور کرنے کے لئے مضبوط دلائل نہیں ہیں۔

ہمارے خیال میں اس مسئلے کا سیدھا اور سادہ حل یہ ہے کہ قانون تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ چھیڑا جائے۔ قومی اسمبلی میں ایک نیا قانونی مسودہ برائے منظوری پیش کیا جائے جس میں پاکستان میں رائج تمام قوانین کے حوالے سے غلط استعمال کی روک تھام کی جائے۔ اس قانون کے ذریعے انتہائی واضح الفاظ میں یہ درج ہو کہ "اگر مدعی اپنا دعویٰ عدالت کے روبرو ثابت کرنے میں ناکام رہے تو اسے کوئی نیا مقدمہ قائم کئے بغیر مجاز عدالت یہ فیصلہ سنادے کہ مدعی کو فوری طور پر وہی سزا دی جا رہی ہے جس کا مطالبہ مدعی نے مدعاعلیہ کے لئے کیا تھا"

ہمیں یقین ہے کہ ایسے قانون کی مخالفت میں ایک ووٹ بھی نہیں آئے گا۔ ہر پاکستانی سکھ کا

صفحہ 12

ارشاد فرمایا: تِلْكَ آيَاتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ ج فَبِأَيِّ حَدِيْثٍ بَعْدَ اللّٰهِ وَاٰيَاتِهٖ يُؤْمِنُوْنَ

﴿سورة الجاثية آیت نمبر ۶﴾

ترجمہ: یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم آپ کو بالکل ٹھیک پڑھ کر سناتے ہیں پس اللہ اور اس کی آیات کے بعد وہ کس بات پر ایمان لائیں گے۔

قرآن کو نہ ماننے والے اندھے بہرے

ارشاد فرمایا: أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلٰهَهٗ هَوَاهُ الآية

﴿سورة الجا

ترجمہ: بھلا آپ نے اس کو بھی دیکھا جو اپنی خواہش کا بندہ ب اسے گمراہ کر دیا اور اس کے کان اور دل پر مہر کر دی اور اس کی آنکھ خدا سے کون ہدایت کر سکتا ہے پھر تم کیوں نہیں سمجھتے؟

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 12 ماہنامہ سبحانی کراچی

سانس لے گا۔ چین سے سوئے گا کہ اب اسے کوئی بھی ، کسی جھوٹے مقدمہ میں نہیں پھنسائے گا۔ ایسے ہی قانون کی ضرورت ہے۔ ایسا ہی قانون بلاتاخیر منظور کیا جائے۔ احمد خیر الدین انصاری مدیر اعلیٰ ☆☆☆

صفحہ 12

ارشاد فرمایا: تِلْكَ آيَاتُ اللَّهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ ۖ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللَّهِ وَآيَاتِهِ يُؤْمِنُونَ ﴿سورۃ الجاثیة آیت نمبر ۶﴾ ترجمہ: یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم آپ کو بالکل ٹھیک پڑھ کر سناتے ہیں پس اللہ اور اس کی آیات کے بعد وہ کس بات پر ایمان لائیں گے۔

قرآن کو نہ ماننے والے اندھے بہرے

ارشاد فرمایا: أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوَاهُ الآية ﴿سورۃ الجاثیة﴾ ترجمہ: بھلا آپ نے اس کو بھی دیکھا جو اپنی خواہش کا بندہ بن اسے گمراہ کر دیا اور اس کے کان اور دل پر مہر کر دی اور اس کی آنکھ بعد اسے کون ہدایت کر سکتا ہے پھر تم کیوں نہیں سمجھتے؟

ماہنامہ مسیحائی کراچی

گا کہ اب اسے کوئی بھی ، کبھی بھی ، کسی جھوٹے مقدمہ میں نہیں ضرورت ہے۔ ایسا ہی قانون بلا تاخیر منظور کیا جائے۔

☆☆☆

صفحہ 15

ارشاد فرمایا:

تِلْكَ آيَاتُ اللَّهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللَّهِ وَآيَاتِهِ يُؤْمِنُونَ

﴿سورة الجاثية آيت نمبر ٦﴾

ترجمہ: یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم آپ کو بالکل ٹھیک پڑھ کر سناتے ہیں پس اللہ اور اس کی آیات کے بعد وہ کس بات پر ایمان لائیں گے۔

ماہنامہ مسیحائی کراچی 14 حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم

حضرت مولانا احمد رضا خاں بریلوی رحمۃ اللہ علیہ

سب سے اولیٰ و اعلیٰ ہمارا نبی سب سے بالا و والا ہمارا نبی
اپنے مولیٰ کا پیارا ہمارا نبی دونوں عالم کا دولہا ہمارا نبی
بزم آخر کا شمع فروزاں ہوا نور اول کا جلوہ ہمارا نبی
جس کو شایاں ہے عرش خدا پر جلوس ہے وہ سلطان والا ہمارا نبی
بجھ گئیں جس کے آگے سبھی مشعلیں شمع وہ لے کر آیا ہمارا نبی
جس کے تلوؤں کا دھوون ہے آب حیات ہے وہ جان مسیحا ہمارا نبی
خلق سے اولیاء اولیاء سے رسل اور رسولوں سے اعلیٰ ہمارا نبی
جس کی دو بوند ہیں کوثر و سلسبیل! ہے وہ رحمت کا دریا ہمارا نبی
جیسے سب کا خدا ایک ہے ویسے ہی ان کا ان کا تمہارا ہمارا نبی
کون دیتا ہے دینے کو منہ چاہیے دینے والا ہے سچا ہمارا نبی
کیا خبر کتنے تارے کھلے چھپ گئے پر نہ ڈوبے نہ ڈوبا ہمارا نبی
ملک کونین میں انبیاء تاجدار تاجداروں کا آقا ہمارا نبی
لامکاں تک اُجالا ہے جس کا وہ ہے ہر مکاں کا اُجالا ہمارا نبی
انبیاء سے کروں عرض کیوں مالکو! کیا نبی ہے تمہارا ہمارا نبی
جس نے مردہ دلوں کو دی عمر ابد ہے وہ جان مسیحا ہمارا نبی
غمزدوں کو رضا مژدہ دیجئے کہ ہے بیکسوں کا سہارا ہمارا نبی

☆☆☆

ارشاد فرمایا:

أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوَاهُ الآية

﴿سورة الجاثية

ترجمہ: بھلا آپ نے اس کو بھی دیکھا جو اپنی خواہش کا بندہ بن اسے گمراہ کر دیا اور اس کے کان اور دل پر مہر کر دی اور اس کی آنکھ بعد اسے کون ہدایت کر سکتا ہے پھر تم کیوں نہیں سمجھتے؟

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 15

کوئی حاجت ہو رکھتا ہوں ترے

عارف باللہ حضرت اقدس مولانا

الہی اپنی رحمت سے تو کردے باخبر اپنا
نہ انجم ہیں
سوا تیرے نہیں ہے کوئی میرا سنگ در اپنا
کوئی حاجت
خداوند محبت ایسی دے دے اپنی رحمت سے
کرے اختر فدا
تو کرلے ایسے ناکارہ کو پھر بار دگر اپنا
چھڑا کر غیر
تو فضل خاص کو ہم سب پہ یا رب عام کر اپنا
بہ فیض مرش
کہ وقف خانقاہ شیخ ہے قلب و جگر اپنا
تغافل سے
ہمہ تن مشغلہ ہے ذکر کا شام وسحر اپنا

❁❁❁

صفحہ 15

ارشاد فرمایا: تِلْكَ آيَاتُ اللَّهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ ۖ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللَّهِ وَآيَاتِهِ يُؤْمِنُونَ

(سورة الجاثية آیت نمبر ۶)

ترجمہ: یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم آپ کو بالکل ٹھیک پڑھ کر سناتے ہیں پس اللہ اور اس کی آیات کے بعد وہ کس بات پر ایمان لائیں گے۔

ماہنامہ سبحانی کراچی 14

ل مقبول صلی اللہ علیہ وسلم

ضرت مولانا احمد رضا خاں بریلوی رحمۃ اللہ علیہ

ی ہمارا نبی سب سے بالا و والا ہمارا نبی
ارا ہمارا نبی دونوں عالم کا دولہا ہمارا نبی
روزاں ہوا نورِ اول کا جلوہ ہمارا نبی
خدا پر جلوس ہے وہ سلطان والا ہمارا نبی
بھی مشعلیں شمع وہ لے کر آیا ہمارا نبی
آب حیات ہے وہ جانِ مسیحا ہمارا نبی
سے رسل اور رسولوں سے اعلیٰ ہمارا نبی
و سلسبیل! ہے وہ رحمت کا دریا ہمارا نبی
ہے ویسے ہی ان کا اِن کا تمہارا ہمارا نبی
منہ چاہیے دینے والا ہے سچا ہمارا نبی
چھپ گئے پر نہ ڈوبے نہ ڈوبا ہمارا نبی
بیاء تاجدار تاجداروں کا آقا ہمارا نبی
ں کا وہ ہے ہر مکاں کا اُجالا ہمارا نبی
کیوں مالکو! کیا نبی ہے تمہارا ہمارا نبی
وی عمر ابد ہے وہ جانِ مسیحا ہمارا نبی
جے کہ ہے بیکسوں کا سہارا ہمارا نبی

☆☆☆

ارشاد فرمایا: أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوَاهُ الآية

(سورة الجا

ترجمہ: بھلا آپ نے اس کو بھی دیکھا جو اپنی خواہش کا بندہ اسے گمراہ کر دیا اور اس کے کان اور دل پر مہر کر دی اور اس کی آ بعد اسے کون ہدایت کر سکتا ہے پھر تم کیوں نہیں سمجھتے؟

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 15 ماہنامہ سبحانی کراچی

کوئی حاجت ہو رکھتا ہوں تری چوکھٹ پہ سر اپنا

عارف باللہ حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد اختر

الہی اپنی رحمت سے تو کردے باخبر اپنا
نہ انجم ہیں ہمارے اور نہ یہ شمس و قمر اپنا
سوا تیرے نہیں ہے کوئی میرا سنگ در اپنا
کوئی حاجت ہو رکھتا ہوں تری چوکھٹ پہ سر اپنا
خداوند محبت ایسی دے دے اپنی رحمت سے
کرے اختر فدا تجھ پر یہ دل اپنا جگر اپنا
تو کرلے ایسے ناکارہ کو پھر بار دگر اپنا
چھڑا کر غیر سے دل کو تو اپنا خاص کر ہم کو
تو فضل خاص کو ہم سب پہ یا رب عام کر اپنا
بہ فیض مرشد کامل تو کردے ہنس زاغوں کو
کہ وقف خانقاہ شیخ ہے قلب وجگر اپنا
تغافل سے جو کی توبہ تو ان کی راہ میں اختر
ہمہ تن مشغلہ ہے ذکر کا شام وسحر اپنا

٭٭٭

صفحہ 17

ارشاد فرمایا: تِلْكَ آيَاتُ اللّٰهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ ج فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللّٰهِ وَآيَاتِهِ يُؤْمِنُونَ ﴿ سورة الجاثیة آیت نمبر ۶ ﴾ ترجمہ: یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم آپ کو بالکل ٹھیک پڑھ کر سناتے ہیں پس اللہ اور اس کی آیات کے بعد وہ کس بات پر ایمان لائیں گے۔

ماہنامہ سبحانی کراچی 16 حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

نعت شریف

سرکارِ دو عالم شہہِ بطحا سردار ہمارے صلی اللہ
اجمل، اکمل، یاسین، طٰہٰ، سردار ہمارے صلی اللہ
دنیا میں آپ صلی اللہ کے آتے ہی توحید کی شمع ہوئی روشن
اسلام کے بانی نورِ خدا سردار ہمارے صلی اللہ
بیواؤں اور یتیموں کے، مسکینوں اور غریبوں کے
مظلوموں اور غلاموں کے ہیں سہارے ہمارے صلی اللہ
کیا شان ہے آپ کے رتبے کی کیا آن ہے آپ کے منصب کی
اُمّی لقبی مطلبی اللہ کے دلارے صلی اللہ
دو ٹکڑے ہوا شق ہو کے قمر اک آپ صلی اللہ کے ادنیٰ اشارے سے
ہیں آپ صلی اللہ کی خاطر ارض و سما سورج ستارے صلی اللہ
کچھ راز کی باتیں کرنے کو جب عرش پہ رب نے یاد کیا
نعلین بہ پا محبوبِ خدا معراج سدھارے صلی اللہ
جب لے کے نبی صلی اللہ کو براق چلا اقصیٰ سے سوئے عرشِ علیٰ
اھلاً سہلاً کے بلند ہوئے افلاک میں نعرے صلی اللہ
خالق کی عطا کا کیا کہنا ان اعطینک الکوثر
عاصی پہ بھی آقا نظرِ کرم کوثر کے کنارے صلی اللہ
خورشیدِ رسالت ماہِ مبیں کونین کے سرور سرورِ دیں
صادق اور امین قرباں تم پر ماں باپ ہمارے صلی اللہ
بے کس، بے بس اور بے ساماں عاجز احقر ناقص ناداں
ناکارہ تبسم عاصی کے ہیں آپ صلی اللہ سہارے صلی اللہ

(محمد عبداللہ تبسمؔ مرتب نعیم الحق، بہاؤنگری)

ارشاد فرمایا: أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلٰهَهُ هَوَاهُ الآیة ﴿ سورة ال ترجمہ: بھلا آپ نے اس کو بھی دیکھا جو اپنی خواہش کا بندہ اسے گمراہ کردیا اور اس کے کان اور دل پر مہر کردی اور اس کی آ بعد اسے کون ہدایت کر سکتا ہے پھر تم کیوں نہیں سمجھتے؟

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 17

نعت رسول

کھنچا پہلے نہ اُس کے بعد وہ نقش
مصور کو بجا ہے ناز جس پر با
مجھ ہی پر اک نہیں ساری زبانوں پر
قیامت تک دمکتا جو رہے گا وہ
اللہ نے آخری پیغام جن کی م
وہ ختم الانبیاء تم ہو رُسل آخ
بشارت دی تری آمد کی موسیٰ
خلیل اللہ کی بیشک دعائے د
ترے اخلاق عالی پر زمانہ د
عدو سے گالیاں کھا کر کے بھی خندہ
یہ کیا انقلاب آیا ترے ناقد تر
زبان سے کہہ رہے ہیں نازشِ دنیا و
وجودِ پاک سے ترے ملی ذروں
خدائے لم یزل کا نور ہو مہر م
یہ تیرے حسن دلاویز کی تابش کے
خجل لا ریب جس سے حسن یوسف رو
فلپ ہٹی ہوں برنارڈ شاہ ہوں یا
ہے خم جس پر عقیدت کی جبیں صد آ
صفحہ 17

ارشاد فرمایا: تِلْكَ اٰيَاتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ ۚ فَبِاَيِّ حَدِيْثٍ بَعْدَ اللّٰهِ وَاٰيَاتِهٖ يُؤْمِنُوْنَ ﴿سورة الجاثية آیت نمبر ٦﴾

ترجمہ: یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم آپ کو بالکل ٹھیک پڑھ کر سناتے ہیں پس اللہ اور اس کی آیات کے بعد وہ کس بات پر ایمان لائیں گے۔

16 ماہنامہ سبحانی کراچی

نعت شریف

بطحا سردار ہمارے صلی اللہ
ی، طہٰ، سردار ہمارے صلی اللہ
گئے آتے ہی توحید کی شمع ہوئی روشن
نورِ خدا سردار ہمارے صلی اللہ
کے، مسکینوں اور غریبوں کے
ں کے ہیں سہارے ہمارے صلی اللہ
رتبے کی کیا آن ہے آپ کے منصب کی
اللہ کے دلارے صلی اللہ
ہر اِک آپﷺ کے ادنیٰ اشارے سے
ر ارض و سما سورج ستارے صلی اللہ
نے کو جب عرش پہ رب نے یاد کیا
خدا معراج سدھارے صلی اللہ
و براق چلا اقصیٰ سے سوئے عرشِ علیٰ
ہوئے افلاک میں نعرے صلی اللہ
کیا کہنا ان اعطینٰک الکوثر
اکرم کوثر کے کنارے صلی اللہ
ہیں کونین کے سرور سرورِ دیں
باں تم پر ماں باپ ہمارے صلی اللہ
بے ساماں عاجز احقر ناقص ناداں
ہیں آپﷺ سہارے صلی اللہ

(مرتبہ نعیم الحق، بہاولنگری)

ارشاد فرمایا: اَفَرَاَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوَاهُ الآيَةَ ﴿سورة الجا ترجمہ: بھلا آپ نے اس کو بھی دیکھا جو اپنی خواہش کا بندہ اسے گمراہ کر دیا اور اس کے کان اور دل پر مہر کر دی اور اس کی آ بعد اسے کون ہدایت کر سکتا ہے پھر تم کیوں نہیں سمجھتے؟

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 17 ماہنامہ سبحانی کراچی

نعت رسول ﷺ

کھنچا پہلے نہ اُس کے بعد وہ نقشِ حسین تم ہو
مصور کو بجا ہے ناز جس پر بالیقین تم ہو
مجھ ہی پر اک نہیں ساری زبانوں پر زبان زد ہے
قیامت تک دمکتا جو رہے گا وہ نگیں تم ہو
اللہ نے آخری پیغام جن کی معرفت بھیجا
وہ ختم الانبیاء تم ہو رُسل آخرین تم ہو
بشارت دی تری آمد کی موسیٰ و عیسیٰ نے
خلیل اللہ کی بیشک دعائے دلنشین تم ہو
ترے اخلاق عالی پر زمانہ وجد کرتا ہے
عدو سے گالیاں کھا کر کے بھی خندہ جبیں تم ہو
یہ کیا انقلاب آیا ترے ناقد ترے دشمن
زبان سے کہہ رہے ہیں نازش دنیا و دین تم ہو
وجودِ پاک سے ترے ملی ذروں کو تابانی
خدائے لم یزل کا نور ہو مہر مبین تم ہو
یہ تیرے حسنِ دلاویز کی تابش کے کیا کہنے
خجل لاریب جس سے حسنِ یوسف وہ حسین تم ہو
فلپ ہٹی ہوں برنارڈ شاہ ہوں یا اور دانشور
ہے خم جس پر عقیدت کی جبیں صد آفرین تم ہو
صفحہ 18

ارشاد فرمایا: تِلْكَ آيَاتُ اللَّهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ ۚ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللَّهِ وَآيَاتِهِ يُؤْمِنُونَ ﴿سورة الجاثية آيت نمبر ۶﴾

ترجمہ: یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم آپ کو بالکل ٹھیک پڑھ کر سناتے ہیں پس اللہ اور اس کی آیات کے بعد وہ کس بات پر ایمان لائیں گے۔

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 18 ماہنامہ سبحانی کراچی

شہادت کی ضرورت کیا کسی کی اہلِ عالم میں
خدا نے خود کہا ہے رحمۃ اللعالمین تم ہو
جو دمکا برسرِ دنیا جو چمکے گا سرِ محشر
وہی ماہِ مبین تم ہو وہی مہرِ مبین تم ہو
اسی اک بات پر تو متفق ہیں سارے دانشور
خدا کے بعد جس کا رتبہ ہے وہ بالیقین تم ہو
جہانِ تیرہ کا جس سے منور ہے ہر اک گوشہ
وہی لعل و گوہر اور وہ تابندہ نگین تم ہو
خلیل اللہ نے تیرے لئے حق سے دعائیں کیں
کلیم اللہ کا نطق صداقت آفرین تم ہو
خوشا اے جانِ محبوبی ترے کردار کی بابت
عدو تک نے کہا ہے صادق الوعد و امین تم ہو
نہیں بھولے ستاتے ہیں ہمیں اپنی جفائیں
ہوا معلوم یہ جب سے شفیع المذنبین تم ہو

فاضل عثمانی

☆-------☆-------☆

ارشاد فرمایا: أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلٰهَهُ هَوَاهُ الآية ﴿سورة ال...

ترجمہ: بھلا آپ نے اس کو بھی دیکھا جو اپنی خواہش کو اپنا اسے گمراہ کر دیا اور اس کے کان اور دل پر مہر کر دی اور اس کی آ خدا کے بعد اسے کون ہدایت کر سکتا ہے پھر تم کیوں نہیں سمجھتے؟

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

حرمت

یقیں قرآن پہ ہے اور قرآن کی ہدایت پر
کوئی انسان بھی کامل مسلماں ہو نہیں سکتا
خدا خلّاقِ عالم ہے، نبیؐ ہیں رحمتِ عالم
ہر اِک ایمان والے پر محبت اُن کی لازم ہے
اب اہل کفر باز آجائیں توہینِ رسالت سے
تحفظ اُن کی حرمت کا ہر اک شے پر مقدم ہے
کسی بھی طور ناموسِ رسالتؐ پر نہ حرف آئے
فضیلت خیرِ امت کی ہمیں حاصل ہے دنیا میں
نبیؐ بننا کسی کا مصطفیٰؐ کے بعد ناممکن
خدا نے رحمۃ للعالمین اُن کو بنایا ہے
خلیل اللہ نے کی تھیں دعائیں اُن کی بعثت کی
ہمیں اللہ نے آقاؐ کی اُمت میں کیا پیدا
دُرود اُن پر سلام اُن پر
بشارت مغفرت کی ہے

(قاری محمد ...

صفحہ 19

ارشاد فرمایا: تِلْكَ آيَاتُ اللَّهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ ۖ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللَّهِ وَآيَاتِهِ يُؤْمِنُونَ ﴿سورة الجاثية آيت نمبر ٦﴾ ترجمہ: یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم آپ کو بالکل ٹھیک پڑھ کر سناتے ہیں پس اللہ اور اس کی آیات کے بعد وہ کس بات پر ایمان لائیں گے۔

18 ماہنامہ مسیحائی کراچی

...ورت کیا کسی کی اہلِ عالم میں
...کیا ہے رحمۃ اللعالمین تم ہو
...ر دنیا جو چمکے گا سرِ محشر
...ن تم ہو وہی مہر مبین تم ہو
...ت پر تو متفق ہیں سارے دانشور
...جس کا رتبہ ہے وہ بالیقین تم ہو
...جس سے منور ہے ہر اک گوشہ
...لو ہر نور وہ تابندہ نگین تم ہو
...تے تیرے لئے حق سے دعائیں کیں
...ا نطق صداقت آفرین تم ہو
...یان محبوبی ترے کردار کی بابت
...کہا ہے صادق الوعد و امین تم ہو
...ماتے ہی نہ بندۂ خاکی اپنے جامے میں
...نے جب سے شفیع المذنبین تم ہو

فاضل عثمانی ☆.......☆.......☆

ارشاد فرمایا: أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوَاهُ الآیة ﴿سورۃ ال... ترجمہ: بھلا آپ نے اس کو بھی دیکھا جو اپنی خواہش کا بندہ ... اسے گمراہ کر دیا اور اس کے کان اور دل پر مہر کر دی اور اس کی آ... بعد اسے کون ہدایت کر سکتا ہے پھر تم کیوں نہیں سمجھتے ؟

حرمت رسول نمبر 2011ء 19 ماہنامہ مسیحائی کراچی

حرمت رسول ﷺ

یقیں قرآن پہ ہے اور قرآن کی ہدایت پر | خدا کے ایک ہونے پر محمد کی رسالت پر!
کوئی انسان بھی کامل مسلماں ہو نہیں سکتا | نہ جب تک لائے وہ ایمان آقا کی شریعت پر
خدا خلّاقِ عالم ہے، نبیؐ ہیں رحمتِ عالم | گواہی دے رہا ہے سارا عالم اس حقیقت پر
ہر اک ایمان والے پر محبت اُن کی لازم ہے | مدارِ دین و ایماں ہے فقط اُن کی محبت پر
اب اہلِ کفر باز آ جائیں توہینِ رسالتؐ سے | عذابِ دائمی آتا ہے توہینِ رسالت پر!
تحفّظ اُن کی حرمت کا ہر اک شے پر مقدّم ہے | کہ ہم مر مٹنے کو تیار ہیں آقا کی حرمت پر
کسی بھی طور ناموسِ رسالتؐ پر نہ حرف آئے | ہماری جان بھی صدقے ہے ناموسِ رسالت پر
فضیلت خیر امت کی ہمیں حاصل ہے دنیا میں | ہمیشہ ناز ہم کرتے رہیں گے اس فضیلت پر
نبی بننا کسی کا مصطفیٰ کے بعد ناممکن | خدا نے مہر ثبت کر دی ہے اُن کی خاتمیت پر
خدا نے رحمۃ للعالمین اُن کو بنایا ہے | خدا کی خاص رحمت ہے طہٰ والا کی اُمت پر
خلیل اللہ نے کی تھیں دعائیں اُن کی بعثت کی | گواہی ابنِ مریمؑ دے گئے اُن کی نبوت پر!
ہمیں اللہ نے آقا کی اُمت میں کیا پیدا | جبینیں سرِ تسلیم ہیں اُس کے آگے اس عنایت پر
درود اُن پر سلام اُن پر، مرا سب کچھ نثار اُن پر
بشارت مغفرت کی ہے فقط اُن کی اطاعت پر

(قاری محمد مسلم غازی)

صفحہ 20

ارشاد فرمایا: تِلْكَ آيَاتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ ۚ فَبِأَيِّ حَدِيْثٍ بَعْدَ اللّٰهِ وَ اٰيٰتِهٖ يُؤْمِنُوْنَ

﴿سورة الجاثية آیت نمبر ٦﴾

ترجمہ: یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم آپ کو بالکل ٹھیک پڑھ کر سناتے ہیں پس اللہ اور اس کی آیات کے بعد وہ کس بات پر ایمان لائیں گے۔

ارشاد فرمایا: أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلٰهَهُ هَوَاهُ الآية

﴿سورة...

ترجمہ: بھلا آپ نے اس کو بھی دیکھا جو اپنی خواہش کا بندہ... اسے گمراہ کر دیا اور اس کے کان اور دل پر مہر کر دی اور اس کی... بعد اسے کون ہدایت کر سکتا ہے پھر تم کیوں نہیں سمجھتے؟

ماہنامہ مسیحائی کراچی 20 حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

توہین رسالت ﷺ

امام کعبہ کا خطبہ جمعہ

امام کعبہ و خطیب حرم فضیلۃ الشیخ راشد الخالد حفظہ اللہ تعالیٰ کا خطبہ جمعہ، اس خطبے نے عالمی تحریک ناموس رسالت کو جنم دیا۔ جس کی پاداش میں انہیں ایک بار اپنے منصب سے بھی معزول کر دیا گیا۔

ترجمہ: مولانا ریاض جمیل

اللہ کے بندو! میں آپ کو اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے کی وصیت کرتا ہوں، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ صرف متقیوں کے ہی نیک اعمال قبول فرماتے ہیں۔

اللہ کے بندو! ڈنمارک ایک یورپی ملک ہے، ہمارے اور ان کے درمیان سفارتی تعلقات، تجارتی معاملات اور بین الاقوامی معاہدات ہیں، ہم نے انہیں کوئی اذیت نہیں پہنچائی اور پر نہ ہی ان کسی قسم کی زیادتی کی ہے۔ قریب و بعید میں ہم نے انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔

لیکن سارا عالم کفر ملت واحد ہے ان کافروں کے دل مسلمانوں کے خلاف حسد عداوت اور بغض ونفرت سے بھرے ہوئے ہیں۔ یہ بات اللہ رب العزت بھی جانتے ہیں۔ قرآن مجید میں کئی ایک مقامات پر اللہ رب العزت نے ان کے مکر وفریب اور اسلام کے خلاف ان کی دسیسہ کاریوں کا تذکرہ فرمایا ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ: وَدَّ كَثِيرٌ مِّنْ أَهْلِ الْكِتٰبِ لَوْ يَرُدُّوْنَكُمْ مِّنْ بَعْدِ إِيمَانِكُمْ كُفَّارًا حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمْ مِّنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ

(البقرہ:۱۰۹)

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 21

ان اہل کتاب کے اکثر لوگ باوجود حق واضح ہو جا بھی ایمان سے ہٹا دینا چاہتے ہیں۔

نیز فرمایا: وَدُّوا لَوْ تَكْفُرُوْنَ كَمَا كَفَرُوْا فَتَكُوْنُوْنَ سَوَا ان کی تو چاہت ہے کہ جس طرح کے کافر وہ ہیں تم بھ

آخر آج کل ڈنمارک میں اسلام اور مسلمانوں کے خ کیوں پیش آئی؟ ڈنمارک ڈھٹائی پر کیوں اترا؟ اس کا

پھیلے ہوئے مسلمان کس بُری طرح پنجہ ظلم و استبداد م مقام عزت و رفعت، عظمت و سربلندی تھا آج بُری طر ہے۔

وہاں سے بے سرو سامانی کی حالت میں پتھروں کے ذ اقصیٰ کا دفاع کرنے کی جستجو میں لگے ہوئے ہیں۔ اس انہیں فراموش کیے بیٹھے ہیں۔

چیچنیا اور بوسنیا میں ان کی مدد نہ کر کے شرمندہ کیا۔

گیا کہ اس موقعہ پر کوئی مسلمان ان کی مدد کو نہ پہنچا۔ ان کو انہوں نے دیکھا۔

بے حرمتی کی گئی لیکن مسلمانوں نے کیا کر لیا سوائے چند زندگی کے معمولات اپنی روٹین میں رواں دواں ہو گئے

صفحہ 21

ارشاد فرمایا: تِلْكَ آيَاتُ اللَّهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ ج فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللَّهِ وَآيَاتِهِ يُؤْمِنُونَ ﴿سورة الجاثية آیت نمبر ٦﴾ ترجمہ: یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم آپ کو بالکل ٹھیک پڑھ کر سناتے ہیں پس اللہ اور اس کی آیات کے بعد وہ کس بات پر ایمان لائیں گے۔

ارشاد فرمایا: أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوَاهُ الآية ﴿سورۃ ترجمہ: بھلا آپ نے اس کو بھی دیکھا جو اپنی خواہش کا بندہ اسے گمراہ کر دیا اور اس کے کان اور دل پر مہر کر دی اور اس کی خدا کے بعد اسے کون ہدایت کر سکتا ہے پھر تم کیوں نہیں سمجھتے؟

20 ماہنامہ مسیحائی کراچی

شان رسالت ﷺ

کعبہ کا خطبہ جمعہ

شد المجاہد حفظہ اللہ تعالیٰ کا خطبہ جمعہ، اس خطبے نے عالمی کی پاداش میں انہیں ایک بار اپنے منصب سے بھی

ترجمہ: مولانا ریاض جمیل کا تقویٰ اختیار کرنے کی وصیت کرتا ہوں، اس لیے کہ اعمال قبول فرماتے ہیں۔ پی ملک ہے، ہمارے اور ان کے درمیان سفارتی اقوامی معاہدات ہیں، ہم نے انہیں کوئی اذیت نہیں نا کی ہے۔ قریب و بعید میں ہم نے انہیں کوئی نقصان

ان کافروں کے دل مسلمانوں کے خلاف حسد عداوت ہیں۔ یہ بات اللہ رب العزت بھی جانتے ہیں۔ قرآن عزت نے ان کے مکر و فریب اور اسلام کے خلاف ان

ويردونكم من بعد ايمانكم كفاراً حسدا من الحق (البقرہ:۱۰۹)

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 21 ماہنامہ مسیحائی کراچی

ان اہل کتاب کے اکثر لوگ باوجود حق واضح ہو جانے کے محض حسد و بغض کی بنا پر تمہیں بھی ایمان سے ہٹا دینا چاہتے ہیں۔ نیز فرمایا: ودوا لو تكفرون كما كفرو ا فتكونون سواء (النساء۔۸۹) ان کی تو چاہت ہے کہ جس طرح کے کافر وہ ہیں تم بھی ان کی طرح کفر کرنے لگو۔ آخر آج کل ڈنمارک میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف حالیہ نفرت آمیز مہم کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ ڈنمارک ڈھٹائی پر کیوں اترا؟ اس کا جواب یہ ہے.......!!

پھیلے ہوئے مسلمان کس بُری طرح پنجۂ ظلم و استبداد میں جکڑے ہوئے ہیں۔ وہ قوم جس کا مقام عزت و رفعت، عظمت و سربلندی تھا آج بُری طرح شدید ذلت و رسوائی سے دوچار ہے۔

وہاں سے بے سر و سامانی کی حالت میں پتھروں کے ذریعے اپنے سینوں پر گولیاں کھا کر مسجد اقصیٰ کا دفاع کرنے کی جستجو میں لگے ہوئے ہیں۔ اور دوسری طرف ان کے مسلمان ساتھی انہیں فراموش کیے بیٹھے ہیں۔

چیچنیا اور بوسنیا میں ان کی مدد نہ کر کے شرمندہ کیا۔

گیا کہ اس موقعہ پر کوئی مسلمان ان کی مدد کو نہ پہنچا۔ ان واقعات پر اُمت مسلمہ کی مغلوبیت کو انہوں نے دیکھا۔

بے حرمتی کی گئی لیکن مسلمانوں نے کیا کر لیا سوائے چند دن کے شور و غوغا کے۔ اس کے بعد زندگی کے معمولات اپنی روٹین میں رواں دواں ہو گئے۔

صفحہ 22

ارشاد فرمایا: تِلْكَ اٰيٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ ۚ فَبِاَىِّ حَدِيْثٍۢ بَعْدَ اللّٰهِ وَاٰيٰتِهٖ يُؤْمِنُوْنَ ﴿سورۃ الجاثیة آیت نمبر ۶﴾ ترجمہ: یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم آپ کو بالکل ٹھیک پڑھ کر سناتے ہیں پس اللہ اور اس کی آیات کے بعد وہ کس بات پر ایمان لائیں گے۔

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 22 ماہنامہ سبحانی کراچی

وفات پا گئے ہیں اور اپنے پیچھے لڑکیاں چھوڑ گئے ہیں۔ آپﷺ کی نسل کشی ہوگئی۔ (العیاذ باللہ)

باوجود اسلام کی مقبولیت کا پوری دنیا بالخصوص یورپی ممالک میں بڑھنا ان کے سامنے ہے۔ آج امریکہ اور یورپ کے کئی ممالک میں اسلام وہاں کا دوسرا مذہب بن چکا ہے۔ اور کوئی تعجب نہیں کیونکہ کہ تمام انسانوں کی پیدائش اسلام اور توحید پر ہوتی ہے۔ اس لیے توحید فطرت یعنی جبلت میں شامل ہے جس طرح کہ عہد الست سے واضح ہے۔

اور زمام اقتدار ان کے پاس نہ آ جائے۔

شدید ترین مظالم کا شکار تھے تو ان حالات میں بھی جب انہوں نے اسلام کو مسلسل پھیلتا اور پیش قدمی کرتے ہوئے دیکھا، جس میں انہیں اپنی باطل قوتوں اور شیطانی طاقتوں کے شیرازے بکھرتے نظر آئے۔ اسلام کا سورج پوری آب و تاب کے ساتھ چڑھتا دکھائی دیا۔ توحید کا آوازہ گونجتا دکھائی دیا۔ اسلام کا پھریرا چہار دانگ عالم لہراتا ہوا نظر آیا تو انہوں نے مسلمانوں کے رہبر و رہنما جناب محمد رسولﷺ کی ذات اقدس پر نعوذ باللہ کیچڑ اچھالنا شروع کر دیا۔ اسلام کا وسیع پیمانے پر پھیلاؤ دیکھ کر وہ بُری طرح خوفزدہ اور جھنجلاہٹ کا شکار ہو گئے۔ چنانچہ وہ کسی پاگل کتے کی طرح بالآخر گھٹیا حرکتوں پر اتر آئے۔

اہانت و بدگوئی، فحش کاری اور دریدہ دہنی امریکہ و یورپ کے نام نہاد تہذیب یافتہ جانوروں کا خاص شیوہ ہے۔ آج جو لوگ ترقی کے اوج کمال پر براجمان نظر آتے ہیں اور جن کی ظاہری چمک دمک آنکھوں کو خیرہ کیے دیتی ہے۔ وہ اپنے باطن کی غلاظت اگل رہے ہیں۔ وہ رحمت عالم محسن انسانیت امام المعصومین، خاتم النبیین سیدنا محمد مصطفیٰﷺ کی ذات اقدس کو طعن و تشنیع کون محمدﷺ ؟ وہ رسول محترمﷺ جو دنیا کے سب سے عظیم انسان، جو صورت میں

ارشاد فرمایا: اَفَرَاَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ الآیۃ ﴿سورۃ ... ترجمہ: بھلا آپ نے اس کو بھی دیکھا جو اپنی خواہش کا بندہ اسے گمراہ کر دیا اور اس کے کان اور دل پر مہر کر دی اور اس کی بعد اسے کون ہدایت کر سکتا ہے پھر تم کیوں نہیں سمجھتے؟

حرمت رسول نمبر 23

اجمل، سیرت میں اکمل، نبیوں رسولوں کے سردار مقام محمود سے مشرف ہونے والے، جن کے اشارے سے چشمے کا چشمہ بن کر آئے اور سارے کائنات کو کتاب وسنت کے اقدس ہمارے لیے محور ایمان، مرکز اطاعت و محبت کی زندگی سے معاذ اللہ آپ کو نکال دیا جائے تو کیا باقی

برادران اسلام! مسلمان اپنے علم و عمل میں کمزور دلدل میں ڈوب سکتا ہے، وہ بے عملی و بدعملی کا مرقع ہو سکتا البتہ محمد رسول اللہﷺ سچے پیغمبر اسلام سے محبت و وارفتگی سکتا۔ کوئی دم بریدہ سگ کوئے غلاظت آپ کی شان کرے اور مسلمان چین کی نیند سوئے یہ ممکن نہیں۔ اس بھلائی آپ کی ذات سے وابستہ ہے۔ ہاں! وہ آپ کی انتہائی قدم اٹھا سکتا ہے۔ اللہ کے بندو! ان سے پہلے میں گستاخیاں کیں اور آج بھی انہیں ایسا کرنے کی جرات رضی اللہ عنہما دو ننھے مجاہدوں جیسا کوئی مجاہد آج انہیں ہے۔ ورنہ کبھی بھی اللہ کی قسم وہ ایسی دریدہ دہنی کی

عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بدر کی لڑائی میں نے جب دائیں بائیں جانب دیکھا تو میرے دونوں تھے میں نے آرزو کی کاش! میں ان سے زیادہ طاقتور طرف اشارہ کیا اور پوچھا چچا جان! مجھے ابو جہل کو دکھا گے؟ اس نے کہا مجھے بتایا گیا ہے کہ وہ رسول اللہﷺ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر میں نے اس کو الگ نہ ہو گا یہاں تک کہ ہم میں جس کی موت پہلے لکھی ہے

صفحہ 23

حرمت رسول نمبر : ۱۰ ماہنامہ مسیحائی کراچی

اجمل، سیرت میں اکمل، نبیوں رسولوں کے سردار مقام محمود پر فائز ہونے والے، اسرار معراج سے مشرف ہونے والے، جن کے اشارے سے جنت کے دروازے کھلتے ہیں جو دنیا میں نور کا چشمہ بن کر آئے اور سارے کائنات کو کتاب وسنت کے نور سے منور فرما گئے۔ جن کی ذات اقدس ﷺ ہمارے لیے مجسم ایمان مرکز اطاعت ومحبت اور مرجع ہدایت ہے۔ اگر ایک مسلمان کی زندگی سے معاذ اللہ آپ کو نکال دیا جائے تو کیا باقی بچتا ہے؟

برادران اسلام! مسلمان اپنے علم و عمل میں کمزور ہوسکتا ہے، وہ گناہوں اور معصیتوں کی دلدل میں ڈوب سکتا ہے، وہ بے عملی وبدعملی کا مرقع ہوسکتا ہے مگر اس کے دل میں کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ﷺ نے پیغمبر اسلام سے محبت و وارفتگی کا جو توانا بیج بویا ہے اسے نکال نہیں سکتا۔ کوئی دم بریدہ سگ کوئے غلاظت آپ کی شان میں ہرزہ سرائی اور دشنام طرازی کرے اور مسلمان چین کی نیند سوئے یہ ممکن نہیں۔ اس بیچارے مسلمان کی تو دین و دنیا کی بھلائی آپ کی ذات سے وابستہ ہے۔ ہاں ! وہ آپ کی ناموس کے تحفظ کے لیے کوئی بھی انتہائی قدم اٹھا سکتا ہے۔ اللہ کے بندو! ان سے پہلے بھی لوگوں نے نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخیاں کیں اور آج بھی انہیں ایسا کرنے کی جرات اس لیے پیدا ہوئی کہ معاذ و معوذ رضی اللہ عنہما دو ننھے مجاہدوں جیسا کوئی مجاہد آج انہیں مسلمانوں کی صفوں میں نظر نہیں آرہا ہے۔ ورنہ کبھی بھی اللہ کی قسم وہ ایسی دریدہ دہنی کی جرات و جسارت نہ کرتے۔ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بدر کی لڑائی میں صف کے ساتھ کھڑا ہوا تھا۔ میں نے جب دائیں بائیں جانب دیکھا تو میرے دونوں طرف قبیلہ انصار کے دو نو عمر لڑکے تھے میں نے آرزو کی کاش! میں ان سے زیادہ طاقتور کے بیچ میں ہوتا۔ ایک نے میری طرف اشارہ کیا اور پوچھا چچا جان! مجھے ابو جہل کو دکھا دیجئے۔ میں نے کہا بیٹے تم اسے کیا کرو گے؟ اس نے کہا مجھے بتایا گیا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دیتا ہے۔ اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر میں نے اس کو دیکھ لیا تو میرا وجود اس کے وجود سے الگ نہ ہوگا یہاں تک کہ ہم میں جس کی موت پہلے لکھی ہے وہ مرجائے۔

صفحہ 24

ارشاد فرمایا: تِلْكَ اٰيٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ ۚ فَبِاَيِّ حَدِيْثٍ بَعْدَ اللّٰهِ وَاٰيٰتِهٖ يُؤْمِنُوْنَ ﴿ سورة الجاثية آيت نمبر ٦ ﴾ ترجمہ: یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم آپ کو بالکل ٹھیک پڑھ کر سناتے ہیں پس اللہ اور اس کی آیات کے بعد وہ کس بات پر ایمان لائیں گے۔

ارشاد فرمایا: اَفَرَاَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰهُ الاٰيَة ﴿ سورة الجاثية ﴾ ترجمہ: بھلا آپ نے اس کو بھی دیکھا جو اپنی خواہش کا بندہ بن اسے گمراہ کر دیا اور اس کے کان اور دل پر مہر کر دی اور اس کی بعد اسے کون ہدایت کر سکتا ہے پھر تم کیوں نہیں سمجھتے؟

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 24 ماہنامہ مسیحائی کراچی

مجھے اس پر بڑی حیرت ہوئی، پھر دوسرے نے مجھے چھوا اور وہی باتیں اس نے بھی کہیں۔ میں نے چند ہی لمحوں بعد دیکھا کہ ابو جہل لوگوں کے درمیان چکر کاٹ رہا ہے۔ میں نے کہا، ارے دیکھتے نہیں! یہ رہا تم دونوں کا شکار جس کے بارے میں تم پوچھ رہے تھے۔ یہ سنتے ہی دونوں نے اپنی تلواریں لیں جھپٹ پڑے اور اسے مار کر قتل کر دیا۔

(صحیح البخاری فرض الخمس ،باب من لم تخمس الاسلاب ٢٠٥/٢)

مسلمانو! بتاؤ آج تم میں سے کون اپنی جان ناموس رسالت پر قربان کرنے کے لیے تیار ہے۔ کون اللہ کے ان دشمنوں کو ان کے کیفر کردار تک پہنچانے کا عزم رکھتا ہے؟

اللہ کے بندو! یاد رکھو ان کا علاج کل بھی جہاد تھا اور آج بھی جہاد ہے۔ بیمار یہ اسی علاج سے بالآخر درست ہوں گے۔ کل کے ابوجہلوں کا بھی یہی علاج تھا اور آج کے ابوجہلوں کا بھی یہی علاج ہے۔

جانثاروں میں باوجود مسلمانوں کی توہین و تذلیل ، تنقیص و تحقیر کے دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ انہیں اور ان کے اتحادیوں منافقوں کو جو ہمارے درمیان رہتے ہیں، اغیار کے لیے اپنے ملکوں کے دروازے کھول کر ان کا پر جوش استقبال اور ان کی طرف سے عطا کردہ سہولتوں کا استخدام کرتے ہیں ” اسلام قبول کرنے والوں کی کثرت تعداد نے انہیں آگ بگولہ کر دیا ہے۔

جانے والے مظالم کے جواب میں باوجود اس کے کہ وہ مسلمان سیاسی و عسکری طور پر ہر طرح سے کمزور ہیں ان کافروں کو گاجر مولی کی طرح کاٹنا، ان کے چھکے چھڑانا پہلے سے زیادہ مضبوط اور منظم طریقے سے عراق میں کافروں کے مسلمانوں پر حملوں کا تابڑ توڑ جواب دینا جبکہ کافروں نے مسلمانوں کے خلاف ہر قسم کی جدید ٹیکنالوجی کا اسلحہ استعمال کر کے دیکھ لیا۔ لیکن ان کے تمام جدید اسباب وسائل اللہ کے شیروں نے رب کے حکم سے ناکارہ کر کے آگے بڑھنے کا عملی ثبوت پیش کیا جس کے نتیجے میں انہیں اپنا زوال قریب نظر آنے لگا تو

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

انہوں نے چاند پر تھوکنے کی ناپاک کوشش کی انہوں نے نبی پاک ﷺ کے توہین آمیز خاکے بناتے ہوئے دکھایا گیا اور آپ ﷺ کے ساتھ نعوذ باللہ جس میں آپ ﷺ کی چادر (صافے) کو بم کی شکل میں آخر یہ کافر اس بات کو کیوں بھول جاتے ہیں آپ ﷺ کے جانثاروں کی سب سے بڑی تمنا شہادت کا حصول ہے۔ خود رسول اللہ ﷺ کا ارشاد مبارک میری جان ہے میں بھر پور تمنا رکھتا ہوں کہ اللہ کی راہ میں قتل زندہ کیا جاؤں پھر شہید ہو جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں کیا جاؤں پھر شہید ہو جاؤں۔“ ( صحیح بخاری باب

واذلک فی ذات الاله وان یشا یبارک

یہ تو اللہ کی ذات کے لیے وہ چاہے تو کٹے ہوئے ٹکڑوں پر برکت ڈال دے۔

نعرہ آزادی لگانے، حیا باختگی کے چمکیلے غلاف میں عورت کو مرد کے شانہ بشانہ چلنے کا ڈھنڈورہ پیٹنے کی فریب کاریوں کو پاؤں کی نوک سے ٹھوکر مار دی ہے حتیٰ کہ یورپ میں بھی مسلمان عورتوں کا پردہ کرنے کے حق میں انہوں نے توہین رسالت جیسے تاریخی گستاخانہ کیوں نا آشنا ہیں کہ یہ مسلمان عورتیں امہات المومنین عصمتوں کی روحانی بیٹیاں، مَردوں سے پہلے حرمت رسول پر جوش جذبات رکھتی ہیں۔

جنگ اُحد میں نازک ترین لمحات کے موقع پر

صفحہ 25

ارشاد فرمایا: تِلْكَ آيَاتُ اللّٰهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ ۚ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللّٰهِ وَآيَاتِهِ يُؤْمِنُونَ ﴿سورة الجاثية آیت نمبر ۶﴾ ترجمہ: یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم آپ کو بالکل ٹھیک پڑھ کر سناتے ہیں پس اللہ اور اس کی آیات کے بعد وہ کس بات پر ایمان لائیں گے۔

ارشاد فرمایا: أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلٰهَهُ هَوَاهُ الآیة ﴿سورۃ الـ...﴾ ترجمہ: بھلا آپ نے اس کو بھی دیکھا جو اپنی خواہش کا اسے گمراہ کر دیا اور اس کے کان اور دل پر مہر کر دی اور اس کی بعد اسے کون ہدایت کر سکتا ہے پھر تم کیوں نہیں سمجھتے؟

24 ماہنامہ مسیحائی کراچی

نے مجھے چھوا اور وہی باتیں اس نے بھی ابوجہل لوگوں کے درمیان چکر کاٹ رہا ہے۔ وں کا شکار جس کے بارے میں تم پوچھ رہے جھپٹ پڑے اور اسے مار کر قتل کر دیا۔

س الاسلاب ۲۰۵/۲)

ناموس رسالت پر قربان کرنے کے لیے تیار وار تک پہنچانے کا عزم رکھتا ہے؟ جہاد تھا اور آج بھی جہاد ہے۔ دیر یا بدیر یہ اسی نے ابوجہلوں کا بھی یہی علاج تھا اور آج کے

غضب کو بھڑ کایا وہ یہ بھی ہے کہ نبی محمد ﷺ کے ں، تنقیص وتحقیر کے دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ رے درمیان رہتے ہیں، اغیار کے لیے اپنے اقبال اور ان کی طرف سے عطا کردہ سہولتوں کا کی کثرت تعداد نے انہیں آگ بگولہ کر دیا ہے۔ یا گیا وہ یہ ہے کہ مسلمانوں کا اپنے اوپر ڈھانے ہے کہ وہ مسلمان سیاسی و عسکری طور پر ہر طرح رح کاٹنا، ان کے چھکے چھڑانا پہلے سے زیادہ ا کے مسلمانوں پر حملوں کا تابڑ توڑ جواب دینا جدید ٹیکنالوجی کا اسلحہ استعمال کر کے دیکھ لیا۔ کے شیروں نے رب کے حکم سے ناکارہ کر کے نتیجے میں انہیں اپنا زوال قریب نظر آنے لگا تو

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 25 ماہنامہ مسیحائی کراچی

انہوں نے چاند پر تھوکنے کی ناپاک کوشش کی۔ نتیجتاً تھوک ان کے اپنے ہی اوپر آگرا۔ انہوں نے نبی پاک ﷺ کے توہین آمیز خاکے بنائے۔ ان میں نبی اکرم ﷺ کو تلوار لہراتے ہوئے دکھایا گیا اور آپ ﷺ کے ساتھ چند برقع پوش خواتین کو دکھایا گیا۔ دوسرے خاکے میں آپ ﷺ کی چادر (عمامے) کو بم کی شکل میں دکھایا گیا۔ آخر یہ کافر اس بات کو کیوں بھول گئے کہ محمد رسول اللہ ﷺ جرنیل المجاہدین تھے اور آپ ﷺ کے جانثاروں کی سب سے بڑی تمنا آرزو اور خواہش شہادت فی سبیل اللہ کا حصول ہے۔ خود رسول اللہ ﷺ کا ارشاد مبارک ہے۔ ”اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں بھر پور تمنا رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں شہید ہو جاؤں، پھر دوبارہ زندہ کیا جاؤں پھر شہید ہو جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر شہید کیا جاؤں پھر (چوتھی بار) زندہ کیا جاؤں پھر شہید ہو جاؤں۔“

(صحیح بخاری)

وذلک فی ذات الالہ وان یشاء ......... یبارک علی اوصال شلو ممزع

یہ تو اللہ کی ذات کے لیے وہ چاہے تو بوٹی بوٹی کٹے ہوئے اعضاء کے جوڑ جوڑ میں برکت ڈال دے۔

نعرہ آزادی لگانے، حیا باختگی کے چمکیلے غلاف والے پھولوں کی سجاوٹ میں سبق دینے اور عورت کو مرد کے شانہ بشانہ چلنے کا ڈھنڈورا پیٹنے کے باوجود مسلمان عورتوں نے ان کی تمام فریب کاریوں کو پاؤں کی نوک سے ٹھوکر مار دی اور مکمل با پردہ ہو کر گھروں سے باہر نکلتی ہیں، حتیٰ کہ یورپ میں بھی مسلمان عورتوں کا پردہ نشین ہونا ان کو پسند نہیں آیا جس کے نتیجے میں انہوں نے توہین رسالت جیسے تاریخی گھناؤنے جرم کا ارتکاب کیا۔ یہ کافر اس بات سے کیوں نا آشنا ہیں کہ یہ مسلمان عورتیں امہات المومنین سیدہ خدیجہ، عائشہ اور ام حبیبہ رضی اللہ عنھن کی روحانی بیٹیاں، مردوں سے پہلے اپنی جانیں ناموس رسالت پر قربان کرنے پر جوش جذبات رکھتی ہیں۔

جنگ اُحد میں نازک ترین لمحات کے موقع پر جب مسلمانوں نے بے مثال جانبازی اور

صفحہ 26

ارشاد فرمایا: تِلْكَ آيَاتُ اللَّهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللَّهِ وَآيَاتِهِ يُؤْمِنُونَ ﴿سورۃ الجاثية آیت نمبر ٦﴾ ترجمہ: یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم آپ کو بالکل ٹھیک پڑھ کر سناتے ہیں پس اللہ اور اس کی آیات کے بعد وہ کس بات پر ایمان لائیں گے۔

ماہنامہ مسیحائی کراچی 26 حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

تابناک قربانیوں کا مظاہرہ کیا ان میں ایک نادر کارنامہ خاتون صحابیہ ام عمارہ رضی اللہ عنہا کا بھی ہے جنہوں نے انتہائی پامردی و جانبازی سے رسول اللہ ﷺ کا دفاع کیا۔ سنو! مسلمان مردو! تمہاری غیرت کہاں کھوگئی۔ ایک عورت ہاں ہاں ایک عورت جو صنف نازک ہونے کے باوجود پیغمبر اسلام کا دفاع اپنے جسم پہ تیر و نیزے کے وار کھا کر کرتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں دائیں اور بائیں دیکھتا ہوں تو مجھے ام عمارہ میرا دفاع کرتے ہوئے نظر آتی ہیں، اے ام عمارہ رضی اللہ عنہا آپ کتنے عظیم حوصلے والی ہیں۔ بتائیے آپ کی کوئی دنیاوی ضرورت ہو؟ ام عمارہ رضی اللہ عنہا جواب میں عرض کرتی ہیں..... اے اللہ کے رسول ﷺ ہم چاہتے ہیں کہ جنت الفردوس میں ہمیں آپ کی رفاقت نصیب ہو۔ پیارے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہاں تم سب جنت میں میرے رفیق ہو گے۔ برادران اسلام! ۳۰ ستمبر ۲۰۰۵ء بروز جمعۃ المبارک کو ڈنمارک کے ایک کثیرالاشاعت روزنامہ نے نبی پاک ﷺ کے ۱۲ توہین آمیز خاکے شائع کیے۔ ان خاکوں میں رسول اللہ ﷺ کی جس طرح توہین کی گئی ہے اسے کوئی بھی ادنیٰ سے ادنیٰ اور گنہگار مسلمان بھی برداشت نہیں کرسکتا۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ کافر کھلم کھلا دیدہ دلیری کے ساتھ ہمارے پیغمبر ﷺ کی توہین کریں اور ہم یہ کہیں کہ اسلام شدت پسندی، تخریب کاری، دہشت گردی، زمین میں قتل و غارتگری اور فساد پھیلانے کا حکم نہیں دیتا۔ اسلام روشن خیالی، رواداری، عفو و درگزر اور معاملات کو سلجھانے کے لیے نرمی برتنے کا حکم دیتا ہے۔ کیا اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ اور صحابہ کی شان یوں بیان نہیں فرمائی: ”کہ وہ کافروں پر سخت ہیں“ (الفتح ۲۹) اللہ کی قسم! اگر یہ سنگین معاملہ سلامتی کے ساتھ گزر گیا تو اس سے بڑی ذلت و رسوائی والی بات کوئی اور نہ ہوگی۔ جو اُمت اپنے قائد کا دفاع کرنے کی طاقت نہیں رکھتی وہ کبھی بھی اپنے دشمنوں پر فتح و نصرت اور غلبہ حاصل نہیں کرسکتی۔ ہمیں اپنی کم ہمتی پست حالی اور حالت ضعف ایمان پر خوب رونا چاہئے اور اللہ تعالیٰ کے حضور یوں دعا گو ہونا چاہئے کہ:

ارشاد فرمایا: أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوَاهُ الآية ﴿سورۃ ا ترجمہ: بھلا آپ نے اس کو بھی دیکھا جو اپنی خواہش کا بند اسے گمراہ کر دیا اور اس کے کان اور دل پر مہر کر دی اور اس کی آن بعد اسے کون ہدایت کر سکتا ہے پھر تم کیوں نہیں سمجھتے؟

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 27

”اے رب العالمین! ہماری اولاد کو ہم جیسا بزدل اور نے جب سے کافروں کی مصنوعات کا استعمال کیا ہے ہم چکے ہیں۔ ہمیں شہادت کی موت سے نفرت ہو چکی ہے بہتر ہے کہ ہم نقاب پوش عورتوں کی طرح نقاب کر کے گھر کو آزادی اظہار رائے کے نام پر ہمارا مذاق اڑانے کا مو کے اخبارات ہولوکاسٹ کے بارے میں ایک لفظ لکھنے یا نہیں کرتے مگر مسلمانوں کی کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہو موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے کیا گاڈ پرست ہم سے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہماری محبتوں کے وہ بلبلے یا بگو حکومتوں اور ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں کا کیا کردار خاموشی کئی سوالوں کو جنم دے رہی ہے۔ اللہ کے بندو! تمام مسلمانوں کا نبی اکرم ﷺ کی حر دفاع کرنے پر اجماع ہے۔ پیغمبر اسلام ﷺ پر اپنا مال لیکن آپ ﷺ کی حرمت پر آنچ تک نہ آنے دی جائے۔ ليعلم الله من ينصره ورسله بالغيب ﴿الحدید تاکہ اللہ تعالیٰ جان لے کہ اس کی اور اس کے رسولوں آج کافروں نے مسلمانوں کے خلاف کھلم کھلا اعلا جس کا آغاز ڈینش ملکہ نے یہ کہہ کر دیا ہے کہ ”مسلمانوں اسلام کی حکومت کے لیے ہمیں مارنا چاہتی ہے مسلمان فی ہیں۔ لہٰذا مسلمان اپنے مسلم علاقوں میں چلے جائیں اور اللہ تعالیٰ ملعونہ کو زندہ درگور کرے۔ کیا ہم پر طعن و تشنیع گئیں ہیں؟ ڈنمارک کے وزیر اعظم نے بھی بڑی ڈھٹائی سے یہ

صفحہ 27

ارشاد فرمایا:

تِلْكَ اٰيَاتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ ج فَبِاَىِّ حَدِيْثٍۭ بَعْدَ اللّٰهِ وَاٰيَاتِهٖ يُؤْمِنُوْنَ ﴿سورة الجاثية آيت نمبر ۶﴾

ترجمہ: یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم آپ کو بالکل ٹھیک پڑھ کر سناتے ہیں پس اللہ اور اس کی آیات کے بعد وہ کس بات پر ایمان لائیں گے۔

ارشاد فرمایا:

اَفَرَءَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ الآية ﴿سورة الجـ

ترجمہ: بھلا آپ نے اس کو بھی دیکھا جو اپنی خواہش کا بندہ اسے گمراہ کر دیا اور اس کے کان اور دل پر مہر کر دی اور اس کی بعد اسے کون ہدایت کر سکتا ہے پھر تم کیوں نہیں سمجھتے؟

ماہنامہ مسیحائی کراچی 26

یا ان میں ایک نادر کارنامہ خاتون صحابیہ ام عمارہ رضی اللہ عنہا کا مردی و جانبازی سے رسول اللہ ﷺ کا دفاع کیا۔

ری غیرت کہاں کھو گئی ۔ ایک عورت ہاں ہاں ایک عورت جو جود پیغمبر اسلام کا دفاع اپنے جسم پر تیر و نیزے کے وار کھا کر نے فرمایا میں دائیں اور بائیں دیکھتا ہوں تو مجھے ام عمارہ میرا ں ، اے ام عمارہ رضی اللہ عنہا آپ کتنے عظیم حوصلے والی ہیں۔

ضرورت ہو؟ ام عمارہ رضی اللہ عنہا جواب میں عرض کرتی اﷲ ہم چاہتے ہیں کہ جنت الفردوس میں ہمیں آپ کی رفاقت ﷺ نے فرمایا ہاں تم سب جنت میں میرے رفیق ہوگے۔

۲۰۰ء بروز جمعۃ المبارک کو ڈنمارک کے ایک کثیر الاشاعت ۱۲ توہین آمیز خاکے شائع کیے۔

ﷺ کی جس طرح توہین کی گئی ہے اسے کوئی بھی ادنیٰ سے ادنیٰ نہیں کر سکتا۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ کافر کھلم کھلا دیدہ دلیری کے ہین کریں اور ہم یہ کہیں کہ اسلام شدت پسندی ، تخریب کاری، غارتگری اور فساد پھیلانے کا حکم نہیں دیتا۔ اسلام روشن خیالی، ت کو سلجھانے کے لیے نرمی برتنے کا حکم دیتا ہے۔ نیا اللہ تعالیٰ ان یوں بیان نہیں فرمائی:

” (الفتح ۲۹)

۔ سلامتی کے ساتھ گزر گیا تو اس سے بڑی ذلت ورسوائی والی ت اپنے قائد کا دفاع کرنے کی طاقت نہیں رکھتی وہ کبھی بھی لبہ حاصل نہیں کر سکتی۔

اور حالت ضعف ایمان پر خوب رونا چاہئے اور اللہ تعالیٰ کے

حرمت رسول نمبر 2011ء 27 ماہنامہ مسیحائی کراچی

’’اے رب العالمین! ہماری اولاد کو ہم جیسا بزدل اور کمزور ایمان والا نہ بنانا کیونکہ ہم نے جب سے کافروں کی مصنوعات کا استعمال کیا ہے ہم دنیا اور مال و دولت کے پجاری بن چکے ہیں۔ ہمیں شہادت کی موت سے نفرت ہو چکی ہے۔ ہاں اب تو ہمارے حق میں یہی چیز بہتر ہے کہ ہم نقاب پوش عورتوں کی طرح نقاب کر کے گھروں سے نکلیں تاکہ ان کافر بھیڑیوں کو آزادی اظہار رائے کے نام پر ہمارا مذاق اڑانے کا موقع ہی نہ ملے۔ یورپ اور امریکہ کے اخبارات ہولوکاسٹ کے بارے میں ایک لفظ لکھنے یا ہندؤوں کا مذاق اڑانے کی جرات نہیں کرتے مگر مسلمانوں کی کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ پیغمبر اسلام کی توہین کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے کیا گاؤ پرست ہم سے زیادہ دلیر اور بہادر ہو چکے ہیں؟ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہماری محبتوں کے وہ بلند بانگ دعوے کہاں گئے؟ آج مسلمان حکومتوں اور ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں کا کیا کردار ہے؟ مسلمان حکمرانوں کی پراسرار خاموشی کئی سوالوں کو جنم دے رہی ہے۔

اللہ کے بندو! تمام مسلمانوں کا نبی اکرم ﷺ کی حرمت وعظمت اور ناموس و تقدس کا دفاع کرنے پر اجماع ہے۔ پیغمبر اسلام ﷺ پر اپنا مال جان سب کچھ نچھاور کر دیا جائے لیکن آپ ﷺ کی حرمت پر آنچ تک نہ آنے دی جائے۔

ليعلم الله من ينصره ورسله بالغيب (الحديد 25)

تاکہ اللہ تعالیٰ جان لے کہ اس کی اور اس کے رسولوں کی مدد بغیر دیکھے کون کرتا ہے۔

آج کافروں نے مسلمانوں کے خلاف کھلم کھلا اعلان جنگ اور دشمنی کا اظہار کیا ہے۔ جس کا آغاز ڈینش ملکہ نے یہ کہہ کر دیا ہے کہ ”مسلمانوں کی ایک بڑی اکثریت پوری دنیا میں اسلام کی حکومت کے لیے ہمیں مارنا چاہتی ہے مسلمان ڈنمارک ملک کے لیے کینسر کا وائرس ہیں۔ لہٰذا مسلمان اپنے مسلم علاقوں میں چلے جائیں اور باقی دنیا کو ہنسی خوشی رہنے دیں۔“

اللہ تعالیٰ ملعونہ کو زندہ درگور کرے۔ کیا ہم پر طعن و تشنیع کرنے کے لیے کافر عورتیں ہی رہ گئیں ہیں؟

ڈنمارک کے وزیر اعظم نے بھی بڑی ڈھٹائی سے یہ عذر لنگ پیش کیا کہ یہ آزادی

صفحہ 29

ارشاد فرمایا: تِلْكَ ايٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ ج فَبِاَيِّ حَدِيْثٍ بَعْدَ اللّٰهِ وَ اٰيٰتِهٖ يُؤْمِنُوْنَ ﴿سورة الجاثية آیت نمبر ٦﴾ ترجمہ: یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم آپ کو بالکل ٹھیک پڑھ کر سناتے ہیں پس اللہ اور اس کی آیات کے بعد وہ کس بات پر ایمان لائیں گے۔

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 28 ماہنامہ مسیحائی کراچی

صحافت کا معاملہ ہے اور وہ اس کا دفاع کریں گے۔ ڈنمارک میں پریس حکومت کے کنٹرول میں نہیں ہے۔ یہ عدالت کے کنٹرول میں ہے اور وہ آزادی اظہار کے معاملے میں کوئی مداخلت نہیں کر سکتے۔

مجھے بتائیے اگر کسی کارٹون میں پیغمبر اسلام ﷺ کے بجائے بم والے ڈیزائن والی ٹوپی کسی یہودی کے سر پر دکھائی جاتی تو کیا شور نہ مچتا کہ اس سے یہودی مخالفت کی بو آتی ہے اور یہودیوں کی مذہبی دل آزاری کی جا رہی ہے۔

رسول اللہ ﷺ کے خاکوں کی اشاعت سے اسلام اور مغرب کے مابین جو جنگ شروع ہوئی تھی وہ روز بروز شدت اختیار کرتی چلی جا رہی ہے۔ اور اب یہ جنگ محض چند اخبارات تک محدود نہیں بلکہ اسلام اور کفر کے درمیان جنگ کی صورت اختیار کر گئی ہے۔ اس کے بعد اب کون سی ذلت و رسوائی کا انتظار کرو گے؟

عرب حکومتیں اپنے حکمرانوں اور وزیروں کی مخالفت کے بارے میں لوگوں پر سیخ پا ہو جاتی ہیں۔ لیکن بتاؤ سید البشر ﷺ پر تمہاری دینی غیرت و اخلاقی حمیت کہاں کھو گئی؟

آپ لوگوں کا کیا خیال ہے کہ اگر آج توہین آمیز خاکوں کے ذریعے عرب حکمران کی تذلیل و تحقیر کی جاتی تو کیا ردعمل ہوتا۔ جواب آپ کے سپرد کرتا ہوں۔

اے اُمت محمد ﷺ آج تمہارے پیغمبر ﷺ کی توہین مسلسل کی جا رہی ہے۔ بتاؤ تم کیا کرو گے؟ اپنے نبی ﷺ کی توہین کا انتقام کب اور کیسے لو گے؟

نیڈو دودھ اور ان کی بالائی مکھن کا بائیکاٹ کر کے؟ افسوس تم پر! کیا تم بس اسی چیز کی طاقت رکھتے ہو اور شریعت میں ایسے گستاخوں کو ان کی مجوزہ سزا دینے سے قاصر ہو۔

سنو! سچے محبوں کی غیرت کا تذکرہ

حدیبیہ کے دن ایلچی عروہ بن مسعود ثقفی نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور آکر کہنے لگا۔ میں نے قریش کو دیکھا ہے کہ وہ شیروں کی کھالیں پہنے آپ سے نبردآزمائی کے لیے بالکل تیار بیٹھے ہیں اور آپ ﷺ کو بیت اللہ سے روکنے کا تہیہ کیے ہوئے ہیں۔

اے محمد ﷺ ، اللہ کی قسم میں ایسے چہرے اور ایسے اوباش لوگوں کو دیکھ رہا ہوں جو اسی

ارشاد فرمایا: اَفَرَاَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوَاهُ الآية ﴿سورة الجاثية آیت نمبر ٢٣﴾ ترجمہ: بھلا آپ نے اس کو بھی دیکھا جو اپنی خواہش کا بندہ بن گیا اور اللہ نے علم کے باوجود اسے گمراہ کر دیا اور اس کے کان اور دل پر مہر کر دی اور اس کی آنکھ پر پردہ ڈال دیا پس اللہ کے بعد اسے کون ہدایت کر سکتا ہے پھر تم کیوں نہیں سمجھتے؟

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 29

لائق ہیں کہ آپ ﷺ کو چھوڑ کر بھاگ جائیں گے۔ ابوبکرؓ آپ ﷺ کے پیچھے موجود تھے انہوں نے غصے میں آکر حضور ﷺ کو چھوڑ کر بھاگیں گے؟ اس کے بعد وہ عروہ وہ گفتگو کرتا آپ ﷺ کی داڑھی پکڑ لیتا۔ عروہ کے نبی ﷺ کے پاس ہی کھڑے تھے ہاتھ میں تلوار تھی اور ہاتھ بڑھاتا تو وہ تلوار کا دستہ اس کے ہاتھ پر مارتے سے پرے رکھو۔ آخر عروہ نے اپنا سر اٹھایا اور بولا یہ کون ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے مسکراتے ہوئے فرمایا اکبر۔ کوئی قرابتداری اور رشتہ داری نہیں۔ اس کے کرام علیہم الرضوان کے تعلق کا منظر دیکھنے لگا۔ پھر

اے قوم بخدا میں قیصر و کسریٰ اور نجاشی جیسے بادشاہوں کسی بادشاہ کو نہیں دیکھا کہ اس کے ساتھی اس کی اس ساتھی آپ ﷺ کی تعظیم کرتے ہیں۔

اللہ کی قسم! کھنکار بھی تھوکتے ہیں تو کسی نہ کسی آدمی اپنے جسم پر اور اپنے چہرے پر مل لیتا ہے۔ اور جب کے لیے سب دوڑ پڑتے ہیں۔ جب وضو کرتے ہیں کے لیے لوگ لڑ پڑیں گے اور جب کوئی بات بولتے فرطِ تعظیم کے سبب انہیں بھر پور نظر سے نہیں دیکھتے۔ ہے لہٰذا اسے قبول کر لو۔

اللہ اکبر! صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تعظیم رسول ﷺ میں رسول اللہ ﷺ کی تعظیم کر رہے ہیں؟ ہم کس قدر آپ ﷺ کی کس قدر اتباع و پیروی کر رہے ہیں؟ نچھاور کرنے کے لیے تیار ہیں یا پھر دنیا کے لہو و لعب میں

صفحہ 29

ماہنامہ مسیحائی کراچی ڈنمارک میں پریس حکومت کے کنٹرول علاوہ آزادی اظہار کے معاملے میں کوئی

کے بجائے بم والے ڈیزائن والی ٹوپی کہ اس سے یہودی مخالفت کی بو آتی ہے

اسلام اور مغرب کے مابین جو جنگ شروع ہے۔ اور اب یہ جنگ محض چند اخبارات کا صورت اختیار کر گئی ہے۔ اس کے بعد

مخالفت کے بارے میں لوگوں پر صریح یا غیرت و اخلاقی حمیت کہاں کھو گئی؟ ہوئے خاکوں کے ذریعے عرب حکمران کی کے سپرد کرتا ہوں۔ توہین مسلسل کی جارہی ہے۔ بتاؤ تم کیا کر لوگے؟ افسوس تم پر! کیا تم پر اسی چیز کی طاقت سزا دینے سے قاصر ہو۔

کے کے پاس آیا اور آ کر کہنے لگا۔ میں سب سے نبردآزمائی کے لیے بالکل تیار ہوئے ہیں۔ اوباش لوگوں کو دیکھ رہا ہوں جو اسی

ارشاد فرمایا: تِلْكَ آيَاتُ اللَّهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ ج فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللَّهِ وَآيَاتِهِ يُؤْمِنُونَ ﴿سورة الجاثية آيت نمبر ٦﴾ ترجمہ: یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم آپ کو بالکل ٹھیک پڑھ کر سناتے ہیں پس اللہ اور اس کی آیات کے بعد وہ کس بات پر ایمان لائیں گے۔

ارشاد فرمایا: أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوَاهُ الآية ﴿سورة الجا ترجمہ: بھلا آپ نے اس کو بھی دیکھا جو اپنی خواہش کا بند اسے گمراہ کر دیا اور اس کے کان اور دل پر مہر کر دی اور اس کی کے بعد اسے کون ہدایت کر سکتا ہے پھر تم کیوں نہیں سمجھتے؟

ماہنامہ مسیحائی کراچی 29 حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

لائق ہیں کہ آپ ﷺ کو چھوڑ کر بھاگ جائیں گے۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے پیچھے موجود تھے انہوں نے غصے میں آکر کہا جا! لات کی شرمگاہ کو چوس! ہم حضور ﷺ کو چھوڑ کر بھاگیں گے؟ اس کے بعد وہ عروہ پھر نبی ﷺ سے گفتگو کرنے لگا جب وہ گفتگو کرتا آپ ﷺ کی داڑھی پکڑ لیتا۔ عروہ کے بھتیجے سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے پاس ہی کھڑے تھے ہاتھ میں تلوار تھی اور سر پر خود عروہ جب نبی کی داڑھی پر ہاتھ بڑھاتا تو وہ تلوار کا دستہ اس کے ہاتھ پر مارتے اور کہتے کہ اپنا ہاتھ رسول اللہ کی داڑھی سے پرے رکھو۔ آخر عروہ نے اپنا سر اٹھایا اور بولا یہ کون ہے۔ یہ تو بڑا تند خو اور سخت طبیعت کا مالک ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے مسکراتے ہوئے فرمایا: یہ تمہارا بھتیجا مغیرہ بن شعبہ ہے۔ اللہ اکبر۔ کوئی قرابت داری اور رشتہ داری نہیں۔ اس کے بعد عروہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ صحابہ کرام علیہم الرضوان کے تعلق کا منظر دیکھنے لگا۔ پھر اپنے رفقاء کے پاس واپس آیا اور بولا اے قوم بخدا میں قیصر و کسریٰ اور نجاشی جیسے بادشاہوں کے پاس جا چکا ہوں۔ بخدا میں نے کسی بادشاہ کو نہیں دیکھا کہ اس کے ساتھی اس کی اتنی تعظیم کرتے ہوں۔ جتنی محمد ﷺ کے ساتھی آپ ﷺ کی تعظیم کرتے ہیں۔

اللہ کی قسم! کھنکار بھی تھوکتے ہیں تو کسی نہ کسی آدمی کے ہاتھ پر پڑتا ہے اور وہ شخص اسے اپنے جسم پر اور اپنے چہرے پر مل لیتا ہے۔ اور جب وہ کوئی حکم دیتے ہیں تو اس کی بجا آوری کے لیے سب دوڑ پڑتے ہیں۔ جب وضو کرتے تھے تو معلوم ہوتا تھا کہ ان کے وضو کے پانی کے لیے لوگ لڑ پڑیں گے اور جب کوئی بات بولتے تھے سب اپنی آواز پست کر لیتے تھے اور فرط تعظیم کے سبب انہیں بھر پور نظر سے نہیں دیکھتے تھے اور انہوں نے ایک اچھی تجویز پیش کی ہے لہٰذا اسے قبول کر لو۔

اللہ اکبر! صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تعظیم رسول اللہ ﷺ کا یہ اندازہ تھا آج ہم کس انداز میں رسول اللہ ﷺ کی تعظیم کر رہے ہیں؟ ہم کس قدر رسول اللہ ﷺ کے طریقے کو اختیار اور آپ ﷺ کی کس قدر اتباع و پیروی کر رہے ہیں؟ آج ہم ناموس رسالت پر اپنی جانیں نچھاور کرنے کے لیے تیار ہیں یا پھر دنیا کے لہو و لعب میں مصروف اپنے لیل و نہار کا ضیاع کر

صفحہ 30

ماہنامہ سبحانی کراچی حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

ارشاد فرمایا: تِلْكَ آيَاتُ اللَّهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ ج فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللَّهِ وَآيَاتِهِ يُؤْمِنُونَ ﴿سورة الجاثية آيت نمبر ٦﴾ ترجمہ: یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم آپ کو بالکل ٹھیک پڑھ کر سناتے ہیں پس اللہ اور اس کی آیات کے بعد وہ کس بات پر ایمان لائیں گے۔

ارشاد فرمایا: أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوَاهُ الآية ﴿سورۃ ترجمہ: بھلا آپ نے اس کو بھی دیکھا جو اپنی خواہش کا بن اسے گمراہ کر دیا اور اس کے کان اور دل پر مہر کر دی اور اس کی کے بعد اسے کون ہدایت کر سکتا ہے پھر تم کیوں نہیں سمجھتے؟

رہے ہیں؟ اور ہمیں دین سے پیغمبر اسلام ﷺ سے کوئی سروکار نہیں؟ دشمنان اسلام حرمت رسول اللہ ﷺ پر ڈاکہ ڈالیں یا کشمیر یا عراق میں مسلمان بے آبرو ہوں؟ ظالم درندے بوڑھوں کی داڑھیاں نوچیں یا نوجوانوں کے خون سے ندیاں رنگین ہوں ہمیں ان چیزوں سے کوئی واسطہ نہیں......؟

مسلمانو! اللہ کے لیے سوچو۔ ہماری دینی غیرت کہاں رخصت ہوگئی؟ ہمارا جہادی جذبہ آخر کیوں مفلوج ہو چکا ہے؟ یا پھر ہم ذلت و رسوائی اور اس مسکنت کی زندگی گزارنے پر راضی ہو چکے ہیں۔

درج ذیل واقعہ پر بار بار غور کیجئے تا کہ آپ کو معلوم ہو جائے کہ آخر کیوں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی ﷺ کی محبت و معیت کے لیے ان تابندہ و درخشاں جانباز صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا انتخاب فرمایا۔

۵ ھ ماہ محرم کی ۵ تاریخ کو رسول اللہ کو یہ خبر ملی کہ خالد بن سفیان ہذلی نبی اکرم ﷺ کو قتل کرنے کے لیے فوج جمع کر رہا تو آپ ﷺ نے اپنے محب صادق جانثار صحابی عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ”خالد الھذلی میرے قتل کے درپے ہے اور مجھے اذیت پہنچا رہا ہے، ابن انیس نے کہا، ”روحی لروحک فداء مرنی بما تشاء“ (میری جان آپ ﷺ پر قربان حکم کیجئے)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: مکہ جاؤ اور خالد الہذلی کا سر میرے پاس لے کر آؤ۔ ابن انیس رضی اللہ عنہ نے یہ نہیں کہا: میں اکیلا کیسے اس کا مقابلہ کر سکوں گا مجھے کچھ افراد درکار ہیں، میرے پاس اسلحہ نہیں۔ یہ بڑی مشکل اور پُر خطر مہم ہے نہیں نہیں...... ابن انیس رضی اللہ عنہ تن تنہا اللہ رب العزت کی ذات عالیہ پر بھروسہ رکھتے ہوئے مکہ گئے اور ۱۸ روز باہر رہ کر ۲۳ محرم کو واپس تشریف لائے۔ وہ خالد کو قتل کر کے اس کا سر بھی ہمراہ لائے تھے۔ آج ہماری حالت تو یہ ہے کہ مرغی یا بکری کو ذبح کرتے ہوئے خوف محسوس کرتے ہیں لیکن صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم وہ جوانمرد، بہادر اور دلیر لوگ تھے جو اللہ کے باغیوں، نبی ﷺ کے گستاخوں کی گردنیں کاٹنے کے خوگر تھے۔

جب خدمت نبوی ﷺ میں پیش ہو کر انہوں نے سر آپ ﷺ کے سامنے پیش کیا تو

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

آپؐ نے فرمایا: چہرہ کامیاب ہوا اور انہیں ایک تمہارے درمیان قیامت کے روز نشانی رہے نے وصیت کی یہ عصا بھی ان کے ساتھ ان ۸۰۱/۲، ابن ہشام ۲ / ۹۱۷۔۹۱۸)

اللہ کے بندو! ہاں کل قیامت کے دن جب پیش ہوں گے تو تمام لوگوں کو پتہ چل جائے گا کہ کی علامت ہے۔

بتائیے آج ہم نے تحفظ حرمت رسول ﷺ علامت کے ہم قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے آج کافر ہمارا مذاق اڑاتے ہیں مسلمانوں تلے روند کر بے حرمتی کرتے ہیں۔ پیغمبر اسلام کر ڈالتے۔ چوری اوپر سے سینہ زوری کے مصد کہ مسلمان دہشت گرد، تخریب کار، معاذ اللہ، تو یہ ہمیں بتائیں کہ اتنا کچھ ہونے کے بعد سامنے منہ کے بل لیٹ جائیں اور یہ ہمارے کیا یہ ہم سے یہی چاہتے ہیں؟

یورپ میں ایک عام بدکار ترین شخص کی تو تقاضے پورے کرنے کے لیے صرف اسلام ہی ان ڈنمارک میں قانونی طور پر مذاہب کی توہین اڑانا جرم نہیں ٹھہرا تو یہ مغرب کی کھلی منافقت نہیں

آج وقت پھر کسی معاذؓ اور معوذؓ اور ابن انیسؓ یہ واقعہ سنو اور آؤ ہم سب مل کر اپنی بزدلی اور کم ہمتی عیسائیوں نے ہلاکو خان کے دور میں منگولوں

صفحہ 31

ارشاد فرمایا: تِلْكَ اٰيَاتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ ج فَبِاَيِّ حَدِيْثٍ بَعْدَ اللّٰهِ وَاٰيَاتِهٖ يُؤْمِنُوْنَ ﴿سورة الجاثية آیت نمبر ۶﴾

ترجمہ: یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم آپ کو بالکل ٹھیک پڑھ کر سناتے ہیں پس اللہ اور اس کی آیات کے بعد وہ کس بات پر ایمان لائیں گے۔

ارشاد فرمایا: اَفَرَءَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوَاهُ الْاٰيَة ﴿سورة

ترجمہ: بھلا آپ نے اس کو بھی دیکھا جو اپنی خواہش کا بندہ اسے گمراہ کر دیا اور اس کے کان اور دل پر مہر کردی اور اس کی بعد اسے کون ہدایت کر سکتا ہے پھر تم کیوں نہیں سمجھتے؟

ماہنامہ مسیحائی کراچی

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 31 ماہنامہ مسیحائی کراچی

سے کوئی سروکار نہیں؟ دشمنان اسلام حرمت کی مسلمان بے آبرو ہو؟ ظالم درندے بوڑھوں ہڈیاں چبائیں، ہمیں ان چیزوں سے کوئی غیرت کہاں رخصت ہو گئی؟ ہمارا جہادی جذبہ رسوائی اور اس مسکنت کی زندگی گزارنے پر

کو معلوم ہو جائے کہ آخر کیوں اللہ تعالیٰ نے ان تابندہ و درخشاں جانباز صحابہ کرام رضی

کہ خالد بن سفیان ہذلی نبی اکرم ﷺ کو قتل نے اپنے محب صادق جانثار صحابی عبداللہ بن رے قتل کے درپے ہے اور مجھے اذیت پہنچا رہا فداک مرنی بما تشاء‘‘ (میری جان کہ جاؤ اور خالد الہذلی کا سر میرے پاس میں اکیلا کیسے اس کا مقابلہ کرسکوں گا مجھے بڑی مشکل اور پُر خطر مہم ہے نہیں نہیں...... ذات عالیہ پر بھروسہ رکھتے ہوئے مکہ گئے تھے۔ وہ خالد کو قتل کر کے اس کا سر بھی ہمراہ بکری کو ذبح کرتے ہوئے خوف محسوس نڈر، بہادر اور دلیر لوگ تھے جو اللہ کے چکے تھے۔ لائے، سر آپ ﷺ کے سامنے پیش کیا تو

آپ نے فرمایا: چہرہ کامیاب ہوا اور انہیں ایک عصا مرحمت فرمایا اور فرمایا کہ یہ میرے اور تمہارے درمیان قیامت کے روز نشانی رہے گا۔ چنانچہ جب ان کا وقت قریب آیا تو انہوں نے وصیت کی یہ عصا بھی ان کے ساتھ ان کے کفن میں لپیٹ دیا جائے۔ (زادالمعاد ۸۰۱/۲، ابن ہشام ۹۱/۲-۰۲۷)

اللہ کے بندو! ہاں کل قیامت کے دن جب ابن انیس وہ عصا لے کر اللہ کی بارگاہ میں پیش ہوں گے تو تمام لوگوں کو پتہ چل جائے گا یہ عصا اللہ کے رسول ﷺ کی ناموس کے تحفظ کی علامت ہے۔

بتائیے آج ہم نے تحفظ حرمت رسول ﷺ کے لیے کیا قربانی پیش کی ہے کہ جسے بطور علامت کے ہم قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے روبرو پیش کرسکیں گے؟

آج کافر ہمارا مذاق اڑاتے ہیں مسلمانوں کا قتل عام کرتے ہیں۔ قرآن مجید کو قدموں تلے روند کر بے حرمتی کرتے ہیں۔ پیغمبر اسلام ﷺ کو گالیاں نکالتے ہیں اور پھر الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔ چوری اوپر سے سینہ زوری کے مصداق مسلمانوں کے خلاف یہ بکواس کرتے ہیں کہ مسلمان دہشت گرد، تخریب کار، معاشرے کے کینسر، شرپسند اور انتہا پسند لوگ ہیں۔

تو یہ ہمیں بتائیں کہ اتنا کچھ ہونے کے بعد یہ ہمیں کیسا دیکھنا چاہتے ہیں کہ ہم ان کے سامنے منہ کے بل لیٹ جائیں اور یہ ہمارے مونہوں کو اپنے قدموں تلے روندتے پھریں؟

کیا یہ ہم سے یہی چاہتے ہیں؟

یورپ میں ایک عام بدکار ترین شخص کی توہین بھی جرم ہے۔ لیکن آزادی اظہار کے تقاضے پورے کرنے کے لیے صرف اسلام ہی ان کا تختہ مشق رہ گیا ہے۔

ڈنمارک میں قانونی طور پر مذاہب کی توہین جرم ہے لیکن اس کے باوجود اسلام کا مذاق اڑانا جرم نہیں ٹھہرا تو یہ مغرب کی کھلی منافقت نہیں تو اور کیا ہے؟

آج وقت پھر کسی معاذ اور معوذ اور ابن انیس جیسے قابل فخر غلامان محمد ﷺ کا منتظر ہے۔

یہ واقعہ سنو اور آؤ ہم سب مل کر اپنی بزدلی اور کم ہمتی پر روئیں۔

عیسائیوں نے ہلاکو خان کے دور میں منگولیوں کے ایک سردار کے عیسائیت اختیار کرنے

صفحہ 32

ارشاد فرمایا: تِلْكَ آيَاتُ اللّٰهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ ۖ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللّٰهِ وَآيَاتِهِ يُؤْمِنُونَ ﴿سورة الجاثية آیت نمبر ٦﴾ ترجمہ: یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم آپ کو بالکل ٹھیک پڑھ کر سناتے ہیں پس اللہ اور اس کی آیات کے بعد وہ کس بات پر ایمان لائیں گے۔

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 32 ماہنامہ مسیحائی کراچی

کے موقع پر ایک عظیم الشان محفل کا انعقاد کیا اس موقع پر ایک عیسائی پادری نے نبی اکرم ﷺ کی شان میں نازیبا کلمات کہنا شروع کر دیئے۔

پاس ہی بندھا ہوا کتا اس پر جھپٹ پڑا۔ لوگوں نے بڑی مشکل سے بچ بچاؤ کرا دیا۔ ایک شخص اس عیسائی پادری سے کہنے لگا: محمد ﷺ کی شان میں گستاخی کا ارتکاب کرنے کی وجہ سے یہ کتا تم پر حملہ آور ہوا ہے۔ اس نے طنزیہ انداز میں کہا: نہیں یہ کتا بڑا خود دار ہے۔ اس کی عزت نفس نے میرے ہاتھ کے یوں والے اشارے کو دیکھ کر یہ خیال کیا کہ شاید میں اسے مارنا چاہتا ہوں یہ دیکھ کر اس نے بھونکنا شروع کر دیا۔ پھر اس عیسائی نے دوبارہ نبی کریم ﷺ کی شان میں پہلے سے زیادہ بدگوئی کرنا شروع کر دی۔ یہ دیکھ کر کتا اپنی رسی توڑ کر شیر کی طرح جست لگا کر اس عیسائی پادری پر جھپٹ پڑا اور اپنے نوکیلے دانت اس کی گردن میں گاڑ دیئے۔ نتیجتاً وہ شخص جہنم واصل ہوا۔ اس عجیب منظر کو دیکھ کر چالیس ہزار منگول حلقہ بگوش اسلام ہو گئے۔

(الدررالکامنہ لابن حجر (ج ۲)

اللہ کے بندو! کتا نبی اکرم ﷺ کی توہین پر غضبناک ہو گیا اور اس نے کس انداز سے اپنے غیرت مند ہونے کا ثبوت پیش کیا۔ آج ہماری غیرت کہاں رخصت ہو گئی؟

اللہ کی قسم! جمادات وحیوانات پیغمبر اسلام ﷺ کے دیدار کے شوق میں تڑپ گئے کیا آج یہ شوق ہمارے اندر سے بالکل ختم ہو چکا ہے؟ جبکہ نبی مکرم ﷺ نے ہمارے ساتھ ملاقات اور ہمیں دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں چاہتا ہوں کہ میں اپنے بھائیوں کو دیکھوں صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا۔ کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں آپ ﷺ نے فرمایا تم میرے ساتھی ہو اور میرے بھائی وہ ہیں جو ابھی تک نہیں آئے۔ وہ مجھ پر بن دیکھے ایمان لائیں گے اور میری نبوت اور رسالت کی تصدیق کریں گے۔

(صحیح مسلم)

اے اُمت محمد ﷺ بتاؤ کل جب تم نبی اکرم ﷺ کے پاس حوض کوثر پر جاؤ گے تو امام الانبیاء حبیب رب کبریا تم سے پوچھیں گے بتاؤ دشمنان اسلام نے میری عزت وحرمت پر ڈاکے ڈالے مجھے خوب اذیتیں پہنچائیں تو تم نے میری عزت و آبرو، حرمت و ناموس کے

ارشاد فرمایا: أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلٰهَهُ هَوَاهُ الآية ﴿سورة ال ترجمہ: بھلا آپ نے اس کو بھی دیکھا جو اپنی خواہش کا بندہ اسے گمراہ کر دیا اور اس کے کان اور دل پر مہر کر دی اور اس کی بعد اسے کون ہدایت کر سکتا ہے پھر تم کیوں نہیں سمجھتے؟

ماہنامہ مسیحائی کراچی 32

دفاع میں کیا کردار پیش کیا؟

اس موقع پر عالم اسلام کے مسلم حکمرانوں کو ہوش حمیت کا مظاہرہ کرنا چاہئے اور کسی بھی قسم کی مصلحت کا مکمل سفارتی اور معاشی بائیکاٹ کرنا چاہئے اور جب اسلام ان ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال نہ مسلمان اپنے پیغمبر ﷺ کی شان میں نہ کسی گستاخی مذموم فعل کی معافی کا کوئی سوال ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَإِن نَّكَثُوا أَيْمَانَهُم مِّن بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُوا اِنَّهُمْ لَا اَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنْتَهُوْنَ

(التوبة: ۱۲)

اگر کوئی قوم جس کے ساتھ تمہارا عہد ہے تمہارے اس نے عہد کو توڑ لیا ہے اور اگر وہ عہد کو توڑ دے اور تمہارے تھا تو وہ ائمۃ الکفر ہم ہے۔ تو لڑائی کس طرح ہوتی ہے کہ دشمن ملک کے ساتھ تجارت بھی جاری رہے؟ ان کو اپنے ملک میں آنے کی کے ملک میں رکھے جائیں۔ ساری محبتیں اور پروٹوکول کہیں کہ ہماری ان کے ساتھ لڑائی ہے۔ کیونکہ ہمارے ہے بتاؤ تو صحیح اس طرح کر کے تمہاری نبی ﷺ کے ساتھ آج ہماری اسلامی غیرت کا تقاضا ہے کہ ہم پہلے مصنوعات کا بائیکاٹ کریں۔ اس کے زیادہ بہتر نتائج ٹھکانے آ جائیں گے۔ آج ہم مسلمان ہوتے ہوئے کیوں گھبراتے ہیں؟ کافروں کی تہذیب، لباس، شکل

صفحہ 33

ارشاد فرمایا:

تِلْكَ اٰيَاتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ ۚ فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۭ بَعْدَ اللّٰهِ وَاٰيَاتِهٖ يُؤْمِنُوْنَ ﴿سورة الجاثية آیت نمبر ٦﴾

ترجمہ: یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم آپ کو بالکل ٹھیک پڑھ کر سناتے ہیں پس اللہ اور اس کی آیات کے بعد وہ کس بات پر ایمان لائیں گے۔

ارشاد فرمایا:

اَفَرَاَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوَاهُ الآية ﴿سورة ا

ترجمہ: بھلا آپ نے اس کو بھی دیکھا جو اپنی خواہش کا بندہ اسے گمراہ کر دیا اور اس کے کان اور دل پر مہر کر دی اور اس کی آ بعد اسے کون ہدایت کر سکتا ہے پھر تم کیوں نہیں سمجھتے؟

ماہنامہ صراطِ کراچی حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 33 ماہنامہ سبحانی کراچی

موقع پر ایک عیسائی پادری نے نبی اکرم ﷺ ں نے بڑی مشکل سے بیچ بچاؤ کرادیا۔ ایک کی شان میں گستاخی کا ارتکاب کرنے کی وجہ انداز میں کہا۔ نہیں یہ کتا بڑا خوددار ہے۔ اس نے اشارے کو دیکھ کر یہ خیال کیا کہ شاید میں شروع کر دیا۔ پھر اس عیسائی نے دوبارہ نبی کرنا شروع کر دی۔ یہ دیکھ کر کتا اپنی رسی توڑ پر جھپٹ پڑا اور اپنے نوکیلے دانت اس کی ں ہوا۔ اس عجیب منظر کو دیکھ کر چالیس ہزار بن حجر (ج۲) غضبناک ہو گیا اور اس نے کس انداز سے ماری غیرت کہاں رخصت ہو گئی؟ ے کے دیدار کے شوق میں تڑپ گئے کیا آج جبکہ نبی مکرم ﷺ نے ہمارے ساتھ ملاقات ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول ے بھائیوں کو دیکھوں صحابہ کرام علیہم الرضوان آپ ﷺ نے فرمایا تم میرے ساتھی ہو اور ہ مجھ پر بن دیکھے ایمان لائیں گے اور میری سلم ) ﷺ کے پاس حوض کوثر پر جاؤ گے تو امام و دشمنانِ اسلام نے میری عزت وحرمت پر نے میری عزت و آبرو، حرمت و ناموس کے

دفاع میں کیا کردار پیش کیا؟

اس موقع پر عالم اسلام کے مسلم حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لیتے ہوئے اسلامی غیرت و حمیت کا مظاہرہ کرنا چاہئے اور کسی بھی قسم کی مصلحت اور مفادات سے بالاتر ہو کر ان ممالک کا مکمل سفارتی اور معاشی بائیکاٹ کرنا چاہئے اور جب تک مجرموں کو سزائیں نہ دی جائیں، عالم اسلام ان ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال نہ کرے تا کہ عالم کفر کو معلوم ہو جائے کہ مسلمان اپنے پیغمبر ﷺ کی شان میں نہ کسی گستاخی کو برداشت کر سکتے ہیں اور نہ ہی اس مذموم فعل کی معافی کا کوئی سوال ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَاِنْ نَّكَثُوْا اَيْمَانَهُمْ مِّنْ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُوْا فِىْ دِيْنِكُمْ فَقَاتِلُوْا اَئِمَّةَ الْكُفْرِ اِنَّهُمْ لَا اَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنْتَهُوْنَ (التوبہ: ۱۲)

اگر کوئی قوم جس کے ساتھ تمہارا عہد ہے تمہارے دین میں طعن کرتی ہے تو اس کا مطلب ہے اس نے عہد کو توڑ دیا ہے اور اگر وہ عہد کو توڑ دے اور تمہارے دین پر طعن کرے تو ان کا علاج فَقَاتِلُوْا اَئِمَّةَ الْكُفْرِ ہے۔

تو لڑائی کس طرح ہوتی ہے کہ دشمن ملک کے ساتھ سفارتی تعلقات بھی قائم رہیں؟ تجارت بھی جاری رہے؟ ان کو اپنے ملک میں آنے کی بھی اجازت ہو؟ خود اپنے سفیر بھی ان کے ملک میں رکھے جائیں۔ ساری محبتیں اور پروٹوکول اسی طرح جاری رہیں؟ اور ہم پھر بھی یہ کہیں کہ ہماری ان کے ساتھ لڑائی ہے۔ حالانکہ ہمارے نبی ﷺ کی ان لوگوں نے توہین کی ہے بتاؤ تو صحیح اس طرح کر کے تمہارے نبی ﷺ سے کس قسم کی دوستی ہو سکتی ہے؟

آج ہماری اسلامی غیرت کا تقاضا ہے کہ ہم پہلے قدم کے طور پر امریکہ و یورپ کی تمام مصنوعات کا بائیکاٹ کریں، اس کے زیادہ بہتر نتائج نکلیں گے اور امریکہ و یورپ کے ہوش ٹھکانے آ جائیں گے۔ آج ہم مسلمان ہوتے ہوئے بھی معمولی قربانیاں پیش کرنے سے کیوں گھبراتے ہیں؟ کافروں کی تہذیب، لباس، شکل وصورت، مصنوعات غرض ہر چیز کا

صفحہ 34

ارشاد فرمایا: تِلْكَ آيَاتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ ج فَبِأَيِّ حَدِيْثٍ بَعْدَ اللّٰهِ وَاٰيَاتِهٖ يُؤْمِنُوْنَ ﴿سورة الجاثية آيت نمبر ۶﴾ ترجمہ: یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم آپ کو بالکل ٹھیک پڑھ کر سناتے ہیں پس اللہ اور اس کی آیات کے بعد وہ کس بات پر ایمان لائیں گے۔

ماہنامہ سبحانی کراچی 34 حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

بائیکاٹ ہونا چاہئے۔ ہم مسلمان جتنی زیادہ سادہ اور اسلامی زندگی گزاریں گے کافر اتنا ہی ہم سے ڈریں گے۔ کافر کبھی بھی بڑے مالدار، عیش پسند، مسلمانوں سے نہیں ڈرتا، ہمیشہ غریب، قناعت پسند اور خوددار مسلمانوں سے لرزہ براندام رہتا ہے۔ جو دین حق وصداقت پر جان نچھاور کرنے کے لیے ہمہ وقت مستعد رہتے ہیں۔ اے اللہ رب العزت! اپنے دین کی مدد فرما۔ ہمیں توفیق عطا فرما کہ ہم تیرے پیارے محبوب ﷺ کی ناموس و حرمت کا تحفظ کریں۔ ہمیں قیامت کے روز محمد رسول اللہ ﷺ کی شفاعت نصیب فرما۔ آپ ﷺ کے مبارک ہاتھوں سے حوض کوثر کا جام پلا اور جنت الفردوس میں ہمیں نبی اکرم ﷺ کی رفاقت نصیب فرما۔ ہمارے سینوں کو تن، من، دھن، حرمت رسول اور دین محمد ﷺ پر قربان کرنے کے جذبات سے لبریز فرما۔ (آمین یارب العالمین)

☆☆☆

قرآن کی آواز تمام دنیا میں گونج رہی ہے اور اس
وقت تک گونجتی رہے گی
جب تک سمندروں میں پانی اور دریاؤں میں روانی ہے...... سورج چمکتا
اور چاند دمکتا ہے،
ستارے نکلتے، چشمے ابلتے ہیں، لالہ مہکتا اور بلبل چہکتا ہے،
کوہسار کھڑے اور جھنڈے گڑے۔

ارشاد فرمایا: أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلٰهَهٗ هَوَاهُ الآية ﴿سورة ترجمہ: بھلا آپ نے اس کو بھی دیکھا جو اپنی خواہش کا بن اسے گمراہ کر دیا اور اس کے کان اور دل پر مہر کر دی اور اس کی آ بعد اسے کون ہدایت کر سکتا ہے پھر تم کیوں نہیں سمجھتے؟

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

قرآن و حدیث

کی روشنی میں

توہین رسالت

وَإِنْ نَّكَثُوْا أَيْمَانَهُمْ مِّنْ بَعْدِ اَئِمَّةَ الْكُفْرِ إِنَّهُمْ لَا أَيْمَانَ لَهُمْ ”اگر یہ لوگ عہد کرنے کے بعد اپنی قسموں لڑو ان سرداران کفر سے، کہ ان کا کوئی قول اوپر سے ذکر بعض نالائق منکرین واقع ہوئے ہیں۔ مسلمانوں کی ایذارسانی اپنے عہد و پیمان کا۔ انہیں امن و امان، صلح و وعدہ پر کہ وہ بھی مسلمانوں کے جذبات کی قلب و قالب کے لیے باعث ایذا نہ بنیں گے یہ اگر خود ہی ان شرائط کا لحاظ نہ رکھیں، انہیں أَيْمَانَهُمْ مِّنْ بَعْدِ عَهْدِهِمْ ۔ اور چھلنی کرنے شروع کردیں وَطَعَنُوْا فِي کے قول و قسم، عہد و پیمان، کسی کا کچھ اعتبار نہیں خباثتوں سے انہیں باز رکھنے کا یہی علاج ہے۔

صفحہ 35

ارشاد فرمایا: اَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوَاهُ الآية ﴿سورۃ ترجمہ: بھلا آپ نے اس کو بھی دیکھا جو اپنی خواہش کا بن اسے گمراہ کر دیا اور اس کے کان اور دل پر مہر کر دی اور اس کی آ بعد اسے کون ہدایت کر سکتا ہے پھر تم کیوں نہیں سمجھتے؟

ماہنامہ مسیحائی کراچی 35 حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

قرآن و حدیث کی روشنی میں

توہینِ رسالت ﷺ کی سزا

مولانا عبد الماجد لدھیانوی رحمۃ اللہ علیہ

وَاِنْ نَّكَثُوْا اَيْمَانَهُمْ مِّنْ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ فَقَاتِلُوْۤا اَىِٕمَّةَ الْكُفْرِ اِنَّهُمْ لَا اَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنْتَهُوْنَ O (سورۃ توبۃ آیت: 12)

”اگر یہ لوگ عہد کرنے کے بعد اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں۔ اور تمہارے دین پر طعن کریں، تو لڑو ان سرداران کفر سے، کہ ان کا کوئی قول قسم نہیں، تاکہ یہ باز رہیں۔“

اوپر سے ذکر بعض نالائق منکرین کا چلا آ رہا ہے۔ کہ یہ عجب کج راہ ، کج رائے واقع ہوئے ہیں۔ مسلمانوں کی ایذارسانی میں نہ کچھ رشتہ وقرابت کا پاس لحاظ رکھتے ہیں، نہ اپنے عہد و پیمان کا۔ انہیں امن وامان، صلح و آشتی کے ساتھ جو رہنے دیا گیا تھا، تو ان کے اسی وعدہ پر کہ وہ بھی مسلمانوں کے جذبات کی رعایت کرینگے، اور مسلمانوں کے روح وجسم، قلب وقالب کے لیے باعث ایذا نہ بنیں گے۔ ایسوں کے باب میں ارشاد ہوتا ہے، کہ اب یہ اگر خود ہی ان شرائط کا لحاظ نہ رکھیں، انہیں اپنی طرف سے توڑنے لگیں وَاِنْ نَّكَثُوْا اَيْمَانَهُمْ مِّنْ بَعْدِ عَهْدِهِمْ ۔اور مسلمانوں کے دل، ان کے دین پر طعن کر کر کے چھلنی کرنے شروع کردیں وَطَعَنُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ فَقَاتِلُوْا اَىِٕمَّةَ الْكُفْرِ ۔ان کے قول وقسم، عہد و پیمان، کسی کا کچھ اعتبار نہیں، اِنَّهُمْ لَا اَيْمَانَ لَهُمْ ۔ان کی شرارتوں اور خباثتوں سے انہیں باز رکھنے کا یہی علاج ہے۔ لَعَلَّهُمْ يَنْتَهُوْنَ O۔

صفحہ 36

ارشاد فرمایا: تِلْكَ آيَاتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ ۖ فَبِأَيِّ حَدِيْثٍ بَعْدَ اللّٰهِ وَآيَاتِهِ يُؤْمِنُوْنَ ﴿سورة الجاثية آیت نمبر ٦﴾ ترجمہ: یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم آپ کو بالکل ٹھیک پڑھ کر سناتے ہیں پس اللہ اور اس کی آیات کے بعد وہ کس بات پر ایمان لائیں گے۔

ارشاد فرمایا: أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلٰهَهُ هَوَاهُ الآية ﴿سورة ترجمہ: بھلا آپ نے اس کو بھی دیکھا جو اپنی خواہش کا بندہ اسے گمراہ کر دیا اور اس کے کان اور دل پر مہر کر دی اور اس کی بعد اسے کون ہدایت کر سکتا ہے پھر تم کیوں نہیں سمجھتے؟

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 36 ماہنامہ سبحانی کراچی

صاحب معالم، آیت بالا کو لکھ کر اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں: فهذا دليل على ان الذمى اذا طعن فى دين الاسلام ظاهرا لا يبقى له عهد. یہ آیت دلیل ہے اس کی کہ جب ذمی دین اسلام پر کھلا ہوا طعن کرے، تو اس کا عہد ٹوٹ جاتا ہے۔

اور فاضل نیشاپوری رحمۃ اللہ علیہ کی تفسیر میں ہے: قال العلماء اذا طعن الذمی فی دین الاسلام طعنا ظاهرا جاز قتله لان العهد معقود عليه على ان لا يطعن فاذا طعن فقد نكث عهده وخرج من الذمة. علماء نے کہا ہے کہ ذمی (یعنی وہ کافر جسے مسلمانوں نے پناہ دی ہے) نے جس وقت کھلا ہوا طعن اسلام پر کیا، اسکا قتل جائز ہو جاتا ہے، اس لیے کہ اس کی امان مشروط تھی، اس شرط سے کہ وہ طعن نہ کرے گا۔ طعن کر کے اس نے خود ہی اپنا عہد توڑ ڈالا، اور مسلمانوں کی پناہ سے نکل گیا۔

اور علامہ جصاص رازی حنفی رحمۃ اللہ علیہ احکام القرآن میں کہتے ہیں: فيه دلالة على ان اهل العهد متى خالفوا شيئا مما عوهدوا عليه وطعنوا فى ديننا فقد نقضوا العهد. آیت میں دلالت ہے اس امر پر کہ جب اہل معاہدہ نے کوئی بات خلاف شرائط معاہدہ کی، اور ہمارے دین پر طعن کیا، تو انہوں نے معاہدہ کو توڑ دیا۔

اور قاضی ابوبکر ابن عربی مالکی رحمۃ اللہ علیہ اپنے احکام القرآن میں لکھتے ہیں۔ اذا طعن الذمی فی الدین انتقض عهده لقوله وان نكثوا ايمانهم الى فقاتلوا ائمة الكفر فامر الله بقتلهم وقتالهم اذا طعنوا فى دينكم. جب ذمی نے دین پر طعن کیا، تو اس کا عہد ٹوٹ گیا، حسب آیة وان نكثوا الخ۔ اور اللہ نے حکم دیا کہ یہ قتل کیے جائیں، اور ان سے قتال کیا جائے۔ جب یہ دین میں

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

طعن کریں۔

غرض، طعن فی الدین سے امن کا مرتفع ہو جانا، ان کا مسلم نزدیک بالاتفاق ثابت ہے، لیکن طعن کے معنی ابھی اوپر اور اپنے ہی دل کو ٹٹول کر جواب د حملہ اس کے لیے دل آزار ہے یا نہیں کے ساتھ کوئی گستاخی، کوئی زبان در نہیں کوئی دوسرا مذہبی حملہ اس سے ہونا ممکن ہے؟ یقیناً ان سارے سوالو بعض ائمہ تفسیر نے بھی ا

ومن هنا اكد قت عليه. (ابن کثیر، جلد ۴ صفحہ اسی آیت سے رسول اللہ کی دلیل پکڑی گئی ہے۔

ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ شاتم احکام میں آیۂ مذکور کے تحت میں لکھتے

ولا شک ان ليس الصلوۃ اذ فيه اهانته اس میں کوئی شبہہ نہیں، کہ ہی ہے، کہ اس میں شریعت کی بھی توہین طعن فی الدین، کی اصطلاح

صفحہ 36, 37

ارشاد فرمایا:

تِلْكَ آيَاتُ اللّٰهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللّٰهِ وَآيَاتِهِ يُؤْمِنُونَ (سورة الجاثية آیت نمبر ۶)

ترجمہ: یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم آپ کو بالکل ٹھیک پڑھ کر سناتے ہیں پس اللہ اور اس کی آیات کے بعد وہ کس بات پر ایمان لائیں گے۔

ارشاد فرمایا:

أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلٰهَهُ هَوَاهُ الآية (سورة الجاثية)

ترجمہ: بھلا آپ نے اس کو بھی دیکھا جو اپنی خواہش کا بن اسے گمراہ کر دیا اور اس کے کان اور دل پر مہر کر دی اور اس کی بعد اسے کون ہدایت کر سکتا ہے پھر تم کیوں نہیں سمجھتے؟

36 ماہنامہ سبحانی کراچی

بالا کو لکھ کر اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں:

الذي اذا طعن في دين الاسلام ظاهرا لايبقى له عهد.

ں کہ جب ذمی دین اسلام پر کھلا ہوا طعن کرے، تو اس کا عہد

رحمۃ اللہ علیہ کی تفسیر میں ہے:

طعن الذمي في دين الاسلام طعنا ظاهرا جاز قتله لان يطعن فاذا طعن فقد نكث عهده وخرج من الذمته.

ذمی (یعنی وہ کافر جسے مسلمانوں نے پناہ دی ہے) نے جس اسکا قتل جائز ہو جاتا ہے، اس لیے کہ اس کی امان مشروط تھی، گا۔ طعن کر کے اس نے خود ہی اپنا عہد توڑ ڈالا، اور مسلمانوں

زی حنفی رحمۃ اللہ علیہ احکام القرآن میں کہتے ہیں:

ان اهل العهد متى خالفوا شيئا مما عوهدوا عليه وا العهد.

ہے اس امر پر کہ جب اہل معاہدہ نے کوئی بات خلاف شرائط عن کیا، تو انہوں نے معاہدہ کو توڑ دیا۔

عربی مالکی رحمۃ اللہ علیہ اپنے احکام القرآن میں لکھتے ہیں۔

، في الدين انتقض عهده لقوله وان نكثوا ايمانهم بو الله بقتلهم وقتالهم إذا طعنوا في دينكم.

پر طعن کیا، تو اس کا عہد ٹوٹ گیا، حسب آیۂ وان نکثوا ا کیے جائیں، اور ان سے قتال کیا جائے۔ جب یہ دین میں

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۲ء 37 ماہنامہ سبحانی کراچی

طعن کریں۔

غرض، طعن فی الدین کے بعد، ذمی اور معاہد کافروں کے عہد کا ٹوٹ جانا، ان سے امن کا مرتفع ہو جانا، ان کا مسلمانوں کی پناہ سے نکل جانا، قرآن مجید ہی سے سب کے نزدیک بالاتفاق ثابت ہے، لیکن خود طعن فی الدین کیا ہے؟

طعن کے معنی ابھی اوپر بیان ہو چکے۔ اب ہر مسلمان خود اپنے سے سوال کرے، اور اپنے ہی دل کو ٹٹول کر جواب دے، کہ آیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک پر حملہ اس کے لیے دلآزار ہے یا نہیں؟ دل پر اس سے برچھی سی لگتی ہے یا نہیں؟ ذات گرامی کے ساتھ کوئی گستاخی، کوئی زبان درازی سن کر، وہ تڑپ جاتا، تلملا جاتا ہے، یا نہیں؟ اتنا ہی نہیں کوئی دوسرا مذہبی حملہ اس سے بڑھ کر بھی اس کے لیے دلآزار، دلخراش، واشتعال انگیز ہونا ممکن ہے؟ یقیناً ان سارے سوالات کا صرف ایک ہی جواب ہو سکتا ہے۔

بعض ائمہ تفسیر نے بھی اس جواب کا ذکر کیا ہے۔

ومن هنا اخذ قتل من سب الرسول صلوات الله وسلامه

عليه. (ابن کثیر، جلد ۳ صفحہ: ۱۲۳)

اسی آیت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں بدگوئی کرنے والے کے قتل کی دلیل پکڑی گئی ہے۔

ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ شافعی المذہب تھے، ایک ٹھیٹھ حنفی عالم، اپنی تفسیر آیات احکام میں آیۂ مذکور کے تحت میں لکھتے ہیں۔

ولا شك ان ليس طعن في الدين اكبر من سب النبي عليه الصلوة اذ فيه اهانته

اس میں کوئی شبہ نہیں، کہ سب سے بڑا طعن فی الدین شتم نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہے، کہ اس میں شریعت کی بھی توہین ہے، اور خود دینِ اسلام کی بھی۔

طعن فی الدین، کی اصطلاح کلام مجید میں صرف اسی مقام پر نہیں، ایک جگہ اور

صفحہ 38

ارشاد فرمایا:

تِلْكَ آيَاتُ اللّٰهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللّٰهِ وَآيَاتِهِ يُؤْمِنُونَ (سورة الجاثية آیت نمبر ۶)

ترجمہ: یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم آپ کو بالکل ٹھیک پڑھ کر سناتے ہیں پس اللہ اور اس کی آیات کے بعد وہ کس بات پر ایمان لائیں گے۔

أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلٰهَهُ هَوَاهُ الآية (سورة جا...

ترجمہ: بھلا آپ نے اس کو بھی دیکھا جو اپنی خواہش کا بندہ ... اسے گمراہ کر دیا اور اس کے کان اور دل پر مہر کر دی اور اس کی ... بعد اسے کون ہدایت کر سکتا ہے پھر تم کیوں نہیں سمجھتے؟

ماہنامہ مسیحائی کراچی 38 حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

بھی آئی ہے۔ اور وہاں سیاق عبارت، بالکل واضح وصریح، اہانت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے۔یہود کی شرارتوں کے سلسلہ میں آتا ہے کہ:

من الذين هادوا يحرفون الكلم عن مواضعه ويقولون سمعنا وعصينا واسمع غير مسمع وراعنا ليا بالسنتهم وطعنا في الدين. (نساء، ع)

یہ یہود، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کلام سنتے ہیں اسے توڑ مروڑ ڈالتے ہیں اور گستاخانہ کہتے ہیں سمعنا وعصینا (ہم نے سنا، اور ہم نے نہیں مانا) اور ایسے بیہودہ فقرے زبان سے نکالتے ہیں۔ اسمع غیر مسمع۔ اور راعنا۔ دین میں طعن کرتے ہوئے۔

گویا رسول سے گستاخی کے لئے طعن فی الدین خود محاورہ قرآنی ہی سے، ثابت ہے، منطقی نتیجہ، قرآن ہی کی تصریحات سے، یہ نکلا کہ:

تائید میں دوسری آیات قرآنی بھی موجود ہیں، لیکن مقصود کے لیے اسی قدر بس ہے۔

امام ابوداؤد نے سنن کی کتاب الحدود میں ایک باب الحکم فی عمن سب النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عنوان سے باندھا ہے۔ اور اس کے تحت میں ایک طویل روایت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کی ہے۔ متن روایت مع ملخص ترجمہ کے، حسب ذیل ہے:

عن ابن عباس رضى الله عنهما ان اعمى كانت له ام ولد تشتم النبى صلى الله عليه وسلم وتقع فيه فنهاها فلا تنتهى ويز جرها فلا تنزجر قال فلما كانت ذات ليلة جعلت تقع فى النبى صلى الله عليه وسلم وتشتمه فاخذ المغول فوضعه فى بطنها واتکأ عليها فقتلها فوقع بين رجليه طفل فلطخت ماهناک بالدم فلما اصبح ذكر ذالک للنبی صلى الله عليه وسلم فقال انشد الله رجلا فعل ما فعل لى عليه حق الا قام فقال

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

الاعمى يتخطى الناس وهو يتزلزل وسلم فقال يا رسول الله صلى الله ع وتقع فيك فانها فلا تنتهى واز اللولوتين وكانت بى رفيقته فلما فيک فاخدت المغول فوضعته فى النبى صلى الله عليه وسلم الا اشهد

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما س اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں بدزبانی اور لیکن وہ باز نہ آئی۔ ایک مرتبہ رات کے وق میں مصروف تھی، کہ ان نابینا نے ایک خنجر ا گئی..... صبح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم - ہوئے سامنے آئے، اور عرض کی، یا رسول اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو میں لگی رہتی تھی ، م ناخوش نہ تھا) اس کے بطن سے میرے دو بے لیکن کل شب میں اس نے پھر آپ کی ہجو و بد میں بھونک دیا اور اسے ہلاک کر ڈالا۔ رسول سے کہا، گواہ رہنا، اس عورت کا خون معاف ہے

اور امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ بھی اپنے خفیف تغیر الفاظ کے ساتھ، کتاب المحاربہ کے کے تحت میں لائے ہیں۔

اس عورت کا کوئی اور قصور ظاہر ہے ک گستاخی اور بدزبانی کے نہ تھا۔ اس جرم میں اسے

صفحہ 39

ارشاد فرمایا: تِلْكَ اٰيَاتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ ۚ فَبِاَیِّ حَدِيْثٍۭ بَعْدَ اللّٰهِ وَاٰيَاتِهٖ يُؤْمِنُوْنَ ﴿سورۃ الجاثية آیت نمبر ۶﴾ ترجمہ: یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم آپ کو بالکل ٹھیک پڑھ کر سناتے ہیں پس اللہ اور اس کی آیات کے بعد وہ کس بات پر ایمان لائیں گے۔

38 ماہنامہ سبحانی کراچی

واضح وصریح، اہانت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کہ: ون الكلم عن مواضعه ويقولون سمعنا بالسنتهم وطعنا فى الدين. (نساء . ع) لم سے جو کلام سنتے ہیں اسے توڑ مروڑ ڈالتے یینا (ہم نے سنا، اور ہم نے نہیں مانا) اور ایسے سمع ۔ اور رعنا۔ دین میں طعن کرتے ہوئے۔ عن فی الدین خود محاورہ قرآنی ہی سے ، ثابت یہ نکلا کہ: ،اور کا ایک اعلیٰ فرد ہے۔ ی موجود ہیں، لیکن مقصود کے لیے اسی قدر بس

حدود میں ایک باب الحکم فی من سب النبی صلی اس کے تحت میں ایک طویل روایت حضرت روایت مع ملخص ترجمہ کے، حسب ذیل ہے: عنهما ان اعمىٰ كانت له ام ولد تشتم ه فنهاها فلا تنتهى ويز جرها فلا تنزجر ت تقع فى النبى صلى الله عليه وسلم ى بطنها واتكاء عليها فقتلها فوقع بين م فلما اصبح ذكر ذالك للنبى صلى ال فعل مافعل لى عليه حق الا قام فقال

ارشاد فرمایا: أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلٰهَهُ هَوَاهُ الآیۃ ﴿سورۃ الـ ترجمہ: بھلا آپ نے اس کو بھی دیکھا جو اپنی خواہش کو اپنا اسے گمراہ کر دیا اور اس کے کان اور دل پر مہر کر دی اور اس کی بعد اسے کون ہدایت کر سکتا ہے پھر تم کیوں نہیں سمجھتے؟

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 39 ماہنامہ سبحانی کراچی

الاعمىٰ يتخطى الناس وهو يتزلزل حتى قعد بين يدى النبى صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله صلى الله عليه وسلم انا صاحبها كانت تشتمک وتقع فيک فانها فلا تنتهى وازجرها فلا تنزجرولى منها، ابنان مثل اللؤلؤتين وكانت بى رفيقته فلما كانت البارحة جعلت تشمتک وتقع فيک فاخذت المغول فوضعته فى بطنها واتكائت عليها حتى قتلها فقال النبى صلى الله عليه وسلم الا اشهدوا ان دمها هدر.

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں، کہ ایک نابینا تھے، جن کی ام ولد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں بدزبانی اور بدگوئی کیا کرتی تھی، انہوں نے اسے منع کیا، لیکن وہ باز نہ آئی۔ ایک مرتبہ رات کے وقت وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو و بدگوئی میں مصروف تھی، کہ ان نابینا نے ایک خنجر اٹھا کر اس کے پیٹ میں بھونک دیا۔ وہ مرکر رہ گئی....... صبح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماجرا دریافت کیا، وہ نابینا لرزتے کانپتے ہوئے سامنے آئے، اور عرض کی، یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم میں ہی اس کا شوہر ہوں، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو میں لگی رہتی تھی، اور میرے منع کیے نہیں مانتی تھی، (میں اس سے ناخوش نہ تھا) اس کے بطن سے میرے دو بچے موتی کی طرح ہیں، وہ میری رفیق زندگی تھی، لیکن کل شب میں اس نے پھر آپ کی ہجو و بدگوئی شروع کی، تو میں نے خنجر لیکر اس کے پیٹ میں بھونک دیا اور اسے ہلاک کر ڈالا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ قصہ سن کر حاضرین سے کہا، گواہ رہنا، اس عورت کا خون معاف ہے۔

اور امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ بھی اپنے سنن میں یہی حدیث، کسی قدر اختصار اور خفیف تغیر الفاظ کے ساتھ، کتاب المحاربہ کے باب الحکم فی من سب النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تحت میں لائے ہیں۔

اس عورت کا کوئی اور قصور ظاہر ہے کہ بجز حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی اور بدزبانی کے نہ تھا۔ اس جرم میں اسے سزائے قتل ہی ملی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے

صفحہ 40

ارشاد فرمایا:

تِلْكَ آيَاتُ اللَّهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ ج فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللَّهِ وَآيَاتِهِ يُؤْمِنُونَ ﴿سورة الجاثية آيت نمبر ٦﴾

ترجمہ: یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم آپ کو بالکل ٹھیک پڑھ کر سناتے ہیں پس اللہ اور اس کی آیات کے بعد وہ کس بات پر ایمان لائیں گے۔

أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوَاهُ الآية ﴿سورة

ترجمہ: بھلا آپ نے اس کو بھی دیکھا جو اپنی خواہش کا بن اسے گمراہ کر دیا اور اس کے کان اور دل پر مہر کر دی اور اس کی آ بعد اسے کون ہدایت کر سکتا ہے پھر تم کیوں نہیں سمجھتے؟

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 40 ماہنامہ مسیحائی کراچی

اس سزا کو جائز رکھا۔ صرف سکوت سے نہیں بلکہ صاف الفاظ میں فرمایا۔ ان دمہا ہدر۔ یقیناً اس کا خون معاف ہے۔

ابوداؤد ہی میں، اسی طرح کی ایک دوسری روایت، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حوالہ سے ہے:

عن علي ان يهوديه كانت تشتم النبي صلى الله عليه وسلم وتقع فيه فخنقها رجل حتى ماتت فابطل رسول الله صلى الله عليه وسلم دمها.

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودن، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بدگوئی اور ہجو کرتی تھی، پس ایک شخص نے اس کا گلا گھونٹ کر خاتمہ کر دیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے خون کو معاف کر دیا۔

قاضی شوکانی، ان دونوں حدیثوں کو لا کر کہتے ہیں:

وفى حديث ابن عباس رضى الله عنهما وحديث الشعبى دليل على انه يقتل من شتم النبى صلى الله عليه.

حدیث ابن عباس وحدیث شعبی سے نتیجہ یہ نکلتا ہے، کہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں بدزبانی کرے، اس کی سزا قتل ہے۔

اور محدث ابن منذر کہتے ہیں:

وقد نقل ابن المنذر الاتفاق على ان من سب النبى صلى الله عليه وسلم صريحا وجب قتله.

کہ اس پر سب کا اتفاق ہے، کہ جو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں بدزبانی کرے، اس کی سزا، قتل واجب ہے۔

حافظ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ، حدیث علی رضی اللہ عنہ کو نقل کر کے لکھتے ہیں:

وهذا الحديث نص في جواز قتلها لاجل شتم النبى صلى الله عليه وسلم ودليل على قتل الرجل الذمى وقتل المسلم والمسلمة اذا سبا

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

بطريق الاولى بان هذه المراة كان عليه وسلم لما قدم المدينة وادع مطلقه ولم يضرب عليهم جزية(صا

یہ حدیث نص ہے اس امر میں، کہ کے جرم میں قتل جائز ہے، اور دلیل ہے ذمی سزا میں بطریق اولیٰ، اس لیے کہ یہ عورت تو وسلم نے امن دے رکھا تھا، حضور جب مدین دے رکھا تھا، اور ان سے جزیہ تک نہیں لیا تھا

ابوداؤد ہی میں ایک روایت، وا ہیں، کہ ایک شخص نے حضرت ابو بکر صدیق اور حاضرین محفل میں سے ایک صاحب ن حضرت صدیق رضی اللہ عنہ نے منع فرمایا او

لا والله ما كانت لبشر بع

ہرگز ایسا نہ کرنا، یہ مرتبہ بعد رس گویا یہ فتویٰ حضرت صدیق ر صرف اس بد زبانی کے ساتھ مخصوص ن جائے۔

سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ تفسیر اور حدیث کی ساری کتابوں م روایت خوب مفصل موجود ہے۔ دونوں م

قال رسول الله صلی قد أذى الله ورسوله فقام مج

صفحہ 41

ارشاد فرمایا: تِلْكَ اٰيٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ ۚ فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۭ بَعْدَ اللّٰهِ وَاٰيٰتِهٖ يُؤْمِنُوْنَ ﴿سورة الجاثية آیت نمبر ۶﴾ ترجمہ: یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم آپ کو بالکل ٹھیک پڑھ کر سناتے ہیں پس اللہ اور اس کی آیات کے بعد وہ کس بات پر ایمان لائیں گے۔

ارشاد فرمایا: اَفَرَاَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوَاهُ الْاٰيَة ﴿سورة الجاثيہ ترجمہ: بھلا آپ نے اس کو بھی دیکھا جو اپنی خواہش کا بندہ بن گی اسے گمراہ کر دیا اور اس کے کان اور دل پر مہر کر دی اور اس کی آنکھوں بعد اسے کون ہدایت کر سکتا ہے پھر تم کیوں نہیں سمجھتے؟

40 ماہنامہ سبحانی کراچی

ت سے نہیں بلکہ صاف الفاظ میں فرمایا۔ ان دمہا ہدر۔ یقیناً

طرح کی ایک دوسری روایت، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے

یہ کانت تشتم النبی صلی الله عليه وسلم وتقع ت فابطل رسول الله صلى الله عليه وسلم دمها . عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودن، رسول اللہ صلی اللہ علیہ یں ایک شخص نے اس کا گلا گھونٹ کر خاتمہ کر دیا، حضور صلی ون کو معاف کر دیا۔

ں حدیثوں کو لا کر کہتے ہیں: ن عباس رضى الله عنهما وحديث الشعبى دليل صلى الله عليه . سے نتیجہ یہ نکلتا ہے، کہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق ہا ہے۔

لکھتے ہیں: ر الاتفاق على ان من سب النبى صلى الله عليه

ق ہے، کہ جو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں بدزبانی ہے۔

حطابیہ، حدیث علی رضی اللہ عنہ کو نقل کر کے لکھتے ہیں: نص فى جواز قتلها لاجل شتم النبى صلى الله الرجل الذى وقتل المسلم والمسلمة اذا سبا'

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 41 ماہنامہ سبحانی کراچی

بطريق الاولى بان هذه المرأة كانت موادعه مهادنته لان النبى صلى الله عليه وسلم لما قدم المدينة وادع جميع اليهود الذين كانوا بها موادعة مطلقہ ولم يضرب عليهم جزية (صارم المسلول)

یہ حدیث نص ہے اس امر میں، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بدزبانی کرنے کے جرم میں قتل جائز ہے، اور دلیل ہے ذمی کے قتل پر، اور مسلم اور مسلمہ کے قتل پر، جرم شتم کی سزا میں بطریق اولیٰ، اس لیے کہ یہ عورت تو ان لوگوں میں تھی، جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امن دے رکھا تھا۔ حضور جب مدینہ تشریف لائے ہیں تو آپ نے تمام یہود کو امن دے رکھا تھا، اور ان سے جزیہ تک نہیں لیا تھا۔

ابوداؤد ہی میں ایک روایت، اور نسائی میں متعدد روایات، اس مضمون کی مروی ہیں، کہ ایک شخص نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے بدزبانی کی۔ آپ کو غصہ آیا۔ اور حاضرین محفل میں سے ایک صاحب نے چاہا، کہ اس بے ادب کی زندگی کا خاتمہ کر دیں، حضرت صدیق رضی اللہ عنہ نے منع فرمایا، اور ارشاد کیا: ۔

لا والله ما كانت لبشر بعد محمد صلى الله عليه وسلم.

ہرگز ایسا نہ کرنا، یہ مرتبہ بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور کسی کو حاصل نہیں۔ گویا یہ فتویٰ حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کا موجود ہے، کہ بدزبانی کی سزا قتل، صرف اس بدزبانی کے ساتھ مخصوص ہے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں کی جائے۔

سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک مشہور واقعہ، کعب بن اشرف یہودی کا قتل ہے۔ تفسیر اور حدیث کی ساری کتابوں میں اس کا تذکرہ ہے۔ بخاری و مسلم، دونوں میں یہ روایت خوب مفصل موجود ہے۔ دونوں کے الفاظ یہ ہیں۔

قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من لكعب بن الاشرف فانه قد اذى الله ورسوله فقام محمد بن مسلمہ فقال يا رسول الله اتحب ان

صفحہ 42

ارشاد فرمایا:

تِلْكَ آيَاتُ اللَّهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ ج فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللَّهِ وَآيَاتِهِ يُؤْمِنُونَ ﴿سورة الجاثية آيت نمبر ۶﴾

ترجمہ: یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم آپ کو بالکل ٹھیک پڑھ کر سناتے ہیں پس اللہ اور اس کی آیات کے بعد وہ کس بات پر ایمان لائیں گے۔

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 42 ماہنامہ مسیحائی کراچی

اقتله قال نعم.

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کون کعب بن اشرف کو ٹھیک کرے گا کہ اس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت ستایا ہے۔ یہ سن کر محمد بن مسلمہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا، کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، میں اسے قتل کر ڈالوں فرمایا ”ہاں“۔

حافظ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے یہ نکتہ خوب لکھا ہے، کہ کلام پاک میں جہاں جہاں ”اذی“ کا لفظ آیا ہے، زبان ہی کی سختیوں کے لیے آیا ہے، پس حدیث نبوی میں جو لفظ اذی اللہ ورسولہ آیا ہے، اس سے بھی مراد یہی ہے، کہ کعب بن اشرف، اللہ اور رسول کے حق میں زبان درازیاں کیا کرتا تھا۔

محدث زرقانی، صحاح ہی کے حوالہ سے، یہ حدیث لائے ہیں۔

ان کعب بن الاشرف كان شاعر وكان يهجو رسول الله صلى الله عليه وسلم ويحرض عليه كفار قريش. (مواہب لدنیہ جلد ۲ صفحہ : ۸، مصر)

کعب بن اشرف شاعر تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کرتا تھا اور کفار قریش کو آپ کے خلاف ابھارتا۔

قاضی عیاض مالکی رحمۃ اللہ علیہ، ابن تیمیہ حنبلی رحمۃ اللہ علیہ اور متعدد محدثین نے واقعہ کعب بن اشرف سے یہی استنباط کیا ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بد زبانی کی سزا قتل ہے۔ اور محدث سہیلی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:

فيه من الفقه وجوب قتل من سب النبى صلى الله عليه وسلم وان كان ذا عهد. (روض الانف شرح ابن هشام)

ایک فقہی حکم اس واقعہ سے یہ نکلتا ہے، کہ جو شخص رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں بدزبانی کرے، اس کا قتل واجب ہے، خواہ وہ اہل عہد ہی میں سے ہو۔

فقال الامام مازرى انما قتله كذالك لانه نقض عهد النبي صلى

ارشاد فرمایا:

أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوَاهُ الآية ﴿سورة الجاثيہ

ترجمہ: بھلا آپ نے اس کو بھی دیکھا جو اپنی خواہش کا بندہ بن اسے گمراہ کر دیا اور اس کے کان اور دل پر مہر کر دی اور اس کی آنکھوں بعد اسے کون ہدایت کر سکتا ہے پھر تم کیوں نہیں سمجھتے؟

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 43

الله عليه وسلم وهجاه وسبه.. الخ (شرح باب قتل كعب بن اشرف)

کعب کے حق میں حکم قتل اس لیے ہوا، کہ اس ڈالا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بدزبانی کی تھی، آپ

خود فتح مکہ کے موقع پر، جب رحمت عالم ﷺ فرما دیا تھا، اور بڑے بڑے موذیوں کو بلاسزا و انتقام چھو

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مستثنیٰ کر دیا تھا، اور یہ ارشاد فرما پائے، اگر غلاف کعبہ پکڑے کھڑے ہوں، تو وہاں بھی ق

ابن خطل کی دو لونڈیاں تھیں، جن کا جرم صرف یہ تھا، کہ و ہجویہ اشعار کہا کرتی تھیں۔

كانت له قينتان ....... كانتا تغنيان ب عليه وسلم) فامر رسول الله صلى الله ع هشام)

اس کی دو کنیزیں تھیں ...... یہ رسول اللہ صلی ا تھیں۔ آپ نے ابن خطل کے ساتھ قینتھما کے بھی قتل ک

قسطلانی نے ان کا جرم صرف اسی قدر لکھا ہ

وقد كانتا تغنيانه هجوه (شرح مواہب ا

یہ دونوں کنیزیں ابن خطل کو رسول اللہ صلی ا تھیں۔

ان دو کے علاوہ ایک اور کنیز سارہ کے بھی قتل ک مکی کے خاندان میں کسی کے ہاں کی لونڈی تھی، اور حضو تھی۔ قدیم ترین موجود سیرۃ نبوی میں ہے:

صفحہ 43

ارشاد فرمایا: أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلٰهَهُ هَوَاهُ الآیۃ ﴿سورۃ الجاثیة ترجمہ: بھلا آپ نے اس کو بھی دیکھا جو اپنی خواہش کا بندہ بن اسے گمراہ کردیا اور اس کے کان اور دل پر مہر کردی اور اس کی آنکھوں بعد اسے کون ہدایت کر سکتا ہے پھر تم کیوں نہیں سمجھتے؟

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 43 ماہنامہ سبحانی کراچی

الله عليه وسلم وهجاه وسبه.. الخ (شرح صحیح مسلم کتاب الجهاد، باب قتل کعب بن اشرف)

کعب کے حق میں حکم قتل اس لیے ہوا، کہ اس نے عہد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو توڑ ڈالا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بد زبانی کی تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کی تھی ۔ الخ خود فتح مکہ کے موقع پر، جب رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے عفو عام کا اعلان فرما دیا تھا، اور بڑے بڑے موذیوں کو بلا سزا و انتقام بخش دیا تھا۔ اس وقت چند اشخاص کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مستثنیٰ کر دیا تھا، اور یہ ارشاد فرما دیا تھا، کہ انہیں کہیں بھی پناہ نہ ملنے پائے، اگر غلاف کعبہ پکڑے کھڑے ہوں، تو وہاں بھی قتل کر دیے جائیں ۔ ان چند میں سے ابن خطل کی دو لونڈیاں تھیں، جن کا جرم صرف یہ تھا، کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں ہجویہ اشعار کہا کرتی تھیں۔

كانت له قينتان ....... كانتا تغنيان بهجو رسول الله (صلى الله عليه وسلم) فامر رسول الله صلى الله عليه وسلم لقتلهما معه . (ابن هشام)

اس کی دو کنیزیں تھیں ...... یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو میں اشعار گایا کرتی تھیں۔ آپ نے ابن خطل کے ساتھ ان کے بھی قتل کا حکم دیا۔

قسطلانی نے ان کا جرم صرف اسی قدر لکھا ہے۔

وقد كانتا تغنيانه هجوه (شرح مواهب لدنیه)

یہ دونوں کنیزیں ابن خطل کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو گا گا کر سنایا کرتی تھیں۔

ان دو کے علاوہ ایک اور کنیز سارہ کے بھی قتل کا حکم ہوا ، جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے خاندان میں کسی کے ہاں کی لونڈی تھی، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بدگوئی کیا کرتی تھی۔ قدیم ترین موجود سیرۃ نبوی میں ہے:

صفحہ 44

ارشاد فرمایا: تِلْكَ آيَاتُ اللَّهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ ۖ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللَّهِ وَآيَاتِهِ يُؤْمِنُونَ ﴿ سورة الجاثية آیت نمبر ٦﴾

ترجمہ: یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم آپ کو بالکل ٹھیک پڑھ کر سناتے ہیں پس اللہ اور اس کی آیات کے بعد وہ کس بات پر ایمان لائیں گے۔

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 44 ماہنامہ سبحانی کراچی

وسارة مولاة لبعض بنى عبدالمطلب ..... وكانت سارة ممن يؤذيه

بمكة. (ابن هشام)

اور سارہ، جو اولاد عبد المطلب میں سے کسی کی کنیز تھی..... یہ سارہ مکہ میں آپ کے متعلق بدزبانی کرتی رہتی تھی۔

اور قسطلانی کے الفاظ ہیں:

كان ابن خطل يلقى عليها بهجاء رسول الله فتغني به. (شرح

مواهب لدنیه)

ابن خطل ، اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو میں اشعار سکھاتا تھا اور یہ انہیں گایا کرتی تھی۔

حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے تینوں باندیوں کے نام ایک ساتھ شمار کر دیے ہیں۔

وقينتيه وكانتا لا بن خطل يغنيان بهجو النبي صلى الله عليه وسلم وسارة

مولاة بنى المطلب. (فتح الباری۔ مصری)

وہ گانے والیاں جو ابن خطل کی کنیزیں تھیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو گاتی رہتی تھیں، اور سارہ تیسری خاندان مطلب کی کنیز یہ تینوں ان لوگوں میں، جن کے لیے قتل کا حکم ، شتم رسول کے جرم میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے صادر ہو چکا تھا۔

استنباطات سے قطع نظر کر کے قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ محدث نے تو ایک حدیث ڈھونڈ لی، سب انبیاء کے واجب القتل ہونے پر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل کر دی ہے۔

عن الحسين بن على عن ابيه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم

قال من سب نبيا فاقتلوه ومن سب اصحابی فاضربوہ. (الشفاء، جلد ۲ باب فی

ایجاب قتل من سبہ)

ارشاد فرمایا: أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوَاهُ الآية ﴿ سورة الجاثی

ترجمہ: بھلا آپ نے اس کو بھی دیکھا جو اپنی خواہش کا بندہ بن اسے گمراہ کر دیا اور اس کے کان اور دل پر مہر کر دی اور اس کی آنکھوں بعد اسے کون ہدایت کر سکتا ہے پھر تم کیوں نہیں سمجھتے؟

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 45

حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما اپنے صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کہ جو کوئی کسی نبی کے میرے کسی صحابی کے حق میں کرے، تو اسے مارو

کہا یہ جاتا ہے کہ فقہ حنفی میں اس جرم کی کتاب وسنت کی تصریحات پچھلے نمبر سلف کے اقوال اور فقہاء امت کے احکام پر بھی کر

خلیفہ عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کا ، سارے اہل سنت کو مسلم ہے۔ ان کا ایک فرمان غور کے قابل ہے:

ومن ذلك عمر بن عبدا بالكوفة وقد استشاره في قتل رجل سـ قتل امرئ مسلم يسب احدا من الناس

عليه وسلم فمن سبه فقد حل دمه. ( ا

ايجاب قتل من سبه صلى الله عليه وسل

عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ کی خد کہ ایک شخص نے عمر رضی اللہ عنہ کے حق میں ( خود عمر بن عبد العزیز ہی) بد زبانی کی ہے، اس جواب میں لکھا۔ کہ کسی مسلمان کا قتل، بجز رسول اور کسی کے حق میں بد زبانی کی بنا پر روا نہیں اس کا خون حلال ہو گیا۔

فقہائے اہل سنت کے اکثر گروہ سے ہے ہی نہیں ۔ مالکیہ ، حنابلہ، شافعیہ،

صفحہ 45

ارشاد فرمایا: تِلْكَ آيَاتُ اللَّهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ ع فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللَّهِ وَآيَاتِهِ يُؤْمِنُونَ ﴿سورة الجاثية آیت نمبر ٦﴾ ترجمہ: یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم آپ کو بالکل ٹھیک پڑھ کر سناتے ہیں پس اللہ اور اس کی آیات کے بعد وہ کس بات پر ایمان لائیں گے۔

ارشاد فرمایا: أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوَاهُ الآية ﴿سورة الجا ترجمہ: بھلا آپ نے اس کو بھی دیکھا جو اپنی خواہش کا بندہ بن اسے گمراہ کر دیا اور اس کے کان اور دل پر مہر کر دی اور اس کی آنکھ بعد اسے کون ہدایت کر سکتا ہے پھر تم کیوں نہیں سمجھتے؟

ماہنامہ مسیحائی کراچی 44

لاة لبعض بنى عبد المطلب ...... وكانت سارة من يؤذيه ولا عبدالمطلب میں سے کسی کی کنیز تھی ...... یہ سارہ مکہ میں آپ تی تھی۔

کے الفاظ ہیں: خطل يلقى عليها بهجاء رسول الله فتغنى به. (شرح کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو میں اشعار سکھاتا تھا اور یہ انہیں

مۃ اللہ علیہ نے تینوں باندیوں کے نام ایک ساتھ شمار کر دیے ہیں۔ قینتا لا بن خطل هجو النبى صلى الله عليه وسلم وسارة

(فتح البارى ۔ مصرى)

ں جو ابن خطل کی کنیزیں تھیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو تیسری خاندانِ مطلب کی کنیز یہ تھیں تو انہیں لوگوں میں، جن کے کے جرم میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے

سے قطع نظر کر کے قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ محدث نے تو ایک انبیاء کے واجب القتل ہونے پر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل

بن على عن ابيه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم جوه ومن سب اصحابی فاضربوه. (الشفاء، جلد ۲ باب فی

”حرمتِ رسول نمبر ۲۰۱۱ء“ 45 ماہنامہ مسیحائی کراچی

حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کہ جو کوئی کسی نبی کے حق میں بدزبانی کرے، اسے قتل کر دو، اور میرے کسی صحابی کے حق میں کرے، تو اسے مارو۔

کہا یہ جاتا ہے کہ فقہ حنفی میں اس جرم کو کوئی سنگین جرم ہی نہیں قرار دیا گیا ہے۔ کتاب وسنت کی تصریحات پچھلے نمبر میں گزر چکیں۔ اس نمبر میں ایک نظر، علماء ملت کے اقوال اور فقہاء امت کے احکام پر بھی کر لینی چاہیے۔

خلیفہ عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کا تفقہ اور مرتبہء دینی، بلا نزاع واختلاف ، سارے اہل سنت کو مسلم ہے۔ ان کا ایک فرمان، قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ نے نقل کیا ہے۔ غور کے قابل ہے:

ومن ذالك عمر بن عبدالعزيز رحمة الله عليه الى عامله بالكوفه وقد استشاره فى قتل رجل سب عمر . فكتب اليه عمر انه لا يحل قتل امرى مسلم بسبب احد من الناس الا رجلا سب رسول الله صلى الله عليه وسلم فمن سبه فقد حل دمه . (الشفاء، جلد ۲ فصل فى الحجيته فى ايجاب قتل من سبه صلى الله عليه وسلم.

عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں عاملِ کوفہ نے خط لکھ کر دریافت کیا، کہ ایک شخص نے عمر رضی اللہ عنہ کے حق میں (غالباً حضرت عمر فاروق مراد ہیں، یا ممکن ہے، خود عمر بن عبدالعزیز ہی) بدزبانی کی ہے، اس کے قتل کے باب میں کیا حکم ہے۔ آپ نے جواب میں لکھا۔ کہ کسی مسلمان کا قتل، بجز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں بدزبانی کے، اور کسی کے حق میں بدزبانی کی بنا پر روا نہیں۔ البتہ جس نے سب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا، اس کا خون حلال ہو گیا۔

فقہائے اہل سنت کے اکثر گروہ کے ہاں تو یہ کوئی نزاعی واختلافی مسئلہ سرے سے ہے ہی نہیں۔ مالکیہ، حنابلہ، شافعیہ، سب بالاتفاق اس جانب گئے ہیں کہ شاتمِ رسول

صفحہ 46

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 46 ماہنامہ سبحانی کراچی

صلی اللہ علیہ وسلم سے ذمی کا عہد ٹوٹ جاتا ہے، اور جب عہد امان باقی نہ رہا، تو وہ واجب القتل ہو گیا۔ اختلاف صرف حنفیہ سے منقول ہے۔ اور اسی اختلاف کو چمکا چمکا کر، اور زور دے دے کر، پیش کیا جاتا ہے۔ لیکن دیکھنے کی اصل شے یہ ہے، کہ اختلاف کس چیز میں ہے؟ حنفیہ نے آیا، شتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی جرم ہی نہیں قرار دیا ہے، یا جرم تسلیم کیا ہے، مگر کوئی سزا نہیں رکھی ہے، یا پھر سزا بھی رکھی ہے، لیکن بجائے قتل کے، کوئی اور سزا رکھی ہے؟ ممکن تو یہ ساری شقیں ہیں۔

قاضی عیاض، شفا میں لکھتے ہیں، کہ ہارون الرشید نے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں عرض کی۔ کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں بدزبانی کی ہے، اور مفتیان عراق (حنفیہ) نے اس پر تازیانے لگنے کا حکم دیا ہے، آپ کیا فرماتے ہیں۔ امام اس پر بہت ناخوش ہوئے، اور فرمایا، کہ شتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر امت کے لیے کون سی چیز ہوگی (یعنی سزائے تازیانہ ناکافی ہے)۔ اس حکایت سے اتنا تو بہرحال ثابت ہوا، کہ حنفیہ قدیم کے نزدیک بھی یہ نہ تھا۔ کہ شتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم سرے سے کوئی جرم ہی نہ ہو۔ جرم، اور تعزیر شدید کے قائل جرم، ان کے نزدیک بھی تھا۔ فرق جو کچھ تھا، وہ مدارج تعزیر کے باب میں تھا۔

یہ بیان غیروں کا تھا اب خود اپنوں کا بیان ملاحظہ ہو۔ ابوبکر جصاص رازی رحمۃ اللہ علیہ، حنفیہ کے محققین قدیم میں ہوئے ہیں۔ وہ آیہ کریمہ وان نکثوا ایمانہم الخ کے ذیل میں لکھتے ہیں۔

دل علی ان اہل العہد من شرط بقاء عہدہم ترکہم ...... فی دیننا ان اہل الذمہ ممنوعون من اظہار الطعن فی دین المسلمین وہو یشہد لقول من یقول من الفقہاء ان من اظہر شتم النبی صلی اللہ علیہ وسلم من اہل الذمة فقد نقض عہدہ ووجب قتلہ وقد اختلف الفقہاء فی ذالک فقال اصحابنا یعزر ولا یقتل (احکام القرآن جصاص رازی ، جلد ۳ صفحہ

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

۱۰۱۵ مصر) آیہ کریمہ دلیل ہے اس امر پر کہ ذمیوں بھی ہے، کہ وہ ہمارے دین پر طعن کر قول ہے۔ جنہوں نے یہ کہا ہے کہ جس ٹوٹ گیا، اور اس کا قتل واجب ہو گیا۔ ق حنفیہ کا قول ہے کہ ذمی کو قتل نہیں کیا جائے گویا شتم رسول صلی اللہ علیہ و بلکہ وہ اس کے پاداش میں تعزیر بھی تجوی ہے، کہ آیا، اس سے نقض عہد ذمیت بھی قدماء حنفیہ کا استدلال یہ تھ کونسا گناہ ہے؟ آخری گناہ جو کسی سے سے بھی بڑھ کر جو گناہ ہے، وہ کفر ہی ہے گناہ، کفر کا گناہ ہے، اس سے مسلمان کافر ہے۔ امن جو اسے ملا ہے، وہ باو سے سرزد ہوا، جس کی بنا پر اس کا عہد ا دے دیا جائے؟ اس استدلال کی صحت و حقیقت کا اظہار ہے، کہ حنفیہ نے جس صرف اتنی بات ہے، کہ آیا شتم نبی، نقض آیا شتم رسول جائز وحلال ہے؟ فقہائے حنفیہ نے، جہاں شتم ایک ہی سانس میں اور بھی چند جرائم کو ومن امتنع من اداء الخ

صفحہ 47

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

(۱۰۱۵ مصر)

آیۂ کریمہ دلیل ہے اس امر پر کہ ذمیوں کے ساتھ جو عہد ہے، اس کے بقاء کی ایک شرط یہ بھی ہے، کہ وہ ہمارے دین پر طعن کرنے سے باز رہیں گے، اور اسی کی تائید میں ان فقہاء کا قول ہے۔ جنہوں نے یہ کہا ہے کہ جس ذمی نے شتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا، اس کا عہد ٹوٹ گیا، اور اس کا قتل واجب ہوگیا۔ لیکن فقہاء کا اس باب میں اختلاف ہے، چنانچہ فقہاء حنفیہ کا قول ہے کہ ذمی کو قتل نہیں کیا جائے گا، بلکہ تعزیر دی جائے گی۔

گویا شتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نفس جرم ہونے میں حنفیہ کو کچھ بھی تردد نہیں بلکہ وہ اس کے پاداش میں تعزیر بھی تجویز کرتے ہیں۔۔۔۔ گفتگو جو کچھ ہے، وہ اس امر میں ہے، کہ آیا، اس سے نقض عہد ذمیت بھی ہوجاتا ہے؟

قدمائے حنفیہ کا استدلال یہ تھا، کہ نبی کے شتم سے جو گناہ ذمی پر عائد ہوتا ہے، وہ کونسا گناہ ہے؟ آخری گناہ جو کسی سے بھی ہونا ممکن ہے، وہ کفر ہے۔ کبائر بلکہ اکبر کبائر سے بھی بڑھ کر جو گناہ ہے، وہ کفر ہی ہے۔ اس کے بعد گناہ کا کوئی درجہ ہی نہیں۔ شتم نبی کا گناہ، کفر کا گناہ ہے، اس سے مسلمان کافر ہوجاتا ہے۔ لیکن جو ذمی ہے، تو وہ پہلے ہی سے کافر ہے۔ امن جو اسے ملا ہے، وہ باوجود اس کے کفر کے ملا تھا۔ پھر اب نیا گناہ کونسا اس سے سرزد ہوا، جس کی بنا پر اس کا عہد امان سوخت کردیا جائے اور وہ نقض امن کا مجرم قرار دیدیا جائے؟ اس استدلال کی صحت و عدم صحت پر یہاں بحث کرنا مقصود نہیں، مقصود اس حقیقت کا اظہار ہے، کہ حنفیہ نے جس شے پر جرح کی، وہ صرف جرم نقض عہد ہے، وہ صرف اتنی بات ہے، کہ آیا شتم نبی، نقض عہد کے بھی مترادف، یا اس کے مستلزم ہے؟ نہ یہ کہ آیا شتم رسول جائز وحلال ہے؟

فقہائے حنفیہ نے، جہاں شتم نبی کو عدم ناقض عہد قرار دیا ہے، وہیں اسی سطر میں، ایک ہی سانس میں اور بھی چند جرائم کو ناقض عہد لکھا ہے۔ قدوری کے الفاظ ہیں:

ومن امتنع من اداء الجزية او قتل مسلما او سب النبى صلى الله

صفحہ 48

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

عليه وسلم او زنى ....... بمسلمة لم ينقض عهده ـ

کسی ذمی نے اگر ادائے جزیہ سے انکار کیا، یا کسی مسلمان کو قتل کر ڈالا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بدزبانی کی، یا کسی مسلمان عورت سے زنا کیا، تو اس کا عہد نہ ٹوٹے گا۔

اور کنز میں ہے:

ولا ينقض عهده بالاباء عن الجزية والزنا بمسلمة وقتل مسلم وسب النبى صلى الله عليه وسلم۔

ذمی کا عہد نہیں ٹوٹتا ہے، اور جزیہ کے انکار سے کسی مسلمان عورت سے زنا کرنے سے، کسی مسلمان کو قتل کر ڈالنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں بدزبانی کرنے سے۔

اور وقایہ کے الفاظ ہیں:

لان يمتنع عن الجزية او زنى بمسلمة او قبلها او سب النبى صلى الله عليه وسلم۔

ذمی کا عہد اس سے نہ ٹوٹے گا، کہ وہ جزیہ دینے سے انکار کرے، یا مسلمان عورت سے زنا کرے یا اس کا بوسہ لے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں بدزبانی کرے۔ حاصل ان عبارتوں کا یہ نکلا، کہ ذمی کا عہد، فلاں فلاں جرائم کی طرح، شتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بنا پر بھی نہیں ٹوٹتا۔ اس سے یہ نتیجہ کہاں سے نکلا، کہ شتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم، سرے سے کوئی جرم ہی نہیں، اور ایسے گندہ ذہن سے فقہ حنفی کچھ غرض ہی نہیں کرتی؟ شتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ آخر دوسرے سنگین جرائم، بھی تو درج ہیں، کیا وہ سب بھی ذمی کو معاف ہیں؟ کیا ذمی آزاد ہے، کہ جب چاہے، جزیہ دے اور جب چاہے انکار کر دے، کوئی باز پرس اس سے نہ ہوگی؟ کیا ذمی جب چاہے، کسی مسلمہ کے ساتھ اپنا منہ کالا کرے، حنفی قانون اس سے کوئی مواخذہ نہ کرے گا؟ کیا ذمی جس

صفحہ 49

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 49 ماہنامہ مسیحائی کراچی

مسلمان کو چاہے قتل کر ڈالے، حنفیہ کی حکومت اسے آزاد چھوڑے رکھے گی؟ حنفی خود الگ رہے تو کیا کسی دشمن احناف نے بھی یہ چیزیں، حنفیوں کے متعلق فرض کی ہیں؟

"روشنی طبع" ایک فارسی ضرب المثل میں، اکثر: 'بلا'، بچایا کرتی ہے۔ احناف بیچاروں کے حق میں۔ انکا عمق نظر، ان کی شگرف نگاہی، ان کی باریک بینی ہی اکثر ان کی بدنامی کا باعث بن گئی ہیں۔ کہاں ان کا یہ فرمانا، کہ "ذمی، شتم نبی کی بنا پر نقض عہد کا مجرم نہیں ہوتا، اور اس لیے اسے سزا نقض عہد نہ ملے گی۔" اور کہاں اس سے یہ نتیجہ نکال لینا، کہ " ذمی، شتم نبی کر کے ،سزا، خصوصاً سزائے قتل سے محفوظ رہے گا"سبحانک ھذا بھتان عظیم ! حاصل یہ ہے، کہ دوسرے مذاہب نے شتم نبی کو کوئی مستقل اور علیحدہ جرم نہیں قرار دیا، بلکہ اسے نقض معاہدہ میں شامل کرلیا ہے، جیسے آج سے چند سال قبل، رسوائے عالم راجپال کے فتنہ کے وقت تک، توہین مذہب، تعزیرات ہند ہی میں کوئی مستقل جرم تھی ہی نہیں، بلکہ ایسے گندہ ذہنوں کو اگر سزا ملتی تھی، تو بالواسطہ اس جرم قانونی کے ذیل میں کہ وہ رعایا کے دو گروہوں کے درمیان اشتعال جذبات کا باعث ہوئے! بخلاف اس کے حنفیہ نے شتم نبی کو ، ضمنی، تبعی، اور بالواسطہ نہیں، بلکہ براہ راست، واصالۃ ایک مستقل وصریح جرم، مثل قتل، حرام کاری، وغیرہ کے قرار دیا، اس کی سزا بھی مستقل مقرر کی، بلا لحاظ اس امر کے کہ اس سے معاہدہ شکنی ہے یا نہیں۔ جس طرح تعزیرات ہند میں ابھی چند ہی سال سے ،جرم توہین مذہب کی ایک مستقل دفعہ بڑھی ہے، اس سے قطع نظر کر کے، کہ آیا اس توہین سے طبقوں میں منافرت بڑھتی ہے یا نہیں انصاف شرط ہے۔ حنفیہ کا جرم شتم نبی کے ساتھ یہ استخفاف ہوا، یا اس کی اہمیت کا اور زیادہ اعتراف؟

قدوری کی ایک شرح، ابھی پچھلی صدی میں لباب کے نام سے میدانی نے لکھی ہے۔ اس میں فقہاء کی اسی قسم کی عبارتیں جیسی اوپر نقل ہوئیں، بتا کر کے لکھتے ہیں: الجزیتہ جبرا اذا امتنع عن تادیتہ ویستوفی منہ القصاص.......... ویقام علیہ الحد اذا زنے.......... ويعاقب على السب۔

صفحہ 50

ماہنامہ مسیحائی کراچی 50 حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

ذمی نے اگر ادائے جزیہ سے انکار کیا ہے تو اس سے بزور وصول کیا جائے گا۔ اگر اس نے قتل کیا ہے، تو قصاص میں اسے قتل کیا جائے گا۔ اگر اس نے زنا کیا ہے، تو اس پر حد جاری ہوگی، اور اگر اس نے شتم رسول کیا ہے تو اسے اس کی سزا ملے گی۔

تنویر الابصار، درمختار کا متن، حنفیہ کی کتب معتمدہ میں ہے۔ اس میں حاوی نے لکھا ہے:

ویودب الذمی ويعاقب علی سبه دين الاسلام والقرآن والنبی صلی الله عليه وسلم۔

ذمی کو سزائے سخت ملے گی اہانت اسلام پر اہانت قرآن پر، اور اہانت نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر۔

غرض اہانت نبی پر، سزائے سخت دینے پر سب ہی حنفیہ کا اتفاق ہے۔ اب گفتگو یہ رہی۔ کہ حنفیہ کے نزدیک یہ سزا کیا ہے؟ صاحب لباب لکھتے ہیں:

واختار بعض المتاخرین قتله

متاخرین حنفیہ نے سزا قتل تجویز کی ہے۔ لیکن متاخرین، کی قید، بتمام تر صحیح نہیں۔

علامہ عینی کا زمانہ متاخرین کا نہیں، متوسطین کا ہے، وہ شرح کنز میں فرماتے ہیں:

وقال الشافعی رحمة الله عليه ینتقض لان بنقض الايمان به فالامان اولی. وهو قول مالك رحمة الله و احمد رحمة الله واختیاری هذا لان المسلم اذا سب النبی صلی الله عليه وسلم يكفر حتی یفتی بقتله فكيف اذا صدر هذا من مبرم عقد الذمة۔

امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک شتم نبی سے ذمی کا عہد ٹوٹ جاتا ہے، اس لیے کہ جب شتم نبی صلی اللہ علیہ وسلم ناقض ایمان ہے تو ناقض امان بھی ضرور ہوا۔ اور یہی مسلک امام مالک واحمد رحمہا اللہ کا بھی ہے۔ اور قول مختار میرے نزدیک بھی یہی ہے۔

اس لیے کہ جب ایک مسلمان، شتم نبی کر کے، کافر ہو کر واجب القتل ہو جاتا

صفحہ 51

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 51 ماہنامہ سبحانی کراچی

ہے، تو ایک دشمن دین سے اس کے صدور کی سزا قتل کیوں نہ ہوگی۔

ابن نجیم رحمۃ اللہ علیہ حنفی نے عینی رحمۃ اللہ علیہ کے اس قول پر جرح کرنی چاہی ہے، اور لکھا ہے:

ان قول العينى واختيارى ان يقتل ساب النبى صلى الله عليه وسلم لا اصل له فى روايته (بحر الرائق)

عینی کے اس قول کے، کہ قول مختار یہ ہے کہ ذمی کو شتم نبی کے جرم میں قتل کردیا جائے گا کوئی سند روایات میں نہیں ہے۔

لیکن ابن عابدین رحمۃ اللہ علیہ نے بحرالرائق ہی کے حاشیہ، منح الخالق میں اس کا جواب دے دیا ہے۔

وقوله لا اصل له فى روايته فاسد اذ صرحوا قاطبة انه يعزر على ذلك ويؤدب وهو يدل على جواز قتله زجرا لغيره اذ يجوز الترقى فى التعزير الى القتل اذا عظم موجبه۔

لغو ہے، کیونکہ یہ تو صاف صاف بہ تصریح موجود ہے۔ کہ ذمی کو اس کی سزا ملے گی۔ اس سزا میں قتل بھی شامل ہے، جبکہ دوسروں کو تنبیہ وتخویف مقصود ہو۔ موجب تعزیر اگر کوئی اہم جرم ہے، تو تعزیر بھی اسی نسبت سے بڑھتی جائے گی، یہاں تک کہ قتل تک پہونچ جائے۔

اور پھر اس حاشیہ میں شرح مقدسی سے منقول ہے:

(جن لوگوں نے تجویز قتل پر اعتراض کیا ہے، ان کا جواب یہ ہے کہ) ہمارے مذہب میں ذمی کے لیے اس جرم میں تعزیر شدید ہے، پھر اگر اسی میں وہ مر جائے تو اس کا خون معاف ہے۔ جیسے کسی اور تعزیر یا حد کے وقت اگر مجرم ہلاک ہو جائے۔

بعض اکابر حنفیہ اس جانب بھی گئے ہیں۔ کہ اعلان شتم سے ذمی کا عہد ٹوٹ جاتا ہے۔ ابن ہمام رحمۃ اللہ علیہ، عبارت ہدایہ کی شرح میں فریقین کے دلائل نقل کرنے کے بعد

صفحہ 53

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 52 ماہنامہ مسیحائی کراچی

لکھتے ہیں:

والذی عندی ان سبہ علیہ الصلوۃ والسلام اوشتمہ مالا...... الی اللہ تعالیٰ ان ممالا یعتقدہ کنیۃ الولد الی اللہ تعالیٰ تقدس عن ذلک اذا اظهر یقتل بہ وینتقض عہدہ وان لم یظہرہ عثر علیہ وہو یکتمہ فلا۔ (فتح القدیر)

میرے نزدیک تو ذمی جس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہانت کا یا حق تعالیٰ سبحانہ کی جانب کسی امر نالائق کے انتساب کا اعلان کرے، تو واجب القتل ہو جاتا ہے اور اس کا عہد ٹوٹ جاتا ہے، البتہ اگر اعلان نہ کرے، اور دل ہی میں مخفی رکھے، تو نہ عہد ٹوٹے گا، نہ سزا ملے گی۔

صاحب درمختار نے توضیح مقام میں بسط سے کام لیا ہے۔ حاوی اور تنویر الابصار کی عبارت نقل کرنے کے بعد، شارح لکھتا ہے:

قال العینی واختیاری فی السب ان یقتل وتبعہ ابن الھمام. قلت وبہ افتی بہ شیخنا الخیر الرملی وہو قول الشافعی، ثم رأیت فی معروضات المفتی ابی السعود انہ ورد امر السلطانی بالعمل بقول ائمتنا القائلین بقتلہ اذا اظهر انہ ما اعتاده وبہ افتی۔

عینی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں۔ کہ ”شتم نبی کے باب میں قول مختار یہ ہے، کہ ذمی قتل کر دیا جائے گا ۔“ اور ابن ہمام کی بھی یہی رائے ہے۔ اور ہمارے استاد خیر الدین رملی نے بھی یہی فتویٰ دیا ہے، اور یہی قول ہے امام شافعی رحمۃ اللہ کا، اس کے بعد میں نے معروضات مفتی ابو سعود میں پڑھا، کہ ”فرمان سلطانی صادر ہو چکا ہے، کہ عملدرآمد ہمارے ان ائمہ کے قول کے مطابق ہو، جنہوں نے شتم نبی کے عادی مجرم کے قتل کا حکم کیا ہے۔“ اور یہی فتویٰ مفتی موصوف کا ہے۔

آگے چل کر، صاحب درمختار، مفتی ابو سعود کے قول کی تائید میں، ابن کمال پاشا

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 53

کی چہل حدیث کے حدیث نمبر ۳۴ کا حوالہ دیتے ہیں

موصوف نے لکھا ہے:

حق یہ ہے، کہ ذمی ہم حنفیہ کے نزدیک قتل ک رسول کرے۔ چنانچہ ذخیرہ کی کتاب السیر میں اس کی تصر بالاعلان شتم رسول کے جرم میں عورت تک کے قتل کا حک ہے اس روایت سے، کہ جب عمیر بن عدی کو یہ خبر پہنچی کہ عصمہ علیہ وسلم کی بد گوئی کر رہی ہے، تو رات میں اسے قتل کر ڈا نے ان کے اس فعل کو پسند فرمایا۔ پس اسے یاد رکھنا چاہئے

درمختار ہی میں، ایک دوسرے موقع پر، کتاب تاہم یہ صراحت بھی موجود ہے۔

والکافر بسب نبی من الانبیاء فانہ یقت

جو مرتد، حضرات انبیاء میں سے کسی نبی کی اہان کی توبہ کسی طرح مقبول نہیں، وہ قتل کیا جائے گا، بطور حد کے۔

درمختار کے شارح جلیل، شامی رحمۃ اللہ، درالمخ میں لاتے ہیں۔ تنویر الابصار کی عبارت میں جہاں یہ مقا نہیں ٹوٹتا ، وہاں یہ حاشیہ دیتے ہیں۔

ای اذا لم یعلن فلو اعلن بشتمہ او اہ الخ۔

یہ حکم اس وقت کے لیے ہے، جب تک شتم عادی مجرم ہو، تو وہ قتل کر دیا جائے گا، خواہ عورت ہی ہو۔ لہ

پھر جہاں تنویر میں یہ مضمون ہے؛ کہ ذمی کو اہان اس عبارت پر یہ حاشیہ دیا ہے۔

صفحہ 53

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

کی چہل حدیث کے حدیث نمبر ۳۴ کا حوالہ دیتے ہیں، جس کی شرح میں ابن کمال پاشا موصوف نے لکھا ہے:

حق یہ ہے، کہ ذمی ہم حنفیہ کے نزدیک قتل کر دیا جائے گا، جب بالاعلان شتم رسول کرے۔ چنانچہ ذخیرہ کی کتاب السیر میں اس کی تصریح ہے، اور یہ ہے، کہ امام محمد نے بالاعلان شتم رسول کے جرم میں عورت تک کے قتل کا حکم کیا ہے، اور دلیل پکڑی ہے اس روایت سے، کہ جب عمیر بن عدی کو یہ خبر پہنچی کہ عصماء بنت مروان، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بدگوئی کر رہی ہے، تو رات میں اسے قتل کر ڈالا، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اس فعل کو پسند فرمایا۔ پس اسے یاد رکھنا چاہئے۔

درمختار ہی میں، ایک دوسرے موقع پر، کتاب المرتد کے تحت میں، گو ضمناً سہی، تاہم یہ صراحت بھی موجود ہے۔

والکافر سب نبي من الانبياء فانه يقتل حدا ولا تقبل توبته مطلقا۔

جو مرتد، حضرات انبیاء میں سے کسی نبی کی اہانت کی بنا پر کافر ہوگا، اس کی توبہ کسی طرح مقبول نہیں، وہ قتل کیا جائے گا، بطور حد کے۔

درمختار کے شارح جلیل، شامی رحمۃ اللہ، درالمختار میں اور زیادہ بسط واطناب کو کام میں لاتے ہیں۔ تنویر الابصار کی عبارت میں جہاں یہ مقام آیا ہے، کہ شتم نبی سے ذمی کا عہد نہیں ٹوٹتا، وہاں یہ حاشیہ دیتے ہیں۔

ای اذا لم یعلن فلو اعلن بشتمه او اعتاده قتل ولو امراة وبه یفتی الیوم۔

یہ حکم اس وقت کے لیے ہے، جب تک شتم نبی علی الاعلان نہ ہو، یا ذمی اس کا عادی مجرم ہو، تو وہ قتل کر دیا جائے گا، خواہ عورت ہی ہو۔ اور اسی پر آج فتویٰ ہے۔

پھر جہاں تنویر میں یہ مضمون ہے، کہ ذمی کو اہانت رسول پر سخت سزا دی جائے گی، اس عبارت پر یہ حاشیہ دیا ہے۔

صفحہ 54

ماہنامہ مسیحائی کراچی 54 حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

اطلقه فشمل تادیبه وعقابه بالقتل اذا اعتاده واعلن به۔

یہ سزا کا حکم عام ہے قتل بھی اس کے تحت میں آ جاتا ہے جب شتم بالا علان ہو، یا مجرم اس کا عادی ہو۔

آگے دلائل وشواہد تفصیل سے درج کیے ہیں:

فخر المتاخرین مولانا عبدالحی فرنگی محلی رحمۃ اللہ علیہ، شاید ان ہی سب شواہد کو پیش نظر رکھ کے، بطور خلاصہ، حاشیہ شرح وقایہ میں تحریر فرماتے ہیں:

یودب الذمی ویعزر اذا صدر منه مثل هذه الامور لاسیما اذا اعلن او تکرر منه بل صرحوا بوجوب قتله سیاسته (عمدة الرعايه)

ذمی سے جب اس قسم کی حرکتوں کا صدور ہو گا اسے سخت سزا دی جائے گی، خصوصاً جبکہ ان کا یہ اعلان ہو۔ بلکہ ہمارے فقہاء کی تو تصریح ہے، کہ ایسا شخص سیاستہ واجب القتل ہے۔

اتنی شہادتوں کے بعد، کیا حنفیہ کا نقطہ نظر اب بھی مشتبہ، مبہم، وموہوم کہا جاسکتا ہے؟

(ماخوذ ”سچ“ لکھنؤ، 16 ستمبر 1932ء)

صفحہ 55

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 55 ماہنامہ سبحانی کراچی

توحید رسالت

نبوت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کا

عقلی ثبوت

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ

تھوڑی دیر کے لیے جسمانی آنکھیں بند کر کے تصور کی آنکھیں کھول لیجیے اور ایک ہزار چار سو برس پیچھے پلٹ کر دنیا کی حالت پر نظر ڈالیے۔ یہ کیسی دنیا تھی؟ انسان اور انسان کے درمیان تبادلۂ خیالات کے وسائل کس قدر کم تھے۔ قوموں اور ملکوں کے درمیان

صفحہ 56

ماہنامہ مسیحائی کراچی 56 حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

جاتا ہے وہ اس زمانے کے عام معلومات تھے جن طریقوں سے آج انسان کا ضمیر نفرت کرتا ہے وہ اس زمانے کے اخلاقیات میں نہ صرف جائز تھے، بلکہ کوئی شخص یہ خیال بھی نہ کرسکتا تھا کہ ان کے خلاف بھی کوئی طریقہ ہوسکتا ہے۔ انسان کی عجائب پرستی اس قدر بڑھی ہوئی تھی کہ وہ کسی چیز میں اس وقت تک کوئی صداقت، کوئی بزرگی، کوئی پاکیزگی تسلیم ہی نہ کرسکتا تھا جب تک وہ فوق الفطرت نہ ہو، خلاف عادت نہ ہو، غیر معمولی نہ ہو۔ حتیٰ کہ انسان خود اپنے آپ کو اس قدر ذلیل سمجھتا تھا کہ کسی انسان کا اللہ رسیدہ ہونا اور کسی اللہ رسیدہ ہستی کا انسان ہونا اس کے تصور کی رسائی سے بہت دور تھا۔

اس تاریک دور میں زمین کا ایک گوشہ ایسا تھا جہاں تاریکی کا تسلط اور بھی زیادہ بڑھا ہوا تھا۔ جو ممالک اس زمانے کے معیار تمدن کے لحاظ سے متمدن تھے۔ ان کے درمیان عرب کا ملک سب سے الگ تھلگ پڑا ہوا تھا۔ اس کے ارد گرد ایران، روم اور مصر کے ملکوں میں علوم و فنون اور تہذیب و شائستگی کی کچھ روشنی پائی جاتی تھی مگر ریت کے بڑے بڑے سمندروں نے عرب کو ان سے جدا کر رکھا تھا۔ عرب سوداگر اونٹوں پر مہینوں کی راہ طے کر کے ان ملکوں میں تجارت کے لیے جاتے تھے اور صرف اموال کا مبادلہ کر کے واپس آتے تھے۔ علم و تہذیب کی

صفحہ 57

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 57 ماہنامہ مسیحائی کراچی

اس کے مال پر قابض ہو جاتا، یہ بات ایک عرب بدوی کے فہم سے بالاتر تھی کہ جو شخص اس کے قبیلے کا نہیں ہے اسے وہ کیوں نہ مار ڈالے اور اس کے مال پر کیوں نہ متصرف ہو جائے۔ اخلاق اور تہذیب و شائستگی کے جو کچھ بھی تصورات ان لوگوں میں تھے وہ نہایت ادنیٰ اور مسخ شدہ تھے پاک اور ناپاک، جائز اور ناجائز، شائستہ اور ناشائستہ کی تمیز سے وہ تقریباً نا آشنا تھے۔ ان کی زندگی نہایت گندی تھی۔ ان کے طریقے وحشیانہ تھے۔ زنا، جوا، شراب، چوری، راہ زنی اور قتل و خوں ریزی ان کی زندگی کے معمولات تھے۔ وہ ایک دوسرے کے سامنے بے تکلف برہنہ ہوجاتے تھے۔ ان کی عورتیں تک ننگی ہو کر کعبہ کا طواف کرتی تھیں۔ وہ اپنی لڑکیوں کو اپنے ہاتھ سے زندہ دفن کر دیتے تھے، محض اس جاہلانہ خیال کی بناء پر کہ کوئی ان کا داماد بنے۔ وہ اپنے باپوں کے مرنے کے بعد اپنی سوتیلی ماؤں سے نکاح کر لیتے تھے۔ انہیں کھانے اور لباس اور طہارت کے معمولی آداب تک معلوم نہ تھے۔

مذہب کے باب میں وہ ان تمام جہالتوں اور ضلالتوں کے حصہ دار تھے جس میں اس زمانے کی دنیا مبتلا تھی۔ بت پرستی، ارواح پرستی، کواکب پرستی، غرض ایک اللہ کی پرستش کے سوا اس وقت دنیا میں جتنی ’پرستیاں‘ پائی جاتی تھی وہ سب ان میں رائج تھیں۔ انبیائے قدیم اور ان کی تعلیمات کے متعلق کوئی صحیح علم ان کے پاس نہ تھا۔ وہ اتنا ضرور جانتے تھے کہ ابراہیمؑ اور اسمعیلؑ ان کے باپ ہیں مگر یہ نہ جانتے تھے کہ ان دونوں باپ بیٹوں کا دین کیا تھا اور وہ کس کی عبادت کرتے تھے۔ عاد اور ثمود کے قصے بھی ان میں مشہور تھے، مگر ان کی جو روایتیں عرب کے مورخین نے نقل کی ہیں، انہیں پڑھ جائیے، کہیں آپ کو صالحؑ اور ہودؑ کی تعلیمات کا نشان نہ ملے گا۔ انہیں یہودیوں اور عیسائیوں کے واسطے سے انبیائے بنی اسرائیل کی کہانیاں بھی پہنچی تھیں، مگر وہ جیسی کچھ تھیں ان کا اندازہ کرنے کے لیے صرف ایک نظر ان اسرائیلی روایات پر ڈال لینا کافی ہے جو مفسرین اسلام نے نقل کی ہیں۔ آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ اہل عرب اور خود بنی اسرائیل جن انبیاء سے واقف تھے وہ کیسے انسان تھے اور نبوت کے متعلق ان لوگوں کا تصور کس قدر گھٹیا درجہ کا تھا۔

ایسے زمانہ میں ایسے ملک میں ایک شخص پیدا ہوتا ہے۔ بچپن ہی میں ماں باپ اور دادا کا سایہ اس کے سر سے اٹھ جاتا ہے اس لیے اس بے کسی کی حالت میں ایک عرب بچے کو جو تھوڑی

صفحہ 58

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ سبحانی کراچی

بہت تربیت مل سکتی تھی وہ بھی اسے نہیں ملتی۔ ہوش سنبھالتا ہے تو بدوی لڑکوں کے ساتھ بکریاں چرانے لگتا ہے۔ جوان ہوتا ہے تو سوداگری میں لگ جاتا ہے، اٹھنا بیٹھنا، ملنا جلنا سب کچھ انہی عربوں کے ساتھ ہے جن کا حال اوپر آپ نے دیکھ لیا۔ تعلیم کا نام تک نہیں، حتیٰ کہ پڑھنا لکھنا تک نہیں آیا کسی عالم کی صحبت میسر نہ ہوئی کہ ”عالم“ کا وجود اس وقت تمام عرب میں کہیں نہ تھا۔ چند مرتبہ اسے عرب سے باہر قدم نکالنے کا اتفاق ضرور ہوا مگر یہ سفر صرف شام کے علاقے تک تھے اور ویسے ہی تجارتی سفر تھے جیسے اس زمانہ میں عرب کے تجارتی قافلے کیا کرتے تھے۔ بالفرض اگر ان اسفار کے دوران میں اس نے کچھ آثار علم و تہذیب کا مشاہدہ کیا اور کچھ اہل علم سے ملاقات کا اتفاق بھی ہوا تو ظاہر ہے کہ ایسے منتشر مشاہدات اور ایسی ہنگامی ملاقاتوں سے کسی انسان کی سیرت نہیں بن جاتی ان کا اثر کسی شخص پر اتنا زبردست نہیں ہوسکتا کہ وہ اپنے ماحول سے بالکل آزاد، بالکل مختلف اور اتنا بلند ہو جائے کہ اس میں اور اس کے ماحول میں کچھ نسبت ہی نہ رہے۔ ان سے ایسا علم حاصل ہونا ممکن نہیں ہے جو ایک ان پڑھ بدوی کو ایک ملک کا نہیں، تمام دنیا کا اور ایک زمانہ کا نہیں، تمام زمانوں کا لیڈر بنا دے۔ اگر کسی درجہ میں اس نے باہر کے لوگوں سے علمی استفادہ کیا بھی ہو تو جو معلومات اس وقت دنیا میں کسی کو حاصل ہی نہ تھیں، مذہب، اخلاق تہذیب و تمدن کے جو تصورات اور اصول اس وقت دنیا میں کہیں موجود ہی نہ تھے، انسانی سیرت کے جو نمونے اس وقت کہیں پائے ہی نہیں جاتے تھے، ان کے حصول کا کوئی ذریعہ نہیں ہو سکتا تھا۔

صرف عرب ہی کا نہیں تمام دنیا کا ماحول پیش نظر رکھیے اور دیکھیے۔ یہ شخص جن لوگوں میں پیدا ہوا، جن میں بچپن گزرا، جن کے ساتھ پل کر جوان ہوا، جن سے اس کا میل جول رہا، جن سے اس کے معاملات رہے، ابتداء ہی سے عادات میں، اخلاق میں، وہ ان سب سے مختلف نظر آتا ہے۔ وہ کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔ اس کی صداقت پر اس کی ساری قوم گواہی دیتی ہے۔ اس کے کسی بدترین دشمن نے بھی کبھی اس پر الزام نہیں لگایا کہ اس نے فلاں موقع پر جھوٹ بولا تھا۔ وہ کسی سے بدکلامی نہیں کرتا۔ کسی نے اس کی زبان سے کبھی گالی یا کوئی فحش بات نہیں سنی۔ وہ لوگوں سے ہر قسم کے معاملات کرتا ہے مگر کبھی کسی سے تل

صفحہ 59

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ سبحانی کراچی

ملتا ہے گرویدہ ہو جاتا ہے۔ وہ کسی سے بد معاملگی نہیں کرتا۔ کسی کی حق تلفی نہیں کرتا۔ برسوں سوداگری کا پیشہ کرنے کے باوجود کسی کا ایک پیسہ بھی ناجائز طریقہ سے نہیں لیتا۔ جن لوگوں سے اس کے معاملات پیش آتے ہیں وہ سب اس کی ایمان داری پر کامل بھروسا رکھتے ہیں۔ ساری قوم اسے ”امین“ کہتی ہے۔ دشمن تک اس کے پاس اپنے قیمتی مال رکھواتے ہیں اور وہ ان کی بھی حفاظت کرتا ہے۔ بے حیا لوگوں کے درمیان وہ ایسا حیا دار ہے کہ ہوش سنبھالنے کے بعد کسی نے اسے برہنہ نہیں دیکھا۔ بد اخلاقوں کے درمیان وہ ایسا پاکیزہ اخلاق ہے کہ کبھی کسی بدکاری میں مبتلا نہیں ہوتا شراب اور جوئے کو ہاتھ تک نہیں لگاتا۔ ناشائستہ لوگوں کے درمیان وہ ایسا شائستہ ہے کہ ہر بد تمیزی اور گندگی سے نفرت کرتا ہے اور اس کے ہر کام میں ستھرائی اور پاکیزگی پائی جاتی ہے سنگ دلوں کے درمیان وہ ایسا نرم دل ہے کہ ہر ایک کے دکھ درد میں شریک ہوتا ہے۔ یتیموں اور بیواؤں کی مدد کرتا ہے، مسافروں کی میزبانی کرتا ہے کسی کو اس سے دکھ نہیں پہنچتا اور وہ دوسروں کی خاطر دکھ اٹھاتا ہے۔ وحشیوں کے درمیان وہ ایسا صلح پسند ہے کہ اپنی قوم میں فساد اور خوں ریزی کی گرم بازاری دیکھ کر اسے اذیت ہوتی ہے، اپنے قبیلہ کی لڑائیوں سے دامن بچاتا ہے اور مصالحت کی کوششوں میں پیش پیش

صفحہ 60

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 60 ماہنامہ سبحانی کراچی

پہاڑوں کی صحبت میں جا جا کر بیٹھنے لگتا ہے۔ تنہائی اور سکون کے عالم میں کئی کئی دن گزارتا ہے۔ روزے رکھ رکھ کر اپنی روح اور اپنے دل و دماغ کو اور زیادہ پاک صاف کرتا ہے۔ سوچتا ہے، غور و فکر کرتا ہے، کوئی ایسی روشنی ڈھونڈتا ہے جس سے وہ اس

صفحہ 61

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

نسب پوچھا جائے گا۔ وہاں صرف ایمان اور نیک عمل کی پوچھ ہوگی۔ جس کے پاس یہ سامان ہوگا، وہ جنت میں جائے گا اور جس کے پاس ان میں سے کچھ بھی نہ ہوگا وہ نامراد دوزخ میں ڈالا جائے گا۔

یہ تھا وہ پیغام جسے لے کر وہ غار سے نکلا۔

جاہل قوم اس کی دشمن ہو جاتی ہے۔ گالیاں دیتی ہے، پتھر مارتی ہے، ایک دن دو دن نہیں اکٹھے تیرہ برس تک اس پر سخت سے سخت ظلم توڑتی ہے۔ یہاں تک کہ اسے وطن سے نکال باہر کرتی ہے اور پھر نکالنے پر بھی دم نہیں لیتی، جہاں وہ جاکر پناہ لیتا ہے، وہاں بھی اسے ہر طرح ستاتی ہے۔ تمام عرب کو اس کے خلاف ابھار دیتی ہے اور کامل آٹھ برس اس کے خلاف برسر پیکار رہتی ہے۔ وہ ان سب تکلیفوں کو سہتا ہے مگر اپنی بات سے نہیں ٹلتا۔

یہ قوم اس کی دشمن کیوں ہوئی، کیا زر اور زمین کا کوئی جھگڑا تھا؟ کیا خون کا کوئی دعویٰ تھا؟ کیا وہ ان سے دنیا کی کوئی چیز مانگ رہا تھا؟ نہیں ساری دشمنی صرف اسی بات پر تھی کہ وہ ایک خدا کی بندگی اور پرہیزگاری اور نیکوکاری کی تعلیم کیوں دیتا ہے، بت پرستی، شرک اور بدعملی کے خلاف تبلیغ کیوں کرتا ہے

صفحہ 62

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 62 ماہنامہ سبحانی کراچی

اذیتوں میں مبتلا ہونا اور کامل ۲۱ سال مبتلا رہنا بھی گوارا کر سکتا ہو؟ غور کرو! کیا نیک نفسی، ایثار اور ہم دردی بنی نوع کا اس سے بھی بلند تر کوئی مرتبہ تمہارے تصور میں آسکتا ہے کہ کوئی شخص اپنے کسی فائدے کی خاطر نہیں، دوسروں کے بھلے کی خاطر تکلیفیں اٹھائے؟ جن کی بھلائی اور بہتری کے لیے وہ کوشش کرتا ہے وہی اسے پتھر ماریں، گالیاں دیں، گھر سے بے گھر کر دیں، غریب الوطنی میں بھی اس کا پیچھا نہ چھوڑیں اور ان سب باتوں پر بھی وہ ان کا بھلا چاہنے سے باز نہ آئے۔

پھر دیکھو! کیا کوئی جھوٹا شخص کسی بے اصل بات کے پیچھے ایسی مصیبتیں برداشت کر سکتا ہے؟ کیا کوئی تیر تکے لڑانے والا انسان محض گمان اور قیاس سے کوئی بات کہہ کر اس پر اتنا جم سکتا ہے؟ کہ مصیبتوں کے پہاڑ اس پر ٹوٹ جائیں، زمین اس پر تنگ کر دی جائے، تمام ملک اس کے خلاف اٹھ کھڑا ہو، بڑی بڑی فوجیں اس پر امنڈ امنڈ کر آئیں، مگر وہ اپنی بات سے یک سرمو ہٹنے پر آمادہ نہ ہو؟ یہ استقامت یہ عزم اور یہ ثبات خود گواہی دے رہا ہے کہ اسے اپنی صداقت پر یقین اور کامل یقین تھا۔ اگر اس کے دل میں شک اور شبہ کا ادنیٰ شائبہ بھی ہوتا تو وہ مسلسل ۲۱ سال تک مصائب کے ان پے در پے طوفانوں کے مقابلہ میں کبھی نہ ٹھہر سکتا۔

یہ تو اس شخص کے انقلاب حال کا ایک پہلو تھا، دوسرا پہلو اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز ہے: چالیس برس کی عمر تک وہ ایک

صفحہ 63

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 63 ماہنامہ سبحانی کراچی

اب وہ ایک حیرت انگیز کلام سنا رہا تھا جسے سن کر سارا عرب مبہوت ہو گیا۔ اس کلام کی شدت تاثیر کا یہ حال تھا کہ اس کے کٹر دشمن بھی اسے سنتے ہوئے ڈرتے تھے کہ کہیں یہ دل میں اتر نہ جائے۔ اس کی فصاحت و بلاغت اور زور بیان کا یہ عالم تھا کہ تمام قوم عرب کو ’’جس میں بڑے بڑے شاعر، خطیب اور زبان آوری کی مدعی موجود تھے‘‘ اس نے چیلنج دیا اور بار بار چیلنج دیا کہ تم سب مل کر ایک ہی سورۃ اس کے مانند بنالاؤ مگر کوئی اس کے مقابلے کی جرأت نہ کرسکا۔ ایسا بے مثل کلام کبھی عرب کے کانوں نے سنا ہی نہ تھا۔

اب یکا یک وہ ایک بے مثل حکیم، ایک لاجواب مصلح اخلاق و تمدن ایک حیرت انگیز ماہر سیاست، ایک زبردست مقنن، ایک اعلیٰ درجہ کا جج، ایک بے نظیر سپہ سالار بن کر ظاہر ہوا۔ اس اَن پڑھ صحرانشین نے حکمت اور دانائی کی وہ باتیں کہنا شروع کر دیں جو نہ اس سے پہلے کسی نے کہی تھیں، نہ اس کے بعد کوئی کہہ سکا۔ وہ امی الٰہیات کے عظیم الشان مسائل پر فیصلہ کن تقریریں کرنے لگا۔ تاریخ اقوام سے عروج و زوال امم کے فلسفہ پر لیکچر دینے لگا۔ پرانے مصلحین کے کارناموں پر تبصرے اور مذاہب عالم پر تنقید اور اختلافات اقوام کے فیصلے کرنے لگا۔ اخلاق اور تہذیب اور شائستگی کا درس دینے لگا۔

اس نے معاشرت، معیشت، اجتماعی معاملات اور بین الاقوامی تعلقات کے متعلق قوانین بنانا شروع کر دیے اور ایسے قوانین بنائے کہ بڑے بڑے علماء اور عقلاء غور و خوض اور عمر بھر کے تجربات کے بعد بمشکل ان کی حکمتوں کو سمجھ سکتے ہیں اور دنیا کے تجربات جتنے بڑھتے جاتے ہیں، ان کی حکمتیں اور زیادہ کھلتی جاتی ہیں۔

وہ خاموش پُر امن سوداگر، جس نے تمام عمر کبھی تلوار نہ چلائی تھی، کبھی کوئی فوجی تربیت نہ پائی تھی، حتیٰ کہ جو عمر بھر میں صرف ایک مرتبہ ایک لڑائی میں محض ایک تماشائی کی حیثیت سے شریک ہوا تھا، دیکھتے دیکھتے وہ ایک ایسا بہادر سپاہی بن گیا جس کا قدم سخت سے سخت معرکوں میں بھی اپنے مقام سے ایک انچ نہ ہٹا۔ ایسا زبردست جنرل بن گیا جس نے ۹ سال کے اندر تمام ملک عرب کو فتح کر لیا۔ ایسا حیرت انگیز ملٹری لیڈر بن گیا کہ اس کی پیدا کی ہوئی فوجی تنظیم اور جنگی روح کے اثر سے بے سر و سامان عربوں نے چند سال میں دنیا کی دو عظیم الشان فوجی طاقتوں کو الٹ کر رکھ دیا۔

صفحہ 64

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

وہ الگ تھلگ رہنے والا سکون پسند انسان، جس کے اندر کسی نے چالیس برس تک سیاسی دل چسپی کی بُو بھی نہ پائی تھی، یکا یک اتنا زبردست ریفارمر اور مدبر بن کر ظاہر ہوا کہ ۲۳ سال کے اندر اس نے ۱۲ لاکھ مربع میل میں پھیلے ہوئے ریگستان کے منتشر، جنگ جو، جاہل، سرکش، غیر متمدن اور ہمیشہ آپس میں لڑنے والے قبائل کو، ریل، تار اور ریڈیو اور پریس

صفحہ 65

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

خدمت کرتا تھا، ایک مزدور کی طرح کام کرنے میں بھی اسے تامل نہ تھا۔ آخر وقت تک اس کے اندر شاہانہ تمکنت اور امیرانہ ترفع اور بڑے آدمیوں کے سے تکبر کی ذرا سی بُو بھی پیدا نہ ہوئی۔ وہ ایک عام آدمی کی طرح لوگوں سے ملتا تھا۔ ان کے دکھ درد میں شریک ہوتا تھا، عوام کے درمیان اس طرح بیٹھتا تھا کہ اجنبی آدمی کو یہ معلوم کرنا مشکل ہوتا تھا کہ اس محفل میں قوم کا سردار اور ملک کا بادشاہ کون ہے۔

اتنا بڑا آدمی ہونے کے باوجود چھوٹے سے چھوٹے آدمی کے ساتھ بھی ایسا برتاؤ کرتا تھا کہ گویا وہ اسی جیسا ایک انسان ہے، تمام عمر کی جدوجہد میں اس نے اپنی ذات کے لیے کچھ بھی نہ چھوڑا۔ اپنا پورا ترکہ اپنی قوم پر وقف کر دیا۔ اپنے پیروؤں پر اس نے اپنے یا اپنی اولاد کے کچھ بھی حقوق قائم نہ کیے۔ حتیٰ کہ اپنی اولاد کو زکوٰۃ لینے کے حق سے بھی محروم کر دیا محض اس خوف سے کہ کہیں آگے چل کر اس کے پیرو اس کی اولاد ہی کو ساری زکوٰۃ نہ دینے لگ جائیں۔

ابھی اس عظیم الشان آدمی کے کمالات کی فہرست ختم نہیں ہوئی۔ اس کے مرتبے کا صحیح اندازہ کرنے کے لیے آپ کو تاریخ عالم میں بحیثیت مجموعی ایک نظر ڈالنی چاہیے۔ آپ دیکھیں گے کہ صحرائے عرب کا یہ اَن پڑھ بادیہ نشین، جو چودہ سو برس پہلے اس تاریک دور میں پیدا ہوا تھا دراصل دورِ جدید کا بانی اور تمام دنیا کا لیڈر ہے، وہ نہ صرف ان کا لیڈر ہے جو اسے لیڈر مانتے ہیں، بلکہ ان کا بھی لیڈر ہے جو اسے نہیں مانتے۔ انہیں اس امر کا احساس تک نہیں کہ جس کے خلاف وہ زبان کھولتے ہیں اس کی راہ نُمائی کس طرح ان کے خیالات میں، ان کے اصولِ حیات اور قوانینِ عمل میں اور ان کے عصرِ جدید کی روح میں پیوست ہو گئی ہے۔

یہی شخص ہے جس نے دنیا کے تصورات کا رُخ، وہمیت، عجائب پرستی اور رہبانیت کی طرف سے ہٹا کر عقلیت، حقیقت پسندی اور متقیانہ دنیا داری کی طرف پھیر دیا۔ اسی نے محسوس معجزے مانگنے والی دنیا میں عقلی معجزوں کو سمجھنے اور انہی کو معیارِ صداقت ماننے کا مذاق پیدا کیا۔ اسی نے خرقِ عادات میں خدا کی خدائی کے آثار ڈھونڈنے والوں کی آنکھیں کھولیں اور انہیں آثارِ فطرت (Natural Phenomena) میں خدا کی نشانیاں دیکھنے کا خوگر بنایا۔ اسی نے خیالی گھوڑے دوڑانے والوں کو قیاس آرائی (Specultion) سے ہٹا کر تعقل، تفکر، مشاہدہ اور تحقیق کے راستے پر لگایا۔ اسی نے عقل، حس اور وجدان کے امتیازی

صفحہ 66

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 66 ماہنامہ مسیحائی کراچی

حدود انسان کو بتائے۔ مادیت اور روحانیت میں مناسبت پیدا کی، دین سے علم و عمل کا ربط قائم کیا، مذہب کی طاقت سے دنیا میں سائنٹفک اسپرٹ پیدا کی۔ اسی نے شرک اور مخلوق پرستی کی بنیادوں کو اکھاڑا اور علم کی طاقت سے توحید کا اعتقاد ایسی مضبوطی کے ساتھ قائم کیا کہ مشرکوں اور بت پرستوں کے مذہب بھی وحدانیت کا رنگ اختیار کرنے پر مجبور ہو گئے اسی نے اخلاق اور روحانیت کے بنیادی تصورات کو بدلا۔ جو لوگ ترک دنیا اور نفس کشی کو عین اخلاق سمجھتے تھے جن کے نزدیک نفس و جسم کے حقوق ادا کرنے اور دنیوی زندگی کے معاملات میں حصہ لینے کے ساتھ روحانی ترقی اور نجات ممکن ہی نہ تھی، انہیں اسی نے تمدن، سماج اور دنیوی عمل کے اندر فضیلت، اخلاق، ارتقائے روحانی اور حصول نجات کا راستہ دکھایا۔ پھر وہی ہے جس نے انسان کو اس کی حقیقی قدر و قیمت سے آگاہ کیا، جو لوگ بھگوان، اوتار اور ابن اللہ کے سوا کسی کو ہادی و راہ نما تسلیم کرنے پر تیار نہ تھے، انہیں اسی نے بتایا کہ انسان اور تمہارے جیسا انسان آسمانی بادشاہت کا نمائندہ اور خداوند عالم کا خلیفہ ہو سکتا ہے، جو لوگ ہر طاقت ور انسان کو اپنا خدا بناتے تھے انہیں اسی نے سمجھایا کہ انسان بجز انسان کے اور کچھ نہیں، نہ کوئی شخص تقدس، حکم رانی اور آقائی کا پیدائشی حق لے کر آیا ہے اور نہ کسی پر ناپاکی، محکومیت اور غلامی کا پیدائشی داغ لگا ہوا ہے۔ اسی تعلیم نے دنیا میں وحدت

صفحہ 67

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 67 ماہنامہ مسیحائی کراچی

خاموشی کے ساتھ جاری ہے۔ جنگ اور صلح اور بین الاقوامی تعلقات کی تہذیب جس شخص نے عملاً دنیا میں قائم کی وہ دراصل یہی عرب کا امی ہے ورنہ پہلے دنیا اس سے ناواقف تھی کہ جنگ کی بھی کوئی تہذیب ہوسکتی ہے اور مختلف قوموں میں مشترک انسانیت کی بنیاد پر بھی معاملات ہونا ممکن ہے۔

انسانی تاریخ کے منظر میں اس حیرت انگیز انسان کی بلند و بالا شخصیت اتنی ابھری ہوئی نظر آتی ہے کہ ابتدا سے لے کر اب تک کے بڑے سے بڑے تاریخی انسان جنہیں دنیا اکابر (Heroes) میں شمار کرتی ہے، جب اس کے مقابلے میں لائے جاتے ہیں تو اس کے آگے بونے نظر آتے ہیں۔ دنیا کے اکابر میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جس کے کمال کی چمک دمک انسانی زندگی کے ایک دو شعبوں سے آگے بڑھ سکی ہو۔ کوئی نظریات کا بادشاہ ہے مگر عملی قوت نہیں رکھتا۔ کوئی محض فوجی ذہانت کا مظہر ہے۔ کسی کی نظر اجتماعی زندگی کے ایک پہلو پر اتنی زیادہ گہری ہے کہ دوسرے پہلو اوجھل ہوگئے ہیں۔ کسی نے اخلاق اور روحانیت کو لیا تو معیشت و سیاست کو بھلا دیا۔ کسی نے معیشت و سیاست کو لیا تو اخلاق و روحانیت کو نظر انداز کردیا۔ غرض تاریخ میں ہر طرف یک رخے ہیرو ہی نظر آتے ہیں مگر تنہا یہی ایک شخصیت ایسی ہے جس میں تمام کمالات جمع ہیں وہ خود ہی فلسفی اور حکیم بھی ہے اور خود ہی اپنے فلسفہ کو عملی زندگی میں نافذ کرنے والا بھی۔ وہ سیاسی مدبر بھی ہے، واضع قانون بھی ہے، معلم اخلاق بھی ہے، مذہبی اور روحانی پیشوا بھی ہے۔ اس کی نظر انسان کی پوری زندگی پر پھیلتی ہے اور چھوٹی سے چھوٹی تفصیلات تک جاتی ہے کھانے پینے کے آداب اور جسم کی صفائی کے طریقوں سے لے کر بین الاقوامی تعلقات تک ایک ایک چیز کے متعلق وہ احکام اور ہدایات دیتا ہے، اپنے نظریات کے مطابق ایک مستقل تہذیب (Civilisation) وجود میں لاکر دکھا دیتا ہے اور زندگی کے تمام مختلف پہلوؤں میں ایسا صحیح توازن قائم کرتا ہے کہ افراط و تفریط کا کہیں نشان تک نظر نہیں آتا، کیا کوئی دوسرا شخص اس جامعیت کا تمہاری نظر میں ہے؟

(Equilibrium) دنیا کی بڑی بڑی تاریخی شخصیتوں میں سے کوئی ایک بھی ایسی جو کم و بیش اپنے ماحول کی پیدا کردہ نہ ہو، مگر اس شخص کی شان سب سے نرالی ہے۔ اس کے بنانے میں اس کے ماحول کا کوئی حصہ نظر نہیں آتا اور نہ کسی دلیل سے یہ ثابت کیا جاسکتا ہے کہ عرب کا

صفحہ 68

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 68 ماہنامہ مسیحائی کراچی

سے الگ اور سب سے ممتاز وہ انسانیت کا ایسا راہ نما ہے جو تاریخ کے ساتھ حرکت (March) کرتا ہے اور ہر دور میں ویسا ہی جدید (Modern) نظر آتا ہے جیسا اس سے پہلے دور کے لیے تھا تم جن لوگوں کو فیاضی کے ساتھ ’تاریخ بنانے والے‘ (Makers of History) کا لقب دیتے ہو وہ حقیقت میں تاریخ کے بنائے ہوئے (Creatures of History) ہیں۔ دراصل تاریخ بنانے والا پوری انسانی تاریخ میں یہی ایک شخص ہے۔ دنیا کے جتنے لیڈروں نے تاریخ میں انقلاب برپا کیے ہیں ان حالات پر تحقیقی نگاہ ڈالو۔ تم دیکھو گے کہ ہر ایسے موقع پر پہلے سے انقلاب کے اسباب پیدا ہو رہے تھے وہ اسباب خود ہی اس انقلاب کا رخ اور راستہ بھی معین کر رہے تھے جس کے برپا ہونے کے وہ متقاضی تھے۔ انقلابی لیڈر نے صرف اتنا کیا کہ حالات کے اقتضا کو قوت سے فعل میں لانے کے لیے اس ایکٹر کا پارٹ ادا کر دیا جس کے لیے اسٹیج اور کام دونوں پہلے سے معین ہوں ۔ مگر تاریخ بنانے والوں یا انقلاب برپا کرنے والوں کی پوری جماعت میں یہ اکیلا شخص ہے کہ جہاں انقلاب کے اسباب موجود نہ تھے وہاں اس نے خود اسباب کو پیدا کیا، جہاں

صفحہ 69

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ سبحانی کراچی

ماحول اس وقت تاریخی طور پر ایسے ایک انسان کی پیدائش کا متقاضی تھا۔ بہت کھینچ تان کر تم جو کچھ کہہ سکتے ہو وہ اس سے زیادہ کچھ نہ ہوگا کہ تاریخی اسباب عرب میں ایک ایسے لیڈر کے ظہور کا تقاضا کرتے تھے جو قبائلی انتشار کو مٹا کر ایک قوم بناتا اور ممالک کو فتح کر کے عربوں کی معاشی فلاح و بہبود کا سامان کرتا ..... یعنی ایک نیشنلسٹ لیڈر جو اس وقت کی تمام عربی خصوصیات کا حامل ہوتا۔ ظلم، بے رحمی، خوں ریزی اور مکرو دغا، غرض ہر ممکن تدبیر سے اپنی قوم کو خوش حال بناتا اور ایک سلطنت پیدا کر کے اپنے پس ماندوں کے لیے چھوڑ جاتا۔ اس کے سوا اس وقت کی عربی تاریخ کا کوئی تقاضا تم ثابت نہیں کر سکتے۔ ہی

صفحہ 70

ماہنامہ مسیحائی کراچی 70 حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

کرنا چاہیے تھا اور اگر وہ ایسا دعویٰ کرتا تو وہ دنیا جس نے رام کو خدا بنا ڈالا ، جس نے کرشن کو بھگوان قرار دینے میں تامل نہ کیا، جس نے بودھ کو خود بخود معبود بنالیا، جس نے مسیح کو آپ اپنی مرضی سے ابن اللہ مان لیا، جس نے آگ، پانی اور ہوا تک کو پوج ڈالا، وہ ایسے زبردست باکمال شخص کو خدا مان لینے سے کبھی انکار نہ کرتی، مگر دیکھو، وہ خود کیا کہہ رہا ہے۔ وہ اپنے کمالات میں سے ایک کا کریڈٹ بھی خود نہیں لیتا۔ کہتا ہے کہ میں ایک انسان ہوں، تمہی جیسا انسان۔ میرے پاس کچھ بھی اپنا نہیں۔ سب کچھ خدا کا ہے اور خدا ہی کی طرف سے ہے۔ یہ کلام جس کی نظیر لانے سے تمام نوع انسانی عاجز ہے میرا کلام نہیں ہے۔ میرے دماغ کی قابلیت کا نتیجہ نہیں ہے، لفظ بلفظ خدا کی طرف سے میرے پاس آیا ہے اور اس کی تعریف خدا ہی کے لیے ہے۔ یہ کارنامے جو میں نے دکھائے یہ قوانین جو میں نے وضع کیے، یہ اصول جو میں نے تمہیں سکھائے ، ان میں سے کوئی چیز بھی میں نے خود نہیں گھڑی ہے۔ میں کچھ بھی اپنی ذاتی قابلیت سے پیش کرنے پر قادر نہیں ہوں۔ ہر ہر چیز میں خدا کی راہ نمائی کا محتاج ہوں، ادھر سے جو اشارہ ہوتا ہے، وہی کرتا ہوں اور وہی کہتا ہوں۔

دیکھو

صفحہ 71

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

قانون تحفظ ناموس رسالت ﷺ

ڈاکٹر اسرار احمد

مجھے، ایک صاحب کی طرف سے ایک رقعہ ملا تھا، جس میں توہین رسالت کے حوالے سے سوال کیا گیا تھا۔ اسے پڑھ کر فوری طور پر ۹۱ء میں بننے والا توہین رسالت کا قانون ذہن میں آیا، جس کے بارے میں نہ صرف اندرون ملک عیسائی اقلیت نے شدید احتجاج کیا بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی مغربی حکومتوں کی جانب سے تاحال احتجاج جاری ہے۔ مگر بعد ازاں، جب میں نے اس رقعے کو غور سے پڑھا تو اس میں زیر بحث موضوع سے ہٹ کر سوال کیا گیا تھا۔ رقعہ کی عبارت یہ ہے:

توہین رسالت کیا ہے؟ کیا حضور ﷺ کے ارشادات کی نفی توہین رسالت کے ضمن میں نہیں آتی؟ اگر آتی ہے تو کیا حکومت وقت سودی نظام جاری رکھ کر توہین رسالت کا ارتکاب نہیں کر رہی؟ حضور اکرم ﷺ نے اپنے آخری خطبہ حجۃ الوداع میں سود کو حرام قرار دیا ہے، اگر ہم اس نظام کے خلاف جدوجہد نہ کریں تو کیا ہم بھی توہین رسالت کا جرم کرنے والوں میں شامل نہ ہوں گے؟ اپنا موقف واضح طور پر سمجھا دیں۔

توہین رسالت کے قانون کے حوالے سے یہ مسئلہ کافی عرصہ زیر بحث رہا ہے، مگر میں نے اس مسئلہ پر کبھی گفتگو نہیں کی، تاہم میں اب اس کی تلافی کرتے ہوئے اس موضوع پر اپنے نقطہ نظر کو مرتب انداز میں واضح کر رہا ہوں۔ اس رقعے میں اٹھائے گئے استفسار کے پس منظر میں جو چیز مضمر ہے اسے سمجھنا ضروری ہے۔ ایک کفر حقیقی ہے اور دوسرا کفر قانونی، جس کے ارتکاب کے بعد کوئی شخص مرتد قرار پاتا ہے۔ کفر حقیقی کیا ہے؟ اسے بعض احادیث کی روشنی میں سمجھئے۔ حدیث کی رو سے جس شخص نے جان بوجھ کر نماز چھوڑ دی اس نے کفر کیا۔ لیکن اس فرمان نبوی ﷺ کا یہ مطلب نہیں کہ تارک نماز قانونی طور پر کافر ہو گیا۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے قرآن کی حرام کردہ کسی شے کو اپنے لیے

صفحہ 72

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

حلال ٹھہرا لیا، اس کا قرآن مجید پر کوئی ایمان نہیں۔ لیکن کیا اس کے یہ معنی ہیں کہ ایسا شخص مرتد ہو گیا؟ اسی طرح حضور اکرم ﷺ نے تین مرتبہ قسم کھا کر ارشاد فرمایا کہ اللہ کی قسم وہ شخص ایمان نہیں رکھتا۔ اس پر صحابہ کرامؓ نے پوچھا کہ کون اے اللہ کے رسول ﷺ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس کا پڑوسی اس کی ایذا رسانی سے چین میں نہیں ہے۔ پڑوسی کے ساتھ برا سلوک نہ شرک ہے، نہ کفر بلکہ یہ ایک اخلاقی برائی ہے، کج خلقی ہے۔ لیکن اس شخص کے رویے پر حضور ﷺ نے اس کے عدم ایمان کی تین دفعہ قسم کھائی۔ تو کیا ایسا شخص کافر ہے؟ یہ بڑا پیچیدہ اور مشکل مسئلہ تھا، جسے امام ابو حنیفہؒ نے اپنی کتاب الفقہ الاکبر میں بڑی عمدگی سے حل کیا ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ گناہ کبیرہ کا مرتکب کافر نہیں ہوتا۔ البتہ دین کی کسی بنیادی چیز کے انکار سے کفر لازم آتا ہے۔ جیسے نماز کا انکار کرنے سے انسان کافر ہو جاتا ہے، مگر تارک صلوٰۃ کافر نہیں ہوتا۔ محض کفر حقیقی کا مرتکب قانوناً مرتد نہیں ہوتا۔ البتہ گناہ گار ہوتا ہے۔ اسی حوالے سے صوفیاء کے حلقے میں ایک قول مشہور ہے جس سے اس معاملے کے انتہائی پہلو کی عکاسی ہوتی ہے کہ جو دم غافل سو دم کافر۔ گویا کفر حقیقی کی آخری حد یہ ہے کہ انسان کا جو سانس بھی غفلت میں گزرتا ہے، گویا ایک طرح کے کفر کی حالت میں گزرتا ہے۔ اسی طرح ایک شرک فی العقیدہ کا معاملہ ہے اور دوسرا شرک فی العمل ہے۔ ان دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اسی طرح کا معاملہ نفاق کا بھی ہے۔ ایک نفاق قلبی ہے اور دوسرا نفاق عملی یا فعلی ہے۔ یعنی ایک شخص جھوٹ بولتا ہے تو اس میں، ایک طرح کا نفاق موجود ہے لیکن آپ عقیدے کا نفاق نہیں کہہ سکتے۔ اسی طرح ناموس رسالت کی توہین کا معاملہ ہے۔ ایک توہین رسالت ظاہری اور قانونی ہے اور ایک حقیقی اور عملی ہے، اگرچہ اس میں نیت شامل نہیں ہوتی۔ چنانچہ حضور ﷺ کی سب سے بڑی توہین یہ ہے کہ آپ ﷺ کے احکام سے سرتابی کی جائے۔ آپ ﷺ کی نافرمانی بھی آپ ﷺ کی توہین ہی کے مترادف ہے۔ حضور اکرم ﷺ کے فرمان کو پس پشت ڈال کر من مانی کرنا اللہ تعالیٰ اور حضور اکرم ﷺ پر ایمان کے منافی ہے۔ لیکن اس کے باوجود قانونی اعتبار سے فرق و امتیاز اپنی جگہ موجود رہے گا۔ ایک معاملہ قابل دست اندازی پولیس جرم کا ہے، جب کہ بعض اخلاقی جرائم ہوتے تو بہت بڑے ہیں مگر یہ قانون کی زد میں نہیں آتے، جیسے غیبت

صفحہ 73

ماہنامہ مسیحائی کراچی لیکن کیا اس کے یہ معنی ہیں کہ ایسا شخص جو قسم کھا کر ارشاد فرمایا کہ اللہ کی قسم ! وہ تا کہ کون اسے اللہ کے رسول ﷺ؟ آپ ے چین میں نہیں ہے۔ پڑوسی کے ساتھ اتی ہے، کج خلقی ہے۔ لیکن اس شخص کے وقعہ قسم کھائی۔ تو کیا ایسا شخص کافر ہے؟ نے اپنی کتاب الفقہ الاکبر میں بڑی عمدگی کبیرہ کا مرتکب کافر نہیں ہوتا۔ البتہ دین جیسے نماز کا انکار کرنے سے انسان کافر حقیقی کا مرتکب قانوناً مرتد نہیں ہوتا۔ حلقے میں ایک قول مشہور ہے جس سے یکدم غافل سودم کافر۔ گویا کفر حقیقی کی یں گزرتا ہے، گویا ایک طرح کے کفر کی عقیدہ کا معاملہ ہے اور دوسرا شرک فی ۔ اسی طرح کا معاملہ نفاق کا بھی ہے۔ تا ایک شخص جھوٹ بولتا ہے تو اس میں، منافق نہیں کہہ سکتے ۔ اسی طرح ناموس مت ظاہری اور قانونی ہے اور ایک حقیقی توہین حضور ﷺ کی سب سے بڑی توہین آپ ﷺ کی نافرمانی بھی آپ ﷺ کی کو پس پشت ڈال کر من مانی کرنا اللہ اس کے باوجود قانونی اعتبار سے فرق ن اندازی پولیس جرم کا ہے، جب کہ ان کی زد میں نہیں آتے ، جیسے غیبت

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 73 ماہنامہ مسیحائی کراچی کا گناہ ہے۔ اخلاقی سطح پر جرم اور قانونی سطح پر جرم کے مابین فرق تو رہے گا۔ چنانچہ توہین رسالت ﷺ کا قانونی اطلاق صرف کسی ایسے قول، فعل یا ظاہر و باہر عمل پر ہوگا، جس سے حضور اکرم ﷺ کی توہین کا پہلو نکلتا ہو اور اس امر کے شواہد بھی موجود ہوں کہ ایسا بدنیتی سے کیا گیا ہے۔ غیر شعوری طور پر توہین رسالت ﷺ کا ارتکاب قابل معافی ہے، جو توبہ کرنے سے معاف ہو جائے گا۔ لیکن اگر شواہد سے یہ ثابت ہو جائے کہ کسی شخص کی طرف سے جان بوجھ کر اور شعوری طور پر اس کی تحریر و تقریر یا فعل کے ذریعہ توہین رسالت کا ارتکاب کیا گیا ہے تو ایسے شخص پر توہین رسالت ﷺ کے قانون کا یقیناً اطلاق ہوگا۔

جہاں تک حقیقی توہین رسالت کا تعلق ہے، پوری اُمت مسلمہ اسلامی نظام نافذ نہ کر کے توہین رسالت کے جرم کا ارتکاب کر رہی ہے۔ دنیا کا کون سا ایسا ملک ہے جس میں نظام مصطفیٰ ﷺ قائم ہے؟ اگرچہ سعودی عرب، ایران اور افغانستان میں چند اسلامی قوانین نافذ ہیں مگر اسلام کے نظام حیات کو کسی ایک ملک میں بھی نافذ نہ کرنا گویا حضور اکرم ﷺ کی توہین کے ارتکاب کے مترادف ہے۔ مزید اُمت کی عظیم اکثریت انفرادی سطح پر بھی اس جرم کی مرتکب ہو رہی ہے۔ البتہ کچھ لوگ ایسے ضرور موجود ہیں، جنہوں نے دین کو اپنے سینے سے لگا رکھا ہے اور حضور اکرم ﷺ کی سنتوں پر عمل پیرا ہیں۔

