لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر بحث کی
مصدقہ رپورٹ
تحقیق وتخریج
حضرت مولانا اللہ وسایا مُدَّظِلُّہٗ
جلد سوم
٩،١٠،١١،١٢
عَالمِی مَجْلِسِ تَحَفُّظِ خَتْمِ نُبُوَّتْ، مُلْتَان
قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر بحث کی
مصدقہ رپورٹ
جلد سوم
٩، ١٠، ١١، ١٢
تحقیق و تخریج
حضرت مولانا اللہ وسایا مدظلہ
مبلغ
عالمی مجلس تحفظ خَتْمِ نُبُوَّت مُلْتان
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
فہرست ...... حصہ نمبر 9
جہاد منسوخ کب تک؟ 1164 مرزا قادیانی نے دعویٰ مسیحیت کب کیا؟ 1165 امتی نبی کا دعویٰ کب کیا؟ 1166 مرزا غلام احمد قادیانی کی عبارتوں کے اقتباسات 1170 حضرت مسیح جہاد کا خاتمہ کر دے گا 1174 مسیح کے زمانہ میں صلح پھیل جائے گی 1175 تین یا دو سو سال میں اسلام دنیا پر غالب ہو جائے گا 1179 قادیانیوں کے نزدیک تلوار کا جہاد بالکل نہیں؟ 1181 مہدی کے آنے پر جہاد کبیر کی شرائط ختم ہو جائیں گی؟ 1182 کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام صرف جنگ کا التواء کریں گے؟ 1185 دو سو یا تین سو سال کی کوئی حدیث ہے؟ 1189 اب آ گیا مسیح جو دین کا امام ہے...... 1190 اب جہاد کا فتویٰ فضول ہے...... 1191 مرزا قادیانی کے ارشادات، انگریز کی اطاعت فرض اور جہاد حرام 1192 انگریز کی اطاعت کرنا قادیانیوں کے نزدیک اسلام کا حصہ ہے 1193 انگریز گورنمنٹ کی تائید میں کتابیں شائع کرنے کا کیا جواز؟ 1195 کیا انگریز گورنمنٹ نے کہا کہ میرے لئے پروپیگنڈہ کریں؟ 1195 حضرت مولانا عبدالحق کی توجہ طلب باتیں 1200 مرزا ناصر احمد کی تاویلیں، وقت کا ضیاع 1202
1147
الفت میں کتابیں لکھوں 1204 1207 1209 بھیجنا صلیب توڑنا تھا؟ 1211 کہ یہ جہاد تھا؟ 1211 کرنے کیلئے کرتا تھا؟ 1213 1216 1216 حصہ گزرا 1217 کہتے رہے؟ 1217 1220 1220 سے کسی نے نہیں کی؟ 1222 1222 1223 1224 1225 1226 اشارہ ہے؟ 1229 1231 1239
بائیس برس سے یہ فرض کر رکھا ہے کہ جہاد کی مخالفت میں کتابیں لکھوں 1204 مرزا قادیانی کس قسم کا مہدی ہے؟ 1207 کیا ذلت کے نشان کی اطاعت فرض ہے؟ 1209 دوسرے ممالک میں انگریز کی تائید میں کتابیں بھیجنا صلیب توڑنا تھا؟ 1211 مرزا نے عیسائیوں کے خلاف جو زبان استعمال کی یہ جہاد تھا؟ 1211 مرزا قادیانی سب کچھ انگریز کی حکومت کو مضبوط کرنے کیلئے کرتا تھا؟ 1213 انگریز کی تائید میں کتابیں لکھنا 1216 پچاس الماریاں 1216 سلطنت انگریزی کی تائید و حمایت میں عمر کا اکثر حصہ گزرا 1217 مرزا قادیانی صرف انگریز کی تائید و حمایت میں لکھتے رہے؟ 1217 مرزا قادیانی نے کل اٹھاسی کتابیں لکھیں 1220 پچاس الماریاں 1220 مرزا نے کونسی ایسی تفسیر کی جو آج تک امت میں سے کسی نے نہیں کی؟ 1222 ایک آیت کی ایسی تفسیر ! جو مرزا قادیانی نے کی 1222 انگریز کا خودکاشتہ پودا 1223 انگریز کے پکے خیرخواہ اور وفادار 1224 اپنی جماعت کے لئے مراعات کی استدعا 1225 خوشامد کی کیا ضرورت تھی؟ 1226 ”یہ خودکاشتہ پودا“ مرزا قادیانی کے خاندان کی طرف اشارہ ہے؟ 1229 مرزا قادیانی کے پانچ بڑے اصول 1231 مرزا ناصر احمد کی بددیانتی 1239
جہاد منسوخ کب تک؟ مرزا قادیانی نے دعویٰ مسیحیت امتی نبی کا دعویٰ کب کیا؟ مرزا غلام احمد قادیانی کی عبار حضرت مسیح جہاد کا خاتمہ کریں مسیح کے زمانہ میں صلح پھیل ج تین یا دو سو سال میں اسلام قادیانیوں کے نزدیک تلوار مہدی کے آنے پر جہاد کیسا کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوسو یا تین سو سال کی کوئی ح اب آ گیا مسیح جو دین کا امام اب جہاد کا فتویٰ فضول ہے مرزا قادیانی کے ارشادات انگریز کی اطاعت کرنا قادی انگریز گورنمنٹ کی تائید میں کیا انگریز گورنمنٹ نے کہا حضرت مولانا عبدالحق کی ق مرزا ناصر احمد کی تاویلیں،
مرزا قادیانی نے انگریز کی اطاعت کے لئے سب کچھ کیا 1242 خنزیر پالنے والوں کی اطاعت؟ 1243 مرزا قادیانی عوامی نبی نہیں تھے، بلکہ بڑے بڑے لوگوں کو پسند کرتے تھے 1243
فہرست ...... حصہ نمبر 10
مرزا ناصر کی حوالوں میں ہیرا پھیری 1274 مرزا ناصر احمد کا طویل جواب 1277 خاص عرصہ متعین کریں 1282 انگلستان آزادی دینے کے لئے تیار نہ تھا 1282 فرقان بٹالین؟ 1285 غیر متعلقہ باتیں 1287 مرزا ناصر کی معذرت 1287 کشمیر کمیٹی 1288 مسلمانوں سے علیحدگی پسندی کا جواب نہیں دیا 1292 احمدیوں نے الگ عرض داشت کیوں دی؟ 1294 لیگ سے علیحدہ میمورنڈم سے پریشانی 1296 کیا مسلم لیگ کے مشورے سے علیحدہ میمورنڈم دیا گیا؟ 1298 مسلم لیگ کی تائید سے میمورنڈم دینے کا حوالہ؟ 1299 جماعت احمدیہ کی نمائندگی کس نے کی؟ 1299 دستاویز خود منہ بولتا ثبوت ہے؟ 1301 انٹرنیشنل ریڈ کراس کے بیان کے متعلق استفسار 1301 چوہدری ظفر اللہ خاں کی احمدیوں کے بارہ میں دہائی 1303 کیا ظفر اللہ نے کبھی ہندوستان کے مسلمانوں کی حمایت کی؟ 1304
نعوذ باللہ! 1304 1307 1310 کسی اور نے نبوت کا دعویٰ کیا؟ 1310 یانی نے اس کو مرتد لکھا 1312 1313 سوال 1314 گیا؟ 1317 1318 1319 تھا؟ 1320 ے؟ 1322 1325 1330 نہ دیتا ہے؟ 1332 1332 1337 وت دیتا ہے؟ 1338 ہے؟ 1338 تھا یا نہیں؟ 1341 1342 ہے کہ...... 1343
مسیح موعود، نبی کریم ﷺ کے پہلو بہ پہلو؟ نعوذ باللہ! 1304 خاتم النبیین کا کیا معنی؟ 1307 کیا نبوت کا دروازہ کھلا ہے؟ 1310 مرزا قادیانی کے علاوہ آپ کی جماعت میں کسی اور نے نبوت کا دعویٰ کیا؟ 1310 چراغ دین نے نبوت کا دعویٰ کیا، مرزا قادیانی نے اس کو مرتد لکھا 1312 چراغ دین کو استعفیٰ کا موقع نہیں دیا گیا؟ 1313 چشمہ معرفت کی ایک عبارت کے بارہ میں سوال 1314 کیا مرزا قادیانی کی حیات میں کامل غلبہ ہو گیا؟ 1317 تین سو سال میں غلبہ 1318 مرزا قادیانی نے مسیح موعود کا دعویٰ کب کیا؟ 1319 مرزا قادیانی اور مہدی سوڈانی کا زمانہ ایک تھا؟ 1320 مرزا قادیانی کو شک تھا کہ میں نبی ہوں یا نہیں؟ 1322 بیچ میں پھنس گئے؟ 1325 مرزا قادیانی نے عدالت کو لکھ کر دیا کہ......؟ 1330 کیا آزادی کے لئے اسلام جنگ کی اجازت دیتا ہے؟ 1332 ١٨٥٧ء کی جنگ آزادی 1332 تحریک پاکستان کے بارہ میں سوال؟ 1337 کیا ملکی آزادی کے لئے اسلام جنگ کی اجازت دیتا ہے؟ 1338 اسلام کن حالات میں لڑائی کی اجازت دیتا ہے؟ 1338 انگریز کے وقت اسلام جنگ کی اجازت دیتا تھا یا نہیں؟ 1341 مرزا ناصر احمد جواب دینے پر آمادہ نہیں 1342 ایک پمفلٹ جس میں مرزا بشیر احمد نے لکھا ہے کہ...... 1343
صرف مذہبی آزادی کے لئے جنگ؟ 1345 قادیانیوں کی تعلیم کا تضاد 1345 عبداللہ آتھم، محمدی بیگم اور مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کے بارہ میں سوال 1346 مرزا قادیانی کو وحی کتنی زبانوں میں آتی تھی؟ 1346 مرزا قادیانی کی وحی قرآن جیسی 1348 چشمہ معرفت کی عبارت کے بارہ میں استفسار 1348 مرزا قادیانی کی انگریزی میں وحی 1349 مرزا قادیانی کی تضاد بیانیاں 1350 مباحثہ راولپنڈی ص ١٤٥ کی عبارت کے بارہ میں استفسار 1353 حمامۃ البشریٰ کی ایک عبارت کے بارہ میں استفسار 1353 کتاب البریہ کی ایک عبارت کے بارہ میں استفسار 1354 مرزا قادیانی کا نبوت کے بارہ میں دوسرا اسٹیج 1355
فہرست ...... حصہ نمبر 11
یہ سوالات کے جوابات کی طرف توجہ 1364 محضر نامہ واپس 1365 اشعار کا مطلب 1365 عدالت میں کوئی معاہدہ ہوا کہ کوئی اپنا الہام شائع نہ کرے؟ 1367 مرزا قادیانی نے مسیح موعود کا دعویٰ کب کیا؟ 1368 کیا نبی کی وحی عدالت کے حکم کی پابند ہوتی ہے؟ 1368 جو جھوٹا ہوگا خدا اس کو طاعون یا ہیضہ ...... ! 1370 مرزا قادیانی کی وفات ہیضہ سے ہوئی؟ 1370 مباہلہ کے تیس چالیس سال بعد تک مولوی ثناء اللہ زندہ رہے 1372
1151
1372 1373 1373 1375 1376 1377 1378 1380 1382 1383 1383 1386 1390 1393 ں کیوں؟ 1397 1400 1402 1404 1405 ے تک آ کر دیا تھا؟ 1407 1408 1408
مباہلہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان سے کر سکتا ہے؟ 1372 مرزا قادیانی نے ان کو کافر سمجھا اور مباہلے کا چیلنج دیا؟ 1373 عبداللہ آتھم کی پیش گوئی؟ 1373 عبداللہ آتھم پندرہ مہینے کے اندر ہاویہ میں گرے گا 1375 مرزا قادیانی کی پیش گوئی غلط ثابت ہوئی 1376 عبداللہ آتھم نے مرزا قادیانی کو چیلنج کیا 1377 کیا مرزا قادیانی کا چیلنج عبداللہ آتھم نے قبول کیا؟ 1378 عبداللہ آتھم نے کبھی نہیں کہا کہ میں نے رجوع کر لیا 1380 مرزا قادیانی کا چیلنج پر چیلنج 1382 مرزا قادیانی کا ڈوئی امریکن کو چیلنج 1383 ڈوئی نے مرزا قادیانی کے چیلنج کو قبول نہیں کیا 1383 مرزا قادیانی کی محمدی بیگم والی پیش گوئی 1386 مرزا قادیانی کا خط علی شیر کے نام 1390 مرزا قادیانی کا اپنے بیٹے کو عاق کرنا 1393 اگر محمدی بیگم سے نکاح اللہ کی مرضی تھی تو پھر اتنی کوششیں کیوں؟ 1397 اکھنڈ بھارت کے متعلق سوال 1400 محمدی بیگم کے کتنے بیٹے تھے 1402 لاہوری پارٹی نے مرزا قادیانی کی نبوت کا انکار کیا 1404 امتی نبی کا کیا مطلب؟ 1405 مرزا قادیانی نے اشتہار مولانا ثناء اللہ کے طرزِ عمل سے تنگ آکر دیا تھا؟ 1407 مباہلہ کا چیلنج محض دعا کے طور پر؟ 1408 اشتہار کی دعا میں روئے سخن اللہ کی جانب 1408
صرف مذہبی آزادی قادیانیوں کی تعلیم کا عبداللہ آتھم محمدی بیگ مرزا قادیانی کو وحی آت مرزا قادیانی کی وحی قط چشمہ معرفت کی عبار مرزا قادیانی کی انگریز مرزا قادیانی کی متضاد مباحثہ راولپنڈی میں ط حمامۃ البشریٰ کی ایک کتاب البریہ کی ایک مرزا قادیانی کا نمبر س
پر سوالات کے جوابات محضر نامہ واپس اشعار کا مطلب عدالت میں کوئی مع مرزا قادیانی نے کسی ت کیا نبی کی وحی عدالت جو جھوٹا ہوگا خدا اس کو مرزا قادیانی کی وفا پ مباہلہ کے تیس چالیس د
1153
1481 1484 1485 1487 1488 1489 1490 1491 1491 1492 1493 1494 1496 1497 1499 1502 1502 1505 1509 1509 1510 1510
سورۃ فاتحہ کی تفسیر کے متعلق سوال 1409 مرزا قادیانی کو الہام کتنا زبانوں میں ہوتا تھا؟ 1410 ہر نبی پر وحی اس کی قومی زبان میں آتی ہے؟ 1411 مرزا قادیانی کو انگریزی میں الہام 1413 مرزا قادیانی اپنی وحی نہیں سمجھ سکتا تھا 1414 مسیح موعود کو نہ ماننے والے کافر ہیں یا نہیں؟ 1416 حضور ﷺ کے معجزات تین ہزار ......؟ 1419 خلافت عثمانیہ کے سقوط پر قادیانی جماعت نے کہا ہمارا ترکوں سے کوئی تعلق نہیں؟ 1420 بغداد پر انگریز کے قبضے کی خوشی میں قادیان میں چراغاں 1421 منیر انکوائری رپورٹ کا حوالہ سقوط بغداد پر قادیان میں چراغاں 1433 ڈوئی امریکن کے متعلق سوال 1434 ڈوئی نے مرزا قادیانی کے چیلنج کو نظر انداز کیا 1437 تفسیر اصولی باتوں کے نام پر مرزا ناصر کی طویل گفتگو 1443 تحریف لفظی کی ایک مثال 1446 قادیانیوں نے عملاً تحریف لفظی کی 1453 معنوی تحریف کی مثال 1456 چودہ سو سال میں کسی نے یہ معنی نہیں کئے 1461 سورۃ آل عمران آیت ٨٢ کا ترجمہ 1467 الفضل میں اس آیت کا منظوم ترجمہ 1467 حضور اکرم ﷺ کی توہین، نعوذ باللہ! 1468 وہ آیات جن کے بارے میں مرزا قادیانی نے کہا کہ یہ مجھ پر نازل ہوئیں 1471 الہام اور وحی میں کیا فرق ہے؟ 1479 مرزا قادیانی کو الہام آیا یا وحی آئی؟ 1480
مرزا قادیانی کے بعد کسی پر وحی آسکتی ہے؟ 1481 سورۃ فاتحہ کی تفسیر کے متعلق سوال لغت میں وحی کے معنی متعین ہیں 1484 مرزا قادیانی کو الہام کتنا زبانوں می الہام واجب الاطاعت ہوتا ہے یا نہیں؟ 1485 ہر نبی پر وحی اس کی قومی زبان میں آ مرزا بشیر الدین کی تحریر شرعی نبی کا مطلب 1487 مرزا قادیانی کو انگریزی میں الہام قرآن کریم مکمل ہے یا اس کے علاوہ کوئی الہی پیغام ہے؟ 1488 مرزا قادیانی اپنی وحی نہیں سمجھ سکتا تھ صحابہ کی تعریف کیا ہے؟ 1489 مسیح موعود کو نہ ماننے والے کافر ہی کیا مرزا قادیانی کے ساتھی صحابہ ہیں؟ 1490 حضور ﷺ کے معجزات تین ہزار ہ ام المومنین آپ کے ہاں کن کو کہتے ہیں؟ 1491 خلافت عثمانیہ کے سقوط پر قادیانی جما مسجد اقصیٰ قادیان کی کس مسجد کا نام ہے؟ 1491 بغداد پر انگریز کے قبضے کی خوشی میں پنج تن سے آپ کی کیا مراد ہے؟ 1492 منیر انکوائری رپورٹ کا حوالہ سقوط کیا مرزا غلام احمد کے ننانوے نام ہیں؟ 1493 ڈوئی امریکن کے متعلق سوال مسجد اقصیٰ سے مراد مسیح موعود کی مسجد ہے اس کا حوالہ 1494 ڈوئی نے مرزا قادیانی کے چیلنج کو قبو بہشتی مقبرہ کے بارہ میں کیا موقف ہے؟ 1496 تفسیر اصولی باتوں کے نام پر مرزا ق ورثین کے دو شعروں کی وضاحت 1497 تحریف لفظی کی ایک مثال قادیان جانا نفلی حج سے زیادہ ثواب؟ 1499 قادیانیوں نے عملاً تحریف لفظی کی ا ظلی حج کے متعلق سوال 1502 معنوی تحریف کی مثال مجھ سے غلطی ہوئی، مرزا ناصر 1502 چودہ سو سال میں کسی نے یہ معنی نہیں بیت الذکر کے لئے مکہ کی فضیلت؟ 1505 سورۃ آل عمران آیت ٨٢ کا ترجمہ مینارۃ المسیح قادیان کی کیا پوزیشن ہے؟ 1509 الفضل میں اس آیت کا منظوم ترج قادیان کو دمشق سے کیا مناسبت ہے؟ 1509 حضور اکرم ﷺ کی توہین، نعوذ باللہ بانی سلسلہ احمدیہ کا پردرد انتباہ 1510 وہ آیات جن کے بارہ میں مرزا ق یہ دمشق ہے یا اپل ہے یا کیا ہے؟ 1510 الہام اور وحی میں کیا فرق ہے؟ مرزا قادیانی کو الہام آیا یا وحی آئی
تمام حوالہ جات دو تین دن میں جمع کرا دیئے جائیں 1513
فہرست ...... حصہ نمبر 12
اجلاس کا ایجنڈا تقسیم نہیں ہوا 1520 لاہوری صدرالدین کے متعلق وفد کی درخواست 1522 مولانا صدرالدین کا حلف 1523 جناب عبدالمنان عمر کا حلف 1523 صدرالدین کے حالات زندگی 1524 صدرالدین کا انگلستان جانا 1525 صدرالدین کا جرمنی جانا 1525 صدرالدین کی تاریخ پیدائش 1526 صدرالدین کا قادیان جانا 1526 مرزا غلام احمد کی بیعت کس معنی میں؟ 1526 لاہوری، قادیانی اختلاف کب ہوا 1526 اختلاف کس بات پر؟ 1527 پہلا اختلاف 1528 دوسرا اختلاف 1529 تیسرا اختلاف 1529 چوتھا اختلاف 1532 ڈکٹیٹر شپ والی خدمت 1533 اختلاف کب اور کس بات پر؟ 1533 انجمن نے حکیم نور دین کو پہلا خلیفہ بنایا؟ 1534 حکیم نور دین اصول کے مطابق خلیفہ تھے 1534
پہلے آپ پارٹی سے ہٹ گئے؟ 1534 1537 1537 1537 1539 ہوں؟ 1540 1541 1541 پر بیعت کی تھی؟ 1542 1543 1543 1543 میں ہوگا؟ 1544 1544 ؟ 1546 یا؟ 1547 1548 ہے؟ 1548 1550 ؟ 1553 15 کوئی نبی نہ ماننے والا دائرہ اسلام کے اندر ہے 1554
مرزا بشیر الدین محمود کے انتخاب سے پہلے آپ پارٹی سے ہٹ گئے؟ 1534 مسعود بیگ مرزا کا حلف 1537 مسعود بیگ مرزا کا تعارف 1537 قادیانی، لاہوری گروپ 1537 الیکشن میں کوئی اور امیدوار تھا؟ 1539 لاہوری پارٹی چاہتی تھی کہ محمد علی خلیفہ ہوں؟ 1540 الیکشن کب ہوا 1541 یہ کس سال کا الہلال ہے؟ 1541 مولانا محمد علی نے حکیم نور دین کے ہاتھ پر بیعت کی تھی؟ 1542 تکفیر کا سلسلہ کب شروع ہوا؟ 1543 کس نے شروع کیا 1543 کفر سے کیا مراد ہے؟ 1543 قرآن کریم میں مذکور انبیاء کا منکر کافر نہیں ہوگا؟ 1544 کیا مرزا مسیح موعود تھے؟ 1544 مرزا صاحب نے مسیح موعود کا دعویٰ کیا؟ 1546 مرزا نے اپنے لئے نبی کا لفظ استعمال کیا؟ 1547 الہام اور وحی میں کیا فرق ہے؟ 1548 رؤیا، کشف، الہام اور وحی میں کیا فرق ہے؟ 1548 الہام میں غلطی کا احتمال ہوتا ہے یا نہیں 1550 مرزا صاحب کی وحی میں غلطی ہو سکتی ہے؟ 1553 غیر نبی کو نبی کہنے والا کافر ہوگا؟ 15 عیسیٰ کو نبی نہ ماننے والا مسلمان یا کافر؟ عیسیٰ کو نبی نہ ماننے والا دائرہ اسلام کے اندر ہے 1554
تمام حوالہ جات دو تین دن میں
فہرست
اجلاس کا ایجنڈا تقسیم نہیں ہوا لاہوری صدرالدین کے متعلق مولانا صدرالدین کا حلف جناب عبدالمنان عمر کا حلف صدرالدین کے حالات زندگی صدرالدین کا انگلستان جانا صدرالدین کا جرمنی جانا صدرالدین کی تاریخ پیدائش صدرالدین کا قادیان جانا مرزا غلام احمد کی بیعت کس سنی لاہوری، قادیانی اختلاف کب اختلاف کس بات پر؟ پہلا اختلاف دوسرا اختلاف تیسرا اختلاف چوتھا اختلاف ڈکٹیٹر شپ والی خدمت اختلاف کب اور کس بات پر ہ انجمن نے حکیم نور دین کو پہلا خ حکیم نور دین اصول کے مطا
1157 1580 1580 1581 1581 1584 نہ ہوتے 1588 1589 1591 1592 1593 1594 1598 1598 تا 1602 1603 1604 1605 کیسے تھے؟ 1606 1607 1608 1609 1610
سچے نبی کا منکر بھی دائرہ اسلام میں ہے 1555 جھوٹے مدعی نبوت کو سچا ماننے والا مسلمان ہے یا کافر 1556 جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے وہ کافر ہو گیا 1557 حضور ﷺ کے بعد کوئی اپنے آپ کو نبی اور رسول کہے وہ کافر ہوگا یا نہیں؟ 1558 قرآن کریم میں مذکور انبیاء کا منکر کافر ہو گا یا نہیں 1558 اگر کوئی نبوت کا دعویٰ کرے اور کہے میں امتی ہوں تو وہ کافر ہو گا یا گنہگار 1559 ایک شخص کلمہ پڑھتا ہے اور نبوت کا دعویٰ کرتا ہے اس کا کیا حکم ہے؟ 1561 مسیلمہ کذاب کی کیا پوزیشن تھی؟ 1561 مسیلمہ کذاب دعویٰ نبوت کی بنا پر کافر تھا 1565 حضور ﷺ کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آ سکتا 1566 جھوٹا مدعی نبوت کافر تو اس کے ماننے والے کافر ہوں گے یا نہیں؟ 1567 آپ مرزا صاحب کو نبی نہیں مانتے؟ 1568 کیا کوئی ایسی حدیث ہے جس میں تیس کذاب کا ذکر ہو؟ 1571 مرزا صاحب نے کہا کہ میں امتی بھی ہوں اور نبی بھی 1573 لاہوری گروپ بھی مرزا کو نبی کہتا ہے 1574 مرزا صاحب کی متضاد تحریریں 1575 ربوہ والے مرزا کو نبی کس معنی میں سمجھتے ہیں؟ 1575 مرزا کو نبی کہنے والے کافر ہیں یا نہیں؟ 1576 ربوہ والے آپ کی نظر میں مسلمان ہیں یا نہیں؟ 1576 مسیلمہ کذاب کا فیصلہ کس نے کیا؟ 1578 جھوٹے مدعی نبوت کو ماننے والے کافر ہیں یا نہیں؟ 1578 نبوت کی دو تعریفیں 1579
ربوہ والے مرزا کو نبی کس معنی میں لیتے ہیں؟ 1580 شیر کی مثال 1580 نقلی شیر کو اس کے ماننے والے اصلی کہیں تو؟ 1581 غیر تشریعی نبی نہیں ہوتا؟ 1581 اصلی نبی اور جھوٹے مدعی نبوت میں فرق کس طرح ہوگا؟ 1584 صدر الدین اپنے وعظ میں مرزا کا نام لیتے تو لوگ مسلمان نہ ہوتے 1588 مرزا صاحب کا ذکر نہیں ہونا چاہئے 1589 مرزا کی جماعت بنانے کی غرض الگ امت بنانا تھا 1591 مرزا صاحب کی ڈائریکشن 1592 مسلمان مرزا صاحب کے مخالف کیوں ہوئے؟ 1593 بغیر پولیس کے مرزا صاحب تقریر نہیں کرسکتے تھے کیوں؟ 1594 مرزا صاحب کی ہر جگہ مخالفت کیوں ہوتی تھی؟ 1598 مرزا بشیر الدین محمود کی گواہی 1598 مولانا محمد حسین بٹالویؒ کے علاوہ کسی عالم دین کا ذکر کہیں سنا 1602 مرزا کے دعویٰ نبوت کی بنا پر مسلمان ان کے مخالف ہوگئے 1603 مرزا صاحب پر ہی رہیں 1604 مرزا کی مخالفت کیوں ہوئی 1605 مرزا صاحب کے زمانہ میں مسلمانوں سے سوشل تعلقات کیسے تھے؟ 1606 کسی احمدی لڑکی کی شادی غیر احمدی سے ہوسکتی ہے؟ 1607 جو مخالف نہیں اس سے کیا مراد ہے؟ 1608 کس نے بیعت کر لی؟ 1609 علامہ اقبالؒ کا ایک فقرہ لے لیا 1610
سچے نبی کا منکر بھی دائرہ اسلا جھوٹے مدعی نبوت کو سچا ما جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے حضور ﷺ کے بعد کوئی ا قرآن کریم میں مذکور انبیا اگر کوئی نبوت کا دعویٰ کرے ایک شخص کلمہ پڑھتا ہے اور مسیلمہ کذاب کی کیا پوزیشن مسیلمہ کذاب دعویٰ نبوت ک حضور ﷺ کے بعد کوئی نیا جھوٹا مدعی نبوت کافر تو اس آپ مرزا صاحب کو نبی نہیں کیا کوئی ایسی حدیث ہے مرزا صاحب نے کہا کہ می لاہوری گروپ بھی مرزا کو مرزا صاحب کی متضاد تحری ربوہ والے مرزا کو نبی کس مرزا کو نبی کہنے والے کافر ربوہ والے آپ کی نظر میں مسیلمہ کذاب کا فیصلہ کس جھوٹے مدعی نبوت کو مان نبوت کی دو تعریفیں
1641 نے اپنے لئے نبی کا لفظ استعمال کیا 1643 اس کے باوجود اپنے لئے 1643 1644 1645 1647 یا نہیں؟ 1649 1650 1651 کی 1651 1653 ؟ 1657 1657 1658 1659 ں ہوں 1660 1662 یا 1663 1666 ال ہونا چاہئے 1666 1667
غیر احمدی کو لڑکی دینے پر خلیفہ وقت نے اسے امامت سے ہٹا دیا 1611 سوشل تعلقات کے سوال پر بے مقصد طویل گفتگو 1613 یہ کس سوال کا جواب ہے 1615 غیر احمدی کو لڑکی نہ دو، یہ آرڈر مرزا صاحب کا تھا یا نہیں؟ 1617 آپ کسی مسلمان امام کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں یا نہیں؟ 1617 کسی اپنے امام کے پیچھے قائد اعظم کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھی 1617 آپ کسی مسلمان کا جنازہ پڑھتے ہیں؟ 1618 مرزا صاحب کے لڑکے اس پر ایمان نہیں لائے؟ 1618 مرزا صاحب نے اپنے بیٹے کا جنازہ نہیں پڑھا؟ 1619 مرزا صاحب نے بیٹے کو کہا کہ تم اپنی بیوی کو طلاق دو 1621 محمدی بیگم کی شادی مجھ سے کر دو گے تو تمام تکلیفات دور 1622 لاہوری نمائندہ ٹال مٹول کر رہا ہے 1626 ایک کان والا کون ہے؟ 1628 انوار خلافت کا حوالہ کہ غیر احمدی کا جنازہ پڑھنا 1629 مسلمانوں سے تمام تعلقات حرام 1632 تحریک احمدیہ کا اسلام کے مقابلہ میں وہی مقام ہے جو کہ عیسائیت کا یہودیت کے مقابلے میں 1633 کفر کی اقسام 1635 ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو، اس کا کیا مطلب؟ 1637 نبی سے بہتر کا دعویٰ کیونکر؟ 1637 مرزا صاحب کا غرور اور تکبر 1639 وہ نبی کون جو میرے منبر پر قدم رکھ سکے؟ 1640 میں عرفان میں کسی سے کم نہیں ہوں 1640
مرزا صاحب نے کہیں کچھ کہا، کہیں کچھ کہا 1641 غیر احمدی کو لڑکی دینے پر خلیفہ وقت مرزا صاحب نے کہا کہ مسلمان اس وقت سے ناراض ہیں جب میں نے اپنے لئے نبی کا لفظ استعمال کیا 1643 سوشل تعلقات کے سوال پر بے مقصد مرزا صاحب نے کہا کہ نبی کا لفظ کاٹا ہوا سمجھیں، اس کے باوجود اپنے لئے یہ کس سوال کا جواب ہے نبی اور رسول کا لفظ کیوں استعمال کیا؟ 1643 غیر احمدی کو لڑکی نہ دو، یہ آرڈر مرزا مرزا صاحب کو نہ ماننے والا کافر نہیں ہوتا 1644 آپ کسی مسلمان امام کے پیچھے نماز جو مسیح موعود کو نہیں مانتا وہ کافر؟ 1645 کسی اپنے امام کے پیچھے قائد اعظم کی اتمام حجت کا مطلب 1647 آپ کسی مسلمان کا جنازہ پڑھتے ہیں اس کا حوالہ کہ مسیح موعود کے نہ ماننے والے کافر ہیں یا نہیں؟ 1649 مرزا صاحب کے لڑکے اس پر ایمان کیا خدا نے کہا کہ مرزا پر ایمان لانا چاہئے 1650 مرزا صاحب نے اپنے بیٹے کا جنازہ سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا 1651 مرزا صاحب نے بیٹے کو کہا کہ تم اپنی میری وحی ویسی ہی پاک ہے جیسی آنحضرت ﷺ کی 1651 محمدی بیگم کی شادی مجھ سے کر دو گے صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا 1653 لاہوری نمائندہ ٹال مٹول کر رہا ہے اسلام سادہ لوگوں کے لئے آیا تھا یا وکیلوں کے لئے؟ 1657 ایک کان والا کون ہے؟ پتہ نہیں چلتا کہ مرزا صاحب کیا کہتے ہیں؟ 1657 انوار خلافت کا حوالہ کہ غیر احمدی کا یہ بہت بڑا فتنہ ہے؟ 1658 مسلمانوں سے تمام تعلقات حرام محدث کی بجائے نبی کا لفظ کیوں؟ 1659 تحریک احمدیہ کا اسلام کے مقابلہ میں دعویٰ اس کا حوالہ کہ نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص ہوں 1660 کفر کی اقسام شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی صحیح عبارت 1662 ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو، اس کا ک مرزا صاحب نے کہا کہ میرا نام نبی اور رسول رکھا گیا 1663 نبی سے بہتر کا دعویٰ کیونکر؟ خصوصیات نبوت کا دعویٰ 1666 مرزا صاحب کا غرور اور تکبر محدث کا لفظ میرے مقام کے مطابق نہیں نبی استعمال ہونا چاہئے 1666 وہ نبی کون جو میرے منبر پر قدم رکھے میری وحی ایسی پاک جیسی آنحضرت ﷺ پر آئی ہو 1667 میں عرفان میں کسی سے کم نہیں ہوں
اللہ تعالیٰ کو کیا ضرورت کہ ایک امتی کو وحی بھیجے 1668 مرزا پر جو وحی آتی ہے وہ قرآن کے مطابق نہیں تو اس کی کیا حاجت؟ 1669 مرزا صاحب کے دعویٰ کی تشریح 1670 لا نبی بعدی 1672 مرزا نے اپنے لئے بار بار نبی کا لفظ استعمال کیا 1673 محدث اور ایک عالم میں کیا فرق ہے 1673 خلط ملط کر دیا 1678 نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج 1679 حقیقی نبی، حقیقی کافر کی طرح کوئی حقیقی مسلمان ہوتا ہے؟ 1681 حقیقی مسلمان کون؟ 1681 جو مرزا صاحب کو نہ مانے مسلمان ہے یا نہیں؟ 1681 غیر احمدی حقیقی مسلمان نہیں ہو سکتا؟ 1681 یہ اللہ اور رسول کا حکم ہے کہ مرزا کو مانو؟ 1683 آپ جواب نہیں دیتے 1684 مرزا کا منکر حقیقی مسلمان نہیں 1684 غیر احمدیوں میں کوئی حقیقی مسلمان ہے؟ 1685 مرزا صاحب جب مسلمان کا لفظ استعمال کرتے ہیں یہ لوگ حقیقی مسلمان ہوتے ہیں؟ 1686 مسلمان سے مراد مدعی اسلام، اس کا حوالہ 1687 مرتد کون ہوتا ہے؟ 1688 خاص قسم کا اسلام یا عام اسلام 1689 مرزا صاحب نے قادیانیت چھوڑنے والے عبدالحکیم کو مرتد کہا 1690 عبدالمنان عمر کا تعارف 1695
1161 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
THE
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN
PROCEEDINGS
OF
THE SPECIAL COMMITTEE OF THE
WHOLE HOUSE HELD IN CAMERA
TO CONSIDER THE QADIANI ISSUE
OFFICIAL REPORT
Thursday, the 22nd August, 1974
(Contains Nos. 1-27)
CONTENTS
Pages
- 1. Cross-examination of the Qadiani Group Delegation 1104-1150
- 2. Review of progress of the Cross-examination .. 1151
- 3. Reading of Ayat or Ahadith in the Cross-examination 1151-1152
- 4. Urgency of the Cross-examination 1153
- 5. Procedure of the Cross-examination 1153-1156
- 6. Cross-examination of the Qadiani Group Delegation .... 1156-1211
- 7. Statement Re' Tarbela Mishap ... 1211-1214
- 8. Cross-examination of the Qadiani Group Delegation Continued ... 1214-1239
PRINTED BY THE MANAGER, PRINTING CORPORATION OF PAKISTAN PRESS, ISLAMABAD PUBLISHED BY THE NATIONAL BOOK FOUNDATION, ISLAMABAD
اللہ تعالیٰ کو کیا ضرورت کہ ایک امتی کو وحی مرزا پر جو وحی آتی ہے وہ قرآن کے مطابق مرزا صاحب کے دعویٰ کی تشریح لا نبی بعدی مرزا نے اپنے لئے بار بار نبی کا لفظ استعمال محدث اور ایک عالم میں کیا فرق ہے خلط ملط کر دیا نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام حقیقی نبی، حقیقی کافر کی طرح کوئی حقیقی مسلمان حقیقی مسلمان کون؟ جو مرزا صاحب کو نہ مانے مسلمان ہے یا نہیں غیر احمدی حقیقی مسلمان نہیں ہو سکتا؟ یہ اللہ اور رسول کا حکم ہے کہ مرزا کو مانو؟ آپ جواب نہیں دیتے مرزا کا منکر حقیقی مسلمان نہیں غیر احمدیوں میں کوئی حقیقی مسلمان ہے؟ مرزا صاحب جب مسلمان کا لفظ استعمال کرتے مسلمان سے مراد مدعی اسلام، اس کا حوالہ مرتد کون ہوتا ہے؟ خاص قسم کا اسلام یا عام اسلام مرزا صاحب نے قادیانیت چھوڑنے والے عبدالمنان عمر کا تعارف
1162 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
No. 9
THE
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN
PROCEEDINGS
OF
THE SPECIAL COMMITTEE OF THE
WHOLE HOUSE HELD IN CAMERA
TO CONSIDER THE QADIANI ISSUE
OFFICIAL REPORT
Thursday, the 22nd August, 1974
(Contains Nos. 1—27)
٢
1163 NATIONAL ASSEMBLY
1103 THE NATIONAL ASSE مبلی پاکستان)
PROCEE
OF
THE SPECIAL COM
WHOLE HOUSE HE
TO CONSIDER THE
OFFICIAL R
Thursday, the 22nd میٹی بند کمرے کی کارروائی) ١٩٧٤ء ، بروز جمعرات)
The Special Committee Camera in the Assembly Cham Islamabad, at ten of the clo Chairman (Sahibzada Farooq A لاس اسمبلی چیمبر (سٹیٹ بینک بلڈنگ) اسلام آباد ق علی) کی زیر صدارت منعقد ہوا)
(Recitation from the قرآن شریف)
٣
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
1103 THE NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN
(قومی اسمبلی پاکستان)
PROCEEDINGS
OF
THE SPECIAL COMMITTEE OF THE
WHOLE HOUSE HELD IN CAMERA
TO CONSIDER THE QADIANI ISSUE.
OFFICIAL REPORT
Thursday, the 22th August. 1974.
(کل ایوانی خصوصی کمیٹی بند کمرے کی کارروائی)
(٢٢؍اگست ١٩٧٤ء، بروز جمعرات)
The Special Committee of the Whole House met in Camera in the Assembly Chamber, (State Bank Building), Islamabad, at ten of the clock, in the morning. Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali) in the Chair.
(مکمل ایوان کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس اسمبلی چیمبر (سٹیٹ بینک بلڈنگ) اسلام آباد صبح دس بجے جناب چیئرمین (صاحبزادہ فاروق علی) کی زیرصدارت منعقد ہوا)
(Recition from the Holy Quran) (تلاوت قرآن شریف)
٣
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
Mr. Chairman: They may be called. I will request the honourable members to be attentive. The Delegation is coming.
(جناب چیئرمین: انہیں بلا لیں (مداخلت) میں معزز اراکین سے درخواست کروں گا کہ وہ توجہ فرمائیں۔ وفد آ رہا ہے)
(Interruption)
(The Delegation entered the Chamber)
(وفد ہال میں داخل ہوا)
----------
جناب چیئرمین: وہ ذرا سیٹ ہو رہے ہیں۔ (وقفہ)
Mr. Chairman: The honourable members can shift to that side.
So we start with the proceedings.
(جناب چیئرمین: معزز اراکین اس طرف جا سکتے ہیں۔ تو اب ہم کارروائی کا آغاز کرتے ہیں)
Mr. Attorney General. (مسٹر اٹارنی جنرل)
----------
1104 CROSS- EXAMINTION OF THE QADIANI
GROUP DELEGATION
(جہاد منسوخ کب تک؟)
جناب یحییٰ بختیار (اٹارنی جنرل پاکستان): مرزا صاحب کل آپ فرما رہے تھے کہ یہ جہاد ملتوی یا منسوخ مہدی کے زمانے کے لئے ہے۔ ان کا آپ پیریڈ متعین کر رہے تھے......
مرزا ناصر احمد (گواہ سربراہ جماعت احمدیہ، ربوہ): نہیں ٹھیک ہے، آپ کرلیں بات، پھر ان سب سے......
٤
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
جناب یحییٰ بختیار: ...... اور اس کے بعد ان کی وفات کے بعد پھر ہو سکتا ہے جہاد، یہ آپ کہہ رہے تھے، ......
مرزا ناصر احمد: ہاں۔ ہو سکتا ہے، ٹھیک ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: ...... میں نے کہا حالات پر Depend کر رہا ہے، اگر شرائط پھر آگئیں تو پھر جہاد ہو سکتا ہے، مگر صرف یہ مرزا صاحب کی زندگی میں شرائط پوری نہیں ہوں گی؟
مرزا ناصر احمد: شرائط پوری نہیں ہوں گی۔
جناب یحییٰ بختیار: شرائط پوری نہیں ہوں گی اور وہاں یہ Suspended (معطل) سمجھے یا ملتوی سمجھیں یا منسوخ سمجھیں؟
مرزا ناصر احمد: نہ ......
جناب یحییٰ بختیار: ان کی زندگی میں؟
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، ہاں۔
جناب یحییٰ بختیار: ”حرام“ بھی تو لفظ استعمال ہوا ہے؟
مرزا ناصر احمد: یعنی ”حرام“ اس معنی میں ......
1105 جناب یحییٰ بختیار: ...... کہ شرائط نہیں ......
مرزا ناصر احمد: ...... کہ شرائط نہ ہوں ......
جناب یحییٰ بختیار: ...... اور نہ ہوں گی۔
مرزا ناصر احمد: اگر شرائط نہ ہوں اور جہاد کیا جائے تو وہ ایک حرام فعل ہوگا۔
جناب یحییٰ بختیار: حرام ہوتا ہے تو اس لئے ان کی زندگی میں یہ حرام ہے، کیونکہ شرائط نہیں ہوں گی اور نہ ہو سکتی ہیں؟
مرزا ناصر احمد: ان کے دعویٰ میں ...... پیدائش کے وقت نہیں ...... دعوائے مسیحیت اور وصال کے درمیان کے زمانے میں۔
جناب یحییٰ بختیار: یہ Limited period (محدود وقت) ہوگا؟
مرزا ناصر احمد: ہاں۔
(مرزا قادیانی نے دعویٰ مسیحیت کب کیا؟)
جناب یحییٰ بختیار: اس پر مجھے یہ بھی یاد آ گیا کہ ایک سوال ہے، یہاں آپ سے
٥
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
پوچھ لیتا ہوں، کہ مرزا صاحب نے دعوائے مسیحیت کب کیا؟
مرزا ناصر احمد: ١٨٩١ء میں۔
جناب یحییٰ بختیار: ١٨٩١؟
مرزا ناصر احمد: ١٨٩١ء
Mirza Nasir Ahmad: Eighteen ninety-one (1891)
جناب یحییٰ بختیار: اور اس سے پہلے انہوں نے جو کوئی دعویٰ کیا، مجدد یا محدث کا Claim کیا؟
مرزا ناصر احمد: اس سے پہلے، دو سال پہلے، Eighteen eighty nine (1889) بیعت کا سال ہے، یعنی جب جماعت بنائی، لیکن اس وقت دعویٰ کوئی نہیں تھا اور جو بیعت کی غرض تھی وہ یہی کہ ”میں چاہتا ہوں کہ میرے ساتھ تعلق رکھ کے لوگ کچھ سچے اور پکے مسلمان بن جائیں اور خدمت اسلام کا ان سے کام لیا جاسکے۔“
(امتی نبی کا دعویٰ کب کیا؟)
1106 جناب یحییٰ بختیار: اور امتی نبی کا دعویٰ کس Date کو ہوا ہے؟
مرزا ناصر احمد: یہ جو مسیحیت ہے نا، مسیح کے متعلق ہی آنحضرت ﷺ کا فرمان ہے کہ وہ امتی نبی ہوگا۔
جناب یحییٰ بختیار: میں کہتا ہوں مرزا صاحب نے کب پہلے کہا کہ ”میں امتی نبی ہوں“؟
مرزا ناصر احمد: ١٨٩١ء میں۔
جناب یحییٰ بختیار: وہی ١٨٩١ء میں دونوں باتیں۔۔۔۔۔۔اسی۔۔۔۔۔۔
مرزا ناصر احمد: وہی، میں نے کہا تھا، اُسی سے استدلال ہوتا ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: تو اس سے لے کر ان کی وفات تک انیس سو آٹھ ١٩٠٨ء تک۔۔۔۔۔۔
مرزا ناصر احمد: ہاں۔
جناب یحییٰ بختیار: ۔۔۔۔۔۔اس پیریڈ میں جو ہے جہاد آپ کے نقطہ نظر سے شرائط اس کی نہیں ہوسکتی تھیں؟
مرزا ناصر احمد: شرائط نہ ہوسکتی تھیں، نہ ہندوستان میں ہوئیں۔
جناب یحییٰ بختیار: نہ ہوئیں؟
٦
1167 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
مرزا ناصر احمد: نہ، نہ۔
جناب یحییٰ بختیار: اور باقی دنیا میں بھی نہیں ہوئیں؟ صرف آج کی دنیا میں ہوئیں؟
مرزا ناصر احمد: باقی دنیا میں تو دنیا کی تاریخ دیکھیں گے تو فیصلہ کریں گے۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں نے تو کل یہی عرض کیا تھا، مرزا صاحب! کہ ایک اور شخص نے دعویٰ کیا کہ وہ مہدی ہے۔ اُس نے جہاد کا اعلان بھی کیا۔ اب یہ میں کہتا ہوں کہ اسی پیریڈ میں ہے......
1107
مرزا ناصر احمد: میں کہتا ہوں اس پیریڈ میں نہیں ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: بس ٹھیک ہے، وہ تو Historical fact (تاریخی حقیقت) ہے۔
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، وہ تو Historical fact (تاریخی حقیقت) ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: تو آپ کا خیال ہے......
مرزا ناصر احمد: تو آپ کو کل کسی نے یعنی...... ٹھیک ہے، ہمارے لئے مشکل ہے، آپ کے لئے بھی مشکل ہے، کوئی وقت کی تعین نہیں ہوئی سوڈانی مہدی کی۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، میں نے کہا۔ آپ نے کہا کہ شاید تھوڑا پیریڈ ان کا Contemporary (ہم عصر، ہم زمانہ) ہو۔
مرزا ناصر احمد: ہاں۔
جناب یحییٰ بختیار: نہ میں Definitely (یقین کے ساتھ) کہہ سکتا ہوں نہ آپ نے کہا۔
مرزا ناصر احمد: ہاں۔
جناب یحییٰ بختیار: میں نے کہا کہ تھوڑا پیریڈ Contemporary (ہم عصر، ہم زمانہ) ہو۔ ممکن ہے وہ پیریڈ وہ ہو جب انہوں نے دعویٰ نہ کیا ہو؟
مرزا ناصر احمد: ہاں۔
جناب یحییٰ بختیار: اور یہ ممکن ہے وہ ہو جو ان کی وفات کے بعد؟
مرزا ناصر احمد: ہاں، لیکن یہ ہے کہ ہو سکتا ہے بالکل ہی اس پیریڈ میں دعویٰ کیا نہ ہو۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، کیا ہی نہ ہو۔
مرزا ناصر احمد: میں شاگرد بن کے علم حاصل کرنا چاہتا تھا۔ اگر کوئی آپ کے علم میں
٧
F PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
پوچھ لیتا ہوں، کہ مرزا صاحب نے دعوائے
مرزا ناصر احمد: ١٨٩١ء میں۔
جناب یحییٰ بختیار: ١٨٩١ء؟
مرزا ناصر احمد: ١٨٩١ء ghteen ninety-one (1891)
جناب یحییٰ بختیار: اور اس Claim کیا؟
مرزا ناصر احمد: اس سے (1889) بیعت کا سال ہے، یعنی جب بیعت کی غرض تھی وہ یہی کہ ”میں چاہتا ہو مسلمان بن جائیں اور خدمت اسلام کا ان (امتی نبی)
1106
جناب یحییٰ بختیار: اور ا
مرزا ناصر احمد: یہ جو مسیحیت کہ وہ امتی نبی ہوگا۔
جناب یحییٰ بختیار: میں کہتا ہو
مرزا ناصر احمد: ١٨٩١ء میں۔
جناب یحییٰ بختیار: وہی ١٨٩١
مرزا ناصر احمد: وہی، میں نے
جناب یحییٰ بختیار: تو اس سے
مرزا ناصر احمد: ہاں۔
جناب یحییٰ بختیار: ...... اس نہیں ہو سکتی تھیں؟
مرزا ناصر احمد: شرائط نہ ہو سکی
جناب یحییٰ بختیار: نہ ہوئیں؟
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
ہو تو آپ مجھے بتادیں۔
1108 جناب یحییٰ بختیار: میں نے تو بہت کچھ سیکھا ہے، مجھے تو کسی چیز کا علم ہی نہیں تھا اس کا۔ تو مرزا صاحب! پھر اس کا مطلب یہ ہو گیا کہ یہ شرائط جہاد کے بارے میں ......
مرزا ناصر احمد : (اپنے وفد کے ایک رکن سے ) شرائط نکالو۔
جناب یحییٰ بختیار: ...... مرزا صاحب کی وفات کے بعد ......
مرزا ناصر احمد : ہوسکتی ہیں اور پھر جو شرائط ہیں، ابھی ہم فلسفیانہ بات کر رہے ہیں تو ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ شرائط کے متعلق ہمارے دوسرے بھائیوں کا کیا فتویٰ ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، یہ تو ...... اس میں تو کوئی، جہاں تک مجھے ......
مرزا ناصر احمد : میں ایک منٹ میں بتا دیتا ہوں، یعنی لمبا نہیں، ایک منٹ میں۔ یہ ہے اہل حدیث کا فتویٰ ...... آپس میں اختلاف ہو سکتے ہیں ...... میں نے صرف مثال کے طور پر ایک لے لیا ہے۔ یہ کہتے ہیں کہ چار شرائط ہیں۔ اوّل یہ کہ امت مسلمہ کا ...... اوّل یہ شرط ہے کہ امت مسلمہ کا ایک امام اکبر ہو ...... یہ شرط ہے جہاد کی ...... امت مسلمہ میں ایک خلیفہ جو ساری دنیا کے مسلمان اس کو اپنا امام مانتے ہوں۔ پہلی شرط یہ ہے۔ دوسری شرط یہ ہے کہ جس قسم کی بھی جنگ ہو، اس کے لئے مناسب ہتھیار مہیا ہوسکیں اور ہوں۔ یہ شرط ”فتاویٰ نذیریہ“ میں ہے۔ مثلاً آج کی ایٹمی جنگوں میں ایٹمی ہتھیار ہونے چاہئیں، اس فتویٰ کی رو سے۔ اسباب لڑائی کا مثل ہتھیار وغیرہ کے مہیا ہو، میں یہ ایک ایک فقرہ لے رہا ہوں۔ اس کی اگر نہ سمجھ آئے تو میں کر دوں گا ...... دوسرا یہ کہ اسلامی دینی جہاد کے لئے ایک Base ہونی چاہئے، دینی کوئی ملک ہو جہاں سے سارا جہاد جو دنیا کا ہے، اس کو کنٹرول کیا جاسکے، رسد مہیا کی جاسکے، ہتھیار مہیا کئے جاسکیں، آدمی مہیا کئے جا سکیں۔ تیسری شرط ...... Base کا ہونا اور چوتھی شرط یہ ہے کہ مسلمانوں کا لشکر اتنا ہو کہ کفار کے مقابلہ میں مقابلہ کر سکتا ہو، یعنی 1109 کفار کے لشکر سے آدھے سے کم نہ ہو۔ یہ جہاد کی چوتھی شرط اہل حدیث کے نزدیک ”فتاویٰ نذیریہ“ جلد سوم میں ہے۔ مثلاً اگر ...... ذرا میں مثال دے کر اس کو واضح کر دیتا ہوں ...... اگر بیس لاکھ کی فوج امریکہ کی مسلمان ملک پر حملہ آور ہو تو دینی جہاد کے لئے ضروری ہے کہ دس لاکھ کی فوج مسلمانوں کی بھی ہو ”فتاویٰ نذیریہ“ کے مطابق۔
1؎ شیخ سعدیؒ فرماتے، تھوڑے سے تصرف سے۔
مرزا شود گلہ کند استاذ را
٨
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
جناب یحییٰ بختیار: یعنی دو کے مقابلے میں ایک؟
مرزا ناصر احمد: ہاں دو کے مقابلے میں۔ انہوں نے آگے ...... میں نے مختصر بتایا ہے ...... کہ قرآن کریم سے استدلال کیا ہے، اپنے رنگ میں۔ یہ ضروری تھا کیونکہ ”ہم جہاد، جہاد“ کہتے ہیں، شرائط کا نام لیتے ہیں اور ہمارے ذہن میں رہنی چاہئیں شرائط۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ شرائط تو آنحضرت ﷺ کے زمانے سے آ رہی ہیں؟
مرزا ناصر احمد: یہ شرائط؟
جناب یحییٰ بختیار: میں ان کا نہیں خاص کر رہا، جو شرائط جہاد ......
مرزا ناصر احمد: جو شرائط جہاد کے نام سے آنحضرت ﷺ کے زمانے سے ......
جناب یحییٰ بختیار: وہ تو اس زمانے سے ہیں۔ اس زمانے سے اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی؟
مرزا ناصر احمد: مرزا صاحب نے ان شرائط میں جو آنحضرت ﷺ کے زمانے سے آ رہی ہیں، کوئی تبدیلی نہیں کی۔
جناب یحییٰ بختیار: سوائے اس کے کہ ایک روایت یہ ہے کہ جب مہدی آئے گا جہاد ختم ہو گا؟
مرزا ناصر احمد: ”یضع الحرب“ آپ نے فرمایا کہ حدیث میں ہے ......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں میں وہی کہہ رہا ہوں۔
1110 مرزا ناصر احمد: ...... کہ مہدی کی زندگی میں جہاد کی شرائط پوری نہیں ہوں گی، اور اس واسطے دینی جنگ جو ہے وہ نہیں ہوگی۔
جناب یحییٰ بختیار: وہ نہیں ہوگی۔ اس کے بعد پھر ہو سکتی ہے؟
مرزا ناصر احمد: ہو سکتی ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: تو جہاں تک احمدیہ طبقے کا تعلق ہے یا Community (جماعت) کا تعلق ہے، ان پر ابھی وہ جو مرزا صاحب کے قول ہیں کہ ”جنگ حرام ہے“ ”جہاد حرام ہے“ وہ ابھی نہیں Apply (لاگو) کرتا آپ پر؟
مرزا ناصر احمد: یہ ہو سکتا ہے کہ ہماری زندگیوں میں یا ہمارے بچوں کی زندگیوں یا ان بچوں کے بچوں کی زندگیوں میں یا آئندہ آنے والی کسی نسل میں جو جماعت احمدیہ اور بانی سلسلہ احمدیہ کی طرف منسوب ہونے والی ہے، شرائط جہاد پوری ہو جائیں اور اس وقت وہ سارے
٩
1170 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
مسلمانوں کے ساتھ مل کر دینی جہاد میں شامل ہوں۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں یہ پوچھنا چاہتا تھا، مرزا صاحب! یہ Directives (حکم نامہ) جو ہیں مرزا صاحب کے، وہ اپنی Community (جماعت) یا فرقے یا احمدی، ان سے کہہ رہے ہیں۔۔۔۔۔ ممکن ہے سب مسلمانوں کو کہہ رہے ہوں۔۔۔۔ مگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ۔۔۔۔۔
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں ٹھیک ہے، اپنے آپ کو، تو ٹھیک ہے۔
[At this stage Mr. Chairman vacated the chair which was occupied by Prof. Ghafoor Ahmad.]
(اس موقع پر جناب چیئرمین نے کرسی صدارت پروفیسر غفور احمد کے سپرد کی)
جناب یحییٰ بختیار: ان کو یہ ہدایت کر رہے ہیں، ان کو یہ Instructions دے رہے ہیں، ان کو Directions دے رہے ہیں کہ یہ آپ کے لئے ملتوی یا منسوخ ہے یا حرام ہے؟
1111 مرزا ناصر احمد: جی۔
جناب یحییٰ بختیار: تو یہ جو ہے ١٩٠٨ء تک تھا، اس کے بعد آپ پر حرام نہیں ہے، اگر حالات آگئے تو؟
مرزا ناصر احمد: بجائے اس کے کہ میں جواب دوں، بانی سلسلہ احمدیہ نے اس کے متعلق جو لکھا ہے وہ میں پڑھ کر سنادیتا ہوں۔
(مرزا غلام احمد قادیانی کی عبارتوں کے اقتباسات)
جناب یحییٰ بختیار: ہاں سنا دیجئے۔
مرزا ناصر احمد: اور یہ ذرا دو چار منٹ لگیں گے، تشریف رکھیں: ’’اس زمانے میں جہاد روحانی صورت سے رنگ پکڑ گیا ہے، یعنی جہادِ صغیر سے جہادِ کبیر کی شکل۔۔۔۔‘‘
اس کے بعد آخری فقرہ آپ کا یہ ہے: ’’جب تک یہی جہاد ہے کہ خدا تعالیٰ کوئی دوسری صورت دنیا میں ظاہر کر دے۔۔۔۔‘‘ اور یہ ’’ضمیمہ تحفہ گولڑویہ‘‘ میں عربی کی عبارت ہے، بڑی واضح ہے:’’
(اس میں کوئی شک نہیں کہ شرائطِ جہاد، وجوہِ جہاد اس زمانے میں اور ان ملکوں میں، معدوم ہیں)
’’فالیوم۔۔۔۔‘‘ اس لئے کیونکہ شرائطِ جہاد معدوم ہیں اس لئے مسلمانوں کے لئے یہ حرام ہے کہ وہ دین کی جنگ، جہاد کریں۔ وہ جو میں نے آپ کو بات کہی تھی نا، آنحضرت کی زندگی
10
1171 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
میں اور رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ نزول مسیح کے وقت جہاد کی شرائط جو ہیں وہ نہیں پائی جائیں گی: 1112 ”یہ وہ زمانہ ہے جس میں کوئی حکومت مسلمانوں پر مسلمان ہونے کی وجہ سے....... ویسے تو بڑی ظالم حکومتیں تھیں...... لیکن یہ وہ زمانہ ہے جس میں کوئی ملک ایسا نہیں جس میں مسلمان پر اس کے اسلام کی وجہ سے ظلم کیا جاتا ہو۔ اور نہ کوئی حاکم پایا جاتا ہے جو اسلام، جو اس کا دین ہے، اس کی وجہ سے اس کے خلاف کچھ احکام جاری کر رہا ہو۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے شرائط کے نہ پورا ہونے کی وجہ سے اس زمانے میں اپنے حکم کو دوسرا رنگ دیا ہے۔
اس زمانے میں...... بڑی واضح ہے یہ عبارت...... حضرت بانی سلسلہ احمدیہ اس زمانے کے متعلق پھر آپ ایک نظم میں لکھتے ہیں:
ویسے وہ ”حرام“ کا لفظ وہ پہلے میں ہے، اور بڑی وضاحت سے وہ ”حرام“ کے معنی ہمیں بتا رہا ہے۔ پھر آپ اپنی ایک دوسری کتاب میں تحریر فرماتے ہیں: صحیح بخاری کی......
”بلکہ خدا کا یہی ارادہ ہے۔ صحیح بخاری کی اس حدیث کو سوچو جہاں مسیح موعود کی تعریف میں لکھا ہے: یعنی مسیح جب آئے گا تو دینی جنگوں کا خاتمہ کردے گا۔ تو میں حکم دیتا ہوں کہ جو میری فوج میں داخل ہیں وہ ان خیالات کے مقام سے پیچھے ہٹ جائیں، دلوں کو پاک کریں اور اپنے انسانی ذہن کو ترقی دیں اور دردمندوں 1113 کا ہمدرد بنیں، زمین پر صلح پھیلا دیں کہ اس سے ان کا دین پھیلے گا اور اس سے تعجب مت کریں کہ ایسا کیونکر ہوگا۔ کیونکہ جیسا کہ خدا نے بغیر توسط معمولی اسباب کے......“
وہ مثال دی ہے۔ یہ ہے جہاد پر آپ کی کتاب: ”......قرآن میں صاف حکم ہے کہ دین کے پھیلانے کے لئے تلوار مت اٹھاؤ اور دین کی ذاتی خوبیوں کو پیش کرو۔ نیک نمونوں سے اپنی طرف کھینچو اور یہ مت خیال کرو کہ ابتدا میں اسلام میں تلوار کا حکم ہوا تھا۔ کیونکہ وہ تلوار دین کے پھیلانے کے لئے نہیں کھینچی گئی تھی، بلکہ دشمنوں کے حملوں سے اپنے آپ کو بچانے کے لئے یا امن قائم کرنے کے لئے کھینچی گئی تھی۔ مگر دین کے لئے جبر کرنا کبھی مقصد نہ تھا۔“
پھر آپ فرماتے ہیں کہ: ”میں نہیں جانتا کہ ہمارے مخالفوں نے کہاں سے اور کس سے سن لیا کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے۔“
ظاہر ہے یہاں ”مخالف“ عیسائی وغیرہ ہیں جو اعتراض کرتے ہیں: خدا تو قرآن شریف میں فرماتا ہے: ”یعنی دین اسلام میں جبر نہیں۔ تو پھر کس نے جبر کا حکم دیا اور جبر کے کون
11
OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
مسلمانوں کے ساتھ مل کر دینی جہاد میں شامل
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں (حکم نامہ) جو ہیں مرزا صاحب کے، وہ ا ان سے کہہ رہے ہیں...... ممکن ہے سب مسلم
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں ٹھیک
an vacated the chair which hmad.]
(اس موقع پر جناب چیئرمین سـ
جناب یحییٰ بختیار: ان کو یہ دے رہے ہیں، ان کو Directions دے حرام ہے؟
1111 مرزا ناصر احمد: جی۔
جناب یحییٰ بختیار: تو یہ جو ۔ اگر حالات آگئے تو؟
مرزا ناصر احمد: بجائے اس ۔ متعلق جو لکھا ہے وہ میں پڑھ کر سنادیتا ہوں (مرزا غلام احمد قادیانی
جناب یحییٰ بختیار: ہاں سنا دیـ
مرزا ناصر احمد: اور یہ ذرا دھـ جہاد روحانی صورت سے رنگ پکڑ گیا ہے، ہـ اس کے بعد آخری فقرہ آپ کا یـ صورت دنیا میں ظاہر کردے......“ اور یہ ضمیمـ (اس میں کوئی شک نہیں کہ شرائط جہاد، وجوہ جـ ”فالیوم......“ اس لئے کیونکہ حرام ہے کہ وہ دین کی جنگ، جہاد کریں۔ و
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
بے سامان تھے۔ کیا وہ لوگ جو جبر سے مسلمان کئے جاتے ہیں ان کا یہی صدق اور یہی ایمان ہوتا ہے کہ بغیر کسی تنخواہ پانے کے، باوجود دو تین سو آدمی ہونے کے ہزاروں کا مقابلہ کریں اور جب ہزار تک پہنچ جائیں تو لاکھ دشمنوں کو شکست دے دیں اور دین کو دشمن کے حملہ سے بچانے کے لئے 1114 بھیڑوں اور بکریوں کی طرح سر کٹا دیں اور اسلام کی سچائی پر اپنے خون سے مہر کر دیں اور خدا کی توحید کو پھیلانے کے لئے ایسے عاشق ہوں کہ درویشانہ طور پر سختی اٹھا کر افریقہ کے ریگستان تک پہنچتے ہیں اور اس ملک میں اسلام کو پھیلا دیں اور پھر ہر ایک قسم کی صعوبتیں اٹھا کر چین تک پہنچیں، نہ جنگ کے طور پر بلکہ درویشانہ طور پر اس ملک میں پہنچ کر دعوت اسلام کریں، جس کا نتیجہ یہ ہو کہ ان کے بابرکت واسطے کئی کروڑ مسلمان اس زمین میں پیدا ہو جائیں اور پھر ٹاٹ پوش درویشوں کے رنگ میں ہندوستان میں آئیں۔ بہت سے حصہ آریہ ورتھ کو اسلام سے مشرف کر دیں اور یورپ کی حدود تک لا الہ الا اللہ کی آواز پہنچا دیں۔ تم ایماناً کہو، کیا یہ کام ان لوگوں کا ہے جو جبراً مسلمان کئے جاتے ہیں، جن کا دل کافر اور زبان مومن ہوتی ہے۔ بلکہ یہ ان لوگوں کے کام ہیں جن کے دل نور ایمان سے بھر جاتے ہیں اور جن کے دلوں میں خدا ہی خدا ہوتا ہے۔“ (پیغام صلح)
پھر آپ فرماتے ہیں: ”مسیح دنیا میں آیا تا کہ دین کے نام سے تلوار اٹھانے کے خیال کو دور کرے اور اپنے حجج اور براہین سے ثابت کر دکھائے کہ اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو اپنی اشاعت کے لئے تلوار کی مدد کا ہرگز محتاج نہیں بلکہ اس کی تعلیم کی ذاتی خوبیاں اور اس کے حقائق و معارف وحجج و براہین اور خدا تعالیٰ کی زندہ تائیدات اور نشانات اور اس کا ذاتی جذب ایسی چیزیں ہیں جو ہمیشہ اس کی ترقی اور اشاعت کا موجب ہوئی ہیں۔ اس لئے وہ تمام لوگ آگاہ رہیں جو اسلام کے بزور شمشیر پھیلائے جانے کا اعتراف کرتے ہیں کہ وہ 1115 اپنے اس دعویٰ میں جھوٹے ہیں۔ اسلام کی تاثیرات اپنی اشاعت کے لئے کسی جبر کی محتاج نہیں۔ اگر کسی کو ......“
آگے آپ نے فرمایا: ”اب تلوار کے ذریعے اسلام کی اشاعت کا اعتراض کرنے والے سخت شرمندہ ہوں گے۔“ یہ ملفوظات“
پھر آپ فرماتے ہیں کہ : ”پس جس حالت میں اسلام میں یہ ہدایت ہی نہیں کہ کسی جبر و قتل کی دھمکی سے دین میں داخل کیا جائے تو کسی خونی مہدی یا خونی مسیح کا انتظار کرنا سراسر لغو اور بیہودہ ہے کیونکہ ممکن نہیں کہ قرآنی تعلیم کے برخلاف کوئی ایسا انسان بھی دنیا میں آوے جو تلوار کے ساتھ لوگوں کو مسلمان کرے۔“
پھر آپ فرماتے ہیں: ”جبکہ یہ سنت اللہ کہ یعنی تلوار سے ظالم اور منکروں کو ہلاک کرنا
١٢
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
.......قدیم سے یہ سنت اللہ ہے، یعنی تلوار سے ظالم، منکروں کو ہلاک کرنا، قدیم سے چلی آتی ہے تو قرآن شریف پر کیوں خصوصیت کے ساتھ اعتراض کیا جاتا ہے۔ کیا موسیٰ کے زمانے میں خدا کوئی اور تھا اور اسلام کے زمانے میں کوئی اور ہو گیا۔ یا خدا تعالیٰ کو اس وقت لڑائیاں پیاری لگتی تھیں اور اب بری دکھائی دیتی ہیں۔ اسلام نے صرف ان لوگوں کے خلاف تلوار اٹھانے کا حکم فرمایا ہے جو اول آپ پر تلوار اٹھائیں اور ان ہی کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے جو اول آپ کو قتل کریں۔ یہ حکم ہرگز نہیں دیا کہ تم ایک کافر بادشاہ کے تحت 1116 میں ہو اور اس کے عدل و انصاف سے فائدہ اٹھا کر اسی پر باغیانہ حملہ کرو۔ قرآن کی رو سے یہ بدمعاشوں کا طریق ہے نہ کہ نیکوں کا۔ لیکن تورات نے یہ فرق کسی جگہ نہیں کھول کر بیان فرمایا۔ اس سے ظاہر ہے کہ قرآن شریف اپنے جلالی اور جمالی احکام میں اس خط مستقیم ، عدل اور انصاف، رحم اور احسان پر چلتا ہے جس کی نظیر دنیا میں کسی کتاب میں موجود نہیں۔"
پھر آپ فرماتے ہیں: ”کہ ان لوگوں کے خلاف اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے مؤمنوں پر کہ ان سے لڑائی کریں جو جبراً، اپنے مذہب میں داخل کرتے ہیں اور مؤمنوں کو ان کی عبادات سے روکتے ہیں......“ یہ لمبی عبارت ہے۔ اگر آپ کہیں تو میں اس کا ترجمہ کر دیتا ہوں اور یہ ایک اور ...... ہاں، یہ ترجمہ ہے۔ لیکن یہ ترجمہ اس کے ساتھ میں نے کیا، کروایا ہوا ہے۔ لیکن ویسے بھی کر سکتا تھا یہ رکھا بھی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جہاد کے متعلق جو فرمایا بڑا واضح ہے۔ یہاں شرائط کا حکم کس معنوں میں ہے، وہ میں نے پڑھ دیا ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں وہ آپ نے سنا دیا ایک بات جو میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اس پر مرزا صاحب ! کوئی سوال ہی نہیں آیا۔ آپ کے سامنے، نہ کوئی Dispute (تنازع) ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے کوئی پھیلانا چاہتا ہے۔ یہ غلط Conception (تصور) ہے۔ سب مسلمان جانتے ہیں، سب مانتے ہیں کہ اسلام میں Defensive war (دفاعی جنگ) ہے۔
مرزا ناصر احمد : ہاں، یعنی ......1117
جناب یحییٰ بختیار : آپ نے بڑا Emphasize (تاکید) کیا کہ تلوار کے زور سے پھیلا۔ میں اس کی بات ہی نہیں کرتا۔
مرزا ناصر احمد : نہیں، نہیں۔
جناب یحییٰ بختیار : یہ بات عیسائی کہتے ہوں گے۔
١٣
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔
جناب یحییٰ بختیار: کوئی مسلمان عالم جو ہے وہ جانتا ہے کہ تلوار کے زور سے اسلام کبھی نہیں پھیلایا جا سکتا۔
مرزا ناصر احمد: لا ماشاء اللہ!
جناب یحییٰ بختیار: کوئی Compulsion (مجبوری) نہیں ہے۔ اس پر تو کوئی Dispute (تنازع) نہیں ہے۔ Dispute (تنازع) تو اس بات کا ہے کہ جب جہاد لازم ہو، شرائط موجود ہوں، آپ فرماتے ہیں کہ مہدی کے زمانے میں وہ نہیں ہوگا کیونکہ مہدی کی موجودگی میں شرائط ختم ہو جاتی ہیں۔ یہ بھی وجہ آپ نے بتائی ہے۔
مرزا ناصر احمد: ...... آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ...... ایسا نہیں ہوں گی۔
جناب یحییٰ بختیار: وہی میں کہہ رہا ہوں۔
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، نہیں، کہاں، کہیں ہوئیں؟
(حضرت مسیح جہاد کا خاتمہ کر دے گا)
جناب یحییٰ بختیار: تو آپ نے جو حدیث بخاری شریف پڑھ کر سنائی، وہ تو کہتے ہیں کہ وہ جہاد کا خاتمہ کر دے گا، جو آپ کے Words (الفاظ) ہیں۔ تو اس کے بعد تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ پھر بھی شرائط آئیں گی۔ یہ ذرا آپ Explain (واضح) کر دیں۔
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، ٹھیک ہے ...... ”خاتمہ کر دے گا ۔“ دوسری تحریر 1118 آپ ......
جناب یحییٰ بختیار: ”خاتمہ“ سے میرا مطلب اٹھارہ سال کے لئے یا سترہ سال کے لئے ، یہ تو نہیں ہے۔
مرزا ناصر احمد: میں جواب دے دوں۔ ”خاتمہ کر دے گا“ کے معنی اور بانی سلسلہ احمدیہ کی دوسری تحریرات اور ارشادات ”خاتمہ کر دینے“ کے معنی کرتے ہیں کہ اپنی زندگی کے متعلق وہ یہ کہے گا کہ ”میرے زمانے میں ایسا نہیں ہوگا۔“
جناب یحییٰ بختیار: یعنی ١٨٩١ء سے لے کر ١٩٠٨ء تک، اس زمانے کے لئے؟
مرزا ناصر احمد:
جناب یحییٰ بختیار: یہ بخاری کی حدیث جو ہے اس کا Application (نفاذ) اسی
١٤
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
زمانے کے لئے ہے؟
مرزا ناصر احمد: اسی زمانے کے متعلق ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: اور زمین میں جو صلح پھیل جائے گی وہ بھی اسی زمانے کے لئے ہے؟
مرزا ناصر احمد: ”زمین میں صلح پھیل جائے گی“ یہ جو ہے، یعنی جو...... اس کے ایک تو معنی یہ ہیں کہ نوع انسانی کا دماغ Theoretically (نظری طور پر) اس نتیجے پر پہنچ جائے گا کہ عقائد کو جبر سے نہیں بدلا جاسکتا۔ اس لحاظ سے صلح پھیل گئی۔ جہاں تک ہمارے قابل احترام ہمسایہ ملک چین کے صدر چیئرمین ماؤزے تنگ نے اپنی کتاب میں لکھا ہے...... جیسا کہ میرے خطبے میں بھی ہے......
جناب یحییٰ بختیار: آپ کے خطبے میں ہے؟
1119 مرزا ناصر احمد: جبر کے ساتھ دل کے عقائد کو بدلنے کا تصور احمقانہ ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: وہ تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
مرزا ناصر احمد: ہاں۔ ”تو صلح پھیل گئی“ کے ایک معنی یہ ہیں کہ دنیا اپنے لمبے تجربے کے بعد...... اس کا کئی صدیوں میں...... عیسائیت میں فرقہ وارانہ فساد ہوئے اور Inquisitions ہوئیں بڑی Horrible (خوفناک) وہ زمانہ ہے عیسائی دنیا کا۔ لیکن ان سارے زمانہ میں انسان ان زمانوں میں سے گزر کر اس نتیجے تک پہنچ گیا، انسان بحیثیت مجموعی، کہ اب ہمیں یہ تسلیم کر لینا چاہئے کہ انسان نے جبر سے عقائد تبدیل کرنے کے لئے جو ہزاروں سال کوششیں کیں اس کا نتیجہ کچھ نہیں نکلا۔ اس لئے عقائد کی تبدیلی کے لئے جبر نہیں کیا جانا چاہئے۔ یہ ایک صلح ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: اب، ہاں، دنیا اس نتیجے پر پہنچ گئی آپ کے نقطہ نظر سے، کہ دین کے معاملے میں وہ جبر نہیں کرتے تو اس لئے ١٩٠٨ء کے بعد بھی یہ حالات موجود ہیں پھر؟
مرزا ناصر احمد: موجود ہیں، لیکن بدلنے کا امکان بھی ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: یعنی مطلب یہ ہے کہ وہ......
مرزا ناصر احمد: ابھی تو موجود ہیں، ہمارے نزدیک، لیکن بدلنے کا امکان ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: یہ جو مرزا صاحب کی Direction (حکم) ہے کہ ”آپ کے
١٥
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
لئے حرام ہے“ یہ آپ کہتے ہیں کہ یہ سارا سترہ اٹھارہ سال کے پیریڈ کے لئے ہے، بعد میں حالات Change (تبدیل) ہو سکتے ہیں کہ جہاد جائز ہو سکتا ہے؟
مرزا ناصر احمد: میں یہ کہتا ہوں کہ جو یہ فرمایا کہ ”تمہارے لئے حرام ہے“ اس پر بھی ......اس پر عمل کرنا چاہئے اور اتنا ہی عمل اس پر کرنا چاہئے۔ ”جب حالات بدل جائیں اور شرائط پوری ہو جائیں تو تمہارے اوپر فرض ہے کہ تم جہاد کرو“...... ابھی میں نے پڑھا ہے۔
(مرزا قادیانی کا کہنا کہ جہاد حرام بھی ہے اور آئندہ بھی اس کا انتظار نہ کریں)
1120 جناب یحییٰ بختیار: وہ ابھی آپ نے پڑھ دیا۔ نہیں، میرے سامنے ایک اور حوالہ تھا کہ جس میں کہتے ہیں کہ ”حرام بھی ہے اور آئندہ کے لئے بھی آپ اس کا انتظار نہ کریں۔“
تو اس لئے میری یہ وہ Difficulty (مشکل) آ گئی تھی۔ میں پڑھ کر سناتا ہوں: ”یاد رہے کہ مسلمانوں کے لئے...... ”یہ ہے جی ”اشتہار واجب الاظہار...... اپنی جماعت کے لئے اور گورنمنٹ عالیہ کی توجہ کے لئے...... ”تریاق القلوب“ ہے میرے خیال میں......
مرزا ناصر احمد: ہاں اپنے وفد کے ایک رکن سے ”تریاق القلوب“ ہے آپ کے پاس؟
Mr. Yahya Bakhtiar: Page 332.
(جناب یحییٰ بختیار: صفحہ ٣٣٢)
مرزا ناصر احمد: یہ دیکھتے ہیں، اگر ہو تو ابھی......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں آپ کو یہ دے دیتا ہوں۔
مرزا ناصر احمد: ہاں ہاں، دے دیں۔
جناب یحییٰ بختیار: تو کوئی پرابلم نہیں ہوگا۔
[At this stage Prof. Ghafoor Ahmad vecated the chair which was occoupied by Dr. Mrs. Ashraf Khatoon Abbasi.]
(اس مرحلہ پر پروفیسر غفور احمد نے کرسی صدارت چھوڑ دی اور ڈاکٹر مسز اشرف خاتون عباسی نے کرسی صدارت سنبھال لی)
جناب یحییٰ بختیار: ”یاد رہے کہ مسلمانوں کے فرقوں میں سے یہ فرقہ جس کا ”خدا نے مجھے امام، پیشوا اور رہبر مقرر فرمایا ہے، ایک بڑا امتیازی نشان اپنے ساتھ رکھتا ہے......“
١٦
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
Now this applies to the whole Firqua (فرقہ) (چنانچہ یہ تمام فرقہ پر لاگو ہوتا ہے)
1121...... اس فرقے میں تلوار کا جہاد بالکل نہیں اور نہ اس کی انتظار ہے بلکہ یہ مبارک فرقہ نہ ظاہر طور پر اور نہ پوشیدہ طور پر جہاد کی تعلیم کو ہرگز جائز نہیں سمجھتا۔“
(اشتہار واجب الاظہار ص١، ملحقہ تریاق القلوب خزائن ج ١٥ ص ٥١٧)
مرزا ناصر احمد: اپنے زمانے کے لئے ہے۔ اس میں تو کہیں نہیں لکھا ہوا ہے ”قیامت تک کے لئے۔“
جناب یحییٰ بختیار: یعنی یہ اپنے زمانے کے لئے تھا؟ جب انہوں نے فرمایا یہ ١٩٠٨ء تک کے لئے ہے؟
مرزا ناصر احمد: یعنی وہ ایک فقرہ ہمارے ذہن میں ہو ناں کہ ”آپ کے زمانہ میں جہاد کی شرائط پوری نہیں ہوں گی.....“
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں سمجھ گیا ہوں۔
مرزا ناصر احمد: ......حدیث کے مطابق اور بعد میں ہو سکتا ہے کہ کسی وقت پوری ہو جائیں۔
جناب یحییٰ بختیار: جب یہ کہتے ہیں کہ ”نہ انتظار ہے“ یہ ١٩٠٨ء تک اس کے بعد بے شک انتظار کی گھڑیاں ختم ہیں؟
مرزا ناصر احمد: ”خونی مہدی کا انتظار“ جو ہے، ایسا مہدی پیدا ہو گا کہ جو اپنی زندگی میں اس حدیث کے باوجود جہاد کا اعلان کرے گا، اس کا انتظار نہیں ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: ایک یہ مطلب نہیں لیا جاتا ..... بعض مسلمانوں کا یہ خیال ہے، میری سمجھ کے مطابق ..... کہ جب مہدی آئے گا اسلام پھیل جائے گا۔ چونکہ جہاد کفار کے خلاف ہوتا ہے، اس لئے کوئی ضرورت نہیں ہوگی جہاد کی؟
مرزا ناصر احمد: وہی پھر کہ اسلام کو تلوار کی ضرورت ہے اپنی اشاعت کے لئے!
جناب یحییٰ بختیار: نہیں میں تلوار کی بات نہیں کر رہا ہوں۔
1122 مرزا ناصر احمد: ہاں جی۔
جناب یحییٰ بختیار: کہ جب مہدی آئے گا تو اس کے بعد اسلام پھیل جائے گا ساری دنیا میں۔
١٧
OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
لئے حرام ہے“ یہ آپ کہتے ہیں کہ یہ سارا حالات Change (تبدیل) ہو سکتے ہیں کہ
مرزا ناصر احمد: میں یہ کہتا ہوں ....... اس پر عمل کرنا چاہئے اور اتنا ہی عمل اس پوری ہو جائیں تو تمہارے اوپر فرض ہے کہ تم
(مرزا قادیانی کا کہنا کہ جہاد حرام بھ
1120 جناب یحییٰ بختیار: وہ ا حوالہ تھا کہ جس میں کہتے ہیں کہ ”حرام بھی ہے تو اس لئے میری یہ وہ Difficulty (مشک مسلمانوں کے لئے.....“ یہ ہے جی ”اشتہار عالیہ کی توجہ کے لئے“.... ”تریاق القلوب“ ے
مرزا ناصر احمد: ہاں اپنے وفد کے
Page 332.
(جناب یحییٰ بختیار: صفحہ ٣٣٢
مرزا ناصر احمد: یہ دیکھتے ہیں، ب
جناب یحییٰ بختیار: نہیں آپ
مرزا ناصر احمد: ہاں ہاں، دے
جناب یحییٰ بختیار: تو کوئی پر
afoor Ahmad vacated the Dr. Mrs. Ashraf Khatoon
(اس مرحلہ پر پروفیسر غفور احمد عباسی نے کرسی صدارت سنبھال لی)
جناب یحییٰ بختیار: ”یاد رہے نے مجھے امام، پیشوا اور رہبر مقرر فرمایا ہے، ا
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
مرزا ناصر احمد: کس طرح پھیلے گا؟...... وہاں وہ لکھا ہوا ہے وہیں......
جناب یحییٰ بختیار: تلوار کے۔
مرزا ناصر احمد: جبر کے ساتھ۔ وہیں یہ لکھا ہوا ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، آپ کا Concept (تصور) تو یہ ہے ناں جی کہ جبر کے ساتھ نہیں ہوگا......
مرزا ناصر احمد: ہمارا Concept (تصور)
جناب یحییٰ بختیار: ......یعنی تبلیغ سے ہوگا......
مرزا ناصر احمد: ہمارا Concept (تصور) وہ ہے یعنی......
جناب یحییٰ بختیار: ......لیکن اسلام پھیل جائے گا جی ہاں اس سے؟
مرزا ناصر احمد: کیا؟
جناب یحییٰ بختیار: اسلام پھیل جائے گا؟
مرزا ناصر احمد: تین صدیوں کے اندر۔
جناب یحییٰ بختیار: تو یہ مرزا صاحب کا جو زمانہ ہے، جہاں تک جہاد کا تعلق ہے، صرف ١٨ سال کے لئے ہے یا ١٧ سال کے لئے، ویسے یہ تین سو سال کے لئے ہے؟
مرزا ناصر احمد: جو ہے جہاد کا، یہ پیش گوئی حدیث میں جو آئی ہے کہ اس زمانے...... وہ ان کا...... آپ کی زندگی کے ساتھ تعلق رکھتا ہے کہ آپ کی زندگی میں شرائط جہاد نہیں ہوں گی۔
1123 جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں یہی سوال آپ سے پوچھتا......
مرزا ناصر احمد: ہاں جنہیں، میں، میں آگے کر رہا ہوں ناں۔ وہ Link (ملاتا) کرنا ہے ناں اس کو اور آپ کے وصال کے بعد اس کا امکان ہے کہ شرائط جہاد ہو جائیں اور اس وقت حکم یہ ہے کہ ہر احمدی قرآن کریم کی ہدایت کے مطابق شرائط جہاد کے موجود ہونے کے وقت جہاد کرے، اسی طرح جس طرح پہلوں نے کیا یہ اپنا مسئلہ علیحدہ ہے۔ ایک ہے، اسلام کی جدوجہد، جس میں صرف یہ جہاد صغیر نہیں، بلکہ......
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، وہ تو قلم کا جو ہے، تبلیغ کا......
مرزا ناصر احمد: ......تینوں جہاد جس میں ہیں......
جناب یحییٰ بختیار: ......تبلیغ کا جہاد جو ہے......
مرزا ناصر احمد: تبلیغ کا جہاد اور نفس کی اصلاح کا جہاد، جس کا مطلب یہ ہے کہ نبی
١٨
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
اکرم ﷺ کے اسوہ کے مطابق اپنی زندگیاں ڈھالو اور اس دنیا کے لئے جس میں تم رہتے ہو، اسی طرح نمونہ بنو جس طرح نبی اکرم ﷺ رہتی دنیا تک اسوۂ حسنہ ہیں۔ آپ ﷺ کے اخلاق کا رنگ اپنے اوپر چڑھاؤ۔
جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! تو اس نتیجہ پر ہم پہنچے ہیں کہ جب ہم کہتے ہیں کہ ”مرزا صاحب کا زمانہ“ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جب اسلام ساری دنیا پر حاوی ہوگا، سب مسلمان ہوں گے۔ ”زمانے“ سے مطلب تین سو سال ان کی زندگی کے بعد کے بھی آئیں گے، زندگی سے لے کر یا دعویٰ انہوں نے کیا اس پیریڈ سے لے کر تین سو سال تک کا زمانہ ہے وہ۔ دوسرے ”زمانے“ سے مطلب ...... جب جہاد سے تعلق رکھتا ہے ...... تو ١٨٩١ء سے لے کر ١٩٠٨ء تک، یہ اس کے ”زمانے“ کا مطلب ہے؟
1124 مرزا ناصر احمد: ” زمانہ “ جو ہے ناں ......
جناب یحییٰ بختیار: اس Sense (معنی) میں؟
مرزا ناصر احمد: نہیں، اس Sense (معنی) میں ”زمانہ“ جو ہے وہ Confusing (غلط ملط) ہے۔ Word (لفظ)
جناب یحییٰ بختیار: نہ، اس واسطے کہ دونوں Sense (معنی) میں آچکا ہے۔
مرزا ناصر احمد: نہیں، حدیث کہتی ہے کہ مہدی ...... یضع الحرب ...... حرب کو، جنگ کو، جہاد صغیر کو، رکھ دے گا۔ ”یضع“ کا بتارہا ہے کہ پھر اس کا استعمال ممکن ہے، خود یہ عربی کا لفظ جو ہے اور مہدی کی زندگی کے لئے یہ یقینی ہے کہ اس کی زندگی میں شرائط جہاد معدوم ہوں گی لیکن آپ کے مرنے کے بعد، وصال کے بعد اس کا امکان ہے کہ شرائط موجود ہوں اور اس کے لئے یہ حکم یہاں آپ کی تحریروں میں ہے کہ اس وقت فرض اور واجب ہے کہ احمدی جہاد میں شامل ہوں۔ یہ ہے جہاد کا ...... اس کو ایک اور تصور کے ساتھ ملانے سے Confusion (شک و شبہ) پیدا ہوتا ہے۔
( تین یا دو سو سال میں اسلام دنیا پر غالب ہو جائے گا )
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، یہ میں نے ......
مرزا ناصر احمد: یعنی یہ میں ...... ہاں، ایک ہے نبی کریم ﷺ اور سلف صالحین کے سیکڑوں حوالے اور قرآن کریم کی آیات سے استدلال اور ”لیظهره علی الدین کله“ تو یہ قرآن
١٩
1180 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
کریم کی آیت ہے ...... پہلے سلف صالحین نے کہا ہے ...... کہ مہدی کا زمانہ، مہدی کا زمانہ، نبی اکرم ﷺ کے لئے وہ زمانہ ہے۔ میں نے کل بتایا تھا پڑھا کہ ”آنحضرت ﷺ کا زمانہ“ اسے بھی ہم ”حضرت عمرؓ کا زمانہ، حضرت ابوبکرؓ کا زمانہ“ کہتے ہیں۔ تو آنحضرت ﷺ ہی کا زمانہ ہے۔ لیکن اس کی جماعت ...... مہدی کی جماعت جو 1125 ہے، وہ تین سو سال کی یا آپ نے ارشاد کیا کہ تمہیں تین سو سال انتظار نہیں کرنا پڑے گا ...... میرا اندازہ یہ ہے، یہ میرا اپنا ذوق ہے ...... کہ دو سو سال کے اندر انشاء اللہ تعالیٰ اسلام دنیا پر غالب آجائے گا۔
اور میرا ذوق ...... پھر بھی میں اپنے اوپر ...... میری یہ ذمہ داری ہے ...... یہ کہتا ہے کہ اس کے آثار ہمیں ١٥، ١٦ سال کے اندر نظر آنے لگ جائیں گے اور پھر وہ ایک بڑا جہاد ہے اور جو ہمیں کرنا پڑے گا، تمام مسلمانوں کو جو اسلام کا غلبہ چاہتے ہیں اور اس میں یہ ساری ذمہ داری جو ڈالی گئی ہے وہ مہدی کی جماعت پر ہے اور آپ کی جماعت غلبہ اسلام کی کوششوں کے لئے بنائی گئی ہے اور ان کو کسی اور طرف نگاہ نہیں کرنی چاہئے اور آپ کی جماعت لڑتی رہے گی جب تک وہ کفار نہیں آجاتے جن پر قیامت نے آنا ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! یہی میں عرض کر رہا تھا کہ یہ Direction (ہدایت) جماعت کو ہے اور یہ Directions (ہدایات) جو مرزا صاحب کی ہیں کہ: ”یاد رہے کہ مسلمانوں کے فرقوں میں سے یہ فرقہ جن کا خدا نے مجھے امام پیشوا اور رہبر مقرر فرمایا ہے، ایک بڑا امتیازی نشان اپنے ساتھ رکھتا ہے اور وہ یہ کہ اس فرقے میں تلوار کا جہاد بالکل نہیں ہے اور نہ اس کا انتظار ہے۔“ (حوالہ بالا)
یہ فرقے کے لئے ایک Direction (ہدایت) آپ کہتے ہیں کہ Direction (ہدایت) جو ہے وہ صرف ١٩٠٨ء تک کے لئے ہے اور میں کہتا ہوں، مجھے میرا مطلب ہے کہ یہ ہمیشہ کے لئے ہے۔ تو یہ تو ٹھیک ہے، آپ کہہ رہے ہیں ......
مرزا ناصر احمد: دیکھیں ناں، ایک فرق کرنا چاہئے ہمیں ۔ یہ کہنا کہ ”آئندہ جہاد کی شرائط کے موجود ہونے کا امکان ہے“ یہ بالکل اور معنی ہے اور یہ کہنا کہ ”تم جہاد کے 1126 لئے تلوار
1۔ ١٩٠٨ء میں مرزا قادیانی کی وفات ہے۔ ١٩٧٤ء میں مرزا کو فوت ہوئے سو سال بھی نہیں ہوئے کہ پہلے رابطہ عالم اسلامی کے اجلاس میں دنیا بھر کے نمائندگان نے ان کے کفر پر اجماع منعقد کر لیا۔ ١٩٧٤ء میں پاکستان کی اسمبلی نے ان کو کافر قرار دیا۔ مرزا ناصر کے ذوق کی خوب تسکین ہو رہی ہے اور خوب ترقی ہوئی ، اس کو ترقی کہتے ہیں تو تنزلی کیا ہوگی؟
٢٠
1181 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
کی جنگ کا انتظار کرو‘ یہ بالکل اور معنی ہے۔ تو انتظار نہیں کرنا ہے لیکن ذہنی طور پر اس بات کے لئے تیار رہنا ہے۔ انتظار نہیں کرنا، لیکن ذہنی طور پر اس بات کے لئے تیار رہنا ہے کہ شرائط جہاد ہوں تو جہاد کریں گے۔
جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! جب میرے لئے ایک چیز حرام ہے، ایک چیز میرے لئے حرام ہے، نہ میں ابھی اس کو کھا سکتا ہوں، نہ کر سکتا ہوں اور نہ کل کر سکتا ہوں۔ پھر کہتے ہیں کہ ”یہ حرام ہے“ اور ”اس کا انتظار بھی مت کرو۔“ آپ کہتے ہیں کہ ”ذہنی طور پر تیار ہو جاؤ۔“
مرزا ناصر احمد: ”انتظار مت کرو“ ہے وہاں؟
جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔
مرزا ناصر احمد: وہاں لفظ کیا ہے...... ”نہ انتظار ہے۔“
جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔
مرزا ناصر احمد: یہ تو نہیں کہا کہ ”نہ انتظار کرو۔“
جناب یحییٰ بختیار: انتظار تو Future (مستقبل) کا ہی ہوتا ہے ہاں جی۔
مرزا ناصر احمد: اوہ ہو! Future (مستقبل) کا ہوتا ہے، مختلف معانی میں ہوتا ہے۔
( قادیانیوں کے نزدیک تلوار کا جہاد بالکل نہیں ؟ )
جناب یحییٰ بختیار: ”اس فرقے میں تلوار کا جہاد بالکل نہیں اور نہ اس کا ...... اس کی انتظار ہے۔“
مرزا ناصر احمد: ”نہ اس کا انتظار ہے۔“ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ سختیوں کو اپنے لئے پیدا نہ کیا کرو اور وہم میں نہ رہا کرو۔ قرآن کریم کا یہ حکم ہے، حدیث کا یہ حکم ہے ”نہ اس کا انتظار ہے“ ...... میں تو اپنا مذہب بتا رہا ہوں ......
1127 جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، آپ کا اپنا ......
مرزا ناصر احمد: ...... جماعت کا مذہب یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی وہ احادیث جن میں یہ ذکر ہے کہ مہدی ...... ”یضع الحرب“ ...... جنگ کو رکھ دے گا اس کا وجوب ہے مہدی کی حیات تک، یعنی اس زمانہ میں۔ اس صادق بزرگ نے یہ پیش گوئی کی تھی کہ مہدی کی زندگی میں شرائط جہاد نہیں موجود ہوں گی ......
١؎ اے قادیانیو! مرزا ناصر احمد کا یہ فلسفہ ”نہ انتظار ہے“ ”نہ انتظار کرو“ لفظوں کے ہیر پھیر سے ڈوبتے کو تنکے کا سہارا والا نظریہ ہے یا نہ۔
٢١
PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
کریم کی آیت ہے ...... پہلے سلف صال اکرم ﷺ کے لئے وہ زمانہ ہے۔ میں نے ” حضرت عمرؓ کا زمانہ، حضرت ابو بکرؓ کا ز اس کی جماعت ...... مہدی کی جماعت ج تین سو سال انتظار نہیں کرنا پڑے گا ... کے اندر انشاء اللہ تعالیٰ اسلام دنیا پر غالب اور میرا ذوق ...... پھر بھی می اس کے آثار ہمیں ١٥، ١٦ سال کے اند ہمیں کرنا پڑے گا، تمام مسلمانوں کو جو ڈالی گئی ہے وہ مہدی کی جماعت پر ہے ہے اور ان کو کسی اور طرف نگاہ نہیں کر نہیں آجاتے جن پر قیامت نے آنا ہے
جناب یحییٰ بختیار: مر (ہدایت) جماعت کو ہے اور یہ ons کہ مسلمانوں کے فرقوں میں سے یہ فر بڑا امتیازی نشان اپنے ساتھ رکھتا ہے اس کا انتظار ہے۔“ (حوالہ بالا)
یہ فرقے کے لئے ایک و (ہدایت) جو ہے وہ صرف ١٩٠٨ء تک ہمیشہ کے لئے ہے ۔ تو یہ تو ٹھیک ہے ن
مرزا ناصر احمد : دیکھیں شرائط کے موجود ہونے کا امکان ہے
١؎ ١٩٠٨ء میں مرزا قادیا نہیں ہوئے کہ پہلے رابطہ عالم اسلا اجماع منعقد کر لیا۔ ١٩٧٣ء میں پاک خوب تسکین ہورہی ہے اور خوب ترق
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
جناب یحییٰ بختیار: یہ تو آپ نے فرمایا بڑی تفصیل سے......
مرزا ناصر احمد: ...... اور اور......
جناب یحییٰ بختیار: ...... اور پھر آپ نے فرمایا کہ مہدی کا زمانہ، میں نے کہا کہ اس کے بعد تو آخری زمانہ ہوتا ہے۔ آپ نے کہا کہ ”نہیں، تین سو سال تک چلتا ہے۔“
مرزا ناصر احمد: میں کہتا ہوں جب تک میں نے یہ کہا کہ ”تین سو سال“ نہیں، مجھے تو غیب کا علم نہیں ہے...... جب تک جماعت احمدیہ اس دور میں داخل نہیں ہو جاتی جس کے متعلق احادیث میں آیا ہے کہ دنیا میں کفر بڑا سخت پھیلے گا اور پھر قیامت آجائے گی۔ یہ حدیث کی خبریں ہیں...... تو ایک وقت تک پورا جہاد کرنا ہے، جہاد کبیر، دنیا میں اسلام کو غالب کرنے کے لئے اور اس کے بعد ایک اور جہاد کبیر ہوتا ہے، جس کا تعلق بڑا ہے جہاد اکبر کے ساتھ، کہ جو مسلمان ہیں ان کی صحیح تربیت کی جائے۔ اب آپ اپنی پچھلی تاریخ کے اوپر دیکھیں......
جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! وہ تو آپ فرما چکے ہیں، وہ تو آپ نے کہا کہ ہر وقت ان کی شرائط موجود ہیں، جہاد کبیر کی، کل آپ نے فرمایا......
1128 مرزا ناصر احمد: ہاں۔ جب شرائط موجود ہوں گی......
جناب یحییٰ بختیار: ...... آپ نے فرمایا ہر وقت موجود رہتی ہیں۔
مرزا ناصر احمد: کیا چیز؟
جناب یحییٰ بختیار: جہاد کبیر کی شرائط۔
مرزا ناصر احمد: ہاں، وہ تو ہر وقت جہاد کبیر...... جہاد اکبر کی شرائط ہر وقت موجود ہوتی ہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: ہر وقت موجود ہوتی ہیں تو جہاد تو ہر وقت جہاں تک کبیر کا تعلق ہے...... موجود ہیں شرائط......
مرزا ناصر احمد: ...... جہاد کبیر کی۔
(مہدی کے آنے پر جہاد کبیر کی شرائط ختم ہو جائیں گی؟)
جناب یحییٰ بختیار: مہدی جب آئے گا، یہ جہاد کبیر کی بھی شرائط ختم ہو جائیں گی؟
مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، نہیں، نہیں۔......
جناب یحییٰ بختیار: یہ رہیں گی؟
٢٤
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
مرزا ناصر احمد: ”یضع الحرب“ اس جہاد کی بات ہورہی ہے جس کا حرب کے ساتھ تعلق ہے، یعنی تلوار کے ساتھ لڑائی کے ساتھ، یعنی جہاد صغیر۔ ”یضع الحرب“ جہاد صغیر۔
جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! یہ تو میں سمجھ گیا۔ میرا اپنا Impression (تاثر) یہ تھا کہ جب مہدی آئے گا۔ اس کے بعد وہ جہاد کی ضروریات کو ختم کردے گا کیونکہ سب مسلمان ہو جائیں گے تو نہ کبیر کا سوال ہوگا نہ صغیر کا سوال ہو گا یہ Impression (تاثر) جو مجھے دیا گیا ہے سوال سے......
مرزا ناصر احمد: ہاں نہیں ہمارا نہیں ہے یہ۔
1129 جناب یحییٰ بختیار: ...... آپ کا یہ نہیں ہے۔ آپ کا یہ خیال ہے کہ وہ جو ہے، اسلام کا غلبہ تین سو سال تک......
مرزا ناصر احمد: یعنی دو سو تین سو سال کے اندر ساری دنیا یعنی نوع انسانی اسلام کے جھنڈے تلے جمع ہو جائے گی۔
جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب کی زندگی......
مرزا ناصر احمد: ...... سے اس کی ابتدا ہوئی۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، اس سے لے کر کے دوسو سال تک، تین سو سال تک، ان کا زمانہ ہے یہ......
مرزا ناصر احمد: ہاں، یہ غلبہ اسلام کے لئے ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: غلبہ اسلام کے لئے۔
مرزا ناصر احمد: ہمارا وہ نہیں ہے کہ پھونک سے ساروں کو ختم کردے گا۔
جناب یحییٰ بختیار: وہ کسی کا بھی نہیں ہے، مرزا صاحب!
مرزا ناصر احمد: ابھی آپ نے کہا کہ آپ کو کچھ Impression (تاثر) دیا گیا۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں۔
مرزا ناصر احمد: اچھا میں نہیں سمجھا۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں کسی کا نہیں۔ میں تو شروع سے کہہ رہا ہوں کہ جہاں تک مذہب میں جبر کا تعلق ہے یہ کسی کا عقیدہ نہیں ہے۔ دین کے معاملے کو ”اسلام تلوار سے پھیلاؤ“ یہ کسی مسلمان فرقے کا......
١؎ مہدی کے آنے کے بعد تین سو سال میں غلبہ اسلام ہوگا۔ کائنات کی کسی صحیح روایت میں اس کا ثبوت دے سکتے ہیں؟ قادیانیوں سے عاجزانہ استدعا ہے۔
٢٣
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
مرزا ناصر احمد : اور مہدی آئے گا اور سارے مسلمان ہو جائیں گے!
1130 جناب یحییٰ بختیار : مرزا صاحب! مہدی آئیں گے اور سارے مسلمان ہوں گے ۔ یہی جو عقیدہ ہے ، اس کا آپ سمجھتے ہیں کہ ”صلیب کو توڑ دے گا ، خنزیر کو قتل کر دے گا“ یہ ...... Physically, Metaphorically (جسمانی طور پر، مجازی طور پر) جو بھی اس کا Interpretation (مطلب) ہے ، وہ جو بھی ہو سکتا ہے ، اس کا اخذ یہ ہو سکتا ہے کہ سب مسلمان ہو جائیں گے۔
مرزا ناصر احمد : کتنے عرصے میں؟
جناب یحییٰ بختیار : میرا تو یہ خیال ہے کہ وہ اپنی زندگی میں کر کے ختم کر دیں گے۔ آپ کہتے ہیں کہ وہ زندگی جو ہے ، نہیں ، وہ تین سو سال تک ہے۔
مرزا ناصر احمد : یہ تو اختلاف ہے۔
جناب یحییٰ بختیار : یعنی میرا اپنا ہے۔ میں نہیں جانتا ، وہ علماء جانتے ہوں گے کہ کیا پیریڈ ہے۔
مرزا ناصر احمد : بہر حال یہ تو اپنا اپنا ہے۔
جناب یحییٰ بختیار : ہاں ۔ اور مرزا صاحب ! ابھی یہ کچھ مرزا صاحب کے شعر ہیں:
تو یہ وہ ١٧ سال کے پیریڈ کے لئے Apply (لاگو) ہوتا ہے؟
مرزا ناصر احمد : یہ جو ہے ناں شعر ...... کتنے شعر لکھے ہوئے ہیں آپ نے۔
جناب یحییٰ بختیار : میں سب سنائے دیتا ہوں۔ تین چار ہیں۔
مرزا ناصر احمد : اچھا، سنادیں۔
1131 جناب یحییٰ بختیار:
اب آگیا مسیح جو دین کا امام ہے دین کی تمام جنگوں کا اب اختتام ہے
اب آسمان سے نور خدا کا نزول ہے اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے
دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٦، خزائن ج ١٧ ص ٧٧، ٧٨)
اب مرزا صاحب ! یہ جو ہیں ......
٢٤
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
مرزا ناصر احمد: آگے دو شعر ہیں، وہ نہیں لکھے ہوئے؟
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میرے پاس نہیں ہیں۔
مرزا ناصر احمد: اچھا میں پڑھ دیتا ہوں۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، پڑھ دیں۔
مرزا ناصر احمد: اسی کی Continuation (تسلسل) میں:
فرما چکا ہے سید کونین مصطفےٰؐ عیسیٰ مسیح جنگوں کا کر دے گا التوا
(ایضاً)
1132 Mr. Yahya Bakhtiar: Exactly ... this is the point. Mirza Sahib.
کہ ”وہ جنگوں کو ختم کر دے گا۔“
مرزا ناصر احمد: کہ ”وہ جنگوں کا التوا کر دے گا۔“
(کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام صرف جنگ کا التواء کریں گے؟)
جناب یحییٰ بختیار: ”التوا کر دے گا“ ”التوا“ جو ہے، یہ Permanent (مستقل) یا Temporary (عارضی) ہے؟
مرزا ناصر احمد: ”التوا“ تو Permanent (مستقل) ہوتا ہی نہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، تو مطلب ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام بھی فیل ہو گیا پھر؟
مرزا ناصر احمد: ہیں؟
جناب یحییٰ بختیار: وہ بھی فیل ہو گیا؟ آگیا اور پھر وہ بھی یہ کام پورا نہیں کر سکا؟
مرزا ناصر احمد: کیا کام؟
جناب یحییٰ بختیار: یعنی جنگوں کو ختم کرنا۔ تو وہ بھی نہیں کر سکا۔ صرف ملتوی کر دیا۔ پھر ہمیں ایک اور کا انتظار کرنا پڑے گا جو بالکل ختم کرے۔
مرزا ناصر احمد: آپ نے اور ہم نے، یعنی امت مسلمہ نے خلافت راشدہ میں کسی مہدی کے جھنڈے تلے جنگیں لڑی تھیں کسریٰ اور قیصر کی حکومتوں سے؟
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مرزا صاحب! میں اس Concept (تصور) سے پوچھ رہا ہوں جب عیسیٰ علیہ السلام واپس آئیں گے، دنیا میں امن ہوگا، جنگیں ختم ہو جائیں گی۔ تو
٢٥
1186 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
یہ تو پھر کام نہیں ہوا۔ وہ تو صرف ملتوی کر کے چلے گئے...... Adjourned (ملتوی)
مرزا ناصر احمد: میں کہتا ہوں......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ Impression (تاثر) مجھے ملا ہے۔
1133 مرزا ناصر احمد: نہیں، میں کہتا ہوں ”یضع الحرب“ یہ تو میرا قول نہیں ہے، نبی اکرم ﷺ کا قول ہے۔
جناب یحییٰ بختیار:
یہ آپ نے جو کہا ہے......
مرزا ناصر احمد: جی۔
جناب یحییٰ بختیار: ...... جب آئے گا تو صلح کو وہ ساتھ لائے گا، جنگوں کے سلسلے کو وہ یکسر مٹائے گا......
مرزا ناصر احمد: جی۔
جناب یحییٰ بختیار: Adjourn (ملتوی) کرنے کے بعد پھر وہ بالکل Sine die (غیر معینہ مدت) ہو گیا، ختم۔
مرزا ناصر احمد: اس زمانے میں کسی قسم کی دینی جنگ نہیں ہوگی۔
جناب یحییٰ بختیار: یعنی یکسر مٹائے گا۔
مرزا ناصر احمد: اس کی زندگی میں کسی قسم کی کوئی دینی جنگ نہیں ہوگی۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مرزا صاحب! بات یہ ہے کہ میں ذرا جاہل ہوں، آپ Mind (برا نہ مانیں) نہ کریں۔
مرزا ناصر احمد: یہ اگر آپ رکھ لیں اور ١؎......
جناب یحییٰ بختیار: میں لے لوں گا جی ان کو۔
مرزا ناصر احمد: ہاں۔
1134 جناب یحییٰ بختیار: یہ میں لے لوں گا جی ان سے۔
مرزا ناصر احمد: یہ میں جمع کرا دوں؟
١؎ کس طرح موضوع بدلنے کے لئے بہانے پہ بہانہ بنائے جارہا ہے۔ ان عیارانہ چالوں کے قادیانی ایکسپرٹ ہیں۔
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09 جناب یحییٰ بختیار: کہ عیسیٰ علیہ السلام کا واپس اس دنیا میں آنا، وہ Concept (تصور) ہے کہ وہ جسمانی طور پر آتے ہیں یا دوسرے طور پر آتے ہیں وہ اور Detail(تفصیل) ہے اس میں جانے کی ضرورت نہیں۔ ان کا ایک خاص مقصد ہے...... مرزا ناصر احمد: ہاں جی۔ جناب یحییٰ بختیار: ...... وہ ایک خاص اللہ نے ان کے لئے کوئی مشن دیا ہوا ہے...... مرزا ناصر احمد: جی۔ جناب یحییٰ بختیار: ...... وہ مشن یہ ہے کہ وہ جب آئیں گے تو اس کے بعد اسلام پھیل جائے گا، امن ہو جائے گا، جو بھی Method (طریقہ) وہ Adopt (اختیار) کریں گے، اس کے بعد جنگ و جدال اور یہ سب چیزیں، جہاد وغیرہ کی ضرورت نہیں ہوگی، بالکل ختم کردے گا۔ آپ کہتے ہیں کہ نہیں انہوں نے ١٨ سال کے لئے تو ملتوی کر دیا، اس کے بعد پھر شروع ہو جائے گا سلسلہ اور وہ...... مرزا ناصر احمد: نہیں، میں نے بالکل نہیں کہا۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ میں کہتا ہوں جی۔ مرزا ناصر احمد: نہیں، میں نے بالکل نہیں کہا۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، آپ نے...... 1135 مرزا ناصر احمد: میں نے یہ کہا ہے...... جناب یحییٰ بختیار: کہ کیسے ہوسکتا ہے اس کے بعد۔ مرزا ناصر احمد: ہاں، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بالکل ہی نہ ہو۔ جناب یحییٰ بختیار: یہ بھی ہوسکتا ہے۔ اس کو بھی سامنے رکھیں۔ جناب یحییٰ بختیار: اور ہو بھی سکتی ہے جنگ۔ تو عیسیٰ علیہ السلام جس Purpose (مقصد) کے لئے آیا تھا کہ جنگ ہمیشہ کے لئے ختم کردیں، وہ تو حل نہ ہوا۔ مرزا ناصر احمد: عیسیٰ علیہ السلام جس Purpose (مقصد) کے لئے آیا ہے...... جناب یحییٰ بختیار: آتا ہے۔ مرزا ناصر احمد: ...... تین سو سال انتظار کریں، پھر دیکھیں کہ Purpose (مقصد) حل ہوا ہے یا نہیں ؎١۔
١؎ مسیح کے آنے کے بعد تین سو سال انتظار، تو یہ مسیح کی آمد کی غرض کیا پوری ہوئی؟ ٢٧
OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09 یہ تو پھر کام نہیں ہوا۔ وہ تو صرف ملتوی کرکے مرزا ناصر احمد: میں کہتا ہوں...... جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ 1133 مرزا ناصر احمد: نہیں، میں اکرم ﷺ کا قول ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: فرما چکا ہے سید کونین مصطفیٰ یہ آپ نے جو کہا ہے...... مرزا ناصر احمد: جی۔ جناب یحییٰ بختیار: ...... جب آ یکسر مٹائے گا...... مرزا ناصر احمد: جی۔ جناب یحییٰ بختیار: djourn (غیر معینہ مدت) ہو گیا ختم۔ مرزا ناصر احمد: اس زمانے میں جناب یحییٰ بختیار: یعنی یکسر مٹا مرزا ناصر احمد: اس کی زندگی میں جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مرزا Mind(بُرا نہ مانیں) نہ کریں۔ مرزا ناصر احمد: یہ اگر آپ رکھ لیں جناب یحییٰ بختیار: میں لے لوں مرزا ناصر احمد: ہاں۔ 1134 جناب یحییٰ بختیار: یہ میں مرزا ناصر احمد: یہ میں جمع کرا دو
١؎ کس طرح موضوع بدلنے کے چالوں کے قادیانی ایکسپرٹ ہیں۔
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
جناب یحییٰ بختیار: آنا ہے یا نہیں ہے، وہ میں آپ سے گزارش کررہا ہوں۔
مرزا ناصر احمد: جی، یہ اگر ہم دیکھیں ناں عیسیٰ کا...... Purpose (مقصد) اب یہ مقصد آگیا ناں..... تو مقصد کے متعلق سلف صالحین نے کچھ لکھا ہے۔ قرآن عظیم میں ہے: ھو الذی ارسل رسولہ بالہدی و دین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ ولو کرہ المشرکون۔ سورۃ ”صف“ میں ہے۔ اہل سنت والجماعت کے لٹریچر کو جب ہم دیکھتے ہیں تو تفسیر ابن جریر کے..... میں نے مختصراً لیا ہے بالکل سارا...... وہ کہتے ہیں: 1136 (عربی)
1137 یہ ابن جریر کا ہے۔ تفسیر حسینی میں ہے......
جناب یحییٰ بختیار: یہ مرزا صاحب! یہ آپ پڑھ چکے ہیں۔
مرزا ناصر احمد: نہیں، ابھی رہتے ہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: اچھا تو پڑھ لیجئے۔
مرزا ناصر احمد: کہ: ”غالب گردانند ایں دین را علی الدین کلہ برہمہ کیست“ کہ یہ مہدی کے...... ”بوقت نزول عیسیٰ“ کہ عیسیٰ کے نزول کے وقت، آئے گا سارے دینوں پر غلبہ۔ اور تفسیر ”غایت القرآن“ از حضرت علامہ نظام الدین، اس میں یہ ہے کہ: اور ابوداؤد حدیث کی...... ابوداؤد کی حدیث ہے: اور اہل تشیع کا لٹریچر جب ہم دیکھتے ہیں تو مشہور شیعہ کتاب ”بحارالانوار“ میں ہے: کہ یہ آیت جو ہے وہ امام مہدی کے زمانہ کے متعلق ہے اور مشہور شیعہ کتاب ”غایت المقصود“ میں ہے: ”مراد از رسول ﷺ در ایں جا مہدی موعود است“
تو یہاں جو پیش گوئیاں...... میں نے استدلال نہیں کیا ابھی...... جو پیش گوئیاں...... جو یہ قرآن کریم کی آیت ہے، اس سے جو استدلال پیش گوئی کے رنگ میں اہل تشیع نے، اہل سنت والجماعت نے ، مختلف فرقوں نے یہ کہا کہ مہدی کے یا مسیح کے زمانے میں اسلام ساری دنیا میں غالب آجائے گا۔ لیکن یہ نہیں کہا کہ وہ پانچ سال میں غالب آجائے گا یا وہ دس سال میں غالب آجائے گا یا وہ بیس سال میں غالب آجائے گا۔ اس کے لئے ہمیں...... میرا اس میں صرف پوائنٹ اتنا ہے کہ اتنے حوالوں میں جو میں نے دیئے ہیں، یہ ہے ہی نہیں کہ وہ بیس یا پچیس سال میں غالب آئے گا۔ اس کے لئے ہمیں دوسری روایات، دوسری تفسیرات دیکھنی پڑیں گی، تب ہمارے سامنے یہ آتا ہے۔ تو ایک تو میں اس وقت ایک ایسے استدلالی ایک بات بتا دیتا ہوں۔ وہ کہیں گے تو وہ حوالے بھی میں یہاں جمع کروا دوں گا......
٢٨
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
1138 جناب یحییٰ بختیار: ضرورت نہیں؟
مرزا ناصر احمد: ہاں؟
جناب یحییٰ بختیار: میں یہ کہہ رہا ہوں کہ ان حوالوں میں یہ کہ، یہ حدیثیں جو آپ نے پڑھے ہیں، اس میں کہیں دو تین سو سال کا ذکر میں نے نہیں سنا۔
مرزا ناصر احمد: ہاں، میں نے یہی کہا، میں نے خود یہی کہا۔ میں نے کہا یہ جو حوالے میں نے پڑھے ہیں، یہ آیت قرآنی کی یہ صرف تفسیر کرتی ہے کہ مہدی کے زمانہ میں اسلام ساری دنیا میں غالب آئے گا اور نہ یہ کہتی ہے کہ پانچ سال میں غالب آئے گا نہ یہ کہتی ہے کہ سو سال میں غالب آئے گا......
جناب یحییٰ بختیار: سو سال میں......
مرزا ناصر احمد: اس کے لئے ہمیں دوسرے حوالے دیکھنے پڑیں گے۔
(دوسو یا تین سو سال کی کوئی حدیث ہے؟)
جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! جو آپ نے کل فرمایا کہ ”دوسو یا تین سو سال“ اس کی کوئی حدیث ہے ایسی؟
مرزا ناصر احمد: وہ میں حوالے...... میں نے یہی کہا ناں......
جناب یحییٰ بختیار: وہ اگر کوئی ”تین سو سال کا زمانہ ہوگا“ تین سو سال، دو سو سال......
مرزا ناصر احمد: نہیں......
جناب یحییٰ بختیار: یا سو سال......
مرزا ناصر احمد: دوسو سال کے اندر اسلام ساری دنیا میں غالب آجائے گا یا تین سو سال کے اندر آجائے گا۔
جناب یحییٰ بختیار: جی، میں یہی کہہ رہا ہوں۔
مرزا ناصر احمد: اس کے حوالے میں آپ کو دے دوں گا۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، کل وہ بتا دیجئے۔
مرزا ناصر احمد: کل بھی چلیں گے؟
1139 جناب یحییٰ بختیار: آج شام تک میرا مطلب ہے یہ امید تو ہے کہ آج ختم ہو جائے گا۔
مرزا ناصر احمد: اچھا۔
٢٩
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
جناب یحییٰ بختیار: یہ بے چارا غالب کہتا تھا کہ: کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک۔ ابھی یہ دو سو سال کا معاملہ جو آ جاتا ہے کہ اسلام پھیلے گا، تو بڑا ..... اس کا ہمارے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ ہم میں سے کوئی نہیں ہوگا کہ دیکھے ہوا کہ نہیں ہوا۔
مرزا ناصر احمد: وہ تو ......
جناب یحییٰ بختیار: یہ تو عقیدے کا معاملہ ہے جی۔
مرزا ناصر احمد: وہ جو بدر کے میدان میں خدا تعالیٰ کی راہ میں شہید ہو گئے تھے، ان کو نظر آیا تھا کہ کسریٰ اور قیصر کی حکومتیں جو ہیں وہ تہ و بالا کر دی جائیں گی؟
جناب یحییٰ بختیار: وہ تو عقیدے کا معاملہ ہوا ناں جی۔
مرزا ناصر احمد: علم، غیب پر علم رکھنا بنیادی ہمیں حکم ہے، کہ جو وعدے دیئے گئے ہیں، ان کو ایسا ہی سمجھو جیسا کہ ایک واقعہ ہو گیا۔
(اب آ گیا مسیح جو دین کا امام ہے ......)
جناب یحییٰ بختیار: اب جی دوسرا شعر اس میں ہے کہ:
(تحفہ گولڑویہ خزائن ج ١٧ ص ٧٧)
1140 تو یہ تو امام صرف اٹھارہ سال کے لئے نہیں تھے، یہ تو سب آپ کے دین کے لئے امام ہیں۔
مرزا ناصر احمد: امام ہے اور اس کا کہنا ماننا ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں، اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ وہ کہتے ہیں ......
مرزا ناصر احمد: اس کا کہنا ماننا ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی ......
مرزا ناصر احمد: امام ہے ناں۔
جناب یحییٰ بختیار: ان کا کہنا ہے کہ: ”دین کی تمام جنگوں کا اب اختتام ہے“
مرزا ناصر احمد: ان کا کہنا یہ ہے کہ جب جنگیں ...... شرائط جہاد موجود ہوں تو احمدی جنگ کریں۔ ابھی میں نے پڑھ کے سنایا۔ وہ دے دیا۔
٤٠
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! وہ شرائط تو ہر حالت میں مسلمانوں کے لئے رول ہے، شرائط ہوں گی......
مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، نہیں......
جناب یحییٰ بختیار: یہاں ان کی موجودگی کی وجہ سے اختتام ہے۔ یہ Explain (واضح) کردیں۔
مرزا ناصر احمد: اگر یہ معنی ہوتے تو وہ اقتباس نہ ہوتا جو ابھی میں نے داخل کرایا ہے۔ بہرحال میں نے اپنا عقیدہ بتا دیا۔
(اب جہاد کا فتویٰ فضول ہے......)
جناب یحییٰ بختیار:
(ایضاً)
1141 یعنی فتویٰ نہیں ہوگا اس پیریڈ میں جب وہ ہیں یا Future (مستقبل) کے لئے؟
مرزا ناصر احمد: پہلا مصرعہ واضح کر رہا ہے: ”اب آسمان سے نور خدا کا نزول ہے“
جناب یحییٰ بختیار: نور خدا تو آگیا نا جی۔
مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں نور خدا کا نزول جو ہے وہ مہدی کی زندگی تک ہے، اس رنگ میں۔
جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! اگر میں احمدی ہوں تو میں تو اس کو ایسے سمجھوں کہ جب وہ نزول ہوگیا تو وہ پھر ہے، اب رہے گا یہ نہیں کہ اٹھارہ سال تک نزول تھا اور اس کے بعد وہ نہیں ہوگا۔
مرزا ناصر احمد: میں جواب دوں؟ آپ فرماتے ہیں کہ اگر آپ احمدی ہوں۔ میں کہتا ہوں میں احمدی ہوں اور میں حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی ساری جو عبارتیں ہیں اس سلسلے میں، ان کو سامنے رکھ کر اسی نتیجے پر، میں، احمدی اور جماعت احمدیہ کا خلیفہ اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ آپ نے یہ فرمایا کہ یہ زمانہ امن کا زمانہ ہے، لیکن اگر اس امن کے زمانے میں کسی وقت یا دنیا کے کسی حصے میں شرائط جہاد پوری ہوں تو جن پر امت مسلمہ کے عقائد کی رو سے جہاد فرض ہوتا ہے احمدیوں کو جہاد کرنا پڑے گا۔
٣١
PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
جناب یحییٰ بختیار: یہ س ہونے تک۔ ابھی یہ دو سو سال کا معاملہ کوئی جواب نہیں ہے۔ ہم میں سے کوئی
مرزا ناصر احمد: وہ تو ......
جناب یحییٰ بختیار: یہ تو
مرزا ناصر احمد: وہ جو بدر نظر آیا تھا کہ کسریٰ اور قیصر کی حکومتیں جو
جناب یحییٰ بختیار: وہ تو
مرزا ناصر احمد: علم، غیب ہیں، ان کو ایسا ہی سمجھو جیسا کہ ایک واقعہ
(اب آ گیا آ
جناب یحییٰ بختیار: اب
1140 تو یہ تو امام صرف اٹھارہ لئے امام ہیں۔
مرزا ناصر احمد: امام ہے
جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں
مرزا ناصر احمد: اس کا کہنا
جناب یحییٰ بختیار: ہاں ج
مرزا ناصر احمد: امام ہے ن
جناب یحییٰ بختیار: ان کا
مرزا ناصر احمد: ان کا کہنا جنگ کریں۔ ابھی میں نے پڑھ کے سنایا
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
(مرزا قادیانی کے ارشادات، انگریز کی اطاعت فرض اور جہاد حرام)
جناب یحییٰ بختیار: اچھا جی یہ شعر میں چھوڑ دیتا ہوں، آپ نے Explain (واضح) کر دیا اس پر۔ آگے چلتا ہوں میں۔ یہ ٢١؍فروری ١٨٨٩ء کا ایک اشتہار ہے جو ”تبلیغ رسالت“ جلد ہشتم، ص٢٤ پر ہے، اسے میں پڑھتا ہوں: 1142 ”چند ایسے عقائد جو غلط فہمی سے اسلامی عقائد سمجھے گئے ہیں، وہ ایسے ہیں کہ جو شخص ان کو اپنا عقیدہ بنائے وہ گورنمنٹ کے لئے خطرناک ہے۔“
(تبلیغ رسالت ج٨ ص٢٤، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص١٣١، ١٣٢)
یہ وہی جہاد کے سلسلے میں۔ مگر یہ Clear (واضح) نہیں ہے۔ میں اسی کی طرف...... آپ سے Request (گزارش) کی تھی کہ میرے خیال میں...... یہ آج کسی کتاب میں...... (لاہوریوں سے) نہیں آچکی؟ جلد ہشتم آچکی ہے؟ (مرزا ناصر احمد سے) پھر وہ فرماتے ہیں جی کہ: ”میں سولہ برس سے برابر اپنی تالیفات میں اس بات پر زور دے رہا ہوں کہ مسلمانان ہند پر اطاعت گورنمنٹ برطانیہ فرض ہے اور جہاد حرام۔“ یہ ”اشتہار“ مورخہ ١٠؍دسمبر ١٨٩٢ء ”تبلیغ رسالت“ جلد سوم، ص١٧، مجموعہ اشتہارات، ج٢، ص١٢٨۔
مرزا ناصر احمد: جی نہیں۔ اس کے اوپر سوال کیا ہے پھر؟
جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب یہ اتنا Clear (واضح) مجھے معلوم ہورہا ہے۔ کیونکہ برطانیہ گورنمنٹ کی اطاعت فرض ہوگئی تو ان کے خلاف تو کوئی جہاد کا سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا۔
مرزا ناصر احمد: یہ جب...... ”حرام“ کا مطلب یہاں محدود ہے In its contexts (سیاق و سباق)
جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔
مرزا ناصر احمد: ......اور جو...... جہاں تک حکومت انگلشیہ کی اطاعت کا سوال ہے، وہ میں نے بہت سارے حوالے پڑھ دیئے تھے کہ اس زمانے کے تمام بڑے بڑے علماء کا یہی فتویٰ تھا اور یہ ہمارے ”محضر نامہ“ میں بھی ہے اور چوتھی شرط جو ہے...... شاہ عبدالعزیز کے بھی...... کل آپ نے پوچھا تھا، وہ ہم نے نکال لیا حوالہ......
1143 جناب یحییٰ بختیار: نہیں وہ نہیں، وہ تو یہاں یہی مطلب ہے ناں کہ......
مرزا ناصر احمد: ہاں۔
٣٢
1193 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
جناب یحییٰ بختیار: ......کہ اطاعت جو ہے برطانیہ کا......
مرزا ناصر احمد: یہ جو ہے ”فتویٰ نظیریہ“......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں نہیں، مرزا صاحب! میں یہ پوچھتا ہوں......
مرزا ناصر احمد: نہیں، اس کا ایک فقرہ، صرف ایک فقرہ ”فتاویٰ نظیریہ“ میں ہے: ”اس زمانے میں ان چار شرطوں میں سے کوئی شرط بھی موجود نہیں ہے تو کیونکر جہاد ہوگا۔ ہرگز نہیں ہوگا۔ علاوہ بریں ہم لوگ معاہد ہیں، سرکار سے عہد کیا ہے، پھر کیونکر عہد کے خلاف کر سکتے ہیں۔ (یعنی برٹش گورنمنٹ سے) عہد شکنی کی بہت مذمت حدیث میں آئی ہے۔“ میں نے پہلے بھی حوالے دیئے۔
جناب یحییٰ بختیار: تو آپ نے حوالے دیئے ایک چیز ہے کہ میں Agreement (معاہدہ) کرتا ہوں آپ سے، Treaty (معاہدہ) کرتے ہیں، مسلمانوں نے کفار سے Treaty (معاہدہ) کی ہے، باقیوں سے Treaty (معاہدہ) کرتے ہیں اور ہمارا فرض ہے کہ We must abide by them. (ہم اس پر عمل کریں) یہ جو Agreement (معاہدہ) ہوگا، وہ تو کہتے ہیں: ”ٹھیک ہے، ہم نے ان سے Agreement (معاہدہ) کیا ہے، عہد کیا ہے۔“ مگر یہ کہنا جی؛ ”اطاعت کرنا......“
مرزا ناصر احمد: (اپنے وفد کے ایک رکن سے) وہ دوسری نکالیں۔ (اٹارنی جنرل سے) میں نے کل بہت سارے حوالے پڑھے تھے۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، ان کا نہیں، ان سے مطلب یہ ہے کہ یہ اسلام کا حصہ ہو گیا...... برطانیہ گورنمنٹ کی اطاعت کرنا...... آپ کے نزدیک؟
1144 مرزا ناصر احمد: سب کے نزدیک۔ کل میں نے اتنے حوالے پڑھے۔ (اپنے وفد کے ایک رکن سے) کہاں ہے ”محضر نامہ“؟
جناب یحییٰ بختیار: بس پھر ٹھیک ہے جی، اگر آپ یہی......
مرزا ناصر احمد: کل میں نے حوالے آپ کو دوسرے اپنے بھائی فرقوں کے حوالے پڑھ کر بتائے تھے۔
(انگریز کی اطاعت کرنا قادیانیوں کے نزدیک اسلام کا حصہ ہے)
جناب یحییٰ بختیار: مجھے اس پر تعجب ہوا کہ اسلام کا یہ بھی حصہ ہے کہ ”انگریز کی اطاعت کرنا۔“
٣٣
PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
(مرزا قادیانی کے ارشادات
جناب یحییٰ بختیار: اچھا جی کر دیا اس پر۔ آگے چلتا ہوں میں۔ یہ ا ہشتم، ص ٤٢ پر ہے، اسے میں پڑھتا ہوں گئے ہیں، وہ ایسے ہیں کہ جو شخص ان کو اپنا یہ وہی جہاد کے سلسلے میں۔ ج آپ سے Request (گزارش) کی (لائبریرین سے) نہیں آچکی؟ جلد ہشتم کہ: ”میں سولہ برس سے برابر اپنی تالیفا اطاعت گورنمنٹ برطانیہ فرض ہے اور رسالت“ جلد سوم، ص ١٩٧، مجموعہ اشتہار
مرزا ناصر احمد: جی۔ نہیں
جناب یحییٰ بختیار: مر ہے۔ کیونکہ برطانیہ گورنمنٹ کی اطاعت نہیں ہو سکتا۔
مرزا ناصر احمد: یہ جو contexts (سیاق و سباق)
جناب یحییٰ بختیار: ہاں
مرزا ناصر احمد: ...... اور وہ میں نے بہت سارے حوالے پڑھے فتویٰ تھا اور یہ ہمارے ”محضر نامہ“ میں بھ کل آپ نے پوچھا تھا، وہ ہم نے نکال
1145 جناب یحییٰ بختیار: ی
مرزا ناصر احمد: ہاں۔
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
مرزا ناصر احمد: اسلام کا یہ حصہ ہے کہ عادل حاکم کی، خواہ وہ غیر مسلم ہو، اور مذہب میں دخل نہ دے، اطاعت کی جائے۔ یہ تو ایک Accident (حسن اتفاق) ہے کہ اس زمانے میں انگریز حاکم تھا۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں میں تو وہ جانتا تھا کہ بھئی، تم میں سے جو ہو......
Mirza Nasir Ahmad: .... This is just a historical accident.
(مرزا ناصر احمد: یہ تو محض ایک تاریخی اتفاق ہے)
جناب یحییٰ بختیار: پھر آگے فرماتے ہیں جی کہ: ”میں نے صد ہا کتابیں جہاد کے مخالف تحریر کر کے عرب اور مصر اور بلاد شام اور افغانستان میں گورنمنٹ کی تائید میں شائع کی ہیں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج٢ ص١٨٠ حاشیہ)
یہاں میں اس واسطے سے پوچھ رہا ہوں۔ مرزا صاحب! یہ ہے ”اشتہار“ ٢١؍ اکتوبر ١٨٩٥ء۔
مرزا ناصر احمد: ایک تو...... جواب میں دوں؟ ایک تو یہاں ”صد ہا“ سے ”صدہا Volumes (جلدیں)“ میں، Not "Books" (نہ کہ کتب) یعنی وہ ہم کہتے ہیں کہ ”یہ سو کتابیں لے جاؤ۔“
1145 جناب یحییٰ بختیار: ہاں، اس واسطے وہ چھوٹے بھی ہو جاتے ہیں وہ تو میں......
مرزا ناصر احمد: نہیں نہیں۔ ”سو کتابیں لے جاؤ۔“ اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ سو مختلف Authors (مصنفین) کی یا ایک ہی Author (مصنف) کی سو کتابیں ہیں۔ بلکہ سو اس کے جو نسخے ہیں ان کو ہم کہتے ہیں۔ روزمرہ کے محاورے ہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں Copies (نقول) ہو سکتی ہیں۔
مرزا ناصر احمد: ہاں Copies (نقول)
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں اس پر نہیں آ رہا......
مرزا ناصر احمد: نہیں، میں ایک یہ...... دوسرے یہ کہ اس میں آپ نے یہ فرمایا کہ ”میں نے عرب ممالک میں بھیجے۔“ اور سارے عرب ممالک جو تھے، جن میں وہاں بھیجے انہوں نے ان کا جو ردِعمل ہے، وہ وہ نہیں جو قابل اعتراض بنا دیتا ہو اس کو۔ نمبر دو، نمبر تین...... تیسرا بھی ایک پہلو ہے...... اور ”جہاد کے خلاف“ واضح ہے کہ جس شخص نے اتنی وضاحت سے دوسری جگہ لکھا، دوسرے کوئی معنی لئے نہیں جا سکتے۔ ”جہاد کے خلاف“ کہ اس کے علاوہ اور کوئی معنی نہیں ہو سکتے کہ ”میں نے یہ لکھا کہ جہاں تک انگریز کی حکومت کا سوال ہے، عدل کرتی ہے، مذہب میں
٣٤
1195 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
دخل نہیں دیتی، اس لئے جہاد کی شرائط پوری نہیں ہو رہی ہیں اور ان کے ساتھ نہیں لڑنا چاہئے۔“
جناب یحییٰ بختیار: وہ تو آپ نے درست فرمایا......
مرزا ناصر احمد: شرائط جہاد کا یہ مطلب ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: وہ تو میں سمجھ گیا۔ یہاں جو مجھے بات سمجھ نہیں آرہی تھی......
”انگریز کی اطاعت“ ...... آپ نے کہا ”ٹھیک ہے، کیونکہ ہمارے مذہب کے معاملے میں دخل نہیں دیتا۔“ مگر یہ انگریز کا پروپیگنڈہ افغانستان میں کس وجہ سے ہو رہا تھا 1146 کہ اس کی اطاعت کرو، وہاں بھی؟ جب یہ فرماتے ہیں کہ: ”میں نے عرب ممالک میں، مصر میں، بلاد میں، شام میں، افغانستان......“
مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، وہ......