ذرا غور فرمائیے وہ مسلمان جو شیو بناتا ہے، وہ محمد رسول اللہ ﷺ کے ایک واضح حکم کی توہین کر رہا ہے۔ اس نے محض زمانے کے ایک فیشن یا طور چلن کی وجہ سے حضور ﷺ کے حکم اور عمل دونوں کو پس پشت ڈال رکھا ہے۔ داڑھی رکھنا تو تمام انبیاء علیہم السلام کی سنت ہے۔ خود حضور ﷺ کا واضح حکم ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: داڑھیاں بڑھاؤ اور مونچھیں پست کرو۔ داڑھی رکھنا سنت مؤکدہ ہے، جس کو ترک کرنا یقیناً آپ ﷺ کے حکم کی توہین ہے۔ لیکن یہ توہین عموماً شعور اور ارادہ کے ساتھ نہیں ہوتی۔ لہٰذا اسے عمل کی کوتاہی کا نام ہی دیا جاسکتا ہے۔

پاکستان میں توہین رسالت کے مرتکب لوگوں کو سزا دینے کے لیے قانون سازی کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے قانون تحفظ ناموس رسالت ﷺ کی منظوری کا باقاعدہ

صفحہ 74

ماہنامہ مسیحائی کراچی حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

مطالبہ ۱۹۸۳ء میں ہوا۔ لاہور میں مشتاق راج نامی وکیل نے انگریزی زبان میں Heavenly Communism نامی کتاب لکھی جس میں اس نے اللہ تعالیٰ، حضور ﷺ اور اسلامی شعائر کا مذاق اڑایا۔ اس کتاب پر پورے ملک میں زبردست احتجاج کیا گیا تو مجبوراً حکومت نے نقص امن کے خطرے کی وجہ سے اس وکیل کو دفعہ 295 (a) کے تحت گرفتار کر لیا۔ ۱۹۸۴ء میں وفاقی شرعی عدالت میں جناب اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ کی طرف سے شریعت پٹیشن دائر کی گئی جس میں کہا گیا کہ توہین رسالت ﷺ کو قابل گرفت جرم قرار دیا جائے اور اس کی سزا موت مقرر کی جائے۔ اس اہم مسئلے پر پورے ملک میں بحث و تمحیص شروع ہوگئی۔ اسی دوران انسانی حقوق کے حوالے سے شہرت حاصل کرنے والی ایڈووکیٹ مسماۃ عاصمہ جیلانی نے اپنی تقریر میں حضور ﷺ کے لیے نامناسب الفاظ استعمال کیے۔ اس خاتون نے ”اُمّی“ کے لیے ناخواندہ کا لفظ استعمال کیا جو یقیناً توہین آمیز ہے۔ ایک اور خاتون آپا نثار فاطمہ جو دین کی پرجوش مبلغہ اور اس وقت ایم این اے تھیں (محترمہ مولانا امین احسن اصلاحی مرحوم کی خواہر نسبتی بھی تھیں) انہوں نے ۱۹۸۷ء میں قومی اسمبلی میں باقاعدہ ایک بل (C) ۲۹۵ کے نام سے پیش کیا۔ اس بل کو قومی اسمبلی نے باقاعدہ بحث کے بعد منظور کرلیا۔ اس قانون کے مطابق توہین رسالت ﷺ کا قانون لاگو ہوگیا، جس کے خلاف بین الاقوامی سطح پر احتجاج کیا جارہا ہے۔ سابق امریکی صدر بل کلنٹن اور پوپ پال تک کو اس قانون سے پریشانی لاحق ہے۔ تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے قانون کی منظوری جناب اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ کا اصل کارنامہ ہے۔

اسی طرح کا معاملہ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا ہے۔ ۱۹۷۴ء میں اٹھنے والی ختم نبوت کی تحریک کے نتیجے میں اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اس قادیانی مسئلے کو نہایت عمدہ طریقے سے قومی اسمبلی کے ذریعے حل کرایا۔ اگرچہ اس سے قبل مختلف عدالتی کیسوں میں قادیانیوں کے خلاف کفر کے فیصلے ہوچکے تھے مگر اس معاملہ کو قانونی حیثیت قومی اسمبلی کے فیصلے کے ذریعے حاصل ہوئی۔ اسی طرح تحفظ ناموس رسالت ﷺ

صفحہ 75

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 75 ماہنامہ مسیحائی کراچی کا قانون وفاقی شرعی عدالت کی ہدایت پر قومی اسمبلی کے ذریعے نافذ العمل ہوا ہے۔ قانون تحفظ ناموس رسالت ﷺ کی حکمت کیا ہے اور یہ دنیا کی سمجھ میں کیوں نہیں آ رہا؟ اسے واضح کرنا ضروری ہے۔ بڑا اہم سوال ہے کہ پوری دنیا آخر اس قانون کو سمجھنے سے کیوں قاصر ہے؟ اسی طرح اسلام کا ایک قانون قتل مرتد کا ہے جو موجودہ دنیا کے حلق سے نیچے نہیں اترتا؟ دنیا میں سب سے مقبول عام تصورات میں سے ایک تصور آزادی کا ہے۔ یعنی ہر شخص کو آزادی حاصل ہونی چاہئے کہ وہ جو چاہے عقیدہ رکھے اور جب چاہے اپنے مذہب کو بدل لے، جب کہ اسلامی ریاست میں اسلام کو چھوڑ کر کوئی اور مذہب اختیار کرنے والے مرتد کی سزا قتل مقرر ہے۔ اسی طرح اظہار رائے کی آزادی کا معاملہ بھی ہے۔ ایک شخص اپنے مطالعہ اور غور و فکر سے جو بھی رائے پیش کرنا چاہے، اسے اس کی آزادی ہونی چاہئے۔ وہ اگر رشدی کی طرح پیغمبر ﷺ کی زندگی پر کیچڑ اچھالنا چاہے تو اسے اس کا بھی حق حاصل ہے۔ آج کی دنیا میں رائج ان نظریات کا اصل سبب کیا ہے؟

اسے جاننا ضروری ہے۔ دنیا میں یہ مقبول عام تصورات یہودیوں کی طویل جدوجہد کا نتیجہ ہیں۔ سیکولرزم کا نظریہ یہ ہے کہ دین اور ریاست دو الگ چیزیں ہیں۔ ریاست کا کوئی تعلق کسی بھی مذہب سے نہیں ہوگا۔ اگرچہ دنیا کی ہر ریاست کا ایک سرکاری مذہب تو ہوتا ہے مثلاً آج بھی سیکولرزم کا سب سے بڑا علمبردار امریکہ ہے، لیکن عیسائیت امریکہ کا سرکاری مذہب ہے۔ امریکہ میں ساری تعطیلات عیسائی مذہب کے حوالے سے ہی ہوتی ہیں، اگرچہ وہاں بھی قانون سازی کی سطح پر انجیل یا تورات کے کسی حکم سے ریاست امریکہ کو کوئی بحث و سروکار نہیں۔ سیکولرزم کے نظریات پر مبنی نظام گزشتہ دو سو برس سے دنیا میں رائج ہے، یہ خود بخود نافذ نہیں ہوا۔ خدا، رام اور GOD کو عبادت گاہوں تک محدود کر کے اور اسے ایوانِ حکومت اور ایوانِ عدالت سے دیس نکالا دے کر No Admission کا بورڈ لگا دیا گیا ہے۔ ملکی قانون کو قانون ساز اسمبلی کے ممبران کی اکثریت سے منظور کرالیا جاتا ہے اور عدلیہ بھی کسی آسمانی وحی کی قطعاً پابند نہیں ہوتی۔ گویا سیکولرزم کے تحت انسانی زندگی میں مذہب کی حیثیت محض ایک ضمیمے کی رہ گئی ہے، جبکہ انسان کی اجتماعی زندگی کا اصل نظام رائج الوقت سیکولر نظام کے تحت چل رہا ہے اور

صفحہ 76

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

سیاسی، معاشی اور معاشرتی نظام، دیوانی اور فوجداری قانون سب سیکولرازم کے تابع ہیں۔ گویا دنیا کا 99 فیصد نظام لادینیت پر چل رہا ہے۔ اجتماعی زندگی سے تمام مذاہب کے عمل دخل کو یکسر اور کلی طور پر ختم کردیا گیا ہے اور انہیں انفرادی زندگی تک محدود کردیا گیا ہے۔ اس صورتحال میں اگر مذہب کے چھوٹے سے دائرے اور گوشے میں تبدیلی بھی واقع ہوجائے تو آخر کون سا بڑا فرق واقع ہوجائے گا؟ کوئی شخص پہلے ہندو یا عیسائی تھا اور اب مسلمان ہوگیا تو اس سے ملک کے نظام میں تو کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔ لہٰذا سیکولرازم کے تحت مذہب تبدیل کرنے کی آزادی بھی دی جاتی ہے اور بانیان مذہب کی ذات پر ہر قسم کی ہرزہ سرائی کی بھی اجازت ہوتی ہے۔ عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو Son Of God قرار دیتے ہیں جبکہ یہودی انہیں Son Of Man قرار دیتے ہیں۔ گویا ہر ایک کو اظہار رائے کی آزادی حاصل ہے۔ یہ سب کچھ یہودی سازش کی کرشمہ سازی ہے۔ یہودی بہت چھوٹی سی قوم ہے، پوری دنیا میں یہود کی تعداد ۱۳ یا ۱۴ ملین سے کسی طرح بھی زائد نہیں ہے۔ جن میں سے ۳۵ لاکھ یہودی اسرائیل میں آباد ہیں۔ اتنی ہی تعداد میں یہودی امریکہ میں آباد ہیں، جبکہ باقی پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود وہ پوری دنیا کا کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اگر سیاست کا رشتہ مذہب سے برقرار رہے۔ تو یہود کو اپنے پیش نظر مقاصد میں کبھی کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی۔ اس صورت میں نہایت قلیل اقلیت کیا کرسکتی ہے؟ لہٰذا یہود نے سیاست اور مذہب کے باہمی رشتے کو منقطع کردیا، ۱۷۷۶ء میں جو آرڈر آف ایلومیناٹی تشکیل دیا گیا تھا، اس کا Insignia آج بھی ایک ڈالر نوٹ پر موجود ہے۔ یہود نے سیکولرزم کو دنیا میں بڑی طویل محنت کے بعد رائج کیا ہے۔ یہودی مذہب غیر تبلیغی مذہب ہے، وہ کسی دوسرے مذہب کے پیروکار کو یہودی بناتے ہی نہیں کیونکہ یہودیت نسل پر مبنی ہے۔ اس لیے ان کے لیے ضروری تھا کہ وہ عیسائیت میں تفریق پیدا کردیں۔ چنانچہ یہود نے عیسائیوں کو پروٹسٹنٹ اور کیتھولک میں تقسیم کردیا۔ اس تقسیم سے پہلے عیسائیوں کے عہد اقتدار میں سود کی مکمل ممانعت تھی لیکن پروٹسٹنٹ کے ذریعے یہودیوں نے سود کو جائز کروالیا۔ اس سودی نظام کی وجہ سے آج جس طرح پوری دنیا کی معیشت عالمی مالیاتی

صفحہ 77

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 77 ماہنامہ مسیحائی کراچی

اداروں کی گرفت میں ہے۔ اسی طرح ڈیڑھ صدی قبل یورپی ممالک کی معیشت پر یہودی گرفت مسلط ہوچکی تھی۔ علامہ اقبال نے اپنے سفر یورپ میں اسی صورتحال کا مشاہدہ کرنے کے بعد کہا تھا کہ ”فرنگ کی رگ جاں پنجۂ یہود میں ہے“۔ سیکولرزم کا نظریہ مذہب اور سیاست کی جدائی کا نام ہے۔

دیگر مذاہب کے برعکس اسلام صرف ایک مذہب نہیں بلکہ مکمل دین اور نظام زندگی ہے۔ لہٰذا کوئی بھی ایسی شے جو اس نظام کو نقصان پہنچاتی ہو، اس کا سدباب ضروری ہے۔ ارتداد کا مسئلہ کیا ہے؟ حضور اکرم ﷺ کی حیات طیبہ کے دوران مدینے کے یہود نے جب دیکھا کہ جو شخص ایک دفعہ حلقہ بگوش اسلام ہوجاتا ہے، پھر اس سے علیحدہ ہی نہیں ہوتا تو انہوں نے سوچا کوئی ایسی چال چلنی چاہئے جس سے اسلام کی دھاک اور ساکھ مجروح ہوجائے۔ چنانچہ بعض یہودی صبح اسلام لاتے اور شام کو مرتد ہوجاتے تاکہ لوگوں کو اسلام سے متنفر کیا جاسکے۔ اسلام اگر محض ایک مذہب ہوتا تو مسلمانوں کے لیے ترک اسلام کے راستے کو کھلا رکھنے سے کوئی فرق واقع نہ ہوتا، لیکن اسلام تو درحقیقت ایک مکمل ریاستی نظام بھی ہے، لہٰذا ارتداد کا فتنہ اسلامی ریاست کی جڑیں کھوکھلی کرنے کے لیے نہایت مؤثر ہتھیار ثابت ہوتا۔ چنانچہ اس فتنے کا سدباب کرنے کے لیے جو اپنا دین تبدیل کرے اسے قتل کر دو، کا حکم جاری کردیا گیا۔ پس اسلامی ریاست کی حدود میں کوئی مسلمان اگر مرتد ہوجاتا ہے تو وہ واجب القتل ہے۔ قتل مرتد کی سزا ان لوگوں کی سمجھ میں کیسے آئے جو مذہب اور ریاست کو جدا سمجھتے ہیں، جبکہ اسلامی ریاست کی بنیاد ہی مذہب ہے۔ لہٰذا مذہب سے بغاوت درحقیقت اسلامی ریاست سے بغاوت کے مترادف ہے۔ اسلامی ریاست ایک نظریاتی ریاست ہے۔ اگر ریاست کے نظریہ ہی کو کمزور کردیا جائے تو پھر خود ریاست ہی کی بنیاد ختم ہوجاتی ہے۔ اسلام کا نظام حیات، اس کا سارا قانونی ڈھانچہ رسالت ونبوت محمدی ﷺ پر استوار ہے۔ ایک شخص بہت پکا موحد بھی ہو اور اس کے اخلاق بھی اچھے ہوں، لیکن اگر وہ آپ ﷺ کی رسالت ونبوت کو تسلیم نہیں کرتا تو وہ عقیدۂ توحید کے باوجود غیرمسلم قرار پائے گا۔ کوئی شخص کتنا ہی متقی، عابد، زاہد اور پرہیزگار کیوں نہ ہو

بقیہ

صفحہ 78

ماہنامہ مسیحائی کراچی 78 حرمت رسول نمبر 2011ء

جب تک رسالت محمدی ﷺ کا قلادہ اس کی گردن میں نہیں ہوگا، وہ ہرگز مومن نہیں ہو سکتا۔ دین تو نام ہی محمد ﷺ کا ہے۔ شریعت کا سارا وجود ہی آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کی بنیاد پر قائم ہے۔ اسلام کا پورا نظام محمد ﷺ کی شخصیت کے گرد گھومتا ہے۔ اگر اس تعلق کو مجروح کر دیا جائے تو گویا اسلام کی پوری عمارت زمیں بوس ہو جاتی ہے۔ حضور اکرم ﷺ کے ساتھ ایک بندۂ مومن کے رشتے اور تعلق کے بارے میں فرمایا گیا کہ ان پر ایمان لاؤ، ان کی اطاعت کلی کرو اور تمام انسانوں سے بڑھ کر انہیں محبوب سمجھو۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ

ایک ہے محبت جس کا تعلق دل سے ہے جب کہ اطاعت کا تعلق عمل سے ہے جو نظر آتا ہے۔ ایک اور ضروری شے نبی اکرم ﷺ کا ادب و احترام ہے جسے قرآن مجید میں مختلف مقامات پر مختلف اسالیب میں بیان کیا گیا ہے۔

اسلامی ریاست یا اسلامی معاشرے کی دو بنیادیں ہیں، ایک قانونی اور دوسری جذباتی۔ قانونی بنیاد کا تقاضا تو یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام سے سرتابی نہ کی جائے، ان سے تجاوز نہ کیا جائے۔ مسلمان فرد ہو یا ریاست دونوں قرآن و سنت کے دائرے کے اندر اندر آزاد ہیں، لیکن ان حدود سے تجاوز کی اجازت نہیں ہے۔ جبکہ حضور اکرم ﷺ کا ادب و احترام اسلام کے نظام معاشرت اور اسلامی تہذیب میں یک رنگی اور تسلسل کا ضامن ہے۔ اسلامی معاشرے کے استحکام کے لیے ایک ستون اگر دستوری و قانونی ہے دوسرا ستون حضور ﷺ کا ادب و احترام ہے آپ ﷺ کی اتباع کا جذبہ کمزور پڑ جائے تو اسلامی تہذیب کی بنیاد ختم ہو کر رہ جائے گی۔ اکبر کے وضع کردہ دین الٰہی کے اندر بھی یہی فتنہ مضمر تھا۔ اس وقت یہ نظریہ پیش کیا گیا تھا کہ دین کی اصل توحید ہی ہے، رسالت وغیرہ کی چنداں اہمیت نہیں ہے۔ چنانچہ اس سے امت محمد ﷺ کا تشخص ختم ہو رہا تھا۔ اس فتنے کی سرکوبی کے لیے مجدد الف ثانی کھڑے ہوئے۔

شیخ احمد سرہندی حضرت مجدد الف ثانی کے مکاتیب میں اتباع سنت پر جس قدر زور دیا گیا ہے، اس کا عام آدمی تصور بھی نہیں کر سکتا۔ اگر توہین رسالت ﷺ کا قانون موجود نہ ہو تو

صفحہ 79

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی اسلام اور پاکستان کے دشمنوں کو موقع مل جائے گا کہ وہ ہماری معاشرتی اور ملی زندگی کے جذباتی مرکز و محور کو منہدم کر دیں۔ اس سے مسلمانوں کی جمعیت کا شیرازہ بکھر کر رہ جائے گا۔ غیر مسلم قرار دیئے جانے کے باوجود قادیانی فتنے کا پوری طرح سدباب نہیں ہوسکا ہے اور یہ فتنہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ خفیہ طور پر اب بھی پاکستان میں مسلمانوں کو قادیانی بنایا جارہا ہے۔ پوری دنیا میں قادیانی اُمت کا بول بالا ہے۔ قادیانی جماعت کے سربراہ کے خطبات سیٹلائیٹ پر نشر ہورہے ہیں۔ یہ سب کچھ اس لیے ہو رہا ہے کہ ہم پاکستان میں Half Way تو چلے گئے کہ ہم نے انہیں غیر مسلم قرار دے دیا مگر اس فتنے کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے قتل مرتد کی سزا نافذ نہیں کی۔ قتل مرتد کے قانون کے نفاذ کے بعد جو مسلمان قادیانی ہوگا تو وہ مرتد شمار کیا جائے اور مرتد کی سزا قتل ہے۔ جب تک کہ قتل مرتد کی سزا کا نفاذ نہیں کیا جاتا، اس وقت تک قادیانی فتنے کا سدباب نہیں ہو سکتا۔ غیر مسلم قرار دیئے جانے کے بعد قادیانی ٹولے نے مظلومیت کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے اور پوری دنیا میں انسانی حقوق کے حوالے سے انہوں نے اپنے لیے ہمدردی حاصل کر رکھی ہے کہ پاکستان میں ہمیں مسلم تسلیم نہیں کیا جاتا، ہمیں کلمہ پڑھنے سے روکا جاتا ہے، ہمیں مساجد کی تعمیر کی اجازت نہیں ہے۔ میں نے کئی مواقع پر مجلس عمل ختم نبوت کے ذمہ دار حضرات سے بھی کہا ہے کہ جب تک آپ قتل مرتد کا قانون منظور کروانے کے لیے مورچہ بند نہیں ہوں گے، اُس وقت تک قادیانی فتنے کو روکنا ناممکن ہے۔ جناب اسماعیل قریشی پوری ملت اسلامیہ کی طرف سے مبارکباد کے مستحق ہیں کہ ان کی کوششوں سے ملکی قانون میں توہین رسالت ﷺ کے جرم کے لیے سزائے موت نافذ کروادی۔ تو کیا توہین رسالت ﷺ کے قانون کی طرح پاکستان میں قتل مرتد کی سزا نافذ نہیں ہوسکتی؟ غالباً مجلس عمل ختم نبوت بھی عالمی فضا اور رجحان کے زیر اثر قتل مرتد کی سزا کے نفاذ کا مطالبہ کرنے کی جرأت نہیں کر رہی؟ پاکستان میں قانون تحفظ رسالت ﷺ کی جو مخالفت ہورہی ہے وہ بظاہر عیسائی کر رہے ہیں، مگر درحقیقت اس کے پس پردہ قادیانی لابی سرگرم عمل ہے۔ عالمی سطح پر بھی قادیانی متحرک ہیں۔ قادیانی عیسائیت کے

صفحہ 80

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 80 ماہنامہ مسیحائی کراچی

آلہ کار بن چکے ہیں اور عیسائیت یہود کی آلہ کار ہے۔ گویا توہین رسالت ﷺ کے قانون کی مخالفت اصل میں یہودی سازش ہے۔

قادیانی حضرت مسیح علیہ السلام کے بارے میں کہتے ہیں کہ آنجناب نے کشمیر میں آکر وفات پائی ہے اور کشمیر میں ان کی قبر بھی موجود ہے۔ گویا قادیانی حضرت مسیح علیہ السلام کے نہ تو رفع سماوی کے قائل ہیں اور نہ ان کی دوبارہ آمد کے۔ مرزا غلام احمد قادیانی اس بات کا مدعی تھا کہ خود میں مثیل مسیح ہوں۔ مرزا قادیانی کے مطابق حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ نہیں آئیں گے، بلکہ ان کی سی صفات رکھنے والا شخص آئے گا اور وہ میں ہی ہوں۔

اس حوالے سے دیکھئے کہ عقائد کے ضمن میں قادیانیوں کا عیسائیوں سے کس قدر بُعد ہے جبکہ اس حوالے سے مسلمانوں کا عیسائیوں سے بہت زیادہ قرب ہے۔ اگر اس کے باوجود وہ قادیانیوں کے آلہ کار بنیں تو یہ بہت افسوسناک بات ہے۔

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

حرمت رسول کریم ﷺ اور افراد اُمت

اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات وصفات کا صحیح طریقہ زندگی کی تعلیم و ہدایت کے لیے جو جس پر چل کر انسان اللہ تعالیٰ کی رضا اور العزت نے نبوت ورسالت کا سلسلہ بھی قائم کی ضرورت اور تقاضے کے مطابق نبی اور برگزیدہ بندے تھے اور اپنے اپنے وقت میں اللہ تعالیٰ کی سچی تعلیم تھی۔ الغرض قرآن مجید ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سب پیغمبروں پر خواہ وہ کسی تفریق ایمان لایا جائے ، سب کی سچائی اور پیغمبر ہونے کی حیثیت سے اپنے دور اور اپنے الاطاعت مانا جائے۔ اسی کے ساتھ قرآن ہو چکا ، اب دنیا کے اس دور کے لیے اللہ کے جو ہدایت و تعلیم لے کر آپ ﷺ تشریف ساری تعلیمات پر حاوی ہے جو عارضی اور مستند اور قابل اعتماد مجموعہ اب آپ ہی کی تعلیم لیے آپ ﷺ کا اتباع اللہ تعالیٰ کے سارے

صفحہ 81

ماہنامہ مسیحائی کراچی 81 حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

محبت رسول کریم اور افراد اشیاء کی آپﷺ سے نسبت کی عظمت

مولانا اعجاز احمد خان سکھراروی

اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات و صفات کا صحیح علم عام انسانوں تک پہنچانے کے لیے اور اس طریقۂ زندگی کی تعلیم و ہدایت کے لیے جو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لیے مقرر کیا ہے اور جس پر چل کر انسان اللہ تعالیٰ کی رضا اور حقیقی نجات و فلاح حاصل کر سکتا ہے۔ اس رب العزت نے نبوت و رسالت کا سلسلہ بھی قائم فرمایا اور ہر زمانہ اور دور دنیا کے ہر خطے میں اس کی ضرورت اور تقاضے کے مطابق نبی اور رسول بھیجے۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کے پیارے اور برگزیدہ بندے تھے اور اپنے اپنے وقت میں جو ہدایت و تعلیم انہوں نے دنیا کو دی وہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی سچی تعلیم تھی۔ الغرض قرآن مجید پورے زور اور اصرار کے ساتھ اس کی دعوت دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سب پیغمبروں پر خواہ وہ کسی زمانہ، کسی ملک اور کسی قوم میں آئے ہوں بلا تفریق ایمان لایا جائے، سب کی سچائی اور پاکبازی کی شہادت دی جائے اور اللہ تعالیٰ کا پیغمبر ہونے کی حیثیت سے اپنے دور اور اپنے اپنے دائرہ اور حلقہ میں سب کو واجب الاطاعت مانا جائے۔ اسی کے ساتھ قرآن مجید یہ بھی بتلاتا ہے کہ پہلے پیغمبروں کا دور ختم ہو چکا، اب دنیا کے اس دور کے لیے اللہ کے نبی و رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں۔

جو ہدایت و تعلیم لے کر آپ ﷺ تشریف لائے ہیں، وہ اگلے نبیوں اور رسولوں کی ان ساری تعلیمات پر حاوی ہے جو عارضی اور وقتی تھیں۔ بلکہ پچھلے پیغمبروں کی محکم تعلیمات کا مستند اور قابل اعتماد مجموعہ اب آپ ہی کی تعلیم اور آپ ہی کی لائی ہوئی کتاب مبین ہے، اس لیے آپ ﷺ کا اتباع اللہ تعالیٰ کے سارے پیغمبروں کا اتباع ہے اور آپ کا انکار سارے

صفحہ 82

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 82 ماہنامہ مسیحائی کراچی

نبیوں، رسولوں کا انکار ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول اکرم ﷺ جو جامع ہدایت وتعلیم لے کر آئے ہیں وہ تعلیم ایسی کامل ومکمل ہے کہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اب یہی کافی وافی ہے اور ہر قسم کی تحریف وملاوٹ کے اندیشے سے اس کی حفاظت کی ذمہ داری بھی اللہ رب العزت نے خود ہی سنبھال لی ہے۔

إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحٰفِظُوْنَ

(سورۃ الحجر آیت:9)

”ہم نے آپ پر اُتاری ہے یہ نصیحت اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں۔“

اور اسی لیے نبوت کے اس سلسلے کو جو ابتداء دنیا سے چلا آرہا تھا، اب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات پر ختم کر دیا اور یہ نبی عربی (ﷺ) نبی کامل ہونے کے ساتھ ساتھ آخری نبی ہیں اب دنیا میں آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی اور رسول نہیں آئے گا۔

چنانچہ سورۃ احزاب میں اعلان فرمایا گیا کہ سلسلۂ نبوت آپ ﷺ پر ختم کر دیا گیا۔ اب آپ کے بعد کوئی نبی نہیں بھیجا جائے گا۔ الغرض بعثت محمدی ﷺ کے بعد اس دنیا میں پیدا ہونے والے سارے انسانوں کے لیے اب آپ ﷺ ہی کی ہدایت وتعلیم حکم نامۂ اللہ ہے۔

وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ ؕ وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيْمًا

(سورۃ احزاب آیت نمبر 40)

”محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے خاتم بھی ہیں (اب ان کے بعد کوئی نبی دنیا میں نہیں بھیجا جائے گا) اور اللہ سب چیزوں کا پورا علم رکھتا ہے۔“

قرآن مجید میں فرمایا گیا کہ نبی ورسول کی اطاعت دراصل اللہ تعالیٰ ہی کی اطاعت ہے، کیوں کہ انبیاء ورسل جو احکام دیتے ہیں وہ اُن کے اپنے احکام نہیں ہوتے بلکہ اللہ کے احکام ہوتے ہیں جن کو وہ حضرات اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے بندوں کو پہنچاتے ہیں۔

مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ ج

(سورۃ النساء آیت:80)

جس نے (اللہ تعالیٰ کے) رسول ﷺ کی فرمانبرداری کی اس نے دراصل اللہ تعالیٰ کی

صفحہ 83

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

فرمانبرداری کی۔‘‘

اور جس طرح رسول اللہ ﷺ کی اطاعت، اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے اسی طرح رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی اور مخالفت دراصل اللہ کی نافرمانی اور اس کے خلاف بغاوت ہے۔

قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَمَنْ يُّشَاقِقِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهُ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ

(سورۂ انفال آیت: 13)

’’اور جس نے مخالفت کی اللہ کی اور اس کے رسول کی، تو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ کا عذاب بڑا سخت ہے۔

جو لوگ اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ کی بات نہیں مانیں گے اور ان پر ایمان نہیں لائیں گے ان کو آخرت میں سخت سزا دی جائے گی۔ قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَقُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ فَمَنْ شَآءَ فَلْيُؤْمِنْ وَمَنْ شَآءَ فَلْيَكْفُرْ اِنَّآ اَعْتَدْنَا لِلظَّالِمِيْنَ نَارًا اَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا وَاِنْ يَّسْتَغِيْثُوْا يُغَاثُوْا بِمَآءٍ كَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوْهَ بِئْسَ الشَّرَابُ وَسَآءَتْ مُرْتَفَقًا O

(سورۂ کہف آیت: 29)

’’اور اے رسول (ﷺ)! آپ کہہ دیجیے کہ یہ حق ہے تمہارے رب کی طرف سے، پس جس کا جی چاہے مانے اور ایمان لائے اور جس کا جی چاہے نہ مانے اور کفر و انکار پر ہی جما رہے، یقین رکھو ہم نے ایسے ظالموں کے لیے دوزخ کی آگ تیار کر رکھی ہے اس کی قناتیں انہیں گھیرے ہوئے ہیں اور جب وہ اس میں پڑ کر پیاس کی فریاد کریں گے تو اس کے جواب میں ان کو پانی دیا جائے گا (جو اپنی بدصورتی اور گھناؤنے پن میں) تیل کی گاد جیسا (ہوگا اور ایسا جلتا کھولتا ہوگا) کہ بھون ڈالے گا چہروں کو، کیا ہی بُرا پانی ہوگا اور بڑی بُری ”آرام گاہ“ ہے دوزخ۔‘‘

کفار و مشرکین نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی نافرمانی کی وجہ سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم کے عذاب میں گرفتار رہیں گے۔ چنانچہ سورۂ زخرف میں فرمایا گیا:

اِنَّ الْمُجْرِمِيْنَ فِيْ عَذَابِ جَهَنَّمَ خَالِدُوْنَ O لَا يُفَتَّرُ عَنْهُمْ وَهُمْ فِيْهِ

صفحہ 85

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

مُبْلِسُوْنَ O وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَلٰكِنْ كَانُوْا هُمُ الظّٰلِمِيْنَ O (سورۃ الزخرف

آیت: 74 تا 75)

”یقین رکھو کہ مجرمین (جنہوں نے کفر یا شرک کا جرم کیا) ہمیشہ کے عذاب میں رہیں گے، ان کا عذاب ہلکا بھی نہیں کیا جائے گا، اور وہ اسی میں مایوس پڑے رہیں گے اور یہ ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا لیکن یہ خود ہی ظالم ہیں (اور یہ ان کی ظالمانہ اور مجرمانہ حرکتوں کی سزا ہے)

جس طرح کفار و مشرکین ایمان قبول نہ کرنے کی پاداش میں آخرت کی سخت اور اذیت ناک سزا بھگتیں گے اسی طرح وہ کفار و مشرکین دنیا اور آخرت دونوں جگہ عبرت ناک انجام سے دوچار ہوں گے جنہوں نے رسول اکرم ﷺ کی عزت و حرمت کو پامال کیا، رسول اللہ ﷺ کو تکالیف پہنچائیں، آپ کا مذاق اڑایا، آپ ﷺ پر پتھراؤ کر کے آپ ﷺ کو لہولہان کیا، آپ ﷺ پر سب وشتم کیا اور آپ کو ذہنی اور جسمانی اذیتیں پہنچائیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان نامی گرامی، مالدار، طاقت ور، صاحب حیثیت وعزت لوگوں کو دنیا میں عبرت ناک سزا دی اور ذلت کی موت مارا، اس سلسلے میں اس دنیاوی عذاب ذلت سے ان کو نہ ان کے مال و دولت نے بچایا، نہ ان کی اولاد کام آئی اور نہ ان کی سرداری اور ناموری آڑے آئی۔ یہ تو دنیا کی سزا تھی اور آخرت کا عذاب تو اس سے بھی سخت ہے۔

رسول اکرم ﷺ کی حرمت کو پامال کرنے والوں میں مندرجہ ذیل کفار و مشرکین سب سے آگے تھے ان میں عمر بن ہشام، ابولہب بن عبدالمطلب، امیہ بن خلف جمحی، عقبہ بن ابی معیط، ولید بن مغیرہ، ابوقیس بن الفاکہ، نضر بن حارث، اسود بن عبد یغوث، عاص بن وائل سہمی، نبیہ و منبہ پسران حجاج۔

ابوجہل یعنی عمر بن ہشام:

یہ آپ ﷺ کی امت کا فرعون تھا جس نے آپ ﷺ کی دشمنی اور عداوت میں کوئی لمحہ نہیں چھوڑا۔ اس کا اصل نام ابوالحکم تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے ابوجہل لقب عطا فرمایا اور وہ آج تک اسی نام سے مشہور ہے۔ ابوجہل کہا کرتا تھا کہ میرا نام عزیز کریم ہے یعنی عزت والا

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

اور سردار۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

اِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّوْمِ O طَعَامُ الْاَثِيْمِ O كَغَلْيِ الْحَمِيْمِ O خُذُوْهُ فَاعْتِلُوْ فَوْقَ رَاْسِهٖ مِنْ عَذَابِ الْحَمِيْمِ O ذُقْ اِ هٰذَا مَا كُنْتُمْ بِهٖ تَمْتَرُوْنَ O (سورۃ الدخا

”تحقیق تھوہر کا درخت بڑے مجرم کا کھانا ہ اور فرشتوں کو حکم ہوگا کہ اس کو پکڑو۔ پھر گھسیٹتے ہوئ پھر اس کے سر پر گرم پانی چھوڑو اور اس سے کہو کہ یہ وہی ہے جس میں تم دھوکے میں پڑے ہوئ

ابوجہل غزوۂ بدر میں ذلت کے ساتھ دو نوجوا

ابولہب بن عبدالمطلب:

ابولہب کنیت تھی۔ اصل نام عبدالعزٰی بن عبد حقیقی چچا تھا، لیکن اپنے کفر و شقاوت کی وجہ سے حضو آپ کسی مجمع میں پیغام حق سناتے یہ بدبخت پتھر ل لہولہان ہو جاتے اور زبان سے کہتا کہ:

”لوگو! اس کی بات مت سنو، یہ شخص (معاذ الل کبھی کہتا کہ:

”محمد ہم سے اُن چیزوں کا وعدہ کرتے ہیں ج ہوتی نظر نہیں آتی۔“ پھر دونوں ہاتھوں سے خطاب کر کے کہتا:

تَبًّا لَّكُمَا مَا اَرىٰ فِيْكُمَا شَيْئًا مِّمَّا يَقُوْلُ

”تم دونوں ٹوٹ جاؤ کہ میں تمہارے اندر ای

صفحہ 85

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 85 ماہنامہ مسیحائی کراچی

اور سردار۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

إِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّوْمِ O طَعَامُ الْأَثِيْمِ ۙ كَالْمُهْلِ يَغْلِيْ فِي الْبُطُوْنِ O كَغَلْيِ الْحَمِيْمِ O خُذُوْهُ فَاعْتِلُوْهُ إِلَى سَوَاءِ الْجَحِيْمِ O ثُمَّ صُبُّوْا فَوْقَ رَأْسِهِ مِنْ عَذَابِ الْحَمِيْمِ O ذُقْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيْزُ الْكَرِيْمُ O إِنَّ هٰذَا مَا كُنْتُمْ بِهِ تَمْتَرُوْنَ O

(سورۃ الدخان آیت : 43 تا 50)

”تحقیق زقوم کا درخت بڑے مجرم کا کھانا ہوگا گرم پانی کی طرح پیٹ میں کھولے گا اور فرشتوں کو حکم ہوگا کہ اس کو پکڑو۔ پھر گھسیٹتے ہوئے ٹھیک بیچ جہنم کے لے کر اس کو ڈال دو پھر اس کے سر پر گرم پانی چھوڑو اور اس سے کہو کہ چکھ اس عذاب کو تو بڑا معزز ومکرم ہے۔ یہ وہی ہے جس میں تم دھوکے میں پڑے ہوئے ہو۔“

ابو جہل غزوہ بدر میں ذلت کے ساتھ دونو جوانوں کے ہاتھوں مارا گیا۔

(۸)

ابولہب بن عبدالمطلب:

ابولہب کنیت تھی۔ اصل نام عبدالعزّیٰ بن عبدالمطلب تھا۔ رشتہ میں رسول اللہ ﷺ کا حقیقی چچا تھا، لیکن اپنے کفر وشقاوت کی وجہ سے حضور اکرم ﷺ کا شدید ترین دشمن تھا۔ جب آپ کسی مجمع میں پیغامِ حق سناتے یہ بدبخت پتھر پھینکتا حتیٰ کہ آپ ﷺ کے پائے مبارک لہولہان ہوجاتے اور زبان سے کہتا کہ:

”لوگو! اس کی بات مت سنو، یہ شخص (معاذ اللہ ) جھوٹا بے دین ہے۔“

کبھی کہتا کہ:

”محمد ہم سے اُن چیزوں کا وعدہ کرتے ہیں جو مرنے کے بعد ملیں گی ہم کو تو وہ چیزیں ہوتی نظر نہیں آتیں۔“

پھر دونوں ہاتھوں سے خطاب کر کے کہتا:

تَبّاً لَّكُمَا مَا اَرٰى فِيْكُمَا شَيْئاً مِّمَّا يَقُوْلُ مُحَمَّدٌ

”تم دونوں ٹوٹ جاؤ کہ میں تمہارے اندر اس میں سے کوئی چیز نہیں دیکھتا جو محمد بیان

صفحہ 86

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 86 ماہنامہ مسیحائی کراچی

کرتا ہے۔“

ایک مرتبہ حضور اکرم ﷺ نے ”کوہ صفا“ پر چڑھ کر سب کو پکارا۔ آپ ﷺ کی آواز پر تمام لوگ جمع ہوگئے۔ آپ ﷺ نے نہایت موثر انداز میں اسلام کی دعوت دی۔ وہاں ابولہب بھی موجود تھا۔ بعض روایات میں ہے کہ ہاتھ جھٹک کر کہنے لگا:

تبا لک سائر الیوم الهذا جمعتنا

”یعنی تو برباد ہو جائے کیا ہم کو اسی بات کے لیے جمع کیا تھا۔

بعض سے نقل ہے کہ اس نے ہاتھوں میں پتھر اٹھایا کہ آپ کی طرف پھینکے۔ غرض اس کی شقاوت اور حق سے عداوت انتہا کو پہنچ چکی تھی۔

اس کے باوجود جب اللہ کے عذاب سے ڈرایا جاتا تو کہتا کہ:

”اگر سچ مچ یہ بات ہونے والی ہے تو میرے پاس مال واولاد بہت ہے ان سب کو فدیہ میں دے کر عذاب سے چھوٹ جاؤں گا۔“

اس کی بیوی ام جمیل کو بھی رسول کریم ﷺ سے بہت ضد تھی جو دشمنی کی آگ ابولہب بھڑکاتا یہ عورت (لگائی بجھائی کر کے) گویا لکڑیاں ڈال کر اس کو اور زیادہ تیز کرتی تھی۔

اللہ تعالیٰ نے سورۂ ابی لہب میں دونوں کا انجام بتلا کر متنبہ کیا ہے کہ مرد ہو یا عورت، اپنا ہو یا بیگانہ بڑا ہو یا چھوٹا، جو حق کی عداوت پر کمر باندھے گا وہ آخر کار ذلیل اور تباہ و برباد ہو کر رہے گا۔ پیغمبر کی قرابت قریبہ بھی اس کو تباہی سے نہ بچا سکے گی۔

یہ ابولہب کیا ہاتھ جھٹک کر باتیں بناتا اور اپنی قوت بازو پر مغرور ہو کر اللہ کے مقدس اور معصوم رسول ﷺ کی طرف دست درازی کرتا ہے۔ سمجھ لے کہ اب اس کے ہاتھ ٹوٹ چکے۔ اس کی سب کوششیں حق کو دبانے کی برباد ہو چکیں۔ اس کی سرداری ہمیشہ کے لیے مٹ گئی۔ اس کے اعمال اکارت ہوئے۔ اس کا بازو ٹوٹ گیا اور وہ تباہی کے گڑھے میں پہنچ چکا۔

چنانچہ غزوہ بدر کے سات روز بعد اس کے زہریلے قسم کا ایک دانہ نکلا، مرض لگ جانے کے خوف سے سب گھر والوں نے اسے الگ ڈال دیا وہیں مر گیا اور تین روز تک اس کی لاش

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

یونہی پڑی رہی کسی نے نہ اٹھائی۔ جب کردیوائی۔ انہوں نے ایک گڑھا کھود کر دیے۔ یہ تو دنیا کی رسوائی اور بربادی تھی اور آخر کا عذاب بہت بڑا ہے کاش وہ جان ہلاکت سے نہ بچاسکی۔

ابولہب کی بیوی ام جمیل باوجود مالدار لکڑیاں چن کر لاتی اور کانٹے حضور اکرم ﷺ اللہ علیہ وسلم اور آنے جانے والوں کو تکلیف عجیب بات یہ ہے کہ اس بدبخت کی مو رسی گلے میں آپڑی جس سے گلا گھٹ کر مر وہ جس طرح یہاں (دنیا میں) حق کی اپنے شوہر کی مددگار رہی دوزخ میں بھی و زقوم اور ضریع کی (جو جہنم کے خاردار درخ ذریعے سے اپنے شوہر پر عتاب الہی کی آگ

امیہ بن خلف جمحی:

امیہ آپ ﷺ کو علی الاعلان گالیاں دی مٹکاتا۔ اس پر یہ سورت نازل ہوئی۔

وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ o الَّ مَالَهُ أَخْلَدَهُ o كَلَّا لَيُنبَذَنَّ فِي الْحُ نَارُ اللَّهِ الْمُوقَدَةُ o الَّتِي تَطَّلِعُ عَ فِي عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ o

(محیط: 30)

”بڑی خرابی ہے ہر ایسے شخص کے لیے ج

صفحہ 87

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 87 ماہنامہ سبحانی کراچی

یونہی پڑی رہی کسی نے نہ اٹھائی۔ جب لاش سڑنے لگی تو اس وقت حبشی مزدوروں سے اٹھوا کر دبائی۔ انہوں نے ایک گڑھا کھود کر اس کو ایک لکڑی سے اندر دھکا دیا اوپر سے پتھر بھر دیے۔ یہ تو دنیا کی رسوائی اور بربادی تھی ”ولعذاب الآخرة اكبر لو كانوا يعلمون“ اور آخر کا عذاب بہت بڑا ہے کاش وہ جان لیتے۔ مال، اولاد، عزت و وجاہت کوئی چیز اس کو ہلاکت سے نہ بچا سکی۔

ابولہب کی بیوی ام جمیل باوجود مالدار ہونے کے سخت بخل اور خست کی بنا پر خود جنگل سے لکڑیاں چن کر لاتی اور کانٹے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ میں ڈال دیتی تاکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور آنے جانے والوں کو تکلیف پہنچے۔

عجیب بات یہ ہے کہ اس بد بخت کی موت بھی اسی طرح واقع ہوئی لکڑیوں کے گٹھے کی رسی گلے میں آ پڑی جس سے گلا گھٹ کر دم نکل گیا۔

وہ جس طرح یہاں (دنیا میں) حق کی دشمنی اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی ایذا رسانی میں اپنے شوہر کی مددگار رہی دوزخ میں بھی اسی ہیئت سے اس کے ہمراہ رہے گی۔ شاید وہاں زقوم اور ضریع کی (جو جہنم کے خاردار درخت ہیں) لکڑیاں اٹھائے پھرے۔ اور ان کے ذریعے سے اپنے شوہر پر عتاب الٰہی کی آگ کو تیز کرتی رہے۔

امیہ بن خلف جمحی:

امیہ آپ ﷺ کو علی الاعلان گالیاں دیتا اور جب آپ کے پاس سے گزرتا تو آنکھیں مٹکاتا۔ اس پر یہ سورت نازل ہوئی ۔

وَیْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ O الَّذِيْ جَمَعَ مَالًا وَّعَدَّدَهٗ O يَحْسَبُ اَنَّ مَالَهٗ اَخْلَدَهٗ O كَلَّا لَيُنْبَذَنَّ فِى الْحُطَمَةِ O وَمَا اَدْرٰىكَ مَا الْحُطَمَةُ O نَارُ اللّٰهِ الْمُوْقَدَةُ O الَّتِىْ تَطَّلِعُ عَلَى الْاَفْئِدَةِ O اِنَّهَا عَلَيْهِمْ مُّؤْصَدَةٌ O فِىْ عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ O (همزة: 30)

”بڑی خرابی ہے ہر ایسے شخص کے لیے جو پس پشت عیب نکالے اور روبرو طعن کرے۔

صفحہ 88

ماہنامہ سبحانی کراچی 88 حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

مال جمع کرتا ہو اور بار بار اس کو شمار کرتا ہو کیا اس کو یہ گمان ہے کہ اس کا مال ہمیشہ اس کے ساتھ رہے گا۔ ہرگز نہیں البتہ ضرور حطمہ میں ڈالا جائے گا اور تجھے معلوم بھی ہے کہ وہ حطمہ کیا چیز ہے۔ وہ حطمہ اللہ کی ایک دہکتی ہوئی آگ ہے جو دلوں پر چڑھ جائے گی تحقیق وہ آگ ان پر بند کر دی جائے گی اور آگ کے لمبے لمبے ستونوں میں جکڑ دیے جائیں گے۔“

امیہ بن خلف بھی جنگ بدر میں حضرت خبیب یا حضرت بلالؓ کے ہاتھ سے مارا گیا۔

ابی بن خلف :

ابی بن خلف بھی اپنے بھائی امیہ بن خلف کے قدم بقدم تھا، ایک روز ایک بوسیدہ ہڈی لے کر آپ ﷺ کے پاس آیا اور اس کو ہاتھ میں مل کر اور اس کی خاک کو ہوا میں اڑا کر کہنے لگا:

”کیا اللہ اس کو پھر دوبارہ زندہ کرے گا۔“

آپ ﷺ نے فرمایا ہاں اس کو اور تیری ہڈیوں کو ایسا ہی ہو جانے کے بعد اللہ پھر زندہ کرے گا اور تجھ کو آگ میں ڈالے گا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی:

وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّنَسِيَ خَلْقَهُط قَالَ مَنْ يُّحْيِ الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ O قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنْشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍط وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ O الَّذِي جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الشَّجَرِ الْأَخْضَرِ نَارًا فَإِذَا أَنْتُمْ مِّنْهُ تُوقِدُونَ O أَوَلَيْسَ الَّذِي خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضَ بِقٰدِرٍ عَلَى أَنْ يَّخْلُقَ مِثْلَهُمْط بَلَى وَهُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِيمُ O إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَنْ يَّقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ O فَسُبْحٰنَ الَّذِي بِيَدِهِ مَلَكُوتُ كُلِّ شَيْءٍ وَّإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ O

(سورہ یٰسٓ آیت: 78 تا 83)

”اور ہمارے لیے ایک مثال پیش کرتا ہے اور اپنی پیدائش کو بھول گیا اور کہنے لگا کہ ان پرانی ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا۔ آپ کہہ دیجیے کہ جس نے ان کو پہلی بار پیدا کیا اور وہ ہر مخلوق کو جاننے والا ہے۔ جس اللہ نے سبز درخت سے آگ پیدا کی پھر تم اس درخت سے آگ سلگاتے ہو۔ کیا جس اللہ نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ ان جیسے لوگوں کو دوبارہ پیدا کر سکے کیوں نہیں وہ تو بڑا خلاق اور علیم ہے۔ اس کی شان تو یہ ہے کہ جس چیز کے

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

پیدا کرنے کا ارادہ کرتا ہے اس کو کہتا ہے ہو جا کے ہاتھ میں ہر چیز کی بادشاہی ہے اور تم سب ا

ابی بن خلف جنگ احد میں رسول اللہ ﷺ

عقبہ ابن ابی معیط :

یہ عقبہ بن ابی معیط ، ابی بن خلف کا گہرا دوست آکر کچھ دیر بیٹھا اور آپ ﷺ کا کلام سنا۔ ابی ب اور کہا مجھ کو یہ خبر ملی ہے کہ تو محمد کے پاس جا کر بی محمد کے منہ پر جا کر نہ تھوک آئے اس وقت تک حرام ہے۔ چنانچہ بد نصیب عقبہ اٹھا اور جا کر چہرہ

وَيَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَى يَدَيْهِ يَقُولُ O يٰوَيْلَتَى لَيْتَنِي لَمْ أَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيلًا O نِي وَكَانَ الشَّيْطَانُ لِلْإِنْسَانِ خَذُولًا اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا O وَكَ الْمُجْرِمِينَط وَكَفَى بِرَبِّكَ هَادِيًا وَ

”اور اس دن کو یاد کرو کہ جس دن حسرت اور ن گا کہ کاش میں رسول کے ساتھ اپنی راہ بناتا اور کاش مجھ کو اللہ کی نصیحت سے گمراہ کیا اور رسول اللہ ﷺ اس قرآن (مجید) کو نظر انداز کر دیا تھا۔ اے ہما اسی طرح مجرمین میں سے دشمن پیدا کیے ہیں اور تیرا

عقبہ بن ابی معیط جنگ بدر میں اسیر ہوا اور مقام

ولید بن مغیرہ :

ولید بن مغیرہ یہ کہا کرتا تھا کہ بڑے تعجب کی بات

صفحہ 89

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 89 ماہنامہ مسیحائی کراچی

پیدا کرنے کا ارادہ کرتا ہے اس کو کہتا ہے ہو جا بس وہ ہو جاتی ہے۔ پس پاک ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی بادشاہی ہے اور تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ ابی بن خلف جنگ احد میں رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ سے مارا گیا۔ (۱۳)

عقبہ ابن ابی معیط :

یہ عقبہ بن ابی معیط ، ابی بن خلف کا گہرا دوست تھا۔ ایک روز عقبہ رسول کریم ﷺ کے پاس آکر کچھ دیر بیٹھا اور آپ ﷺ کا کلام سنا۔ ابی بن خلف کو جب خبر ہوئی تو فوراً عقبہ کے پاس آیا اور کہا مجھ کو یہ خبر ملی ہے کہ تو محمد کے پاس جاکر بیٹھا ہے اور ان کا کلام سنا ہے اللہ کی قسم جب تک محمد کے منہ پر جا کر نہ تھوک آئے اس وقت تک تجھ سے بات کرنا اور تیری صورت دیکھنا مجھ پر حرام ہے۔ چنانچہ بدنصیب عقبہ اٹھا اور جا کر چہرۂ انور پر تھوکا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی:

وَيَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى يَدَيْهِ يَقُوْلُ يٰلَيْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِيْلاً Oيٰوَيْلَتٰى لَيْتَنِیْ لَمْ اَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيْلاً Oلَقَدْ اَضَلَّنِیْ عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ اِذْ جَاءَ نِیْ وَكَانَ الشَّيْطٰنُ لِلْاِنْسَانِ خَذُوْلًا O وَقَالَ الرَّسُوْلُ يٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا هٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا O وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِيْنَ وَكَفٰى بِرَبِّكَ هَادِيًا وَّنَصِيْرًا O (سورۃ الفرقان آیت: 27 تا 31)

”اور اس دن کو یاد کرو کہ جس دن حسرت اور ندامت سے اپنے ہاتھ چبائے گا اور یہ کہے گا کہ کاش میں رسول کے ساتھ اپنی راہ بناتا اور کاش فلانے کو اپنا دوست نہ بناتا اس کمبخت نے مجھ کو اللہ کی نصیحت سے گمراہ کیا اور رسول اللہ ﷺ یہ کہیں گے کہ اے پروردگار میری قوم نے اس قرآن (مجید) کو نظر انداز کر دیا تھا۔ اے ہمارے نبی آپ رنجیدہ نہ ہوں ہر نبی کے لیے اسی طرح مجرمین میں سے دشمن پیدا کیے ہیں اور تیرا رب ہدایت و نصرت کے لیے کافی ہے۔“ عقبہ بن ابی معیط جنگ بدر میں اسیر ہوا اور مقام صفراء میں پہنچ کر اس کی گردن مار دی گئی۔

ولید بن مغیرہ :

ولید بن مغیرہ یہ کہا کرتا تھا کہ بڑے تعجب کی بات ہے کہ محمد پر تو وحی نازل ہو اور میں اور ابو

صفحہ 90

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 90 ماہنامہ سبحانی کراچی مسعود ثقفی چھوڑ دیے جائیں۔ حالانکہ ہم دونوں اپنے اپنے شہر کے بڑے معزز ہیں میں قریش کا سردار ہوں اور ابو مسعود قبیلہ ثقیف کا سردار ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی:۔ وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيْمٍ O اَهُمْ يَقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّكَ ط نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُمْ مَّعِيْشَتَهُمْ فِى الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّيَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِيًّا ط وَرَحْمَتُ رَبِّكَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُوْنَ O (سورۃ الزخرف آیت: 31-32) ”یہ کافر یہ کہتے ہیں کہ یہ قرآن مکہ اور طائف میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہ کیا گیا کیا یہ لوگ اللہ کی خاص رحمت یعنی نبوت کو اپنی منشاء کے مطابق تقسیم کرنا چاہتے ہیں ہم نے تو ان کی دنیوی معیشت کو بھی اپنی ہی منشاء سے تقسیم کیا ہے اور اپنی ہی منشاء سے ایک کو دوسرے پر رفعت دی ہے تاکہ ایک دوسرے کو اپنا مسخر اور تابع بنائے اور اخروی نعمت تو دنیاوی نعمت سے بدرجہا بہتر ہے پس جب دنیوی معیشت کی تقسیم ان کی رائے پر نہیں تو اخروی نعمت کی تقسیم ان کی رائے پر کیسے ہو سکتی ہے۔ یعنی نبوت ورسالت کا مدار مال و دولت اور دنیاوی عزت پر نہیں ہے۔

ابو قیس بن الفاکہ:

یہ بھی حضور اکرم ﷺ کو شدید ایذاء پہنچاتا تھا۔ ابو جہل کا خاص معین اور مددگار تھا۔ ابوقیس جنگ بدر میں حضرت حمزہؓ کے ہاتھ سے مارا گیا۔ (۱۷)

نضر بن حارث:

نضر بن حارث سردارانِ قریش سے تھا۔ تجارت کے لیے فارس جاتا وہاں سے شاہان عجم کے قصص وتواریخ خرید کر لاتا اور قریش کو سناتا اور یہ کہتا کہ: ”محمد تو تم کو عاد اور ثمود کے قصے سناتے ہیں اور میں تم کو رستم اور اسفندیار اور شاہان فارس کے قصے سناتا ہوں“ یہ جھوٹے قصے لوگوں کو دلچسپ معلوم ہوتے ان قصوں کو سنتے اور قرآن کو نہ سنتے۔ اس

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء نے ایک گانے والی لونڈی بھی معلوم ہوتا کہ یہ اسلام کی طرف اس کو کھلا پلا اور گانا سنا پھر کہتا کہ ”بتلا یہ بہتر ہے یا وہ شئی بہتر اور اللہ کے دشمنوں سے جہاد کرو۔ اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں: وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْتَرِ عِلْمٍ وَّ يَتَّخِذَهَا هُزُوًا ط اُولٰٓ اٰيٰتُنَا وَلّٰى مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ O (سورۃ لقمان آ ”بعض آدمی اللہ سے غافل کر گمراہ کرے اور اللہ کی آیتوں کی ہنسی کے سامنے جب ہماری آیتیں پڑھی ہی نہیں گویا کہ کانوں میں ثقل ہے اس نضر بن حارث جنگ بدر میں گرف اس کی گردن ماری۔

عاص بن وائل سہمی:

عاص بن وائل سہمی یہ بھی ان لوگو کے ساتھ استہزاء اور تمسخر کیا کرتا تھا۔ حض زندگی میں وفات پا گئے تو عاص بن و ان محمدا ابتر لا يعيش له ولـ ”محمد تو ابتر ہیں ان کا کوئی لڑکا زندہ ن

صفحہ 91

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 91 ماہنامہ مسیحائی کراچی

نے ایک گانے والی لونڈی بھی خرید رکھی تھی لوگوں کو اس کا گانا سنواتا۔ جس کسی کے متعلق یہ معلوم ہوتا کہ یہ اسلام کی طرف راغب ہے اس کے پاس اس باندی کو لے جاتا اور کہتا کہ اس کو کھلا پلا اور گانا سنا پھر کہتا کہ:

”بتلا یہ بہتر ہے یا وہ شئی بہتر ہے جس کی طرف محمد بلاتے ہیں کہ نماز پڑھو اور روزہ رکھو اور اللہ کے دشمنوں سے جہاد کرو۔“

اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں: وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيْثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَّيَتَّخِذَهَا هُزُوًا ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِيْنٌ O وَاِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِ اٰيٰتُنَا وَلّٰى مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ يَسْمَعْهَا كَاَنَّ فِىٓ اُذُنَيْهِ وَقْرًا ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ O

(سورۂ لقمان آیت: 7-6)

”بعض آدمی اللہ سے غافل کرنے والی باتوں کو خریدتا ہے تا کہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے گمراہ کرے اور اللہ کی آیتوں کی ہنسی اڑائے ایسے لوگوں کے لیے ذلت کا عذاب ہے اور اس کے سامنے جب ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو از راہ تکبر ان سے منہ موڑ لیتا ہے جیسا کہ سنا ہی نہیں گویا کہ کانوں میں ثقل ہے اس کو دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دیجیے۔

نضر بن حارث جنگ بدر میں گرفتار ہوا اور رسول اکرم ﷺ کے حکم سے حضرت علیؓ نے اس کی گردن ماری۔

عاص بن وائل سہمی:

عاص بن وائل سہمی یہ بھی ان لوگوں میں سے تھا جو رسول اکرم ﷺ کی ذات بابرکات کے ساتھ استہزا اور تمسخر کیا کرتا تھا۔ حضور اکرم ﷺ کے جتنے بیٹے ہوئے وہ سب آپ ہی کی زندگی میں وفات پاگئے تو عاص بن وائل نے کہا:

ان محمدا ابتر لا يعيش له ولد

”محمد تو ابتر ہیں ان کا کوئی لڑکا زندہ ہی نہیں رہتا۔“

صفحہ 92

ماہنامہ مسیحائی کراچی حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

ابتر ڈم کٹے کو کہتے ہیں جس شخص کا آگے پیچھے کوئی نام لیوا نہ رہے گویا وہ شخص ڈم کٹا ہوا جانور ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ

(پارہ: 30 سورہ کوثر)

”آپ ﷺ کا دشمن ہی ابتر ہے۔“

آپ ﷺ کے نام لیوا تو لاکھوں اور کروڑوں ہیں لیکن عاص بن وائل کا نام لینے والا کوئی نہیں۔ عاص بن وائل کا یہ حشر ہوا کہ گدھے پر سوار ہو کر طائف جارہا تھا راستے میں گدھے سے گرا اور کسی خاردار گھاس پر جا کر گرا جس سے پیر میں ایک معمولی سا کانٹا لگا مگر اس معمولی کانٹے سے پیر اس قدر پھولا کہ اونٹ کی گردن کے برابر ہو گیا اور اسی میں اس کا خاتمہ ہو گیا۔

نبیہ و منبہ پسران حجاج:

نبیہ اور منبہ بھی آپ ﷺ کے شدید ترین دشمنوں میں سے تھے جب کبھی آپ ﷺ کو دیکھتے تو کہتے کہ: ”کیا اللہ کو ان کے سوا اور کوئی پیغمبر بنانے کے لیے نہیں ملا تھا۔“ اللہ تعالیٰ نے ان کو جنگ بدر میں موت سے ہمکنار فرمایا۔

اسود بن مطلب:

اسود بن مطلب اور اس کے ساتھی جب کبھی رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کو دیکھتے تو آنکھیں مٹکاتے اور یہ کہتے کہ:۔ ”یہی ہیں وہ لوگ کہ جو روئے زمین کے بادشاہ ہوں گے اور قیصر و کسریٰ کے خزانوں پر قبضہ کریں گے۔“

اور یہ کہہ کر سیٹیاں اور تالیاں بجاتے۔ رسول اللہ ﷺ نے بددعا فرمائی کہ: ”اے اللہ اس کو نابینا فرما (تاکہ آنکھ مارنے کے قابل ہی نہ رہے) اور اس کے بیٹے کو ہلاک فرما۔“

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

چنانچہ اسود بن مطلب ا اپنے لڑکوں کو آواز دی کہ: ”مجھ کو بچاؤ، میری آنکھوں لڑکوں نے کہا: ”ہمیں تو کوئی نظر نہیں آتا اسی طرح کہتے کہتے اندھا احد کی تیاری کر رہے تھے اسو مقابلے کے لیے آمادہ کر رہا تھا

اسود بن عبد یغوث:

اسود بن عبد یغوث، مخ ز دترین دشمنوں میں سے جب ک ”یہی روئے زمین کے بادشا جب رسول اللہ ﷺ کو دیکھت ”آج آسمان سے کوئی بات اس بدتمیزی کی سزا اسے یہ م اسی تکلیف میں مر گیا۔

حارث بن قیس سہمی:

جس کو حارث بن عیطلہ بھی کہ تھا۔ یہ بھی انہیں لوگوں میں سے ساتھ استہزاء اور تمسخر کیا کرتا تھا اور ”محمد نے اپنے اصحاب کو یہ سمجھا والله ما يهلكنا الا الدهر

صفحہ 93

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 93 ماہنامہ مسیحائی کراچی

چنانچہ اسود بن مطلب ایک کیکر کے درخت کے نیچے جا کر بیٹھا۔ وہ ابھی بیٹھا ہی تھا کہ اپنے لڑکوں کو آواز دی کہ: ”مجھ کو بچاؤ، میری آنکھوں میں کوئی شخص کانٹے چبھا رہا ہے۔“ لڑکوں نے کہا: ”ہمیں تو کوئی نظر نہیں آتا۔“ اسی طرح کہتے کہتے اندھا ہو گیا۔ اور بیٹا جنگ بدر میں مارا گیا۔ قریش جس وقت جنگ احد کی تیاری کر رہے تھے اسود بن مطلب اس وقت بیمار تھا لیکن لوگوں کو آپﷺ کے مقابلے کے لیے آمادہ کر رہا تھا۔ جنگ احد سے پہلے ہی انتقال کر گیا۔

(۲۳)

اسود بن عبد یغوث:

اسود بن عبد یغوث، جو رسول اللہﷺ کے ماموں کا بیٹا تھا۔ یہ آپﷺ کے شدی د ترین دشمنوں میں سے تھے جب فقراء و مساکین کو دیکھتا تو کہتا کہ: ”یہی روئے زمین کے بادشاہ بننے والے ہیں جو کسریٰ کی سلطنت کے وارث ہوں گے۔“ جب رسول اللہﷺ کو دیکھتا تو کہتا کہ: ”آج آسمان سے کوئی بات نہیں ہوئی اور اس قسم کے بیہودہ کلمات کہتا۔“ اس بدتمیزی کی سزا اسے یہ ملی کہ اس کے تمام سر میں پھوڑے اور پھنسیاں نکل آئیں اور اسی تکلیف میں مر گیا۔

حارث بن قیس سہمی:

جس کو حارث بن عیطلہ بھی کہا جاتا ہے۔ عیطلہ اس کا ماں کا نام ہے اور قیس باپ کا نام تھا۔ یہ بھی انہیں لوگوں میں سے تھا کہ جو آپﷺ کی اور آپﷺ کے اصحابؓ کے ساتھ استہزاء اور تمسخر کیا کرتا تھا اور یہ کہا کرتا تھا کہ: ”محمد نے اپنے اصحاب کو یہ سمجھا کر دھوکہ دے رکھا ہے کہ مرنے کے بعد پھر زندہ ہوں گے۔“ واللہ ما یھلکنا الا الدھر

صفحہ 94

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ سبحانی کراچی

”اللہ کی قسم ہم کوڑ مانہ ہی ہلاک اور برباد کرتا ہے۔“

جب ان لوگوں کا استہزاء اور تمسخر حد سے گزر گیا، تب اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی تسلی کے لیے یہ آیتیں نازل فرمائیں ۔

فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَاَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِيْنَ O اِنَّا كَفَيْنٰكَ الْمُسْتَهْزِءِيْنَ O (سورۃ النحل آیت : 95-94)

”جس چیز کا آپ کو حکم دیا گیا ہے، اس کو علی الاعلان بیان کریں اور مشرکین اگر نہ مانیں تو ان سے اعراض فرمائیں اور جولوگ آپ کی ہنسی اور مذاق اڑاتے ہیں اُن کے لیے ہم کافی ہیں۔“

حارث کا یہ حشر ہوا کہ اس کے پیٹ میں دفعتاً ایسی بیماری پیدا ہوئی کہ منہ سے پاخانہ آنے لگا اور اسی میں مرگیا۔

یہ تو ان لوگوں کا تذکرہ تھا جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کی عزت وحرمت کو پامال کیا حق بات کو نہ مانا اور نبی کریم ﷺ کا مذاق اڑایا اور آپ ﷺ کے ساتھ استہزاء کیا نتیجہ یہ نکلا کہ دنیا میں ذلت ورسوائی کی موت نصیب ہوئی اور آخرت کا ہمیشہ ہمیشہ کا عذاب دامن گیر ہوگیا۔

جس طرح رسول اکرم ﷺ کی ذات اقدس عزت وحرمت والی ہے اسی طرح جن اشخاص یا اشیاء کو آپ ﷺ سے نسبت ہے ان کی عزت وحرمت بھی ہر مسلمان پر واجب ہے جو شخص اس نسبت کا پاس اور لحاظ نہیں رکھتا وہ دنیا و آخرت میں بڑا نقصان اٹھانے والا ہوگا لہٰذا بڑی احتیاط اور خاص خیال رکھنے کی ضرورت ہے۔

حضور اکرم ﷺ سے جس قدر تعلق مضبوط ہوگا ، ایمان اسی قدر مضبوط ہوگا اور نورِ معرفت اسی قدر روشن ہوگا۔

مسلمان ، حضور اکرم ﷺ کے وارث ہیں ۔ مادی وراثت میں جس طرح وارث کے لیے اپنے مورث اعلیٰ کے حق میں ادب و تعظیم ضروری ہے، ٹھیک اسی طرح مورث اعلیٰ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی تعظیم ، آپ ﷺ کی عزت وحرمت کا پاس کرنا بھی ضروری ہے۔

حقیقت میں مورث حضور اکرم ﷺ کی ذات گرامی ہے۔ ہم مسلمان مجازی طور پر مومن

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

کہلاتے ہیں۔ اسی لیے قرآن النبی اولی بالمومنین حضور اکرم ﷺ وہ آفتاب تاریکیاں کافور ہوگئیں۔ آپ جذبہ حضور اکرم ﷺ کی عظمت یہ ادب و احترام ہی تو ہے کہ ادب و احترام سے جھک جاتا گنبد کو نسبت ہوگئی ہے۔ خاتم عزت و توقیر اور ادب و احترام اسے بوسہ دیتے ہیں، آخر یہ کی خوبصورت اور نہایت حسین و جمی میں اس پتھر کو نسبت ہوگئی ،بیت خانہ کعبہ ہی کو لیجیے۔ ظاہر غلاف چڑھایا جاتا ہے، اس ہیں۔ پوری دنیا کے مسلمان جو کر کے عبادت کرنی پڑتی ہے نہیں کرتا، اس کی طرف منہ کر آخر یہ ادب و احترام کیوں ہے قرآن مجید جو کاغذ پر شائع کلام الہی کے نقوش ہیں۔ ان ہوگئے ۔ گتے کی وہ جلد با عظم ہے، نسبت ہے تو ہر مومن رسو

صفحہ 95

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 95 ماہنامہ سبحانی کراچی

کہلاتے ہیں۔ اسی لیے قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

النبی اولی بالمومنین ۔ ”نبی اولیٰ تر ہے تمام ایمان والوں سے۔“

حضور اکرم ﷺ وہ آفتاب ہدایت ہیں کہ جن کے طلوع ہونے سے کفر وضلالت کی تمام تاریکیاں کافور ہوگئیں۔ آپ ﷺ نہ ہوتے تو پورا جہاں ظلمت کدہ ہوتا۔ ہر مسلمان کا پہلا جذبہ حضور اکرم ﷺ کی عظمت اور آپ ﷺ کا احترام ہونا ضروری ہے۔

یہ ادب واحترام ہی تو ہے کہ گنبد خضریٰ کا نام آتے ہی آنکھیں نمناک ہوجاتی ہیں اور سر ادب واحترام سے جھک جاتا ہے، وہاں کیا ہے، اس گنبد کی عزت کیوں ہے۔ اس لیے کہ اس گنبد کو نسبت ہوگئی ہے۔ خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ کی ذات اقدس سے۔ حجر اسود کی عزت وتوقیر اور ادب واحترام ہورہا ہے دور دور سے جا کر لوگ اسے چومتے چاٹتے ہیں، اسے بوسہ دیتے ہیں، آخر یہ کیوں، دنیا میں اور بہت سے پتھر بھی تو ہیں، بڑے بڑے عمدہ، خوبصورت اور نہایت حسین وجمیل پتھر موجود ہیں مگر اس طرح کوئی چومتا چاٹتا نہیں، حقیقت میں اس پتھر کو نسبت ہوگئی ’بیت اللہ‘ کے ساتھ جو کہ شعائر اللہ میں سے ہے۔

خانہ کعبہ ہی کو لیجیے۔ ظاہری طور پر ایک چھوٹا سا مکان ہے، اس پر باقاعدہ کپڑے کا غلاف چڑھایا جاتا ہے، اس کے ارد گرد لاکھوں مسلمان ہر سال دیوانہ وار طواف کرتے ہیں۔ پوری دنیا کے مسلمان جہاں کہیں بھی ہوں انہیں صرف اسی ایک گھر کی طرف منہ کر کے عبادت کرنی پڑتی ہے، کوئی مسلمان خانہ کعبہ کی طرف منہ کر کے پاخانہ یا پیشاب نہیں کرتا، اس کی طرف منہ کر کے تھوکتا نہیں، اس کی طرف پاؤں نہیں پھیلائے جاتے۔

آخر یہ ادب واحترام کیوں ہے؟

قرآن مجید جو کاغذ پر شائع کیا جاتا ہے، کاغذوں میں کلام الٰہی پنہاں نہیں ہے بلکہ یہ کاغذ پر کلام الٰہی کے نقوش ہیں۔ ان کاغذوں کی نسبت کلام الٰہی کی طرف ہوگئی۔ اس لیے وہ باعظمت ہوگئے۔ گتے کی وہ جلد باعظمت بن گئی، جس کے ساتھ نسبت ہو تو عظمت ضرور حاصل ہوتی ہے۔ نسبت ہے تو ہر مومن رسول کریم ﷺ کی عزت وتوقیر اور ادب واحترام کرے گا۔

صفحہ 96

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 96 ماہنامہ مسیحائی کراچی

ہر مسلمان حضرت بی بی فاطمہؓ اور ازواج مطہرات و بنات رسول رضوان اللہ تعالیٰ عنھن اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی عظمت کرے گا کیوں کہ وہ پیغمبر آخر الزماں ﷺ سے نسبت رکھتے ہیں۔ اسی طرح ملک عرب کی عظمت کرے گا کیوں کہ اسے پیغمبر اللہ ﷺ کا وطن ہونے کا شرف حاصل ہے۔

رسول کریم ﷺ نے وطن کی عظمت برقرار رکھنے کے لیے فرمایا کہ:

”جس نے عرب یا عربی سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی۔“

معلوم یہ ہوا کہ جسے رسول اللہ ﷺ سے نسبت اور تعلق ہوگا اس کا ایمان معتبر ہوگا۔ ایمان میں مورث اعلیٰ ہیں جناب رسول کریم ﷺ۔

احادیث نبوی آپ ﷺ کی وراثت ہیں، احادیث کو عظمت اس لیے ملی کہ ان کی نسبت ہوگئی رسول کریم ﷺ سے۔ اگر کلام رسول ﷺ درمیان میں نہ آئے تو کلام الٰہی کی وضاحت مشکل ہو جائے، کلام رسول سے شرح نہ ہوتی تو کلام الٰہی کیسے واضح ہوتا؟ کلام الٰہی میں ذکر آیا ”اقیمو الصلوٰۃ“ ”نماز قائم کرو۔“ صلوٰۃ کے معنی دعا کے ہیں، اس کا مطلب رسول کریم ﷺ نے واضح کیا۔

جس طرح حضور اکرم ﷺ کے امین ہیں اسی طرح آپ کلام الٰہی کے معانی اور اس کی شرح کے بھی امین ہیں۔

جس طرح حرمت و عزت رسول ﷺ کرنے کی برکت سے عزت و سرفرازی حاصل ہوتی ہے، اسی طرح حرمت رسول ﷺ کو پامال کرنے اور آپ کے آثار کی بے حرمتی کرنے سے زوال آتا ہے۔ اس کی ایک مثال پیش کی جاتی ہے کہ خسرو پرویز ایران کا زبردست فرمانروا تھا۔ اس کی بڑی شان و شوکت تھی اس کا محل بہت بڑا اور خوبصورت تھا۔

محل کے چاروں طرف سرسبز چراگاہیں، باغات اور جنگلات تھے، جن میں ہر قسم کے چرند پرند موجود تھے۔ خصوصاً تیتر، مور، شتر مرغ، ہرن اور شیر بکثرت پائے جاتے تھے۔ نوسو ساٹھ ہاتھیوں کی قطاریں شاہانہ شوکت و حشمت کی گواہ تھیں۔ اسباب اور ڈیرہ خیمہ اٹھانے کے

صفحہ 97

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

لیے بارہ ہزار قد آور اور آٹھ ہزار پست قامت اونٹ تھے۔ شاہی اصطبل میں چھ ہزار گھوڑے اور خچر بندھے تھے۔ شاہی محل کے دروازے پر شب و روز چھ ہزار گھڑ سوار پہرہ دیتے تھے۔ شاہی محل کے اندر بارہ ہزار غلام تھے جن کے ذمہ مختلف خدمات تھیں اسی طرح تین ہزار کنواری لڑکیاں تھیں جن سے محل کی رونق قائم تھی۔ سونے، چاندی، جواہرات، ریشم اور عطریات کے ذخائر سو (۱۰۰) تہہ خانوں کی الماریوں میں محفوظ تھے۔ محل میں تیس ہزار قیمتی دیوار گیریاں اور پردے تھے۔ چاندی، سنگ مرمر اور اعلیٰ قسم کی لکڑی کے چالیس ہزار ریشم سے ڈھکے ہوئے ستون شاہی محل کی چھت کو سنبھالے ہوئے تھے۔ سونے کے ہزار گولے اس غرض سے گنبد میں لگائے گئے تھے کہ نجوم وکواکب کی رفتار اور ان کے اجتماع کی کیفیت معلوم ہو سکے۔ اس شان و شوکت اور کروفر کے ساتھ وہ حکومت کرتا تھا۔

رسول اکرم ﷺ کی طرف سے مختلف فرمانروایان سلطنت کے نام تبلیغی خطوط ارسال کیے گئے۔ چنانچہ ایک خط حضرت عبداللہ بن حذافہ سہمیؓ کے ہاتھ سے خسرو پرویز کے نام بھی بھیجا گیا جس کا مضمون یہ تھا۔ (ترجمہ خط مبارک)۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۰ یہ خط محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف سے کسریٰ رئیس فارس کے نام ہے۔ وہ شخص سلامتی اور عافیت میں رہے جو راہ راست کی پیروی کرتا ہے اور اقرار کرتا ہے کہ معبود برحق صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور یہ کہ محمد اس کا بندہ اور رسول ہے۔ اے کسریٰ! میں تمہیں اسلام کی طرف بلاتا ہوں میں بلاشبہ تمام دنیا کے لیے رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں تاکہ ہر زندہ شخص کو اللہ کا خوف دلاؤں۔ اے کسریٰ! تم اللہ سے ڈرو اور اسلام قبول کرو تو سلامت رہو گے ورنہ تمام قوم مجوس کے انکار و اعراض کا گناہ اور وبال تمہاری گردن پر ہوگا۔

اس دور میں عجم کے فرمانرواؤں کے نام جو عرض داشتیں بھیجی جاتی تھیں ان کے عنوان پر بادشاہ ایران کا لقب درج تھا۔ جب یہ مکتوب کسریٰ کے سامنے پڑھا گیا تو وہ عالم غیظ میں بولا:

”اس شخص نے اپنا نام میرے نام سے پہلے کیوں لکھا؟“

اس کے بعد از راہِ نخوت و غرور بے ادبانہ کہنے لگا:

صفحہ 99

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 98 ماہنامہ مسیحائی کراچی

”کیا کوئی ادنیٰ غلام بھی اپنے شہنشاہ کو ایسا لکھ سکتا ہے؟ اور عرب کی بساط بھی کیا ہے کہ وہاں کا کوئی باشندہ اتنے جلیل القدر شہنشاہ کو خط لکھنے کا حوصلہ کرے۔“

غرض جھنجلا کر نامہ مبارک چاک کر ڈالا اور یمن کے حاکم شاہ باذان کو حکم دیا کہ: ”حجازی نبی کو گرفتار کر کے ہمارے پاس حاضر کرو۔“

اس غریب بادشاہ کو کیا معلوم تھا کہ جس برگزیدہ ہستی کو وہ نظر حقارت سے دیکھتا اور ایک معمولی عناد سمجھ کر اس کی گرفتاری کا حکم دے رہا ہے، کل کو اسی کے کفش بردار تاج و تخت ایران کے مالک ہوں گے اور جس دارالسلطنت سے وہ عاقبت نا اندیشانہ فرمان جاری کر رہا ہے عنقریب اس پر اور اس کی ساری عملداری پر سرکار رسالت کے غلاموں کا پرچم اقبال لہرائے گا۔

جب شاہ نبوت کے قاصد حضرت عبداللہ بن حذافہ ؓ مدینہ منورہ واپس آئے اور گزارش کی: ”یا رسول اللہ ﷺ کسریٰ نے حضور ﷺ کا مکتوب گرامی از راہ تحقیر چاک کر ڈالا۔“ تو آپ ﷺ نے دعا کی: ”الٰہی! جس طرح اس نے میرے نامہ کو چاک کیا ہے اسی طرح تو بھی اس کی سلطنت کو پارہ پارہ کر۔“

یہ دعا حرف بحرف پوری ہوئی اور ایران کی سلطنت چند ہی سال کے اندر ٹکڑے ٹکڑے ہو کر مسلمانوں کے قبضہ میں آئی اور ایرانی شاہزادیاں مسلمانوں کی لونڈیاں بنیں۔ جب امیر المومنین حضرت عمر فاروق ؓ کے عہد سعادت میں ایران فتح ہوا تو اسیران جنگ میں یزدگرد شاہ ایران کی بیٹی شہر بانو بھی داخل تھیں۔ جنہیں امیر المومنین حضرت عمر فاروق ؓ نے سیدنا حسین بن علی کو عطا فرمایا۔ سیدنا علی بن حسین معروف بہ امام زین العابدین انہیں کے بطن سے پیدا ہوئے تھے۔

جب کسریٰ کا حکم یمن پہنچا تو شاہ باذان نے بانویہ اور خرخسرہ نام کے دو ہوشیار عہدہ داروں کو مدینہ منورہ روانہ کیا اور زبانی پیغام کے ساتھ ایک سرکاری فرمان بھی لکھ دیا جس میں تاکید کی گئی تھی کہ:

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 99

”تم فی الفور ان دونوں افسروں کے ساتھ ہو جاؤ۔“

قاصد بلد الرسول پہنچ کر بارگاہ نبوی میں حاضر لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے اس لیے کسی خواندہ نہایت بے پروائی کے ساتھ تبسم فرمایا۔

اب قاصدوں نے زبانی کہنا شروع کیا کہ: ”ہمارے شہنشاہ نے مَلِک باذان کو آپ ہمارے ساتھ فی الفور چل کھڑے ہو جائیے ورنہ خود ہلاک کر دیے جائیں گے بلکہ آپ کے تمہارے ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے

آپ ﷺ ان کی دھمکی کو خاطر میں نہ لائے ”آج تم آرام کرو۔ صبح کو میرے پاس آنا

رسول اکرم ﷺ کے چہرۂ انور پر نبوت کا مرعوب تھے۔ اس لیے دوبارہ لب کشائی فدویت و عقیدت مندی کے جو منظر تھوڑی کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ غرض قاصد مرعوب

اب رسول کریم ﷺ وحی الٰہی کا انتظار فر جانب اللہ اطلاع دی گئی کہ: ”پرویز کے بیٹے شیرویہ نے باپ کا پیٹ چاک

جب قاصد دوسرے دن ۱۰ جمادی الاول حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ: ”شیرویہ نے تمہارے شاہ پرویز کو قتل کر

صفحہ 99

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 99 ماہنامہ مسیحائی کراچی

”تم فی الفور ان دونوں افسروں کے ساتھ شہنشاہِ ایران کی خدمت میں مدائن حاضر ہو جاؤ۔“

قاصد مدینۃ الرسول پہنچ کر بارگاہِ نبوی میں حاضر ہوئے اور شاہ باذان کا خط پیش کیا۔ آپ لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے اس لیے کسی خواندہ آدمی سے خط پڑھوایا اور اس کا مضمون سن کر نہایت بے پرواہی کے ساتھ تبسم فرمایا۔

اب قاصدوں نے زبانی کہنا شروع کیا کہ:

”ہمارے شہنشاہ نے ملک باذان کو آپ کی گرفتاری کا حکم دیا ہے۔ مناسب ہے کہ ہمارے ساتھ فی الفور چل کھڑے ہو جائیے ورنہ کسریٰ کا مزاج سخت برہم ہے نہ صرف آپ خود ہلاک کر دیے جائیں گے بلکہ آپ کے پیرو بھی تباہ و برباد ہو جائیں گے اور شہنشاہ تمہارے ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔“

آپ ﷺ ان کی دھمکی کو خاطر میں نہ لائے اور کمال سکون و وقار کے ساتھ فرمایا کہ:

”آج تم آرام کرو۔ صبح کو میرے پاس آؤ۔ اس کا جواب دیا جائے گا۔“

رسول اکرم ﷺ کے چہرۂ انور پر نبوت کا جو قدرتی رعب و جلال تھا اس سے دونوں قاصد مرعوب تھے۔ اس لیے دوبارہ لب کشائی کی ہمت نہ ہوئی اس کے علاوہ صحابہ کرامؓ کی فدویت و عقیدت مندی کے جو منظر تھوڑی سی دیر میں دیکھ چکے تھے وہ بھی کسی حجت یا اصرار کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ غرض قاصد عزت کے ساتھ ٹھہرائے گئے۔

اب رسول کریم ﷺ وحی الٰہی کا انتظار فرمانے لگے۔ چنانچہ آپ ﷺ کو اسی رات من جانب اللہ اطلاع دی گئی کہ:

”پرویز کے بیٹے شیرویہ نے باپ کا پیٹ چاک کر ڈالا ہے۔“

جب قاصد دوسرے دن ۱۰ جمادی الاولیٰ سن ۷ ہجری کو بدھ کے روز آستانِ نبوت پر حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ:

”شیرویہ نے تمہارے شاہ پرویز کو قتل کر ڈالا ہے۔“

صفحہ 100

ماہنامہ مسیحائی کراچی حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

یہ سن کر قاصد محو حیرت رہ گئے اور ایک طویل سکوت کے بعد آنحضرت ﷺ سے خطاب کر کے کہنے لگے کہ:

”کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس قسم کے وحشت انگیز بیان کا نتیجہ کیا ہوگا؟ ہمارا شہنشاہ آپ کو اور آپ کی قوم کو فنا کر دے گا اور اس سرزمین کی خاک بھی دنیا سے بے نشان ہو جائے گی۔“

رسول پاک ﷺ نے فرمایا:

”تم اس فکر میں مت پڑو اور جا کر باذان کو میری طرف سے کہہ دو کہ پرویز قتل ہوا اور عنقریب اس کی ساری مملکت اسلام کے قبضہ اقتدار میں آجائے گی۔ اگر تم اسلام قبول کرلو تو میں تم کو یمن کی حکومت پر بحال رکھوں گا ورنہ نتیجہ کے تم خود ذمہ دار ہوگے۔“

یہ سن کر قاصدوں کے دل میں کچھ ایسا ہول سمایا کہ یارائے گفتگو نہ رہا۔

قاصد مدینہ طیبہ سے رخصت ہو کر یمن پہنچے اور تمام ماجریٰ ملک باذان کو سنایا۔ باذان نے کہا کہ:

”اگر یہ اطلاع صحیح ہے تو یہ یقیناً اللہ کے سچے نبی ہیں اور ملوک عالم میں سب سے پہلا فرماں روا میں ہوں جو ان پر ایمان لائے گا۔“

بابویہ نے کہا:

”میں نے بڑے بڑے امراء و سلاطین کے دربار دیکھے ہیں لیکن ایک قدرتی رعب اور ہیبت کے ساتھ اعلیٰ اخلاق کہیں نہیں دیکھے۔“

چند ہی روز گزرے تھے کہ باذان کے نام شہنشاہ شیرویہ کا فرمان صادر ہوا لکھا تھا کہ : ”کسریٰ پرویز ظالم نابکار تھا۔ اس لیے میں نے اسے موت کے گھاٹ اتار دیا ہے اور تمہیں تمہارے عہدہ پر بحال رکھتا ہوں اور حجاز میں جو صاحب مدعی نبوت ہیں تا حکم ثانی ان سے کچھ تعرض نہ کرو۔“

یہ اطلاع پا کر شاہ باذان اسی وقت اپنے دونوں بیٹوں سمیت مشرف با ایمان ہوا اور یمن کے اکثر قبائل بھی سعادت اسلام سے بہرہ اندوز ہوئے۔ شاہ باذان نے اپنے اور اہل یمن

صفحہ 101

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 101 ماہنامہ سبحانی کراچی

کے قبول حق کی اطلاع مرکز نبوت کو بھیج دی۔ اس طرح یمن کی حکومت ایران سے منقطع ہو کر اسلامی عمل دخل میں آگئی اور سلطنت کے طول و عرض میں اسلامی قوانین نافذ ہو گئے۔ لیکن چند ہی مہینے گزرے تھے کہ باذان کا انتقال ہو گیا۔

جس ساعت میں خلیفۃ اللہ علی الارض سردار دو عالم ﷺ کی زبان مبارک سے پارسی فرمانروائی کے زوال کی دعا نکلی تھی، اسی وقت سے اس کے نیر اقبال کو گہن لگ چکا تھا اور نظام سلطنت میں ابتری شروع ہو گئی تھی۔ یہاں تک کہ عہد فاروقی میں اس کے پرزے اڑ گئے۔ کسریٰ کا خاندان ہزارہا سال سے برسر حکومت تھا اور ایران کی سلطنت ایسی زبردست اور عظیم الشان فرمانروائی تھی کہ پردۂ زمین پر اس کے مد مقابل کوئی حکومت نہ تھی۔ آخر امیر المومنین حضرت عمر فاروقؓ کے عہد خلافت میں ایران کے طول و عرض پر پرچم اسلام لہرانے لگا اور پارسیوں کی فرمانروائی دنیا کے نقشہ سے حرف غلط کی طرح مٹ گئی۔ اس وقت تمام عالم میں آتش پرست پارسیوں کی کہیں حکومت نہیں ہے ہر جگہ اغیار کی رعایا ہیں۔ یہ سزا ہے نبی برحق کا نامہ مبارک چاک کرنے اور آپ ﷺ کی حرمت کو پامال کرنے کی۔

معلوم ہوا کہ جس طرح ہادی برحق حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی عزت و حرمت کی پاسداری ضروری ہے اسی طرح آپ ﷺ کے صحابہ کرامؓ ، ازواج مطہرات اور بناتِ رسول کی عزت و حرمت کا لحاظ رکھنا بھی ضروری ہے اسی طرح جن چیزوں کو رسول کریم ﷺ سے نسبت یا تعلق ہے ان کی حرمت و عزت بھی لازم ہے ورنہ تباہی و بربادی اور ذلت و خواری سے بچنے کے لیے کوئی جائے پناہ نہ ملے گی۔

صفحہ 102

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

معاشی بائیکاٹ ہی اصل حل ہے

مفتی محمد تقی عثمانی

آپ جانتے ہیں کہ اس وقت یہ اجتماع ان درندوں کی دریدہ دہنی کے خلاف اپنے جذبات کے اظہار اور احتجاج کے لیے منعقد ہوا ہے جو ان باطل اور ناپاک سرشت انسانوں نے حضور ﷺ کی شان میں کی ہے لیکن ان کی اس گستاخی کے جواب میں یہ اللہ رب العزت کا فضل و کرم ہے کہ پورے عالم اسلام، ساری دنیا کی زبان پر ایک ہی آواز ہے اور وہ ہے جناب محمد رسول اللہ ﷺ کی ناموس کا تحفظ ۔

الحمد للہ ! اس عظیم نام نے پوری امت کو ایک ہی مقصد پر متحد کر دیا ہے۔ یہ کسی ایک فرد کا مسئلہ نہیں یہ کسی ایک جماعت کا مسئلہ نہیں یہ کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں، یہ پوری ملت اسلامیہ کا مسئلہ ہے اور الحمد للہ مراکش سے لے کر انڈونیشیا تک پوری اسلامی دنیا اس کے خلاف سراپا احتجاج بنی ہوئی ہے۔ آج ہمیں نبی کریم ﷺ کی ناموس کے تحفظ کے لیے اور آپ کی ناموس پر ناپاک حملے کرنے والوں کے خلاف کیا کرنا ہے؟ یہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ سرکار دو عالم ﷺ کی شان میں ادنیٰ گستاخی کا اصل علاج وہی ہے جو غازی علم دین شہیدؒ نے کیا تھا یعنی وہ زبان جو نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے کے لیے اٹھے، وہ اس قابل ہے کہ نکال دی جائے۔ وہ قلم اور ہاتھ جو سرور دو عالم ﷺ کی شان میں گستاخی کے مرتکب ہوئے وہ اس بات کے مستحق ہیں کہ قطع کر دیے جائیں اور غازی علم دین شہیدؒ نے اپنے عمل سے اس بات کو کر کے دکھایا ہے۔ جو اس گستاخی کا اصل علاج تھا، لیکن آج جب کہ ہم ان گستاخوں سے دُور بیٹھے ہیں تو کم از کم ہمیں اس احتجاج کے اندر اس بات کا عہد اور اقرار کرنا چاہیے کہ جن ناپاک زبانوں اور ناپاک ہاتھوں نے سرکار دو عالم ﷺ کی ناموس پر حملے کیے ہیں ان کی بنائی ہوئی تمام مصنوعات کا بائیکاٹ کریں۔ اگر کوئی شخص سرکار دو عالم ﷺ کی محبت کا ادنیٰ حصہ بھی اپنے دل میں رکھتا ہے وہ اگر ان ناپاک

صفحہ 103

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 103 ماہنامہ مسیحائی کراچی

لوگوں کی بنائی ہوئی اشیاء کو استعمال کرتا ہے تو یہ جناب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آپ ﷺ کے دین کے ساتھ، آپ ﷺ کی امت کے ساتھ غداری کے مترادف ہوگا۔ لہٰذا میں اس عظیم اجتماع سے یہ اپیل کرتا ہوں کہ آج ہم یہ عہد لے کر اٹھیں کہ جن لوگوں نے سرکار دو عالم ﷺ کی شان میں گستاخی کی اور جن حکومتوں نے ان کی پشت پناہی کی ہے اور ان کا دفاع کیا ہے ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں۔

یاد رکھیے کہ یہ لوگ آزادی صحافت کی آڑ لے کر اور اس کا بہانہ بنا کر اس گستاخی کا ارتکاب کرنے والوں کو اس لیے نہیں روک سکتے کہ ہمارے ہاں اظہار رائے کی آزادی ہے۔ یہ اظہار رائے کی آزادی کا بہانہ، یہ مبہم الفاظ ...... ان کا مطلب صرف یہ ہے کہ جو ہمارے مفاد کے موافق ہو اس کو قبول کریں گے اور جو ہمارے مفاد کے خلاف ہو اس کو رد کریں گے۔ لہٰذا میرے بھائیو! یہ قوم صرف باتوں سے ماننے والی نہیں ہے، یہ جوتے کی آشنا قوم ہے جب تک کوئی ان پر جوتے نہیں پھیرے گا اس وقت تک یہ قابو میں نہیں آئیں گے۔ آج اگر ہم سے کوئی کہے کہ آؤ ڈنمارک پر چڑھائی کرتے ہیں تو یہ ہمارے اختیار سے فی الحال باہر ہے۔ یہ بات ضرور یاد رکھنی چاہیے کہ جب اللہ پاک اس بات کا موقع عطا فرمائے تو ہم اس کے لیے بھی تیار ہیں ...... لیکن اس وقت ایک چیز جو مسلمان کے اختیار میں ہے، ہر تاجر کے اختیار میں ہے، وہ یہ ہے کہ ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے۔ ہر شخص بتائے کیا وہ یورپ کی مصنوعات کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا؟ کیا تمہارے نزدیک نبی کریم ﷺ کی ناموس زیادہ عزیز ہے۔ ڈنمارک کا مکھن زیادہ عزیز ہے؟ اگر سرکار دو عالم ﷺ کے نام پر ہمیں فاقے بھی کرنے پڑ جائیں، پیٹ پر پتھر بھی باندھنے پڑ جائیں تو ایک مسلمان کے لیے یہ کوئی بڑی بات نہیں۔ اگر آج ہم میں سے ہر شخص یہ تہیہ کر لے کہ ان کی مصنوعات نہ خریدیں گے اور نہ بیچیں گے اور نہ ہی استعمال کریں گے تو یہ دنیا پرست اور مال کے پجاری گھٹنے ٹیک دیں گے۔

یاد رکھیے! اس بائیکاٹ سے ان کو دن میں تارے نظر آ جائیں گے۔ ہم نے بین الاقوامی سطح پر اس مسئلے کو اٹھانے کے لیے ”او آئی سی“ کے ذریعے اس بات کی کوشش کی ہے اور ان شاء اللہ وہ کوشش اللہ کی رحمت سے کامیاب ہوگی۔ یہ قانون بنایا جائے کہ بین الاقوامی طور پر کوئی بھی شخص نہ صرف نبی کریم ﷺ کی بلکہ تمام انبیائے کرام میں سے کسی کی بھی شان میں

صفحہ 104

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 104 ماہنامہ مسیحائی کراچی

کوئی ادنیٰ گستاخی کا مرتکب ہو وہ سخت ترین سزا کا مستوجب ہوگا اور یہ قانون الحمدللہ بنانا شروع کر دیا گیا ہے لیکن یہ قانون اسی وقت کامیاب ہو سکتا ہے اور ہم اس کے نفاذ میں اس وقت کامیاب ہو سکتے ہیں جب کہ عوام کی طرف سے یہ پریشر، دباؤ اور احتجاج برقرار رہے، لہٰذا جو لوگ کہتے ہیں کہ یہ کیوں بار بار احتجاج کر رہے ہیں؟ بار بار کیوں جلسے منعقد کر رہے ہیں؟ تو یہ کہنے والے درحقیقت اس تحریک کو دبانا چاہتے ہیں لیکن اگر یہ تحریک جاری نہ رہی اور مسلمانوں کی طرف سے یہ دباؤ برقرار نہ رہا تو بین الاقوامی سطح پر ہونے والی وہ کوششیں بھی کامیاب نہیں ہو سکتیں جو اس وقت ہو رہی ہیں۔ لہٰذا میری آپ حضرات سے اس وقت تین گزارشات ہیں:

ممالک کا مکمل بائیکاٹ کریں گے۔

کردار تک نہیں پہنچایا جاتا اس وقت تک ہماری یہ تحریکیں جاری رہے گی۔

اس میں کسی بے گناہ کی جان، مسلمان کی آبرو پر حملہ نہیں ہونا چاہیے۔ سرکار دوعالم ﷺ کا ارشاد ہے کہ مومن کی جان و مال اور آبرو، کعبہ سے زیادہ حرمت رکھتی ہے لہٰذا ہمیں جس طرح حضور اکرم ﷺ سے محبت کا حق ادا کرنا ہے اسی طرح ہر انسان کا بھی حق ادا کرنا ہے۔ ہماری تحریک یہ ثابت کرتی ہے کہ ایک منظم اور مرتب تحریک ہے اور اس میں کسی بے گناہ کی جان و مال و آبرو پر کوئی حملہ نہیں ہوگا۔

یاد رکھیے! اس قسم کی تحریکوں میں ہمیشہ کچھ شرپسند عناصر ہاتھ دکھا جاتے ہیں اور اس کو بدنام کرنے کے لیے اور اس کو غلط رخ پر ڈالنے کے لیے ایسے اقدامات کرتے ہیں جن سے وہ تحریک ناکام ہو۔ ایسے اقدامات سے ہمیشہ خبردار رہیں اور اپنی اس تحریک کو منظم اور پُر امن طور پر سرکار دوعالم ﷺ کی تعلیمات کے مطابق اس وقت تک جاری رکھیں جب تک یہ مجرم کیفر کردار تک نہیں پہنچ جاتے۔

صفحہ 105

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

دنیا کو تہذیبی تصادم سے بچایا جائے

توہین آمیز خاکوں کی اشاعت

ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی طرف سے عالمی رہنماؤں کے نام خصوصی مراسلہ

بعض یورپی اخبارات میں پیغمبر اسلام ﷺ کے بارے میں توہین آمیز اور گستاخانہ خاکوں کی اشاعت نے دنیا کو انتہائی ہیجانی اور اشتعال انگیز صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ اس معاملے سے نبرد آزما ہونے میں حکومتوں کی ناکامی کے باعث دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے اضطراب اور بے چینی کی ایسی فضا پیدا ہو گئی ہے جس کا خاتمہ ہوتا قریب قریب نظر نہیں آتا۔ اگر اس کشیدہ صورتحال کو اسی طرح بے قابو رہنے دیا گیا تو پُرامن بقائے باہمی کا تصور معرض خطر میں پڑ جائے گا اور اگر اس سے پیدا ہونے والے بگاڑ کا مداوا نہ کیا گیا تو اس امر کا امکان ہے کہ نہ صرف تہذیبیں آپس میں متصادم ہوں گی بلکہ یہ تصادم مذاہب اور معاشروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ اس مراسلے کا مقصد معاملے کو صحیح تناظر میں رکھتے ہوئے حقیقت پسندانہ اور قابل عمل اقدامات تجویز کرنا ہے جس سے سلجھاؤ کی کوئی صورت نکل سکے۔

فی الوقت ملوث اخبارات آزادیٔ اظہار کے حق کو اس قبیح اشاعت کا جواز بنا رہے ہیں۔ اس کے دفاع میں وکالت کرنے والے آزادیٔ تقریر کی تقدیس پر زور دے رہے ہیں جس کا علم بلند رکھنا ان کے نزدیک ضروری ہے، چاہے اس کے نتائج کچھ بھی ہوں۔ تاہم فی الحقیقت یہ معاملہ آزادیٔ اظہار کا نہیں کیوں کہ یہ کوئی مطلق حق نہیں، نہ ہی کوئی ایسا دعویٰ کر سکتا ہے۔

حقوق اپنی نوعیت کے اعتبار سے باہم مربوط ہوتے ہیں اور ان کی تنفیذ کا دارومدار

صفحہ 106

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 106 ماہنامہ مسیحائی کراچی

باہمی طور پر دیگر بنیادی حقوق پر ہوتا ہے۔ اس بات پر اصرار کرنا غلطی ہوگا کہ کوئی حق مطلق ہوتا ہے اس لیے کہ اس حق کی زدوسروں کے بنیادی حقوق پر پڑ سکتی ہے۔ مہذب اور جمہوری دنیا کا حصہ ہونے کے دعویدار ہر ملک نے اظہار کی آزادی پر اپنے معاشرے کے مفاد میں کچھ حدود اور پابندیاں عائد کر رکھی ہیں تاکہ ایک خاص سطح کے انسانی طرزِ عمل کو برقرار رکھا جا سکے ایسی پابندیاں بعض اوقات مقامی رسوم و رواج اور معاشرتی روایات پر مبنی ہوتی ہیں تو بعض اوقات ثقافتی اقدار اور مذہبی تعلیمات ان کی بنیاد بنتی ہیں۔ اس کی روح یہ ہے کہ وہ اپنے اخلاقی،تہذیبی، سماجی اور معاشرتی اقدار اور وقار کے تحفظ کے داعی بنیں۔

لہٰذا اس شور وغوغا کا بلند کرنا کہ مسلمانوں کے احتجاج اور مظاہروں سے آزادی تقریر و تحریر پامال ہو رہی ہے حقیقت کو جھٹلانے کے مترادف ہے۔ مثال کے طور پر بچوں میں جنسی ہیجان پیدا کرنے والی آزادانہ فحش نگاری یا مذہبی و نسل پرستانہ نفرت کی میڈیا میں تشہیر کرنے پر بجا طور پر بہت سے ممالک میں پابندی لگی ہوئی ہے۔ بہت سے یورپی ملکوں میں عالمی جنگ کی تباہی سے انکار ایک جرم تصور کیا جاتا ہے۔ آسٹریا، بیلجیئم، چیک ریپبلک، فرانس، جرمنی، اسرائیل، لتھویا، پولینڈ، رومانیہ، سلواکیہ اور سوئٹزر لینڈ میں یہ ایک فوجداری جرم ہے جس کی سزا جرمانوں اور قید کی صورت میں دی جاتی ہے۔ ایک برطانوی اخبار (27 جنوری 2003ء) نے اسرائیلی وزیر اعظم ایریل شیرون کا کارٹون شائع کیا جس میں دکھایا گیا کہ وہ ایک فلسطینی بچے کا سر کھا رہا ہے اور کہہ رہا ہے ”اس میں کیا بُرائی ہے! تم نے اس سے پہلے کسی سیاستدان کو نومولود بچوں کو کبھی چومتے ہوئے نہیں دیکھا“۔ اس کارٹون نے اسرائیل سمیت دنیا بھر کی یہودی آبادیوں میں ایک طوفان برپا کر دیا۔ خاکہ حقیقت کے چاہے کتنا ہی قریب ہو یہ ردِ عمل اس قوم کا اپنے لیڈر کے لیے ایک فطری بات تھی۔

حال ہی میں اٹلی کے وزیر اعظم نے جب یہ بیان دیا کہ وہ رومی سیاست کے یسوع مسیح ہیں تو کلیسائے روم اور اطالوی سیاستدانوں نے اس پر گہرے غم و غصے کا اظہار کیا۔ کلیسائے روم کے اعلیٰ عہدیدار نے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ وہ کہیں گے کہ انہوں نے یہ جملہ ازراہِ تفنن

کہا، لیکن اس طرح کے جملے مذاق میں بھی پر پابندی کا نہیں بلکہ تہذیبوں کی مقدس ا کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔

دنیا کے کم وبیش تمام ممالک میں ہر جگہ ق نافذ ہے جس کے تحت کسی فرد کو کسی کی ہتک دی جاسکتی ہے۔ اس طرح آزادانہ اظہار عطا کرنے کے لیے عمل میں لائی جاتی ہے۔ کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا باعث بنتا ہ گردانا جاسکتا۔ مزید برآں بہت سے ملکوں توہین قانونی طور پر قابلِ گرفت ہے اور اس فوج، قانونی عدالتیں یا پارلیمنٹ شامل ہیں موجود ہے جو آزادی تقریر پر سخت پابندیاں ع کی سزا دی جاسکتی ہے۔ اگر مطلق آزادی ا اعتراضات کیوں نہیں اٹھائے جاتے؟ کسی فرد ہے جس میں نازیبا کلمے اور گستاخانہ الفاظ کہنے مذہبی آزادی کا تحفظ شامل ہے۔ اقوام متحدہ ک حقوق کے تحفظ کی شق موجود ہے۔

یو این او چارٹر کی دفعہ:

UNO چارٹر کی دفعہ (ii) کے مطابق اقوا مسائل کے حل اور بین الاقوامی تعاون کے حصول کے احترام کی حوصلہ افزائی کرنا ، سب کے لیے بلا جیسے بنیادی انسانی حقوق کو تسلیم کیا گیا۔

صفحہ 107

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

کہا، لیکن اس طرح کے جملے مذاق میں بھی نہیں کہنے چاہئیں یہاں بھی معاملہ آزادی اظہار پر پابندی کا نہیں بلکہ تہذیبوں کی مقدس ہستیوں اور علامات کی گستاخی اور بے ادبی کے عنصر کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔

دنیا کے کم وبیش تمام ممالک میں ہرجانہ کے دیوانی قانون کے تحت ہتک عزت کا قانون نافذ ہے جس کے تحت کسی فرد کو کسی کی حق تلفی یا شہرت کے نقصان پر ہرجانہ ادا کرنے کی سزا دی جاسکتی ہے۔ اس طرح آزادانہ اظہار کے مطلق حق کی تعزیر کسی فرد کے حقوق کو توازن عطا کرنے کے لیے عمل میں لائی جاتی ہے۔ بعینہ اگر کسی کا کوئی عمل ایک خاص قوم یا ملت کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا باعث بنتا ہے تو آزادی تقریر کی آڑ میں اسے کبھی جائز نہیں گردانا جاسکتا۔ مزید برآں بہت سے ملکوں میں مخصوص قومی اداروں کے دستور کی تضحیک و توہین قانونی طور پر قابل گرفت ہے اور اس کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ ان قومی اداروں میں فوج، قانونی عدالتیں یا پارلیمنٹ شامل ہیں۔ اس طرح دنیا بھر میں توہین عدالت کا قانون موجود ہے جو آزادی تقریر پر سخت پابندیاں عائد کرتا ہے، اس کی خلاف ورزی کرنے پر قید کی سزا دی جاسکتی ہے۔ اگر مطلق آزادی اظہار کا قانون موجود ہے تو ان قوانین پر اعتراضات کیوں نہیں اٹھائے جاتے؟ کسی فرد کی عزت و آبرو کا تحفظ ایک بنیادی انسانی حق ہے جس میں نازیبا کلمے اور گستاخانہ الفاظ کہنے اور لکھنے کی ممانعت، ہتک عزت پر پابندی اور مذہبی آزادی کا تحفظ شامل ہے۔ اقوام متحدہ بہت سے ممالک کے دساتیر اور قوانین میں ان حقوق کے تحفظ کی شق موجود ہے۔

یو این او چارٹر کی دفعہ:

UNO چارٹر کی دفعہ (11) کے مطابق اقتصادی، سماجی، ثقافتی اور انسانی بین الاقوامی مسائل کے حل اور بین الاقوامی تعاون کے حصول کی خاطر انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے احترام کی حوصلہ افزائی کرنا، سب کے لیے بلا امتیاز نسل، جنس، زبان و مذہب کی آزادی جیسے بنیادی انسانی حقوق کو تسلیم کیا گیا ہے۔

صفحہ 109

ماہنامہ مسیحائی کراچی 108 حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

نیز اس شق کو انسانی حقوق کے یورپی کنونشن کی دفعہ 9 میں بھی تسلیم کیا گیا ہے۔ اپنے مذہب یا عقائد کی آزادی کو ظاہر کرنے پر صرف ایسی حدود عائد کی جائیں گی جو جمہوری معاشرے میں عوام کے اجتماعی تحفظ، عوامی نظم و نسق کی بحالی، صحت یا اخلاق عامہ یا دوسروں کے حقوق اور آزادیوں کی حفاظت کے لیے ضروری ہوں اور ان کے لیے قانونی ضابطے موجود ہیں۔

ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا دستور، ترمیمی بل برائے حقوق: ”کانگریس مذہب کو قائم کرنے یا اس کی آزادی میں رخنہ اندازی کرنے یا تقریر اور پریس کی آزادی کو پابہ زنجیر کرنے، یا لوگوں کے آزادانہ اجتماع کے حق کی پاسداری اور حکومت کو شکایات کے ازالے سے روکنے کے لئے کوئی قانون وضع نہیں کرے گی۔“ بعض امریکی ریاستوں نے گستاخانہ تضحیک و تنقیص کی روک تھام کے حوالے سے قوانین اپنی قانون کی کتابوں میں درج کر رکھے ہیں۔

(باب 272، سیکشن 360)

”جو کوئی بھی خدا کے پاک نام پر دانستہ گستاخانہ اور بے ادبی کے الفاظ کہتا ہے یا خدا کے بارے میں بد زبانی، بیہودہ گستاخانہ زبان درازی اور یاوہ گوئی سے کام لیتا ہے یا اس کی مخلوق مملکت یا حتمی انصاف کرنے والی ہیئت مقتدرہ کو ہدف بناتا ہے یا یسوع مسیح یا مقدس روح کی تضحیک کرتا ہے، مقدس صحیفوں میں درج خدائی فرامین کی ہتک اور توہین کرتا ہے اسے جیل میں قید کی سزا دی جائے گی۔“

گستاخانہ کلمات اور بے ادبی کی سزا اور حوصلہ شکنی کے لئے درج ذیل ممالک میں قوانین موجود ہیں۔

(آرٹیکل 188، 189 کریمینل کوڈ)

(سیکشن 10 چیپٹر 17 پینل کوڈ)

(آرٹیکل 166 کریمینل کوڈ)

(آرٹیکل 147 کریمینل کوڈ)

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 109

(آرٹیکل 525 کریمینل کوڈ)

(آئرلینڈ کے دستور کے آرٹیکل 1، 14

اشاعت ایک جرم ہے۔)

منافرت ایکٹ 1989 کے امتناع میں ایک گروہ یا جـ نفرت بھڑکانا بھی شامل ہے۔

(سیکشن 296 کینیڈین کریمینل کوڈ)

عیسائی مذہب کی تنقیص و تضحیک ایک جرم ہے۔

(سیکشن 123 نیوزی لینڈ کرائمز ایکٹ

مثال کے طور پر عیسائی دنیا میں گرجوں کی تقدیس کو قانو ممالک کے دساتیر میں ان کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ ڈنمارک چرچ) کی مثال موجود ہے جس میں کہا گیا ہے۔ ”ایونجیلیکل لوتھرن (پروٹسٹنٹ) چرچ ڈنمارک کا ریا مدد واعانت ریاست کے ذمہ ہوگی۔“ مذکورہ بالا قوانین سے یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ آ مگر یہ ایک مطلق حق نہیں۔ ماضی میں سینکڑوں کی تعداد میں شائع ہوئے ہیں جن میں اسلام کو ہدف تنقید بنایا گیا ہے ا تضحیک کی کوشش کی گئی ہے مگر مسلمانان عالم نے کبھی اس نہیں کیا کیونکہ یہ بات بخوبی ان کے علم میں ہے کہ یہ اسلا ہے اور یہ آزادی اظہار کے ضابطوں کے زمرے میں آتا مضامین میں اسلام کو بالکل غلط رنگ میں پیش کیا جاتا ہے مبالغہ آمیز کہانیوں پر مبنی مواد اسلام کے حوالے سے پریس نے کبھی تحمل اور برداشت کا دامن اپنے ہاتھ سے نہیں چھوڑ ہمیشہ ایسے اعتراضات کا علمی اور فقہی جواب دینے پر ہی

صفحہ 109

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 109 ماہنامہ مسیحائی کراچی

اشاعت ایک جرم ہے۔) منافرت ایکٹ 1989 کے امتناع میں ایک گروہ یا جماعت کے لیے مذہب کے خلاف نفرت بھڑکانا بھی شامل ہے۔

عیسائی مذہب کی تنقیص و تضحیک ایک جرم ہے۔

مثال کے طور پر عیسائی دنیا میں گرجوں کی تقدیس کو قانون کا درجہ حاصل ہے، بعض یورپی ممالک کے دساتیر میں ان کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ ڈنمارک کے دستور کی سیکشن 4 (اسٹیٹ چرچ) کی مثال موجود ہے جس میں کہا گیا ہے۔ ”ایونجیلیکل لوتھرن (پروٹسٹنٹ) چرچ ڈنمارک کا ریاستی قائم کردہ چرچ ہوگا اور اس کی مدد و اعانت ریاست کے ذمہ ہوگی۔“

مذکورہ بالا قوانین سے یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ آزادی تقریر ایک بنیادی حق تو ہے مگر یہ ایک مطلق حق نہیں۔ ماضی میں سینکڑوں کی تعداد میں ایسی کتابیں اور اخباری مضامین شائع ہوئے ہیں جن میں اسلام کو ہدف تنقید بنایا گیا ہے اور مسلمانوں کے بنیادی عقائد کی تضحیک کی کوشش کی گئی ہے مگر مسلمانانِ عالم نے کبھی اس عالمانہ بحث مباحثے پر اعتراض نہیں کیا کیونکہ یہ بات بخوبی ان کے علم میں ہے کہ یہ اسلام پر جاری بحث مباحثے کا حصہ ہے اور یہ آزادی اظہار کے ضابطوں کے زمرے میں آتا ہے۔ لاتعداد اخباری مقالوں اور مضامین میں اسلام کو بالکل غلط رنگ میں پیش کیا جاتا ہے یہاں تک کہ صریحاً جھوٹ اور مبالغہ آمیز کہانیوں پر مبنی مواد اسلام کے حوالے سے پریس میں چھاپا جاتا ہے لیکن مسلمانوں نے کبھی تحمل اور برداشت کا دامن اپنے ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ اسلام کے علماء اور محققین نے ہمیشہ ایسے اعتراضات کا علمی اور فقہی جواب دینے پر ہی اکتفا کیا ہے۔ وہ یہ بات بخوبی

صفحہ 110

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

جانتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ ایسے معاشروں میں رہ رہے ہیں جو آزاد اور حریت پسند جمہوریتوں کا حصہ ہونے کی داعی ہیں۔ تاہم جب کبھی آزادی اظہار کے حق کا غلط اور بیجا استعمال کیا جاتا ہے اور اسلام کی مقدس ترین ہستیوں کی دیدہ دانستہ توہین کی جاتی ہے تو پھر اس معاملے پر بے چینی، اضطراب اور غم و غصے کا پیدا ہونا ایک فطری اور قابل فہم امر ہے۔ پیغمبر اسلام نبی اکرم ﷺ کو چاقو لہراتے ہوئے دکھانا اور دستار میں بم چھپائے ہوئے ظاہر کرنا ایک بین گستاخی اور توہین آمیز اقدام ہے اور اس تنازعہ کو غلط رخ دے کر اس تاثر کو ہوا دینا ہے کہ وہ اور ان کے پیروکار (معاذ اللہ) پرتشدد، دہشت گرد اور امن عالم کے دشمن ہیں۔ یہ عمل عدل وانصاف کے تمام مسلمہ ضابطوں کی دھجیاں بکھیرنے کے مترادف ہے۔ ایک دوسرے خاکے میں یوں عکاسی کی گئی ہے کہ وہ مردانہ خودکش بمباروں کی حمایت میں یہ کہہ رہے ہیں مزید برآں ان خاکوں کی اشاعت رواروی میں نہیں ہوئی بلکہ وہ مسلمانوں کے خلاف تعصب اور جانبداری کے خاص ماحول میں شائع کیے گئے ہیں اور نہ صرف ڈنمارک میں پائی جانے والی فضا بلکہ یورپ بھر کی آبادیوں میں مسلمانوں کے خلاف تناؤ اور مخاصمت پورے عروج پر ہے۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے ڈنمارک کی ملکہ کے یہ متنازعہ جملے اخبار میں چھپے ہیں۔ ”ہمیں اسلام کی مخالفت کرتے ہوئے اس امر کی کوئی پروا نہیں اگر ہمارے خلاف ناپسندیدہ لیبل بھی چسپاں کر دیئے جائیں کیونکہ کچھ چیزیں ایسی ہیں جن کے لیے ہمیں تحمل اور برداشت سے کام نہیں لینا۔“

مزید برآں بیشتر ملکوں نے دہشت گردی کے خلاف قانون سازی کرتے ہوئے افراد کی شہری آزادیوں پر سخت ناروا پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ یہ قانون سازی اس طرح کی گئی ہے کہ ان کا خاص نشانہ وہاں کی مسلمان آبادی کو بنایا گیا ہے۔ اس سے ان میں یہ شدید احساس پایا جاتا ہے کہ ذرائع ابلاغ میں ایک بہت بڑی اقلیت سے مسلسل بلا روک ٹوک زیادتیاں کی جاتی ہیں اور ان کی ایسی منفی تصویر کشی کی جاتی ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ پھر ان کی شہری آزادیوں کو پابندیوں کی زنجیروں میں جکڑ کر ان کی روزمرہ زندگی کو اجیرن بنا دیا گیا ہے۔ یہ سب کچھ تقریر کی آزادی اور قومی مفاد کے نام پر روا رکھا جاتا ہے۔

صفحہ 111

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 111 ماہنامہ مسیحائی کراچی

یہ امر موجب حیرت ہے کہ مسلمانوں کی مقدس ہستیوں کو آزادی تحریر و تقریر کے نام پر تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا ہے یہ جانتے ہوئے کہ ان کی طرف اس کا شدید ردعمل ہوگا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کا مقصد مسلمانوں کی دل آزاری، ان کے جذبات کو مجروح کرنا اور ان کے مذہب اور ثقافت کو تضحیک کا نشانہ بنانا ہے۔

صورتحال کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے بعض عالمی رہنماؤں اور زعماء نے ان توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کی مذمت کی ہے۔ اس کے ساتھ آزادی تقریر کے حق پر لگائی گئی پابندیوں پر بھی زور دیا ہے۔

کوفی عنان نے کہا: ”میں بھی آزادی تقریر کا احترام کرتا ہوں مگر تقریر کی آزادی مطلق نہیں ہوتی۔ یہ ذمہ داری اور انصاف کا بھی تقاضا کرتی ہے۔“

جیک سٹرا (برطانوی وزیر خارجہ) نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا: ”آزادی تقریر کا تو ہم سب احترام کرتے ہیں، لیکن بے عزتی اور اشتعال انگیزی کی کوئی چھوٹ نہیں دی گئی۔ میرے خیال میں ان خاکوں کی بار دگر اشاعت زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ یہ سب کچھ بے حسی، عدم احترام اور غلطی پر مبنی تھا۔ ہر مذہب میں قابل حرمت چیزیں ہوتی ہیں۔ یہ ایسا معاملہ نہیں کہ تحریر و تقریر کی آزادی کے نام پر عیسائی رسوم و رواج اور مذہبی عبادات سے تعرض کرنے کا موسم آگیا ہے نہ ہی یہ یہودی مذہب، ہندو مذہب یا سکھ مذہب کے حقوق اور رسوم سے چھیڑ چھاڑ کرنے کا موسم ہے۔ ایسا اسلامی مذہب سے بھی روا نہیں رکھا جانا چاہئے۔ ہمیں اس صورت حال میں احتیاط اور مناسب ادب و احترام کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔“ (بی بی سی نیوز اور ویب سائٹ) امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے یہ بیان جاری ہوا: ”یہ کارٹون واقعی توہین آمیز اور مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا موجب ہیں۔“ محکمے کے ترجمان کرٹس کوریر کا بیان ہے۔ ”ہم سب آزادی اظہار اور پریس کی آزادی کا مکمل احترام کرتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ پریس کو ذمہ داری کا مظاہرہ بھی کرنا ہوگا۔ مذہبی اور فرقہ وارانہ منافرت کو اس طرح ہوا دینا قابل قبول نہیں۔“ (ڈیلی ٹیلی

صفحہ 112

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 112 ماہنامہ سبحانی کراچی

گراف 06-2-4) فلپ ڈوسٹے بلیڈی (فرانسیسی وزیر خارجہ) نے اس موقع پر کہا: ”آزادی اصول تحمل و برداشت، عقیدوں اور مذاہب کے احترام کے جذبے کے ساتھ ملحوظ رکھنا چاہئے اور یہ ہمارے ملک میں سیکولرز کے لیے بنیاد کا درجہ رکھتا ہے۔“ (بی بی سی نیوز)

ویٹی کن کارڈینل Achille Selvestrine (پاپائے روم) نے ان کارٹونوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ”مغربی کلچر کو اپنی حدود کے اندر رہنا سیکھنا چاہئے ۔“

ان تصریحات سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ آزادی تحریر و تقریر کے بارے میں اس سوچ کو جگہ دینا کہ اس آزادی کی کوئی حدود و قیود نہیں ایک غلط مفروضہ ہے۔ کوئی قول اور فعل جو کسی طبقہ کی اخلاقی اور مذہبی اقدار کو ٹھیس پہنچاتا ہے اور جس سے اس کی سلامتی، بقا اور تقدیس پر ضرب لگانے سے امن کے لیے سنگین خطرہ پیدا ہو جاتا ہے، اسے آزادی تحریر و تقریر کا حق نہیں گردانا جا سکتا۔ اسلام تحمل و رواداری، بقائے باہمی اور جیو اور جینے دو کے اصول کی تعلیم دیتا ہے۔ یہ دوسرے مذاہب کے معبودوں، مذہبی علامتوں کو بُرا کہنے کی حوصلہ شکنی کرتا ہے اور انسانیت کے احترام کا سبق دیتا ہے۔ (القرآن الانعام ۶: ۱۰۸) اسلامی قانون نے بلا امتیاز دیگر مذاہب کی سلامتی، وقار و احترام اور ان کے عقائد کے احترام پر بہت زور دیا ہے۔

اگر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ بقائے باہمی اور تحمل و برداشت کے اصولوں کو بالائے طاق رکھ دیا جائے، اخلاقی اور مذہبی اقدار کی توہین و تضحیک کی جائے تو اس صورت میں موجودہ کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگا اور تناؤ کی فضا اور بھی سنگین ہو جائے گی۔ یورپ اپنے آپ کو ایک تعلیم یافتہ اور مہذب معاشرہ سمجھتا ہے لیکن یہ بات ماورائے فہم ہے کہ اس کا ردّعمل اپنی ایک بڑی اقلیت کے مذہب کے بنیادی حق کی خلاف ورزی کے بارے میں اس قدر بے حسی اور بے عملی کا مظاہرہ مظہر و عکاس ہوگا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ کوئی ایسی تدبیر اور لائحہ عمل اختیار کیا جائے جس سے ایسے

صفحہ 113

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

واقعات کو دوبارہ رونما ہونے سے روکا جا سکے جو عالمی امن کو سنگین خطرات سے دوچار کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔ وہ لوگ جو اس بات کی وکالت کرتے ہیں کہ آزادی تحریر و تقریر سے تعرض نہیں کرنا چاہئے اور یہ کہ اس پر کوئی قدغن عائد نہیں کی جاسکتی انہیں اپنے جمہوری معاشروں پر ایک نظر ضرور ڈال لینی چاہئے اور یہ دیکھ لینا چاہئے کہ ان کی شہری آزادیوں کو دہشت گردی کے خلاف حالیہ قانون سازی کے ذریعے کتنا کھوکھلا بنا دیا گیا ہے۔ ان کی طرف سے اٹھائے جانے والے اقدام نے افراد کے حقوق اور آزادیوں کو زنجیروں سے جکڑ دیا ہے اور اس سے پیدا ہونے والے مضمرات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ اس صورت حال کا فوری ازالہ کیا جائے۔ مسلمانوں میں اجنبیت اور نشانہ بنائے جانے کا احساس بہت شدت پکڑ گیا ہے۔ بالخصوص جب ان کے مقدس ترین دینی شعائر اور شخصیات پر اخبارات کے ذریعے حملہ کیا جاتا ہے تو لامحالہ اس کا ردعمل بھی اتنا ہی شدید ہوگا۔

اگر اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے کر اس صورت حال سے عہدہ برآ ہونے کے لیے مناسب اقدامات نہ کیے گئے تو پھر اس کے نتیجے میں ایسے معاشرتی، سیاسی اور اقتصادی و معاشی بحران جنم لیں گے جو تہذیبوں اور اقوام کے مابین خطرناک تصادم پیدا کرنے کا باعث ہوں گے۔

ان رسوا کن قابل مذمت خاکوں کی اشاعت سے پیدا ہونے والے غم و غصہ کے پیچھے ایسی وجوہ ہیں جو اس جرم پر حکومتوں کی بے اعتنائی اور لاپرواہی کا نتیجہ ہیں۔ اس وقت دنیا بھر میں سوا ارب مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو بُری طرح ٹھیس پہنچی ہے۔ چاہئے تو یہ تھا کہ معاملے کو ٹھنڈا کیا جاتا لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ اس معاملے کو سلجھانے کی بجائے اس کا جواز دینے کی مسلسل کوشش کی جا رہی ہے جس سے دنیا بھر میں اضطراب اور بے چینی کی کیفیت میں روز بہ روز اضافہ اور شدت پیدا ہو رہی ہے۔

اس بین الاقوامی اہمیت کے مسئلے کو حل کرنے اور اس سے رونما ہونے والی کشیدہ صورت حال کے ازالے کے لیے ضروری ہے کہ مندرجہ ذیل اقدامات کو عملی جامہ پہنایا جانا ناگزیر ہے۔

صفحہ 114

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 114 ماہنامہ مسیحائی کراچی

ان اشاعتوں کو واپس لیں۔

متوازن بنانے کی حامی ہیں واضح قانون سازی کرنا ضروری ہے کہ ان کے مقدس اور قابل تکریم عقائد ونظریات کی تضحیک نہیں کی جائے گی۔

ضابطے کے عمل سے گزار کر نافذ کیا جائے تاکہ اس قسم کی اشتعال انگیزی اور تضحیک کو دوبارہ رونما ہونے سے روکا جاسکے۔

مجھے توقع ہے کہ عقل و ہوشمندی سے کام لیتے ہوئے ذمہ دار رہنما موقع کی مناسبت کے مطابق اس نقصان کی تلافی کریں گے جو بین المذاہب تعلقات کو پہنچ چکا ہے۔ میں اس بات کی توقع بھی رکھتا ہوں کہ متعلقہ ممالک کے رہنما ذمہ دارانہ قیادت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلم دنیا کی طرف خیر سگالی کا ہاتھ بڑھائیں گے۔

صفحہ 115

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

محسن انسانیت ﷺ کی تعظیم و توقیر اور ادب و احترام

عالم انسانیت کا اجتماعی اور انسانی فریضہ

ڈاکٹر حافظ محمد ثانی

یہ ایک تاریخی اور ابدی حقیقت ہے کہ رہبر آدمیت، محسن انسانیت، ہادی اعظم حضرت محمد ﷺ کے ظہورِ قدسی سے عالم نو طلوع ہوا، انسانیت کی صبح سعادت کا آغاز ہوا، جب آپ ﷺ نے اس جہان میں قدم رکھا، اس وقت سے تاریخ عالم نے ایک نئے سفر کا آغاز کیا۔ دنیا میں آپ ﷺ کی تشریف آوری سے ایک تاریخ ساز اور مثالی دور کا آغاز ہوا۔ ایک ایسا انقلاب رونما ہوا جس نے انسانی عظمت و وقار کو بحال کر کے دنیا میں امن و سلامتی اور احترام انسانیت کو عام کیا۔ انسانیت کو توحید کے نور سے منور کر کے کفر و شرک اور ظلمت و جہالت کے اندھیروں اور تاریکیوں کو دور کیا۔ خورشید احمد گیلانی مرحوم کے الفاظ میں ”اس سے قبل انسان اس قدر پستی کا شکار تھا کہ ہر ابھرتی شے کے سامنے جھک جاتا، اتنا خوف زدہ تھا کہ ہر ہیبت زدہ شے کی بندگی پر آمادہ ہو جاتا، اتنا سہما ہوا تھا کہ ہر ایک کا زور اس پر چلتا تھا۔ وہ ظلم، جہالت، کفر و شرک کی تاریکیوں میں ڈوبا ہوا تھا، طبقاتی تقسیم اور غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا۔ جنگ و جدل، اور ظلم و سفاکی اس کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ اس تاریک دور میں انسان اتنا پست اور گھٹا ہوا تھا کہ کائنات میں سانس لیتے ہوئے خوف محسوس کرتا تھا، ظلم و استحصال اور طبقاتی و نسلی منافرت میں اتنا جکڑا ہوا تھا کہ ہر نئی زنجیر کو اپنے لیے تقدیر سمجھتا تھا“۔

محسن انسانیت ﷺ نے دنیائے انسانیت کو اس کا حقیقی مقام عطا کیا، اس کی عزت و آبرو کو بحال کیا، اس کے شرف و منزلت اور تکریم کا اعلان کیا۔ احترام انسانیت کا درس عام کیا۔ ظلم و جبر، استحصال، طبقاتی تقسیم اور غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے انسانوں کو حریت، عزت و وقار اور مساوات کا پیغام دیا۔ آپ ﷺ نے اسے بتایا کہ تیری حرمت کعبے سے افضل ہے۔

صفحہ 116

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ سبحانی کراچی

تو زمین پر اللہ کا نائب اور اس کا خلیفہ ہے، تو مسجود ملائک اور اشرف المخلوقات ہے، یہ دنیا، یہ کائنات اور قدرت کے یہ مناظر تیرے لیے ہیں اور تو اپنے پروردگار کی بندگی کے لیے بھیجا گیا ہے، اس طرح آپﷺ نے انسان کو انسان کی غلامی سے نکال کر اسے اللہ کی بندگی اور صراط مستقیم پر گامزن کیا۔ اسے بندگی کا شعور اور خود آگہی کا مثالی درس دیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ انسان جو لاعلمی اور خود فریبی کی بناء پر پہلے مٹی کے بتوں کے سامنے سجدہ ریز ہوتا تھا، بعد ازاں پہاڑ اس کی ہیبت سے رائی بنے، جو انسان پتھر کی مورتیوں اور انجانی قوتوں کے خوف سے جاں بلب تھا، صحرا اور دریا اس کی ٹھوکر سے دو نیم ہوئے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ کائنات کا اعتبار ہو یا انسانیت کی تکریم، اس کی عزت و وقار کی بحالی ہو، یا شرف و منزلت اور دین و دنیا میں اس کی کامیابی، علم کی اشاعت ہو یا تہذیب و تمدن کا عروج، یہ سب کچھ صاحب لولاک، ہادی اعظم، سید عرب و عجم حضرت محمدﷺ کے دم قدم سے ہے۔ یہ عالم انسانیت پر رہبر آدمیت، محسن انسانیتﷺ کے وہ احسانات ہیں، جنہیں تاریخ انسانیت کبھی فراموش نہیں کرسکتی۔ آپﷺ عالم انسانیت کی آبرو اور اس کا وقار ہیں۔ آپﷺ انسانیت کی آبرو بڑھانے اور اسے دین کی اس روشن و درخشاں راہ پر گامزن کرنے کے لیے تشریف لائے، جو صراط مستقیم اور دین و دنیا کی کامیابی و سرفرازی کا راستہ ہے۔ ایسا روشن راستہ جس میں کہیں ظلمت اور تاریکی کا گزر نہیں اور یہی راستہ انسانیت کی فلاح اور نجات کی کلید ہے۔

اس تاریخی حقیقت کے متعلق مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کیا خوب لکھتے ہیں: ”محسن انسانیتﷺ نے انسانیت کو نئی زندگی، نیا حوصلہ، نئی طاقت، عزت و عظمت اور نئی منزل سفر عطا کی۔ آپﷺ کی آمد سے تہذیب و تمدن، علم و فن، روحانیت و اخلاص اور تعمیر انسانیت کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ انسانی معاشرے کو ایک بے بہا دولت عطا ہوئی، انسانیت کو نئی زندگی ملی، عدل و انصاف کا دور دورہ ہوا، کمزوروں میں طاقت وروں سے اپنا حق وصول کرنے کی ہمت و طاقت پیدا ہوئی، ہر سو الفت و محبت کی خوشبو پھیل گئی، ایمان و یقین کی

صفحہ 117

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 117 ماہنامہ سبحانی کراچی

ہوائیں چلنے لگیں۔ انسانی قلوب نیکی اور بھلائی کی طرف ایسے کھنچنے لگے جیسے مقناطیس کی طرف لوہے کے ٹکڑے کھنچے چلے جاتے ہیں۔ آپ ﷺ نے انسانیت کی تعمیر، اس کی فلاح اور کردار سازی میں ناقابل فراموش کردار ادا کیا۔ (۱)

(بحوالہ مقالات مفکر اسلام، مولانا سید ابوالحسن علی ندوی، ص 206)

مغرب کا نامور مورخ جان ولیم ڈریپر یورپ کی ذہنی وعلمی تاریخ کے ضمن میں اعتراف حقیقت کے طور پر لکھتا ہے: ”جسٹینین کی موت کے چار سال بعد سرزمین عرب کے شہر مکے میں وہ ہستی ﷺ پیدا ہوئی، جس نے نسل انسانی پر سب سے زیادہ اثر ڈالا“۔

ان تمام احسانات کا تقاضا یہ ہے کہ پوری دنیائے انسانیت بلا تفریق مذہب وملت آپ ﷺ کو اپنا ہادی ورہبر، نجات دہندہ اور محسن تسلیم کرے۔ آپ ﷺ کے ادب واحترام اور عزت وتوقیر کے تقاضے پورے کرے۔ آپ ﷺ کی عظمت و ناموس اور شرف وبزرگی کو سمجھے۔ آپ ﷺ انسانیت کے محسن اعظم ہیں، اب دنیائے انسانیت پر یہ لازم ہے کہ آپ ﷺ کی عزت وتوقیر اور تکریم کو اپنا انسانی اور اخلاقی فریضہ تسلیم کرتے ہوئے آپ ﷺ کی عظمت کا اعتراف کرے، یہ انسانیت پر ایک ایسا قرض ہے جو اس پر ہمیشہ رہے گا۔ جبکہ یہ بھی ایک ابدی حقیقت ہے کہ آپ ﷺ کی سب سے نمایاں خصوصیت وامتیاز آپ ﷺ کا امام الانبیاء، سید المرسلین اور خاتم النبیین ہونا ہے، آپ ﷺ کی دعوت، آپ ﷺ کا پیغام اور دین اسلام آفاقی اور کائناتی ہیں۔ آپ ﷺ بنی نوع آدم اور پورے عالم انس وجن کے لیے ہادی اعظم اور خاتم الانبیاء بنا کر مبعوث فرمائے گئے، آپ ﷺ پر دین کی تکمیل کر دی گئی، اب پوری انسانیت آپ ﷺ کی امت اور آپ ﷺ پوری انسانیت کے بشیر ونذیر اور نجات دہندہ ہیں، قرآن کریم میں اس حوالے سے ارشاد فرمایا گیا: ”اور ہم نے آپ ﷺ کو تمام انسانوں کے لیے خوشخبری سنانے والا اور آگاہ کرنے والا بنا کر بھیجا ہے“۔ (سورۂ سبا / 28)

آپ ﷺ کی نبوت ورسالت کی آفاقیت اور عالمگیریت کے حوالے سے ارشاد ربانی ہے: ”کہہ دیجیے، اے لوگو، میں تم سب کی طرف اللہ کا پیغام دے کر بھیجا گیا ہوں۔

صفحہ 118

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 118 ماہنامہ مسیحائی کراچی

(سورۃ الاعراف / 158)

ایک اور مقام پر فرمایا گیا: ”برکت والا ہے وہ (اللہ) جس نے حق و باطل میں امتیاز کرنے والی کتاب اپنے بندے حضرت محمدﷺ پر نازل کی، تاکہ وہ دنیا جہاں کے لیے باخبر اور آگاہ کرنے والا ہو“۔ (سورۃ الفرقان / 1)

ہادی اعظم ، حضرت محمدﷺ پوری انسانیت کے لیے نبی بنا کر مبعوث فرمائے گئے، بے شمار احادیث سے اس حقیقت کی وضاحت ہوتی ہے، آپﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ”میں کالے اور گورے (مشرق و مغرب) تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں“۔

(احمد بن حنبل، المسند 416/4)

ایک موقع پر آپﷺ نے اپنی پیغمبرانہ خصوصیت کے حوالے سے ارشاد فرمایا: ”میں تمام انسانوں کی طرف (نبی بنا کر) بھیجا گیا ہوں، حالانکہ مجھ سے پہلے جتنے بھی انبیاء مبعوث ہوئے، وہ خاص اپنی قوم کی طرف بھیجے جاتے تھے“۔ (حوالہ سابقہ)

رسول اکرمﷺ کا ارشاد گرامی حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے، پہلے (گزشتہ زمانوں میں) ہر نبی خاص اپنی قوم کی طرف مبعوث کیے جاتے تھے اور میں تمام انسانیت کے لیے مبعوث ہوا ہوں۔ (بخاری / الجامع الصحیح 6871)

آپﷺ دعائے خلیلؑ، تمنائے کلیمؑ اور نوید عیسیٰؑ ہیں۔ ہادی آخر و اعظم ، حضرت محمدﷺ وہ عظیم المرتبت پیغمبر ہیں، جن کی نبوت ،عزت وتوقیر، ایمان واعانت کا اللہ نے تمام انبیائے کرام سے عہد لیا تھا، اس لحاظ سے تمام الہامی مذاہب اور پوری انسانیت پر یہ دینی اور انسانی فریضہ ہے کہ وہ آپﷺ کی نبوت کا اعتراف کریں، آپﷺ کی عزت وتوقیر اور ادب واحترام کو ملحوظ رکھیں، ارشاد ربانی ہے: ”اور جب اللہ نے پیغمبروں سے عہد لیا کہ جب میں تمہیں کتاب اور دانائی عطا کروں، پھر تمہارے پاس کوئی نبی (حضرت محمدﷺ) آئیں، جو تمہاری کتاب کی تصدیق کریں، تو تمہیں ضرور ان پر ایمان لانا ہوگا اور ضرور ان کی مدد کرنی ہوگی اور (عہد لینے کے بعد) پوچھا کہ کیا تم نے اس کا اقرار کیا اور اس اقرار پر

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

میرا ذمہ لیا (یعنی مجھے ضامن فرمایا کہ تم اس عہد و پیمان کے

اللہ تعالیٰ سے یہ عہد تمام ا فریضہ ہے کہ وہ اس عہد کی ہے کہ وہ اس ابدی صدا لائیں، آپﷺ کی عزت و اسلام کو ایک ابدی ضابطہ حیات اور مسلمانوں کا بالخصوص یہ د اور آپﷺ کا ادب و احترام تورات اور انجیل میں رسولِ کو بیان فرمایا ہے کہ ان میں مدد اور ادب و احترام کو ملحوظ ر ہے: ”وہ جو (محمد رسول الـ اوصاف) کو وہ اپنے ہاں تورا اور برے کاموں سے روکے، چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے میں) تھے، اتارتے ہیں، تو جو اور جو نور ان کے ساتھ نازل ہیں ۔“ (سورۃ الاعراف / 157) علامہ سید سلیمان ندویؒ ا کر دیا گیا کہ گزشتہ مذاہب

صفحہ 119

رحمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

میرا ذمہ لیا (یعنی مجھے ضامن ٹھہرایا) تو انہوں نے کہا (ہاں) ہم نے اقرار کیا (اللہ نے) فرمایا کہ تم اس عہد و پیمان کے گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں"۔

(سورۃ آل عمران / 81)

اللہ تعالیٰ سے یہ عہد تمام انبیائے کرام نے کیا تھا، نتیجے کے طور پر ہر نبی کی امت کا یہ دینی فریضہ ہے کہ وہ اس عہد کی توثیق و تکمیل کرے، بالخصوص یہودیت اور عیسائیت کا یہ فریضہ ہے کہ وہ اس ابدی صداقت کو تسلیم کرتے ہوئے آپﷺ کی نبوت پر ایمان لائیں، آپﷺ کی عزت و توقیر، ادب و احترام، آپﷺ کی نبوت پر ایمان اور دین اسلام کو ایک ابدی ضابطۂ حیات کے طور پر تسلیم کرنا، پوری انسانیت کا بالعموم اور اہل کتاب اور مسلمانوں کا بالخصوص یہ دینی اور انسانی فریضہ ہے۔ آپﷺ کی عزت و ناموس کا تحفظ اور آپﷺ کا ادب و احترام انسانیت کا دینی اور اجتماعی فریضہ ہے۔

تورات اور انجیل میں رسول اللہﷺ کا بطور خاص تذکرہ کر کے اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کو بیان فرمایا ہے کہ ان میں سے جو رسول اللہﷺ کی نبوت پر ایمان لاتے، آپﷺ کی مدد اور ادب و احترام کو ملحوظ رکھتے ہیں، وہی در حقیقت فلاح پانے والے ہیں۔ ارشاد ربانی ہے: "وہ جو (محمد رسول اللہﷺ) کی جو نبی امّی ہیں، پیروی کرتے ہیں، جن (کے اوصاف) کو وہ اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔ وہ انہیں نیکی کا حکم دیتے اور برے کاموں سے روکتے ہیں اور پاک چیزوں کو ان کے لیے حلال کرتے اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان (کے سر) پر (اور گلے میں) تھے، اتارتے ہیں، تو جو لوگ ان پر ایمان لائے اور ان کی رفاقت کی اور انہیں مدد دی اور جو نور ان کے ساتھ نازل ہوا ہے، اس کی پیروی کرتے ہیں، وہی مراد پانے والے ہیں"۔

(سورۃ الاعراف / 157,156)

علامہ سید سلیمان ندویؒ اس آیت کے ذیل میں لکھتے ہیں: "ان آیات میں صاف ظاہر کر دیا گیا کہ گزشتہ مذاہب کے پیروؤں کے لیے محمد رسول اللہﷺ پر ایمان لانا، اس لیے

صفحہ 120

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 120 ماہنامہ مسیحائی کراچی

ضروری ہے کہ وہ دین خالص جو انسانی تصرفات اور آمیزشوں سے مکدر ہو گیا تھا، وہ سابقہ آسمانی کتب کی پیش گوئیوں کے مطابق آپ ﷺ کے ذریعے پھر سے نکھارا گیا، نیز آپ ﷺ عالم گیر پیغمبر بنا کر مبعوث فرمائے گئے، اس لیے ہدایت تامہ، نبوت عمومی، نجات کامل اور فلاح عام اب صرف دین محمدی ﷺ کے اندر محدود ہے۔“

(سید سلیمان ندوی/سیرت النبی ﷺ 403/4)

قرآن کے علاوہ کسی آسمانی صحیفے نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ وہ مکمل ہے اور اُس کے ذریعے دین تکمیل کو پہنچ گیا، بلکہ گزشتہ آسمانی مذاہب میں سے ہر ایک نے یہی کہا کہ ایک نبی (حضرت محمد ﷺ ) آئیں گے، جو دین کی تکمیل کریں گے، اس کا تذکرہ تورات اور انجیل دونوں میں موجود ہے۔ (چناں چہ تورات/استثناء۔ 18، 19، انجیل/یوحنا۔ 14، 26 اور یوحنا 8/16 ملاحظہ کیے جاسکتے ہیں)

ان حقائق سے واضح ہوتا ہے کہ ختمی مرتبت، محسن انسانیت، حضرت محمد ﷺ کی نبوت، آپ ﷺ کا پیغام اور آپ ﷺ کا دین عالمگیر ہے۔ تمام الہامی مذاہب کے پیروکاروں پر بطور خاص آپ ﷺ پر ایمان لانا، آپ ﷺ کی عزت وتوقیر اور ادب واحترام فرض ہے۔ آپ ﷺ کی عزت وتکریم یہودیت، عیسائیت، اسلام اور پوری انسانیت کا اجتماعی فریضہ ہے۔ آپ ﷺ کی تعلیمات اور آپ ﷺ کی عظیم المرتبت شخصیت پوری انسانیت کی عالمی اور مشترکہ میراث ہیں۔ یہ انسانیت پر ایک قرض اور فرض ہے۔ تمام انبیائے کرام نے اپنی اُمتوں کو آپ ﷺ کی عزت وعظمت، ادب واحترام، اعانت ونصرت اور آپ ﷺ کی نبوت پر ایمان لانے کی تعلیم دی۔ انہیں اس کا پابند قرار دیا کہ وہ آپ ﷺ کی نبوت پر ایمان لائیں، آپ ﷺ کی نبوت کا احترام کریں، آپ ﷺ کے دین کو قبول کر کے اس کی ترویج واشاعت میں اپنا کردار ادا کریں۔ یہ درحقیقت اللہ عز وجل کا تمام انبیائے کرام سے اور انبیائے کرام کا اپنی اُمتوں سے وہ میثاق تھا، جسے تورات، انجیل اور قرآن کریم نے پوری وضاحت اور صراحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ علاوہ ازیں دیگر مذاہب جنہیں غیر الہامی

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

مذاہب سے تعبیر کیا جاتا ہے، اُن کی ہ المرتبت ہستی کے ظہور قدسی کے متعلق کی مقدس کتابوں میں موجود ہیں۔

اس لحاظ سے الہامی اور غیر الہا پوری اُمت کا یہ فریضہ ہے کہ وہ آپ ملحوظ رکھیں۔ آپ ﷺ کی عظمت کو تس ذمے داری ہے۔

علامہ نبہانی ”جواہر البحار“ میں ف

(اسمعیل بن یوسف

مطبوعہ قاہرہ)

اللہ نے ہم (مسلمانوں) پر نصرت، محبت اور ادب واحترام کو ف

علامہ شیخ اسمعیل حقیؒ نعت پر تحریر فرماتے ہیں:

”انہ یجب علی الامۃ ان حیاتہ وبعد وفاتہ، فانہ بقدر از دیا

(شیخ اسمعیل حق

اُمت پر واجب ہے کہ وہ ر آپ ﷺ کی حیات طیبہ میں جس قدر رسول اللہ ﷺ کی رسول اللہ ﷺ کی تعظیم دین کا لازمی اور بنیادی ک

صفحہ 121

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

مذاہب سے تعبیر کیا جاتا ہے، اُن کی مقدس کتابیں بھی ایک نجات دہندہ کی آمد اور ایک عظیم المرتبت ہستی کے ظہور قدسی کے متعلق شہادتیں دیتی رہی ہیں۔ یہ تاریخی حقائق آج بھی اُن کی مقدس کتابوں میں موجود ہیں۔

اس لحاظ سے الہامی اور غیر الہامی مذاہب، تمام انسانی معاشروں، مہذب اقوام اور پوری امت کا یہ فریضہ ہے کہ وہ آپ ﷺ کی عزت وتوقیر، ادب واحترام اور ناموس و وقار کو ملحوظ رکھیں۔ آپ ﷺ کی عظمت کو تسلیم کریں۔ آپ ﷺ کی عزت و تکریم پوری انسانیت کی ذمے داری ہے۔

علامہ نبہانی ”جواہر البحار“ میں فرماتے ہیں: ”اوجب علینا تعظیمہ وتوقیرہ ونصرتہ ومحبتہ والادب معہ“ (اسمعیل بن یوسف النبہانی /جواہر البحار فی فضائل النبی ﷺ المختار 251/3/

مطبوعہ قاہرہ)

اللہ نے ہم (مسلمانوں) پر رسول اللہ ﷺ کی عزت و توقیر، تعظیم و تکریم، اعانت و نصرت، محبت اور ادب و احترام کو لازم قرار دیا ہے۔

علامہ شیخ اسمعیل حقیؒ امت پر رسول اکرم ﷺ کی تعظیم و توقیر اور ادب واحترام کے متعلق تحریر فرماتے ہیں:

”انہ یجب علی الامۃ ان یعظموہ علیہ الصلاۃ والسلام و یوقروہ فی جمیع الاحوال فی حال حیاتہ وبعد وفاتہ، فانہ بقدر ازدیاد تعظیمہ وتوقیرہ فی القلوب یزداد نور الایمان“

(شیخ اسمعیل حقیؒ / تفسیر روح البیان 216/7، مکتبہ اسلامیہ، کوئٹہ)

امت پر واجب ہے کہ وہ رسول اکرم ﷺ کی تعظیم و توقیر کو بجالائے، تمام حالات میں آپ ﷺ کی حیاتِ طیبہ میں بھی اور آپ ﷺ کے وصال کے بعد بھی۔ کیونکہ دلوں میں جس قدر رسول اللہ ﷺ کی تعظیم و توقیر میں اضافہ ہوگا، اتنا ہی نورِ ایمان میں اضافہ ہوگا۔

رسول اللہ ﷺ کی تعظیم وتوقیر اور ادب واحترام جس طرح امت پر فرض ہے، اسی طرح یہ دین کا لازمی اور بنیادی تقاضا بھی ہے، امام ابن تیمیہؒ اپنی معرکۃ الاراء کتاب ”الصارم

صفحہ 122

ماہنامہ مسیحائی کراچی 122 حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

المسلول علی شاتم الرسول‘ میں رقمطراز ہیں:

’’فقیام المدح والثناء علیہ والتعظیم والتوقیر لہ، قیام الدین کلہ، وسقوط ذلک سقوط الدین کلہ‘‘۔

(ابن تیمیہؒ، الصارم المسلول علیٰ شاتم الرسول ص 211، مطبوعہ قاہرہ)

آپﷺ ہی وہ عظیم المرتبت پیغمبر اور نجات دہندہ ومحسن انسانیت ہیں، جن کی بدولت انسانیت کو دین ودنیا کی فلاح اور آخرت میں نجات کی راہ ملی۔ آپﷺ کی شخصی عظمت پر مسلم ہی نہیں، دنیا کے مشاہیر اور غیر مسلم دانشور بھی متحد ومتفق ہیں، مغرب کے نامور دانشوروں نے آپﷺ کے حضور خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے آپﷺ کی عظمت کو تسلیم کیا ہے۔ رسول اکرمﷺ ہی پوری انسانیت میں سب سے برتر، سب سے زیادہ لائق تکریم، عزت وتوقیر اور عظمت واحترام کے مستحق ہیں۔ آپﷺ کا ادب واحترام پوری انسانیت پر لازم ہے۔ یہ ایک ایسی تاریخی حقیقت ہے، جس کا اعتراف مذاہب عالم کے غیر مسلم دانشوروں کو بھی ہے۔ مشہور ہندو شاعر کنور مہندر سنگھ بیدی سحر کیا خوب کہتے ہیں ؎

عشق ہو جائے کسی سے ، کوئی چارہ تو نہیں
صرف مسلم کا محمدﷺ پہ اجارہ تو نہیں

شیش چندر سکسینہ کیا خُوب کہتے ہیں

یہ ذاتِ مقدس تو ہر انساں کو ہے محبوب
مسلم ہی نہیں وابستہ دامانِ محمدﷺ

معروف امریکی دانش ور ڈاکٹر مائیکل ایچ ہارٹ اور اس کی اعلیٰ تعلیم یافتہ بیوی نے دنیا کی مشہور ومعروف شخصیات کی سوانح حیات کا مطالعہ کیا، اس مطالعے کے بعد انہوں نے ”The 100“ نامی کتاب لکھی، ان کے بقول اس کتاب میں انسانی تاریخ کی سو اعلیٰ ترین شخصیات کے حالات درج ہیں۔ جنہوں نے ان کے نزدیک انسانی تاریخ پر نمایاں ترین اثرات ڈالے، اس کتاب میں پیغمبر اسلام حضرت محمدﷺ کے تذکرے کو سر فہرست اور پہلے نمبر پر رکھا گیا ہے، کیوں کہ وہ تاریخ کے سب سے عظیم المرتبت اور سب سے عظیم

صفحہ 123

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 123 ماہنامہ مسیحائی کراچی

انسان ہیں۔ موصوف رقم طراز ہے: ”پوری انسانی تاریخ میں محمدﷺ وہ واحد شخصیت ہیں، جو دینی اور دنیوی دونوں اعتبار سے غیر معمولی طور پر کامیاب و کامران اور سرفراز ٹھہرے۔“

فرانسیسی محقق اور دانشور ڈاکٹر گستاؤ لی بان ”تمدن عرب“ میں لکھتا ہے: ”اگر اشخاص کی زندگی، بزرگی اور عظمت کا اندازہ اُن کے کارناموں سے لگایا جاسکتا ہے تو ہم لکھیں گے کہ حضرت محمدﷺ انسانی تاریخ میں سب سے عظیم شخصیت گزرے ہیں۔“

ہندو سیرت نگار سوامی لکشمن پرشاد اپنی کتاب ”عرب کا چاندﷺ“ میں رقمطراز ہے: ”دنیا کی اُن جلیل القدر ہستیوں میں جن کے اسمائے گرامی ہاتھ کی اُنگلیوں پر شمار کیے جاسکتے ہیں، سرور کائنات حضرت محمدﷺ کو کئی اعتبار سے ایک خاص امتیاز حاصل ہے۔“

کمپیوٹر سافٹ ویئر تیار کرنے والی دنیا کی مشہور کمپنی ”Micro Soft“ نے اکیسویں صدی عیسوی کے آغاز پر پوری دنیا سے یہ سوال کیا کہ ”دنیا کی سب سے عظیم ترین شخصیت کون ہے؟ جس نے اپنے فکر وعمل سے انسانی تاریخ اور انسانی زندگی پر گہرے نقوش مرتب کیے، اور دنیائے انسانیت اس سے متاثر ہوئی۔ اس کے جواب میں دنیا کے بیش تر افراد نے رسول اللہﷺ کی ذات گرامی کو انسانی تاریخ کی سب سے عظیم المرتبت شخصیت قرار دیا۔ رائے دہندگان میں بیش تر افراد کا تعلق مغربی دنیا سے تھا۔“

اس لحاظ سے یہ کہنا بالکل دُرست ہے کہ رسول اکرم حضرت محمدﷺ تمام انبیائے کرام، آسمانی کُتب کی شہادت، یہودیت اور عیسائیت، دنیا کے دیگر مذاہب، تمام انسانی معاشروں اور مہذب اقوام کے نزدیک سب سے عظیم المرتبت ہستی ہیں۔ دنیائے انسانیت پر آپﷺ کے سب سے زیادہ احسانات ہیں، آپﷺ خاتم الانبیاء، سید المرسلین اور محسن انسانیت ہیں۔ ان تمام حقائق کا تقاضا یہ ہے کہ مشرق ومغرب، تمام مذاہب اور پوری انسانیت آپﷺ کی عزت وتوقیر، ادب واحترام، عظمت و ناموس اور شان و وقار کو ملحوظ رکھے۔ یہ انسانیت کا اجتماعی فریضہ ہے۔ آئین، تہذیب اور اعلیٰ انسانی اقدار کا تقاضا ہے۔ جب کہ آپﷺ کی بے احترامی اور توہین گویا خالق کائنات، تمام انبیائے کرام، الہامی

صفحہ 124

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 124 ماہنامہ مسیحائی کراچی

مذاہب اور پوری دنیا کے مذاہب و مہذب انسانی معاشروں کی توہین کے مترادف ہے، جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ آپﷺ کی شان میں معمولی گستاخی بھی ناقابل معافی جرم اور پوری انسانیت کی توہین اور دل آزاری کے مترادف ہے۔ خاص طور پر اُمتِ مسلمہ جس کے دین و ایمان کی بنیاد ہی سرکارِ دو جہاںﷺ سے عقیدت و محبت کا اظہار اور آپﷺ پر ایمان کا لازمی و بنیادی تقاضا ہے۔ اہل ایمان کے دل سرورِ کائناتﷺ کی محبت کے چراغ سے روشن رہتے اور اُن کے گلستانِ عقیدت نبیﷺ کی خوشبوؤں سے مہکتے اور لہلہاتے ہیں۔ ان کے دلوں کی دھڑکن اور ہر سانس کی آمد رسولِ اکرمﷺ کی محبت ، آپﷺ کی عظمت اور آپﷺ کے ذکر سے مشروط ہے۔ آپﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لیے ایک گناہ گار سے گناہ گار فرد بھی اپنی متاعِ حیات کو قربان کرنا باعثِ فخر و سعادت سمجھتا ہے۔

شانِ رسالتﷺ میں گستاخی اور توہین آمیز خاکوں کے ذریعے اسلام ، مسلم اُمّہ اور مہذب انسانوں کی دل آزاری انتہائی گھناؤنا اقدام، اور حد درجہ ناقابلِ برداشت ہیں۔ اظہارِ رائے کی آزادی کے نام پر آپﷺ کی توہین اور شانِ رسالتﷺ میں گستاخی کو کوئی مہذب انسان برداشت نہیں کر سکتا۔ یہ دین و دنیا دونوں کے آئین سے غداری، پروردگارِ عالم کے میثاق سے انحراف، دنیا میں بسنے والے ڈیڑھ ارب مسلمانوں اور دنیا کے مہذب انسانوں کے عقیدے، مذہب اور پوری انسانیت کی توہین ہے۔ جس کا کوئی جواز اور کوئی عذر قبول نہیں کیا جاسکتا۔ یہ ایسا بدترین جرم ہے، جس کی تائید اور اعانت بھی بدترین جرم سے کم نہیں۔

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ ہادیِ عالم، سرورِ کائنات حضرت محمدﷺ کی عزت و توقیر، آپﷺ کا ادب و احترام ، آپﷺ کی شان اور ناموس کا تحفظ اور آپﷺ کی عزت و تکریم بلا تفریقِ مذہب و ملت پوری انسانیت کا دینی، اخلاقی اور اجتماعی فریضہ ہے ۔

کی محمدﷺ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں
صفحہ 125

ماہنامہ مسیحائی کراچی 12 و مہذب انسانی معاشروں کی توہین کے مترادف جا سکتا۔ آپ ﷺ کی شان میں معمولی گستاخی بھی توہین اور دل آزاری کے مترادف ہے۔ خاص طور کی بنیادی سرکار دو جہاں ﷺ سے عقیدت و محبت کا و بنیادی تقاضا ہے۔ اہل ایمان کے دل سرورِ وشن رہتے اور اُن کے گلستان عقیدت نبی ﷺ کی ان کے دلوں کی دھڑکن اور ہر سانس کی آمد رسول اور آپ ﷺ کے ذکر سے مشروط ہے۔ آپ ﷺ ب گناہ گار سے گناہ گار فرد بھی اپنی متاع حیات کو

و ہین آمیز خاکوں کے ذریعے اسلام، مسلم اُمّہ اور ریکا، اقوام، اور حد درجہ ناقابل برداشت ہیں۔ اظہار توہین اور شانِ رسالت ﷺ میں گستاخی کو کوئی مہذب بنیادوں کے آئین سے غداری، پروردگارِ عالم کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں اور دنیا کے مہذب انسانوں کے توہین ہے۔ جس کا کوئی جواز اور کوئی عذر قبول نہیں کیا یادہ دہشت بھی بدترین جرم سے کم نہیں۔

ر کائنات حضرت محمد ﷺ کی عزت وتوقیر ، آپ ﷺ اور ناموس کا تحفظ اور آپ ﷺ کی عزت وتکریم دینی، اخلاقی اور اجتماعی فریضہ ہے ۔

لُوٹے تو ہم تیرے ہیں
کیا، لوح و قلم تیرے ہیں

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 125 ماہنامہ مسیحائی کراچی

ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم ایک علمی و تحقیقی جائزہ

مولانا ڈاکٹر سعید احمد صدیقی

الحمد للہِ وَحْدَہُ وَالصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی مَنْ لَّا نَبِیَّ بَعْدَہُ ، اَمَّا بعد! سید الرسل، خاتم الانبیاء، نبی آخرالزماں، سرور کون ومکاں، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی شخصیت و سیرتِ عظمیٰ ازل سے ابد تک زمان ومکان پر احاطہ کئے ہوئے ہے، ہر شئے رسالت مآب ﷺ کی نبوت کے بے کراں جلال و جمال کی گرفت میں ہے کائنات کا ذرّہ ذرّہ حضور اکرم ﷺ کی مدحت و رفعتِ ذکر کا شاہد ہے:

وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ (۱)

کی صدا سے زمین و آسمان گونج رہے ہیں۔ یہ ذکر اتنا بلند ہوا کہ ساری رفعتیں اس کے سامنے پست ہو کر رہ گئیں۔ فرشِ زمیں سے عرشِ بریں تک سب اس کے ذکر سے معمور ہیں۔ دنیا کے ہر خطے میں بسنے والے کروڑوں مسلمان دن میں پانچ مرتبہ ہر نماز میں رحمۃ للعالمین، شفیع المذنبین ﷺ پر درود و سلام پڑھتے ہیں۔ ہر اذان کے وقت دنیا سنتی ہے کہ محمد ﷺ ہی نوعِ انساں کے رہبر و رہنما ہیں اور اللہ کے اس وعدے کے پورا ہونے پر عہد تصدیق ثبت ہوتی رہی ہے کہ: ورفعنا لک ذکرک

چشم اقوام یہ نظارہ ابد تک دیکھے
رفعتِ شانِ رفعنا لک ذکرک دیکھے (۲)

افضل ترین عبادت:

حضور نبی کریم ﷺ کی ذاتِ اقدس سے مسلمانوں کو جو محبت ، عقیدت اور شیفتگی و وابستگی ہے اور انہوں نے جس طرح آپ ﷺ کے سوانح، حالات، ارشادات وفرمودات حلیہ و شمائل، اخلاق و عادات اور معجزات کو محفوظ کیا ہے وہ تاریخِ عالم کا ایک حیرت انگیز واقعہ ہے ذکر حق کے بعد ذکر رسول ﷺ کو افضل ترین عبادت کہا گیا ہے کہ اس ذکر میں مخلوق ہی نہیں بلکہ خود خالق انس و جان بھی شریک ہے۔ (۳)

صفحہ 126

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ سبحانی کراچی

محبت کی پرانی رسم

محبت کی پرانی رسم ہے کہ محبوب کو خوبصورت القاب سے یاد کیا جاتا ہے، عموماً اس جذبہ محبت کے اظہار کے لئے مروجہ اسماء کا سہارا لیا جاتا ہے مگر بعض اوقات جذبے کی شدت اور اس کی خصوصی کیفیت نئے اسماء والقاب تراشنے پر مجبور کرتی ہے تاکہ اظہار میں اپنائیت کا عنصر نمایاں ہو جائے۔ آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی سے ہر مسلمان کو اک گونہ شیفتگی ہے۔ یہ وارفتگی محبت ایمان کی جان ہے، اس لئے ہر دور کا مسلمان اپنے محبوب ﷺ کے لئے نئے سے نیا اور حسین سے حسین تر نام وضع کرتا رہا ہے۔ (۴)

قرآن کریم کی پکار:

قرآن کریم نے ان خوبصورت اور پیارے پیارے ناموں سے ہمارے نبی ﷺ کو پکارا ہے۔ مُحَمَّدٌ (۵)

اَحْمَدُ (۶) الْمُزَّمِّلُ (۷) الْمُدَّثِّرُ (۸) الْبَشِیْرُ (۹) النَّذِیْرُ (۱۰) الدَّاعِی (۱۱) الصَّاحِبُ (۱۲) النبی الامىُّ (۱۳) السِّرَاجُ (۱۴) الشَّاهِدُ (۱۵) الْمُبَشِّرُ (۱۶) الْمُعَلِّمُ (۱۷) الْمُزَکِّی (۱۸) التَّالِی (۱۹) الرَّؤُفُ (۲۰) الرَّحِیْمُ (۲۱) رَحْمَةٌ لِّلْعَالَمِیْنَ (۲۲) خاتم النبیین (۲۳)

صحابہؓ نے اپنے نبی کو پکارا

کتب احادیث میں ہمیں اپنے پیارے نبی ﷺ کے ایسے خوبصورت نام ملتے ہیں جن سے آپ ﷺ کی عظمت کا اظہار ہوتا ہے اور صحابہ کرامؓ نے آپ ﷺ کو مختلف خوبصورت ناموں سے پکارا، جن میں سے چند یہ ہیں:

مُحَمَّد، أحمد، الماحی، الحاشر، العاقب (۲۴)، المقفیٰ، نبی التوبة، نبی الرحمة (۲۵)، نبی الملحمة (۲۶)، النبی المصطفیٰ (۲۷)، خاتم النبیین (۲۸)، سَیِّدُ الْعَالَمِیْنَ، رَسُوْلُ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ، رَحْمَةٌ لِّلْعَالَمِیْنَ (۲۹)، الصَّادِقُ الْمَصْدُوْق (۳۰)، حَبِیْبُ اللّٰه، حامل لواء الحمد (۳۱)

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

آسمانی کتابوں میں آپ ﷺ

کتب سماویہ میں مذکو استخراج پر بہت محنت کی ہے۔ ۱۳۵۰ھ) نے حجة اللّٰہ علی العالمین (طیب طیب)، فارقلیط (سُو الحرم) اخو تاج (یعنی تاج آخر الانبیاء) (۳۲)

قرآن کریم اور انبیاء کی پکا

سرکار دو عالم ﷺ تمام انبیاء پر ایمان نہ لے آئیں پر ایمان نہ لائیں، ارشاد باری تعا

آمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَا وَمَلَائِکَتِهِ وَکُتُبِهِ وَ

سب نے مانا اللہ کو، کے رسولوں کو اور کرتے۔

پیغمبروں کے نام پر سورتیں

اسلام میں سرکار دو عا حسنین کریمینؓ، وغیرہ ہیں، لیکن اگر ہیں تو سابق انبیاء کرام کے ن بھی مقدس ہے۔ حضرت ابراہی نام پر سورۃ ہے، حضرت ھود علی سورۃ ہے اور نوح علیہ السلام کے

صفحہ 127

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

آسمانی کتابوں میں آپ ﷺ کے خوبصورت نام

کتب سماویہ میں مذکور اسماء کی فہرست خاصی طویل ہے اور بعض علماء نے ان کے استخراج پر بہت محنت کی ہے۔ کتب اسلاف کا ماحصل علامہ یوسف النبھانی رحمۃ اللہ علیہ (م ۱۳۵۰ھ) نے حجۃ اللہ علی العالمین میں درج کیا ہے اور بیسیوں نام گنوائے ہیں۔ مثلاً مافماذ (طیب طیب)، فارقلیط (یعنی فارق حق و باطل) منحمنا (یعنی محمد) الحمطایا (حامی الحرم) اخوناج (یعنی صحیح الاسلام) قدمابا (یعنی السابق الاول) اور اخرایا (یعنی آخر الانبیاء) (۳۲)

قرآن کریم اور انبیاء کی ناموس

سرکار دو عالم ﷺ کے اُمتی اس وقت تک اپنے ایمان کو کامل نہیں سمجھتے جب تک تمام انبیاء پر ایمان نہ لے آئیں، تمام فرشتوں پر ایمان نہ لائیں، تمام انبیاء پر نازل شدہ کتابوں پر ایمان نہ لائیں، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

آمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَا اُنْزِلَ اِلَيْهِ مِنْ رَّبِّهِ وَالْمُؤْمِنُوْنَ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَآئِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهِ (۳۳)

سب نے مانا اللہ کو اور اس کے فرشتوں کو اور اس کی کتابوں کو اور اس کے رسولوں کو اور اس کے پیغمبروں میں سے کسی میں تفریق نہیں کرتے۔

پیغمبروں کے نام پر سورتیں:

اسلام میں سرکار دو عالم ﷺ کے بعد سب سے مقدس ہستیاں ابوبکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ، علیؓ، حسنینِ کریمینؓ، وغیرہ ہیں، لیکن آپ دیکھیں ان کے نام پر قرآن کریم کی کوئی سورۃ نہیں ہے، اگر ہیں تو سابق انبیاء کرام کے نام پر جو عیسائیوں کے ہاں بھی مقدس ہیں، اور یہودیوں کے ہاں بھی مقدس ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نام پر سورۃ ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے نام پر سورۃ ہے، حضرت ھود علیہ السلام کے نام پر سورۃ ہے، حضرت یونس علیہ السلام کے نام پر سورۃ ہے اور نوح علیہ السلام کے نام پر سورۃ ہے۔

صفحہ 28

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 28 ماہنامہ مسیحائی کراچی

بی بی مریم کے نام پر سورۃ

اسلام میں سب سے مقدس خواتین سیدہ خدیجہؓ، سیدہ عائشہؓ، سیدہ فاطمۃ الزھراؓ وغیرہن مانی جاتیں ہیں، لیکن ان کے نام پر قرآن کریم میں کوئی سورۃ نہیں ہے، اگر ہے تو بی بی مریم کے نام پر جن کو عیسائی دنیا سب سے مقدس مانتی ہے۔

انبیاء کرام علیہ السلام کے نام اور قرآن کریم:

قرآن کریم میں چھبیس پیغمبروں کے نام آئے ہیں، سرکار دو عالم ﷺ کا اسم مبارک محمد چار مرتبہ آیا ہے اور احمد ایک مرتبہ آیا ہے، جبکہ سب سے زیادہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ۱۳۵ مرتبہ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ۶۷ مرتبہ، جس کی تفصیل درج ذیل ہے:

نمبر شمار پیغمبر کے نام قرآن میں کتنی مرتبہ نام مبارک آیا

صفحہ 129

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

آپ ﷺ کی انفرادی و امتیازی شان:

سرکار دو عالم ﷺ نے خود بھی تحدیث نعمت کے طور پر اپنی انفرادی و امتیازی شان کا ذکر کئی بار فرمایا، جن سے آپ ﷺ کی بلند مرتبہ شان کا اظہار ہوتا، آپ ﷺ کے یہ پانچ اوصاف اکثر کتب حدیث میں موجود ہیں۔

نصرت بالرعب مسيرة شهر وجعلت الارض مسجدا و طهورا، واحلت لی الغنائم، وكان النبی يبعث إلى قومه

صفحہ 130

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

خَاصَّةً وَّبُعِثْتُ اِلَى النَّاسِ كَافَّةً وَّاُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ (۳۵) ”ایک مہینے کے فاصلے سے میری رعب کے ذریعے مدد کی گئی اور میرے لئے تمام زمین سجدہ گاہ اور پاک بنائی گئی، مالِ غنیمت میرے لئے حلال کیا گیا، اور نبی خاص اپنی قوم کی طرف بھیجے جاتے تھے اور میں تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں اور مجھے شفاعت عطا کی گئی۔“

نور محمدی ﷺ کی مقدم تخلیق:

ہمارے پیارے نبی ﷺ کو یہ شرف ومقام و مرتبہ بھی حاصل ہے کہ آپ ﷺ کو حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق سے قبل منصب نبوت سے سرفراز کیا گیا، جیسا کہ جامع ترمذی کی اس حدیث مبارکہ سے اس کا اظہار ہوتا ہے، ارشاد نبوی ﷺ ہے:

عَنْ اَبِی هُرَيْرَةَ قَالَ قَالُوا يَا رسولَ اللهِ ﷺ مَتَی وَجَبَتْ لَكَ النُّبُوَّةُ؟ قَالَ: ”وَآدَم بينَ الرُّوحِ وَالجَسَدِ“(۳۶)

”حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ آپؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ سے کہا گیا کہ نبوت آپ ﷺ کے لئے کب متعین کی گئی، تو آپ ﷺ نے فرمایا جب آدم علیہ السلام روح اور جسم کے درمیان تھے“۔

انبیاء کرام علیہم السلام پر شرف وفضیلت:

امام الانبیاء، سید الرسل محمد مصطفی احمد مجتبیٰ ﷺ کو تمام انبیاء سابقین پر شرف و فضیلت حاصل ہے، لیکن اس باب میں تقابلی جائزے کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی کہ کسی بھی حوالے سے کسی نبی کی تنقیص کا کوئی پہلو نہ نکلے تاہم آپ ﷺ کے عشاق کسی نہ کسی موقعہ پر کسی نہ کسی حوالے سے آپ ﷺ کی فضیلت کا اظہار ضرور کرتے ہیں، جیسا کہ حضرت امام بوصیری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے مشہور عالم قصیدہ بردہ شریف میں ذکر فرمایا:

فَاقَ النَّبِيِّينَ فِي خَلْقٍ وَّفِي خُلُقٍ وَلَمْ يُدَانُوهُ فِي عِلْمٍ وَّلاَ كَرَمِ (۳۷)
صفحہ 131

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

”نبیوں پر فوقیت لے گئے خلقت اور خُلق میں اور انبیاء نہ ان کے علم کو پہنچ سکے اور نہ کرم کو“ ۱۴۱

غیر مسلم دانشور اور سرکار دو عالم ﷺ:

غیر مسلم دانشور جنہوں نے تاریخ کا مطالعہ کیا اور آپ ﷺ کی سیرت کا جائزہ لیا تو وہ بھی آپ ﷺ کی تقدیس صفات حسنہ کے قائل ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور وہ آپ ﷺ کی پاکیزہ سیرت کے سحر میں گرفتار ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔

”سیرت طیبہ“ کی یہی وہ اثر انگیزی ہے جس نے زمانہ حال کے نامور امریکی مصنف مائیکل ایچ ہارٹ (Hart, Michael) کو اس امر پر مجبور کیا کہ وہ اپنی شہرہ آفاق کتاب The 100 میں پیغمبر اسلام ﷺ کو اعتراف حقیقت کے طور پر نمایاں جگہ دے۔

مائیکل ایچ ہارٹ نے دنیا کی مشہور شخصیات کا مطالعہ کیا ہے، اس مطالعہ کا حاصل اس نے ۵۷۲ صفحات کی انگریزی کتاب The 100 کی صورت میں پیش کیا ہے۔ اس کتاب میں سو ایسی شخصیات کے حالات درج ہیں جنہوں نے مصنف کے مطالعہ کے مطابق تاریخ پر نمایاں ترین اثرات مرتب کئے۔ مذکورہ کتاب میں ابدی حقیقت کے اعتراف اور ”وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ“ کی لافانی صداقت کے طور ہادی عالم ﷺ کو اول مقام دئے جانے کے متعلق مائیکل ہارٹ خود لکھتا ہے:

Muhammad was the only man in history who was supremely successful on both the religious and the secular levels, of humble orgins.(38)

”محمد ﷺ تاریخ کے واحد شخص تھے جنہوں نے اعلیٰ ترین کامیابی حاصل کی، مذہبی سطح پر بھی اور دنیاوی سطح پر بھی“

محسن انسانیت سرور کائنات خاتم الانبیاء جناب محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات گرامی چودہ صدیوں سے مورخین، محققین، دانشوروں، ادباء اور شعراء کا محبوب رہی ہے۔ آپ ﷺ کی

صفحہ 132

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 132 ماہنامہ مسیحائی کراچی

سیرت طیبہ وہ موضوع ہے، جس کے لئے دشمنوں اور دوستوں، مخالفین سب ہی نے مختلف اسباب کی بناء پر وہ کشش محسوس کی جس کی مثال کے لئے کوئی اور ہستی پیش نہیں کی جاسکتی۔ انگریز مستشرق ڈی ایس مارگولیس (D.S Margoliouth) نے آنحضرت ﷺ کی سیرت کے حوالے سے جو زہر افشانی کی اور سیرت طیبہ کے مباحث کو موضوع تنقید بنایا وہ اہل نظر سے پوشیدہ نہیں تاہم وہ اپنے تعصب اور کج ذہنی کے باوجود اس حقیقت کے اعتراف سے باز نہ رہ سکا محمد ﷺ کی سیرت نگاری ختم ہونے والی نہیں، اس کی کتاب کے مقدمے کا ابتدائی جملہ ضرب المثل بن گیا اور آفاقی حیثیت اختیار کر گیا وہ لکھتا ہے:

The biographers of the prophet Muhammad form a long series which it is impossible to end but in which it would be honourable to find a place.(39)

”محمد ﷺ کے سوانح نگاروں کا ایک طویل سلسلہ ہے، جس کا ختم ہونا ناممکن ہے، لیکن اس میں جگہ پانا قابل عزت و تکریم ہے۔“

سرکارِ دو عالم ﷺ کے ساتھ محبت وعقیدت:

سرکارِ دو عالم محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ ﷺ کے ساتھ عقیدت و احترام محبت والفت آپ ﷺ کی ناموس پر مر مٹنا آپ ﷺ کی غلامی کا طوق اپنے گلے میں ڈالنا نہ صرف ایک مومن کا شوق و ذوق ہے بلکہ یہ اس کے ایمان کا حصہ ہے اور خود ہادی برحق ﷺ نے اہل ایمان سے یہی فرمایا ارشادِ نبوی ﷺ ہے ۔

عن انسؓ قالَ رَسول اللّٰهِ ﷺ لايومن احدكم حتّى اكون احب اليه من والده و ولده والناس اجمعين (۴۰)

”سیدنا انسؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی بھی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں اسے اس کے والد

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

(ووالدہ) اولاد اور تمام لو

صحابہ کرامؓ کا شوقِ دیدار:

ہجرت نبوی کے موقعہ پر صحا آوری کا انتظار کرتے رہے یہ روزانہ کا زیارت کے شوق میں تھا حدیث کے الفا

فكانوا يغدون كل غد حرّ الظهيرة (۴۱)

”روزانہ صبح کے ٹائم پر ”حرا تک کہ دوپہر کی گرمی انہیں وا

آپ ﷺ نے مرض الموت رضی اللہ عنہم کی نماز کی حالت ملاحظہ فرمائ مسرت کی وہ کیفیت طاری ہوئی کہ خشوع بیان فرماتے ہیں:

كان وجههُ ورقة مصح نفتتن من الفرح برؤية النب

”آپ ﷺ کا چہرہ قرآن ک نے ہنستے ہوئے تبسم فرمایا تو ہما سے جو خوشی ہوئی اس سے فتنے

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اور (جو کہ کفار کا ایلچی بن کر آیا تھا) تو وہ مخطب عرب کے طریقے کے مطابق داڑھی مبارک مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ تلوار کے ذریعے اس توجہ ہوگئی اور اس نے صحابہؓ کے طرز عمل کو بغو

صفحہ 133

132 ماہنامہ مسیحائی کراچی

جس کے لئے دشمنوں اور دوستوں، مخالفین سب ہی نے مختلف کی جس کی مثال کے لئے کوئی اور ہستی پیش نہیں کی جاسکتی۔ انگریز (D.S Margoliouth) نے آنحضرت ﷺ کی سیرت کی اور سیرت طیبہ کے مباحث کو موضوع تنقید بنایا وہ اہل نظر سے سب اور کج فہمی کے باوجود اس حقیقت کے اعتراف سے باز نہ رہ ختم ہونے والی نہیں، اس کی کتاب کے مقدمے کا ابتدائی جملہ ضرب اختیار کر گیا وہ لکھتا ہے:

The biographers of the Muhammad from a long serie is impossible to end but in would be honourable to place. (39)

سوانح نگاروں کا ایک طویل سلسلہ ہے، جس کا ختم لیکن اس میں جگہ پانا قابل عزت و تکریم ہے۔“

کے ساتھ محبت وعقیدت:

مصطفیٰ احمد مجتبیٰ ﷺ کے ساتھ عقیدت واحترام محبت والفت آپ ﷺ کی غلامی کا طوق اپنے گلے میں ڈالنا نہ صرف ایک مومن کا بلکہ ایمان کا حصہ ہے اور خود ہادی برحق ﷺ نے اہل ایمان سے

رسول اللہ ﷺ لا یومن احدکم حتی اکون

الدہ و ولدہ والناس اجمعین (۴۰)

روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کے والد

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 133 ماہنامہ مسیحائی کراچی

(ووالدہ) اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔“

صحابہ کرامؓ کا شوقِ دیدار:

ہجرتِ نبوی کے موقعہ پر صحابہ کرامؓ مدینے میں کئی دنوں تک آپ ﷺ کی تشریف آوری کا انتظار کرتے رہے یہ روزانہ کا انتظار اور ضروری معمولات چھوڑ دینا رسول اکرم ﷺ کی زیارت کے شوق میں تھا حدیث کے الفاظ ہیں:

فکانوا یغدون کل غداۃٍ إلی الحرّۃ فینتظرونہٗ حتی یردّہم

حرّ الظہیرۃ (۴۱)

”روزانہ صبح کے ٹائم پر ”حرہ“ مقام پر آتے انتظار کرتے رہتے یہاں تک کہ دوپہر کی گرمی انہیں واپس کرتی“۔

آپ ﷺ نے مرض الموت کے زمانے میں جب پردہ اٹھا کر جھانکا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی نماز کی حالت ملاحظہ فرمائی تو اس آخری دیدار سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر مسرت کی وہ کیفیت طاری ہوئی کہ خشوع نماز میں خلل پڑنے کا اندیشہ ہو گیا۔ انس رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں:

کان وجہہٗ ورقۃ مصحف ثم تبسم یضحک فھممنا ان

نفتتن من الفرح برؤیۃ النبی ﷺ (۴۲)

”آپ ﷺ کا چہرہ قرآن کے ورق کی طرح صاف تھا، پھر آپ ﷺ نے ہنستے ہوئے تبسم فرمایا تو ہمیں فکر لاحق ہوگئی کہ پیغمبر ﷺ کے دیکھنے سے جو خوشی ہوئی اس سے فتنے میں مبتلا نہ ہو جائیں۔“

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ادب واحترام کا منظر صلح حدیبیہ میں عروہ بن مسعود کو نظر آیا (جو کہ کفار کا ایلچی بن کر آیا تھا) تو وہ سخت متاثر ہوا اس نے صلح کے متعلق آپ سے گفتگو کی تو عرب کے طریقے کے مطابق داڑھی مبارک کی طرف ہاتھ بڑھانا چاہا لیکن جب ہاتھ بڑھتا تھا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ تلوار کے ذریعے اسے روک دیتے تھے اس واقعہ سے عروہ کی اس طرف توجہ ہوگئی اور اس نے صحابہؓ کے طرزِ عمل کو بغور دیکھنا شروع کر دیا تو اس پر یہ اثر پڑا کہ پلٹا تو کفار

صفحہ 134

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

سے بیان کیا کہ میں نے قیصر و کسریٰ اور نجاشی کے دربار دیکھے ہیں لیکن محمد ﷺ کے اصحاب جس قدر محمد ﷺ کی تعظیم کرتے ہیں اس قدر کسی بادشاہ کے رفقاء نہیں کرتے اگر وہ تھوکتے ہیں تو ان لوگوں کے ہاتھ میں ان کا لعاب گرتا ہے اور وہ اپنے جسم و چہرے پر اسے مل لیتے ہیں اگر وہ کوئی حکم دیتے ہیں تو ہر شخص مسابقت کرنا چاہتا ہے اگر وہ وضوء کرتے ہیں تو وہ لوگ بچے ہوئے پانی کے لئے باہم لڑ پڑتے ہیں، اگر ان کے سامنے بولتے ہیں تو ان کی آوازیں پست ہو جاتی ہیں اور وہ ان کی طرف آنکھ بھر کر نہیں دیکھتے۔ (۴۳)

صلح حدیبیہ کے موقع پر جب عروہ بن مسعود نے رسول اللہ ﷺ سے کہا میں آپ کے سامنے ایسے چہرے اور مخلوط آدمی دیکھ رہا ہوں جو آپ کو چھوڑ کر بھاگ جائیں گے تو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ غصہ میں آگئے اور فرمانے لگے:

أمصص بظر اللات انحن نفر عنه وندعه (۴۴)

’’جا کر لات کی شرمگاہ چاٹ، کیا ہم رسول اللہ ﷺ کو چھوڑ کر بھاگ جائیں گے؟‘‘

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جان نثاری:

سب سے زیادہ جانثارانہ جذبات کا اظہار غزوہ احد میں ہوا، احد میں ایک موقع پر آپ ﷺ فرمانے لگے:

من يردهم عنا وله الجنة او هو رفيقى فى الجنة

کون ہے جو ان دشمنوں کو ہم سے دور کرے تو اس کے لئے جنت ہے یا فرمایا کے وہ جنت میں میرا رفیق ہوگا۔

آپ ﷺ کی جانب سے یہ بشارت سنتے ہی انصاری صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے ایک ایک مقابلہ کرتا گیا اور شہید ہوتا گیا یہاں تک سات انصاری صحابہ آپ ﷺ کے سامنے شہید ہوگئے۔ (۴۵)

حرمت رسول نمبر :

رسول اللہ ﷺ کی

ایک یہودی لڑ تشریف لے گئے، اس کا اس نے باپ کی طرف د ﷺ نے فرمایا اللہ کا شکر

اسی طرح آپ دودھ پینے کو دیا گیا وہ اس دوہنے کا حکم دیا اور اسے بکریوں کا دودھ سات مرتب دے دیا گیا اور تمام اہل خانہ کے ساتھ پیش آئے۔ (۴۶)

نصاریٰ کا وفد مد میں ٹھہرایا، بلکہ انہیں اپنے ط انہیں منع کرنا چاہا تو آپ مشرق کی طرف منہ کر کے ا

جنگ احد میں ج ﷺ سے عرض کیا کاش ان

انی لم ’’میں لعنت کر

ثمامہ بن اثال ج رحمت عالم ﷺ کے حسن سلو کر کے کاشانہ نبوت پر ہ نبوت پر حاضر

صفحہ 135

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 135 ماہنامہ مسیحائی کراچی

رسول اللہ ﷺ کی شفقت ورحمت:

ایک یہودی لڑکا بیمار ہو گیا تو نبی اکرم ﷺ اس کی بیمار پرسی کے لئے اس کے گھر تشریف لے گئے، اس کا حال احوال، خیریت پوچھی اور بعد میں اس کو اسلام کی بھی دعوت دی تو اس نے باپ کی طرف دیکھا، تو باپ نے اشارہ کیا کہ ہاں! تو وہ لڑکا مسلمان ہو گیا، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اللہ کا شکر ہے جس نے اس کو آگ سے بچالیا۔ (۴۶)

اسی طرح آپ ﷺ کے پاس ایک مرتبہ ایک غیر مسلم مہمان آیا، اسے بکری کا دودھ پینے کو دیا گیا تو اس نے پی لیا اور مزید کا طلبگار ہوا آپ ﷺ نے ایک اور بکری کا دودھ دوہنے کا حکم دیا اور اسے دودھ لا کر دیا، وہ اسے بھی پی گیا اور مزید مانگا غرضیکہ اس نے سات بکریوں کا دودھ سات مرتبہ پیا، چونکہ گھر میں دودھ کے علاوہ اور کوئی چیز نہ تھی، چنانچہ دودھ اسے دے دیا گیا اور تمام اہل خانہ خود بھوکے رہے، لیکن آپ ﷺ اس غیر مسلم مہمان سے اعلیٰ اخلاق کے ساتھ پیش آئے۔ (۴۷)

نصاریٰ کا وفد مدینہ منورہ آیا تو آپ ﷺ نے ان کی مہمانداری کی اور ان کو مسجد میں ٹھہرایا، بلکہ انہیں اپنے طریق پر عبادت کرنے کی بھی اجازت دی، جب عام مسلمانوں نے انہیں منع کرنا چاہا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا انہیں اپنی عبادت کرنے دو، چنانچہ انہوں نے مشرق کی طرف منہ کر کے اپنی عبادت کی۔ (۴۸)

جنگ احد میں جب نبی معظم ﷺ کو کئی ایک زخم آئے تو چند صحابہ h نے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کاش ان مشرکین کے لئے آپ بددعا فرمائیں، تو ، اکرم ﷺ نے فرمایا:

انی لم ابعث لعانا و انما بعثت رحمة (۴۹)
”میں لعنت کرنے کے لئے نبی نہیں بنایا گیا، مجھے تو رحمت کی نوید
دینے والا بنایا گیا ہے۔“

ثمامہ بن اثال جو کہ بنو حنفیہ کے سردار تھے جب قیدی بنا کر لائے گئے تو دوران قید رحمت عالم ﷺ کے حسن سلوک سے اسقدر متاثر ہوئے کہ آزادی کے بعد گھر نہیں گئے بلکہ غسل کر کے کاشانہ نبوت پر حاضر ہوئے پہلے ایمان لائے اور پھر پکار اٹھے۔

صفحہ 136

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 136 ماہنامہ مسیحائی کراچی

”اے محمد ﷺ! اللہ کی قسم ، روئے زمین پر آپ ﷺ سے زیادہ بغض مجھے کسی سے نہ تھا، مگر اب آپ ﷺ سے زیادہ مجھے محبوب کوئی نہیں۔ آپ ﷺ کے دین سے زیادہ دشمنی مجھے کسی دین سے نہیں تھی لیکن اب آپ ﷺ کے دین سے زیادہ مجھے محبت کسی دین سے نہیں ہے، آپ ﷺ کے شہر سے زیادہ مجھے ناپسندیدہ شہر کوئی نہ تھا لیکن اب آپ کے شہر سے زیادہ پسندیدہ شہر کوئی نہیں ہے۔“ (۵۰)

دنیا اور آخرت کی رسوائی:

ہمارے پیارے نبی ﷺ کی شان اقدس میں جس نے بھی گستاخی کی وہ ہمیشہ رسوا ہوئے اور بدترین موت مرے اور دنیا اور آخرت کی ذلت ان کا مقدر ٹھہری اور قدرت نے یہ اٹل قانون مقرر کر دیا کہ محمد عربی ﷺ کو جو بھی تکلیف دے گا اس کا انجام برا ہوگا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

”بے شک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو تکلیف پہنچاتے ہیں، اللہ ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت بھیج دیتا ہے اور ان کے لئے رسوا کن عذاب تیار کر رکھا ہے۔ (۵۱)

سورة المجادلہ میں ارشاد ہوا:

”جو لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرتے ہیں وہی ذلیل ترین قوموں میں سے ہیں۔ اللہ نے یہ بات بھی لکھ دی ہے کہ یقیناً میں اور میرے پیغمبر ان پر غالب رہیں گے، بیشک اللہ بڑی قوت والا ہے۔“ (۵۲)

ایک مقام پر اللہ تعالیٰ نے گستاخ رسول کے بارے میں فرمایا:

إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ (۵۳)

”ہم مذاق اڑانے والوں سے نمٹنے کے لئے آپ کی طرف سے کافی ہیں۔“

حرمت رسول نمبر ا

آپ ﷺ کا عاص بن وائل، اسود بن اللہ تعالیٰ نے ان سب کو ا سے معلوم ہوتا ہے جسے ا ابوجہل، عتبہ، شیبہ، ولید طرح قتل کر دیئے گئے، ا نے کچھ دیگر کافروں کے حالت میں اونٹ کی اوجھ تھی کہ اے اللہ! تو اہل

آج کے دور میں

آج کے دور کے ساتھ ساتھ آپ ﷺ داعی بن جائیں۔

مشترکہ سرمایہ:

پوری دنیا کو مشترکہ سرمایہ ہے۔

مجیب اللہ د

”آج دنیا کو اسلام ہے رسو مشترکہ سرمایہ ہیں، اسی طر ہے۔“ (۵۵)

ہادی برحق نبی آ

صفحہ 137

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

آپ ﷺ کا مذاق اڑانے والے کافروں میں پانچ بڑے مشہور تھے: ولید بن مغیرہ، عاص بن وائل، اسود بن مطلب ابو زمعہ، اسود بن عبد یغوث اور حارث بن طلاطلہ، اللہ تعالیٰ نے ان سب کو ایک دن ہی ہلاک کر دیا۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے جسے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کتاب الوضوء میں لائے ہیں، کہ کفار قریش ابوجہل، عتبہ، شیبہ، ولید بن عتبہ، امیہ بن خلف اور عقبہ بن ابی معیط تھے، جو میدان بدر میں بری طرح قتل کر دیئے گئے، اور دیگر مقتولین کے ساتھ ایک کنویں میں ڈال دیئے گئے۔ انہی لوگوں نے کچھ دیگر کافروں کے ساتھ مل کر رسول اللہ ﷺ کے کندھے پر کعبہ کے سامنے نماز پڑھنے کی حالت میں اونٹ کی اوجھڑی ڈال دی تھی، تو آپ نے بددعا کر دی تھی کہ اے اللہ! تو اہل قریش اور ان بدمعاشوں سے نمٹ لے۔‘‘ (۵۴)

آج کے دور میں ہماری ذمہ داری:

آج کے دور میں ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ ہم آپ ﷺ کے ساتھ محبت و عقیدت کے ساتھ ساتھ آپ ﷺ کی تعلیمات پر سچے دل سے عمل کریں اور دین مصطفیٰ ﷺ کے سچے داعی بن جائیں۔

مشترکہ سرمایہ:

پوری دنیا کو ہم یہ باور کرائیں کہ آپ ﷺ کی نبوت اور قرآن کریم پوری دنیا کا مشترکہ سرمایہ ہے۔

مجیب اللہ ندوی رقم طراز ہیں:

’’آج دنیا کو جس منشور اور مذہب کی ضرورت ہے وہ روشن دین اسلام ہے رسول اللہ ﷺ کی بعثت اور نزول کتاب تمام نوع انسانی کا مشترکہ سرمایہ ہے، جس طرح خدا کی مادی نعمتیں ہر فرد کے لئے عام ہیں، اسی طرح یہ روحانی نعمت بھی تمام مخلوق کے لئے عام ہے۔‘‘ (۵۵)

ہادی برحق نبی آخر الزماں ﷺ کے بارے میں قرآن کریم کہتا ہے:

صفحہ 138

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 138 ماہنامہ سبحانی کراچی

وَمَا اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ (۵۶) "اور ہم نے آپ ﷺ کو تمام عالموں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔"

ایک اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَمَا اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَافَّةً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا (۵۷) "ہم نے آپ ﷺ کو تمام انسانوں کے انجام سے باخبر کرنے والا اور خوشخبری دینے والا بنا کر بھیجا ہے۔"

ایک اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: "آپ ﷺ کہہ دیجئے اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔"

قرآن کریم کا اعلان:

خود قرآن مجید فرقان حمید اپنے بارے میں اعلان کرتا ہے: تَبٰرَكَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰى عَبْدِهٖ لِیَكُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرًا (۵۹) "پاک ہے وہ ذات جس نے حق و باطل میں فرق کرنے والا قرآن کریم اپنے بندے پر اتارا تا کہ وہ تمام انسانوں کو انجام سے ڈرائے"۔

مولانا ظفر علی خان نے کیا خوب کہا:

نماز اچھی روزہ اچھا زکوٰۃ اچھی حج اچھا مگر باوجود اس کے میں مسلماں ہو نہیں
سکتا
نہ جب تک کٹ مروں خواجہ طیبہ کی خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا
حرمت پر

إِنْ أُرِيدُ إِلَّا الْإِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللَّهِ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ o (۶۰)

وَصَلَّی اللّٰهُ عَلَی النَّبِیِّ الْكَرِیْمِ محمد وآلِهٖ وَاَصْحَابِهٖ اَجْمَعِیْن

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

۱. القرآن، سورة

۲. اقبال، علامہ

۳. طاہر رضا

للکدراسة

۴. محمد اسلم

اولیاء، مکتبہ

۵. القرآن، سورة

۶. القرآن سورة

۷. سورہ المزمل

۸. سورہ المدثر

۹. سورہ بقرہ

۱۰. سورہ بقرہ

العنکبوت

۱۱. سورہ الا

۱۲. سورہ القل

۱۳. سورہ الاح

۱۴. سورہ الا

۱۵. سورہ الا

۱۶. سورہ الا

۱۷. سورہ الا

۱۸. سورہ

۱۹. سورہ

۲۰. سورہ

۲۱. سورہ

۲۲. سورہ

۲۳. سورہ

۲۴.

صفحہ 139

ماہنامہ سبحانی کراچی حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

حواشی و حوالہ جات

ڈاکٹر اسحاق قریشی، لاہور، مرکز معارف اولیاء، محکمہ اوقاف پنجاب، ۲۰۰۲ء، ص ۱۳

اولیاء، محکمہ اوقاف پنجاب، ۲۰۰۲ء، ص ۳۰

العنکبوت، آیت ۵۰، فاطر، ۲۳، ص ۷۰، الاحقاف، ۹، الذاریات، ۵۰، ۵۱، الملک، ٢٦ الاحزاب، ٤٥

الحديث الشريف الكتب الستة، كتاب المناقب، باب ماجاء في اسماء رسول اللہ ﷺ، رقم الحديث ٣٥٣٢، ص ۲۸۸

صفحہ 140

ماہنامہ سبحانی کراچی 140 حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

اور انسانی حقوق، ڈاکٹر حافظ محمد ثانی، کراچی، دارالاشاعت، ۱۹۹۹ء، ص ۵۰

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

نمبر ٤٦٤١، ص ٩٨

ص ١٠٤٦

ص ٦٨٥

رقم الحدیث ٣٥٠

اکادیمی، ص ٢٢٦

صفحہ 141

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 141 ماہنامہ سبحانی کراچی

نمبر ٤٦٤١، ص ٩٩٨

ص ١٠٤٦

ص ٣٨٥

رقم الحديث ٢٤٠، ص ٢٢

لائبریری، ص ۲۹

٭ ٭ ٭

صفحہ 142

ماہنامہ سبحانی کراچی 142 حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

توہین آمیز خاکوں کا مسئلہ

عالم اسلام کی حکمت عملی

ثروت جمالی اسعدی

آزادی اظہار کے نام پر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف متعصبانہ اور شرانگیز مہم، عین اس وقت شروع کی گئی جب پوری مسلم دنیا میں اسلامی قوتیں جمہوری ذرائع سے اپنی مقبولیت ثابت کر رہی ہیں۔ مصر، فلسطین، عراق، ایران، پاکستان، بنگلہ دیش، ملائیشیا، انڈونیشیا، اردن، بحرین، سعودی عرب، ترکی، اور الجزائر وغیرہ کے انتخابی تجربات اس کا کھلا ثبوت ہیں، خود یورپ اور امریکہ میں ہر سال ہزاروں مرد و زن حلقہ بگوش اسلام ہورہے ہیں۔ اور ان میں سے کوئی بھی اسلام کے کسی جدید روشن خیال اور اعتدال پسند ایڈیشن سے متاثر ہوکر مسلمان نہیں ہوتا بلکہ یہ سب کے سب اسی پندرہ سوسال پرانے اسلام کو جوں کا توں اپناتے ہیں۔ مسلمان ہونے والی مغربی عورتیں کسی چوں چراں کے بغیر ستر وحجاب کی پابندی خوشی خوشی قبول کرتی ہیں اور مردوں کی شکل وصورت اور معمولات زندگی ان کی دلی تبدیلی کی شہادت دینے لگتے ہیں۔

حالات کے تناظر میں یکے بعد دیگرے مغربی ملکوں کے اخبارات کی جانب سے انسانیت کے محسن اعظم ﷺ کی شان میں گستاخی کا ارتکاب جس کا نتیجہ لازمی طور پر دنیا کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے اندر شدید اضطراب اور اشتعال کی صورت میں برآمد ہونا تھا، پھر اس شرانگیزی اور منافرت خیزی کو ذرائع ابلاغ کا جائز حق قرار دینے پر اصرار، اس کے بعد بش بلیئر اور یورپی یونین کی طرف سے اس موقف کی بڑی حد تک ہمنوائی اور حالات کی خرابی میں براہ راست شریک ڈینش وزیر اعظم سے فون پر اظہار یکجہتی ...... ان سب کو محض ایک سلسلہ اتفاقات باور نہیں کیا جاسکتا۔ یہ تو ممکن ہے کہ اس سلسلے کا آغاز کسی طے شدہ مشترکہ منصوبہ بندی کے تحت نہ ہو لیکن بعد میں درجنوں مغربی ملکوں کی اس میں سرگرم شرکت اور ایک قطعی نامعقول موقف پر ہٹ دھرمی کے ساتھ قائم رہنا ایک سوچی سمجھی سازش

صفحہ 143

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

ہی ہو سکتی ہے اور اس کا مقصد حالات کو بالآخر تہذیبوں کے تصادم کے اس نظریئے کی عملی تکمیل تک پہنچانا دکھائی دیتا ہے جو کہ کمیونسٹ روس کے خاتمے کے بعد سے مغربی مفکر پیش کر رہے ہیں۔ اس نظریئے کا خلاصہ یہ ہے کہ اب دنیا میں اسلام وہ واحد نظام حیات ہے جس سے مغربی تہذیب کو خطرہ درپیش ہے لہٰذا اس کی حفاظت کے لیے اسلام اور کم از کم ”سیاسی اسلام“ کے خطرے کا قلع قمع ضروری ہے مسلم دنیا میں امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں کی جارحانہ سرگرمیاں اسی فکر کے تابع دکھائی دیتی ہیں اور مغربی ملکوں کی جانب سے اتنی بڑی تعداد میں اتنے منظم انداز سے مسلمانوں کی محبوب ترین ہستی کو ہدف تضحیک بنائے جانے سے لگتا ہے کہ مغرب اور اسلام میں ٹکراؤ کی مطلوبہ منزل کو جلد سے جلد قریب لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یہ کارٹون کروسیڈ شروع کرنے اور پھر اس میں بتدریج شریک ہوتے چلے جانے والے عناصر شاید اس گمان میں مبتلا تھے کہ اس کھیل میں چت بھی ان کی ہوگی اور پٹ بھی۔ اس لحاظ سے ان کا اولین مقصد تو یہی ہوگا کہ مسلم ملکوں کے اندر جمہوری ذرائع سے اپنی مقبولیت ثابت کرنے والی اسلامی قوتوں کو مشتعل کر کے تشدد پر آمادہ کیا جائے اور پھر دنیا کو بتایا جائے کہ اسلامی تحریکیں جمہوری تقاضے پورے کرنے کی اہلیت سے محروم ہیں۔ اسلام بنیادی طور پر دہشت گردی کا مبلغ تحمل و برداشت سے عاری اور جمہوری اصولوں اور آزادیوں پر مبنی مغربی تہذیب سے متصادم ہے۔ اسلامی قوتیں عالمی امن کے لیے خطرہ ہیں۔ یہ کبھی جمہوری عمل کا حصہ نہیں بن سکتیں۔ لہٰذا انہیں کچلے بغیر اور ”سیاسی اسلام“ کا خاتمہ کیے بغیر دنیا میں سکون نہیں ہو سکتا۔ غالباً اسی طرح مسلم ملکوں میں مغرب کے تابعدار حکمرانوں کو بھی جمہوری سیاست میں ابھرتی ہوئی اسلامی تحریکوں کو دبانے کا ایک جواز مہیا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس سازش کے خالقوں کے پیش نظر یہ بھی یقیناً ہوگا کہ اس تدبیر سے مغرب میں قبول اسلام کے بڑھتے ہوئے رجحان کی روک تھام کی جائے اور اسلام کی طرف مائل ہونے والوں کو بتایا جائے کہ اسلام امن و آشتی اور محبت کا نہیں، بدامنی، تشدد، نفرت اور خونریزی کا علمبردار ہے۔ اور اگر بفرض محال اسلامی تحریکیں اس شیطانی شرارت پر کوئی تند و تیز ردعمل ظاہر نہ کریں تو اس صورت میں یہ تحریکیں خود پوری دنیا میں عام مسلمانوں کے نزدیک بزدل اور بے حوصلہ قرار پائیں گی

صفحہ 144

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی اور ان کے چڑھتے سیلاب کے آگے مسلمان عوام کے مجروح اور شکستہ جذبات کا ملبہ خود ہی بند باندھنے کا ذریعہ بن جائے گا۔ اس کے علاوہ بے بسی، لاچاری اور شکست خوردگی کی کیفیت پوری دنیا کے مسلمانوں کو نفسیاتی طور پر توڑ پھوڑ کر رکھ دے گی۔ واقعات و حالات کی گواہی یہی ہے کہ اس سازش کے پس پشت یہ تمام مقاصد کار فرما تھے مگر قدرت کے منصوبے شاید کچھ اور ہیں چنانچہ چند ہفتوں کے اندر ہی یہ چال خود سازشی عناصر کو الٹی نظر آرہی ہے۔ پوری اُمت مسلمہ نے اس معاملے میں ایمانی حمیت اور یکسوئی و یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے۔ پھر اظہار رائے کی آزادی کے نام پر اسلام کے خلاف اشتعال انگیز کارٹونوں کی اشاعت کی اس بھونڈی اور ناپاک مہم کو جائز ثابت کرنے کے لیے دیئے جانے والے دلائل اتنے بودے ہیں کہ اپنی تردید آپ کر رہے ہیں۔ یہ دلائل کسی معقول آدمی کو قائل کرنے کی صلاحیت سے بالکل عاری ہیں اور خود مغرب میں تنقید کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ جبکہ عام لوگوں میں انتہا پسند اور متعصب سازشی عناصر کے رویے پر سوچ بچار کے ساتھ ساتھ اسلام کے بارے میں جستجو کی ایک نئی اور طاقتور لہر نے جنم لیا ہے اس طرح اللہ تعالیٰ نے اہل مغرب تک اسلام کا درست تعارف پہنچانے کا ایک سنہری موقع مسلمانوں کو فراہم کر دیا ہے۔ اب یہ ہم مسلمانوں کا کام ہے کہ ہم اس سے کیسے اور کتنا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ عالمی اسلامی تحریکیں اس مقصد کے لیے اچھی طرح سوچ سمجھ کر ایک مشترکہ حکمت عملی ترتیب دیں اور پھر پورے اہتمام سے اسے بروئے کار لائیں۔

اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مغرب کی متعصبانہ مہم نے دنیا کے سامنے اسلام کا درست تعارف پیش کرنے کا جو سنہری موقع مسلمانوں کو فراہم کر دیا ہے اس سے فائدہ اٹھانے کے حوالے سے سب سے پہلی بات تو یہی ہے کہ اسلام سے کھلے بغض پر مبنی اس مہم کے خلاف خود مسلمانوں کا طرز احتجاج اسلام کے تعارف کا اولین ذریعہ ہے۔ اگر یہ پوری طرح اسلامی احکام کے تابع ہو تو غیر جانبدار لوگوں ہی کے نہیں بدترین مخالفین کے دلوں کو جیتنے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ اس حوالے سے مکمل ہدایت قرآن و سنت میں موجود ہے اور اسلامی تحریکوں کی قیادتوں اور علمائے کرام کی ذمہ داری ہے کہ وہ خود بھی انہیں ملحوظ رکھیں اور مسلم عوام کو بھی ان سے آگاہ کریں۔ اس کے ساتھ علمی و فکری میدانوں اور ابلاغ کے محاذ پر

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء اسلامی قوتوں کی جانب سے عالمی فی الوقت تقریباً فقدان نظر آتا ہے حقانیت پر پورا اعتماد رکھتے ہوں جو بارے میں کسی معذرت خواہی کا جائیں کہ وہ اسلام کے خلاف نت نئی جدید ذہن کے مطابق اطمینان بخش وسائل کے حوالے تحقیق و تجزیے کا پیغام کو جدید دور کے تقاضوں کے مط لیے جو سنگین مسائل پیدا کیے ہیں ان لائیں گے....... تو اسلام کے دفاع اور اصطلاح میں اسے مسلم دنیا کا عالمی مغرب نے اپنے مخصوص مقاصد شمار تھنک ٹینک بنا رکھے ہیں لیکن اس دکھائی نہیں دیتا۔ اس کمی کو بلا تاخیر پورا میں اسلامی تحریکیں کر سکتی ہیں۔ اس کے دربار کے وابستگان۔ کہ بس کی بات نہیں کا شکار ہونے سے بچانے کے لیے وس چاہئیں۔ جو اُمت پوری دنیا میں جہادی چند اہل علم کو فکری محاذ پر لڑنے کے لیے ہے۔ بس ضرورت اس جانب توجہ دینے دنیا کے کونے کونے کے لوگ ایک دوسر اور علمی و فکری کام کے لیے باہمی تبادلہ خ نہیں رہے ہیں۔

صفحہ 145

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

اسلامی قوتوں کی جانب سے عالمی سطح پر منظم اور مربوط جدوجہد انتہائی ضروری ہے۔ جس کا فی الوقت تقریباً فقدان نظر آتا ہے۔ ایسے چوٹی کے چند مسلمان اسکالر جو قرآن وسنت کی حقانیت پر پورا اعتماد رکھتے ہوں جن کا قلب و ذہن دونوں مسلمان ہوں اور جو اسلام کے بارے میں کسی معذرت خواہی کا شکار نہ ہوں، اگر صرف اس کام کے لیے فارغ کر دیئے جائیں کہ وہ اسلام کے خلاف نت نئی شکلوں میں آئے دن کئے جانے والے پروپیگنڈے کا جدید ذہن کے مطابق اطمینان بخش جواب دیں گے روزمرہ حالات واقعات اور معاملات مسائل کے حوالے تحقیق و تجزیئے کا کام کریں گے، انسانیت کے لیے اسلام کی دعوت اور پیغام کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق پیش کریں گے، مغربی تہذیب نے انسانیت کے لیے جو سنگین مسائل پیدا کیے ہیں ان کی نشاندہی کر کے اسلام کی روشنی میں ان کا حل سامنے لائیں گے...... تو اسلام کے دفاع اور ابلاغ کا ایک مستقل نظام وجود میں آسکتا ہے۔ جدید اصطلاح میں اسے مسلم دنیا کا عالمی تھنک ٹینک کہا جاسکتا ہے۔

مغرب نے اپنے مخصوص مقاصد کے لیے اسلام اور عالم اسلام پر کام کرنے والے بے شمار تھنک ٹینک بنا رکھے ہیں لیکن اسلامی دنیا میں بین الاقوامی سطح پر ایسا کوئی ادارہ فعال دکھائی نہیں دیتا۔ اس کمی کو بلا تاخیر پورا کیا جانا چاہیے۔ یہ کام حکومتوں سے کہیں بہتر انداز میں اسلامی تحریکیں کر سکتی ہیں۔ اس کے لیے جو جذبہ ولولہ اور بصیرت درکار ہے وہ سرکاری دربار کے وابستگان کے بس کی بات نہیں ہے۔ اس ادارے کو سرکاری مصلحتوں اور سرخ فیتے کا شکار ہونے سے بچانے کے لیے وسائل بھی مسلم دنیا کے اہل خیر کو نجی طور پر فراہم کرنے چاہئیں۔ جو اُمت پوری دنیا میں جہادی تحریکوں کی مالی سرپرستی کر سکتی ہے اس کے لیے اپنے چند اہل علم کو فکری محاذ پر لڑنے کے لیے دنیاوی فکروں سے فارغ کر دینا یقیناً مشکل نہیں ہے۔ بس ضرورت اس جانب توجہ دینے کی ہے۔ جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سبب اب دنیا کے کونے کونے کے لوگ ایک دوسرے سے بآسانی اور ہمہ وقت مربوط رہ سکتے ہیں۔ اور علمی وفکری کام کے لیے باہمی تبادلہ خیال اور مشاورت میں جغرافیائی فاصلے قطعاً حائل نہیں رہے ہیں۔

صفحہ 146

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ سچائی کراچی

اسلام پر دہشت گردی، خواتین کے حقوق، اقلیتوں سے بدسلوکی، انسانی حقوق کی پامالی وغیرہ کے حوالے سے جو حملے مغرب کے فکری مورچوں سے آئے دن ہوتے رہتے ہیں ان کا جواب دینے کے لیے اسلامی دنیا کے علمی جرائد کے خصوصی نمبر پورے عالمی اسلام کے اہل علم و دانش کے تعاون سے شائع کیے جانے چاہئیں۔ ان کاوشوں کی حیثیت بھی محض دفاعی نہیں ہونی چاہئے بلکہ مغرب کے سیکولر نظام سیاست اور سرمایہ دارانہ معیشت کے ہاتھوں انسانیت ..... غربت اور بے روزگاری، ارتکاز دولت، امیر اور غریب کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلوں، سودی نظام کی تباہ کاریوں، آزادی نسواں کے نام پر عورت کے بدترین استحصال ..... ان خصوصی شماروں میں ان کا مکمل تجزیہ بھی کیا جائے اور اسلام ان مسائل سے کس طرح نمٹ سکتا ہے اس بارے میں مکمل رہنمائی بھی فراہم کی جائے۔ یہ کام بھی اسلامی تحریکیں ہی بہتر طور پر کر سکتی ہیں۔ اس کے لیے اچھی منصوبہ بندی کی جائے، بنیادی موضوعات اور ان کے ذیلی عنوانات کا تعین اچھی طرح سوچ سمجھ کر کیا جائے، پھر یہ موضوعات موزوں ترین افراد کے لیے مختص کیے جائیں اور مواد کی فراہمی میں بھی پورا تعاون کیا جائے تو بہت اچھی کاوشیں منظر عام پر لائی جا سکتی ہیں۔ لکھنے والوں کو کسی بھی زبان میں لکھنے کی آزادی حاصل ہونی چاہئے اور ان کی تحریروں کا بعد میں ترجمہ کرانے کا مناسب بندوبست کیا جانا چاہئے۔ اصل دستاویز عربی، اردو، انگریزی، کسی بھی زبان میں منظر عام پر لائی جا سکتی ہے۔ مگر بعد میں اس کو دنیا کی تمام زبانوں میں ترجمہ کر کے شائع کرنے کا اہتمام ہو سکتا ہے۔ پاکستان میں سوشلزم کے خلاف یہ کام اسلامی قوتوں نے انتہائی موثر انداز میں کیا تھا۔ انسانیت دشمن مغربی سرمایہ داری کے خلاف بھی علمی و فکری جہاد وقت کی آواز ہے۔ اسلام اور مادہ پرستی میں براہ راست جنگ شروع ہو چکی ہے اور اسے جیتنے کے لیے بارود سے زیادہ دلیل کی قوت درکار ہے۔ اور الحمدللہ دلیل کے میدان میں اسلام کا کوئی مد مقابل نہیں۔ ضرورت صرف اللہ کے پیغام کو درست طور پر دنیا کے سامنے پیش کرنے کی ہے۔ اسلامی تحریکوں کی سیاسی جدوجہد اور جہادی کاوشوں کے ساتھ ساتھ اس محاذ پر پوری طرح سرگرم ہونا ضروری ہے۔

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ابلاغ کے محاذ پر اسلام کا انتہائی ضروری ہے۔ اس کی لائی جاسکنے والی ایک تدبیر و سائٹ انٹرنیٹ پر موجود مختلف کام بھی کر سکتی ہیں۔ تاہم اس جانے والے گمراہ کن پروپیگنڈ اسلامی قوتوں کو قائم کرنا چاہ سامنے لایا جائے اور وقت کے کیا جائے۔ اس چینل کی نشریات چاہیے۔ احتجاجی مظاہروں، می اقدامات کی بلاشبہ اپنی افادیت ناگزیر ہے۔ جس کے چند نکات فوری اقدامات وقت کی ناگزیر میں شامل کرنا چاہئے۔

صفحہ 147

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 147 ماہنامہ مسیحائی کراچی

ابلاغ کے محاذ پر اسلام کی جنگ لڑنے کے لیے جدید ذرائع ابلاغ سے بھر پور کام لیا جانا انتہائی ضروری ہے۔ اس کی بہت کم وقت میں اور بہت تھوڑے وسائل کے ساتھ روبہ عمل لائی جاسکنے والی ایک تدبیر ویب سائٹس کی ہے۔ فی الوقت عالم اسلام کی کوئی نمائندہ ویب سائٹ انٹرنیٹ پر موجود نہیں ہے۔ عالمی اسلامی تحریکیں باہمی تعاون اور مشاورت سے یہ کام بھی کر سکتی ہیں۔ تاہم اسلام کے پیغام کو دنیا تک پہنچانے اور اس کے بارے میں کیے جانے والے گمراہ کن پروپیگنڈے کا بروقت ازالہ کرنے کے لیے، ایک ایسا ٹی وی چینل بھی اسلامی قوتوں کو قائم کرنا چاہئے جس کے ذریعے واقعات کو ان کے صحیح رنگ میں دنیا کے سامنے لایا جائے اور وقت کے مسائل پر اسلام کا موقف دوٹوک اور بے لاگ انداز میں پیش کیا جائے۔ اس چینل کی نشریات کم از کم تین زبانوں یعنی اردو، عربی اور انگریزی میں ہونی چاہیے۔ احتجاجی مظاہروں ، مصنوعات کا بائیکاٹ اور سفارتی تعلقات کا خاتمہ وغیرہ جیسے اقدامات کی بلاشبہ اپنی افادیت ہے لیکن دوررس نتائج کے لیے ٹھوس اور پائیدار حکمت عملی ناگزیر ہے۔ جس کے چند نکات اس سلسلہ تحریر میں پیش کیے گئے ہیں۔ تاہم اس سمت میں فوری اقدامات وقت کی ناگزیر ضرورت ہیں اور عالمی اسلامی قوتوں کو اسے اپنی ترجیحات میں شامل کرنا چاہئے۔

صفحہ 148

ماہنامہ سبحانی کراچی 148 حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

اللہ رب العزت کی بارگاہ میں

اللہ مرے مجھ کو دل و جان سے پیارے
سرکار محمدﷺ مری آنکھوں کے ہیں تارے
پر کیف اجالوں سے بھرا مِرا جہان ہے
ملتے ہیں شب و روز مجھے تیرے سہارے
احسان سے تیرے بحر بلا خیز کے اندر
چلتا ہوں تو مڑ جاتے ہیں طوفان کے دھارے
اس سارے کرم کی کوئی توجیہ کروں کیا
کشتی مری سرکار لگاتے ہیں کنارے
امراض کے آلام نے دم توڑ دیا ہے
جیتا ہوں تجھے ٹوٹے ہوئے دل سے پکارے
کردار کو پاکیزگیٔ قلب و نظر دے
شعلے مرے بن جائیں محبت کے شرارے
اللہ صمد، بسر احد، بسر محمدﷺ
کر مجھ کو شفایاب کہ ہو جائیں مرے وارے نیارے

محمود صفدر عثمانی

صفحہ 49

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 49 ماہنامہ مسیحائی کراچی

شہیدان ناموس رسالت ﷺ

عہد بہ عہد...... تاریخی جائزہ

گلزار احمد ساجد

حمد وثناء رب ذوالجلال کے لیے جس نے مخلوق کی ہدایت کے لیے قرآن مجید نازل فرمایا.....اور درودوسلام نبی آخرالزماں حضرت محمد ﷺ پر جنہوں نے چار دانگ عالم میں اس کو پھیلایا۔ اور رب ذوالجلال کی لاکھوں رحمتیں نازل ہوں، ان مقدس شخصیات کی قبور پر جنہوں نے ناموس رسالت ﷺ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

حضور خاتم النبیین ﷺ اور اُمت مسلمہ کے مابین وہی ربط وتعلق ہے، جو جسم وجان کا ہے۔ آپ ﷺ کی ناموس کی حفاظت ملت اسلامیہ کا اہم ترین فریضہ رہا ہے۔ مسلمان سب کچھ برداشت کرسکتا ہے، مگر آپ ﷺ کی توہین، تنقیص اور بے ادبی یا آپ ﷺ کی شان مبارک میں ادنیٰ سی گستاخی کا شائبہ تک بھی برداشت نہیں کرسکتا۔

مسلمان اپنے آقا ومولا ختم المرسلین و خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کی عزت و ناموس پر مر مٹنے اور اس کی خاطر دنیا کی ہر چیز قربان کرنے کو اپنی زندگی کا ماحاصل سمجھتے ہیں۔ اس پر تاریخ کی کسی جرح سے نہ ٹوٹنے والی ایسی شہادت موجود ہے جو مسلمہ حقیقت بن چکی ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو خواہ وہ ایشیا ہو یا یورپ، افریقہ ہو یا کوئی اور خطۂ ارض جہاں بھی اقتدار حاصل رہا، وہاں کی عدالتوں نے اسلامی قانون کی رو سے شاتمان رسول ﷺ کو سزائے موت کا فیصلہ سنایا۔ اس کے برعکس جب کبھی یا جہاں ان کے پاس حکومت نہیں رہی، وہاں جاں نثاران رسول ﷺ نے غیر مسلم حکومت کے رائج الوقت قانون کی پروا کیے بغیر گستاخان رسول ﷺ کو کیفر کردار تک پہنچایا اور خود ہنستے، مسکراتے تختۂ دار چڑھ گئے۔ اور نسل نو کو یہ پیغام دے گئے کہ ؎

صفحہ 50

ماہنامہ سبحانی کراچی حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

نماز اچھی، حج اچھا، روزہ اچھا، زکوٰۃ اچھی
مگر میں باوجود ان کے مسلماں ہو نہیں سکتا
نہ جب تک کٹ مروں میں خواجۂ بطحا کی عزت پر
خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا

جنگ یمامہ، جھوٹے مدعیان نبوت کے خلاف امت محمدیہ ﷺ کا پہلا جہاد

نبی آخر الزمان حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی رحلت کے بعد منافقین نے نبوت کے جھوٹے دعویداروں کی صورت میں سر اٹھایا۔ جانشین رسول ﷺ، امیر المومنین، خلیفہ اول و بلافصل سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے ناموس رسالت ﷺ و آبروئے ختم نبوت کی پاسبانی کا حق ادا کرتے ہوئے اللہ کی تلوار حضرت خالد بن ولیدؓ کو اس فتنے کی جڑیں کاٹنے اور ان بے ایمانوں کے سر تن سے جدا کرنے پر مامور کیا....... جنگ یمامہ کفر و اسلام کے اسی معرکہ کی تاریخ ہے، جس میں بارہ سو کے قریب صحابہ کرامؓ نے جام شہادت نوش کیا۔ ان شہداء میں تین سو ستر ایسے صحابہ کرامؓ تھے جو قرآن کے حافظ تھے اور ان کا درجہ مسلمانوں میں بہت بلند تھا۔ جنگ یمامہ کے جذبے اور ولولے شمع ختم نبوت کے پروانوں کے لیے رہتی دنیا تک نمونۂ عمل رہیں گے۔

اے جان دینے والو! محمد ﷺ کے نام پر
ارفع بہشت سے بھی تمہارا مقام ہے

ختم نبوت کا پہلا شہید

حضرت حبیب بن زید انصاریؓ

تاریخ اسلام میں عقیدۂ ختم نبوت کے لیے سب سے پہلے اپنی جان کا نذرانہ رسول اللہ ﷺ کے نوجوان انصاری صحابی حضرت حبیب بن زید انصاریؓ نے پیش کیا۔ وہ مسیلمہ کذاب کے ساتھیوں کے ہاتھوں گرفتار ہوئے اور انہیں مسیلمہ کے دربار میں پیش کیا گیا۔ مسیلمہ نے ان سے پوچھا کہ کیا تم حضرت محمد ﷺ کو اللہ کا رسول مانتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا، ہاں مانتا ہوں۔ مسیلمہ نے پھر پوچھا کہ تم مجھے اللہ کا رسول تسلیم کرتے ہو؟ حضرت حبیب بن زیدؓ نے جواب میں فرمایا، میرے کان تمہاری یہ بات سننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ مسیلمہ نے انہیں

صفحہ 151

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 151 ماہنامہ سبحانی کراچی

قتل کرنے کا حکم دیا۔ اور تاریخ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ حضرت حبیب بن زیدؓ کو مسیلمہ کے دربار میں اس درندگی کے ساتھ شہید کیا گیا کہ پہلے ان کا ایک بازو کاٹا گیا پھر دوسرا بازو، پھر ایک ٹانگ پھر دوسری ٹانگ، اس دوران مسیلمہ مسلسل سوال کرتا جاتا تھا اور اس عاشق رسول ﷺ، صحابیؓ کا ہر سوال پر یہی جواب تھا کہ میرے کان جناب نبی اکرم ﷺ کے بعد کسی اور کے لیے نبوت کا لفظ سننے کے لیے تیار نہیں۔ حتیٰ کہ حضرت حبیب بن زید انصاریؓ عقیدہ ختم نبوت کے اسی والہانہ اظہار کے ساتھ جام شہادت نوش کرگئے۔

حضرت زید بن خطاب القرشی العدویؓ

یہ اس لشکر کے علمبردار تھے جو مسیلمہ کذاب کے مقابلہ میں حضرت صدیق اکبرؓ نے روانہ کیا تھا۔ دشمن کے ایک حملہ میں ان کا لشکر متفرق ہو گیا، تو انہوں نے کہا کہ اب مرد مرد نہیں رہے، پھر بلند آواز سے کہا! الٰہی! میں اپنے ساتھیوں کے فرار کا تیرے حضور میں عذر پیش کرتا ہوں۔ مسیلمہ کذاب اور محکم بن طفیل کی سازشوں سے برأت کا اظہار کرتا ہوں۔ یہ کہہ کر آگے بڑھے اور شدت سے حملہ کیا اور مرتدین کو قتل کرتے ہوئے شہید ہو گئے۔ یہ حضرت زید خلیفہ ثانی سیدنا عمر فاروقؓ کے بھائی ہیں۔

حضرت سالم بن معقل شہیدؓ

حضرت سالم بن معقلؓ اصلی باشندے اصطخر کے تھے۔ بعض نے ان کا وطن موضع کرمد (علاقہ فارس) بھی لکھا ہے۔ ثبیتہ بنت یعار انصاریہ کے غلام تھے۔ یہ خاتون ابو حذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبدشمس بن عبد مناف کی زوجہ ہیں۔ انہوں نے ان کو آزاد کردیا اور ابو حذیفہؓ نے ان کو اپنی تربیت میں لے لیا۔ حتیٰ کہ متبنیٰ (منہ بولا بیٹا) بنالیا۔ جب تنسیخ متبنیت کا حکم اترا تو اپنی بھتیجی فاطمہ بنت ولید بن عتبہ قرشیہ کا نکاح ان سے کردیا۔ حضرت سالمؓ کو انصاری اس لیے کہتے ہیں کہ وہ انصاریہ کے آزاد کردہ تھے، اور مہاجر اس لیے شمار کرتے ہیں کہ انہوں نے مکہ میں ابو حذیفہؓ کے ہاں پرورش پائی، اور مکہ سے ہجرت کر کے اس قافلہ میں مدینہ پہنچے جس میں حضرت عمر فاروقؓ بھی شامل تھے۔

صفحہ 152

ماہنامہ مسیحائی کراچی حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

ان کا شمار فضلا الموالی، خیار الصحابہ اور کبار صحابہ میں کیا جاتا ہے۔ ان کو عجمی اصل وطن کے لحاظ سے کہا جاتا ہے۔ قرآن مجید کے جید قاری تھے۔ نبی کریم ﷺ نے معلمین قرآن میں ان کے نام کا تعین فرمایا تھا۔ غزوہ بدر میں حاضر تھے، جنگ یمامہ میں حضرت سالم اور ان کے مربی حضرت ابو حذیفہؓ دونوں نے جام شہادت نوش کیا۔ دفن ہونے میں حضرت سالم کا سر ابو حذیفہؓ کے پاؤں کی جانب تھا۔

حضرت سائب بن عثمان بن مظعون القرشی الجمحی شہید

یہ سائب بن مظعون کے برادر زادے ہیں۔ ان کے والد عثمان بن مظعون اور ان کے چچاؤں قدامہ، عبداللہ اور سائب نے ہجرت حبشہ کی تھی۔ یہ بھی حبشہ کی ہجرت دوم میں شامل تھے۔ جنگ یمامہ میں شہادت کے مرتبہ پر فائز ہوئے، اس وقت ان کی عمر ۳۰ سال سے زائد تھی۔

حضرت شجاع بن ابی وہب الاسدی شہید

ان کا نسب نبی کریم ﷺ کے ساتھ خزیمہ میں شامل ہو جاتا ہے۔ یہ بھی حبشہ کی ہجرت دوم میں شامل تھے اور پھر یہ سن کر کہ اہل مکہ مسلمان ہو گئے ہیں، حبشہ سے واپس آگئے تھے۔ غزوہ بدر میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ رہے، مواخات میں نبی کریم ﷺ نے انہیں ابن خولی کا بھائی بنایا تھا۔ جنگ یمامہ میں شہید ہوئے، اس وقت ان کی عمر چالیس سال سے کچھ زائد تھی۔

حضرت عبداللہ بن مخرمہ شہید

نبی کریم ﷺ کے ساتھ ان کا نسب گیارہویں پشت میں فہر سے مل جاتا ہے۔ ان کی والدہ اُمّ نہیک بنت صفوان ہیں۔ یہ مہاجرین اولین میں سے ہیں اور بقولے ذوالہجرتین بھی ہیں۔ جنگ یمامہ میں اکتالیس سال کی عمر میں شہید ہوئے۔

انہوں نے دعا کی تھی کہ الٰہی مجھے اس وقت تک موت نہ آئے جب تک میں اپنے بند بند کو تیری راہ میں زخم رسیدہ نہ دیکھ لوں۔ جنگ یمامہ میں ان کے زخموں کا یہی حال تھا کہ جملہ مفاصل (جوڑوں) پر زخموں کے نشان تھے۔

حضرت ابن عمرؓ فرماتے ہیں کہ جب میں ان کے پاس آخری وقت پہنچا تو انہوں نے مجھ

صفحہ 153

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

سے پوچھا کہ روزہ داروں نے روزے کھول لیے ہیں؟ میں نے کہا، ہاں۔ انہوں نے کہا میرے منہ میں پانی ڈال دو۔ ابن عمرؓ حوض پر گئے اور ڈول پانی لے کر آئے۔ آکر دیکھا تو وہ سانس پورے کر چکے تھے۔

حضرت مالک بن امیہ بن عمر السلمی شہیدؓ

یہ بنو اسد بن خزیمہ کے حلیف ہیں، بدر میں حاضر ہوئے۔ جنگ یمامہ میں جام شہادت نوش کیا۔

حضرت مالک بن عمرو السلمی شہیدؓ

یہ بنو عبد شمس کے حلیف ہیں، بدر میں حاضر تھے۔ جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔

حضرت ابو حذیفہ بن عتبہ شہیدؓ

ابو حذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس بن عبد مناف قرشی، ان کا نام مہشم یا ہشیم یا ہاشم بیان کیا گیا ہے۔ فضلاء صحابہؓ میں سے ہیں۔ ابھی نبی کریم ﷺ دار ارقم میں داخل نہ ہوئے تھے کہ یہ اسلام لا چکے تھے۔ اول ہجرت حبشہ کی، پھر مکہ سے مدینہ ہجرت کی۔ ان کی اہلیہ سہلہ بنت سہیل نے ہجرت حبشہ میں ساتھ دیا تھا۔ بدر، اُحد، خندق، حدیبیہ جملہ غزوات میں آنحضرت ﷺ کے ہمرکاب رہے، جنگ یمامہ میں بعمر ۵۳ سال جام شہادت نوش کیا۔

حضرت عبداللہ بن عبداللہ بن ابی بن سلول الانصاری الخزرجی شہیدؓ

یہ بنو عوف بن خزرج میں سے ہیں، ان کا قبیلہ مدینہ بھر میں مشہور تھا۔ ان کو ابن الحبلی بھی کہتے ہیں۔ سلول عبداللہ منافق کی دادی کا نام ہے، ابی اپنی ماں کی نسبت سے مشہور ہے۔ حضرت عبداللہؓ کے باپ عبداللہ کو اہل یثرب اپنا بادشاہ بنانے لگے تھے، اس کے لیے تاج تیار کرنے کی تجویزیں ہورہی تھیں کہ سرور عالم ﷺ رونق افروز مدینہ ہوگئے۔ خزرجی مسلمان ہوگئے، ابن ابی کا اقتدار خاک میں مل گیا۔ رشک وحسد نے اسے رئیس المنافقین بنادیا۔

جب غزوۂ بنی مصطلق میں ”لیخرجن الاعز منہا الاذل“ کا جملہ رئیس المنافقین کے منہ سے نکلا تو اس کے بیٹے حضرت عبداللہؓ جو نہایت مخلص مسلمان تھے، حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں گئے اور عرض کیا کہ اگر ارشاد ہو تو اپنے نالائق باپ کا سر کاٹ کر حاضر کردوں۔ آپ ﷺ نے

صفحہ 154

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۰ء ماہنامہ سبحانی کراچی

فرمایا نہیں تم اپنے باپ سے حسن سلوک رکھو۔

الغرض ابن ابی رئیس المنافقین کے گھر میں حضرت عبداللہ ، صدق و اخلاص کا کامل نمونہ تھے۔ ایمان اور محبت رسول ﷺ کے مدارج میں ترقی یافتہ تھے۔ ان کا شمار خیار صحابہؓ اور فضلائے صحابہؓ میں ہوتا تھا۔ بدر، اُحد اور دیگر تمام غزوات میں آنحضرت ﷺ کے ہمرکاب رہے اور جنگ یمامہ میں اپنی جان کا نذرانہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے حضور پیش کیا۔

حضرت سماک بن خرشہ الانصاری شہیدؓ

ان کی کنیت ابو دجانہ ہے اور اپنی کنیت سے مشہور ہیں۔ ان کا شمار چیدہ اور برگزیدہ بہادروں میں ہوتا ہے۔ تمام مغازی میں حضور اکرم ﷺ کے ساتھ ساتھ رہا کرتے تھے۔ بدر میں حاضر تھے، جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔

حضرت عائد بن ماعص الانصاری شہیدؓ

یہ اور ان کے بھائی معاذ بن ماعص غزوہ بدر میں حاضر تھے۔ مواخات میں ان کو نبی کریم ﷺ نے سویبط بن حرملہ کا بھائی بنایا تھا۔ بئر معونہ یا بقول بعض یوم یمامہ میں جام شہادت نوش کیا۔

حضرت نعمان بن عصر بن الربیع البلوی الانصاری شہیدؓ

یہ انصار بنو معاویہ بن مالک کے حلیف تھے۔ بدر، اُحد، خندق اور جملہ مشاہد میں شریک ہوئے ، جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔

حضرت معن بن عدی بن جد بن عجلان ضبیعہ البلوی الانصاری شہیدؓ

انصار بنو عمر کے حلیف تھے۔ عاصم بن عدی کے برادر حقیقی ہیں۔ مواخات میں نبی کریم ﷺ نے زید بن خطاب کو ان کا بھائی بنایا تھا۔ بدر سمیت جملہ مشاہد میں حاضر باش رہے۔ جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔

حضرت عقبہ بن عامر الانصاری الخزرجی شہیدؓ

بیعت عقبہ اولیٰ سے مشرف تھے، بدر و اُحد میں حاضر تھے۔ اُحد کے دن خود آہنی پر سبز عمامہ سجائے رکھا تھا اور دور سے نمایاں ہوتے تھے۔ خندق اور دیگر مشاہد میں بالالتزام حاضر

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۰ء

رہے، جنگ یمامہ میں جام شہـ

حضرت عـ

یہ فرار بن بلی کی نسل اور بنو ان کا نام عبدالرحمن عدو الاوثان بدر میں حاضر تھے، جنگ یما

حضرت عـ

حضرت عباد بن بشر وقش الاسلام ہیں۔ مدینہ میں حضر بدر، اُحد اور دیگر جملہ مشاہد میں سے ہیں۔

حضرت انس بن مالک نے کرتا تھا۔ یہ ان چھ بزرگوں میں جنگ یمامہ میں مردانہ وار لڑتے

حضرت

حضرت ثابت بن ہزال ا

یمامہ میں شہادت پائی۔

حضرت ثابت

یہ بنو مالک بن نجار میں سے

حضرت ا

یہ بنو سالم بن عوف بن خزر پائی۔

مندرجہ بالا شہداء ناموس رسـ

صفحہ 155

حرمت رسول نمبر ۲۰۲۱ء 155 ماہنامہ مسیحائی کراچی

رہے، جنگ یمامہ میں جام شہادت نوش کیا۔

حضرت عبدالرحمن بن عبداللہ البلوی الانصاری شہید

یہ فرار بن بلی کی نسل اور بنو قضاعہ میں سے ہیں۔ ان کا نام عبد العزیٰ تھا۔ آنحضرت ﷺ نے ان کا نام عبدالرحمن عدو الاوثان تجویز فرمایا۔ بدر میں حاضر تھے، جنگ یمامہ میں شہادت کے مرتبہ جلیلہ پر فائز ہوئے۔

حضرت عباد بن بشر بن وقش الانصاری الاشہلی شہید

حضرت عباد بن بشر وقش بن زغبہ بن زعورا بن عبدالاشہل الانصاری الاشہلی یہ قدیم الاسلام ہیں۔ مدینہ میں حضرت مصعب بن عمیر کے ہاتھ پر مسلمان ہوئے تھے۔ بدر، اُحد اور دیگر جملہ مشاہد میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ ساتھ رہتے تھے۔ فضلائے صحابہ میں سے ہیں۔

حضرت انس بن مالک نے روایت کی ہے کہ اندھیری رات میں ان کا عصا روشن ہو جایا کرتا تھا۔ یہ ان چھ بزرگوں میں سے ہیں جو کعب بن اشرف یہودی کے قتل میں شامل تھے۔ جنگ یمامہ میں مردانہ وار لڑتے ہوئے، مرتدین کو مارتے ہوئے بعمر ۴۵ سال شہید ہوئے۔

حضرت ثابت بن ہزال بن عمرو الانصاری شہید

حضرت ثابت بن ہزال الانصاری بدر اور دیگر جملہ مشاہد میں حاضر باش رہے، جنگ یمامہ میں شہادت پائی۔

حضرت ثابت بن اخلد بن نعمان بن خنسا الانصاری شہید

یہ بنو مالک بن نجار میں سے ہیں۔ بدر واُحد میں حاضر ہوئے اور جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔

حضرت ایاس بن ورقہ الانصاری الخزرجی شہید

یہ بنو سالم بن عوف بن خزرج سے ہیں۔ بدر میں حاضر ہوئے اور جنگ یمامہ میں شہادت پائی۔

مندرجہ بالا شہداء ناموس رسالت ﷺ کے علاوہ مولانا ابوالقاسم دلاوری نے ابن اثیر کے

صفحہ 56

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 56 ماہنامہ سبحانی کراچی

حوالے سے درج ذیل شہدائے ناموس رسالت ﷺ صحابہؓ کے اسمائے مبارک لکھے ہیں:

رافع بن ابی الحقیق کو حضور اکرم ﷺ کے حکم پر قتل کرنے کا فریضہ سرانجام دیا۔

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

اس طرح بعض مورخین نے چند اور نام بھی )"

برصغیر میں تحریک حُر

برصغیر پاک و ہند میں برطانوی دور استعمار میں بھی شاتم رسول ﷺ کو سزائے موت دی گئی انگریزوں کا غاصبانہ قبضہ ہو گیا تو انہوں نے توہین کر دیا۔ پھر انگریز حکومت ہی کی شہ پر جب ہن مسلمانوں کی دل آزاری کرتے ہوئے پیغمبر اسلا کرنے شروع کر دیئے تو مسلمانوں نے شاتمانِ ر دارورسن کی روایت کو از سر نو زندہ کیا۔

"عزت پہ تری
حرمت پہ تری
کٹنے کے لیے
تیار ہیں ہم
صفحہ 157

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۶ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

اس طرح بعض مورخین نے چند اور نام بھی بتائے ہیں۔

(”آئمہ تلبیس“ جلد اول، ص ۸۷-۸۸)

برصغیر میں تحریک تحفظ ناموس رسالت ﷺ

برصغیر پاک و ہند میں برطانوی دور استعمار سے قبل، حتیٰ کہ مغل شہنشاہ اکبر کے سیکولر دور میں بھی شاتم رسول ﷺ کو سزائے موت دی گئی۔ لیکن جب اس ملک پر سازشوں کے ذریعے انگریزوں کا غاصبانہ قبضہ ہو گیا تو انہوں نے توہین رسالت ﷺ کے اس قانون کو یکسر موقوف کر دیا۔ پھر انگریز حکومت ہی کی شہ پر جب ہندوؤں، آریہ سماجیوں اور مہا سبھائیوں نے مسلمانوں کی دل آزاری کرتے ہوئے پیغمبرِ اسلام حضرت محمد ﷺ کی ذات گرامی قدر پر حملے کرنے شروع کر دیے تو مسلمانوں نے شاتمان رسول ﷺ کو قتل کر کے اقرارِ جرم کرتے ہوئے دار و رسن کی روایت کو از سر نو زندہ کیا۔

”عزت پہ تری کملی والے ﷺ
حرمت پہ تری کملی والے ﷺ
کٹنے کے لیے مرنے کے لیے
تیار ہیں ہم تیار ہیں ہم
صفحہ 158

ماہنامہ سبحانی کراچی حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

تیار ہیں ہم تیار ہیں ہم

(سید محمد امین گیلانی)

”غلامی کا ہر سال جدوجہد ”آزادی“ کے لیے مصائب کے کوہ گراں لے کر آیا۔ ان دنوں ہر صبح کا طلوع ہونے والا آفتاب اپنی کرنوں میں محبانِ وطن کے لیے ایسے فیصلے لے کر طلوع ہوتا کہ جن میں دار و رسن کے فیصلے جلی طور پر رقم ہوتے۔

لیکن ۱۹۲۶ء کا سورج عجیب انداز سے ابھرا کہ غیر ملکی استعمار اگر ایک طرف آتشیں اسلحہ سے لیس تھا تو دوسری طرف سیاسی بساط کے مہرے اس رخ پر چلائے کہ ان کی ہر چال شہ کو مات دیتی ہوئی چلی گئی۔

سائمن کمیشن میں ہندوستان کی عدم شمولیت، لارڈ برکن ہیڈ کا چیلنج اور ہندوستانی رہنماؤں کے فیصلے ہنوز متصادم تھے کہ آریہ سماج اور مرزائیوں کی چپقلش نے ہندوستان میں تحریک شاتم رسول ﷺ کو جنم دیا۔

۱۸۷۵ء میں پنڈت دیانند کی کتاب ”ستیارتھ پرکاش“ پہلی بار بنارس میں شائع ہوئی۔ قادیانی مذہب کے بانی مرزا غلام احمد نے ”ستیارتھ پرکاش“ کے شائع ہوتے ہی کتاب ہذا کے مصنف اور دوسرے رہنماؤں کو چیلنج کیا کہ ”جو کتاب میں (مرزا غلام احمد ) مستقبل قریب میں لکھنے والا ہوں اگر ہندو اور سوامی دیانند مجھے اس کا جواب دیں تو میں انہیں دس ہزار روپیہ انعام دوں گا۔“ اس کے بعد مرزا غلام احمد کی کتاب ”براہین احمدیہ“ کا سلسلہ شائع ہونا شروع ہوا جس میں ہندو دھرم، وید، آریہ سماج، پنڈت دیانند پر اعتراضات و الزامات تراشے گئے۔

اکتوبر ۱۸۸۳ء میں پنڈت دیانند کی موت واقع ہوئی اور ۱۸۸۴ء میں ”براہین احمدیہ“ کی چوتھی جلد شائع ہوئی۔ اس میں پنڈت دیانند کی موت پر اس کے خلاف زور قلم کا مظاہرہ دیکھا گیا۔ آخر اسی سال ”ستیارتھ پرکاش“ کا دوسرا ایڈیشن شائع ہوا تو اضافی طور پر جن دو ابواب کو شامل اشاعت کیا، ان میں داعی اسلام حضور خاتم الانبیاء ﷺ کی ذات گرامی پر براہ راست

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

حملے کیے گئے تھے، جنہیں مسلما میں احتجاجی مظاہرے اور جلسے انہی دنوں قاسم علی (مرزائی میں پنڈت دیانند کو ہدف تنقید ایک دوسرے کے آمنے سامن سماجی لیڈر پنڈت چمپا وتی الخ رسول“ ایسی رسوائے عالم کتا اس مسموم فضا میں امرتسر ذات گرامی پر کیچڑ اچھالا جسے (نعوذ باللہ ) نے حالات کو ہند

شاتم رسول

”علمائے دین کی توجہ جس شاتم رسول ﷺ کو واجب ال نے کتاب ہذا کے ناشر راجپ میں قاتلانہ حملہ کیا جس سے اس کے بعد خدا بخش ہوا۔ خدا بخش کو چھ سال کے ہندوستان کے مسلمانو مقدمہ چلایا جائے۔ آخر حکومت نے مہاشہ راجپ لیکن سیشن جج نے جرمان

صفحہ 159

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

حملے کیے گئے تھے، جنہیں مسلمان برداشت نہ کر سکے اور کتاب ہذا کے خلاف ہندوستان بھر میں احتجاجی مظاہرے اور جلسے ہوئے نیز حکومت سے اس کتاب کی ضبطی کا مطالبہ کیا گیا۔

انہی دنوں قاسم علی (مرزائی) کی کتاب ’انیسویں صدی کا مہارشی دیانند‘ شائع ہوئی جس میں پنڈت دیانند کو ہدف تنقید بنایا گیا تھا۔ اس کتاب کے بازار میں آتے ہی ہندو مسلمان پھر ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ کھڑے ہوئے۔ قاسم علی (مرزائی) کے جواب میں آریہ سماجی لیڈر پنڈت چمپا وتی ایم اے پروفیسر ڈی اے وی کالج لاہور نے (نعوذ باللہ) ”رنگیلا رسول“ ایسی رسوائے عالم کتاب لکھی۔

اس مسموم فضا میں امرتسر کے ایک ہندی رسالہ ”ورت مان“ نے بھی خاتم الانبیاء علیہ السلام کی ذات گرامی پر کیچڑ اچھالا جسے رائج الوقت قانون نے چھ ماہ کی سزا دی۔ لیکن کتاب ”رنگیلا رسول“ (نعوذ باللہ) نے حالات کو بد سے بدتر کر دیا۔

(حیات امیر شریعت صفحات ۱۰۰۔۱۰۱۔۱۰۲ از جانباز مرزا)

شاتم رسول واجب القتل ہے، جمعیۃ العلمائے ہند کا فتویٰ

”علمائے دین کی توجہ جب کتاب ”رنگیلا رسول“ کی طرف ہوئی تو جمعیۃ العلمائے ہند نے شاتم رسول ﷺ کو واجب القتل قرار دیا۔ اس فتویٰ کے شائع ہوتے ہی عبدالعزیز نامی شخص نے کتاب ہذا کے ناشر راجپال پر جس نے کہ مصنف کی ذمہ داری بھی قبول کر لی تھی، لاہور میں قاتلانہ حملہ کیا، جس سے راجپال زخمی ہوا، اور حملہ آور کو چودہ سال کی سزا ہوئی۔

اس کے بعد خدا بخش نامی (المعروف اکو جیا) نے حملہ کیا، مگر یہ وار بھی جان لیوا ثابت نہ ہوا۔ خدا بخش کو چھ سال کے لیے جیل بھیج دیا گیا۔

ہندوستان کے مسلمانوں نے حکومت ہند سے مطالبہ کیا کہ راجپال کو گرفتار کر کے اس پر مقدمہ چلایا جائے۔ آخر مسلسل قاتلانہ حملوں اور مسلمانوں کے اضطراب کے ردِّ عمل پر حکومت نے مہاشہ راجپال کو گرفتار کر لیا۔ عدالت نے تین سال قید اور جرمانے کی سزا دی لیکن سیشن جج نے جرمانہ معاف کر دیا اور سزا بحال رکھی۔ ہائیکورٹ میں اپیل پر جسٹس

صفحہ 160

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

کنور دلیپ سنگھ (عیسائی) نے راج پال کو بری کردیا۔ اس فیصلے پر لاہور کے انگریزی روزنامہ ”مسلم آؤٹ لک“ نے تبصرہ کیا تو اسے توہین عدالت پر سزا ہوئی۔ جسٹس کنور دلیپ سنگھ کے اس رویہ پر عوام کا احتجاج اس قدر عام ہوا کہ حکومت کو عدالت عالیہ کی پوزیشن محفوظ کرنا مشکل ہوگئی۔“ (حیات امیر شریعت صفحات نمبر ۱۰۲۔۱۰۳ از جانباز مرزا)

مسلمانوں کا جذبہ شوق شہادت اور شاتم رسول ﷺ کا قتل عام

”ایک طرف سائمن کمیشن کے ارکان ہندوستان کی سیاسی فضا میں ایسی بو سونگھ رہے تھے جس سے انہیں اپنے لیے سکون میسر نہیں تھا، دوسری طرف مہاشہ راجپال کے بری ہونے پر فرقہ پرست ہندوؤں نے منظم سازش کے تحت تحریک شاتم رسول کو ہندوستان میں ہوا دی، جس سے آریہ سماجی ہندوؤں کے حوصلے بڑھے اور انہوں نے پیغمبر آخرالزماں حضور نبی کریم ﷺ کے خلاف پہلے سے زیادہ تقریر و تحریر پر ہنگامہ شروع کردیا۔“ (حیات امیر شریعت ص ۱۱۶ از جانباز مرزا)۔

”ایسے حالات میں اول الذکر گروہ (آریہ سماج) نے سرور کائنات ﷺ کی توہین کرنے کا فیصلہ پختہ کرلیا۔ اس سلسلے میں وہ ایسی ایسی تحریریں سامنے لائے کہ مسلمانوں کے دل بیٹھ گئے، غلامی کا طوق ان کی گردنوں پر کوہ ہمالیہ سے بھی زیادہ بوجھل محسوس ہونے لگا۔ غم اور غصے کے ملے جلے جذبات سے وہ ہندوؤں کا مقابلہ کرتے رہے۔ آخر انہی دنوں شاہ جی نے عصمت انبیاء کے تحفظ کا فیصلہ کیا۔ درویش اپنی گودڑی سنبھال کر بے سرو سامانی کے عالم میں نکل کھڑا ہوا۔ قانون فرنگ اور دولت ہنود اس کے ارادوں میں نہ تو کانٹے بکھیر سکی اور نہ ہی اس کے قدموں کی رفتار مدھم ہوسکی۔“

صدائے امیر شریعت

”مسلمانو! میں تمہاری سوئی ہوئی غیرت کو جھنجھوڑنے آیا ہوں۔ آج کفار نے توہین پیغمبر ﷺ کا فیصلہ کرلیا ہے۔ انہیں شاید یہ غلط فہمی ہوئی ہے کہ مسلمان مرچکا ہے۔ آؤ اپنی زندگی کا ثبوت دیں۔ عزیز نوجوانو! تمہارے دامن کے سارے داغ صاف ہونے کا وقت آ پہنچا

صفحہ 161

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

ہے۔ گنبد خضریٰ کے مکیں ﷺ تمہاری راہ دیکھ رہے ہیں۔ ان کی آبرو خطرے میں ہے۔ ان کی عزت پر کتے بھونک رہے ہیں۔ اگر قیامت کے دن محمد ﷺ کی شفاعت کے طالب ہو تو پھر نبی ﷺ کی توہین کرنے والی زبان نہ رہے یا سننے والے کان نہ رہیں۔“ (حیات امیر

شریعت ص ۱۱۸ از جانباز مرزا)

ان خیالات کو شاہ جی نے برصغیر کے مسلمانوں میں بیان کیا۔ وہ شب و روز دیوانوں کی طرح تقریریں کرتے، گاؤں، قصبات، شہر اور بستیوں کو اپنے پاؤں تلے روند ڈالا۔ ہندوستان کے مسلمانوں کے منجمد خون میں حرارت پیدا ہوئی۔ بس پھر کیا تھا؟ شیر کی طرح بپھرا ہوا مسلمان گستاخ ہندؤوں کو تلاش کرنے لگا۔ نگاہیں جنت کی تلاش میں موت سے ہمکنار ہونے کو بے قرار نظر آنے لگیں۔ دلوں میں شوق شہادت کی لذت محسوس ہونے لگی۔ خرد مسکراتی رہی مگر عشق منزل کی جانب رواں دواں رہا۔ اس طرح شاہ جی نے مسلمان نوجوان کو ابھار کر ایسے مقام پر لا کھڑا کیا کہ اس کے آگے دو ہی راستے تھے، یا تو ہندوستان میں داعی اسلام حضرت محمد ﷺ کی عزت ہمیشہ کے لیے نابود ہو جائے یا پھر غیر مسلموں کو آئندہ جرأت نہ ہو کہ وہ حضور ﷺ کی ذات گرامی پر زبان طعن دراز کریں۔

دلوں کے اس فیصلہ کن مقام پر پہنچ کر سب سے پہلے اپریل ۱۹۲۹ء کو لاہور کے ایک بڑھئی نوجوان غازی علم الدین نے دوپہر کے وقت لاہور میں کتاب ”رنگیلا رسول“ (نعوذ باللہ) کے ناشر مہاشہ راجپال کو اس کی دکان (ہسپتال روڈ) میں قتل کر دیا۔

(حیات امیر شریعت ص ۱۱۸۔۱۱۹ از جانباز مرزا)

اس طرح غازی عبدالرشید قاضی، غازی محمد صدیق، غازی عبداللہ، غازی غلام محمد، غازی عبدالقیوم، غازی میاں محمد، غازی مرید حسین، غازی حاجی محمد مانک اور غازی عبدالمنان وغیرہ بھی گستاخان رسول ﷺ کو جہنم واصل کر کے بارگاہ رسالت ﷺ میں مقبول ہوئے۔

کب موت سے ڈرتے ہیں غلامان محمد ﷺ
صفحہ 162

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 162 ماہنامہ مسیحائی کراچی

یہ اپنے غلاموں پہ ہے فیضانِ محمد ﷺ
ہوتا ہے الگ سر مرا شانوں سے تو ہوجائے
پر ہاتھ سے چھوٹے گا نہ دامانِ محمد ﷺ

(سیّد محمد امین گیلانی)

ایچ ساجد اعوان کی شہرۂ آفاق کتاب ”تحفظ ناموس رسالت ﷺ اور گستاخ رسول کی سزا“ میں ”تحفظ ناموس رسالت ﷺ کی چند گم شدہ کڑیاں، شخصیات و واقعات“ کے عنوان سے مزید شہیدانِ ناموس رسالت ﷺ کا تذکرہ ملتا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:

بلحاظ پیشہ چپراسی تھے، جذبۂ عشق رسول ﷺ سے سرشار ایک موقع پر تحفظ ناموس نبی (ﷺ) کے لیے آگے بڑھے اور جان پر کھیل گئے۔ شاتم رسول کو واصل فی النار کرنے کے بعد عدالتی فیصلے کی رو سے انہیں سزائے موت کا مستحق گردانا گیا۔ وہ جام شہادت کے متمنی تھے اور سرِ دار لٹک کر لافانی نسخۂ حیات بتلا گئے۔ دنیائے صحافت میں شہید موصوف کا تعارف غالباً کیپٹن ممتاز ملک صاحب کے ایک مضمون بعنوان ”نوجوانانِ اسلام کی حرمت و شان“ سے ہوا۔ انہوں نے جنوری ۱۹۸۳ء کو نوائے وقت کے پرچوں سے شہیدانِ رسالت کا مختصر تذکرہ قلمبند کیا تھا۔ تاہم ان کے نقشِ قدم کا کھوج مجھے غازی میاں محمد شہید کے برادرِ حقیقی ملک نور محمد صاحب کی کمال مہربانی سے ملا۔

قاتلانہ حملہ کیا۔ یہ سرفروش اندرونِ یکی گیٹ لاہور کا رہنے والا تھا۔ باپ کا نام محمد اکبر اور اس کا تعلق ایک معروف کشمیری خاندان سے تھا، اس کو سات سال قیدِ سخت جس میں تین ماہ کی قید تنہائی بھی شامل تھی، سزا کا حکم سنایا گیا۔

عبدالعزیز ایک غیور پٹھان نے اپنی قسمت آزمائی۔ مذکورہ نوجوان رمضہ علاقہ غزنی

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

افغانستان کا رہنے والا تھا ا فروش پر جھپٹا مگر اپنے مقص سزا دی گئی۔ ازاں بعد اس ب

”بھوپال“ میں رقم کیا۔ کہا ج انگریز مجسٹریٹس نے سوچ ل بوسیدہ اوراق ایک خاکہ رہ گ تو اس بدزبان و بد نصیب م بارے میں نازیبا اور اشتعال ا نے جو پیشے کے اعتبار سے قصا کہ وہ اپنی اس ناپاک جسار اعلانِ توبہ کرے۔ حکومت ک کے ہاتھوں انجام کو پہنچی۔ غاز میں حاضر ہو گئے۔ اقبالِ فعل ک عرصہ جیل میں گزارا۔ مقدمہ ک

سکھ گستاخ رسول کو جہنم رسید کیا ت ہیں۔ بناء بریں سرگودھا روڈ پر ا چک کوکارہ میں بھی اس طرز کا و طالب علم نے شانِ رسول ﷺ م اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ک

صفحہ 163

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

افغانستان کا رہنے والا تھا اور بغرض تجارت ہندوستان چلا آیا تھا۔ لاہور میں آریہ سماجی کتب فروش پر جھپٹا مگر اپنے مقصد میں ناکام رہا۔ اقدام قتل کے سبب انہیں سات سال قید سخت کی سزا دی گئی۔ ازاں بعد اس فتنے کا سدباب غازی علم الدین شہیدؒ کے ہاتھوں ہوا۔

”بھوپال“ میں رقم کیا۔ کہا جاتا ہے وسط ہند کے اس تہذیبی شہر میں ایک گرلز ہائی اسکول کی انگریز ہیڈ مسٹریس نے سوچی سمجھی اسکیم کے تحت مدرسہ کی صفائی کے بہانے قرآن کریم کے بوسیدہ اوراق ایک خاکروب کے ہاتھوں کوڑے میں ڈلوائے اور جب اس پر احتجاج کیا گیا تو اس بد زبان و بد نصیب عورت نے قرآن پاک، دین متین اور پیغمبر اسلام (ﷺ) کے بارے میں نازیبا اور اشتعال انگیز الفاظ کہے۔ بھوپال کے ایک غیرت مند نوجوان محمد حنیف نے جو پیشے کے اعتبار سے قصاب تھے، انگریز عورت کو راستے میں روک لیا اور اس سے کہا کہ وہ اپنی اس ناپاک جسارت اور شیطانی حرکت پر شہر کے مسلمانوں سے معافی مانگے اور اعلان توبہ کرے۔ حکومت کے نشہ میں چور اس بنت ابلیس نے یہ مطالبہ ٹھکرا دیا اور مجاہد ملت کے ہاتھوں انجام کو پہنچی۔ غازی محمد حنیف اس غلط کار عورت کو کیفر کردار تک پہنچا کر تھانے میں حاضر ہو گئے۔ اقبال فعل کیا اور تمام عدالتوں میں اعتراف حقیقت بیان فرمائی۔ کچھ عرصہ جیل میں گزارا۔ مقدمہ کی سماعت ہوئی اور محمد حنیف غازی کو پھانسی کی سزا سنا دی گئی۔

سکھ گستاخ رسول کو جہنم رسید کیا گیا تھا۔ قاتل کا نام غازی محمد اعظم تھا، جو بفضلہ تعالیٰ بقید حیات ہیں۔ بناء بریں سرگودھا روڈ پر واقع پنڈی بھٹیاں کے علاقہ میں ذخیرہ ہیرانوالہ سے ملحقہ بستی چک کوکارہ میں بھی اس طرز کا ایک تاریخی واقعہ پیش آیا۔ قاتل و مقتول ہم جماعت تھے۔ ہندو طالب علم نے شان رسول ﷺ میں ارتکاب گستاخی کیا اور مسلمان مجاہد نے نہایت سوچ سمجھ کر اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ کم عمری کی بناء پر عدالتی سزا سے بچ نکلے اور ابھی زندہ ہیں۔

صفحہ 164

ماہنامہ مسیحائی کراچی حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

سنگھیوں کا ایک بڑا اجتماع ہوا تھا۔ اس میں آٹھ دس ہزار ہندو شریک تھے۔ مذکورہ جلسے میں ملت اسلامیہ کو نہ صرف غلیظ گالیاں دی گئیں بلکہ ان کے ایک گرو نینوں مہاراج نے، نبی اکرم ﷺ کی شان مبارک میں بھی گستاخانہ باتیں کیں۔ اس بات نے تین نمبر تالاب کے مسلمان نوجوانوں کو بے تاب کر دیا۔ جب یہ پچیس نوجوان حرمت نبی ﷺ پر اپنی جانیں نچھاور کرنے کا جذبہ لیے قلعہ پر حملہ آور ہوئے اور نعرۂ تکبیر بلند کیا تو جلسے میں بھگدڑ مچ گئی۔ عاشقانِ مصطفیٰ ﷺ نے بے تحاشہ ڈنڈے اور لاٹھیاں برسانا شروع کر دیں۔ اسی اثناء میں نینوں مہاراج، ایک جوشیلے نوجوان عبدالخالق قریشی ولد محمد ابراہیم قریشی کے سامنے آ گیا۔ نوجوان نے اس بے غیرت ملیچھ کے پیٹ میں چھرا گھونپ دیا۔ وار کاری ثابت ہوا اور شاتم رسول اپنے ہی پیروکاروں کے درمیان تڑپ تڑپ کر جہنم رسید ہو گیا۔ جن سنگھی بدحواس ہو کر اپنی لاٹھیاں، جوتیاں، تلواریں اور دوسرے ہتھیار چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ اس واقعے میں حصہ لینے والے چند معلومہ خوش قسمت اشخاص مندرجہ ذیل ہیں: حاجی محمد بخش عرف موشیدی، اللہ دتایہ شیدی، محمد علی شیدی، علی مراد شیدی، مکھانو الو، صدیق گودڑ، نبی بخش عرف نبو، محمد عمر عرف مہدل، اللہ ڈنو شیدی، رحیم بخش ابراہیم حجام، عبدالخالق قریشی، لالہ مجید، مسٹر دی۔

بات یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے بھی اس ملعون کی ہلاکت کی پیشین گوئی بعض مصلحتوں کے پیش نظر داغی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ پولیس کی تفتیش میں مرزا قادیانی پر تحریک قتل اور اعانت کا شبہ ہوا اور اس کی خانہ تلاشی بھی لی گئی مگر کوئی ثبوت بہم نہ پہنچ سکا۔ حقیقت حال یہ ہے کہ اس مردود کا قاتل بھی کوئی مسلمان ہی ہو سکتا ہے۔ مرزائیوں کا تحفظ ناموس رسالت سے کیا واسطہ؟ وہ تو خود تحریک شاتم رسول کی ایک کڑی ہیں۔ الغرض مرزا قادیانی کی پیشن گوئی اس سوچ کا تجرباتی مظہر نظر آتی ہے کہ غیرت مند مسلمان اس ناپاک وجود کو برداشت نہیں کر سکیں گے، لہٰذا کیوں نہ الہامی دعوت آزمالیں۔

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

میں ایک باغیرت مسلمان دیا کہ مقتول نے ایک مقامی کر کے اس کے جذبات مجروح

بجے شام کسی ”ویر بھان“ آریہ گستاخانہ الفاظ استعمال کیے۔ لال اندرون پاک دروازہ میں میں محمد بخش چوب تراش، حاجی عدم ثبوت کی بناء پر عدالت سے

سرگزشت بھی قابل ذکر ہے۔ ﷺ کی ولادت باسعادت کا تھے۔ کائنات کی نعمت کبریٰ کے اس احسان عظیم پر پوری ملت جلوس تشکیل دیا گیا۔ فرزندان قریب ہی سکھوں کی آبادی تھی کہنے لگا۔ یہ مجاہد اس کے نزدیک ہوئے اس کے بے باکانہ جملے گدھے پر سوار کوئی لڑکا دکھائی اس نے زور سے چلا کر کہا ”دیکھو نہ گیا، بعجلت اس کے سامنے جا کر رکھ ورنہ ٹکڑے ٹکڑے کر کے رکھ

صفحہ 165

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 165 ماہنامہ مسیحائی کراچی

میں ایک باغیرت مسلمان ....... نے ایک ہندو ..... کو ہلاک کر دیا اور پولیس کے سامنے بیان دیا کہ مقتول نے ایک مقامی ورنیکلر اخبار میں حضرت رسول اکرم ﷺ کی عکسی تصویر شائع کر کے اس کے جذبات مجروح کیے تھے۔

۹۔ ۲۸ اپریل ۱۹۳۵ء کے اخبار میں ایک اور خبر نمایاں تھی کہ ملتان شہر میں ۱۴ اپریل کو سات بجے شام مسمی ”ویر بھان“ آریہ سماج نے حضور ختمی مرتبت آقائے دو جہاں ﷺ کی شان میں گستاخانہ الفاظ استعمال کیے۔ آج بعد دوپہر آریہ سماجی مذکور کو ساڑھے تین بجے گلی کردھاری لال اندرون پاک دروازہ میں کسی نامعلوم شخص نے پیٹ میں چھرا اتار کر ہلاک کر دیا۔ شبہ قتل میں محمد بخش چوب تراش، حاجی فیض بخش، حاجی عبداللہ اور الٰہی بخش کو گرفتار کیا گیا۔ ازاں بعد عدم ثبوت کی بناء پر عدالت سے رہا ہوئے۔

۱۰۔ جہلم شہر میں دریا کے کنارے واقع شمالی محلہ کے ایک مسلمان غازی غلام محمد شہید کی سرگزشت بھی قابل ذکر ہے۔ ان کے مقدر جاگنے کی تفصیل کچھ یوں ہے ”شہنشاہ دو عالم ﷺ کی ولادت باسعادت کا مبارک دن تھا۔ ہر طرف خوشیوں نے ڈیرے ڈال رکھے تھے۔ کائنات کی نعمت کبریٰ کے ورود مسعود پر کون شکر ادا نہ کرتا، اس روز بھی اللہ تعالیٰ کے اس احسان عظیم پر پوری ملت اسلامیہ سر بسجود تھی۔ اظہار مسرت کے طور پر عید میلاد کا ایک جلوس تشکیل دیا گیا۔ فرزندان توحید کا یہ قافلہ مذکورہ بالا شہر کے کسی چوراہے سے گزر رہا تھا۔ قریب ہی سکھوں کی آبادی تھی۔ سکھ مت کا ایک آوارہ پیروکار اہل سکھ پارچہ فروش آوازے کسنے لگا۔ یہ مجاہد اس کے نزدیک کھڑا نہ صرف تمام اوچھی حرکات دیکھ رہا تھا بلکہ زہر میں بجھے ہوئے اس کے بے باکانہ جملے بھی سنائی دے رہے تھے۔ اسی اثناء میں جلوس کے پیچھے گدھے پر سوار کوئی لڑکا دکھائی دیا، اب کے وہ انتہائی گمراہ کن و لرزہ خیز الفاظ بک رہا تھا۔ اس نے زور سے چلا کر کہا ”وہ دیکھو مسلمانوں کا نبی براق پر چڑھ کر آ گیا ہے ۔“ ان سے رہا نہ گیا، بعجلت اس کے سامنے جا کھڑے ہوئے اور کہا کہ ”بے غیرت کتے اپنی زبان کو قابو میں رکھ ورنہ ٹکڑے ٹکڑے کر کے رکھ دوں گا ۔“ مگر وہ اپنی ذلیل حرکتوں سے باز نہیں آیا۔ غازی

صفحہ 166

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۰ء 166 ماہنامہ سبحانی کراچی

غلام محمد نے غصہ کی حالت میں اپنا چاقو اس کے سینے میں گھونپ دیا اور پے در پے وار کیے۔ بجرم قتل آپ کی گرفتاری عمل میں آئی۔ عدالت میں مقدمہ چلا اور سزائے موت کے مستحق ٹھہرایا گیا۔ آپ جنازہ گاہ جہلم کے قریب مشہور قبرستان میں مدفون ہیں۔“

۱۱۔ ۱۹۳۲ء میں لکھنؤ چھاؤنی میں ایک سکھ میجر ہردیال سنگھ کو شعائر اسلامی کا مذاق اڑانے اور تضحیک کرنے کی پاداش میں ایک مسلمان فوجی بابو معراج الدین نے قتل کر دیا تھا۔“

شہدائے ملتان، تھانہ کپ

ملتان شہر کے ایک تھانہ (کپ) کے سب انسپکٹر غلام مصطفیٰ نے (جس کے متعلق لوگوں کی رائے تھی کہ یہ مرزائی ہے) ۱۸ جولائی ۱۹۵۲ء کو عوام کے ایک جلوس پر لاٹھی چارج کیا تھا۔ عوام نے تھانہ کے سامنے جمع ہو کر پاکستان کے وزیر خارجہ مرتد چوہدری ظفر اللہ خان کے خلاف احتجاج کیا، تو اس مجمع پر بلا وارننگ گولی چلا دی گئی۔ دس منٹ تک ستر (۷۰) راؤنڈ چلائے گئے جس کے نتیجے میں چھ (۶) مسلمان شہید ہوئے اور زخمیوں کی تعداد کہیں زیادہ تھی۔ اس خونی واردات کے خلاف سارے پاکستان میں یوم احتجاج منایا گیا۔

امیر شریعت سید عطاء اللہ بخاری نے ۲۵ جولائی ۱۹۵۲ء کو شہدائے ملتان کو حسب ذیل الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا۔

”جب مسیلمہ کذاب نے نبوت کا دعویٰ کر کے اسلام کے بنیادی عقیدہ کو گزند پہنچانے کی ناپاک کوشش کی تو حضرت صدیق اکبرؓ نے اس کاذب و مفتری سے کسی قسم کا مناظرہ کر کے دعویٰ نبوت کے جواز میں دلیل طلب نہیں کی۔ اگر کیا تو یہ کہ سات ہزار سے زائد حافظ قرآن صحابہ کرامؓ ناموس رسالت ﷺ اور تاج و تخت ختم نبوت پر قربان کر دیے اور اس طرح مسلمانوں کی متاع دین و ایمان کو ایک عیار اور مکار کی دست برد سے بچا لیا اور آئندہ کے لیے ملت اسلامیہ کو سبق دیا کہ جو شخص اس قسم کی ناپاک کوشش کرے، اس کے لیے اسلام اور ملت اسلامیہ کا فیصلہ کیا ہے؟

ملتان کے غیور اور صاحب ایمان مسلمانوں نے بھی اس دور پر آشوب میں جب کہ کفر و

صفحہ 167

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

ارتداد کی سیاہ گھٹاؤں نے ایمان و یقین کو پریشان کر رکھا ہے، اسلام کی لاج رکھ لی اور اپنے جگر گوشوں کو شمع رسالت پر پروانہ وار نثار کر کے ثابت کر دیا ہے کہ مسلمان آج بھی فخر دو عالم ﷺ کی عزت و ناموس کے لئے گولیوں کی بارش میں مسکرا سکتا ہے۔

رتبہ شہید ناز کا گر جان جائیے
قربان جانے والے کے قربان جائیے

خدا کی نعمتیں نچھاور ہوں تم پر اے شہیدانِ ناموس رسالت ، سلام ہو تم پر اے ختم المرسلین ﷺ کی عزت و آبرو پر قربان ہونے والو، مبارک ہیں ان کے والدین کہ ان کے نذرانے سرکار رسالت مآب ﷺ کی بارگاہ میں شرف قبولیت حاصل کر گئے۔

یوں تو اس دنیا میں ہزاروں بچے جنم لیتے ہیں اور مر جاتے ہیں۔ ہزاروں کلیاں کھلتی ہیں اور باد سموم کے تھپیڑوں کی تاب نہ لاکر مُرجھا جاتی ہیں، مگر وہ موت جو حق اور راستی کی راہ میں آئے حیاتِ جاوداں بن کر آتی ہے۔

جو موت آئے تو زندگی بن آئے
قضا کی نرالی ادا چاہتا ہوں

تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء

اس تحریک میں تینتیس (۳۳) شمع رسالت ﷺ کے پروانوں نے جام شہادت نوش کیا۔

(ہفت روزہ ”لولاک“ فیصل آباد ص ۵ جلد نمبر ۱۵ شمارہ نمبر ۳۷، ۱۶ فروری ۱۹۷۹ء)

مولانا شمس الدین شہید

حضرت مولانا شمس الدین شہید ۱۹۴۵ء میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد محمد زاہد فورٹ سنڈیمن کے نامور عالم دین شمار کیے جاتے ہیں۔ مولانا شمس الدین مرحوم نے میٹرک کے بعد مختلف دینی مدارس میں دینی تعلیم کی تکمیل کی۔ آپ کے اساتذہ میں حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستی، مولانا محمد یوسف بنوری، مولانا عبدالحق اکوڑہ خٹک اور مولانا سرفراز خان صفدر مدظلہ العالی سر فہرست ہیں۔ دورۂ حدیث ۱۹۶۹ء میں مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں

صفحہ 168

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 168 ماہنامہ مسیحائی کراچی

جمع ہوئے تا کہ اس امر پر غور کیا جائے کہ ملک کے طالب علم نوجوانوں میں دینی جذبہ اجاگر کیا جائے اور ایک ایسا متحدہ پلیٹ فارم قائم کیا جائے کہ ملک میں اسلامی نظام کے لیے عملی جدوجہد کی جائے۔ کافی غور وخوض کے بعد جمعیت طلبائے اسلام کا قیام عمل میں لایا گیا، اور ملک کے دوسرے صوبوں میں کنویز مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں جب ”صوبہ بلوچستان کا نام آیا تو اس مدرسہ کا نوجوان طالب علم جس کی پیشانی سے عزم وہمت کے سوتے پھوٹ رہے تھے، کھڑا ہوا اور کہا کہ بلوچستان کی ذمہ داری میں اٹھانے کے لیے تیار ہوں۔ ان کی اس پیشکش کو قبول کر لیا گیا اور اس نوجوان کو بلوچستان کا پہلا کنویز مقرر کر دیا۔ یہ وہ نوجوان تھا جو بعد میں ”شمس الدین شہید“ کے نام سے تاریخ بلوچستان میں جگمگا رہا ہے.......

مولانا شمس الدین شہیدؒ نے جن محاذوں پر خاص طور پر کام کیا، ان میں ایک محاذ مرزائیت کا بھی ہے۔ انہوں نے جمعیت طلبائے اسلام کے جیالوں سے مل کر بلوچستان سے مرزائیت کا جنازہ نکال دیا تھا۔ ۱۹۷۳ء میں جب قادیانیوں نے انتہائی دجل وفریب کے ساتھ قرآن کے معنی ومفہوم میں ملحدانہ تحریف کر کے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لیے بطور خاص شائع کیے تو مولانا کی غیرت ایمانی جوش میں آئی۔ آپ نے مطالبہ کیا کہ قرآن شریف کے تحریف شدہ نسخے کو فوراً ضبط کیا جائے اور قادیانیوں کو فوراً یہاں سے نکال دیا جائے۔ حکام نے اسے معمولی بات سمجھ کر ٹالنے کی کوشش کی۔ اس ناپاک حرکت پر فورٹ سنڈیمن کے غیور مسلمان سراپا احتجاج بن گئے۔ عوام نے اپنے عقائد کی کھلم کھلا توہین کے خلاف احتجاج کے لیے ۱۵ جولائی ۱۹۷۳ء کو ایک مقامی پارک میں جلسہ عام کا اعلان کر دیا۔ عوام عملی کارروائی کرنے پر زور دے رہے ہیں۔ اس دوران ایک قادیانی مسلمانوں کے جوش اور غضب کا نشانہ بنا اور جہنم رسید ہوا، اس موقع پر مولانا شمس الدین شہید، مولانا محمد خان شیرانی اور صاحبزادہ نور الحق سمیت ۳۶ سرکردہ حضرات رضا کارانہ طور پر گرفتاری کے لیے پیش ہوئے اور کئی راتیں تھانے میں گزاریں۔

(ہفت روزہ ختم نبوت، ص ۱۳-۱۴ جلد نمبر ۸ شمارہ نمبر ۴۳، ۲۰ تا ۲۶ اپریل ۱۹۹۰ء)

کوئٹہ سے ژوب آتے ہوئے کچٹی کے مقام پر مولانا شمس الدین مُردہ پائے گئے۔ ملک

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

گل حسن کے پیٹرول کی گاڑی ا کردی کہ مولوی صاحب موٹر میں گئے اور انہیں ژوب لے آئے۔ ب الدین نے جام شہادت نوش کرلی نے انہیں شہید ہونے پر مبارکباد ۱۴ مارچ ۱۹۷۴ء کو ہزاروں ا بعد ان کی قبر پر پھولوں کی بارش

(ماخوذ از ژوب میں تحریک

شہداءِ ساہیوال ۱۹۸۴ء

۲۶ اکتوبر ۱۹۸۴ء جامع رشید کے عزیز الحاج حافظ بشیر احمد حبیب اذان دیتے ہیں۔ چنانچہ ۲۶ اکتو حال کے لیے موقع پر گئے۔ جب کے طالب علم اظہر رفیق نے قاد کہ کون اذان دے رہا ہے تاکہ خلاف ورزی پر قانونی کارروائی قاری بشیر احمد حبیبؒ اور اظہر ر اس خونی واقعہ کی اطلاع پو رشیدیہ میں جمع ہو گیا اور شہر میں جلسے ہوئے، انتظامیہ نے کئی ا سے پابند کر دیا گیا کہ وہ اس

صفحہ 169

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 169 ماہنامہ مسیحائی کراچی

گل حسن کے پٹرول کی گاڑی اس وقت وہاں سے گزر رہی تھی۔ انہوں نے ژوب اطلاع کردی کہ مولوی صاحب موڑ میں مُردہ پڑے ہیں۔ کوئی دوسرا آدمی نہیں ہے۔ لوگ وہاں گئے اور انہیں ژوب لے آئے۔ یوں بھٹو حکومت کی شرارت پر ۱۳؍ مارچ ۱۹۷۴ء کو مولانا شمس الدین نے جام شہادت نوش کر لیا۔ گھر لانے پر سب گھر والوں، عزیز واقارب اور دوستوں نے انہیں شہید ہونے پر مبارکباد دی۔

۱۴؍ مارچ ۱۹۷۴ء کو ہزاروں اشکبار آنکھوں نے انہیں رخصت کیا۔ انہیں دفن کرنے کے بعد ان کی قبر پر پھولوں کی بارش ہوئی۔ ان کے خون سے عطر کی خوشبو آ رہی تھی۔

(ماخوذ از ژوب میں تحریک ختم نبوت ایک نظر میں، حوالہ تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء، ص

۶۱ تا ۷۱ از مولانا اللہ وسایا صاحب)

شہدائے ساہیوال ۱۹۸۴ء

۲۶؍ اکتوبر ۱۹۸۴ء جامع رشیدیہ ساہیوال کے مدرس اور مولانا حبیب اللہ فاضلی رشیدی کے عزیز الحاج حافظ بشیر احمد حبیب کو اطلاع ملی کہ مرزائی مشن روڈ پر واقع اپنی عبادت گاہ میں اذان دیتے ہیں۔ چنانچہ ۲۶؍ اکتوبر کی صبح کو قاری صاحب مذکور اپنے چند ساتھیوں سمیت تحقیق حال کے لیے موقع پر گئے۔ جب صبح کی اذان کی آواز آئی تو مذکور اور پولی ٹیکنیک انسٹی ٹیوٹ کے طالب علم اظہر رفیق نے قادیانیوں کی عبادت گاہ کے عین گیٹ سے جھانک کر دیکھنا چاہا کہ کون اذان دے رہا ہے تا کہ اس کے خلاف صدارتی آرڈی ننس (امتناع قادیانیت) کی خلاف ورزی پر قانونی کارروائی کی جائے۔ اس اثناء میں قادیانی غنڈوں نے فائرنگ کر کے قاری بشیر احمد حبیب اور اظہر رفیق کو موقع پر شہید کر دیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

اس خونی واقعہ کی اطلاع پورے شہر میں جنگ کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ پورا شہر جامعہ رشیدیہ میں جمع ہو گیا اور شہر میں مکمل ہڑتال ہو گئی۔ نماز جنازہ کا عظیم اجتماع ہوا، جلوس نکلے، جلسے ہوئے، انتظامیہ نے کئی ایک علمائے کرام کو گرفتار کر لیا۔ اخبارات کے نمائندوں کو سختی سے پابند کر دیا گیا کہ وہ اس خبر کو شائع نہ کریں۔ اس عظیم حادثہ کے بعد پورا ملک سراپا

صفحہ 170

ماہنامہ مسیحائی کراچی 170 حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

احتجاج بن گیا۔ ملزموں کی گرفتاری اور ان کو کیفر کردار تک پہنچانے کے مطالبات شروع ہو گئے۔ اس صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے مرکزی مجلس عمل کا ہنگامی اجلاس ساہیوال طلب کر لیا گیا۔

(ہفت روزہ ختم نبوت ص ۱۸ جلد نمبر ۱۱ شمارہ نمبر ۱۵۔۷ تا ۱۳ مئی ۱۹۹۲ء)

ہفت روزہ ختم نبوت کراچی نے اپنے اداریہ میں مسئلہ ختم نبوت اور قادیانی جارحیت کے انسداد سے متعلق مندرجہ ذیل تجاویز اور مطالبات پیش کیے:

دلیل ہے) یہ نہ صرف شعائر اسلامی کی توہین ہے، بلکہ ملکی قانون کی بھی تضحیک ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس کا احساس کریں۔

چھاپہ مار کر اسلحہ ضبط کیا جائے۔

محمد عباس شہیدؒ

محمد عباس شہید پچپانہ کے نواحی گاؤں چک نمبر ۵۶۳ گ ب کے رہائشی تھے، جنہیں جولائی ۱۹۸۹ء میں قادیانی غنڈوں نے حملہ کر کے شہید کر دیا تھا۔

(ہفت روزہ ختم نبوت ص ۱۶ جلد نمبر ۸ شمارہ نمبر ۱۱۔۲۵ تا ۳۰ اگست ۱۹۸۹ء)

سردار احمد خان شہیدؒ

یہ نوجوان چک سکندر ۳۰ کھاریاں (چک باسریاں اسے چک کانا بھی کہا جاتا ہے) کے رہائشی تھے۔ گاؤں میں عید کے روز اور اس کے دو دن بعد تک لوگ قربانی کے جانور ذبح کرتے رہے۔ قربانی کے جانوروں کی کھالیں جمع کرنے کے لیے مسلمان نوجوانوں کا ایک

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

گروپ گاؤں میں چکر لگا رہا تھا۔ وہاں قا طور پر سازش کر رکھی تھی اور وہ مسلح ہو کر آ میں آئے تو انہوں نے آتشیں اسلحہ کے سا خان شہید ہو گیا اور دوسرے زخمی ہوئے

(ہفت روزہ ختم نبوت ص ۱۸ جلد نم

شہداء جامع مسجد منزل گاہ سکھر

جامع مسجد منزل گاہ سکھر پر قادیانیوں مکمل ہڑتال، جنازہ میں ڈیڑھ لاکھ افرا

سکھر۔ تفصیلات کے مطابق جامع مسج اور دو موٹر سائیکلوں پر سوار قادیانیوں ن کا ایک طالب علم حافظ منظور احمد اور ا افراد زخمی ہو گئے۔

کہا جاتا ہے کہ مسلح قادیانی مدرسہ ت جو شدید زخمی ہیں۔ اس حادثہ فاجعہ کی اط مسلمان جمع ہو گئے۔ جنازہ میں شہداء کی ختم نبوت نے شرکت کی۔ پورا شہر بند گردی پر غم و غصہ کا اظہار کیا گیا کہ قاد

(ہفت روزہ ختم نبوت ص ۷ جلد ن

شہیدان ناموس رسالت ﷺ

اپنی لاشوں سے بند باندھ کر آنے وا اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں بھی ان عطا فرمائے۔ (آمین)

صفحہ 171

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 171 ماہنامہ مسیحائی کراچی

گروپ گاؤں میں چکر لگا رہا تھا۔ وہ سب معاہدے کے مطابق نہتے تھے۔ قادیانیوں نے خفیہ طور پر سازش کر رکھی تھی اور وہ مسلح ہو کر ایک چوبارے میں بیٹھے تھے، جب یہ نوجوان ان کی زد میں آئے تو انہوں نے آتشیں اسلحہ کے فائر کھول دیے۔ نتیجتاً ایک مسلمان نوجوان سردار احمد خان شہید ہو گیا اور دوسرے زخمی ہوئے۔ محمد امیر اصل ہدف تھا مگر اسے اللہ نے بچا لیا۔

(ہفت روزہ ختم نبوت ص ۱۸ جلد نمبر ۸ شمارہ نمبر ۱۳۔ ۸ تا ۱۴ ستمبر ۱۹۸۹ء)

شہدائے جامع مسجد منزل گاہ سکھر

جامع مسجد منزل گاہ سکھر پر قادیانیوں کا دستی بموں سے حملہ، ۲ مسلمان شہید، ۱۲ زخمی، شہر میں مکمل ہڑتال، جنازہ میں ڈیڑھ لاکھ شیدائیان ختم نبوت کی شرکت۔

سکھر۔ تفصیلات کے مطابق جامع مسجد منزل گاہ میں صبح فجر کی نماز ہو رہی تھی کہ ایک کار اور دو موٹر سائیکلوں پر سوار قادیانیوں نے مسجد کی شمالی جانب سے دو بم پھینکے جس سے مدرسہ کا ایک طالب علم حافظ منظور احمد اور ایک نمازی ملک نور احمد موقع پر شہید ہو گئے جب کہ ۱۲ افراد زخمی ہو گئے۔

کہا جاتا ہے کہ مسلح قادیانی مدرسہ کے مہتمم اور شیخ الحدیث مولانا محمد مراد کو قتل کرنا چاہتے تھے، جو شدید زخمی ہیں۔ اس حادثہ فاجعہ کی اطلاع آناً فاناً پورے شہر میں پھیل گئی تو ہزاروں کی تعداد میں مسلمان جمع ہو گئے۔ جمعہ میں شہداء کی نماز جنازہ ادا کی گئی، جس میں ایک لاکھ سے زیادہ فدائیان ختم نبوت نے شرکت کی۔ پورا شہر بند ہو گیا۔ جمعۃ المبارک کے اجتماعات میں اس مرزائی غنڈہ گردی پر غم و غصہ کا اظہار کیا گیا کہ قاتلوں کو فی الفور گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

(ہفت روزہ ختم نبوت ص ۱۷ جلد نمبر ۱۱ شمارہ نمبر ۴۶۔ ۱۴ تا ۲۰ مئی ۱۹۹۳ء)

شہیدان ناموس رسالت ﷺ و شہدائے ختم نبوت کا پوری امت پر احسان ہے کہ انہوں نے اپنی لاشوں سے بند باندھ کر آنے والی نسلوں کو دریائے ارتداد میں غرق ہونے سے بچا لیا۔

اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں بھی ان شہدائے ناموس رسالت ﷺ کی راہوں پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

صفحہ 172

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 172 ماہنامہ مسیحائی کراچی

نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم

اقبال عظیم مرحوم

کتنا پیارا ہے موسم وہاں کا، کتنی پُر کیف ساری فضا ہے
تم مرے ساتھ خود چل کے دیکھو، گردِ طیبہ بھی خاکِ شفا ہے
یہ وہی شہرِ طیبہ ہے جس میں خواب گاہِ حبیبِ خدا ہے
کام ہے جن کا عقدہ کشائی، نام بھی جن کا خیر الوریٰ ہے
جن کا رتبہ سوا ہے، فہم و ادراک سے ماوراء ہے
بحر و بر جن کے زیر نگیں ہیں، تا بہ افلاک جن کی ضیاء ہے
پیشواؤں کے جو پیشوا ہیں، اک لقب جن کا صدر العلاء ہے
قاب قوسین ہے جن کی منزل، رہگزر سدرۃ المنتہیٰ ہے
مستقل ان کی ڈیوڑھی عطا ہو، میرے معبود یہ التجا ہے
کوئی پوچھے تو یہ کہہ سکوں میں بابِ جبریل میرا پتہ ہے
چمک دمک ہے ستاروں میں نام ہے محمد کا
ارض و سما میں چمکتے رہتے ہیں جلوے محمد کے

(حافظ لدھیانوی)

نعت سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم پڑھ کر
میں نے اپنے لئے عشق کی منزل چن لی

(اسلم طارقی)

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

موضوع کا تعارف

حمد و ثنا اُس پاک ذات کائنات اور اس میں پائے وجود اور حسن بخشا اور اس ک ارض کے تمام سمندر سیاہی کو بیان کرنے اور اللہ کی بے حد و حساب درود و الثقلین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ انس اور دیگر مخلوقات نے ذریعہ انسانیت کو بلند رتبہ ہر ذی شعور انسان کے ل کی عظمت کو ظاہر کرنے ہیں۔ اور یہ بات بھی مسلم انبیاء علیہم السلام کو حاصل آخر زمان محمدﷺ کو مبعوث عطا فرما دیا ہے جس کی کو

صفحہ 173

حرمت رسول نمبر۲۰۱۱ء 173 ماہنامہ مسیحائی کراچی

عظمت رسول ﷺ کی گواہی

ڈاکٹر محمد جنید ندوی فیکلٹی آف اسلامک سٹڈیز، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی، اسلام آباد

موضوع کا تعارف

حمد و ثنا اُس پاک ، بلند و برتر اور طاقت ور ترین ذاتِ اللہ کے لیے ہے جس نے کائنات اور اِس میں پائے جانے والی مخلوقات کو اپنے ارادے اور حکمتِ خاص کے تحت وجود اور حسن بخشا اور اس نظام کو چلا رہا ہے۔ جس کی عظمت کو بیان کرنے کے لیے اگر کرہ ارض کے تمام سمندر سیاہی بن جائیں اور تمام درخت قلم بن جائیں تب بھی اللہ کی عظمت کو بیان کرنے اور اللہ کی عظمت کا حق ادا کرنے سے قاصر رہیں گے۔

بے حد وحساب دُرود و سلام ہوں اللہ کے محبوب، سرکارِ دو عالم ، فخرِ بنی آدم ، رسول الثقلین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر جن کی عظمت کا اعتراف خالقِ کائنات جن و انس اور دیگر مخلوقات نے مختلف اسالیب میں کیا تھا، کیا ہے اور کرتی رہیں گی۔ اور جن کے ذریعہ انسانیت کو بلند رتبہ نصیب ہوا۔

ہر ذی شعور انسان کے لیے یہ بات قابلِ فہم ہے کہ جو شے کسی کی نظر میں عظیم ہو اُس کی عظمت کو ظاہر کرنے کے لیے اُس شے کی عظمت کی گواہی اور مثالیں بھی دی جاتی ہیں۔ اور یہ بات بھی سب کو معلوم ہے کہ اِس کائنات کی مخلوقات میں سب سے عظیم مقام انبیاء علیہم السلام کو حاصل ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت اور محبتِ خاص سے نبی آخر زمان محمدﷺ کو مبعوث فرما کر عظمتِ انبیاء علیہم السلام میں منفرد مقامِ عظمت عطا فرما دیا ہے جس کی گواہی کلام الٰہی میں قیامت تک کے لیے محفوظ کر دی گئی ہے۔

صفحہ 174

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 174 ماہنامہ مسیحائی کراچی

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اُمت مسلمہ کے پاس عظمت رسول ﷺ کی گواہی پیش کرنے کے متعدد مصادر بھی موجود ہیں۔ لیکن یہ مقالہ اُن تمام مصادر کو پیش کرنے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا، زیر نظر مقالہ میں عظمت رسول ﷺ کی گواہی پیش کرنے کی سعادت حاصل کرنے کے لیے ہم نے صرف دو مصادر کا انتخاب کیا ہے۔ ایک کلام الٰہی یعنی قرآن مجید، اور دوسرا کلام انسانی یعنی مستشرقین یا مغربی مفکرین کے اقوال۔ قرآن مجید میں عظمت رسول ﷺ کی گواہی پیش کرنے کے لیے ہم نے خالصتاً قرآن مجید کی آیات کے ترجمہ سے استفادہ کیا ہے اور اہل مغرب کے نقطہ نظر سے عظمت رسول ﷺ کی گواہی کے لیے ہم نے مغربی مفکرین کے اقوال کا ترجمہ پیش کیا ہے۔

قرآن مجید میں عظمت رسول ﷺ کی گواہی

محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں،....... (سورۃ الفتح:۲۹)۔ وہ (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں اور مومنوں پر نہایت شفیق اور مہربان ہیں (سورۃ التوبہ: ۱۲۸)۔ آپ (ﷺ) اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں (سورۃ الاحزاب:۴۰)۔ یٰس، قسم ہے اِس حکمت سے بھرپور قرآن کی۔ بے شک آپ (ﷺ) رسولوں میں سے ہیں۔ سیدھے راستے پر ہیں....... (سورۃ یٰس:۱ تا ۴)۔ اور بے شک آپ (ﷺ) اخلاق حسنہ کے اعلیٰ ترین درجہ پر ہیں (سورۃ القلم:۴)۔ اور عنقریب اللہ تعالیٰ آپ (ﷺ) کو دے گا، پھر آپ (ﷺ) خوش ہوجائیں گے (سورۃ الضحیٰ:۵)۔ وہ ذات پاک ہے جو اپنے بندے (محمدﷺ) کو رات کے وقت مسجد حرام (کعبہ) سے مسجد اقصیٰ (بیت المقدس) تک لے گیا جس کے آس پاس ہم نے برکتیں نازل کی ہیں تاکہ ہم اُن (محمدﷺ) کو اپنے کچھ عجائبات قدرت دکھائیں (سورۃ بنی اسرائیل:۱)۔ اور ہم (اللہ) نے آپ (ﷺ) کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے (سورۃ الانبیاء: ۱۰۷)۔ اور ہم (اللہ) نے آپ (ﷺ) کے لیے آپ (ﷺ) کا ذکر بلند کیا ( سورۃ الانشراح:۴)۔ ہم (اللہ) نے آپ (ﷺ) کو کوثر عطا فرمائی ہے (سورۃ الکوثر:۱)۔ اے نبی (ﷺ) بے شک ہم نے آپ (ﷺ) کو شہادت دینے والا اور

صفحہ 175

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 175 ماہنامہ مسیحائی کراچی

بشارت دینے والا اور ڈرانے والا (یعنی آگاہ کرنے والا) اور سب کو اللہ کی طرف بلانے والا بنا کر بھیجا ہے (سورۃ الاحزاب: ۴۵، ۴۶) ۔ اے نبی آپ (ﷺ) کہہ دیجئے کہ اے دنیا جہان کے لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا پیغمبر ہوں، جس کی بادشاہی تمام آسمانوں اور زمین میں ہے۔ اُس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ وہ ہی زندگی دیتا ہے اور وہ ہی موت دیتا ہے۔ پس ایمان لاؤ اللہ پر اور اُس کے نبی اُمی پر، اللہ پر ۔ جو اللہ پر اور اُس کے احکامات پر ایمان رکھتے ہیں، اور اتباع کرو اُن (ﷺ) کی تا کہ تم راہ راست پر آجاؤ (سورۃ الاعراف: ۱۵۸) ۔ اللہ تعالیٰ اور اُس کے فرشتے نبی ﷺ پر درود بھیجتے ہیں، سو اے لوگو جو ایمان لائے ہو تم اُن پر درود و سلام بھیجو (سورۃ الاحزاب: ۵۶) ۔

یقیناً اللہ (تعالیٰ) نے ایمان والوں پر احسان کیا کہ اُن ہی میں سے رسول (ﷺ) مبعوث کیا جو اُنہیں اللہ کی آیات اُنہیں پڑھ کر سناتے ہیں، اُن کا تزکیہ کرتے ہیں اور (اُنہیں) کتاب (قرآن) و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں، اور اس سے پہلے وہ صریح گمراہی میں پڑے ہوئے تھے (سورۃ آل عمران: ۱۶۴) دیکھو! تم لوگوں کے پاس ایک رسول آیا ہے جو خود تم میں سے ہی ہے، تمہارا نقصان میں پڑنا اُس پر شاق ہے، تمہاری فلاح کا حریص ہے، ایمان لانے والوں کے لیے وہ شفیق اور رحیم ہے۔۔۔ (سورۃ التوبہ: ۱۲۸ تا ۱۲۹) ۔ اور یہ رسول ﷺ اپنے نفس کی خواہش سے نہیں بولتے، یہ تو بس وہی کہتے ہیں جو اُن پر وحی کے ذریعے سے پہنچایا جاتا ہے (سورۃ النجم: ۴) ۔ تم لوگوں کے لیے اللہ کے رسول کی ذات ایک بہترین نمونۂ تقلید ہے، ہر اُس شخص کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن کا اُمیدوار ہے (سورۃ الاحزاب: ۲۱) ۔ اور رسول (ﷺ) جو حکم دیں اُسے تم لے لو اور جس چیز سے وہ (ﷺ) منع کریں اُس سے رُک جاؤ۔۔۔ (سورۃ الحشر: ۷) ۔ جس نے رسول (ﷺ) کی اطاعت کی دراصل اُس نے اللہ کی اطاعت کی (سورۃ النساء: ۸۰) ۔ اللہ اور اُس کے رسول (ﷺ) کی اطاعت کرو اگر تم

صفحہ 176

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 176 ماہنامہ سبحانی کراچی

ایمان والے ہو (سورۃ الانفال:۱)۔ قسم ہے آپ (ﷺ) کے رب کی یہ لوگ اُس وقت تک تک مومن نہیں ہو سکتے، جب تک یہ اپنے جھگڑوں میں آپ (ﷺ) کو حَکَم (منصف) نہ بنالیں۔ پھر آپ (ﷺ) کے فیصلہ پر اپنے دلوں میں تنگی محسوس نہ کریں اور (فیصلے کو) خوشی سے قبول نہ کرلیں (سورۃ النساء: ۶۵)۔

نبی (ﷺ) مومنوں کے لیے اُن کی جانوں سے بھی بڑھ کر ہیں (سورۃ الاحزاب: ۶)۔ نبی (ﷺ) مومنوں پر اُن کی جانوں سے زیادہ حق رکھتے ہیں (سورۃ الاحزاب: ۶)۔ آپ (ﷺ) فرما دیجئے کہ اگر تم اللہ اور رسول سے محبت رکھتے ہو تو تم لوگ میری اتباع کرو، اللہ (تعالیٰ) تم سے محبت کرنے لگیں گے اور تمہارے سب گناہ معاف کردیں گے (سورۃ آل عمران: ۳۱ تا ۳۲)۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم اپنی آوازوں کو پیغمبر (ﷺ) کی آواز سے بلند مت کیا کرو اور اُن سے ایسے کھل کر نہ بولو جیسے تم آپس میں ایک دوسرے سے کھل کر بولتے ہو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال برباد ہوجائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو (سورۃ الحجرات: ۲)۔

بے شک جو لوگ اللہ اور اُس کے رسول (ﷺ) کو ایذا پہنچاتے ہیں، اللہ اُن پر دنیا اور آخرت میں لعنت کرتا ہے اور اُن کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے (سورۃ الاحزاب: ۵۷)۔ اور جو لوگ اللہ کے رسول (ﷺ) کو تکلیف دیتے ہیں اُن کے لیے دردناک عذاب ہے (سورۃ التوبہ: ۶۱)۔

أقوال مستشرقین میں عظمت رسول ﷺ کی گواہی

تاریخ انسانی میں محمد (ﷺ) کا مقام سب سے بلند اور منفرد ہے۔ اُن کی عظیم ترین فتح یہ ہے کہ اُنہوں نے انسانوں کو یہ عقیدہ تسلیم کرنے پر راضی کیا کہ خدا ایک ہے اور مسلمانوں کی ایک اُمت ہے۔ (اے۔ گی لیوم، کتاب: اِسلام)۔۔۔محمد (ﷺ) کا طرزِ عمل، اخلاق انسانی کا حیرت انگیز کارنامہ تھا اور ہم یہ یقین کرنے پر مجبور ہیں کہ محمد (ﷺ) کی تعلیمات خالص سچائی پر مبنی تھیں۔ (لیو۔ ٹالسٹائی)۔۔۔اور سب سے

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

حیران کن حقیقت یہ ہے کہ ایسا عجز ورضا کا پیکر تھا۔ اپنی ہر کامیابی سکارٹ، کتاب: ہسٹری آف مور

زمنِ وسطیٰ میں عیسائی راہن بھیانک تصویر پیش کی۔ اُنہوں ن چلائی۔ یہ سب راہب اور مصن معنوں میں انسانیت کے نجات ثبوت، شہادت اور اشارہ تک نہی موقع پر اپنے دعوے کی تصدیق د اور مذہب کے نفاذ کے لیے اُنہوں علم پر پورا انحصار کیا جو اُنہیں خد کتاب: اپولوجی فار محمد اینڈ اسلام

عربوں میں ایک آدمی پیدا ہ کردی...... وہ اِنسان محمد (ﷺ پیس آف سویلائزیشن )۔۔۔ م محمد (ﷺ) نے یہ زبردست معجز ایسا رہنما نہیں ہوا جسے محمد (ﷺ کتاب: دالائف آف مُوحامٹ

ایک ایسے لاقانون علاقے کے کیے۔ اُنہیں ایسی عبادت (نماز) طرح کی اُونچ نیچ ختم ہوجاتی ہے اور سماج کی بنیاد نہ رکھ سکا جو مق

صفحہ 177

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 177 ماہنامہ مسیحائی کراچی

حیران کن حقیقت یہ ہے کہ ایسا فقید المثال ذہن رکھنے والا انسان متکبر تھا نہ مغرور، بلکہ عجز و رضا کا پیکر تھا۔ اپنی ہر کامیابی کو خدا کی عظمت سے منسوب کرنے والا۔ (ایس۔ پی۔ سکاٹ، کتاب: ہسٹری آف مورِش ایمپائر ان یورپ)

زمنِ وسطیٰ میں عیسائی راہبوں نے جہالت و تعصب کی وجہ سے اِسلام کی نہایت بھیانک تصویر پیش کی۔ اُنہوں نے محمد (ﷺ) اور دینِ اسلام کے خلاف منظم تحریک چلائی۔ یہ سب راہب اور مصنف غلط کار تھے، کیوں کہ محمد (ﷺ) ایک عظیم ہستی اور صحیح معنوں میں اِنسانیت کے نجات دہندہ تھے۔ (جارج۔ برنارڈ۔ شا)۔۔۔ایسا کوئی ثبوت، شہادت اور اِشارہ تک نہیں ملتا جس سے یہ کہا جا سکے کہ محمد (ﷺ) نے کبھی کسی موقع پر اپنے دعوے کی تصدیق کے لیے کوئی فریب یا نام نہاد معجزہ دکھایا ہو۔ اپنے دین اور مذہب کے نفاذ کے لیے اُنہوں نے کوئی غلط حربہ اختیار نہیں کیا۔ اس کے برعکس اُس علم پر پورا انحصار کیا جو اُنہیں خدا کی طرف سے ودیعت ہوا تھا۔ (جے۔ ڈیون پورٹ، کتاب: اَپولوجی فار محمد اینڈ اِسلام)

عربوں میں ایک آدمی پیدا ہوا جس نے مشرق اور جنوب کی پوری معلوم دنیا متحد کردی...... وہ اِنسان محمد (ﷺ) تھے۔ (جے۔ ایچ۔ ڈینیسن ،کتاب: ایموشنز ایز دی بیسز آف سویلائزیشن)۔۔۔عرب بنیادی طور پر انارکسٹ اور اِنتشار پسند تھے۔ محمد (ﷺ) نے یہ زبردست معجزہ کر دکھایا کہ اُنہیں متحد کر دیا۔ بلاشک و شبہ دُنیا میں کوئی ایسا رہنما نہیں ہوا جسے محمد (ﷺ) جیسے اور وفادار پیروکار ملے ہوں۔ (ای ۔ ڈرنگھم، کتاب: دالائف آف مُوحامت)......اپنی ذہانت اور جوش و خلوص سے محمد (ﷺ) نے ایک ایسے لاقانون علاقے کے لیے مؤثر قوانین وضع کیے۔ سماجی اور مذہبی ادارے قائم کیے۔ اُنہیں ایسی عبادت (نماز) پر لگا دیا، جس میں رنگ، نسل، اِمارت، غُربت اور ہر طرح کی اُونچ نیچ ختم ہو جاتی ہے۔ دُنیا کا کوئی پیغمبر محمد (ﷺ) کی طرح اِیسے معاشرے اور سماج کی بنیاد نہ رکھ سکا جو مثالی ہو اور آنے والے ہر زمانے کے لیے تقلید کی ترغیب دیتا

صفحہ 178

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

ہو۔

(جی۔ ایم۔ ڈی کارٹ، کتاب: محمد)

رُوئے زمین پر محمد (ﷺ) جیسا دُور اندیش اور صاحب بصیرت انسان کوئی دوسرا دکھائی نہیں دیتا۔ محمد (ﷺ) جبر کے قائل ہی نہیں تھے۔ وہ انسان کی حدود، انسان کی صلاحیتوں اور اُس کی کوتاہیوں سے پوری طرح واقف تھے۔۔۔ (لین۔ پول، کتاب: سٹڈیز ان موسک)۔۔۔ محمد (ﷺ) کے ساتھ ہی اُس مساوات اور جمہوریت نے جنم لیا جو اُس سے پہلے دُنیا میں موجود نہیں تھی۔ اب دولت اور حسب و نسب کے پیدائشی دعوؤں کی کوئی اہمیت نہ رہی۔۔۔ محمد (ﷺ) نے دھتکارے ہوئے غلاموں کو آقا بنا دیا۔ (ای۔ بلانڈن، کتاب: کرسچینٹی، اسلام اینڈ دانیگرو ریس)

محمد (ﷺ) ایک ایسی شخصیت تھے جن کے سامنے ایک عظیم مقصد اور بلند ترین نصب العین تھا۔ وہ اپنے اِس مقصد کی تکمیل اور نصب العین کے حصول کی راہ میں حائل ہر مشکل اور دُشواری کا مقابلہ کر سکتے تھے۔ یہ قوت اور صلاحیت اللہ کی عطا تھی۔ محمد (ﷺ) کے کارناموں سے دراصل خدائے واحد کے جلال و شوکت کا اظہار ہوتا ہے۔ خدا نے اُن کے ہاتھوں کو وہ تاثیر عطا کی تھی کہ وہ پوری دُنیا کو ہلا سکتے تھے۔ محمد (ﷺ) کی کامیابی، جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی، دراصل عطیہ خداوندی تھی۔۔۔ محمد (ﷺ) نے دُنیا کو ایک عجیب فلسفہ دیا۔۔۔ ایک ایسا فلسفہ اور طرزِ حیات جو اِس سے پہلے رُوئے زمین پر موجود نہیں تھا۔ محمد (ﷺ) نے موت کا خوف دلوں سے نکال دیا اور ایک ایسے طرزِ حیات کی بِنا ڈالی جس میں انسان ہر وقت خوفِ خدا میں ڈوبا رہتا ہے۔

(اے۔ جی۔ لیونارڈ، کتاب: اسلام)

خلاصہ کلام

مندرجہ بالا گزارشات کا خلاصہ یہ ہے کہ عظمتِ رسول ﷺ کی گواہی قرآن مجید اور اقوامِ عالم کے مفکرین بانگِ دُہل دے رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مقدسہ اپنی ظاہری و باطنی وسعتوں اور پہنائیوں کے لحاظ سے کوئی شخصی سیرت نہیں، بلکہ ایک عالمگیر اور بین الاقوامی شخصیت ہے جو کسی شخصِ واحد کا دستورِ زندگی

صفحہ 179

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 179 ماہنامہ مسیحائی کراچی

نہیں بلکہ جہانوں کے لیے ایک مکمل دستور حیات ہے۔ جوں جوں زمانہ ترقی کرتا چلا جائے گا اُسی حد تک انسانی زندگی کی استواری وہمواری کے لیے اِس عظیم شخصیت کی ضرورت شدید سے شدید تر ہوتی چلی جائے گی۔ حضور ﷺ کی زندگی ایک بین الاقوامی مشن کی داستان ہے، وہ قرآن کے ابدی اصولوں کی تفسیر ہے جسے عمل کی زبان میں مرتب کیا گیا ہے۔ وہ اس مقدس پیغام کی تکمیل ہے جس کی مشعل آدم، ابراہیم، موسیٰ اور جملہ انبیاء علیہم السلام اپنے اپنے دور میں روشن کرتے رہے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ قرآن اور سیرت محمدی علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام دونوں ہی بحرِ ناپید کنار ہیں، کوئی انسان یہ چاہے کہ ان کے تمام معانی اور فوائد وبرکات کا احاطہ کر لے تو اس میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا، البتہ جس چیز کی کوشش کی جاسکتی ہے وہ بس یہ ہے کہ جس حد تک ممکن ہو آدمی ان کا زیادہ سے زیادہ فہم حاصل کرے اور ان کی مدد سے روح دین تک رسائی پائے۔

اسلامی علوم وفنون میں آج تک جو کچھ مدوّن ومرتب ہوا ہے اس میں غالب حصہ سیرت مصطفیٰ ﷺ پر مشتمل ہے اور شاید یہ کہنا بلا مبالغہ نہ ہوگا کہ دنیائے علم میں مدوّنات، مصنّفات اور کتب ورسائل میں سب سے زیادہ تعداد سیرت مصطفیٰ ﷺ سے متعلق ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ سیرت مصطفیٰ ﷺ ایک فرد کی سیرت نہیں بلکہ ایک تاریخی دلالت کی داستان ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ سیرت مصطفیٰ ﷺ اپنے تنوعات کے اعتبار سے نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے جو چودہ سو سال سے جاری ہے اور ان شاء اللہ قیامت تک جاری رہے گا۔ دُنیا جب تک آباد ہے، سیرت نبویہ ایک زندہ عامل کی حیثیت رکھے گی، اور دنیا کے ترقی پذیر تمدن اور تبدل پذیر حالت میں کسی ہمہ گیر وجامع اسوہ حسنہ (ﷺ) کے کسی ایک پہلو کو کبھی اہمیت حاصل رہے گی تو کبھی کسی اور پہلو کو۔

خلق وتقدیر و ہدایت ابتداء اَست
رحمۃ للعالمینی انتہا اَست
صفحہ 180

ماہنامہ سبحانی کراچی 180 حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

مولانا سید زوار حسین شاہؒ ٹرسٹ (رجسٹرڈ) کے زیر انتظام

دارالعلم وتحقیق

برائے اعلیٰ تعلیم وٹیکنالوجی کا قیام ادارے کے تحت مرکز تحقیق اور تحقیقی لائبریری فن تحقیق مطالعہ اسلام کے حوالے سے مختلف کورس

تمام اہلِ علم واہلِ خیر حضرات سے التماس ہے کہ وہ اپنی دعاؤں، تجاویز اور عطیات (خصوصاً عطیہ کتب) کے ذریعے اس اعلیٰ و دینی کام میں شرکت فرمائیں۔

برائے رابطہ اے ۔ ۴/ ۱۷، ناظم آباد نمبر ۴، کراچی، فون: ۳۶۶۸۴۷۹۰ Email: syed .Azizurrah man @ gmail.com

صفحہ 181

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 181 ماہنامہ مسیحائی کراچی

بتلا دو گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے

پروفیسر فائزہ احسان صدیقی

بعد از خدا بزرگ

سورہ آل عمران، آیت ۸۱۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ”اور یاد کرو جب اللہ نے پیغمبروں سے ان کا عہد لیا جو میں تم کو کتاب و حکمت دوں، پھر تشریف لائے تمہارے پاس وہ رسول کہ تمہاری کتابوں کی تصدیق فرمائے اور تم ضرور ضرور اس پر ایمان لانا، اور ضرور ضرور اس کی مدد کرنا ، فرمایا، کیا تم نے اقرار کیا اور اس پر میرا بھاری ذمہ لیا سب نے عرض کی ہم نے اقرار کیا۔ فرمایا، تو ایک دوسرے پر گواہ ہو جاؤ اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں ہوں۔“

اللہ تعالیٰ کا جملہ انبیاء ورسل کی ارواح سے نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ عہد لینا یہ ثابت کرتا ہے کہ:

وصحائف کی تصدیق فرمائیں گے۔ اور الحمد للہ ایسا ہی ہوا۔

السلام تخلیق کے مراحل سے گزر رہے تھے۔ یعنی آپ کی رسالت و نبوت ازل سے پہلے سے ہے۔

کے طور پر سامنے آئی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ختمی مرتبت اور خاتم النبیین بنا کر بھیجے گئے۔

صفحہ 182

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۰ء 182 ماہنامہ سبحانی کراچی

گیا۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سردار رسل بنایا گیا۔ اور دیگر تمام انبیاء کرام دراصل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر عالم ارواح میں ہی اللہ تعالیٰ سے میثاق کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاچکے ہیں اور اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں شامل ہیں یہی سبب ہے کہ انبیاء سابقین کے امتی یعنی اہل کتاب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت سے قبل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے توسل سے دعا مانگا کرتے تھے۔

ونصرت کا حکم دیا گیا۔ بالفاظ دیگر یہ حکم بلواسطہ انبیاء ورسل کے امتیوں کے لیے بھی تھا۔ اور ہے اور رہے گا۔

و رسالت ازلی اور ابدی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی ایک امت کے لیے اور کسی ایک مقام و ملک کے لیے اور کسی ایک عرصۂ وقت کے لیے نبی ورسول بنا کر نہیں بھیجا گیا۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت ونبوت ہمہ گیر ہے ازلی وابدی ہے۔ اس رسالت و نبوت کا دائرۂ کار جملہ مخلوقات کے لیے تھا اور ہے اور رہے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت ونبوت زمان ومکان کی پابند اور محدود نہیں ہے بلکہ زمان ومکان کی قید سے آزاد ہے۔

تعالیٰ نے اس ایمان واقرار کا ذمہ لیا اور انبیاء کرام کو ایک دوسرے پر گواہ بنایا اور خود ذات باری تعالیٰ نے اپنے آپ کو بھی انبیاء کے اس اقرار و ایمان پر گواہوں میں شامل فرمایا۔

ہدایت ہے جو ابدالآباد تک کے لیے ہے اور دیگر انبیاء ورسل پر ایمان لانے کا حکم دیتی

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۰ء

ہے اور ان دیگر انبیاء ورسل پر دیتی ہے البتہ توریت، زبور، معنوی تحریفات اور ان کے قرآن حکیم دیتا ہے۔

سماوی میں شامل کرلیں جس دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں۔ انہوں اور ان انبیاء کرام کی لائی ہوئی بھی ان کو جھٹلایا اور پامال کیا

وسلم کے مقام و مرتبے کو سمجھنے عزت وتکریم کو مسلمانوں کے کہ جس طرح کوئی آنحضرت سزا ہے اور اس کی سزا موت گستاخی کا مرتکب اسی سزا قرآن وسنت سے ثابت ہے

سورۂ توبہ آیات ۶۱ تا ۶۹

”اور ان میں بعض ایسے دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ (وہ) کان (ہے تم مومنوں (کی بات) لائے ہیں ان کے لیے

صفحہ 183

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

ہے اور ان دیگر انبیاء ورسل پر نازل ہونے والی کتب وصحائف پر ایمان لانے کا حکم دیتی ہے البتہ توریت، زبور، انجیل اور دیگر صحائف میں درج مندرجات میں لفظی اور معنوی تحریفات اور ان کے متن میں تبدیلی یا ان کے معدوم ہونے کی شہادت بھی قرآن حکیم دیتا ہے۔

سماوی میں شامل کرلیں جس نے انبیاء کرام کے نظریہ عصمت وعفت وناموس کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں۔ انہوں نے اپنے انبیاء کی تکذیب بھی کی اور ان کو قتل بھی کیا۔ اور ان انبیاء کرام کی لائی ہوئی شریعتوں کو نہ صرف لفظی و معنوی تحریفات سے بلکہ عملاً بھی ان کو جھٹلایا اور پامال کیا۔

وسلم کے مقام ومرتبے کو متعین نہیں فرمایا بلکہ جملہ انبیاء علیہم السلام پر ایمان اور ان کی عزت وتکریم کو مسلمانوں کے عقیدے کا حصہ بنایا۔ چنانچہ مسلمان یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ جس طرح کوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کا مرتکب موجب سزا ہے اور اس کی سزا موت ہے بعینہ دیگر انبیاء میں سے بھی کسی کی بھی شان میں گستاخی کا مرتکب اسی سزا کے لائق ہے۔ اور شاتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا قرآن وسنت سے ثابت ہے۔

سورہ توبہ آیات ۶۱ تا ۶۹

”اور ان میں بعض ایسے ہیں جو پیغمبر (صلی اللہ علیہ وسلم) کو ایذا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ شخص نرا کان ہے۔ (ان سے) کہہ دو کہ (وہ) کان (ہے تو) تمہاری بھلائی کے لئے۔ وہ اللہ کا اور مومنوں (کی بات) کا یقین رکھتا ہے اور جو لوگ تم میں سے ایمان لائے ہیں ان کے لئے رحمت ہے اور جو لوگ رسول اللہ (صلی اللہ

صفحہ 184

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

علیہ وسلم) کو رنج پہنچاتے ہیں ان کے لئے عذاب الیم (تیار) ہے۔"

مومنوں یہ لوگ تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں تا کہ تم کو خوش کر دیں حالانکہ اگر یہ (دل سے) مومن ہوتے تو اللہ اور اس کے پیغمبر خوش کرنے کے زیادہ مستحق ہوتے۔ کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم سے مقابلہ کرتا ہے تو اس کے لئے جہنم کی آگ (تیار) ہے جس میں وہ ہمیشہ (جلتا) رہے گا۔ یہ بڑی رسوائی ہے۔

منافق ڈرتے رہتے ہیں کہ ان (کے پیغمبر) پر کہیں کوئی ایسی سورت (نہ) اتر آئے کہ ان کے دل کی باتوں کو ان (مسلمانوں) پر ظاہر کر دے۔ کہہ دو کہ ہنسی کئے جاؤ۔ جس بات سے تم ڈرتے ہو اللہ اس کو ضرور ظاہر کر دے گا۔

اور اگر تم ان سے (اس بارے میں) دریافت کرو تو کہیں گے ہم تو یونہی بات چیت اور دل لگی کرتے تھے کہو کیا تم اللہ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) سے ہنسی کرتے ہو۔ بہانے مت بنائے تم ایمان لانے کے بعد کافر ہو چکے ہو۔ اگر ہم تم میں سے ایک جماعت کو معاف کر دیں تو دوسری جماعت کو سزا بھی دیں گے۔ کیونکہ وہ گناہ کرتے رہے ہیں۔

منافق مرد اور منافق عورتیں ایک دوسرے کے ہم جنس (یعنی ایک طرح کے) ہیں کہ برے کام کرنے کو کہتے ہیں اور نیک کاموں سے منع کرتے ہیں اور (خرچ کرنے سے) ہاتھ بند کئے رہتے ہیں۔ انہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے ان کو بھلا دیا۔ بے شک منافق نافرمان ہیں۔

صفحہ 185

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ سبحانی کراچی

اللہ نے منافق مردوں اور منافق عورتوں اور کافروں سے آتش جہنم کا وعدہ کیا ہے جس میں ہمیشہ (جلتے) رہیں گے۔ وہی ان کے لائق ہے۔ اور اللہ نے ان پر لعنت کر دی ہے اور ان کے لئے ہمیشہ کا عذاب (تیار) ہے۔

(تم منافق لوگ) ان لوگوں کی طرح ہو، جو تم سے پہلے ہو چکے ہیں۔ وہ تم سے بہت زیادہ طاقتور اور مال و اولاد میں کہیں زیادہ تھے تو وہ اپنے حصے سے بہرہ یاب ہو چکے ہیں۔ سو جس طرح تم سے پہلے لوگ اپنے حصے سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ اسی طرح تم نے اپنے حصے سے فائدہ اٹھالیا۔ اور جس طرح وہ باطل میں ڈوبے رہے اسی طرح تم باطل میں ڈوبے رہے یہ وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا و آخرت میں ضائع ہو گئے۔ اور یہی نقصان اٹھانے والے ہیں۔

یہ خاص ناموس رسالت کے عنوانات سے ہیں۔

امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف اللہ عزوجل کی توحید خالص پر، اپنے نبی مکرم پر ایمان رکھتی ہے بلکہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ عزوجل کا بندہ ہونے اور اللہ کا رسول برحق اور اللہ عزوجل کے محبوب ہونے پر ایمان رکھتی ہے۔ بلکہ جملہ انبیاء ورسل پر، قرآن حکیم کے ساتھ دیگر کتب سماوی پر، ملائکہ پر، روز قیامت پر اور حیات بعد الموت پر الحمد للہ ایمان رکھتی ہے۔

جملہ انبیاء علیہم السلام اور مسلمان:

الحمد للہ سب مسلمان تمام نبیوں اور رسولوں کی عزت واحترام کرتے ہیں۔ بلکہ تاریخ شاہد ہے کہ مسلمانوں نے کبھی بھی کسی نبی یا رسول پر الزام تراشی کی نہ کبھی کسی بھی اعتبار سے کسی نبی یا رسول کی عزت و ناموس کے خلاف کسی قول وفعل کا ارتکاب کیا اور نہ ہی کسی دور میں ایسا ممکن ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ اللہ تعالیٰ کا فرمان اور حبیب مکرم کا ارشاد بھی ہے۔ یہی

صفحہ 186

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

ہے کہ غیر مذاہب کو اور ان کے مذہبی پیشواؤں کو اور عبادت گاہوں کو برا بھلا نہ کہو اور نہ ڈھاؤ۔ چنانچہ مسلمانوں نے کسی کے بتوں اور باطل خداؤں تک کو کبھی کچھ نہ کہا۔ جہاں تک انبیاء کرام علیہم السلام کی ناموس کے تحفظ کی بات ہے دلائل و براہین اس بات پر شاہد ہیں کہ اسلام دنیا کا واحد دین ہے جس نے تمام انبیائے کرام اور رسولوں کی عصمت وعفت کو بیان کیا ہے۔ مسلمان ہر پیغمبر کی عزت و تکریم کو جزو ایمان سمجھتے ہیں۔ کسی ایک کی بھی توہین ہو تو ہم اس توہین کو اتنا ہی جرم سمجھتے ہیں کہ ہماری نگاہوں میں وہ ناقابل معافی جرم ہوتا ہے۔

انبیاء کی گستاخی کا مرتکب خواہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو اس کی سزا جو کتاب وسنت نے مقرر کی ہے اس پر امت کا اجماع ہے۔ اس سزا کی حکمتیں ہیں کیونکہ ان مقدس ہستیوں کی اہانت دراصل زمین پر بہت بڑے فتنے اور فساد کی موجب ہوتی ہے اور اسلام فتنہ و فساد کو قتل سے بھی شدید تر قرار دیتا ہے۔

قرآن حکیم میں تمام انبیاء کے بارے میں جن کو یہود و نصاریٰ اپنے انبیاء مانتے ہیں قرآن حکیم میں جگہ جگہ ان انبیاء کا تعظیم کے ساتھ ذکر ملتا ہے۔ بلکہ ان کے شاندار کردار کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ بلکہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہ فرمایا ہے۔

”سارے نبی آپس میں بھائی بھائی ہیں ۔“

آنحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس کے ضمن تو ادب تعظیم و توقیر کے لحاظ کا یہ عالم ہے حتی کہ نعلین پاک کی توہین میں اگر ایک جملہ بھی کہہ دیا جائے تو بھی توہین رسالت ہے۔

یہ ایک بین حقیقت ہے کہ تمام انبیاء کی تعلیمات آج تحریف شدہ ہیں اور اپنی حقیقی شکل میں موجود نہیں ہیں سوائے خاتم المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے اور آخری کلام الہی اور تا ابد کتاب ہدایت قرآن حکیم کے۔ کیونکہ قرآن حکیم کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے:

نحن نزلنا الذکر وان له لحافظون۔

صفحہ 187

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 187 ماہنامہ مسیحائی کراچی

ترجمہ : اور ہم نے ہی اس ذکر (قرآن) کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔

تحفظ ناموس رسالت ایمان کا بنیادی عقیدہ ہے:

بلاشبہ اسلام کی تعلیمات انبیاء کی ناموس کی محافظت کرتی ہیں اور اسلام مختلف مذاہب کے مابین رواداری اور مکالمے کا درس دیتا ہے۔ عقیدۂ ختم نبوت اور تمام انبیاء کرام کی رسالت پر ایمان لانا اور انبیائے کرام کی ناموس کا تحفظ اور نبی اکرم حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھنا ایمان کی بنیاد ہے۔

محمد کی محبت دین حق کی شرط اول ہے
اسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نامکمل ہے

ہر صاحب ایمان کے لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی اور حقیقی محبت رکھنا اور خود اپنے آپ سے بڑھ کر، اپنے والدین سے، اپنی اولاد سے، اپنے اہل وعیال سے، اپنے مال وتجارت سے بڑھ کر، غرض کہ دنیا کی ہر شے سے بڑھ کر محبت رکھنا ایمان کی تکمیل کی سند ہے۔

لہٰذا سرور کائنات، فخر موجودات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تحفظ ناموس کا معاملہ ہمارے ایمان کا بنیادی عقیدہ ہے اگر ہمارے ماں باپ کی عزت وناموس پر کوئی حرف گیری کرتا ہے تو ہم ضبط نہیں کرسکتے۔ پھر اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم جو ہمارے لیے فداہ ابی وامی ہیں کوئی غیرت مند مسلمان کسی کے قول وعمل سے ناموس کے عدم تحفظ کو کیوں کر اور کیسے برداشت کرسکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔

سورۂ مائدہ آیت ۳۲ تا ۳۳ میں ہے کہ:

ترجمہ ”اور بے شک ان کے پاس ہمارے رسول روشن دلیلوں کے ساتھ آئے اور پھر بے شک ان میں بہت اس کے بعد زمین میں زیادتی کرنے والے ہیں۔ وہ کہ اللہ اور اس کے رسول سے جنگ

صفحہ 188

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

کرتے ہیں اور ملک میں فساد کرتے پھرتے ہیں۔ ان کا بدلہ یہی ہے کہ گن گن کر قتل کئے جائیں یا سولی دیئے جائیں یا انکے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹے جائیں۔ یا زمین سے دور کر دیئے جائیں، یہ دنیا میں ان کی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا عذاب۔“

سورۂ توبہ آیت ۶۱: ترجمہ ”اور ان میں کوئی وہ ہیں کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا دیتے ہیں اور کہتے ہیں وہ تو کان ہیں، تم فرماؤ تمہارے بھلے کے لیے کان ہیں، اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور مسلمانوں کی بات پر یقین کرتے ہیں اور جو تم میں مسلمان ہیں ان کے واسطے رحمت ہیں اور جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا دیتے ہیں ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔“

سورۂ توبہ آیت ۶۳: ترجمہ ”کیا انہیں خبر نہیں کہ جو خلاف کرے اللہ اور اس کے رسول کا تو اس کے لیے جہنم کی آگ ہے کہ ہمیشہ اس میں رہے گا، یہی بڑی رسوائی ہے۔“

اور ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ تو بہت بڑی گستاخی ہے اور گستاخی کرنے والا کسی رعایت کا ہرگز ہرگز مستحق نہیں۔ اس کی سزا موت ہے احادیث مبارکہ میں بڑی وضاحت سے ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کرنے والوں کی سزا موجود ہے۔

ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغ مصطفوی سے شرار بولہبی

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

حضرت آدم علیہ السلام کو بظاہر آدم علیہ السلام کو او میں جاگزیں فرمایا تھا، ا اور احترام و تعظیم و توقیر جب

پہلے پہل جب آپ صلی ا ایمان نہ لانے والے تو ب (سیرت ابن ہشام) اور ا لہب نازل فرمادی۔ اللہ تع اور ذلت کی موت کا شکار ہ

اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صا کے باعث اللہ تعالیٰ نے ا فرمادیا۔ (حسب دعائے ن

غزوۂ تبوک سے واپسی کے بیٹھ کر شان اقدس علیہ الصلوٰۃ میں بنے۔

ترجمہ ”کہتے ہیں ہم مدینہ پھر کر دے گا اسے جو نہایت ذلت والا ہے مگر منافقوں کو خبر نہیں۔“

تو ایک جانب تو اس آیت شریفہ

صفحہ 189

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 189 ماہنامہ مسیحائی کراچی

حضرت آدم علیہ السلام کو سجدۂ تعظیمی کے حکم پر حکم عدولی کا ارتکاب کیا۔ کیونکہ یہ سجدہ بظاہر آدم علیہ السلام کو اور دراصل نور محمدی جو اللہ عزوجل نے پیشانی آدم علیہ السلام میں جاگزیں فرمایا تھا، اسی نور مقدس کے لیے تھا۔ (جامع المعجزات صفحہ ۱۱) اور احترام و تعظیم وتوقیر حبیب مکرم سے انحراف و انکار کا پہلا مجرم ابلیس قرار پایا۔

پہلے پہل جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے توحید کا پیغام دیا تو سننے والے اور اس پر ایمان نہ لانے والے تو بہت تھے۔ اور ان میں جرم توہین کا مرتکب ابولہب تھا۔ (سیرت ابن ہشام) اور اللہ تعالیٰ نے ابولہب اور اس کی بیوی کی مذمت میں سورۂ لہب نازل فرمادی۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں کو سخت ترین سزادی۔ دونوں نہایت بے بسی اور ذلت کی موت کا شکار ہوئے۔

اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت رقیہ رضی اللہ عنہ سے تنسیخ نکاح کیا۔ جس کے باعث اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب مکرم کو اذیت دینے والے عتیبہ پر ایک شیر مسلط فرمادیا۔ (حسب دعائے نبوی) جس شیر نے اسے چیر پھاڑ کر رکھ دیا۔

غزوۂ تبوک سے واپسی کے سفر میں رئیس المنافقین نے اپنے ساتھیوں کے درمیان بیٹھ کر شانِ اقدس علیہ الصلوٰۃ میں گستاخانہ کلمات کہے جو درج ذیل آیت کی شانِ نزول بنے۔

ترجمہ ”کہتے ہیں ہم مدینہ پھر کر گئے تو ضرور جو بڑی عزت والا ہے وہ اس میں سے نکال دے گا اسے جو نہایت ذلت والا ہے۔ اور عزت تو اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں کیلئے ہے مگر منافقوں کو خبر نہیں۔“

تو ایک جانب تو اس آیت شریفہ کو نازل فرما کر اللہ عزوجل نے منافقین کی مذمت فرمائی اور

صفحہ 190

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ سبحانی کراچی

ہمیشہ کے لیے یہ واضح فرما دیا کہ بظاہر جو لوگ اہلِ ایمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہوں لیکن شانِ اقدس میں گستاخی کریں یا گستاخی پر خاموش رہیں وہ بھی منافقین کے درجے میں آجاتے ہیں۔

دوسری جانب عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین کے بیٹے (حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ جو مسلمان ہوگئے تھے اور جماعت صحابہ رضوان اللہ عنہم اجمعین میں شامل تھے) نے اپنے باپ کی گردن پر تلوار رکھ دی اور کہا کہ تو اقرار کر کہ تو خود ذلیل ہے اور اللہ اور اس کا رسول عزت والے ہیں ورنہ میں تجھے قتل کرتا ہوں۔‘‘

قرآن پاک کی یہ آیت مقدسہ اور متذکرہ بالا ایمان افروز واقعہ سے یہ معلوم ہوا کہ خلوت وجلوت اور صراحتاً وکنایتاً واشارتاً بھی توہین رسالت کا جرم خواہ کسی بھی انداز اور کسی بھی مجلس میں ہو یا گوشۂ تنہائی میں ہو وہ مجرم مستحق قتل ہے۔

غالباً یہی واقعہ اس بات کا سبب بنا کہ آپ کے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ ۹ ہجری ۶۳۰ء میں غزوہ تبوک سے واپسی کے موقع پر حاضر خدمت ہوئے اور عرض کیا، اجازت ہو تو آپ کی مدحت و ثناء بیان کروں، فرمایا، کہو، اللہ تعالیٰ تمہارے منہ کو سلامت رکھے....... حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اشعار پیش کئے........ اشعار کیا ہیں ذکر میلاد مبارک ہے اور میلاد کی یہ وہ محفل ہے جس میں خود سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں، اور سماعت فرما رہے ہیں۔ (اشرف علی تھانوی۔ السرور الظہور مطبوعہ ساڈھورہ صفحہ ۳۷)

حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے بطور خاص میلاد پاک کا ذکر فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قبل ولادت، بعد ولادت سے جو اعزازات اور اکرام حاصل ہوئے ان کا بیان فرمایا اور وہ بھی سرکار دو عالم علیہ الصلوٰۃ والسلام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے رُوبرو۔ سبحان اللہ، سبحان اللہ۔

(اشرف علی تھانوی۔ السرور الظہور مطبوعہ ساڈھورہ صفحہ ۳۷)

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

اور بلاشبہ یہ گستاخی واہانت رس ربیع الاول میں اہل ایمان پہلے سے کا اہتمام وانعقاد کرتے ہیں اور ان شا

ظاہری حیات طیبہ اور گستاخاں

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ا انجام سے دو چار کرنے کے لیے آ فرمائے جو غلامانِ مصطفیٰ کے لیے بلاش گستاخِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لی

☆ عبداللہ بن خطل

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے م کے لیے عام معافی کا حکم تھا۔ کسی نے ع وسلم کی شانِ اقدس میں توہین کرنے وا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اُقْتُلُوہ، (یعنی اسے قتل کر دو۔)“ یہ عبداللہ بن خطل ، نبی اکرم نورِ وتنقیص کا مرتکب ہوا کرتا تھا۔ اس نے گایا کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان ماری گئی اور اس کی دونوں باند

بخاری شریف جلد اول صفحہ ۴۹

رحمۃ اللہ علیہ فتح الباری جلد ۷ صفحہ ۵۰۳

☆ گستاخ کعب بن اشرف:-

حضرت جابر بن عبداللہ انص

صفحہ 191

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 191 ماہنامہ مسیحائی کراچی

اور بلاشبہ یہ گستاخی و اہانت رسول کی عالمی مہم کا ردعمل ہے کہ الحمد للہ ہر سال ماہ نور یا ماہ ربیع الاول میں اہل ایمان پہلے سے زیادہ جوش و خروش اور جذبہ محبت سے محافل میلاد کا اہتمام و انعقاد کرتے ہیں اور ان شاء اللہ کرتے رہیں گے۔

ظاہری حیات طیبہ اور گستاخان رسول علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ معاملہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ظاہری حیات طیبہ میں بعض گستاخوں کو عبرتناک انجام سے دو چار کرنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے قتل کے فیصلے جاری فرمائے جو غلامان مصطفی کے لیے بلاشبہ قابل تقلید ہیں۔ گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے غلاف کعبہ اللہ میں بھی امان نہیں:

☆ عبداللہ بن خطل

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر جبکہ دیگر کفار و مشرکین کے لیے عام معافی کا حکم تھا۔ کسی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں توہین کرنے والا عبداللہ بن خطل کعبہ کے پردوں سے لپٹا ہوا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اقتلوہ، (یعنی اسے قتل کر دو۔)“

یہ عبداللہ بن خطل، نبی اکرم نور مجسم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو میں اشعار کہہ کہہ کر توہین و تنقیص کا مرتکب ہوا کرتا تھا۔ اس نے دو گانے والیاں رکھی ہوئی تھیں کہ وہ اس کے اشعار گایا کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق اس کی گردن مطاف اور چاہ زم زم کے درمیان ماری گئی اور اس کی دونوں باندیوں (گانے والیوں) کو بھی قتل کرنے کا حکم دیا گیا۔ بخاری شریف جلد اول صفحہ ۲۴۹، بخاری شریف جلد دوم صفحہ ۶۱۲، امام ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ فتح الباری جلد ۷ صفحہ ۵۰۳)

☆ گستاخ کعب بن اشرف:۔

حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ

صفحہ 192

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 192 ماہنامہ سبحانی کراچی

وسلم نے فرمایا ”تم میں سے کعب بن اشرف کی خبر کون لے گا؟ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دی ہے۔“

محمد بن مسلمہ انصاری رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اجازت مرحمت فرمائیں تو میں اسے قتل کردوں۔ ارشاد اکرم اثبات میں ہوا۔ اور انہوں نے بہت حکمت سے اس کا کام تمام کر دیا۔

(بخاری شریف جلد دوم صفحہ ۵۷۶)

قبیلہ ”خطمہ“ کی ایک عورت نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ہجو کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کون ہے جو میرے لیے اس کو ٹھکانے لگائے گا۔“ اسی قبیلہ کے ایک شخص نے اس عورت کو قتل کرنے کی اجازت لی اور اس عورت کو قتل کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس کا خون مباح ہے“۔

(بحوالہ امام شہاب الدین خفاجی رحمۃ اللہ علیہ نسیم الریاض جلد ۴، صفحہ ۳۶۰)

ایک بدبخت عورت حضور رحمۃ للعلمین علیہ الصلوٰۃ والسلام کو (معاذ اللہ) گالیاں دیتی تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے حضرت خالد بن ولید نے اس کو ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا۔

(بحوالہ امام خفاجی رحمۃ اللہ علیہ نسیم الریاض جلد ۴، صفحہ ۳۵۷)

حضرت حافظ الحدیث عبدالباقی بن قانع بن مرزوق رحمۃ اللہ علیہ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے بارگاہ نبوی میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے اپنے باپ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے سنا تو میں نے اپنے باپ کو قتل کر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس عاشق صادق سے کوئی باز پرس نہیں فرمائی۔

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

(بحوالہ امام خفاجی رحمۃ اللہ علیہ نسیم ا

حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ س علیہ وسلم کی تکذیب کی تو آپ صلی اللہ علیہ رضی اللہ سے فرمایا: ”جاؤ اور اسے قتل کرو

(حوالہ گزشتہ)

عکرمہ نے حضرت عبداللہ ابن عباس صحابی رضی اللہ عنہ نے اپنی اُم ولد جو نبی کری کرتی تھی اور باوجود ڈانٹ ڈپٹ کے باز ن وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو جمع دیتا ہوں اور اپنے حق کی جو میرا اس پر ہے ک کے متعلق تفصیلاً بتایا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و ”لوگو! گواہ رہنا کہ اس کا خون رائیگاں گیا۔“

(بحوالہ سنن ابوداؤد، جلد دوم صفحہ ۳۵۲، ۳۵۳)

شعبی نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکری کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سب و شتم کرتی اور آ اس کا گلا گھونٹ دیا یہاں تک کہ وہ مرگئی۔ پس باطل قرار دیا۔

(سنن ابوداؤد)

صفحہ 193

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 193 ماہنامہ مسیحائی کراچی

(بحوالہ امام خفاجی رحمۃ اللہ علیہ نسیم الریاض جلد۴، صفحہ ۳۵۹)

حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”جاؤ اور اسے قتل کر دو۔“

(حوالہ گزشتہ)

عکرمہ نے حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک نابینا صحابی رضی اللہ عنہ نے اپنی اُمِ ولد جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سب و شتم کیا کرتی اور بدگوئی کرتی تھی اور باوجود ڈانٹ ڈپٹ کے باز نہ آتی تو انہوں نے خنجر سے اسے قتل کر دیا۔ صبح کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو جمع کر کے فرمایا: ”میں ایسا کرنے والے کو اللہ کی قسم دیتا ہوں اور اپنے حق کی جو میرا اس پر ہے کہ وہ کھڑا ہو جائے۔“ تو وہ نابینا صحابی نے اس قتل کے متعلق تفصیلاً بتایا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! گواہ رہنا کہ اس کا خون رائیگاں گیا۔“

(بحوالہ سنن ابوداؤد، جلد دوم صفحہ ۳۵۳،۳۵۲)

شعبی نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے روایت کی ہے کہ ایک یہودی عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سب و شتم کرتی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کرتی۔ ایک شخص نے اس کا گلا گھونٹ دیا یہاں تک کہ وہ مرگئی۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے خون کو باطل قرار دیا۔

(سنن ابوداؤد)

PDF 194

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 194 ماہنامہ سبحانی کراچی

خلیفہ اول حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے آغاز سے مرتدین (منکرین زکوٰۃ) جھوٹے مدعیان نبوت نے سر اٹھایا جن کا سر کچلنے کے لیے اہل یمن نے بھرپور عسکری مقابلہ کیا اور خلیفہ راشد نے فرمایا:

”میں اپنے آقا سے ہمسری و برابری کا دعویٰ کرنے والے کذاب مدعیان کو زندہ نہیں دیکھنا چاہتا۔“

عباسی خلیفہ ہارون الرشید نے امام مالک سے اس شخص کے بارے میں معلوم کیا جو سرکار دوعالم کی شان میں گستاخی کرتا ہو۔ ہارون الرشید نے لکھا تھا کہ عراق کے علماء نے شاتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کوڑوں کی سزا تجویز کی ہے۔ آپ فتویٰ دیں۔ امام مالک نے غصہ کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:

”جو شخص آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دے وہ ملت اسلامیہ کا فرد نہیں رہتا اور وہ واجب القتل ہے اور جو شخص اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو برا کہے اور گالیاں دے اس اس کو کوڑے مارے جائیں۔“

گستاخوں کا قتل اور نشانیوں کا ظہور:

کا خسر (ختن علی) کہا تھا۔ اور اس خیال کا اظہار کیا کہ آپ کا زہد اختیاری نہیں تھا۔ اگر آپ کو دنیا کی نعمتیں میسر ہوتیں تو آپ کبھی سادہ زندگی نہیں گزارتے۔“

اندلس کے فقہا نے بالاتفاق ابن حاتم کو قتل کرنے کا فتویٰ جاری کیا۔ اور اسے سولی پر چڑھا دیا گیا۔

اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں گستاخی کا مرتکب پایا گیا اس وقت کے جید

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

عالم و فاضل ومحدث امام قاضی عدالت میں بہت معروف فقہاء ۔ چنانچہ اسے پھانسی پر لٹکا دیا کو اللہ کی نشانی سے تعبیر کیا گیا۔ اس واقعہ کے بعد ایک کتا آیا اور فرماتے ہیں کہ یہ دیکھ کر مجھے نبی مسلمان کا خون نہیں پیتا“۔

(بحوالہ قاضی عیاض، کتاب الشفاء

سب وشتم کے معنی و مفہوم:

سب کے معنی یہ ہیں کہ کسی ہستی یا چیز میں عیب و نقص پیدا ہو سکے۔ اور شتم کے معنی گالی گلوچ اور گستاخی

(از مرقاۃ)

گستاخ رسول اور نصاریٰ:

پرنس رینجی نالڈ مدینہ منورہ میں ر خانہ کعبہ کو مسمار کرنے کی ناپاک شان اقدس میں گستاخی کرتا اور بکھ ۱۱۸۳ء میں اور اس کے بعد ۱۸۲ قید کر لیا۔ جب ان لوگوں نے رہ

”تم لوگ محمد (صلی اللہ علیہ نہیں کہتے کہ وہ آ کر تم کو چھ

صفحہ 195

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ سبحانی کراچی

عالم وفاضل ومحدث امام قاضی یحییٰ کی عدالت میں گستاخ رسول شاعر کو لایا گیا۔ عدالت میں بہت معروف فقہاء موجود تھے۔ قاضی یحییٰ بن عمر نے اس کی پھانسی کا حکم دیا چنانچہ اسے پھانسی پر لٹکا دیا گیا اور اس کا چہرہ قبلہ کی طرف سے پھر گیا۔ اس واقعہ کو اللہ کی نشانی سے تعبیر کیا گیا۔ اس واقعہ کے بعد ایک کتا آیا اور گستاخ رسول شاعر کا خون چاٹنے لگا۔ قاضی یحییٰ فرماتے ہیں کہ یہ دیکھ کر مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث یاد آگئی کہ ”کتا مسلمان کا خون نہیں پیتا“۔

(بحوالہ قاضی عیاض، کتاب الشفاء جلد دوم)

سب وشتم کے معنی ومفہوم:

سب کے معنی یہ ہیں کہ کسی ہستی کے بارے میں ایسے کلمات کہے جائیں جن سے اس چیز میں عیب ونقص پیدا ہو سکے۔ اور شتم کے معنی گالی گلوچ اور گستاخی کے ہیں۔

(از مرقاۃ)

گستاخ رسول اور نصاریٰ:

پرنس ریجی نالڈ مدینہ منورہ میں روضہ مبارک کو (نعوذ باللہ) منہدم اور مکہ معظمہ میں خانہ کعبہ کو مسمار کرنے کی ناپاک جسارت سے حملہ آور ہوا۔ وہ شیطان صفت کبھی شان اقدس میں گستاخی کرتا اور کبھی مسلمانوں کے کارواں لوٹ لیتا۔ ۱۱۸۳ء میں اور اس کے بعد ۱۱۸۴ء میں دو بار اس نے مسلمان تاجروں کو لوٹ لیا اور قید کرلیا۔ جب ان لوگوں نے رہائی کا مطالبہ کیا تو اس نے اہانت سے جواب دیا: ”تم لوگ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) پر ایمان رکھتے ہو اس سے کیوں نہیں کہتے کہ وہ آ کر تم کو چھڑائے۔“

صفحہ 196

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 196 ماہنامہ مسیحائی کراچی

جس وقت سلطان صلاح الدین ایوبی کو ریجی نالڈ کی اس گستاخانہ گفتگو کی خبر پہنچی اس نے قسم کھا کر کہا کہ :’’ اللہ نے چاہا تو میں اسے اپنے ہاتھوں سے قتل کروں گا ۔‘‘ صلیبی جنگوں کے موقع پر فرنگیوں کو شکست ہو گئی ۔ فرنگی حکمران قید ہوئے ان میں اوروں کے ساتھ ریجی نالڈ بھی تھا ۔ یہ قیدی جب سلطان صلاح الدین ایوبی کے سامنے پیش کیا گیا تو سلطان صلاح الدین ایوبی نے اس کو تمام بداعمالیاں گنوائیں اور یہ بھی بتایا کہ اس وقت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے مدد چاہتا ہوں اور یہ کہہ کر اسے اپنے ہاتھوں سے قتل کر دیا ۔

☆ پادری یولو جینس کا قتل :

(اسپین) کے قرطبہ کے ایک پادری نے ۸۵۰ء میں سر عام پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی و بے ادبی کا آغاز کیا ۔ یہ امیر عبدالرحمن کا دور حکومت تھا ۔ لین پول ’’ اسٹوری آف دی نیشنز‘‘ سیریز کے مصنف لکھتے ہیں کہ پادری یولو جینس کی حرکتوں کے باعث امیر عبدالرحمن کے بیٹے امیر محمد کے ہاتھوں کیفر کردار کو پہنچا ۔

☆ پرفیکٹس کا قتل :

یہ عربی دان پادری تھا ۔ اس نے ایک دن مسلمانوں کے سامنے حبیب کبریا صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں سب وشتم کے الفاظ کہے ۔ سننے والوں نے قاضی وقت کے پاس اس کے خلاف درخواست گزاری ۔ قاضی کے دریافت کرنے پر اس نے قطعاً انکار کر دیا ۔ لیکن قاضی وقت نے شریعت کے مطابق قتل کا حکم سنا دیا ۔ اور جیل بھیج دیا جہاں اس شاتم رسول نے پھر اپنی نازیبا حرکت کا اعادہ کیا ۔ چنانچہ مقررہ دن اس کا سر قلم کر دیا گیا ۔

(ماخوذ از عبرتنامہ اندلس جلد اول صفحہ ۴۷۱ تا ۴۷۳)

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

☆ سانکو یا سانچو کا قتل

اسحاق کے قتل کے دو دن بعد ایک امیر عبدالرحمن کی فوج کا ایک پیغمبر اسلام کو گالیاں دیں اور قتل

(بحوالہ از عبرتنامہ اندلس صفحہ ۴۷۳

☆ عیسائی جنون کا ایک اور

سانچہ کے قتل کے بعد ۱۷ جون ۸۵۱ء کہ ’’ہم بھی اپنے دینی بھائیوں اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر سب و شتم

(بحوالہ عبرتنامہ اندلس ، نیز مسلم

☆ سیسی نند کا قتل

سینٹ ایکس کلوس کے گرجا کا وسلم کی گستاخی کا مرتکب ہو کر جہنم

☆ پولوس کا قتل

پولوس سینٹ ایکس کلوس کے سے پہلے اسے ذلت کی موت کے چار دن بعد شان مصطفیٰ صلی گیا ۔

☆ تھویڈومیر کا قتل

یہ عیسائی راہب شہر قرمونہ کا ر ہو کر مسلم حکومت کے حکم سے قتل

صفحہ 197

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 197 ماہنامہ سبحانی کراچی

☆ سانکچو یا سانچو کا قتل

اسحاق کے قتل کے دو دن بعد ایک فرنگی عیسائی نے جس کا نام سانکچو یا سانچو تھا اور جو امیر عبدالرحمن کی فوج کا ایک سپاہی تھا اور پادری یولو جیسس کا شاگرد تھا اس نے پیغمبر اسلام کو گالیاں دیں اور قتل ہو کر جہنم واصل ہوا۔

(بحوالہ از عبرتنامہ اندلس صفحہ ۱۳۳ از لین پول )

☆ عیسائی جنون کا ایک اور مظاہرہ اور سزائے موت

سانچو کے قتل کے بعد ۱۷ جون ۸۵۱ء میں چھ راہب قاضی کے سامنے پیش ہوئے اور کہا کہ ”ہم بھی اپنے دینی بھائیوں اسحاق اور سانچو کے الفاظ دہراتے ہیں اور پھر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر سب وشتم کرنے لگے“۔ یہ چھ کے چھ قتل کر دیئے گئے۔

(بحوالہ عبرتنامہ اندلس، نیز مسلمان اندلس میں)

☆ سیسی نند کا قتل

سینٹ ایکس کلوس کے گرجا کا ایک پادری جس کا نام سیسی نند تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کا مرتکب ہو کر جہنم واصل ہوا۔

☆ پولوس کا قتل

پولوس سینٹ ایکس کلوس کے گرجا میں پجاری یا سردار تھا۔ سیسی نند نے قتل ہونے سے پہلے اسے شہادت کی موت مرنے کی وصیت کی تھی۔ یہ ملعون بھی سیسی نند کے قتل کے چار دن بعد شان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم میں نازیبا الفاظ کہنے کی پاداش میں قتل کیا گیا۔

☆ تھویڈو میر کا قتل

یہ عیسائی راہب شہر قرمونہ کا رہنے والا تھا۔ توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کا مرتکب ہو کر مسلم حکومت کے حکم سے قتل کیا گیا۔

صفحہ 198

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ سبحانی کراچی

آئزک کا قتل

پینطس کی طرح آئزک قبول اسلام کے ارادے سے قاضی کی عدالت میں آیا۔ جب اسے دین اسلام کے عقائد بتائے گئے تو اس نے سب وشتم شروع کر دی۔ قاضی نے اس سے کہا کہ تو جانتا ہے کہ اسلام میں اس کی کیا سزا ہے؟ اس نے کہا کہ وہ جان بوجھ کر یہاں آیا ہے۔ اس لیے خداوند خدا کا فرمان ہے کہ:

”مبارک ہیں وہ لوگ جو دینداری میں ستائے گئے۔ آسمان کی بادشاہت انہی کے لیے ہے۔ اس شاتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی قتل کیا گیا۔

(تاریخ اندلس از سید ریاست علی ندوی)

شاتمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ باقاعدہ منظم تحریک امیر عبدالرحمٰن کے عہد میں ۸۶۰ء میں اختتام کو پہنچی۔

اس تمام تفصیل سے یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ عیسائی یعنی نصاریٰ دین اسلام اور پیغمبر اسلام کے سلسلے میں ہمیشہ سے منفی اور ناقابل برداشت رویے کے حامل رہے ہیں۔

مغلیہ دور حکومت میں گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو سزائے موت:

مغل شہنشاہ اکبر کے سیکولر دور حکومت میں شاتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو سزائے موت دی گئی۔ یہ سزا ایک سرکش برہمن کو ہوئی، جس نے مسجد کی جگہ اسی عمارتی سامان سے بت خانے کی تعمیر شروع کروا دی۔ اس کے خلاف جب تادیبی کارروائی شروع ہوئی تو اس نے گواہوں کی موجودگی میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا اور سب وشتم کیا۔ شیخ عبد الغنی (چیف جسٹس) نے گستاخ رسول برہمن کو قتل کا حکم دیا اور اس حکم پر الحمد للہ عملدرآمد ہوا۔

اس حوالے سے یہ وضاحت ہو گئی کہ ۱۸۶۰ء سے پہلے متحدہ ہندوستان میں بھی توہین رسالت کی سزا "سزائے موت کا قانون" موجود تھا۔

صفحہ 199

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 199 ماہنامہ مسیحائی کراچی

سلطنت مغلیہ کے سقوط کے بعد برصغیر پر ایسٹ انڈیا کمپنی نے شاطرانہ چالوں سے اپنی حکومت قائم کر لی تو ۱۸۶۰ء میں برٹش گورنمنٹ نے توہین قانون رسالت کو منسوخ کر دیا تو مسلمان سرفروشوں نے اس قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لیا اور گستاخان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر کے انہیں کیفر کردار تک پہنچاتے رہے۔

مسلمانوں کی تاریخ اس امر پر گواہ ہے کہ اسپین و اندلس کی حکومت کے دوران توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے مرتکب افراد کو کسی مسلمان نے انفرادی طور پر کبھی کیفر کردار تک نہیں پہنچایا، کیونکہ قانون کی حکمرانی تھی اور صاحبان اقتدار اپنے آقا و مولیٰ سے اور دین کے تقاضوں سے پوری طرح باخبر اور مخلص تھے۔ لہٰذا شاتمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جتنی سزائیں ملیں اسلامی حکومت کی جانب سے ملیں۔ انفرادی طور پر افراد کو قانون ہاتھ میں لینے کی ضرورت پیش نہ آئی۔ برصغیر میں مسلمانوں کی حکومت صدیوں سے تھی اور ہندو، سکھ دونوں مذاہب کے علمبرداروں نے صرف مغلیہ خاندان کے شہنشاہ اکبر (جو خود مذہب کے معاملے میں کمزور پڑ چکا تھا) کے زمانے میں ایک مرتبہ گستاخی کی کوشش کی لیکن گستاخ رسول برہمن کو مسلمان علماء نے قتل کی سزا دلوائی۔

برصغیر میں فرنگی حکومت نے ایک حربہ اور سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت ”لڑاؤ اور حکومت کرو“ کے تحت کام کیا۔

جب مسلمانوں کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑ لیا گیا۔ اور انہیں مالی و معاشی طور پر مفلس و قلاش اور حصول تعلیم سے بے بہرہ رکھنے کی اور بے دست و پا بنانے کی ہمہ جہتی تدابیر کی گئیں۔

مرزا غلام احمد قادیانی اور منشی رام (سوامی شردھانند) انگریزوں کے آلہ کار بن گئے۔ غلام قادیانی نے جو کتابیں ”براہین احمدیہ“ اور اپنی تحریریں آریہ مذہب کے خلاف لکھیں اور سوامی شردھانند نے مسلمانوں کے خلاف تقاریر کیں۔ یعنی نبوت کے جھوٹے دعویدار غلام احمد قادیانی کو انگریزوں نے پیدا کیا اور اس نے نبوت کا دعویٰ کر کے خود توہین رسالت کی اور جواباً ہندوؤں نے مسلمانوں کے نبی مقبول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے

صفحہ 201

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ سبحانی کراچی

خلاف کتب لکھنا شروع کیں۔ نتیجتاً تیرہ سو سال میں پیغمبر اسلام اور اللہ عزوجل کے حبیب مکرم کی شانِ اقدس میں کبھی اتنی ہرزہ سرائی نہیں ہوئی جتنی انگریزوں کی ان شاطرانہ چالوں کے باعث ایک صدی میں کی گئی۔

اے ان شہیدوں کی دیت اہل کلیسا سے نہ مانگ
قدر و قیمت میں ہے خوں، جن کا حرم سے بڑھ کر

اور پھر اس پر آشوب دور میں دین اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف خوب زہر اگلا جاتا رہا تو مسلم امہ کے ہر فرد نے اپنی اپنی بساط کے مطابق تحفظ اسلام، تحفظ قرآن اور تحفظ ناموس رسالت کے لیے بہت کام کیا۔ اور جب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی پر حملے ہوئے تو مسلمانوں نے شاتمان رسول کو قتل کر دیا اور اقرار جرم کرتے ہوئے تختہ دار پر چڑھ گئے۔

نمبر گستاخان رسول جہنم واصل کرنے والے شہداء ۱ راج پال (۲۷ ستمبر ۱۹۲۷ غازی خدا بخش (عبدالعزیز) ۲۹ اکتوبر ۱۹۲۷ ۲ سوامی شردھانند ۱۲ نومبر ۱۹۲۷ غازی عبدالرشید شہید ۳ راج پال ۳۱ اکتوبر ۱۹۲۹ غازی علم الدین شہید ۴ نتھو ۳۰ اکتوبر ۱۹۳۳ غازی عبدالقیوم شہید ۵ عیسائی عورت غازی محمد حنیف شہید ۶ ہندو پالال ۱۶ جنوری ۱۹۳۵ غازی محمد صدیق شہید ۷ رام گوپال ۱۹۳۷ غازی مرید حسین ۸ چرن داس ۱۲ اپریل ۱۹۳۸ غازی میاں محمد شہید ۹ چل چل سنگھ ۱۹۳۲ غازی عبداللہ شہید ۱۰ خینوں مہاراج ۱۹۳۶ غازی عبدالخالق قریشی شہید

مسلمانوں کی غیرت ایمانی کا یہ عالم تھا کہ ۱۸۹۹ء امرتسر کے ایک گرجا گھر کے سامنے

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

ایک پادری دوران تقریر ج نہ لیتا تھا، دو تین دفعہ ٹوکے اپنا ڈنڈا پادری کے سر پ جماعت علی شاہ رحمۃ اللہ ان غلامان رسول ب کرنے کی کوشش کی اور ن حضرات شاتمان قانون تحفظ ناموس رسال کا مستحق قرار دیا گیا۔

ارتکاب ......... اللہ علیہ وسلم کو گا اور ۲۴ ستمبر ۱۹۲۷ میں مسلمان ہنگا برداشت نہیں کر رسول صلی اللہ ع کیا لیکن یہ کم بخ

فخر کا مینار سرخرو ہوئے ب

ملاقات کے

صفحہ 201

ماہنامہ سبحانی کراچی 201

پچھلے تیرہ سو سال میں پیغمبر اسلام اور اللہ عزوجل کے حبیب کی ہرزہ سرائی نہیں ہوئی جتنی انگریزوں کی ان شاطرانہ کی گئی۔

خون کی دیت اہل کلیسا سے نہ مانگ
ان کی رگوں میں ہے خوں، جن کا حرم سے بڑھ کر

مگر دین اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف خوب زہر اگلا جاتا تھا اپنی بساط کے مطابق تحفظ اسلام، تحفظ قرآن اور تحفظ ناموس رسالت کا کام کیا۔ اور جب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کو ہدف تنقید بنایا گیا تو شاتمان رسول کو قتل کر دیا اور اقرار جرم کرتے ہوئے تختہ دار

جہنم واصل کرنے والے شہداء

غازی خدا بخش (عبدالعزیز) ۲۹ اکتوبر ۱۹۲۷ء غازی عبدالرشید شہید غازی علم الدین شہید غازی عبدالقیوم شہید غازی محمد حنیف شہید غازی محمد صدیق شہید غازی مرید حسین شہید غازی میاں محمد شہید غازی عبداللہ شہید غازی عبدالحق قریشی شہید

یہ عالم تھا کہ ۱۸۹۹ء امرتسر کے ایک گرجا گھر کے سامنے

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 200 ماہنامہ سبحانی کراچی

ایک پادری دوران تقریر حضور پرنور صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نامی اسم گرامی ادب و احترام سے نہ لیتا تھا، دو تین دفعہ ٹوکنے کے باوجود وہ اس سے باز نہ آیا تو ایک بھنگ گھوٹنے والے نے اپنا ڈنڈا پادری کے سر پر دے مارا اور اس کا بھیجا نکل پڑا۔ اس واقعہ کے راوی حضرت پیر جماعت علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔

ان غلامان رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں سے دو اول الذکر نے شاتمان رسول کو عمداً قتل کرنے کی کوشش کی اور اس جرم کا اقرار کرتے ہوئے دارورسن کی روایت کو از سر نو زندہ کیا۔

بقیہ حضرات شاتمان رسول کو واصل جہنم کرنے میں کامیاب ہوئے اور دور فرنگ میں قانون تحفظ ناموس رسالت کی منسوخی کے باعث عدالتی فیصلے کی رو سے انہیں سزائے موت کا مستحق قرار دیا گیا۔

ارتکاب ..................................... نامی کتاب لکھ کر کیا۔ (راج پال گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے غازی خدا بخش نے کمر ہمت باندھی اور ۲۴ ستمبر ۱۹۲۷ء کو عدالت کے استفسار پر غازی خدا بخش نے گرجدار آواز میں کہا، ” میں مسلمان ہوں ناموس رسالت کا تحفظ میرا فرض ہے میں اپنے آقا کی توہین ہرگز برداشت نہیں کر سکتا۔ پھر راج پال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا اس نے میرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی تھی اس لیے میں نے اس پر قاتلانہ حملہ کیا لیکن یہ کم بخت اس وقت میرے ہاتھ سے بچ نکلا۔

مگر کامیاب نہ ہوئے بہرکیف یہ دونوں مردان غازی قید و بند کی صعوبتیں اٹھا کر سرخرو ہوئے۔

ملاقات کے لیے آنے والے اپنے اہل خانہ سے مسکراتے ہوئے

صفحہ 202

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 202 ماہنامہ سبحانی کراچی

”آپ لوگ کسی قسم کا غم نہ کریں یہ تو مقام مسرت ہے کہ مجھ جیسا گناہگار، محبوب اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت و تقدس کے لیے اپنی جان نچھاور کر رہا ہے۔ دین کے سلسلے میں کسی کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے اور دین پر ثابت قدم رہنا ہی اصل عبادت ہے“

۱۴ نومبر ۱۹۲۷ء کو غازی عبدالرشید شہید کو تختۂ دار پر چڑھایا گیا ۔ انہوں نے اسی دوران اپنے احباب کو بتایا کہ مجھے خواب میں سید الشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا:

”تمہارے شہر میں میرے نانا نبی کریم رؤف الرحیم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی جا رہی ہے اور تم خاموش ہو“

O غازی علم دین شہید

جس کی پیروی مسلمانان برصغیر کے رہنما قائد اعظم محمد علی جناح نے کی۔ ۳۱ اکتوبر ۱۹۲۹ء کو تختۂ دار پر چڑھتے ہوئے حاضرین سے مخاطب ہو کر فرمایا:

”لوگو! گواہ رہنا میں نے راج پال کو حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر قتل کیا ہے اور آج میں اپنے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھتے ہوئے ان پر اپنی جان نثار کر رہا ہوں ۔“

اس وقت جیل کے قیدی اس فدائی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری جھلک دیکھنے کے لیے تعظیماً کھڑے تھے اور ساری جیل درود و سلام سے گونج رہی تھی۔

ایک کروڑ مرتبہ درود پاک کا ورد کرنے والے شاعر مشرق علامہ اقبال نے اس موقع پر علم دین شہید کو یوں خراج تحسین پیش کیا:

”ہم سب باتیں کرتے رہے اور ایک ترکھان کا بیٹا پڑھے لکھوں سے بازی لے گیا۔“

انگریز حکومت کے ہاتھوں پھانسی کی سزا پانے والے غازی علم دین کی یہ موت

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

شہادت ہے کہ نہیں؟ علامہ اقبال رحمۃ ال

”حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ا عزت و عظمت کو داغدار کر ہے۔ اس قسم کے کسی بھی واقع وہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حا

O غازی عبدالقیوم شہید:

گستاخ رسول نتھو رام جس نے جس میں شانِ رسالت میں گستاخان غازی عبدالقیوم نے بھری عدا مرد غازی سے پوچھا کہ بھری عدالت پنجم کی آویزاں تصویر کی طرف اشار

”تم اپنے بادشاہ کی توہین کے شہنشاہ کی شان میں گستا

O غازی محمد حنیف شہید

گستاخ رسول عیسائی ہیڈ ماسٹر پر شہر کے مسلمانوں سے معافی مانگنے تو اس مردِ ملت نے اس کو کیفر کردار اور پھانسی کی سزا پائی۔

O غازی محمد صدیق شہید

فیروز پور ضلع قصور کے سرورِ کائنات کی زیارت نصیب ہو گستاخانہ بند کیا جائے ۔ غازی محمد

صفحہ 203

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 203 ماہنامہ مسیحائی کراچی

شہادت ہے کہ نہیں؟ علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ سے دریافت کیا گیا تو علامہ نے فرمایا: ”حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس سے گستاخی صرف پیغمبری کی عزت و عظمت کو داغدار نہیں کرتی بلکہ یہ ایمان اور عقیدے کا قتل ہوتا ہے۔ اس قسم کے کسی بھی واقعے کو روکنے کے لیے جو کام بھی کیا جائے وہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ہوتا ہے۔“

O غازی عبدالقیوم شہید:

گستاخ رسول نتھو رام جس نے ۱۹۳۳ء میں ”ہسٹری آف اسلام“ نامی کتاب لکھی۔ جس میں شانِ رسالت میں گستاخانہ اور توہین آمیز الفاظ استعمال کئے۔ غازی عبدالقیوم نے بھری عدالت میں اسے کیفر کردار تک پہنچایا انگریز جج نے اس مرد غازی سے پوچھا کہ بھری عدالت میں واردات کی جرات کیسے ہوئی؟ تو اس نے جارج پنجم کی آویزاں تصویر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ”تم اپنے بادشاہ کی توہین برداشت نہیں کرسکتے ہم اپنے دین و دنیا کے شہنشاہ کی شان میں گستاخ کرنے والے کو کیسے معاف کر دیتا۔“

O غازی محمد حنیف شہید

گستاخ رسول عیسائی ہیڈ مسٹریس گرلز ہائی اسکول بھوپال سے گستاخی رسول کے جرم پر شہر کے مسلمانوں سے معافی مانگنے کو کہا۔ اس نے غازی محمد حنیف کے اس مطالبے کو ٹھکرا دیا تو اس مرد ملت نے اس کو کیفر کردار تک پہنچا کر خود تھانے میں جا کر اس وقوع کا اقبال کیا۔ اور پھانسی کی سزا پائی۔

O غازی محمد صدیق شہید

فیروز پور ضلع قصور کے غازی محمد صدیق شہید کو ۲۰ برس کی عمر میں خواب میں سرور کائنات کی زیارت نصیب ہوئی اور حکم ہوا کہ قصور کے ایک دریدہ دہن گستاخ پالامل زر گر کا منہ بند کیا جائے۔ غازی محمد صدیق نے تعمیل حکم فرمایا۔

صفحہ 204

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 204 ماہنامہ مسیحائی کراچی

آفرین ہے ان کی ماں پر جس نے ان کی سزائے موت کے فیصلے کی خبر سن کر اپنے لختِ جگر کا ماتھا چوما اور کہا: ”یہ ایک بیٹا تو کیا ایسے بیس بیٹے بھی ہوتے تو میں ان سب کو اپنے آقا کے نام پر قربان کر دیتی“۔ بیٹے نے بھی یہی کہا کہ: ”یہ ایک جان کیا چیز ہے ایسی ہزاروں جانیں میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی خاک پر قربان ہیں ۔“ ۶ مارچ ۱۹۳۵ء کو یہ پروانہ رسالت اپنے آقا کے قدموں میں جا پہنچا۔

O غازی میاں محمد شہید

۱۶ مئی ۱۹۳۷ء کو غازی میاں محمد شہید کی قسمت نے پلٹا کھایا۔ ہندو ڈوگرہ نے پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی کر کے ان کی حمیت ایمانی کو للکارا تھا۔ انہوں نے صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا اور اسے کہا کہ اپنی ناپاک زبان سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخانہ جملے کہنے سے باز رہے۔ ہندو ڈوگرہ سپاہی نے جواب دیا کہ: ”اسے روکنے کا کسی کو حق حاصل نہیں“ انہوں نے اپنے (ہندو) حوالدار سے شکایت کی جو بے نتیجہ رہی۔ پھر بعد نماز عشاء انہوں نے اللہ رب العزت سے حوصلہ اور تقدس رسول پر جان قربان کرنے کی توفیق مانگی اور التجا کی کہ میری قربانی منظور فرمائے۔ پھر جاکر اس ڈوگرہ سپاہی کو کیفر کردار تک پہنچا دیا۔

اپنا بیان قلمبند کراتے ہوئے انہوں نے کہا: ”میرا ایک ایک حرف صداقت پر مبنی ہے، میں نے حوالدار سے بھی اس کے گستاخانہ رویے کی شکایت کی تھی اس کی طرف سے مثبت جواب نہ ملا۔ اس کے بعد میرے سامنے صرف دو راستے تھے کہ دولتِ ایمان سے محروم ہو کر بے غیرتی اور بزدلی کی زندگی قبول کر لیتا یا پھر کوئی

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

عملی قدم اٹھاتا۔ میں نے بالآخر دوسری صو رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم اگر را نہیں۔ جس کے حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہو اپنے مقدر پر نازاں ضرور ہوں۔

O غازی عبداللہ شہید

۱۹۳۳ء میں قصور کے رہنے والے خواب میں حکم دیا کہ: ”وہ شیخوپورہ کے نواح میں کرے ۔“ تعمیل فرمان کے بعد اور موت کی س تھا۔ پولیس نے جب یہ منظر دیکھا کہ چہ اطمینان سے بیٹھے ہوئے تھے۔ پولیس کے پوچھا: ”یہ اکیلا آدمی تھا اور تم ڈھیر س چرچل سنگھ کو نہ بچاسکے۔ بلکہ قر سکھوں نے جواب دیا: ”یہ اکیلے نہ تھے ان کے ساتھ تو س سبحان اللہ سبحان اللہ یعنی ثابت ہو آئے تھے۔ سبحان اللہ

O حیدر آباد سندھ کے غازیان

قیام پاکستان سے فقط ایک برس سنگھیوں کا ایک بڑا اجتماع ہوا تھا۔ جس میں

صفحہ 205

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

عملی قدم اٹھاتا۔ میں نے بالآخر دوسری صورت قبول کر لی میری خوشی کی کوئی انتہا نہیں۔ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم اگر راضی ہو جائیں اور تمام دنیا بگڑ بیٹھے تو مجھے کوئی غم نہیں۔ جس کے حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہو گئے اس کا زمانہ ہو گیا۔ مجھے کوئی پچھتاوا نہیں البتہ اپنے مقدر پر نازاں ضرور ہوں۔

O غازی عبداللہ شہید

۱۹۳۴ء میں قصور کے رہنے والے جوان عبداللہ کو سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں حکم دیا کہ:

’’وہ شیخوپورہ کے نواح میں گستاخ رسول چرچل سنگھ کا منہ بند کرے۔‘‘

تعمیل فرمان کے بعد اور موت کی سزا سننے پر دونوں مرتبہ سجدہ شکر بجا لائے۔ سبحان اللہ پولیس نے جب یہ منظر دیکھا کہ چرچل سنگھ کی لاش کے قریب غازی محمد عبداللہ بیحد اطمینان سے بیٹھے ہوئے تھے۔ پولیس کے سپاہیوں نے پاس ہی بیٹھے ہوئے سکھوں سے پوچھا:

’’یہ اکیلا آدمی تھا اور تم ڈھیر سارے، حیرت کی بات ہے تم پھر بھی چرچل سنگھ کو نہ بچا سکے۔ بلکہ قریب آنے کی ہمت بھی نہ کر سکے۔‘‘

سکھوں نے جواب دیا:

’’یہ اکیلے نہ تھے ان کے ساتھ تو مسلح جم غفیر تھا۔‘‘

سبحان اللہ سبحان اللہ یعنی ثابت ہوا کہ فرشتے ان کی نصرت و مدد کو آسمانوں سے اتر آئے تھے۔ سبحان اللہ

O حیدرآباد سندھ کے غازیان امت مسلمہ

قیام پاکستان سے فقط ایک برس پہلے پکا قلعہ حیدرآباد (سندھ) میں ہندو جن سنگھیوں کا ایک بڑا اجتماع ہوا تھا۔ جس میں آٹھ ہزار ہندو شریک تھے۔ اس جلسے میں نہ

صفحہ 206

ماہنامہ مسیحائی کراچی حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

صرف ملت اسلامیہ کو نہ صرف گالیاں دی گئیں بلکہ ان کے ایک گروہ نینوں مہاراج نے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ مبارک میں گستاخی کا ارتکاب کیا۔ عبدالخالق قریشی نامی غیرت مند مسلم جوان نے شاتم رسول کو بروقت جہنم رسید کر دیا۔

عیسائیوں سے توہین رسالت کا جائزہ

گیارہویں، بارہویں اور تیرہویں صدی عیسوی کے دوران مسلمانوں اور مسیحیوں کے درمیان صلیبی جنگوں کے نتیجے میں اہل کلیسا نے اسلام اور پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بہت اہانت آمیز اور گستاخانہ تحریریں منظر عام پر لائیں۔

جو کتاب لکھی، اس کا ایک باب ”اسلام مغربی لٹریچر میں“ ہے۔ جس میں اسلام اور اہل اسلام کے خلاف 29 اقتباسات نقل کئے ہیں۔

فلپ۔کے۔ہٹی نے:

سے اقتباسات لئے ہیں جو ناموس رسالت کے برخلاف ہیں۔ عربی، فارسی اور اردو

صفحہ 207

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

ادب میں کہیں بھی انبیاء سابق کی ناموس کے خلاف کہیں بھی کچھ نہیں ملتا یعنی تعصب وتنگ نظری دیگر مذاہب کے ماننے والوں کا وتیرہ ہے۔ اور بنیاد پرستی اور شدت پسندی کا الزام لگاتے ہیں مسلمانوں پر۔

متحدہ برصغیر پر تسلط کے دوران تحفظ ناموس رسالت کو کیونکہ انگریزی حکومت نے منسوخ کر دیا تھا۔ لیکن مسلمانوں کی غیرت ایمانی زندہ تھی۔ لہذا انہوں نے گستاخان رسول کو کیفر کردار تک پہنچایا۔ اب دشمنان اسلام نے ہمہ جہتی بنیادوں پر ایسی حکمت عملی تیار کی جو ان کی متاع بے بہا یعنی غیرت وحمیت ایمان کو پامال کردے جس میں نمبر 1 حکمت عملی یہ تھی۔

یہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا
روح محمد اس کے بدن سے نکال دو

روح محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بطن مسلم سے نکالنے کی حکمت عملی بہت عیاری اور شاطرانہ تدابیر سے مرتب کی گئی۔

پہلی شاطرانہ تدبیر:

کی گئیں۔ مثلاً اس دور کے علماء و خطباء کو کثیر و خطیر رقوم کی پیشکش کر کے ضمنی اور غیر اہم اختلافات کو ہوا دینے کی سازش کرنا۔

قرار دینا۔

لانے کے لیے درجہ غلو تک پہنچنے کا الزام خود مسلمانوں سے ایک دوسرے کو دلوانا۔

وسلام جو قرآنی آیت کے مطابق حکم باری تعالیٰ ہے علاوہ بدعات حسنہ کے اس کو بدعت قرار دینا ۔

صفحہ 208

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ سچائی کراچی

یہ سارے کام مسلمانوں کو آلہ کار بنا کر ہی کئے گئے۔

دوسری شاطرانہ تدبیر

مسلمان عورت جو ماں، بہن، بیوی، بیٹی کے روپ میں اسلام کے خاندانی نظام کی استقامت میں اور نسلوں کی اسلامی تربیت میں بنیادی کردار ادا کرتی رہی ہے۔ جیسا کہ پیغمبر اسلام حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی قدر ہے: "عورتیں قوم کے ستون ہیں" یعنی دین کا شعور رکھنے والی اور دین پر کار بند خواتین یا مسلمان خواتین کا مطلوبہ کردار و عمل رکھنے والی خواتین ہی راسخ العقیدہ اور سچے مسلمانوں کی نسل نو پروان چڑھا سکتی ہیں۔

سے ”نازن“ ہو جائیں۔

نسواں کے اور مساوات مرد و زن کے غیر فطری اور پُر فریب نعرے سے فریب میں مبتلا کیا گیا۔

سے پردہ اور حیاء سے دور کیا جارہا ہے۔

خواتین کے بجائے ان کے سامنے بے دین، مغرب زدہ اور بے حیا خواتین کو عزت و مناصب عطا کر کے اور اس طرح درپردہ انہیں آئیڈیل بنا دیا جاتا ہے۔ جبکہ دراصل مسلمان خواتین کے سامنے آئیڈیل ہونا چاہیے تھا۔ حضرت بی بی ہاجرہ علیہا السلام کا عمل (جسے اللہ تعالیٰ نے تا ابد ہی شعائر اللہ میں شامل کر دیا) یعنی اپنے بچے یا بچوں کے لیے سعی و جدوجہد کا عمل۔

صفحہ 209

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ سبحانی کراچی

اور اسلام اور فروغ دین کے لیے اپنا مال انفاق اللہ کی راہ میں خرچ کرنا۔

کرنے جیسی صفات کی حامل خواتین ہمارے لیے مثال اور قابل تقلید ہیں ان صفات عالیہ سے عاری خواتین سے جو نسل پیدا ہو گی اس نسل کے بطن میں روحِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کس حد تک جلوہ گر ہو گی؟ خود سوچ لیجئے۔

برصغیر میں لارڈ میکالے کے نافذ کردہ نصاب تعلیم اور مقاصد تعلیم اسلام کے نام پر بنائے جانے والے ملک میں آج تک جاری و ساری ہے۔ بار بار تعلیمی اصلاحات اور تعلیمی پالیسیاں بنائے جانے کے باوجود تعلیمی نظام انتہائی ناقص ہے اور مغربی ممالک کو ہمارے نصاب تعلیم کو مرتب کرنے کا حق دے دیا گیا ہے۔

دولت کی تقسیم میں عدم مساوات کے باعث، معاشرہ انتہائی شرمناک طبقاتی تقسیم کا شکار ہے اور ایک بڑا طبقہ احساس محرومی کا شکار ہے۔

نے جو ثقافتی یلغار کر رکھی ہے۔ اس سے بیشمار معاشرتی بلکہ ہمہ جہتی مقاصد دشمنانِ اسلام حاصل کر رہے ہیں۔ اور اس ”ثقافتی یلغار“ کے باعث مسلمانوں کو نام کا مسلمان اور عملاً اسلام سے دور کر کے مخالفین بڑی حد تک کامیاب ہو رہے ہیں۔

نیست و نابود کیا جا رہا ہے۔ اور ہم بے حسی کے ساتھ خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔

صفحہ 210

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 210 ماہنامہ مسیحائی کراچی

ویلنٹائن ڈے ہم کیوں مناتے ہیں؟

کمپنیوں کی اشتہار بازی نہ صرف پر تعیش زندگی کا رجحان پیدا کرتی ہے۔ بلکہ مارکیٹنگ اور مارکیٹ اکانومی کے ذریعے زیادہ سے زیادہ اشیاء کی خریداری کرنے اور اسراف کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ اسراف (جائز ضروریات پر ایک سے زیادہ خرچ کرنا) مسلمانوں میں یہود، نصاریٰ اور ہنود سے کہیں زیادہ ہے۔

اور اجارہ داریوں کے قیام اور ذخیرہ اندازی کے ذریعے حاصل کردہ دولت سے تبذیر (غیر ضروری، ناجائز اور حرام مدات پر رقوم خرچ کرنا) کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔

السطور) ہنود، یہود و نصاریٰ کے مقاصد حاصل کرنے اور کروانے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔

کے معاشروں میں رائج قانون کی بالادستی، قانون کا یکساں اطلاق اور عملی و سائنسی تحقیق میں عرق ریزی اور انہماک کا ذوق مسلمانوں سے دور ہے۔

نام نہاد حکمران مغربی دنیا خصوصاً یہود و نصاریٰ کی کٹھ پتلی حکومتیں ہیں۔ اور نام نہاد جمہوریتوں، اشرافیہ اور کٹھ پتلی انتظامیہ کے ذریعے استعماری طاقتوں کے جبر کا شکار ہیں اور اقوام متحدہ، ورلڈ بینک اور آئی۔ایم۔ایف کے ذریعے ان کے مستقبل کے ایجنڈے کو پورا کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ اور غریب عوام کو مہنگائی اور ٹیکسز (بالواسطہ) کے بوجھ سے نیم جان کر دیا ہے۔ کاسہ گدائی لے کر ملکوں ملکوں امداد کے طلب گار حکمران عزتِ نفس سے مبرا ہوتے ہیں اور قومیں بھی۔

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

کرنا اور کٹھ پتلی حکمرانوں کے ذریعے ا

کرنے کے بہانے ڈھونڈے جاتے ہیں ڈرامے رچائے جاتے ہیں۔

مسلمان بڑی آسانی سے دھونس، د کر رہے ہیں۔ اور اپنی قوم کے کسی ر

واریت کے ذریعے، نیز صوبائی عصب بددیانتی کروا کے پاکستان کے اتحاد کو

اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس و حرم مسلمان) بھی ملعون سلمان رشد الکونین کے خلاف ناپاک جسار اسے ”سر“ کے خطاب سے نواز

جاتا ہے۔ جبکہ یہود و نصاریٰ کی د گستاخیاں جو اس مقالے کے حص کے ساتھ انتہائی شرمناک سلوک گوانتاناموبے کے جیل کے، یہود و نصاریٰ کے مذہبی رہ

صفحہ 211

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 211 ماہنامہ سبحانی کراچی

کرنا اور کٹھ پتلی حکمرانوں کے ذریعے انسانی حقوق سے محروم کرنے کا عمل جاری ہے۔

کرنے کے بہانے ڈھونڈے جاتے ہیں۔ بلکہ حملے کرنے کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی سے ڈرامے رچائے جاتے ہیں۔

مسلمان بڑی آسانی سے دھونس، دھمکی اور حرص و لالچ میں آ کر ان کے ایجنڈے کو پورا کر رہے ہیں۔ اور اپنی قوم کے کسی ردعمل کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔

واریت کے ذریعے، نیز صوبائی عصبیت کو ابھار کر، صوبوں کے حق اور ترقیاتی اخراجات میں بددیانتی کروا کے پاکستان کے اتحاد کو پارہ پارہ کیا جا رہا ہے۔

اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس و حرمت کے خلاف کبھی ملعون تسلیمہ نسرین (نام نہاد بنگالی مسلمان) کبھی ملعون سلمان رشدی (نام نہاد پاکستانی مسلمان) سے تاجدار دو عالم سید الکونین کے خلاف ناپاک جسارتیں کروائی جاتی ہیں اور انسانی حقوق کی علمبردار ایک حکومت اسے ”سر“ کے خطاب سے نوازتی ہے اور ان کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔

جاتا ہے۔ جبکہ یہود و نصاریٰ کی بنیاد پرستی اور ان پیغمبر مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس کی گستاخیاں جو اس مقالے کے حصہ اول میں مذکور ہیں اور پاکستان کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے ساتھ انتہائی شرمناک سلوک اور سزائیں؟

گوانتاناموبے کے جیل خانے میں بے قصور قیدیوں کے ساتھ سلوک، ان مظالم کے، یہود و نصاریٰ کے مذہبی رواداری کے منہ بولتے ثبوت ہیں۔

صفحہ 212

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 212 ماہنامہ سبحانی کراچی

کہ صرف گزشتہ 40 برس سے بیوٹی پارلرز کا ایک جال بچھا دیا گیا ہے۔ جہاں آرائش و زیبائش کو عورت کا پیدائشی حق بتا کر انہیں ویکسنگ ، تھریڈنگ ، ہیئر اسٹائلنگ ، اور میک اپ کے ذریعے حسین تر بننے کی طرف مائل کیا جاتا ہے۔ اول الذکر دو عمل ایسے ہیں جن کے لیے احادیث مبارکہ میں ایسا کرنے والیوں پر اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے لعنت بھیجی گئی ہے۔

نافع اور مروجہ علمی ترقیوں کے حصول کے لیے اپنے بجٹ میں مختص تعلیمی بجٹ مطلوبہ حد تک بلند نہیں کرتے اور علم و تعلیم کی دوڑ میں پیچھے رہتے ہیں جیسے مسلمان ممالک، وہ جب ترقی یافتہ ممالک سے ٹیکنالوجی لینے کے محتاج ہوں تو اوّل تو ٹیکنالوجی کی درآمد کے ساتھ ساتھ ہمیشہ آئیڈیالوجی (ممالک غیر کی) بھی ان پر اثر انداز ہوتی ہے اور ان ممالک میں درآتی ہے۔ بلکہ ترقی یافتہ ممالک سے نہ صرف اشیائے سرمایہ درآمد کی جاتی ہیں۔ نیز ان کے ساتھ شیور کی مرغی کی فیڈ ، میک اپ کا سامان ، کولڈ ڈرنکس ، ادویات اور بیشمار ایسی اشیاء جن میں حرام اشیاء کی ملاوٹ کا امکان ہے اور یہ اشیاء مسلمانوں میں بے حیائی اور بے غیرتی پیدا کر رہی ہیں۔

گہرائی میں گرا دیتی ہے اور اس میں جذبہ جہاد ختم کر دیتی ہے۔ اور جہاد کی روح اور غیرت ایمانی کا خون ہوتا چلا جاتا ہے۔

عورت کی ستر میں شامل ہیں اور ان کو اسٹائل دینے کا مقصد فتنہ نمود و نمائش کے جذبے کو ابھارنے کا باعث بنتا ہے۔ لہٰذا خلاف شریعت ہے۔

صفحہ 213

2 ماہنامہ سماجی کراچی

ں پاکستان اور عالم اسلام کے ضمن میں یہ بھی ہے غفلت کا ایک جال بچھا دیا گیا ہے۔ جہاں آرائش پلکنگ، تھریڈنگ، ہیئر اسٹائلنگ، اور میک اپ آتا ہے۔ اول الذکر دو عمل ایسے ہیں جن کے لیے اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب کے ساتھ ساتھ سائنس، ٹیکنالوجی اور دیگر علوم لیے اپنے بجٹ میں مختص تعلیمی بجٹ مطلوبہ حد تک رہے ہیں جیسے مسلمان ممالک۔ وہ جب ترقی ں تو اوّل تو ٹیکنالوجی کی دوڑ کے ساتھ ساتھ ن پر اثر انداز ہوتی ہے اور ان ممالک میں درآمداتی ، اشیائے سرمایہ درآمد کی جاتی ہیں۔ نیز ان کے مان، کولڈ ڈرنکس، ادویات اور بیشمار دیگر اشیاء ہے اور یہ اشیاء مسلمانوں میں بے حیائی اور بے زندگی انسان کو عیش و عشرت کی عمیق وادیوں کی ، جہاد ختم کر دیتی ہے۔ اور جہاد کی روح اور غیرت بھی بے پردگی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ اس لیے کہ بال سٹائل دینے کا مقصد فقط نمود و نمائش کے جذبے کو شریعت ہے۔

کے موقع پر آرائش و زیبائش، میک اپ اور سنگھار پر

عریانیت پر ایک نظر اور 213 ماہنامہ سماجی کراچی

(روپیہ دونوں کے لیے) کثیر رقم تبذیر اور اسراف، دونوں گناہوں کا باعث ہیں۔ پھر ایک ایسا ملک جہاں 40 فیصد سے زیادہ افراد خطِ غربت سے نیچے کی زندگی گزار رہے ہیں وہاں یہ فضول خرچی اور عیاشی سراسر اسلامی اخلاق کے خلاف ہے۔ اور اس گناہ میں بلا امتیاز ہر فرقے کی خواتین مبتلا ہیں۔ اور یہود و نصاریٰ کے لیے ”بیوٹی پارلرز“ کا یہ سیلاب ہم خرمہ و ہم ثواب کا باعث ہے۔ کاسمیٹک انڈسٹری کے لیے ہمارا ملک ان کی بہترین مارکیٹ ہے اور مزید یہ کہ ان بیوٹی پارلرز سے استفادہ اسلامی روح کو غفلت کی نیند سلانے اور عریانی و بے پردگی کے رجحان کو پروان چڑھانے کا آسان ذریعہ ہے۔

ہزاروں اور اعلیٰ آمدنی والے طبقے میں لاکھوں تک خرچ کی جانے والی رقم تبذیر کا گناہ نہیں تو اور کیا ہے؟ اور تبذیر کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں۔

فاقہ کش جائز اور ناجائز آمدنی حاصل کر کے عیش کی زندگی گزارنے پر آمادہ ہیں اور روحِ محمدی کو ان کے بدن سے نکالنے میں کیا ہمارے دشمن پوری طرح کامیاب ہیں یا نہیں؟ ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے اور ان ہمہ جہت و ہمہ گیر سازشوں سے اور حکمت عملیوں اور پالیسیوں پر عمل درآمد، اور مستعدی سے کاربندیوں سے یہ ہوا کہ

موجودہ دور میں شان رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں گستاخی:

ناروے کے ایک اخبار نے 10 جنوری 2006ء کو مسلمانوں کے نبی اکرم حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے (نعوذ باللہ) دلخراش کارٹون بنا کر مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے کے لیے شائع کئے۔ اس اخبار کی دیکھا دیکھی فرانس اور پھر جرمنی کے اخبارات نے بھی ایسی ہی ناپاک حرکات کیں۔ ان ممالک کی حکومتوں نے نام نہاد آزادی صحافت کا نام دے کر ان گستاخان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اعزازات سے نوازا۔ اور ان اخبارات کے خلاف کوئی قدم اٹھانے سے انکار کر دیا۔

صفحہ 214

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 214 ماہنامہ مسیحائی کراچی

مسلمانان عالم اس قسم کی بے حرمتی اور گستاخان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حرکتوں پر سراپا احتجاج بن گئے مگر اہلِ ایمان کے کردار و عمل میں مندرجہ بالا جو کمزوریاں پیدا ہو چکی ہیں ان کے لیے کیونکہ نہ تو کوئی حقیقی حکمت عملیاں بنائی گئیں نہ اپنی جمعیت میں جذب باہمی کی شعوری کوششیں کی گئیں۔ نہ مسلمان ممالک کے نام نہاد حکمرانوں نے امت مسلمہ کے اجتماعی ردعمل کے مطابق کوئی حکمت عملی گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے نبرد آزما ہونے کے لیے اختیار کی۔ المختصر کہ حبل اللہ (اللہ کی رسی) کو جب (یعنی قرآن حکیم اور سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع سے بے بہرہ) مضبوطی سے امت نے نہ تھام رکھا ہو تو دشمنان اسلام جانتے ہیں کہ یہ احتجاج کیونکر موثر ہو سکتا ہے۔ آج کا مسلمان اہلِ ایمان کا سا عمل نہی رکھتے یہ صرف احتجاج ہی کر سکیں گے۔ وہ اہلِ ایمان جو جہاد اکبر یعنی اپنے نفس سے جہاد نہیں کر سکتے بھلا جہاد اصغر کیونکر کریں گے؟ و خرافات کی عمیق گہرائیوں میں طاغوتی قوتوں کی سازشوں کی بدولت گرتے چلے جا رہے ہیں۔ جہاد تو وہ کر سکتے ہیں جو نفس کے جہاد میں ہمہ وقت مصروف رہیں۔

مسلمانوں کو چاہئے تو یہ تھا کہ اہل یورپ کا معاشی بائیکاٹ کریں اور ان سے تجارت بند کر دیں ان سے اشیاء کی درآمد نہ کریں۔ توہین رسالت کے مرتکب ممالک سے ہر ہر طرح سے کاروباری بین الاقوامی تجارتی تعلقات منقطع کر دیں۔ لیکن عملاً کوئی حکمت عملی نہ اختیار کی گئی۔ مسلمانوں کو دنیا کی سب سے طاقتور کمیونٹی ہونا چاہیے تھا۔ تاہم ان میں اتحاد نہ ہونے کے باعث وہ کمزور ہیں۔

مسلمان ممالک کے حکمران مسلم امہ کے احساسات و جذبات کی ترجمانی اور پاسبانی نہیں کرتے۔ انہیں صرف اور صرف اپنے مفادات اور اپنا اقتدار عزیز ہے۔ امت مسلمہ کو جاگنا ہوگا، اپنے اندر اسلامی تعلیمات و اقدار کو حیات نو دینا ہو گی اور بقول علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ:

محمد کی محبت دین حق کی شرط اول ہے
اسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نامکمل ہے
صفحہ 215

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 215 ماہنامہ مسیحائی کراچی

محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے مراد حقوق نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں:

اللہ تعالیٰ ہمیں ان حقوق محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کی ادائیگی کی توفیق و سعادت عطا فرمائے اور ہم حبل اللہ کو مضبوطی سے تھام لیں تو طاغوتی قوتیں گستاخی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی جرأت نہیں کر سکیں گی اور اگر وہ یہ ناپاک جسارت کریں تو ہم حقیقی طور پر ان کو منہ توڑ جواب دینے کے اہل ہوں گے۔ ان شاء اللہ

کیونکہ میرا ایمان ہے کہ مندرجہ بالا تمام تر کمزوریوں کے باوجود بقول شاعر

بتلا دو گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے
ان پہ مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے

جب درج بالا کمزوریوں کا ادراک اور تشخیص امت کی ایک ناچیز خاتون بھی کر سکتی ہے تو ان شاء اللہ اس امت کے افراد ان کا سدِ باب بھی جلد ہی کر لیں گے۔ اللہ ہماری مدد و نصرت فرمائے۔ آمین۔

صفحہ 216

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ سلیمانی کراچی

اللہ اللہ موت کو کس نے مسیحا کر دیا

خود نہ تھے جو راہ پر اوروں کے ہادی بن گئے
کس نے ذروں کو اٹھایا اور صحرا کر دیا
کس نے قطروں کو ملایا اور دریا کر دیا
زندہ ہوجاتے ہیں جو مرتے ہیں ان کے نام پر
اللہ اللہ موت کو کس نے مسیحا کر دیا
آدمیت کا غرض ساماں مہیا کر دیا
اک عرب نے آدمی کا بول بالا کر دیا
خود نہ تھے جو راہ پر اوروں کے ہادی بن گئے
کیا نظر تھی جس نے مردوں کو مسیحا کر دیا
تیری حکمت نے یتیموں کو کیا دُرِّ یتیم
اور غلاموں کو زمانے بھر کا مولا کر دیا
کہہ دیا لا تقنطوا آکر کسی نے کان میں
اور دل کو سر بسر محوِ تمنا کر دیا

(شاعر: اختر ، انتخاب: محمد طیب طوفانی، سرائے نورنگ)

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

حرمت و عظمت ر

سرکار دو جہاں، محسن انسا المرسلین، رحمت العالمین، خاتم ا محبت ایمان کی اساس اور د ہے۔ ہمارا ایمان ہے اور ح لئے دنیا کو خلق کیا اور ان کے و بقول ”نگاہ عشق ومستی میں وہی طیبہ نمونہ عمل قرار پائی۔ آپ اور اسے ایمان کا لازمی جزو قر اولاد اور حضرت محمد رسول اللہ نہیں ہے کوئی اللہ کے سوا اور حرمت ہے کہ انہیں خاتم النبی آخری اور افضل دین قرار دیا جو اس دین سے بہرہ ور نہیں اور دور جہالت میں عربی زبا اسے ابو جہل (جہالت کا با وابستہ ہیں اور اس کی شہاد ہے کہ اس بھری دنیا میں اسلا انسانیت کو چین وسکون نصی راہ حیات متعین کر دی تھی او

صفحہ 217

حرمت رسول نمبر 2012ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

حرمت و عظمت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور درود شریف

سید انور قدوائی

چیف ایڈیٹر الجامعہ محمدی شریف جھنگ

سرکار دو جہاں ، محسن انسانیت ، رہبر آدمیت ، سید عرب و عجم ، فخر دو عالم ، امام الانبیاء، سید المرسلین ، رحمت العالمین ، خاتم النبیین ، حضرت محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عقیدت و محبت ایمان کی اساس اور دین کی بنیاد ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت و محبت دین کا لازمی تقاضا ہے۔ ہمارا ایمان ہے اور حق بھی یہ ہے کہ رب کائنات نے اس مقدس ہستی کی اطاعت و محبت کے لئے دنیا کو خلق کیا اور ان کے دین کو ’اسلام‘ یعنی امن و سلامتی کا دین قرار دیا۔ علامہ اقبالؒ کے بقول ”نگاہ عشق و مستی میں وہی اول وہی آخر“ ہیں۔ انہیں انسانیت کا محسن قرار دیا اور ان کی حیات طیبہ نمونہ عمل قرار پائی۔ آپ ﷺ کی حرمت اور عظمت یہ ہے کہ رب کائنات نے ان پر درود بھیجا اور اسے ایمان کا لازمی جزو قرار دیا کہ نماز میں ہر مسلمان دن میں پانچ بار حضرت ابراہیم ؑ اور ان کی اولاد اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ان کی آل پر درود بھیجتا ہے اور اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ نہیں ہے کوئی اللہ کے سوا اور محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ﷺ ہیں۔ یہ بھی ان کی عظمت و حرمت ہے کہ انہیں خاتم النبیین قرار دیا گیا کہ ان کے بعد کوئی اور نبی نہیں آئے گا اور ان کا دین آخری اور افضل دین قرار دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے خود اس کا نام اسلام تجویز فرمایا اور یہ فیصلہ کر دیا کہ جو اس دین سے بہرہ ور نہیں ہے یا اس کا منکر ہے وہ جاہل ہے۔ عمر بن ہشام قبیلہ قریش کا سردار تھا اور دور جہالت میں عربی زبان کا ایک عالم جانا جاتا تھا لیکن وہ دین اسلام سے منکر تھا اس لئے اسے ابو جہل (جہالت کا باپ) قرار دیا گیا۔ کائنات کی تمام حرمت و عظمت اسم محمد ﷺ سے وابستہ ہیں اور اس کی شہادت قرآن ہی نہیں دوسرے مذاہب بھی دیتے ہیں۔ تاریخ شہادت دیتی ہے کہ اس بھری دنیا میں اسلام ہی امن و سلامتی کا دین ہے اور یہ قرار دیا گیا کہ اس پر ہی عمل کر کے انسانیت کو چین و سکون نصیب ہو سکتا ہے۔ اس نے آج سے چودہ سو سال قبل انسانیت کے لئے جو راہ حیات متعین کر دی تھی اس پر نام نہاد ترقی یافتہ دنیا نے مہر تصدیق ثبت کی ہے۔ اقوام متحدہ کا

صفحہ 218

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 218 ماہنامہ سبحانی کراچی

انسانی حقوق کے چارٹر کا بڑا شہرہ ہے لیکن اس بات کا اعتراف بھی کیا گیا ہے سرور کائنات ﷺ نے خطبہ الوداع میں جو چارٹر پیش کیا تھا آج کا یہ چارٹر اس سے اخذ کیا گیا ہے۔ مغربی دنیا میں آج جمہوری نظام کو مثال بنا کر پیش کیا جاتا ہے اور یونانی تہذیب کے دور میں ایتھنز میں رائج نظام کو اس کی بنیاد اور سقراط کی ایک کتاب ڈیمو کریسی کو اس کی ابتداء قرار دیا جاتا ہے جبکہ ہند کے دور تہذیب کے ایک اوتار سدھارتھ ۔ مہاتما بدھ نے گیان کے بعد اپنی ریاست کپل وستو میں کونسل آف ایلڈرز قائم کر کے جو نظام حکومت قائم کیا تھا کو جمہوریت کی ابتدا قرار دیا جاتا ہے۔ بدھ مت زمانہ قبل از مسیح بھارت ورش اور مشرق وسطیٰ میں پھیلا۔ بھارت ورش میں ایک جنگ کی تباہی و بربادی دیکھ کر بھارت کا ایک بادشاہ اشوکا بدھ ہو گیا تھا لیکن کپل وستو ہو یا ایتھنز کا نظام حکومت کو کسی صورت عوامی اور جمہوری نظام قرار نہیں دیا جا سکتا جبکہ سرور کائنات ﷺ نے مکہ سے ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں پہلی جو اسلامی ریاست قائم کی اسے آج کے جدید دور کی پہلی فلاحی عوامی حکومت قرار دیا جا سکتا ہے۔ سرور کائنات ﷺ نے صحابہ کرام سے مشاورت کر کے اہم فیصلے کئے قرآن پاک میں آپس میں مشاورت کرنے کا حکم دیا گیا۔ جرم وسزا کا ایسا نظام مرتب کیا گیا جو آج بھی مشعل راہ ہے۔ رابطہ عالم اسلامی کے سربراہ مرحوم معروف دوالبی نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ 1930ء اور 1932ء میں سعودی عرب میں بدوؤں نے حجاج کے قافلے لوٹنے شروع کر دیئے تو اس وقت شدید تشویش لاحق ہوئی اور باہمی مشاورت سے سعودی حکومت نے اسلامی سزائیں نافذ کیں ان کا کہنا تھا کہ اس کی برکت تھی کہ اس کے بعد سعودی عرب میں لوٹ مار کی کوئی واردات نہیں ہوئی۔ یہ پہلا تعزیر کا نظام ہے جس میں اصلاح کا پہلو موجود ہے۔

قرآن پاک نے رسول ﷺ پر درود بھیجا ہے اور اسے ایمان کا لازمی جزو قرار دیا ہے۔ علماء کرام اور مشائخ عظام کا کہنا ہے کہ درود شریف اسم اعظم ہے۔ اس کے ذکر سے انسان کی تمام تکالیف دور ہو جاتی ہیں اور اللہ کی رحمت و برکت نازل ہوتی ہے۔ علامہ راغب احسن تحریک پاکستان کے ایک ممتاز رہنما قیام پاکستان سے قبل انڈین پارلیمنٹ کے رکن اور قائد اعظم کے قریبی ساتھی تھے میرے والد محترم سید امیر الدین قدوائی سے ان کے حقیقی بھائیوں جیسے تعلقات تھے 1947ء میں تقسیم کے بعد وہ کلکتہ میں مقیم تھے بنگالی حکومت نے ان کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کئے ایک عمارت کی چوتھی منزل پر ان کی رہائش تھی کھڑکی سے نیچے دیکھا تو پولیس عمارت کا گھیرا

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

ڈال رہی تھی میرے والد کے نام ایک م کے لئے عمارت میں داخل ہو گئے، ان کہ درود شریف اسم اعظم ہے۔ اس شریف پڑھنا شروع کر دیا اور عما بخوبی پہچانتے تھے راستے میں میرا اور وہ اوپر چلے گئے۔ ایسا لگتا تھا ک نیچے کھڑے پولیس والوں کے ور ڈھاکہ آ گیا۔ یہ حرمت و عظمت ہے۔

اسی طرح قرآن پاک کا ایک ا ہے کہ اللہ کا یہ کلام وحی کے ذریعہ کے ارشادات جنہیں ہم حدیث و جانب سے ہے لیکن الفاظ یا زبان مقررہ اصولوں، قرآن اور آزمود اور نظام مرتب کیا جائے وہ مکمل او صلاحیت کیوں نہ ہو ’پرفیکٹ‘ نہیں گا یہی وجہ ہے کہ تمام تر دعوؤں رائج نہیں ہو سکا امریکہ اور یورپ رکن بننا تو درکنار کسی بڑے کلب کا درس دینے والا یہ ملک ترقی یا خون سے کھیل رہا ہے۔ بھارت تھے برطانیہ کی ایڈنبرا یونیورسٹی کے کی بات ہے جب ویت نام جنگ ہے ایک طرف انسان چاند پر

صفحہ 219

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

ڈال رہی تھی میرے والد کے نام ایک مراسلہ میں انہوں نے لکھا کہ پولیس افسر مجھے گرفتار کرنے کے لئے عمارت میں داخل ہو گئے ، ان کا کہنا کہ اس وقت مجھے آپ یاد آئے کہ آپ کہا کرتے تھے کہ درود شریف اسم اعظم ہے۔ اسے پڑھا کرو تمام تکالیف دور ہو جائیں گی چنانچہ میں نے درود شریف پڑھنا شروع کر دیا اور عمارت کی سیڑھیاں اترنے لگا۔ کلکتہ کا ایس پی اور دوسرے افسر مجھے بخوبی پہچانتے تھے راستے میں میرا ان سے آمنا سامنا ہوا میں ان کے درمیان سے گزر کر نیچے آ گیا اور وہ اوپر چلے گئے ۔ ایسا لگتا تھا کہ وہ اندھے ہو گئے تھے مجھے دیکھا لیکن میں انہیں نظر نہیں آیا ۔ نیچے کھڑے پولیس والوں کے درمیان سے گزر کر میں ایئر پورٹ پہنچا اور وہاں سے بخیریت ڈھاکہ آ گیا ۔ یہ حرمت وعظمت رسول اللہﷺ کی ایک روشن مثال اور درود شریف کی کرامت ہے۔

اسی طرح قرآن پاک کا ایک ایک حرف حرمت وعظمت رسولﷺ سے انتساب ہے یہی وجہ ہے کہ اللہ کا یہ کلام وحی کے ذریعہ ”اللہ کی زبان“ میں رسول پاکﷺ پر اتارا گیا اور رسول اللہﷺ کے ارشادات جنہیں ہم حدیث کہتے ہیں اسے وحی غیر متلوی کہا جاتا ہے کہ اگرچہ یہ بھی اللہ کی جانب سے ہے لیکن الفاظ یا زبان سرور کائناتﷺ کی ہے اس طرح اللہ کی جانب سے دیئے گئے مقررہ اصولوں ، قرآن اور آزمودہ تدبیروں (سنت رسولﷺ) ہی سے جو اسلامی، فلاحی معاشرہ اور نظام مرتب کیا جائے وہ مکمل اور رحمت و برکت کا نظام ہوگا اس کے علاوہ کوئی چاہے کتنا ذہین، با صلاحیت کیوں نہ ہو ”پرفیکٹ یعنی مکمل“ سسٹم ترتیب نہیں دے سکتا اس میں کمی اور خلاء موجود رہے گا یہی وجہ ہے کہ تمام تر دعوؤں کے باوجود کسی بھی ترقی یافتہ ملک میں مثالی جمہوری، عوامی سسٹم رائج نہیں ہو سکا امریکہ اور یورپ میں اشرافیہ کی ہی بالا دستی ہے کوئی عام آدمی سینٹ، کانگریس کا رکن بننا تو درکنار کسی بڑے کلب ہوٹل میں جانے کا تصور نہیں کر سکتا اور دنیا میں انسانی بنیادی حقوق کا درس دینے والا یہ ملک ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک میں بالا دستی قائم کرنے کے لئے خود آگ و خون سے کھیل رہا ہے۔ بھارت کے آنجہانی صدر ڈاکٹر رادھا کرشنن جو ایک عالم اور فلسفی شخصیت تھے برطانیہ کی ایڈنبرا یونیورسٹی کے سالانہ جلسہ تقسیم اسناد سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا یہ ان دنوں کی بات ہے جب ویت نام جنگ عروج پر تھی سرد جنگ کا زمانہ تھا کہ انسانی ذہن نے بڑی ترقی کی ہے ایک طرف انسان چاند پر چہل قدمی کر رہا ہے زمینی خلائی جہاز کائنات کو مسخر کرنے میں

صفحہ 220

ماہنامہ سبحانی کراچی

مصروف ہیں جبکہ دوسری جانب یہ حال ہے کہ ویت نام میں انسانیت کا خون بہہ رہا ہے۔ کوریا میں جنگ جاری ہے انسان اپنی دنیا میں کھڑا ہو کر چلنے کے قابل نہیں ہورہا، اس سارے فساد کی جڑ یہی ہے کہ انسان مجبور محض ہونے کے باوجود زمین پر خدا بن بیٹھا ہے وہ یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ وہ سب کچھ کر سکتا ہے زمین پر حکمرانی قائم کر سکتا ہے اور اس اختیار و اقتدار نے اسے اندھا کر دیا ہے اسے احساس ہی نہیں ہے کہ موت اس کا پیچھا کر رہی ہے جبکہ سنت رسول اللہ ﷺ یہ ہے کہ سب کچھ اللہ کا ہے اور انسان نے اس دنیا میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات کو نافذ کرنا ہے اس کی حیثیت حکمران بادشاہ کی نہیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے نمائندہ کی ہے امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا ارشاد ہے کہ موت انسان کا پیچھا کر رہی ہے جبکہ مومن وہ ہے جو موت کا تعاقب کرتا ہے۔ کسی نے امیر المومنین سے سوال کیا کہ انسان بڑا با اختیار ہے تو ارشاد ہوا کہ ہاں اس نے پوچھا کہ کتنا اختیار ہے جناب علی کرم اللہ وجہہ نے کہا ایک ٹانگ پر کھڑے ہو جاؤ اس نے ایسا کیا تو ارشاد ہوا کہ اب دوسری ٹانگ پر کھڑے ہو جاؤ۔ اس نے کہا کہ ایسا ممکن نہیں ہے فرمایا کہ بس اتنا ہی بااختیار ہے۔ اس جہان فانی میں سارے جنگ وجدل کی وجہ یہی ہے کہ لوگ اللہ کے بتائے ہوئے راستے سے بھٹک گئے ہیں ہمارا ایمان ہے کہ اسلام ہی سلامتی، رحمت، فلاح کا راستہ دکھاتا ہے اور تڑپتی، بلکتی انسانیت کو اس وقت چین وسکون نصیب ہوگا جب وہ اسلام کے سچے اصولوں پر عمل کرے گی اور یہی حرمت وعظمت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے تاریخ کے اوراق الٹ کر دیکھیں جس قوم نے ان سنہرے اصولوں میں سے جس کو اپنایا اس کو برکت حاصل ہوئی۔

﴿قرآن کریم﴾

قرآن مجید اور اسلام میں کچھ مخصوص مصطلحات ہیں انہیں سمجھنا قرآن فہمی کی اولین شرط ہے جب تک ان پر عبور نہیں ہوتا ہم پر قرآن مجید کی وہ حقیقتیں نہیں ابھر سکتیں جن کی پہنائیوں میں اسلامی غلبہ واقتدار کے مطالب پنہاں ہیں۔

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

حضور اکرم صلی اللہ

قرآن مجید میں ارشاد ربانی النبی اولی بالمومنین ”بلاشبہ نبی مومنوں کے یعنی اہل ایمان کے ساتھ قریب بھی ہوتا ہے۔ مطلب زیادہ قریب ترین ہے۔ آق مومنین کا نور ایمان اس کی ایمانی وجود اپنے منبع اور مر دھوپ کے زیادہ قریب تر ہو جسم کا ایک حصہ ہے اس لئے کے وجود کے اقرب ہے لہذا ایک تار سا نکل کر ہر اہل ایما جائے تو انسان عظیم سعادت اس طرح یوں کہہ سکتے سایہ اور عکس ہے نبی روحی نبی کا روحانی وجود امت اگر ساری دنیا سے بڑھ کر کا حق تعظیم سب سے زیادہ

صفحہ 221

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۲ء 221 ماہنامہ سبحانی کراچی

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہمارے تعلق کی بنیادیں

ڈاکٹر حافظ حقانی میاں قادری

ڈائریکٹر اسلامک سینٹر کنیکٹیکٹ (امریکہ)

قرآن مجید میں ارشاد ربانی ہے:

النبی اولی بالمومنین من انفسہم

”بلاشبہ نبی مومنوں کے لیے ان کی اپنی ذات سے بھی مقدم ہیں۔“

یعنی اہل ایمان کے ساتھ نبی کو ان کی جانوں سے بھی زیادہ تعلق اور لگاؤ ہے اولیٰ کا معنی قریب بھی ہوتا ہے۔ مطلب وہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا نبی مومنوں سے ان کی جانوں سے بھی زیادہ قریب ترین ہے۔ آفتاب نبوت صلی اللہ علیہ وسلم سے نور ایمان کی جو کرنیں پھوٹتی ہیں مومنین کا نور ایمان اسی کی ایک شعاع ہے اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو ایک بندۂ مومن کا ایمانی وجود اپنے منبع اور مخزن سے وابستہ ہے جس طرح سورج حسی طور پر اپنے نور سے دھوپ کے زیادہ قریب تر ہے یا ایک اور مثال سے اس کو یوں سمجھیں کہ بیٹے کا جسم باپ کے جسم کا ایک حصہ ہے اس لیے یہ کہنا بالکل صحیح ہے کہ باپ کا وجود بیٹے سے بہ نسبت خود بیٹے کے وجود کے اقرب ہے اور صاحب ابریز کے الفاظ کے مطابق پیغمبر کے قلب اطہر سے ایک تار سا نکل کر ہر اہل ایمان کے قلب کے ساتھ آکر مل جاتا ہے اگر یہ تار یعنی تعلق ٹوٹ جائے تو انسان عظیم سعادت سے محروم ہو جاتا ہے۔

اس طرح یوں کہہ سکتے ہیں کہ نبی کا ایمانی وجود اصل میں اور امت کا ایمانی وجود اس کا سایہ اور عکس ہے نبی روحانی باپ اور امت روحانی اولاد ہوتی ہے۔

نبی کا روحانی وجود امت کے اپنے وجود سے بھی نزدیک تر ہے باپ کا فطری اور طبعی تعلق اگر ساری دنیا سے بڑھ کر ہے اور اس کی پوری شفقت سب سے بڑھ کر ہونے کی وجہ سے اس کا حق تعظیم سب سے زیادہ ہے تو احادیث کی کتب میں وارد:

صفحہ 222

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 222 ماہنامہ سبحانی کراچی

انما انا لكم بمنزلة الوالد کی رو سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی شفقت و محبت بھی ساری دنیا سے بڑھ چڑھ کر ہونے کی وجہ سے آپ کا حق تعظیم واطاعت بھی سب سے بڑھ چڑھ کر ہے۔ تمام انبیاء علیہم الصلوٰۃ والتسلیمات اپنی اپنی امتوں کے روحانی باپ ہیں اس لیے حضرت ام سلمہؓ فرماتی ہیں: انا ام الرجال والنساء ”میں مسلمان مرد و عورت سب کی ماں ہوں۔“

ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے اور ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ باپ کے ذریعے اگر ہمیں عارضی جسمانی حیات ملی ہے تو امام الاولین والآخرین سید الانبیاء والمرسلین جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت کبریٰ کی بدولت جاودانی زندگی عطا ہوئی ہے۔ حاصل یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مسلمانوں سے اور مسلمانوں کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے جو تعلق ہے وہ تمام دوسرے انسانی تعلقات سے ایک بالاتر نوعیت اور کیفیت رکھتا ہے کوئی رشتہ اس رشتے سے کوئی تعلق اس تعلق سے جو نبی اور اہل ایمان کے درمیان ہے ذرہ برابر بھی کوئی نسبت نہیں رکھتا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کی اپنی ذات سے بھی بڑھ کر ہم سب کے خیر خواہ ہیں۔

لوگوں کے ماں باپ ان کے بیوی بچے تو ان کو نقصان پہنچا سکتے ہیں ان کے ساتھ خود غرضی برت سکتے ہیں ان کو گمراہ کر سکتے ہیں ان سے غلطیوں کا ارتکاب کرا سکتے ہیں ان کو جہنم میں دھکیل سکتے ہیں مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مومنین کے حق میں صرف وہی بات کرتے ہیں جس میں ان کی کامیابی و کامرانی اور فلاح و بہبود ہو لوگ اپنے پاؤں پر خود کلہاڑا مار سکتے ہیں۔ حماقتیں کر کے اعمال بد کر کے اپنے ہاتھوں اپنا نقصان کر سکتے ہیں کیوں کہ انسانی نفس دو حالتوں سے خالی نہیں ہو سکتا اگر نفس انسانی برا ہے تو اسے نفس امارہ بالسوء کہا جائے گا اور ا گر نفس انسانی اچھا ہے تو اسے نفس لوامہ یا نفس مطمئنہ کہا جائے گا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو سراپا خیر ہیں وہ مومنین کے ہمیشہ خیر خواہ اور خیر اندیش ہی ہیں۔

جہاں تک نفس امارہ کا تعلق ہے تو ظاہر ہے کہ وہ تو کسی درجے میں بھی خیر خواہ یا ہمدرد نہیں ہو سکتا اس لیے اس کے حقوق کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا البتہ نفس لوامہ یا نفس مطمئنہ بے

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

شک ہمدرد اور خیر خواہ ہے مگر ا باتیں اس پر مخفی رہ سکتی ہیں۔ ا اور اس کا دائرہ کار محدود ہے لہذا اس کے برخلاف پیغمبر صلی لیے وہی تجویز کریں گے جو ا بخش ہوگا۔

جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ شفقت ورحمت میں بھی نائب سے اول ہوا اسی لیے ہماری جا نبی جان مانگیں تو جان دینا شر لے لیں تو خودکشی حرام موت ہ اسراف۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ سے حتیٰ کہ جان و مال سے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ما آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس مکمل اتباع واطاعت کریں۔

کوئی شخص اس وقت تک مو سب لوگوں سے زیادہ نہ ہو

شخص اس وقت تک مومن کر دے جس کو میں لایا ہو

صلی اللہ علیہ وسلم حضرت

صفحہ 223

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 223 ماہنامہ مسیحائی کراچی

شک ہمدرد اور خیر خواہ ہے مگر اس کا علم ناقص اور نا تمام و نا مکمل ہونے کی وجہ سے بہت سی باتیں اس پر مخفی رہ سکتی ہیں۔ اس لیے اگر وہ خیر سگالی کرنا بھی چاہے تو بہت حد تک مجبور ہے اور اس کا دائرہ کار محدود ہے لہٰذا اس پر کسی حد تک بھروسہ کیا جا سکتا ہے؟؟؟ اس کے برخلاف پیغمبر صدق و صفا جناب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے، وہ ان کے لیے وہی تجویز کریں گے جو فی الحقیقت مومنین کے لیے فائدہ مند اور ان کے حق میں نفع بخش ہوگا۔

جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہدایت میں اللہ کے نائب ہیں تو علم میں بھی نائب ہیں شفقت و رحمت میں بھی نائب ہیں۔ ہمدردی اور راحت میں بھی نائب ہیں اب ان کا حق سب سے اول ہوا اسی لیے ہماری جان و مال میں خود ہمیں تصرف کا اتنا حق نہیں ہے جتنا پیغمبر کو ہے نبی جان مانگیں تو جان دینا شہادت، مال مانگیں تو مال اللہ کے ذمہ قرض۔ ہم اگر اپنی جان خود لے لیں تو خودکشی حرام موت اگر ہم ان کی مرضی کے خلاف مال خرچ کریں تو فضول خرچی اور اسراف۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سب سے بڑھ کر ہیں تو سب سے عزیز تر ہیں ہر چیز سے حتیٰ کہ جان و مال سے بھی زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہونی چاہیے۔ اپنی رائے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے کو اپنے فیصلے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کو ترجیح ہونی چاہیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حد درجہ کی خیر خواہی کا منطقی تقاضا یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مکمل اتباع و اطاعت کریں۔ اس پہلو پر درج ذیل احادیث روشنی ڈالتی ہیں:

کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا کہ جب تک اس کو میری محبت، اولاد، والدین اور سب لوگوں سے زیادہ نہ ہو۔

شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنی خواہش نفس کو اس چیز کے تابع نہ کردے جس کو میں لایا ہوں۔

صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمرؓ کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے۔ حضرت عمرؓ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی

صفحہ 224

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 224 ماہنامہ مسیحائی کراچی

اللہ علیہ وسلم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے نزدیک، میری اپنی جان کے علاوہ ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے جب تک میں تمہارے نزدیک تمہاری جان سے بھی زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں تم مومن نہیں ہو سکتے حضرت عمرؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اللہ کی قسم! اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے نزدیک میری جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عمر اب تم صحیح کامل مومن ہو۔

شفیق تر ہوں ان کے اپنے نفسوں سے اور ان کے آباء سے۔

آج ہمارا حال یہ ہے کہ ہم نے احکام نبوی صلی اللہ علیہ وسلم روگردانی اور سرکشی پر کمر باندھ رکھی ہے۔ کفار و مشرکین یہود و ہنود اور نصاریٰ کی رسموں اور عادتوں کو اپنا رہے ہیں ان ہی کا راگ الاپ رہے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ان باطل قوتوں اور طاقتوں کی طرف سے یہ پیغام ، حکم اور دھمکی آ رہی ہے کہ اپنے نبی کی محبت سے بھی دست برداری کا اعلان کر دو۔

ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اسلام دشمنی میں جان بوجھ کر یا انجانے میں دشمنان دین و دشمنان ملت اسلامیہ کا ساتھ نہ دیں اور ان کی چالیں اور سازشوں کو سمجھنے کی کوشش کریں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے تعلق کی بنیاد مضبوط بنانے والے سب سے پہلے اصحاب کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تھے۔ جو صحیح معنیٰ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے والے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرنے والے تھے ناموس رسالت اور حرمت رسالت کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے والے تھے۔

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی پاکیزہ زندگی کے ہزاروں پہلو ہیں وہ کیسے نبی کی ذات سے محبت کرنے والے تھے۔ اتباع سنت کرنے والے تھے، دین کی کیسی تڑپ ان کے سینوں میں تھی کیسے امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرنے والے تھے کیسے دین کے لیے نکلنے والے تھے دین کے لیے کیسی کیسی سختی بھوک اور پیاس برداشت کرنے والے تھے۔ کیسے دین کی نصرت کرنے والے تھے کیسے راتوں کو اللہ کے حضور آہ وزاری کرنے والے تھے۔ کیسے جہاد کرنے والے تھے اور کس طرح گستاخ رسول کو کیفر کردار تک پہنچانے والے تھے۔

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

حضرت جابر بن عبداللہؓ فرماتے ہیں کہ بن اشرف کا کام تمام کردے کیوں کہ اس ن ہے؟ تو محمد بن مسلمہ نے کھڑے ہو کر عر اللہ علیہ وسلم چاہتے ہیں کہ میں اسے قتل کر انہوں نے کہا کہ مطلقاً کچھ کہنے کی مجھے اجا ٹھیک ہے تم کہہ سکتے ہو چنانچہ حضرت م اشرف کے پاس گئے اور اس سے کہا اس سے صدقہ کا مطالبہ کیا ہے اور مشکل میں ڈ تمہارے پاس قرضہ لینے آیا ہوں ۔ اس اللہ کی قسم ایک نہ ایک دن تم اس سے بیز اتباع شروع کر چکے ہیں اس لیے ابھی ہ ہیں کہ آخر ان کا انجام کیا ہوتا ہے؟ ت ادھار دے دو۔ (ایک وسق ساٹھ صا ۔ کعب نے کہا ہاں میں ادھار دے س حضرات نے کہا تم رہن میں کیا چیز ر رہن رکھ دو۔ ان حضرات نے کہا ہم تو ع تمہارے پاس اپنی عورتیں کیسے رہن رکھ دی رہن رکھ دو۔ ان حضرات نے کہا ہم اپ انہیں یہ طعنہ دیا کریں گے کہ یہ وہی تو ہی تھا۔ یہ ہمارے لیے بڑی عار کی بات ہ ہیں۔ حضرت محمد بن مسلمہ نے اس سے و کے رضاعی بھائی حضرت ابو نائلہ کعب ک آئے۔ کعب نے ان حضرات کو قلعہ می لگا تو اس کی بیوی نے اس سے کہا اس و

صفحہ 225

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 225 ماہنامہ مسیحائی کراچی حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کون ہے جو کعب بن اشرف کا کام تمام کر دے کیوں کہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو بہت تکلیف پہنچائی ہے؟ تو محمد بن مسلمہ نے کھڑے ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے ہیں کہ میں اسے قتل کر دوں؟ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں انہوں نے کہا کہ مصلحتاً کچھ کہنے کی مجھے اجازت دے دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھیک ہے تم کہہ سکتے ہو چنانچہ حضرت محمد بن مسلمہ (چند ساتھیوں کو لے کر) کعب بن اشرف کے پاس گئے اور اس سے کہا اس آدمی (یعنی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم) نے ہم سے صدقہ کا مطالبہ کیا ہے اور مشکل اور دشوار کام ہمارے ذمہ لگا لگا کر ہمیں تھکا دیا ہے میں تمہارے پاس قرضہ لینے آیا ہوں۔ اس نے کہا ابھی تو وہ اور کام تمہارے ذمے لگائے گا۔ اللہ کی قسم ایک نہ ایک دن تم اس سے ضرور اکتا جاؤ گے۔ حضرت محمد نے کہا ابھی تو ہم ان کا اتباع شروع کر چکے ہیں اس لیے ابھی ہم ان کو (جلدی) چھوڑنا نہیں چاہتے ہیں دیکھتے ہیں کہ آخر ان کا انجام کیا ہوتا ہے؟ ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہمیں ایک وسق یا دو وسق غلہ ادھار دے دو۔ (ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے اور ایک صاع ساڑھے تین سیر کا) کعب نے کہا ہاں میں ادھار دینے کو تیار ہوں لیکن تم میرے پاس کوئی چیز رہن رکھو ان حضرات نے کہا تم رہن میں کون سی چیز چاہتے ہو؟ اس نے کہا تم اپنی عورتیں میرے پاس رہن رکھ دو۔ ان حضرات نے کہا تم تو عرب میں سب سے زیادہ حسین و جمیل آدمی ہو۔ ہم تمہارے پاس اپنی عورتیں کیسے رہن رکھ دیں؟ اس نے کہا اچھا پھر اپنے بیٹے میرے پاس رہن رکھ دو۔ ان حضرات نے کہا ہم اپنے بیٹے کیسے تمہارے پاس رہن رکھ دیں پھر تو لوگ انہیں یہ طعنہ دیا کریں گے کہ یہ وہی تو ہے جسے ایک دو وسق غلہ کے بدلہ میں رہن رکھا گیا تھا۔ یہ ہمارے لیے بڑی عار کی بات ہے ہاں ہم تمہارے پاس ہتھیار رہن رکھ دیتے ہیں۔ حضرت محمد بن مسلمہ نے اس سے ہتھیار لے کر رات کو آنے کا وعدہ کر لیا چنانچہ کعب کے رضاعی بھائی حضرت ابو نائلہ کو ساتھ لے کر حضرت محمد بن مسلمہ رات کو کعب کے پاس آئے۔ کعب نے ان حضرات کو قلعہ میں بلایا۔ یہ قلعہ میں گئے وہ ان کے پاس اتر کر آنے لگا تو اس کی بیوی نے اس سے کہا اس وقت تم باہر کہاں جا رہے ہو؟ اس نے کہا یہ محمد بن

صفحہ 226

ماہنامہ السعید کراچی 226 مسلمہ اور میرے بھائی ابو نائلہ آئے ہیں، اس کی بیوی نے کہا میں تو ایسی آواز سن رہی ہوں جس سے خون ٹپکتا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔ اس نے کہا یہ تو میرے بھائی محمد بن مسلمہ اور میرے رضاعی بھائی ابو نائلہ ہیں۔ بہادر آدمی کو اگر رات کے وقت بھی مقابلہ کے لیے بلایا جائے تو وہ رات کو بھی ضرور نکل آتا ہے۔ حضرت محمد بن مسلمہ نے اپنے ساتھ دو تین اور آدمیوں کو بھی داخل کر لیا اور ان سے کہا میں اس کے بالوں کو پکڑ کر سونگھنے لگ جاؤں گا اور تمہیں بھی سونگھاؤں گا جب تم دیکھو کہ میں نے اس کا سر اچھی طرح پکڑ لیا ہے تو تم اس پر تلوار سے وار کر دینا۔ کعب موتیوں سے جڑی ہوئی ایک پیٹی پہنے ہوئے نیچے اتر کر ان حضرات کے پاس آیا اور اس سے عطر کی خوشبو مہک رہی تھی۔ حضرت محمد بن مسلمہ نے کہا آج جیسی عمدہ خوشبو میں نے کبھی نہیں دیکھی۔ اس نے کہا میرے پاس عرب کی سب سے زیادہ خوشبو لگانے والی بڑی خوب صورت عورت ہے حضرت محمد بن مسلمہ نے کہا کیا آپ مجھے اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ میں آپ کا سر سونگھ لوں؟ کعب نے کہا ضرور۔ چنانچہ حضرت محمد بن مسلمہ نے خود سونگھا اور اپنے ساتھیوں کو سونگھایا۔ پھر کعب سے کہا کیا دوبارہ اجازت ہے؟ اس نے کہا ضرور جب حضرت محمد بن مسلمہ نے اس کا سر مضبوطی سے پکڑ لیا تو ساتھیوں سے کہا پکڑو۔ انہوں نے اسے قتل کر دیا پھر ان حضرات نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں واپس آ کر سارا واقعہ سنایا۔ حضرت عروہ کی روایت میں یہ ہے کہ جب ان حضرات نے واقعہ سنایا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کا شکر ادا کیا۔ ابن سعد کی روایت میں یہ ہے کہ یہ حضرات جب بقیع غرقد (مدینہ کے مشہور قبرستان ) کے قریب پہنچے تو دور سے اللہ اکبر کہا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس رات کھڑے ہو کر نماز پڑھتے رہے۔ جب آپ نے ان کی تکبیر کی آواز سنی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اللہ اکبر کہا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ گئے کہ ان حضرات نے اسے قتل کر دیا ہے پھر یہ حضرات حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ چہرے کامیاب ہو گئے۔ ان حضرات نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اور آپ کا چہرہ مبارک بھی ( کامیاب ہوا ) اور ان حضرات نے کعب کا سر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ڈال دیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قتل ہو جانے پر اللہ کا شکر ادا کیا۔