(انگریز گورنمنٹ کی تائید میں کتابیں شائع کرنے کا کیا جواز ؟)
جناب یحییٰ بختیار: ...... ”گورنمنٹ کی تائید میں شائع کیں۔“ یہ اس کا میں کہتا ہوں کہ اس کا کیا جواز تھا۔
مرزا ناصر احمد: یہ، یہ الزام لگایا جاتا تھا جماعت احمدیہ پر کہ باوجود اس کے کہ انگریز کے حلقہ حکومت میں جہاد کی شرائط پوری پوری ہیں، پھر بھی جماعت احمدیہ جہاد نہیں کر رہی۔ تو یہ Double edged Sword (دودھاری تلوار) تھی۔ ایک طرف ہم پر الزام لگایا جاتا تھا، ایک طرف حکومت پر الزام لگایا جاتا تھا کہ وہ اسلام کے معاملے میں دخل دیتی ہے اور جبر کرتی ہے۔ حالانکہ تمام بزرگوں نے اعلان کیا ہوا تھا۔ تو جو جواب اپنا دیا، اس سے انگریز کو بھی فائدہ پہنچا۔
(کیا انگریز گورنمنٹ نے کہا کہ میرے لئے پروپیگنڈہ کریں؟)
جناب یحییٰ بختیار: میں یہ پوچھتا ہوں، مرزا صاحب! کہ یہ انگریز گورنمنٹ نے ان کو کہا تھا کہ ”میرے لئے پروپیگنڈہ کریں۔“ یا انہوں نے اپنی طرف سے مناسب سمجھا کہ انگریز گورنمنٹ کو Defend (دفاع) کریں وہاں؟
مرزا ناصر احمد: ایک...... اچھا! یہ وجہ اس کی؟
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، یہ میں......
مرزا ناصر احمد: وجہ یہ تھی کہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور بعض دوسرے لوگ
٣٥
AKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
مرزا ناصر احمد : اسلام کا
میں دخل نہ دے، اطاعت کی جائے۔
میں انگریز حاکم تھا۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں
This is just a historical
(مرزا ناصر احمد : یہ تو محض
جناب یحییٰ بختیار : پھر
مخالف تحریر کر کے عرب اور مصر اور ب
ہیں۔“
یہاں میں اس واسطے سے پو
مرزا ناصر احمد : ایک تو
Volumes (جلدیں)“ ہیں، ”
سو کتابیں لے جاؤ۔“
1145 جناب یحییٰ بختیار :
مرزا ناصر احمد : نہیں نہیں
Authors (مصنفین)
بلکہ سو اس کے جو نسخے ہیں ان کو ہم کہنے
جناب یحییٰ بختیار : نہیں
مرزا ناصر احمد : ہاں یہ
جناب یحییٰ بختیار : نہیں
مرزا ناصر احمد : نہیں،
”میں نے عرب ممالک میں بھیجے ۔“
نے ان کا جو رد عمل ہے، وہ وہ نہیں جو
ایک پہلو ہے۔...... اور ”جہاد کے خلاف
لکھا، دوسرے کوئی معنی لئے نہیں جا
ہو سکتے کہ ”میں نے یہ لکھا کہ جہاں کہیں
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
اور کرم دین بھیں، انہوں نے اندر ہی اندر یہ پروپیگنڈہ کیا کہ یہ مہدی ہونے کا دعویٰ کرتا 1147 ہے شخص، اور ہماری روایات میں مہدی خونی ہوگا اور یہ تمہارے خلاف بغاوت کا سامان اکٹھا کر رہا ہے، اور برٹش حکومت کے خلاف یہ باغی بغاوت کا جھنڈا کھڑا کرے گا اور اس کے جواب میں آپ نے یہ گورنمنٹ کو یہ بتانے کے لئے ...... ویسے تو اگر یہ ہوتا خدا کا حکم ، تو گورنمنٹ کو ...... جہاد کی شرائط پوری ہوتیں تو کہہ دیتے کہ پوری ہیں، کریں گے تمہارے خلاف جہاد ...... گورنمنٹ کو یہ بتایا کہ تمہارے پاس آ کے کہتے ہیں کہ ہم لوگ یعنی محمد حسین بٹالوی اور یہ کرم دین بھیں بھی اور دوسرے علماء جو ہیں، یہ تو آپ کے فرمان بردار ، متبع ، اطاعت گزار ...... اور ہم تو یہ سمجھے ہیں کہ آپ کے زیر سایہ امن ہے، مذہب میں دخل نہیں، وغیرہ وغیرہ ۔لیکن یہ شخص ظاہر میں یہ کہتا ہے کہ میں Law- Abiding ہوں۔ لیکن اندر سے یہ آپ کے خلاف تیاریاں کر رہا ہے۔ بغاوت کی، کیونکہ مہدی ...... ان کے دماغ میں سوڈانی مہدی تازہ تازہ تھا نا...... تو یہ ہے چنانچہ کرم دین ...... ایک مولوی صاحب ہیں۔...... انہوں نے اپنی کتاب ” تازیانہ عبرت “ میں لکھا:
”گورنمنٹ کو اپنی وفادار مسلمان رعایا پر اطمینان ہے اور گورنمنٹ کو خوب معلوم ہے کہ مرزا جی جیسے مہدی، مسیح بننے والے ہی کوئی نہ کوئی آفت سلطنت میں برپا کیا کرتے ہیں۔ مرزا جی نے تو مسلمانوں میں یہ خیال پیدا کر دیا ہے۔ (ذرا غور سے سننے والا ہے) مرزا جی نے تو مسلمانوں میں یہ خیال پیدا کر دیا ہے کہ مہدی و مسیح کا یہی زمانہ ہے اور قادیان ضلع گورداسپور میں وہ مہدی و مسیح بیٹھا ہوا ہے جو کسر صلیب کے لئے مبعوث ہوا ہے تا کہ عیسائیت کو محو کر کے اسلام کو روشن کرے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مرزا جی نے مسلمانوں کو نصاریٰ سے سخت بدظن اور مشتعل کر رکھا ہے، 1148 وہ دجال سمجھتے ہیں تو نصاریٰ کو ، خر دجال کہتے ہیں تو ریلوے کو۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ ریلوے کس نے جاری کر رکھی ہے۔ جب یہ خر دجال ہے تو اس کے چلانے والے بادشاہ وقت کو ہی یہ دجال کہتے ہیں اور مسلمانوں کو اس کے خلاف سخت مشتعل کر رہے ہیں۔ گورنمنٹ کو ایسے اشخاص کا ہر وقت خیال رکھنا چاہئے ۔“
یہ ” تازیانہ عبرت “ طبع دوم ، ص ٩٢، ٩٣ از شیر اسلام مولوی کرم دین صاحب ، جہلم مطبوعہ مسلم پرنٹنگ پریس لاہور ) پر ان کا حوالہ ہے۔ اس قسم کے ......
جناب یحییٰ بختیار : تو یہ ان کے خلاف کسی Complaint (شکایت) تھی جس پر ...... مرزا ناصر احمد : Complaint (شکایت) تھی تو ان کو صرف یہ بتایا ہے کہ : ”ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جہاد جو ہے، شرائط پوری ہو تو ہونا چاہئے۔ آپ کی حکومت جو ہے، مذہب میں دخل
٣٦
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
نہیں دے رہی.......“
جناب یحییٰ بختیار: میں سمجھ گیا ہوں، وہ میں سمجھ گیا کہ انہوں نے ان کے خلاف شکایت کی۔ ”دراصل اندر میں یہ آپ کی حکومت کے خلاف کام کر رہا ہے اور اوپر سے آپ کی تائید کر رہا ہے۔“ تو انہوں نے اس کے جواب میں یہ کہا۔ مگر یہ کتابیں تو پہلے ہی بھیج چکے تھے۔ Complaint (شکایت) ہے۔ سوال یہ ہے۔
مرزا ناصر احمد: جی؟
جناب یحییٰ بختیار: یہ کتابیں، یہ Complaint (شکایت) جو انہوں نے کی، اس کے بعد انہوں نے لکھ کے بھیجیں وہاں.......
مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، نہیں، نہیں.......
جناب یحییٰ بختیار: ...... یہ پہلے بھیج چکے تھے۔
1149 مرزا ناصر احمد: یہ تو ...... Complaint (شکایت) تو ...... بڑا لمبا ...... شروع، دعوے کے ساتھ ہی شروع ہو گیا تھا۔
جناب یحییٰ بختیار: تو یہ انہوں نے جو کتابیں بھیجیں، یہ تو انگریز کو خوش کرنے کے لئے نہیں بھیجیں انہوں نے؟
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، اپنی پوزیشن واضح کرنے کے لئے۔
جناب یحییٰ بختیار: ان کا پروپیگنڈا اپنی طرف سے؟
مرزا ناصر احمد: ہاں، اپنے لئے۔
جناب یحییٰ بختیار: فی سبیل اللہ؟
مرزا ناصر احمد: ہاں، لیکن یہ میں نے پہلے بتایا اس کا اثر ان کے اوپر بھی پڑا۔ لیکن یہ تھا اپنے لئے اور......
Mr. Yahya Bakhtiar: Mr. Chairman, Sir, shall we have the break for fifteen minutes? The room is very hot. We have no....
(جناب یحییٰ بختیار: جناب چیئرمین! جناب والا! کمرے میں بہت گرمی ہے، پندرہ منٹ کے لئے التوا کر دیا جائے)
مرزا ناصر احمد: ہاں، Very Hot (بہت گرم)
٣٧
1198 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
Mr. Yahya Bakhtiar: It is very hot.
(جناب یحییٰ بختیار: یہ کمرہ بہت گرم ہے)
Mirza Nasir Ahmad: Depressing.
(مرزا ناصر احمد: پریشان کن ہے)
Mr. Yahya Bakhtiar: .... Because the airconditioner is not working today.
(جناب یحییٰ بختیار: کیونکہ آج اے سی کام نہیں کر رہا)
Mirza Nasir Ahmad: Hot and depressing.
(مرزا ناصر احمد: گرمی بہت پریشان کر رہی ہے)
Mr. Yahya Bakhtiar: Because the air- conditioner is not working. For 15,20 minutes.
(جناب یحییٰ بختیار: کیونکہ اے سی پندرہ بیس منٹ سے کام نہیں کر رہا)
Madam Chairman: Till 12:30?
(محترمہ چیئرمین: ساڑھے بارہ تک اجلاس ملتوی کیا جاتا ہے)
جناب یحییٰ بختیار: ساڑھے بارہ ٹھیک ہے جی۔ سوا بارہ کر دیجئے، تب بھی ہو جائے گا۔
1150 Madam Chairman: As you like.
(محترمہ چیئرمین: جیسے آپ پسند کریں)
جناب یحییٰ بختیار: بھئی! میں تو آپ کی خدمت کے لئے تیار ہوں۔ آپ کا کورم نہیں پورا ہوتا تو میں کیا کروں؟
ایک آواز: گرمی بہت ہے۔
مرزا ناصر احمد: بے حد گرمی ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: ایک، دو Fan (پنکھے) اور بھی کریں۔ ایک فین یہاں Arrange (مہیا) کر دیں۔ ایک فین اسلم صاحب (سیکرٹری) یہاں Arrange (مہیا) کر دیں۔ ایسے مجھے اور مرزا صاحب، دونوں طرف۔
ایک آواز: نہیں جی ائرکنڈیشنر کام نہیں کر رہا۔
محترمہ چیئرمین: اگر ایک پنکھا......
٤٨
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
جناب یحییٰ بختیار: ایک ان کی طرف، ایک یہاں۔
محترمہ چیئرمین: ہاں، دو پنکھے لگوائیں، دو پنکھے منگوائیں۔
جناب یحییٰ بختیار: آپ صرف اپوزیشن کو ٹھنڈا رکھ رہے ہیں۔
Madam Chairman: The Delegation is permitted to leave. (محترمہ چیئرمین: وفد کو جانے کی اجازت ہے)
مرزا ناصر احمد: تو اب کب؟
When do we re-assemble at 12:15.
Mr. Yahya Bakhtiar: 12:15 half hour. جی
[The Special Committee adjourned to reassemble at 12:15 pm.] (خصوصی کمیٹی کا اجلاس سوا بارہ بجے تک ملتوی کیا گیا)
[The Special Committee re-assembled after break, Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali) in the Chair.] (خصوصی کمیٹی کا اجلاس چائے کے وقفہ کے بعد دوبارہ شروع ہوا۔ چیئرمین (صاحبزادہ فاروق علی) نے صدارت کی)
-------------------------
1151 REVIEW OF PROGRESS OF THE CROSS-
EXAMINATION
(جرح کی پیشرفت کا جائزہ)
ایک رکن: عالی جناب چیئرمین صاحب!
جناب چیئرمین: ایک سیکنڈ! ہاں، ایک سیکنڈ! چوہدری صاحب! شاہ صاحب! آج کی، آج کی Proceeding (کارروائی) ہولینے دیں۔ جب رات کو نو، ساڑھے نو، دس بجے ختم کریں گے۔ پھر ریویو کرلیں گے۔ پھر ریویو کرلیں گے کہ کتنا اور رہتا ہے۔
Sardar Maula Bakhsh Soomro: My submission is, Sir the question is put, They are finished or scrutinized the question, or reduce the number, that I can see. But the
٣٩
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
question is still pending and this is wound up today?
(سردار مولا بخش سومرو: جناب والا! میری گزارش ہے سوالات ابھی باقی ہیں اور ختم نہیں ہوئے یا سوالوں کو مختصر کیا جائے۔ یا ان کی تعداد میں کمی کی جائے مجھے تو یہی نظر آ رہا ہے۔ کیونکہ سوالات ابھی پوچھے جا رہے ہیں)
Mr. Chairman: No, no, I assure you, Sir, that is....
Sardar Maula Bakhsh Soomro: I am that one who strongly opposed it.
(سردار مولا بخش سومرو: میں ان میں سے ایک ہوں جو اس کے سخت مخالف ہیں)
جناب چیئرمین: میری بات سنیں۔
I am not going to cut it short, we are not going to leave it in the middle, we are not going to just stop it.
(ہم اس کو مختصر نہیں کریں گے۔ ہم انہیں درمیان میں نہیں چھوڑ سکتے اور نہ ہی بیان روک سکتے ہیں)
ہم صرف یہ کریں گے کہ آج شام کو، آج رات کو جب اسمبلی ایڈجرن کریں گے، اس سے پہلے پانچ منٹ، دس منٹ، پندرہ منٹ آدھا گھنٹہ ڈسکس کرلیں گے کہ کون کون سے Topics (موضوع) باقی رہتے ہیں اور کتنا وقت چاہئے۔
مولانا عبدالحق: جناب جی۔
جناب چیئرمین: مولانا عبدالحق!
READING OF AYAT OR AHADITH IN THE
CROSS- EXAMINATION
(جرح کے دوران آیت یا حدیث کا پڑھنا)
(حضرت مولانا عبدالحق کی توجہ طلب باتیں)
مولانا عبدالحق: گزارش یہ ہے کہ ہمارے اٹارنی جنرل صاحب بہت اچھے طریقے سے چل رہے ہیں۔ مگر اتنی بات ہے کہ اب جو مسئلہ اس وقت پیش ہوا...... یضع 1152 الحرب...... تو
٤٠
1201 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
اس میں یہ اس کے ساتھ ایک لفظ کہہ دیا اور کچھ نہیں اور انہوں نے یہ کہا کہ اسلام میں جہاد مطلق جائز نہیں ہے۔ اب اس کے لئے آیتیں موجود ہیں۔ گزارش یہ ہے کہ یہ عربی عبارت اور ان آیات اور احادیث کو وہ اٹارنی جنرل صاحب اگر اجازت دیں تو ہمارے حضرت مفتی صاحب یا میں عرض کروں گا۔ اب انہوں نے جو عبارت اس وقت پیش کی، اس میں عربی میں یہ کہہ دیا کہ ”امام مہدی اور عیسیٰ علیہ السلام یا مسیح موعود جب آئیں گے تو دنیا میں کوئی کافر نہیں رہے گا، کوئی فرقہ نہیں رہے گا۔ اسی عبارت کو اس نے پیش کیا اور پھر اس نے کہا کہ شرائط نہیں ہوں گی ۔“ نہیں اس وقت مسیح موعود وہ تو حاکم ہو کر آئیں گے، تمام دنیا پر تسلط ہوگا، اور کل دنیا:
پھر یہ بھی پوچھنا چاہئے کہ صرف یضع الحرب، ہے یا یہ وہ مسیح موعود صلیب کو ختم کرے گا، خنزیر کو قتل کرے گا تو کیا مرزا کے زمانے میں صلیب ختم ہو گئی یا عیسائیت پھیلی؟ میری عرض اتنی ہے کہ اگر کسی وقت آیت یا حدیث کی ضرورت ہو تو مفتی صاحب کو ......
جناب چیئرمین: وہ آگے بھی، مولانا ! وہ آگے بھی مفتی صاحب نے آیتیں پڑھی تھیں۔ مولانا ظفر احمد انصاری صاحب پڑھ رہے ہیں۔ وہ ان کو آپ بتادیں۔ یہ پوچھ لیں گے۔
جناب یحییٰ بختیار: جناب والا! میں نے یہ ان سے پوچھا کہ ان کے زمانے میں یہ ہوگا ؟ تو وہ کہتے ہیں کہ زمانہ دو تین سو سال کا ہے، وہ اس کے لئے حوالے پیش کریں گے، حدیثیں پیش کریں گے۔
جناب چیئرمین: ٹھیک ہے، نہیں وہ آپ بے فکر رہیں۔
مولانا ظفر احمد انصاری:
جناب یحییٰ بختیار: (مولانا عبدالحق سے) وہ آپ کہہ دیں تو میں ان کو کہہ دوں کہ وہ آپ کو سنادیں۔
1153 مولانا محمد ظفر احمد انصاری: اب آپ نے یہ فرما دیا ہے کہ شام کو ہم جائزہ لیں گے کہ کیا کام رہ گیا کیا نہیں۔ لیکن بیچ بیچ میں اگر اس طرح کی باتیں ہوں کہ جلدی ختم کرو، جلدی ختم کرو ......
جناب چیئرمین: نہیں، یہ نہیں ۔ ابھی .....
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: میں عرض کر دوں تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جولوگ سوال پوچھ رہے ہیں، ان کا ذہن پھر بہت پراگندہ ہو جاتا ہے۔ وہ Confuse (خلط ملط) ہو جاتے ہیں کہ کیا پوچھیں، کیا نہ پوچھیں۔ لہذا ...... اور یہ ریکارڈ ایسا نہیں ہے کہ آج صرف ہمارے
٤١
AKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
ound up today? (سردار مولا بخش سومرو: ) ختم نہیں ہوئے یا سوالوں کو مختصر کیا جا کیونکہ سوالات ابھی پوچھے جا رہے ہیں
ssure you, Sir, that is.... oomro: I am that one (سردار مولا بخش سومرو: ) جناب چیئرمین: میری
ort, we are not going to ng to just stop it. (ہم اس کو مختصر نہیں کریں گے روک سکتے ہیں)
ہم صرف یہ کریں گے کہ آ سے پہلے پانچ منٹ، دس منٹ، پند Topics (موضوع) باقی رہتے ہیں
مولانا عبدالحق: جناب جناب چیئرمین: مولانا
HADITH IN THE ATION
(جرح کے (حضرت مولانا مولانا عبدالحق: گزار سے چل رہے ہیں۔ مگر اتنی بات ہے کہ
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
ہاں کام آئے گا۔ بلکہ سارے عالم اسلام میں کام آئے گا۔ اس میں چار روز، پانچ روز، چھ روز، دس روز کی تاخیر جو ہے، وہ کوئی معنی نہیں رکھتی تو اس لئے یا تو ہاؤس میں یہ بات ڈسکس ہو کر کے طے پا جائے ، اور اگر یہ معلوم ہو کہ ختم کرنا ہے، تو پھر خواہ مخواہ دردسری کیوں لی جائے۔
جناب چیئرمین: میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ ہم کسی طریقے سے بات کریں گے۔ یہ نہیں کہ کسی وقت کہا ”ختم ہوگا“ کسی وقت ”نہیں، جاری رہے گا۔“ ہم ریویو کریں گے۔ باقاعدہ، سائنٹفک طریقے سے، رات کے سیشن کے بعد۔ ابھی ایک Sitting (نشست) اب ہے، ڈیڑھ بجے تک یا پونے دو تک، اور دو رات کو ہوں گی۔
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ٹھیک ہے۔
PROCEGURE OF THE CROSS- EXAMINATION
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ایک چیز اور عرض کرنا چاہتا ہوں، اگر اٹارنی جنرل صاحب اس سے متفق ہوں، کہ اب بہرحال لوگوں کو جلدی ہے، کم سے کم وقت میں کام کریں۔ اگر یہ صورت ہو کہ کسی موضوع پر ان کی تحریروں کے متعلق وہ پڑھ کر کے ہم یہ کہیں کہ وہ اس کو 1154 اپنی تحریر Accept (قبول) کرتے ہیں یا نہیں۔ وہ ریکارڈ پر آجائے اس کے بعد پھر یہ کہ وہ اس کی وضاحت کریں گے، نہیں کریں گے، لیکن وہ یہ تسلیم کریں کہ یہ مرزا صاحب نے لکھا ہے ......
جناب یحییٰ بختیار: وہ تو تسلیم کر رہے ہیں، وہ تو کر رہے ہیں۔ ہم تو کوئی ایسے سوال نہیں ......
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ہاں، وہ ہم ان سے تسلیم کراتے ہیں، اس لئے کہ بہت سی چیزیں باقی رہ گئیں اور وہ بڑی اہم ہیں۔ تو کم سے کم وہ ریکارڈ پر آجائیں کہ ہم نے ان کی یہ تحریر پیش کی۔ انہوں نے یا تو انکار کیا یا اس کو Accept (قبول) کیا۔
جناب چیئرمین: ٹھیک ہے۔ ملک کرم بخش اعوان!
(مرزا ناصر احمد کی تاویلیں، وقت کا ضیاع)
جناب کرم بخش اعوان: میں تو یہی عرض کرنا چاہتا تھا کہ جب وہ کسی کتاب کا حوالہ پڑھتے ہیں، کوئی صفحہ بتاتے ہیں، وہ یہ دیکھ لیں کہ ٹھیک ہے یا غلط ہے اور اس کے بعد وہ تاویلیں بہت زیادہ لمبی کرتے ہیں، وقت اس میں ضائع ہوتا ہے۔
٤٢
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
جناب چیئرمین: کتابوں کے علاوہ ممبروں کا بھی خیال رکھیں ناں جی کہ چالیس تو پورے کر دیا کریں۔
ایک آواز: ہیں جی؟
جناب چیئرمین: چالیس ممبر تو پورے کر دیا کریں ناں جی، اس کا بھی تو خیال رکھیں۔ ساری چیزیں اکٹھی سوچا کریں۔ یعنی ہمارے کم سے کم دو دو گھنٹے ضائع جو ہوتے ہیں کورم پورا کرنے کے لئے ......
جناب کرم بخش اعوان: یہ تو چاہئے جی، ہر ممبر کو چاہئے کہ وقت پر آئے۔
سید عباس حسین گردیزی: ......ضرورت نہیں، کیونکہ وہ تو ایسی باتیں کرتا ہے جو ہمارے عقیدے میں بھی ہیں ان کو سننے کی کیا ہمیں ضرورت ہے؟ یا کسی ایسے مولوی کا 1155 ذکر کر دیا کہ فلاں مولوی نے یہ کہا تھا۔ وہ نہ ہمارا مولوی، نہ کچھ، نہ کہا اور یہ بالکل یعنی وقت ہمارا ضائع ہو رہا ہے۔......
Mr. Chairman: Yes, they may be called.
(جناب چیئرمین: جی ہاں، انہیں بلالیں)
سید عباس حسین گردیزی: ......اسی لئے ہم نے اٹارنی جنرل صاحب کی خدمت میں عرض کیا تھا کہ سوال سارے آجانے چاہئیں۔
Mr. Chairman: They may be called.
(جناب چیئرمین: انہیں بلالیں)
(مداخلت) (Interruption)
Sardar Maula Bakhsh Soomro: Sir, may I know, Sir, the order or decision? will it be over this evening or will it continue till the questions are finished?
(سردار مولا بخش سومرو: کیا میں فیصلہ جان سکتا ہوں؟ کیا یہ آج شام ختم ہو جائے گا یا یہ سوالات ختم ہونے تک جاری رہے گا)
Mr. Chairman: I have announced my decision, I have already announced my decision.
(جناب چیئرمین: میں فیصلہ سنا چکا ہوں۔ میں نے پہلے ہی فیصلہ کا اعلان کر دیا ہے)
٤٣
AN 22nd Aug, 1974 No:09
ہاں کام آئے گا۔ بلکہ سارے دس روز کی تاخیر جو ہے، وہ کوئی طے پا جائے، اور اگر یہ معلوم ہ
جناب چیئرمین نہیں کہ کسی وقت کہا ”ختم ہو گا سائنٹفک طریقے سے، رات ڈیڑھ بجے تک یا پونے دو تک
مولانا محمد ظفر احم
XAMINATION
مولانا محمد ظفر ا صاحب اس سے متفق ہوں، کہ یہ صورت ہو کہ کسی موضوع پر ا تحریر Accept (قبول) کر وضاحت کریں گے، نہیں کری
جناب یحییٰ بختی سوال نہیں......
مولانا محمد ظفر احم سی چیزیں باقی رہ گئیں اور وہ تحریر پیش کی۔ انہوں نے یا تو ا
جناب چیئرمین
(مرزا
جناب کرم بخش پڑھتے ہیں، کوئی صفحہ بتاتے ہی بہت زیادہ لمبی کرتے ہیں، وقت
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
جناب چیئرمین: کتابوں کے علاوہ ممبروں کا بھی خیال رکھیں ناں جی کہ چالیس تو پورے کر دیا کریں۔
ایک آواز: ہیں جی؟
جناب چیئرمین: چالیس ممبر تو پورے کر دیا کریں ناں جی، اس کا بھی تو خیال رکھیں۔ ساری چیزیں اکٹھی سوچا کریں۔ یعنی ہمارے کم سے کم دو دو گھنٹے ضائع جو ہوتے ہیں کورم پورا کرنے کے لئے.......
جناب کرم بخش اعوان: یہ تو چاہئے جی، ہر ممبر کو چاہئے کہ وقت پر آئے۔
سید عباس حسین گردیزی: ...... ضرورت نہیں، کیونکہ وہ تو ایسی باتیں کرتا ہے جو ہمارے عقیدے میں بھی ہیں ان کو سننے کی کیا ہمیں ضرورت ہے؟ یا کسی ایسے مولوی کا 1155 ذکر کر دیا کہ فلاں مولوی نے یہ کہا تھا۔ وہ نہ ہمارا مولوی، نہ کچھ، نہ کہا اور یہ بالکل یعنی وقت ہمارا ضائع ہو رہا ہے.......
Mr. Chairman: Yes, they may be called.
(جناب چیئرمین: جی ہاں، انہیں بلالیں)
سید عباس حسین گردیزی: ....... اسی لئے ہم نے اٹارنی جنرل صاحب کی خدمت میں عرض کیا تھا کہ سوال سارے آجانے چاہئیں۔
Mr. Chairman: They may be called.
(جناب چیئرمین: انہیں بلالیں)
(مداخلت) (Interruption)
Sardar Maula Bakhsh Soomro: Sir, may I know, Sir, the order or decision? will it be over this evening or will it continue till the questions are finished?
(سردار مولا بخش سومرو: کیا میں فیصلہ جان سکتا ہوں؟ کیا یہ آج شام ختم ہو جائے گا یا یہ سوالات ختم ہونے تک جاری رہے گا)
Mr. Chairman: I have announced my decision, I have already announced my decision.
(جناب چیئرمین: میں فیصلہ سنا چکا ہوں۔ میں نے پہلے ہی فیصلہ کا اعلان کر دیا ہے)
٤٣
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
Sardar Maula Bakhsh Soomro: Sir, you say that we will have two sessions tonight.
(سردار مولا بخش سومرو: جناب والا! آپ کہتے ہیں آج رات میں دو اجلاس ہوں گے؟)
جناب چیئرمین: آپ باتوں میں مصروف رہتے ہیں، میں نے یہ کہا ہے کہ آج رات سیشن کے بعد ریویو کریں گے۔ Entire (پورا) ہاؤس میں، کہ کیا پوزیشن ہے، کہاں تک چلنا ہے، کس حد تک۔
(The Delegation entered the chamber)
(وفد ہال میں داخل ہوا)
Mr. Chairman: Yes, Mr. Attorney- General.
(جناب چیئرمین: جی، اٹارنی جنرل صاحب)
Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, the fan is too close to me now.
(پنکھا) مرزا صاحب کی طرف بہت دور ہے، میری طرف بہت نزدیک ہے۔ وہ دوسرا نزدیک رکھیں۔
مرزا ناصر احمد: نہیں، اس کو ادھر کریں۔
1156
جناب یحییٰ بختیار: تھوڑا سا موڑ دیں، تھوڑا سا موڑ دو۔
----------
CROSS- EXAMINATION OF THE QADIANI
GROUP DELEGATION
(قادیانی وفد پر جرح)
(بائیس برس سے یہ فرض کر رکھا ہے کہ جہاد کی مخالفت میں کتابیں لکھوں)
جناب یحییٰ بختیار: یہ اسی سلسلے میں جو میں حوالے پڑھ رہا تھا، پہلا حوالہ میں نے ابھی آپ کو پڑھ کر سنایا ہے کہ انہوں نے صدہا کتاب میں جہاد کے مخالف تحریر کر کے عرب، مصر، بلاد شام اور افغانستان میں گورنمنٹ کی تائید میں شائع کی ہیں۔ اس کے بعد اسی طرح ایک اور حوالہ ہے مرزا صاحب کا: ”میں نے مناسب سمجھا کہ اس رسالہ کو بلاد عرب یعنی حرمین اور شام اور
٤٤
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
مصر وغیرہ میں بھیج دوں۔ کیونکہ اس کتاب کے ص ١٥٢ پر جہاد کے مخالف میں ایک مضمون لکھا گیا ہے اور میں نے بائیس برس سے اپنے ذمے یہ فرض کر رکھا ہے کہ ایسی کتابیں جن میں جہاد کی مخالفت ہو، اسلامی ممالک میں ضرور بھجوایا کروں۔ اس وجہ سے میری عربی کتابیں عرب کے ملک میں بھیجی بھی، بہت شہرت پاگئی ہیں۔“
مرزا صاحب! یہ ہے (اشتہار تبلیغ رسالت ج ١٠ ص ٢٦، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٤٣) پر۔
مرزا ناصر احمد: جی۔
جناب یحییٰ بختیار: آپ نے فرمایا کہ چونکہ ایک مولوی صاحب نے ان کے خلاف Complaints (شکایت) کی تھی انگریز کو، اس وجہ سے انہوں نے یہ کہا۔ یہاں تو کہتے ہیں ”بائیس سال سے میں نے یہ ڈیوٹی اپنے سر رکھی ہوئی ہے.....“
مرزا ناصر احمد: جی۔
جناب یحییٰ بختیار: ”.....کہ عرب ممالک میں، مسلمانوں کے ملکوں میں، میں یہ تبلیغ کروں۔“
1157 مرزا ناصر احمد: ”اور یہ مسلم ممالک بہت خوش ہیں۔“ یہ بھی لکھا ہے۔ ساری عبارت مانتا ہوں۔
جناب یحییٰ بختیار: ”سبھوں کی شہرت ہوئی ہے وہاں۔“ یہ لکھا ہوا ہے۔
مرزا ناصر احمد: ہاں! اور یہ وہ زمانہ ہے..... اصل میں آج کے زمانے میں جب تک وہ پس منظر ہمارے سامنے ہو، ہم حقیقت کو سمجھ ہی نہیں سکتے۔ اس پس منظر کو سمجھنے کے لئے یہ سنئے ذرا۔ یہ بڑے مشہور ہیں علامہ علی الحائری! ٢٨؍ جنوری ١٩٢٣ء کو..... اسی پس منظر کے متعلق یہ بڑا اہم حوالہ ہے: ”اب استجابت دعا کا وقت ہے بعد از دعائے خاتمہ بالخیر آپ لوگوں کا فرض ہے کہ اس مذہبی آزادی کے قیام و دوام کے لئے صدق دل سے آمین کہیں۔ کیونکہ فی الحقیقت آپ بہت ہی ناشکر گزار ہوں گے کہ اگر آپ اس کا اعتراف نہ کریں کہ ہم کو ایسی سلطنت کے زیر سایہ ہونے کا فخر حاصل ہے۔ جس کی عدالت اور انصاف پسندی کی مثال اور نظیر دنیا کی کسی اور سلطنت میں نہیں مل سکتی۔ فی الواقعہ بادشاہ وقت کے حقوق میں ایک اہم حق یہ ہے کہ رعایا اپنے بادشاہ کے عدل و انصاف کی شکر گزاری میں ہمیشہ رطب اللسان رہے۔ اس میں بھی حضور پیغمبر اسلام ﷺ کی اقتدا مسلمانوں کو (یعنی اسوۂ حسنہ کی پیروی) لازم ہے کہ آپ ﷺ نے بھی (نبی اکرم ﷺ نے بھی) نوشیرواں عادل کے عہد سلطنت میں ہونے کا ذکر مدح اور فخر کے رنگ میں بیان کیا ہے۔ اس لئے
٢٥
MBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
akhsh Soomro: Sir, you say ns tonight.
(سردار مولا بخش سومرو: جناب والا! آپ
جناب چیئرمین: آپ باتوں میں ص
Entire (رات سیشن کے بعد ریویو کریں گے۔ چلنا ہے، کس حد تک۔
entered the chamber)
(وفد ہال میں دا
es, Mr. Attorney-General.
(جناب چیئرمین: جی، اٹارنی جنرل ص
ar: Sir, the fan is too close to
(پنکھا) مرزا صاحب کی طرف بہت د دوسرا نزدیک رکھیں۔
مرزا ناصر احمد: نہیں، اس کو ادھر کریں
1156 جناب یحییٰ بختیار: تھوڑا سا موڑ
ION OF THE QADIANI
DELEGATION
(قادیانی وفد
(بائیس برس سے یہ فرض کر رکھا ہے کہ
جناب یحییٰ بختیار: یہ اسی سلسلے میں ج ابھی آپ کو پڑھ کر سنایا ہے کہ انہوں نے صدر بلاد شام اور افغانستان میں گورنمنٹ کی تائید میں حوالہ ہے مرزا صاحب کا: ”میں نے مناسب سمجھا کہ
٢٤
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
ضروری ہے کہ حضور کی تبعیت میں مسلمان اس مبارک، مہربان، منصف اور عدل گستر برطانیہ عظمیٰ کی دعا گوئی اور ثناء جوئی کریں اور اس کے احسانوں کے شکر گزار رہیں۔ اس کے علاوہ.....“ 1158
جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! ایسی خوشامد لوگ کرتے رہیں، میں اس کی بات نہیں کر رہا، میرا سوال ہی اور تھا......
مرزا ناصر احمد: ایسی خوشامد جو کرتے رہیں، نہیں جی، حضرات بڑے پائے کے علماء اور اس وقت کے مذہبی لیڈروں کی بات ہو رہی ہے۔ ایسے ویسے کی بات نہیں ہو رہی۔
جناب یحییٰ بختیار: میں تو جانتا نہیں، واقف نہیں، مجھے تو کوئی ایسے خوشامدی معلوم ہو رہے ہیں۔
مرزا ناصر احمد: ان کے بڑے، شیعہ حضرات کے بہت بزرگ مجتہد......
جناب یحییٰ بختیار: پانچ نے اور کہا ہوگا، دس نے اور کہا ہوگا۔ میں تو ایک اور سوال آپ سے پوچھ رہا تھا جو کہ......
مرزا ناصر احمد: میں اسی کا پس منظر آپ کو......
جناب یحییٰ بختیار: ......مہدی سے جو تعلق رکھتا ہے۔ بے شک پڑھ دیجئے۔
مرزا ناصر احمد: جی! ہمارے اس وقت کے بڑے مشہور عالم مولوی محمد حسین صاحب! بٹالوی نے رسالہ (اشاعت السنۃ نمبر ٦ حاشیہ ص ١٤٨، بابت ١٣١٠ھ مطابق ١٨٩٣ء) لکھتے ہیں۔ ..... یہ اب میں دوسری دلیل دے رہا ہوں...... میں نے پہلے کہا تھا ناں کہ شکایتیں کرتے رہتے تھے۔
جناب یحییٰ بختیار: یہ جب مرزا صاحب کا اثر تھا، اس زمانے کی بات ہوگی۔
مرزا ناصر احمد: ١٨٩٣ء میں۔
جناب یحییٰ بختیار: یہ چھوڑ چکے تھے مرزا صاحب کو؟
مرزا ناصر احمد: ہاں، مرزا صاحب کو چھوڑ چکے تھے۔
جناب یحییٰ بختیار: اچھا، یہ مرزا صاحب کو چھوڑ چکے تھے۔ کیونکہ ان کے اثر میں کافی عرصہ......
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، ہاں۔ یہ مرزا صاحب کو چھوڑ چکے تھے: ”اس کے 1159 (مرزا صاحب) دعوے کذب پر یہ دلیل ہے کہ دل سے وہ گورنمنٹ غیر مذہب کی (جو غیر مذہب کی گورنمنٹ ہے) کے جان و مال لینے اور اس کا مال لوٹنے کو حلال و مباح جانتا ہے۔ لہٰذا گورنمنٹ کو
٤٦
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
اس کا اعتبار کرنا مناسب نہیں اور اس سے پر حذر رہنا ضروری ہے۔ ورنہ اس مہدی قادیانی سے اس قدر نقصان پہنچنے کا احتمال ہے جو مہدی سوڈانی سے نہیں پہنچا۔‘‘
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مرزا صاحب! میرا سوال جو تھا وہ جہاں تک برطانیہ حکومت کا تعلق ہے، آپ نے کہا کہ دین کے معاملے میں دخل نہیں دے رہی اور ایسی حدیث ہے کہ ان کے لئے اطاعت کریں تو میں نے اس موقع پر یہ سوال پوچھا تھا کہ: ”میں نے صدہا کتابیں جہاد کے مخالف تحریر کر کے عرب، مصر، بلاد شام اور افغانستان میں گورنمنٹ کی تائید میں شائع کی ہیں۔“ وہاں تو ان پر کوئی اطاعت برٹش گورنمنٹ کی نہیں تھی جو ان ملکوں میں یہ کتابیں بھیجی گئیں؟
مرزا ناصر احمد: آپ نے بھی وہ اطاعت کا ذکر نہیں کیا، تائید میں کہا ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: ”تائید“ مطلب.......
مرزا ناصر احمد: یعنی ان ممالک میں جو یہ تاثر.......
جناب یحییٰ بختیار: برٹش گورنمنٹ کی تائید میں، اطاعت نہ سہی، تائید سہی۔
مرزا ناصر احمد: میں اس کا مطلب بیان کرتا ہوں۔ کہا یہ ہے کہ جو ایک حصہ دنیا کا ان ممالک میں یہ تاثر پیدا کر رہا ہے کہ گورنمنٹ برطانیہ دین کے معاملہ میں دخل دیتی اور آزادی نہیں دے رہی اور مسلمانوں پر مظالم ڈھا رہی ہے۔ اس لئے اس کے خلاف جہاد ہونا چاہئے تو یہ تاثر جو دنیا دے رہی ہے.......
1160 جناب یحییٰ بختیار: ہاں، مرزا صاحب! میرا سوال اب بالکل Simple ہو جاتا ہے.......
مرزا ناصر احمد: جی۔
جناب یحییٰ بختیار: ....... برطانیہ کا بادشاہ، Defender of Faith (ایمان کا محافظ) کہلاتا ہے، وہ صلیب کا محافظ ہے۔ اس کے تاج پر صلیب کا نشان ہے، یہ آپ کو اچھی طرح علم ہے.......
مرزا ناصر احمد: بہت خوب! ابھی میں بتاؤں گا۔
(مرزا قادیانی کس قسم کا مہدی ہے؟)
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یعنی یہ ہے، مسیح موعود صاحب، مرزا غلام احمد صاحب، جس کو مسیح وہ کہتے ہیں، اس نے آکے صلیب کو توڑنا تھا، یہ ایران، افغانستان اور مصر تک اس کو پھیلا
٧٤
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
رہے ہیں اور کہتے ہیں۔ ”یہ اچھی گورنمنٹ ہے“ اس کا پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔ ہندوستان میں کہتے ہیں۔ ”اس کی اطاعت کرو۔“ یہ مہدی کیسی قسم کا ہے! یہ ہمیں اس قدر بتائیے۔
مرزا ناصر احمد: ہاں جی! آپ کا سوال یہ ہے کہ دعویٰ ہے اس مہدی کے ہونے کا جس نے صلیب کو توڑنا تھا ......
جناب یحییٰ بختیار: صلیب کو توڑنا، خنزیر کو ختم ......
مرزا ناصر احمد: ...... اور ایک عیسائی حکومت کے متعلق حق گوئی سے کام لیتے ہوئے یہ لکھ رہا ہے کہ: ”وہ مذہب میں دخل نہیں دیتی۔“ اور جہاں تک ......
جناب یحییٰ بختیار: ان کی تائید میں ۔
مرزا ناصر احمد: ہاں، ان کی تائید میں۔
”جہاں تک کسر صلیب کا تعلق ہے، ایسی ٹوٹی ہے کہ یورپ میں جا کر آپ بات کریں یا جہاں جہاں ان کے وہ Activities (مصروفیات) تھیں مشنری، ویسٹ افریقہ، ایسٹ افریقہ، تو آپ 1161 کو پتہ لگے گا کہ وہ صلیب ٹوٹ چکی اور انگلستان میں ١٩٦٧ء میں اس میں اپنا جو ہے، اسکاٹ لینڈ کے دارالخلافہ میں پریس کانفرنس میں میں نے کہا کہ عیسائیت سے آپ کی قوم کوئی دلچسپی نہیں لیتی ۔ تو مجھ سے پوچھا گیا کہ کس چیز سے آپ نے اندازہ لگایا؟ میں نے کہا لندن کے گرجوں کے سامنے میں نے "For Sale" (قابل فروخت) کے بورڈ دیکھے ۔ اور جہاں تک "Defender of Faith" (ایمان کا محافظ) کا تعلق ہے، ڈنمارک، کوپن ہیگن میں ایک کانفرنس میں ایک شخص نے ذرا سا بے ادبی کا فقرہ اسلام کے خلاف کہا۔ میں نے اُس کا جواب یہ دیا کہ مجھے عیسائیت پر رحم آتا ہے تو سارے متوجہ ہوگئے کہ رحم کیوں آتا ہے۔ میں نے کہا کہ: "One who is Defender of Faith...." (وہ جو ایمان کا محافظ ہے)
یہ جو آپ نے ابھی کہا ناں، اس سے مجھے یاد آ گیا : "One who is Defender of Faith, had to sign the sodomy Bill." (ایمان کے محافظ کو ہم جنس پرستی کے قانون دستخط کرنے پڑتے ہیں) ان دنوں میں تازہ تازہ ہوا ہوا تھا تو حواس باختہ ہو گئے وہ ۔ ہمیں اللہ تعالیٰ نے وہ دلائل دیئے ہیں جن کا جواب نہیں دے سکتے ۔
قرآن کریم کی عظمت، قرآن کریم کی شان، قرآن کریم کے جلال، اسلام کی جو اس
٤٨
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
وقت تعلیم ہے، جس سے بڑھ کر انسان کا دماغ سوچ نہیں سکتا۔ اس کے متعلق میں نے یورپ میں چیلنج دیئے عیسائیت کو، اور انہوں نے ...... وہ پرانے چیلنج ہیں۔ لیکن میں نے ان کو دہرایا، اور اس پر سات سال گزر چکے ہیں، ان کو یہ ہمت نہیں ہوتی کہ قبول کریں۔ تو جہاں تک صلیب کا ......
1162 جناب یحییٰ بختیار: یہ جو تبلیغ ......
مرزا ناصر احمد: ...... جہاں تک صلیب کا تعلق ہے، صلیب ٹوٹ چکی۔
جناب یحییٰ بختیار: اگر آپ کا یہ خیال ہے کہ برطانیہ کے تاج پر صلیب نہیں ہے۔ اب، اس کی اطاعت کرنا اب اسلام کا ......
مرزا ناصر احمد: برطانیہ کے تاج پر صلیب عزت کا نشان نہیں ہے اب، ذلت کا نشان ہے۔
(کیا ذلت کے نشان کی اطاعت فرض ہے؟)
جناب یحییٰ بختیار: اچھا جی، وہ ذلت کے نشان کی اطاعت، آپ نے کہا، فرض ہے!
مرزا ناصر احمد: اطاعت 1 ”انا للہ وانا الیہ راجعون“ 2
جناب یحییٰ بختیار: اس ملک کے اندر آپ نے مسلمانوں کو کہا کہ انگریز کی حکومت کی اطاعت فرض ہے آپ پر۔ وہ ذلت کا نشان، اور یہ مسیح کہتا ہے کہ توڑنے کی بجائے آپ اس کی اطاعت کریں!
مرزا ناصر احمد: مسیح نے کسر صلیب کرنی تھی۔ وہ کی اور ہو رہی ہے۔ جس بات پر ...... یہ عجیب بات ہے ...... کہ جب جماعت احمدیہ اپنے زمانہ کے تمام بڑے بڑے علماء سے اتفاق کرتی ہے تو وہ وجہ اعتراض بنالیا جاتا ہے۔ اس زمانے کے بڑے بڑے بزرگ علماء نے جو فتوے دیئے، جماعت احمدیہ کا فتویٰ اس سے مختلف نہیں۔ تو اگر ہم اتفاق کریں تب بھی زیر عتاب، اگر ہم اختلاف کریں تب بھی زیر عتاب! یہ مسئلہ ہماری سمجھ سے ذرا اونچا نکل گیا اور یہ ...... جب اس نے صلیب کے ٹوٹنے کا ...... یہ دیکھ لیں، یہ ہمارے ایک یہ نور محمد نقشبندی کا یہ ہے ......
جناب یحییٰ بختیار: آپ تو ...... مرزا صاحب! اس صلیب کی تائید کو جہاں مسلمان عرب ......
- 1 مرزائیت کی ماں مر گئی۔ اس کو کہتے ہیں چور کو نہ ماریں۔ چور کی ماں کو ماریں۔
- 2 گویا ...... نہ گھر کا نہ گھاٹ کا۔
٤٩
LY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
رہے ہیں اور کہتے ہیں۔ ”یہ اچھی گورنمنٹ ہے کہتے ہیں۔ ”اس کی اطاعت کروں۔“ یہ مہدی کا
مرزا ناصر احمد: ہاں جی! آپ کا جس نے صلیب کو توڑنا تھا ......
جناب یحییٰ بختیار: صلیب کو توڑن
مرزا ناصر احمد: ...... اور ایک عیسا یہ لکھ رہا ہے کہ: ”وہ مذہب میں دخل نہیں دیتی۔“
جناب یحییٰ بختیار: ان کی تائید می
مرزا ناصر احمد: ہاں، ان کی تائید ”جہاں تک کسر صلیب کا تعلق ہے جہاں جہاں ان کے وہ Activities (مصروف
1161 آپ کو پتہ لگے گا کہ وہ صلیب ٹوٹ چکی اسکاٹ لینڈ کے دارالخلافہ میں پریس کانفرنس دلچسپی نہیں لیتی۔ تو مجھ سے پوچھا گیا کہ کس چیز گرجوں کے سامنے میں نے "For Sale" "Defender of Faith" (ایمان کا محا کانفرنس میں ایک شخص نے ذرا سا بے ادبی کا فقر کہ مجھے عیسائیت پر رحم آتا ہے تو سارے متوجہ ہ Defender of Faith...."
یہ جو آپ نے ابھی کہا ناں، اس سے مجھے یاد آ گ r of Faith, had to sign the (ایمان کے محافظ کو ہم جنس پرستی پ تازہ تازہ ہوا ہوا تھا تو حواس باختہ ہو گئے وہ۔
نہیں دے سکتے۔
قرآن کریم کی عظمت، قرآن کریم
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
1163 مرزا ناصر احمد : صلیب کی تائید کو نہیں .......
جناب یحییٰ بختیار: یعنی اس حکومت کی جس کا، صلیب ان کا نشان تھا فخر تھا .......
مرزا ناصر احمد : نہیں، اس حکومت کی جو مذہب میں دخل نہیں دیتی تھی۔ یہ تو کل کو کوئی کہے گا کہ اس حکومت کی جو طہارت نہیں کرتی اور ناپاک ہے۔ اس کا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ جو اس کی تعریف کی گئی ہے، یہ نہیں کی گئی کہ اس کی تعریف ہم اس لئے کرتے ہیں کہ اس کے تاج پر صلیب کا نشان ہے۔ یہ کہا کہ ہم اس لئے اس کی تعریف کرتے ہیں کہ یہ مذہب میں دخل نہیں دیتی، اور مذہبی آزادی بھی ہے تو دو چیزیں جن کا آپس میں تعلق ہی کوئی نہیں، اس کو کیسے ملائیں گے ہم؟
جناب یحییٰ بختیار: ایک .......
مرزا ناصر احمد : مرزا صاحب! اگر اس Sense (معنی) میں آپ کہیں کہ یہ صلیب کو توڑا کہ مشنری وغیرہ جو اسلام پر حملے کر رہے تھے، ان کو جواب دے رہے تھے، وہ تو ایک اور Sense (معنی) ہے، وہ گورنمنٹ سے علیحدہ ہے۔ عیسائی مشنری آئے، آپ نے کہا، کہ جب انگریز کے ساتھ بڑی فوج آئی اور بڑا.......
مرزا ناصر احمد : مسئلہ صاف ہو گیا۔ اگر وہ علیحدہ چیز ہے.......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں کہہ رہا ہوں کہ میں دو Different (مختلف) کو لے رہا ہوں۔ ان کے خلاف مرزا صاحب نے بہت کچھ کام کیا، اس سے کسی کو انکار نہیں ہے، بڑے سخت جواب دیئے Method (طریقہ) ٹھیک تھا، غلط تھا، وہ اور بات ہو سکتی ہے کیونکہ انہوں نے یسوع کے بارے میں ایسے الفاظ استعمال کئے.......
مرزا ناصر احمد : ہاں، ہاں، ہاں۔ بالکل.......
جناب یحییٰ بختیار: ....... وہ علیحدہ سوال ہے۔ میں یہاں گورنمنٹ کو دیکھ رہا ہوں کہ جس کا سمبل صلیب ہے، کراس ہے۔ تو اس لئے آپ معاف کریں، جو میں کہتا ہوں کہ ان کی Contradiction (تضاد) آ جاتی ہے.......
1164 مرزا ناصر احمد : نہیں، نہیں۔ وہ ٹھیک ہے، میرا مطلب ہے کہ اگر آپ چاہتے ہیں میں جواب دوں تو ابھی دے دوں، بیچ میں یا آپ کا انتظار کروں؟
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ میں دوسرے سوال پر آ رہا تھا ابھی تو چونکہ.......
مرزا ناصر احمد : بات یہ ہے کہ جہاں تعریف کی، تعریف کی وجہ بھی بتائی۔ اگر اس جگہ
٥٠
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
جو تعریف کرنے کی وجہ بتائی ہے اسے ہم چھوڑ دیں اور تعریف کو اٹھا کر ایک ایسی چیز کے ساتھ بریکٹ کر دیں جس کا وہاں ذکر نہیں تو ہمارا استدلال غلط ہو جائے گا۔ جہاں بھی تعریف کی ہے وہاں کہیں نہیں کہا کہ ہم اس لئے تعریف کرتے ہیں کہ بادشاہ کے سر پر جو تاج ہے اس پر صلیب کا نشان بنا ہوا ہے یہ کیسا ہے ...... جیسا کہ اس وقت کے تمام بزرگ ہمارے علماء مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے کہتے ہیں کہ ہم اس لئے تعریف کرتے ہیں کہ یہ اس حکومت نے مذہبی آزادی دی ہے اور Interfere (مداخلت) نہیں کرتی۔
(دوسرے ممالک میں انگریز کی تائید میں کتابیں بھیجنا صلیب توڑنا تھا؟)
جناب یحییٰ بختیار : نہیں، یہاں تو میں ...... وہ تو میں نے عرض کیا وہ تو میں سمجھ گیا ہوں۔ جس بات کو میں نہیں سمجھ سکا وہ یہ تھا کہ یہاں مذہبی آزادی تھی ، اس لئے انہوں نے کہا کہ اس کی اطاعت کرو۔ مگر باہر ان مسلمانوں کے ملکوں میں ایک تو مذہبی آزادی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ وہاں آزادی نہ ہو۔ افغانستان ہے، مصر ہے، وہاں انگریز کی تائید میں کتابیں بھیجنا، یہ کیا صلیب توڑنا تھا یا صلیب پھیلانا تھا؟
مرزا ناصر احمد : بیچ ایک لفظ، فقرہ چھوڑ گئے ۔
جناب یحییٰ بختیار : تو اس لئے ......
مرزا ناصر احمد : ہاں، ہاں۔
1165 جناب یحییٰ بختیار : ...... آپ نے Explain کر دیا ، مگر میں ایسے ہی کہہ رہا ہوں ......
مرزا ناصر احمد : نہیں نہیں ایک، ایک لفظ بیچ میں جو رہ گیا ہے، اگر وہ غائب ہو تو مطلب نہیں سمجھ آئے گا۔ وہاں تائید یہ کہہ کے کی کہ اس لئے ہم ان سے جہاد کو جائز نہیں سمجھتے کہ یہ مذہبی آزادی دیتے ہیں اور جہاد کی شرائط نہیں پوری اور اس طرح پر دنیا سے فتنہ و فساد دور کرنے کی کوشش کی تاکہ امن میں ان سے تبلیغ اسلام ہو سکے۔
(مرزا نے عیسائیوں کے خلاف جو زبان استعمال کی یہ جہاد تھا؟)
جناب یحییٰ بختیار : جہاد کبیر ، جہاں تک آپ نے ذکر کیا، وہ آپ سمجھتے تھے کہ انگریز کی حکومت میں بھی یہ اس کی اجازت تھی اور مرزا صاحب کرتے رہے ہیں۔ اب مرزا صاحب! ایک دوسرا سوال یہ آتا ہے کہ ایک ہوتا ہے جہاد جو کہ فرض ہوتا ہے۔ ایک ہوتا ہے انسان کو غصہ،
٥١
1212 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
جوش آئے ۔ اب جو عیسائیوں نے آنحضرت ﷺ کی شان میں گستاخی کی تو ایک آدمی غصے میں آکے، ایمان کے جذبے کے تحت یا اسلام کے جوش میں یا ایسے ہی غیرت جو آ جاتی ہے، کسی کے بزرگ کو کوئی کچھ کہے تو جواب دے دیتا ہے، وہ جواب میں اس کو خواہ گالیاں ہوں یا جواب میں سخت جواب ہو، اور ایک وہ ہوتا ہے کہ وہ اپنا فرض سمجھتا ہے، دینی جہاد کا فرض، کہ اس کا جواب دے۔ یہ عیسائی جو آئے اور مرزا صاحب نے جو جواب دیئے ان کو آپ ان کو کس کیٹگری میں رکھیں گے کہ یہ جہاد کے جذبے سے دیئے کہ غصے میں، جوش میں، جذبہ ایمان میں آ کے، جوش اسلام کی وجہ سے، غیرت کی وجہ سے، انہوں نے یہ جوابات دیئے؟ ان کو جو سخت زبان استعمال کی، یہ جہاد تھا آپ کی نظر میں؟
مرزا ناصر احمد: سوال ختم ہو گیا؟
جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔
1166 مرزا ناصر احمد: جہاد کبیر کے متعلق قرآن کریم کا یہ حکم ہے: (وہ طریق اختیار کرو جو تمہارے نزدیک زیادہ مؤثر ہے) کبھی غصے کا طریق مؤثر ہوتا ہے، کبھی نہایت نرمی اور عاجزی اور پیار، محبت سے سمجھانا مؤثر ہوتا ہے۔ اصل مقصد یہ ہے کہ جو صداقت حیات انسانی ہے۔ یعنی اسلام اور اس کی شریعت، اس کو وہ سمجھنے لگے، اور اللہ تعالیٰ نے جو محمد ﷺ کے ذریعے نوع انسانی پر رحم کرنے کا ایک طریق بنایا، قرآن کریم نازل ہوا حضرت خاتم الانبیاء پر، اس سے سارے انسان فائدہ اٹھائیں۔ تو ...... اور جب ہم اس اصول کے مطابق بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کی کتب کا مطالعہ کرتے ہیں تو ان کروڑوں سطروں کے مقابلے میں، جو پیار اور محبت سے سمجھانے والی ہیں، دو چار جگہ ہیں جو دوسرا طریق ہے کہ ذرا جھنجھوڑا بھی دیا کرو، اگر ضرورت محسوس ہو اور اس کے نتیجے میں اصلاح کی امید ہو، وہ بھی ہمیں نظر آتی ہیں اور ان کا اتنا بڑا فرق ہے، اپنی Volume میں، کہ دوسرا حصہ ہر آدمی سمجھے گا جو مطالعہ کرے گا ...... ویسے تو نہیں سمجھ آسکتی ...... کہ وہ نظر انداز ہونے کے مقابل ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: جو میں سمجھا، مرزا صاحب! کہ یہ بھی جہاد کے جذبے سے انہوں نے کیا۔
مرزا ناصر احمد: بالکل۔
جناب یحییٰ بختیار: یعنی یہ جو صرف وقتی جوش کی وجہ سے یا اس سے نہیں تھا؟
مرزا ناصر احمد: وقتی جوش تو ہوتا ہی نہیں۔
٥٢
1213 NATIONAL ASSE
ہوں۔
کوئی وجہ نہیں تھی؟
جو بات ہو سکتی ہیں۔ کسی کا ذکر آئے گا تو
کو مضبوط کرنے کیلئے کرتا تھا ؟ )
ایک میرے پاس حوالہ دیا گیا ہے کہ یہ نہ نہ جہاد کی وجہ سے دیا۔ بلکہ انگریز کی حکومت ۔ وہ ان کا ایک خط ہے۔
(تریاق القلوب ضمیمہ ٤ ص ٣٠٧ تا ٣١٠)
میں ہے۔
وہ لیٹر جو انہوں نے لکھا، اس میں سے میں ں گے۔
ی اقراری ہوں ...... انگریز کو لکھ رہے ہیں،
نٹ گورنر ہے کہ کون ہے، گورنمنٹ عالیہ یا ...... Mirza Nasir Ahm (کھلا خط ) ہے یا ...... Direct A (براہ راست خطاب) ہے۔ ا۔
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں یہ کہہ رہا ہوں۔
مرزا ناصر احمد: ہاں، بالکل نہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: اور اس کے علاوہ اور کوئی وجہ نہیں تھی؟
1167 مرزا ناصر احمد: اور بہت ساری وجوہات ہو سکتی ہیں۔ کسی کا ذکر آئے گا تو ’’ہاں‘‘ ’’نہ‘‘ کر دیں گے۔
(مرزا قادیانی سب کچھ انگریز کی حکومت کو مضبوط کرنے کیلئے کرتا تھا؟)
جناب یحییٰ بختیار: وہ مرزا صاحب! ایک میرے پاس حوالہ دیا گیا ہے کہ یہ نہ انہوں نے جذبہ جوش سے دیا، نہ جذبہ ایمان سے دیا، نہ جہاد کی وجہ سے دیا۔ بلکہ انگریز کی حکومت کو مضبوط کرنے کے لئے یہ سارا کچھ کرتے رہے ہیں۔ وہ ان کا ایک خط ہے۔
(تریاق القلوب ضمیمہ ٣ ص ٣٠٧ تا ٣١٠)
مرزا ناصر احمد: یہ کس سن کا ہے؟
جناب یحییٰ بختیار: ’’تریاق القلوب‘‘ میں ہے۔
مرزا ناصر احمد: تریاق القلوب۔
جناب یحییٰ بختیار: میرے خیال میں وہ لیٹر جو انہوں نے لکھا، اس میں سے میں ایک حصہ پڑھ کے سناتا ہوں آپ کو، پھر وہ آپ دیکھیں گے۔
مرزا ناصر احمد: جی۔
جناب یحییٰ بختیار: ’’میں اس بات کا بھی اقراری ہوں...... انگریز کو لکھ رہے ہیں، گورنمنٹ کے......‘‘
مرزا ناصر احمد: یہ کس کے نام خط ہے؟
جناب یحییٰ بختیار: میرے خیال میں لیفٹیننٹ گورنر ہے کہ کون ہے، گورنمنٹ عالیہ یا......
Mirza Nasir Ahmad: Open letter?
(مرزا ناصر احمد: کھلا خط؟)
جناب یحییٰ بختیار: Open Letter (کھلا خط) ہے یا......
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔
1168 جناب یحییٰ بختیار: ......Direct Address (براہ راست خطاب) ہے۔ کتابوں میں اس وقت تو Open (کھلا) ہے ناں جی۔
٥٣
Y OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
جوش آئے۔ اب جو عیسائیوں نے آنحضرت آکے، ایمان کے جذبے کے تحت یا اسلام کے بزرگ کو کوئی کچھ کہے تو جواب دے دیتا ہے، سخت جواب ہو، اور ایک وہ ہوتا ہے کہ وہ اپنا دے۔ یہ عیسائی جو آئے اور مرزا صاحب نے رکھیں گے کہ یہ جہاد کے جذبے سے دیئے گئے اسلام کی وجہ سے، غیرت کی وجہ سے، انہوں نے یہ جہاد تھا آپ کی نظر میں؟
مرزا ناصر احمد: سوال ختم ہو گیا؟
جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔
1166 مرزا ناصر احمد: جہاد کبیر کے جو تمہارے نزدیک زیادہ مؤثر ہے) کبھی غصے کی اور پیار، محبت سے سمجھانا مؤثر ہوتا ہے۔ اصل اسلام اور اس کی شریعت، اس کو وہ سمجھنے لگے، اور رحم کرنے کا ایک طریق بنایا، قرآن کریم نازل ہوا فائدہ اٹھائیں۔ تو...... اور جب ہم اس اصول کرتے ہیں تو ان کروڑوں سطروں کے مقابلے جگہ: میں جو دوسرا طریق ہے کہ ذرا جھنجھوڑا بھی جائے اصلاح کی امید ہو، وہ بھی ہمیں نظر آتی ہیں اور دوسرا حصہ ہر آدمی سمجھے گا جو مطالعہ کرے گا...... کے مقابل ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: جو میں سمجھا انہوں نے کیا۔
مرزا ناصر احمد: بالکل۔
جناب یحییٰ بختیار: یعنی یہ جو مرزا
مرزا ناصر احمد: وقتی جوش تو ہوتا تھا
1214 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
مرزا ناصر احمد: ہوں۔
جناب یحییٰ بختیار: تو: ”ایک عاجزانہ درخواست گورنمنٹ عالیہ حضور گورنمنٹ“ یہ ہے جی ضمیمہ نمبر ٣، متعلق کتاب تریاق القلوب۔ ”حضور گورنمنٹ عالیہ میں ایک عاجزانہ درخواست۔“ وہ اس میں سے میں پڑھ رہا ہوں: میں (فرماتے ہیں مرزا صاحب) ”اس بات کا بھی اقراری ہوں کہ جب کہ بعض پادریوں اور عیسائی مشنریوں کی تحریر نہایت سخت ہوگئی اور حد اعتدال سے بڑھ گئی اور بالخصوص پرچہ نور افشاں میں جو ایک عیسائی اخبار، لدھیانہ سے نکلتا ہے، نہایت گندی تحریریں شائع ہوئیں......“
(ضمیمہ تریاق القلوب نمبر ٣ ص ب، خزائن ج ١٥ ص ٤٩٠)
وہ تحریریں میں چھوڑ دیتا ہوں......
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔
جناب یحییٰ بختیار: وہ آپ نے بھی اس دن چھوڑ دی تھیں جو آنحضرت ﷺ کی شان میں گستاخی تھی۔
مرزا ناصر احمد: جی۔
جناب یحییٰ بختیار: ”تو مجھے ایسی کتابوں اور اخباروں کے پڑھنے سے یہ اندیشہ دل میں پیدا ہوا کہ مبادا مسلمانوں کے دلوں پر، جو ایک جوش رکھنے والی قوم ہے، ان کلمات کا کوئی سخت اشتعال دینے والا اثر پیدا ہو تب میں نے ان جوشوں کو ٹھنڈا 1169 کرنے کے لئے...... حکمت عملی یہی ہے کہ ان تحریرات کا کسی قدر سختی سے جواب دیا جائے۔“
(ایضاً)
Expediency (مصلحت) حکمت عملی......
مرزا ناصر احمد: Expediency (مصلحت)......
جناب یحییٰ بختیار: ......جو میں سمجھتا ہوں۔ وہ آپ......
مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں۔ یہ Expediency (مصلحت)......
جناب یحییٰ بختیار: میں پڑھ رہا ہوں۔
مرزا ناصر احمد: اچھا۔
جناب یحییٰ بختیار: ”......تا سریع الغضب انسانوں کے جوش فرو ہو جائیں اور ملک میں کوئی بے امنی پیدا نہ ہو۔ تب میں نے بمقابل ایسی کتابوں کے کہ جن میں کمال سختی سے بدزبانی کی گئی تھی، چند ایسی کتابیں لکھیں جن میں...... بالمقابل سختی تھی، کیونکہ میرے Conscience (ضمیر) نے قطعی طور پر مجھے فتویٰ دیا کہ اسلام میں جو وحشیانہ جوش رکھنے والے آدمی موجود ہیں،
٥٤
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
ان کے غیض وغضب کی آگ کو بجھانے کے لئے یہ طریق کافی ہوگا۔ ...... بایں ہمہ میری تحریر پادریوں کے مقابل پر ...... جو کچھ وقوع میں آیا یہی ہے کہ حکمت عملی سے بعض وحشی مسلمانوں کو خوش کیا گیا اور میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ میں تمام مسلمانوں میں سے اوّل درجے کا خیرخواہ گورنمنٹ انگریزی کا ہوں۔“
(ضمیمہ تریاق القلوب نمبر ٣ ص ج، خزائن ج ١٥ ص ٤٩١)
تو یہاں مرزا صاحب! میں نے سوال یہ پوچھنا تھا کہ مرزا صاحب یہ نہیں کہتے کہ ”یہ میرا فرض تھا“ یا ”جہاد کبیر تھا“ یہ بھی نہیں کہتے کہ ”مجھے جوش آ گیا، جذبہ تھا اسلام 1170 کا۔“ بلکہ انگریز حکومت کی مضبوطی کے لئے، امن قائم کرنے کے لئے، جس سے وحشی مسلمان جن کو آنحضرت ﷺ کی شان میں گستاخی کی وجہ سے جوش آ جاتا تھا، ان کو ٹھنڈا کرنے کے لئے تاکہ برٹش گورنمنٹ میں لاء اینڈ آرڈر کا پُرابلم پیدا نہ ہو جائے، اس خدمت کو سرانجام دینے کے لئے مرزا صاحب نے یہ ساری کتابیں لکھیں عیسائیوں کے خلاف۔ اس سے یہ Impression (تاثر) پڑتا ہے۔
مرزا ناصر احمد: یہاں تو کتابیں لکھنے کا ذکر نہیں نمبر ایک ...... جناب یحییٰ بختیار: ہے۔ مرزا ناصر احمد: ساری کتابیں ہیں اپنی کتابوں میں سخت نظریہ وہ ہے ذکر ...... جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مشنریوں کے خلاف، میں کہہ رہا ہوں، سب ...... مرزا ناصر احمد: مشنریوں کے خلاف جو سخت حصے ہیں، اس کا ذکر کر رہے ہیں آپ؟ جناب یحییٰ بختیار: میں پھر پڑھ لیتا ہوں، ممکن ہے کہ میں نے غلطی کر لی ہو۔ مرزا ناصر احمد: یہ اگر کتاب مجھے دے دیں تو میں دیکھ کے سارا بتا دیتا ہوں۔ لائبریرین صاحب!
جناب یحییٰ بختیار: (لائبریرین سے) یہ کتاب دے دیجئے، ان کو تو کہتے ہیں: ”...... کہ ملک میں کوئی بدامنی پیدا نہ ہو تب میں نے بالمقابل ایسی کتابوں کے جن میں کمال سختی سے بدزبانی کی گئی تھی، چند ایسی کتابیں لکھیں ......“
(تریاق القلوب ضمیمہ نمبر ٣ ص ج، خزائن ج ١٥ ص ٤٩٠)
چند ایسی کتابیں، ...... میرا مطلب یہ نہیں کہ ساری مرزا صاحب کی تصانیف ...... جو ان کے مقابلے میں تھیں، جتنا بھی مشنریوں کے خلاف وہ کتابیں لکھتے رہے وہ اس جذبے کے تحت ...... 1171 ”مرزا ناصر احمد: جتنی مشنری ...... یہاں تو چند کتابیں لکھیں اور ان میں چند فقرے لکھے۔
٥٥
1216 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
جناب یحییٰ بختیار: وہ تو خیر جو کچھ بھی ہے ناں مرزا صاحب !یہ جو ہے......
مرزا ناصر احمد: نہیں، چند کتابیں، ساری کتابیں نہیں۔
(انگریز کی تائید میں کتابیں لکھنا)
جناب یحییٰ بختیار: وہ بھی دوسرا سوال آجاتا ہے۔ جی، کہتا ہے: ”میں نے جتنی کتابیں لکھیں وہ پچاس الماریوں میں آجاتی ہیں...... انگریز کی تائید میں۔“
(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥)
وہ آپ نے کہا کہ الماری کا سائز نہیں لکھا۔ (ہنسی)
مرزا ناصر احمد: میں نے پوچھا کہ سائز کا تعین بھی ہوجائے۔
جناب یحییٰ بختیار: تو میں نے کہا کہ اب وہ تو مرزا صاحب کے گھر میں رہ گئی ہوں گی۔ الماریاں، اور آپ کو سائز کا معلوم ہوگا دو آتی ہیں، دس آتی ہیں۔
مرزا ناصر احمد: نہیں، وہ نسخے ہیں ناں، نسخے، جن کے نسخے چند، دس، آٹھ، دس الماریوں میں آگئے۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ پانچ سو، ہزار ہو گئیں؟
جناب یحییٰ بختیار: نہیں وہ میں نہیں کہتا۔ مرزا صاحب! سوال تو یہ تھا کہ انہوں نے الماریاں پچاس بھریں۔ بعض پمفلٹ ہوں گے، بعض بڑی کتابیں ہوں گی۔ اب یہ کہ الماریاں دو فٹ کی تھیں یا دس فٹ کی تھیں، یہ تو نہ مجھے علم ہے، یہ تو آپ کو شاید ہو۔
مرزا ناصر احمد: نہیں، میں تو یہ کہہ رہا ہوں کہ جو کتابیں آپ نے لکھیں وہ ہمارے پاس موجود ہیں۔
(پچاس الماریاں)
جناب یحییٰ بختیار: وہ کہتے ہیں کہ ”پچاس الماریاں“ ...... اور مرزا صاحب غلط نہیں کہیں گے۔
1172 مرزا ناصر احمد: نہیں، میں کب کہتا ہوں کہ غلط کہیں گے۔ میرا جواب تو سن لیجئے۔ مہربانی کر کے۔ کہتے ہیں ”پچاس الماریاں جو ہیں وہ بھرگئیں“ تو اس کا مطلب ہے میرے نزدیک...... میں نے ابھی Rough اندازہ اپنے ذہن میں کیا ہے...... کہ عام سائز کی الماری ہو تو یہ کوئی دو ہزار، اڑھائی ہزار Volumes (جلدیں) نسخے یہ بھر دیتے ہیں ان کو۔
جناب یحییٰ بختیار: ایک ہی کتاب کی دو ہزار کاپیاں رکھیں؟
٥٦
1217 NATIONAL ASSE
۔ یہ تو نہیں کہ دو ہزار.......
صاحب ! یہ دیکھیں ناں وہ فرماتے ہیں.......
ست بھی موجود ہے۔ کتابوں کی فہرست بھی
......
ت کون سی ہے؟
ت میں عمر کا اکثر حصہ گزرا)
ثر حصہ میں نے سلطنت انگریزی کی تائید
انعت جہاد اور انگریز کی اطاعت کے بارے
ہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو
(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥)
ں) آپ نے کل اٹھاسی لکھی ہیں.......
ں اور ان میں سے ہر ایک میں یہ سخت الفاظ
رزا صاحب.......
ر کے ساتھ اس کو سامنے رکھ کے.......
زا صاحب! یہ میں Clarification
گی.......
Impre (تاثر) یہ پڑتا ہے.......
وحمایت میں لکھتے رہے؟)
ب نے ساری عمر کا بڑا حصہ، بیشتر حصہ،
پچاس الماریاں اس سے بھر گئیں اور سوال
AN 22nd Aug, 1974 No:09
جناب یحییٰ بختیار:
مرزا ناصر احمد:
(آ
جناب یحییٰ بختیار: کتابیں لکھیں وہ پچاس الماریوں وہ آپ نے کہا کہ ا
مرزا ناصر احمد:
جناب یحییٰ بختیار: گی۔ الماریاں، اور آپ کو سائن
مرزا ناصر احمد: الماریوں میں آگئے۔ اس کا مط
جناب یحییٰ بختیار: الماریاں پچاس بھریں۔ بعض دو فٹ کی تھیں یا دس فٹ کی تھیں
مرزا ناصر احمد: پاس موجود ہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: کہیں گے۔
1172 مرزا ناصر اح لیجئے۔ مہربانی کر کے۔ کہتے ہیں میرے نزدیک...... میں نے ا الماری ہو تو یہ کوئی دو ہزار، اڑھ
جناب یحییٰ بختیار:
1217 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، یہی مراد ہے۔ یہ تو نہیں کہ دو ہزار......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، مرزا صاحب! یہ دیکھیں ناں وہ فرماتے ہیں......
مرزا ناصر احمد: اتنی لکھی ہی نہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: وہ کتابوں کی فہرست بھی موجود ہے۔ کتابوں کی فہرست بھی موجود ہے، ایک کتاب نہیں ہے اور یہاں لکھتے ہیں وہ......
مرزا ناصر احمد: ہاں، وہ کتابوں کی فہرست کون سی ہے؟
(سلطنت انگریزی کی تائید وحمایت میں عمر کا اکثر حصہ گزرا)
جناب یحییٰ بختیار: ”میری عمر کا اکثر حصہ میں نے سلطنت انگریزی کی تائید وحمایت میں گزارا ہے۔ (اکثر گزارا ہے) میں نے ممانعت جہاد اور انگریز کی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں اس سے بھر سکتی ہیں۔“
(تریاق القلوب ص١٥، خزائن ج١٥ ص١٥٥)
مرزا ناصر احمد: Volumes (جلدیں) آپ نے کل اٹھاسی لکھی ہیں......
جناب یحییٰ بختیار: کل کتابیں؟
مرزا ناصر احمد: کل اٹھاسی کتب لکھی ہیں اور ان میں سے ہر ایک میں یہ سخت الفاظ بھی نہیں۔
1173 جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں تو یہ مرزا صاحب......
مرزا ناصر احمد: جو ہے ”کتاب“ وہ واقعہ کے ساتھ اس کو سامنے رکھ کے......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، دیکھئے مرزا صاحب! یہ میں Clarification (وضاحت) کے لئے ضروری سمجھتا ہوں، میری ڈیوٹی تھی......
مرزا ناصر احمد: جی۔
جناب یحییٰ بختیار: ......کیونکہ Impression (تاثر) یہ پڑتا ہے......
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، ٹھیک ہے۔
(مرزا قادیانی صرف انگریز کی تائید و حمایت میں لکھتے رہے؟)
جناب یحییٰ بختیار: ......کہ مرزا صاحب نے ساری عمر کا بڑا حصہ، بیشتر حصہ، انگریزوں کی تائید و تعریف میں کتابیں لکھیں، پانچ...... پچاس الماریاں اس سے بھر گئیں اور سوال
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
یہ آتا ہے کہ کیا اللہ میاں کی تعریف میں بھی اتنی کتابیں لکھیں کہ پچاس الماریاں بھر جائیں؟ کیا محمد ﷺ کی تعریف میں بھی اتنی کتابیں لکھیں کہ پچاس الماریاں بھر جائیں؟ کہ صرف انگریز پر لکھتے رہے؟ یہ سوال آتا ہے مسلمانوں کے دلوں میں۔ اس کا جواب دینا ہے آپ کو۔
مرزا ناصر احمد : ہاں جی، ہاں جی، ٹھیک ہے اللہ تعالیٰ کی صفات کی تفسیر، بیان کہ خدا یہی خدا ہے جو اسلام نے پیش کیا، قرآن کریم کی جو ہے تفسیر، قرآن کریم کی عظمت کا بیان نبی اکرم ﷺ کی عظیم بلند، ارفع شان اور عظمت اور آپ کی جلالیت کے اظہار کے لئے جو کتابیں لکھیں، اس کے لئے پچاس الماریاں نہیں چاہئیں۔ اس کے لئے پچاس ہزار الماریاں بھی کافی نہیں ہیں۔
جناب یحییٰ بختیار : جو مرزا صاحب نے لکھی ہیں؟
مرزا ناصر احمد : ہاں، جو مرزا صاحب نے لکھی ہیں...... Volumes (جلدیں)
1174 جناب یحییٰ بختیار : نہیں، آپ تو کہتے ہیں کل چھیاسی کتابیں لکھی ہیں۔
مرزا ناصر احمد : اوہو! یہی تو میں سمجھا رہا تھا۔ یہاں پچاس کتابوں سے یہ مراد نہیں ہے کہ ہرنئی کتاب کی ایک ایک جلد کر کے اور وہ پچاس بنائیں، بلکہ ایک کتاب کی بھی اگر اتنی تعداد ہو جائے ، اور یہ جو ہے : ”غصہ مٹانے کے لئے“......
جناب یحییٰ بختیار : لسٹ تو بڑی لمبی چوڑی ہے۔ اس پر......
مرزا ناصر احمد : کوئی...... یعنی اگر یہ ہیں اٹھاسی سے زیادہ ، تو مجھے بھی بتائیں، میری فہرست میں جو کمی ہے وہ میں نوٹ کرلوں گا۔
جناب یحییٰ بختیار : نہیں، نہیں، اٹھاسی...... چوبیس کتابیں یہاں ہیں اور رسالے، اشتہارات وغیرہ......
مرزا ناصر احمد : چوبیس کتابوں میں یہ بھی کسی نے تکلیف گوارا کی کہ دیکھے کہ ان میں سو صفحے کی کتاب ہے؟ تو جس قسم کا ریفرنس ہے......
جناب یحییٰ بختیار : نہیں، مرزا صاحب! میں...... دیکھیں آپ یہ نہ سمجھیں کہ میں Insinuation (اشارۃً کوئی بات کر رہا ہوں) کر رہا ہوں۔ Please try to appreciate.... (مہربانی کر کے مجھے سمجھنے کی کوشش کریں)
مرزا ناصر احمد : نہیں، نہیں میں بھی نہیں، میں تو ایک بات بتا رہا ہوں۔
جناب یحییٰ بختیار : ایک ایسے الفاظ آگئے ہیں کہ ان میں سے ایک ایک کو دیکھا جائے ۔ ”پچاس الماریاں بھرتی ہیں ۔“...... اشتہارات ، رسالے ، کتابیں ، وہ اس قسم کا ذکر کرتے
٥٨
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
ہیں ۔ Clear words (واضح الفاظ) میں کہ : ”جس سے پچاس الماریاں بھر جاتی ہیں۔“
مرزا ناصر احمد : جی ، تو ہم سے پوچھیں ناں مطلب کیا ہے۔
1175 جناب یحییٰ بختیار : تو اس واسطے میں کہہ رہا ہوں کہ صاف مطلب تو یہ ہوتا ہے کہ پچاس ..... ”عمر کا زیادہ حصہ انگریز کے تائید میں میں نے گزارا۔“ ”پچاس الماریاں بھر گئیں ۔“ تو باقی عمر میں کیا حصہ رہا جو اللہ تعالیٰ کی تعریف میں گزارا ہو؟ اور کتنی کتابیں ، الماریاں بھریں؟ یہ سوال آتا ہے جو آپ سے کوئی پوچھے گا۔
مرزا ناصر احمد : جی، ہر آدمی حق رکھتا ہے کہ یہ پوچھے اور میرا یہ خیال ہے کہ مجھے بھی حق ہے کہ میں بتاؤں۔
جناب یحییٰ بختیار : ہاں جی ، مجھے یہ سوالات پوچھنے تھے۔ جبھی میں آپ سے پوچھ رہا ہوں۔
مرزا ناصر احمد : یہ جو ہے ناں ”پچاس الماریاں بھر گئیں۔“ اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ تمام حوالے اکٹھے کرلئے جائیں جو بعض ایسے مسلمان جن کو جلدی غصہ آ جاتا ہے ، ان کے غصہ ٹھنڈا کرنے کے لئے اور خلاف اسلام حرکات سے انہیں محفوظ رکھنے کے لئے ، جس کے نتیجے میں ملک میں امن پیدا ہو اور حکومت وقت کو پریشان نہ ہونا پڑے اور ان کے لئے لاء اینڈ آرڈر کا پراپلم نہ ہو۔ وہ حوالے اور اس کے مقابلے میں ...... میں باقی سارے حوالے نہیں کہتا ...... صرف کوئی ایک عنوان لے کے، حوالے اکٹھے کرکے تو آپ کے یہاں میں Submit (پیش) کروا دوں گا۔ وہ پڑھ لیں ، ان کی سطریں گن لیں۔ ان کے Pages (صفحات) گن لیں۔ جس طرح ہو اپنی تسلی کرلیں۔ جو ایک دنیا نے تسلیم کیا ہے کہ جو تحریر ہے، اس کے معانی کا حق صرف اس کو ہے جو وہ تحریر لکھتا ہے یا جو اس کے ماننے والے ہیں ، اگر وہ مامور ہونے کا دعویٰ کرتا ہے ایک فقرہ لے کے مہدی موعود کے کتب میں سے ، اس کے اوپر سوال بنانا ہر طرح جائز ہے ، ہر ایک کو حق ہے۔ میں نے 1176 پہلے بھی کہا ، جس کو سمجھ نہیں آتا وہ سوال کرے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں ...... ممکن ہے میں غلطی پر ہوں ...... کہ میرا یہ حق ہے کہ میں پوری طرح جواب دوں ......
جناب یحییٰ بختیار : نہیں جی ، وہ میں نہیں کہہ سکا کہ آپ ......
مرزا ناصر احمد : ...... تو یہ جواب جو ہے، یہ جواب جو آپ نے اب سوال یہ کیا کہ جو کچھ ساری عمر کے بڑے حصے میں لکھ کر انگریز کی تائید میں پچاس الماریاں بھریں ، اس کے مقابلے میں اللہ اور اس کے رسول اور اسلام کی جو اس وقت ضروریات تھیں اور مسائل کے ...... جو مسائل
٥٩
AKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
یہ آتا ہے کہ کیا اللہ میاں کی تعریف میں محمد ﷺ کی تعریف میں بھی اتنی کتابیں لکھتے رہے؟ یہ سوال آتا ہے مسلمانوں
مرزا ناصر احمد : ہاں جی ،
خدا ہے جو اسلام نے پیش کیا ، قرآن کری کی عظیم بلند ، ارفع شان اور عظمت اور آ لئے پچاس الماریاں نہیں چاہئیں۔ اس ۔
جناب یحییٰ بختیار : جو مر
مرزا ناصر احمد : ہاں ، جو م
1174 جناب یحییٰ بختیار :
مرزا ناصر احمد : اوہو! اگر ہے کہ ہر نئی کتاب کی ایک ایک جلد کر ۔ ہو جائے ، اور یہ جو ہے : ”غصہ مٹانے ۔
جناب یحییٰ بختیار : لسٹ
مرزا ناصر احمد : کوئی .... فہرست میں جو کی ہے وہ میں نوٹ کرلوں
جناب یحییٰ بختیار : نہیں اشتہارات وغیرہ ......
مرزا ناصر احمد : چوبیس کتا سو صفحے کی کتاب ہے؟ تو جس قسم کا ریفر
جناب یحییٰ بختیار : نہیں
Insinuation (اشارہ کوئی با appreciate.... (مہربانی کرکے
مرزا ناصر احمد : نہیں ، نہی
جناب یحییٰ بختیار : ایک جائے۔ ”پچاس الماریاں بھرتی ہیں ۔“
1220 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
تھے، اور اسلام کے لئے جدوجہد کرنی تھی، اور اسلام کو غالب کرنے کے لئے جو منصوبے بنانے تھے ان کے لئے تو پھر کوئی وقت ہی نہیں۔ ہاں، تو پھر میں نے یہ بتانا ہے کہ ان کی آپس میں نسبت کیا ہے۔ نسبت کا سوال ہو گیا ناں۔ تو اس نسبت کے لئے آپ مجھے وقت دیں تو ، یا کسی ہمارے بزرگ..... اتنے ہیں یہاں، بیٹھے ہوئے ...... کسی کے سپرد کر دیں۔ میں یہ وعدہ کرتا ہوں کہ ”غصہ ٹھنڈا کرنے کے لئے“ ان کا ایک ایک لفظ میں پروڈیوس کر دوں گا۔ جس کی طرف اشارہ ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: میں ویسا مسلمان نہیں ہوں، میرے غصے کی بات نہیں ہے۔
مرزا ناصر احمد: نہیں نہیں، اوہو! نہیں، میں پھر انا للہ...... میں معافی چاہتا ہوں، بالکل یہ مطلب نہیں تھا، بالکل یہ مطلب نہیں تھا میرا۔ میرا مطلب یہ تھا کہ اس وقت جن کے متعلق یہ خیال کیا گیا کہ کہیں غصے میں آ کے خلاف ہدایت شریعت اسلام کوئی بات نہ کر بیٹھیں غصے میں، اور انگریزی حکومت کے لئے بھی لاء اینڈ آرڈر کا پرابلم پیدا ہو جائے ، وہ جو ان کے لئے لکھا گیا۔ آپ کی تو بات ہی نہیں ہو رہی۔ آپ تو بڑے حلیم ہیں، میں بڑا ممنون ہوں آپ کا تو لیکن وہ میرا مطلب......
1177 جناب یحییٰ بختیار: انسان کمزور ہوتا ہے، آدمی سے کوئی غلط بات ہو جاتی ہے، میں اس کے لئے معافی چاہتا ہوں اگر کبھی ہوئی ہے اور میرا یہ Insinuation نہیں ہے۔ صرف میرے سامنے جو سوال آئے ہیں......
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں ٹھیک میرا مطلب یہ ہے کہ جب موازنہ کریں ...... میرا صرف اتنا مطلب ہے ...... جب موازنہ کریں گے پھر حقیقت واضح ہو گی تو اس کی مجھے اجازت دیں میں موازنہ کر دیتا ہوں۔
(مرزا قادیانی نے کل اٹھاسی کتابیں لکھیں)
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں تو صرف یہ پوچھتا ہوں مرزا صاحب! کہ آپ نے کہا کہ انہوں نے کل چھیاسی (٨٦) کتابیں لکھی ہیں۔
مرزا ناصر احمد: اٹھاسی۔
جناب یحییٰ بختیار: اٹھاسی کتابیں، مرزا صاحب نے کل اٹھاسی کتابیں لکھی ہیں۔
مرزا ناصر احمد: ہوں، ہوں۔
(پچاس الماریاں)
جناب یحییٰ بختیار: اب اٹھاسی کتابیں تو پچاس الماریوں میں نہیں آتیں۔
1221 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
مرزا ناصر احمد: ہوں، ہوں۔
جناب یحییٰ بختیار: یہ تو ایک الماری کی چیز ہے۔
مرزا ناصر احمد: ہاں، اگر ایک ایک رکھی جائے تو نہیں آتیں۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، تو عام، عام، نارمل ہو......
مرزا ناصر احمد: ہوں، ہوں۔
جناب یحییٰ بختیار: ...... تو اس کا یہ مطلب ہے کہ کچھ اور ہیں، کچھ اور کتابیں ہیں جو پچاس الماریوں میں آئیں۔
مرزا ناصر احمد: مطلب کچھ اور ہے۔ کچھ اور کتابیں نہیں۔
1178 جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں نے کہا تھا عام آدمی تو اندازہ کرتا ہے کہ مرزا صاحب نے پچاس الماریاں تو وہاں بھر دیں انگریز کی تائید و تعریف میں، زندگی کا زیادہ حصہ اسی میں گزرا، اور کچھ یہ کتابیں بھی لکھ دیں اور باقی زندگی کا جو حصہ رہ گیا تھا، وہ پچاس الماریوں کا نہ تھا، جو اللہ تعالیٰ کی تعریف میں۔ تو اس کے بعد ابھی کوئی زیادہ Evidence (شہادت) کی ضرورت نہیں ہے جو آپ بتائیں گے۔
مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں۔ زیادہ کی ضرورت تو وہ ہے کہ وہ لکھا ایک سمندر، خدا تعالیٰ کے کلام کی تفسیر کا کہ جس کا ایک انسان کی زندگی میں، میرے جیسے کی، پوری طرح اس کو Comprehand (احاطہ) کرنا۔ اس کے مطلب کو اپنے میں سمیٹنا اور اپنا لینا، Assimilation (انجذاب) کے ذریعے، وہ بھی ممکن نہیں ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! کل بھی میں نے ایک سوال پوچھا تھا اور ......
مرزا ناصر احمد: وہ، وہ، اس کے ...... جواب ہیں کل والے کے۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں وہ، وہ شاید آپ کے پاس کوئی اور جواب ہو ایک اور سوال تھا۔ میں نے آپ سے عرض کی تھی کہ مرزا بشیر الدین محمود صاحب کی جو کتاب ہے "True Islam" (سچا اسلام) جو کہ لیکچر ہے، اس میں وہ فرماتے ہیں کہ قرآن شریف کے جو خزانے
١؎ اور مرزا قادیانی کہتے ہیں: ”میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی حمایت و تائید میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں اس سے بھر سکتی ہیں۔“
(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥)
٦١
KISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
تھے، اور اسلام کے لئے جدوجہد کر تھے ان کے لئے تو پھر کوئی وقت ہی نہ کیا ہے۔ نسبت کا سوال ہو گیا ناں ۔ بزرگ ...... اتنے ہیں یہاں، بیٹھے ہو ٹھنڈا کرنے کے لئے' ان کا ایک ایک
جناب یحییٰ بختیار: میں
مرزا ناصر احمد: نہیں، ج یہ مطلب نہیں تھا، بالکل یہ مطلب نہیں کیا گیا کہ کہیں غصے میں آکے خلاف انگریزی حکومت کے لئے بھی لا اینڈ تو بات ہی نہیں ہو رہی۔ آپ تو بڑے
1177 جناب یحییٰ بختیار: میں اس کے لئے معافی چاہتا ہوں صرف میرے سامنے جو سوال آئے
مرزا ناصر احمد: ہاں، صرف اتنا مطلب ہے ...... جب م دیں میں موازنہ کر دیتا ہوں۔
(مرزا قادیا
جناب یحییٰ بختیار: ج کہا کہ انہوں نے کل چھیاسی (٨٦)
مرزا ناصر احمد: اٹھاسی
جناب یحییٰ بختیار: ا
مرزا ناصر احمد: ہوں
جناب یحییٰ بختیار: ا
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
تھے، چھپے ہوئے خزانے، وہ مرزا صاحب باہر لے آئے، ان کو ظاہر کیا دنیا پر، جو تیرہ (١٣) سو سال تک ظاہر نہیں تھے۔ میں نے آپ سے عرض کیا کہ تیرہ سو سال میں قرآن شریف کی کون سی آیات تھیں جس کے متعلق کوئی ایسی Interpretation (توجیہہ) نہیں تھی جو مرزا صاحب نے ظاہر کی؟ مگر دو تین Subjects (عنوانات) کو چھوڑ کر...... وہ Subject (عنوانات) وہ آیات جو ان کی نبوت کو کسی طریقے سے ثابت کرنے کا تعلق ہو یا مسیح موعود کے...... مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، ٹھیک ہے۔ مجھے یاد ہے وہ سوال۔
(مرزا نے کونسی ایسی تفسیر کی جو آج تک امت میں سے کسی نے نہیں کی؟)
1179 جناب یحییٰ بختیار: مسیح موعود کے آنے کا یا جہاد کا...... ان کو چھوڑ کر باقی کون سی جگہ انہوں نے تفسیر کی جو کہ کسی نے پہلے نہیں کی تھی؟ آپ نے فرمایا ایک تو سورۃ فاتحہ پر انہوں نے ایسی تفسیر اس کی کی ہے کہ ستر فیصدی اس کا...... مرزا ناصر احمد: ...... بالکل نیا ہے۔
(ایک آیت کی ایسی تفسیر! جو مرزا قادیانی نے کی)
جناب یحییٰ بختیار: ...... پہلے نہیں تھا۔ ١٣٠٠ تیرہ سو سال میں، پہلی دفعہ مرزا صاحب نے کیا۔ ان میں سے صرف ایک آیت جو ہے آپ بتا دیں کہ کیا انہوں نے کہا ہے جو پہلے نہیں تھا۔ کیونکہ بہت بڑی چیز ہو جاتی ہے، ٹائم نہیں، صرف ایک جو آپ Select (منتخب) کر لیں، جب انہوں نے یہ چیز کہی جو کہ تیرہ سو سال میں پہلے کسی نے نہیں کی؟ مرزا ناصر احمد: جی، یہ میں بتا دوں پڑھ دوں گا۔ اگلے Session (اجلاس) میں، میں لے آؤں گا، پڑھ دوں گا۔
جناب یحییٰ بختیار: ابھی یہی دیکھیں، پھر یہ اسی میں فرماتے ہیں، خط میں: ”دوسرا قابل گزارش یہ ہے کہ میں ابتدائی عمر سے اس وقت تک جو تقریباً ساٹھ سال کی عمر تک پہنچا ہوں، اپنی زبان اور قلم سے اس اہم کام میں مشغول ہوں کہ مسلمانوں کے دلوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی محبت اور خیر خواہی اور ہمدردی کی طرف پھیروں۔“
(درخواست بحضور نواب لیفٹیننٹ گورنر ص٣ ملحقہ کتاب البریہ، خزائن ج١٣ ص٣٣٩)
اور پھر ان سے آخیر میں ایک اور بھی گزارش کرتے ہیں۔ ......A Life Time (عمر بھر)
٦٢
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
مرزا ناصر احمد: اس کا حوالہ کیا ہے؟ جناب یحییٰ بختیار: اسی Letter (خط) سے۔ مرزا ناصر احمد: اچھا، اسی Letter (خط) سے۔ 1180 جناب یحییٰ بختیار: اسی کے Extracts (اقتباسات) میں پڑھ رہا ہوں، کیونکہ بہت لمبا ہے وہ۔ مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، ہاں ٹھیک ہے۔
(انگریز کا خودکاشتہ پودا)
جناب یحییٰ بختیار: وہ لمبا ہے، اس میں سے پھر وہ آخیر میں التماس کرتے ہیں:
”التماس ہے کہ سرکار دولت مدار ایسے خاندان کی نسبت جس کو پچاس برس کے متواتر تجربے سے ایک وفادار، جان نثار خاندان ثابت کر چکی ہے اور جس کی نسبت گورنمنٹ عالیہ کے معزز حکام نے ہمیشہ مستحکم رائے سے اپنی چٹھیات میں یہ گواہی دی ہے کہ وہ قدیم سے سرکار انگریزی کے پکے خیرخواہ اور خدمت گزار ہیں۔ اس خودکاشتہ پودے کی نسبت نہایت حزم اور احتیاط اور تحقیق اور توجہ سے کام لے اور اپنے ماتحت حکام کو اشارہ فرمائے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں۔ ہمارے خاندان نے سرکار انگریزی کی راہ میں اپنے خون بہانے اور جان دینے سے دریغ نہیں کیا اور نہ اب دریغ ہے۔ لہٰذا ہمارا حق ہے کہ ہم خدمات گزشتہ کے لحاظ سے سرکار دولت مدار کی پوری عنایات اور خصوصی توجہ کی درخواست کریں۔ تا کہ ہر شخص بے وجہ ہماری آبرو ریزی کے لئے دلیری نہ کر سکے اور کسی قدر اپنی جماعت کے نام ذیل میں لکھتا ہوں......“
تو مرزا صاحب یہاں، ”ایک خودکاشتہ پودا...... انگریز“ کا کہہ رہے ہیں۔ یہ کن کی طرف اشارہ ہے؟
مرزا ناصر احمد: اپنے اس خاندان کی طرف جو پہلے گزر چکا۔
جناب یحییٰ بختیار: یا جماعت کی طرف؟
1181 مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، جماعت نے، میں آپ کو یقین دلاتا ہوں، ایک دھیلا کبھی انگریز سے نہیں لیا اور نہ کبھی جماعت نے چار مرلے زمین لی جو بعض دوسرے علماء نے لی اس وقت۔
٦٣
1224 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09 1225 NATIONAL
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں ، مربعوں سے تو کسی کو Protection (تحفظ)......
مرزا ناصر احمد : اور جو، دیکھیں ناں، یہ تو اس کے آخری فقرے جو ہیں، وہ خود اپنا جواب ہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: دونوں چیزیں ہیں، مرزا صاحب! میں آپ کو پڑھ کر سناتا ہوں، میں نہیں کہتا کہ میں ٹھیک سمجھ رہا ہوں۔ میں اس واسطے یہ Clarification (وضاحت) چاہ رہا ہوں کہ وہ خاندان کا ذکر کرتے ہیں اور بہت زیادہ ذکر کرتے ہیں ......
مرزا ناصر احمد : مطالبہ کیا کرتے ہیں؟
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ ساتھ ہی کہہ رہے ہیں ......
مرزا ناصر احمد : نہیں، مطالبہ کیا کرتے ہیں؟...... کہ لوگ ہماری بے عزتی نہ کیا کریں۔
(انگریز کے پکے خیرخواہ اور وفادار)
جناب یحییٰ بختیار: ”التماس ہے کہ سرکاری دولت مدار ایسے خاندان کی نسبت......“
مرزا ناصر احمد : ہاں ، ہاں ، آگے پڑھیں ناں ۔ ہاں، ہاں، اب ۔
جناب یحییٰ بختیار: ”جس کو پچاس برس کے متواتر تجربے سے وفادار، جان نثار خاندان ثابت کر چکی ہے اور جس کی نسبت گورنمنٹ عالیہ کے معزز حکام نے ہمیشہ مستحکم رائے سے اپنی چٹھیات میں یہ گواہی دی ہے کہ وہ قدیم سے سرکار انگریز کے پکے خیرخواہ اور خدمت گزار ہیں......“ یہ تو...... 1182
(درخواست بحضور نواب گورنر ص ١٢، ملحقہ کتاب البریہ، خزائن ج١٣ص٣٥٠)
مرزا ناصر احمد : نہیں، آگے مطالبہ ، آگے مطالبہ ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، پھر کہتے ہیں : ”اس خود کاشتہ پودے کی نسبت نہایت حزم اور احتیاط اور تحقیق اور توجہ سے کام لے اور اپنے ماتحت حکام کو اشارہ فرمائے کہ وہ اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت......“
(ایضاً)
مرزا ناصر احمد : مجھے اور میری جماعت کو کیا کرے؟ مربع دے؟
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، یہ ......
مرزا ناصر احمد : نہیں، نہیں، آگے تو پڑھیں۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں ۔”...... میری جماعت کو ایک خاص عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں۔.....“
(ایضاً)
نہ پودا......“
ں جی۔ آگے اس کا جواب ہے۔
سرکار انگریزی کی راہ میں اپنے خون ......“
(ایضاً)
ہم خدمات گذشتہ کے لحاظ سے سرکار ت کریں تا کہ ہر شخص بے وجہ ہماری
(ایضاً)
ی کے لئے دلیری نہ کر سکے...... یہ
کی استدعا)
Protection (تحفظ) چاہتے ہیں
Protect (تحفظ) چاہ رہے ہیں؟
Prot (تحفظ) بہت وسیع ہے۔
؟
گزار...... جو دماغ ہے، وہ اس چیز کو، ......”اس کو اتنی مہربانی سمجھتا ہے کہ اس
1225 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
مرزا ناصر احمد: آگے۔
جناب یحییٰ بختیار: تو، مرزا صاحب ”خود کشتہ پودا......“
مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، نہیں۔ آگے پڑھیں جی۔ آگے اس کا جواب ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: ”ہمارے خاندان نے سرکار انگریزی کی راہ میں اپنے خون بہانے اور جان دینے سے فرق نہیں کیا اور نہ اب فرق ہے......“
(ایضاً)
مرزا ناصر احمد: آگے، آگے۔
جناب یحییٰ بختیار: ”......لہٰذا ہمارا حق ہے کہ ہم خدمات گذشتہ کے لحاظ سے سرکارِ دولت مدار کی پوری عنایات اور خصوصیت کی توجہ کی درخواست کریں تاکہ ہر شخص بے وجہ ہماری آبروریزی کے لئے دلیری نہ کرسکے۔“
(ایضاً)
مرزا ناصر احمد: 1183 ”بے وجہ ہماری آبروریزی کے لئے دلیری نہ کرسکے“...... یہ مطالبہ ہے۔
(اپنی جماعت کے لئے مراعات کی استدعا)
جناب یحییٰ بختیار: نہیں نہ: ”کسی قدر اپنی جماعت کے نام ذیل میں لکھتا ہوں...... اب کسی قدر اپنی جماعت کے نام ذیل لکھتا ہوں......“
(ایضاً)
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، وہ تو بعد کی بات ہے۔ صرف یہ ساری تمہید کا مطالبہ یہ ہے کہ بلاوجہ کوئی ہماری آبروریزی نہ کرسکے۔
جناب یحییٰ بختیار: اپنے خاندان کے لئے Protection (تحفظ) چاہتے ہیں گورنمنٹ سے؟
مرزا ناصر احمد: ہاں، وہ بے عزتی نہ کرے کوئی۔
جناب یحییٰ بختیار: وہی میں کہتا ہوں کہ Protection (تحفظ) چاہ رہے ہیں؟
مرزا ناصر احمد: No, no ، نہیں، Protection (تحفظ) بہت وسیع ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: عنایت، مہربانی چاہتے ہیں؟
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔ مہربانی وہ تو ایک شکرگزار...... جو دماغ ہے، وہ اس چیز کو، وہ اس چیز کو...... ”کہ کوئی بلاوجہ ہماری آبروریزی نہ کرے......“ اس کو اتنی مہربانی سمجھتا ہے کہ اس
OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، میں
مرزا ناصر احمد: اور جو، دیکھیں جواب ہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: دونوں چ ہوں، میں نہیں کہتا کہ میں ٹھیک سمجھ رہا ہ (وضاحت) چاہ رہا ہوں کہ وہ خاندان کا ذکر ک
مرزا ناصر احمد: مطالبہ کیا کر ر
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ م
مرزا ناصر احمد: نہیں، مطالبہ کیا
(انگریز کے لی
جناب یحییٰ بختیار: ”التماس ہ
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، آگ
جناب یحییٰ بختیار: ”جس کو خاندان ثابت کرچکی ہے اور جس کی نسبت گو اپنی چٹھیات میں یہ گواہی دی ہے کہ وہ فد ہیں......“ یہ تو......
(درخواست بحضو
مرزا ناصر احمد: 1182 نہیں، آگ
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، م حزم اور احتیاط اور تحقیق اور توجہ سے کام خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کو
مرزا ناصر احمد: مجھے اور میری
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہی
مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، م
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، م نظر سے دیکھیں......“
(ایضاً)
1226 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
نے کردی۔ یہ تو ایک شان کا ہے....... یہاں اعتراض کا تو کوئی موقع نہیں.......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مرزا صاحب! ایک.......
مرزا ناصر احمد: .......کوئی مربے مانگے؟ کوئی پیسے لئے؟ کوئی رعایتیں لیں؟ کوئی نوکریاں مانگیں؟
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ تو میں سمجھتا تھا کہ آپ کا یہ خیال ہے کہ انگریز کی گورنمنٹ انصاف کی گورنمنٹ ہے، وہاں ظلم نہیں ہوتا تھا، عدالتیں تھیں، جسٹس تھا، رول آف لاء تھا، دین کے معاملے میں دخل نہیں دیتے تھے.......
1184 مرزا ناصر احمد: اور پھر بھی خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔
(خوشامد کی کیا ضرورت تھی؟)
جناب یحییٰ بختیار: .......اور پھر اگر یہ Right (حق) انسان کو مل گیا تو پھر اتنی زیادہ خاندانی خدمات اور خوشامد کی کیا ضرورت تھی۔ یہ تو Right (حق) تھا۔ ”میں نے چونکہ اتنی خدمت کی ہے، اتنی میں نے آپ کی تعریف کی ہے، میرے خاندان نے اتنی خدمت کی ہے، مجھ پر ذرا مہربانی کریں، مجھ پر ظلم نہ ہونے دیں ۔“ یہ تو کوئی گورنمنٹ نہیں ہے۔ اگر جس کی آپ تائید کرتے ہیں۔
مرزا ناصر احمد: بات سنیں، یہ جو حقیقت ہے وہ تو حقیقت ہے، اسے تو کوئی نہیں بدل سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ.......
Mr. Yahya Bakhtiar: Here I agree with you.
(جناب یحییٰ بختیار: مجھے آپ سے اتفاق ہے )
مرزا ناصر احمد: ....... حقیقت یہ ہے کہ نہ انگریز سے ایک پیسہ لیا....... Don't you agree with it? (کیا آپ اس سے متفق نہیں ہیں )
جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، میں نہیں جانتا۔
مرزا ناصر احمد: ہاں، پھر میں آپ کو بتا رہا ہوں کہ نہ کبھی کوئی زمین لی، نہ کبھی کوئی نوکریاں لیں، نہ کبھی کوئی خطاب وہ لئے، ہر چیز کو ٹھکرا دیا، اور مانگا صرف یہ کہ عزت کی زندگی ہمیں گزارنے دیں اور ایک شریف انسان کی زبان سے یہ نکلا کہ اگر تم یہ بھی کرو گے تو ہم تمہارے بڑے مشکور ہوں گے۔
٦٦
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
Mr. Yahya Bakhtiar: (Addressing the Chair) shall we continue after lunch? Because next subject with... (جناب یحییٰ بختیار: کیا دوپہر کے کھانے کے بعد کاروائی جاری رہے گی؟ کیونکہ اگلا موضوع......)
Mr. Chairman: Yes. (جناب چیئرمین: جی)
Mirza Nasir Ahmad: After lunch. (مرزا ناصر احمد: دوپہر کے کھانے کے بعد)
Mr. Chairman: Yes, no, in the evening. (جناب چیئرمین: نہیں، شام کے وقت)
Mr. Yahya Bakhtiar: We break for lunch? (جناب یحییٰ بختیار: ہم دوپہر کے کھانے کا وقفہ کرلیں)
1185 Mr. Chairman: The Delegation is permitted to leave to come at 6:00 pm. (چھ بجے شام۔ (جناب چیئرمین: وفد کو جانے کی اجازت ہے۔ وفد چھ بجے شام واپس آئے گا)
The honourable members has will keep sitting. (معزز اراکین تشریف رکھیں)
Mr. Yahya Bakhtiar: 6 O'clock. (جناب یحییٰ بختیار: چھ بجے)
Mr. Chairman: 6:00 pm. (جناب چیئرمین: چھ بجے)
جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! ایک بات میں بھول جاتا ہوں، ابھی تو ایڈجرن ہو گیا، صرف کوئی Remind (یادہانی) کرانا ہے آپ کو۔ یہ شروع میں جو کچھ فتوؤں کا آپ نے ذکر کیا تھا، بریلوی سکول، دیوبندی سکول، تو انہوں نے کہا کہ ان کی جو کتابوں میں شائع ہوئے ہیں اور بمجمل، وہ لسٹ بتا دیجئے، کتابیں دکھا دیں، کیونکہ یہ کوئی سوال پوچھنا چاہتے تھے......
مرزا ناصر احمد: جی۔
جناب یحییٰ بختیار: ...... تو پہلے گزارش کی تھی، وہ جو ”محضر نامہ“ میں ذکر آیا ناں جی،
٦٧
F PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
نے کر دی۔ یہ تو ایک شان کا ہے...... یہاں
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مرزا
مرزا ناصر احمد: ......کوئی مرزا نوکریاں مانگیں؟
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، گورنمنٹ انصاف کی گورنمنٹ ہے، وہاں تھا، دین کے معاملے میں دخل نہیں دینے تھے
1184 مرزا ناصر احمد: اور پھر بھی
(خوشامد کی
جناب یحییٰ بختیار: ...... اور زیادہ خاندانی خدمات اور خوشامد کی کیا ضرو اتنی خدمت کی ہے، اتنی میں نے آپ کی تعر مجھ پر ذرا مہربانی کریں، مجھ پر ظلم نہ ہونے تائید کرتے ہیں۔
مرزا ناصر احمد: بات سنیں، بہا سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ......
Here I agree with you. (جناب یحییٰ بختیار: مجھے آپ
مرزا ناصر احمد: ......حقیقت یہ (کیا آپ ان سے agree with it?
جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی
مرزا ناصر احمد: ہاں، پھر میں نوکریاں لیں، نہ کبھی کوئی خطاب وغیرہ، جـ گزارنے دیں اور ایک شریف انسان کی بڑے مشکور ہوں گے۔
1228 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
کئی فتوؤں کا، ایک فرقے کے دوسرے کے خلاف تو آپ نے کتابیں Quote (حوالہ دیا) کی ہیں، وہ کتابوں کی ضرورت تھی۔
مرزا ناصر احمد: کون سا؟ وہ شام کو، جو ہیں وہ لے آئیں گے۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔
(The Delegation left the Chamber)
(وفد ہال سے چلا گیا)
Mr. Chairman: Anything that the honourable members would like to say?
(جناب چیئرمین: معزز اراکین میں سے کوئی رکن اگر کوئی بات کرنا چاہے تو کہیں)
مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: آپ ان سے یہ فرمایا کریں جو آپ ترجمے میں فرمایا کرتے تھے:
"Delegation may report back at such and such time."
(وفد فلاں فلاں وقت رپورٹ کرے)
1186 Mr. Chairman: The House Committee will meet at 5:30.
(جناب چیئرمین: خصوصی کمیٹی کا اجلاس ساڑھے پانچ بجے ہوگا) ٥:٣٠ میں اس واسطے کہہ رہا ہوں کہ آدھا گھنٹہ کا Margin لازماً رکھنا پڑتا ہے۔
ایک آواز: آنا چاہئے ان لوگوں کو In Time. (وقت پر)
Mr. Chairman: 5:30; The quorum bell will start ringing at 5:30. By 6:00 the quorum should be complete. I have given them 6:00 O'clock.
Thank you very much.
(جناب چیئرمین: کورم کی گھنٹی ٥:٣٠ بجے بجنا شروع ہو جائے گی۔ چھ بجے تک کورم پورا ہو جانا چاہئے۔ انہیں میں نے چھ بجے کا وقت بتایا ہے آپ کا بہت بہت شکریہ)
٦٨
1229 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
[The Special Committee adjourned to re-assemble at 5:30 pm.]
(خصوصی کمیٹی کا اجلاس ملتوی ہوتا ہے۔ ساڑھے پانچ بجے دوبارہ ہوگا)
------------------
[The Special Committee re-assembled after lunch berak Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali) in the Chair.]
(خصوصی کمیٹی کا اجلاس کھانے کے وقفے کے بعد دوبارہ ہوا۔ چیئرمین (صاحبزادہ فاروق علی) نے صدارت کی)
------------------
جناب چیئرمین: ان کو بلالیں، باہر بٹھا دیں۔ ان کو بھی بلالیں۔ اٹارنی جنرل صاحب آرہے ہیں۔ ہاں، ہاں ٹھیک ہے۔ ان کو بھی بلالیں، ڈیلی گیشن کو بھی۔
(The Delegation entered the Chamber)
(وفد ہال میں داخل ہوا)
Mr. Chairman: Yes, Mr. Attorney- General.
(جناب چیئرمین: جی، اٹارنی جنرل صاحب)
(”یہ خودکاشتہ پودا“ مرزا قادیانی کے خاندان کی طرف اشارہ ہے؟)
جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! میں وہ...... میں مرزا صاحب کا وہ خط پڑھ رہا تھا جو انہوں نے گورنمنٹ کو لکھا تھا۔ یہاں سوال یہ تھا کہ: ”اس خودکاشتہ پودا کی نسبت نہایت ہی احتیاط اور تحقیق سے کام لیں اور اپنے ماتحت حکام کو اشارہ فرمائیں کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداریوں اور اخلاق کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت کی نظر سے دیکھیں۔“ (خزائن ج١٣ ص٣٥٠) آپ نے فرمایا کہ: ”یہ خودکاشتہ پودا“ مرزا صاحب کے خاندان کی طرف اشارہ ہے، جماعت کی طرف نہیں یا......
مرزا ناصر احمد: یہ جو ہے ناں خط، یہ شروع سے اس طرح چلتا ہے: ”بحضور 1187 نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر دام اقبالہ“ اس کے...... (وقفہ)
اگر اجازت ہو، میں ابھی...... ذرا لمبا چلے گا۔
٦٩
F PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
کئی فتوؤں کا، ایک فرقے کے دوسرے کے ہیں، وہ کتابوں کی ضرورت تھی۔
مرزا ناصر احمد: کون سا؟ وہ
جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔
he Chamber)
(وق
ing that the honourable
(جناب چیئرمین: معزز ار
مولانا شاہ احمد نورانی صد فرمایا کرتے تھے:
back at such and such
(وفد فلاں فلاں وقت رپور
House Committee will
(جناب چیئرمین: خصو واسطے کہہ رہا ہوں کہ آدھا گھنٹہ کا rgin ایک آواز: آنا چاہئے ان
e quorum bell will start
m should be complete. I
(جناب چیئرمین: کور کورم پورا ہو جانا چاہئے، انہیں میں نے آپ کا بہت بہت شکریہ )
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں صرف یہ کہتا تھا کہ آپ جب اس کے بارے میں کچھ Clarification (وضاحت) دیں تو میں یہ ”پودا“ جو ذکر آیا اس کا، تو میں اس وقت آپ سے پوچھ رہا تھا کہ یہ جماعت کی طرف اشارہ ہے یا خاندان کی طرف اشارہ ہے یا مرزا صاحب کی ذات کی طرف اشارہ ہے؟ تو آپ نے فرمایا کہ نہیں، یہ خاندان کی طرف اشارہ ہے۔ تو اس قسم کے مرزا صاحب مزید سوال یہ آجاتے ہیں کہ یہ آپ کا خاندان تو بڑا پرانا مغل خاندان ہے۔。。。。。
مرزا ناصر احمد: جی۔
جناب یحییٰ بختیار: ۔。。。。。 اور یہ سمرقند سے مرزا صاحب کے بزرگ آئے تھے۔ انگریز کا تو یہ ”کاشتہ پودا“ نہیں ہوسکتا۔ دوسرا یہ کہ مرزا صاحب کے بارے میں بھی نہیں کہہ سکتے کہ انگریز کا خود کاشتہ پودہ تھا۔。。。。。
مرزا ناصر احمد: نہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: ۔。。。。。 تو یہ صرف جماعت جو ہے انگریز کے دور میں۔۔۔۔۔۔
مرزا ناصر احمد: جماعت جو ہے، صرف اسی کے متعلق زیادہ وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ وہ خود کاشتہ پودا نہیں ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، تو میں یہ کہتا ہوں، وہ جو کہہ رہے ہیں مرزا صاحب، یہ تو Process of Elimination (ختم کرنے کی کارروائی) ہے کہ ایک۔۔۔۔۔۔
مرزا ناصر احمد: اس کا جواب تو میں لمبا دے سکتا ہوں۔
جناب یحییٰ بختیار: ۔。。。。。 1188 مغل خاندان جو ہے، اس کی فیملی سے تعلق ہے، اور یہ انگریز کی خود کاشتہ فیملی نہیں تھی، جو میں تھوڑا بہت پڑھ چکا ہوں۔۔۔۔۔۔
مرزا ناصر احمد: یہ اس کا جو ہے سارا شروع سے پڑھیں اگر، تو اس میں جواب ہے۔ اگر مجھے اجازت دیں تو میں جواب دے دیتا ہوں ورنہ۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، میں صرف اپنا سوال Clarify (واضح) کرنے کے لئے عرض کر رہا ہوں کہ یہ جو ہے ناں ”خود کاشت پودا“ یہ خاندان پر نہیں۔ Apply (لاگو) ہوتا، اس وجوہات سے جو میں نے بتایا کہ مغل خاندان کی فیملی ہے، مشہور فیملی ہے، Well to do family (خوشحال خاندان) ہے۔ دوسرے یہ ہے۔۔۔۔۔۔
مرزا ناصر احمد: آپ وجہ لے رہے ہیں باہر سے، حالانکہ وجہ اس کے اندر موجود ہے۔
٧٠
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974. No:09
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ آپ بتا دیں گے ناں جی۔
مرزا ناصر احمد: جی۔
جناب یحییٰ بختیار: اور دوسرے یہ کہ مرزا صاحب پر بھی یہ نہیں ہوسکتا سوائے جماعت کے کہ ان کے زمانے میں یہ وجود میں آئی، انگریز کے زمانے میں اور یہ Implication ہے کہ انگریز نے بنائی یا بنوائی۔ اس کو دور کرنے کے لئے آپ Clarification (وضاحت) کردیں۔
مرزا ناصر احمد: جی، بالکل۔
(مرزا قادیانی کے پانچ بڑے اصول)
جناب یحییٰ بختیار: اور ایک ساتھ ہی میں یہ عرض کروں گا کہ اسی خط میں مرزا صاحب فرماتے ہیں: ”کہ میں بار بار اعلان دے چکا ہوں کہ میرے بڑے بڑے پانچ اصول ہیں......“ چار اصولوں کے بعد پھر وہ کہتے ہیں: ”چوتھے یہ کہ اس گورنمنٹ محسنہ کی نسبت جس کے ہم زیر سایہ ہیں، یعنی گورنمنٹ انگلشیہ کو کوئی مفسدانہ خیالات دل میں نہ لانا اور خلوص دل سے 1189 اس کی اطاعت میں مشغول رہنا۔“
(خط بحضور گورنمنٹ ص١١، ملحقہ کتاب البریہ، خزائن ج١٣ص٣٣٨)
یہ اس پر آپ ذرا Clarification (وضاحت) دے دیجئے۔
مرزا ناصر احمد: میں یہ......
جناب یحییٰ بختیار: کیسی یہ محسن تھی؟ کیا احسان تھے؟
مرزا ناصر احمد: ہاں جی، یہ وہ میں...... بالکل، بالکل۔ ہاں، ہاں میں کوشش کروں گا، جلدی ختم ہوجائے۔ یہ خط یہاں سے شروع ہوتا ہے،......
جناب یحییٰ بختیار: یہ، مرزا صاحب! وہ دوسرا بھی جو ہے ناں......
مرزا ناصر احمد: ......وہ بھی ساتھ لے لیتے ہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: وہ بھی آج...... اس وقت آپ نے کہا تھا کہ اس میں کچھ کافی لمبا جواب ہے۔......
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، ہاں۔
جناب یحییٰ بختیار: ...... تو اس پر بھی مجھے خیال نہیں تھا، صبح پوچھنا تھا، تاکہ ...... ٹائم
٧١
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
کم رہ گیا ہے۔ اس کا بھی آنا ضروری ہوگا۔
مرزا ناصر احمد: وہ میں ابھی اس کے بعد شروع کر دیتا ہوں: ”چونکہ مسلمانوں کا ایک نیا فرقہ جس کا پیشواء اور امام اور پیر یہ راقم ہے، پنجاب اور ہندوستان کے اکثر شہروں میں زور سے پھیلتا جاتا ہے اور بڑے بڑے تعلیم یافتہ، مہذب اور معزز عہدہ دار اور نیک نام رئیس اور تاجر پنجاب اور ہندوستان کے اس فرقہ میں داخل ہوتے جاتے ہیں اور عموماً.....“
جناب یحییٰ بختیار: یہ شروع سے آپ پڑھ رہے ہیں؟
مرزا ناصر احمد: ہاں جی، شروع سے۔ ویسے میں بیچ میں چھوڑتا جاؤں گا: ”..... اور عموماً پنجاب کے شریف مسلمانوں کے نو تعلیم یاب جیسے بی.اے، 1190 ایم.اے اس فرقے میں داخل ہیں اور داخل ہو رہے ہیں اور ایک گروہ کثیر ہو گیا ہے جو اس ملک میں روز بروز ترقی کر رہا ہے۔ اس لئے میں نے یہ قرین مصلحت سمجھا کہ اس فرقہ جدیدہ اور نیز اپنے تمام حالات سے جو اس فرقے کا پیشوا ہوں، حضور گورنر بہادر کو آگاہ کروں اور یہ ضرورت اس لئے بھی پیش آئی کہ یہ ایک معمولی بات ہے کہ ہر ایک فرقہ جو ایک نئی صورت سے پیدا ہوتا ہے، گورنمنٹ کو حاجت پڑتی ہے کہ اس کے اندرونی حالات دریافت کرے اور بسا اوقات ایسے نئے فرقے کے دشمن اور خود غرض، جن کی عداوت اور مخالفت ہر ایک نئے فرقہ کے لئے ضروری ہے۔ گورنمنٹ میں خلاف واقعہ خبریں پہنچاتے ہیں اور مفسدانہ مخبریوں سے گورنمنٹ کو پریشانی میں ڈالتے ہیں۔ پس چونکہ گورنمنٹ عالم الغیب نہیں ہے، اس لئے ممکن ہے کہ گورنمنٹ عالیہ ایسی مخبریوں کی کثرت کی وجہ سے کسی قدر بدظنی پیدا کرے یا بدظنی کی طرف مائل ہو جائے۔ لہٰذا گورنمنٹ عالیہ کی اطلاع کے لئے۔ چند ضروری امور ذیل میں لکھتا ہوں:
- ......١ سب سے پہلے میں یہ اطلاع دینا چاہتا ہوں کہ میں ایک ایسے خاندان میں سے ہوں
جس کی نسبت گورنمنٹ نے ایک مدت دراز سے قبول کیا ہوا ہے کہ وہ خاندان اوّل درجہ پر سرکار دولت مدار انگریزی کا خیر خواہ ہے۔ (وہ خاندان) چنانچہ چیف کمشنر بہادر......“
آگے وہ چٹھیوں کی جو تاریخیں ہیں، وہ بڑی اہم ہیں۔ ایک تاریخ ہے ...... اس سے پہلے میں یہ بتا دوں کہ آپ کا دعویٰ ١٨٩١ء کا ہے۔ Eighteen ninety one (١٨٩١) یہاں جو خط ہے اس کی تاریخ پہلے کی ہے۔ Eighteen fifty-eight (١٨٥٨) اٹھارہ سو اٹھاون دوسرے کی ہے۔ 1191 ١٨٧٦ء June اور تیسرے کی ہے ١٨٣٩ء ۔ تو یہ خاندان کے متعلق ہے۔ اس عمر میں ایک نوجوان کی حیثیت سے زندگی گزار رہے تھے اور آپ کا ان خاندانی حالات سے کوئی
٧٢
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
تعلق نہیں تھا۔ پہلے کی ہیں یہ ساری چٹھیاں یہاں یہ بتایا کہ گورنمنٹ ہمیشہ سے یہ جانتی ہے، خطوط آئے ہوئے ہیں ان کے، کہ ہم مفسد نہیں، امن پسند ہیں۔ خاندانی لحاظ سے، اپنے متعلق نہیں ابھی بات شروع ہوئی: ”دوسرا اور قابل گزارش یہ ہے کہ میں ابتدائی عمر سے اس وقت تک جو قریباً ساٹھ برس کی عمر تک پہنچا ہوں، اپنی زبان اور قلم سے اس اہم کام میں مشغول ہوں تا کہ مسلمانوں کے دلوں کو گورنمنٹ انگلیشیہ کی سچی محبت اور خیر خواہی اور ہمدردی کی طرف پھیروں اور ان کے بعض کم فہموں کے دلوں سے غلط خیال جہاد ( جہاد کا غلط خیال ہے اس کو) کو دور کروں ......“
جہاد کے خلاف نہیں، جہاد کے غلط خیال کو دور کروں: ”...... جو ان کو دلی صفائی اور مخلصانہ تعلقات سے روکتے ہیں اور اس سلسلے میں ......“
نمبر دو کے نیچے آپ لکھتے ہیں عربی اور فارسی اور اردو میں تالیف کر کے ممالک اسلامیہ کے لوگوں کو بھی مطلع کیا کتابیں بھیج کر: ”...... عربی اور فارسی اور اردو میں تالیف کر کے، ممالک اسلامیہ کے لوگوں کو بھی مطلع کیا۔ ان کو یہ اطلاع دی کہ ہم لوگ کیونکر امن اور آرام اور آزادی سے گورنمنٹ انگلیشیہ کے سایہ عاطفت میں زندگی بسر کر رہے ہیں اور ایسی کتابوں کے چھاپنے اور شائع کرنے میں ہزار ہا روپیہ خرچ کیا گیا۔ مگر بایں ہمہ میری طبیعت نے کبھی نہیں چاہا کہ ان متواتر خدمات کا اپنے حکام کے پاس ذکر بھی کروں۔ کیونکہ میں نے کبھی صلہ اور انعام کی خواہش سے نہیں بلکہ ایک 1192 حق بات کو ظاہر کرنا اپنا فرض سمجھتا اور درحقیقت وجود سلطنت انگلیشیہ خدائے تعالیٰ کی طرف سے ہمارے لئے ایک نعمت تھی جو مدت دراز کی تکالیف کے بعد ہم کو ملی۔ اس لئے ہمارا فرض تھا کہ اس نعمت کا بار بار اظہار کریں۔ ہمارا خاندان سکھوں کے ایام میں ایک سخت عذاب میں تھا ...... ہماری اور تمام پنجاب کے مسلمانوں کی (سکھوں کے زمانے میں ہماری اور پنجاب کے تمام مسلمانوں کی) دینی آزادی کو بھی روک دیا۔ ایک مسلمان کو بانگ نماز پر مارے جانے کا اندیشہ تھا۔ (اور کئی ایسے واقعات ہوئے کہ اذان دی اور ان کو قتل کر دیا گیا) چہ جائیکہ اور رسوم عبادات آزادی سے بجا لا سکتے۔ پس یہ اس گورنمنٹ محسنہ کا ہی احسان تھا کہ ہم نے اس جلتے ہوئے تنور سے خلاصی پائی۔ (جو سکھوں کا تھا) خدا تعالیٰ نے (وہ سکھوں کے اس عذاب سے کہ اذان دینا بھی بند ہو گیا تھا چھڑانے کے لئے) ایک ابر رحمت کی طرح اس گورنمنٹ کو ہمارے آرام کے لئے بھیج دیا۔“ اور پھر آگے وہ سارے وہ احسانات وغیرہ کا ذکر کر کے: ”مگر میں جانتا ہوں ......“ یہ اس پیرا کے آخر میں ہے، تین سطریں اوپر: ”...... مگر میں جانتا ہوں کہ وہ اسلام کی اس اخلاقی تعلیم سے (وہ جو بعض ان پڑھ مسلمان ہیں اور غلط خیال جہاد کا
٧٣
22nd Aug, 1974 No:09 کم رہ گیا ہے۔ اس کا بھی آ مرزا ناصر احم ایک نیا فرقہ جس کا پیشواء ا سے پھیلتا جاتا ہے اور بڑ پنجاب اور ہندوستان کے ا جناب یحییٰ بخ مرزا ناصر احم عموماً پنجاب کے شریف م داخل ہیں اور داخل ہو ر ہے۔ اس لئے میں نے یہ اس فرقے کا پیشوا ہوں، ج ایک معمولی بات ہے کہ ہ ہے کہ اس کے اندرونی حا غرض، جن کی عداوت اور واقعہ خبریں پہنچاتے ہیں ا گورنمنٹ عالم الغیب نہیں سے کسی قدر بدظنی پیدا کر لئے۔ چند ضروری اور ذیل
- ا....... سب سے پہل
جس کی نسبت گورنمنٹ ۔ دولت مدار انگریزی کا خیا آگے وہ چشم پہلے میں یہ بتا دوں کہ آس جو خط ہے اس کی تاریخ یا دوسرے کی ہے۔ 1191 اس عمر میں ایک نوجوان کا
1234 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
رکھتے ہیں وہ اسلام کی اس اخلاقی تعلیم سے بھی بے خبر ہیں جس میں یہ لکھا ہے کہ جو شخص انسان کا شکر نہ کرے وہ خدا کا شکر بھی نہیں کرتا۔“ یعنی اپنے محسن کا شکر کرنا ایسا فرض ہے جیسا کہ خدا کا:
”یہ تو ہمارا عقیدہ ہے۔ مگر افسوس کہ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ اس لمبے سلسلہ اٹھارہ برس کی تالیفات کو جن میں بہت سی پرزور تقریریں اطاعت 1193 گورنمنٹ کے بارے میں ہیں کبھی ہماری گورنمنٹ محسنہ نے توجہ سے نہیں دیکھا اور کئی مرتبہ میں نے یاد دلایا مگر اس کا اثر محسوس نہیں ہوا۔ لہٰذا میں پھر یہ یاد دلاتا ہوں کہ مفصلہ ذیل کتابوں اور اشتہاروں کو توجہ سے دیکھا جائے اور وہ مقامات پڑھے جائیں (یہ بڑا اہم ہے۔ وہ ساری کتابیں جہاد کے متعلق نہیں ہیں) اور وہ مقامات پڑھے جائیں جن کے نمبر صفحات میں نے ذیل میں لکھ دیئے ہیں......“
پہلی دو...... دو صفحے ساری کتاب کے ”براہین احمدیہ“ حصہ سوم، بڑی کتاب ہے۔ اس میں صرف دو صفحے لکھے ہوئے ہیں اس کے متعلق، اور وہ بھی جہاد کی حقیقت جو آپ سمجھتے تھے اس کے متعلق ”براہین احمدیہ“ حصہ چہارم چار صفحے اور یہ ”نوٹس دربارہ توسیع دفعہ 298“ اور کتاب ”آریہ دھرم“ اس کے ہیں کوئی چھ، سات صفحے اور آگے ہے ”التماس“ یہ اشتہار ہے۔ اس کے چار صفحے اور پھر آگے اشتہار۔ ”آئینہ کمالات اسلام“ بڑی موٹی کتاب ہے اتنی بڑی کتاب کئی سو صفحے کی چھ سات سو صفحے کی ہے، چھ سو صفحے کی کتاب میں سے سترہ سے بیس تک، یہ کہ ہو گئے چار، اور پانچ سو گیارہ سے اٹھائیس تک، یہ ہو گئے ستائیس، یہ سارے یہ صفحے ہیں۔ اعلان در کتاب ”نورالحق“ بتیس سے چون صفحے تک اور کتاب ”شہادت القرآن“ یہ چند صفحے ہیں۔ ”نورالحق“ حصہ دوم انچاس، پچاس صرف دو صفحے ہیں ساری کتاب کے۔ ”سرالخلافہ“ صفحہ اکہتر، بہتر، تہتر۔ یہ بھی پہلے ضروری نہیں کہ پہلے صفحے سے، اکہتر سے شروع ہو، اس کے صفحے کے کسی حصے سے شروع ہے اور تہتر کے کسی حصے میں ختم ہو گیا۔ ”اتمام الحجہ“ پچیس سے، اسی طرح تین صفحوں کے اندر یہ آگیا اور اسی طرح ان کتابوں کے، جو ہزاروں صفحات پر مشتمل ہیں، یہ سارے صفحے مل کے سو بھی نہیں بنتے۔
1194 جناب یحییٰ بختیار: یہ ”تحفہ قیصریہ“ تمام کتاب اور بھی ہیں، تمام کتابیں بھی ہیں اس کے بعد۔
مرزا ناصر احمد: ”تحفہ قیصریہ“ کتنے صفحوں کی کتاب ہے؟ یہ پچاس صفحے کی کتاب بھی نہیں اور اس کا تمام کتاب کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تمام کتاب ہی یہ ہے مطلب یہ ہے کہ یہ مضمون پھیلا ہوا بیان ہوا ہے۔ مختلف جگہوں پر، اس واسطے علیحدہ علیحدہ صفحات نہیں لکھے گئے اور یہ اصل یہ کتاب کا مضمون ہے، ملکہ وکٹوریہ کو یہ دعوت کہ تم اسلام کو قبول کرو اور اسلام کی حقانیت پر اس
٧٢
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09 کو دلائل دیئے گئے ہیں اور اس میں ساتھ یہ بھی، شکریہ بھی ادا کیا گیا ہے۔ اشتہار سمیت اس کے ہاں، اشتہار وغیرہ ملا کے یہ ٢٤ صفحے ہیں اور یہ بھی اب غلطی ”تحفہ قیصریہ“ کے متعلق پیدا ہو گئی ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مرزا صاحب! میں تو اس پر، Detail (تفصیل) میں تو آپ سے پوچھ رہا تھا کہ مرزا صاحب خود کہتے ہیں کہ: ”اتنا میں نے لکھا ہے کہ پچاس الماریاں بھر جاتی ہیں۔“
مرزا ناصر احمد: میں آ جاتا ہوں، میں اس طرف آتا ہوں۔ ٹھیک ہے، اس طرف آ جاتا ہوں مطلب یہ ہے کہ اس اشتہار سے ایک غلط تاثر بعض لوگوں کے ذہن میں پیدا ہوا۔ تو ہر ایک کے ہو جاتا ہے۔ اس کی میں وضاحت کر رہا ہوں۔ ان کتابوں کے دیکھنے کے بعد ہر ایک شخص۔ اس نتیجے پر پہنچتا ہے، جو آپ نے لکھا ہے وہ یہ ہے: ”کیا اس کے حق میں یہ گمان ہو سکتا ہے کہ وہ اس گورنمنٹ محسنہ کا خیرخواہ نہیں۔ جو شکایتیں جارہی تھیں گورنمنٹ کے پاس اور میں دعویٰ سے، گورنمنٹ کی خدمت میں اعلان دیتا ہوں کہ یہ جو رپورٹیں بھیجی جارہی ہیں کہ یہ مہدی سوڈانی کی طرح ایک فتنہ پیدا کرنے والا اور بغاوت کرنے 1195 والا گروہ ہے یہ غلط ہے اور ہمارا جو یہ ہے جہاد کا جو صحیح تصور، عین اسلامی، وہ جماعت کے لوگوں میں پیدا کیا گیا ہے اس لئے ایسی گورنمنٹ کے خلاف جنہوں نے سکھوں کے مظالم سے مسلمانوں کو نجات دلائی یہ غداری نہیں کریں گے۔“
(پھر اسی کے اندر آ جاتا ہے) ڈلیسی پادریوں کے نہایت دل آزار حملے اور توہین آمیز کتابیں جن کے متعلق لکھتے ہیں: ”یہ کتابیں درحقیقت ایسی تھیں کہ اگر آزادی کے ساتھ ان کی مدافعت نہ کی جاتی اور ان کے سخت کلمات کے عوض میں کسی قدر مہذبانہ سختی عمل میں نہ آتی تو بعض جاہل تو جلد تر بدگمانی کی طرف جھک جاتے ہیں۔ سارے یہ خیال کرتے کہ گورنمنٹ کو پادریوں کی خاص رعایت ہے۔ مگر اب ایسا خیال کوئی نہیں کر سکتا اور بالمقابل کتابوں کے شائع ہونے سے وہ اشتعال جو پادریوں کی سخت تحریروں سے پیدا ہونا ممکن تھا اندر ہی اندر دب گیا اور لوگوں کو معلوم ہو گیا کہ ہماری گورنمنٹ عالیہ نے ہر ایک مذہب کے پیروں کو اپنے مذہب کی تائید میں عام آزادی دی ہے جس سے ہر ایک فرقہ برابر فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ پادریوں کی کوئی خصوصیت نہیں ہے۔“
اور اس میں پھر اگلے پہرے میں ہے۔ ”امہات المؤمنین“ کا ذکر جو نہایت ہی گندی اور فحش کتاب تھی اور بڑی بھڑکانے والی تھی اور یہ بتایا کہ: ”میں نے یہ سختی اس لئے کی ہے کہ وہ لوگ جو زیادہ تعلیم یافتہ نہیں ہیں، ان کے ........ جوش میں آ جاتے ہیں ان کا تدارک کیا جاسکے۔“ پھر آگے لکھتے ہیں، اسی نمبر ٢ کے نیچے، کہ: 1196 ”لیکن اسلام کا مذہب مسلمانوں کو اجازت نہیں دیتا کہ وہ کسی
٧٥
OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09 رکھتے ہیں وہ اسلام کی اس اخلاقی تعلیم سے ب شکر نہ کرے وہ خدا کا شکر بھی نہیں کرتا۔“ یعنی
”یہ تو ہمارا عقیدہ ہے۔ مگر افسوس تالیفات کو جن میں بہت سی پرزور تقریریں ا گورنمنٹ محسنہ نے توجہ سے نہیں دیکھا اور ک لہٰذا میں پھر یہ یاد دلاتا ہوں کہ مفصلہ ذیل مقامات پڑھے جائیں (یہ بڑا اہم ہے۔ وہ پڑھے جائیں جن کے نمبر صفحات میں نے فی
پہلی دو ........ دو صفحے ساری کتاب میں صرف دو صفحے لکھے ہوئے ہیں اس کے مت متعلق ”براہین احمدیہ“ حصہ چہارم چار صفحے دھرم“ اس کے ہیں کوئی چھ، سات صفحے اور آ پھر آگے اشتہار۔ ”آئینہ کمالات اسلام“ بڑی سو صفحے کی ہے، چھ سو صفحے کی کتاب میں سے سے اٹھائیس تک، یہ ہو گئے ستائیس، یہ سار چون صفحے تک اور کتاب ”شہادت القرآن صرف دو صفحے ہیں ساری کتاب کے۔ ”سرا پہلے صفحے سے، اکہتر سے شروع ہو، اس کے ختم ہو گیا۔ ”اتمام الحجۃ“ پچیس سے، اسی طر کے، جو ہزاروں صفحات پر مشتمل ہیں، یہ سار
1194 جناب یحییٰ بختیار: یہ ک ہیں اس کے بعد۔
مرزا ناصر احمد: ”تحفہ قیصری بھی نہیں اور اس کا تمام کتاب کا مطلب ہ مضمون پھیلا ہوا بیان ہوا ہے۔ مختلف جگہوں اصل یہ کتاب کا مضمون ہے، بلکہ وکٹوریہ کو ا
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
مقبول القوم نبی کو برا کہیں۔ بالخصوص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت جو پاک اعتقاد عام مسلمان رکھتے ہیں اور جس قدر محبت اور تعظیم سے ان کو دیکھتے ہیں۔ وہ ہماری گورنمنٹ پر پوشیدہ نہیں۔ میرے نزدیک ایسی فتنہ انگیز تحریروں کے روکنے کے لئے بہتر طریق یہ ہے کہ گورنمنٹ عالیہ یا تو یہ تدبیر کرے کہ ہر ایک فریق مخالف کو ہدایت فرمائے کہ وہ اپنے حملہ کے وقت تہذیب اور نرمی سے باہر نہ جاوے اور صرف ان کتابوں کی بناء پر اعتراض کرے جو فریق مقابل کی مسلم اور مقبول ہوں اور اعتراض بھی وہ کرے جو اپنی مسلم کتابوں میں وارد نہ ہو سکے اور اگر گورنمنٹ عالیہ یہ نہیں کر سکتی تو یہ تدبیر عمل میں لاوے کہ یہ قانون صادر فرمادے کہ ہر ایک فریق صرف اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کیا کرے اور دوسرے فریق پر ہرگز حملہ نہ کرے۔ میں دل سے چاہتا ہوں کہ ایسا ہو اور میں یقیناً جانتا ہوں کہ قوموں میں صلح کاری پھیلانے کے لئے اس سے بہتر اور کوئی تدبیر نہیں.......‘‘
’’تیسرا امر جو قابل گزارش ہے وہ یہ ہے کہ میں گورنمنٹ عالیہ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ فرقہ جدیدہ جو برٹش انڈیا کے اکثر مقامات میں پھیل گیا ہے جس کا میں پیشوا اور امام ہوں۔ گورنمنٹ کے لئے ہرگز خطرناک نہیں (جو رپورٹیں جارہی تھیں) اور اس کے اصول ایسے پاک اور صاف اور امن بخش اور صلح کاری کے ہیں کہ تمام اسلام کے موجودہ فرقوں میں اس کی نظیر گورنمنٹ کو نہیں ملے گی جو ہدایتیں اس فرقہ کے لئے میں نے مرتب کی ہیں، یعنی جن کو میں نے ہاتھ سے لکھ کر اور چھاپ کر ہر ایک مرید کو دیا ہے، ان کو اپنا دستور العمل رکھے، وہ ہدایتیں میرے اس رسالہ میں مندرج ہیں جو ١٢؍جنوری ١٨٨٩ء میں چھپ کر عام مریدوں میں شائع ہوا ہے جس کا نام 1197 تکمیل تبلیغ مع شرائط بیعت جس کی ایک کاپی اسی زمانہ میں گورنمنٹ میں بھیجی گئی تھی...... یہ سچ ہے کہ میں کسی ایسے، مہدی، ہاشمی، قریشی، خونی کا قائل نہیں ہوں۔ جو دوسرے مسلمانوں کے اعتقاد میں (یہاں سارے مسلمان نہیں مراد وہی مراد ہیں جن کا یہ اعتقاد تھا) بنی فاطمہ میں سے ہوگا اور زمین کو کفار کے خون سے بھر دے گا۔ میں ایسی حدیثوں کو صحیح نہیں سمجھتا اور محض ذخیرہ موضوعات جانتا ہوں۔ ہاں، میں اپنے نفس کے لئے اس مسیح موعود کا ادّعا کرتا ہوں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرح غربت کے ساتھ زندگی بسر کرے گا اور لڑائیوں اور جنگوں سے بیزار ہوگا اور نرمی اور صلح کاری اور امن کے ساتھ قوموں کو اس سچے ذوالجلال خدا کا چہرہ دکھائے گا جو اکثر قوموں سے چھپ گیا ہے۔ میرے اصولوں اور اعتقادوں اور ہدایتوں میں کوئی امر جنگ جوئی اور فساد کا نہیں ہے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے ویسے ویسے مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے ۔‘‘ یہاں مسئلہ جہاد سے وہ مراد نہیں جو صحیح مسئلہ ہے، بلکہ
٧٦
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
وہ مراد ہے جس کے متعلق پہلے آیا ہے کہ غلط مسئلہ جہاد بعض ذہنوں میں پھیلا ہوا ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: آگے Explain (واضح) کر دیجئے......
مرزا ناصر احمد: ہاں جی۔
جناب یحییٰ بختیار: آگے خود Explain (واضح) ہو جاتا ہے۔
مرزا ناصر احمد: آگے خود Explain (واضح) ہو جاتا ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: ”......کیونکہ مجھے مسیح......“
1198 مرزا ناصر احمد: ”اوّل یہ کہ خدا تعالیٰ کو وحدہ، لاشریک (اپنے اصول بتائے ہیں) اوّل یہ (میرے جو اصول ہیں، میرے بڑے اصول پانچ ہیں) اوّل یہ کہ خدا تعالیٰ کو وحدہ لاشریک اور ہر ایک منقصت موت اور بیماری اور لاچاری اور درد اور دکھ اور دوسری نالائق صفات سے پاک سمجھنا۔ (اور یہ جو فقرہ جو ہے یہ بڑی کاری ضرب لگاتا ہے۔ عیسائی مذہب اور ان کے خیالات پر...... یہ میں اپنی طرف سے کہہ رہا ہوں) دوسرے یہ کہ خدا تعالیٰ کے سلسلۂ نبوت کا خاتم اور آخری شریعت لانے والا اور نجات کی حقیقی راہ بتلانے والا حضرت سیدنا و مولانا محمد مصطفےٰ ﷺ کو یقین رکھنا۔ تیسرے یہ کہ دین اسلام کی دعوت محض دلائل عقلیہ اور آسمانی نشانوں سے کرنا اور خیالات غازیانہ اور جہاد اور جنگ جوئی کو اس زمانے کے لئے قطعی طور پر حرام اور ممتنع اور ایسے خیالات کے پابند کو......“
سید عباس حسین گردیزی: ......متعلق اور یہ بہت ساری باتیں ہوتی جاتی ہیں جو موضوع سے باہر ہو کر بیان فرما رہے ہیں۔
Mr. Chairman: You may contact the Attorney- General as decided on the very first day.
(جناب چیئرمین: آپ جیسا کہ پہلے روز فیصلہ ہوا تھا، اٹارنی جنرل سے رابطہ کریں)
جناب یحییٰ بختیار: بیٹھ جائیے۔
مرزا ناصر احمد: میں شروع کردوں؟
جناب یحییٰ بختیار: کر دیجئے۔
مرزا ناصر احمد: ”......اور باغیانہ اور خیالات غازیانہ اور جہاد اور جنگ جوئی کو اس زمانے کے لئے قطعی طور پر حرام اور ممتنع سمجھنا...... چوتھے یہ کہ اس گورنمنٹ محسنہ 1199 کی نسبت جس کے ہم زیر سایہ ہیں یعنی گورنمنٹ انگلشیہ کوئی مفسدانہ خیالات دل میں نہ لانا۔ (مفسدانہ
٧٧
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
خیالات) اور خلوص دل سے اس کی اطاعت میں مشغول رہنا Law Abiding (امن پسند) پانچویں یہ کہ بنی نوع انسان سے ہمدردی کرنا اور حتی الوسع ہر ایک شخص کی دنیا اور آخرت کی بہبودی کے لئے کوشش کرتے رہنا اور امن اور صلح کاری کا مؤید ہونا اور نیک اخلاق کو دنیا میں پھیلانا۔‘‘
یہ پانچ اصول ہیں جن کی اس جماعت کو تعلیم دی جاتی ہے۔ چوتھے ...... میں نے چھوڑ دیا بیچ میں سے:
٤....... چوتھی گزارش یہ ہے کہ جس قدر لوگ میری جماعت میں داخل ہیں اکثر ان میں سے سرکار انگریزی کے معزز عہدوں پر ممتاز یا اس ملک کے نیک نام رئیس اور ان کے خدام اور احباب اور یا تاجر اور یا وکلاء یا نو تعلیم یافتہ انگریزی خوان اور یا ایسے نیک نام علماء اور فضلاء اور شرفاء ہیں جو کسی سرکار انگریزی کی نوکری کر چکے ہیں یا اب یا نوکری پر ہیں یا ان کے اقارب رشتہ دار اور دوست ہیں ......
٥....... میرا اس درخواست سے، جو بحضور کی خدمت میں مع اسماء مریدین روانہ کرتا ہوں، مدعا یہ ہے کہ اگرچہ میں ان خدمات خاصہ کے لحاظ سے جو میں نے اور میرے بزرگوں نے محض صدق دل اور اخلاص اور جوش وفاداری سے سرکار انگریزی کی خوشنودی کے لئے کی ہیں، عنایت خاص کا مستحق ہوں۔ لیکن یہ سب امور گورنمنٹ عالیہ کی توجہات پر چھوڑ کر بالفعل ضروری استغاثہ کہ مجھے متواتر اس بات کی خبر ملی ہے کہ بعض حاسد بداندیش جو بوجہ اختلاف عقیدہ یا کسی اور وجہ سے مجھ سے بغض اور عداوت رکھتے ہیں یا جو میرے دوستوں کے دشمن ہیں، میری نسبت 1200 اور میرے دوستوں کی نسبت خلاف واقعہ امور گورنمنٹ کے معزز حکام تک پہنچاتے ہیں۔ اس لئے اندیشہ ہے کہ ان کے ہر روز کی مفتریانہ کارروائیوں سے گورنمنٹ عالیہ کے دل میں بدگمانی پیدا ہو کہ وہ تمام جانفشانیاں پچاس سالہ میرے والد مرحوم...... اور میرے حقیقی بھائی ...... اور جن کا تذکرہ سرکاری چٹھیات ...... میں ہے۔ سب ضائع اور برباد نہ جائیں اور خدا ناخواستہ سرکار انگریزی اپنے ایک قدیم وفادار خیر خواہ خاندان کی نسبت کوئی تکدر خاطر اپنے دل میں پیدا کرے۔ اس بات کا علاج تو غیر ممکن ہے کہ ایسے لوگوں کا منہ بند کیا جائے کہ جو اختلافِ مذہبی کی وجہ سے یا نفسانی حسد اور بغض اور کسی ذاتی غرض کے سبب سے جھوٹی مخبری پر کمر بستہ ہو جاتے ہیں۔ صرف یہ التماس ہے کہ سرکار دولتمدار ایسے خاندان کی نسبت (جن کی گواہیاں ہیں پہلے مان رہی سرکار انگریزی ایسے خاندان کی نسبت )...... ایک وفادار جانثار خاندان ثابت کر چکی ہے۔ (جو چٹھیاں جو ہیں) (ایک جانثار خاندان ثابت کر چکی ہے) اور جس کی نسبت گورنمنٹ عالیہ کے معزز حکام نے ہمیشہ مستحکم رائے سے اپنی چٹھیات میں گواہی دی ہے کہ وہ قدیم سے سرکار انگریزی کے پکے
٧٨
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
خیر خواہ اور خدمت گزار ہیں......
......اس میں خود کاشتہ پودا خاندان کے متعلق کہا ہے۔ بڑا واضح ہے یہاں۔ اس خاندان کے اس حصہ کے متعلق جس کے لئے اپنے ایک الہام میں یہ کہا کہ تیرے آباؤ اجداد سے تیرا تعلق قطع کر دیا جائے گا اور تیرے سے شروع کیا جائے گا:
یہ یہ ”خود کاشتہ پودا“ بڑے واضح الفاظ ہیں یہ کہ صرف اپنے خاندان کے لئے کہا ہے۔ اپنے لئے یا جماعت کے لئے نہیں کہا گیا۔
1201......وہ قدیم سے سرکار انگریزی کے پکے خیر خواہ اور خدمت گزار ہیں۔ اس خود کاشتہ پودا کی نسبت نہایت حزم اور احتیاط اور تحقیق سے کام لے۔ لہٰذا ہمارا حق ہے کہ ہم (اگلا صفحہ) کہ ہم خدمات گزشتہ کے لحاظ سے سرکار دولت مدار کی پوری عنایات اور خصوصیت توجہ کی درخواست کریں (اور درخواست یہ ہے) کہ تا ہر ایک شخص بے وجہ (اتنی درخواست ہے سارے اشتہار میں) تا ہر ایک شخص بے وجہ ہماری آبروریزی کے لئے دلیری نہ کر سکے...... آگے وہ نام ہیں۔ اگلا میں اگلا...... تین ہیں ناں۔ یہ لے لیں۔ دوسرا......
جناب یحییٰ بختیار: میں اس پہ جی کچھ......
مرزا ناصر احمد: جی۔
(مرزا ناصر احمد کی بددیانتی)
جناب یحییٰ بختیار: ......پوچھتا ہوں کیونکہ ابھی تک وہ جو ہے ناں جی، آپ نے لفظ ”جماعت“ نہیں پڑھا: ”......(اس واسطے وہ) مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں۔ ہمارے خاندان نے سرکار انگریزی کے راہ میں اپنے خون بہانے اور جان دینے سے فرق نہیں کیا اور نہ اب فرق ہے۔ لہٰذا ہمارا حق ہے کہ ہم خدمات گذشتہ کے لحاظ سے سرکار دولت مدار کی پوری عنایات اور خصوصیات کی توجہ سے درخواست کریں تا کہ ہر ایک شخص بے وجہ ہمارے آبروریزی کے لئے دلیری نہ کر سکے۔ اب کسی قدر اپنی جماعت کے نام ذیل میں لکھتا ہوں......“
(خط بحضور گورنر ص ١٣، ملحقہ کتاب البریہ، خزائن ج ١٣ ص ٣٥٠)
ان ساروں کے نام بھی دے رہے ہیں۔
1202 مرزا ناصر احمد: جی، ”خصوصی عنایات“ سے مراد یہ ہے کہ ہماری کوئی بے عزتی نہ کرے۔
٧٩
1240 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ تو ٹھیک ہے......
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔
جناب یحییٰ بختیار: یعنی ”ہماری“ سے یہاں مطلب ان کے خاندان کی بھی ہو سکتی ہے اور یہ جماعت کی بھی، کیونکہ دونوں استعمال کر رہے ہیں......
مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں......
جناب یحییٰ بختیار: ......اور خاندان کی لسٹ نہیں دے رہے، جماعت کی لسٹ دے رہے ہیں۔
مرزا ناصر احمد: آپ نے صحیح فرمایا۔
جناب یحییٰ بختیار: میں، دیکھیں ناں اس واسطے......
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔ آپ نے صحیح فرمایا۔ لیکن جہاں ”خود کاشتہ“ لکھا، وہ صرف اپنے اس خاندان کے متعلق لکھا جس سے منقطع ہو چکے ہیں آپ۔
جناب یحییٰ بختیار: تو ٹھیک ہے جی۔ نہیں، میں اس واسطے......
مرزا ناصر احمد: لیکن یہاں، دیکھیں ناں، یہاں ”پوری عنایات اور خصوصیات سے توجہ کی درخواست“ اور درخواست یہ ہے کہ ”بے وجہ ہمارے آبروریزی کے لئے کوئی شخص دلیری نہ کرے۔“ اس سے زیادہ اور کچھ نہیں مانگا۔
جناب یحییٰ بختیار: میں تو یہی...... مرزا صاحب! مجھے تعجب اس بات کا تھا، جو میں صبح عرض کر رہا تھا، کہ آپ اس گورنمنٹ کو سُن گورنمنٹ کہتے ہیں کہ یہاں قانون ہے، انصاف ہے......
1203 مرزا ناصر احمد: (اپنے وفد کے ایک رکن سے) وہ کہاں ہے رسالہ؟
جناب یحییٰ بختیار: ......یہاں انصاف ہے، قانون ہے، اس کے بعد اتنی زیادہ ان کو بتانے کے لئے کہ ہمارے خاندان نے اتنی خدمت کی ہے، اس کے لئے خدا کے لئے ہماری آبرو کو بچایا جائے۔ یہ گورنمنٹ اس قابل تھی کہ اس کی تعریف کی جاتی کہ وہاں اتنی منتوں کے بعد، خوشامدوں کے بعد یہ کہا جائے کہ بھئی! ہمیں پروٹیکشن دیجئے؟
مرزا ناصر احمد: ہم...... ان کے علاوہ اور کچھ ہے ہی نہیں یہاں......
جناب یحییٰ بختیار: تو یہ تو اس گورنمنٹ...... وہ گورنمنٹ اس قابل نہیں کہ جس کی کہ اطاعت کرو۔ یہ تو ڈیوٹی تھی اس گورنمنٹ کی، فرض تھا گورنمنٹ کا کہ ہر ایک Citizen (شہری) کی......
٨٠
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
مرزا ناصر احمد : یہ تو حکومتیں اپنے فرضوں کو کبھی کبھی بھول بھی جایا کرتی ہیں۔ ہمیشہ ہی ......
جناب یحییٰ بختیار : نہیں، میں یہ کہہ رہا ہوں۔ ہمیں ان حالات کا اندازہ نہیں۔ ممکن ہے کہ وہ ایسے حالات سے گزر رہے ہیں اور کیا ہوا ہے۔ میں اس میں نہیں کہہ رہا کچھ ......
مرزا ناصر احمد : وہ تو اگر وہ اس وقت کوئی ہوں ناں تو بتائیں گے آپ کو کہ سکھ کس قدر مظالم ڈھایا کرتے تھے۔
جناب یحییٰ بختیار : ہاں جی، وہ تو ٹھیک ہے، میں ہسٹاریکل بیک گراؤنڈ میں سمجھ رہا ہوں۔ میں اس واسطے کہہ رہا ہوں کہ یہ چیزیں جن سے تعجب ہوتا ہے ......
مرزا ناصر احمد : صرف یہ مطالبہ کیا ہے کہ بے وجہ آبرو ریزی پر دلیری نہ دکھایا کریں، اور بے وجہ آبرو ریزی پر دلیری، جھوٹی مخبری ہے جو حکومت کو کی جا رہی تھی۔
1204 جناب یحییٰ بختیار : یہاں ایک ......
مرزا ناصر احمد : یہ اگر اجازت ہو تو میں ایک رسالہ بھی ......
جناب یحییٰ بختیار : ہاں جی، فائل کر دیجئے۔
مرزا ناصر احمد : ...... داخل کروانا چاہتا ہوں اس میں، اسی میں اور دوسروں کے حوالے بہت سارے ہیں۔
جناب یحییٰ بختیار : ٹھیک ہے، دے دو جی۔ یہ مرزا صاحب! یہ خزائن ج ١٣ ص ٣٤٠ پر ......
مرزا ناصر احمد : جی۔
جناب یحییٰ بختیار : اسی خط کے ص ٣٤٠ پر کتاب میں جو خط ہے ......
مرزا ناصر احمد : جی (اپنے وفد کے ایک رکن سے) نکال لیں۔
جناب یحییٰ بختیار : ...... کیونکہ آپ نے کچھ Portion (حصہ) پڑھا ہے تو میں آپ کی توجہ کچھ اور Portions (حصوں) کی طرف دلانا چاہتا ہوں ......
مرزا ناصر احمد : ہاں، ہاں۔
جناب یحییٰ بختیار : ”...... جن کی وجہ سے وہ نہایت بے وقوفی سے اپنی گورنمنٹ محسن کے ساتھ ایسے طور سے صاف دل اور سچے خیر خواہ نہیں ہو سکتے تھے جو صاف دلی اور خیر خواہی کی شرط ہے۔ بلکہ بعض جاہل ملاؤں کے ورغلانے کی وجہ سے شرائط اطاعت اور وفاداری کا پورا جوش نہیں رکھتے تھے ...... (شرائط اطاعت اور وفاداری کا پورا جوش نہیں رکھتے تھے)...... تو میں نے نہ کسی
81
ISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
جناب یحییٰ بختیار :
مرزا ناصر احمد : ہاں
جناب یحییٰ بختیار : ہے اور یہ جماعت کی بھی، کیونکہ دونو
مرزا ناصر احمد : بخیل
جناب یحییٰ بختیار : رہے ہیں۔
مرزا ناصر احمد : آپ
جناب یحییٰ بختیار :
مرزا ناصر احمد : ہاں صرف اپنے اس خاندان کے متعلق
جناب یحییٰ بختیار :
مرزا ناصر احمد : لیکر توجہ کی درخواست ”اور درخواست نہ کرے۔ “ اس سے زیادہ اور کچھ
جناب یحییٰ بختیار : عرض کر رہا تھا، کہ آپ اس گورنمنٹ
1203 مرزا ناصر احمد :
جناب یحییٰ بختیار : کو بتانے کے لئے کہ ہمارے خا آبرو کو بچایا جائے۔ یہ گورنمنٹ ا خوشامدوں کے بعد یہ کہا جائے کہ
مرزا ناصر احمد : ہم
جناب یحییٰ بختیار : کہ اطاعت کرو۔ یہ تو ڈیوٹی تھی (شہری) کی ......
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No. 09
بناوٹ اور ریاکاری سے بلکہ محض اس اعتقاد کی تحریک سے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے میرے دل میں بڑی زور سے بار بار اس بات کو مسلمانوں 1205 میں پھیلایا ہے کہ ان کو گورنمنٹ برطانیہ کی، جو در حقیقت ان کی محسن ہے، سچی اطاعت اختیار کرنی چاہئے“۔ مرزا صاحب ! میرا جو سوال تھا صبح ۔۔۔۔۔۔
مرزا ناصر احمد : جی۔
(مرزا قادیانی نے انگریز کی اطاعت کے لئے سب کچھ کیا)
جناب یحییٰ بختیار : ...... اس لئے میں نے کافی وقت لیا ہے اور پھر میں اس طرف آنا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا کہ یہ ایک اقتباس اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ جو بھی عیسائیوں نے اسلام پر حملے کئے اور آنحضرت ﷺ کی شان میں گستاخیاں، لیکن انہیں مرزا صاحب نے جواب جہاد کے جذبے میں یا ایمان کے جوش میں نہیں دیئے، بلکہ انگریز کی اطاعت اور ان کی گورنمنٹ کو برقرار رکھنے کے لئے، امن برقرار رکھنے کے لئے، وحشی مسلمانوں کا جوش ٹھنڈا کرنے کے لئے، اس لئے انہوں نے یہ سب کچھ کیا۔ یہ میرا سوال تھا۔
مرزا ناصر احمد : نہیں، اس میں بھی یہی لکھا ہوا ہے جو میں نے ابھی بتایا ناں، آپ یہ لکھتے ہیں، یہ اسی میں جہاں آپ نے پڑھا ہے ناں، اس سے چند سطریں پہلے: ”اور اس ارادہ اور قول کی اول وجہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ نے مجھے بصیرت بخشی اور اپنے پاس سے مجھے ہدایت فرمائی تاکہ میں ان وحشیانہ خیالات کو سخت نفرت اور بیزاری سے دیکھوں جو بعض نادان مسلمانوں کے دلوں میں مخفی تھے ......“
جناب یحییٰ بختیار : نہیں، جی ! ٹھیک ہے، وہ ......
مرزا ناصر احمد : ”...... اور جہاد کی جو اصل تعلیم ہے اسلام کے اندر اس کا پرچار کروں۔“
جناب یحییٰ بختیار : اسلام کی تعلیم یہ ہے۔ جہاد کی کہ انگریز کی اطاعت کرو، سچے دل سے کرو، محبت سے، انگریز کی کرو؟ یہ بار بار کہہ رہے ہیں۔
مرزا ناصر احمد : ہاں، اس زمانہ کے ......
1206 جناب یحییٰ بختیار : وہ ہٹا دو، کل ایک گراؤنڈ ہوگا اس کا۔
مرزا ناصر احمد : بات یہ ہے کہ ہم نے سکھوں کے مظالم نہیں سہے ......
جناب یحییٰ بختیار : نہیں، یہ درست فرما رہے ہیں آپ ......
مرزا ناصر احمد : ...... اس زمانہ کے لوگ، بڑے بڑے سمجھدار علماء چوٹی کے جو تھے
٨٢
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
ناں، جو اس تنور میں پڑ گئے یا بچ نکلے تھے، ان سب نے یک زبان ہو کر خدا تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ اس نے اس عذاب سے ہمیں نجات دلائی۔
(مخبر یا ماننے والوں کی اطاعت؟)
جناب یحییٰ بختیار : مرزا صاحب! آج جو یہ فرماتے ہیں میں اس کو Question (سوال) نہیں کرتا، مگر ان کے ذہن میں کوئی Dispute (تنازعہ) نہیں ہے، ڈائری بند کرائیں۔ اس میں کوئی Dispute (تنازعہ) نہیں ہے وہ انگریز کی حکومت اس کے بعد آئی۔ وہ انصاف پر مبنی حکومت تھی سکھوں کے مقابلے میں، اس میں Dispute (تنازعہ) نہیں ہے۔ سوال میرا صرف اتنا تھا کہ ایک جو مشنریوں کے خلاف کیا، کس جذبے سے کیا تاکہ یہ اچھی گورنمنٹ ہے، اس کو مضبوط کیا جائے، یہ جذبہ تھا، اس کی اطاعت کی جائے۔
دوسری بات کہ وہ مہدی ہیں۔ مہدی آتے ہیں۔ مہدی نے سور کو ختم کرنا، قتل کرنا ہے، صلیب کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا ہے، یہ انگریز، جو صلیب لے کر آیا اور سور کو پالنے والا آیا اور سور کو کھانے والا آیا۔ کہتے ہیں اس کی اطاعت کرو اور ایران تک، افغانستان تک، مصر تک ان ہی کا پروپیگنڈا کرتے رہے ہیں تو یہ کہتے ہیں یہ مہدی اور اس مہدی میں کتنا فرق ہے۔ یہ چیز میں لا رہا ہوں۔ آپ کے سامنے۔ یہ جو تھا ناں ......
مرزا ناصر احمد : ہاں، ہاں آپ، جو حوالہ دے سکتے ہیں ذرا، ہاں، رسالہ، یہ جو میں نے ابھی داخل کروایا تھا، اس میں نواب صدیق حسن خان صاحب نے ”مواعد العوائد“ میں ...... ہاں یہ حوالہ ہے ان کا ...... نہایت خوبی اور تحقیق سے بیان فرمایا ہے: 1207 ” اور جتنی اور کتابیں ہندوستان سے لے کر مصر اور استنبول تک اور پشاور سے لے کر تہران تک تقسیم ہوئیں ویسے ہی یہ کتاب بھی جابجا پہنچے گی۔“ یعنی یہی ہے، جہاد کی مخالفت اور انگریز کی اطاعت میں۔ اصل بات یہ ہے کہ جس وقت ہم زمانہ کے لحاظ سے اس Context (سیاق و سباق) سے جدا ہو جاتے ہیں تو ہمارے لئے مشکل ہو جاتا ہے۔ ان باتوں کا سمجھنا۔
(مرزا قادیانی عوامی نبی نہیں تھے، بلکہ بڑے بڑے لوگوں کو پسند کرتے تھے)
جناب یحییٰ بختیار : نہیں، وہ میں آپ سے Agree (اتفاق) کرتا ہوں۔ کیونکہ ...... (یہاں) میں نے ایک اور چیز نوٹ کی، میں نے توجہ نہیں دلائی ...... چونکہ مجھے کچھ عجیب معلوم ہوتا ہے کہ جب مرزا صاحب کہتے ہیں: ”چوتھی گزارش یہ ہے کہ جس قدر لوگ میری جماعت
٨٣
PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
بناوٹ اور ریا کاری سے بلکہ محض اس احتیاج پڑی زور سے بار بار اس بات کو مسلمانو در حقیقت ان کی محسن ہے، سچی اطاعت
مرزا ناصر احمد : جی۔
(مرزا قادیانی نے انگریز
جناب یحییٰ بختیار : ....... ا طرف آنا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا کہ یہ اسلام پر حملے کئے اور آنحضرت ﷺ کی جہاد کے جذبے میں یا ایمانی جوش میں برقرار رکھنے کے لئے، امن برقرار رکھنے کے اس لئے انہوں نے یہ سب کچھ کیا ۔ یہ مرزا
مرزا ناصر احمد : نہیں، اس م
یہ لکھتے ہیں، یہ اسی میں جہاں آپ نے پڑ اور قتل کی اوّل وجہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ نے تاکہ میں ان وحشیانہ خیالات کو سخت لٹریچ دلوں میں مخفی تھے ......“
جناب یحییٰ بختیار : نہیں جی
مرزا ناصر احمد : ”....... اور جہ
جناب یحییٰ بختیار : اسلام سے کرو، محبت سے، مگر یہ کہیں کہ جہا
مرزا ناصر احمد : ہاں، اس و
1206
جناب یحییٰ بختیار : وہ
مرزا ناصر احمد : بات یہ ہے
جناب یحییٰ بختیار : نہیں
مرزا ناصر احمد : ...... اس پ
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
میں داخل ہیں اکثر ان میں سے سرکار انگریزی کے معزز عہدے پر ممتاز اور اس ملک کے نیک نام، رئیس اور ان کے خدام اور احباب اور یا تاجر اور وکلاء اور یا نو تعلیم یافتہ انگریزی خوان اور یا ایسے نیک نام علماء اور فضلاء ہیں......"
(خطبہ محضرہ گورنمنٹ صفحہ ١٦ ملحقہ کتاب البریہ خزائن ج ١٣ ص ٣٤٨، ٣٤٩)
مطلب یہ ہے کہ یہ عوامی نبی نہیں تھے بڑے بڑے آدمیوں کو ہی پسند کرتے تھے کہ ان کے ساتھ ہوں۔ یہ تاثر پڑتا ہے اور آج کل تو ہر ایک کہتا ہے کہ میرے ساتھ غریب ہو۔ میرے ساتھ...... میرے ساتھ...... میں ان کا نبی ہوں۔ یہ کہتے ہیں کہ ”میں تو بڑے بڑے آدمیوں کا نبی ہوں ۔“
مرزا ناصر احمد : یہ بڑے بڑے آدمیوں کی تعداد کتنی ہے اس میں؟ جناب یحییٰ بختیار : تین سو، چار سو کے قریب دی ہے اس میں ۔ مرزا ناصر احمد : ہاں، ہاں اور کئی ہزار ہیں۔...... 1298 جناب یحییٰ بختیار : اور پھر انہوں نے Ignore (نظر انداز) کر دیا۔ ...They are not worthy... (اس لائق نہیں) مرزا ناصر احمد : نہیں، نہیں، کئی ہزار آدمیوں میں ان کا انتخاب کیا گیا جن کا ذکر حکومت کو متوجہ کر سکتا تھا۔ یہ نہیں کہ اپنا کوئی اس میں تھا...... جناب یحییٰ بختیار : ہاں، یہ ہو سکتا ہے...... مرزا ناصر احمد : یہ نہیں کہ اپنا کوئی اس میں سے...... جناب یحییٰ بختیار : ......زمانے میں...... مرزا ناصر احمد : ہاں، ہاں۔ جناب یحییٰ بختیار : ابھی وہ جو مرزا صاحب! آپ نے...... مرزا ناصر احمد : یہ ابھی ایک رہتا ہے بلکہ تین آپ نے پڑھے تھے ناں۔ جناب یحییٰ بختیار : اسی ضمن میں؟ مرزا ناصر احمد : نہیں، وہ تو ختم ہو گیا ناں۔ اس، اسی میں آپ نے تین پیرے پڑھے تھے صبح۔ اگر کہیں تو میں چھوڑ دیتا ہوں۔ جناب یحییٰ بختیار : نہیں، یہ تو آچکا ہے جی کافی۔ میں تو چاہتا تھا کہ وہ جو آپ نے کوئی جواب تیار کیا تھا۔ وقت کم ہو گیا ، اسپیکر صاحب مجھے کہہ رہے ہیں کہ وہ Important (اہم) چیز ہے۔ وہ جتنا آپ مختصر کرسکیں ۔
٨٤
1245 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN . 22nd Aug, 1974 No:09
مرزا ناصر احمد: جی ٹھیک ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: وہ چونکہ Important (اہم) ہے، وہ Separatism (علیحدگی) پر آپ نے کہا تھا کہ کچھ فرمائیں گے۔
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔ تاریخ احمدیت، ہماری جو زندگی ہے، اس پر یہ ایک طائرانہ نظر ہے، کوئی، کوئی چند باتیں کی گئی ہیں، شروع کیا ہے میں نے اسے ١٨٨٠ء، 1209 ١٨٨٤ء جو ”براہین احمدیہ“ کی تصنیف کا زمانہ ہے۔ مسلمانوں میں وحدت کے قیام کی ایک تحریک اس زمانے میں آپ نے کی۔ ”مسلمانوں میں وحدت کا قیام۔“ یہ میں ذرا عنوان پڑھ دیتا ہوں تا کہ اس سے وہ......
جناب یحییٰ بختیار: آپ Brief کردیں۔ باقی فائل کر دیں آپ۔
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں نہیں، میں وہ پہلے عنوان پڑھ دوں گا، پھر ایک ایک حوالہ دیتا چلا جاؤں گا، Brief کروں گا۔
”فوجی ملیٹری کی تائید : ١٨٨٢ء، ١٨٨٤ء کے درمیان۔
جنگ مقدس ١٨٨٩ء ، جس کے اوپر بعض دفعہ اعتراض بھی ہو جاتا ہے، اس کی جو بیک گراؤنڈ ہے وہ بڑی دلچسپ ہے اور وہ بتاتی ہے کہ کس طرح ایک جان ہو کر دوسروں کے ساتھ جب اسلام کے دفاع اور اسلام کی حفاظت کا سوال ہوتا تھا، آپ اور آپ کی جماعت کھڑی ہوتی تھی۔ یہ ٩٣ء میں ١٨٩٣ء میں پنڈت لیکھرام جو احمدیوں پر حملہ آور ہوا تھا، بلکہ وہ بڑا ایسا دماغ تھا اس کا، کہ وہ نبی اکرمﷺ پر حملہ آور ہوا تھا، ناموسِ مصطفیٰ کے دفاع اور مذہبی منافرت کے متعلق، تحریک۔ ١٨٩٥ء، ١٨٩٦ء میں یہ سوال اٹھا تھا کہ جمعہ کے وقت جو ان مسلمانوں کو جو حکومت کے دفاتر میں کام کرتے ہیں، اس لئے ان کو جمعہ کی تعطیل دی جائے یا جمعہ کے لئے ان کو رخصت دی جائے۔ یہ ١٨٩٦ء میں پڑا تھا۔ یہ آپ نے تحریک کی اور ساروں کے ساتھ مل کے یہ کوشش کی گئی۔
١٨٩٦ء میں ہی ایک غیر مسلم تنظیم کی طرف سے جلسہ مذاہب کا انعقاد کیا گیا اور اس میں جو مسلمانوں کی طرف سے ایک کامیاب پہلو ہے، وہ اس وقت آیا، میں اس کا صرف پس منظر بتاؤں گا۔
١٨٩٧ء میں، پادری عمادالدین بشپ لیفراۓ، عمادالدین بشپ لیفراۓ، جو شخص ہے، وہ بھی اس طرح حملہ
٨٥
K OF PAKISTAN . 22nd Aug, 1974 No:09
میں داخل ہیں، اکثر ان میں سے سرکارِ انگریزی کی رعیت اور ان کے خدام اور احباب اور یا، باوفا تابعداروں نام علماء اور فضلاء ہیں.......“ (خطبہ الہامیہ ص
مطلب یہ ہے کہ جو اس نبی کی یعنی کہ ان کے ساتھ ہوں۔ یہ تاثر پڑتا ہے اور آج کل کے میرے ساتھ...... میرے ساتھ...... میں ان عام آدمیوں کا نبی ہوں۔“
مرزا ناصر احمد: یہ بڑے پرانے.......
جناب یحییٰ بختیار: تین سو چار سو.......
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں اور بھی.......
جناب یحییٰ بختیار: اور پھر وہ They are not worthy... 1208 (اس لائق نہیں)
مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، ان کے حکومت کو متوجہ کر سکتا تھا، یہ نہیں کہنا، کوئی اس قسم کی......
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، یہ دوسرا.......
مرزا ناصر احمد: یہ نہیں کہنا، کوئی......
جناب یحییٰ بختیار: ......زمانے.......
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔
جناب یحییٰ بختیار: ابھی وہ جو میں.......
مرزا ناصر احمد: یہ بالکل ایک.......
جناب یحییٰ بختیار: اس میں جو.......
مرزا ناصر احمد: نہیں، یہ، جو ہم نے....... جمع، اگر کہیں تو میں پوری عبارت.......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں نے....... کوئی جواب تیار کیا تھا، وقت کم ہو گیا، اس لئے جو (اہم) چیز ہے۔ وہ بتانا آپ شروع کر دیں۔
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
آور ہوا، اور نہایت گندہ ذہن تھا۔ اس سے آپ نے تمام مسلمانوں کی طرف سے مقابلہ کیا اور اس کو یہاں سے بھاگنا پڑا۔
پھر ہم آتے ہیں ١٩٠٢ء میں۔ یہ ڈاکٹر جان الیگزینڈر ڈوئی امریکہ کا رہنے والا تھا۔ اپنے آپ کو خدا کا رسول کہتا تھا۔...... خداوند یسوع مسیح کا رسول، خدا کا نہیں۔ مجھ سے غلطی ہوئی۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، جو وہ تو کہتے ہیں مر گیا تھا، وہ میں نے پوچھا...... مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، وہ پیش گوئی جو ہے، یہ ١٩٠٢ء کی ہے اور اس نے یہ کہا تھا کہ ”میں دنیا سے اسلام کو مٹا دوں گا ۔“ یہ اعلان کیا تھا اس نے اور اس کے مقابلے میں آپ کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے علم پا کر یہ پیش گوئی کی اور اللہ تعالیٰ نے، جو اسلام کو مٹانا چاہتا تھا اس کو ذلیل کر کے دنیا سے نیست و نابود کر دیا۔
١٩٠٦ء میں جماعت کی طرف سے مسلم پریس ایسوسی ایشن کے قیام کی تحریک کی گئی، مسلم پریس ایسوسی ایشن۔
١٩١١ء میں احمدیہ پریس کی طرف سے ١٩١١ء میں مسلم لیگ کی تائید کی گئی۔ جناب یحییٰ بختیار: ١٩٠٦ء میں مخالفت کی گئی۔ مرزا ناصر احمد: ١٩١١ء میں احمدیہ پریس کی طرف سے مسلم لیگ کی تائید کی گئی۔ جناب یحییٰ بختیار: اور ١٩٠٦ء میں مجھے...... وہ آپ ایک Step (مرحلہ) بیچ میں رہ گئے ہیں، وہ جو کھوکھلے صاحب آتے ہیں ان کو نکالنے کے لئے...... مرزا ناصر احمد: وہ جو کچھ دیکھ لیتا ہوں، میرے ذہن میں نہیں تھا۔ جناب یحییٰ بختیار: انہوں نے مخالفت کی۔ مرزا ناصر احمد: اس وقت، دیکھ لیتے ہیں وہ، ٹھیک ہے۔ ١٩١١ء میں۔ وہ تو میں دیکھ لیتا ہوں۔ میرے اوپر اعتراض جس کی مرضی ہے کرے، لیکن میرے ذہن میں نہیں 1211 تھی وہ بات۔ لیکن چیک ہونے والی ہے۔ یہ، کہیں آپ کو نیا Version (ترجمہ شدہ) ملی ہے اس کی۔ ١٩١٠ء میں مدرسہ الٰہیات کے لئے اور کانپور میں اس وقت مسلمانوں نے ایک مدرسہ کھولا، اس کے لئے کوشش کی گئی۔
١٩١٨ء میں مسلمانان ہند بڑے پیمانے پر کروڑوں چراغ جلا کر جشن فتح منا رہے تھے۔ ان کی خوشی میں جماعت احمدیہ شریک ہوئی۔
٨٦
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
Mr. Chairman: We break for Maghrib to re-assemble at 7:30.
The Delegation is permitted to withdraw till 7:30 pm.
(جناب چیئرمین: مغرب کی نماز کے لئے ساڑھے سات بجے شام تک التوا دیا جاتا ہے۔ وفد کو ساڑھے سات بجے تک جانے کی اجازت ہے)
مرزا ناصر احمد : ہاں، ٹھیک ہے۔
Mr. Chairman: The honourable members may keep sitting.
(جناب چیئرمین: معزز اراکین تشریف رکھیں)
(The Delegation left the Chamber)
(وفد ہال سے باہر چلا گیا)
Mr. Chairman: The honourable members may keep sitting. Yes, the honourable members may keep sitting.
(جناب چیئرمین: معزز اراکین تشریف رکھیں جی، معزز اراکین تشریف رکھیں)
ایک رکن: سر! یہ آپ نے فیصلہ کرنا......
جناب چیئرمین: آپ تشریف رکھیں۔ مولانا! یہ اپنی باتیں ہیں، آپس میں کرنے میں، ایک اصول طے ہو چکا ہے۔
STATEMENT RE: TARBELA MISHAP
(بیان بابت سانحہ تربیلا)
Mr. Chairman: Yes, the Law Minister.
(جناب چیئرمین: جی ، وزیر قانون صاحب)
Mr. Abdul Hafeez Pirzada: Sir, what I have to submit has nothing to do with the issue.
(جناب عبدالحفیظ پیرزادہ: جناب والا! میں نے جو گزارش کرنا ہے اس کا زیر بحث موضوع سے کوئی تعلق نہیں)
٨٧
KISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
آور ہوا، اور نہایت گندہ ذہن تھا۔ اس کو یہاں سے بھاگنا پڑا۔
پھر ہم آتے ہیں ١٩٠٢ء مـ اپنے آپ کو خدا کا رسول کہتا تھا۔... خدا
جناب یحییٰ بختیار : نہیں
مرزا ناصر احمد : ہاں، ہاں کہ "میں دنیا سے اسلام کو مٹا دوں گا کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے علم ہا اس کو ذلیل کر کے دنیا سے نیست و نابود
١٩١٠ء میں جماعت کی طر مسلم پریس ایسوسی ایشن .....
١٩١١ء میں احمدیہ پریس کی ط
جناب یحییٰ بختیار : ٩۔١
مرزا ناصر احمد : ١٩١١ء میں
جناب یحییٰ بختیار : اس گئے ہیں، وہ جو ظفر صاحب آئے ہیں
مرزا ناصر احمد : وہ میں د
جناب یحییٰ بختیار : اچھا
مرزا ناصر احمد : ان سالو لیتا ہوں ۔ میرے اوپر اعتراض نہیں ک بات ۔ لیکن چیک ہونے والی ہے ۔ کی ۔ ١٩١٠ء میں مدرسہ الٰہیات کے ن کے لئے کوشش کی گئی۔
١٩١٨ء میں مسلمان ہند پر ان کی خوشی میں جماعت احمدیہ شریک ہ
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974. No:09
Mr. Chairman: Yes. (جناب چیئرمین: جی ہاں)
Mr. Abdul Hafeez Pirzada: It is a matter of public importance and the Prime Minister has directed me to bring it to the notice of the National Assembly of Pakistan as to what has happened at Tarbela. But, since the National Assembly is not in session and there will be a lot of speculations, I would suggest, I would request that permission may be given to me to say something. And this may be reported as part of the proceedings of the Assembly.
(جناب عبدالحفیظ پیرزادہ: لیکن معاملہ کی اہمیت کے پیش نظر مجھے وزیر اعظم نے ہدایت کی ہے کہ جو کچھ تربیلا میں واقعہ پیش آیا ہے وہ میں قومی اسمبلی کے نوٹس میں لاؤں۔ چونکہ قومی اسمبلی کا اجلاس نہیں ہورہا اور کئی طرح کی قیاس آرائیوں کا امکان ہے اس لئے میری تجویز ہے کہ مجھے کچھ کہنے کی اجازت دی جائے اور اسے قومی اسمبلی کی کاروائی کے طور پر رپورٹ کیا جائے)
Mr. Chairman: You have to say it today?
(جناب چیئرمین: کیا آپ آج ہی بتانا چاہتے ہیں؟)
Mr. Abdul Hafeez Pirzada: Sir, it is a matter of great importance.
(جناب عبدالحفیظ پیرزادہ: یہ نہایت ہی اہم معاملہ ہے)
Mr. Chairman: If today, then, after Maghrib, we will hold-----
(جناب چیئرمین: اگر آج ضروری ہے تو مغرب کی نماز کے بعد اجلاس کرلیں گے)
Mr. Abdul Hafeez Pirzada: If you permit....
(جناب عبدالحفیظ پیرزادہ: اگر آپ اجازت دیں.......)
Prof. Ghafoor Ahmad: Many members. We can meet as Assembly.
(پروفیسر غفور احمد: ہم بطور اسمبلی اجلاس کر سکتے ہیں)
٨٨
1249 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
Mr. Chairman: If it is of that importance, we will, after Maghrib, convert it into National Assembly.
(جناب چیئرمین: اگر اتنا ہی اہم معاملہ ہے تو پھر مغرب کی نماز کے بعد اسے قومی اسمبلی کے اجلاس میں تبدیل کرلیں گے۔)
Mr. Abdul Hafeez Pirzada: Because already I have said something at Tarbela.
(جناب عبدالحفیظ پیرزادہ: کیونکہ میں پہلے ہی آج تربیلا میں کچھ بتا چکا ہوں)
Mr. Chairman: There would not be any Reporter or any Gallaries; but whatever you say, we will send it to the Press.
(جناب چیئرمین: گیلری میں کوئی رپورٹر نہیں ہوگا، ہم پریس کو بیان جاری کر دیں گے)
Mr. Abdul Hafeez Pirzada: Whatever we say, it shall be reported because....
Mr. Chairman: Any honourable member has any objection? (جناب چیئرمین: کسی رکن کو کوئی اعتراض ہے؟)
Members: No objection.
(اراکین: کوئی اعتراض نہیں)
Mr. Chairman: So, after 7:30, we will meet as National Assembly. I request the members to be present. And we call the Delegation after that.
(جناب چیئرمین: ساڑھے سات بجے کے بعد ہم بطور نیشنل اسمبلی اجلاس کریں گے۔ میں اراکین کے حاضر ہونے کی درخواست کرتا ہوں اور اس کے بعد ہم وفد کو بلا لیں گے)
Mr. Abdul Hafeez Pirzada: Alright, Sir.
(جناب عبدالحفیظ پیرزادہ: ٹھیک ہے، جناب والا!)
1213 Mr. Chairman: They may be informed that they will be called at 8:00 pm.
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
(جناب چیئرمین: انہیں مطلع کر دیں کہ انہیں ٨ بجے بلایا جائے گا)
Mr. Abdul Hafeez Pirzada: All right.
(جناب عبدالحفیظ پیرزادہ: ٹھیک ہے)
Mr. Chairman: Yes. Otherwise, tomorrow morning, Mr. Law Minister, tomorrow morning, Senate is meeting; we are not meeting tomorrow morning.
(جناب چیئرمین: جی ہاں! بصورت دیگر کل صبح وزیر قانون صاحب کل صبح سینٹ کا اجلاس ہورہا ہے۔ ہمارا کل کوئی اجلاس نہیں ہے)
Mr. Abdul Hafeez Pirzada: Yes, Sir, because this is....
(جناب عبدالحفیظ پیرزادہ: جی ہاں! جناب والا کیونکہ یہ .....)
Mr. Chairman: We will convert it. Yes, it is alright.
(جناب چیئرمین: ہم اس کو تبدیل کر لیں گے ، جی ٹھیک ہے)
Mr. Abdul Hafeez Pirzada: Sir, therefore, I have to inform the House.
(جناب عبدالحفیظ پیرزادہ: جناب والا! میں نے ایوان کو مطلع کرنا ہے)
Mr. Chairman: So, the House is adjourned to meet at 7:30 sharp.
(جناب چیئرمین: تو ایوان کا اجلاس ساڑھے سات بجے تک ملتوی کیا جاتا ہے)
Thank you very much.
(آپ کا بہت بہت شکریہ)
[The Special Committee adjourned for Maghrib Prayers to meet at 7:30 pm. as National Assembly and at 8:00 pm. as Special Committee of the whole House.]
(خصوصی کمیٹی کا اجلاس مغرب کی نماز کے لئے ملتوی کیا جاتا ہے۔ ٧:٣٠ بجے دوبارہ ہوگا، بطور نیشنل اسمبلی کے اور ٨ بجے پورے ایوان پر مشتمل خصوصی کمیٹی کا اجلاس ہوگا)
٩٠
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
[The Special Committee re-assembled for National Assembly meeting, Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali) in the Chair.]
(خصوصی کمیٹی کا اجلاس دوبارہ ہوا۔ نیشنل اسمبلی کے اجلاس کے بعد۔ چیئرمین (صاحبزادہ فاروق علی) کی صدارت میں)
Mr. Chairman: Proceedings of the Committee of the whole House. Mr. Attorney-General, honourable members, and Maulana Mufti Mahmood, now the private discussion should be stopped and we will proceed.
(جناب چیئرمین: پورے ایوان پر مشتمل کمیٹی کی کاروائی شروع کر رہے ہیں۔ اٹارنی جنرل صاحب! معزز اراکین اور مولانا مفتی محمود صاحب! اب غیر متعلقہ گفتگو کو بند کریں اور ہم کاروائی شروع کریں)
بلالیں جی! بلا لیں ان کو، ڈیلی گیشن کو بلا لیں۔ وہ آجائیں جی۔
1214
(The Delegation entered the Chamber)
(وفد ہال میں داخل ہوا)
Mr. Chairman: Yes, Mr. Attorney-General.
(جناب چیئرمین: جی اٹارنی جنرل صاحب!)
I will request to the honourable members to be attentive, I request the honourable members.
(میں درخواست کرتا ہوں کہ معزز اراکین توجہ فرمائیں! میں معزز اراکین سے درخواست کرتا ہوں)
Yes, Mr. Attorney-General. (جی اٹارنی جنرل صاحب!)
٩١
STAN 22nd Aug, 1974 No:09
(جناب چیئرمین:)
All right.
(جناب عبدالحفیظ پ
herwise, tomorrow
w morning, Senate is
morning.
(جناب چیئرمین:)
کا اجلاس ہو رہا ہے۔ ہمارا کل کوئی
a: Yes, Sir, because
(جناب عبدالحفیظ پ
convert it. Yes, it is
(جناب چیئرمین:)
Sir, therefore, I have
(جناب عبدالحفیظ پ
ouse is adjourned to
(جناب چیئرمین:)
(آپ کا بہت بہت شکریہ)
ourned for Maghrib
onal Assembly and at
whole House.]
(خصوصی کمیٹی کا اجلاس
ہوگا۔ بطور نیشنل اسمبلی کے اور بائیے
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
CROSS-EXAMINATION OF THE QADIANI
GROUP DELEGATION
(قادیانی وفد پر جرح)
Mr. Yahya Bakhtiar: Mirza Sahib, you will continue to reply to that question?
(جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! اسی سوال کا جواب جاری رکھیں گے)
مرزا ناصر احمد: جی ہاں، میں ابھی شروع کر رہا ہوں۔
جناب یحییٰ بختیار: جو آپ پہلے سنا رہے تھے۔
مرزا ناصر احمد: اور ایک فقرہ پہلے کہوں گا۔ میں آپ کا بڑا ممنون ہوں کہ ایک عظیم Landmark رہ گیا تھا، وہ آپ نے مجھے یاد کروا دیا..... ١٩٠٦ء والا۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ تو مرزا صاحب میری ڈیوٹی ہے۔
مرزا ناصر احمد: ہاں، یہ میں نے نوٹ کر لیا ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: وہ میں نے پڑھا اس پر۔
مرزا ناصر احمد: جی شکریہ!
- ١٥...... عالمگیر تبلیغ اسلام کے قیام کا مشورہ، ١٩٢٠ء
- ترکی اور حجاز کے حقوق کی حفاظت ١٩٢٢ء۔
- تحریک شدھی اور مجاہدین احمدیت کے کارنامے، ١٩٢٣ء۔
- خدمات ملک شام کی تحریک آزادی اور جماعت احمدیہ ١٩٢٥ء۔
- 'رنگیلا رسول' اور ورتمان کا فتنہ اور اس کے تدارک کے لئے جہاد ١٩٢٧ء۔
- 1215 سیرۃ النبی ﷺ کے جلسوں کی تحریک اور ابتداء ١٩٢٨ء۔
- مسلمانوں کے حقوق اور نہرو رپورٹ ١٩٢٨ء۔
- سائمن کمیشن رپورٹ پر تبصرہ اور ہندوستان کے سیاسی مسئلہ کا حل ١٩٣٠ء۔
- قضیہ فلسطین اور جماعت احمدیہ کی مساعی ٤٨-١٩٣٨ء۔
- آزادی ہند اور قیام پاکستان کے لئے جماعت احمدیہ کی مساعی ٤٧-١٩٣٥ء۔
- آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی تحریک آزادی اور جماعت احمدیہ ١٩٣١ء۔
- قیام پاکستان کے روشن مستقبل کے لئے امام جماعت احمدیہ کے لائحہ عمل ١٩٤٧ء۔
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
فرمان سٹالین ١٩٢٨ء۔ چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کی اسلامی خدمات ١٩٤٧ء اور ١٩٥٢ء۔ یہ عنوان ہیں۔ یہ ایک طائرانہ نظر جو ہوتی ہے کہ کس طرح ہر نازک موقع پر جماعت احمدیہ کے افراد اور دوسرے جو تھے مختلف فرقوں کے افراد انہوں نے ایک جان ہو کر اسلام کی، اسلام کے جو مسائل تھے ان کو حل کرنے کی کوشش کی۔ میں...... ایک وہ کشمیر کا مسئلہ یہاں لکھنے سے رہ گیا ہے۔ ویسے وہ نوٹ تیار ہیں۔ جو کشمیر کی تحریک کشمیر جو ہے وہ ١٩٣١۔٣٣ء کی ہے۔ وہ بھی ایک مسلمان کے خلاف ایک عظیم ظالمانہ رویہ کے خلاف جہاد تھا اور اس میں سب کے ساتھ مل کر جماعت احمدیہ نے بھی ایسا کام کیا جو سب کی نظر میں پسندیدہ تھا اس وقت، اور وہ حوالے یہاں موجود ہیں۔
"براہین احمدیہ"...... "براہین احمدیہ" بانی سلسلہ احمدیہ نے اس وقت لکھی جب ابھی مہدی اور مسیح ہونے کا دعویٰ نہیں کیا تھا، جس کے چار حصے ہیں۔ ١٨٨٠-٨٤ء میں یہ شائع ہوئی۔ اس پر صرف ایک اقتباس میں پڑھوں گا۔ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی، ایڈوکیٹ اہل حدیث، نے "براہین احمدیہ" کے متعلق لکھا: 1216 "ہماری رائے میں یہ کتاب اس زمانہ میں اور موجودہ حالت کی نظر سے ایسی کتاب ہے جس کی نظیر آج تک اسلام میں تالیف نہیں ہوئی اور آئندہ کی خبر نہیں اور اس کا مؤلف بھی اسلام کی مالی و جانی و قلمی و لسانی، حالی و قالی نصرت میں ایسا ثابت قدم نکلا ہے جس کی نظیر پہلے مسلمانوں میں بہت ہی کم پائی گئی ہے۔ ہمارے ان الفاظ کو کوئی ایشیائی مبالغہ سمجھے تو ہم کو کم سے کم کوئی ایک ایسی کتاب بتاوے جس میں جملہ فرقہ ہائے مخالفین اسلام خصوصاً فرقہ آریہ و برہمو سماج سے اس زور شور سے مقابلہ پایا جاتا ہے، یا اور دو چار ایسے اشخاص انصارِ اسلام کی نشاندہی کرے۔ جنہوں نے اسلام کی نصرت مالی و جانی و قلمی و لسانی کے علاوہ حالی نصرت کا بیڑہ اٹھا لیا ہو اور مخالفینِ اسلام اور منکرینِ الہام کے مقابلہ میں مردانہ تحدی کے ساتھ دعویٰ کیا ہو کہ جس کو وجود الہام کا شک ہو وہ ہمارے پاس آ کر تجربہ مشاہدہ کرلے اور اس تجربہ مشاہدہ کا اقوامِ غیر کو مزہ بھی چکھا دیا گیا ہو۔"
(رسالہ اشاعۃ السنہ ج ٧ نمبر ٦ اور ١١)
یہ اس کے بعد اور دو تین ہی حوالے ہم نے لئے تھے۔ لیکن میں نہیں پڑھوں گا وہ، چونکہ وقت نہیں رہا۔ ایک ہی حوالہ صرف یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ بعد میں مولوی صاحب، مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی علیحدہ ہو گئے، دوستی مٹ گئی اور مخالف ہو گئے۔ لیکن اپنی ساری زندگی میں، جہاں تک ٩٣
PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09 OF THE QADIANI GATION (قادیانی) Mirza Sahib, you will
(جناب یحییٰ بختیار: مرزا مرزا ناصر احمد: جی ہاں، میں جناب یحییٰ بختیار: جو کہ مرزا ناصر احمد: اور ایک Landmark رہ گیا تھا، وہ آپ نے جناب یحییٰ بختیار: نہیں مرزا ناصر احمد: ہاں، یہ میں جناب یحییٰ بختیار: وہ میں مرزا ناصر احمد: جی شکریہ! 1215......عالمگیر بیداریِ اسلامیہ ترکی اور حجاز کے حقوق کی حفا تحریک شدھی اور مجاہدین اسلا خدمات ملک شام کی تحریک "رنگیلا رسول" اور رسواِ قادیان 1215......یہ تو اتنی بڑی ہے مسلمانوں کے حقوق اور سائمن کمیشن رپورٹ پر تبص فلسطین اور آزادی ہند اور قیامِ پاکستا پر اثر ڈالا گیا تحریکِ کے لئے امام جماعت احمدیہ
1254 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
مجھے یاد ہے اور میں دوستوں سے مشورہ کرلوں، مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے اپنے اس بیان کی تردید نہیں کی کہ یہ کتاب واقعی ایسی ہے (اپنے وفد کے اراکین سے ) کیا ہے بھئی؟ اٹارنی جنرل سے نہیں، کبھی تردید نہیں کی۔ یہ لیجیے جی۔ میں بالکل ایک ہی حوالہ پڑھ کے، تاکہ وقت نہ ضائع ہو ......
1217
جناب یحییٰ بختیار: فائل کرنے کے لئے ہیں ناں جی؟
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔ یہ میں نے وہی کہا ناں، صرف ورقے الٹنے کی اجازت دے دیں۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، نہیں وہ صرف آپ Gist (خلاصہ) سنادیجئے۔ Gist اس پر ......
مرزا ناصر احمد: بالکل، ایک ایک حوالہ کر دیتے ہیں ہم اس پر۔ دوسرے مسلمانوں میں وحدت کا قیام : ”خدا تعالیٰ چاہتا ہے ......“
یہ بانی سلسلہ کے الفاظ ہیں: ”خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ان تمام روحوں کو جو زمین کی متفرق آبادیوں میں آباد ہیں، کیا یورپ اور کیا ایشیاء، ان سب کو جو نیک فطرت رکھتے ہیں توحید کی طرف کھینچے اور اپنے بندوں کو دین واحد پر جمع کرے۔“
اس کے اوپر، یہ تو دعویٰ تھا ناں، جو اس کے حق میں ایک چھوٹا سا تین سطروں کا حوالہ یہ ہے، یہ مولانا ظفر علی خان صاحب ایڈیٹر ”زمیندار“ ہیں۔ ایک وقت میں ”زمیندار“ بند ہو گیا تھا تو انہوں نے ”ستارہ صبح“ کے نام سے اخبار ”زمیندار“ کی بجائے نکالا تھا۔ ٨؍دسمبر ١٩١٦ء میں ......
یہ ویسے بحوالہ ”فائل کاپی“ مارچ ١٩٣٧ء ہے۔ ...... اخبار کا حوالہ ٨؍دسمبر ١٩١٦ء ہے: ”جناب مرزا غلام احمد صاحب قادیانی، کی زندگی کا ایک بڑا مقصد آپ کے متعدد دعاوی کے لحاظ سے جو احاطہ تحریر میں آچکے ہیں مسلمانوں میں وحدت قائم کرنا تھا۔“
باقی میں حوالے چھوڑ رہا ہوں۔
1218
یہ ایک اور عنوان کے ماتحت وہی ایک ١٩٠٦ء آگیا تھا۔ وہ ہماری غلطی تھی۔
تیسرے نمبر پر آیا ہوا ہے ......
جناب یحییٰ بختیار: ایک فقرہ تو آپ نے پڑھ دیا تھا۔
مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، وہ تو ...... یہ میں یہاں سے نکال کے تو دوسری جگہ ملا دیں گے۔
٩٤
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
١٨٩٣ء میں یہ ایک عجیب واقعہ ہوا اور وہ یہ کہ جنڈیالہ ضلع امرتسر میں عیسائیوں کا ایک مشنر تھا اور کافی بڑا، بہت کام کرنے والا تھا۔ ان کے وہاں کے مقامی مسلمانوں کے ساتھ ...... احمدی نہیں ہیں وہ ...... ان کے ساتھ ہر وقت بحث رہتی تھی۔ آخر ایک دفعہ عیسائیوں کی طرف سے وہاں کے مقامی مسلمانوں کو یہ کہا گیا کہ روز ہم ایک دوسرے کے متعلق باتیں کرتے رہتے ہیں۔ ایک مناظرہ ہو جائے۔ چنانچہ یہ مسیحان جنڈیالہ ضلع امرتسر نے مسلمانوں کو مندرجہ ذیل خط لکھا:
”بخدمت شریف میاں محمد بخش صاحب و جملہ شرکاء اہل اسلام جنڈیالہ۔
جناب من ! بعد سلام کے واضح رائے شریف ہو کہ چونکہ ان دنوں میں قصبہ جنڈیالہ میں مسیحیوں اور اہل اسلام کے درمیان دینی چرچے بہت ہوتے ہیں اور چند صاحبان آپ کے ہم مذہب دین عیسوی پر حرف لاتے ہیں اور کئی ایک سوال و جواب کرتے ہیں اور کرنا چاہتے ہیں اور نیز اسی طرح سے مسیحیوں نے بھی دین محمدی کے حق میں کئی تحقیقاتیں کر لی ہیں اور مباحثہ از حد ہو چلا ہے۔ لہذا راقم رقعہ ہذا کی دانست میں طریقہ بہتر اور مناسب یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک جلسہ عام کیا جائے جس میں صاحبان اہل اسلام مع علماء و دیگر بزرگان دین کے جن پر کہ ان کی تسلی ہو، موجود ہوں اور اس طرح سے مسیحیوں کی طرف سے بھی کوئی صاحب اعتبار پیش کئے جاویں۔ 1219 تا کہ جو باہمی تنازعے ان دنوں میں ہو رہے ہیں، خوب فیصل کئے جاویں؛ نیکی اور بدی، حق اور خلاف ثابت ہوویں ۔ لہذا چونکہ اہل اسلام جنڈیالہ کے درمیان آپ صاحب ہمت گنے جاتے ہیں (جن کو مخاطب کیا) ہم آپ کی خدمت میں از طرف مسیحان جنڈیالہ التماس کرتے ہیں کہ آپ خواہ خود یا اپنے ہم مذہبوں سے مصلحت کر کے ایک وقت مقرر کریں اور جس کسی بزرگ پر آپ کی تسلی ہو، اسے طلب کریں اور ہم بھی وقت متعین پر محفل شریف میں کسی اپنے کو پیش کریں گے۔“
الراقم: مسیحان جنڈیالہ دستخط: مارٹن کلارک، امرتسر
مسلمانان جنڈیالہ کی طرف سے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی خدمت میں عیسائیوں کے ساتھ مباحثہ کرنے کی درخواست:
”الحمد لله ونحمده ونستعينه ونصلى على رسوله الكريم!
حضرت جناب فیض مآب مجددالوقت فاضل اجل حامی دین رسول: حضرت غلام احمد صاحب!
از طرف محمد بخش
٩٥
N 22nd Aug, 1974 No:09
مجھے یاد ہے اور میں دوستوں کے تردید نہیں کی، کہ یہ کتاب واقعی نہیں، کبھی تردید نہیں کی۔ یہ
1217
جناب یحییٰ بختیار:
مرزا ناصر احمد:
دے دیں۔
جناب یحییٰ بختیار:
اس پر............
مرزا ناصر احمد:
میں وحدت کا قیام، ”خدا تعالیٰ یہ بانی سلسلہ کے متفرق آبادیوں میں آباد ہیں، طرف کھینچنے اور اپنے بندوں کو اس کے اوپر، یہ تو ہے، یہ مولانا ظفر علی خان صا انہوں نے ”ستارہ صبح“ کے نا یہ ویسے بحوالہ ”کانِ کالی“ ا مرزا غلام احمد صاحب قادیانی احاطہ تحریر میں آچکے ہیں، مسلما باقی میں جواب اس کا
1218
یہ ایک اور حو تیسرے نمبر پر آیا ہوا ہے۔
جناب یحییٰ بختیار:
مرزا ناصر احمد:
دیں گے۔
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN - 22nd Aug, 1974 No:09
السلام علیکم! گذارش یہ ہے کہ کچھ عرصے سے قصبہ جنڈیالہ کے عیسائیوں نے بہت شور و شر مچایا ہوا ہے۔ بلکہ آج بتاریخ ١١؍اپریل ١٨٩٣ء کو عیسائیان جنڈیالہ نے معرفت ڈاکٹر مارٹن کلارک صاحب امرتسر، بنام فدوی بذریعہ رجسٹری ایک خط ارسال کیا ہے، جس کی نقل خط ہذا کی دوسری طرف واسطے ملاحظہ 1220 کے پیش خدمت ہے۔ عیسائیوں نے بڑے زور شور سے لکھا ہے کہ اہل اسلام جنڈیالہ اپنے علماء اور دیگر بزرگان دین کو موجود کر کے ایک جلسہ کریں اور دین حق کی تحقیقات کی جائے۔ ورنہ آئندہ سوال کرنے سے خاموشی اختیار کریں، اس لئے خدمت بابرکت میں عرض ہے کہ چونکہ اہل اسلام جنڈیالہ اکثر کمزور اور مسکین ہیں، اس لئے خدمت شریف عالی میں ملتمس ہوں کہ آنجناب للّٰہ اہل اسلام جنڈیالہ کو امداد فرماؤ ورنہ اہل اسلام پر دھبہ آ جائے گا۔ نیز عیسائیوں کے خط کو ملاحظہ فرما کر یہ تحریر فرماویں کہ ان کو جواب خط کا کیا لکھا جاوے۔ جیسا آنجناب ارشاد فرماویں، ویسا عمل کیا جاوے فقط!
اس عرصے میں، جب یہ خط و کتابت ہو رہی تھی، بعض علماء کی طرف سے مارٹن کلارک کو یہ کہا گیا کہ یہ شخص جو جنڈیالہ کے مسلمان تمہارے مقابلے میں، عیسائیوں کے مقابلے میں لا رہے ہیں، ان کو تو مولوی کافر کہتے ہیں یہ اسلام کی نمائندگی نہیں کر سکتے......“
جناب یحییٰ بختیار: وہاں سے وہ......
مرزا ناصر احمد: نہیں، وہ......
جناب یحییٰ بختیار: ...... آتھم آ گیا، وہاں عبداللہ آتھم آ گیا تھا اور جہاں سے مرزا صاحب چلے گئے تھے...... یہ وہی تھا ناں جی؟
مرزا ناصر احمد: نہیں، یہاں اس سے پہلے بہت کچھ تھا جو مخفی ہے۔ وہ ذرا سامنے آئے تو مزا آتا ہے دونوں مذاہب کے مقابلے کا۔ یہ پاندہ صاحب نے مولویوں کو خط لکھنے شروع کئے کہ پادریوں سے اسلام کی صداقت پر بحث کے لئے جنڈیالہ تشریف لائیں۔ میاں پاندہ صاحب مولویوں کے جواب کے منتظر تھے کہ دیکھیں مولوی صاحبان کیا جواب دیتے ہیں۔ اس میں دو ہفتہ گزر 1221 گئے۔ مولوی صاحبان نے پاندہ صاحب کو جواب دیا کہ ہمارے واسطے رہائش، سفر خرچ، آمد و رفت، کھانے پینے کا کیا انتظام کیا ہے اور بعد جلسہ ہمیں رخصتانہ کیا ملے گا، وغیرہ، وغیرہ۔ اس کو میں چھوڑ رہا ہوں۔ اس وقت یہ ڈر گیا، مارٹن کلارک، کہ ہمارے سامنے ان کو پیش کیا جا رہا ہے، بانی سلسلہ احمدیہ کو۔ اس پر یہ محمد بخش صاحب نے یہ لکھا...... یہ اس کی فوٹوسٹیٹ کاپی ہے ان کی...... اس میں یہ لکھتے ہیں ڈاکٹر ہنری کلارک کو:
٩٦
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
”بخدمت شریف جناب ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک، میڈیکل مشن امرتسر۔ بعد سلام کے واضح ہو کہ خط آنجناب کا بذریعہ رجسٹری پہنچا۔ تمام کیفیت معلوم ہوئی۔ بموجب لکھنے آپ کے اہل اسلام جنڈیالہ نے اپنی طرف سے حضرت مرزا غلام احمد صاحب کو واسطے مباحثے کے پیش کیا ہے جن کو آپ نے بخوشی منظور کر کے مباحثہ کے شرائط بھی میرے روبرو قرار پاچکے ہیں۔ اب بعد چند روز کے آپ نے ایک حجت نکال کر اس جنگ مقدس سے دل چرا کر دفع الوقتی کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن آپ کے حق میں کیا تصور کیا جاوے جو آپ نے بلا سمجھے بوجھے ان مسائل فروعی کو عبثاً پیش کیا ہے جو ہر ایک مذاہب میں ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا ہے۔ آپ صاحب کن خیالوں میں مبتلا ہو رہے ہیں اور اسلام سے آپ کی محض ناواقفتی ثابت ہوتی ہے۔ اگر کچھ واقفتی ہوتی تو ایسا کچھ ہرگز تحریر نہ کرتے۔ آپ نے اسلامی فتویٰ کی آڑ لے کر مباحثہ سے دل چرانا چاہا۔ لیکن اب وہ وقت گزر گیا اور علماء اسلام اور دیگر علماء مذاہب میں ہمیشہ اختلاف رہا کرتا ہے۔ دیکھو اوّلاً مقلد غیر مقلدوں کو بے دین کہتے ہیں اور غیر مقلد .....“
خیر! اور یہ آگے انہوں نے لکھا ہے کہ ...... انہوں نے لکھا ہے کہ ...... ان کے متعلق لکھتے ہیں کہ ..... اپنے کہ تم نے اپنے ان کو نہیں لکھا ..... آگے انہوں نے لکھا ہے جی ..... میں خط ہی فائل 1222 کروا دوں گا ..... کہ اپنے مذہب کو دیکھو۔ تمہارے اندر اتنے فرقے ہیں۔ Inquistion ہوئی ..... یعنی الفاظ میرے ہیں مفہوم میں لے رہا ہوں، بعد میں داخل کروا دوں گا ..... تم آپس میں لڑتے رہے ہو، اور اب بھاگنا چاہتے ہو۔ ہمارے فرقوں اور آپس کے اختلافات کا تو ذکر نہیں کر دیا یہاں :
”سنو! اوّل ..... کافر وہ ہوتا ہے جو خدا کو نہ مانتا ہو۔ دوئم ..... اس کے نبی اور اس کے کلام کا منکر ہو، بلکہ اس کے نبی سے دشمنی کرے اور کلمہ اور نماز اور روزہ سے نفرت کرے۔ حضرت مرزا غلام احمد کلمہ نبی کا پڑھتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور روزہ بھی رکھتے ہیں۔ بلکہ بڑے بھاری عابد اور پرہیز گار بزرگ ہیں۔ سنو اور غور کرو۔ دیکھو جناب یہ کافر پروٹسٹنٹ اور فرقہ کیتھولک میں کتنا بھاری اختلاف ہے۔“
خیر یہ انہوں نے یہ کہا اور اس کے بعد ایک حافظ غلام قادر صاحب کا خط جس کی فوٹوسٹیٹ کاپی ہے : ”...... چنانچہ فی الحال ایک قطعہ اشتہار ڈاکٹر ہنری کلارک نے مشتہر کیا ہے جس میں مباحثہ مقرر شدہ سے صاف گریز کیا ہے۔ ہم پادری صاحب کی اس اعلیٰ لیاقت و ذہانت
٩٧
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
پرجوش ہو کر تہ دل سے مبارکباد دیتے ہیں۔ اگر پہلے مرزا غلام احمد صاحب جیسی بلائے عظیم (یعنی عیسائیوں کے لئے ) اگر پہلے مرزا غلام احمد صاحب جیسی بلائے عظیم کو چھیڑا اور اب پیچھا چھڑانے کے لئے تدبیریں سوچنے لگے۔‘‘
اس میں یہی انہوں نے کہا کہ پیچھا کیوں چھڑاتے ہو......
جناب یحییٰ بختیار: یہ اس کے ساتھ......
1223 مرزا ناصر احمد : یہ اس کے ساتھ لگ کے اور......
جناب یحییٰ بختیار: ......اور وہ آ جائیں گے۔
مرزا ناصر احمد : چنانچہ ہنری مارٹن کلارک جنڈیالہ کے ان مسلمانوں کی طرف سے، جن کا احمدی فرقہ مسلمان سے کوئی تعلق نہیں تھا، ان سے پہلے بچنے کی کوشش کی، پھر مجبور ہو کے وہ مباحثہ ہوا اور جو مباحثہ ہوا اس کے متعلق مباحثہ کروانے والے اور وہ لوگ امرتسر کے جو اس وقت موجود تھے، انہوں نے خوشی کا مظاہرہ کیا اور مبارکباد دی۔ اس وقت جو اس کا اثر ہوا وہ بہت اچھا اثر ہوا۔ اسلام کے حق میں اور عیسائیوں کے دلائل کے بودا پن میں۔ خواجہ یوسف شاہ صاحب آنریری مجسٹریٹ، جو برابر مباحثے میں آتے رہے تھے، مختصر سی تقریب میں وہیں جب اکٹھے ہوئے، نہایت عمدگی سے ختم ہونے پر شکریہ ادا کیا اور ضمناً انہوں نے کہا کہ: ’’اس مباحثے سے اسلام کی حقیقت اور عیسائیت کے عقائد پر غور کرنے کا موقع ملے گا۔ مرزا صاحب نے اگرچہ اپنے فرض منصبی کو ادا کیا ہے۔ مگر میں مسلمانوں کی طرف سے خاص طور پر ان کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے تمام مسلمانوں کی طرف سے اسلام پر حملوں کا ڈیفنس کیا۔‘‘ یہ دراصل متعلق ہے اس کے۔ اس کے بعد ہم آتے ہیں، پھر ١٨٩٣ء کا واقعہ ہے۔ پنڈت لیکھ رام، پنڈت لیکھ رام نے ’’کلیات آریہ‘‘ میں اس کی طرف منسوب کیا ہے: ’’محمد صاحب (ﷺ) عرب کے جاہل اور وحشی بدوؤں کے پیشوا تھے......‘‘
جناب یحییٰ بختیار: یہ نہ پڑھیں، اس کی ضرورت نہیں۔
مرزا ناصر احمد : اچھا ٹھیک ہے، ٹھیک ہے۔ یعنی اس نے بہت بیہودہ بات کی۔ میرا اپنا نہیں دل کرتا ان کو...... اس کی اس گندہ دہنی کے مقابلے میں بانی سلسلہ احمدیہ نے 1224 دعائیں کرنے کے بعد اس کو یہ کہا کہ ’’اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ خبر دی ہے اس کے مطابق تجھے میں یہ کہتا ہوں......‘‘ فارسی کے شعر میں:
٩٨
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
کرامت گرچہ بے نام ونشان است بیا بنگر ز غلمانِ محمدؐ
اور آپ نے ...... ”سراج منیر“ کی یہ عبارت ہے آج کی ..... لکھا اس کو: ”آج کی تاریخ سے (٢٠؍ فروری ١٨٩٣ء ہے) چھ برس کے عرصہ تک یہ شخص اپنی بدزبانیوں کی سزا میں، یعنی ان بے ادبیوں کی سزا میں جو اس شخص نے رسول اللہ ﷺ کے حق میں کی ہیں، عذاب شدید میں مبتلا ہو جائے گا۔“ اور جیسا کہ یہ پیش گوئی کی گئی تھی ...... میں باقی حوالے وہ میں چھوڑ رہا ہوں۔ کیونکہ اس وقت.......
جناب یحییٰ بختیار: سب کو معلوم ہیں جی۔
مرزا ناصر احمد: ہاں جی۔
پھر ہم آتے ہیں ١٨٩٠ء میں۔ اس وقت مباحثات میں ایک دوسرے کے خلاف جو چیز پیدا ہوگئی تھی اسے دیکھتے ہوئے بانی سلسلہ احمدیہ نے یہ اعلان کیا کہ اس قسم کی گندہ دہانی چھوڑ کے اصل چیز یہ ہے کہ تبادلہ خیال کر کے حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ تو کچھ اصول مذہبی دنیا کے ان مناظرین کے سامنے رکھے۔ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے ناموس رسولؐ کے تحفظ اور مذہبی مناظرات کی اصلاح کے لئے ایک آئینی تحریک کا آغاز فرمایا۔ جس کی نامی گرامی علماء سرکاری افسران، وکلاء اور تجار حضرات نے تائید کی (یعنی جو جماعت کے نہیں تھے) اور یہ ”آریہ دھرم“ کا حوالہ ہے۔ اس موقع پر نواب محسن الملک نے حضرات بانی سلسلہ کی اسلامی خدمات کو سراہتے مکتوب میں لکھا: 1225 ”جناب مولانا ومخدومنا:
بعد سلام مسنون عرض یہ ہے کہ آپ کا چھپا ہوا خط مع مسودہ درخواست کے پہنچا۔ میں نے اسے غور سے پڑھا اور اس کے تمام مآلہ، ماعلیہ پر غور کیا۔ درحقیقت دینی مباحثات ومناظرات میں جو دل شکن اور دردانگیز باتیں لکھیں اور کہی جاتی ہیں وہ دل کو نہایت بے چین کرتی ہیں اور اس سے ہر شخص کو جسے ذرا بھی اسلام کا خیال ہوگا روحانی تکلیف پہنچتی ہے۔ خدا آپ کو اجر دے کہ آپ نے دلی جوش سے مسلمانوں کو اس طرف متوجہ کرنا چاہا ہے۔ یہ کام بھی آپ کا منجملہ اور بہت سے کاموں کے ہے جو آپ مسلمانوں کے بلکہ اسلام کے لئے کرتے ہیں۔“
١٨٩٦ء میں ...... میں ایک ایک کو پڑھتا ہوں، جہاں زیادہ ہیں وہ چھوڑ دیتا ہوں ...... تعطیل جمعہ کی تعریف۔ اس کا ذکر میں نے پہلے بھی کیا تھا۔ یہ اشتہار ایک دیا اور اس کا آغاز کیا بانی
99
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
سلسلہ نے، یعنی ایک میموریل وائسرائے ہند کے نام دیا۔ اس میں یہ لکھا: ”یہ روز جمعہ جس کی تعطیل کے لئے ہم مسلمانان رعایا یہ عرضداشت بھیجتے ہیں۔ اگرچہ بہت اہم کام اس میں عبادات کا خاص طور پر ادا کرنا اور اسلامی ہدایات کو اپنے علماء سے سننا ہے۔ لیکن اور کئی رسوم مذہبی بھی اسی دن میں ادا ہوتی ہیں اور خدا نے ہمیں قرآن میں اس دن کے انتظار کی اس قدر تاکید کی ہے کہ خاص اسی کے انتظام کے لئے ایک سورت قرآن میں ہے۔ اس کا نام ”سورۃ الجمعہ“ ہے اور حکم ہے کہ سب کام چھوڑ کر جمعہ کے لئے مسجد میں حاضر ہو جاؤ۔ تو ہر ایک دیندار کو یہی غم ہے کہ ہم ہمیشہ کے لئے خدا کے نافرمان نہ ٹھہریں۔“
اخبار ”ملت“ نے یہ لکھا کہ مولانا مولوی نورالدین یہ ١٩١١ء کا ہے۔ میں نے بتایا ناں طائرانہ نظر ڈال رہا ہوں: 1226 ”مولانا مولوی نورالدین صاحب سے کلی اتفاق کر کے جملہ انجمن ہائے و شاخ ہائے مسلم لیگ ومعزز اہل اسلام اور اسلامی پبلک اور معاصرین کرام کی خدمت میں نہایت زور مگر ادب کے ساتھ درخواست کرتے ہیں کہ مولانا ممدوح کی خواہش کے مطابق اس میموریل کی پرزور تائید کی جائے۔“
لیکن وہ یہاں نہیں تھا ناں تو ١٩٠٦ء سے جمپ (Jump) کر کے میں پہنچ گیا ١١ء پر۔
اب ١٩٠٦ء پر واپس جاتا ہوں......١٩٠٦ء......
جناب یحییٰ بختیار: یہ Important (اہم) نہیں، چھوٹی بات ہے۔
مرزا ناصر احمد: نہیں، بڑی اہم بات ہے، بڑی عجیب بات ہے۔ بات یہ ہے کہ ١٩٠٦ء میں جیسا کہ آپ نے فرمایا، فنانشل کمشنر صاحب بہادر وہاں آئے قادیان، اور باتیں کیں۔ باتیں یہ تھیں کہ کمشنر بہادر صاحب جو تھے، وہ زور دے رہے تھے بانی سلسلہ احمدیہ پر...... انگریزی حکومت کا آدمی...... کہ یہ جو مسلم لیگ بنی ہے، آپ اس کی تائید کریں اور جماعت کی دو تین آدمی بھی یہ زور دے رہے تھے۔ حکومت کی طرف سے زور تھا اور...... لیکن آپ نہیں مانے...... آپ نے فرمایا...... یہ ١٩٠٦ء کی بات ہے...... آپ نے فرمایا: ”میرے نزدیک یہ راہ خطرناک ہے......“
لمبا حوالہ ہے، میں یہاں سناتا نہیں اور آپ نے فرمایا کہ ”اس سے مجھے بو آتی ہے کہ یہ بھی ایک دن کانگریس کا رنگ اختیار کرے گی۔“
جناب یحییٰ بختیار: حکومت کے خلاف ہو جائے گی۔
١٠٠
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
مرزا ناصر احمد: ہاں! یہ 1906ء کی بات ہے اور 1907ء ۔ آپ کی زندگی میں ہی ، انگریز کے کہنے پر مسلم لیگ کو نہیں مانا۔ لیکن جب بنگلہ دیش میں وہاں کے مسلمانوں 1227 کو ہندوؤں کی طرف سے دکھ پہنچا تو آپ نے اس کے حق میں اعلان کر دیا۔ یہ ہے اصل بات جو میں بتانا چاہتا تھا کہ 1906ء میں انکار کیا، اور 1907ء میں ...... اس کی تفصیل ”پیسہ اخبار“ لاہور میں چھپ چکی ہے ، 3؍دسمبر 1907ء: ”ان کے خیالات و حرکات سے ہمیں قطعی نفرت ہے۔“
ہندوؤں کا ذکر ہے بنگال میں وہ ہوا تھا ......
جناب یحییٰ بختیار: وہ بنگال کی بات تھی؟
مرزا ناصر احمد: ہاں۔ ”ہماری جماعت کو ان سے الگ رہنا چاہئے۔ تعجب کی بات ہے کہ جو قوم حیوان کو انسان پر ترجیح دیتی ہو اور ایک گائے کے ذبح سے انسان کا خون کر دینا کچھ بات نہ سمجھتی ہو، وہ حاکم ہو کر کیا انصاف کرے گی اور (چند سطریں ہیں) یہ بات ہر ایک شخص بآسانی سمجھ سکتا ہے کہ مسلمان اس بات سے کیوں ڈرتے ہیں کہ اپنے جائز حقوق کے مطالبات میں ہندوؤں کے ساتھ شامل ہو جائیں اور کیوں آج تک ان کا کانگریس کی شمولیت سے انکار کر رہے ہیں۔ (یعنی یہ اس کی تائید میں ہے، انکار کی) اور کیوں آخر کار ہندوؤں کی درستی رائے کو محسوس کر کے ان کے قدم پر قدم رکھا۔ مگر الگ ہو کر ان کے مقابلے پر ایک مسلم انجمن قائم کر دی اور ان کی شراکت کو قبول نہ کیا اور اس کے سائے کو...... اس کا باعث دراصل مذہب ہی ہے، اس کے سوا کچھ نہیں ۔“ اور ساتھ میں اس کی تائید کی، بڑے زور سے تائید کی اور اس وقت ہندوؤں کے مقابلے میں مسلمانوں کے حق میں اور بھی بولے ہوں گے۔ میرا تو مؤقف ہی یہ ہے کہ سب کے ساتھ مل کر اسلام اور مسلمانوں کی تائید کی۔
1896ء.......
1228 جناب یحییٰ بختیار: یہ وہی لاہور کا لیکچر آگیا ہے؟
--------
At this stage Mr. Chairman vacated the Chair which was occupied by Madam Deputy Speaker (Dr. Mrs Ashraf Khatoon Abbasi)
101
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
(اس مرحلہ پر چیئرمین صاحب نے کرسی صدارت چھوڑ دی اور ڈپٹی چیئرمین (ڈاکٹر مسز اشرف خاتون عباسی) نے کرسی صدارت سنبھالی)
مرزا ناصر احمد: ہاں، جلسہ ہے مذاہب والا۔ اخبار ”چودھویں صدی“ راولپنڈی یکم فروری ١٨٩٧ء۔ یہ اس کی فوٹوسٹیٹ بھی ہے۔ میں ساتھ لگا دوں گا: ”ہم مرزا صاحب کے مرید نہیں ہیں اور نہ ہم کو ان سے کوئی تعلق ہے۔ لیکن بے انصافی ہم کبھی نہیں کر سکتے اور نہ کوئی سلیم فطرت اور صحیح Conscience اس کو روا رکھ سکتا ہے۔ مرزا صاحب نے کل سوالوں کے جواب جیسا کہ مناسب تھا قرآن شریف سے دیئے اور تمام بڑے بڑے اصول و فروع اسلام کو دلائل عقلیہ و براہین فلسفہ کے ساتھ مبرہن اور مزین کیا۔ بہر حال اس کا شکریہ ہے کہ اس جلسہ میں اسلام کا بول بالا ہوا اور تمام غیر مذاہب کے دلوں پر اسلام کا سکہ بیٹھ گیا۔“
اور بھی ہیں حوالے جنہیں میں چھوڑ رہا ہوں۔
اب آتے ہیں ہم ١٩٠٠ء بشپ جارج لیفرائے سے مقابلہ اور اس کا صلہ جارج لیفرائے ١٨٥٤ء۔١٩١٩ء ہندوستان کے افق پر مسلمانوں کے لئے ایک چیلنج بن کر ابھرا۔ اس نے ہندوستان کی مذہبی فضاء میں تہلکہ مچا دیا۔ چنانچہ لکھا ہے: ”انہوں نے عربی اور اردو میں کافی مہارت پیدا کر لی۔ مسلمانوں سے بحث کرتے رہتے تھے۔ جس کی وجہ سے دہلی کا نابینا مولوی احمد مسیح خدا کے پاس کھینچا چلا آیا۔ ان کی محنت، جان نثاری اور حقیقی تبلیغی جوش کو دیکھ کر جس 1229 کے لارڈ کچنر اور لارڈ کرزن تک مداح تھے انہیں ١٨٩٩ء کو لاہور کا بشپ مقرر کیا گیا۔ بشپ ہوتے ہی انہوں نے اپنے انگریز بھائیوں پر اس بات کو واضح کر دیا کہ خداوند نے ہندوستان کو بطور امانت ہمارے سپرد کیا ہے۔ اس لئے تن دہی سے ہمیں خدمت کرنا لازم ہے۔ ورنہ خداوند اس امانت کا حساب ضرور لے گا۔“
یہ ان کی Religious Book Society کی کتاب کا حوالہ ہے۔ بانی سلسلہ احمدیہ نے اس بشپ کو، جس کے متعلق پادریوں نے یہ لکھا تھا، چیلنج دیا اور وہ بھاگ گیا۔ اس کے متعلق مولوی اشرف علی صاحب تھانوی ...... میں ان اپنے بھائیوں کے حوالوں میں سے ایک لوں گا...... مولوی اشرف علی صاحب تھانوی نے ایک ترجمہ قرآن کیا ہے۔ اس کا دیباچہ جو مولوی نور محمد صاحب نقشبندی انہی کے ہم مذہب نے لکھا ہے، یہ دیباچے کا ہے اقتباس جو میں پڑھوں گا:
١٠٢
NATIONAL A
یک بہت بڑی جماعت لے کر حلف اٹھا عیسائی بنالوں گا۔ ولایت کے انگریزوں وں کا اقرار لے کر ہندوستان میں داخل ان پر مجسم خاکی زندہ موجود ہونے اور لئے اس کے خیال میں کارگر ہوا۔ مولوی ت سے کہا ”عیسیٰ جس کا تم نام لیتے ہو اور جس عیسیٰ کے آنے کی خبر ہے وہ اس ترکیب سے ان لیفرائے کو اس کیب سے اس نے ہندوستان سے لے
ما ویسے مخالف ہے، لیکن سچی بات کہنے "Indian Spectator", یہ حوالے ہیں۔
وئی شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ کا پادری تھا۔ وہ ہے: ”حال ہی میں ملک امریکہ میں (وہ ا کا ایک رسول پیدا ہوا جس کا نام ڈوئی ا اس کو بھیجا ہے۔ تاکہ سب کو اس بات لمان تباہ اور ہلاک ہو جائیں گے۔ (یہ ں باادب عرض کرتے ہیں کہ اگر ڈوئی یہ فیصلہ (سارے مسلمان ہلاک کرنے ے ہو جائے گا۔ کیا حاجت ہے کہ تمام
ں میں اور بڑھ گیا اور اسلام کے خلاف ریہ نے کچھ انتظار کے 1231 بعد اپنا چیلنج اخبار میں وہ چھپا اور اس کے ردعمل پر
1263 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
”اسی زمانے میں پادری لفرائے پادریوں کی ایک بہت بڑی جماعت لے کر حلف اٹھا کر ولایت سے چلا کہ تھوڑے عرصہ میں تمام ہندوستان کو عیسائی بنالوں گا۔ ولایت کے انگریزوں سے روپیہ کی بہت بڑی مدد اور آئندہ کی مدد کے مسلسل وعدوں کا اقرار لے کر ہندوستان میں داخل ہو کر بڑا تلاطم برپا کیا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر بجسم خاکی زندہ موجود ہونے اور دوسرے انبیاء کے زمین میں مدفون ہونے کا حملہ عوام کے لئے اس کے خیال میں کارگر ہوا۔ مولوی غلام احمد قادیانی کھڑے ہو گئے اور لفرائے اور اس کی جماعت سے کہا ”عیسیٰ جس کا تم نام لیتے ہو دوسرے انسانوں کی طرف سے فوت ہو کر دفن ہو چکے ہیں اور جس عیسیٰ کے آنے کی خبر ہے وہ 1230 میں ہوں۔ پس اگر تم سعادت مند ہو تو مجھ کو قبول کر لو۔“ اس ترکیب سے ان مبتلائے کو اس قدر تنگ کیا کہ اس کا اپنا پیچھا چھڑانا مشکل ہو گیا اور اس ترکیب سے اس نے ہندوستان سے لے کر ولایت تک کے پادریوں کو شکست دے دی۔“
اب ظاہر ہے اس کے الفاظ ، کہ یہ دوست تو نہیں ویسے مخالف ہے، لیکن سچی بات کہنے سے دریغ بھی نہیں کرتا۔ "Indian Spectator", "Indian Daily" "Telegraph" (انڈین سپکٹر ڈیلی ٹیلی گراف) ان کے یہ حوالے ہیں۔
اب ہم آتے ہیں ١٩٠٠ء سے ١٩٠٢ء ڈاکٹر ڈوئی شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ کا پادری تھا۔ وہ شروع ہی سے اسلام اور بانی اسلام کا معاند تھا۔ یہ اس کا ہے: ”حال ہی میں ملک امریکہ میں (وہ میں نے حوالہ دی میں نے عبارت چھوڑ دی ہے) یسوع مسیح کا ایک رسول پیدا ہوا جس کا نام ڈوئی ہے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ یسوع مسیح نے بحیثیت خدائی دنیا میں اس کو بھیجا ہے۔ تاکہ سب کو اس بات کی طرف کھینچے کہ بجز مسیح کے اور کوئی خدا نہیں اور یہ کہ تمام مسلمان تباہ اور ہلاک ہو جائیں گے۔ (یہ اعلان کیا اس شخص نے) تو ہم ڈوئی صاحب کی خدمت میں باادب عرض کرتے ہیں کہ اگر ڈوئی اپنے دعوے میں سچا ہے اور درحقیقت یسوع مسیح خدا ہے تو یہ فیصلہ (سارے مسلمان ہلاک کرنے کی کیا ضرورت ہے) یہ فیصلہ ایک ہی آدمی کے مرنے سے ہو جائے گا۔ کیا حاجت ہے کہ تمام ملکوں کے مسلمانوں کو ہلاک کیا جائے۔“
لیکن ڈوئی بجائے باز آنے کے تکبر اور شرارتوں میں اور بڑھ گیا اور اسلام کے خلاف پہلے سے زیادہ بد زبانی شروع کر دی۔ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے کچھ انتظار کے 1231 بعد اپنا چیلنج طبع کروا کے اس کو وہاں بھجوایا اور امریکہ کے وسیع الاشاعت اخبار میں وہ چھپا اور اس کے ردعمل پر
١٠٣
22nd Aug, 1974 No:09 (اس مرحلہ پر مسز اشرف خاتون عباسی) ک مرزا ناصر احم یکم فروری ١٨٩٧ء۔ یہ اس مرید نہیں ہیں اور نہ ہم کو ان فطرت اور صحیح science جیسا کہ مناسب تھا قرآن عقلیہ و براہین فلسفہ کے سا کا بول بالا ہوا اور تمام غیر مذ اور بھی ہیں حوال اب آتے ہیں لیٹر پیڈ لفرائے، ١٨٥٤۔١ اس نے ہندوستان کی مذہبی کافی مہارت پیدا کر لی۔ مولوی احمد مسیح خدا کے پاس 1229 کے لارڈ کچنر اور لارڈ ہوتے ہی انہوں نے اپنے امانت ہمارے سپرد کیا ہے امانت کا حساب ضرور لے گا یہ ان کی Piety احمدیہ نے اس بشپ کو، جس متعلق مولوی اشرف علی صا گا ...... مولوی اشرف علی صا محمد صاحب نقشبندی انہی کے
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
جب ایک سال گزر گیا تو بانی سلسلہ احمدیہ نے یہ لکھا: ”مسٹر ڈوئی اگر میری درخواست پر مباہلہ قبول کرے گا اور صراحتاً یا اشارتاً میرے مقابلے پر کھڑا ہو گا تو میرے دیکھتے دیکھتے بڑی حسرت اور دکھ کے ساتھ اس دنیائے فانی کو چھوڑ دے گا۔ پس یقین سمجھو کہ اس کے صہیون پر جلد تر ایک آفت آنے والی ہے۔“
پہلے ڈوئی کی اخلاقی موت، اس کے...... اخبار ”نیویارک ورلڈ“ اس وقت تھا۔ ڈوئی کے سات خطوط اس اخبار نے شائع کئے کہ ”میں ولد الحرام ہوں، اپنے باپ کا بیٹا نہیں۔“ یہ پہلی موت اس کی ہوئی۔ پھر یکم / اکتوبر ١٩٠٥ء کو اس پر فالج ہوا۔ پھر ١٩ / دسمبر ١٩٠٥ء کو دوسرا فالج ہوا، اور ٩ / مارچ ١٩٠٧ء کو بڑے دکھ اور حسرت سے مرا بڑی لمبی کہانی ہے، بڑی دردناک کہانی ہے۔ میں اس کو چھوڑ رہا ہوں۔ میں بڑا مختصر کر رہا ہوں اور پڑھ بھی تیز رہا ہوں، جیسا کہ آپ سن رہے ہیں۔
١٩١٠ء...... مسلم پریس ایسوسی ایشن کے قیام کی تاریخ ١٠ / فروری ١٩١٠ء کو ”الحکم“ کے ذریعے ہندوستان کے تمام مسلم اخبارات کو باہم متحد ہونے اور ایک مسلم پریس ایسوسی ایشن کے قیام کی تحریک کی گئی۔ تو یہ اس وقت کا تقاضا تھا اور سارے مسلمان یکجان ہو کر اس کام کو کریں، ہماری طرف سے نہیں۔ بہرحال ایک تحریک ہوئی اور وہ ہر آدمی سمجھ سکتا ہے کہ نہایت مفید تحریک تھی اور کوئی کسی اختلاف کا نہ کوئی شائبہ تھا نہ اس کا اظہار کیا، نہ ہماری طرف سے، نہ کسی اور کی طرف سے۔ اس پر بعض حوالے ہیں یہاں جو دوسروں کے وہ میں چھوڑ دیتا ہوں۔
ایک مدرسہ الہیات کے لئے امداد کا سوال تھا۔ اس کی تحریک کی گئی وہ بھی جماعت احمدیہ سے تعلق نہیں رکھتا۔
1232 اب ہم پہنچے ہیں ١٩١٨ء پر۔ ١٩١٨ء میں ملت اسلامیہ ہندوستان نے خوشی کے دن منائے اور کروڑوں چراغ جلائے گئے اور جلسے ہوئے اور اس کے متعلق میں ایک حوالہ پڑھ دوں گا۔ ایک تو اس پر علامہ اقبال نے جو اشعار سنائے اور چھپ چکے ہیں، وہ بڑے دلچسپ ہیں۔ پڑھنے کے قابل ہیں۔ میں یہاں چھوڑتا ہوں اور غلام بھیک بی اے نیرنگ، صدر انجمن دعوت و تبلیغ اسلام انبالہ نے ایک نظم لکھی اس کو بھی میں چھوڑتا ہوں۔ یہ وہ ایک مقبول عام نظم ہے، خان احمد حسین خان صاحب، مشہور مصنف ہیں، ان کی، اس کو میں چھوڑتا ہوں۔ یہ ہے ”حق“ ایک اخبار، اس کی بھی فوٹوسٹیٹ کاپی یہاں ہم دے دیں گے۔ شیخ عبدالقادر صاحب، بی.اے، بیرسٹر ایٹ لاء، خادم اسلام، معروف ہستی ہیں۔ انہوں نے ٢٣ / نومبر ١٩١٨ء کو ایک مضمون لکھا لمبا ہے ہاں جی، یہ مضمون جی۔ اس میں سے چار سطریں میں نے لی ہیں چھوٹی سی:
١٠٤
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
”ماہ نومبر کی بارھویں تاریخ جو خوشیاں سارے ملک میں منائی گئی ہیں، وہ مدتوں تک یاد رہیں گی اور اس ایک دن کی خوشی نے لڑائی کے زمانے کی بہت کلفتوں کو دھو ڈالا۔“ تو یہ Vein ہے جس میں اس وقت کا مسلمان بات کر رہا تھا۔ تو ان کروڑوں دیوں میں ان چراغوں....... چراغاں دیوں سے ہوتی تھی، بلب ابھی نہیں آئے تھے....... اگر چند سو دئیے تو وہ قابل اعتراض نہیں ہونے چاہئیں ہمارے نزدیک۔ میں، یہ سارا مسالہ ہے، اس کو میں چھوڑ دیتا ہوں۔ وقت بڑا تنگ ہے۔
معاہدہ ترکیہ پر مسلمانوں کو عالمگیر لجنۂ اسلامیہ کے قیام کا مشورہ۔ ایک بڑا دکھ دہ واقعہ ہوا تھا، جس رنگ میں ترکی کے ساتھ معاہدہ کیا گیا تھا، Allies (اتحادیوں) کا اور ترکی کا، یعنی 1233 ترکی مجبور ہوا۔ اس کے متعلق ”الفضل“ ٣/جون ١٩٢٠ء کے صفحہ ایک پر ہے:
”فاتح اتحادی ملکوں نے ترکی سے جو شرائط صلح طے کیں وہ انتہا درجے کی ذلت آمیز تھیں۔ اس معاہدہ کے سلسلے میں آئندہ طریق عمل سوچنے کے لئے یکم اور ٢/جون ١٩٢٠ء کو الہ آباد میں خلافت کمیٹی کے تحت کانفرنس منعقد کی گئی۔ جمعیت علمائے ہند کے مشہور لیڈر جناب مولانا عبدالباری صاحب فرنگی محل کی دعوت پر حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے ایک مضمون بعنوان ’معاہدہ ترکیہ اور مسلمانوں کا آئندہ رویہ‘ ایک دن میں رقم فرمایا اور اسے راتوں رات چھپوا کر بھیجوایا جس میں علاوہ اور تجاویز کے، ایک یہ تجویز بھی پیش کی گئی کہ اسلام اور مسلمانوں کی ترقی اور بہبود کے لئے بلاتاخیر ایک عالمگیر لجنۂ اسلامیہ قائم ہونی چاہئے۔“
بڑی زبردست یہ اس وقت تحریک کی گئی تھی۔ اپنے وقت پر سارے کام ہوتے ہیں۔
١٩٢١ء...... ترکی اور حجاز کے حقوق کی حفاظت، ٢٣/جون ١٩٢١ء کو جماعت احمدیہ کا ایک وفد وائسرائے ہند کو ملا اور ان کی توجہ اس امر کی طرف دلائی کہ ترکی کی حکومت کے ساتھ ہمیں ہمدردی ہے۔ اگر پچاس سال کے بعد برطانوی حکومت کی مدد سے لورین فرانس کو واپس مل سکتے ہیں، ایک اور ہے، مجھ سے پڑھا نہیں گیا...... تو کوئی وجہ نہیں کہ سمرنا اور سائپرس ترکوں کو واپس نہ دلائے جائیں۔ یہیں انہوں نے توجہ خاص اس بات کی طرف دلائی تھی کہ وزیر نو آبادیات نے حجاز کی بابت جو تجاویز پیش کی ہیں، وہ حجاز کی آزادی کے منافی ہیں اور ان سے کہا گیا کہ ترکوں سے علیحدگی کے بعد حجاز کی آزادی میں کوئی خلل نہیں آنا چاہئے۔ وہ پورا ایک آزاد ملک ہونا چاہئے۔
١٠٥
F PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
جب ایک سال گزر گیا تو بانی سلسلہ احمدیہ کرے گا اور صراحتاً یا اشارتاً میرے مقاصد کے ساتھ اس دنیائے فانی کو چھوڑ دے گا آنے والی ہے۔“
پہلے ڈوئی کی اخلاقی موت، اس ساتھ خطوط اس اخبار نے شائع کئے کہ ”میرا اس کی ہوئی۔ پھر یکم/اکتوبر ١٩٠٥ء کو اس ٩/مارچ ١٩٠٧ء کو بڑے دکھ اور حسرت س اس کو چھوڑ رہا ہوں۔ میں بڑا مختصر کر رہا ہوں
١٩١٠ء....... مسلم پریس ایسوسی ا ذریعے ہندوستان کے تمام مسلم اخبارات ک قیام کی تحریک کی۔ تو یہ اس وقت کا تقاضا تھا طرف سے نہیں۔ بہر حال ایک تحریک ہوئی کوئی کسی اختلاف کا نہ کوئی شائبہ تھا نہ اس سے۔ اس پر بعض حوالے ہیں یہاں جو دوسر
ایک مدرسہ الٰہیات کے لئے احمدیہ سے تعلق نہیں رکھتا۔
1232 اب ہم پہنچے ہیں ١٩١٨ء پ منائے اور کروڑوں چراغ جلائے گئے اور گا۔ ایک تو اس پر علامہ اقبال نے جو اشع پڑھنے کے قابل ہیں۔ میں یہاں چھوڑتا وتبلیغ اسلام انبالہ نے ایک نظم لکھی اس کو بھی احمد حسین خاں صاحب، مشہور مصنف ہیں اخبار، اس کی بھی فوٹوسٹیٹ کاپی یہاں ہم ایٹ لاء، خادم اسلام، معروف ہستی ہیں۔ ناں جی، یہ مضمون جی۔ اس میں سے چار س
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
1234 ”تحریک شدھی اور مجاہدین احمدیت کی خدمات“ کے ...... عنوان جو کسی اور نے لکھی ہیں ..... اگر اجازت ہو تو میں یہاں ٹانک لوں؟
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مرزا صاحب! یہ تو ......
مرزا ناصر احمد: نہیں، یہ تو کیا، ہم تو عاجز بندے ہیں، خادم ہیں۔ یہ ایک لمبا عرصہ گزرا ہے اس کو دوستوں کے ذہن میں اس کی تفصیل کم از کم نہیں ہوگی۔ بڑا اندوہناک واقعہ ہوا۔ یو۔ پی کے اضلاع آگرہ، متھرا، وغیرہ، وغیرہ۔ شاہجہان پور، فرخ آباد، بدایوں اور اٹاوہ میں ایسے ملکانہ راجپوت آباد تھے جو اپنے آپ کو مسلمان خیال کرتے تھے۔ لیکن ان کا رہنا سہنا، کھانا پینا، بول چال، رسم و رواج سب ہندوانہ تھے، حتیٰ کہ بعض کے نام بھی ہندوانہ تھے اور ناواقفیت کی وجہ سے وہ اپنی غیر اسلامی حالت کو اسلامی حالت سمجھ کر مطمئن تھے اور لمبے عرصے تک ان کی طرف کسی نے توجہ نہیں کی۔ آریوں نے میدان خالی پا کر انہیں ہندو قوم میں ضم کرنے کے لئے بڑے زور شور سے شدھی کی تحریک شروع کر دی اور تمام اضلاع میں انہوں نے اپنے پرچارک بھجوائے اور اسلام کے خلاف نہایت زہریلا پراپیگنڈا شروع کیا۔ جس سے سارے ملک میں شور پڑ گیا۔ اس موقع پر ١٧؍ مارچ ١٩٢٣ء کو امام جماعت احمدیہ نے مسلمانوں کو ارتداد کے فتنے سے بچانے کے لئے جہاد کبیر کا علم بلند کیا اور ایک سو پچاس احمدی رضا کار فوری طور پر ایک نظام کے ماتحت مختلف علاقوں میں بھجوا دیئے اور اس کام میں ایک لمبا تسلسل پیدا کیا۔ چنانچہ ان مجاہدین کی مساعی رنگ لائیں اور دوسرے دوست بھی پہنچے اور یہ فتنہ جو تھا روک دیا۔ بڑا سیلاب آیا تھا۔ مسلم اخبارات نے اس سلسلہ میں جو لکھا ..... مثلاً ”زمیندار“ ہے مولانا ظفر علی خان صاحب کا ...... ١٨؍ اپریل ...... ١٩٢٣ء کو لکھا: ”احمدی بھائیوں نے جس خلوص، جس ایثار، جوش اور ہمدردی سے اس کام میں حصہ لیا وہ اس قابل ہے کہ ہر مسلمان اس پر فخر کرے۔“
1235 اخبار ”ہمدم“ لکھنؤ، ٦؍ اپریل ١٩٢٣ء نے لکھا: ”قادیانی جماعت کی مساعی حسنہ اس معاملے میں بے حد قابل تحسین ہیں اور دوسری اسلامی جماعتوں کو انہی کے نقش قدم پر چلنا چاہئے۔“
یہ اخباروں کے حوالے بہت سارے، یہ میں ورق الٹا رہا ہوں، اپنا وعدہ پورا کر رہا ہوں۔ اخبار ”وکیل“ امرتسر۔ ”نجات“ بجنور، سارے ہندوستان کے اخبار تھے جنہوں نے ...... ”نور“ علی گڑھ اور پھر ہندو اخبارات نے کہا، اعتراف کیا۔
اب آگے ہم ”ملک شام کی تحریک آزادی اور جماعت احمدیہ کا اس میں کردار۔“
١٠٦
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
جنگ عظیم کے بعد شام پر فرانس نے قبضہ کیا، جیسا کہ سب جانتے ہیں تو دروز کا علاقہ ہے ۔ مسلمانوں نے تحریک آزادی کا علم بلند کیا ۔ شام کی فرانسیسی حکومت نے دمشق پر گولہ باری کی۔ اس پر حضرت امام جماعت احمدیہ نے ١٣ نومبر ١٩٢٥ء کو خطبہ جمعہ میں تحریک آزادی کی تائید میں فرمایا: ” میں اس اظہار سے نہیں رک سکتا کہ دمشق میں ان لوگوں پر ، جو پہلے ہی بے کس اور بے بس تھے، یہ بھاری ظلم کیا گیا ہے۔ ان لوگوں کی بے کسی اور بے بسی کا یہ حال ہے کہ باوجود اپنے ملک کے آپ مالک ہونے کے دوسروں کے محتاج بلکہ دست نگر ہیں۔ میرے نزدیک شامیوں کا حق ہے کہ وہ آزادی حاصل کریں ۔ ملک ان کا ہے ، حکمران بھی وہی ہونے چاہئیں۔ ان پر کسی اور کی حکومت نہیں ہونی چاہئے ۔ یہ ظلم اس لحاظ سے اور بھی بڑھ جاتا ہے کہ پچھلی جنگ میں اہل شام نے اتحادیوں کی مدد کی اور اس غرض سے مدد کی کہ انہیں اپنے ملک میں حکومت کرنے کی آزادی دی جائے گی ۔ پھر کتنا ظلم ہے کہ اب ان کو غلام بنایا جاتا ہے ۔“
1236 چنانچہ یہ میں ...... حوالہ بھی لمبا ہے ...... چھوڑتا ہوں ۔ تو آگے حوالوں سے ظاہر ہے کہ اپنی طرف سے پورا زور باقیوں کے ساتھ مل کے لگایا کہ ان کو جو حق ہے ان کو ملے ۔
اب ہم آتے ہیں ١٩٢٧ء ”رنگیلا رسول“ اور ”ورتمان“ اسلام کے افق میں نمودار ہوئے ۔ آگ کے شعلے تھے ۔ بڑا اس کا ردعمل تھا ۔ ہونا چاہئے تھا ۔ ”ورتمان“ آریہ راج پال کی ناپاک کتاب ”رنگیلا رسول“ اور امرتسر کے رسالہ ”ورتمان“ میں سید المعصومین آنحضرت ﷺ کے خلاف جو دل آزار مضمون شائع ہوا اس کے اوپر ہے ایک حوالہ میں ”مشرق“ ٢٢ ستمبر ١٩٢٧ء کا اس کے متعلق میں پڑھ دیتا ہوں ۔ کام کیا، بڑی سخت جنگ لڑی گئی اور یہ رنگیلا رسول کے متعلق:
”جناب امام صاحب (جماعت احمدیہ) کے احسانات تمام مسلمانوں پر ہیں ۔ آپ ہی کی تحریک سے ”ورتمان“ پر مقدمہ چلایا گیا ۔ آپ ہی کی جماعت نے ”رنگیلا رسول“ کے معاملے کو آگے بڑھایا، سرفروشی کی اور جیل خانے سے خوف نہیں کھایا ۔ آپ ہی کے پمفلٹ نے جناب گورنر صاحب بہادر پنجاب کو عدل وانصاف کی طرف مائل کیا۔ آپ کا پمفلٹ ضبط کر لیا۔ مگر اس کے اثرات کو زائل نہیں ہونے دیا اور لکھ دیا کہ اس پوسٹر کی ضبطی محض اس وجہ سے ہے کہ اشتعال نہ بڑھے (انگریزی حکومت نے) اور اس کا تدارک نہایت عادلانہ فیصلے سے کر دیا اور اس وقت ہندوستان میں جتنے فرقے ہیں، سب کسی نہ کسی وجہ سے انگریزوں یا ہندوؤں یا دوسری قوموں سے مرعوب ہو رہے ہیں۔ صرف ایک جماعت (احمدی جماعت) ہے جو قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں کی طرح کسی فرد یا جمعیت سے مرعوب نہیں ہے اور خاص اسلامی کام سر انجام دے رہی ہے۔“
١٠٧
PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
1234 وہ تحریک شدھی اور مجاہد لکھی ہیں..... اگر اجازت ہو تو میں یہاں جناب یحییٰ بختیار: نہیں، ہو مرزا ناصر احمد: نہیں، یہ تو آ گزر رہا ہے اس کو دوستوں کے ذہن میں اس یو۔ پی کے اضلاع آگرہ متھرا، وغیرہ، وغی ملکانہ راجپوت آباد تھے جو اپنے آپ کو مسل بول چال، رسم و رواج سب ہندوانہ تھے، ج وہ اپنی غیر اسلامی حالت کو اسلامی حالت ب توجہ نہیں کی۔ آریوں نے میدان خالی پاکر شدھی کی تحریک شروع کر دی اور تمام اضلا خلاف نہایت زہریلا پراپیگنڈا شروع کیا ٧ مارچ ١٩٢٣ء کو امام جماعت احمدیہ نے کبیر کا علم بلند کیا اور ایک سو پچاس احمدی و میں بھجوا دیئے اور اس کام میں ایک لمبا تسل دوسرے دوست بھی پہنچے اور یہ فتنہ جو تھا سلسلہ میں جو لکھا ...... مثلاً ”زمیندار“ ہے م کو لکھا: ”احمدی بھائیوں نے جس خلوص، ت اس قابل ہے کہ ہر مسلمان اس پر فخر کرے 1235 اخبار ”ہمدم“ لکھنؤ ، ٦ مئی ١ معاملے میں بے حد قابل تحسین ہیں اور دوس یہ اخباروں کے حوالے بہت ہ ہوں۔ اخبار ”وکیل“ امرتسر ۔ ”نجات“ بج ”نور“ علی گڑھ اور پھر ہندو اخبارات نے کی اب آگے ہم ”ملک شام کی تحری
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
یہ مشرق ٢٢ ستمبر ١٩٢٧ء۔ 1237 اور بس میں یہ ایک ہی پڑھوں گا۔ یہ رئیس الاحرار مولانا محمد علی صاحب جوہر، جو پرانے احرار ہیں، ان کا بھی حوالہ ہے۔ یہ بہت سے ورق الٹنے میں اتنی دیر لگی۔ بڑی جلد ختم ہو رہا ہے۔ بس اب تھوڑا سا رہ گیا ہے۔۔۔۔۔
جناب یحییٰ بختیار: اگر لمبا بہت زیادہ ہے تو کل پھر کر دیتے۔
مرزا ناصر احمد: نہیں، ابھی کل چلے گا؟
جناب یحییٰ بختیار: کل تو کچھ رہ گیا ہے۔
مرزا ناصر احمد: اچھا! تو۔۔۔۔ نہیں، اگر ویسے آپ کی مرضی۔ لیکن میں، میرا خیال ہے، پانچ سات منٹ میں ختم کر دیتا ہوں۔
جناب یحییٰ بختیار: بس ٹھیک ہے، جی۔
مرزا ناصر احمد: ١٩٢٨ء میں سیرت النبی ﷺ کے جلسوں کی تحریک ہوئی اور یہ تھا کہ میں اس کا جو اصل مغز تھا وہ یہ تھا کہ نبی اکرم ﷺ کی سیرت پر جلسے اور ہندوؤں اور عیسائیوں ، اور ان کو بلاؤ کہ وہ بھی تقریر کریں۔ آنحضرت ﷺ کی سیرت پر اور جو عملاً ہوا وہ یہ ہے کہ ان کے پاس تو اپنا نہ مواد تھا اور نہ انہوں نے اس کو سوچا تھا تو وہ مسلمانوں سے مواد لے کر اور بڑے اچھے رنگ میں وہاں آ کر تقریر کر دیتے تھے اور اس طرح پر نبی اکرم ﷺ کی شان اور جلالیت، وہ جو ان کی وجہ سے ان کے ساتھی عیسائی یا ہندو وغیرہ آتے تھے، ان کے سامنے آپ کی سیرت کا ایک چمکتا ہوا بیان آ جاتا تھا۔ اس واسطے اس کے کہنے کے بعد میں سارا اس طرح کر دیتا ہوں۔ نہرو رپورٹ ایک شائع ہوئی۔ تو یہ بڑی عیار قوم ہے اور بڑی ہوشیاری سے چکر دے کر انہوں نے ایک ایسی رپورٹ کی تھی جو۔۔۔۔۔۔
جناب یحییٰ بختیار: سب کو علم ہے جی اس کا۔
مرزا ناصر احمد: ہاں۔۔۔۔۔۔ 1238 اس کے اوپر ایک تبصرہ کیا ہے، جماعت احمدیہ کی طرف سے ایک بڑا تبصرہ ہوا ہے اور اس کا دو سطری خلاصہ یہ تھا، اس تبصرے کا، کہ یہ مشورہ دیا کہ ایک آل پارٹیز مسلم کانفرنس منعقد ہو اور اس میں یہ یہ تجویزیں ہوں۔ نہ صرف اسلامی حقوق کی حفاظت کر لی گئی ہو بلکہ دوسرے تمام امور کے متعلق بھی ایک مکمل قانون یہ پیش کرے۔ یہ دو آئٹمز رہ گئی ہیں، وہ پھر کل کر لیں گے؟
جناب یحییٰ بختیار: اور کیا رہ گیا ہے؟
١٠٨
Y OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
یہ مشرق ٢٢ ستمبر ١٩٢٧ء ۔ 1237 اور محمد علی صاحب جوہر، جو پرانے احرار ہیں، ان کی گئی۔ بڑی جلد ختم ہورہا ہے۔ بس اب تھوڑا سا رہ
جناب یحییٰ بختیار : اگر لمبا بہت
مرزا ناصر احمد : نہیں، ابھی کل ہ
جناب یحییٰ بختیار : کل تو کچھ رہ
مرزا ناصر احمد : اچھا! تو ..... نہیں ہے، پانچ سات منٹ میں ختم کر دیتا ہوں ۔
جناب یحییٰ بختیار : بس ٹھیک ۔
مرزا ناصر احمد : ١٩٢٨ء میں سیرا میں اس کا جو اصل مغز تھا وہ یہ تھا کہ نبی اکرم ﷺ ان کو بلاؤ کہ وہ بھی تقریر کریں۔ آنحضرت ﷺ تو اپنا نہ مواد تھا اور نہ انہوں نے اس کو سوچا تھا میں وہاں آکر تقریر کر دیتے تھے اور اس طر وجہ سے ان کے ساتھی عیسائی پادری وغیرہ آئے بیان آجاتا تھا۔ اس واسطے اس کے کہنے کے ایک شائع ہوئی۔ تو یہ بڑی عیار قوم ہے اور ب رپورٹ کی تھی جو .....
جناب یحییٰ بختیار : سب کو علم ہ
1238 مرزا ناصر احمد : ہاں ..... طرف سے ایک بڑا تبرا ہوا ہے اور اس کا وہ ایک آل پارٹیز مسلم کانفرنس منعقد ہو اور اس حفاظت کرلی گئی ہو بلکہ دوسرے تمام امور کے رہ گئی ہیں، وہ پھر کل کرلیں گے؟
جناب یحییٰ بختیار : اور کیا رہ گیا
1269 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
مرزا ناصر احمد : ایک تو کشمیر ۔ وہ تو بڑا اہم ہے۔ ہاں، ایک تو ..... ہاں، تین چار رہ گئے ہیں۔ کچھ تو سائمن کمیشن رپورٹ پر ۔ یہ میں اس طرح داخل کروا دیتا ہوں ۔
جناب یحییٰ بختیار : دیکھئے ناں، مرزا صاحب ! یہ تو جنرل باتیں ہیں۔
مرزا ناصر احمد : قضیہ فلسطین اور جماعت احمدیہ کی مساعی ..... یہ بڑا اہم ہے۔ کیونکہ اعتراض ہو جاتے ہیں ناں کہ پہلے فلسطین تھا، اسرائیل بن گیا اور اکثر کو پتہ ہی نہیں کہ کس تاریخ کو بن گیا۔
جناب یحییٰ بختیار : پھر کل Afternoon (بعد دوپہر) کو ہوگا۔ کل صبح تو کہتے ہیں کہ نہیں ہو رہا جی ۔ 6 O'clock tomorrow? (کل چھ بجے؟)
محترمہ چیئرمین : اور آپ کو کوئی Question (سوال) تو نہیں پوچھنا ہے؟
Mr. Yahya Bakhtiar: نہیں Unless... Not now, because he has not concluded.
(جناب یحییٰ بختیار : ابھی نہیں، کیونکہ ابھی انہوں نے ختم نہیں کیا)
Madam Chairman: So, we meet again tomorrow at 5:30 pm.
(محترمہ چیئرمین: تو ہم کل ساڑھے پانچ بجے دوبارہ اجلاس کریں گے)
Mr. Yahya Bakhtiar: 5:30 pm tomorrow?
(جناب یحییٰ بختیار: کل ساڑھے پانچ بجے؟)
Madam Chairman: 5:30 pm tomorrow.
(محترمہ چیئرمین: ساڑھے پانچ بجے)
Mr. Yahya Bakhtiar: Because there is Senate Session, those journalists come and security arrangements....
1239 مرزا ناصر احمد : تو ؟
Madam Chairman: 5:30 pm tomorrow.
(محترمہ چیئرمین: کل ساڑھے پانچ بجے)
١٠٩
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
مرزا ناصر احمد: میرا حق نہیں ہے، مگر کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ آپ کے خیال میں کیا اندازہ ہے، کل ختم ہو جائے گا؟
جناب یحییٰ بختیار: یعنی یہ تو آپ پر Depend (انحصار) کر رہا ہے۔
مرزا ناصر احمد: میں تو پانچ دس منٹ سے زیادہ نہیں لوں گا جی۔
جناب یحییٰ بختیار: تو ایک دو آدھ رہ گئے ہیں۔ میرے خیال کچھ زیادہ ٹائم نہیں، کوشش یہی ہے......
مرزا ناصر احمد: ......کہ کل شام کو ہو جائے ختم......
جناب یحییٰ بختیار: ...... کیونکہ سوال تو ابھی اتنے زیادہ رہ گئے ہیں۔ میں ممبر صاحبان سے Request (گزارش) کرتا ہوں کہ وہ Give up کر دیں تا کہ وہ......
مرزا ناصر احمد: ہاں!
محترمہ چیئرمین: اچھا جی!
The Delegation is allowed to leave.
(وفد کو جانے کی اجازت ہے)
(The Delegation left the Chamber)
(وفد ہال سے باہر چلا گیا)
محترمہ چیئرمین: وہ جو فائل کرنے تھے، وہ لے لئے سب آپ نے؟
جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی! اچھا ہے تا کہ وہ ختم ہو جائیں۔
---------------
[The Special Committee adjourned to meet at half past five of the clock, in the afternoon, on Friday, the 23rd August, 1974.]
(خصوصی کمیٹی کا اجلاس بروز جمعہ ٢٣؍اگست ١٩٧٤ء بعد دوپہر ساڑھے پانچ بجے تک ملتوی کیا جاتا ہے)
١١٠
LY OF PAKISTAN 22nd Aug, 1974 No:09
مرزا ناصر احمد : میرا حق نہیں ہے
اندازہ ہے، کل ختم ہو جائے گا؟
جناب یحییٰ بختیار : یعنی یہ تو آپ
مرزا ناصر احمد : میں تو پانچ دس منٹ
جناب یحییٰ بختیار : تو ایک دو آ
کوشش یہی ہے ......
مرزا ناصر احمد : ......کہ کل شام کو ہو
جناب یحییٰ بختیار : ......کیونکہ
صاحبان سے Request (گزارش) کرتا ہوں
مرزا ناصر احمد : ہاں!
محترمہ چیئرمین : اچھا جی!
ed to leave.
(وفد کو جانے کی اجازت ہے)
left the Chamber)
(وفد ہال سے
محترمہ چیئرمین : وہ جو فائل کرنے
جناب یحییٰ بختیار : ہاں جی! اچھا
ee adjourned to meet at half
fternoon, on Friday, the 23rd
(خصوصی کمیٹی کا اجلاس بروز جمعہ ٢٣
ملتوی کیا جاتا ہے)
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
No. 10 400
THE
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN
PROCEEDINGS
OF
THE SPECIAL COMMITTEE OF THE
WHOLE HOUSE
HELD IN CAMERA
TO CONSIDER THE QADIANI ISSUE
OFFICIAL REPORT
Friday, the 23rd August, 1974
(Contains Nos. 1-21)
CONTENTS
Pages
- 1. Written Answers Read out by the Witness............................................. 1244-1245
- 2. Record of Proceedings of the Special Committee...................................... 1245-1246
- 3. Cross-examination of the Qadiani Group Delegation................................. 1246-1265
- 4. Introduction of Extraneous Matters by the Witness................................. 1265-1267
- 5. Cross examination of the Qadiani Group Delegation-(Continued)..................... 1267-1341
PRINTED BY THE MANAGER, PRINTING CORPORATION OF PAKISTAN PRESS, ISLAMABAD
PUBLISHED BY THE NATIONAL BOOK FOUNDATION, ISLAMABAD
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
No. 10
THE
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN
PROCEEDINGS
OF
THE SPECIAL COMMITTEE OF THE
WHOLE HOUSE
HELD IN CAMERA
TO CONSIDER THE QADIANI ISSUE
OFFICIAL REPORT
Friday, the 23rd August, 1974
(Contains Nos. 1-21)
٢
NATION
1243 THE NATION
P
THE SPECIA
WHOLE HO
TO CONSIDE
O
Frida
روائی)
(
The Special Camera in the Asse Islamabad, at half p Mr. Chairman (Sahi
سٹیٹ بینک بلڈنگ ) اسلام آباد کی زیر صدارت منعقد ہوا)
(Reciti
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
1243
THE NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN
(قومی اسمبلی پاکستان)
----------
PROCEEDINGS
OF
THE SPECIAL COMMITTEE OF THE
WHOLE HOUSE HELD IN CAMERA
TO CONSIDER THE QADIANI ISSUE.
----------
OFFICIAL REPORT
Friday, the 23th August. 1974.
(کل ایوان کی خصوصی کمیٹی بند کمرے کی کارروائی)
(٢٣؍اگست١٩٧٤ء، بروز جمعہ)
----------
The Special Committee of the Whole House met in Camera in the Assembly Chamber, (State Bank Building), Islamabad, at half past five of the clock in the afternoon. Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali) in the Chair.
(مکمل ایوان کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس اسمبلی چیمبر (سٹیٹ بینک بلڈنگ) اسلام آباد ساڑھے پانچ بجے شام جناب چیئرمین (صاحبزادہ فاروق علی) کی زیر صدارت منعقد ہوا)
----------
(Recition from the Holy Quran) (تلاوت قرآن شریف)
----------
٣
1274 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
1244 Malik Mohammad Suleman: Mr. Chairman. Sir.
(ملک محمد سلیمان: جناب چیئرمین!)
Mr. Chairman: Sahibzada Safiullah.
(جناب چیئرمین: صاحبزادہ صفی اللہ)
---------
WRITTEN ANSWERS READ OUT BY THE WITNESS
صاحبزادہ صفی اللہ: جناب والا! میں عرض کرتا ہوں.......
جناب چیئرمین: (ملک محمد سلیمان سے) ان کے بعد۔
(مرزا ناصر کی حوالوں میں ہیرا پھیری)
صاحبزادہ صفی اللہ: .......کہ پہلے یہ فیصلہ ہوا تھا کہ مرزا ناصر احمد صاحب اپنی طرف سے لکھا ہوا بیان نہیں پڑھے گا، یعنی اگر وہ کوئی حوالہ دے بشیر الدین محمود کا یا مرزا غلام احمد کا، تو اس کتاب کے اقتباس کو پیش کرے گا۔ لیکن کل ہم نے دیکھا کہ وہ اپنی طرف سے لکھے ہوئے کاغذ سے بیانات پڑھ رہے تھے اور ان کی طرف منسوب کر رہے تھے، یعنی اس کا پتا نہیں چلتا تھا کہ واقعی مرزا غلام احمد کا ہے، یا مرزا بشیر الدین کا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ان غیر متعلقہ بحثوں کو یہاں وہ چھیڑنا چاہتے ہیں، یعنی اٹارنی جنرل اگر چھوٹا سا سوال کرتے ہیں تو ساری وہ تواریخ اور اپنی صفائی میں وہ بیانات دیتے ہیں، وہ کاغذ پر لکھے ہوئے بیانات دیتے ہیں، تو اس سے یہ پتا نہیں چلتا کہ یہ واقعی اقتباسات ہیں یا ان کی کتاب سے.......
جناب چیئرمین: (سیکرٹری سے) ان کو بلالیں اور باہر بٹھا دیں، دو منٹ لگیں گے، جی!
صاحبزادہ صفی اللہ: یہ ان کی کتابوں کے اقتباسات ہیں یا اپنی طرف سے ہیں۔ جس طرح سے ان کا خاص طریقہ ہے، وہ ہیرا پھیری سے کام لیتے ہیں، ابھی کچھ اس طرح کے کام وہ کرتے ہیں۔ تو آپ اس کا نوٹس لیں اور آپ دیکھ لیں۔
جناب چیئرمین: نہیں، آج انشاء اللہ! Cut-Short کریں گے، اور اب دس دن سے یہ پروسیجر چل رہا ہے اور اس میں کافی کوشش کی جا رہی ہے کہ کسی طریقے سے اس کو مختصر کیا جائے، 1245اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو حوالہ جات ہیں، آپ کسی پر اپنی Explanation
٤
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
(وضاحت) دینا چاہتے ہیں، وہ لکھ کے دے دیں، ہم Evidence (شہادت) میں اس کو پڑھ لیں گے۔
صاحبزادہ صفی اللہ: کل وہ ایک کاغذ پڑھ رہے تھے، جس سے وہ یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ ہم نے نہیں، بلکہ دُوسرے مسلمانوں نے چراغ روشن کے سلطنت عثمانیہ کے زوال کے موقع پر، اور وہ اپنی طرف سے ایک بیان پڑھ رہے تھے کہ فلاں مسلمانوں نے، فلاں یہ چراغاں کیا، وہ چراغاں کیا، تو آپ اس طرف کچھ توجہ فرمائیں۔
جناب چیئرمین: ٹھیک ہے، جی ٹھیک ہے!
صاحبزادہ صفی اللہ: وہ اقتباسات پیش نہ فرمائیں........
جناب چیئرمین: ٹھیک ہے، اس کا بھی جواب سوچ رکھیں۔
------------------------
RECORD OF PROCEEDINGS OF THE SPECIAL
COMMITTEE
(خصوصی کمیٹی کی کاروائی کا ریکارڈ)
ملک محمد سلیمان: جناب چیئرمین!
جناب چیئرمین: جی، جی۔
ملک محمد سلیمان: یہ ہمیں تین کاپیاں رپورٹنگ کی ملی ہیں، پانچ، چھ اور دس کی۔
جناب چیئرمین: ہاں۔
ملک محمد سلیمان: جہاں تک یہ چھ اور دس کی رپورٹنگ کا تعلق ہے، اس پر یہ لکھا ہے کہ:
"Report of the proceedings of Special Committee of the Whole House, held in Camera, on Tuesday, the 6th August, 1974, to consider the Ahmadiyya Issue".
(”پورے ایوان پر مشتمل خصوصی کمیٹی کی کارروائی کی رپورٹ جس کا اجلاس احمدیہ مسئلے پر غور کرنے کے لئے بتاریخ ٦؍ اگست ١٩٧٤ء بروز منگل، بند کمرے میں ہوا۔“)
یہ ”احمدیہ ایشو“ نہیں ہے، یہ ”قادیانی ایشو“ ہے، تو یہ Correction (تصحیح) کی جائے کیونکہ اس سے بہت سی خرابیاں پیدا ہو سکتی ہیں، اور یہ بالکل غلط ہے، یہ قادیانی ایشو ہے۔
1246 جناب چیئرمین: بہت اچھا!