صفحہ 227

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

حضرت عکرمہ کی مرسل روایت میں یہ ہے کہ (اس قتل سے) تمام یہودی خوفزدہ ہو گئے اور گھبرا گئے۔ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آکر کہا کہ ہمارا سردار دھوکہ سے قتل کر دیا گیا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس کی ناپاک حرکتیں یاد دلائیں کہ کیسے وہ اسلام کے خلاف لوگوں کو ابھارتا تھا اور مسلمانوں کو اذیت پہنچا کرتا تھا (یہ سن کر) وہ یہودی ڈر گئے اور کچھ نہ بولے۔

ابن اسحاق نے ذکر کیا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری طرف سے کعب بن اشرف کو قتل کرنے کے لیے کون تیار ہے؟ حضرت محمد بن مسلمہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اس کی ذمہ داری اٹھاتا ہوں میں اسے قتل کروں گا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم یہ کام کر سکتے ہو تو ضرور کرو۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت محمد واپس چلے گئے اور کھانا پینا چھوڑ دیا۔ بس اتنا کھاتے پیتے تھے جس سے جان بچی رہے۔ یہ بات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی گئی۔ آپ نے انہیں بلا کر فرمایا تم نے کھانا پینا کیوں چھوڑ دیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک بات کہی ہے پتہ نہیں میں اسے پورا کر سکوں گا یا نہیں (اس فکر میں میں نے کھانا پینا چھوڑ دیا ہے) آپ نے فرمایا تمہارے ذمہ تو محنت اور کوشش کرنا ہی ہے۔ ابن اسحاق نے حضرت ابن عباس کی روایت میں یہ بھی نقل کیا ہے (کہ حضرت محمد بن مسلمہ جب اپنے ساتھیوں کو لے کر چلے تو) حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان حضرات کے ساتھ بقیع الغرقد تک پیدل تشریف لے گئے پھر آپ نے ان کو روانہ فرمایا اور ارشاد فرمایا اللہ کا نام لے کر چلو۔ اے اللہ ان کی اعانت فرما۔

حضرت عبداللہ بن کعب بن مالک فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم (کے دین کے پھیلنے اور ترقی پانے) کے لیے جن مفید صورتوں اور حالات کو وجود عطا فرمایا ان میں سے ایک بات یہ تھی کہ انصار کے دونوں قبیلوں اوس اور خزرج کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت میں اور ان کے کام کرنے میں ایک دوسرے سے ہر وقت ایسا مقابلہ لگا رہتا تھا جیسے کہ دو پہلوانوں میں ہوا کرتا ہے۔ قبیلہ اوس والے جب کوئی ایسا کام کر لیتے جس سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم (کے دین کو اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم والی محنت) کو فائدہ ہوتا تو قبیلہ

صفحہ 228

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 228 ماہنامہ سبحانی کراچی خزرج والے کہتے تم یہ کام کر کے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں فضیلت میں ہم سے آگے نہیں نکل سکتے ہو اور جب تک ویسا ہی کام نہ کر لیتے وہ حضرات چین سے نہ بیٹھتے اور جب قبیلہ خزرج والے کوئی ایسا کام کر لیتے تو قبیلہ اوس والے یہی بات کہتے چنانچہ جب قبیلہ اوس (کے ایک صحابی حضرت محمد بن مسلمہ) نے کعب بن اشرف کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دشمنی رکھنے کی وجہ سے قتل کر دیا تو قبیلہ خزرج نے کہا اللہ کی قسم ! تم یہ کارنامہ کر کے فضیلت میں کبھی بھی ہم سے آگے نہیں بڑھ سکتے ہو اور پھر انہوں نے سوچا کہ کون سا آدمی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دشمنی رکھنے میں کعب بن اشرف جیسا ہے وہ آخر اس نتیجے پر پہنچے کہ خیبر کا ابن ابی الحقیق دشمنی میں کعب جیسا ہے چنانچہ ان حضرات نے اسے قتل کرنے کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی تو قبیلہ خزرج میں سے بنوسلمہ کے پانچ آدمی حضرت عبداللہ بن عتیک، حضرت مسعود بن سنان، حضرت عبداللہ بن انیس، حضرت ابوقتادہ ، حضرت حارث بن ربعی اور حضرت خزاعی بن اسود رضی اللہ عنہم (خیبر جانے کے لیے) تیار ہوئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن عتیک کو ان کا امیر بنایا اور انہیں کسی بچے یا عورت کو قتل کرنے سے منع فرمایا چنانچہ وہ حضرات (مدینہ سے) روانہ ہوئے اور خیبر پہنچ کر وہ حضرات رات کے وقت ابن ابی الحقیق کے گھر گئے اور گھر کے ہر کمرے کو باہر سے بند کر دیا تا کہ کسی کمرے میں سے اندر والے باہر نہ آسکیں ۔ ابن ابی الحقیق اپنے بالا خانہ میں تھا جہاں تک جانے کے لیے کھجور سے بنی ہوئی ایک سیڑھی لگی ہوئی تھی۔ چنانچہ یہ حضرات اس سیڑھی سے چڑھ کر اس کے دروازے پر پہنچ گئے اور اندر آنے کی اجازت چاہی تو اس کی بیوی نکل کر باہر آئی اور کہنے لگی تم لوگ کون ہو؟ ان حضرات نے کہا ہم عرب کے لوگ ہیں اور غلہ کی تلاش میں آئے ہیں۔ اس نے کہا ابورافع یہ ہے جس سے تم ملنا چاہتے ہو اندر آ جاؤ۔ فرماتے ہیں کہ جب ہم اندر چلے گئے تو ہم نے اندر سے کمرہ بند کر لیا تا کہ اس تک پہنچنے میں کوئی حائل ہی نہ ہو سکے (یہ دیکھ کر ) اس کی بیوی شور مچا کر ہماری خبر کرنے لگی۔ ابو رافع اپنے بستر پر تھا ہم تلواریں لے کر اس پر تیزی سے جھپٹے اللہ کی قسم ! رات کے اندھیرے میں ہمیں اس کا پتہ صرف اس کی سفیدی سے ہی چلا ایسا سفید تھا جیسے کہ مصری سفید چادر پڑی ہو جب اس کی بیوی ہمارے بارے میں شور مچا کر بتانے لگی تو ہمارے ایک ساتھی

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء نے (قتل کرنے کے لیے) اس پر تلوار اٹھائی نے (بچے اور عورت کو قتل کرنے سے) منع فرما صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منع نہ فرمایا ہوتا تو ہ نے تلواروں سے اس پر حملہ کیا (لیکن اندھیر تلوار کی نوک اس کے پیٹ پر رکھ کر تلوار پر رافع بس بس ہی کہتا رہا۔ اس کے بعد ہم باہ کی نگاہ کمزور تھی وہ سیڑھی سے گر گئے جس س انہیں وہاں سے اٹھا کر یہود کے چشموں پر داخل ہو گئے ادھر وہ لوگ آگ جلا کر ہر طر کے پاس واپس گئے اور اس کو سب نے گھیر ہم نے آپس میں کہا ہمیں کیسے پتہ چلے گا ک کہ میں جا کر دیکھ آتا ہوں چنانچہ وہ گئے او وہاں جا کر میں نے دیکھا کہ ابو رافع کی بیوی اس کی بیوی کے ہاتھ میں چراغ ہے اور وہ ہے اور کہہ رہی ہے کہ اللہ کی قسم ! آواز تو میں آپ کو جھٹلایا اور میں نے کہا ابن عتیک یہا کے چہرے کو غور سے دیکھا اور پھر کہا یہودیو زیادہ لذیذ بات کبھی نہیں سنی۔ فرماتے ہیں ہمیں (اس کی موت) کی خبر دی۔ ہم اپنے خدمت میں حاضر ہو کر اللہ کے دشمن کو قتل کر ہمارا اختلاف ہو گیا کہ کس نے قتل کیا ہے؟ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی تلواریں لاؤ ہ انہیں دیکھ کر حضرت عبداللہ بن انیس کی تلوا میں اس میں کھانے کا اثر دیکھ رہا ہوں (یہ تلوا

صفحہ 229

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 229 ماہنامہ مسیحائی کراچی

نے (قتل کرنے کے لیے) اس پر تلوار اٹھائی لیکن پھر اسے یاد آیا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (بچے اور عورت کو قتل کرنے سے) منع فرمایا تھا اس وجہ سے اس نے تلوار روک لی اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منع نہ فرمایا ہوتا تو ہم رات ہی کو اس سے نمٹ جاتے جب ہم لوگوں نے تلواروں سے اس پر حملہ کیا (لیکن اس کا کام تمام نہ ہوا) تو حضرت عبداللہ بن انیس نے تلوار کی نوک اس کے پیٹ پر رکھ کر تلوار پر اپنا سارا وزن ڈال دیا جس سے تلوار پار ہوگئی ابو رافع بس بس ہی کہتا رہا۔ اس کے بعد ہم لوگ وہاں سے باہر آئے۔ حضرت عبداللہ بن عتیک کی نگاہ کمزور تھی وہ سیڑھی سے گر گئے جس سے ان کے ہاتھ میں بری طرح موچ آگئی۔ ہم انہیں وہاں سے اٹھا کر یہود کے چشموں سے بہنے والی ایک نہر کے پاس لائے اور اس میں داخل ہوگئے ادھر وہ لوگ آگ جلا کر ہر طرف ہماری تلاش میں دوڑ پڑے آخر ناامید ہو کر اس کے پاس واپس گئے اور اس کو سب نے گھیر لیا اور ان سب کے بیچ میں اس کی جان نکل رہی تھی ہم نے آپس میں کہا ہمیں کیسے پتہ چلے گا کہ اللہ کا دشمن مر گیا؟ ہم میں سے ایک ساتھی نے کہا کہ میں جا کر دیکھ آتا ہوں چنانچہ وہ گئے اور عام لوگوں میں شامل ہوگئے۔ وہ فرماتے ہیں کہ وہاں جا کر میں نے دیکھا کہ ابو رافع کی بیوی اور بہت سے یہودی اس کے ارد گرد جمع ہیں۔ اس کی بیوی کے ہاتھ میں چراغ ہے اور وہ اس کے چہرے کو دیکھ رہی ہے اور وہ ان کو بتا رہی ہے اور کہہ رہی ہے کہ اللہ کی قسم! آواز تو میں نے ابن عتیک کی سنی تھی لیکن پھر میں نے اپنے آپ کو جھٹلایا اور میں نے کہا ابن عتیک یہاں اس علاقہ میں کہاں؟ پھر اس نے آگے بڑھ اس کے چہرے کو غور سے دیکھا اور پھر کہا یہود کے معبود کی قسم! یہ تو مر چکا ہے میں نے اس سے زیادہ لذیذ بات کبھی نہیں سنی۔ فرماتے ہیں کہ ہمارا ساتھی ہمارے پاس واپس آیا اور اس نے ہمیں (اس کی موت) کی خبر دی۔ ہم اپنے ساتھی کو اٹھا کر چلے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اللہ کے دشمن کو قتل کر دینے کی خبر دی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہمارا اختلاف ہو گیا کہ کس نے قتل کیا ہے؟ ہر ایک کہنے لگا کہ اس نے قتل کیا ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی تلواریں لاؤ ہم اپنی تلواریں لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھ کر حضرت عبداللہ بن انیس کی تلوار کے بارے میں کہا کہ اس نے قتل کیا ہے کیوں کہ میں اس میں کھانے کا اثر دیکھ رہا ہوں ( یہ تلوار اس کے معدے میں سے گزری ہے )۔

صفحہ 230

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 230 ماہنامہ مسیحائی کراچی

حضرت براءؓ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابورافع یہودی (کو قتل کرنے کے لیے) چند انصار کو بھیجا اور حضرت عبداللہ بن عتیکؓ کو ان کا امیر بنا لیا۔ ابورافع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت اذیت پہنچاتا تھا اور آپ کے مخالفین کی (مالی امداد کیا کرتا تھا اور وہ سرزمین حجاز میں (خیبر میں) اپنے قلعہ میں رہا کرتا تھا۔ یہ حضرات سورج ڈوبنے کے بعد خیبر کے قریب پہنچے لوگ (چراگاہوں سے) اپنے جانور واپس لا چکے تھے۔ حضرت عبداللہ نے (اپنے ساتھیوں سے) کہا کہ تم یہاں بیٹھے رہو میں جاتا ہوں اور دربان سے کوئی ایسی تدبیر کرتا ہوں جس سے میں (قلعہ کے اندر) داخل ہو جاؤں گا چنانچہ یہ گئے اور دروازے کے قریب جا کر اپنا کپڑا اپنے اوپر ڈال کر اس طرح بیٹھ گئے کہ جیسے کہ یہ قضا حاجت کے لیے بیٹھے ہوں سب لوگ اندر جا چکے تھے تو ان کو دربان نے آواز دے کر کہا اے اللہ کے بندے اگر تمہیں اندر آنا ہے تو آجاؤ میں دروازہ بند کرنا چاہتا ہوں۔ میں اندر داخل ہو کر چھپ گیا۔ جب سب لوگ اندر آگئے تو اس نے دروازہ بند کر کے چابیاں کیل پر لٹکا دیں۔ میں نے کھڑے ہو کر چابیاں لیں اور دروازہ کھول لیا۔ ابورافع کے پاس رات کو قصے کہانیاں ہوا کرتی تھیں اور وہ اپنے بالا خانے میں تھا۔ جب قصے کہانیاں سنانے والے لوگ اس کے پاس سے چلے تو میں نے بالا خانے پر چڑھنا شروع کیا جب بھی میں کوئی دروازہ کھولتا تو میں اندر سے اسے بند کر لیتا اور میں نے کہا اگر لوگوں کو میرا پتہ چل بھی گیا تو میں ان کے آنے سے پہلے اسے قتل کر لوں گا۔ جب میں اس کے پاس پہنچا تو وہ اندھیرے کمرے میں اپنے اہل وعیال میں تھا۔ مجھے پتہ نہیں چل رہا تھا کہ وہ کمرے میں کس جگہ ہے اس لیے میں نے اسے آواز دی اے ابورافع! اس نے کہا یہ کون ہے؟ میں آواز کی طرف بڑھا اور میں نے اس پر تلوار کا ایک وار کیا لیکن چونکہ میں گھبرایا ہوا تھا اس وجہ سے اس کا کام تمام نہ کر سکا اور اس نے شور مچایا تو میں کمرے سے باہر نکل کر تھوڑی دیر کھڑا رہا۔ پھر میں اندر اس کی طرف گیا اور میں نے کہا اے ابورافع! یہ شور کیسا تھا؟ اس نے کہا تیری ماں کا ناس ہو، کمرے میں کوئی آدمی ہے جس نے مجھے ابھی تلوار ماری تھی یہ سن کر میں نے اس کو زور سے تلوار ماری جس سے وہ زخمی تو ہو گیا لیکن مرا نہیں۔ میں نے تلوار کی نوک اس کے پیٹ پر رکھ کر اس زور سے اسے دبایا کہ اس کی کمر تک پہنچ گئی۔ تب میں سمجھا کہ میں نے اس کا کام تمام کر دیا ہے پھر میں ایک ایک دروازہ

کھولتا ہوا واپس چ اترنے لگا ایک جگہ چا خیال سے میں نے قدم ن جسے میں نے پگڑی س نے دل میں کہا آج ر میں نے اسے قتل کر دی یہ اعلان کیا کہ اہل حجاز ک اور میں نے ان سے کہا ک کے لیے روانہ ہوئے ی واقعہ سنایا۔ آپ صلی اللہ ع علیہ وسلم نے اس پر اپنا د ایسے ٹھیک ہو گیا جیسا ک

بخاری کی ایک روایت م حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسل فرماتے (ان کو دیکھ کر) ک نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ ع اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا م وسلم نے فرمایا ذرا مجھے دکھاؤ ت اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ا حضرت قبیصہؓ فرماتے ہ ملا اسے قتل کر دو چنانچہ ع اس کے ان سے تجارتی تع ان کے بڑے بھائی حضر ابن شیبہ کو قتل کرنے کی وجہ ی

صفحہ 231

23 ماہنامہ مسیحائی کراچی

بی اللہ علیہ وسلم نے ابو رافع یہودی کو قتل کرنے بن عتیک کو ان کا امیر بنا لیا۔ ابو رافع رسول اللہ آپ کے مخالفین کی مالی امداد کیا کرتا تھا اور وہ ا کرتا تھا۔ یہ حضرات سورج ڈوبنے کے بعد خیبر ے جانور واپس لا چکے تھے۔ حضرت عبداللہ نے کہ میں جاتا ہوں اور دربان سے کوئی ایسی تدبیر ل ہو جاؤں گا چنانچہ یہ گئے اور دروازے کے بیٹھ گئے کہ جیسے کہ یہ قضا حاجت کے لیے بان نے آواز دے کر کہا اے اللہ کے بندے چاہتا ہوں۔ میں اندر داخل ہو کر چھپ گیا۔ بند کر کے چابیاں کیل پر لٹکا دیں۔ میں نے ابو رافع کے پاس رات کو قصے کہانیاں ہوا کرتی کہانیاں سنانے والے لوگ اس کے پاس سے بھی میں کوئی دروازہ کھولتا تو میں اندر سے چل بھی گیا تو میں ان کے آنے سے پہلے وہ اندھیرے کمرے میں اپنے اہل وعیال کس جگہ ہے اس لیے میں نے اسے آواز دی طرف بڑھا اور میں نے اس پر تلوار کا ایک کام تمام نہ کر سکا اور اس نے شور مچایا تو میں اندر اس کی طرف گیا اور میں نے کہا ا ناس ہو، کمرے میں کوئی آدمی ہے جس زور سے تلوار ماری جس سے وہ زخمی تو ہو گیا پر رکھ کر اس زور سے اسے دبایا کہ اس کی تمام کر دیا ہے پھر میں ایک ایک دروازہ

حرمت رسول نمبر 231 جنوری فروری ۲۰۰۸ء

کھولتا ہوا واپس چلا۔ یہاں تک کہ میں ابو رافع کی سیڑھی تک پہنچ گیا (اور میں سیڑھی سے نیچے اترنے لگا ایک جگہ پہنچ کر) میں سمجھا کہ سیڑھی ختم ہو گئی ہے اور میں زمین تک پہنچ گیا ہوں (اس خیال سے میں نے قدم آگے بڑھایا) تو میں چاندنی رات میں گر گیا اور میری پنڈلی ٹوٹ گئی جسے میں نے پگڑی سے باندھا اور میں چل دیا یہاں تک کہ میں دروازے پر جا کر بیٹھ گیا میں نے دل میں کہا آج رات میں یہاں سے باہر نہیں جاؤں گا جب تک مجھے پتہ نہ چل جائے کہ میں نے اسے قتل کر دیا ہے یا نہیں؟ صبح جب مرغ بولا تو ایک آدمی نے قلعہ کی دیوار پر چڑھ کر یہ اعلان کیا کہ اہل حجاز کا تاجر ابو رافع مر گیا ہے پھر میں وہاں سے اپنے ساتھیوں کے پاس پہنچا اور میں نے ان سے کہا جلدی چلو اللہ نے ابو رافع کو قتل کر دیا ہے۔ (چنانچہ ہم وہاں سے مدینہ کے لیے روانہ ہوئے) میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر سارا واقعہ سنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنا پاؤں پھیلاؤ میں نے پھیلا دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اپنا دست مبارک پھیرا۔ دست مبارک پھیرتے ہی میرا پاؤں ایک دم ایسے ٹھیک ہو گیا جیسے اسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔

بخاری کی ایک روایت میں یہ ہے کہ حضرت ابی بن کعب فرماتے ہیں کہ یہ حضرات جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے تو اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما تھے (ان کو دیکھ کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ چہرے کامیاب ہو گئے ان حضرات نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ بھی کامیاب ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اسے قتل کر آئے ہو؟ ان حضرات نے کہا جی ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ذرا مجھے تلوار دو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلوار کو (لے کر اسے) سونگھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اس تلوار کی دھار پر اس کے کھانے کا اثر ہے۔

حضرت محیصہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس یہودی پر تم قابو پالو اسے قتل کر دو چنانچہ ابن سنیہ ایک یہودی تاجر تھا جس کا مسلمانوں سے میل جول تھا اور اس کے ان سے تجارتی تعلقات تھے۔ حضرت محیصہ نے اس پر حملہ کر کے اسے قتل کر ڈالا۔ ان کے بڑے بھائی حضرت حویصہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ حضرت حویصہ ابن سنیہ کو قتل کرنے کی وجہ سے حضرت محیصہ کو مارتے جاتے تھے اور کہتے تھے کہ اے اللہ کے

صفحہ 232

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 232 ماہنامہ مسیحائی کراچی

دشمن! تو نے اسے قتل کر دیا حالاں کہ اللہ کی قسم! تیرے پیٹ کی بہت سی چربی اس کے مال سے بنی ہے۔ حضرت محیصہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا اللہ کی قسم! اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم مجھے تمہارے قتل کرنے کا حکم دیتے تو میں تمہاری گردن بھی اڑا دیتا۔ اللہ کی قسم! اسی بات سے حضرت حویصہ کے اسلام کی ابتداء ہوئی (بھائی کی اس بات کا ان کے دل پر بڑا اثر پڑا) حضرت حویصہ نے کہا! اللہ کی قسم! اگر محمد (علیہ السلام) تمہیں میرے قتل کا حکم دے دیں تو کیا تم مجھے ضرور قتل کر دو گے؟ حضرت محیصہ نے کہا ہاں اللہ کی قسم تو حضرت حویصہ نے کہا اللہ کی قسم جس دین نے تجھ کو یہاں تک پہنچا دیا ہے وہ تو عجیب دین ہے۔ ابن اسحاق نے بھی اس جیسی حدیث بیان کی ہے جس میں یہ ہے کہ حضرت محیصہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا مجھے اس (ابن شیبہ) کے قتل کرنے کا اس ذات نے حکم دیا ہے کہ اگر وہ مجھے تمہارے قتل کرنے کا حکم دے تو میں تمہاری گردن بھی اڑا دوں چنانچہ حضرت حویصہ آخر میں مسلمان ہو گئے۔

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

احـ

قرآن وحـ

قرآن حکیم میں نـ واتباع کرنے کا حکم کئی مقامات پـ فَآمِنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُـ وَاتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ ﴿الـ "پس تم اللہ پر ایمان لاؤ اور اـ پر ایمان رکھتا ہے اور اس رسول کـ رسول اللہ ﷺ پر ایمان لاـ تھا، کیونکہ انبیاء کے بھیجنے کا مـ رسول مقبول ﷺ کے بارـ تعظیم وتوقیر اور احترام وادب کو لـ فَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَعَزَّرُوْهُ وَنَـ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ۔ (۲) "سو جولوگ اس پر ایمان لاـ نور کے جو اس کے ساتھ اترا ہـ

صفحہ 233

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 233 ماہنامہ سبحانی کراچی

احترام رسول ﷺ

قرآن وحدیث کی روشنی میں

ڈاکٹر محمد عبد العلی اچکزئی

قرآن حکیم میں نبی کریم ﷺ پر ایمان لانے اور آپؐ کی اطاعت واتباع کرنے کا حکم کئی مقامات پر موجود ہے، مثلاً ایک جگہ ارشاد ہے:

فَآمِنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهِ النَّبِيِّ الْاُمِّيِّ الَّذِيْ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَكَلِمٰتِهٖ وَاتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ . (۱)

’’پس تم اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول نبی امی پر بھی جو خود اللہ پر اور اس کے احکام پر ایمان رکھتا ہے اور اس رسول کا اتباع کرو تا کہ تم راہ مقصد پر آ لگو‘‘

رسول اللہ ﷺ پر ایمان اور آپؐ کی اطاعت واتباع تو امت پر فرض ہونا ہی چاہیے تھا، کیونکہ انبیاء کے بھیجنے کا مقصد ہی اس کے بغیر پورا نہیں ہوتا ، لیکن حق تعالیٰ نے ہمارے رسول مقبول ﷺ کے بارے میں صرف اسی پر اکتفاء نہیں فرمایا ، بلکہ امت پر آپؐ کی تعظیم وتوقیر اور احترام وادب کو بھی لازم قرار دیا ہے، جیسا کہ سورۃ الاعراف میں ارشاد ہے:

فَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَعَزَّرُوْهُ وَنَصَرُوْهُ وَاتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِيْ اُنْزِلَ مَعَهٗ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ . (۲)

’’سو جو لوگ اس پر ایمان لائے اور اس کی تعظیم کی اور اس کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو اس کے ساتھ اترا ہے ، وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں‘‘

صفحہ 234

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 234 ماہنامہ مسیحائی کراچی

اس آیت میں فلاح پانے کے لئے چار شرطیں ذکر کی گئی ہیں، اول آنحضرت ﷺ پر ایمان، دوسرے آپؐ کی تعظیم و تکریم، تیسرے آپؐ کی امداد اور چوتھے قرآن کی اتباع۔ تعظیم وتکریم کے لئے اس جگہ لفظ عَزَّرُوْہُ لایا گیا ہے، جو تعزیر سے مشتق ہے، تعزیر کے اصل معنی شفقت کے ساتھ منع کرنے، حفاظت کرنے کے ہیں، حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے عَزَّرُوْہُ کے معنی تعظیم وتکریم کرنے کے بتلائے ہیں اور مبرد نے کہا کہ اعلیٰ درجہ کی تعظیم کو تعزیر سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ مراد یہ ہے کہ وہ لوگ جو آنحضرت ﷺ کی عظمت ومحبت کے ساتھ آپؐ کی تائید وحمایت اور مخالفین کے مقابلہ میں آپؐ کی مدد کریں اور وہ مکمل فلاح پانے والے ہیں (۳) آیت کریمہ سے معلوم ہوا کہ حضور ﷺ کی تعظیم وتکریم کے بغیر ایمان اور اعمال صالحہ کچھ فائدہ نہیں دے سکتے اور آپؐ کی تعظیم وتکریم نہ کرنے والے لوگ فلاح پانے سے محروم ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کے ادب واحترام کے ضمن میں متعدد مقامات پر واضح احکامات نازل فرمائے اور صحابہ کرامؓ کو یہ تعلیم دی کہ وہ اس کا لحاظ کریں اور آپؐ کی شان میں ذرہ برابر فرق نہ آنے پائے۔

رسول اللہ ﷺ کو عام لوگوں کی طرح پکارنے سے منع فرمایا گیا ہے، ارشاد ربانی ہے:

لَا تَجْعَلُوْا دُعَاءَ الرَّسُوْلِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُمْ بَعْضاً . (۴)

”رسول اللہ ﷺ کو اس طرح نہ پکارو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو“

اس آیت میں آپؐ کے ادب واحترام اور مسلمانوں کو آپؐ کے مقام کو ملحوظ رکھنے کا حکم دیا گیا ہے، جیسا کہ مولانا شبیر احمد عثمانی لکھتے ہیں:

”یعنی حضرتؐ کے بلانے پر حاضر ہونا فرض ہوجاتا ہے، آپ کا بلانا اوروں کی طرح نہیں کہ چاہے اس پر لبیک کہے یا نہ کہے، اگر حضور ﷺ کے بلانے پر حاضر نہ ہو تو آپؐ کی بددعا ء سے ڈرنا چاہئے، کیونکہ آپؐ کی دعا معمولی انسانوں جیسی نہیں، نیز مخاطبات میں حضور ﷺ کے ادب وعظمت کا پورا خیال رکھنا چاہئے، عام لوگوں کی طرح ”یا محمدؐ “ وغیرہ کہہ کر خطاب نہ کیا جائے، بلکہ ”یا نبی اللہ“ اور ”یا رسول اللہ“ جیسے تعظیمی القاب سے

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

پکارنا چاہیے۔ (۵)

اس آیت نے مسلمانوں پر آنحضرت ﷺ ہے، یہاں تک کہ جب وہ حضور ﷺ کو مـ تو اس وقت بھی وہ اپنی آواز کو پست اور آپؐ اس مقصد کی زیادہ وضاحت اور تائید الـ کی ابتداء میں ذکر کی گئی ہیں، ارشاد باری تعـ

يٰأَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ o يٰأَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَجْهَرُوْا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِ تَشْعُرُوْنَ o إِنَّ الَّذِيْنَ يَغُضُّوْنَ اَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰى يُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَاءِ الْحُجُرَاتِ اَكْـ تَخْرُجَ إِلَيْهِمْ لَكَانَ خَيْراً لَّهُمْ ط وَاللّٰـ

”اے ایمان والو آگے نہ بڑھو اللہ اور اللہ سنتا ہے جانتا ہے۔ اے ایمان والو اـ اس سے نہ بولو چیخ کر جیسے چیختے ہو ایـ کام اور تم کو خبر بھی نہ ہو۔ جو لوگ دبی آ ، وہی ہیں جن کے دلوں کو جانچ لیا ہے اـ اور ثواب بڑا ۔ جو لوگ پکارتے ہیں تجھ اگر وہ صبر کرتے ، جب تک تو نکلتا ان کـ والا مہربان ہے ۔

مندرجہ بالا پانچ آیتوں میں مجلس نبـ ادب جو کہ پہلی آیت میں بیان ہوا ہے پیش قدمی نہ کرو۔ حکم عام ہے، یعنی

صفحہ 235

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 235 ماہنامہ سبحانی کراچی

پکارنا چاہیے۔ (۵)

اس آیت نے مسلمانوں پر آنحضرت ﷺ کا ادب و احترام اور تعظیم و تکریم فرض قرار دی ہے، یہاں تک کہ جب وہ حضور ﷺ کو عرفی نام یا نبی اللہ اور یا رسول اللہ سے پکاریں گے، تو اس وقت بھی وہ اپنی آواز کو پست اور آپؐ کی تعظیم و توقیر کو پوری طرح ملحوظ رکھیں گے۔

اس مقصد کی زیادہ وضاحت اور تائید ان آیات کریمہ سے ہوتی ہے، جو سورۃ الحجرات کی ابتداء میں ذکر کی گئی ہیں، ارشاد باری تعالیٰ ہے:

يٰاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَىِ اللهِ وَ رَسُوْلِهِ وَ اتَّقُوا اللهَ ط اِنَّ اللهَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ o يٰاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوْا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ o اِنَّ الَّذِيْنَ يَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللهِ اُولٰئِكَ الَّذِيْنَ اِمْتَحَنَ اللهُ قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰی ط لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَ اَجْرٌ عَظِيْمٌ o اِنَّ الَّذِيْنَ يُنَادُوْنَكَ مِن وَّرَاءِ الْحُجُرَاتِ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ o وَ لَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰی تَخْرُجَ اِلَيْهِمْ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ ط وَاللهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ o (۶)

”اے ایمان والو! آگے نہ بڑھو اللہ سے اور اس کے رسول سے اور ڈرتے رہو اللہ سے۔ اللہ سنتا ہے جانتا ہے۔ اے ایمان والو! بلند نہ کرو اپنی آوازیں نبی کی آواز سے اوپر اور اس سے نہ بولو چیخ کر جیسے چیختے ہو ایک دوسرے پر، کہیں اکارت نہ ہو جائے تمہارے کام اور تم کو خبر بھی نہ ہو۔ جو لوگ دبی آواز سے بولتے ہیں رسول اللہ ﷺ کے پاس ، وہی ہیں جن کے دلوں کو جانچ لیا ہے اللہ نے ادب کے واسطے، ان کے لئے معافی ہے اور ثواب بڑا۔ جو لوگ پکارتے ہیں تجھ کو دیوار کے پیچھے سے، وہ اکثر عقل نہیں رکھتے اور اگر وہ صبر کرتے، جب تک تو نکلے ان کی طرف، تو ان کے حق میں بہتر ہوتا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

مندرجہ بالا پانچ آیتوں میں مجلس نبوی ﷺ سے متعلق تین آداب کا ذکر ہے۔ پہلا ادب جو کہ پہلی آیت میں بیان ہوا ہے، وہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے تقدم اور پیش قدمی نہ کرو۔ حکم عام ہے، یعنی کسی بھی قول یا فعل میں آنحضرت ﷺ سے پیش

صفحہ 236

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 236 ماہنامہ مسیحائی کراچی

قدمی نہ کرو، بلکہ انتظار کرو کہ رسول اللہ ﷺ کیا جواب دیتے ہیں، بدون انتظار کے از خود گفتگو شروع کر دینا درست نہیں۔ اسی طرح اگر آپ ﷺ چل رہے ہیں تو کوئی آپ سے آگے نہ بڑھے کھانے کی مجلس ہے، تو آپ سے پہلے کھانا شروع نہ کرے۔

دوسری آیت میں دوسرا ادب بیان ہوا ہے، کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے آپ ﷺ کی آواز سے زیادہ آواز بلند کرنا یا بلند آواز سے اس طرح گفتگو کرنا جیسے آپس میں ایک دوسرے سے بے محابا کیا کرتے ہیں، ایک قسم کی بے ادبی اور گستاخی ہے۔ علماء فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی تعظیم اور ادب آپ کی وفات کے بعد بھی ایسا ہی واجب ہے جیسا کہ حیات میں تھا۔ اسی لئے بعض علماء نے فرمایا کہ آپ کی قبر شریف کے سامنے بھی زیادہ بلند آواز سے سلام و کلام کرنا ادب کے خلاف ہے۔ اسی طرح جس مجلس میں رسول اللہ ﷺ کی احادیث پڑھی یا بیان کی جا رہی ہو، اس میں بھی شور و شغب کرنا بے ادبی ہے۔ آیت کے آخر میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کہیں تمہارے اعمال برباد نہ ہو جائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو۔ مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پیش قدمی یا ان کی آواز پر اپنی آواز کو بلند کر کے غالب کرنا ایک ایسا امر ہے جس سے رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی اور بے ادبی ہونے کا احتمال ہے، جو سبب ہے ایذائے رسول ﷺ کا، جو کہ ایک قسم کی معصیت ہے اور بعض معصیتوں کا خاصہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے کرنے والے سے توبہ اور اعمال صالحہ کی توفیق سلب ہو جاتی ہے اور وہ گناہوں میں منہمک ہو کر انجام کار کفر تک پہنچ جاتا ہے، جو سبب ہے حبط اعمال کا۔

تیسری آیت میں اللہ تعالیٰ کے مذکورہ احکام پر عمل کرنے والوں کے لئے اس وعدہ کو بیان کیا گیا ہے کہ ان کے دلوں کو اللہ نے تقویٰ کے لئے ازما لیا ہے اور آخرت میں ان کے لئے بخشش اور اجر عظیم ہوگا۔

چوتھی آیت میں نبی کریم ﷺ سے متعلق ایک تیسرا ادب سکھلایا گیا ہے، کہ جس وقت آپ اپنے مکان اور آرام گاہ میں تشریف فرما ہوں، اس وقت باہر کھڑے ہو کر آپ کو پکارنا خصوصاً گنوار پن کے ساتھ کہ نام لے کر پکارا جائے، یہ بے ادبی ہے۔ تفاسیر میں مذکور ہے کہ بنو تمیم کے کچھ لوگ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو آپ ﷺ

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 237

باہر تشریف فرما نہ تھے، بلکہ ازواج مطہرات کے لوگ غیر مہذب گاؤں والے تھے، باہر ہی سے پکارنے لگے کہ یا محمد ﷺ اخرج الی اس طرح پکارنے کی ممانعت اور انتظار کرنے کا میں مزید ہدایت دی گئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ تک انتظار کرنا چاہیے، جب تک کہ آپ ﷺ

ان آیت کی تفسیر میں حافظ ابن کثیرؒ لکھتے هذه آداب أدب الله بها عباده المؤ الله عليه وسلم من التوقير والاحترام و

”ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن سکھائے ہیں کہ انہیں ہر معاملہ میں رسول اللہ پیش آنا چاہئے“

اسی طرح صاحب تفسیر مظہری لکھتے ہیں: يجب عليكم بتبجيله وتعظيمه ومن وخطابه بالنبي والرسول ونحو ذلك

”(اے مسلمانو) تم پر واجب ہے کہ آپ رکھو اور آپ کے حضور ﷺ میں اپنی آواز اوصاف سے مخاطب کرو“

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ ﷺ کا العاصؓ کہتے ہیں:

ما كان احد الي من رسول الله منه وما كنت اطيق ان املا عيني اجلالا لاني لم اكن املا عيني منه (۱۰)

”رسول اللہ ﷺ سے زیادہ مجھے کوئی

صفحہ 237

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ سبحانی کراچی

باہر تشریف فرما نہ تھے، بلکہ ازواج مطہرات کے حجرات میں سے کسی مکان میں تھے۔ یہ لوگ غیر مہذب گاؤں والے تھے، باہر ہی سے کھڑے ہو کر آپ ﷺ کا نام لے کر پکارنے لگے کہ یا محمد ﷺ اخرج الینا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی، جس میں اس طرح پکارنے کی ممانعت اور انتظار کرنے کا حکم دیا گیا اور پانچویں آیت میں اس سلسلے میں مزید ہدایت دی گئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے ملاقات کرنے کے لئے اس وقت تک انتظار کرنا چاہیے، جب تک کہ آپ ﷺ خود باہر نہ نکلیں۔

(۷)

ان آیت کی تفسیر میں حافظ ابن کثیرؒ نے لکھا ہے کہ: هذه آداب ادّب الله بها عباده المؤمنين فيما يعاملون به الرسول صلی الله عليه وسلم من التوقير والاحترام والتبجيل والاعظام

(۸)

”ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مؤمن بندوں کو رسول اللہ ﷺ کے اداب سکھائے ہیں کہ انہیں ہر معاملہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تعظیم وتکریم اور احترام سے پیش آنا چاہئے“

اسی طرح صاحب تفسیر مظہری لکھتے ہیں: يجب عليكم بتبجيله وتعظيمه ومراعاة آدابه وخفض الصوت بحضرته وخطابه بالنبی والرسول ونحو ذلك

(۹)

”(اے مسلمانو) تم پر واجب ہے کہ آپ کی تعظیم وتکریم کرو اور آپ کے اداب کو ملحوظ رکھو اور آپ کے حضور ﷺ میں اپنی آوازوں کو پست رکھو اور آپ کو نبی اور رسول کے اوصاف سے مخاطب کرو“

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ ﷺ کا حد درجہ احترام کرتے تھے، عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ کہتے ہیں: ما كان احد احبّ الیّ من رسول الله صلی الله عليه وسلم ولا اجلّ فی عینی منه وما كنت اطيق ان املأ عینیّ منه اجلالاً له ولو سُئلتُ ان اصفه ما اطقتُ لانی لم اكن املأ عینیّ منه

(۱۰)

”رسول اللہ ﷺ سے زیادہ مجھے کوئی محبوب نہیں رہا، میری آنکھوں نے آپ ﷺ

صفحہ 239

ماہنامہ سبحانی کراچی 238 حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

کے احترام کی وجہ سے میں کبھی آپ ﷺ کو آنکھ بھر کر نہیں دیکھ سکا، اگر مجھ سے کوئی آپ ﷺ کی شخصیت کے بارے میں پوچھے، تو میں کما حقہ جواب نہیں دے سکوں گا، اس لئے کہ میں نے آنکھیں بھر کر آپ ﷺ کو کبھی نہیں دیکھا‘‘

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: کان یخرج علی اصحابہ من المہاجرین والانصار وھم جلوس وفیھم ابوبکر وعمر فلایرفع الیہ احد منھم بصرہ الاابوبکر وعمر، فانھما کانا ینظران الیہ ویبتسمان الیہ ویبتسم الیھما۔ (۱۱)

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب انصار و مہاجرین صحابہ کی طرف تشریف لاتے اور وہ بشمول ابوبکر و عمر بیٹھے ہوئے ہوتے تو کسی کی جرأت نہیں ہوتی تھی کہ آپؐ کی طرف نظر اٹھا کر دیکھ سکے، ہاں البتہ ابوبکر و عمر دونوں آپؐ کی طرف دیکھتے اور مسکراتے ، آپؐ بھی انہیں دیکھ کر مسکرایا کرتے تھے‘‘

صلح حدیبیہ کے موقعہ پر عروہ بن مسعود ثقفی قریش کی طرف سے بات چیت کے لئے آنحضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، عروہ جب واپس اپنے ساتھیوں کے پاس آئے تو ان کے سامنے صحابہ کرام کے آپؐ کا ادب کرنے کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچا: ای قوم واللہ لقد وفدت علی الملوک ووفدت علی قیصر و کسریٰ والنجاشی واللہ ان رأیت ملکاً قط یعظمہ اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔ (۱۲)

’’اے لوگو! بخدا میں بادشاہوں کے دربار میں وفد لے کر گیا ہوں، قیصر و کسریٰ اور نجاشی سب کے دربار میں، لیکن خدا کی قسم! میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ کسی بادشاہ کے مصاحب اس کی اس درجہ تعظیم کرتے ہوں جتنی محمد ﷺ کے اصحاب آپ کی کرتے تھے‘‘

جس طرح نبی کریم ﷺ کا ادب و احترام امت مسلمہ پر لازم ہے، اسی طرح آپؐ کی شان میں گستاخی اور آپؐ کو اذیت پہنچانا بھی سخت حرام اور ممنوع ہے، شان رسول میں گستاخی کے احتمال کا سدباب کرتے ہوئے ارشاد خداوندی ہے: یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَقُوْلُوْا انْظُرْنَا وَاسْمَعُوْا وَلِلْکٰفِرِیْنَ

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 239

عَذَابٌ اَلِیْمٌ (۱۳)

’’اے ایمان والو! تم راعنا مت کہا کرو بلکہ اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے‘‘

راعنا کے معنی ہیں ہمارا لحاظ اور خیال کا استعمال کرکے متکلم کو اپنی طرف متوجہ کرتا تھا اس لفظ کو تھوڑا سا بگاڑ کر استعمال کرتے تھے، جس جذبہ عناد کی تسلی ہوجاتی، مثلاً وہ کہتے (معا راعنا احمق کو بھی کہتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے مسل مسئلہ معلوم ہوا کہ ایسے الفاظ جن میں تنقیص وا اور سد ذریعہ کے طور پر ان کا استعمال صحیح نہیں یہ رسول اللہ ﷺ کو اذیت رسانی کتنا بڑا جر ارشاد فرمایا۔

وَالَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰہِ لَھُمْ عَذَا

’’اور جو لوگ بدگوئی کرتے ہیں اللہ کے رسو

حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ نے یہاں سے معلوم ہوا کہ ایذا کے مفہوم میں بدگوئی ﷺ کو تکلیف پہنچے اور اللہ تعالیٰ نے واضح ک والوں کے لئے دردناک عذاب مقرر ہے، ال

اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ عَذَاباً مُّھِیْناً ۔(۱۶)

’’جو لوگ ستاتے ہیں اللہ کو اور اس کے دنیا میں اور آخرت میں اور تیار کر رکھا ہے ان

امام قرطبی اس آیت کی ذیل میں لکھتے ہی واما اذیۃ رسولہ صلی اللہ علی

صفحہ 239

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 239 ماہنامہ مسیحائی کراچی

عَذَابٌ اَلِیْمٌ (۱۳)

"اے ایمان والو! تم راعنا مت کہا کرو بلکہ انظرنا کہا کرو اور خوب غور سے سنا کرو اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے"

راعنا کے معنی ہیں ہمارا لحاظ اور خیال کیجئے ، بات سمجھ میں نہ آئے تو سامع اس لفظ کا استعمال کر کے متکلم کو اپنی طرف متوجہ کرتا تھا، لیکن یہودی اپنے بغض وعناد کی وجہ سے اس لفظ کو تھوڑا سا بگاڑ کر استعمال کرتے تھے، جس سے اس کے معنی میں تبدیلی اور ان کے جذبہ عناد کی تسلی ہوجاتی ،مثلاً وہ کہتے (ہمارے چرواہے) اور یہود کی زبان میں راعنا احمق کو بھی کہتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو منع فرمایا کہ یہ لفظ نہ کہو، اس سے یہ مسئلہ معلوم ہوا کہ ایسے الفاظ جن میں تنقیص واہانت کا شائبہ ہو، ادب واحترام کے پیش نظر اور سد ذریعہ کے طور پر ان کا استعمال صحیح نہیں۔

رسول اللہ ﷺ کو اذیت رسانی کتنا بڑا جرم ہے، اس کے بارے میں سورۃ التوبۃ میں ارشاد فرمایا۔

وَالَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ . (۱۴)

"اور جو لوگ بدگوئی کرتے ہیں اللہ کے رسول کی ، ان کے لئے عذاب ہے دردناک"

حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ نے یہاں ایذا کے معنی بدگوئی کے کئے ہیں (۱۵) جس سے معلوم ہوا کہ ایذا کے مفہوم میں بدگوئی اور ہر وہ امر داخل ہے جس سے آنحضرت ﷺ کو تکلیف پہنچے اور اللہ تعالیٰ نے واضح کردیا کہ رسول اللہ ﷺ کو اذیت پہنچانے والوں کے لئے دردناک عذاب مقرر ہے، اسی طرح سورۃ احزاب میں ارشاد فرمایا:

اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَةِ وَاَعَدَّلَهُمْ عَذَاباً مُّهِیْناً . (۱۶)

"جو لوگ ستاتے ہیں اللہ کو اور اس کے رسول ﷺ کو، ان پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی دنیا میں اور آخرت میں اور تیار کر رکھا ہے ان کے واسطے ذلت کا عذاب"

امام قرطبی اس آیت کی ذیل میں لکھتے ہیں:

واما اذية رسوله صلی الله عليه وسلم فهی کل مايؤذيه من الاقوال فی

صفحہ 240

ماہنامہ سبحانی کراچی 240 حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

غير معنى واحد ومن الافعال ايضاً (۱۷) ”جہاں تک اذیت کے مفہوم کا تعلق ہے، تو اس میں ہر طرح کے وہ تمام اقوال اور افعال آتے ہیں جو آپؐ کے لئے باعث تکلیف ہو سکتے ہیں“

اس آیت میں حضور ﷺ کو اذیت پہنچانے والوں کی مذمت ان الفاظ میں فرمائی کہ اللہ تعالیٰ انہیں دنیا اور آخرت میں اپنی رحمت وبرکت سے محروم کردے گا اور ان کو آخرت میں رسوا کن عذاب میں مبتلا کرے گا۔

ابولہب نے جب نبی کریم ﷺ کے لئے نعوذ باللہ تَبّاً لَّکَ (تیرے لئے ہلاکت ہو) کہا تو اللہ تعالیٰ نے پوری سورت کا نزول فرما کر اس کے ہمیشہ جہنم میں رہنے کا اعلان فرما دیا، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ . مَا أَغْنَىٰ عَنْهُ مَالُهُ وَمَا كَسَبَ . سَيَصْلَىٰ نَاراً ذَاتَ لَهَبٍ . (۱۸)

”ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ جائیں اور تباہ ہو جائے (اس نے ہمارے حبیب ﷺ پر ہاتھ اٹھانے کی کوشش کی ہے) اسے اس کے مال نے کچھ فائدہ نہ پہنچایا اور نہ ہی اس کے کمائی نے، عنقریب وہ شعلوں والی آگ میں جا پڑے گا“

اسی طرح اس کی بیوی جو آپؐ کی راہوں میں کانٹے چن کر بچھاتی تھی اور آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مقابلے میں لوگوں کو بھڑکاتی تھی، اس کے بارے میں فرمایا:

وَامْرَأَتُهُ حَمَّالَةَ الْحَطَبِ فِي جِيدِهَا حَبْلٌ مِّن مَّسَدٍ . (۱۹)

”اور اس کی عورت (بھی) جو (کانٹے دار) لکڑیوں کا بوجھ (سر پر) اٹھائے پھرتی ہے (اور ہمارے حبیب ﷺ کے تلووں کو زخمی کرنے کے لئے رات کو ان کی راہوں میں بچھادیتی ہے) اس کی گردن میں کھجور کی چھال کا (وہی) رسہ ہوگا (جس سے وہ کانٹوں کا گٹھا باندھتی ہے)۔

نبی کریم ﷺ کی حرمت میں قرآن کے علاوہ کتب احادیث میں بھی بے شمار احادیث موجود ہیں، ان میں سے چند احادیث درج ذیل ہیں:

صفحہ 241

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 241 ماہنامہ سبحانی کراچی

گستاخی کرتا تھا، اپنے اشعار واقوال میں نبی کریم ﷺ کی نعوذ باللہ ہجو بیان کرتا تھا، آپ نے اس کے اس عمل قبیح کی وجہ سے اسے قتل کرنے کا حکم فرمایا (۲۰) حضور نبی کریم ﷺ کے کلمات مبارکہ فَإِنَّهُ قَدْ أَذَى اللَّهَ تَعَالَى وَرَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خاص طور پر اس قتل کی وجہ بیان کرتے ہیں۔

فيه فخنقها رجل حتى ماتت فابطل رسول الله صلى الله عليه وسلم دمها

(۲۱)

”حضرت علیؓ سے مروی ہے کہ ایک یہودی عورت نبی کریم ﷺ پر (نعوذ باللہ ) سب وشتم کرتی تھی اور آپ کی (العیاذ باللہ ) غیبت کرتی تھی تو ایک آدمی نے اس کا گلا گھونٹ کر اسے مار دیا، نبی کریم ﷺ نے اس کا خون باطل (یعنی مباح) قرار دیا“

مَنْ سَبَّ نَبِيّاً فَاقْتُلُوهُ وَمَنْ سَبَّ أَصْحَابِي فَاضْرِبُوهُ

(۲۲)

”جس نے نبی ﷺ کو برا بھلا کہا ، اسے قتل کرو اور جس نے میرے اصحابؓ کو برا بھلا کہا اسے مارو“

مذکورہ بالا احادیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ جو مسلمان نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کرے اس کی سزا قتل ہے، وہ بالاتفاق مرتد اور کافر ہے، اس کے علاوہ اگر کوئی ذمی یا کافر شان رسالت میں بے ادبی و گستاخی کرے تو اس کو قتل کرنا بھی جائز ہے، جیسا کہ قاضی عیاض لکھتے ہیں:

قال ابوبكر بن المنذر اجمع عوام اهل العلم على ان من سبّ النبی صلى الله عليه وسلم يُقتل

(۲۳)

”ابوبکر بن المنذر فرماتے ہیں کہ تمام اہل علم کا اس بات پر اجماع ہے کہ جس نے نبی کریم ﷺ کو (نعوذ باللہ ) گالی دی تو اسے قتل کیا جائے گا“

قاضی عیاض مزید لکھتے ہیں:

وكذالك اقول حكم من غمصه او عيره برعاية الغنم او السهو او النسيان او السحر او ما اصابه من جرح او هزيمة لبعض جيوشه او اذى

صفحہ 242

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

من عدوّه او شدّةٍ من زمنه او بالميل الى نسائه فحكم هذا كلّه لمن قصد به نقصه القتل (۲۴)

”میں کہتا ہوں کہ اسی طرح جس کسی نے نبی کریم ﷺ کو (نعوذ باللہ) حقیر جانا یا آپؐ کو (نعوذ باللہ) بکریاں چرانے یا سہو یا نسیان یا جادو میں مبتلا ہونے یا زخمی ہونے یا آپؐ کے بعض لشکروں کو شکست کا سامنا کرنے یا دشمن کی طرف سے تکلیف پہنچنے یا اپنے زمانہ کی سختی کی وجہ سے یا عورتوں کی طرف مائل ہونے کی وجہ سے عار دلائی، تو اس کا حکم وہی ہوگا جو آپؐ کی عیب جوئی کرنے والے کا ہے، یعنی اسے قتل کیا جائے گا“

حضرت قاضی عیاضؒ اس مسئلہ کی مزید وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

اعلم وفقنا الله واياك ان جَميع من سب النبى ﷺ اوعابه او ألحق به نقصاً فى نفسه او نسبه او دينه او خصلةٍ من خصاله او عرّض به اوْ شبّهه بشىءٍ على طريق السب لهُ او الازراء عليه او التصغير لشأنه او الغضّ منه والعيب لهُ فهو سابّ لهُ والحكم فيه حكم الساب يقتل. (۲۵)

”جان لو! اللہ تعالیٰ ہمیں اور تمہیں توفیق عطا فرمائیں کہ جس شخص نے نبی کریم ﷺ کو (نعوذ باللہ) گالی دی ، یا آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذات اقدس یا آپؐ کے دین یا آپؐ کی عادات مبارکہ میں سے کسی عادت کے ساتھ کسی نقص کو ملحق کیا یا اشارۃً آپؐ کے لئے کوئی نامناسب بات کہی ، یا آپؐ کو کسی شئی کے ساتھ (نعوذ باللہ) گالی کے طور پر تشبیہ دی، یا آپؐ پر عیب لگایا، یا آپؐ کے لئے اسم تصغیر (اہانت کے طور پر) استعمال کیا، یا آپؐ کی شان و قدر گھٹانے کی کوشش کی، یا آپؐ کی طرف کسی برائی کی نسبت کی ، تو وہ درحقیقت ان تمام صورتوں میں آپؐ پر سَب وشتم کرنے والا ہے اور اس کا حکم شاتم کا ہے، یعنی اسے قتل کیا جائے گا“

مذکورہ بالا اقوال سے معلوم ہو گیا کہ شاتم رسول ﷺ کے کافر اور مستحق قتل ہونے پر تمام امت کا اجماع ہے، البتہ کسی امر کے گستاخی و بے ادبی ہونے میں اختلاف ہونا ممکن ہے، اس صورت میں فوری تکفیر سے اجتناب کیا جائے گا ، کیونکہ اختلاف کی صورت میں تکفیر کرنا صحیح نہیں۔ بعض امور صریح ہوتے ہیں کہ ان میں نیت کا جاننا ضروری نہیں

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

ہوتا، جیسے کسی ملعون کا نعوذباللہ دلالتِ حال اس بات کی نشاندہی کیا گیا ہے، البتہ بعض اوقات قائل نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لئے ا رکھتے ہوئے جائز قرار دیا ہے ایک لفظ کسی علاقے میں ادب سخت توہین کے لئے مستعمل ہو تاہم نبی کریم ﷺ کے لئے اور گستاخی کا شائبہ رکھتا ہو، اگر دیتی ہو، نامناسب ہے۔ (۲۶)

نقیب اشاعت خاص: ہدیہ: ۴۰۰ روپے اے ۱۹، بلاک فون: 80641

صفحہ 243

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

ہوتا، جیسے کسی ملعون کا نعوذ باللہ نبی کریم ﷺ پر زبان طعن دراز کرنا یا سب و شتم کرنا دلالت حال اس بات کی نشاندہی کر دیتی ہے کہ یہ عمل توہین یا استخفاف کی نیت سے کیا گیا ہے، البتہ بعض اوقات قائل کی نیت کا پوچھنا ضروری ہوتا ہے، جیسے بعض فقہاء نے نبی علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے اسم تصغیر کے استعمال کو تعظیم کی نیت سے یا اہانت کی نیت نہ رکھتے ہوئے جائز قرار دیا ہے۔ بالعموم توہین و تعظیم کا تعلق عرف سے ہوتا ہے، ممکن ہے کہ ایک لفظ کسی علاقے میں ادب کے لئے استعمال ہوتا ہو اور وہی لفظ دوسرے علاقے میں سخت توہین کے لئے مستعمل ہو ، اس صورت میں فرد کی نیت و عرف کا اعتبار کیا جائے گا ، تاہم نبی کریم ﷺ کے لئے ایسا کلمہ استعمال کرنا جو کسی بھی اعتبار سے بے ادبی اور گستاخی کا شائبہ رکھتا ہو، اگرچہ اس علاقے و زمانہ کا عرف یا زبان اس کی اجازت بھی دیتی ہو، نامناسب ہے۔ (۲۶)

نقیب اتحاد ملت اسلامیہ ماہنامہ مسیحائی کراچی

اشاعت خاص: ” ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم نمبر“ احمد خیر الدین انصاری

☆.............☆.............☆

ہدیہ: ۴۰۰ روپے بمع ڈاک ضخامت: ۱۰۲۴ صفحات محدود تعداد میں دستیاب ہے۔ بی جے ۱۹، بلاک ، اے، نارتھ ناظم آباد، کراچی ۷۴۷۰۰۔ فون: 36630641۔موبائل: 03323569913

صفحہ 244

حرمت رسول نمبر 244 ماہنامہ سبحانی کراچی

حوالہ جات

الحرب وکتابۃ الشروط

دارالکتب العربی، القاہرۃ، ۱۹۶۷ء، ۲۳۸:۱۴

العلمیہ بیروت، ۲۰۰۲ء، ۱۳۷:۲

صفحہ 245

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 245 ماہنامہ البلاغ کراچی

عظمت رسول ﷺ

اور

گستاخ رسول کا انجام تاریخ کے تناظر میں

ڈاکٹر عبد الرؤف ظفر

عظمت رسول ﷺ :

یہ ایک آشکارہ عالم حقیقت ہے کہ اعتراف عظمت کے لیے با عظمت انسان ہونا ضروری ہے اور اس اعلیٰ انسان کی عظمت و بلندی کا کیا اندازہ لگائیں جس کی عظمت کا اعلان خود انسانوں کا خالق قرآن مجید میں ورفعنا لک ذکرک فرما کر رہا ہو۔ اسلام میں رسول اکرم ﷺ کا مقام و مرتبہ اللہ تعالیٰ کے بعد سب سے بلند تر ہے۔ آپ ﷺ کی ذات نہ صرف وحی الٰہی کی شارح ہے بلکہ شارع بھی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

(وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَى O إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى) ”آپ ﷺ کی زبان مبارک سے ادا ہونے والے الفاظ منشا باری تعالیٰ کے مطابق ہیں“ (۱)

آپ ﷺ کی ذات ہر قسم کے گناہ اور لغزش سے معصوم ہے۔ قرآن مجید میں آپ کی محبت کا حکم دیتے ہوئے مسلمانوں سے فرمایا گیا ہے:

(قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ)

”فرما دیجیے اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہو تو رسول اقدس ﷺ کی اطاعت کرو اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہاری خطاؤں سے درگزر فرمائے گا وہ بڑا معاف کرنے والا رحیم ہے“ (۲)۔

اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے بندوں کی ہدایت کے لیے ایک لاکھ چوبیس ہزار کم و بیش

صفحہ 246

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 246 ماہنامہ سبحانی کراچی

جتنے پیغمبر ورسل مبعوث فرمائے ان میں سے کسی نبی کو ہم کلامی کا شرف بخشا کسی کو ید بیضاء عطا کیئے، کسی کو مردے زندہ کر دینے اور مبروص کو شفا بخشنے کے معجزات عنایت فرمائے کسی نبی کو صفی اللہ کسی کو کلیم اللہ کسی کو خلیل اللہ اور کسی کو روح اللہ کے خطابات سے نوازا لیکن تاج محبوبیت صرف آقائے دو جہاں سید ولد آدم سرور کائنات احمد مجتبیٰ ﷺ کے سر مبارک پر ہی رکھا جتنے معجزات دیگر انبیاء کرام کو فرداً فرداً عطا کیئے وہ سب مجموعی طور پر آپ ﷺ کی ذات میں جمع کر دیئے گئے۔

حسن یوسف دم عیسیٰ ید بیضا داری
آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری

حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسیٰ تک تمام انبیاء کرام سے آپ ﷺ کی نبوت کی تصدیق کروائی گئی۔

ارشاد خداوندی ہے:

وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّينَ لَمَا آتَيْتُكُم مِّن كِتَابٍ وَحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنصُرُنَّهُ قَالَ أَأَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلَى ذٰلِكُمْ إِصْرِي قَالُوا أَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْهَدُوا وَأَنَا مَعَكُم مِّنَ الشَّاهِدِينَ O فَمَن تَوَلَّى بَعْدَ ذٰلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ (۳)

"یاد کرو اللہ نے پیغمبروں سے عہد لیا تھا کہ آج میں نے تمہیں کتاب اور حکمت و دانش سے نوازا ہے اگر کوئی دوسرا رسول تمہارے پاس اسی تعلیم کی تصدیق کرتا ہوا آئے جو پہلے سے تمہارے پاس موجود ہے تو تم کو اس پر ایمان لانا ہوگا اور اس کی مدد کرنی ہوگی۔" کیا تم اس کا اقرار کرتے ہو اور اس پر میری طرف سے عہد کی بھاری ذمہ داری اٹھاتے ہو ؟" انہوں نے کہا ہاں ہم اقرار کرتے ہیں، "اللہ نے فرمایا "اچھا تو گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں، اس کے بعد جو اپنے عہد سے پھر جائے وہی فاسق ہے۔"

اس آیت کی تفسیر میں سیدنا علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں:

"آدم سے لے کر مسیح تک جتنے پیغمبر گزرے خدا نے ہر ایک سے آپ ﷺ کی نبوت

صفحہ 247

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 247 ماہنامہ مسیحائی کراچی

کی تصدیق اور تائید کا پختہ قول و قرار لیا‘ (۴)

اس لیے پیغمبروں نے اپنے اپنے زمانے میں اس حق کو ادا کیا اور اپنی امتوں کو امام الانبیاء کی آمد کی بشارتیں سنائیں توریت وانجیل بھی آپ ﷺ کی شان میں مدح سرا ہیں اب تک بھی موجودہ توریت وانجیل میں باوجود اس قدر تغیر وتبدل ترمیم وتحریف کے اکثر بشارتیں صاف صاف موجود ہیں اور قرآن مجید خود اس پر گواہ ہے:

الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوباً عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ (۵)

(یہ وہ لوگ ہیں جو پیروی کریں گے اس رسول نبی کی جس کو وہ اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پائیں گے ) آپ ﷺ کی تشریف آوری سے بیشتر سامی مذاہب کے لوگوں کے علاوہ غیر سامی مذاہب کے لوگوں میں بھی آپ ﷺ کا خوب چرچا تھا اور ارباب نظر اس کا خوب اظہار کرتے تھے مکہ مکرمہ کے سادات قریش کو جو بتوں کو پوجتے تھے اور مدینہ منورہ کے سادات کو بھی آپ ﷺ کی تشریف آوری پر کامل ایمان تھا چنانچہ قریش کے مورث اعلیٰ کعب بن لوی بن مالک ہر جمعہ کو قریش مکہ کو جمع کر کے ان کے سا منے یہ خطبہ پڑھا کرتے تھے:

نہار ولیل کل یوم حادث ........ سواء علینا لیلہا ونہارہا
توبان بالاحداث فینا تووبا ........ و بالنعم الصافی علینا ستورہا
خطوب ابناء تغلب اہلیہا ........ لہا عقد ما یستحیل مدیرہا
علی غفلۃ یاتی النبی محمد ﷺ ........ فیخبر اخبارا صدوقا خبیرہا
یالیتنی شاہد فحواء دعوتہ ........ حین العشیرۃ تبغی الحق خذلانا

یہ رات اور دن کی گردش ہمارے برابر ہے کبھی کبھی کسی حادثہ کا ظہور ہو جاتا ہے اور نئی سے نئی اچھی بات ظاہر ہو جاتی ہے بعض ایسے حوادث بھی ہو جاتے ہیں جن سے نجات مشکل ہو جاتی ہے۔ ایسی بے خبری میں نبی ﷺ تشریف لے آئیں گے جو سچے خبر دینے

صفحہ 248

ماہنامہ سبحانی کراچی 248 رحمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

والے (خداوند تعالیٰ) کی طرف سے سچی خبریں ارشاد فرمائیں گے کاش میں دعوت کے وقت موجود ہوتا (یعنی میں ان پر ایمان لے آتا) جب قوم قریش اس دین حق سے بغا وت کر کے ذلیل ہو جائے گی) (۶)

اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے مرتبے کو بڑھاتے ہوئے آپ کو شفاعت عظمیٰ عطا کی ہے جو آپ ﷺ قیامت کے دن ساری مخلوقات کے لیے اس وقت کریں گے جبکہ دیگر انبیاء کرام اس سے معذرت کر چکے ہوں گے یہ شفاعت آپ ﷺ کی اپنی امت کے ساتھ محبت اور شفقت پر دلالت کرتی ہے حضرت ابو ہریرہؓ نے آپ سے یہ حدیث نقل کی ہے: ’’لكل نبى دعوة مستجابة يدعو بها واريد ان اختبئ دعوتى شفاعة لا متى يوم القيامة‘‘(۷) (ہر نبی کے لیے ایک دعاء مستجاب ہے جس کے ساتھ وہ دعا کرتا ہے اور میں نے اپنی دعا مستجاب کو قیامت کے دن اپنی شفاعت کے لیے چن لیا ہے۔ اس مقام و مرتبہ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ہم پر آپ ﷺ کی تعظیم، ادب و محبت اور نصرت کو واجب قرار دیا اور ارشاد باری تعالیٰ ہے (إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِداً وَمُبَشِّراً وَنَذِيْراً oلِتُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتُعَزِّرُوْهُ وَتُوَقِّرُوهُ وَتُسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيْلاً) (۸) (اے نبی ہم نے تم کو شہادت دینے والا اور خبردار کرنے والا بنا کر بھیجا ہے تا کہ اے لوگو! تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس کا (یعنی رسول کا) ساتھ دو اس کی تعظیم و توقیر کرو اور صبح شام اللہ کی تسبیح کرتے رہو)

یہ چند باتیں موضوع کی مناسبت سے عرض کر دیں ورنہ اس ذات کی تعریف میں قلم و صفحات اور انسانی دماغ ساتھ دینے سے قاصر محسوس ہوتے ہیں بقول شاعر:

ارى كل مدح فى النبى ﷺ مقصرا وان بالغ المثنى عليه و اكثرا

میں نے ہر تعریف کو نبی کریم ﷺ کی تعریف سے کم ہی دیکھا اگر چہ تعریف کرنے والا

رحمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 19

کتنا ہی مبالغہ کیوں نہ کرے۔

شاتم رسول کے پس پردہ محرکات

گستاخان رسالت کی جانب سے اسلام کی لینے والا گستاخی رسول کا یہ سلسلہ زمانہ قدیم رسالت کو بطور ہتھیار استعمال کر رہے ہیں تاکہ ں مسلمانوں کے اذہان میں اسلام اور آپ ﷺ ئیں اسلام کی طرف راغب اور اسلام میں وٹ ڈالی جاسکے اور اسلام کی عالم گیر و عظیم ا

گستاخ رسول ﷺ کا حکم قر

شان رسالت میں گستاخی کرنے والوں تعالیٰ فرماتا ہے۔ (وَمِنْهُمُ الَّذِيْنَ يُؤْذُ لَكُمْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَيُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِيْنَ وَرَ رَسُولَ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيْمٌ)(۹) (ان میں سے کچھ وہ لوگ ہیں جو اپنی با شخص کانوں کا کچا ہے کہو وہ تمہاری بھلائی ایمان پر اعتماد کرتا ہے اور سراسر رحمت ہیں اور جو لوگ اللہ کے رسول کو دکھ دیتے قرآن مجید میں ایک اور موقع پر شاتم تا ہے۔ وَإِن نَّكَثُواْ أَيْمَانَهُم مِّن بَعْدِ عَهْدِ اِئِمَّةَ الْكُفْرِ إِنَّهُمْ لاَ أَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنتَهُونَ

صفحہ 249

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 249 ماہنامہ مسیحائی کراچی

کتنا ہی مبالغہ کیوں نہ کرے۔

شاتم رسول کے پس پردہ محرکات:

گستاخان رسالت کی جانب سے اسلام کی شان وشوکت کے سبب حسد کی بنیاد پر جنم لینے والا گستاخی رسول کا یہ سلسلہ زمانہ قدیم سے چلا آرہا ہے۔ دشمنان اسلام توہین رسالت کو بطور ہتھیار استعمال کررہے ہیں تا کہ حق وباطل کو خلط ملط کر دیا جائے عامۃ النا س مسلمانوں کے اذہان میں اسلام اور آپﷺ کے متعلق شکوک وشبہات پیدا کر دیے جا ئیں اسلام کی طرف راغب اور اسلام میں دلچسپی لینے والے غیر مسلموں کی راہ میں رکا وٹ ڈالی جاسکے اور اسلام کی عالم گیر وعظیم الشان شہادت کو مجروح کیا جاسکے۔

گستاخ رسولﷺ کا حکم قرآن کی روشنی میں:

شان رسالت میں گستاخی کرنے والوں کے عبرتناک انجام کا تذکرہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ (وَمِنْهُمُ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ النَّبِيَّ وَيَقُوْلُوْنَ هُوَ أُذُنٌ قُلْ أُذُنُ خَيْرٍ لَّكُمْ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَيُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِيْنَ وَرَحْمَةٌ لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَالَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيْمٌ) (۹)

(ان میں سے کچھ وہ لوگ ہیں جو اپنی باتوں سے نبی کو دکھ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ شخص کانوں کا کچا ہے کہو وہ تمہاری بھلائی کے لیے ایسا ہے اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور اہل ایمان پر اعتماد کرتا ہے اور سراسر رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو تم میں سے ایمان دار ہیں اور جو لوگ اللہ کے رسول کو دکھ دیتے ہیں ان کے لیے دردناک عذاب ہے)

قرآن مجید میں ایک اور موقع پر شاتم رسول کی سزا بیان کرتے ہوئے ارشاد باری تعا لیٰ ہے۔

وَإِنْ نَّكَثُوْا أَيْمَانَهُمْ مِّنْ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ فَقَاتِلُوْا أَئِمَّةَ الْكُفْرِ إِنَّهُمْ لَا أَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنْتَهُوْنَ O أَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْماً نَّكَثُوْا أَيْمَانَهُمْ وَهَمُّوْا

صفحہ 250

ربیع الاول نمبر ۲۰۱۱ء 250 ماہنامہ سبحانی کراچی

بِاِخْرَاجِ الرَّسُولِ وَهُم بَدَءُوكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ أَتَخْشَوْنَهُمْ فَاللَّهُ أَحَقُّ أَن تَخْشَوْهُ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ o قَاتِلُوهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللَّهُ بِأَيْدِيكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِينَ o وَيُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوبِهِمْ وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَن يَشَاءُ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ o (١٠)

(اور اگر وہ اپنے عہد کے بعد اپنی قسمیں توڑ دیں اور تمہارے دین میں طعن کریں تو کفر کے سرداروں سے قتال کرو بے شک ان لوگوں کی کوئی قسمیں نہیں تا کہ وہ باز آ جائیں ۔ کیا تم ان لوگوں سے نہیں لڑو گے جنہوں نے اپنی قسمیں توڑ دیں اور رسول ﷺ کو نکالنے کا ارادہ کیا اور انہوں نے ہی پہلی بار تم سے ابتدا کی ۔ کیا تم ان سے ڈرتے ہو اللہ زیادہ حق دار ہے کہ تم اس سے ڈرو اگر تم مؤمن ہو ۔ ان سے قتال کرو اللہ انہیں تمہارے ہا تھوں سے عذاب دے گا اور انہیں رسوا کرے گا اور ان کے خلاف تمہاری مدد کرے گا اور مؤمنوں کے سینوں کو شفا دے گا اور ان کے دلوں کا غصہ دور کرے گا اور اللہ جسے چاہتا ہے توبہ کی توفیق دیتا ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا اور کمال حکمت والا ہے۔

ان آیات بینات میں اللہ تعالیٰ نے نقض عہد کے مرتکبین اور دین اسلام میں طعن کرنے والے نیز اللہ کی گستاخی یا اسلام کے کسی بھی مسئلے پر طعن و تشنیع سے کام لینے والے اور اللہ کے رسول کو مکہ مکرمہ سے نکالنے والے لوگوں سے قتل وقتال کا حکم دیا گیا ہے ۔ امام ابن کثیر اس آیت کریمہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں (اور اللہ کا فرمان اور وہ تمہارے دین میں طعن کریں ) یعنی اس میں عیب نکالیں اور تنقیص کریں ، یہیں سے شاتم رسول کے قتل کا حکم اخذ کیا گیا ہے یا جو بھی شخص دین اسلام میں طعن کرے یا تنقیص کے ساتھ اس کا تذکرہ کرے اس کا یہ حکم ہے۔ (۱۱)

قرآن مجید میں ایک دوسرے مقام پر اللہ اور اسکے نبی کو تکلیف پہنچانے والے شخص کو دنیا و آخرت میں لعنت و رسوا کن عذاب کی وعید سنائی گئی ہے۔

ارشاد خداوندی ہے: إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا

صفحہ 251

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 251 ماہنامہ سبحانی کراچی

والآخرة (۱۲) جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دیتے ہیں ان پر دنیا و آخرت میں اللہ نے لعنت فرمائی ہے۔

اسی طرح مزید فرمایا (مَلْعُونِينَ أَيْنَمَا ثُقِفُوا أُخِذُوا وَقُتِّلُوا تَقْتِيلاً) (۱۳) (ان پر ہر طرف سے لعنت کی بوچھاڑ ہوگی جہاں پائے جائیں گے، پکڑے جائیں گے اور بری طرح مارے جائیں گے)

امام تقی الدین سبکیؒ فرماتے ہیں مذکورہ آیت کریمہ شاتم رسول کے کفر اور بطور سزا اس کو قتل کرنے پر دلالت کرتی ہے نیز ان آیات کریمہ میں نبی کریم ﷺ کی عظمت شان کا بھی تذکرہ ہے کیونکہ آپ ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی بھی کفر ہے کیونکہ عذاب الیم اور عذاب مہین کفار کے ساتھ خاص ہے (۱۴)

ایک اور جگہ فرمان ربانی ہے:

يَحْذَرُ الْمُنَافِقُونَ أَن تُنَزَّلَ عَلَيْهِمْ سُورَةٌ تُنَبِّئُهُمْ بِمَا فِي قُلُوبِهِم قُلِ اسْتَهْزِئُوا إِنَّ اللَّهَ مُخْرِجٌ مَّا تَحْذَرُونَ o وَلَئِن سَأَلْتَهُمْ لَيَقُولُنَّ إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ قُلْ أَبِاللَّهِ وَآيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنتُمْ تَسْتَهْزِئُونَ o لَا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَانِكُمْ إِن نَّعْفُ عَن طَائِفَةٍ مِّنكُمْ نُعَذِّبْ طَائِفَةً بِأَنَّهُمْ كَانُوا مُجْرِمِينَ ۔ (۱۵)

یہ منافق ڈر رہے ہیں کہ کہیں مسلمانوں پر ایسی سورت نازل ہو جائے جو ان کے دلوں کے بھید کھول کر رکھ دے۔ اے نبی ! ان سے کہو : اور مذاق اڑاؤ۔ اللہ اس چیز کو کھول دینے والا ہے جس کے کھل جانے سے تم ڈرتے ہو

اگر ان سے پوچھو کہ تم کیا باتیں کر رہے تھے تو جھٹ کہہ دیں گے کہ ہم ہنسی اور مذاق اور دل لگی کر رہے تھے۔ ان سے کہو کیا اللہ تعالیٰ ، اس کی آیات اور اس کے رسول کے ساتھ مذاق کر رہے تھے؟ اب عذر نہ تراشو۔ تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا

صفحہ 252

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 252 ماہنامہ سبحانی کراچی

ہے، اگر ہم نے تم میں سے ایک گروہ کو معاف بھی کر دیا تو دوسرے گروہ کو ہم ضرور سزا دیں گے کیونکہ وہ مجرم ہیں

اس آیت تفسیر میں امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں:

یہ آیت مبارکہ اس امر پر نص صریح ہے کہ اللہ تعالیٰ، اس کی آیات اور اس کے رسول کا مذاق اڑانا کفر ہے، جب مذاق اڑانا کفر ہے تو سب و شتم بالاولیٰ اور سنجیدہ یا مزاح میں نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والا کافر ہے۔ (۱۶)

ایک اور جگہ قرآن مجید اطاعت رسول کو ان الفاظ میں بیان کیا:

(وَيَقُولُونَ آمَنَّا بِاللَّهِ وَبِالرَّسُولِ وَأَطَعْنَا ثُمَّ يَتَوَلَّى فَرِيقٌ مِّنْهُم مِّن بَعْدِ ذَلِكَ وَمَا أُوْلَئِكَ بِالْمُؤْمِنِينَ) (۱۷) (یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اللہ اور اس کے رسول پر اور ہم نے اطاعت قبول کی مگر ان کے بعد ان میں سے ایک گروہ (اطاعت سے) منہ موڑ جاتا ہے ایسے لوگ ہرگز مؤمن نہیں ہیں)

امام ابن تیمیہ ان آیات مبارکہ کے سیاق میں فرماتے ہیں:

اللہ تعالیٰ نے ان آیات مبارکہ میں واضح کر دیا ہے کہ جس شخص نے بھی رسول اللہ ﷺ کی اتباع اور اطاعت سے روگردانی کی اور منہ موڑا وہ منافقین میں سے ہے۔ مؤمن نہیں ہے کیونکہ مؤمن کا یہ شیوہ ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی ہر بات پر سمعنا و اطعنا کے سوا کچھ نہیں کہتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ خواہش نفس سے مغلوب ہو کر حکم رسول سے مجرد اعراض کرنے اور غیر سے فیصلے کروانے سے اگر آدمی منافق ہو جاتا ہے تو شانِ رسالت ﷺ میں گستاخی اور جسارت کرنا کتنا بڑا جرم ہوگا۔ (۱۸)

سورۃ الحجرات میں ادب نبوی ﷺ کو اللہ تعالیٰ ان الفاظ میں بیان کرتا ہے:

(يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَن تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُونَ) (۱۹)

(اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی آواز سے بلند نہ کرو اور نہ ہی نبی کے ساتھ اونچی

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

آواز میں بات کرو جس طرح آپس تمہارے اعمال ضائع ہو جائیں اور ت

امام ابن تیمیہ اس آیت کی تفسیر کر اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرامؓ کو نبی کریم گفتگو کرنے جیسے انداز کو نبی کریم کرنے سے بعض اوقات اعمال ضائع ۔ اور اعمال کا ضیاع ارتکاب کفر کے وہ ضرور جنت میں داخل ہوگا اگر ا سے نکل کر جنت میں داخل ہوگا۔ ا جنت میں داخل نہ ہوگا اور اعمال کے مطلقا اعمال کے منافی شی کوئی

گستاخ رسول ﷺ کا حکم صحا سنت نبوی ﷺ کا عمیق مطالعہ کر گستاخ رسول کی سزا قتل معروف تھی چنا ﷺ نے واقعہ افک کے بارے فرمایا (من یعذرنی من رجل بل (کون ہے جو مجھے اس آدمی سے بارے میں تکلیف دی ؟ ) قبیلہ اوس کے سردار سیدنا سع کے رسول اگر وہ آدمی قبیلہ اوس سے بھائیوں قبیلہ خزرج میں گے۔ (۲۲)

اس کی تشریح کرتے ہوئے

صفحہ 253

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 253 ماہنامہ سبحانی کراچی

آواز میں بات کرو جس طرح آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو کہیں ایسا نہ کہ تمہارے اعمال ضائع ہو جائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔)

امام ابن تیمیہ اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کو نبی کریم ﷺ کی آواز سے اپنی آواز بلند کرنے اور آپس میں گفتگو کرنے جیسے انداز کو نبی کریم ﷺ کے ساتھ اختیار کرنے سے منع کیا ہے، کیونکہ ایسا کرنے سے بعض اوقات اعمال ضائع بھی ہو سکتے ہیں اور صاحب اعمال کو شعور بھی نہ ہو اور اعمال کا ضیاع ارتکاب کفر کے بغیر نہیں ہوتا کیونکہ جو شخص حالت ایمان میں مر جائے وہ ضرور جنت میں داخل ہو گا اگر اپنے گناہوں کے سبب جہنم میں چلا بھی گیا تو بالآخر جہنم سے نکل کر جنت میں داخل ہوگا۔ اگر کسی شخص کے سارے اعمال ضائع ہو جائیں تو وہ کبھی جنت میں داخل نہ ہوگا اور اعمال اپنے منافی امور سے ضائع ہوتے ہیں اور سوائے کفر کے مطلقا اعمال کے منافی شے کوئی نہیں (۲۰)

گستاخ رسول ﷺ کا حکم حدیث رسول کی روشنی میں:

سنت نبوی ﷺ کا عمیق مطالعہ کرنے سے محسوس ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کے زمانہ میں گستا خ رسول کی سزا قتل معروف تھی چنانچہ صحیحین میں سیدہ عائشہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے واقعہ افک کے بارے میں خطبہ دیا اور عبداللہ بن ابی منافق کے بارے میں فرمایا (من يعذرنى من رجل بلغنى أذاه فى اهلى) (۲۱)

(کون ہے جو مجھے اس آدمی کے بارے میں معذور سمجھے جس نے مجھے میرے اہل کے بارے میں تکلیف دی ہے )

قبیلہ اوس کے سردار سیدنا سعد بن معاذ بولے میں آپ کو معذور سمجھتا ہوں اے اللہ کے رسول اگر وہ آدمی قبیلہ اوس سے تعلق رکھتا تو میں خود اس کی گردن اڑا دیتا اور اگر ہما رے بھائیوں قبیلہ خزرج میں سے وہ شخص ہے تو ہم وہی کریں گے جس کا آپ حکم دیں گے۔ (۲۲)

اس کی تشریح کرتے ہوئے امام تقی الدین سبکی لکھتے ہیں کہ سیدنا سعد بن معاذ کا قول

صفحہ 254

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 254 ماہنامہ سبحانی کراچی

اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ ان کے ہاں گستاخ رسول کی سزا قتل معروف تھی نیز نبی کریم ﷺ نے ان کے اس قول کو باقی رکھا اور اس پر انکار نہیں کیا اور نہ ہی یہ کہا کہ اس کو قتل کرنا جائز نہیں ہے سیدنا سعد بن معاذ نے عبداللہ بن ابی کو منافق ہونے کی وجہ سے قتل کرنے کا ارادہ نہیں کیا تھا بلکہ وہ اس کو شان رسالت میں گستاخی کرنے کی وجہ سے قتل کرنا چاہتے تھے کیونکہ اس نے نبی کریم ﷺ کو اذیت دی تھی۔ (۲۳)

حضرت عبداللہ ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ ایک نابینا صحابی کی لونڈی نبی کریم ﷺ کو گا لیاں دیا کرتی تھی وہ اسے بار بار منع کرتا لیکن وہ باز نہ آتی ایک رات اس نے حسب معمو ل نبی کریم ﷺ کو گالیاں دینا شروع کر دیں تو اس صحابی نے کدال لیا اور اس کے پیٹ پر رکھ کر خوب زور سے دبا دیا اور اس کو قتل کر دیا۔۔۔ نبی کریم ﷺ کے سامنے جب یہ مقدمہ پیش ہوا تو آپ ﷺ نے یہ فرمایا (الا اشهدو ان دمها هدر) (۲۴) خبردار گواہ بن جاؤ اس کا خون رائیگاں ہے۔

امام ابو داؤد نے اس حدیث پر باب قائم کیا ہے (باب الحكم فيمن سب النبى ﷺ) شاتم رسول کے حکم کا بیان۔

امام ابن تیمیہؒ اس عورت کے مسلمہ یا کافرہ ہونے کا اختلاف نقل کرنے کے بعد فر ماتے ہیں یہ عورت اس آدمی کی بیوی تھی یا لونڈی تھی دونوں حالتوں میں اگر اس کو قتل کرنا نا جائز تھا تو نبی کریم ضرور اس کی وضاحت فرماتے کہ اس کو قتل کرنا حرام ہے اور اس کا خون معصوم ہے اور اس معصوم کے قتل کے بدلے میں کفارہ واجب کرتے چنانچہ آپ ﷺ کے اس قول اشهدو ان دمها هدر سے معلوم ہو گیا کہ اس کا خون مباح ہو گیا اور اس کے خون کو مباح کرنے والا جرم شان رسالت میں سب و شتم تھا لہذا نبی کریم ﷺ نے اس کا جرم سن کر اس کا خون رائیگاں قرار دے دیا (۲۵)

شاتم رسول ﷺ کے قتل پر اجماع:

رسول اللہ ﷺ کی توہین کرنا بالاجماع کفر ہے اور توہین کرنے والا بالاتفاق واجب

صفحہ 255

ماہنامہ مسیحائی کراچی 255 حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

القتل ہے اور اس کی توبہ قبول کرنے میں ائمہ مذاہب کے مختلف قول ہیں، خواہ توہین کا تعلق آپ ﷺ کی ذات کے ساتھ ہو یا آپ ﷺ کے نسب کے ساتھ ہو، آپ کے دین کے ساتھ یا آپ کی کسی صفت کے ساتھ ہو اور یہ اہانت خواہ صراحۃ ہو یا کنایۃ ہو یا تعریضاً ہو یا تلویحاً ہو، اسی طرح کوئی شخص آپ کو بددعا کرے، آپ پر لعنت کرے یا آپ کا برا چاہے ۔ آپ کے عوارض بشریہ یا آپ سے متعلق اشیاء یا اشخاص کا آپ کی طرف نسبت کرتے ہوئے بطریق طعن یا مذمت ذکر کرے، غرض جس شخص سے کوئی ایسا کلام صادر ہو جس سے آپ ﷺ کی اہانت ظاہر ہو وہ کفر ہے اور اس کا قائل واجب القتل ہے، اسی طرح علامہ قاضی عیاض مالکی نے ذکر کیا ہے

(۲۶)

علامہ قاضی عیاض مالکی لکھتے ہیں:

قال محمد بن سحنون اجمع العلماء على ان شاتم النبی ﷺ المنقص له کافر والوعید جار علیه بعذاب الله له وحکمه عند الامة القتل ومن شک فی کفره وعذابه کفر

(۲۷)

”محمد بن سحنون نے کہا ہے علماء کا اس بات پر اجماع ہے نبی ﷺ کی اہانت کرنے والا اور آپ کی تنقیص (آپ کی شان میں کمی) کرنے والا کافر ہے اور اس پر عذاب الہی کی وعید جاری ہے اور امت کے نزدیک اس کا حکم قتل کرنا ہے اور جو شخص اسکے کفر اور عذاب میں شک کرے وہ بھی کافر ہے

بعض فقہاء حنفیہ کا قول یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو گالی دینے والے کی توبہ قبول نہیں ہوگی ۔

علامہ شامی لکھتے ہیں: والکافر بسب نبی من الانبياء فانه یقتل ولا یقبل توبته مطلقا ولو سب الله تعالیٰ قبلت لانه حق الله تعالیٰ والأول حق عبد ومن شک فی عذابه و کفره کفر

(۲۸)

”جو شخص کسی نبی کو گالی دینے سے کافر ہو گیا اس کو بطور حد قتل کیا جائے گا اور اس کی توبہ مطلق قبول نہیں ہے (خواہ خود توبہ کرے یا توبہ پر گواہی ہو) اور اگر اس نے اللہ تعالیٰ کو گالی دی تو اس کی توبہ قبول کر لی جائے

صفحہ 256

ماہنامہ مسیحائی کراچی حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

گی کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کا حق ہے اور نبی کو گالی دینا بندے کا حق ہے اور جو شخص اس کے عذاب اور کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ہو جائے۔

اسحاق بن راہویہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ تمام مسلمانوں کا اس امر پر اجماع کہ اللہ تعالیٰ یا نبی کریم ﷺ کو گالی دینے والا اللہ کی نازل کردہ شریعت کو ٹھکرانے والا اور انبیاء کرام میں سے کسی نبی کو قتل کرنے والا پکا کافر ہے (۲۹)

ابو سلیمان الخطابی الشافعی فرماتے ہیں کہ میں شاتم رسول کو قتل کرنے کے بارے میں کسی ایک کو بھی نہیں جانتا جس نے قتل کرنے سے اختلاف کیا ہو۔ (۳۰)

محمد بن سحنون الفقیہ وابی شیخ المالکیہ فرماتے ہیں: اہل علم کا اجماع ہے کہ نبی کریم ﷺ کو گالیاں دینے والا اور آپ ﷺ کی تنقیص کرنے والا کافر ہے۔ اس کے لیے عذاب الہی کی وعید ہے اور امت کے نزدیک اس کی سزا قتل ہے (۳۱)

شوافع میں سے ابو بکر الفارسی فرماتے ہیں کہ نبی کریم کو گالیاں دینے والے کو قتل کرنے پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے جیسا کہ عام مسلمانوں کو گالیاں دینے کی سزا کوڑے مارنا ہے (۳۲)

مجاہد سے نقل کیا گیا ہے کہ امیر المؤمنین حضرت عمرؓ کے پاس ایک شاتم رسول شخص لایا گیا حضرت عمرؓ نے اس کو قتل کر دیا اور فرمایا جو آدمی بھی اللہ تعالیٰ یا انبیاء کرام میں سے کسی نبی کو گالی دے اس کو قتل کر دو۔ (۳۳)

امام ابن تیمیہ نے اجماع صحابہ سے استدلال کرتے ہوئے شاتم رسول کے خون کو رائیگاں قرار دیا ہے کیونکہ صحابہ کرام شاتم رسول کو قتل کرنا واجب سمجھتے تھے۔ (۳۴)

حد قتل صرف مرتکب توہین رسالت کے لیے:

ابو برزہؓ فرماتے ہیں میں ابو بکر صدیقؓ کے پاس تھا وہ کسی آدمی پر بہت زیادہ ناراض ہوئے میں نے کہا اے خلیفۃ الرسول مجھے اجازت دیں میں اس کی گردن اڑا دوں میری اس بات نے ان کا غصہ ختم کر دیا حضرت ابو بکرؓ اٹھے اور میرے پاس آ کر کہا ابھی آپ

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

نے کیا کہا تھا میں نے کہا آپ نے فرمایا نہیں اللہ کی قسم نہیں محمد ﷺ گستاخی پر کسی کو قتل کر دیا جائے )

گستاخان رسول کا

اس امت محمدیہ پر امام الانبیاء ہے بلکہ آپ کا ادب واحترام امـ متاع دین ہے۔ رسول اکرم ﷺ کی مسلمان کیلئے ناقابل برداشت ہے مسلمانوں کیلئے ان کی اپنی عزتوں النبی اولی بالمؤمنین من بلاشبہ نبی ﷺ تو اہل ایمان کے تاریخ کے اوراق میں یہ بات اپنے خبیث باطن اور نبی کے لائے کی شان میں گستاخی ظاہر ہوئی تو

گستاخان رسول کا انجام کیا

بالتفصیل واقعات موجود ہیں جنہـ گا۔ تاہم کوشش کی جائے گی کہ اـ کیا جائے جن کے واقعات آج اقدس میں کبھی گستاخی نہ کرنا آپ خوار اور تباہ و برباد ہو جاؤ گے۔ انا کفینک المستہزئین اے نبی یقیناً ہم کافی ہیں آپ

صفحہ 257

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 257 ماہنامہ سبحانی کراچی

نے کیا کہا تھا میں نے کہا آپ اجازت دیں میں اس گستاخ کی گردن اڑا دوں انہوں نے فرمایا نہیں اللہ کی قسم نہیں محمد ﷺ کے بعد کسی انسان کی یہ شان نہیں ہے (کہ اس کی گستاخی پر کسی کو قتل کر دیا جائے) (۳۴)

گستاخان رسول کا تاریخی جائزہ:

اس امت محمدیہ پر امام الانبیاء محمد مصطفیٰ کی ذات پر نہ صرف ایمان لانا فرض و ضروری ہے بلکہ آپ کا ادب و احترام اور آپ کی عزت و حرمت اہل ایمان کی سب سے بڑی متاع دین ہے۔ رسول اکرم کی ذات عالی صفات میں کسی بھی نوعیت کی گستاخی ایک مسلمان کیلئے ناقابل برداشت ہے خود اللہ رب العزت نے آپ کی عزت و ناموس کو مسلمانوں کیلئے ان کی اپنی عزتوں سے اعلیٰ و ارفع قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:

النبی اولیٰ بالمؤمنین من انفسهم (۳۵)

بلاشبہ نبی ﷺ تو اہلِ ایمان کے لئے ان کی اپنی ذات پر مقدم ہے۔

تاریخ کے اوراق میں یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جب بھی کسی بدبخت سے اپنے خبیث باطن اور نبیؐ کے لائے ہوئے دین کی شان و شوکت سے حسد کے سبب نبی کریم کی شان میں گستاخی ظاہر ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے اس کو ذلت و رسوائی کے ملبے تلے دبوا دیا۔

گستاخان رسول کا انجام کیا ہوا اس سوال کے جواب کیلئے اوراق تاریخ میں ایسے بالتفصیل واقعات موجود ہیں جنہیں ان مختصر صفحات پر تحریر میں لانا مضمون کو مقالہ بنا دے گا۔ تاہم کوشش کی جائے گی کہ ایسے گستاخان رسول کا مختصر حال آپ کی خدمت میں پیش کیا جائے جن کے واقعات آج کے انسانوں کو یہ سبق دے رہے ہیں کہ نبی کریم کی شانِ اقدس میں کبھی گستاخی نہ کرنا آپ کی باتوں کا مذاق نہ اڑانا ورنہ دنیا و آخرت میں ذلیل و خوار اور تباہ و برباد ہو جاؤ گے۔ خود اللہ رب العزت کلام پاک میں ارشاد فرما رہے ہیں:

انا کفینک المستهزئین (۳۶)

اے نبی یقیناً ہم کافی ہیں آپ کی طرف سے ان مذاق اڑانے والوں کے خلاف۔

صفحہ 258

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

ابولہب:

اس کا اصل نام عبدالعزیٰ تھا۔ نبوت ملنے کے بعد جب آپ نے مکہ میں تبلیغ شروع کی تو اس وقت جن لوگوں نے آپ کی شدت سے مخالفت کی ان میں سے ایک یہ بھی تھا۔

جب نبی کریم نے صفاء پہاڑی پر لوگوں کے سامنے توحید کا اعلان کیا تو اس وقت اس نے آپ سے بدتمیزی کرتے ہوئے کہا:

تبا لک الہذا جمعتنا (۳۷) (تو تباہ ہو تو نے ہمیں اسی لیے جمع کیا تھا)۔

ابولہب کی اس بدتمیزی کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے سورۃ اللھب نازل فرمائی۔ اس سورۃ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس لعین کے انجام سے پہلے ہی سب کو آگاہ کر دیا تھا۔ ابولہب کے انجام کو بیان کرتے ہوئے مولانا عبدالرحمٰن کیلانی لکھتے ہیں:

"اس کو جنگ بدر کی شکست فاش کی خبر سن کر اتنا صدمہ ہوا کہ بیمار پڑ گیا۔ ساتویں دن یہ بیماری چیچک کی شکل اختیار کر گئی۔ چھوت کے سبب اس کے بیٹوں نے اس کے ساتھ کھانا پینا چھوڑ دیا۔ بالآخر وہ نہایت بے کسی کی موت مرا۔ مرنے کے بعد بھی اس کا کوئی بیٹا اسکے قریب نہ پھٹکا تین دن تک اس کی لاش بے گور و کفن رہی پھر جب لوگوں نے اس کے بیٹوں کو طعنے دیئے تو انہوں نے ایک حبشی کو کچھ معاوضہ دیا کہ وہ ایک گڑھا کھود کر اس میں لاش دھکیل دے اور اوپر سے مٹی ڈال دے یا پتھر وغیرہ دور سے پھینک کر لاش کو چھپا دے (۳۸)۔

ام جمیل:

اس کا نام ارویٰ اور کنیت ام جمیل تھی۔ یہ ابوسفیان کی بہن اور ابولہب کی بیوی تھی۔ رسول اللہ کے ساتھ دشمنی میں یہ اپنے شوہر سے کم نہ تھی۔ آپ کی ہجو میں اشعار کہتی تھی اور آپ کے راستے میں لکڑیاں اور کانٹے لا کر بچھا دیتی تھی۔ قرآن کریم میں سورۃ اللھب میں اس بات کی طرف ہی اشارہ کیا گیا ہے:

صفحہ 259

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 259 ماہنامہ مسیحائی کراچی

وامراتہ حمالۃ الحطب (۳۹) (اور اس کی بیوی جو لکڑیاں اٹھائے پھرتی تھی)۔

قدرت خداوندی نے جب انتقام وقہر کے سلسلے کا آغاز ان کی فقر و تنگدستی سے کیا تو اس فقر و تنگدستی کی نوبت یہاں تک پہنچی کہ یہ لکڑیاں لاد کر لانے لگی ایک روز یہ لکڑیاں اٹھا کر لا رہی تھی کہ گر پڑی۔ لکڑیوں کی گانٹھ جو اس کے سر پر تھی وہ بھی گری اور جس رسی سے یہ گانٹھ بندھی ہوئی تھی وہ پھندے کی طرح گلے میں پھنس گئی اور گلا ایسا گھٹا کہ تڑپ تڑپ کر مرگئی (۴۰)۔

عتیبہ بن ابولہب:

ابولہب کے دو بیٹے تھے جن کا نام عتبہ اور عتیبہ تھا۔ نبوت سے پہلے رسول کریم کی دو بیٹیوں حضرت رقیہ اور حضرت ام کلثوم کا نکاح ان دونوں سے ہوا تھا۔ جب آپ نے نبوت کا اعلان فرمایا تو ابولہب نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ جب تک تم محمد کی بیٹیوں کو طلاق نہیں دو گے اس وقت تک میں تم سے ملنا حرام سمجھتا ہوں اس کے بعد ان دونوں نے آپؐ کی بیٹیوں کو طلاق دے دی۔ عتیبہ گستاخی میں اس قدر بڑھ گیا کہ رسول کریمؐ کے بارے میں نازیبا الفاظ کہنے لگا اور ایک مرتبہ تو آپؐ کے چہرہ انور پر نعوذ باللہ تھوکنے کی کوشش کی لیکن اس کا ناپاک تھوک آپؐ پر نہ پڑا۔ اس کی اس حرکت سے آپؐ کو بہت صدمہ ہوا اور آپؐ نے فرمایا:

اللہم سلط علیہ کلباً من کلابک

اے اللہ اس پر اپنے کتوں میں سے ایک کتے کو مسلط کردے

کچھ عرصہ بعد عتیبہ اپنے باپ ابولہب کے ساتھ شام کے سفر پر روانہ ہوا۔ دوران سفر قافلہ نے ایک ایسی جگہ پڑاؤ کیا جسکے متعلق مقامی لوگوں نے بتایا کہ رات کے وقت درندے بھی ادھر آ جاتے ہیں۔ ابولہب نے اپنے اہل قریش ساتھیوں سے کہا کہ میرے بیٹے کی حفاظت کا کچھ انتظام کرو کیونکہ مجھے محمد کی بددعا کا خوف ہے۔ اس پر قافلے والوں

صفحہ 260

ماہنامہ مسیحائی کراچی حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

نے عتیبہ کے گرد ہر طرف سے اونٹ بٹھا دیئے اور سو گئے رات کو ایک شیر آیا اور اونٹوں کے حلقے سے گذر کر اس نے عتیبہ کو پھاڑ کھایا (۴۲)۔

ابو جہل:

ابو جہل مکے کا سردار اور اسلام کا بہت بڑا دشمن تھا۔ دین اسلام کو بڑے اہم مواقع پر اس نے نقصان پہنچایا۔ آپ کی ہجرت کے موقع پر اس نے اہل قریش کو مشورہ دیا کہ ہر قبیلے کا ایک ایک نوجوان آپ کو قتل کرنے میں شریک ہوتا کہ قصاص نہ لیا جا سکے اللہ نے دو نوجوان بچوں سے اس کا کام تمام کرا دیا۔ حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ ابو جہل کے قتل کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

”بدر کے میدان میں جب صف بندی ہوئی تو میں نے اپنے دائیں بائیں دو نوعمر لڑکوں کو دیکھا ان میں سے ایک نے مجھ سے پوچھا چچا کیا آپ ابو جہل کو جانتے ہیں۔ میں نے اس سے کہا تمہیں اس سے کیا غرض تو اس نے کہا وہ نبی کو گالیاں دیتا ہے۔ اللہ کی قسم ! آج میں اسے نہیں چھوڑونگا۔ یہی بات دوسرے نے بھی کہی اتنے میں مجھے صفوں کے درمیان ابو جہل نظر آ گیا تو میں نے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان نوجوانوں کو بتایا کہ وہ رہا ابو جہل تو وہ دونوں اسکی طرف جلدی سے چلے اور اس پر جھپٹ پڑے اور مارتے مارتے ابو جہل کو قتل کر دیا اور پھر رسول کریم کی خدمت میں حاضر ہو کر بتایا کہ ہم نے اسے قتل کر دیا ہے (۴۳)۔

کعب بن اشرف:

کعب بن اشرف یہودی آپؐ اور اسلام سے بہت تعصب رکھتا تھا جب اسے مسلمانوں کی بدر میں فتح کی خبر ملی تو اسے بہت صدمہ ہوا اور کہنے لگا کہ اگر یہ خبر درست ہے کہ مکہ کے سب خدا مارے گئے ہیں تو اب جینے سے مر جانا بہتر ہے۔ کعب بن اشرف فتح بدر کے بعد مکہ گیا اور اہل مکہ کے مقتولین کے مرثیے لکھے جنہیں پڑھ کر خود بھی روتا اور

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

اہل مکہ کو بھی رلاتا اور مسلمانوں ک عورتوں کے بارے میں عشقیہ اشعا ہجو کرتا تھا۔ آپ کو اس کے ان افع مجلس میں فرمایا کہ کون کعب بن ا رسول کو اذیت دی ہے۔ اس پر محم کروں گا۔ کیا اسے قتل کرنا ہے؟ آ دو ساتھیوں عبس بن حبر اور عبا پہنچے اور اسے آواز دی۔ کعب ج کہہ رکھا تھا کہ جب وہ آ جا میں نے اس کا سر پکڑ کر قابو میں ک جب کعب اترا تو اس نے م سے بہت عمدہ خوشبو آ رہی ہ والی عورت ہے۔ محمد بن مسلم ہاں محمد بن مسلمہ نے اس کے س بار دوبارہ سونگھنا چاہتا ہوں۔ ک ڈال کر اچھی طرح مضبوطی س کرتے ہوئے اسے قتل کر ڈالا۔

ابورافع عبداللہ بن

حضرت براء بن عازب چند صحابہ پر امیر مقرر کر کے ا رافع رسول کریم کو تکلیف دیت تھا۔۔۔ انہیں حجاز کے ایک قبی

صفحہ 261

ماہنامہ مسیحائی کراچی 261 حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

اہل مکہ کو بھی رلاتا اور مسلمانوں کے خلاف جنگ پر ابھارتا پھر مدینہ واپس آ کر مسلمان عورتوں کے بارے میں عشقیہ اشعار کہنے شروع کر دیئے اور اشعار میں رسول اکرمؐ کی بھی ہجو کرتا تھا۔ آپؐ کو اس کے ان افعال خبیثہ سے بہت تکلیف ہوتی آپؐ نے ایک مرتبہ اپنی مجلس میں فرمایا کہ کون کعب بن اشرف کا کام تمام کرے گا کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دی ہے۔ اس پر حضرت محمد بن مسلمہؓ نے کھڑے ہو کر کہا حضور یہ کام میں کرونگا۔ کیا اسے قتل کرنا ہے آپؐ نے فرمایا ہاں۔ پھر ایک دن حضرت محمد بن مسلمہؓ اپنے دو ساتھیوں عبس بن جبر اور عباد بن بشر کو ساتھ لیے رات کے وقت کعب کے قلعہ نما گھر پہنچے اور اسے آواز دی۔ کعب بن اشرف باہر آ گیا۔ محمد بن مسلمہؓ نے اپنے ساتھیوں سے کہہ رکھا تھا کہ جب وہ آ جائے گا تو میں اس کے بال پکڑ کر سونگھوں گا جب تم دیکھو کہ میں نے اس کا سر پکڑ کر قابو میں کر لیا ہے تو اس پر پل پڑنا اور اسے مار ڈالنا۔

جب کعب اترا تو اس نے چادر اوڑھ رکھی تھی۔ محمد بن مسلمہؓ نے کہا کہ یہ ہمیں آپ سے بہت عمدہ خوشبو آ رہی ہے۔ اس نے کہا میرے پاس عرب کی سب سے زیادہ خوشبو والی عورت ہے۔ محمد بن مسلمہؓ نے کہا اجازت ہو تو آپ کا سر سونگھ لوں۔ کعب بولا ہاں، ہاں محمد بن مسلمہؓ نے اس کے سر پر اپنا ہاتھ ڈالا۔ ایک بار پھر محمد بن مسلمہؓ نے کہا کہ ایک بار دوبارہ سونگھنا چاہتا ہوں۔ کعب نے کہا ہاں، ہاں۔ محمد بن مسلمہؓ نے اس کے سر میں ہاتھ ڈال کر اچھی طرح مضبوطی سے پکڑ لیا پھر محمد بن مسلمہؓ کے ساتھیوں نے اس یہودی پر حملہ کرتے ہوئے اسے قتل کر ڈالا (۴۴)

ابو رافع عبداللہ بن ابی الحقیق:

حضرت براء بن عازبؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے عبداللہ بن ابی عتیکؓ کو چند صحابہ پر امیر مقرر کر کے ابو رافع یہودی کی طرف اس کا کام تمام کرنے کیلئے بھیجا۔ ابو رافع رسول کریمؐ کو تکلیف دیتا تھا اور عہد شکنی کرتے ہوئے آپؐ کے مخالفین کی مدد کیا کرتا تھا۔ یہ ارض حجاز کے ایک قلعہ میں اقامت گزیں تھا یہ حضرات جب وہاں پہنچے تو سورج

صفحہ 262

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

غُروب ہونے کو تھا۔ عبداللہؓ نے اپنے رفقاء سے کہا تم یہاں رہو میں قلعہ میں جاتا ہوں جب یہ اندر پہنچے تو ایک افسانہ گو ابو رافع کو افسانہ سنا رہا تھا۔ جب یہ سب لوگ چلے گئے تو میں اس کی طرف پہنچا تو وہ ایک تاریک کمرے میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ تھا اور کچھ پتہ نہ چلتا تھا کہ وہ کہاں ہے۔ میں نے کہا یہاں ابو رافع ہے۔ اس نے پوچھا کون ہے؟ میں اس آواز کی جانب متوجہ ہوا اور اس پر تلوار چلا دی لیکن اس کا کام تمام نہ کر سکا کچھ دیر بعد میں پھر اس کی طرف لوٹا اور کہا ابو رافع یہ آواز کیسی ہے۔ اس نے کہا تیری ماں مرے ایک آدمی نے مجھے تلوار مار دی ہے بس میں نے تلوار مار مار کر اسے لہولہان کر دیا۔ مگر وہ نہ مرا پھر میں نے تلوار کی نوک اس کے پیٹ پر رکھ دی یہاں تک کہ وہ پشت تک پہنچ گئی واپسی پر میں نے ایک سیڑھی پر پاؤں رکھا تو وہ ٹوٹ گئی جس سے میں گر پڑا اور میری پنڈلی ٹوٹ گئی صبح میں اپنے ساتھیوں کو لیکر آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سارا قصہ عرض کیا۔ آپؐ نے فرمایا: اپنا پاؤں پھیلاؤ میں نے (زخمی) پاؤں پھیلا دیا۔ آپؐ نے اسے چھوا تو وہ ایسا ہو گیا کہ گویا اس میں تکلیف ہی نہ تھی (۴۵)

یہودی عورت:

حضرت علیؓ سے مروی ہے کہ ایک یہودی عورت نبی اکرمؐ کی گستاخی کرتے ہوئے آپ کو گالیاں دیا کرتی تھی چنانچہ اسے قتل کر دیا گیا۔ اس کا مقدمہ جب آپؐ کے پاس آیا تو آپؐ نے اس کے خون کو باطل قرار دے دیا (۴۶)

قبیلہ بنی خطمہ کی ایک عورت:

یہ خاتون یزید بن زید بن حصین خطمی کی بیوی تھی یہ رسول کریمؐ کو ایذا دیا کرتی تھی۔ اسلام میں عیب نکالتی اور آپؐ کے خلاف لوگوں کو بھڑکایا کرتی تھی۔ عمیر بن عدی خطمی کو جب اس کی باتوں کا علم ہوا تو وہ آدھی رات کے وقت اس عورت کے گھر داخل ہوئے۔ اپنی تلوار کو اس کے سینے پر رکھا اور اس کی پشت سے پار کر دیا۔ اس عورت کو قتل کر کے

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

بارگاہ رسالت میں آکر مطلع کیا تو حضورؐ آئندہ اس قبیلہ کی دو بکریاں بھی آپس میں نہیں لڑیں گی۔ (۴۷)

مرتد کاتب وحی عیسائی:

ایک عیسائی مسلمان ہوا اور اس نے بقرہ بعد میں مرتد ہو گیا اور کہنے لگا کہ میں نے کچھ نہیں آتا بعد میں یہ آدمی جب فوت زمین نے اسے باہر پھینک دیا اسے پھر میں لوگوں نے اس کو اسی حال میں چھوڑ دیا

ابو عفک یہودی:

یہ ایک بوڑھا یہودی تھا جس کی عمر کریم ﷺ کی عداوت پر بھڑکایا کرتا اس نے رسول کریم ﷺ اور صحابہ کرام عمیر نے ماہ شوال میں اس کے گھر جاکر اپنی تلوار اس کے سینہ پر رکھتے ہوئے اس

ابن خطل:

عبداللہ بن خطل شروع میں مسلما کے لیے روانہ کیا اور ایک انصاری صحا میں ایک مقام پر پڑاؤ ڈالا تو اس انصا ذبح کرے اور کھانا بنائے جب وہ بیدا اس انصاری خادم کو قتل کر دیا اور پھر مرتد سہیلی آپ ﷺ کی ہجو پر مشتمل گا

صفحہ 263

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 263 ماہنامہ مسیحائی کراچی

بارگاہ رسالت میں آ کر مطلع کیا تو حضور نے اس شخص کے قبیلہ کے متعلق بشارت دی کہ آئندہ اس قبیلہ کی دو بکریاں بھی آپس میں نہیں ٹکرائیں گی اور سب لوگ اتحاد و اتفاق سے رہیں گے۔ (۴۷)

مرتد کاتب وحی عیسائی:

ایک عیسائی مسلمان ہوا اور اس نے بطور کاتب وحی سورۃ بقرہ اور آل عمران لکھی۔ یہ شخص بعد میں مرتد ہو گیا اور کہنے لگا کہ میں نے جو محمد کو لکھ کر دیا ہے اسے وہی کچھ آتا ہے۔ مزید کچھ نہیں آتا بعد میں یہ آدمی جب فوت ہوا اور اس کے ساتھیوں نے اس کو دفن کر دیا تو زمین نے اسے باہر پھینک دیا اسے پھر دفن کیا گیا۔ زمین نے پھر باہر پھینک دیا بعد میں لوگوں نے اس کو اسی حال میں چھوڑ دیا اور زمین نے اسے اپنے اندر جگہ نہ دی (۴۸)

ابو عفک یہودی:

یہ ایک بوڑھا یہودی تھا جس کی عمر ۱۲۰ سال تھی یہ شخص مدینہ میں آ کر لوگوں کو رسول کریم ﷺ کی عداوت پر بھڑکایا کرتا تھا بدر کی فتح و کامرانی پر یہ یہودی حسد کرنے لگا اس نے رسول کریم ﷺ اور صحابہ کرام کی مذمت میں ایک ہجویہ قصیدہ کہا حضرت سالم بن عمیر نے ماہ شوال میں اس کے گھر جا کر جب یہ گرمیوں کے موسم میں صحن میں سو رہا تھا اپنی تلوار اس کے سینہ پر رکھتے ہوئے اس کا کام تمام کر دیا (۴۹)

ابن خطل:

عبداللہ بن خطل شروع میں مسلمان تھا ایک مرتبہ آپ ﷺ نے اسے صدقہ کی وصولی کے لیے روانہ کیا اور ایک انصاری مسلمان کو خادم کے طور پر اس کے ساتھ کر دیا راستے میں ایک مقام پر پڑاؤ ڈالا تو اس انصاری مسلمان خادم سے ابن خطل نے کہا کہ وہ بکرا ذبح کرے اور کھانا بنائے جب وہ اٹھا تو کھانے کے لیے کچھ تیار نہ تھا جس پر اس نے اس انصاری خادم کو قتل کر دیا اور پھر مرتد ہو گیا اس کی ایک باندی اور اس باندی کی ایک سہیلی آپ ﷺ کی ہجو پر مشتمل گانے گاتی تھیں۔ فتح مکہ کے روز آپ ﷺ نے ابن خطل

صفحہ 264

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ سچائی کراچی

کے ساتھ ان دونوں کے قتل کا بھی حکم دیا (۵۰)۔

عمیر بن امیہ کی بہن :

عمیر بن امیہ کی بہن رسول اکرمﷺ کی توہین کی مرتکب ہوئی تو سیدنا عمیر نے اپنی بہن کو قتل کر دیا بعدازاں رسولﷺ نے اس کا خون رائیگاں قرار دے دیا (۵۱)

نضر بن حارث اور عقبہ بن ابی معیط :

نبی کریمﷺ کی گستاخی کرنے والے سردار نضر بن حارث اور عقبہ بن ابی معیط کو جنگ بدر کے بعد آپﷺ کے حکم پر قتل کر دیا گیا (۵۲)۔

حویرث بن نضیر :

یہ شخص آپ کو ایذا دیا کرتا تھا اور آپ کے خون کو ھدر ( ضائع ) قرار دیا کرتا تھا فتح مکہ کے موقع پر آپﷺ نے اس کے قتل کا بھی حکم صادر فرمایا اور حضرت علیؓ نے اس کی گردن اڑائی (۵۳)۔

قبیلہ بلقین کی ایک عورت :

قبیلہ بلقین کی ایک ملعونہ گستاخ رسول عورت کو آپﷺ کے حکم پر سیدنا خالد بن ولید نے قتل کیا (۵۴)

حارث بن طلاطل :

یہ شخص آپﷺ کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے آپﷺ کو تکلیف پہنچایا کرتا تھا حضرت علیؓ نے اس پر قابو پا کر اسے قتل کر دیا (۵۵)۔

گستاخ عیسائی :

عبدالملک بن مروان کے عہد میں گورنر یمن ایوب بن یحییٰ نے ایک عیسائی کو توہین رسا

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

لت کے جرم میں قتل کر دیا عبدالملک بن مروان

پادری پولوگس :

۸۵۰ء میں قرطبہ کے ایک عیسائی پادری تحریک کا آغاز کیا تو امیر المومنین عبدالرحمن

ریجنالڈ :

تیسری صلیبی جنگ کے دوران وادی کرک سے معاہدہ کیا تھا کہ مسلمان تاجروں کو کوئی گزند نہ اترا۔ سلطان بھی اسے نظر انداز کرتا رہا لیکن لوٹنے کے بعد گستاخی کرتے ہوئے کہا " سلطان کو ملی تو انہوں نے یہ عہد کر لیا کہ وہ ۱۱۸۷ء کو حطین فتح ہوا تو بہت سے عیسائی قید سلطان نے بوڑھے اور نادار شہریوں کو بغیر بھی آبرو مندانہ سلوک کیا۔ شاہ یروشلم بھی قید ریجنالڈ کو اپنے سامنے بلایا اور اسے طعنے دی گئے سلوک کو یاد دلایا اور اسے یہ بھی یاد دلایا کہ کہے تھے اب میں اپنے اس پیغمبر ہی کی مدد اس گستاخ کا سر قلم کر دیا (۵۸)

برصغیر کے گستاخان رسولؐ

حقیقت رائے :

یہ شخص سیالکوٹ کے ایک کھتری گھرانے

صفحہ 265

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ سبحانی کراچی

لت کے جرم میں قتل کروایا عبدالملک بن مروان نے اس پر اظہار مسرت کیا (۵۶)۔

پادری پولو جنس:

۸۵۰ء میں قرطبہ کے ایک عیسائی پادری پولو جنس نے باقاعدہ توہین رسالت کی تحریک کا آغاز کیا تو امیر المومنین عبدالرحمن کے بیٹے نے اسے واصل جہنم کر دیا (۵۷)۔

ریجی نالڈ:

تیسری صلیبی جنگ کے دوران والیٔ کرک ریجی نالڈ نے سلطان صلاح الدین ایوبی سے معاہدہ کیا تھا کہ مسلمان تاجروں کو کوئی گزند نہیں پہنچائے گا لیکن وہ اپنے وعدہ پر پورا نہ اترا۔ سلطان بھی اسے نظر انداز کرتا رہا لیکن ایک مرتبہ اس نے مسلمانوں کے قافلے کو لوٹنے کے بعد گستاخی کرتے ہوئے کہا ”بلاؤ اپنے محمد کو وہ تمہیں چھڑائے“ جب یہ خبر سلطان کو ملی تو انہوں نے یہ عہد کر لیا کہ وہ ریجی نالڈ کو اپنے ہاتھوں سے قتل کرے گا۔

۱۱۸۷ء کو حطین فتح ہوا تو بہت سے عیسائی قید ہوئے ان میں ریجی نالڈ بھی تھا۔

سلطان نے بوڑھے اور نادار شہریوں کو بغیر فدیہ لیے رہا کر دیا اور دوسرے قیدیوں سے بھی آبرومندانہ سلوک کیا۔ شاہ یروشلم بھی قیدی تھا اسے اپنی ساتھ والی کرسی پہ بٹھایا لیکن ریجی نالڈ کو اپنے سامنے بلایا اور اسے لٹنے والے مسلمانوں کے قافلہ سے متعلق روا رکھے گئے سلوک کو یاد دلایا اور اسے یہ بھی یاد دلایا کہ تو نے ہمارے نبی کے بارے گستاخانہ الفاظ کہے تھے اب میں اپنے اس پیغمبر ہی کی مدد سے تمہارا سر قلم کرتا ہوں اور اپنے ہاتھوں سے اس گستاخ کا سر قلم کر دیا (۵۸)

برصغیر کے گستاخان رسولؐ

حقیقت رائے:

یہ شخص سیالکوٹ کے ایک کھتری گھرانے سے تعلق رکھتا تھا اس نے اپنے سکول میں نبی

صفحہ 266

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ سبحانی کراچی

کریمؐ اور حضرت فاطمہ کی شانِ اقدس میں نازیبا کلمات استعمال کیے تھے۔ اسی جرم میں اسے گرفتار کر کے لاہور عدالتی کاروائی کیلئے بھیجا گیا اور اسے سزائے موت سنائی گئی۔ ہندو افسر اکٹھے ہو کر زکریا خان گورنر لاہور کے پاس آئے اور رحم کی اپیل کی لیکن اس نے سزا پر نظر ثانی کرنے سے انکار کر دیا چنانچہ حقیقت رائے کو پہلے کوڑے لگائے گئے کہ اس نے حضرت فاطمہؓ کی گستاخی کی تھی پھر ناموس رسالت پر حملہ کرنے کی سزا کے طور پر اس کی گردن اڑا دی گئی یہ مغلیہ دور حکومت کے آخری سالوں کا واقعہ ہے

(۵۹)

عیسائی پادری:

۱۹۷۱ء میں مغل پورہ لاہور کے ایک عیسائی پادری نے نبی کریم ﷺ کی شان میں زبان درازی کی غیرت مند نوجوان زاہد حسین نے موقع پر ہی اس کا سر پھاڑ کر اس کا کام تمام کر دیا۔

(۶۰)

چھنچل سنگھ:

۱۹۳۴ء میں شیخو پورہ کے ایک ملعون چھنچل سنگھ نے آپ کی شان اقدس میں ہرزہ سرائی کی۔ قصور کے ایک نوجوان نے سکھوں کے ہجوم میں اسے جہنم واصل کر دیا

(۶۱)

انگریز میجر کی بیوی:

تقسیم ہند سے قبل ایک انگریز میجر کی بیوی نے اپنے مسلمان خانساماں کے سامنے آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کی اور اس خانساماں نے میجر کی بیوی کو جہنم واصل کر دیا

(۶۲)

راج پال:

یہ شخص لاہور کا رہنے والا ایک ہندو پبلشر تھا۔ اس نے نبی کریم کی توہین پر مشتمل کتاب ”رنگیلا رسول“ شائع کی تو مسلمانوں میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی اور ان کے جذبات کو سخت ٹھیس پہنچی توہین رسالت کے اس واقعہ کے بعد کچھ محبانِ رسولؐ نے اس لعین پر

صفحہ 267

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ سبحانی کراچی

قاتلانہ حملے کیے جن میں وہ بال بال بچ گیا۔ ایک دن یہ انارکلی میں اپنی دکان پر بیٹھا ہوا تھا کہ غازی علم الدین شہید اپنے ساتھ خنجر لیے ہوئے اس کی دکان پہ آ گیا اور اس پر خنجر سے وار کر کے اسے جہنم واصل کر دیا (۶۳)

نتھو رام :

یہ آریہ سماج ہندو تھا اس نے 1933ء میں ”ہسٹری آف اسلام“ نامی ایک کتاب لکھی جس میں اس نے نبی محترم کی ذات اقدس کو ہدف تنقید بنایا اور شان رسالت میں توہین آمیز اور گستاخانہ الفاظ استعمال کیے جس سے مسلمانوں میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی اور اس کے خلاف مقدمہ چلا لیکن اس عدالت میں 1934ء میں ایک محب رسول غازی عبدالقیوم شہید خنجر لیے عدالت کے کمرہ میں داخل ہوا اور نتھو رام کے قریب پہنچا اور خنجر سے اس پر حملہ کر کے اس کی شہ رگ کاٹ دی۔ غازی عبدالقیوم نے اس کا کام تمام کرنے کے بعد اپنے آپ کو گرفتاری کے لیے پیش کر دیا (۶۴)

کھیم چند:

1941ء کی بات ہے کہ چکوال جہلم روڈ پر قصبہ خانپور کے قریب ایک ریسٹ ہاؤس میں ڈی سی او چکوال چوہدری کھیم چند مقیم تھا یہ راجپال (جو ہندو پبلشر تھا) کا رشتہ دار تھا۔ اس بد بخت نے شان رسالت میں کچھ بکواس بکی تو غازی منظور حسین شہید اپنے دوست غازی عبدالعزیز شہید کو ساتھ لیے اس ریسٹ ہاؤس تک جا پہنچا اور ان دونوں محبان نبیؐ نے اس گستاخ کو کیفر کردار تک پہنچایا (۶۵)

جرمن ایڈیٹر ”ہیزک بروڈز“:

جرمنی سے شائع ہونیوالے ایک اخبار ”ڈائیولٹ“ کے ایڈیٹر ”ہیزک بروڈز“ نے بھی ستمبر 2005ء کو اس ناپاک جسارت میں حصہ لیا جس میں نبی رحمت کے خاکے بنائے گئے اور انہیں شائع کیا گیا جس پر پورے عالم اسلام سمیت جرمنی میں بسنے والے تمام

صفحہ 268

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

مسلمانوں میں بے چینی کی کیفیت پیدا ہوگئی۔

20 مارچ 2006ء کو برلن میں جو کہ جرمنی کا دارالحکومت ہے یہ واقعہ پیش آیا کہ ایک محب رسول پاکستانی عامر چیمہ جو کہ حصول تعلیم کی غرض سے جرمنی گیا ہوا تھا۔ اس اخبار کے دفتر میں پہنچا اور سیدھا ایڈیٹر کے کمرے میں جاکر اس پر حملہ آور ہوتے ہوئے اسے شدید زخمی کر دیا۔ انہی زخموں کی وجہ سے وہ بدبخت ایڈیٹر جہنم واصل ہوگیا (۶۶)۔

سلمان رشدی:

پاکستان میں انفرادی اور اجتماعی کوششوں کی بدولت جب توہین رسالت کے جرم کی سزائے موت کا قانون قومی اسمبلی نے منظور کر لیا تو اس پر یورپ، امریکہ، بھارت اور خود پاکستان کا سیکولر ذہن تلملا اٹھا۔ ان کے خیال میں جب تک مسلمانوں کے دل و دماغ سے ذات مصطفیٰؐ کا رشتہ محبت وعقیدت ختم نہ کیا جائے وہ مسلمانوں کی آئے روز بڑھتی تعداد کو روک نہیں سکتے۔ اس کے لیے انہوں نے ایک نہایت گھٹیا اور گھناؤنی اسکیم سوچی انہوں نے ایک آبرو باختہ، ضمیر فروش اور رسوائے زمانہ شیطان صفت ملعون ملحد سلمان رشدی کی خدمات حاصل کیں اور اس سے ”شیطانی کلمات“ نامی ایک کتاب لکھوائی۔ یہ کتاب وائیکنگ پبلیکیشنز کے یہودی ادارے نے اکتوبر 1988ء میں شائع کی۔ اس کتاب کو ناول کی شکل دے کر اس میں ابوالانبیاء حضرت ابراہیمؑ اور امام الانبیاء حضرت محمدﷺ، اہل بیت ازواج مطہرات اور اصحاب رسول کی شان میں جس فحش انداز میں حملے کیے گئے آج تک دنیا کے کسی ذلیل اور رذیل ترین شخص کو ایسی جسارت حاصل نہیں ہوئی (۶۷)

اس گستاخ کا انجام دیکھئے کہ اس نے چار شادیاں کیں اور سب بیویوں نے اس سے تنگ آکر طلاق لے لی ہے اس کے دل میں مسلمانوں کا ایسا خوف بیٹھ چکا ہے کہ یہ چھپا ہوا ہے کہ کہیں قتل نہ کر دیا جاؤں (۶۸)

جے لینڈ پوسٹن نامی ڈینش اخبار:

ستمبر ۲۰۰۵ء میں جے لینڈ پوسٹن نامی ڈینش اخبار میں توہین رسالت کا ارتکاب کرتے

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

ہوئے نبی کریم ﷺ کی انتہائی توہین سبب سے توہین آمیز خاکہ وہ تھا ج آمیز مشابہت دے کر عمامہ مبارک م یہ خاکے ان دو سالوں میں گاہے منصوبہ بندی اور اشتراک کے سا فلم بنائی گئی جس میں ان خاکوں کو ش دنیا میں قتل وغارت اور دہشت گر Book پر انہی خاکوں کو منظر عام پابندی عائد کر دی گئی۔ بعد ازاں خاکوں کا موجد جل گیا جس کی تصد

صفحہ 269

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 269 ماہنامہ مسیحائی کراچی

ہوئے نبی کریم ﷺ کے انتہائی توہین آمیز خاکے شائع کیے گئے۔ ان سب خاکوں میں سب سے توہین آمیز خاکہ وہ تھا جس میں نبی کریم ﷺ کے چہرہ انور کو نعوذ باللہ کراہت آمیز مشابہت دے کر عمامہ مبارک میں ایک بم کو چھپا ہوا دکھایا گیا تھا۔ یہ خاکے ان دو سالوں میں گاہے بگاہے شائع ہوتے رہے ۲۰۰۸ء میں ایک بار پھر نئی منصوبہ بندی اور اشتراک کے ساتھ انہی خاکوں کو دوبارہ شائع کیا گیا اور ہالینڈ میں ایک فلم بنائی گئی جس میں ان خاکوں کو دکھایا گیا اور ساتھ ہی یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ دنیا میں قتل و غارت اور دہشت گردی کا سبب اسلام ہی ہے۔ (۶۹) ۲۰۱۰ء میں Face Book پر انہی خاکوں کو منظر عام پر لایا گیا جس پر پاکستان میں اس Web Site پر پابندی عائد کر دی گئی۔ بعد ازاں بجلی کے ایک شارٹ سرکٹ کے سبب ان توہین آمیز خاکوں کا موجد جل گیا جس کی تفصیلات انٹرنیٹ پر ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔

حوالہ جات

صفحہ 270

ماہنامہ سبحانی کراچی حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

صفحہ 271

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۰ء 271 ماہنامہ سبحانی کراچی

ص ۴۴۱،۴۴۵۔ ۴۴۔ الصارم المسلول علی شاتم الرسول اردو ترجمہ غلام احمد حریری، ص ۱۶۱-۱۶۰۔

صفحہ 272

ختم رسول نمبر ۲۰۱۱ء 272 ماہنامہ مسیحائی کراچی

نقوش رفتگاں

اِنَّ لِلّٰهِ وَاِنَّ اِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ O

عالم اسلام کے عظیم محدث حضرت مولانا محمد ادریس میرٹھی رحمۃ اللہ علیہ کے بڑے صاحبزادے جناب انیس احمد گزشتہ ماہ انتقال فرما گئے۔ مرحوم ماہنامہ مسیحائی کے دیرینہ ساتھی جناب عتیق احمد کے والد تھے۔ ادارہ مسیحائی ان کے رنج وغم میں برابر کا شریک ہے اور دعا گو ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین

گزشتہ ماہ ہی معروف صحافی، ماہنامہ مسیحائی کے معاون جناب سید نعمت اللہ بخاری کی والدہ ماجدہ انتقال فرما گئیں اللہ تعالیٰ مرحومہ کو اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین

جناب سید نعمت اللہ بخاری اور تمام پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔

ختم رسول نمبر ۲۰۱۱ء

وقار ز

میری والدہ نے مجھے بچپن میں پکی روٹی پڑ نہایت آسان اور عمدہ طریقہ تھا۔ یہ کتابچہ جس آسانی سے یاد ہو جاتا تھا گھر کی ان پڑھ خوا احکامات تک زبانی یاد تھے۔ ایک دن مجھے والد ”جے کوئی پچھے صفتاں ایمان دیاں کنیاں توں آکھیں جے ست (۷) آمنت باللہ، منیاں میں اللہ تعالیٰ نوں۔ و دے۔ وکتبہ، تے منیاں میں ساریاں کتاباں ن اوس دے۔ والیوم الآخر، تے منیاں میں دیہاڑ اس دن سے یہ بات میرے ذہن میں پ رسولوں کو نہیں مانوں گا تو میرا ایمان مکمل نہیں ذات کا ہی نہیں بلکہ کائنات کے تمام مسلمانوں مجید اللہ رب العزت کا کلام ہے اور یہی ہما نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی وسا سے اور اس کے لانے والے کی کسی بات کر دیتی ہے اور قرآن مجید میں واضح طور پر ”رسول اس کتاب پر جو ان کے پرور ہیں اور جو لوگ اس رسول کو ماننے والے کر لیا ہے۔ یہ سب اللہ اور اس کے فرشتوں

صفحہ 273

ماہنامہ مسیحائی کراچی حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

وقار زیست

شاکر کنڈان...... سرگودھا

میری والدہ نے مجھے بچپن میں پکی روٹی پڑھائی تھی جو دینی تعلیم سیکھنے اور سکھلانے کا نہایت آسان اور عمدہ طریقہ تھا۔ یہ کتابچہ جس انداز سے لکھا گیا تھا اس کا سبق بچوں کو آسانی سے یاد ہو جاتا تھا گھر کی ان پڑھ خواتین تک کو ارکان اسلام، مسائل، فرائض اور احکامات تک زبانی یاد تھے۔ ایک دن مجھے والدہ نے یہ سبق دیا۔

”بچے کوئی پچھے صفتاں ایمان دیاں کنیاں نیں
توں آکھا جے ست (۷)

آمنت باللہ، منیاں میں اللہ تعالیٰ نوں۔ وملئکتہ تے منے میں سب فرشتے اللہ تعالیٰ دے۔ وکتبہ، تے منیاں میں ساریاں کتاباں اوس دیاں۔ ورسلہ، تے منے میں سب پیغمبر اوس دے۔ والیوم الآخر، تے منیاں میں دیہاڑا قیامت دا.....“

اس دن سے یہ بات میرے ذہن میں بیٹھ گئی اور مجھے پکا یقین ہو گیا کہ اگر میں تمام رسولوں کو نہیں مانوں گا تو میرا ایمان مکمل نہیں ہوگا بلکہ ہوگا بھی نہیں۔ یہ یقین میری اکیلی ذات کا ہی نہیں بلکہ کائنات کے تمام مسلمانوں کا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ قرآن مجید اللہ رب العزت کا کلام ہے اور یہی ہمارے ایمان اور ہمارے دین کا محور و منبع ہے جو نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی وساطت سے ہم تک پہنچا۔ لہٰذا اس کی کسی بات سے اور اس کے لانے والے کی کسی بات سے روگردانی ہمیں حلقہ دین سے خارج کر دیتی ہے اور قرآن مجید میں واضح طور پر یہ حکم ہے کہ: (ترجمہ)

”رسول اس کتاب پر جو ان کے پروردگار کی طرف سے ان پر نازل ہوئی ایمان رکھتے ہیں اور جو لوگ اس رسول کو ماننے والے ہیں انہوں نے بھی اس ہدایت کو دل سے تسلیم کر لیا ہے۔ یہ سب اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کو مانتے

صفحہ 274

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۰ء ماہنامہ سبحانی کراچی

ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے رسولوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کرتے۔‘‘ (القرآن:

(۲:۲۸۵)

ہم حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے ماننے والے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق حضرت آدم علیہ السلام سے حضور اکرم ﷺ تک تشریف لانے والے تمام انبیاء و رسل پر ایمان رکھتے ہیں اور ان میں سے کسی ایک کے بارے میں بھی منفی سوچ ذہن میں نہیں پال سکتے۔ کیوں کہ ہم جانتے ہیں کہ اگر کسی ایک کے بارے میں بھی غلط سوچ ذہن میں ابھرے گی تو فوراً ہم پر یہ حکم لاگو ہو جائے گا کہ: ”جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں سے کفر کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کریں اور کہتے ہیں کہ ہم کسی کو مانیں گے اور کسی کو نہ مانیں گے اور کفر و ایمان کے بیچ ایک راہ نکالنے کا ارادہ رکھتے ہیں وہ سب پکے کافر ہیں اور ایسے کافروں کے لیے ہم نے وہ سزا مہیا کر رکھی ہے جو انہیں ذلیل و خوار کر دینے والی ہے۔“

(القرآن: ۴:۱۵۰۔۱۵۱)

اس ارشاد ربانی سے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کے ماننے کی پابندی جب ہر مسلمان سختی سے اپنے اوپر روا رکھتا ہے اور کسی کے بارے میں کوئی ایسی بات سوچ بھی نہیں سکتا جس سے تضحیک کا کوئی پہلو نکلتا ہو یا شان میں گستاخی کا احتمال ہوتا ہو تو دیگر مذاہب و ادیان کے ماننے والوں کو بھی چاہیے کہ اگر وہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو آخری نبی نہیں بھی مانتے تو کم از کم اخلاقی اور تہذیبی طور پر تو اس بات کا احترام کریں کہ مسلمانوں کی اور حضور نبی اکرم کی دل آزاری نہ ہو۔ انہیں یہ احساس ہونا چاہیے کہ جب خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے پیروکار ان کے نبیوں اور پیغمبروں کے بارے میں کوئی ایسی بات نہیں کرتے تو وہ بھی نہ کریں لیکن بدقسمتی سے ایسا ہوتا نہیں اور کچھ سرپھرے لوگ اپنے بکواسیات سے توہین رسالت کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اگرچہ رسالت کے ساتھ توہین جیسا لفظ جوڑنا بھی سوءِ ادب ہے اور اسے لکھنا نامعقولیت ہے جسے جذبۂ محبت کسی صورت گوارا نہیں کر سکتا لیکن اس کے بغیر بات بھی نہیں سمجھائی جا سکتی لہٰذا اسے لکھنا ایک مجبوری بھی ہے، جس کا تعلق صرف مسلمانوں کی حد تک نہیں بلکہ جب بھی کوئی توہین رسالت کا مرتکب

صفحہ 275

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

ہوگا تو اس کے لیے تقریباً تمام ادیان میں سخت سے سخت سزا موجود پائے گا۔

ہم دیکھتے ہیں کہ جب غزوہ خندق کے دوران بنو قریظہ وعدہ خلافی کرتے ہیں اور حضورؐ، حضرت علیؓ کو ان کی سرکوبی کے لیے بھیجتے ہیں۔ وہ جب بنو قریظہ کے قلعوں کے پاس پہنچتے ہیں تو انہیں حضور کی شان میں گستاخانہ کلمات کہتے سن کر واپس حضور کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرتے ہیں کہ ”یا رسول اللہﷺ آپ خود ان خبیثوں کی طرف تشریف نہ لے جائیں تو بہتر ہے۔“

آپؐ فرماتے ہیں ”میں سمجھتا ہوں کہ تم نے ان کو میرے تئیں بُرا بھلا کہتے سنا ہے۔“

حضرت علیؓ عرض کرتے ہیں ”جی ہاں!“

اور پھر ہمیں تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ یہود نے اپنے پرانے ہم مذہب حضرت سعد بن معاذ کو فیصلے کے لیے چنا۔ حضرت سعدؓ بن معاذ چونکہ توریت کے عالم تھے سو انہوں نے توریت کے مطابق فیصلہ کیا کہ:

”مردوں کو قتل کر دیا جائے، عورتوں اور بچوں کو قیدی بنا لیا جائے اور اموال تقسیم کر دیے جائیں۔“

(الرحیق المختوم از مولانا صفی الرحمان مبارک پوری، ص ۵۱۳)

یہ یہود کی اپنی کتاب توریت کا فیصلہ تھا، لیکن قرآن مجید پر ایمان ہونے کے ناطے ہمارے پاس اس سے انوکھی سزا بھی موجود ہے اور وہ یہ کہ حضرت محمد رسول اللہﷺ کا چچا ابولہب جب کہتا ہے:

”اے محمد (ﷺ) تمہارے وہ ہاتھ ٹوٹ جائیں جن سے تو نے ہمیں بلایا ہے۔“ تو حضور اکرمﷺ اس پر بالکل خاموش ہو جاتے ہیں۔ صاف ظاہر ہے آپؐ کو اس کا دُکھ تو ہوا ہوگا، لیکن ایک تو اسلام کے ابھی ابتدائی دن تھے۔ دوسرا آپؐ کو صابر و شاکر اور رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا گیا تھا۔ اور مصلحت کا تقاضا یہی ہے کہ دشمن کو بھی اس کا سایہ مہیا کیا جائے۔ تیسرا ابھی تک یہ حکم بھی نازل نہیں ہوا تھا کہ ہاتھ کے بدلے ہاتھ، کان کے بدلے کان اور قتل کے بدلے قتل سے بدلہ لیا جائے۔ لیکن ناز اٹھانے والی وہ ہستی جس کو اپنے محبوب کا بار بار آسمان کی طرف نگاہ اٹھانا تک گوارا نہیں تھا اور بیک جنبش قلم اس نے

صفحہ 276

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 276 ماہنامہ مسیحائی کراچی

قبلہ کا رخ خاموش خواہش کے لیے تبدیل کر دیا۔ وہ یہ کیسے برداشت کر لیتی کہ کوئی اس کو برا بھلا کہے اور وہ محب خاموش بیٹھا رہے لہٰذا فوراً اپنا حکم صادر فرمادیا:

”ابولہب کے ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ ہلاک ہوا۔ اس کا مال اور اس کی کمائی اس کے کسی کام نہ آئی۔ وہ شعلے مارتی ہوئی آگ میں داخل ہوگا۔“

(القرآن: ۱۱۱)

اس پر ہی اس سلسلے کو موقوف نہیں کر دیا بلکہ اپنے محبوب کی چچی جو حضور کی شان میں بدکلامی اور گستاخی کرتی تھی اس کو بھی اس کی بدتمیزی کا فیصلہ سنا دیا:

”اور اُس کی بیوی تھی ایندھن اٹھانے والی۔ اس کی گردن میں مونج کی بٹی ہوئی رسی ہوگی۔“

(القرآن: ۱۱۱)

اور لوگوں نے یہ سب کچھ کھلی آنکھوں دیکھا بلکہ اس کے بیٹوں کے ساتھ جو ہوا وہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں اور تاریخ کے اوراق آج بھی ہمیں اس کے بارے میں وضاحت سے بیان کر رہے ہیں اور قیامت تک یہ لعنت اور پھٹکار ان کے لیے جاری رہے گی۔

افسوس کہ اتنا سب کچھ جاننے کے باوجود آج ہم دیکھتے ہیں کہ منکرین رسالت مآب ﷺ ہمارے آقا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے خلاف زبان درازی اور ہرزہ سرائی کرتے ہیں۔ آپ کے خاکے بناتے ہیں۔ آپ کو الٹے سیدھے ناموں سے پکارتے ہیں اور گالیاں دیتے ہیں لیکن ہم آپ کے امتی ہونے کا دعوے دار آپ کی ذات سے محبت کو اپنا ایمان سمجھنے والے اسلام پر اپنی اجارہ داری کا دعویٰ کرتے ہوئے بھی سنت الٰہی پورا نہیں کرتے بلکہ الٹا قانون الٰہی جو ہمارے اپنے دنیوی قانون اور آئین میں ۲۹۵سی کی شق کے نام سے شامل ہے اسے بدل دینا چاہتے ہیں۔ یہ وہ قانون ہے جو تخلیق آدم سے ہی ہر نبی کے عہد میں لاگو رہا اور جس کے بارے میں تمام مذاہب و ادیان کے ماننے والوں نے سخت سے سخت قانون سازی کی اور اس پر عمل بھی کیا۔

"The Encyclopedia of Religion" جلد دوم مطبوعہ لندن ایڈیشن ۱۹۸۷ء کے صفحہ نمبر ۲۳۸ سے ۲۴۵ میں "Blasphemy" کے ذیلی عنوان "Judeo Christian Concept" کے تحت خدا، دیوتاؤں، مذہب، روح القدس، نظریہ تثلیث کے خلاف ہرزہ سرائی اور بکواس کرنے والوں کے بارے میں بڑی

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

تفصیل سے بحث کی گئی ہے اور عیسائیوں کے مذہبی احکام پڑھ سکتے ہیں۔ صفحہ ۲۴۰ پر تحریر مذکورہ انسائیکلو پیڈیا کے حوالہ پیش آئے۔

اسی مضمون میں آگے چل ذکر بھی کیا گیا ہے اور پھر ت پتا چلتا ہے جس طرح کہ سب نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام انگلینڈ میں ۵ اشخاص کو زندہ سزا دی گئی۔ ۱۶۰۰ء میں ا پادری جان بڈل کو سترہ سا میں جیمز ٹیلر کو بری طرح زد اٹھارویں صدی کے ا مجرموں کو سزائیں دی گئی قید کیا گیا۔ انگلینڈ میں ۲۱ اسی طرح کی بہت سی اسکاٹ لینڈ اور امریکہ م علیہ السلام کی رسالت کی مسلمانوں کے نظریات لہب اور حضور نبی مکرم لندن سے شائع ہو ہونے والے انسائیکلو پیڈ ۷۷ء تک پھیلے ہوئے

صفحہ 277

ماہنامہ مسیحائی کراچی تھا۔ وہ یہ کیسے برداشت کر لیتی کہ کوئی اس کو فورا اپنا حکم صادر فرما دیا: ہوا۔ اس کا مال اور اس کی کمائی اس کے کسی ں ہوگا۔" (القرآن: ۱۱۱) کہ اپنے محبوب کی سچی جو حضور کی شان میں کنیزی کا فیصلہ سنا دیا: گا۔ اس کی گردن میں مونج کی بٹی ہوئی رسی

تا بلکہ اس کے بیٹوں کے ساتھ جو ہوا وہ بھی اج بھی ہمیں اس کے بارے میں وضاحت اور پھٹکار ان کے لیے جاری رہے گی۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ منکرین رسالت محمدیؐ زبان دراز اور ہرزہ سرائی کرتے ہیں۔ آپؐ ناموں سے پکارتے ہیں اور گالیاں دیتے آپ کی ذات سے محبت کو اپنا ایمان سمجھنے ہوئے بھی سنت الہی پورا نہیں کرتے بلکہ اور آئین میں ۲۹۵ سی کی شق کے نام سے ون ہے جو تخلیق آدم سے ہی ہر نبی کے عہد ت وادیان کے ماننے والوں نے سخت سے

The" جلد دوم مطبوعہ لندن ایڈیشن Blasphemy" کے ذیلی عنوان کے تحت خدا، دیوتاؤں، مذہب، روح کو اس کرنے والوں کے بارے میں بڑی

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 277 ماہنامہ مسیحائی کراچی تفصیل سے بحث کی گئی ہے۔ Leonard W.Lary کے اس مقالے میں یہودیوں اور عیسائیوں کے مذہبی احکامات جو رسولوں کی توہین کے سلسلے میں واضح ہیں انہیں بھی ہم پڑھ سکتے ہیں۔ صفحہ ۲۴۰ پر تحریر ہے: مذکورہ انسائیکلو پیڈیا کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے چار سو سال بعد کئی واقعات پیش آئے۔

اسی مضمون میں آگے چل کر آسٹن کی "Theory of Porsacution" کا ذکر بھی کیا گیا ہے اور پھر مختلف اوقات میں جو سزائیں دی گئیں ان کے بارے میں ہمیں پتا چلتا ہے جس طرح کہ ۱۵۵۳ء میں مائیکل سروٹس کو سزائے موت دی گئی، کیوں کہ اس نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کی تھی اور نظریہ تثلیث کو بُرا بھلا کہا تھا۔ اسی سال انگلینڈ میں ۱۵ اشخاص کو زندہ جلایا گیا۔ پادری ڈیوڈ کو اسی سلسلے میں ۱۵۷۹ء میں عمر قید کی سزا دی گئی۔ ۱۶۰۰ء میں برونو کو روم میں سزا کے طور پر زندہ جلا دیا گیا۔ انگلینڈ کے ایک پادری جان بڈل کو سترہ سال کی قید ہوئی۔ اور وہ جیل میں ہی ۱۶۶۲ء میں مر گیا۔ ۱۶۵۶ء میں جیمز ٹیلر کو بری طرح زدوکوب کرنے کے بعد قید کر دیا گیا۔

اٹھارویں صدی کے بعد امریکہ اور یورپ میں ۷۲ کے قریب گستاخان رسالت کے مجرموں کو سزائیں دی گئیں۔ ایک مجرم کی تو زبان میں لوہے کی سلاخ سے سوراخ کرکے قید کیا گیا۔ انگلینڈ میں ۱۸۲۱ء اور ۱۸۴۳ء کے دوران ۷۳ مجرموں کو سزائیں ملیں۔

اسی طرح کی بہت سی معلومات اس انسائیکلو پیڈیا میں درج ہیں۔ یہاں تک کہ برطانیہ، اسکاٹ لینڈ اور امریکہ میں گاہے بگاہے بننے والے ایسے قوانین جن کا تعلق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی رسالت کی توہین سے ہے کا بھی تذکرہ شامل ہے۔ اس میں یہودیوں اور مسلمانوں کے نظریات بھی بحث میں شامل ہے جس میں Carl W. Ernst نے سورۂ لہب اور حضور نبی مکرم ﷺ کے حکم سے دو شعراء کے قتل کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ لندن سے شائع ہونے والے مذکورہ بالا انسائیکلو پیڈیا کے علاوہ امریکہ سے شائع ہونے والے انسائیکلو پیڈیا آف ریلیجن کی جلد (بار دوم) کے صفحہ نمبر ۹۶۸ سے صفحہ نمبر ۹۷۷ تک پھیلے ہوئے Loonad W. Lary اور Cari W. Ernst کے

صفحہ 278

ماہنامہ سبحانی کراچی حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

مقالات کے علاوہ Daniel J. Lasker کا مضمون بھی دیکھا جاسکتا ہے جن میں یہودیوں عیسائیوں اور مسلمانوں کے نظریات پر بات کی گئی ہے اور توہین رسالت کے مرتکب اشخاص کی سزا قتل پر آ کر ٹھہرتی ہے۔

اگر ہم انسائیکلو پیڈیاز کی ان تفاسیر سے صرف نظر بھی کرلیں تو عہد نامہ عتیق جن پر یہودیوں اور عیسائیوں کا اتفاق ہے اور دونوں اسے حق جانتے ہیں اور عہد نامہ جدید جن پر عیسائیوں کا ایمان ہے۔ یہ کئی ایک مقامات پر اپنے قانون سے ہمیں آگاہ کرتے ہیں۔

بائبل کا ذکر کرتے ہوئے ہمیں پہلے یہ دیکھنا پڑے گا کہ وہ اللہ اور رسول کے حقیقی فرق کے یعنی خالق ومخلوق کے کس حد تک قائل ہیں۔ یہود حضرت عزیر علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا اور خداوند خدا بھی سمجھتے ہیں جبکہ عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا بیٹا اور خداوند یسوع کے نام سے پکارتے ہیں۔ اس تناظر میں جب عہد نامہ عتیق یا جدید میں خدا کی بات ہوتی ہے تو اس کا اشارہ کس طرف ہوتا ہے یہ ہم سب بخوبی سمجھتے ہیں۔ لہٰذا خروج کے باب ۲۲ کی آیت نمبر ۲۸ میں جب یہ کہا جاتا ہے کہ ”تو اپنے خدا کو بُرا مت کہہ اور قوم کے سردار پر لعنت مت بھیج“ تو کیا واقعی یہاں اللہ تعالیٰ کو بُرا کہنے کی طرف اشارہ ہے یا کسی اور جانب ہے۔ اس کا ذکر چند سطریں بعد آئے گا البتہ اس آیت سے یہ اشارہ ضرور ملتا ہے کہ ایک غلط کام سے منع کیا گیا ہے، لیکن جب اس ممانعت کو اس سے اگلی منزل میں دیکھتے ہیں تو عہد نامہ عتیق کے اسفار تواریخی کی کتاب اخبار کے باب ۲۴ کی آیت ۱۶ ہمیں بتاتی ہے کہ:

”جو کوئی خداوند کے نام پر کفر بکے وہ ضرور قتل کیا جائے گا۔ ساری جماعت اسے ضرور سنگسار کرے خواہ وہ پردیسی ہو یا دیسی۔ جس کسی نے خداوند کے نام پر کفر بکا وہ قتل کیا جائے گا۔“

اس آیت کی سمجھ شاید اسوقت تک نہ آئے جب تک اس کے پس منظر سے آگاہی نہ ہو۔ سو اس کے تسلسل میں یہ واقع آتا ہے کہ:

”ایک اسرائیلی عورت کا بیٹا جس کا باپ مصری آدمی تھا نکل کر بنی اسرائیل کے درمیان گیا اور اس اسرائیلی عورت کے بیٹے نے خیمہ گاہ میں ایک اسرائیلی مرد سے جھگڑا کیا۔ اسرائیلی عورت کے بیٹے نے پاک نام پر کفر بکا اور لعنت کی۔ وہ اس کو موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس لائے ...... انہوں نے اسے قید میں ڈال دیا جب تک کہ موسیٰ خداوند کی بات کے مطابق فیصلہ نہ کرے۔ اور خ سے باہر لے جا اور سب جنہوں نے ا ساری جماعت اسے سنگسار کرے اور ا اپنے خدا پر لعنت کی گناہ اس کے سر ر

چنانچہ اس واقعے کے بعد کفر بکنے و توہین و گستاخی کرنے والے کے خ مقامات پر سنائی گئی ہے۔

بائبل کے حوالے دینے کا مقص عیسائی مذہب سے تعلق رکھنے وال کس کا پیسہ اور ہاتھ ہے اور وہ ک

سید البشر ﷺ کے خاکے بنانا، آ قسم کے الزامات اور بہتان تراش ہے کہ ہمارے حکمران جو صرف ا کے پیسے سے اپنا نام چمکانے اور ب

آج پیسا، اللہ سے نزدیک دکھائ دی ہے۔ لالچ اور ہوس نے و سوچ پر قبضہ کر رکھا ہے۔

حضور انور آقا حضرت محمد مص مطابق آپ کی ہستی ہمیں اپن بھی کفر کے غلبے میں آچکے ہ دلوں بلکہ ہمارے دینی رہنمائ ہماری حالت تو اتنی پست ہو گی فوزیہ وہاب جو کہ پاکستان ک کانفرنس میں جب یہ سوال آ

صفحہ 279 حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

بات کے مطابق فیصلہ نہ کرنے اور خداوند سے موسیٰ نے کلام کر کے فرمایا کہ کافر کو خیمہ گاہ سے باہر لے جا اور سب جنہوں نے اسے لعنت کرتے سنا اس کے سر پر ہاتھ رکھیں اور ساری جماعت اسے سنگسار کرے اور بنی اسرائیل سے خطاب کر کے کہو کہ جس انسان نے اپنے خدا پر لعنت کی گناہ اس کے سر پر ہوگا۔“

چنانچہ اس واقعے کے بعد کفر بکنے والے کے قتل کا حکم ہوا۔ کفر بکنے والے کے خلاف یا توہین و گستاخی کرنے والے کے خلاف اس طرح کی سخت سزاؤں کی وعید بائبل میں کئی مقامات پر سنائی گئی ہے۔

بائبل کے حوالے دینے کا مقصد یہ ہے کہ اسلام کے خلاف اس طرح کی حرکات عیسائی مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگ زیادہ کر رہے ہیں یہ الگ بات کہ اس کے پیچھے کس کا پیسہ اور ہاتھ ہے اور وہ کون سی لابی ہے لیکن سامنے یہی لوگ ہیں حضور سید البشرﷺ کے خاکے بنانا، آپ پر کفر بکنا، آپ کو گالیاں دینا، آپ کی زندگی پر مختلف قسم کے الزامات اور بہتان تراشنا، ان لوگوں میں ایک فیشن بنتا جا رہا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے حکمران جو صرف نام کے مسلمان ہیں اور ہماری این جی اوز جو انہیں لوگوں کے پیسے سے اپنا نام چمکائے ہوئے ہیں ان کفر بکنے والوں کی پشت پناہی کرتے ہیں۔ آج پیسہ، اللہ سے بڑا دکھائی دیتا ہے۔ ہم نے عزت پر ذلت کی زندگی کو ترجیح دے دی ہے۔ لالچ اور ہوس نے ہماری آنکھیں بند کر دی ہیں۔ اور غلط کاریوں نے ہماری سوچ پر قبضہ کر رکھا ہے۔

حضور انور آقا حضرت محمد مصطفیٰﷺ سے محبت کا تقاضا تو یہ ہے کہ آپ کے فرمان کے مطابق آپ کی ذات ہمیں اپنے والدین، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب ہو، لیکن ہم بھی کفر کے غلبے میں آچکے ہیں۔ عیسائیت نے ہمارے جذبوں کو، ہماری فکر کو، ہمارے دلوں بلکہ ہمارے دینی رجحانات کو بھی خرید لیا ہے اور ہم اپنے اسباق بھول چکے ہیں۔ ہماری حالت تو اتنی پست ہو گئی ہے کہ گورنمنٹ کی وزیر کے برابر کی ایک عہدے دار محترمہ فوزیہ وہاب جو کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی سیکریٹری اطلاعات بھی ہیں سے ایک پریس کانفرنس میں جب یہ سوال کیا گیا کہ ”خلفائے راشدین کے دور میں تو وہ اپنے آپ کو تو وہ اپنے آپ کو

صفحہ 280

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ سچائی کراچی

عدالت میں پیش کرتے تھے اور قاضی کے سامنے ملزموں کی طرح فیصلہ سنتے تھے لیکن آج ہمارے صدر صاحب اپنے مقدمات کے لیے عدالت میں پیش کیوں نہیں ہو سکتے۔“ تو محترمہ نے کہا:

”آصف علی زرداری ایک ملک کے صدر ہیں اور صدر کو استثنا حاصل ہے اور یہ آئین کے مطابق ہے۔“

دوسرا سوال ہوا کہ۔ کیا اس وقت آئین نہیں تھا کہ خلیفہ وقت قاضی کے سامنے جوابدہ ہوتا ہے۔“

فرمانے لگیں: ”اس وقت آئین نہیں تھا۔“

سوال ہوا کہ ”کیا قرآن آئین نہیں ہے۔“ (تو نعوذ باللہ) گویا ہوئیں:

”قرآن آئین نہیں ہے۔“

چاہئے تو یہ تھا کہ ان محترمہ پر حد جاری کر دی جاتی تا کہ آنے والی نسلوں کو بھی قرآن کی آئین پر برتری کا اندازہ ہو جاتا تو جب اس طرح کے حکمران ہوں تو پھر ان سے بہتر توقع رکھنا عبث ہے۔

بات ہو رہی تھی حضور اکرم ﷺ سے محبت کی تو اسی سے میل کھاتا ہوا ایک واقعہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت سے بھی ملاحظہ فرمائیے:

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے بارہ شاگردوں کو اپنی ذات سے محبت کا جو حکم دیا تھا اسے ”انجیل مقدس، جو متی رسول کی معرفت لکھی گئی“ کے باب دس کی آیات نمبر ۳۴ اور ۳۵ میں ہمیں یوں ملتا ہے:

”یہ نہ سمجھو کہ میں زمین پر صلح کرانے آیا ہوں۔ صلح کرانے نہیں بلکہ تلوار چلوانے آیا ہوں۔ کیوں کہ میں اس لیے آیا ہوں کہ آدمی کو اس کے باپ سے اور بیٹی کو اس کی ماں سے اور بہو کو اس کی ساس سے جدا کروں۔ اور آدمی کے دشمن اس کے گھر ہی کے لوگ ہوں گے۔ جو کوئی باپ یا ماں کو مجھ سے زیادہ عزیز رکھتا ہے وہ میرے لائق نہیں اور جو کوئی بیٹے یا بیٹی کو مجھ سے زیادہ عزیز رکھتا ہے وہ میرے لائق نہیں۔ اور جو کوئی اپنی صلیب نہ اٹھائے اور میرے پیچھے نہ چلے وہ میرے لائق نہیں۔ جو کوئی اپنی جان بچاتا ہے اسے

صفحہ 281

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

کھوئے گا اور جو کوئی میری خاطر اپنی جان کھوتا ہے اسے بچائے گا۔“

عہد نامہ جدید کی یہ آیات قابل غور ہیں۔ ہمارے ارباب اقتدار اپنے انہی حواریوں کی پیروی ہی کرلیں جنہیں اپنا سب کچھ گردانتے ہیں۔ کیوں کہ یہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضور نبی محترم حضرت محمد ﷺ کی تعلیمات میں ذرا بھر بھی فرق نہیں۔ یہی بات تو حضور نبی کریم ﷺ نے فرمائی ہے لیکن جب ہم اس بات پر عمل پیرا ہوتے ہیں اور حضور نبی کریم ﷺ کو اپنی جانوں اور مالوں، عزیزوں اور رشتے داروں غرض کہ عزیز سے عزیز تر شے سے بھی زیادہ محبت کرتے ہیں۔ آپ سے نفرت کرنے والوں سے نفرت کرتے ہیں اور آپ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لیے جان لینے اور جان دینے کی بات کرتے ہیں تو کسی کو کیوں بُرا لگتا ہے۔ میں نے انجیل سے یہ حوالہ اس لیے دیا ہے کہ ہمارا بھی یہی ایمان ہے اور جب کوئی ہمارے ایمان پر حملہ آور ہوتا ہے تو اس کو ہم کسی صورت برداشت نہیں کر سکتے چاہے وہ سلیمان رشدی ہو، ملعون پادری ہو، تسلیمہ ہو یا آسیہ ہو۔

یہ قانون ہمارا بنایا ہوا نہیں ہے یہ اللہ تعالیٰ کا بنایا ہوا ہے اور تمام مذاہب میں موجود ہے۔ ہم نے تو صرف عمل کرنا ہے۔ یہ قانون ہمیں جہاں بائبل میں لکھا ملتا ہے وہیں قرآن مجید فرقان حمید میں بھی کئی مقامات پر کئی صورتوں میں لکھا ہوا ملتا ہے۔ مثلاً سورۃ توبہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ:

”وہ جو رسول کو ایذا دیتے ہیں ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔“

اللہ تعالیٰ کو اپنے محبوب کے تقدس اور وقار کا اتنا احساس ہے کہ ”راعنا“ کے لفظ میں کوئی ایسی بات نہیں تھی جس میں ہتک کا کوئی پہلو ہوتا لیکن جب یہود نے اس لفظ کو ٹیڑھی زبان اور لہجے میں ادا کر کے اس کے معنی بدل دیے جس سے تضحیک کا پہلو سامنے آیا تو اللہ تعالیٰ کو یہ بات ناگوار گزری اور فوراً ارشاد فرمایا کہ:

”اے ایمان والو! تم راعنا نہ کہا کرو بلکہ ”انظرنا“ (ہماری طرف نگاہ توجہ فرمائیے) کہا کرو اور کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے۔“ (القرآن: ۲: ۱۰۴) بات یہیں تک محدود نہ رہی بلکہ حضور اکرم ﷺ کی شان، آپ کی عظمت اور آپ کے وقار زیست کا اس حد تک خیال رہا کہ اونچی آواز سے بات کرنے سے بھی منع فرما دیا۔ اور ارشاد فرمایا:

صفحہ 282

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

”اے ایمان والو! اپنی آواز نبی پاک کی (مقدس) آواز سے بلند نہ کرو اور نہ ہی آپؐ کے حضور چلا چلا کر باتیں کرو۔ جیسے تم آپس میں ایک دوسرے سے چیخ چیخ کر باتیں کرتے ہو۔ کہیں تمہارے اعمال ضائع نہ ہو جائیں اور تمہیں شعور بھی نہ ہو۔“ (القرآن: ۴۹-۲)

اپنی پلکوں سے دربار پہ دستک دینا
اونچی آواز ہوئی، عمر کا سرمایہ گیا

حضرت جامی نے حضورؐ کے دربار کو ادب کی جان بیان کیا ہے جہاں آج بھی لوگ مؤدب اور سر جھکا کر حاضر ہوتے ہیں۔

ادب گاہیست زیر آسماں از عرش نازک تر
نفس گم کردہ می آید جنید و بایزید ایں جا

مجھے ایذا پہنچانے کے حوالے سے سورۃ احزاب کی ایک آیت کا ترجمہ بھی یاد آ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ”بے شک جو لوگ اللہ و رسول کو ایذا دیتے ہیں، ان پر اللہ کی لعنت ہے دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔“

اب مجھے بائبل کا وہ حوالہ جو اوپر دیا جا چکا ہے دہرانا ہے اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کو ایذا دینا کوئی حقیقت نہیں، کون ہے جو ایسا کر سکتا ہے بلکہ امام احمد رضا بریلوی کے مطابق: ”اللہ عزوجل ایذا سے پاک ہے اسے کون ایذا دے سکتا ہے، مگر حبیب کی شان میں گستاخی کو اپنا ایذا فرمایا۔ ان آیتوں سے اس شخص پر جو رسول اللہ ﷺ کے بدگویوں سے محبت کا برتاؤ کرے سات کوڑے ثابت ہوئے۔ (۱) وہ ظالم ہے۔ (۲) گمراہ ہے۔ (۳) کافر ہے۔ (۴) اس کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ (۵) وہ آخرت میں ذلیل و خوار ہوگا (۶) اس نے اللہ واحد قہار کو ایذا دی (۷) اس پر دونوں جہان میں اللہ کی لعنت ہے۔“

(ماہنامہ ضیائے اسلام حیدر آباد، مارچ، اپریل، ص ۱۲)

قرآن مجید فرقان حمید کی ناموس رسالت کے حوالے سے آیات کے پس منظر میں جب ہم اسلام کے ابتدائی ایام کا جائزہ لیتے ہیں تو کئی ایسے مواقع ابھر کر سامنے آتے ہو،

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

جو ہمیں آگاہ کرتے ہیں کہ دشم مزین ہونے کے باوجود حضورؐ ہمیں تاریخ بتاتی ہے کہ جنگِ سے یہ سلسلہ شروع ہوا جو معرا سرور کائنات ﷺ کو نشانہ النار ہونے، ابی عفک کا حضو میں سالم بن عمر کا اسے عیس خلاف بدکلامی اور بدزبانی ک سرور عالم ﷺ کے خلاف نا حضورؐ کے بارے ہرزہ گوئی او مکہ کے موقع پر مارا جانا ط ہاتھوں انجام کو پہنچنا۔ حارث مقیس بن صبابہ کا صحابہ کے واصل جہنم ہونا۔ غرض کہ اب باندی، سارہ عبدالمطلب ک بدکلامی کے باعث موت ۔

خلفائے راشدین کے ہیں جب شاتمان رسول کی

اس سلسلے میں بہت سے مفتیان دین ایسے فتاویٰ کی

ہمارے سابق وزیر ج مشیر چونکہ سید حامد سعید اسلام، مارچ / اپریل ۰۹ مجید، احادیث اور اجماع

صفحہ 283

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 283 ماہنامہ سبحانی کراچی

جو ہمیں آگاہ کرتے ہیں کہ دشمنوں پر بھی مہربان ہونے اور معافی دینے کی خاصیت سے مزین ہونے کے باوجود حضورؐ نے اپنی شان میں گستاخی کرنے والوں کو سزائیں دیں۔ ہمیں تاریخ بتاتی ہے کہ جنگ بدر سے واپسی پر نضر بن حارث کی گردن مارنے کے حکم سے یہ سلسلہ شروع ہوا جو صفراء کے مقام پر پیش آیا۔

سرور کائنات ﷺ کو نشانہ تضحیک بنانے والی عصماء کے عمیر بن عدی کے ہاتھوں فنا فی النار ہونے، ابی عفک کا حضورؐ کے خلاف لوگوں کو ورغلانے اور نفرت پھیلانے کی پاداش میں سالم بن عمیر کا اسے نیست و نابود کرنا۔ کعب بن اشرف کا تاجدار کون و مکاں کے خلاف بدکلامی اور بد زبانی کے باعث محمد بن مسلمہ کے ہاتھوں جہنم رسید ہونا۔ ابو رافع کا سرور عالم ﷺ کے خلاف ناپاک زبان استعمال کرنے پر عبداللہ بن عتیک کا اسے قتل کرنا۔ حضورؐ کے بارے یاوہ گوئی اور ہرزہ سرائی پر عبداللہ بن خطل کا حضرت سعیدؓ کے ہاتھوں فتح مکہ کے موقع پر مارا جانا۔ حویرث بن نقیذ کا غلیظ شعر کہنے کے باعث حضرت علیؓ کے ہاتھوں انجام کو پہنچنا۔ حارث بن طلاطل کا حضرت علیؓ ہی کے ہاتھوں کیفر کردار کو پہنچنا۔ مقیس بن صبابہ کا صحابہ کے ہاتھوں ختم ہونا۔ قریہ اور ارنب کا سرکار مدینہ کی ہجو گانے پر واصل جہنم ہونا۔ غرض کہ ایک طویل فہرست ہے جس میں ام سعد، عمر بن ہشام کی ایک باندی، سارہ عبدالمطلب کی باندی وغیرہ کتنے یہ گستاخان رسول اور شاتمان رسول اپنی بدکلامی کے باعث موت کے گھاٹ اتارے گئے۔

خلفائے راشدین کے عہد میں بہت سے ایسے واقعات تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہیں جب شاتمان رسول کی سزا قتل واجب ہوئی۔

اس سلسلے میں بہت سے فتاویٰ بھی موجود ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ علمائے دین اور مفتیان دین ایسے فتاویٰ کی تجدید کرتے رہے ہیں۔

ہمارے سابق وزیر حج و اوقاف اور حکومت پاکستان کے مذہبی حوالے سے خاص سابق مشیر جناب سید حامد سعید کاظمی کے ایک مضمون ”توہین رسالت کی سزا“ مطبوعہ ضیائے اسلام، مارچ/ اپریل ۲۰۰۶ء کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ اس مضمون میں قرآن مجید، احادیث اور اجماع امت کے گستاخان رسول کے قتل کے بارے میں بہت سے

صفحہ 284

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 284 ماہنامہ مسیحائی کراچی

حوالے نقل کیے گئے ہیں جس میں سے صرف ایک حوالے پر اکتفا کروں گا۔ لکھتے ہیں: ”محمد بن سحنون نے فرمایا: علماء امت کا اجماع ہے کہ نبی کریم ﷺ کو گالی دینے والا، حضور کی توہین کرنے والا کافر ہے اور اسکے لیے اللہ تعالیٰ کے عذاب کی وعید جاری ہے اور امت کے نزدیک اس کا حکم قتل ہے جو اس کے کفر اور عذاب میں شک کرے، کافر ہے۔“

علماء امت کا یہ اجماع قابل غور ہے۔ اس سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر اور سپریم کورٹ بار کی صدر عاصمہ جیلانی جیسے بے شمار لوگ اور وہ تمام شخصیات جو اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے قانون کو بدلنے کی کوشش میں ہیں اور ہرزہ سرائی میں مبتلا ہیں۔ ان کے بارے میں کیا حکم ہو سکتا ہے ہر آدمی فیصلہ کرنے کا اہل ہے۔

ایک بات مجھے سمجھ نہیں آتی کہ اگر کوئی آدمی کسی دوسرے شخص کے ماں باپ کو گالی دے رہا ہو، ان کی بے عزتی کر رہا ہو، بیوی پر تہمت لگا رہا ہو تو کیا وہ شخص خاموش تماشائی بنا رہے گا۔ اگر ایسا ہوا تو اس سے زیادہ بے غیرت شاید کوئی نہیں۔ لیکن ہمارے ہاں (خاص طور پر) عوام میں عام طور پر کوئی اتنا بے غیرت نہیں ہوتا جو اپنے ماں باپ کے خلاف گالیاں سن لے یا بیوی پر لگے بہتان کو برداشت کرلے بلکہ اس کا ردّعمل یہ ہوتا ہے کہ اس آدمی کا سر پھاڑ دے گا یا گولی مار دے گا اور ...... شاید اجتماعی طور پر آئین اور عدالتی تحفظ سے ایسے فیصلے کو قانون کہا جاتا ہے اور یہی قانون ماں باپ سے پیارے، عزیزوں سے عزیز اور جان سے عزیز جان حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے پر لاگو ہونا ضروری ہے، لیکن اختتامیہ میں حضرت علامہ اقبالؒ کے یہ اشعار میں قارئین کی خدمت میں پیش کرنا چاہوں گا جو ہمیں حقیقت حال سے کافی حد تک واقفیت دلا دیں گے۔

ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغ مصطفوی سے شرارِ بو لہبی
اسی کشاکش پیہم سے زندہ ہیں اقوام
یہی ہے راز تب و تابِ ملتِ عربی
صفحہ 285

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 285 ماہنامہ مسیحائی کراچی

اہل سایہ

صادق علی

قیامت کے دن کی سختی، ہولناکی اور اس دن انسان کی لاچاری و بے چارگی پر گفتگو تقریباً تقریباً تمام آسمانی کتب میں موجود ہے۔ حتیٰ کہ غیر آسمانی مذاہب کی تعلیمات میں بھی آخرت اور قیامت کا تذکرہ کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے۔ یہ دن جسے قرآن کریم میں (۱) يَوْمُ الْبَعْثِ (۲) يَوْمُ الْحِسَابِ (۳) يَوْمُ التَّغَابُنِ (۴) يَوْمُ الْحَاقَّةِ (۵) يَوْمُ الْقِيَامَةِ (۶) يَوْمُ النَّبَاءِ الْعَظِيْمِ (۷) اَلْاِنْفِطَارُ (۸) اَلْاِنْشِقَاقُ (۹) اَلْغَاشِيَةُ (۱۰) اَلْقَارِعَةُ (۱۱) يَوْمُ التَّكْوِيْر (۱۲) يَوْمُ الْجَزَاءُ (۱۳) يَوْمُ الْوَعِيْدِ (۱۴) يَوْمُ الْحَدِيْدِ (۱۵) يَوْمُ الْخُلُوْدِ (۱۶) يَوْمُ يُنَادِ الْمُنَادُ (۱۷) يَوْمُ الصَّيْحَةُ (۱۸) يَوْمُ الْخُرُوْجِ (۱۹) يَوْمَ تَشَقَّقُ الْاَرْضُ (۲۰) يَوْمُ الدِّيْنِ (۲۱) يَوْمَ تَمُوْرُ السَّمَاءُ (۲۲) يَوْمَ يُدَعُّوْنَ النَّارِ (۲۳) يَوْمَ يَدْعُ الدَّاعِ (۲۴) يَوْمٌ عَسِيْرٌ (۲۵) يَوْمُ نَحْسٍ مُسْتَمِرٍّ (۲۶) يَوْمَ يُسْحَبُوْنَ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ (۲۷) يَوْمٌ مَّعْلُوْمٌ (۲۸) يَوْمُ الْآخِرِ (۲۹) لِيَوْمِ الْجَمْعِ (۳۰) يَوْمُ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ (۳۱) يَوْمُ اِذْ وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُ (۳۲) يَوْمَ تَكُوْنُ السَّمَاءُ كَالْمُهْلِ (۳۳) يَوْمَ يُوْعَدُوْنَ (۳۴) يَوْمَ يَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ (۳۵) يَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ (۳۶) يَوْمٌ عَسِيْرٌ (۳۷) يَوْمُ الْفَصْلِ (۳۸) يَوْمَ لَا يَنْطِقُوْنَ (۳۹) يَوْمَ جَمَعْنٰكُمْ اَلْاَوَّلِيْنَ (۴۰) يَوْمُ الْفَصْلِ كَانَ مِيْقَاتًا (۴۱) يَوْمَ يُنْفَخُ فِى الصُّوْرِ (۴۲) يَوْمُ الْحَقِّ (۴۳) يَوْمَ يَنْظُرُ الْمَرْءُ (۴۴) يَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُ (۴۵) يَوْمَ يَقُوْمُ الرُّوْحُ وَالْمَلٰئِكَةُ (۴۶) يَوْمَ يَتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ (۴۷) يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ (۴۸) يَوْمَ يَقُوْمُ النَّاس (۴۹) لِيَوْمٍ عَظِيْمٍ (۵۰) يَوْمَ مَوْعُوْدٍ (۵۱) يَوْمَ تُبْلَى السَّرَائِرُ (۵۲) يَوْمَ اَدْهٰى وَاَمَرُّ (۵۳) يَوْمَ يَكُوْنُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ (۵۴) يَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِنَفْسٍ (۵۵) يَوْمَ هُمْ بَارِزُوْنَ (۵۶) يَوْمًا كَانَ شَرُّهُ مُسْتَطِيْرًا

صفحہ 286

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 286 ماہنامہ مسیحائی کراچی (۵۷) يَوْماً عَبُوساً قَمْطَرِيراً (۵۸) يَوْماً ثَقِيلاً (۵۹) يَوْمَكُمْ هَذَا (۶۰) يَوْمَهُمُ الَّذِي فِيهِ يُصْعَقُونَ (۶۱) يَوْمَئِذٍ يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا (۶۲) وَأَلْقَوْا إِلَى اللَّهِ يَوْمَئِذٍ السَّلَمَ (۶۳) يَوْمَ يَأْتُونَنَا (۶۴) يَوْمَئِذٍ زُرْقاً (۶۵) يَوْمَئِذٍ لَّا تَنفَعُ الشَّفَاعَةُ (۶۶) يَوْمَئِذٍ لِّلْمُجْرِمِينَ (۶۷) يَوْمَئِذٍ آمِنُونَ (۶۸) يَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ (۶۹) يَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ (۷۰) يَوْمَئِذٍ يَتَفَرَّقُونَ (۷۱) يَوْمَئِذٍ يَصَّدَّعُونَ (۷۲) يَوْمَئِذٍ فَلِلَّهِ حُجَّتُهُ (۷۳) يَوْمَئِذٍ يَخْسَرُ الْمُبْطِلُونَ (۷۴) فَوَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ (۷۵) فَهِيَ يَوْمَئِذٍ وَاهِيَةٌ (۷۶) وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ (۷۷) وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ بَاسِرَةٌ (۷۸) يَوْمَئِذٍ اِنَّ الْمَسَاقَ (۷۹) قُلُوبٌ يَوْمَئِذٍ وَاجِفَةٌ (۸۰) يَوْمَ يُفْتَنُونَ (۸۱) يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ (۸۲) وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌ (۸۳) وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ غَبَرَةٌ (۸۴) يَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوبُونَ (۸۵) وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ خَاشِعَةٌ (۸۶) وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاعِمَةٌ (۸۷) وَجِاىءَ يَوْمَئِذٍ بِجَهَنَّمَ (۸۸) اِنَّ رَبَّهُمْ يَوْمَئِذٍ لَّخَبِيرٌ (۸۹) يَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ يَفْتَدِي (۹۰) خِزْيِ يَوْمَئِذٍ (۹۱) يَوْمَ لَا بَيْعٌ فِيهِ وَلَا خُلَّةٌ وَلَا شَفَاعَةٌ (۹۲) يَوْمَ تَجِدُ (۹۳) يَوْمَ يَنفَعُ الصَّادِقِينَ (۹۴) يَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيعاً (۹۵) الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ (۹۶) يَوْمَ يُبْعَثُونَ (۹۷) يَوْمَ يَلْقَوْنَهُ (۹۸) يَوْمٍ كَبِيرٍ (۹۹) يَوْمٍ أَلِيمٍ (۱۰۰) ذَلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُودٌ (۱۰۱) يَوْمٌ مَّجْمُوعٌ لَّهُ النَّاسُ (۱۰۲) يَوْمَ يَأْتِيهِمُ الْعَذَابُ (۱۰۳) يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ وَالسَّمَوَاتُ (۱۰۴) يَوْمَ الْوَقْتِ الْمَعْلُومِ (۱۰۵) اِنَّ الْخِزْيَ الْيَوْمَ وَالسُّوءِ (۱۰۶) يَوْمَ الْقِيَامَةِ (۱۰۷) يَوْمَ يَدْعُوكُمْ (۱۰۸) يَوْمَ يُنَادِيهِمْ (۱۰۹) يَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ (۱۱۰) يَوْمَ الْحَسْرَةِ (۱۱۱) كَذَالِكَ الْيَوْمَ تُنسَى (۱۱۲) يَوْمَ نَطْوِي السَّمَاءَ كَطَيِّ السِّجِلِّ (۱۱۳) يَوْمَ عَقِيمٍ (۱۱۴) يَزْلَزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ (۱۱۵) يَوْمَ يُرْجَعُونَ اِلَيْهِ (۱۱۶) يَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَاءُ بِالْغَمَامِ (۱۱۷) يَوْمَئِذٍ يَتَفَرَّقُونَ (۱۱۸) يَوْمَئِذٍ يَتَّبِعُونَ الدَّاعِيَ (۱۱۹) الْيَوْمَ (۱۲۰)

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء نَخْتِمُ عَلَى أَفْوَاهِهِمْ (۱۲۱) (۱۲۲) الْيَوْمَ مُسْتَسْلِمُونَ الْأَزِفَةِ (۱۲۳) لَا ظُلْمَ الْيَوْمَ يَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادِ (۱۲۴) الْحِسَابِ (۱۲۵) هَذَا ذکر کیا گیا ہے وہ دن بڑا بھاری ارشادِ گرامی ہے کہ: ”جو شخص چاہتا ہو کہ روزِ ہے، تو وہ سورہ التکویر، سورہ مشکوٰۃ المصابیح، حصہ سوم، کتاب دھوپ کی گرمی پسینے کی کثرت عبرتناک حالت، عاصی کی کر رہی ہو گی، صرف ایک لمحہ فرمایا گیا ہے: يَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ يَفْتَدِ وَفَصِيلَتِهِ الَّتِي تُؤْوِيهِ وَمَن ترجمہ: گنہگار چاہے گا کہ اپنے بیٹے کو اور اپنی گھر والی زمین پر ہیں سب کو (تاکہ وہ اس دن انسان کا کیا حال ہو يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ

صفحہ 287

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 287 ماہنامہ مسیحائی کراچی

نَخْتِمُ عَلٰى اَفْوَاهِهِمْ (۱۲۰) اَلْيَوْمَ تُكَلِّمُنَا اَيْدِيْهِمْ وَ تَشْهَدُ اَرْجُلُهُمْ (۱۲۱) اَلْيَوْمَ مُسْتَسْلِمُوْنَ (۱۲۲) لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ط لِلّٰهِ (۱۲۳) يَوْمَ الْاٰزِفَةِ (۱۲۴) لَا ظُلْمَ الْيَوْمَ (۱۲۵) يَوْمَ التَّلَاقِ (۱۲۶) يَوْمَ التَّنَادِ (۱۲۷) يَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ (۱۲۸) يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرٰى (۱۲۹) يَوْمَ يَقُوْمُ الْحِسَابُ (۱۳۰) هٰذَا يَوْمُ الْفَصْلِ.......بِهِ تُكَذِّبُوْنَ، کے ناموں اور کیفیات سے ذکر کیا گیا ہے وہ دن بڑا ہی سخت، شدید اور ناقابل برداشت ہوگا۔ حضور اکرم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ:

"جو شخص چاہتا ہو کہ روزِ قیامت کو اس طرح دیکھ لے جیسے آنکھوں سے دیکھا جاتا ہے، تو وہ سورہ التکویر، سورۃ الانفطار اور سورۃ الانشقاق پڑھ لے۔" (احمد، ترمذی بحوالہ مشکوٰۃ المصابیح، حصہ سوم، کتاب الفتن صفحہ ۵۸)

دھوپ کی گرمی پسینے کی کثرت، حساب کتاب کی گھبراہٹ، جہنم کی دہشت، مجرموں کی عبرتناک حالت، عاصی کی عسرت، ماحول کی شدت غرضیکہ ہر چیز انسان کے اوسان خطا کررہی ہوگی، صرف ایک آیت قرآنی اس سلسلے میں بطور ثبوت پیش خدمت ہے جس میں فرمایا گیا ہے:

يَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ يَفْتَدِيْ مِنْ عَذَابِ يَوْمَئِذٍم بِبَنِيْهِ ه وَصَاحِبَتِهِ وَ اَخِيْهِ ه وَفَصِيْلَتِهِ الَّتِيْ تُؤْوِيْهِ ه وَمَنْ فِي الْاَرْضِ جَمِيْعاً ثُمَّ يُنْجِيْهِ

(سورت المعارج آیت ۱۱ تا ۱۴)

ترجمہ: گنہگار چاہے گا کہ کسی طرح بدلے میں دے دے اس دن کے عذاب سے اپنے بیٹے کو اور اپنی گھر والی کو اور اپنے بھائی کو اور اپنے گھرانے کو جس میں رہتا تھا اور جتنے زمین پر ہیں سب کو (تاکہ) اپنے آپ کو بچالے۔ (۱۴)

اس دن انسان کا کیا حال ہوگا؟ اس کا نقشہ سورۃ عبس کی آیات ۳۴ تا ۳۷ میں کھینچا گیا ہے:

يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِيْهِ ه وَ اُمِّهِ وَ اَبِيْهِ ه وَصَاحِبَتِهِ وَبَنِيْهِ ه لِكُلِّ امْرِىءٍ

صفحہ 288

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ سبحانی کراچی

مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ ه

ترجمہ: جس دن بھاگے مرد اپنے بھائی سے اور اپنی ماں سے، اور اپنے باپ سے اور اپنی گھر والی اور اپنی بیٹیوں سے۔ ہر مرد کو ان میں سے اس دن ایک فکر لگا ہوا (ہوگا) جو اس کے لئے کافی ہے۔

(۱۳۲)

دوسری طرف یہی یومِ قیامت ہوگا، یہی حالت زار ہوگی، یہی نفسانفسی ، کشاکش کا عالم ہوگا۔ مگر اللہ کے کچھ مقرب بندے، کچھ نیکو کار، کچھ فرمانبردار، کچھ پرہیز گار، مطمئن اور پُر امن حالت میں ہونگے۔ اس سختی کے ماحول اور شدت کے زمانہ میں یہ نیکو کاروسعید روحیں، دائمی سرور کی لذت ، انعاماتِ الٰہی کی مسرت ،سایوں کی ٹھنڈک، ٹھنڈے چشموں کی قربت، آب کوثر کی راحت، رضائے الٰہی کی چاہت، شفاعتِ محمدی کی سہولت، رحمتِ الٰہی کی خصوصیت، شفقت رسالت ﷺ کی زیادت، اللہ پاک کی توجہ کی برکت اور مالک حقیقی مہربان کی زیارت کے تبرک سے بطورِ خاص مالا ہو نگے۔ بہرہ مند ہونگے، مستفید ہونگے، مستنیر ہونگے، مستفیض ہونگے۔ بطور تبرک ایک قرآنی آیت پیشِ خدمت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورت المرسلت کی آیات ۴۱ تا ۴۳ میں فرمایا ہے۔

إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي ظِلَلٍ وَعُيُونٍ ه وَفَوَاكِهَةٍ مِمَّا يَشْتَهُونَ ه كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئاً م بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُوْنَ ه إِنَّا كَذَالِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ ه

ترجمہ: بے شک ڈروالے سایوں اور چشموں میں ہیں اور میووں میں اور جو ان کا جی چاہے کھاؤ اور پیو رچتا ہوا ، اپنے اعمال کا صلہ بے شک نیکوں کو ہم ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں۔

(۱۳۳)

دوسرے مقام پر مومنین و متقین کے لئے مقامِ سایہ دار کا ذکر ان الفاظ میں آیا ہے۔

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِي وُعِدَ الْمُتَّقُونَ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهٰرُ ط اُكُلُهَا دَائِمٌ وَظِلُّهَا ط تِلْكَ عُقْبَى الَّذِينَ اتَّقَوْا وَّعُقْبَى الْكَافِرِينَ النَّارُ ه

ترجمہ: احوال اس جنت کا ڈرنے والوں کے لئے جس کا وعدہ ہے اس کے نیچے نہریں

صفحہ 289

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

بہتی ہیں۔ اس کے میوے ہمیشہ اور اس کا سایہ ، ڈرنے والوں کا تو یہ انجام ہے، اور کافروں کا انجام آگ ہے۔

(۱۳۴)

ایک اور مقام پر سورت یٰس میں ” أَصْحَابُ الْجَنَّةِ “ کے بارے میں مقام راحت وسایہ کا ذکر ان الفاظ میں آیا ہے۔

إِنَّ أَصْحٰبَ الْجَنَّةِ الْيَوْمَ فِي شُغُلٍ فٰكِهُوْنَ o هُمْ وَأَزْوَاجُهُمْ فِي ظِلٰلٍ عَلَى الْأَرَائِكِ مُتَّكِئُوْنَ o لَهُمْ فِيْهَا فَاكِهَةٌ وَلَهُمْ مَّا يَدَّعُوْنَ o

ترجمہ: اہل جنت بے شک اس دن اپنے مشغلوں میں خوش دل ہوں گے۔ وہ اور ان کی بیویاں سایوں میں ،مسہریوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے۔ ان کے لئے وہاں ہر طرح کے میوے ہونگے اور جو کچھ مانگیں گے ان کو ملے گا۔

(۱۳۵)

سورۃ النساء میں اہل ایمان اور نیکو کاروں کا اجر بھی سایہ دار جگہ فرمایا گیا ہے۔ چنانچہ ارشاد الٰہی ہے:

وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا أَبَدًا ط لَهُمْ فِيْهَا أَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَّ نُدْخِلُهُمْ ظِلًّا ظَلِيْلًا

ترجمہ: اور جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کئے ،ہم ان کو عنقریب ایسے باغوں میں داخل کریں گے کہ ان کے نیچے نہریں جاری ہونگی، ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ان کے واسطے ان میں پاک صاف بیویاں ہوں گی ہم ان کو نہایت گنجان سایہ میں داخل کریں گے۔

(۱۳۶)

اللہ پاک نے اپنے مخلص، فرمانبردار اور نیکوکار لوگوں کے لئے تین مقامات پر راحت و آرام کا بندوبست کیا ہے۔ اور یہ راحت و آرام ”ظل“ (سایہ، چھاؤں) کے لفظ سے قرآن کریم میں ذکر کیا گیا ہے۔ مفردات القرآن جلد دوم زیر لفظ ”ظ ل ل“ میں مرقوم ہے:

الظِّل : سایہ۔ یہ الضّح (دھوپ) کی ضد ہے اور فَیْء سے زیادہ عام ہے۔ کیونکہ ( مجازاً) الظِّل کا لفظ تو رات کی تاریکی اور باغات کے سایہ پر بھی بولا جاتا ہے۔ نیز ہر وہ جگہ جہاں دھوپ نہ پہنچے اسے ظل کہہ دیا جاتا ہے۔ مگر فَیْء اس سایہ کو کہتے ہیں جو زوال

صفحہ 290

ماہنامہ مسیحائی کراچی 290 حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

آفتاب سے ظاہر ہوتا ہے۔ اور ہر قسم کی عزت وحفاظت اور ہر قسم کی خوشحالی کو ظِلّ سے تعبیر کرتے ہیں۔ (ص ۶۵۱)

امام راغب اصفہانی ظِلّ ۔ ظلال ۔ ظلیلۃ ۔ ظلاً وغیرہ کے معانی لکھتے ہوئے رقمطراز ہیں:

وحفاظت کے) سائے میں ہونگے۔ (ص ۶۵۱)

اور اس کی خوشگواریاں بھی (ایضاً)

خوشحالیوں کے) سائے میں (ہوں گے) (ایضاً)

رکھا۔ (ص ۶۵۲)

گے۔ (ایضاً) ۱۴۷

گرمی) (ص ۶۵۳)

گے۔ (ایضاً)

اللہ تعالیٰ موجودہ زندگی میں بھی اپنے بندوں کو سایہ (حفاظت) فراہم کرتا ہے۔ یومِ قیامت کو بھی نیکوکار سائے (راحت و آرام) میں ہوں گے۔ اور جنت میں بھی مومنین و متّقین آرام دہ، پُرسکون، فرحت انگیز، سکینت آمیز سایوں میں ہوں گے۔ جیسا کہ سورت واقعہ آیہ ۱۱ تا ۳۷ میں آیا ہے۔ آیت ۳۰ میں وَظِلٍّ مَمْدُوْدٍ (اور لمبا سایہ) (۱۴۸) کہہ کر آغوشِ رحمت میں ان کا ہونا ذکر کیا گیا ہے۔

صفحہ 291

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

کہف کی تلاوت کر رہے تھے اور ان کی ایک جانب دو رسیوں میں گھوڑا بندھا ہوا تھا۔ آسمان سے بادل اترے اور گھوڑے کے قریب ہوتے رہے یہاں تک کہ اس کو ڈھانپ لیا۔ صبح کو اُن صحابی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہﷺ کو ماجرا سنایا تو آپﷺ نے فرمایا یہ سکینہ (رحمت) تھی۔ جو تلاوت قرآن مجید کی وجہ سے نازل ہوئی تھی۔ (متفق علیہ ) (۱۴۹)

سورۃ الم تنزیل کی تلاوت کرو کیونکہ مجھے یہ معلوم ہوا ہے کہ ایک شخص کثرت سے اس سورۃ کی تلاوت کرتا تھا اور اس کے علاوہ کچھ نہ پڑھتا تھا۔ اور یہ شخص بڑا گنہگار تھا۔ اس سورت نے اپنے پر پھیلا کر (اور تلاوت کرنے والے کو اپنے سائے میں لیکر) اللہ رب العالمین سے عرض کیا ”خداوندا! اس کی مغفرت فرما کیونکہ یہ کثرت سے میری تلاوت کرتا تھا..... یہ سورت اپنے پڑھنے والے کے لئے قبر میں جھگڑے گی..... یہ سورت جاندار پرندے کی طرح ہو گی اور اپنے پڑھنے والے کو اپنے پروں میں چھپائے گی اور اس کو عذاب قبر سے محفوظ رکھنے کے لئے شفاعت کرے گی“ (۱۴۰)

ذکر کرنے والوں کو راستوں میں تلاش کرتے ہیں اور جب انہیں ذکر الٰہی کرنے والے لوگ مل جاتے ہیں، تو وہ ندا کرتے ہیں کہ ”آؤ تمھاری مراد پوری ہو گئی، ذکر کرنے والے مل گئے ہیں“۔ نبی علیہ السلام نے فرمایا ”پھر فرشتے ان ذاکرین کو اپنے پروں میں آسمان تک ڈھانپ لیتے ہیں......“ الیٰ الآخرۃ

ہیں اور جب کوئی ایسی مجلس ملتی ہے تو وہیں بیٹھ جاتے ہیں اور ان (ذاکرین) کو اپنے پروں میں چھپا لیتے ہیں۔ اس طرح فرشتے آسمان اور زمین کے درمیان فضا میں بھر جاتے ہیں۔ جب ذکر کرنے والے فارغ ہوتے ہیں تو یہ فرشتے آسمان پر واپس چلے

صفحہ 292

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 292 ماہنامہ مسیحائی کراچی

جاتے ہیں“ (مشکوٰۃ المصابیح، جلد اول، ص ۴۹۳، بحوالہ صحیح مسلم)

فرمایا کہ ”تم میں سے کسی کو اس کے عمل کی وجہ سے نجات نہیں ملے گی۔ صحابہؓ نے عرض کیا : کیا آپ ﷺ کو یا رسول اللہ ﷺ ؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا ”ہاں ! نہ مجھے مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی رحمت میں چھپالے گا۔“ لہٰذا اپنے کردار و گفتار کو درست کرو، ثواب طلب کرو، صبح شام عمل خیر کرو، میانہ روی اختیار کرو، (پھر) میانہ روی اختیار کرو تا کہ مقصد (ثواب و نجات) حاصل کر لو۔“ (مشکوٰۃ المصابیح، جلد اول، ص ۴۹۳۔ متفق علیہ)

فرمایا ”بندہ جب ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی رضا کا طالب رہتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ جناب جبرائیل علیہ السلام سے فرماتا ہے ”میرا فلاں بندہ میری رضا مندی کا طالب ہے، خبردار ہو جاؤ اس پر میری رحمت سایہ فگن ہے“ اس پر حاملان عرش اور ان کے ارد گرد جو فرشتے ہیں اس جملہ کا اعادہ کرتے ہیں، اسی طرح ساتوں آسمانوں کے فرشتے بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت کا اعلان کرتے ہیں پھر وہ رحمت زمین پر اس بندے پر نازل ہوتی ہے۔“ (مشکوٰۃ المصابیح ، جلد اول، ص ۵۲۲، بحوالہ مسند احمد)

اللہ ﷺ سے سنا کہ قرآن کریم کی تلاوت کرو کیونکہ وہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والے کی شفاعت کرے گا۔ اور چمکتی ہوئی دو سورتیں (زہراوین) بقرۃ اور آل عمران کی تلاوت کرو، یہ دونوں (سورتیں) قیامت کے دن بادل کی طرح (اپنے پڑھنے والوں پر) سایہ فگن ہوں گی۔“ (مشکوٰۃ المصابیح، جلد اول، ص ۴۵۸، بحوالہ صحیح مسلم)

اور اس کا دَور نہیں کرتی مگر ان پر سکینت (اطمینان قلب) نازل ہوتی ہے اور رحمت ( الٰہی) ان کو ڈھانپ لیتی ہے، ملائکہ ان کو گھیر لیتے ہیں، اور حق تعالیٰ شانہ ان کا ذکر ملائکہ کی

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

مجلس میں کرتا ہے۔“ (۱۴۱)

اپنی قبروں میں پریشان ہوت تلوار کا سایہ تمام فتنوں سے

قیامت کے کردہ ”سایوں“ کے نیچے گئے، کچھ رحمت الٰہی کے اپنے دنیاوی اعمال وافـ ناقابل برداشت سختی مـ ہونگے۔ صحیحین کی ایک جو قیامت کے دن اللہ متن درج ذیل ہے۔ عن ابی ھریرة ظل الا ظله، امـ بالمسجد اذا خـ وتفرقا علیہ ور حسب وجمال ا تعلم شماله ما تنـ ترجمہ: حضـ فرمایا کہ ”اللہ تعالیٰ سـ اس کے سائے کے

صفحہ 293

ماہنامہ سبحانی کراچی حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

مجلس میں کرتا ہے۔“ (۱۴۱)

(۹) ایک شخص نے سرکار دوعالم سے دریافت کیا کہ ”کیا بات ہے کہ سب لوگ تو اپنی اپنی قبروں میں پریشان ہوتے ہیں مگر شہداء کو کوئی پریشانی نہیں ہوتی“ فرمایا ”ان کے لئے تلوار کا سایہ تمام فتنوں سے آڑ بن جاتا ہے۔“

(جنت کی کنجی ، حدیث نمبر ۴۳۹، ص ۶۰ ، بحوالہ نسائی)

قیامت کے دن ایسے کئی گروہ ہوں گے جو اللہ رب العزت کے فراہم کردہ ”سایوں“ کے نیچے آرام وراحت میں ہونگے۔ کچھ اللہ کے عرش کے سایہ تلے ہو نگے، کچھ رحمت الٰہی کے سائے میں ہونگے، کچھ مطلقاً آرام دہ سائے میں ہونگے، کچھ اپنے دنیاوی اعمال وافعال کے فرحت بخش سائے تلے ہونگے۔ یعنی قیامت کے دن ناقابل برداشت سختی کے وقت بھی وہ لوگ آرام وراحت کے مزے لوٹ رہے ہونگے۔ صحیحین کی ایک حدیث میں ان سات قسم کے لوگوں (گروہوں) کا ذکر کیا گیا ہے جو قیامت کے دن اللہ کے (عرش کے) سائے کے نیچے ہونگے۔ تبرکاً حدیث بمعہ عربی متن درج ذیل ہے۔

عن ابی ھریرۃ قال ، فقال رسول اللہ ﷺ، سبعۃ یظلھم اللہ فی ظلہ یوم لا ظل الا ظلہ، امام عادل و شاب نشأ فی عبادۃ اللہ و رجل قلبہ معلق بالمسجد اذا خرج منہ حتی یعود الیہ و رجلین تحابا فی اللہ اجتمعا علیہ وتفرقا علیہ ورجل ذکر اللہ خالیا ففاضت عیناہ ورجل دعتہ امرأۃ ذات حسب وجمال فقال انی اخاف اللہ ورجل تصدق بصدقۃ فاخفاھا حتی لا تعلم شمالہ ما تنفق یمینہ (۱۴۲)

ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ”اللہ تعالیٰ سات (قسم کے) لوگوں پر اس دن سایہ عاطفت فرمائے گا جس دن اس کے سائے کے علاوہ کوئی اور سایہ نہ ہوگا، (۱) امام عادل (۲) وہ نوجوان جو بچپن سے

صفحہ 294

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 294 ماہنامہ مسیحائی کراچی

عبادت الٰہی میں مصروف رہا ہو (۳) وہ شخص جس کا دل مسجد میں اٹکا رہے اور مسجد سے واپسی کے بعد پھر مسجد میں واپسی کی تمنا اور آرزو کرے (۴) ایسے دو شخص جو اللہ کے لئے محبت رکھتے ہوں اور اللہ کے لئے ملیں اور اللہ ہی کے لئے جدائی اختیار کریں (۵) ایسا شخص جو تنہائی میں اللہ کو یاد کرے اور اس پر رقت طاری ہو جائے (۶) ایسا شخص جسے کوئی حسین وجمیل عورت جو اچھے حسب نسب والی (بھی) ہو اپنی طرف بلائے تو وہ (جواباً) کہہ دے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں (یعنی گناہ میں ملوث نہ ہو) (۷) وہ شخص جو اللہ کی راہ میں کچھ خرچ کرے اور اس کو اتنا پوشیدہ رکھے کہ بائیں ہاتھ کو یہ معلوم نہ ہونے پائے کہ اس نے دائیں ہاتھ سے کیا خرچ کیا ہے۔

(۱۴۳)

بقول مولانا احمد سعید دہلویؒ ”کتب احادیث کے تتبع اور تلاش سے ان حضرات کی تعداد بہت زیادہ معلوم ہوتی ہے جو قیامت کے دن ”سائے“ میں ہونگے۔ اگرچہ بعض احادیث میں (سب میں نہیں) اسناد ضعیف ہیں لیکن فضائل و مناقب میں ان کا ضعف ہرگز مضر نہیں۔ بعض احادیث میں بجائے عرش کے سایہ کے یا رحمت کے، صرف سایہ یا اطمینان یا راحت کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں لیکن مقصد و نتیجہ ان سب کا ایک ہی ہے۔ یعنی سکون، راحت اور عافیت میں ہونا۔ اس لئے علماء نے ایسی احادیث کو بھی شاملِ فہرست کرلیا ہے تاکہ اعمال کی اہمیت اور عقائد کی فضیلت کھل کر سب کے سامنے آجائے اور خاص طور پر انعام رب کریم کی فراوانی اور وسعت کو سب خاص و عام محسوس کرسکیں ۔“

”کتب حدیث کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان مقدس لوگوں کی تعداد تہتر (۷۳) تک پہنچ گئی ہے۔ اگرچہ بعض علماء سے اسی (۸۰) یا بیاسی (۸۲) بھی منقول ہیں مگر تہتر (۷۳) پر تقریباً تمام علمائے حدیث کا اتفاق ہے جبکہ اسی، بیاسی پر علماء متردد ہیں“

(۱۴۴)

مولانا محمد زکریا سہارنپوری نے اپنی کتاب ”فضائل صدقات“ جلد اول میں مذکورہ بالا سات آدمیوں والی ”حدیث سایہ“ ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے کہ۔

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

”دوسری احادیث میں ان کے اس سخت دن میں عرش کے سایہ ت گنوائی ہے۔ جن کو صاحب ”اتحاف ذیل میں چند ایسی احادیث خافضة رافعة (۱۴۵) ٭ ک سکون میں ہونگے۔ یہ سایہ عرش بادلوں کا سایہ۔ مطلقاً سایہ ہو یا ا اس سلسلے میں کیا ظاہر کرتے ہیں

صدقہ دینے والے، اپنے صدقہ

تعالیٰ اس کو قیامت میں اپنے عرش ۱۴۸۸ بحوالہ ترمذی شریف) (مزید

اس کو اللہ تعالیٰ سب سے پیشتر حدیث ۲۸۹ بحوالہ طبرانی)

میرے لئے آپس میں محبت کیا ک کی کنجی، ص ۱۲۴، حدیث ۹

صفحہ 295

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 295 ماہنامہ مسیحائی کراچی

”دوسری احادیث میں ان کے علاوہ اور بھی بعض لوگوں کے متعلق یہ وارد ہوا ہے کہ وہ اس سخت دن میں عرش کے سایہ کے نیچے ہونگے۔ علماء نے ان کی تعداد بیاسی (۸۲) تک گنوائی ہے۔ جن کو صاحب ”اتحاف“ نے نقل کیا ہے۔ (ص۲۰)

ذیل میں چند ایسی احادیث پیش کی جاتی ہیں جن سے یہ ثابت ہوگا کہ قیامت کے خافضة رافعة (۱۴۵) ٭ گھڑی میں بھی بعض لوگ اللہ کے ”سائے“ کے نیچے رحمت و سکون میں ہونگے۔ یہ سایہ عرش الٰہی کا ہو یا رحمت الٰہی کا، سورتوں کا سایہ ہو یا آرام دہ بادلوں کا سایہ۔ مطلقاً سایہ ہو یا اعمال کا سایہ۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ اقوال رسول مقبول ﷺ اس سلسلے میں کیا ظاہر کرتے ہیں۔

(الف) فرمایا ”قیامت کے دن جب تک لوگ حساب کتاب میں مبتلا رہیں گے صدقہ دینے والے، اپنے صدقہ کے سایہ میں ہونگے۔“ (۱۴۶)

(ب) فرمایا ”قیامت کے دن مومن کا صدقہ اس پر سایہ کرتا ہوگا“

(مشکوٰۃ المصابیح اول، باب فضل الصدقة ص ۴۱۸)

(ج) فرمایا ”جس نے کسی مفلس مقروض کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا تو اللہ تعالیٰ اس کو قیامت میں اپنے عرش کے سایہ میں جگہ دے گا“ (جنت کی کنجی، ص ۴۲، حدیث ۱۲۸۸ بحوالہ ترمذی شریف) (مزید دیکھئے مشکوٰۃ المصابیح دوم، کتاب البیوع، ص ۳۳)

(د) فرمایا ”جو شخص مفلس کو مہلت دیتا ہے یا قرض کا روپیہ معاف کر دیتا ہے تو اس کو اللہ تعالیٰ سب سے پیشتر اپنے سایہ میں لے لے گا۔“ (جنت کی کنجی، ص ۴۲، حدیث ۲۸۹ بحوالہ طبرانی)

(ہ) فرمایا ”قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا، وہ لوگ کہاں ہیں جو صرف میرے لئے آپس میں محبت کیا کرتے تھے آج میں ان کو اپنے سایہ میں جگہ دونگا۔“ (جنت کی کنجی، ص ۱۲۲، حدیث ۱۰۱۹ بحوالہ مسلم شریف) (۱۴۷)

(و) فرمایا ”اللہ کے لئے محبت کرنے والے اس دن عرش کے سایہ میں ہونگے

صفحہ 296

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 296 ماہنامہ مسیحائی کراچی

جس دن سوائے عرش الٰہی کے کوئی سایہ نہ ہوگا۔ ان لوگوں پر نبی اور شہید غبطہ (۱۴۸) کرتے ہوں گے“ (جنت کی کنجی، ص ۱۲۳، حدیث ۱۰۲۵، بحوالہ ترمذی شریف)

معارف القرآن، جلد دوم، ص ۳۷۹)

کے فاقہ کش کہاں ہیں؟“ اس پر لوگوں کی ایک جماعت سامنے آئے گی۔ ارشاد ہوگا ”تم نے کیا عمل کئے تھے؟“ عرض کریں گے:

”الٰہی ہم پر بلائیں ڈالی گئیں، ہم نے صبر کیا۔ تو نے دولت اور سلطنت ہمارے غیروں کو دی لیکن ہم نے اُف تک نہ کی“ ارشاد ہوگا ”تم سچ کہتے ہو“ پھر اس جماعت کو سب سے پیشتر جنت میں داخل کردیا جائے گا۔ اور دولت والوں پر حساب کتاب کی سختی ہوتی رہے گی۔

کسی نے دریافت کیا حضور مومن اس دن کہاں ہوں گے؟“ ارشاد ہوا ”مومن اس دن نور کی کرسیوں پر بیٹھے ہونگے، ابر ان پر سایہ کرے گا، مومن کو اتنا بڑا دن (۱۴۹) صرف ایک ساعت کے برابر معلوم ہوگا (۱۵۰)

سبقت کرنے والے کون لوگ ہیں؟“ عرض کی گئی ”اللہ اور اس کا رسول ﷺ ہی بہتر جانتے ہیں“ فرمایا ”یہ وہ لوگ ہیں کہ جب انہیں حق دیا جائے تو قبول کرلیتے ہیں، جب ان سے سوال کیا جائے تو خرچ کرتے ہیں اور لوگوں کو اسی طرح حکم دیتے ہیں جیسے اپنی ذات کو حکم دیتے ہیں“ (مشکوٰۃ المصابیح، دوم، کتاب الامارۃ والقضاۃ، ص ۱۹۹)

روز) اپنے عرش کے سایہ میں جگہ دے گا۔ اس دن جبکہ اس کے سایہ کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا۔

صفحہ 297

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 297 ماہنامہ مسیحائی کراچی

جاڑے میں شدید ٹھنڈے پانی سے)

پڑھی جائے)

بحوالہ زاد راہ، ص ۱۰۹۔۱۰۸)

اسے چھپالے گا اور فرمائے گا ”کیا تو فلاں گناہ کو جانتا ہے، کیا تو فلاں گناہ کو جانتا ہے؟“ وہ عرض کرے گا ہاں اے رب۔ یہاں تک کہ اپنے سارے گناہوں کا اقرار کرلے گا اور اپنے دل میں سمجھ لے گا کہ وہ ہلاک ہو گیا (کہ اسی اثنا میں اللہ تعالیٰ) فرمائے گا ”میں نے دنیا میں تیری پردہ پوشی فرمائی۔ آج تیرے گناہوں کو معاف کرتا ہوں“

(مشکوٰۃ کتاب الفتن ۔ حصہ سوم، ص ۸۹،۹۰)

تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کیا جائے گا۔“

(۱۵۱)

اس کے بعد مقام جنت ہے جہاں اللہ کے مقربین، موحدین، متقین، خاشعین ،صادقین، قانتین، مومنین، واصلین اور ابرار و اخیار اللہ کی نعمت، راحت و مسرت کے سایوں میں ہوں گے۔ سورۃ النساء آیت نمبر ۵۷ میں خداوند تعالیٰ نے یہ خوشخبری دی ہے کہ۔

(ترجمہ) اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے ہم ان کو عنقریب ایسے باغ میں داخل کریں گے کہ ان کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اس میں (وہ) ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ان کے واسطے اس میں پاک صاف بیویاں ہوں گی ہم ان کو نہایت گنجان سایہ میں داخل کریں گے۔

(ترجمہ مولانا اشرف علی تھانوی)

مذکورہ آیت میں وَنُدْخِلُهُمْ ظِلًّا ظَلِيْلًا کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ آئیے دیکھتے

PDF 298

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 298 ماہنامہ سبحانی کراچی

ہیں کہ اردو مفسرین نے ظِلاًّ ظَلِیْلاً کے کیا معنی لکھے ہیں۔

(بحوالہ احسن التفاسیر ۔ جلد اول ، صفحہ نمبر ۳۳۲ ، مطبوعہ مکتبہ سلفیہ لاہور)

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

نمبر ۱۷۴ ، مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ تو یہ ہے ٹھنڈا، فرحت بخش "بعض علماء فرماتے ہیں ان کا سایہ بھی دراز ہوگا۔ بعض مراد ہے جو اس کے تقرب اور مولانا نعیم الدین مراد آبادی "ظِلاًّ ظَلِیلاً" یعنی گہنا بالاتر ہے۔" ۱۶۲ مولانا اشرف علی تھانوی "یعنی دنیا کا سایہ نہ تھا متصل (جڑا ہوا ۔ گہرا) ہوگا علامہ شبیر احمد عثمانی اپنے "اور ان کو گہری اور گھنی محفوظ ہوگی ۔" ۱۶۴ مفتی محمد شفیع صاحب لکھتے ہیں کہ ظِلاًّ ظَلِیْلاً: ظِل کے اور گھنا سایہ ہوگا۔ جیسا کہ ک اس بات کی طرف ہے کہ ۱۶۵(۴۴۲ مفتی احمد یار خان نعیمی "یہ جنت کی تیسری نعم

صفحہ 299

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

نمبر ۱۷۴، مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گجرات) تو یہ ہے ٹھنڈا فرحت بخش وہ ”سایہ گھنا“ جسے علامہ حقانی نے ان الفاظ میں مشرح کیا ہے ”بعض علماء فرماتے ہیں کہ جنت میں دور دور تک درخت مستقل ہوں گے اس لیے ان کا سایہ بھی دراز ہوگا۔ بعض کہتے ہیں کہ سایہ دراز سے خدا کی مہربانی اور دائمی عنایت مراد ہے جو اس کے تقرب اور روحانی جنت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔“ ۱۶۱

مولانا نعیم الدین مراد آبادی اپنے مشہور حاشیہ قرآن ”خزائن العرفان“ میں لکھتے ہیں کہ ”ظِلًّا ظَلِيلًا“ یعنی سایہ جنت جس کی راحت و آسائش رسائی فہم واحاطہ بیان سے بالاتر ہے۔“ ۱۶۲

مولانا اشرف علی تھانوی اپنے تفسیری حاشیہ میں لکھتے ہیں کہ ”یعنی دنیا کا سایہ نہ ہو گا کہ خود سایہ کے اندر بھی دھوپ چھنتی ہے۔ وہ بالکل متصل (جڑا ہوا، گہرا) ہوگا۔“ ۱۶۳

علامہ شبیر احمد عثمانی اپنے مشہور عالم حاشیہ قرآن ”تفسیر عثمانی“ میں لکھتے ہیں کہ ”اور ان کو گہری اور گنجان چھاؤں میں داخل کریں گے جو آفتاب کی دھوپ سے بالکل محفوظ ہوگی۔“ ۱۶۴

مفتی محمد شفیع صاحب اپنی تفسیر ”معارف القرآن“ میں تفسیر مظہری کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ظِلًّا ظَلِيلًا: ظِل کے بعد ظلیل کا لفظ لا کر اشارہ کر دیا کہ وہ سایہ ہمیشہ رہنے والا ہوگا اور گھنا سایہ ہوگا۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ شَمْسٌ شَامِسٌ ، لَيْلٌ لَيْلٌ۔ اس سے اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ جنت کی نعمتیں ہمیشہ رہنے والی ہوں گی۔ (جلد دوم، صفحہ نمبر ۴۴۲) ۱۶۵

مفتی احمد یار خاں نعیمی گجراتی ”تفسیر نعیمی“ میں فرماتے ہیں کہ: ”یہ جنت کی تیسری نعمت کا ذکر ہے ظل کے معنی ہیں سایہ اور ظلیل کے معنی ہیں گھنا

صفحہ 300

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 300 ماہنامہ سبحانی کراچی

سایہ جس میں کہیں سے دھوپ چھن کر نہ آئے یا دائمی سایہ جو کبھی فنا نہ ہو ۔“

(تفسیر نعیمی، جلد پنجم ، صفحہ ۷۷۱)

سید احمد حسن محدث دہلوی تفسیر احسن التفاسیر میں لکھتے ہیں کہ ”جنت کے محلوں اور گھنے درختوں کی چھاؤں ہو گی اور اس میں وہ جنتی بیٹھیں گے ۔ اگر چہ جنت میں دھوپ نہ ہوگی ...... لیکن زیادہ ٹھنڈک کے لیے اس سایہ میں جنتی لوگ بیٹھیں گے ۔“ (جلد اول، صفحہ نمبر ۳۳۲)

اب روایات کی روشنی میں دیکھتے ہیں کہ جنت میں اہل جنت کے لیے کیا کیا اور کن خوبیوں والے سائے مقرر ہوں گے۔ اور اہل جزا کس شادمانی وفرحانی کے ساتھ ان سایوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں ۔ بقول آیت قرآنی جنت میں فِيهَا شَمْسًا وَلَا زَمْهَرِيرًا۔ (الدھر۔۱۳) ٹھنڈک، سکون، آرام، طمانیت، انبساط ہو گا۔ تلخی، تکلیف، دکھ، بے چینی ، فکر مندی اور غم وغیرہ سے اہل جنت اس طرح آزاد ہوں گے جیسے انہیں کوئی تکلیف پہنچی ہی نہیں۔ سرکار عالمیان ﷺ کا ارشاد پاک ہے کہ:

اور کبھی اسے آگ جھلسائے گی جب (باہر) نکل آئے گا تو (جہنم) کی طرف متوجہ ہو کر کہے گا ” بابرکت ہے وہ ذات جس نے مجھے تجھ سے نجات دی اللہ تعالیٰ نے مجھے اتنا عطا فرما دیا کہ اولین و آخرین میں سے کسی کو عطا نہیں فرمایا ہو گا“ اس کے لیے ایک درخت ظاہر کیا جائے گا تو وہ کہے گا کہ ”اے میرے رب مجھے اس درخت کے قریب کر دے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کر سکوں اور اس کا پانی پی سکوں ۔“ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ”اے ابن آدم ! میں تجھے یہ عطا کر دوں تو شاید تو اس کے سوا اور بھی مانگے“ عرض گزار ہوگا ” اے رب! ...... پس وہ عہد کرے گا کہ اس کے سوا اور کچھ نہیں مانگے گا“ اور اس کا رب عذر قبول کر لے گا کہ وہ ایسی چیز کو دیکھ رہا ہے جس پر وہ صبر نہیں کر سکتا۔ وہ اس (درخت) کے نزدیک کر دیا جائے گا تو اس سے سایہ حاصل کرے گا اور اس کا پانی پیئے گا۔ پھر اس

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

کے لیے ایک اور درخت ظاہر کر بندہ) عرض گزار ہو گا اے رب پی سکوں اور اس کا سایہ حاصل تعالیٰ فرمائے گا ”اے ابن آدم سوال نہ کروں گا (اب) تجھے کرے گا کہ اس کے سوا کوئی اور اُس نے ایسی چیز دیکھی ہے جائے گا وہ اس سے سایہ حاصل پھر دروازۂ جنت کے پاس درختوں سے زیادہ خوبصورت نزدیک کر دے تاکہ اس کا سا اور سوال نہیں کروں گا۔“ اللہ تھا کہ میں اس کے سوا اور کوئی میں اس کے سوا کوئی اور سوال نے وہ چیز دیکھی ہے کہ صبر نہ نزدیک ہو کر جب اہلِ جنت میں داخل کر دے ”رب تعالیٰ گا۔ کیا تو اس بات پر راضی عرض کرے گا ”اے رب کیا مالک ہے۔ (ترجمہ مولنا صدی

تو اسے عبور نہ کر سکے اور

صفحہ 301

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 301 ماہنامہ مسیحائی کراچی

کے لیے ایک اور درخت ظاہر کر دیا جائے گا۔ جو پہلے سے بھی زیادہ خوبصورت ہوگا۔ وہ ( بندہ ) عرض گزار ہو گا اے رب! مجھے اس درخت کے قریب کر دے تاکہ میں اس کا پانی پی سکوں اور اس کا سایہ حاصل کروں میں اس کے سوا کوئی اور سوال نہیں کروں گا۔ ”اللہ تعالیٰ فرمائے گا ”اے ابن آدم! کیا تو نے مجھ سے عہد نہیں کیا تھا کہ اس کے سوا کوئی اور سوال نہ کروں گا (اب) تجھے اگر دے دوں تو شاید تُو کوئی اور سوال کرے۔“ پس وہ عہد کرے گا کہ اس کے سوا کوئی اور سوال نہیں کرے گا۔ اور اس کا رب عذر قبول کرلے گا کہ اُس نے ایسی چیز دیکھی ہے جس پر صبر نہیں کر سکتا۔ پس اسے درخت کے نزدیک کر دیا جائے گا وہ اس سے سایہ حاصل کرے گا اور اس کا پانی پیئے گا۔

پھر دروازۂ جنت کے پاس اس کے لیے ایک درخت ظاہر کیا جائے گا جو پہلے دونوں درختوں سے زیادہ خوبصورت ہو گا وہ بندہ عرض گزار ہو گا ” اے رب! مجھے اس کے نزدیک کر دے تاکہ اس کا سایہ حاصل کر سکوں اور اس کا پانی پیوں میں اس کے سوا کوئی اور سوال نہیں کروں گا ۔“ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ”اے ابن آدم کیا تو نے مجھ سے عہد نہیں کیا تھا کہ میں اس کے سوا اور کوئی سوال نہیں کروں گا“ (وہ بندہ) کہے گا ”اے رب کیوں نہیں میں اس کے سوا کوئی اور سوال نہیں کروں گا“ رب تعالیٰ اس کا عذر قبول کر لے گا کہ اس نے وہ چیز دیکھی ہے کہ صبر نہیں کر سکتا پس اسے اس درخت کے نزدیک کر دیا جائے گا وہ نزدیک ہو کر جب اہل جنت کی آواز سنے گا تو عرض کرے گا ” اے میرے رب مجھے اس میں داخل کر دے“ رب تعالیٰ فرمائے گا ”اے ابن آدم! تجھ سے مجھے کیا چیز فارغ کرے گی کیا تو اس بات پر راضی ہے کہ میں تجھے ساری دُنیا جتنا اور اتنا ہی اور دے دوں؟“ عرض کرے گا ” اے رب یہ تو مجھے مذاق معلوم ہوتا ہے۔ جب کہ تُو (سارے) جہانوں کا مالک ہے۔

(ترجمہ مولانا عبد الحکیم خان اختر شاہجہانپوری ۱۶۶)

تو اسے عبور نہ کر سکے اور جنت میں تم سے کسی کی کمان برابر جگہ ان چیزوں سے بہتر ہے

صفحہ 302

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

جن پر سورج طلوع اور غروب ہوتا ہے۔ (متفق علیہ ) ۱۶۷

”سوار اس کی شاخوں کے سائے میں سو سال چل سکتا ہے“ یا فرمایا ”سوار اس کے سائے میں بیٹھ سکتے ہیں“ ۱۶۸

ہی دیدارِ ذات سے جنتی مستفید ہوں گے۔ (طویل حدیث) سرکارِ دین و دنیاﷺ فرماتے ہیں کہ: ”اس مجلس میں کوئی شخص باقی نہیں رہے گا مگر اللہ تعالیٰ اس کے سامنے موجود ہوگا پھر ان میں سے (اللہ تعالیٰ) ایک آدمی سے فرمائے گا ”اے فلاں ابن فلاں کیا تو انکار کرتا ہے کہ ایک روز تو نے ایسا کہا تھا اور دنیا میں اس کی عہد شکنی کے بعض واقعات یاد کروائے گا۔“ وہ عرض گزار ہوگا ”اے رب! کیا تو نے مجھے بخش نہیں دیا“ فرمایا جائے گا ” کیوں نہیں میری مغفرت کی وسعت سے ہی تو اس مقام پر پہنچا ہے اسی دوران ان (تمام اہل جنت جو دیدارِ الٰہی سے مشرف ہو رہے ہوں گے) کے اوپر ایک بادل چھا جائے گا اور بارش ہونے لگے گی کہ اس جیسی خوشبو کبھی میسر نہیں آئی ہوگی۔“ ۱۶۹

“(طُوبٰی لِمَنْ شَغَلَهُ عَیْبُهُ عَنْ عُیُوبِ النَّاسِ) بلاغ المرام میں مسند بزار کے حوالے سے شامل حدیث کا اردو ترجمہ کرتے ہوئے مولانا عبدالتواب محدث ملتانی حاشیہ میں لکھتے ہیں ”طوبیٰ نام ہے ایک درخت کا جنت میں اتنا پھیلا ہوا ہے کہ سوار اس کے سایہ کو سو برس تک نہ بھاگ سکے گا۔ یعنی یہ درخت (مراد ہے درخت کا سایہ) اس شخص کو ملے گا جو اپنے عیوب کو دور کرنے کی فکر میں لگا رہتا ہے۔ اور دوسرے کا عیب اس کو فکرمند نہیں کرتا یا طوبیٰ سے مراد خوشی ہو۔“ (بلوغ المرام، عربی اردو، باب الترہیب من مساوی الاخلاق، ص ۴۶۵)

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

”جنت میں ایک درخت ہے ہے تو اس (درخت) کا (پھیلاؤ کثیر، اردو، بحوالہ ابن جریر، جلد ا

”تحقیق جنت میں ایک ایسا د نہ کر سکے گا آپ اگر (اس (وَظِلٍّ مَّمْدُودٍ) پڑھیں۔ (متفق

”جنت میں ایک درخت ہے ہوا ہے جنتی لوگ اس کے نیچے آ کھیل تماشے اور دل بہلاوے پ

هُوَ ظِلُّ الْعَرْشِ الَّذِي لَا گا) (بحوالہ معارف القرآن جلد

سایہ پھیلائے گا بعد ازاں اسے ج

سورۃ الرعد آیت میں جنت التفاسیر“ جلد دوم میں مولانا سی

صفحہ 303

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

(شش) رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ ”جنت میں ایک درخت ہے کہ جس کے سائے تلے کوئی سوار ایک سو سال بھی چلتا ہے تو اس (درخت) کا (پھیلا ہوا) سایہ (پھر بھی) ختم نہ ہو یہ شجر الخلد ہے“ (تفسیر ابن کثیر ، اردو ، بحوالہ ابنِ جریر ، جلد اول ، پارہ پنجم ، ص ۵۰)

(ہفت) حضرت ابو ہریرہؓ حضور اکرم ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”تحقیق جنت میں ایک ایسا درخت ہے جس کے سایہ کو ایک سوار سو سال میں بھی طے نہ کر سکے گا آپ اگر (اس درخت کا سایہ حاصل کرنا) چاہیں تو یہ آیت (وَظِلٍّ مَّمْدُودٍ) پڑھیں۔ (متفق علیہ بحوالہ تفسیر مظہری وتفسیر معارف القرآن)

(ہشت) حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں (غالباً حضور ﷺ سے نقل فرماتے ہیں) کہ ”جنت میں ایک درخت ہے جس کے ہر طرف سو سو سال کے راستے تک سایہ پھیلا ہوا ہے جنتی لوگ اس کے نیچے آ کر بیٹھتے ہیں اور آپس میں باتیں کرتے ہیں کسی کو دنیوی کھیل تماشے اور دل بہلاوے یاد آتے ہیں۔“ ۱۶۵

(نہم) حضرت ربیع بن انسؓ نے ”ظِلّاً ظَلِیلاً“ کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہُوَ ظِلُّ الْعَرْشِ الَّذِیْ لَا يَزُوْلُ (یعنی وہ سایہ عرشِ الٰہی کا ہے جو کبھی زائل نہیں ہو گا) (بحوالہ معارف القرآن جلد دوم ص ۴۴۲)

(دہم) تین چیزیں ذیل کی جس شخص میں ہوں گی اللہ تعالیٰ اس پر روزِ قیامت اپنا سایہ پھیلائے گا بعد ازاں اسے جنت (کے سایوں) میں داخل کرے گا۔

سورۃ الرعد آیت ۳۵ میں جنت کے سایہ دار درخت ”شجرِ طوبیٰ“ کا ذکر آیا ہے ”احسن التفاسیر“ جلد دوم میں مولانا سید احمد حسن محدث دہلوی نے ایک حدیث نقل کی ہے کہ

صفحہ 304

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 304 ماہنامہ مسیحائی کراچی

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ”جنت میں ایک درخت ہے جس کا نام ”طوبیٰ“ ہے اور اس کے انگور کی طرح کے خوشے بڑے بڑے ہیں۔ (دیکھئے ص ۲۳۳)

آئیے چند اور احادیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیں جن میں مطلقاً مختلف اعمال انجام دینے والوں کا ”سایہ“ میں ہونا بیان کیا گیا ہے یہ سایہ قبر میں بھی ہے موجودہ زندگی میں بھی موجود ہے حشر کے روز بھی ہے اور جنت کا بھی۔ ایمان وایقان میں اضافہ کی خاطر اور ترغیب اعمالِ صالحہ کے پیش نظر یہ احادیث پیش کی جارہی ہیں۔

سورۃ کون سی ہے؟“

فرمایا ”قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ“

عرض کیا گیا: قرآن میں سب سے بڑی آیت کون سی ہے؟

فرمایا ”آیت الکرسی اللّٰهُ لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ .... الی الخ“

پوچھنے والے نے پوچھا ”اے نبی ﷺ کون سی آیت آپ کو اور آپ کی امت کو پہنچانا محبوب ہے؟

فرمایا ”سورۃ البقرہ کے خاتمہ کی آیت کہ وہ رحمتِ الٰہی کے (یا) خزانہ عرشِ الٰہی کے نیچے ہے اللہ نے وہ آیت امت کو دے دی دنیا و آخرت کی کوئی خیر نہیں مگر یہ آیت اس پر مشتمل ہے۔“ (سنن دارمی، بحوالہ فیضانِ سُنت، ص ۷۴، مصنفہ مولنا محمد الیاس قادری)

کے سایہ میں ہوں گی“

ایک کلام پاک کہ جھگڑے کا بندوں سے، قُرآن پاک کے لیے ظاہر ہے اور باطن۔ دوسری چیز امانت ہے (جو اپنے حاملین کے لیے اللہ سے سفارش کرے گی) اور تیسری رشتہ داری ہے جو پکار کرے گی کہ جس شخص نے مجھ کو جوڑا اس کو اپنی رحمت سے ملا دے۔ اور جس نے مجھے توڑا اے اللہ! اپنی رحمت سے اس کو جدا کردے۔“ (فضائل

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

اعمال، باب فضائل قرآن، ص ۱۹

”جو شخص مجھ پر ایک بار درود شریـ والے کے سانس سے ایک سفید باد ہے۔ جب وہ برستا ہے تو اللہ تبارک و فرماتا ہے۔ اور پہاڑ پر گرنے والے والے ہر قطرہ کی برکت سے اسے ایما

سایہ نہیں ہوگا۔ مگر تین (قسم کے) اشـ کیا گیا یا رسول اللہ ﷺ وہ خوش نصیب کـ

”جو شخص کسی راستہ پر علم کی طلب مـ کر دیتا ہے اور اس پر سکینہ (اطمینان نـ ہے۔ اور ملائکہ اسے گھیر لیتے ہیں اور ا مقرب (قریب تر) ہیں اور جس کـ آگے نہیں کرسکتا۔ (فیضانِ سنت، ص

تین باتیں جس شخص میں ہوں گـ آسان طریقے سے لے گا اور اس کـ

صفحہ 305

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 305 ماہنامہ مسیحائی کراچی

اعمال، باب فضائل قرآن، ص ۶۱۹، مصنفہ مولانا محمد زکریا۔ بحوالہ شرح السنۃ ۱۷۲۷

☆ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص مجھ پر ایک بار درود شریف پڑھے، اللہ تعالیٰ اس درود شریف کے پڑھنے والے کے سانس سے ایک سفید بادل پیدا فرما دیتا ہے۔ پھر اسے برسنے کا حکم دیتا ہے۔ جب وہ برستا ہے تو اللہ تبارک و تعالیٰ زمین پر برسنے والے ہر قطرے سے سونا پیدا فرماتا ہے۔ اور پہاڑ پر گرنے والے ہر قطرہ سے چاندی پیدا فرماتا ہے اور کافر پر گرنے والے ہر قطرہ کی برکت سے اسے ایمان کی دولت نصیب فرماتا ہے“ (۱۷۳)

☆ ارشاد رسالت مآب ﷺ ہے کہ ”قیامت کے روز اللہ کے عرش کے سوا کوئی سایہ نہیں ہو گا۔ مگر تین (قسم کے) اشخاص اللہ کے عرش کے سائے میں ہوں گے۔ عرض کیا گیا یا رسول اللہ ﷺ وہ خوش نصیب کون ہوں گے۔ ارشاد فرمایا:

☆ حضور پرنور ﷺ کا ارشاد بامراد ہے کہ: ”جو شخص کسی راستہ پر علم کی طلب کے لئے چلے، اللہ اس کے لئے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے اور اس پر سکینہ (اطمینان قلب) اترتا ہے اور رحمتِ (الٰہی) اسے ڈھانپ لیتی ہے۔ اور ملائکہ اسے گھیر لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ان لوگوں میں کرتا ہے جو اس کے مقرب (قریب تر) ہیں اور جس کے عمل نے سستی کی تو اس کا نسب اسے (درجہ میں) آگے نہیں کر سکتا۔ (فیضانِ سنت، ص۳۰۴، بحوالہ صحیح مسلم)

☆ حضور رحمت ﷺ کا فرمان عالی شان ہے کہ: تین باتیں جس شخص میں ہوں گی اللہ تعالیٰ (قیامت کے دن) اس کا حساب بہت آسان طریقے سے لے گا اور اس کو اپنی رحمت (کے سائے) میں جنت میں داخل کرے

صفحہ 306

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ میثاق کراچی

گا۔ وہ شخص اور اس کی خوبیاں یہ ہیں۔

کنز العمال)

عمامہ کے مسائل بیان کرتے ہوئے مولانا محمد الیاس قادری حدیث رسول ﷺ کے حوالے سے فیضان سنت ص ۷۰۹ پر لکھتے ہیں۔

ایک نور عطا کیا جائے گا (ماوردی) (بندہ جس کے حلقہ یا سایہ میں ہوگا)

ایسے ہی ہوتے ہیں (ابن شاذان) ۱۷۵

مان عالی شان ہے کہ نمازی کے لئے تین کرامتیں (عزتیں) ہیں۔

رحمت الٰہی کی گھٹا چھا جاتی ہے اور نیکیاں بارش کی طرح برسائی جاتی ہیں۔“

ہوتے ہیں۔“

کبھی نماز سے ہٹنا پسند نہ کرے“ (فیضان سنت، ص ۹۰۹ تا ۹۱۰، بحوالہ تنبیہ الغافلین)

رحمت ان کو ڈھانپ لیتی ہے، سکون واطمینان کی دولت ان کے لیے نازل ہوتی ہے، اللہ ان کا تذکرہ ان فرشتوں میں کرتا ہے جو اس کے قریب تر ہوتے ہیں۔“ (صحیح مسلم) ۱۷۶

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

یہ مقامات فضیلت و درجات عالی اعمالِ خوش ہو کر انعام کے طور پ خزینہ، نجات کا سفینہ ﷺ کی توفیق ب اے لوگو (اے مسلمانو!) جب تم کرو کیونکہ وہ جنت تمام جنتوں سے الفردوس کے (عین اوپر) خدا تعالیٰ ک یہاں تک تو قرآن وحدیث کے اخبار، آثار موجود ہیں۔ دنیا میں ال جنت میں اہل سایہ، بلکہ جنتوں میں دہلوی (سحبان الہند) نے اپنی موقر بغیر حوالوں کے ان نیکوں کاروں او گئے۔ آئیے بطور تبرک اس فہرست بخت اصحاب ہیں جو سائے جیسی فہرست میں وہ تمام افراد بھی شامل ہ ہوتا رہا ہے۔

وجود قدرت علی الزنا کے وہ خوف خُ اَخَافُ اللّٰہَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ ۔

صفحہ 307

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 307 ماہنامہ مسیحائی کراچی

یہ مقامات فضیلت و درجات عالیہ تھے جو اللہ تعالیٰ اپنے صالح بندوں کو ان کے اعمال سے خوش ہو کر انعام کے طور عطا فرمائے گا۔ - سرکار مدینہ، سرور قلب وسینہ، رحمت کا خزینہ، نجات کا سفینہﷺ کی تو تلقین و ہدایت بھی یہی ہے کہ: اے لوگو (اے مسلمانو!) جب تم خدا سے جنت کی دعا مانگو تو جنت الفردوس طلب کیا کرو کیونکہ وہ جنت تمام جنتوں سے اوپر ہے (عرش الٰہی کے سائے تلے) کیونکہ جنت الفردوس کے (عین اوپر) خدا تعالیٰ کا عرش (مبارک) ہے۔ (بحوالہ اصحاب السنن)

یہاں تک تو قرآن وحدیث کے تفصیلی حوالوں کے ساتھ آیات، احادیث، دلائل، اخبار، آثار موجود ہیں۔ دنیا میں اہل سایہ ،قبر میں اہل سایہ، حشر کے دن اہل سایہ اور جنت میں اہل سایہ، بلکہ جنتوں میں اہل سائے والی جنت کا تذکرہ تھا۔ مولانا احمد سعید دہلوی (سحبان الہند) نے اپنی موقر اردو تصنیف (مجموعہ احادیث) ”جنت کی کنجی“ میں بغیر حوالوں کے ان نیکوں کاروں اور خوش نصیبوں کی فہرست دی ہے جو سائے میں ہو نگے۔ آیئے بطور تبرک اس فہرست کو دیکھتے ہیں تاکہ ہمیں معلوم ہو جائے کہ وہ کون خوش بخت اصحاب ہیں جو سائے جیسی عظیم نعمت سے نوازے جائیں گے۔ یاد رہے کہ اس فہرست میں وہ تمام افراد بھی شامل ہیں جن کا ذکر خیر ابھی قرآن وحدیث کے حوالے سے ہوتا رہا ہے۔

وجود قدرت علی الزنا کے وہ خوف خدا سے یہ کہہ کر اس عورت سے الگ ہو جائے اِنِّیْ اَخَافُ اللّٰہَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ ۔

صفحہ 308

ماہنامہ سبحانی کراچی حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

نہیں ہونے دیتا۔

معاف ہی کر دیتا ہے (مقروض کی بدحالی کو دیکھ کر)۔

پسند کرتا ہے۔

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

آتا ہے۔

کرے گا وہ بھی عرش الہی کے سایہ میں

(اپنے ساتھ) کسی یتیم کو شریک کر

لفظوں میں عقیدہ احسان ۱۷۹ پر کاربند

طرف متوجہ نہ ہو۔ اگر وہ کسی مجلس می غیر معروف زندگی بسر کرنے والے ہوئی۔ دنیا میں مجہول لیکن آسمانوں پر خوف خدا کے سوا کوئی غرض نہیں ہو

رہی ہو۔

ہیں اور دوسروں کو بھی قرآن کا مطلب س

صفحہ 309

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 309 ماہنامہ مسیحائی کراچی

آتا ہے۔

کرے گا وہ بھی عرش الٰہی کے سایہ میں ہوگا۔

(اپنے ساتھ) کسی یتیم کو شریک کرے۔

لفظوں میں عقیدہ احسان و مراقبہ کار بند ہو)

طرف متوجہ نہ ہو۔ اگر وہ کسی مجلس میں جائیں تو ان کو کوئی پہچانے بھی نہیں۔ خاموش اور غیر معروف زندگی بسر کرنے والے فاقوں کی مصیبت سے مر جائیں لیکن کسی کو خبر تک نہ ہو۔ دنیا میں مجہول لیکن آسمانوں پر مشہور۔ لوگ ان کو بیمار سمجھتے ہیں لیکن ان کو سوائے خوف خدا کے دوسرا کوئی مرض نہیں ہوتا۔

رہی ہو۔

ہیں اور دوسروں کو بھی قرآن کا مطلب بتاتے ہیں۔

صفحہ 310

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 310 ماہنامہ سبحانی کراچی

انتظار کرے کہ) وقت ہو جائے تو نماز پڑھوں۔

کرنے والا۔

انعام ساتویں پارے میں ہے۔

لئے (ایک دوسرے سے) محبت کرتے ہیں۔ خدا کے ذکر کے ساتھ ان کا بھی ذکر کیا جاتا ہے۔ اور جہاں ان کا ذکر کیا جاتا ہو ان کے ساتھ ہی خدا کا ذکر بھی کیا جاتا ہو۔

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 311

میں سعی کرنے والے اور صبح کے وقت کثرت سے

کے لیے اس کے بندوں کو بلانے والے۔

کے ساتھ نیکی (کا سلوک) کرتا ہے۔ چغل خ

شہادت کا مرتبہ حاصل کر لیا۔ اس کے جائے گا۔

مولائے حقیقی (مراد ہے رب کریم) کا حق بھی

کے لیے) کی سعی کرتا ہے۔

صفحہ 310

310 ماہنامہ سبحانی کراچی

میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتا۔ تا ہاتھ مالِ غیر (ناجائز مال) کی طرف نہیں بڑھایا۔ اس کاروبار سے ہی دور رہتے ہیں۔

نے والا شخص۔ نے والا شخص۔ شخص۔

غرض سے وقت کا شمار (انتظار) کرتا رہتا ہو۔ مثلاً (یہ نماز پڑھوں۔ دور کیا اور مصیبت زدہ کی مصیبت دور کی۔ ﷺ کی سنت کو زندہ کیا۔ سے دوستی رکھنے والا آدمی۔ ﷺ کی خدمت میں درود بھیجنے والا اور خدا کا ذکر

خدا کا ذکر کرنے والا۔ کم سنی (چھوٹی عمر) کی حالت میں مر گئے ہوں۔ سورۃ الانعام کی پہلی تین آیتیں پڑھا کرتا ہے۔ سورۃ

ک صاف اور بدن صاف و پاکیزہ ہوں خدا کے تے ہیں۔ خدا کے ذکر کے ساتھ ان کا بھی ذکر کیا جاتا ن کے ساتھ ہی خدا کا ذکر بھی کیا جاتا ہو۔ کی پابندی کرنے والے، مسجدوں کو آباد اور ان کی تعمیر

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 311 ماہنامہ سبحانی کراچی

میں سعی کرنے والے اور صبح کے وقت کثرت سے استغفار میں مشغول رہنے والے۔

کے لیے اس کے بندوں کو بلانے والے۔

کے ساتھ نیکی (کا سلوک) کرتا ہے۔ چغل خوری سے اجتناب کا عادی ہے۔

شہادت کا مرتبہ حاصل کر لیا ۔اس کے لیے عرشِ الٰہی کے نیچے ایک خیمہ بھی نصب کیا جائے گا۔

مولائے حقیقی (مراد ہے رب کریم) کا حق بھی ادا کیا۔

کے لیے) کی سعی کرتا ہے۔

صفحہ 312

ماہنامہ مسیحائی کراچی 312 حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

کرتا ہے تو علم کی بات پر سکوت کرتا ہے۔

یہ ہے اللہ کی رحمت کا سایہ اور اس وحدیث کی روشنی میں ابھی پیش کیا گیا ہ اخلاص وایمان کے ساتھ اپنے آپ کو اس شمار بھی اہلِ سایہ میں کردے۔ (آمین)

مآخذ

صفحہ 313

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۰ء 313 ماہنامہ سبحانی کراچی

بے خبر ہو جائے۔

یہ ہے اللہ کی رحمت کا سایہ اور اس کے مستحقین اہل سایہ۔ جس کا تذکرہ قرآن وحدیث کی روشنی میں ابھی پیش کیا گیا ہے۔ آئیے آج ہم عہد کریں کہ ہم اعتقادی وعملی اخلاص وایمان کے ساتھ اپنے آپ کو اس حد تک ضرور مومن بنائیں گے کہ اللہ تعالیٰ ہمارا شمار بھی اہل سایہ میں کردے۔ (آمین)

مآخذ وحوالہ جات

صفحہ 314

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 314 ماہنامہ مسیحائی کراچی

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

صفحہ 315

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

صفحہ 316

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 316 ماہنامہ مسیحائی کراچی

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

طور پر اس کا استعمال ناخوش گوار معان جہاں دھوپ نہ پڑے اس جگہ سائبان دھوپ سے بچانے والی چیز حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ ع لے کر طلوع آفتاب کے درمیان حصہ حضرت حسن رحمۃ اللہ علیہ (بصری ستارے فجر سے طلوع ہونے سے

صفحہ 317

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۰ء

ظِلًّا ظَلِيْلًا سے کنایۃً زندگی کی آسائش مراد ہے، اور ظُلَّۃٌ سایہ فگن بدلی کو کہتے ہیں اور عام طور پر اس کا استعمال ناخوشگوار مواقع پر ہوتا ہے۔ (دیکھیے مفردات القرآن حصہ دوم ص ۶۵۲ اردو) جہاں دھوپ نہ پڑے اس جگہ کو ظِل کہتے ہیں یعنی سایہ، ظِلّ یا ظُلَّۃٌ کی جمع ہے ظِلَالٌ۔ ظُلَّۃٌ سائبان دھوپ سے بچانے والی چیز کو کہتے ہیں (دیکھیے تفسیر مظہری (اردو) جلد نہم ص ۵۵۶) حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ”جنت میں ہمیشہ وہ وقت رہے گا جو صبح صادق کے بعد سے لے کر طلوع آفتاب کے درمیان درمیان رہتا ہے“ (تفسیر ابن کثیر (اردو) سیپارہ ۲۷ سورۃ واقعہ ص ۷۳ تا ۷۴) حضرت حسن رضی اللہ عنہ (بصری) فرماتے ہیں کہ ”یہ سایہ (جنت) گھٹتا ہی نہیں نہ سورج آئے نہ گرمی ستائے فجر سے طلوع ہونے سے پیشتر کا سماں ہر وقت اس کے نیچے (عرش الہٰی کے نیچے) رہتا ہے“ (ایضاً)

صفحہ 318

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 318 ماہنامہ مسیحائی کراچی

الصلوۃ“ فصل اول ص ۱۵۱ حدیث نمبر ۶۴۹

اللہ و من اللہ ، ص ۶۴۱ حدیث نمبر ۴۷۸۵ بحوالہ مسلم کے حوالہ سے اس طرح آئی ہے فرمایا سرکار دو عالم ﷺ نے ”اللہ تعالیٰ قیامت کے روز فرمائے گا کہ میرے جلال کے باعث (آپس میں) محبت کرنے والے کہاں ہیں میں انہیں اپنے کرم کا سایہ دوں گا جبکہ آج میرے سایہ کے سوا کوئی سایہ نہیں ہے“ (اردو ترجمہ مولانا عبدالحکیم خان اختر شاہجہان پوری)

بلکہ یہ چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھ کو بھی عطا فرمائے اس کو غبط کہتے ہیں (دیکھیے بلوغ المرام (عربی، اردو) ص ۴۸۵ حاشیہ نمبر ۲ محشی مولانا عبدالتراب ملتانی)

نمبر ۵۳۲۷

صدقۃ التطوع ص ۲۰۹

کمپنی لمیٹیڈ (پہلے پانچ سپاروں والی جلد اول )

۴۱۰ مطبوعہ شیخ غلام علی اینڈ سنز لاہور

القرآن لاہور

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

لمیٹیڈ لاہور

طفیلی کے علاوہ ایک اور مثال یوم ع نے تفسیر مظہری کا حوالہ دینے کے با

صحیح مسلم

جامع ترمذی

۹۱، بحوالہ جامع ترمذی (طویل حدی

ترجمہ ترمذی

ہو گئے مگر مختلف مقدس چیزوں : ہوں کی یہی بتانا مقصود ہے کہ ا و اعمال کی سفارش و حمایت اللہ لئے ان چیزوں کے ذکر سے ا ہے، واللہ اعلم ۔

اس حدیث میں، دعائے اللہ ک ۔ اس لہر رحمت کا نزول اور اس

صفحہ 319

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 319 ماہنامہ مسیحائی کراچی

لمیٹڈ لاہور

لشینی کے علاوہ ایک اور مثال یوم الغیم بھی دی ہے نامعلوم صاحب معارف القرآن مفتی محمد شفیع صاحب نے تفسیر مظہری کا حوالہ دینے کے باوجود تیسری مثال کیوں چھوڑ دی (دیکھیے جلد دوم، ص ۴۴۲)

صحیح مسلم

جامع ترمذی

۹۱، بحوالہ جامع ترمذی (طویل حدیث کا اقتباس ہے)

ترہیب ثم ترمذی

ہونگے مگر مختلف مقدس چیزوں کے حوالے سے کہ وہ قیامت کے دن اللہ کے عرش کے سائے کے تلے ہوں گی یہی بتانا مقصود ہے کہ ان کے حاملین بھی عرش کے سائے تلے ہوں گے، یا پھر ان متبرک چیزوں و اعمال کی سفارش و حمایت ان کے رکھنے والوں کو عرش کے سایہ تلے لانے کا سبب بن جائے گی اس لئے ان چیزوں کے ذکر سے ان کے حاملین و عاملین کا تذکرہ اکرام اور سایہ عافیت میں ہونا مذکور ہے، واللہ اعلم۔

اس حدیث میں ہوا ہے اللہ کی خصوصی رحمت و شفقت ہو سکتی ہے جس کا نزول روحانی ہے مادی نہیں ۔ اس ابر رحمت کا نزول اور اس کی مذکورہ نشانیوں کا ظہور خاص بندوں پر خاص حالات میں اور خاص

صفحہ 320

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 320 ماہنامہ سبحانی کراچی

مقامات پر ہی ہو سکتا ہے۔ ہر کسی کے لیے ہر حالت میں اور ہر جگہ پر نہیں۔ ورنہ ہر روز نمازوں میں ، درود و سلام کی محفلوں میں ، نعتوں میں اور دوسرے مختلف مواقع پر کروڑوں مسلمان درود پڑھتے ہیں ۔ ہونا تو اب یہ چاہئے کہ ساری زمین سونا تمام پہاڑ چاندی کے اور کل کفار مسلمان ہو جائیں۔ مگر ایسا نہیں ہے۔ اس لئے یہاں عموم نہیں خصوص مراد لینا پڑے گا اور اس عظیم سعادت کو مادی نہیں بلکہ روحانی ماننا پڑے گا۔ ”واللہ اعلم۔

عزت و اکرام، شان و شوکت، درجات اور قرب کی نشانیاں ہیں۔ جن کا سایہ اُن کے حاملین کو راحت و عافیت میں بھی رکھے گا۔ واللہ اعلم۔

مشروط کر دے کہ تم مجھے اتنا مال کما کر دو تو میں تمہیں آزاد کر دوں گا۔ یہ معاہدہ لکھا جاتا ہے اس وجہ سے ایسے غلام کو مکاتب کہا جاتا ہے۔ جو شخص ایسے غلام کی آزادی میں تعاون کرے اُس کا اس حدیث میں ذکر ہے ۔ ایسے لوگ مال زکوٰۃ کے مستحق بھی ہوتے ہیں۔ (دیکھیے سورۃ توبہ آیۃ۔۶۰)

احسان کی تعریف یہ آئی ہے۔ اَنْ تَعْبُدَ اللّٰهَ کَاَنَّكَ تَرَاهُ فَاِنْ لَّمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَاِنَّهُ يَرَاكَ (مشکوٰۃ المصابیح کتاب الایمان حدیث نمبر۔۱) ترجمہ: ”تو اللہ کی عبادت اس طرح کرے گویا تُو اُسے دیکھ رہا ہے۔ پس اگر تُو اُسے نہیں دیکھ رہا تو یہ سمجھ کہ وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔“ زندگی کی ہر گھڑی مردِ مومن کا ایمان یہی ہونا چاہئے۔

قرآن کریم کا ارشاد بھی تو یہی ہے چنانچہ فرمایا جا رہا ہے:

اِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ (سورۃ الفجر آیۃ۔ ۱۴) تیرا رب لگا ہے گھات میں (یعنی تجھ پر نظر رکھے ہوئے ہے) (ترجمہ شاہ عبدالقادر محدث دہلوی)

وَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَاِنَّكَ بِاَعْيُنِنَا (سورۃ الطور، آیۃ۔ ۴۸) اور تُو ٹھہرا رہ منتظر اپنے رب کے حکم کا کہ تُو ہماری آنکھ کے سامنے ہے۔ (ترجمہ شاہ عبدالقادر محدث دہلوی صاحب)

بیان ہوا ہے۔ اَلْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللّٰهُ عَنْهُ (بحوالہ منتخب حدیثیں ص ۶۳ مرتبہ مولانا عبدالمصطفےٰ اعظمی مطبوعہ لاہور) ترجمہ: مہاجر وہ ہے جو ان تمام کاموں کو چھوڑ دے جن سے اللہ نے منع فرمایا ہے۔

ایک اور حدیث پاک میں سرکار دو عالم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ:

”سچا مہاجر بنو اور عمل کو ترک کر کے محض زبان سے مہاجر ہونے کے دعوے نہ کرو“ (بحوالہ مفردات

صفحہ 321

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 321 ماہنامہ مسیحائی کراچی

القرآن (اردو) حصہ دوم، ص ۱۱۵۱ امام راغب اصفہانی / مولنا محمد عبدہ فیروز پوری مطبوعہ لاہور )

۱۸۲ کیونکہ مال اور غلے کی نگرانی کرنا ایک ذمہ داری کے علاوہ ”آزمائش“ بھی ہے شیطان نگران کو مختلف حوائج، امیدوں اور ”حق“ کا حوالہ دے کر مال اور غلے میں تصرف کرنے کی ترغیب دلاتا رہتا ہے تاکہ وہ امانت میں خیانت کر کے دین و ایمان سے محروم ہو جائے اللہ کے بندے نگرانی اور ولایت کی ذمہ داری سے اسی وجہ سے بچتے ہیں تاکہ وہ آزمائش میں نہ پڑیں۔ واللہ اعلم

۱۸۳ دیکھیے ”جنت کی کنجی“ مرتبہ سبحان الہند مولانا احمد سعید دہلوی دیوبندی۔

۱۸۴ ☆ والی تمام عبارتیں (قرآنی آیتیں اور حدیثیں) راقم آثم نے خود شامل مضمون کی ہیں۔ جو مختلف قرآنی آیات اور حدیثوں سے ماخوذ ہیں۔ چند اور آیات اور حدیثیں ذیل میں پیش کی جاتی ہیں جو مضمون سے متعلق ہیں۔

(سورۃ البقرہ آیہ۔ ۵۷) وَظَلَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْغَمَامَ وَاَنْزَلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوٰى (بنی اسرائیل سے خطاب) اور ہم نے تم پر بادلوں کا سایہ کیا اور ہم نے تم پر من و سلوی اتارا اس لیے کہ تم تھے (حضرت موسیٰ کے ساتھ تھے)

حضرت ام المومنین سیدہ عائشہ کا بیان ہے کہ میرے پاس ایک عورت اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ آئی اور بھیک مانگنے لگی تو اُس نے میرے پاس سوائے ایک کھجور کے کچھ نہ پایا تو میں نے وہی ایک کھجور اُس کو دے دی۔ تو اُس نے اُس کھجور کو اپنی دونوں بیٹیوں کے درمیان تقسیم کر دیا اور خود نہیں کھایا اور پھر اٹھ کھڑی ہوئی اور گھر سے چلی گئی اس کے بعد رسول اکرم ﷺ مکان میں داخل ہوئے تو میں نے یہ ماجرا آپ ﷺ سے بیان کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا۔

”جو شخص ان بیٹیوں کے ساتھ آزمائش میں ڈالا گیا اور اس نے اپنی بیٹیوں کے ساتھ بہترین سلوک کیا تو یہ بیٹیاں اس کے لیے جہنم سے پردہ یعنی (سایہ) رحمت بن جائیں گی“۔ مشکوۃ المصابیح، حصہ دوم، ص ۴۲۱ بحوالہ بخاری و مسلم (جواہر الحدیث، حدیث ۲۶ مرتبہ مولانا عبد المصطفیٰ اعظمی مطبوعہ لاہور۔)

صفحہ 322

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 322 ماہنامہ مسیحائی کراچی

نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم

محمد انوار احمد

ہم سے بیان کیا ہو سیرت رسول کی
رب نے خود آپ کی ہے مدحت رسول کی
سارے جہاں میں دن کا سکہ بٹھا دیا
کیا قابل تقلید ہے حکمت رسول کی
اے کاش ہم بھی دیکھیں کبھی اُن کو خواب میں
دیکھی نہیں ہے ہم نے صورت رسول کی
غزوے میں حصہ لے کے تہہ تیغ کر دیا
دشمن کے آگے دیکھئے قوت رسول کی
کفار کی یلغار سے ہر گز نہ وہ ڈرے
امت کے غم میں رات کو روتے تھے اٹھ کے وہ
امت سے کوئی دیکھے محبت رسول کی
اللہ نے بلانے کو براق بھیج دی
اللہ نے بنائی ہے کیا قسمت رسول کی
اک در بے بہا ہیں گدڑی میں لعل ہیں
ہے کون جو لگائے قیمت رسول کی

☆.......☆.......☆

صفحہ 323

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

قانون توہین رسالت کیا صدر ضیاء الحق کا قانون ہے؟

محمد متین خالد

قانون توہین رسالتﷺ کے مخالفین کا کہنا ہے کہ توہین رسالتﷺ کا قانون صدر ضیاء الحق کے دور میں بنا۔ لہٰذا اسے ختم ہونا چاہیے۔

صدر ضیاء الحق کی دشمنی کی آڑ میں قانون توہین رسالتﷺ کی مخالفت عجیب بات ہے۔ ہمیں سب سے پہلے اس قانون کے بننے کی وجہ معلوم کرنی چاہیے۔ 17 مئی 1986ء کی شام اسلام آباد کے ہوٹل میں ایک سیمینار کے دوران انسانی حقوق کمیشن کی چیئرپرسن (موجودہ سپریم کورٹ بار کی صدر) عاصمہ جہانگیر ایڈووکیٹ نے شریعت بل کے خلاف تقریر کرتے ہوئے حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰﷺ کے بارے میں نہایت توہین آمیز اور گستاخانہ الفاظ استعمال کیے۔ میرا قلم اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ میں وہ ناپاک الفاظ یہاں رقم کروں۔ عاصمہ جہانگیر کی شان رسالتﷺ میں گستاخی کے ارتکاب پر راولپنڈی بار ایسوسی ایشن کے معزز اراکین جناب عبدالرحمن لودھی ایڈووکیٹ اور جناب ظہیر احمد قادری ایڈووکیٹ نے سخت احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ وہ ان توہین آمیز الفاظ کو واپس لے کر اس گستاخی پر معافی مانگے۔ عاصمہ جہانگیر کے انکار اور اپنے الفاظ پر مسلسل اصرار پر سیمینار میں ہنگامہ برپا ہوگیا۔ اگلے دن جب اس واقعہ کی خبر اخبارات میں شائع ہوئی تو پورے ملک میں غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی۔ مسلمانوں کی طرف سے حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ فوری طور پر توہین رسالت کی سزا نافذ کی جائے اور اس جرم کا ارتکاب کرنے والے کو عبرتناک سزا دی جائے۔ دریں اثناء انہی دنوں عاصمہ جہانگیر نے برملا اعلان کیا کہ ”میرے شوہر طاہر جہانگیر قادیانی ہیں۔ میں اس سلسلہ میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتی۔ وہ ہم سے بہت بہتر ہیں۔“ (روزنامہ جنگ لاہور 26 جون 1986ء)

عاصمہ جہانگیر کی اس قابل اعتراض تقریر کا نوٹس سب سے پہلے قومی اسمبلی میں اسلامی جذبہ سے سرشار خاتون ایم۔ این۔ اے محترمہ نثار فاطمہ نے لیا اور انہوں نے وہاں

صفحہ 324

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

پوری قوت کے ساتھ آواز اٹھائی کہ عاصمہ جہانگیر کے ان توہین آمیز الفاظ کے خلاف حکومت فوری ایکشن لے۔ لیکن چونکہ اس وقت تعزیرات پاکستان میں توہین رسالت کے جرم کی کوئی سزا مقرر نہیں تھی، اس لیے اس کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہ ہوسکی۔ بعد ازاں محترمہ آپا نثار فاطمہؒ نے قومی اسمبلی میں ایک بل پیش کیا جس میں توہین رسالت کی اسلامی سزا، سزائے موت تجویز کی گئی۔ اراکین قومی اسمبلی کی بھاری اکثریت نے اس بل کو منظور کیا اور اس طرح تعزیرات پاکستان میں دفعہ 295/C کا اضافہ کیا گیا جس کی رُو سے ”اگر کوئی شخص زبانی یا تحریری الفاظ کے ذریعے یا واضح انداز میں یا بذریعہ بہتان طرازی یا بذریعہ طعن آمیز اشارہ، کنایہ، براہ راست یا بالواسطہ طور پر حضور نبی کریم حضرت محمدﷺ کے اسم مبارک کی بے حرمتی کرتا ہے، سزائے موت کا مستوجب ہوگا یا اسے تاحیات سزائے عمر قید دی جائے گی اور اسے جرمانہ بھی کیا جاسکے گا۔“

اس قانون میں دو سزائیں تجویز کی گئیں، سزائے موت یا تاحیات سزائے قید۔ حالانکہ محترمہ آپا نثار فاطمہؒ کی طرف سے پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے بل میں توہین رسالت کی سزا صرف سزائے موت تجویز کی گئی تھی مگر وزارت قانون کی طرف سے اس بل میں یہ ترمیم کی گئی کہ شاتم رسول کی سزا، سزائے موت یا عمر قید ہوگی۔ اس طرح تعزیرات پاکستان میں C-295 کا اضافہ کر دیا گیا۔ چونکہ توہین رسالت کے مرتکب کی سزا ”عمر قید“ اسلامی قانون کے خلاف تھی۔ لہٰذا سپریم کورٹ کے سینئر ایڈووکیٹ، مجاہد تحفظ ناموس رسالت جناب محمد اسماعیل قریشی نے اس قانون کو وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کر دیا کہ توہین رسالت کی سزا بطور حد سزائے موت ہے اور حد کی سزا میں حکومت ہی نہیں، بلکہ پوری امت مسلمہ کو بھی سوئی کی نوک کے برابر کمی یا اضافہ کرنے کا اختیار نہیں اور یہ ناقابل معافی جرم ہے۔ اس مقدمہ کی باقاعدہ سماعت یکم اپریل 1987ء کو شروع ہوئی۔ وفاقی شرعی عدالت کا یہ فل بینچ جناب جسٹس گل محمد خاں چیف جسٹس، جناب جسٹس عبدالکریم خان کنڈی، جناب جسٹس عبادت یار خاں، جناب جسٹس عبدالرزاق اے تھہیم اور جناب جسٹس فدا محمد خاں پر

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

مشتمل تھا۔ عدالت نے خاصے م تمام مسالک کے جید علماء کرام ا بھی طلب کیا، تا کہ وہ اس موضوع 30 اکتوبر 1990ء ک نے قرار دیا کہ حضرت محمدﷺ ک متبادل سزا، تاحیات قید، اسلام کی کہا کہ دفعہ 295 سی میں ”یا عمر پاکستان کو ہدایت کی جاتی ہے کہ و اور ”یا عمر قید“ کے الفاظ ختم کریں بعد یہ الفاظ خود بخود کالعدم متصور ہ جائے گا، چنانچہ مقررہ تاریخ تک ت فیصلے کے مطابق یہ الفاظ خود بخود توہین رسالت کی سزا، سزائے مو قرار دیا۔ (10 FSC 1991 203-D کے تحت وفاقی شرعی ع غیر اسلامی ہونے کا فیصلہ کرے ت شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہیں رہت

حکومت کی پٹیشن پر یہ اختیار ر میں کسی بھی قانون یا اس کی شق ک کرسکے“۔ یہ بات ہر قسم کے ش

صفحہ 325

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

مشتمل تھا۔ عدالت نے خاصے عرصے تک اس درخواست کی سماعت کی اور متعدد سکالروں تمام مسالک کے جید علماء کرام اور اس موضوع پر دسترس رکھنے والے سینئر قانون دانوں کو بھی طلب کیا، تاکہ وہ اس موضوع پر اپنی آراء پیش کر کے عدالت کی قانونی معاونت کریں۔ 30 اکتوبر 1990ء کو عدالت نے اس درخواست کا متفقہ فیصلہ سنایا۔ عدالت نے قرار دیا کہ حضرت محمدﷺ کی توہین یا ان کے اسم مبارک کی بے حرمتی کے جرم میں متبادل سزا، تاحیات قید، اسلام کی واضح نصوص (احکام) کے منافی ہے۔ عدالت نے مزید کہا کہ دفعہ 295 سی میں ”یا عمر قید“ کا لفظ مکمل اسلامی سزا کے خلاف ہے، اس لیے صدر پاکستان کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ 30 اپریل 1991ء تک اس قانون کی اصلاح کریں اور ”یا عمر قید“ کے الفاظ ختم کریں، اور یہ کہ اگر تاریخ مقررہ تک ایسا نہ کیا گیا تو پھر اس کے بعد یہ الفاظ خود بخود کالعدم متصور کیے جائیں گے اور صرف سزائے موت، ملک کا قانون بن جائے گا، چنانچہ مقررہ تاریخ تک یہ کام نہ ہوسکا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے مطابق یہ الفاظ خود بخود کالعدم ہو گئے۔ وفاقی شرعی عدالت نے اپنے فیصلہ میں توہین رسالت کی سزا، سزائے موت کو قرآن اور سنت رسولﷺ سے اخذ کردہ اور درست قرار دیا۔(PLD 1991 FSC 10) یادرہے کہ پاکستان کے آئین کی دفعہ 203-D کے تحت وفاقی شرعی عدالت ہی اس امر کی مجاز ہے کہ وہ کسی قانون کے اسلامی یا غیر اسلامی ہونے کا فیصلہ کرے۔ آئین کی شق 203-D کے مطالعہ کے بعد اس سلسلہ میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔ اس آئینی شق میں کہا گیا ہے:

حکومت کی پٹیشن پر یہ اختیار رکھتی ہے کہ وہ قرآن اور سنت رسولﷺ کے اصولوں کی روشنی میں کسی بھی قانون یا اس کی شق کے اسلام کے مطابق یا اسلام سے متصادم ہونے کا فیصلہ کرسکے“۔

یہ بات ہر قسم کے شک و شبہ سے بالا تر ہے کہ پاکستان کی پارلیمنٹ قوانین وضع

صفحہ 326

ماہنامہ مسیحائی کراچی حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

کرنے ، ان پر نظر ثانی کرنے ، ان میں ترمیم کرنے ، ان کی تنسیخ کرنے کے وسیع تر اختیارات رکھتی ہے۔ پارلیمانی طریقہ کار اور قانون سازی کی روایات کے مطابق پارلیمنٹ کی طرف سے وضع کردہ قانون توہین رسالت کئی دہائیوں سے نافذ العمل ہے اور آئینی عدالت کے کڑے معیار پر پورا اتر چکا ہے۔ یہ کہنا کہ قرآن وسنت میں توہین رسالت کی سزا موت نہیں ہے، وفاقی شرعی عدالت اس اعتراض کا آئینی شق 203-D کی ذیلی شق 2 کے تحت پہلے ہی باریک بینی سے جائزہ لے چکی ہے اور اس کے فیصلہ کی رو سے موجود قانون قرآن وسنت کے عین مطابق ہے اور قرار دیا گیا ہے کہ گستاخ رسول کے لیے موت کی سزا کے علاوہ کسی بھی قسم کی متبادل سزا اسلامی تعلیمات سے متصادم ہوگی۔ آئین کی شق 203-D کی ذیلی شق 2 کی شق (b) کے تحت یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ ہو چکا ہے۔

حکومت نے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں پیش کیا ، اس فیصلے کو چیلنج نہیں کیا گیا تھا ، بلکہ اس کا مقصد فیصلہ کے بعض پہلوؤں کی وضاحت حاصل کرنا تھا۔ بعد ازاں حکومت سپریم کورٹ سے یہ اپیل واپس لے لی۔ بعض لوگوں نے حکومت کے اس اقدام کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اس سنگین جرم کے لیے صرف موت کی سزا قائم رکھنے پر اپنے ذہنی تحفظات کا اظہار کیا۔ لیکن ان لوگوں کے یہ ذہنی تحفظات عوامی سطح پر کوئی پذیرائی حاصل نہ کر سکے۔ نہ صرف رائے عامہ کے رہنماؤں نے، بلکہ منتخب اداروں اور قانون ساز اسمبلیوں نے بھی عوامی جذبات کو زبان دی۔

2 جون 1992ء کو پاکستان کی قومی اسمبلی نے ایک قرارداد متفقہ طور پر منظور کی، جس میں حکومت سے کہا گیا کہ حضرت محمد ﷺ کی توہین پر صرف اور صرف سزائے موت ہی دی جانی چاہیے۔ سینٹ نے بھی یہی راہ عمل اختیار کی۔ 8 جولائی 1992ء کو سینٹ میں ترمیمی قانون متفقہ طور پر منظور کیا گیا ، جس میں اس جرم کے لیے صرف موت کی سزا دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ اگر عوام کی مرضی پر عمل کرنے کے اصول کا کچھ مقصد ہے ، اگر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کا متفقہ فیصلہ پاکستان کے عوام کے اجتماعی ضمیر کا اظہار ہے، تو یہ قانون

صفحہ 327

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۰ء 327 ماہنامہ مسیحائی کراچی

ہماری قومی تاریخ میں ایک سب سے زیادہ عوامی قانون تسلیم کیا جانا چاہیے۔ افسوس ہے کہ اس قانون کے مخالفین (قادیانی اور سیکولر حضرات) پارلیمنٹ کے اس متفقہ فیصلے کو تسلیم کرنے سے یکسر انکاری ہیں۔ وہ اس سلسلہ میں وفاقی شرعی عدالت کے تاریخی فیصلہ کو بھی تسلیم نہیں کرتے۔ وہ مسلمانوں کی اکثریت کے مذہبی جذبات کو رائی برابر بھی وقعت نہیں دیتے بلکہ اس قانون پر تنقید کرتے ہوئے بعض دفعہ ایسی دل آزار اور اشتعال انگیز گفتگو کرتے ہیں کہ جس سے لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ سابق وزیراعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ حالانکہ قادیانیوں کو 7 ستمبر 1974ء کو (وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی موجودگی میں) ملک کی منتخب پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ اس طرح قانون توہین رسالت ﷺ صدر ضیاء الحق نے نہیں بلکہ ملک کی منتخب پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر بنایا۔ سیکولر اور بے دین عناصر اس قانون کی مخالفت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ ایک آمر ضیاء الحق کے دور میں بنا، ان سے پوچھنا چاہیے کہ عائلی قوانین بھی تو ایک آمر صدر ایوب خاں کے دور میں بنائے گئے تھے، آپ اس کی مخالفت تو نہیں کرتے۔ مزید ان بزرجمہروں سے یہ بھی دریافت کرنا چاہیے کہ کیا صدر ضیاء الحق کے دور میں بنائے گئے تمام قوانین ختم ہو گئے ہیں یا اُن پر اب بھی من وعن عمل ہو رہا ہے؟ آخر آپ انہیں ختم کرانے کی کوشش کیوں نہیں کرتے؟ یہ تضاد بیانی اور منافقت کیوں اور کب تک .........؟

صفحہ 328

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 328 ماہنامہ مسیحائی کراچی

نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم

آفتاب کریمی

خدا کی رحمتیں پاؤ مقدر جاگ جائے گا
درود ہر دم پڑھے جاؤ مقدر جاگ جائے گا
در آقا ہے ایسا در جہاں قسمت سنورتی ہے
وہاں جھولی کو پھیلاؤ مقدر جاگ جائے گا
چلو طیبہ کہ طیبہ میں بہت خیرات بٹتی ہے
کبھی خیرات وہ پاؤ مقدر جاگ جائے گا
مدینے اور مکے میں حدیثوں میں اسے ڈھونڈو
نبی کا نقش پا پاؤ مقدر جاگ جائے گا
امانت کا دیانت کا صداقت کا سخاوت کا
ترانہ جھوم کر گاؤ مقدر جاگ جائے گا
کسی در پر نہیں جاؤ کسی سے کچھ نہیں چاہو
در آقا پہ ہو آؤ مقدر جاگ جائے گا
نبی کی پاک سیرت کا ترانہ ہیں سبھی نعتیں
انہیں جاکر سنا آؤ مقدر جاگ جائے گا
نمازیں مسجد نبوی میں پڑھنی ہیں جماعت سے
اگر چالیس پڑھ آؤ مقدر جاگ جائے گا
تمہارے گھر میں تو اکثر نبی کا ذکر ہوتا ہے
کریمی تم نہ گھبراؤ مقدر جاگ جائے گا
صفحہ 329

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

حرمت رسول ﷺ

مولانا محمد صابر سرہندی

مدیر اعلیٰ ماہنامہ تمنائے زاد راہ فیصل آباد

وہ جس کا صدیوں سے انتظار تھا۔ تمام انبیاء جس کی امت میں پیدا ہونے کے نہ صر ف خواہش مند بلکہ انکا امتی ہونا باعث افتخار سمجھتے تھے۔ وہ جسے زندہ دفن ہونے والی بچیاں چیخ چیخ کر پکار رہی تھیں۔ وہ جس کیلئے مظلوم چشم براہ تھے۔ کس کس کا تذکرہ کریں وہی تو ہے جن وانس کے ساتھ ساتھ جس کی آمد کی پوری کائنات منتظر تھی یہاں تک کہ خود خالق نے فرمایا۔ ”کہ اگر تجھے پیدا نہ کرنا ہوتا تو کائنات کا ذرہ بھی تخلیق نہ پاتا“۔ ہاں ہاں وہی غریبوں، یتیموں، بیواؤں، بیماروں، پریشان حالوں اور بے آسروں کا آسرا، گناہوں کی دلدل میں دھنسے ہوؤں کو ایک نظر میں نجات دلانے والا، جس کے سامنے اونچی آواز میں بولنا اللہ تبارک وتعالیٰ کو پسند نہیں۔ جسے غلط انداز سے پکارنے والے کو اللہ پاک قرآن پاک میں انہیں الفاظ سے پھٹکارے اور پھر ایسے بدبخت کو عزت کی موت بھی نصیب نہ کرے، جس کی عظمت کا انکار کرنے والے کے قتل کو اللہ پاک جائز قرار دے۔ ہاں۔ ہاں وہی جس پر شجر وحجر صلوٰۃ وسلام پڑھیں۔ دشمن کی مٹھی میں کنکریاں کلمہ شہادت پڑھکر نبوت کی عظمت کا اعلان کریں۔ جس کی انگلی کے اشارے سے چاند دوٹکڑے ہو جائے۔ جس کے لئے زمان ومکاں کی وسعتیں سمیٹ دی جائیں۔ جسے تمام انبیاء کی امامت کا تاج پہنایا جائے۔ ہاں، وہ، وہی جسے اولین وآخرین کا نبی بنا کر روز محشر شفاعت کا اختیار بخشا جائے گا۔ جس کے سایہ عاطفت میں آنے والوں کیلئے مال، جان، عزت آبرو کوئی اہمیت نہ رکھتے ہوں اور بات بات پر ”میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان“ پکار اٹھیں۔ بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ جس کے دل میں اُن کی محبت موجزن نہ ہو وہ

صفحہ 330

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 330 ماہنامہ سچائی کراچی

مومن و مسلم کہلائے۔ نہیں بالکل نہیں! وہ تو خود ارشاد فرماتے ہیں کہ لا یومن احدکم حتی اکون احب الیه من والده وولده والناس اجمعین کہ تم میں سے کوئی اُس وقت تک کامل ایمان والا نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اُس کے نزدیک اُس کے ماں باپ آل اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔ جب حبِ رسول ہی ایمان کی بنیادی شرط قرار پائے تو پھر یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ ایک شخص ایماندار ہونے کا دعویٰ بھی کرے پھر نبی آخر الزماںﷺ یا کسی بھی نبی کی شان اقدس میں گستاخانہ آواز سنے یا الفاظ پڑھے پھر وہ کہنے، لکھنے والا اور یہ سننے پڑھنے والا دونوں زندہ بھی رہیں نہیں نہیں، قطعاً نہیں پھر تو ایک ہی فیصلہ ہے کہ یا تو بکواس کرنے والی زبان اور لکھنے والے ہاتھ نہ رہیں یا سننے والے کان اور عبارت دیکھنے والی آنکھ نہ رہے۔

نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ بطحا کی عزت پر
اللہ شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا

وہی تو ہیں جن کی آمد سے خزاں نے بہار کا خوشنما لبادہ اوڑھا، وہ نہ تھے تو ہر سو اندھیروں کا راج تھا، ظلم و جور کی گھٹائیں چھا رہی تھیں، یہ دنیا انسانوں کی بستی نہیں بلکہ انسان نما درندوں کی آماجگاہ بنی ہوئی تھی، برائی دندناتی اور نیکی منہ چھپاتی پھر رہی تھی۔ بھلائی کی کھیتی ناپید اور بدبختی اور گناہوں کے جھاڑ جھنکار سے یہ دنیا خوفناک جنگل کا روپ دھار چکی تھی۔ تب اللہ کی رحمت کو جوش آیا اور شفیع المذنبین اور رحمت للعالمین کو مبعوث فرما کر اہل ایمان کے ساتھ ساتھ پوری کائنات پر احسان فرمایا۔ اُسی احسان کا نتیجہ ہے کہ اُن کا ہر قول وفعل ہمیں دل وجان سے عزیز ہے اُنکی سیرت اور اُنکا کردار ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔ اُن کی محبت وعقیدت ہماری رگ رگ میں سرایت کئے ہوئے ہے۔ یہی محبت ہے جس کی سلامتی مومن کے ایمان کی سند ہے۔ حبِ رسولﷺ سے خالی دل ودماغ میں ایمان کا گزر ناممکن ومحال ہے۔ وہ اس دنیا میں زندہ سلامت تھے تو نورانی فرشتے سلامی کیلئے لشکر در لشکر حاضری کیلئے بے قرار رہتے اور اب جبکہ آپ

صفحہ 331

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 331 ماہنامہ مسیحائی کراچی

ﷺ روضہء اقدس میں محو استراحت ہیں تو ہزاروں کی تعداد میں فرشتے اور جن و انس ہمہ وقت بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں صلوٰۃ و سلام کیلئے حاضر ہوتے رہتے ہیں۔ مخلوق ہی کا ذکر کیا خود خالق کائنات کی بارگاہ سے ہر لمحہ پیارے مکی مدنی ﷺ پر صلوٰۃ و سلام کے تحائف اترتے ہیں، کرۂ ارض کی آبادی انہیں کے طیب طاہر وجود کی برکات کا ثمرہ ہے، نہیں نہیں اللہ جل شانہ کی تمام مخلوق کی رونقیں بہاریں انہیں کے دم قدم سے ہیں تو پھر سب اہل ایمان کا ایک ہی نعرہ کیوں نہ ہو۔ حرمت رسول پر جان بھی قربان ہے۔ غلامی رسول میں موت بھی قبول ہے۔

محمد کی محبت دین حق کی شرط اول ہے
اسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نامکمل ہے

نقیب اتحاد ملت اسلامیہ ماہنامہ مسیحائی کراچی

اشاعت خاص: ”قرآن نمبر“

زیر ادارت احمد خیر الدین انصاری لائبریری، طلبہ اور اہل علم کے لئے نادر تحفہ ۲۲ عدد رنگین قلمی قرآن کی تصاویر ہدیہ: ۳۰۰ روپے بمع ڈاک ضخامت: ۴۱۶ صفحات محدود تعداد میں دستیاب ہے۔ بی ۱۷/۱، بلاک، اے، نارتھ ناظم آباد، کراچی ۷۴۷۰۰۔ فون: 36630641 موبائل: 03323569913

صفحہ 332

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ میثاق کراچی

حمد باری تعالیٰ

سید صبیح رحمانی

خوشا وہ دن حرمِ پاک کی فضاؤں میں تھا
زباں خموش تھی دل محوِ التجاؤں میں تھا
درِ کرم پہ صدا دے رہا تھا اشکوں سے
جو ملتزم پہ کھڑے تھے، میں ان گداؤں میں تھا
غلافِ خانہ کعبہ تھا میرے ہاتھوں میں
خدا سے عرض و گزارش کی انتہاؤں میں تھا
حطیم میں مرے سجدوں کی کیفیت تھی عجب
جبیں زمین پہ تھی ذہن کہکشاؤں میں تھا
طواف کرتا تھا پروانہ وار کعبے کا
جہانِ ارض و سما جیسے میرے پاؤں میں تھا
دھڑک رہا ہے مرے سازِ روح پر اب بھی
وہ ایک نغمہ ”جو لبیک“ کی صداؤں میں تھا
مجھے یقین ہے میں پھر بلایا جاؤں گا
کہ یہ سوال بھی شامل میری دعاؤں میں تھا

.................................☆.................................

صفحہ 333

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ سبحانی کراچی

ناموس رسالت کا مسئلہ

مولانا قاری محمد حنیف جالندھری

ناموس رسالت اور حرمت رسول دین مبین کی اساس اور بنیاد بھی ہے اور امت مسلمہ کی روح بھی ۔ اسلام کی پوری عمارت حرمت رسول پر قائم ہے، صرف اسلام ہی نہیں بلکہ تمام آسمانی مذاہب کی عمارت عظمت رسول ﷺ اور عصمت رسول ﷺ پر قائم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں انبیائے کرام بالخصوص پیغمبر آخر الزماں ﷺ کی عزت و حرمت کے حوالے سے ہرزہ سرائی کرنے والوں کے خلاف بہت سخت اسلوب اختیار کیا گیا ہے۔ قرآن کریم کی بے شمار آیات مبارکہ گستاخان رسالت کے عبرتناک انجام کی خبر دیتی ہیں۔ سورۃ احزاب میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو گستاخی کے ذریعے ایذاء دینے والوں کو رسوا کن عذاب کی وعید سنائی گئی، سورۃ توبہ میں تمام اعمال کے ضائع ہو جانے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں ڈالے جانے کا ڈراوا دیا گیا سورہ توبہ میں ہی درد ناک عذاب سے خبردار کیا گیا اور سورہ احزاب میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ”وہ لوگ لعنت زدہ ہیں، جہاں کہیں ملیں پکڑ لیے جائیں اور انہیں اچھی طرح سے قتل کیا جائے ۔“ بعض حضرات نے کہا ہے کہ ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے جائیں اور بعض نے اسے تکہ بوٹی کر دینے سے تعبیر کیا ہے سورۂ القلم میں ایک گستاخ رسول ولید بن مغیرہ کے لیے قرآن کریم نے کس قدر سخت اسلوب اختیار کیا اور اس کی نوں برائیوں کو جس انداز سے بیان کیا اس کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ رب العزت حضور اکرم ﷺ کی عزت و حرمت کے معاملے میں کس قدر غیور ہیں اور سورۂ حجرات میں حضرت ابوبکرؓ و عمرؓ جیسی جلیل القدر ہستیوں اور دیگر صحابہ کرامؓ کو آپ ﷺ کے سامنے اپنی آوازیں پست کرنے کا حکم دیا گیا تو کسی اور کی کیا مجال؟ اور آپ ﷺ کے مخلص ترین صحابہ کو حجروں کے باہر سے آوازیں دینے پر سخت تنبیہ فرمائی گئی قرآن کریم کے اس واضح ترین اسلوب اور بے شمار آیات مبارکہ کے ہوتے ہوئے بعض لوگ اس معاملے میں بلا وجہ مغالطے پیدا کر رہے ہیں جو نہایت افسوس

صفحہ 334

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ سبحانی کراچی

ناک امر ہے حالانکہ اللہ کے نبی ﷺ نے رحمۃ للعالمین ہونے کے باوجود اپنے عمل کے ذریعے قرآن کریم کی آیات مبارکہ کی جو تشریح و تفسیر فرمادی اس کے بعد تو کسی مغالطے اور ابہام کی گنجائش ہی نہیں رہتی۔ آپ ﷺ نے کعب ابن اشرف اور ابو رافع یہودی کو خود قتل کروایا ابن خطل بیت اللہ شریف کے غلاف سے لپٹا ہوا تھا لیکن اس کے باوجود اس کی جاں بخشی نہیں ہوئی ابو داؤد شریف کی روایت کے مطابق آپ ﷺ نے ایک گستاخ یہودیہ عورت کے خون کو رائیگاں قرار دیا ایک نابینا صحابیؓ نے آپ ﷺ کے سامنے عصماء یہودیہ نامی عورت کو گستاخی رسول کے جرم کی پاداش میں قتل کرنے کا اعتراف کیا تو آپ ﷺ نے اس کے خون کو بھی ہدر قرار دیا علامہ ابن تیمیہؒ نے الصارم المسلول میں لکھا ہے کہ حضرت عمیرؓ بن عدی نے ایک گستاخ رسول عورت کو قتل کیا تو آپ ﷺ نے خوش ہو کر فرمایا کہ ”اگر تم ایسا شخص دیکھنا چاہو جس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی غیبی مدد کی ہے تو عمیرؓ بن عدی کو دیکھ لو“ اسی طرح ایک عورت کے بارے میں کتب احادیث میں آتا ہے کہ وہ آپ ﷺ کو گستاخی کے ذریعے ایذاء دیا کرتی تھی آپ ﷺ نے خود اس سے بدلہ لینے کے لیے ایک صحابیؓ کی ڈیوٹی لگائی اور پھر انہوں نے اسے قتل کر کے آپ ﷺ کو اطلاع دی۔ غور طلب بات یہ ہے کہ کعب ابن اشرف یہودی سے لے کر عصماء یہودیہ تک کسی کے قتل کی وجہ ارتداد نہیں تھا بلکہ اہانت رسول کے جرم کی پاداش میں ان سب لوگوں کو عبرتناک انجام سے دوچار کیا گیا۔ قرآن و حدیث کے ان صریح اور واضح احکامات کی روشنی میں آج تک پوری امت کا اس بات پر اجماع چلا آرہا ہے کہ گستاخ رسول کی سزا صرف اور صرف سزائے موت ہے۔ اور یہ اجماع و اتفاق کیوں نہ ہو کیوں کہ حرمت رسالت کا معاملہ وہی اس قدر حساس ہے کہ اگر اللہ کی ان برگزیدہ ہستیوں کی حرمت، عصمت اور عظمت باقی نہ رہے تو پھر کچھ بھی باقی نہیں رہتا یہی وجہ ہے کہ سیکولر اور بے دین لوگ ہمیشہ اس اساس پر حملہ آور ہوتے رہے ہیں اور مسلمانوں کے تن بدن سے روح محمد ﷺ نکالنے کے در پے رہے ہیں ان دنوں وطن عزیز میں بھی کچھ ایسے ہی نا عاقبت اندیش لوگ ایک عیسائی عورت کی آڑ لے کر اور اس کی مظلومیت کا رونا رو کر

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

دراصل انسداد توہین رسالت کے قانو انسداد توہین رسالت کے قانون جب سے یہ قانون بنا ہے اس وقت نظروں میں بری طرح کھٹک رہا ہے اگر نہیں دی گئی لیکن اس کے باوجود اس قا پاکستان میں یہ قانون نہ ہوتا تو یہاں آ بھی اہانت رسول ﷺ کا الزام لگا کر اس دیا جاتا اور قتل و غارت گری کا نہ ختم ہونے کو تہہ و تیغ کیا جاتا لیکن اس قانون نے توہین رسالت کا الزام لگتا ہے تو قانو ثبوتوں کے بعد جا کر کہیں فیصلہ ہوتا اقلیتوں کے لیے خطرہ نہیں بلکہ ان کے کسی کو تکلیف دینے کے لیے نہیں لیے ہے اگر کوئی قانون نہیں ہوگا تعد نہیں ہوگا تو ہر انسان کو من مانی کر صورت میں اقلیتوں کو تحفظ مل جاتا سزائے موت نہیں دی جاسکی لیکن اگر ﷺ کے الزام میں ہزاروں لوگ قتل جہاں تک قانون کے غلط استعمال دیگر جتنی دفعات ہیں کیا ان کا غلط ا پاکستان بھر کی جیلوں میں قتل کے ال گناہ ہیں لیکن آج تک کسی نے اس

صفحہ 335

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 335 ماہنامہ سبحانی کراچی

دراصل انسداد توہین رسالت کے قانون کو نشانہ بنانے کی سعی مذموم میں مصروف عمل ہیں۔ انسداد توہین رسالت کے قانون کے خاتمے کی یہ کوئی پہلی کوشش اور جسارت نہیں بلکہ جب سے یہ قانون بنا ہے اس وقت سے یہ قانون مذہب بیزار اور دین دشمن طاقتوں کی نظروں میں بری طرح کھٹک رہا ہے اگرچہ آج تک اس قانون کی وجہ سے کسی کو سزائے موت نہیں دی گئی لیکن اس کے باوجود اس قانون نے بڑے بڑے فساد کا راستہ روکا ہوا ہے اگر پاکستان میں یہ قانون نہ ہوتا تو یہاں آئے روز غازی علم الدین شہید پیدا ہوتے لوگ کسی پر بھی اہانت رسول ﷺ کا الزام لگا کر اس کا خود ہی کام تمام کر دیتے ذاتی رنجشوں کو مذہبی رنگ دیا جاتا اور قتل وغارت گری کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ چل نکلتا، اپنی پسند و ناپسند کی بنیاد پر لوگوں کو تہہ و تیغ کیا جاتا لیکن اس قانون نے ایسے تمام دروازے بند کر رکھے ہیں اب اگر کسی پر بھی توہین رسالت کا الزام لگتا ہے تو قانون کے پراسس، عدلیہ کے مراحل گواہیوں جرح اور ثبوتوں کے بعد جاکر کہیں فیصلہ ہوتا ہے کہ کون مجرم ہے اور کون بے گناہ؟ یوں یہ قانون اقلیتوں کے لیے خطرہ نہیں بلکہ ان کے لیے باعث رحمت ہے انسداد توہین رسالت کا قانون کسی کو تکلیف دینے کے لیے نہیں بلکہ تکلیف سے بچانے اور دل آزاری سے محفوظ رہنے کے لیے ہے اگر کوئی قانون نہیں ہوگا تو عدالتوں کا راستہ نہیں ہوگا، اس معاملے میں ریاست کا کردار نہیں ہوگا تو ہر انسان کو من مانی کرنے کا موقع مل جائے گا جب کہ قانون کی موجودگی کی صورت میں اقلیتوں کو تحفظ مل جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ آج تک اس قانون کی وجہ سے کسی کو سزائے موت نہیں دی جاسکی لیکن اگر یہ قانون موجود نہ ہوتا تو شاید اس وقت تک اہانتِ رسول ﷺ کے الزام میں ہزاروں لوگ قتل کیے جاچکے ہوتے۔

جہاں تک قانون کے غلط استعمال کی بات ہے تو سوال یہ ہے کہ پاکستان کے قانون میں دیگر جتنی دفعات ہیں کیا ان کا غلط استعمال نہیں ہوتا؟ دفعہ 302 کو ہی لے لیجیے اس وقت پاکستان بھر کی جیلوں میں قتل کے الزام میں جتنے لوگ قید ہیں ان میں سے کتنے فیصد بے گناہ ہیں لیکن آج تک کسی نے اس قانون کو ختم کرنے کا مطالبہ نہیں کیا۔ خود آئین پاکستان

صفحہ 337

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 336 ماہنامہ مسیحائی کراچی جو پاکستان میں موجود تمام قوانین کا منبع و سرچشمہ ہے آج تک کتنے ہی آمروں نے اس کو غلط استعمال کر کے پوری پوری قوم کو یرغمال بنائے رکھا لیکن کسی نے بھی اس منطق کا سہارا نہیں لیا کہ آئین پاکستان سے ہی جان چھڑالی جائے ہاں البتہ قرار داد مقاصد ہو یا حدود اللہ آرڈینینس، قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا معاملہ ہو یا انسداد توہین رسالت کا قانون تمام اسلام دشمن طاقتوں کی تان آکر اس بات پر ٹوٹتی ہے کہ ان سب چیزوں کو ختم کر دیا جائے۔

لیکن یادرہے کہ اس قانون کو ختم کرنے کا خواب دیکھنے والے اور اس میں قطع و برید کی جسارت کرنے والے بہت سے لوگ دنیا سے حرف غلط کی طرح مٹ گئے لیکن حضورﷺ کی عزت و ناموس پر کوئی حرف نہ آسکا اور نہ ہی آئندہ آسکے گا۔ انشاء اللہ۔

☆☆☆

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 337

عظمت رسولﷺ اور

اللہ تعالیٰ نے اس انسان کی ہدایت و رہنمائی فرمایا جنہوں نے اس انسان کو اس کا اور مقصد طریقہ سکھایا، بندے کا تعلق اس کے خالق و مالک کرام کے اس سلسلہ کا آغاز حضرت آدم علیہ السل نبوت کی اصل حقیقت تو اللہ تعالیٰ ہی کو مع باطنی اصلاح کے لیے اپنے اس عطیہ ربانی أ حقیقت ماوراء عقل ہے کیوں کہ جہاں عقل کی سرحد شروع ہوتی ہے۔ ہاں ہم اتنا جانتے ہیں ک ہستی کا انتخاب کیا جاتا ہے وہ معصوم ہوتی ہے ہ اوصاف اور شیطان کی دسترس سے بالاتر ، جس نہیں ، اسی طرح اس ہستی کا رابطہ اللہ تعالیٰ ۔ ہے کہ وہ اس وحی الٰہی کے ذریعہ غیب کی خبریں تر ہوتی ہیں مگر عظیم فائدہ دینے والی ہوتی ہیں ۔ یہ حقیقت بھی مسلم اور ہر طرح کے شک و شبہ منصب ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے خا کی آخری معراج ہے، انسانیت کے بقیہ مراتب فکر کی کوئی بلندی نبوت کی حدوں کو نہیں چھو سکتی ۔ راہ کو پہنچ سکتا ہے، نبوت سے اوپر بس ایک ہی مر

صفحہ 337

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 337 ماہنامہ مسیحائی کراچی

عظمت رسولﷺ اور اس کے تقاضے

مفتی خالد محمود

چیئرمین اقراء روضۃ الاطفال

اللہ تعالیٰ نے اس انسان کی ہدایت و رہنمائی کے لیے انبیاء علیہم السلام کا سلسلہ جاری فرمایا جنہوں نے اس انسان کو اس کا اصل مقصد تخلیق بتایا، اس کے مطابق زندگی گزارنے کا طریقہ سکھایا، بندے کا تعلق اس کے خالق و مالک سے جوڑا جو اس کا رب بھی ہے انبیاء کرام کے اس سلسلہ کا آغاز حضرت آدم علیہ السلام سے ہوا۔

نبوت کی اصل حقیقت تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے جس نے نظام عالم کی ظاہری و باطنی اصلاح کے لیے اپنے اس عطیہ ربانی کی سنت جاری فرمائی لہٰذا اس نبوت کی حقیقت ماوراء عقل ہے کیوں کہ جہاں عقل کی سرحد ختم ہوتی ہے وہاں سے نبوت کی سرحد شروع ہوتی ہے۔ ہاں ہم اتنا جانتے ہیں کہ اس اعلیٰ اور ارفع منصب کے لیے جس ہستی کا انتخاب کیا جاتا ہے وہ معصوم ہوتی ہے یعنی نفس کی ناپسندیدہ خواہشات سے پاک و صاف اور شیطان کی دسترس سے بالاتر، جس سے حق تعالیٰ کی معصیت کا صدور ممکن ہی نہیں، اسی طرح اس ہستی کا رابطہ اللہ تعالیٰ سے اور اس کی وحی سے اس طرح جڑا ہوتا ہے کہ وہ اس وحی الٰہی کے ذریعہ غیب کی خبریں دیتا ہے اور یہ غیب کی خبریں عقل سے بالا تر ہوتی ہیں مگر عظیم فائدہ دینے والی ہوتی ہیں۔

یہ حقیقت بھی مسلم اور ہر طرح کے شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ منصب نبوت وہ اعلیٰ ترین منصب ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے خاص بندوں کو دیا جاتا ہے، یہ منصب انسانیت کی آخری معراج ہے، انسانیت کے بقیہ مراتب و کمالات اس سے پست اور فروتر ہیں، انسانی فکر کی کوئی بلندی نبوت کی حدوں کو نہیں چھو سکتی، نہ انسانیت کا کوئی شرف و کمال نبوت کی راہ کو پہنچ سکتا ہے، نبوت سے اوپر بس ایک ہی مرتبہ ہے اور وہ ہے حق تعالیٰ شانہ کی ربوبیت۔

صفحہ 338

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 338 ماہنامہ مسیحائی کراچی

الوہیت کا۔ اور یہ بات بھی مسلم ہے کہ نبوت خالص عطیہ ربانی ہے یہ کسی محنت و مجاہدہ اور کسب و ریاضت سے حاصل نہیں ہو سکتا بلکہ یہ خالص اللہ تعالیٰ کا انتخاب ہوتا ہے اسی لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس انتخاب کو کہیں اجتباء، کہیں اصطفا اور کہیں لفظ اختیار سے تعبیر فرمایا ہے اور یہ بھی حقیقت مسلم ہے کہ اللہ تعالیٰ اس منصب کے لیے جسے منتخب کرتا ہے اسکی شخصیت ہر نقص، ہر کوتاہی، ہر کجی اور کمزوری سے پاک وصاف ہوتی ہے، نبی اپنے حسب ونسب، اخلاق وکردار، صورت وسیرت، ظاہر وباطن اور خلوت و جلوت ہر اعتبار سے ایسا پاک و مطہر ہوتا ہے جس سے ہر شخص کا دل و دماغ مطمئن ہو اور کسی کو انگشت نمائی کا بال برابر موقع نہ مل سکے، نبی ہر اعتبار سے عام انسانوں سے ممتاز ہوتا ہے وہ ایسا سعید الفطرت پیدا ہوتا ہے کہ اس کی تمام خواہشات رضاء الٰہی کے تابع ہوتی ہیں اور وہ نفس و شیطان کے تسلط سے محفوظ ہوتا ہے کیوں کہ اس کی ہر حرکت و سکون پر حفاظت خداوندی کا پہرہ ہوتا ہے، اس سے گناہ و معصیت کا صدور ممکن ہی نہیں ہوتا کیوں کہ ردائے عصمت اس کے زیب تن ہوتی ہے، اسی لیے نبی اور رسول کبھی فرائض نبوت میں کوتاہی نہیں کرتا۔

بہر حال انبیاء کرام علیہم السلام نے اس دنیا میں آکر اپنے فرائض نبوت احسن طریقے سے پورے کیے اور انسانیت کی فلاح اور اس کی ہدایت کا سامان بہم پہنچایا، ان کی روحانی تربیت کرکے ان کی روح کو جلا بخشی، ان کے اخلاق و کردار کو سنوارا، اس وقت دنیا میں جہاں کہیں خلوص اور دل کی صفائی کا اجالا ہے وہ انہی انبیاء کی تعلیمات کا نتیجہ ہے، جہاں کہیں رحم، انصاف، غریبوں کی مدد، یتیموں کی پرورش اور دیگر نیکیوں کا سراغ ملتا ہے وہ انہی انبیاء کرام کی دعوت اور پکار کا ثمرہ ہے، اس روئے زمین پر بہت سے طبقات پیدا ہوئے جنہوں نے اس انسان کے لیے خدمات انجام دیں، اس کے لیے مختلف فنون ایجاد کیے، اس کی دنیاوی اور ظاہری راحتوں کا سامان کیا، لیکن جس طبقہ نے بنی نوع انسان کی حقیقی بھلائی، اسکی روحانی راحت، اعمال کی نیکی، اخلاق کی بہتری، دلوں کی صفائی اور انسانی قویٰ میں اعتدال اور میانہ روی پیدا کرنے کی کامیاب کوششیں کی ہیں تو وہ یہی انبیاء

صفحہ 339

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ سبحانی کراچی

کا طبقہ ہے جو اللہ کی طرف سے اس دنیا میں بھیجے گئے، جو دنیا کو نیک تعلیم اور ہدایت دے کر اپنے بعد بھی لوگوں کے لیے چلنے کا راستہ بنا گئے۔

حضرت آدم علیہ السلام سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک:

ان انبیاء کرام نے اپنے اپنے وقت میں اپنی اپنی قوموں کے سامنے اس زمانہ کے مناسب حال اخلاق عالیہ اور صفات کاملہ کا ایک نہ ایک بلند ترین معجزانہ نمونہ پیش کیا، کسی نے صبر، کسی نے ایثار، کسی نے قربانی، کسی نے جوش توحید، کسی نے تسلیم، کسی نے عفت، کسی نے زہد غرض ہر ایک نے ایک بلند مینار قائم کیا جس سے صراط مستقیم کا پتہ لگ سکے اور یہ بھی واضح اور ظاہر و باہر رہے کہ ان انبیاء کرام میں سے ہر ایک کا دائرہ کار محدود جگہ، محدود قوم اور محدود زمانہ تک تھا اس لیے ضرورت تھی ایک ایسے راہبر و راہنما کی جس کی ذات جامع ہو، جس کی ہدایت ہر شعبۂ زندگی پر محیط ہو، جس کی زندگی میں ہر چیز کا نمونہ ہو، وہ ہر شخص، ہر طبقہ، ہر قبیلہ، ہر جگہ اور ہر زمانہ کے لیے اُسوہ اور نمونہ ہو، جس کی راہنمائی قیامت تک آنے والے لوگوں کے لیے مثال راہ ہو جس کی تعلیم و ہدایت کے مطابق زندگی کا ہر مسافر زندگی کے پُر پیچ راہوں میں بے خطر منزل مقصود کا پتہ پائے۔

خاتم الانبیاء کی بعثت:

یہ راہنما سلسلۂ انبیاء کے آخری فرد خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جن کے وجود پر انبیاء کا سلسلہ ختم ہوا اور جن کے وجود سے قصر نبوت کی تکمیل ہوئی جو قیامت تک آنے والوں کے لیے رسول اور تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے، مولانا مناظر احسن گیلانی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد و بعثت کو اپنے مخصوص ادیبانہ انداز میں بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”یوں آنے کو تو سب ہی آئے، سب میں آئے، سب جگہ آئے (سلام ہو ان پر) بڑی کٹھن گھڑیوں میں آئے، لیکن کیا کیجیے کہ ان میں جو بھی آیا جانے ہی کے لیے آیا، پر ایک اور صرف ایک جو آیا اور آنے ہی کے لیے آیا، وہی جو اُگنے کے بعد پھر کبھی نہیں ڈوبا، چمکا

صفحہ 340

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ سبحانی کراچی

اور پھر چمکتا ہی چلا جا رہا ہے، بڑھا اور بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے، چڑھا اور چڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔ سب جانتے ہیں اور سبھوں کو جاننا ہی چاہیے کہ جنہیں کتاب دی گئی اور جو نبوت کے ساتھ کھڑے کئے گئے، برگزیدوں کے اس پاک گروہ میں اس کا استحقاق صرف اسی کو ہے اور اس کے سوا کس کو ہو سکتا ہے، جو پچھلوں میں بھی اس طرح ہے جس طرح پہلوں میں تھا دور والے بھی اس کو ٹھیک اسی طرح پا رہے ہیں اور ہمیشہ پاتے رہیں گے جس طرح نزدیک والوں نے پایا تھا، جو آج بھی اسی طرح پہچانا جاتا ہے اور ہمیشہ پہچانا جائے گا جس طرح کل پہچانا گیا تھا، کہ اسی کے اور صرف اسی کے دن کے لیے رات نہیں، ایک اسی کا چراغ ہے جس کی روشنی بے داغ ہے۔“

(النبی الخاتم، صفحہ نمبر ۷)

سرکار دو عالم حضرت محمد مصطفیٰ ، احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں اس وقت تشریف لائے جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ظہور پر چھ صدیاں گزر چکی اور دنیا انبیاء کی تعلیمات کو فراموش کر چکی ، پوری کائنات انسانی اپنے رب کو فراموش کر چکی اور خدا پرستی کے بجائے مظاہر پرستی میں مبتلا تھی، ہر سو جہالت و شرک کی ظلمت اور رسم و رواج کی تاریکی چھائی ہوئی تھی، روئے زمین نورانیت کے فیض سے یکسر محروم تھی، کائنات انسانی کی ساری فضا شقاوت ونفس پرستی، بدی و بدکاری، شرارت ونفاق کے گہرے بادلوں سے سیاہ ہو رہی تھی، اخلاقی پستی حد سے گزر چکی تھی اور روحانی بیماریاں اس درجہ پہنچ چکی تھیں کہ وہ تقریباً لا علاج تھیں، دل و دماغ اور ذہن وعقل اس حد تک کند ہو چکے تھے کہ حق و باطل، برائی و بھلائی، نیکی اور بدی اور نور وظلمت کا فرق کرنے سے عاجز تھے۔ ان حالات میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور ہوا جس نے انسان کی کایا پلٹ کر رکھ دی، ظلمت والی فضا کو نور ایمانی سے بھر دیا، نور ہدایت سے کفر و شرک کی تاریکیاں دور کر کے معمورہ عالم کو منور کر دیا اسی لیے تو ہر سیرت نگار نے اپنے اپنے مخصوص انداز میں آپ کے ظہور اور ولادت باسعادت کا تذکرہ کیا ہے جس کے دو تین نمونے یہاں درج کیے جاتے ہیں:

علامہ شبلی نعمانیؒ لکھتے ہیں:

’شبستان دہر میں بار ہا روح پرور بہاریں آچکی ہیں چرخ نادرہ کار نے کبھی کبھی بزم عالم اس سر و سامان سے سجائی کہ نگاہیں خیرہ ہو کر رہ گئی ہیں۔

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

لیکن آج کی تاریخ وہ تاری صرف کر دیئے۔ سیارگان فلک مدت ہائے دراز سے اسی صبح قضا و قدر کی بزم آرائیاں ع کی تردستیاں، عالم قدس کے جان نوازی مسیحؑ ، سب اسی وسلم کے دربار میں کام آئیں آج کی صبح وہی صبح جاں مگر اپنے محدود پیرایۂ بیان گر گئے، آتش کدہ فارس بجھ نہیں بلکہ شان عجم، شوکت رو نہیں بلکہ جحیم شر، آتش کدہ اڑنے لگی، بت کدے خاک خزاں دیدہ ایک ایک کر آگئی۔ آفتاب ہدایت کی ک سے چمک اٹھا۔ یعنی یتیم عالم، شہنشاہ کونین ﷺ اللهم صل عليه وعلى آله

(سیرۃ النبی

مولانا حفظ الرحمن سیوہار ۹ ربیع الاول مطابق

سعادت سے محروم، بن گیا اللہ بن عبد المطلب کے ہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے

صفحہ 341

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 341 ماہنامہ مسیحائی کراچی

لیکن آج کی تاریخ وہ تاریخ ہے جس کے انتظار میں پیر کہن سال دہر نے کروڑوں برس صرف کر دیئے۔ سیارگان فلک اسی دن کے شوق میں ازل سے چشم براہ تھے۔ چرخ کہن مدت ہائے دراز سے اسی صبح جاں نواز کے لیے لیل و نہار کی کروٹیں بدل رہا تھا۔ کار کنان قضا و قدر کی بزم آرائیاں عناصر کی جدت طرازیاں، ماہ و خورشید کی فروغ انگیزیاں، ابر و باد کی تر دستیاں، عالم قدس کے انفاس پاک، توحید ابراہیمؑ، جمال یوسفؑ، معجز طرازی موسیٰؑ، جان نوازی مسیحؑ ، سب اسی لیے تھے کہ یہ متاع ہائے گراں ارز شاہنشاہ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میں کام آئیں گے۔

آج کی صبح وہی صبح جان نواز، وہی ساعت ہمایوں، وہی دور فرخ فال ہے۔ ارباب سیر اپنے محدود پیرایۂ بیان میں لکھتے ہیں کہ آج کی رات ایوان کسریٰ کے ۱۴ کنگرے گر گئے، آتش کدہ فارس بجھ گیا، دریائے ساوہ خشک ہو گیا ”لیکن سچ یہ ہے کہ ایوان کسریٰ نہیں بلکہ شانِ عجم، شوکتِ روم، اوجِ چین کے قصر ہائے فلک بوس گر پڑے۔ آتش فارس نہیں بلکہ جحیم شر، آتش کدۂ کفر، آذر کدۂ گمراہی سرد ہو کر رہ گئے، صنم خانوں میں خاک اڑنے لگی، بت کدے خاک میں مل گئے، شیرازۂ مجوسیت بکھر گیا۔ نصرانیت کے اوراق خزاں دیدہ ایک ایک کر کے جھڑ گئے۔ توحید کا غلغلہ اٹھا۔ چمنستان سعادت میں بہار آگئی۔ آفتاب ہدایت کی شعاعیں ہر طرف پھیل گئیں اخلاق انسانی کا آئینہ پر تو قدس سے چمک اٹھا۔ یعنی یتیم عبداللہ، جگر گوشۂ آمنہ، شاہِ حرم، حکمرانِ عرب، فرماں روائے عالم، شہنشاہ کونین عالم قدس سے عالم امکان میں تشریف فرما بصد عزت و اجلال ہوا۔

اللھم صل علیہ وعلیٰ آلہ و اصحابہ وسلم

(سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، جلد اول، صفحہ نمبر ۱۰۸)

مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی لکھتے ہیں: ۹ ربیع الاول مطابق ۲۰ / اپریل ۵۷۱ء کی صبح ، وہ صبح سعادت تھی جب مدنیت و حضارت سے محروم، بن کھیتی کی سرزمین مکہ کے ایک معزز قبیلہ قریش (بنی ہاشم) میں عبد اللہ بن عبد المطلب کے یہاں آمنہ بنت وہب کے مشکوئے معلیٰ سے آفتاب رسالت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ظہور کیا۔

صفحہ 342

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 342 ماہنامہ سبحانی کراچی

خدایا! وہ صبح کیسی سعادت افروز تھی جس نے کائنات ارضی کو رشد و ہدایت کے طلوع کا مژدۂ جانفزاء سنایا اور وہ ساعت ایسی مبارک ومحمود تھی جو معمورۂ عالم کے لیے پیغام بشارت بنی، عالم کا ذرہ ذرہ زبان حال سے نغمے گا رہا تھا کہ وقت آ پہنچا کہ اب دنیاء ہست وبود کی شقاوت دور اور سعادت مجسم ہے عالم معمور ہو، ظلمت شرک وکفر کا پردہ چاک ہو اور آفتاب ہدایت روشن و تابناک ہو۔ مظاہر پرستی باطل ٹھہرے اور خدائے واحد کی توحید مقصد حیات قرار پائے۔

(قصص القرآن ، جلد ۴، صفحہ نمبر ۲۴۹، ۲۵۰)

”۹ ربیع الاول بروز دوشنبہ بوقت صبح ابو طالب کے مکان سے طلوع ہوا۔ یا یوں کہیے کہ دعائے ابراہیم و بشارت عیسیٰ نے پہلوئے آمنہ سے ظاہر ہو کر زیر و بالا کو منور کر دیا۔ یعنی وہ جس کے وجود سے خوابیدہ بیدار ہوئے اور بیدار ہوشیار بنے وہ جس کی بصیرت سے نابیناؤں نے بصیرت پائی اور ناشنواء شنوا ہوئے۔ جس کی ایک آواز سے کفر کی دنیا برباد ہوئی اور توحید کا عالم تعمیر ہوا۔ جس کی ایک پکار سے ظلمت شرک کافور ہو گئی اور نور ایمان چمک اٹھا۔

(نور البصر فی سیرۃ خیر البشر، صفحہ نمبر ۳۸)

چودھری افضل حق لکھتے ہیں: ”۲۰ اپریل ۵۷۱ء مطابق ۹ ربیع الاول دوشنبہ کی مبارک صبح کو قدسی آسمان پر جگہ جگہ سرگوشیوں میں مصروف تھے کہ آج دعائے خلیل اور نوید مسیحا مجسم بن کے دنیا میں ظاہر ہوگی۔ حوریں جنت میں تزئین حسن کیے بیٹھی تھیں کہ آج صبح کائنات کا غازہ نمودار ہوگا۔ جس کے عالم وجود میں آتے ہی شرک اور کفر کی ظلمت کافور ہو جائے گی۔ لوگ اپنے پروردگار کو جاننے لگیں گے، نسل اور خون کے امتیاز کی لعنت مٹ جائے گی۔ غلام اور آقا ایک ہو جائیں گے۔ شبنم نے عالم ملکوت کی ان باتوں کو سنا اور یہ پیام مسرت کرہ ارض کے کانوں تک پہنچا دیا۔ وہ خوشی سے کھل گئے۔ کلیاں مسکرانے لگیں۔ دن کے دس بجے بی بی آمنہ کے بطن سے وہ لعل جہاں تاب پیدا ہوا جس کے لیے قعر مذلت میں گری ہوئی انسانیت کو اٹھانا غریب اور غلام کو بڑھانا، عورت کو مرد کے برابر کر دکھانا ازل سے مقدر

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

ہو چکا تھا۔

وہ نومولود زچہ خانہ میں مسکر مسرت کی لہر دوڑ گئی۔ کیوں کہ گر گیا۔ ادیان باطلہ کی نبضیں ٹ مستقل ترقی کے دروازے کھ کھل گئیں۔ انسانیت کی تعمیر اُخوت حق کو ایسا عرفان الٰہی عطا ہوا ک عبدالمطلب کو جب معلوم ہ تو دل نے دعاؤں کی پرورش د محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) رکھ لیے کس قدر باعث برکت، ب سے پوچھو۔

سابقہ کتابوں میں

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نہیں ہوا بلکہ اس کی تیاری تو اب کی پیشن گوئی کی تھی اور آسمانی ظہور کے صدیوں سے منتظر ہے کی مدد ونصرت کا وعدہ لیا تھا او ﴿وَإِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَ عَلٰى ذٰلِكُمْ اِصْرِىْ قَ الشّٰهِدِيْنَ﴾ (آل عمران ۸

صفحہ 343

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ سبحانی کراچی

ہو چکا تھا۔ وہ نومولود زچہ خانہ میں مسکرایا۔ اس کائنات ارضی کا ذکر کیا، فضائے ملکوت میں بھی مسرت کی لہر دوڑ گئی۔ کیوں کہ دنیا کو سچی خوشی کا سبق اس سے ملنے والا تھا۔ کفر سجدہ میں گر گیا۔ ادیان باطلہ کی نبضیں چھوٹ گئیں۔ عبداللہ کا بیٹا آمنہ کا جایا دنیا میں کیا آیا، دنیا مستقل ترقی کے دروازے کھل گئے۔ کائنات کی خوابیدہ قوتیں بیدار ہو کر مصروف عمل ہوئیں۔ انسانیت کی تعمیر اُخوت ومساوات کی خوشگوار بنیادوں پر شروع ہوئی۔ متلاشیانِ حق کو ایسا عرفانِ الٰہی عطا ہوا کہ ماسوی اللہ کا خوف خود بخود دل سے جاتا رہا۔

عبدالمطلب کو جب معلوم ہوا کہ عمل واخلاق کی حدکمال نے انسانی پیکر اختیار کرلیا ہے تو دل نے دعاؤں کی پرورش کی۔ اس خیال سے کہ مولود انسان کا ممدوح ہے، اس کا نام محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) رکھا۔ انسانیت کے اس کمال کا عالم وجود میں آنا انسانوں کے لیے کس قدر باعث برکت ہوا۔ اس کا حال دنیا میں پھیلی ہوئی روشنی علم اور ترقی تہذیب سے پوچھو۔

(محبوب خدا، صفحہ نمبر ۱۷، ۱۸)

سابقہ کتابوں میں آپ کی بشارت:

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور مبارک کا یہ واقعہ بالکل اچانک اور غیر متوقع طور پر نہیں ہوا بلکہ اس کی تیاری تو بہت پہلے سے کی جا چکی تھی، انبیاء کرام علیہم السلام نے اس ظہور کی پیشن گوئی کی تھی اور آسمانی کتابوں کے علمبردار یہود و نصاریٰ دونوں ہی اس نبی موعود کے ظہور کے صدیوں سے منتظر تھے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے تو ازل میں تمام انبیاء ورسل سے آپ کی مدد و نصرت کا وعدہ لیا تھا، اس عہد و میثاق کو قرآن کریم ان الفاظ میں بیان کرتا ہے:

﴿ وَإِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ النَّبِيّٖنَ لَمَآ اٰتَيْتُكُم مِّنْ كِتٰبٍ وَّحِكْمَةٍ ثُمَّ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَلَتَنصُرُنَّهٗ ط قَالَ ءَاَقْرَرْتُمْ وَاَخَذْتُمْ عَلٰى ذٰلِكُمْ اِصْرِیْ ط قَالُوْا اَقْرَرْنَا ط قَالَ فَاشْهَدُوْا وَاَنَا مَعَكُم مِّنَ الشّٰهِدِيْنَ ﴾

(آل عمران، پارہ ۳، آیت نمبر ۸۱)

صفحہ 344

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 344 ماہنامہ مسیحائی کراچی

ترجمہ: ”اور (ان کو وہ وقت یاد دلاؤ) جب اللہ نے پیغمبروں سے عہد لیا تھا کہ: ”اگر میں تم کو کتاب اور حکمت عطا کروں، پھر تمہارے پاس کوئی رسول آئے جو اس (کتاب) کی تصدیق کرے جو تمہارے پاس ہے، تو تم اس پر ضرور ایمان لاؤ گے، اور ضرور اس کی مدد کرو گے۔“ اللہ نے (ان پیغمبروں سے) کہا تھا کہ: ”کیا تم اس بات کا اقرار کرتے ہو اور میری طرف سے دی ہوئی یہ ذمہ داری اٹھاتے ہو؟“ انہوں نے کہا تھا: ”ہم اقرار کرتے ہیں“ اللہ نے کہا: ”تو پھر (ایک دوسرے کے اقرار کے) گواہ بن جاؤ، اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہی میں شامل ہوں۔“

اس آیت کی تفسیر میں مفتی شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”حضرت علی اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ اس سے مراد نبی علیہ السلام ہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ عہد تمام انبیاء سے صرف حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں لیا تھا کہ اگر وہ خود ان کا زمانہ پائیں تو ان پر ایمان لائیں اور ان کی تائید و نصرت کریں اور اپنی اپنی اُمتوں کو بھی یہی ہدایت کر جائیں۔“

علامہ سبکی اپنے رسالہ التعظيم والمنه فی لتؤ منن به ولتنصرنه میں فرماتے ہیں کہ آیت میں رسول سے مراد محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور کوئی نبی بھی ایسا نہیں گزرا جس سے اللہ تعالیٰ نے آپ کی ذات والا صفات کے بارے میں تائید و نصرت الٰہی اور آپ پر ایمان لانے کا عہد نہ لیا ہو، اور کوئی بھی ایسا نبی نہیں گزرا جس نے اپنی اُمت کو آپ پر ایمان لانے اور تائید و نصرت کی وصیت نہ کی ہو۔“ (معارف القرآن، جلد دوم، صفحہ نمبر ۱۰۰)

عہد و میثاق کا یہ اہتمام صرف اس لیے ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اگرچہ سب سے آخر میں تشریف لائے اور آپ کی نبوت قیامت تک جاری و ساری ہے لیکن یہ بھی بتانا مقصود ہے کہ آپ کی شریعت میں تمام سابقہ شریعتیں مدغم ہے، آپ کی نبوت پوری کائنات کے لیے ”عامہ“ اور ”شاملہ“ ہے تاکہ ”بعثت الی کافۃ الناس“ (مجھے تمام لوگوں کے لیے بھیجا گیا) اور ”کنت نبیا و آدم بین الروح والجسد“ (اور مجھے نبی بنایا جبکہ آدم علیہ السلام روح اور جسد کے درمیان تھے) کا مفہوم بھی نکھر کر سامنے آجائے۔ اسی لیے تمام انبیاء علیہم السلام آپ کی مدد و نصرت اور اس پیغام کامل اور آخری

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

صدائے حق پر ایمان لائیں کیوں ک وابستہ ہے اور تمام امتیں اسے قبو کائنات روحانی کا یہی مرکز وحدت اسی لیے تمام اُمتوں نے اپ بشارات کی شکل میں اس کا تذکرہ ک توریت و انجیل میں تحریف کے ب کے آنے کی بشارت ملتی ہے۔ قرآ وضاحت کے ساتھ اس کا تذکرہ کیا والے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ف ﴿وَإِنَّهُ لَفِيْ زُبُرِ الْأَوَّلِيْنَ﴾ اور کہیں صراحت کے ساتھ ذکر ﴿الَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيْلِ يَأْمُرُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائ عَلَيْهِمْ فَالَّذِيْنَ آمَنُوْا بِهِ وَعَزَّرُوْ أُولٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ﴾ (الا ترجمہ: ”جو اس رسول یعنی نبی ا لکھا ہوا پائیں گے، جو انہیں اچھی ب لیے پاکیزہ چیزوں کو حلال اور گندی گلے کے وہ طوق اتار دے گا جو ان پ لائیں گے، اس کی تعظیم کریں گے ہے اس کے پیچھے چلیں گے تو وہی لو اس آیت میں صاف اعلان ہے ک توریت و انجیل میں لکھے ہوئے پا

صفحہ 345

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ سبحانی کراچی

صدائے حق پر ایمان لائیں کیوں کہ وہ رہتی دنیا تک تمام کائنات ارضی سے یکساں طور پر وابستہ ہے اور تمام اُمتیں اسے قبول کریں اور اس کی مدد کرنا اپنا فرض سمجھیں کیوں کہ کائنات روحانی کا یہی مرکز وحدت ہے۔

اسی لیے تمام اُمتوں نے اپنے اپنے دور میں اپنے پیغمبروں اور نبیوں کی معرفت بشارات کی شکل میں اس کا تذکرہ سنا۔

توریت و انجیل میں تحریف کے باوجود ایسے حوالے باقی ہیں جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے کی بشارت ملتی ہے۔ قرآن کریم میں بھی اللہ تعالیٰ نے کہیں اشارتاً اور کہیں وضاحت کے ساتھ اس کا تذکرہ کیا ہے، مثلاً اللہ تعالیٰ نے کتاب کا ذکر کر کے کتاب لانے والے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا (اس کا ذکر اگلے صحیفوں میں بھی موجود ہے):

﴿وَاِنَّهٗ لَفِيْ زُبُرِ الْاَوَّلِيْنَ﴾

(الشعراء، آیت ۱۹۶)

اور کہیں صراحت کے ساتھ ذکر ہے، ارشادِ خداوندی ہے:

﴿اَلَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَّ الْاُمِّيَّ الَّذِيْ يَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرٰيةِ وَالْاِنْجِيْلِ ز يَأْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهٰهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبٰٓئِثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَالْاَغْلٰلَ الَّتِيْ كَانَتْ عَلَيْهِمْ ط فَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَعَزَّرُوْهٗ وَنَصَرُوْهٗ وَاتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ مَعَهٗ لَا اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ﴾

(الاعراف، آیت نمبر ۱۵۷)

ترجمہ: ”جو اس رسول یعنی نبی اُمی کے پیچھے چلیں جس کا ذکر وہ تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پائیں گے، جو انہیں اچھی باتوں کا حکم دے گا، برائیوں سے روکے گا، اور ان کے لیے پاکیزہ چیزوں کو حلال اور گندی چیزوں کو حرام قرار دے گا اور ان پر سے وہ بوجھ اور گلے کے وہ طوق اُتار دے گا جو ان پر لدے ہوئے تھے چنانچہ جو لوگ اُس (نبی) پر ایمان لائیں گے، اس کی تعظیم کریں گے، اس کی مدد کریں گے اور اس کے ساتھ جو نور اُتارا گیا ہے اس کے پیچھے چلیں گے تو وہی لوگ فلاح پانے والے ہوں گے۔“

اس آیت میں صاف اعلان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف اہل کتاب توریت وانجیل میں لکھے ہوئے پاتے ہیں اور اہل کتاب میں سے آج تک کسی کو انکار اور

صفحہ 346

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 346 ماہنامہ مسیحائی کراچی

اسے جھٹلانے کی جرأت نہ ہوئی۔

قرآن کریم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت کا تو صاف اور واضح الفاظ میں ذکر کیا ہے:

﴿وَ إِذْ قَالَ عِيْسٰى ابْنُ مَرْيَمَ يٰبَنِيْ إِسْرَآءِيْلَ إِنِّيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ إِلَيْكُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَىَّ مِنَ التَّوْرٰةِ وَ مُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ يَّأْتِيْ مِنْۢ بَعْدِى اسْمُهُ اَحْمَدُ فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِيْنٌ ﴾

(سورة الصف، پارہ ۲۸، آیت نمبر ۶)

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا:

اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت سے بہت پہلے قرآن کریم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کا تذکرہ کرتا ہے اور دعا بھی کس وقت، ایک مبارک وقت میں اور ایک مبارک جگہ پر۔ جگہ اتنی مقدس و مبارک کہ خانہ کعبہ کا فرش اور وقت اتنا مبارک کہ عین خانہ کعبہ کی تعمیر کے وقت اور اس دعا میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اکیلے نہیں، بلکہ ان کے صالح فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام بھی شریک ہیں:

﴿وَ إِذْ يَرْفَعُ اِبْرٰهِيمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَاِسْمٰعِيْلُ ط﴾ (البقرة: ۱۲۷)

ترجمہ: ”وہ وقت یاد کرو جب ابراہیم (علیہ السلام) اٹھا رہے تھے بنیادیں خانہ کعبہ کی اور (ان کے ساتھ) اسماعیل (علیہ السلام) بھی۔“

اور اصل دعا سے پہلے ایک اور دعا کی کہ بار الہ ہم جو دعا کریں اسے قبول بھی فرما۔ ﴿رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ط اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ﴾ اور اس کے بعد پہلی گزارش یہ کی، ﴿رَبَّنَا وَ اجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ﴾ (البقرة) اے ہمارے پروردگار ہمیں اپنا مطیع و فرمانبردار بنا اور اس کے بعد دعا کرتے ہیں: ﴿وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَا اُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ﴾ (البقرة) اور ہماری نسل سے ایک اُمت پیدا کر جو آپ کی فرمانبردار ہو۔ اور اس اُمت کا رسول اور رہبر کون ہو، اس کی صفات کیا ہوں؟ اصل دعا یہی ہے اسی لیے اسے ربنا کے ساتھ مستقل دعا کے طور پر ذکر کیا ہے:

صفحہ 347

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 347 ماہنامہ مسیحائی کراچی

﴿رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِكَ وَ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيْهِمْ ط اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ ﴾ (البقرۃ، آیت ۱۲۹)

خود آقائے دو جہاں، سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دعا اور بشارت عیسیٰ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ”میں اپنے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا اور عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت ہوں ۔“

آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم کا عملی نمونہ ہیں: قرآن کریم کلام الٰہی ہے جو خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا، قرآن کریم علم و یقین کی روشنی ہے اور ذات اقدس اس کا عملی نمونہ اور اُسوہ۔

” لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ “

(یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ کی ذات میں ایک اچھا نمونہ ہے)

قرآن کریم حق و صداقت کی دعوت و پیغام ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کے داعی اور پیغمبر، اس لیے قرآن کریم کا ہر جملہ اور ہر آیت کسی نہ کسی حیثیت میں ذات قدسی صفات سے تعلق رکھتی ہے، اسی لیے جب صحابہ کرام نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ حالات سنائیں تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بڑے تعجب سے پوچھا ” کیا تم نے قرآن کریم نہیں پڑھا؟ آپ کی تمام اخلاقی زندگی تو قرآن کے سانچہ میں ڈھلی ہوئی تھی ۔“

پس قرآن تو سارا آپ کی حیات طیبہ کو پیش کرتا ہے مگر پھر بھی قرآن کریم نے آپ کے بہت سے اوصاف عالی کو خصوصیت کے ساتھ ذکر کیا ہے نمونے کے طور پر چند آیات پیش کی جاتی ہیں۔

﴿يٰاَيُّهَا النَّبِيُّ اِنَّا اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِيْرًا O وَّدَاعِيًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَسِرَاجًا مُّنِيْرًا﴾ (الاحزاب: ۴۵، ۴۶)

اے نبی! بے شک ہم نے آپ کو اس شان کا رسول بنا کر بھیجا ہے کہ آپ گواہ ہوں گے اور آپ بشارت دینے والے ہیں اور ڈرانے والے ہیں اور اللہ کی طرف اس کے حکم

صفحہ 348

ماہنامہ مسیحائی کراچی 348 حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

سے بلانے والے ہیں اور آپ ایک روشن چراغ ہیں۔

﴿اِنَّا اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِيْرًا لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَتُعَزِّرُوْهُ وَتُوَقِّرُوْهُ﴾ (الفتح:۸،۹)

ہم نے آپ کو گواہی دینے والا اور بشارت دینے والا اور ڈرانے والا کر کے بھیجا ہے تاکہ تم لوگ اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس کی مدد کرو اور اسکی تعظیم کرو۔

﴿يٰسٓ ٥ وَالْقُرْاٰنِ الْحَكِيْمِ ٥ اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ ٥ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ﴾ (یٰس: ۱،۲،۳،۴)

یٰس، قسم ہے قرآنِ باحکمت کی کہ بے شک آپ منجملہ پیغمبروں کے ہیں، سیدھے رستہ پر ہیں۔

﴿نٓ وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُوْنَ ٥ مَا اَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُوْنٍ ٥ وَاِنَّ لَكَ لَاَجْرًا غَيْرَ مَمْنُوْنٍ ٥ وَاِنَّكَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِيْمٍ﴾ (القلم:۱ تا ۴)

ن، قسم ہے قلم کی اور ان (فرشتوں) کے لکھنے کی کہ آپ اپنے رب کے فضل سے مجنون نہیں، اور بے شک آپ کے لیے ایسا اجر ہے جو ختم ہونے والا نہیں اور بے شک آپ اخلاق (حسنہ) کے اعلیٰ پیمانہ پر ہیں۔

﴿قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّ كِتٰبٌ مُّبِيْنٌ﴾ (المائدہ:۱۵)

تحقیق تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک روشن چیز آئی ہے اور کتاب واضح (یعنی قرآن مجید)

﴿فَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَعَزَّرُوْهُ وَنَصَرُوْهُ وَاتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِیْ اُنزِلَ مَعَهٗ لَا اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ﴾ (الاعراف:۱۵۷)

سو جو لوگ اس نبی پر ایمان لاتے ہیں اور ان کی حمایت کرتے ہیں اور ان کی مدد کرتے ہیں اور اس نور کا اتباع کرتے ہیں جو ان کے ساتھ بھیجا گیا ایسے لوگ پوری فلاح پانے والے ہیں۔

﴿وَمَا اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ﴾ (الانبیاء:۱۰۷)

﴿قُلْ يٰاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعًا﴾ (الاعراف:۱۵۸)

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

ترجمہ : ”(اے رسول! ان سے ) ہوا رسول ہوں۔

﴿وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ﴾

ترجمہ : ”اور ہم نے آپ کی خاطر

﴿قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ

ترجمہ : ”آپ فرما دیجیے کہ اگر تم خدا تعالیٰ تم سے محبت کرنے لگیں گے

﴿وَ اِنْ تُطِيْعُوْهُ تَهْتَدُوْاط﴾

ترجمہ : ”اور اگر تم نے ان کی اطاع

﴿وَ مَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰی ٥ اِنْ

ترجمہ : ”اور یہ اپنی خواہش سے ب جاتی ہے۔“

﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ الْاٰخِرَ وَ ذَكَرَ اللّٰهَ كَثِيْرًا﴾ (الاح

ترجمہ : ”تم لوگوں کے لیے یعنی ڈرتا ہو اور کثرت سے ذکر الٰہی کرت

﴿فَلَا وَ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ يَجِدُوْا فِیْ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّ

ترجمہ : ”پھر قسم ہے آپ کے رب ہو کہ ان کے آپس میں جو جھگڑا ہ کے تصفیے سے دلوں میں تنگی نہ پائیں

﴿لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَی الْمُؤْمِ اٰيٰتِهٖ وَ يُزَكِّيْهِمْ وَ يُعَلِّمُهُمُ الْـ مُّبِيْنٍ﴾ (اٰل عمران:۱۶۴)

صفحہ 349

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 349 ماہنامہ سبحانی کراچی

ترجمہ: ”(اے رسول! ان سے) کہو کہ: اے لوگو! میں تم سب کی طرف اس اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں۔“

﴿وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ﴾ (الانشراح:۴) ترجمہ: ”اور ہم نے آپ کی خاطر آپ کا آوازہ بلند کیا۔“

﴿قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ﴾ (آل عمران:۳۱) ترجمہ: ”آپ فرما دیجیے کہ اگر تم خدا تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو تم لوگ میرا اتباع کرو خدا تعالیٰ تم سے محبت کرنے لگیں گے۔“

﴿وَاِنْ تُطِيْعُوْهُ تَهْتَدُوْا﴾ (النور:۵۴) ترجمہ: ”اور اگر تم نے ان کی اطاعت کر لی تو راہ پر جا لگو گے۔“

﴿وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى O اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰى﴾ (النجم:۴،۳) ترجمہ: ”اور یہ اپنی خواہش سے کچھ نہیں بولتے یہ تو خالص وحی ہے جو ان کے پاس بھیجی جاتی ہے۔“

﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللّٰهَ وَالْيَوْمَ الْاٰخِرَ وَ ذَكَرَ اللّٰهَ كَثِيْرًا﴾ (الاحزاب:۲۱) ترجمہ: ”تم لوگوں کے لیے یعنی ایسے شخص کے لیے جو اللہ سے اور روزِ آخرت سے ڈرتا ہو اور کثرت سے ذکرِ الٰہی کرتا ہو، رسول اللہ کا ایک عمدہ نمونہ موجود تھا۔“

﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا﴾ (النساء:۶۵) ترجمہ: ”پھر قسم ہے آپ کے رب کی یہ لوگ ایماندار نہ ہوں گے جب تک یہ بات نہ ہو کہ ان کے آپس میں جو جھگڑا واقع ہو اس میں یہ لوگ آپ سے تصفیہ کراویں پھر آپ کے تصفیہ سے دلوں میں تنگی نہ پاویں اور پورا پورا تسلیم کریں۔“

﴿لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ بَعَثَ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِهٖ وَ يُزَكِّيْهِمْ وَ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ ج وَاِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ﴾ (آل عمران:۱۶۴)

صفحہ 350

ماہنامہ سبحانی کراچی 350 حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

ترجمہ: ”حقیقت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر احسان کیا جب کہ ان میں انہی کی جنس سے ایک ایسے پیغمبر کو بھیجا کہ وہ ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے ہیں اور ان لوگوں کی صفائی کرتے رہتے ہیں اور ان کو کتاب اور فہم کی باتیں بتلاتے رہتے ہیں اور بالیقین یہ لوگ اس سے قبل صریح غلطی میں تھے۔“

﴿وَاَنْزَلَ اللّٰهُ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ ط وَكَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا﴾

(النساء: ۱۱۳)

ترجمہ: ”اور اللہ تعالیٰ نے آپ پر کتاب اور فہم کی باتیں نازل فرمائیں اور آپ کو وہ وہ باتیں بتلائی ہیں جو آپ نہ جانتے تھے اور آپ پر اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے۔“

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسماء اور اوصاف:

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ اوصاف اور نام محض رسمی نہیں کہ یونہی بغیر سوچے سمجھے یہ نام رکھ دیئے گئے یا جس نے جس طرح چاہا آپ کو پکار لیا بلکہ ہر نام اپنے اندر ایک حقیقت رکھتا ہے جس کا عکس آپ کی زندگی میں نظر آتا ہے۔ مولانا حفظ الرحمٰن سیوہاروی لکھتے ہیں:

”یہ حقیقت بھی قابل فراموش نہیں ہے کہ آپ کے اسماء و صفات محض رسمی نہیں ہیں کہ والدین نے جو چاہا نام رکھ دیا اور احباب و اصحاب نے جس صفت و لقب سے جی چاہا پکار لیا بلکہ ان اسماء صفات کا آپ کی زندگی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق و اعمال کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہے جیسا کہ ابھی ماحی، حاشر اور عاقب کے متعلق خود زبان وحی ترجمان سے سن چکے ہو یا مثلاً محمد اس ہستی کو کہتے ہیں جس کے تذکرے ہمیشہ خوبی اور نیک گوئی کے ساتھ ہوتے ہوں، یہ انبیاء سابقین (علیہم السلام) کی بشارات اور مستقبل میں تذکرہ ہائے حیات کی جانب اشارہ ہے اور احمد اس ذات پر اطلاق ہوتا ہے جو سب سے زیادہ حمد الٰہی کے لیے نغمہ سنج ہو، یہ ذات اقدس کی عبدیت کاملہ اور انسان کامل ہونے کو ظاہر کرتا ہے بلاشبہ آپ خدا پرست انسانوں کے لیے مبشر و بشیر اور فتنہ جو مفسدوں، کافروں اور مشرکوں کیلیے منذر و نذیر ہیں، روز قیامت، صادق و کاذب دونوں پر شاہد و

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

شہید ہیں چشم حق بین اور گوش حق نیوش کے کے لیے ہادی اور خدا سے بھاگے ہوؤں کے عالم کے لیے اور ان کی ہستی نظام کائنات کے اور پیغام الٰہی کے لیے نبی و رسول، مصائب گوشۂ حیات کے لیے رؤف و رحیم، ان کی ا الامین، قرآن خدا کا آخری پیغام ہے اس اس لیے طہٰ و یٰس ہیں اور آسمان نبوت کے نذیر، عالم ادیان و ملل کی سلطانی کے باوج مُدَّثِّر ہیں، پھر مجسمۂ حسن کامل ”انما انا ب ہیں۔ اللہ صل وسلم و بارک علیہ۔ خدا پر توکل عالی وقار ہے اور وہ خدائے برحق کا برگزیدہ زیادہ مصطفیٰ، مجتبیٰ، نیکو کار و صالحین کے لیے ا المصدوق ہے۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔

(قصص

اطاعت رسول:

انبیاء اور رسول تو آتے ہی اس لیے ہیں بلا چون و چرا تسلیم کی جائے۔

﴿وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِيُ

ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس مق حکم سے۔

مگر جس پر سلسلۂ نبوت کی تکمیل ہو، اوصاف کا جامع ہو، جس کی ذات میں م انبیاء کی امامت کا حقدار ہو، جو حبیب اطاعت کیوں ضروری قرار نہیں دی جا

صفحہ 351

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 351 ماہنامہ مسیحائی کراچی

شاہد ہیں چشم حق بین اور گوش حق نیوش کے لیے مذکر (ناصح) ہیں، راہِ حق سے بھٹکے ہوؤں کے لیے ہادی اور خدا سے بھاگے ہوؤں کے لیے داعی ہیں، ان کا وجود رحمت ہے کائنات عالم کے لیے اور ان کی ہستی نظام کائنات کے لیے نعمت ہے، جہل و شرک کے لیے نور ہیں اور پیغام الٰہی کے لیے نبی و رسول، مصائب و آلام میں عزیز ہیں اور نوع انسانی کے ہر ایک گوشۂ حیات کے لیے رؤف و رحیم، ان کی صدا، صدائے حق ہے اور ان کی ذات الصادق الامین، قرآن خدا کا آخری پیغام ہے اس لیے وہ خاتم النبیین ہیں، ان کی بعثت عالمگیر ہے اس لیے طٰہٰ و یٰسٓ ہیں اور آسمان نبوت کے سراج منیر ہیں اور کائنات رسالت کے بشیر و نذیر، عالم ادیان و ملل کی سلطانی کے باوجود گدائے کملی پوش ہیں اس لیے مزمل ہیں اور مُدّثّر ہیں، پھر بہمہ حسنِ کامل ”انما انا بشر“ اور ”کما قام عبد اللہ“ کے مصداق ہیں۔ اللہ صل وسلم وبارک علیہ۔ خدا پر توکل اس کا شعار ہے اس لیے متوکل اس کا وصف عالی وقار ہے اور وہ خدائے برحق کا برگزیدہ و مختار ہے بارگاہِ الٰہی میں ابرار و مقربین سے بھی زیادہ مصطفیٰ، مجتبیٰ، نیکو کار وصالحین کے لیے اشفع الشفع اور ہر ایک شعبۂ حیات میں الصادق المصدوق ہے۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔

(قصص القرآن، جلد چہارم، صفحہ نمبر ۲۱۶، ۲۱۷)

اطاعت رسول:

انبیاء اور رسول تو آتے ہی اس لیے ہیں کہ ان کی اطاعت کی جائے اور ان کی ہر بات بلاچون و چرا تسلیم کی جائے۔

﴿وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰهِ﴾

(النساء، آیت: ۶۴)

ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس مقصد کے لیے کہ اس کی اطاعت کی جائے اللہ کے حکم سے۔

مگر جس پر سلسلۂ نبوت کی تکمیل ہو، جس کے سر پر ختم نبوت کا تاج سجایا گیا، جو تمام اوصاف کا جامع ہو، جس کی ذات میں تمام انبیاء کے کمالات جمع ہوں اسی لیے وہ تمام انبیاء کی امامت کا حقدار ہو، جو حبیب رب العالمین، جو وجہ تخلیق کائنات ہو تو اس کی اطاعت کیوں ضروری قرار نہیں دی جائے گی، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے نہ صرف یہ کہ آپ

صفحہ 352

ماہنامہ سبحانی کراچی 352 حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو لازم قرار دیا بلکہ آپ کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دیا اور ہدایت کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں منحصر قرار دیا اس سلسلہ کی چند آیات پیش کی جاتی ہیں جو مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے ایک رسالہ میں جمع کی ہیں۔

قرآن کریم حکم دیتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جو کچھ دیا جائے اس کو بلا چون و چرا قبول کرلیں اور آپ کے منع کردہ امور سے باز رہیں۔ اگر انہوں نے ایسا نہ کیا، تو ان کے حق میں شدید عذاب کا اندیشہ ہے۔ ارشاد خداوندی ہے:

﴿وَمَآ اٰتٰكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ قف وَمَا نَهٰكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا ج﴾ (الحشر: ۷)

(ترجمہ) اور رسول تمہیں جو کچھ بھی دے دیں اس کو لے لو۔ اور جس چیز سے روک دیں اس سے رک جاؤ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والے ہیں۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے امر کی مخالفت کرنے والے لوگوں کو ڈرایا گیا ہے کہ ان کی یہ روش بدترین فتنہ اور دردناک عذاب میں انہیں دھکیل دے گی۔

﴿فَلْيَحْذَرِ الَّذِيْنَ يُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖٓ اَنْ تُصِيْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ يُصِيْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ﴾ (النور: ۶۳)

(ترجمہ) اور جو لوگ آپ کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہیں، انہیں ڈرنا چاہیے، کہ کہیں ان کو کوئی عظیم فتنہ پیش نہ آجائے یا کہیں ان کو عذاب الیم کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

چنانچہ شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی اس آیت کے ذیل میں رقمطراز ہیں۔ یعنی اللہ اور رسول کے حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ڈرتے رہنا چاہیے کہ کہیں ان کے دلوں میں کفر و نفاق وغیرہ کا فتنہ ہمیشہ کے لیے جڑ پکڑ نہ جائے۔ اور اس طرح دنیا کی کسی سخت آفت یا آخرت کے دردناک عذاب میں مبتلا نہ ہوجائیں۔ العیاذ باللہ۔

(تفسیر عثمانی ص ۴۶۶)

رحمت خداوندی کے نزول کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کاملہ کے ساتھ وابستہ کیا گیا ہے۔ فرمان باری ہے:

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

﴿وَاَقِيْمُوا الصَّلوٰةَ وَاٰتُوا الزَّ تُرْحَمُوْنَ ﴾ (النور: ۵۶)

ترجمہ: اور اے مسلمانو! نماز کی پابندی کـ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کیا کر

الامت رحمہ اللہ)

ہر قسم کی فوز و فلاح، رشد و ہدایت، اور اطاعت میں منحصر قرار دیا گیا۔

﴿وَمَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَالرَّسُوْلَ فَاُولٰٓـ النَّبِيّٖنَ وَ الصِّدِّيْقِيْنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِـ O ذٰلِكَ الْفَضْلُ مِنَ اللّٰهِ ط وَكَفٰى بِـ

ترجمہ: اور جو شخص اللہ اور رسول کا کہنا مانـ ساتھ ہوں گے جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمـ اور یہ حضرات بہت اچھے رفیق ہیں۔ یہ فضل الـ جاننے والے ہیں۔

دعواے محبت خداوندی کے صدق و کذب صلی اللہ علیہ وسلم کو معیار قرار دیا گیا۔ اسی لیـ مقام محبوبیت پر فائز ہونے کی بشارت اور مژـ گیا ہے۔

﴿قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ ﴾ (آل عمران: ۳۱)

ترجمہ: آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) فرما دیـ پیروی کرو۔ اللہ تعالیٰ تم سے محبت کریں گے بڑے بخشنے والے بہت رحم والے ہیں۔

علامہ شبیر احمد عثمانیؒ ان آیات کی تفسیر کرتـ

صفحہ 353

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 353 ماہنامہ مسیحائی کراچی

﴿وَأَقِيمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ﴾ (النور: ۵۶)

ترجمہ: اور اے مسلمانو نماز کی پابندی رکھو اور زکوٰۃ دیا کرو۔ اور باقی احکام میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کیا کرو۔ تاکہ تم پر کامل رحم کیا جائے۔ (ترجمہ: حکیم الامت رحمہ اللہ)

ہر قسم کی فوز و فلاح، رُشد و ہدایت، اور بہبودی دنیا و آخرت کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں منحصر قرار دیا گیا۔

﴿وَمَنْ يُطِعِ اللّٰهَ وَالرَّسُولَ فَأُولٰئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصّٰلِحِينَ ج وَحَسُنَ أُولٰئِكَ رَفِيقًا O ذٰلِكَ الْفَضْلُ مِنَ اللّٰهِ ط وَكَفٰى بِاللّٰهِ عَلِيمًا﴾ (النساء: ۶۹، ۷۰)

ترجمہ: اور جو شخص اللہ اور رسول کا کہنا مان لے گا۔ تو ایسے اشخاص بھی ان حضرات کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا۔ یعنی انبیاء اور صدیقین، اور شہداء اور صلحاء اور یہ حضرات بہت اچھے رفیق ہیں۔ یہ فضل ہے اللہ تعالیٰ کی جانب سے اور اللہ تعالیٰ کافی جاننے والے ہیں۔‘‘

دعوائے محبت خداوندی کے صدق و کذب کا امتحان کرنے کے لیے اتباع محبوب خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو معیار قرار دیا گیا۔ اسی کے ساتھ آپ کی ہر ادا کی نقل اتارنے والوں کو مقام محبوبیت پر فائز ہونے کی بشارت اور مغفرت سے ہمکنار ہونے کی خوشخبری سے نوازا گیا ہے۔

﴿قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ط وَاللّٰهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ﴾ (آل عمران: ۳۱)

ترجمہ: آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) فرما دیجیے۔ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو، تو میری پیروی کرو۔ اللہ تعالیٰ تم سے محبت کریں گے۔ تمہارے گناہ بخش دیں گے اور اللہ تعالیٰ بڑے بخشنے والے بہت رحم والے ہیں۔

علامہ شبیر احمد عثمانیؒ ان آیات کی تفسیر کرتے ہوئے یوں رقمطراز ہیں:

صفحہ 354

ماہنامہ مسیحائی کراچی 354 حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

’دشمنان خدا کی موالات ومحبت سے منع کرنے کے بعد خدا تعالیٰ سے محبت کرنے کا معیار بتلاتے ہیں۔ یعنی اگر دنیا میں آج کسی شخص کو اپنے مالک حقیقی کی محبت کا دعویٰ یا خیال ہو تو لازم ہے کہ اس کو اتباع محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی کسوٹی پر کس کر دیکھ لے، سب کھرا کھوٹا معلوم ہو جائے گا جو شخص جس قدر حبیب خدا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ چلتا ، اور آپ کی لائی ہوئی روشنی کو مشعل راہ بناتا ہے، اسی قدر سمجھنا چاہیے کہ خدا کی محبت کے دعوے میں سچا اور کھرا ہے اور جتنا اس دعوے میں سچا ہوگا، اتنا ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں مضبوط ومستعد پایا جائے گا۔ جس کا پھل یہ ملے گا کہ حق تعالیٰ اس سے محبت کرنے لگے گا۔ اور اللہ کی محبت اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع کی برکت سے پچھلے گناہ معاف ہو جائیں گے۔ اور آئندہ طرح طرح کی ظاہری باطنی مہربانیاں مبذول ہوں گی۔ مختصرًا ان آیات میں پیغمبر آخر الزماں کی اطاعت کی پرزور طریقے سے دعوت دی گئی ہے۔ (تفسیر عثمانی ص ۶۹)

اعلان کیا گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو جب تک شعار زندگی نہ بنایا جائے گا اور ہر قسم کے تصفیہ طلب امور کے لیے آپ کی ذات پاک کو آخری عدالت کی حیثیت نہیں دی جائے گی اہل ایمان کو نہ ذرہ خیر و برکت میسر آسکتا ہے نہ اس کے بغیر کسی اچھے انجام کی توقع رکھی جاسکتی ہے۔

﴿يٰاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ ج فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ط ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَأْوِيْلًا﴾ (النساء: ۵۹)

ترجمہ: اے ایمان والو! تم اللہ کا کہنا مانو، اور رسول کا کہنا مانو اور تم میں سے جو لوگ اہل حکومت ہیں، ان کا بھی۔ پھر اگر کسی امر میں تم باہم اختلاف کرنے لگو تو اس امر کو اللہ اور رسول کے حوالے کر دیا کرو۔ اگر تم اللہ پر اور یوم قیامت پر ایمان رکھتے ہو یہ اُمور سب بہتر ہیں۔ اور انجام کار خوش تر ہیں۔

مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ باہمی اختلافات کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کے تابع حل کریں اور اگر کوئی اپنے اختلافات ختم کرنے کے لیے قرآن وسنت سے پہلوتہی

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

کرتا ہے تو وہ دائرہ اسلام سے خارج تصور علماء نے لکھا ہے کہ اگر دو مسلمان آپس م رجوع کریں۔ دوسرے نے کہا کہ میں شرع کے یہ کلمات دائرہ اسلام سے خارج کرنے

آگاہ کیا گیا ہے کہ نہ صرف دینی اُمور ب عورت کو آپ کے فیصلے کے بعد کسی قسم کی مج ادنیٰ اختیار کا تصور بھی ذہن میں لائے۔

﴿وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا الْخِيَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ ط﴾ (الاحزاب

ترجمہ: ”اور کسی ایماندار مرد اور کسی ایما کا رسول کسی کام کا وجوباً حکم دے دیں کہ اختیار باقی رہے (یعنی اس اختیار کی گنجائش ہی واجب ہے۔“ (ترجمہ حضرت تھانویؒ)

بات یہیں پوری نہیں ہو جاتی، بلکہ پر دیئے گئے کہ فیصلہ نبوی کے بعد جن لوگو کرنے کی فکر رہتی ہے، ایسے نافرمان صر

﴿وَمَنْ يَّعْصِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهُ فَقَدْ

ترجمہ: ”اور جو شخص اللہ کا اور اس کے ر یہ بھی واضح کر دیا گیا کہ ہدایت صرف اور یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ا اس کے ساتھ بتلا دیا گیا۔ کہ آپ صلی اللہ اندیش لوگوں کو اس کے ہولناک نتائج کے

﴿قُلْ اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُ

صفحہ 355

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 355 ماہنامہ سبحانی کراچی

کرتا ہے تو وہ دائرہ اسلام سے خارج تصور ہوگا۔

علماء نے لکھا ہے کہ اگر دو مسلمان آپس میں جھگڑیں ایک نے کہا کہ چلو شرع کی طرف رجوع کریں۔ دوسرے نے کہا کہ میں شرع کو نہیں سمجھتا یا مجھ کو شرع سے کیا ہے۔ تو اس کے یہ کلمات دائرہ اسلام سے خارج کرنے والے ہیں۔

(تفسیر عثمانی)

آگاہ کیا گیا ہے کہ نہ صرف دینی اُمور بلکہ خالص دنیوی اُمور میں بھی کسی مومن مرد اور عورت کو آپ کے فیصلے کے بعد کسی قسم کی گنجائش نہیں کہ فیصلہ نبوت کے بعد وہ اپنے لیے ادنیٰ اختیار کا تصور بھی ذہن میں لائے۔

وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَرَسُوْلُهُ اَمْرًا اَنْ يَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ ط

(الاحزاب: ۳۶)

ترجمہ: ”اور کسی ایماندار مرد اور کسی ایماندار عورت کو گنجائش نہیں ہے۔ جبکہ اللہ اور اس کا رسول کسی کام کا وجوباً حکم دے دیں کہ (پھر) ان مومنین کو ان کے اس کام میں کوئی اختیار باقی رہے (یعنی اس اختیار کی گنجائش نہیں رہتی کہ خواہ کریں یا نہ کریں۔ بلکہ عمل کرنا ہی واجب ہے۔“

(ترجمہ حضرت تھانویؒ)

بات یہیں پوری نہیں ہو جاتی، بلکہ پُر جلال انداز میں ہر سننے والے کے کان کھول دیئے گئے کہ فیصلہ نبوی کے بعد جن لوگوں کو اپنے لیے کسی قسم کی اختیاری گنجائش پیدا کرنے کی فکر رہتی ہے، ایسے نافرمان صریح بھٹکے ہوئے ہیں۔

وَمَنْ يَّعْصِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِيْنًا

(الاحزاب ۳۶)

ترجمہ: ”اور جو شخص اللہ کا اور اس کے رسول کا کہنا نہ مانے وہ صریح گمراہی میں پڑا۔“

یہ بھی واضح کر دیا گیا کہ ہدایت صرف اطاعتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں منحصر ہے۔ اور یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کے علاوہ ہدایت کے تمام راستے بند ہیں۔ اس کے ساتھ بتلا دیا گیا۔ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوامر سے سرتابی کرنے والے کوتاہ اندیش لوگوں کو اس کے ہولناک نتائج کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

قُلْ اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ ج فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ

صفحہ 356

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 356 ماہنامہ مسیحائی کراچی

وَعَلَيْكُمْ مَّا حُمِّلْتُمْ ط وَاِنْ تُطِيْعُوْهُ تَهْتَدُوْا ط وَمَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ ﴾ (النور: ۵۴)

ترجمہ : ” آپ کہیے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو۔ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرو۔ پھر اگر تم (اطاعت سے) روگردانی کرو گے، تو سمجھ رکھو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ وہی ( تبلیغ ) ہے جس کا ان پر بار رکھا گیا اور تمہارے ذمہ وہ ہے جس کا تم پر بار رکھا گیا ہے اور اگر تم نے ان کی اطاعت کرلی، تو راہ پر جالگو اور بہر حال رسول کے ذمہ صاف صاف طور پر پہنچا دینا ہے۔

واضح کردیا گیا کہ ایمان کا سب سے بڑا نشان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر لبیک کہنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر حکم پر سمع و طاعت بجالانا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر فیصلہ پر سر تسلیم خم کردینا ہے۔ اور یہ کہ کامرانی اور کامیابی انہیں لوگوں کے قدم چومے گی جو اپنے اندر یہ ایمانی صفات رکھتے ہوں گے۔

﴿ اِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِيْنَ اِذَا دُعُوْا اِلَى اللّٰهِ وَرَسُوْلِهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ اَنْ يَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا ط وَاُولٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ﴾ (النور ۵۱)

ترجمہ: ”مسلمانوں کا قول تو جبکہ ان کو (کسی مقدمہ میں) اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ ان کے درمیان فیصلہ کردیں یہ ہے کہ وہ (بطیب خاطر) کہتے ہیں۔ کہ ہم نے سن لیا اور مان لیا اور ایسے لوگ آخرت میں فلاح پائیں گے۔“

مولانا شبیر احمد عثمانی اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”یعنی ایک سچے مسلمان کا کام یہ ہوتا ہے اور یہ ہونا چاہیے کہ جب کسی معاملے میں ان کو خدا اور رسول کی طرف بلایا جائے۔ خواہ ان میں بظاہر ان کا نفع ہو یا نقصان ایک منٹ کا توقف نہ کریں۔ فی الفور سمعا وطاعۃً کہہ کر حکم ماننے کے لیے تیار ہوجائیں۔ اس میں ان کی اصلی بھلائی اور حقیقی فلاح کا راز مضمر ہے۔ (تفسیر عثمانی ص ۴۶۳)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول اللہ کا ہے:

بتلایا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر قول و عمل وحی الہی کا تابع اور منشائے خداوندی کا

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

ترجمان ہے۔ اس لیے کہ آپ سے نہیں ، بلکہ وحی الہی سے فرما ﴿ وَالنَّجْمِ اِذَا هَوٰى O الْهَوٰى O اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْيٌ ترجمہ : ” قسم ہے ستارہ کی والے ( آنحضرت صلی اللہ علی (صلی اللہ علیہ وسلم) اپنی نفسان جو ان پر بھیجی جاتی ہے۔“ (ترج پس جس ذات گرامی (ص ہوں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم الہی کے خلاف کسی لفظ کے زبا علیہ وسلم) جس کے ہر قول و فعل حضرت شیخ الاسلام مولانا ش ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آپ کے متعلق یہ حکم سناتا ہے گا وہ بے شک ہمارا تابعدار ہے (صلی اللہ علیہ وسلم) ان لوگوں دیکھ لیں گے تیرا کام صرف پیغا یہ بھی اعلان کردیا گیا کہ آ اطاعت ہے، اور جو لوگ آپ سمجھے وہ اپنی بدفہمی کی وجہ سے ﴿ مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ عَلَيْهِمْ حَفِيْظًا ﴾ (النساء : ۸۰ ترجمہ : ” جس شخص نے رسو

صفحہ 357

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ سبحانی کراچی

ترجمان ہے۔ اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ فرماتے ہیں وہ اپنی ذاتی خواہش سے نہیں، بلکہ وحی الہی سے فرماتے ہیں:

﴿وَ النَّجْمِ اِذَا هَوٰى O مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَ مَا غَوٰى O وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى O اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰى O﴾

(النجم: ۱۔۴)

ترجمہ: ”قسم ہے ستارہ کی جب وہ غروب ہونے لگے۔ یہ تمہارے ساتھ کے رہنے والے (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم) نہ راہ سے بھٹکے اور نہ غلط رو ہوئے اور نہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) اپنی نفسانی خواہش سے باتیں بناتے ہیں اور ان کا ارشاد نری وحی ہے جو ان پر بھیجی جاتی ہے۔“

(ترجمہ حضرت تھانویؒ)

پس جس ذات گرامی (صلی اللہ علیہ وسلم) کے بارے میں حق تعالیٰ شانہ یہ ضمانت دیتے ہوں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) میں ایک لمحہ کے لیے بھی نہ غلط روی کا احتمال ہے اور نہ وحی الٰہی کے خلاف کسی لفظ کے زبان مبارک پر آنے کا اندیشہ ہے، ایسی ذات گرامی (صلی اللہ علیہ وسلم) جس کے ہر قول وفعل پر ہمہ دم وحی الٰہی کا پہرا رہتا ہو انصاف کیا جائے.........

حضرت شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانیؒ اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:

”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو دلائل و براہین سے محقق کرنے کے بعد خدا تعالیٰ آپ کے متعلق یہ حکم سناتا ہے کہ جو ہمارے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی فرمانبرداری کرے گا وہ بے شک ہمارا تابعدار ہے۔ اور جو اس سے روگردانی کرے گا تو ہم نے تجھ کو اے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) ان لوگوں پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا کہ ان کو گناہ نہ کرنے دے ہم ان کو دیکھ لیں گے تیرا کام صرف پیغام پہنچانا ہے۔ آگے ثواب یا عتاب یہ ہمارا کام ہے۔“

یہ بھی اعلان کر دیا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت درحقیقت اللہ تعالیٰ ہی کی اطاعت ہے، اور جو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو عین اطاعت خداوندی نہیں سمجھتے وہ اپنی بدفہمی کی وجہ سے کفر کے مرتکب ہیں۔

﴿مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ ج وَمَنْ تَوَلّٰى فَمَا اَرْسَلْنٰكَ عَلَيْهِمْ حَفِيْظًا﴾

(النساء: ۸۰)

ترجمہ: ”جس شخص نے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اطاعت کی، اس نے خدا تعالیٰ

صفحہ 358

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

کی اطاعت کی۔ اور جو شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے روگردانی کرے سو آپ کچھ غم نہ کیجیے کیوں کہ ہم نے آپ کو نگران کر کے نہیں بھیجا کہ آپ ان کو کفر نہ کرنے دیں۔“ (ترجمہ حضرت تھانویؒ)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر قول، علم وعمل، گفتار و کردار، نشست و برخاست غرضیکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے صادر ہونے والی ہر چیز سراپا ہدایت ہے اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات عالی کو اُمت کے لیے بہترین مثالی نمونہ قرار دیا گیا۔

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا (الاحزاب: ۲۱)

ترجمہ: ”تم لوگوں کے لیے یعنی ایسے شخص کے لیے جو اللہ سے اور روزِ آخرت سے ڈرتا ہو اور کثرت سے ذکر الٰہی کرتا ہو۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کا ایک عمدہ نمونہ موجود تھا۔“

اس آیت شریفہ سے معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی ہر ایسے شخص کے لیے معیاری نمونہ ہے جو اللہ تعالیٰ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اور جس کا دل ذکر الٰہی کی کثرت سے منور ہو، برعکس اس کے جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مثالی نمونہ نہیں سمجھتا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال وافعال کو واجب الاطاعت اور لائق اقتدا نہیں سمجھتا اسے نہ اللہ تعالیٰ پر ایمان ہے۔ نہ آخرت پر۔ اس کا دل ذکر الٰہی کے نور سے محروم ہونے کی وجہ سے ظلمت کدہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ حسنہ کا مطلب یہ ہے کہ رسالتماب صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کو دیکھو۔ سختیوں اور جانگداز حالات میں کیا استقلال رکھتے ہیں۔ حالاں کہ سب سے زیادہ اندیشہ اور فکر ان ہی پر ہے مگر مجال ہے کہ پائے استقامت ذرا جنبش کھا جائے۔ جو لوگ اللہ سے ملنے اور آخرت کا ثواب حاصل کرنے کی اُمید رکھتے ہیں اور کثرت سے خدا کو یاد کرتے ہیں ان کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات منبع البرکات بہترین نمونہ ہے۔ چاہیے کہ ہر معاملہ، ہر ایک حرکت وسکون، اور نشست و برخاست میں ان کے نقش قدم پر چلیں اور ہمت و استقلال وغیرہ میں ان کی چال سیکھیں۔

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

اطاعت رسو

آپ صلی اللہ علیہ صادر کیا گیا۔

قُلْ اَطِيْعُوا اللّٰ (آل عمران: ۳۲)

ترجمہ: ”آپ فرما لوگ اعراض کریں تو ا

آپ صلی اللہ علیہ مریض، غلط اندیش او

وَاِذَا دُعُوْا اِلَ مُّعْرِضُوْنَ O وَاِنْ يَّ اَمِ ارْتَابُوْا اَمْ يَخَ الظّٰلِمُوْنَ (النور:

ترجمہ: ”اور یہ لو کے لیے بلائے جا تہی کرتا ہے۔ اور اگر کے دلوں میں مرض ہ ان پر ظلم نہ کرنے لگیں

آپ صلی اللہ علی ایمان سے عاری قرا

وَاِذَا قِيْلَ لَ يَصُدُّوْنَ عَنْكَ صُ

ترجمہ: ”اور جب

صفحہ 359

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 359 ماہنامہ مسیحائی کراچی

اطاعتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے انحراف کفر ہے:

آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اعتقاداً پہلو تہی کرنے والوں پر صاف صاف کفر کا فتویٰ صادر کیا گیا۔

﴿قُلْ اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَالرَّسُوْلَۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْكٰفِرِيْنَ ﴾

(آل عمران:۳۲)

ترجمہ: ”آپ فرما دیجیے کہ تم اطاعت کیا کرو۔ اللہ اور اس کے رسول کی۔ پھر اگر وہ لوگ اعراض کریں تو سن رکھیں کہ اللہ تعالیٰ کافروں سے محبت نہیں کرتے۔“

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلوں سے اعراض کرنے والوں کو شک و تردد اور نفاق کے مریض، غلط اندیش اور ظالم قرار دیا گیا۔

﴿وَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ اِذَا فَرِيْقٌ مِّنْهُمْ مُّعْرِضُوْنَ O وَ اِنْ يَّكُنْ لَّهُمُ الْحَقُّ يَاْتُوْۤا اِلَيْهِ مُذْعِنِيْنَ O اَفِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَمِ ارْتَابُوْۤا اَمْ يَخَافُوْنَ اَنْ يَّحِيْفَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ وَ رَسُوْلُهٗؕ بَلْ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ ﴾ (النور ع ۶ ۔ آیت نمبر ۴۸۔۵۰)

ترجمہ: ”اور یہ لوگ جب اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف اس غرض کے لیے بلائے جاتے ہیں کہ رسول ان کے درمیان فیصلہ کردیں تو ان میں ایک گروہ پہلو تہی کرتا ہے۔ اور اگر ان کا حق ہو تو سر تسلیم خم کئے ہوئے آپ کے پاس آتے ہیں۔ آیا ان کے دلوں میں مرض ہے یا یہ شک میں پڑے ہیں یا ان کو یہ اندیشہ ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ان پر ظلم نہ کرنے لگیں، نہیں! بلکہ یہ لوگ سراسر ظالم ہیں۔“ (ترجمہ حضرت تھانویؒ)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع سے انحراف کرنے والوں کو صاف صاف منافق اور ایمان سے عاری قرار دیا گیا۔

﴿وَ اِذَا قِيْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ اِلَى الرَّسُوْلِ رَاَيْتَ الْمُنٰفِقِيْنَ يَصُدُّوْنَ عَنْكَ صُدُوْدًا ﴾ (النساء:۶۱)

ترجمہ: ”اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ اس حکم کی طرف جو اللہ تعالیٰ نے نازل

صفحہ 360

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

فرمایا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف، تو آپ منافقین کی یہ حالت دیکھیں گے کہ آپ سے پہلوتہی کرتے ہیں۔“

مولانا شبیر احمد عثمانی اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ یعنی جب کسی جھگڑے میں منافقوں سے کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے جو حکم نازل فرمایا ہے اس کی طرف آؤ۔ ظاہر میں چوں کہ مدعی اسلام ہیں، اس لیے صاف طور پر تو انکار نہیں کر سکتے مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے سے اور حکم الٰہی پر چلنے سے بچتے ہیں اور رکتے ہیں کہ کسی ترکیب سے جان بچ جائے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر جہاں ہمارا جی چاہے اپنا جھگڑا لے جائیں۔ (ص ۱۱۳)

آپ کے پاک ارشادات کے ساتھ بے اعتنائی برتنے والوں اور آپ کے اقوالِ شریفہ کے ساتھ تمسخر کرنے والوں کے متعلق اعلان کیا گیا کہ ان کے قلوب پر خدائی مہر لگ چکی ہے، جس کی وجہ سے وہ ایمان و یقین اور رشد و ہدایات کی استعداد گم کر چکے ہیں اور ان لوگوں کی ساری تگ و دو خواہشِ نفس کی پیروی تک محدود ہے۔

﴿وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّسْتَمِعُ إِلَيْكَ ۚ حَتّٰى إِذَا خَرَجُوْا مِنْ عِنْدِكَ قَالُوْا لِلَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مَاذَا قَالَ آنِفًا ۭ اُوْلٰٓئِكَ الَّذِيْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَاتَّبَعُوْا أَهْوَاءَهُمْ﴾ (محمد: ۱۶)

ترجمہ: ”اور بعض آدمی ایسے ہیں کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کان لگاتے ہیں، یہاں تک کہ جب وہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اٹھ کر باہر جاتے ہیں تو دوسرے اہل علم سے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی تحقیر کے طور پر) کہتے ہیں کہ حضرت نے ابھی کیا بات فرمائی تھی؟ یہ وہ لوگ ہیں کہ حق تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر کردی، اور وہ اپنی نفسانی خواہشوں پر چلتے ہیں۔“ (ترجمہ حضرت تھانوی بتصرف یسیر)

قرآن کریم نے صاف صاف یہ اعلان بھی کر دیا کہ انبیاء کرام علیہم السلام کو صرف اسی مقصد کے لیے بھیجا جاتا ہے کہ ان کی اطاعت کی جائے۔ پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے انکار اور آپ کے ارشادات سے سرتابی کرنا گویا انکارِ رسالت کے ہم معنی ہے۔ اس طرح آپ کی اطاعت کے منکرین انکارِ رسالت کے مرتکب ہیں۔

صفحہ 361

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 361 ماہنامہ مسیحائی کراچی

﴿وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِيُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰهِ﴾ (النساء: ۶۴)

ترجمہ: ”اور ہم نے تمام پیغمبروں کو خاص اسی واسطے مبعوث فرمایا ہے کہ بحکم خداوندی ان کی اطاعت کی جائے۔“

قرآن کریم کی وہ آیات جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو اہل ایمان کے لیے لازم قرار دیا گیا ہے، بے شمار ہیں۔ ان میں سے یہ چند آیات آپ کے سامنے ہیں۔ کتاب اللہ کے ان واضح اعلانات کی روشنی میں یہ فیصلہ بالکل آسان ہے، کہ اسلام میں ذات اقدس رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کا مرتبہ کیا ہے؟ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال کی اطاعت اور پیروی کا حکم خود قرآن ہی میں موجود ہے اور جب قرآن کریم ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو عین اطاعت خداوندی قرار دیتا ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال کو جب قرآن ہی وحی خداوندی بتلاتا ہے (وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰی ، اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰی ) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلمات طیبات کو جب قرآن ہی ”گفتہ او گفتہ اللہ بود“ کا مرتبہ دیتا ہے تو بتلایا جائے کہ حدیث نبوی کے حجت دینیہ ہونے میں کیا کسی شک و شبہ کی گنجائش رہ جاتی ہے؟ اور کیا حدیث نبوی کا انکار کرنے سے کیا خود قرآن ہی کا انکار لازم نہیں آئے گا؟ اور کیا فیصلہ نبوت میں تبدیلی کے معنی خود قرآن کو بدل ڈالنا نہیں ہوں گے۔ اور اس پر بھی غور کرنا چاہیے کہ قرآن کریم بھی تو اُمت نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی زبان مبارک سے سنا، اور سن کر اس پر ایمان لائے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ ”یہ قرآن ہے“ یہ ارشاد بھی تو حدیث نبوی ہے۔ اگر حدیث نبوی حجت نہیں تو قرآن کریم کا قرآن ہونا کس طرح ثابت ہوگا۔ آخر یہ کون سی عقل و دانش کی بات ہے کہ اس مقدس و معصوم زبان سے صادر ہونے والی ایک بات تو واجب التسلیم ہو اور دوسری نہ ہو؟

امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے ایک موقع پر فرمایا تھا:

”یہ تو میرے میاں (صلی اللہ علیہ وسلم) کا کمال تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ اور یہ میرا کلام ہے، ورنہ ہم نے تو دونوں ایک ہی زبان سے صادر ہوتے ہوئے سنا تھا۔“

صفحہ 362

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ قرآن تو حجت ہے مگر حدیث حجت نہیں ہے ان ظالموں کو کون بتلائے کہ جس طرح ایمان کے معاملہ میں خدا اور رسول کے درمیان تفریق نہیں ہوسکتی کہ ایک کو مانا جائے اور دوسرے کو نہ مانا جائے۔ ٹھیک اسی طرح کلام اللہ اور کلام رسول کے درمیان بھی اس تفریق کی گنجائش نہیں۔ کہ ایک کو واجب الاطاعت مانا جائے اور دوسرے کو نہ مانا جائے۔ ایک کو تسلیم کر لیجیے تو دوسرے کو بہر صورت تسلیم کرنا ہوگا اور ان میں سے ایک کا انکار کر دینے سے دوسرے کا انکار آپ سے آپ ہو جائے گا۔ خدائی غیرت گوارا نہیں کرتی کہ اس کے کلام کو تسلیم کرنے کا دعویٰ کیا جائے اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کو ٹھکرایا جائے۔ وہ ایسے ظالموں کے خلاف صاف اعلان کرتا ہے۔

فَاِنَّهُمْ لَا يُكَذِّبُوْنَكَ وَ لٰكِنَّ الظّٰلِمِيْنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ يَجْحَدُوْنَ O

ترجمہ: ”پس اے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم)! یہ لوگ آپ کے کلام کو نہیں ٹھکراتے بلکہ یہ ظالم اللہ کی آیتوں کے منکر ہیں۔“

لہٰذا جو لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے والے اور کلام اللہ کو ماننے کا دعویٰ کرتے ہیں انہیں لا محالہ رسول اور کلام رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ایمان لانا ہوگا۔ ورنہ ان کا دعویٰ ایمان حرف باطل ہے۔

محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم:

پس وہ ہستی جس کا ہر قول و عمل واجب الاطاعت ہو، جس کی اطاعت کو اللہ تعالیٰ اپنی اطاعت قرار دیں، جس کی اطاعت سے ہدایت کے دروازے کھلتے ہوں، جس کی مخالفت فتنہ میں مبتلا کر دے اور عذاب الیم کا موجب ہو، اللہ کے ذکر کے ساتھ جس کا ذکر آئے، جس کے اعتراف و اقرار کے بغیر ایمان معتبر نہ ہو، کلمۂ اسلام مکمل نہ ہوتا ہو، جس کے تذکرے کے بغیر اذان ادھوری ہو، جس پر صلوٰۃ و درود کے بغیر نماز نامکمل ہو، جو تمام تعریفوں کا مستحق بن کر محمد جیسے پاکیزہ نام سے موسوم ہو اور جو حمد الہٰی کے لیے سب سے زیادہ نغمہ سنج ہو کر احمد قرار پائے، جو حق پرستوں کے لیے مبشر و بشیر اور باطل پرستوں اور فتنہ گروں کے لیے منذر و نذیر ہو جو بھٹکے ہوؤں کے لیے ہادی اور خدا سے بھاگے ہوؤں

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

کے لیے داعی ہو، جو تمام ج ہو، معلم انسانیت ہو، اخلاق کبھی نام لے کر نہ پکارے کے سر پر ختم نبوت کا تاج کے وجود پر قصر نبوت کی ت پکارتے ہوں، جس کو یتیمی سے بے پرواہ بنا کر اپنی آ کو رب نے اس طرح کا آسانی سے سما سکیں، اور میں مہارت حاصل کرلے بلند ہو کہ کوئی گوشہ اس کے محمود ہو، سورۃ الحمد وظیفہ ہو جہاں آراء کی پوری کائنات ارفع ہو تو پھر ایسی ذات ب ذات اطہر ہر ایک سے بڑ ”دنیا کا عام اُصول یہ کا زرخرید غلام جیسا بن ج بچانے والے کا ممنون اح ہیں لیکن وہ ذات کریم ج علیہ وسلم نے جس ہلاکت سے متعلقہ ہے، جس کا ب بابرکات (صلی اللہ علیہ و مصیبتوں سے نجات دلا انسانیت نبی کریم صلی ال

صفحہ 363

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 363 ماہنامہ مسیحائی کراچی

کے لیے داعی ہو، جو تمام جہانوں کے لیے رحمت ہو، پوری انسانیت کے لیے رؤف و رحیم ہو، معلم انسانیت ہو، اخلاق کی تکمیل کرنے والا ہو، جس کو اللہ تعالیٰ اپنے قرآن کریم میں کبھی نام لے کر نہ پکارے بلکہ اسے کبھی یٰسٓ، کبھی طٰہٰ، کبھی مدثر و مزمل کہہ کر پکارے، جس کے سر پر ختم نبوت کا تاج سجایا ہو اور انبیاء کی سیادت و سرداری کے تخت پر بٹھایا ہو، جس کے وجود پر قصر نبوت کی تکمیل ہو، جس کو اپنے کیا، پرائے بھی صادق اور امین کہہ کر پکارتے ہوں، جس کو یتیمی کی حالت میں اس کے رب نے تمام مادی اسباب و وسائل سے بے پرواہ بنا کر اپنی آغوش رحمت میں لے کر اس کی تربیت مکمل کی ہو، جس کے سینے کو رب نے اس طرح کھولا ہو کہ ربانی علوم و معارف کے بحر ناپیدا کنار بھی اس میں آسانی سے سما سکیں، اور ایک اُمی کے سامنے تعلیم و تعلم کے ذریعہ علوم و معارف میں مہارت حاصل کرنے والے طفل مکتب نظر آئیں اور جس کا ذکر عالم پست و بالا میں اتنا بلند ہو کہ کوئی گوشہ اس کے تذکرے سے خالی نہ ہو، جس کا نام نامی احمد و محمد ہو، مقام، مقام محمود ہو، سورۃ الحمد وظیفہ حیات ہو، اور لواء حمد قیامت میں طغرائے امتیاز ہو، جس کے جمال جہاں آراء کی پوری کائنات میں کوئی مثال نہ ہو، جو ہر طرح سے کامل و مکمل بلکہ اکمل، اعلیٰ و ارفع ہو تو پھر ایسی ذات سے محبت کیوں نہ کی جائے، ہاں ہاں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اطہر ہر ایک سے بڑھ کر محبت کی مستحق ہے۔ قاضی عیاض اندلسی لکھتے ہیں:

”دنیا کا عام اُصول یہ ہے کہ اگر کسی شخص پر کوئی ایک یا دو مرتبہ احسان کرتا ہے تو وہ اس کا زرخرید غلام جیسا بن جاتا ہے یا کسی کو کوئی ہلاکت یا نقصان سے بچا لیتا ہے تو وہ اس بچانے والے کا ممنون احسان بن جاتا ہے حالاں کہ یہ ہلاکت و نقصان تو عارضی ہوتے ہیں لیکن وہ ذات کریم جس کے احسان نہ ختم ہونے والے ہیں۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس ہلاکت سے اُمت کو محفوظ کر ڈالا وہ عذاب دوزخ اور اس کی ہلاکت سے متعلقہ ہے، جس کا زمانہ ہمیشہ قائم رہنے والا ہے۔ لہٰذا بغیر کسی شک و شبہ وہی ذات بابرکات (صلی اللہ علیہ وسلم) محبت و الفت کے لائق ہے جو انسانیت کو ان تمام مشکلات و مصیبتوں سے نجات دلا کر ابدی سکون و اطمینان دلائے اور وہ ذات فقط اور فقط محسن انسانیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی ہے۔ ہم اپنی دنیاوی زندگی میں ہر روز

صفحہ 364

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 364 ماہنامہ سبحانی کراچی

اس کا مشاہدہ کرتے چلے آتے ہیں کہ انسان اس حاکم سے جو خوش اخلاق، محسن اور جذبہ خدمت رکھتا ہو اپنے کاموں اور مشکلات میں رجوع کرتا ہے، اس کی ہر وقت تعریف و توصیف میں لگا رہتا ہے۔ اسی طرح وہ انصاف پسند قاضی جو چاہے دور رہتا ہو لیکن اس کے علم و بزرگی کا شہرہ عام ہو، تو وہ لوگوں کو طبعاً ہی محبوب ہوجاتے ہیں۔ تو جس نے کمال و عظمت کے ان تمام مراتب کو اپنی ذات کے اندر سمولیا ہو بھلا وہ زیادہ محبت کا مستحق نہ ہوگا۔“

(کتاب الشفاء (اردو ترجمہ) جلد دوم، ص ۷۰)

اسی لیے تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کو زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے۔“

(بخاری، جلد اول، ص ۷)

حدیث میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی محبت کو اپنے ماننے والوں پر فرض قرار دیا ہے اور امام بخاریؒ نے تو اس حدیث پر عنوان قائم کیا ہے ”حب الرسول من الایمان“ رسول سے محبت ایمان کی علامت ہے بلکہ یہ محبت ایمان کی مٹھاس اور حلاوت کا باعث ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تین باتیں ایسی ہیں جس شخص میں وہ ہوں تو وہ ایمان کا مزہ پالیتا ہے، ایک یہ کہ اللہ اور اس کا رسول اسے ماسوا سے زیادہ محبوب ہوں، دوسری بات یہ کہ وہ کسی بندے سے محبت صرف اللہ کے لیے کرتا ہو، تیسری بات یہ کہ کفر کی طرف لوٹنا اسے آگ میں ڈالے جانے سے زیادہ ناگوار ہو۔“

(بخاری ج ۱، ص ۷)

بلکہ یہ محبت تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رفاقت کا موجب ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے سوال کیا کہ قیامت کب آئے گی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا، ”تو نے قیامت کی کیا تیاری کر رکھی ہے؟“، تو اس شخص نے جواب دیا ”یا رسول اللہ کوئی خاص تیاری تو نہیں ہے لیکن مجھے اللہ اور اس کے رسول سے محبت ہے“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”انت مع من احببت“ (تو قیامت کے دن اس کے ساتھ ہوگا جس سے تو محبت رکھتا ہے) اور قرآن کریم ان لوگوں کو فاسق قرار دیتا ہے جو اللہ اور اس کے رسول کی محبت سے عاری

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

ہوں اور دنیاوی محبتوں کو اللہ اور اس کے ﴿قُلْ إِن كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ إِلَيْكُمْ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ﴾

ترجمہ: (اے پیغمبر! مسلمانوں تمہارے بھائی، تمہاری بیویاں اور وہ کاروبار جس کے مندا ہونے کا تمہیں اللہ اور اس کے رسول سے ہیں، تو انتظار کرو، یہاں تک کہ اللہ نہیں پہنچاتا۔“

اس آیت میں جہاں اللہ تعالیٰ نے لینا چاہیے کہ رسول کی محبت اللہ کی م رکھنے والوں کو فاسقین سے تعبیر کیا

محبت کی چنگاری:

بہر حال حضور اکرم صلی اللہ علیہ سے خالی ہے وہ ایمان سے عاری تک ہر مسلمان حضور اکرم صلی اللہ ع نامدار کی محبت موجود ہے یہ اور بات ہ محبت کی یہ چنگاری خواہشات نفس دنیاوی مفادات کی راکھ میں دبی ہوئ اس بات کی ہے کہ محبت کی اس چ بھڑکے اور اس کے اثرات ہماری ز

صفحہ 365

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

ہوں اور دنیاوی محبتوں کو اللہ اور اس کے رسول کی محبت پر فوقیت دیں، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَاَبْنَآؤُكُمْ وَاِخْوَانُكُمْ وَاَزْوَاجُكُمْ وَعَشِیْرَتُكُمْ وَاَمْوَالُ نِ اقْتَرَفْتُمُوْهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَا اَحَبَّ اِلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَجِهَادٍ فِیْ سَبِیْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ ؕ وَاللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ﴾

(التوبہ، آیت ۲۴)

ترجمہ: (اے پیغمبر! مسلمانوں سے) کہہ دو کہ: ”اگر تمہارے باپ، تمہارے بیٹے، تمہارے بھائی، تمہاری بیویاں اور تمہارا خاندان اور وہ مال و دولت جو تم نے کمایا ہے اور وہ کاروبار جس کے مندا ہونے کا تمہیں اندیشہ ہے اور وہ رہائشی مکان جو تمہیں پسند ہیں، تمہیں اللہ اور اس کے رسول سے اور اس کے راستے میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں، تو انتظار کرو، یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ صادر فرمادے اور اللہ نافرمانوں کو منزل تک نہیں پہنچاتا۔“

اس آیت میں جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی اور رسول کی محبت کو یکجا ذکر کیا ہے اس سے سمجھ لینا چاہیے کہ رسول کی محبت اللہ کی محبت ہے اور ساتھ میں دنیا کی چیزوں کو زیادہ محبوب رکھنے والوں کو فاسقین سے تعبیر کیا ہے۔

محبت کی چنگاری:

بہر حال حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت عین ایمان ہے اور جس کا دل آپ کی محبت سے خالی ہے وہ ایمان سے عاری ہے۔ اسی لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے لے کر آج تک ہر مسلمان حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے اور اس کے دل میں آقائے نامدار کی محبت موجود ہے یہ اور بات ہے کہ ہمارے جیسے کمزور ایمان والوں کے دلوں میں محبت کی یہ چنگاری خواہشات نفسانی لذات، مادی تعلقات، آخرت سے غفلت اور دنیاوی مفادات کی راکھ میں دبی ہوئی ہے۔ یہ نظر نہیں آتی، یہ اپنا اثر نہیں دکھاتی، ضرورت اس بات کی ہے کہ محبت کی اس چنگاری کو ہوا دی جائے، اسے شعلہ بنایا جائے تاکہ یہ بھڑکے اور اس کے اثرات ہماری زندگی میں، ہمارے اعمال میں، ہمارے چلنے پھرنے

صفحہ 366

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

میں، ہمارے حلیہ میں، ہمارے ظاہر و باطن میں نظر آئیں، مولانا رومی کے بقول ”عشق وہ شعلہ ہے جب بھڑک اٹھتا ہے تو سارے جہان کو پھونک دیتا ہے“۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی معطر تھے، جس طرف سے گزر جاتے، گلی کوچے معطر ہوجاتے، فضا مہک اٹھتی، تو آپ کی محبت بھی کستوری کی طرح خوشبودار ہے، اگر اسے بند نہ رکھا جائے، خواہشات اور دنیاوی تعلقات کی راکھ میں دبا کر نہ رکھی جائے اور یہ ہمارے دل و دماغ میں رچ بس جائے تو یقین جانیے اس کی خوشبو ہمارے وجود سے آنے لگے، ہمارے گھر، ہمارے دفاتر، ہمارے بازار، ہمارا ہر عمل، ہر انداز مہک جائے اور ہماری ہر نشست و برخاست سے اس محبت کی جھلک اور اس کا رنگ نظر آنے لگے گا۔ کوئی اس محبت کو اپنے دل و دماغ میں بسا کر تو دیکھے۔

محبت کے تقاضے اور علامات:

جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ایمان کا لازمی حصہ بلکہ عین ایمان ہے تو محبت کے کچھ تقاضے اور کچھ آداب ہیں ”محبت خود آداب محبت سکھادے گی“ بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ اس محبت کی کچھ علامات ہیں اگر ان تقاضوں پر عمل کیا جائے اور محبت کی یہ علامات پائی جائیں تو سمجھا جائے گا کہ حقیقتاً محبت ہے ورنہ صرف زبانی دعویٰ ہی ہوگا حقیقت کچھ نہ ہوگی۔

محبت کا ایک تقاضا یا علامت یہ ہے کہ جس سے محبت ہو اس کی خوشی ہمہ وقت پیش نظر ہو اور اس کی رضا ہر چیز اور ہر خواہش پر غالب ہو اگر دوسروں کو راضی کرنے کی خاطر اللہ اور اس کے رسول کو ناراض کیا تو یہ محبت کہاں بلکہ محبت کی نفی ہے اسی طرح اگر وہ اپنی خواہشات کو مقدم رکھے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات و ہدایات کو پس پشت ڈال دے تو یہ بھی محبت نہیں کہلائے گی۔

اسی لیے تو آپ کی اتباع کو لازمی قرار دیا گیا۔

”اے نبی کہہ دیجیے اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو اللہ بھی تم سے محبت کرے گا“ (آل عمران)

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

محبت کی علامات و آداب میں سے ایک انداز میں کثرت سے کرے جس کا ذکر بیان کرے اور قدوسیوں کی جماعت ( ذکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اُمتی کیو بھیجیں۔ اسی لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کثرت سے درود و سلا

محبوب کے دوستوں سے

محبت کی ایک علامت یہ ہے کہ ہر عزیز رکھے۔ اسی لیے مدینہ منورہ کا زیادہ محبوب ہے کہ اس کی نسبت حضور علامت یہ ہے کہ محبوب کے تعلق داروں آپ کے اہلبیت ۔ حضور اکرم صلی اللہ ”میں ان دونوں (حسن و حسین رضی محبوب رکھے گویا اس نے مجھ سے محب بھی اپنے یہاں محبوب کا درجہ دے دیا مجھے مبغوض رکھا، اور جس نے میری ا ہے“ (

ایک موقع پر جنت کے دونوں بارے میں فرمایا:

”اے اللہ میں ان دونوں سے مح اپنی لخت جگر حضرت سیدہ فاطمہ ر

”فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے جس ناراضگی ہوتی ہے“ (بخاری و مسلم

صفحہ 367

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 367 ماہنامہ مسیحائی کراچی

محبت کی علامات و آداب میں سے ایک اہم حق، محبت اور ادب یہ ہے کہ محبوب کا ذکر والہانہ انداز میں کثرت سے کرے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ خود محبت سے کرے، جس کی حمد وثنا اللہ بیان کرے اور قدوسیوں کی جماعت (ملائکہ ) اس کی حمد وثنا میں اللہ کی ہم نوا ہو ، اس کا ذکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اُمتی کیوں نہ کریں۔ اور اس پر درود و سلام اُمتی کیوں نہ بھیجیں۔ اسی لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حسین تذکرہ باعث رحمت وثواب اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کثرت سے درود و سلام بھیجنا باعث نجات ہے۔

محبوب کے دوستوں سے محبت:

محبت کی ایک علامت یہ ہے کہ ہر وہ چیز جس کی نسبت محبوب کی طرف ہو اسے بھی عزیز رکھے۔ اسی لیے مدینہ منورہ کا شہر ایک مسلمان کے لیے دنیا کے تمام شہروں سے زیادہ محبوب ہے کہ اس کی نسبت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہے۔ محبت کی ایک علامت یہ ہے کہ محبوب کے تعلق داروں کو بھی محبوب رکھے خواہ وہ آپ کے صحابہ ہوں یا آپ کے اہلبیت ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ان دونوں (حسن وحسین رضی اللہ عنہما) کو محبوب رکھتا ہوں ، جو شخص ان دونوں کو محبوب رکھے گویا اس نے مجھ سے اظہار محبت کیا، جو مجھ سے اظہار محبت کرتا ہے اس کو اللہ بھی اپنے یہاں محبوب کا درجہ دے دیتا ہے اور جس نے ان دونوں سے بغض رکھا اس نے مجھے مبغوض رکھا، اور جس نے میری ذات سے بغض کا اظہار کیا، اللہ بھی اسے مبغوض رکھتا ہے۔“

(جامع ترمذی،مسند احمد )

ایک موقع پر جنت کے دونوں پھولوں حضرت حسن وحضرت حسین رضی اللہ عنہما کے بارے میں فرمایا: ”اے اللہ میں ان دونوں سے محبت رکھتا ہوں تو بھی ان سے محبت کر۔“

(ترمذی)

اپنی لخت جگر حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کے بارے میں فرمایا: ”فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے جس بات سے فاطمہ کو ناراضگی ہوتی ہے اس سے مجھے بھی ناراضگی ہوتی ہے۔“

(بخاری ومسلم)

PDF 368

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ سبحانی کراچی

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے صحابہ کرام کے بارے میں بات کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے ڈرو، میرے بعد ان کو ہدف تنقید نہ بنالینا، صحابہ کرام سے محبت صرف میری وجہ سے ہے اور ان سے بغض بھی میری وجہ سے ہوگا، لہٰذا جس نے ان کو ایذاء پہنچائی اس نے مجھے ایذاء پہنچائی اور جس نے مجھے تکلیف پہنچائی اس نے اللہ کو ایذاء پہنچائی۔“

(ترمذی، احمد)

تعظیم رسول (صلی اللہ علیہ وسلم):

محبت کا ایک تقاضا یہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم و تکریم کی جائے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿لِتُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتُعَزِّرُوهُ وَتُوَقِّرُوهُ ط﴾

(سورۃ الفتح، آیت ۹)

ترجمہ: ”تاکہ ایمان لائیں اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس کی عزت وتوقیر کریں۔“

یہاں صیغہ امر کا ہے جو وجوب پر دلالت کرتا ہے تو آیت کی رو سے اللہ اور اس کے رسول پر جس طرح ایمان لانا ضروری ہے اسی طرح ان کی عزت و توقیر کرنا بھی واجب اور ضروری ہے۔ اسی لیے آپ کی نصرت و مدد کرنا اور آپ کی عزت و تکریم کرنے کو کامیابی قرار دیا ہے۔ ارشادِ خداوندی ہے:

﴿الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرٰةِ وَالْإِنْجِيلِ ز يَأْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهٰهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبٰٓئِثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَالْاَغْلٰلَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ ط فَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِهِ وَعَزَّرُوْهُ وَنَصَرُوْهُ وَاتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِيْ اُنْزِلَ مَعَهٗ لَا اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ﴾

(الاعراف، آیت ۱۵۷)

ترجمہ: ”جو اُس رسول، یعنی نبی اُمی کے پیچھے چلیں جس کا ذکر وہ تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پائیں گے جو انہیں اچھی باتوں کا حکم دے گا ، برائیوں سے روکے گا اور اُن کے لیے پاکیزہ چیزوں کو حلال اور گندی چیزوں کو حرام قرار دے گا اور اُن پر سے وہ بوجھ اور گلے کے وہ طوق اُتار دے گا جو اُن پر لدے ہوئے تھے، چنانچہ جو لوگ اس (نبی) پر

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

ایمان لائیں گے، اس کی تعظیم کر اُتارا گیا ہے اس کے پیچھے چلیں اور ارشادِ خداوندی ہے:

﴿النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ فِي تَفْعَلُوا إِلَى أَوْلِيَائِكُمْ مَّعْرُوفًا

ترجمہ: ”ایمان والوں کے اور ان کی بیویاں ان کی مائیں اور دوسرے مومنوں اور مہاجر میں) زیادہ حق رکھتے ہیں، إِلَّا کے ساتھ کوئی نیکی کرلو۔ یہ بات

اسی لیے نبی کی پکار کا جواب

﴿يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يُحْيِيْكُمْ ج وَاعْلَمُوْا اَنَّ اللّٰهَ

ترجمہ: ”اے ایمان والو! کی طرف بلائے جو تمہیں زند کے دل کے درمیان آڑ بن جا جائے گا۔“

بے ادبی سے اجتناب

اور بے شمار آیات پیش کی ہے، آپ کی عظمت، شان و

صفحہ 369

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 369 ماہنامہ سبحانی کراچی

ایمان لائیں گے، اس کی تعظیم کریں گے، اس کی مدد کریں گے اور اس کے ساتھ جو نور اُتارا گیا ہے اس کے پیچھے چلیں گے تو وہی لوگ فلاح پانے والے ہوں گے۔“

اور ارشاد خداوندی ہے:

﴿النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهٰتُهُمْ ط وَأُولُوا الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ فِي كِتٰبِ اللَّهِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَ الْمُهٰجِرِينَ إِلَّا أَنْ تَفْعَلُوا إِلَى أَوْلِيَآئِكُمْ مَّعْرُوفًا ط كَانَ ذَلِكَ فِي الْكِتٰبِ مَسْطُورًا ﴾

(الاحزاب : ۶)

ترجمہ : ” ایمان والوں کے لیے یہ نبی ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ قریب تر ہیں۔ اور ان کی بیویاں ان کی مائیں ہیں اس کے باوجود اللہ کی کتاب کے مطابق پیٹ کے رشتہ دار دوسرے مومنوں اور مہاجرین کے مقابلے میں ایک دوسرے پر (میراث کے معاملے میں ) زیادہ حق رکھتے ہیں، اِلّا یہ کہ تم اپنے دوستوں (کے حق میں کوئی وصیت کر کے اُن) کے ساتھ کوئی نیکی کرلو۔ یہ بات کتاب میں لکھی ہوئی ہے۔“

اسی لیے نبی کی پکار کا جواب دینا ضروری ہے:

﴿يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ ج وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ ﴾

(الانفال، آیت: ۲۴)

ترجمہ : ”اے ایمان والو! اللہ اور رسول کی دعوت قبول کرو، جب رسول تمہیں اس بات کی طرف بلائے جو تمہیں زندگی بخشنے والی ہے، اور یہ بات جان رکھو کہ اللہ انسان اور اس کے دل کے درمیان آڑ بن جاتا ہے اور یہ کہ تم سب کو اسی کی طرف اکٹھا کر کے لے جایا جائے گا۔“

بے ادبی سے اجتناب:

اور بے شمار آیات پیش کی جاسکتی ہیں جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کا حکم ہے، آپ کی عظمت، شانِ رفعت کو بیان کیا گیا، آپ کی اطاعت کو واجب قرار دیا، تعظیم تعظیم وواجب قرار دیا، تعظیم واجب قرار دیا، تعظیم

صفحہ 370

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 370 ماہنامہ مسیحائی کراچی

توقیر کا حکم تو قرآن نے دیا ہی ہے اس کے ساتھ ساتھ ان تمام باتوں سے بھی منع کیا ہے جن سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بے ادبی کا احتمال اور ادنیٰ شائبہ بھی ہو۔ یہود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آتے تو آپ کو راعنا کہتے اور تھوڑا منہ ٹیڑھا کر کے یہ لفظ ادا کرتے اس کا جہاں یہ معنی ہے کہ آپ ہمارا خیال رکھیے ہمارے ساتھ شفقت کا معاملہ فرمائیے وہاں اس کا معنی یہ بھی ہے (خصوصاً جب زبان ٹیڑھی کر کے یہ لفظ راعیناً بولا جائے) ہمارے چرواہے تو یہود زبان کو موڑ کر یہ لفظ کہتے اور غلط معنی مراد لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تحقیر کرتے، قرآن کریم نے اس پر رد کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ اس کے بجائے وانظرنا کا لفظ کہیں تو ان کے لیے زیادہ بہتر ہے۔

بعض مسلمان بھی اپنی سادگی میں یہ لفظ بول دیتے تھے حالاں کہ ان کا مقصد تحقیر کا ہرگز نہیں ہوتا تھا کیوں کہ وہ اس کا اچھا معنی ہی مراد لیتے تھے لیکن قرآن کریم نے صاف الفاظ میں یہ لفظ بولنے ہی سے منع کر دیا کہ کوئی اس سے تحقیر کا پہلو مراد نہ لے لے باوجود یکہ اللہ تعالیٰ جو دلوں کے راز اور سینوں کی نیتوں کو بھی جانتے ہیں مگر پھر بھی تحقیر کے ادنیٰ شائبہ کی وجہ سے منع کر دیا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَقُوْلُوا انْظُرْنَا وَاسْمَعُوْا ط وَلِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابٌ اَلِيْمٌ﴾

(البقرۃ، آیت:۱۰۴)

ترجمہ: ”ایمان والو! (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مخاطب ہو کر) راعنا نہ کہا کرو اور انظرنا کہہ دیا کرو اور سنا کرو۔ اور کافروں کے لیے درد ناک عذاب ہے۔“

اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

﴿يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيِ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ط اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ﴾

(الحجرات، آیت:۱)

ترجمہ: ”اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کے آگے نہ بڑھا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ اللہ یقیناً سب کچھ سنتا سب کچھ جانتا ہے۔“

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

اس آیت کی تفسیر میں علامہ شبیر جس معاملہ میں اللہ اور رسول آگے بڑھ کر اپنی رائے سے نہ کچھ ارشاد فرمائیں خاموشی سے جرأت نہ کرو، جو حکم ادھر سے اپنی اغراض اور اہواء و آراء کو احکام سماوی کے تابع بناؤ۔

اس آیت کے بعد اللہ تعالیٰ

﴿يٰاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِـ

ترجمہ: ”اے ایمان والو! ا بات کرتے ہوئے اس طرح کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعما

علامہ شبیر احمد عثمانیؒ اس کی ”حضور صلی اللہ علیہ وسلم بے تکلف چہک کر یا تڑخ ک اختیار کرنا خلاف ادب ہے ا ادب و شائستگی کے ساتھ۔ و مخلص مرید پیر و مرشد سے مرتبہ تو ان سب سے کہیں بڑ احتیاط رکھنی چاہیے مبادا ب وسلم کی ناخوشی کے بعد مسلـ ہونے اور ساری محنت اکا

صفحہ 371

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

اس آیت کی تفسیر میں علامہ شبیر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: جس معاملہ میں اللہ اور رسول کی طرف سے کوئی حکم ملنے کی توقع ہو اس کا فیصلہ پہلے ہی آگے بڑھ کر اپنی رائے سے نہ کر بیٹھو بلکہ حکم الٰہی کا انتظار کرو، جس وقت پیغمبر علیہ السلام کچھ ارشاد فرمائیں خاموشی سے کان لگا کر سنو، ان کے بولنے سے پہلے خود بولنے کی جرأت نہ کرو، جو حکم ادھر سے ملے اس پر بے چون و چرا اور بلا پس و پیش عامل بن جاؤ، اپنی اغراض اور اہواء و آراء کو ان کے احکام پر مقدم نہ رکھو، بلکہ اپنی خواہشات و جذبات کو احکام سماوی کے تابع بناؤ۔

اس آیت کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ ادب بھی سکھایا:

﴿يٰاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوْا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ ﴾

(الحجرات، آیت: ۲)

ترجمہ: ”اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی آواز سے بلند مت کیا کرو، اور نہ اُن سے بات کرتے ہوئے اس طرح زور سے بولا کرو جیسے تم ایک دوسرے سے زور سے بولتے ہو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال برباد ہو جائیں، اور تمہیں پتہ بھی نہ چلے۔“

علامہ شبیر احمد عثمانی اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

”حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں شور نہ کرو اور جیسے آپس میں ایک دوسرے سے بے تکلف چہک کر یا تڑخ کر بات کرتے ہو، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ طریقہ اختیار کرنا خلاف ادب ہے آپ سے خطاب کرو تو نرم آواز سے تعظیم و احترام کے لہجہ میں ادب و شائستگی کے ساتھ۔ دیکھو ایک مہذب بیٹا اپنے باپ سے، لائق شاگرد استاد سے، مخلص مرید پیر و مرشد سے، اور ایک سپاہی اپنے افسر سے کس طرح بات کرتا ہے پیغمبر کا مرتبہ تو ان سب سے کہیں بڑھ کر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کرتے وقت پوری احتیاط رکھنی چاہیے مبادا بے ادبی ہوجائے اور آپ کو تکدر پیش آئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ناخوشی کے بعد مسلمان کا ٹھکانا کہاں ہے۔ ایسی صورت میں تمام اعمال ضائع ہونے اور ساری محنت اکارت جانے کا اندیشہ ہے۔ (تنبیہ) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی

صفحہ 372

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 372 ماہنامہ سبحانی کراچی

وفات کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سننے اور پڑھنے کے وقت بھی یہی ادب چاہیے اور جو قبر شریف کے پاس حاضر ہوں وہاں بھی ان آداب کو ملحوظ رکھے۔“

اور یہ بات بھی ملحوظ رہنی چاہیے کہ ان آیات کے اولین مخاطب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے ساتھی ہیں، ذات اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی محبت ہر ایک پر عیاں ہے ان کے بارے میں بے ادبی اور گستاخی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا لیکن ایسے الفاظ یا کوئی بھی ایسا عمل جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو طبعی تکدر پیش آئے یا بے ادبی کا سا انداز ہو تو ان کو کہا جا رہا ہے کہ خیال کرو، احتیاط سے کام لو کہیں تمہارے سارے اعمال ضائع نہ ہو جائیں اور تمہیں پتہ بھی نہ چل سکے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے یہ ادب بھی سکھایا: ﴿لَا تَجْعَلُوْا دُعَاءَ الرَّسُوْلِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا ط﴾

(النور، آیت: ۶۳)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بلانے کو آپس میں ایک دوسرے کو بلانے جیسا نہ سمجھو۔“

محبت کا ثمرہ اور نتیجہ:

غرضیکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت انسانی سعادت اور راست بازی کا سر چشمہ ہے، ہم اس وجود مقدس و مطہر سے محبت رکھتے ہیں جس کو تمام کائنات انسانی میں سے اللہ تعالیٰ نے ہر طرح کی محبوبیتوں اور محمودیتوں کیلیے چن لیا اور محبوبیت عالم کی خلعت اعلیٰ صرف اسی کے وجود اقدس پر راست آیا، کرہ ارض کی سطح پر انسان کے لیے بڑی سے بڑی بات جو لکھی اور کہی جاسکتی ہے، زیادہ سے زیادہ عشق جو کیا جاسکتا ہے، اعلیٰ سے اعلیٰ مدح و ثناء جو زبان پر آسکتی ہے غرض انسان کی زبان انسان کے لیے جو کچھ کہہ سکتی اور کر سکتی ہے وہ سب کا سب اسی ایک انسان کامل واکمل کے لیے ہے۔ اور اس مجسمہ اخلاق کے سوا دوسرا کوئی اس کا مستحق نہیں۔

اور یہی محبت شدیدہ اہل ایمان کی پہچان ہیں خواہ فریب خوردگان مغرب اسے جذباتیت قرار دیں اسی عشق و محبت سے اطاعت پر دوام حاصل ہوتا ہے، یہی محبت ایک

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

مؤمن میں غیرت و حمیت پیدا کر اور پیروی آسان ہو جاتی ہے، اللہ علیہ وسلم نے کی، ’اے اللہ! ا محبوب بنادے۔“ (حصن حصین،

شاتم رسول کی سزا قر

یہی محبت کا وہ جذبہ صادقہ ہے کرتا ہے اور اسی محبت صادقہ کے محبوب کے دشمن کو محبت کرنے وا آپ کی مخالفت سے منع کیا گیا او ۔ اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ﴿يٰأَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا لَا تَكُو ”اے ایمان والو! تم ان لوگو پہنچائی۔“

وہ آیات ہم پہلے پیش کر چکے ہ جن میں بے ادبی کا ادنیٰ سا پہلو ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آخرت کی سزا کا اس طرح ذکر کر ﴿وَ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ ”اور جو لوگ اللہ کے رسول کو ا اور ایسے گستاخ کو قرآن کریم مستحق قرار دیتا ہے: ﴿اِنَّ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ اللّٰ وَاَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِيْنًا ﴾

صفحہ 373

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 373 ماہنامہ مسیحائی کراچی

مؤمن میں غیرت وحمیت پیدا کرتی ہے، اس محبت کی بدولت محبوب کے طریقوں کی نقل اور پیروی آسان ہو جاتی ہے، یہی محبت وہ آب شیریں ہے جس کی تمنا خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ، ’’اے اللہ اپنی محبت کو میرے لیے ٹھنڈے اور شیریں پانی سے زیادہ محبوب بنادے۔‘‘ (حصن حصین)

شاتم رسول کی سزا قرآن سے:

یہی محبت کا وہ جذبہ صادقہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم اور احترام پر آمادہ کرتا ہے اور اسی محبت صادقہ کے نتیجہ میں محبوب کے دوست بھی محبوب بن جاتے ہیں اور محبوب کے دشمن کو محبت کرنے والا اپنا دشمن سمجھنے لگتا ہے اسی لیے تعظیم کے حکم کے ساتھ آپ کی مخالفت سے منع کیا گیا اور اسے حبط اعمال کا سبب اور لعنت کا موجب قرار دیا گیا ۔اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا پہنچانے سے منع کیا گیا ، ارشاد ربانی ہے:

﴿يٰأَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ اٰذَوْا مُوْسٰى﴾ (الاحزاب:۶۹)

’’اے ایمان والو! تم ان لوگوں جیسے نہ بنو جنہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ایذا پہنچائی۔‘‘

وہ آیات ہم پہلے پیش کر چکے ہیں جن میں ان تمام باتوں اور انداز سے منع کیا گیا ہے جن میں بے ادبی کا ادنیٰ سا پہلو بھی نکلتا ہو۔ جو لوگ نبی کی شان میں گستاخی کے مرتکب ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایذا کے درپے ہیں قرآن کریم ان کے بارے میں آخرت کی سزا کا اس طرح ذکر کرتا ہے:

﴿وَ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ﴾ (التوبۃ:۶۱)

’’اور جو لوگ اللہ کے رسول کو دکھ پہنچاتے ہیں ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔‘‘

اور ایسے گستاخ کو قرآن کریم درد ناک عذاب کے ساتھ دونوں جہانوں میں لعنت کا مستحق قرار دیتا ہے:

﴿اِنَّ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهُ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ وَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِيْنًا﴾

صفحہ 374

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 374 ماہنامہ مسیحائی کراچی

(الاحزاب: ۵۷) ”جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچاتے ہیں اللہ نے دنیا و آخرت میں ان پر لعنت کی ہے اور ان کے لیے ایسا عذاب تیار کر رکھا جو ذلیل کر کے رکھ دے گا“۔

بعض حضرات بڑے زور وشور سے یہ کہتے پھرتے ہیں کہ گستاخ رسول کے لیے قتل کی سزا کا ذکر قرآن کریم میں موجود نہیں ہے۔ مقصد یہ ہے کہ جب قرآن کریم میں یہ سزا بیان نہیں کی گئی تو آئین میں قتل کی سزا درست نہیں اور اگر اسے تبدیل کر دیا جائے تو اتنا شور کیوں مچایا جارہا ہے اور یہ بات فخر سے وہ لوگ کہہ رہے ہیں جو سورۃ اخلاص تک صحیح طرح نہیں پڑھ سکتے، نہ انہوں نے قرآن کریم پڑھا اور نہ قرآن کریم کے اسلوب سے واقف ہیں لیکن قرآن کریم اور اس کے فیصلوں پر رائے زنی کرنا اپنا فرض منصبی سمجھتے ہیں اور یہ بات کہ قرآن میں قتل کی سزا نہیں ہے اتنے دردمندی سے کہتے ہیں جیسے باقی تمام اُمور اور ان کے تمام قوانین اور فیصلے وہ تو عین قرآن کے مطابق ہیں اور ان کی زندگیاں قرآن کریم کی تعلیمات سے سرمو انحراف نہیں کرتیں۔ حالانکہ اگر یہ قرآن کریم کے اسلوب سے واقفیت رکھتے، قرآن کریم انہوں نے غور سے پڑھا ہوتا تو یہ باتیں نہ کرتے لیکن ان کا مقصد قرآن پر عمل کرنا نہیں بلکہ سادہ لوح مسلمانوں کو مغالطہ میں ڈالنا اور قرآن کا نام لے کر اپنے مذموم مقاصد کو پورا کرنا ہے حالاں کہ آیت میں ایذاء دینے والوں اور گستاخی کرنے والوں کو دو جہانوں میں موجب لعنت قرار دیا گیا ہے اور اللہ کی لعنت کا وہی مستحق ہوتا ہے جو کافر ہو تو اس آیت سے بخوبی واضح ہوجاتا ہے کہ ایذاء دینا یہ موجب لعنت ہے یعنی موجب کفر ہے اور رسول کی شان میں گستاخی کا مرتکب کافر ہوجاتا ہے اور جو اسلام کے بعد مرتد ہوجائے قرآن کریم کی رو سے وہ واجب القتل ہے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ایذاء کو اللہ تعالیٰ نے اپنی ایذاء کہا ہے اور یہ ایذاء محفوظ الدم کو مباح الدم بنادیتی ہے۔ علامہ ابن تیمیہ نے بڑی تفصیل سے اس پر بحث کی ہے کہ لعنت اور وہ بھی دونوں جہانوں میں یا تو کافر کے لیے یا جس نے کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کیا ہو اس کے لیے یہ لفظ آیا ہے، علامہ ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں:

”وہ سارے لوگ جن پر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں لعنت کی ہے مثلاً وحی الٰہی کو

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

چھپانے والے، راہِ حق سے روکنے تو کافر ہیں یا مباح الدم بخلاف

(الصارم

اور اللہ تعالیٰ نے ان ملعونین

﴿مَلْعُوْنِیْنَ ۚ اَیْنَمَا ثُقِفُوْا

”یہ ملعونین جہاں پائے جائیں گے“۔

اس سے زیادہ وضاحت اور دوسری آیت میں ان ملعونوں کو سے خود بخود نتیجہ نکل آتا ہے کہ احزاب کی آیت میں ایذاء دین قرآن کریم میں عذاب الیم قر مہین“ کا لفظ صرف اور صر یہ موجب کفر ہے اور اس کی سز قرآن کریم کا اسلوب یہ ہ کے لیے سخت سے سخت الفاظ ہوئی اس میں حرام کا لفظ استع رجس من عمل الشيط بچو) جو شدت وزجر اور جو شِد کیوں کہ کوئی شیطانی عمل حلا حلال نہیں ہوسکتی یہ ضروری ن ہونا لازمی ہے۔ اسی طرح گست تو اس میں وہ شدت پیدا نہ ہوت قرآن کریم نے تو سزا مق

صفحہ 375

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

چھپانے والے، راہِ حق سے روکنے والے ظالم اور مؤمن کو جان بوجھ کر قتل کرنے والے یا تو کافر ہیں یا مباح الدم بخلاف بعض ان لوگوں کے جن پر حدیث میں لعنت کی گئی ہے‘‘۔

(الصارم المسلول (اردو ترجمہ)، ص ۶۳)

اور اللہ تعالیٰ نے ان ملعونین کے لیے فرمایا:

﴿مَلْعُونِينَ ، اَيْنَ مَا ثُقِفُوا اُخِذُوا وَقُتِّلُوا تَقْتِيلًا ﴾ (الاحزاب: ٦١)

”یہ ملعونین جہاں پائے جائیں گے پکڑے جائیں گے اور ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے جائیں گے ۔“

اس سے زیادہ وضاحت اور کیا ہوگی کہ جب ایک آیت میں ان کو ملعون قرار دیا گیا اور دوسری آیت میں ان ملعونوں کو پکڑنے اور ریزہ ریزہ کرنے، قتل کرنے کا حکم دیا گیا تو اس سے خود بخود نتیجہ نکل آتا ہے کہ رسول کو ایذاء دینے والوں کو قتل کیا جائے گا اسی طرح سورۃ احزاب کی آیت میں ایذاء دینے والوں کے لیے ”عذاب مھین“ کا لفظ استعمال ہوا ہے قرآن کریم میں عذاب الیم تو کفار اور مسلمانوں کے لیے استعمال ہوا ہے لیکن ”عذاب مھین“ کا لفظ صرف اور صرف کفار کے لیے استعمال ہوا ہے، تو معلوم ہوا کہ ایذاء رسول یہ موجب کفر ہے اور اس کی سزا قتل ہی ہے۔

قرآن کریم کا اسلوب یہ ہے کہ بعض اوقات ایک فعل اور عمل کی شناعت ظاہر کرنے کے لیے سخت سے سخت الفاظ استعمال کرتا ہے مثلاً شراب کی حرمت کے لیے جو آیت نازل ہوئی اس میں حرام کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا بلکہ شراب، جوئے وغیرہ کا ذکر کر کے فرمایا ” رجس من عمل الشیطن فاجتنبوہ “ (یہ ناپاک ہیں شیطان کے کام ہیں ان سے بچو) جو شدت وزجر اور جو شناعت ان الفاظ میں ہے وہ صرف لفظ حرام سے پیدا نہیں ہوتی کیوں کہ کوئی شیطانی عمل حلال اور جائز نہیں ہو سکتا اسی طرح جو ناپاک اور گندگی ہو وہ کبھی حلال نہیں ہو سکتی یہ ضروری نہیں کہ جو حرام ہو تو ناپاک بھی ہو لیکن جو ناپاک ہو اس کا حرام ہونا لازمی ہے۔ اسی طرح گستاخ رسول اور موذی رسول کی سزا میں صرف قتل کو ذکر کیا جاتا تو اس میں وہ شدت پیدا نہ ہوتی جو لعنت اور عذاب مھین کے لفظ میں ہے۔

قرآن کریم نے تو سزا کے ایسے الفاظ ذکر کیے ہیں جو قتل سے زیادہ سخت ہیں اسی لیے

صفحہ 376

ماہنامہ مسیحائی کراچی 376 حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

تو اللہ تعالیٰ نے استہزاء کرنے والوں کی سزا اپنے ذمہ لی ہے:

﴿اِنَّا كَفَيْنٰكَ الْمُسْتَهْزِءِيْنَ﴾ (الحجر آیت: ۹۵)

”ہم کافی ہیں آپ کی طرف سے ٹھٹھہ (استہزاء) کرنے والوں کو۔“

اور پھر اللہ اور اس کے رسول کی شان میں گستاخی کرنے والے اور ان کو ایذاء پہنچانے والے محاربین ہیں اللہ اور اس کے رسول کے مخالف اور ان سے محاربہ اور جنگ کرنے والے ہیں اور ایسے لوگوں کے بارے میں قرآن کریم کا حکم یہ ہے:

﴿اِنَّمَا جَزٰؤُا الَّذِيْنَ يُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهُ وَيَسْعَوْنَ فِى الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ يُّقَتَّلُوْا اَوْ يُصَلَّبُوْا اَوْ تُقَطَّعَ اَيْدِيْهِمْ وَاَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ يُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ ؕ ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْىٌ فِى الدُّنْيَا وَلَهُمْ فِى الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيْمٌ ﴾

(المائدہ: آیت ۳۳)

ترجمہ: ”جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑائی کرتے ہیں اور زمین میں فساد مچاتے پھرتے ہیں، ان کی سزا یہی ہے کہ انہیں قتل کر دیا جائے، یا سولی پر چڑھا دیا جائے، یا ان کے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ ڈالے جائیں، یا انہیں زمین سے دور کر دیا جائے۔ یہ تو دنیا میں ان کی رسوائی ہے، اور آخرت میں ان کے لیے زبردست عذاب ہے۔“

علامہ شبیر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ فساد فی الارض کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”ملک میں فساد کرنے کی بہت سی صورتیں ہیں مثلاً اہل حق دین حق سے روکے یا پیغمبروں کی اہانت کرے، یا العیاذ باللہ مرتد ہو کر اپنے وجود سے دوسرے کو مرتد ہونے کی ترغیب دے وغیرہ۔“

”اگر الفاظ قرآنی کو اس کے عموم پر رکھا جائے تو ”اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرنا“ اور زمین میں فساد اور بدامنی پھیلانا دو لفظ ایسے ہیں جن میں کفار کے حملے، ارتداد کا فتنہ، رہزنی، ڈکیتی، ناحق قتل و مجرمانہ سازشیں اور مخربانہ پروپیگنڈا سب داخل ہو سکتے ہیں اور ان میں سے ہر جرم ایسا ہے جس کا ارتکاب کرنے والا ان چاروں سزاؤں میں سے کسی ایک سزا کا ضرور مستحق ٹھہرتا ہے۔“

قرآن کریم اللہ اور اس کے رسول سے استہزاء کرنے والوں کو مرتد قرار دیتا ہے اور

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

ان کا عذر بھی قبول نہیں کرتا:

﴿قُلْ أَبِاللّٰهِ وَآيٰتِهٖ وَرَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ بَعْدَ إِيْمَانِكُمْ ط﴾ (التوبہ : )

ترجمہ: کہو کہ: ”کیا تم اللہ اور اس کی آی تھے، بہانے نہ بناؤ، تم ایمان کا اظہار کرنے ک

اور یہ بات طے ہے کہ مرتد کی سزا قتل موجب لعنت ہے، عذاب مہین اور عذاب ا ہے۔ گستاخ رسول کی سزا قتل دو وجہ سے ہ اور گستاخی ایک بڑا جرم ہے اور دوسرا یہ کہ خارج ہو جاتا ہے اور مرتد ہو جاتا ہے۔

شاتم رسول اور گستاخ رسول کی سزا قرآ کریم اس سلسلہ میں خاموش ہوتا اور ح کے لیے اس کا ماننا ضروری ہے کیوں کہ ا اختیار کرو اور جس سے منع کریں اس سے ر سے کچھ نہیں کہتے بلکہ وہ وحی ہوتی ہے ج رسول کی اطاعت کرو، رسول کی اجاز طرح واجب العمل ہے جس طرح ق

احادیث پر نظر ڈالتے ہیں تو احادیث م عیاض اندلسی نے اپنی کتاب الشفاء م سے چند احادیث نقل کی جاتی ہیں۔

شاتم رسول کی سزا احادیث ک

”حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روای جو شخص کسی نبی کو گالی دے اسے مار دو۔

صفحہ 377

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ سبحانی کراچی

ان کا عذر بھی قبول نہیں کرتا: ﴿قُلْ اَبِاللَّهِ وَايْتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُوْنَ O لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ ط ﴾

(التوبہ، ۶۵، ۶۶)

ترجمہ: کہو کہ: ”کیا تم اللہ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول کے ساتھ دل لگی کر رہے تھے، بہانے نہ بناؤ، تم ایمان کا اظہار کرنے کے بعد کفر کے مرتکب ہو چکے ہو۔“

اور یہ بات طے ہے کہ مرتد کی سزا قتل ہے لہٰذا قرآن کریم کی رو سے گستاخ رسول موجب لعنت ہے، عذاب مہین اور عذاب الیم کا مستحق ہے اور اس کی سزا اس دنیا میں قتل ہے۔ گستاخ رسول کی سزا قتل دو وجہ سے ہے ایک یہ کہ خود رسول کی شان میں سب وشتم اور گستاخی ایک بڑا جرم ہے اور دوسرا یہ کہ اس سب وشتم کی وجہ سے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے اور مرتد ہو جاتا ہے۔

شاتم رسول اور گستاخ رسول کی سزا قرآن کریم سے ہم نے واضح کی اگر بالفرض قرآن کریم اس سلسلہ میں خاموش ہوتا اور حدیث سے اس کی سزا کا پتہ چلتا تو بھی ہر مسلمان کے لیے اس کا ماننا ضروری ہے کیوں کہ خود قرآن کریم کہتا ہے رسول تمہیں جو حکم دیں وہ اختیار کرو اور جس سے منع کریں اس سے باز آجاؤ، قرآن کریم کہتا ہے ”رسول اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتے بلکہ وہ وحی ہوتی ہے جو ان کی طرف بھیجی جاتی ہے“ قرآن کہتا ہے کہ رسول کی اطاعت کرو، رسول کی اتباع کرو تو پھر جو بات حدیث سے ثابت ہو وہ بھی اسی طرح واجب العمل ہے جس طرح قرآن کریم سے کسی حکم کا ثابت ہونا اور جب ہم احادیث پر نظر ڈالتے ہیں تو احادیث میں بھی شاتم رسول کی سزا قتل ہی ملتی ہے۔ قاضی عیاض اندلسی نے اپنی کتاب الشفاء میں اس سلسلہ کی متعدد احادیث جمع کی ہیں اسی کتاب سے چند احادیث نقل کی جاتی ہیں۔

شاتم رسول کی سزا احادیث سے:

”حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی نبی کو گالی دے اسے مار دو۔

صفحہ 378

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 378 ماہنامہ مسیحائی کراچی

صحیح حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کعب بن اشرف کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ”کون کعب بن اشرف کو ٹھکانے لگائے گا کیوں کہ وہ اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء دیتا ہے۔ اس حدیث سے یہ ثابت ہوا کہ کعب بن اشرف کا قتل اس کے شرک کی وجہ سے نہیں بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء پہنچانے کی وجہ سے تھا۔

اسی طرح ابو رافع کا قتل ہے۔ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء دیا کرتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بر خلاف دشمنوں کی مدد کرتا تھا۔ اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو گایا کرتا تھا۔

ایسا ہی فتح مکہ کے دن آپ نے ابن خطل اور اس کی دونوں لونڈیوں کے قتل کا حکم دیا تھا وہ لونڈیاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گانے میں گالیاں دیا کرتی تھیں۔

ایک اور حدیث میں ہے کہ ”ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دیا کرتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کون شخص میرے اس دشمن کو ٹھکانے لگائے گا۔ تب حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اس کام کا بیڑا اٹھایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھیجا اور انہوں نے جا کر اس ملعون کو واصل جہنم کیا۔ اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار کی اس پوری جماعت کو قتل کرنے کا حکم دیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء دیا کرتی اور اکثر و بیشتر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتیں ان میں نضر بن الحارث اور عقبہ بن ابی محیط جیسے کفار تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ سے قبل اور بعد صحابہ کرام سے ان کے قتل کا وعدہ لیا تھا چنانچہ وہ سب قتل کیے گئے البتہ گرفتار ہونے سے پہلے جس نے اسلام قبول کر لیا اسے معاف کر دیا گیا۔

بزار نے روایت بیان کی ہے کہ جب عقبہ بن ابی محیط قتل ہونے لگا تو اس نے پکار کر کہا: قبیلہ قریش کے لوگو! دیکھو! آج میں تمہارے سامنے قتل کیا جا رہا ہوں (اور تم خاموش ہو) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” بكفرك وافترائك على رسول الله ﷺ “ ( تو اپنے کفر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر افتراء پردازی کے باعث قتل ہو رہا ہے)۔

عبدالرزاق نے ذکر کیا ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دی تو

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کون ”میں“ پھر انہوں نے اس سے جنگ کر روایت ہے کہ ”ایک عورت نبی کریم اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کون اس عورت نے اس عورت کو قتل کر دیا۔

یہ بھی روایت ہے کہ ایک مرتبہ ایک تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی ایسے شخص کو قتل کر ڈالیں، ابن قانع نے صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر میں نے اپنے باپ کو آپ صلی اللہ علیہ تو مجھ سے برداشت نہ ہوسکا اور میں علیہ وسلم کو ناگوار نہ گزری۔

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور یمن میں ارتداد کا زمانہ تھا تو ایک عورت تھی، مہاجر بن ابی امیہ کو یہ بات معلوم کے سامنے والے دانت تڑوا دیئے۔ ح اگر تم ایسا نہ کرتے تو میں تمہیں اس والوں کی سزا عام لوگوں کو گالی دینے عباسؓ سے روایت ہے کہ قبیلہ خطمہ ک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”می اسی کے قبیلے کا ایک شخص کھڑا ہوا اور ا قتل کر دیا اس کے بعد نبی اکرم صلی ال فرمایا: ” لا ينتطح فيها عنزان “ خون مباح ہے کچھ حرج نہیں ہوا اور ا

صفحہ 379

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کون شخص اس سے نپٹے گا؟ حضرت زبیر نے عرض کیا: "میں" پھر انہوں نے اس سے جنگ کر کے اسے ٹھکانے لگایا۔

روایت ہے کہ "ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیا کرتی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کون اس عورت کی زبان کو بند کرے گا" جناب خالد رضی اللہ عنہ نے اس عورت کو قتل کر دیا۔

یہ بھی روایت ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو بھیجا کہ ایسے شخص کو قتل کر ڈالیں، ابن قانع نے روایت کی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم): میں نے اپنے باپ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کے کلمات کہتے ہوئے سنا تو مجھ سے برداشت نہ ہو سکا اور میں نے اسے قتل کر دیا اس کی یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ناگوار نہ گزری۔

حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں مہاجر بن ابی امیہ یمن کے حاکم تھے جب یمن میں ارتداد کا زمانہ تھا تو ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گانے میں گالی دیا کرتی تھی، مہاجر بن ابی امیہ کو یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے اس عورت کا ہاتھ کٹوا دیا اور اس کے سامنے والے دانت تڑوا دیئے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو یہ بات معلوم ہوئی تو فرمایا اگر تم ایسا نہ کرتے تو میں تمہیں اس عورت کے قتل کا حکم دیتا کیوں کہ انبیاء کو گالی دینے والوں کی سزا عام لوگوں کو گالی دینے والے کی سزا کے برابر نہیں ہونی چاہیے۔ حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ قبیلہ خطمہ کی ایک عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میرے لیے کون شخص اس عورت کو ٹھکانے لگائے گا" تو اسی کے قبیلے کا ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے کہا "میں یہ کام کروں گا" وہ گیا اور اس عورت کو قتل کر دیا اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "لا ينتطح فيها عنزان" (اس میں تو بکریاں بھی سینگ نہیں مارتیں) یعنی اس کا خون مباح ہے کچھ حرج نہیں ہوا اور نہ اس میں کوئی فتنہ ہے یہ ایک مثال بیان فرمائی۔

صفحہ 380

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 380 ماہنامہ سبحانی کراچی

سنن ابوداؤد و سنن نسائی میں شاتم رسول کی بابت مروی روایات:

حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ ایک نابینا صحابی کی ایک باندی تھی جو اکثر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہتی انہوں نے اسے بار ہا منع کیا اور تنبیہ کی لیکن وہ نہ مانی ایک رات وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بدزبانی کر رہی تھی کہ نابینا صحابی نے اسے قتل کر دیا اور آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مطلع کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا خون مباح فرما دیا۔ (ابوداؤد، نسائی)

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا قول اس بارے میں حرف آخر:

حضرت ابو برزہ رضی اللہ عنہ اسلمی کی روایت میں ہے کہ ایک دن میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کسی وجہ سے ایک مسلمان پر ناراض ہوئے۔ قاضی اسماعیل اور دیگر ائمہ حدیث کا بیان ہے کہ اس نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو گالی دی۔ یہ نسائی شریف کی روایت میں ہے۔ راوی کا بیان ہے کہ جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اسے ڈانٹا تو اس نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ جواب میں بدزبانی کی۔ تب میں نے کہا: اے خلیفہ رسول! مجھے اجازت دیں تو اس شخص کی گردن مار دوں؟“ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا تم بیٹھو یہ حق سوائے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی کے لیے نہیں ہے۔ قاضی ابو محمد بن نصر نے کہا کہ جس وقت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ بات فرمائی تو صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے کسی نے اس بات کی تردید نہیں کی اس واقعہ سے علمائے حدیث نے استدلال کرتے ہوئے کہا ہے: ”جو شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ناراض کرے یا کوئی ایسا عمل کرے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی کا باعث ہو یا وہ عمل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکلیف کا باعث ہو یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دے تو اسے قتل کر دینا چاہیے۔“ ان دلائل میں سے ایک دلیل یہ بھی ہے کہ کوفہ کے حاکم نے حضرت عمر بن عبدالعزیز سے دریافت کیا کہ کیا میں اس شخص کو قتل کر دوں جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو گالی دے؟ تو

صفحہ 381

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 381 ماہنامہ سبحانی کراچی

انہوں نے جواب میں لکھا : ”گالی دینے کی بناء پر کسی مسلمان کو قتل کرنا جائز نہیں البتہ جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دے۔ اسے قتل کرنا جائز ہے البتہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دے اس کا خون حلال ہے۔“

ایک مرتبہ خلیفہ ہارون رشید نے امام مالکؒ سے دریافت کیا کہ جو شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دے اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟ انہیں بتلایا کہ فقہائے عراق نے تو فتوی دیا ہے کہ اسے کوڑے مارے جائیں تو امام مالکؒ غصہ ہو گئے اور فرمایا کہ ” امیر المؤمنین جو اُمت اپنے نبی کو گالی دے پھر اس کا کیا ٹھکانہ ہے، جو انبیاء کو گالی دے اسے قتل کرنا چاہیے اور جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کو گالی بکے اسے درّے رسید کرنے چاہیے۔

(کتاب الشفاء، جلد ۲، (اردو ترجمہ) ص ۳۷۷ تا ۳۸۰)

شاتم رسول کا قتل رحمت کے منافی نہیں:

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ آج کل بڑے زور و شور سے کہا جا رہا ہے کہ اسلام میں اتنی سختی نہیں اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تو رحمۃ للعالمین ہیں اور آپ نے تو کبھی انتقام نہیں لیا بلکہ ہمیشہ عفو و درگزر سے کام لیا ہے تو پھر یہ علماء اس قدر کیوں سختی کر رہے ہیں۔ علماء کا یہ طرز عمل حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز عمل سے مختلف ہے، لیکن یہ بھی عامۃ المسلمین اور عوام الناس کو گمراہ کرنے اور راہِ راست سے ہٹانے کے لیے ایک مغالطہ ہے، اول بات تو یہ ہے کہ یقیناً حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سراپا رحمت ہیں اور آپ نے ہمیشہ عفو و درگزر سے کام لیا ہے، اور یہ بات بھی مسلم ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنی ذات کے لیے انتقام نہیں لیا لیکن جہاں تک تعلق ہے اللہ تعالیٰ کے احکامات کو نافذ کرنا خصوصاً حدود اللہ کو قائم اور نافذ کرنے میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی نرمی کا برتاؤ نہیں کیا کتنی ہی احادیث میں آتا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی ایسی بات سن کر یا کوئی ایسا عمل دیکھ کر جس میں اللہ کے احکامات کی خلاف ورزی ہوتی ہو ناراض ہوئے، غصہ سے آپ کا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا، اور تو اور جب آنحضرت

صفحہ 382

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 382 ماہنامہ سبحانی کراچی

صلی اللہ علیہ وسلم کے چہیتے اور لاڈلے صحابی حضرت اسامہ نے لوگوں کے کہنے پر کسی عورت کی سزا کے بارے میں سفارش کرنا چاہی تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر ناراض اور غصہ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ” تم اس عورت کی سفارش کرتے ہو اگر (العیاذ باللہ ) فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا۔“

اسی لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سے مواقع پر متعدد صحابہ پر سزا اور حد جاری کی، اسی طرح جیسا کہ اس سے پہلے واقعات سے معلوم ہوا، خود حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو ان موذی لوگوں کے قتل کے لیے بھیجا جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء پہنچاتے تھے، اسی طرح جن صحابہ کرام نے از خود ان گستاخوں کو قتل کیا تو نہ صرف یہ کہ ان سے آپ نے کوئی باز پرس نہیں کی بلکہ ان مقتولین کا خون ہدر اور ضائع قرار دے دیا۔

جس نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر اپنی بے مثال شان رحمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے عام معافی کا اعلان کیا وہاں کچھ ایسے بد باطن لوگوں کے قتل کا حکم بھی دیا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخیاں کرتے اور آپ کی ہجو کرتے تھے، تو معلوم ہوا کہ ایسے موذی اور گستاخوں کو قتل کرنا ہی رحمت ہے، کیوں کہ جسد انسانیت میں ان کی مثال ناسور کی سی ہے اور اگر کسی کی انگلی یا جسم کے حصہ میں ناسور ہو جائے تو ڈاکٹر اس کا ہاتھ کاٹ دیتے ہیں اور ساری دنیا یہ جانتی اور مانتی ہے کہ یہ اس شخص کے حق میں شفقت ہے کوئی اسے ظلم نہیں کہتا کیوں کہ ہر شخص یہ سمجھتا ہے کہ اگر یہ ناسور نہ کاٹا گیا تو اس کا زہر پورے بدن میں سرایت کر جائے گا جس سے موت یقینی ہے اسی طرح اس گستاخی کے ناسور کو بھی جسد ملت سے کاٹ دینا ضروری ہے۔ اسی لیے تو قصاص جو بظاہر قتل ہے مگر قرآن کریم اسے حیات سے تعبیر کرتا ہے کیوں کہ اس کے ذریعہ کشت و خون کی بدامنی سے انسانیت کو نجات ملتی ہے۔

پھر یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی حیات مبارکہ میں یہ حق حاصل تھا کہ آپ ان گستاخوں اور آپ کو ایذاء پہنچانے والوں کو معاف کردیں کیوں کہ یہ آپ کا ذاتی حق تھا لیکن آپ کے وصال کے بعد اب یہ حکم الٰہی بن چکا ہے اب کسی کو اس کی معافی

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء کا حق حاصل نہیں اور ویسے اسلام ایذاء پہنچائے جب تک بندہ اپنا حق اور کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنی طرف

شتم رسل غضب الٰہی

پھر یہ بھی یاد رہنا چاہیے کہ اگر یہ جرم غضب الٰہی کو دعوت دے گا نشانہ بنتا ہے اور پورا خطہ ارضی اس کا سفیر ہوتا ہے اور دنیا کا ضابطہ نہیں کرتی تو اللہ تعالیٰ اپنے سفیر سے غیرت مند ہیں۔

شاتم رسول کی سزا

یہی وجہ ہے کہ آج تک تمام قتل ہے اس پر اُمت کا اجماع سزا کے بارے میں دو رائے ”اسی طرح جو شخص آپ صلی حق میں بددعا کرے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایسی شے نہ ہو اور اس کا مقصد آپ صلی اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان بری بات کہے، یا جھوٹ کہے پر عار دلائے یا بشریت کی وجہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لاحق ہو

صفحہ 383

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۰ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

کا حق حاصل نہیں اور ویسے اسلام کا عام اصول ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کا حق مارے یا اس کو ایذاء پہنچائے جب تک بندہ اپنا حق معاف نہ کردے تو اللہ بھی اسے معاف نہیں کرتا اور نہ کسی اور کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنی طرف سے اس بندہ کا حق معاف کر دے۔

شتم رسول غضب الہی کو دعوت دیتا ہے:

پھر یہ بھی یاد رہنا چاہیے کہ اگر شاتم رسول سے انتقام نہ لیا جائے، اسے سزا نہ دی جائے تو یہ جرم غضب الہی کو دعوت دے گا اور جب غضب الہی قہر بن کر نازل ہوتا ہے تو ہر ایک اس کا نشانہ بنتا ہے اور پورا خطہ ارضی اس غضب و عذاب کا شکار بنتا ہے کیوں کہ اس دنیا میں نبی اللہ کا سفیر ہوتا ہے اور دنیا کا ضابطہ بھی ہے کہ کوئی ملک و حکومت اپنے سفیر کی توہین برداشت نہیں کرتی تو اللہ تعالیٰ اپنے سفیر کی توہین کیونکر برداشت کر سکتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ تو سب سے غیرت مند ہیں۔

شاتم رسول کی سزا پر علماء کا اجماع:

یہی وجہ ہے کہ آج تک تمام علماء اور اصحاب فتویٰ کا اتفاق ہے کہ شاتم رسول کی سزا قتل ہے اس پر اُمت کا اجماع ہے اور ائمہ اُمت میں ایسے گستاخ اور شاتم رسول کی سزا کے بارے میں دو رائے نہیں ہوئیں۔ قاضی عیاض اندلسیؒ لکھتے ہیں: ”اسی طرح جو شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر لعنت کرے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں بد دعا کرے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کسی ضرر کی آرزو کرے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایسی شے کی نسبت کرے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے لائق نہ ہو اور اس کا مقصد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی برائی یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر عیب لگانا ہو یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بیہودہ کلام کرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو برا کہے یا بری بات کہے، یا جھوٹ کہے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جو سختیاں یا مصیبتیں آئیں ان کی بناء پر عار دلائے یا بشریت کی وجہ سے عادۃً جو عارضے (از قسم بیماری، بھوک، وفات) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لاحق ہوئے ان کی بناء پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قدر کو کم کرے یہ

صفحہ 384

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

سب ناجائز اور حرام کام ہیں اس پر علماء کرام اور صحابہ کرامؓ سے لے کر آج تک جتنے فتویٰ دینے والے امام گزرے ہیں سب کا اتفاق واجماع ہے۔

ابوبکر بن منذر نے کہا ہے کہ عامہ اہل علم کا اس امر پر اجماع ہے کہ جو شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دے اسے قتل کر دینا چاہیے۔ یہ بات حضرت مالک بن انس، لیث، احمد اور اسحق وغیرہم نے بھی کہی ہے، یہی امام شافعیؒ کا مسلک ہے۔

قاضی ابو الفضل نے کہا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے قول کا بھی یہی تقاضا ہے اور تمام علماء کے نزدیک ایسے شخص کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔ امام ابو حنیفہؒ اور ان کے ساتھی نیز سفیان ثوری، اہل کوفہ اور اوزاعی کا بھی یہی خیال ہے البتہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ”یہ عمل ارتداد ہے“ ولید بن مسلم نے امام مالکؒ سے بھی یہی نقل کیا ہے۔ امام ابو حنیفہؒ اور ان کے اصحاب سے بھی یہی روایت ہے کہ جو شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں نقص نکالے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے براءت کا اظہار کرے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کرے بقول سحنون وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دینے والوں میں شمار کیا جائے گا اور یہ سارے کام ارتداد اور زندقہ کے ہیں۔

(کتاب الشفاء، جلد دوم، ۳۶۸، ۳۶۷)

علامہ ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں:

”اُمت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں تنقیص اور گستاخی کرنے والا مسلمان واجب القتل ہے، علماء نے اس کے قتل نیز کفر پر اجماع نقل کیا ۔“

امام اسحاق بن راہویہؒ فرماتے ہیں:

”تمام مسلمان متفق ہیں کہ جو شخص اللہ تعالیٰ یا اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرے یا اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کسی بات کا انکار کرے یا انبیائے کرام علیہم السلام میں سے کسی کے قتل کا مرتکب ہو وہ کافر ہے خواہ وہ بقایا سارے نازل شدہ کلام کو مانتا ہو۔“

امام خطابی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

”میرے علم کے مطابق کسی مسلمان نے شاتم رسول کی سزائے موت کے وجوب میں اختلاف نہیں کیا۔“

محمد بن سحنون رحمۃ اللہ علیہ کا ارشاد ہے:

صفحہ 385

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ سبحانی کراچی

”تمام علماء یک زبان ہیں کہ شانِ رسالت میں گستاخی اور تنقیص کا مرتکب کافر ہے، اس پر عذاب الٰہی کی وعید آئی ہے اور اُمت محمدیہ کے نزدیک اسکی شرعی سزا قتل ہے اور جو شخص اس کے کفر وعذاب میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔“

(الصارم المسلول علی شاتم الرسول (اردو ترجمہ)، صفحہ نمبر ۲۴)

”جس مسلمان نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بات کو جھٹلایا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں کوئی عیب نکالا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تنقیص کی وہ کافر ومرتد ہو گیا اور اس کا نکاح ٹوٹ گیا، پھر اگر وہ اپنے اس کفر سے توبہ (کر کے اسلام و نکاح کی تجدید) کرلے تو ٹھیک ورنہ اسے قتل کر دیا جائے۔“ (کتاب الخراج: ۱۹۷)

علامہ ابن عابدین شامیؒ لکھتے ہیں: ترجمہ: ”جو ملعون اور موذی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ عالی میں گستاخی کرے اور سب وشتم کرے اس کے بارے میں مسلمانوں کے دل ٹھنڈے نہیں ہوتے جب تک کہ اس خبیث کو سخت سزا کے بعد قتل نہ کیا جائے یا سولی پر نہ لٹکایا جائے، کیوں کہ وہ اسی سزا کا مستحق ہے، اور یہ سزا دوسروں کے لیے عبرت ہے“۔ (رسائل ابن عابدین: ۳۴۷/۱)

فقہ حنفی کی ممتاز شخصیت امام سرخسیؒ نے شاتم رسول کے قتل پر اجماع نقل کرتے ہوئے لکھا ہے: ”جس شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر شتم کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی، دین یا شخصی اعتبار سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر عیب لگایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات میں سے کسی صفت پر نکتہ چینی کی تو چاہے یہ شاتم رسول مسلمان ہو یا غیر مسلم، یہودی ہو یا عیسائی یا غیر اہل کتاب، ذمی ہو یا حربی، خواہ یہ شتم واہانت عمداً ہو یا سہواً، سنجیدگی سے ہو یا بطور مذاق وہ دائمی طور پر کافر ہوا۔ اس طرح پر کہ اگر وہ توبہ بھی کرلے تو اس کی توبہ نہ عند اللہ قبول ہوگی نہ عند الناس اور شریعت مطہرہ میں متاخر ومتقدم تمام مجتہدین کے نزدیک اس کی سزا اجماعاً قتل ہے ۔“ (خلاصۃ الفتاویٰ: ۲۸۶/۳)

صفحہ 386

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

مذاہب اربعہ کی فقہ پر مشہور کتاب ”الفقہ علی المذاہب الاربعہ“ کا یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیں:

”ارتداد معاذ اللہ اس مسلمان کا کفر ہے جس کا اسلام ثابت ہو چکا ہو اور یہ ارتداد لازم آئے گا صریح قول سے جیسے اس کا یہ کہنا: میں خدا کا شریک ٹھہراتا ہوں، یا کسی ایسے فعل سے جو بالکل ظاہری طور پر کفر کو مستلزم ہو یا کسی نبی پر سب وشتم ہے جس کی نبوت پر اُمت کا اجماع ہو، یا نبی یا فرشتے کے بارے میں نقص کا الزام لگانے سے خواہ جسمانی نقص ہی کیوں نہ ہو، جیسے لنگڑا پن اور مفلوج ہونا۔ ائمہ اربعہ کا اس پر اتفاق ہے کہ معاذ اللہ جس کا مرتد ہونا ثابت ہو جائے اس کا قتل واجب ہے اور وہ مہدور الدم ہے۔“

علامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں:

ترجمہ: ”امام سبکیؒ فرماتے ہیں کہ اگرچہ ہم نے اسی کو ترجیح دی ہے کہ جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اہانت کے بعد تائب ہو جائے، دوبارہ اسلام قبول کرلے اور حسن اسلام کا مظاہرہ کرے اس کی توبہ قبول کی جائے گی، اور اس سے قتل کی سزا ساقط ہو جائے گی اور وہ آخرت میں ناجی ہوگا، لیکن جس شخص سے ایسی چیز صادر ہو، ہمیں اس کے حق میں سوء خاتمہ کا اندیشہ ہے (اللہ تعالیٰ پناہ میں رکھے) کیوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ عالی کی بے ادبی نہایت سنگین جرم ہے اور اس معاملے میں حق تعالیٰ شانہ کی غیرت نہایت شدید ہے اس لیے جو شخص کسی ایسی چیز کا مرتکب ہو اس کے بارے میں شدید اندیشہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے توبہ کی توفیق سے محروم کر دیں اس کا ایمان واپس نہ لوٹائیں اور اسے ہدایت کی توفیق نہ دیں۔“

(رسائل ابن عابدین: ۳۵۱/۲)

غرضیکہ تمام علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ شاتم رسول اور گستاخ رسول کی سزا قتل ہے، اس میں کوئی اختلاف نہیں، اگرچہ اس بارے میں اختلاف رائے ہے کہ ایسے شخص کی یہ سزا توبہ کے بعد ساقط ہوگی یا نہیں تو امام مالکؒ اور امام احمدؒ کے نزدیک یہ اہانت رسول ایسا جرم عظیم ہے کہ توبہ کے بعد بھی قتل کی سزا ساقط نہیں ہوتی ، بہت سے فقہاء احناف اور شوافع کا بھی یہی فتویٰ ہے، اگرچہ امام ابو حنیفہؒ اور امام شافعیؒ کا ایک قول یہ ہے کہ توبہ کرنے کے

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

بعد قتل کی سزا ساقط ہو جائے گی، لیکن ان تعزیری سزا جاری کرنا ضروری ہے۔ اس پاکستان کے قانون میں بھی یہی سزا ہے،

آج کل بلاوجہ اس قانون کے خلاف ، بے سروپا باتوں اور غلط پروپیگنڈے او لوگوں کے بارے میں مولانا محمد یوسف ل کر کے اپنی بات ختم کرتا ہوں:

”جس طبقہ کی نمائندگی آج کل کی جا میں اسلامی غیرت وحمیت کے تقاضوں کے لوگ شامل ہیں: اوّل: وہ ناواقف عقائد ونظریات کیا ہیں؟ اور ان کے د عداوت کے کیسے جذبات موجزن ہیں ،

دوسری قسم وہ تعلیم یافتہ طبقہ ہے، جو ونفرت ہے اور دین سے بیزاری اس بنیاد پر افراد اور ملتوں کی تقسیم ہی کا قا اہل حق اور اہل باطل سب کو ایک ہی آ کے نزدیک دین اور دینداری کا نام ہی

تیسری قسم ان لوگوں کی ہے جو و معاشرہ پر بڑے بڑے مقالے تحریر فرما ہیں، لیکن ان کے نزدیک دین بس اس قومی وملی مصروفیات کے ہجوم میں کبھی ا لیے ان کے حریم قلب میں دینی حمیت اور یہ حضرات بڑی معصومیت سے پو ان کا یہ سارا درد؟ خدا اور رسول اور دی

صفحہ 387

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

بعد قتل کی سزا ساقط ہوجائے گی، لیکن ان کے نزدیک بھی ایسے لوگوں پر توبہ کے مناسب تعزیری سزا جاری کرنا ضروری ہے۔ اسی پر تمام اسلامی حکومتیں عمل کرتی آئی ہیں اور اب پاکستان کے قانون میں بھی یہی سزا ہے۔

آج کل بلاوجہ اس قانون کے خلاف شور اور واویلا مچایا جارہا ہے اور دور از کار تاویلات ، بے سروپا باتوں اور غلط پروپیگنڈے اور مغالطوں سے آسمان سر پر اٹھایا ہوا ہے، ایسے لوگوں کے بارے میں مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید رحمہ اللہ تعالیٰ کا ایک اقتباس نقل کر کے اپنی بات ختم کرتا ہوں:

’’جس طبقہ کی نمائندگی آج کل کی جارہی ہے ہمیں افسوس ہے کہ وہ جوش رواداری میں اسلامی غیرت وحمیت کے تقاضوں کو پشت انداز کر رہا ہے اور اس طبقہ میں تین قسم کے لوگ شامل ہیں: اوّل: وہ ناواقف اور جاہل لوگ جو نہیں جانتے کہ قادیانیوں کے عقائد ونظریات کیا ہیں؟ اور ان کے دلوں میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بغض و عداوت کے کیسے جذبات موجزن ہیں۔

دوسری قسم وہ تعلیم یافتہ طبقہ ہے، جو ملحد ولا دین ہے جس کو دین اور اہل دین سے بغض ونفرت ہے اور دین سے بیزاری اس کے نزدیک گویا فیشن میں داخل ہے وہ مذہب کی بنیاد پر افراد اور ملتوں کی تقسیم ہی کا قائل نہیں۔ وہ مؤمن وکافر، ایماندار اور بے ایمان، اہلِ حق اور اہلِ باطل سب کو ایک ہی آنکھ سے دیکھتا اور ایک ہی ترازو سے تولتا ہے، اس کے نزدیک دین اور دینداری کا نام لینا ہی سب سے بڑا جرم ہے۔

تیسری قسم ان لوگوں کی ہے جو دین پسند کہلاتے ہیں۔ دینی موضوعات اور اصلاحِ معاشرہ پر بڑے بڑے مقالے تحریر فرماتے ہیں۔ بظاہر اسلام کے نقیب اور داعی نظر آتے ہیں، لیکن ان کے نزدیک دین بس اسی نعرہ بازی اور مقالہ نگاری کا نام ہے۔ انہیں اپنی قومی وملّی مصروفیات کے ہجوم میں کبھی اہل دین اور اہل دل کی صحبت کا موقع نہیں ملا، اس لیے ان کے حریم قلب میں دینی حمیت وغیرت کے بجائے مصلحت پسندی کا سکہ رائج ہے اور یہ حضرات بڑی معصومیت سے رواداری اور کشادہ دلی کا وعظ فرماتے رہتے ہیں۔ لیکن ان کا یہ سارا وعظ خدا اور رسول اور دین وملت کے غداروں سے رواداری تک محدود ہے

صفحہ 388

ماہنامہ سبحانی کراچی حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

اگر ان کی ذاتی املاک کو کوئی شخص نقصان پہنچائے، ان کی اپنی عزت و ناموس پر حملہ کرے وہ رواداری کا سارا وعظ بھول جائیں گے۔ ان کی رگ حمیت پھڑک اٹھے گی ان کا جذبہ انتقام بیدار ہو جائے گا اور وہ اس موذی کو کیفر کردار تک پہنچا کر ہی دم لیں گے، لیکن اگر کوئی خدا اور رسول کی عزت پر حملہ کرتا ہو، دین میں قطع و برید کرتا ہو، اکابر اُمت پر کیچڑ اچھالتا ہو اس کے خلاف ان کی زبان وقلم سے ایک حرف نہیں نکلے گا، بلکہ یہ حضرات ایسے موذیوں کا تعاقب کرنے والوں کو درس رواداری دینے لگیں گے۔“ (تحفہ قادیانیت : ۱/ ۶۳۴۔۶۳۷)

”تاریخ بتاتی ہے ایسی قومیں جن میں مذکورہ بالا تین طبقات کی اکثریت ہو وہ جلد یا بدیر تحلیل ہو کر رہ جاتی ہیں، خصوصاً تیسری قسم کے لوگ جو دینی حمیت و غیرت سے خالی اور احساس خود تحفظی سے عاری ہوں وہ بہت جلد مقہور و محکوم ہو کر رہ جاتے ہیں۔“ (تحفہ قادیانیت: ۶۳۷/۱)

اللہ تعالیٰ ہم سب کو صحیح سمجھ عطا فرمائے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی محبت و عقیدت نصیب فرمائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و حرمت کے لیے مر مٹنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم

سید شمس وارثی

تابندہ قائم رہے گی شوکت و شان حرا
روز محشر سرخ رُو ہوں گے ثناء خوان حرا
سب سے پہلے نور ونکہت کی کرن پھوٹی جہاں
علم وحکمت کا ہے مینارہ دبستان حرا
بارگاہ شافع محشر میں یہ مقبول ہو
بخش میں نے نعت لکھی ہے بعنوان حرا
صفحہ 389

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۰ء 389 ماہنامہ سبحانی کراچی

قانون تحفظ ناموس رسالت ﷺ کی اہمیت

اور پیپلز پارٹی کا طرز عمل

تحریر: صادق علی زاہد

ابتدائیہ: اسلامی تعلیمات و نظریات سے بیگانگی اور مادہ پرستی کی ہوس کی بدولت آج ہم اس خطر ناک مقام پر پہنچ چکے ہیں کہ قادیانی، یہودی و صہیونی لابی نے عزت و ناموس رسالت ﷺ کے مسئلہ کو ”چیک میٹر“ بنا لیا ہے۔ جونہی پاکستان میں حکومت تبدیل ہوتی ہے، سب سے پہلے اس مسئلہ کو ہوا دے کر ”غیرت مسلم“ کا جائزہ لینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ حالات و واقعات ثابت کر رہے ہیں کہ ہمیشہ سے پاکستان میں حکومت کی تبدیلی پاکستانی عوام کی مرضی سے نہیں، بلکہ صہیونی و یہودی لابی کی پسند و ناپسند سے ہی ہو رہی ہے۔ جن کی بھر پور کوشش ہے کہ پاکستان بھی ترکی جیسا ایک غیر اسلامی ”اسلامی ملک“ بن جائے۔ (العیاذ باللہ) اگر ہمارا طرز عمل اسی طرح دین اسلام سے بیگانگی و برگشتگی پر مبنی رہا تو یہ خطرہ ہے کہ ایک دن یہ سامراجی، یہودی و صہیونی لابی اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہو جائے گی۔

اسلام سے برگشتہ اور اسلامی تعلیمات پر نکتہ چینی کرنے والے نام نہاد مسلمانوں کو جس طرح یورپی ممالک عزت و توقیر سے نوازتے ہیں، یہ سراسر قابل اعتراض اور اشتعال انگیز حرکت ہے۔ گستاخ رسول ملعون سلمان رشدی ہو یا تسلیمہ نسرین، انھیں امریکہ و یورپ میں ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے اور میڈیا میں انہیں ہیرو بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ جو کہ امریکہ و یورپ کے اسلام کے خلاف اندرونی بغض و عناد کا کھلم کھلا اظہار ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یورپ ابھی تک صلیبی اثرات سے آزاد نہیں ہو سکا۔ اور اب اس تعصب کے جراثیم پوری طرح امریکہ کو بھی منتقل

صفحہ 390

ماہنامہ سبحانی کراچی 390 حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

چکے ہیں۔ مغربی دنیا کی بھر پور کوشش ہے کہ روشن خیالی، آزاد روی اور جدیدیت کے نام پر مسلمانوں کو ان کے بنیادی اعتقادات سے بھی دور کر دیا جائے۔

قانون ناموس رسالت ﷺ کی اہمیت:

مسلمانوں کے لیے رسول اکرم ﷺ کی ذات، ان کی اپنی ذات سے بہت بڑھ کر ہے۔ آپ ﷺ کی بیویاں سب مسلمانوں کے لیے ماں کا درجہ رکھتی ہیں، آپ ﷺ اور ازواج مطہرات کے بارے میں فحش گوئی اور بدکلامی سے مسلمانوں کو تکلیف پہنچنا ایک لازمی وفطری عمل ہے۔

نبی اکرم ﷺ کی عزت و تکریم کی حفاظت ہر مسلمان پر فرض ہی نہیں بلکہ بنیاد ایمان ہے۔ کیونکہ ادب ہوگا تو دل میں تعظیم ہوگی، تعظیم ہوگی تو اس کے ہر حکم کی تعمیل کا جذبہ پیدا ہوگا، جب تعمیل حکم کی خو پختہ ہوگی تو محبت کی نعمت مرحمت فرمائی جائے گی، اور محبوب خداوند ذوالجلال کے عشق کی شمع فروزاں ہوگی اور حریم کبریائی تک جانے کا سارا راستہ منور ہو جائے گا۔ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

”اے نبی ﷺ بے شک ہم نے آپ کو بھیجا شاہد و مبشر اور نذیر بنا کر، تاکہ اے لوگو ! تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیر کرو اور صبح و شام اللہ کی تسبیح (پاکی) بیان کرو“

(1)

”دوسری جگہ آپ ﷺ کی عزت و توقیر کی اہمیت ان الفاظ میں بیان فرمائی! ”پس جو لوگ اس رسول ﷺ پر ایمان لائیں اور اس کی تعظیم کریں اور اسکی مدد کریں اور اس نور کی اتباع کریں جو اس کے ساتھ اترا، وہی کامیاب ہونے والے ہیں۔“

(2)

نبی اکرم ﷺ کی عزت و توقیر کس حد تک کی جائے اس بارے میں ارشاد ربانی ملاحظہ فرمائیں۔

”اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی ﷺ کی آواز سے بلند نہ کرو اور ان کی موجودگی میں بلند آواز سے بات نہ کرو جس طرح بلند آواز سے تم ایک دوسرے کے ساتھ بات کرتے ہو۔ ایسا نہ ہو کہ تمہارے سب اعمال ضائع ہو جائیں اور تمہیں پتہ بھی نہ چلے“

(3)

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

صحابہ کرام تو پہلے ہی مجسم ادب تھے رسول ﷺ کے بارے میں مزید احتیا رسالت ﷺ میں حاضر ہونے کے مرقوم ہے کہ اس آیت مبارکہ کے معمول بنا لیا تھا کہ جب بھی کوئی ب پہنچتا تو آپ اس وفد کی طرف ایک آپ ﷺ کی بارگاہ میں حاضری ہو ایسے الفاظ جن میں توہین کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

”اے ایمان والو! ر یں عرض کرو کہ حضور ﷺ ہم پر نظر سے سنا کرو (تاکہ بار بار تم لوگوں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عروہ بن مسعود ثقفی کی زبانی ملا حظ

”اے قوم کے لوگو موقع ملا ہے، میں نے قیصر و کسر نے کسی بادشاہ کو نہیں دیکھا کہ ا اصحاب محمد (ﷺ) آپ ﷺ پھینکتے ہیں تو گرنے سے پہلے ک بدن پر مل لیتا ہے۔ جب آپ جانے کی کوشش کرتے ہیں۔

صفحہ 391

ماہنامہ مسیحائی کراچی حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

صحابہ کرام تو پہلے ہی مجسم ادب تھے لیکن اس آیت مبارکہ کے نزول کے بعد ادب واحترام رسول ﷺ کے بارے میں مزید محتاط ہو گئے۔ خود ہی محتاط نہ ہوئے بلکہ دوسروں کو بھی بارگاہ رسالت ﷺ میں حاضر ہونے سے قبل ”آداب باریابی“ سے مطلع فرماتے۔ کتب سیر میں مرقوم ہے کہ اس آیت مبارکہ کے نزول کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے معمول بنالیا تھا کہ جب بھی کوئی بیرونی وفد آپ ﷺ سے ملاقات کی غرض سے مدینہ طیبہ پہنچتا تو آپ اس وفد کی طرف ایک خاص آدمی کو روانہ کرتے جو اس وفد میں شامل لوگوں کو آپ ﷺ کی بارگاہ میں حاضری اور بات چیت کے آداب سے آگاہ کرتا۔

ایسے الفاظ جن میں توہین رسالت ﷺ کا شائبہ بھی موجود ہو ان کے استعمال سے منع کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا!