٥
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
ملک محمد سلیمان: اس کو قادیانی ایشو Treat کیا جائے، یہ ہم نے کبھی فیصلہ نہیں کیا کہ......
جناب چیئرمین: بہت اچھا!
ملک محمد سلیمان: یہ احمدیہ ایشو ہے؟
جناب چیئرمین: اچھا، We will amend it according to our resolutions. (ہم اپنے ریزولیوشن کے مطابق ترمیم کرلیں گے)
مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: ریزولیوشن تو کیونکہ دونوں پیش ہوئے تھے ناں، سر! وہ میرے خیال میں ٹھیک فرمارہے ہیں۔
ملک محمد سلیمان: ریزولیوشن تو Amend ہونا چاہئے۔
مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: ریزولیوشن ہمارا بھی پیش ہوا تھا، اس میں تھا ”قادیانی ایشو“ وغیرہ، یہ صحیح فرمارہے ہیں۔
جناب چیئرمین: اچھا جی، ٹھیک ہے جی۔ (سیکرٹری سے) بلائیں جی!
(The Delegation entered the Chamber)
(وفد ہال میں داخل ہوتا ہے)
Mr. Chairman: Yes, Mr. Attorney-General.
(جناب چیئرمین: جی اٹارنی جنرل صاحب!)
----------
CROSS-EXAMINATION OF THE
QADIANI GROUP DELEGATION
(قادیانی وفد پر جرح)
Mr. Yahya Bakhtiar (Attorney-General of Pakistan): Sir, Mirza Sahib has to continue his reply.
(یحییٰ بختیار (اٹارنی جنرل آف پاکستان): جناب والا! مرزا صاحب کو اپنا جواب جاری رکھنا ہے)
مرزا ناصر احمد: (گواہ سربراہ جماعت احمدیہ، ربوہ): جی، شروع کردوں؟
٦
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
(مرزا ناصر احمد کا طویل جواب)
جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی!
1247 مرزا ناصر احمد: ایک ہماری تاریخ کا اہم زمانہ ١٩٣٠ء کے قریب کا ہے، جب سائمن کمیشن یہاں آیا تھا اور اس نے اپنی رپورٹ ایک تیار کی تھی۔ اس میں گول میز کانفرنس کا اعلان کیا گیا تھا، اور اس موقع پر ہمارے خلیفہ المسیح الثانی نے اس پر بھی اپنی طرف سے مسلمانوں کو اکٹھا ہونے اور سیاسی، متحدہ سیاسی محاذ قائم کرنے کی اپیل کی تھی، اور اس پر ایک جامع اور مانع تبصرہ لکھا گیا تھا آپ کی طرف سے۔ اس میں جو یہ تاریخ کا ایک ورق ہے، تبصرہ بھی ہوگا، یا میں بھجوا دوں گا۔ میں نے جو حوالے لکھے ہیں، ان میں ایک....... آپ کا وقت بچانے کے لئے، کیونکہ کچھ ایسے عنوان ہیں جن میں وقت زیادہ خرچ ہوگا۔
”سیاست“ لاہور نے لکھا: ”اس وقت کے مذہبی اختلافات کی بات چھوڑ کر دیکھیں تو جناب بشیر الدین محمود احمد صاحب نے میدانِ تصنیف وتالیف میں جو کام کیا ہے، وہ بلحاظ ضخامت وافادہ پر تعریف کا مستحق ہے۔ (یہ تو ویسے ہی ہے) اور سیاسیات میں اپنی جماعت کو عام مسلمانوں کے پہلو بہ پہلو چلانے میں آپ نے جس اُصولِ عمل کی ابتدا کر کے، اس کو اپنی قیادت میں کامیاب بنایا ہے، وہ بھی ہر منصف مزاج مسلمان اور حق شناس انسان سے خراجِ تحسین وصول کر کے رہتا ہے۔“
یہ ”سیاست“ نے اس پر تبصرہ لکھا کہ......... بہت سے اس میں ہیں حوالے، وہ دے دیں گے، میں نے اسی واسطے کہا کہ یہ عنوان ایک مختصر سا ہے۔
یہ قضیہ فلسطین، یہ ١٩٣٩ء سے ١٩٤١ء تک یہ آیا ہے دُنیا کے سامنے، بلکہ اس سے بھی کچھ پہلے، کیونکہ مجھے یاد ہے کہ آکسفورڈ میں اس مضمون پر، مذاکرات میں بعض دفعہ مجھے بھی حصہ لینا پڑا ہے، اس میں خلیفہ ثانی نے ایک تو لکھا: ”الکفر ملّۃ واحدۃ“ اس کا عربی کا ہے، اور تمام ان ممالک میں بھجوایا گیا جن کا ان کے ساتھ تعلق تھا اور جو دلچسپی لینے والے تھے، عرب ممالک جو 1248 ہیں، انگلستان میں اس کے متعلق کوشش کی گئی، حضرت امام جماعت احمدیہ کی قیادت میں، احمدیہ پریس اور مبلغین کی تمام ہمدردیاں مسئلہ فلسطین کے بارے میں مسلمانانِ عالم کے ساتھ تھیں،
چنانچہ اخبار "South Western Star" نے ٣؍فروری ١٩٣٩ء کی اشاعت میں لکھا: ”عید الاضحیٰ کی تقریب پر مسجد احمدیہ لندن میں ایک جلسہ ہوا اور لیفٹیننٹ کرنل سرفرانس
٧
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
ینگ ہسبنڈ کی صدارت میں امام شمس نے حکومت کو انتباہ کیا (انگریز حکومت کو) کہ فلسطین میں یہودیوں کا تعداد میں عربوں سے بڑھنا اور ان پر چھا جانے کا خیال سخت خوفناک ہے، یہ کبھی برداشت نہیں کیا جائے گا، برطانیہ حکومت کو اس کا منصفانہ حل تلاش کرنا ہوگا۔‘‘
یہ ’’الکفر ملۃ واحدۃ‘‘ یہ ایک اچھا لمبا ہے، وہ اس کو تو میں اس وقت نہیں لوں گا، یہ اس میں آپ نے فرمایا: ’’امریکا اور رُوس جو ایک دُوسرے کے دُشمن ہیں، اس مسئلے میں متحد اس لئے ہیں کہ وہ اسلام کی ترقی میں اپنے ارادوں کی پامالی دیکھتے ہیں، (یہ فلسطین کے سلسلے میں کہا ہے)۔ فلسطین ہمارے آقا ومولیٰ کی آخری آرام گاہ کے قریب ہے، حضور ﷺ کی زندگی میں اکثر جنگیں، یہود کے اُکسانے پر ہوئیں۔ اب یہودی، عرب میں سے عربوں کو نکالنے کی فکر میں ہیں، یہ معاملہ صرف عربوں کا نہیں، سوال فلسطین کا نہیں، سوال مدینہ کا ہے، سوال یروشلم کا نہیں، خود مکہ مکرمہ کا ہے، سوال زید اور بکر کا نہیں، سوال محمد رسول ﷺ کی عزت کا ہے، کیا مسلمان اس موقع پر اکٹھا نہیں ہوگا؟ آج ریزولیوشنز سے کام نہیں ہوسکتا، آج قربانیوں سے کام ہوگا۔ پاکستان کے مسلمان حکومت کی توجہ اس طرف دلائیں کہ ہماری جائیدادوں کا کم سے کم ایک فی صد حصہ اس وقت لے لے، اس طرح اس وقت ایک ارب 1249 روپیہ اس غرض کے لئے جمع کرسکتی ہے (یعنی مسلمان کا علیحدہ فنڈ) جو اسلام کی موجودہ مشکلات کا بہت کچھ حل ہوسکتا ہے۔‘‘
شام ریڈیو نے ’’الکفر ملۃ واحدۃ‘‘ کا خلاصہ ریڈیو پر شائع کیا۔ اخبار ’’النہضۃ‘‘ زیرعنوان ’’مطبوعات‘‘....... اس میں، میں ترجمہ پڑھ رہا ہوں: ’’السید مرزا محمد احمد صاحب کا خطبہ ملا، اس خطبہ میں خطیب نے تمام مسلمان کو دعوتِ اتحاد دی ہے، اور فلسطین کو یہودیت، صیہونیت سے نجات دلانے کے لئے ٹھوس اقدامات کی طرف توجہ دلائی ہے، نیز اہلِ پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطین عربوں کی فوری اعانت کریں۔‘‘
اخبار ’’صوت الاحرار‘‘ نے اس کے اُوپر یہ تبصرہ لکھا ہے....... ’’الکفر ملۃ واحدۃ‘‘ پر: ’’امام جماعت احمدیہ نے اپنے لیکچر میں، پوری قوّت سے عالم صیہونیت پر حملہ کیا۔ اس لیکچر کا خلاصہ یہ ہے کہ سامراجی استعمار سے آزادی اور نجات، اتحاد اور تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔‘‘
اخبار ’’الثورۃ‘‘ بغداد نے لکھا، ١٨؍ جون ١٩٤٨ء کو۔ ’’حضرت مرزا محمود احمد صاحب کے مضمون کا عنوان ہے: ’’الکفر ملۃ واحدۃ‘‘ جن احباب نے یہ مفید ٹریکٹ شائع کیا ہے، ہم ان کی اسلامی غیرت اور اسلامی مساعی پر شکریہ ادا کرتے ہیں۔‘‘
٨
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
یہ کچھ ہیں عنوان ۔ ایک چھوٹا سا نوٹ ( وفد کے ایک رُکن کی طرف اِشارہ کر کے ) ان صاحب سے بھی لکھوایا ہے۔ یہ صاحب چھ سال وہاں رہے ہیں، فلسطین میں، تو یہ ایک صفحے کا ہے، ڈیڑھ صفحے کا ہے، چھوٹا سا ایک منٹ کا:
”جماعت احمدیہ کا فلسطین میں مارچ ١٩٢٨ء میں تبلیغی مشن قائم ہوا، اس وقت فلسطین میں قریباً تین ہزار پادری عیسائیت کی تبلیغ کر رہے تھے اور اطرافِ ملک میں ان کے حصّۂ مشن موجود تھے۔ احمدیہ مشن کی طرف سے عیسائی پادریوں سے 1250 مناظرات ہوئے ، ان کے اسلام پر اعتراضات کے جواب میں کتب و اشتہارات شائع ہوتے رہے، پھر باقاعدہ ایک ماہنامہ ’البشریٰ‘ بھی جاری ہوا، ١٩٣٢ء میں ۔ اس مشن کی طرف سے یہودیوں کو دعوتِ اسلام کے لئے عبرانی میں بھی لٹریچر شائع کیا گیا۔ یہ مشن روزِ اوّل سے مقامی مسلمانوں کو اسرائیل کے آنے والے خطرے سے اسرائیل بننے سے بھی قبل آگاہ کرتا رہا۔ حضرت امام جماعت احمدیہ کی طرف سے ایک مبسوط مضمون ’الکفر ملۃ واحدة‘ شائع ہوا، جس میں سب مسلمانوں کو متحد ہوکر اس خطرے کا مقابلہ کرنے کی دعوت دی گئی، اس مضمون کی عرب ممالک کے تمام اخبارات نے تائید کی ۔ ٢٦ مئی ١٩٤٨ء کو مسلمانانِ عالم کی مخالفت کے باوجود امریکا، انگلستان اور رُوس کی تائید سے اسرائیل بن گیا، اس موقع پر فلسطین کے چھ، سات لاکھ باشندوں کو شام، اُردن، لبنان اور دیگر بلادِ عربیہ میں ہجرت کرنی پڑی۔ اس وقت حیفہ، طیرہ اور دیگر دیہات کے ہزاروں احمدیوں نے بھی شام اور اُردن میں ہجرت کی اور آج تک جلاوطنی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اس وقت اسرائیل میں قریباً تین لاکھ سے زائد عام مسلمان اور ہزاروں احمدی مسلمان موجود ہیں۔ مسلمانوں کی مجلسِ اسلامی الاعلیٰ بیت المقدس میں ہے، ان کے فیصلے مسلمان قاضی کرتے ہیں۔ جو احمدی اسرائیل میں ہیں اور ہجرت نہیں کرسکے وہ اپنے خرچ پر احمدیہ مشن کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور یہود و نصاریٰ کو دعوتِ اسلام دی جارہی ہے۔ احمدیوں کے اسرائیل میں سارے مسلمانوں سے باہمی تعلقات نہایت اچھے ہیں۔ اس مشن کے پہلے مبلغ......“
چھوڑتے ہیں، یہ بھی اس کے اندر آجائے گا۔
١٩٣٦ء میں انڈونیشیا کی تحریک آزادی کا سوال جب اُٹھا تو اس وقت بھی جماعت احمدیہ کے خلیفہ ثانی نے ان کے حق میں آواز اُٹھائی، یہ جو حوالہ ہے اس کو میں چھوڑتا ہوں۔
1251 جس وقت آزادی ہند اور قیامِ پاکستان کے لئے حالات پیدا ہوئے تو اس وقت آزادی کے متعلق یعنی انگریزی حکومت سے آزادی حاصل کرنے کی مساعی اور کوشش میں
٩
1280 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
جماعت احمدیہ نے بڑا کردار ادا کیا۔ جو آزادی ہند کے متعلق کوشش تھی، اس کے متعلق مشہور اہل حدیث عالم جناب مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری نے یہ الفاظ لکھے: ”یہ الفاظ کس جرأت اور حیرت کا ثبوت دیتے ہیں کہ کانگریسی تقریروں میں اس سے زیادہ نہیں ملتے، چالیس کروڑ ہندوستانیوں کو غلامی سے آزاد کرانے کا ولولہ جس قدر خلیفہ جی کی اس تقریر میں پایا جاتا ہے، وہ گاندھی جی کی تقریر میں بھی نہیں ملے گا۔“
یہ اخبار ”اہل حدیث“ امرتسر، ٦؍ جولائی ١٩٤٥ء پر یہ آیا ہے۔
پھر جب مسلم لیگ کے بننے کا سوال پیدا ہوا تو اس وقت مثلاً: جو خضر حیات ٹوانہ تھے، یہ ایک وقت میں ڈھٹائی سی ان کی طبیعت میں پیدا ہوگئی، اور وہ مسلم لیگ کے لئے کام کرنا تو علاوہ، وہ اپنے عہدے کو چھوڑنے کے لئے بھی تیار نہیں تھے، تو جماعت کے بعض دوستوں کے ساتھ ان کے تعلقات تھے جن میں چوہدری ظفر اللہ خان صاحب بھی تھے، ان پر زور ڈال کر ان سے استعفیٰ دلوایا گیا، اور ہندو اخباروں نے جماعت کے اوپر اس وقت یہ اعتراض کیا کہ یہ اس قسم کی حرکتیں کر رہے ہیں۔
یہ منیر کمیٹی نے بہت سارے حوالے میں نے چھوڑ دیئے ہیں... یہ منیر کمیٹی کی جو رپورٹ ہے اس کے یہ دو فقرے، تین فقرے جو ہیں، دلچسپ ہیں ہم سب کے لئے: ”عدالت ہذا کا صدر ........“ نہ یہ باؤنڈری کمیشن جو تھا اس کا: ”عدالت ہذا کا صدر جو اس باؤنڈری کمیشن کا ممبر تھا.......“ 1252 نہیں، نہیں، یہ منیر کمیٹی کا ہے، وہ منیر تھے ناں، وہاں یہ اس وقت کی بات کر رہے ہیں: ”....... بہادرانہ جدوجہد پر شکر واطمینان کا اظہار کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے کہ چوہدری ظفر اللہ خان نے گورداسپور کے معاملے میں مسلمانوں کی نہایت بے غرضانہ خدمات انجام دیں۔“
یہ منیر کمیٹی کی رپورٹ میں ہے۔
یہ محمد ابراہیم صاحب میر سیالکوٹی کا بھی ہے۔ عنوان۔ ایک اقتباس ہے یہ کتاب ہمارے ایک مشہور ہیں عالم، مولانا محمد ابراہیم صاحب میر سیالکوٹی، احمدی نہیں، یعنی دوسرے مسلمانوں میں سے، ان کا یہ اقتباس ہے دلچسپ: ”میرے ایک مخلص دوست کے فرزند ارجمند، لیکن گستاخ، حافظ محمد صادق سیالکوٹی نے احمدیوں کے مسلم لیگ سے موافقت کرنے کے متعلق اعتراض کیا اور ایک امرتسری شخص نے بھی پوچھا ہے، تو ان کو معلوم ہو کہ اوّل تو میں احمدیوں کی شرکت کا ذمہ دار نہیں ہوں.......“
١٠
1281 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
ان ہی پر اعتراض ہو گیا تھا ناں:”.......کیونکہ میں نہ مسلم لیگ کا کوئی عہدے دار ہوں اور نہ ان کے اور نہ کسی دیگر کے ٹکٹ پر ممبری کا اُمیدوار ہوں کہ اس کا جواب میرے ذمے ہو۔ دیگر یہ ہے کہ احمدیوں کا اس اسلامی جھنڈے کے نیچے آ جانا، اس بات کی دلیل ہے کہ واقعی مسلم لیگ ہی مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت ہے۔ وجہ یہ ہے کہ احمدی لوگ کانگریس میں تو شامل ہو نہیں سکتے، کیونکہ وہ خالص مسلمانوں کی جماعت نہیں ہے، اور نہ احرار میں شامل ہو سکتے ہیں کیونکہ وہ سب مسلمانوں کے لئے نہیں، بلکہ صرف اپنی احراری جماعت کے لئے لڑتے ہیں، جن کی امداد پر کانگریسی جماعت ہے اور 1253 حدیث: ”الدین النصیحة“ کی تفسیر میں خود رسول مقبول ﷺ نے عامۃ المسلمین کی خیر خواہی کو شمار کیا ہے، ہاں! اس وقت مسلم لیگ ہی ایک ایسی جماعت ہے جو خالص مسلمانوں کی ہے، اس میں مسلمانوں کے سب فرقے شامل ہیں۔ پس احمدی صاحبان بھی اپنے آپ کو ایک اسلامی فرقہ جانتے ہوئے اس میں شامل ہو گئے، جس طرح کہ اہل حدیث اور حنفی اور شیعہ وغیرہ شامل ہو گئے اور اس امر کا اقرار کہ احمدی لوگ اسلامی فرقوں میں سے ایک فرقہ ہیں، مولانا ابوالکلام کو بھی ہے۔ ان سے پوچھئے، اگر وہ انکار کریں گے تو ہم ان کی تحریروں میں دکھا دیں گے۔“
پھر ١٩٤٧ء میں .......
جناب یحییٰ بختیار: جی، یہاں آنے کے بعد، Partition کے بعد !
مرزا ناصر احمد : لاہور میں پاکستان کے روشن مستقبل کے لئے، امام جماعت احمدیہ، کے چھ لیکچرز ہیں، جو اس وقت بڑے مقبول ہوئے، اس کو پڑھنے کی بجائے میں سارا یہاں رکھ دیتا ہوں۔
اب رہا...بڑا عجیب سا میرے نزدیک ہے وہ سوال...اکھنڈ ہندوستان۔ اس زمانے کے حالات پر بہت سارے ہیں، اور چونکہ میں دے دوں گا حوالے میں تھوڑی سی ، مختصر سی بتانا چاہتا ہوں۔
اس زمانے کے حالات یہ تھے، میرے نزدیک، کہ انگریز ہندوستان کو آزادی دینے کے لئے تیار ہو گیا، اور مسلمانوں کی کوئی ایسی تنظیم موجود نہیں تھی جو مسلمانوں کی نمائندگی میں ان کے حقوق کی پوری طرح حفاظت کر سکے۔ مسلم لیگ جو ہے، وہ تو بعد میں اپنے زور پر آئی۔ سوال اکھنڈ ہند ......میرے نزدیک اس زمانے میں، سوال اکھنڈ ہندوستان کا نہیں تھا، نہ پاکستان کا 1254 سوال تھا، سوال یہ تھا......مجھے افسوس ہے کہ صحیح اعداد و شمار میں حاصل نہیں کر سکا، اس شخص کو کہا تھا......سارے ہندوستان میں، میرا خیال ہے کہ غالباً کوئی بارہ، چودہ کروڑ مسلمان ہوگا۔ مگر
11
PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
جماعت احمدیہ نے بڑا کردار ادا کیا۔ جو حدیث عالم جناب مولوی ثناء اللہ صاح حیرت کا ثبوت دیتے ہیں کہ کانگریس ہندوستانیوں کو غلامی سے آزاد کرانے کا گاندھی جی کی تقریر میں بھی نہیں ملے گا۔ یہ اخبار ”اہل حدیث“ امرتس
پھر جب مسلم لیگ کے بنے یہ ایک وقت میں ڈھٹائی سی ان کی طبیعت وہ اپنے عہدے کو چھوڑنے کے لئے بھی کے تعلقات تھے جن میں چوہدری ظفر ال دلوایا گیا، اور ہندو اخباروں نے جماعت رہے ہیں۔
یہ منیر کمیٹی نے بہت سارے رپورٹ ہے اس کے یہ دو فقرے، تین فقر
”عدالت ہذا کا صدر ......
”عدالت ہذا کا صدر جو اس
1252 نہیں، نہیں، یہ منیر کمیٹی ہیں:”.......بہادرانہ جدوجہد پر شکر واطمی نے گورداسپور کے معاملے میں مسلمانوں یہ منیر کمیٹی کی رپورٹ میں ۔
یہ محمد ابراہیم صاحب میر ہمارے ایک مشہور عالم ہیں، مولانا محم مسلمانوں میں سے، ان کا یہ اقتباس ۔
لیکن گستاخ، حافظ محمد صادق سیالکوٹی اعتراض کیا اور ایک امرتسری شخص نے شرکت کا ذمہ دار نہیں ہوں ......“
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
.......میری تصحیح کردیں یہاں.......
جناب یحییٰ بختیار: کس زمانے کی بات کررہے ہیں آپ؟
مرزا ناصر احمد: میں، یہی سمجھے کچھ تیس چالیس کے درمیان۔
جناب یحییٰ بختیار: سات آٹھ کروڑ کے لگ بھگ۔
مرزا ناصر احمد: ٹوٹل؟
جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں، پاکستان بننے کے کچھ دن کے بعد یہ کہتے تھے: One Hundred Million (دس کروڑ) مسلمان ہیں۔
مرزا ناصر احمد: نہیں، ہم کتنے ملین وہاں چھوڑ کے آئے تھے؟ کتنے کروڑ ہندوستان میں رہ گیا؟
جناب یحییٰ بختیار: ابھی آج کل ٦ کروڑ ہیں، اس زمانے میں تین چار کروڑ تھے۔
مرزا ناصر احمد: اس زمانے پانچ، چھ کروڑ تھا، سات کروڑ۔ بس یہی فگرز میرے ذہن میں نہیں تھی۔ ہیں جی؟ چار کروڑ؟
جناب یحییٰ بختیار: چار کروڑ۔
مرزا ناصر احمد: چار کروڑ، تو کل دس کروڑ کے قریب بنے ناں سارے مسلمان دس گیارہ، تو اس وقت سوال یہ تھا کہ یہ دس کروڑ مسلمان جو ہندوستان میں بستے ہیں، جن کا اپنا کوئی مضبوط شیرازہ نہیں، ان کی حفاظت، ان کے حقوق کی حفاظت کس طرح کی جائے؟ اس وقت مسلمان دو School of Thought (مکتبہ فکر) دو نظریوں میں آگئے۔
(خاص عرصہ متعین کریں)
جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! یہاں جو ہے ناں، آپ کہتے ہیں اس وقت ١٩٣٠ء اور ١٩٣١ء جو ہے، بہت بڑا عرصہ ہے، کوئی خاص ایسا عرصہ متعین کریں........
1255 مرزا ناصر احمد: میری مراد وہ ہے جب انگلستان تیار ہو گیا آزادی دینے کے لئے۔
(انگلستان آزادی دینے کے لئے تیار نہ تھا)
جناب یحییٰ بختیار: انگلستان تو کبھی بھی تیار نہیں تھا، جہاں تک میرا خیال ہے، جنگ ختم ہوگئی، اس کے بعد........
مرزا ناصر احمد: جب عقل مندوں نے یہ سونگھا کہ کوشش کی جائے تو ہم آزاد ہو سکتے ہیں۔
١٢
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، جنگ ختم ہوگئی، اس کے بعد کی بات ہے، یہ اس وقت کے زمانے میں تو کوئی سوال ہی نہیں تھا۔
مرزا ناصر احمد: سائمن کمیشن یہ وہ.......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں نہیں، وہ تو.......
مرزا ناصر احمد: یعنی آزادی کی طرف قدم اٹھ رہا تھا۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، وہ تو مراعات کہہ لیں.......
مرزا ناصر احمد: بہرحال میں تو اپنا عندیہ بتا رہا ہوں۔
جناب یحییٰ بختیار: Concession کہہ لیں آپ۔
مرزا ناصر احمد: ایک زمانہ ایسا آیا... کوئی زمانہ لے لیں آپ... جب تمام مسلمانانِ ہند کے حقوق کی حفاظت کا سوال تھا، اس وقت مسلمانانِ ہند دو گروہوں میں بٹ گئے، ایک کا خیال یہ تھا کہ سارے ہندوستان کے مسلمان اکٹھے رہیں تو ان کے حقوق کی حفاظت زیادہ اچھی ہوسکتی ہے... میں صرف Out-line لے رہا ہوں... اور ایک کا خیال بعد میں یہ ہوا۔ ہاں! اس زمانے میں ہمارے قائد اعظم محمد علی صاحب جناح کا بھی یہی خیال تھا کہ سارے مسلمان اگر اکٹھے رہیں تو ان کے حقوق کی حفاظت زیادہ اچھی طرح ہوسکتی ہے۔ چنانچہ یہ رئیس احمد جعفری نے لکھا ہے، ان کی کتاب میں سے لیا ہے، ٢٠٠ اور ٢٠١ صفحے سے، قائد اعظم کے متعلق انہوں نے لکھا ہے کہ: 1256 ”میں حیران ہوں کہ میری ملی خودداری اور وقار کو کیا ہو گیا تھا، میں کانگریس سے صلح ومفاہمت کی بھیک مانگا کرتا تھا، میں نے اس مسئلے کے حل کے لئے اتنی مسلسل اور غیر منقطع مساعی کیں کہ ایک انگریز اخبار نے لکھا: ”مسٹر جناح ہندو مسلم اتحاد کے مسئلے سے کبھی نہیں تھکتے۔“
لیکن گول میز کانفرنس (جس کا ابھی میں نے اوپر ذکر کیا) گول میز کانفرنس کے زمانے میں مجھے اپنی زندگی میں سب سے بڑا صدمہ پہنچا۔ (وہی لے لیں وقت)۔ جیسے ہی خطرے کے آثار نمایاں ہوئے، ہندونیت دل و دماغ کے اعتبار سے اس طرح نمایاں ہوئی کہ اتحاد کا امکان ہی ختم ہو گیا۔ اب میں مایوس ہو چکا تھا۔ مسلمان بے سہارا اور ڈانواں ڈول ہو رہے تھے۔ کبھی حکومت کے یارانِ وفادار کی رہنمائی کے لئے میدان میں آ موجود ہوتے تھے، کبھی کانگریس کی نیاز مندانہ (خصوصی ان کی) قیادت کا فرض ادا کرنے لگتے تھے۔ مجھے اب ایسا محسوس ہونے لگا کہ میں ہندوستان کی کوئی مدد نہیں کر سکتا اور نہ ہندو ذہنیت میں کوئی خوشگوار تبدیلی کر سکتا ہوں اور نہ مسلمانوں کی آنکھیں کھول سکتا ہوں۔ آخر میں نے لندن ہی میں بودوباش کا فیصلہ کر لیا۔ پھر بھی
١٣
PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
.......میری تصحیح کردیں یہاں.......
جناب یحییٰ بختیار: کس
مرزا ناصر احمد: میں، یہی
جناب یحییٰ بختیار: سات
مرزا ناصر احمد: ٹوٹل؟
جناب یحییٰ بختیار: جی ہا Hundred Million (دس کروڑ)
مرزا ناصر احمد: نہیں، ہم میں رہ گیا؟
جناب یحییٰ بختیار: ابھی آ
مرزا ناصر احمد: اس زما ذہن میں نہیں تھی۔ ہیں جی؟ چار کروڑ؟
جناب یحییٰ بختیار: چار کر
مرزا ناصر احمد: چار کروڑ گیارہ، تو اس وقت سوال یہ تھا کہ یہ دس مضبوط شیرازہ نہیں، ان کی حفاظت، ال مسلمان دو chool of Thought (خاص
جناب یحییٰ بختیار: مر ١٩٣٠ء اور ١٩٣٠ء جو ہے، بہت بڑا عرص
1255 مرزا ناصر احمد: میری (انگلستان آز
جناب یحییٰ بختیار: انگل ختم ہوگئی، اس کے بعد........
مرزا ناصر احمد: جب عقل م
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
ہندوستان سے میں نے تعلق قائم رکھا، اور چار سال کے قیام کے بعد میں نے دیکھا کہ مسلمان خطرے میں گھرے ہوئے ہیں، آخر میں نے رختِ سفر باندھا اور ہندوستان پہنچ گیا اور یہاں آنے کے بعد ١٩٣٥ء میں، میں نے صوبائی انتخاب کے سلسلے میں صدر کانگریس سے مفاہمت ومصالحت کے لئے گفت وشنید کی اور ایک فارمولا ہم دونوں نے مرتب کیا، لیکن ہندوؤں نے اسے منظور نہیں کیا اور معاملہ ختم ہو گیا۔‘‘
تو اس وقت انہوں نے آپ ہی لکھا ہے کہ مفاہمت ومصالحت کی کوشش یہ کر رہے تھے۔ اس لئے کر رہے تھے کہ ان کے دماغ میں... درد تھا مسلمان کا، ان کے دلوں میں، ان بزرگوں1257 کے، اور ان کی کوشش، ان کا خیال یہ تھا کہ سارے مسلمان، دس کروڑ جو اس وقت تھے... اب بڑھ گئے... اگر یہ اکٹھے رہیں ہندوستان میں، اور اپنے حقوق، دستوری طور پر Constitutionally (آئینی طور پر) منوا سکیں تو بہتر ہے۔ لیکن ہندوانہ ذہنیت نے اس چیز کو قبول نہیں کیا اور انہوں نے ایسا اظہار کیا گویا وہ مسلمانوں پر حکومت کرنا چاہتے ہیں، انہیں اپنی غلامی میں رکھنا چاہتے تھے، اس وقت دو حصوں میں ہو گئے مسلمان، ایک کے لئے پاکستان میں آنا ممکن ہی نہیں تھا، عملاً وہ رہ رہے ہیں وہاں، اس وقت کئی کروڑ مسلمان وہاں ہندوستان میں بس رہے ہیں، اور ایک کے لئے ممکن ہو گیا۔ بعد کے حالات ایسے ہوئے۔ یہ جو کوشش تھی، جس کی طرف جناح صاحب نے اشارہ کیا، یہ جماعت احمدیہ کی تھی ایک وقت میں۔ اگر سارے مسلمانان ہند اکٹھے رہیں تو وہ اپنے حقوق کی اچھی طرح حفاظت کر سکتے ہیں۔ جب پاکستان کے بننے کے آثار پیدا ہوئے تو وہ لوگ جو دوسرا نظریہ رکھتے تھے کہ سارے اکٹھے رہیں، یا وہ لوگ جن کو حکومت کانگریس نے خریدا ہوگا، کہا کچھ نہیں جاسکتا، میری طبیعت طبعاً حسن ظن کی طرف پھرتی ہے۔ بہرحال، انہوں نے اپنے لئے طاقت کا ایک چھوٹا سا سہارا... جماعت تو بہت چھوٹی سی ہے، کمزور یہ کہا کہ... یہ پروپیگنڈا شروع کر دیا، جماعت میں کہ ”تم پاکستان کیوں جانا چاہتے ہو؟ تمہارے ساتھ تو یہ ہمیشہ سختی کرتے ہیں، افغانستان میں کیا ہوا؟ فلاں جگہ کیا ہوا؟“ اس وقت خلیفہ ثانی نے علی الاعلان یہ کہا کہ اس وقت سوال یہ نہیں ہے کہ جماعت احمدیہ کے مفاد کس جا ہیں؟ اس وقت سوال یہ ہے کہ مسلمانان ہند جو ہیں، وہ عزت کی زندگی کس طرح گزار سکتے ہیں؟ ان کے حقوق کی کس طرح حفاظت کی جاسکتی ہے؟ اگر بفرض محال جماعت احمدیہ کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے، پاکستان بننے کے بعد، جس سے تم ہمیں ڈراتے ہو، تب بھی میں یہ کہوں گا کہ پاکستان بننا چاہئے اور ہم ان کے ساتھ جائیں گے۔ کہیں انہوں نے یہ پروپیگنڈا کیا...... میں خود
١٤
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
شاہد ہوں، میں نے وہ ١٩٤٧ء کی وہ جو جدوجہد تھی، مسلم لیگ کے ساتھ بیٹھ کے، ان کی جو پارٹی تھی، شملہ میں بھی وہ جو ہورہا تھا، ہاں، یہی جو اپنے بیٹھا ہوا تھا، کمیشن Partition کا، تو 1258شملہ میں بھی میں ساتھ رہا، ساتھ بیٹھے، ہم نے ساتھ کوششیں کیں، اس وقت نظر آ رہا تھا کہ یہ شرارت کر رہے ہیں، ہندو اس وقت بھی۔ ”ہم سے“ میری مراد ہے وہ ساری پارٹی، جو وہاں تھا۔ ہم نے... تو یہ پہلے وقت میں پتا لگ گیا تھا، اس تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں... یا ان کے بد ارادے ہیں، وعدہ یہ کر رہے تھے، ریڈ کلف صاحب، جنہوں نے باقاعدہ اشارۃً یہ وعدہ کیا تھا کہ سارا گورداسپور اور فیروز پور کے اکثر حصے جو ہیں، وہ پاکستان میں جائیں گے، لیکن وہاں ہمیں پتا لگا کہ یہ دھوکا بازی کر رہے ہیں اور وہاں جاکے اطلاع دی... تو بالکل یک جان ہوکر اس مجاہدے میں، اس Fight (مقابلے) میں، جو جنگ ہو رہی تھی، اس کے اندر شامل ہوئی جماعت اور اب جب میں سوچتا ہوں، جن لوگوں نے ہماری جیسی قربانیاں دیں، قیام پاکستان کے لئے، پاکستان میں جو آنے والے ہیں خاندان، انہوں نے ... اور میں بیچ میں رہا ہوں جنگ کے... میرے اندازے کے مطابق پچاس ہزار سے ایک لاکھ تک ہماری عصمت قربان ہوئی ہے پاکستان کے لئے اور جو قتل ہوئے ہیں ان کا تو شمار ہی نہیں۔ مسلمان بچوں کو سکھوں نے اپنے نیزوں کے اوپر چھیدا ہے، اُچھال کے، میں گواہ ہوں ان کا۔ میں سب سے آخر میں یہاں آیا ہوں، اور بڑی قربانی دی ہے، لیکن جو پیچھے رہ گئے، انہوں نے بھی کم قربانی نہیں دی۔ آج تک وہ قربانی دے رہے ہیں، بجائے اس کے کہ ہم یہ سوچیں، سر جوڑ کر، کہ جو ہندوستان میں مسلمان رہ گیا، ان کے حقوق کے لئے باہر سے ہم جو کر سکتے ہیں، ہمارے حالات بدل گئے ہیں، ان کے حقوق کے لئے کوئی پروگرام بنائیں، ان کے حوصلے بڑھانے کے لئے کوئی کام کریں۔ بہت سے اور طریقے ہیں، صرف حکومت کے اندر رہ کے ہی نہیں، باہر سے بھی ہم بہت ساری خدمت ان کی کر سکتے ہیں۔ جنہوں نے ہماری جیسی، ہم سے بڑھ کے کہیں، ہماری جیسی قربانیاں دی ہیں، قیام پاکستان میں، اور وہ پاکستان نہیں آسکے، وہ وہاں پھنس گئے، اس کی بجائے یہ اب نظر آ گیا ہمیں کہ ہمارا مشرقی پاکستان بھی علیحدہ ہو گیا۔ تو میرے نزدیک تو کوئی اعتراض نہیں ہے، اس پس منظر میں، اس واسطے جو حوالے ہیں، وہ میں اچھی طرح وہ کر دیتا ہوں۔
(فرقان بٹالین؟)
1259فرقان بٹالین... یہ چھوٹا سا ہے۔ اس کے اُوپر اعتراض ہوتے ہیں بڑے
١٥
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
اخباروں میں، میں اس لئے اس کو لے رہا ہوں، تو فرقان بٹالین، یہ بھی میں کروں گا، میں دو تین منٹ میں، زبانی مختصراً بتا دیتا ہوں۔ جس وقت پاکستان بنا، کشمیر میں جنگ شروع ہوگئی، اس وقت حالات اس قسم کے تھے کہ کھل کے ہماری فوجیں وہاں Commit نہیں کی جاسکتی تھیں، اس وقت کشمیر میں بہت سی رضا کار بٹالین بنیں، اس وقت ہمارے سرحد کے غیور پٹھان جو تھے، ان کے لشکر آئے، اور پاکستان کی آرمی کو اس طرح Commit نہیں کیا گیا جس طرح آرمی Commit کی جاتی ہے، چونکہ اس وقت ضرورت تھی رضا کاروں کی، ہمارا کسی، اس میں ارادہ نہیں ہے تھا، میں قسم کھا کے کہہ سکتا ہوں، میں جانتا ہوں کہ اس کو کہ آرمی زور دے رہی تھی، خلیفہ المسیح پر کہ ایک بٹالین Raise کرو، ہمیں ضرورت ہے، اور وہ کہہ رہے تھے کہ میں مصلحتیں اور جو ہمارے متعلق ہے، کیوں ہمیں یہ تنگ کرتے ہو۔ انہوں نے کہا: اگر آپ کو پیار ہے کہ محاذ کے اوپر روکے جائیں وہ، تو آرمی تیار کریں، ایک بٹالین، دیں ہمیں، ایک بٹالین۔ ان کے زور دینے پر ایک رضا کارانہ بٹالین تیار کی گئی، اور ان کو کوئی تجربہ نہیں تھا لڑائی کا، سرائے عالمگیر میں بیس کیمپ بنا، وہاں دو تین مہینے کی ٹریننگ ہوئی۔ لیکن جذبے کا یہ حال تھا کہ ایک نوجوان وہاں رضا کار کے طور پر، نوجوان جس کا قد بڑا چھوٹا تھا، آگیا، اور جب مارچ وغیرہ سکھا کے چاند ماری کے لئے لے گئے اس کو، تو پتا لگا کہ اس کی انگلی ٹھیک ٹریگر پر نہیں پہنچتی، اتنا ہاتھ ہے اس کا چھوٹا، اور وہ بضد، میں نے جانا ہے محاذ پر، تب انہوں نے کہا: اچھا! تو پھر رائفل چلا کے دِکھا۔ تو اس نے یہاں رکھا رائفل کا بٹ، یہاں رکھنے کے بجائے اس طرح مڑ کر، فائر کیا وہاں، اس کے جذبے کو دیکھ کر وہ آرمی افسر جو فرقان بٹالین کی ٹریننگ وغیرہ کے لئے جو باقاعدہ افسر تھے، انہوں نے اس کو اجازت دے دی، اس جذبے کے ساتھ وہاں گئے، وہاں آرمز ایشو ہوئے جس طرح آرمی ایشو کرتی ہے آرمز، خیر، جو ہوا وہ سب تو یہاں ضرورت نہیں ہے۔ وہ Disband (توڑ دی) ہوئی۔ اب ساری 1260 دُنیا کو پتا ہے، فوج کے افسر یہاں ہیں، اب اعتراض یہ ہو گیا کہ وہ ساری رائفلیں جو فرقان بٹالین کو دی گئی تھیں، وہ فرقان بٹالین لے کے بھاگ گئی اور انہوں نے ربوہ کی پہاڑیوں کے اندر ان کو دفن کر دیا۔ ایک منٹ میں یہ سوال حل ہوتا ہے۔ آرمی جنہوں نے یہ ایشو کی تھیں، ان سے پتا کریں کہ انہوں نے ایک ایک رائفل، ایک ایک راؤنڈ جو ہے وہ واپس ملا کہ نہیں؟ اور اس وقت کے کمانڈر انچیف نے ایک نہایت اعلیٰ درجے کا سرٹیفکیٹ اس بٹالین کو دیا اور شکریہ کے ساتھ اس کو بغیر آرمز کے، اس کو وہاں بھیج دیا۔ اس بٹالین کو کوئی وردیاں ایشو نہیں ہوئی تھیں۔ لنڈے بازار سے پھٹی ہوئی وردیاں انہوں نے پہنیں، اور بارشوں میں، کسی قمیض کی، وہ
١٦
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
ہاتھ نہیں ہے، اور کسی کی بانہیں لٹک رہی ہیں، اور یہ نہیں ہے، دھڑ، میری ان آنکھوں نے دیکھا ہے ان کو اس طرح لڑتے ہوئے دشمن سے اور بہر حال.........
(غیر متعلقہ باتیں)
جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! معاف کیجئے، یہ سوال، بالکل پوچھا نہیں گیا، اگر باہر کی باتیں آجائیں، اس قسم کی کہ اخبار کیا لکھتے ہیں.......
مرزا ناصر احمد: نہیں ٹھیک ہے.......
جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔
مرزا ناصر احمد: .......میں بند کر دیتا ہوں۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، نہیں، اس قسم کا نہیں.......
مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں۔.......
جناب یحییٰ بختیار: آپ ضرور کیجئے! مگر میں یہ گزارش کر رہا ہوں کہ یہ سوال کسی نے نہیں پوچھا۔ پر میں نے کسی اسٹیج پر نہیں پوچھا فرقان فورس کے بارے میں۔
Mirza Nasir Ahmad: I wrongly foresaw it.1
(مرزا ناصر احمد: مجھے غلط فہمی ہوئی!)
Mr. Yahya Bakhtiar: No, but I did not ask.
(جناب یحییٰ بختیار: میں نے آپ سے یہ نہیں پوچھا)
(مرزا ناصر کی معذرت)
1261 مرزا ناصر احمد: نہیں، بس میں نے معذرت کر دی، میں بولتا ہی نہیں ایک لفظ آگے۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، آپ پورا کرلیں۔
مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، میں نہیں بولوں گا۔ نہیں، میری غلطی ہے یہ، اندازے کی غلطی ہے۔
1؎ قارئین! کتنا بڑا کذب ہے کہ مجھے غلط فہمی ہوئی۔ یا اپنے دل کے پھپھولے جلا رہے ہیں۔
١٧
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، آپ کہہ لیں۔ If you want to explain something which you think is against your interest...... (اگر آپ ایسی بات کی وضاحت کرنا چاہتے ہیں جو آپ کے خلاف جاتی ہے ......)
Mirza Nasir Ahmad: No, no, no not now. (مرزا ناصر احمد: نہیں ابھی نہیں) ٹھیک ہے، شکریہ! میں، پہلے آپ مجھے روک دیتے تو میں بند کر دیتا۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر آپ کہنا چاہتے ہیں تو ٹھیک ہے، ورنہ ہم نے سوال نہیں پوچھا کوئی اس قسم کا .......
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔
جناب یحییٰ بختیار: ....... نہ پوچھنے کا لسٹ میں تھا، اگر ہوتا بھی تو میں آپ کو کہہ دیتا کہ آپ بے شک کریں۔
مرزا ناصر احمد: ہاں، ایک اور سوال ہے، وہ میں پوچھ ہی لیتا ہوں، وقت ضائع کرنے کی بجائے۔ چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے اتنی خدمت کی ہے عرب ممالک کی، یہ حوالے میرے پاس ہیں، بھرے پڑے ہیں ان کی تعریف میں۔ تو آگے میں کچھ نہیں کہتا۔ ہاں! کشمیر رہ گیا ہے۔ ١٩٣١ء کی .......
(کشمیر کمیٹی)
جناب یحییٰ بختیار: آپ نے اس کا ذکر کر دیا تھا، کشمیر کمیٹی کا، اگر آپ کچھ اور کہنا چاہتے ہیں تو کہہ دیجئے۔
مرزا ناصر احمد: ممکن ہے ایک آدھ فقرہ ہو، یہ میں مختصراً پھر کر دیتا ہوں۔ اس کی ابتدا اس طرح شروع ہوئی، کشمیر کمیٹی، کشمیر کمیٹی کے نام سے جو کمیٹی بنی، کہ ١٣؍ جولائی ١٩٣١ء کو ریاستی1262 پولیس کی فائرنگ سے ٢١ مسلمان شہید اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ ١٣؍ جولائی ١٩٣١ء کو جب ڈوگرہ حکومت نے ٢١ مسلمان کو جب شہید کیا تو اس وقت ان کے لئے ریاست سے باہر نکلنا بھی بڑا مشکل تھا، تو انہوں نے ایک سمگل آؤٹ کیا، مسلمانانِ کشمیر نے، ایک آدمی، اور سیالکوٹ پہنچ کر انہوں نے مختلف جگہوں پر تاریں دیں، اور ہمارے خلیفہ ثانی کو بھی تار دیں۔ اس کے نتیجے میں پہلا کام یہ ہوا ہے کہ خلیفہ ثانی نے وائسرائے ہند کو تار دی، دوسرے صوبوں کے مسلمانوں کی طرح پنجاب کے مسلمان بھی، ان کو کہا کہ تم اکٹھے ہو جاؤ، یعنی شروع کا کام
1289 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
شروع کیا۔ اس وقت جب یہ اعلان ہوا تو خواجہ حسن نظامی صاحب نے ایک خط لکھا حضرت خلیفہ ثانی کو، اور یہ کہا کہ آپ نے یہ اعلان کیا، ہم آپ کے ساتھ ہیں، اور یہ کام ہمیں، سب مسلمانوں کو مل کر یہ کام کرنا چاہئے۔
Mr. Chairman: We break for Maghreb. (جناب چیئرمین: نمازِ مغرب کے لئے ہم وقفہ کرتے ہیں) Mr. Yahya Bakhtiar: I think let them conclude it, Sir. (جناب یحییٰ بختیار: میرا خیال ہے انہیں اسے مکمل کرنے دیں) جناب چیئرمین: ہاں؟ Mr. Yahya Bakhtiar: It will take two or three minutes, Sir. (جناب یحییٰ بختیار: جناب! اس میں دو یا تین منٹ لگیں گے) Mr. Chairman: Alright, then not more than five minutes. (جناب چیئرمین: ٹھیک ہے، پھر ٥ منٹ سے زیادہ نہیں) Mr. Yahya Bakhtiar: Not more than five minutes. جناب چیئرمین: ٹھیک ہے، ختم کرلیں۔
مرزا ناصر احمد: تو اعلان وغیرہ، خط و کتابت ہوئی ہے۔ اس کے بعد آل انڈیا تنظیم کے قیام کے لئے مسلمانانِ ہند سے اپیل کی گئی پہلے اور اس کے بعد۔ پھر کشمیریوں سے اپیل کی گئی، ابنائے کشمیر سے، یعنی وہ کشمیری خاندان جو باہر آ کر آباد ہو گئے تھے اور اس میں آپ نے لکھا کہ: ”اُمید کرتا ہوں کہ ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب، شیخ دین محمد صاحب، سید محسن شاہ صاحب اور اسی طرح سے دُوسرے سر برآوردہ ابنائے کشمیر جو اپنے وطن کی محبت 1263 میں کسی دُوسرے سے کم نہیں، اس موقع کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے موجودہ طوائف الملوکی کو ختم کرنے کی کوشش کریں گے، ورنہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ سب طاقت ضائع ہو جائے گی اور نتیجہ کچھ بھی نہیں نکلے گا۔“ اس پر ٢٥؍جولائی ١٩٣١ء کو شملہ کے مقام پر نواب ذوالفقارعلی خان صاحب کی کوٹھی "Fair View" میں مسلم اکابرینِ ہند کا اجلاس ہوا، جس میں یہ فیصلہ ہوا کہ ایک آل انڈیا کشمیر کمیٹی بنائی جائے جو اس سارے کام کو اپنے ذمہ لے کر پایۂ تکمیل تک پہنچائے اور اس وقت تک یہ مہم جاری رہے، جب تک ریاست کے باشندوں کو ان کے جائز حقوق نہ حاصل ہو جائیں۔ ١٩
AKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
جناب یحییٰ بختیار: نہیں gainst your interest...... آپ ایسی بات کی وضاحت کرنا چاہیں o, no not now. (مرزا ناصر احمد: نہیں ٹھیک ہے، شکریہ! میں، ہاں جناب یحییٰ بختیار: نہیں ورنہ ہم نے سوال نہیں پوچھا کوئی اس قس مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں جناب یحییٰ بختیار: .... کہ آپ بے شک کریں۔ مرزا ناصر احمد: ہاں، کرنے کی بجائے۔ چوہدری محمد ظفر ال حوالے میرے پاس ہیں، بھرے پڑے ہاں! کشمیر رہ گیا ہے۔ اس
جناب یحییٰ بختیار: آ چاہتے ہیں تو کہہ دیجئے۔ مرزا ناصر احمد: ممکن ابتدا اس طرح شروع ہوئی، کشمیر کمیٹ ریاستی 1262 پولیس کی فائرنگ سے ٢١ جب ڈوگرہ حکومت نے ٢١ مسلمان ک نکلنا بھی بڑا مشکل تھا، تو انہوں نے سیالکوٹ پہنچ کر انہوں نے مختلف جم اس کے نتیجے میں پہلا کام یہ ہوا ہے کے مسلمانوں کی طرح پنجاب کے
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
اس اجلاس میں امام جماعت احمدیہ کے علاوہ مندرجہ ذیل لیڈروں نے شرکت کی: ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب، حضرت خواجہ حسن نظامی صاحب، سید محسن شاہ صاحب، نواب سر ذوالفقار علی صاحب، نواب محمد اسماعیل صاحب آف کنج پورہ، خان بہادر شیخ رحیم بخش صاحب، مولانا نور الحق صاحب، مالک انگریزی روزنامہ "Muslim Out Look"، مولانا سید حبیب صاحب، مالک روزنامہ 'سیاست'، عبدالرحیم صاحب درد، مولانا اسماعیل صاحب غزنوی، امرتسر کے تھے، غزنوی خاندان کے، نمائندہ مسلمانان صوبہ جموں، مسلمانان صوبہ کشمیر کے نمائندے، اور صوبے سرحد کے نمائندے۔
یہ سب کے سب اکابرین آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے قائم ہوتے ہی اس اجلاس میں اس کے ممبر بن گئے، کام شروع ہو گیا۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ اس وقت بعض دوستوں نے کہا خلیفہ ثانی 1264 کو کہ آپ اس کے صدر بنیں، اور آپ نے انکار کیا کہ: ”مجھے صدر نہ بنائیں، میں ہر خدمت کرنے کے لئے تیار ہوں، مگر مجھے صدر کا عہدہ نہ دیں۔“ کوئی مصلحتیں سمجھائیں وہاں۔ اس پر سارے جو تھے، انہوں نے زور ڈالا وہاں، جن میں سر محمد اقبال صاحب بھی تھے، کہ آپ کو ہی بننا چاہئے۔ چنانچہ آپ کو مجبور کیا کہ اس عہدے کو قبول کرلیں۔ قبول ہو گیا۔ شروع ہوا کام، اور بہت سے مراحل میں سے گزرا، اس کے آگے میں اپنی طرف سے کروں گا، ذرا مختصر کردوں گا۔ ایک تھا پیسہ، اس وقت ہندوستان میں کام کرنے کے لئے بھی پیسے کی ضرورت تھی، اور کشمیریوں کی مدد کرنے کے لئے پیسے کی ضرورت، چنانچہ ساروں نے Contribute کئے ہوں گے۔ لیکن اپنی بساط سے زیادہ جماعت کی طرف سے کشمیریوں کی امداد کے لئے رقم دی گئی۔ اس وقت سوال پیدا ہوا رضا کاروں کا کہ جا کر ان کی حوصلہ افزائی کریں، ان کو آرگنائز کریں۔ خود کشمیر کی حالت تنظیم کے لحاظ سے بہت پسماندہ تھی، ہر ایک کو پتا ہے، ہمارے، یعنی اس وقت کے ہندوستان کے حالات سے بھی زیادہ وہ پیچھے تھے۔ اس کے مہاراجہ کا Hold بڑا سخت تھا۔ خیر! وہ گئے، ایک
٢٠
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
وقت ایسا آیا کہ انہوں نے بڑے ظالمانہ طور پر مقدمے بنانے شروع کر دئیے، یعنی کوئی ان کا گناہ نہیں ہوتا تھا اور مقدمہ بن جاتا تھا۔ تو اس وقت انہوں نے کہا: تار دی کہ ہمیں وکیل بھیجو، ہمارے پاس۔ بڑے سخت ان کو پریشانی تھی۔ یہاں سے گیارہ بارہ وکیل گئے۔ ان میں سے ایک صاحب (اپنے وفد کے ایک رکن کی طرف اشارہ کر کے) یہ بیٹھے ہیں۔ انہوں نے مہینوں وہاں کام کیا اور میرا خیال ہے کہ قریباً سارے مقدموں میں فتح جو ہوئی وہ کشمیری مسلمانوں کی ہوئی۔ ان میں ہمارے، فوت ہو چکے ہیں، شیخ بشیر احمد صاحب، جو ہائی کورٹ کے جج بھی رہے ہیں، اس وقت وکیل تھے، وہ گئے۔ ان کے لئے ساری دُنیا میں پروپیگنڈا ہوا، خصوصاً انگلستان میں۔ تو ایک لمبی Struggle (تگ و دو) ان کے لئے...... (اپنے ساتھیوں سے کہا) اس میں ہے نا فہرست شہداء کی؟ جو رضا کار گئے ان پر؟ (اٹارنی جنرل سے) ہمارے یہاں سے جو رضا کار گئے، دوسرے بھی جو گئے، ان پر وہ سختیاں کی گئیں، ساروں پر، یہاں، وہاں کوئی فرق نہیں ہے کہ وہاں، یہ احمدی، یہ وہابی ہے یا یہ ہے، وہ ہے۔ مسلمانانِ کشمیر کی جدوجہد میں سارے شامل ہیں، ساتھ۔ یہی میرا ان اشاروں میں تھا کہ ہماری تو کبھی علیحدہ ہوئی ہی نہیں۔
1265 Mr. Chairman: The Delegation is premitted to withdraw for Maghreb to report back at 7:30.
(جناب چیئرمین: وفد کو مغرب کی نماز کے لئے ٧:٣٠ بجے تک وقفہ کی اجازت ہے)
مرزا ناصر احمد: میں اس کو ختم کرتا ہوں۔ یہ آ کر داخل کر دیں گے۔
Mr. Chairman: The honourable members may (جناب چیئرمین: معزز اراکین تشریف رکھیں) keep sitting.
(The Delegation left the Chamber)
(وفد باہر چلا گیا)
جناب چیئرمین: ساڑھے سات جی!
The House is adjourned to meet at 7:30
(ایوان کا اجلاس ٧:٣٠ بجے تک ملتوی کیا جاتا ہے)
[The Special Committee adjourned for Maghreb Prayers, to re-assemble at 7:30 p.m.]
٢١
F PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
اس اجلاس میں امام جماعت احمدیہ کے علا ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب، حضرت خواجہ حسن نظامی صاحب سید محسن شاہ صاحب، نواب سر ذوالفقار علی صاحب، نواب محمد اسماعیل صاحب آف خان بہادر شیخ رحیم بخش صاحب مولانا نور الحق صاحب، مالک مولانا سید حبیب صاحب، مالک عبدالرحیم صاحب درد، مولانا اسماعیل صاحب غزنوی
صوبہ جموں، مسلمانانِ صوبہ کشمیر کے نمائندہ یہ سب کے سب اکابرین آل کے ممبر بن گئے، کام شروع ہو گیا۔ اس کا پو ثانی 1264 کو کہ آپ اس کے صدر بنیں، او خدمت کرنے کے لئے تیار ہوں، مگر مجھے اس پر سارے جو تھے، انہوں نے زور ڈالا ہی بننا چاہئے۔ چنانچہ آپ کو مجبور کیا کہ اس بہت سے مراحل میں سے گزرا، اس کے آ ایک تھا پیسہ، اس وقت ہندوستان میں کام کر مدد کرنے کے لئے پیسے کی ضرورت، چنانچہ بساط سے زیادہ جماعت کی طرف سے کشمی ہوا رضا کاروں کا کہ جا کر ان کی حوصلہ افزا کے لحاظ سے بہت پس ماندہ تھی، ہر ایک ک حالات سے بھی زیادہ وہ پیچھے تھے۔ اس ل
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
[The Special Committee re-assembled after Maghreb Prayers, Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali) in Chair.]
(مغرب کی نماز کے بعد کمیٹی کا اجلاس صاحبزادہ فاروق علی کی صدارت میں دوبارہ شروع ہوا)
جناب چیئرمین: (سیکرٹری سے) ڈیلی گیشن کو بلالیں، یہاں باہر بٹھا دیں، ہاں کیونکہ پھر پونے آٹھ، نوبجے، پونے نو تک کریں گے، ایک گھنٹہ۔ پھر تو دس منٹ کا بریک، پھر -Nine to Ten
جی، مولانا عبدالحق صاحب!
---------
INTRODUCTION OF EXTRANEOUS
MATTERS BY THE WITNESS
مولانا عبدالحق: جی، گزارش یہ ہے کہ کل دو گھنٹے تقریباً اس نے تقریر کی، اور آج بھی وہ تو اپنی تاریخ وہ پیش کر رہے ہیں یا ریکارڈ کر رہے ہیں۔ ہمارا تو اٹارنی جنرل صاحب کا یہ سوال تھا کہ انگریزوں کی وفاداری کی، جو تم نے پیش کیا ہے، تو اس کی کیا وجہ ہے؟ یا مسلمانوں کو تم کافر اور پکا کافر کہتے ہو، جنازے کی نماز میں شرکت نہیں کرتے، شادی نہیں کرتے، عبادت میں شریک نہیں ہوتے۔ اب وہ کہتے ہیں، ہم نے مسلمانوں کے ساتھ نہیں کہا۔ یہ تو ایسا ہے کہ جیسا ایک 1266 شخص کسی کو کہے کہ: ”یہ چیز کیا ہے؟“ وہ کہتا ہے: ”کتا!“ اب وہ کہتا ہے کہ: ”میں پانی بھی اس کو دیتا ہوں، روٹی بھی دیتا ہوں، جگہ بھی دیتا ہوں۔“ مقصد تو اصل وہی ہے کہ جو چیز ان سے پوچھی جائے، ہمارے اٹارنی جنرل صاحب، اس کا جواب دے دیں اور بس۔ باقی وہ دوگھنٹہ باتیں جو کرتے ہیں تو خدا معلوم اس میں کیا حکمت ہے؟
Mr. Chairman: Yes, Mr. Attorney-General to satisfy all the honourable members.
(جناب چیئرمین: ہاں جناب اٹارنی جنرل صاحب! معزز ارکان کو آپ مطمئن کریں)
(مسلمانوں سے علیحدگی پسندی کا جواب نہیں دیا)
Mr. Yahya Bakhtiyar: I will try, Sir.
مولانا! بات یہ تھی کہ میں نے ان سے پوچھا تھا کہ آپ علیحدگی پسند ہیں، آپ
٢٢
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
مسلمانوں سے علیحدہ رہتے ہیں، ان کو کئی حوالے دیئے، حوالوں کے تو انہوں نے جوابات نہیں دیئے، مگر یہ کہا کہ نہیں، ہم سے اکٹھے جدوجہد کرتے رہے ہیں، آزادی کی۔ اس واسطے میں نے کہا کہ اچھا بولنے دیں ان کو۔ یہ اس ....... ہاں یہ تو ٹھیک ہے، ابھی ختم ہو گیا بہت لمبا تھا۔
جناب چیئرمین: ہاں، بلالیں ۔ بلالیں، باہر ہی بیٹھے ہیں، بلالیں جی، بلائیں جی۔
مولانا عبدالحق: میں یہی کہنا چاہتا ہوں کہ بات میں بات کریں۔
جناب چیئرمین: آگئے؟
مولانا عبدالحق: کل آپ نے فرمایا تھا کہ اس میٹنگ کے بعد ہم پوچھ لیں گے۔
جناب چیئرمین: وہ کل آیا ہوں تو ہاؤس ایڈجرن ہو گیا۔ آج کر لیں گے۔
مولانا عبدالحق: نوٹ کر کے رکھ لیں۔
جناب چیئرمین: آج کر لیں گے جی۔ After this آپ کی انتظار ہورہی تھی، نورانی صاحب کی، خاص طور سے۔ ہاں، بلوائیں انہیں ۔
1267 Mr. Chairman: Yes the Attorney-General.
(جناب چیئرمین: جی، اٹارنی جنرل صاحب)
---------------------
CROSS-EXAMINATION OF
THE QADIANI GROUP DELEGATION
(قادیانی وفد پر جرح)
جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! آپ ختم کر چکے ہیں اسے؟
مرزا ناصر احمد: جی۔
جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! میں، چونکہ ٹائم کم ہوتا جارہا ہے اس لئے میں بالکل مختصر کرنا چاہتا ہوں۔ جو باتیں آ گئی ہیں، آپ نے کئی باتیں کہی ہیں، اس آزادی کی جدوجہد کے بارے میں۔
مرزا ناصر احمد: جی۔
جناب یحییٰ بختیار: آزادی کی جدوجہد کے بارے میں آپ نے کافی کچھ کہا ہے، میں اس کی تفصیل میں بہت نہیں جانا چاہتا، یہ جو باؤنڈری کمیشن تھا، اس کے بارے میں آپ نے
٢٣
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
منیر صاحب کی کمیٹی کی رپورٹ سے ایک حوالہ پڑھا ہے کہ اس میں چوہدری صاحب نے بہت کوشش کی۔ وہ تو سب نے پڑھا ہوا ہے، وہ پاکستان کی نمائندگی کر رہے تھے، اور اس میں کچھ شک نہیں کہ انہوں نے بڑی کوشش کی۔ اس پر میں نے نہ کوئی سوال پوچھا ہے اور نہ کوئی Dispute ہے ہمیں اس پر۔ مگر ایک چیز جو منیر صاحب نے بعد میں کہی، ممکن ہے آپ نے وہ پڑھا ہو، "پاکستان ٹائمز" ٢٤/ جون ١٩٦٤ء میں، انہوں نے کوئی دو تین آرٹیکل لکھے تھے، اس دوران میں ....... "Days I Remember" (میرے یادگار دن)۔
مرزا ناصر احمد: جی، میں نے وہ نہیں پڑھے۔
جناب یحییٰ بختیار: جی، وہ آپ کو یاد نہیں ہوگا، پڑھے بھی ہوں تو۔
مرزا ناصر احمد: ہوں، میں نے نہیں پڑھا ہے، دس بارہ سال پہلے.......
(احمدیوں نے الگ عرض داشت کیوں دی؟)
جناب یحییٰ بختیار: ہوں، دس سال کی بات ہے، تو وہاں وہ منیر صاحب کہتے ہیں کہ:
1268 "In connection with this part of the case. I cannot refrain from mentioning an extremely unfortunate circumstance. I have never understood why the Ahmadis submitted a separate representation. The need for such representation could arise only if the Ahmadis did not agree with the Muslim League's case-it self a regrettable possibility. Perhaps, they intended to reinforce the Muslim League's Case; but in doing so, they gave the facts and figures for different parts of Gash Shankar, thus giving prominence to the fact that, in the areas between the river Bein and the river Basantar, the non-Muslims Constituted a majority and providing argument for the Contention that if the area between the rivers Ujh and Bein went to India. The area between the Bein river and Basantar river would automatically go to India. As it is, this area has remaind
٢٤
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
with us. But the stand taken by the Ahmadis did create considerable embarrassment for us in the case of Gurdaspur."
(”معاملے کے اس حصے کے متعلق میں ایک نہایت ہی ناخوش گوار واقعے کا ذکر کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ مجھے یہ بات کبھی سمجھ نہیں آئی کہ احمدیوں نے الگ عرض داشت کیوں دی تھی؟ اس قسم کی عرض داشت کی ضرورت تبھی ہو سکتی تھی جب احمدی، مسلم لیگ کے نقطہ نظر سے متفق نہ ہوتے، جو کہ بذات خود ایک افسوسناک صورت حال ہوتی۔ ہو سکتا ہے کہ اس طرح احمدی مسلم لیگ کے نقطہ نظر کی تائید کرنا چاہتے ہوں۔ مگر ایسا کرتے ہوئے انہوں نے گڑھ شنکر کے مختلف حصوں کے بارے میں اعداد و شمار دیئے، جن سے یہ بات نمایاں ہوئی کہ بین دریا اور بسنتر دریا کے مابین کا علاقہ غیر مسلم اکثریت کا علاقہ ہے، اور یہ بات اس تنازعے کی دلیل بنتی تھی کہ اگر آج دریا اور بین دریا کا درمیانی علاقہ ہندوستان کو دیا جائے تو بین دریا اور بسنتر دریا کا درمیانی علاقہ خود بخود ہندوستان کو چلا جاتا ہے، جیسا کہ حقیقت حال ہے۔ یہ علاقہ ہمارے پاس رہا، مگر احمدیوں نے جو رویہ اختیار کیا تھا، وہ ہمارے لئے گورداسپور کے بارے میں خاصا پریشان کن ثابت ہوا۔“)
آپ نے یہ فرمایا۔
مرزا ناصر احمد: یہ اپنی کمیٹی کی رپورٹ میں نہیں لکھا انہوں نے۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں کہتا ہوں کہ ایک آرٹیکل انہوں نے ١٩٦٤ء جون میں لکھا ہے اس کا میں کہہ رہا ہوں۔
مرزا ناصر احمد: ہوں، سترہ سال بعد۔
جناب یحییٰ بختیار: کافی عرصہ بعد، دس سال کے بعد۔
مرزا ناصر احمد: سترہ سال بعد۔
جناب یحییٰ بختیار: تو اس میں دراصل میں عرض کرنا چاہتا تھا کہ آپ نے مسلم لیگ سے آپ یہ کہتے ہیں کہ تعاون کیا، اور یہ ایک ایسا اسٹیج تھا کہ برٹش گورنمنٹ اور کانگریس بھی اس بات کو تسلیم کر چکی تھی کہ یہ واحد نمائندہ جماعت ہے مسلمانوں کی، مسلم لیگ ... ١٩٤٦ء، ١٩٤٧ء کی بات کر رہا ہوں ... واحد نمائندہ تھی، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر ایک مسلمان اس میں تھا ........
مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں۔ 1269
٢٥
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974_No:10
(لیگ سے علیحدہ میمورنڈم سے پریشانی)
جناب یحییٰ بختیار: مگر یہ کہ Represent (نمائندگی) کر رہی تھی، واحد آواز تھی، This was the most representative body واحد نمائندہ جماعت وہ Accept کر لی تھی۔ جب انہوں نے میمورنڈم دیا تو یہ Separate (الگ) میمورنڈم دینے کی، یہاں بھی منیر صاحب کہتے ہیں: ”ہمیں سمجھ نہیں آئی، اس سے بلکہ ہمیں خدشات پیدا ہوئے Embarrassement (پریشانی) ہمیں ہوئی۔“
مرزا ناصر احمد: یہ ١٩٤٧ء کے سترہ سال کے بعد انہوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ: ”مجھے سمجھ نہیں آئی۔“
جناب یحییٰ بختیار: ہاں!
مرزا ناصر احمد: لیکن اپنی رپورٹ میں نہیں لکھا۔
جناب یحییٰ بختیار: اپنی رپورٹ میں نہیں لکھا۔
مرزا ناصر احمد: تو، وہ تو منیر صاحب تو نہیں، آپ نے تو ان کی رپورٹ پڑھی ہے ناں، تو میں آپ کو سمجھا دیتا ہوں۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں یہ کہہ رہا ہوں جی کہ ایک آدمی ہے.......
مرزا ناصر احمد: ہاں۔
جناب یحییٰ بختیار: ...... جو کہ باؤنڈری کمیشن کا بھی جج تھا، تو اس رپورٹ میں بھی وہی جج تھا۔ پھر رپورٹ میں انہوں نے چوہدری صاحب کو اچھا سرٹیفکیٹ دیا ہے کہ انہوں نے بڑی محنت سے، بڑی جانفشانی سے کیس Plead کیا پاکستان کا، اس کے بعد، سات سال یا دس سال کے بعد، جیسے.......
مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، ١٩٦٢ء، ١٩٥٧ء، ١٩٤٧ء۔
1270 جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہی کہہ رہا ہوں جی، ١٩٤٧ء میں باؤنڈری کمیشن میں تھے وہ، پھر اس کے بعد ١٩٥٢ء، ١٩٥٣ء میں وہ انکوائری ہو رہی ہے۔ تو چوہدری صاحب نے جو ١٩٤٧ء میں خدمت کی اس کا حوالہ، اس کا ذکر کرتے ہوئے اس میں.......
مرزا ناصر احمد: یہ میرا مطلب ہے کہ یہ جو ہے کہ یہ واقعہ کے سترہ سال بعد کا ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، یہ ان کے بعد یہ پھر یہ.......
٢٦
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
مرزا ناصر احمد: ہاں، سترہ سال کے بعد۔ جناب یحییٰ بختیار: ....... ہے، یہ ١٩٦٤ء میں۔ مرزا ناصر احمد: ہاں، ١٩٤٧ء سے ١٩٦٤ء تک۔ جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔ مرزا ناصر احمد: ہاں، تو پھر یہ سترہ سال کی خاموشی کے بعد، جب وہ کافی بوڑھے بھی ہو چکے تھے، تو شاید ممکن ہو بڑھاپے کی وجہ سے وہ بات جو اس وقت جوانی میں سمجھ آگئی ہو، وہ نہ سمجھ آئی ہو۔ جناب یحییٰ بختیار: یہ اچھا جواب ہے! یہ خیر میں اسے بس پھر آپ کی توجہ دلانا چاہتا تھا کہ ١؎ ....... مرزا ناصر احمد: بات یہ ہے... اگر آپ کہیں تو میں بتاؤں آپ کو... انہوں نے، ہندوؤں نے ایک بڑی سخت شرارت کی اور شرارت یہ کی... میں نے آپ کو کہا کہ میں ان دنوں میں کام کرتا رہا ہوں... ایک پہلے یہ شرارت کی کہ جماعت احمدیہ جو ہے، اس کو دوسرے مسلمان کافر کہتے ہیں، اس لئے ان کی تعداد گورداسپور کے مسلمان میں شامل نہ کی جائے اور گورداسپور ضلع میں ٥١ اور ٤٩ کا فرق تھا، یعنی مسلمانوں کی... جناب یحییٰ بختیار: وہ تو میں جانتا ہوں، ہم جانتے ہیں۔ 1271 مرزا ناصر احمد: نہیں، میں آپ کو اندر کی ایک بات بتاؤں... دوسری شرارت۔ دوسری شرارت اپنوں نے یہ کی کہ اگرچہ مسلمانوں کی آبادی گورداسپور میں ٥١ فیصد ہے، لیکن چھوٹے، نابالغ بچے ہیں، Adult (بالغ) نہیں ہیں، وہ تو ووٹر نہیں ہیں، ان کے اوپر فیصلہ نہیں ہونا چاہئے اور ویسے ہی ہوائی چلا دی کہ ہندوؤں کی Adult (بالغ) آبادی مسلمانوں سے زیادہ ہے۔ میں چونکہ مختلف مضامین پڑھتا رہا ہوں اپنی زندگی میں، میں نے یہ Offer کی مسلم لیگ کو کہ اگر مجھے Calculating مشین تین دے دی جائیں تو میں ایک رات میں ١٩٣٥ء کی Census (مردم شماری) لے کے، علیحدہ علیحدہ ضلعوں کی ہوتی ہیں ناں... تو کل آپ کو یہ Data (تفصیل) پہ دے سکتا ہوں کہ Adult (بالغ) بھی مسلمانوں کی آبادی زیادہ ہے۔ Census (مردم شماری) کی جو ہے رپورٹ، اس وقت تفصیلی ہوتی تھی۔ بعد پتا نہیں کیوں، اس
١؎ صرف ”اچھا جواب“...؟ بلکہ اتنا اچھا جواب ہے کہ مرزائی دجل میں اسے ”اے گریڈ“ دیا جاسکتا ہے...!
٢٧
PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
(لیگ سے علیحدگی
جناب یحییٰ بختیار: مگر یہ یہ تھی، representative body Accept کرلی تھی۔ جب انہوں نے یہ کی، یہاں بھی منیر صاحب کہتے ہیں: ”یہ Enbarrassement (پریشانی) ہو مرزا ناصر احمد: یہ ١٩٤٧ء مـ ”مجھے سمجھ نہیں آئی۔“ جناب یحییٰ بختیار: ہاں! مرزا ناصر احمد: لیکن اپنی سـ جناب یحییٰ بختیار: اپنی رپو مرزا ناصر احمد: تو، وہ تو منـ ناں، تو میں آپ کو سمجھا دیتا ہوں۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مـ مرزا ناصر احمد: ہاں۔ جناب یحییٰ بختیار: ....... جـ وہی جج تھا۔ پھر رپورٹ میں انہوں نے بڑی محنت سے، بڑی جانفشانی سے کیس تـ سال کے بعد، جیسے....... مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں 1270 جناب یحییٰ بختیار: آ میں تھے وہ، پھر اس کے بعد ١٩٥٣ء، ٥٤ جو ١٩٤٧ء میں خدمت کی اس کا حوالہ، اس مرزا ناصر احمد: یہ میرا مطلب جناب یحییٰ بختیار: ہاں، یـ
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
کو چھوڑ دیا۔ ١٩٣٥ء کی Census (مردم شماری) رپورٹ مختلف Age (عمر) گروپ کی Mortality دی ہوئی ہے، Percentage یعنی چار سال کا جو بچہ ہے، وہ چار سال کی عمر کے جو بچے ہیں ان میں اتنے فیصد موتیں ہو جاتی ہیں، جو پانچ سال کے بچے ہیں، ان کی اتنی فیصد موتیں ہو جاتی ہیں۔ تو ہزار ہا ضربیں، تقسیمیں لگانی تھیں، کیونکہ ہر Age گروپ کی جو ١٩٣٥ء کی Census (مردم شماری) تھی ہمارے پاس، تو ١٩٤٧ء تک پہنچانا تھا Adult (بالغ) بنانے کے لئے کچھ جو Adult (بالغ) تھے وہ تو تھے ہی۔ تو یہ ہزار ہا وہ نکال کے، ساری رات لگ کے، تین چار اور آدمیوں نے ساتھ کام کیا۔ Calculating (حساب کتاب) مشین خود مسلم لیگ کے یعنی Offices سے آئیں اور صبح کو ایک گوشوارہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کو دے دیا گیا کہ یہ غلط بات کر رہے ہیں اور جس وقت یہ آگے پیش ہوا، ہندو بالکل سٹپٹا گیا۔ ان کو خیال ہی نہیں تھا کہ کوئی مسلمان دماغ حساب میں بھی یہ Calculation کر سکتا ہے اتنا۔ اس قسم کی وہ شرارتیں تھیں اور اس قسم کا ہمارا تعاون تھا مسلم لیگ کے ساتھ اور ان کی خاطر ان کے مشورے کے ساتھ یہ سارا کچھ ہوا۔ تو جب بوڑھے ہو گئے جسٹس منیر صاحب وہ بھول گئے، ان کو وہ سمجھ نہیں آئی، ہم پر کوئی اعتراض نہیں۔
(کیا مسلم لیگ کے مشورے سے علیحدہ میمورنڈم دیا گیا؟)
1272 جناب یحییٰ بختیار: میں مرزا صاحب! اس بات پر ذرا آپ سے گزارش کروں گا کہ یہ آپ نے کہا کہ مسلم لیگ کے مشورے سے یہ بات ہوئی کہ علیحدہ میمورنڈم دیں۔ مرزا ناصر احمد: کیا؟ جناب یحییٰ بختیار: کیا علیحدہ میمورنڈم مسلم لیگ کے مشورے سے دیا گیا؟ مرزا ناصر احمد: ان کے مشورے سے۔
Mr. Yahya Bakhtiar: Mirza Sahib, you will have to prove this, because every ......
(جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! آپ کو یہ ثابت کرنا ہوگا)
Mirza Nasir Ahmad: Have you got a proof against this?
(مرزا ناصر احمد: کیا آپ کے پاس اس کے برعکس ثبوت ہے؟)
٢٨
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
Mr. Yahya Bakhtiar: No, you should show some documents that Quaid-e-Azam or somebody consented.
مرزا ناصر احمد: جب میں...
جناب یحییٰ بختیار: قائداعظم کا تو Protest (اعتراض) ہی یہی تھا کہ مسلمان علیحدہ علیحدہ جارہے ہیں اور اپنے اپنے میمورنڈم دے رہے ہیں اور ہمیں تکلیف پہنچتی ہے اس سے اور منیر صاحب کہتے ہیں ہمیں Embarrassment (پریشانی) اس بات کی ہوئی ہے۔
مرزا ناصر احمد: اور اس Embarrassment (پریشانی) کا انہوں نے اعلان کیا ہے سترہ سال کے بعد!
(مسلم لیگ کی تائید سے میمورنڈم دینے کا حوالہ؟)
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یعنی آپ اس زمانے کا کوئی اخبار بتادیں جس میں یہ ہو کہ قائداعظم یا مسلم لیگ کی تائید سے یہ میمورنڈم داخل کیا گیا؟
مرزا ناصر احمد: ”نوائے وقت“ میں اس وقت یہ اعلان ہوا ہے کہ مسلم لیگ نے اپنے وقت میں سے وقت دیا احمدیوں کو میمورنڈم پیش کرنے کے لئے۔ کیا یہ ثبوت نہیں ہے کہ مسلم لیگ کے مشورے سے یہ کیا گیا؟ ورنہ ان کو کیا ضرورت پڑی تھی کہ جماعت احمدیہ کے میمورنڈم کے لئے اپنے وقت میں سے وقت دیتے۔
(جماعت احمدیہ کی نمائندگی کس نے کی؟)
1273 جناب یحییٰ بختیار: یہ ان کی Representation (نمائندگی) کس نے کی؟
مرزا ناصر احمد: ہیں جی؟
جناب یحییٰ بختیار: کس نے Representation (نمائندگی) کی ان کی؟
مرزا ناصر احمد: کس کی؟
جناب یحییٰ بختیار: جماعت احمدیہ کی؟
مرزا ناصر احمد: شیخ بشیر احمد صاحب تھے۔ لیکن اصل یہی تھا کہ سارے اکٹھے جارہے تھے۔ یہ میرا پوائنٹ آپ سمجھ گئے ناں، اگر وقت جماعت احمدیہ کے میمورنڈم کے لئے مسلم لیگ نے اپنے وقت میں سے دیا.......
جناب یحییٰ بختیار: مسلم لیگ کا وقت تو چوہدری صاحب کے ہاتھ میں تھا۔
٢٩
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
مرزا ناصر احمد: اور چوہدری صاحب باغی تھے، جناح کے؟
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، جی، بالکل، میں اس سے بالکل انکار نہیں کرتا کہ قائداعظم نے ان کو Appoint (مقرر) کیا تھا، ان کے نمائندے تھے۔
مرزا ناصر احمد: یہ چوہدری ظفر اللہ.......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں، دیکھئے ناں.......
مرزا ناصر احمد: چوہدری ظفر اللہ خان صاحب... اب آپ نے اس ہاؤس میں یہ دو چار دفعہ کہا، مجھے سمجھانے کے لئے، ذرا لتاڑنے کے لئے، کہ ”میں ہوں، I represent my client, I represent this House as Attorney-General". (میں اپنے موکل کا نمائندہ ہوں، میں اس ایوان کی نمائندگی بطور اٹارنی جنرل کرتا ہوں)
جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، I said I said that (میں نے کہا)
مرزا ناصر احمد: نہیں نہیں، میری بات تو سن لیں۔ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب اپنے طور پر، اپنی طرف سے، یہ فیصلہ کر ہی نہیں سکتے تھے۔ سمجھ گئے ناں۔ کسی انسان کے دماغ میں آ ہی نہیں سکتا کہ انہوں نے یہ فیصلہ کیا ہو اپنی طرف سے کہ مسلم لیگ کے وقت میں سے جماعت احمدیہ کو وقت دیا جائے، اور اس وقت Protest (اعتراض) نہ ہوا ہو۔
1274 جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں یہ کہتا ہوں کہ آپ اس سے یہ Inference Draw (نتیجہ نکالنا) کرتے ہیں کہ مسلم لیگ کی تائید حاصل ہو گئی؟
مرزا ناصر احمد: نہیں میں اس سے یہ Inference Draw (نتیجہ نکالتا ہوں) کرتا ہوں کہ مسلم لیگ کے مشورے کے ساتھ سر جوڑ کے بالکل ایک Effort (کوشش) تھی۔
جناب یحییٰ بختیار: اس کا ثبوت نہیں سوائے اس کے کہ ٹائم دیا؟
مرزا ناصر احمد: اس کا ثبوت ایک تو میں دے رہا ہوں.......
جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔
مرزا ناصر احمد: ....... کہ مسلم لیگ نے اپنے وقت میں سے وقت دیا، اور میرے نزدیک یہ کافی ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے۔
مرزا ناصر احمد: اگر حوالے کی ضرورت ہو تو میں دے دوں؟
جناب یحییٰ بختیار: ہاں اگر...... آپ وہ بھیج دیجئے۔
٣٠
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، اگر آپ کو ضرورت ہو۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، آپ نے کہہ دیا اور ریکارڈ پر آ گیا، بے شک آپ فائل کرنا چاہتے ہیں تو کر دیجئے۔
مرزا ناصر احمد: ”نوائے وقت“ لاہور کی یکم اگست ١٩٤٧ء کی اشاعت میں ہے یہ۔
جناب یحییٰ بختیار: یہ فائل کر دیجئے۔
مرزا ناصر احمد: اچھا۔ یہ ایک تھوڑا سا ہے۔ (اپنے وفد کے ایک رکن سے) کہاں ہے وہ بہاولپور کا؟ (اٹارنی جنرل سے) یہ ہے۔
حد بندی کمیشن کا اجلاس ہوا۔ سنٹر کی پابندیوں کی وجہ سے ہم نہ اجلاس کی کارروائی چھاپ1275 سکے۔ نہ اب اس پر تبصرہ ہی ممکن ہے۔ کمیشن کا اجلاس دس دن جاری رہا۔ ساڑھے چار دن مسلمانوں کی طرف سے بات کے لئے مخصوص رہے، مخصوص کئے ہوئے تھے۔ مسلمانوں کے وقت میں سے ہی ان کے دوسرے حامیوں کو بھی وقت دیا گیا۔ یہ میمورنڈم ہم نے جو فائل کیا ہے، اس کے اندر اندرونی شہادت ہے، اندرونی شہادت وہ.......
(دستاویز خود منہ بولتا ثبوت ہے؟)
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ تو ٹھیک ہے، The document speaks for itself (دستاویز خود منہ بولتا ثبوت ہے)، اب آپ نے چوہدری صاحب کی خدمات کا بھی ذکر کیا ہے، اور حال ہی میں چوہدری صاحب کا ایک بیان بھی شائع ہوا تھا، ممکن ہے، آپ نے دیکھا ہو، جس میں انہوں نے.......
مرزا ناصر احمد: میں اسے دیکھنا پسند کروں گا۔
(انٹرنیشنل ریڈ کراس کے بیان کے متعلق استفسار)
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، نہیں، میں آپ کو....... International Red Cross, Amnesty International, Commission of Human Rights (حقوق انسانی کا بین الاقوامی کمیشن) سے اپیل کی کہ پاکستان میں احمدیوں پر ظلم ہو رہا ہے، وہ وہاں جائیں، ایسا کوئی Statement (بیان) آپ کے علم میں ہے؟
مرزا ناصر احمد: بعض افسروں کی زبانی میں نے سنا ہے.......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں بھی چونکہ.......
٣١
OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
مرزا ناصر احمد: اور چوہدری صا
جناب یحییٰ بختیار: نہیں،
قائد اعظم نے ان کو Appoint (مقرر)
مرزا ناصر احمد: یہ چوہدری ظفر
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں
مرزا ناصر احمد: چوہدری ظفرا
دو چار دفعہ کہا، مجھے سمجھانے کے لئے، ذرا
ouse as Attorney-General".
(میں اپنے موکل کا نمائندہ ہوں
جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی
مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں،
اپنے طور پر، اپنی طرف سے، یہ فیصلہ کر ہی نگ
آ ہی نہیں سکتا کہ انہوں نے یہ فیصلہ کیا ہو ا
احمدیہ کو وقت دیا جائے، اور اس وقت test
1274 جناب یحییٰ بختیار: نہیں
Draw (نتیجہ نکالنا) کرتے ہیں کہ مسلم لیگ
مرزا ناصر احمد: نہیں میں اس
کرتا ہوں کہ مسلم لیگ کے مشورے کے سات
جناب یحییٰ بختیار: اس کا ثبو
مرزا ناصر احمد: اس کا ثبوت
جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔
مرزا ناصر احمد: ....... کہ مسل
نزدیک یہ کافی ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک۔
مرزا ناصر احمد: اگر حوالے ک
جناب یحییٰ بختیار: ہاں اگر
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
مرزا ناصر احمد: .......لیکن اگر اس کی نقل ہو تو.......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ تو اس کی نقل دے دیں گے آپ کو ہم، مگر یہ کہ اس قسم کا Statement (بیان) آیا۔ میں نے کہا اگر آپ کے علم میں ہو تو مزید سوال پوچھتا ہوں، ورنہ پھر کل کے لئے ہو جاتا ہے، اس واسطے۔
مرزا ناصر احمد: اگر آپ نے آج ہی بند کرنا ہو.......
جناب یحییٰ بختیار: ہیں جی؟
مرزا ناصر احمد: اگر آج بند کرنا ہو.......
1276 جناب یحییٰ بختیار: میری کوشش تو یہی ہے۔
مرزا ناصر احمد: .......پھر میں یہ کوشش کروں گا کہ جتنا میں دے سکوں، جواب دے دوں۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، میں اس لئے کہتا ہوں کہ ایسا بیان آپ کے.......
مرزا ناصر احمد: بیان میں نے نہیں پڑھا ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں پڑھا ہوگا۔ مگر آپ نے ایسی بات سنی کہ چوہدری صاحب نے اپیل کی.......
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، بات میں نے سنی، بعض لوگوں سے۔
جناب یحییٰ بختیار: اپیل کی.......
مرزا ناصر احمد: میں نے سنی بعض لوگوں سے۔
جناب یحییٰ بختیار: .......اپیل کی انٹرنیشنل باڈیز کو کہ وہ جائیں پاکستان میں؟
مرزا ناصر احمد: کس تاریخ کا تھا یہ بیان؟
جناب یحییٰ بختیار: یہ ربوہ کے Incident (واقعہ) کے بعد کی بات ہے۔
مرزا ناصر احمد: نہیں، کس تاریخ کا؟ بڑی اہم ہے تاریخ۔
جناب یحییٰ بختیار: وہ یہاں کے ”جسارت“ میں Full Text (پورا متن) اس کا آیا ہوا تھا۔ باقی کچھ دوسرے اخباروں نے.......
مرزا ناصر احمد: میں ”جسارت“ نہیں پڑھتا۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، بعض دوسرے اخباروں میں بھی آیا ہو۔
٣٢
1303 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
مرزا ناصر احمد: نہیں، کن تاریخوں میں؟ میں تو صرف اتنا پوچھتا ہوں۔ کوئی اندازہ ہو آپ کو۔
جناب یحییٰ بختیار: میرے خیال میں جون کے شروع میں ہوگا۔
مرزا ناصر احمد: جون کے شروع میں۔
1277 جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، کیونکہ ربوہ کا Incident (واقعہ) ٢٩؍مئی کا تھا، اس کے کچھ دنوں کے بعد۔
مرزا ناصر احمد: چار، پانچ، چھ، سات دن کے بعد۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، یا انہی دنوں.......
مرزا ناصر احمد: جب گوجرانوالہ کی ساری دُکانیں احمدیوں کی جلائی جا چکی تھیں!
جناب یحییٰ بختیار: نہیں نہیں، میں Detail (تفصیل) میں نہیں جانا چاہتا۔
مرزا ناصر احمد: اچھا نہیں، ویسے میں سوال نہیں سمجھا۔
(چوہدری ظفر اللہ خاں کی احمدیوں کے بارہ میں دہائی)
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، انہوں نے یہ کہا، میں خود کہہ رہا ہوں، وہ کہتے ہیں کہ احمدیوں پر جو ظلم ہوا ہے، میں نے اس دن بھی کہا، میں نے کہا، جس کے خلاف بھی ظلم ہو، ہم Condemn (مذمت) کرتے ہیں۔ یہ بات غلط ہے کہ احمدی ہمارے بھائی نہیں ہیں۔ پاکستانی نہیں ہیں، ان کی Citizenship (شہریت) کے Rights (حقوق) نہیں ہیں، اس بات کو میں نہیں کر رہا ہوں، ظلم جس کے خلاف ہو، حکومت کا فرض ہے کہ اس کی مذمت کرے، یہ کہا۔ سوال یہ تھا مرزا صاحب! کہ چوہدری صاحب نے اپیل کی انٹرنیشنل باڈیز کی ایجنسیز کو، ریڈ کراس کو، Commission of Human Rights, Amnesty International (حقوقِ انسانی کا بین الاقوامی کمیشن) کو کہ پاکستان میں جائیں، وہاں احمدیوں پر ظلم ہوا ہے۔ آپ ذکر کر رہے تھے کہ ہندوستان میں ابھی تک مسلمانوں پر ظلم ہورہا ہے، دہلی میں کئی سو مسلمان، کچھ عرصہ ہوا، مارے گئے۔
مرزا ناصر احمد: بالکل، ہاں۔
جناب یحییٰ بختیار: چوہدری صاحب نے ان کے بارے میں تو کوئی اپیل نہیں کی آپ نے سنا ہے، انٹرنیشنل باڈیز کو، کہ جائیں وہاں، مسلمانوں پر ظلم ہو رہا ہے؟ آپ نے سنا ہے کہ دو تین مہینے پہلے، چار مہینے پہلے، دہلی میں کافی.......
٣٣
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔
1278 جناب یحییٰ بختیار: ......وہ تو کافی عرصے سے چل رہا ہے یہ......
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، جب سے Partition (تقسیم) ہوئی ہے۔
(کیا ظفر اللہ نے کبھی ہندوستان کے مسلمانوں کی حمایت کی؟)
جناب یحییٰ بختیار: ......کافی مسلمان قتل کئے گئے۔ تو اس پر چوہدری صاحب نے کوئی بیان ایسا شائع کیا، پریس کانفرنس کی، International Red Cross (انٹرنیشنل ریڈ کراس)، International Amnesty (ایمنسٹی انٹرنیشنل)، Commission of Human Rights (انٹرنیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق) کو، کہ مسلمانوں پر وہاں ظلم ہو رہا ہے، یا صرف احمدیوں ہی کا سوچتے ہیں؟
مرزا ناصر احمد: اس سوال کا جواب صرف چوہدری ظفر اللہ خان صاحب دے سکتے ہیں، میں نہیں دوں گا۔
جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے۔ (Pause)
جناب یحییٰ بختیار: اب، مرزا صاحب! کچھ ایسے میرے سامنے حوالے اور سوالات ہیں... میں ان کو آج سارا دن دیکھتا رہا ہوں... بعض میرے خیال میں، آپ نے ان کے جواب دے دیئے ہیں اور چونکہ ریکارڈ بھی... نہیں پتا چلتا کچھ، تو اس لئے ایک بار پھر پوچھتا ہوں۔ اگر آپ نے جواب دے دیا ہو اور آپ کو یاد ہو تو ٹھیک ہے۔ اگر جواب نہیں دیا ہو تو آپ مہربانی کر کے ان کا جواب دے دیں گے۔ کیونکہ بعد میں ممبران صاحبان کہتے ہیں کہ ہمارا یہ سوال بہت ضروری ہے۔ آپ نے پوچھا نہیں۔ اب تک۔
(مسیح موعود، نبی کریم ﷺ کے پہلو بہ پہلو؟ نعوذ باللہ!)
ایک سوال ہے جی: کیا مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے نہیں کہا تھا... پھر شروع ہوتا ہے ان کا حوالہ: ”ظلی نبوت نے مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کے قدم کو پیچھے نہیں ہٹایا، بلکہ آگے بڑھایا، بلکہ نبی کریم (ﷺ) کے پہلو بہ پہلو لا کھڑا کیا۔“
(کلمۃ الفصل ص ٣١، مرزا بشیر احمد ایم اے، پسر مرزا قادیانی)
ایسے حالات سے محفوظ رکھے...!
٣٤
1305 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
1279 مرزا ناصر احمد: یہ کہاں کا حوالہ ہے؟
جناب یحییٰ بختیار: بشیر احمد قادیانی، "Review of Religions" (ریویو آف ریلیجنز) نمبر ٣، جلد ١٤، ص ١١٣۔
مرزا ناصر احمد: یہ چیک کر کے پتا لگے گا۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، آں، یہ آپ کو یاد نہیں ہے اس وقت؟
مرزا ناصر احمد: یہ ہم نے نوٹ یہ کیا ہے کہ یہ جہاں سے آپ حوالہ پڑھ رہے ہیں، وہ لکھنے والے بشیر احمد قادیانی ہیں۔ یہی آپ نے پڑھا ہے ناں؟
جناب یحییٰ بختیار: میرے خیال میں، دراصل وہ اُوپر سوال غلط ہو گیا ہے۔ مرزا بشیر الدین محمود صاحب کا نہیں ہے۔ اس کو ہونا ایسا چاہئے تھا، میں اسی واسطے کہہ رہا ہوں، ہونا چاہئے تھا کہ یہ جو ہے، مرزا بشیر احمد صاحب جو ہیں صاحبزادہ، ان کا ہوگا۔
مرزا ناصر احمد: ہاں، یہی میں نے کہا ناں کہ ابھی چیک کرنے کی ضرورت محسوس ہو گئی۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، نہیں، یہ ہے، ہمارے پاس ہے (ایک رکن سے) ہے ناں؟
مرزا ناصر احمد: وہ کہاں ہے؟ (Pause)
جناب یحییٰ بختیار: (ایک رکن سے) کہاں جی۔ (مرزا ناصر احمد سے) اس میں ہے یہ: ”تب نبوت ملی جب اس نے نبوت محمدیہ کے تمام کمالات حاصل کر لئے اور اس قابل ہو گیا کہ ظلی نبی کہلائے۔ پس ظلی نبوت نے مسیح موعود کے قدم کو پیچھے نہیں ہٹایا بلکہ آگے بڑھایا اور اس قدر آگے بڑھایا کہ نبی کریم (ﷺ) کے پہلو بہ پہلو لا کھڑا کیا۔“
(ریویو آف ریلیجنز ج ١٤، نمبر ٣، ص ١١٣، المعروف ”کلمۃ الفصل“ از بشیر احمد پسر مرزا قادیانی)
یہ آپ دیکھ لیجئے۔
1280 مرزا ناصر احمد: جی، وہ بھیج دیں کتاب۔ (Pause)
مرزا ناصر احمد: جی، یہیں جواب دیتا ہوں۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، ابھی تو حوالہ آ گیا ہے۔
مرزا ناصر احمد: ہاں، حوالہ آ گیا ہے۔ یہ جو اگر سارا صفحہ پڑھنے کی آدمی تکلیف کرے تو جواب اس کے اندر موجود ہے۔ وہ میں سنا دیتا ہوں: ”مگر آپ کی آمد سے مستقل اور حقیقی نبوتوں کا دروازہ بند ہو گیا۔ آپ (ﷺ) کی آمد سے (آنحضرت ﷺ کی آمد کا ذکر ہے) مستقل اور حقیقی نبوتوں کا دروازہ بند ہو گیا اور ظلی نبوت کا دروازہ کھولا گیا۔ پس اب جو ظلی نبی ہوتا
٣٥
OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔
1278 جناب یحییٰ بختیار: .......
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، جب
(کیا ظفر اللہ نے کبھی ہندوست
جناب یحییٰ بختیار: ....... کافی کوئی بیان ایسا شائع کیا، پریس کانفرنس کی ریڈ کراس)، rnational Amnesty انٹرنیشنل کمیشن) of Human Rights رہا ہے، یا صرف احمدیوں ہی کا سوچتے ہیں؟
مرزا ناصر احمد: اس سوال کا جو ہیں، میں نہیں دوں گا۔
جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے
جناب یحییٰ بختیار: اب، مرزا ہیں... میں ان کو آج سارا دن دیکھتا رہا ہوں دے دیئے ہیں اور چونکہ ریکارڈ بھی... نہیں آپ نے جواب دے دیا ہو اور آپ کو یاد کر کے ان کا جواب دے دیں گے۔ کیونکہ ضروری ہے۔ آپ نے پوچھا نہیں۔ اب تک
(مسیح موعود، نبی کریم ﷺ
ایک سوال ہے جی: کیا م شروع ہوتا ہے ان کا حوالہ: ”ظلی نبوت نے ہٹایا، بلکہ آگے بڑھایا، بلکہ نبی کریم (ﷺ)
ایسے حالات سے محفوظ رکھے...!
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
ہے وہ نبوت کی مہر کو توڑنے والا نہیں، کیونکہ اس کی نبوت اپنی ذات میں کچھ چیز نہیں، بلکہ وہ محمد ﷺ کی نبوت کا ظل ہے نہ کہ مستقل نبوت اور یہ جو بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ظلی یا بروزی نبوت گھٹیا قسم کی نبوت ہے، محض ایک نفس کا دھوکا ہے جس کی کوئی بھی حقیقت نہیں، کیونکہ ظلی نبوت کے لئے یہ ضروری ہے کہ انسان نبی کریم ﷺ کی اتباع میں اس قدر غرق ہو جاوے کہ من تو شدم تو من شدی (محبت میں غرق ہو جائے) کے درجہ کو پالے، ایسی صورت میں وہ نبی کریم ﷺ کے جمیع کمالات کو عکس کے رنگ میں، (عکس کے رنگ میں... جس طرح شیشہ سورج کا عکس لیتا ہے یا چاند کا لیتا ہے) عکس کے رنگ میں اپنے اندر اُترتا پائے گا، حتیٰ کہ ان دونوں میں قرب اتنا بڑھے گا کہ نبی کریم ﷺ کی نبوت کی چادر بھی اس پر چڑھائی جائے تب جا کر وہ ظلی نبی کہلائے گا۔‘‘
یعنی اپنا اس کا کچھ نہیں... جس طرح آئینے کے اندر چاند کا عکس ہوتا ہے، اس کے نتیجے میں وہ اِتصال ہے، انعکاسی اِتصال: 1281 ’’پس جب ظل کا یہ تقاضہ ہے کہ اپنے اصل کی پوری تصویر ہو، اور اسی پر تمام انبیاء کا اِتفاق ہے، تو وہ نادان جو مسیح موعود کی ظلی نبوت کو......‘‘
یعنی مطلب یہ ہے کہ ظلی ہونے کی حیثیت سے: ’’......ظلی نبوت کو ایک گھٹیا قسم کی نبوت سمجھتا یا اس کے معنی ناقص نبوت کے کرتا ہے، وہ ہوش میں آوے اور اپنے اسلام کی فکر کرے، کیونکہ اس نے نبوت کی شان پر حملہ کیا ہے جو تمام نبوتوں کی سرتاج ہے۔‘‘
چھایا ہوا ہے ناں عکس، عکس آیا ہوا ہے اس میں: ’’میں نہیں سمجھ سکتا کہ لوگوں کو کیوں حضرت مسیح موعود کی نبوت پر ٹھوکر لگتی ہے......‘‘
یہ اصل میں غیر مبایعین مخاطب ہیں یہاں: ’’اور کیوں بعض لوگ آپ کی نبوت کو ناقص نبوت سمجھتے ہیں، کیونکہ میں یہ دیکھتا ہوں کہ آپ آنحضرت ﷺ کے بروز ہونے، کی وجہ سے ظلی نبی تھے اور اس ظلی نبوت کا پایہ بہت بلند ہے۔‘‘
عکس کا پایہ۔ تصویر جو ہے محبوب کی، وہ اتنی پیاری ہے جتنا محبوب ہے۔ یہ بات ہو رہی ہے یہاں: ’’یہ ظاہر بات ہے کہ پہلے زمانوں میں جو نبی ہوتے تھے (یعنی آنحضرت ﷺ سے قبل) ان کے لئے یہ ضروری نہ تھا کہ ان میں وہ تمام کمالات رکھے جاویں جو نبی کریم ﷺ میں رکھے گئے، بلکہ ہر ایک نبی کو اپنی استعداد اور کام کے مطابق کمالات عطا ہوتے تھے (وہ عکس نہیں ہوتے تھے کسی اور کا) کسی کو بہت، کسی کو کم، مگر مسیح موعود کو تو تب نبوت ملی (ورنہ مل ہی نہیں سکتی تھی)، تب نبوت ملی جب اس نے نبوت محمدیہ ﷺ کے تمام کمالات کو حاصل کر لیا۔ (یعنی عکس میں اپنے) اور اس قابل ہو گیا کہ نبی کہلائے۔ پس ظلی نبوت نے مسیح موعود کے قدم کو پیچھے نہیں
٣٦
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
ہٹایا......1282 یہ ساری دلیلیں دے کر اس کا نتیجہ نکالا ہے، اور میں اتنا ہی جواب دوں گا اس کا۔
جناب یحییٰ بختیار: بس ٹھیک ہے جی۔ اب چونکہ اسی تحریر سے ظلی نبوت کے دروازے کا پھر ذکر آ جاتا ہے.......
مرزا ناصر احمد: جی۔
(خاتم النبیین کا کیا معنی؟)
جناب یحییٰ بختیار: ....... اس لئے اگر آپ مہربانی کر کے کچھ مزید Clarification (وضاحت) کریں کہ یہ لفظ، یہ آیت ”خاتم النبیین“ کا ٹرانسلیشن کیا ہوگا؟ میں تشریح نہیں چاہتا، وہ آپ نے تفصیل سے کی ہے، کافی اس پر۔ ”خاتم النبیین“ یہ آپ کسے Pronounce (تلفظ) کرتے ہیں، کیا اس کا مطلب لیتے ہیں، الفاظی، لفظی معنی؟
مرزا ناصر احمد: ہاں جی، اس کی...... ”خاتم النبیین“ کے متعلق کیا مطلب لیتے ہیں ”محضر نامہ“ میں موجود ہے.......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں.......
مرزا ناصر احمد: ...... نمبر ایک.......
جناب یحییٰ بختیار: .......لفظی معنی.......
مرزا ناصر احمد: لفظی معنی جو ہیں وہ قذافی صاحب نے جو لاہور میں اپنا لیکچر دیا تھا، اس کا ایک انگلش ٹرانسلیشن ان کی ایمبیسی کی طرف سے شائع ہوا ہے۔ اس میں انہوں نے ”خاتم النبیین“ کے معنی کہے ہیں: "Seal of the Prophets" تو یا آپ منگوا لیں یا میں کل آدمی بھیج کے منگوا لوں گا۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، جی ہاں، یہی پوچھ رہا تھا ... Seal of the" "Prophets
مرزا ناصر احمد: میں بتا رہا ہوں کہ قذافی صاحب نے اس کے معنی کئے ہیں "Seal of the Prophets" اور ہم سمجھتے ہیں کہ انہوں نے معنی دُرست کئے ہیں۔
1283 جناب یحییٰ بختیار: تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ Seal of the" "Prophets سے کہ جو پُرانے Prophets تھے ان کو بند کر دیا، Sealed? یا آئندہ جو Prophets (نبی) ہوں گے ان کی Seal سے آئیں گے؟ یہ جو ہے ناں، Difference of Opinion آ رہا ہے۔
٣٧
KISTAN 23rd Aug, 1974 No:10 ہے وہ نبوت کی مہر کو توڑنے والا نہیں محمد ﷺ کی نبوت کا ظل ہے نہ کہ مسـ نبوت گھٹیا قسم کی نبوت ہے، محض ایک کے لئے یہ ضروری ہے کہ انسان نبی کـ تو من شدی (محبت میں غرق ہو جاـ جمیع کمالات کو عکس کے رنگ میں، ( چاند کا لیتا ہے) عکس کے رنگ میں اـ گا کہ نبی کریم ﷺ کی نبوت کی چادر یعنی اپنا اس کا کچھ نہیں ۔ میں وہ اتصال ہے، انعکاسی اتصال تصویر ہو، اور اسی پر تمام انبیاء کا اتفاق یعنی مطلب یہ ہے کہ ظلی نبوت سمجھتا یا اس کے معنی ناقص نبـ کرے، کیونکہ اس نے نبوت کی شان چھایا ہوا ہے ناں عکس، حضرت مسیح موعود کی نبوت پر ٹھوکر لگتی یہ اصل میں غیر مبایعین نبوت سمجھتے ہیں، کیونکہ میں یہ دیکھتا ہـ تھے اور اس ظلی نبوت کا پایہ بہت بلندـ عکس کا پایہ۔ تصویر جو ہو رہی ہے یہاں: ”یہ ظاہر بات ـ سے قبل) ان کے لئے یہ ضروری نہ تـ رکھے گئے، بلکہ ہر ایک نبی کو اپنی اس ہوتے تھے کسی اور کا) کسی کو بہت، کـ تب نبوت ملی جب اس نے نبوت اپنے) اور اس قابل ہو گیا کہ نبی
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
مرزا ناصر احمد : اصل میں اس میں، اُمتِ اسلامیہ میں ایک صوفیاء کی رائے ہے، ایک علم کلام سے تعلق رکھنے والوں کی رائے ہے، ایک فقہاء کی رائے ہے، اسی طرح مختلف آراء ہیں، ایسے ہمارے بزرگ گزرے ہیں، اور میں اپنی ذاتی اب رائے دُوں گا، وہ میری ذاتی رائے ہے......
جناب یحییٰ بختیار : ہاں، آپ کی ذات، ہاں۔
مرزا ناصر احمد : نہیں، ویسے بزرگ گزرے ہیں جن سے میری ذاتی رائے بھی موافقت کھاتی ہے.......
جناب یحییٰ بختیار : نہیں، وہ ٹھیک ہے۔
مرزا ناصر احمد : .......کہ نبی اکرم ﷺ سے قبل جس قدر انبیاء آئے... ایک لاکھ ٢٠ ہزار یا ٢٤ ہزار... مختلف کہتے ہیں، اندازے ہیں، اس میں جانے کی ضرورت نہیں، جس قدر انبیاء آئے، وہ سارے نبی کریم ﷺ کے طفیل آئے، اور آپ کی قوّتِ قدسیہ، آپ کے جو فیضان، جو آپ کی شان تھی، جو آپ کا اس دُنیا کے ساتھ رشتہ تھا... ایک وہ رشتہ ہے ناں جو اپنی اُمت کے ساتھ ہے، ایک نبی کریم ﷺ کا رشتہ ہے اس سارے عالمین کے ساتھ، Universe (کائنات) کے ساتھ، حدیث میں آتا ہے: ”لولاك لما خلقت الأفلاك“ (اگر تیرے وجود کو میں نے پیدا نہ کرنا ہوتا تو میں اس Universe (کائنات) کو نہ پیدا کرتا)
اس کی رُو سے پہلوں کے لئے بھی آپ مہر بنتے ہیں اور آنے والوں کے لئے بھی مہر بنتے ہیں، یعنی بغیر آپ کی تصدیق کے، بغیر آپ کی پیشین گوئی کے، بغیر مسلم کی اس حدیث کے جس میں آنے والے کو چار دفعہ ”نبی اللہ“ کہا گیا ہے، کوئی نبوّت کا دعویٰ ہی نہیں کر سکتا۔
1284 جناب یحییٰ بختیار : تو اب، مرزا صاحب! یہ بھی آپ نے Clarify (واضح) کر دیا کہ جو گزر گئے ان کے لئے بھی مہر تھے، اور جو آئیں گے ان کے لئے بھی.......
مرزا ناصر احمد : ایک معنی، میں نے کہا، یہ بھی کئے گئے ہیں۔
(خاتم النبیین کے باوجود ایک کیوں؟)
جناب یحییٰ بختیار : ہاں، ہاں، تو اب یہ لفظ ابھی ہے ”خاتم النبیین“ اور ”خاتم النبی“ نہیں ہے اور آپ کہتے ہیں اس کے بعد صرف ایک آئے گا۔ یہ کیسے؟ آپ Clarify (واضح) کریں گے؟
مرزا ناصر احمد : میں نے پہلوں کو بھی شامل کر لیا۔
٣٨
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
جناب یحییٰ بختیار: نہیں،.......
مرزا ناصر احمد: آپ کے سوال کا جواب میں دے چکا ہوں، پہلے۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، آئندہ کی جو مہر ہے، وہ جو کھڑکی کھل گئی ہے، دروازہ کھل گیا ہے نبوت کا....... معاف کیجئے، میں اس پر پھر آیا ہوں۔ اس پر میں کافی سوچتا رہا ہوں۔ تو اس پر جو ”خاتم النبیین“ دونوں Sense (معنوں) میں ہے، پرانوں کے لئے Seal ہے، آئندہ آنے والوں کے لئے بھی Seal ہے، ”نبی تراش طبیعت“ آپ کی.......
مرزا ناصر احمد: ”خاتم النبیین“ بن گئے ناں، آپ۔
جناب یحییٰ بختیار: بالکل۔ تو ”نبیین“ تو آپ نے ایک نبی کر دیا ناں کہ Future (مستقبل) کے لئے ایک۔
مرزا ناصر احمد: اوہو! جب پچھلے اور اگلے سب کے لئے خاتم.......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں نہیں، آپ نے کہا دونوں Sense (معنوں) میں۔
مرزا ناصر احمد: نہیں نہیں، میں اپنی Sense (نظریہ) بتا رہا ہوں ناں۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، آپ نے کہا دونوں Sense میں وہ ”خاتم النبیین“ ہیں، اس Sense (معنوں) میں ”خاتم النبیین“، اس Sense (معنوں) میں ”خاتم النبی“ ہوں گے پھر؟
1285 مرزا ناصر احمد: نہیں نہیں نہیں، میں اپنی بات واضح نہیں کر سکا۔ میں نے یہ کہا کہ اس Sense (معنوں) میں ”خاتم النبیین“ کی مہر کے نتیجے میں ایک لاکھ ٢٤ ہزار پیغمبر آیا ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، وہ تو ٹھیک ہے۔
مرزا ناصر احمد: ہاں۔ پھر وہ.......
جناب یحییٰ بختیار: پھر وہ Future (مستقبل) میں بھی وہ.......
مرزا ناصر احمد: نہیں، اوہو! ہو!
جناب یحییٰ بختیار: مہر جو ہیں، Future (مستقبل) کے بھی ہیں؟
مرزا ناصر احمد: اس کا ”خاتم النبیین“ کی مہر کے نتیجے میں؟
جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔
مرزا ناصر احمد: ہیں؟
٣٩
LY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
مرزا ناصر احمد: اصل میں اس میں، ہم علم کلام سے تعلق رکھنے والوں کی رائے ہے، ایک فقر ہمارے بزرگ گزرے ہیں، اور میں اپنی ذاتی اب تـ
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، آپ کی قـ
مرزا ناصر احمد: نہیں، ویسے بزرـ موافقت کھاتی ہے.......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ ٹھیک
مرزا ناصر احمد: .......کہ نبی اکرم ٢٠ ہزار یا ٢٤ ہزار... مختلف کہتے ہیں، اندازے ـ انبیاء آئے، وہ سارے نبی کریمﷺ کے طفیل فیضان، جو آپ کی شان تھی، جو آپ کا اس دُنیا ـ اُمت کے ساتھ ہے، ایک نبی کریمﷺ کا رشتہ ـ (کائنات) کے ساتھ، حدیث میں آتا ہے: ”لوـ میں نے پیدا نہ کرنا ہوتا تو میں اس Universe اس کی رُو سے پہلوں کے لئے بھی آ بنتے ہیں، یعنی بغیر آپ کی تصدیق کے، بغیر آپـ جس میں آنے والے کو چار دفعہ ”نبی اللہ“ کہا گیا
1284 جناب یحییٰ بختیار: تو آپ (واضح) کر دیا کہ جو گزر گئے ان کے لئے بھی مہر ـ
مرزا ناصر احمد: ایک معنی، میں ـ (خاتم النبیین کے
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، ہاں، و النبی“ نہیں ہے اور آپ کہتے ہیں اس کے بعد (واضح) کریں گے؟
مرزا ناصر احمد: میں نے پہلوں کیـ
1310 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
(کیا نبوت کا دروازہ کھلا ہے؟)
جناب یحییٰ بختیار: اور نبی آئیں گے، دروازہ کھلا ہے۔
مرزا ناصر احمد: ”النبیین“ جمع ہے ناں۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، جی۔
مرزا ناصر احمد: بہت سارے نبی، کچھ آچکے اور ایک آگیا۔
جناب یحییٰ بختیار: اچھا، یہ آپ اس کا مطلب لے رہے ہیں!
مرزا ناصر احمد: ہاں۔
جناب یحییٰ بختیار: اب، مرزا صاحب! ایک اور حوالہ۔ میرے خیال میں شاید آپ نے اس کا جواب دے دیا ہے... مگر میں پھر پڑھ کر سناتا ہوں آپ کو۔ یہ ”حقیقت الوحی“ Page.179.... (ایک رُکن کی طرف اشارہ کر کے) یہ کہتے ہیں، جی آچکا ہے۔
مرزا ناصر احمد: آچکا ہے؟
1286 جناب یحییٰ بختیار: نہیں، آچکا ہے، کیونکہ خود میں نے نوٹ کیا ہے اس کا پیج نمبر۔ پھر ایک اور حوالہ ہے، یہ بھی ”حقیقت الوحی“ سے ہے ......نہ، ”آئینہ کمالات“ صفحہ......: ”جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے گا، وہ ضروری ہے کہ خدائے تعالیٰ کی ہستی کا احترام کرے۔“
(ایک رُکن سے) یہ بھی آچکا ہے؟
(مرزا ناصر احمد سے) یہ بھی، کہتے ہیں، آچکا ہے۔ یہ ہے ”سیرۃ الابدال“ صفحہ: ٣٩١۔
میرے خیال میں صفحہ یہ ٹھیک نہیں تھا، آپ نے کوئی Correct Page نکالا تھا۔
مرزا ناصر احمد: یہ آچکا ہے اور میں نے آپ کو بتایا تھا کہ سولہ سو صفحے کی کتاب میں سے مجھے ٣٩١ صفحہ نہیں ملا۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔ بہرکیف، مجھ سے پوچھتے ہیں، میں Clarify (وضاحت) کرا رہا ہوں، کیونکہ .......
مرزا ناصر احمد: ہاں، میں نے اس کا ......
(مرزا قادیانی کے علاوہ آپ کی جماعت میں کسی اور نے نبوت کا دعویٰ کیا؟)
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، اسی واسطے میں اس کو Verify (تصدیق) کر رہا ہوں۔ اب اسی سے تعلق رکھنے والا ”کھڑکی“ کا جو معاملہ آگیا ہے، ایک سوال یہ کہ آپ کی
٤٠
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
جماعت میں کیا کچھ اور لوگوں نے بھی نبوت کا دعویٰ کیا، مرزا صاحب کے وقت میں یا بعد میں؟
مرزا ناصر احمد: کچھ تھوڑا سا میرا مطالعہ ہے اپنی تاریخ کا، اور میرا خیال ہے کہ اُمتِ محمدیہ میں ہزاروں آدمیوں نے نبوت کا دعویٰ کیا۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، میں آپ کی پوچھتا ہوں، آپ کی جماعت میں!
مرزا ناصر احمد: ہاں، اب میری جماعت میں سے بھی کچھ لوگ پاگل ہو کے اس میں شامل ہوئے، لیکن دعویٰ کرنے والے.......
1287 جناب یحییٰ بختیار: کھڑکی کھلی تھی!
مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، وہ ”کھڑکی“ کا تو پھر میں سنا دیتا ہوں۔ میں نے ایک حوالہ نکالا ہوا ہے۔ ”کھڑکی“ کا۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں جی، میں... I hope you don't mind... (مجھے اُمید ہے آپ بُرا نہیں مانیں گے)
مرزا ناصر احمد: نہیں، Mind (بُرا ماننے) کرنے کی کیا بات ہے۔ آپ یہ حوالہ سن لیں۔ یہ بانی سلسلہ کا حوالہ ہے: ”صاحب انتہائی کمال کا جس کا وجود......“ یہ آنحضرت صلعم کے متعلق ہے.......
جناب یحییٰ بختیار: کس کے متعلق جی؟
مرزا ناصر احمد: ”صاحب انتہائی کمال کا......“ یہ لکھنے والے ہیں بانی سلسلہ احمدیہ......
جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔
مرزا ناصر احمد: بیان فرما رہے ہیں نبی اکرم ﷺ کے متعلق۔ یہ جو ”کھڑکی“ ہے ناں، وہ مسئلہ حل ہو جائے گا، اگر غور سے سنا جائے: ”صاحب انتہائی کمال کا جس کا وجود سلسلہ خط خالقیت میں انتہائی نقطہ ارتفاع پر واقع ہے، حضرت محمد ﷺ ہیں، اور ان کے مقابل پر وہ خسیس وجود جو انتہائی نقطہ انخفاض پر واقع ہے اسی کو ہم لوگ شیطان سے تعبیر کرتے ہیں۔ اگرچہ بظاہر شیطان کا وجود مشہود و محسوس نہیں لیکن اس سلسلۂ خط خالقیت پر نظر ڈال کر اس قدر تو عقلی طور ماننا پڑتا ہے کہ جیسے سلسلۂ ارتفاع کے انتہائی نقطہ میں ایک وجود خیر مجسم ہے (ﷺ) جو دُنیا میں خیر کی
١؎ حضور ﷺ کے بعد جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے، مرزا ناصر اُسے پاگل قرار دے رہے ہیں، دیگر مدعیان ”پاگل“، لیکن مرزا قادیانی ”نبی“، آخر دادا جو ہوئے، جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے...!
٤١
LY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
(کیا نبوت کا در
جناب یحییٰ بختیار: اور نبی آئیں بـ
مرزا ناصر احمد: ”النبیین“ جمع ہے
جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔
مرزا ناصر احمد: بہت سارے نبی، ا
جناب یحییٰ بختیار: اچھا، یہ آپ اس
مرزا ناصر احمد: ہاں۔
جناب یحییٰ بختیار: اب، مرزا صاحـ نے اس کا جواب دے دیا ہے... مگر میں پھر بـ Page.179.... (ایک رُکن کی طرف اشارہ کر
مرزا ناصر احمد: آچکا ہے؟
1286 جناب یحییٰ بختیار: نہیں، آپ نمبر۔ پھر ایک اور حوالہ ہے، یہ بھی ”حقیقۃ صفحہ......: ”جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے گا، وہ ضرور
(ایک رُکن سے) یہ بھی آچکا ہے؟ (
(مرزا ناصر احمد سے) یہ بھی، کہتے ہیں میرے خیال میں صفحہ یہ ٹھیک نہیں تھا، آپ نے کہا
مرزا ناصر احمد: یہ آچکا ہے اور میں سے مجھے ٣٩١ صفحہ نہیں ملا۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔ بہرحا (وضاحت) کر رہا ہوں، کیونکہ.......
مرزا ناصر احمد: ہاں، میں نے اس
(مرزا قادیانی کے علاوہ آپ کی جماعت
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، اسی واسطے اب اسی سے تعلق رکھنے والا ”کھڑکی
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
طرف ہادی ہو کر آیا۔ اس طرح اس 1288 کے مقابل پر، ذوالعقول میں (عقل مند، عقل رکھنے والے انسان یعنی) ذوالعقول میں انتہائی نقطۂ افساد میں ایک وجود شر انگیز بھی جو شر کی طرف جاذب ہو ضرور چاہئے۔ اسی وجہ سے ہر ایک انسان کے دل میں باطنی طور پر بھی دونوں وجودوں کا اثر عام طور پر پایا جاتا ہے۔ پاک وجود جو رُوح الحق، جو نور بھی کہلاتا ہے...... اب یہاں وہ ’’کھڑکی‘‘ کا یہ مسئلہ حل ہو جاتا ہے:
’’....... پاک وجود جو رُوح الحق اور نور بھی کہلاتا ہے، یعنی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ۔ اس کا پاک اثر بہ جذبات قدسیہ، توجہات باطنیہ، ہر ایک دل کو، ہر انسان کے دل کو خیر اور نیکی کی طرف بلاتا ہے۔ (یہ ان کی دعوت ہے) جس قدر کوئی اس سے محبت اور مناسبت پیدا کرتا ہے اسی قدر وہ ایمانی قوّت پاتا ہے اور نورانیت اس کے دل میں پھیلتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ اسی کے رنگ میں آ جاتا ہے اور ظلّی طور پر ان سب کمالات کو پالیتا ہے، جو اس کو حاصل ہیں اور جو وجود شر انگیز ہے (وہ دُوسرا جس کو ’شیطان‘ ہم کہتے ہیں) اس کے اندر بھی ایک جذب ہے.......‘‘
میں اس کو یہاں چھوڑتا ہوں کیونکہ.......
جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔
مرزا ناصر احمد: ....... یہ چند فقرے جو ہیں، یہ وہ ’’کھڑکی‘‘ کا بتاتے ہیں۔ ہر وجود کو آنحضرت ﷺ کی قوت قدسیہ جذب کر رہی ہے۔ کچھ لوگ اس اثر کو قبول کرتے ہیں اور کچھ شیطانی خیالات کی طرف مائل ہوجاتے ہیں۔ جو قبول کرتے ہیں وہ اپنی اپنی استعداد کے مطابق رُوحانی رفعتوں کو حاصل کرتے ہیں۔ یہ ایک بڑا اہم بنیادی مسئلہ ہے جسے میرے خیال میں اس وسعت کے ساتھ اسلام نے پیش کیا کہ ہر فردِ واحد ایک دائرۂ استعداد رکھتا ہے، یعنی جو اس کی فطرت کو قویٰ ملے ہیں۔ یہ نہیں کہ بے حد وحساب ہیں اور ہر فرد اپنے دائرۂ استعداد کے اندر ترقی کر سکتا ہے اور اس کے باہر قدم نہیں رکھ سکتا۔
(چراغ دین نے نبوت کا دعویٰ کیا، مرزا قادیانی نے اس کو مرتد لکھا)
1289 جناب یحییٰ بختیار: جی بس؟
میں نے یہ پوچھا تھا... کیونکہ مجھے لسٹ دی گئی تھی آٹھ نو آدمیوں کی... کہ یہ احمدی جماعت میں سے انہوں نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ تو اسی بارے میں، میں نے پوچھا۔ اس میں سے ایک کے بارے میں یہ لکھا ہے کہ یہ کوئی صاحب تھے چراغ دین۔ مرزا صاحب نے ان کے
٤٤
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
بارے میں لکھا کہ: ”نفسِ امّارہ کی غلطی نے اس کو خودستائی پر آمادہ کیا ہے، پس آج کی تاریخ سے وہ ہماری جماعت سے منقطع ہے جب تک کہ مفصل طور پر اپنا توبہ نامہ شائع نہ کرے اور اس ناپاک رسالت کے دعویٰ سے ہمیشہ کے لئے مستعفیٰ نہ ہو جائے۔.......“
مرزا ناصر احمد: ہوں، اپنا وہ توبہ نہ کرے یا؟
جناب یحییٰ بختیار: ”...(توبہ نہ کرے)... توبہ نامہ شائع نہ کرے اور اس ناپاک رسالت کے دعویٰ سے ہمیشہ کے لئے مستعفیٰ نہ ہو جائے.......ہماری جماعت کو چاہئے کہ ایسے انسان سے قطعاً پرہیز کرے۔“
(دافع البلاء ص:٢٢، خزائن ج:١٨ ص:٢٤٢)
تو یہ میں اس واسطے.......
مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، یہ ٹھیک ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: تو میں اس واسطے ضرورت.......
مرزا ناصر احمد: ”ایسے انسان“ جو ہیں ناں، فقرہ، اس میں اس کا جواب ہے.....
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ تو میں نے اس لئے کہا......
مرزا ناصر احمد: .......اس کی تفصیل وغیرہ اور یہ وہ شخص ہے جس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت نازل ہوئی اور طاعون سے وہ مرگیا۔
(چراغ دین کو استعفیٰ کا موقع نہیں دیا گیا؟)
1290 جناب یحییٰ بختیار: اس کو استعفاء کا بھی موقع نہیں دیا گیا کہ نبوّت سے استعفاء دیتا بیچارہ؟
مرزا ناصر احمد: جی؟
جناب یحییٰ بختیار: موقع بھی آپ کو نہیں دیا کہ نبوّت سے استعفاء دے دیتا وہ!
مرزا ناصر احمد: نہیں، اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آگیا، ویسے یہ مسئلہ بڑا سنجیدہ ہے، اس میں تمسخر، اور ہنسی کی بات نہیں آنی چاہئے، ہاں!۔
١؎ سب سے بڑا مسخرہ تو مرزا قادیانی ہے، ”ہمیشہ کے لئے رسالت کے دعوے سے مستعفی ہو جائے“ نبوّت سے استعفاء کا جملہ مرزا قادیانی نے استعمال کیا، اگر یہ تمسخر ہے بقول مرزا ناصر صاحب، تو سب سے بڑا مسخرہ اور ہنسوڑا تو مرزا قادیانی ہوا۔ خُذْ و کُن من الشاکرین!
٤٣
F PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
طرف ہادی ہوکر آیا۔ اس طرح اس والے انسان یعنی ) ذوالعقول میں انتہائی جاذب ہو ضرور چاہئے۔ اسی وجہ سے ہر ایک اثر عام طور پر پایا جاتا ہے۔ پاک وجود جـ ”کھڑکی“ کا یہ مسئلہ حل ہوجاتا ہے: ”.......پاک وجود جو رُوح الـ کا پاک اثر بہ جذبات قدسیہ، توجّہات با طرف بلاتا ہے۔ (یہ ان کی دعوت ہے) جـ قدر وہ ایمانی قوّت پاتا ہے اور نورانیت اس میں آجاتا ہے اور ظلی طور پر ان سب کمالا ہے (وہ دُوسرا جس کو ”شیطان“ ہم کہتے ہیں میں اس کو یہاں چھوڑتا ہوں کـ
جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔
مرزا ناصر احمد: .......یہ چند آنحضرت ﷺ کی قوت قدسیہ جذب کر شیطانی خیالات کی طرف مائل ہوجاتے ہـ رُوحانی رفعتوں کو حاصل کرتے ہیں۔ یہ ہـ وسعت کے ساتھ اسلام نے پیش کیا کہ فطرت کو قویٰ ملے ہیں۔ یہ نہیں کہ بے حـ کرسکتا ہے اور اس کے باہر قدم نہیں رکھ سکـ
(چراغ دین نے نبوت کا دعـ
1289 جناب یحییٰ بختیار: جی
میں نے یہ پوچھا تھا...کیونکہ جماعت میں سے انہوں نے نبوت کا دعـ سے ایک کے بارے میں یہ لکھا ہے کہ یہ
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
(چشمہ معرفت کی ایک عبارت کے بارہ میں سوال)
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، اس Detail (تفصیل) میں نہیں جاتا، میں نے صرف یہ ......(Pause)
یہ ہے جی ”چشمہ معرفت“ Page.91:
”یعنی خدا وہ خدا ہے، جس نے اپنے رسول کو ایک کامل ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا، تا.......“
مرزا ناصر احمد: ”بھیجا“ ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، ”بھیجا تا“.......نہ، میں پھر پڑھتا ہوں: ”یعنی خدا وہ خدا ہے، جس نے اپنے رسول کو ایک کامل ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا، تا اس کو ہر ایک قسم کے دین پر غالب کردے، یعنی ایک عالمگیر غلبہ اس کو عطا کرے اور چونکہ وہ عالمگیر غلبہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ ظہور میں نہیں آیا ممکن نہیں کہ خدا کی پیش گوئی میں کچھ تخلف ہو۔ اس لئے اس آیت کی نسبت ان سب متقدمین کا اتفاق ہے جو ہم سے پہلے گزر چکے ہیں کہ یہ عالمگیر غلبہ مسیح موعود کے وقت میں ظہور میں آئے گا، کیونکہ اس عالمگیر غلبہ کے لئے تین امر کا پایا جانا ضروری ہے، جو پہلے زمانے میں نہ پائے گئے ہیں۔“
(چشمہ معرفت ص: ٨٣، خزائن ج:٢٣ ص:٩١)
1291 یہ آپ دیکھ لیجئے، میں نے ٹھیک شاید نہ پڑھا ہو، کیونکہ وہ.......
مرزا ناصر احمد: مجھے دیں، میں پڑھ کے یہیں سے جواب دے دیتا ہوں۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی ٹھیک ہے۔
مرزا ناصر احمد: دیر نہیں لگے گی۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔ (Pause)
مرزا ناصر احمد: ہاں جی، فارغ ہوگئے آپ؟
جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، آپ فرمائیے۔
مرزا ناصر احمد: یہ جہاں سے پڑھا گیا ہے اس سے کچھ پہلے سے پڑھا جائے تو معاملہ صاف ہوجاتا ہے۔ یہاں بانی سلسلہ احمدیہ نے لکھا ہے (عربی): ”وَ اِنْ مِّنْ اُمَّةٍ.......“
وہ پہلے ایک وہ ماضی کا بیک گراؤنڈ لکھ کے:
”.......وہ تب خدا تعالیٰ نے ہمارے نبی ﷺ، سیدنا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو دُنیا میں
٤٤
1315 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
بھیجا، تا بذریعہ اس تعلیم قرآنی کے جو تمام عالم کی طبائع کے لئے مشترک ہے دُنیا کی تمام متفرق قوموں کو ایک قوم کی طرح بنادے......“
یہ آپ نے توجہ نہیں کی، اس لئے میں پھر پڑھتا ہوں: ”تب خدائے تعالیٰ نے ہمارے نبیﷺ، سیدنا حضرت محمدﷺ کو دُنیا میں بھیجا تا بذریعہ اس تعلیم قرآنی کے جو تمام عالم کی طبائع کے لئے مشترک ہے دُنیا کی تمام متفرق قوموں کو ایک قوم کی طرح بنادے (یہاں آنحضرتﷺ کی پیش گوئی دی گئی تھی) اور جیسا کہ وہ وحدہٗ لاشریک 1292 ہے، ان میں بھی ایک وحدت پیدا کرے، (تخلقوا باخلاق اللہ ......) اور تا وہ سب مل کر ایک وجود کی طرح اپنے خدا کو یاد کریں اور اس کی وحدانیت کی گواہی دیں اور تا پہلی وحدت قومی جو ابتدائے آفرینش میں ہوئی (جب انسان تھوڑے تھے ...... آدم کے وقت میں) اور آخری وحدت اقوامی جس کی بنیاد آخری زمانے میں ڈالی گئی (اور یہاں ”آخری زمانہ“ سے مراد نبی اکرمﷺ کا زمانہ ہے) یعنی جس کا خدا نے آنحضرتﷺ کے مبعوث ہونے کے وقت میں ارادہ فرمایا (یہ آگے میں نے، جو غلطی ہوئی وہ میں نے کردیا) یعنی جس کا خدا نے آنحضرتﷺ کے مبعوث ہونے کے وقت میں ارادہ فرمایا۔ یہ دونوں قسم کی وحدتیں خدائے واحد لاشریک کے وجود اور اس کی وحدانیت پر دوہری شہادت ہو کیونکہ وہ واحد ہے اس لئے اپنے تمام نظام جسمانی اور روحانی میں وحدت کو دوست رکھتا ہے اور چونکہ آنحضرتﷺ کی نبوت کا زمانہ قیامت تک ممتد ہے اور آپ خاتم الانبیاء ہیں، اس لئے خدا نے یہ نہ چاہا کہ وحدت اقوامی آنحضرتﷺ کی زندگی ہی میں ہی کمال تک پہنچ جائے کیونکہ یہ صورت آپ کے زمانہ کے خاتمہ پر دلالت کرتی تھی یعنی شبہ گزرتا تھا کہ آپ کا زمانہ وہیں تک ختم ہو گیا کیونکہ جو آخری کام آپ کا تھا، وہ اسی زمانہ میں انجام تک پہنچ گیا۔ اس لئے خدا نے تکمیل اس فعل کی جو تمام قومیں ایک قوم کی طرح بن جائیں اور ایک ہی مذہب پر ہو جائیں، زمانہ محمدی کے آخری حصہ میں ڈال دی جو قریب قیامت کا زمانہ ہے اور اس تکمیل کے لئے اسی اُمت میں سے (ایک نائب رسول) ایک نائب مقرر کیا جو مسیح موعود کے نام موسوم ہے اور اسی کا نام خاتم الخلفاء ہے۔ پس زمانہ محمدی کے سر پر آنحضرتﷺ ہیں اور زمانہ محمدی کے آخر میں مسیح موعود ہیں۔ (زمانہ محمدیہ ہیں دونوں) اور یہ ضرور تھا کہ یہ سلسلہ دُنیا کا منقطع نہ ہو......“
1293 کچھ میں بیچ میں لفظ اپنی طرف سے وضاحت کے لئے بیان کرتا ہوں:
”...... جب تک کہ وہ پیدا نہ ہولے کیونکہ وحدت اقوامی کی خدمت اسی نائب
٤٥
PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
(چشمہ معرفت کی ایک
جناب یحییٰ بختیار: نہیں صرف یہ ...... (Pause) یہ ہے جی ”چشمہ معرفت“ 1 ”یعنی خدا وہ خدا ہے، جس ن بھیجا، تا......“
مرزا ناصر احمد: ”بھیجا“ ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، ہے، جس نے اپنے رسول کو ایک کامل ہدا دین پر غالب کردے، یعنی ایک عالمگیر غلب کے زمانہ ظہور میں نہیں آیا ممکن نہیں کہ خد نسبت ان سب متقدمین کا اتفاق ہے جو وقت میں ظہور میں آئے گا، کیونکہ اس عال زمانے میں نہ پائے گئے ہیں۔“
1291 یہ آپ دیکھ لیجئے، میں ن
مرزا ناصر احمد: مجھے دیں،
جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی
مرزا ناصر احمد: دیر نہیں لگے
جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی
مرزا ناصر احمد: ہاں جی، قا
جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی
مرزا ناصر احمد: یہ جہاں ب معاملہ صاف ہوجاتا ہے۔ یہاں بانی سلس وہ پہلے ایک وہ ماضی کا بیک گر ”...... وہ تب خدا تعالیٰ نے ہ
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
النبوۃ کے عہد سے وابستہ کی گئی ہے اور اسی کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے اور وہ یہ ہے: ”هو الذى ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله“ (یہ قرآن کریم کی آیت ہے) یعنی خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کو ایک کامل ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا تا اس کو ہر ایک قسم کے دین پر غالب کردے۔ یعنی ایک عالمگیر غلبہ اس کو (یعنی محمد ﷺ کو) عطا کرے اور چونکہ وہ عالمگیر غلبہ آنحضرت ﷺ کے زمانے میں ظہور میں نہیں آیا (مثلاً: امریکا میں اس وقت اسلام نہیں پہنچا، پہلی تین صدیاں، جس کے متعلق پہلے ذکر کر چکا ہوں) اور ممکن نہیں کہ خدا کی پیشین گوئی میں کچھ تخلف ہو، اس لئے اس آیت کی نسبت ان سب متقدمین کا اتفاق ہے جو ہم سے پہلے گزر چکے ہیں کہ یہ عالمگیر غلبہ (جس کی بشارت محمد رسول اللہ ﷺ کو دی گئی تھی یہ عالمگیر غلبہ آپ کے روحانی فرزند ہم کہتے ہیں) مسیح موعود کے وقت میں ظہور میں آئے گا کیونکہ اس عالمگیر غلبہ کے لئے تین امر کا پایا جانا ضروری ہے جو کسی پہلے زمانہ میں (یعنی زمانہ محمدی چل رہا ہے اس میں) وہ پائے نہیں گئے۔“
جن اشیاء کی، جن اسباب کی، جن مادی ذرائع کی ضرورت تھی، اس عالمگیر غلبہ کے لئے، وہ اس زمانہ میں اللہ نے مہیا کر دیں جس زمانے میں نبی کریم ﷺ کی اس پیش گوئی نے پورا ہونا تھا کہ اسلام ساری دُنیا پر غالب آجائے گا اور ہاں، ذرا ایک ......
جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔
1294 مرزا ناصر احمد: آپ نے ایک فرمایا ہے کہ؟ ”متقدمین کا یہ خیال ہے ۔“ یہ جو میں بتا رہا ہوں تو آپ سنیں۔ اہل سنت والجماعت کا لٹریچر جب ہم پڑھتے ہیں تو تفسیر ابن جریر میں ہے کہ: ”قال عن ابو هريرة في قوله ليظهره على الدين كله “ یعنی ابو ہریرہؓ نے روایت کی قرآن کریم کی اس آیت کے متعلق جو ابھی اس میں آئی ہے مضمون میں: ”قال حین خروج عیسٰی ابن مریم “ کہ یہ وعدہ خدا تعالیٰ کا عالمگیر غلبے کا جو ہے، وہ عیسیٰ ابن مریم کے ظہور کے وقت پورا ہوگا۔ اسی طرح تفسیر ابن جریر میں ابو جعفر سے یہ روایت کی ہے: ”يقول ليظهره على الدين كله “ وہی آیت ہے: ”قال اذا اخرج عيسى عليه السلام اتباعه اهل كل دين “ یعنی جب حضرت مسیح ظاہر ہوں گے، آنحضرت ﷺ کے ایک محبوب تبع، تو ان کے زمانہ میں یہ آئے گا۔ اسی طرح تفسیر حسینی میں ہے کہ:
٤٦
انہوں نے بھی اس کے یہی معنی کئے ہیں۔
اسی طرح پر ”غرائب القرآن“ میں ہے، ایک اور تفسیر ہے۔۔۔۔۔
جناب یحییٰ بختیار: وہ تو ہے، ٹھیک ہے، مرزا صاحب! وہ میں سمجھ گیا۔۔۔۔۔
1295 مرزا ناصر احمد: ہاں، بس ٹھیک ہے۔ تو۔۔۔۔۔۔
جناب یحییٰ بختیار: ۔۔۔۔۔ اب تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کامل غلبہ مسیح موعود کے زمانے میں ہونا تھا اور آنحضرت کے زمانے میں نہیں ہونا تھا، اللہ کی یہی۔۔۔۔۔۔
مرزا ناصر احمد: نہ، نہ، پھر یہی۔۔۔۔۔۔۔
جناب یحییٰ بختیار: وہ ایک بات میں سمجھ گیا۔ آپ نے زمانے کے دو مطلب لئے... ایک تو ان کا زمانہ ہمیشہ جاری رہے گا...
مرزا ناصر احمد: ہمیشہ جاری رہے گا۔
جناب یحییٰ بختیار: دُوسرا ان کا Limited Life Time (دنیاوی زندگی کا زمانہ) کا ہے۔
مرزا ناصر احمد: اس کو ملتِ اسلامیہ میں۔۔۔۔۔۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔
مرزا ناصر احمد: نبی اکرم ﷺ کی نشأۃِ اُولیٰ اور نشأۃِ ثانیہ کا نام دیا جاتا ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: وہ تو ہمیشہ رہا ہے۔
مرزا ناصر احمد: جی۔
(کیا مرزا قادیانی کی حیات میں کامل غلبہ ہو گیا؟)
جناب یحییٰ بختیار: پھر زندگی کا معاملہ ہے کہ اپنی حیات میں، جیسا کہ آپ کہتے ہیں، امریکا تک نہیں پہنچ سکا اسلام۔ تو کیا مرزا صاحب کی حیات میں دُنیا پر سارا کامل غلبہ ہو گیا؟
مرزا ناصر احمد: ہاں، یہ میرا قصور ہے، میں نے واضح نہیں کیا۔ میں نے یہ نہیں کہا کہ آپ کی حیات میں امریکا تک نہیں پہنچ سکا۔ میں نے یہ کہا کہ آپ کے متبعین نے، جن کے متعلق یہ بشارت تھی کہ تین سو سال تک وہ دینی رُوح کے ساتھ اسلام کو غالب کرنے کی، پھیلانے کی کوشش کرتے رہیں گے، بحیثیت مجموعی، ان تین سو سالوں میں ان کی کوششوں کے نتیجے میں عالمگیر غلبہ اسلام کو نصیب ہوا۔ یہ تاریخی ایک حقیقت ہے، اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
٤٧
F PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
النبوت کے عہد سے وابستہ کی گئی ہے اور اسی
”ھو الذی ارسل رسولہ با (یہ قرآن کریم کی آیت ہے ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا تا اس کو غلبہ اس کو (یعنی محمد ﷺ کو) عطا کرے ظہور میں نہیں آیا (مثلاً: امریکا میں اس و پہلے ذکر کر چکا ہوں) اور ممکن نہیں کہ خدا ک نسبت ان سب متقدمین کا اتفاق ہے ج بشارت محمد رسول اللہ ﷺ کو دی گئی تھی ب موعود کے وقت میں ظہور میں آئے گا کیونک جو کسی پہلے زمانہ میں (یعنی زمانہ محمدی ﷺ میں جن اشیاء کی ، جن اسباب کی لئے ، وہ اس زمانہ میں اللہ نے مہیا کر دیں ہونا تھا کہ اسلام ساری دنیا پر غالب آ جائے
جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی
1294 مرزا ناصر احمد: آپ میں بتا رہا ہوں تو آپ سنیں۔ اہل سنت و میں ہے کہ: ”قال عن ابو ھریرۃ فی قول کی قرآن کریم کی اس آیت کے متعلق جو عیسی ابن مریم“ کہ یہ وعدہ خدا تعا وقت پورا ہوگا۔ اسی طرح تفسیر ابن جریر میں الدین کلہ “ وہی آیت ہے: ”قال اذا ا یعنی جب حضرت مسیح ظاہر ہوں گے، آنح آئے گا۔ اسی طرح تفسیر حسینی میں ہے کہ: ” تا اہل بدانند ایں دین را علی الدین کلہ
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
(تین سو سال میں غلبہ)
1296 جناب یحییٰ بختیار: ہاں، پھر تین سو سال کے لئے.......
مرزا ناصر احمد: اور، اور، نہیں.......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہی بات آجاتی ہے، مرزا صاحب!......
مرزا ناصر احمد: ہاں، آں۔
جناب یحییٰ بختیار: ......کہ آنحضرت ﷺ کا زمانہ جو تین سو سال کا تھا، اس میں عالمگیر غلبہ نہیں ہوا، مرزا صاحب کے تین سو سال میں ہوجائے گا، آپ نے یہ پہلے بھی کہا۔
مرزا ناصر احمد: ہاں، ”ہو جائے گا“ اس لئے میں کہتا ہوں کہ قرآن کریم کی......
جناب یحییٰ بختیار: لیکن آپ کا عقیدہ ہے؟
مرزا ناصر احمد: نہ میرا اور میرے بزرگ سلف صالحین کا یہ عقیدہ ہے۔ اُمتِ مسلمہ میں......
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، ان کے زمانے میں......
مرزا ناصر احمد: ہر صدی میں......
جناب یحییٰ بختیار: ان کا زمانہ بھی تین سو سال کا ہے، اس میں یہ ہو جائے گا۔
مرزا ناصر احمد: یہ تو اُمتِ مسلمہ کا بغیر اختلاف کا مسئلہ ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، اُمتِ محمدیہ کا تو یہ ہے۔ مگر یہ تو یہ کہتے ہیں کہ کیونکہ یہ غلبہ نہیں ہوا، اس لئے مسیح موعود نہیں تھے، یہ تو Inference اتنی صاف نظر آرہی ہے۔
مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں وہ پیشین گوئیاں پوری نہیں ہوئیں جو کسریٰ کی حکومت اور قیصر کے متعلق تھیں۔ تو اُمتِ مسلمہ نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ قیامت تک کے لئے جو بھی غلبہ اسلام اور اسلام کے استحکام اور اس کی طاقت کے لئے کام ہوتا ہے، وہ اصل آنحضرت ﷺ کی طرف رجوع کرتا ہے، اور کسی اور شخص کی طرف ہو 1297 ہی نہیں سکتا اس کا رجوع، کیونکہ جو کچھ اس نے پایا، نبی اکرم ﷺ کے طفیل پایا۔
٤٨
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
جناب یحییٰ بختیار: یہ آج کا ہے جی پہلے بھی۔ میں صرف اس پر وہ مزید Clarification (وضاحت) کرنا چاہتا تھا۔ وہ ہو چکا ہے۔ ابھی میں اور نہیں آپ کا وقت لوں گا اس پر۔ آپ نے کل فرمایا تھا مرزا صاحب! کہ غالباً اٹھارہ سو.......
مرزا ناصر احمد: جی۔
(مرزا قادیانی نے مسیح موعود کا دعویٰ کب کیا؟)
جناب یحییٰ بختیار: ......غالباً ١٨٩١ء میں، مرزا صاحب نے نبوت کا یا مسیح موعود کا دعویٰ کیا۔
مرزا ناصر احمد: جی۔
جناب یحییٰ بختیار: تو اب ایک سوال یہ ہے......
مرزا ناصر احمد: ایک تو سوال تھا ناں کہ مہدی سوڈانی کا زمانہ کون سا تھا۔
جناب یحییٰ بختیار: وہ تو میں نے دیکھ لیا۔ ١٨٨٥ء......
مرزا ناصر احمد: وہ ١٨٨٥ء تک.......
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، یعنی......
مرزا ناصر احمد: آخری جنگ ان سے......
جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب کی تقریباً ساری زندگی Contemporary (ہمعصری) رہی ہے۔ مرزا صاحب کی پیدائش، جو آپ نے یہاں دی ہے، وہ ١٨٣٥ء وہ ١٨٣٤ء.......
مرزا ناصر احمد: وہ ایک روایت کے لحاظ سے ١٨٣٨ء.......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یعنی جو بھی ہو، جیسے........
مرزا ناصر احمد: اور ان کی وفات ہوئی ہے ١٨٨٥ء میں۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں یہ ہے.......
مرزا ناصر احمد: ہیں ناں ١٨٨٥ء؟
1298
جناب یحییٰ بختیار: یہ درست ہے۔
مرزا ناصر احمد: اور آپ نے دعویٰ کیا مسیحیت کا ١٨٩١ء میں۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، وہ بھی درست ہے۔
٤٩
PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
(تین
1296
جناب یحییٰ بختیار: ہاں
مرزا ناصر احمد: اور، اور، نہیں
جناب یحییٰ بختیار: نہیں،
مرزا ناصر احمد: ہاں، آں،
جناب یحییٰ بختیار: ....... عالمگیر غلبہ نہیں ہوا، مرزا صاحب کے تین
مرزا ناصر احمد: ہاں، ”ہو جـ
جناب یحییٰ بختیار: لیکن آ
مرزا ناصر احمد: نہ میرا اور میں.......
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، الـ
مرزا ناصر احمد: ہر صدی میں
جناب یحییٰ بختیار: ان کا نـ
مرزا ناصر احمد: یہ تو اُمتِ مـ
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں ہوا، اس لئے مسیح موعود نہیں تھے، یہ قـ
مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں نہیں ہوئیں جو کسریٰ کی حکومت اور قیصر کہ قیامت تک کے لئے جو بھی غلبہ اسلا ہوتا ہے، وہ اصل آنحضرت ﷺ کی طر نہیں سکتا اس کا رُجوع، کیونکہ جو کچھ اس
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
مرزا ناصر احمد: چھ سال کے بعد۔
جناب یحییٰ بختیار: وہ میں نے کہا زندگی Contemporary (ہم عصری) جو تھی ناں......
مرزا ناصر احمد: یعنی ان کے دودھ پینے کا زمانہ، پوتڑوں میں، بچوں میں کھیلنے کا زمانہ......
(مرزا قادیانی اور مہدی سوڈانی کا زمانہ ایک تھا؟)
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، مرزا صاحب! وہ نہیں ہے۔ مہدی صاحب ١٨٤٤ء میں پیدا ہوئے، مرزا صاحب ١٨٣٩ء میں پیدا ہوئے، تو پوتڑوں میں بھی اکٹھے رہے تھے، ایک ہی زمانے میں۔ جوانی بھی اکٹھی تھی تقریباً ان کی!......
مرزا ناصر احمد: مگر ہمارا زیر بحث مضمون......
جناب یحییٰ بختیار: ......اور دعوے کا زمانہ بھی اکٹھا ہی تھا۔
مرزا ناصر احمد: ہمارا زیر مضمون بحث......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، آپ کہتے ہیں کہ......
مرزا ناصر احمد: ......آیا اور دایہ کا نہیں ہے......
جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔
مرزا ناصر احمد: ......سوال یہ ہے کہ مہدی سوڈانی کے بچپن سے ہمیں غرض نہیں......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں یہ نہیں کہتا......
مرزا ناصر احمد: ......لیکن دعویٰ مہدویت سے ہمیں غرض ہے۔ مہدی سوڈانی کے دعوائے مہدویت اور مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دعوائے مہدویت میں ایک دن بھی Contemporary (ہم عصری) نہیں ہے۔
1299
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، یہ ٹھیک ہے، یہ آپ نے جو کہا ہے، اس کے مطابق ان کا دعویٰ پہلے کا ہے، اور جیسے آپ نے کہا، مرزا صاحب نے ١٨٨١ء میں کیا۔
مرزا ناصر احمد: وہ تو مارے گئے تھے ١٨٨٥ء میں۔
١؎ عمر مرزا پر پہلے نوٹ لکھا ہے، وہ دیکھ لیا جائے، مرزا ملعون کی پیدائش بقول مرزا کے: ١٨٣٩ء، ١٨٤٠ء کی ہے، کتاب البریہ۔
٥٠
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
(مرزا قادیانی کو نبوت یک لخت ملی یا بتدریج؟)
جناب یحییٰ بختیار: وہ ١٨٨٥ء میں وفات پاچکے تھے نہیں، ابھی دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا مرزا صاحب کو یہ نبوت یک لخت ملی یا بتدریج ملتی رہی؟ مرزا ناصر احمد: مطلب نہیں سمجھا میں۔ جناب یحییٰ بختیار: کیا مرزا صاحب کو یہ شک تھا کہ وہ نبی نہیں ہیں...... کچھ عرصے کے لئے؟
مرزا ناصر احمد: میرے نزدیک تو نہیں تھا۔ (Pause) میں واضح کردوں تاکہ اگلا سوال نہ آ جائے۔...... جناب یحییٰ بختیار: میرے، مجھ پر....... مرزا ناصر احمد: جواب یعنی ساتھ ہی یہاں دے دوں میں...... جناب یحییٰ بختیار: میں، یہاں پر سوال جو ہے ناں جی...... مرزا ناصر احمد: نہیں، میں کہتا ہوں، شاید میرا جواب...... جناب یحییٰ بختیار: نہیں، سوال میں پھر پڑھ دیتا ہوں کیونکہ...... مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔ (Pause)
Mr. Chairman: Five minutes break? (جناب چیئرمین: پانچ منٹ کا وقفہ کر لیں؟) (ایک رکن سے) آپ جانا چاہتے ہیں، صرف آپ؟ جائیں۔ جناب یحییٰ بختیار: کیا مرزا صاحب کو یک لخت نبوت دی گئی، یا بتدریج؟ اور کیا کسی اور نبی کو بھی تدریجی طور پر نبوت ملی ہے؟ یہ سوال تھا مولانا ہزاروی صاحب کا۔ وہ...... 1360 مرزا ناصر احمد: ”یہ تدریجی طور پر نبوت ملی ہے“ کا میں مطلب نہیں سمجھا ناں، میں یہی کہہ رہا ہوں۔١؎ جناب یحییٰ بختیار: یعنی Graduation (درجہ بندی) ہوئی Stage by Stage (وقتاً فوقتاً) یا یک دم؟
١؎ ”بتدریج“ کا معنی نہیں سمجھے یا مولانا ہزاروی صاحب کا سوال آتے ہی اوسان خطا ہوگئے۔؟ ٥١
F PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
مرزا ناصر احمد: چھ سال کے جناب یحییٰ بختیار: وہ میں تھی ناں...... مرزا ناصر احمد: یعنی ان کے زمانہ......
(مرزا قادیانی اور مہد
جناب یحییٰ بختیار: نہیں ١٨٣٩ء میں پیدا ہوئے، مرزا صاحب ؟ تھے، ایک ہی زمانے میں۔ جوانی بھی اکٹھی مرزا ناصر احمد: مگر ہمارا زیر جناب یحییٰ بختیار: ......اور مرزا ناصر احمد: ہمارا زیر موضو جناب یحییٰ بختیار: نہیں، آ مرزا ناصر احمد: ......آیا اور و جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔ مرزا ناصر احمد: ......سوال یہ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں مرزا ناصر احمد: ......لیکن ڈ دعویٰ مہدویت اور مسیح موعود علیہ الصلو Contemporary (ہم عصری) نہیں 1299 جناب یحییٰ بختیار: ہاں ان کا دعویٰ پہلے کا ہے، اور جیسے آپ نے کہا مرزا ناصر احمد: وہ تو ہمارے ۔
١؎ عمر مرزا پر پہلے نوٹ لکھا ہے م ١٨٣٩ء، ١٨٤٠ء کی ہے، کتاب البریہ۔
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
مرزا ناصر احمد: نہیں، ہاں میں اپنی جو نا سمجھی ہے اس کو ذرا Explain (واضح) کرتا ہوں۔ جب ہم اس Universe (کائنات) پر نظر ڈالتے ہیں تو سارے Universe (کائنات) میں تدریج اور ارتقاء کا قانون الٰہی ہمیں کام کرتا نظر آتا ہے۔ بچہ ہے، ہیرے کا بننا ہے، Galaxies (کہکشائیں) ہیں اور اگر چہ سائنس دان کہتے ہیں کہ ... وہ اپنے ہیولے میں Galaxies ایک ”کن“ کے ساتھ اللہ تعالیٰ پیدا کر دیتا ہے ... لیکن اس کی آگے سے ڈیویلپمنٹ جس طرح نظام سورج کی ہوئی، وہ مختلف حالات میں سے گزرتا ہے۔ جب ہم انبیاء کی زندگی پر نگاہ ڈالتے ہیں ... یہ ہے ذرا نازک مسئلہ، ذرا سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے ... نبی اکرم ﷺ پر آیت ”خاتم النبیین“ نبوت کے سترہویں سال نازل ہوئی تھی۔
(مرزا قادیانی کو شک تھا کہ میں نبی ہوں یا نہیں؟)
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ تو جیسے آیات آتی رہیں، مگر نبوت تو ان پر ایک دم آئی۔ یہ نہیں کہ ان کو کبھی شک تھا کہ ”میں نبی ہوں یا نہیں ۔“
مرزا ناصر احمد: حضرت مسیح موعود کو، جس معنی میں آپ شک کہہ رہے ہیں، وہ شک نہیں تھا۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، کسی معنی میں آپ بتائیں کیا شک تھا؟
مرزا ناصر احمد: ہاں، بات یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے کہ: ”علماء أمتی کأنبیاء بنی اسرائیل“ ہیں، تمثیلی زبان میں، میری اُمت کے انبیاء کو بھی، میری اُمت کے علماء کو بھی انبیاء کہا جا سکتا ہے، تمثیلی زبان میں۔ جب آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی کا لفظ آتا آپ کے لئے، تو اس وقت آپ یہ سمجھتے تھے کہ میں ... وہ نبوت ہے میری، جو ”علماء أمتی کأنبیاء بنی اسرائیل“ والی ہے۔ 1301لیکن یہاں جو اصل وہ ہے Confusion (اُلجھن) وہ نبوت اور رسالت کے متعلق ہے۔ ”نبی“ کے معنی کسی کی طرف بھیجا جانا یا ہدایت کا بیڑا اُٹھانے والا، وہ نہیں ہے۔ ”نبوت“ کے معنی ہیں خدا تعالیٰ سے اطلاع پا کر آگے اطلاع دینے والا۔ تو خدائے تعالیٰ اطلاعیں دیتا تھا، آپ سمجھتے تھے کہ اس میں جو لفظ ”نبی“ ہے، وہ آنحضرت ﷺ نے بھی اپنی اُمت کے علماء کے لئے ”نبی“ کا لفظ استعمال کیا ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! اللہ میاں نے اپنے آپ کو Clear نہیں کیا، کہ آپ بھی نبی ہیں؟ نہیں، میں، آپ گستاخی معاف کریں ......
٥٢
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
مرزا ناصر احمد: نہیں، اس میں چونکہ تمسخر آجاتا ہے، ایک ١؎......
جناب یحییٰ بختیار: میرا وہ مطلب نہیں ہے۔
مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، میں بتاتا ہوں، میں مجبور ہوجاتا ہوں......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، میں، دیکھئے......
مرزا ناصر احمد: ......کہ نبی اکرم ﷺ کی زندگی کی کوئی مثال نہ دوں۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں، میں کہتا ہو کہ......
مرزا ناصر احمد: نہیں، یہ میری ہے یہ کہ میرے دل میں بڑا وہ پیار ہے، میں فدائی ہوں......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں کہتا ہوں، مرزا صاحب! چونکہ میرے سامنے ایک حوالہ تھا، میں نے کہا کہ گستاخی معاف، میرا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں ایسے مسئلے پر کوئی مذاق کی بات کروں۔ مرزا صاحب نے کسی جگہ فرمایا ہے.......
مرزا ناصر احمد: ہاں، وہ سامنے آجائے تو میں بتا دیتا ہوں۔
جناب یحییٰ بختیار: ١٣٠٢؎ ”میں پہلے یہ سمجھتا تھا کہ میں نبی نہیں ہوں۔ لیکن خدا تعالیٰ کی وحی نے مجھے اس خیال پر رہنے نہ دیا۔“
مرزا ناصر احمد: یہ اگر مجھے دیں تو اس کا پہلا حصہ میں پڑھ دیتا ہوں، اس سے واضح ہوجائے گا۔
جناب یحییٰ بختیار: میرے پاس اس کا سوال ہے جی، یہ رپورٹ ہوا ہے۔
مرزا ناصر احمد: اس کا جواب اسی کے پہلے دو صفحوں کے اندر ہے موجود۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، تو میں یہی کہتا ہوں ناں، پہلے ان کو Doubt تھا.......
مرزا ناصر احمد: نہیں......
جناب یحییٰ بختیار: ......پھر وحی کے......
مرزا ناصر احمد: جب ہمارے سامنے وہ ہے ہی نہیں کتاب، تو اپنی طرف سے میں Philosophies کیوں کروں؟
جناب یحییٰ بختیار: یعنی اس حوالے سے انکار ہے، پھر تو میں آگے نہیں چلتا۔
١؎ مسخرہ تو مرزا قادیانی ہے: ”پرمیشر (ہندوؤں کا خدا) ناف سے دس انگلی نیچے ہے“ (چشمہ معرفت ص ١٠٦، خزائن ج ٢٣ ص ١١٤) مسخرے کے علاوہ مرزا جیومیٹری کا بھی ماہر لگتا ہے!
٥٣
OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
مرزا ناصر احمد: نہیں، ہاں میں کرتا ہوں۔ جب ہم اس Universe ( (کائنات) میں تدریج اور ارتقاء کا قانون ا ہے، Galaxies (کہکشائیں) ہیں اور ا Galaxies ایک ”کن“ کے ساتھ اللہ تعالیٰ جس طرح نظام سورج کی ہوئی، وہ مختلف حالات نگاہ ڈالتے ہیں۔۔۔ یہ ہے ذرا نازک مسئلہ، ذرا آ ”خاتم النبیین“ نبوت کے سترہویں سال نازل
(مرزا قادیانی کو شک تھ
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ تو آئی۔ یہ نہیں کہ ان کو کبھی شک تھا کہ ”میں نبی ہو
مرزا ناصر احمد: حضرت مسیح موعود نہیں تھا۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، کسی مو
مرزا ناصر احمد: ہاں، بات یہ ہے کأنبیاء بنی اسرائیل ”ہیں تمثیلی زبان میں، بھی انبیاء کہا جاسکتا ہے، تمثیلی زبان میں۔ جب کے لئے، تو اس وقت آپ یہ سمجھتے تھے کہ میں۔۔ بنی اسرائیل“ والی ہے۔ ١٣٠١؎ لیکن یہاں نبوت اور رسالت کے متعلق ہے۔ ”نبی“ کے م والا، وہ نہیں ہے۔ ”نبوت“ کے معنی ہیں خدا تعا خدائے تعالیٰ اطلاعیں دیتا تھا، آپ سمجھتے تھے کہ بھی اپنی اُمت کے علماء کے لئے ”نبی“ کا لفظ اس
جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب کہ آپ بھی نبی ہیں؟ نہیں، میں، آپ گستاخی مع
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
مرزا ناصر احمد : میں اس حوالے سے اس معنی سے انکار کرتا ہوں۔ جو اس حوالے کو پہنائے جارہے ہیں۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، تو میں کہتا ہوں معنی آپ بتا دیجئے۔ مرزا ناصر احمد : تو مجھے کتاب دیں، میں بتاتا ہوں۔ جناب یحییٰ بختیار: یہ ”الفضل“ سے ہے جی۔ اس میں ...... مرزا ناصر احمد : ہاں، تو ”الفضل“ دیں۔ جناب یحییٰ بختیار: ”الفضل“ ٣/جنوری ١٩٢٠ء۔ مرزا ناصر احمد : ہیں جی؟ 1303 جناب یحییٰ بختیار: ٣/جنوری ١٩٢٠ء۔ مرزا ناصر احمد : جنوری ١٩٢٠ء۔ جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، اس میں وہ آجاتا ہے ناں حوالہ کہ ...... مرزا ناصر احمد : ہاں، ہاں نہیں اس میں ہوگا، حوالہ کس کتاب کا ہے؟ جناب یحییٰ بختیار: ہاں، اس میں ہوگا، یہاں نہیں ہے ناں میرے پاس۔ مرزا ناصر احمد : اچھا آپ کے پاس نہیں ہے؟ جناب یحییٰ بختیار: ہاں، میرے پاس ہوتا تو میں معنی پہلے بتاتا، ”الفضل“ کا ذکر نہ کرتا۔ اب دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مرزا صاحب نے یک لخت نبوت کا دعویٰ نہیں کیا ...... وجہ جو بھی آپ نے بتائی ...... مرزا ناصر احمد : میں نے تو یہ بتایا ہے کہ میں اس کی وضاحت نہیں کر سکا، کیونکہ میرے سامنے کتاب نہیں ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، اس سے پہلے کی۔ اس سے پہلے جو بات ہے ناں میں نے جو کہا تدریجاً ...... مرزا ناصر احمد : نہیں، وہ تو میں نے ایک ...... جناب یحییٰ بختیار: ...... ”تدریجاً“ جو میں نے کہا ناں، اس پر تو آپ نے کہا کہ یہ ایک ...... مرزا ناصر احمد : ”تدریج“ کا لفظ جو ہے ناں، ہمیں پہلے اس سے معنوں کی تعیین کرنی پڑے گی۔
٥٤
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں نے یہ کہا جی کہ...... مرزا ناصر احمد: پھر میں نے آپ کو بتایا کہ قانون قدرت سارے عالمین، The 1304 Whole Universe (کائنات) کے متعلق تدریج کا ہے، گندم کے دانے سے لے کے اور ہیرے کی پیدائش تک اور عالمین تک اور یہ سورج وغیرہ کا جو نظام ہے اور Galaxies (کہکشاں)...... جناب یحییٰ بختیار: یا ایک اور وجہ یہاں کسی نے دی ہے مجھے، ”براہین احمدیہ“ کا حصہ پنجم صفحہ: ٥٤ ہے، Fifty Four... مرزا ناصر احمد: یہ دیکھیں گے۔
(بیچ میں پھنس گئے؟)
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، تو اس میں یہ کہتے ہیں: ”اور یہ الہامات اگر میری طرف سے اس موقع پر ظاہر ہوتے جبکہ علماء مخالف ہو گئے تھے، وہ لوگ ہزار ہا اعتراض کرتے۔ لیکن وہ ایسے موقع پر شائع کئے گئے جبکہ یہ علماء میرے موافق تھے۔ یہی سبب ہے کہ باوجود اس قدر جوش کے ان الہامات پر انہوں نے اعتراض نہیں کیا کیونکہ وہ ایک دفعہ اس کو قبول کرچکے تھے اور سوچنے پر ظاہر ہوگا کہ میرا دعویٰ مسیح موعود ہونے کی بنیاد انہی الہامات سے پڑی ہے اور انہیں میں میرا نام خدا نے عیسیٰ رکھا اور جو مسیح موعود کے حق میں آیتیں تھیں، وہ میرے حق میں بیان کردیں۔ اگر علماء کو خبر ہوتی کہ ان الہامات سے اس شخص کا مسیح ہونا ثابت ہوتا ہے تو وہ کبھی ان کو قبول نہ کرتے۔ یہ خدا کی قدرت ہے کہ انہوں نے قبول کرلیا اور اس بیچ میں پھنس گئے۔“
(اربعین نمبر٤ ص٢١، خزائن ج١٧ ص٤٦٩)
یہ اس سے یہ مجھے جو Impression (تأثر) ملتا ہے...... آپ سمجھیں گے کہ پھر میں گستاخی کررہا ہوں، کہ وہ ان پر آیتیں آگئیں، ان کو علم ہوگیا نبی ہیں، مگر چونکہ علماء کا پہلے ان کو خطرہ تھا کہ مخالفت کریں گے اس لئے کچھ مدت خاموش رہے۔ ان کو جب Win Over (قائل) کیا تو اس کے بعد ان کو کہا کہ بھئی یہ...... یہ آپ دیکھ لیں کہ اس کا کیا مطلب ہوتا ہے۔
مرزا ناصر احمد: میں، مجھے، میں تو دیکھوں گا، مگر آپ کو سارا وہ بیک گراؤنڈ پتا نہیں تو آپ نتیجہ نہ نکالیں۔
1305 جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مرزا صاحب! میری تو ڈیوٹی ہے ناں کہ آپ کے......
٥٥
1326 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، نتیجہ نہ نکالیں۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، کیونکہ Impression (تاثر) جو ہے میں آپ کو Convey (منتقل) نہ کروں.......
مرزا ناصر احمد: کریں ضرور کریں۔
Mr. Yahya Bakhtiar: ....... I will be failing in my duty.
(جناب یحییٰ بختیار: میں اپنے فرض سے کوتاہی برتوں گا......)
مرزا ناصر احمد: ہاں، ضرور کریں، وہ تو سوال کا حصہ بن گیا۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، تو اس واسطے میں نے کہا یہ Impression (تاثر) ہے، تاکہ آپ پورے اس Impression (تاثر) کو دُور کریں.......
مرزا ناصر احمد: ہاں، ٹھیک ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: .......کہ یہ ان کو معلوم تھا، ان پر آیتیں آچکی ہیں، ان پر الہامات آچکے تھے.......
مرزا ناصر احمد: نہیں، ٹھیک ہے، یہ چیک کریں گے جی۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، مصلحتاً انہوں نے مناسب نہیں سمجھا کہ ان کا پہلے اظہار کریں۔
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، میں سمجھ گیا، اور کل کے لئے بنیاد پڑ گئی۔
Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, Should we have 5-10 minutes break.
(جناب یحییٰ بختیار: جناب والا! کیا دس پندرہ منٹ کا وقفہ ہوگا)
Mr. Chairman: Short break of 10 minutes. Then we meet at......
(جناب چیئرمین: مختصر دس منٹ کا وقفہ، اس کے بعد ہم دوبارہ ملیں گے......)
Mirza Nasir Ahmad: Short break. Then?
(مرزا ناصر احمد: مختصر وقفہ؟)
Mr. Chairman: Ten......
(جناب چیئرمین: دس منٹ......)
٥٦
1327 NATIONAL A
Mr. Yahya B
while. But I would like to گے، لیکن میں جتنی جلدی ممکن ہوا ختم
Mr. Chairman
Mr. Yahya B
because....... نہیں گی، میں کوشش کرتا ہوں کہ ابھی
نہیں تو.......
Mr. Chairma
about 9:05, yes. ر تقریباً ٩ بج کر ٥ منٹ پر)
The House is adjo ی کیا جاتا ہے)
(The Dele
(
The Special Commi نک کے لئے ملتوی ہوا)
[The Special Comn
Chairman (Sahi
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
1306 Mr. Yahya Bakhtiar: We will meet for a little while. But I would like to finish as soon as possible......
(جناب یحییٰ بختیار: ہم تھوڑی دیر میں ملیں گے، لیکن میں جتنی جلدی ممکن ہو اختتام کرنے کی کوشش کروں گا)
Mr. Chairman: Ten minutes; 10-15 minutes.
(جناب چیئرمین: دس پندرہ منٹ)
Mr. Yahya Bakhtiar: ........ That is my effort, because.......
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، یہ کتابیں مل جائیں گی، میں کوشش کرتا ہوں کہ ابھی کتابیں مل جائیں.......
جناب یحییٰ بختیار: ہاں مل جائیں، اگر ہو جائیں تو.......
Mr. Chairman: Yes, about fifteen minutes. Then about 9:05, yes.
(جناب چیئرمین: جی ہاں! تقریباً ١٥ منٹ پھر تقریباً ٩ بج کر ٥ منٹ پر)
---------------
The House is adjourned for 15 minutes short break.
(ایوان کا اجلاس پندرہ منٹ کے لئے ملتوی کیا جاتا ہے)
---------------
(The Delegation left the chamber)
(وفد ہال سے باہر چلا گیا)
---------------
The Special Committee adjourned to meet at 9:05 p.m.
(خصوصی کمیٹی کا اجلاس رات نو بج کر پانچ منٹ تک کے لئے ملتوی ہوا)
---------------
[The Special Committee re-assembled after break, Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali) in the chair.]
٥٧
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
(خصوصی کمیٹی کا اجلاس وقفے کے بعد شروع ہوا، مسٹر چیئرمین (صاحبزادہ فاروق علی) کی صدارت میں)
----------
جناب چیئرمین: ہاں، بلالیں جی ان کو؟ بلالیں جی؟
Mr. Yahya Bakhtiar: Yes, Sir.
(جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں! جناب والا)
جناب چیئرمین: جب تک آپ چلائیں گے۔ باقی سب چاہتے ہیں کہ جلدی ختم ہو۔ چار ہیں ممبر صاحبان، ان کو منالیں۔ ایک مولانا عطاء اللہ، ایک سید عباس حسین گردیزی صاحب......
ڈاکٹر محمد شفیع: ایک میں بھی ہوں جی ان میں سے۔ Important (اہم) کچھ Questions (سوالات) رہ گئے ہیں، ان کو پوچھ لیں، ورنہ یہ نامکمل سا کام رہ جائے گا۔ پبلک بھی ہم سے یہ پوچھتی ہے۔
1307 جناب چیئرمین: اچھا، یہ پانچویں بھی! چھٹے صاحب بھی اگر کوئی کھڑا ہونا چاہتے ہیں تو ابھی بتادیں؟ پانچ میں نے Pin-point (مقرر) کرلئے ہیں جی۔ ابھی نہ بلائیں جی ان کو۔ جناب! ایک مولانا عباس حسین گردیزی صاحب، ایک میاں عطاء اللہ صاحب، ایک حاجی مولا بخش سومرو صاحب، ایک مولانا ظفر احمد انصاری صاحب، ہاؤس کی رائے میں دس بجے لوں گا... After their..(ان کے بعد)
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: کیا خطا ہوئی ہے ہم لوگوں سے؟
جناب چیئرمین: کہ پانچ آدمی چاہتے ہیں ابھی یہ چلے۔ نہیں اب Minimize (کم) ہورہا ہے۔ اب Definite...... (یقیناً) جی؟
مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: بات صحیح ہے ویسے سر! جب ہم یہ اتنے روز یہاں بیٹھ گئے......
جناب چیئرمین: ہاں۔
مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: ......اور اتنے دن تک چلایا ہے تو اور اگر دو چار روز چل جائے تو کیا حرج ہے۔
جناب چیئرمین: نہیں، دو چار روز نہیں چلے گا، حتمی بات ہے۔
مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: جی؟
٥٨
1329 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
جناب چیئرمین: آپ آج کا دن کریں، ایک Sitting (اجلاس) میں آپ Pinpoint (مقرر) کرلیں Questions (سوالات) جی، Definite Questions جو ہیں وہ Pinpoint (مقرر) کرلیں۔ یہ اب دو ہفتے ہو گئے ہیں، ہاں۔ کچھ موضوعات اگلی اسمبلی کے لئے بھی چھوڑ دیں ناں جی، جو آپ کے Successors (جانشین) ہیں، انہوں نے بھی کچھ فیصلے کرنے ہیں۔ یہ تو نہیں کہ آپ نے قیامت تک کے تمام فیصلے کردینے ہیں۔ ابھی کئی اسمبلیاں آتی رہیں گی، ہاں۔ تو ایک صدی کا ایک اسمبلی تو نہیں کرسکتی ناں جی۔
1308 بلا لیں جی ان کو دس بجے تک جی۔ دس، سوا دس تک جی That's all دس، سوا دس۔ نہیں اب نہیں۔
(The Delegation entered the Hall) (وفد ہال میں داخل ہوا) Mr. Chairman: Yes, Mr. Attorney-General? (جناب چیئرمین: جی اٹارنی جنرل صاحب؟)
جناب یحییٰ بختیار: کچھ آپ ...... مرزا ناصر احمد: نہیں، یہ دس منٹ میں کیا کر سکتا تھا، یہاں کتاب نہیں تھی۔ جناب یحییٰ بختیار: ہاں، تو پھر وہ دیکھ لیں گے۔ جی اس میں۔ جناب چیئرمین: وہ کل کے لئے رہنے دیں۔ مرزا ناصر احمد: ہاں۔ جناب یحییٰ بختیار: اس میں بھی وہ کہہ رہے ہیں کہ وہ Page (صفحہ) بھی ان کا غلط ہے، پتا نہیں کیا۔ وہ بھی دیکھ لیں گے اس میں۔ یہاں نہیں ہے ان کے پاس ورنہ میں دے دیتا۔ مرزا ناصر احمد: Page (صفحہ) غلط ہے تو میں ...... جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یعنی وہ شاید وہ بتا دیں گے۔ مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، ٹھیک ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: بعض دفعہ Page (صفحہ) ٹھیک ہوتا ہے، کتاب غلط ہو جاتی ہے، کچھ پتا نہیں ہوتا اس پر میرے لئے بڑی مشکل ہو جاتی ہے۔ کیونکہ آپ بھی Difficulty (مشکل) ہے اتنی کتابوں میں Trace Out (ڈھونڈنا) کرنا۔ بعض ایسے ہیں جو کہ علم میں
٥٩
Y OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
(خصوصی کمیٹی کا اجلاس وقفے کے بعد شرو صدار جناب چیئرمین: ہاں، بلا لیں ج Yes, Sir. (جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں! اج جناب چیئرمین: جب تک آپ جا رہے ہیں ممبر صاحبان، ان کو منا لیں۔ ایک مولانا ڈاکٹر محمد شفیع: ایک میں بھی ہوں Questions (سوالات) رہ گئے ہیں، ال پبلک بھی ہم سے یہ پوچھتی ہے۔
1307 جناب چیئرمین: اچھا، چاہتے ہیں تو ابھی بتا دیں؟ پانچ میں نے بلا لیں جی ان کو۔ جناب! ایک مولانا عباس ایک حاجی مولا بخش سومرو صاحب، ایک مولا بجے لوں گا... After their (...ان کے بع مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ک جناب چیئرمین: کہ پا Minimize (کم) ہو رہا ہے۔ اب nite مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی بیٹھ گئے ...... جناب چیئرمین: ہاں۔ مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی چل جائے تو کیا حرج ہے۔ جناب چیئرمین: نہیں، دو چا مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
ہوتی ہے بات تو پھر وہ آسان ہو جاتی ہے۔ اب مرزا صاحب! میں نے آپ کو Request (گزارش) کی تھی کہ لاہوری جماعت نے کچھ Extract (اقتباسات) دیئے تھے۔ اس پر اگر آپ کچھ Comment (تبصرہ) کریں تو آپ کی مرضی ہے، ورنہ میں نہیں چاہتا کہ ......
1309 مرزا ناصر احمد: ہاں، نہیں میں وہ کچھ Comment (تبصرہ) نہیں کرنا چاہتا۔
جناب یحییٰ بختیار: اس واسطے میں I don't want to embarrass you (میں آپ کو پریشان نہیں کرنا چاہتا)......
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔
جناب یحییٰ بختیار: ...... تو اس واسطے میں نے کہا کہ اس میں کچھ حوالے دیئے ہیں ......
مرزا ناصر احمد: جی، ہمارے، اس کے وہ حوالے ہمارے ”محضر نامہ“ میں بھی ہیں۔ ان دونوں کا مقابلہ کریں گے، اس کا جواب آچکا ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، تو یہی میں نے کہا کہ اگر آپ Comment (تبصرہ) کرنا چاہیں کہ اس لئے میں نے Request (گزارش) کی تھی۔ تو اس لئے اب میں ...... I won't waste (میں وقت ضائع نہیں کرتا)......
مرزا ناصر احمد: نہیں، اس کو واپس کر دیں، یا رکھ سکتے ہیں؟
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، واپس کر دیتے ہیں......
مرزا ناصر احمد: (اپنے وفد کے ایک رکن سے) ہاں، نکالو جی۔ ہاں یہی پوچھا ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: ...... کیونکہ یہ آفیشل ریکارڈ ہے۔
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، ٹھیک ہے۔ میں نے صرف پوچھا ہے۔ ہاں، یہ وہاں رہ گیا۔ صبح انشاء اللہ! واپس کر دیں گے۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، ٹھیک ہے۔ (Pause)
(مرزا قادیانی نے عدالت کو لکھ کر دیا کہ......؟)
جناب یحییٰ بختیار: ایک مرزا صاحب! سوال ہے: کیا مرزا صاحب نے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ گورداسپور کی عدالت میں یہ لکھ کر دیا تھا کہ وہ آئندہ اپنے مخالفین کے خلاف، ایسے الہامات شائع نہیں کریں گے جس میں ان کے مخالفین کی موت یا تباہی کا ذکر ہو، یا ان کی کوئی بدکلامی سمجھی جائے۔
٦٠
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
1310 مرزا ناصر احمد: یہ کہاں ہے، حوالہ کہاں ہے؟
جناب یحییٰ بختیار: ہیں جی؟
مرزا ناصر احمد: کوئی حوالہ ہے یہاں؟
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ انہوں نے ایسے ہی سوال پوچھا ہے کہ کوئی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو کوئی کیس فائل ہوا تھا، کسی نے Defamation کا کیس فائل کیا تھا۔ This is what this report says. (یہ رپورٹ یہی کہتی ہے)
مرزا ناصر احمد: ہاں، وہ کیس میں پڑھ دوں گا۔ یہاں۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، اگر آپ کے پاس ہو یہاں.......
مرزا ناصر احمد: نہیں، یہاں تو نہیں ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں نہیں، اگر آپ کے.......
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، ٹھیک ہے۔ وہ ذرا لمبا جواب ہوگا، پندرہ بیس منٹ کا۔
جناب یحییٰ بختیار: آپ اگر مختصر کرسکیں تو ,You are quite capable it I know. (میں جانتا ہوں آپ بہت ہی قابل ہیں)
Mirza Nasir Ahmad: No, I am not, very humble...... (مرزا ناصر احمد: نہیں میں ایسا نہیں ہوں......)
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، اس میں نہیں، میں سمجھتا ہوں کہ آپ کا بھی اپنا نقطہ نظر ہے۔
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں یہ کہتا ہوں......
مرزا ناصر احمد: نہیں، وہ صاحب...... اصل ہم یہاں اس لئے بیٹھے ہیں کہ مسائل آپس میں تبادلہ خیال کر کے سمجھ لیں۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں جی بہت کوشش کر رہا ہوں کہ اس کو ختم کر سکوں، جتنی جلد ہو سکے، کیونکہ اتنا مسئلہ ہے کہ بولتے رہیں تو اس پر کوئی Time Limit (وقت کی قید).......
1311 Mirza Nasir Ahmad: ہاں، ہاں، No end to it. (مرزا ناصر احمد: اس کا اختتام ہی نہیں)
٦١
PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
ہوتی ہے بات تو پھر وہ آسان ہو جاتی (گزارش) کی تھی کہ لاہوری جماعت اگر آپ کچھ Comment (تبصرہ)
1309 مرزا ناصر احمد: ہاں، ٹھی
جناب یحییٰ بختیار: اس you (میں آپ کو پریشان نہیں کرنا چاہا
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں،
جناب یحییٰ بختیار: ...... تو ا
مرزا ناصر احمد: جی، ہما را ان دونوں کا مقابلہ کریں گے، اس کا جوا
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، کرنا چاہیں کہ اس لئے میں نے uest won't waste (میں وقت ضائع نہیں
مرزا ناصر احمد: نہیں، اس
جناب یحییٰ بختیار: نہیں
مرزا ناصر احمد: (اپنے دف
جناب یحییٰ بختیار: ...... آ
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں گیا۔ صبح انشاء اللہ ! واپس کردیں گے۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں جو (مرزا قادیانی ۔
جناب یحییٰ بختیار: ایک مجسٹریٹ گورداسپور کی عدالت میں بیا الہامات شائع نہیں کریں گے جس میں بدکلامی سمجھی جائے۔
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
(کیا آزادی کے لئے اسلام جنگ کی اجازت دیتا ہے؟)
جناب یحییٰ بختیار: تو جو ایشو ہے ریزولیوشن میں، اس کے مطابق جو چیزیں آ سکتی ہیں، بعض چیزیں ایسی ہیں کہ بعض ممبر صاحب...... ان کا آرڈر میں Carry Out (نبھا رہا ہوں) کر رہا ہوں، ورنہ ایسی بات نہ ہوتی کہ میں آپ کو......
مرزا صاحب! میں نے اس دن آپ سے ایک مضمون پر بات کی۔ پھر میں نے اس لئے چھوڑ دیا کہ جہاد کا مسئلہ بیچ میں آتا تھا۔ وہ اس پر سوال نہیں تھے ہوئے۔ میں نے عرض کیا تھا کہ آزادی کے لئے اسلام جنگ کی اجازت دیتا ہے کہ اپنے ملک میں آزادی پیدا کی جائے؟
مرزا ناصر احمد: وہ تو جواب میں نے دے دیا تھا، میرا خیال ہے اس کا جواب دے دیا ہے میں نے۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، آپ نے کہا تھا کہ لوگوں کو قتل کرتے ہیں، خون خرابہ کرتے ہیں۔ یعنی پھر بعد میں، شاید میں نے عرض کیا تھا کہ شاید بعد میں پھر اس سوال پر آؤں گا۔ تو اب سوال یہ تھا کہ ١٨٥٧ء میں...... اس پر میں نے کچھ سوال آپ سے پوچھے اور آپ نے بڑی تفصیل سے جواب دیئے......
مرزا ناصر احمد: غدر کے متعلق۔
(١٨٥٧ء کی جنگ آزادی)
جناب یحییٰ بختیار: ...... کیونکہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ بھی آزادی کی جنگ تھی۔ آپ نے یہ کہا کہ لوگوں کو مارا، لوٹا، بچوں کو مارا، لوٹا، کئی چیزیں ہوئیں اس میں، اس لئے کوئی اس کو Justify (جائز قرار) نہیں کر سکتا اور میں آپ سے پورا اتفاق کرتا ہوں کہ ایسی چیزوں کو کوئی Justify (جائز قرار) نہیں کرتا۔ مگر سوال یہ ہے کہ جب برصغیر ہند و پاک میں آزادی کی تحریک چلی، پاکستان کے قیام کے لئے تحریک چلی، وہ بھی آزادی کی جنگ تھی، وہ بھی اسی انگریز کے خلاف تھی، تو اس دوران میں کیا ظلم نہیں ہوئے، کیا عصمتیں نہیں لوٹی گئیں، دونوں طرف سے کیا لوٹ مار نہیں ہوئی؟
1312 مرزا ناصر احمد: آزادی کی جنگ کے دوران نہیں ہوتی، اس کا پھل توڑنے کے لئے لاتیں تڑوائی گئیں، جانیں دی گئیں، عصمتیں لٹائی گئیں۔
OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
(کیا آزادی کے لئے اس جناب یحییٰ بختیار: تو جو ایشو ہیں، بعض چیزیں ایسی ہیں کہ بعض ممبر صا ہوں) کر رہا ہوں، ورنہ ایسی بات نہ ہوتی ک مرزا صاحب! میں نے اس وا لئے چھوڑ دیا کہ جہاد کا مسئلہ بیچ میں آتا تھا کہ آزادی کے لئے اسلام جنگ کی اجاز
مرزا ناصر احمد: وہ تو جواب دیا ہے میں نے۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں کرتے ہیں۔ یعنی پھر بعد میں، شاید میں تو اب سوال یہ تھا کہ ١٨٥٧ء میں...... بڑی تفصیل سے جواب دیئے......
مرزا ناصر احمد: غدر کے مت (١٥٧
جناب یحییٰ بختیار: ...... یہ کہا کہ لوگوں کو مارا، لوٹا، بچوں کو ما Justify (جائز قرار) نہیں کر سکتا ا Justify (جائز قرار) نہیں کرتا۔ مگ چلی، پاکستان کے قیام کے لئے تحری خلاف تھی، تو اس دوران میں کیا ظلم نہ لوٹ مار نہیں ہوئی؟
1312 مرزا ناصر احمد: آ لئے لاتیں تڑوائی گئیں، جانیں دی گئ
1333 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
جناب یحییٰ بختیار: میں، یہ کہہ رہا ہوں کہ وہ ایسی حرکتیں ہوئیں۔ جن لوگوں نے یہ حرکتیں کیں، کس نے لوٹ مار کی، کس نے بدامنی پھیلائی، کس نے بُرے کام کئے، قتل کئے۔ اس کی وجہ سے آزادی کے جو رہنما تھے، لیڈر تھے، ان کو تو Condemn (مذمت) نہیں کر سکتے ہیں کہ چور ہیں، قزاق ہیں، یہ تو نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ان کو نہیں کہا جا سکتا تو ١٨٥٧ء کے بھی جو لیڈر تھے جو نیک نیتی سے ملک کی آزادی چاہتے تھے، ان کو بھی نہیں کہا جا سکے گا۔
مرزا ناصر احمد: جو اس وقت...... ہاں، میں بتاتا ہوں......
جناب یحییٰ بختیار: ہاں میں یہ Parallel (موازنہ) کر رہا تھا۔
مرزا ناصر احمد: ١٨٩٧ء کا آج کے ساتھ جب مقابلہ کریں گے۔ تو ١٨٩٧ء میں اس وقت، ١٨٥٧ء، Eighteen Fifty-Seven میں۔ معلوم ہوتا ہے میں تھک گیا ہوں ١٨٥٧ء میں کس نے ان کو Condemn (مذمت) کیا؟ یہاں آپ غلطی کرتے ہیں۔ ١٨٥٧ء میں اس غدر میں حصہ لینے والوں کو ان لوگوں نے Condemn (مذمت) کیا جنہوں نے وہاں معاملات دیکھے اور بغیر دیکھے Condemn (مذمت) کرنا یا حق میں بات کرنا، یہ کوئی اس کی اہمیت نہیں ہے اور اس وقت جن لوگوں نے اس وقت ١٩٤٧ء یا جو بھی یہ جنگ آزادی ہے یا۔ جنگ آزادی تو یہ نہیں، لیکن یہ جدوجہد ایک جہاد دُنیوی جہاد آزادی کے لئے ہے۔..... اس میں ان لوگوں کو جو رہبر تھے، Condemn (مذمت) نہیں کیا ان لوگوں نے جنہوں نے وہ دیکھا۔ کچھ کیا بھی، بعضوں کو کیا بھی جو بیچ میں شامل ہوئے۔ مثلاً یہ ہندوؤں کی لیڈرشپ میں ایک حصہ تھا یہ پٹیل، اور یہ جن سنگھ ابھی تک ہے، تو اس کی ہندوؤں نے بھی Condemn (مذمت) کیا اور مسلمانوں نے بھی Condemn (مذمت) کیا۔
1313 جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مرزا صاحب! یہی تو میں عرض کر رہا ہوں کہ اس زمانے میں بھی بعض لوگ...... مسلمانوں کی حکومت تھی ہندوستان میں۔ وہ حکومت ختم ہو کے انگریز بیٹھ گیا۔ مسلمانوں نے......
مرزا ناصر احمد: وہ ختم کیسے ہو گئی؟..... نہیں، میں توجہ صرف پھیر رہا ہوں۔ میں یہ توجہ پھیر رہا ہوں کہ وہ ختم اس واسطے ہو گئی کہ خود مسلمانوں کے اندر غدار پیدا ہو گئے۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، غلطیاں ہوں گی، سب کچھ ہوگا، میں ان وجوہات میں نہیں جا رہا۔ مسلمانوں......
١؎ توجہ پھیر رہے ہیں، یا ”ہیرا پھیری“ کر رہے ہیں...؟
٦٣
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
مرزا ناصر احمد : اصل بات یہ ہے کہ میں سوال ہی نہیں سمجھا ابھی تک!۔
جناب یحییٰ بختیار : پھر عرض کرتا ہوں۔
مرزا ناصر احمد : جی۔
جناب یحییٰ بختیار : ہندوستان میں مسلمانوں کی حکومت تھی اور بہت عرصہ تک تھی۔ آخری حکمران بہادر شاہ ظفر تھے۔ ان کو ہٹایا گیا۔ انگریز ویسے تو بڑے عرصے سے پھیل رہا تھا، آخری طور پر اپنی Empire اس نے بنائی تو اس زمانے میں جب وہ بالکل ظفر کی حالت خراب تھی اور وہ ختم ہونے والا تھا، اور انگریز جم چکا تھا، صرف یہ کہ اعلان نہیں تھا ہوا ان کا وہ Empire (سلطنت) بن گئی ہے، ملکہ نے چارج لے لیا ہے۔
مرزا ناصر احمد : یعنی ایک وقت ایسٹ انڈیا کمپنی کے نام سے یہاں جو ہورہا تھا اور پھر ایک وقت میں وہ Empire بنی۔
جناب یحییٰ بختیار : ہاں، وہ تو مختلف علاقوں میں دوسو سال سے وہ چلتا رہا ہے۔
مرزا ناصر احمد : ہوں، ہوں۔
جناب یحییٰ بختیار : پلاسی کی جنگ کے بعد جب مصیبت ہماری آئی تو ١٧٩٩ء میں جب ٹیپو سلطان کی شہادت ہوئی......
1314 مرزا ناصر احمد : ہاں، ٹیپو سلطان جیسے آدمی کو اپنوں نے ہی مروا دیا۔
جناب یحییٰ بختیار : ہاں، یہی تو میں کہتا ہوں کہ یہ چیزیں تو ہوتی ہیں۔ یہ ساری ہماری نظر میں آزادی کی جنگ تھی، مسلمانی حکومت کو برقرار رکھنے کی جنگ تھی۔ آخر میں جن مسلمانوں نے... ان کے ساتھ اور لوگوں نے بھی تعاون کیا، ہندوؤں نے بھی کیا ہوگا۔ باقیوں نے بھی کیا۔ ١٨٥٧ء کی جنگ لڑی، اس میں یہ ضرور ہوا کہ بعض لوگوں نے ظلم کئے۔ جیسے کوئی بھی تحریک ہو، آپ جلوس نکالتے ہیں پُر امن کوئی بھی پارٹی ہو، تو بیچ میں کچھ لوگ فائدہ اٹھانے کے لئے گڑ بڑ کرنے کے لئے آجاتے ہیں، شرارت کرجاتے ہیں، لوٹ مار کرجاتے ہیں۔ تو اس پر وہ جلوس نکالنے کا جن کا ارادہ ہوتا ہے کہ پُر امن ہو ان کو آدمی Condemn (مذمت) نہیں کرسکتا۔ اسی طرح اس جنگ آزادی میں جن لوگوں نے اس کی قیادت کی اور جنہوں نے کہا کہ یہ جہاد ہے، آپ نے ان سب کو Condemn (مذمت) کیا اور کہا کہ ”چور، قزاق، حرامی“
؎ سب سے بڑی ہیرا پھیری...!
٦٤
1335 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
پتا نہیں کیا کیا باتیں کیں۔ اس واسطے میں کہہ رہا ہوں اگر ان کو آپ Condemn (مذمت) کرتے ہیں کیونکہ انہوں نے نہیں، کسی اور نے لوٹ مار کی، کسی اور نے قتل کیا، تو پھر لوٹ مار ......
مرزا ناصر احمد: اس کا تفصیلی جواب میں دے چکا ہوں۔ بات یہ ہے کہ اس وقت بہادر شاہ ظفر سمیت سب نے Condemn (مذمت) کیا۔
جناب یحییٰ بختیار: میں ان کی بات نہیں کر رہا، مرزا صاحب! ایک بادشاہ کو ......
مرزا ناصر احمد: نہیں، میں اس وقت کی بات کر رہا ہوں۔
جناب یحییٰ بختیار: ...... ہتھکڑی لگا کے بادشاہ کو لے جائیں تو اس کے بعد وہ سب کچھ کرے گا۔
مرزا ناصر احمد: اور جن کو ہتھکڑی نہیں لگی تھی انہوں نے بھی Condemn (مذمت) کیا۔
جناب یحییٰ بختیار: عدالت میں کیا، انگریز کے سامنے پیش کیا تھا۔
1315 مرزا ناصر احمد: نہیں نہیں، آپ وہ دیکھیں۔
جناب یحییٰ بختیار: آپ مغل خاندان سے ہیں۔ وہ مغل شہنشاہ تھا، آپ جانتے ہیں کہ کس حالت میں ان کو پیش کیا۔
مرزا ناصر احمد: مجھے اس کی نظمیں بھی بہت ساری پتا ہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: تو خیر، اس میں اس پر آرہا ہوں ......
مرزا ناصر احمد: یہ سرسید احمد، بانی دارالعلوم، ان کا ہے، اس وقت کی جو ہے، نہیں، علی گڑھ، بانی علی گڑھ ......
جناب یحییٰ بختیار: وہ سب ہم نے دیکھے ہیں، آپ نے سنائے بڑی تفصیل سے۔ مرزا صاحب! یہ میں نہیں کہہ رہا ......
مرزا ناصر احمد: اس تفصیل کے بعد مجھے سوال نہیں سمجھ آرہا۔
جناب یحییٰ بختیار: میں نے کہا اس پر Condemn (مذمت) کیا، تو یہ آزادی کی جو تحریک تھی ہماری پاکستان کی، میں اسی پر کرنا چاہتا ہوں ......
مرزا ناصر احمد: میں جو چیز سمجھا نہیں میں وہ ظاہر کردوں۔ شاید مجھے جلدی جواب مل جائے ...... یہ ہے کہ اس وقت یہ جس کو ”جنگ آزادی“ ...... ہم کہہ رہے ہیں غدر۔ ان کے وہ کون سے لیڈر تھے جنہوں نے ان واقعات کو سراہا اور Condemn (مذمت) نہیں کیا! مجھے
OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
مرزا ناصر احمد: اصل بات یہ
جناب یحییٰ بختیار: پھر عرض کر
مرزا ناصر احمد: جی۔
جناب یحییٰ بختیار: ہندوستان آخری حکمران بہادر شاہ ظفر تھے۔ ان کو ہٹا آخری طور پر اپنی Empire اس نے بنائی تھی اور وہ ختم ہونے والا تھا، اور انگریز جم چکا (سلطنت) بن گئی ہے، ملکہ نے چارج لے لیا
مرزا ناصر احمد: یعنی ایک وقت پھر ایک وقت میں وہ Empire بنی۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، وہ تو ع
مرزا ناصر احمد: ہوں، ہوں۔
جناب یحییٰ بختیار: پلاسی کی جنگ جب ٹیپو سلطان کی شہادت ہوئی ......
1314 مرزا ناصر احمد: ہاں، ٹیپو سلطان
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، یہی ہماری نظر میں آزادی کی جنگ تھی، مسلمانی مسلمانوں نے... ان کے ساتھ اور لوگوں نے بھ بھی کیا۔ ١٨٥٧ء کی جنگ لڑی، اس میں یہ ہ تحریک ہو، آپ جلوس نکالتے ہیں پُر امن کوئی لئے گڑ بڑ کرنے کے لئے آجاتے ہیں، شرارت جلوس نکالنے کا جن کا ارادہ ہوتا ہے کہ پُرامن کرسکتا۔ اسی طرح اس جنگ آزادی میں جن لو جہاد ہے، آپ نے ان سب کو Condemn لے سب سے بڑی ہیرا پھیری...!
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
ان آدمیوں کے نام نہیں پتا۔ میں ممنون ہوں گا جب آپ یہ نام بتائیں گے۔
جناب یحییٰ بختیار: میں تاریخ سے ....... میں آپ سے گزارش کر رہا ہوں ، ایک Parallel (موازنہ) میں Draw کروں گا ، یہ Parallel (موازنہ) ممکن ہے غلط ہوگا۔ آپ ٹھیک فرماتے ہوں گے کہ اس زمانے میں آزادی کی جنگ ہوئی، جس کو آپ ”غدر“ کہتے ہیں۔ بعض لوگوں نے اس کو ”جہاد“ کہا۔
1316 مرزا ناصر احمد: کس نے؟
جناب یحییٰ بختیار: کئی لوگوں نے کہا۔
مرزا ناصر احمد: اس زمانے میں کہا؟
جناب یحییٰ بختیار: ہاں ، اس زمانے میں کہا۔
مرزا ناصر احمد: اس زمانے میں؟
جناب یحییٰ بختیار: ہاں ، اس زمانے میں۔
مرزا ناصر احمد: یہی میں کہتا ہوں ناں کہ اس زمانے کے جو لیڈر تھے جنہوں نے Condemn (مذمت) نہیں کیا، میرے ذہن میں کوئی نام نہیں ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: اچھا!
مرزا ناصر احمد: میں تو ادب سے درخواست کر رہا ہوں کہ اگر مجھے نام ملیں تو میری معلومات میں اضافہ ہو جائے گا۔
جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے۔ میں نے بھی انڈیا آفس میں کچھ اسٹڈی کی تھی کہ کتنے لیڈر گئے مسلمانوں کے، ایک دوسرے کے پاس کہ یہ جہاد ہے، آپ کوشش کریں۔ یہ چیزیں ہیں۔ میں تفصیل میں جانا نہیں چاہتا۔ میں نے اس لئے عرض کر دیا کہ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ نہیں کہا تو ٹھیک ہے۔ میری نظر میں کافیوں نے کہا تھا کہ یہ جہاد ہے اور اس کے لئے کوشش کی اور جہاد سمجھ کے لڑے وہ۔ بہرحال سوال یہ ہے کہ اس میں آپ کہتے ہیں کہ لوگوں نے لوٹ مار کی ، قتل و غارت کیا ، ظلم کئے۔ ایک طبقے نے کئے۔ اس پر میں کہتا ہوں کہ آپ لیڈر شپ کو Condemn (مذمت) کریں گے؟
Mirza Nasir Ahmad: If they were under the guidance and directives of the leadership, the leaders should be condemned.......
٦٦
1337 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
(مرزا ناصر احمد: یہ سب لیڈران کی ہدایت اور حکم کے تحت ہوا۔ تو لیڈرشپ کی مذمت ہونی چاہئے) 1317 جناب یحییٰ بختیار: اچھا جی، ٹھیک ہے۔ مرزا ناصر احمد: ......اگر وہ آزاد تھے...... جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے۔ مرزا ناصر احمد: اور لیڈرز کا کہنا نہیں مانتے تھے اور اپنے لیڈروں کی حکم عدولی کے نتیجے میں یہ مظالم کئے، جس کو آپ مظالم کہتے ہیں، تو پھر لیڈر بالکل وہ ہیں معصوم، ان کو کچھ نہیں کہا جاسکتا۔
(تحریک پاکستان کے بارہ میں سوال؟)
جناب یحییٰ بختیار: بس، نہیں، بالکل ٹھیک ہے، یہی میرا پوچھنا یہ تھا کہ بھئی تحریک پاکستان کے سلسلے میں...... مرزا ناصر احمد: تحریک پاکستان کے سلسلے کی بات ہی نہیں کر رہا...... جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں...... مرزا ناصر احمد: ......میں تو ١٨٥٧ء کی بات کر رہا ہوں۔ جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! میں دونوں کا Parallel (موازنہ) اس لئے کر رہا ہوں کہ وہ بھی آزادی کی جنگ سمجھتا ہوں، میں اس کو بھی۔ مرزا ناصر احمد: میرے نزدیک تو کوئی Parallel (موازنہ) ہے ہی نہیں، کوئی مشابہت نہیں ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: ہاں، نہیں، تو اب میں اس لئے Parallel (موازنہ) آپ کے لئے واضح کرنا چاہتا ہوں کہ تحریک پاکستان کے دوران بھی، ہماری آزادی کے دوران بھی بعض لوگوں نے ظلم کئے اور اس کو...... ایسے ظلم تھے کہ ہمیں شرم آتی ہے اس پر۔ حالانکہ ہندو نے بہت زیادہ ظلم کیا، بہت ہی زیادہ....... مرزا ناصر احمد: بہت۔ جناب یحییٰ بختیار: اس پر کوئی نہیں۔ سکھوں نے بہت زیادہ ظلم کیا۔ مگر یہاں بھی غلطیاں ہوئی ہیں۔ تو اس کی وجہ سے میں یہ پوچھ رہا تھا کہ آپ لیڈرشپ کو نہیں Condemn
٦٧
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
(مذمت) کریں گے 1318 کہ تحریک غلط تھی، یہ تحریک بھی غلط تھی۔ یا بالفاظ دیگر، اگر ہم خدا نہ کردہ فیل ہو جاتے تو آپ اس کو بھی غدر کہتے؟
مرزا ناصر احمد: نہیں، یہ تو کوئی مسئلہ زیر بحث ہے ہی نہیں اور ”اگر“ کے ساتھ ہمیں بات ہی نہیں کرنی چاہئے۔ ورنہ پھر ”اگر، اگر“ کے ساتھ تو کہیں کے کہیں پہنچ جائیں گے۔
جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! اگر کی بات تو ہے یہ۔ کہ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آزادی کے لئے جنگ کی اجازت ہے، آپ کا عقیدہ دیتا ہے......
مرزا ناصر احمد: پاکستان بننے کے لئے کوئی جنگ نہیں لڑی گئی۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں پہلے یہ سوال پوچھتا ہوں کہ آزادی کے لئے......
مرزا ناصر احمد: نہیں، پھر Parallel (موازنہ) کیا، کیسے ہو گیا غدر کے ساتھ، جب پاکستان بننے کے لئے کوئی جنگ لڑی ہی نہیں گئی؟
جناب یحییٰ بختیار: آپ کہتے ہیں، خود ہی کہتے ہیں کہ کتنے ہزار لوگ قربان ہوئے، قربانیاں دی گئیں، لاکھوں مارے گئے۔
مرزا ناصر احمد: میں نے یہ کہا کہ قربانیاں دیں، میں نے یہ نہیں کہا جنگ لڑی گئی۔
(کیا ملکی آزادی کے لئے اسلام جنگ کی اجازت دیتا ہے؟)
جناب یحییٰ بختیار: میں آپ سے یہ سوال پوچھتا ہوں: کیا ملک میں آزادی پیدا کرنے کے لئے اسلام لڑائی کی اجازت دیتا ہے، جنگ کی اجازت دیتا ہے یا نہیں؟
مرزا ناصر احمد: حالات پر منحصر ہے، ساری چیزیں سامنے ہوں تو اسلام اپنا......
جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں جی، میں دین میں دخل کے بارے کی بات نہیں کرتا۔
دیکھیں ناں، وہ تو آپ جہاں......
مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، میرا مطلب یہ ہے کہ دُنیا میں بھی پہلا بنیادی اُصول انسانی عقل نے یہ بنایا کہ آنکھیں بند کر کے فیصلے نہ دیا کرو۔
(اسلام کن حالات میں لڑائی کی اجازت دیتا ہے؟)
1319 جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مرزا صاحب! میں تو بالکل Simple (آسان) بات پوچھ رہا ہوں کہ اسلام کن حالات میں لڑائی کی اجازت دیتا ہے؟ ایک آپ نے بڑے واضح طور پر کہا کہ......
٦٨
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
مرزا ناصر احمد: نہیں، میں نے آپ کو اپنا نہیں، ایک اور فتویٰ چار شرائط جہاد کے بتائے تھے کل۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں وہی کہہ رہا ہوں کہ آپ نے کہا جہاں تک دین کے معاملے میں دخل دیں، آپ کو اجازت ہے کہ تلوار اُٹھائیں۔
مرزا ناصر احمد: وہ دین کی لڑائی ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، دین کی۔ اسی طرح میں یہ پوچھتا ہوں کہ کیا اگر ملک میں آزادی پیدا کرنے کے لئے لڑائی لڑی جائے، تلوار اُٹھائی جائے، اس کی اجازت ہے کہ نہیں؟
مرزا ناصر احمد: اس وقت اس بحث کی میرے نزدیک ہماری دُنیا میں ضرورت کوئی نہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: ہیں جی؟
مرزا ناصر احمد: ہماری اس دُنیا میں......
جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔
مرزا ناصر احمد: ......جس میں آج ہم زندہ ہیں، یہ محض فلسفہ اور تھیوری ہے۔ یہ کوئی پریکٹیکل پرابلم نہیں، جس کے Solve کرنے کے لئے ہمیں تبادلہ خیال کرنا چاہئے۔
جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! اگر آپ کے ملک پر حملہ آور ہوتا ہے دُشمن، آپ اس کو نہیں ماریں گے؟
مرزا ناصر احمد: میں نے کب کہا ہے نہیں ماریں گے؟
جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں ناں......
مرزا ناصر احمد: میں نے تو یہ کہا ہے کہ آج دُشمن حملہ آور نہیں ہے ہمارے ملک پر۔
جناب یحییٰ بختیار: آج نہیں تو کچھ عرصہ پہلے تھا۔
مرزا ناصر احمد: جب تھا تو لڑے ہم، شہید ہوئے ہم، ہم سب کے ساتھ مل کے احمدی بھی۔
1320 جناب یحییٰ بختیار: انگریز جو بیٹھا تھا تو وہ بھی ہمارے ملک پر بیٹھا تھا۔ اس کو ہٹانے کے لئے......
مرزا ناصر احمد: اس کے ساتھ جنگ ہوئی نہیں، اور پاکستان مل گیا۔
جناب یحییٰ بختیار: اجازت تھی کہ نہیں تھی؟
مرزا ناصر احمد: ہیں؟
٦٩
OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
(مذمت) کریں گے 1318 کہ تحریک غلط تھی فیل ہو جاتے تو آپ اس کو بھی غدر کہتے؟
مرزا ناصر احمد: نہیں، یہ تو کہا بات ہی نہیں کرنی چاہئے۔ ورنہ پھر اگر، اگر
جناب یحییٰ بختیار: مرزا صا آزادی کے لئے جنگ کی اجازت ہے، آسا
مرزا ناصر احمد: پاکستان بننے
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، ن
مرزا ناصر احمد: نہیں، پھر جب پاکستان بننے کے لئے کوئی جنگ لڑی
جناب یحییٰ بختیار: آپ ک قربانیاں دی گئیں، لاکھوں مارے گئے۔
مرزا ناصر احمد: میں نے یہ
(کیا ملکی آزادی کے لئے
جناب یحییٰ بختیار: میں آ کرنے کے لئے اسلام لڑائی کی اجازت
مرزا ناصر احمد: حالات پر
جناب یحییٰ بختیار: دیکھی دیکھیں ناں، وہ تو آپ جہاں......
مرزا ناصر احمد: نہیں، مجھ انسانی عقل نے یہ بنایا کہ آنکھیں بند کر
(اسلام کن حالات
1319 جناب یحییٰ بختیار: بات پوچھ رہا ہوں کہ اسلام کن حالات طور پر کہا کہ......
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
جناب یحییٰ بختیار: اجازت تھی کہ نہیں تھی؟
مرزا ناصر احمد: سوال ہی نہیں۔ عملاً اس کو جنگ کی ضرورت نہیں پڑی۔ آج ستائیس سال کے بعد پوچھتے ہیں کہ ستائیس سال پہلے جنگ لڑی جانی چاہئے تھی یا نہیں!
جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! میں یہ کہتا ہوں کہ آپ کے ملک پر کوئی قابض ہو جائے، ملک کو آزاد کرانے کے لئے اجازت ہے کہ نہیں؟
مرزا ناصر احمد: یہ ”اگر“ کے ساتھ تو میرے ساتھ بات نہ کریں، اس واسطے کہ ”اگر“ کے اوپر تو قیامت تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ جو واقع ہے یا جو تعلیم ہے یا جو تعریف ہے کسی اسلامی کسی مسئلے کے متعلق، اس کے متعلق ہمیں بات کرنی چاہئے......
جناب یحییٰ بختیار: اسلامی تعلیم ......
مرزا ناصر احمد: ......اور بات آپ کر رہے ہیں پاکستان بننے کی جس کے لئے جنگ لڑی ہی نہیں گئی اور اس کے بعد جو جنگیں ہوئی ہیں، وہ جنگ تھیں اور لڑنا چاہئے تھا ہمیں ۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں سمجھتا ہوں کہ اگر جنگ لڑنی پڑے، اگر جنگ کرنی پڑے؟ ایک دفعہ میں نے اشارہ کیا ڈائریکٹ ایکشن کا۔ آپ نے کہا نہیں وہ تو ...... میں نے کہا، ٹھیک ہے، اس کو چھوڑ دیتے ہیں ہم۔ اگر جنگ لڑنی پڑے......
مرزا ناصر احمد: اگر جنگ کی شرائط پوری ہوں تو وہ مومن ہی نہیں جو جہاد میں شامل نہیں ہوتا۔
1321 جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! جہاد کا میں دین کے معاملے میں نہیں کہہ رہا، آزادی کے معاملے میں ......
مرزا ناصر احمد: اچھا، اب میں ذرا وضاحت کردوں۔
جناب یحییٰ بختیار: میرے تصور میں مسلمان غلام ہو ہی نہیں سکتا......
مرزا ناصر احمد: نہیں، بات سنیں ناں۔
جناب یحییٰ بختیار: ......اس لئے اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ لڑے اپنے آزادی کے لئے Constitutional means if possible; sword, if necessary. (آئینی ذرائع سے اگر ممکن ہو اور تلوار سے اگر ضروری ہو) میں اب ......بالکل غلط عقیدہ ہوگا......
١؎ اے اور جو: ”دین کے لئے حرام ہے جنگ اور قتال“ تحفہ گولڑویہ۔
٧٠
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
مرزا ناصر احمد : نہیں، نہیں، یہ تو آپ کا بڑا ٹھیک عقیدہ ہے۔ لیکن جب آپ کا سوال ختم ہو جائے تو میں جواب دے دوں گا۔
جناب یحییٰ بختیار : تو میں یہ عرض کر رہا تھا کہ آپ سے میں بار بار کہہ رہا ہوں کہ ملک میں آپ آزادی پیدا کرنے کے لئے اسلام لڑائی کی اجازت دیتا ہے یا نہیں؟
مرزا ناصر احمد : ختم ہو گیا سوال؟
جناب یحییٰ بختیار : ہاں جی۔
مرزا ناصر احمد : تشریف رکھیں۔ ملک میں آزادی پیدا کرنے کے لئے ...... وہ ملک کیا ہوا جس میں آزادی کوئی نہیں؟ پہلا سوال۔ ابھی میں نے ...... جواب دے رہا ہوں۔ ہوں۔ اس شکل میں، اگر ملک میں آزادی نہیں، سوال یہ ہے کہ وہ حکومت اپنے ملک کی ہے یا باہر ملک سے لوگ آئے ہوئے ہیں؟ تو یہ کرنا پڑے گا ناں۔
جناب یحییٰ بختیار : باہر کے لوگ آئے ہیں، باہر کی بات کر رہا ہوں، ناں جی، ایوب خان کے مارشل لاء کی بات نہیں کر رہا ہوں۔
1322 مرزا ناصر احمد : ہاں، یہ، یہی باتیں نہیں سمجھے، یہی، میں اس واسطے کہہ رہا تھا کہ بعض پہلو واضح نہیں ہیں۔ پاکستان میں پاکستان بننے کے بعد کوئی باہر سے آ کے یہاں حکمران نہیں بنا۔ اس لئے یہ سوال ایسا ہے کہ جس کے جواب دینے کی مجھے ضرورت کوئی نہیں۔
(انگریز کے وقت اسلام جنگ کی اجازت دیتا تھا یا نہیں؟)
جناب یحییٰ بختیار : اس سے پہلے جب انگریز بیٹھا تھا، کیا اسلام جنگ کی اجازت دیتا تھا یا نہیں؟
مرزا ناصر احمد : Minority (اقلیت) کو، یا Majority (اکثریت) کو؟
جناب یحییٰ بختیار : جب ہم غلام تھے۔
مرزا ناصر احمد : جمہوریت کے زمانے میں یہ اجازت Minority (اقلیت) کو تھی، یا Majority (اکثریت) کو تھی؟
جناب یحییٰ بختیار : جس علاقے میں جو اکثریت تھی میں ان کی بات کر رہا ہوں۔ اگر ان کو لڑنا پڑتا، ہندو کے خلاف لڑنا پڑتا، یا انگریز کے خلاف لڑنا پڑتا، یا دونوں کے خلاف ......
مرزا ناصر احمد : ماضی کی بات ۔ جو واقعہ ہوا ہی نہیں اس کے متعلق جب بات کریں گے
٧١
1342 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
تو اس کا فائدہ ہی کوئی نہیں۔ آئندہ کے متعلق جب آپ بات کریں تو پھر تو ہو سکتا ہے کہ سوچ لیں۔ جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! Majority (اکثریت) اور Minority (اقلیت) اگر دونوں مل جائیں تو ......
(مرزا ناصر احمد جواب دینے پر آمادہ نہیں)
Mr. Chairman: The Attorney-General may go on to the next question. The witness is not prepared to answer this question. (جناب چیئرمین: اٹارنی جنرل اگلا سوال کریں، گواہ اس سوال کا جواب دینے پر آمادہ نہیں)
Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, I will repeat once again. (جناب یحییٰ بختیار: جناب والا! میں ایک مرتبہ پھر سوال دہراؤں گا)
Mr. Chairman: No, no, the witness is not prepared to answer this question. (جناب چیئرمین: نہیں، نہیں، گواہ اس سوال کا جواب دینے پر آمادہ نہیں)
Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, I will repeat once again. (جناب یحییٰ بختیار: جناب والا! میں ایک مرتبہ پھر دہراؤں گا)
Mr. Chairman: The witness has tried to go away from it in replying....... (جناب چیئرمین: گواہ نے جواب دینے سے اجتناب کیا ہے ......)
1323 Mr. Yahya Bakhtiar: I am going to repeat it again. (جناب یحییٰ بختیار: میں پھر دہراتا ہوں)
Mr. Chairman: It has gone on the record. Yes, another question. (جناب چیئرمین: یہ بات ریکارڈ میں آ چکی ہے، اگلا سوال کریں)
Mr. Yahya Bakhtiar: I am going to repeat this question in a different form.
٧٢
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10 (جناب یحییٰ بختیار : میں پھر دہراتا ہوں ایک دوسری شکل میں) Mr. Chairman: This question was repeated twenty times, but the witness has not replied this question. (جناب چیئرمین: یہ سوال بیس مرتبہ پوچھا گیا ، مگر گواہ نے جواب نہیں دیا) Mr. Yahya Bakhtiar: In a different form. (جناب یحییٰ بختیار : یہ ایک دوسری شکل میں ہے) Mr. Chairman: No. Next question. It has gone on the record. (جناب چیئرمین: نہیں، اگلا سوال کریں، یہ بات ریکارڈ پر آچکی ہے) (Pause) (ایک پمفلٹ جس میں مرزا بشیر احمد نے لکھا ہے کہ ......) جناب یحییٰ بختیار : مرزا صاحب ! یہ آپ کی ایک پمفلٹ ہے جو کہ ”ہماری تعلیم“ کے نام سے ہے، اور یہ مرزا بشیر احمد صاحب نے Edit کیا ہے، اور لکھا ہے اس کے صفحہ: ٣٠ پر: ”اے علمائے اسلام .....!“ میں ابھی آپ کو دے دیتا ہوں یہ پمفلٹ ۔ مرزا ناصر احمد : شاید، ہاں۔ جناب یحییٰ بختیار : تو اس میں وہ اسی بات پر کہ لڑائیوں کے بارے میں اسلام کون سی اجازت دیتا ہے، کہتے ہیں کہ: ”نمبر ایک کہ جب آنحضرت ﷺ کے وقت لڑائیاں کی گئی تھیں وہ لڑائیاں جبراً دین کو شائع کرنے کے لئے نہیں تھیں ......“ یہ تو ہم سب کا اتفاق ہے اس پر۔ اس کے بعد :”..... بلکہ یا تو بطور سزا تھیں، یعنی ان لوگوں کو سزا دینا منظور تھا جنہوں نے ایک گروہ کثیر مسلمانوں کو قتل کر دیا ......“ 1324 اس پر پھر Detail (تفصیل) میں جاتے ہیں۔ پھر :”نمبر٢ وہ لڑائیاں ہیں جو بطور مدافعت تھیں، یعنی جو لوگ اسلام کو نابود کرنے کے لئے پیش قدمی کرتے تھے ۔“ یہ دوسری پھر Detail (تفصیل) میں دی جاتی ہے۔ ”تیسرے ملک کی آزادی پیدا کرنے کے لئے لڑائی کی جاتی تھی۔“ یہ انگریزوں کے زمانے کی ہے ...... مرزا ناصر احمد : یہ میں اس کا مطلب بتا دوں؟ یہ میں دیکھ سکتا ہوں؟ جناب یحییٰ بختیار : یہ پندرہواں ایڈیشن جو ہے ١٩٦٥ء کا، Pages 30-31(صفحات)
٧٣
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
مرزا ناصر احمد : ہاں، ہاں، میں ......
Mr. Yahya Bakhtiar: Pages 30-31.
(جناب یحییٰ بختیار : ٣٠-٣١ صفحات) (Pause)
مرزا ناصر احمد : جی، یہاں پر وہ جو عبارت ہے، وہ میں ذرا دو چار آگے پیچھے سے فقرے ......
جناب یحییٰ بختیار : ہاں، وہ بے شک آپ کر سکتے ہیں۔
مرزا ناصر احمد : آپ نے لکھا کہ: ”قرآن شریف میں کہاں لکھا ہے کہ مذہب کے لئے جبر دُرست ہے؟“
جناب یحییٰ بختیار : مرزا صاحب! وہ تو ڈسکس ہو چکا ہے ......
مرزا ناصر احمد : نہیں، نہیں، وہ میں آگے ......
جناب یحییٰ بختیار : ...... سب Agree (اتفاق) کرتے ہیں اس سے۔ آپ میں ہم میں کوئی اختلاف ہی نہیں۔
1325 مرزا ناصر احمد : اوہ! اس میں اس کا جواب آ جاتا ہے۔
جناب یحییٰ بختیار : ہاں، ہاں، فرمائیے آپ۔
مرزا ناصر احمد : ”قرآن شریف میں کہاں لکھا ہے کہ مذہب کے لئے جبر دُرست ہے؟ بلکہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے: ”لا اکراہ فی الدین“ یعنی دین میں جبر نہیں۔ پھر مسیح ابن مریم کو جبر کا اختیار کیونکر دیا جائے گا؟ سارا قرآن بار بار کہہ رہا ہے کہ دین میں جبر نہیں ہے اور صاف طور پر ظاہر کر رہا ہے کہ جن لوگوں سے آنحضرت ﷺ کے وقت لڑائیاں کی گئی تھیں وہ لڑائیاں دین کو جبراً شائع کرنے کے لئے نہیں تھیں بلکہ یا بطور سزا تھیں، یعنی ان لوگوں کو سزا دینا منظور تھا جنہوں نے ایک گروہ کثیر مسلمانوں کو قتل کر دیا اور بعض کو وطن سے نکال دیا تھا اور نہایت سخت ظلم کیا تھا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”اُذن للذین یقتلون بأنہم ظلموا وان اللہ علی نصرہم لقدیر“ یعنی ان مسلمانوں کو، جن سے کفار جنگ کر رہے ہیں، بسبب مظلوم ہونے کے، مقابلہ کرنے کی اجازت دی گئی اور خدا قادر ہے کہ وہ ان کی مدد کرے۔
نمبر ٢ وہ لڑائیاں ہیں جو بطورِ مدافعت ہیں۔ یعنی وہ حملہ ہے Within the Country (اندرون ملک) یعنی کفار مکہ جو تھے، وہ اپنے عرب کے علاقے میں انہوں نے
٧٤
1345 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10 مسلمانوں پر ظلم کیا، قتل کیا، خود مکہ کے اندر بڑے ظلم کئے۔ دوسرا باہر سے حملہ آور ہوئی ہے فوج: ”……وہ لڑائیاں ہیں جو بطور مدافعت ہوئیں۔ یعنی جو لوگ اسلام کو نابود کرنے کے لئے پیش قدمی کرتے تھے یا اپنے ملک میں اسلام کے شائع ہونے سے جبراً روکتے تھے، ان سے بطور حفاظت خود اختیاری لڑائی کی جاتی تھی۔“ 1326 یہ دو ہو گئے:”تیسرے ملک میں آزادی پیدا کرنے کے لئے لڑائی کی جاتی تھی۔“
یہاں جو چیز میں سمجھتا ہوں، پہلے بھی، یعنی ہمارے۔ یہ تو آپ میں نے دیکھا ہے، یہاں بھی وہی، اور جگہ بھی مضمون ہوا ہے یہ ادا۔ یہ ہے کہ اگر ملک میں کوئی حکومت، اپنی ہو یا غیر، کسی کو مذہبی آزادی نہ دے۔ یہاں دین کی لڑائی ہے اور مذہبی آزادی ہے ”آزادی“ سے مراد دین کی لڑائی میں مذہبی آزادی ہوتی ہے۔ جب مذہبی آزادی نہ دے اور نماز پڑھنے سے مثلاً روکے مسلمان کو، روزہ رکھنے سے روکے، یا جس طرح سکھوں نے کیا تھا کہ آذان دینے سے بھی روکتے تھے، تو جب اندرون ملک مذہبی آزادی نہ ہو اور کوئی راستہ ان کے لئے نہ ہو اپنے حقوق کے حصول کا، تو اس وقت ان کو لڑنے کی اجازت ہے۔
(صرف مذہبی آزادی کے لئے جنگ؟)
جناب یحییٰ بختیار: صرف مذہبی آزادی مطلب ہے؟ مرزا ناصر احمد: ہاں، ان سے ”آزادی“ سے مذہبی آزادی، کیونکہ یہ دینی جنگوں کا ذکر ہے یہاں پر۔ جناب یحییٰ بختیار: ہاں، مطلب ہے دُوسری آزادی کے لئے نہیں لڑ سکتے؟ مرزا ناصر احمد: دُوسری آزادی کے اور اُصول ہیں۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں یہی آپ سے...... مرزا ناصر احمد: ہاں، یہاں مذہبی آزادی مراد ہے۔
(قادیانیوں کی تعلیم کا تضاد)
جناب یحییٰ بختیار: کیونکہ میں خود متعجب ہو گیا کہ ایک طرف تو حکمران کا کہتے ہیں کہ اطاعت کرو، دُوسری طرف سے آزادی کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟ تو یہ تو Contradiction (تضاد) تھا آپ کی تعلیم کا۔ مرزا ناصر احمد: ہاں یہ مذہبی آزادی ہے۔
٧٥
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
(عبداللہ آتھم، محمدی بیگم اور مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کے بارہ میں سوال)
1327 جناب یحییٰ بختیار: یہ مرزا صاحب! ابھی ایک دو تین سوال ہیں، مرزا صاحب کی پیش گوئیوں کے بارے میں۔ اگر آپ خود ہی مختصراً بتا دیں تاکہ پھر اس میں سوال نہ کرنے کی گنجائش ہو۔ آپ اپنے ہی الفاظ میں یہ ایک ہے عبداللہ آتھم کے بارے میں، آتھم۔ ”انجامِ آتھم“ جس پر ایک کتاب انہوں نے لکھی ہے۔ دوسری ہے محمدی بیگم کے بارے میں۔ تیسری مولوی ابوالوفا ثناء اللہ امرتسری، ان کے بارے میں کوئی اشتہار ہے۔
مرزا ناصر احمد: یہ تین؟
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، یہ تین، ہاں جی۔
مرزا ناصر احمد: تو یہ کل میں بتاؤں گا۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، تو اس پر آپ اپنا موقف مختصراً......
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔
جناب یحییٰ بختیار: ......تا کہ یہ...... کیونکہ اس پر کئی ایک سوال میرے پاس آئے ہیں۔
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، ٹھیک ہے، میں اس کے......
جناب یحییٰ بختیار: بجائے ہر ایک کی Detail (تفصیل) میں جانے کے، آپ ان کے Brief Texts (متن) کہ Fulfil (مکمل) ہوئی، نہیں ہوئی، کیوں نہیں ہوئی......
مرزا ناصر احمد: ہاں، Brief outline (مختصر خاکہ) بتا دوں گا سارے کا۔ ہاں، ٹھیک ہے۔
(مرزا قادیانی کو وحی کتنی زبانوں میں آتی تھی؟)
جناب یحییٰ بختیار: اب ایک سوال اور یہ ہے کہ مرزا غلام احمد صاحب کو یہ وحی کس زبان میں آتی رہی ہیں؟ ایک زبان میں یا مختلف زبانوں میں؟
مرزا ناصر احمد: مختلف زبانوں میں۔
جناب یحییٰ بختیار: مختلف زبانوں میں۔
مرزا ناصر احمد: لیکن بہت بڑی بھاری جو نسبت ہے وہ عربی اور اُردو کی ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، چونکہ یہ ایک سوال تھا اس لئے......
1328 مرزا ناصر احمد: ہاں، یعنی کوئی کوئی بیچ میں سے استثنائی طور پر......
٧٦
NATIONAL ASSEMB
ش کی بھی......
کہا ناں، اس واسطے میں نے واضح کر دیا ہے کہ ....
عربی اور اُردو کی ہے، اور استثنائی کوئی ہے، ہے۔
ان وحی کو ایسے ہی پاک وحی سمجھتے تھے جیسے اللہ اس کا منبع ایک ہے......
شان اور شوکت ہے، اس میں بڑا فرق ہے۔
نے Explain (واضح) کیا تھا اس دن، سے ہیں......
ں، دو وحی ہیں، تو ان میں تو قطعاً...... ں ناں۔
یک ہے، جزاک اللہ۔ میں ”اگر“ نہیں کہتا،
وں ناں کہ ”اگر“ تو میں کہوں گا۔ پوری بتا رہا تھا، مرزا صاحب کی وحیوں کے
1347 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
جناب یحییٰ بختیار: ......کیونکہ کچھ انگلش کی بھی...... مرزا ناصر احمد: نہیں، وہی میں نے کہا ناں، اس واسطے میں نے واضح کر دیا ہے کہ پھر اور سوال اٹھیں گے۔ جناب یحییٰ بختیار: ہاں، نہیں، میں...... مرزا ناصر احمد: بہت بھاری اکثریت عربی اور اُردو کی ہے، اور استثنائی کوئی ہے، انگریزی کی بھی ہے، پنجابی کی بھی ہے، فارسی کی بھی ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: اور مرزا صاحب ان وحی کو ایسے ہی پاک وحی سمجھتے تھے جیسے اللہ کی وحی قرآن شریف میں ہے؟ مرزا ناصر احمد: صرف اس معنی میں کہ اس کا منبع ایک ہے...... جناب یحییٰ بختیار: ہاں، ہاں۔ مرزا ناصر احمد: ......لیکن وہ جو ان کی شان اور شوکت ہے، اس میں بڑا فرق ہے۔ آپ...... جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ آپ نے Explain (واضح) کیا تھا اس دن، میں یہ کہتا ہوں کہ دونوں آپ کہتے ہیں اللہ کی طرف سے ہیں...... مرزا ناصر احمد: اگر اللہ کی طرف سے ہیں، دو وحی ہیں، تو ان میں تو قطعا...... جناب یحییٰ بختیار: "اگر" تو آپ نہ کہیں ناں۔ مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں،...... جناب یحییٰ بختیار: میں "اگر" کہوں گا۔ مرزا ناصر احمد: میں نہیں کہتا۔ ہاں، یہ ٹھیک ہے، جزاک اللہ۔ میں "اگر" نہیں کہتا، میرے نزدیک وہ صادق تھے۔ جناب یحییٰ بختیار: ہاں، یہ میں کہہ رہا ہوں ناں کہ "اگر" تو میں کہوں گا۔ 1329 مرزا ناصر احمد: ہاں، نہیں، میں وہ تھیوری بتا رہا تھا، مرزا صاحب کی وحیوں کے متعلق "اگر" نہیں میں کہہ رہا تھا۔ جناب یحییٰ بختیار: ہاں، جی۔
77
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
مرزا ناصر احمد: میں ویسے تھیوری یہ بتا رہا تھا کہ عقلاً اگر منبع اللہ کا ہے تو پھر ان میں کوئی فرق نہیں ہوتا اور میں...... یہ اگلا وہ میرا ہے Statement (بیان) کہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کی ساری وحی اللہ کی طرف سے ہے۔
(مرزا قادیانی کی وحی قرآن جیسی)
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، تو اس لئے وہ ویسے ہی پاک ہے جیسے قرآن؟ مرزا ناصر احمد: ہاں، پاک ہونے کے لحاظ سے ویسی ہی ہے جیسا کہ دوسرے ہمارے بزرگوں کی سچی وحیاں ہیں۔
(چشمہ معرفت کی عبارت کے بارہ میں استفسار)
جناب یحییٰ بختیار: یہ ”چشمہ معرفت“ یہ شاید حوالہ پھر غلط تھا۔ I am sorry (میں معذرت خواہ ہوں) مرزا صاحب! کیونکہ میرے پاس بھی جو حوالہ دیا گیا ہے، یہ بھی کسی اور کتاب سے ہے۔ اس میں یہ Page (صفحہ)...... (ایک رکن سے) کونسا صفحہ ہے؟ (مرزا ناصر احمد سے) یہ میں مضمون ان کا پڑھ دیتا ہوں۔ وہ نکال لائیں جی اس کو: ”اور یہ بالکل غیر معقول اور بے ہودہ عمل ہے کہ انسان کی اصل زبان تو کوئی ہو اور الہام کسی اور زبان میں ہو، جس کو وہ سمجھ بھی نہ سکے۔“
(چشمہ معرفت ص:٢٠٩، خزائن ج:٢٣ ص:٢١٨)
یہ ہے جی ”چشمہ معرفت“۔ ابھی وہ نکال کے دیتے ہیں اس میں سے۔ کیونکہ مرزا صاحب فارسی عربی کے تو عالم تھے، اور اُردو، پنجابی تو خیر، یہ انگریزی کی جو بات آگئی ناں اس میں، کیونکہ وہ ایک جگہ لکھتے ہیں کسی ہندو لڑکے سے انہوں نے پوچھا کہ اس کا مطلب کیا ہے بعض......
مرزا ناصر احمد: یہ تو اچھا تحقیق کرنے والا ہے، سارے حوالے دیکھ کے پتا لگے گا۔ جناب یحییٰ بختیار: ہاں، وہ میں ذرا حوالے آپ کو دیتا ہوں۔ ابھی یہیں ہیں وہ۔ یہ ہیں جی، اس میں سے ”حقیقت الوحی“ صفحہ ٣٣٠۔
1330 مرزا ناصر احمد: ٣٣٠۔
١؎ پیشی پے پیشی، مگر بھول گئے آخرت کی پیشی کو، کہ وہاں یہ ہیرا پھیری، چالاکی نہیں چلے گی...!
٧٨
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
(مرزا قادیانی کی انگریزی میں وحی)
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، جی ہاں۔ اس میں ٹھیک نہیں تھا۔ یہ میرا خیال ہے یہی ہوگا۔ اس میں ہے جو وحی آئی ہیں انگریزی میں۔ ہاں یہ ٣٣٠ (خزائن ج ٢٢ ص ٣١٦) اس میں ہے:
"I love you. I am with you. Yes, I am happy. Life of pain. I shall help you. I can't, but I will do. We can't but we will do. God is coming by his army. He is with you to kill enemy. The day shall come when God shall help you. Glory be to the Lord God, maker of the earth and heaven."
”میں تجھے پیار کرتا ہوں، میں تمہارے ساتھ ہوں، ہاں میں خوش ہوں، دکھوں بھری زندگی میں تمہاری مدد کروں گا، میں کر سکتا ہوں، لیکن میں کیا کروں، ہم کر سکتے ہیں، مگر ہم کیا کریں، خدا اپنی فوج لے کر آرہا ہے، وہ دشمن کو قتل کرنے کے لئے تمہارے ساتھ ہے، وہ دن آرہا ہے جب خدا تمہاری مدد کرے گا، تم بڑی شان والے ہو۔ خدا جو زمین اور آسمان کا خالق ہے۔“
تو یہ......
مرزا ناصر احمد: نہیں، وہ میں نے کہا کہ وہ دیکھ لیں گے۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، تو یہ، یہ جو ہے ناں، ٣٣٠ ٹھیک Page (صفحہ) ہے اس کا۔
مرزا ناصر احمد: ہاں جی، خود آپ نے کوئی Explanation (وضاحت) دیا ہوگا ناں، تو آگے پیچھے سے دیکھ کے کل صبح اس واسطے......
جناب یحییٰ بختیار: اور وہ جو ہے ناں جی، وہ ”چشمہ معرفت“ صفحہ: ٢٠٩ جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ ایسی بات غلط ہے کہ زبان ایک ہو اور وحی کسی اور......
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، ٹھیک ہے۔
Mr. Yahya Bakhtiar: Now, Sir, there is no subject.......
(جناب یحییٰ بختیار: جناب والا اب صرف ایک موضوع پر بات کریں)
Mr. Chairman: Yes.
٧٩
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
(جناب چیئرمین: جی ہاں)
Mr. Yahya Bakhtiar: ...... A part from any question. I will be requesting the members, after this, to give up. Now most of them have been asked one way or the other.
(جناب یحییٰ بختیار: اراکین سے درخواست کروں گا کہ وہ باقی سوالات ترک کردیں، صرف ایک موضوع پر بات کریں)
Mr. Chairman: Yes, afterwards we will discuss it.
(جناب چیئرمین: بعد میں ہم اس پر بات کریں گے)
Mr. Yahya Bakhtiar: Yes. But there is one subject which is a little detailed, not very detailed......
(جناب یحییٰ بختیار: جناب والا! لیکن ایک موضوع ایسا ہے، وہ تھوڑا سا تفصیل طلب ہے......)
(جناب چیئرمین: جی ہاں!) 1331 Mr. Chairman: Yes.
(مرزا قادیانی کی تضاد بیانیاں)
Mr. Yahya Bakhtiar: ..... Which deals with some questions that Mirza Sahib has at different stages given different statements or writings.
(جناب یحییٰ بختیار: وہ یہ کہ مرزا صاحب کی مختلف اوقات میں مختلف تحریریں اور مختلف بیانات ہیں (مرزا ناصر احمد سے) وہ ایسے ہے جی کہ پہلے انہوں نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا، یا تردید کی ان کی......)
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔
جناب یحییٰ بختیار: ...... تو ان پر کچھ حوالے ہیں۔ کیونکہ وہ لاہوری پارٹی میں بھی تھا، میں ان کو چھوڑ کے جو مجھے انہوں نے دیئے ہیں، تو اس کے بارے میں...... مرزا صاحب کے پاس شاید کچھ ٹائم نہیں ہے، اور ویسے بھی تو صبح انہوں نے یہ جو پیش گوئیاں ہیں......
٨٠
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
مرزا ناصر احمد : ہاں، ہاں۔
Mr. Chairman: I will request the Attorney-General to give all the remaining Hawalajat حوالہ) (جات to the witness so that the answers may come by tomorrow.
(جناب چیئرمین: میں اٹارنی جنرل سے گزارش کروں گا کہ بقایا تمام حوالہ جات گواہ کو دے دیں تاکہ ان کا جواب کل مل سکے)
Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, there are ...... there is a ...... No, I have got a file of these questions, and I want to ask very few of them.
(جناب یحییٰ بختیار: جناب والا ! ان سوالات سے تو فائل بھری ہے، اور میں صرف چند ایک ہی پوچھنا چاہتا ہوں)
Mr. Chairman: All right. Then in the morning.
(جناب چیئرمین: بالکل صحیح، تو پھر کل صبح)
Mr. Yahya Bakhtiar: So, that's why......
Mr. Chairman: Then in the morning.
(جناب چیئرمین: کل صبح)
جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، ایک حوالہ نہیں ہے، یہ تو They are far too many. They show that Mirza Sahib has a different stages .....
(یہ ثابت کرنے کے لئے کہ مرزا صاحب نے مختلف اوقات میں مختلف باتیں کیں)
Mr. Chairman: Yes.
(جناب چیئرمین: جی ہاں)
Mr. Yahya Bakhtiar: ...... Said different things......
(جناب یحییٰ بختیار: ...... مختلف اوقات میں مختلف باتیں کیں)
٨١
STAN 23rd Aug, 1974 No:10
(جناب چیئرمین: A part from any rs, after this, so give ne way or the other.
(جناب یحییٰ بختیار: کردیں، صرف ایک موضوع پر با s we will discuss it.
(جناب چیئرمین: t there is one subject d......
(جناب یحییٰ بختیار: طلب ہے۔.....)
(جناب چیئرمین: جی ہاں!) )
ch deals with some ferent stages given
(جناب یحییٰ بختیار: مختلف بیانات ہیں (مرزا ناصر ا یا تردید کی ان کی ......)
مرزا ناصر احمد :
جناب یحییٰ بختیار: تھا، میں ان کو چھوڑ کے جو مجھے پاس شاید کچھ ٹائم نہیں ہے، اور
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
Mr. Chairman: Yes. (جناب چیئرمین: جی ہاں)
1332 Mr. Yahya Bakhtiar: ..... Repudiating that he is a Nabi, and then confirming he is Nabi. And I will just ask a few, you know. I will look through them again.
(جناب یحییٰ بختیار: پہلے کہا کہ میں نبی ہوں اور پھر تائید کی کہ وہ پکا نبی ہے، میں اس موضوع کے بارے میں حوالہ جات دیکھوں گا)
مرزا ناصر احمد: اکٹھے دے دیں تو ......
Mr. Chairman: So, the delegation ......
(جناب چیئرمین: تو وفد جا سکتا ہے ......)
جناب یحییٰ بختیار: جی، یہ بہت سارے ہیں ناں جی، اس پر پھر ٹائم لگے گا۔
Mr. Chairman: The delegation can leave. There are no other questions for .....
(جناب چیئرمین: وفد جا سکتا ہے اور کوئی سوال نہیں ہے ......)
جناب یحییٰ بختیار: دو چار ہیں، دیکھ لیتا ہوں اس سے۔
جناب چیئرمین: ہاں جی۔
جناب یحییٰ بختیار: میں، اگر آپ چاہیں تو میں کچھ پڑھ کے سنا دیتا ہوں تاکہ یہ اس کو نوٹ کر کے .......
جناب چیئرمین: ہاں، اگر تھوڑا سا ریفرنس ہو جائے، So that the witness should come prepared on this. (تاکہ گواہ تیار ہو کر آسکیں)
مرزا ناصر احمد: ہاں جی، ریفرنس دے دیں۔
Mr. Yahya Bakhtiar: Because that way we will be able to dispose of the whole thing tomorrow then, if possible.
(جناب یحییٰ بختیار: کیونکہ اس طریقے سے اگر ممکن ہوا تو ہم کل تمام کام نمٹا دیں گے)
٨٢
1353 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
(جناب چیئرمین: جی ہاں) Mr. Chairman: Yes. جناب یحییٰ بختیار: اگر میں ابھی بتادوں تو ...... مرزا ناصر احمد: اگر آپ ابھی ریفرنس دے دیں ...... جناب یحییٰ بختیار: ہاں، اگر ...... 1333 جناب چیئرمین: تھوڑا سا دے دیں تاکہ Just give him brief (مختصر سا نقشہ گواہوں کو دے out-line so that the witness should..... دیں۔.....) جناب یحییٰ بختیار: ہاں، تو میں پڑھ کے کچھ سنا دیتا ہوں جی۔
Mr. Chairman: Yes.
(جناب چیئرمین: جی ہاں)
(مباحثہ راولپنڈی ص ١٤٥ کی عبارت کے بارہ میں استفسار)
جناب یحییٰ بختیار: ایک حوالہ ہے جی ”خطِ مسیح موعود“ ١٧ اگست ١٨٩١ء، مطبوعہ ”مباحثہ راولپنڈی“ صفحہ: ١٤٥۔ اس میں فرماتے ہیں: ”اسلام میں نبی اور رسول کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ وہ کامل شریعت لاتے ہیں یا بعض احکامِ شریعتِ سابقہ کو منسوخ کرتے ہیں یا یہ نبی سابق کی اُمت نہیں کہلاتے۔ وہ براہِ راست بغیر استفادہ کسی نبی کے خدا تعالیٰ سے تعلق رکھتے ہیں۔“
پھر آگے یہ ان کا ایک ”حمامتہ البشریٰ“ صفحہ: ٣٤۔
مرزا ناصر احمد: ”حمامتہ البشریٰ“
جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، صفحہ: ٣٤، از مرزا غلام احمد قادیانی۔ اس میں وہ فرماتے ہیں۔..... یہ جو ہے ناں اس پر ایک اور بھی ہے حوالہ اس کا، شاید، یہ ٹھیک نہیں ہے۔ ”روحانی خزائن“ ج ٧، ص ٢٠٠۔
مرزا ناصر احمد: ٢٠٠۔
(حمامتہ البشریٰ کی ایک عبارت کے بارہ میں استفسار)
جناب یحییٰ بختیار: ٢٠٠ جی، Two Hundred اس میں فرماتے ہیں کہ : ”کیا تو نہیں جانتا کہ پروردگار، رحیم، صاحب فضل، نے ہمارے نبی کا بغیر کسی استثناء خاتم النبیین نام
٨٣
TAN 23rd Aug, 1974 No:10
(جناب چیئرمین pudiating that he is And I will just ask a again.
(جناب یحییٰ بختیار اس موضوع کے بارے میں حوالہ مرزا ناصر احمد: ا on ......
(جناب چیئرمین
جناب یحییٰ بختیار
a can leave. There
(جناب چیئرمین
جناب یحییٰ بختیار
جناب چیئرمین
جناب یحییٰ بختیار کو نوٹ کر کے .......
جناب چیئرمین e prepared on this.
مرزا ناصر احمد: that way we will be morrow them, if
(جناب یحییٰ بختیار
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
رکھا اور ہمارے نبی نے اہل طلب کے لئے اس کی تفصیل اپنے قول لا نبی بعدی میں واضح طور پر فرمائی اور اگر ہم اپنے نبی کے بعد کسی نبی کا ظہور جائز قرار دیں تو گویا ہم باب وحی بند ہونے کے بعد اس کا کھلنا جائز قرار دیں گے اور یہ صحیح نہیں جیسا کہ مسلمانوں پر ظاہر ہے، ہمارے رسول کے بعد نبی کیونکر آ سکتا ہے 1334 درآں حالیکہ آپ کی وفات کے بعد وحی منقطع ہو گئی اور اللہ نے آپ پر نبیوں کا خاتمہ فرما دیا۔“
(حمامۃ البشریٰ ص ٢٠، خزائن ج ٧ ص ٢٠٠)
پھر آگے یہ ایک اور حوالہ اسی قسم کا ہے کہ: ”آنحضرت نے بار بار فرما دیا تھا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا.....“
مرزا ناصر احمد: یہ دوسرا حوالہ کہاں کا ہے؟
(کتاب البریہ کی ایک عبارت کے بارہ میں استفسار)
جناب یحییٰ بختیار: اب یہ جی میں.......یہ ہے ”کتاب البریہ“ ص ١٨٤ حاشیہ، روحانی خزائن، جلد ١٣ ص ٢١٧، ٢١٨ حاشیہ۔
مرزا ناصر احمد: ”کتاب البریہ۔“
جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، ص ٢١٧، ٢١٨۔
مرزا ناصر احمد: جی (اپنے وفد کے ایک رکن سے) نوٹ کر لیں۔
جناب یحییٰ بختیار: ”آنحضرت نے بار بار فرما دیا تھا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور حدیث لا نبی بعدی ایسی مشہور تھی کہ کسی کو اس کی صحت پر کلام نہ تھا اور قرآن شریف جس کا ہر لفظ قطعی ہے اپنی آیت ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین سے بھی اس بات کی تصدیق کرتا تھا کہ فی الحقیقت ہمارے نبی پر نبوت ختم ہو چکی ہے۔“
پھر یہ ایک اور حوالہ میں پڑھتا ہوں......
مرزا ناصر احمد: جی۔ یہ اس کا حوالہ پہلے لکھوادیں تاکہ رہ نہ جائے۔ نہیں، نہیں......
جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔ یہ جی ”روحانی خزائن“ وہ میں لکھوا چکا ہوں۔ وہ پھر لکھواؤں آپ کو؟
مرزا ناصر احمد: نہ، نہ، نہ، وہ لکھ لیا۔
٨٤
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
جناب یحییٰ بختیار: یہ جو پڑھ رہا ہوں......
1335مرزا ناصر احمد: ہاں، جواب نیا پڑھنے لگے ہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: یہ ہے جی ”روحانی خزائن“ جلد:٢٠، صفحہ:٤١٢۔
مرزا ناصر احمد: ”تجلیات الٰہیہ“ صفحہ:٢٥ ”روحانی خزائن“ جلد:٢٠، صفحہ:٤١٢۔
(مرزا قادیانی کا نبوت کے بارہ میں دوسرا اسٹیج)
جناب یحییٰ بختیار: ”اب بجز محمدی نبوت کے سب نبوتیں بند ہیں۔۔۔۔“ اب دوسرا اسٹیج آگیا۔
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔
جناب یحییٰ بختیار: ”۔۔۔۔شریعت والا نبی کوئی نہیں آسکتا اور بغیر شریعت کے نبی ہوسکتا ہے، مگر وہی جو پہلے امتی ہو۔ اس بنا پر میں امتی بھی ہوں اور نبی بھی۔“ (ایضاً)
مرزا ناصر احمد: یہ جو میں نے سر ہلایا تھا، وہ ”دوسرے اسٹیج“ پر نہیں ہلایا، یعنی میں اس سے نہیں متفق۔
جناب یحییٰ بختیار: آپ گستاخی نہ سمجھیں، مرزا صاحب! میں......
مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: ......اس کی Stages (مقام) میں بتا رہا ہوں۔
مرزا ناصر احمد: ٹھیک ہے یہ آپ بتادیں سارے۔ کل مسئلہ حل کریں گے، ان شاء اللہ یہاں بیٹھ کر۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں پھر ایک اور ہے جی: ”نبی کے لفظ۔۔۔۔“1336یہ پہلے حوالہ یہ ہے جی ”روحانی خزائن“ یہ بھی جلد:٢٠، صفحہ:٤٠١۔
مرزا ناصر احمد: چار سو......؟
Mr. Yahya Bakhtiar: Four hundred and one.
(جناب یحییٰ بختیار: چارسو اور ایک)
Mirza Nasir Ahmad: Four hundred and one.
٨٥
KISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
رکھا اور ہمارے نبی نے اہلِ طلب تـ فرمائی اور اگر ہم اپنے نبی کے بعد کسـ بعد اس کا کھلنا جائز قرار دیں گے اور
1334
بعد نبی کیونکر آ سکتا ہے درآں حا نبیوں کا خاتمہ فرما دیا۔“
پھر آگے یہ ایک اور حوالہ بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔۔۔۔“
مرزا ناصر احمد: یہ دوسـ
(کتاب البریہ کی
جناب یحییٰ بختیار: روحانی خزائن، جلد١٣ ص٢١٧، ٢١٨
مرزا ناصر احمد: ”کتـ
جناب یحییٰ بختیار: یـ
مرزا ناصر احمد: جی (
جناب یحییٰ بختیار: آئے گا اور حدیث لا نبی بعدی انکـ جس کا ہر لفظ قطعی ہے اپنی آیت و ا کرتا تھا کہ فی الحقیقت ہمارے نبی
پھر یہ ایک اور حوالہ میں
مرزا ناصر احمد: جی،
جناب یحییٰ بختیار: لکھواؤں آپ کو؟
مرزا ناصر احمد: نہ،
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
(مرزا ناصر احمد: چار سو اور ایک)
جناب یحییٰ بختیار: ”نبی کے لفظ سے اس زمانے کے لئے صرف خدا تعالیٰ کی یہ مراد ہے کہ کوئی شخص کامل طور پر شرفِ مکالمہ ومخاطبہ الٰہیہ حاصل کرے، اور تجدیدِ دین کے لئے مامور ہو۔ یہ نہیں کہ کوئی دُوسری شریعت لاوے، کیونکہ شریعت آنحضرت پر ختم ہے۔“
(تجلیاتِ الٰہیہ ص: ١٠، حاشیہ خزائن ج: ٢٠ ص: ٤٠١)
پھر ہے جی ”روحانی خزائن“ جلد: ٢٠، وہی والی، ٣٢٧ صفحہ۔
مرزا ناصر احمد: ٣٢٧۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، Three Twenty Seven (٣٢٧) ”...... تم بغیر نبیوں اور رسولوں کے ذریعے وہ نعمتیں کیونکر پاسکتے ہو۔ لہٰذا ضرور ہوا کہ تمہیں یقین اور محبت کے مرتبہ تک پہنچانے کے لئے خدا کے انبیاء وقتاً فوقتاً آتے رہیں جن سے تم وہ نعمتیں پاؤ۔ اب کیا تم خدا تعالیٰ کا مقابلہ کرو گے اور اس کے اس قدیم قانون کو توڑ دو گے ۔“
اب ایک اور حوالہ جی ”ضمیمہ براہین احمدیہ“ حصہ پنجم ص ١٣٨، ”روحانی خزائن“ جلد ٢١، صفحہ ٣٠٦۔
مرزا ناصر احمد: جی۔
جناب یحییٰ بختیار: ”یہ تمام بدقسمتی اس دھوکے سے پیدا ہوتی ہے کہ نبی کے حقیقی معنوں پر غور نہیں کی گئی، نبی کے معنی صرف یہ ہیں کہ خدا کے بذریعہ وحی خبر پانے والا ہو اور شرفِ مکالمہ و1337 مخاطبہ الٰہیہ سے مشرف ہو۔ شریعت کا لانا اس کے لئے ضروری نہیں، اور نہ ہی یہ ضروری ہے کہ صاحب تشریع رسول......“ کوئی لفظ ہے جی، وہ مٹ گیا ہے کچھ۔
مرزا ناصر احمد: ٹھیک ہے، وہ دیکھ لیں گے۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، وہ حوالہ آپ دیکھ لیں۔
Mr. Chairman: The rest for tomorrow.
(جناب چیئرمین: کل ریسٹ ہوگا)
Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, two three are more, I will read so that .......
٨٦
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
(جناب یحییٰ بختیار: جناب والا! دو تین بس، یہی تھے میں نے کافی چھوڑ دیئے ہیں......)
مرزا ناصر احمد: آپ صرف کتابوں کے صفحے لکھوادیں۔
جناب چیئرمین: صرف کتابوں کے صفحے لکھوادیں، صبح پڑھ لیں پھر۔
جناب یحییٰ بختیار: وہ ہے جی، پھر یہ ہے ”روحانی خزائن“ جلد:٢٢، صفحہ:٩٩-١٠٠، Ninty-nine and hundred (نانوے اور سو)
مرزا ناصر احمد: جی ٹھیک ہے، اگلا صفحہ؟
جناب یحییٰ بختیار: پھر ہے جی ”روحانی خزائن“ یہ بھی والیم ٢٢، صفحہ ٤٠٦ اور ٤٠٧۔
پھر یہ ”روحانی خزائن“ جلد١٨، صفحہ ٣٨١۔
مرزا ناصر احمد: جی۔ نہیں، لکھ لیا؟ ٹھیک ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: پھر ہے ”روحانی خزائن“ جلد٢٢، صفحہ ١٠٠۔
پھر یہ ”روحانی خزائن“ جلد١٨، صفحہ٢١٠، ٢١١۔
مرزا ناصر احمد: ٢١٠، ٢١١۔
جناب یحییٰ بختیار: ”روحانی خزائن“ جلد٢١، صفحہ١١٧، ١١٨۔
1338”روحانی خزائن“ جلد١٨، صفحہ٢٣١، Two thirty-one
”روحانی خزائن“ جلد٢٢، صفحہ ٢٢٠۔
مرزا ناصر احمد: ٢٢-٢٢٠۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔
”فتاویٰ احمدیہ“ جلد اوّل، صفحہ ١٤٩، One Four Nine
مرزا ناصر احمد: یہ کس کی لکھی ہوئی کتاب ہے؟
جناب یحییٰ بختیار: ”فتاویٰ احمدیہ“ جلد اوّل۔ مجھے نہیں...... وہ معلوم کرلیں گے، یہاں ہے میرے پاس۔
مرزا ناصر احمد: ہاں، نہیں، میرا مطلب صرف یہ بتانا تھا کہ یہ بانی سلسلہ کی کتاب نہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: نہ، نہ ہوگی، مگر اس میں شاید کوئی Extract ہو یا کوئی چیز ہو۔
٨٧
OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
(مرزا ناصر احمد: چار سو اور ایک
جناب یحییٰ بختیار: ”نبی کے مراد ہے کہ کوئی شخص کامل طور پر شرف مکالمہ مامور ہو۔ یہ نہیں کہ کوئی دُوسری شریعت لاوے
پھر ہے جی ”روحانی خزائن“ جلد
مرزا ناصر احمد: ٣٢٧۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، ”......تم بغیر نبیوں اور رسولوں کے تمہیں یقین اور محبت کے مرتبہ تک پہنچانے کے وہ نعمتیں پاؤ۔ اب کیا تم خدا تعالیٰ کا مقابلہ کرو
اب ایک اور حوالہ جی ”ضمیمہ بر جلد٢١، صفحہ ٣٠٦۔
مرزا ناصر احمد: جی۔
جناب یحییٰ بختیار: ”یہ تمام ب معنوں پر غور نہیں کی گئی، نبی کے معنی صرف یہ مکالمہ و 1337مخاطبہ الہیہ سے مشرف ہو۔ شریعت ضروری ہے کہ صاحب تشریع رسول......“ کوئی
مرزا ناصر احمد: ٹھیک ہے، وہ د
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، وہ حوال st for tomorrow.
(جناب چیئرمین: کل ریسٹ Sir, two three are more, I
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
مرزا ناصر احمد: ہاں، اگر وہ حوالہ ہو تب تو ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ نکال کے دکھا دیں گے۔ مرزا ناصر احمد: ۔۔۔۔۔ ورنہ وہ ضبط ہو جائے گا، کیونکہ پہلے سارے حوالے ان کے ہیں۔ جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔ پھر وہ شعر تو آپ دیکھ چکے ہیں، ہم سب بھی دیکھ چکے ہیں، یہ ہے:
وہ شعر جو ہے ناں، وہ بھی ”روحانی خزائن“۔۔۔۔۔۔ مرزا ناصر احمد: ہاں، یہ ”درثمین“ فارسی میں سے نکل آئے گا۔ جناب یحییٰ بختیار: جلد ١٨، صفحہ ٤٧٧۔ 1339 مرزا ناصر احمد: ہاں، نہیں، یہ شعر لکھ لیتے ہیں، وہ دوسری میں سے نکل آئے گا۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ یہاں بھی دیئے ہوئے ہیں۔ مرزا ناصر احمد: نہیں، میرا مطلب یہ ہے کہ دو کتابوں کے مختلف ریفرنس ہیں ناں۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ ”روحانی خزائن“ سے زیادہ ہیں، اس واسطے میں ای۔۔۔۔۔۔ مرزا ناصر احمد: ہاں، جی، آپ تو ٹھیک فرما رہے ہیں۔ (اپنے وفد کے ایک رکن کی طرف اشارہ کر کے) ان کو میں نے یہ کہا ہے کہ یہ مصرع لکھ لیں۔ تو یہ مصرع ہم نکال لیں گے جہاں بھی ہو۔ جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔
”روحانی خزائن“ جلد ١٨، صفحہ ٣٨٢۔
Mirza Nasir Ahmad: Three hundred and eighty-two. (مرزا ناصر احمد: تین سو اور بیاسی)
Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, eighty-two. (جناب یحییٰ بختیار: جناب والا! بیاسی)
٨٨
1359 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
”روحانی خزائن“ جلد ١٨، صفحہ ٣٧٦۔٣٨٢۔
پھر ”روحانی خزائن“ جلد ٢٢ اور صفحہ ١٥٢۔
One fifty-two. That's all, Sir. I have left quite a few out.
مرزا ناصر احمد: اس کے متعلق میں یہ عرض کروں گا، کیونکہ کام بہت سا کرنا ہے اور اس وقت دس بج چکے ہیں، گھر پہنچنے تک ساڑھے دس ہو جائیں گے، کھانا وغیرہ کھانا ہے، پھر رات کے بھی بہت سارے فرائض ہوتے ہیں۔ تو اگر کل ذرا دیر بعد ہو جائے تو یہ کام ختم کر کے لے آئیں ہم۔ ایک درخواست ہے۔
1340 Mr. Yahya Bakhtiar: We meet at 10:30. (جناب یحییٰ بختیار: ہم ساڑھے دس بجے ملیں گے)
Mr. Chairman: Half Past Ten. (جناب چیئرمین: ١٠:٣٠)
Mr. Yahya Bakhtiar: At half past ten we will meet. (جناب یحییٰ بختیار: ہم ١٠:٣٠ بجے ملیں گے)
Mirza Nasir Ahmad: 11:00 بہت کام ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: وہ گیارہ ہو جائے گا۔ آپ......
مرزا ناصر احمد: ہاں، وہ ”ہو جائے گا“ والا ٹھیک ہے پھر۔ مشکل یہ ہے کہ ہمیں اپنے وقت پر آنا پڑتا ہے۔
Mr. Chairman: The Delegation can come at 11:00? at 11:00. (جناب چیئرمین: وفد گیارہ بجے آئے گا؟ گیارہ بجے آ سکتا ہے)
Mr. Yahya Bakhtiar: At 11:00. (جناب یحییٰ بختیار: گیارہ بجے)
مرزا ناصر احمد: ہاں، شکریہ جی، یہ ٹھیک ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: یہ ہے، یہ دیکھیں، آپ کا ”مجموعہ فتاویٰ احمدیہ، جلد اوّل......
٨٩
Y OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
مرزا ناصر احمد: ہاں، اگر وہ حوالہ
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ ل
مرزا ناصر احمد: ..... ورنہ وہ ضبط ہ
جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔
پھر وہ شعر تو آپ دیکھ چکے ہیں، ہم
وہ شعر جو ہے ناں، وہ بھی ”روحانی
مرزا ناصر احمد: ہاں، یہ ”دُرّثمین“
جناب یحییٰ بختیار: جلد ١٨، صفحہ
1339 مرزا ناصر احمد: ہاں، نہیں،
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ یہ
مرزا ناصر احمد: نہیں، میرا مطلب
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ
....................اسی
مرزا ناصر احمد: ہاں، جی، آپ طرف اشارہ کرکے) ان کو میں نے یہ کہا ہ جہاں بھی ہو۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔
”روحانی خزائن“ جلد ١٨، صفحہ ٢
d: Three hundred and (مرزا ناصر احمد: تین سو اور ب
ir, eighty-two... (جناب یحییٰ بختیار: جناب م
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
مرزا ناصر احمد: ہاں۔
جناب یحییٰ بختیار: ”ارشادات امام جماعت حضرت مرزا غلام احمد قادیانی۔ یہ مولوی فضل خان احمدی۔“
مرزا ناصر احمد: ہاں جی، اس میں........
جناب یحییٰ بختیار: ”مولوی فضل خان احمدی“
مرزا ناصر احمد: ہاں جی، میں سمجھ گیا ہوں، اس میں ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ اس صفحے پر اگر کوئی حوالہ دیا ہوا ہے تو اصل میں حوالہ موجود ہے یا نہیں۔
1341 جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! مجھے تو جو ملتا ہے ناں......
مرزا ناصر احمد: ٹھیک ہے، نہیں بالکل ٹھیک ہے، جی۔
جناب یحییٰ بختیار: تو آپ چیک کرلیں۔
--------
(The Delegation left the Chamber)
(وفد ہال سے چلا گیا)
--------
Mr. Chairman: The honourable members will keep sitting.
(جناب چیئرمین: معزز اراکین تشریف رکھیں)
Reporters can go; They can leave also.
(رپورٹرز جاسکتے ہیں، رپورٹرز بھی چلے گئے)
--------
[The Special Committee of the Whole House subsequently adjourned to meet at half past ten of the clock, in the morning, on Saturday, the 24th August, 1974.]
(خصوصی کمیٹی کا اجلاس بروز ہفتہ بتاریخ ٢٤؍اگست ١٩٧٤ء صبح ١٠:٣٠ بجے تک ملتوی ہوا)
--------
٩٠
PAKISTAN 23rd Aug, 1974 No:10
مرزا ناصر احمد: ہاں۔ جناب یحییٰ بختیار: ”ارش مولوی فضل خان احمدی۔“ مرزا ناصر احمد: ہاں جی، اس جناب یحییٰ بختیار: ”مولوی مرزا ناصر احمد: ہاں جی، میں اگر کوئی حوالہ دیا ہوا ہے تو اصل میں حوالہ مو 1341 جناب یحییٰ بختیار: مر مرزا ناصر احمد: ٹھیک ہے ج جناب یحییٰ بختیار: تو آپ
he Chamber) )
nourable members will (جناب چیئرمین: معزز ا leave also. (رپورٹرز جاسکتے ہیں، رپور of the Whole House alf past ten of the clock, th August, 1974.] (خصوصی کمیٹی کا اجلاس بروز ہفتہ بتا
1361 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
No. 11
THE
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN
PROCEEDINGS
OF
THE SPECIAL COMMITTEE OF THE
WHOLE HOUSE HELD IN CAMERA
TO CONSIDER THE QADIANI ISSUE
OFFICIAL REPORT,
Saturday, the 24th August, 1974
(Contains No. 1-21)
CONTENTS
Pages
- 1. Recitation from the Holy Qu'ran .............................................................. 1345
- 2. Cross-examination of the Qadiani Group Delegation ......................................... 1345-1416
- 3. Attack on MNA ................................................................................ 1416-1418
- 4. Cross-examination of Qadiani Group Delegation-Concluded ................................... 1419-1506
PRINTED BY THE MANAGER, PRINTING CORPORATION OF PAKISTAN PRESS, ISLAMABAD. PUBLISHED BY THE NATIONAL BOOK FOUNDATION, ISLAMABAD
1362 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
No. 11
THE
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN
PROCEEDINGS
OF
THE SPECIAL COMMITTEE OF THE
WHOLE HOUSE HELD IN CAMERA
TO CONSIDER THE QADIANI ISSUE
OFFICIAL REPORT
Saturday, the 24th August, 1974
(Contains Nos. 1-21)
٢
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
*1345
THE NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN
(قومی اسمبلی پاکستان)
PROCEEDINGS
OF
THE SPECIAL COMMITTEE OF THE
WHOLE HOUSE HELD IN CAMERA
TO CONSIDER THE QADIANI ISSUE.
OFFICIAL REPORT
Saturday, the 24th August, 1974.
(کل ایوانی خصوصی کمیٹی بند کمرے کی کارروائی)
(٢٤؍ اگست ١٩٧٤ء، بروز ہفتہ)
The Special Committee of the Whole House met in Camera in the Assembly Chamber, (State Bank Building), Islamabad, at half past ten of the clock, in the morning. Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali) in the Chair.
(مکمل ایوان کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس اسمبلی چیمبر (سٹیٹ بینک بلڈنگ) اسلام آباد صبح ساڑھے دس بجے جناب چیئرمین (صاحبزادہ فاروق علی) کی زیر صدارت منعقد ہوا)
(Recitation from the Holy Quran)
(تلاوتِ قرآن شریف)
٣
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
1346 Mr. Chairman: Should we call them? (جناب چیئرمین: کیا انہیں بلالیں؟)
Mr. Yahya Bakhtiar (Attorney-General of Pakistan): Yes, Sir.
(جناب یحییٰ بختیار (اٹارنی جنرل آف پاکستان): جی ہاں جناب والا) جناب چیئرمین: (سیکرٹری سے) ان کو بلالیں جی (وفد سے) آئیں جی، آئیں!
---------------------------------------------
(The Delegation entered the Chamber) (وفد ہال میں داخل ہوا)
Mr. Chairman: Yes, Mr. Attorney-General. (جناب چیئرمین: جی مسٹر اٹارنی جنرل)
CROSS-EXAMINATION OF THE QADIANI
GROUP DELEGATION
(قادیانی وفد پر جرح)
(سوالات کے جوابات کی طرف توجہ)
جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! آپ نے کافی سے زیادہ جواب دیئے ہیں۔
مرزا ناصر احمد (گواہ، سربراہ جماعت احمدیہ، ربوہ): جی، وہ تیار ہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: اب ایک گزارش یہ کرنا تھی کہ وہ کچھ ”الفضل“ کے حوالے، میں نے ذکر کیا تھا پرسوں، ان کی ہمیں ریکارڈ میں ضرورت ہوگی۔ اگر آپ کے پاس ان کی اوریجنل کاپی نہیں تو ان میں سے Extract ہمیں دے دیں۔ وہ ”اکھنڈ بھارت“ کے بارے میں اپریل، مئی اور جون ١٩٤٧ء کے ہیں، کیونکہ ہمارے پاس جو باقی جگہ سے نوٹ کئے ہیں یا فوٹواسٹیٹ ہیں، وہ ٹھیک نہیں ہیں۔
مرزا ناصر احمد: یہ ایک دفعہ تاریخ پڑھ دیں تاکہ میں تسلی سے ...... وہ میں دیکھ لاؤں گا۔ اگر Spare (فالتو) ہوئے تو اخبار دے دیں گے.......
٤
1365 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، اگر نہیں ہوئے تو......
مرزا ناصر احمد: ......ورنہ فوٹو اسٹیٹ کاپی دے دیں گے۔
جناب یحییٰ بختیار: .....فوٹو اسٹیٹ دے دیں۔ ریکارڈ میں ایسی چیز......
مرزا ناصر احمد: ہاں، جی ٹھیک ہے۔
1347 جناب یحییٰ بختیار: وہ ہم آپ کو دے دیتے ہیں جی تاریخیں تمام۔
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں ٹھیک ہے۔ یہ ”محضر نامہ“ واپس کر رہے ہیں جو ہمیں ملا تھا۔
(محضر نامہ واپس)
جناب یحییٰ بختیار: ”جی، جی یہ دے دیں۔
مرزا ناصر احمد: ایک فارسی، دو فارسی کے شعر پڑھے گئے تھے کل، کہ اس کا کیا مطلب ہے۔ معاف کریں، عینک میری ذرا خراب ہو گئی، صاف کرلوں اسے۔
(اشعار کا مطلب)
جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! میں دراصل آپ کو یہ عرض کر رہا تھا کہ یہ Different Stage (مختلف مرحلے) معلوم ہو رہی ہیں، تو وہ آپ Clarify (واضح) کردیں۔ باقی وہ شعر بھی پہلے پڑھے جاچکے ہیں۔
مرزا ناصر احمد: شعر میں نے صرف تین پڑھنے ہیں اور ان کا مطلب......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، بے شک۔ میں ایسے ہی کہہ رہا ہوں کہ جو میرا مطلب تھا اس میں، یہ ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مرزا صاحب نے Opinion Change (نظریہ تبدیل) کیا......
مرزا ناصر احمد: جی، جی۔
جناب یحییٰ بختیار: ......یا بعد میں انہوں نے نبی کہا۔ پھر وہ کہتے ہیں، نہیں ہے۔ تو اس واسطے وہ چیزیں جو ہیں، ان کی Clarification (وضاحت) کی ضرورت ہے۔ باقی ہر ایک Extract (اقتباس) کی وہ Detail (تفصیل)۔ مطلب تو وہ پہلے بھی آپ سنا چکے ہیں۔ ضرورت نہیں۔
مرزا ناصر احمد: جی، جی۔ میں یہ......
جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! فرمائیے آپ۔
٥
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
مرزا ناصر احمد: آپ کام میں مشغول تھے، میں نے کہا میں Interfere (مداخلت) نہ کروں۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ انصاری صاحب مجھے کچھ حوالے دے رہے تھے۔
مرزا ناصر احمد: کل دو شعر پڑھے گئے تھے اور میں اس سے اگلا تیسرا ایک شعر پڑھ دوں گا 1348 اور مطلب واضح ہو جائے گا۔ کل جو پڑھے گئے ان میں سے پہلا ”دُرِثمین“ کی نظم میں اپنے یعنی پہلے آیا ہے:
داد آں جام را مرا بہ تمام“
دُوسرا یہ پڑھا گیا تھا:
من بہ عرفاں نہ کمترَم زِ کسے“
(نزول المسیح ص: ٩٩، خزائن ج: ١٨ ص: ٤٧٧)
اور جواب میں شعر میں یہ پڑھ رہا ہوں:
از پئے صورتِ مہِ مدنی“
میں ترجمہ کر دیتا ہوں، واضح ہو جائے گا۔ صرف ترجمہ کافی ہے جواب میں: ”جو جام اللہ نے ہر نبی کو عطا کیا تھا وہی جام اس نے کامل طور پر مجھے بھی دیا۔“
”اگرچہ انبیاء بہت ہوئے ہیں، مگر میں معرفت میں کسی سے کم نہیں ہوں۔“
یہ وہ جو شعر کل پڑھے گئے تھے، ان کا ترجمہ ہے اور جو اس کا جواب آگے اسی جگہ ہے، وہ یہ ہے: لیکن ....... وہ سارا لکھنے کے بعد فرماتے ہیں: ”لیکن میں ربّ غنی کی طرف سے بطور آئینہ کے ہوں اس مدینہ کے چاند کی صورت دُنیا کو دکھانے کے لئے ..... محمد ﷺ۔“
ایک کل پوچھا گیا تھا عدالت میں کوئی معاہدہ کیا ..... عدالت میں کوئی معاہدہ کیا گیا اور وہ معاہدہ عدالت نے پابند کیا کہ کوئی اپنا الہام کسی کے متعلق شائع نہ کریں، اور اس پر دستخط کر دیئے اور یہ تو نبی کی شان کے نہیں ہے موافق۔ کوئی اس قسم کا تھا، مجھے صحیح یاد نہیں رہا۔ بہرحال اس 1349 کے اُوپر یہ اعتراض کیا گیا تھا۔ یہ تاریخ، تاریخ ٢٤؍فروری ١٨٩٩ء یعنی ایک کم سو، ١٨٩٩ء بروز جمعہ اس طرح پر اس کا فیصلہ ہوا ۔ وہ سارا مضمون آیا ہے.......
٦
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
(عدالت میں کوئی معاہدہ ہوا کہ کوئی اپنا الہام شائع نہ کرے؟)
جناب یحییٰ بختیار: یہ گورداسپور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کا کورٹ تھا۔
مرزا ناصر احمد: ...... بتاریخ ٢٤؍فروری ١٨٩٩ء بروز جمعہ، اس طرح پر اس کا فیصلہ ہوا کہ:
’’فریقین سے اس مضمون کے نوٹسوں پر دستخط کرائے گئے کہ آئندہ کوئی فریق اپنے کسی مخالف کی نسبت موت وغیرہ، دل آزار مضمون کی پیش گوئی نہ کرے، شائع نہ کرے۔‘‘
یہ ٢٤؍فروری ١٨٩٩ء ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس سے چھ سال قبل ہی اعلان خود اپنے طور پر بانی سلسلہ احمدیہ کر چکے تھے۔ ٢٠؍فروری ١٨٨٦ء کو یہ اعلان ہوا ہے، ٢٠؍فروری ١٨٨٦ء: ’’اس عاجز نے اشتہار ٢٠؍فروری ١٨٨٦ء میں اندرمن مراد آبادی اور لیکھرام پشاوری کو اس بات کی دعوت کی تھی کہ اگر وہ خواہش مند ہوں تو ان کی قضاوقدر کی نسبت بعض پیش گوئیاں شائع کی جائیں۔ سو اس اشتہار کے بعد اندرمن نے تو اعتراض کیا (اس واسطے اس کے متعلق پیش گوئی شائع نہیں کی گئی۔ یہ میں اپنی طرف سے کہہ رہا ہوں۔ الفاظ یہ ہیں کہ) اس اشتہار کے بعد اندرمن نے تو اعتراض کیا اور کچھ عرصہ کے بعد فوت ہوگیا۔ لیکن لیکھ رام نے بڑی دلیری سے ایک کارڈ اس عاجز کی طرف روانہ کیا کہ میری نسبت جو پیش گوئی چاہو شائع کردو، میری طرف سے اجازت ہے۔‘‘
اسی طرح اس فیصلے سے قبل آپ نے ایک اشتہار میں یہ اعلان کیا، اس فیصلے سے قبل:
’’میرا ابتداء سے ہی یہ طریق ہے کہ میں نے کبھی کوئی انذاری پیش گوئی بغیر رضامندی مصداق پیش گوئی کے شائع نہیں کی۔‘‘
1350 تو عدالت اس کی Bound (پابند) نہیں ہے، بلکہ جو پہلے اپنے آپ کو جس چیز میں باندھا ہوا تھا، عدالت کا چونکہ وہی فیصلہ تھا آپ نے اس پر دستخط کردیئے۔
جناب یحییٰ بختیار: اس پر مرزا صاحب! ایک سوال آتا ہے کہ یہ جو انہوں نے پہلے اشتہار دیا تھا کہ: ’’میں نے اپنے آپ کو پابند کیا تھا ١٨٨٦ء میں‘‘ — ١٨٨٦ء میں تو انہوں نے نبوّت کا دعویٰ نہیں کیا تھا۔
مرزا ناصر احمد: جی؟
جناب یحییٰ بختیار: ١٨٨٦ء میں تو مرزا صاحب نے نبوّت کا دعویٰ نہیں کیا تھا۔
مرزا ناصر احمد: ١٨٨٦ء میں نبوّت کا دعویٰ نہیں کیا، ملہم ہونے کا دعویٰ کیا۔
٧
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
(مرزا قادیانی نے مسیح موعود کا دعویٰ کب کیا؟)
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں یہ کہہ رہا ہوں، کیونکہ آپ نے Date Fix کی ناں ١٨٩١ء کہ انہوں نے اس وقت مسیح موعود کا دعویٰ کیا۔
مرزا ناصر احمد: نہیں، جی۔ (اپنے وفد کے ایک رکن سے) نکالو جی۔ (اٹارنی جنرل سے) ذرا ٹھہر جائیں جی، اس کو دیکھیں کتابوں میں۔
جناب یحییٰ بختیار: اس میں Confusion (غلط ملط) ہوگئی ناں۔
مرزا ناصر احمد: ٹھیک ہے، ٢٠؍فروری ١٨٨٦ء۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، ہاں۔
مرزا ناصر احمد: اس وقت بھی آپ کے عیسائیوں، ہندوؤں وغیرہ سے مناظرے ہوئے تھے، اور الہام ہونے کے مدعی تھے، اور اس میں انذاری پیش گوئیاں بھی تھیں۔ تو یہ ١٦ سال پہلے کا ہے اور دُوسرا پھر جو اشتہار دیا ہے وہ دعوے کے بعد کا ہے۔
(کیا نبی کی وحی عدالت کے حکم کی پابند ہوتی ہے؟)
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مرزا صاحب! میں یہ عرض کر رہا تھا، آپ نے کہا، اس واسطے میں زیادہ ٹائم نہیں لینا چاہتا۔ سوال یہ ہے کہ ایک نبی کو جب ایک وحی آتی ہے تو کسی عدالت کے حکم کے تحت یہ نہیں کہتا کہ: ”اچھا، اب عدالت نے حکم دے دیا ہے، میں اللہ کی جو مجھے وحی آئے، 1351 میں اس کے بارے میں کچھ نہیں کہوں گا“ یہ جو ہے ناں سوال......
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، تو اس کا جواب جو میں نے دیا وہ یہ ہے......
جناب یحییٰ بختیار: آپ نے کہا کہ انہوں نے خود یہ پابندیاں اپنے اُوپر آپ لگائی تھیں۔
مرزا ناصر احمد: ......کہ عدالت کے پابند نہیں، بلکہ پہلے اعلان کیا تھا اور عدالت کے فیصلے سے کچھ عرصہ پہلے یہ کہا تھا کہ: ”میرا ابتدا سے ہی یہ طریق ہے کہ جو انذاری پیش گوئیاں ہیں ان کو مشتہر نہیں کرتا۔“ یہ نہیں کہا کہ ”میں بتاتا نہیں“ یعنی ”اپنے دوستوں میں، اپنے حلقے میں بتاتا ہوں، لیکن ان کو اشتہار اور اخبار کے ذریعے میں مشتہر نہیں کرتا جب تک ان کی رضامندی نہ ہو۔“
جناب یحییٰ بختیار: تو اس وجہ سے انہوں نے عدالت کے اس فیصلے کو منظور کیا؟
٨
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
مرزا ناصر احمد: چونکہ انہی کے اپنے ......
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، مطلب یہ ہے کہ......
مرزا ناصر احمد: ......اپنے طریق کار کے مطابق تھا۔
جناب یحییٰ بختیار: یہ جو عدالت میں بات ہوئی ہے، درست ہے، مگر یہ کہ آپ اس کی وجہ یہ بتارہے ہیں۔
مرزا ناصر احمد: جناب مولوی ثناء اللہ صاحب کے متعلق پیش گوئی، آپ نے فرمایا تھا کہ اس کے متعلق وہ ایک شق پوری نہیں ہوتی۔ جو بھی آپ نے حضرت مولوی ثناء اللہ صاحب کے متعلق اعلان کیا، یہ جو ہے ناں مباہلہ یا مقابلہ، اس میں دو طرفین ضروری ہیں: جس طرح یہ محاورہ ہے کہ ہاتھ سے تالی نہیں بجتی، تو آپ نے کہا کہ ”آؤ، مباہلہ کرتے ہیں“ اس کا جواب مولوی ثناء اللہ صاحب نے دیا، یہ دیا ہے ”اہلِ حدیث“ کے پرچہ ١٩٠٧ء ــــ اور اس کی فوٹواسٹیٹ کاپی ہم ساتھ یہ ابھی داخل کروادیں گے ــــ جواب مولوی ثناء اللہ نے اس چیلنج کا دعوت مقابلہ کا یہ دیا کہ: 1352 ”یہ تحریر تمہاری (کہ کون پہلے مرے کون بعد میں) یہ تحریر تمہاری مجھے منظور نہیں اور نہ کوئی دانا اس کو منظور کر سکتا ہے۔“
اس واسطے اس کو یہ کہنا کہ کوئی مقابلہ ہو گیا تھا، جس کی شکل وہ نہیں نکلی جو سچے ہوتے تو نکلتی، اس کا سوال ہی نہیں۔ انہوں نے لکھا ہے: ”کوئی عقل مند آدمی آپ کے مقابلے کو، چیلنج کو قبول ہی نہیں کر سکتا۔“
یہ ”اہلِ حدیث“ کے پرچے کی فوٹو اسٹیٹ کاپی جو ہے......
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، اس کے ساتھ ہی اگر آپ وہ جو اشتہار مرزا صاحب کا ہے، اس کی بھی اگر کاپی آپ کے پاس ہو ــــ میرے پاس بھی ہے ــــ تاکہ......
مرزا ناصر احمد: وہ ”اہلِ حدیث“ کے اسی پرچے میں ہے۔ یہ جو فوٹو اسٹیٹ کاپی دے رہے ہیں ناں مولوی ثناء اللہ صاحب کے پرچہ ”اہلِ حدیث“ کی، اس میں......
جناب یحییٰ بختیار: اس میں تو انہوں نے دُعا کی ہے، مرزا صاحب نے......
مرزا ناصر احمد: وہ دُعا مباہلے کی ہے کہ ”تم اس دُعا سے Agree (اتفاق) کرو، تو پھر یہ ہمارے درمیان مقابلہ اور مباہلہ ہو جائے گا۔“ انہوں نے اس دُعا کو قبول کرنے سے انکار کر دیا، بڑے زور سے، کہ کوئی عقل مند آدمی اسے قبول ہی نہیں کر سکتا۔
جناب یحییٰ بختیار: اور اس میں یہ......
٩
EMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
(مرزا قادیانی نے مسیح موعود
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں یہ کہہ رہ ناں ١٨٩١ء کہ انہوں نے اس وقت مسیح موعود کا دعویٰ کیا
مرزا ناصر احمد: نہیں جی۔ (اپنے وفد سے) ذرا ٹھہر جائیں جی، اس کو دیکھیں کتابوں میں۔
جناب یحییٰ بختیار: اس میں fusion
مرزا ناصر احمد: ٹھیک ہے، ٢٠؍ فروری ١٨
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، ہاں۔
مرزا ناصر احمد: اس وقت بھی آپ کے ہوئے تھے، اور الہام ہونے کے مدعی تھے، اور اس ١٦ سال پہلے کا ہے اور دُوسرا پھر جو اشتہار دیا ہے وہ دعو
(کیا نبی کی وحی عدالت کے حکم
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مرزا صاحب واسطے میں زیادہ ٹائم نہیں لینا چاہتا۔ سوال یہ ہے کہ ایک کے حکم کے تحت یہ نہیں کہتا کہ: ”اچھا، اب عدالت آئے، 1351 میں اس کے بارے میں کچھ نہیں کہوں گا“ ی
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، تو اس کا جواب
جناب یحییٰ بختیار: آپ نے کہا کہ ا لگائی تھیں۔
مرزا ناصر احمد: ......کہ عدالت کے پابند فیصلے سے کچھ عرصہ پہلے یہ کہا تھا کہ: ”میرا ابتدا سے ہی ان کو مشتہر نہیں کرتا۔“ یہ نہیں کہا کہ ”میں بتاتا نہیں“، یعن ہوں، لیکن ان کو اشتہار اور اخبار کے ذریعے میں مشتہر نہی
جناب یحییٰ بختیار: تو اس وجہ سے انہوں
٨
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
مرزا ناصر احمد: اور اس میں ”اہلِ حدیث“ کے پرچے میں وہ سارا شامل ہے بیچ میں، جس کا انہوں نے انکار کیا ہے، وہ اس دُعا کا ہے، مولوی ثناء اللہ صاحب اس کو چیلنج، مقابلہ اور مباہلہ سمجھے ہیں اور اس کے مطابق انہوں نے جواب دیا ہے، ورنہ وہ اس دُعا کو اپنے پرچے میں شامل نہ کرتے اور یہ میں نے شامل کروائے ہیں یہاں کی Proceedings (کارروائی) میں ریکارڈ کے لئے۔
جناب یحییٰ بختیار: ان کا اشتہار بھی کہ جس میں وہ کہتے ہیں...... 1353 مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، اس کے اندر ہے۔
(جو جھوٹا ہوگا خدا اس کو طاعون یا ہیضہ......!)
جناب یحییٰ بختیار: ”جو جھوٹا ہوگا اس......“ مرزا ناصر احمد: مولوی ثناء اللہ صاحب نے دُعا کے اشتہار کو نقل کرنے کے بعد یہ جواب دیا۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ دُرست ہے۔ مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں یہ کہہ رہا ہوں انہوں نے یہ کہا تھا اس میں کہ: ”جو جھوٹا ہوگا......“
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔ جناب یحییٰ بختیار: ”......خدا اس کو طاعون......“ مرزا ناصر احمد: ٹھیک ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: ”......خدا اس کو طاعون یا ہیضہ سے......“ مرزا ناصر احمد: وہ مباہلہ کے چیلنج کی دُعا پہلے لکھ دی ہے آپ نے۔ جناب یحییٰ بختیار: اچھا۔ مرزا ناصر احمد: ثناء اللہ صاحب نے کہا ”میں اسے قبول نہیں کرتا“، ختم ہو گیا معاملہ۔
(مرزا قادیانی کی وفات ہیضہ سے ہوئی؟)
جناب یحییٰ بختیار: اور پھر اس کے بعد یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مرزا صاحب کی وفات ہیضے سے ہوئی۔
١٠
1371 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
مرزا ناصر احمد: میں، ہاں، جی نہیں، ٹھیک ہے، ہاں جی، ٹھیک ہے سوال پوچھنا چاہئے۔ 1354 مرزا صاحب کی وفات ہیضے سے نہیں ہوئی، اور اس وقت ڈاکٹر کا سرٹیفکیٹ اس واسطے لینا پڑا غالباً کہ وہ جنازہ لے کے جانا تھا لاہور سے قادیان۔ جس بیماری سے ہوئی، اس کا وہ سارے Symptoms (علاماتِ مرض) وغیرہ دیکھ کے ڈاکٹروں نے جو اندازہ لگایا ہے، جو ڈاکٹر بعد میں آئے ہیں وہ انہوں نے ....... اندازہ ہی لگا سکتے تھے....... وہ ہے Gastro-Entritis (انتڑیوں کی تکلیف) یہ آج کل بڑی عام ہوگئی ہے بیماری۔ اس کا نام آتا ہے، اور وہ ہیضہ نہیں ہے، چونکہ ان کے.......
جناب یحییٰ بختیار: Dysentry (پیچش) اور.......
مرزا ناصر احمد: .......چونکہ اس کے Symptoms (علاماتِ مرض) ہیضے سے بنیادی طور پر بڑے مختلف ہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: مرزاصاحب!.......
مرزا ناصر احمد: نہیں، کچھ ملتے ہیں، لیکن بالکل مختلف بھی ہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، Dysentry (پیچش) بھی ہیضے کا ایک.......
مرزا ناصر احمد: جس کو Dysentry (پیچش) ہوجائے، وہ سڑا ہوا پھل بازار سے لے کے کھا جائے، اُلٹیاں آجائیں تو وہ ہیضہ تو نہیں، پر ایک ہوتا۔
جناب یحییٰ بختیار: یعنی ہیضہ تو بعض دفعہ ہوتا ہے، بعض دفعہ نہیں ہوتا۔
مرزا ناصر احمد: ہاں، وہی میرا مطلب ہے۔ تو اس وقت ڈاکٹروں نے یہ سرٹیفکیٹ دیا ہے کہ یہ ہیضہ نہیں اور بعد کے ڈاکٹروں نے Gastro-Entritis (انتڑیوں کی تکلیف) کی تشخیص کی ہے، لیکن وہ بعد کی ہے۔ اس کے متعلق کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے Symptoms (علاماتِ مرض) سے اپنے اندازے لگائے ہیں ١؎۔
١؎ مرزا قادیانی کے خسر، مرزا محمود کے نانا، مرزا ناصر کے پڑنانا، نواب میر ناصر نے اپنی سوانح چھاپی، اس کا نام ”حیات میر ناصر“ ہے، اس میں وہ ص١٤ پر کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے مرض وفات کے آخری دن یہ آخری بات کہی کہ: ”میر صاحب! مجھے وبائی ہیضہ ہوگیا ہے!“ مرزا قادیانی کا آخری قول اپنے خسر اور ”صحابی“ کی روایت سے، یہ ہے...!
11
F PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
مرزا ناصر احمد: اور اس میں میں، جس کا انہوں نے انکار کیا ہے، وہ اس مباہلہ سمجھے ہیں اور اس کے مطابق انہوں شامل نہ کرتے اور یہ میں نے شامل کروا ی ریکارڈ کے لئے۔
جناب یحییٰ بختیار: ان کا ا
1353 مرزا ناصر احمد: ہاں، ہ (جو جھوٹا ہوگا خدا
جناب یحییٰ بختیار: ”جو جھ
مرزا ناصر احمد: مولوی ثنا جواب دیا۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں
جناب یحییٰ بختیار: نہیں جھوٹا ہوگا......“
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں
جناب یحییٰ بختیار: ”.....
مرزا ناصر احمد: ٹھیک ہے
جناب یحییٰ بختیار: ”.....
مرزا ناصر احمد: وہ مباہلہ
جناب یحییٰ بختیار: اچھا
مرزا ناصر احمد: ثناء اللہ ص
(مرزا قادیانی
جناب یحییٰ بختیار: اور ہیضے سے ہوئی۔
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
(مباہلہ کے تیس چالیس سال بعد تک مولوی ثناء اللہ زندہ رہے)
جناب یحییٰ بختیار: اور اس مباہ......مباہ......کیا کہتے ہیں جی آپ اس کو؟ مرزا ناصر احمد: مباہلہ۔ مباہلہ۔ جناب یحییٰ بختیار: بس یہ اس کے تیس چالیس سال بعد تک بھی مولوی ثناء اللہ زندہ رہے؟ 1355 مرزا ناصر احمد: مباہلہ ہوا ہی نہیں۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں ایسے ہی کہہ رہا ہوں۔ مولانا یہ جو....... مرزا ناصر احمد: جو مباہلہ نہیں ہوا، اس کے تیس چالیس سال بعد تک زندہ رہے۔ جناب یحییٰ بختیار: اس اشتہار کے بعد، میرا مطلب....... مرزا ناصر احمد: ہاں، اور اس تیس چالیس سال میں دنیا نے ایک انقلاب یہ دیکھا کہ مولوی ثناء اللہ صاحب، جو جماعت کو ناکام کرنے کی کوشش پہلے بھی کرتے رہے اور بعد میں بھی کی، وہ کامیاب نہیں ہوئی، اور بانی سلسلۂ عالیہ احمدیہ کا مشن روز بروز ترقی کرتا چلا گیا۔ جناب یحییٰ بختیار: خیر، وہ تو اور ایشو آپ لا رہے ہیں اس پر کہ....... مرزا ناصر احمد: نہیں، میں نہیں لاتا، میں نے ویسے چالیس سال کے ضمن میں سمجھا شاید وہ بھی آجائے بیچ میں۔
(مباہلہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان سے کر سکتا ہے؟)
جناب یحییٰ بختیار: یہ مباہلہ جو ہوتا ہے مرزا صاحب! کیا ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے ساتھ کر سکتا ہے، جائز ہے؟ مرزا ناصر احمد: شروع میں علماء نے بانی سلسلۂ احمدیہ کو یہ چیلنج دیا کہ: ”ہمارے ساتھ مباہلہ کرو۔“ اور آپ ان کو یہ جواب دیتے رہے ایک عرصہ کہ میرے نزدیک مباہلہ مسلمان سے جائز نہیں....... جناب یحییٰ بختیار: ہاں، میں یہی....... مرزا ناصر احمد: ہاں، نہیں، میں آگے بتاتا ہوں ناں، یہاں ختم نہیں ہوتی بات۔ لیکن جواب آپ کو علماء کی طرف سے یہ دیا گیا کہ: ”آپ کا یہ عذر ہمیں قبول نہیں کہ چونکہ مسلمان سے مباہلہ جائز نہیں اس لئے آپ نہیں کرنا چاہتے۔ ہم تو آپ کو کافر سمجھتے ہیں اور اس وجہ سے آپ ہم سے مباہلہ کریں۔“ اس کا حوالہ موجود ہے۔
١٢
1373 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
(مرزا قادیانی نے ان کو کافر سمجھا اور مباہلے کا چیلنج دیا ؟)
1356جناب یحییٰ بختیار: تو پھر اس کے بعد، اس کے بعد مرزا صاحب نے ان کو کافر سمجھا اور مباہلے کا چیلنج دیا ؟
مرزا ناصر احمد: مرزا صاحب نے پھر یہ...... جب وہ انہوں نے اصرار کر کے کفر کا فتویٰ لگایا تو بانی سلسلہ نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کی حدیث ہے کہ جو کسی کو کافر کہتا ہے، کفر عود کر اس کے اُوپر پلٹتا ہے۔ پھر یہ ہوا۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، ٹھیک ہے وہ۔
مرزا ناصر احمد: یہ آتھم، ایک پیش گوئی آتھم کے بارے میں سوال کیا گیا تھا۔
(عبداللہ آتھم کی پیش گوئی ؟)
جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، وہ میں نے پہلے اس کا ذکر کیا تھا۔
مرزا ناصر احمد: ہاں۔ یعنی میں نے اکٹھے کئے ہیں، جہاں آگے پیچھے پڑے ہوئے تھے۔ وہ جو آتھم کا مباحثہ ہوا، آتھم کے ساتھ، اس کے متعلق میں بتا چکا ہوں کہ جنڈیالہ کے مسلمانوں کی طرف سے زور دیا گیا۔ اس کو دُہرانے کی ضرورت نہیں سمجھتا۔
جناب یحییٰ بختیار: ”جنگ مقدس“ ؟
مرزا ناصر احمد: ”جنگ مقدس“ اس کتاب کا نام ہے۔ پیش گوئی ”تبلیغ رسالت“ جلد سوئم، صفحہ :٩٦ پر یہ ہے: ”دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے...... اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے وہ انہی دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لے کر (معاف کریں) یعنی پندرہ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جاوے گا اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی بشرطیکہ حق کی طرف رُجوع نہ کرے اور جو شخص سچ پر ہے اور سچے خدا کو مانتا ہے، (خدائے واحد و یگانہ کو)، اس کی اس سے عزت ظاہر ہو گی۔“
(جنگ مقدس ص: ١٨٩، خزائن ج:٦ ص:٢٩٢)
اس میں جو چیز اس وقت کچھ تفصیل سے بتانے والی ہے وہ ہے ”بشرطیکہ۔“ اُمّتِ مسلمہ کا 1357متفقہ یہ فیصلہ ہے، تمام فرقوں اور اس اُمت کا شروع سے لے کر آج تک، کہ جو اِنذاری پیشین گوئیاں جو ہیں وہ مشروط رہتی ہیں۔ ”مشروط“ کا مطلب یہ ہے کہ اگر جس کے متعلق یہ کہا گیا کہ: ”تمہاری یہ کیفیت ہے رُوحانی طور پر۔ تمہیں، اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ اطلاع دی ہے __ کہنے والا کہتا ہے __ یہ سزا ملے گی۔“ اس کے ساتھ شرط ہوتی ہے۔ خواہ شرط کا
١٣
KISTAN 24th Aug, 1974 No:11
(مباہلہ کے تیس چالیس
جناب یحییٰ بختیار: اور
مرزا ناصر احمد: مباہلہ
جناب یحییٰ بختیار: بس
1355مرزا ناصر احمد: مر
جناب یحییٰ بختیار: خو
مرزا ناصر احمد: جو مباہ
جناب یحییٰ بختیار: اس
مرزا ناصر احمد: ہاں، کہ مولوی ثناء اللہ صاحب، جو جماع بھی کی، وہ کامیاب نہیں ہوئی، اور با
جناب یحییٰ بختیار: خ
مرزا ناصر احمد: نہیں شاید وہ بھی آجائے بیچ میں۔
(مباہلہ ایک مسلمہ
جناب یحییٰ بختیار: مسلمان کے ساتھ کر سکتا ہے، جائز
مرزا ناصر احمد: شرو مباہلہ کرو۔“ اور آپ ان کو یہ جوا جائز نہیں......
جناب یحییٰ بختیار:
مرزا ناصر احمد: ہاں لیکن جواب آپ کو علماء کی طرف سے مباہلہ جائز نہیں اس لئے آپ ہم سے مباہلہ کریں۔“ اس کا حوالہ
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
ذکر ہو یا نہ ہو۔ جیسا کہ مثلاً حضرت یونس علیہ السلام کی اُمت کے لئے ___ قرآن کریم میں اس کا ذکر ہے ___ ایک پیش گوئی آئی کہ ان پر عذاب نازل ہوگا۔ لیکن ان کے اُوپر وقتِ مقررہ کے اندر عذاب نازل نہیں ہوا اور حضرت یونس علیہ السلام یہ سمجھے کہ میری پیش گوئی خدا تعالیٰ نے مجھے بتایا تھا اور اس کو رد کر دیا، غلط ثابت ہو گئی اور وہاں سے وہ بھاگے۔ وہ لمبا قصہ قرآن کریم میں ہے کہ وہ پھر قرعہ پڑا اور سمندر میں چھلانگ لگائی اور ایک وہیل مچھلی جو کہ بغیر چبائے کے اندر انسان کو نگل جاتی ہے، یا اور جو جانور اس کو مل جائے، وہ اس کے پیٹ میں چلے گئے۔ لیکن قبل اس کے کہ مچھلی کے پیٹ میں اس کے ایسڈ جسم پر اثر انداز ہوتے اور دَم گھٹتا، خدا تعالیٰ نے ایسا سامان پیدا کیا کہ کنارے پر جا کر مچھلی نے اُلٹی کی اور حضرت یونس علیہ السلام ریت کے اُوپر آگئے۔ وہ لمبا ایک قصہ ہے۔ بہر حال اس قصے سے تو ہمارا اس وقت تعلق نہیں ہے۔ ایک پیش گوئی ہوئی جو ان پر پوری نہیں ہوئی اور خدا تعالیٰ نے کہا: قوم نے رُجوع کر لیا تھا، اس کو کیسے سزا مل سکتی تھی۔ یہ تین حوالے میں نے یہ لکھائے۔ اگر کہیں تو میں پڑھ دُوں، ورنہ یہ داخل کروا دُوں گا۔ ایک علامہ ابوالفضل صاحب کی ”رُوح المعانی“ تفسیر کی کتاب ہے۔ اس کے اندر لکھتے ہیں کہ انذاری پیش گوئیاں جو ہیں، وہ توبہ اور رُجوع اور صدقہ وخیرات سے ٹل جاتی ہیں۔ دُوسرا حوالہ ہے امام فخر الدین رازی کا بڑے مشہور ہیں اور تیسرا حوالہ ہے صاحب ”رُوح المعانی“ کا، وہ پہلی کتاب کا دُوسرا حوالہ، صاحب ”رُوح المعانی“ کا دُوسرا حوالہ۔ اگر کہیں تو میں اسی طرح ......
جناب یحییٰ بختیار: داخل کروا دیں۔
مرزا ناصر احمد: تو میں اُصول یہ بتا رہا تھا، اُصول، کہ جو انذاری پیش گوئیاں ہیں وہ دُعاؤں کے ساتھ اور توبہ کے ساتھ اور صدقہ کے ساتھ اور خدا تعالیٰ کے حضور جھکنے کے ساتھ ٹل جاتی ہیں، اور اس میں کسی کو اختلاف نہیں، قرآن کریم سے لے کر اس وقت تک یہ پیش گوئی انذاری ہے، آتھم کی: ”اور بشرطیکہ حق کی طرف رُجوع نہ کرے۔“
چنانچہ اس نے رُجوع کیا اور جو معین عرصہ ١٥ مہینے کا تھا، وہ اس کے لئے ٹل گیا۔ لیکن پھر اس میں ایک دلیری پیدا ہوئی۔ کچھ لوگوں نے اس کو اُکسایا۔ اس پر اتمامِ حجت اتنا واضح ہوا ١؎
١؎ معاذاللہ! کذبِ محض ہے۔ تمام قوم یونس ایمان لے آئی۔ سورۃ یونس: ٩٨ کے تحت اس کی تفصیل تفاسیر میں دیکھی جاسکتی ہے۔ سیدنا یونس علیہ السلام کی پیش گوئی غلط نہ ہوئی بلکہ اس کی غرض پوری ہو گئی کہ پوری قوم ان پر ایمان لا کر ان کی مطیع بن گئی۔ تفصیل کتاب تذکرہ یونس مشمولہ احتساب قادیانیت ج ١٩ ص ٣١٥ سے ٣٤٥ تک دیکھا جاسکتا ہے۔
١٤
1375 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11 کہ اس کا وہ انکار نہیں کر سکا۔ بانی سلسلہ احمدیہ نے پہلے اسے یہ چیلنج کیا کہ ”اگر تم اعلان کر دو، اشتہار دے دو، میں رجوع نہیں ہوا حق کی طرف اور میری پیش گوئی جو ہے وہ غلط ثابت ہوتی ہے، تو تم پر عذاب نازل ہو جائے گا، میں تمہیں یہ بتاتا ہوں۔ تو اگر تم سمجھتے ہو کہ تم نے رجوع نہیں کیا تو تم اشتہار دو اور میں ایک ہزار روپیہ تمہیں انعام دوں گا۔“ جب اس کا اس نے مانا نہیں تو پھر کہا: ”دو ہزار روپے انعام دوں گا۔“ یہ اس وقت کے روپے ہیں اور پھر اس نے یہ نہیں مانا تو پھر کہا: ”میں تین ہزار روپے کا انعام دوں گا۔“ پھر اس نے نہیں مانا، یعنی یہ نہیں مانا کہ اعلان کرے کہ: ”میں نے رجوع نہیں کیا۔“ ”میں چار ہزار روپے کا انعام دوں گا۔“ چار دفعہ اتمام حجت کرنے کے بعد آپ نے لکھا کہ: ”تم نے رجوع الی الحق تو کیا۔ یعنی تم نے جو یہ نبی کریم ﷺ کے خلاف۔ جہاں یہ ہے ”رجوع الی الحق___ جو بد زبانی کی تھی ، تمہارے دل میں یہ خوف پیدا ہوا کہ میں ایک پاک اور مطہر ذات کے خلاف میں نے بات کی ہے اور خدا تعالیٰ کے عذاب کی گرفت میں آجاؤں گا۔“ یہ ہے رجوع۔ یعنی اپنا نہیں بیچ میں دخل کوئی اور ”چونکہ تم نے جو رجوع کیا اس کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہو، اب میں تمہیں کہتا ہوں کہ تم عذاب میں مبتلا ہو جاؤ گے۔“ اور وہ بڑی لمبی تفصیل ہے اس عذاب کی جس میں وہ مبتلا ہوا اور اس جہان کو اس نے چھوڑا۔ تو انذاری پیش گوئی ہے، انذاری پیش گوئی ہے۔ رجوع الی الحق اس نے کیا، وہ ٹلی۔ پھر اس نے، اس نے چھپانے کی کوشش کی، اور اتمام حجت ہوا چار دفعہ۔ تب خدا تعالیٰ کے عذاب نے اس کو پکڑا اور وہ ہر ایک کے اوپر عیاں ہے، بہر حال یہ ہمارا جواب ہے۔
1359 تیسری پیش گوئی ہے محمدی بیگم کی....... جناب یحییٰ بختیار: نہیں، اس پر ذرا میں کچھ.......
(عبداللہ آتھم پندرہ مہینے کے اندر ہاویہ میں گرے گا)
ایک تو مرزا صاحب نے یہ پیش گوئی کی تھی کہ: ”پندرہ مہینے کے اندر یہ ہاویہ میں گرے گا اور ذلیل ہوگا.......“ مرزا ناصر احمد: ”....... بشرطیکہ رجوع الی الحق نہ کرے۔“ جناب یحییٰ بختیار: ”....... بشرطیکہ وہ حق کی طرف رجوع نہ کرے۔“ پندرہ مہینے گزر گئے، یہ مرا نہیں، ذلیل نہیں ہوا، جیسا پیش گوئی میں تھا، Established Fact (ثابت شدہ حقیقت) اس کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ حق کی طرف رجوع ہوا۔ مرزا صاحب کے
١٥
PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11 ذکر ہو یا نہ ہو۔ جیسا کہ مثلاً حضرت یونس علی ذکر ہے ____ ایک پیش گوئی آئی کہ ان ک اندر عذاب نازل نہیں ہوا اور حضرت یونس بتایا تھا اور اس کو رد کر دیا، غلط ثابت ہوئی ت کہ وہ پھر قرعہ پڑا اور سمندر میں چھلانگ ل نگل جاتی ہے، یا اور جو جانور اس کو مل جاتا مچھلی کے پیٹ میں اس کے ایسے جسم پر آ کیا کہ کنارے پر جا کر مچھلی نے الٹی کی ت ایک قصہ ہے۔ بہر حال اس قصے سے تو ہ پوری نہیں ہوئی اور خدا تعالیٰ نے کہا: تو م حوالے میں نے یہ لکھا ہے۔ اگر کہیں تو ابوالفضل صاحب کی ”روح المعانی“ تفس گوئیاں جو ہیں، وہ توبہ اور رجوع اور ج فخر الدین رازی کا بڑے مشہور ہیں اور تبر دوسرا حوالہ، صاحب ”روح المعانی“ کا ہ
جناب یحییٰ بختیار: داخل مرزا ناصر احمد: تو میں اص دعا 1358 کے ساتھ اور توبہ کے ساتھ اور ا جاتی ہیں، اور اس میں کسی کو اختلاف ن انذاری ہے، آتھم کی : ”اور بشرطیکہ حق ک چنانچہ اس نے رجوع کیا او پھر وہ اس میں ایک دلیری پیدا ہوئی۔ پچھ
١ معاذ اللہ ! کذب محض ہے میں تفصیل تفاسیر میں دیکھی جاسکتی ہے، غرض پوری ہوگئی کہ پوری قوم ان پر ایما احتساب قادیانیت ج ١٩ ص ٣١٥ سے م
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
کہنے کے مطابق، اس لئے یہ پیش گوئی ثابت نہیں ہوئی۔ اب مرزا صاحب نے تو اشتہار میں دیا کہ وہ کہے کہ رُجوع ہوا یا نہ ہوا......
مرزا ناصر احمد: آپ نے یہ چار دفعہ اس پر یہ اتمام حجت کی انعام بڑھا کر کہ : ”تم یہ اعلان کرو کہ میں رُجوع الی الحق نہیں ہوا“ اسی نے کہنا تھا ناں، اس کے دل کی بات تھی۔
جناب یحییٰ بختیار: ناں، میں یہ آپ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں، میں تو......
مرزا ناصر احمد: اچھا، ابھی نہیں آیا......
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، پھر یہ کہ جب ایک آدمی حق کی طرف رُجوع کرتا ہے، اس کا یہی مطلب ہوتا ہے ناں کہ وہ توبہ کر لیتا ہے ایک قسم کا......
مرزا ناصر احمد: ......اس بات سے جو اس نے کہی ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔
مرزا ناصر احمد: توبہ کر کے، اسلام میں داخل نہیں، مراد......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں۔
مرزا ناصر احمد: اس بات سے۔
1360
جناب یحییٰ بختیار: وہی میں کہہ رہا ہوں کہ اس نے گستاخیاں کی تھیں، اسلام پر حملے کئے تھے، آنحضرت ﷺ کی شان میں گستاخیاں کی تھیں اور وہ حق کی طرف رُجوع ہوا تو اللہ تعالیٰ نے کہا کہ بھئی یہ ابھی توبہ کر رہا ہے، اس لئے اس پر پیش گوئی ثابت نہیں ہوئی۔ معاف کر دیا اس کو۔ میں یہ عرض کر رہا تھا۔ مرزا صاحب! کہ توبہ کا یہ مطلب ہے کہ وہ شخص جو اسلام کے خلاف آنحضرت ﷺ کی شان میں گستاخیاں کر رہا تھا، اس سے اس نے توبہ کر لی...... اور دلی توبہ ہی کرتا ہے انسان اللہ کے سامنے...... تبھی اللہ نے اس کو معاف کر دیا، اس نے اللہ کی طرف رُجوع کر لیا۔ مگر جب یہ پندرہ مہینے گزر گئے تو پھر امرتسر میں انہوں نے بہت بڑا جلوس نکالا...... عیسائیوں نے......
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔
(مرزا قادیانی کی پیش گوئی غلط ثابت ہوئی)
جناب یحییٰ بختیار: ......جس میں مسلمان بھی کچھ شامل ہوئے، اور بڑی خوشیاں منائیں کہ مرزا صاحب کی پیش گوئی غلط ثابت ہوگئی اور اس شخص نے گستاخیاں پھر شروع کیں یہ بھی دُرست ہے؟
١٦
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
مرزا ناصر احمد: اس نے اپنے رجوع کو چھپایا۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں Facts (حقائق) آپ سے Verify (تصدیق) کروا رہا ہوں۔
مرزا ناصر احمد: ہاں، رجوع کو چھپایا۔ ہمارے علم میں پھر کبھی نہیں لکھا۔
جناب یحییٰ بختیار: اس کے بعد تو یہ......
مرزا ناصر احمد: اس کے بعد کبھی نہیں لکھا۔
(عبداللہ آتھم نے مرزا قادیانی کو چیلنج کیا)
جناب یحییٰ بختیار: ......اس نے گستاخیاں کیں اور اس کے بعد اس نے Openly (کھلا) چیلنج کیا مرزا صاحب کو۔
مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، مرزا صاحب کا تو سوال ہی نہیں، وہ تو ایک خادم تھے۔ اس نے نبی کریمﷺ کے خلاف جو بدزبانی کیا کرتا تھا اُس میں پھر خود ملوث نہیں ہوا۔
1361 جناب یحییٰ بختیار: کوئی اسلام کے خلاف اس نے کوئی چیز نہیں کہی!
مرزا ناصر احمد: ہمارے علم میں کوئی نہیں اور چھ مہینے کے اندر اندر پھر خدا کی گرفت......
جناب یحییٰ بختیار: چھ، سات مہینے کے بعد اس کی وفات ہوئی تو یہی تو کہہ رہے ہیں کہ اس نے پھر گستاخیاں شروع کر دیں تو وفات ہوئی؟
مرزا ناصر احمد: نہ، نہ، نہ، اوپر میں بات نہیں واضح کر سکتا اس کو۔ یہ شور مچایا عیسائیوں وغیرہ نے کہ پیش گوئی غلط نکلی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ: ”پیش گوئی میں تھا بشرطیکہ رُجوع نہ کرے، رُجوع الی الحق نہ کرے اور اس نے رُجوع الی الحق کیا، ہمارے پاس ثبوت ہیں اور اگر یہ ’میں غلط سمجھتا ہے تو یہ اعلان کرے کہ میں نے رُجوع الی الحق نہیں کیا‘ اور اس نے اس سے گریز کیا، اعلان کرنے سے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ: ”اگرچہ اس نے گریز کیا ہے اس اعلان سے کہ رُجوع الی الحق میں نے نہیں کیا، لیکن پھر بھی یہ اس نے کمزوری دکھائی اور یہ چھپاتا ہے اپنے رُجوع کو۔ اس لئے اللہ تعالیٰ اس کو...... اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آئے گا اور نبی اکرمﷺ کی صداقت ظاہر ہوگی۔“
جناب یحییٰ بختیار: یہ جو مرزا صاحب! یہ......
مرزا ناصر احمد: یہ جو ہے ناں کہ وقتی طور پر عذاب کا اس طرح ٹل جانے، اس قسم کا،
١٧
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
اس کے اوپر قرآن کریم کی آیات کی تصدیق ہے۔ چنانچہ یہاں ”سورۂ دُخان“ کی یہ آیات میں کہ انہوں نے کہا: عذاب کی پیش گوئی کے بعد: ”ربنا اکشف عنا العذاب انا مومنون انی لهم الذکری وقد جاءهم رسول مبین ثم تولوا عنہ وقالوا معلم مجنون“
1362اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”انا کاشف العذاب قلیلاً“ (ہم کچھ عرصے کے لئے عذاب کو ملتوی کر دیں گے)
لیکن توبہ نہیں کریں گے، ان کے حالات ایسے ہیں۔
”انکم عائدون“ (تم پھر اپنی پہلی حالت کی طرف رجوع کرو گے...... کسی نہ کسی شکل میں)
”یوم نبطش البطشة الکبری انا منتقمون“
(کیا مرزا قادیانی کا چیلنج عبداللہ آتھم نے قبول کیا؟)
جناب یحییٰ بختیار: یہ جو انہوں نے چیلنج کیا ان کو، ”جنگ مقدس“ میں یہ جو پیش گوئی کی، کیا آتھم نے اس کو منظور کیا کہ: ”یہ چیلنج میں Accept (قبول) کرتا ہوں۔“
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔ اس نے انکار نہیں کیا، اس طرح جس طرح مولوی ثناء اللہ صاحب نے کیا تھا۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔ تو یہی میں کہتا ہوں اس نے Accept (قبول) کیا۔ اس کے بعد اس نے کسی سے تو یہ بھی نہیں کہا کہ ”میں نے رجوع کیا۔“ صرف آپ کہتے ہیں کہ اس نے مرزا صاحب کے اشتہار کا جواب نہیں دیا۔
مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، اس نے کہا، اپنے ساتھیوں سے کہا۔ جب اُس کے ساتھیوں نے اس کو کہا۔ یہ میں نے بتایا، یہ بڑی لمبی بحث ہے، وہ اگر کہیں تو پڑھنا شروع کر دیتا ہوں کہ
جناب یحییٰ بختیار: نہیں۔
١؎ شیطان کی آنت کی طرح لمبی لمبی مرزا قادیانی کی عبارتیں پڑھنے کا کیا خطرناک ڈراوا تیار کر رکھا ہے... انہیں معلوم مرزا ناصر کو یہ بات کہ مرزا کی تحریریں نہ دین کے کام کی نہ دُنیا کے کاموں کی۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی اسے سننے کے لئے تیار نہیں، خود ایک فیصد بھی قادیانی ایسے نہ ہوں گے جنہوں نے مرزا کی پوری کتابوں کو پڑھا ہو۔
١٨
Y OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
اس کے اُوپر قرآن کریم کی آیات کی تصدیق کہ انہوں نے کہا: عذاب کی پیش گوئی کے بعدا لہم الذكرى وقد جاءهم رسول مبين ثم 1362 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”انا کاش (ہم کچھ عرصے کے لئے عذاب کو ا لیکن توبہ نہیں کریں گے، ان کے د ”انکم عائدون“ (تم پھر اپنی پہلی حالت کی طرف لو ”یوم نبطش البطشة الکبری ا
(کیا مرزا قادیانی کا چیلنج
جناب یحییٰ بختیار: یہ جو انہوں کی، کیا آتھم نے اس کو منظور کیا کہ: ”یہ چیلنج می مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔ اس اللہ صاحب نے کیا تھا۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔ تو کیا اس کے بعد اس نے کسی سے تو یہ بھی نہیں کہا اس نے مرزا صاحب کے اشتہار کا جواب نہیں
مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، اُ ساتھیوں نے اس کو کہا۔ یہ میں نے بتایا، یہ بڑی
جناب یحییٰ بختیار: نہیں۔
١؎ شیطان کی آنت کی طرح لمبا ڈراوا تیار کر رکھا ہے ...! نہیں معلوم مرزا ناصر کے کاموں کی۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی اسے سنے گے جنہوں نے مرزا کی پوری کتابوں کو پڑھا
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
مرزا ناصر احمد: تو وہ اپنے حلقوں میں اس نے کہا کہ: ”یہ جو مجھ سے غلطی ہوئی ہے اور میں خدا تعالیٰ کے عذاب کے نیچے ہوں۔“ اس کا Nervous Braek Down (اعصابی نظام منتشر) ہو گیا تھا، خوف کے مارے، اس کو عجیب و غریب چیزیں، ہیولے نظر آنے لگ گئے تھے۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، مرزا صاحب! وہ تو Psychological Effect (نفسیاتی اثر) لوگوں 1363 پر پڑ جاتا ہے۔
Mirza Nasir Ahmad: Psychological Effect ......
(مرزا ناصر احمد: نفسیاتی اثر ......)
جناب یحییٰ بختیار: ...... وہ تو میں پیش گوئی کی بات کر رہا ہوں۔
مرزا ناصر احمد: محمد رسول اللہ ﷺ کی عظمت اور جلال سامنے رکھ کر یہ اس کے اُوپر یہ Psychological Effect (نفسیاتی اثر) ہوا ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: Psychological Effetc (نفسیاتی اثر) میں یہی کہہ رہا ہوں، میں یہی کہتا ہوں، Psychological Effect (نفسیاتی اثر) تو کسی طریقے سے بھی ہو سکتا ہے۔
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، وہ ٹھیک ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: وہ اس پر ضرور ہوا ہوگا۔ مگر اس کے باوجود، میں کہتا ہوں، اُس نے اس کو Accept (قبول) بھی کیا اور پھر اس کی موت بھی نہیں ہوئی، اور پھر آپ کہتے ہیں کہ اس نے رُجوع کیا حق کی طرف۔ مسلمان تو خیر وہ نہیں ہوا......
مرزا ناصر احمد: نہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: ...... اس کے بعد وہ آتا ہے اور پھر وہ وہی حرکتیں کرتا ہے۔ آپ کہتے ہیں وہی حرکتیں اس نے نہیں کیں۔
مرزا ناصر احمد: نہیں، میں یہ کہہ رہا ہوں......
جناب یحییٰ بختیار: ...... ایک مشنری عیسائی اسلام کے خلاف کام کر رہا ہے، سات مہینے اور......
مرزا ناصر احمد: ......اُس نے رُجوع الی الحق کو چھپانے کی حرکت کی، اور خدا تعالیٰ نے جو نبی اکرم ﷺ کی عظمت کے قیام کے لئے ایک پیش گوئی کی تھی اس کو مشتبہ کرنے کی کوشش کی۔
١٩
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
1364 جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! صاف بات کہ جو میں اس کو Clarify (واضح) کرنا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اس نے رُجوع کیا، اللہ تعالیٰ ہر ایک کے دل کو جانتا ہے، نیت کو جانتا ہے کہ یہ آدمی مجھے دھوکا دے رہا ہے، اس کو چھپائے گا اور اس کی نیت نہیں ہے، یہ پھر عیسائی ہو کے یہی حرکتیں کرے گا۔ کیوں اُس کی توبہ منظور کی؟
مرزا ناصر احمد: یہ جو قرآن کریم کی آیت ہے، اس میں یہی ہے......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں یہی پوچھ رہا ہوں آپ سے۔
مرزا ناصر احمد: نہیں، قرآن کریم کہتا ہے کہ ”ہمیں علم ہے کہ یہ پھر یہی حرکتیں کر دیں گے۔ لیکن عارضی طور پر ان کی دُعا کے نتیجے میں عذاب کو ٹال دیتے ہیں۔“ وہ آیات تو میں نے یہی پیش کی ہیں یہاں اور فرعون کے متعلق قرآن کریم میں ہے کہ ٩ دفعہ عذاب اُن کے اُوپر سے ٹالا گیا ہے، اس کے بعد دُوسرا آیا۔
(عبداللہ آتھم نے کبھی نہیں کہا کہ میں نے رجوع کرلیا)
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ تو مرزا صاحب! میرا خیال ہے اُس نے کبھی نہیں کہا کہ: ”میں نے رُجوع کیا۔“ آپ کہتے ہیں کہ Privately (پوشیدہ) کیا ہوگا۔ اشتہار کے جوابوں میں کسی میں نہیں کہا اُس نے۔
مرزا ناصر احمد: اُس نے رُجوع کیا اور دلیل یہ ہے کہ جب اس کو یہ کہا گیا کہ: ”اگر تم نے رُجوع نہیں کیا تو اس کا اعلان کرو“ تو اس طرف وہ آتا نہیں تھا۔ جس شخص نے رُجوع نہیں کیا تھا اور اُس کے پیچھے پڑے ہوئے تھے بانی سلسلہ احمدیہ کہ اگر تم نے رُجوع نہیں کیا تو اعلان کرو۔ تو اس نے اعلان نہیں کیا۔ اس کا مطلب ہے کہ اُس نے اعلان کیا، ایک دُوسرے رنگ میں، بالواسطہ، کہ ”میں رُجوع کر چکا ہوں۔“
جناب یحییٰ بختیار: اس پر مرزا صاحب! وہ جو مرزا صاحب نے آخر میں تقریر میں، وہ جو مباحثہ ان کا تھا ”جنگِ مقدس“ اس میں کہا کہ:
”آج رات مجھ پر کھلا ہے وہ یہ ہے کہ جب میں نے بہت تضرّع اور ابتہال سے 1365 جنابِ الٰہی میں دُعا کی کہ تو اس امر میں فیصلہ کر اور ہم عاجز بندے ہیں تیرے فیصلے کے سوا کچھ نہیں کر سکتے۔ تو اُس نے مجھے یہ نشانِ بشارت کے طور پر دیا ہے کہ اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے......“
٢٠
SEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11 1364 جناب یحییٰ بختیار : مرزا صاحب! (واضح) کرنا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اس نے جانتا ہے، نیت کو جانتا ہے کہ یہ آدمی مجھے دھوکا دے رہا ہ ہے، یہ پھر عیسائی ہو کے یہی حرکتیں کرے گا۔ کیوں اُس مرزا ناصر احمد : یہ جو قرآن کریم کی آیت جناب یحییٰ بختیار : نہیں، میں یہی پوچھ ر مرزا ناصر احمد : نہیں، قرآن کریم کہتا ہ کر دیں گے۔ لیکن عارضی طور پر ان کی دُعا کے نتیجے میں نے یہی پیش کی ہیں یہاں اور فرعون کے متعلق قرآن ک سے ٹالا گیا ہے، اس کے بعد دُوسرا آیا۔ (عبداللہ آتھم نے کبھی نہیں کہا کہ جناب یحییٰ بختیار : نہیں، یہ تو مرزا صاح کہ: ”میں نے رُجوع کیا۔“ آپ کہتے ہیں کہ itely جوابوں میں کسی میں نہیں کہا اُس نے۔ مرزا ناصر احمد : اُس نے رُجوع کیا اور وہ تم نے رُجوع نہیں کیا تو اس کا اعلان کرو‘ تو اس طرف کیا تھا اور اُس کے پیچھے پڑے ہوئے تھے بانی سلسلہ کرو۔ تو اس نے اعلان نہیں کیا۔ اس کا مطلب ہے کہ میں، بالواسطہ، کہ ”میں رُجوع کرچکا ہوں۔“ جناب یحییٰ بختیار : اس پر مرزا صاحب! وہ جو مباحثہ ان کا تھا ”جنگِ مقدس“ اس میں کہا کہ: ”آج رات مجھ پر کھلا ہے وہ یہ ہے کہ جو 1365 جنابِ الٰہی میں دُعا کی کہ تو اس امر میں فیصلہ کر اور ج نہیں کرسکتے۔ تو اُس نے مجھے یہ نشان بشارت کے طور میں سے جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے……“ ٢٠
1381 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11 مرزا ناصر احمد : یہ میں نے پڑھا تھا پہلے۔ جناب یحییٰ بختیار : ”……اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے ……“ یعنی عیسائی عاجز بندے کو خدا سمجھتے ہیں یسوع کو، کیا آتھم نے اس کے بعد عاجز بندے کو خدا نہیں سمجھا؟ مرزا ناصر احمد : اب یہ اس جگہ ہم پہنچ گئے کہ انذاری پیش گوئیاں رُجوع کے ساتھ ٹل تو جاتی ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ اس نے رُجوع کیا یا نہیں؟ جناب یحییٰ بختیار : ہاں جی۔ مرزا ناصر احمد : یہی سوال ہوا ناں جی؟ جناب یحییٰ بختیار : نہیں، میں کہتا ہوں کہ رُجوع تو آپ کہتے ہیں کہ…… مرزا ناصر احمد : وہ میں سمجھ گیا۔ جناب یحییٰ بختیار : یہ ایک عاجز بندے کو وہ خدا سمجھتا ہے، اس وجہ سے جھوٹا ہے وہ۔ مرزا ناصر احمد : نہیں، یہ ویسے لمبی بحث ہے۔ میں ایک حوالہ یہاں پڑھ دیتا ہوں، چھوٹا سا ہے، اس سے بھی روشنی پڑتی ہے اس پر۔ جب وہ پہلا انعام ایک ہزار روپے والا دیا آپ نے، اس اشتہار کے یہ الفاظ ہیں: ”اس بات کے تصفیے کے لئے کہ فتح کس کو ہوتی، آیا اہلِ اسلام کو جیسے کہ درحقیقت ہے، یا عیسائیوں کو جیسا کہ وہ ظلم کی راہ سے خیال کرتے ہیں، تو میں ان کی پردہ دری کے لئے مباہلہ کے لئے تیار ہوں اگر دروغ گوئی اور چالاکی سے باز نہ 1366 آئیں تو مباہلہ اس طور پر ہوگا کہ ایک تاریخ مقرر ہو کر ہم فریقین ایک میدان میں حاضر ہوں اور مسٹر عبداللہ آتھم صاحب کھڑے ہو کر تین مرتبہ ان الفاظ کا اقرار کریں کہ اس پیش گوئی کے عرصہ میں…… اسلامی رُعب ایک طرفہ العین کے لئے بھی میرے دل پر نہیں آیا اور میں اسلام اور نبی اسلام ﷺ کو ناحق پر سمجھتا رہا اور سمجھتا ہوں اور صداقت کا خیال تک نہیں آیا اور حضرت عیسیٰ کی الوہیت اور الوہیت پر یقین رکھتا رہا اور کتابوں اور اس میں یقین جو فرقہ پراٹسٹنٹ کے عیسائی رکھتے ہیں اور اگر میں نے خلافِ واقعہ کیا ہے (یہ جو اُوپر کے الفاظ ہیں) اور حقیقت کو چھپایا ہے تو اے خدائے قادر مجھ پر ایک برس میں عذاب موت نازل کر۔ اس دُعا پر ہم آمین کہیں گے اور اگر دُعا کا ایک سال تک اثر نہ ہوا اور وہ عذاب نازل نہ ہوا جو جھوٹوں پر نازل ہوتا ہے تو ہم ہزار روپیہ مسٹر عبداللہ آتھم صاحب کو بطور تاوان کے دیں گے۔“ ٢١
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
یہ پہلا اشتہار ہے۔ اب اس میں آپ نے بتایا ہے کہ رجوع سے کیا مراد ہے جو اُس نے کیا، اور اگر وہ انکار کرے تو کس رجوع کے نہ کرنے کا وہ اقرار کرے اور یہ، وہ یہ ہیں، وہی جو آپ کہہ رہے تھے ناں، عیسائیت: ”اور وہ یہ اقرار کرے کہ اسلام کا رُعب میرے اُوپر نہیں پڑا اور میں اسلام اور نبی اسلام ﷺ کو ناحق پر سمجھتا رہا اور سمجھتا ہوں اور صداقت کا خیال تک نہیں آیا اور حضرت عیسیٰ کی اہلیت اور الوہیت پر یقین رکھتا رہا اور رکھتا ہوں۔“
تو یہ ہے رجوع۔ اس سے وہ انکار کر رہا تھا اور یہ وہی الفاظ ہیں جس کا آپ نے ذکر کیا۔
جناب یحییٰ بختیار: وہ میں سمجھ گیا کہ یہ تو پھر چیلنج کے بعد چیلنج اور اگر وہ بھی نہ منظور ہوتے تو کہتے ”پھر میں اور دیتا ہوں ۔“ آپ یہ ..... پہلے انہوں نے صرف یہ کہا کہ : ”عیسائی عاجز بندے کو انسان مانتا ہے“ یہ چیلنج دیا اس کو ، وہ چیلنج غلط ثابت ہوا۔
1367 مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں۔
(مرزا قادیانی کا چیلنج پر چیلنج)
جناب یحییٰ بختیار: ...... اور اس کے بعد اس کو کہا کہ جی ...... ابھی Explanation (وضاحت) یہ کہ: ”ابھی آپ کو ابھی ایک اور چیلنج ہے مجھ سے۔ پھر ایک سال کا ٹائم دیتا ہوں۔“ اس پر بھی وہ نہ مرے، تو کہتے ہیں: ”ایک اور چیلنج لے“ یہ تو پھر بعد کی باتیں ہو جاتی ہیں۔
مرزا ناصر احمد: یہ اشتہار ایک ایک سال کے بعد نہیں آئے۔ یہ آپ کو کسی نے غلط بتایا ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، اشتہار میں ان کو ایک سال کا اور ٹائم دیا کہ: ”اگر ایک سال کے اندر اگر یہ قسم اُٹھائے ، نہ مرے تو میں اس کو ایک ہزار روپے دوں گا۔“
مرزا ناصر احمد: انسان جو اللہ تعالیٰ کا عاجز بندہ ہے، خود قدرت اپنے ہاتھ میں لے کے اعلان نہیں کرتا جب تک اللہ تعالیٰ نہ بتائے۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی ، اللہ تعالیٰ نے اس کو کہا کہ پندرہ مہینوں کے اندر مرے گا اور ضرور مرے گا یہ......
مرزا ناصر احمد: اور پھر وہ......
جناب یحییٰ بختیار: ...... ذلیل و خوار ہوگا۔ پھر ہوا نہیں، وہ مرا نہیں۔
٢٢
1383 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
مرزا ناصر احمد: بہرحال، ہم سمجھتے ہیں، اس سارے کو دیکھ کے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جو شخص ساری اس تفصیل میں سے گزرے، ہم سمجھتے ہیں...... غلط سمجھتے ہوں گے...... ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جو شخص اس ساری تفصیل میں سے گزرے وہ وہی نتیجہ نکالے گا جو ہم نے نکالا۔
(مرزا قادیانی کا ڈوئی امریکن کو چیلنج)
جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے۔ مرزا صاحب! ایک اور اس پر سوال آ جاتا ہے۔ ایک امریکن تھے جنہوں نے بھی کوئی دعویٰ کیا تھا______ تاکہ میں دونوں Pictures (تصویریں) لانا چاہتا ہوں......
مرزا ناصر احمد: نہیں یہ وہ اس کے ساتھ نہیں تعلق۔
1368 جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، علیحدہ تھا...... میں نے پڑھا ہوا ہے اس پر...... جو واقعی مر گیا تھا کہ جو عرصہ مرزا صاحب نے کہا تھا کہ یہ خوار ہوگا۔ وہ جو وہاں زوئن شہر میں تھا۔ اس نے کہا کہ اسلام ختم ہو جائے گا۔ امریکن اخبار میں اس کا ذکر آیا۔ پھر وہ "True Islam" (سچا اسلام) میں بڑی Detail (تفصیل) سے سارے وہ دیئے گئے ہیں، ڈیوٹی تھا یا ڈوئی۔
مرزا ناصر احمد: ڈوئی۔
جناب یحییٰ بختیار: تو ان کو بھی مرزا صاحب نے ایسا ہی چیلنج دیا تھا؟
مرزا ناصر احمد: یہ میں...... ڈوئی کے متعلق پہلے ذکر یہ ہمارا ریکارڈ میں آچکا ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، وہ کتاب میں میں نے تفصیل سے پڑھا ہے۔
مرزا ناصر احمد: کسی سلسلے میں ڈوئی کا ذکر ریکارڈ میں ہے۔
(ڈوئی نے مرزا قادیانی کے چیلنج کو قبول نہیں کیا)
جناب یحییٰ بختیار: ہاں آچکا ہے۔ ہاں، میں کہتا ہوں کہ وہ بھی چیلنج مرزا صاحب نے ان کو یہی دیا کہ یہ کچھ عرصے کے اندر...... کچھ ٹائم دیا تھا، ایک سال، آٹھ مہینے، دو سال مجھے یاد نہیں...... کہ یہ ذلیل ہوگا اور مرے گا اور وہ جو میں نے دیکھی کتاب "True Islam" (سچا اسلام) اس میں یہ ہے کہ وہ ذلیل بھی ہوا اور مرا بھی، مگر اس نے کسی اسٹیج پر چیلنج کو Accept (قبول) ہی نہیں تھا کیا۔
مرزا ناصر احمد: اس نے کیا ہے Accept (قبول)۔
٢٣
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، آپ کے اخبار یہ کہہ رہے ہیں کہ :He ignored it (اس نے اسے نظر انداز کیا) ، اس پر تو آپ کہتے ہیں کہ پیش گوئی ٹھیک آ گئی باوجود اس کے کہ اس نے Accept (قبول) نہیں کیا......
مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، اوہو! یہ میں سمجھ گیا......
جناب یحییٰ بختیار: ......اور ثناء اللہ کے بارے میں کہتے ہیں Accept (قبول) نہیں کیا، اس واسطے......
مرزا ناصر احمد: یہ میں سمجھ گیا، آپ کا پوائنٹ میں سمجھ گیا ہوں۔ میں جواب دیتا ہوں۔ ایک پہلے پیش گوئی ہے، ایک ہے مباہلہ۔ ان دو میں فرق ہے۔ اس کے متعلق پیش گوئی تھی، مباہلہ نہیں تھا۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، اس میں یہ چیلنج تھا کہ اس نے اس کو 1369 Accept (قبول)......
مرزا ناصر احمد: نہ، نہ، نہ چیلنج پیش گوئی کے رنگ میں اور یہاں مباہلہ کے رنگ میں۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، پیش گوئی آتھم کا میں نے پوچھا۔ آپ نے کہا آتھم نے Accept کیا تھا اس کو۔
مرزا ناصر احمد: وہ مباہلہ تھا، آتھم کے ساتھ مباہلہ تھا، اور یہ بعد میں بھی مباہلہ کا لفظ آیا ہے سارے اس سلسلے میں اس میں کوئی شک نہیں کہ مباہلہ جو ہے، آتھم کے ساتھ مباہلہ تھا......
جناب یحییٰ بختیار: اس میں بھی پیش گوئی آتی ہے۔
مرزا ناصر احمد: اور ڈوئی کے ساتھ پیشین گوئی تھی اور ان دو میں فرق ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: ثناء اللہ اور آتھم کے ساتھ پیشین گوئی نہیں تھی؟
مرزا ناصر احمد: آتھم کے ساتھ مباہلہ تھا اور وہ مباہلہ ہوا......
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، اور مباہلہ میں پیشین گوئی تھی۔
مرزا ناصر احمد: ......اور حضرت مولانا ثناء اللہ صاحب کے ساتھ......مباہلہ کا چیلنج دیا گیا اور ایک دُعا کی شکل میں بتایا کہ یہ مباہلہ میں کرنا چاہتا ہوں اور انہوں نے انکار کیا یہ کہہ کے کہ ”کوئی دانا انسان آپ کے اس چیلنج کو قبول نہیں کر سکتا۔“
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ تو ٹھیک ہے، پھر آتھم کے بارے میں یہ مباہلہ میں پیشین گوئی کی انہوں نے؟
٢٤
1385 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11 مرزا ناصر احمد: ایک پیشین گوئی کا رنگ مباہلہ میں بھی ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: ہے پیشین گوئی، مگر مباہلہ میں ہوئی؟ مرزا ناصر احمد: مباہلہ کی شکل میں ہے۔ ان دونوں کی شکلیں مختلف ہیں۔ جناب یحییٰ بختیار: ان کو بھی اسی طرح چیلنج کیا، ڈوئی کو یا ڈوئی کو؟ 1370 مرزا ناصر احمد: ڈوئی کو چیلنج نہیں کیا، ڈوئی کو کہا کہ ”تم اس جگہ پر پہنچے ہوئے ہو کہ میں تمہیں بتاتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کے نیچے آؤ گے، بغیر مباہلہ کے۔“ جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! نہیں، میں آپ کو کتاب بتا دوں کہ اس کو Approach (رابطہ) کیا گیا کہ: ”یہ کہتے ہیں، آپ کے بارے میں، انڈیا میں Prophet Ahmad یہ چیلنج دے رہے ہیں آپ کو۔ آپ Accept (قبول) کر رہے ہیں اس کو؟“ اس نے کہا کہ: ”نہیں، I ignore it (میں اس کو نظر انداز کرتا ہوں) ایسے کیڑے مکوڑے، بہت پھرتے رہتے ہیں۔“ A very contemptuous language he used. (اس نے ہتک آمیز الفاظ استعمال کئے) مرزا ناصر احمد: میرے علم میں کہیں مباہلہ نہیں۔ جناب یحییٰ بختیار: مباہلہ نہیں، میں نے کہا اس کو چیلنج کیا، اس کو کہا کہ Accept (قبول) کرو، اس نے انکار کر دیا۔ مرزا ناصر احمد: دیکھیں ناں، چیلنج دیا۔ Stage by stage (مرحلہ وار) چلتے ہیں۔ چیلنج دیا، اس نے قبول نہیں کیا۔ مباہلہ کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ لیکن انکار کرنے میں اس نے پھر گندہ دہنی سے کام لیا۔ تب مباہلہ کے بغیر اس کے متعلق پیشین گوئی کی گئی۔ یہ تیسری اسٹیج ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: وہ میں کتاب لے آؤں گا۔ مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔ ابھی اور چلنا ہے؟
(مرزا قادیانی کی پیش گوئی پوری نہ ہونے پر مریدین کو تشویش)
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، اس میں ایک سوال ابھی اور کرنا ہے۔۔۔۔۔۔ مولوی صاحب نے مجھے کہا کہ آپ کی توجہ دلاؤں۔ I don't want to waste your time. (میں آپ کا وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا) صرف یہ ہے کہ: ٢٥
PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11 جناب یحییٰ بختیار: نہیں میں نے (اس نے اسے نظر انداز کیا)، اس پر تو آپ نے Accept (قبول) نہیں کیا...... مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، جناب یحییٰ بختیار: ...... اور نہیں کیا، اس واسطے...... مرزا ناصر احمد: یہ میں سمجھتا ہوں۔ ایک پہلے پیش گوئی ہے، ایک ہے تھی، مباہلہ نہیں تھا۔ 1369 جناب یحییٰ بختیار: Accept (قبول)...... مرزا ناصر احمد: نہ، نہ، نہ، یہ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، Accept کیا تھا اس کو۔ مرزا ناصر احمد: وہ مباہلہ تو آیا ہے سارے اس سلسلے میں، اس میں کوئی جناب یحییٰ بختیار: اس میں مرزا ناصر احمد: اور ڈوئی کے جناب یحییٰ بختیار: ثناء اللہ مرزا ناصر احمد: آتھم کے جناب یحییٰ بختیار: ہاں، اور مرزا ناصر احمد: ...... اور جو دیا گیا اور ایک دُعا کی شکل میں بتایا کہ یہ کہ ”کوئی دانا انسان آپ کے اس چیلنج کو جناب یحییٰ بختیار: نہیں، پیشین گوئی کی انہوں نے؟
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
”اس پیشین گوئی کے بعد مرزا صاحب کے بھی کئی ایسے مرید تھے جن کو بڑی تشویش ہوئی اور پریشانی ہوئی کہ یہ کیوں پیشین گوئی پوری نہیں آئی۔ اس میں سے ایک صاحب ہیں ملیر کوٹلہ کے ایک رئیس جو محمد علی خان......“
مرزا ناصر احمد: رئیس؟ میں نام نہیں سن سکا۔
1371 جناب یحییٰ بختیار: ”...... محمد علی خان، جو مرزا صاحب کے خادم اور سچے خادم ہیں، انہوں نے اپنی پریشانی پیشین گوئی کے عدم وقوع کا رونا اپنے دو خطوں میں ظاہر کیا ہے۔“
تو یہ دو خط یہاں ہیں۔ ان میں وہ کہتے ہیں:
”آپ کی پیشین گوئی آپ کی تشریح کے موافق پوری ہو گئی؟ نہیں، ہرگز نہیں۔ عبداللہ آتھم اب تک صحیح و سالم موجود ہے۔ اس کو بہ سزائے موت ہاویہ میں نہیں گرایا گیا۔ اگر یہ صحیح ہوتا تو یہ سمجھو کہ پیش گوئی الہام کے الفاظ کے بموجب پوری ہو گئی۔ جیسا کہ مرزا خدا بخش صاحب نے لکھا ہے اور ظاہری معنی جو یہ سمجھے گئے تھے وہ ٹھیک نہ تھے۔ اوّل تو کوئی ایسی بات نظر نہیں آتی کہ جس کا اثر عبداللہ آتھم صاحب پر پڑا ہو۔“
دوسرے پیش گوئی کے الفاظ یہ ہیں:
”اب بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور سچے خدا کو چھوڑ رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے وہ ان ہی دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لے کر یعنی پندرہ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جائے گا اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی۔“
یہ خط وہ......
مرزا ناصر احمد: ٹھیک۔
(مرزا قادیانی کی محمدی بیگم والی پیش گوئی)
جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! اب وہ ان کی......
مرزا ناصر احمد: اگلی، محمدی بیگم؟
جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔
1372 مرزا ناصر احمد: پہلی بات تو میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ محمدی بیگم کے دس رشتہ دار یہ کہہ کے کہ ”یہ پیش گوئی پوری ہو گئی“ بیعت میں داخل ہو گئے...... خود وہ خاندان اور دوسرے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ محمدی بیگم کے لڑکے نے یہ ایک اشتہار دیا جس کی فوٹو اسٹیٹ کاپی اس وقت میں یہاں داخل کرواؤں گا۔
٢٦
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
(وقفہ)
جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! اگر آپ پہلے اس کے جو Brief Facts (مختصر کوائف) ہیں۔۔۔۔۔۔ کیونکہ بہت سے ممبران کو پتا نہیں کہ کیا۔۔۔۔۔۔ پھر اس کے بعد اگر آپ۔۔۔۔۔۔
(وقفہ)
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔ اس پیش گوئی کے جو مختصر کوائف ہیں وہ یہ ہیں کہ بانی سلسلہ احمدیہ کے خاندان کا ایک حصہ اسلام سے برگشتہ ہو چکا تھا اور اسلام کے خلاف بہت گندہ دہنی اور بد زبانی اور گستاخی اور شوخی سے کام لیتا تھا۔ تو ان کے لئے یہ ایک انذاری پیشین گوئی تھی اور دراصل پیشین گوئی یہ ہے کہ:
”اگر تم اسلام کی طرف رجوع نہیں کرو گے، جیسے تم چھوڑ چکے ہو باوجود مسلمانوں کے گھر میں پیدا ہونے کے، اور جو تم گستاخیاں کر رہے ہو اس سے باز نہیں آؤ گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے گھر پر لعنت اس طرح بھیجے گا کہ تمہیں ملیا میٹ کر دے گا اور تمہاری جو اس وقت دشمنی کی حالت ہے۔۔۔۔۔۔ میں اسلام کے ایک ادنیٰ خادم کے طور پر کام کر رہا ہوں۔۔۔۔۔۔ تمہاری جو ذہنیت ہے میرے ساتھ تمہارا کوئی تعلق نہیں، رشتہ داری ہوگی، لیکن ہمارا کوئی تعلق نہیں اور تم کبھی سوچ بھی نہیں سکتے کہ اپنی لڑکی کا رشتہ میرے ساتھ کرو۔“
اور پیشین گوئی یہ ہے کہ:
”تمہارے خاندان میں سے، یعنی اس حصے میں سے جس کا ذکر ہے، اللہ تعالیٰ 1373 ہلاکت نازل کرے گا، ایک کے بعد دُوسرا مرتا چلا جائے گا، اور یہاں تک کہ تم ذلیل ہو گے کہ تم میرے جیسے انسان سے اپنی لڑکی کا رشتہ کرنے کے لئے تیار ہو جاؤ۔“
لیکن جیسا کہ انذاری پیشین گوئیوں میں ہوتا ہے، انہوں نے رجوع کیا اور اللہ تعالیٰ نے وہ پیش گوئی ٹال دی اور رُجوع تو اس خاندان کا رُجوع کہ اس خاندان کے افراد احمدیت میں داخل ہوئے اور ان کے اپنے بیٹے نے محمدی بیگم کے یہ لکھا۔ وہ جو اصل، جو میں نے ابھی بتایا ناں خلاصہ، اس کا ذکر انہوں نے بھی کیا، بیٹے نے۔ وہ بھی میں پڑھ دیتا ہوں، اس کی تصدیق ہو جائے گی، اگر کسی کو وہم ہو۔ یہ ان کے، محمدی بیگم کے بیٹے نے یہ اشتہار دیا ہے:
”یہی نقشہ یہاں نظر آتا ہے کہ جب حضرت مرزا صاحب کی قوم اور رشتہ داروں نے۔۔۔۔۔۔“
٢٧
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
انہوں نے یہ لکھا ہے فقرہ۔ لیکن اصل اس پیش گوئی کا تعلق رشتہ داروں سے ہے، محمدی بیگم رشتہ دار تھی ناں:
”جب آپ کے رشتہ داروں نے گستاخی کی، یہاں تک کہ خدا تعالیٰ کی ہستی سے انکار کیا، نبی کریم ﷺ اور قرآن پاک کی ہتک کی اور اشتہار دے دیا کہ ہمیں کوئی نشان دکھلایا جائے۔ تو اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مامور کے ذریعے پیش گوئی فرمائی۔ اس پیش گوئی کے مطابق میرے نانا جان مرزا احمد بیگ صاحب ہلاک ہو گئے اور باقی خاندان اصلاح کی طرف متوجہ ہو گیا۔ (ویسے اس خاندان میں ایک اور موت بھی آئی) جس کا ناقابل تردید ثبوت یہ ہے کہ اکثر نے احمدیت قبول کرلی۔ تو اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت غفور الرحیم کے ماتحت، قہر کو رحم سے بدل دیا۔“
یہ ان کے بیٹے کی طرف سے یہ ہے اشتہار، اور یہ اب میں داخل کروا رہا ہوں۔ وہ میں نے ....... خاندان کے نام میرے پاس لکھے ہوئے ہیں، میں نے اس لئے نہیں پڑھے کہ خواہ مخواہ 1374 یہاں.......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ نہیں۔ اس کے والد کا نام احمد بیگ تھا؟
مرزا ناصر احمد: ہاں جی۔
جناب یحییٰ بختیار: یہ ان کے جو رشتہ دار تھے محمدی بیگم کے، یہ مرزا صاحب کے مخالف تھے؟ آپ نے کہا ہے: ”یہ اسلام کے مخالف تھے۔“
مرزا ناصر احمد: یہ اسلام کے مخالف تھے، قرآن کریم کی ہتک کیا کرتے تھے، اللہ تعالیٰ سے انکاری تھے اور اسلام کا مضحکہ اڑایا کرتے تھے Openly (کھلم کھلا) اپنی مجلسوں میں۔
جناب یحییٰ بختیار: آپ نے کہا ناں کہ انہوں نے کہا: ”نشان کوئی بتائیے، مرزا صاحب!“
مرزا ناصر احمد: مرزا صاحب نے اپنے مخالف کو نشان نہیں بتایا، مرزا صاحب نے اللہ تعالیٰ سے انکار کرنے والے کو، قرآن کریم کی ہتک کرنے والے کو، نبی کریم ﷺ کے متعلق گستاخی کے کلمات کہنے والے کو نشان دکھلایا۔
جناب یحییٰ بختیار: میں کچھ تھوڑا سا Facts (حقائق) پہلے Verify (تصدیق) کرالوں جی، اس کے بعد....... احمد بیگ تھے محمدی بیگم کے والد۔ احمد بیگ کی جو ہمشیرہ تھی ان کی شادی ہوئی تھی غلام حسین کے ساتھ، جو کہ مرزا صاحب کے کزن تھے، غلام حسین کی
٢٨
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
شادی ہوئی تھی جو مرزا صاحب کے کزن تھے، یہ ٹھیک ہے جی؟
مرزا ناصر احمد: جی۔
جناب یحییٰ بختیار: غلام حسین صاحب کوئی، جب یہ واقعہ ہوا ہے، اس سے کوئی بیس (٢٠) پچیس (٢٥) سال پہلے غائب ہو گئے تھے، He disappeared, unheard of?
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔
جناب یحییٰ بختیار: اور ان کی جو جائیداد تھی وہ احمد بیگ صاحب کی بیوی کو ورثے میں مل گئی تھی، 1375 یا اس کا حصہ اس میں آگیا تھا، مگر مرزا صاحب کا بھی کچھ حصہ آتا تھا کیونکہ ان کی شاید اولاد نہیں تھی؟
مرزا ناصر احمد: کن کی؟
جناب یحییٰ بختیار: غلام حسین صاحب جو تھے ناں جی، جو غائب ہو گئے......
مرزا ناصر احمد: جی۔
جناب یحییٰ بختیار: ...... ان کی جائیداد جو رہ گئی تو وہ احمد بیگ کی جو بہن تھی، جو ان کی بیوی تھی غلام حسین کی، وہ احمد بیگ کی ہمشیرہ تھی۔ مجھے جو ساری Details (تفصیلات) دی گئی ہیں ناں جی، میں ان سے چل رہا ہوں۔
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔ یہ میں بھی پڑھ دوں، آپ مقابلہ کر لیں۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں یہ کرلوں، پھر اس میں جو غلطی ہو گی آپ پوائنٹ آؤٹ کر دیجئے کیونکہ آپ نے تو وہ ...... یہ مجھے جو دیئے گئے ہیں: احمد بیگ کی ہمشیرہ کی شادی غلام حسین سے ہوئی۔ غلام حسین غائب ہو گیا۔ اس کا کوئی نام کسی نے نہیں سنا کئی عرصے تک، ٢٥ سال کے قریب۔ پھر اس کی جو جائیداد تھی وہ اس کی بیگم کے نام آگئی ......
مرزا ناصر احمد: اس کا کیا نام ہے؟
جناب یحییٰ بختیار: بیگم کا نام نہیں دیا جی، وہ احمد بیگ کی ہمشیرہ تھی۔ احمد بیگ یہ چاہتا تھا کہ یہ جائیداد جو ہے، جو ان کی ہمشیرہ کی ہے، وہ اپنے بیٹے کے نام ٹرانسفر کرے، اور اس کے لئے ضروری تھا کہ وہ مرزا غلام احمد صاحب کی بھی Consent لے کیونکہ ان کا بھی کوئی اس میں ٹائٹل بنتا تھا، کزن تھے۔
٢٩
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
مرزا ناصر احمد: ہاں، کوئی ان کا لیگل ٹائٹل۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں لیگل ٹائٹل تھا۔ تو وہ مرزا صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مرزا صاحب سے کہا کہ یہ آپ اس پر دستخط کردیں، یہ میرے بیٹے کے نام ٹرانسفر ہوجائے، 1376 کیونکہ میری بہن کو اس میں اعتراض نہیں ہے۔ تو مرزا صاحب نے ان کو کہا کہ: ”یہ میری عادت ہے کہ میں ایسے معاملوں میں استخارہ کرتا ہوں اور اس کے بعد میں آپ کو جواب دوں گا۔“ آپ یہ نوٹ کرلیں جو مجھے Facts دیئے گئے ہیں۔
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، جی، ٹھیک ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: استخارہ کے بعد انہوں نے ان کو یہ کہا ...... دو چار دن گزرے جتنے بھی دن ہوئے۔ اس پر ....... کہ ”اگر آپ اپنی بیٹی محمدی بیگم کا میرے ساتھ رشتہ کریں جن کا اللہ نے جنت میں یا آسمان پر نکاح کردیا ہے تو یہ آپ کے خاندان کے لئے اچھا ہوگا۔ (جی) اللہ کی اس پر مہربانی ہوجائے گی، برکت ہوگی اس پر۔ ورنہ لڑکی کی بھی بُری حالت ہوجائے گی اور آپ کے خاندان میں جہاں تک احمد بیگ ہے دو تین سال کے عرصے کے اندر فوت ہوجائے گا اور جس آدمی سے جس شخص سے محمدی بیگم کی شادی ہوگی وہ اڑھائی سال کے عرصے کے اندر فوت ہوجائے گا۔“ یہ ١٨٨٦ء کا واقعہ ہے۔ اس کے بعد محمدی بیگم کے والد نے اس نکاح سے، شادی کرنے سے .......
مرزا ناصر احمد: یہ کس سن کا واقعہ ہے؟
جناب یحییٰ بختیار: ١٨٨٦ء۔
مرزا ناصر احمد: ١٨٨٦ء۔ ہاں، ہاں، ٹھیک ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: یہ میں آپ سے Clarify کرارہا ہوں۔
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، ٹھیک ہے۔ (اپنے وفد کے ایک رکن سے) ١٨٨٦ء لکھ لیں۔ (اٹارنی جنرل سے) میں سمجھا نہیں تھا۔
(مرزا قادیانی کا خط علی شیر کے نام)
جناب یحییٰ بختیار: پھر اس کے بعد انہوں نے اس سے انکار کردیا، شادی سے، رشتہ دینے سے۔ پھر مرزا صاحب نے اس سلسلے میں جو اُن کے عزیز تھے اور احمد بیگ کے بھی عزیز تھے، ان کو، بعض لوگوں کو خط لکھے۔ ایک خط انہوں نے لکھا مرزا علی شیر کو کہ:
٣٠
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
1377”مجھے معلوم ہوا ہے کہ عنقریب ایک دو دن میں عید کے بعد یہ شادی ہو رہی ہے اور تم بھی اس میں شامل ہو رہے ہو اور جو اس شادی میں شامل ہوگا وہ میرا سب سے بڑا دشمن ہوگا، اور اسلام کا دشمن ہوگا۔“
(کلمہ فضل رحمانی)
مرزا ناصر احمد: جو شادی میں شامل نہیں ہوگا؟
جناب یحییٰ بختیار: جو ہوگا۔
مرزا ناصر احمد: اچھا۔
جناب یحییٰ بختیار: کیونکہ...... وہ مرزا صاحب کہتے ہیں: ”ہمارا دشمن ہوگا......“
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔
جناب یحییٰ بختیار: ”...... وہ اسلام کا دشمن ہوگا۔“ احمد بیگ کو بھی انہوں نے خط لکھا اور اس میں اس کو کہ:
”تمہیں علم ہے کہ میں نے کیا پیشین گوئی کی ہے (کیا میری Prophecy ہے) اور اس سے تقریباً دس لاکھ لوگ واقف ہو گئے ہیں۔ سب ہندو اور پادری اس پیشین گوئی کا انتظار کر رہے ہیں۔ Maliciously (جو لفظ مجھے انہوں نے دیئے ہیں) اس کا انتظار کر رہے ہیں، میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ اس پیشین گوئی کو سچا ثابت کرنے کے لئے میری مدد کریں تاکہ خدا کی آپ پر مہربانی ہو۔ کوئی انسان خدا سے جھگڑ نہیں سکتا۔ یہ خدا کی مرضی ہے کیونکہ جنت میں جو بات مقرر ہو چکی ہے وہ ہو گی۔“
(کلمہ فضل رحمانی)
یعنی یہ جو مجھے Gist دیا ہے جی، میں اس سے کر رہا ہوں۔
مرزا ناصر احمد: یہ کوئی حوالہ ہے یا Gist ہے؟
جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، Gist مجھے انگلش میں جو لکھوایا گیا ہے کتابوں سے۔
1378مرزا ناصر احمد: ہاں، یعنی کتابوں کے حوالے نہیں ہیں یہاں؟
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ تو آجائیں گے۔ مرزا صاحب کے خطوط جو ہیں......
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔
جناب یحییٰ بختیار: ...... ان کا میں Gist پڑھا رہا ہوں۔ مرزا صاحب نے جو احمد بیگ کو خط لکھا......
Mirza Nasir Ahmad: Yes, the whole is a very interesting story.
٣١
LY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
مرزا ناصر احمد: ہاں، کوئی ان کا لیگل
جناب یحییٰ بختیار: ہاں لیگل نکتہ ہوئے اور مرزا صاحب سے کہا کہ یہ آپ اس ہو جائے، 1376کیونکہ میری بہن کو اس میں اعترا ”یہ میری عادت ہے کہ میں ایسے معاملوں میں اس دوں گا۔“ آپ یہ نوٹ کرلیں جو مجھے Facts
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں جی، ٹھیک
جناب یحییٰ بختیار: استخارہ کے بع جتنے بھی دن ہوئے۔ اس پر...... کہ ”اگر آپ ا اللہ نے جنت میں یا آسمان پر نکاح کر دیا ہے تو یہ کی اس پر مہربانی ہو جائے گی، برکت ہوگی اس آپ کے خاندان میں جہاں تک احمد بیگ ہے، اور جس آدمی سے جس شخص سے محمدی بیگم کی شاد ہو جائے گا۔“ یہ ١٨٨٦ء کا واقعہ ہے۔ اس کے کرنے سے......
مرزا ناصر احمد: یہ کس سن کا واقعہ ہے
جناب یحییٰ بختیار: ١٨٨٦ء۔
مرزا ناصر احمد: ١٨٨٦ء۔ ہاں، ہاں
جناب یحییٰ بختیار: یہ میں آپ سے
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، ٹھیک ب لیں۔ (اٹارنی جنرل سے) میں سمجھا نہیں تھا۔
(مرزا قادیانی کا خ
جناب یحییٰ بختیار: پھر اس کے رشتہ دینے سے۔ پھر مرزا صاحب نے اس سلسلے تھے، ان کو، بعض لوگوں کو خط لکھے۔ ایک خط انہوں
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
Mr. Yahya Bakhtiar: ہاں، You may say so.
Mirza Nasir Ahmad: It is an accident which took place.
وہ جس طرح بڑے بڑے بچوں کے لئے بناتے ہیں ناں اسٹوریاں۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، تو یہ دیکھیں ناں جی،......
مرزا ناصر احمد: اور اُس کے لئے اس کے جو اصل ہیں، اصل ......میں سمجھ گیا یہ......وہ سارے آپ کے سامنے ہم لکھ کر بھجوا دیتے ہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔ لیکن جو مرزا علی شیر کو جو خط لکھا انہوں نے، پھر مرزا احمد بیگ کو جو خط......
مرزا ناصر احمد: ہاں، یہ بھی ساتھ ہی لیں گے خط اپنے جواب میں۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔ یہ انہوں نے......
مرزا ناصر احمد: ہاں، یہ نوٹ کر لیتے ہیں......
جناب یحییٰ بختیار: ......کہ یہ Facts (حقائق) ہیں۔ آپ ان کو کہیں جی کہ یہ نہیں لکھے تو اور بات ہے۔ خط کے اندر کا اگر کوئی مضمون بدل گیا ہے یا......
مرزا ناصر احمد: ......بدلا یا Context بدلا۔
1379 جناب یحییٰ بختیار: ہاں، ہاں۔ وہ تو آپ اوریجنل فائل کریں تو That will be the best۔ میں نہیں چاہتا کہ Misunderstanding (غلط فہمی) ہو کوئی......
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔
جناب یحییٰ بختیار: ......کیونکہ مجھے ایسی......
مرزا ناصر احمد: یہ اگر آپ کچھ اجازت دیں تو صرف اس کے متعلق، اور کوئی چیز نہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مرزا صاحب! میں ذرا یہ Facts (حقائق) پورے کر لوں جس سے آپ......
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔
جناب یحییٰ بختیار: ......اس بیک گراؤنڈ کے......پھر انہوں نے یہ خط لکھا ان کو، اور ان کو کہا کہ: ”آپ میری مدد کریں اس میں۔“ وہ نہیں مانے۔ ظاہر ایسا ہوتا ہے۔ تو اس کے بعد
٣٢
1393 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
مرزا صاحب نے اپنے بیٹے مرزا سلطان احمد...... جو مرزا صاحب کی شادی کے بارے میں مخالفت کر رہے تھے، مجھے یہ بتایا گیا ہے...... اس کو کہا کہ: ”میں Publically تمہیں Disown اور Disinherit کرتا ہوں، عاق کرتا ہوں۔“ کیا یہ درست ہے؟ اور ساتھ ہی......
مرزا ناصر احمد: یہ ”کیا یہ درست ہے“ مجھ سے سوال ہے یا اس کا حصہ ہے؟
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یعنی یہ میں Verify (تصدیق) کرا رہا ہوں جی، Verification (تصدیق)۔
مرزا ناصر احمد: ہاں، نہیں، تو اس کا تو سارا جواب ہے۔ یہ تو......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یعنی یہ جو ہیں ناں بیچ میں Facts (حقائق)، وہ پوچھتے ہیں کہ یہ Facts (حقائق)......
مرزا ناصر احمد: ہاں، یہ ساروں کا جواب دیں گے۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، جواب آپ دیں گے۔ میں کہتا ہوں یہ جو چیزیں ہیں، جو واقعات ہیں......
1380 مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، یہ نوٹ کر لیں گے۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔
مرزا ناصر احمد: (اپنے وفد کے ایک رکن سے) ہاں، یہ نوٹ کریں جی۔
(مرزا قادیانی کا اپنے بیٹے کو عاق کرنا)
جناب یحییٰ بختیار: مرزا سلطان احمد نے مخالفت کی اور مرزا صاحب نے ان کو عاق کر دیا، Disown کر دیا اور یہاں تک کہ ان کی والدہ کو بھی کہا کہ جس دن محمدی بیگم کی شادی کسی اور سے ہوئی تمہیں بھی طلاق...... کیونکہ ان کی رشتہ داری تھی احمد بیگ سے۔
مرزا ناصر احمد: میں سن رہا ہوں۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔ اس طرح مرزا صاحب کے دُوسرے بیٹے فضل احمد، ان کو بھی کہا کہ تم اپنی بیوی کو طلاق کر دو کیونکہ وہ احمد بیگ کی Niece تھی۔
مرزا ناصر احمد: میں نے سن لیا ہے۔ ابھی میرے جواب کی باری نہیں آئی۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں یہ کہتا ہوں کہ یہ حقائق......
مرزا ناصر احمد: ہاں، میں نے کہا کہ نوٹ کریں۔
٣٣
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے۔
مرزا ناصر احمد: وہ تو ٹھیک ہے، ہر چیز کی وضاحت ہونی چاہئے۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔ یہ ان کو بھی کہا اور ان کو بھی Disown کیا، Disinherit (عاق) کیا، کیونکہ وہ اپنی بیوی کو شاید طلاق نہیں دے رہے تھے مرزا صاحب کی پیشین گوئی کو پورا کرنے کے لئے۔
اس کے بعد محمدی بیگم کی شادی سلطان احمد سے ہوئی۔ اس کے بعد مرزا صاحب نے کہا کہ: ”یہ میری اُمید کا معاملہ نہیں، یہ میرے Faith (ایمان) کا معاملہ ہے کہ یہ پیشین گوئی ہو کے رہے گی، شادی کے بعد بھی۔“ چھ مہینے کی شادی کے بعد احمد بیگ وفات کر گئے اور ڈھائی سال کے بعد ان کے میاں نے وفات کرنا تھا۔ تو پہلے تو میاں کو مرنا چاہئے تھا پھر احمد بیگ کو۔ بہر حال، احمد بیگ پہلے وفات کر گئے۔
1381 مرزا ناصر احمد: یہ کس کو خبر ملی تھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہ کس کو پہلے مرنا چاہئے تھا؟
جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! میں نہیں کہتا یہ، میں تو صرف Inference یہ لے رہا ہوں کہ اگر میں کہوں کہ: ”یہ شخص دو سال کے اندر مرے گا، وہ تین سال کے اندر مرے گا“ تو دو سال والا مطلب ہے کہ پہلے مرے گا۔ اس واسطے ۔ خاوند کے لئے کہا تھا ڈھائی سال، باپ کے لئے تین سال.......
مرزا ناصر احمد: اگر یہ ہو کہ زید تین سال بعد مرے گا اور بکر ڈھائی سال بعد مرے گا، اور زید مر جائے...... نہ...... تین سال کے اندر مر جائے گا، اور وہ ڈھائی سال کے اندر مرے گا اور زید مر جائے چھ مہینے بعد اور وہ مرے سال بعد، تو دونوں باتیں درست ہوں گی......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ ٹھیک ہے،.......
مرزا ناصر احمد: ...... اور نقشہ بدل جائے گا۔
؎١ یہ خبر مرزا قادیانی کو ملی کہ احمد بیگ تین سال میں اور سلطان احمد خاوند محمدی بیگم کا ڈھائی سال میں مرے گا۔ تو اڑھائی سال والے کو پہلے مرنا چاہئے، تین سال والے کو بعد میں۔ سیدھی سی بات پر مرزا ناصر سیخ پا ہو گئے...!
؎٢ اس پیش گوئی کا ذکر آتے ہی ہر قادیانی کے چہرے اور دماغ دونوں کا نقش بدل جاتا ہے۔ نقش و نقشہ دونوں مرزا قادیانی کی آنکھوں جیسے ہو جاتے ہیں۔
٣٤
1395 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ ٹھیک ہے، میں یہ کہہ رہا ہوں کہ پہلے مرنا چاہئے تھا، وہ مرا نہیں۔ محمدی بیگم کے جو خاوند تھے سلطان احمد، یہ بڑا کوئی سخت قسم کا آدمی تھا، تو یہ نہیں مرا اور اس کے بعد ڈھائی سال کا عرصہ بھی گزر گیا اور پھر یہ گیا، بڑا سولجر رہا فرانس میں۔ ان کو کئی دفعہ گولیاں بھی لگیں لڑائی میں، ١٩١٤ء کی جنگ میں، پھر بھی نہیں مرا وہ، اور نتیجہ یہ ہوا کہ مرزا صاحب کا محمدی بیگم سے کبھی نکاح نہیں ہوا، کبھی شادی نہیں ہوئی۔ تو یہ Facts (حقائق)......
مرزا ناصر احمد: یہ انذاری پیشین گوئی تھی، ٹل گئی۔ ٹھیک ہے یہ۔ یہ وہ Facts (حقائق) ہیں جو آپ کو بتائے گئے ہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، تو میں کہتا ہوں کہ آپ Verify (تصدیق) کرلیں۔ اگر غلط ہوں......
مرزا ناصر احمد: اور آپ مہربانی سے ہمیں یہ حکم دے رہے ہیں کہ ہم اس کو Clarify (واضح) کریں۔
1382 جناب یحییٰ بختیار: ہاں، بے شک، ٹھیک ہے۔
مرزا ناصر احمد: یہ تو خلاصہ ہے، اس واسطے حوالوں کا سوال ہی نہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ تو......
مرزا ناصر احمد: یعنی میرا مطلب ہے، خلاصہ ہے ناں یہ تو۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، میں نے تو Sum up کیا ہے، جو مجھے Facts دیئے ہیں تو وہ میں پڑھ رہا تھا۔
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، اسی واسطے میں نے کہا تھا بڑا اچھا قصہ ہے ١؎۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، تاکہ اس پر آپ......
مرزا ناصر احمد: یعنی حوالے اس نے کہیں دیئے ہی نہیں؟
جناب یحییٰ بختیار: ہیں جی؟
مرزا ناصر احمد: یہ جو ہے خلاصہ......
جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! یہ کوئی میرے خیال میں دس بارہ کتابیں ہیں جن میں سے یہ ایک واقعہ ہے کہ ایسا ہوا۔
١؎ مرزا کے سارے قصے اچھے تھے، بڑی بے ہودگی آمیز تاویلیں ہوتی ہیں۔
٣٥
AKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک
مرزا ناصر احمد: وہ تو ٹھیک
جناب یحییٰ بختیار: تو Disinherit (عاق) کیا، کیونکہ وہ پیشین گوئی کو پورا کرنے کے لئے۔
اس کے بعد محمدی بیگم کی شا کہا کہ: ”یہ میری اُمید کا معاملہ نہیں، یہ ہو کے رہے گی، شادی کے بعد بھی۔“
سال کے بعد ان کے میاں نے وفات
بہر حال، احمد بیگ پہلے وفات کر گئے ۔
1381 مرزا ناصر احمد: یہ کس
جناب یحییٰ بختیار: مرزا لے رہا ہوں کہ اگر میں کہوں کہ: ”یہ فقر تو دو سال والا مطلب ہے کہ پہلے مرے کے لئے تین سال......
مرزا ناصر احمد: اگر یہ گا، اور زید مر جائے......نہ......تین سا اور زید مر جائے چھ مہینے بعد اور وہ مرے
جناب یحییٰ بختیار: نہیں
مرزا ناصر احمد: ......اور
١؎ یہ خبر مرزا قادیانی کو ملی ک ڈھائی سال میں مرے گا۔ تو اڑھائی س سیدھی سی بات پر مرزا ناصر سیخ پا ہو گئے ۔
٢؎ اس پیش گوئی کا ذکر آ جاتا ہے۔ عقل و ہوش دونوں مرزا قادیا
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
مرزا ناصر احمد: یہ اگر وہ دس بارہ کتابوں کے نام صرف بتادیں، صفحے بتائے بغیر، تو ہم نکال لیں گے بیچ میں سے۔
جناب یحییٰ بختیار: تو معلوم کرلوں گا اس پر۔
مرزا ناصر احمد: ہاں۔
جناب یحییٰ بختیار: کچھ انہوں نے دیا تھا، کچھ اوروں نے دیئے تھے۔ مگر یہ Facts (حقائق) میں نے ان سے لئے۔
مرزا ناصر احمد: ہاں، ٹھیک ہے، میں سمجھ گیا ہوں، میں سمجھ گیا ہوں۔
جناب یحییٰ بختیار: اگر Facts آپ کہتے ہیں کہ کوئی غلط ہے اس میں، کہ ایسا نہیں ہوا، 1383 ایسا خط نہیں لکھا گیا، یا ایسے Disown بیٹے کو نہیں کیا......
مرزا ناصر احمد: ...... یا اس کا مضمون اور ہے، یا اس کا Context اور ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، نہیں، مضمون کی بات بعد میں، میں Bare Facts کہہ رہا ہوں، میں یہ نہیں کہتا کہ Exact (بالکل) ان الفاظ میں مرزا صاحب نے بات کی۔
مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، میرا مطلب ہے اگر جنرل Impression (تاثر) اس سے Just the opposite ہو، جو سارے Facts (حقائق) ہیں......
جناب یحییٰ بختیار: وہ اور بات ہے۔ دیکھیں ناں، مرزا صاحب! میں یہ عرض کر رہا ہوں......
مرزا ناصر احمد: نہیں، میں تو جواب دوں گا۔ میں تو ابھی جواب ہی نہیں دے رہا۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، میں نے کہا کہ میری پوزیشن Clear (واضح) ہو جائے......
مرزا ناصر احمد: وہ Clear (واضح) ہے آپ کی۔
جناب یحییٰ بختیار: ...... کہ احمد بیگ کو خط لکھا......
مرزا ناصر احمد: وہ پوزیشن نوٹ کرلی ہے ساری۔
جناب یحییٰ بختیار: ...... اس کے ایک عزیز کو خط لکھا، دھمکی دی......
مرزا ناصر احمد: وہ ساری نوٹ کرلی ہیں، پتا لگے گا......
1 ؎ ”پتا لگے گا“ کی رٹ ہی نہ لگائیں، ہمیں پتا لگے نہ لگے، قادیانیوں کو تو پتا لگ چکا۔ اس لئے کہ قادیانی عقیدہ کے مطابق محمدی بیگم کا اللہ تعالیٰ نے آسمانوں پر نکاح مرزا قادیانی سے کیا، نبی کی بیوی اُمت کی ماں، تو محمدی بیگم قادیانیوں کی آسمانی ماں تھی، اس کو لے گیا سلطان پٹی والا، تو ”پتا لگے گا“ یا لگ گیا؟...!
٣٦
1397 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
جناب یحییٰ بختیار : ...... اپنے بیٹے کو کہا کہ تم بیوی کو طلاق دو۔ دوسرے بیٹے کو کہا کہ تم ......
مرزا ناصر احمد : ...... جب میں جواب دوں گا تو حقائق جو ہیں وہ صحیح شکل میں سامنے آ جائیں گے۔
جناب یحییٰ بختیار : ...... تو میں نے کہا یہ Facts (حقائق) کہ اپنی بیگم کو طلاق دے دی ......
مرزا ناصر احمد : ہاں، ہاں، وہ سارے دیکھ لیں گے۔
(اگر محمدی بیگم سے نکاح اللہ کی مرضی تھی تو پھر اتنی کوششیں کیوں؟)
جناب یحییٰ بختیار : ...... تو سوال یہ تھا کہ اگر اللہ کی مرضی تھی تو اتنی زیادہ کوشش کی پھر انسانی 1384 ضرورت نہیں تھی کہ لوگوں کو کہیں کہ : ”میں ایسے کردوں گا، میری پیشین گوئی پوری ہو۔“ یہ جو ہے ناں مطلب، یہ ........
مرزا ناصر احمد : ہاں، ہاں، اس کا جب جواب آئے گا، پتا لگ جائے گا کہ محمدی بیگم والی پیشین گوئی پوری ہوگئی اور اس کا خاندان احمدی ہو گیا ١؎ ......
جناب یحییٰ بختیار : احمدی تو ہوجاتے ہیں جی، وہ تو اور بات ہے ناں جی، وہ خاندان ......
مرزا ناصر احمد : ...... یہ کہہ کے .......
جناب یحییٰ بختیار : اپنے مرزا صاحب کے بیٹے احمدی نہیں ہورہے تو اس کا تو یہ تو کوئی بات ہی نہیں ہے۔
مرزا ناصر احمد : کون؟ مثلاً مرزا سلطان احمد صاحب احمدی نہیں ہوئے؟
جناب یحییٰ بختیار : یہی میرا خیال تھا، آپ نے کہا بھی تھا کہ اُس دن کہ احمدی نہیں ہوئے۔ ان کا جنازہ بھی نہیں پڑھا انہوں نے۔
مرزا ناصر احمد : وہ چھوٹے بیٹے تھے، فوت ہوگئے تھے۔
جناب یحییٰ بختیار : نہیں، یعنی جو بھی ہو، کوئی بیٹا بھی ہو۔
١؎ سارے احمدی ہو گئے؟ کذب محض! اگر محمدی بیگم مرزا کے نکاح میں نہ آئی، نہ سلطان مرا، نہ بیوہ ہوئی، نہ طلاق ملی، نہ مرزا قادیانی کے گھر آباد ہوئی، لیکن پیشین گوئی پوری ہوگئی...؟ یا بے حیائی تیرا آسرا...!
٣٧
Y OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
مرزا ناصر احمد : یہ اگر وہ دس بار ہم نکال لیں گے بیچ میں سے۔
جناب یحییٰ بختیار : تو معلوم کرلا
مرزا ناصر احمد : ہاں۔
جناب یحییٰ بختیار : کچھ انہوا Facts (حقائق) میں نے ان سے لئے۔
مرزا ناصر احمد : ہاں، ٹھیک ہے
جناب یحییٰ بختیار : اگر cts نہیں ہوا، 1383 ایسا خط نہیں لکھا گیا، یا ایسے n
مرزا ناصر احمد : ...... یا اس کا ٢
جناب یحییٰ بختیار : ہاں، نھی کہہ رہا ہوں، میں یہ نہیں کہتا کہ Exact
مرزا ناصر احمد : نہیں، نہیں (تاثر) اس سے ust the opposite
جناب یحییٰ بختیار : وہ اور بات ہیں۔ ......
مرزا ناصر احمد : نہیں، میں تو
جناب یحییٰ بختیار : ہاں، میں یہ
مرزا ناصر احمد : وہ Clear
جناب یحییٰ بختیار : ...... کہ
مرزا ناصر احمد : وہ پوزیشن تو
جناب یحییٰ بختیار : ...... ٢١
مرزا ناصر احمد : وہ ساری تحر
١؎ ”پتا لگے گا“ کی بُری نہ لگائیں قادیانی عقیدہ کے مطابق محمدی بیگم کا اللہ تعالیٰ کی ماں، تو محمدی بیگم قادیانیوں کی آسمانی ماں
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
مرزا ناصر احمد: یہ مرزا سلطان احمد صاحب، جن کا آپ نے ذکر کیا ہے، یہ احمدی ہو گئے تھے۔
جناب یحییٰ بختیار: اس کے باوجود بات نہیں مانی انہوں نے۔
مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، بعد میں احمدی ہو گئے تھے۔
جناب یحییٰ بختیار: بعد میں؟
مرزا ناصر احمد: سمجھ کے کہ پیش گوئی سچ نکلی ہے......
جناب یحییٰ بختیار: ”ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا!“
1385 مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، بالکل۔
جناب یحییٰ بختیار: شادی ہو گئی، محمدی بیگم چلی گئی، پھر کیا فائدہ؟
مرزا ناصر احمد: (قہقہہ) نہیں، پھر وہ میں...... مزاح کا پہلو اس میں کوئی نہیں، حقیقت دیکھنی چاہئے۔١؎
Mr. Chairman: I will request the honourabale members to restain their sentiments.
(جناب چیئرمین: اراکین سے درخواست کروں گا کہ وہ اپنے جذبات پر قابو رکھیں)
Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, shall we have a five minutes, break?
(جناب یحییٰ بختیار: جناب والا! کیا ہم پانچ منٹ وقفہ کر لیں؟)
Mr. Chairman: All right, ten minutes, break.
(جناب چیئرمین: ٹھیک ہے دس منٹ وقفہ کر لیں)
The Delegation is to report back at quarter to one.
(وفد پونے ایک بجے واپس آجائے)
Ten minutes for honourable members.
(دس منٹ معزز اراکین کے لئے)
١؎ حقیقت یہی ہے نا کہ محمدی بیگم مرزا کے نکاح میں نہ آئی، حالانکہ مرزا نے پیش گوئی کی تھی کہ ”ہر رُکاوٹ دُور کر کے اللہ تعالیٰ اسے میری طرف لائے گا“ وہ تو درکنار اس کا ایک بال بھی مرزا کو نہ ملا...!
٣٨
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
The Committee is adjourned for 10 minutes. (کمیٹی دس منٹ کے لئے ملتوی ہوتی ہے)
(The Delegation left the Chamber) (وفد ہال سے باہر چلا گیا)
----------
(The Special Committee adjourned for ten minutes to re-assemble at 12:45 p.m.) (خصوصی کمیٹی کا اجلاس ١٠ منٹ کے لئے ملتوی ہوتا ہے، ١٢:٤٥ پر دوبارہ ہوگا)
----------
(The special Committee re-assembled after the break, the Chairman (Sahibzada Farooq Ali) in the chair.) (خصوصی کمیٹی کا اجلاس وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوا، اور چیئرمین صاحبزادہ فاروق علی نے صدارت کی)
----------
Mr. Chairman: The Delegation may be called. (جناب چیئرمین: وفد کو بلالیں)
(Interruptions) (مداخلت)
I will request the honourable members if anything comes from the mouth of the witness which is appreciated or which is disapproved. We should not make gestures. (میں معزز اراکین سے درخواست کروں گا کہ اگر گواہ کوئی ایسی بات کریں جو پسندیدہ یا ناپسندیدہ ہو تو ہمیں اپنے چہرے وغیرہ کے اشاروں سے اس کا اظہار نہیں کرنا چاہئے)
1386 ہاں ! بالکل، بلالیں جی۔
(The Delegation entered the Chamber) (وفد ہال میں داخل ہوا)
٣٩
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
Mr. Chairman: Yes. Mr. Attorney-General. (جناب چیئرمین: جی اٹارنی جنرل صاحب!) آپ تشریف رکھیں۔
Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, the other day, I had referred to certain extractsform "Al-Fazal" relating to Akhand Bharat, and now I am giving those dates to Mirza Sahib almost to start ...... becaues I may have given "1947", I may have mentioned "1957" or something, but these are the correct dates:- April 5, 1947.......
(اکھنڈ بھارت کے متعلق سوال)
(جناب یحییٰ بختیار: جناب والا! پچھلے دنوں میں نے اکھنڈ بھارت سے متعلقہ "الفضل" کے کچھ اقتباسات کے حوالے دیئے تھے اور اب میں مرزا صاحب کو تاریخیں بتا رہا ہوں، کیونکہ ہو سکتا ہے، میں نے سال ١٩٤٧ء یا سال ١٩٥٤ء کہا ہو، مگر یہ صحیح تاریخیں ہیں ٥؍ اپریل ١٩٤٧ء)
Mriza Nasir Ahmad: "Al-Fazal".....? (مرزا ناصر احمد: "الفضل".....؟)
Mr. Yahya Bakhtiar: ..... April 5, five april, 5th April... (جناب یحییٰ بختیار: ٥؍ اپریل)
Mirza Nasir Ahmad: ..... 5th April .....? (مرزا ناصر احمد: ٥؍ اپریل.....؟)
Mr. Yahya Bakhtiar: ..... 1947; 12th April, 1947; and then 17th June, 1947; in May also, there are two numbers of May also. وہ بھی میں دیکھ لیتا ہوں۔ Then there is, Sir, August 18, 1947, which I have not mentioned before; and December 28, 1947.
٤٠
1401 NATIONAL
پہلے نہیں کیا تھا، اور ٢٨؍ دسمبر ١٩٤٧ء)
ں جو ہے ناں جی، ایسے فوٹواسٹیٹ، So that may mislead, th
میرے اہل ملک کو سمجھا دے، اور اوّل ے کے راستے کھلے رہیں۔“
آخری صفحے) کا جو فوٹو اسٹیٹ ہے، ئج اخذ کئے جاسکتے ہیں) اس واسطے ......
س کا فوٹو اسٹیٹ، جو بھی ممکن ہوا۔
ما سے۔
ئے گا۔ یہ لکھی نہیں گئیں، مئی ١٩٤٧ء
وہ یہی تاریخیں لکھائی تھیں میں نے ہے۔
وکات دیں۔
نے کہا، کہ داخل کردیں گے۔ صرف
ت ہے میری۔ ویسے تو پوائنٹس لکھے ء کے وہی جو چھوٹی سی عبارت ہے
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
(پھر ١٨؍اگست ١٩٤٧ء ہے، جس کا ذکر میں نے پہلے نہیں کیا تھا، اور ٢٨؍دسمبر ١٩٤٧ء)
یہ سب ١٩٤٧ء کے ہیں جی.......
مرزا ناصر احمد: ان کے......
جناب یحییٰ بختیار: ......کیونکہ میرے پاس جو ہے ناں جی، ایسے فوٹواسٹیٹ، Last Page (آخری صفحے) 1387 پر کچھ آ جاتا ہے۔ So that may mislead, that is why I want you to check it.
ابھی میں نے اس دن آپ کو پڑھ کے سنایا ہے کہ: ’’آخر میں دُعا کرتا ہوں کہ اے میرے ربّ! میرے اہلِ ملک کو سمجھا دے، اور اوّل تو یہ ملک بنے نہیں اور اگر بنے تو اس طرح بنے کہ پھر مل جانے کے راستے کھلے رہیں۔‘‘
مرزا ناصر احمد: ہاں، وہ تو جو ہے، اسی......
جناب یحییٰ بختیار: اس Last Page (آخری صفحے) کا جو فوٹو اسٹیٹ ہے، ......It could be misleading (اس سے غلط نتائج اخذ کئے جاسکتے ہیں) اس واسطے میں نے کہا کہ آپ چیک کرکے ہمیں آپ فائل کرا دیں تاکہ......
مرزا ناصر احمد: جی، بہت اچھا۔ یا ’’الفضل‘‘ یا اس کا فوٹو اسٹیٹ، جو بھی ممکن ہوا۔
جناب یحییٰ بختیار: جو بھی ممکن ہوسکے دونوں میں سے۔
مرزا ناصر احمد: ہاں۔ بہرحال یہ بڑا جلد تر ہو جائے گا۔ یہ لکھی نہیں گئیں، مئی ١٩٤٧ء کی تاریخیں کونسی ہیں؟
جناب یحییٰ بختیار: مئی کی وہ کہتے ہیں، نہیں، وہ یہی تاریخیں لکھائی تھیں میں نے دو۔ تو وہ کہتے ہیں انہوں نے چیک کیا ہے کہ وہ دسمبر اس میں ہے۔
مرزا ناصر احمد: اچھا! وہ نہیں، وہ چھوڑ دیں، مئی کو کاٹ دیں۔
جناب یحییٰ بختیار: بس۔
یہ محمدی بیگم کے بارے میں آپ اپنا جواب، آپ نے کہا، کہ داخل کردیں گے۔ صرف ایک سوال اور آپ سے......
مرزا ناصر احمد: اس میں ایک تھوڑی سی درخواست ہے میری۔ ویسے تو پوائنٹس لکھے ہیں 1388 انہوں نے۔ اگر یہ آپ، مثلاً لائبریرین صاحب، لکھ کے وہی جو چھوٹی سی عبارت ہے دے دیں، تاکہ یہ نہ ہو کہ کوئی پوائنٹس رہ جائیں اور پھر......
٤١
TAN 24th Aug, 1974 No:11
ney-General.
(جناب چیئرمین) آپ تشریف رکھیں
e other day. I had Fazal" relating to hose dates to Mirza have given "1947", hing, but these are
(جناب یحییٰ بختیار) "الفضل" کے کچھ اقتباسات ہوں، کیونکہ ہوسکتا ہے، میں ٥؍اپریل ١٩٤٧ء)
".....?
(مرزا ناصر احمد) 5, five april, 5th
(جناب یحییٰ بختیار) ril .....?
(مرزا ناصر احمد) 12th April, 1947; o, there are two
وہ بھی میں دیکھ
which I have not
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
جناب یحییٰ بختیار: میں جی، میں نے انگلش میں نوٹ کیا ہے۔ مرزا ناصر احمد: انگلش نوٹ دے دیں۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں وہ پڑھ کے سنادیتا ہوں تاکہ...... مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، وہ یہاں سے لکھنا مشکل ہے ناں۔ We just want a rough note, a rough copy of this note. (ہمیں صرف اس نوٹ کی رف کاپی درکار ہے) Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, I have mentioned the relationship of Ahmad Beg....... (جناب یحییٰ بختیار: جناب والا! میں نے احمد بیگ کے رشتہ کا ذکر کیا ہے) مرزا ناصر احمد: نہیں، وہ میرا رف اندازہ ہے کہ پندرہ بیس پوائنٹس تھے جن کے متعلق روشنی ڈالنی ہے۔ کوئی ایک بیچ میں رہ جائے تو پھر یہ سوال ہوگا کہ...... جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں نے کہا کہ یہ Facts (حقائق) جو سب نے بتائے ہیں جی، وہ پھر میں Repeat (ڈہرا) کر لیتا ہوں اُردو میں، اگر آپ لکھ سکتے ہیں، کیونکہ اگر وہ تو...... مرزا ناصر احمد: اگر لکھ کر مل جائیں تو بڑی وہ...... جناب یحییٰ بختیار: میرے باقی نوٹس سب ملے ہوئے ہیں۔ مرزا ناصر احمد: اچھا۔ ہاں، ٹھیک ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔ ورنہ مجھے وہ...... اس واسطے۔ ویسے میں کوشش کروں گا کہ ان کو ٹائپ کرا کے آپ کو یہ دے دوں گا آج۔ مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔ جناب یحییٰ بختیار: آج یہ آپ مجھ سے ٹائپ کروا کے ان کو دے دیں۔ مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، ٹھیک ہے۔ 1389 جناب چیئرمین: ٹھیک ہے۔
(محمدی بیگم کے کتنے بیٹے تھے)
جناب یحییٰ بختیار: یہ محمدی بیگم جو تھی، آپ کہتے ہیں کہ ان کے بیٹے نے بیعت کر لی
٤٢
1403 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11 تھی اور اشتہار دیا تھا۔ کتنے بیٹے تھے ان کے، آپ کو کچھ علم ہے؟ مرزا ناصر احمد : جن کو میں جانتا ہوں وہ تو دو ہیں۔ ایک اسحاق اور ایک صفدر۔ یا کیا اور نام ہے۔ بہر حال میں جن کو جانتا ہوں ...... جناب یحییٰ بختیار : بیٹے ان کے؟ مرزا ناصر احمد : جن بیٹوں کو میں جانتا ہوں وہ دو ہیں۔ جناب یحییٰ بختیار : جو احمدی ہو گئے تھے صرف ان کو جانتے ہیں، باقیوں کو نہیں جانتے؟ مرزا ناصر احمد : نہ، نہ، میں یہی تو بتا رہا ہوں، میری بات ختم ہونے دیں۔ ان سب سے صرف ایک احمدی ہوئے، دُوسرا نہیں ہوا۔ جناب یحییٰ بختیار : ہاں، نہیں مجھے بتایا ہے کہ چھ سات بیٹے ہیں ان کے۔ مرزا ناصر احمد : میرا خیال ہے شاید چار ہوں، احمدی ایک ہوا۔ جناب یحییٰ بختیار : ایک ہی ہوا؟ مرزا ناصر احمد : ہاں، ایک ہوا۔ جناب یحییٰ بختیار : تو پھر میں آپ کو، یہ Details (تفصیل) جو ہیں ناں، اس کے جو Facts (حقائق) میں نے دیئے ہیں ...... مرزا ناصر احمد : ٹھیک ہے، وہ آپ دے دیں۔ مطلب میرا یہ ہے کہ کوئی Fact (حقائق) رہ نہ جائے۔ جناب یحییٰ بختیار : ہاں، ٹھیک ہے، تاکہ ..... ابھی وہ مولوی ثناء اللہ صاحب کے بارے میں بھی جو اشتہار ہے، دیکھا نہیں، اُس پر شاید میں آپ سے سوال پوچھوں گا۔ 1390 باقی جو کل آپ نے کہا تھا کہ آپ فرمائیں گے، نوٹ کئے تھے، وہ آج سب کچھ ...... مرزا ناصر احمد : کہا تھا؟ کس چیز کے متعلق میں نے عرض کی تھی کہ میں کچھ کہوں گا؟ جناب چیئرمین : کل حوالہ جات دیئے گئے تھے۔ جناب یحییٰ بختیار : نہیں، کوئی اور ایسی چیز نہیں جو آپ کہنا چاہتے ہیں؟ جناب چیئرمین : کل آپ نے حوالہ جات دیئے تھے۔ مرزا ناصر احمد : آپ نے بہت سے حوالہ جات ثبوت کے متعلق دیئے تھے۔ ٤٣
BLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11 جناب یحییٰ بختیار : میں جی، میں نے مرزا ناصر احمد : انگلش نوٹ دے دیں جناب یحییٰ بختیار : نہیں، میں وہ پڑھ مرزا ناصر احمد : نہیں، نہیں، وہ یہ note, a rough copy of this note. کی رَف کاپی درکار ہے) ar: Sir, I have mentioned the ... (جناب یحییٰ بختیار : جناب والا! میـ مرزا ناصر احمد : نہیں، وہ میرا رَف متعلق روشنی ڈالنی ہے۔ کوئی ایک بیچ میں رہ جائے جناب یحییٰ بختیار : نہیں، میں ــ بتائے ہیں جی، وہ پھر میں Repeat (دُہرا) کر اگر وہ تو ...... مرزا ناصر احمد : اگر لکھ کر مل جائیں تـ جناب یحییٰ بختیار : میرے باقی نوٹس مرزا ناصر احمد : اچھا۔ ہاں، ٹھیک ہے جناب یحییٰ بختیار : ہاں۔ ورنہ مجھے کہ ان کو ٹائپ کرا کے آپ کو یہ دے دوں گا آج مرزا ناصر احمد : ہاں، ہاں۔ جناب یحییٰ بختیار : آج یہ آپ مجھ مرزا ناصر احمد : ہاں، ہاں، ٹھیک ہے 1389 جناب چیئرمین : ٹھیک ہے۔ (محمدی بیگم کے جناب یحییٰ بختیار : یہ محمدی بیگم جو
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، ہاں، تو اس پر میں نے کہا کچھ Brief Comments (مختصر تبصرہ) کیونکہ......
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، نہیں، اس کے دو Approaches (طریقے) ہو سکتے ہیں ۔ جو آپ کہیں گے، اس کے مطابق کرلیں گے عمل ۔ ایک تو یہ ہے کہ سارے حوالہ جات کے متعلق ہمارے لٹریچر میں بڑی تفصیل سے پہلے موجود ہے۔ ایک کتاب ہے ”حقیقت النبوۃ“ خلیفہ ثانی کی ۔ اس پر سارے حوالوں پر بحث ہے اور دوسرے یہیں راولپنڈی میں ______یہاں تو نہیں یہ ساتھ ہمارے ______راولپنڈی میں ایک مباحثہ ہوا تھا ”مباحثہ راولپنڈی“ کے نام سے ہے، جس میں ٨٦ صفحے کی بحث ہے انہی حوالوں پر ۔
جناب یحییٰ بختیار: وہ تو بڑی لمبی بحث ہو جاتی ہے۔
مرزا ناصر احمد: نہیں، میں یہی کہہ رہا ہوں۔ ایک یہ ہے کہ وہ میں پڑھ کے سنادوں۔ اس میں پتا نہیں کتنے دن لگ جائیں ۔ وہ تو مناسب نہیں۔ ایک یہ ہے کہ میں دوحوالے، یہاں کے دو حوالے میں وہ پڑھ دوں جو بنیادی طور پر اس بحث کو ہمارے نزدیک حل کر دیتے ہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: یہ تو اچھی بات ہوگی ۔ ایک تو آپ یہ آپ ضرور کریں ۔ تاکہ مختصر ہو جائے۔
(لاہوری پارٹی نے مرزا قادیانی کی نبوت کا انکار کیا)
دوسرا یہ جو سوال آتا ہے، اور لاہوری پارٹی نے بھی اٹھایا ہے، کہ مرزا صاحب کے 1391 بعض ______انکارِ نبوت جس کو وہ کہتے ہیں ______وہ منسوخ ہے، یا منسوخ تصوّر کیا جائے؟
مرزا ناصر احمد: نہ۔
جناب یحییٰ بختیار: یعنی یہ بات غلط ہے، ایسی کوئی بات نہیں؟
مرزا ناصر احمد: منسوخ نہیں ہے۔ اس کا یہاں میں مختصر دو تین فقروں میں کہتا ہوں۔ ”نبی“ کے معنی شرعی نبی، ایک شریعت لانے والا نبی۔ ایک ”نبی“ کے معنی ہیں مستقل نبی اور غیر شرعی مستقل اور ایک ”نبی“ اس معنی میں استعمال ہوا ہے غیر شرعی اُمّتی اور چوتھے ”نبی“ اور ”رسول“ کا لفظ عام کتابوں میں ہماری انگلش میں پڑھا ہے، لغوی معنی میں تو ان چار معانی میں ”نبی“ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ کسی معنی میں انکار کیا ہے، کسی معنی میں اقرار کیا ہے۔ اصل یہ ہے اس کی۔
٤٤
1405 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
جناب یحییٰ بختیار: نہیں ، ابھی میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں......
مرزا ناصر احمد: جی۔
جناب یحییٰ بختیار: ......کہ ایک میرا اس قسم کا سوال تھا ، میں دیکھوں گا اس کو ، مگر ابھی ضرورت نہیں پیش آئی۔ ایک عبدالحکیم صاحب تھے۔ ان سے مرزا صاحب نے کوئی بحث کی اور ان کو کہا کہ : ”لوگوں کو غلط فہمی ہورہی ہے۔ جب میں ’نبی‘ کا لفظ استعمال کرتا ہوں ، میرا مطلب ’محدث‘ سے ہے اور جہاں بھی میری تحریروں میں تقریروں میں ’نبی‘ کا لفظ استعمال ہوا ہو ، اس سے مطلب ’محدث‘ سمجھا جائے ۔“ یعنی ایک اس قسم کا وہ ہے کہ ان کا مطلب یہ نہیں کہ میں نبی ہوں ، جیسا آپ کہتے ہیں کہ لغوی معنی میں یا اس Sense (معانی) میں استعمال ہوا ہے۔ مگر اس کے بعد پھر انہوں نے...... یہ کہتے ہیں کہ یہ الفاظ پھر ’نبی‘ کے استعمال کئے ، بجز اس کے کہ .Deemed to be read Nabi, Muhaddith (”نبی“ کے لفظ کو ”محدث“ پڑھا جائے)
مرزا ناصر احمد: وہ پھر ’نبی‘ اور ’محدث‘ کی بحث شروع ہوگئی ناں۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں ، میں ایسے کہہ رہا ہوں جی۔
1392 مرزا ناصر احمد: میرا مطلب یہ ہے کہ بحث سے بحث نکلتی ہے۔ پھر مجھے آپ اجازت دیں کہ میں لمبی ایک بحث قائم کروں......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں ، میں آپ سے مختصراً یہ پوچھتا ہوں......
مرزا ناصر احمد: یا اس کے متعلق بھی لکھ کر Submit (پیش) کردوں؟
جناب یحییٰ بختیار: ہاں ، وہ کردیں۔ یہ مختصر میں یہ چاہتا تھا کہ کیا مرزا صاحب.....
مرزا ناصر احمد: مرزا صاحب نے۔
(امتی نبی کا کیا مطلب؟)
جناب یحییٰ بختیار: ......’امتی نبی‘ جو کہ آپ نے لفظ استعمال.......
مرزا ناصر احمد: نہیں ، میں ایک حوالہ پڑھتا ہوں ، اس سے کچھ واضح ہو جائے گا۔ کچھ واضح ہو جائے گا ، ساری چیز نہیں واضح ہوگی ۔ آپ نے یہ کتاب لکھی ہے ، بانی سلسلہ احمدیہ کا ایک چھوٹا سا رسالہ ہے ، اس کا نام ہے ”ایک غلطی کا ازالہ ۔“ بنیادی بحث اس ”ایک غلطی کے ازالہ“ میں آگئی ہے اور میرا خیال ہے وہ میں ریکارڈ میں Submit (پیش) کروا دوں۔ لیکن میں ایک حوالہ صرف پڑھنے لگا ہوں.......
٤٥
OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
جناب یحییٰ بختیار: ہاں ، ہاں (مختصر تبصرہ) کیونکہ.......
مرزا ناصر احمد: ہاں ، ہاں ، نہیں ہیں۔ جو آپ کہیں گے، اس کے مطابق کرنا متعلق ہمارے لٹریچر میں بڑی تفصیل سے خلیفہ ثانی کی ۔ اس پر سارے حوالوں پر بحث نہیں یہ ساتھ ہمارے ____ راولپنڈی میں ہے ، جس میں ٨٦ صفحے کی بحث ہے انہی حوالـ
جناب یحییٰ بختیار: وہ تو بڑی
مرزا ناصر احمد: نہیں ، میں اس میں پتا نہیں کتنے دن لگ جائیں ۔ وہ ١ دوحوالے میں وہ پڑھ دوں جو بنیادی طور پر
جناب یحییٰ بختیار: یہ تو آ مختصر ہو جائے۔
(لاہوری پارٹی نے
دوسرا یہ جو سوال آتا ہے، ا
1391 بعض ____ انکار نبوت جس کو وہ کـ
مرزا ناصر احمد: نہ۔
جناب یحییٰ بختیار: یعنی
مرزا ناصر احمد: منسوب ہوں ۔ ”نبی“ کے معنی شرعی نبی ، ایک اور غیر شرعی مستقل اور ایک ”نبی“ ٢١ اور ”رسول“ کا لفظ عام کتابوں میں میں ”نبی“ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ یہ ہے اس کی۔
1406 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
جناب یحییٰ بختیار: مہربانی ہوگی۔ وہ جو راولپنڈی کی بحث جو ہے، وہ ہم نے پوچھی، وہ بھی نہیں ہمارے پاس۔
مرزا ناصر احمد: ہاں، وہ بھی کروادوں؟
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، وہ بھی کردیں۔ آپ نے کہا تھا کہ اس میں چیز آ چکی ہے۔
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، راولپنڈی کی بحث بھی کروادیتے ہیں اور ”ایک غلطی کا ازالہ“ بھی کرادیتے ہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: وہ ٹھیک ہے۔
مرزا ناصر احمد: اور ”ایک غلطی کا ازالہ“ سے کوئی آدھا صفحہ، پونا صفحہ جو ہے، وہ میں پڑھ دیتا ہوں:
1393”اور جس جگہ میں نے نبوت یا رسالت سے انکار کیا ہے صرف ان معنوں سے کیا ہے کہ میں مستقل طور پر (وحی میں نے بتایا ہے کہ ایک مستقل نبی ہے) (کہ میں مستقل طور پر) کوئی شریعت لانے والا نہیں اور نہ میں مستقل طور پر نبی ہوں۔ (شرعی نبی ہوں نہ مستقل نبی ہوں)۔ مگر ان معنوں سے کہ میں نے اپنے رسول مقتدا سے باطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لئے اس کا نام پا کر اُس کے واسطے سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے، رسول اور نبی ہوں مگر بغیر کسی شریعت کے (نئی شریعت کوئی نہیں)۔ اس طور کا نبی کہلانے سے میں نے کبھی انکار نہیں کیا۔ بلکہ انہی معنوں سے خدا نے مجھے نبی اور رسول کر کے پکارا ہے۔ سو اب بھی میں ان معنوں سے نبی اور رسول ہونے سے انکار نہیں کرتا اور میرا یہ قول : ”من نیستم رسول و نیاوردہ ام کتاب“ اس کے معنی صرف اس قدر ہیں کہ میں صاحب شریعت نہیں ہوں۔“ اور اُوپر آگیا ہے کہ ”مستقل نہیں ہوں。“ ویسے یہ حوالہ ہے ”ایک غلطی کا ازالہ“ وہ میں آج بھجواؤں گا یہاں۔
جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! یہ مجھے اس میں کوئی غلط فہمی نہیں تھی کیونکہ میں یہ پڑھ چکا تھا، بڑا Clear (واضح) ہے۔ مگر میں وہ جو آپ سے ......
مرزا ناصر احمد: محدث والا رہ گیا۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، محدث کی بھی نہیں، وہ ایک چیز آ چکی تھی۔ پھر یہاں وہ کہتے ہیں کہ ١٩٠٧ء میں بھی انہوں نے یہ کہا ......
مرزا ناصر احمد: کس نے؟
٤٦
1407 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
جناب یحییٰ بختیار: لاہور کے گروپ نے، کہ ١٩٠٧ء میں بھی انہوں نے کہا۔ میں نے کہا کہ جہاں تک مجھے سمجھ آ رہی ہے بڑا Clear (واضح) ہے۔ پہلے کچھ بھی کہا؟ یہاں پر انہوں نے 1394 صاف پوزیشن Clear (واضح) کر دی ہے کہ: ”میں اُمتی نبی ہوں، شرعی نبی نہیں ہوں۔“ اور یہ پوزیشن ہے۔ لفظی غلطی کی بھی بات رہ جاتی ہے۔ تو وہ انہوں نے چونکہ کہتے ہیں ١٩٠٧ء میں انکار کیا تھا کہ: ”میں نبی نہیں ہوں، اس واسطے میں یہ سارے حوالے لے آیا تھا کہ آپ Authoritatively (بااختیار حیثیت میں) اس کو Clear (واضح) کر دیں۔ مرزا ناصر احمد: وہ پھر اُس میں ہوا ہوا ہے ناں، وہ کتاب آ جائے گی۔ جناب یحییٰ بختیار: ہاں، وہ تو میں نے چھوڑ دیا ہے اس پر، کیونکہ Directly (براہِ راست) اپنی طرف سے میں نے آپ سے پوچھ لیا ہے یہ۔ مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔ ٹھیک ہے۔ (وقفہ)
(مرزا قادیانی نے اشتہار مولانا ثناء اللہؒ کے طرزِ عمل سے تنگ آ کر دیا تھا؟)
جناب یحییٰ بختیار: ایک یہ میں کچھ ضمنی سوال آئے ہیں میرے پاس، یہ مولانا ثناء اللہ کے بارے میں، کیا یہ دُرست ہے کہ یہ اشتہار مباہلہ کے طور پر نہیں بلکہ مولانا ثناء اللہ صاحب کے اس طرزِ عمل سے تنگ آ کر دیا تھا جس....... مولانا صاحب موصوف مرزا صاحب پر گالیوں اور تہمتوں کی بوچھاڑ کیا کرتے تھے؟ مرزا ناصر احمد: کہاں کا حوالہ ہے؟ جناب یحییٰ بختیار: یہ سوال پوچھا گیا ہے۔ مرزا ناصر احمد: اچھا، یہ سوال پوچھا گیا ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔ آپ کہتے ہیں کہ یہ مباہلہ کی وجہ یا طور پر نہیں تھا، بلکہ یہ اشتہار مرزا صاحب چونکہ وہ بہت تنگ کیا کرتے تھے اور ....... مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، میں نے جو بات کہی تھی وہ یہ تھی کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کو بانی سلسلہ احمدیہ نے مباہلہ کی دعوت دی تھی، جو انہوں نے قبول نہیں کی، اور کہا کہ کوئی عقل مند دانا انسان اس کو قبول نہیں کر سکتا، اس لئے وہ مباہلہ نہیں ہوا۔ 1395 جناب یحییٰ بختیار: نہیں، اس میں پھر ایک بات یہ آ جاتی ہے ناں جی، جو آپ نے پڑھا ہے: ”اور یہ تحریر تمہاری مجھے منظور نہیں اور نہ کوئی دانا اس کو منظور کر سکتا ہے۔“ ٤٧
Y OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
جناب یحییٰ بختیار: مہربانی ہوگی وہ بھی نہیں ہمارے پاس۔ مرزا ناصر احمد: ہاں، وہ بھی کروا جناب یحییٰ بختیار: ہاں، وہ بھی ک مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، راد ازالہ“ بھی کرا دیتے ہیں۔ جناب یحییٰ بختیار: وہ ٹھیک ہے مرزا ناصر احمد: اور ”ایک غلطی ک پڑھ دیتا ہوں: 1393 ”جس جگہ میں نے نبوت یا ر ہے کہ میں مستقل طور پر (وہی میں نے بتایا ۔ کوئی شریعت لانے والا نہیں اور نہ میں مستق ہوں) ۔ مگر ان معنوں سے کہ میں نے اپنے م لئے اس کا نام پا کر اُس کے واسطے سے خدا ک بغیر کسی شریعت کے (نئی شریعت کوئی نہیں) بلکہ انہی معنوں سے خدا نے مجھے نبی اور رسول اور رسول ہونے سے انکار نہیں کرتا اور میرا یہ ق کے معنی صرف اس قدر ہیں کہ میں صاحب شر ہوں۔“ ویسے یہ حوالہ ہے ”ایک غلطی کا ازالہ“ جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب پڑھ چکا تھا، بڑا Clear (واضح) ہے۔ مگر مرزا ناصر احمد: محدث والا رہ گ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں وہ کہتے ہیں کہ ١٩٠٧ء میں بھی انہوں نے یہ کہ مرزا ناصر احمد: کس نے؟
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
اس سے پہلا فقرہ آپ بھول گئے پڑھنا:
”مختصر یہ کہ میں تمہاری درخواست کے مطابق حلف اٹھانے کو تیار ہوں، اگر تم اس کے حلف کے نتیجے سے مجھے اطلاع دو۔“ یہ ایک اور Condition (شرط) ان کی طرف سے آئی تھی۔ ”اگر وہ آپ نہیں دیتے“ تب انہوں نے کہا کہ:”یہ تحریر تمہاری مجھے منظور نہیں، اور نہ کوئی دانا اس کو منظور کرسکتا ہے۔“
مرزا ناصر احمد: تو پھر یہ سوال ہوگا......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، آپ کو جو Mark (نشان) کرکے دیا گیا ہے ناں یہاں......