”اے ایمان والو (جب تم رسول ﷺ سے بات کرو تو ) ”رَاعِنَا“ نہ کہو بلکہ یو ں عرض کرو کہ حضور ﷺ ہم پر نظر فرمائیے اور (جب حضور ﷺ ارشاد فرما رہے ہوں تو ) غور سے سنا کرو (تاکہ بار بار تم لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر آپ ﷺ کو تکلیف محسوس نہ ہو )

(4)

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کس طرح حضور ﷺ کی تعظیم وتکریم کرتے تھے اس کا حال عروہ بن مسعود ثقفی کی زبانی ملاحظہ فرمائیے، جو صلح حدیبیہ سے واپسی کے بعد انہوں نے اپنی قوم کے سامنے بیان کیا۔

”اے قوم کے لوگو! خدا کی قسم مجھے کئی بادشاہوں کے درباروں میں جانے کا موقع ملا ہے، میں نے قیصر وکسریٰ اور نجاشی کے دربار میں بھی دیکھے ہیں، مگر خدا کی قسم میں نے کسی بادشاہ کو نہیں دیکھا کہ اس کے ساتھی اس کی اتنی عزت وتکریم کرتے ہوں جتنی اصحاب محمد (ﷺ) آپ ﷺ کی کرتے ہیں۔ خدا کی قسم آپ ﷺ رینٹ، تھوک یا بلغم پھینکتے ہیں تو گرنے سے پہلے کسی صحابی کا ہاتھ اس کے نیچے ہوتا ہے اور وہ اسکو اپنے منہ اور بدن پر مل لیتا ہے۔ جب آپ ﷺ کوئی حکم کرتے ہیں تو وہ ایک دوسرے پر بازی لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب وہ وضو کرتے ہیں تو وضو کے گرنے والے پانی پر وہ اس

صفحہ 392

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

طرح ٹوٹ پڑتے ہیں کہ گمان ہوتا ہے کہ آپس میں لڑمریں گے۔ اور جب وہ بات کرتے ہیں تو سب اپنی آوازیں پست کرلیتے ہیں اور ان کی تعظیم وتوقیر کی وجہ سے کوئی ان کی طرف تیز نگاہی سے دیکھ نہیں سکتا۔ انہوں نے رشد و ہدایت کا جو کام تم پر پیش کیا ہے اسے قبول کرلو۔‘‘(5)

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ادب رسول ﷺ کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔

’’جس وقت آپ ﷺ بات شروع کرتے تو آپ ﷺ کے ہم نشین اس طرح سر جھکا لیتے ، گویا ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوئے ہیں (اگر حرکت کی تو اڑ جائیں گے)(6)

جہاں حضور ﷺ کی عزت وتکریم کرنے کا حکم دیا گیا ہے ساتھ ہی آپ ﷺ کو ایذا وتکلیف دینے سے باز رہنے کے احکام بھی موجود ہیں ملاحظہ فرمائیں۔

’’بے شک جو لوگ تکلیف پہنچاتے ہیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو ان پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے دین وآخرت میں‘‘ (7)

’’اے ایمان والوں! ان لوگوں کی طرح مت ہو جاؤ جنہوں نے تکلیف پہنچائی موسیٰ (علیہ السلام) کو۔‘‘(8)

یعنی جس طرح بنی اسرائیل نے اپنے نبی (موسیٰ علیہ السلام) کو اپنے اقوال و افعال سے تکالیف پہنچائیں، اسی طرح تم بھی اپنے نبی ﷺ کو اپنی کسی حرکت وعمل سے تکلیف نہ پہنچاؤ، ورنہ تمہارا حال بھی وہی ہوسکتا ہے جو بنی اسرائیل کا ہوا۔

نبی اکرم ﷺ کو تکلیف کس طرح پہنچتی ہے اس کی وضاحت بھی فرمادی۔

’’اور ان (منافقین) میں سے ایسے لوگ بھی ہیں، جو تکلیف پہنچاتے ہیں نبی ﷺ کو اور کہتے ہیں یہ شخص کانوں کا کچا ہے۔‘‘(9)

امام لغت علامہ جوہری کے نزدیک ’’رجل اذن‘‘ اس شخص کو کہتے ہیں جو ہر کسی کی بات سن لے۔ (10) حضور ﷺ چونکہ اپنے بیگانے سب کی بات سنتے اور مشیت الٰہی کے مطابق

صفحہ 393

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

جس طرح مناسب ہوتا عمل فرماتے رہتے تھے۔ اس پر منافقین کو گمان ہوا کہ ہماری باتوں کا آپ ﷺ پر بہت اثر ہوتا ہے ہم جو چاہیں کرتے پھریں، بارگاہ رسالت ﷺ میں ہمارے بہانے کام کر جاتے ہیں اور ہم سے باز پرس نہیں ہوتی۔ (جبکہ محض از راہِ شفقت و پردہ پوشی آپ ﷺ ان سے اعراض فرماتے تھے ) چنانچہ آیت بالا کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے فرما دیا کہ تمہارا یہ کہنا نبی ﷺ کے لیے باعث تکلیف ہے چنانچہ اس سے باز آ جاؤ ورنہ تمہارے لئے سخت عذاب ہے۔

آپ ﷺ کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جب کبھی مسجد نبوی کے قریب و جوار میں کسی کو کیل یا میخ ٹھونکتے سنتیں تو کہلا بھیجتیں کہ اس طرح ضرب لگانے کے شور سے حضور ﷺ کو تکلیف ہوتی ہے لہٰذا ایسا شور کرنے سے باز رہو۔ (11)

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنے گھر کے دروازے تیار کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی تو آپ نے مناصع (مدینہ منورہ سے باہر ایک بستی کا نام) میں تیار کروائے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کی تیاری کے دوران لکڑی کا شور اُٹھے اور حضور ﷺ کو تکلیف ہو۔ (12)

حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کسی شخص کو مسجد نبوی میں ہنستے ہوئے سنا ، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے بلا کر اس کا اتا پتہ پوچھا تو معلوم ہوا کہ طائف کا رہنے والا ہے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا اگر تم مدینہ میں رہنے والے ہوتے تو میں تمہیں سزا دیتا، اس مسجد میں آوازیں بلند نہیں کی جاتیں۔ (13)

ابن وہب رحمۃ اللہ علیہ نے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کیا ہے کہ ”جو شخص کہے کہ رسول کریم ﷺ کی چادر میلی ہے اور اس کا مقصد آپ ﷺ کی ذات میں عیب نکالنا ہو تو اسے قتل کیا جائے گا ۔“ (14)

یہ مثالیں واضح کر رہی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا حکم مانتے ہوئے، صحابہ کرامؓ حضور ﷺ کے ادب و احترام کا کس حد تک خیال رکھتے تھے۔ آخر میں یہ بھی ملاحظہ فرمائیں کہ اتنی واضح تعلیمات کے باوجود اگر کوئی بدبخت حضور ﷺ کے ناموس کے بارے میں ناپسندیدہ

صفحہ 394

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 394 ماہنامہ مسیحائی کراچی

عمل کرے تو اس کا کیا حشر ہوگا، ارشاد ربانی ہے!

”بے شک وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرتے ہیں ان کو ہلاک کیا جائے گا جس طرح ان لوگوں کو ہلاک کیا گیا جو ان سے پہلے تھے۔“

(15)

مزید فرمایا! ”جو لوگ اللہ تعالیٰ اور رسول ﷺ کی مخالفت کرتے ہیں یہ ذلیل ترین لوگ ہیں۔“

(16)

ناموس رسالت کا پاس نہ رکھنے والوں سے مومنین کا کوئی تعلق نہ ہونا چاہئے

ارشاد ربانی ہے!

”جو لوگ خدا اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، تم انہیں خدا اور رسول ﷺ کے دشمنوں سے دوستی کرتے ہوئے نہ دیکھو گے۔“

(17)

شاتمان رسالت کو سزا سے بچانے کیلئے قوانین میں ترمیم کرنے والوں اور گستاخان رسول کی وکالت کر کے انہیں سزا سے بچانے کی کوشش کرنے والوں کی آنکھیں کھولنے کیلئے اس حکم ربانی کا مطالعہ کافی ہوگا۔ فاعتبروا یا اولی الابصار.

ابولہب اور ولید بن مغیرہ نے شان رسالت میں گستاخی کا ارتکاب کیا تو ان کے بارے میں سورۃ اللھب اور سورۃ القلم کی آیات نازل ہوئیں۔ شاتمان رسالت کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے جلال کی مثال دیکھنا چاہو تو سورۃ اللھب اور سورۃ قلم کی آیات (۱۰ تا ۱۳) پر ایک نظر ڈالو۔ آنکھیں کھل جائیں گی۔ نبی اکرم ﷺ کے مبارک عہد، خلافت راشدہ نیز آغاز اسلام سے آج تک تاریخ کے صفحات اس بات پر گواہی دے رہے ہیں، کہ جب بھی کسی منافق یا کافر نے شان رسالت میں گستاخی کرنے کی جرأت کی (مسلمان کا ذکر اس لئے نہیں کر رہا کہ مسلمان گستاخی کرنا تو درکنار، شان رسالت میں گستاخی کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ جونہی کسی مسلمان کے دل میں شان رسالت میں گستاخی کرنے کا خیال آیا، ساتھ ہی ایمان رخصت ہو گیا اور نفاق داخل ہو گیا۔ اس لئے میں نے منافق اور کافر کے الفاظ ہی استعمال کئے ہیں) اسے صفحۂ ہستی سے مٹا دیا گیا۔ حضرت زید بن خطاب، حضرت

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

مالک بن امیہ، غازی علم دین، غازی کس کس فرزند اسلام کا نام لوں جس کو بند کر دیا۔ اور خود خلد بریں میں ج کا امتحان لینے سے باز رہے۔ امت رسول کی پشت پناہی کی کوشش کی اس

مزید قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ فرما

”جان لو! بے شک نبی پ ﷺ کی وفات کے بعد بھی اس ظاہری حیات میں ضروری ولازم تھی ﷺ کی حدیث شریف کی تلاوت ﷺ کی سیرت طیبہ کے سننے کے وق

علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ

ادب گاہیست زیر
نفس گم کردہ می آ

پیپلز پارٹی کا طرز عمل: ناموس ر

امت، غرض ہر پہلو سے طے شدہ م ہی ملکی قانون میں یہ مسئلہ حل شدہ والے یہ بدیشی حکمران، اپنے آقا پاکستان، پاکستانی عوام کا نہیں، کہ ا ہماری اور سامراجی ایجنٹوں کی مشبو ”آئینی اصلاحات“ ٹھونس دو، کسی بطور جماعت، پیپلز پارٹ

صفحہ 395

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 395 ماہنامہ مسیحائی کراچی

مالک بن امیہ، غازی علم دین، غازی مرید حسین، غازی عبدالرشید رحمۃ اللہ علیہم ،تاریخ سے کس کس فرزند اسلام کا نام لوں جنھوں نے ناموس رسالت کے خلاف بولنے والی زبانوں کو بند کر دیا۔ اور خود خلد بریں میں جابسے۔ حکومت وقت سے گزارش ہے کہ غیرت مسلماں کا امتحان لینے سے باز رہے۔ اقتدار کے نشے میں سرمست ہو کر جس نے بھی گستاخان رسول کی پشت پناہی کی کوشش کی اس کی دنیا و آخرت تباہ ہونے کا اشارہ قرآن وحدیث میں موجود قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔

”جان لو! بے شک نبی کریم ﷺ کی عزت وحرمت اور آپ ﷺ کی تعظیم وتوقیر آ پ ﷺ کی وفات کے بعد بھی اسی طرح ضروری ولازم ہے۔ جس طرح آپ ﷺ کی ظاہری حیات میں ضروری ولازم تھی۔ اس کا اظہار خصوصاً آپ ﷺ کے ذکر مبارک، آپ ﷺ کی حدیث شریف کی تلاوت ، آپ ﷺ کی سنت ، آپ ﷺ کے نام مبارک اور آپ ﷺ کی سیرت طیبہ کے سننے کے وقت ہونا چاہئے۔“ (18)

علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کا یہ ارشاد بھی پیش نظر رہے!

ادب گاہیست زیر آسماں از عرش نازک تر
نفس گم کردہ می آید ، جنید و بایزید ایں جا

پیپلز پارٹی کا طرز عمل: ناموس رسالت ﷺ کا مسئلہ قرآن وحدیث،عمل صحابہ اور اجماع امت، غرض ہر پہلو سے طے شدہ ہے۔ جبکہ پاکستان میں بھی موجودہ حکومت کی تشکیل سے قبل ہی ملکی قانون میں یہ مسئلہ حل شدہ ہے،مگر سامراجی قوتوں کی آشیر باد سے برسر اقتدار آنے والے یہ بدیشی حکمران ،اپنے آپ کو ”مالک الملک “ سمجھ بیٹھے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ پاکستان ،پاکستانی عوام کا نہیں ،کہ اس میں عوامی امنگوں کا ترجمان آئین نافذ کیا جائے ۔ بلکہ یہ ہماری اور سامراجی ایجنٹوں کی مشترکہ سٹیٹ ہے ، عوام ہمارے غلام ہیں اور غلاموں پر جو چاہو ” آئینی اصلاحات “ ٹھونس دو، کسی کی کیا مجال ہے جو ہمارے حکم نامہ سے سرتابی کرے۔ بطور جماعت ، پیپلز پارٹی کی دین اسلام اور ملک پاکستان سے برگشتگی و بیگانگی کسی

صفحہ 396

حرمت رسول نمبر 2011ء 396 ماہنامہ مسیحائی کراچی

سے ڈھکی چھپی بات نہیں رہی۔ یہ حقیقت ساری پاکستانی قوم کے علم میں ہے کہ اس جماعت کے خالق نے ، اقتدار کی لیلیٰ سے چمٹنے کی خاطر ملک عزیز کو دو لخت کرنے سے بھی گریز نہ کیا تھا۔ جب اقتدار مل ہی گیا تو بچے کھچے پاکستان کو ’سول مارشل لاء‘ کا تحفہ بھی ”قائد عوام“ نے ہی دیا تھا۔ جبکہ قانون ناموس رسالت کی مخالفت کر کے سامراجی قوتوں کی آشیر باد اور خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کرنا، موجودہ حکمرانوں کو اپنی ”محبوب قائد“ سے ورثہ میں ملا ہے۔ اس سلسلہ میں چند تاریخی حقائق ملاحظہ فرمائیں ۔

1860ء میں جب برصغیر پر برطانوی سامراج کا تسلط قائم ہو گیا تو تمام اسلامی قوانین بیک جنبش قلم منسوخ کر کے ان کی جگہ برطانوی قوانین نافذ کر دیے گئے تو مذہب و بانیان مذہب کے تحفظ کے لیے کوئی قانون مقرر نہ کیا گیا۔ ہندوؤں آریاؤں اور عیسائیوں نے اسلام اور بانی اسلام ﷺ کے خلاف انتہائی سوقیانہ زبان استعمال کر کے مسلمانوں کی دل آزاری کرنا معمول بنا لیا۔ اس سلسلہ میں 1898ء میں دفعہ 153۔ الف ایزاد کر کے فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے والوں کے لیے دو سال قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں مقرر ہوئیں (19) گستاخ رسول راجپال کی طرف سے کتاب ”رنگیلا رسول“ کی اشاعت پر یہ نزاع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب عدالت نے راجپال کو یہ کہہ کر بری کر دیا کہ مذکورہ الزام 153 الف یا کسی دیگر دفعہ کے زمرہ میں نہیں آتا۔ اس پر مولانا محمد علی جوہر کی قیادت میں 21 ستمبر 1927ء میں اسلامیان ہند کے پُر زور مطالبہ پر تعزیرات ہند میں دفعہ 295 میں شق الف کا اضافہ کر کے مذہبی اعتقادات کی توہین کرنے والے کی سزا دو سال تک قید بمعہ یا بدوں جرمانہ مقرر ہوئی (20) ۔ 1980ء میں ایک آرڈیننس کے ذریعے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298 میں ذیلی شق ”الف“ کا اضافہ کر کے ”امہات المومنین“ ”اہل بیت عظام“ اور ”خلفائے راشدین“ کی کسر شان یا توہین کے جرم کی سزا تین سال قید یا کوڑوں کی سزا یا دونوں کر دی گئی۔ (21) تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298 میں ذیلی شق ”الف“ کی رو سے ”امہات المومنین“ ”اہل بیت عظام“ اور ”خلفائے راشدین“ کی کسر شان یا توہین کے جرم کی سزا تو تین سال

حرمت رسول نمبر 2011ء

قید یا کوڑوں کی سزا یا دونوں کر دی گئی لیکن مقرر ہی نہ کی گئی اسی دوران عاصمہ جہا محترمہ آپا نثار فاطمہ صاحبہ نے قومی ا بل پیش کیا جو فوجداری قانون (ترمیم ہوا، اور اس بل کی رو سے تعزیرات پا گیا۔ (22) یہی دفعہ قانون توہین رسا ہونے والے کے لیے ”سزائے موت شاتم رسول کی سزا صرف اور صرف ”قتل اسلامی قانون کے خلاف سمجھتے ہوئے عدالت نے قرآن وسنت کی روشنی اور م بینی سے جائزہ لیا۔ علماء کرام ، وکلاء، م اکتوبر 1990ء میں وفاقی شرعی عدالت میں پانچ رکنی بینچ نے فیصلہ سناتے ہوئے شرعی ہے، شاتم رسول کی سزا صرف قتل کر کے اس میں سے ”یا عمر قید مع جرمانہ رکھی جائے۔ اگر حکومت نے اس سلسلہ عمر قید مع جرمانہ“ کے الفاظ ختم سمجھے جا ہوگی ۔“ (23) اس وقت بینظیر بھٹو، سر کرنے کی غرض سے قانون توہین رسال کوشش کر رہی تھیں ۔ وفاقی شرعی عدالت قانون کی کوئی اصلاح نہ کی ۔ چنا 30 اپریل 1991ء کے بعد دفعہ 295

صفحہ 397

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 397 ماہنامہ مسیحائی کراچی

قید یا کوڑوں کی سزا یا دونوں کر دی گئی لیکن شان رسالت میں گستاخی کرنے والے کی سزا واضح طور پر مقرر ہی نہ کی گئی اسی دوران عاصمہ جہانگیر قادیانیہ توہین رسالت کی مرتکب ہوئی ممبر قومی اسمبلی محترمہ آپا نثار فاطمہ صاحبہ نے قومی اسمبلی میں توہین رسالت کی سزا ”سزائے موت“ کا ترمیمی بل پیش کیا جو فوجداری قانون (ترمیمی) ایکٹ نمبر 3 سال 1986ء کی صورت میں منظور ہوا، اور اس بل کی رو سے تعزیرات پاکستان میں دفعہ 295 میں ذیلی شق ”سی“ کا اضافہ کیا گیا۔ (22) یہی دفعہ قانون توہین رسالت کہلاتی ہے جس کی رو سے توہین رسالت کا مرتکب ہونے والے کے لیے ”سزائے موت یا عمر قید“ کی سزا تجویز کی گئی تھی۔ جبکہ اسلامی قانون میں شاتم رسول کی سزا صرف اور صرف ”قتل“ ہے ”یا عمر قید“ کی رعایت موجود نہیں۔ لہٰذا اس دفعہ کو اسلامی قانون کے خلاف سمجھتے ہوئے ، وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کر دیا گیا۔ وفاقی شرعی عدالت نے قرآن و سنت کی روشنی اور حالات حاضرہ کے تناظر میں اس قانون کا بڑی باریک بینی سے جائزہ لیا۔ علماء کرام، وکلاء، ماہرین قانون اور حکومت پاکستان کا موقف سن کر 30 اکتوبر 1990ء میں وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس جناب گل محمد صاحب کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے فیصلہ سناتے ہوئے صدر پاکستان کو ہدایت جاری کی کہ ”عمر قید کی سزا غیر شرعی ہے، شاتم رسول کی سزا صرف قتل ہے لہٰذا 30 اپریل 1991ء تک اس قانون کی اصلاح کر کے اس میں سے ”یا عمر قید مع جرمانہ“ کے الفاظ ختم کر دیے جائیں اور ”سزائے موت“ قائم رکھی جائے۔ اگر حکومت نے اس سلسلہ میں کوئی اقدام نہ کیا تو 30 اپریل 1991ء کے بعد ”یا عمر قید مع جرمانہ“ کے الفاظ ختم سمجھے جائیں گے اور اس جرم کی سزا قانوناً صرف ”سزائے موت“ ہوگی۔“ (23) اس وقت بینظیر بھٹو، سر برآرائے تخت تھیں جو مغربی آقاؤں کی خوشنودی حاصل کرنے کی غرض سے قانون توہین رسالت ﷺ کو ختم یا تبدیل کر کے غیر مؤثر بنانے کی ہر ممکن کوشش کر رہی تھیں۔ وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ اسے ایک آنکھ نہ بھایا اور مذکورہ تاریخ تک اس قانون کی کوئی اصلاح نہ کی ۔ چنانچہ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلہ کے مطابق 30 اپریل 1991ء کے بعد دفعہ 295 شق C میں سے ”یا عمر قید مع جرمانہ“ کے الفاظ خود بخود

صفحہ 398

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

کالعدم قرار پائے۔ اسی دوران بے نظیر بھٹو مسند اقتدار سے لڑھک گئیں اور میاں محمد نواز شریف سریر آرائے اقتدار ہوئے تو اس قانون کی اصلاح وترمیم کے لیے قومی اسمبلی نے 2 جون کو متفقہ قرار داد پاس کی کہ ”شاتم رسول کی سزا صرف موت ہے، عمر قید یا جرمانہ غیر شرعی ہے۔ جبکہ 8 جولائی 1992 کو سینٹ نے متفقہ طور پر اس ترمیمی بل کی توثیق کردی۔

(24)

قومی اسمبلی میں اس بل پر بحث کے دوران، بطور اپوزیشن لیڈر، بے نظیر بھٹو نے پریس کو بیان جاری کیا کہ ”12 کروڑ عوام ناموس رسالت کی حفاظت خود کرسکتے ہیں، حکومت ناموس رسالت کے سلسلہ میں سزائے موت کا قانون پارلیمنٹ میں پیش کر کے، ملک کو بنیاد پرستوں کی ریاست بنانے کی سازش کر رہی ہے، جو کہ بنیادی طور قائد اعظم کے نظریات کے خلاف ہے، اور عوام کے بنیادی حقوق سلب کرنے کے مترادف ہے، اور اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش ہے۔ شہادتوں کی بنا پر شاتم رسول کو سزا دینا اس لیے معنی نہیں رکھتا کہ اس ملک میں تو ارکان پارلیمنٹ کو خرید لیا جاتا ہے اس صورت میں کرایہ کے گواہوں کی موجودگی میں انصاف کی توقع نہیں رکھی جاسکتی“

(25)

پی پی پی ہی کے نمائندہ چوہدری الطاف حسین (سابق گورنر پنجاب) نے اس بل پر بحث کے دوران کہا ”شاتم رسول کو سزائے موت دینے کا اختیار ریاست کو نہیں ملنا چاہیے“ سید نوید قمر(موجودہ وفاقی وزیر۔۔۔۔) نے اس بل کو مذہبی انتہا پسندی قرار دیتے ہوئے کہا ”ہم رسول اکرمﷺ کی عزت وتکریم میں کسی سے پیچھے نہیں لیکن ہم مذہبی انتہا پسندی کے خلاف ہیں“

بعد میں جب بینظیر بھٹو، اپنے بیان کے مطابق، اراکین اسمبلی کو خرید کر، دوبارہ وزیر اعظم بن بیٹھی، تو اس کی سب سے پہلی ترجیح، قانون توہین رسالتﷺ میں ترمیم کر کے سزائے موت کو منسوخ کرنا قرار پایا۔ اخباری اطلاعات کے مطابق ”پیپلز پارٹی کی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ قانون توہین رسالت میں ترمیم کر کے سزائے موت کو دس سال قید میں بدل دیا جائے۔ اس بات کا فیصلہ منگل کے روز وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات خالد احمد خاں کھرل نے بتایا کہ کابینہ

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

نے وزارت قانون کو ہدایت کر دی کے بل کا مسودہ تیار کرلے، جس میں زیادہ دس سال سزائے قید رکھی جائے وفاقی وزیر داخلہ نصیر اللہ با بارے میں اگر شکایت بے بنیاد پائی گا کنندہ جو جھوٹی رپورٹ پولیس کو مہیا کر جون 1994ء کو وزیر اعظم ممالک کے دورے پر گئیں، ماہر ا کیا تو وفاقی وزیر قانون و پارلیمانی ا اخبار ”آئرش ٹائمز“ کے حوالے سے حیدر نے کہا ”وفاقی کابینہ نے قانون سے اب پولیس کو اس قانون کی ش اختیار حاصل نہیں رہا۔ اقبال حیدر نے حکومت ملک میں ”مذہبی انتہا پسندی یقین دہانی ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سیکر قانون توہین رسالت ہوئے وفاقی وزیر قانون و پارلیما جاری کرتے ہوئے کہا ”توہین ر منشور کا حصہ ہے اور یہ تبدیلیاں ا غلط طور پر استعمال نہ ہو سکے“ نیز بیان بھی شائع ہوا جس میں اس ب موجود ہے۔ حکومت اس قانون م

صفحہ 399

ماہنامہ مسیحائی کراچی 399 حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

نے وزارت قانون کو ہدایت کر دی ہے کہ وہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ C-295 میں ترمیم کر کے بل کا مسودہ تیار کرلے، جس میں توہین رسالت کے مرتکب کی سزا میں کمی کر کے زیادہ سے زیادہ دس سال سزائے قید رکھی جائے‘‘ (26)

وفاقی وزیر داخلہ نصیر اللہ بابر نے کہا ”مجوزہ ترمیم کی رو سے، قانون توہین رسالت کے بارے میں اگر شکایت بے بنیاد پائی گئی تو شکایت کنندہ کے خلاف مقدمہ درج ہوگا اور ایسا شکایت کنندہ جو جھوٹی رپورٹ پولیس کو مہیا کرے گا، اس کو دس سال تک قید کی سزا ہوگی۔“

جون 1994ء کو وزیر اعظم بے نظیر بھٹو اپنے وزراء کی ”فوج ظفر موج“ کے ہمراہ بیرونی ممالک کے دورے پر گئیں، سامراجی قوتوں نے قانون توہین رسالت میں تبدیلی کا مطالبہ کیا تو وفاقی وزیر قانون و پارلیمانی اُمور اقبال حیدر کی طرف بیان جاری ہوا جو آئرلینڈ کے مقبول اخبار ”آئرش ٹائمز“ کے حوالے سے 3 جولائی کو تمام ملکی اخبارات میں شائع ہوا، اس بیان میں اقبال حیدر نے کہا ”وفاقی کابینہ نے قانون توہین رسالت میں تبدیلی کی منظوری دے دی ہے، اور اس ترمیم سے اب پولیس کو اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو گرفتار کرنے اور جیل بھجوانے کا اختیار حاصل نہیں رہا۔ اقبال حیدر نے مزید کہا کہ پاکستان ایک جدید اسلامی ریاست ہے اور موجودہ حکومت ملک میں ”مذہبی انتہا پسندی“ کو بالکل نہیں چاہتی۔ ”آئرش ٹائمز“ کے مطابق انہوں نے یہ یقین دہانی ایمنسٹی انٹرنیشنل کی میری لالور کو ایک ملاقات میں کرائی“

قانون توہین رسالت میں تبدیلی کو پی پی پی کے انتخابی منشور کا حصہ قرار دیتے ہوئے وفاقی وزیر قانون و پارلیمانی اُمور اقبال حیدر نے 7 جولائی 1994 کو اخباری بیان جاری کرتے ہوئے کہا ”توہین مذہب کے قانون میں مناسب تبدیلیاں کرنا ہمارے انتخابی منشور کا حصہ ہے اور یہ تبدیلیاں اس طرح کی جائیں گی کہ یہ قانون کسی بے گناہ شخص کے خلاف غلط طور پر استعمال نہ ہو سکے“ نیز اسی دن وفاقی وزیر خصوصی تعلیم و سماجی بہبود ڈاکٹر شیر افگن کا بیان بھی شائع ہوا جس میں اس نے کہا کہ ”توہین رسالت کے قانون میں ترمیم کی گنجائش موجود ہے۔ حکومت اس قانون میں ترمیم کر رہی ہے، جس کے ذریعہ مقدمہ درج کرنے سے

صفحہ 400

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 400 ماہنامہ مسیحائی کراچی پہلے سیشن جج اس معاملہ کی تحقیق کریں گے اور اس کے بعد اگر ضرورت ہوگی تو مقدمہ درج کیے جانے کی سفارش کریں گے، اسی دن گورنر پنجاب الطاف حسین نے بھی قانون توہین رسالت میں ترمیم کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ”گستاخ رسول کی سزا میں کمی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، البتہ الزام کی تصدیق کے لیے، مقدمہ کے اندراج کے طریقہ کار میں تبدیلی ہو سکتی ہے، الزام کنندہ ڈپٹی کمشنر کو درخواست دے گا، اگر تحقیقات میں الزام سچ ثابت ہو گیا تو اس قصور کی سزا پھانسی ہے اس میں معافی کا تصور ہی نہیں“ پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں منظور احمد وٹو نے بھی کہا کہ ”حکومت ناموس رسالت قانون میں مناسب ترمیم کر رہی ہے“ مشیر انسانی حقوق کامران حیدر نے کہا کہ ”مجوزہ ترمیم کے بعد جھوٹا مقدمہ درج کرانیوالے کو دس سال قید کی سزا دی جاسکے گی اور اس کا اندراج کسی ڈپٹی کمشنر کے عہدہ کے افسر کی ابتدائی تفتیش کے بعد ہی ہوگا“

1995ء میں، گوجرانوالہ کے گاؤں رتہ دھوتراں تھانہ کوٹ لدھا کے مشہور مقدمہ توہین رسالت کے ملزمان کو جب سیشن کورٹ لاہور نے سزائے موت سنائی تو بے نظیر بھٹو نے وزیر اعظم پاکستان کی حیثیت سے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے اس سزا کو سخت قرار دیا، اور حکومتی سر پرستی میں ملزمان کی اپیل لاہور ہائی کورٹ کے دو ایڈہاک جج صاحبان کے سپرد کر کے آناً فاناً مقدمہ کی سماعت کروائی، چند ہی دن میں ملزمان کو بری قرار دے کر ان کو بطور وی آئی پی مہمان جرمنی روانہ کر دیا گیا۔ جرمنی کے کثیر الاشاعت ہفت روزہ ’شپیگل‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے دونوں ملزمان نے بے نظیر بھٹو کی عنایات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ”وہ اپنی جانیں بے نظیر بھٹو پر قربان کر سکتے ہیں کیوں کہ ان کی وجہ سے وہ پھانسی سے بچ گئے ہیں، اگر نواز شریف کی حکومت ہوتی تو انہیں سزائے موت دے دی جاتی۔“ اس کے برعکس شیخ رشید احمد نے بے نظیر کی ”شان میں گستاخی“ کا جرم سرزد کیا تو اس کی جیل میں موجودگی کے باوجود پولیس نے اس کے گھر ”لال حویلی“ پر چھاپہ مار کر ”کلاشنکوف“ برآمد کرلی۔ اور شیخ رشید کو سات سال قید سنا دی گئی۔ اس سزا پر تبصرہ کرتے ہوئے بے نظیر نے کہا کہ یہ عدالتی معاملہ ہے۔ توہین عدالت کے مرتکب افراد کے خلاف کسی قسم کی رعایت برتے بغیر کاروائی کی جائے گی۔

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء مندرجہ بالا بیانات سے یہ توہین رسالت کی کبھی قائل نہیں رہی ہے۔ حکومت قانون توہین رسالت میں میں لانے کا فیصلہ ہو چکا تھا، لیکن اب مسلمانان پاکستان نے قانون توہین رسالت ترمیم قبول نہ کرنے کا اعلان کر دیا، شدید دھمکی دی کہ ”ہنگامے کرنے والے زہر غضب کے آگے بند باندھنا حکومت کے “ کی اپیل پر ملک بھر میں تاریخ ساز نے بلکہ آل انڈیا ریڈیو، بی بی سی، وائس ترین ہڑتال قرار دیا۔ حکومت نے اس فیصلہ موخر کر دیا۔

ان دنوں بدقسمتی سے پاکستا روایت پارٹی کے کلیدی عہدہ داران نے مظاہرہ کرتے ہوئے اس میں ترمیم تاثیر اس سلسلہ میں سب سے آگے ( کی بھاشا بھی ان کو حاصل ہے۔ ادھر بگڑتی ہوئی صورتحال اور مہنگائی کے پا میں ترمیم کا شوشہ چھوڑنے سے سخت غم و پڑی تو بڑے بڑے طاغوتوں کو غش و خ سب سے بڑا قانون ”اسلام“ ہے بالا توہین رسالت کا قانون موجود ہوگا تو عد

صفحہ 401

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

مندرجہ بالا بیانات سے یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت قانون توہین رسالت کی کبھی قائل نہیں رہی بلکہ وہ اسے ”بنیاد پرستی“ اور ”مذہبی انتہا پسندی“ سمجھتی ہے۔ حکومت قانون توہین رسالت میں تبدیلی/ترمیم کا مسودہ تیار کرچکی تھی اور اسے پارلیمنٹ میں لانے کا فیصلہ ہو چکا تھا، لیکن اسے پارلیمنٹ میں پیش کرنے سے قبل راز فاش ہو گیا۔ مسلمانان پاکستان نے قانون توہین رسالت کی حفاظت کے لیے ہر قربانی پیش کر کے اس میں ترمیم قبول نہ کرنے کا اعلان کر دیا، شدید عوامی ردِ عمل شروع ہو گیا، گورنر پنجاب الطاف حسین نے دھمکی دی کہ ”ہنگامے کرنے والے رہیں گے یا حکومت رہے گی“ اس کے باوجود عوامی غیض و غضب کے آگے بند باندھنا حکومت کے لیے ممکن نہ رہا۔ 29 مئی 1995ء کو ”ملی یک جہتی کونسل“ کی اپیل پر ملک بھر میں تاریخ ساز پہیہ جام ہڑتال ہوئی، نہ صرف اندرون ملک نشریاتی اداروں نے بلکہ آل انڈیا ریڈیو، بی بی سی، وائس آف جرمنی، وائس آف امریکہ وغیرہ نے بھی اسے مکمل ترین ہڑتال قرار دیا۔ حکومت نے اس عوامی ردِ عمل سے مجبور ہو کر یہ بل پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا فیصلہ موخر کر دیا۔

ان دنوں بدقسمتی سے پاکستان پر ایک بار پھر پیپلز پارٹی کی حکومت مسلّط ہے اور حسب روایت پارٹی کے کلیدی عہدہ داران نے قانون توہین رسالت کے بارے میں اپنے خبث باطن کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس میں ترمیم کرنے کا پروپیگنڈہ شروع کر رکھا ہے۔ گورنر پنجاب سلمان تاثیر اس سلسلہ میں سب سے آگے (لیڈ کر رہے) ہیں۔ ایم کیو ایم کے نام نہاد لیڈر الطاف حسین کی ہمنوائی بھی ان کو حاصل ہے۔ ادھر پاکستانی عوام جو پہلے ہی معاشرے میں قانون اور سزا کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور مہنگائی کے ہاتھوں عاجز آئے ہوئے ہیں، اب قانون توہین رسالت میں ترمیم کا شوشہ چھوڑنے سے سخت غم وغصہ میں بھرے ہوئے ہیں۔ عوامی احتجاج کی یہ رَو اگر چل پڑی تو بڑے بڑے طاغوتوں کو خس و خاشاک کی طرح بہا لے جائے گی۔ ایک مسلمان کے لیے سب سے بڑا قانون ”اسلام“ ہے باقی سب قوانین اس کے تابع ہیں۔ یاد رکھنا چاہیے کہ جب توہین رسالت کا قانون موجود ہوگا تو عدالت مجرم کو دفاع کا پورا موقع فراہم کر کے یا تو اسے سزا دی

صفحہ 402

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 402 ماہنامہ مسیحائی کراچی

گی یا بری کر دے گی۔ لیکن اگر صورت حال اس کے برعکس ہوئی تو عوام سڑکوں پر آ کر قانون کو ہاتھ میں لے گی اس صورت میں قانون کے تقاضے بھی پورے نہ ہوں گے اور خدانخواستہ بے گناہ افراد بھی لپیٹ میں آسکتے ہیں۔ بلکہ پاکستان میں ایسے واقعات پیش آچکے ہیں۔ حکومت کو تاریخ سے سبق لینا چاہیے اور یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ اسلامیان پاکستان اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر قانون توہین رسالت میں کوئی بھی تبدیلی یا ترمیم برداشت نہیں کریں گے۔

حواشی

صفحہ 403

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 403 ماہنامہ مسیحائی کراچی

TOTAL PEST CONTROL SERVICES

Termite Proofing, General Fumigation, Drain Line Spray, Rodent Control, Water Tank Cleaning, Garden Maintain Cockroaches Gel, Bed Bugs, Phenyl in Fragrance.

Non Corrosive Dynotreat Treatment Chemical Solution for Civil Steel Structure Tanks Cooling Tower, Engines Plants Power Plants Pumps CNG PUMPS, Pipe Lines, Buried Pipe Lines, and Other Industrial Projects.

4,Razzak Appartment, Opp. Askari Park, University Road,Karachi-74800.Ph=021-34943750, 34890103, Mob # 0321-2840519.

صفحہ 404

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 404 ماہنامہ سبحانی کراچی

پروفیسر محمد جاوید اقبال کی کتاب

شعری التجائیں

حرمین شریفین میں یاد آنے والے کیف آفرین اشعار

اثراتی توضیحات کے ساتھ شائع ہوگئی ہے

ملنے کا پتہ

پروفیسر جاوید اقبال ندوة المعارف۔ ۱۳ ایبک سٹریٹ، اردو بازار، لاہور

شعری التجائیں

حرمین شریفین میں یاد آنے والے کیف آفرین اشعار اثراتی توضیحات کے ساتھ پروفیسر محمد جاوید اقبال

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

و رفعنا لک ذکر

انجینئ

توریت ہو یا انجیل، زبور ہو کسی نبی یا رسول کے لیے اتنے جتنے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سورۃ ضحیٰ ان انعامات سے م تعالیٰ نے یوں بھی فرمایا: سورۃ ضحیٰ آ ترجمہ......

مفسرین اس آیت سے مراد وسلم نے اس ضمن میں فرمایا کہ ”جب میری امت میں سے ایک آدمی بھی نیز حضرت علی کرم اللہ وجہہ تعالیٰ میری امت کے بارے میں م آپ صلی اللہ علیہ وسلم امت کے ب حضرت جبریل علیہ السلام کی طرف اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اللہ علیہ وسلم کو رنجیدہ نہ کریں گے ۔ ا کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتنا متفکر ملول رسالت کے نئے نئے ڈھنگ نکالنے

میں جس کے ہاتھ
اسی کے ہاتھ

میں ان لوگوں کی عقل پر حیران

صفحہ 405

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 405 ماہنامہ مسیحائی کراچی

ورفعنا لک ذکرک سے مقام محمود تک

انجینئر شفیع حیدر دانش

توریت ہو یا انجیل، زبور ہو یا قرآن مجید، کسی بھی آسمانی کتاب میں اللہ تعالیٰ نے کسی نبی یا رسول کے لیے اتنے بیش بہا اور انمول انعام واکرام کے وعدے نہیں فرمائے جتنے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے فرمائے ہیں۔

سورۂ ضحیٰ ان انعامات سے مزین ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا ہوئے جبکہ اللہ تعالیٰ نے یوں بھی فرمایا: سورہ ضحیٰ آیت: ۵)

ترجمہ ......

مفسرین اس آیت سے مراد دین اسلام کی ترقی لیتے ہیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ضمن میں فرمایا کہ ”جب یہ بات ہے تو میں اس وقت تک راضی نہ ہوں گا جب میری امت میں سے ایک آدمی بھی جہنم میں رہے۔

(قرطبی)

نیز حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ میری امت کے بارے میں میری شفاعت قبول فرمائیں گے کتابوں میں مذکور ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم امت کے بارے میں بہت غمگین اور ملول رہا کرتے تھے چنانچہ حضرت جبریل علیہ السلام کی طرف سے یہ مژدہ لائے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے بارے میں راضی کردیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رنجیدہ نہ کریں گے۔ اللہ اکبر ! طرف قیامت تک آنے والی نسلوں اور امتوں کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتنا متفکر ملول ہے دوسری طرف نادان انسانوں کو دیکھئے کہ توہین رسالت کے نئے نئے ڈھنگ نکالنے میں سرگرداں ہیں یہ تو وہی بات ہوئی۔

میں جس کے ہاتھ میں اک پھول دے کے آیا تھا
اسی کے ہاتھ کا پتھر مری تلاش میں ہے

میں ان لوگوں کی عقل پر حیران ہوتا ہوں جو توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے

صفحہ 406

حرمت رسول نمبر 2011ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

مرتکب ہوتے ہیں پھر تو حضرت انسان، بہائم اور وحشی درندوں میں صرف شکل وصورت اور جیومیٹری کا فرق رہ گیا۔ شاید ایسے ہی جاہل انسانوں کے لیے میں نے یہ شعر کبھی کہا تھا۔

تم جسے ڈھونڈتے ہو جنگل میں
آؤ میں شہر میں دکھاتا ہوں

یوں تو جگہ جگہ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بے حد تعظیم وتوقیر فرمائی ہے۔ لیکن سورۂ نشرح میں تو گویا حد کمال ہے اور اللہ نے انعام واکرام اور عزت وتوقیر کی انتہا فرمادی ہے یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہی کا خاصہ تھا جو کسی اور نبی یا رسول کو نصیب نہیں ہوا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر کو بلند وبالا رکھنے کے وعدے کے ساتھ ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یوں تعظیم مذکور ہوئی۔

سورۂ نشرح آیت: 1 تا 4 (معہ ترجمہ)

ان آیات مبارکہ میں تین بنیادی انعامات کا ذکر ہے ایک تو اسلام کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سینہ مبارک کشادہ فرمانا جو نعمت عظمیٰ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ خود ہی فرماتے ہیں کہ کوئی نفس اس کے حکم کے بغیر ایمان نہیں لاسکتا دوسری بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بوجھ اتارنا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ سے افشا ہے تیسری اور سب سے اہم بات یہ کہ رہتی دنیا تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر بلند فرمادیا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ کفر کی تیرگی سے اسلام کے نور کی جانب آنے کے لیے کلمہ لا اله الا الله محمد الرسول الله ناگزیر ہے۔ چنانچہ ذکر الٰہی کے ساتھ ساتھ ذکر مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ضروری ہے۔ اسی طرح جب ہم اللہ کی شہادت دیتے ہیں تو یوں کہتے ہیں اشهد ان لا اله الا الله اور ساتھ ہی بات مکمل کرنے کے لیے کہتے ہیں اشهد ان محمد الرسول الله یوں ایمان ویقین کی بات مکمل ہی تب ہوتی ہے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر بھی لبوں پر آتا ہے اور نور ایمان دل میں اترتا ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر کے بغیر نماز ہی مکمل نہیں ہوتی۔ پھر اللہ اور اس کے

صفحہ 407

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 407 ماہنامہ مسیحائی کراچی

فرشتے نیز مومنین آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود سلام کی پیشکش بھی کرتے رہتے ہیں یہ سب امور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر کو بام عروج پر ہی تو پہنچانے کو جاری وساری ہیں۔

چنانچہ کوئی بھی ذی شعور انسان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان وشوکت اور عزت وناموس کے سلسلے میں اللہ سے جنگ نہیں کر سکتا اگر کرتا ہے تو اللہ کے غضب کو سہنے کا حوصلہ اور جرأت پیدا کرے۔

معارف القرآن صفحہ 771 پر مولانا مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ علیہ صاحب نے تفسیر میں بہت خوبصورت بات فرمائی ہے کہ ”دنیا کا کوئی بھی سمجھدار انسان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام بغیر تعظیم کے نہیں لیتا اگر چہ وہ مسلمان بھی نہ ہو“

فن لینڈ اور روس کی سرزمین گواہ ہے کہ میں نے وہاں کے دہریوں کو ایسا ہی کرتے پایا تھا۔

یعنی وہ منکرین اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام بڑی عزت سے لیتے تھے۔

کوئی درویش منش انسان کہیں سے گزر رہا تھا ایک سرپھرے بدمعاش نے دیکھا تو دفعتاً درویش کو گالیاں دینی شروع کردیں۔ درویش نے جواب میں دعائیں دینی شروع کردیں۔ لوگوں کے تعجب اور استفسار پر فرمایا جس کے پاس جو ہوتا ہے وہی دیتا ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا پہنچانے والے برا بھلا کہنے والے کچھ بھی کہتے اور کرتے رہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خیر اور بھلائی کے ساتھ ساتھ دعائیں ہی عطا فرمائیں اور یہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی عطا اور نعمت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سراپا رحمت وشفقت ہیں مجھے اپنی طویل نعت کے چند اشعار یاد آ رہے ہیں جو کچھ یوں ہیں:

ہو وہ ثور و احد یا ہو غارِ حرا
خالق کل کی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ عطا
جبر وایذا جو دے اس کو دیں یہ دعا
ہر برائی کا رد عمل ہی بھلا
صفحہ 408

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 408 ماہنامہ سبحانی کراچی

آپ صلی اللہ علیہ وسلم ختم الرسل آپ صلی اللہ علیہ وسلم بدرالدجیٰ
مومنو! سب کریں ورد صلی علی

اللہ تعالیٰ تمام خوبیوں اور اچھائیوں کا منبع ہے۔ محبت و شفقت، مہر و مہربانی کے تمام سوتے اسی کی ذات سے رواں ہوتے ہیں۔ اسی نے خونخوار درندوں تک کو مہر و وفا کا درس دیا اور شفقت و محبت، رحم دلی کی نسبت عطا فرمائی اگر وہ رحم و کرم نہ بانٹتا تو کرہ ارض پر گلہائے حیات کے نئے نئے شگوفے کبھی کے مرجھا جاتے اور گلزار ہستی و بود ویران ہو جاتا بقول مولانا رومی کہ اللہ ہی نے مہر و وفا عطا فرمائی چنانچہ ان کا مشہور شعر اللہ کی جانب یوں ہے۔

مادراں را مہر من آموختم
چوں بود شمعے کہ جن افروختم

اگر ہم شمائل نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا جائزہ لیں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام اعلیٰ و ارفع اخلاقی اقدار کے حامل تھے مسلمان تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جان دیتے تھے مگر کفار و مشرکین بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن اخلاق کے معترف نظر آتے ہیں۔ میں ایسے متعدد روسی انجینئرز کو جانتا ہوں جو دہریے ہیں ان کا کہنا تھا کہ تمہارا خدا روس کی سرزمین میں نعوذ باللہ داخل نہیں ہو سکتا مگر ایک بات حیرت انگیز تھی کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بے حد ذہین عظیم، ور سچے انسان سمجھتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے:

سورہ احزاب آیت: 21 (معہ ترجمہ)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کا ایک ایک لمحہ اللہ کے حکم کے مطابق گزرا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہی فرماتے تھے جو اللہ چاہتا تھا بقول شاعر:

گفتہ او گفتہ اللہ بود
گرچہ از حلقوم عبداللہ بود
صفحہ 409

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 409 ماہنامہ مسیحائی کراچی

چنانچہ قرآن پاک میں یوں ارشاد باری تعالیٰ ہوا:

سورہ نجم آیت: 4 (معہ ترجمہ)

اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ تعظیم و توقیر فرمائی کہ جس کی کہیں نظیر نہیں ملتی اللہ نے قرآن کی قسم کھا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اور راہ راست پر گامزن رہنے کی بات یوں فرمائی۔

سورہ یٰسین آیت نمبر: 1 تا 3

کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام جہانوں کے لیے باعث رحمت یوں فرمایا:

سورہ انبیاء آیت: 107 مع ترجمہ

قیامت تک آنے والے تمام انسان خواہ ہوں مسلمان ہوں یا یہودی عیسائی ہوں یاد رہے، بت پرست ہوں یا آتش پرست کالے ہوں یا گورے کسی بھی رنگ و نسل اور خطے سے تعلق رکھتے ہوں تمام کے تمام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے ہیں۔ حدیث مبارکہ ہے کہ ارسلت الی الخلق کافۃ (میں تمام مخلوق کے لیے بھیجا گیا ہوں)

چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمہ گیر اور تا قیامت نبوت کے سلسلے میں قرآن میں یوں مذکور ہوا:

سورہ اعراف آیت: 158

یہاں ایک مثال دینا موزوں ہے۔ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کا خالق و مالک ہے وہ سب کا رب ہے خواہ کوئی اسے مانے یا انکار کرے۔ مسلم و غیر مسلم سبھی اس کی مخلوق ہیں۔ چنانچہ تمام ہی لوگ اس کے منکر ہو جائیں تب بھی، اللہ بے نیاز ہے اسے کسی کی تائید و عون کی ضرورت نہیں وہ غنی ہے اور ہماری اطاعت ہمیں فلاح پہنچاتی ہے اللہ کو اس اطاعت کی چنداں ضرورت نہیں ہے اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب انسانوں اور تمام عالمین کے لیے رسول ہیں کسی کی تکذیب یا انکار سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اور ذات گرامی پر ذرہ برابر فرق نہیں پڑتا۔

صفحہ 410

ماہنامہ سبحانی کراچی

اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی آخر الزماں کی بے حد ناز برداریاں فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بار بار آسمان کی طرف چہرہ انور پھیرتے تھے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ہمارا قبلہ بیت المقدس کی بجائے دفعتاً خانہ کعبہ (مکہ مکرمہ) فرما دیا یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دیرینہ خواہش کا نتیجہ تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر رنج والم کے پہاڑ ٹوٹے تو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کی نعمت اور رفعت وعروج عطا فرمایا۔ کفار مکہ کے مظالم اور بے ہودہ باتوں سے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رنجیدہ ہو کر گدڑی میں لیٹ گئے تو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی کیفیت کی مناسبت سے ”یایہا المزمل اور یا ایہا المدثر...... فرمایا“

اپنائیت کا احساس دلایا اور حوصلہ وولولہ بلند فرمایا۔ میں نے اسی مناسبت سے یوں مداح سرائی کی ہے کہ ان (صلی اللہ علیہ وسلم) کو یٰسین وطٰہ خدا نے اسی کو تو کہتے ہیں رتبے بڑھانا۔ ایک اہم بات جو قارئین کی نذر کرتا ہوں وہ یہ کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت فرض ہے۔ یہ نہیں کہ کوئی اللہ کو مانے اور نعوذ باللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب یا نافرمانی کرے اس کی دلیل قرآن میں یوں ہے کہ اللہ فرماتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرو تا کہ تم پر رحم ہو چنانچہ یہ آیت ایک اٹل حکم ہے۔

سورۃ آل عمران: 132

اسی اٹل حکم اور واشگاف فیصلے کو اگلی آیت میں دیکھئے

سورۃ نساء آیت

اگر ابھی بھی کسی میں تکذیب کی جرأت یا عقل کی کمی ہے تو یہ حکم الٰہی بھی ملاحظہ ہو۔

سورۃ احزاب آیت: 71

اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان فرض ہے اور اطاعت رسول بھی

آئیے ایک اور عبرت ناک آیت کا مطالعہ کرتے ہیں۔

سورۃ آل عمران آیت: 41

صفحہ 411

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

اسی بات کو اور زیادہ موثر اور دلنشین انداز سے اللہ نے یوں فرمایا کہ سورۂ فتح آیت: 9 چنانچہ اطاعت الٰہی اور اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ تعظیم وتوقیر اعانت و معاونت اور ذکر و تسبیح کو بھی حکم الٰہی کا ہی درجہ حاصل ہے کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:

منزل حب الہی تک پہنچنے کے لیے
سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم کی الفت کا زینہ چاہئے

چنانچہ الفت سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم کے بغیر اللہ تعالیٰ کو پانا ناممکن ہے۔ گستاخان رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے مرتکب نہ جانے جہالت، ذلت اور گمراہی و خسارے کے کن غاروں میں رہتے ہیں۔

منکرین ختم نبوت کے سلسلے میں قرآن نے بڑے واشگاف انداز میں فرمایا کہ اللہ نے دین اسلام کو پسند فرمایا ہے اور دوسرے یہ کہ دین اب مکمل ہو چکا۔ چنانچہ تکمیل مشن کے بعد اس سلسلے کی بات یہیں ختم ہو جاتی ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام جہانوں کے لیے رحمت ہیں قیامت تک آنے والی نسلوں اور تمام ہی انسانوں کے آخری پیغمبر ہیں چنانچہ فرمان الٰہی ہے جس میں ختم نبوت کی بات یوں کہی گئی: سورۂ احزاب آیت: 40 تا 43

سرابوں اور بھولوں کے تعاقب میں سرگرداں لوگوں کے لیے بس یہ شعر ہی کافی ہے۔

خضر علیہ السلام کیونکر بتائے کیا بتائے
اگر ماہی کہے دریا کہاں ہے؟

حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر کیچڑ اچھالنے کی بات ہو یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہونے میں شک و شبہ دونوں ہی ناموس رسالت کے لیے ناقابل قبول اور قابل گرفت ہیں آئیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی اور آپ صلی اللہ علیہ

صفحہ 412

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 412 ماہنامہ مسیحائی کراچی

وسلم کی عزت و حرمت، تعظیم و توقیر کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ دوسرے انداز سے دیکھتے ہیں:

سورۃ احزاب آیت: 53

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس کے آداب و اکرام کے لیے حکم الہی یوں ہوا۔ سورۃ مجادلہ آیت 22,20,11,9,8 ایک مرتبہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ حالتِ نماز میں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات پر وہ خاموش رہے۔ مفسرین لکھتے ہیں کہ اس سلسلے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کا جواب دینے کو یوں فرمایا گیا:

سورۃ انفال آیت: 24

خلاصہ تحریر یہ ہے کہ حرمتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ناموس رسالت کے سلسلے میں قرآن پاک میں جو ہدایات اور اصول وضوابط اور قاعدے قانون یعنی Rules and Guidance موجود ہے انہی کی روشنی میں عوام، ادارے اور حکومت وممالک اپنا ردعمل اور فیصلے صادر فرمائیں۔ مسلمان تو یوں کہتے ہیں:

شاہد مری اس بات کا قرآن میں ہے
انسان محمد صلی اللہ علیہ وسلم سا کوئی اور نہیں ہے

☆......☆......☆

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

علامہ اقبالؒ دلچسپ اور یقین افروز کتاب درج ہے کہ ایک صاحب نے ہے یا نہیں؟‘‘ ڈاکٹر صاحب نے اس کے بعد سلسلہ گفتگو جاری رکھتے ہوئے مقصد پیغمبر کے ذاتی وقار کو نقصا اس ایمانِ محکم کو متزلزل کرنا ہے انسانی یا پیغمبرانہ وقار کا قتل نہیں کوشش یا اقدام کے خلاف ہر ا اور وہی اس کا ٹھیک ٹھاک انجا ڈاکٹر صاحب نے یہ کہہ کر ”میں تو یہ بھی برداشت نہیں نے ایک دن میلے کپڑے پہنے

دراصل یورپ کو اس ترکیب کے مسئلے کو حقوق انسانی، آزادی ہاں انسان اور قوم کے اجزائے

صفحہ 413

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 413 ماہنامہ مسیحائی کراچی

یہی اپنی کائنات

صاحبزادہ سید خورشید احمد گیلانی

علامہ اقبالؒ سے چند ملاقاتوں پر مشتمل فقیر سید وحیدالدین کی انتہائی دلچسپ اور یقین افروز کتاب ”روزگارِ فقیر“ میں شاعر مشرق سے ایک ملاقات کا حال یوں درج ہے کہ ایک صاحب نے حضرت علامہؒ سے پوچھا ”غازی علم الدین کی موت شہادت ہے یا نہیں؟“

ڈاکٹر صاحب نے اس کے جواب میں ارشاد فرمایا ”اس کا انحصار نیت پر ہے۔ اس کے بعد سلسلۂ گفتگو جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ اگر یہ حقیقت ذہن میں رکھتے ہو کہ حملہ آور کا اصل مقصد پیغمبرؐ کے ذاتی وقار کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ اس کے لائے ہوئے پیغام کو مجروح اور اس ایمان محکم کو متزلزل کرنا ہے، جو اس پیغام رشد و ہدایت پر قائم و استوار ہے تو یہ حملہ صرف انسانی یا پیغمبرانہ وقار کا قتل نہیں رہتا بلکہ اس ایمان اور عقیدے کا قتل بن جاتا ہے۔ اس کوشش یا اقدام کے خلاف ہر مدافعت یقیناً صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے ہوتی ہے اور وہی اس کا ٹھیک ٹھاک اجر دینے والا ہے۔“

ڈاکٹر صاحب نے یہ کہہ کر نہایت رقت آمیز لہجے میں فرمایا: ”میں تو یہ بھی برداشت نہیں کر سکتا کہ کوئی شخص میرے پاس آکر یہ کہے کہ تمہارے پیغمبر نے ایک دن میلے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔“

خاص ہے ترکیب میں قوم رسولِ ہاشمیؐ

دراصل یورپ کو اس ترکیب کا ابھی تک ادراک حاصل نہیں ہو سکا ورنہ وہ گستاخ ایڈیٹر کے مسئلے کو حقوق انسانی، آزادی رائے اور جمہوریت کا مسئلہ نہ بناتا۔ یورپ کے مفکرین کے ہاں انسان اور قوم کے اجزائے ترکیبی اس سے بالکل مختلف ہیں، جن کا تصور ایک مسلمان

صفحہ 414

ماہنامہ مسیحائی کراچی حرمت رسول نمبر 2011ء

کے ہاں موجود اور مستحکم ہے۔ ان کے ہاں انسان کیا ہے؟ بندر کی ترقی یافتہ شکل، چار چھ گیلن پانی، فاسفورس، کولیسٹرول، آئرن کی مخصوص مقدار اور چند دوسری دھاتوں کے آمیزہ کا نام انسان ہے اور بس! اسی طرح قوم یا نسل وجود میں آتی ہے اور وطن سے یا رنگ وزبان سے، مگر ہمارے ہاں انسان نہ اتنا بے قیمت ہے اور نہ اس کی ساخت اتنی بے ہودہ ہے کہ منڈی یا دکان میں اس کا تول چند سوروپوں میں ہو جائے اور اس طرح قوم یا ملت نسل، وطن، رنگ اور زبان جیسے مکڑی کے جالوں سے تشکیل نہیں پاتی بلکہ ہمارے ہاں انسانی خلیفۃ اللہ فی الارض اور امانت الہی کا حامل اور امین ہے اور انسانوں ہی سے پیغمبر اور رسول مبعوث کیے گئے اور قوم، رنگ ونسل اور وطن وزبان سے نہیں بلکہ عقیدہ وایمان سے بنتی ہے۔

یورپ سمجھتا ہے کہ پیغمبر بھی تو انسان ہوتے ہیں۔ اگر اس کے بارے میں کچھ لکھ دیا جائے تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ اور اگر کوئی قوم کسی تحریک پر ناراض ہوتی ہے تو یہ کون سی پریشانی کی بات ہے؟ یہ یورپ کی اس کج فہمی اور بدفکری کا شاخسانہ ہے جو انسان اور قوم کے حوالے سے ان میں رائج ہے۔ وہ انسان کو دھات، پانی اور ہوا کا آمیزہ اور قوم کو رنگ، نسل، زبان اور وطن کا مجموعہ سمجھ کر انسانیت کے تقدس اور ملت کے تشخص کو فراموش کر دیتا ہے۔ اس لیے توہین رسالت ﷺ ایسے فعل قبیح کو اس کے صحیح تناظر میں دیکھنے کی زحمت نہیں کرتا اور ہمیں بھی اس سے چنداں غرض نہیں کہ وہ انسان اور ملت کے بارے میں اپنے نظریات میں ضرور تبدیلی لائے، لیکن ہم اسے یہ بتانا اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ ایک مسلمان کی سوچ کیا ہے؟

ہر انسان آکسیجن سے سانس لیتا ہے لیکن مسلمان کی سانس کا دوسرا نام عشق رسول ﷺ ہے۔ ہر انسان پانی پی کر جیتا ہے لیکن مسلمان حب رسول ﷺ کی آب وہوا میں زندہ رہتا ہے۔ ہر انسان آنکھ سے دیکھتا ہے لیکن مسلمان کی آنکھ کا سرمہ خاک مدینہ ونجف ہے۔ ہر انسان کے پہلو میں دل دھڑکتا ہے لیکن ہر مسلمان کی دل کی دھڑکن یاد رسول ﷺ ہے۔ ہر انسان کی رگوں میں خون دوڑتا ہے لیکن مسلمان کی رگوں میں محبت آل رسول ﷺ گردش کرتی ہے۔ ہر انسان زندگی کو زندگی سمجھ کر بسر کرتا ہے لیکن مسلمان اللہ اور رسول ﷺ کی خوشنودی کے لیے زندگی گزارتا ہے۔ ہر انسان آزادی کا خواہاں ہے لیکن مسلمان غلامی رسول ﷺ کا طلب گار ہے۔ ہر انسان موت سے خوفزدہ رہتا ہے لیکن مسلمان شہادت کی

صفحہ 415

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

آرزو رکھتا ہے۔ ہر انسان نفع ونقصان کے حوالے سے سوچتا ہے لیکن مسلمان ہر چیز ایمان کے ترازو میں تولتا ہے۔ ہر انسان اپنی ناموس کی فکر میں رہتا ہے لیکن مسلمان اپنی جان کو حرمت رسول ﷺ پر لٹا دینے کو اپنے لیے سعادت سمجھتا ہے۔

یورپ گستاخ ایڈیٹر کے واجب القتل ہونے کو فرد کے حقوق انسانی کے منافی قرار دیتا ہے۔ اس سے بڑھ کر لطیفہ کیا ہوگا کہ کون سا انسان؟ جو ان کے نزدیک بندر کی اولاد ہے اور کیسا حق؟ جن کے ہاں کالا اور گورا دیکھ کر حقوق متعین ہوتے ہیں۔ انسان کے مقدس ہونے کا تصور مسلمان کے ہاں ہے اور اس کے حقوق کا تحفظ بھی سب سے پہلے اسلام نے کیا ہے، جس نے انسان کو اشرف المخلوقات اور کالے اور گورے اور بندہ و آقا کی تمیز کو فساد آدمیت قرار دیا ہے اور تاریخ نے اپنے آنکھوں سے علیؓ اور بلالؓ کو دوش بدوش چلتے اور نواسہ رسول امام حسنؓ اور غلام زادہ اسامہ بن زیدؓ کو آغوش رسول ﷺ میں زانو بہ زانو بیٹھے دیکھا۔

ہم جب گستاخ ایڈیٹر کو واجب القتل قرار دیتے ہیں تو یہ فتویٰ محض ایک فرد، ایک آدمی اور ایک انسان کے خلاف نہیں بلکہ ہر وہ سوچ واجب القتل ہے جو دلوں میں احترام رسول ﷺ فنا کرتی ہے، وہ ذہنیت واجب القتل ہے جو گستاخی رسول ﷺ کا سوچتی ہے، وہ شخص واجب القتل ہے جو پیغمبر ﷺ کے خلاف لکھتا اور واجب القتل ہے وہ زبان جو نبی ﷺ کے خلاف بھونکتی ہے اور پیغمبر بھی ایسا جو مسلمانوں کا نبی نہیں، انسانیت کا محسن ہے، حقوق انسانیت کا نگہبان ہے، ناموس آدمیت کا محافظ ہے، جس نے انسان کی حرمت کو کعبہ سے افضل اور انسان کی ذات کو راز الہی قرار دیا۔ ایسے پیغمبر کی توہین، وقار انسانی کی توہین ہے، ناموس آدمیت پر حملہ ہے، شرف آدم کی گستاخی ہے۔ جو شخص انسانیت کی آن کو ملحوظ نہیں رکھتا، کسی کو اس کی جان کا لحاظ کیسے ہو سکتا ہے؟

ان توہین آمیز خاکوں کا مقصد یہی تھا کہ مسلمانوں کے دلوں میں سے حب رسول ﷺ کی تپش چھین لی جائے تو مسلمان خود بخود راکھ کا ڈھیر بن جائیں گے اور پھر اس راکھ پر تھوڑا سا پانی چھڑک کر زمین کے برابر کر دیا جائے، لیکن یہاں یورپ کو پھر ٹھوکر لگی۔ اس نے حکمرانوں کے آئینے میں عام مسلمانوں کا چہرہ دیکھنے کی کوشش کی۔ اس نے سمجھا کہ ان میں زندگی کی رمق نہیں رہی، ان کے اعصاب شل ہو گئے ہیں ان کے دل بجھ گئے ہیں ان کے جذبات سوگئے ہیں اور اب صور اسرافیل پر بھی بڑی مشکل سے اٹھیں گے۔ اسے یہ اندازہ نہ ہو سکا کہ لاریب

صفحہ 416

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ سبحانی کراچی

مسلمان اپنی تہذیب سے نا آشنا ہو گئے ہیں، اپنا نظام حکومت بھول بیٹھے ہیں، اپنی شکل و صورت بگاڑ بیٹھے ہیں، اپنی اقتصادیت گروی رکھ بیٹھے ہیں مگر اس سب کے باوجود دل کا سودا بازار عشق مصطفیٰ ﷺ میں کرتے ہیں۔ اگر چہ مسلمان ہزار بار سر راہ لوٹے گئے یورپ انہیں لوٹ کر لے گیا، امریکہ لوٹ رہا ہے اور خود جب لٹانے پر آتے ہیں تو اپنا سب کچھ ناموس مصطفیٰ ﷺ پر لٹا کر خوش ہوتے ہیں بلکہ اس پر بھی مطمئن نہیں ہوتے اور کہتے رہ جاتے ہیں:

کروں تیرے نام پہ جان فدا، نہ بس ایک جاں، دو جہاں فدا
دو جہاں سے بھی نہیں جی بھرا، کروں کیا، کروڑوں جہاں نہیں

ایڈیٹر نے تو براہ راست حملے کیے ہیں، مسلمان تو اشارے اور کنائے کی گستاخی کو نا قابل معافی گستاخی قرار دیتے ہیں۔ مسلمانوں کے نزدیک نعلین نبی ﷺ کی نوک، تاج شاہی سے زیادہ محترم اور معظم ہے، ان کے ہاں آپ کا نقش کف پا سجدہ گاہ عشق ہے، اہل اسلام کہکشاں کو آپ کے قدموں کی دھول سمجھتے ہیں، ارباب عشق کلی کی چٹک کو تبسم رسول ﷺ کا صدقہ سمجھتے ہیں، صاحبان نظر کے عقیدے میں آب حیات، ان کے تلوؤں کا دھوون ہے، خلعت شاہی آپ کے لباس کی اترن ہے، دیار حبیب ﷺ کے کوچے، جنت کے باغیچے ہیں بلکہ دردمندان عشق ہر اس شخص کو امام سمجھتے ہیں جو ان کی گلی کا گدا ہو۔

یورپ نے ان خاکوں کے ذریعے چاہا ہے کہ مسلمانوں کی سیاست عدم استحکام کا شکار رہے، حکمران استعمار کے آلہ کار ہیں، معیشت مفلوج ہے اور دفاع کمزور ہے۔ لے دے کے ایک حب نبی ﷺ کا جذبہ ہے اگر وہ بھی کسی طرح ان کے دلوں سے نکال لیا جائے تو وہ غلام بن جائیں گے۔ یورپ ہم سے ہماری یہ کائنات چھین لینا چاہتا ہے۔ اہل اسلام اپنے ہر معاملے میں غافل واقع ہوئے ہیں لیکن ناموس رسول ﷺ اور حب نبی ﷺ ان کو اپنے مال، اپنے وطن، اپنی اولاد اور اپنی جان سے زیادہ عزیز ہے اور متاع عزیز فراموش کرنے والی چیز نہیں ہوتی اور یہی وہ متاع عزیز ہے جس کے سہارے مسلمان زندہ ہیں ورنہ زندگی کا جواز کیا رہ جاتا ہے؟

اک عشق مصطفیٰ ہے اگر ہو سکے نصیب
ورنہ دھرا ہی کیا ہے جہان خراب میں
صفحہ 417

4 ماہنامہ مسیحائی کراچی

اپنا نظام حکومت بھول بیٹھے ہیں، اپنی شکل و کر کے بیٹھے ہیں مگر اس سب کے باوجود دل کا سودا مسلمان ہزار بار سر راہ لوٹے گئے یورپ انہیں جب لوٹانے پر آتے ہیں تو اپنا سب کچھ ناموس کبھی مطمئن نہیں ہوتے اور کہتے رہ جاتے ہیں:

نہ بس ایک جاں، دو جہاں فدا
کروں کیا، کروڑوں جہاں نہیں

مسلمان تو اشارے اور کنائے کی گستاخی کو نا قابل نزدیک نعلین نبی ﷺ کی نوک، تاج شاہی سے نقش کف پا سجدہ گاہ عشق ہے، اہل اسلام ارباب عشق گل کی چٹک کو تبسم رسول ﷺ کا آب حیات، ان کے تلوؤں کا دھوون ہے، حبیب ﷺ کے کوچے، جنت کے باغیچے میں جو ان کی گلی کا گدا ہو۔

ہے کہ مسلمانوں کی سیاست عدم استحکام کا شکار مفلوج ہے اور دفاع کمزور ہے۔ لے دے اسی طرح ان کے دلوں سے نکال لیا جائے تو وہ کائنات چھین لینا چاہتا ہے۔ اہل اسلام اپنے ناموس رسول ﷺ اور حب نبی ﷺ ان کو اپنے زیادہ عزیز ہے اور متاع عزیز فراموش کرنے اس کے سہارے مسلمان زندہ ہیں ورنہ زندگی کا

اگر ہوسکے نصیب
جہان خراب میں

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 417 ماہنامہ مسیحائی کراچی

قانون توہین رسالت کے نئے معنی و مفہوم

محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ

ایاز امیر صاحب کے کالم بعنوان توہین رسالت کے قوانین کیوں دکھائی نہیں دیتے میں بعض امور توجہ طلب ہیں جس کے لیے اس قانون کے مختصر پس منظر کا ذکر ضروری ہے۔ امتناع توہین رسالت کے قانون کے نفاذ کے لیے سال ۱۹۸۴ء میں راقم الحروف نے فیڈرل شریعت کورٹ میں اس وقت پٹیشن دائر کی تھی جب یورپ اور خاص طور پر ماسکو سے اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف گستاخانہ اور دل آزار حملوں کی یلغار ہورہی تھی جس کے لٹریچر کو آفاقی اشتراکیت کے نام سے ایک انتہا پسند کمیونسٹ نے کتابی شکل میں شائع کیا اور اس کو ہائی کورٹ بار اور دوسرے اداروں میں مفت تقسیم کیا جارہا تھا اس کتاب میں بتلایا گیا تھا کہ اسلام کا دور ختم ہوچکا ہے اور پیغمبر اسلام کے بارے میں گستاخانہ اور نہایت نازیبا کلمات استعمال کیے گئے تھے۔ اس کتاب کی اشاعت سے قبل راقم کا ایک این جی او کے خلاف قانون توہین رسالت کا ایک مقدمہ فیڈرل کورٹ میں زیر سماعت تھا جس میں ملک کے چوٹی کے علماء اور مسلمان دانشوروں کو طلب کیا گیا تھا جن کی متفقہ رائے تھی کہ توہین انبیاء اسلام کے علاوہ مسیحی اور موسوی قانون کی رو سے بھی ناقابل معافی جرم ہے۔ بائبل کی رو سے اس جرم کی سزا سنگسار یا زندہ جلا دینے کی تھی جس کے مطابق گستاخان مسیح کو یہ سزا دی جاتی رہی ہے اسلام کی رو سے اس جرم کی سزا قتل مقرر ہے۔ اس بارے میں راقم کی پٹیشن فیڈرل شریعت کورٹ نے منظور کرلی تھی اور توہین رسالت کو ناقابل معافی جرم قرار دیتے ہوئے اس کی سزا قرآن وسنت کی رو سے سزائے موت مقرر کردی گئی۔ ملاحظہ ہو فیصلہ بمقدمہ محمد اسماعیل قریشی بنام جنرل محمد ضیاء الحق وحکومت پاکستان PLD 1991 FSC 10 اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کردی گئی جب اس اپیل کی وقت کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو اطلاع ملی تو انہوں نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا قانون توہین رسالت کے

صفحہ 418

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ سبحانی کراچی

فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کسی اہل کار کی شرارت معلوم ہوتی ہے اگر توہین رسالت کی سزا موت سے بھی زیادہ سنگین ہوتی تو اس پر بھی عمل درآمد کیا جاتا۔ میاں صاحب نے فوری طور پر سرکاری وکیل کو حکم دیا کہ توہین رسالت کے مقدمے کے فیصلے سزائے موت کے خلاف اپیل واپس لی جائے جس کو بوجہ دستبرداری سپریم کورٹ نے خارج کر دیا۔ جناب ایاز امیر میاں محمد شریف کے ہم نشینوں میں ہیں اور ان ہی کی حمایت سے قومی اسمبلی میں پہنچے ہیں لیکن ان کے توہین رسالت کے خلاف مضمون پر میاں صاحب کے حوالے سے فارسی کی یہ مثل صادق آتی ہے۔

”من چہ می گویم وطنبورہ من چہ می سرائید۔“

صاحب موصوف کو قانون توہین رسالت کے خلاف اپنے مضمون توہین رسالت کے قانون کیوں دکھائی نہیں دیتے جس میں وہ لکھتے ہیں کہ پیغمبر اسلام کے بارے میں گستاخی یا اہانت توہین رسالت نہیں جس کسی کو قانون کی مروجہ اصطلاحات کا علم نہ ہو وہ بزعم خود قانون رسالت کے خود ساختہ معانی و مفہوم کو پیش کرنے کی جسارت کرے اس پر ناطقہ سربگریباں ہے اسے کیا کہیے۔ قانون کی تعبیر اور تشریح ماہرین قانون اور عدلیہ کا کام ہے اگر ہر کس و ناکس یہ کام اپنے ہاتھ میں لے لے تو قانون بازیچہ اطفال ہو جائے گا جو ملک اور قوم کو تباہی کے کنارے پہنچا دے گا۔

ایاز امیر صاحب کے بیان کیے ہوئے توہین رسالت کے مفہوم سے نہ تو واضعان قانون کو تخلیقی آگہی ہے اور نہ اعلیٰ عدلیہ اور سپریم کورٹ کے جج جن کی ساری عمر قانون کی تعبیر اور تشریح کرتے ہوئے گزری ہے اپنے حضرت ایاز امیر کی اس تحقیق انیق سے آشنا معلوم ہوتے ہیں توہین رسالت کے وضعی مفہوم کو بیان کرتے ہوئے ایاز امیر صاحب نے اپنے اس مضمون میں جس کا اوپر حوالہ دیا گیا ہے اظہار خیال کرتے ہوئے فرمایا ہے اصل توہین مذہب (رسالت) تو یہ ہے کہ ایک بچہ بھوک سے بلک رہا ہو یا کوئی بچہ پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے بھیک مانگنے پر مجبور ہو یا ایک عورت تنگ دستی کی وجہ سے بچوں سمیت دریا میں چھلانگ لگا دے معلوم نہیں ان کاموں کا بالواسطہ یا بلا واسطہ توہین رسالت سے کیا تعلق ہے؟ موصوف کا یہ کوئی معروضی جائزہ نہیں۔ صرف الفاظی جمع خرچ

صفحہ 419

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 419 ماہنامہ مسیحائی کراچی

یا مولویانہ وعظ و تلقین کی ایک ماڈرن قسم ہے۔ کوئی ان سے پوچھے حضرت آپ نے اس سلسلے میں کوئی اقدام بھی کیا ہے جیسا کہ بنگلہ دیش کے گرامین (خستہ حال) بینک کے ڈائریکٹر نے سرمایہ کاروں سے رقم لے کر تنگ دست خواتین کو ایک ایک ہزار قرض حسنہ ایک سال کے لیے دیا ان کی ضرورت کے مطابق سلائی یا کڑھائی کی مشین فراہم کی جس کی آمدن سے وہ اپنا گزارہ بھی کرتی رہیں اور قرض کی رقم بھی واپس کر دی جس سے وہاں افلاس بڑی حد دور ہو گیا ہے آپ کے بھی ملک کے سرمایہ کاروں سے تعلقات ہیں آپ کو اس کار خیر سے کس نے روکا ہے؟

آگے چل کر ارشاد ہوتا ہے (غضب ہے کہ ) ہمارے لیے ایمان آئین سے کہیں بڑھ کر ہے بجا فرمایا۔ سیکولر ریاست میں ایمان کی کہاں گنجائش ہو سکتی ہے اسی نظریے کے تسلسل میں یہ بھی لکھا ہے ”ہم نے اس خود ساختہ نعرے کو سینہ سے لگا رکھا ہے کہ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے“ ساتھ ہی اس خود فریبی کا شکار ہیں کہ پاکستان ایک خاص مقصد کے لیے تخلیق کیا گیا کہ خدائی مشن کی تکمیل ہو سکے ایک طرف بظاہر سنجیدہ اور معقول دکھائی دینے والے آرمی چیف جنرل کیانی نے بھی ایک موقع پر اعلان کیا کہ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے مگر کسی ایک ملک نے بھی عیسائیت کو اپنے ملک کا قلعہ ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ دوسری طرف لا تعداد فرقوں کے ملاؤں کی بریگیڈ بار بار اسلام کے دفاع کے نام پر سڑکوں پر آجاتی ہے چیختی ہے چلاتی ہے اور با آواز بلند امریکہ کے خلاف نعرہ بازی کرتی ہے یہ سب موصوف کی نظر میں احمقانہ حرکت ہے اس لیے اس سے گریز کرنا پڑے گا اس لیے وہ قوم کو مشورہ دیتے ہیں کہ ہمیں اپنی کمزوریوں کے باعث امریکہ کی خواہش کے مطابق آپریشن کرنا ہی پڑتا ہے یعنی ہماری فوج کی اپنی کوئی حکمت عملی نہیں اور نہ ہی کوئی اپنی پالیسی ہے اس کو بھی ایاز امیر صاحب کی طرح امریکہ کے آگے جھکنا پڑتا ہے اس جھکنے کے خلاف ہر کارروائی کا تعلق توہین رسالت سے ہے اس لیے اس قانون کو منسوخ کرنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔

موصوف کا یہ بیان کہ کسی ایک ملک نے کبھی عیسائیت کو اپنے ملک کے قلعہ ہونے کا دعویٰ نہیں کیا اس بارے میں جہاں تک لفظی دعویٰ کا تعلق ہے وہ درست ہے۔ ایاز امیر

صفحہ 420

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ سبحانی کراچی

صاحب اور ان کی فیملی یقیناً برطانیہ میں قیام پذیر رہی ہے افسوس کہ انہوں نے امریکہ اور برطانیہ کا اندرون جھانک کر نہیں دیکھا جو عیسائیت کا قلعہ نہیں بلکہ مضبوط ترین قلعہ ہیں سیکولرازم کا لیبل برائے نام لگا ہوا ہے مجھے بھی برطانیہ اور امریکہ میں کافی عرصہ قیام کا موقع ملا ہے میرے برادر عزیز سلیم قریشی بار ایٹ لا برٹش نیشنل ہیں کورٹ کی اسپیشل اجازت ملنے پر میں اسلامی مقدمات میں پیش بھی ہوا ہوں۔ میں اسلامی ممالک کی لندن کانفرنس میں پریذیڈیم کا ممبر بھی رہا ہوں کسی ملک کا قانون اور وہاں کی عدالتوں کے فیصلے اس ملک کی اصلی صورت کے آئینہ دار ہوتے ہیں برطانیہ میں عیسائیت کے بعد مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ وہاں کے مسلمانوں نے سلمان رشدی کی شیطانی آیات Satanic Verses کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے حکومت کو درخواست دی کہ قانون توہین مسیح میں معمولی سی ترمیم کر کے تمام انبیاء کے خلاف گستاخی کو قابل تعزیر جرم قرار دیا جائے لیکن وہاں کے وزیر قانون مسٹر جان پیٹس نے اس درخواست کو مسترد کرتے ہوئے تحریری طور پر بتلایا کہ حکومت برطانیہ قانون توہین مسیح میں کسی قسم کی ترمیم کو جائز قرار نہیں دیتی۔ وہاں کی سب سے بڑی آخری عدالت ہاؤس آف لارڈز نے اس بارے میں فیصلہ دیتے ہوئے حکومت برطانیہ کے موقف کو درست قرار دیا اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ برٹش لاء مذہب پر جارحانہ حملہ کو جائز قرار دیتا ہے مزید برآں یہ ریمارکس بھی دیے ہیں کہ اگر حکومت برطانیہ توہین مسیح میں اسلام کے قانون توہین رسالت کی کوئی کلاز شامل بھی کر دے تو برطانیہ کی اعلیٰ عدلیہ اس قانون کو یہاں لاگو کرنے سے گریز کرے گی۔ اس فیصلے کے خلاف یورپ کی ہیومن رائٹس کورٹ نے مسلمانوں کی نگرانی خارج کر دی برطانیہ میں توہین مسیح تو بڑی بات ہے وہاں حکومت نے جناب مسیح کی ایک عقیدت مند نن ٹریا کے بارے میں سٹرونگرو کی فلم کو ضبط کر لیا جس میں ٹریا کو حالت وجد میں رقص کرتے ہوئے جناب مسیح کے جسم کے مختلف حصوں کو بوسے لیتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

فلم کی اس ضبطی کے خلاف برطانیہ اور یورپ کی اعلیٰ عدلیہ نے بھی سماعت سے انکار کر دیا اب ذرا ایک جھلک امریکہ کی سپریم کورٹ کے موکس کیس کی بھی دیکھ لیجیے جہاں

صفحہ 421

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

یہ قرار دیا گیا کہ امریکی ریاست سیکولر ہونے کے باوجود عیسائی مذہب کی بنیاد پر قائم ہے کیوں کہ وہاں صدر اراکین کانگریس عدالتوں کے جج انتظامیہ کے تمام افسر اور اہل کار بائبل پر حلف اٹھاتے اور عیسائی خدا کو مانتے ہیں اس لیے یہاں کسی کو عیسائی مذہب کے کسی قانون کے خلاف پبلک میں تقریر کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ ان تمام باتوں کو کھلی آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود ایاز امیر صاحب کو امریکہ میں یا یورپ کے کسی ملک میں عیسائیت کا قلعہ نظر نہیں آتا۔

اسلام کی تاریخ کو حضرت ایاز امیر نے اچھی طرح سے کھنگالا ہے اور اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اسلام ہندوستان میں گزشتہ ۸۰۰ سالوں سے موجود ہے اسے کبھی کسی خطرے کا سامنا نہیں رہا۔ راقم اور برصغیر ہند کے مسلمانوں کے خیال میں اگر اسلام یا مسلمانوں کو ہندوستان میں صدیوں سے کوئی خطرہ ہی نہیں تھا تو پھر کیوں علامہ اقبال اور قائد اعظم محمد علی جناح نے علیحدہ قومیت کا نعرہ بلند کیا اور ہندوستان سے علیحدہ مملکت قائم کرنے کے لیے اپنی زندگی کھپا دی اور پھر کس لیے ہندوستان کے لاکھوں مسلمانوں نے بے مثال قربانیاں دے کر پاکستان حاصل کیا۔

قائد اعظم کے ذاتی معالج ڈاکٹر ریاض علی شاہ نے قائد اعظم کے آخری کلمات کیا تھے کے بارے میں اپنی ڈائری میں لکھتے ہیں ایک بار دوا کے اثرات کو دیکھنے کے لیے ہم ان کے پاس بیٹھے تھے میں نے دیکھا کہ وہ کچھ کہنا چاہتے ہیں لیکن ہم نے بات چیت سے منع کر رکھا تھا اس لیے الفاظ لبوں پر آ کر رک جاتے اسی ذہنی کشمکش سے وہ بولے۔ تم جانتے ہو جب مجھے یہ احساس ہوتا ہے کہ پاکستان بن چکا ہے تو میری روح کو کس قدر اطمینان ہوتا ہے۔ یہ مشکل کام اور تمام امور میں اکیلا کبھی نہ کر سکتا تھا۔

رسول اللہ کا روحانی فیض ہے کہ پاکستان وجود میں آیا۔ اب یہ پاکستانیوں کا فرض ہے کہ وہ اسے خلافت راشدہ کا نمونہ بنائیں تاکہ اللہ اپنا وعدہ پورا کرے اور مسلمانوں کو زمین کی بادشاہت دے لیکن ایاز امیر صاحب ترکی کی مثال دیتے ہیں کہ بدلتے ہوئے حالات میں ڈھال لینے کی وجہ سے وہ ایک کامیاب ملک بن گیا ہے صاحب موصوف کو کون بتائے کہ جناب والا ترکی نے اتاترک کے یورپ کی تقلید کو ترک کر کے اس کی

صفحہ 422

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 422 ماہنامہ سبحانی کراچی

بجائے اسلام کی طرف مراجعت کی ہے جس کی وجہ سے وہاں کے عوام کی بھاری اکثریت سے طیب اردگان کی اسلام پسند جماعت برسر اقتدار آئی ہے۔ ایاز امیر صاحب نے اپنے قارئین کو یہ نہیں بتلایا کہ توہین رسالت کا قانون پاکستان کی ترقی میں کس طرح رکاوٹ یا مزاحم ہے پاکستان تو ہندوستان سے علیحدہ اس لیے ہوا کہ یہاں محمد عربی ﷺ کا نظام حکمرانی قائم ہو۔ قائد اعظم کے آخری الفاظ جو انہوں نے اپنے انتقال سے قبل اپنے ذاتی معالج ڈاکٹر ریاض علی شاہ کو بتلائے تھے جسے روزنامہ جنگ نے اپنی ۱۱ ستمبر ۱۹۸۸ء کی اشاعت میں شائع کیا، وہی پاکستان کی جدوجہد اور تشکیل کا سنگ میل ہے اس کی روئیداد ہم نے اوپر بیان کر دی ہے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ قائد اعظم اس نوزائیدہ مملکت میں کس طرح اللہ کے مشن کے لیے کام کر رہے تھے ایاز امیر صاحب قائد اعظم کے ان الفاظ پر غور فرمائیں کہ وہ قوم کو یہ بتلا رہے ہیں کہ پاکستان ایک خاص مقصد کے لیے تخلیق کیا گیا تا کہ اللہ کے مشن کی تکمیل ہو سکے اور اللہ اپنا پورا کرے۔

ایاز امیر صاحب کا پاکستان کی تشکیل میں نہ کوئی حصہ ہے نہ وہ اس کے بنیادی مقاصد کی اہمیت سے واقف ہیں۔ قائد اعظم پاکستان کی تشکیل کو رسول اللہ کا روحانی فیض قرار دے رہے ہیں کیا موصوف کو یہ بھی نہیں معلوم کہ یہ ملک عزیز محمد عربی ﷺ کی ذات گرامی کی بدولت وجود میں آیا، اگر ان کے نام گرامی کو نکال دیا جائے تو پھر ہندوستان سے اختلاف کی کوئی وجہ باقی نہیں رہتی۔ آج اس نام نامی کو پاکستان سے معاذ اللہ ہٹا دیجیے پھر دیکھیے ہندوستان بھی آپ کو گلے لگائے گا۔

امریکہ اور یورپ کی آشیر باد بھی آپ کو حاصل ہو جائے گی مگر اس کے بعد پاکستان کے وجود اور بقاء کی وجہ Reason of Existance ہی باقی نہیں رہے گی اس لیے ان کا نام نامی اس کی بقاء اور اس کی سالمیت کی ضمانت ہے اگر اس نام کی عزت اور حرمت اس ملک میں بھی باقی نہ رہے تو اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں کو ساری دنیا میں کھل کر کھیلنے کا موقع مل جائے گا۔ مقدس نام کی توہین کو دنیا میں کسی مسلمان نے جہاں کہیں بھی ہو یورپ، امریکہ، افریقہ میں کسی جگہ بھی برداشت نہیں کیا تقسیم ہند سے قبل جب غازی

صفحہ 423

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

علم الدین شہید نے ایک گستاخ رسول پبلشر راج پال کو قتل کر دیا تو اس پر علامہ اقبال جنہوں نے پاکستان کا بلو پرنٹ تیار کیا تھا بے ساختہ فرمایا ترکھاناں دا منڈا بازی لے گیا۔ علم الدین اور ایک گستاخ رسول کے قاتل غازی عبدالقیوم جن کو گستاخان رسول کے قتل میں کراچی کی عدالت سے سزائے موت ہوئی تھی تو علامہ اقبال نے اپنی مایہ ناز تصنیف ضرب کلیم میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے:

ان شہیدوں کی دیت اہل کلیسا سے نہ مانگ
قدر و قیمت میں ہے خوں جن کا حرم سے بڑھ کر

راج پال قتل کیس میں قائد اعظم نے لاہور ہائی کورٹ میں علم الدین کی طرف سے اس کے مقدمے کی پیروی کی تھی قائد اعظم کا اصول تھا کہ وہ کسی غلط مقدمہ کو لینے سے انکار کر دیتے تھے لیکن ہمارے ترقی پسند دانشور ایاز امیر صاحب نے توہین رسالت کو جرم تسلیم کرنے سے ہی انکار کر دیا ہے اس طرح وہ قرآن وسنت کے احکام کو چودہ سو سال سے امت مسلمہ کے اجماع تواتر کو اسلامی ملکوں اور خاص طور سے پاکستان سپریم کورٹ فیڈرل شریعت کورٹ کے متفقہ فیصلوں کو نہیں مانتے۔ موصوف کا علم و دانش برطانیہ اور یورپ کی لکڑیوں کے سہارے چلنے کی کوشش کرتا ہے جس کے بارے میں مولانا روم نے فرمایا ہے کہ پائے چوبیں بے تمکین بود۔ موصوف یورپ اور امریکہ کی ریاستوں اور حکومتوں کو اس لیے پسند کرتے ہیں کہ وہ سیکولر یا لادین ہیں اور عیسائیت کا قلعہ نہیں۔

معلوم ہوتا ہے کہ موصوف نے ان ملکوں کے اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کو پڑھنے کی کبھی زحمت گوارا نہیں کی۔ ان سیکولر ملکوں میں توہین مسیح کا قانون موجود ہے جس میں وہ کسی قسم کی ترمیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ”گے نیوز“ کے ایڈیٹر لے مون نے جناب مسیح کی مجرد زندگی کے بارے میں ایک مزاحیہ نظم شائع کی تھی جس پر برطانیہ کی ابتدائی عدالت نے اسے توہین مسیح کے جرم میں سزا دی۔ اس کی اپیل ہاؤس آف لارڈز نے خارج کر دی اس نے یورپین کورٹ آف ہیومن رائٹس میں نگرانی دائر کی لیکن اس کو بھی اس بنا پر مسترد کر دیا گیا کہ اس نظم سے عیسائی فرقہ کی دل آزاری ہوتی ہے جسے برداشت نہیں کیا جا سکتا البتہ اسلام کے خلاف کوئی بات کی جاتی ہے تو برٹش لاء کی رو سے وہ کوئی جرم نہیں لیکن اسی

صفحہ 424

ماہنامہ سبحانی کراچی 424 حرمت رسول نمبر ۲۰۱۰ء ہاؤس آف لارڈز کے جج لارڈ اسکارمن جن کو مشرق اور مغرب کے جمہوری ملکوں میں اور روس میں بھی ترقی پسند لبرل جج شمار کیا جاتا ہے اپنے ایک معرکۃ الآراء فیصلے میں قانون توہین مسیح کو برطانیہ کی سالمیت کے لیے ایک ناگزیر جمہوری ضرورت قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس قانون کو دوسرے مذاہب کی توہین تک بھی وسیع کیا جانا چاہیے تاکہ ان کے مذہبی جذبات مجروح نہ ہوں لیکن یہاں اپنے حضرت میاں امیر چاہتے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے مسلمان ان کی طرح توہین رسالت کو نظر انداز کردیں اور ان کی نظر میں اس قانون کو یہاں برقرار رکھنے کا کوئی جواز نہیں۔ اس ملک کو اسلام کا قلعہ کہنا بھی حماقت ہے کیوں کہ یہ ملک کسی خاص مقصد یا مشن کے لیے نہیں تخلیق کیا گیا تھا مگر موصوف نے یہ نہیں بتلایا کہ اس ملک کو ہندوستان سے علیحدہ کرنے کے لیے اتنی جانوں کی قربانیوں اور جدوجہد کی ضرورت کیا تھی اور اب صاحب موصوف کے پیش نظر کیا مشن ہے جس کی رو سے وہ قانون توہین رسالت کو منسوخ کرنے کے لیے سرتوڑ کوششوں میں مصروف ہیں اور صاف طور پر اسلام کے قلعہ کو مسمار کرنے کے درپے نظر آتے ہیں ایسے ہی لوگوں کے بارے میں جو رسالت مآب ﷺ کی عزت وحرمت کو اپنا دین وایمان نہیں سمجھتے علامہ اقبال نے فرمایا ہے:

بمصطفیٰ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
اگر بہ او نہ رسیدی تمام بولہبی است!
صفحہ 425

حرمت رسول نمبر 2011ء 425 ماہنامہ مسیحائی کراچی

قانون توہین رسالت کیا ہے اور

کیوں ضروری ہے؟

ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی

برصغیر پاک و ہند میں مغلیہ سلطنت کی عدالتی مقدمات میں فیصلے قرآن و سنت اور فقہ کی روشنی میں کیے جاتے تھے۔ مغلوں کے زوال کے بعد 1860ء میں انڈین پینل کوڈ نافذ کیا گیا جس کے نفاذ اور تدوین کے لیے گورنر جنرل ہند نے لارڈ میکالے کی سربراہی میں ایک کمیشن تشکیل دیا تھا۔ انگلینڈ میں آج بھی اور 1860ء میں بھی قانون توہین مسیح بطور Common Blasphemy Act ہے۔ 1898ء میں دفعہ 124-A تعزیرات ہند میں شامل کی گئی جس کے تحت حکومت برطانیہ کے خلاف منافرت پھیلانے یا توہین حکومت کے جرم کی سزا عمر قید مقرر کی گئی۔ اسی سال 1898ء میں ہی ایک دفعہ 153-A کا بھی اضافہ کیا گیا جس کا متن حسب ذیل ہے۔

”جو کوئی الفاظ سے بذریعہ تقریر، تحریر، اشارات یا کسی دوسرے طریقے سے ہندوستان میں ہر مجسٹی کی رعایا کی مختلف جماعتوں میں دشمنی یا منافرت کے جذبات ابھارنے یا انہیں بھڑکانے کی کوشش کرے اسے دو سال قید تک سزا یا جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جاسکتی ہیں۔“

حضور اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے شاتمان کے خلاف مقدمات بھی اسی دفعہ (153-A) کے تحت قائم ہوئے جس میں سب سے مشہور مقدمہ ”رنگیلا رسول“ کے ناشر راج پال کے خلاف اسی جرم کے ارتکاب پر رجسٹر ہوا۔ عدالت سیشن جج سے اسے سزا دی گئی مگر ہائی کورٹ نے اسے سزا نہ دی جس کے خلاف مسلمانان ہند میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور ہر پلیٹ فارم سے سخت احتجاج کیا گیا تا آنکہ غازی علم دین شہیدؒ نے راج پال کو موت کے گھاٹ اتار کر اسے توہین رسالت کی سزا دی اور خود زندہ جاوید ہو گئے۔

جب برٹش گورنمنٹ نے مسلمانوں کے جذبات کو دیکھا کہ اس دفعہ 153-A سے وہ

صفحہ 426

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 426 ماہنامہ مسیحائی کراچی

مجروح ہو رہے ہیں تو ان کی اشک شوئی کے لیے 295-A کو قانون فوجداری کے ترمیمی ایکٹ میں 1927ء میں Indian P.C میں شامل کیا گیا۔ وہ دفعہ یہ ہے:

”جو کوئی عملاً اور بدنیتی سے تحریری، تقریری یا اعلانیہ طور پر ہر مجسٹی کی رعایا کی کسی جماعت کے مذہب یا مذہبی عقائد کی توہین یا توہین کی کوشش کرے کہ جس سے اس کے مذہبی جذبات مشتعل ہوں تو اسے دو سال تک قید، جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔“

قیام پاکستان کے بعد، 23 مارچ 1956ء کو ’ہر مجسٹی کی رعایا‘ کے ان الفاظ کو ”پاکستان کے شہریوں“ کے الفاظ سے تبدیل کر دیا گیا۔

1961ء میں ایک ترمیمی آرڈیننس آیا۔ مگر اس دفعہ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

1980ء میں دوسرے ترمیمی آرڈیننس کے ذریعے 298-A کا اضافہ کیا گیا جو حسب ذیل ہے۔

”جو کوئی تحریری، تقریری، اعلانیہ، اشارتاً یا کنایتاً بالواسطہ یا بلا واسطہ امہات المومنینؓ یا کسی اہل بیت یا خلفاء راشدینؓ میں سے کسی خلیفہ راشد یا اصحاب رسولؐ کی بے حرمتی کرے، ان پر طعنہ زنی یا بہتان تراشی کرے، اسے تین سال تک کی سزا یا سزائے تازیانہ دی جائے گی یا دونوں سزائیں دی جائیں گی۔“

اس دفعہ میں امہات المومنینؓ اور اصحاب رسولؐ کی شان میں گستاخی کو تو قابل تعزیر گردانا گیا تھا مگر خود اس مقدس ہستی ﷺ جن سے نسبت کی وجہ سے ان کو یہ مرتبہ حاصل ہوا، اس گستاخی کی کوئی سزا نہ تھی۔ جس پر سپریم کورٹ کے ایڈووکیٹ جناب محمد اسماعیل قریشی کی جانب سے 1984ء میں شریعت کورٹ میں Petition دائر کی گئی۔ ابھی شریعت کورٹ میں فیصلہ نہ ہوا تھا کہ محترمہ آپا نثار فاطمہ نے ملک کے سینئر علماء اور وکلاء کے توسط سے قومی اسمبلی میں توہین رسالت کے مجرم کے لیے سزائے موت کا بل پیش کیا، جسے فوجداری قانون ترمیمی ایکٹ نمبر 3 سال 1986ء کی صورت میں منظور کر کے تعزیرات پاکستان میں 295-C کی صورت میں نافذ کیا گیا۔ جس کا متن یہ ہے:

”جو کوئی عملاً، زبانی یا تحریری طور پر یا بطور طعنہ زنی یا بہتان تراشی بالواسطہ یا بلا واسطہ اشارتاً یا کنایتاً محمد ﷺ کی توہین یا تنقیص یا بے حرمتی کرے وہ سزائے موت یا سزائے عمر قید

صفحہ 427

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 427 ماہنامہ مسیحائی کراچی

کا مستوجب ہوگا اور اسے سزائے جرمانہ بھی دی جاسکتی ہے۔“

توہین رسالت کے متذکرہ بالا بل میں اہانت رسول ﷺ کی سزا بطور سزائے موت کا مطالبہ یہ کیا تھا لیکن اس میں عمر قید بھی رکھی گئی، جو قرآن وسنت کے منافی ہے۔ فیڈرل شریعت کورٹ نے 30/ اکتوبر 1990ء کو C-295 میں ترمیم کر کے عمر قید کے الفاظ حذف کر دیے اور اب یہ فیصلہ پی ایل ڈی میں شائع ہوا ہے۔

(حوالہ PLD-FSC-1991 P-10)

جو قانون توہین رسالت، اس وقت پاکستان میں رائج ہے، وہ درحقیقت فیڈرل شریعت کورٹ کے فیصلے مورخہ 30/ اکتوبر 1990ء کی روشنی میں اور اس اعلیٰ عدالت کی ہدایت کے مطابق ترمیم کر کے نافذ کیا گیا ہے۔

فیڈرل شریعت کورٹ کا یہ فیصلہ عدالت کے پانچ فاضل جج صاحبان جن کے اسمائے گرامی درج ذیل ہیں نے مختلف مکاتب فکر کے چھ جید علمائے کرام (فقہاء) کی معاونت سے صادر کیا تھا:

(سابق جج لاہور ہائی کورٹ)

(سابق جج پشاور ہائی کورٹ)

(سابق جج کراچی ہائی کورٹ)

(سابق جج کراچی ہائی کورٹ)

(پی ایچ ڈی اسلامی قانون)

ملک کی ایک اعلیٰ عدالت نے لاہور، کراچی اور اسلام آباد میں متعدد تاریخوں پر اس کی سماعت کی اور معاملے کا قرآن وسنت کی روشنی میں جائزہ لے کر ٹھنڈے دل سے یہ فیصلہ

صفحہ 428

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 428 ماہنامہ مسیحائی کراچی

صادر کیا تھا کہ نبی اکرم ﷺ اور دوسرے تمام پیغمبروں کی شان میں گستاخی کے کلمات ادا کرنے والے بدقسمت شخص کی سزا، سزائے موت سے کم نہیں ہے اور جو کوئی عملاً زبانی یا تحریری طور پر یا بطور طعنہ زنی یا بہتان تراشی بالواسطہ یا بلاواسطہ اشارتاً یا کنایتاً حضور نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی توہین یا تنقیص یا بے حرمتی کرے وہ سزائے موت کا مستوجب ہوگا اور اسے سزا یا جرمانہ بھی دی جائے گی اگر وہی اعمال اور چیزیں دوسرے پیغمبروں کے متعلق کہیں جائیں وہ بھی اسی سزا کے مستوجب جرم ہوگا۔

قرآن وسنت نے حد اور تعزیری سزاؤں کے لیے چند شرائط مقرر کی ہیں: اسلام نے ہی دنیا میں سب سے پہلے نیت ارادے اور قصد یعنی Intention کو جرم کا بنیادی رکن بنایا ہے۔ دنیا کے کسی اور قانون میں نیت کو جرم کا جزو نہیں سمجھا جاتا۔ مگر اللہ اور اس کے رسول نے ارادہ اور نیت کو جرم اور ہر عمل کی بنیاد بنا کر انسان کو جزا اور سزا کا مستحق قرار دیا جو دنیائے قانون و عدل میں سب سے پہلا انقلابی اقدام ہے۔

”انما الاعمال بالنیات“ وہ مشہور حدیث ہے جو تمام حدیث و فقہ کی کتابوں میں پیشانی کے جھومر کی حیثیت سے سب سے پہلے لکھی ہوتی ہے۔

اس دفعہ کو قرآن وسنت سے ہم آہنگ کرنے کے لیے دو حصوں میں تقسیم کرنا پڑے گا کہ اگر قصداً گستاخی کی ہو تو سزائے موت کا مستحق ہے مگر بلا ارادہ یا غلطی سے کوئی بات منہ سے نکل جائے تو ایسی صورت میں سزائے موت کی بجائے تعزیر جس میں کوڑوں کی سزا اور جرمانہ شامل ہو، دی جانی چاہیے۔ واللہ اعلم بالصواب۔

قانون توہین رسالت قرآن کی روشنی میں: سورۃ الکوثر میں ارشاد ہے:

(الحجر: 95)

صفحہ 429

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ سبحانی کراچی

عذاباً مهين (احزاب:57) بلاشبہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ کی طرف سے پھٹکار ہے اور ان کے لیے رسوا کن عذاب مہیا کر دیا گیا ہے۔

شديد العقاب (الانفال: 13) ”یہ حکم قتال اس لیے دیا گیا ہے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی اور جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے تو بلاشبہ اللہ اس کے لیے نہایت سخت گیر ہے۔“

”اور جو اللہ اور اس کے رسول کو اذیت پہنچانا چاہتے ہیں ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔“

عذاب اليم (البقرہ: 104) اے لوگو جو ایمان لائے ہو راعنا نہ کہا کرو بلکہ انظرنا یعنی ہماری طرف التفات کیجیے۔ کہا کرو اور توجہ سے سنو۔ یہ کافر تو درد ناک عذاب کے مستحق ہیں۔

تعتذروا قد كفرتم بعد ايمانكم ان نعف عن طائفة منكم نعذب طائفة بانهم كانوا مجرمين (توبہ: 66-65) اور اگر تم ان لوگوں سے پوچھو (ایسی باتیں کیوں کرتے ہو) تو یہ ضرور جواب میں کہیں گے کہ ہم نے تو یونہی جی بہلانے کو ایک بات چھیڑ دی تھی اور ہنسی مذاق کرتے تھے۔ تم ان سے کہو کیا تم اللہ کے ساتھ اس کی آیتوں کے ساتھ اور اس کے رسول کے ساتھ ہنسی مذاق کرتے ہو؟

بہانے نہ بناؤ۔ حقیقت یہ ہے کہ تم نے اقرار ایمان کے بعد پھر کفر کیا۔ اگر ہم تم میں سے ایک گروہ کو معاف بھی کر دیں تاہم ایک گروہ کو ضرور عذاب دیں گے اس لیے کہ وہ اصل مجرم ہے۔

صفحہ 430

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 430 ماہنامہ مسیحائی کراچی

له بالقول كجهر بعضكم لبعض ان تحبط اعمالكم وانتم لا تشعرون

(الحجرات:۲)

اے اہل ایمان! اپنی آواز کو پیغمبروں کی آواز سے بلند نہ کرو اور نہ ہی ان سے اونچی آواز میں بات کیا کرو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے بات کیا کرتے ہو کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارا کیا کرایا سب غارت ہو جائے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔

یہودی اور مسلمان کا تنازع:

فلا و ربك لا يومنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم ثم لا يجدوا فى انفسهم حرجا مما قضيت ويسلموا تسليما (النساء:65) پس اے محمد! تمہارے رب کی قسم یہ کبھی بھی مومن نہیں ہو سکتے ، جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں تم کو یہ اپنا حکم نہ مانیں اور پھر جو بھی آپؐ فیصلہ کردیں اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی محسوس نہ کریں بلکہ اسے پورا پورا تسلیم کریں۔ حضور اکرمؐ کا یہودی کے حق میں فیصلہ، مسلمان حضرت عمرؓ کے پاس اس مقدمے کو لے گیا۔ حضرت عمرؓ نے تصدیق کی کہ کیا حضورؐ نے اس کا فیصلہ یہودی کے حق میں کیا۔ حضرت عمرؓ نے اس منافق کی گردن اڑا دی۔ مقتول کے ورثاء نے حضرت عمرؓ کے خلاف قتل کا دعویٰ کیا جس پر یہ آیت نازل ہوئی اور حضرت عمرؓ کو فاروق کا لقب عطا کیا گیا۔

قانون توہین رسالت سنت کی روشنی میں:

اسلام کی مسلمہ تاریخ کی رو سے گستاخ رسول ﷺ کی سزا صرف اور صرف موت ہے۔ رحمۃ للعالمین ﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر عام معافی کا اعلان کیا تھا۔ سوائے گستاخان رسول ﷺ کے کہ ان کے بارے میں آپ نے یہ حکم دیا کہ اگر یہ لوگ خانہ کعبہ کے پردے میں بھی لپٹ جائیں تب بھی انہیں معاف نہ کیا جائے اور انہیں ہر صورت قتل کیا جائے۔ ابن خطل کو خانہ کعبہ کے پردے پکڑنے کی حالت میں ہی قتل کیا گیا۔ اسی طرح دو گستاخ رسول عورتیں سارہ اور قریہ بھی قتل کی گئیں۔ (تاریخ طبری ص 104) اسی طرح 3 ہجری میں کعب

نے

توہین کیا کرتی تھی و دیت کی صورت

حضور اکرم ﷺ کی ہوتی تھی تو آپؐ نے جائے گا۔ (سنن ابو رحمت کے ساتھ

عمل صحابہ کرام

(حدیث: 9704

شان میں گستاخی کی کیوں چھوڑا۔ (کتاب

فتویٰ امام مالکؒ

ابن قاسم سے روا گیا کہ اس دریدہ دہن امام مالکؒ نے فتویٰ دیا

صفحہ 431

حرمت رسول نمبر 2011ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

بن اشرف ایک گستاخ رسول کو حضرت محمد بن مسلمہؓ کی قیادت میں ایک کمانڈو آپریشن کے ذریعے جہنم واصل کیا گیا۔

(تاریخ طبری ص 213)

توہین کیا کرتی تھی۔ ایک شخص نے اسے قتل کر دیا اور حضورؐ نے اس کے خون کا بدلہ قصاص ودیت کی صورت میں نہیں دلوایا۔

(سنن ابی داؤد 6/2)

حضور اکرم ﷺ کو خبر ہوئی تو آپؐ نے تحقیق کی۔ جب ثابت ہو گیا کہ وہ توہین کی مرتکب ہوتی تھی تو آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ تم سب گواہ رہو، اس کا قتل ضائع ہو گیا، اس کا بدلہ نہیں دیا جائے گا۔

(سنن ابوداؤد)

رحمت کے ساتھ میزان عدل بھی قائم کیا۔

عمل صحابہ کرامؓ

(حدیث: 9704، صفحہ 307، جلد 5، مصنف عبدالرزاق)

شان میں گستاخی کی۔ جب اس کا پتہ ابن عمرؓ کو چلا تو آپؓ نے کہا کہ سامعین نے اس کو زندہ کیوں چھوڑا۔

(کتاب الشفاء قاضی عیاض)

فتویٰ امام مالک:

ابن قاسم سے روایت ہے کہ امام مالک سے ایک نصرانی کے بارے میں فتویٰ طلب کیا گیا کہ اس دریدہ دہن نے حضورؐ کی شان میں گستاخی کی ہے۔ اس کو کیا سزا دی جائے جس پر امام مالکؒ نے فتویٰ دیا کہ اس کی گردن اڑا دی جائے۔

صفحہ 432

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 432 ماہنامہ سبحانی کراچی

فتویٰ امام ابن تیمیہ:

امام ابن تیمیہ نے اپنی معرکۃ الآراء تصنیف الصارم المسلول علی شاتم الرسول میں فتویٰ دیا ہے کہ شاتم الرسول واجب القتل ہے اور اس کی توبہ اور معافی قابل قبول نہیں۔

(ص 41-42)

کیوں کہ وہ فساد فی الارض کا مرتکب ہوتا ہے اور اس کی توبہ سے اس بگاڑ اور فساد کی تلافی اور ازالہ ممکن نہیں جو اس نے لوگوں کے دلوں میں پیدا کیا ہے اور اگر توبہ کی وجہ سے سزا نہ دی جائے تو بد بخت لوگوں کا جب جی چاہے گا توہین کریں گے اور لوگوں کے سامنے جھوٹی توبہ کر کے سزا سے بچ جائیں گے جس طرح دیگر مقدمات میں مجرم سزا سے نہیں بچ سکتا، اسی طرح شاتم الرسول ﷺ بھی دنیاوی سزا سے نہیں بچ سکتا۔

ناموس رسول ﷺ

اسلام ہمارا طریق زندگی ہے جس کو ہم نے برضا و رغبت اختیار کیا ہے۔ اس کی بنیاد کلمہ طیبہ ہے جس میں عقیدہ توحید کے ساتھ ساتھ عقیدہ رسالت کو بھی اہمیت دی گئی ہے کیوں کہ حضور اکرم ﷺ کی بدولت بھی معرفت الٰہی اور دین اسلام کی پہچان ممکن ہوتی ہے۔

لقد كان لكم في رسول الله اسوة حسنة

(الاحزاب:21)

”یقیناً تمہارے لیے اللہ کے رسولؐ میں بہترین نمونہ موجود ہے۔“

اسلام کی اساسی تعلیمات میں آپ کی محبت و اطاعت لازم اور آپ کی نافرمانی اور اذیت دینے کو حرام قرار دیا گیا ہے۔

حضور اکرمؐ رحمۃ للعالمین ہیں اور آپ کی محبت و شفقت بے مثال رہی ہے۔ اس لیے آپ کو اختیار حاصل تھا کہ آپ عفو و درگزر کی مثال قائم کریں یا سختی کریں مگر امت مسلمہ کے کسی فرد کو یہ حق کبھی نہیں دیا گیا کہ وہ توہین رسالت کے ضمن میں معافی نامہ جاری کر سکے۔

امت کا مفاد اسی میں ہے کہ اس عظیم ترین محبوب دو جہان کی مرکزی شخصیت کے حقوق و مفادات کا دفاع کرے تا کہ معاشرے کا امن قائم رہے اور افراد کی اصلاح کے لیے بھی یہ ضروری ہے کہ اس مثالی شخصیت کے ساتھ عقیدت و محبت میں ذرہ برابر کمی نہ ہو۔

صفحہ 433

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ سبحانی کراچی

در دل مسلم مقام مصطفیٰ است
آبروئے ما ز نام مصطفیٰ است

مغرب روحانی اقدار سے بیگانہ ہو گیا ہے اور یہ زمانہ اپنی روح کے اعتبار سے مادے پر استوار عقلیت (Rationalism) کا شکار ہے۔ مسلمان بھی اسی مادی ماحول سے متاثر ہو کر ایمان کو اپنے جلیل القدر رب العالمین اور حضور اقدس ﷺ کے احکام کی روشنی میں پرکھنے کی بجائے یورپی مادی عقلیت کے میزان میں تولتے ہیں اور اپنی غیرت و خود داری سے غافل ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے علامہ اقبال نے فرمایا:

اے تہی از ذوق و شوق و سوز و درد
می شناسی عصر ما با ما چہ کرد
عصر ما ما را ز ما بیگانہ کرد
از جمال مصطفیٰ بیگانہ کرد

اے عشق و محبت اور سوز و درد، عشق سے تہی دامن مسلمان! تمہیں کچھ خبر ہے کہ زمانے نے میرے ساتھ کیا کیا۔ میرے زمانے نے مجھے مجھ سے اور میری خودی سے غافل کر دیا اور حد تو یہ ہے کہ حضور کے عشق سے بھی بیگانہ کر دیا۔ اس غفلت کی پیدا کردہ محرومی کا مداوا یہی ہے کہ امت کی روحوں میں سوز عشق مصطفیٰ کی تپش تیز کر دی جائے۔

عشق رسول لازم ایمان ہے اور ہر مسلمان کے رگ و پے میں خون کی طرح جاری و ساری ہے۔ حقیقی مسلمان کبھی بھی یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ کوئی دریدہ دہن حضور کی شان میں گستاخی کا مرتکب ہو۔ تاریخ زندہ مثالوں سے بھری پڑی ہے چاہے وہ صحابہ کا دور ہو یا امت کے زوال کا دور، ناموس رسالت کے باب میں امت حد درجہ حساس رہی ہے اور والہانہ عقیدت سے سرشار رہی ہے۔ اس لیے اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ نظریاتی سرحدوں کی بھی اسی طرح حفاظت کی جائے جس طرح جغرافیائی حد بندیوں کی کی جاتی ہے اور معاشرے کا استحکام بھی تبھی ممکن ہے کہ شرپسند عناصر جو توہین رسالت کے مرتکب ہوں ان کے لیے سخت ترین قانون موجود ہو کیوں کہ دنیا کے ہر قانون میں ہتک عزت کا قانون موجود ہے تاکہ وطن عزیز فتنہ و فساد سے پاک رہ سکے۔

صفحہ 434

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ سبحانی کراچی

اگر یہ قانون موجود نہ ہو تو پھر مجرموں اور ان کے خلاف مشتعل ہونے والے مدعیوں پر عدالت کے دروازے بند ہو جائیں گے۔ جس کی وجہ سے ہر کوئی قانون اپنے ہاتھ میں لے کر مجرموں سے انتقام لے گا جس سے ملک میں انارکی پھیلے گی اور یہ ملکی سلامتی کے لیے انتہائی خطرناک ہوگا جہاں تک قانون توہین رسالت کے غلط استعمال کا تعلق ہے تو یہ غلط استعمال تو تمام قوانین میں خرابی اور سقم موجود ہے اور انہیں غلط طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔ مثلاً محض FIR کاٹنے پر ملزم کو جیل بھیج دیا جاتا ہے جب کہ اسلامی عدالتی نظام میں اس کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ قرآن وسنت کی واضح تعلیمات پر مبنی قوانین کا نفاذ کیا جائے جس میں کسی بے گناہ کو سزا نہیں مل سکتی اور گناہ گار سزا سے بچ نہیں سکتا اور جن برگزیدہ ہستیوں کی بدولت یہ دنیا نیکی اور سچائی، حق پرستی وعدل وانصاف جیسی قدروں سے آشنا ہوئی۔ ان کی شان میں گستاخی کو کوئی مذہب، معاشرہ برداشت نہیں کر سکتا۔ اور جب بات حضور نبی کریم ﷺ کے احترام کی ہو جو آج بھی اس گئے گزرے دور میں امت کو متحد رکھنے کا آخری سہارا ہے اور جن کے بارے میں اقبال فرماتے ہیں: یا رحمۃ للعالمین ! آپ ﷺ کی تشریف آوری سے زندگی اپنے شباب کو پہنچی۔ آپ مقصودِ کائنات ہیں جب سے آپ کے مبارک چہرے پر نظر پڑی ہے۔ آپ مجھے ماں باپ سے زیادہ محبوب ہو گئے ہیں۔ آئیے اپنے محبوب دو جہاں کی ناموس کے تحفظ کے لیے زندہ و بیدار ہو جائیں اور اپنی ایمانی غیرت اور زندگی کا ثبوت دیتے ہوئے قانون توہین رسالت کا تحفظ کریں۔

☆☆☆

صفحہ 435

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 435 ماہنامہ سبحانی کراچی

مقدمہ توہین رسالتؐ کا خلاصہ

تحریر صادق علی زاہد

رسول اکرم ﷺ کی ذات مسلمانوں کے لیے ان کی اپنی ذات سے بہت بڑھ کر ہے ۔ آپ ﷺ کے بارے میں فحش گوئی اور بدکلامی سے مسلمانوں کو تکلیف پہنچنا ایک لازمی و فطری عمل ہے۔ نبی اکرم ﷺ کی عزت وتکریم کی حفاظت ہر مسلمان پر فرض ہی نہیں بلکہ بنیاد ایمان ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔ ’’اے نبی ﷺ بے شک ہم نے آپ کو بھیجا شاہد و مبشر اور نذیر بنا کر، تا کہ اے لوگو تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیر کرو اور صبح و شام اللہ کی تسبیح (پاکی) بیان کرو‘‘ (1) ’’دوسری جگہ آپ ﷺ کی عزت وتوقیر کی اہمیت ان الفاظ میں بیان فرمائی : ’’پس جو لوگ اس رسول ﷺ پر ایمان لائیں اور اس کی تعظیم کریں اور اسکی مدد کریں اور اس نور کی اتباع کریں جو اس کے ساتھ اترا، وہی کامیاب ہونے والے ہیں ۔‘‘ (2) نبی اکرم ﷺ کی عزت و توقیر کس حد تک کی جائے اس بارے میں ارشاد ربانی ملاحظہ فرمائیں ۔ ’’اے ایمان والو ! اپنی آوازیں نبی ﷺ کی آواز سے بلند نہ کرو اور ان کی موجودگی میں بلند آواز سے بات نہ کرو جس طرح بلند آواز سے تم ایک دوسرے کے ساتھ بات کرتے ہو۔ ایسا نہ ہو کہ تمہارے سب اعمال ضائع ہو جائیں اور تمہیں پتہ بھی نہ چلے‘‘ (3)

صحابہ کرام تو پہلے ہی مجسم ادب تھے لیکن اس آیت مبارکہ کے نزول کے بعد ادب واحترام رسول ﷺ کے بارے میں مزید محتاط ہو گئے ۔ خود ہی محتاط نہ ہوئے بلکہ دوسروں کو بھی بارگاہ رسالت ﷺ میں حاضر ہونے سے قبل ’’آداب باریابی‘‘ سے مطلع فرماتے ۔ کتب سیر میں مرقوم ہے کہ اس آیت مبارکہ کے نزول کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے معمول بنالیا تھا کہ جب بھی کوئی بیرونی وفد آپ ﷺ سے ملاقات کی غرض سے

صفحہ 436

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ سبحانی کراچی

مدینہ طیبہ پہنچتا تو آپؐ اس وفد کی طرف ایک خاص آدمی کو روانہ کرتے جو اس وفد میں شامل لوگوں کو آپ ﷺ کی بارگاہ میں حاضری اور بات چیت کے آداب سے آگاہ کرتا۔ ایسے الفاظ جن میں توہین رسالت ﷺ کا شائبہ بھی موجود ہو، ان کے استعمال سے منع کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا! ”اے ایمان والو (جب تم رسول ﷺ سے بات کرو تو) ”رَاعِنَا“ نہ کہو بلکہ یوں عرض کرو کہ حضور ﷺ ہم پر نظر فرمائیے اور (جب حضور ﷺ ارشاد فرما رہے ہوں تو) غور سے سنا کرو (تاکہ بار بار تم لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر آپ ﷺ کو تکلیف محسوس نہ ہو)

(4)

اتنی واضح تعلیمات کے باوجود اگر کوئی بد بخت حضور ﷺ کے ناموس کے بارے میں ناپسندیدہ عمل کرے تو اس کا کیا حشر ہوگا، ارشاد ربانی ہے! ”بے شک وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرتے ہیں ان کو ہلاک کیا جائے گا جس طرح ان لوگوں کو ہلاک کیا گیا جو ان سے پہلے تھے۔“

(5)

مزید فرمایا! ”جو لوگ اللہ تعالیٰ اور رسول ﷺ کی مخالفت کرتے ہیں یہ ذلیل ترین لوگ ہیں۔“ (6) ناموس رسالت کا پاس نہ رکھنے والوں سے مومنین کا کوئی تعلق نہ ہونا چاہئے ارشاد ربانی ہے! ”جو لوگ خدا اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، تم انہیں خدا اور رسول ﷺ کے دشمنوں سے دوستی کرتے ہوئے نہ دیکھو گے۔“ (7) شاتمان رسالت کو سزا سے بچانے کیلئے قوانین میں ترمیم کرنے والوں اور گستاخان رسول کی وکالت کر کے انہیں سزا سے بچانے کی کوشش کرنے والوں کی آنکھیں کھولنے کیلئے اس حکم ربانی کا مطالعہ کافی ہوگا۔

حکومت وقت سے گذارش ہے کہ غیرت مسلماں کا امتحان لینے سے باز رہے۔ اقتدار کے نشے میں سرمست ہو کر جس نے بھی گستاخان رسول کی پشت پناہی کی کوشش کی اس کی دنیا و آخرت تباہ ہونے کا اشارہ قرآن و حدیث میں موجود ہے۔ قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔ ”جان لو! بے شک نبی کریم ﷺ کی عزت و حرمت اور آپ ﷺ کی تعظیم و توقیر آپ ﷺ کی

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

وفات کے بعد بھی اسی طرح ضروری و لازم میں ضروری و لازم تھی۔ اس کا اظہار خصوصاً آپ شریف کی تلاوت، آپ ﷺ کی سنت، آپ طیبہ کے سننے کے وقت ہونا چاہئے۔“

(8)

ان دنوں میڈیا پر ننکانہ صاحب میں توہین کو جناب محمد نوید اقبال صاحب ایڈیشنل سیشن سنائے جانے کے خلاف بہت کچھ کہا سنا جا ر آقاؤں کو خوش کرنے کی خاطر ہر قسم کی قانو حقائق عوام تک نہیں پہنچا رہا بلکہ سرکاری ب ہونے کی حیثیت سے میں نے مناسب سمجھا آسیہ نامی عیسائی عورت ننکانہ صاحب کے صدر ننکانہ صاحب کی رہائشی ہے۔ اس کا کر مادر پدر آزادی کی دلدادہ ہے۔ سرعام قانو شادی اس کے نام نہاد خاوند عاشق کے ساتھ موجود ہے۔ جب اس کی بڑی بہن کو بچے ک تو آسیہ اپنی بہن کے گھر کا کام کاج کر رہائش کے دوران اُس کے خاوند (جو کہ ا تعلقات قائم کر لئے۔ اور حاملہ ہو گئی۔ والد چاہی تو اس نے اپنی بہن کے خاوند عاشق ک دیا بعد بغاوت کر کے زبردستی عاشق کے ہونے کے باوجود راتیں آسیہ کے ساتھ بسر نے مار پیٹ کر اُسے گھر سے نکال دیا اب

صفحہ 437

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 437 ماہنامہ مسیحائی کراچی

وفات کے بعد بھی اسی طرح ضروری و لازم ہے۔ جس طرح آپ ﷺ کی ظاہری حیات میں ضروری و لازم تھی۔ اس کا اظہار خصوصاً آپ ﷺ کے ذکر مبارک، آپ ﷺ کی حدیث شریف کی تلاوت، آپ ﷺ کی سنت، آپ ﷺ کے نام مبارک اور آپ ﷺ کی سیرت طیبہ کے سننے کے وقت ہونا چاہئے۔ (8)

ان دنوں میڈیا پر ننکانہ صاحب میں توہین رسالت کی مرتکب آسیہ نامی عیسائی عورت کو جناب محمد نوید اقبال صاحب ایڈیشنل سیشن جج ننکانہ صاحب کی طرف سے سزائے موت سنائے جانے کے خلاف بہت کچھ کہا سنا جا رہا ہے خصوصاً گورنر پنجاب سلمان تاثیر غیر ملکی آقاؤں کو خوش کرنے کی خاطر ہر قسم کی قانونی و اخلاقی حدیں پھلانگ رہا ہے۔ میڈیا اصل حقائق عوام تک نہیں پہنچا رہا بلکہ سرکاری بولی بول رہا ہے۔ ننکانہ صاحب کا مقامی شہری ہونے کی حیثیت سے میں نے مناسب سمجھا کہ اصل حقائق قارئین تک پہنچا دیئے جائیں۔

آسیہ نامی عیسائی عورت ننکانہ صاحب کے نواحی گاؤں اٹانوالی چک نمبر 3 گ ب تھانہ صدر ننکانہ صاحب کی رہائشی ہے۔ اس کا کردار پورے گاؤں میں قابل اعتراض مشہور ہے ۔ مادر پدر آزادی کی دلدادہ ہے۔ سر عام قابل اعتراض گفتگو کرتی ہے۔ اس کی بڑی بہن کی شادی اس کے نام نہاد خاوند عاشق کے ساتھ ہوئی تھی۔ جس سے اس کے خاوند کے تین بچے موجود ہیں۔ جب اس کی بڑی بہن کو بچے کی امیدواری ہوئی اور زچگی کے دن قریب آئے تو آسیہ اپنی بہن کے گھر کا کام کاج کرنے اس کے گھر آ گئی۔ اپنی بہن کے گھر چند دن رہائش کے دوران اُس کے خاوند ( جو کہ اب آسیہ کا بھی خاوند ہی بن چکا ہے ) سے ناجائز تعلقات قائم کر لئے۔ اور حاملہ ہو گئی۔ والدین نے حمل چھپانے کی غرض سے شادی کرنا چاہی تو اس نے اپنی بہن کے خاوند عاشق مسیح کے سوا کسی اور سے شادی کروانے سے انکار کر دیا بلکہ بغاوت کر کے زبردستی عاشق کے گھر رہنے لگی اور عاشق اپنی بیوی کے گھر موجود ہونے کے باوجود راتیں آسیہ کے ساتھ بسر کرنے لگا۔ اس پر بیوی نے سخت احتجاج کیا تو عاشق نے مار پیٹ کر اُسے گھر سے نکال دیا اب اصل بیوی، بے گھر اور سالی گھر والی بن کر زندگی

صفحہ 438

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 438 ماہنامہ میثاق کراچی

گزارنے لگی۔ (ایسی حرکت پر ہی پنجابی میں کہا جاتا ہے ”اگ لین آئی تے گھر دی مالک بن بیٹھی) عیسائی مذہب میں ایک بیوی کے ہوتے ہوئے دوسری شادی کرنے کی اجازت نہیں، لیکن آسیہ نے اہل دیہہ اور برادری والوں کے اصرار کے باوجود عاشق کے گھر سے جانے سے انکار کر دیا۔ آسیہ اور عاشق کے اس خلاف مذہب اقدام پر عیسائی برادری نے بھی سخت احتجاج کیا اور ان کا معاشرتی بائیکاٹ کرنے کی دھمکیاں دیں لیکن دونوں نے کسی بات کی پروا نہ کی اور شادی کا سوانگ رچا ڈالا۔ دنیا کے دکھاوا کے لئے، مذہبی روایات کے برعکس عاشق نے آسیہ سے نام نہاد شادی کر لی اور دونوں بہنوں کو اکٹھا اپنے گھر آباد کر لیا جو کہ آج بھی دونوں حقیقی بہنیں عاشق کے گھر آباد ہیں آسیہ قدرے پڑھی لکھی اور ”روشن خیال“ عورت ہے اسی روشن خیالی کی وجہ سے NGO,S کی آنکھ کا تارا بن گئی اور علاقے میں عیسائی مذہب کی تبلیغ کرنے لگی۔ دیہات میں چونکہ عورتیں کھیتوں میں مزدوری کرتی ہیں، آسیہ نے یہ طریقہ بنا رکھا تھا کہ عورتوں کے ساتھ مزدوری کے بہانے چلی جاتی اور اپنے ساتھ کام کرتی عورتوں کو باتوں باتوں میں عیسائی مذہب کی تبلیغ کرتی۔

اسی معمول کے مطابق 14/06/2009 کو گاؤں کی عورتیں ادریس نامی زمیندار کے کھیتوں میں فالسہ کے باغ میں فالسہ توڑنے گئیں آسیہ بھی ان عورتوں میں موجود تھی۔ عورتیں عام طور پر دوپہر کا کھانا ساتھ ہی کھیتوں میں لے جاتی ہیں۔ جب عورتیں دوپہر کا کھانا کھانے بیٹھیں تو آسیہ نے مافیہ بی بی، آسیہ بی بی دختران عبدالستار کے گلاس میں پانی پی لیا۔ انہوں نے اس کے جھوٹے گلاس میں پانی پینے کی بجائے اپنا سالن والا برتن خالی کر کے اس میں پانی پی لیا۔ اس بات کو آسیہ نے اپنی توہین سمجھ کر دونوں بچیوں کے ساتھ تکرار کر کے مذہبی گفتگو شروع کر دی۔ دوران گفتگو آسیہ نے نبی اکرم ﷺ اور قرآن مجید کے بارے میں انتہائی نازیبا الفاظ استعمال کئے۔

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

یہ باتیں مافیہ بی بی، آسیہ بی بی دختران عبدالـ موجود دیگر کئی عورتوں نے سنیں تو مسلمان عور آسیہ کو اپنا منہ بند رکھنے اور اپنے الفاظ واپس لـ ہو گیا۔ جھگڑے کا شور سن کر کھیت کا مالک اد موقع پر آ گئے، معاملہ سنا اور آسیہ نے مذکورہ بـ اپنے کھیتوں میں سے چلے جانے کا کہا تو عـ بات اپنے اپنے گھروں میں کی تو گاؤں میـ مشتمل پنچایت اکٹھی ہوئی جس میں عیسائی کے بارے میں پوچھا گیا تو اُس نے ان ا گاؤں میں مزید اشتعال پیدا ہو گیا۔ اور لوگ نمبردار نے گاؤں والوں کو سمجھایا کہ اس عدالت اسے دے گی تم اسے قتل کر کے کیو دیئے جانے سے دیگر ممالک میں پاکستان کـ اسے قانون کے حوالے کر دیا جائے۔ ”نمبر کے خلاف قاری محمد سالم کی مدعیت میں تھا درخواست گذاری تو، 19/06/2010 295/C درج کر کے تفتیش محمد ارشد ڈوگر کے گھر سے گرفتار کر لیا اور اس کا ڈاکٹری مـ

صفحہ 439

ماہنامہ مسیحائی کراچی کہا جاتا ہے ’اگ لین آئی تے گھر دی مالک تے ہوئے دوسری شادی کرنے کی اجازت بیوی کے اصرار کے باوجود عاشق کے گھر سے خلاف مذہب اقدام پر عیسائی برادری نے کرنے کی دھمکیاں دیں لیکن دونوں نے کسی دنیا کے دکھاوا کے لئے، مذہبی روایات کے اور دونوں بہنوں کو اکٹھا اپنے گھر آباد کر لیا جو بنیاد ہیں آسیہ قدرے پڑھی لکھی اور ”روشن NGO,s کی آنکھ کا تارا بن گئی اور علاقے میں چونکہ عورتیں کھیتوں میں مزدوری کرتی ساتھ مزدوری کے بہانے چلی جاتی اور اپنے مذہب کی تبلیغ کرتی۔ گاؤں کی عورتیں ادریس نامی زمیندار کے میں آسیہ بھی ان عورتوں میں موجود تھی۔ دن میں لے جاتی ہیں۔ جب عورتیں دوپہر کا بی بی دختران عبدالستار کے گلاس میں پانی پی دینے کی بجائے اپنا سالن والا برتن خالی کر کے توہین سمجھ کر دونوں بچیوں کے ساتھ تو تکار آسیہ نے نبی اکرم ﷺ اور قرآن مجید کے

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 439 ماہنامہ مسیحائی کراچی یہ باتیں مافیہ بی بی، آسیہ بی بی دختران عبدالستار کے علاوہ یاسمین دختر اللہ رکھا اور کھیت میں موجود دیگر کئی عورتوں نے سنیں تو مسلمان عورتوں کا مشتعل ہونا ایک فطری عمل تھا انھوں نے آسیہ کو اپنا منہ بند رکھنے اور اپنے الفاظ واپس لینے کی بابت کہا، آسیہ کے انکار پر جھگڑا شروع ہو گیا۔ جھگڑے کا شور سن کر کھیت کا مالک ادریس اور اس کی بیوی جو قریبی ڈیرہ پر موجود تھے موقع پر آگئے، معاملہ سنا اور آسیہ نے مذکورہ بیان شدہ الفاظ کا کہنا تسلیم کیا۔ ادریس نے اسے اپنے کھیتوں میں سے چلے جانے کا کہا تو وہ چلی گئی۔ مسلمان عورتوں نے گاؤں پہنچ کر یہ بات اپنے اپنے گھروں میں کی تو گاؤں میں اشتعال پیدا ہو گیا اور گاؤں کے معزز افراد پر مشتمل پنچایت اکٹھی ہوئی جس میں عیسائی لوگ بھی موجود تھے۔ آسیہ کو بلا کر مذکورہ گفتگو کے بارے میں پوچھا گیا تو اُس نے ان الفاظ کا کہنا تسلیم کیا اور معافی بھی مانگی۔ اس پر گاؤں میں مزید اشتعال پیدا ہو گیا۔ اور لوگ آسیہ کو قتل کرنے کے درپے ہو گئے۔ گاؤں کے نمبردار نے گاؤں والوں کو سمجھایا کہ اس نے جو جرم کیا ہے اس کی سزا موت ہی ہے۔ جو عدالت اسے دے گی تم اسے قتل کر کے کیوں اپنے ذمے جرم لیتے ہو۔ اور اس طرح قتل کر دیئے جانے سے دیگر ممالک میں پاکستان کی جگ ہنسائی کا بھی اندیشہ ہے، مناسب ہے کہ اسے قانون کے حوالے کر دیا جائے۔“ نمبردار صاحب کے سمجھانے پر گاؤں والوں نے اس کے خلاف قاری محمد سالم کی مدعیت میں تھانہ صدر ننکانہ صاحب میں برائے اندراج مقدمہ درخواست گذاری تو، 19/06/2010 کو پولیس نے مقدمہ نمبر 326/09 بجرم 295/C درج کر کے تفتیش محمد ارشد ڈوگر SI کے سپرد ہوئی۔ جس نے ریڈ کر کے ملزمہ کو اس کے گھر سے گرفتار کر لیا اور اس کا ڈاکٹری معائنہ کرانے کی استدعا عدالت سے کی لیکن ملزمہ

صفحہ 440

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 440 ماہنامہ مسیحائی کراچی

نے ڈاکٹری معاینہ کرانے سے انکار کر دیا۔ ملزمہ سے کوئی برآمدگی مطلوب نہ ہونے کی بنا پر اسی دن اُسے مجسٹریٹ کے روبرو پیش کر کے جوڈیشل جیل شیخوپورہ بھیج دیا گیا۔ اس مقدمہ کی اطلاع جب RPO شیخوپورہ رینج کو ہوئی تو اس نے اس مقدمہ کی حساسیت کے پیش نظر بروئے چٹھی انگریزی نمبری 18523-26/Leagal مورخہ: 24/06/2009 اس کی تفتیش سید محمد امین بخاری SP انویسٹی گیشن شیخوپورہ کے سپرد کر دی۔ سید محمد امین بخاری SP انویسٹی گیشن شیخوپورہ نے مثل مقدمہ طلب کر کے ملاحظہ کی اور فریقین کو مورخہ: 29/06/2009 کو اپنے دفتر طلب کیا۔ 29/06/2009 کو مدعی فریق کی جانب سے گواہان FIR سمیت 27 افراد نے جبکہ ملزمہ کی جانب سے 04 افراد نے پیش ہو کر اپنے بیانات ریکارڈ کروائے۔ وہاں پر ملزمہ آسیہ کے خاوند عاشق مسیح نے آسیہ کی برحلف صفائی دینے سے انکار کر دیا۔ فریقین کے بیانات سنے جو کہ ضمنی نمبر 03 مرتبہ مورخہ 29/06/2009 میں مفصل درج ہیں۔ بیانات سننے کے بعد ضمنی نمبر 03 پہرہ نمبر 12 میں لکھا کہ ”معاملہ سنگین ہے۔ ریڈر خود کو حکم کیا کہ ادریس نامی کاشتکار جس کے کھیتوں میں وقوعہ ہوا ہے اسے بھی طلب کیا جائے اور ملزمہ جیل میں بند ہے اس سے ملاقات کے لئے سپریٹنڈنٹ جیل کو درخواست لکھی جائے“ مورخہ : 04/07/2009 کو محمد ادریس مذکور نے SP انویسٹی گیشن کے روبرو پیش ہو کر اپنا مفصل بیان ریکارڈ کروایا جو کہ ضمنی نمبر 04 مرتبہ 04/07/2009 میں مفصل درج شدہ ہے۔ محمد ادریس نے بتایا کہ وقوعہ کے بعد گاؤں میں حاجی علی احمد کے ڈیرہ پر اکٹھ ہوا جہاں لوگوں کی موجودگی میں ملزمہ نے حضور پاک ﷺ کی شان میں گستاخانہ باتیں کرنے کا اعتراف کیا۔ جبکہ اسی دن ریڈر SP انویسٹی گیشن نے علاقہ مجسٹریٹ صاحب کی خدمت میں ملزمہ سے جیل میں دریافت حالات کرنے کی اجازت طلب کی جو اسی دن اجازت دے دی گئی۔ تو مورخہ : 06/07/2009 کو SP انویسٹی گیشن شیخوپورہ معہ عملہ متعلقہ، ڈسٹرکٹ جیل شیخوپورہ پہنچا ملزمہ آسیہ سے جیل کے اندر ملاقات کر کے دریافت حالات کی، اور اپنی مرتبہ ضمنی نمبر 05 پہرہ نمبر 05 میں لکھا کہ ”مندرجہ بالا حالات کی روشنی

...ت رسول نمبر ۲۰۱۱ء میں مسمات آسیہ بی بی کا حضور پاک کرنا ثابت ہوا ہے جو مقدمہ ہذا میں کر مثل واپس تھانہ صدر ننکانہ صاحب محمد ایوب SHO /تھانہ صدر نے چالان مقدمہ مکمل کر کے ہمراہ بیانات 14/09/2009 کو چالان عدالت سیشن جج ننکانہ صاحب کے سپرد ہو جج صاحب ننکانہ صاحب نے مجرم کیا۔ استغاثہ کی طرف سے جناب کا ایک مضبوط پینل جن میں ایس شامل ہیں عدالت میں پیش ہوتا ہوتے رہے لیکن کبھی وکلاء کی ہڑت گواہان کے بیانات ریکارڈ نہ ہو سالم، مافیہ بی بی، عاصمہ بی بی 06/07/2010 محمد ارشد سب گیشن شیخوپورہ (تفتیشی افسر) باغ میں وقوعہ ہوا تھا) نے بطور 20/10/2010 کو ملزمہ کا بیا ملزمہ نے سیشن کورٹ اور ہائی کو ہوئیں۔ سماعت مکمل ہونے پر جناب محمد نوید اقبال صاحب ایڈ موت اور ایک لاکھ روپے جرمان

صفحہ 441

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۰ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

میں مسمات آسیہ بی بی کا حضور پاکﷺ کی شان میں اور قرآن پاک کے متعلق گستاخانہ باتیں کرنا ثابت ہوا ہے جو مقدمہ ہذا میں صحیح گنہگار پائی گئی ہے، اپنی تفتیش مکمل کر کے ملزمہ کو گنہگار کر مثل واپس تھانہ صدر ننکانہ صاحب ارسال کر دی۔ جہاں سے مورخہ: 12/07/2009 کو محمد ایوب SHO/تھانہ صدر نے حالات تفتیش مقدمہ کی روشنی میں ملزمہ کو گنہگار قرار دیکر مثل چالان مقدمہ مکمل کر کے ہمراہ بیانات گواہان متعلقہ دفتر میں جمع کرا دیا۔ جو کہ معمول کے مطابق 14/09/2009 کو چالان عدالت میں پہنچا اور سماعت جناب نوید اقبال صاحب ایڈیشنل سیشن جج ننکانہ صاحب کے سپرد ہوئی۔ 03/10/2009 جناب محمد نوید اقبال ایڈیشنل سیشن جج صاحب ننکانہ صاحب نے ملزمہ پر فرد جرم عائد کر کے مقدمہ کی باقاعدہ کاروائی کا آغاز کیا۔ استغاثہ کی طرف سے جناب میاں ذوالفقار علی ایڈووکیٹ جبکہ ملزمہ کی طرف سے وکلاء کا ایک مضبوط پینل جن میں ایس کے چوہدری، سید رشید حسین اور میاں محمد اجمل ایڈووکیٹس شامل ہیں عدالت میں پیش ہوتا رہا۔ پرائیویٹ گواہان ہر تاریخ پیشی پر عدالت میں حاضر ہوتے رہے لیکن کبھی وکلاء کی ہڑتال اور کبھی معزز جج صاحب کی چھٹی کی وجہ سے کئی ماہ تک گواہان کے بیانات ریکارڈ نہ ہو سکے۔ بالآخر 01/06/2010 گواہان استغاثہ قاری محمد سالم، مافیہ بی بی، عاصمہ بی بی، محمد افضل نے، 15/06/2010 کو محمد رضوان SI نے، 06/07/2010 محمد ارشد سب انسپکٹر (تفتیشی افسر) اور سید محمد امین بخاری SP انویسٹی گیشن شیخوپورہ (تفتیشی افسر) نے، 01/10/2010 کو محمد ادریس (جس کے فالسہ کے باغ میں وقوعہ ہوا تھا) نے بطور گواہ عدالت میں پیش ہو کر اپنا اپنا بیان قلمبند کرایا۔ جبکہ 20/10/2010 کو ملزمہ کا بیان ریکارڈ ہوا۔ کئی ماہ تک مقدمہ زیر سماعت رہا۔ اسی دوران ملزمہ نے سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ میں درخواست ہائے ضمانت پیش کیں جو نا منظور ہوئیں۔ سماعت مکمل ہونے پر ملزمہ گناہ گار ثابت ہو گئی تو مورخہ: 08/11/2010 کو جناب محمد نوید اقبال صاحب ایڈیشنل سیشن جج صاحب ننکانہ صاحب نے ملزمہ کو سزائے موت اور ایک لاکھ روپے جرمانہ کی سنادی۔ ملزمہ کے وکیل رائے اجمل ایڈووکیٹ نے

صفحہ 442

ماہنامہ مسیحائی کراچی حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

فیصلہ پر تبصرہ کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ جناب نوید اقبال صاحب نے میرٹ پر فیصلہ کیا ہے۔ مقدمہ کی سماعت کے دوران مجھے کوئی تعصب نظر نہیں آیا۔ ملزمہ آسیہ کے دفاع میں شہادت کمزور ہونے کی بنا پر میں نے شہادت عدالت میں پیش نہیں کی۔ وکیل موصوف کا یہ بیان مورخہ: 26/11/2010 ملکی اخبارات میں شائع ہوا۔ مکمل پولیس ریکارڈ جس میں مدعی، گواہان، ملزمہ اور پولیس کے مفصل بیانات لگے ہوئے ہیں اور مفصل عدالتی فیصلہ جس میں پورے مقدمہ کا خلاصہ اور حالات و واقعات بیان کرنے کے بعد سزائے موت سنائی گئی ہے، کی فوٹوسٹیٹ کاپی میرے پاس موجود ہے جس کی روشنی میں یہ تحریر تیار کی جا رہی ہے۔ اگلے دن معمول کے مطابق یہ خبر اخبارات میں شائع ہوئی تو میڈیا میں شور برپا ہو گیا جو کہ آج تک جاری ہے۔ گورنر پنجاب سلمان تاثیر اس سلسلہ میں بہت پیچ و تاب کھا رہا ہے۔ 20/11/2010 کو گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے اپنی بیٹیوں اور بیوی کو ساتھ لے کر، جیل کے اندر ملزمہ سے ملاقات کی، ملزمہ کو اپنے ساتھ بٹھا کر پریس کانفرنس کی۔ پولیس اور عدلیہ کی کئی ماہ کی انکوائری اور تحقیقات پر بیٹھے بٹھائے قلم پھیر کر ملزمہ کو بے گناہ قرار دے دیا اور اسے جلد ہی بری کر دیئے جانے کی نوید سنا کر اور ایک درخواست پر دستخط کروا کر چلا گیا۔ میڈیا پر یہ خبر بھی آ چکی ہے کہ ملزمہ کو شیخوپورہ جیل سے کہیں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ اپنا دینی اور ملی فریضہ سمجھتے ہوئے، میں صدر زرداری اور گورنر سلمان تاثیر سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا پاکستان میں ”اندھیر نگری اور چوپٹ راج“ والا معاملہ کیا جا رہا ہے؟ ابھی تو سیشن کورٹ ٹرائل ہوا ہے اس کے بعد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کی معزز عدالتیں موجود ہیں ان عدالتوں سے ٹرائل کے بعد صدر کے پاس اپیل کی باری آئے گی۔ اگر مجرمہ بے گناہ ثابت ہو گئی تو عدالتیں اسے بری کرنے میں آزاد ہیں۔ اگر گورنر اور صدر آصف زرداری نے سب عدالتوں کو بائی پاس کر کے مغربی خداؤں کی خوشنودی حاصل کرنے کی خاطر سیشن کورٹ کے فیصلہ پر ہی پیچ و تاب کھا کر مجرمہ کی رہائی کے غیر قانونی اور ناپاک منصوبے بنا رکھے ہیں تو ایک آرڈینینس جاری کر کے عدالتی نظام جو ان کے کئی ”منصوبوں“ کو روکے

صفحہ 443

ماہنامہ مسیحائی کراچی 442 کہ جناب نوید اقبال صاحب نے میرٹ پر فیصلہ کیا جس میں کوئی تعصب نظر نہیں آیا۔ ملزمہ آسیہ کے دفاع میں اسے ماتحت عدالت میں پیش نہیں کی۔ وکیل موصوف کا یہ بیان اخبارات میں شائع ہوا۔ مکمل پولیس ریکارڈ جس میں گواہوں کے بیانات لگے ہوئے ہیں اور مفصل عدالتی فیصلہ جس میں اس کے واقعات بیان کرنے کے بعد سزائے موت سنائی گئی ہے وہ موجود ہے جس کی روشنی میں یہ تحریر تیار کی جا رہی ہے۔ جب یہ خبر ان کے حق میں شائع ہوئی تو میڈیا میں شور برپا ہو گیا جو کہ آج تک جاری ہے۔ سلمان تاثیر اس سلسلہ میں بہت پیچ و تاب کھا رہا تھا۔ سلمان تاثیر نے اپنی بیٹیوں اور بیوی کو ساتھ لے جا کر ملزمہ کو اپنے ساتھ بٹھا کر پریس کانفرنس کی۔ پولیس اور عدالتی فیصلے پر قلم پھیر کر ملزمہ کو بے گناہ قرار دے دیا اور ملاقات کروا کر ایک درخواست پر دستخط کروا کر چلا گیا۔ میڈیا کو یہاں سے کہیں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ میں صدر زرداری اور گورنر سلمان تاثیر یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ یہ ”اندھیر چوپٹ راج“ والا معاملہ کیا جا رہا ہے؟ ابھی تو ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کی معزز عدالتیں موجود ہیں اس کے پاس اپیل کی باری آئے گی۔ اگر مجرمہ بے گناہ ہوئی تو عدالتیں آزاد ہیں۔ اگر گورنر اور صدر آصف زرداری ان مغربی خداؤں کی خوشنودی حاصل کرنے کی خاطر سیشن کورٹ سے مجرمہ کی رہائی کے غیر قانونی اور ناپاک منصوبے بنا رہے ہیں تو عاشق رسول نوجوان کے کئی ”منصوبوں“ کو روکے

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 443 ماہنامہ مسیحائی کراچی ہوئے ہے، ختم کر دیں اور خود ہی اپنی مرضی کے فیصلے کرتے جائیں۔ لیکن جب تک عدالتیں قائم ہیں ان کا احترام گورنر اور صدر مملکت کو عام پاکستانی شہری سے بدرجہا بڑھ کر کرنا ہوگا تا کہ عوام ان کی تقلید میں قانون کا احترام سیکھ سکیں۔ پیپلز پارٹی کے دونوں اہم ترین رہنماؤں کے ساتھ ساتھ دیگر کار پردازوں کو بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اسی طرح کا ایک کھیل ان کی قائد بے نظیر بھٹو نے 1993ء میں بھی کھیلا تھا جب تھانہ لدھا ضلع گوجرانوالہ کے دو عیسائی گستاخان رسول کو سیشن کورٹ نے سزائے موت سنائی تو بے نظیر بھٹو نے مغربی خداؤں کی خوشنودی حاصل کرنیکی غرض سے بطور وزیر اعظم پاکستان ، مقدمہ پر براہ راست اثر انداز ہو کر ہائی کورٹ کے ایڈہاک ججوں سے ملزمان کی رہائی کے آرڈر جاری کروا لیے۔ اور ملزمان سرکاری پروٹوکول کے ساتھ بیرون ملک فرار کرا دیئے گئے۔ جلد ہی اللہ کی بے آواز لاٹھی حرکت میں آئی تو بے نظیر بھٹو اپنے ہی ہاتھ سے بنائے ہوئے صدر فاروق لغاری کے ”دستِ شفقت کا شکار“ ہو کر اقتدار سے لڑھک گئیں اس کے بعد سو طرح کے جتن اور انتہائی شرمناک ڈیلیں کرنے کے باوجود لیلائے اقتدار تک رسائی حاصل نہ کر سکی تا آنکہ راہی ملک عدم ہوئی۔ عقلمند لوگ دوسروں کے تجربات سے سبق سیکھتے ہیں گورنر اور اسی قبیل کے لوگوں کو یاد رکھنا چاہیئے کہ حضور نبی رحمتﷺ کا نام ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ تک رہے گا مگر جس طرح ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی مرگ اور نصرت بھٹو کی جیتے جی جو داستان تمھاری آنکھوں کے سامنے ختم ہو چکی ہے۔ کچھ ہی عرصہ بعد تمھارے اعمال کی وجہ سے

ع تمھاری داستان تک نہ ہو گی داستانوں میں

ابھی وقت ہے ہوش کے ناخن لو اور اللہ اور اس کے رسول کی عزت کی حفاظت کا ڈنکا بجا دو وہ زمانے میں تمھاری عزت کا سامان پیدا کر دے گا۔ عیسائی آج بھی توہین عیسیٰ پر سزائے موت دینے پر قائم ہیں لیکن نام نہاد مسلمان لیڈر توہین رسالت کے قانون کی طرح طرح کی تاویلیں کر کے اس کی روح کو سبوتاژ کرنے کے درپے ہیں۔ یورپی ممالک اسلام سے برگشتہ اور اسلامی تعلیمات پر نکتہ چینی کرنے والے انہیں نام نہاد مسلمانوں کو جس طرح

صفحہ 444

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

عزت و توقیر سے نوازتے ہیں، یہ سراسر قابل اعتراض اور اشتعال انگیز حرکت ہے۔ گستاخ رسول ملعون سلمان رشدی ہو یا تسلیمہ نسرین، ملعون کارٹونسٹ ہو یا شاتمہ آسیہ انھیں امریکہ و یورپ میں ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے اور میڈیا میں انہیں ہیرو بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ جو کہ امریکہ و یورپ کے اسلام کے خلاف اندرونی بغض و عناد کا کھلم کھلا اظہار ہے۔ مغربی دنیا کی بھر پور کوشش ہے کہ روشن خیالی، آزاد روی اور جدیدیت کے نام پر مسلمانوں کو ان کے بنیادی اعتقادات سے بھی دور کر دیا جائے۔ ان حالات میں سب اسلامیان پاکستان سے گذارش ہے کہ اپنے وسائل اور اختیارات کے مطابق ہر فورم پر احتجاج کر کے اس دریدہ دہن عورت کو کیفر کردار تک پہنچانے اور قانون توہین رسالت کی روح کو بچانے میں اپنا حصہ اپنے تمام تر وسائل سمیت ڈال کر عند اللہ اور عند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سرخرو ہوں۔

حواشی:

صفحہ 445

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 445 ماہنامہ مسیحائی کراچی

وزارت قانون، انصاف اور پارلیمانی امور حکومت پاکستان

پاکستان میں توہین رسالت کے قوانین سے متعلق اٹھنے والے سوالات / اعتراضات کا تفصیلی جائزہ:

وزیر اعظم پاکستان کو مختلف افراد، اداروں اور غیر ملکیوں کی طرف سے کچھ خطوط موصول ہوئے جو وزیر اعظم سیکرٹریٹ کی جانب سے U.O-No.5(30)/FSA/2010 کے تحت 30 ستمبر 2010ء اور ریفرنس نمبر OGW/Misc/Asiabibi/2011 کے تحت 15 جنوری 2011ء کو وزارت قانون کو بھیجے گئے۔ اسی طرح وزارت داخلہ کی طرف سے لکھے گئے ایک خط نمبر U.O.7/32/2010-Ptns بتاریخ 8 دسمبر 2010ء کے ذریعے ایک علیحدہ ریفرنس بھی موصول ہوا۔ یہ سب ریفرنس اور خطوط ایک مجاز عدالت سے توہین رسالت کے جرم میں سزا یافتہ مسماۃ آسیہ نورین کے حوالے سے ہیں۔ اس کے علاوہ وزارت اقلیتی امور کی جانب سے توہین رسالت کے قانون میں ترمیم کے مطالبہ پر مبنی ریفرنس بھی موصول ہوا۔

نمبر U.o.DG(Americas)-1/2010 اس وزارت کو بھیجا۔

ریفرنس نمبر F.23(45)/2010-Legis موصول ہوا۔ جس کے تحت رکن قومی اسمبلی مسماۃ شہر بانو، عرف (شیری رحمان) کی جانب سے جمع کرائے جانے والے پرائیویٹ ممبر بل بعنوان "The Criminal Law (Review of Punishment for Blasphemy) (Amendment)Bill 2010" پر رائے طلب کی گئی تھی۔ اس بل میں پاکستان میں توہین رسالت قوانین میں ترمیم کرتے ہوئے پاکستان پینل کوڈ 1860 اور اسی طرح مجموعہ ضابطہ فوجداری میں Code of Criminal Procedure 1998 ترمیم کیلئے کہا گیا تھا۔

قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کا سوال یوں تھا:

صفحہ 446

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 446 ماہنامہ سبحانی کراچی

”زیر دستخطی کو یہ بتانے کی ہدایت کی گئی ہے کہ محترمہ شیری رحمان ایم این اے نے ایک نجی بل بعنوان The Criminal Law (Review of'' Punishment for Blasphemy) (Amendment) Bill ''2010 جمع کرانے کا نوٹس دیا ہے۔ لہٰذا فیصلہ کیا گیا ہے کہ مزید کارروائی سے پہلے اس بل پر وفاقی شرعی عدالت کے فیصلہ PLD 1991 Federal Shariat Court" "10 کی روشنی میں وزارت قانون وانصاف اور پارلیمانی امور کی رائے حاصل کی جائے۔“

امور نے خود اس معاملہ میں تحقیق کی اور قرآن، احادیث رسول ﷺ پاکستان پینل کوڈ 1860ء دفعہ C-295 اور اس سے متعلقہ قوانین کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک میں توہین رسالت کے قوانین (Blasphemy Laws) کی روشنی میں جائزہ لیا۔'

کی جانب سے پیش کئے گئے ایک پرائیویٹ ممبر بل کے بعد شروع ہوئی۔ لہٰذا قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے سوال کا جواب پہلے دیا جانا ضروری ہے۔ اس سلسلہ میں مسلمہ حقیقت یہ ہے کہ وفاقی شرعی عدالت نے اپنے فیصلہ PLD.1991 FSC page 10 میں اس قانون کو قرآن اور سنت رسول ﷺ سے اخذ کردہ اور درست قرار دیا ہے۔ آئین کی دفعہ D-203 کے تحت وفاقی شرعی عدالت ہی اس امر کی مجاز ہے کہ وہ کسی قانون کے اسلامی یا غیر اسلامی ہونے کا فیصلہ کرے۔ آئینی شق D-203 کے مطالعہ کے بعد شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔ جس میں کہا گیا ہے ”عدالت کے اختیارات اور فرائض:

صوبائی حکومت کی پٹیشن پر یہ اختیار رکھتی ہے کہ وہ قرآن اور سنت رسول ﷺ کے اصولوں کی روشنی میں کسی بھی قانون یا اس کی شق کے اسلام کے مطابق یا اسلام سے متصادم ہونے کا فیصلہ کر سکے“۔

صفحہ 447

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 447 ماہنامہ مسیحائی کراچی

کرنے ، ان پر نظر ثانی کرنے ، ان میں ترمیم کرنے ، ان کی تنسیخ کرنے کے وسیع تر اختیارات رکھتی ہے۔ پارلیمانی طریقہ کار اور قانون سازی کی روایات کے مطابق پارلیمنٹ کی طرف سے وضع کردہ قانون توہین رسالت کئی دہائیوں سے نافذ العمل ہے اور آئینی عدالت کے کڑے معیار پر پورا اتر چکا ہے۔ نجی بل جو میڈیا رپورٹس کے مطابق متعلقہ رکن نے زبانی طور پر واپس لے لیا ہے اور محرک کی جانب سے اس امر کی تردید بھی نہیں آئی ، اس میں توہین رسالت قانون کے مجوزہ پیراگراف کا وفاقی شرعی عدالت آئینی شق 203-D کی ذیلی شق 2 کے تحت پہلے ہی باریک بینی سے جائزہ لے چکی ہے اور اس کے فیصلہ کی رو سے موجود قانون قرآن وسنت کے عین مطابق ہے اور قرار دیا گیا ہے کہ گستاخ رسول کے لیے موت کی سزا کے علاوہ کسی بھی قسم کی متبادل سزا اسلامی تعلیمات سے متصادم ہوگی ۔ آئین کی شق 203-D کی ذیلی شق 2 کی شق (b) کے تحت یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ ہو چکا ہے۔ اس لئے محترمہ شہر بانو رحمان (شیری رحمان) کا مجوزہ بل مسترد کر دینے کے قابل ہے۔

وَمِنْهُمُ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ النَّبِيَّ وَيَقُولُوْنَ هُوَ أُذُنٌ قُلْ أُذُنُ خَيْرٍ لَّكُمْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَيُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِيْنَ وَ رَحْمَةٌ لِلَّذِيْنَ آمَنُوْا مِنْكُمْ وَالَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيْمٌ. (التوبہ:61)

ترجمہ: اور اُن میں سے بعض پیغمبر ﷺ کی بدگوئی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ شخص نرا کان ہے (یعنی صرف سنتا ہے) اُن سے کہو کہ وہ کان ہے تو تمھاری بھلائی کے لیے ہے۔ وہ ﷺ یقین لاتا ہے اللہ پر اور یقین لاتا ہے مومنوں کی بات پر جو لوگ تم میں سے ایمان لائے اُن کے لیے رحمت ہے اور جو لوگ اللہ کے رسول کی بدگوئی کرتے ہیں اُن کے لیے دردناک عذاب ہے۔

إِنَّ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ اللَّهَ وَ رَسُوْلَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَاباً مُّهِيْناً (الاحزاب: 57)

صفحہ 448

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 448 ماہنامہ سبحانی کراچی

ترجمہ: جو لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو ستاتے ہیں اللہ نے اُن پر لعنت بھیجی دنیا میں اور آخرت میں اور ان کے لیے ذلت والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَنْ تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَ أَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ (الحجرات:2)

ترجمہ: اے ایمان والو! اپنی آوازوں کو نبی ﷺ کی آواز سے بلند نہ کرو۔ اور اُس سے چیخ کر نہ بولو جیسے ایک دوسرے کے ساتھ چیخ کر بولتے ہو، (کہیں ایسا نہ ہو کہ ) تمھارے (نیک) اعمال اکارت ہو جائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو۔

لَا تَجْعَلُوْا دُعَاءَ الرَّسُوْلِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُوْنَ مِنْكُمْ لِوَاذًا فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُوْنَ عَنْ أَمْرِهِ أَنْ تُصِيْبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيْبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيْمٌ. (النور:63)

ترجمہ: رسول ﷺ کو ایسے مت پکارو جیسے تم آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو، اللہ تم میں سے اُن لوگوں کو جانتا ہے جو آنکھ بچا کر پھسل نکلتے ہیں۔ لہٰذا وہ لوگ جو اس کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہیں اس بات سے ڈرتے رہیں کہ (کہیں اچانک) اُن پر کوئی فتنہ یا کوئی تکلیف دہ عذاب آ پڑے۔

لِتُؤْمِنُوْا بِاللَّهِ وَرَسُوْلِهِ وَتُعَزِّرُوْهُ وَتُوَقِّرُوْهُ وَتُسَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَأَصِيْلاً. (الفتح:9)

ترجمہ: تاکہ تم لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لاؤ اور اُس کی مدد کرو اور اُس کی عزت کی پاسداری کرو اور صبح شام اُس کی پاکی بیان

صفحہ 449

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ سبحانی کراچی

کرتے رہو۔

يٰأَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُيُوْتَ النَّبِيِّ اِلَّا اَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ اِلٰی طَعَامٍ غَيْرَ نٰظِرِيْنَ اِنٰهُ وَ لٰكِنْ اِذَا دُعِيْتُمْ فَادْخُلُوْا فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا وَ لَا مُسْتَاْنِسِيْنَ لِحَدِيْثٍ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ يُؤْذِی النَّبِیَّ فَيَسْتَحْیٖ مِنْكُمْ وَ اللّٰهُ لَا يَسْتَحْیٖ مِنَ الْحَقِّ وَ اِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَاسْئَلُوْهُنَّ مِنْ وَّرَاءِ حِجَابٍ ذٰلِكُمْ اَطْهَرُ لِقُلُوْبِكُمْ وَ قُلُوْبِهِنَّ وَ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰهِ وَ لَا اَنْ تَنْكِحُوْا اَزْوَاجَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖٓ اَبَدًا اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِيْمًا.

(الاحزاب: 53)

ترجمہ: اے ایمان والو نبی ﷺ کے گھروں میں مت داخل ہوا کرو، مگر جب تمھیں کھانے کی دعوت دی جائے، (پہلے ہی پہنچ کر) اس کے پکنے کا انتظار مت کرتے رہو بلکہ جب تم بلائے جاؤ تبھی داخل ہوا کرو، پھر جب کھا چکو تو وہاں سے ہٹ جاؤ اور آپس میں باتیں رچا کر مت بیٹھ جاؤ۔ تمھاری اس بات سے نبی ﷺ کو تکلیف ہوتی ہے، لیکن وہ تم سے حیا کرتے ہیں، اور اللہ ٹھیک بات بتانے میں حیا نہیں کرتا۔ اور جب ( اُس کی) بیویوں سے کوئی چیز مانگنے جاؤ تو پردہ کے پیچھے سے مانگو، یہ (طریقہ) تمھارے اور اُن کے دلوں کی مناسبت سے زیادہ پاکیزہ ہے، اور تمھارے لیے اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ تمھاری وجہ سے رسول اللہ ﷺ کو کوئی تنگی پہنچے اور نہ ہی تم اُس کے ازواج مطہرات سے اُس کے بعد کبھی بھی نکاح کر سکتے ہو کیوں کہ یہ بات (یعنی نبی ﷺ کو ناگوار پہنچنا) اللہ کے نزدیک بہت بڑا گناہ ہے۔

اِنَّ الَّذِيْنَ يُحَادُّوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗٓ اُولٰٓئِكَ فِی الْاَذَلِّيْنَ

(المجادلہ: 20)

صفحہ 450

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 450 ماہنامہ سبحانی کراچی

ترجمہ: وہ لوگ اللہ اور اُس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی مخالفت کرتے ہیں وہ ذلیل ترین لوگوں میں ہیں۔

إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ

(الکوثر: 3)

ترجمہ: بے شک جو تیرا دشمن ہے وہ دم کٹا ہے۔

إِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِيْنَ يُحَارِبُوْنَ اللَّهَ وَ رَسُوْلَهُ وَ يَسْعَوْنَ فِي الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ يُّقَتَّلُوْا اَوْ يُصَلَّبُوْا اَوْ تُقَطَّعَ اَيْدِيْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ يُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا وَ لَهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيْم.

(المائده: 33)

ترجمہ: جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں اور زمین میں فساد کی سعی کرتے ہیں اُن کی سزا یہی ہے کہ وہ قتل کیے جائیں یا سولی چڑھائے جائیں یا اُن کے ہاتھ پاؤں مخالف جانب سے کاٹے جائیں یا وہ زمین سے دور کر دیے جائیں یہ اُن کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں اُن کے لیے بڑا عذاب ہے۔

وَ اِنْ نَّكَثُوْا اَيْمَانَهُمْ مِّنْ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَ طَعَنُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ فَقَاتِلُوْا اَئِمَّةَ الْكُفْرِ اِنَّهُمْ لَا اَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنْتَهُوْنَ.

(التوبہ: 12)

ترجمہ: اور اگر وہ وعدہ کر لینے کے بعد اپنی قسموں کو توڑ دیں اور تمھارے دین میں عیب لگائیں تو تم کفر کے سرداروں سے جنگ لڑو، (کیونکہ) اب اُن کی قسمیں بالکل (قابلِ اعتبار) نہیں ہیں، تاکہ وہ باز آ جائیں۔

حسب ذیل ہیں۔

عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَ عَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ

صفحہ 451

حرمت رسول نمبر ماہنامہ سبحانی کراچی

فَلَمَّا نَزَعَهُ جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ ”ابْنُ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ“ فَقَالَ ”اقْتُلُوْهُ“

(بخاری: ۴۲۸۴)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے روز مکہ میں داخل ہوئے تو آپ کے سر مبارک پر خود تھا۔ جب آپ ﷺ نے اسے اتارا تو آپ کی خدمت میں ایک صحابیؓ نے حاضر ہو کر عرض کیا کہ ابن خطل کعبہ کے پردوں سے لپٹا ہوا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا اسے قتل کردو۔

بْنِ الْأَشْرَفِ ؟ فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ : أَتُحِبُّ أَنْ أَقْتُلَهُ؟ قَالَ ”نَعَمْ“ . قَالَ ”فَأْذَنْ لِی فَلْأَقُلْ“ . قَالَ ”قَدْ فَعَلْتُ“

(بخاری: ۳۰۳۲)

ترجمہ: حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کعب بن اشرف کو کون سنبھالے گا۔ حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اسے قتل کردوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ انھوں نے عرض کیا کہ مجھے اجازت دیجیے کہ میں (اسے اعتماد میں لینے کی خاطر اس سے کچھ) کچھ خلاف حقیقت باتیں کر سکوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اجازت ہے۔

عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی أَبِی رَافِعٍ الْيَهُودِیِّ رِجَالاً مِنَ الْأَنْصَارِ فَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَبْدَاللهِ بْنَ عَتِيكٍ وَكَانَ أَبُو رَافِعٍ يُؤْذِی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُعِيْنُ عَلَيْهِ وَكَانَ فِی حِصْنٍ لَهُ بِأَرْضِ الْحِجَازِ فَلَمَّا دَنَوْا مِنْهُمْ وَقَدْ غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَ رَاحَ النَّاسُ بِسَرْحِهِمْ فَقَالَ عَبْدُ اللهِ لِأَصْحَابِهِ اجْلِسُوْا

صفحہ 452

حرمت رسول نمبر ماہنامہ سبحانی کراچی

مَكَانَكُمْ فَإِنِّي مُنْطَلِقٌ وَ مُتَلَطِّفٌ لِلْبَوَّابِ لَعَلِّي أَنْ أَدْخُلَ فَأَقْبَلْتُ حَتَّى دَنَوْتُ مِنَ الْبَابِ ثُمَّ تَقَنَّعْتُ بِثَوْبِي كَأَنِّي أَقْضِي حَاجَةً وَ قَدْ دَخَلَ النَّاسُ فَهَتَفَ الْبَوَّابُ يَا عَبْدَ اللَّهِ إِنْ كُنْتَ تُرِيدُ أَنْ تَدْخُلَ فَادْخُلْ فَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُغْلِقَ الْبَابَ فَدَخَلْتُ فَكَمَنْتُ فَلَمَّا دَخَلَ النَّاسُ أَغْلَقَ الْبَابَ ثُمَّ عَلَّقَ الْأَغَالِيقَ عَلَى وَتَدٍ قَالَ فَقُمْتُ إِلَى الْأَقَالِيْدِ فَأَخَذْتُهَا فَفَتَحْتُ الْبَابَ وَ كَانَ أَبُو رَافِعٍ يُسْمَرُ عِنْدَهُ وَ كَانَ فِي عَلالِيَّ لَهُ فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْهُ أَهْلُ سَمَرِهِ صَعِدْتُ إِلَيْهِ فَجَعَلْتُ كُلَّمَا فَتَحْتُ بَاباً أَغْلَقْتُ عَلَيَّ مِنَ الدَّاخِلِ قُلْتُ إِنِ الْقَوْمُ نَذَرُوْا بِي لَمْ يَخْلِصُوْا إِلَيَّ حَتَّى أَقْتُلَهُ فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ فَإِذَا هُوَ فِي بَيْتٍ مُظْلِمٍ وَسْطَ عِيَالِهِ لَا أَدْرِي أَيْنَ هُوَ مِنَ الْبَيْتِ فَقُلْتُ يَا أَبَا رَافِعٍ قَالَ مَنْ هَذَا فَأَهْوَيْتُ نَحْوَ الصَّوْتِ فَأَضْرِبُهُ ضَرْبَةً بِالسَّيْفِ وَ أَنَا دَهِشٌ فَمَا أَغْنَيْتُ شَيْئاً وَ صَاحَ فَخَرَجْتُ مِنَ الْبَيْتِ فَأَمْكُثُ غَيْرَ بَعِيدٍ ثُمَّ دَخَلْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ مَا هَذَا الصَّوْتُ يَا أَبَا رَافِعٍ فَقَالَ لِأُمِّكَ الْوَيْلُ إِنَّ رَجُلاً فِي الْبَيْتِ ضَرَبَنِي قَبْلُ بِالسَّيْفِ قَالَ فَأَضْرِبُهُ ضَرْبَةً أَثْخَنْتُهُ و لَمْ أَقْتُلْهُ ثُمَّ وَضَعْتُ ظُبَّةَ السَّيْفِ فِي بَطْنِهِ حَتَّى أَخَذَ فِي ظَهْرِهِ فَعَرَفْتُ أَنِّي قَتَلْتُهُ، فَجَعَلْتُ أَفْتَحُ الْأَبْوَابَ بَاباً بَاباً ، حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى دَرَجَةٍ لَهُ فَوَضَعْتُ رِجْلِي وَ أَنَا أَرَى أَنِّي قَدِ انْتَهَيْتُ إِلَى الْأَرْضِ فَوَقَعْتُ فِي لَيْلَةٍ مُقْمِرَةٍ فَانْكَسَرَتْ سَاقِي فَعَصَبْتُهَا بِعِمَامَةٍ ثُمَّ انْطَلَقْتُ حَتَّى جَلَسْتُ عَلَى الْبَابِ فَقُلْتُ لَا أَخْرُجُ اللَّيْلَةَ حَتَّى أَعْلَمَ أ

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۶ء قَتَلْتُهُ فَلَمَّا صَاحَ اِنْعَى أَبَا رَافِعٍ تَاجِرُ النَّجَاءَ فَقَدْ قَتَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثْتُ فَمَسَحَهَا فَكَأَنَّهَا لَمْ ترجمہ: البراء بن عازب رضی اللہ نے ایک یہودی کچھ لوگوں کو بھیجا۔ عبـ تھا۔ ابو رافع ، رسول ساتھ ساتھ وہ رسول کیا کرتا تھا۔ وہ صرف لوگ قلعہ کے قریب اپنے مویشیوں کو واپس عبداللہ (بن عتیق ) جائیں۔ میں جا کر قلـ کی کوشش کرتا ہوں قلعہ کی طرف چل پڑ انہوں نے خود کو کپڑ جیسے وہ قدرت کے جا چکے تھے اور چوکید مخاطب کرتے ہوئے ہو تو آجاؤ کیونکہ روایت کو آگے بڑھـ

صفحہ 453

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ سبحانی کراچی

قَتَلْتُهُ فَلَمَّا صَاحَ الدِّیْکُ قَامَ النَّاعِیْ عَلَی السُّوْرِ فَقَالَ اِنِّیْ اَنْعَی اَبَا رَافِعٍ تَاجِرَ الْحِجَازِ فَانْطَلَقْتُ اِلَی اَصْحَابِیْ فَقُلْتُ النَّجَاءَ فَقَدْ قَتَلَ اللّٰهُ اَبَا رَافِعٍ فَانْتَهَیْتُ اِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثْتُهُ فَقَالَ ابْسُطْ رِجْلَکَ فَبَسَطْتُ رِجْلِیْ فَمَسَحَهَا فَکَاَنَّهَا لَمْ اَشْتَکِهَا قَطُّ

(بخاری: ۳۸۱۳)

ترجمہ: البراء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ایک یہودی ابورافع کو قتل کرنے کے لیے انصار میں سے کچھ لوگوں کو بھیجا۔ عبداللہ بن عتیق کو ان لوگوں کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔ ابورافع، رسول اللہ ﷺ کی دل آزاری کیا کرتا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ رسول خدا کے دشمنوں کی بھی آپ ﷺ کے خلاف مدد کیا کرتا تھا۔ وہ سرزمین حجاز پر موجود اپنے قلعے میں رہتا تھا۔ جب وہ لوگ قلعہ کے قریب پہنچے اس وقت سورج غروب ہو چکا تھا اور لوگ اپنے مویشیوں کو واپس اپنے گھروں کی طرف لا رہے تھے۔ حضرت عبداللہ (بن عتیق) نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ اپنی جگہ پر بیٹھ جائیں۔ میں جا کر قلعہ کے دربان کے ساتھ ایک چال چلنے کی کوشش کرتا ہوں تاکہ میں قلعہ میں داخل ہو سکوں۔ پس عبداللہ قلعہ کی طرف چل دیے اور جب وہ قلعہ کے دروازے پر پہنچے تو انہوں نے خود کو کپڑے سے ڈھانپ لیا۔ انہوں نے ایسے ظاہر کیا جیسے وہ قضائے حاجت کے لیے بیٹھے ہوں۔ لوگ اندر جا چکے تھے اور دربان (جو عبداللہ کو قلعہ کا خادم سمجھ رہا تھا) نے ان سے مخاطب کرتے ہوئے کہا ’’اے اللہ کے بندے! اگر تم اندر آنا چاہتے ہو تو آجاؤ کیونکہ میں دروازہ بند کرنا چاہتا ہوں ۔‘‘ عبداللہ اپنی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے کہتے ہیں ’’پس میں اندر چلا گیا اور

صفحہ 454

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ سنی دنیا کراچی

خود کو چھپا لیا، جب لوگ اندر آگئے تو چوکیدار نے دروازہ بند کردیا اور چابیاں لکڑی کے کھونٹے سے لٹکا دیں۔ میں نے اٹھ کر چابیاں اٹھالیں اور دروازہ کھول دیا کچھ لوگ رات گئے تک ابو رافع کے کمرے میں اس کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف رہے۔ جب یہ خوش گپیاں ختم ہو گئیں اور اس کے ساتھی چلے گئے تو میں اس کی طرف آیا۔ میں نے اس کا دروازہ کھولا، اور پھر اسے اندر سے بند کرلیا۔ میں نے سوچا کہ لوگوں کو اگر میرا پتہ چل بھی جائے تو مجھے اس وقت تک پکڑنے نہیں جانا چاہئے جب تک کہ میں اسے قتل نہ کردوں۔ میں اس تک پہنچا تو وہ ایک اندھیرے کمرے میں اہل خانہ کے درمیان سو رہا تھا، میں اسے شناخت نہیں کرسکتا تھا لہٰذا میں نے اسے پکارا ” اے ابو رافع “۔ وہ فوراً بولا ”کون ہو تم “ میں نے آواز کی سمت بڑھا اور اس پر تلوار سے حملہ کردیا۔ بے یقینی کی صورتحال کے سبب میں اسے قتل نہ کرسکا۔ لہٰذا باہر آکر ایک لمحہ بعد ہی میں نے پکارا ”ابو رافع ، یہ آوازیں کیسی ہیں؟“ اس نے کہا ” تمہاری ماں تمہیں روئے، یہاں کوئی گھس آیا ہے، اس نے مجھ پر تلوار سے حملہ کیا ہے“ چنانچہ میں آواز کی سمت دوبارہ بڑھا اور حملہ کیا مگر اسے مار نہیں سکا۔ میں نے تلوار کی نوک اس کے پیٹ پر رکھ کر اتنے زور سے دبائی کہ اس کی پشت سے جاکر نکلی۔ میں سمجھ گیا کہ یہ مارا جاچکا ہے۔ میں نے ایک ایک کرکے دروازے کھولے اور سیڑھیوں تک جا پہنچا میں سمجھا میں زمین پر پہنچ گیا ہوں۔ میں نے قدم باہر رکھا اور نیچے گر پڑا اور میری ٹانگ ٹوٹ گئی، میں نے اسے پگڑی سے باندھا اور اس وقت تک چلتا رہا جب تک گیٹ پر نہیں پہنچ گیا۔ میں نے فیصلہ کیا کہ اس وقت تک باہر نہیں جاؤں گا جب تک کہ مجھے اس کی موت کی خبر نہیں مل جاتی۔ صبح جب مرغ اذان دے رہے تھے تو وہاں کے

صفحہ 455

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 455 ماہنامہ مسیحائی کراچی

اعلان کرنے والے نے دیوار پر چڑھ کر اعلان کیا کہ ”میں حجاز کے تاجر ابو رافع کی موت کا اعلان کرتا ہوں“۔ یہ سن کر میں باہر اپنے ساتھیوں کے پاس آیا اور کہا کہ اب ہمیں خود کو محفوظ کر لینا چاہئے۔ لہذا ہم وہاں سے چل پڑے اور رسول اللہ کے پاس پہنچ گئے۔ ہم نے انہیں پوری داستان سنائی۔ انہوں نے فرمایا اپنی ٹوٹی ہوئی ٹانگ باہر نکالو، میں نے ٹانگ باہر نکالی آپ نے اس پر ہاتھ پھیرا تو وہ ایسے ہوگئی جیسے ٹوٹی ہی نہ ہو۔

رہتی تھی۔ جب وہ رسول اللہ ﷺ سے ملنے جاتے تو وہ آپ ﷺ کے متعلق توہین آمیز کلمات کہتی لہٰذا ایک دن انہوں نے اسے مار ڈالا۔ اس کے بیٹوں نے کہا کہ وہ قاتل سے آگاہ ہیں۔ عمیرؓ نے سوچا کہ وہ کسی اور بے گناہ کو قتل نہ کر دیں لہذا وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے اور سارا معاملہ بیان کر دیا۔ آپ ﷺ نے سوال کیا ”تم نے اپنی بہن کو قتل کر دیا؟“ انہوں نے کہا ”جی ہاں“ آپ ﷺ نے پوچھا کیوں؟ انہوں نے کہا وہ میرے اور آپ کے تعلق کو نقصان پہنچا رہی تھی۔ آپ ﷺ نے مقتولہ کے بیٹوں کو بلایا اور قاتل کے بارے میں دریافت کیا انہوں نے کسی اور کا نام لیا۔ تب آپ نے انہیں اصل صورتحال بتائی اور اس قتل کو رائیگاں قرار دیا۔ (یعنی یہ قتل جائز تھا اس کا بدلہ نہیں ہوگا ۔)

آپ ﷺ نے فرمایا اس دشمن کے خلاف کون میری مدد کرے گا۔ زبیر نے کہا میں۔ اور وہ اس سے لڑے اور اسے قتل کر ڈالا۔ آپ نے انہیں شاباش دی (pld 1991 fsc 10/25)۔

حضرت اسحٰق بن ابراہیم ، عبداللہ بن محمد ، سفیان بن عیینہ اور حضرت عمروؓ نے حضرت جابر سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کعب بن اشرف کو کون قتل کرے گا۔ اس نے اللہ کے نبی ﷺ کو ستایا ہے۔ حضرت محمد بن مسلمہؓ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اسے قتل کر دوں آپ ﷺ نے فرمایا ”ہاں“۔۔۔۔۔اور پھر انہوں

صفحہ 456

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۲ء ماہنامہ سبحانی کراچی

نے اسے مار ڈالا۔ (صحیح مسلم کتاب الجہاد 2158)

توہین رسالت پر مبنی شاعری پر ابن خطل اور اس کی لونڈی کو قتل کر دیا جائے۔ (الشفاء (اردو ترجمہ) مرتبہ قاضی عیاض، جلد 2، صفحہ 284۔ (PLD 1991 FSC 10)

سے متعلق ہے۔ اس لیے سیکشن 295 سی کا مطالعہ ضروری ہے۔

295 C رسول پاکﷺ کے بارے میں گستاخانہ کلمات کہنا:

”اگر کوئی ایسے الفاظ لکھے یا بولے یا کسی بھی طرح ان کا اظہار کرے یا کسی بھی طرح بالواسطہ یا بلا واسطہ ایسا اشارہ کنایہ کرے جس سے رسول پاک حضرت محمدﷺ کی شان میں گستاخی کا پہلو سامنے آئے تو یہ جرم ہوگا۔ جس کی سزا موت یا عمر قید ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ جرمانہ بھی کیا جاسکتا ہے۔“

”فرد جرم عائد کرنا“:

میں ---------- (سیشن کورٹ کا آفس اور نام وغیرہ) تم ---------- (ملزم کا نام) پر الزام عائد کرتا ہوں کہ تم نے فلاں دن، فلاں وقت (تحریری یا تقریری الفاظ کا ذکر کیا جائے یا تحریری مواد کی صورت میں مواد پیش کیا جائے) رسول پاک حضرت محمدﷺ کی شان میں گستاخی کی ہے۔ اس طرح کی دانستہ اور بدنیتی کی بنا پر گستاخانہ حرکات پاکستان پینل کوڈ 1860ء کے سیکشن C-295 کے تحت قابل سزا جرم ہے اور میں ہدایت کرتا ہوں کہ تم پر لگنے والے اس الزام کا کیس اس عدالت میں چلے گا۔

قرآن پاک کی بہت سی آیات اور رسول پاکﷺ کی احادیث سے توہین رسالت کی سزا موت ثابت ہے۔ لہٰذا قرآن وسنت اور پاکستان کی مقننہ نے معاملہ کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے ”دانستہ اور بدنیتی“ کے الفاظ استعمال کئے ہیں۔ اور کوئی عدالت دیئے گئے نمونہ کے برعکس چارج شیٹ نہیں کرسکتی۔ اس سے عدالتی کارروائی کے غلط

ں کو روکنے کی خاطر دو طرح کہ ملزم نے دانستہ طور پر رنے توہین کے جرم کی nistration of Just بلکہ یہ طریقہ کار بین الاقوامی

ں کی مثال پیش کی جاسکتی ہے۔ میں لازمی طور پر سزائے موت

مقصد ایک خاص طبقہ کو نشانہ بنا تاریخ اور مختلف ممالک میں اس

افغانستان:

اسلامی ملک افغانستان قوانین کے تحت دی جاتی ہے۔ ذریعہ سزائے موت تک دی جاسکتی

آسٹریلیا:

آسٹریلیا کی مختلف ر کی سزا دینے کا معاملہ یکساں نہیں نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں آخری

آسٹریا:

آسٹریا میں پینل کوڈ کی د

صفحہ 451

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۰ء 451 ماہنامہ مسیحائی کراچی

استعمال کو روکنے کی خاطر دو طرح کی ضمانت حاصل ہوتی ہے۔ اول اس بات کا یقین حاصل کرنا کہ ملزم نے دانستہ طور پر یہ جانتے ہوئے کہ جو وہ کر رہا ہے، یہ جرم ہے، یہ جرم کیا۔ دوسرے توہین کے جرم کی اصل حقیقت کی چھان بین، Criminal Administration of Justice یہ دونوں اصول عالمی طور پر نہ صرف تسلیم شدہ ہیں بلکہ یہ طریقہ کار بین الاقوامی معیار کے عین مطابق ہے۔

اس کی مثال پیش کی جاسکتی ہے۔ تورات میں ہے کہ ”جو (لوگ) گستاخانہ باتیں کرتے ہیں انہیں لازمی طور پر سزائے موت دی جائے گی (توراۃ، کتاب 24:16 ;Leviticus)۔

مقصد ایک خاص طبقہ کو نشانہ بنانا ہے، مکمل طور پر بے بنیاد اور غلط ہے۔ اس قانون کی مختصر تاریخ اور مختلف ممالک میں اس سے متعلقہ قوانین کا جائزہ پیش خدمت ہے۔

افغانستان:

اسلامی ملک افغانستان میں توہین رسالت قابل سزا جرم ہے اور اس کی سزا شرعی قوانین کے تحت دی جاتی ہے۔ توہین رسالت کے مرتکب کو جرمانوں سے لیکر پھانسی کے ذریعہ سزائے موت تک دی جاسکتی ہے۔

آسٹریلیا:

آسٹریلیا کی مختلف ریاستوں، علاقوں، دولت مشترکہ آف آسٹریلیا میں گستاخی کی سزا دینے کا معاملہ یکساں نہیں ہے۔ کچھ حصوں میں گستاخی کرنا جرم ہے جبکہ دیگر میں ایسا نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں آخری بار 1919 میں مقدمہ چلایا گیا۔

آسٹریا:

آسٹریا میں پینل کوڈ کی دو شقیں توہین رسالت سے متعلق ہیں۔

صفحہ 458

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 458 ماہنامہ سبحانی کراچی

بنگلہ دیش:

بنگلہ دیش کے پینل کوڈ اور دیگر مختلف قوانین کے ذریعہ سے توہین رسالت کرنے اور مذہبی جذبات مجروح کرنے کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔

برازیل:

پینل کوڈ کی شق 208 کے تحت برازیل میں مذہبی شخصیات، اعمال اور عبادات کی کھلے عام توہین کرنا قابل سزا جرم ہے۔ اس کی سزا ایک ماہ سے لے کر ایک سال تک قید یا جرمانہ ہو سکتی ہے۔

کینیڈا:

کریمنل کوڈ آف کینیڈا کے مطابق بھی گستاخی یا توہین ایک جرم ہے۔ مگر Charter of Rights and Freedoms کو اس پر فوقیت حاصل ہے۔ آخری بار اس سلسلہ میں 1935 میں کارروائی کی گئی۔۔

ڈنمارک:

پینل کوڈ کا پیراگراف نمبر 140 توہین کے بارے میں ہے۔ یہ پیراگراف 1938ء سے استعمال نہیں کیا گیا۔ جب ایک نازی گروپ کو یہود مخالف پروپیگنڈہ پر سزا دی گئی تھی۔ اس کوڈ کا پیراگراف B-266 نفرت انگیز تقریر کے بارے میں ہے۔ اس پیرا گراف کو ایک تسلسل کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے۔ 2004ء میں گستاخی سے متعلقہ کلاز کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی لیکن اکثریتی رائے سے اسے مسترد کر دیا گیا۔

مصر:

مصر کی اکثریت سنی ہے۔ یہاں پر بھی توہین رسالت اور مذہبی اقدار کی توہین کے متعلق قانون موجود ہے۔

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

بھارت:

بھارت کے اکثریتی مگر ہندوستان کے مسلم حکمرانو استعمار نے یہ قوانین ختم کر دئیے بھارتی پینل کوڈ کے سیکشن A مذہبی اعتقاد کی توہین کی کوشش پر

انڈونیشیا:

کریمنل کوڈ کے آر خلاف جارحانہ، نفرت آمیز او جرم ہے۔ اور اس کی سزا زیادہ

ایران:

ایران ایک اسلا اخذ کرتا ہے۔ توہین رسا قانون، اسلام کی توہین کے سخت قوانین موجود ہیں۔

آئرلینڈ:

آئرلینڈ میں تو سزا 25000 پونڈ جرمانہ ی نافذ کیا گیا۔

اسرائیل:

اسرائیل میں

یورپی یونین:

صفحہ 459

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ سبحانی کراچی

بھارت:

بھارت کے اکثریتی مذہب ہندومت میں توہین رسالت کی سزا کا کوئی تصور نہیں مگر ہندوستان کے مسلم حکمرانوں نے یہ قوانین متعارف کروائے۔ 1860 میں برطانوی استعمار نے یہ قوانین ختم کر دیئے تا کہ مسیحی مشنریوں کو کھل کھیلنے کا موقع مل سکے۔ ان دنوں بھارتی پینل کوڈ کے سیکشن 295-A تحت نفرت آمیز تقاریر، کسی مذہب یا کسی شخص کے مذہبی اعتقاد کی توہین کی کوشش پر سزا دی جاتی ہے۔

انڈونیشیا:

کرمنل کوڈ کے آرٹیکل 156-A کے تحت دانستہ طور پر سرعام کسی مذہب کے خلاف جارحانہ، نفرت آمیز اور توہین پر مبنی جذبات کے اظہار یا مذہب کی توہین قابل سزا جرم ہے۔ اور اس کی سزا زیادہ سے زیادہ 5 سال قید ہے۔

ایران:

ایران ایک اسلامی ملک ہے۔ توہین رسالت کے خلاف قوانین، شریعت سے اخذ کرتا ہے۔ توہین رسالت کے خلاف قانون، اسلامی حکومت پر تنقید کے خلاف قانون، اسلام کی توہین کے خلاف قانون، اور خلاف اسلام مواد کی اشاعت کے خلاف سخت قوانین موجود ہیں۔

آئرلینڈ:

آئرلینڈ میں توہین رسالت آئینی طور پر جرم ہے اور اس کی زیادہ سے زیادہ سزا 25000 پونڈ جرمانہ ہے۔ یہ قانون جولائی 2009 کو منظور ہوا اور یکم جنوری 2010 کو نافذ کیا گیا۔

اسرائیل:

اسرائیل میں پینل کوڈ کی شق 170 اور 173 توہین رسالت سے متعلقہ ہیں۔

یورپی یونین:

صفحہ 460

ماہنامہ سبحانی کراچی حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

کونسل آف یورپ کی پارلیمانی اسمبلی نے 29 جون 2007 کو Strasboug میں توہین رسالت، مذاہب کی توہین، مذہب کی بنا پر کسی فرد یا گروہ کیخلاف نفرت انگیز گفتگو کے خلاف Recommendation 1805 (2007) پاس کی ہیں۔

مذہبی توہین انڈورہ، سائپرس، کروشیا، ڈنمارک، سپین، فن لینڈ، جرمنی، گریس، آئس لینڈ، اٹلی، لتھوینیا، ناروے، ہالینڈ، پولینڈ، پرتگال، روس، سلواکیہ، سوئٹزرلینڈ، ترکی اور یوکرائن میں جرم ہے۔

فن لینڈ:

کریمنل کوڈ Chapter 17 کی شق 10 توہین رسالت سے متعلق ہے۔ 1914ء، 1917ء، 1965ء، 1970ء اور 1998ء میں اس کے خاتمہ کی کوششیں ناکام رہیں۔

جرمنی:

جرمنی کے کریمنل لاء Strafgesetzbuch کی شق 166 توہین رسالت سے متعلق ہے۔ اس کے تحت اگر کسی کے عمل سے امن و امان کی صورتحال خراب ہوتی ہو تو قانون حرکت میں آسکتا ہے۔ 2006 میں Manfred van H. (المعروف MAHAVO) کے خلاف اس قانون کے تحت کارروائی کی گئی۔

گریس:

پینل کوڈ کی شق 199,198,201 توہین کو جرم قرار دیتی ہے۔ شق 198 کے مطابق......

سزا دی جائے گی جو دو برس سے زائد نہیں ہوگی۔

نہیں دی جاسکتی۔

صفحہ 461

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 461 ماہنامہ مسیحائی کراچی

آرٹیکل 199 "Blasphemy Concerning Religions" کے مطابق اگر کوئی سرعام دانستہ طور کسی بھی طرح Greek Orthodox Church یا کسی بھی پرامن مذہب کی توہین کرے گا تو اسے سزا دی جائیگی دو سال سے زیادہ نہیں ہوگی۔

اردن:

اردن میں اسلام کی توہین ، اسلامی تعلیمات اور مسلمانوں کی توہین اور توہین رسالت جرم ہے جس کی سزا 3 سال تک قید اور جرمانہ ہے۔

کویت:

کویت ایک اسلامی ملک ہے۔ یہاں پر اسلام اور اسلامی شخصیات کی شان میں گستاخی کی روک تھام کے لیے آئین سازی کی گئی ہے۔۔

ملائشیا:

اس اسلامی ملک میں بھی مذہبی تعلیمات اور شخصیات کی گستاخی ایک جرم ہے۔ اس کی روک تھام تعلیم کے ذریعے اور نشر و اشاعت کی پابندیوں کے ذریعہ کی جاتی ہے ۔ ملک کے کئی حصوں میں اس جرم کی سزا شرعی عدالتوں کے ذریعہ دی جاتی ہے جبکہ کچھ حصوں میں ملائشیا کے پینل کوڈ کے مطابق بھی سزائیں دی جاتی ہیں۔

مالٹا:

مالٹا میں توہین رسالت کے خلاف قوانین کے بجائے مذہب کی توہین اور غیر اخلاقیت کے خلاف قوانین ہیں۔ مالٹا کے پینل کوڈ کا آرٹیکل 163، 1933ء میں بنا تھا جو رومن کیتھولک مذہب کی توہین کی روک تھام کرتا ہے ۔ یہاں پر رومن کیتھولک مذہب کی توہین کی سزا ایک ماہ سے لے کر چھ ماہ تک ہو سکتی ہے۔ آرٹیکل 164 کے مطابق ”کسی بھی مذہب کی توہین پر 3 ماہ تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ آرٹیکل 338 (b) نشے کی حالت میں توہین کو بھی سزا کا مستحق قرار دیتا ہے، اس کے مطابق سرعام کوئی بھی بدتمیزی غیر اخلاقی

صفحہ 462

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 462 ماہنامہ سچائی کراچی

لفظ ، یا بدتمیزی پر مبنی اشارہ یا عمل یا کوئی بھی ایسا طریقہ جس کا ذکر نہیں آسکا ، جرم قرار پائے گا ۔ آرٹیکل 342 کے مطابق توہین کی سزا 11.65 یورو جرمانہ سے کم اور تین ماہ قید کی سزا سے زیادہ نہیں ہو سکتی ۔ 2008ء میں 621 افراد کے خلاف توہین رسالت پر فوجداری مقدمات قائم ہوئے ۔

ہالینڈ:

ہالینڈ میں انبیاء کرام کی توہین کا قانون موجود ہے ۔ ہالینڈ کے آئین کے آرٹیکل 147 کے تحت کے مرتکب افراد کو تین ماہ قید یا 3800 یورو جرمانہ کی سزا دی جا سکتی ہے۔

نیوزی لینڈ:

نیوزی لینڈ کے کرائم ایکٹ 1961ء کے مطابق سیکشن 123 کے تحت توہین رسالت کے مرتکب افراد کو ایک سال قید تک سزا دی جاسکتی ہے ۔ نیوزی لینڈ میں 1922ء میں اس قانون کے تحت جان گلوور نامی شخص کو جو ماؤری لینڈ اخبار کا پبلشر تھا، کو سزا دی جاچکی ہے۔

نائیجیریا:

نائیجیریا کے کریمنل کوڈ کے آرٹیکل 204 کے تحت توہین انبیاء کے مرتکب افراد کو سزا دی جاتی ہے ۔ جبکہ بعض ریاستوں میں شریعت کے مطابق مقدمات چلائے جاتے ہیں ۔ قانون کے موثر استعمال کا اختیار بھی متعلقہ عدالت کی ذمہ داری ہے۔

سعودی عرب:

سعودی عرب میں اسلامی قانون نافذ ہے۔ یہاں توہین رسالت ﷺ کے مرتکب افراد کو موت کی سزا دی جاتی ہے۔ سزا کا فیصلہ ملکی مفتیان کی کونسل کرتی ہے۔

سوڈان:

سوڈان میں اسلام ریاستی مذہب ہے۔ یہاں کی 70 فیصد آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ سوڈان کے کریمنل ایکٹ کے سیکشن 125 کے تحت مذہب کی توہین یہاں تک کہ کسی کی دل آزاری اور عقائد کے خلاف بات کرنا قابل دست اندازی جرم ہے۔ توہین

صفحہ 463

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 463 ماہنامہ مسیحائی کراچی

کے مرتکب افراد کو قید اور جرمانہ کی سزا دی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ زیادہ سے زیادہ چالیس کوڑوں کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔

نومبر 2007ء میں سوڈان میں توہین رسالت کا قانون ٹیڈی بیئر بلاسفمی کیس کے تحت قانون حرکت میں آیا۔ دسمبر 2007ء میں یہ سیکشن مصر کے دو کتب فروشوں کے خلاف حرکت میں آیا اور ان کو حضرت عائشہ صدیقہؓ کے خلاف مواد پر مبنی کتب فروخت کرنے پر 6 ماہ قید کی سزا دی گئی۔

متحدہ عرب امارات:

متحدہ عرب امارات میں توہین رسالت کی حوصلہ شکنی کے لئے نشر و اشاعت کی مانیٹرنگ کی جاتی ہے۔ مسلمانوں کے لیے شرعی سزا اور غیر مسلموں کے لیے عدلیہ کے اختیارات استعمال کیے جاتے ہیں۔

برطانیہ:

برطانیہ میں توہین رسالت خاص طور پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کے خلاف قانون موجود ہے۔ یہ قانون آخری بار 2007 میں اس وقت حرکت میں آیا، جب ایک بنیاد پرست عیسائی گروپ کرسچین وائس نے نجی طور پر BBC کے خلاف مقدمہ درج کروایا۔ یہ مقدمہ بی بی سی پر ایک پروگرام نشر کرنے پر چلایا گیا جس میں عیسائی عقیدہ کے خلاف مواد شامل تھا۔ بی بی سی کے خلاف مقدمہ ویسٹ منسٹر کے مجسٹریٹ نے خارج کر دیا۔ کرسچین وائس نے مجسٹریٹ کے فیصلہ کے خلاف عدالت عالیہ میں اپیل بھی کی۔ ہائی کورٹ نے بھی اپیل خارج کر دی۔ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ توہین رسالت قانون کا اطلاق تھیٹر ایکٹ 1968 کے تحت نہیں ہوتا۔

توہین رسالت کے قانون کے تحت آخری سزا وائٹ ہاؤس بنام لیمن 1977 میں ہوئی۔ ڈینس لیمن ایک اخبار کا ایڈیٹر تھا۔ اس کے اخبار نے ایک متنازعہ نظم شائع کی تھی۔ اس نظم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خلاف توہین آمیز الفاظ استعمال کیے گئے تھے۔ اس

صفحہ 464

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 464 ماہنامہ مسیحائی کراچی

جرم میں لیمن کو 500 پونڈ جرمانہ 9ماہ کی معطل سزا دی گئی۔ اس کے بعد 2002ء میں یہ نظم دانستہ طور پر مقامی اخبار میں شائع کی گئی۔ اس دفعہ پھر سینٹ مارٹن ان دی فیلڈ چرچ نے مقدمہ کی پیروی کی مگر مجرم کو سزا دلانے میں ناکام رہا۔

اسی طرح 9دسمبر 1921ء کو برطانیہ میں جان ولیم گوٹ توہین کا مرتکب پایا گیا اور اس کو 9ماہ کی سزا دی گئی۔ اس نے عیسائی عقائد کے خلاف 2 پمفلٹ شائع کیے تھے جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں توہین کی گئی تھی۔ یہ اس سے قبل بھی 3 بار اسی جرم میں ماخوذ پایا گیا۔ سکاٹ لینڈ میں توہین رسالت کے قانون کے تحت 1697ء میں سکاٹ لینڈ ہی کے ایک شخص تھامس ایکن ہیڈ کو پھانسی کی سزا دی جاچکی ہے۔

5 مارچ 2008ء کو " Criminal Justice and Immigration Act 2008 میں ترمیم کی گئی اور انگلینڈ اور ویلز کامن لا میں توہین رسالت کو ختم کر دیا گیا۔ 8مئی 2008ء کو اس پر شاہی دستخط کے بعد یہ ترمیم قانون کی شکل اختیار کر گئی۔

یمن:

باقی تمام ممالک کی طرح یمن میں بھی توہین رسالت کا قانون موجود ہے۔ اس قانون کے تحت توہین رسالت کے مرتکب افراد کو یمن میں نہ تو ہلاک کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی ان کو ملک بدر کیا جاتا ہے۔ جس شخص پر توہین رسالت کا الزام ہو اس کا فیصلہ شریعت کے تحت کیا جاتا ہے اور جرم ثابت ہونے پر مجرم کو موت کی سزا دی جاسکتی ہے۔

امریکہ:

امریکہ میں پہلے تو توہین رسالت کی سزا موت تھی مگر اب یہ سزا ناپید ہوچکی ہے۔ ماساچوسٹ، مشی گن، اوکلوہاما، ساؤتھ کیرولینا، ویومنگ، اور پینسیلوینیا میں توہین رسالت کی سزا کا حوالہ ملتا ہے۔ کچھ ریاستوں میں ابتدائی دور کا قانون بھی کتابوں میں موجود ہے ۔مثال کے طور پر ماساچوسٹ کے جنرل لاء کے 272 کی صورت میں آج بھی توہین رسالت کا قانون موجود ہے۔ سیکشن 36 کے تحت خدا کی ذات پر بہتان یا الزام لگانا اور گالی

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء گلوچ کرتا، حضرت عیسیٰ پر الز زیادہ سے زیادہ سزا ایک سال ریاست میں 1930ء کے تو 1879ء کی کوڈ یفکیشن میں 72 سیکشن 189 کے مطابق میں خدایا حضرت عیسیٰ کی تو سے زیادہ 100 ڈالر جرمانہ سزائیں دینے کی مجاز ہوگی

دیباچہ میں کر دیا گیا ہے ا جمہوریہ پاکستان ہے۔ آ کائنات پر حاکمیت اعلیٰ صر عوام اسلام کی حدود کے ان ہے کہ انکی ریاست اپنی طا پارلیمنٹ کے ذریعہ سے ا جیسے اصول جن پر اسلام ف

مسلمان اپنی انفرادی ا میں ڈھال سکیں۔ اس ک جائز مفادات کے مکمل تہ

کے وقت دی گئی قربانیوں

صفحہ 465

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 465 ماہنامہ مسیحائی کراچی

گلوچ کرنا، حضرت عیسیٰ پر الزام تراشی ، ان کی کتاب کو بُرا بھلا کہنا قانونی جرم ہے اور اس کی زیادہ سے زیادہ سزا ایک سال ہے۔ اور زیادہ سے زیادہ جرمانہ 300 ڈالر ہے۔ میری لینڈ ریاست میں 1930ء کے ترمیمی ایکٹ کے تحت ایسے کئی قانون کے اجرا کی ممانعت ہے جو 1879ء کی کوڈیفیکیشن میں جس کے مطابق توہین رسالت سے باز رکھا گیا ہے۔ ایکٹ 72 سیکشن 189 کے مطابق کوئی شخص تحریری یا زبانی ایسے الفاظ کا استعمال نہیں کر سکتا جس میں خدا یا حضرت عیسیٰ کی توہین کا عنصر نمایاں ہو۔ توہین رسالت کے مرتکب شخص کو زیادہ سے زیادہ 100 ڈالر جرمانہ اور ایک سال قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔ عدالت کوئی ایک یا دو سزائیں دینے کی مجاز ہوگی۔

دیباچہ میں کر دیا گیا ہے اور 12 اپریل 1973ء کے آئین کے تحت ملک کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔ آئین میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پوری کائنات پر حاکمیت اعلیٰ صرف اللہ تعالیٰ کی ہے۔ اس کے عطا کردہ اختیارات کو پاکستانی عوام اسلام کی حدود کے اندر رہتے ہوئے استعمال کر سکتے ہیں۔ اور پاکستانی عوام کا فیصلہ ہے کہ انکی ریاست اپنی طاقت اور اختیارات جمہوری اصولوں کے مطابق عوام کی منتخب کردہ پارلیمنٹ کے ذریعہ سے استعمال کرے گی۔ آزادی، مساوات، برداشت اور سماجی انصاف جیسے اصول جن پر اسلام زور دیتا ہے، ان کا لازمی خیال رکھا جائے گا۔

مسلمان اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو قرآن اور سنت کے مطابق اسلامی سانچے میں ڈھال سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ آئین اقلیتوں، پسماندہ اور پسے ہوئے طبقات کے جائز مفادات کے مکمل تحفظ کی ضمانت بھی فراہم کرتا ہے۔

کے وقت دی گئی قربانیوں کا احترام کرتے ہوئے قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے اس اعلان پر کار

صفحہ 466

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 466 ماہنامہ مسیحائی کراچی

بند ہیں کہ پاکستان ایک ایسا جمہوری ملک ہوگا جس کی بنیاد اسلام کے سنہری اصول اور سماجی انصاف کی بنیاد پر ہوگی۔ اور یہ بنیاد ہمیں ہمارا آئین فراہم کرتا ہے۔ تاکہ پاکستانی عوام ترقی کریں اور دنیا میں اپنا جائز اور باوقار مقام حاصل کرتے ہوئے دنیا کے امن اور ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔

نہ کی جائے اور ادارے قائم نہ کئے جائیں۔ پاکستان کا ریاستی مذہب اسلام ہے اور قرآن و سنت قانون سازی کے بنیادی اور بڑے مآخذ ہیں۔

نمبر III کے ذریعہ سے 1986 میں پاکستان پینل کوڈ (تعزیرات پاکستان) 1860 کا حصہ بنایا گیا۔ یہاں ضروری ہے کہ اس قانون کو دوبارہ دیکھا جائے جو پہلے ہی ایک فیصلہ کے تحت حتمی حیثیت اختیار کرچکا ہے۔

"295-C"

رسول پاک ﷺ کے بارے میں گستاخانہ

کلمات کہنا

”اگر کوئی شخص زبانی یا تحریری الفاظ کے ذریعے یا واضح انداز میں یا بذریعہ بہتان طرازی یا بذریعہ طعن آمیز اشارہ، کنایہ، براہ راست یا بالواسطہ طور پر حضور نبی کریم حضرت محمد ﷺ کے اسم مبارک کی بے حرمتی کرتا ہے، سزائے موت کا مستوجب ہوگا یا اسے تاحیات سزائے عمر قید دی جائے گی اور اسے جرمانہ بھی کیا جاسکے گا۔“

توہین رسالت کا یہ قانون پہلے ہی پارلیمنٹ کے اندر اور اس کے باہر پارلیمانی فورمز پر زیر بحث لایا جا چکا ہے۔ یہاں تک کہ ایک آئینی عدالت وفاقی شرعی عدالت اس قانون کے تمام پہلوؤں کا قرآن سنت کی روشنی میں بغور جائزہ لے چکی ہے۔ ”محمد اسماعیل

صفحہ 467

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 467 ماہنامہ مسیحائی کراچی

قریشی بنام پاکستان بذریعہ سیکریٹری قانون و پارلیمانی افیئرز پاکستان'' [ PLD1991 Fsc page 10 ] کے عنوان سے ایک کیس میں وفاقی شرعی عدالت نے اس قانون کا قرآن وسنت کی روشنی میں تفصیل سے جائزہ لیا اور قرار دیا کہ توہین رسالت کیس میں سزا، موت کے متبادل عمرقید کی سزا اسلامی قوانین کے خلاف ہے۔ اس فیصلہ کے کچھ حصے پیش خدمت ہیں۔

کے معنوں میں استعمال ہوئے ہیں۔ ’’سب‘‘ کے معنی نقصان پہنچانے، توہین کرنے، ہتک عزت اور جذبات کو مجروح کرنے کے ہیں۔ ( Arabic ENGLISH lexicon,E.W,Lane,Book-1,part-1 page 44) جب کہ ”شتم“ کے معنی گالی گلوج کرنا اور وقار مجروح کرنا ہے (PLD1991 FSC page 26)

ہیں اور اگر کوئی شخص کسی بھی نبی کی ،کسی بھی انداز میں توہین کرتا ہے تو اس کی سزا موت ہوگی۔

پینل کوڈ 1860ء میں درج ہے وہ سزا موت اور عمر قید ہے جو قرآن سنت سے مطابق نہیں رکھتی کیونکہ قرآن وسنت میں توہین رسالت کی سزا صرف موت ہے، عمر قید نہیں ۔اس لئے عمر قید کا لفظ ختم کردینا چاہئے۔ (PLD1991 Fsc page 10)

میں سزا موت ہے اور وہ سیشن کورٹ میں Triable ہیں۔ ان میں rocedure code 1898 Chapter XXIIA of Criminal p اور قانون شہادت آرڈر 1984 منصفانہ سماعت کی ضمانت ہے۔ اس قانونی ضمانت سے ہٹ کر بھی اٹھارویں ترمیم کے ذریعے آئین کے Part II میں ہر ملزم کے لئے Fair Trial بنیادی حق قرار دے دیا

صفحہ 468

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 468 ماہنامہ سچائی کراچی

گیا ہے۔ آئین کے مطابق اس امر کو یقینی بنایا جائے گا کہ کسی بھی شہری پر لگنے والے مجرمانہ الزام پر اسے Due process کے ساتھ fair trial کا حق ملے۔ اس نظام عدل میں ہر ملزم کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ قانونی معاونت حاصل کرے اور اپنا دفاع کرے۔ کوئی شخص یا ملزم خود قانونی دفاع یا اپنی پسند کے قانونی ماہر سے قانونی معاونت کے حق سے انکار بھی نہیں کرسکتا۔ آئین کے دفعہ 10 کی شق 1 کے مطابق کسی بھی ملزم کی سزائے موت پر اس وقت تک عمل درآمد نہیں ہوسکتا جب تک ہائی کورٹ کا ڈویژنل بینچ اس کی توثیق نہ کردے۔

Criminal Procedure Code 1898 کے section 374 میں یہ امر وضاحت کے ساتھ موجود ہے۔ ”374: جب سیشن کورٹ کسی شخص کو سزائے موت سنادے تو یہ مقدمہ ہائی کورٹ میں پیش کیا جائے گا۔ اور اس وقت تک سزا پر عمل درآمد نہیں ہوسکتا جب تک ہائی کورٹ سزائے موت کی توثیق نہ کردے ۔“

18- اگر کسی ملزم کو سیشن جج یا اڈیشنل سیشن جج کی عدالت سے سزا ہو جائے تو وہ Criminal Procedure Code 1898 کے سیکشن 410 کے تحت ہائی کورٹ میں اپیل کرسکتا ہے۔ کسی ملزم کی اس سطح پر بریت کی صورت میں صوبائی حکومت پبلک پراسیکیوٹر کو Criminal Procedure Code 1898 کے سیکشن 417 کے تحت ہائی کورٹ میں اپیل کی ہدایت کرسکتی ہے۔ ہائی کورٹ کے سوا کسی بھی عدالت سے بریت کا حکم جاری ہونے پر اس سے متاثرہ فریق سیکشن 417 کی ذیلی شق A-2 کے تحت ہائی کورٹ میں اپیل کرسکتا ہے۔

19- مقدمہ جو ہائی کورٹ میں سیکشن 374 کے تحت آیا ہو۔ Criminal Procedure Code 1898 کے سیکشن 376 کے تحت ہائی کورٹ اس میں سزا کی توثیق کرسکتی ہے یا کوئی نئی سزا دے سکتی ہے۔ یا اسی الزام میں یا کسی دوسرے الزام میں دوبارہ سماعت کا حکم دے سکتی ہے۔

یہاں اس امر کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے کہ بعض لوگ پروپیگنڈہ کے زیر اثر

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

ایک غلط تصویر پیش کرتے ہیں کہ عالمی معیار کے مطابق نہیں یا پھر ا بنیاد اور غلط ہے۔ اس حوالہ سے قری of criminal of 1974) سزائے موت کے حوالہ سے یہی طریق ”366۔ سیشن کورٹ اگر میں پیش کیا جائے گا۔ اور اس وقت ت موت کی توثیق نہ کردے۔“

اس سے موازنہ کی خاطر procedure code 1898 ”374۔ سیشن کورٹ اگر میں پیش کیا جائے گا۔ اور اس وقت ت موت کی توثیق نہ کردے۔“

اس سے یہ ثابت ہوتا ہ Code 1898 اور بھارت کے 1973(Act 2 of 1974) پاکستان کا قانون مقدمات کی سماع ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ cedure نے نہیں بنایا بلکہ یہ پہلے سے انگریز و

20- کسی بھی ملزم یا مجرم 1898 کی شق A-411 کے تحت ہ بھی ملزم یا مجرم یا کسی بھی متاثرہ فر

صفحہ 469

ماہنامہ مسیحائی کراچی 468

امر کو یقینی بنایا جائے گا کہ کسی بھی شہری پر لگنے والے مجرمانہ م کے ساتھ fair trial کا حق ملے۔ اس نظام عدل میں انونی معاونت حاصل کرے اور اپنا دفاع کرے۔ کوئی شخص یا کے قانونی ماہر سے قانونی معاونت کے حق سے انکار بھی نہیں شق 1 کے مطابق کسی بھی ملزم کی سزا موت پر اس وقت تک ہائی کورٹ کا ڈویژنل بینچ اس کی توثیق نہ کردے۔

Criminal Procedur کے section 374 میں ہے: ”374: جب سیشن کورٹ کسی شخص کو سزائے موت میں پیش کیا جائے گا۔ اور اس وقت تک سزا پر عمل درآمد نہیں موت کی توثیق نہ کردے۔“

جج یا ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت سے سزا ہو جائے تو وہ Criminal Pr کے سیکشن 410 کے تحت ہائی کورٹ کی اس سطح پر بریت کی صورت میں صوبائی حکومت پبلک Criminal Procedur کے سیکشن 417 کے تحت سکتی ہے۔ ہائی کورٹ کے سوا کسی بھی عدالت سے بریت متاثرہ فریق سیکشن 417 کی ذیلی شق A-2 کے تحت ہائی

میں سیکشن 374 کے تحت آیا ہو۔ Criminal P کے سیکشن 376 کے تحت ہائی کورٹ اس میں سزا کی دے سکتی ہے۔ یا اس الزام میں یا کسی دوسرے الزام

کہنا بھی ضروری ہے کہ بعض لوگ پروپیگنڈہ کے زیر اثر

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۰ء 469 ماہنامہ مسیحائی کراچی

ایک غلط تصویر پیش کرتے ہیں کہ پاکستان کا procedural قانون انسانی حقوق کے عالمی معیار کے مطابق نہیں یا پھر انہیں عالمی سطح پر تسلیم نہیں کیا جاتا۔ یہ تاثر سراسر بے بنیاد اور غلط ہے۔ اس حوالہ سے قریب ترین مثال بھارت کی پیش کی جاسکتی ہے۔ جہاں (Chapter XXVIII کے Code of criminal of 1974 میں بھی) سزائے موت کے حوالہ سے یہی طریقہ کار دیا گیا ہے۔

”366۔ سیشن کورٹ اگر کسی شخص کو سزائے موت سنا دے تو یہ مقدمہ ہائی کورٹ میں پیش کیا جائے گا۔ اور اس وقت تک سزا پر عمل درآمد نہیں ہو سکتا جب تک ہائی کورٹ سزا موت کی توثیق نہ کردے۔“

اس سے موازنہ کی خاطر اگر ہم پاکستان کے قانون کو دیکھیں تو criminal procedure code 1898 کی دفعہ 374 بھی یہی کچھ کہتی ہے۔

”374۔ سیشن کورٹ اگر کسی شخص کو سزائے موت سنا دے تو یہ مقدمہ ہائی کورٹ میں پیش کیا جائے گا۔ اور اس وقت تک سزا پر عمل درآمد نہیں ہو سکتا جب تک ہائی کورٹ سزا موت کی توثیق نہ کردے۔“

اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان کے Criminal Procedure Code 1898 اور بھارت کے Criminal Procedure Code of 1974 (Act 2 of 1974) میں لفظوں کا بھی فرق نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ پاکستان کا قانون مقدمات کی سماعت کے عالمی معیار کے مطابق ہے۔ یہاں افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ Code of Criminal Procedure آزادی کے بعد ہم نے نہیں بنایا بلکہ یہ پہلے سے انگریزوں کا بنایا ہوا ہے۔

1898 کی شق A-411 کے تحت ہائی کورٹ میں اپیل کی گنجائش موجود ہے۔ اسی طرح کسی بھی ملزم یا مجرم یا کسی بھی متاثرہ فریق کو آئین پاکستان کے آرٹیکل 185 کی ذیلی شق 2 کے

صفحہ 470

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 470 ماہنامہ مسیحائی کراچی

پیراگراف A کے تحت پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت میں اپیل کا حق بھی حاصل ہے۔ اس شق کے تحت سپریم کورٹ میں ایسے تمام مقدمات میں اپیل کی جاسکتی ہے جن میں ہائی کورٹ فیصلہ دے چکی ہو۔

فیصلہ کے بعد بھی آئین کے آرٹیکل 45 کے تحت صدر پاکستان کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی عدالت، ٹربیونل یا اتھارٹی کی طرف سے دی گئی کسی بھی سزا کو معاف کر دے، معطل کر دے، ملتوی کر دے، تبدیل کر دے، عملدرآمد روک دے یا اس میں کمی کر دے۔ صدر کا یہ اختیار عدالتی عمل سے بھی توثیق پا چکا ہے۔ (عبدالمالک بنام سٹیٹ ( PLD 2006 SC 365)۔ اس مقدمہ میں مجھے (بابر اعوان) بطور وکیل یہ اعزاز حاصل ہے کہ میں نے عدالت کی معاونت کی تھی۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے زیر قیادت اس بینچ میں مسٹر جسٹس رانا بھگوان داس، مسٹر جسٹس فقیر محمد کھوکھر، مسٹر جسٹس ایم جاوید بٹر اور مسٹر جسٹس تصدق حسین جیلانی شامل تھے۔ عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلہ میں قرار دیا تھا کہ صدر کا یہ اختیار آئین کے آرٹیکل کی روح کے خلاف نہیں ہے۔

C-295 کے تحت توہین رسالت پر موت کی سزا اسلام کے عین مطابق اور قرآن وسنت سے اخذ کردہ ہے۔ اس میں کسی تبدیلی یا ترمیم کی کوئی ضرورت نہیں۔ پیراگراف (1) میں بیان کردہ تمام ریفرنسز منفی اور قانون کی غلط تشریح پر مبنی ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 9 کے مطابق کسی شخص کی زندگی اور آزادی کو دوسروں پر ترجیح حاصل نہیں۔ اور آئین کی شق 25(1) کے تحت تمام شہری قانون کی نظر میں برابر ہیں اور یکساں طور پر قانونی تحفظ کے حقدار ہیں۔ لہٰذا C-295 کے تحت مقدمات سیشن کورٹ میں ہی قابل سماعت ہیں، اس کے لئے کسی خصوصی عدالت کی بھی ضرورت نہیں۔

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

آزادی۔ پاکستان کا آ مذہبی ادارے بنانے کو ا ہو۔ آئین پاکستان کے جاتی ہے کہ ہر شہری مذ ہوگا۔“ اور پیراگراف ( چلانے کا حق ہوگا۔“ او یہ سب قانون، امن عا

فلاحی ریاست ہے جس کے سبب آج تک بین ثبوت ہے کہ اس

Executive کو ک Code 1898 REMEDY عام چیلنج کر سکتی ہیں۔

طور پر تبدیلی کی درخو

ایک کاپی الگ سے تمام ڈویژنز اور ح میں وزارت قانو پاکستان کے رولز آ

صفحہ 471

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 471 ماہنامہ مسیحائی کراچی

آزادی۔ پاکستان کا آئین ہر کسی کے لئے آزادانہ طور پر کوئی بھی مذہب اختیار کرنے اور مذہبی ادارے بنانے کو اس کا بنیادی حق تسلیم کرتا ہے، جو ملکی قانون کے دائرہ کے اندر ہو۔ آئین پاکستان کے آرٹیکل 20 کے پیراگراف A کے مطابق ”اس امر کی ضمانت دی جاتی ہے کہ ہر شہری مذہب اختیار کرنے ، اس پر عمل کرنے، اور اس کی تشہیر کرنے میں آزاد ہوگا。“ اور پیراگراف B کے مطابق ”ہر مذہب کے ہر فرقہ کو اپنے مذہبی ادارے بنانے اور چلانے کا حق ہوگا۔“ اور یہ آزادی عالمی اصولوں اور قوانین کے عین مطابق ہے۔ مگر بہرحال یہ سب قانون، امن عامہ اور اخلاقیات کے مطابق ہوگا۔

صلاحیت ریاست ہے۔ اور مقدمات کی سماعت کے حوالہ سے ایک قابل اعتماد نظام رکھتا ہے جس کے سبب آج تک اس قانون کے تحت ایک بھی سزائے موت نہیں ہوئی جو اس امر کا بین ثبوت ہے کہ اس ملک میں عدالتی نظام کس قدر مستحکم ہے۔

Executive کو کسی ایکشن کی ضرورت نہیں۔ مسمات آسیہ نورین کو Criminal Procedure Code 1898 کی شق 410 کے تحت پہلے ہی قانونی طور پر REMEDY حاصل ہے۔ وہ ہائی کورٹ میں اپیل کر کے عدالت کے فیصلہ اور اپنی سزا کو چیلنج کر سکتی ہیں۔

طور پر تبدیلی کی درخواست بھی حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔ لہٰذا اس پر کوئی ایکشن نہ لیا جائے۔

ایک کاپی الگ سے وزارت خارجہ کو ارسال کر دی گئی ہے۔ تجویز کیا جاتا ہے کہ وزیر اعظم تمام ڈویژنز اور متعلقہ حلقوں کو ہدایت جاری کریں کہ وہ آئینی اور قانونی معاملات میں وزارت قانون کی رائے لئے بغیر تبصرہ آرائی سے گریز کریں۔ یہ 1973 کے حکومت پاکستان کے رولز آف بزنس کے تحت لازمی ہے۔

صفحہ 472

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

دستخط ڈاکٹر ظہیر الدین بابر وزیر قانون، انصاف و پارلیمانی امور

وزیر اعظم سیکریٹریٹ اسلام آباد

عنوان: پاکستان میں توہین رسالت کے سلسلہ میں اٹھنے والے سوالات کا

تفصیلی جائزہ

منظوری دیدی ہے۔ تمام متعلقہ وزارتوں کو ضروری اقدامات کی ہدایت کی جاتی ہے۔ منظور شدہ تجاویز کی کاپی الگ سے ارسال ہے۔

دستخط خوشنود اختر لاشاری پرنسپل سیکریٹری برائے وزیر اعظم پاکستان 08-02-2011 ڈائری نمبر - 611/PSP,M/m/2011

صفحہ 473

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 473 ماہنامہ مسیحائی کراچی

شہیدان حرمت رسول

غازی منظور حسین شہید.......غازی عبدالعزیز شہید

محمد طیب طوفانی ، سرائے نورنگ

حضور نبی کریم ﷺ کی عزت وحرمت پر جانیں نثار کرنے والے ابطالِ ملت کی داستانوں میں مردہ دلوں کو زندگی بخشنے کا سامان موجود ہے۔ ناموس رسالت ﷺ پر اپنے آپ کو قربانی کے لیے پیش کرنا اور اپنا سب کچھ لٹا دینا، ایک جذبہ ہے، جو بدر کے میدان میں گستاخ رسول ابو جہل کے مقابلے کے لیے صف آراء ہونے والے ننھے منے معاذؓ و معوذؓ کے روشن سینوں سے اٹھا۔ اور آج بھی ملت محمدیہ کے بچے بچے کے سینے میں زندہ ہے۔ یہ ایک مبارک رسم ہے جو صدیق اکبرؓ کے بلند کردار سے جاری ہوئی اور آج بھی ایمان والے نبھا رہے ہیں۔ یہ ایک تابندہ روایت ہے جس نے صدیوں پہلے دلوں میں جنم لیا، ہاتھوں سے سرزد ہوئی اور جرأت و بہادری کی ناقابل فراموش تاریخ رقم کرتی ہوئی بارہا زندہ جاوید ہے۔ مشرق سے لے کر مغرب تک، شمال سے لے کر جنوب تک، عرب و عجم میں، اسود واحمر میں، بستیوں اور وادیوں میں، دشت وجبل میں، کوہ و دمن میں، افریقہ و امریکہ میں، یورپ و ایشیا میں، ہزاروں وفا شعار ایسے گزرے ہیں جنہوں نے محمد عربی ﷺ کی حرمت و ناموس پر اپنی جانیں وار دیں۔ ہم یہاں پر ان عاشقانِ رسول ﷺ میں شامل خوش بخت و خوش نصیب نوجوان حضرت مولانا منظور حسین شہیدؒ اور آپ کے رفقاء کا تذکرہ کریں جن کی مرقدیں اپنے آبائی علاقے چکوال سے سینکڑوں کلومیٹر دور ضلع لکی مروت کے فقیران قبرستان میں ہیں۔ اور آج بھی زبان حال سے پکار پکار کر ناموس محمد عربی ﷺ پر جانیں قربان کرنے کی دعوت دے رہی ہیں۔ ہم جب ان مقدس و محترم شہداء کے مزار پر انوار پر ایصال ثواب کے لیے جارہے تھے تو وہاں پر ایک P.T.C ماسٹر صاحب نے کہا کہ ان حضرات کی شہادت و تدفین کے بعد جب مولانا منظور حسینؒ کے

صفحہ 474

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 474 ماہنامہ سبحانی کراچی

والد و دیگر حضرات ان کو یہاں سے نکال کر وہاں اپنے آبائی علاقے میں لے جانے کے لیے آئے اور حضرت قاضی مولانا منظور حسین کی قبر کو کھولا تو آپ کے چہرہ مبارک کے ساتھ تازہ گلاب کے پھول کا ہار تھا تو جب انہوں نے یہ دیکھا تو یہاں سے منتقل کرنے کا ارادہ ملتوی کر دیا اور قبر پھر بند ہی کر لی۔ واللہ اعلم بالصواب

مولانا غازی منظور حسین ۱۹۰۴ء میں ضلع چکوال کی بستی ”بھیں“ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد محترم مولانا ابوالفضل محمد کرم الدین مرحوم کی پنجاب میں بہت شہرت تھی، ان کا تعلق ایک معروف علمی گھرانے سے تھا۔ غازی منظور حسین نے بی اے تک باقاعدہ انگریزی تعلیم حاصل کی۔ کالج کی زندگی میں آپ کو جسمانی قوت بڑھانے کا بہت شوق تھا۔ اس میں آپ نے مہارت حاصل کی۔ کہا جاتا ہے کہ موٹر کار کو آپ سامنے سینے سے لگا کر مضبوطی سے پکڑ لیتے تھے اور پھر خواہ کتنی رفتار سے چلائی جائے روک سکتے تھے۔ لوہے کی دو نصف انچ موٹی سلاخوں کو جوڑ کر اپنے بازو پر لپیٹ لیتے تھے اور ایک انچ موٹی سلاخ گردن سے لپیٹتے تھے۔ کھڑے ہو کر ننگی چھاتی پر وزنی ہتھوڑوں کی ضربیں لگواتے تھے۔ ہاتھوں کی دو انگلیوں میں انڈے کو نوک کے بل رکھ کر توڑ ڈالتے تھے۔ اس قسم کے غیر معمولی قوت کے کرشموں کا آپ نے بہت دفعہ مظاہرہ کیا تھا۔ گارڈن کالج راولپنڈی سے فارغ ہونے کے بعد بھی آپ نے پہلوانی کا سلسلہ جاری رکھا۔ لیکن بعد میں قرآن حکیم کی تلاوت اور اسلامی تاریخی کتب کے مطالعہ نے آپ کے دل میں زبردست انقلاب برپا کر دیا تھا۔ انگریزوں کی تہذیب سے سخت نفرت ہو گئی۔ فرنگی اقتدار کے کسی اثر کو آپ برداشت نہ کرتے تھے اغیار کی غلامی میں رہنا آپ کے لیے سخت مشکل ہو گیا۔ آپ نے پہلے اپنی اصلاح کی اور شریعت کے سانچے میں ڈھل گئے۔ کالج میں چونکہ عربی پڑھی تھی۔ اس لیے قرآن وحدیث سے استفادہ آسان تھا۔ والد مرحوم سے فقہ و حدیث کی بعض کتابیں پڑھ لیں اور تبلیغ دین بھی شروع کر دی۔

جہاد بالسیف کا جذبہ آپ پر غالب تھا اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں شہادت کا حصول آپ کی سب سے بڑی خواہش تھی۔

۱۹۳۸ء میں مولانا قاضی منظور حسین شہیدؒ نے خاکساروں کی طرز پر ان کے مقابلے

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء میں ایک نئی تنظیم کی داغ بیل ڈالی اور لائحہ عمل کے طور پر ایک پمفلٹ ”خدا یہ ہر لحاظ سے رضا کار فورس تھی۔ اس جاتا کہ معزز رکن کسی طور بھی اپنی تنظیمی حلف وفاداری ہوا کرتا تھا۔ یہ تنظیم ا چکوال، نزدیکی قصبات اور ارد گرد حسین شہیدؒ کے غازی مرید حسین شہ کے جذبات کو مزید مہمیز عطا کی تھی۔ کو جہنم واصل کیا تھا اور پھر ۲۴ ستمب ”ماہنامہ سبحانی“ ختم نبوت نمبر صفحہ ۸ ۱۹۴۱ء میں تھانہ ڈوہمن کے ڈ SDO چکوال مقیم تھا۔ یہ ریسٹ ہے۔ اس بدطینت کی مہاشہ راجپا رسید کیا تھا، قریبی رشتہ داری تھی، مآب ﷺ میں گستاخانہ الفاظ بک قاضی صاحبؒ اپنے ایک مخلص سا کے گھر گئے اور اس کی پیشانی پر پچھ نے سات برچھیاں لگائیں۔ اس مردود ولعین کے قریب اس کی بیوہ ”ہم نے توہین رسول ﷺ کا غیرت نہیں ہوئے کہ تاجدار مدین سے نپٹنے کو ابھی غازی مرید حسین گستاخ رسول چوہدری کھیم سلامت نکل آئے اور علاقہ غیر

صفحہ 475

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 475 ماہنامہ مسیحائی کراچی

میں ایک نئی تنظیم کی داغ بیل ڈالی اور اس کا نام ”خدام اسلام“ رکھا۔ ”خدام اسلام“ کے لائحہ عمل کے طور پر ایک پمفلٹ ”خدام اسلام میدان عمل میں“ کے عنوان سے شائع کیا۔ یہ ہر لحاظ سے رضا کار فورس تھی۔ اس کی باقاعدہ پریڈ ہوتی اور زیادہ زور اس بات پر دیا جاتا کہ معزز رکن کسی طور بھی اپنی تنظیمی رازوں کا کہیں انکشاف نہ کریں۔ اس لیے باقاعدہ حلف وفاداری ہوا کرتا تھا۔ یہ تنظیم اگرچہ دور دور تک تو نہ پھیل سکی لیکن اس کا دائرہ اثر چکوال، نزدیکی قصبات اور ارد گرد کے دیہات میں نہایت وسیع تھا۔ غازی مولانا منظور حسین شہیدؒ کے غازی مرید حسین شہیدؒ سے دوستانہ مراسم تھے اور ان کی شہادت نے آپ کے جذبات کو مزید مہمیز عطا کی تھی۔ (غازی مرید حسین شہیدؒ نے گستاخ رسول رام گوپال کو جہنم واصل کیا تھا اور پھر ۲۴ ستمبر ۱۹۳۷ء بروز جمعۃ المبارک آپ کو پھانسی دی گئی ”ماہنامہ مسیحائی“ ختم نبوت نمبر صفحہ ۵۸۷ پر آپ کے حالات تفصیلات درج ہے)

۱۹۴۱ء میں تھانہ ڈوہمن کے ڈاک بنگلہ میں ایک متعصب ہندو چوہدری کھیم چند SDO چکوال مقیم تھا۔ یہ ریسٹ ہاؤس چکوال سے جہلم روڈ پر خانپور کے قریب واقع ہے۔ اس بدطینت کی مہاشہ راجپال آریہ سماجی سے جس کو غازی علم دین شہیدؒ نے جہنم رسید کیا تھا، قریبی رشتہ داری تھی۔ اس کمینہ فطرت دین دریدہ ہندو نے شان رسالت مآب ﷺ میں گستاخانہ الفاظ بکے تھے۔ اس بدبخت کو گستاخی کا مزہ چکھانے کے لیے قاضی صاحبؒ اپنے ایک مخلص ساتھی ماسٹر عبدالعزیز کے ہمراہ رات کی تاریکی میں اس کے گھر گئے اور اس کی پیشانی پر پستول کا فائر کر دیا۔ گولیاں مارنے کے بعد ماسٹر صاحب نے سات برچھیاں لگائیں۔ اتنے میں گستاخ نبی اپنے منطقی انجام کو پہنچا چکا تھا۔ مقتول مردود و لعین کے قریب اس کی بیوی سوئی ہوئی تھی۔ دونوں مجاہدین نے اسے صرف اتنا کہا: ”ہم نے توہین رسول ﷺ کا بدلہ لے لیا ہے ...... کچھ بھی ہو مگر مسلمان ابھی اتنے بے غیرت نہیں ہوئے کہ تاجدار مدینہ ﷺ کی بے عزتی پر خاموش بیٹھے رہیں۔ دشمنان رسل سے نمٹنے کو ابھی غازی مرید حسین شہیدؒ کے ساتھی زندہ ہیں۔

گستاخ رسول چوہدری کھیم چند ہندو کو ٹھکانے لگا کر دونوں دوست وہاں سے بہ سلامت نکل آئے اور علاقہ غیر یعنی قبائل میں چلے گئے۔ جہاں آپ حضرت بادشاہ گل

صفحہ 476

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 476 ماہنامہ سبحانی کراچی

خلف مجاہد اعظم حاجی ترنگزئی کے پاس مقیم ہو گئے کچھ مدت ایک مجاہد رہنما حضرت فقیر ایپی حاجی میرزعلی خانؒ کے پاس بھی بسر کی۔ ادھر یہ ہوا کہ آپ کے غائب ہو جانے کے بعد والد صاحب مرحوم اور دیگر بعض رشتہ داروں و احباب کو پولیس نے بغرض تفتیش اپنی حراست میں لے لیا اور غازیؒ کے اس جرات مندانہ اقدام کا سارا بوجھ آپ کے والد محترم قاضی محمد کرم الدین کے سر آگیا حالانکہ غازیوں نے کسی کو اس راز سے مطلع نہیں کیا تھا اور نہ ہی علاقہ غیر جانے کا بتایا تھا۔ مکانات اسباب ضبط کر لیے گئے اور پولیس نے مولانا مرحوم پر دفعہ ۱۸۲ کے تحت ایک مقدمہ دائر کر دیا۔ ان تمام معاملات کے باوجود والد محترم کو سب سے زیادہ مولانا منظور حسین کی روپوشی کی فکر تھی، لیکن بعد میں جب خیر و خیریت کی خبر آ گئی تو آپ کو کچھ اطمینان ہو گیا۔

قبائلی علاقہ میں رہتے ہوئے آپ کے عزائم بہت بلند تھے اور چاہتے تھے کہ بزور طاقت کشمیر فتح کریں اور اس کے لیے آپ نے ایک منصوبہ بھی بنایا، مگر پھر ایک سال وہاں قیام کرنے کے بعد بعض عزائم کے پیش نظر اپنے دیگر ساتھیوں کی معیت میں وطن کی طرف لوٹے ...... سرفروش غازیوں کی یہ مختصر جماعت رائفلوں سے مسلح تھی۔ وزیرستانی قبائل سے ہوتے ہوئے آپ نے بنوں کی سرحد کو عبور کیا اور موضع عباسیہ ضلع لکی مروت کے قریب ایک جگہ آرام کے لیے ٹھہرے وہاں سے ماسٹر عبدالعزیز اور ایک دوسرے رفیق کو نزدیک کی بستی سے کھانا لانے کے لیے بھیجا گیا۔

اتنے میں کسی بدبخت مخبر نے پولیس کو اطلاع دے دی۔ چنانچہ دونوں کو وہاں سے گرفتار کر لیا گیا اور دو سب انسپکٹر پولیس کی مسلح نفری اور پبلک کی جمعیت ساتھ لے کر مولانا منظور حسین کے مقابلہ کے لیے نکلے۔

ادھر ان حضرات پر پہاڑوں کا طویل و پرمشقت سفر طے کرنے کی وجہ سے تھکاوٹ غالب تھی گرمی کا موسم تھا۔ آپ ایک درخت کی ٹھنڈی چھاؤں میں رفقاء سمیت گہری نیند سو رہے تھے۔ پولیس نے ان مجاہدین اسلام و عاشقان ختم النبیین ﷺ کو بیدار ہونے کا موقع ہی نہ دیا اور بے خبری میں ان پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی...... اور یوں ۱۹۴۴ء کے ماہ جولائی کے ایک گرم دن ان مجاہدوں کی سعید و نیک روحوں نے قفس عنصری سے نجات پایا

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

اور عالم بالا کو پرواز کر گئیں۔

ضلع لکی مروت بازار کے قری کے بالکل نزدیک مولانا قاضی م اور لوح مزار پر اس شہید راہ وفا خدا رحمت کند ایں شہیدان پا غازی مولانا قاضی منظور حسین تھے۔ میٹرک پاس کرنے کے بع تھے۔ مولوی قاضی منظور حسین کی روح پھونک دی اور ہمہ تن جہاد شریک ہوئے اور علاقہ غیر میں چ صاحب موصوف کو چکوال لایا گیا آپ کو سزائے موت کا حکم ہوا ۔ رہے۔ شب و روز ذکر و شغل میں زندہ دنیا میں واپس نہ جاؤں بلکہ پھانسی ہونے سے ایک روز فرمائی اور ان کو صبر کی تلقین فرما لیکن بلند آواز سے نہایت اطمینا تختہ دار پر لٹک گئے۔

صفحہ 477

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 477 ماہنامہ مسیحائی کراچی

اور عالم بالا کو پرواز کر گئیں۔

ضلع لکی مروت بازار کے قریب ہی واقع بڑے قبرستان فقیران میں موجود ایک مسجد کے بالکل نزدیک مولانا قاضی منظور حسین شہید اور اس کے ساتھیوں کی قبریں موجود ہے اور لوح مزار پر اس شہید راہ وفا کے زندگی کے مختصر احوال تحریر ہیں۔

خدا رحمت کند ایں شہیدان پاک طینت را

غازی مولانا قاضی منظور حسین شہید کے دوست ماسٹر عبدالعزیز چکوال کے باشندے تھے۔ میٹرک پاس کرنے کے بعد اسکول میں ملازمت اختیار کر لی۔ باہمت اور دلیر جوان تھے۔ مولوی قاضی منظور حسین کی رفاقت و صحبت نے آپ کے اندر جہاد فی سبیل اللہ کی روح پھونک دی اور ہمہ تن جہاد کی تیاریوں میں لگ گئے۔ چوہدری حکیم چند کے قتل میں شریک ہوئے اور علاقہ غیر میں بھی مولانا منظور حسین کے ہمراہ رہے گرفتاری کے بعد ماسٹر صاحب موصوف کو چکوال لایا گیا اور ایس ڈی او مذکور کا مقدمہ چلایا گیا اس کے نتیجے میں آپ کو سزائے موت کا حکم ہوا۔ لاہور سینٹرل جیل میں چند ماہ تک پھانسی کی کوٹھڑیوں میں رہے۔ شب و روز ذکر و شغل میں مصروف رہتے اور آپ کی قلبی خواہش و تمنا یہی تھی کہ زندہ دنیا میں واپس نہ جاؤں بلکہ اپنے شہداء ساتھیوں سے جا ملوں۔

پھانسی ہونے سے ایک روز پہلے اپنے عزیز و اقارب سے بڑی بشاشت سے ملاقات فرمائی اور ان کو صبر کی تلقین فرمائی۔ صبح کو جب پھانسی کے لیے نکلے تو راستے میں سورۂ یٰسین بلند آواز سے نہایت اطمینان کے ساتھ تلاوت کرتے رہے اور نعرۂ تکبیر بلند کر کے تختۂ دار پر لٹک گئے۔

صفحہ 478

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 478 ماہنامہ سبحانی کراچی

گستاخان رسول کا انجام اور ان کو ٹھکانے لگانے والے خوش نصیب افراد

(عہد رسالت سے لے کر دور حاضر تک)

محمد طیب طوفانی، سرائے نورنگ

گستاخ کا نام انجام/قتل کرنے والے کا نام سن وقوعہ ابی ابن خلف نبی کریم ﷺ ۳ھ بشر منافق حضرت عمرؓ ...... عقبہ بن ابی معیط حضرت علیؓ ۲ھ ابو لہب موذی بیماری میں مر گیا ...... اروہ زوجہ ابو لہب فرشتے نے گلا گھونٹ دیا ...... ابو جہل دو ننھے مجاہدوں معاذ و معوذؓ نے قتل کیا ۲ھ ولید بن مغیرہ مخزومی بدر میں ایک مسلمان کی تلوار سے ناک کٹ گئی ۲ھ امیہ بن خلف حضرت بلالؓ ۲ھ نضر بن حارث حضرت علیؓ ۲ھ عصماء (یہودی عورت) نابینا صحابی عمیر بن عدیؓ ۲ھ ابو عَفَک حضرت سالم بن عمیرؓ ۳ھ کعب بن اشرف حضرت ابو نائلہؓ ۳ھ ابو رافع حضرت عبداللہؓ ۳ھ ابو عزہ جمحی حضرت عاصم بن ثابتؓ ۳ھ حارث بن طلال حضرت علیؓ ۸ھ ابن خطل حضرت ابو برزہؓ ۸ھ حویرث نقید حضرت علیؓ ۸ھ قریبہ (گستاخ باندی) فتح مکہ کے موقع پر قتل ہوئی ۸ھ نامعلوم گستاخ حضرت زبیرؓ ...... ایک گستاخ عورت صدیق اکبرؓ کے گورنر نے دانت اکھاڑ دیے ...... ایک گستاخ شخص خلیفہ ہادی نے قتل کروا دیا ......

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء گستاخ کا نام ریجی فائنڈ (عیسائی گورنر) دو گستاخ عیسائی ابراہیم فرازی یولو جکس پادری فلورا (عیسائی عورت) میری (عیسائی عورت) پادری پر فیکٹس اسحاق پادری سانکو پادری جرمیاس پادری جانتیوس پادری بیسی نند پادری پولوس پادری تھیوڈو میری پادری آئیزک پادری راجپال نتھو رام ڈاکٹر رام گوپال چرن داس شردھانند چنپل سنگھ

صفحہ 479

ماہنامہ سبحانی کراچی

ٹھکانے لگانے والے خوش نصیب افراد

سے لے کر دور حاضر تک ) محمد طیب طوفانی ، سرائے نورنگ

نام / قتل کرنے والے کا نام سن وقوعہ نبی کریم ﷺ ۳ھ حضرت عمرؓ ...... حضرت علیؓ ۲ھ موذی بیماری میں مر گیا ...... فرشتے نے گلا گھونٹ دیا ...... مجاہدوں معاذ و معوذؓ نے قتل کیا ۲ھ ایک مسلمان کی تلوار سے ناک کٹ ۲ھ گئی حضرت بلالؓ ۲ھ حضرت علیؓ ۲ھ نابینا صحابی عمیر بن عدیؓ ۲ھ حضرت سالم بن عمیرؓ ۳ھ حضرت ابو نائلہؓ ۳ھ حضرت عبداللہؓ ۳ھ حضرت عاصم بن ثابتؓ ۳ھ حضرت علیؓ ۸ھ حضرت ابو برزہؓ ۸ھ حضرت علیؓ ۸ھ مکہ کے موقع پر قتل ہوئی ۸ھ حضرت زبیرؓ ...... مصر کے گورنر نے دانت اکھاڑ دیے ...... خلیفہ ہادی نے قتل کروا دیا ......

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 479 ماہنامہ سبحانی کراچی

گستاخ کا نام انجام / قتل کرنے والے کا نام سن وقوعہ ریجی نالڈ (عیسائی گورنر) سلطان صلاح الدین ایوبی ...... دو گستاخ عیسائی سلطان نور الدین زنگی نے قتل کروائے ۵۷۷ء ابراہیم فرازی قاضی ابن عمرو کے حکم پر قتل کیا گیا ...... یولوجیس پادری فرزند عبدالرحمن اندلس ۸۵۹ء فلورا (عیسائی عورت) حاکم اندلس عبدالرحمن نے قتل کروا دیا ۸۵۱ء میری (عیسائی عورت) حاکم اندلس عبدالرحمن نے قتل کروا دیا ۸۵۱ء پادری پرفیکٹس قاضی اندلس نے قتل کروا دیا ...... اسحاق پادری حاکم اندلس عبدالرحمن نے قتل کروا دیا ۸۵۱ء سانچو پادری حاکم اندلس عبدالرحمن نے قتل کروا دیا ۸۵۱ء جرمیاس پادری حاکم اندلس عبدالرحمن نے قتل کروا دیا ۸۵۱ء حابثیوس پادری حاکم اندلس عبدالرحمن نے قتل کروا دیا ۸۵۱ء سیسی نند پادری حاکم اندلس عبدالرحمن نے قتل کروا دیا ۸۵۱ء پولوس پادری حاکم اندلس عبدالرحمن نے قتل کروا دیا ۸۵۱ء تھیوڈو میری پادری حاکم اندلس نے قتل کروا دیا ...... آئیزک پادری قاضی اندلس نے قتل کروا دیا ...... راجپال غازی علم دین شہیدؒ ۱۹۲۹ء نتھو رام غازی عبدالقیوم شہیدؒ ۱۹۳۴ء ڈاکٹر رام گوپال غازی مرید حسین شہیدؒ ۱۹۳۶ء چرن داس میاں محمد شہیدؒ ۱۹۳۷ء شردھانند غازی قاضی عبدالرشیدؒ ۱۹۲۶ء چنچل سنگھ صوفی عبداللہ شہیدؒ ۱۹۳۸ء

صفحہ 480

ماہنامہ مسیحائی کراچی 480 حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء گستاخ کا نام انجام / قتل کرنے والے کا نام سن وقوعہ پالامل سنار حافظ محمد صدیق شہیدؒ ۱۹۳۴ء میجر ہردیال سنگھ بابو معراج دین شہیدؒ ۱۹۳۲ء کلکتہ میں ایک گستاخ امیر احمد شہیدؒ، عبداللہ شہیدؒ ...... عبدالحق قادیانی حاجی محمد مانکؒ ۱۹۲۷ء بھوش عرف بھوشو بابا عبدالمنان مدظلہ ۱۹۳۷ء چوہدری کھیم چند منظور حسین شہیدؒ، عبدالعزیز شہیدؒ ۱۹۳۱ء ایک گستاخ سکھ غازی عبدالرحمن شہیدؒ ...... رام داس مہر محمد امین، چوہدری محمد اعظم ۱۹۳۶ء ایک گستاخ سکھ غازی محمد اعظم ...... نینو مہاراج عبدالخالق قریشی ۱۹۳۶ء لیکھرام آریہ سماجی نامعلوم مسلمان ...... ویر بھان غیرت مند مسلمان ۱۹۳۵ء اپل سنگھ غازی غلام محمد شہید ...... پادری سیموئیل غازی زاہد حسین ۱۹۱۶ء نعمت احمر عیسائی غازی محمد فاروق ۱۹۹۴ء (مرسلہ: محمد طیب طوفانی، سرائے نورنگ)

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

حاسدوں کی شرار

مو ایک معروف مغربی ویب ۔ بھر کے مسلمانوں کی غیرت ایمانی کو ایک ان کے قلوب اس قدر سیا سب سے زیادہ قابل احترام شخصیت احمد مجتبیٰ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو (نعو ثبوت دیتے ہیں کہ بظاہر انسانی شکل قرآن کریم کی اس آیت مبارکہ ”اولئ کی طرح ہیں بلکہ چوپایوں سے زیادہ ہیں۔

یہ اسی خسرو پرویز کی روحا حضور اکرم ﷺ کے نامہ مبارک کو چ صفحات میں عبرت کے لئے محفوظ ہے کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے۔

دنیا بھر میں بسنے والے ایک یعنی حضرات صحابہ کرامؓ کی روحانی ا سے ہمہ وقت لبریز تھے، جو آل حضرت کی محبوب اللہ ﷺ سے عقیدت کا یہ عا نے سے پہلے ہی یا تو پی لیا کرتے تھے نزدیک حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے م تھیں، جو حضور اکرم ﷺ کے زخم ہ

صفحہ 481

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 481 ماہنامہ مسیحائی کراچی

حاسدوں کی شرارت اور عاشقوں کی سعادت

مولانا شعیب فردوس

ایک معروف مغربی ویب سائٹ گستاخانہ خاکوں کے، مقابلے کے ذریعے دنیا بھر کے مسلمانوں کی غیرت ایمانی کو ایک مرتبہ پھر للکارا گیا ہے۔

ان کے قلوب اس قدر سیاہ ہو چکے ہیں کہ جب جس کا جی چاہتا ہے کائنات کی سب سے زیادہ قابل احترام شخصیت اور ”بعد از خدا بزرگ توئی“ کے مصداق امام الانبیاء احمد مجتبیٰ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو (نعوذ باللہ) سب وشتم کا نشانہ بناتے ہیں اس بات کا عملی ثبوت دیتے ہیں کہ بظاہر انسانی شکل وصورت میں پھرنے والے مغرب کے ”انتہا پسند“ قرآن کریم کی اس آیت مبارکہ ”اولٰئک کالانعام بل ہم اضل (یہ لوگ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ چوپایوں سے زیادہ بے راہ ہیں۔ الاعراف: 179) کا حقیقی مصداق ہیں۔

یہ اسی خسرو پرویز کی روحانی اولاد ہیں جس نے اقتدار کے نشے میں چور ہوکر حضور اکرم ﷺ کے نامہ مبارک کو چاک کیا تھا، پھر اس کا انجام بد بھی آج تک تاریخ کے صفحات میں عبرت کے لئے محفوظ ہے۔ اسی کے بیٹے نے ہوس اقتدار میں مست ہوکر اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے۔

دنیا بھر میں بسنے والے ایک ارب سے زائد مسلمان شمع نبوت کے انہی پروانوں یعنی حضرات صحابہ کرام ؓ کی روحانی اولاد ہیں جن کے قلوب حضور اکرم ﷺ کے عشق سے ہمہ وقت لبریز تھے، جو آں حضرت ﷺ کے اشاروں کو بھی حکم کا درجہ دیتے تھے۔ جن کی حبیب اللہ ﷺ سے عقیدت کا یہ عالم تھا کہ آپ ﷺ کے وضو کے پانی کو زمین پر گر نے سے پہلے ہی یا تو پی لیا کرتے تھے یا پھر اپنے جسموں پر مل لیا کرتے تھے۔ جن کے نزدیک حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے مبارک پسینے کی خوش بو کے مقابلے میں مشک وعنبر ہیچ تھیں، جو حضور اکرم ﷺ کے زخم سے نکلنے والے مبارک لہو کو اس یقین کے ساتھ پی لیا

صفحہ 482

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 482 ماہنامہ سبحانی کراچی

رتے تھے جب آپ ﷺ کا مبارک خون ان کے جسموں میں شامل ہوتا تو یقیناً ان کے جسموں کو جہنم کی آگ نہ چھو سکے گی۔ دنیا نے عشق رسالت کی زندہ اور جیتی جاگتی تصویریں احد کے میدان میں دیکھی ہیں کہ جب عاشقانِ رسول، آپ ﷺ کے اردگرد ڈھال بن کر کھڑے ہو گئے، جنہوں نے اپنے جسموں پر کافروں کے تیر کھا کر حضور اکرم ﷺ کے دفاع کا حق ادا کیا۔ آج فخر موجودات، سرور کائنات، سرکار دوعالم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی شان اطہر میں مغرب کے انتہا پسند اور تنگ نظر عناصر بار بار گستاخی کا گھناؤنا ارتکاب کر کے یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ان اوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعے مسلمانوں کے دلوں سے (نعوذ باللہ) حضور اکرم ﷺ کی محبت کو کم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ لیکن اول تو چاند پر تھوکنا خود اپنے منہ پر چھینٹے کے مترادف ہے۔ دوئم یہ کہ شاید ان نفسیاتی مریضوں کو یہ نہیں معلوم کہ دنیائے اسلام کا ایک ایک فرد چودہ سو سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے با وجود آج بھی عشق محمد ﷺ کے جذبے سے سرشار ہے۔ ہر مسلمان کو قرآن کریم کی اس آیت مبارکہ کا ہمہ وقت استحضار رہتا ہے کہ ” النبی اولی بالمؤمنین من انفسہم و ازواجہ امہتہم ۔ “ (الاحزاب: 6) یعنی : ” نبی (ﷺ) ایمان والوں کے ساتھ تو ان کے نفس سے بھی زیادہ تعلق رکھتے ہیں اور آپ ﷺ کی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔“

آج جب کہ دنیا کے کونے کونے میں اسلام کی کرنیں پھیل چکی ہیں اور غیر مسلم افراد اسلام کی حقانیت سے متاثر ہو کر اسلام میں داخل ہو رہے ہیں تو مغرب کے انتہا پسند عناصر کو یہ ایک آنکھ نہیں بھا رہا، اگر چمگادڑ کو دن کی روشنی میں بھی نظر نہ آئے تو بھلا اس میں سورج کا کیا قصور؟ آج اسلام کو پوری دنیا میں پھیلتے دیکھ کر حاسدین کے دل جلتے ہیں وہ کھسیانی بلی کھمبا نوچے‘ کے مترادف کبھی سرور کائنات، فخر موجودات، امام الانبیاء حضرت محمد ﷺ کی شان اطہر میں گستاخی کا ارتکاب کرتے ہیں تو کبھی قرآن کریم اور اسلام کو (

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

’نعوذ باللہ ”فتنے“ سے تعبیر کر کے ہیں۔

ہم جب بھی غازی عشاق رسول کے نام سنتے اور سے بلند ہو جاتے ہیں بلکہ ہمیں کے محمد عربی ﷺ سے حقیقی مح حصے میں آئی کاش ہم اس سعاد

بقیہ اشاعت خاص :” ہدیہ: ۲۵۰ روپے بی ۱۹، بلا فون: 64

صفحہ 483

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 483 ماہنامہ مسیحائی کراچی

نعوذ باللہ ) ’’فتنے‘‘ سے تعبیر کر کے اپنے ناپاک جذبات کو تسکین دینے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔

ہم جب بھی غازی علم دین، غازی عبدالقیوم ، میاں محمد اور عامر چیمہ شہید جیسے عشاق رسول کے نام سنتے اور ان کے کارناموں کو پڑھتے ہیں تو نہ صرف یہ کہ ہمارے سر فخر سے بلند ہو جاتے ہیں بلکہ ہمیں ان پر رشک آتا ہے کہ عشق رسول کا صحیح معنوں میں حق ادا کر کے محمد عربی ﷺ سے حقیقی محبت کا عملی ثبوت دے کر جو عظیم سعادت ان جان نثاروں کے حصے میں آئی کاش ہم اس سعادت کو حاصل کر کے ان سے بھی آگے بڑھ جائیں۔

نقیب اتحاد ملت اسلامیہ ماہنامہ مسیحائی کراچی اشاعت خاص: ”سیرت رسول ﷺ نمبر“ زیر ادارت احمد خیر الدین انصاری

ہدیہ: ۲۵۰ روپے بمع ڈاک محدود تعداد میں دستیاب ہے۔

بی ۱۷، بلاک اے، نارتھ ناظم آباد، کراچی ۷۴۷۰۰۔ فون: 3663064، موبائل 03323569913

صفحہ 484

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ سبحانی کراچی

وادی مہران سندھ کے شہر ٹنڈوآدم سے تعلق رکھنے والے بین الاقوامی تعارف کے حامل پاکستان کے ممتاز و معروف ماہر لسانیات پروفیسر ڈاکٹر عزیز انصاری کے فن و شخصیت پر شبیر احمد انصاری کی تحقیقی تالیف

پروفیسر ڈاکٹر عزیز انصاری (ٹنڈوآدم)

علمی خدمات کے آئینے میں

شائع ہوگئی ہے

صفحات : 324 قیمت 300 روپے

ناشر

حراء فاؤنڈیشن پاکستان (رجسٹرڈ) پوسٹ بکس : 7272 کراچی 0333-3009948

صفحہ 485

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 485 ماہنامہ مسیحائی کراچی

نبی آخر الزمان حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہ

اسلام دشمنوں کے اعتراضات

ڈاکٹر صفیہ سلطانہ صدیقی

دورِ نبوت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر اب تک، یہود و نصاریٰ نے ہر صدی میں، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پہ کیچڑ اچھالنے کی ناکام و ناپاک کوشش کی اور ہر صدی کے ابتداء وسط اور آخر میں یعنی تقریباً ہر ۱۰-۳۰ سال کی مدت میں وہ دنیا بھر میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف نئے نئے سوال اور اعتراضات گھڑ کر پھیلاتے ہیں، جس سے عام مسلمان پریشان ہو جاتا ہے مگر علمائے حق مضبوطی اور بہادری کے ساتھ ان کے گھٹیا الزامات اور پروپیگنڈوں کا منہ توڑ جواب دیتے ہیں، یوں ان دشمنانِ محمد کی سازش الٹی پڑتی ہے اور مسلمانوں کے علمی خزانوں میں نئے نئے اضافے ہوتے چلے جاتے ہیں۔

سوال یہ ہے اور قابلِ غور بات یہ ہے کہ عام مسلمان کو الجھن یا سازش کا شکار ہونے کی کیا ضرورت پڑتی ہے؟ کیا انہوں نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ یہود و عیسائیوں (بنو اسحاق) کے ساتھ ہم نے کیا بُرا کیا ہے جس کا انتقام وہ بنو اسماعیل (مسلمانوں) سے لے رہے ہیں۔ اُمّتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خون کے پیاسے ہیں، کبھی کسی نے یہ سوچا کہ مسلم قوم نے تو کسی کے مذہبی جذبات کو مجروح نہیں کیا؟ پھر اُن کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نشانہ بنانے کی ہمت و جسارت کیوں کی جاتی ہے؟ کبھی ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو قاتل نہیں کہا (کہ وہ تو مصلح قوم اور اللہ کے برگزیدہ نبی تھے) کبھی ہم نے عیسیٰ علیہ السلام کی پاک دامن ماں پہ الزام نہ لگایا (بلکہ یہ سب فرائض انہی کی قوموں نے خود ادا کر لیے!!!) ہم نے ان سب انبیاء کو اپنے نبی و رسول کہہ کر اولاد ابراہیم کو اپنا مانا، لیکن ان کی اقوام نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جان لیا اور مانا نہیں پہچان لیا اور بدترین مخالفت کی! پھر کیا مسلمان قوم کو ان کے ساتھ ”معذرت خواہانہ“ رویہ رکھنا چاہیے؟ اگر ہاں؟ تو کیوں اور کس وجہ سے؟؟ وہ جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی کی حیثیت سے جانتے ہیں مگر مانتے نہیں ہم اُن کی

صفحہ 486

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

تقلید کیسے کر سکتے ہیں؟ ہم اُن سے مرعوب کیسے ہو سکتے ہیں؟ اگر آج وہ ٹیکنالوجی میں آگے ہیں تو کل ہم علم اور ٹیکنالوجی میں اُن سے آگے تھے، مستقبل پھر سے ہمارا ہوگا !! لیکن کسی کے پاس دولت یا وسائل ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اللہ رب العالمین کی آخری محکم کتاب (جو کفر و حق کی چھانٹ کو الگ کر دیتی ہے ) قرآن کو نہ مانے اپنے رب کے مقابل آکر تکبر کرے !؟ وہ اللہ کے آخری نبی کو اس لیے نہ مانے کہ آخری نبی اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں کیوں آئے؟ اس کا حق کیسے کسی اور قوم کو مل گیا؟ کیا وہ نعوذ باللہ ، اللہ سے زیادہ سمجھدار ہیں؟ اور اللہ کے فیصلے کا انکار کرنے والے تو صرف اور صرف شیطان کے ساتھ ہیں۔

آخر وہ یہ بھی تو سوچ سکتے تھے کہ ہم اور وہ .... ہم سبھی جلیل القدر نبی ابراہیم علیہ السلام کی اولاد ہیں اور اس سے بھی زیادہ بہترین بات یہ کہ پہلے نبی حضرت آدم کی اولاد ہیں! مسلمان ان کی طرح تنگ ظرف اور تنگ ذہن کے مالک نہیں ہیں، لیکن غیر مسلموں سے ہماری رواداری کی آخری حد وہاں ختم ہو جاتی ہے جہاں سے اللہ اور اس کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احترام اور بڑائی کی حد شروع ہوتی ہے اور اُس جگہ آ کر ہر بڑائی ختم ہو جاتی ہے! اللہ کے نبی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ایمان لانے کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا ”اے عمر ! تم اُس وقت تک پورے مسلمان نہیں ہو سکتے جب تک میں تمہیں ہر چیز ، ہر انسان اور خود تمہاری ذات سے زیادہ عزیز نہ ہو جاؤں۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے چند لمحوں کو سوچا اور سچ سچ بتایا ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ہر چیز اور ہر انسان سے زیادہ عزیز ہیں سوائے میرے اپنے آپ کے“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے عمر ! تمہارا ایمان مکمل نہیں ہوا، عمر رضی اللہ عنہ سوچ میں پڑ گئے سر جھکا لیا اور پھر چند لمحوں کے غور و فکر کے بعد کسی بڑے نتیجے پر پہنچ گئے پھر فرمایا ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اس دنیا کی ہر چیز سے زیادہ اور خود میری اپنی ذات سے زیادہ پیارے ہیں۔“

صفحہ 487

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہاں! اب تمہارا ایمان مکمل ہو گیا۔“ آج کے سیاسی لیڈر چھوٹے موٹے حکومتی عہدے دار اپنی سیاست چمکانے کے لیے اپنی ذات کو مرکز بنا دیتے ہیں تاکہ ان کا کام چلے پھلے پھولے ۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت تو دینی فرض تھا، قرآن کا حکم تھا کہ ”اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اطاعت کرو!“ (سورۃ آل عمران : ۳۱)

اس لیے کہ اس محبت یعنی شدید محبت رسول کے بغیر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین پر عمل کرنا ناممکن تھا۔ ایک ماں اپنی اولاد کے لیے ہر مشکل اور دکھ جھیل لیتی ہے، اس کی عظیم محنت کے پیچھے صرف محبت کا بے مثال جذبہ ہوتا ہے۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رشتہ ماں بچے کے رشتے سے زیادہ قیمتی ومقدس ہے۔ اس لیے کہ دین کی حفاظت اور عمل کے لیے اور قرآن وحدیث کی حفاظت کے لیے مشقت اٹھانے کا جذبہ محبت کی وجہ سے ہی مسلمان کو مشقت جھیلنے پر آمادہ کرسکتا ہے۔ قرآن وحدیث کے وارث ہم ہیں! اس ورثے کو اپنی جان سے پیارا رکھنا ہمارا کام ہے، ہمارا محبوب فریضہ ہے، یہ کام ہمارا ذاتی کام ہے، ہمارا یہ مقام نہیں ہے کہ ہم خود کو مجرم بنا کر اپنے آپ کو اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ریاضت کو دشمنانِ محمد کی عدالت میں رکھ دیں کہ وہ صحیح و غلط کا فیصلہ کریں اور ہم سر جھکا کر ”رواداری“ کے خوبصورت پردے میں بزدلی اختیار کر کے اُن کے ہاتھوں سے زنجیریں پہن لیں .....! بزدلی وکمزوری کی زنجیریں، حق اور عظمت کے تاج کو ان کے پیروں میں ڈال دیں اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری عمر کی محنت کو ضائع کردیں ..... یہ سب مسلمانوں کی توہین ہے بلکہ توہین کی انتہا ہے!!!

یہ لطیفہ نہیں تو اور کیا ہے کہ انجیل جس کی دعوت ساری دنیا میں آج بھی شدت سے پھیلائی جارہی ہے، عیسیٰ علیہ السلام کے ایک صدی بعد سن کر لکھی گئی تھی اور محفوظ قرآن کے ساتھ محفوظ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم جو دورِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ہی لکھی جانے لگی بعد میں بھی صحابہ رضی اللہ عنہم نے اُسے محنت اور احتیاط سے اکٹھا کیا، اس پر یہ دشمن

صفحہ 488

ماہنامہ مسیحائی کراچی حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

اعتراض گھڑتے ہیں۔ اگلے صفحات میں ہم حدیث کے طویل ترین مشقت بھرے کام کا مختصر جائزہ لیں گے کہ ہمارے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، تابعین اور تبع تابعین رحمہم اللہ علیہم نے کس محنت و مشقت سے اور احتیاط سے حدیث کا علم ہم تک بحفاظت منتقل کیا۔ یہ ہمارے نظام تعلیم کی خرابی ہے کہ اسکولوں میں حفاظت حدیث کے موضوع پہ کچھ نہیں پڑھایا جاتا۔ یہ ہماری کم نصیبی ہے کہ ہم اپنے دشمنوں کی سازش کو جان بوجھ کر یا انجانے میں پورا کر رہے ہیں، جب کہ اس حقیقت سے اچھی طرح واقف بھی ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کا ہمیشہ سے یہ عزم ہے کہ ہر چند سال بعد اُمت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کوئی نیا فتنہ کھڑا کر کے انہیں پریشان کیا جاسکے۔ ان کے ایمان کو کمزور کیا جاسکے، لیکن ہمارے اہل علم اور بے علم ہر طرح کے بڑے ان سازشوں کے مقابلے میں خود کو مضبوط کرنے کی بجائے دنیا کے ہر دھندے میں لگے ہوئے ہیں کیا محبت رسول بلکہ عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایسا موضوع نہیں ہے جس پر غور کیا جائے؟ اور دشمنوں کو اس بات کی ”اجازت“ نہ دی جائے کہ وہ اپنے کمینہ پن اور گھٹیا اخلاق کی توپوں کا رخ اللہ کے آخری نبی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے پوتے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نہیں کرسکتے! حضرت علی رضی اللہ عنہ ایک جنگ میں ایک یہودی کو جب قابو کرچکے تو اُس نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے منہ پہ تھوک دیا ان کے بے مثال تحمل کا عالم دیکھیں کہ وہ اُس یہودی پہ سے ہٹ گئے کہ اب یہ قتل اللہ کی راہ میں نہ رہا کہیں اس میں میری ذاتی دشمنی شامل نہ ہوجائے۔ مگر یہی علی رضی اللہ عنہ محمد بن عبداللہ، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ایک لفظ کسی دشمن یا نام نہاد دوست سے سننے کے روادار نہ تھے اور اُن کی تلوار لمحہ بھر میں حرکت میں آجاتی تھی اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا بھی یہ حال تھا۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”اے ایمان والو! یہود و نصاریٰ کو اپنا دوست نہ بناؤ وہ آپس میں

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

ایک دوسرے کے دوست رکھے گا تو وہ انہی میں سے نہیں دیتا۔“ (سورۃ المائد ایک اور جگہ ارشاد فرمایا گیا: ”آج میں نے تمہارے پوری کر دی اور تمہارے المائدہ:۳)

ایک روایت حدیث میں علیہ وسلم کے پاس تورات کا ایک ن کا چہرہ مبارک (شدید غصے کی وجہ عنہ کے متوجہ کرنے پر عمر رضی اللہ اللہ عنہ کہنے لگے ”میں اللہ کے رب رب العزت کے رب ہونے او ہونے پر راضی ہوں۔“ اس پر رسول اللہ صلی اللہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان کرتے اور مجھے چھوڑ دیتے موسیٰ (علیہ السلام) زندہ ہوتے

صفحہ 489

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

ایک دوسرے کے دوست ہیں اور تم میں سے جو کوئی اُن سے دوستی رکھے گا تو وہ انہی میں سے ہے۔ بے شک اللہ بے انصافوں کو راہ نہیں دیتا۔“

(سورۃ المائدہ:۵۱)

ایک اور جگہ ارشاد فرمایا گیا: ”آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کر دیا اور تم پر اپنی رحمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو دین (راستہ ) پسند کیا۔“ (سورۃ المائدہ:۳)

ایک روایت حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تورات کا ایک نسخہ لائے اور اسے پڑھنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک ( شدید غصے کی وجہ سے ) سرخ ہو گیا۔ چنانچہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے متوجہ کرنے پر عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا تو عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے ”میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے غصے سے پناہ مانگتا ہوں اور ہم اللہ رب العزت کے رب ہونے اور اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر راضی ہیں ۔“

اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اُس ذات کی قسم ! جس کے قبضے میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے اگر آج موسیٰ (علیہ السلام) آجاتے اور تم اُن کی اتباع کرتے اور مجھے چھوڑ دیتے تو تم یقیناً سیدھے راستے سے بھٹک جاتے حالانکہ اگر موسیٰ (علیہ السلام) زندہ ہوتے تو وہ بھی میری اتباع کرتے ۔“

(مرقاۃ، دارمی،طبرانی)

☆......☆......☆

صفحہ 490

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 490 ماہنامہ سچائی کراچی

مسلمان کے مرکز محبت پر حملہ

سید منور حسن

امیر جماعت اسلامی پاکستان

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت مسلمانوں کے درمیان ایک مرکز محبت کی حیثیت رکھتی ہے۔ ہم اپنی اصطلاح میں جس شخص کو گیا گزرا مسلمان کہتے ہیں اور اسے بے عمل اور بے نمازی گردانتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت اور عشق میں ڈوبے ہونے کے حوالے سے اس میں بھی ایک خاص کیفیت پائی جاتی ہے۔ مغربی دنیا کے تھنک ٹینکس، فلسفیوں اور لکھنے والوں نے اس بات کو بالکل ٹھیک سمجھ لیا ہے کہ مسلمانوں کے اندر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تعلق کے نتیجے میں جو رویے ظہور پذیر ہوتے ہیں اس کی وجہ سے مسلمانوں میں ایک یکجہتی موجود ہے اور ایک اپنائیت کی فضا بار بار پیدا ہو جاتی ہے جب بھی حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور حب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کی جائے شان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اور مقام مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیان کیا جائے نظام مصطفیٰ اور عشق مصطفیٰ کا ذکر کیا جائے اور ان حوالوں سے پھر جام مصطفیٰ ، حوض مصطفیٰ اور دست مصطفیٰ کی نوید سنائی جائے اور مصطفوی انقلاب کا نعرہ لگایا جائے تو مسلمانوں کی آنکھیں ڈبڈبا آتی ہیں اور دلوں کے اندر ایک نرمی اور گداز پیدا ہو جاتا ہے۔ اس مرکز محبت کو مسلمانوں کے دل و دماغ سے نکالنے کے لیے اس سے چھیڑ چھاڑ کرتے رہنا اہل مغرب کا محبوب مشغلہ ہے۔

ہمارے معاشرے میں غلامی کے دور سے پیدا ہونے والی سیکولر لابی بھی اس میں برابر کی حصے دار ہے اور ایک عام مسلمان کے ذہن سے اس محبت کو کھرچنا چاہتی ہے لیکن یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا فضل اور ایمان کی برکات میں سے ایک برکت ہے کہ ایک بے عمل مسلمان بھی اس سازش اور ان تمام طریقوں اور رویوں سے آگاہ ہو کر ہمیشہ اس کے مقابلے کے لیے سامنے آ جاتا ہے اور اس کو اپنی نجات کا ذریعہ سمجھتا ہے۔

قانون توہین رسالت جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں تشکیل پایا تھا۔ یہاں ایک

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء سیکولر لابی مغرب کو خوش کرنے ہے تو کہا جاتا ہے کہ یہ قانون ا الحق کی باقیات سے نجات پانی ضیاء الحق کی مجلس شوریٰ کے ممبر پارٹی میں ستر فیصد وہ لوگ شا میں پچاس فیصد سے زیادہ لوگ وزراء آمروں کے ساتھی رہے شامل ہونے والے کو وزیر ا وزیر بھی نہیں ہونا چاہیے لیکن الحق کی باقیات کا لیبل لگا د والے قانون توہین رسالت کو اہل علم اس بات کو مسلمانوں کے معاشرے کے ا آئے ، ان قوانین کو ترتیب اور سے یہ کام نہ ہو رہا ہو اور کسی اور بنوانا شروع کر دے اور نظام م کر رہا ہو تو اسلامی احکامات قوا گی کہ ایک ڈکٹیٹر یہ کام کر رہا ہ گی۔ اگر اس قانون میں کوئی کم ہے تو اس کو رفع کرنا چاہیے۔ قا دیا جا سکتا ہے جن کا غلط استعمال غلط مقدمات بنائے جاتے ہیں او

صفحہ 491

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

سیکولر لابی مغرب کو خوش کرنے اور ڈالروں کے حصول کے لیے جب اس قانون پر تنقید کرتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ یہ قانون ایک آمر کے دور میں بنا تھا اس لیے اس کو ختم کیا جائے اور ضیاء الحق کی باقیات سے نجات پائی جائے۔ یوں تو وزیر اعظم جناب یوسف رضا گیلانی صاحب ضیاء الحق کی مجلس شوریٰ کے ممبر تھے اور ان کے دور میں وفاقی وزیر بھی رہے۔ آج کی پیپلز پارٹی میں ستر فیصد وہ لوگ شامل ہیں جو ضیاء الحق کے ساتھی تھے۔ وزراء کی فوج ظفر موج میں پچاس فیصد سے زیادہ لوگ ضیاء الحق اور عام طور پر بات کی جائے تو اسی فیصد سے زیادہ وزراء آمروں کے ساتھی رہے ہیں۔ ضیاء الحق اگر بہت ہی بڑا مجرم تھا تو اس کی شوریٰ میں شامل ہونے والے کو وزیر اعظم اور اس کے دور میں گورنری سے لطف اندوز ہونے والوں کو وزیر بھی نہیں ہونا چاہئے لیکن سیکولر حضرات کو توہین رسالت کا قانون برا لگتا ہے تو اس پر ضیاء الحق کی باقیات کا لیبل لگا دیتے ہیں اور بات یہیں آکر ٹکتی ہے کہ آمر کے دور میں بننے والے قانون توہین رسالت کو ختم کر دینا چاہیے۔

اہل علم اس بات کو جانتے ہیں کہ جب اسلام اور اسلامی قوانین کی بات ہوگی تو مسلمانوں کے معاشرے کے اندر بلاشبہ یہ چاہا جائے گا کہ مسلمانوں کی اکثریت اس طرف آئے، ان قوانین کو ترتیب اور تشکیل دے اور ان کے نمائندے یہ کام کریں لیکن کسی طریقے سے یہ کام نہ ہو رہا ہو اور کسی اور طریقے سے انجام پائے، مثال کے طور پر کوئی آدمی مسجدیں بنوانا شروع کردے اور نظام صلوٰۃ قائم کردے، چاہے اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے کر رہا ہو تو اسلامی احکامات قوانین اور اسلامی رویوں کی محض اس لیے مخالفت نہیں کی جائے گی کہ ایک ڈکٹیٹر یہ کام کر رہا ہے۔ فی نفسہ اگر قانون اسلامی ہے تو اس کی تائید کی جائے گی۔ اگر اس قانون میں کوئی کمی ہے تو اس کو دور کرنا چاہیے اور اس کے نفاذ میں کوئی کمزوری ہے تو اس کو رفع کرنا چاہیے۔ قانون کو منسوخ کر دیا جائے۔ یہاں پر درجنوں قوانین کا حوالہ دیا جاسکتا ہے جن کا غلط استعمال ہوتا ہے۔ پولیس کا سارا نظام ہی غلط ہے جگہ جگہ لوگوں پر غلط مقدمات بنائے جاتے ہیں اور وہ سالہا سال تک جیلوں میں سڑتے رہتے ہیں۔ کیا ان

صفحہ 492

ماہنامہ مسیحائی کراچی 492 حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

تمام قوانین کو ختم کر دینا چاہیے۔ ایک عدالت نے اگر کسی کے بارے میں فیصلہ کیا ہے تو اس کو اپیل کا حق حاصل ہے اور اس کو اوپر کی عدالت سے رجوع کرنا چاہیے۔ عدالت سے سزا پانے والے کو بچانے کے لیے کوئی گورنر متحرک ہو جائے اور عدالتی فیصلے کو حکومتی اختیار استعمال کرتے ہوئے ختم کرنے کی کوشش کی جائے تو یہ درست طرز عمل نہیں ہے اور اس کی ہرگز اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔

بڑی سادگی سے ایک بات کہی جاتی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کبھی کوئی انتقام نہیں لیا۔ بالکل ٹھیک اور سو فیصد درست بات ہے کہ آپ رحمۃ للعالمین تھے لیکن یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی ذات گرامی ہے کہ جنہوں نے فتح مکہ کے موقع پر اپنے سخت سے سخت مخالفین کے لیے بھی عام معافی کا اعلان کیا۔ مگر توہین کے مرتکب ہونے والے مرد و خواتین کے متعلق ارشاد فرمایا کہ اگر وہ کعبے کے پردے میں بھی پناہ لے لیں تب بھی ان کو قتل کیا جائے۔ اس کے علاوہ بھی کئی مواقع پر آپ نے ایسے افراد کے قتل کا حکم جاری فرمایا اور ایک موقع پر محمد بن مسلمہ کی قیادت میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک ٹیم کو ایک گستاخ رسول کو قتل کے لیے روانہ فرمایا۔ یہ ذاتی انتقام نہیں اللہ کا حکم تھا۔ اس لیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مسلمانوں کے لیے مرکزِ محبت اور عشق اور تعلق کا ایک گہرا عنوان ہے۔ لہٰذا جب بھی اس کو ختم کرنے، کمزور کرنے اور زک پہنچانے کی کوشش کی جائے گی تو اس کا نوٹس لیا جائے گا۔ اور اسی لیے اس کو سزا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے قتل ہے۔ ایسی سزا جس کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرمایا ہے کوئی ہما شما، کوئی صدر اور گورنر اس سزا میں کوئی ترمیم اور کمی بیشی نہیں کر سکتے اور اگر کریں گے تو یہ حرکت اسلامی حدود میں مداخلت قرار پائے گی اور انہیں ایک بڑے ردّعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

یہ محض پروپیگنڈہ ہے کہ توہین رسالت کا قانون اقلیتوں کو نشانہ بنانے کے لیے بنایا گیا۔ قانون سب کے لیے ہے اور اس قانون کے تحت مسلمانوں کے خلاف بھی مقدمات درج ہوئے ہیں۔ اس قانون کی وجہ سے بے شمار لوگوں کو تحفظ مل جاتا ہے کہ

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء عدالت کے فیصلے اور اس کے مطا حوالے سے ہر صاحب ایمان ا دیکھے اور اپنے کانوں سے سنے فاروق رضی اللہ عنہ کی طرح ا انتشار، افراتفری اور لاقانونیت کا اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات او لگاؤ ہے اس سے چھیڑ چھاڑ نہ کی وہ نماز نہیں پڑھتا ہے اور بے عمل صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کو دھوکے دیے جاسکتے ہیں۔ حکو توہین رسالت کے قانون کے میں غلط رائے قائم کرنے کے کررہی ہے۔ یہ سوچنا کہ توہین بیٹھے رہیں گے تو ایسا نہیں ہوگا۔ بچہ شہید بننے کو تیار ہے۔

ہم پر امن جدوجہد نہیں آتا اور یہ اپنے ہی پیر ہاتھوں میں پتھر دے کر یہ کہیں لگادی جائے، بسوں کے اڈوں اس کے حق میں نہیں ہیں۔ درست نہیں ہے۔ ہمارا دھرنا بلوچستان میں سیاسی کارکنان

صفحہ 493

ماہنامہ مسیحائی کراچی نے آکر کسی کے بارے میں فیصلہ کیا ہے تو اس ت سے رجوع کرنا چاہیے۔ عدالت سے سزا ت ہو جائے اور عدالتی فیصلے کو حکومتی اختیار نے تو یہ درست طرز عمل نہیں ہے اور اس کی

ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ق اور سو فیصد درست بات ہے کہ آپ رحمۃ ہی ذات گرامی ہے کہ جنہوں نے فتح مکہ بھی عام معافی کا اعلان کیا۔ مگر توہین کے فرمایا کہ اگر وہ کعبے کے پردے میں بھی علاوہ بھی کئی مواقع پر آپ نے ایسے افراد س کی قیادت میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی رمایا۔ یہ ذاتی انتقام نہیں اللہ کا حکم تھا۔ اس وں کے لیے مرکز محبت اور عشق اور تعلق کا نے، کمزور کرنے اور زک پہنچانے کی کوشش لیے اس کو سزا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرمایا ہے کوئی ہما شما، ہی نہیں کر سکتے اور اگر کریں گے تو یہ حرکت ایک بڑے ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کا قانون اقلیتوں کو نشانہ بنانے کے لیے نون کے تحت مسلمانوں کے خلاف بھی سے بے شمار لوگوں کو تحفظ مل جاتا ہے کہ

ماہنامہ مسیحائی کراچی 493 حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء عدالت کے فیصلے اور اس کے مطابق عملدرآمد کا انتظار کیا جاتا ہے۔ ورنہ توہین رسالت کے حوالے سے ہر صاحب ایمان اپنے آپ کو اس قابل سمجھتا ہے کہ جب وہ اپنی آنکھوں سے دیکھے اور اپنے کانوں سے سنے اور دل و دماغ کی دنیا میں ہلچل محسوس کرے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی طرح اپنے ایمان کے تقاضے کو پورا کر گزرے۔ میں کسی انارکی، انتشار، افراتفری اور لاقانونیت کی بات نہیں کر رہا لیکن یہ ضرور کہہ رہا ہوں کہ مسلمانوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اور آپ کے تمام اعمال سے ایک خاص تعلق اور ایک خاص لگاؤ ہے اس سے چھیڑ چھاڑ نہ کی جائے اور یہ نہ سمجھا جائے کہ کسی آدمی کی داڑھی نہیں ہے یا وہ نماز نہیں پڑھتا ہے اور بے عمل مسلمان کے طور پر جانا جاتا ہے تو اس کے سامنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کوئی سخت بات کی جاسکتی ہے اور اس کے دل و دماغ کی دنیا کو کچوکے دیئے جاسکتے ہیں۔ حکومت کو بھی یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ غیرملکی دباؤ کے نتیجے میں توہین رسالت کے قانون کے خاتمے کی کوشش کی گئی تو یہ اس خاموش اکثریت کے بارے میں غلط رائے قائم کرنے کے مترادف ہوگا جو بہت عرصے سے اس حکومت کو برداشت کر رہی ہے۔ یہ سوچنا کہ توہین رسالت کا قانون ختم کر دیا جائے گا اور وہ پھر بھی گھروں میں بیٹھے رہیں گے تو ایسا نہیں ہوگا۔ ہر مسلمان اس حوالے سے ہر وقت غازی علم دین اور عامر چیمہ شہید بننے کو تیار ہے۔

ہم پر امن جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں اس لیے کہ بدامنی کے نتیجے میں کچھ ہاتھ نہیں آتا اور یہ اپنے ہی پیر پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے اگر ہم ہزاروں لوگوں کو ہاتھوں میں پتھر دے کر یہ کہیں کہ ٹریفک سگنلز توڑ دیے جائیں، چلتی ہوئی گاڑیوں کو آگ لگادی جائے، بسوں کے اڈوں اور تجارتی مراکز کو جلا دیا جائے تو یہ تخریبی کارروائی ہے اور ہم اس کے حق میں نہیں ہیں۔ شرعی اعتبار سے بھی بے گناہ اور معصوم لوگوں کو نقصان پہنچانا درست نہیں ہے۔ ہمارا دھرنا انشاء اللہ پر امن ہوگا اور اس کا مقصد لاپتہ افراد بالخصوص بلوچستان میں سیاسی کارکنان کے اغواء کے بعد مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی اور ٹارگٹ کلنگ

صفحہ 494

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

کے خاتمے، ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی اور وطن واپسی، مہنگائی و بیروزگاری، آر جی ایس ٹی اور کرپشن کے خاتمے اور قانون توہین رسالت کے حوالے سے کی جانے والی سازشوں کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اب لوگوں کا گھروں کے اندر بیٹھے رہنا اور ایک سکون اور سکونیت اور طمانیت کی زندگی بسر کرنا فتوے کی زبان میں نہیں تو اصطلاحی معنوں میں ضرور حرام ہے۔ فی الحقیقت جو تھوڑا بہت سکون مجھے اور آپ کو میسر ہے یہ بھی برباد ہونے والا ہے جو لوگ حالات سے مایوس ہیں ان کے لیے پیغام یہ ہے کہ وہ جدوجہد کا راستہ اختیار کریں اور میدان میں نکلیں مایوسی اور ناامیدی کی کیفیت کو ختم کر کے امید کا چراغ تھامنا چاہیے اور امید جدوجہد کے اندر ہے۔ پاکستان کا مستقبل انتہائی روشن ہے، ظلم کی سیاہ رات چھٹنے والی ہے، ہر پاکستانی کو صبح روشن کو قریب لانے میں اپنا حصہ ڈالنا چاہئے۔

یہاں ایک بات کی وضاحت ضروری ہے کہ بالعموم جدوجہد اور دھرنے کا مطلب حکومت کی تبدیلی سمجھا جاتا ہے اور اس خطرے کو بیان کیا جاتا ہے کہ اس سے کسی کو مہم جوئی کا موقع مل سکتا ہے۔ ایسی تمام کوششیں جو غیر آئینی اور غیر قانونی دائرے کے اندر کی جائیں گی، ہمارے نزدیک وہ ملک وقوم کے سنوار کے لیے نہیں بلکہ بگاڑ میں اضافے کا سبب بنیں گی اور ہم ایسی تمام کوششوں کے سامنے رکاوٹ بنیں گے۔ آئین و قانون کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے ہم چاہتے ہیں کہ حکومتی کار پردازان نوشتہ دیوار پڑھیں اور معاملات کو درست کریں اگر وہ پانچ سال پورے کرنا چاہتے ہیں تو اسلامی قوانین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ سے باز رہیں، امریکی اتحاد سے باہر نکلیں، گم شدہ لوگوں کو واپس لائیں، مہنگائی و بے روزگاری کو ختم کریں، لاقانونیت اور کراچی وبلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ کا علاج کریں۔ اسی کا انہیں مینڈیٹ ملا ہے اور اسی لیے حکومتیں بنتی ہیں اگر ایسا نہ ہو تو آئین پاکستان حکومت کو جمہوری جدوجہد کے ذریعے تبدیل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

صفحہ 495

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کا قلعہ پاکستان

تحریر: ضیاء الرحمٰن مگرہ

دنیا کے جغرافیائی و ارضیاتی خدوخال کے مطالعے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس وقت اس کرۂ ارض پر جو بھی آزاد ریاستیں موجود ہیں ان میں دو آزاد ملک ایسے ہیں جو نظریہ کی بنیاد پر قائم ہوئے ہیں جن میں ایک پاکستان ہے، دوسرا اسرائیل۔

پاکستان ایک اسلامی نظریاتی جمہوریہ ہے جس میں 17 کروڑ نفوس بستے ہیں اور جن میں %97 مسلمان اور باقی 3 فیصد میں ہندو، سکھ، عیسائی، پارسی اور قادیانی اقلیتیں آباد ہیں۔ اور جن کو آئین پاکستان کی رو سے اپنی مذہبی و تہذیبی رسومات کی ادائیگی کی مکمل آزادی ہے نہ صرف یہ بلکہ مندروں، گرجا گھروں، گردوروں، کو بھی مکمل تحفظ حاصل ہے لیکن اس کے باوجود بعض متعصب عیسائی، قادیانی محض صرف انا اور غیر ملکی آقاؤں کو خوش کرنے اور مراعات حاصل کرنے کے خاطر وقفے وقفے سے کوئی نہ کوئی ایسی حرکت کر بیٹھتے ہیں جس سے راسخ العقیدہ مسلمانوں کے احساسات و جذبات برانگیختہ ہو جاتے ہیں اور جس کے سبب مسلمانوں میں ان اقلیتوں کے خلاف نفرت کی آگ بھڑک جاتی ہے اور اس کو مزید ہوا دینے اور مٹی کا تیل چھڑک کر مزید شدت پیدا کرنے بینی ڈکٹ کی بیجا مداخلت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کاش کوئی ان سے پوچھے کہ کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے انہیں یہی تعلیم دی تھی اور الہامی کتاب انجیل میں یہ ہی لکھا ہے کہ وہ مسلمانوں کے مذہبی معاملات اور اسلامی قوانین میں اپنی ٹانگ اڑائیں۔ اور اپنے پیروکاروں میں مذہبی منافرت پھیلانے کا کردار ادا کریں۔ کم از کم وہ اپنے مذہبی منصب کی ہی لاج رکھتے تو یہ نوبت نہ آتی جس سے اس وقت یہ ملک اور ان کے معصوم مسلمان دو چار ہو رہے ہیں حالانکہ وہ یہ بات اچھی طرح جانتے اور سمجھتے ہیں کہ ان کی زبان سے نکلا ہوا ہر لفظ مسیحی برادری کے لیے تقلید کا موجب بنتا ہے کیونکہ عیسائی ان کو اپنا نجات دہندہ سمجھتے ہیں اور ان کے ہر قول و فعل کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات سے تعبیر کرتے ہیں۔ جبکہ موصوف

صفحہ 496

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ سبحانی کراچی

مسلمانوں کے خلاف ہرزہ سرائی کا کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتے اور گاہے بگاہے عمداً و قصداً ہمارے پیارے نبی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں توہین آمیز اور گستاخانہ کلمات کہہ جاتے ہیں جس کی پیروی کرنا سبھی اپنا دینی فریضہ سمجھتے ہیں۔

اگر یہاں پر یہ کہا جائے تو بجا نہ ہوگا کہ ناروے، فرانس، بھارت، برطانیہ و امریکہ میں اب تک گستاخی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زمرے میں آنے والی جتنی بھی سنگین وارداتیں ہوئی ہیں وہ سب کی سب ”بینی ڈکٹ“ کی شہہ و ایماء پر ہوئی ہیں۔ کیا یہ حرکت پاکستان میں تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے قانون کے خلاف شرانگیز مہم اور پاکستان کے اندرونی معاملات میں سراسر مداخلت نہیں ہے۔؟؟

ملعونہ آسیہ مسیح کے اقرار جرم کے بعد پاپائے روم کا حکومت پاکستان سے یہ مطالبہ کرنا کہ ملک سے قانون توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی تنسیخ کی جائے، ملعونہ آسیہ کو فوری رہا کیا جائے، اور مسیحی برادری پر مبینہ تشدد کا خاتمہ کیا جائے۔

پاپائے روم کی یہ وہ ریشہ دوانیاں، دخل اندازیاں اور انداز تخاطب ہے جس پر ہماری لبرل پرست حکومت خاموش رہنے ہی میں عافیت سمجھتی ہے۔

نہ صرف یہ بلکہ برسر اقتدار کارندے، حلقے اور حکومتی ادارے محض صرف اپنے مغربی آقاؤں کو خوش کرنے اور عرصہ حکومت کو طول دینے کی خاطر کوئی باضابطہ احتجاج نہیں ریکارڈ کرواتے ہیں۔ کیونکہ ان لوگوں کا ایمان ہے کہ اگر ہم نے ایسا کیا تو ہماری غیر ملکی امداد بند ہو جائے گی ان کی عیاشی اور شاہانہ ٹھاٹھ باٹ ختم ہو جائے گا۔

انہیں کم از کم مرد مجاہد مصر کے حسنی مبارک سے ہی سبق سیکھ لینا چاہئے تھا، جس سے جب پوپ نے ان تحفظات کا مطالبہ کیا تو اس مرد آہن نے مصر کے اندرونی معاملات میں ویٹی کن سٹی کی بے جا مداخلت قرار دیکر ان کے سفیر کو ملک بدر کر دیا تھا۔ لیکن ہمارے ارباب حلقہ پھر بھی خاموش رہے۔

ت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

سرچ

ناموس رسالت کے تحفظ کے ہی فائدہ ہے کہ اسی سے ایمان کی افتخار کا پتہ چلتا ہے کہ یہی واحد ہے، جس نے اس ظلمت کدے کی ذات پاک سے ہماری حیات کا آئینہ ہے اور دست فطرت کا کہ ...... طور پر تجلیوں کی بارش کمال نہ ملا تھا۔ یہ فن ذات محمد نصاب ہوگی تو اب فنکار کی بے چھپ گیا، کیوں کہ اب تخلیق من حقیقی نے اپنی محبوب اور اپنی اطا اس امر کا کہ مالک دو جہاں اس نہیں کرتا ..... نہ کسی ماتھے کی کر حرکت ...... اور تاریخ شاہد ہے حرکتوں کے حامل وجود، غبار من غیرت مند، محبوب خدا ﷺ کے کھینچ باہر کرتا ہے اور خود دارور ساتھ ہی اس کے لیے جنت کے بنایا کرتا ہے۔

صفحہ 497

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

سر بیچ کر متاع دل و جاں خریدنا

پروفیسر اقبال جاوید

ناموس رسالت کے تحفظ کے لیے سرفروشی ایک ایسا سودا ہے جس میں خسارہ نہیں فائدہ ہی فائدہ ہے کہ اسی سے ایمان کی تکمیل کا ثبوت ملتا ہے۔ اسی سے محبت کے اعتبار اور وفا کے افتخار کا پتہ چلتا ہے کہ یہی واحد پیمانہ ہے اس عظیم و جلیل محبوب ﷺ کا جو وجہ وجود کائنات ہے، جس نے اس ظلمت کدے میں ہدایت، سعادت اور رحمت کی کرنیں برسائیں۔ جس کی ذات پاک سے ہماری حیات مستعار کی ہر آبرو وابستہ ہے۔ جو فی الواقع رخ جمال الہی کا آئینہ ہے اور دست فطرت کا وہ عظیم ترین شاہکار ہے جس پر خود حسن آفرین کو ناز ہے کہ ...... طور پر تجلیوں کی بارش اس وقت تک کے لیے تھی جب تک قدرت کے فن کو اوج کمال نہ ملا تھا۔ یہ فن ذات محمدی ﷺ کی صورت میں ظاہر ہو گیا اور تخلیق کو معراج کمال نصیب ہو گئی تو اب فنکار کی بے حجابی کی ضرورت باقی نہ رہی، تخلیق بے حجاب ہو گئی اور خالق چھپ گیا، کیوں کہ اب تخلیق، خالق کی معرفت کے لیے کافی تھی ...... یہی وجہ ہے کہ خالق حقیقی نے اپنی محبت اور اپنی اطاعت کو اسی ذات اقدس سے وابستہ کر دیا اور یہی باعث ہے اس امر کا کہ مالک دو جہاں اس کی شان میں ہلکی سی شوخی اور ادنیٰ سی گستاخی بھی برداشت نہیں کرتا ...... نہ کسی ماتھے کی کوئی سلوٹ، نہ نگاہوں کا کوئی زاویہ اور نہ ہونٹوں کی کوئی حرکت ...... اور تاریخ شاہد ہے کہ ایسی نازیبا سلوٹوں، ایسے ناپاک زاویوں اور ایسی گستاخ حرکتوں کے حامل وجود، غبار معصیت بن کر اڑتے رہے ہیں حق یہ ہے کہ جب بھی کوئی غیرت مند، محبوب خدا ﷺ کے بارے میں گستاخی کرنے والے کی زبان اس کی گدی سے کھینچ باہر کرتا ہے اور خود دار و رسن کو بوسہ دیتا ہے تو الوہی ہونٹوں پر تبسم سا بکھر جاتا ہے اور ساتھ ہی اس کے لیے جنت کے سبھی ایوان کھل جاتے ہیں کہ وفا کا سوز ہی انسان کو کندن بنایا کرتا ہے۔

صفحہ 498

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 498 ماہنامہ سبحانی کراچی

محبت جس کو خاکستر کرے گی کیمیا ہوگا

ہماری پندرہ سو سالہ تاریخ کے حاشیے ایسے ہی جانثاروں کے لہو سے گل رنگ ہیں جو اشارتاً اور کنایتاً بھی اپنے نبی کریمﷺ کی توہین ایک منٹ کے لیے بھی برداشت نہیں کرتے، صراحتاً تو بہت دُور کی بات ہے۔ حق یہ ہے کہ وہ شخص جو شانِ رسالتﷺ میں توہین کا کوئی بول سن کر خاموش رہتا اور محض لفظی ردّعمل پر اکتفا کرتا ہے، اس کی منافقت، دنیاوی اور اخروی تذلیل پر منتج ہوا کرتی ہے کہ وہ ایمان کی شرطِ اوّل سے بھی محروم ہے۔ محبوب کی ایک نگاہِ ناز کے حصول کے لیے محبت ہی چاک گریباں نکل سکتی ہے اور محبت کے بغیر اطاعت کا ہر تصوّر فریبِ نفس ہے جب کہ ایمان عمل کے بغیر صرف ایک لفظ ہی ہے وہ بھی بے معنی، ایک جسم ہے بے روح اور ایک خاکہ ہے بے رنگ ...... محض پانی پانی پکارنے سے پیاس نہیں بجھا کرتی اور صرف روٹی روٹی کی رٹ لگانے سے بھوک نہیں مٹا کرتی جب تک پانی پیا نہ جائے اور روٹی کھائی نہ جائے بعینہٖ خود کو مسلمان، مسلمان کہنے سے انسان، مسلمان نہیں بنتا، جب تک اس کا عمل، اس کے ایمان کی تائید نہیں کرتا۔ محض لفظوں کی شطرنج بچھانے سے ناموسِ رسالت مآبﷺ کے تحفظ کے تقاضے پورے نہیں ہوا کرتے کہ محض لفظی خوشنمائی، اعمال کی سیاہی کی دلیل ہوا کرتی ہے ۔ ۔ ۔

معنی ہیں معدوم، تحریریں بہت
ہے عمل مفقود، تقریریں بہت
بغض دل میں منہ میں تعریفیں بہت
کفر دل میں، لب پہ تکبیریں بہت
ایک اہل درد ہی ملتا نہیں
ورنہ درد دل کی تدبیریں بہت

آج خبر و عمل کے چمن ہیں نہ فکر و عمل کے سمن، ذوق کی رعنائی ہے نہ شوق کی زیبائی، سجدوں کا کیف ہے نہ آنسوؤں کی چمک، کوئی ویرانی سی ویرانی ہے ...... زندگی سراب بھی ہے اور خراب بھی ......

صفحہ 499

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ سبحانی کراچی

رہ رہ کے پوچھتی ہے صبا، شاخ شاخ سے
سارے چمن میں درد کا مارا کوئی نہیں؟

کہنے والے کہتے ہیں کہ آج نعت کا دور ہے، وہ بھول جاتے ہیں کہ ہر دور ہی نعت کا دور رہا ہے کہ یہ صنف ازل انوار بھی ہے اور ابد آثار بھی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نعت مخالفین اسلام کی لسانی گستاخیوں کے جواب کے لیے وجود میں آئی تھی۔ خود رسول اللہ ﷺ کی مبارک رضا اس میں شامل تھی اور اس کے خال و خط اور اسلوب واصول بھی زبان رسالت کے متعین فرمائے تھے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ دل آزار تحریریں بھی لکھی جاتی رہیں، وقت کے راجپال نئے نئے لبادوں میں سامنے بھی آتے رہیں اور عصر نو کے رشدی ہنود و یہود کی سرپرستی میں دندناتے بھی رہیں اور جب رسول ﷺ کے دعویدار محض نعت گوئی میں مصروف رہیں۔ ایسی نعت گوئی قلم، قلم اور حرف، حرف منافقت ہے کہ اس میں محبت کا دعویٰ، غیرت کی چنگاری سے محروم ہے ۔

محبت خوب ہے، غیرت پر اس سے فزوں تر ہے

توصیف رسالت ﷺ کی معراج، گستاخ رسول کے سر کاٹنے اور اپنے سر کٹانے کی عملی کوشش میں پوشیدہ ہے کیوں کہ ہمیت کے اس جذبے کے بغیر ایک مسلمان کا وجود ہی بے جواز ہو کر رہ جاتا ہے کہ اُمت کا اجماع اس پر ہے کہ شانِ رسالت مآب ﷺ میں گستاخی والے کو اسی لمحے قتل کر دیا جائے کہ یہی اس کی سزا ہے اور یہ بھی یاد رکھا جائے کہ اگر وہ دریدہ دہن مسلمان ہے تو اس کی توبہ کو بھی درخور اعتنا نہ سمجھا جائے۔ وہ بہر نوع واجب القتل ہے اور اس سلسلے میں کسی نوع کا تساہل، نہ چرخِ نیلی فام کو گوارا ہے نہ گنبدِ خضرا کو کہ حضور ﷺ کی ذاتی، جذباتی اور شعوری وابستگی ضروری ہے۔ یہ پاکیزہ تعلق جتنا ڈھیلا پڑ جائے گا، ایمان بھی اس قدر کمزور ہوتا چلا جائے گا۔ یہ کہنا غلط ہے کہ وابستگی، نظریات ہی سے ہونی چاہیے۔ شخصیات سے نہیں۔ حضور اکرم ﷺ کی شخصیت سے شخصی اور ذاتی محبت ہی ہمارے دنیاوی اور اخروی وقار کی ضامن ہے۔ اہلِ مغرب آزادی اظہار کے دلفریب نعروں کی آڑ میں

صفحہ 500

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ سبحانی کراچی

دراصل حضور ﷺ سے مسلمانوں کی شدید ترین محبت کو ختم کر کے ان کی جمعیت اور حمیت کو پراگندہ کرنے کے درپے ہیں۔ نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کا فوری قتل طے شدہ بات ہے، خواہ وہ خانہ کعبہ کے غلاف سے کیوں نہ لپٹا ہوا ہو اور یہ بھی لازم ہے کہ قاتل عدالت میں اپنا دفاع ہرگز نہ کرے بلکہ قتل کا برملا اعتراف کر کے اپنے لیے جنت اور دوسروں کے ایمان کے لیے منزل کا نشان چھوڑ جائے۔ اس ضمن میں صحابہ کرام کا مقدس دور، ایثار و وفا کی ایمان افروز مثالوں سے بھرا پڑا ہے مگر عصر حاضر اس نوع سے، کلیتاً بانجھ نہیں ہے اور ہماری خاکستر میں ابھی کچھ چنگاریاں باقی ہیں۔

سربلندی پھر وفا کی دیکھنے میں آگئی
پھر وفا کے نام پر کچھ لوگ ہارے زندگی

اللہ تعالیٰ ناموس نبوت کے سامان خود فراہم کرتا ہے۔ ہم ایسے لوگ تحریریں لکھتے اور تقریریں کرتے رہ جاتے ہیں اور قدرت کسی سادہ دل کے جگر میں آگ لگا کر اس کے ایمان کو عمل کا خوش رنگ نقش بنا دیتی ہے کہ لالے کی حنا بندی فطرت کا محبوب مشغلہ ہے۔

☆☆☆

صفحہ 501

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 501 ماہنامہ مسیحائی کراچی

اب اقلیتیں ہی کریں گی ہماری تقدیر کا فیصلہ؟

رضی الدین سید

کیا واقعی اب اقلیتیں ہی ہمارے ملک اور قوم کی تقدیر کا فیصلہ کیا کریں گی؟ یہ ایک بہت اہم سوال ہے جس کے لیے ہمیں فی الواقع سنجیدہ ہو جانا چاہیے۔ ہماری ماضی اور حال کی تمام حکومتوں کا حال یہ رہا ہے کہ انہیں ۹۸ فیصد مسلم اکثریت کے بجائے محض ۲ فیصد اقلیتوں ہی کے جذبات و احساسات کا پاس رہتا ہے۔ اتنا خیال کہ اس کی خاطر وہ ۹۸ فیصد مسلم اکثریت کے حقوق کو بھی بے شرمی سے پامال کر دیتی ہیں۔ آئین پاکستان میں اقلیتوں کے شہری، معاشی و مذہبی حقوق کے لیے واضح دفعات رکھی گئی ہیں کیوں کہ یہ مملکت، اپنی ذمہ داری سمجھتی ہے کہ ایک اسلامی معاشرے میں ان کے مفادات کا ہر طرح خیال رکھا جائے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ڈھٹائی، زور اور عالمی پشت پناہی کی بنیاد پر مسلم عقائد پر بھی ضرب کاری لگانے لگیں اور ایسے حقوق طلب کرنے لگیں جو ”ان پر کبھی واجب بھی نہ تھے۔“

بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے معاملات کو کلی طور پر اقلیتوں کی منشا و مرضی کے مطابق چلایا جائے اور ان کی خاطر ہر سال دو سال میں نت نئے آرڈی ننس لائے جاتے رہیں اور آئین میں ردو بدل کیا جاتا رہے؟ اقلیتوں میں خصوصاً عیسائی حضرات سب سے زیادہ واویلا کرتے ہیں کیوں کہ باقی اقلیتوں میں سے اکثریت انہی کی ہے۔ ورنہ اگر ہندو بھی یہاں بڑی اقلیت میں ہوتے تو ہمارے حکمران ان کی خاطر بھی جھکے جھکے جاتے اور رعایتیں دے دے کر بے حال ہوئے جاتے۔ رہ گئے قادیانی تو وہ برسرزمین تو کوئی ایسا مظاہرہ یا جلسہ وغیرہ نہیں کرتے کیوں کہ وہ ۹۸ فیصد مسلمانوں کے ہاتھوں سے ماضی اور حال میں زخم چاٹ چکے ہیں، تاہم در پردہ وہ حکومت میں اسی طرح تغیر و تبدل کا کھیل کھیلتے چلے آرہے ہیں جیسے کوئی چوہا رفتہ رفتہ کسی رسی کو اپنے دانتوں سے کترتا رہتا ہے۔

صفحہ 502

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

ورنہ آخر کیسے ممکن ہے کہ بیس تیس سالوں کے بعد اب قادیانیوں سے مظلومیت کی لہر ایک بار پھر چلنے لگ جائے؟

اقلیتوں خصوصاً عیسائیوں کو اس بات سے آخر خوشی کیوں نہیں ہوتی ہے کہ پاکستان میں ان کی جانوں، مالوں، گرجاوں اور مذہبی کتب کی عمومی طور پر کوئی بے حرمتی اور بے وقعتی نہیں ہوتی ہے۔ نہ یہاں کبھی گرجا گھر جلائے جاتے ہیں اور نہ ان کی انجیلیں کبھی جلائی اور پھاڑی جاتی ہیں۔ وہ یہاں آزادانہ معاش حاصل کر رہے ہیں اور ملک بھر میں ایک عام مسلمان کی طرح کہیں بھی آجا سکتے ہیں۔ انہیں اپنے مذہبی اسکول تک کھولنے کی بھی عام اجازت ہے ورنہ وہ ذرا بھارت کا حال تو دیکھیں جہاں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ عیسائیوں پر بھی بربریت روا رکھی جاتی ہے۔ جہاں گرجے جلائے جاتے اور ننیں (NUNS) نذر آتش کی جاتی ہیں۔

دوسری طرف یہ عیسائی اقلیت ذرا مغربی عیسائی ممالک کا حال بھی دیکھے جہاں ایک ایک مسلم فرد ان کے ہاتھوں بری طرح ظلم کا شکار ہے۔ دہشت گردی تو گویا مسلم نام کے ساتھ زبردستی چپکا دی گئی ہے جب کہ ہمارے پیغمبر آخر الزماں کے خاکے بھی آئے روز اڑائے جاتے ہیں، گوانتانامو میں قرآن پاک پھینکے جانے کے واقعات آخر عیسائی دنیا نہیں کر رہی ہے تو پھر کون کر رہا ہے؟ لیکن کتنے عیسائی ہیں جو ہمارے ان مقدس اوراق اور محترم ہستیوں کی توہین پر واویلا کرتے، جلوس نکالتے اور امریکی و یورپی سفارت خانوں کو یادداشتیں پیش کرتے ہیں۔ مسلمانوں کے جذبات کا مسئلہ ہو تو خاموش بیٹھے رہتے ہیں لیکن اپنا کوئی مسئلہ ہو تو وہ ملکی و عالمی سفارت کاری شروع کر دیتے اور خطوط اور ای میلز کا تانتا باندھ دیتے ہیں۔ ہم نے کبھی نہیں سنا کہ توہین رسالت و قرآن پاک پر کبھی کسی پاکستانی بشپ، کارڈینل یا پادری نے ویٹی کین یا مغربی فادرس کو خطوط لکھے ہوں اور سفارتی و مذہبی دباؤ ڈالا ہو تو کیا یہ سب کچھ ایک انسانی مسئلہ نہیں ہے؟

توہین رسالت کے واقعات ان کے ہاتھوں مملکت پاک میں بھی اکا دکا طور پر انجام دیے جاتے رہتے ہیں ان کی جرأت کا کمال ہے کہ ایک کامل مسلم ملک میں بھی وہ توہین رسالت کر جاتے ہیں اور پھر ہمارے حکمران اوپر سے لے کر نیچے تک اور بیرونی قوتیں

صفحہ 503

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

بھی بھاگ دوڑ میں لگ جاتی ہیں کہ کہیں کسی مجرم کو سزائے موت ہو ہی نہ جائے اس موقع پر اب سب کو انسانی حقوق بھی یاد آنے لگتے ہیں۔ ملعونہ و مجرمہ آسیہ بی بی کے لیے وفاقی اقلیتی وزیر شہباز بھٹی کی نیندیں اڑ جاتی ہیں اور سازشوں کا ایک سلسلہ دراز ہو جاتا ہے۔ آسیہ ملعونہ کو بیرون ملک بھجوا دینے کی دیوانگی بڑھ جاتی ہے لیکن تب کسی کو بھی یہ خیال نہیں آتا کہ آخر امریکہ جلاد قید میں ۳ بچوں کی کوئی مسلم ماں عافیہ صدیقی بھی گزشتہ سات سالوں سے قید ہے ملعونہ آسیہ کی تو یہاں ساری قدر و قیمت ہے مگر افسوس کہ مومنہ عافیہ کے لیے یہاں نہ کوئی شفقت ہے اور نہ جذبۂ انسانیت!

انہی لوگوں نے جداگانہ انتخابات کو منسوخ کروا کے مخلوط انتخابات کے نظام کو ایک بار پھر رائج کیا ہے اور انہی اقلیتوں کے مطالبے پر شراب خانے برسر بازار دوبارہ کھولے گئے ہیں یہی وہ عیسائی اقلیت ہے جو دھڑلے سے اپنا دعوتی و تبلیغی کام جاری رکھے ہوئے مسلمانوں کو بپتسمہ دینے کی جدوجہد میں ہمہ تن مگن ہے۔ انہی کے غیر ملکی پادری آ کے یہاں کھلے عام ”مبشراتی“ وعظ دیتے ہیں جس کی خاطر پرکشش و ذومعنی اشتہارات بھی دیواروں پر لگائے جاتے ہیں تاکہ مسلمان ان سے دھوکا کھا جائیں!

بدقسمتی سے ان لوگوں میں اکثر کے نام بھی مسلمانوں جیسے ہوتے ہیں جیسے جاوید، صادق، عیسیٰ، یعقوب اور دانیال وغیرہ جس سے مسلمان بار بار دھوکہ کھاتے ہیں۔ پھر جب وہ کبھی اپنے نام کا اگلا حصہ یعنی ”مسیح“ ، ”پطرس“ یا ”پولس“ بتاتے ہیں تب جا کر راز کھلتا ہے کہ جس شخص یا خاتون سے وہ باتیں / معاملات کر رہے تھے وہ مسلمان نہیں بلکہ عیسائی فرد تھا یا تھی۔ ”خدا کی قسمیں“ ہماری طرح کھانا ان کے لیے کبھی کوئی مسئلہ ہی نہیں رہا۔ یہ صورت حال دراصل کسی ملک کی سلامتی کے لیے بہر حال ایک قابل غور پہلو ہے ضروری نہیں کہ یہ اقلیتیں ملک کی غیر وفادار ہی ہوں لیکن یہ معقول سوال تو بہر حال اپنی اہمیت رکھتا ہی ہے۔ ضروری ہے کہ ان کی اہم قومی و مذہبی شخصیات سے غیر ملکی سرکاری و مذہبی شخصیات کی ملاقات کو باقاعدہ مانیٹر کیا جائے کیوں کہ آج کل کے ملکی حالات کا تقاضا بھی یہی ہے۔

کیا ستم ہے کہ ہر اہم مذہبی و سیاسی معاملے میں ہمیں ان کے ”نازک دلوں“ کا

صفحہ 504

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 504 ماہنامہ مسیحائی کراچی

مسلمانوں کے ”نازک دلوں“ سے زیادہ خیال رکھنا پڑتا ہے۔ ہم نے تو ملک میں کم از کم بے نظیر کے پہلے دور ہی سے دیکھا ہے کہ اقلیتیں ہی اب ہمارے قومی و مذہبی مسائل کی راہنمائی کر رہی ہیں۔ وہی بتاتی ہیں کہ کون سا قانون ہمارے حق میں بہتر ہے اور کون سا ضرر رساں ہے؟ وائے ہمارے مسلم حکمران کہ جن کے سبب اسلامی جمہوریہ پاکستان کوا ب یہ سب کچھ دن دیکھنے پڑے ہیں؟ ہمارے ملک میں اب آخر ہمارا رہ ہی کیا گیا ہے؟

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

قرآن کر

لقد جاءکم رسول

حریص علیکم بالمو

تحقیق میں آیا ہے تمہارے پاس ر ہے تمہاری بھلائی پر ایمان والوں اس آیت مبارکہ میں اللہ رب العزت اور یہ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شا رؤف کے معنی ہیں۔ بڑا مہربان۔ معنی ہیں۔ نہایت رحم والا۔ بڑا مہر اور دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں وَمَا اَرْسَ اور ہم نے آپ کو ن جن کے رحیم ہونے کا ی بے کراں ہو گی۔ اس رحیمیت میں ک نبی پاک ﷺ کی رحمت عام تھی اس میں مسلمان، کافر، ا ﷺ کا لطف و کرم عام تھا۔ جہاں آپ ﷺ نے م وہیں اُمت کو بھی اس بات کا حکم دی

صفحہ 505

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں

لقد جاءكم رسول من انفسكم عزيز عليه ما عنتم حريص عليكم بالمومنين رووف رحيم

(سورہ التوبہ)

تحریر: طاہرہ مقبول

حقیقت میں آیا ہے تمہارے پاس رسول تم میں کا بھاری ہے اس پر جو تم کو تکلیف پہنچے حریص ہے تمہاری بھلائی پر ایمان والوں پر نہایت شفیق مہربان ہے۔

اس آیت مبارکہ میں اللہ رب العزت نے اپنے حبیبؐ کو اپنے دو صفاتی نام عطا فرمائے۔ اور یہ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شان ہے کہ اللہ نے رؤف اور رحیم اپنے دو نام عطا فرمائے۔ رؤف کے معنی ہیں ۔ بڑا مہربان ۔ بہت شفقت کرنے والا ۔ معجم القرآن ص ۲۳ رحیم کے معنی ہیں ۔ نہایت رحم والا ۔ بڑا مہربان ۔ معجم القرآن ص ۳۳۳

اور دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں

وَمَا اَرسَلنٰكَ اِلَّا رَحمَةً لِّلعٰلَمِين

اور ہم نے آپ کو جہان والوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے جن کے رحیم ہونے کا اعلان خود وہ ذات کرے جو رحمٰن و رحیم ہے، اُن کی رحمت بے کراں ہو گی۔ اس رحیمیت میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔

نبی پاک ﷺ کی رحمت و شفقت مومنین کے ساتھ مخصوص نہیں تھی بلکہ یہ رحمت عام تھی اس میں مسلمان، کافر، انسان، حیوان، چرند، پرند کی کوئی تفریق نہیں تھی۔ آپ ﷺ کا لطف و کرم عام تھا۔

جہاں آپ ﷺ نے عملی طور پر عفو و درگزر رحم و کرم کا معاملہ لوگوں کے ساتھ کیا وہیں اُمت کو بھی اس بات کا حکم دیا۔

صفحہ 506

حرمت رسول نمبر۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

الرَّاحِمُونَ يَرْحَمُهُمُ الرَّحْمَنُ اِرْحَمُوا مَنْ فِى الْأَرْضِ يَرْحَمُكُم مَّنْ فِى السَّمَاءِ رحم کرنے والوں پر ہی اللہ کا رحم ہوتا ہے۔ تم اہلِ زمین پر رحم کرو آسمان والا تم پر رحم کرے گا (الحدیث) اُس حدیث مبارکہ سے رحم و شفقت کرنے پر ابھارا۔ اور جو رحم نہیں کرتے ان کو وعید سنائی مَنْ لَّا يَرْحَم لَا يُرْحَم جو رحم نہیں کرتا اُس پر رحم نہیں کیا جاتا (الحدیث)

حتیٰ کہ آپﷺ نے جانوروں پر بھی رحم و کرم کا معاملہ کر کے دکھایا۔ ایک دفعہ ایک صحابی حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ان کے ہاتھ میں کسی پرندے کے بچے تھے اور وہ چیں چیں کر رہے تھے۔ حضورﷺ نے پوچھا یہ بچے کیسے ہیں؟ صحابی نے عرض کیا یا رسول اللہ میں ایک جھاڑی کے قریب سے گزرا تو ان بچوں کی آواز آ رہی تھی۔ میں ان کو نکال لایا۔ ان کی ماں نے دیکھا تو بے تاب ہو کر سر پر چکر کاٹنے لگی۔ حضورﷺ نے فرمایا فوراً جاؤ اور ان بچوں کو وہیں رکھ آؤ جہاں سے لائے ہو۔ (مشکوٰۃ

۔ معارف الحدیث)

رحم و کرم کا یہ رُخ تو مطلقاً عام مخلوق کے لیے تھا مگر جہاں بات بچوں کی آئی تو وہاں فرمایا لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَّم يَرْحَمْ صَغِيرَنَا أَوْ كَمَا قَالَ ﷺ ترجمہ: جو چھوٹوں پر رحم نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں۔

اللہ اکبر۔ اتنی بڑی بات فرمادی کہ جو چھوٹوں پر رحم نہ کرے وہ ہمارے طریق پر نہیں ہے۔ اگر ہم نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کی حیات مبارکہ کا وہ گوشہ دیکھیں جہاں بچوں کے ساتھ آپ کا برتاؤ ہے تو وہاں بچوں کے ساتھ شفقت و رحم کا سب سے نرالا اور اچھوتا انداز

حرمت رسول نمبر۲۰۱۱ء نظر آتا ہے۔

نبی پاکﷺ بچوں پر ان کے لیے دعا فرماتے ۔ اگر کئی بچے ایک جگہ جمع ہوتے تو آ اپنے بازوؤں کو پھیلا کر بیٹھ جا سب سے پہلے ہم کو چھولے گا ہم آتے ۔ کوئی آپﷺ کے پیٹ لگاتے اور پیار کرتے۔ (خصائل بچوں سے محبت اور شف اگر بچے آتے تو بھی ان کے جذ

حضرت زبیرؓ فرماتے ہیں کہ اتنے میں حضرت حسن بن ﷺ نے انہیں نیچے نہ اتارا ( اُترے۔ اور کبھی آپﷺ اُن سے آ کر حضورﷺ کے نیچے

(طبرانی)

حضرت عبداللہ بن ہوتے تھے جب آپﷺ ﷺ کی پشت پر بیٹھ جایا کر اشارہ فرماتے کہ انہیں چھوڑ (سینے سے لگاتے اور پھر )

صفحہ 507

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

نظر آتا ہے۔

نبی پاک ﷺ بچوں پر نہایت شفقت فرماتے۔ ان کے سروں پر ہاتھ پھیرتے۔ ان کے لیے دعا فرماتے۔ اگر کئی بچے ایک جگہ جمع ہوتے تو آپ ﷺ ان کو ایک قطار میں کھڑا کر دیتے اور آپ ﷺ اپنے بازوؤں کو پھیلا کر بیٹھ جاتے اور فرماتے بھئی تم سب دوڑ کر ہمارے پاس آؤ۔ جو بچہ سب سے پہلے ہم کو چھو لے گا ہم اس کو یہ اور یہ دیں گے۔ بچے بھاگ کر آپ ﷺ کے پاس آتے۔ کوئی آپ ﷺ کے پیٹ پر گرتا کوئی سینہ اطہر پر۔ آپ ﷺ ان کو سینہ مبارک سے لگاتے اور پیار کرتے۔

(خصائل نبوی)

بچوں سے محبت اور شفقت اس قدر تھی کہ نماز جیسی عظیم الشان عبادت کے دوران اگر بچے آتے تو بھی ان کے جذبات کا خیال رکھتے۔

حضرت زبیرؓ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ دیکھا کہ حضور ﷺ سجدے میں ہیں کہ اتنے میں حضرت حسن بن علیؓ آکر حضور ﷺ کی پشت مبارک پر سوار ہو گئے۔ آپ ﷺ نے انہیں نیچے نہ اتارا (بلکہ یونہی آپ سجدے میں رہے) یہاں تک کہ وہی خود نیچے اترے۔ اور کبھی آپ ﷺ ان کے لیے دونوں ٹانگیں کھول دیا کرتے اور وہ ایک طرف سے آکر حضور ﷺ کے نیچے سے گزر کر دوسری طرف سے نکل جاتے۔

(طبرانی)

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں حضور ﷺ بعض دفعہ نماز پڑھ رہے ہوتے تھے جب آپ ﷺ سجدے میں جاتے تو حضرت حسنؓ اور حسینؓ کود کر آپ ﷺ کی پشت پر بیٹھ جایا کرتے۔ جب لوگ ان دونوں کو روکنا چاہتے تو حضور ﷺ انہیں اشارہ فرماتے کہ انہیں چھوڑ دو (جو کرتے ہیں انہیں کرنے دو) اور نماز پوری کر کے انہیں (سینے سے لگاتے اور پھر) اپنی گود میں بٹھا لیتے۔ اور ارشاد فرماتے جیسے مجھ سے محبت ہے

صفحہ 508

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 508 ماہنامہ مسیحائی کراچی

ایسے ہی ان دونوں سے بھی محبت کرنی چاہیے ۔ (حیات صحابہ )

حضرت انسؓ فرماتے ہیں بعض دفعہ حضور ﷺ سجدے میں ہوتے حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ میں سے کوئی ایک آ کر حضور ﷺ کی پشت مبارک پر سوار ہو جاتے ۔ حضور ﷺ ان کی وجہ سے سجدہ لمبا فرما دیتے ۔ بعد میں لوگ کہا کرتے یا نبی اللہ آپ نے بڑا لمبا سجدہ کیا ۔ آپ ﷺ فرماتے میرے بیٹے نے مجھے سواری بنا لیا تھا ۔ اس لیے مجھے جلدی اُٹھنا اچھا نہ لگا ۔

(ابی یعلیٰ ۔ حیات صحابہ ۔ ص۶۱۴)

حضرت ابو قتادہؓ فرماتے ہیں ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ باہر ہمارے پاس تشریف لائے ۔ آپ ﷺ کے کندھے پر (آپ ﷺ کی نواسی) حضرت اُمامہؓ بنت ابی العاصؓ بیٹھی ہوئی تھیں ۔ آپ ﷺ نے اسی طرح نماز پڑھنی شروع کر دی ۔ جب رکوع میں جاتے تو انہیں نیچے اُتار دیتے ۔ اور جب (سجدے سے ) سر اُٹھاتے تو انہیں پھر اُٹھا کر بٹھا لیتے ۔

(بخاری)

ماں بچے کی محبت کے واقعات سے آپ ﷺ پر سخت اثر ہوتا تھا ۔ ایک دفعہ ایک نہایت غریب عورت حضرت عائشہؓ کے پاس آئی ۔ دو چھوٹی چھوٹی لڑکیاں بھی ساتھ تھیں ۔ اُس وقت حضرت عائشہؓ کے پاس کچھ نہ تھا ۔ ایک کھجور زمین پر پڑی ہوئی تھی ۔ وہی اُٹھا کر دے دی ۔ عورت نے کھجور کے دو ٹکڑے کیے اور دونوں میں برابر تقسیم کر دیے ۔

آنحضور ﷺ باہر سے تشریف لائے تو حضرت عائشہؓ نے یہ واقعہ سنایا ۔ ارشاد فرمایا اللہ جس کو اولاد کی محبت میں ڈالے اور وہ اُن کا حق بجا لائے وہ دوزخ سے محفوظ رہے گا

(صحیح بخاری )

حضرت حسن بن علیؓ فرماتے ہیں ایک عورت حضور ﷺ کی خدمت میں آئی ۔ اس

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

کے ساتھ اس کے دو بیٹے تھے ۔ اس نے کھجوریں دے دیں ۔ وہ دونوں بچے ا اس عورت نے اپنے حصے کی تیسری کھجور دی ۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس پر رحم فرما دیا ہے ۔

(الطبرانی فی الصغیر والکبیر)

حضرت انسؓ فرماتے ہیں ہوں اور ارادہ ہوتا ہے کہ دیر میں ختم کر ہے اور مختصر کر دیتا ہوں کہ اس کی ماں کو

یہ محبت یہ شفقت مسلمان ب لطف فرماتے تھے ۔ ایک دفعہ ایک س آپ ﷺ کو خبر ہوئی تو نہایت آزردہ بچے تھے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ”مشرکوں کرو خبردار بچوں کو قتل نہ کرو ۔ ہر جان

معمول تھا کہ جب فصل ک میں جو سب سے زیادہ کم عمر بچہ ہوتا کرتے تھے ۔

جابر بن سمرہؓ صحابی تھے نے آنحضور ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی نکلے ۔ میں بھی ساتھ ہو لیا کہ اُدھر سے اور مجھے بھی پیار کیا ۔

(صحیح مسلم)

صفحہ 509

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 509 ماہنامہ مسیحائی کراچی

کے ساتھ اس کے دو بیٹے تھے۔ اس نے حضور ﷺ سے کچھ مانگا۔ حضور ﷺ نے اسے تین کھجوریں دے دیں۔ وہ دونوں بچے اپنے حصے کی کھجور کھا کر ماں کو دیکھنے لگ گئے۔ اس پر اس عورت نے اپنے حصے کی تیسری کھجور کے دو ٹکڑے کر کے دونوں کو آدھی آدھی کھجور دے دی۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا چونکہ اس عورت نے اپنے بیٹوں پر رحم کیا ہے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس پر رحم فرما دیا ہے۔

(الطبرانی فی الصغیر والکبیر )

حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ آنحضور ﷺ فرماتے ہیں کہ میں نماز شروع کرتا ہوں اور ارادہ ہوتا ہے کہ دیر میں ختم کروں گا دفعتاً صف سے کسی بچے کے رونے کی آواز آتی ہے اور مختصر کر دیتا ہوں کہ اس کی ماں کو تکلیف ہوتی ہوگی۔

(بخاری۔ کتاب الصلوٰۃ)

یہ محبت یہ شفقت مسلمان بچوں تک محدود نہ تھی بلکہ مشرکین کے بچوں پر اسی طرح لطف فرماتے تھے۔ ایک دفعہ ایک غزوے میں چند بچے چپیٹ میں آ کر مارے گئے۔ آپ ﷺ کو خبر ہوئی تو نہایت آزردہ ہوئے۔ ایک صحابی نے کہا یا رسول اللہ مشرکین کے بچے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا ”مشرکین کے بچے بھی تم سے بہتر ہیں“ خبردار بچوں کو قتل نہ کرو۔ خبردار بچوں کو قتل نہ کرو۔ ہر جان اللہ ہی کی فطرت پر پیدا ہوتی ہے۔

(مسند ابن حنبل)

معمول تھا کہ جب فصل کا نیا میوہ کوئی خدمت اقدس میں پیش کرتا تو حاضرین میں جو سب سے زیادہ کم عمر بچہ ہوتا اس کو عنایت فرماتے۔ بچوں کو چومتے تھے ان کو پیار کرتے تھے۔

جابر بن سمرہؓ صحابی تھے۔ وہ اپنے بچپن کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے آنحضور ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی۔ نماز سے فارغ ہو کر آپ ﷺ اپنے گھر کی طرف چلے۔ میں بھی ساتھ ہو لیا کہ اِدھر سے چند اور لڑکے نکل آئے۔ آپ ﷺ نے سب کو پیار کیا اور مجھے بھی پیار کیا۔

(صحیح مسلم)

صفحہ 510

حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں ایک مرتبہ حضور اقدس ﷺ ہمارے پاس باہر تشریف لائے۔ آپ کے ایک کندھے پر حضرت حسنؓ بیٹھے ہوئے تھے اور دوسرے کندھے پر حضرت حسینؓ بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ ﷺ کبھی اِسے چومتے کبھی اُسے۔ آپ ﷺ یونہی چلتے چلتے ہمارے پاس پہنچ گئے۔ ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ ﷺ آپ کو ان دونوں سے محبت ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا جس نے ان دونوں سے محبت کی اُس نے مجھ سے محبت کی۔ اور جس نے ان دونوں سے بغض رکھا اُس نے مجھ سے بغض رکھا۔

(ابن ماجہ)

حضرت معاویہؓ فرماتے ہیں میں نے دیکھا حضور ﷺ حضرت حسنؓ بن علیؓ کی زبان اور ہونٹ چوس رہے تھے اور جس زبان اور ہونٹ کو حضور ﷺ نے چوسا اُسے کبھی عذاب نہیں ہو سکتا۔ (حیات صحابہ۔ ص ۶۱۵)

حضرت انسؓ فرماتے ہیں حضور ﷺ اپنے اہل وعیال کے ساتھ سب لوگوں سے زیادہ شفقت کرتے تھے۔ حضور ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیمؓ تھے جو مدینے کے کنارے کے محلے میں کسی عورت کا دودھ پیا کرتے تھے۔ اس عورت کا خاوند لوہار تھا۔ ہم اس سے ملنے جایا کرتے تو اس لوہار کا سارا گھر بھٹی میں اذخر گھاس جلانے کی وجہ سے دھوئیں سے بھرا ہوتا تھا۔ حضور ﷺ اپنے اس بیٹے کو چوما کرتے تھے اور ناک لگا کر اسے سونگھا کرتے۔ (البخاری)

ایک دن خالدؓ بن سعیدؓ خدمت اقدس میں آئے۔ ان کی چھوٹی لڑکی بھی ساتھ تھی۔ اور سرخ رنگ کا کرتا بدن پر تھا۔ آپ نے فرمایا سَنہ سَنہ۔ حبشی زبان میں حَسنہ کو سَنہ کہتے ہیں ۔ چونکہ اُن کی پیدائش حبش میں ہوئی تھی اس لیے آپ ﷺ نے اس مناسبت سے حبشی تلفظ میں حسنہ کے بجائے سنہ کہا۔ آنحضور ﷺ کی پشت پر جو مہر نبوت تھی اُبھری ہوئی تھی ۔ بچوں کی عادت ہوتی ہے کہ غیر معمولی چیز نظر آئے تو اُس سے کھیلنے لگتے ہیں۔ وہ بچی مہرِ نبوت سے کھیلنے لگی۔ حضرت خالدؓ نے ڈانٹا تو حضور ﷺ نے روکا کہ کھیلنے دو۔ (بخاری۔

صفحہ 511

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۶ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

جلد ۲، ص ۸۸۶)

حضور ﷺ بچوں پر محبت اور شفقت کے ساتھ ساتھ اُن کے ساتھ برابری کا سلوک بھی کرتے تھے۔ وہیں آپ ﷺ کی یہ کوشش بھی ہوتی تھی کہ آپ کے اصحابؓ بھی بچوں کے ساتھ برابری کا سلوک کریں۔

حضرت انسؓ فرماتے ہیں رسول اکرم ﷺ کے پاس ایک شخص بیٹھا ہوا تھا۔ اسی دوران اُن کا ایک بیٹا آیا۔ اُس شخص نے اپنے بیٹے کا بوسہ لیا اور اُسے اپنی ران پر بٹھا لیا۔ پھر اُس کی لڑکی آئی اور اُس نے لڑکی کو اپنے سامنے بٹھا لیا۔ یہ دیکھ کر حضور ﷺ نے اُس کو مخاطب کر کے فرمایا ”تو نے ان دونوں کے ساتھ انصاف و برابری کا برتاؤ کیوں نہیں کیا؟“

(بخاری)

اس واقعے میں والدین کے لیے دو ہدایات ہیں۔ کہ اولاد کے درمیان برابری کا سلوک نہ کرنا ظلم ہے۔ دوسرا یہ کہ اُن کو اپنی اولاد کے لیے عدل وانصاف اور مساوات کا بہترین نمونہ بننا چاہیے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ایک اعرابی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا ”آپ لوگ بچوں کو چومتے ہیں۔ ہم تو ان کو نہیں چومتے“۔ یہ سن کر آنحضور ﷺ نے فرمایا

اَوَ اَمْلِکُ اِنْ نَّزَعَ اللّٰہُ الرَّحْمَةَ مِنْ قَلْبِکَ

(بخاری ومسلم)

ترجمہ: اگر خدا تمہارے دل سے محبت نکال دے تو میرا کیا بس ہے۔

حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول خدا ﷺ نے حضرت حسنؓ بن علیؓ اور حضرت حسینؓ بن علیؓ کو چوما اور اُس وقت اقرع بن حابسؓ وہاں موجود تھے۔ اُنہوں نے آنحضور ﷺ سے کہا میرے دس بیٹے ہیں لیکن میں نے تو کبھی کسی کو نہیں چوما۔ آپ ﷺ نے اقرع بن حابسؓ کو دیکھا ارشاد فرمایا

”جو شخص رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا“ (بخاری ومسلم)

صفحہ 512

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

اپنی اولاد سے تو سب محبت کرتے ہیں پیار کرتے ہیں مگر سوتیلی اولاد سے محبت بھی اللہ کے نبی ﷺ نے کر کے دکھائی۔

حضرت عمر بن ابی سلمہؓ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ میں بچہ تھا نبی کریم ﷺ کی گود (پرورش) میں تھا (کھانا کھاتے ہوئے) میرا ہاتھ پیالے میں گھومتا پس حضور ﷺ نے مجھے فرمایا اللہ کا نام لے اور اپنے دائیں ہاتھ سے کھا اور اپنے آگے سے کھا۔ (مشکوۃ)

حضرت عمر بن ابی سلمہؓ اُمّ المومنین حضرت اُمّ سلمہؓ کے پہلے شوہر ابو سلمہؓ کے بیٹے تھے۔ جب ابو سلمہؓ کا انتقال ہوا تو آپ ﷺ سے حضرت اُمّ سلمہؓ کا نکاح ہوا تھا۔ آپ ﷺ حضرت عمر بن ابو سلمہؓ سے بھی محبت و شفقت سے پیش آتے۔

ہجرت کے موقع پر جب آپ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو انصار کی چھوٹی چھوٹی لڑکیاں خوشی سے دروازوں سے نکل نکل کر گیت گا رہی تھیں۔ جب آپ ﷺ کا ادھر سے گزر ہوا تو فرمایا اے لڑکیو تم مجھے پیار کرتی ہو؟ سب نے کہا ہاں یا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں بھی تمہیں پیار کرتا ہوں۔

(سیرۃ جلد اول۔ ہجرت)

حضرت عائشہؓ کمسنی میں حضور ﷺ کے نکاح میں آئی تھیں۔ وہ فرماتی ہیں میں حضور ﷺ کے پاس گڑیوں سے کھیلتی تھی۔ اور میری سہیلیاں بھی میرے ساتھ کھیلتیں۔ جب آپ ﷺ تشریف لاتے تو میری سہیلیاں چھپ جاتیں۔ آپ ﷺ اُن کو میری طرف بھیجتے پس وہ میرے ساتھ کھیلتیں۔

(مشکوۃ بخاری و مسلم)

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

عائلی معاملات کے

ایم۔فل (شیخ

عائلہ، خاندان اس کا مادہ عول ہ مفلس کے معنی میں آیا ہے۔ ووجدک عائلا فاغنی اور تم کو مفلس پایا تو اس نے غنی کر د سورۃ توبہ میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہ وان خفتم عيلة فسوف يغن ’’اور اگر تم کو مفلسی کا خوف ہ تو اللہ چاہے گا تو تم کو اپنے فضل سے غنی کر دے گ اس آیت میں عیلۃ (مفلسی) ک ہے۔ قاموس المحیط میں عَیِّل کے معنی عائلہ یا ع عربی زبان میں عائلہ کا لفظ بیو ہے۔ اس کی جمع عائلات اور عیال ہے۔ چنانچہ عائلی زندگی سے مراد گھر کے ان تمام ہوتے ہیں۔ (۵)

عائلی زندگی کے لیے انگریزی م خاندان کا لفظ ہے اور فارسی میں خانوادہ کا ل قرآن مجید اور احادیث مبارک

صفحہ 513

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

عائلی معاملات کے بارے میں شریعت کا مزاج

رضیہ نور چودھری

ایم۔فل (شیخ زاید اسلامک سنٹر پنجاب یونیورسٹی)

عائلہ، خاندان اس کا مادہ عول یا عیل سے ہے۔ (۱) قرآن پاک میں عائلہ کا لفظ مفلس کے معنی میں آیا ہے۔

ووجدک عائلا فاغنی اور تم کو مفلس پایا تو اس نے غنی کر دیا۔ سورۃ توبہ میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔

وان خفتم عيلة فسوف يغنيكم الله من فضله ان شاء (۳) ”اور اگر ان کے ساتھ لین دین بند ہو جانے سے تم کو مفلسی کا اندیشہ ہو تو خدا پر بھروسہ رکھو وہ چاہے گا تو تم کو اپنے فضل سے غنی کر دے گا۔“

اس آیت میں عیلۃ (مفلسی) کا لفظ ایک متبادل قرائت کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ قاموس المحیط میں عیال بمعنی عائلہ یا اہل خانہ کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ (۴)

عربی زبان میں عائلہ کا لفظ بیوی کے لیے اور گھر کے افراد کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس کی جمع عائلات اور عیال ہے۔ عائلی کے معنی ہیں عیال داری، بیوی بچوں والا، چنانچہ عائلی زندگی سے مراد گھر کے ان تمام افراد کی زندگی ہے جو ماں، باپ اور بچوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ (۵)

عائلی زندگی کے لیے انگریزی زبان میں Family کا لفظ ہے اور اردو زبان میں خاندان کا لفظ ہے اور فارسی میں خانوادہ کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔

قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں خاندان کے مترادف الفاظ الاسرۃ ، العشیرۃ

صفحہ 514

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 514 ماہنامہ مسیحائی کراچی حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

استعمال ہوتے ہیں۔

قرآن مجید میں ہے۔

وازواجکم وعشیرتکم (۶)

انسانی تمدن کی بنیاد ایک مرد اور ایک عورت کی باہمی رفاقت سے وجود میں آتی ہے۔ انہیں دو انسانوں سے مل کر بننے والا چھوٹا سا اجتماعی دائرہ انسان کی تمدنی زندگی کی سب سے پہلی کڑی ہے۔ اس اجتماعی ادارے کو انسان کی عائلی زندگی اور اس کے لیے جو ضابطے ہوتے ہیں انہیں عائلی نظام کہتے ہیں۔ (۷)

اسلام ایک کامیاب معاشرہ کی تشکیل چاہتا ہے اور معاشرہ افراد کا مجموعہ ہے اس لیے جب تک افراد کی اصلاح نہ ہو ایک کامیاب معاشرے کا تصور ناممکن ہے اور اگر افراد عائلی الجھنوں میں مبتلا رہیں اور بیرون خانہ کی خبر نہ لیں تو مجموعی طور پر قوم ترقی کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ جائے گی۔

اسلام کا عائلی نظام ایک مرتب نظام ہے اس میں نکاح، طلاق، ایلاء، ظہار اور لعان وغیرہ شامل ہیں۔ اس کی ہر شق انسانی بقا اور اس کی فلاح کے عین مطابق ہے یہ نظام یعنی خاندانی نظام انسانی اجتماعیت کی بنیاد ہے اگر اس کی تنظیم صحیح طریق پر ہو تو یوں سمجھیے کہ کوئی معاشرتی فساد رونما نہیں ہوگا۔ (۸)

اسلام نے جو ضابطہ حیات دیا ہے وہ کلیات واصول پر مبنی ہے۔ قرآن میں عائلی زندگی کے نظام کے بارے میں متعدد ارشادات ہیں۔ ان ارشادات خداوندی پر ہدایات نبوی کے تحت عمل ہوتا رہا ہے۔ عائلی زندگی کے بارے میں شریعت کا مزاج مندرجہ ذیل چیزوں کو سامنے رکھنے سے سمجھ میں آتا ہے۔

مرد کی قوامیت

اسلامی معاشرہ خاندان میں مرد و عورت میں سے مرد کو منتظم کا مقام دیتا ہے۔ خاندان میں مرد کی حیثیت قوام کی ہے یعنی وہ خاندان کا حاکم ہے۔ اس لحاظ سے اسے بعض اختیارات بھی دیئے گئے ہیں۔ لیکن ان اختیارات میں وہ مطلق العنان نہیں ہے کہ جو چاہے کر گزرے بلکہ عدل و انصاف اور شریعت حیثیت سے ناجائز فائدہ اٹھانے لگے تو شرعاً اس نوع کو روکا جا سکتا ہے۔ مرد کو قوام بنانا قوامیت اللہ اور اس کے رسول کی منشا کے خلاف

اس سلسلے میں مندرجہ ذیل امور

الرجال قوامون علی النساء انفقوا من اموالهم (۱۰)

مرد حاکم ہیں عورتوں پر اس سبب دی ہے اور اس سبب سے کہ مردوں نے اپنے

وللرجال عليهن درجة (١١)

اور مردوں کا ان کے مقابلہ میں

اس حوالے سے نبی کریم ﷺ نے

الرجل راع على أهله وهو

مرد اپنے گھر والوں کا نگران ہے

مرد کی قوامیت سے ہی خاندان فضیلت اور معیار کے اعتبار سے برابر فوقیت حاصل ہے۔ اس لیے اسلام نے نتیجے میں کچھ اختیارات دیئے ہیں ۔ مرد ساتھ استعمال کرے تو ان سے خاندانی کے اختیارات محدود اور مقید ہیں کوئی ا نے ان اختیارات کو حدود اللہ کہہ کر محدود

نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:

لا طاعة لمن لم يطع الله

”اس کی اطاعت نہیں جو اللہ

صفحہ 515

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

گزرے بلکہ عدل و انصاف اور شریعت و اخلاق کے تقاضے مقدم ہیں۔ اگر وہ اپنی اس حیثیت سے ناجائز فائدہ اٹھانے لگے تو شریعت نے ایسے ضوابط مقرر کیے ہیں جن سے ناجائز انتفاع کو روکا جا سکتا ہے۔ مرد کو قوام بنانا فطرت انسانی کی ٹھیک ترجمانی ہے اور اس کی یہ قوامیت اللہ اور اس کے رسول کی منشا کے خلاف نہیں۔ (۹)

اس سلسلے میں مندرجہ ذیل امور کا پیش نظر رکھنا مفید ہے۔

الرجال قوامون على النساء بما فضل الله بعضهم على بعض وبما انفقوا من اموالهم (۱۰)

مرد حاکم ہیں عورتوں پر اس سبب سے کہ اللہ تعالیٰ نے بعضوں کو بعضوں پر فضیلت دی ہے اور اس سبب سے کہ مردوں نے اپنے مال خرچ کیے ہیں۔

وللرجال عليهن درجة (۱۱)

اور مردوں کا ان کے مقابلہ میں درجہ بڑھا ہوا ہے۔

اس حوالے سے نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے۔

الرجل راع على اهله وهو مسؤل (۱۲)

مرد اپنے گھر والوں کا نگران ہے اور وہی جواب دہ ہے۔

مرد کی قوامیت سے ہی خاندانی نظام درست رہ سکتا ہے۔ مرد اور عورت انسانی فضیلت اور معیار کے اعتبار سے برابر ہیں۔ لیکن انتظامی عمل کے میدان میں مرد کو تقدم اور فوقیت حاصل ہے۔ اس لیے اسلام نے مرد کی اس حیثیت کو تسلیم کر کے اس کی قوامیت کے نتیجے میں کچھ اختیارات دیئے ہیں۔ جنہیں وہ ٹھیک عدل و انصاف اور تقویٰ و دیانت کے ساتھ استعمال کرے تو ان سے خاندانی زندگی کی تنظیم اور معاشرتی یکجہتی میں مدد ملے گی۔ مرد کے اختیارات محدود اور مفید ہیں کوئی انسان انہیں بے دھڑک استعمال نہیں کر سکتا قرآن کریم نے ان اختیارات کو حدود اللہ کہہ کر محدود کیا۔ (۱۳)

نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے۔

لا طاعة لمن لم يطع الله (۱۴)

”اس کی اطاعت نہیں جو اللہ کی اطاعت نہیں کرتا۔“

صفحہ 516

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 516 ماہنامہ سبحانی کراچی

اللہ تعالیٰ نے سورۃ نساء میں تنظیم امور کے تین مراحل بیان کیے ہیں۔

والتی تخافون نشوزهن فعظوهن واهجروهن فی المضاجع واضربوهن (۱۵)

اور جو عورتیں ایسی ہوں کہ تم کو ان کی بددماغی کا احتمال ہو تو ان کو زبانی نصیحت کرو ان کو ان کے لیٹنے کی جگہوں میں تنہا چھوڑ دو اور ان کو مارو۔

قرآن کریم نے اس آیت میں نعمت اور عظمت کو بنیاد قرار دیا اور تین امور واضح کیے ہیں۔

قرآنی روح کے اعتبار سے یہ بات پسندیدہ ہے کہ پہلے مرحلے پر ہی اصلاح ہو جائے اور اگر صورت حال بدستور کشیدہ رہتی ہے تو ضرورت ومصلحت کے تحت تادیب وتعزیر بھی دی جاسکتی ہے لیکن اس تادیب وتعزیر کی حد متعین کر دی تا کہ یہ اجازت ظلم کا باعث نہ بن جائے۔ دوسری صورت کی حد بندی ایلاء سے کر دی اور واضربوہن کو بھی محدود کر دیا۔ (۱۶)

حضرت محمد ﷺ نے عورتوں کے حوالے سے فرمایا۔

”پس اللہ سے ڈرو کہ عورتوں پر زیادتی نہ کرو اس لیے کہ ان کو تم نے اللہ پاک کی امان سے لیا ہے اور حلال کیا ہے تم نے ان کے ستر کو کلمہ سے اور تمہارا حق ان پر یہ ہے کہ تمہارے بچھونے پر کسی ایسے شخص کو نہ آنے دیں جس کا آنا تم کو ناگوار ہو پھر اگر وہ ایسا کریں تو ان کو ایسا مارو کہ ان کو سخت چوٹ نہ لگے اور ان کا حق تمہارے اوپر اتنا ہے کہ روٹی ان کی اور کپڑا ان کا دستور کے موافق تمہارے ذمہ ہے۔“ (۱۷)

تعزیر وتادیب کے حوالے سے نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے۔

”عورتوں کے بارے میں بھلائی کی نصیحت حاصل کرو۔ کیونکہ عورتیں تمہارے ماتحت ہیں تم اس کے سوا اور کسی شے کے مالک نہیں مگر

صفحہ 517

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 517 ماہنامہ مسیحائی کراچی

جب وہ کھلی بے حیائی کا ارتکاب کریں تو ترک تعلق کر لو اور انہیں ہلکی مار دو ۔ اگر وہ اطاعت

کریں تو ان سے کچھ نہ کہو۔‘‘ (۱۸)

غرض مرد کی قوامیت کو چند حدود سے محدود کیا گیا ہے تا کہ ظلم نہ ہو۔

معاشرے کا دارو مدار عائلی معاملات پر ہوتا ہے اگر ان میں بگاڑ پیدا ہو جائے تو معاشرہ میں فساد برپا ہو جاتا ہے۔ اس لیے شریعت نے عائلی معاملات کو بہت مقدم رکھا ہے۔ تاکہ حتی الامکان ان میں بگاڑ پیدا نہ ہو۔ عائلی معاملات میں نکاح ، طلاق ، ایلاء ، ظہار اور لعان شامل ہیں۔

نکاح

عائلی زندگی میں نکاح کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ اسلام میں میاں بیوی کو رشتہ ازدواج میں منسلک کرنے کے لیے نکاح کرنا ضروری ہے۔

نکاح کے لغوی معنی ہم بستگی اور پیوستگی کے ہوتے ہیں۔ عربی میں کہا جاتا ہے۔

تناكحت الاشجار اذا تمايلت والضم بعضها إلى بعض

عبدالرحمن الجزیری نے ”الفقہ علی المذاہب الاربعۃ“ میں نکاح کے معنی پر بحث کرتے ہوئے کہا ہے کہ نکاح کے مطلق معنی عقد کے ہیں اور مجازاً اس سے جنسی تعلق

مراد ہے۔ (۱۹)

تنزیل الرحمٰن نکاح کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ

”نکاح ایک شرعی معاہدہ ہے جس کے ذریعے مرد و عورت کے درمیان جنسی تعلق جائز اور اولاد کا سبب صحیح ہو جاتا ہے اور زوجین کے درمیان دیوانی حقوق و فرائض پیدا ہو

جاتے ہیں۔ (۲۰)

قرآن کریم میں یہ لفظ اس معنی میں استعمال ہوا ہے۔

"ولا تنكحوا ما نكح آباؤكم من النساء الا ما قد سلف (۲۱)

تم ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جن سے تمہارے باپ ، دادا نے نکاح کیا ہو مگر جو بات

صفحہ 518

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 518 ماہنامہ مسیحائی کراچی

گزر گئی سو گزر گئی۔

حدیث مبارکہ ہے۔

"يا معشر الشباب من استطاع منكم الباءة فليتزوج"

(۲۲)

جوانو! تم میں سے جو نکاح کی استطاعت رکھتا ہو اس کو چاہیے کہ نکاح کرے۔

امام غزالیؒ فرماتے ہیں۔

”نکاح دین پر مددگار اور شیطانوں کا ذلیل کنندہ اور ان کے مکروں سے بچنے کا ایک مضبوط حصار اور باعث امت بہت ہونے کا ہے جس سے حضور ﷺ دوسرے نبیوں پر فخر کریں گے۔“

(۲۳)

حضرت شاہ ولی اللہؒ فرماتے ہیں۔

”کہ جب مواد شہویہ انسان کے بدن میں سرایت کرتے ہیں اور ان کے ابخرہ دماغ کو چڑھتے ہیں تو آدمی کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ وہ خوبصورت عورتوں کو گھورا کرے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کے عشق میں مبتلا ہو جاتا ہے اور اس کے قوائے شہوانیہ میں جوش اور ہیجان پیدا ہوتا ہے یہ آخر کار حرامکاری کے ارتکاب پر آمادہ ہوتا ہے۔ عالم شباب میں اکثر ایسا ہوا کرتا ہے لیکن یاد رکھو کہ یہ غلبہ بھی ایک بڑا حجاب ہے جو انسان کے لیے مقام احسان تک پہنچنے سے مانع ہوتا ہے۔ جو افعال بد کے ارتکاب اور فساد اخلاق کا موجب ہوتا ہے۔ اس سے بڑے بڑے مہلک اور خطرناک نتائج پیدا ہوتے ہیں اور ایسی خرابیاں ظہور پذیر ہوتی ہیں جن سے آپس کے تعلقات بگڑ جاتے ہیں۔ اس لیے اس کی بہترین صورت یہ ہے کہ وہ شادی کرے بشرطیکہ وہ مالی استطاعت رکھتا ہو۔ لیکن اگر کسی کو یہ قدرت حاصل نہیں کہ وہ شادی کرے تو اس کا علاج مسلسل روزے رکھنا ہے اس سے جوش شہوت کم ہو جاتا ہے اور طبیعت سرکشی نہیں کرتی۔ اس لیے جو نتائج بد اس کے افراط سے ظہور میں آتے ہیں ان کا انسداد ہو جاتا ہے۔ (۲۴)

نکاح کی فضیلت نبی کریم ﷺ کے ان ارشادات سے واضح ہوتی ہے۔

واتزوج النساء فمن رغب عن سنتی فلیس منی

(۲۵)

”عورتوں سے نکاح کرو جس نے میری سنت سے اعراض کیا وہ مجھ میں سے نہیں۔“

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

عن انس قال قال رس فليتزوج الحرائر

(۲۶)

جو شخص اس امر کا خواہشمند ہ کو چاہیے کہ وہ آزاد عورتوں سے نکاح کر

قال رسول الله ﷺ اذا النصف الباقی۔

(۲۷)

رسول اکرم ﷺ نے فرمایا ا اس کو چاہیے کہ باقی آدھے دین میں ا

اللہ تعالیٰ نے انسان کو حکم دیا شادی کریں کیونکہ عفت و عصمت کی حف

اللہ رب العزت نے نکاح

”وانکحوا الایامی م فقراء يغنهم الله من فضله والله وا

اور تم میں سے جو بے نکاح لونڈیوں میں جو اس (نکاح) کے لائق اپنے فضل سے غنی کر دے گا اور اللہ تعالٰ

معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے مرد و عورت کی شادی کر دینے کا حکم دیا ہ جو بے بس ہوتا ہے اس کے متعلق بھی ا داری کو اللہ تعالیٰ نے قوم کے سر ڈالا ہے کہ شادی کے جو فائدے ہو کرنے کے جو نقصانات ہیں ان کا سے انکار کی جرات نہیں کر سکتا کہ اخلاق گندے ہو جائیں گے۔

(۲۸)

صفحہ 519

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

عن انس قال قال رسولﷺ من اراد ان يلقى الله طاهرا مطهرا فليتزوج الحرائر

(۲۶)

جو شخص اس امر کا خواہشمند ہو وہ خدا سے پاک اور پاکیزہ حال میں ملاقات کرے اس کو چاہیے کہ وہ آزاد عورتوں سے نکاح کرے۔

قال رسول الله ﷺ اذا تزوج العبد فقد استكمل نصف الدين فليتق الله فى النصف الباقی ۔

(۲۷)

رسول اکرم ﷺ نے فرمایا جب بندہ شادی کرے تو وہ آدھا دین مکمل کرلیتا ہے اب اس کو چاہیے کہ باقی آدھے دین میں سے خوف وتقویٰ کرے۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو حکم دیا کہ مرد و عورت جن کو شادی کی ضرورت محسوس ہو، ضرور شادی کریں کیونکہ عفت و عصمت کی حفاظت کا سب سے بڑا ذریعہ اور سبب یہی ہوسکتا ہے۔

اللہ رب العزت نے نکاح کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا

" وانكحوا الا يامى منكم والصلحين من عبادكم وامائكم ان يكونوا فقراء يغنهم الله من فضله والله واسع عليم"

(۲۸)

اور تم میں سے جو بے نکاح ہوں تم ان کا نکاح کر دیا کرو اور اس طرح تمہارے غلام اور لونڈیوں میں جو اس (نکاح) کے لائق ہو اس کا بھی۔ اگر وہ لوگ مفلس ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو اپنے فضل سے غنی کردے گا اور اللہ تعالیٰ وسعت والا خوب جاننے والا ہے۔

معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے رشتہ ازدواج کے قیام کی تاکید فرمائی ہے اور ان تمام مرد و عورت کی شادی کر دینے کا حکم دیا ہے جن کو شادی کی ضرورت ہو حتیٰ کہ غلام جو بڑی حد تک بے بس ہوتا ہے اس کے متعلق بھی ارشاد فرمایا کہ ان کی بھی شادی ضروری ہے۔ پھر اس ذمہ داری کو اللہ تعالیٰ نے قوم کے سر ڈالا ہے۔ تا کہ اس کی اہمیت کا احساس پیدا ہو اور اشارہ کیا گیا ہے کہ شادی کے جو فائدے ہوتے ہیں۔ اس سے پوری قوم مستفید ہوتی ہے اور شادی نہ کرنے کے جو نقصانات ہیں ان کا اثر پوری قوم پر پڑتا ہے۔ کوئی ذی عقل انسان اس بات سے انکار کی جرأت نہیں کرسکتا کہ جائز شادی کا رواج اگر بند کر دیا جائے تو پوری قوم کے اخلاق گندے ہو جائیں گے۔

(۲۹)

صفحہ 520

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

گویا اچھے انسانی معاشرے اور صالح تمدن کا دارومدار مرد وعورت کے صالح تعلق پر ہے مرد اور عورت کی جائز وابستگی معاشرے کو ایک ایسا سکون دیتی ہے جس سے اس کا درست اجتماعی شعور تشکیل پاتا ہے۔ لہٰذا نکاح ہی وہ عقلی و منطقی اور اخلاقی و انسانی ضرورت ہے جس پر تمدن کی فلاح و بقا کا انحصار ہے۔ (۳۰)

مردوزن کا یہ رشتہ مضبوط کرنے کے لیے دونوں پر کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں جن کے لئے حقوق الزوجین کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

ومن كل شىء خلقنا زوجين (۳۱)

اور ہم نے ہر چیز کے جوڑے بنائے۔

محمد ارشد بھٹی لکھتے ہیں۔

عربی زبان میں زوج کے معنی شوہر، بیوی، ساتھی اور جوڑا کے ہیں۔ یعنی بیوی اور خاوند ہر ایک کے لئے لفظ زوج کا استعمال ہوتا ہے زوج کا تثنیہ زوجین ہے۔ (۳۲)

لہٰذا حقوق الزوجین سے مراد وہ ذمہ داریاں ہیں جو مرد و عورت کے ازدواجی رشتے میں منسلک ہونے کی صورت میں شریعت و اخلاق نے ان پر عائد کی ہیں۔ مرد اور عورت کے تعلق میں بھی اسلام نے وہی اعتدال کی راہ اختیار کی ہے۔ جو اس کا خاصا ہے۔ یعنی اس نے جس طرح مرد کے حقوق بیان کیے ۔ اسی طرح عورت کے بھی اور جس طرح عورت کے فرائض کا ذکر کیا ہے اسی طرح مرد کے فرائض بھی واضح کیے ہیں۔ قرآن وسنت نے ازدواجی زندگی کے استواری کے لیے مرد اور عورت کے حقوق کا تعین کیا ہے۔

شوہر کے حقوق

مرد کے حقوق سے مراد وہ ذمہ داریاں ہیں جن کا بجالانا عورت کے لیے ضروری ہے۔ مرد کے حقوق مندرجہ ذیل ہیں

صفحہ 521

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 521 ماہنامہ مسیحائی کراچی

اطاعت

قرآن وسنت نے عورت کے لیے لازم قرار دیا کہ وہ شوہر کی اطاعت کرے یہ اطاعت قرآن وسنت کی نصوص سے واضح ہے۔ قرآن وسنت نے اچھی خواتین کی جو خصوصیات بیان کی ہیں ان میں اطاعت سرفہرست ہے۔

(۳۳)

فالصلحت قنتت حفظت للغیب بما حفظ الله

(۳۴)

تو جو عورتیں نیک ہیں وہ مردوں کے حکم پر چلتی ہیں اور ان کی عدم موجودگی میں بحفاظت الہی (مال وآبرو) کی حفاظت کرتی ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے اس آیت کی تشریح یوں فرمائی ہے۔

اذا خرجت المراة من بیت زوجها بغیر إذنه ،لعنها كل شىء طلعت علیه الشمس والقمر إلا أن یرضی عنها زوجها.

(۳۵)

”جب عورت اپنے گھر سے نکلتی ہے اور اس کا خاوند ناپسند کرتا ہے تو ہر وہ چیز جس پر چاند اور سورج طلوع ہوتا ہے اس پر لعنت کرتی ہے یہاں تک کہ اس کا شوہر راضی ہو جائے۔“

اطاعت گزار عورت کے لیے نبی کریم ﷺ نے جنت میں داخل ہونے کی بشارت دی ہے۔

"المرأة إذا صلت خمسها وصامت شهرها وإحصنت فرجها وأطاعت بعلها فتدخل من أى ابواب الجنة شاء ت"

(۳۶)

عورت جب پانچوں نمازیں پڑھے ، رمضان کے روزے رکھے ، اپنی آبرو کی حفاظت کرے اور اپنے خاوند کی اطاعت کرے تو جنت کے جس دروازے سے چاہے داخل ہو جائے۔

"لو كنت آمراً أحداً ان یسجد لأحد لأمرت المرأة تسجد لزوجها"

(۳۷)

اگر میں کسی کو کسی کے آگے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔

"ایما امراة ماتت وزوجها عنها راض دخلت الجنة"

(۳۸)

PDF 522

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 522 ماہنامہ مسیحائی کراچی

ہر وہ عورت جو اس حال میں فوت ہو کہ اس کا خاوند اس سے راضی ہو تو جنت میں داخل ہوگی۔

قرآن وسنت نے اس طاعت کو مشروط کر دیا ہے اور اسے غیر محدود نہیں چھوڑا۔

نبی ﷺ کا فرمان ہے۔

لا طاعة فى معصية الله إنما الطاعة في المعروف (۳۹)

معصیت میں اطاعت نہیں اطاعت تو صرف معروف میں ہے۔

یعنی مرد کی ایسی اطاعت جو دین واخلاق کی حدود کے خلاف ہو ضروری نہیں بلکہ ایسے میں اس کی اطاعت سے انکار کر دینا زیادہ دینی اور اخلاقی بات ہے۔

حفظ غیب

حفظ غیب سے مراد اس چیز کی حفاظت کرنا ہے جو شوہر کی غیر موجودگی میں بطور امانت عورت کے پاس ہے۔ اس میں اس کے نسب کی حفاظت ، اس کی آبرو کی حفاظت ، اس کے مال کی حفاظت اور اس کے رازوں کی حفاظت شامل ہیں۔

فالصلحت قنتت حفظت للغيب بما حفظ الله (۴۰)

تو جو عورتیں نیک ہیں وہ مردوں کے حکم پر چلتی ہیں اور ان کی عدم موجودگی میں مال و آبرو کی نگہداشت کرتی ہیں۔

حضور ﷺ نے فرمایا

لا تصدق بشى من بيته إلا باذنه قال فان فعلت فان كان له الاجر وعليها الوزر ولا تخرج من بيته إلا باذنه (۴۱)

اسے خاوند کی اجازت کے بغیر اس کے گھر سے صدقہ نہیں کرنا چاہیے اگر وہ ایسا کرے گی تو اس کے لیے اجر ہوگا اور اس پر بوجھ اور وہ اس کے گھر سے اس کی اجازت کے بغیر نہ نکلے۔

المرأة راعية على بيت زوجها وهى مسئولة . (۴۲)

عورت اپنے خاوند کے گھر پر نگران ہے اور جواب دہ

"عن ابى هريره قال قيل لرسول الله ﷺ أى النساء خير؟ قال التي تسره

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

إذا نظر وتطيعه إذا أمر ولا تخالفه في

ابو ہریرہ سے روایت ہے

فرمایا : وہ جب اس کا شوہر اس کی طر اطاعت کرے اور اپنی ذات اور شوہر ہے۔

حفظ غیب میں عورت کی تربیت کا دارومدار ہے۔ اس لیے ا لوگوں کو سخت وعید سنائی گئی ہے۔ جو

حضور ﷺ کا فرمان ہے

من افسد امراة على

جس شخص نے عورت کو خا

ليس منا من خبب امرا

وہ شخص ہم میں سے نہیں خلاف راہ کرے۔

ان ارشادات سے اطا استحکام کے لیے رسول اللہ ﷺ کے خارجہ پہلو کو محدود کرنا مطلوب

عورت کی رخصتیں

کی اجازت ہے۔

صفحہ 523

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 523 ماہنامہ مسیحائی کراچی

إذا نظر وتطيعه إذا امرو لا تخالفه فى نفسها ولا مالها بما يكره (۴۳) ابو ہریرہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا گیا کہ کون سی عورت بہتر ہے؟ فرمایا : وہ جب اس کا شوہر اس کی طرف دیکھے تو وہ اسے خوش کرے اور جب اسے حکم دے تو اطاعت کرے اور اپنی ذات اور شوہر کے مال کے بارے میں ایسی بات نہ کرے جو اسے ناپسند ہو۔

حفظ غیب میں عورت کی گھر سے وابستگی بھی شامل ہے۔ اس پر خاندان کی تنظیم و تربیت کا دارومدار ہے۔ اس لیے اس کا اولین دائرہ عمل خاندان ہی متعین کیا گیا ہے اور ان لوگوں کو سخت وعید سنائی گئی ہے۔ جو اس دائرے کو خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے۔

من افسد امراة على زوجها فليس منا (۴۴) جس شخص نے عورت کو خاوند سے برگشتہ کیا وہ ہم میں سے نہیں۔

ليس منا من خبب امراة على زوجها او عبداً على سيده (۴۵) وہ شخص ہم میں سے نہیں جو کہ کسی عورت کو خاوند سے ورغلائے اور غلام کو مالک کے خلاف راہ کرے۔

ان ارشادات سے اطاعت اور حفظ غیب کو مستحکم کرنا مقصود ہے۔ حفظ غیب کے استحکام کے لیے رسول اللہ ﷺ نے کچھ ایسے امور بھی بتائے ہیں جن سے عورت کے دائرہ عمل کے خارجہ پہلو کو محدود کرنا مطلوب ہے۔ (۴۶)

عورت کی رخصتیں

کی اجازت ہے۔

PDF 524

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ سبحانی کراچی

(۴۹)

لہٰذا عورت کی بڑی ذمہ داری گھر کی تنظیم، بچوں کی تربیت اور خاندان کے وقار کی حفاظت ہے۔ عورت اگر ان ذمہ داریوں سے دستبردار ہو جائے تو خاندانی نظم تباہ ہو جائے گا اور انفرادیت کی وحشت پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ مرد کے حقوق میں اطاعت اور حفظ غیب نہایت اہمیت کی حامل ہیں۔

عدت اور سوگ کی حیثیت بھی اہم ہے۔ عدت سے مراد وہ وقفہ ہے جو اسے طلاق یا خاوند کے بعد گزارنا پڑتا ہے۔ اس طرح اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ خاوند کی وفات کے بعد ایک مدت تک اپنے آپ کو خوشیوں سے دور رکھے۔

(۵۰)

بیوی کے حقوق

بیوی کے حقوق سے مراد وہ امور ہیں جن کا ملحوظ رکھنا مرد کے لیے ضروری ہے۔ اسلام نے عورت کو جو حقوق دیئے ہیں ان کو دو قسموں میں تقسیم کیا ہے۔

معاشی حقوق

اسلام نے مختلف طریقوں سے عورت کی معاشی حیثیت کو مستحکم کیا ہے۔ تاکہ وہ بالکل ہی دست نگر نہ بن جائے اس لئے اس کو وراثت مہر اور نفقہ کا حق دار ٹھہرایا ہے۔

وراثت

وراثت میں وہ باپ سے، بیٹے سے، شوہر سے، اور بعض اوقات دوسرے قریبی رشتے داروں سے حصہ وصول کرتی ہے۔

مہر و نفقہ

مہر اور نفقہ کی ذمہ داری بھی اسلام نے مرد پر ڈال کر عورت کی حیثیت کو مضبوط

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

بنایا۔ مہر اور نفقہ دو لازمی حقوق ہیں جن قرآن وحدیث میں اس ا واتوا النساء صدقاتهن اور تم لوگ عورتوں کو ان کے فما استمتعتم به منهـ تراضيتم به من بعد الفريضة . (٣ پھر جس طریق سے تم ان ہو چکے ہیں اور مقدر ہوئے بعد بھی جس عن حكيم بن معاوية احدنا عليه؟ قال ان تطعمها إذا اطـ كتسيت ولا تضرب ا حکیم بن معاویہ اپنے والد ﷺ شوہر پر بیوی کا کیا حق ہے۔ آ تو پہنے تو اسے پہنائے اور اس کے چہ سے علیحدگی اختیار نہ کرے۔

نفقہ

شوہر کا ایک فرض نفقہ ۔ دی۔عورت کا کام گھر میں بیٹھنا اور مرد کا کام کمانا اور اپنے اہل خانہ جس کی بنا پر شوہر کو اپنی بیوی پر فضی میں داخل ہے۔ قوام کہتے ہی اس کو اسی حیثیت سے اس شے پر اقتدار اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں

صفحہ 525

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 525 ماہنامہ مسیحائی کراچی

بنایا۔ مہر اور نفقہ دو لازمی حقوق ہیں جن سے گریز کرنا مرد کے لیے ممکن ہی نہیں۔ (۵۱) قرآن وحدیث میں اس کی تاکید کی گئی ہے۔ واتوا النساء صدقاتهن نحلة (۵۲) اور تم لوگ عورتوں کو ان کے مہر خوش دلی سے دے دیا کرو۔‘‘ فما استمتعتم به منهن فاتوهن اجورهن فريضه ولا جناح عليكم فيما تراضيتم به من بعد الفريضه . (۵۳) پھر جس طریق سے تم ان عورتوں سے متمتع ہوئے ہو تو ان کو ان کے مہر جو جو کچھ مقدر ہو چکے ہیں اور مقدر ہوئے بعد بھی جس پر تم باہم رضا مند ہو جاؤ اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں۔ عن حكيم بن معاويه عن أبيه قال قلت يا رسول الله ﷺ ما حق زوجه احدنا عليه ؟ قال ان تطعمها إذا طعمت وتكسوها إذا كتسيت ولا تضرب الوجه ولا تقبح ولا تهجر إلا في البيت .“ (۵۴) حکیم بن معاویہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ شوہر پر بیوی کا کیا حق ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا جب تو کھائے تو اسے کھلائے اور جب تو پہنے تو اسے پہنائے اور اس کے منہ پر نہ مارے اور اسے برا بھلا نہ کہے اور گھر کے سوا اس سے علیحدگی اختیار نہ کرے۔

نفقہ

شوہر کا ایک فرض نفقہ ہے۔ اسلام نے زوجین کے حدود عمل کی واضح طور پر تقسیم کر دی۔ عورت کا کام گھر میں بیٹھنا اور زندگی کے فرائض انجام دینا ہے۔ (وقرن في بيوتكن) مرد کا کام کمانا اور اپنے اہل خانہ کے لیے ضروریات زندگی فراہم کرنا ہے یہ دوسری چیز ہے جس کی بنا پر شوہر کو اپنی بیوی پر فضیلت کا ایک درجہ دیا گیا ہے اور یہ چیز قوامیت کے عین مفہوم میں داخل ہے۔ قوام کہتے ہی اس شخص کو ہیں جو کسی شے کی نگہبانی اور خبر گیری کرنے والا ہو اور اسی حیثیت سے اس شے پر اقتدار رکھتا ہو۔ الله تعالیٰ فرماتے ہیں۔

صفحہ 526

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 526 ماہنامہ مسیحائی کراچی

لینفق ذو سعہ من سعہ ومن قدر علیہ رزقہ فینفق مما اتاہ اللہ لا یکلف اللہ نفسا الا ما اتاہا ۔ (۵۵)

جس کو گنجائش ہو اس کو چاہیے کہ اپنی گنجائش سے خرچ کرے اور جس کی آمدنی نپی تلی ہو تو جتنا اس کو خدا نے دیا ہے۔ اس کے موافق خرچ کرے۔ خدا نے جس کو جتنا دیا ہے اس سے زیادہ تکلیف کسی کو نہیں دیتا۔

نفقہ کے لیے یہ قاعدہ مقرر کیا گیا ہے کہ اس کے تعین میں مرد کی استطاعت کا لحاظ رکھا جائے۔ عورت کی ضروریات زندگی پورا کرنے کی ذمہ داری مرد پر ہے۔ اس لیے جب تک عورت مرد کے نکاح میں ہے وہ اس کے نان ونفقہ کا ذمہ دار ہے۔ (۵۶)

مطلقہ عورت کی عدت کے دوران بھی عورت کے نان ونفقہ کی ذمہ داری مرد پر ہو گی۔ بجز اس کے کہ عورت فحش کی مرتکب ہو۔ نان ونفقہ کی ذمہ داری مرد پر ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

والذین یتوفون منکم ویذرون ازواجا وصیۃ لازواجہم متاعا الی الحول غیر اخراج ۔ (۵۷)

اور جو لوگ تم میں سے مر جاویں اور چھوڑ جاویں اپنی عورتیں تو وہ وصیت کر دیں اپنی عورتوں کے واسطے خرچ دینا ایک برس تک گھر سے بغیر نکالے۔

تمدنی حقوق

تمدنی حقوق کی وسعت ان تمام امور پر حاوی ہے جو مرد وعورت کے معاشرتی تعلق میں پیدا ہوتے ہیں۔ یہ درج ذیل ہیں۔

بیوی پر اعتماد

مرد کا ایک یہ بھی فریضہ ہے کہ بیوی پر اعتماد کرے اور گھر کے اندرونی معاملات اس کے حوالے کر دے تاکہ وہ اپنی حیثیت کو پہچان سکے اور اس کی عزت وعظمت اور اس کا وقار اس

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

میں خود اعتمادی پیدا کرے۔

نبی کریم ﷺ نے عورتوں

والمراۃ راعیۃ علی بی

عورت اپنے شوہر کے گھر

ضرار اور تعدی کی ممانعت

اسلام نے مرد کو عورت پر نہ ہو، اس کو رکھنا نہ چاہے مگر محض ستا طلاق دے اور دو طلاقوں کے بعد تیسر نہایت سختی کے ساتھ منع کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

ولا تمسکوہن ضر تتخذوا ایت اللہ ہزواً (۶۰)

اور ان کو ستانے اور زیاد آپ ظلم کرے گا اور اللہ کی آیات کا مز ضرر اور تعدی کے الفا کرنے کی نیت سے کسی عورت کو ر اور جسمانی تکلیفیں دے گا۔ ادنیٰ ط تو تذلیل اور ایذا رسانی کے دوسر حاوی ہیں اور قرآن مجید کی رو س کا برتاؤ کرتا ہے وہ اپنی جائز حد س مستحق ہے کہ قانون کی مدد لے کر

عورت کی مار پیٹ ۔

صفحہ 527

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ سبحانی کراچی

میں خوداعتمادی پیدا کرے۔

نبی کریم ﷺ نے عورتوں کو گھر کا نگران مقرر کیا ہے۔

والمرأة راعية على بيت زوجها وولده (۵۷)

عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کے بچوں کی نگران ہے۔

ضرار اور تعدی کی ممانعت

اسلام نے مرد کو عورت پر ظلم اور زیادتی کرنے سے منع کیا ہے۔ عورت سے رغبت نہ ہو، اس کو رکھنا نہ چاہے مگر محض ستانے اور زیادتی کرنے کے لیے اس کو رکھ چھوڑے بار بار طلاق دے اور دو طلاقوں کے بعد تیسری طلاق سے پہلے رجوع کرے۔ قرآن مجید میں اس کو نہایت سختی کے ساتھ منع کیا گیا ہے کیونکہ یہ بھی ظلم ہے۔ (۵۸)

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔

ولا تمسكوهن ضرارا لتعتدوا ومن يفعل ذلك فقد ظلم نفسه ولا تتخذوا آيت الله هزواً (٦٠)

اور ان کو ستانے اور زیادتی کرنے کے لیے نہ روک رکھو جو ایسا کرے گا وہ اپنے اوپر آپ ظلم کرے گا اور اللہ کی آیات کا مذاق نہ بناؤ۔

ضرار اور تعدی کے الفاظ نہایت وسیع ہیں ظاہر ہے کہ جو شخص ستانے اور زیادتی کرنے کی نیت سے کسی عورت کو روک رکھے گا وہ ہر طرح سے اس کو آزار پہنچائے گا روحانی اور جسمانی تکلیفیں دے گا۔ ادنیٰ طبقہ کا ہو گا تو مار پیٹ اور گالم گلوچ کرے گا اونچے طبقے کا ہوگا تو تذلیل اور ایذا رسانی کے دوسرے طریقے اختیار کرے گا۔ ضرار اور تعدی کے الفاظ سب پر حاوی ہیں اور قرآن مجید کی رو سے یہ سب افعال ممنوع ہیں جو شوہر اپنی بیوی کے ساتھ اس قسم کا برتاؤ کرتا ہے وہ اپنی جائز حد سے تجاوز کا مرتکب ہوتا ہے اور ایسی صورت میں عورت اس کی مستحق ہے کہ قانون کی مدد لے کر اس مرد سے چھٹکارا حاصل کرے۔ (٦٠)

عورت کی مار پیٹ سے بھی رحمت دو عالم ﷺ نے روکا ہے۔

صفحہ 528

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

قلت یا رسول اللہ ﷺ ما حق زوجه أحدنا علیہ؟ قال أن تطعمها اذ طعمت وتكسوها اذا كتسيت ولا تضرب الوجه ولا تقبح ولا تهجر الا فی البيت . (۶۲)

میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ شوہر پر بیوی کا کیا حق ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا جب تو کھائے تو اسے کھلائے اور جب تو پہنے تو اسے پہنائے اور اس کے منہ پر نہ مارے اور اسے برا نہ کہے اور گھر کے سوا اس سے علیحدگی نہ اختیار کرے۔

آنحضور ﷺ نے یہ ساری تاکید اس لیے فرمائی کہ بعض موقعوں پر مردوں کو اجازت دی گئی ہے کہ بعض خاص حالات میں عورتوں کو تنبیہ کی جاسکتی ہے۔ ایسا نہ ہو کہ مرد اس اجازت سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی سعی کریں اور عورتوں کو ستانے یا اذیت دینے لگیں یا اس کو حقارت کی نگاہ سے دیکھیں اور غریب عورت کی زندگی بے کیف بنا ڈالیں۔

رسول کریم ﷺ نے ازواج مطہرات کے ساتھ جو برتاؤ کیا اور جو حسن سلوک کر کے دکھایا غیرت کے اسباق سے وہ معمور ہے۔ نازک ترین مواقع میں بھی جسمانی اذیت پہنچانے کا خیال بھی نہیں کیا۔

حسن سلوک

عورت کے حقوق میں سے حسن سلوک اہم حیثیت رکھتا ہے۔ مرد اپنے اختیارات اور طبعی فوقیت کی وجہ سے ظلم کرنے کی استطاعت رکھتا ہے۔ اسے ظلم سے باز رکھنا اور حسن معاشرت پر قائم رکھنا خاندانی زندگی کے لیے ضروری ہے۔ قرآن وسنت نے اس اہم خانگی ضرورت کو اہم نصوص کے ذریعے بیان کیا ہے۔ (۶۳)

قرآن کریم کی یہ آیت بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ وعاشروهن بالمعروف (۶۴) اور ان کے ساتھ اچھی طرح رہو سہو۔

نبی کریم ﷺ نے تو اس حسن سلوک کو بڑی اہمیت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ عورتوں

صفحہ 529

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

سے حسن سلوک کی اہمیت احادیث مبارکہ سے واضح ہوتی ہے۔

خیركم خیركم لاهله وأنا خیركم لأهلی (۶۵)

تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہے اور میں اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہوں۔

اکمل المؤمنين إيمان أحسنهم خلقا وخيارهم نسائهم (۶۶)

مومنوں میں سے کامل ترین وہ ہے جو سب سے زیادہ حسن اخلاق والا ہے اور تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنی عورتوں کے لیے بہتر ہے۔‘‘

آنحضور ﷺ نے عورتوں سے حسن سلوک کی تاکید فرمائی اور اس کی بہترین مثال آنحضور ﷺ کا اسوۂ حسنہ ہے کہ متعدد بیویاں ہونے کے باوجود آپ ﷺ نے سب کے ساتھ حسن سلوک فرمایا اور عدل کی بہترین مثال قائم کی۔

صبر و تحمل

زندگی میں یہ کوئی حیرت انگیز واقعہ نہیں کہ میاں بیوی میں کشیدگی پیدا ہو جائے اور یہ بھی ہوتا رہتا ہے کہ اس سلسلے میں شیطان کو بہکانے کا موقع ہاتھ آ جاتا ہے اور اس سے عفت و عصمت کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے پھر اس وقت اور بھی جبکہ عورتیں نازک طبع، تند خو اور تنک مزاج ہوتی ہیں۔ اس لئے اسلام میں ان حقائق و واقعات سے چشم پوشی اختیار نہیں کی گئی۔ عورتوں کی فطری کمزوریوں کو پیش نظر رکھ کر مردوں کو اس سلسلہ میں مفید ہدایتیں دی گئی ہیں تا کہ زن و مرد کی باہمی زندگی میں نا خوشگواری نہ آنے پائے اور اگر عورتوں کے کسی قول و فعل سے ان کو اذیت پہنچے تو ایسے موقع پر صبر و تحمل سے کام لیا جائے۔

ارشاد ربانی ہے۔

عاشروهن بالمعروف فان كرهتموهن فعسى ان تكرهوا شيا ويجعل الله

فيه خيرا كثيرا (۶۷)

’’اور ان عورتوں کے ساتھ حسن و خوبی سے گزر بسر کرو اور اگر تم کو وہ نا پسند ہوں تو ممکن

صفحہ 530

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 530 ماہنامہ مسیحائی کراچی

ہے کہ تم ایک چیز ناپسند کرو اور اللہ تعالیٰ اس کے اندر کوئی بڑی منفعت رکھ دے۔“

نبی کریمﷺ کا فرمان ہے۔

لا يفرك مومن مومنة ان كره منها خلقا رضى منها اخر (۶۸)

کوئی مسلمان مرد کسی مسلمان عورت کو اس لیے مبغوض نہ رکھے کہ اس کی کوئی عادت ناگوار خاطر ہے اس لئے کہ اگر ایک عادت ناپسند ہے اس کی کوئی دوسری عادت پسندیدہ ہوگی۔

رفق و ملاطفت

عورتوں کے ساتھ رفق و ملاطفت کا برتاؤ ناگزیر ہے جو دلوں میں محبت والفت کے رسوخ کا باعث ہو پھر ساتھ ہی یہ تدبیر بھی ہے کہ عورتوں کی بہت سی باتوں سے عفو و درگزر کی جائے اور ان کی بدخلقی پر صبر و تحمل کیا جائے۔

ایک دفعہ نبی کریمﷺ نے صبر و تحمل کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا

استوصوا بالنساء خيراً فانهن خلقن ضلع وإن أعوج شيء فى الضلع أعلاه فان ذهبت تقيمه كسرته وإن تركته لم يزل أعوج فاستوصوا بالنساء

خيرا. (۶۹)

عورتوں کے ساتھ بھلائی کرو کیونکہ وہ پسلی سے پیدا کی گئی ہے اور پسلی میں سب سے ٹیڑھی چیز اس کے اوپر کا حصہ ہے۔ اگر تو اسے سیدھا کرنے لگے تو اسے توڑ دے گا اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دے گا۔ تو وہ ہمیشہ ٹیڑھا ہی رہے گا۔ عورتوں کے ساتھ بھلائی کرنا ہی مناسب ہے۔

آزادی

عورت کا سب سے بڑا حق اس کی آزادی ہے۔ شوہر کے انتخاب اور شوہر کے ساتھ رہنے میں شریعت نے اسے اختیار دیا ہے۔ انتخاب میں اس کی رائے کا احترام کیا ہے اور رفاقت میں اس کے جذبات کو پیش رکھا ہے گو انتخاب میں بالکل آزادی نہیں ہے۔ تاہم یہ آزادی عام معاشرتی رجحانات سے کہیں بلند ہے۔ عرب معاشرے میں کم سن لڑکیوں کی شادی

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

کا رواج تھا۔ اسلام نے اس کی اصلـ عیوب اور طبیعت کی ناپسندیدگی پر اسے سے فسخ نکاح کا فیصلہ لے سکتی ہے۔ اختیار دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ اسلا کو مرد کے برابر تسلیم کرتا ہے۔ بلکہ اکـ جان و مال کے تحفظ کو مرد کے جان و ما ہے۔ اسلام نے عورت کو ہے تاکہ معاشرے میں اس کی عزت

ہو سکے۔ (۷۰)

طلاق

طلاق کے لغوی معنی قید بھی۔ جیسے قید الاسیر اور قید النکاح ۔ میں یہ لفظ التفریق بین الزوجین کے میں جائز رکھا البتہ اس کی اصلاح کر ہے کہ اس میں ازالہ نکاح یا نقصان مولانا عبدالسلام ندوی لکـ ”خداوند تعالـ طرح نظام ا لیکن طلاق کـ بنایا بلکہ عقـ قائم کر دیں تـ

رکھ سکیں۔ (

صفحہ 531

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

کا رواج تھا۔ اسلام نے اس کی اصلاح یوں کی کہ اسے خیار بلوغ کا اختیار دیا۔ شوہر کے عیوب اور طبیعت کی ناپسندیدگی پر اسے اختیار دیا کہ وہ حکمین کے ذریعے یا عدالت کے واسطے سے فسخ نکاح کا فیصلہ لے سکتی ہے۔ طلاق اور بیوگی کی صورت میں اسے نکاح ثانی کا مکمل اختیار دیا گیا ہے ۔ اس کے ساتھ اسلام عورت کی جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفظ میں اس کو مرد کے برابر تسلیم کرتا ہے۔ بلکہ اکثر اوقات اسلامی معاشرے کی اجتماعی غیرت عورت کے جان و مال کے تحفظ کو مرد کے جان و مال سے زیادہ سمجھتی ہے۔ اسلام نے عورت کو معاشی اور تمدنی حقوق دے کر اس کی حیثیت کو محفوظ کر دیا ہے تاکہ معاشرے میں اس کی عزت اور وقار بھی رہے اور اس پر ظلم اور دست درازی بھی نہ ہو سکے۔

(۷۰)

طلاق

طلاق کے لغوی معنی قید سے آزادی کے ہیں۔ یہ قید حسی بھی ہو سکتی ہے اور معنوی بھی۔ جیسے قید الاسیر اور قید النکاح ، طلاق اور تطلیق دونوں کا ایک ہی مفہوم ہے۔ دور جاہلیت میں یہ لفظ التفریق بین الزوجین کے لیے استعمال ہوتا تھا اسلام آیا تو اس نے اسے اس معنی میں جائز رکھا البتہ اس کی اصلاح کر دی۔ فقہاء کے نزدیک طلاق کی اصطلاحی تعریف یہ کی ہے کہ اس میں ازالۂ نکاح یا نقصان حلت کا مفہوم پایا جاتا ہے۔

(۷۱)

مولانا عبدالسلام ندوی لکھتے ہیں ۔

”خداوند تعالیٰ نے نظام اجتماع یعنی نکاح کی طرح نظام افتراق یعنی طلاق کو بھی مشروع کیا لیکن طلاق کو بالکل آزادانہ اور خود مختار چیز نہیں بنایا بلکہ عقد نکاح کے گرد ایسی چار دیواریاں قائم کر دیں جو اس کو وقتی تاثرات سے محفوظ رکھ سکیں ۔

(۷۲)

صفحہ 532

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 532 ماہنامہ مسیحائی کراچی

طلاق کی حیثیت

اسلام انسانی معاشرے کے لیے نکاح کو اس لیے اصل قرار دیتا ہے کہ اس سے حدود اللہ کی پابندی اور اخلاق کی تربیت ہوتی ہے۔ اسلام اسے قائم رکھنے کی ترغیب دیتا ہے اگر اس تعلق میں بدمزگی واقع ہوتو اسے برداشت کرنے کا حکم دیتا ہے۔ کیونکہ اصل مقصد انسانی معاشرے کا ربط واستحکام ہے۔ (۷۳)

اس کی وضاحت اس آیت سے ہوتی ہے۔

وعاشروهن بالمعروف فان كرهتموهن فعسى ان تكرهوا شيئا ويجعل الله فيه خيرا كثيرا۔“ (۷۴)

ان کے ساتھ اچھے سلوک سے رہو اگر وہ تمہیں ناپسند بھی ہوں تو ہوسکتا ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور اللہ تعالیٰ اس میں تمہارے لیے بہت کچھ بھلائی رکھ دے۔

اس سے معلوم ہوا کہ اگر تمہیں اس تعلق میں کوئی کراہت کا پہلو نظر نہیں آتا تو تمہارے صبر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس میں خیر کے عنصر کو غالب کردے گا۔ اگر یہ تعلق کی سطح پر نہ چل سکے تو پھر انسانی معاشرے کی فلاح وبہبود کیلئے اسے توڑ دینا مناسب سمجھا لیکن یہ توڑنا بالکل ناگزیر حالات کے ساتھ مختص قرار دیا۔ (۷۵)

قرآن وسنت میں ایسی واضح نصوص موجود ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ طلاق اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک ناپسندیدہ بات ہے۔

نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے۔

ابغض الحلال الى الله الطلاق (۷۶)

حلال چیزوں میں سے اللہ کے نزدیک مبغوض ترین طلاق ہے۔“

ما احل الله شيئا ابغض اليه من الطلاق (۷۷)

اللہ کے نزدیک مباح چیزوں میں طلاق سے بڑھ کر منحوس کوئی چیز نہیں۔

عن ثوبانؓ قال قال رسول الله ﷺ ايما امراة سألت زوجها طلاق في غير ما بأس فحرام عليها رائحة الجنة۔ (۷۸)

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

ثوبانؓ سے روایت ہے کہ رسو پر اپنے خاوند سے طلاق طلب کی اس پر جن تزوجوا ولا تطلقوا فان ا نکاح کرو اور طلاق نہ دو کیون پسند نہیں کرتا۔

قرآن وسنت کے ارشادات ہے جسے قائم رکھنا چاہیے لیکن چونکہ اس انسانی فطرت کا تقاضا ہے کہ جہاں تعل

طلاق کے بارے میں اسلا اوقات طبائع اور شکل وصورت کا فرق کی ہے۔ کہ طلاق صرف دین واخلاقی کے اختلاف کو برداشت کرنے کا مشو ہیں اور اسلام نے اسے تسلیم کیا ہے

جیسا کہ ایک صحابیؓ نے حضو حضورﷺ نے اسے اجازت دے دی

عن لقيط بن صبرة ق لسانها شيئا يعنى البذاء قال فطلق منها ولد قال فمرها يقول ظعينتك كضربك امتك“

لقيطؓ نے کہا یا رسول اللہﷺ ﷺ نے فرمایا اس کو طلاق دے دے اولاد بھی ہے اس سے۔ آپﷺ نے یہ دے گی اور مت مارو اپنی جورو کو جیسے تو

دور جاہلیت میں چونکہ طلا

صفحہ 533

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

ثوبان سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ ہر وہ عورت جس نے غیر ضروری طور پر اپنے خاوند سے طلاق طلب کی اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔

تزوجوا ولا تطلقوا فان الله لا يحب الذواقين والذواقات

(۷۹)

نکاح کرو اور طلاق نہ دو کیونکہ اللہ تعالیٰ مزہ چکھنے پھرنے والے مردوں اور عورتوں کو پسند نہیں کرتا۔

قرآن وسنت کے ارشادات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ نکاح ایک ایسا مقدس رشتہ ہے جسے قائم رکھنا چاہیے لیکن چونکہ اس کا مدار محض طبائع کے توافق اور تعاون پر ہے۔ اس لیے انسانی فطرت کا تقاضا ہے کہ جہاں تعلق بوجھ بن رہا ہے اسے ختم کر دینا چاہیے۔

(۸۰)

طلاق کے بارے میں اصل چیز دین و اخلاق کی قدروں کی حفاظت ہے لیکن بعض اوقات طبائع اور شکل وصورت کا فرق بھی بنیاد بن جاتا ہے۔ اسلام نے حتی الامکان یہ کوشش کی ہے کہ طلاق صرف دین و اخلاقی قدروں کی بنیاد پر ہو۔ طبائع کے فرق اور شکل وصورت کے اختلاف کو برداشت کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ اگر چہ کسی وقت یہ چیزیں بھی بنیاد بن سکتی ہیں اور اسلام نے اسے تسلیم کیا ہے۔

(۸۱)

جیسا کہ ایک صحابی نے حضور ﷺ سے شکایت کی کہ میں طلاق دینا چاہتا ہوں تو حضور ﷺ نے اسے اجازت دے دی۔

عن لقيط بن صبره قال قلت يا رسول الله ﷺ ان لى امراة وان في لسانها شيئا يعنى البذاء قال فطلقها اذا قال قلت يا رسول ﷺ ان لها صحبة ولى منها ولد قال فمرها يقول عظها فان يك فيها خير فستفعل ولا تضرب ظعينتك كضربك اميتك

(۸۲)

لقیطؓ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ میری ایک بی بی ہے جس کی زبان دراز ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا اس کو طلاق دے دے۔ لقیطؓ نے کہا ایک مدت تک میرا اس کا ساتھ رہا اور میری اولاد بھی ہے اس سے۔ آپ ﷺ نے فرمایا اس کو نصیحت کر اور سمجھا اگر اس میں بھلائی ہے تو سمجھ جاوے گی اور مت مارو اپنی جورو کو جیسے تو اپنی لونڈیوں کو مارتا ہے۔

دور جاہلیت میں چونکہ طلاق کو ایک مذاق بنالیا گیا تھا اس لیے نبی کریم ﷺ نے

صفحہ 534

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 534 ماہنامہ مسیحائی کراچی

اس کی حیثیت کو بھی واضح فرمادیا۔ ترمذی کے باب ما جاء فی الجد والهزل في طلاق میں حضرت ابو ہریرہؓ سے ایک حدیث مروی ہے جسے طلاق کے بارے میں اسلام کی پالیسی قرار دیا جا سکتا ہے۔

عن أبى هريرةؓ قال إن رسول الله ﷺ قال: ثلاث جدهن جد وهزلهن جد: النكاح والطلاق والرجعة.