مرزا ناصر احمد: نہیں، میں بتاتا ہوں ناں، پھر اس سے پہلے دو چار سطریں پڑھیں، وہ پھر ان کو واضح کردے گا۔ وہ ہم نے فوٹو اسٹیٹ کاپی دی۔
جناب یحییٰ بختیار: تو وہ ہم چھوڑ دیتے ہیں، ریکارڈ پر آگیا۔ میں صرف یہ Attention Draw (توجہ دلانا) کرنا چاہتا تھا۔ (Pause)
(مباہلہ کا چیلنج محض دعا کے طور پر؟)
پھر آگے دو سوال اور ہیں۔ میرے خیال میں وہ ان کے اسی سے جواب آسکتے ہیں، مگر میں پڑھ دیتا ہوں:
کیا یہ دُرست ہے کہ کسی الہام یا وحی کی بناء پر مباہلہ کا چیلنج نہیں تھا بلکہ محض دُعا کے طور پر مرزا صاحب اللہ تعالیٰ سے فیصلہ چاہتا تھا؟ ایک تو یہ سوال ہے۔ دوسرا یہ کہ:
(اشتہار کی دعا میں روئے سخن اللہ کی جانب)
کیا یہ دُرست نہیں کہ اس اشتہار کی دُعا میں رُوئے سخن مولانا ثناء اللہ کی طرف نہیں، 1396 بلکہ اللہ تعالیٰ کی جانب تھا اور مرزا صاحب نے اللہ تعالیٰ کو مخاطب کرکے یہ دُعا مانگی تھی کہ جو جھوٹا اور کذاب ہو، وہ پہلے مرے؟
چونکہ یہ Document (دستاویز) آگیا ہے، میرا خیال ہے اگر مناسب سمجھیں......
مرزا ناصر احمد: ہاں، وہ سارا آگیا ہے، تفصیل سے اس کے اندر، وہ سارا پڑھ لیں تو سارے جواب آجاتے ہیں۔
٤٨
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، جب Document (دستاویز) فائل ہو گیا اس پر......
مرزا ناصر احمد: ہاں۔
جناب یحییٰ بختیار: اور تو آپ کے پاس کوئی جواب تیار نہیں ہے؟ میں چیک کر رہا ہوں۔ اگر مجھ سے کوئی رہ گیا ہو یا آپ......
مرزا ناصر احمد: ہاں جی، وہ آپ چیک کرلیں۔
جناب یحییٰ بختیار: میں تو کر رہا ہوں، آپ کو تو کوئی ایسی چیز نہیں جو اس وقت آپ کہنا چاہتے ہیں؟ آپ دیکھ لیجئے۔
مرزا ناصر احمد: ایک چیز جو میرے ذہن میں ابھی آ گئی بات کرتے ہوئے، تو آپ نے فرمایا تھا کہ کوئی تفسیر سورۃ فاتحہ کی ایسی جو پہلے نہ ہو۔ تو یہ سورۃ فاتحہ کی جو مختلف تفاسیر آپ نے کی ہیں، اسی کتاب کی طرف میں نے اشارہ کیا تھا اس کے....... یہ ایک لمبی عبارت ہے، اس میں کافی وقت لگے گا۔ تو اگر آپ یہ کہیں تو میں یہ کتاب کر دیتا ہوں......
(سورۃ فاتحہ کی تفسیر کے متعلق سوال)
جناب یحییٰ بختیار: ہاں وہ بھی ٹھیک ہے۔ نہیں، مگر آپ بتا دیں ناں جی، کتاب میں سورۃ فاتحہ کی سات.......
مرزا ناصر احمد: سورۃ فاتحہ کی یہ تفصیل جو مجھ سے لی ہوئی ہے، میں نے یہ کہا تھا کہ میرے اندازے کے مطابق ٧٠ فیصد ایسا ہے جو پہلی کتب میں نہیں ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: میں صرف یہ عرض کر رہا تھا کہ چھوٹی سورت ہے، سات آیات ہیں 1397 اس میں۔ کسی ایک پر آپ یہ بتا دیجئے.......
مرزا ناصر احمد: یہ ساری اس کی تفسیر ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: کسی ایک کو آپ Mark (نشان) کر دیجئے۔ تا کہ میری Attention (توجہ) کے لئے آپ کہہ دیجئے کہ اس Page (صفحہ) پر اس سورۃ سے......
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔
جناب یحییٰ بختیار: وہ آپ پڑھ لیجئے تاکہ آسانی ہو۔
مرزا ناصر احمد: یہاں لکھ دیتا ہوں پہلے، یعنی ”علاوہ اور مضامین کے صفحہ ٤٨ بھی دیکھ لیں۔“
٤٩
BLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
اس سے پہلا فقرہ آپ بھول گئے پڑھن
”مختصر یہ کہ میں تمہاری درخواست کے حلف کے نتیجے سے مجھے اطلاع دو۔“ یہ ایک اور تھی۔ ”اگر وہ آپ نہیں دیتے“ تب انہوں نے کہا اس کو منظور کر سکتا ہے۔“
مرزا ناصر احمد: تو پھر یہ سوال ہوگا۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، آسا ناں یہاں.......
مرزا ناصر احمد: نہیں، میں بتاتا ہو وہ پھر اُن کو واضح کر دے گا۔ وہ ہم نے فوٹو اسٹیٹ
جناب یحییٰ بختیار: تو وہ ہم چھ Attention Draw (توجہ دلانا) کرنا چاہتا
(مباہلہ کا چیلنج محض
پھر آگے دو سوال اور ہیں۔ میرے م
میں پڑھ دیتا ہوں: کیا یہ درست ہے کہ کسی الہام یا وحی پر مرزا صاحب اللہ تعالیٰ سے فیصلہ چاہا تھا؟ ایک
(اشتہار کی دعا میں ر
کیا یہ درست نہیں کہ اس اشتہار کا 1396 بلکہ اللہ تعالیٰ کی جانب تھا اور مرزا صاحب جھوٹا اور کذاب ہو، وہ پہلے مرے؟
چونکہ یہ Document (د سمجھیں......
مرزا ناصر احمد: ہاں، وہ سارا آ سارے جواب آ جاتے ہیں۔
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، ہاں، ٹھیک ہے۔
مرزا ناصر احمد: وہ آ جائے گا یہاں۔
جناب یحییٰ بختیار: یعنی اس صفحے پر۔
مرزا ناصر احمد: اس کے شروع میں لکھ دیا ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، ہاں۔
مرزا ناصر احمد: ایک اور حوالہ یہاں کل ”چشمہ معرفت“ کا ٢١٨، یہ زبانوں کے متعلق ہے، الہام کس زبان میں ہوتا ہے۔
(مرزا قادیانی کو الہام کتنی زبانوں میں ہوتا تھا؟)
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، ایک زبان میں بھول گیا تھا، سنسکرت میں بھی......
مرزا ناصر احمد: ہاں، یہ اصل عبارت جو ہے ناں......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں شاید بھول گیا تھا، ایک جگہ مجھے بتایا گیا ہے کہ سنسکرت میں بھی مرزا صاحب کو الہام آتے رہے ہیں، یا غلط بات ہو گئی؟
مرزا ناصر احمد: نہیں، سنسکرت میں مجھے یاد نہیں ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں مجھے کہا تھا میں نے اس واسطے Put کیا آپ کو میں نے کہا کہ اگر...... میں نے نہیں پڑھا، مجھے تو بتایا گیا ہے۔
مرزا ناصر احمد: اصل میں یہ دیکھنا ہے کہ کیا مضمون ہے جو زیر بحث ہے۔ مضمون ہے ہندو، وید اور ان کے اوتار، یہ بحث وہاں ہو رہی ہے، اور بحث یہ ہے:
”اس بات کو تو کوئی عقل مند نہیں مانے گا کہ کیونکہ یہ قانون قدرت کے برخلاف ہے اور جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ دو تین سو برس گزرنے تک ایک زبان میں کچھ تغیر پیدا ہو جاتا ہے اور ایسا ہی جب ایک جگہ سے مثلاً سو (١٠٠) کوس کے فاصلے پر آگے نکل جائیں (لاہور سے ملتان پہنچ جائیں مثلاً) تو صریح زبان کا تغیر محسوس ہوتا ہے۔ تو اس سے صاف ثابت ہے کہ اختلاف السنہ ایک قدیمی امر ہے۔“ (بحث یہ ہو رہی ہے) [اختلاف السنہ ایک قدیمی امر ہے] جس پر موجودہ حالت گواہی دے رہی ہے۔ پس ماننا پڑتا ہے کہ جس نے انسان کو بنایا اسی نے ان کی زبانوں کو بھی بنایا اور وقتاً فوقتاً وہی ان میں تغیرات ڈالتا ہے اور یہ بالکل غیر معقول اور بیہودہ امر ہے کہ انسان کی اصل زبان تو کوئی اور ہو (یہ ہندوؤں کو مخاطب کر رہے ہیں) اور الہام اس کو کسی اور زبان
٥٠
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
میں ہو جس کو وہ سمجھ بھی نہیں سکتا کیونکہ اس میں تکلیف مالا یطاق ہے (جو انسان یعنی اتنا بوجھ اٹھا نہیں سکتا جتنا اس پر ڈال دیا گیا ہے) اور ایسے الہام سے فائدہ کیا ہوا جو انسانی سمجھ سے بالاتر ہو (یعنی کوئی انسان بھی نہیں سمجھ سکتا) پس جبکہ بموجب اُصول آریہ سماج (یہ ان کے اوپر ہے جرح) [پس جبکہ بموجب اُصول آریہ سماج] کے وید کے رشیوں کی زبان ویدک سنسکرت نہیں تھی اور نہ وہ اس کے بولنے اور سمجھنے پر قادر تھے۔’ (یہ ساری شریعت جو تھی وہ ایسی زبان میں نازل ہو گئی جو ویدک کے رشی نہ بول سکتے تھے اور نہ سمجھ سکتے تھے اور شریعت نازل ہو گئی اس زبان میں) اور پھر خدا کا ایسی بیگانہ زبان میں ان کو الہام کرنا گویا دیدہ و دانستہ ان کو اپنی تعلیم سے محروم رکھنا تھا اور اگر 1399 کہو (ہندوؤں کو مخاطب ہے) [اور اگر کہو] کہ خدا ان کو ان کی زبان میں سمجھا دیتا تھا کہ ان عبارتوں کے یہ معنی ہیں تو اس صورت میں پرمیشر کا یہ عہدہ بحال نہیں رہے گا کہ انسانی زبان میں اس کو بولنا حرام ہے۔ (یہ ان کا ہے مسئلہ کہ اللہ تعالیٰ کے لئے یہ حرام ہے کہ وہ انسان کی زبان میں بات کرے۔ اس واسطے وہ کہتے ہیں ایسی زبان میں اُس نے اپنا الہام نازل کیا جس کو انسان سمجھ ہی نہ سکتا۔ یہ مزید بحث ہے۔ اگر یہ بولنا ہے) تو مجھے تعجب ہے کہ ان نہایت کچی اور خام باتوں کے پیش کرنے سے آریاؤں کو فائدہ کیا ہے۔“ یہ ہے عبارت۔
(ہر نبی پر وحی اس کی قومی زبان میں آتی ہے؟)
جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! یہ قرآن شریف میں کیا ہے اس مسئلے پر کہ اللہ تعالیٰ جو نبی بھیجتا ہے وہ کسی قوم کو، تو کس زبان میں ان کو وحی دیتا ہے؟ کوئی ہے ایسی اتھارٹی؟
مرزا ناصر احمد: ہاں، میں آتا ہوں، لیکن اس کے ساتھ وہ Connect نہیں ہوتا۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں میں ایسے ہی جنرل پوچھ رہا ہوں۔
مرزا ناصر احمد: اللہ تعالیٰ کی شریعت اس زبان میں...... اصل میں یہ مسئلہ...... ذرا پیچھے ہٹنا پڑے گا...... یہودیوں کے لئے مسئلہ نہیں تھا اس واسطے کہ بنی اسرائیل کی طرف جو الہام یا شریعت نازل ہوئی، وہ ایک محدود قوم اور علاقے کے لئے تھی۔ وہی ان کی زبان تھی، وہی سارا کچھ۔ اصل یہ سوال اُٹھا قرآن کریم کے نزول کے وقت جس نے رحمۃ للعالمین کا Designation (لقب) اس مقام کا اس رُتبے کا ذکر کر کے آنحضرت ﷺ کو دُنیا کے واسطے پیش کیا۔ اب دنیا میں تو ایک زبان بولی نہیں جاتی، دُنیا میں بولی جاتی ہیں، یعنی جو ہمیں پتا ہے وہ بھی سینکڑوں میں ہیں اور کئی ایسی ہیں جو مدوّن نہیں ہوتیں اور قرآن کریم نے دعویٰ یہ کر دیا
٥١
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No: 11
کہ ہر انسان کو قرآن عظیم مخاطب کرتا ہے۔ اس وقت یہ بحث ہوئی کہ اگر ہر انسان کو اللہ تعالیٰ قرآن عظیم کے ذریعے مخاطب کرتا ہے تو پھر یہ صرف عربی میں کیوں نازل ہوا؟ یہ بحث 1400 شروع ہوگئی۔ اس کا جواب یہ دیا گیا کہ عربی میں قرآن کریم اس لئے نازل ہوا کہ نبی اکرم ﷺ اس شریعت کی روشنی میں ایک قوم کو تیار کر دیں جو اس کے مفہوم اور مطالب اور اسرار کو سمجھنے والی ہو، اور پھر وہ عرب سے نکلے اور دُنیا کے ملکوں میں جائے اور ان کی زبانیں سیکھے اور جو مطالب اور معانی ہیں وہ پختگی سے ان کے ذہنوں میں ہوں گے، وہ ان کی زبانوں میں پھر ان کو جاکے آگے بتائیں گے۔ تو عقلاً ہم اس سے استدلال کرتے ہیں، عقلاً کوئی شریعت یا شریعت کا کوئی حصہ اس زبان میں نہیں، شریعت کا کوئی حصہ اس زبان میں وحی نہیں ہو سکتا جس کو وہ لوگ نہ سمجھ سکیں جنہوں نے تربیت حاصل کرکے...... اب میں قرآن کے زمانے کے متعلق بات کر رہا ہوں...... جنہوں نے تربیت حاصل کر کے اور ان مطالب کو سمجھ کر دُنیا میں پھیلانا تھا۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جو اُمّتی نبی یا اولیاء آئے ہیں ان کی طرف کوئی وحی نازل ہی نہیں ہوسکتی سوائے اس زبان کے جس کو وہ جانتا ہو، یعنی جو غیر شریعت سے تعلق رکھتا ہے۔ ایک تو ہے ناں شریعت، وہ تو صرف محمد ﷺ کے ساتھ ہے۔......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، ان کو تو اپنی زبان میں ہوگی جو......
مرزا ناصر احمد: ہونی چاہئے، تاکہ اس کا جو مقصد ہے پورا ہو، اور جو غیر شرعی نبی ہے اور جس کا دائرہ عمل صرف اپنی قوم تک محدود ہے، جیسا کہ انبیاء بنی اسرائیل کا تھا، اگر اس کی طرف دُوسری زبانوں میں بھی الہام ہو جائے...... آگے میں جو یہ کہہ رہا ہوں، ہمارا مذہب ہے۔...... اس کے خلاف ہمیں کوئی سند نہیں ہے، اس کے خلاف اور اس کے حق میں، علاوہ سندوں وغیرہ کو تلاش کرنے کے، خود عقل گواہی دیتی ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مرزا صاحب گھر میں اُردو بولتے تھے یا فارسی یا پنجابی؟ کیونکہ ایک زمانہ تھا کہ بہت گھروں میں فارسی بولی جاتی تھی، بہت گھروں میں پنجابی، بہت میں اُردو۔ تو آپ کو علم ہوگا کہ گھر میں......
مرزا ناصر احمد: میں اسی گھر کا پروردہ ہوں۔
1401 جناب یحییٰ بختیار: ہاں، اس واسطے آپ کو میں پوچھ رہا ہوں۔
مرزا ناصر احمد: ہمارے گھر میں عام طور پر، عام طور پر اُردو اور پنجابی بولی جاتی تھی۔
٥٢
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
لیکن ہم سے جو بزرگ تھے، مثلاً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانے میں گھروں میں فارسی بھی کبھی کبھی ......
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، میں یہ کہتا ہوں کہ ......
مرزا ناصر احمد: ہاں، تو اس وقت فارسی کا بھی استعمال ہوتا تھا۔
جناب یحییٰ بختیار: جتنے بھی مسلمان خاندان تھے پڑھے لکھے۔
مرزا ناصر احمد: اور ہمارے گھروں میں انگریزی کا بھی رواج ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب کے زمانے میں تو نہیں تھا؟
مرزا ناصر احمد: نہیں، مرزا صاحب کے زمانے میں نہیں تھا، لیکن ان کے بچوں کے زمانے میں آ گیا۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، وہ تو خیر آپ کو معلوم ہے۔
مرزا ناصر احمد: اور مرزا صاحب کے زمانے میں، مرزا صاحب کے زمانے میں اسلام کی تبلیغ ان علاقوں میں شروع ہو چکی تھی جو انگریزی بولنے والے تھے، اور خود ہندوستان میں ان پادریوں کے ساتھ تبلیغ اسلام کا ایک سلسلہ جاری ہو گیا تھا جو انگریزی بولنے والے تھے ......
(مرزا قادیانی کو انگریزی میں الہام)
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ جو انگریزی میں میں نے پڑھے جو ......
مرزا ناصر احمد: ...... اور اسی وجہ سے بانی سلسلہ کے زمانے میں ایک ہی ماہانہ In English ..... "Review of Religions" (ریویو آف ریلیجنز) وہ جاری ہوا۔
جناب یحییٰ بختیار: وہ مجھے پتا ہے۔ نہیں، وہ جو وحی ان پر نازل ہوئی تھی، انگریزی میں کچھ ہے، میں نے پڑھ کر سنائی ہے ......
مرزا ناصر احمد: وہ آپ نے پڑھی، وہ مختلف وقتوں کی ہیں، ایک جگہ آئی ہوئی ہیں ......
1402 جناب یحییٰ بختیار: ہاں، اکٹھی وحی ......
مرزا ناصر احمد: ایک ایک جگہ، اکٹھی وحی نہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ مجھے معلوم ہے ......
مرزا ناصر احمد: کبھی یہ ہوا: "I love you" ...... (مجھے تم سے پیار ہے)۔
٥٣
TAN 24th Aug, 1974 No:11
کہ ہر انسان کو قرآن عظیم مخاطب قرآن عظیم کے ذریعے مخاطب 1400 شروع ہو گئی۔ اس کا جواب اکرم ﷺ اس شریعت کی روشنی سمجھنے والی ہو، اور پھر وہ عرب ۔ مطالب اور معانی ہیں وہ پختگی جاکے آگے بتائیں گے۔ تو عقلم کوئی حصہ اس زبان میں ، نہیں سمجھ سکیں جنہوں نے تربیت ح ہوں ...... جنہوں نے تربیت حا مطلب نہیں ہے کہ جو امتی نبی اس زبان کے جس کو وہ جانتا ہو تو صرف محمد ﷺ کے ساتھ ہے
جناب یحییٰ بختیار
مرزا ناصر احمد:
اور جس کا دائرہ عمل صرف اپنی دوسری زبانوں میں بھی الہام کے خلاف ہمیں کوئی سند نہیں کرنے کے، خود عقل گواہی د
جناب یحییٰ بختیار
کیونکہ ایک زمانہ تھا کہ بہت اُردو۔ تو آپ کو علم ہو گا کہ گھر
مرزا ناصر احمد
1401 جناب یحییٰ
مرزا ناصر احمد
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، ایک دو اور بھی ہیں۔
مرزا ناصر احمد: کبھی یہ ہوا کہ:
"He will give you a large party of Islam."
(وہ تمہیں اسلام کی ایک بڑی جماعت دے گا)
تو یہ مختلف وقتوں کی ہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، تو اس پر وہ ایک جگہ میں نے یہ پڑھا مرزا صاحب! کہ مرزا صاحب نے کسی ہندو بچے کو بلایا اور اس سے پوچھا کہ اس وحی کا انگریزی میں، اس کا مطلب کیا ہے؟ وہ ٹھیک سمجھا بھی نہیں سکا کیونکہ اس زمانے میں کم لوگ انگریزی جانتے تھے۔ تو میں یہ سوچ رہا تھا کہ......
مرزا ناصر احمد: نہیں، ہندو بچے کو بلایا تو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس کو یہ بتانا ہو کہ اسلام کی یہ برکت ہے کہ آج کل بھی لوگوں کو وحی ہوتی ہے۔ ”دیکھو! مجھے یہ وحی ہوئی“ یہ جانتے ہوئے کہ ”وہ انگریزی اتنی نہیں جانتا کہ مجھے سمجھا سکے گا۔“ پھر بھی اس کو بتانا یہ تھا کہ اسلام بڑا بابرکت مذہب ہے۔
(مرزا قادیانی اپنی وحی نہیں سمجھ سکتا تھا)
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، وہ درست آپ فرما رہے ہیں کہ...... خود یہ نہیں سمجھتے تھے کہ وحی کا کیا مطلب ہے، یہ جو ہے ناں، یہ چیز ظاہر ہوتی اس سے، اور اللہ تعالیٰ اپنے ایک نبی کو ایک ایسی وحی بھیجتا ہے جو وہ سمجھے نہ۔
مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں خود نہیں سمجھتے تھے، لیکن ماحول میں اسے سمجھنے والے موجود تھے۔
1403 Mr. Yahya Bakhtiar: That is admitted.
(جناب یحییٰ بختیار: یہ اقرار کر رہے ہیں) وہ تو میں سمجھ گیا۔
مرزا ناصر احمد: وہاں تو دونوں چیزیں ہیں۔ وہ جہاں ہندو کو مخاطب کیا گیا ہے، وہاں یہ ہے کہ نہ ان کے رشی سمجھتے تھے، نہ کوئی اور انسان سمجھتا تھا۔
١؎ اللہ تعالیٰ نے وحی نہیں بھیجی، یہ جھوٹ بول رہا ہے، اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا ہے اس کو وحی بھیجتا جو وحی کو سمجھتا۔
٥٤
1415 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہاں یہ کہ اللہ میاں کیوں انگریزی میں ان سے بات کرے جب وہ انگریزی نہ سمجھیں؟ میں یہ صرف کہہ رہا ہوں۔ تو آپ نے کہہ دیا، وہ ٹھیک ہے۔
مرزا ناصر احمد: ہم تو بڑے عاجز انسان ہیں، اللہ تعالیٰ کو ہم جاکر مصلحت تو نہیں سمجھا سکتے۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں نہیں، وہ مصلحت میں نہیں کہتا کہ میں جانتا ہوں۔ باقی وہ جو آپ کچھ تھوڑے سے آپ جواب دیں گے مرزا صاحب! آج میرے خیال میں وہ ہو جائیں گے۔ ایک وہ محمدی بیگم، اور باقی تھی ناں Detail (تفصیل) کی......
مرزا ناصر احمد: یہ تو وہ لکھ کے، یہ جو آپ نے وہ دیئے ناں، آپ دیں گے یہ تو میں Submit (پیش) کر دوں گا۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔ کچھ ہم نے نوٹ کیا ہے، میں ابھی ان سے ٹائپ کرواتا ہوں؛ آپ چلے بھی جائیں تو آپ کو پیچھے بھیج دوں گا۔
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، Submit (پیش) کر دیں گے۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں اور پھر کچھ ایک دو چیزیں اور ہیں۔ تو وہ شام کو وہ ہو جائیں گی، کیونکہ انصاری صاحب نے کچھ سوال پوچھنے ہیں تحریف کے متعلق۔
مرزا ناصر احمد: جی؟
جناب یحییٰ بختیار: تحریف کے متعلق اور دو چار سوال اور انصاری صاحب پوچھیں گے۔
1404 مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔
جناب یحییٰ بختیار: تو شام کو ویسے بھی تو آپ نے بتانا ہے محمدی بیگم کا۔ We hope to conclude it as soon as possible today. (جہاں تک ممکن ہوا، ہم اُمید کرتے ہیں کہ آج ختم کر لیں گے)
مرزا ناصر احمد: ابھی نہیں ختم ہو رہا؟
جناب یحییٰ بختیار: وہ...... نہیں جی، وہ سوالات جو ہیں، میں نے آپ کو لکھ کے دینے ہیں محمدی بیگم کے بارے میں۔
مرزا ناصر احمد: ہاں، وہ تو شاید آج شام تک نہ ہو تو وہ کل۔ جب اس کو Submit (پیش) کرنا ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، ہاں، اس کو Submit (پیش) ہی کر دیں جی۔
٥٥
LY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، ایک دو ا
مرزا ناصر احمد: کبھی یہ ہوا کہ : ge party of Islam." (وہ تمہیں اسلام کی ایک بڑی جماع تو یہ مختلف وقتوں کی ہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، تو اس مرزا صاحب نے کسی ہندو بچے کو بلایا اور اس سے کیا ہے؟ وہ ٹھیک سمجھا بھی نہیں سکا کیونکہ اس سوچ رہا تھا کہ......
مرزا ناصر احمد: نہیں، ہندو بچے کی یہ برکت ہے کہ آج کل بھی لوگوں کو وحی ہو کہ ”وہ انگریزی اتنی نہیں جانتا کہ مجھے سمجھائے مذہب ہے۔
(مرزا قادیانی اپن
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں سمجھتے تھے کہ وحی کا کیا مطلب ہے، یہ جو ہے ایک نبی کو ایک ایسی وحی بھیجتا ہے جو وہ سمجھے نہ
مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں خ موجود تھے۔
: That is admitted.
(جناب یحییٰ بختیار: یہ اقرار ک
مرزا ناصر احمد: وہاں تو دونوں یہ ہے کہ نہ ان کے رشی سمجھتے تھے، نہ کوئی اور ا لئے اللہ تعالیٰ نے وحی نہیں بھیجی، اس کو وحی بھیجتا جو وحی کو سمجھ تو
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
مرزا ناصر احمد: وہ تو میں بھجوا دوں گا کل۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، وہ کچھ حرج نہیں۔ باقی آپ نے کچھ اور ابھی آپ نے جواب نہیں دینا؟
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں اور جو ہیں......
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، وہ پورے کر دیں۔
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔ یہ ایک کوئی حوالہ آیا تھا تین جنوری ١٩٣٠ء ”الفضل“، تو اس میں ہم نے تلاش کیا ہے، اس میں کوئی حوالہ نہیں ملا۔ ایک ”فتاویٰ احمدیہ“ کا تھا، اس میں یہ ہم نے صفحہ نکال لیا ہے۔ یہ غالباً ان میں ہے جو آپ نے صفحے لکھوا دیئے تھے اور مضمون نہیں بتایا تھا۔ کیا مضمون تھا اس میں؟
جناب یحییٰ بختیار: صفحہ دیا ہوا ہے؟
مرزا ناصر احمد: نہیں، صفحہ تو میں نکال لایا ہوں، تو اصل مضمون......
1405 جناب یحییٰ بختیار: ابھی دیکھتا ہوں۔ آپ......
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، وہ اگر مل جائے، کیونکہ آخر میں آپ نے وہ صفحے لکھوائے تھے۔
جناب یحییٰ بختیار: میں اسی لئے پڑھنا چاہتا تھا، پورے صفحے سے تو پتا نہیں چل سکتا، میں اسی لئے پڑھنا چاہتا تھا، مگر کچھ ٹائم کم تھا۔ یہ کونسا ہے جی ”فتاویٰ......
مرزا ناصر احمد: یہ ”مجموعہ فتاویٰ احمدیہ“ جلد اول، صفحہ: ١٤٩۔
جناب یحییٰ بختیار: صفحہ کون سا تھا جی یہ؟ جلد اول، صفحہ: ١٤٩۔
مرزا ناصر احمد: ہاں جی۔ ”مجموعہ فتاویٰ احمدیہ“ صفحہ: ١٤٨-١٤٩۔
(مسیح موعود کو نہ ماننے والے کافر ہیں یا نہیں؟)
جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، ١٤٩ صفحہ۔ یہاں جو میں نے لکھا ہوا ہے: ”مسیح موعود کے نہ ماننے والے کافر ہیں یا نہیں۔ ایک شخص نے سوال کیا: آپ کو نہ ماننے والے کافر ہیں یا نہیں؟ حضرت اقدس مسیح موعود نے فرمایا کہ: مولویوں سے جا کر پوچھو۔ ان کے نزدیک جو مسیح اور مہدی آنے والا ہے، اس کو جو نہ مانے اس کا کیا حال ہے؟ پس میں وہی مسیح اور مہدی 1406 ہوں جو آنے والا تھا۔“
مرزا ناصر احمد: جی، آپ نے ”کافر“ نہیں کہا۔
٥٦
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں یہی کہہ رہا ہوں کہ یہ حوالہ ہے؟
مرزا ناصر احمد: ہاں، یہ حوالہ ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔ تو اس کو آپ، میں نے کہا تھا کہ آپ Explain (واضح) کریں۔
مرزا ناصر احمد: اس میں تو Explain (واضح) کرنے والی کوئی چیز نہیں۔ اس میں یہ ہے کہ: ”ایک شخص نے سوال کیا کہ آپ کو نہ ماننے والے کافر ہیں یا نہیں؟ حضرت اقدس مسیح موعود نے فرمایا: مولویوں سے جا کر پوچھو۔ ان کے نزدیک جو مسیح اور مہدی آنے والا ہے، اس کو جو نہ مانے گا اس کا کیا حال ہے؟ پس میں وہی مسیح اور مہدی ہوں جو آنے والا تھا۔“
تو جواب تو اس میں علماء نے دینا تھا ناں، آپ نے تو کچھ نہیں دیا۔
جناب یحییٰ بختیار: علماء کا تو متفقہ یہ ہے ناں جی کہ جو مسیح آئے گا، جو نہیں مانے گا وہ کافر۔
مرزا ناصر احمد: کس کا فتویٰ ہے؟
جناب یحییٰ بختیار: علماء جو ہمارے ہاں ہیں، وہ کہتے ہیں کہ جو مسیح آئے گا اور ان کو جو نہ مانے ......
مرزا ناصر احمد: اور ہم مسیح مانتے ہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، آپ مانتے ہیں۔ اس لئے ہم آپ کو نہیں مانتے اس واسطے ہم کافر ہو گئے؟
مرزا ناصر احمد: مولویوں کے کہنے کے مطابق۔
جناب یحییٰ بختیار: بالکل۔
مرزا ناصر احمد: مولویوں کے ......
جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔
مرزا ناصر احمد: ...... لیکن اس معنی میں کفر جو ملتِ اسلامیہ سے خارج نہیں کرتا۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، وہ مولویوں کی Logic (منطق) آپ بھی Refute (انکار) نہیں کرتے، اس سے تو آپ کو بھی اتفاق ہے کہ جو مسیح موعود آئے گا ......
مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، وہ تو ہو گیا۔ میرا مطلب یہ ہے کہ وہاں کفر کے معنی اور ہیں بالکل۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ معنی تو ہم بڑی تفصیل سے جان چکے ہیں۔
٥٧
OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
مرزا ناصر احمد: وہ تو میں بھجواؤ
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، وہ جواب نہیں دینا؟
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں اور جو
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، وہ پور
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔ یہ اس میں ہم نے تلاش کیا ہے، اس میں کوئی حوال ایک ”فتاویٰ احمدیہ“ کا تھا، اس آپ نے صفحے لکھوا دیئے تھے اور مضمون نہیں
جناب یحییٰ بختیار: صفحہ دیا ہو
مرزا ناصر احمد: نہیں، صفحہ تو میں
1405 جناب یحییٰ بختیار: ابھی
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، لکھوائے تھے۔
جناب یحییٰ بختیار: میں اس سکتا، میں اسی لئے پڑھنا چاہتا تھا، مگر کچھ ٹائم
مرزا ناصر احمد: یہ ”مجموعہ فتاویٰ
جناب یحییٰ بختیار: صفحہ کون
مرزا ناصر احمد: ہاں جی۔ ”مجمو (مسیح موعود کو نہ ماننے
جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، ”مسیح موعود کے نہ ماننے والے ماننے والے کافر ہیں یا نہیں؟ حضرت اقدس کے نزدیک جو مسیح اور مہدی آنے والا ہے اور مہدی 1406 ہوں جو آنے والا تھا۔“
مرزا ناصر احمد: جی، آپ نے
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔ بس پھر ٹھیک ہے۔ وہ ہو گیا۔ ”براہین احمدیہ“ کے حصہ پنجم کے......
1407 جناب یحییٰ بختیار: اور کچھ مجھے تو نہیں آپ کو، کچھ پڑھ کے سنانا ہے آپ کو؟ Passage (پیرا) اگر ہو تو پہلے اس کو......
مرزا ناصر احمد: جی؟
جناب یحییٰ بختیار: اگر کوئی اور Passage (پیرا) میں نے Page (صفحہ) دیا ہو تو وہ میں آپ کو پڑھ کر سنادوں۔
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، یہ وہی میں بتا رہا ہوں۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، اگر میں نے Page (صفحہ) دیا ہو اور آپ کو Passage (پیرا) نہ ملا ہو تو میں پڑھ کے سنادوں۔
مرزا ناصر احمد: تو یہ ہے ایک ”نصرۃ الحق۔“ ”براہین احمدیہ“ حصہ پنجم، اس کے صفحہ ٦٩/٥٩ پر...... ہاں، ہاں، اس کے صفحہ ٥٢ پر آپ نے ایک عبارت پڑھی تھی۔ یہ وہ حصہ ہے جس میں یہ آتا تھا کہ: ١؎ ”یہ بیچ میں نے کیا، یہ چالاکی کر کے۔“ ”قرآن اور رسول“ اور اس کا تھا۔ اس پر کہیں Page (صفحہ) پر ذکر نہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: وہ پھر وہ Miss (نظر انداز) ہو گیا ہوگا۔
مرزا ناصر احمد: ہاں، پھر وہ، وہی میرا مطلب ہے کہ ہم نے تو یہ تلاش کیا، نہیں ملا۔ اس واسطے یہ بھی ہو گیا اور؟
جناب یحییٰ بختیار: اور تو کوئی نہیں۔
مرزا ناصر احمد: اس وقت جو ہم نے نوٹ کئے وہ آگئے۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی کسی اور جگہ تو آپ کو نہیں ملا؟
مرزا ناصر احمد: ہاں، بالکل نہیں ملا۔
(وقفہ)
جناب یحییٰ بختیار: اور تو نہیں جی کوئی آپ کے پاس؟
1408 مرزا ناصر احمد: ہاں نہیں، اور کوئی نہیں۔ (وقفہ)
١؎ ”علماء بیچ میں پھنس گئے۔“ یہ حوالہ تھا براہین یا نصرۃ الحق کا نہیں بلکہ اربعین کا ہے، پہلے حوالہ نقل کر چکا ہوں۔
٥٨
1419 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
(حضور ﷺ کے معجزات تین ہزار......؟)
جناب یحییٰ بختیار: ایک اور تھا جی، میرا خیال ہے میں نے نہیں سنایا شاید آپ کو...... بیچ میں کچھ Pages Blank (خالی صفحے) تھے: ”ہمارے نبی اکرم ﷺ کے معجزات کی تعداد صرف تین ہزار لکھی ہے......“
(تحفہ گولڑویہ ص ٤٠، خزائن ج ١٧ ص ١٥٣)
”...... اور اپنے معجزات کی تعداد......“ ”براہین احمدیہ“ حصہ پنجم، Page بھی وہی ٥٦، خزائن ج ٢١ ص ٧٢ ہے: ”......جیسا کہ دس لاکھ بتائی ہے۔“
مرزا ناصر احمد: اچھا، خیر! میں اس کا جواب دے دیتا ہوں، یہ جو ہمارا اعتقاد ہے، میں وہ بتا دیتا ہوں۔ ہمارا اعتقاد یہ ہے کہ نبی اکرم حضرت محمد ﷺ ایک زندہ نبی ہیں۔ زندہ نبی ایک جسمانی لحاظ سے نہیں ہیں، جسمانی زندگی تو آپ کی ایک محدود ہے، وہ ہمیں پتا ہے کتنے برس زندہ رہے۔ لیکن آپ ﷺ کی روحانی زندگی جو ہے، جو قیامت تک ممتد ہے، اس کی وجہ سے ہم نبی اکرم ﷺ کو ایک زندہ نبی مانتے ہیں اور زندہ نبی کا جو تصور ہمارے دماغ میں ہے اس میں سے ایک یہ ہے کہ آپ کی روحانی زندگی کے نتیجے میں اُمتِ محمدیہ میں قیامت تک ایسے افراد پیدا ہوتے رہیں گے جو آپ کی روحانیت کے طفیل خدا تعالیٰ کے نشانات اسلام کی حقانیت کے ثبوت کے لئے بنی نوع انسان کے سامنے پیش کرتے رہیں گے اور چونکہ عام آدمی جو ہے، اس کے نزدیک دو زندگیاں بن جاتی ہیں ناں، ہمارے حلقے کے نزدیک، احساس رکھنے والے، وہ تو پہلے دن سے ایک ہی زندگی چلی ہے رُوحانی۔ اس واسطے جہاں ایک یہ کہا، اس کا مطلب ہمارے نزدیک یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی روحانی زندگی کا جو تعلق اپنی جسمانی زندگی 1409 کے ساتھ تھا، اس زمانے میں تین ہزار معجزے دُنیا نے دیکھے، اور قیامت تک کروڑوں دیکھے، وہ سب نبی اکرم ﷺ کے معجزے اور نشانات ہیں، لیکن یہ معجزے حضرت علیؓ کے زمانے میں، حضرت عثمانؓ (دونوں پر اللہ کی رضا ہو) ان کے زمانے میں دیکھے۔ حضرت عمرؓ نے ایک موقع پر آواز دی، کتنے فاصلے پر تھی، پچاس، سو، ساٹھ، قریباً سومیل کے فاصلے پر تھی فوج، اور وہ نظارہ سامنے آیا، اور دیکھا کہ کمانڈر اس فوج کا جو ہے وہ غلطی کر رہا ہے اور آپ نے اس کو ہدایت دی وہیں سے گھبرا کے، اور اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کئے کہ اس کمانڈر کے کان میں وہ آواز پہنچی سو میل دُور اور ایسی غلطی سے وہ فوج بچ گئی جس کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اس کا۔ اب یہ معجزہ حضرت عمرؓ کا نہیں
٥٩
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
ہے ہمارے نزدیک، نبی کریم ﷺ کا تھا۔ اس طرح اُمتِ محمدیہ میں، حضرت مسیح موعود نے لکھا ہے، کہ کروڑوں اولیاء اللہ پیدا ہوئے اور نبی کریم ﷺ کے معجزے اور نشانات دُنیا کو دکھاتے رہے، لیکن عرفِ عام میں ہم کہتے ہیں کہ سید عبدالقادر جیلانی صاحب کے معجزات، ہم یہ کہتے ہیں کہ امام باقر کے معجزات، وغیرہ، وغیرہ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے...... ایک چھوٹا سا ”تتمہ حقیقۃ الوحی“ کا حوالہ ہے، وہ میں پڑھ دیتا ہوں:
”اسلام تو آسمانی نشانوں کا سمندر ہے۔ کسی نبی سے اس قدر معجزات ظاہر نہیں ہوئے جس قدر ہمارے نبی ﷺ سے۔ کیونکہ پہلے نبیوں کے معجزات (وہی میرا جو پہلا مضمون تھا، اس کے متعلق ہے)۔ (کیونکہ پہلے نبیوں کے معجزات) ان کے مرنے کے ساتھ ہی مرگئے لیکن ہمارے نبی ﷺ کے معجزات اب تک ظہور میں آرہے ہیں اور قیامت تک ظاہر ہوتے رہیں گے۔ جو کچھ میری تائید میں ظاہر ہوتا ہے دراصل وہ سب آنحضرت ﷺ کے معجزات ہیں۔“
جناب یحییٰ بختیار: اور تو نہیں جی کوئی حوالہ؟
1410 مرزا ناصر احمد: ہوسکتا ہے کوئی غلطی ہو، لیکن جنہوں نے نوٹ کیا ہے وہ کہتے ہیں نہیں۔
(خلافتِ عثمانیہ کے سقوط پر قادیانی جماعت نے کہا ہمارا ترکوں سے کوئی تعلق نہیں؟)
جناب یحییٰ بختیار: میں بھی بھول جاتا ہوں جی، بہت زیادہ ہوگئے۔ اب دو تین مختصر سے سوال ہیں۔ ایک یہ کہ خلافتِ عثمانیہ کے سقوط پر آپ کی جماعت نے پنجاب کے انگریز لیفٹیننٹ گورنر کو کہا تھا کہ نہ، ہمارا ترکوں سے کوئی تعلق نہیں؟
مرزا ناصر احمد: ہمارا ان فرقوں سے کوئی تعلق ہی نہیں؟
جناب یحییٰ بختیار: ترکوں سے ہمارا تعلق کوئی نہیں ہے؟
مرزا ناصر احمد: ترکوں سے، مسلمانوں سے......
جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔
مرزا ناصر احمد: ......کوئی تعلق نہیں؟
جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔
مرزا ناصر احمد: یاد تو نہیں ہے مجھے۔
جناب یحییٰ بختیار: یہ ایڈریس ہے، لیفٹیننٹ گورنر کو دیا ہوا ہے۔ جہاں تک مجھے یاد ہے، اس میں یہ تھا کہ: ”کیونکہ ہمارا اپنا خلیفہ ہے اس واسطے ہم ان کو خلیفہ نہیں مانتے۔“
٦٠
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
مرزا ناصر احمد: ہاں، اس لحاظ سے کہ ہماری اپنی خلافت ہے، اور خلافتِ ترکیہ سے ہمارا یہ خلافت اور یہ اجماع کا تعلق نہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: تو اس ضمن میں کہ ان کے ساتھ ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے؟
مرزا ناصر احمد: اس معنی میں۔
جناب یحییٰ بختیار: ممکن ہے یہی ہو۔
مرزا ناصر احمد: نہیں، ہاں ہے ہی یہ۔
جناب یحییٰ بختیار: چونکہ ایڈریس نہیں ہے میرے پاس اس وقت......
مرزا ناصر احمد: ہاں، لیکن عملاً تو یہ ہوا ناں کہ حجاز والے ان کے خلاف لڑے، حرمین شریف والے لڑے۔ وہ میں نے بتایا تھا کہ وہ اور قسم کی لڑائیاں تھیں، وہ دینی جہاد نہیں تھے جس 1411 کے اوپر یہ فتوے لگائے جاتے ہیں۔
(بغداد پر انگریز کے قبضے کی خوشی میں قادیان میں چراغاں)
جناب یحییٰ بختیار: اور ایک اور سوال ہے کہ: ”کیا یہ درست ہے کہ جس وقت بغداد پر انگریز کا قبضہ ہوا، عراق مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکلا، اس وقت قادیان کی جماعت نے چراغاں کیا تھا؟“
مرزا ناصر احمد: یہ میں جواب دے چکا ہوں کہ اس وقت......
جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! دیکھیں، سارے مسلمان اگر ایک وقت کریں کوئی چیز، جیسے کہ آپ نے کہا، آپ کے جواب سے یہ Impression (تاثر) پڑتا تھا کہ اس موقع پر سب مسلمانوں نے چراغاں کیا......
مرزا ناصر احمد: اس کی تاریخ کیا ہے؟
جناب یحییٰ بختیار: تاریخ یہاں نہیں لکھی، یہ ایک Historical Fact (تاریخی حقیقت) ہے، جب بغداد پر انگریزوں کا قبضہ ہوا......
مرزا ناصر احمد: Historical Fact (تاریخی حقیقت) یہ ہے کہ وہ جنگ کا خاتمہ ہوگیا تھا۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، ایک جنگ کا خاتمہ تھا، وہ تو Poppy Day سب دُنیا میں ہوتا رہا، ١٨؍نومبر ١٩١٩ء میں، ١١؍نومبر کے بعد، وہ چراغاں سب ملک میں ہو گیا تھا۔
٦١
OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
ہے، ہمارے نزدیک، نبی کریم ﷺ کا تھا۔ اس کہ کروڑوں اولیاء اللہ پیدا ہوئے اور نبی کر لیکن عرفِ عام میں ہم کہتے ہیں کہ سیّد عبدا امام باقر کے معجزات، وغیرہ، وغیرہ۔ حضر حقیقۃ الوحی“ کا حوالہ ہے، وہ میں پڑھ دیتا ہو ”اسلام تو آسمانی نشانوں کا سمند جس قدر ہمارے نبی ﷺ سے۔ کیونکہ پہل کے متعلق ہے)۔ (کیونکہ پہلے نبیوں کے ہمارے نبی ﷺ کے معجزات اب تک ظہور جو کچھ میری تائید میں ظاہر ہوتا ہے دراصل و
جناب یحییٰ بختیار: اور تو نہیں
1410 مرزا ناصر احمد: ہو سکتا ہیں نہیں۔
(خلافتِ عثمانیہ کے سقوط پر قادیانی جم
جناب یحییٰ بختیار: میں بھی اب دو تین مختصر سے سوال ہیں نے پنجاب کے انگریز لیفٹیننٹ گورنر کو کہا تھ
مرزا ناصر احمد: ہمارا ان فرقو
جناب یحییٰ بختیار: ترکوں
مرزا ناصر احمد: ترکوں سے
جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔
مرزا ناصر احمد: ...... کوئی تعل
جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی
مرزا ناصر احمد: یاد نہیں
جناب یحییٰ بختیار: یہ ایڈری ہے، اس میں یہ تھا کہ: ”کیونکہ ہمارا اپنا خل
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
مرزا ناصر احمد : نومبر انیس سو......؟
جناب یحییٰ بختیار: نومبر ١٩١٧ء یا ١٩١٨ء۔
مرزا ناصر احمد : نومبر ١٨ء، یا ١٧ء یا ١٨ء، ٹھیک ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: ١١ نومبر ١٩١٨ء تھا وہ تو۔
مرزا ناصر احمد : اسی واسطے میں نے پوچھا تھا کہ اس کی تاریخ اگر پتا ہو۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ علیحدہ ڈیٹ پر اس دوران میں ہوئی ہے، Not on the same date (اسی تاریخ کو نہیں)، اگر اس میں ہو تو پھر میں وہ سوال ہی واپس لیتا ہوں۔ اگر اس ڈیٹ پر......
1412 مرزا ناصر احمد : یہ پھر اگر آیا ہے تو میں معذرت چاہتا ہوں، یہ چیک نہیں کیا۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، یہ آپ چیک کرلیں۔ میں نے پہلے پوچھا بھی نہیں تھا کل آپ نے جو اس کا ذکر کیا ناں، چراغاں کا، تو مجھے بتایا گیا......
مرزا ناصر احمد : یہ Submit (پیش) میں کردوں گا۔
جناب یحییٰ بختیار: ...... وہ چراغاں۔ تو سب مسلمان ...... لڑائی تو سب ملک میں تھی ختم ہوگئی۔
مرزا ناصر احمد : یہ لڑائی پر In writing (تحریر میں) دو تین صفحے Submit (پیش) کردوں؟
جناب یحییٰ بختیار: جتنا مختصر ہو۔ جتنے بھی Annexure (منسلکہ دستاویز) آرہے ہیں وہ پرنٹ ہورہے ہیں۔ پھر وہ اسمبلی کے ممبران کو دے رہے ہیں۔ اس لئے جتنا مختصر ہوگا وہ پڑھیں گے اور اُس کو دیکھیں گے۔
مرزا ناصر احمد : صرف ہمیں اندھیرے میں رکھ رہے ہیں۔ ہمیں بھی تو ایک کاپی ملنی چاہئے۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، آپ تو یہاں بیٹھے ہیں، آپ کے سامنے سب کچھ ہوا۔
مرزا ناصر احمد : یہ نہیں بیٹھے یہاں؟
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ کمیٹی کا آرڈر ہے، میں تو......
١؎ ماشاء اللہ! خود کو قومی اسمبلی کے ممبران جیسے استحقاق کا حق دار سمجھنے لگ گئے...! چھچھوندر کے خواب والی بات ہوئی ناں؟
٦٢
EMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
مرزا ناصر احمد : نومبر انیس سو ......؟
جناب یحییٰ بختیار : نومبر ١٩١٧ء یا ١٩١٨ء
مرزا ناصر احمد : نومبر ١٨ء ، یا ١٧ء یا ١٨
جناب یحییٰ بختیار : ١١ نومبر ١٩١٨ء تھا وہ
مرزا ناصر احمد : اسی واسطے میں نے پوچھ
جناب یحییٰ بختیار : نہیں ، یہ علیحدہ ڈیم the same date (اسی تاریخ کو نہیں) ، اگر اس ہوں۔ اگر اس ڈیٹ پر ......
1412 مرزا ناصر احمد : یہ پھر اگر آیا ہے تو میں
جناب یحییٰ بختیار : ہاں ، یہ آپ چیک ک آپ نے جو اس کا ذکر کیا ناں ، چراغاں کا ، تو مجھے بتا یا گ
مرزا ناصر احمد : یہ Submit (پیش)
جناب یحییٰ بختیار : ...... وہ چراغاں ۔ ت تھی ختم ہو گئی۔
مرزا ناصر احمد : یہ لڑائی پر writing (پیش) کردوں؟
جناب یحییٰ بختیار : جتنا مختصر ہو۔ جتن آرہے ہیں وہ پرنٹ ہورہے ہیں۔ پھر وہ اسمبلی کے ممب لوگ وہ پڑھیں گے اور اُس کو دیکھیں گے۔
مرزا ناصر احمد : صرف ہمیں اندھیرے ملنی چاہئے۔
جناب یحییٰ بختیار : نہیں ، آپ تو یہاں ب١؎
مرزا ناصر احمد : یہ نہیں بیٹھے یہاں؟
جناب یحییٰ بختیار : نہیں ، وہ کمیٹی کا آرڈ
١؎ ماشاء اللہ! خود کو قومی اسمبلی کے ممبران چھچھڑے کے خواب والی بات ہوئی ناں؟
٦٢
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
مرزا ناصر احمد : آں؟ نہیں ، میں تو ویسے ......
جناب یحییٰ بختیار : یہ سیکریٹ ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ پبلک ......
مرزا ناصر احمد : نہیں ، کمیٹی کی خدمت میں درخواست کر رہا ہوں ، بڑی عاجزانہ ، بڑے مؤدب ہو کر١؎
جناب یحییٰ بختیار : نہیں ، وہ تو کمیٹی Consider (غور) ضرور کرے گی۔ بات یہ تھی کہ وہ چاہتے تھے کہ یہ چیز جو ہے ......
1413 مرزا ناصر احمد : ہاں ٹھیک ہے۔
جناب یحییٰ بختیار : ...... ان حالات میں باہر نہ جائے۔
مرزا ناصر احمد : خیر ، یہ تو بحث ہی نہیں۔ میں دے دوں گا ، بڑا مختصر ، جتنا ہوسکے۔
جناب یحییٰ بختیار : کیونکہ اگر وہ Celebration (خوشی کا موقع) ہے کہ عراق کے مسلمانوں کی حکومت چلی گئی۔
مرزا ناصر احمد : چیک کریں گے کہ سن کونسا ہے ، ایک چیز یہ چیک کرنے والی ہے۔ دوسری یہ چیک کرنے والی ہے کہ مسلمانانِ ہند کا اس وقت ردّعمل کیا تھا ، ممکن ہے انہوں نے غصے کا اظہار کیا ہو اور ہم نے چراغاں کی ہو۔ تو یہ Clash آجاتا ہے ناں۔
جناب یحییٰ بختیار : میں یہ بتانا چاہتا ہوں ، جہاں جنگ ختم ہوئی تو ہندو ، مسلمان ، پارسی ، جو بھی برطانیہ کی رعایا یہاں تھی ، سب نے چراغاں کیا تو قادیان میں بھی ہو گیا ہوگا؟
مرزا ناصر احمد : یہ پوائنٹ میں نے نوٹ کر لیا ہے ذہن میں۔ اس کے مطابق مختصراً ......
جناب یحییٰ بختیار : اس کے علاوہ اسی موقع پر عراق کا کسی مسلمان نے چراغاں نہیں کیا ، آپ نے کیا ، یہ کہتے ہیں۔
مرزا ناصر احمد : ہاں ، عراق کا ......
جناب یحییٰ بختیار : تو یہ میں کہتا ہوں کہ آپ Verify (تصدیق) کریں۔
مرزا ناصر احمد : نہیں ، آپ کہتے ہیں کہ ایسا ہوا ، یا آپ یہ فرماتے ہیں کہ میں Verify (تصدیق) کروں؟
جناب یحییٰ بختیار : نہیں جی ، میں یہ کہتا ہوں کہ یہ Allegation (الزام) ہے ، آپ Verify (تصدیق) کریں۔
١؎ دے جا سخیا راہ خدا۔ تجھے اللہ ہی بوٹا لائے گا۔ اسی کو کہتے ہیں شاید؟
٦٣
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، Verify (تصدیق) کریں۔ جناب یحییٰ بختیار: صرف آپ نے کیا اور باقیوں نے نہیں کیا؟ 1414 مرزا ناصر احمد: باقیوں نے نہیں کیا؟ ہاں ٹھیک ہے، یہ بھی Verify (تصدیق) کرنے والی بات ہے ضرور۔ جناب یحییٰ بختیار: بیگم صاحبہ کہتی ہیں کہ پونے دو ہوگئے ہیں۔ تو پھر ایڈجرن کریں شام کے لئے۔ مرزا ناصر احمد: شام کو Meet (اجلاس) کرنا ہے؟ جناب یحییٰ بختیار: شام کو جی، پہلے میں نے کہا، مولانا صاحب پوچھیں گے...... Mr. Chairman: Yes, we are meeting in the (جناب چیئرمین: جی ہاں! ہم شام کو اجلاس کریں گے) evening. جناب یحییٰ بختیار: ...... تحریف قرآن کے بارے میں دو تین سوال پوچھ رہے ہیں آپ سے شام کو...... Mr. Chairman: The Delegation is premitted to leave for the present. (جناب چیئرمین: اس وقت وفد کو جانے کی اجازت ہے) مرزا ناصر احمد: اچھا۔ Mr. Yahya Bakhtiar: ...... This is not my subject. (جناب یحییٰ بختیار: یہ میرا موضوع نہیں ہے) اور اس کے علاوہ دو چار سوال اور بھی ہیں، وہ کہتے تھے، میں نے کہا، پھر بھی پوچھ لیں گے۔ (جناب والا آپ کا شکریہ) Thank you, Sir. Mr. Chairman: The honourable members may (جناب چیئرمین: معزز اراکین تشریف رکھیں) keep sitting. مرزا ناصر احمد: جناب چیئرمین، سر! اگر مجھے اجازت ہو تو بعض سوالوں کے جواب میرے بجائے اس ڈیلی گیشن کے کوئی اور صاحب بھی دے سکیں۔ Mr. Yahya Bakhtiar: Anybody you like, Sir. I do not have any objection.
٦٤
1425 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
(جناب یحییٰ بختیار: جناب والا! جو شخص آپ چاہیں، کوئی اعتراض نہیں)
1415 (The Delegation left the Chamber) (وفد ہال سے باہر چلا گیا)
Mr. Chairman: Yes, I think, by this evening, we will be able to dicuss so many things with others.
The reporters can go alse. They are also free.
The honourable members may keep sitting. (جی ہاں، آج شام ہم نے بہت سی باتوں پر غور کرنا ہے۔ رپورٹرز بھی جاسکتے ہیں۔ انہیں اجازت ہے۔ معزز اراکین تشریف رکھیں)
The Special Committee is adjourned to meet at 6:00, and by that time, the honourable members may come prepared for any question which may be left over. (خصوصی کمیٹی کا اجلاس چھ بجے تک ملتوی ہوا)
Thank you very muck. (آپ کا بہت بہت شکریہ)
[The Special Committee adjourned for lunch break to re-assemble at 6:00 p.m] (خصوصی کمیٹی کا اجلاس دوپہر کے کھانے کے وقفے کے لئے ملتوی ہوا۔ چھ بجے شام دوبارہ ہوگا)
٦٥
OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں،
جناب یحییٰ بختیار: صرف آم
1414 مرزا ناصر احمد: باتوں (تصدیق) کرنے والی بات ہے ضرور۔
جناب یحییٰ بختیار: بیگم صاحبہ شام کے لئے۔
مرزا ناصر احمد: شام کو Meet
جناب یحییٰ بختیار: شام کو جی
, we are meeting in the
(جناب چیئرمین: جی ہاں!)
جناب یحییٰ بختیار: ...... تحر آپ سے شام کو ......
Delegation is premitted to
(جناب چیئرمین: اس وقت
مرزا ناصر احمد: اچھا۔ ... This is not my subject.
(جناب یحییٰ بختیار: یہ میرا اور اس کے علاوہ دو چار سوال اور ب
(جناب والا آپ کا شکریہ)
onourable members may
(جناب چیئرمین: معزز ار
مرزا ناصر احمد: جناب چیئر
میرے پاس اس ڈیلی گیشن کے کوئی اور صا anybody you like, Sir. I do
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
[The Special Committee re-assembled after lunch break, Mr. Chairman (Sahibzadaz Farooq Ali), in the chair.]
(خصوصی کمیٹی کا اجلاس دوپہر کے کھانے کے وقفے کے بعد دوبارہ ہوا۔ چیئرمین (صاحبزادہ فاروق علی) نے صدارت کی)
جناب چیئرمین: ان کو بلالیں۔ ہاں، باہر بٹھا دیں۔ Attorney-General بلالیں ان کو، اٹارنی جنرل صاحب باہر بیٹھے ہیں۔ آج ہو جائے may also be called. گا، ان شاء اللہ۔ اُمید ہے جی، اب کافی دن ہو گئے ہیں۔ Today is the eleventh آج ختم کر لیں گے تو پھر کل نہیں ہوگا۔ کل اسی واسطے رکھا تھا کہ اگر آج کوئی چیز ختم نہیں day. ہوگی تو پھر کل، Tomorrow۔
Sahibzada Ahmad Raza Khan Qasuri: Mr. Chairman, before you call the witness, I would like to address the chair.
(صاحبزادہ احمد رضا خان قصوری: جناب چیئرمین! پیشتر اس کے کہ آپ گواہ کو بلالیں، میں کچھ گزارشات کرنا چاہتا ہوں)
جناب چیئرمین: ان کو ذرا روک دیں جی۔ ان کو ابھی روک دیں ذرا جی۔
1416 ہاں، Yes۔
ATTACK ON M.N.A
Sahibzada Ahmad Raza Khan Qasuri: Mr. Chairman, I have to disclose with great pain that this afternoon, at half past three, when I was retruning from the Hostel, on my way back home to a place wherer I am staying at chaman and when my car came near the National Assembly of Pakistan, a jeep was coming from the direction
٦٦
MBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
ittee re-assembled after lunch hibzada Farooq Ali), in the
(خصوصی کمیٹی کا اجلاس دوپہر کے کھا (صاحبزادہ فاروق علی) نے صدارت کی)
جناب چیئرمین: ان کو بلالیں۔ ہاں بلالیں ان کو، اٹارنی may also be called. گا، ان شاء اللہ۔ اُمید ہے جی، اب کافی دن ہو آج ختم کر لیں گے تو پھر کل نہیں ہوگا۔ کل day. ہوگی تو پھر کل، Tomorrow۔
d Raza Khan Qasuri: Mr. the witness, I would like to
(صاحبزادہ احمد رضا خان قصوری بلالیں، میں کچھ گزارشات کرنا چاہتا ہوں)
جناب چیئرمین: ان کو ذرا روک دی 1416 ہاں، Yes۔
ON M.N.A
Raza Khan Qasuri: Mr. se with great pain that this when I was retruning from the ome to a place wherer I am ny car came near the National was coming from the direction
٦
1427 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
of the State Bank building. The jeep overtook me and it then started going ahead of me, as if they knew which side I live. First, the jeep was coming faster because I normally drive my car faster. I started driving slow, the the jeep also became slow. Then, when you cross those diplomatic houses, there is a crossing of Ata-Turk Road with Fazal-i-Haq Road, and there is a very depth like this and there is a very blind corner and there are bushes all around. The jeep turned towards left and there was a rapid sten-gun fire on me and I have escaped with the grace of God Almighty and it is the God's blessing that I am speaking to you in one piece. It is just God's blessing, it is a blessing of the people of Qasur who pray for me, it is the blessings of my bazurg (بزرگ), it is the blessings of my friends that I am intact. And this was a murderous attack and this is very serious. I don't impute motive to anybody because that will be going beyond my scope, but I am just giving this information to you. Sir, and it should be on record.
The case has alredy been filed with the Police Station, Islamabad. Islamabad Plice is investigating. But, Sir, the matter is very serious and it needs your consideration. Sir, if you will not protect us, because you are the symbol of democracy, you are the symbol of rule of law in this country, if you will not defend us, Sir who will defend us? And if we have to defend ourselves in this country, if everybody starts holding guns, then, Sir, this country will
٦٧
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
not find anything, there will be no society and there will be no law. There will be absolutely chaos, there will be bloodsehd. And Sir, we have already and we don't want blood-bath in this country.
(صاحبزادہ احمد رضا خان قصوری: جناب چیئرمین! بڑے دُکھ کے ساتھ بتانا چاہتا ہوں کہ آج بعد دوپہر ساڑھے تین بجے جب میں ہوسٹل سے واپس، جہاں میں قیام پذیر ہوں، جا رہا تھا، اس وقت ایک جیپ اسٹیٹ بینک بلڈنگ کی طرف سے نیشنل اسمبلی کے قریب آئی، جیپ نے مجھے پیچھے چھوڑا اور پھر میرے آگے آگے چلنے لگی۔ اس طرح جیسا کہ جیپ والوں کو میری رہائش گاہ کا علم ہو۔ شروع میں جیپ کی رفتار تیز تھی، کیونکہ عام طور پر میں گاڑی تیز چلاتا ہوں۔ میں نے کار کی رفتار سست کر دی تو جیپ کی رفتار بھی سست ہوگئی۔ سفیروں کے مکانوں سے گزر کر اتاترک اور فضل حق چوک پر ایک گہری اور اندھا دھند موڑ ہے، جن کے اردگرد جھاڑیاں ہیں، جیپ بائیں طرف مڑی اور جیپ سے مجھ پر اسٹین گن کا لگا تار فائر کیا گیا، لیکن میں محض اللہ کے کرم سے محفوظ رہا، اور یہ اس کی رحمت ہے کہ میں صحیح سالم حالت میں آپ سے خطاب کر رہا ہوں، یہ اللہ کا کرم اور قصور کے لوگوں کی دُعائیں، میرے بزرگوں کی دُعائیں، اور دوستوں کی دُعائیں ہیں کہ میں زندہ ہوں۔ یہ ایک قاتلانہ حملہ تھا جو کہ بہت ہی سنگین بات ہے۔ جناب والا! ریکارڈ کے لئے یہ اطلاع بہم پہنچا رہا ہوں۔ میں اسلام آباد پولیس اسٹیشن میں مقدمہ پہلے درج کرا چکا ہوں، جو تفتیش کر رہی ہے۔ لیکن جناب والا! یہ معاملہ سنگین نوعیت کا ہے اور آپ کی توجہ کا متقاضی ہے۔ جناب والا! اگر آپ ہمارا تحفظ نہیں کریں گے، کیونکہ آپ جمہوریت کی علامت ہیں، آپ اس ملک میں قانون کی حکمرانی کی علامت ہیں، جناب والا! اگر آپ ہمیں تحفظ نہیں دیں گے تو اور کون دے گا؟ اور اگر اس ملک میں ہم نے اپنا تحفظ خود ہم نے اپنا تحفظ خود ہی کرنا ہے تو پھر جناب والا! ہر شخص کے ہاتھ میں بندوق ہوگی اور ملک میں کچھ بھی نہیں رہے گا، نہ کوئی معاشرہ ہوگا اور نہ ہی قانون ۔ بس افراتفری اور خون خرابہ ہوگا۔ جناب والا! پہلے ہی کافی کشت وخون ہو چکا ہے، ہم جانتے ہیں خون خرابہ کیا ہوتا ہے؟ اور ہم ملک میں کشت وخون نہیں چاہتے )
1417 Sir, if this type of incident takes place and if we feel that we are not protected by the rule of law; by the Administraion, then we will have to protect ourselves. And
٦٨
MBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
ll be no society and there will be solutely chaos, there will be ave already and we don't want
(صاحبزادہ احمد رضا خان قصوری: چاہتا ہوں کہ آج بعد دوپہر ساڑھے تین بجے جب پذیر ہوں، جا رہا تھا، اس وقت ایک جیپ اسٹیٹ قریب آئی، جیپ نے مجھے پیچھے چھوڑا اور پھر میرے والوں کو میری رہائش گاہ کا علم ہو۔ شروع میں جیپ چلاتا ہوں۔ میں نے کار کی رفتار ست کر دی تو جیپ سے گزر کر اتاترک اور فضل حق پر ایک گہری اور اندھی جیپ بائیں طرف مڑی اور جیپ سے مجھ پر اسٹین گن سے محفوظ رہا، اور یہ اس کی رحمت ہے کہ میں بچ سکا اللہ کا کرم اور قصور کے لوگوں کی دعائیں، میرے بز کہ میں زندہ ہوں۔ یہ ایک قاتلانہ حملہ تھا جو کہ بہا لئے یہ اطلاع بہم پہنچا رہا ہوں۔ میں اسلام آباد پول جو تفتیش کر رہی ہے۔ لیکن جناب والا! یہ معاملہ سنگین جناب والا! اگر آپ ہمارا تحفظ نہیں کریں گے، کیو ملک میں قانون کی حکمرانی کی علامت ہیں، جناب دے گا؟ اور اگر اس ملک میں ہم نے اپنا تحفظ خود ہے ہر شخص کے ہاتھ میں بندوق ہوگی اور ملک میں کچھ قانون۔ بس افراتفری اور خون خرابہ ہوگا۔ جناب جانتے ہیں خون خرابہ کیا ہوتا ہے؟ اور ہم ملک میں کھ
incident takes place and if we ed by the rule of law; by the have to protect ourselves. And N
1429 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
when everybody started protecting himself, Sir, you know, it will result in total chaos, it will result in disintegration of the country. And, Sir, for God's sake, let us save this country. This country is lying in shambles. We are already finished totally. Let us emerge together as a respectable country. Let us emerge together as a country which should have respect in the comity of nations. And, Sir, great responsiblity lies on your shoulders, because you are the symbol of democracy in this country.
I have brought this matter before you and before my august colleagues. I have not put any motive. I have not given any directions that so and so body was involved in this attack, but I am leaving everything open, everything open, because I am a very fair man, I am a very judicious person. I am leaving everything open, but, Sir, nevertheless, particularly the protection of each member of this House is your responsibility. And if we are not protectd in Islamabad, in the metropolis, in the capital of Islamic Republic of Pakistan, a member of Parliment is not protected, Sir, then, Sir, you can well imagine the fate of a commoner in some far-flung area of Tobe Tek Singh, who is not all that important, who is not in Islamabad, Sir.
So, Sir, I am bringing all these matters with all the humility at my command. I am really, Sir, pained. I am not pained because this attack is on me. If today this attack is on me, tomorrow this attack can be on anybody else. So, I am
٦٩
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
worried from that angle, Sir. Sir, I am a peaceful citizen. I might not take gun in my hand, but the possibility is that if this attack is on some person who is mor aggressive, he might hold a gun in his hand and, Sir, if the gun battle will have to start in this country, then let us wind up this House, let us wind up these institutions. Then what is the need for having these institutionss, these traditions? These traditions and institutions are for the protection of an individual, for the protection of rule of law, Sir. And, Sir, this is a great responsibility on your shoulders. Sir, and I know, Sir, you must be worried about it.
(جناب والا! اگر ایسے واقعات ہوتے رہے اور یہ احساس ہو کہ قانون ہماری حفاظت نہیں کر سکتا تو پھر ہمیں اپنی حفاظت خود کرنا پڑے گی اور جناب والا! جب ہر کوئی اپنی حفاظت خود کرنے لگے تو پھر آپ جان لیں کہ سوائے افراتفری کے کچھ نہ ہوگا، اور اس کا نتیجہ ملک کا خاتمہ ہوگا۔ خدا کے لئے ہم اس ملک کو بچالیں، ہم پہلے ہی ختم ہو چکے ہیں، آئیے ہم ایک معزز ملک کی طرح ہوں، ایک ایسے ملک کی طرح جس کی قوموں کی برادری میں عزت ہو۔ جناب والا! چونکہ آپ جمہوریت کی علامت ہیں، اس لئے آپ کے کاندھوں پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ یہ معاملہ میں آپ کے اور اپنے معزز ساتھیوں کے رُوبرو پیش کر رہا ہوں، میں نے کوئی الزام تراشی نہیں کی۔ میں نے یہ نہیں کہا کہ فلاں فلاں اس معاملے میں ملوث ہیں۔ لیکن میں ہر بات کھلی رکھ رہا ہوں۔ کیونکہ میں ایک راست باز انسان ہوں، انصاف پسند آدمی ہوں، میں ہر چیز کھلی چھوڑ رہا ہوں۔ لیکن جناب والا! اس ایوان کے ہر رکن کا تحفظ آپ کی ذمہ داری ہے۔ اگر ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں بھی محفوظ نہ ہوں، تو پھر آپ ٹوبہ ٹیک سنگھ جیسے دُور دراز علاقے کے رہنے والے عام پاکستانی کی حالت کا اندازہ لگا سکتے ہیں، جس کی نہ تو اتنی اہمیت ہے اور نہ وہ اسلام آباد میں ہے۔ میں نہایت عاجزی کے ساتھ یہ تمام حالات پیش کر رہا ہوں۔ جناب والا! مجھے اس بات کا بہت دُکھ ہے۔ اس لئے نہیں کہ مجھ پر حملہ ہوا ہے، یہ حملہ کل کسی اور پر بھی ہو سکتا ہے، بس اسی وجہ سے ہی میں پریشان ہوں۔ جناب
٧٠
SSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
Sir. Sir, I am a peaceful citizen. I hand, but the possibility is that if erson who is mor aggressive, he and and, Sir, if the gun battle will ty, then let us wind up this House, utions. Then what is the need for these traditions? These traditions e protection of an individual, for aw, Sir. And, Sir, this is a great ulders. Sir, and I know, Sir, you
(جناب والا! اگر ایسے واقعات ہوتے حفاظت نہیں کر سکتا تو پھر ہمیں اپنی حفاظت خود کرنا حفاظت خود کرنے لگے تو پھر آپ جان لیں کہ سوا ملک کا خاتمہ ہوگا۔ خدا کے لئے ہم اس ملک کو بچالیں معزز ملک کی طرح ہوں، ایک ایسے ملک کی طرح جناب والا! چونکہ آپ جمہوریت کی علامت ہیں، ا عائد ہوتی ہے۔ یہ معاملہ میں آپ کے اور اپنے م نے کوئی الزام تراشی نہیں کی۔ میں نے یہ نہیں کہا کہ میں ہر بات کھلی رکھ رہا ہوں۔ کیونکہ میں ایک راست میں ہر چیز کھلی چھوڑ رہا ہوں۔ لیکن جناب والا! اس ہے۔ اگر ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دارالحک آپ ٹوبہ ٹیک سنگھ جیسے دُور دراز علاقے کے رہنے ہیں، جس کی نہ تو اتنی اہمیت ہے اور نہ وہ اسلام آ تمام حالات پیش کر رہا ہوں۔ جناب والا! مجھے اس حملہ ہوا ہے، یہ حملہ کل کسی اور پر بھی ہو سکتا ہے،
1431 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
والا! میں ایک امن پسند شہری ہوں، ممکن ہے میں بندوق ہاتھ میں نہ لوں، مگر یہ حملہ کسی اور پر ہو، تو ہوسکتا ہے کہ وہ بندوق اٹھالے، اور ملک میدان کارزار بن جائے۔ تو پھر نہ اس ایوان کی ضرورت ہے، اور نہ اس ادارے کی، اس ادارے کی کیا ضرورت ہے؟ یہ ادارے ذاتی تحفظ اور قانون کی حکمرانی کے لئے ہیں۔ جناب والا! آپ پر بہت بڑی ذمہ داری ہے، میں جانتا ہوں کہ آپ اس وجہ سے بہت پریشان ہیں)
1418 You know, I can feel, Sir, that you are feeling upset because this thing can happen to anybody.
Sir, I need your protection, I need the protection of this House, otherwise, Sir, if the House will not protect us, then, Sir, we know how to protect ourselves and that will be going too far.
With these words, I thank you very much.
(آپ جانتے ہیں جناب والا! نہ صرف آپ بلکہ ہم سب پریشان ہیں، کیونکہ ایسا معاملہ کسی کے ساتھ بھی پیش آسکتا ہے۔ جناب والا! مجھے آپ کا تحفظ چاہئے، مجھے اس ایوان کا تحفظ چاہئے، اگر یہ ایوان ہمیں تحفظ نہیں دے گا تو پھر جناب والا! ہم اپنا تحفظ کرنا جانتے ہیں، اور یہ بہت ہی آخری راستہ ہوگا، ان الفاظ کے ساتھ میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں)
Mr. Chairman: Thank you very much, Mr. Ahmad Raza Qasuri.
(جناب چیئرمین: احمد رضا قصوری صاحب! آپ کا بہت بہت شکریہ)
Sardar Moula Bakhsh Soomro: May I say a few words?
(سردار مولا بخش سومرو: کیا میں کچھ کہہ سکتا ہوں؟)
Mr. Chairman: Just a minute you have to tell us what protection the House can give you. And definitely every member is entiled to any protection. Since you have gone to the police, you have registered the case the matter is sub judice, because they will investigate the matter. As for the
٧١
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
protection which the House can afford, it is out only available to you, it is available to all the members inside the House, and whatever means or to whatever extent our juridiction extends. Whatever Mr. Qasuri has said, it is on the record. The rest is for him to tell us. And definitely whatever is within our powers or whatever we can do .........
Yes, now they may be called.
The case is registered. Now it is for the Police to investigate.
(جناب چیئرمین: صرف ایک منٹ۔ آپ ہمیں بتائیں کہ یہ ایوان آپ کو کیا تحفظ مہیا کر سکتا ہے؟ اور یقیناً ہر رُکن تحفظ حاصل کرنے کا حق رکھتا ہے۔ آپ پولیس کے پاس جاچکے ہیں مقدمہ درج کرا دیا ہے، معاملہ زیر تفتیش ہے، جہاں تک اس ایوان کی طرف سے تحفظ دینے کا تعلق ہے، اس ایوان کے دائرۂ اختیار کے اندر یہ تحفظ ایوان کی حدود میں تمام اراکین کو حاصل ہے۔ قصوری صاحب نے جو کچھ کہا ہے، وہ ریکارڈ پر آچکا ہے۔ اس کے علاوہ وہ جو بھی کہنا چاہیں، ہمارے اختیار میں جو بھی ہوگا، ہم کریں گے۔ ہاں اب انہیں بلالیں، مقدمہ درج ہوچکا ہے، پولیس تفتیش کرے گی)
------- (The Delegation entered the Chamber) (وفد ہال میں داخل ہوا) -------
Mr. Chairman: Yes, Mr. Attorney-General. (جناب چیئرمین: جی اٹارنی جنرل صاحب!) -------
1419
CROSS-EXAMINATION OF THE QADIANI
GROUP DELEGATION
٧٢
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
(قادیانی وفد پر جرح)
(منیر انکوائری رپورٹ کا حوالہ سقوطِ بغداد پر قادیان میں چراغاں)
جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! میں نے وہ جو عراق کے بارے میں کہا تھا، آپ نے کہا کہ جنگ کے خاتمے پر ہوا تھا، وہ منیر انکوائری رپورٹ سے بھی حوالہ ہے۔
مرزا ناصر احمد: جی؟
جناب یحییٰ بختیار: آپ نے فرمایا تھا کہ آپ پہلے بتائیں کہ باقی مسلمانوں نے Celebration (جشن) نہ کی ہو یا وہ ناراض ہوئے ہوں۔ تو یہاں ایسے ہی لکھا ہے: "The -Celeberation......"
مرزا ناصر احمد: تاریخ اصل میں چاہئے تاکہ چیک کیا جاسکے۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، نہیں، وہ منیر صاحب لکھتے ہیں:
"The celebrations at Qadian of the victory when Baghdad fell to the British in 1918 during the First World War in which Turkey was defeated, caused bitter resentment among Musalmans and Ahmadiyyat began to be considered as a hand-made of the British."
(پہلی جنگِ عظیم میں جب ١٩١٨ء میں ترکی کو شکست ہوئی، اور بغداد کا سقوط ہوا، اس سلسلے میں انگریزوں کی فتح کا جو جشن قادیان میں ہوا، اس پر مسلمانوں نے بہت ناپسندیدگی کا اظہار کیا، اور (مسلمانوں نے) احمدیوں کو انگریزوں کی باندی (لونڈی) گردانا۔‘‘
(رپورٹ تحقیقاتی عدالت ص:٢٠٩، اردو۔ انگلش ١٩٦)
مرزا ناصر احمد: یہ صفحہ کونسا ہے؟
جناب یحییٰ بختیار: ١٩٦۔
مرزا ناصر احمد: انہوں نے کوئی تاریخ دی ہے؟
Mr. Yahya Bakhtiar: During the war, Sir, in 1918.
(جناب یحییٰ بختیار: جناب والا! جنگ کے دوران ١٩١٨ء) ١١؍نومبر کو میرے خیال میں وار ختم ہوگئی تھی......
٧٣
1434 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
مرزا ناصر احمد: ہاں جی۔
جناب یحییٰ بختیار: ......یہ اس سے کچھ پہلے کی بات ہوگی۔ During the war in 1918. (جنگ کے دوران ١٩١٨ء)
1420مرزا ناصر احمد: In 1918۔ تو گیارہ والا ...... تو ہم نے گیارہ والا اخبار تو ڈھونڈ ڈھانڈ کر نکال لیا تھا۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، وہ تو سب نے کیا تھا، جنرل گورنمنٹ کی طرف سے......
مرزا ناصر احمد: ......اعلان ہوا تھا۔
جناب یحییٰ بختیار: یہ وہ تو سب نے کیا تھا۔ یہ علیحدہ Incident ہے جس نے مسلمانوں کو......
مرزا ناصر احمد: ہاں تو پھر یہ چیک کرنا پڑے گا۔ یہاں نہیں ہے اخبار ہمارے میں۔
جناب یحییٰ بختیار: ایک اور جو عرض کر رہا تھا صبح آپ کو ......
مرزا ناصر احمد: یہ 198 تھا ناں Page (صفحہ) منیر کی رپورٹ کا؟
جناب یحییٰ بختیار: 196۔
مرزا ناصر احمد: ہاں جی، ٹھیک ہے جی، ٹھیک ہے جی۔
جناب یحییٰ بختیار: 196۔
مرزا ناصر احمد: ہاں، ٹھیک ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: دوسرے میں عرض کر رہا تھا، آپ نے جو کہا تھا وہ امریکن تھا ڈوئی۔
مرزا ناصر احمد: ڈوئی؟
(ڈوئی امریکن کے متعلق سوال)
جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، جس نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ایلیاہ ہے۔ تو مرزا صاحب نے ان کو چیلنج کیا۔ تو اگر آپ دیکھیں تو جس طرح مرزا صاحب نے مولانا ثناء اللہ کو چیلنج کیا ہے، اسی طرح سے یہ ہے۔ ہو بہو معاملہ یہ بھی ہے اور .......
مرزا ناصر احمد: اور جس طرح مولوی ثناء اللہ صاحب کا ردّعمل تھا، وہی ڈوئی کا ہے؟
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مولوی صاحب نے تو پھر بھی کہا کہ: ”اگر یہ بات ہے تو
٧٤٢
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
میں تیار ہوں“ اس نے تو Ignore (نظر انداز) کر دیا، اس نے تو کہا: ”میں جواب نہیں دیتا، میں نہیں مانتا۔“ یہ میں پوائنٹ آؤٹ کرنا چاہتا تھا آپ کو۔
1421 مرزا ناصر احمد: اس کا یعنی سوال یہ ہے کہ ہم موازنہ کر کے تو اس کی رپورٹ دے دیں؟
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، ہاں، اس واسطے کہہ رہا ہوں کہ دو Parallel Cases (متوازی کیسز) ہیں۔
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔
جناب یحییٰ بختیار: بالکل۔ اسی لئے آپ کی توجہ Page.179 یہ جو "True "Islam (سچا اسلام) ہے۔ .....
Mirza Nasir Ahmad: "Ahmadiyyat or True Islam"? (مرزا ناصر احمد: احمدیت یا سچا اسلام؟)
جناب یحییٰ بختیار: Page. 179 ، یہ جو میرا ایڈیشن ہے ناں، 1937ء کا، اُس سے ہے یہ۔
مرزا ناصر احمد: 37ء کا؟
جناب یحییٰ بختیار: یہ جو ڈوئی کی اسٹوری جب آتی ہے ناں، اس میں وہ بیان کرتے ہی ناں.......
مرزا ناصر احمد: میں سمجھ گیا ہوں۔ سوال یہ ہے کہ ان میں کوئی Parallel (متوازی) ہے، کوئی اختلاف ہے، کیا چیز ہے؟
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، ہاں۔ میں سمجھتا ہوں کہ دونوں Parallel Cases (متوازی کیسز) ہیں۔
مرزا ناصر احمد: وہ تو چیک کر کے Written Statement (تحریری دستاویز) دے دیں گے۔
جناب یحییٰ بختیار: اس پوائنٹ آف ویو سے دیکھیں کہ یہاں بھی وہ کہتا ہے کہ ......
They are parallel cases: "This challenge was first given in 1902 and was repeated in 1903 but Doui paid no attention to it and some
٧٥
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
of the 1422 American papers began to inquire as to why he has not given reply".
(یہ دو متوازی معاملات ہیں۔ یہ چیلنج پہلے ١٩٠٢ء میں دیا گیا، پھر ١٩٠٣ء میں دہرایا گیا، مگر ڈوئی نے کوئی توجہ نہ دی اور کچھ اخباروں نے دریافت کرنا شروع کر دیا کہ اس نے کیوں جواب نہیں دیا)
مرزا ناصر احمد: اس کی پوری تفصیل ہے ہمارے پاس، وہ نقل کرکے دے دیں گے۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ یہاں ساری تفصیل دی ہوئی ہے اس کتاب میں۔
مرزا ناصر احمد: اس میں اتنی نہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: اخبار ”امریکن ایکسپریس“ کو Quote کیا گیا ہے۔
مرزا ناصر احمد: جی۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، بہت کچھ دیا ہوا ہے اس میں۔ تو اسی طرح اُس نے انکار کر دیا۔ پھر اس کے بعد یہ کہتے ہیں کہ وہ دُعا جو تھی وہ قبول ہو گئی اور وہ ذلیل ہو گئے۔
مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، ایک نے Ignore (نظر انداز) کیا......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی:
Then he was asked. He said, "I refuse to take notice......."
(جب اس سے پوچھا گیا، اس نے جواب دیا کہ: اس نے اس پر توجہ نہیں دی) وہ میں نے آگے نہیں پڑھا۔
Mirza Nasir Ahmad: "I refuse to take notice and I refuse to accept."
Ther is a lot of difference between the two.
(مرزا ناصر احمد: میں اس کو قابلِ توجہ نہیں سمجھتا، اور نہ میں اس کو قبول نہیں کرتا۔ ان دونوں باتوں میں بہت فرق ہے)
Mr. Yahya Bakhtiar: Exactly, Sir, he refused.
Maulana after all said that "I am willing to accept."
٧٦
1437 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
(جناب یحییٰ بختیار: بالکل جناب والا! اس نے مولانا کو انکار کیا ہے، آخر کار اس نے کہا کہ میں اسے قبول کرنے کو تیار ہوں)
مرزا ناصر احمد: بہرحال، یہ موازنہ کر کے آپ کو لکھ دیں گے، Submit (پیش) کر دیں گے۔
جناب یحییٰ بختیار: یہاں لکھا تھا اس نے......
مرزا ناصر احمد: جی، میں سوال سمجھ گیا ہوں، وہ سارے حوالے نکال کے......
1423 Mr. Yahya Bakhtiar: "Dr. Doui paid no attention to it and some of the American papers began to inquire as to why he has not given a reply. He himself says in his own paper of December 1903: "There is a Muhammadan Messaih in India who has repeatedly written to me that Jesus Christ lies buried in Kashmir and people ask me why I don't answer him. Do you imagine that I should reply to such wags and lies. If I were to put down my foot on them, I would crush out their lives. I give them a chance to fly away and live."
(جناب یحییٰ بختیار: ڈاکٹر ڈوئی نے کوئی توجہ نہ دی۔ چند امریکی اخباروں نے دریافت کرنا شروع کر دیا کہ اس نے کیوں جواب نہیں دیا؟ وہ خود اپنے اخبار دسمبر ١٩٠٣ء میں کہتا ہے: ”ہندوستان میں ایک محمدن مسیحا ہے جس نے کئی بار مجھے لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کشمیر میں دفن ہیں اور لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ میں اس کو جواب کیوں نہیں دیتا۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ مجھے ایسے مکروہ جھوٹ کا جواب دینا چاہئے؟ اگر میں نے اپنا قدم ان پر رکھا تو میں انہیں ملیا میٹ کردوں گا۔ میں انہیں ایک موقع دیتا ہوں کہ بھاگ جائیں اور اپنی جان بچائیں۔“)
مرزا ناصر احمد: میں نے یہی کہا تھا ناں کہ بڑا فرق ہے۔
(ڈوئی نے مرزا قادیانی کے چیلنج کو نظر انداز کیا)
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ فرق تو جو بھی ہے، جہاں تک میں سمجھتا ہوں کہ اس نے
٧٧
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
بھی چیلنج کو Ignore (نظر انداز) کیا، بلکہ حقارت سے اُس نے کہا کہ: ”میں اس کا کوئی نوٹس نہیں لیتا۔“
مرزا ناصر احمد: اور حقارت کی سزا مل گئی اُس کو اور انہوں نے کہا: ”کوئی دانا قبول نہیں کر سکتا۔“
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، انہوں نے کہا: ”اگر آپ یہ کریں گے، یہ شرط پوری کریں تو میں تیار ہوں۔“ انہوں نے کہا کہ: ”میں تیار ہوں۔ مگر آپ اگر ...... یہ کوئی اپنی طرف سے شرط لگائی۔ تو بہرحال یہاں بھی اس نے انکار کر دیا، اور یہاں بھی بددُعا کی اور وہاں بھی بددُعا ہوئی.......
مرزا ناصر احمد: اس کے انکار کے بعد ایک پیش گوئی اس کے لئے شائع کی گئی۔
جناب یحییٰ بختیار: سب کچھ اس میں ہے۔
مرزا ناصر احمد: نہیں، سب کچھ تو نہیں ہے۔ یہ تو ایک رپورٹ ہے ناں ......
جناب یحییٰ بختیار: اور میں کہتا ہوں کہ جس وقت انہوں نے بددُعا کی ہے، اُس وقت کہا کہ: 1424 ”تم بھی بددُعا کرو اور میں بھی بددُعا کرتا ہوں۔ جو جھوٹا وہ مرے گا۔“
وہ مر گیا۔ پھر مولوی ثناء اللہ سے کہا: ”تم بھی بددُعا کرو، میں بھی کرتا ہوں۔“
اللہ تعالیٰ سے بددُعا کی کہ: ”مجھے تنگ کر رہا ہے اور یہ ہیضہ اور طاعون سے مرے، جو بھی جھوٹا ہو۔“ یہ میں Parallel (متوازی) کر رہا ہوں۔
مرزا ناصر احمد: یہ میں سمجھ گیا کہ آپ یہ Parallel (متوازی) کر رہے ہیں۔ تو میں یہ عرض کر دیتا ہوں کہ میں اپنا Parallel (متوازی) کر کے تو پھر Submit (پیش) کر دوں گا۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ میں نے Attention آپ کی Draw کرنی تھی۔
مرزا ناصر احمد: ہاں، ٹھیک ہے، وہ نوٹ کر لیا ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، اس لائن پر۔
Thank you very much, Sir. (جناب والا! آپ کا بہت بہت شکریہ)۔ اب یہ مولانا آپ سے کچھ تحریف پر کچھ پوچھیں گے۔
مرزا ناصر احمد: اس میں ایک کتاب دینے کا ہم نے وعدہ کیا تھا، وہ ایک ”مباحثہ راولپنڈی“
٧٨
1439 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔
مرزا ناصر احمد: ”ایک غلطی کا ازالہ۔“
جناب یحییٰ بختیار: وہ بھی ریکارڈ پر آ گیا۔ اس کی طرف.......
مرزا ناصر احمد: اور وہ آپ نے ”الفضل“ کے متعلق کہا تھا اس کی فوٹو اسٹیٹ کاپی......
Mr. Yahya Bakhtiar: Yes. Thank you very much.
(جناب یحییٰ بختیار: جی۔ آپ کا بہت بہت شکریہ)
1425 میرے پاس جو تھی ناں، وہ چھوٹی کاپی تھی۔
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں۔ وہ ساری ہم نے یہ کرادی ہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: تو میں نے اس لئے کہا کہ یہ ساری Misunderstanding (غلط فہمی) نہ ہو۔ اب Last Page (آخری صفحہ) یہ ہے، جو اس کا ہے، وہ ہے.......
مرزا ناصر احمد: آپ نے....... جی؟
جناب یحییٰ بختیار: میں نے دو نوٹ بھیج دیا تھا۔
مرزا ناصر احمد: ہاں، وہ مل گیا مجھے۔
Mr. Yahya Bakhtiar: Thank you, Sir. Nothing (جناب یحییٰ بختیار: آپ کا شکریہ جناب والا، اس کے علاوہ کچھ نہیں) more.
مرزا ناصر احمد: یہ آپ نے فرمایا تھا حضرت انصاری صاحب یہ سوال کریں گے تحریفِ معنوی کے متعلق یا تحریفِ قرآن کے متعلق۔
جناب یحییٰ بختیار: انہوں نے کہا: تحریف کے متعلق، کیونکہ وہی اس Subject (موضوع) کو Deal (ڈیل) کر رہے تھے۔
مرزا ناصر احمد: نہیں، میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس میں کچھ اُصولی باتیں ہیں، وہ میں بیان کرنا چاہتا ہوں شروع میں اور اس کے بعد پھر.......
جناب یحییٰ بختیار: وہ تو آپ کی مرضی ہے۔ وہ تو آپ کے ڈیلی گیشن کی طرف سے آپ سب کے....... جہاں تک اسپیکر صاحب، چیئرمین صاحب کا یہ رول ہے کہ اگر خود لیڈر بول سکے تو وہ بولیں گے۔ اگر وہ محسوس کریں کہ ان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے، جیسا کہ مولانا صدر الدین صاحب بوڑھے آدمی ہیں، He cannot answer, he cannot hear
٧٩
ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
بھی چیلنج کو Ignore (نظر انداز) کیا، بلکہ حقارت سے نہیں لیتا۔“
مرزا ناصر احمد: اور حقارت کی سزا مل گئی اُس نہیں کر سکتا۔“
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، انہوں نے کہا: کریں تو میں تیار ہوں۔“ انہوں نے کہا کہ: ”میں تیار ہوں سے شرط لگائی۔ تو بہرحال یہاں بھی اس نے انکار کر دیا، اور ہوئی.......
مرزا ناصر احمد: اس کے انکار کے بعد ایک
جناب یحییٰ بختیار: سب کچھ اس میں ہے۔
مرزا ناصر احمد: نہیں، سب کچھ تو نہیں ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: اور میں کہتا ہوں کہ جس وقت کہا کہ: 1424 ”تم بھی بددعا کرو اور میں بھی بددعا کرتا ہو وہ مر گیا۔ پھر مولوی ثناء اللہ سے کہا: ”تم بھی بدد اللہ تعالیٰ سے بددعا کی کہ: ”مجھے تنگ کر رہا ہے بھی جھوٹا ہو۔“ یہ میں Parallel (متوازی) کر رہا ہوں
مرزا ناصر احمد: یہ میں سمجھ گیا کہ آپ یہ el میں یہ عرض کر دیتا ہوں کہ میں اپنا Parallel (متوازی کر دوں گا۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ میں نے ition
مرزا ناصر احمد: ہاں، ٹھیک ہے، وہ نوٹ کر لیا
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، اس لائن پر۔
Thank you very much, Sir.
شکریہ)۔ اب یہ مولانا آپ سے کچھ تحریف پر کچھ پوچھیں گے
مرزا ناصر احمد: اس میں ایک کتاب دینے کا ہم۔
٧٨
1440 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
(وہ جواب نہیں دے سکتے، وہ سن نہیں سکتے) تو انہوں نے کہا کہ جو Alternate ہو وہی کرے۔ آپ ماشاء اللہ اچھی طرح بول بھی سکتے ہیں.......
مرزا ناصر احمد: ......میں سن بھی سکتا ہوں۔ میں نے تو یہ......
1426 جناب یحییٰ بختیار: باقی یہ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے Prepare کیا ہے، یہ Deal کریں گے، میرا خیال ہے کہ وہ تو ایسی بات نہیں ہے۔ آپ حافظ بھی ہیں اور.......
مرزا ناصر احمد: یہی کرلیں گے۔
Mr. Chairman: I think, my observation is that it would be better if the reply is by the witness himself.
(جناب چیئرمین: میرا خیال ہے کہ یہ بہتر ہوگا کہ گواہ خود جواب دے)
Mr. Yahya Bakhtiar: There is another complication also, Sir.
(جناب یحییٰ بختیار: جناب والا ! اس میں ایک اُلجھن اور بھی ہے)
Mr Chairman: My observation is based on the ground that the Committee has authorised the Attorney-General to put the question only and, as far as Tehreef-i-Qur'an is concerned, since we had ourselves acknowledged that the knowledge of the Attorney-General in Arabic text is not as good as an in others, so, for the Arabic text, the help of Maulana Zafar Ahmad Ansari has been obtaind.
(جناب چیئرمین: یہ میں اس وجہ سے کہہ رہا ہوں کہ کمیٹی نے صرف اٹارنی جنرل کو سوال پوچھنے کی اجازت دی ہے، البتہ جہاں تک تحریف قرآن کا تعلق ہے، چونکہ ہم تسلیم کر چکے ہیں کہ چونکہ اٹارنی جنرل عربی زبان میں دُوسرے علوم کی طرح ماہر نہیں، اس لئے مولانا ظفر احمد انصاری کی مدد حاصل کی جائے)
٨٠
...LY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
(وہ جواب نہیں دے سکتے ، وہ سن نہیں سکتے) تو کرے۔ آپ ماشاء اللہ اچھی طرح بول بھی سکتے
مرزا ناصر احمد : ...... میں سن بھی سکتا
جناب یحییٰ بختیار: باقی یہ اگر 1426 ہے، یہ Deal کریں گے، میرا خیال ہے ک اور .......
مرزا ناصر احمد : یہی کر لیں گے۔
nk, my observation is that it y the witness himself.
(جناب چیئرمین: میرا خیال ہے
tiar: There is another
(جناب یحییٰ بختیار: جناب والا
observation is based on the tee has authorised the uestion only and, as far as d, since we had ourselves e of the Attorney-General in in others, so, for the Arabic r Ahmad Ansari has been
(جناب چیئرمین: یہ میں اس سوال پوچھنے کی اجازت دی ہے، البتہ جہاں ہیں کہ چونکہ اٹارنی جنرل عربی زبان میں ذیاد انصاری کی مدد حاصل کی جائے)
1441 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
Mr. Yahya Bakhtiar: That is what I submitted to Mirza Sahib ......
(جناب یحییٰ بختیار: میں نے مرزا صاحب سے گزارش کی تھی)
Mr. Chairman: That is the reason.
(جناب چیئرمین: بس یہی وجہ ہے)
Mr. Yahya Bakhtiar: ...... that I am not competent to deal with this question and Mirza Sahib is fully competent to answer. And if he asks any other member of the Delegation, the difficulty is that he will have to be given oath and he will have to second his evidence. So, to avoid that,......
(جناب یحییٰ بختیار: کہ میں اس سوال کو نپٹانے کے لئے پوری طرح مجاز نہیں ہوں اور مرزا صاحب جواب دینے کے پوری طرح مجاز ہیں۔ اگر وفد کے کسی دوسرے ممبر کو جواب دینے کے لئے کہا جائے گا، تو پھر اس ممبر کو حلف دینا ہوگا اور انہیں اس کی گواہی کی تائید کرنا ہوگی۔ چنانچہ اس سے بچنے کے لئے ....)
مرزا ناصر احمد : نہیں ، Oath میں تو پانچ سیکنڈ شاید لگتے ہیں۔
Mr. Chairman: No, we are getting the help of Maulana Zafar Ahmad Ansari only because Maulana Ansari can speak fluently Arabic. That is the reason. If the Attorney-General had been fully conversant with the Arabic language, the question would have been put by the 1427 Attorney-General. Now it is up to the witness. The weight attached and the responsibility ...... The witness himself has been replying ......
(جناب چیئرمین: ہم مولانا ظفر احمد انصاری کی مدد محض اس لئے لے رہے ہیں کہ وہ عربی روانی سے بول سکتے ہیں، وجہ یہی ہے، اگر اٹارنی جنرل صاحب عربی زبان کے پورے
٨١
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
ماہر ہوتے تو سوال یقیناً وہی کرتے۔ اب یہ گواہ پر منحصر ہے، جواب کو کس قدر وزن دیا جاسکے گا، اور کس قدر ذمہ داری، اب تک تو گواہ خود ہی جواب دے رہا ہے)
مرزا ناصر احمد : ہاں، ذمہ داری میری ہوگی۔
جناب چیئرمین: ایک منٹ میری بات سن لیں۔ If the answer is by the Chairman, it would be better.
مرزا ناصر احمد : لیکن۔ آپ اجازت دیتے ہیں کہ وہ بھی بول لے؟
جناب چیئرمین: وہ بول سکتے ہیں، لیکن میں یہی کہوں گا کہ اگر آپ خود جواب دیں گے تو اس میں اتھارٹی بھی Better (بہتر) ہوگی، اس میں Weight (وزن) بھی زیادہ ہوگا، اس پر Responsibility (ذمہ داری) بھی زیادہ ہوگی۔
مرزا ناصر احمد : جب میں ذمہ داری لے رہا ہوں اور میں سمجھتا ہوں کہ میری بجائے وہ بولیں۔ اگر آپ کی اجازت ہو.......
جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے جی، ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ میں نے پوزیشن Explain (واضح) کردی ہے۔
مرزا ناصر احمد : نہیں، اصل فیصلہ تو Chair (صدر) نے کرنا ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: چیئرمین صاحب نے تو کہہ دیا ہے کہ........
Mr. Chairman: That will carry more weight because, in ten days, all the answers have come from the witness himself. The members of the Delegation are there to help the witness. So, it would be better. We cannot force the witness to reply to any question. So, on the same pretext, it would be better if the witness himself replies because witness is more conversant than the members of the Delegation, it is presumed, It would be better.
(جناب چیئرمین: اس کا وزن اور اہمیت زیادہ ہوگی، کیونکہ گزشتہ دس دنوں میں تمام جوابات گواہ نے خود دیئے ہیں، وفد کے اراکین گواہ کی امداد کو موجود ہیں۔ چنانچہ یہی صورت
٨٢
L ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
ماہر ہوتے تو سوال یقیناً وہی کرتے۔ اب یہ گواہ پر منحصر ہے، جوا کس قدر ذمہ داری، اب تک تو گواہ خود ہی جواب دے رہا ہے
مرزا ناصر احمد: ہاں، ذمہ داری میری ہوگی۔
جناب چیئرمین: ایک منٹ میری بات سن لیں the Chairman, it would be better.
مرزا ناصر احمد: لیکن۔ آپ اجازت دیتے ہیں
جناب چیئرمین: وہ بول سکتے ہیں، لیکن میں سمجھت گے تو اس میں اتھارٹی بھی Better (بہتر) ہوگی، اس میں ہوگا، اس پر Responsibility (ذمہ داری) بھی زیادہ ہو
مرزا ناصر احمد: جب میں ذمہ داری لے رہا ہوں وہ بولیں۔ اگر آپ کی اجازت ہو......
جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے جی، ہمیں کوئی ا Explain (واضح) کر دی ہے۔
مرزا ناصر احمد: نہیں، اصل فیصلہ تو Chair (چی
جناب یحییٰ بختیار: چیئرمین صاحب نے تو کہا
man: That will carry more weight all the answers have come from the members of the Delegation are there to it would be better. We cannot force the y question. So, on the same pretext, it witness himself replies because witness an the members of the Delegation, it is e better. (جناب چیئرمین: اس کا وزن اور اہمیت زیاد تمام جوابات گواہ نے خود دیئے ہیں، وفد کے اراکین گواہ کی ام
٨٢
1443 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
بہتر ہوگی۔ ہم گواہ کو جواب دینے پر مجبور نہیں کرسکتے، اس لئے بہتر یہی ہوگا کہ گواہ خود جواب دے، وہ وفد کے اراکین کی نسبت زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ خیال یہی ہے کہ یہ بہتر رہے گا)
Mr. Yahyah Bakhtiar: It is left to your discretion. (جناب یحییٰ بختیار: یہ آپ کی صوابدید کی بات ہے)
Mr. Chairman: It is up to the witness. (جناب چیئرمین: اس کا انحصار گواہ پر ہے)
1428 Mr. Yahya Bakhtiar: It is left to your discretion. (جناب یحییٰ بختیار: یہ آپ کی صوابدید کی بات ہے)
مرزا ناصر احمد: بس ٹھیک ہے پھر ١؎۔
Mr. Chairman: Yes, Maualan Zafar Ahmad Ansari. (جناب چیئرمین: جی، مولانا ظفر احمد انصاری صاحب)
مولانا ظفر احمد انصاری: آپ کچھ اصولی باتیں کہنا چاہتے تھے؟
(تفسیر اصولی باتوں کے نام پر مرزا ناصر کی طویل گفتگو)
مرزا ناصر احمد: ہاں، اصولی باتیں میں کہہ دیتا ہوں۔ میں یہ اصولی باتیں تحریف معنوی کا جو ہے مضمون اس کے متعلق کہنا چاہتا ہوں۔ ”تحریف“ کا مطلب ہے ردو بدل کرنا اور تحریف معنوی کے لئے ضروری ہے کہ قرآن کریم کی یا تو تفسیر ساری متعین کر دی جائے تبھی ردو و بدل ہو سکتا ہے ناں۔ اگر تعین ہی نہ ہو تفسیر کی تو ردو بدل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور یا یہ کہ اُصول تفسیر قرآنی ہمارے سامنے ہوں اور پھر ہم دیکھیں کہ کن اُصولوں کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ بہر حال میں اپنی رائے بتاؤں گا، باقی تو آپ نے کرنا ہے فیصلہ۔ میرے نزدیک تفسیر صحیح قرآن عظیم کی، اس کے لئے سات معیار ہیں۔
___________________________________ ١؎ پہلے انکار، اب تیار، جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے! اصل میں جب اٹارنی صاحب نے کہا کہ مولانا انصاری سوال کریں گے تو جواب آں غزل میں مرزا ناصر نے کہا کہ میرا بھی نمائندہ جواب دے گا، اس رعونت کو جب قبول نہ کیا گیا تو اسی تنخواہ پر خود راضی ہو گئے...!
٨٣
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
پہلا معیار! ہے خود قرآن کریم۔ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور یہ Universe ہے، عالمین عربی میں کہتے ہیں، یہ اللہ تعالیٰ کی خلق ہے، اس کا فعل ہے اور سورۃ ملک میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فعل میں تمہیں تضاد کہیں نظر نہیں آئے گا۔ خدا تعالیٰ کے کلام میں بھی کہیں تضاد ممکن نہیں۔ یعنی ایک ہی منبع سے ہو اور ایک قرآن کریم کی آیت کچھ کہہ رہی ہو اور دوسری کچھ کہہ رہی ہو، یہ ممکن نہیں ہے۔ اس لئے پہلا معیار قرآن کریم کی صحیح تفسیر کا یہ ہے کہ جو تفسیر ہو اس کو Contradict (تردید) کوئی اور تفسیر نہ کر رہی ہو۔ الف، اور دُوسرے یہ کہ اس کے لئے شواہد، خود اس تفسیر کے، قرآن کریم کی دوسری آیات میں پائے جائیں نمبر ایک۔ میں بڑا مختصر کروں گا تاکہ وقت نہ لگے۔
دوسرا معیار! ہے حضرت خاتم الانبیاء محمد ﷺ کی وہ تفسیر جو اس رنگ میں پہنچی ہمارے پاس کہ ہم سمجھتے ہیں کہ وہ دُرست ہے۔ یہ میں اس لئے فقرے کہہ رہا ہوں کہ وہ راویوں 1429 کے راستے سے ہمارے تک پہنچی ہے۔ قرآن کریم کے اپنے شواہد کے بعد یہ روایتیں ہیں جو تفسیر قرآنی کو آنحضرت ﷺ تک لے جاتی ہیں۔ تو وہ تفسیر جو آنحضرت ﷺ کی ہم تک پہنچتی ہے روایتوں کے ذریعے، ہر مسلمان اس کو قبول کرے گا اور اس کو صحیح سمجھے گا۔ یہ معیار نمبر ٢ ہے۔
تیسرا معیار! ہے صحابہ کی تفسیر۔ ہمارے لٹریچر میں قرآن کریم کی وہ تفسیر بھی ہے جو صحابہ کرامؓ کی طرف سے ہمیں پہنچی ہے، اور اس کو Preference (ترجیح) اس وجہ سے ہمیں دینا پڑتی ہے کہ آپ میں سے بہتوں نے کافی بڑا زمانہ، لمبا زمانہ آنحضرت ﷺ کی صحبت میں رہا اور قرآن کریم سیکھنے میں رہا۔ بعضوں کو کم رہا، بعضوں کی اپنی ذہانت اور سیرت اور سارا کچھ تھا۔ لیکن اصل چیز یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی باتیں انہوں نے سنیں، آپ کی تربیت انہوں حاصل کی، اس لئے وہ تفسیر قرآنی جو صحیح روایتوں کے ذریعے ہم تک صحابہ کرام کی پہنچتی ہے، وہ تیسرا معیار ہے قرآن کریم کی صحیح تفسیر کا۔
چوتھا معیار! ہے اولیاء اور صلحائے اُمت کی تفسیر کا۔ قرآن کریم نے، جیسا کہ میں نے ایک موقع پر آیات قرآنی کی مختصر تفسیر یہاں بیان کی تھی: (عربی) شروع دن سے اُمتِ محمدیہ میں اولیاء اور صلحاء پیدا ہوتے رہے ہیں کہ جنہوں نے اللہ تعالیٰ سے علم حاصل کر کے قرآن کریم کا، اور تفسیر اپنے اپنے زمانے کے مسائل کو سلجھانے کے لئے بیان کی۔ تو ایک یہ ہے معیار۔ جو پائے کے صلحاء ہمارے گزرے ہیں ان کی تفسیر کو بھی ہم قدر کی نگاہ سے دیکھیں گے۔ یہ ہے ہمارا چوتھا معیار۔
٨٤
1445 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
پانچواں معیار ہے، وہ ٹیکنیکل ہے۔ قرآن کریم کی کوئی ایسی تفسیر درست نہیں ہو سکتی جس کی تفسیر میں قرآن کریم کے کسی لفظ کے ایسے معنی کئے جائیں جو عربی لغت وہ معنی نہیں کر رہی۔ عربی لغت میں بڑی وسعت ہے، اس میں شک نہیں، اور بعض دفعہ ایک لفظ کے پانچ معنی ہوتے ہیں، بعض دفعہ دس معنی ہوتے ہیں، چودہ تک بھی گئے ہیں، شاید اس سے زیادہ بھی ہوں۔ اس وقت 1430 میرے ذہن میں چودہ ہی آئے ہیں۔ تو کوئی ایسی تفسیر کرنا جو لفظی معنی وہ ہوں جو لغت اس کو قبول ہی نہیں کرتی کہ عربی کا لفظ اس معنی میں کبھی استعمال بھی ہوا ہے، وہ رَد کرنے کے قابل ہے۔ تو یہ ٹیکنیکل ہے اور جس کو عربی لغت قبول کر لیتی ہے، یہ نہیں کہ ضرور اس کو قبول کر لینا ہے، بلکہ دُوسرے جو ہیں ہمارے معیار، اس کے مطابق ان کو پرکھا جائے گا۔ اگر پوری اُترے تو پھر قبول کر لیا جائے گا، لیکن اگر لغت نہیں اجازت دیتی تو ہمیں اس کو رَد کرنا پڑے گا۔
چھٹا معیار ہے اللہ تعالیٰ کے قول اور فعل کا مقابلہ، یعنی جو سائنس والی سائیڈ ہے ناں کہلاتی۔ یہ اعتراض ہوا تھا کہ مذہب سائنس کے خلاف ہے یا سائنس مذہب کے خلاف ہے۔ ہمارا یہ ایمان نہیں۔ ہمارا یہ ایمان ہے مسلمان کا، سب کا، کہ یہ Universe ہے، یہ خلقِ عالمین اللہ تعالیٰ کا فعل ہے۔ تو کوئی ایسی تفسیر قرآنی نہیں کی جاسکتی جو اللہ تعالیٰ کا قول ہے اس کے فعل کے متضاد ہو۔ مثلاً: قرآن کریم سے اگر کوئی شخص یہ نکالے کہ...... ویسے میں مثال دے رہا ہوں، مثال میں نے ایسی لی ہے جو بظاہر غلط ہے، تاکہ سمجھ آجائے بات...... اور اگر کوئی یہ تفسیر قرآن کی آیت سے کرے کہ چاند زمین سے دس ارب میل دُور ہے، قرآن کریم کی آیت سے کرے، Theoretical Side (اُصولی طور پر) اور سائنس کہہ رہی ہے کہ نہیں اس کا یہ فاصلہ ہے۔ تو جو خدا تعالیٰ کا فعل ثابت ہو گیا، اس کے خلاف اگر کوئی قرآن کریم کی تفسیر کرتا ہے تو وہ رَد کرنے کے قابل ہے۔ فعل اور قول میں مطابقت ضروری ہے تفسیر قرآنی کرنے کے لئے۔
یہ سات میں نے گنے ہیں۔ یہ ویسے میں نے آخر میں لکھا ہوا تھا، وہ میں نے شروع میں کر لیا، یعنی معنوی کا۔ یعنی جب ہم تحریفِ معنوی کی بات کریں تو معنی کا تعین ضروری ہے اور وہ تعین ویسے ہو نہیں سکتی اس لئے کہ قیامت تک نئے سے نئے مضامین انسان کے سامنے آئیں گے، بدلے ہوئے حالات میں بدلے ہوئے مسائل پیدا ہوں گے، اور اس وقت قرآن کریم جو ہے، وہ انسان کی مدد کے لئے...... ہمارا بڑا پکا عقیدہ ہے...... وہ آتا ہے اور ان مسائل کو حل کرتا ہے۔ تو اس
١؎ ٦ کو ٧ کر دیا، جیسے پانچ کو پچاس...!
٨٥
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
واسطے کہیں محدود کر دینا کسی زمانہ میں کہ بس جو قرآن کریم کے تفسیری معنی تھے وہ آ1431 گئے انسان کے سامنے، یہ درست نہیں ہے، عقلاً تو قرآن کریم کی آیت کے مطابق ہی۔ تو، لیکن یہ حدود ہیں کچھ، اور معیار ہیں کچھ، کہ جن کو مدنظر رکھنا پڑے گا تحریف معنوی کے مسئلہ کے متعلق تبادلہ خیال کرتے ہوئے۔ میں نے یہ کہنا تھا اور اب یہ مولوی صاحب، ان سے حلف لے لیں۔
Mr. Chairman: The question may be put, then we will see who replies, whether it is the witness who replies or it is delegated to any member of the Delegation.
(جناب چیئرمین: سوال پوچھا جائے، اس کے بعد ہم دیکھیں گے کہ کون جواب دے گا، کیا اس کا جواب گواہ دے گا، وہ اس کا اختیار وفد کے کسی رکن کو دیں گے)
(تحریف لفظی کی ایک مثال)
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: جناب! تحریف معنوی سے پہلے میں صرف ایک مثال تحریف لفظی کی پیش کروں گا۔ جو قرآن کریم کی ہے: (عربی) سورۂ حج کی، یہ اس میں سے لفظ ”من قبلک“ نکال دیا گیا ہے اور ”روحانی خزائن“، ”ازالہ اوہام“ شائع کردہ الشرکۃ اسلامیہ، ربوہ، ١٩٥٨ء میں بھی اسی طرح ہے اور ”ازالہ اوہام“ قدیم نسخہ، مصنف مرزا غلام احمد صاحب، میں بھی اسی طرح ہے، یعنی بہت سی غلطیاں ایسی ہیں جنہیں ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ یہ......
Mr. Chairman: Only the question may be put, not the argument.
(جناب چیئرمین: صرف سوال، صرف سوال پوچھیں، دلائل نہیں)
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: اچھا، تو میں اسے Explain (واضح) تو کروں، جناب! Explain (واضح) تو کر سکتا ہوں؟
جناب چیئرمین: Explain (واضح) کر سکتے ہیں آپ۔
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: اچھا۔ تو میں ان تمام چیزوں کو چھوڑ رہا ہوں جن میں اس کا امکان ہے کہ کوئی خاص نیت پیش نظر نہیں ہے، بلکہ اتفاقاً غلطی ہو گئی۔ یہاں چونکہ ایک ایسا لفظ نکال دیا گیا ہے جو بنیاد ہے اختلافِ عقائد کی مسلمانوں کے اور احمدی صاحبان کے، اور وہ یہ
٨٦
NATIONAL ASS
ہیں، بعد میں نہیں آئیں گے۔ تو ”قبلک“ بھی آسکتے ہیں۔ تو یہ ایک بنیادی عقیدے کا انتخاب کیا ہے۔ کیونکہ وقت بہت کم ہے
Mr. Chairman: T
ہے کہ میں سب چیزیں پڑھ دوں۔ Turn (باری باری) پوچھ لیں، ایک Is the witness not prepared wants some memb
اور وفد کا کوئی دوسرا رکن جواب دینا چاہے) عرض ہے......
I am putting it to the witne the witness not
سوال کا جواب دینے کو تیار نہیں؟) کا جواب ابوالعطاء صاحب دے دیں۔
Mr. Chairman: why you do not want to an the member of th Delegati
دے گی) کہ آپ خود جواب کیوں نہیں دینا چاہتے؟
ب ہم یہاں سے گئے ہیں تو اس وقت چیئر
Mr. Chairman:
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
ہے 1432 کہ رسول آپ ﷺ سے پہلے ہی آتے رہے ہیں، بعد میں نہیں آئیں گے۔ تو ”قبلک“ کا لفظ نکال دیا جائے تو گنجائش پیدا ہو سکتی ہے کہ بعد میں بھی آسکتے ہیں۔ تو یہ ایک بنیادی عقیدے کی بات ہے، اس لئے میں نے صرف ایک لفظی تحریف کا انتخاب کیا ہے۔ کیونکہ وقت بہت کم ہے اور لفظی تحریف کی حد تک اسی پر میں اکتفا کرتا ہوں۔
Mr. Chairman: That is all. (جناب چیئرمین: ٹھیک ہے)
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: میرا خیال یہ ہے کہ میں سب چیزیں پڑھ دوں۔
جناب چیئرمین: نہیں، Turn by turn (باری باری) پوچھ لیں، ایک ایک۔ Is the witness not prepared to answer this question and wants some member of the Delegation to answer it? (اگر گواہ کسی سوال کا جواب دینے کو تیار نہ ہوں اور وفد کا کوئی دوسرا رکن جواب دینا چاہے)
جناب ابوالعطاء (رکن وفد): اب میری عرض ہے ......
جناب چیئرمین: نہیں، پہلے I am putting it to the witness. Is the witness not prepared to answer this question? (یہ میں گواہ سے پوچھ رہا ہوں: کیا گواہ اس سوال کا جواب دینے کو تیار نہیں؟)
مرزا ناصر احمد: جی، میں چاہتا ہوں کہ اس کا جواب ابوالعطاء صاحب دے دیں۔
Mr. Chairman: Then you will have to state as to why you do not want to answer this question. Then I will ask the member of the Delegation to reply. وجہ بتانی پڑے گی۔ (گواہ کو وجہ بتانی پڑے گی) (جناب چیئرمین: پھر آپ کو بتانا ہوگا کہ آپ خود جواب کیوں نہیں دینا چاہتے؟ تب میں وفد کے رکن کو جواب دینے کے لئے کہوں گا)
مرزا ناصر احمد: یہ اگر مجھے صحیح یاد ہے تو جب ہم یہاں سے گئے ہیں تو اس وقت چیئر کی طرف سے اجازت مل گئی تھی کہ وہ جواب دے دیں۔
Mr. Chairman: I had not given it. Only when the
٨٧
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
question has been put and the answer is to be given by the other member of the Delegation, then the witness has to give some reasons also.
(جناب چیئرمین: میں نے اجازت نہیں دی، جب سوال پوچھا جائے اور جواب کسی دوسرے رکن (وفد) نے دینا ہو، تو گواہ کو اس کی وجہ بتانا ہوگی)
1433 مرزا ناصر احمد: یعنی ہر سوال پر مجھے Explain (واضح) کرنا پڑے گا؟
جناب چیئرمین: نہیں، اگر تحریف قرآن کے سارے سوال جو ہیں، ان سب کا ایک ہی جواب آجائے گا......
مرزا ناصر احمد: یہ تو تحریف لفظی کا ہے۔
جناب چیئرمین: اگر آپ جواب دے سکتے ہیں تو آپ دے دیں، ٹھیک ہے۔
مرزا ناصر احمد: میں، اس کے متعلق تو اتنا سادہ ہے......
جناب چیئرمین: جواب دے دیں، ٹھیک ہے۔
مرزا ناصر احمد: وہ میں ویسے دے دوں گا۔
جناب چیئرمین: ٹھیک ہے۔
مرزا ناصر احمد: میں، اگر ابوالعطاء صاحب جواب دے دیں تو کوئی حرج نہیں سمجھتا۔
جناب چیئرمین: نہ، آپ Reasons (وجوہات) دیں۔
مرزا ناصر احمد: اگر آپ اجازت دیں۔
Mr. Chairman: There must be reasons.
(مسٹر چیئرمین: اس کی وجوہات!)
مرزا ناصر احمد: تحریف جو بانی سلسلہ احمدیہ کی طرف منسوب کی گئی؟ وہ سارے آپ کے کلام کے اندر آپ کے زمانے میں، اس جماعت کے خلیفہ کے زمانے میں جو قرآن کریم شائع ہوئے ہیں، جو قرآن کریم کے تراجم شائع ہوئے ہیں، اس میں یہ تحریف جو یہ کہتے ہیں کہ نکال دیا جان بوجھ کر، وہ ہونا چاہئے۔ لیکن ایک کتاب کی مثال دے کر اور ان بیسیوں ایڈیشن جو قرآن کریم، اس کے تراجم، جماعت احمدیہ نے شائع کئے، اور وہ ایڈیشن جو حضرت بانی سلسلۂ احمدیہ کی کتب کے شائع ہوئے، ان میں جو غلطی تھی کتابت کی دُور ہوگئی۔ ان کو نظر انداز کر کے صرف ایک واقعے سے یہ استدلال کرنا میرے نزدیک دُرست نہیں ہے۔ آخر یہی کتاب جہاں
٨٨
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
سے انہوں 1434 نے لیا ہے، بار بار چھپیں، دوبارہ، اور انہوں نے صرف ایک جگہ سے لے لیا۔
جناب چیئرمین: مولانا صاحب! Answer (جواب) آگیا ہے، Answer has come (جواب آگیا ہے)۔
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: میں نے تو دو حوالے دیئے تھے، بلکہ تین حوالے ہیں، ایک تو اس میں سن نہیں لکھا۔ لیکن ”ازالہ اوہام“ قدیم نسخہ۔ دوسرا ہے ”روحانی خزائن“ شائع کردہ الشرکۃ الاسلامیہ ربوہ، ١٩٥٨ء اس کے بعد ہے ”آئینہ کمالات اسلام“ مرزا غلام احمد۔ شائع کردہ ہے صدر انجمن احمدیہ ربوہ، ١٩٧٠ء۔
Mr. Chairman: There is a definite reply by the witness that in all Qur'an Majids published by Jamaat-i-Ahmadiyya, there is no omission of this word. There is a difinite reply be the witness. So, if it is not there, the question must be coupled with a book.
(جناب چیئرمین: جماعت احمدیہ کے شائع کردہ قرآن مجید کے بارے میں گواہ نے قطعی جواب دیا ہے کہ اس میں کوئی فروگزاشت نہیں ہے۔ سوال متعلقہ کتاب کے ساتھ پوچھا جانا چاہئے)
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: میں نے یہ عرض نہیں کیا کہ قرآن شریف کے کسی نسخے میں ہے، بلکہ قرآن شریف کی جو آیت اس کتاب میں Quote (حوالہ) کی گئی ہے اور کوئی Argument (دلیل) اس کے ساتھ دیا جا رہا ہے، اس میں تینوں ایڈیشن میں یہ ہے۔
جناب چیئرمین: ہے آپ کے پاس کتاب؟
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: فوٹو اسٹیٹ کاپی ہے۔
جناب چیئرمین: جی، جواب دیں۔
مرزا ناصر احمد: تو ہم نے قرآن شریف کے لاکھوں تراجم، لاکھوں کی تعداد میں شائع کئے اور تقسیم کئے۔ ہمارے بچے پڑھتے ہیں۔ ہمارا وہ حمائل ہے بغیر ترجمہ کے، وہ بچوں کے لئے ہے، کسی جگہ یہ نہیں ہوئی غلطی۔ جہاں اگر کہیں غلطی ہوئی ہے تو یہ اتنے ”الفضل“ شائع کر چکا ہے۔ وہاں اگر کہیں تو میں وہاں کروا تو دیتا ہوں۔ تو یہ غلطیاں ساری کتابت کی جو ہیں یہ تو ہوتی رہتی ہیں۔
Mr. Chairman: Next question.
٨٩
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
(جناب چیئرمین: اگلا سوال)
1435 Now we break for Maghrib. We will re-assmble at 7:30
(The delegation is permitted to leave)
The honourable members may keep sitting.
(اب ہم مغرب کی نماز کے لئے وقفہ کرتے ہیں اور ٧:٣٠ بجے اجلاس ہوگا۔ وفد کو جانے کی اجازت ہے۔ معزز اراکین تشریف رکھیں)
(The Delegation left the Chamber)
(وفد ہال سے باہر چلا گیا)
جناب چیئرمین: مولانا مفتی صاحب ذرا تشریف رکھیں، ذرا صلاح مشورہ کرنا ہے۔ مولانا عبدالحکیم صاحب! آج آپ تشریف لائے ہیں، ذرا بیٹھیں ناں۔ انصاری صاحب! کتنے سوالات ہیں آپ کے اندازاً...... ایک سیکنڈ جی...... تحریف قرآن پاک کے؟
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: میرا خیال تو یہ ہے کہ اب اگر چونکہ یہ ہاؤس نے طے کیا ہے کہ آج ہی ختم کرنا ہے......
جناب چیئرمین: نہیں، آپ نہیں، آپ مجھے بتائیں اندازاً، کتنے ہیں اندازاً؟
Mr. Yahya Bakhtiar: Today, there is nothing left now. I will request the House that ......
(جناب یحییٰ بختیار: آج کچھ باقی نہیں ہے۔ میں ایوان سے گزارش کروں گا......)
جناب چیئرمین: نہیں، میں ان سے پوچھ رہا ہوں کہ اندازاً کتنے Questions (سوالات) ہیں؟
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ...... اس لئے میں یہ کروں گا کہ معنوی تحریف جو ہے
٩٠
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
اس کی ایک مثال لے لوں گا۔
جناب چیئرمین: ہاں، جی ہاں۔
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ...... اور پھر جو قرآن کی آیات جو انہوں نے اپنے اُوپر چسپاں کرلی ہیں، اس کی دوچار مثالیں پڑھ دوں گا۔
Mr. Chairman: That would be better.
(یہ بہتر رہے گا) اس کے بعد اس طرح کریں گے کہ ساڑھے سات، پونے آٹھ سے لے کر پونے نو بجے تک کریں گے ناں جی، ایک سیشن جی۔
Then, after fifteen minutes break, we will finalize it.
(تب ١٥ منٹ کے وقفے کے بعد ہم اس کو ختم کرلیں گے)
1436 Mr. Yahya Bakhtiar: نہیں جی، there is no need of it. I think we will finish in on hour's time.
(جناب یحییٰ بختیار: اس کی کوئی ضرورت نہیں، میرا خیال ہے ہم ایک گھنٹے میں ختم کرلیں گے)
جناب چیئرمین: ہاں، ٹھیک ہے۔
Mr. Yahya Bakhtiar: Let us continue no further.
(جناب یحییٰ بختیار: اس کے بعد کارروائی جاری رکھنے کی ضرورت نہیں)
Mr. Chairman: نہیں لیکن، for finalizing it, then all the members must make up their mind for anything whatever, if any omissions are left out.
(جناب چیئرمین: اختتام کے بارے میں، تمام اراکین سوچ لیں تاکہ کوئی چیز باقی نہ رہ جائے)
Mr. Yahya Bakhtiar: That we will think now, and let me know if they want to ask any question.
(جناب یحییٰ بختیار: معلوم ہونا چاہئے کہ اراکین کوئی سوال کرنا چاہتے ہیں)
٩١
SEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
(جناب چیئرمین: اگلا سوال)
for Maghrib. We will re-assmble at
n is permitted to leave)
embers may keep sitting.
(اب ہم مغرب کی نماز کے لئے وقفہ کرت جانے کی اجازت ہے۔ معزز اراکین تشریف رکھیں)
on left the Chamber)
(وفد ہال سے باہر
جناب چیئرمین: مولانا مفتی صاحب ہے۔ مولانا عبدالحکیم صاحب! آج آپ تشریف لائے کتنے سوالات ہیں آپ کے اندازاً ..... ایک سیکنڈ جی۔
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: میرا خیال کیا ہے کہ آج ہی ختم کرنا ہے ......
جناب چیئرمین: نہیں، آپ نہیں، آپ
tiar: Today, there is nothing left se that ......
(جناب یحییٰ بختیار: آج کچھ باقی نہیں
جناب چیئرمین: نہیں، میں ان سے پو (سوالات) ہیں؟
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: .......اس
٩٠
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
Mr. Chairman: Yes. So, this break will be utilised for that purpose.
Thank you very much.
And we meet at 7:30.
(جناب چیئرمین: جی ہاں، تو اس وقفے کو ہم اسی مقصد کے لئے استعمال کریں گے، آپ کا بہت بہت شکریہ اور ٧:٣٠ بجے ہم اجلاس کریں گے)
----------
[The Special Committee adjourned for Maghrib prayers to meet at 7:30 p.m.]
(خصوصی کمیٹی کا اجلاس مغرب کی نماز کے لئے ملتوی ہوا، اجلاس ساڑھے سات بجے ہوگا)
----------
[The Special Committee re-assembled after Maghrib prayers, Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali) in the chair.]
(خصوصی کمیٹی کا اجلاس مغرب کی نماز کے بعد شروع ہوا، چیئرمین (صاحبزادہ فاروق علی) نے صدارت کی)
----------
جناب چیئرمین: ذرا اُن کو ادھر بھیج دیں، قصوری صاحب کو۔ مولانا عبدالحق! ذرا خاموشی سے سب حضرات سنیں۔
مولانا عبدالحق: گزارش یہ ہے کہ مولانا انصاری صاحب نے یہ کہا تھا: (عربی) یہ ”من قبلك“1437 نہیں ہے تین کتابوں میں۔ پھر دوبارہ، سہ بارہ ایڈیشن ان کتابوں کے چھپے ہیں۔ اس میں بھی ”من قبلك“ نہیں ہے۔ تو انہوں نے اپنی کتابوں میں گویا کہ تحریف لفظی کر دی ہے۔ اب وہ یہ کہیں کہ غلطی ہے، تو ایک جگہ غلطی ہو، دو جگہ غلطی ہو......
جناب چیئرمین: میں عرض کروں، انہوں نے دو باتوں کا جواب دیا ہے۔ ایک انہوں نے کہا ہے کہ ہمارے قرآن مجید میں نہیں ہے۔ دُوسرا انہوں نے تسلیم کیا ہے کہ واقعی نہیں
٩٢
ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
n: Yes. So, this break will be utilised much. 7:30.
(جناب چیئرمین: جی ہاں، تو اس وقفے کو گے، آپ کا بہت بہت شکریہ اور ٧:٣٠ بجے ہم اجلاس کریں
-----------
ommittee adjourned for Maghrib p.m.]
(خصوصی کمیٹی کا اجلاس مغرب کی نماز کے لئے ملتوی
-----------
mmittee re-assembled after Maghrib n (Sahibzada Farooq Ali) in the
(خصوصی کمیٹی کا اجلاس مغرب کی نماز کے فاروق علی) نے صدارت کی)
-----------
جناب چیئرمین: ذرا ان کو ادھر بھیج دیں، خاموشی سے سب حضرات سنیں۔
مولانا عبدالحق: گزارش یہ ہے کہ مولانا انصاری 1437 یہ ”من قبلک“ نہیں ہے تین کتابوں کتابوں کے چھپے ہیں۔ اس میں بھی ”من قبلک“ نہیں کہ تحریف لفظی کردی ہے۔ اب وہ یہ کہیں کہ غلطی ہے، تو ان
جناب چیئرمین: میں عرض کروں، انہوں انہوں نے کہا ہے کہ ہمارے قرآن مجید میں نہیں ہے۔
٩٢
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
ہے، انہوں نے کہا کہ کتابت کی غلطی ہے۔ اس واسطے جو چیز آپ ثابت کرنا چاہتے تھے وہ ثابت ہوگئی ہے۔ آپ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ انہوں نے ایک لفظ قرآن مجید کا حذف کیا اپنی کتابوں میں، جو انہوں نے تسلیم کرلیا۔ باقی بات ہے بحث کی کہ: ”آپ نے کیوں کیا ہے، یا کس واسطے کیا ہے؟“ اس میں جانے کی ضرورت نہیں۔ ایک چیز تو آپ نے تسلیم کروالی ہے کہ واقعی یہ کتاب......
مولوی مفتی محمود: عرض یہ ہے کہ یہ جو کتاب ہے، اس کا ان کو علم تھا۔ اس کے باوجود پھر دوبارہ دوسرے ایڈیشن کی تصحیح نہیں کی۔ اس کے بعد پھر ١٩٧٠ء میں جو نیا ایڈیشن تھا اس کی پھر تصحیح نہیں کی، اس کو ایسے غلط رہنے دیا۔ اعتراض صرف یہ ہے کہ غلط کیوں رہنے دیا ہے؟
(قادیانیوں نے عملاً تحریف لفظی کی)
جناب چیئرمین: آپ نے Question (سوال) کیا، انہوں نے کہا: کتابت کی غلطی ہے۔ انہوں نے یہ جواب نہیں دیا، انہوں نے یہ نہیں کہا کہ ہم نے غلطی محسوس کی۔ اس کا مطلب ہے کہ غلطی کو دوبارہ کیا، سہ بارہ کیا، وہ غلطی نہیں ہے، وہ انہوں نے عمداً کیا ہے۔ یہ بحث کی بات ہے، یہ آپ نے اپنا پوائنٹ منوالیا ہے کہ یہ لفظ وہاں نہیں ہے کتابوں میں۔
جناب محمد حنیف خاں: یہ صاف نہیں ہوگا۔ بات تو ہوگی، یہ بات تو ہوگی۔ تین کتابوں میں اگر آئی تو ان کے علم میں وہ غلطی ہے۔
جناب چیئرمین: یہ سوال پوچھ سکتے ہیں، آپ یہ سوال پوچھ سکتے ہیں۔ جی، ایک سیکنڈ جی، ایک سیکنڈ۔ ہاں، مولانا ظفر احمد انصاری صاحب! مولانا صاحب! آپ کچھ کہنا چاہتے 1438 تھے۔ بلوالیں یا آپ کچھ کہیں گے؟
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: نہیں، وہ ایسا ہے کہ ابھی نماز کے وقت بہت سے لوگوں نے یہ کہا کہ یہ قرآنی تحریف جو ہے اس پر پوری گفتگو ہونی چاہئے۔
جناب چیئرمین: ٹھیک ہے۔
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: تو میں نے کہا کہ کل چیئرمین صاحب نے کہا کہ پورے ہاؤس میں چار آدمی مجرم ہیں اس کے کہ یہ جو سیشن کو لمبا کرنا چاہتے ہیں۔ باقی پورا ہاؤس یہ چاہتا ہے کہ سیشن ختم ہو۔ تو دو چیزیں اکٹھی نہیں ہوسکتیں۔ اگر آپ آج سیشن ختم کرنا چاہتے ہیں تو مجھے مجبوراً ایک ایک مثال، دو دو مثال دے کر ختم کر دینا پڑے گا، کیونکہ ابھی اٹارنی جنرل صاحب نے بھی کچھ اور سوال کرنے ہیں، کچھ مجھے بھی کرنے ہیں۔ اب آپ نے فرما دیا ہے کہ صرف عربی
٩٣
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
والی عبارت کے سوال کروں تو باقی سوال پھر مجھے آپ (اٹارنی جنرل) کے حوالے کرنا ہوں گے۔
جناب چیئرمین: ٹھیک ہے، آپ پوچھ لیں جی، آپ اپنی تسلی کر لیں۔
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: دو چیزیں ساتھ نہیں چل سکتیں...... یہ کہ ہر مسئلے پر سوال بھی ہو اور سیشن بھی ختم ہو جائے۔
جناب چیئرمین: نہیں، آپ مولانا آپ بالکل بے فکر رہیں۔ آپ کے جو سوالات ہیں، جن میں آپ سمجھتے ہیں کہ آپ اپنا مقصد حاصل کر لیں گے، چاہے پانچ ہیں، چاہے دس ہیں، چاہے پندرہ ہیں، چاہے بیس ہیں، آپ بالکل آرام سے پوچھیں، کوئی قید نہیں ہے۔
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: بہت شکریہ جی۔
جناب چیئرمین: بالکل۔ اس میں یہ ہے کہ اگر آج ختم نہ ہوا تو پھر کل پر جائے گا۔
اراکین: ٹھیک ہے۔
جناب چیئرمین: ٹھیک ہے جی۔
1439 Mr. Mohammad Haneef Khan: We are ready (جناب محمد حنیف خان: ہم کل کے لئے تیار ہیں) for tomorrow.
Mr. Chairman: Day after tomorrow can't be. (جناب چیئرمین: پرسوں کے لئے نہیں) ٹھیک ہے، ایک دن آپ کچھ بات کرتے ہیں اور دوسرے.......