(۸۳)

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ تین باتیں ہیں جن میں حقیقت بھی حقیقت ہے اور مذاق بھی حقیقت طلاق ، نکاح اور رجوع

اسلام نے طلاق کی حد متعین کر کے واضح طور پر کہہ دیا کہ ایک آدمی تین سے زائد طلاقیں نہیں دے سکتا اور اگر کبھی تین طلاقیں دیں تو رفاقت سے ہمیشہ کے لیے محروم کر دیا جائے گا۔ پھر کسی حیلہ بازی کی اجازت نہیں ہوگی۔

(۸۴)

فان طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجاً غيره

(۸۵)

پھر اگر کوئی عورت کو (تیسری) طلاق دے دے تو پھر وہ اس کے لیے حلال نہ رہے گی۔ اس کے بعد یہاں تک کہ وہ اس کے سوا کسی اور شوہر سے (عدت کے بعد) نکاح کرے۔

عن مالك انه بلغه ان رجلا قال لابن عباس: انی طلقت امرأتی مائة تطليقة فماذا ترى على؟ فقال له ابن عباس: طلقت منك بثلاث وسبع وتسعون اتخذت بها آيات الله هزوا

(۸۶)

مالک سے روایت ہے کسی شخص نے عبداللہ بن عباسؓ سے کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو سو طلاقیں دی ہیں۔ تمہارے خیال میں مجھ پر کیا عائد ہوتا ہے؟ ابن عباسؓ نے کہا کہ تین طلاقوں سے تیری بیوی مطلقہ ہوگئی ہے اور ستانوے طلاقوں سے تو نے اللہ کی آیات کا مذاق اڑایا۔

طلاق کے بارے میں حیلہ بازیاں بھی ممنوع ہیں۔

لعن رسول الله ﷺ المحلل والمحلل له

(۸۷)

حضور ﷺ نے حلالہ نکالنے اور نکلوانے والے پر لعنت کی ہے۔

غرض اسلام نے جہاں طلاق کو ایک ناپسندیدہ فعل قرار دیا ہے وہاں ضرورت کے

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

تحت مرد کو اس حق کے استعمال کا اختیار ا طلاق نہ دیں اور طلاق دینے کا اختیار ا سکے نہ کہ تمام عمر میاں بیوی نہ اکٹھے رہ سک دین ہے۔

خلع

اسلام نے جس طرح مرد کے ساتھ وہ کسی طرح نباہ نہیں کر سکتا ا کہ جس مرد کو وہ ناپسند کرتی اور کسی طر

(۸۸)

قرآن پاک کا ارشاد ہے وان خفتم الا يقيما حد اور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ میں کہ عورت فدیہ دے کر اپنی جان چھڑا

خلع لغوی طور پر ازالہ کے لسان العرب میں ہے خلع الرجل ثوبه خلع آدمی نے اپنے کپڑے اتا

خلع اصطلاحاً اس ترک کر لیتی ہے۔ گویا خلع ایک قسم کی ط مطالبہ پایا جاتا ہے۔ اسلام سے پ اسلام نے پہلے تو اس کے اس اختیا کرنے کے لیے یہ قدم اٹھایا کہ م

صفحہ 535

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ سبحانی کراچی

تحت مرد کو اس حق کے استعمال کا اختیار بھی دیا ہے۔ ممانعت اس لیے کہ لوگ بات بات پر طلاق نہ دیں اور طلاق دینے کا اختیار اس لیے دیا کہ وہ اپنی مرضی اور سکون سے زندگی گزار سکے نہ کہ تمام عمر میاں بیوی نہ اکٹھے رہ سکیں اور نہ ہی جدا ہو سکیں بلاشبہ اسلام ایک حکمت والا دین ہے۔

خلع

اسلام نے جس طرح مرد کو یہ حق دیا ہے کہ جس عورت کو وہ ناپسند کرتا ہے اور جس کے ساتھ وہ کسی طرح نباہ نہیں کر سکتا اسے طلاق دے دے اس طرح عورت کو بھی یہ حق دیا ہے کہ جس مرد کو وہ ناپسند کرتی اور کسی طرح اس کے ساتھ گزر بسر نہ کر سکتی ہو اس سے خلع لے۔

(۸۸)

قرآن پاک کا ارشاد ہے۔

وان خفتم الا يقيما حدود الله فلا جناح عليهما فيما افتدت به. (۸۹)

اور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ حدود اللہ کو قائم نہ رکھ سکیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں کہ اس بات میں کہ عورت فدیہ دے کر اپنی جان چھڑا لے۔

خلع لغوی طور پر ازالہ کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔

لسان العرب میں ہے

خلع الرجل ثوبه خلعاً ازاله عن بدنه ونزعه عنه (۹۰)

آدمی نے اپنے کپڑے اتارے، اپنے بدن سے ہٹائے اور اتارے۔

خلع اصطلاحاً اس ترک تعلق کو کہتے ہیں جو عورت اپنے مطالبے سے مرد سے حاصل کر لیتی ہے۔ گویا خلع ایک قسم کی طلاق ہے لیکن اس میں مرد کے اختیارات کی بجائے عورت کا مطالبہ پایا جاتا ہے۔ اسلام سے پہلے طلاق مرد کا ہتھیار تھا جسے جب چاہتا استعمال کر لیتا۔ اسلام نے پہلے تو اس کے اس اختیار کو چند شرائط سے مقید کر دیا پھر مرد کی گرفت کو مزید نرم کرنے کے لیے یہ قدم اٹھایا کہ عورت کو بعض حالات میں اجازت دی کہ وہ طلاق کا مطالبہ

صفحہ 536

ماہنامہ سبحانی کراچی حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

کرے اور اگر وہ اپنے مطالبے میں حق بجانب ہو تو حکمین کے ذریعے یا عدالت کی سطح پر وہ طلاق حاصل کر سکتی ہے۔ بعض فقہا نے خلع کی تعریف میں یہ بات کہی ہے کہ اگر قطع تعلق عوض کے بغیر ہو تو طلاق ہے اور جب کبھی اس میں عوض دینے کا معاملہ آ جائے تو وہ خلع ہو جائے گا۔

(۹۱)

خلع کے بارے میں بنیادی اہمیت کی حامل قرآن کریم کی یہ آیت ہے۔ ولا يحل لكم ان تاخذوا مما اتيتموهن شيئا الا ان يخافا الا يقيما حدود الله فان خفتم الا يقيما حدود الله فلا جناح عليهما فيما افتدت به تلک حدود الله فلا تعتدوها ومن يتعد حدود الله فاولئک هم الظلمون. (۹۲)

اور تمہارے لیے یہ بات جائز نہیں کہ جو (مہر) تم ان کو دے چکے ہو واپس لے لو مگر یہ کہ میاں بیوی دونوں کو احتمال ہو کہ اللہ تعالی کے ضابطوں کو قائم نہیں رکھ سکیں گے تو اگر تم لوگوں کو یہ احتمال ہو کہ وہ دونوں ضوابط خداوندی کو قائم نہ کر سکیں گے تو دونوں پر کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ اس (مال کے لینے دینے میں) جس کو دے کر عورت اپنی جان چھڑا لے۔ یہ خدائی ضابطے ہیں تو تم ان سے باہر مت نکلنا اور جو شخص خدائی ضابطوں سے بالکل باہر نکل جائے تو ایسے ہی لوگ اپنا نقصان کرنے والے ہیں۔

خلع کے بارے میں احادیث سے بھی پتا چلتا ہے کہ آنحضور ﷺ کے عہد میں خلع کے چند واقعات پیش آئے۔

عن ثوبان قال رسول الله: ایما مرأة سألت زوجها طلاقا فی غیر ما بأس فحرام عليه رائحه الجنة. (۹۳)

ثوبان سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کہ ہر وہ عورت جس نے بلا ضرورت اپنے خاوند سے طلاق طلب کی اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔

عن ابی هریره قال رسول الله: المنتزعات والمختلعات هن المنافقات (۹۴)

ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ علیحدگی چاہنے والی اور خلع حاصل کرنے والی عورتیں ہی منافق ہیں۔

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

عن ابن عباس ان امـ الله ثابت بن قيس ما اعـ الاسلام فقال رسول الله: اتر الحديقة وطلقها تطليقة. (۹۵)

ابن عباس سے مروی ہـ کی : یا رسول اللہ میں اس کے خلق و نہیں کرتی تو رسول اللہ ﷺ نے فـ فرمایا: باغیچہ لے لو اور اسے طلاق د

ان آیات اور احادیث ہیں ۔

کرے جس طرح حـ ہے۔

کرنے کا حق ہے، نـ

کے لیے ضروری نـ دے ۔

غرض مرد ہو یا عو کے طور پر استعمال کرنا چاہیـ لیا جائے ۔ (۹۶)

طلاق اور خلع کے غرض کے لیے اس پر چند بـ

صفحہ 537

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ سبحانی کراچی

عن ابن عباس ان امرأة ثابت بن قيس أتت النبي ﷺ فقالت: يا رسول الله ثابت بن قيس ما أعتب عليه في خلق ولا دين ولكني أكره الكفر في الاسلام فقال رسول الله: أتردين عليه حديقة؟ قالت: نعم قال رسول الله: أقبل الحديقة وطلقها تطليقة.

(۹۵)

ابن عباس سے مروی ہے کہ ثابت بن قیس کی بیوی نبی کریم ﷺ کے پاس آ کر عرض کی: یا رسول اللہ میں اس کے خلق و دین پر کوئی حرف گیری نہیں کرتی لیکن میں اسلام میں کفر کو پسند نہیں کرتی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم اس کا باغیچہ لوٹا دو گی؟ اس نے کہا ہاں حضور ﷺ نے فرمایا: باغیچہ لے لو اور اسے طلاق دے دو۔

ان آیات اور احادیث سے خلع کے بارے میں مندرجہ ذیل امور مستنبط ہوتے ہیں۔

کرے جس طرح مرد کو اپنی خواہش سے طلاق دینے کی صورت میں گوارا کرنی پڑتی ہے۔

کرنے کا حق ہے۔

کے لیے ضروری ہے کہ جو مال پیش کر رہی ہے اس کو شوہر قبول کر کے طلاق دے دے۔

غرض مرد ہو یا عورت، ہر ایک کو طلاق یا خلع کا اختیار صرف ایک آخری چارہ کار کے طور پر استعمال کرنا چاہیے نہ یہ کہ محض خواہشات کی تسکین کے لیے طلاق اور خلع کو کھیل بنا لیا جائے۔

(۹۶)

طلاق اور خلع کے بعد عورت پر لازم ہے کہ وہ عدت پوری کرے اور اس غرض کے لیے اس پر چند پابندیاں لگائی جاتی ہیں اور چند حدود متعین کی جاتی ہیں جن کا پورا

صفحہ 538

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 538 ماہنامہ مسیحائی کراچی

کرنا اس پر لازم ہے۔

عدت

عدت سے مراد وہ وقفہ ہے جو عورت کو طلاق یا خاوند کی وفات کے بعد گزارنا پڑتا ہے۔

تنزیل الرحمن نے عدت کی تعریف یوں کی ہے۔

زوال نکاح کے بعد خواہ نکاح حقیقتاً ہو یا شُبہۃً ، جو دخول یا موت سے متاکد ہوا ہو، عورت کا ایک مدت معلومہ تک نکاح ثانی سے باز رہنا عدت کہلاتا ہے۔ تعالیٰ کے فرمان کے تحت واجب ہے۔ بالغہ مطلقہ عورت جس کو حیض آتا ہے اس کی عدت تین حیض ہے۔ (۹۷)

قرآن پاک میں ارشاد ہے ۔

والمطلقت يتربصن بانفسهن ثلثة قروء (۹۸)

جن عورتوں کو طلاق دی جائے وہ تین حیض تک اپنے تئیں روک رکھیں۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔

والذين يتوفون منكم ويذرون ازواجاً يتربصن بانفسهن اربعة اشهر وعشرا فاذا بلغن اجلهن فلا جناح عليكم فيما فعلن فى انفسهن بالمعروف (۹۹)

جو لوگ تم میں سے مرجائیں اور اپنی بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ اپنے تئیں چار مہینے دس دن تک روک رکھیں، پھر جب وہ اپنی عدت پوری کرلیں تو تم پر کوئی گناہ نہیں اس میں جو وہ اپنے لیے دستور کے موافق عمل کریں۔

وہ مطلقہ عورت جس کو بوجہ کم سنی، کبرسنی یا مرض یا کسی اور وجہ سے حیض نہ آتا ہو تو اس کی عدت تین ماہ ہے۔

ارشاد رب ذوالجلال ہے۔

والى يئسن من المحيض من نساء نكم ان ارتبتم فعدتهن ثلثة اشهر و الـى لم يحضن (۱۰۰)

صفحہ 539

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ سبحانی کراچی

تمہاری عورتوں میں جو حیض سے ناامید ہو گئیں ہوں تو ان کی عدت میں اگر تم کو شبہ پڑے تو ان کی عدت تین مہینے ہے (اور اسی طرح) ان عورتوں کی عدت جن کو حیض نہ آیا ہو، اگر زوجہ حاملہ ہے اور اس کو طلاق دے دی جائے تو تو اس کی عدت وضع حمل تک ہے۔ ارشاد ربانی ہے۔

واولات الاحمال اجلہن ان یضعن حملہن

(۱۰۱)

اور حاملہ عورتوں کی عدت یہ ہے کہ وہ اپنا حمل جنیں۔

قرآن مجید میں ایک اور جگہ یوں ہے۔

ولا تعزموا عقدۃ النکاح حتی یبلغ الکتب اجلہ

(۱۰۲)

اور عقد کا قصد نہ کرو جب تک مقررہ عدت نہ گزر جائے۔

عدت کے دوران مطلقہ عورت کے رہنے سہنے اور خوردونوش کی ذمہ داری مرد پر ہوگی اور اس کا معیار اس مرد کی استطاعت کے مطابق ہوگا۔

رضاعت

قرآن کریم میں بچے کے دودھ پلانے کا عرصہ دو سال آیا ہے جب کوئی عورت، عقد نکاح سے آزاد ہو جائے اور اس کی گود میں بچہ ہو تو اس سلسلے میں قرآن کریم نے کہا کہ بچے کا باپ رضاعت کی اجرت بچے کی ماں کو دے اس طرح دودھ پلانے کی مدت دو سال ہے۔ لیکن اگر وہ باہمی رضامندی اور مشاورت سے اس سے کم عرصہ میں دودھ چھڑوانا چاہیں تو اس میں بھی کوئی مضائقہ نہیں۔ رضاعت کے عرصے کے لئے اس عورت کے خوردونوش اور کپڑوں کے اخراجات بچے کے باپ کے ذمہ ہوں گے اس کا معیار اس مرد کی استطاعت کے مطابق ہوگا۔ اس سلسلہ میں یہ دیکھنا چاہیے کہ اس بچے کی وجہ سے نہ تو باپ کو ناحق تکلیف اٹھانی پڑے نہ ہی اس کی ماں کو اگر بچے کی ماں کی بجائے کسی دوسری عورت سے وہ بچے کو دودھ پلانا مناسب سمجھیں تو اسلام میں اس کی بھی اجازت ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوتا ہے۔

صفحہ 540

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 540 ماہنامہ مسیحائی کراچی

والوالدت يرضعن اولادهن حولين كاملين لمن اراد ان يتم الرضاعة وعلى المولود له رزقهن وكسوتهن بالمعروف لا تكلف نفس الا وسعها لا تضار والدة بولدها ولا مولودله بولده و على الوارث مثل ذلك فان اراد فصالاً عن تراض منهما وتشاور فلا جناح عليهما وان اردتم ان تسترضعوا اولادكم فلا جناح عليكم اذا سلمتم ما اتيتم بالمعروف واتقوا الله واعلموا ان الله بما تعملون بصير۔ (۱۰۳)

اور بچے والیاں دودھ پلاویں اپنی اولاد کو دو برس پورے واسطے اس کے جو ارادہ کرے یہ کہ پورا کرے دودھ پلانا، اور جس کا وہ بچہ ہے (یعنی باپ ) اس پر دستور کے مطابق ماؤں کا کھانا کپڑا دینا لازم ہے۔ (نان و نفقہ کے ٹھہراؤ میں ) کسی کو تکلیف نہ دی جائے مگر وہیں تک کہ اس میں اس کی گنجائش ہو ماں کو اس کے بچے کی وجہ سے نقصان نہ پہنچایا جائے اور نہ اس کو جس کا بچہ ہے (یعنی باپ کو ) اس کے بچے کی وجہ سے اور دودھ پلانے کا نان ونفقہ جیسا اصل باپ پر ویسا اس کے وارث پر۔ پھر اگر (وقت سے پہلے ماں باپ دونوں اپنی مرضی اور صلاح سے دودھ چھڑانا چاہیں تو ان پر کچھ گناہ نہیں اور اگر تم اپنی اولاد کی کسی دایہ سے دودھ پلوانا چاہو تو اس میں بھی تم پر کچھ گناہ نہیں بشرطیکہ جو تم نے دستور کے مطابق ان کو دینا کیا تھا ان کے حوالے کر دو۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جانتے رہو کہ تم جو کچھ بھی کرتے ہو اللہ اس کو دیکھ رہا ہے۔

حضانت

حضانت کے لغوی معنی تربیت کے ہیں۔ شرعی اصطلاح میں ماں یا کسی شرعی مستحق کے چھوٹے بچے کو پرورش کرنے کو حضانت کہتے ہیں۔ (۱۰۴)

طلاق کے بعد ایک اہم مسئلہ حضانت کا ہے یعنی جدائی کے بعد بچے کی پرورش کا حقدار کون ہے۔ قرآن باپ کو مولودلہ کہتا ہے۔ یعنی بچہ باپ ہی کا ہے لیکن پرورش کون کرے؟ یہ ظاہر ہے کہ ماں سے بہتر پرورش کوئی نہیں کر سکتا۔ حضور ﷺ نے ماں کے حق میں فیصلہ دیا ہے لیکن یہ شرط بھی لگائی ہے کہ جب تک عقد ثانی نہ کرے۔ (۱۰۵)

یہاں پر دو باتیں قابل غور ہیں۔ ایک یہ کہ حق حضانت کب تک کے لیے ہے

صفحہ 541

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

دوسرے یہ کہ دوران حضانت کے اخراجات کس کے ذمہ ہیں۔ پہلی چیز میں کہ حق حضانت کب تک کے لیے ہے اس میں فقہا کا بڑا اختلاف پایا جاتا ہے بعض لڑکے کی مدت حضانت سات آٹھ سال تک بتاتے ہیں بعض کے نزدیک عمر حضانت یہ ہے کہ بچہ خود کھا اور پہن سکے اور لڑکی کے لیے مدت حضانت سن بلوغ بتاتے ہیں۔ دوسری چیز کہ حضانت کے اخراجات کس کے ذمے ہیں اس کے متعلق کوئی واضح حکم نہیں ملتا اس سلسلہ میں مولانا محمد شاہ کہتے ہیں کہ عدل کا تقاضا یہ ہے کہ اگر عورت اپنی خواہش سے بچے کو لینا چاہے تو اخراجات کا ذمہ دار بھی اس کو ہونا چاہیے اور اگر باپ اسے یعنی بچے کو ماں کے سپرد کرنا چاہے تو اخراجات باپ کے سر ہونے چاہیے۔

(۱۰۶)

تحکیم

میاں بیوی کے بعض ایسے خانگی جھگڑے جن کا تعلق بڑے اور اہم قانونی مسائل سے نہ ہو تو تحکیم کے ذریعے ان کو حل کرنا ضروری ہے۔ بجائے اس کے کہ وہ خود لڑ جھگڑ کر ازدواجی رشتے کی مقدس ڈور کو توڑ دیں۔

اس طریقہ کار میں میاں بیوی دونوں اپنی طرف سے ایک ایک حکم تجویز کرتے ہیں۔ اس طرح ان کی باہمی کوششوں سے کوئی تصفیہ ہو جاتا ہے اور اگر خاوند زیادتی پر ہو اور سمجھوتے کی کوئی صورت نظر آئے تو علیحدگی کرا دی جاتی ہے۔

معاشرتی زندگی میں تحکیم ایک بڑی قیمتی چیز ہے اور یہ خانگی زندگی کے لیے رحمت ہے۔ اس طرح خاوند کو اپنے اختیارات آزادانہ طور پر استعمال کرنے کا اختیار کافی حد تک کم ہو جاتا ہے۔

خانگی جھگڑوں کو حتی الامکان کھلی عدالت میں لانے سے پرہیز کیا جائے اور اگر عدالتوں میں ایسے معاملات آئیں بھی تو حاکم عدالت ان کی تحقیق اور ان کا فیصلہ کرنے سے پہلے دونوں خاندانوں کے ذمہ دار افراد سے اس گتھی کے سلجھانے میں مدد لے۔ اس تجویز کو معاشرتی زندگی کے لیے ایک رحمت سمجھنا چاہیے۔

(۱۰۷)

صفحہ 542

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 542 ماہنامہ مسیحائی کراچی

ارشاد الہی ہے۔ وان خفتم شقاق بينهما فابعثوا حكما من اهله وحكما من اهلها ان يريدا اصلاحا يوافق الله بينهما ان الله كان عليما خبيرا. (۱۰۸) اگر تم کو دونوں (میاں بیوی ) میں باہم دشمنی کا ڈر ہو تو ایک فیصلہ کرنے والا اس عورت کے لوگوں میں سے مقرر کرو اور وہ دونوں اصلاح چاہیں گے تو اللہ ان میں موافقت کر دے گا۔ بے شک اللہ جاننے والا خبردار ہے۔

ایلاء

ایلاء کے لغوی معنی اپنی منکوحہ بیوی سے صحبت نہ کرنے کی قسم کھانا ہیں۔ مجموعہ قوانین اسلام میں ایلاء کی تعریف یوں کی گئی ہے اگر کوئی شوہر یہ قسم کھائے کہ وہ اپنی زوجہ سے چار ماہ صحبت نہ کرے گا تو چار ماہ گزر جانے کے بعد اس عورت پر طلاق واقع ہو جائے گی۔ الا یہ کہ مرد چار ماہ گزرنے سے قبل زوجہ سے قولا اور شرط قدرت فعلاً رجوع کرے۔ (۱۰۹)

عورت کے داعیات نفس کو پورا کرنے سے کسی عذر جائز کے بغیر اعراض کرنا جس کا مقصد محض اس کو سزا دینا ہے اور تکلیف پہنچانا ہے اس کے لیے قانون اسلام نے زیادہ سے زیادہ چار مہینہ کی مدت رکھی ہے اس مدت کے اندر مرد پر لازم ہے کہ اپنی بیوی سے تعلق زن و شوہر قائم کرے۔ ورنہ انقضائے مدت کے بعد اس کو مجبور کیا جائے گا وہ عورت کو چھوڑ دے۔ قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے۔ للذين يولون من نسائهم تربص اربعة اشهر فان فاؤ فان الله غفور رحيم ہ (۱۱۰) جو لوگ اپنی عورتوں کے پاس نہ جانے کی قسم کھا لیتے ہیں ان کے لیے چار مہینے کی مہلت ہے اگر وہ رجوع کر لیں تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

ایلاء کا حکم

اگر مرد نے اپنی زوجہ عورت پر ایک طلاق بائن واقع

ظہار

ظہار لفظ ظہر سے مشتق ہے۔ ظہر شوہر کی سواری ہوتی ہے۔ اس لی

ظہار کی تعریف

کسی مرد کا اپنی زوجہ دینا ظہار کہلاتا ہے۔ اسی طرح دینا بھی ظہار کی تعریف میں آ جائز ہو۔ (۱۱۲)

ظہار کا رکن

ظہار کا رکن تشبیہ ماں ہے ظہار کی تعریف سے ی ظہار کے بارے والذين يظهرو ان يتما سا ذلكم توع شهرين متتابعين من

(۱۱۴)

یعنی جو لوگ ظہار کر

صفحہ 543

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 543 ماہنامہ مسیحائی کراچی

ایلاء کا حکم

اگر مرد نے اپنی زوجہ سے ایلاء کیا اور چار ماہ کی مدت بلا رجوع قولی یا فعلی گزر گئی تو عورت پر ایک طلاق بائن واقع ہو جائے گی۔ (۱۱۱)

ظہار

ظہار لفظ ظہر سے مشتق ہے۔ ظہر کے معنی پیٹھ کے ہیں۔ چونکہ پیٹھ سواری کی چیز ہے اور زوجہ اپنے شوہر کی سواری ہوتی ہے۔ اس لیے اس سواری کو مجازاً ایسی عورت سے تشبیہ دی گئی ہے جو حرام ہے۔

ظہار کی تعریف

کسی مرد کا اپنی زوجہ کو کسی دائمی حرام عورت مثلاً ماں، بہن یا خالہ یا پھوپھی سے تشبیہ دینا ظہار کہلاتا ہے۔ اسی طرح زوجہ کے کسی عضو کو کسی دائمی حرام عورت کے کسی عضو سے تشبیہ دینا بھی ظہار کی تعریف میں داخل ہے بشرطیکہ عضو ایسا ہو جس سے سارے بدن کی تعبیر کرنا جائز ہو۔ (۱۱۲)

ظہار کا رکن

ظہار کا رکن تشبیہ نہ ہو تو ظہار نہ ہوگا۔ مثلاً کوئی شخص اپنی زوجہ سے کہے کہ تو میری ماں ہے ظہار کی تعریف سے باہر ہے۔ (۱۱۳)

ظہار کے بارے میں اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے۔

والذین یظہرون من نسائہم ثم یعودون لما قالوا فتحریر رقبۃ من قبل ان یتماسا ذلکم توعظون بہ واللہ بما تعملون خبیر O فمن لم یجد فصیام شہرین متتابعین من قبل ان یتماسا فمن لم یستطع فاطعام ستین مسکینا

(۱۱۴)

یعنی جو لوگ ظہار کرتے ہیں۔ اپنی عورتوں سے پھر اسی کام کی طرف پلٹتے ہیں جس کو

صفحہ 544

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 544 ماہنامہ سبحانی کراچی

منہ سے کہا۔ تو ان پر فرض ہے کہ ایک غلام آزاد کریں باہمی مساس سے پہلے یہ ایسی بات ہے۔ جس کی تم کو نصیحت کی جاتی ہے اور اللہ تو جو تم کرتے ہو اس سے خوب آگاہ ہے۔ پس جس نے غلام نہ پایا تو اس پر دو ماہ کے لیے پے در پے روزے (واجب) ہیں باہمی مساس سے پہلے پھر جس کو یہ طاقت نہ ہو اس پر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا فرض ہے۔

ظہار کا حکم

ظہار کا حکم طلاق سے بدل کر وطی حرام قرار دے دیا گیا۔ جب تک کہ کفارہ ادا نہ کر دیا جائے مگر نکاح قائم رہے گا کفارہ ادا کرنے کی کوئی مدت متعین نہیں ہے۔

(۱۱۵)

لعان

لعان لاعن کا مصدر ہے۔ یہ لفظ لعن سے ماخوذ ہے جس کے لغوی معنی دور کرنا ہیں۔

لعان کی تعریف

زوجین میں سے ہر ایک کی جانب سے قسم کے ساتھ اللہ کی لعنت اور غضب کی شہادت دینا لعان کہلاتا ہے۔

(۱۱۶)

لعان کا طریقہ

لعان کا طریقہ یہ ہے کہ حاکم کی موجودگی میں شوہر چار مرتبہ پہلے یوں کہے کہ میں اللہ کی قسم کھا کر گواہی دیتا ہوں کہ میں البتہ ضرور سچا ہوں اس بات میں جو میں نے اس عورت کو زنا کی تہمت لگائی ہے اور پانچویں مرتبہ مرد اپنے لیے یوں کہے کہ مجھ پر اللہ کی لعنت اگر میں جھوٹوں میں سے ہوں اس زنا کے الزام میں جو میں نے اس عورت کو لگایا ہے۔ پانچویں مرتبہ اس عورت کی طرف اشارہ کرے۔ اس کے بعد عورت چار مرتبہ یوں کہے کہ میں اللہ کی قسم کھا

صفحہ 545

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

کر گواہی دیتی ہوں کہ وہ مرد ضرور جھوٹوں میں سے ہے اس تہمت زنا میں جو اس نے مجھ پر لگائی ہے اور پانچویں مرتبہ وہ عورت اپنے لیے یوں کہے کہ مجھ پر اللہ کا عذاب نازل ہو اگر یہ مرد سچوں میں ہے اس الزام زنا میں جو اس نے مجھ پر لگایا ہے۔ (۱۱۷)

لعان کے بارے میں اللہ فرماتا ہے۔

والذين يرمون ازواجهم ولم يكن لهم شهداء الا انفسهم فشهادة احدهم اربع شهدت با الله انه لمن الصدقين (۱۱۸)

یعنی جو لوگ اپنی بیویوں پر الزام لگاتے اور ان کے پاس سوائے اپنے وجود کے اور کوئی گواہ نہیں تو ان میں سے ہر شخص ایسی گواہی دے جو اللہ کی قسم کے ساتھ چار گواہوں پر مشتمل ہو اور ہر گواہی میں وہ یہ کہے کہ وہ راست بازوں میں سے ہے۔

شوہر خواہ اپنی بیوی پر بالفاظ صریح زنا کا الزام لگائے یا اولاد کے متعلق کہے کہ وہ اس کی نہیں ہے۔ دونوں صورتوں میں لعان واجب آتا ہے۔ نبی ﷺ کے سامنے ایک ایسا مقدمہ پیش ہوا تو آپ ﷺ نے فریقین کو مخاطب کر کے تین مرتبہ فرمایا۔

الله علم ان احد كما كاذب فهل منكما من تائب (۱۱۹)

اللہ خوب جانتا ہے کہ تم دونوں میں سے ایک جھوٹا ہے پھر کیا تم میں سے کوئی توبہ کرے گا؟

جب دونوں نے توبہ سے اعراض کیا تو آپ ﷺ نے قرآن کی ہدایت کے مطابق پہلے شوہر سے چار قسمیں اس بات پر لیں کہ جو الزام اس نے لگایا ہے۔ وہ صحیح ہے اور پانچویں مرتبہ اس سے یہ کہلوایا کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر خدا کی لعنت پھر اس طرح چار قسمیں عورت سے لیں کہ الزام اس پر لگایا گیا ہے وہ غلط ہے اور پانچویں مرتبہ اس سے کہلوایا کہ یہ الزام صحیح ہو تو اس پر خدا کی لعنت اس کے بعد حضور ﷺ نے فرمایا۔

ان رسول الله فرق بين رجل وامراة قذفها واحلفهما (۱۲۰)

رسول ﷺ نے دونوں کو قسم دی اور جدائی کر دی۔

شوہر نے عرض کیا کہ جو مال میں نے اسے مہر میں دیا تھا وہ واپس دلوایا جائے

آپ ﷺ نے جواب دیا۔

صفحہ 546

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 546 ماہنامہ مسیحائی کراچی

لا مال لک ان کنت صدقت علیہا فہو بما استحللت من فرجہا وان کنت کذبت علیہا فذاک ابعدلک۔

(۱۲۱)

مال تجھے نہیں مل سکتا اگر تو نے سچا الزام لگایا ہے تو یہ مال اس تمتع کا معاوضہ ہے۔ جو تو اس سے اٹھا چکا ہے اور اگر تو نے اس پر جھوٹی تہمت لگائی ہے تو مال کی واپسی کا استحقاق تجھ سے اور بھی زیادہ دور ہو گیا۔

اس واقعے سے مندرجہ ذیل احکام نکلتے ہیں۔

سامنے لعان نہیں کر سکتے نہ ایسے لعان سے تفریق ہو سکتی ہے۔

کا اعتراف کر لے جب دونوں اپنی اپنی بات پر اصرار کریں تب لعان کرایا جائے۔

درمیان تفریق کر دی گئی ہے۔

نکاح کرنا چاہیں تو کسی طرح نہیں کر سکتے۔ اس معاملے میں تحلیل کا وہ قانون بھی جاری نہیں ہوتا۔ جو حتی تنکح زوجا غیرہ میں بیان کیا گیا ہے۔

دینا پڑے گا۔

(۱۲۲)

غرض اسلام کی یہ خصوصیت ہے کہ اس کے اصول اور اساسی احکام میں غایت درجہ کا اعتدال اور توازن پایا جاتا ہے۔ ایک طرف وہ اخلاق کا ایک بلند ترین نصب العین پیش نظر رکھتا ہے۔ تو دوسری طرف انسانی فطرت کی کمزوریوں کو بھی نظر انداز نہیں کرتا۔ ایک طرف وہ تمدنی و اجتماعی مصالح کی رعایت ملحوظ رکھتا ہے۔ تو دوسری طرف افراد کے حقوق بھی پامال نہیں ہونے دیتا ایک طرف وہ واقعی حالات پر نگاہ رکھتا ہے تو دوسری طرف ایسے امکانات کو بھی نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دیتا جن کا کسی وقت عالم واقعہ میں آنا متوقع ہے۔ اس طرح عائلی معاملات میں بھی

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

اعتدال و توازن کو برقرار رکھا ہے بلکہ اس کے بھی حقوق مقرر کئے تا کہ معاملات کے حوالے سے با

ابو نعیم عبدالحکیم جالندھری

، السعودیہ، ۱۹۹۹ء، ص

صفحہ 547

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 547 ماہنامہ مسیحائی کراچی

علیها فهو بما استحللت من فرجها وان

(۱۲)

لگایا ہے تو یہ مال اس تمتع کا معاوضہ ہے ۔ جو تو لگائی ہے تو مال کی واپسی کا استحقاق تجھ سے اوپر ہیں۔

عورت اور مرد آپس میں یا اپنے رشتہ داروں کے سے تفریق ہو سکتی ہے۔

کسی کو موقع دے گا کہ ان میں سے کوئی ایک قصور بات پر اصرار کریں تب لعان کرایا جائے ۔ کرنے کے بعد قاضی اعلان کرے گا کہ ان کے

ہے اس کے بعد فریقین اگر دوبارہ آپس میں سکتے۔ اس معاملے میں خلع کا وہ قانون بھی بیان کیا گیا ہے۔ حقیقت میں صحیح ہو یا غلط بہر صورت مہر اسکو

خاص احکام میں غایت درجہ کا اعتدال اور ترین نصب العین پیش نظر رکھتا ہے۔ تو نہیں کرتا۔ ایک طرف وہ تمدنی و اجتماعی کے حقوق بھی پامال نہیں ہونے دیتا ایک کے امکانات کو بھی نظروں سے اوجھل نہیں نے جس طرح عائلی معاملات میں بھی

اعتدال و توازن کو برقرار رکھا ہے جتنے حقوق مرد کو دیئے اس کے مقابلے میں عورت کو محروم نہیں کیا بلکہ اس کے بھی حقوق مقرر کیئے تاکہ ظلم و زیادتی نہ ہو۔ اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جس نے عائلی معاملات کے حوالے سے باقاعدہ اصول وضع کیے۔

☆☆☆

حوالہ جات

السعودیہ، ۱۹۹۹ء، ص: ۴۴۸

صفحہ 548

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

السعودیہ، ۱۹۹۹ء، ص: ۸۸۱

بیروت لبنان، ۱۴۱۱ھ ، ۲: ۲۰۴

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

الصلة، ص: ۱۷۵

المعصیة، الکتب الستة، م

۱۳۸۶

الدیة ، ص: ۱۷۹

صفحہ 549

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 549 ماہنامہ مسیحائی کراچی

الاسلامیۃ، ص: ۱۷۶۵

المعصیۃ، الکتب الستہ، ص: ۱۰۰۸

۱۴۸۴

الاسلامیۃ، ص: ۱۱۶۷

صفحہ 550

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 550 ماہنامہ سبحانی کراچی

۴۵۰

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

الکتب العربیۃ ، ۱۴۲۳ھ، ۱: ۴

۱۷۶۹

ص: ۳۹۶

العلمیۃ، ۱۴۲۴ھ، ۸: ۷

صفحہ 551

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ سبحانی کراچی

الکتب العربیة ۱۳۷۴ھ، ۲۲۴:۱

۱۷۶۹

ص: ۳۹۶

العلمیة، ۱۴۳۴ھ، ۸: ۷

صفحہ 552

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

اسلامیہ، لاہور، ۱۹۵۵ء، ص: ۵۳

۴۵۹

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

ایک ہے خدا سچ ہے لا
رب ہے سب جہانوں کا پالا
شان ہے میرے رب کی ذوالجلال
جو ارادہ فرمائے کُن کہے
ماسوا خدا کے تو دوسرا
ماضی حال مستقبل اس کے
رات دن جو روزانہ آگے آ
خود ثبوت ہے اپنا خود سـ
اس سے بڑھ کے سوچو تو او
کثرتِ خلائق کا درد بس
روح پہلے کہہ آئی قلب ا
ہے تقاضہ ایماں کا دو گوا
میں بھی ذکر کرتا ہوں وہ بھی
میرا تو کرتی یہ دعویٰ
صفحہ 553

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

حمد باری تعالیٰ

آفتاب کریمی

ایک ہے خدا سچ ہے لا الہ الا اللہ سب سے ہے بڑا سچ ہے لا الہ الا اللہ
رب ہے سب جہانوں کا پالتا ہے وہ سب کو سب کا ہے خدا سچ ہے لا الہ الا اللہ
شان ہے میرے رب کی ذوالجلال والاکرام شان ربنا سچ ہے لا الہ الا اللہ
جو ارادہ فرمائے کُن کہے وہ ہوجائے کُن فکاں بڑا سچ ہے لا الہ الا اللہ
ماسوا خدا کے تو دوسرا نہیں معبود کلمۂ خدا سچ ہے لا الہ الا اللہ
ماضی حال مستقبل اس کے سامنے حاضر لوح پہ لکھا سچ ہے لا الہ الا اللہ
رات دن جو روزانہ آگے پیچھے آتے ہیں بولتا ہوا سچ ہے لا الہ الا اللہ
خود ثبوت ہے اپنا خود سند ہے وہ اپنی اس نے جو کہا سچ ہے لا الہ الا اللہ
اس سے بڑھ کے سوچو تو اور کیا سند ہوگی رب نے خود کہا سچ ہے لا الہ الا اللہ
کثرت خلائق کا ورد بس یہی تو ہے وحدت خدا سچ ہے لا الہ الا اللہ
روح پہلے کہہ آئی قلب اب یہ کہتا ہے رب ہے وہ مرا سچ ہے لا الہ الا اللہ
ہے تقاضہ ایماں کا دو گواہی وحدت کی کہہ دو برملا سچ ہے لا الہ الا اللہ
میں بھی ذکر کرتا ہوں وہ بھی ذکر کرتا ہے ذکر ہے مرا سچ ہے لا الہ الا اللہ
میرا تو کریمی یہ دعویٰ ہے کہ یہ کلمہ سچ ہے باخدا سچ ہے لا الہ الا اللہ
صفحہ 554

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

ابتدائی رپورٹ نسبت جرم قابل دست اندازی پولیس

رپورٹ شدہ

دفعہ 154 مجموعہ ضابطہ فوجداری

نمبر 326/9 - 15682 تھانہ صدر ننکانہ ضلع ننکانہ صاحب تاریخ و وقت وقوعہ 14/04/09

1 تاریخ و وقت بحوالہ رپٹ 23 مورخہ 19-06-09 بوقت 6/15 بجے شام 6 تھانہ سے روانگی کی تاریخ وقت سپیشل پورٹ 2 نام و سکونت اطلاع دہندہ و مستغیث درخواست ازاں قاری محمد سالم ولد حافظ غلام جیلانی قوم اعوان سکنہ چک نمبر 13 انا نوالی مرسلہ مہدی حسن ASI تھانہ صدر ننکانہ 3 مختصر کیفیت جرم (معہ دفعہ) و مال اگر کچھ کھویا گیا جرم C/295 ہے 4 جائے وقوعہ و فاصلہ تھانہ سے اور سمت بحد رقبہ چک نمبر 13 انا نوالی بفاصلہ 7 میل جانب شمال از تھانہ 5 کارروائی متعلقہ تفتیش اگر اطلاع درج کرنے میں بلا توقف کچھ توقف ہوا ہو تو اس کی وجہ بیان کی جائے

دستخط محمد رضوان عہدہ محرر (ابتدائی اطلاع نیچے درج کرو)

نوٹ: اطلاع کے نیچے دہندہ کا دستخط یا مہر یا نشان انگوٹھا ہونا چاہئے اور افسر تحریر کنندہ (ابتدائی اطلاع) کے دستخط بطور تصدیق ہونے چاہئیں بخدمت جناب SHO صاحب تھانہ صدر ننکانہ صاحب جناب عالی گزارش ہے کہ سائل چک نمبر 13 گ ب انا نوالی تھانہ صدر ننکانہ صاحب تحصیل و ضلع ننکانہ صاحب کا رہائشی ہے اور مسجد صدیق اکبر میں بطور امام مسجد خدمات سرانجام دے رہا ہے مورخہ 14/06/09 کو بروز اتوار ادریس ولد احمد علی قوم آرائیں سکنہ دیہہ کی زمین میں آسیہ زوجہ عاشق مسیح جو عیسائی مذہب کی مبلغہ ہے گاؤں کی دیگر عورتوں جن میں عاصمہ بی بی دختر عبدالستار ۔ عافیہ بی بی دختر عبدالستار ۔ یاسمین دختر اللہ رکھا شامل ہیں فالسہ توڑ رہی تھیں آسیہ الزام علیہا نے کہا آپ مسلمان کے نبی (معاذ اللہ) کیا ہیں وہ وفات سے صرف ایک ماہ قبل

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ..................... اور تمہارے پاک کے متعلق کہا کہ وہ اللہ کا کلام نہیں بی۔ عافیہ۔ یاسمین مذکوران و دیگر ا مورخہ 19/06/09 کو سائل معہ محمد راجپوت ساکنان دیہہ نے عاصمہ بی وقوعہ کے متعلق آسیہ مذکورہ سے پوچ کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) اور قرآن ہوں۔ آسیہ مذکورہ ملزمہ نے توہین کر کے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم اور توہین مطابق قانون کی جاوے عرضے : دستخط سکنہ چک نمبر 13 انا نوالی تحصیل و ضلع ننا کارروائی پولیس: اس وقت مو نواز 909/C بسواری سرکاری گاڑ نمبر 68/C بہ برائے گشت پل نہر چو نے میرے پیش ہو کر درخواست مضمونا پائی جا کر درخواست ہذا بغرض اندراج ہے مقدمہ درج کر کے نمبر مقدمہ سے روانہ موقع کا ہوتا ہوں نیز پیشل رپورٹ حسن Asi تھانہ صدر ننکانہ صاحب از

صفحہ 555

ماہنامہ سبحانی کراچی

قابل دست اندازی پولیس

ٹ شدہ

ضابطہ فوجداری

تھانہ ضلع ننکانہ صاحب تاریخ و وقت وقوعہ مقام | 6 تھانہ سے روانگی کی تاریخ وقت | سپیشل رپورٹ مت از ان قاری محمد سالم ولد حافظ غلام جیلانی قوم اعوان چک نمبر 13 انا نوالی مرسلہ مہدی حسن ASI تھانہ صدر ننکانہ 295/C چک نمبر 13 انا نوالی بفاصلہ 7 میل جانب شمال از تھانہ لف (ابتدائی اطلاع نیچے درج کرو) ط یا مہر یا نشان انگوٹھا ہونا چاہئے اور افسر تحریر ق ہونے چاہئیں بخدمت جناب SHO گزارش ہے کہ سائل چک نمبر 3 گ ب نہ صاحب کا رہائشی ہے اور مسجد صدیق اکبر مورخہ 14/06/09 کو بروز اتوار اور میں یہ زوجہ عاشق مسیح جو عیسائی مذہب کی مبلغہ مہ بی بی دختر عبدالستار ۔ عافیہ بی بی دختر توڑ رہی تھیں آسیہ الزام علیہا نے کہا آپ وہ وفات سے صرف ایک ماہ قبل

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 555 ماہنامہ سبحانی کراچی ......................اور تمہارے (نبی صلی اللہ علیہ وسلم) نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ........................................................................مزید قرآن پاک کے متعلق کہا کہ وہ اللہ کا کلام نہیں بلکہ خود بنائی گئی کتاب ہے۔ یہ سب باتیں عاصمہ بی بی۔ عافیہ۔ یاسمین مذکور ان ودیگر ان نے مجھے اور گاؤں کے لوگوں کو بتائیں آج مورخہ 19/06/09 کو سائل معہ محمد افضل ولد محمد طفیل قوم گجر ۔ مختار احمد ولد مشتاق احمد قوم راجپوت ساکنان دیہہ نے عاصمہ بی بی وغیرہ اور آسیہ علیہا کو بلوایا اور 14/06/09 کے وقوعہ کے متعلق آسیہ مذکوریہ سے پوچھا تو اُس نے اقرار کیا کہ مجھ سے واقعی میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) اور قرآن پاک کی توہین کی مرتکب ہوئی ہوں اور معافی مانگتی ہوں۔ آسیہ مذکوریہ ملزمہ نے توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم اور توہین قرآن کا ارتکاب کر کے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے دعویدار ہوں آسیہ ملزمہ مذکوریہ کے خلاف توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم اور توہین قرآن پاک کرنے پر مقدمہ درج کر کے کارروائی مطابق قانون کی جاوے عرضے دستخط اردو قاری محمد سالم ولد حافظ غلام جیلانی قوم اعوان سکنہ چک نمبر 3 انا نوالی تحصیل و ضلع ننکانہ (امام مسجد صدیق اکبر چک نمبر 3 انا نوالی)

کارروائی پولیس : اس وقت میں معہ کانسٹیبل ارشد علی 842/C کانسٹیبل نبیل نواز 909/C بسواری سرکاری گاڑی نمبری SAG/7631 جس کا ڈرائیور محمد یسین نمبر 68/C بہ برائے گشت پل نہر چندر کوٹ موجود ہوں کہ مسمی قاری محمد سالم مستغیث مذکور نے میرے پیش ہو کر درخواست مضمون بالا میرے پیش کی میں نے سردست جرم 295/C پائی جا کر درخواست ہذا بغرض اندراج مقدمہ بدست کانسٹیبل محمد ارشد 842/C ارسال تھانہ ہے مقدمہ درج کر کے نمبر مقدمہ سے اطلاع دی جاوے میں معہ ہمراہی ملزمان بغرض تفتیش روانہ موقع کا ہوتا ہوں نیز سپیشل رپورٹ ہائے جابجا افسران مجاز بھجوائی جاویں دستخط اردو مہدی حسن ASI تھانہ صدر ننکانہ صاحب از پل نہر چندر کوٹ بوقت 5/45 بجے شام۔

☆......☆......☆

صفحہ 556

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ سبحانی کراچی

قانون توہین رسالت اور گستاخ آسیہ

عبداللطیف خالد چیمہ

متحدہ ہندوستان میں غازی علم دین (رحمۃ اللہ علیہ) کی شہادت کے بعد ۱۹۲۷ء میں برطانوی حکمرانوں نے تعزیرات ہند میں دفعہ ۲۹۵۔الف کا اضافہ کیا جس کی تشریح کرتے ہوئے چودھری محمد شفیع باجوہ نے شرح مجریہ تعزیرات پاکستان میں یوں تحریر کیا ہے کہ ”یہ دفعہ ۱۹۲۷ء میں ایجاد کی گئی تاکہ کسی مذہب کے بانی پر توہین آمیز حملہ کیا جائے تو ایسا کرنے والے کو سزا دی جاسکے اس سے پہلے اس قسم کے اشخاص کے خلاف دفعہ ۱۵۳۔الف استعمال ہوا کرتی تھی مگر ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کی رو سے یہ طریقہ غلط قرار پایا۔“ پاکستان شریعت محمدیہ (ﷺ) کے نفاذ کے مقدس نام پر معرض وجود میں آیا تقسیم ملک کے بعد جب اسلامائزیشن کا مطالبہ سامنے آنے لگا تو یہ عذر پیش کیا جانے لگا کہ دینی طبقات کسی ایک فارمولے پر متفق نہیں چنانچہ (۱۹۵۱ء، ۱۹۵۳ء) دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث اور شیعہ سمیت تمام مکاتب فکر نے ۲۲ نکات متفقہ دستوری خاکہ مرتب کر کے حکمرانوں کے بہانوں کا معقول سدباب کر دیا تحریک مقدس تحفظ ختم نبوت کے نتیجے میں ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کو پارلیمنٹ نے لاہوری وقادیانی مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا تو قادیانیوں نے نہ صرف اس فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا بلکہ جناب نبی کریم ﷺ کی ختم نبوت اور شان رسالت میں بے ادبی اور گستاخیوں کے کئی طریقے ایجاد کیے۔ قادیانی غیر مسلم اقلیت قرار پانے کے بعد نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ممالک اسلام اور پاکستان کے خلاف منفی پراپیگنڈہ کر کے اپنا لوہا منوانے لگے۔ تاریخ کے ریکارڈ پر متعدد شہادتیں موجود ہیں کہ قادیانیوں نے عیسائیوں کو اقلیتوں کے حقوق کے نام پر کس طرح استعمال کیا اور بعض مواقع پر عیسائی مسلم فسادات کس طرح کروائے گئے۔ یہ مستقل اور الگ موضوع ہے لیکن امر واقع یہ ہے کہ

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

تعزیرات ہند اور تعزیرات پاکس واقعات نے ثابت کر دیا کہ وہ نا کسی بدبخت شخص نے جناب نبی کیا اور ایسی مثالیں بھی موجود ہیں روکنے اور قانون کی بالادستی قائم ۲۹۵۔سی کا اضافہ کیا گیا جو درج ذ ”نبی کریم ﷺ کی شان میں ا زبان سے ادا کیے جائیں یا تحریری بلا واسطہ یا بالواسطہ تہمت یا طعن یا کی بے حرمتی کرتا ہے اس کو موت ہوگا۔“ پاکستان کی وفاقی شرعی عدالت ہدایت کی کہ وہ ۳۰ اپریل ۱۹۹۱ء ت ختم کریں اور اگر یہ کہ تاریخ مقرر ہوں گے اور صرف سزائے موت ہو سکا چنانچہ وفاقی شرعی عدالت ایوان کو خیال آیا کہ اس قانون کی ب نے متفقہ طور پر قرارداد منظور کی کہ تو صدر ضیاء الحق مرحوم کے دور ا کے لیے تمام حکمرانوں اور تمام اد معمولی فرق کے ساتھ ہر ممکن طری چھوا گیا، حدود آرڈیننس کو تو ختم کر

صفحہ 557

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

تعزیرات ہند اور تعزیرات پاکستان میں توہین رسالت ﷺ کی جو سزا درج تھی حالات و واقعات نے ثابت کر دیا کہ وہ ناکافی ثابت ہوئی۔ ایسے واقعات کی ایک لمبی فہرست ہے کہ کسی بدبخت شخص نے جناب نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کی اور لوگوں نے پکڑ لیا اور ایسی مثالیں بھی موجود ہیں کہ اس کو جہنم رسید کر دیا گیا۔ اس لئے اس قسم کے واقعات کو روکنے اور قانون کی بالادستی قائم کرنے کے لئے ۱۹۸۲ء میں تعزیرات پاکستان میں دفعہ ۲۹۵۔سی کا اضافہ کیا گیا جو درج ذیل ہے:

”نبی کریم ﷺ کی شان میں اہانت آمیز کلمات کا استعمال ”جو شخص الفاظ کے ذریعے خواہ زبان سے ادا کئے جائیں یا تحریر میں لائے گئے ہوں یا دکھلائی دینے والی تمثیل کے ذریعے یا بلاواسطہ یا بالواسطہ تہمت یا طعن یا چوٹ کے ذریعے نبی کریم حضرت محمد ﷺ کے مقدس نام کی بے حرمتی کرتا ہے اس کو موت یا عمر قید کی سزا دی جائے گی اور وہ جرمانہ بھی مستوجب ہوگا۔“

پاکستان کی وفاقی شرعی عدالت نے اکتوبر ۱۹۹۰ء میں اپنے فیصلے میں صدر پاکستان کو ہدایت کی کہ وہ ۳۰ اپریل ۱۹۹۱ء تک اس قانون کے سقم کو دور کریں اور ”یا عمر قید“ کے الفاظ ختم کریں اور اگر یہ کہ تاریخ مقررہ تک ایسا نہ کیا گیا تو پھر اس کے بعد یہ الفاظ منسوخ تصور ہوں گے اور صرف سزائے موت کا قانون بن جائے گا۔ مقررہ تاریخ تک اس طرح نہ ہوسکا چنانچہ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کی رو سے یہ الفاظ کالعدم ہو گئے۔ قانون ساز ایوان کو خیال آیا کہ اس قانون کی اصلاح کی ضرورت ہے چنانچہ ۲ جون ۱۹۹۲ء کو قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر قرارداد منظور کی کہ توہین رسالت ﷺ کے مجرم کو سزائے موت دی جائے۔

صدر ضیاء الحق مرحوم کے دور اقتدار میں بننے والے اس قانون کو غیر موثر یا ختم کرنے کے لئے تمام حکمرانوں اور تمام ادوار میں طبع آزمائی کی گئی۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نے معمولی فرق کے ساتھ ہر ممکن طریقہ اختیار کیا۔ پرویز مشرف کے دور میں آخری حدوں کو چھوا گیا، حدود آرڈیننس کو تو ختم کر دیا گیا لیکن ۲۹۵۔سی پر تجربات ہوتے رہے اور قانون

صفحہ 558

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

کے غلط استعمال و ایکسپلائٹ کیا گیا کہنے والے یہ نہیں سوچتے یا پھر ان کی سوچوں پر کڑے پہرے بٹھا دیے گئے ہیں کہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۳۰۲ سمیت اکثر قوانین غلط بھی استعمال ہوئے کبھی ایسا بھی ہوا کہ کسی نے نہیں کہا کہ قتل کے مقدمات میں لوگ ایف آئی آر میں غلط نام درج کروا دیتے ہیں لہٰذا دفعہ ۳۰۲ کا ہی خاتمہ کر دیا جائے۔ تازہ صورت حال یہ ہے کہ جناب نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں ایک مسیحی خاتون آسیہ زوجہ عاشق مسیح ساکن چک نمبر ۳، اٹانوالی، ضلع ننکانہ صاحب نے ۱۴ جون ۲۰۰۹ء کو گاؤں کی عورتوں کے روبرو کہا کہ: ”آپ مسلمانوں کے (نعوذ باللہ) نبی ﷺ کیا ہیں؟ نقل کفر کفر نہ باشد، وہ وفات سے ایک ماہ قبل چارپائی پر بیمار پڑے رہے اور تمہارے نبی (ﷺ) ................................................... اور تمہارے نبی نے حضرت خدیجہ (رضی اللہ عنہا) سے محض مال کی خاطر شادی کی اور مال لوٹنے کے بعد انہیں گھر سے نکال دیا۔ قرآن پاک سے متعلق کہا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں ہے بلکہ خود بنائی گئی کتاب ہے۔“

ملزمہ آسیہ دیگر عورتوں کے ساتھ فالسہ توڑ رہی تھی گاؤں کی عورتوں نے یہ ساری باتیں گاؤں کے لوگوں کو بتائیں ۱۹ جون ۲۰۰۹ء کو گاؤں کے افراد نے ملزمہ آسیہ مسیح سے پوچھا تو اس نے اس بات کا اقرار کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ اور قرآن پاک کی توہین کی ہے اسی دن ۱۹ جون ۲۰۰۹ء کو آسیہ مسیح کے خلاف مقدمہ نمبر ۳۲۶/۰۹ زیر دفعہ ۲۹۵۔سی، ت۔پ تھانہ صدر ننکانہ صاحب درج ہوا۔ اسی روز پولیس نے آسیہ مسیح کو گرفتار کر لیا، اس مقدمے کی تفتیش ایس پی انویسٹی گیشن شیخوپورہ محمد امین بخاری نے کی جس میں آسیہ مسیح کو گناہ گار قرار دیا گیا۔ مقدمہ کا چالان بعدالت محمد نوید اقبال ایڈیشنل سیشن جج بھجوایا گیا، تقریباً ڈیڑھ سال تک مقدمہ عدالت مذکورہ میں زیر سماعت رہا۔ مستغیث مقدمہ نے اپنے تمام گواہان عدالت میں پیش کیے، استغاثہ کی شہادت کے بعد آسیہ مسیح کو صفائی کا پورا موقع دیا لیکن ملزمہ سفائی میں کوئی شہادت پیش نہ کر سکی۔ جرم ثابت ہونے پر عدالت نے ۸ نومبر ۲۰۱۰ء کو

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

سزائے موت اور ایک لاکھ روپے ج عدالت عالیہ میں اپیل دائر کرنے کا ۱۶ نومبر کو وفاقی وزیر اقلیتی امور ﷺ کو ختم کرنے کا تہیہ کر لیا ہے۔ ساتھ ڈسٹرکٹ جیل شیخوپورہ میں پر آصف علی زرداری سے اس کی سزا گناہ ہے۔ اس ساری صورت حال یہ ہے کہ آسیہ نے جرم کیا، ڈی پی او خلاف عدالت عالیہ میں جانا ملزمہ پھر اپیل کا ایک پورا طریقہ کار ہے کو بائی پاس کیا۔ گورنر پنجاب نے پاسداری ہے؟ کیا ملک وملت سے ہونے کے بعد سزا ہوئی اور قانونی یہاں تو گورنر جیل میں خود ملزمہ کی گناہ ہے۔ کیا یہ نظام عدل کی توہین محکمہ داخلہ کی جانب سے آسیہ مسیح کی منظوری نہیں دی اور گورنر سلمان زرداری سے آسیہ مسیح کی سزا معاف فرما رہے تھے کہ ”میں نے پورا کیس کی مرتکب ہوئی ۔“ آئینی ماہرین یا وزیر اعلیٰ کی ہدایات کے بغیر ای صدر کو آئین کے آرٹیکل نمبر ۴۵

صفحہ 559

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

سزائے موت اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی اور ملزمہ کو سات دن کے اندر اندر عدالت عالیہ میں اپیل دائر کرنے کا حق دیا۔

۱۶ نومبر کو وفاقی وزیر اقلیتی امور شہباز بھٹی نے کہا کہ حکومت نے قانون توہین رسالت ﷺ کو ختم کرنے کا تہیہ کر لیا ہے۔ ۲۰ نومبر کو گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے مجرمہ آسیہ مسیح کے ساتھ ڈسٹرکٹ جیل شیخوپورہ میں پریس کانفرنس کی اور مجرمہ کو یقین دلایا کہ صدر پاکستان آصف علی زرداری سے اس کی سزا معاف کروائیں گے گورنر نے یہ بھی کہا کہ آسیہ مسیح بے گناہ ہے۔ اس ساری صورت حال میں وفاقی وزیر اقلیتی امور انتہائی سرگرم نظر آئے۔ سوال یہ ہے کہ آسیہ نے جرم کیا، ڈی پی او کے حکم پر پرچہ درج ہوا، عدالتی پراسیس پورا ہوا فیصلے کے خلاف عدالت عالیہ میں جانا ملزمہ کا قانونی حق ہے۔ ہائی کورٹ کے بعد سپریم کورٹ اور پھر اپیل کا ایک پورا طریقہ کار ہے۔ گورنر نے کس قانون کے تحت اور کس حیثیت سے قانون کو بائی پاس کیا۔ گورنر پنجاب نے اپنے منصب کے لیے جو حلف اٹھایا تھا کیا یہ اس کی پاسداری ہے؟ کیا ملک وملت سے یہ غداری نہیں؟ ایسا تو دیکھا نہ سنا کہ عدالتی پراسیس مکمل ہونے کے بعد سزا ہوئی اور قانونی مراحل طے ہونے کے بعد صدر نے معافی دی ہو لیکن یہاں تو گورنر جیل میں خود ملزمہ کی درخواست ٹائپ کروا رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ یہ بے گناہ ہے۔ کیا یہ نظام عدل کی توہین نہیں؟ پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ ”وزیر اعلیٰ پنجاب نے محکمہ داخلہ کی جانب سے آسیہ مسیح کی سزا معاف کرنے کے حوالے سے ریفرنس تیار کرنے کی منظوری نہیں دی اور گورنر سلمان تاثیر کو ایسا کوئی آئینی اختیار حاصل نہیں تھا کہ وہ صدر زرداری سے آسیہ مسیح کی سزا معاف کرنے کی درخواست کرتے۔“ لیکن گورنر بہادر تو ارشاد فرما رہے تھے کہ ”میں نے پورا کیس اسٹڈی کیا ہے اور مجھے نہیں لگتا کہ وہ توہین رسالت ﷺ کی مرتکب ہوئی ۔“ آئینی ماہرین کہتے ہیں کہ آئین کے آرٹیکل نمبر ۱۰۵ کے تحت گورنر، کابینہ یا وزیر اعلیٰ کی ہدایات کے بغیر ایسا نہیں کر سکتے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ قانونی پوزیشن یہ ہے کہ صدر کو آئین کے آرٹیکل نمبر ۴۵ کے تحت عدالتی سزا معاف یا معطل کرنے کے اختیارات

صفحہ 560

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 560 ماہنامہ مسیحائی کراچی

حاصل ہیں لیکن وہ وزیراعظم کی ایڈوائس کے بغیر ایسا نہیں کرسکتے۔ یہاں تو معاملہ ہی الٹ ہے گورنر اس قانون کو کالا قانون کہہ رہے ہیں۔ گزشتہ سال فیصل آباد ٹیکسٹائل یونیورسٹی میں ایک طالب علم نے انہی وجوہ کی بناء پر ان سے اپنی ڈگری لینے سے انکار کرکے سب کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق ننکانہ صاحب اور شیخوپورہ سے احتجاج آگے بڑھ رہا ہے۔ ایک ٹی وی چینل کی ٹیم نے وقوعہ والے مقام کا ۲۴ نومبر کو دورہ کیا، آسیہ مسیح کے بقیہ عزیز واقارب معمول کی زندگی گزار رہے ہیں جب کہ پراپیگنڈہ اس کے برعکس ہے۔

”مجلس احرار اسلام پاکستان کے امیر سید عطاءالمہیمن بخاری نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ شیخوپورہ جیل میں آسیہ مسیح سے ملاقات کے موقع پر جو کچھ گورنر پنجاب نے کہا کہ وہ حکومتی پالیسی نظر آرہی ہے اس طرح حکومت اور گورنر پنجاب ۲۹۵۔سی کی ملزمہ کی پشت پناہی کرکے خود توہین رسالت ﷺ اور توہین عدالت کے مرتکب ہوئے تھے۔ عدالت سے سزا پانے کے بعد اس کو بے گناہ قرار دے کر قانون آئین اور عدالتوں کا مذاق اڑایا جارہا ہے اور اپنی رائے کو قانون کہا جارہا ہے۔ ماورائے آئین اور ماورائے عدالت اقدامات کیے جارہے ہیں، اس سے قانون اپنے ہاتھ میں لینے کا رجحان بڑھے گا اور لاقانونیت کا راج ہوگا جب کہ حکمران اور خصوصاً گورنر پنجاب اس کا موجب بن رہے ہیں، کیا ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے حوالے سے بھی بحرانوں اور سیاستدانوں کو کوئی تشویش ہے کہ نہیں اور یقیناً نہیں تو اس کی اصل وجوہ کیا ہیں۔ اسلامی سزاؤں کا مذاق اڑانا اور اسلامی سزاؤں کے خلاف ہرزہ سرائی کرنا پیپلز پارٹی کا پرانا وطیرہ ہے۔ حکمرانوں کو اپنے اوپر تنقید گوارہ نہیں لیکن محسن انسانیت ﷺ کے منصب رسالت و ختم نبوت پر تنقید کا حق مانگا جارہا ہے۔ یہ کون سی انسانیت کی خدمت ہے۔“

۲۱ نومبر کو آسیہ مسیح کو پہلے سے طے شدہ پروگرام کے تحت اسے خفیہ طور پر اسلام آباد پہنچایا گیا اور منصوبہ بندی کے تحت اس کو پوری فیملی سمیت بیرون ملک بھجوانے کے انتظامات کئے تھے۔

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

اس صورت حال پر تبصرہ کر زاہد الراشدی نے کہا ہے کہ ” عدالت کی طرف سے سزائے عمل سامنے آیا ہے وہ اس احساسات کے منافی ہونے ہے جس حلف کی بنیاد پر وہ گ دیے جانے کی پیش کش سے کس کے اشارے پر ہوئی؟

نعت رس

تھی کبھی تھے ہمیں رہ گئے ہیں کھو چکے کیوں بن گئی جمع ہوں کیا حقیق ”بیٹھ اور پھر

صفحہ 561

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے پاکستان شریعت کونسل کے سیکریٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی نے کہا ہے کہ ”جناب نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی پر آسیہ مسیح کو عدالت کی طرف سے سزائے موت سنائے جانے کے بعد گورنر پنجاب سلمان تاثیر کا جو رد عمل سامنے آیا ہے وہ اس ایمانی اور نازک مسئلے پر اسلامیان پاکستان کے جذبات و احساسات کے منافی ہونے کے ساتھ ساتھ گورنر پنجاب کے اس حلف کی بھی خلاف ورزی ہے جس حلف کی بنیاد پر وہ گورنر پنجاب بنے۔ آسیہ مسیح کو ایک مغربی ملک میں سیاسی پناہ دیے جانے کی پیش کش سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ اس سلسلے میں گورنر پنجاب کی مداخلت کس کے اشارے پر ہوئی؟

نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم

منیر نیازی

تھی کبھی لوح جہاں پر کب کوئی اپنی نظر
تھے ہمیں معمورۂ دنیا میں بس حق کے سفیر
رہ گئے ہیں آج بن کر روز و شب کے کیوں اسیر
کھو چکے کیوں آج ہم وہ تابش مہر منیر؟
کیوں کھنچی ہے گرد اپنے تیرگی کی یہ لکیر؟
بن گئی ملت یہ کیوں بس سرد آہوں کی نفیر؟
جمع ہوں اس اک حقیقت پر ہی سارے شیب و پیر
کیا حقیقت؟ ”ہے غنی اللہ‘ باقی سب فقیر!
”بیٹھ جائیں سایۂ دیوار احمد میں منیر
اور پھر سوچیں وہ باتیں جن کو ہونا ہے ابھی!“
صفحہ 562

ماہنامہ سبحانی کراچی 562 حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

گورنر کا جنازہ! جس نے حق و باطل کے درمیان فیصلہ کر دیا

محمد نوید شاہین ایڈووکیٹ

”حق و باطل کے درمیان فیصلہ جنازے کرتے ہیں“ امام حنبل کا یہ فکر انگیز قول آب زر سے لکھنے کے قابل ہے۔ آئیے! اس قول کی روشنی میں گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے جنازے کو دیکھتے ہیں................ اور فیصلہ میں آپ پر چھوڑتا ہوں..............14 جون 2009ء کو ضلع ننکانہ صاحب کے ایک نواحی گاؤں اٹاںوالی میں عیسائی مذہب کی مبلغہ آسیہ مسیح نے قرآن مجید اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں نہایت نازیبا، دل آزار اور گستاخانہ کلمات کہے جن کو دہرانے کی میرا قلم اجازت نہیں دیتا۔ آسیہ مسیح کے شوہر عاشق مسیح نے فوری طور پر وفاقی وزیر اقلیتی اُمور شہباز بھٹی سے رابطہ کیا جن کی مداخلت سے کئی دن تک ملزمہ کے خلاف پرچہ درج نہ ہوسکا۔ وفاقی وزیر کی اس حرکت سے علاقہ بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ بالآخر 19 جون 2009ء کو آسیہ مسیح کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-C کے تحت ایف آئی آر نمبر 326 درج کر لی گئی۔ ملزمہ کو گرفتار کر کے حفاظتی اقدام کے طور ڈسٹرکٹ جیل شیخوپورہ بھیج دیا تھا۔ اہم بات یہ ہے کہ اس کیس کی تفتیش پنجاب پولیس میں نیک نامی اور دیانت داری کی مثالی شہرت رکھنے والے جناب سید محمد امین بخاری ایس پی شیخوپورہ نے کی، جنھوں نے 26 جون 2009ء کو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 161 کے تحت آسیہ مسیح کا بیان ریکارڈ کیا اور نہایت جانفشانی، غیر جانبداری اور شفاف طریقے سے اس کیس کے تمام پہلوؤں کی مکمل تفتیش کرتے ہوئے آسیہ مسیح کو واقعی ملزمہ قرار دیا اور اپنی رپورٹ میں لکھا کہ ملزمہ آسیہ مسیح کا حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں اور قرآن مجید کے متعلق گستاخانہ باتیں کرنا ثابت ہوا ہے۔ ملزمہ نے یہ تمام باتیں نہ صرف تسلیم کیں ہیں بلکہ اپنی غلطی کی معافی بھی مانگی ہے۔

اس مقدمہ کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج ننکانہ صاحب جناب محمد نوید اقبال کی عدالت میں ہوئی۔ ملزمہ کی طرف سے اکبر منور درانی ایڈووکیٹ، طاہر گل صادق ایڈووکیٹ، چوہدری صابر انجم ایڈووکیٹ، جسٹن گل ایڈووکیٹ، طاہر بشیر ایڈووکیٹ، ایرک جون ایڈووکیٹ، منظور قادر

صفحہ 563

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 563 ماہنامہ سبحانی کراچی

ایڈووکیٹ سپریم کورٹ، جبکہ استغاثہ کی طرف سے میاں ذوالفقار علی ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔ تقریباً ڈیڑھ سال تک اس مقدمہ کی سماعت ہوتی رہی۔ 8 نومبر 2010ء کو اس مقدمہ کا فیصلہ سناتے ہوئے ایڈیشنل سیشن جج نے جرم ثابت ہونے پر ملزمہ آسیہ مسیح کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-سی کے تحت سزائے موت کا مستحق قرار دیتے ہوئے اپنے فیصلہ میں لکھا:

’’یہاں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اس گاؤں میں عیسائی حضرات کی ایک کثیر تعداد مسلمانوں کے ساتھ کئی نسلوں سے آباد ہے۔ لیکن ماضی میں اس قسم کا کبھی کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ مسلمان اور عیسائی دونوں ایک دوسرے کے مذہبی جذبات اور اعتقادات کے سلسلے میں برداشت اور رواداری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اگر توہین رسالت ﷺ کا اس قسم کا کوئی واقعہ پہلے کبھی اس گاؤں میں پیش آیا ہوتا، تو یقیناً فوجداری مقدمات اور مذہبی جھگڑے اس گاؤں میں پہلے سے موجود ہوتے۔ لہٰذا اس دفعہ یقیناً توہین رسالت ﷺ کا ارتکاب ہوا ہے۔ جس کے باعث مقدمہ درج ہوا اور عوامی اجتماع منعقد ہوا اور یہ معاملہ اس قصبے اور اردگرد میں موضوع بحث بن گیا۔ یہاں یہ ذکر کرنا بھی مناسب ہوگا کہ نہ تو ملزمہ خاتون نے اپنی صفائی میں کوئی شہادت پیش کی، اور نہ ہی دفعہ 340(2) ضابطہ فوجداری کی تعمیل کرتے ہوئے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات غلط ثابت کیے۔ مندرجہ بالا بحث کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ استغاثہ نے اس مقدمہ کو کسی شک وشبہ سے بالاتر ثابت کر دیا ہے۔ تمام استغاثہ گواہان نے استغاثہ کے موقف کی متفقہ اور مدلل انداز میں تائید و تصدیق کی ہے۔ استغاثہ گواہان اور ملزمہ، اُن کے بزرگوں، یا ان کے خاندانوں میں کسی دشمنی کا وجود نہیں پایا جاسکا۔ لہٰذا ملزمہ خاتون کو ناجائز طور پر اس مقدمہ میں ملوث کیے جانے کا قطعاً کوئی امکان نہیں۔ ملزمہ کو اس مقدمہ میں کوئی رعایت دیئے جانے کا بھی کوئی جواز موجود نہیں۔ لہٰذا میں ملزمہ مسماۃ آسیہ بی بی زوجہ عاشق کو زیر دفعہ 295/C تعزیرات پاکستان موت کی سزا کا مجرم ٹھہراتا ہوں۔‘‘

اس فیصلہ کے خلاف دُنیا بھر کی سیکولر لابیاں، نام نہاد ’انسانی حقوق‘ کی تنظیمیں اور عیسائی نمائندے میدان میں آگئے۔ عیسائی پوپ بینیڈکٹ نے آسیہ ملعونہ کے دفاع میں احتجاج کرتے ہوئے اس فیصلہ کی مذمت کی اور کہا کہ وہ ایسے کسی فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہونے دیں گے۔ پوپ نے ویٹی کن میں منعقدہ خصوصی دُعائیہ تقریب میں آسیہ مسیح کی رہائی کے لیے نہ صرف اس کا نام لے کر دُعا کرائی بلکہ صدرِ پاکستان سے بھی اپیل کی کہ اس کی سزا معاف کی جائے۔ اُنھوں نے حکومتِ پاکستان سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ قانونِ توہین رسالت کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔ پوپ

صفحہ 564

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 564 ماہنامہ مسیحائی کراچی

کے بیان کے بعد 20 نومبر 2010ء کو گورنر پنجاب سلمان تاثیر عدالت سے مجرمہ قرار دی جانے والی خاتون سے ملنے کے لیے فوراً ڈسٹرکٹ جیل شیخوپورہ پہنچے۔ جہاں انھوں نے سپرنٹنڈنٹ جیل شیخوپورہ کے وی آئی پی کمرہ میں آسیہ مسیح سے خصوصی ملاقات کی اور اُسے حکومتی سطح پر ہر ممکن امداد کا یقین دلایا۔ وہ گورنر ہاؤس سے اپنے ساتھ آسیہ مسیح کو ملنے والی سزا کی معافی کی ٹائپ شدہ درخواست بھی ہمراہ لائے تھے۔ گورنر سلمان تاثیر نے میڈیا کی موجودگی میں آسیہ مسیح سے کہا کہ یہ آپ کی طرف سے تحریر کردہ درخواست ہے، آپ اس پر دستخط کردیں تاکہ میں بطور گورنر اس درخواست کو صدر آصف علی زرداری تک پہنچا کر سزا کی معافی ممکن بنواسکوں۔ سزا معافی کے بعد آپ کو یورپ کے کسی ملک میں بھجوا دیا جائے گا۔ اس موقع پر گورنر پنجاب نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ملعونہ آسیہ مسیح کو معصوم قرار دیا اور کہا کہ دنیا کی کوئی طاقت آسیہ مسیح کو سزا نہیں دے سکتی۔ انھوں نے کہا کہ قانون توہین رسالت ایک ”امتیازی، غیرانسانی اور کالا قانون“ ہے، جس کو ہر حالت میں ختم ہونا چاہیے۔ اس پریس کانفرنس کے ذریعے یورپی ممالک کو یہ پیغام بھی دیا گیا کہ حکومت آسیہ مسیح کو سزا دینے کے حق میں نہیں ہے اور حکومت ایسے تمام قوانین کو بھی ختم کردے گی جو اقلیتوں کی ”آزادی اظہار“ کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ معتبر ذرائع کے مطابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے ایڈیشنل سیشن جج جناب محمد نوید اقبال، جنھوں نے شان رسالت میں گستاخی کا جرم ثابت ہونے پر آسیہ مسیح کو سزائے موت سنائی تھی، کو ٹیلی فون کیا اور نہایت غلیظ زبان استعمال کی۔ اس کے بعد وہ آئے روز مختلف ٹی وی چینلز پر برملا کہتے رہے کہ قانون توہین رسالت ضیاء الحق کے دور میں انسانوں کا بنایا ہوا ”کالا قانون“ ہے، اسے ختم ہونا چاہیے۔ یاد رہے کہ سلمان تاثیر اس سے پہلے بھی قانون توہین رسالت کے خاتمہ کے لیے کئی بار متنازعہ اور اشتعال انگیز بیانات دے چکے تھے۔ اس کے ردعمل میں دی یونیورسٹی آف فیصل آباد سے ٹیکسٹائل انجینئرنگ میں تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے، نیک بخت طالب علم صاحبزادہ عطا الرسول مہاروی نے 16 نومبر 2009ء کو یونیورسٹی کے سالانہ کانووکیشن میں مہمان خصوصی گورنر پنجاب سلمان تاثیر سے احتجاجاً برانز میڈل وصول کرنے سے انکار کیا اور حقارت سے کہا کہ آپ نہ صرف گستاخان رسول کی سرپرستی کرتے ہیں، بلکہ توہین رسالت ایکٹ 295/C کو ظالمانہ اور ختم کرنے کے بیانات بھی جاری کرتے ہیں۔ اس طرح آپ بذات خود توہین رسالت کے مرتکب ہوئے ہیں، لہٰذا آپ سے میڈل وصول کرنا میں گناہ سمجھتا

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

30 نومبر 2010ء کو ملک کے اور ملعونہ آسیہ مسیح بے جا کی حمایت و سر پر ون پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی و سابق رسالت ایکٹ کو ختم کرنے کا بل اسمبلی آصف علی زرداری نے وفاقی وزیر اقلیتی رکنی کمیٹی تشکیل دی جو قانون توہین رسال سفارشات پیش کرے گی۔

4 جنوری 2010ء کو گورنر سل قادری نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ م سکس ٹو کی کہسار مارکیٹ میں واقع ا کے ساتھ کھانا کھا کر واپس اپنی گاڑی ملک ممتاز حسین قادری نے ان پر گولی طور پر پولیس کی گاڑی میں ڈال کر پو غازی ملک ممتاز حسین قادری نے مو حیران کن حد تک نہایت پرسکون اور م کہ ”گورنر پنجاب نے قانون توہین رس سزا موت ہے۔ سلمان تاثیر گستاخ عدالت سے سزا پانے والی ملعونہ آسی تھا۔ اس پر میں نے اپنا فرض پورا کر کریں۔ موت اور زندگی میں کوئی فر لوگوں میں بعض سے بعض کو دفع نہ کر فضل کرنے والا ہے“ (البقرہ: 251)

اسی روز تمام مکاتب فکر کے کے جرم میں سزا یافتہ ملعونہ آسیہ مسیح کی

صفحہ 565

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 565 ماہنامہ سبحانی کراچی

30 نومبر 2010ء کو ملک کے جید علماء کرام نے قانون توہین رسالت کو ”کالا قانون“ کہنے اور ملعونہ آسیہ مسیح کی بے جا حمایت و سرپرستی کرنے پر سلمان تاثیر کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا۔ اسی دن پیپلز پارٹی کی رُکن قومی اسمبلی و سابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شیری رحمان نے قانون توہین رسالت ایکٹ کو ختم کرنے کا بل اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرایا۔ اس سے اگلے روز صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے وفاقی وزیر اقلیتی امور شہباز بھٹی مسیح کی سربراہی میں اراکین اسمبلی پر مشتمل 9 رکنی کمیٹی تشکیل دی جو قانون توہین رسالت کو ختم کرنے کے حوالے سے ایک ماہ کے اندر حکومت کو اپنی سفارشات پیش کرے گی۔

4 جنوری 2010ء کو گورنر سلمان تاثیر کو ان کے سرکاری محافظ غازی ملک ممتاز حسین قادری نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ واقعات کے مطابق گورنر پنجاب، اسلام آباد کے سیکٹر ایف سکس ٹو کی کوہسار مارکیٹ میں واقع ایک مہنگے ریسٹورنٹ میں اپنے کاروباری دوست شیخ وقاص کے ساتھ کھانا کھا کر واپس اپنی گاڑی کی طرف آ رہے تھے کہ ان کے سرکاری محافظ گن مین غازی ملک ممتاز حسین قادری نے ان پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی جس پر وہ شدید زخمی ہو گئے۔ انھیں فوری طور پر پولیس کی گاڑی میں ڈال کر پولی کلینک لے جایا گیا لیکن وہ راستے میں ہی دم توڑ گئے۔ غازی ملک ممتاز حسین قادری نے موقع پر خود کو پولیس کے حوالے کر دیا۔ گرفتاری کے وقت وہ حیران کن حد تک نہایت پرسکون اور مطمئن نظر آ رہا تھا۔ اس نے ابتدائی تحقیقات میں اعتراف کیا کہ ”گورنر پنجاب نے قانون توہین رسالت کو ’کالا قانون‘ قرار دیا تھا، اس لیے گستاخ رسول کی سزا موت ہے۔ سلمان تاثیر گستاخ رسول تھا۔ اس نے چونکہ قانون توہین رسالت کے تحت عدالت سے سزا پانے والی ملعونہ آسیہ مسیح کو بچانے کا عندیہ دے کر خود کو گستاخ رسول ثابت کر دیا تھا۔ اس پر میں نے اپنا فرض پورا کر دیا۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنی غلامی میں قبول کر لیں۔ موت اور زندگی میں کوئی فرق نہیں ۔“ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں ”اور اگر اللہ لوگوں میں بعض سے بعض کو دفع نہ کرے تو ضرور زمین پر فساد پیدا ہو جائے مگر اللہ سب جہانوں پر فضل کرنے والا ہے“ (البقرہ: 251)

اسی روز تمام مکاتب فکر کے 500 سے زائد جید علماء کرام نے یہ فیصلہ کیا کہ توہین رسالت کے جرم میں سزا یافتہ ملعونہ آسیہ مسیح کی حمایت کرنے اور قانون توہین رسالت کو ”کالا قانون“ کہنے

صفحہ 566

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

کے باعث سلمان تاثیر کی نماز جنازہ نہ پڑھی جائے اور نہ ہی اس کا افسوس کیا جائے۔ کمشنر لاہور خسرو پرویز نے رات گئے بادشاہی مسجد کے خطیب عبدالخبیر آزاد کو فون کیا اور کہا کہ آپ نے کل ایک بجے سلمان تاثیر کا جنازہ پڑھانا ہے۔ مولانا عبدالخبیر آزاد کو حالات کی سنگینی کا احساس تھا، اُنھوں نے کمشنر لاہور سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ وہ شہر سے باہر ہیں اور کل تک واپسی ناممکن ہے۔ لہٰذا اُن کے لیے نماز جنازہ پڑھانا ممکن نہیں ہے۔ بعدازاں اعلیٰ انتظامیہ نے داتا دربار مسجد کے خطیب مولانا محمد رمضان سیالوی سے رابطہ کیا، تو اُنھوں نے اپنی بیماری کا کہہ کر جنازہ پڑھانے سے معذرت کر لی۔ اس کے بعد گورنر ہاؤس کے اعلیٰ حکام نے گورنر ہاؤس کی مسجد کے خطیب قاری محمد اسماعیل سے رابطہ کیا اور انھیں دھمکی آمیز لہجے میں سلمان تاثیر کی نماز جنازہ پڑھانے کا حکم دیا۔ جناب قاری محمد اسماعیل نے نماز جنازہ پڑھانے سے صاف انکار کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ مجھے ملازمت سے برخاست کرنا چاہیں تو میں اس کے لیے ذہنی طور پر تیار ہوں۔ مگر میں گستاخ رسول سلمان تاثیر کا جنازہ نہیں پڑھا سکتا۔ چاروں طرف سے انکار کے بعد اعلیٰ انتظامیہ کی طرف سے نماز جنازہ کے لیے محکمہ اوقاف کے متعدد سرکاری علماء کرام سے رابطے کیے گئے مگر کسی نے حامی نہ بھری بلکہ اکثریت نے اپنے موبائل فون بند کر لیے۔

ایک چہرہ بھی شناسا نہیں نکلا اُس کا وہ جو کہتا تھا کہ میری سب سے شناسائی ہے

اس صورت حال پر پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت بے حد پریشان ہوئی۔ لہٰذا اُنھوں نے فوری طور پر اپنی جماعت سے وابستہ ایک آزاد خیال مولوی افضل چشتی عرف بکی مار کو جنازے کے لیے بلایا۔ جنازے کے لیے ایک بجے دوپہر کا وقت مقرر کیا گیا تھا لیکن جیالوں کی ہلڑ بازی، بد نظمی اور مست قلندر کی وجہ سے صفیں ترتیب دینے میں دقت ہو رہی تھی۔ حکومت اور پیپلز پارٹی کے اعلیٰ عہدیدار وقفے وقفے سے جنازہ میں آ رہے تھے تاکہ وہ ٹی وی چینلز پر دکھائی دے سکیں۔ وزیراعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی تقریباً ڈیڑھ بجے کے قریب جنازہ میں شرکت کے لیے آئے تو جیالے اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے لیے ان پر مکھیوں کی طرح امڈ پڑے جس سے وہاں شدید بد نظمی پیدا ہوئی۔ ان سب چیزوں سے بے نیاز ایک کونے میں وفاقی وزیر قانون بابر اعوان گورنر پنجاب بننے کی افواہ پر پیپلز پارٹی کے کارکنان سے بڑی گرمجوشی سے ہاتھ ملا رہے تھے۔ سپیکر پنجاب اسمبلی رانا محمد اقبال جنازے کے لیے جب گورنر ہاؤس پہنچے تو پیپلز پارٹی کے کارکنان نے نواز شریف

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء کے خلاف شدید نعرے بازی شر سے واپس چلے گئے۔ وفاقی وزی پارٹی پنجاب کے صدر امتیاز صفد تھا کہ انھیں سلمان تاثیر کی موجو حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اسی ا آواز سنائی دی۔ جو جہاں کھڑا دوسری اللہ اکبر ہوئی، 6 سیکنڈ السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہہ دیا گیا جنازہ تھا کہ جس کے امام کا م بھی تین صفیں تھیں۔ اس نام حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت طلب کی جارہی سلمان تاثیر ”امتیازی قانون خاص بات یہ ہے کہ ایم کیو ایم جماعت کے کسی معمولی سے ملازمت کرنے والا کوئی بھی تاثیر کے تابوت سے اس قدر انتظامیہ نے فوری طور پر تابو سے کوئی خاص فرق نہ پڑا۔ ب میں لایا گیا، جہاں فوج اور اُسے زمین میں اُتارا گیا نے گورنر ہاؤس کے لیے دو (میانی قبرستان وغیرہ) میں نہیں سکتا۔ معلوم ہوتا ہے کہ جنہیں عوام الناس کا داخلہ

صفحہ 567

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 567 ماہنامہ مسیحائی کراچی

کے خلاف شدید نعرے بازی شروع کر دی۔ اس پر وہ قائم علی شاہ وزیر اعلیٰ سندھ کے کہنے پر وہاں سے واپس چلے گئے۔ وفاقی وزیر اطلاعات قمر الزماں کائرہ، سینئر صوبائی وزیر راجہ ریاض احمد، پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر امتیاز صفدر وڑائچ ہنس ہنس کر کارکنان سے مل رہے تھے، جس سے ظاہر ہو رہا تھا کہ انھیں سلمان تاثیر کی موت کا کوئی دُکھ نہیں ہوا بلکہ وہ اس کی آڑ میں مخصوص سیاسی مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اسی اثنا میں تقریباً ایک بج کر 52 منٹ پر سپیکر سے اچانک اللہ اکبر کی آواز سنائی دی۔ جو جہاں کھڑا تھا، جس حالت میں تھا، فوراً ناف پر ہاتھ باندھ لیے۔ 5 سیکنڈ بعد دوسری اللہ اکبر ہوئی، 6 سیکنڈ بعد تیسری اللہ اکبر ہوئی اور 5 سیکنڈ بعد چوتھی بار اللہ اکبر کے بعد السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہہ دیا گیا۔ یعنی 15، 20 سیکنڈ میں نمازِ جنازہ پڑھا دیا گیا۔ یہ دُنیا کا واحد جنازہ تھا کہ جس کے امام کا کچھ پتا نہ تھا کہ وہ کہاں کھڑا ہے؟ دلچسپ بات یہ ہے کہ امام کے آگے بھی تین صفیں تھیں۔ اس نان سٹاپ جنازہ کے بعد افضل چشتی نے دُعا مانگی اور کہا یا اللہ ! مرحوم کو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب فرما۔ حیرانی ہے اس رسولِ معظم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت طلب کی جارہی تھی کہ جن کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لیے بنائے گئے قانون کو سلمان تاثیر ”امتیازی قانون، غیر انسانی قانون“ اور ”کالا قانون“ کہتے رہے۔ اس جنازہ کی خاص بات یہ ہے کہ ایم کیو ایم اور اے این پی ایسی سیکولر جماعتوں کے علاوہ کسی بھی دینی، سیاسی جماعت کے کسی معمولی سے عہدیدار نے بھی شرکت نہیں کی۔ یہاں تک کہ گورنر ہاؤس میں ملازمت کرنے والا کوئی بھی شخص جنازے میں شامل نہیں ہوا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ سلمان تاثیر کے تابوت سے اس قدر بد بو آ رہی تھی کہ اس کے قریب کھڑا ہونا محال تھا۔ لہٰذا گورنر ہاؤس کی انتظامیہ نے فوری طور پر تابوت پر خالص عرق گلاب اور مختلف قیمتی پرفیومز کا سپرے کیا لیکن اس سے کوئی خاص فرق نہ پڑا۔ بعد ازاں ہیلی کاپٹر کے ذریعے تابوت کیولری گراؤنڈ کے فوجی قبرستان میں لایا گیا، جہاں فوج اور رینجرز کی کڑی نگرانی میں سرکاری اعزاز کے ساتھ رسیوں کی مدد سے اُسے زمین میں اُتارا گیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر گورنر سلمان تاثیر عوامی آدمی تھے اور انھوں نے گورنر ہاؤس کے لیے دروازے عام لوگوں کے لیے کھول دیے تھے تو انھیں کسی عوامی قبرستان (میانی قبرستان وغیرہ) میں دفن کرنا چاہیے تھا۔ کیولری قبرستان میں جانے کا عام آدمی سوچ بھی نہیں سکتا۔ معلوم ہوتا ہے کہ عوامی ردِ عمل کے پیش نظر انھیں کسی ایسے قبرستان میں دفن نہیں کیا گیا، جہاں عوام الناس کا داخلہ ہر وقت عام ہو۔ یاد رہے کہ جنرل یحییٰ خان کو بھی پورے سرکاری

صفحہ 568

ماہنامہ سبحانی کراچی 568 حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء اعزازات کے ساتھ دفن کیا تھا، جس نے پاکستان کو دولخت کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ باقی اس کے کریکٹر کے بارے میں ہر شخص بخوبی جانتا ہے۔ ذرائع ابلاغ کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق پاکستان بھر کی عیسائی اور قادیانی کمیونٹی نے مقتول گورنر سلمان تاثیر کو اپنا ہیرو قرار دیتے ہوئے پورے ملک کے سینکڑوں گرجا گھروں اور قادیانی عبادت گاہوں میں ان کے پندرہ روز تک دعاؤں کو عبادت کا حصہ بنا لیا ہے۔ گورنر کے لیے قادیانی جماعت کی طرف سے ایک بڑا ایوارڈ دینے کا اعلان متوقع ہے جسے گورنر سلمان تاثیر کے صاحبزادے شہریار تاثیر لندن میں قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا مسرور احمد سے وصول کریں گے۔ یہاں ایک بات کا ذکر دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ معروف نعت خواں اختر حسین قریشی اور نقیب محفل قاری محمد یونس قادری نے مقتول گورنر کے ایصال ثواب کے لیے ہونے والی تقریبات میں شرکت پر علماء کرام کے فتویٰ کے بعد تجدید ایمان کیا اور کہا کہ ہم لاعلمی کے باعث تقریبات میں شریک ہوئے۔ تفصیلات کے مطابق قاری محمد یونس نے گورنر ہاؤس میں سلمان تاثیر کی رسم قل جبکہ اختر قریشی نے صوبائی وزیر تنویرالاسلام کی رہائش گاہ پر گورنر کے ایصال ثواب کی تقریب میں نعت خوانی کی تھی، فتویٰ کی روشنی میں اُنہوں نے جامعہ رسولیہ شیراز یہ میں مولانا راغب نعیمی، ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی اور دیگر علماء کرام اور گواہان کی موجودگی میں اپنی اس حرکت پر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگی اور تجدید ایمان کیا۔

جنازہ کے موقع پر کئی جیالے سگریٹ نوشی کر رہے تھے۔ ایک بزرگ کے منع کرنے پر اُن کا کہنا تھا کہ وہ سلمان تاثیر کی موت کا غم بھلانے کے لیے ایسا کر رہے ہیں۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی کے اکثر کارکنان سلمان تاثیر کو ’’شہید‘‘ قرار دے کر نعرے بازی کر رہے تھے۔ افسوس! اسلامی تعلیمات سے نابلد ان کارکنوں کو ذرا سا بھی احساس نہیں کہ شہید کسے کہتے ہیں یا شہادت کے عظیم رُتبے پر کون کیسے فائز ہوتا ہے۔ 1978ء میں پیپلز پارٹی، مرید کے ضلع شیخوپورہ کے نائب صدر عبدالجبار نے محلے کی ایک نابالغ کمسن لڑکی سے زیادتی کی جس پر وہ جاں بحق ہوگئی۔ اس مقدمہ کی سماعت سرسری فوجی عدالت میں ہوئی۔ ضلعی مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کرنل بشیر نے کیس کی مکمل سماعت کے بعد ملزم کو سزائے موت کا حکم سنایا۔ شیخوپورہ جیل سے پھانسی کے بعد جب ملزم عبدالجبار کی میت مرید کے پہنچی تو پیپلز پارٹی کے کارکنان نے مرید کے شہر میں عبدالجبار ’’شہید‘‘ کے بینر لگائے اور جنازہ پر ’’تم کتنے جبار مارو گے، ہر گھر سے جبار نکلے گا‘‘ کے نعرے لگاتے رہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ 1971ء کے انتخابات میں جب الیکشن سرگرمیاں عروج پر تھیں تو ننا نہ صاحب

صفحہ 569

ماہنامہ مسیحائی کراچی

ت کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ باقی رائع ابلاغ کی ایک خصوصی رپورٹ کے ل گورنر سلمان تاثیر کو اپنا ہیرو قرار دیتے عبادت گاہوں میں ان کے پندرہ روز قادیانی جماعت کی طرف سے ایک بڑا گے صاحبزادے شہریار تاثیر لندن میں یں گے۔ یہاں ایک بات کا ذکر دلچسپی اور نقیب محفل قاری محمد یونس قادری نے ت میں شرکت پر علماء کرام کے فتوٰی کے ت میں شریک ہوئے۔ تفصیلات کے سیم گل جبکہ اختر قریشی نے صوبائی وزیر ب میں نعت خوانی کی تھی، فتوٰی کی روشنی ، ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی اور دیگر الی سے معافی مانگی اور تجدید ایمان کیا۔ تھے۔ ایک بزرگ کے منع کرنے پر اُن کا ا کر رہے ہیں۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی ہ بازی کر رہے تھے۔ افسوس! اسلامی شہید کے کہتے ہیں یا شہادت کے عظیم مرید کے ضلع شیخوپورہ کے نائب صدر س پر وہ جاں بحق ہو گئی۔ اس مقدمہ کی یڈ کرنل بشیر نے کیس کی مکمل سماعت سماعت کے بعد جب خرم عبدالجبار کی میں عبدالجبار ”شہید“ کے بینر لگائے کے نعرے لگاتے رہے۔ مجھے اچھی درمیاں عروج پر تھیں تو نکانہ صاحب

ماہنامہ مسیحائی کراچی 569 حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

کے قریب ایک معروف قصبہ موڑکھنڈا میں پیپلز پارٹی کا جلسہ منعقد ہوا۔ اس جلسہ میں پیپلز پارٹی کے رہنما رانا شوکت محمود کو اس وقت شدید خفت کا سامنا کرنا پڑا جب ایک جیالے نے سپیکر پر نعرۂ تکبیر لگایا تو پنڈال سے بیک زبان زندہ باد کا جواب آیا۔ ان بیچاروں کو یہ بھی نہیں معلوم کہ نعرۂ تکبیر کا جواب اللہ اکبر ہوتا ہے۔ حال ہی میں وفاقی کابینہ کے ایک اہم اجلاس میں جب وزیر داخلہ عبدالرحمٰن ملک کو تلاوت قرآن مجید کے لیے کہا گیا تو انہوں نے کوٹ کی جیب سے ایک کاغذ نکالا اور سورہ اخلاص پڑھنا شروع کی اور اُس میں عجیب و غریب الفاظ خلط ملط کر دیے۔ وزیر داخلہ کی بدحواسی پر وزیر اعظم سمیت سب وزرا نے فلک شگاف قہقہے لگائے۔ رحمان ملک نے دوبارہ تلاوت شروع کی تو وہ پھر غلط پڑھ گئے۔ اس پر کابینہ کے تمام ارکان نے دوبارہ قہقہے لگانا شروع کر دیئے۔ یاد رکھئے کہ سورہ اخلاص قرآن مجید کی چھوٹی لیکن نہایت اہم سورت ہے جو ہر چھوٹے بڑے مسلمان کو ازبر ہوتی ہے۔ افسوس اس بات پر ہے کہ رحمان ملک کی اس غلطی پر چاہئے تو یہ تھا کہ کوئی دوسرا رکن تلاوت کر دیتا مگر اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس حمام میں سب ننگے ہیں۔ یہ دلچسپ ویڈیو انٹرنیٹ پر موجود ہے۔ سلمان تاثیر کس قبیل کے آدمی تھے، ان کے شب و روز کس طرح گزرتے تھے؟ اس کی مکمل تفصیلات بھی انٹرنیٹ پر موجود ہیں۔ آپ گوگل (Google) پر سلمان تاثیر لکھ کر سرچ کروائیں، وہاں آپ کو ایسی رنگین و سنگین تصاویر اور اندرونی داستانیں ملیں گے جس کو دیکھنے سے آپ کے ہوش اُڑ جائیں گے۔ اہم بات یہ ہے کہ سلمان تاثیر کے صاحبزادے آتش تاثیر نے اپنی کتاب Stranger To History میں اپنے والد پر جو سنگین الزامات عائد کیے ہیں، وہ ہر شخص کی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہیں۔ یادرہے کہ گورنر سلمان تاثیر نے معروف بھارتی صحافی توین سنگھ (جو سکھ مذہب سے تعلق رکھتی ہے) سے دوسری شادی کی تھی۔ جس سے ان کا بیٹا آتش تاثیر پیدا ہوا۔ علماء کرام نے جب اس شادی کی شرعی حیثیت پر اعتراض کیا تو سلمان تاثیر نے علماء کرام کو جاہل، اُجڈ اور غیر تعلیم یافتہ قرار دیا۔ معروف ترقی پسند اور روشن خیال بھارتی صحافی خشونت سنگھ نے گورنر سلمان تاثیر کی نجی زندگی کے بارے میں جو انکشافات کیے ہیں، اُسے پڑھ کر آدمی حیرت کے سمندر میں گم ہو جاتا ہے۔ یہی حال شیری رحمان اور پرویز مشرف کے گرم مصالحوں کا ہے۔ انٹرنیٹ پر ان سب کی تصاویر کو ملاحظہ کریں اور خود سوچیں کس قماش کے لوگ ہمارے حکمران ہیں جو قانون توہین رسالت کو ختم کرنے کی مذموم کوششوں میں مصروف ہیں۔ 10 جنوری 2011ء کو سلمان تاثیر کی بیٹی شہر بانو تاثیر نے ناموس

صفحہ 570

ماہنامہ سچائی کراچی حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

رسالت قانون کے مسئلہ پر اپنے والد کے موقف کی تائید کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان کے والد نے قانون توہین رسالت کو ختم کرنے کے بارے میں جو سوچا تھا، وہ اب ضرور شرمندہ تعبیر ہوگا۔ اس نے مزید کہا کہ ان کے والد آئین کی اس شق کے بھی زبردست مخالف تھے جس میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا ہے۔ اسی قبیل سے تعلق رکھنے والے بعض نا عاقبت اندیش نام نہاد دانشور آج کل حکومتی ایما پر مختلف ٹی وی چینلوں پر سلمان تاثیر کا دفاع کرتے نظر آ رہے ہیں۔ چند ٹکوں کی خاطر ناموس رسالت ﷺ کی مخالفت میں آخرت کا سودا کرنے والے ہمیشہ خسارے میں رہتے ہیں۔

تمہیں برسر بازار عالم ہم بھی دیکھیں گے

نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم

سید صبیح رحمانی

کوئی مثل مصطفیٰ کا کبھی تھا، نہ ہے، نہ ہوگا
کسی اور کا یہ رتبہ کبھی تھا، نہ ہے، نہ ہوگا
انہیں خلق کرکے نازاں ہوا خود ہی دستِ قدرت
کوئی شاہ کار ایسا کبھی تھا، نہ ہے، نہ ہوگا
کسی وہم نے صدا دی کوئی آپ کا مماثل
تو یقیں پکار اٹھا کبھی تھا، نہ ہے، نہ ہوگا
مرے طاقِ جاں میں نسبت کے چراغ جل رہے ہیں
مجھے خوف تیرگی کا کبھی تھا، نہ ہے، نہ ہوگا
میرے دامنِ طلب کو ہے انہی کے در سے نسبت
کسی اور سے یہ رشتہ کبھی تھا، نہ ہے، نہ ہوگا
میں ہوں وقفِ نعت گوئی، کسی اور کا قصیدہ
میری شاعری کا حصہ کبھی تھا، نہ ہے، نہ ہوگا
سرِ حشر اُن کی رحمت کا شفیع میں ہوں طالب
مجھے کچھ عمل کا دعویٰ کبھی تھا، نہ ہے، نہ ہوگا

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

انسداد توہین رس

ا

سلمان تاثیر کے قتل پر ملک بھر بات واضح ہوگئی ہے کہ حرمت رسول غیور مسلمان خواہ ان کا تعلق کسی بھی ہے اور اس مسئلہ پر مسلمانوں کا جذ مسلمانوں کی ایمانی جرات اور دینی ہے ۔ وہ دنیا کی ہر قوم کو اور ہر بات ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے انسانی سوسا ساتھ نفسیات، جذبات اور ذہنی وا ایک قوم یا طبقے کے مزاج ونفسیات ساخت ہے، نفسیات ہیں، جذبات

خاص ہے ترکیب

سے تعبیر کیا ہے اور اس ک اٹھایا ہے۔ ایک چھوٹا سا واقعہ تا کہ کسی دانش ور نے ایک مسل ہیں کہ چھوٹی چھوٹی باتیں حتیٰ کہ نے جواب دیا کہ جو بات تمہار

صفحہ 571

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ سبحانی کراچی

انسداد توہین رسالت کے قانون پر بے جا

اعتراضات

مولانا زاہد الراشدی

سلمان تاثیر کے قتل پر ملک بھر میں جس ردعمل کا اظہار ہوا ہے اس سے ایک بار پھر یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر مسلمہ امہ اور خاص طور پر پاکستان کے غیور مسلمان خواہ ان کا تعلق کسی بھی مکتب فکر سے ہو کسی قسم کی لچک اور نرمی کے لیے تیار نہیں ہے اور اس مسئلہ پر مسلمانوں کا جذباتی ہونا جو مغرب کے نزدیک قابل اعتراض بات ہے مسلمانوں کی ایمانی جرأت اور دینی حمیت کے اظہار کی علامت بن گیا ہے۔ مغرب کا المیہ یہ ہے کہ وہ دنیا کی ہر قوم کو اور ہر بات کو اپنے ماحول اور ذہنی دائروں میں پرکھنے کی کوشش کرتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے انسانی سوسائٹی میں رنگ ونسل اور ذوق ومزاج کے فرق کے ساتھ ساتھ نفسیات، جذبات اور ذہنی دائروں میں بھی فرق رکھا ہے جسے ختم کرنا اور ہر مسئلہ کو کسی ایک قوم یا طبقے کے مزاج ونفسیات کے معیار پر لانا ممکن ہی نہیں ہے، مسلمانوں کی اپنی ذہنی ساخت ہے، نفسیات ہیں، جذبات ہیں اور ذوق ومزاج ہے جسے علامہ اقبال نے

☆.......☆.......☆

خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی صلی اللہ علیہ وسلم

سے تعبیر کیا ہے اور اس کا لحاظ رکھے بغیر اسے ڈیل کرنے والوں نے ہمیشہ نقصان اٹھایا ہے۔ ایک چھوٹا سا واقعہ تاریخ کی کتابوں میں مذکور ہے کہ عباسی خلافت کے دور میں کسی مسیحی دانش ور نے ایک مسلمان عالم سے کہا تھا کہ تمہارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم عجیب ہیں کہ چھوٹی چھوٹی باتیں حتیٰ کہ پیشاب پاخانے کے آداب بھی بتاتے ہیں، مسلمان عالم نے جواب دیا کہ جو بات تمہارے نزدیک اعتراض کی ہے وہی ہمارے نزدیک خوبی اور

صفحہ 572

ماہنامہ مسیحائی کراچی 572 حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

کمال یہ ہے کہ ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات میں اس قدر جامعیت ہے کہ وہ چھوٹی سے چھوٹی بات میں خود ہماری راہنمائی فرماتے ہیں اور راہنمائی کے کسی درجے میں بھی ہمیں دوسروں کا محتاج نہیں رہنے دیتے۔

اسی طرح مسلمان کا قرآن کریم کے ادب واحترام جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت کے حوالے سے حساس ہونا اور جذبات کا اظہار کرنا مغرب کے نزدیک اعتراض کی بات ہے مگر ہمارے ہاں یہ خوبی اور کمال کی بات ہے کہ کوئی مسلمان آج بھی نہ قرآن کریم کی توہین برداشت کرتا ہے اور نہ ہی جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں کسی درجہ کی توہین اسے گوارا ہوتی ہے۔

سلمان تاثیر کی دو باتیں پاکستان کی مسلم سوسائٹی کو ہضم نہیں ہوئیں جن پر ردعمل کا اظہار گورنر کے اپنے ہی ایک محافظ نے عملاً کیا ہے اور ملکی رائے عامہ نے اس کا ہر سطح پر خیر مقدم کیا ہے جسے مغربی دنیا انتہائی حیرت اور صدمہ کے ساتھ دیکھ رہی ہے۔ ایک یہ کہ توہین رسالت کی ایک ملزمہ کے کیس میں جسے سیشن کورٹ نے مجرمہ قرار دے دیا تھا اور ابھی اس کے لیے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے مراحل باقی تھے، گورنر نے اس کیس کو درمیان میں ہی ہائی جیک کرلیا، دستوری وقانونی پراسس کو کراس کرتے ہوئے قانون کو ہاتھ میں لینے کے اس عمل کو مغربی دنیا نے تحسین کی نظر سے دیکھا اور اس کی برملا تحسین کی گئی۔ پھر سلمان تاثیر نے توہین رسالت پر حد و سزا کے قانون کو ہدف تنقید بنایا اور اسے ختم کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے اسے نعوذ باللہ ”کالا قانون“ قرار دینے سے بھی گریز نہیں کیا۔

یہاں یہ بات خصوصی طور پر قابل توجہ ہے کہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-C کے بارے مروجہ قانون سے اختلاف کرنے والوں کے دو طبقے ہیں۔ ایک طبقے کا کہنا ہے کہ اسے قانون سے اختلاف نہیں ہے اور وہ توہین رسالت کو جرم سمجھتے ہوئے اس پر سزا کو ضروری سمجھتے ہیں البتہ انہیں اس قانون کے مبینہ طور پر غلط استعمال پر اعتراض ہے اور وہ اس میں ایسی ترامیم چاہتے ہیں جن سے ان کا غلط استعمال رک جائے اور کسی بے گناہ کو اس

صفحہ 573

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

کے ذریعہ کسی بھی حوالے سے انتقام کا نشانہ نہ بنایا جا سکے جبکہ دوسرا طبقہ وہ لوگ ہیں جو سرے سے توہین رسالت کو جرم ہی نہیں سمجھتے اور اس پر کسی سزا کو آزادی رائے، آزادی ضمیر اور آزادی مذہب کے منافی تصور کرتے ہوئے اسے انسانی حقوق کے مغربی معیار کی خلاف ورزی قرار دیتے ہیں، اس کے ساتھ ہی وہ سیکولر جمہوریت کو عدل و انصاف کا واحد معیار تصور کرتے ہوئے سوسائٹی کے اجتماعی معاملات اور ریاست و حکومت کی پالیسیوں میں مذہب کا کوئی حوالہ قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور حکومتی و ریاستی امور میں دینی تعلیمات کا ہر حوالہ ختم کر دینے کی مہم چلائے ہوئے ہیں۔

گزشتہ دنوں مولانا قاری محمد حنیف جالندھری نے جامعۃ الخیر لاہور میں مسیحی پادریوں اور مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر کے اکابر علماء کرام کے درمیان اس مسئلہ پر مکالمہ کا اہتمام کیا جس میں بشپ الیگزینڈر جان ملک اور بشپ منور سمیت نصف درجن کے لگ بھگ مسیحی علماء نے شرکت کی اور دوسری طرف مولانا مفتی محمد خان قادری، مولانا عبد المالک خان، رانا شفیق پسروری، مولانا یاسین ظفر، مولانا رشید احمد لدھیانوی، مولانا قاری روح اللہ، جناب لیاقت بلوچ، مولانا محمد امجد خان، علامہ حسین اکبر نجفی، مولانا قاری محمد حنیف جالندھری اور راقم الحروف سمیت دیگر علماء شریک ہوئے۔

اس موقع پر اس مسئلہ پر تفصیلی بحث ہوئی جس میں دونوں فریق اس بات پر پوری طرح متفق تھے

کہ توہین رسالت جرم ہے اور اس کی سنگین سزا پر کسی کو اعتراض نہیں ہے البتہ دونوں فریقوں کے اپنے اپنے تحفظات تھے جن کا ذکر کیا گیا اور باہمی وعدہ ہوا کہ دونوں فریق ان پر سنجیدگی کے ساتھ غور کر کے اگلی کسی ملاقات میں ان تحفظات کا حل تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔

ہماری طرف سے اس تحفظ کا اظہار کیا گیا کہ وہ سیکولر لابی جو پاکستان کے اسلامی تشخص کو ختم کرنے کے در پے ہے اور ناموس رسالت کے تحفظ کے قانون سمیت ہر اس

صفحہ 574

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ سچائی کراچی

قانون کو ختم کرانے کے لیے کوشاں ہے جس میں دینی تعلیمات کا کوئی حوالہ موجود ہے اور مسیحی مذہبی رہنماؤں کی طرف سے تحفظ ناموس رسالت کے قانون کو ختم کرنے کا مسلسل مطالبہ اس سیکولر لابی کی تقویت کا باعث بن رہا ہے جبکہ یہ بات خود مسیحی تعلیمات اور بائبل کی تصریحات کے بھی منافی ہے۔

مسیحی رہنماؤں نے اس تحفظ کا اظہار کیا کہ ان کے بقول اس قانون کا سب سے زیادہ استعمال مسیحی کمیونٹی کے خلاف ہو رہا ہے اور ان کے خیال میں اسے مسیحی لوگوں کو مختلف حوالوں سے انتقام اور تذلیل کا نشانہ بنانے کے لیے بطور خاص استعمال کیا جاتا ہے پھر جب کسی واقعہ پر عوامی اشتعال کے اظہار کے موقع پر مسیحی آبادی اور بستیاں عمومی سطح پر قتل و غارت اور آتش زنی کا نشانہ بنتی ہیں تو مسلمان علماء مظلوموں کو بچانے کی بجائے خاموش تماشائی بن جاتے ہیں کچھ علماء کرام اس عوامی اشتعال کو بڑھانے کا ذریعہ بھی بنتے ہیں، ایک مسیح راہنما نے اس موقع پر کہا کہ ہم توہین رسالت پر موت کی سزا کے خلاف نہیں ہیں لیکن جب ہم عوامی اشتعال کی زد میں ہوتے ہیں اور اس وقت ہماری داد رسی نہیں ہوتی اور کوئی بھی ہماری بات سننے کو تیار نہیں ہوتا تو پھر ہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ کار باقی نہیں رہتا کہ ہم سرے سے اس قانون کو ہی ختم کرنے کا مطالبہ کریں جو اس صورت حال کا ذریعہ بن رہا ہے۔

اس پر ہماری طرف سے عرض کیا گیا ہے کہ قانون کے مبینہ طور پر غلط استعمال کو روکنا الگ مسئلہ ہے اور نفس قانون کو ختم کرنا اس سے قطعی مختلف بات ہے جس کو مسیحی رہنماؤں کے بیانات میں ملحوظ نہیں رکھا جا رہا اور ان کے مطالبات اور سرگرمیاں سیکولر عناصر کی تائید سمجھی جا رہی ہیں اس پس منظر کا ذکر ہم نے اس لیے کیا ہے کہ اس مہم کے اصل رخ کو سمجھا جائے جو گورنر سلمان تاثیر نے آسیہ مسیح کیس میں قانون کو ہاتھ میں لے کر شروع کی تھی تاکہ اس پر عوامی ردعمل اور اشتعال کی اصل وجہ کو سمجھا جا سکے جو مغربی دنیا کے لیے حیرت اور پریشانی کا باعث بن رہا ہے جہاں تک قانون کے مبینہ طور پر غلط استعمال کو روکنے کی بات

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ہے کوئی بھی ذی شعور شخص اس سے اس سے کبھی اختلاف کیا ہے لیکن مخالفت ، اسے ختم کرانے کی کوشش یا ”انسانی حقوق کے منافی“ قرار د پر پاکستانی رائے عامہ کے جذباتی چاہیے جس کے ردعمل میں یہ سب ہاتھ میں لینے کی حمایت نہیں کی جا جب گورنر نے قانون کو ہاتھ میں لی کورٹ کے فیصلے کو مسترد کرنے کرنے والوں نے اس ہاتھ کو رو ہاتھ میں لینے پر ٹوک دیا جاتا اور جاتا تو ممتاز قادری کے قانون کو قانون کو ہاتھ میں لینے ہاتھ میں لیا ہے تو مقتول نے بھی اس سارے قصے کا نقطہ آغاز بات ضرور کی جائے اور قانون ک میں توازن کو بھی قائم رکھا جا آغاز ہوتا ہے۔

صفحہ 575

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ سبحانی کراچی

ہے کوئی بھی ذی شعور شخص اس سے انکار نہیں کر سکتا اور نہ ہی مسلمانوں کی مذہبی قیادت نے اس سے کبھی اختلاف کیا ہے لیکن نفس قانون اور توہین رسالت پر موت کی شرعی سزا کی مخالفت، اسے ختم کرانے کی کوشش اور اسے نعوذ باللہ ”کالا قانون“ یا ”ظالمانہ قانون“ یا ”انسانی حقوق کے منافی“ قرار دینا بہر حال توہین ہی کے زمرے میں شمار ہوتا ہے اور اس پر پاکستانی رائے عامہ کے جذباتی ردعمل پر اعتراض کرنے والوں کو اس عمل کا بھی جائزہ لینا چاہیے جس کے ردعمل میں یہ سب کچھ ہوا ہے اور ہو رہا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ قانون کو ہاتھ میں لینے کی حمایت نہیں کی جاسکتی لیکن ایسا کہنے والوں کو اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ جب گورنر نے قانون کو ہاتھ میں لیا تھا اور پورے عدالتی پراسیس کو کراس کرتے ہوئے سیشن کورٹ کے فیصلے کو مسترد کرنے کا کھلے بندوں اعلان کیا تھا تو قانون کے احترام کا دعویٰ کرنے والوں نے اس ہاتھ کو روکنے کی کیا کوشش کی تھی؟ ہمارے خیال میں اگر گورنر کو قانون ہاتھ میں لینے پر ٹوک دیا جاتا اور قانون اور عدالتی پراسیس کا احترام باقی رکھنے کا اہتمام کیا جاتا تو ممتاز قادری کے قانون کو ہاتھ میں لینے کی نوبت ہی نہ آتی۔

قانون کو ہاتھ میں لینے کی بات دونوں طرف سے ہوئی ہے اگر قاتل نے قانون کو ہاتھ میں لیا ہے تو مقتول نے بھی قانون کو ہاتھ میں لیا تھا اور قانون کو ہاتھ میں لینے کا یہ عمل اس سارے قصے کا نقطۂ آغاز ہے۔ اس لیے ہماری گزارش ہے کہ قانون کے احترام کی بات ضرور کی جائے اور قانون کو ہاتھ میں لینے کی مخالفت بھی ضرور کی جائے لیکن اس سلسلے میں توازن کو بھی قائم رکھا جائے اس لیے کہ توازن بگڑنے سے ہی معاملات میں بگاڑ کا آغاز ہوتا ہے۔

☆.......☆.......☆

صفحہ 576

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

گرامی محترم جناب مخدوم زادہ احمد خیر الدین انصاری صاحب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ! جناب کی طرف سے حسین و جمیل تحفہ ماہنامہ مسیحائی کراچی (ہادی اعظم نمبر) نظر نواز ہوا۔ جزاک اللہ باحسن الجزاء۔

خوبصورت سرورق، جاذب نظر خطاطی میں ورفعنالک ذکرک سے سجا ہوا مدیر اعلیٰ اور مدیر اشاعت خاص دونوں کے ذوق پُرشوق کا شاہکار۔ بیک ٹائٹل پر ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب کے ترجمہ قرآن ”عرفان القرآن“ کا ٹائٹل ۔ خُوب، بہت خُوب، بہت مرغوب!

دستک سے پہلے چھ شعری تحفے اور دستک کے بعد سترہ نثری رشحات، آخر میں تبصرہ کتب جس میں چھ کتب و رسائل پر اخباری تعارف اور اہل علم کے تبصرے موجود ہیں۔

۲۵۸ صفحات کے ماہنامہ مسیحائی کراچی، ہادی اعظم نمبر میں پہلا حمدیہ زمزمہ صفدر محمود عثمانی (مرحوم) کا ہے (صفحہ ۷) پھر مولانا ابو الکلام آزاد، صابر سنبھلی، شاہدہ ذبیح اللہ، پروفیسر عنایت علی خان، انجینئر شفیع حیدر صدیقی دانش اور محمد عبداللہ تبسم بھاولنگر (مرتب نعیم الحق بھاولنگری) کا حمدیہ و نعتیہ کلام صفحہ قرطاس پر رقم ہے۔ ورفعنالک ذکرک (دستک) کے فوراً بعد مولانا ماہر القادری کا گیارہ اشعار پر مشتمل ”سلام بحضور خیر الانام علیہ الصلوٰۃ والسلام“ موجود ہے۔

علماء کرام، خطباء عظام، محققین مدققین، اہل علم و صاحب قلم، سیرت رسول ﷺ کے غواص، زندگانی محمد مصطفیٰ ﷺ کے شناور، اساتذہ مکرم اور شیوخ معظم کے اقلام عالی مقام کے شاہکار۔ علوم ہائے مختلفہ و مطالعات متنوعہ کا مجموعہ ہے۔

صفحہ 577

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 577 ماہنامہ سبحانی کراچی

ڈھونڈتے ہیں۔

وا کرتے ہیں۔

تبصرہ دکھایا ہے۔

تحقیق نکلا ہے۔

رہی ہے۔

گنوا نہ سکے۔

یہ سارا کچھ پڑھ کے بے ساختہ حفیظ تائب کا یہ شعر وردِ زباں ہو جاتا ہے:

خوشبو ہے دو عالم میں تیری اے گل چیدہ!!
کس منہ سے بیاں ہوں تیرے اوصاف حمیدہ

بہت سا مواد پڑھ کر بھی زبان سے آخر یہی جملہ پھسلتا ہے۔

وقت تمام ہوا اور صفات باقی ہیں ورق ہیں ختم ہوئے اور صفات باقی ہیں
بہت پڑھا ہے سیرت کو اوّل و آخر علوم ختم ہوئے اور صفات باقی ہیں
صفحہ 578

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 578 ماہنامہ سبحانی کراچی

خانہ کعبہ پر پہلی نظر

مولانا ماہر القادریؒ

حرم میں اذان سحر، اللہ اللہ
کہ ہیں وجد میں بام ودر، اللہ اللہ
بہر طوف یہ ملتزم پر دعائیں
یقین قبول واثر، اللہ اللہ
دھڑکتے ہوئے دل کا لے کر سہارا
مناجات باچشم تر، اللہ اللہ
تجلی میں دھوئے ہوئے سنگ پارے
یہاں کے نجوم و قمر، اللہ اللہ
تصور بھی ہے ایک زندہ حقیقت
تخیل بھی ہے معتبر، اللہ اللہ
مقام ابراہیم پر یہ نمازیں
بہر سجدہ، معراج سر، اللہ اللہ
جمال الٰہی کی تابندگی میں
جھلکتے ہوئے بام ودر، اللہ اللہ
وہ کعبہ جسے دیکھ لینا عبادت
مسلسل ہے پیش نظر، اللہ اللہ
صفحہ 579

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۰ء 579 ماہنامہ سبحانی کراچی

باسمہ سبحانہ

ماہنامہ سبحانی

ختم نبوت نمبر

جنوری / فروری ۲۰۱۰ء

انا خاتم النبيين لا نبي بعدي

مدیر اعلیٰ

مخدوم زادہ احمد خیر الدین انصاری

مدیر

ڈاکٹر حافظ محمد ثانی

ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم نمبر

پر

اہل علم، اہل ادب، اہل صحافت، اہل دانش کے

خطوط

اور قومی اخبارات و جرائد کے

☆...... تبصرے......☆

صفحہ 580

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 580 ماہنامہ مسیحائی کراچی

نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم

آفتاب کریمی

خدا کی رحمتیں پاؤ مقدر جاگ جائے گا
درود ہر دم پڑھے جاؤ مقدر جاگ جائے گا
در آقا ہے ایسا در جہاں قسمت سنورتی ہے
وہاں جھولی کو پھیلاؤ مقدر جاگ جائے گا
چلو طیبہ کہ طیبہ میں بہت خیرات بٹتی ہے
کبھی خیرات وہ پاؤ مقدر جاگ جائے گا
مدینے اور مکے میں حدیثوں میں اسے ڈھونڈو
نبی کا نقش پا پاؤ مقدر جاگ جائے گا
امانت کا دیانت کا صداقت کا سخاوت کا
ترانہ جھوم کر گاؤ مقدر جاگ جائے گا
کسی در پر نہیں جاؤ کسی سے کچھ نہیں چاہو
در آقا پہ ہو آؤ مقدر جاگ جائے گا
نبی کی پاک سیرت کا ترانہ ہیں سبھی نعتیں
انہیں جاکر سنا آؤ مقدر جاگ جائے گا
نمازیں مسجد نبوی میں پڑھنی ہیں جماعت سے
اگر چالیس پڑھ آؤ مقدر جاگ جائے گا
تمہارے گھر میں تو اکثر نبی کا ذکر ہوتا ہے
کبھی تم نہ گھبراؤ مقدر جاگ جائے گا

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

احمد خیرالدین

مدیر اعلی م

بحمد اللہ آپ خیریت حنیف شاہد صاحب کی وساطت کا ضخیم نمبر معلومات افزاء ہے مفکرین عقیدہ ختم نبوت کے ب محنت اور عرقریزی کو شرف قبول نوازے۔ آمین۔

حرف تحسین کے سات میں ہونا چاہئے تا کہ عام قارئین کے شبہات ختم رہ گئے ہیں ، خضو سید حسین احمد مدنی ، شیخ الاسلا قاضی احسان احمد شجاع آبادی لال حسین اختر ، مولانا محمد حیات محمد احمد قادری ، مولانا شاہ احم مفتی محمود ، مولانا محمد عبد اللہ لدھیانوی ، علامہ حیات، پرو مشائخ میں سے حضرت پیر سید فیض الحسن شاہ ، حضرت خان محمد کنڈیاں شریف ، مح ابوذر بخاری ، مولانا ظفر عل

صفحہ 581

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

احمد خیر الدین انصاری صاحب زید فضیلہ

مدیر اعلی ماہنامہ مسیحائی کراچی

بحمد اللہ آپ خیریت سے ہونگے ہم آپ کا مطبوعہ ختم نبوت نمبر براستہ مولانا حنیف شاہد صاحب کی وساطت سے وصول کر کے مسرت ہوئی، ختم نبوت کے نام سے آپ کا ضخیم نمبر معلومات افزاء ہے امت مسلمہ اس سے ضرور استفادہ کرے گی، اور قادیانی منکرین عقیدہ ختم نبوت کے لئے آپ کی یہ پیشکش چشم کشا ثابت ہوگی، اللہ تعالیٰ آپ کی محنت اور عرقریزی کو شرف قبولیت عطا کرے اور اس معلوماتی کتاب کو قبولیت عامہ سے نوازے۔ آمین۔

حرف تحسین کے ساتھ مشورے کے طور پر عرض ہے کہ اس نمبر کو دو یا تین جلدوں میں ہونا چاہئے تا کہ عام قاری بآسانی مطالعہ کر سکے۔ نیز اس میں بہت سی اہم شخصیات کے رشحات قلم رہ گئے ہیں، خصوصاً حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی، حضرت شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی، شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی، حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ، مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی، مولانا منظور احمد نعمانی، مولانا ابو الوفا شاہ جہاں پوری، مولانا لال حسین اختر، مولانا محمد حیات فاتح قادیان، مولانا عبدالحامد بدایونی، مولانا ابوالحسنات سید محمد احمد قادری، مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا احمد علی لاہوری، مولانا غلام غوث ہزاروی، مولانا مفتی محمود، مولانا محمد عبد اللہ درخواستی، مولانا مفتی محمد شفیع دیوبندی، مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی، علاوہ بریں پروفیسر محمد الیاس برنی، مولانا ظہور احمد بگوی، مولانا کریم دین مشائخ میں سے حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑہ شریف، حضرت پیر جماعت علی شاہ، صاحبزادہ سید فیض الحسن شاہ، حضرت پیر قمر الدین سیالوی، مولانا عبدالرحمان میانوی، حضرت مولانا خان محمد کنڈیاں شریف، مولانا سید داؤد غزنوی علامہ محمد اقبال، علامہ طالوت، علامہ سید ابوذر بخاری، مولانا ظفر علی خان رحمہم اللہ تعالیٰ اور دیگر بہت سی شخصیات کے نظریات جو

صفحہ 582

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 582 ماہنامہ مسیحائی کراچی

تحریری صورت میں دستیاب ہو سکتے ہیں انہیں اس ضخیم نمبر میں شریک اشاعت کرنا چاہئے تھا، طباعت سے قبل اگر مشاورت ہو جاتی تو اس نمبر کی معنویت میں اضافے کا پکا موجب ہوتی خیر، گذشت آنچه گذشت، آپ جیسی علمی و ادبی اور محقق شخصیت کے ساتھ رابطہ بہت ضروری ہے، اللہ تعالیٰ کوئی صورت پیدا کر دے آمین احباب اور اہل مکتب کی خدمت میں سلام اور دعاؤں کی درخواست۔

آپ کا دعا گو مجاہد الحسینی مدیر اعلیٰ صوت الاسلام

محترم احمد خیر الدین انصاری صاحب

السلام علیکم!

میں مسلسل مسیحائی کے کئی شمارے پڑھ کر اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ آج کل کے افراتفری اور دین سے دوری کے دور میں آپ کار خیر کر رہے ہیں جو آپ کے نام کی مناسبت سے ہے چنانچہ آپ اسم بامسمیٰ ہیں۔ ختم نبوت نمبر ایک ہزار صفحات سے زیادہ پر مشتمل ایک عمدہ کاوش ہے۔ اس میں مضامین کا تنوع اور جولانی قابل ستائش ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اور بہتر سے بہتر کار خیر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

دعائے خیر کا طالب انجینئر شفیع حیدر صدیقی دانش وزیٹنگ فیکلٹی این ای ڈی یونیورسٹی کراچی پاکستان

صفحہ 583

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۰ء 583 ماہنامہ مسیحائی کراچی

ختم نبوت ریسرچ سینٹر

گلی نمبر 37 محلہ بال لیلا ننکانہ صاحب بانی و منتظم: صادق علی زاہد تاریخ 1/12/10 CELL:0300-4529446 حوالہ نمبر :01/مسیحائی

محترم ومعظم جناب مخدوم زادہ احمد خیر الدین انصاری صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ

برادر عزیز جناب پروفیسر شبیر حسین شاہ زاہد کے توسط سے آپ کا مرتب ماہنامہ مسیحائی کا ”ختم نبوت نمبر“ ملا چیدہ چیدہ مقامات کا مطالعہ کرنے کا موقع ملا۔ ماشاء اللہ بہت اچھی کاوش کی گئی ہے۔ تفصیلی تبصرہ انشاء اللہ بعد از تفصیلی مطالعہ روانہ کروں گا۔ محترم جناب پروفیسر صاحب کی زبانی یہ بھی علم ہوا ہے کہ آپ جلد ہی اس گرانقدر مجلہ کا ”ناموس رسالت نمبر“ شائع کرنے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔ اس سلسلہ میں حالات حاضرہ کی مناسبت سے دو مضامین پیش خدمت ہیں اگر آپ کے معیار پر پورے اتر جائیں تو میری خوش قسمتی ہو گی۔ ”ختم نبوت نمبر“ کی اشاعت کا بروقت علم نہ ہوسکا۔ جس کی وجہ سے اس نمبر کے لئے مضمون ارسال نہ کر سکنے کا قلق لمبے عرصہ تک رہے گا۔ اسی محرومی سے خائف ہو کر آج ہی یہ مضامین ارسال خدمت ہیں۔ اگر یہ مضامین آپ کو پسند آگئے تو انشاء اللہ میری طرف سے آئندہ بھی بھر پور علمی و قلمی تعاون جاری رہے گا۔

والسلام مع الاکرام آپ کا بھائی صادق علی زاہد

صفحہ 584

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 584 ماہنامہ مسیحائی کراچی

محترم جناب مخدوم زادہ احمد خیر الدین انصاری صاحب مدیر اعلیٰ ’’ماہنامہ مسیحائی‘‘ ناظم آباد، کراچی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

ہم انتظامیہ ’’ماہنامہ مسیحائی‘‘ کراچی، کے ممنون ہیں کہ انہوں نے ماہنامہ ’’مسیحائی ختم نبوت نمبر‘‘ (۲ عدد) ماہنامہ محدث لائبریری کے شعبہ رسائل وجرائد کے لئے بدست جناب شاہد حنیف عنایت فرمائے۔

اس گراں قدر عطیہ پر ایک بار پھر تہہ دل سے آپ کے شکر گزار ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں آئندہ بھی یہ باہمی تعاون جاری رہے گا۔

محمد شفیق کوکب انچارج: شعبہ رسائل وجرائد اسلامک ریسرچ کونسل، لاہور

محترم جناب مخدوم زادہ احمد خیر الدین انصاری مدیر اعلیٰ ماہنامہ ’’مسیحائی‘‘ کراچی، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

اسلامی تصور حیات میں توحید کے بعد سب سے بڑی اہمیت عقیدہ ختم نبوت کو حاصل ہے اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہی وہ اصل بنیاد ہے جس کی وجہ سے اسلام دوسرے الہامی مذاہب سے ممتاز ہے اللہ تعالیٰ نے کسی گزشتہ دین کے متعلق یہ نہیں فرمایا کہ اس کی تکمیل ہوچکی ہے اور اس کی حفاظت کا میں ذمہ دار ہوں اور نہ ہی سابقہ آسمانی کتب وصحائف کے متعلق یہ فرمایا کہ یہ خدا کا آخری پیغام ہے اور نہ ہی یہ فرمایا اس کو پیش کرنے والا آخری نبی ہے کہ جس کا ہر قول وفعل قیامت تک لوگوں کے لیے نجات کا ذریعہ ہو مگر محمد رسول

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام آخری پیغام اللہ تعالیٰ نے جس طرح دین محمدی کے م عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ ا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بھی وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جس کی تفصیل کتب احادیث میں موجود اسلامی تاریخ میں بہت سے ناموس رسالت اور منکرین زکوٰۃ جیسے سب سے پہلے جس مسئلہ پر اجماع ہوا بعد مدعی نبوت واجب القتل اور اس پر ہیں لیکن انیسویں صدی کے آخر میں وتاب کے ساتھ کرۂ ارض پر چمک رہا شمار سازشیں کیں وہاں برصغیر پاک و کے لئے ایک نبی پیدا کر کے مندرجہ با اس نے یہ کام اپنے کسی ہم وطن کی بج سے کرایا جس نے بے پناہ دولت کے مرزا غلام احمد قادیانی کے خصوصاً ہندوستان میں اس کا شدید ر مرزا قادیان اور اس کے ہم خیالوں تمام مکاتب فکر کے علماء نے اپنی و اختلافات کو پس پشت ڈال کر ایک

صفحہ 585

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 585 ماہنامہ تجلی کراچی

اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام آخری پیغام ہے اور اپنے بعد کسی اور کے نہ آنے کا پیغام دیتا ہے اللہ تعالیٰ نے جس طرح دین محمدی کے متعلق اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنَا . (المائدہ: ۳) ارشاد فرمایا اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بھی کہا کہ مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ . (الاحزاب: ۴۰) حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس مضمون کو مختلف الفاظ سے بیان فرمایا جس کی تفصیل کتب احادیث میں موجود ہے۔

اسلامی تاریخ میں بہت سے گمراہ فرقے اور فتنے پیدا ہوئے مگر ختم نبوت ، تحفظ ناموس رسالت اور جہاد من الکفار جیسے بنیادی مسائل پر سب متفق رہے اور امت محمدیہ میں سب سے پہلے جس مسئلہ پر اجماع ہوا وہ یہ تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم انبیاء کے بعد مدعی نبوت واجب القتل اور اس پر یقین کرنے والے مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں لیکن انیسویں صدی کے آخر میں جب سلطنت برطانیہ کا ستارہ اقبال پورے آب و تاب کے ساتھ کرہ ارض پر چمک رہا تھا تو انگریز نے جہاں دین اسلام کے خلاف اور بے شمار سازشیں کیں وہاں برصغیر پاک و ہند میں اپنے ناپاک منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے ایک نبی پیدا کر کے مندرجہ بالا متفق علیہ مسائل کو متنازعہ بنانے کی کوششیں کیں مگر اس نے یہ کام اپنے کسی ہم وطن کی بجائے مسلمانان ہند میں سے ہی ایک ایسے ایمان فروش سے کرایا جس نے بے پناہ دولت کے عوض زندیق کا کردار ادا کیا۔

مرزا غلام احمد قادیانی کے اعلان نبوت کے ساتھ ہی تمام اسلامی ممالک اور خصوصاً ہندوستان میں اس کا شدید ردعمل ہوا پورے عالم اسلام کے علماء کرام اور قضاء نے مرزا قادیان اور اس کے ہم خیالوں کے خلاف ارتداد اور تکفیر کے فیصلے اور فتاویٰ جاری کئے۔ تمام مکاتب فکر کے علماء نے اپنی ذمہ داری کا بروقت احساس کرتے اپنے تمام تر فروعی اختلافات کو پس پشت ڈال کر ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر اس فتنہ کا سد باب کیا جس

صفحہ 586

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

کی مثال اسلامی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ محترم مخدوم زادہ احمد خیر الدین انصاری اور ان کے رفقاء کا ماہنامہ مسیحائی کا ’ختم نبوت نمبر بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ماشاء اللہ یہ خاص نمبر اب تک اس موضوع پر شائع ہونے والا تمام رسائل کے خاص نمبرز سے زیادہ ضخیم نابغہ عصر شخصیات علامہ انور شاہ کشمیری، علامہ احسان الہی ظہیر، مولانا ابو الاعلیٰ مودودی، سید عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا ادریس کاندھلوی کے علاوہ دیگر جید اہل قلم و دانش کی چشم کشا تحریروں کا مجموعہ گیارہ صد صفحات پر مشتمل ختم نبوت، رد قادیانیت کے موضوع پر تاریخی دستاویز، معلومات کا خزانہ اور گراں قدر علمی تحفہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ماہنامہ مسیحائی کے ذمہ داروں کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے (آمین) اگرچہ اس خاص نمبر کی تیاری میں بڑی محنت اور دل لگی سے کام لیا گیا ہے لیکن پھر بھی دوران مطالعہ اس میں بعض چیزوں کی کمی کا احساس ہوتا ہے۔

اور رد قادیانیت“ ص ۲۳۸ پر مقدمہ مرزائیہ بہاولپور ۱۹۲۶ تا ۱۹۳۵ء کے متعلق لکھتے ہیں:

”جلد اول میں حضرات علمائے کرام کی مکمل شہادتیں اور جلد ثانی میں حضرت مولانا ابو الوفاء صاحب شاہجہانپوری کی بحث اور جواب الجواب شائع کیا جائے گا۔ باقی رہا یہ سوال کہ یہ دونوں جلدیں کب شائع ہوں گی۔ اس کا جواب مسلمانان ہند کی ہمت افزائی پر موقوف ہے۔ یہ تیسری جلد جتنی جلد فروخت ہوگی اسی انداز سے پہلی دو جلدوں کی اشاعت میں آسانی ہوگی۔ حضرات علمائے کرام کے بیانات اور بحث اور جواب الجواب تردید مرزائیت میں بے نظیر ذخیرہ ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے یہ تینوں جلدیں شائع ہو گئیں تو تردید مرزائیت میں کسی دوسری تصنیف کی قطعاً حاجت نہ رہے گی ۔“

مولانا نے شاید جب یہ سطور رقم کیں تو اس وقت اس مقدمہ کی اشاعت نہ ہوئی

صفحہ 587

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

جو اب الحمد للہ ”مقدمہ مرزائیہ بہاولپور ۱۹۳۵ء“ اسلامک فاؤنڈیشن، لاہور کی طرف سے ۳ جلدوں میں شائع ہوچکا ہے جوکہ سلطنت برطانیہ کے عہد کا قادیانیت کے خلاف اول ترین عدالتی فیصلہ ہے جس میں قادیانیوں کے ارتداد کا حکم صادر کیا گیا ہے اگر اس کی وضاحت مذکورہ مضمون کے حاشیہ میں کر دی جاتی قارئین کے لیے فائدہ مند ہوتی۔

آخر میں دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس عظیم کاوش کو قبول فرمائیں اور ہم سب کو ختم نبوت اور تحفظ ناموس رسالت پر اخلاص کے ساتھ کام کرنے کی توفیق فرمائے۔ (آمین)

محمد اصغر لاگر روڈ، فیروز وٹواں، ضلع شیخوپورہ

ماہنامہ مسیحائی کراچی ”ختم نبوت نمبر“

برصغیر پاک و ہند میں جب 1891ء میں مرزا غلام احمد قادیانی نے انگریز کی آشیر باد سے اپنے مجدد، مسیح موعود اور نبی ہونے کا دعویٰ کیا تو امت مسلمہ ان کی اس جسارت پر انگشت بدنداں رہ گئی اور پھر مرزا قادیان کی جھوٹی نبوت کی بیخ کنی کے لئے ”تحریک ختم نبوت“ کا آغاز ہو گیا۔ اس تحریک میں برصغیر میں پائے جانے والے تمام فقہی مکاتب فکر نے حصہ لیا۔ کسی نے مناظرہ و مجادلہ کی راہ اختیار کی، کسی نے تحریر و تصنیف سے مرزا قادیانی کا رد کیا اور کسی نے تقریروں سے قادیانی مذہب کی حقیقت کو آشکار کیا۔ ان اکابرین ختم نبوت کی خدمات لائق تحسین ہیں جنہوں نے کسی نہ کسی حوالہ سے ”تحریک تحفظ ختم نبوت“ میں حصہ لے کر ”عقیدہ ختم نبوت“ کو اجاگر کیا ہے۔ ”عقیدہ ختم نبوت“ کا تحفظ ہر مسلمان کا فرض ہے۔ اس سلسلے میں اب تک پاک و ہند میں ہر مکتبہ فکر کی طرف سے سینکڑوں کتابیں لکھی جاچکی ہیں اور رسائل و جرائد کے بے شمار خاص نمبر شائع ہوچکے ہیں۔ پیش نگاہ ماہنامہ مسیحائی کراچی کا ”ختم نبوت نمبر“ بھی اسی مبارک سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ اس اشاعت خاص میں عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور قادیانیت کے رد میں نامور اہل قلم کے مضامین شامل

صفحہ 588

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 588 ماہنامہ مسیحائی کراچی

کئے گئے ہیں۔

ماہنامہ مسیحائی کے اصحاب علم و دانش نے بلا کسی فقہی اختلاف کے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے پیرو ہوتے ہوئے اہل حدیث اور بریلوی حضرات کے معروف اہل قلم کی تحریروں کو بھی اس اشاعت خاص میں جگہ دی ہے۔ ماہنامہ مسیحائی کا یہ ختم نبوت نمبر بہت سی معلومات کو اپنے دامن میں سمائے ہوئے ہے اور موضوع سے متعلقہ بہت سے مباحث اس میں خوب صورتی سے سمٹ آئے ہیں۔ اگرچہ اس میں تحریک ختم نبوت کے اولین مجاہد مولانا محمد حسین بٹالوی رحمۃ اللہ علیہ کا تذکرہ نہیں کیا گیا اور قادیانیت کے سب سے بڑے مخالف فاتح قادیاں شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمۃ اللہ علیہ کا نام ایک دو جگہ واجبی سے انداز میں لکھا گیا ہے اور ان کی خدمات سے پہلو تہی اختیار کی گئی ہے اس کے باوجود ہم ماہنامہ مسیحائی کے اس ختم نبوت نمبر کی تحسین کرتے ہیں۔ اس اشاعت خاص کے صفحات 1088 اور ہدیہ برائے نام صرف 450 روپے ہے۔ ملنے کا پتہ: پی 197، بلاک A شارع بابر نارتھ ناظم آباد کراچی 74700

برادر محبی و مکرمی جناب شاہد حنیف صاحب (بارک اللہ فی مساعیکم)

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

آج کل آپ کا پُر خلوص ہدیہ ’’ماہنامہ مسیحائی کراچی‘‘ (ختم نبوت نمبر) زیر مطالعہ ہے۔ بحیثیت مسلمان ختم نبوت کا عقیدہ اساسی و بنیادی عقیدہ ہے۔ اس نمبر میں عقیدۂ ختم نبوت پر دلائل صحیحہ و براہین قاطعہ کے انبار مختلف مضامین میں جمع کر دئیے گئے ہیں اور اس عقیدے کے نقب زن نام نہاد مسیح موعود کی اصلیت طشت از بام کر دی گئی ہے۔ (جزاہم اللہ فاحسن الجزاء)

عقائد کا نکھار نجات کا ضامن ہے۔ اس لئے ایسے ’’نمبر‘‘ کی اشاعت خصوصی طور پر لائق ستائش ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے مصنفین ، ناشرین اور قارئین کے ساتھ ساتھ آپ

صفحہ 589

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ سبحانی کراچی

جیسے مخلصین کی جملہ کاوشوں کو شرف قبولیت نوازے۔ اور دین خالص کی سربلندی کے لئے اپنے اپنے میدان میں کام کرنے کی توفیق ارزاں فرمائے۔

’’لالہ طور‘‘ اور ’’اقبال اور محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ بھی آپ کے قیمتی عنایات میں شامل ہیں۔ (آمین ثم آمین)

جملہ احباب گرامی کی خدمت میں نام بنام سلام مع الاکرام۔

والسلام اخوکم فی اللہ ڈاکٹر خالد ظفر اللہ ایسوسی ایٹ پروفیسر صدر شعبہ علوم اسلامیہ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج ، گوجرہ

صفحہ 590

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 590 ماہنامہ مسیحائی کراچی

تبصرہ روزنامہ جنگ کراچی

مسیحائی، ختم نبوت نمبر

مدیر اعلیٰ: مخدوم زادہ احمد خیر الدین انصاری پتا: بی۔197 بلاک اے، شارع بابر، نارتھ ناظم آباد، کراچی صفحات: 1084 قیمت: 450 روپے

سرور کائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری پیغمبر ہیں اور قرآن مجید اللہ کی آخری کتاب ہے، جو قیامت تک مسلمانوں کی رہنمائی کرتی رہے گی اور ان کے لیے ہدایت کا سرچشمہ رہے گی۔ ہر مسلمان کے لیے ختم نبوت پر اعتقاد دین کا لازمی اور بنیادی تقاضا ہے یہی وجہ ہے کہ فقہا و علماء نے اس موضوع پر بڑی تفصیل سے کتابیں لکھی ہیں اور مقالات و مضامین تحریر کیے ہیں۔ ماہنامہ ”مسیحائی“ کا یہ خصوصی ضخیم شمارہ بھی اسی موضوع پر ہے جس میں بقول مرتبین۔ اس میں اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ اور بالخصوص پاک و ہند میں ہونے والی تحفظ ختم نبوت کی جدوجہد اور تاریخ قلم بند کرنے اور اسے محفوظ رکھنے کی سعی کی گئی ہے۔ اس میں ختم نبوت کے موضوع پر لکھے گئے نئے اور پرانے مضامین مرتب کیے گئے ہیں تا کہ قاری موضوع کے ہر پہلو سے آگاہی حاصل کر سکے۔

صفحہ 591

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

تبصرہ ماهنامه البلاغ

نام کتاب : ماہنامہ مسیحائی کراچی کا ختم نبوت نمبر مدیر اعلیٰ : مخدوم زادہ احمد خیر الدین انصاری مدیر اعزازی : ڈاکٹر حافظ محمد ثانی ضخامت : 1088 صفحات ، طباعت مناسب، قیمت 450 روپے ناشر : احمد خیر الدین انصاری 197/B بلاک A شارع بابر نارتھ ناظم آباد کراچی۔

اس ضخیم نمبر میں ختم نبوت کے موضوع پر مشاہیر اہل قلم کی نادر تحریریں اور قیمتی مقالات جمع کر دیئے گئے ہیں جن کے نتیجے میں یہ نمبر ختم نبوت کے موضوع پر ایک حسین گلدستے کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ واقعی یہ ایک قابل تحسین کوشش ہے۔ (ابومعاذ)

روزنامہ اسلام کراچی

نام کتاب : اشاعت خاص ماہنامہ مسیحائی (ختم نبوت نمبر) مدیر : مخدوم زادہ احمد خیر الدین انصاری صفحات : 1024 قیمت : 450 ملنے کا پتہ : بی 197 ، بلاک A ، شارع بابر نارتھ ناظم آباد کراچی۔ 3569913-0332

ایک ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل ماہنامہ مسیحائی کا ختم نبوت نمبر بلا شبہ عظیم الشان خدمت ہے۔ غالباً اس سے قبل کسی ماہنامہ نے اتنا ضخیم نمبر ختم نبوت کے موضوع پر شائع نہیں کیا۔ پھر یہ ایک ایسے موقع پر منظر عام پر آیا ہے کہ جب تحفظ ختم نبوت کے حوالے سے قائم دینی تنظیمات قانون توہین رسالت کے حوالے سے جدوجہد میں مصروف عمل ہیں۔ یہ ضخیم نمبر یقیناً ان کے ارادوں ، عزائم اور تحریک کو مہمیز کا کام دے گا۔ برصغیر میں تحفظ ختم نبوت کی تحریک اسی قدر قدیم ہے جس قدر کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ نبوت ! ......

صفحہ 592

ماہنامہ مسیحائی کراچی 592 حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

مرزا قادیانی کے فتنے کا تعاقب اس کی زندگی میں ہی شروع ہو گیا تھا۔ اس سلسلہ میں علماء لدھیانہ نے مرزا کے کفر پر اولین فتویٰ تکفیر جاری کر کے اس فتنے پر کاری ضرب لگائی تھی۔

اس کے علاوہ علماء کرام نے جہاں اس فتنے کے تعاقب کے حوالے سے وعظ وتقریر اور مناظرے کا سہارا لیا وہیں تحریر کے میدان میں بھی متعدد کتب تصنیف ہوئیں۔ مضامین لکھے گئے، یوں علمی سطح پر مرزا قادیانی کے دعوے کو باطل ثابت کر کے عامۃ المسلمین کے عقیدہ و ایمان کی حفاظت کا اہتمام کیا گیا۔ امام العصر علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ نے اس فتنے کی سرکوبی کے لیے نہ صرف یہ کہ خود متعدد کتب تصنیف فرمائیں بلکہ اپنے تلامذہ کو بھی اس محاذ پر سرگرم کیا جن میں نمایاں نام حضرت مولانا مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ علیہ اور علامہ حسن چاند پوری کا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے عوامی سطح پر منظم انداز میں قادیانیت کے تعاقب کے لیے حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ امیر شریعت کا لقب دے کر اس محاذ پر بطور خاص مامور فرمایا۔ زیر تبصرہ مسیحائی کا ختم نبوت نمبر اپنے جلو میں متنوع مضامین کو سموئے ہوئے ہے۔ علامہ انور شاہ کشمیری، مولانا محمد ادریس کاندھلوی، سید عطاء اللہ شاہ بخاری، علامہ شمس الحق افغانی، مولانا سید ابوالحسن علی ندوی، مولانا محمد یوسف لدھیانوی، مولانا سید عطاء الحسن بخاری، مولانا محمد آسی امرتسری، مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، مولانا سعید احمد جلال پوری اور دیگر کئی اہم لکھنے والوں کے مضامین اس اشاعت کا حصہ ہیں۔ ہزار سے زائد صفحات میں ختم نبوت پر بلند پایہ علمی مضامین قاری کی پیاس بجھاتے نظر آتے ہیں۔ تحریک تحفظ ختم نبوت سے وابستہ کارکنان اس نمبر کے مطالعہ سے اپنے آپ کو مسلح کر سکتے ہیں۔ چند باتیں قابل غور بھی ہیں مثلاً مضامین کا انتخاب معیاری نہیں لگتا ہے صرف دستیاب مضامین سے ہی کام چلایا گیا ہے، پروف کی اغلاط بہت ہیں، اسی طرح اس ضخیم نمبر کا اداریہ اپنے عنوان کی مناسبت سے جس معلومات آفرینی کا تقاضا کرتا تھا وہ ندارد ہے مناسب ہوتا کہ مدیر اپنے قلم سے تحفظ ختم نبوت کی طویل تاریخ کا احاطہ کرتے تا کہ قاری کو اس جدوجہد کے سمجھنے میں آسانی ہوتی۔ بہر حال اس کے باوجود ماہنامہ مسیحائی کا ختم نبوت نمبر قابل مطالعہ ہے۔

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

کتاب زندگی ہے جو قر میں بھی کوئی جگہ نہیں ملتی۔ انٹرویوز جائے تو اس کی ضرورت واہمیت کچھ ہے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم یہ گلہ کوئی یہ نہیں بتاتا کہ اس کا ذمہ دار کہ قاری۔ بدقسمتی یہ ہے کہ معیا جاتا ہے۔ بلکہ برسوں بعد کوئی اسے کتاب کہنا ہی خاصا مشکل ہے۔ اور بعض اوقات مصنف کہنا نہیں کرتے۔ یا شاید وہ اسے غلطی

بات کسی ایک حوالے تک کہ ختم نبوت، جو مسلمان کا بنیا سے اپنی تحقیق وتصنیف کو جاری گزری۔ بلکہ ڈھونڈنے سے بھ مضائقہ نہیں کہ ہم قادیانیت کی تیار نہیں کہ اس جدید دور میں جمہ کی پرورش کر رہے ہیں اور یہ ب حوالے سے تحقیق کریں۔ جیسے کہ یہ ہمارا کام نہیں۔ تحفظ ختم کیوں کریں؟ بلکہ اب تو اکابر ملتیں۔ ایسے میں خوشگوار حیرت

صفحہ 593

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

روزنامہ امت کراچی

کتاب زندگی ہے جو قومیں اس سے رشتہ توڑ لیتی ہیں، انہیں تاریخ کے حافظے میں بھی کوئی جگہ نہیں ملتی۔ انٹرنیٹ کا طلسم بھی اس کی اہمیت کو کم نہیں کرسکا۔ بلکہ اگر دیکھا جائے تو اس کی ضرورت و اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔ ہمارے لیے اس امر کو سمجھنا تھوڑا مشکل ہے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم یہ گلہ تو تواتر سے کرتے ہیں کہ کتاب پڑھنے کا ذوق نہیں رہا مگر کوئی یہ نہیں بتاتا کہ اس کا ذمہ دار کون ہے؟ میرے خیال میں اس کا ذمہ دار مصنف ہے، نہ کہ قاری۔ بدقسمتی یہ ہے کہ معیاری کی شرط ہٹا بھی دی جائے تو بھی کتاب دیکھے عرصہ گزر جاتا ہے۔ بلکہ برسوں بعد کوئی کتاب دکھائی دیتی ہے۔ جو کچھ چھپ کر سامنے آ رہا ہے، اسے کتاب کہنا ہی خاصا مشکل ہے۔ تحقیق اب علم کے زور پر نہیں، بلکہ قینچی کے بل پر کی جاتی ہے۔ اور بعض اوقات مصنف کہلوانے کے شوقین پروف کی غلطیاں درست کرنا بھی گوارا نہیں کرتے۔ یا شاید وہ اسے غلطی خیال ہی نہیں کرتے۔

بات کسی ایک حوالے سے نہیں۔ ہر میدان میں ایک سا بانجھ پن ہے۔ یہاں تک کہ ختم نبوت، جو مسلمان کا بنیادی عقیدہ ہے اور ہر دور میں علمائے کرام نے اس حوالے سے اپنی تحقیق و تصنیف کو جاری رکھا، ایک عرصہ گزرا اس حوالے سے کوئی نئی چیز نظر سے نہیں گزری۔ بلکہ ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی۔ جان اور ایمان کی امان ہو تو یہ کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ ہم قادیانیت کی سازشوں کا ڈھنڈورا تو ضرور پیٹتے ہیں، مگر یہ زحمت کرنے کو تیار نہیں کہ اس جدید دور میں جب امریکہ اور اسرائیل اپنی پوری قوت کے ساتھ اس شجر خبیثہ کی پرورش کر رہے ہیں اور یہ سازشی ٹولہ اپنی تکنیک آئے روز بدلتا رہتا ہے، ہم ان کے حوالے سے تحقیق کریں۔ نئے ایشوز کو دیکھیں اور قوم کی راہنمائی کریں۔ ہم نے سمجھ لیا ہے کہ یہ ہمارا کام نہیں۔ تحفظ ختم نبوت والے جانیں، مجلس احرار یہ کام کرے، یا کوئی اور، ہم کیوں کریں؟ بلکہ اب تو اکابر علما کا علمی اثاثہ بھی مارکیٹ سے غائب ہو رہا ہے۔ کتابیں نہیں ملتیں۔ ایسے میں خوشگوار حیرت ہوئی کراچی کے ایک میگزین ”مسیحائی“ کا ختم نبوت نمبر دیکھ

صفحہ 594

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی کر۔ صحرا کی تپتی دھوپ میں بارش کا سا احساس ہوا۔ یہ میگزین کوئی مخدوم زادہ احمد خیر الدین انصاری شائع کرتے ہیں۔ ان سے تعارف نہیں، مگر کام اچھا ہے۔ اس اہم موضوع پر باقی کی ساری تو نہیں زیادہ تر تحقیق کو 1088 صفحات کے خصوصی نمبر میں یکجا کرنے کی اچھی کوشش ہے۔ باوجود اس کے کہ معیار کو مزید بہتر بنایا جاسکتا تھا، اس خرچے میں کچھ اور بہتری ممکن تھی، مگر انتخاب دیکھ کر یہ ساری کمزوریاں چھپ جاتی ہیں۔ عمومی طور پر ہمارے ہاں ختم نبوت کو صرف مرزائیت کی تردید کے ساتھ مخصوص کر دیا جاتا ہے، مگر اس میں یہ احساس نہیں ہوتا۔ مسیحائی نے جہاں تمام مکاتب فکر کی فکر کو یکجا کر دیا ہے، وہیں ان صفحات پر مولانا احمد رضا خان بریلوی سے لے کر سید انور شاہ کشمیری ، سید عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا مودودی اور علامہ احسان الٰہی ظہیر تک سب اکابر کے ساتھ ساتھ اصاغر کو بھی پڑھا جاسکتا ہے۔ اردو کتب سیرت کی مکمل فہرست اور اس پر تبصرہ خاصے کی چیز ہے۔ اس کے علاوہ اب تک نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والوں کی فہرست بھی شامل ہے۔ جس میں راولپنڈی کے بد بخت راجہ اصغر اور ہارون آباد کے 4 کذابین کا نام شاید اس لیے رہ گیا کہ ان کا دعویٰ جھوٹ ان ہی دنوں میں سامنے آیا، جب یہ شمارہ تیاری کے مراحل میں تھا۔

صفحہ 595

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 595 ماہنامہ مسیحائی کراچی

تبصرہ کتب ہفت روزہ ایشیا لاہور

ختم نبوت نمبر: ماہنامہ مسیحائی کراچی مدیر اعلیٰ: مولانا احمد خیر الدین انصاری صفحات: 1088 قیمت: 400 روپے ملنے کا پتہ: بی 19، بلاک 8، شارع بابر، نارتھ ناظم آباد، کراچی 0332-3569913-021-36630641

گزشتہ چند برسوں سے اسلام اور رسول اللہ ﷺ کے بارے میں مغرب کی طرف سے بہت ناپاک عزائم اور اوچھے ہتھکنڈوں کا اظہار سامنے آیا ہے لیکن امت مسلمہ کی طرف سے حکومتی سطح پر کوئی باضابطہ احتجاج نہیں ہوا۔ امت کے عوامی حلقے اس ذمہ داری کو پورا کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ مخالفین و معاندین اسلام نے بہت سے راستوں کو مشکوک بنانے کی کوشش کی ہے۔ عقیدہ ختم نبوت کو مشکوک ٹھہرانا بھی انہی راستوں میں سے ایک ہے۔ ماہنامہ مسیحائی کراچی نے اس موضوع پر علمائے امت کی نہایت قیمتی تحریریں یکجا کر کے ختم نبوت نمبر شائع کیا ہے۔ جناب مدیر اعلیٰ مسیحائی احمد خیر الدین انصاری اداریے میں اس نمبر کے بارے میں لکھتے ہیں:

”ختم نبوت پر اعتقاد دین کا لازمی اور بنیادی تقاضا ہے۔ برصغیر کے مسلمانوں کو اس نظریے اور اس عقیدے سے شک اور تردد کی منزل پر لانے کے لیے برٹش دور میں جہاں بہت سی سازشیں ہوئیں، انہیں میں خود ساختہ نبی اور نبوت کا نظریہ بھی سامنے آیا۔ اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ اس پر گواہ ہے کہ ناموس رسالت اور ختم نبوت کے مسئلے پر مسلمانوں نے کبھی کمپرومائز نہیں کیا۔ کبھی وہ اس عقیدے کے متعلق کسی مصلحت کا شکار نہیں ہوئے۔ چنانچہ خلیفہ اول سیدنا ابو بکر صدیقؓ سے آج تک امت اس پر متفق ہے کہ خانہ ساز نبی اور جھوٹی نبوت کا قلع قمع کر دیا جائے۔ چنانچہ پاک و ہند میں اس فتنے نے سر اٹھایا تو علمائے حق اس کے خلاف صف آراء ہوئے اور طویل جدوجہد کے نتیجے میں مملکت خداداد اسلامی

صفحہ 596

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

جمہوریہ پاکستان کی قومی اسمبلی نے علمائے اسلامیان پاکستان ختم نبوت کے متوالوں کی تحریک پر قرآن وسنت کے دلائل ، اجماع امت ، علماء، فقہاء و محدثین اور مفسرین کے موقف اور متفقہ نظریے کی تائید کرتے ہوئے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔

7 ستمبر 1974ء اسلامی جمہوریہ پاکستان کی تاریخ میں ایک سنہرا اور ناقابل فراموش دن ہے جس دن اسلامیان ہند کی طویل جدوجہد اور بے پناہ قربانیوں کے نتیجے میں عقیدہ ختم نبوت کو آئینی تحفظ حاصل ہوا۔ یہ اہل ایمان کا بنیادی تقاضا ہے۔ ماہنامہ مسیحائی نے اس عظیم اور تاریخی ”نبوت نمبر“ کی اشاعت میں اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ اور بالخصوص پاک و ہند میں ہونے والی تحفظ ختم نبوت کی جدوجہد اور تاریخ کو قلم بند کرنے اور اسے تاریخ میں محفوظ رکھنے کی یہ سعی کی ہے۔ تحفظ ختم نبوت کے حوالے سے اس یادگار اور ضخیم مجلے کی اس اشاعت میں ادارہ کو ہر مکتبہ فکر کے جید علمائے کرام مذہبی اسکالر اور اہل علم کی سرپرستی حاصل رہی۔

اس وقیع اور قیمتی دستاویز کی اشاعت یقیناً ایک بہت بڑا کام ہے۔ ہر مکتب فکر کے علماء کی نمائندہ تحریروں کو شامل کیا گیا۔ اس ضخیم نمبر کی اشاعت میں جس قدر احتیاط سے کام لیا جانا چاہیے تھا دو امور پر خصوصی توجہ دی جانی ضروری تھی اول: تمام تحریروں کا حوالہ دیا جاتا کہ یہ کہاں سے ماخوذ ہیں تاکہ نئے مقالات کی وضاحت بھی ہو جاتی۔ دوم: پروف خوانی پر خصوصی توجہ دی جاتی خصوصاً عربی عبارات پر۔ اردو کے ساتھ ساتھ عربی عبارات میں اعراب نہ ہونے کے باوجود اغلاط کافی ہیں۔ اعراب بھی ضروری ہیں تاکہ عام افراد کے لیے پڑھنا مشکل نہ رہے۔ امید ہے کہ آئندہ اشاعت میں ان امور پر از سرنو توجہ دی جائے گی۔

قدم قدم پہ خدا کی مدد پہنچتی ہے
دور سے میرے دل کو رسد پہنچتی ہے

(مظفر وارثی)

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

کتاب : ماہ ) مدیر اعلیٰ: مخدوم زادہ حمید خی مبصر : پروفیسر سید شبیر حس

میں نے آج کوئی ب کتاب سرائے الحمد مارکیٹ ارد تجسس ہوا تو میں نے حضرت علا دفعہ عرض گزاری کی گئی تو حضر (ختم نبوت نمبر ) کراچی اور ماہنامہ م نمبر ) کراچی بھجوا دیا۔ ماہنامہ م ماشاء اللہ ، سبحان اللہ نکلا۔ علام حافظ محمد غازی صاحب کے لئے (آمین ) ماہنامہ مسیحائی ختم نبو نبوت (انا خاتم النبیین لا نبی بع سے گونجیں اور چہار رنگا ہے بک ماہنامہ مسیحائی کراچی ) کی علمی خدمت علمی ‘‘ کا تعارف ہے م والے شخص کا دل کتاب کے م

صفحہ 597

ماہنامہ مسیحائی کراچی پارلیمان پاکستان ختم نبوت کے متوالوں کی محنت، علماء، فقہاء و محدثین اور مفسرین کے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ یہ تاریخ ایک سنہرا اور ناقابل فراموش دن اور بے پناہ قربانیوں کے نتیجے میں عقیدہ ختم کا بنیادی تقاضا ہے۔ ماہنامہ مسیحائی نے اس کام کی چودہ سوسالہ تاریخ اور بالخصوص پاک اور تاریخ کو قلم بند کرنے اور اسے تاریخ کے حوالے سے اس یادگار اور ضخیم مجلے کی علمائے کرام مذہبی اسکالر اور اہل علم کی سرپرستی

ایک بہت بڑا کام ہے ہر مکتب فکر کے نمبر کی اشاعت جس قدر احتیاط سے کام ضروری تھی اول: تمام تحریروں کا حوالہ دیا بات کی وضاحت بھی ہو جاتی۔ دوم: پروف عبارات پر۔ اردو کے ساتھ ساتھ عربی لگانی ہیں۔ اعراب بھی ضروری ہیں تاکہ ہے کہ آئندہ اشاعت میں ان امور پر از

مدد پہنچتی ہے
رسد پہنچتی ہے

(مظفر وارثی)

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

کتاب: ماہنامہ مسیحائی کراچی

(ختم نبوت نمبر)

مدیر اعلیٰ: مخدوم زادہ محمد خیر الدین انصاری مبصر: پروفیسر سید شبیر حسین شاہ زاہد ننکانہ صاحب

میں نے آج کوئی سال ڈیڑھ سال پہلے ماہنامہ مسیحائی (الاعظم نمبر) کراچی کتاب سرائے الحمد مارکیٹ اردو بازار لاہور سے خریدا۔ پڑھا، اس کے بارے میں مزید تجسس ہوا تو میں نے حضرت علامہ احمد خیر الدین انصاری سے رابطہ کیا۔ ٹیلیفون پر چار پانچ دفعہ عرض گزاری کی گئی تو حضرت صاحب نے کمال مہربانی فرماتے ہوئے ماہنامہ مسیحائی (ختم نبوت نمبر) کراچی اور ماہنامہ مسیحائی (قرآن نمبر) کراچی اور ماہنامہ مسیحائی (سیرت رسول نمبر) کراچی بھجوا دیا۔ ماہنامہ مسیحائی (ختم نبوت نمبر) کراچی کو دیکھ کر دل سے بے اختیار ماشاء اللہ ، سبحان اللہ نکلا۔ علامہ احمد خیر الدین انصاری صاحب اور مدیر اعزازی جناب ڈاکٹر حافظ محمد ثانی صاحب کے لئے دعائیں نکلیں ۔ اللہ ان کے کام اور اجر میں برکت دے۔ (آمین)

ماہنامہ مسیحائی ختم نبوت نمبر کراچی کا ٹائٹل گنبد خضریٰ، اسم محمد ﷺ اور حدیث یہ ختم نبوت (انا خاتم النبیین لا نبی بعدی) سے سجا ہوا ہے۔ اگرچہ ٹائٹل ہارڈ کور نہیں بلکہ کارڈ کور ہے مگر نفیس اور چہار رنگا ہے بیک ٹائیٹل پر جناب ڈاکٹر حافظ محمد ثانی صاحب (مدیر اعزازی ماہنامہ مسیحائی کراچی) کی علمی دینی، تحقیقی تصنیف ”رسول اکرم ﷺ کی عسکری اور دفاعی حکمت عملی“ کا تعارف ہے جس سے ہر پڑھنے لکھنے والے باذوق اور دینی مزاج رکھنے والے شخص کا دل کتاب کے لئے للچانے لگتا ہے۔ میرا دل بھی للچاتا ہے مگر ہزاروں خواہشیں

صفحہ 598

ماہنامہ مسیحائی کراچی 598 حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

یہی کہ ہر خواہش پر دم نکلے، بہر حال خاموش ہو گیا ہوں۔ اور اللہ رب العزت کی ذات پر متوکل ہوں کہ وہ اپنی جناب سے مجھے بھی ضرور اس کتاب رفعت مآب سے نوازے گا۔

ماہنامہ مسیحائی (ختم نبوت نمبر) کراچی کی مجلس ادارت اور تقسیم کنندگان کے بعد سب سے پہلے ”وحدہ لاشریک“ کے عنوان سے سترہ ۱۷ مصرعوں پر مشتمل ”حمد“ ہے اس کے مقابل صفحہ پر ”تیری سیرت کا شمع دان تھامے“ کے عنوان سے آزاد وزن کی نعت ہے پھر بلغ العلیٰ بکمالہ کے عنوان سے نعت شریف ہے اور پھر نعت رسول مقبول ﷺ رنگ بہار دکھا رہی ہے اس کے بعد رحمت للعالمین ﷺ کے عنوان سے ایک اور خوبصورت نعت ہے بعد ازاں بنت احمد عرب کی دو مختلف نعتیں ہیں۔ ”ایک یادگار دن“ کے عنوان سے قاری محمد مسلم غازی نے ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کو قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جانے کی یادگار کے طور پر دو صفحات پر مشتمل ایک خوبصورت نظم لکھی ہے عبدالعزیز چشتی صاحب نے ”ختم نبوت ہمارا ایمان“ کے زیر عنوان ۶ اشعار کی نظم اور ہمارے قادر الکلام شاعر حافظ لدھیانوی مرحوم کی نو اشعار پر مشتمل نظم بعنوان ”سلام ان پر قربان ہوئے جو ناموس رسالت پر“ موجود ہے۔ مظفر وارثی کی نظم گستاخ محمد ﷺ کی سزا موت ہے۔ بس موت اور اثر جونپوری کی ترانہ نما نظم گوارا کر نہیں سکتا کے عنوان سے بھی اپنا آپ منوا رہی ہے۔ یہ تو ابتدائیہ ہے ”اصل مسیحائی“ کا آغاز اس کے بعد ہوتا ہے اور ایسا ہوتا ہے کہ خوب ہوتا ہے۔ کہ مرغوب ہوتا ہے کہ محبوب ہوتا ہے کہ مطلوب ہوتا ہے۔

مدیر کے اداریہ سے لے کر جاوید اقبال کے توہین رسالت اور آزادی رائے تک کل بیاسی ۸۲ تحریریں جو مختصر بھی ہیں اور طویل بھی تحقیقی بھی ہیں اور واقعاتی بھی، حوالہ جاتی بھی ہیں اور معلوماتی بھی، فکری بھی ہیں اور شرعی بھی علمی بھی ہیں اور دینی بھی۔ غرضیکہ ماہنامہ مسیحائی (ختم نبوت نمبر) کراچی کا یہ شمارہ گونا گوں خصوصیات، متنوع صفات اور قسم قسم کے انداز ہائے تحریر سے بھرا ہوا ہے۔

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

تحریر خوش

ماہنامہ مسیحائی ک حامل اشاعت پر میں مجلس پیش کرتا ہوں اور اللہ ب جانے کی دعا بھی کرتا ہوں

اب کچھ گفتگو فروگزاشتوں پر، کچھ کی looks پر۔ جن کا طائران

عبارتیں بے

نظمیں ڈھونڈ

نام غلط ہے۔ یہ

صفحہ 599

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 599 ماہنامہ مسیحائی کراچی

تحریروں کی سوغات ہے ہمارا ”مسیحائی“
خوشبو بھری ہر بات ہے ہمارا مسیحائی
مسیحائی نے دیا لطف تشنگان علم کو
علم وعمل کی بات ہے ہمارا مسیحائی۔

ماہنامہ مسیحائی (ختم نبوت نمبر) کی اتنی اچھی ضخیم علمی اور گونا گوں خوبیوں کی حامل اشاعت پر میں مجلس صدارت کے ہر خادم ومخدوم کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد بھی پیش کرتا ہوں اور اللہ سے ان کی خدمت کو قبول کرنے اور ان کو اجر جزیل سے نوازے جانے کی دعا بھی کرتا ہوں۔ ربنا تقبل منا انك انت السميع العليم۔

اب کچھ گفتگو ہو جائے ماہنامہ مسیحائی (ختم نبوت نمبر) کراچی کے تسامحات اور فروگزاشتوں پر، کچھ کمیوں، بیشیوں، خامیوں، خرابیوں، نقائص پر اور .over looks پر۔ جن کا طائرانہ جائزہ درج ذیل ہے۔

عبارتیں بے ربط ہوگئیں اور ”مسیحائی“ کا صوری و معنوی حسن دھندلا گیا۔

نظمیں ڈھونڈنا پڑتی ہیں۔

نام غلط ہے۔ یہ کتابت کی غلطی کم اور نظامت ترتیب کی بے احتیاطی زیادہ ہے۔

صفحہ 600

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

بے معنی ہو گئے ہیں۔

گستاخی معاف! اب میں اردو کی غلطیاں نہیں‘ کتابت کی غلطیاں نہیں‘ مس پرنٹنگ نہیں، صوری اور معنوی بدصورتحالی نہیں بلکہ صرف قرآن حدیث کے متن اور ترجمہ کی اغلاط کی مثالیں پیش کررہا ہوں تاکہ معاملے کی نزاکت اور بے احتیاطی کے وبال کی شدت محسوس کی جاسکے یادرہے کہ عام اغلاط کا نقصان ابہام یا معنی و مفہوم کی عدم تفہیم کی شکل میں نکلتا ہے مگر قرآن وحدیث کی فروگزاشتیں بندے کے ایمان پر اثر انداز ہوتی ہیں۔

مجموعی طور پر ماہنامہ مسیحائی ( ختم نبوت نمبر ) کراچی ایک قابل تعریف کوشش ہے جس پر ادارتی ٹیم مکمل طور پر مبارک باد کی مستحق ہے ان کی شب و روز کی تھکا دینے والی محنت سیلوٹ (SALUTE) کئے جانے کے قابل اور ”مسیحائی“ میں تمام نثری وشعری تحریروں کے خالق اس کے مستحق ہیں کہ ان کے ہاتھ چومے جائیں۔ اور ان کی تحریروں کو پڑھا جائے۔ سمجھا جائے، آگے پھیلایا جائے۔ خود ”مسیحائی“ اس بات کا مستحق ہے کہ اسے خرید کر پڑھا جائے اسے سرکاری و غیر سرکاری لائبریریوں اور ذاتی مطالعہ گاہوں میں رکھا جائے تاکہ اسے بنانے، سجانے ، سنوارنے ، شائع کرنے ،اسے بازار میں لانے والوں، غرض ادنیٰ سے اعلیٰ ورکر خدمت گار اور مخدوم سے مخدوم زادہ تک تمام اہل وفا کی محنت ”پھل“ ہو جا ئے۔

اللهم اهدى، اهدنا واهدى قومى الى العلم والعمل۔

طالب دعا پروفیسر شبیر حسین شاہ زاہد

صفحہ 601

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

نقش ہیں سب ناتمام خون جگر کے بغیر
نغمہ ہے سودائے خام خون جگر کے بغیر

ماہنامہ مسیحائی (ختم نبوت نمبر) کراچی میں اگر تحریروں کی عنوان بندی کر لی جائے تو اس کے حسن و خوبصورتی میں یقیناً یقیناً چار چاند لگ جائیں گے۔ مثلاً

حمد ۔ نعت رسول مقبول ﷺ ۔ ۔ توضیح وتشریح عقیدہ ختم نبوت ﷺ ۔ ۔ عقیدہ ختم نبوت ﷺ پر اشکالات کے جواب ۔ ۔ عقیدہ ختم نبوت ﷺ کا ہمہ جہتی مطالعہ ۔ ۔ تعارف مرزائیت ۔ ۔ تعارف مرزا قادیانی ۔ ۔ مرزا قادیانی کا ”اسلام“ کے زوال میں کردار ۔ ۔ قادیانیت کا اسلام اور پاکستان کے خلاف سرگرمیوں میں کردار ۔ ۔ ۔ وطن عزیز کے موجودہ عدم استحکام کی صورتحال کے پس منظر میں مرزائیت کا جائزہ ۔ ۔ تقابل اسلام اور قادیانیت ۔ ۔ حصہ شاعری ۔ ۔ ”مسیحائی“ میں شامل تمام نثری و شعری تحریروں کے خالق اس اکرام کے مستحق ہیں کہ ان کے ہاتھ چومے جائیں اور اگر وہ دنیا سے پردہ فرما گئے ہیں تو ان کی مغفرت اور درجات میں بلندی کے لئے دعا کی جائے ۔

”مسیحائی“ خود اس اعزاز اور فضیلت کا مستحق ہے کہ اس میں شامل تحریروں کو بغور پڑھا جائے سمجھا جائے آگے پھیلایا جائے ۔

”مسیحائی“ ایک دفعہ پھر اس عزت افزائی کا مستحق ہے کہ اسے خرید کر پڑھا جائے اسے سرکاری و غیر سرکاری لائبریریوں اور ذاتی مطالعہ گاہوں میں رکھا جائے تا کہ اسے بنانے ، سجانے ، سنوارنے ، شائع کرنے ، بازار میں لانے والوں ، پیکنگ کرنے والوں

صفحہ 602

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 602 ماہنامہ مسیحائی کراچی

غرض ادنیٰ سے ادنیٰ ورکر، خدمت گار، قلم کار، تعاون کار Decorator اور خادم سے مخدوم زادہ تک تمام اہل وفا کی محنت ”سُپھل“ ہو جائے۔

اللہم اھدی، اھدنا واھد قومنا الی العلم والعمل وعافنا من الضلال۔

ایں دعا از من واز جملہ جہاں آمین باد

پروفیسر سید شبیر حسین شاہ زاہد گوشۂ محققین ننکانہ صاحب

پروفیسر سید شبیر حسین شاہ زاہد ایم، اے (اسلامیات، عربی، تاریخ) شعبہ اسلامیات، گورنمنٹ گورونانک ڈگری کالج، ننکانہ صاحب گرامی محترم جناب مخدوم زادہ احمد خیر الدین انصاری صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ!

جناب کی طرف سے حسین و جمیل تحفہ ماہنامہ مسیحائی کراچی (ہادیٔ اعظم نمبر) نظر نواز ہوا۔ جزاک اللہ باحسن الجزا

خوبصورت سرورق، جاذبِ نظر خطاطی میں ورفعنا لک ذکرک سے سجا ہوا ہدیہ اعلیٰ اور مدیر اشاعت خاص دونوں کے ذوق پر شوق کا شاہکار۔ بیک ٹائٹل پر ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب کے ترجمہ قرآن ”عرفان القرآن“ کا ٹائٹل۔ خوب، بہت خوب، بہت مرغوب!

دستک سے پہلے چھ شعری تحفے اور دستک کے بعد سترہ نثری رشحات، آخر میں تبصرہ کتب جس میں چھ کتب و رسائل پر اخباری تعارف اور اہل علم کے تبصرے موجود ہیں۔

۲۵۸ صفحات کے ماہنامہ مسیحائی کراچی، ہادیٔ اعظم نمبر میں پہلا حمدیہ زمزمہ صفدر محمود عثمانی (مرحوم) کا ہے (صفحہ ۷) پھر مولانا ابوالکلام آزاد، صابر سنبھلی، شاہدہ ذبیح اللہ، پروفیسر عنایت علی خان، انجینئر شفیع حیدر صدیقی دانش اور محمد عبداللہ تبسم بھاونگری (مرتب قیم الحق بھاونگری) کا حمدیہ و نعتیہ کلام صفتِ علام ہے۔ ورفعنا لک ذکرک (دستک) کے فوراً بعد مولانا ماہر القادری کا گیارہ اشعار پر مشتمل ”سلام بحضور خیر الانام علیہ الصلوٰۃ والسلام“ موجود ہے۔

علمائے کرام، خطباء عظام، محققین، مدققین، اہل علم و صاحب قلم، سیرت رسول اللہﷺ کے خواص، زندگانی محمد مصطفیٰﷺ کے شناور، اساتذہ محترم اور شیوخ معظم کے اقلام علم مقام کے شاہکار علوم ہائے مختلفہ و مطالعہ ہائے متنوعہ کے مجموعہ ہے۔

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

نظر آتے ہیں۔

کرتے ہیں۔

دکھایا ہے۔

یہ سارا کچھ پڑھ کے بے ساختہ

خوشبو ہے دو عالم میں جری ا
کس منہ سے بیاں ہوں ترے

اندر کے صفحات میں کہیں پر ع (صفحہ ۱۴۷) ہے کہیں بھنور میں ک کتابوں کے اشتہار بھی ہیں دیکھیے صفحہ ۲۰۲۔ غرض ماہنامہ مسیحائی کر صاحبزادہ احمد خیر الدین انصاری ا

صفحہ 503

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

نظر آتے ہیں۔

کرتے ہیں۔

دکھایا ہے۔

یہ سارا کچھ پڑھ کے بے ساختہ حفیظ تائب کا یہ شعر وردِ زباں ہو جاتا ہے۔

خوشبو ہے دو عالم میں تری اے گل چیدہ!
کس منہ سے بیاں ہوں ترے اوصاف حمیدہ!

ان کے صفحات میں کہیں پہ حضور سرور کائنات (صفحہ ۲۳۲) نعت ہے کہیں محض نعت (صفحہ ۱۴۷) ہے کہیں بحضور مالک کل (صفحہ ۱۲۳) ہے کہیں اسم محمد (صفحہ ۱۱۰) ہے۔ کتابوں کے اشتہار بھی ہیں دیکھیے اندرونی ٹائٹل، صفحہ ۶، صفحہ ۲۲، صفحہ ۱۴۰، صفحہ ۱۴۸ اور صفحہ ۲۰۲۔ غرض ماہنامہ مسیحائی کراچی (ہادی اعظم نمبر) ایک بے مثال تحفہ ہے جو کہ صاحبزادہ احمد خیر الدین انصاری اور ڈاکٹر حافظ محمد ثانی نے بڑے شوق سے پیش کیا ہے۔

صفحہ 604

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 604 ماہنامہ سبحانی کراچی

محترم مخدوم زادہ احمد خیر الدین انصاری صاحب مدظلہ العالی۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!!!

آپ نے ہمیشہ جہالت کے خاتمے اور دینی طبقات کی بہتری کیلئے قلمی جہاد کیا اور اہل علم کی دعائیں لیں، یہ حقیقت ہے کہ ہم جیسی مبتدیوں کے آپ روحانی استاد ہیں، آج اگر ہم الٹی سیدھی دو چار سطریں لکھ لیتی ہیں، تو یہ فیض ماہنامہ سبحانی کا ہے۔ پہلے بھی بارہا آپ سے مخاطب ہونے کو جی چاہا، مگر میری کم علمی اور آپ کا علمی رعب و دبدبہ آڑے آتا رہا (صرف ایک بار رسالے کیلئے لکھا) اور مجھے یہ اعتراف کرتے ہوئے مسرت ہو رہی ہے کہ آپ علم و دانش کا چشمہ ہیں اور طلبگار آب حیات میں ہوں امید ہے آپ تشنگی کا آئندہ بھی ساماں کرتے رہیں گے۔

اتفاق سے نہ تو کراچی آنا ہو سکا نہ آپ سے کبھی ملاقات کیلئے حاضر ہوئی مگر عہد حاضر کی دانش و بینش کے اہم مذہبی حوالوں کے ناتے آپ کی تحریروں سے فیض یاب ہونے کا موقع ملتا رہتا ہے۔

مختصر بات دراصل یہ ہے کہ اب اہل علم و دانش اور صاحبان احساس کا کچھ ایسا کال پڑا ہے کہ ایک ہی انداز سے سوچنے والے اور مکالمہ کرنے والے بمشکل ہی نصیب ہوتے ہیں ایک حقیقت عرض کرنے کی جسارت کرتی ہوں میں دن بھر اپنی مختلف ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہوتے ہوئے اپنے ارد گرد بہت سے اہل علم سادہ و پر خلوص لوگوں کو بے عزت ہوتے دیکھتی رہتی ہوں جو کسی نہ کسی بد قماش حاسد، بد نیت اور غاصب آدمی کے رو برو سر جھکائے کھڑے ہوتے ہیں میں تقریباً 20 سال سے شعبہ تعلیم درس و تدریس سے وابستہ ہوں لیکن دیکھتے ہی دیکھتے ان سرکاری تعلیمی اداروں کو ان کے ماحول، معیار اور کارکردگی کے اعتبار سے صفر ہوتے دیکھ رہی ہوں، مختلف حکومتوں نے اپنی نئی منصوبہ بندیوں کے ضمن میں انتہائی عمدہ تعلیمی پالیسیاں متعارف کرائیں اور بلند و بانگ دعوے کیے، مگر یہ سب صرف خوبصورت لفظیات اور تحریری اہداف کی خوش نمائیوں تک ہی محدود ہیں، علمی منصوبوں پر عملی طور پر کچھ نہ ہوا کاغذی منصوبوں کے دفتر کے دفتر بنتے چلے گئے اور مردہ، بے معنی الفاظ کے ڈھیر میں

صفحہ 605

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

اضافہ ہوتا چلا گیا روز بروز حالات بد سے بدتر کی طرف جارہے ہیں تعلیمی اداروں میں ان دنوں صرف سیاسی وابستگیوں کے حامل افراد کا دور دورہ ہے مختلف تنظیموں کے کارکنان دندناتے پھرتے ہیں اور ہر چیز پر ذاتی ملکیت کا جھگڑا ڈالے رکھتے ہیں میرٹ اور اصولوں کی بات صرف ان لوگوں کیلئے ہے جنہیں عرف عام میں جیالے کہا جاتا ہے سفارش والے ہر شرط سے ماورا ہیں طریق کار یہ ہے کہ کردار کشی افواہ سازی اور گالم گلوچ کے ذریعے اساتذہ کو اساتذہ سے اور طالب علموں کو طالب علموں سے لڑوایا جاتا ہے میں جب بھی یہ باتیں اپنے کسی ساتھی سے کرنا چاہتی ہوں وہ یہ تاثر دیتی ہیں کہ میرے پاس فاضل وقت ہے اور میں بیکار سوچوں میں پڑی رہتی ہوں، بھلا جن دنوں ٹی وی پر اتنے پرائیویٹ چینلز بھی چل رہے ہوں غیر ملکی چینلز بھی موجود ہوں ایک سے ایک تفریحی پروگرام دکھایا جارہا ہو وہاں ایسی خشک اور بیکار باتیں کرنے سے کیا فائدہ، مگر میں کیا کروں T.V ریموٹ کا بٹن دباتے ہی اچانک کسی وقت مجھے افغانستان یا عراق کی سرزمین کا کوئی ہولناک خونیں منظر بھی نظر آجاتا ہے اور میری آنکھوں کے آگے اندھیرے چھا جاتے ہیں، میں اکثر اب خوابوں میں بھی ڈرنے لگی ہوں۔ نیند میں کبھی مجھے اپنے وطن کی گلیوں میں عجیب مناظر دکھائی دینے لگتے ہیں اور میں گھبرا کر بیدار ہو جاتی ہوں، سنا ہے خواب دراصل ہمارے باطنی خوف اور نفسیاتی ردعمل کی علامتیں ہوتے ہیں۔ نہ جانے آپ کا بہت سا وقت میں نے بے اجازت کیوں لے لیا۔ صرف مسیحائی کی وصولی کی رسید دینی تھی، اس شعر کے ساتھ اجازت کی طالب ہوں:

(رضیہ پروین) پرنسپل آمنہ جنت فاؤنڈیشن ماڈل اسکول چونیاں ضلع قصور،

صفحہ 606

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 606 ماہنامہ سبحانی کراچی

پرکھ ...... پرکھ کے لئے دو جلدیں آنا ضروری ہیں۔

نام کتاب : نشانات ارض نبوی صلی اللہ علیہ وسلم مؤلف : شاہ مصباح الدین شکیل۔ بی۔کام۔ ایل ایل، بی (عثمانیہ) ایم۔اے (دہلی یونیورسٹی) تبصرہ نگار : مولانا اعجاز احمد خان سائز : ۲۳×۳۶/۸ کل صفحات : ۴۳۸ کل تصاویر : چھ سو سے زائد قیمت : ۱۶۰۰ روپے ناشر و طابع : فضلی سنز پرائیویٹ لمیٹڈ۔ کراچی ملنے کا پتہ : فضلی بک سپر مارکیٹ 507/3 فصیل روڈ۔ اردو بازار کراچی

سیرت نگار شاہ مصباح الدین شکیل صاحب اسلامی تاریخ کے شناور ہیں۔ انہوں نے جامعہ عثمانیہ حیدرآباد دکن سے تعلیم کے اعلیٰ مدارج طے کئے۔

ہندوستان میں دولت آصفیہ کا دور ایسا علمی، تحقیقی اور اعلیٰ قابلیت کا دور تھا۔ دولت آصفیہ میں تعصب، صوبہ پرستی، اور فرقہ وارانہ لعنت نہ تھی وہ قرطبہ، بغداد اور مصر وغرناطہ کے بعد علم وفضل کا مرکز تھا۔ جہاں یورپ، عرب، ایران، افغانستان اور ہندوستان بھر کے چیدہ چیدہ صاحبان علم وفضل اور ماہرین تعلیم جمع تھے۔ اور وہ تعلیمی اداروں میں علم وتحقیق کے موتی بکھیرتے تھے۔ ان کے شاگرد اور تلامذہ دنیا کے نامور اور شہرت یافتہ افراد میں شمار ہونے لگے۔ جامعہ عثمانیہ صرف علمی ادارہ ہی نہیں تھا بلکہ وہ مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ کا مرکز تھا جہاں علم وتحقیق کے علاوہ تہذیب وشرافت اور اسلامی اقدار کی پاسداری کا درس بھی دیا جاتا تھا وہاں کے تعلیم یافتہ نہ صرف علمی قابلیت کے اعلیٰ مدارج کے حامل تھے بلکہ ان میں اسلامی

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

شرافت، تہذیب وتمدن کے اعلیٰ نمو اور ان کی شرافت سب کے لئے نمو شاہ مصباح الدین شکیل صا و تہذیب کا سبق حاصل کیا اور آ کے بنیادی ماخذ پر تحقیق کے لئے صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رض کرنے کا سلیقہ ہے۔

موجودہ کتاب میں آغاز حالات، واقعات اور مقامات ک تفصیل کچھ یوں ہے۔

السلام کے احوال سے م منصوبوں تک سیرت پاک

رنگین تصاویر جن میں ح تصاویر بھی شامل ہیں جو مقبرے نظر آتے ہیں۔

نقشے، قرآن مجید کے مخ

صفحہ 607

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

شرافت، تہذیب و تمدن کے اعلیٰ نمونے بھی موجود تھے۔ ان کا اخلاق بلند، ان کا کردار مثالی اور ان کی شرافت سب کے لئے نمونہ عمل تھی۔

شاہ مصباح الدین شکیل صاحب خوش قسمت ہیں کہ ان اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ سے علم و تہذیب کا سبق حاصل کیا اور آج اسی علمی اور تہذیبی شرافت کا نتیجہ ہے کہ ان کا قلم اسلام کے بنیادی ماخذ پر تحقیق کے لئے وقف ہے۔ انہیں نئے نئے انداز میں اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی بابت نئی نئی تحقیق اور نئے نئے انداز سے پیش کرنے کا سلیقہ ہے۔

موجودہ کتاب میں آقاؐ کی سیرت کو منزل بہ منزل ارتقائی حیثیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے حالات، واقعات اور مقامات کو تصاویر اور مختصر تشریح کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ جس کی تفصیل کچھ یوں ہے۔

السلام کے احوال سے وصال نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسجد الحرام کی توسیع کے منصوبوں تک سیرت پاک کے اہم واقعات۔

رنگین تصاویر جن میں جنت المعلیٰ اور جنت البقیع کی سو سال پہلے کی ایسی نایاب تصاویر بھی شامل ہیں جن میں اہل بیت اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کی قبور اور مقبرے نظر آتے ہیں۔

نقشے، قرآن مجید کے مخطوطات اور فرامین نبوی کی پندرہ عکسی تصاویر۔

صفحہ 608

ماہنامہ مینائی کراچی حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

سے زیادہ خاکے اور جدول جن کی وجہ سے سیرت کی تفہیم اور مطالعہ سہل اور آسان ہو گیا ہے۔

دیگر انبیاء علیہم السلام اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی نادر و نایاب اشیاء کی تصویریں اور احوال، حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے موئے مبارک، نعلین مبارک (چپل شریف) قمیص، مہر نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور قدم مبارک کے علاوہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر استعمال لکڑی کے پیالے کی تصویر۔

غرضیکہ اس کتاب میں جو معلومات فراہم کی گئی ہیں وہ نہایت اہم ہیں۔

ناشر کا حسن ذوق قابل داد ہے کاغذ، تصاویر، خاکے، نقشے، سب ایسے دیدہ زیب اور رنگ برنگ انداز میں شائع کئے گئے ہیں کہ گویا قاری خود کو اسی دور میں محسوس کرتا ہے اور یہ سب تصاویر ذہن و دماغ میں اس طرح پیوست ہو جاتی ہیں گویا انسان تمام ادوار میں موجود تھا اور یہ سب کچھ اس کی آنکھوں کے سامنے پیش آیا تھا۔

اس سلسلے میں جہاں شاہ مصباح الدین شکیل صاحب کی سوچ نے انفرادیت کو قائم رکھتے ہوئے صاحب سیرت کو پیش کیا ہے وہ انداز لاجواب اور دل و دماغ میں سمو جانے والا انداز ہے جس میں مؤلف اور جامع کامیاب ہیں اور لائق ستائش اور مبارک باد کے مستحق ہیں۔ وہیں ناشر کا اعلیٰ ذوق اور ان خوبصورت انداز میں پیش کرنا بھی تحسین و ستائش کا مستحق ہے اللہ تعالیٰ جامع اور ناشر کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس سے فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔ بحرمۃ المرسلین۔

ان تمام خوبیوں کے باوجود ایک سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ جانداروں کی تصاویر بھی اس میں شامل ہیں۔ صاحب سیرت حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس سلسلے میں سخت موقف ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس گھر میں کتا یا تصاویر ہوں اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔ دوسرے موقع پر فرمایا کہ سب سے زیادہ عذاب (جاندار

صفحہ 609

ماہنامہ سبحانی کراچی 609 حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

کی) تصویریں بنانے والوں کو ہوگا۔ یہ شناعت اس وقت اور بڑھ جاتی ہے جب کتاب میں قرآنی آیات بھی ہوں اور اسی کتاب میں تصاویر بھی ہوں۔ اعاذنا اللہ منہ۔

اگر تصاویر اتنی ہی ضروری تھیں تو ان کے چہرے کالک سے ڈھانپ دیتے تو عذاب الٰہی سے محفوظ ہوجاتے ۔ نعوذ باللہ من شرور انفسنا ۔

امید ہے آئندہ تصاویر کو بالکل نکال دیا جائے گا یا ان کے چہروں پر کالک لگادی جائے گی کیونکہ یہ کتاب انسانوں کی نمائش کی نہیں ہے بلکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ہے لہٰذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش کرنے کے لئے تصاویر سے کتاب کو بالکل پاک کر دیا جائے۔

(ا۔ا۔خ۔س)

مالک! تری قدرتوں کے آگے
جھکتی ہیں ادب سے سب نگاہیں
اس عالم بے ثبات میں بھی
حاصل ہیں ہمیں تری پناہیں!
قائم ہے یہ کائنات تجھ سے
ہر مرحلۂ حیات تجھ سے
ہر شے کو ملا ثبات تجھ سے
لیکن یہ ثبات مختصر ہے
بس تو ہی محیط بحر و بر ہے
تو مالک ملک خشک و تر ہے
پھر بھی مرے رب! زمیں پہ تو نے
فرعونوں کو بخش دی حکومت!
قبضے میں دیئے ہیں تو نے ان کے
سب خیل و سپاہ و لاؤ لشکر!

عزیز الدین

صفحہ 610

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 610 ماہنامہ سچائی کراچی

نام کتاب : مشاہیر علماء تالیف : ڈاکٹر حافظ فیوض الرحمن ناشر : جامعہ عثمانیہ تعلیم القرآن معین آباد لانڈھی ٹاؤن کراچی سال طباعت : دسمبر 2010 صفحات : 265 قیمت : درج نہیں ہے تبصرہ نگار : ضیاء الرحمن مجرد

زیر تبصرہ کتاب ڈاکٹر حافظ فیوض الرحمن کی تالیف کردہ ہے جس میں تقریباً 206 علمائے دین کے تذکرے مختصر مگر جامع انداز میں خزینہ معلومات سے معمور کتاب کے 265 صفحات پر پھیلے ہوئے ہیں۔ اکابرین دین و علماء کرام بطور خاص گمنام علماء دین پر مواد اکٹھا کرنا، ترتیب دینا اور اسے ضبط تحریر میں لا کر کتاب کی شکل دینا بظاہر کوئی آسان کام نہیں ہے لیکن چونکہ ڈاکٹر صاحب کو اس موضوع سے خاص دلچسپی ہے لہٰذا وہ اب بھی باقاعدگی سے ان معروف و غیر معروف علماء دین کی تلاش میں ہمہ وقت سرگرداں نظر آتے ہیں۔ کچھ نہیں تو ان اکابرین دین کے بارے میں مواد اکٹھا کرنے کے لیے ملک بھر کے تمام دینی مدرسوں کے کتب خانوں میں موجود کتابوں کی ورق گردانی کرتے نظر آتے ہیں۔ اور اچھا خاصہ مواد جمع ہو جاتا ہے تو اسے بڑے سلیقے سے ترتیب دیکر کتاب کی شکل دے دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب تک اُن کی بے شمار تالیفات منظر عام پر آ چکی ہیں اور اپنے پڑھنے والوں سے قبولیت کی سند حاصل کر چکی ہیں۔

دراصل سچے علماء دین و مشائخ دین اسلام کے محافظ و پاسبان ہوتے ہیں جن کی صحبت میں رہ کر ہمیں بہت کچھ سیکھنے اور خاص طور پر دین اسلام کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ مزید یہ کہ ان علماء کرام کے تذکروں میں ہمیں ان کا طرز معاشرت، درس و تدریس کا انداز، طرزِ

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء خطابت و شعلہ بیانی، شیریں گفتار تعلیمات کے ذریعے ہمیں نہ صرف جواب دینے اور صحیح معنوں میں اللہ کی روشنی میں ڈھالنے میں مدد ملتی ہ ہے۔ اس تذکرے کی ترتیب و تدو سہارہ لیا ہے وہیں انہوں نے م نامہ ”ابلاغ“، محمود احمد عباسی کے چراغ“، لاہور 1975ء، مولانا م رضوی کی تصنیف ”تاریخ دارالعلوم کتاب نقوش رفتگان سے مواد لیا ہ بہر کیف ڈاکٹر صاحب متعارف کروائے ہیں جو دین اسلا رکھتے ہوئے ہم جیسے کم عقل لوگوں اتر جانے والی شخصیت کے روپ م ذہنوں میں زندہ و تابندہ ہیں۔ اس موضوع پر مزید مع ایک خوبصورت فہرست موجود ہے کے معترف ہو جائیں گے۔ یہاں میں اس کتاب م چاہتا تھا لیکن چونکہ یہ فہرست بہت

صفحہ 611

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ سبحانی کراچی

خطابت و شعلہ بیانی، شیریں گفتاری اور فقہ و حدیث پر مکمل دسترس اور عمیق مطالعہ اور تفہیمات کے ذریعے ہمیں نہ صرف دین اسلام کو سمجھنے بلکہ غیر مسلموں کے اعتراضات کا جواب دینے اور صحیح معنوں میں اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے اور اپنی زندگی کو قرآن وسنت کی روشنی میں ڈھالنے میں مدد ملتی ہے جو یقیناً ہمارے اور آپ کے لیے ذریعہ نجات کا سبب ہے۔ اس تذکرے کی ترتیب و تدوین میں ڈاکٹر فیوض الرحمٰن نے جہاں اپنے مطالعے کا سہارہ لیا ہے وہیں انہوں نے مولانا اشرف علی تھانوی اور ان کے خلفاء کرام، ماہ نامہ ”البلاغ“، محمود احمد عباسی کے تذکرۃ الکرام، پروفیسر احمد سعید کی کتاب ”بزمِ اشرف کے چراغ“، لاہور 1975ء، مولانا محمد شاہد کی کتاب ”علماء مظاہر“، کارروان تھانوی سید محبوب رضوی کی تصنیف ”تاریخ دارالعلوم دیوبند دھلی“ (DEHLI) اور جسٹس محمد تقی عثمانی کی کتاب نقوش رفتگاں سے مواد لیا ہے لیکن الفاظ ڈاکٹر فیوض الرحمٰن کے اپنے ہیں۔

بہر کیف ڈاکٹر صاحب نے اس تذکرے میں اکابرین اسلام کے وہ چہرے متعارف کروائے ہیں جو دین اسلام پر اپنے مطالعے کی بدولت ایک خاص روحانی کشش رکھتے ہوئے ہم جیسے کم عقل لوگوں کے بند دماغوں پر دستک دینے اور دل کی گہرائیوں میں اتر جانے والی شخصیت کے روپ میں اور غیر معمولی صلاحیتوں کی وجہ سے آج بھی ہمارے ذہنوں میں زندہ و تابندہ ہیں۔

اس موضوع پر مزید مطالعے کے لئے آپ کو کتاب مشاہیر علماء کے عقبی حصہ پر ایک خوبصورت فہرست موجود ہے جس کو پڑھنے کے بعد آپ بھی یقیناً مولف کی فکری کاوش کے معترف ہو جائیں گے۔

یہاں میں اس کتاب میں موجود (چند معروف علماء کرام کا مختصر سا جائزہ پیش کرنا چاہتا تھا لیکن چونکہ یہ فہرست بہت طویل ہے اور سب ہی نام اور ان کا کام معتبر ہے۔

صفحہ 612

ماہنامہ سبحانی کراچی 612 حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

نام کتاب : مقالات سید سلیمان ندوی تالیف : ڈاکٹر حافظ قاری فیوض الرحمٰن ناشر : مسجد الفرقان، ملیر کینٹ کراچی صفحات : 130 روپے سال طباعت : دسمبر 2010ء قیمت : درج نہیں ہے۔ تبصرہ نگار : ضیاء الرحمٰن کھڑو

زیر تبصرہ کتاب ڈاکٹر حافظ فیوض الرحمٰن کی تالیف ہے۔ آپ ایک کہنہ مشق تحریر نگار ہیں جو طویل عرصہ سے تصنیف، پڑھو اور پڑھاؤ کے فلسفہ پر کمر بستہ ہیں۔

تحقیق و جستجو ان کا خاص مشغلہ ہے۔ جس کا واضح ثبوت 20 سے زائد ان کی تصانیف و تالیفات ہیں جو کتابوں کی صورت میں منظر عام پر آچکی ہیں۔ آپ کی اسلام، اسلامیات اور تحریک پاکستان سے محبت و عقیدت اور نظریاتی وابستگی کا نتیجہ ہے کہ آپ نے زیر نظر کتاب ”مقالات سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ“ تالیف کر کے تاریخ عمومی کے طالب علموں کی معلومات میں مزید اضافہ کر دیا ہے کیونکہ جنرل ہسٹری کے طالب علم ہونے کے ناطے ہم اور آپ مولانا سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ کے معرکۃ آراء ”خطبات مدراس“ سے تو اچھی طرح واقف ہیں، اس کی تفصیل کی تو اس وقت یہاں پر کوئی گنجائش نہیں ہے کیونکہ اس موضوع پر اب تک بہت کچھ لکھا اور پڑھا جا چکا ہے۔

کتاب کو 8 عنوانات میں کچھ اس انداز سے تقسیم کیا گیا ہے کہ پہلے تقدیم پھر سید صاحب کا تعارف ہے اور اس کے بعد 6 مقالات کو ترتیب دیا گیا ہے۔

ڈاکٹر فیوض الرحمٰن کو میں اس خوبصورت تالیف پر مبارک باد پیش کرتا ہوں کیونکہ کتاب کو انہوں نے بڑے سلیقہ و قرینے سے عمدہ کتابت و سفید آفسٹ پیپر پر شائع کیا جو قاری سے مطالعہ کا تقاضہ کرتی ہے۔

صفحہ 613

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۰ء 613 ماہنامہ سبحانی کراچی

نام کتاب : اشاریہ ماہنامہ القاسم نوشہرہ مرتب : محمد شاہد حنیف ، انچارج شعبہ رسائل و جرائد ماہنامہ ”محدث“ ماڈل ٹاؤن لاہور ضخامت : 228 صفحات قیمت : درج نہیں ہے ناشر : مولانا عبدالقیوم حقانی ، مہتمم اعلیٰ، القاسم اکیڈمی، جامعہ ابوہریرہ، خالق آباد نوشہرہ

تبصرہ : زیر تبصرہ کتاب ماہنامہ القاسم کے 13 سال میں شائع ہونے والے 128 شماروں، 10626 صفحات، 600 مصنفین، 2500 مقالات و نگارشات اور 1000 کے قریب کتابوں پر کئے گئے تبصروں کا 100 موضوعات پر مشتمل اشاریہ ہے۔ جسے بڑی محنت اور مہارت سے مرتب کیا گیا ہے۔

اشاریے محققین کے لئے تازہ ہوا اور صاف پانی کی مانند ضروری ہوتے ہیں۔ بقول ڈاکٹر سفیر اختر : ”اشاریہ مستقبل کے محققین، مؤرخین، ناقدین اور تھیسس لکھنے والوں کے لئے بھی ممد و معاون ثابت ہوگا۔“

زیر تبصرہ اشاریہ کو جناب محمد شاہد حنیف صاحب نے بڑی محنت و مشقت و عرق ریزی سے مرتب کیا ہے تا کہ محققین آسانی سے اپنے مطلوبہ مواد تک پہنچ سکیں۔

اول : موضوعاتی اشاریہ ۔ دوم : مصنف وار اشاریہ

امید ہے یہ مفید دستاویز دلچسپی رکھنے والے علم دوست حضرات کو پسند آئے گی۔

(مراسلہ: محمد عبداللہ تبسم بہاول نگری بشکریہ نعیم الحق)

صفحہ 614

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ سبحانی کراچی

نام کتاب : شعری التجائیں مصنف : پروفیسر محمد اقبال جاوید ناشر : ندوۃ المعارف، 13 اسٹریٹ اردو بازار، لاہور قیمت : 300 روپے ضخامت : 296 صفحات

کتاب کے ٹائٹل پر دو سطروں میں نفس مضمون کے بارے میں مکمل اطلاع موجود ہے۔ حرمین شریفین میں یاد آنے والے کیف آفریں اشعار تاثراتی توضیحات کے ساتھ۔

حرف آغاز واقعتاً گداز یک نوا ہے۔ آپ بھی سادہ لفظوں میں پنہاں اس عظیم اشارہ سے لطف اندوز ہوں جسے پروفیسر محمد اقبال جاوید نے کمال ہنر مندی سے چند سطروں میں سمو دیا ہے:

غار حرا کی نورانی فضا میں فرشتے نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھینچا اور زور سے کہا:

”پڑھ!“

تو عرب کا وہ عظیم اُمی افصح العرب بن کر علم کا شہر بن چکا تھا۔ قرآن خطاب کے انداز میں اترا اور خطاب ہی کے انداز میں جب اس عظیم و جلیل خطیب کی زبان صدق اظہار سے مفکرین کی سماعت سے ٹکرایا تو وہ سناٹے میں آگئے اور سارے گوش بر آواز ہو گئے

دریا کا جوش رک گیا، طوفاں تھم گیا
جو تھا جہاں، لرز کے، اسی جا پہ جم گیا

کتاب بڑے اہتمام اور قلبی لگن سے طباعت کے مراحل سے گزری ہے۔

صاحبان قلب و نظر کے لئے اس کتاب میں بہت کچھ ہے۔ مصنف کے اپنے الفاظ میں:

”اس توقع کے ساتھ کہ شاید کوئی شعر، کوئی مصرعہ، دیار غیر میں کسی دل کو کیف اور کسی روح کو سرور عطا کر جائے کہ سرور و کیف کا ایک لمحہ، گھنٹوں کی بے کیف عبادت سے کہیں خوش تر ہے۔

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء

اگر آپ جاننا چاہ محبت کی کسوٹی یہ ہے کہ:

بات برداشت نہیں کریں

ان چیزوں کے سچ وہ ہے جس کی مثالیں بچے بچیوں تک نے پیش قرآن سمجھنے اور حدیث ایمان کا دعویٰ بھی نہ کر حدیث کا مطالعہ فالتو لوگو کیا اور مسلمانوں نے کون سے نبی کی امت وقف کردیں۔ کیا ہماری ہونے کا وقت نہیں نکال اللہ علیہ وسلم کی سچائی کی محتاجی پال کر خود کو محمد صل وہ شاگرد جو محمد صلی اللہ ع کر گمراہ کرنے کی کوش الرسول اللہ صلی اللہ علی

صفحہ 615

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ مسیحائی کراچی

محبت کی کسوٹی

اگر آپ جاننا چاہیں کہ آپ کو اپنے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہے تو اُس محبت کی کسوٹی یہ ہے کہ:

بات برداشت نہیں کریں گے۔

ان چیزوں کے بغیر محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ دو لفظ محض لفظ ہیں محض دعویٰ! سچ وہ ہے جس کی مثالیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم و صحابیات رضی اللہ عنہن اور ان کے معصوم بچے بچیوں تک نے پیش کیں۔ ہمارے طالب علم اگر دنیا جہان کی کتب رسائل پڑھ لیں، مگر قرآن سمجھنے اور حدیث پڑھنے کا وقت نہ ملے۔ ”تو انہیں محبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تو کیا؟ ایمان کا دعویٰ بھی نہ کرنا چاہیے۔ اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت وسنت اور حدیث کا مطالعہ فالتو لوگوں کا کام نہیں دنیا کے سب سے بہترین دماغوں نے حدیث پہ کام کیا اور مسلمانوں نے حدیث بحفاظت پھیلانے کے لیے ۱۰۰ کے قریب علوم ایجاد کیے۔ کون سے نبی کی اُمت نے ایسا بے مثال کام کیا ہے؟ بلکہ اس کام کے لیے اپنی زندگیاں وقف کردیں۔ کیا ہماری نوجوان نسل اپنے بزرگوں کے ان اعلیٰ کارناموں سے واقف بھی ہونے کا وقت نہیں نکال سکتی؟ اگر ”نہیں“ ...... تو پھر...... اللہ کے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کی گواہی دینے کون آئے گا؟ بلکہ آج کا بے علم مسلمان اپنی بے علمی کی محتاجی پال کر خود کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کی صف میں کھڑا کر رہا ہے اور دجال کے وہ شاگرد جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن ہیں۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قافلے کو اپنے پیچھے چلا کر گمراہ کرنے کی کوشش میں اس وقت سے مصروف ہیں جب سے رب العالمین نے محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبوت کا تاج پہنایا۔

(علم کا شہر سے اقتباس)

صفحہ 616

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۰ء ماہنامہ سبحانی کراچی

نظم

محمد رمضان راٹھور

ڈاڑھی سفید ہوچکی، دل ہے ابھی سیاہ
غافل سمجھ سکا نہیں، فطرت کا انتباہ
نیکی کا گر خیال بھی آیا تو دو گھڑی
اور غفلتوں میں کٹ گئے کتنے ہی سال و ماہ
ہے ماحصل یہی سفر حیات کا
کچھ ارمغان معصیت، کچھ ہدیۂ گناہ
تیرے کرم کی آس ہے آسی کا آسرا
تاجدار طیبہ و بطحا! خدا گواہ
پہنچوں ترے حضور میں چل کے سر کے بل
دل میں ہے اشتیاق کا طوفان بے پناہ
کب آئے گا بلاوا فقیر حقیر کو
ہے گوش بر آواز وہ ہر شام، ہر پگاہ
صفحہ 617

حرمت رسول نمبر ۲۰۰۱ء 617 ماہنامہ مسیحائی کراچی

سعودی عرب علماء کی سپریم کونسل نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے

گستاخ کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیدیا

اللہ عنہم کے گستاخ کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیدیا

جو شخص تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم یا ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن میں سے کسی ایک کی بھی شان میں گستاخی کا مرتکب ہوا اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام اولاد اہل بیت میں شامل ہیں، علماء سپریم کونسل، فتوے پر تمام ارکان کے دستخط ہیں۔

سعودی حکومت کے زیر انتظام علماء کی سپریم کونسل نے اپنے ایک تازہ فتوے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے گستاخ کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیدیا ہے۔ ریاض میں علماء کونسل کی جانب سے جاری فتوے میں کہا گیا ہے کہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا احترام اور اہل بیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اکرام و احترام اہل سنت کے عقیدے کا جزو ہے۔ جو شخص تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم یا امہات المومنین رضی اللہ عنہن میں سے کسی ایک کی بھی شان میں گستاخی کا مرتکب ہو گا اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور وہ دائرہ کفر میں شمار ہو گا۔ علماء کونسل کے بیان میں کہا گیا ہے کہ امہات المومنین رضی اللہ عنہن اور آپ کی آل اہل بیت میں شامل ہیں۔ اہلسنت والجماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ صحابہ کے ساتھ بغض رکھنے والے کا ایمان اور اسلام سلامت نہیں رہتا اور وہ دائرہ اسلام سے باہر ہو جاتا ہے۔ سعودی علماء کی جانب سے جاری اس متفقہ فتوے میں علماء کونسل کے تمام ممبران کے دستخط ثبت ہیں۔ نیز فتوے کی تیاری میں آیات قرآنی اور احادیث رسول کو بطور استناد شامل کیا گیا ہے۔ فتوے کے مطابق جس طرح نبی

صفحہ 618

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء ماہنامہ سبحانی کراچی

اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک ہستی کی عزت و تکریم ہمارے ایمان کا حصہ ہے اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم سے محبت اور عقیدت بھی جزو ایمان ہے۔ ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام اولاد اہل بیت میں شامل ہیں جیسا کہ خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث ثقلین میں 3 مرتبہ اس کا ذکر فرمایا۔ اس کے علاوہ قرآن کریم کی آیات بھی ازواج مطہرات کو اہل بیت رسول میں شامل کرنے کی دلیل ہیں۔ العربیہ کی رپورٹ کے مطابق سعودی علماء کے متفقہ فتوے میں کہا گیا ہے کہ جو شخص صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، امہات المومنین رضی اللہ عنہن یا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر کسی بھی قسم کی تہمت لگاتا ہے تو وہ گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوتا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام تراشی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب بیوی پر الزام لگانا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب بیوی پر الزام (نعوذ باللہ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر الزام تراشی کے مترادف ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام صحابہ رضی اللہ عنہم، ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن اور اہل بیت سے بلا امتیاز محبت اور عقیدت نہ رکھی جائے۔ سعودی علماء کی جانب سے جاری تازہ فتوے میں ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے احادیث میں وارد مناقب اور فضائل بھی بیان کیے گئے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب ترین اہلیہ تھیں۔ ان کے لیے اللہ کی طرف سے حضرت جبریل علیہ السلام بھی سلام لے کر آئے۔ بیان کے مطابق سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر جب ایک شخص نے تہمت لگائی تو اللہ تعالیٰ نے اس کی صفائی میں بیان فرماتے ہوئے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی پاکیزگی کی ایسی سند عطا فرمادی جو کسی اور کو نہیں مل سکی۔ اللہ تعالیٰ نے خود سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی پاکدامنی کی تصدیق کی جس کی قرآن کی آیات شاہد ہیں۔ سعودی علماء کی جانب سے یہ فتویٰ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ دنوں کویت کے ایک شیعہ عالم نے لندن میں تقریب کے دوران ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شان میں نازیبا زبان استعمال کی تھی۔

☆......☆......☆

صفحہ 619

حرمت رسول نمبر ۲۰۱۱ء 619 ماہنامہ مسیحائی کراچی

حمد باری تعالیٰ

آفتاب کریمی

ایک ہے خدا سچ ہے لا الہ الا اللہ
سب سے ہے بڑا سچ ہے لا الہ الا اللہ
رب ہے سب جہانوں کا پالتا ہے وہ سب کو
سب کا ہے خدا سچ ہے لا الہ الا اللہ
شان ہے میرے رب کی ذوالجلال والاکرام
شان ربنا سچ ہے لا الہ الا اللہ
جو ارادہ فرمائے کن کہے وہ ہو جائے
کن فکاں بڑا سچ ہے لا الہ الا اللہ
ماسوا خدا کے تو دوسرا نہیں معبود
کلمہ خدا سچ ہے لا الہ الا اللہ
ماضی حال مستقبل اس کے سامنے حاضر
لوح پہ لکھا سچ ہے لا الہ الا اللہ
رات دن جو روزانہ آگے پیچھے آتے ہیں
بولتا ہوا سچ ہے لا الہ الا اللہ
خود ثبوت ہے اپنا خود سند ہے وہ اپنی
اس نے جو کہا سچ ہے لا الہ الا اللہ
اس سے بڑھ کے سوچو تو اور کیا سند ہوگی
رب نے خود کہا سچ ہے لا الہ الا اللہ
کثرت خلائق کا ورد بس یہی تو ہے
وحدت خدا سچ ہے لا الہ الا اللہ
روح پہلے کہہ آئی قلب اب یہ کہتا ہے
رب ہے وہ میرا سچ ہے لا الہ الا اللہ
ہے تقاضہ ایماں کا دو گواہی وحدت کی
کہہ دو برملا سچ ہے لا الہ الا اللہ
میں بھی ذکر کرتا ہوں وہ بھی ذکر کرتا ہے
ذکر ہے بڑا سچ ہے لا الہ الا اللہ
میرا تو کریمی یہ دعویٰ ہے کہ یہ کلمہ
سچ ہے باخدا سچ ہے لا الہ الا اللہ
PDF 620

نقیب اتحاد ملت اسلامیہ

ماہنامہ میثاق کراچی

حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم نمبر

ABC سے باقاعدہ تصدیق شدہ

جو لوگ اللہ اور اس کے پیغمبر کو رنج پہنچاتے ہیں اُن پر اللہ دنیا و آخرت میں لعنت کرتا ہے اور اُن کے لئے اُس نے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے

(سورۃ احزاب آیت نمبر : 57)

إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّلَهُمْ عَذَابًا مُّهِينًا O

إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّلَهُمْ عَذَابًا مُّهِينًا O

إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّلَهُمْ عَذَابًا مُّهِينًا O

إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّلَهُمْ عَذَابًا مُّهِينًا O

إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّلَهُمْ عَذَابًا مُّهِينًا O

إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّلَهُمْ عَذَابًا مُّهِينًا O

إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّلَهُمْ عَذَابًا مُّهِينًا O

إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّلَهُمْ عَذَابًا مُّهِينًا O

إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّلَهُمْ عَذَابًا مُّهِينًا O

إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّلَهُمْ عَذَابًا مُّهِينًا O

إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّلَهُمْ عَذَابًا مُّهِينًا O

إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّلَهُمْ عَذَابًا مُّهِينًا O

إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّلَهُمْ عَذَابًا مُّهِينًا O

إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّلَهُمْ عَذَابًا مُّهِينًا O

إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّلَهُمْ عَذَابًا مُّهِينًا O

إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّلَهُمْ عَذَابًا مُّهِينًا O

إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّلَهُمْ عَذَابًا مُّهِينًا O

مدیر اعلیٰ

مخدوم زادہ احمد خیر الدین انصاری

مدیر

ڈاکٹر حافظ محمد ثانی