سید عباس حسین گردیزی: کیا ہم اپنے سوال کر سکتے ہیں؟
جناب چیئرمین: اپنے سوال بذریعہ اٹارنی جنرل، خود نہیں کر سکتے، کہ جو رہ گیا.......
جناب محمد حنیف خان: جناب چیئرمین! میں ممبران کی طرف سے یہ آپ کے نوٹس میں لانا چاہتا ہوں کہ ممبران بیٹھنے کے لئے تیار ہیں، اگر کوئی اہم....... میں ممبران کی طرف سے یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ.......
جناب چیئرمین: میں ممبران سے رات دس بجے پوچھوں گا۔
جناب محمد حنیف خان: ...... اگر کوئی اہم بات پوچھنا چاہتے ہیں تو ہماری طرف سے کوئی اعتراض نہیں ہے۔
جناب چیئرمین: ابھی، ابھی خان صاحب! ابھی نہیں۔ جب یہ دو گھنٹے ختم ہو جائیں گے تو اس کے بعد پوچھوں گا۔ - That is the proper time.
٩٤
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
ان کو بلوائیں۔
نہیں جی، کہتے ہیں کہ بس ختم۔ صبح کے اور بیان ہوتے ہیں، دو پہر کے اور۔
بلوائیں جی، بلوائیں۔
نارمل ٹائم جی نارمل۔
(The Delegation entered the Chamber)
(وفد ہال میں داخل ہوا)
Mr. Chairman: Yes, Attorney-General through Maulana Zafar Ahmad Ansari.
(جناب چیئرمین: جی اٹارنی جنرل صاحب بذریعہ مولانا ظفر احمد انصاری)
1440 مولانا محمد ظفر احمد انصاری: جناب والا! ابھی جو سوال میں نے کیا تھا، اس کی تھوڑی سی وضاحت میں نے کر دی کہ میں نے یہ نہیں کہا کہ آپ کے ہاں سے جو قرآن کریم چھپا ہوا چل رہا ہے، اس میں کیا ہے۔ وہ میں نے نہیں دیکھا۔ ہے یا نہیں، میں نہیں کہہ سکتا۔ لیکن یہ جو کتاب چل رہی ہے ”ازالہ اوہام“ بہت عرصے سے، اور اس کے بار بار ایڈیشن ہو رہے ہیں، مرزا صاحب نے تو یہ فرمایا تھا..... مرزا غلام احمد صاحب نے...... کہ ”اللہ تعالیٰ مجھے غلطی پر قائم نہیں رہنے دے گا“ تو قرآن کریم کی آیات میں اس طرح اُلٹ پھیر ہو جائے اور ان کی زندگی میں ان کو تنبیہ نہ ہو، یہ بڑی حیرت کی بات ہے۔ اس کے بعد بھی جو لوگ آئے، وہ بھی مامور من اللہ ہیں، اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور ہیں، ان کو بھی کوئی تنبیہ نہیں ہوئی، اور اتفاق سے لفظ بھی وہ نکلا جو بنیاد بنتا ہے ہمارے اختلاف کا، یعنی سب سے بڑا اختلاف یہی ہے کہ حضور (ﷺ) کے بعد کوئی نبی آسکتا ہے یا نہیں۔ بہر حال یہ غلطی برابر چل رہی ہے۔ ١٩٧٠ء تک کے ایڈیشن میں، میں نے دکھایا، کہ یہ غلطی چل رہی ہے۔ میں نے یہ نہیں کہا کہ جو قرآن کریم کے نسخے چل رہے ہیں، بچوں کو آپ پڑھا رہے ہیں، وہ میں نے دیکھا ہی نہیں۔ اب.......
مرزا ناصر احمد: جناب چیئرمین! سر! میں جواب دے سکتا ہوں اس کا؟
جناب چیئرمین: ہاں جی، دے دیں۔
مرزا ناصر احمد: نمبر ایک یہ کہ جس کا آپ حوالہ چلا رہے ہیں، اس کے انڈیکس میں یہ صحیح آیت لکھی ہوئی ہے، ایک کتاب ہے۔ نمبر ٢ یہ کہ ہمارے کسی لٹریچر میں، جو آپ دلیل بتا رہے
٩٥
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
ہیں کہ ان الفاظ کو چھوڑ کر پھر یہ دلیل نکالی جائے، وہ نہیں آئی کسی لٹریچر میں۔ تو جو وجہ آپ بتا رہے ہیں کہ ہماری بنیاد ایک اختلاف، اگر یہ فقرہ نکال دیا جائے تو اس کو دلیل بنالیا جائے گا، آیت کو، اور وہ دلیل سارے لٹریچر میں کبھی بھی استعمال نہیں ہوئی، نہ اُس جگہ جس جگہ یہ ”ازالہ اوہام“ کا حوالہ دے رہے ہیں، اس جگہ بھی اس دلیل کو استعمال نہیں کیا گیا۔
(جناب چیئرمین: جی) Mr. Chairman: Yes.
1441مولانا محمد ظفر احمد انصاری: مرزا صاحب نے جو وضاحت کی ہے، وہ بہر حال ان کا جواب ہے۔ میں اب اُسی کی طرف آرہا تھا۔ یہ ”من قبلك“ کا لفظ جو ہے، اس کو نکال کے یا اس کے معنی بدل کے اس سے سارا قصہ چلا ہے۔
(معنوی تحریف کی مثال)
اب میں مختصراً معنوی تحریف کی طرف آتا ہوں۔ سورۃ البقرۃ کی ابتدائی ہی آیتوں میں: (عربی)
یہاں اس حصے سے، اب یہاں قرآن کریم میں بڑی صراحت سے ہے، مسلمانوں سے مطالبہ ہے کہ حضور (ﷺ) پر ایمان لائیں اور آپ کے پہلے جتنے انبیاء ہیں، ان پر ایمان لائیں اور اس طرح کی آیتیں کم و بیش چوبیس، پچیس جگہ قرآن کریم میں آئی ہیں، جہاں یہ کہا گیا ہے:
”آپ (ﷺ) سے پہلے آنے والی کتابوں پر، آپ (ﷺ) سے پہلے آنے والے نبیوں پر۔“
حالانکہ اس کی کوئی خاص ضرورت نہ تھی، اس لئے کہ احکام تو ہمارے سب قرآن کریم میں موجود ہیں۔ آپ (ﷺ) جامع ہیں سارے انبیاء کی صفات کے۔ لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نظام رسالت قائم ہے جو آپ (ﷺ) پر ختم ہوا ہے، اس لئے ہر جگہ ”من قبلك“ آیا۔ کہیں ”من بعدک“ نہیں آیا۔ حالانکہ ضرورت تو یہ تھی کہ بعد میں آنے والے احکام ماننے ہیں اور فلاح اس پر منحصر ہے تو ”من بعدک“ آتا۔ لیکن وہ نہیں آیا۔ اب یہاں، یعنی جو کچھ میں سمجھا ہوں، اب وہ لفظ کہیں نہیں آیا۔ لہٰذا ایک دوسرے لفظ سے وہ گنجائش نکالی گئی: (عربی)
جس کا یہ ابھی میں نے اُردو ترجمہ دیکھا، ورنہ میرے پاس انگریزی کے ترجمے چوہدری ظفر اللہ صاحب کے اور مرزا بشیر الدین محمود صاحب کے ہیں۔ اس کے ساتھ کوئی دس بارہ
٩٦
1457 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
تراجم انگریزی کے اور ہیں میرے پاس، جو مسلمانوں کے بھی ہیں، عیسائیوں کے بھی ہیں، یہودیوں کے بھی۔ سب نے ”آخرت“ کے لفظ کا ترجمہ: "Hereafter" (آخرت) یا "Hereinafter" (آخرت) کیا 1442 ہے۔ لیکن اس ترجمے سے چونکہ آگے نبی آنے کی گنجائش ہی نہیں ملتی، یعنی یہ بدگمانی پیدا ہوتی ہے کہ چوہدری ظفر اللہ صاحب کے ترجمے میں ”آخرت“ کا ترجمہ یہ آتا ہے:
"And our firm faith in that which has been foretold and is yet to come."
(اور ہمارا پکا ایمان ہے کہ جو پہلے بتایا جا چکا ہے وہ ابھی آنا ہے)
”آخرت“ کا ترجمہ:
"In that which has been foretold and is yet to come."
اسی طرح سے مرزا بشیر الدین محمود صاحب میں آیا ہے:
"And they have firm faith in what is yet to come."
مرزا ناصر احمد : یہ ترجمہ کس کا ہے؟
جناب چیئرمین : یہ دوسرا جو پڑھا ہے آپ نے؟
مرزا ناصر احمد : آخر میں جو سنایا ہے، آخر میں، آخر میں۔
مولانا محمد ظفر احمد انصاری : یہ مرزا بشیر الدین محمود صاحب کا ہے، جو کمنٹری کے ساتھ ہے۔
مرزا ناصر احمد : انہوں نے کوئی ترجمہ نہیں کیا۔
مولانا محمد ظفر احمد انصاری : جی؟
مرزا ناصر احمد : وہ خود انہوں نے انگلش میں کوئی ترجمہ نہیں کیا۔
مولانا محمد ظفر احمد انصاری : انہوں نے کیا ہے:
"And they have firm faith in what is yet to come."
مرزا ناصر احمد : نہیں، نہیں، میرا مطلب یہ ہے کہ انگریزی کے جو تراجم ہیں، وہ انہوں نے 1443 نہیں کئے ہوئے، کسی اور نے کئے ہوئے ہیں۔ لیکن صرف لفظی تصحیح میں کروا رہا ہوں۔ باقی تو جواب دوں گا۔
مولانا محمد ظفر احمد انصاری : اب میں تھوڑے سے حصے ....... اس وقت انگریزی
٩٧
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
مترجمین میں آربری کا ترجمہ بڑا مقبول ہے۔ یہ لکھتے ہیں:
"And have faith in the hereafter."
چوہدری محمد اکبر صاحب کا ایک ترجمہ ہے:
"And firmly belive in the hereafter."
عبداللہ یوسف علی صاحب کا ترجمہ ہے:
"Have the assurance of the hereafter."
مارماڈیوک پکتھال کا ترجمہ ہے:
"And are certain of the hereafter."
بل کا ترجمہ ہے:
"And of the hereafter ...... who believe in the unseen and are convinced of the hereafter."
جارج سیل کا ترجمہ ہے.......
Mr. Chairman: Yes, the question is complete. The question is that a different translation and a different interpretation has been put by the Jamaat. Yes.
(جناب چیئرمین: جی ہاں سوال مکمل ہے، سوال یہ ہے کہ جماعت کی طرف سے مختلف ترجمے یا معنی کئے گئے ہیں)
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: جی ہاں، اور اس کے نتیجے میں مرزا بشیر الدین محمود صاحب نے یہاں جو تشریحی نوٹ لکھا ہے، وہ بہت لمبا چوڑا ہے اور اس سے نتیجہ ....... میں اسے پڑھ دوں؟
مرزا ناصر احمد: نہیں، یہاں ہے۔ پڑھ دیں ضرور۔
Maulana Mohammad Zafar Ahmad Ansari: Here, Mirza Bashir-ud-Din gives the following footnote: "الآخرۃ" what is yet to come is derived from اٰخَرَ. They say 'اَخَّرَہٗ', that is, he put it اَخَّرَہٗ ، یُؤَخِّرُہٗ. He put it back, he put it behind, he postponed it. The word 'الاخرۃ' which is the feminine of 'الاخر', that is, the last one or the latter one,
٩٨
AKISTAN 24th Aug, 1974 No:11 مترجمین میں آربری کا ترجمہ بڑا مقبول fter." چوہدری محمد اکبر صاحب کا ت eafter." عبداللہ یوسف علی صاحب ک hereinafter." مارماڈیوک پکتھال کا ترجمہ after." بل کا ترجمہ ہے: ho believe in the unseen جارج سیل کا ترجمہ ہے۔ uestion is complete. The lation and a different maat. Yes. (جناب چیئرمین: جی مختلف ترجمے یا معنی کئے گئے ہیں) مولانا محمد ظفر احمد انصار نے 1444 جو تشریحی نوٹ لکھا ہے، وہ بہت مرزا ناصر احمد: نہیں، far Ahmad Ansari: following footnote: ome is derived from آخرہ، آخرہ it. He put it t. The word الآخرة which st one or the latter one,
1459 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
is used as an epithet or an adjective opposed to 'الاَوَّل', that is, the first one. 'الاٰخَرُ', with a different vowel point in the central letter, means the other or another, 'اٰخَرُ'. The object which the adjective 'الاٰخِرَةُ', in the verse qualifies, is understood; most commentators taking it to be 'الدار', that is, the full expression being 'الدار الاٰخِرَةُ', the last abode. The context, however, shows that here the word understood is 'الرسالة الاٰخِرَةُ', the message or revelation which is to come."
(مولانا ظفر احمد انصاری: یہاں مرزا بشیر الدین نے مندرجہ ذیل حاشیہ دیا ہے: الآخرہ جس نے ابھی آنا ہے، الآخرہ کلمۂ ماخوذ از آخر ہے، وہ کہتے ہیں آخرہ......) اور کافی لمبا ہے یہ۔ گویا یہاں سے یہ گنجائش نکالی گئی ہے کہ ابھی کچھ چیز باقی ہے آنے کو۔ مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ اب نہ کوئی رسول آئے گا، نہ کوئی آسمانی کتاب آئے گی، نہ کوئی وحی آئے گی، نہ جبرائیل آئیں گے۔ یہاں لفظ ”آخرت“ کا ترجمہ اس طرح کر کے یہیں سے اس کی یہ گنجائش پیدا کی گئی ہے کہ کوئی نیا پیغمبر بھی آئے گا، کوئی نئی کتاب بھی آئے گی، کوئی نئی وحی بھی آتی رہے گی۔ تو یہ گویا ایک ایسی تحریف ہے، یعنی میرے نقطہ نظر اور عام مسلمانوں کے نقطہ نظر سے، کہ جو مسلمانوں کے پورے بنیادی عقیدے کو بدل دیتی ہے۔ 1445 مرزا ناصر احمد: تو سوال کیا ہے مجھ سے؟
Mr. Chairman: The question is simple, very simple, that in the light of the other translations by the different people, who have been mentioned by the witness, a different interpretation has been put by Ch. Mohmmad Zafarullah Khan and it has been tried that, for one word, it is proved that Nabis will come even after the Holy Prophet (peace be upon him). This is the question in a nutshell.
(جناب چیئرمین: سوال بالکل سیدھا ہے، دوسرے تراجم کی روشنی میں جن کا ذکر گواہ نے کیا ہے، چوہدری ظفر اللہ نے مختلف معنی پہنائے ہیں، اور ایک لفظ کے مختلف ترجمے
٩٩
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ آخری نبی ﷺ کے بعد اور نبی بھی آئیں گے، مختصر طور پر یہی سوال ہے)
Maulana Muhammad Zafar Ahmad Ansari: Nabis and divine message.
(مولانا ظفر احمد انصاری: انبیاء اور احکاماتِ الٰہیہ)
Mr. Chairman: Yes. That is all. Now the witness will reply.
(جناب چیئرمین: جی ہاں، بس یہی سوال ہے، اب گواہ اس سوال کا جواب دے)
مرزا ناصر احمد: ایک تو میرا خیال ہے کہ جو انگریزی کے تراجم آپ نے بہت سارے مترجمین کے سنائے ہیں، ان میں سے بہت سے عیسائی ہیں......
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: میں نے کہا ہے یہ مسلمان بھی ہیں، عیسائی بھی......
مرزا ناصر احمد: ہاں، مسلمان بھی ہیں، عیسائی بھی ہیں۔ دُوسرا سوال یہ ہے......
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ...... یہودی کا بھی ہے، اس کا بھی ترجمہ: "Hereafter" (آخرت) ہے۔
جناب چیئرمین: ایک سیکنڈ۔ انصاری صاحب! ذرا ٹھہر جائیں۔
مرزا ناصر احمد: تو دُوسرا سوال یہ ہے، ہاں، سوال یہ ہے، دُوسری یہ بات ہے کہ جو ترجمہ کیا گیا ہے عربی لغت کے خلاف ہے یا عربی لغت یہ معنی بھی کرتی ہے؟ اگر عربی لغت یہ معنی کرتی ہے تو جو میں نے تفسیر صحیح کا معیار ایک بتایا تھا اس میں صرف یہ معنی جو ہیں، وہ ان معنوں کا کیا جانا صرف اس بات کو رَدّ نہیں کرتا۔ اسے رَدّ کرنے کے لئے کوئی اور وجہ ہونی چاہئے اور تیسری بات یہ ہے کہ کیا قرآن کریم نے "آخر" اور "آخرت" کے لفظ کو صرف "Hereafter" (آخرت) کے لئے 1446 استعمال کیا ہے یا کسی اور معنی میں بھی استعمال کیا ہے؟ اگر کسی اور معنی میں بھی استعمال کیا ہے، بالکل واضح طور پر، یعنی لفظ ہے یہ اور واضح ہے کہ یہاں The life hereafter" (آخرت کی زندگی) نہیں، تو پھر ہمیں یہ سوچنا پڑے گا کہ یہاں بھی وہ معنی لگ سکتے ہیں، اگر کوئی اور چیز روک نہ ہو رستے میں، اور: (عربی)
یہاں "الآخرۃ" کے معنی تفاسیر میں "کلمۃ آخرۃ" اور "کلمہ اولیٰ" لکھا گیا ہے۔ تو یہاں ایک معنی "آخرۃ" کے جو لغت کے لحاظ سے دُرست ہیں، "آخرۃ" کے وہ معنی جو خود قرآنی
١٠٠
1461 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
محاورے کے مطابق درست ہیں، جیسا کہ ابھی میں نے بتایا کہ فرعون کے متعلق یہ لفظ بولا گیا، اور تفسیروں نے، ہم سے پہلی تفسیروں نے اس کے معنی ”دوسرے کلمہ“ کا کہا ہے ”کلمۃ الآخرۃ۔“ اور جو یہ تفسیر ہے، اس کے اندر پہلی تفسیر سے صرف اختلاف ہے اور میں نے تفسیر صحیح میں بتایا تھا کہ قرآن کریم میں اختلاف کا دروازہ اور نئے معنی کا دروازہ خود قرآن کریم کی آیات کی روشنی میں کھلا رکھنا پڑے گا، اور پچھلوں نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ: (عربی) یہ تفسیر ”ہدایت البیان“ ہے، از امام ابو محمد شیرازی، جو ٦٠٦ ہجری میں فوت ہوئے ہیں ....... اقتراب السمع میں ہے۔ تو اور بھی ہیں بہت سے حوالے، لیکن اس وقت یہ ایک کافی ہے۔
(جناب چیئرمین: آگے چلئے) Mr. Chairman: Next مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ہاں، نہیں، ذرا اسی میں کچھ عرض کرنا ہے۔ جناب چیئرمین: ہاں، پوچھیں، اس کا اگر Further Explanation (مزید وضاحت) ہے۔
(چودہ سو سال میں کسی نے یہ معنی نہیں کئے)
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: مرزا صاحب! بات یہ ہے کہ لفظ کے لغوی معنے پر اگر ہم جائیں تو پھر بہت سے ایسے الفاظ ملیں گے جو آج کسی معنی میں مستعمل نہیں، کئی جگہ استعمال 1447 ہوتے ہیں۔ اب ”حدیث“ جب ہم کہیں گے اصطلاحی معنوں میں تو کوئی اور چیز ہوگی، آج کل کے بول چال کی زبان میں کچھ اور ہوگی۔ یہ سوال نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ آپ نے اُصول جو بتایا ہے، وہ اپنی جگہ صحیح ہے۔ لیکن اس تیرہ، چودہ سو سال میں کسی اور مفسر نے، کسی بڑے عربی دان نے یہ معنے ”آخرۃ“ کے یہاں لئے ہیں، جن کو لوگ تسلیم کرتے ہیں؟ یا یہ کہ ہمارے ائمہ مفسرین اور جو علمائے کرام گزرے ہیں یا یہ کہ یہ بالکل ایک نئی چیز ہے؟ اور نئی چیز بھی ایسی جس میں اُمت کے لئے یعنی اُمت کے اندر ایک اتنا بڑا افتراق پیدا ہوتا ہے کہ دو اُمتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔ کوئی فرقے کا اختلاف نہیں بنتا، بلکہ دو الگ الگ اُمتیں بن جاتی ہیں نبوت کا دروازہ کھلنے سے اور اس سے وہ جب نبی آتا ہے تو اُمت اس کے ساتھ ہو جاتی ہے۔ تو یہ وہ بنیاد ہے کہ جہاں سے مسلمانوں کی اُمت الگ ہو جاتی ہے اور مرزا صاحب کی اُمت الگ ہو جاتی ہے۔ تو اتنی بڑی بنیادی بات ہے۔ اس کی سند میں قدیم مفسرین میں آپ کچھ لوگوں کو اگر بتائیں تو پھر اسے دیکھا
١؎ ”قرآن میں اختلاف کا دروازہ“ کیا معنی...؟
١٠١
1462 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
جائے کہ کس حد تک اس پر اعتبار کیا جاسکتا ہے؟ محض لفظ ”آخرہ“ کا کسی اور معنے میں استعمال ہونا تو آپ تو مجھ سے بہت بہتر جانتے ہیں کہ عربی میں ایک ایک لفظ ہے جو پچاس پچاس معنوں میں استعمال ہوتا ہے، لیکن یہ کہ وہ محل اور موقع کے اعتبار سے ہوتا ہے۔ اس کے ......
Mr. Chairman: Let this be answered, then you can put the next question. The question is: whether this interpretation has been put previously in 1300 years? If so, by whom? Or this interpretation has been put for the first time? This is your question.
(جناب چیئرمین: اس کا جواب آنے دیں، پھر آپ اگلا سوال کریں۔ سوال یہ ہے کہ :آیا یہ معنی گزشتہ تیرہ سو سال میں پہلے بھی کبھی کئے گئے؟ اگر ایسا ہے تو کتنوں نے یہ معنی کئے؟)
مرزا ناصر احمد : اگر آپ کے اس بیان کا یہ مفہوم ہے کہ مفسرین جو پہلے گزر چکے ان کے علاوہ قرآن کریم کی کوئی تفسیر نہیں ہو سکتی تو ہم یہ عقیدہ نہیں رکھتے۔ نمبر ایک ......
Mr. Chairman: It solves the problem, it solves the problem. Let ...... You can explain, the witness can explain further.
(جناب چیئرمین: اس سے تو مسئلہ ہی حل ہو گیا، گواہ مزید وضاحت کرے)
1448 مرزا ناصر احمد : دوسرے یہ کہ اگر ہمیں وقت دیا جائے تو پہلے مفسرین کی تفسیروں میں سے ہم یہ اسی معنی کے جو ہم نے کئے ہیں، اس کی مثال ہم پیش کر دیں گے۔
Mr. Chairman: Yes, the witness will be allowed to produce it. Yes, Next question.
(جناب چیئرمین: ٹھیک ہے، گواہ کو پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ اگلا سوال)
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: اسی کے متعلق یہ ذرا سا عرض کرنا ہے کہ چودہ سو سال میں اگر عام طور پر اسلاف نے، ہمارے بزرگوں نے، مفسرین نے یہ معنے نہیں کئے اور یہ معنے کوئی
١٠٢
1463 NATIONAL ASSE
رہا ہوں، بنیادی چیز یہ ہے اور یعنی اس طرح کہ کوئی نکتہ نکال لیا۔ فرق ایسا پیدا ہوتا ہے کہ ہیں۔ یا یہ کافر ہوجاتے ہیں، یا وہ کافر ہوجاتے
Mr. Chiarman: Th
(؟ یہ عرض کر رہا ہوں کہ اس کے لئے ضروری مت اعتماد کرتی آئی ہے۔ ......
Mr Chairman: T question of argument, beca put his interpretation. So, some authority. Nex question.
یہ تو بحث (دلیل) والی بات ہے، کیونکہ یہ اپنی تعبیر) کی تائید میں وہ (مرزا صاحب)
جناب!
Sup (تائید) کا تو حوالہ ہمارے پاس ہے
اللہ کے خواص میں دو طرح پر کلام کیا ہے۔ ذا لک۔ مگر عقیدہ پر خواص معقول کے علاوہ نے ایک مرتبہ اسمائے حسنیٰ اور آیات عظمیٰ اور ے لئے ...... تصرف عام کے لئے ...... یہ ہمارا
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
چھوٹے موٹے فرق پیدا نہیں کرتے، جو میں عرض کر رہا ہوں، بنیادی چیز یہ ہے اور یعنی اس طرح کی اگر کوئی معمولی بات ہوتی تو شاید اتنی اہم نہ ہوتی کہ کوئی نکتہ نکال لیا۔ فرق ایسا پیدا ہوتا ہے کہ ملت اسلامیہ کے لوگ دو ٹکڑوں میں منقسم ہو جاتے ہیں۔ یا یہ کافر ہو جاتے ہیں، یا وہ کافر ہو جاتے ہیں۔ بڑا فرق پیدا ہو جاتا ہے۔
Mr. Chiarman: That is argument.
(جناب چیئرمین: یہ تو بحث کی بات ہے)
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: نہیں، میں یہ عرض کر رہا ہوں کہ اس کے لئے ضروری ہے کہ ہمارے ہاں مفسرین کی ایک اچھی تعداد جن پر اُمت اعتماد کرتی آئی ہے......
Mr Chairman: That is, that is, Ansari Sahib, a question of argument, because it is admitted that they have put his interpretation. So, to support it, they will produce some authority.
Nex question.
(جناب چیئرمین: انصاری صاحب! یہ تو بحث (دلیل) والی بات ہے، کیونکہ یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ یہ مفہوم اور تعبیر کا مسئلہ ہے (اپنی تعبیر) کی تائید میں وہ (مرزا صاحب) ثبوت کریں گے۔ اگلا سوال)
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ٹھیک ہے، جناب!
مرزا ناصر احمد: جو نئے معنی کی Support (تائید) کا تو حوالہ ہمارے پاس ہے
”الفوز الکبیر“ 1449 کا یہاں بھی موجود:
”مگر فقیر...... یہ ہے کہ متقدمین نے کلام اللہ کے خواص میں دو طرح پر کلام کیا ہے۔ ایک تو دُعا کے مشابہ اور سحر کے مشابہ۔ استغفر اللہ من ذالک۔ مگر فقیر پر خواص منقول کے علاوہ ایک جدید دروازہ کھولا گیا ہے۔ حضرت حق جل شانہٗ نے ایک مرتبہ اسمائے حسنیٰ اور آیاتِ عظمیٰ اور ادعیہ متبرکہ کو میری گود میں رکھ کر فرمایا کہ تصرف عام کے لئے...... تصرف عام کے لئے...... یہ ہمارا عطیہ ہے۔“
PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
جائے کہ کس حد تک اس پر اعتبار کیا جاسکتا تو آپ تو مجھ سے بہت بہتر جانتے ہیں کہ ا استعمال ہوتا ہے، لیکن یہ کہ وہ محل اور موقع ن
e answered, then you can estion is: whether this usly in 1300 years? If so, has been put for the first
(جناب چیئرمین: اس کا ج کہ: آیا یہ معنی گزشتہ تیرہ سو سال میں پہلے کہ
مرزا ناصر احمد: اگر آپ ک کے علاوہ قرآن کریم کی کوئی تفسیر نہیں ہو سک
the problem, it solves the the witness can explain
(جناب چیئرمین: اس س
1448 مرزا ناصر احمد: دوسر تفسیروں میں سے ہم یہ اسی معنی کے جو ہ
witness will be allowed to
1464 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
تو جہاں تک نئے معانی کا تعلق ہے، ہزاروں حوالے ہم دے سکتے ہیں اور جہاں تک اس آیت کا تعلق ہے، اس آیت میں تو نبوت کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ اس آیت کے جو معنیٰ اور تفسیر آپ نے یہ پڑھی، اس میں کسی نبوت کے دروازے کے کھلنے کا اس آیت میں ذکر نہیں کیا گیا۔ باقی رہا وحی و الہام اور مخاطبہ ومکالمہ، تو آپ کہتے ہیں کہ اُمت کا متفقہ فیصلہ ہے کہ مکالمہ ومخاطبہ الٰہیہ کا دروازہ بند ہو گیا اور ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ...... آپ سے مختلف ...... کہ اُمتِ مسلمہ کے صلحاء کی اکثریت کا یہ عقیدہ ہے شروع سے آخر تک کہ نبی اکرم ﷺ کے فیضان کے نتیجہ میں مکالمہ ومخاطبہ الٰہیہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہے گا اور یہی یہ فرقان اور امتیاز ہے جو اُمتِ مسلمہ کو دیگر اُمم سے ہے، دُوسرے انبیاء کی اُمتوں سے، یہ میں نے اپنا عقیدہ بتا دیا ہے۔
Mr. Chairman: Next question.
(جناب چیئرمین: اگلا سوال)
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: نہیں، یہ ذرا ایک بات آپ نے فرمائی ہے۔ جہاں تک ان الفاظ کا تعلق ہے، شاید کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اختلاف وہاں ہوتا ہے کہ جہاں لفظ ”وحی“ استعمال کرتے ہیں ہم۔ یعنی بہت سے بزرگوں کے ساتھ مخاطبہ ومکالمہ، صوفیا کے ساتھ، وہ ایک الگ بات ہے۔ بات اختلاف کی ہوتی ہے ”وحی“ کے لفظ سے، اور ”وحی“ اب اسلامی شریعت کی اصطلاح ہے، اصطلاحی معنی بن گیا ہے۔ تو انگریزی میں بھی اگر آپ ڈکشنریز میں دیکھیں تو 1450 ”وحی“ کے ایک اصطلاحی معنی ملیں گے کہ: ”وہ کلام جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا اپنے بندوں پر۔“ تو گفتگو وہاں ہے۔ یہاں یہ دروازہ جو کھلا ہے، وہ یہ کہ جو کچھ بعد میں آنے والا ہے پیغام، یعنی پیغامِ الٰہی، اس پر ایمان لانا ہے۔ اب دُوسروں، مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ کوئی ایسا پیغام نہیں آنا ہے کہ جو مسلمانوں کے لئے واجب الاطاعت ہو جبراً۔ اگر کسی بزرگ پر کوئی الہام ہوتا ہے، تو وہ ہوتا ہے ان کے لئے، لیکن اُمتِ مسلمہ پابند نہیں ہے کہ وہ اس کو لازماً مانے۔ بس یہ فرق ہے۔
مرزا ناصر احمد: اور اگر کسی پر......
جناب چیئرمین: نہ، نہ،.......
مرزا ناصر احمد: ....... یہ الہام ہو نازل کہ ”قرآن کریم کو مضبوطی سے پکڑو“ تو آپ کے نزدیک یہ واجب العمل نہیں ہوگا اُمت پر؟
١٠٤
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: اُس کے کہنے کی وجہ سے نہیں ہوگا۔
Mr. Chairman: No, I don't want to enter in this. The qeustion was that the Ayat was read out, the translation was read out and the answer has come. Next question, yes. This sort of debat will not be allowed. Yes, next.
(جناب چیئرمین: میں اس بات میں نہیں آنا چاہتا۔ سوال یہ تھا کہ آیت پڑھی گئی، ترجمہ پڑھا گیا اور جواب آچکا ہے۔ اگلا سوال کریں۔ اس قسم کی بحث کی اجازت نہیں دی جاسکتی)
(Pause)
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ایک چیز ہے، وہ اصل میں جناب! وقت کی تنگی کا قصہ ہے۔
جناب چیئرمین: نہیں، آپ پوچھیں آپ، بالکل، وقت کی تنگی ہم ریگولیٹ کرلیں گے۔
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: میں ایک ایسا سوال آپ سے وضاحت کے لئے پوچھنا چاہتا ہوں جس میں ...... یہ تو بے شمار آیتیں ہیں قرآن کی جن کے متعلق مرزا صاحب نے کہا ہے کہ یہ میرے اُوپر نازل ہوئیں، وہ میں چند ایک پیش کردوں، یعنی رسول اللہ ﷺ پر نہیں، ان پر 1451 نازل ہوئی ہیں۔ لیکن بعض کے معنیٰ اس طرح کئے گئے ہیں کہ اس میں نبی کریم ﷺ کی سخت ترین توہین ہوتی ہے ......
Mr. Chairman: The first question would be .......
(جناب چیئرمین: پہلا سوال یہ ہوگا)
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: جی؟
Mr. Chairman: ...... first question would be: whether it was said by Mirza Ghulam Ahmad that certain Ayaat were revealed on him? This would be the first question. Then we will go into the second.
(کیا مرزا غلام احمد نے کہا کہ کچھ آیات مجھ پر نازل ہوئیں؟)
(جناب چیئرمین: پہلا سوال یہ ہوگا: کیا مرزا غلام احمد نے یہ کہا تھا کہ کچھ آیات اس پر نازل ہوئی ہیں؟ یہ پہلا سوال ہے، اس کے بعد دوسرے سوال کا نمبر آئے گا)
١٠٥
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ابھی میں، ابھی میں.......
(جناب چیئرمین: جی ہاں!) Mr. Chairman: Yes.
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ابھی میں ایک آیت کا.......
جناب چیئرمین: ہاں، جی، ہاں۔
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ......ترجمہ بتا رہا ہوں۔ جناب والا! آیت یہ ہے:
(عربی)
اب اس میں بشیر الدین صاحب کا ترجمہ سناتا ہوں......
جناب چیئرمین: یہ اپنا Page (صفحہ)؟
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ان کے ترجمے کا 54,55.Page (صفحہ) ہے......
(Pause)
جناب چیئرمین: سورۃ؟
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: آل عمران۔
1452 جناب چیئرمین: آل عمران۔54۔ آیت؟
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: 82, 83, 84۔
Mr. Chairman: On page.54 or from 51 to 67?
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: Yes ، ان کا ترجمہ ناں، ان کا انگریزی ترجمہ ہے آپ کے پاس؟
جناب چیئرمین: جی، میرے پاس وہی ہے۔
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: میں اُردو ترجمے سے پڑھ رہا ہوں۔
جناب چیئرمین: اچھا، ٹھیک ہے۔ (٨٠) Eighty?
Mirza Nasir Ahmad: Eighty-two?
(مرزا ناصر احمد: ٨٢؟)
Mr. Chairman: Eighty-two.
(مسٹر چیئرمین: ٨٢)
Maulana Mohammad Zafar Ahmad Ansari:
١٠٦
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
(مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ٨٢...... ) Eighty-two, eighty.......
Mr. Chairman: "And remember the time when Allah took......"
یہی ہے ناں؟ ہاں جی، پڑھیں جی۔
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: یہ آیت پھر پڑھ دوں۔
جناب چیئرمین: جی، ٹھیک ہے، پڑھی گئی ہے، آگے پوچھیں۔
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: یہ ترجمہ پڑھ دوں؟
جناب چیئرمین: ہاں جی۔
(سورۃ آل عمران آیت ٨٢ کا ترجمہ)
1453 مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ”اور اس وقت کو بھی یاد کرو جب اللہ نے اہلِ کتاب سے سب نبیوں والا پختہ عہد لیا تھا کہ جو بھی کتاب اور حکمت میں تمہیں دوں، پھر تمہارے پاس کوئی ایسا رسول آئے جو اس کلام کو پورا کرنے والا ہو جو تمہارے پاس ہے تو تم ضرور ہی اس پر ایمان لانا پھر اس کی مدد کرنا اور فرمایا تھا کہ کیا تم اقرار کرتے ہو اور اس پر میری طرف سے ذمہ داری قبول کرتے ہو؟ اور انہوں نے کہا تھا: ہاں، ہم اقرار کرتے ہیں۔ فرمایا: تم گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ایک گواہ ہوں اور جو شخص اس عہد کے بعد پھر جائے تو ایسے لوگ فاسق ہوں گے۔“
اب اس ترجمے میں مختصر سی بات میں عرض کروں کہ جہاں تک میں سمجھ سکا ہوں: (عربی)
اس کا ترجمہ کیا گیا ہے: ”تمہارے پاس کوئی ایسا رسول آئے جو اس کلام کو پورا کرنے والا ہو۔“
میرے خیال میں یہ ترجمہ اور جگہ بھی ہے کہ: ”اس کی تصدیق کرنے والا ہو۔“ یعنی کوئی چیز ادھوری نہیں رہ گئی کہ اس کو پورا کر رہا ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس کی تصدیق کر رہا ہے۔ بہرحال یہاں: (عربی)
(الفضل میں اس آیت کا منظوم ترجمہ)
کا یہ ترجمہ کیا گیا ہے۔ اس ترجمے کو ”الفضل“ میں ”عہد منظوم“ کے عنوان سے لکھا گیا ہے اور وہ تقریباً ٹھیک ہی ہے:
١٠٧
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
پھر آئے تمہارا مصدق پیغمبر تم ایمان لاؤ کرو اس کی نصرت
کہا کیا یہ اقرار کرتے ہو محکم؟ وہ بولے مقر ہے ہماری جماعت
کہا حق تعالیٰ نے شاہد رہو تم یہی میں بھی دیتا رہوں گا شہادت
جو اس عہد کے بعد کوئی پھرے گا بنے گا وہ فاسق اٹھائے گا ذلت
1454 اب اگلا شعر ہے کہ:
وہ نوح خلیل و کلیم و مسیحا سبھی سے یہ پیمان محکم لیا تھا
مبارک وہ اُمت کا موعود آیا وہ میثاق ملت کا مقصود آیا
کریں اہل اسلام اب عہد پورا بنے آج ہر ایک عبداً شکوراً
یہ ”الفضل“ جلد گیارہ نمبر ٢٧، مؤرخہ ٢٦ فروری ١٩٢٤ء
مرزا ناصر احمد: ١٩٢٤ء؟
Maulana Mohammad Zafar Ahmad Ansari:
(مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ١٩٢٤ء) جی ہاں۔ Ninteen twenty-four.
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں 1924ء۔
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: اب........
مرزا ناصر احمد: یہ نظم کس کی ہے؟
(حضور اکرم ﷺ کی توہین، نعوذ باللہ!)
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: اس نظم میں شاعر کا نام نہیں لکھا۔
تو اب اس میں دو چیزیں آتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ رسول اللہ ﷺ سے بھی یہ عہد لیا گیا تھا کہ جب آپ کے بعد کوئی نبی آئے تو آپ اس کی نصرت کریں، مدد کریں، اس کی اتباع کریں؟ اور اگر ایسا نہ کریں تو آپ فاسق ہو جائیں گے؟ نعوذ باللہ! یہ گویا میں سمجھتا ہوں کہ یہ اتنی بڑی اہانت ہے کہ کوئی مسلمان اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ پہلے تو یہ کہ اس آیت کو اس طرح 1455 سے پیش کرنا کہ سارے انبیاء سے عہد لیا گیا تھا، اور وہ ایسے تھے جن میں رسول ﷺ بھی، رسول اللہ ﷺ بھی شامل تھے، اور اس کا مصداق آنے والے نبی کا، وہ مرزا غلام احمد صاحب ہیں۔ تو
١٠٨
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
اس میں یعنی اتنی بہت سی چیزیں غلط کی گئی ہیں اور اہانت آمیز کی گئی ہیں۔ یہ بڑی تکلیف دہ شکل ہے۔
یہ چیز ٢١ ستمبر ١٩١٥ء کے ”الفضل“ میں بھی شائع ہوئی تھی:
”اللہ تعالیٰ نے سب نبیوں سے عہد لیا کہ جب کبھی تم کو کتاب اور حکمت دوں، پھر تمہارے پاس ایک رسول آئے، مصدق ہو تمام کا جو تمہارے پاس کتاب و حکمت سے ہیں، یعنی وہ رسول متبع موعود ہے، جو قرآن وحدیث کی تصدیق کرنے والا ہے اور وہ صاحب شریعت جدیدہ نہیں ہے۔ اے نبیو! تم سب ضرور اس پر ایمان لانا، اور ہر ایک طرح سے اس کی مدد فرض سمجھنا۔“
اب یہاں گویا رسول اللہ ﷺ کو تابع بنا دیا گیا ہے کہ مرزا غلام احمد صاحب...... یعنی معلوم نہیں کہ کس منطق سے یہ بات پیدا کی گئی ہے...... کہ مرزا غلام احمد صاحب جب آئیں......
مرزا ناصر احمد: یہ معانی جو آپ پہنا رہے ہیں، یہ بے عزتی کرنا ہے۔ اس میں مفہوم تو کوئی نہیں اور مجھے بڑا دکھ ہو رہا ہے آپ کے نئے معانی سن کر۔
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: دیکھئے:
جو اس عہد کے بعد کوئی پھرے گا بنے گا وہ فاسق اٹھائے گا ذلت
یہ اس سے پہلے ہے شعر......
مرزا ناصر احمد: ”کوئی پھرے گا“ کو بنا دینا نعوذ باللہ آنحضرت ﷺ کا نام 1456 لے کر۔ مجھے بڑی تکلیف ہوئی ہے آپ کے اس بیان سے۔
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: مگر یہ نظم میری تو نہیں ہے مرزا صاحب!
Mr. Chairman: There are two questions they have been coupled. One is: a different interpretation of this surat, 82-83. by the use of word "testifying" or "fulfilling". According to the generally accepted traditions and priniples of the Muslims, it shall be "testified"; but according to the interpretation put, "it shall be fulfilled by another person who will come later on". This is your question, and the poem is secondary.
١٠٩
OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
پھر آئے تمہارا مصدق پیغمبر
کہا کیا یہ اقرار کرتے ہو محکم؟
کہا حق تعالیٰ نے شاہد رہو تم
جو اس عہد کے بعد کوئی پھرے گا
1454 اب اگلا شعر ہے کہ:
وہ نوح و خلیل و کلیم وہ مسیحا
مبارک وہ اُمت کا موعود آیا
کریں اہل اسلام اب عہد پورا
یہ ”الفضل“ جلد گیارہ نمبر ٢٧،
مرزا ناصر احمد: ١٩٢٣ء؟
Zafar Ahmad Ansari: (مولانا محمد ظفر احمد انصاری
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں 24
مولانا محمد ظفر احمد انصاری:
مرزا ناصر احمد: یہ نظم کس کی۔
(حضور اکرم ﷺ
مولانا محمد ظفر احمد انصاری:
تو اب اس میں دو چیزیں آتی کہ جب آپ کے بعد کوئی نبی آئے تو آپ اور اگر ایسا نہ کریں تو آپ فاسق ہو جائیں اہانت ہے کہ کوئی مسلمان اس کا تصور بھی پیش کرنا کہ سارے انبیاء سے عہد لیا گیا اللہ ﷺ بھی شامل تھے، اور اس کا مصداق
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
(جناب چیئرمین: سوال دو ہیں، ان کو اکٹھا کر دیا گیا ہے۔ پہلا یہ کہ سورت ٨١،٨٢ میں لفظ ”تصدیق کرنا“ اور ”تکمیل کرنا“ کے مطابق عام مسلمانوں کا عقیدہ تصدیق کرنے کا ہے۔ جبکہ نئے مفہوم تعبیر کے مطابق کوئی بعد میں آنے والا اس کی تکمیل کرے گا۔ آپ کا سوال تو یہ ہے۔ نظم کی حیثیت ثانوی ہے)
Maulana Mohammad Zafar Ahmad Ansari: And that, Sir Prophet Muhammad ﷺ is not included in it.
Mr. Chairman: Yes. Then a man will come who will fulfil that. Yes, the witness may reply.
مرزا ناصر احمد: اور اگر ہمارے لٹریچر میں یہ ہو کہ یہاں جس رسول کی مدد کرنا اور نصرت کرنا، جس کا ذکر ہے، وہ نبی اکرم ﷺ ہیں؟
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: تو جناب والا! کیا یہ انہی (ﷺ) سے پھر یہ عہد لیا گیا کہ تم اپنی مدد کرنا؟ یعنی یہ تو ہے ناں: ”وہی عہد حق نے لیا مصطفیٰؐ سے“
مرزا ناصر احمد: میں یہ نہیں کہہ رہا۔ میری بات سنیں۔ مجھے افسوس ہے میں اپنی بات نہیں سمجھا سکا......
جناب چیئرمین: پہلے قرآن مجید کی بات کر لیں جی، اس کے بعد نظم کی بات کر لیں گے کہ نظم whether it relates to that or not, that is second question (آیا اس کا تعلق ہے یا نہیں، یہ الگ بات ہے)
مرزا ناصر احمد: بانی سلسلہ احمدیہ نے اس کے معنی، اس رسول کے اصل معنی یہ کئے ہیں...... نبی اکرم ﷺ۔
1457
جناب چیئرمین: اب نظم ہے، اس میں یعنی یہاں یہ ہے کہ جو احمدی نہیں ہے اس کو شبہ پڑ جائے گا، لیکن جو احمدی ہیں وہ اس کے علاوہ اور کوئی معانی نہیں لیں گے کہ حضرت بانی سلسلہ، جیسا کہ انہوں نے متعدد جگہ فرمایا، نبی اکرم ﷺ کی نسبت سے احقر الغلمان ہیں آپ کے۔ ہر احمدی، چھوٹا بڑا، مرد عورت، یہ مانتا ہے۔ کوئی جرات ہی نہیں کر سکتا۔ میں اس وقت سے پریشان ہو گیا ہوں یہ بات سن کر کہ یہ کیا معانی آپ کر گئے یہاں۔
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: میں نے تو کوئی معانی نہیں کئے۔ دیکھئے، اگر رسول
١١٠
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
اللہ ﷺ کی نصرت مقصود ہوتی تو پھر خود رسول اللہ ﷺ سے عہد لینے کا کیا سوال تھا؟ یہ میں پھر آپ سے پڑھ دیتا ہوں:
وہی عہد حق نے لیا مصطفیٰ سے“
مرزا ناصر احمد: ان کے، قطع نظر اس تفصیل کے، کیونکہ اس کا جواب بڑا تفصیلی ہے، میں کوئی دس پندرہ کتابیں لاؤں اور بتاؤں۔ یہ کس نے کہا کہ انسان کو یہ حکم ہے کہ وہ اپنی مدد نہ کیا کرے؟ قرآن کریم میں تو یہ کہیں نہیں۔ قرآن کریم میں تو یہ ہے کہ اپنی مدد کرو، اور احادیث میں بھی یہ ہے کہ اپنی مدد کرو۔ تو یہ پوائنٹ جو آپ نے نکالا ہے، یہ دُرست تو نہیں ہے۔
Mr. Chairman: Next question.
(جناب چیئرمین: اگلا سوال)
مرزا ناصر احمد: اور اگر چاہیں تو ہم تحریریں مسیح موعود کی ساری پیش کر دیں گے۔
جناب چیئرمین: ٹھیک ہے۔
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: آپ کا جواب آ گیا، یعنی رسول اللہ ﷺ سے یہ عہد لیا تھا کہ آپ اپنی مدد کرتے رہیں۔
جناب چیئرمین: بس وہ ہو گیا۔
1458 مرزا ناصر احمد: رسولوں سے یہ عہد لیا گیا کہ وہ اپنی اُمتوں کو وصیت کرتے جائیں کہ ایک عظیم پیغمبر حضرت خاتم الانبیاء محمد ﷺ کے وجود میں ظاہر ہونے والا ہے، اور تم اس کی مدد کرنا جب وہ ظہور ہو۔ اس سلسلے میں میں اپنے خطبات کا مجموعہ جو تعمیر کعبہ کے متعلق ہے، وہ میں بھجواؤں گا، وہ آپ پڑھ لیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے صدیوں اپنی اُمت کو تیار کیا حضرت نبی اکرم ﷺ کو قبول کرنے کے لئے۔ تو جو ہم ہر روز اپنے بڑوں اور چھوٹوں کو بتاتے رہتے ہیں، اس کے اُلٹ معنی جو لینے ہیں، وہ میرے خیال میں دُرست نہیں۔
Mr. Chairman: Next question.
(جناب چیئرمین: اگلا سوال)
(وہ آیات جن کے بارہ میں مرزا قادیانی نے کہا کہ یہ مجھ پر نازل ہوئیں)
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: اب وہ ایک بہت لمبا سلسلہ ہے۔ یہ ”حقیقۃ الوحی“
١١١
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
سے میں پڑھ رہا ہوں...... اور بھی کتابوں میں بھی ہے...... کہ جو مرزا صاحب پر وحی نازل ہوئی تھی:
(عربی)
ترجمہ:... ”ایک ایسا امر آسمان سے نازل ہو گا جس سے تو خوش ہو جائے گا۔“
(حقیقت الوحی ص ٧٤، خزائن ج ٢٢ ص ٧٧)
اس کے بعد ہے: ”انا فتحنا لك فتحا مبینًا“
(حقیقت الوحی ص ٧٤، خزائن ج ٢٢ ص ٧٧)
اب یہ وہ آیت ہے کہ جو صلح حدیبیہ کے وقت سارے لوگ جانتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوئی۔ میں ایسی ہی یہاں مثالیں چند دیتا چلا جاؤں گا: ”وداعیا الی اللہ وسراجا منیرا“
(حقیقت الوحی ص ٧٥، خزائن ج ٢٢ ص ٧٨)
یہاں بھی ”باذنہ“ نہیں ہے۔
ترجمہ: ”اور خدا کی طرف سے بلاتا ہے اور ایک چمکتا ہوا چراغ۔“
پھر اس کے بعد معراج کی کیفیت میں رسول اللہ ﷺ کے شرف کے سلسلے میں یہ آیا ہے: ”دنیٰ فتدلی فکان قاب قوسین او ادنیٰ“
(حقیقت الوحی ص ٧٦، خزائن ج ٢٢ ص ٧٩)
1459 ترجمہ: ”وہ خدا سے نزدیک ہوا، پھر مخلوق کی طرف جھکا اور خدا اور مخلوق کے درمیان ایسا ہو گیا جیسا کہ دو قوسوں کے درمیان۔“
یہ ”مخلوق کی طرف جھکا“ یہ تو میں نہیں سمجھا، لیکن یہ کہ یہ آیت ہے کہ مرزا صاحب نے اپنے بارے میں کہا ہے کہ مجھ پر نازل ہوئی۔
آگے ہے معراج شریف کے متعلق بڑی مشہور آیت ہے: ”سبحٰن الذی اسریٰ بعبدہٖ لیلًا“
(حقیقت الوحی ص ٧٨، خزائن ج ٢٢ ص ٨١)
یہاں صرف یہاں تک ہے: (عربی)
(وہ پاک ذات وہی ہے خدا ہے جس نے ایک رات میں تجھے سیر کرا دیا)
آگے آتا ہے جو حضرت آدم (علیہ السلام) کے متعلق آیت ہے کہ: ”انی جاعلک للناس امامًا“
(حقیقت الوحی ص ٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ٨٢)
نہیں، یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے ہے: ”للناس امامًا“
(ایضاً)
(میں لوگوں کے لئے تجھے امام بناؤں گا)
اب یہ انہوں (مرزا) نے کہا کہ ان (مرزا) کے لئے اتری۔
١١٢
1473 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
بہر حال، میں یہ ”حقیقت الوحی“ انہی کا، سب کے ....... بیچ کے میں چھوڑے دے رہا ہوں، لیکن جہاں.......
(Interruption)
Mr. Chairman: I will request Saiyid Abbas Husain to talk privately to Ansari Sahib when he has finished the question.
(جناب چیئرمین: میں سید عباس حسین صاحب سے درخواست کروں گا کہ جب انصاری صاحب سوال ختم کر لیں تو وہ ان سے علیحدگی میں بات کریں)
1460 مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ...... آگے پیچھے کی میں عبارتیں چھوڑ دیتا ہوں، جو قرآن کی آیتیں نہیں، ورنہ جیسے: (عربی)
یہ تو میرے خیال میں قرآن کی آیت نہیں۔ آگے ہے: ”قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ“
(حقیقت الوحی ص ٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ٨٢)
(ان کو کہہ دو کہ تم خدا سے محبت کرتے ہو تو آؤ میری پیروی کرو تا کہ خدا بھی تم سے محبت کرے)
یہ رسول اللہ ﷺ کی طرف اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔
اس کے بعد ایک بہت ہی مشہور آیت جو مسلمان ہی نہیں غیر مسلم بھی جانتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ: ”وما ارسلنک الا رحمۃ للعلمین“
(حقیقت الوحی ص ٨٢، خزائن ج ٢٢ ص ٨٥)
اب مرزا صاحب کا یہ دعویٰ ہے کہ یہ آیت بھی ان کے لئے نازل ہوئی۔
آگے بھی یہ قرآن کی آیت ہے۔ سورۂ فتح کی ابتدائی آیات ہیں کہ: ”انا فتحنا لک فتحا مبینا۔ لیغفر لک اللہ ما تقدم من ذنبک وما تأخر۔“
(حقیقت الوحی ص ٩٤، خزائن ج ٢٢ ص ٩٧)
(میں ایک عظیم فتح تجھ کو عطا کروں گا جو کہ کھلم کھلا فتح ہو گی تا کہ خدا تیرے تمام گناہ بخش دے جو پہلے تھے اور جو پچھلے ہیں) یہ یہاں پر اپنی طرف سے بڑھا دیا انہوں نے۔
”لا تثریب علیکم الیوم یغفر اللہ لکم“
(حقیقت الوحی ص ١٠٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٢)
١١٣
PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
سے میں پڑھ رہا ہوں..... اور بھی کتابوں
ترجمہ:... ’ایک ایسا امر آسمان
اس کے بعد ہے: ”انا فتحنا
اب یہ وہ آیت ہے کہ جو آپ اللہ ﷺ پر نازل ہوئی۔ میں ایسی ہی یہاں وسراجا منیرا“
یہاں بھی ”باذنہ“ نہیں ہے۔ ترجمہ: ”اور خدا کی طرف سے
پھر اس کے بعد معراج کی آیت ہے: ”دنی فتدلی فکان قاب قوسین
1459 ترجمہ: ”وہ خدا سے نز
درمیان ایسا ہو گیا جیسا کہ دو قوسوں کے
یہ ”مخلوق کی طرف جھکا“ یہ اپنے بارے میں کہا ہے کہ مجھ پر نازل ہو
آگے ہے معراج شریف کے
بعبدہ لیلا“
یہاں صرف یہاں تک ہے (وہ پاک ذات وہی ہے خدا آگے آتا ہے جو حضرت آدم
للناس اماما“
نہیں، یہ حضرت ابراہیم علیہ (میں لوگوں کے لئے تجھے ا
اب یہ انہوں (مرزا) نے ک
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
1461 یہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہا تھا اپنے بھائیوں سے، جب انہیں کامیابی حاصل ہوگئی تھی۔
اب اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کے لئے اللہ تعالیٰ نے سورہ کوثر نازل کی۔ (عربی)
یہ بھی اُوپر اُردو کی وحی ہے:
”بہت سے سلام میرے تیرے پر ہوں۔“
(حقیقت الوحی ص١٠٢، خزائن ج٢٢ ص١٠٥)
(عربی)
یہ شاید قرآن کی آیت نہیں ہے، لیکن اس کے بعد والی جو ہے وہ قرآن ہی کی آیت ہے: ”انا اعطینٰک الکوثر“
(حقیقت الوحی ص١٠٢، خزائن ج٢٢ ص١٠٥)
اب اُس کے بعد پھر ایک آیت قرآن کی ہے: ”اراد اللّٰہ ان یبعثک مقاما محمودا“
(حقیقت الوحی ص١٠٢، خزائن ج٢٢ ص١٠٥)
پھر اُردو کی وحی شروع ہوگئی ہے کہ: ”دو نشان ظاہر ہوں گے۔“
پھر قرآن کی ایک آیت آتی ہے:
”وامتازوا الیوم ایھا المجرمون“
(ایضاً)
پھر قرآن کی یہ آیت ہے:
”یکاد البرق یخطف ابصارھم“
(ایضاً)
پھر قرآن ہی کی آیت ہے:
”ھذا الذی کنتم بہ تستعجلون“
(ایضاً)
اب اُس کے بعد پھر ہے کہ:
”ان اللّٰہ رؤف الرحیم“
(ایضاً)
1462 نہیں، یہ قرآن کی آیت نہیں ہے۔
وغیرہ، وغیرہ، اسی طرح۔ بہر حال یہ تو ایک لامتناہی سلسلہ ہے۔ میں نے مثال کے طور پر.......
جناب چیئرمین: ہاں، مثال یعنی۔ لیکن Question (سوال) کیا ہے؟ What is the question? (سوال کیا ہے؟)
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: Question (سوال) یہ ہے کہ قرآن کریم کی یہ
١١٤
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
ایک بہت کھلی ہوئی تحریف ہے کہ جن آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے حضور محمد رسول اللہ ﷺ کو خطاب کیا ہے ان سے، اس خطاب کو اپنی طرف لے لیا کہ یہ ”خطاب مجھ سے ہے کہ ہم نے تجھ کو کوثر دیا ہے“ پھر آخری آیت بھی ہے، وہ بھی کسی جگہ آتی ہے کہ :”ان شانئک هو الابتر“
(حقیقت الوحی ص ٣٣٥، خزائن ج ٢٢ ص ٣٤٨)
(تیرا دشمن جو ہے وہ تباہ ہوگا، برباد ہوگا)
”کہ وہ بھی میری طرف آتی ہے ۔“ اسی طرح رسول اللہ ﷺ کی شان میں ہے کہ: ”ورفعنا لک ذکرک“
(تذکرہ ص ٩٤، طبع ٣)
(اور ہم نے آپ کے ذکر کو بلند کیا، اُونچا کیا)
یہ بھی ، یعنی اس جگہ تو مجھے نہیں ملی، لیکن یہ بھی مرزا صاحب نے کہا ہے کہ :”یہ میرے لئے اُتری ہے ۔“ اور اس طرح کی بے شمار آیتیں ہیں :”یس انک لمن المرسلین“
(تذکرہ ص ٧٩، طبع ٣)
اب یہاں اللہ تعالیٰ آپ کے لئے وہ فرماتے ہیں ، قرآن حکیم کی قسم کھا کے ، آپ رسولوں میں سے ہیں۔
تو میں سمجھتا ہوں کہ اتنی مثالیں کافی ہیں اس بات کے لئے ۔
Mr. Chairman: Yes, So, the question is......
(جناب چیئرمین: جی ہاں تو سوال ہے .......)
¹⁴⁶³ مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ہاں، ایک سوال اور ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا قول ہے جو قرآن کریم میں آیا ہے :”مبشراً برسول یأتی من بعدی اسمه احمد (الصف:٦)“
”میں بشارت دیتا ہوں ایک ایسے رسول کی جو میرے بعد آئیں گے اور ان کا نام احمد ہوگا)
وہ متفقہ طور پر سب نے یہی سمجھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی مقصود ہے، لیکن مرزا (محمود) صاحب کا یہ کہنا ہے کہ وہ ان (مرزا قادیانی) کے لئے ہے۔
Mr. Chairman: Is it finished?
(جناب چیئرمین: کیا سوال ختم ہوا؟)
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: میرے خیال میں تو اتنی مثالیں کافی ہیں۔
Mr. Chairman: The question is that where the
١١٥
AKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
¹⁴⁶¹ یہ حضرت یوسف (علیہ حاصل ہو گئی تھی۔
اب اس کے بعد رسول اللہ یہ بھی اُوپر اُردو کی وحی ہے : ”بہت سے سلام میرے تیـ
یہ شاید قرآن کی آیت نہیں ہے:”انا اعطینک الکوثر“
اب اُس کے بعد پھر ایک آ محموداً“
پھر اُردو کی وحی شروع ہو گئی پھر قرآن کی ایک آیت آتی ”وامتازوا اليوم ايها المجـ
پھر قرآن کی یہ آیت ہے: ”یکاد البرق يخطف ابصـ
پھر قرآن ہی کی آیت ہے : ”هذا الذی کنتم به تستـ
اب اُس کے بعد پھر ہے کہ ”ان الله رؤف الرحیم“
¹⁴⁶² نہیں، یہ قرآن کی آیت وغیرہ، وغیرہ، اسی طرح۔ طور پر.......
جناب چیئرمین: ہاں (
What is the question? (Mr
مولانا محمد ظفر احمد انصار
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
Holy Prophet has been adressed, Mirza Sahib has taken it to himself. This is the question in short. Yes.
(جناب چیئرمین: سوال یہ ہے کہ (اللہ تعالیٰ نے) جو خطاب نبی کریم ﷺ کو فرمایا ہے، مرزا صاحب (غلام احمد) نے ان کو اپنی طرف منسوب کرلیا ہے۔ مختصر یہ سوال ہے)
مرزا ناصر احمد: جو بات میں سمجھا ہوں، وہ سوال یہ ہے کہ قرآن کریم کی آیات اُمتِ محمدیہ میں کسی پر نازل نہیں ہوتیں۔ کیا میں صحیح سمجھا ہوں؟
جناب چیئرمین: نہیں، ان کا سوال یہ ہے کہ رسول اکرم (ﷺ) کے متعلق، ان کو خصوصی طور پر خطاب کیا گیا تھا، بتایا گیا تھا، وہ مرزا صاحب نے اپنے اُوپر کہ ”مجھے وہ خطاب کیا گیا ہے۔“ یہ سوال ہے۔
مرزا ناصر احمد: یہاں یہ سوال ہے کہ جو آیات قرآن کریم میں نبی اکرم ﷺ کے لئے آئی ہیں، ان کے متعلق بانی سلسلہ احمدیہ نے کہا کہ: ”یہ میرے لئے آئی ہیں......“
جناب چیئرمین: ”میرے لئے آئی ہیں۔“
مرزا ناصر احمد: ”...... اور محمد ﷺ کے لئے نہیں آئیں۔“
جناب چیئرمین: نہیں، نہیں، نہیں.......1464
Mr. Yahya Bakhtiar: If I am permitted? (جناب یحییٰ بختیار: اگر مجھے اجازت ہو؟)
Mr. Chairman: Yes. (جناب چیئرمین: جی ہاں)
جناب یحییٰ بختیار: وہ مطلب ان کے آسکتے ہیں۔ ایک تو مرزا صاحب نے ان کو کہا کہ ان کے لئے پھر Repeat (دُہرائی) ہوئی ہیں، the Same applies to ......him
Mr. Chairman: Yes, this can be also, this can be interpreted also. (جناب چیئرمین: اس کا مفہوم بھی بتایا جائے)
جناب یحییٰ بختیار: یہ ایک دفعہ ان پر آئیں، ان کے لئے۔ پھر Repeat کی گئیں۔ یہ بھی نبی ہیں، یہ ان کے لئے...... میں Repeat (دُہرا) کر رہا ہوں...... اللہ تعالیٰ نے کہا ”میرے متعلق یہ کہا۔“ پھر یہ مولانا صاحب......
١١٦
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
Maulana Mohammad Zafar Ahmad Ansari: In some editions. With some additions.
(مولانا ظفر احمد انصاری: کچھ اضافے کے ساتھ)
جناب یحییٰ بختیار: اور پھر بیچ میں کہ Alteration کر کے اور بیچ میں Add (جمع) ہو گیا۔
جناب چیئرمین: نہیں، بالکل، یہ Definite (قطعی) نہیں ہوگا۔ کئی ہیں جو Definite Occasions (قطعی مقامات) کے متعلق ہیں۔ مثلاً فتح مبین جو ہے حدیبیہ کے وقت جو آئی تھی......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، وہ کہتے ہیں وہاں تو آئی تھی، لیکن مرزا صاحب کہہ رہے ہیں کہ ”اس موقع پر مجھے یہ وحی آئی۔“
جناب چیئرمین: اچھا۔ Yes۔
جناب یحییٰ بختیار: اُس میں یہ باتیں، پھر یہ بھی قرآن کی جو وحی ہے وہ بھی بیچ میں آگئی۔
Mr. Chairman: Yes, the witness may reply.
(جناب چیئرمین: جی ہاں، گواہ جواب دے)
مرزا ناصر احمد: 1465 جہاں تک آیات قرآنی بطور وحی کے صلحائے اُمت پر نازل ہونے کا سوال ہے، ہمارا اُمت مسلمہ کا لٹریچر اس سے بھرا ہوا ہے۔ میں چند مثالیں دیتا ہوں۔
”فتوح الغیب“ میں ہے، حضرت سید عبدالقادر جیلانی کو وہ آیت کئی بار الہام ہوئی جو حضرت موسیٰ ؑ کی اعلیٰ شان کے لئے اُتری تھی: (عربی)
”فتوح الغیب“ مقالہ چھ مطبوعہ ....... ہندو نام ہے، مجھ سے نہیں پڑھا جاتا ......
ایسا ہی حضرت یوسف علیہ السلام کی اعلیٰ شان والی آیت بھی الہام ہوئی: (عربی)
یہ بھی ”فتوح الغیب“ میں ہے۔
حضرت مولوی عبداللہ غزنوی امرتسری کے الہامات میں ہے۔
غیب سے تاکید آیت: (عربی)
”یہ جو آنحضرت ﷺ کے متعلق ہے، یہ مضمون مجھے الہام ہوا۔“
Mr. Chairman: So, the answer is that Ilham (الہام)
OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
Mirza Sahib has taken it to hort. Yes.
(جناب چیئرمین: سوال یہ ہے، مرزا صاحب (غلام احمد) نے ان کو اپنی
مرزا ناصر احمد: جو بات میں اُمتِ محمدیہ میں کسی پر نازل نہیں ہوتیں۔ کیا
جناب چیئرمین: نہیں، ان خصوصی طور پر خطاب کیا گیا تھا، بتایا گیا تھا گیا ہے۔“ یہ سوال ہے۔
مرزا ناصر احمد: یہاں یہ سوال لئے آئی ہیں، ان کے متعلق بانی سلسلہ احمد
جناب چیئرمین: ”میرے
مرزا ناصر احمد: ”..... اور محمد
جناب چیئرمین: نہیں 1464
I am permitted?
(جناب یحییٰ بختیار: اگر مجھے
(جناب چیئرمین: جی ہاں
جناب یحییٰ بختیار: وہ مطلب کہ ان کے لئے پھر Repeat (دُہ
......him s can be also, this can be
(جناب چیئرمین: اس کا معن
جناب یحییٰ بختیار: یہ ایک گئیں۔ یہ بھی نبی ہیں، یہ ان کے لئے نے کہا ”میرے متعلق یہ کہا۔“ پھر یہ مولانا
؎ آپ کے سمجھنے نہ سمجھنے کا سوا
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
(جناب چیئرمین: تو جواب اس کا الہام ہے) ......
Mr. Yahya Bakhtiar: My point is: you accept that Mirza Sahib has said this? Then after that the explanation......
مرزا ناصر احمد: میں یہ Accept (قبول) کرتا ہوں کہ اُمت مسلمہ کے عام اُصول کے مطابق، Accepted (تسلیم شدہ) قرآن کریم کی آیات اُمت کے اولیاء پر نازل ہوسکتی ہیں اور جو آیات انہوں نے پڑھی ہیں، اگر وہ دُرست پڑھی گئی ہیں تو وہ حضرت مرزا صاحب پر نازل ہوئیں۔
Mr. Chairman: ٹھیک ہے۔ The question is answered.
The next question.
(جناب چیئرمین: سوال کا جواب دے دیا گیا ہے۔ اگلا سوال کریں)
1466 مرزا ناصر احمد: اب میں اس کو ....... ہاں۔
Mr. Chairman: Yes, now the witness can explain.
(جناب چیئرمین: جی ہاں، اب گواہ وضاحت کر سکتا ہے)
ہاں، ہاں، جواب دے سکتے ہیں۔
مرزا ناصر احمد: اسی رات کو ....... یہ بھی مولوی عبداللہ صاحب غزنوی امرتسری ...... اسی رات کو یہ الہام ہوا: (عربی)
دوسری بار یہ الہام ہوا: (عربی)
تیسری بار یہ الہام ہوا: (عربی)
ان دنوں یہ الہام ہوا: (عربی)
اور پھر یہ انہیں، مولوی عبداللہ غزنوی صاحب پر یہ الہام ہوا: (عربی) یہ آنحضرت ﷺ کے متعلق ہے آیت۔ عبداللہ غزنوی صاحب کہتے ہیں: ”یہ مجھ پر الہام ہوئی ہے۔“ انہی دنوں میں ان پر الہام ہوا: (عربی) الہام ہوا....... یہ مجھے افسوس ہے کہ لکھنے والے نے کہیں لفظی غلطی کر دی ہے۔ یہ ہاتھ کا لکھا ہوا ہے، اکٹھے کئے ہوئے: (عربی)
١١٨
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
1467 جو قرآن کریم کے متعلق ہے ناں، کہ ”قرآن کریم تم پر نازل ہو رہا ہے، اس وقت یہ کرو“ آنحضرت ﷺ کو یہ حکم ہے اور ان کو یہ الہام ہوا۔ دہلی میں یہ الہام ہوا: (عربی) پھر تین بار الہام ہوا: (عربی) یہ حکم ہے حج کا، آنحضرت ﷺ پر الہام ہوا اور عبداللہ غزنوی پر بھی الہام ہوا۔ اور الہام ہوا: (عربی) آنحضرت ﷺ کو مخاطب کر کے کہا گیا کہ: ”اللہ تعالیٰ اتنی عطا تجھے کرے گا کہ تو اس سے راضی ہو جائے گا۔“ وہ جو آتا ہے ناں Saturation Point (انتہائی مرحلہ) کا آئیڈیا، عربی میں یہ الفاظ ادا کرتے ہیں۔ الہام ہوا: (عربی) اور یہ ’بفضل‘ ہے.......جی؟
(الہام اور وحی میں کیا فرق ہے؟)
جناب یحییٰ بختیار: الہام اور وحی میں کیا فرق ہے؟ کیا مرزا صاحب کو الہام ہوا یا وحی آئی؟ ایک تو یہ۔ دوسرے جو مولوی عبداللہ غزنوی کا آپ کہہ رہے ہیں کہ ان کو قرآن کی آیات کے علاوہ جو الہام ہے، کوئی اپنی طرف سے بھی کوئی اور چیز بھی آئی؟ مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، اپنی طرف سے بھی ہے، ہاں جی۔ جناب یحییٰ بختیار: ہاں، وہ بھی Explain (واضح) کر دیں۔ مرزا ناصر احمد: یہ ضمناً میں بتا دیتا ہوں۔ ایک دفعہ ہمارے ایک اسکالر عارضی طور پر فارغ 1468 تھے۔ پھر میں نے انہیں کہا کہ سلف صالحین کی کتب کا مطالعہ کرو اور ان کی وحی، وحی، ”وحی“ کے لفظ سے اور الہام، کشف اور رؤیا اکٹھے کرو۔ تو وہ چار کاپیاں بڑی سائز کی اکٹھی کر کے انہوں نے مجھے دیں اور ابھی شاید وہ ایک بٹا ہزار ہو ہمارے لٹریچر کا۔ تو یہ کہنا کہ پہلے سلف صالحین میں سے نہ وحی کے نزول پر ایمان لاتے تھے، نہ الہام کے، نہ کشف کے، نہ رؤیا کے، تو یہ تو ویسے ہماری تاریخ اس کو غلط ثابت کرتی ہے۔ لیکن مثلاً اب تو یہاں تک کہ ایک پچھلے سال ہمارے پاکستان کے اخبار میں یہ کوئی فتویٰ....... بڑا وہ ہے چھوٹے درجے کا فتویٰ....... لیکن یہ فتویٰ ہو گیا کہ
١١٩
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
کسی مسلمان کو سچی خواب نہیں آسکتی۔ تو اس قسم کی باتیں جو ہیں وہ تو اسلام کو نقصان پہنچانے والی ہیں، ان کو فائدہ پہنچانے والی نہیں۔ خیر، میں اب چھوڑتا ہوں اس کو۔ یہ ”احمد“، یہ ”احمد“ کی جو بات ہے ناں......
(مرزا قادیانی کو الہام آیا یا وحی آئی؟)
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں نے کہا کہ مرزا صاحب کو وحی آئی تھی یا الہام آیا تھا؟ یہ جو ذکر یہاں تھا Parallel ہے اس کے......
مرزا ناصر احمد: میں جواب دوں یا...... ”مسلم“ حدیث شریف کی کتاب ہے اور آنحضرت کے وہ ہیں: (عربی)
جناب یحییٰ بختیار: وہ تو مرزا صاحب کا جواب نہیں دیں گے ناں جی، میں آپ سے پوچھ رہا ہوں۔ مرزا صاحب کیا کہتے ہیں کہ وحی آئی ہے یا الہام؟
مرزا ناصر احمد: جو ”مسلم“ کہتی ہے، وہی مرزا صاحب کہتے ہیں......
جناب یحییٰ بختیار: اچھا جی۔
مرزا ناصر احمد: ”...... اوحی اللہ تعالیٰ“ (وحی کی اللہ تعالیٰ نے) 1469 (عربی)
یہاں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ پر، جب وہ آئیں گے، یہ وحی کریں گے کہ یہ اس زمانے میں، ان کے نزول کے وقت، دنیا کی دو طاقتیں اتنی زبردست ہو جائیں گی کہ دوسرے ان سے جنگ مادی ذرائع سے نہیں کر سکیں گے۔ اس واسطے میری اُمت کے لوگوں کو کہو کہ ان سے جنگ کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کر کے دُعاؤں میں لگے رہیں، اور اللہ تعالیٰ حسبِ بشارات ان کو ہلاک ضرور کر دے گا، بغیر اس کے کہ اُمت کو ان کے ساتھ مادی جنگ اور لڑائی کرنی پڑے اور جیسا کہ شرائطِ جہاد میں ہے کم از کم نصف طاقت ہونی چاہئے تب جہاد بنتا ہے ورنہ جہاد ہی نہیں بنتا۔ اب اس حدیث میں جو ”مسلم“ کی ہے، اللہ تعالیٰ نے آنے والے مسیح کے لئے، نبی اکرم ﷺ نے آنے والے مسیح کے لئے ”وحی“ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ اصل میں اس میں فرق صرف یہ ہے، یعنی یہ عقیدہ کہ وحی آسکتی ہے یا نہیں؟ ہم جب یہ سمجھتے ہیں کہ وحی آسکتی ہے تو ہمارے نزدیک اولیائے اُمت جو پہلے تھے ان پر بھی وحی نازل ہوئی۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ شہد کی مکھی پر وحی نازل ہوئی ہے۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ حضرت عیسیٰ کے حواریوں پر بھی وحی نازل ہوتی
١٢٠
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
ہے۔ اسی طرح یہ قرآن کے محاورے ہیں اور موجودہ تحقیق کہتی ہے کہ شہد کی مکھی ہر انڈا جب دیتی ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے بتایا جاتا ہے کہ اس کے اندر نر ہے یا مادہ، اور مختلف جگہوں پر اپنے چھتے میں رکھتی ہے۔ تو ایک یہ خیال پیدا ہو گیا۔ یہاں یہ بحث نہیں ہے کہ آیا وہ خیال درست ہے، کیونکہ وہ ایک لمبی بحث ہے کہ وحی آسکتی ہے یا نہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں، کہتے چلے آئے ہیں شروع سے لے کر اب تک، سلف صالحین میں سے بھی، اور آج ہم ان میں شامل ہو گئے کہ وحی آسکتی ہے۔ دوسرے لوگ کہتے ہیں کہ وحی نہیں آسکتی۔ جو کہتے ہیں کہ وحی نہیں آسکتی، ان میں سے ایک کہتا ہے کہ وحی نہیں آسکتی، الہام آسکتا ہے۔ ایک اور گروہ ہے جو کہتا ہے کہ وحی بھی نہیں آسکتی، الہام نہیں آسکتا، بلکہ ....... وحی کے متعلق ایک محاورہ میرے ذہن میں نہیں آ رہا، یعنی ”وحی“، ”الہام“ کا لفظ چھوڑ کے اور۔ یہ آگیا، ذہن میں پھر رہا ہے۔ بہرحال میرے 1470 ذہن میں نہیں ہے۔ انہی میں ایک اور چیز ہے آگے ”القاء“۔ القاء بھی اور القاء کے علاوہ بھی۔ تو اب یہ اس طرح چلا آیا ہے اُمت میں ہے۔
(مرزا قادیانی کے بعد کسی پر وحی آسکتی ہے؟)
جناب یحییٰ بختیار: اس لئے میں نے صرف یہ پوچھا ہے، آپ صرف یہ Clarify (وضاحت) کریں کہ مرزا صاحب کے بعد بھی وحی کسی پر آسکتی ہے؟ یہ آپ کا کیا خیال ہے؟ مرزا ناصر احمد: جی، آسکتی ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: الہام اور وحی؟ مرزا ناصر احمد: الہام ہو یا وحی۔ جناب یحییٰ بختیار: وحی بھی آسکتی ہے؟ مرزا ناصر احمد: الہام اور وحی کے لئے شریعت کی ...... جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وحی اس کے بعد بھی آسکتی ہے؟ مرزا ناصر احمد: وحی کا دروازہ کبھی بند ہوا، نہ ہوسکتا ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: بس ٹھیک ہے جی۔ جناب چیئرمین: مولانا ظفر احمد انصاری! مرزا ناصر احمد: پہلے بھی نہیں ہوا۔
١٢١
ISTAN 24th Aug, 1974 No:11
کسی مسلمان کو سچی خواب نہیں آسکتی ہیں، ان کو فائدہ پہنچانے والی نہیں۔ یہ ”احمد“، یہ ”احمد“ کی ج
(مرزا قا
جناب یحییٰ بختیار: یہ جو ذکر یہاں تھا Parallel ہے مرزا ناصر احمد: میں آنحضرت کے وہ ہیں: (عربی) جناب یحییٰ بختیار: سے پوچھ رہا ہوں۔ مرزا صاحب ک مرزا ناصر احمد: جو ” جناب یحییٰ بختیار: ا مرزا ناصر احمد: ”
یہاں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ زمانے میں، ان کے نزول کے وقت سے جنگ مادی ذرائع سے نہیں کر جنگ کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کی بشارات ان کو ہلاک ضرور کر دے گا پڑے اور جیسا کہ شرائط جہاد میں ہ ہی نہیں بنتا۔ اب اس حدیث میں اکرم ﷺ نے آنے والے مسیح کے صرف یہ ہے، یعنی یہ عقیدہ کہ وحی ہمارے نزدیک اولیائے اُمت جو مکھی پر وحی نازل ہوئی ہے۔ قرآ
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
”احمد“ کے متعلق انہوں نے جو فرمایا ہے ناں، اس کا جواب رہ گیا۔
جناب چیئرمین: ہاں، فرمائیے۔
مرزا ناصر احمد: انہوں نے فرمایا کہ ”احمد“ اپنے لئے استعمال کیا، حالانکہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے ”احمد“ کی تفسیر جو کی ہے وہ صرف نبی اکرم ﷺ کے لئے، اور خود بھی کہا ہے، یعنی ظلی اور انعکاسی طور پر۔ جیسے کل میں نے دو شعر کے بعد ایک تیسرا پڑھا گیا تو واضح ہو گیا تھا سوال۔ اب یہاں یہ ہے ”الفضل“ ١٠؍اگست اور اس کا حوالہ ہے۔ ”نجم الہدیٰ“ بانی سلسلہ احمدیہ کی کتاب:
1471 ”اور ان لوگوں یعنی رسولوں، نبیوں، ابدالوں اور ولیوں کے اپنے بعض معارف اور علوم اور نعمتیں بتوسط عالموں اور قطبوں اور احسان کرنے والوں کے پائی تھیں۔ مگر ہمارے نبی ﷺ نے جو کچھ پایا جناب الٰہی سے پایا اور جو کچھ ان کو ملا اسی چشمۂ فضل اور عطا سے ملا۔ پس دُوسروں کے دل حمد الٰہی کے لئے ایسے جوش میں نہ آسکے جیسے کہ ہمارے نبی ﷺ کا دل جوش میں آیا کیونکہ ان کے ہر ایک کام کا خدا ہی متولی تھا۔ پس اسی وجہ سے کوئی نبی یا رسول پہلے نبیوں اور رسولوں میں سے احمد کے نام سے موسوم نہیں ہوا، کیونکہ ان میں سے کسی نے خدا کی توحید و ثناء ایسی نہیں کی جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے اور ان کی نعمتوں میں سے انسان کے ہاتھ کی...... نہیں، اور ان کی نعمتوں میں انسان کے ہاتھ کی...... تھی اور آنحضرت ﷺ کی طرح ان کو تمام علوم بے واسطہ نہیں دیئے گئے (پہلوں کو) اور ان کے تمام اُمور کا بلا واسطہ خدا متولی نہیں ہوا اور نہ تمام اُمور میں بے واسطہ ان کی تائید کی گئی۔ پس کامل طور پر بجز آنحضرت ﷺ کے کوئی مہدی نہیں اور نہ کامل طور پر بجز آنجناب کے کوئی احمد ہے اور یہ وہ بھید ہے جس کو محض ابدال کے دل سمجھتے ہیں اور کوئی دُوسرا سمجھ نہیں سکتا۔“
اچھا، پھر آپ کہتے ہیں اپنے الہامات کے متعلق، انبیاء سے متعلق، آیاتِ قرآنی جو ابھی ہے ناں مسئلہ زیر بحث...... ”براہین احمدیہ“ کے صفحہ ٤٨٨-٤٨٩ پر یہ ہے:
”ان کلمات کا حاصل مطلب تلطفات اور برکاتِ الٰہیہ ہے جو حضرت خیر الرسل کی متابعت کی برکت سے ہر ایک کامل مؤمن کے شامل حال ہوتی جاتی ہیں اور حقیقی طور پر مصداق ان سب آیات کا آنحضرت ﷺ ہیں اور دُوسرے سب طفیلی ہیں اور اس بات کو ہر جگہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہر ایک مدح و ثنا جو کسی مؤمن کے الہامات میں کی جائے۔ (یہی کہا ناں کہ
١٢٢
1483 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
”رحمۃ للعالمین“ کہا، (یہ کہا 1472 اور وہ کہا، اس کی وضاحت کر رہے ہیں آپ) اور اس بات کو ہر جگہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہر ایک مدح وثنا جو کسی مؤمن کی شان میں کی جائے وہ حقیقی طور پر آنحضرت ﷺ کی مدح ہوتی ہے اور وہ مؤمن بقدر اپنی متابعت کے، اتباع کے، پیروی کرنے کے، اس مدح سے حصہ حاصل کرتا ہے اور وہ بھی محض اللہ تعالیٰ کے لطف واحسان سے، نہ کسی اپنی لیاقت اور خوبی سے۔“
جناب یحییٰ بختیار: یہ نبوت کے دعوے سے پہلے کی Writing (تحریر) ہے؟
مرزا ناصر احمد: یہ ہمیشہ کے لئے ہے یہ تو جتنی دفعہ ....... نہیں، میں نے ایک حوالہ پڑھا ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں صرف یہ پوچھ رہا ہوں یہاں .......
جناب چیئرمین: مولانا ظفر احمد انصاری! Next question (اگلا سوال)
مرزا ناصر احمد: ہاں، یہ ....... ہیں؟
جناب چیئرمین: ابھی باقی رہتا ہے؟
جناب یحییٰ بختیار: میں نے سر! یہ پوچھا ہے کہ یہ نبوت کے دعوے سے پہلے کا ہے یہ؟
مرزا ناصر احمد: ہاں جی۔ یہ اب دعوے کے بعد کا۔ وہ دعوے سے پہلے کا ہے اور دوسرا دعوے کے بعد کا ہے، اب جو میں پڑھنے لگا ہوں: ”میرے پر ظاہر کیا گیا...... میرے پر ظاہر کیا گیا (اب وحی وغیرہ کے متعلق ذکر کرنے کے بعد) کہ یہ سب کچھ بہ برکت پیروی حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کے مجھ کو ملا ہے۔“
یہ دعوے کے بعد کا ہے اور ساری کتابوں میں، یعنی اس وقت ہمارے پاس حوالے نہیں، آخری کتاب تک آپ کو ایسے بیانات ملیں گے۔
Mr. Chairman: Next question.
(جناب چیئرمین: اگلا سوال)
1473 مولانا محمد ظفر احمد انصاری: جناب والا! بات اب وحی اور الہام کے اختلاف کی شروع ہوگئی اور وہی قصہ اب وقت کی تنگی کا سامنے آتا ہے۔
جناب چیئرمین: آپ اپنے Subject (موضوع) کو جاری رکھیں۔
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: بات یہاں یہ ہے کہ اصطلاح شریعت میں اور فنِ اصطلاح میں ”وحی“ کے خاص معنی متعین ہوگئے ہیں۔ قرآن کریم میں ایک لفظ آیا ہے اور وہ جیسا
١٢٣
Y OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
”احمد“ کے متعلق انہوں نے جو فرما
جناب چیئرمین: ہاں، فرمایا ہے
مرزا ناصر احمد: انہوں نے فرمایا
سلسلۂ احمدیہ نے ”احمد“ کی تفسیر جو کی ہے وہ صر ظنی اور انعکاسی طور پر۔ جیسے کل میں نے دو سوال۔ اب یہاں یہ ہے ”الفضل“ ١٠؍ اگست ١ کی کتاب:
1471 ”ان لوگوں یعنی رسولوں، نبیو علوم اور نعمتیں بتوسط عالموں اور پوپوں اور نبی ﷺ نے جو کچھ پایا جناب الٰہی سے پایا اور دوسروں کے دل حمد الٰہی کے لئے ایسے جوش می آیا کیونکہ ان کے ہر ایک کام کا خدا ہی متولی تھ رسولوں میں سے احمد کے نام سے موسوم نہیں ہو نہیں کی جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے اور ان کی ان کی نعمتوں میں انسان کے ہاتھ کی ...... تھی او نہیں دیئے گئے (پہلوں کو) اور ان کے تمام آم بے واسطہ ان کی تائید کی گئی۔ پس کامل طور پر بج پر بجز آنجناب کے کوئی احمد ہے اور یہ وہ بھید ہ سمجھ نہیں سکتا۔“
اچھا، پھر آپ کہتے ہیں اپنے الہا
ابھی ہے ناں مسئلہ زیر بحث ....... ”براہین احمد
”ان کلمات کا حاصل مطلب تلط متابعت کی برکت سے ہر ایک کامل مؤمن کے ان سب آیات کا آنحضرت ﷺ ہیں اور ذو چاہئے کہ ہر ایک مدح وثنا جو کسی مؤمن
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
آپ نے فرمایا، شہد کی مکھی کے لئے بھی آیا ہے، شیطان کے لئے بھی آیا ہے، اوروں کے لئے بھی آیا ہے۔ تو لیکن یہ کہ اب اصطلاح میں اس کے معنی متعین ہو گئے ہیں اور وہ اگر آپ فرمائیں تو میں چند لغتوں سے، انگریزی اور اُردو کے، مثلاً ”محیط المحیط“: (عربی)
مرزا ناصر احمد: یہ معاف کریں، جس کتاب کا حوالہ پڑھیں اس کا سن تصنیف بتادیں، جیسا کہ آپ نے ابھی پوچھا تھا ناں، اس سے بات واضح ہو جاتی ہے۔
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: سن تصنیف تو پھر یہ ہے کہ ...... اچھا۔ یہ ”کشاف اصطلاحات الفنون“ جو ہے، صفحہ ١٥٢٣، جلد دوم......
مرزا ناصر احمد: کس زمانے کی تصنیف ہے؟
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: میں عرض کرتا ہوں، کہ یہ ١٨٦٢ء میں کلکتہ میں طبع ہوئی ہے۔
مرزا ناصر احمد: ٹھیک ہے۔
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: اس کے صفحہ ١٥٢٣ میں یہ ہے......
مرزا ناصر احمد: ہاں جی، میں نے تو بس وہی پوچھا تھا، کیونکہ تاریخیں بھی کچھ بتاتی ہیں ناں ہمیں ۔
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: اب یہ ”فرہنگ آصفیہ“ جو شاید اُردو کی سب سے معتبر لغت ہوگی...... اور مرزا صاحب کی کتابیں بھی اُردو میں ہیں......
1474 مرزا ناصر احمد: اُردو کی لغت؟
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ”فرہنگ آصفیہ“
مرزا ناصر احمد: جو اُردو میں لفظ ”وحی“ کے معنی ہیں، وہ بتا رہی ہے؟
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: نہیں، میں نے تو عربی کا بتایا، آپ اُردو کے بتا رہے ہیں۔
مرزا ناصر احمد: اُردو کی ہمیں ضرورت نہیں ہے۔ بہت سے الفاظ عربی میں ایک معنی میں استعمال ہوئے ہیں اور اُردو میں ایک دُوسرے معنی میں استعمال ہوتے ہیں۔
(لغت میں وحی کے معنی متعین ہیں)
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ٹھیک ہے۔ تو وہ دونوں معنی آپ دیکھ لیں۔ اُردو میں لفظ ”وحی“ صرف اس کلام یا حکم کے لئے مخصوص ہے جو خدا اپنے نبیوں پر نازل فرماتا ہے۔ چنانچہ ”فرہنگ آصفیہ“ میں لفظ ”وحی“ کے یہ معنی مرقوم ہیں:
١٤٤
EMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
آپ نے فرمایا، شہد کی مکھی کے لئے بھی آیا ہے، شیطان آیا ہے۔ تو لیکن یہ کہ اب اصطلاح میں اس کے معنی میں چند لغتوں سے، انگریزی اور اُردو کے، مثلاً ”محیط الـ
مرزا ناصر احمد: یہ معاف کریں، جس بتا دیں، جیسا کہ آپ نے ابھی پوچھا تھا ناں، اس سے
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: سن تصنیف اصطلاحات الفنون“ جو ہے، صفحہ ١٥٢٣، جلد دوئم........
مرزا ناصر احمد: کس زمانے کی تصنیف ہـ
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: میں عرض کرتا
مرزا ناصر احمد: ٹھیک ہے۔
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: اس کے صـ
مرزا ناصر احمد: ہاں جی، میں نے تو بس ہیں ناں؟ میں۔
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: اب یہ ”فرہـ لغت ہوگی....... اور مرزا صاحب کی کتابیں بھی اُردو میں
1474 مرزا ناصر احمد: اُردو کی لغت؟
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ”فرہنگ آ
مرزا ناصر احمد: جو اُردو میں لفظ ”وحی“ کے
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: نہیں، میں ہـ
مرزا ناصر احمد: اُردو کی ہمیں ضرورت نہـ میں استعمال ہوئے ہیں اور اُردو میں ایک دوسرے معنی
(لغت میں وحی کے معـ
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ٹھیک ہے لفظ ”وحی“ صرف اس کلام یا حکم کے لئے مخصوص ہے جـ ”فرہنگ آصفیہ“ میں لفظ ”وحی“ کے یہ معنی مرقوم ہیں
١٢٤
1485 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
”خدا کا حکم جو پیغمبروں پر اترتا ہے۔“
اب اس سے ذرا نیچے درجے کی لغات ہیں۔ میں اس سے Quote (حوالہ) کروں......
مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، اسے بھی Quote (حوالہ) نہ کریں تو اچھا ہے۔
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: نہیں، یہ تو بہرحال اُردو کی......
مرزا ناصر احمد: اچھا، ٹھیک ہے۔ بس ہوگئی Quote (حوالہ)
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: اس سے بہتر تو لغت کوئی نہیں ہے، اب تک اس سے معتبر۔
جناب چیئرمین: مولانا! پہلے آپ Subject (موضوع) کے Question (سوال) پوچھ لیں۔ Come back to your own subject (آپ اپنے نفسِ مضمون پر واپس آئیں)
(الہام واجب الاطاعت ہوتا ہے یا نہیں؟)
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: بہت اچھا۔ ایک فرق یہ ہوتا ہے کہ ہمارے نزدیک تو الہام ہوتا ہے بزرگوں پر، اولیاء اللہ پر، لیکن بنیادی چیز یہ ہے کہ کسی پر اگر الہام ہو تو وہ واجب الاطاعت ہوتا ہے یا نہیں؟ فرق اصل میں یہاں ہوتا ہے کہ کوئی شخص یہ کہے کہ: ”مجھ پر یہ الہام ہوا ہے، مجھ پر وحی آئی ہے“ جو کچھ بھی کہے۔ اب وحی کا سلسلہ تو جاری ہے۔ دیکھیں! آپ کہ ابھی 1475 تازہ ترین نبی خواجہ محمد اسماعیل اصح الموعود، ان کے اوپر وحیاں آرہی ہیں برابر۔ ان کی جماعت بھی یہاں جماعت السابِقُون منڈی بہاء الدین ضلع گجرات میں قائم ہے۔ ان کے اوپر وحی آئی ہے کہ: ”مبارک ہووے تہانوں“
Mr. Chairman: This question is not allowed.
(جناب چیئرمین: اس سوال کی اجازت نہیں دی جاتی)
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: نہیں جی، میں Question (سوال) نہیں کر رہا ہوں، میں کہہ رہا ہوں کہ ”وحی“ اس معنی کے کرکے تو دعویٰ ہوتا ہی رہتا ہے۔ اصل چیز یہ ہے کہ اگر کوئی کہے کہ: ”مجھ پر وحی آتی ہے اور جو اس کو نہ مانے وہ کافر ہو گیا، وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو گیا، جہنمی ہو گیا۔“ تو پھر وہ ایک چیز ایک اہمیت اختیار کرتی ہے۔ مرزا صاحب کے ہاں جو وحیوں کا سلسلہ ہے، اس کے بارے میں، میں........
جناب چیئرمین: سر! پہلے تعریف قرآن کو ختم کر لیں۔ پھر اس کے بعد........
١٢٥
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: نہیں جی، دیکھئے، وہ اس کے ساتھ ہی ہوگا۔ ایسے نہیں چلے گا۔ دیکھئے، ان حوالہ جات سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے الہامات کو کلام الٰہی قرار دیتے ہیں:
”اور ان کا مرتبہ بلحاظ کلام الٰہی ہونے کے ایسا ہی ہے جیسا کہ قرآن مجید اور توراۃ اور انجیل کا ہے۔ اب ان سے کسی کا، اگر کوئی انکار کرے تو وہ اسلام کے دائرے سے خارج ہو جاتا ہے۔“
اگر وہی مرتبہ ہے۔۔۔۔۔۔ یہ میں حوالہ دے دوں۔ اخبار ”الفضل“ قادیان جلد:٢٢۔۔۔۔۔۔
مرزا ناصر احمد: یہ Repeat (دوبارہ) ہو رہا ہے۔ اس سے مختلف معنی ہمارے جو ہیں، وہ میں اٹارنی جنرل کی خدمت میں پیش کر چکا ہوں۔
1476 مولانا محمد ظفر احمد انصاری: میرے خیال میں یہ نہیں Quote (حوالہ) ہوا شاید۔ اب دوسری چیز عرض کرتا ہوں:
Mr. Chairman: Maulana Sahib, this question will be channelized through Attorney-General.
(Interruption)
This quetion will be channelized through Attorney-General.
(جناب چیئرمین: مولانا صاحب! یہ سوال اٹارنی جنرل صاحب کے توسط سے پوچھا جائے گا۔ (مداخلت) یہ سوال اٹارنی جنرل کے توسط سے کیا جائے گا)
آپ تحریف قرآن کے Question پوچھ لیں۔
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: تو، نہ، وہ بات پھر پوری نہیں رہ جاتی، اس لئے کہ یہاں یہ بات آجاتی ہے کہ قرآن کریم اس سے الگ بھی کچھ ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ قرآن یہ ہے اتنا۔ اب۔۔۔۔۔۔
جناب چیئرمین: تو پھر Definite question put (قطعی سوال) کرلیں ناں۔
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: اچھا، دیکھئے ناں، میں سنا دیتا ہوں حوالہ۔۔۔۔۔۔
جناب چیئرمین: آپ Definite question put (یقینی سوال) کریں۔
١٢٦
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
You will save your time and the time of the House. (آپ اپنا اور ایوان کا وقت ضائع ہونے سے بچالیں گے)
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: میں Definite question (یقینی سوال) یہ کروں گا کہ کیا مرزا بشیر الدین.......
جناب چیئرمین: آپ منڈی بہاء الدین کو لے آتے ہیں بیچ میں!
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ....... جی نہیں، نہیں۔ چلئے، وہ تو میں نے یہ کہا کہ وحی کا سلسلہ تو جاری ہے، روز ہی ہوتا رہتا ہے، تو اب اس کی تو ہم پروا نہیں کرتے ناں۔
(مرزا بشیر الدین کی تحریر شرعی نبی کا مطلب)
مرزا بشیر الدین صاحب کے اس قول کے متعلق میں موقف معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ : ”شرعی نبی کا مطلب یہ ہے کہ وہ پہلے کلام لائے۔ رسول کریم ﷺ 1477 تشریعی نبی ہیں جس کے معنی یہ ہیں کہ آپ پہلے قرآن لائے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام غیر تشریعی نبی ہیں، اور اس کے یہ معنی ہیں کہ آپ پہلے قرآن نہیں لائے۔ ورنہ قرآن آپ بھی لائے۔ اگر نہ لائے تھے تو خدا تعالیٰ نے کیوں کہا کہ اسے قرآن دے کر کھڑا کیا گیا ہے۔“
اب یہ آگے ہے کہ: ”پھر یہ یاد رکھنا چاہئے کہ جب کوئی نبی آ جائے تو پہلے نبی کا علم بھی اسی کے ذریعے ملتا ہے، یعنی یہی وجہ ہے کہ اب کوئی قرآن نہیں سوائے اس قرآن کے جو حضرت مسیح موعود نے پیش کیا اور کوئی حدیث نہیں سوائے اس حدیث کے جو حضرت مسیح موعود کی روشنی میں دکھائی دے۔ اسی طرح رسول کریم ﷺ کا وجود اس ذریعے سے نظر آئے گا کہ حضرت مسیح موعود کی روشنی میں دیکھا جائے۔ اگر کوئی چاہے کہ آپ سے علیحدہ ہو کر کچھ دیکھ سکے تو اسے کچھ نظر نہ آئے گا۔ ایسی صورت میں اگر کوئی قرآن کو بھی دیکھے گا تو وہ اس کے لئے يهدي من يشاء والا قرآن نہ ہوگا، یعنی ہدایت دینے والا نہ ہوگا، بلکہ يضل من يشاء والا قرآن ہوگا، یعنی اسے گمراہ کرنے والا ہوگا۔“
اب آگے اسی طرح اگر.......
مرزا ناصر احمد: یہ حوالہ کہاں کا ہے؟
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: یہ میاں محمود صاحب، خلیفہ قادیان کا خطبہ جمعہ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان جلد: ١٢، نمبر ٤، مورخہ.......
١٢٧
OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: چلے گا۔ دیکھئے، ان حوالہ جات سے صاف ظا کلام الٰہی قرار دیتے ہیں : ”اور ان کا مرتبہ بلحاظ کلام الٰہی ہ انجیل کا ہے۔ اب ان سے کسی کا، اگر کوئی انکار کر اگر وہی مرتبہ ہے۔..... یہ میں حوالہ
مرزا ناصر احمد: یہ Repeat جو ہیں، وہ میں اٹارنی جنرل کی خدمت میں پی
1476 مولانا محمد ظفر احمد انصاری شاید۔ اب دوسری چیز عرض کرتا ہوں :
na Sahib, this question will -General. ion) channelized through
(جناب چیئرمین: مولانا م پوچھا جائے گا، (مداخلت) یہ سوال اٹارنی ج آپ تحریف قرآن کے tion
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: یہاں یہ بات آ جاتی ہے کہ قرآن کریم اس اتنا۔ اب.......
جناب چیئرمین: تو پھر کر لیں ناں۔
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ن
جناب چیئرمین: آپ
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
مرزا ناصر احمد: مگر آپ کے ہاتھ میں تو یہ ”الفضل“ کا اخبار نہیں کسی کتاب کا ہے؟
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ہاں۔
1478 مرزا ناصر احمد: تو بغیر چیک کئے، کہ ہمارا تجربہ بھی ہو چکا ہے۔۔۔۔۔
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ٹھیک ہے، مطلب یہ کہ آپ اسے دیکھ لیں۔ اگر نہیں ہے تو پھر نہیں ہے۔ لیکن ۔۔۔۔۔
مرزا ناصر احمد: یہ کتاب کا نام کیا ہے جہاں سے آپ لے رہے ہیں؟
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: نہیں، یہ تو بہر حال میں آپ کو ۔۔۔۔۔
مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، مجھے بتانے میں کیا حرج ہے؟
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ...... ”الفضل“ ....... نہیں، نہیں، کوئی حرج نہیں ہے۔ یہ برنی صاحب کی کتاب ہے۔
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، برنی صاحب کی کتاب ہے۔
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: اب اس میں یہاں دشواری یہ آ جاتی ہے کہ وہ جتنا کچھ وحی نازل ہوتی ہے، وہ قرآن ہے، اور پھر اسی قرآن کو تلاوت کرنے کی بھی وہ ہے۔
جناب چیئرمین: اس پر Definite question put (یقینی سوال) کریں ناں جی۔
(قرآن کریم مکمل ہے یا اس کے علاوہ کوئی الٰہی پیغام ہے؟)
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: تو اب یہی میں کہتا ہوں کہ یہ قرآن جو ہمارے پاس ہے، آپ کے نزدیک یہ مکمل ہے؟ اس پر ایمان لانا، اس کی اتباع کرنا کافی ہے، یا اس کے علاوہ کوئی قرآنی، الٰہی پیغام ہے؟
Mr. Chairman: The question is simple ......
(جناب چیئرمین: سوال سادہ ہے)
مرزا ناصر احمد: یہ قرآن کریم جو میں نے ہاتھ میں پکڑا ہوا ہے، اسی کو گواہ بنا کر میں اعلان کرتا ہوں کہ سوائے اس قرآن کے ہمارے لئے کوئی کتاب نہیں۔
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ٹھیک ہے، تو جو میں نے ابھی سنایا ہے، وہ صحیح موقف نہیں؟
مرزا ناصر احمد: جو آپ نے سنایا ہے اس کے متعلق میں یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ برنی صاحب 1479 نے اس کو صحیح نقل کیا ہے یا نہیں؟
١٢٨
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11 مولانا محمد ظفر احمد انصاری: یعنی اگر صحیح نقل کیا ہے تو بھی آپ اس کو صحیح موقف نہیں مانتے؟ مرزا ناصر احمد: اگر میں تو، میں اسے نہیں مانتا، جب تک دیکھوں نہ...... مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ٹھیک ہے۔
Mr. Chairman: Next question. The answer has come. (جناب چیئرمین: اگلا سوال کریں۔ جواب آ گیا ہے) مولانا محمد ظفر احمد انصاری: اس میں بھی جناب والا! چند عربی عبارتیں آئی ہیں، اگر چہ اس میں قرآن کی آیت نہیں ہے۔ اس لئے آپ نے کہا ہے، میں چھوڑ دیتا ہوں۔ ایک تو آپ کے نزدیک صحابہ رضوان اللہ علیہم کی کیا تعریف ہے؟ یہ میں چند چیزیں پڑھ دیتا ہوں، آپ اکٹھے ہی بتا دیں۔ اُمّ المومنین....... مرزا ناصر احمد: نہیں، علیحدہ علیحدہ لے لیں۔
(صحابہ کی تعریف کیا ہے؟)
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: بہت اچھا۔ صحابہ کی کیا تعریف ہے؟ مسلمانوں کے نزدیک تو یہ تعریف ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے حالتِ ایمان میں....... جناب چیئرمین: آپ ایک سوال Put (پیش) کریں، ان کو جواب دینے دیں۔ آپ Interpretation (معنی) خود Put (پیش) کر دیتے ہیں۔ مولانا محمد ظفر احمد انصاری: نہیں نہیں، میں بتا رہا تھا کہ مسلمانوں کے...... ہاں...... جناب چیئرمین: نہیں، ٹھیک ہے، جو مسلمانوں کی ہے، that is Muslim's That is known to everybody. You want the interpretation of the witness on that point. Why are you telling the interpretation of other on that? Yes, the witness may reply. (صحابہ کرام کی تعریف ہر ایک مسلمان جانتا ہے، آپ اسی بارے میں گواہ کا مفہوم جاننا چاہتے ہیں، آپ اوروں کی تعریف کیوں بتانا چاہتے ہیں؟ گواہ جواب دے) مرزا ناصر احمد: جی، سوال یہ ہے کہ صحابہ کی تعریف کیا ہے؟ 1480 جناب چیئرمین: آپ کے نزدیک کیا ہے؟ ١٢٩
OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11 مرزا ناصر احمد: مگر آپ کے پا مولانا محمد ظفر احمد انصاری: با 1478 مرزا ناصر احمد: تو بغیر چیک مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ہے، تو پھر نہیں ہے۔ لیکن....... مرزا ناصر احمد: یہ کتاب کا نام مولانا محمد ظفر احمد انصاری: مرزا ناصر احمد: نہیں نہیں، مج مولانا محمد ظفر احمد انصاری: یہ برنی صاحب کی کتاب ہے۔ مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، برن مولانا محمد ظفر احمد انصاری: کچھ وحی نازل ہوتی ہے، وہ قرآن ہے، اور جناب چیئرمین: اس پر aut ہاں جی۔
(قرآن کریم مکمل ہے یا ا)
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ہے، آپ کے نزدیک یہ مکمل ہے؟ اس پر ا کوئی قرآنی، الٰہی پیغام ہے؟ estion is simple ...... (جناب چیئرمین: سوال ساد مرزا ناصر احمد: یہ قرآن کری اعلان کرتا ہوں کہ سوائے اس قرآن کے ج مولانا محمد ظفر احمد انصاری: خ مرزا ناصر احمد: جو آپ نے 1479 صاحب نے اس کو صحیح نقل کیا ہے یا نہیں
1490 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
مرزا ناصر احمد : صحابہ کی تعریف ہمارے نزدیک کیا ہے؟ صحابہ کی یہ تعریف ہے کہ وہ Fortunate (خوش نصیب) خوش قسمت انسان جنہوں نے اپنی زندگی میں نبی اکرم ﷺ کی صحبت کو حاصل کیا اور آپ کے فیض سے حصہ پایا۔
Mr. Chairman: Next.
(جناب چیئرمین : آگے چلیں)
(کیا مرزا قادیانی کے ساتھی صحابہ ہیں؟)
مولانا محمد ظفر احمد انصاری : ہاں، مرزا صاحب کے ساتھیوں کو، جنہوں نے مرزا صاحب کو دیکھا، انہیں آپ صحابہ نہیں سمجھتے؟
مرزا ناصر احمد : انہیں ہم کہتے ہیں: ”صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا“ (عربی) اور....... کے معنی ہیں، وہ ”ملنے والا“ آیا بیچ میں تخیل، قرآن کریم کی اس آیت کی روشنی میں ہم کہتے ہیں کہ وہ بھی صحابہ سے ملے ایک رنگ میں ۔
مولانا محمد ظفر احمد انصاری : دیکھئے یہ ”خطبہ الہامیہ“ میں ہے، ذرا آپ دیکھیں: (عربی)
مرزا ناصر احمد : ”صحابہ سے ملا.......“
مولانا محمد ظفر احمد انصاری : ”جو میری جماعت میں داخل ہو گیا، گویا وہ رسول اللہ ﷺ کی جماعت میں داخل ہو گیا ۔“
(خطبہ الہامیہ ص ١٧١، خزائن ج ١٦ ص ٢٥٩)
مرزا ناصر احمد : 1481 (عربی) کا ترجمہ کیا ہے؟ قریباً قرآنی آیت کا؟
مولانا محمد ظفر احمد انصاری : یہ تو میں نہیں جانتا ، لیکن یہ کہ.......
مرزا ناصر احمد : میں آیت پڑھ رہا ہوں : (عربی) کا قریباً یہ ترجمہ نہیں ہے؟
مولانا محمد ظفر احمد انصاری : بہرحال میں تو اسے نہیں سمجھتا ترجمہ۔ آپ فرمارہے ہیں۔
مرزا ناصر احمد : ہاں، ہم سمجھتے ہیں ۔
(مرزا قادیانی کو جنہوں نے دیکھا وہ صحابہ ہیں یا نہیں؟)
مولانا محمد ظفر احمد انصاری : ٹھیک ہے، ہمارے نزدیک صحابہ رضوان اللہ علیہم
١٤٠
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
صرف وہ ہیں، محمد رسول اللہ ﷺ کو جنہوں نے حالتِ ایمان میں دیکھا۔ اس کے بعد اب پھر کوئی صحابی نہیں۔ آپ نے جو کچھ تعریف کی ہے، میں نے اس میں پوچھا ہے کہ کیا جناب مرزا غلام احمد صاحب کو جن لوگوں نے دیکھا، جو ان کے ساتھ رہے، انہیں بھی آپ صحابہ کہتے ہیں یا نہیں کہتے؟
مرزا ناصر احمد: ہم انہیں اس معنی میں صحابہ کہتے ہیں جو قرآن کریم نے فرمایا ہے: (عربی)
Mr. Chairman: Next question.
(جناب چیئرمین: اگلا سوال)
(ام المومنین آپ کے ہاں کن کو کہتے ہیں؟)
1482 مولانا محمد ظفر احمد انصاری: آپ کے ہاں ”اُمّ المومنین“ کن کو کہتے ہیں؟
مرزا ناصر احمد: ہمارے ہاں ”اُمّ المومنین“ اُسے کہتے ہیں جو ازواج مطہرات کی خادمہ ہیں اور مسیح موعود کے ماننے والوں کی ماں ہے۔
Mr. Chairman: Next question.
(جناب چیئرمین: اگلا سوال)
(مسجد اقصیٰ قادیان کی کس مسجد کا نام ہے؟)
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: کیا ”مسجد اقصیٰ“ جہاں حضور (ﷺ) کو معراج میں لے جایا گیا، یہ قادیان کی کسی مسجد کا نام ہے؟
مرزا ناصر احمد: یہ ”مسجد اقصیٰ“ نام کی بہت سی مساجد ہیں، دس، پندرہ، بیس۔ ٹیپو کی...... ٹیپو سلطان ہمارے بڑے جرنیل شجاع گزرے ہیں...... ان کی مسجد کا نام بھی ”مسجد اقصیٰ“ ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: قادیان میں بھی ہے؟
مرزا ناصر احمد: قادیان میں بھی ہے۔ قادیان میں بھی ہے اور بھی بہت ساری ہیں۔
Mr. Chairman: Next question.
(جناب چیئرمین: اگلا سوال)
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: نہیں، جناب! میں نے عرض کیا ہے، جس میں رسول اللہ ﷺ کو معراج میں لے جایا گیا، کیا وہ قادیان میں ہے یا نہیں؟
مرزا ناصر احمد: وہ ہے وہیں جہاں آپ سمجھتے ہیں کہ ہے۔
١٤١
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ہاں، قادیان میں نہیں ہے؟ مرزا ناصر احمد: نہیں۔
Mr. Chairman: Next question.
(جناب چیئرمین: اگلا سوال)
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: نہیں، تو میں اسے دکھاؤں نہ؟ جناب چیئرمین: نہیں جی، وہ کہہ ...... مولانا محمد ظفر احمد انصاری: اچھا۔ جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے جی حوالہ بتا دیں۔ جناب چیئرمین: اگر ہے۔ مولانا محمد ظفر احمد انصاری: میں ابھی بتاتا ہوں۔ جناب چیئرمین: اچھا۔
(پنج تن سے آپ کی کیا مراد ہے؟)
1483 مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ”پنج تن“ سے آپ کی کیا مراد ہے؟ کون لوگ ”پنج تن“ میں شامل ہیں؟
مرزا ناصر احمد: ”پنج تن“ کے معنی ہیں: پانچ تن، پانچ افراد۔ تو وہ مختلف جہات سے ہم اس کے لغوی معنی کے لحاظ سے مختلف خاندانوں میں پنج تن ہو سکتے ہیں۔ لیکن ہم سے ...... اُمتِ مسلمہ نے ”پنج تن“ ایک خاص معنی میں کثرت سے استعمال کیا ہے، ہم بھی اس معنی میں اس کو استعمال کرتے ہیں اور جماعتِ احمدیہ نے ایک اور معنی میں بھی اسے استعمال کیا اور کوئی شرعی روک نہیں کہ اس فارسی کے ایک محاورے کو پُرانے استعمال کے باوجود ایک نئے محاورے میں بھی استعمال کر لیا جائے۔
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: میں آپ کو یہ شجرہ بھیجتا ہوں جس میں قرآنی آیت ہے عنوان میں: (عربی)
مرزا ناصر احمد: حصولِ برکت کے لئے یہ عنوان رکھا گیا ہے۔
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: اور شعر یہ کہ:
١٣٢
1493 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
سبحان الذی اخزی الاعادی“
(درثمین اُردو ص ٤٦)
اس کے پھر نیچے ہے:
لگے ہیں پھول میرے بوستان میں“
(درثمین اُردو ص ٤٥)
پھر ایک اور شعر ہے:
یہی ہیں پنج تن جن پر بنا ہے“
(درثمین اُردو ص ٤٤)
1484 یہ آپ چاہیں تو میں ابھی دے دیتا ہوں۔
مرزا ناصر احمد : نہیں، یہ مجھے یاد ہیں شعر۔
مولانا محمد ظفر احمد انصاری : بہت اچھا۔
مرزا ناصر احمد : اور : ”یہی ہیں پنج تن جن پر بنا ہے“ حضرت مسیح موعود ...... نہیں، بات ...... میں جواب دوں؟ یا اگر آپ کا سوال ختم نہیں ہوا تو میں معافی چاہتا ہوں۔ اس میں یہ بیان ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی وحی کے ذریعے یہ بتایا تھا کہ: (عربی)
(کہ تیری نسل تیرے آباء سے کاٹ دی جائے گی اور اب تجھ سے یہ نسل چلے گی)
تو اس شعر میں آپ نے یہ فرمایا کہ میری نسل میرے خاندان کی نسل آئندہ ان پانچ افراد سے چلے گی اور اس سے زیادہ اس کا کوئی مطلب نہیں۔
Mr. Chairman: Next.
(جناب چیئرمین : آگے چلیں)
(کیا مرزا غلام احمد کے ننانوے نام ہیں؟)
مولانا محمد ظفر احمد انصاری : یہ اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ ننانوے بہت معروف ہیں۔ بہت سے لوگوں نے حدیثوں سے اور روایتوں سے رسول اللہ ﷺ کے بھی ننانوے نام جمع کئے ہیں۔ کیا مرزا غلام احمد صاحب کے بھی ننانوے نام ہیں؟
(احمدیہ جنتری ١٩٤٧ء ص ١٨، ١٩)
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
مرزا ناصر احمد: نہ میرے علم میں ہیں، نہ ساری عمر مجھے اس چیز میں دلچسپی پیدا ہوئی کوئی۔
(جناب چیئرمین: آگے چلیں) Mr. Chairman: Next.
مسجد اقصیٰ والا آپ نے پوچھنا ہے، حوالہ پوچھنا ہے۔
(مسجد اقصیٰ سے مراد مسیح موعود کی مسجد ہے اس کا حوالہ)
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ہاں۔ ایک حوالہ ہے (خطبہ الہامیہ ص ث، خزائن ج١٦ ص٢٠) میں ہے کہ: ”1485 مسجد اقصیٰ سے مراد مسیح موعود کی مسجد ہے جو قادیان میں واقع ہے، جس کی نسبت ”براہین احمدیہ“ میں خدا کا کلام یہ ہے“: (عربی)
مرزا ناصر احمد: ”یجعل فیہ“
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ”یجعل فیہ“ اور یہ ”مبارک“ کا لفظ جو بصیغہ مفعول اور فاعل واقع ہوا، قرآن شریف کی آیت ”بارکنا حولہ“ کے مطابق ہے۔ پس کچھ شک نہیں کہ قرآن شریف میں قادیان کا ذکر ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرمایا ہے“: (عربی)
اس آیت کے ایک تو وہی معنی ہیں جو علماء میں مشہور ہیں، یعنی یہ کہ: ”آنحضرت ﷺ کے مکانی معراج کا یہ بیان ہے۔ مگر کچھ شک نہیں کہ اس کے سوا آنحضرت ﷺ کا ایک زمانی معراج بھی تھا، جس سے یہ غرض تھی کہ تا آپ کی نظر کشفی کا کمال ظاہر ہو اور نیز ثابت ہو کہ مسیحی زمانے کے برکات بھی درحقیقت آپ ہی کے برکات ہیں جو آپ کی توجہ اور ہمت سے پیدا ہوئی ہیں۔ اس وجہ سے مسیح ایک طور سے آپ ہی کا روپ ہے اور وہ معراج یعنی بلوغ نظر کشفی دُنیا کی انتہا تک تھا جو مسیح کے زمانے سے تعبیر کیا جاتا ہے اور اس معراج میں جو آنحضرت ﷺ مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ تک سیر فرما ہوئے تھے، وہ مسجد اقصیٰ یہی ہے جو قادیان میں بجانب مشرق واقع ہے جس کا نام خدا کے کلام نے مبارک رکھا ہے ۔“ (خطبہ الہامیہ ص ح، ط، حاشیہ خزائن ج١٦ ص٢١، ٢٢)
١؎ مرزا ناصر احمد غلط بیانی کر رہا ہے۔ احمدیہ جنتری ١٩٢٧ء قادیانیوں کی شائع کردہ ہے۔ ص ١٨، ١٩ مرزا محمود کے ماموں، مرزا قادیانی کے سالا اور صحابی نے لکھا ہے کہ نبی کریم ﷺ کے ننانوے نام تھے تو اسی طرح مرزا قادیانی کے بھی ننانوے نام ہیں۔ پھر ان ننانوے ناموں کی فہرست دے کر لکھا ہے۔ لیکن ڈھیٹ پن دیکھیں مرزا ناصر اپنی جماعت کے حوالہ سے آج انکاری ہو رہا ہے۔
١٣٤
1495 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
1486 مرزا ناصر احمد: یہ درست ہے؟ مولانا محمد ظفر احمد انصاری: یہ ”خطبہ الہامیہ“ بائیس سے........ Mr. Chairman: Next question. (جناب چیئرمین: اگلا سوال) مرزا ناصر احمد: بات یہ ہے...... مجھے اجازت ہے جواب دینے کی؟ جناب چیئرمین: ہاں، بالکل، Explain (واضح) کریں آپ۔ مرزا ناصر احمد: اس میں، جو آپ نے حوالہ پڑھا، دو چیزیں بڑی نمایاں ہیں۔ ایک یہ کہ ”مسجد اقصیٰ“ پہلے ہمارے اسلامی لٹریچر میں اس مسجد کو کہتے ہیں جس کی پیچھے یہودیوں نے خرابی وغیرہ کی۔ اللہ تعالیٰ ان پر لعنت کرے۔ وہ ہم نے تسلیم کیا، یعنی حضرت مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کیا، ہم نے بھی تسلیم کیا۔ باقی سلسلۂ احمدیہ نے کہا کہ اسی آیت کے: (عربی) کہ وہ معراج اس کو...... ایک اور فرق ہے۔ اب ہم معراج میں گئے ہیں تو اس کی تھوڑی سی مختصرًا تفصیل بتانی پڑے گی۔ اُمت میں ایک ”اسریٰ“ ہے اور ایک ”معراج“ ہے اور یہ جو آیت ہے ”سبحان الذی اسریٰ“ اس کرامت مسلمہ کا ایک حصہ ”اسریٰ“ کہتا ہے اور اس کے علاوہ ایک ”معراج“ تسلیم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یعنی دو دفعہ نبی کریم ﷺ پر یہ عظیم جلوہ اللہ تعالیٰ کا ظاہر ہوا تھا اور عظیم یہ کشوف ہوئے۔ پہلے اس کا پہلا جو مصداق ہے، مسجد اقصیٰ کا، وہ وہ مسجد ہے۔ ہمارے نزدیک ایک معراج ہے رُوحانی۔ وہ بلوغتِ نظر، اپنی اُمت کے آخری زمانہ پر تھی آپ کی نظر گئی۔ ایک ہے معراج...... اس معنی میں اب میں لوں گا...... ایک ہے معراج مکانی، ایک ہے معراج زمانی...... اور نبی اکرم ﷺ کے کشف کا پہلا مصداق وہ مسجد ہے جو معراج مکان ہے جس پر، جس کو ہم سب کہتے ہیں، ساری اُمت اس پر متفق ہے، ہمیں اس پر کوئی اختلاف نہیں ہے۔ ہمارا مشترکہ ورثہ ہے اور ایک ہے معراج زمانی،1487 یعنی نبی اکرم ﷺ کی نظر جو ہے ناں، وہ آخر، آخر زمانہ تک، قیامت تک کے لئے گئی ہے، اور اتنی شان ہے اس میں کہ بڑی لمبی تفصیل ہے، اس میں میں نہیں جاؤں گا۔ بہرحال ہم یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اس رُوحانی بلوغتِ نظری جو ہے، اس میں نبی اکرم ﷺ کو اس زمانے کا بھی علم دیا گیا۔ تو یہ یہ زمانہ ہے جس میں ہم بانی سلسلہ کو مہدی کے وجود میں ہم نے پایا اور ہم اس کی جماعت ہیں۔ تو ہمارا یہ کہنا کہ معراج زمانی میں جو بلوغتِ نظری کے نتیجے میں آنحضرت ﷺ کی آنکھ نے اپنے مہدی کا زمانہ دیکھا تو جو اس کی مسجد ہے، قطع نظر اس کے کہ ہم سے جو اختلاف رکھتے ہیں وہ کہیں گے کہ باقی سلسلہ نہیں کوئی اور ہوگا،
١٣٥
LY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
مرزا ناصر احمد: نہ میرے علم میں ہیں (جناب چیئرمین: آگے چلیں) مسجد اقصیٰ والا آپ نے پوچھنا ہے، (مسجد اقصیٰ سے مراد مسیح موع مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ہاں ص ٢٠) میں ہے کہ: ”مسجد اقصیٰ سے مراد قا کی نسبت ”براہین احمدیہ“ میں خدا کا کلام یہ ہے“ مرزا ناصر احمد: ”بجعل فیہ“ مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ”بج اور یہ ”مبارک کا لفظ جو بصیغہ مفعو ”بارکنا حولہ “ کے مطابق ہے۔ پس کچھ شک کہ اللہ تعالیٰ فرمایا ہے“: (عربی) اس آیت کے ایک تو وہی معنی ہیں جو کے مکانی معراج کا یہ بیان ہے۔ مگر کچھ شک نہی معراج بھی تھا، جس سے یہ غرض تھی کہ تا آپ ک زمانے کے برکات بھی درحقیقت آپ ہی کے ب ہیں۔ اس وجہ سے صحیح ایک طور سے آپ ہی کا ز انتہا تک تھا جو مسیح کے زمانے سے تعبیر کیا جاتا ہے سے مسجد اقصیٰ تک سیر فرما ہوئے تھے، وہ مسجد اقص جس کا نام خدا کے کلام نے مبارک رکھا ہے۔“
؎١ مرزا ناصر احمد غلط بیانی کر رہا ہے ہے۔ ١٨، ١٩ مرزا محمود کے ماموں، مرزا قادیانی ک ننانوے تھے تو اسی طرح مرزا قادیانی کے بھی ننا دے کر لکھا ہے۔ لیکن ڈھیٹ پن دیکھیں مرزا نا ہے۔
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
لیکن اس کی مسجد کو بھی، کہ نبی اکرم ﷺ کی معراج زمانی میں ”مسجد اقصیٰ“ کہا گیا، کہا جائے گا۔ بہر حال میں نے اپنا عقیدہ بتا دیا ہے۔
Mr. Chairman: Next question.
(جناب چیئرمین: اگلا سوال)
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: یہ ”مکاشفات مرزا صاحب“ ہے۔ لیکن ہمارے پاس وہ کتاب نہیں ہے۔ اگر آپ اس کو Admit (تسلیم) کرتے ہیں؟
مرزا ناصر احمد: کتاب کا نام کیا ہے؟
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ”مکاشفات مرزا“
مرزا ناصر احمد: ”مکاشفات مرزا“
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: یہ کسی اور صاحب نے لکھا ہے اس میں، حوالے دیئے ہیں ان کے اس میں۔
مرزا ناصر احمد: یہ لکھی کس نے ہے؟ یہ ”مکاشفات مرزا“ لکھی کس نے ہے؟
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: یہ کسی اور صاحب نے ......
مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، کس صاحب نے؟
1488 مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ملک منظور الٰہی صاحب۔
مرزا ناصر احمد: یہ احمدی تھے؟
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: میں یہ نہیں جانتا، لیکن ......
مرزا ناصر احمد: ہاں، بس ٹھیک ہے اتنا۔ اس کے بعد آپ کہیں اپنی بات۔
(بہشتی مقبرہ کے بارہ میں کیا موقف ہے؟)
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: اس میں مرزا صاحب کا ایک مکاشفہ درج ہے: ”کشفی رنگ میں وہ مقبرہ مجھے دکھایا گیا جس کا نام خدا نے بہشتی مقبرہ رکھا۔“
اور پھر الہام ہوا: ”کل مقابر الأرض لا تقابل هذه الأرض“
(تذکرہ ص ٧١٠، طبع ٣)
اے مرزا ناصر احمد! اتنا دھوکہ دیں جتنا آپ ہضم کر سکیں۔ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ منظور الٰہی صرف قادیانی نہیں، بلکہ قادیانی نبی کا قادیانی صحابی بھی ہے۔
١٣٦
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
”روئے زمین کے تمام مقابر اس زمین کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔“ وہ بہر حال مجھے آپ کی کتاب میں ....... وقت نہیں تھا اتنا۔ یہ دریافت کرنا تھا کہ کیا یہ ہے موقف آپ کا؟ مرزا ناصر احمد: ہمارا یہ موقف نہیں ہے۔ ہمارا موقف یہ ہے کہ مقبرہ ایک ہی ہے، یعنی Worth the Name جس کو کہتے ہیں ناں انگریزی میں، اور وہ ہے نبی اکرم ﷺ کا مزار۔ مولانا محمد ظفر احمد انصاری: بہشتی مقبرہ؟ مرزا ناصر احمد: ہیں جی؟ نہیں، نہیں۔ بہشتی مقبرہ ہے، لیکن اس کا مقام وہ نہیں ہے وہ میں بتا رہا ہوں....... مولانا محمد ظفر احمد انصاری: اس کے متعلق اس طرح کی عبارتیں تو ہیں، مثلاً...... مرزا ناصر احمد: .......اور.......ابھی میری رہتی ہے بات۔
”مجدد الف ثانیؒ کی مسجد، مسجد نبوی کے برابر ہے“ یہ ہے ”طریقہ محمودیہ“ ترجمہ ”روضۂ قیومیہ“ ص ٦٨، مطبوعہ فرید کوٹ: 1489 ”وہم آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ تمام دُنیا میں صرف تین مسجدوں کی زیارت کیا کرو، کیونکہ یہی تین مساجد عزت و تکریم کے قابل ہیں، یعنی مسجد الحرام، مسجد النبی اور مسجد الاقصیٰ۔ لیکن......“ ہیں؟ ہاں، ہاں، مجھے پتا ہے: ”.......لیکن مجدد الف ثانیؒ کی مسجد کو ان تینوں مسجدوں کے برابر بھی مقام دیا ہے بعض لوگوں نے جو ان سے تعلق رکھتے ہیں۔ اتنے میں ہاتف نے غیب سے آواز دی کہ یہ مسجد الف ثانی کی مسجد رُوئے زمین کی مسجدوں سے سوائے مسجد الحرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے، اعلیٰ اور افضل ہے۔ دُنیا کی مقدس تر مسجدوں میں یہ چوتھی مسجد ہے۔ جو اجر نماز پڑھنے والے کو ان مساجد میں نماز پڑھنے سے حاصل ہوتا ہے، وہی اجر تربیت کا اس مسجد میں حاصل ہوگا۔“ تو جو بہشتی مقبرہ ہے، اس کا تو وہ مقام ہے ہی نہیں، اس کا تصور ہی اور ہے۔ اگر کہیں تو بتا دوں دو چار۔
Mr. Chairman: Next question.
(جناب چیئرمین: اگلا سوال)
(درِثمین کے دو شعروں کی وضاحت)
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ”درِثمین“ کے دو شعر ہیں.......
١٣٧
Y OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
لیکن اس کی مسجد کو بھی، گو نبی اکرم ﷺ کی مسجد بہر حال میں نے اپنا عقیدہ بتا دیا ہے۔ question. (جناب چیئرمین: اگلا سوال) مولانا محمد ظفر احمد انصاری: یہ وہ کتاب نہیں ہے، اگر آپ اس کو Admit مرزا ناصر احمد: کتاب کا نام کیا مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ” مرزا ناصر احمد: ”مکاشفات مرزا مولانا محمد ظفر احمد انصاری: یہ ہیں ان کے اس میں۔ مرزا ناصر احمد: یہ لکھی کس نے مولانا محمد ظفر احمد انصاری: یہ ک مرزا ناصر احمد: نہیں، نہیں، کس 1488 مولانا محمد ظفر احمد انصاری مرزا ناصر احمد: یہ احمدی تھے؟ ک مولانا محمد ظفر احمد انصاری: میں مرزا ناصر احمد: ہاں، بس ٹھیک ہ (بہشتی مقبرہ کے با مولانا محمد ظفر احمد انصاری: اس ”کشفی رنگ میں وہ مقبرہ مجھے دکھا اور پھر الہام ہوا: ”کل مقابر الأ اے مرزا ناصر احمد! اتنا دھوکہ دیں ج اُمتی صرف قادیانی نہیں، بلکہ قادیانی نبی کا قادی
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
مرزا ناصر احمد: اُردو کے؟
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ”درثمین“ جو......
مرزا ناصر احمد: ”درثمین“ اُردو، فارسی اور عربی میں ہیں۔ یہ اُردو کے اشعار ہیں؟
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: یہ اُردو کے، اُردو کے۔
مرزا ناصر احمد: ”درثمین“ اُردو اگر لائبریرین صاحب کے پاس ہو تو وہ دے دیں۔
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: نہیں، یہ تو بہت معروف شعر ہے، آپ جان جائیں گے:
ہجومِ خلق سے ارضِ حرم ہے
(درثمین اُردو ص ٥٠)
تو ارضِ قادیاں فخرِ عجم ہے
(الفضل)
یہ اشعار ہیں۔
مرزا ناصر احمد: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے شعر؟
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: جی؟
مرزا ناصر احمد: یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے شعر ہیں؟
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: یہ تو میں نے نہیں عرض کیا۔
مرزا ناصر احمد: یہ ”درثمین“ کے شعر ہیں؟
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ”درثمین“، صفحہ......
مرزا ناصر احمد: ......نہیں نہیں، ”درثمین“ کس کے؟ یہ شاعر کون ہے ان کا؟
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ”الفضل“ ٢٥؍ دسمبر ١٩٣٢ء میں شائع ہوا ہے۔
مرزا ناصر احمد: ہاں ”الفضل“ میں، ”درثمین“ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اُردو اشعار کے مجموعے کا نام ہے، اور اُس میں یہ دُوسرا شعر ہے ہی نہیں۔
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ”الفضل“ ٢٥؍ دسمبر ١٩٣٢ء میں یہ اشعار شائع ہوئے ہیں۔
مرزا ناصر احمد: دیکھیں گے تو پتا لگے گا۔ یہ شعر جو ہے، اس کی جو اندرونی شہادت
١٣٨
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
ہے، وہ اسے ہم سے کاٹ کے پرے پھینکتی ہے۔
(قادیان جانا نفلی حج سے زیادہ ثواب؟)
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: بہت اچھا۔
اب یہ ”آئینہ کمالات“ میں ہے کہ: 1491”لوگ معمولی اور نفلی طور پر حج کرنے کو بھی جاتے ہیں، مگر اس جگہ نفلی حج سے ثواب زیادہ ہے۔“ (آئینہ کمالات اسلام ص ٣٥٢، خزائن ج ٥ ص ایضاً) یعنی قادیان کے متعلق ......
مرزا ناصر احمد : ....... کس حج سے؟
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ”مگر اس جگہ نفلی حج سے ثواب زیادہ ہے۔“
مرزا ناصر احمد : ”نفلی حج“ کیا ہوتا ہے؟
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ”نفلی حج“ وہ جو فرض حج ادا ہونے کے بعد لوگ جاتے ہیں۔
مرزا ناصر احمد : یعنی فرض کے پورا کرنے کے بعد۔
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: اور ایک دُوسرا یہ ”الفضل“ کا ہے یہ کوٹیشن: ”جب ......“
مرزا ناصر احمد : ہاں، میں اس کا جواب دے دُوں، پھر۔
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: نہیں، نہیں، یہ ایک ہی موضوع پر دو تین کوٹیشنز ہیں۔
مرزا ناصر احمد : اچھا۔
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: یہ گویا سالانہ جلسہ کے متعلق ہے: ”جب یہ جلسہ اپنے ساتھ اس قسم کے فیوض رکھتا ہے، اس میں شمولیت نفلی حج سے زیادہ ثواب کا انسانوں کو مستحق بنا دیتی ہے، تو لازماً فوائد سے مستفید ہونے کے لئے جماعت کے ہر فرد کے دل میں تڑپ ہونی چاہئے۔“
اب اسی مضمون کا یہ ہے: ”اللہ تعالیٰ نے ایک اور ظلی حج مقرر کیا تا کہ وہ قوم جس سے وہ اسلام کی ترقی کا کام لینا چاہتا ہے اور تا کہ وہ غریب یعنی ہندوستان کے مسلمان اس میں شامل ہوسکیں۔“
١؎ مرزا ناصر احمد! دجل اچھا نہیں۔ وہ اندرونی آپ سے کاٹ کر دور نہیں پھینک رہی۔ وہ شہادت اندرونی، اسے الفضل میں شائع کر کے آپ کے اندرونی نفاق کو شائع کر رہی ہے۔ سمجھے بابو؟
١٣٩
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
1492 یہ اس میں اس مضمون کے حوالے سے بہت سے ہیں۔ لیکن اس میں یہ ہے کہ یہ:
”اس جلسے میں بھی وہی احکام ہیں جو حج کے لئے ہیں: (عربی) یہاں اس جلسے میں بھی یہی صورت ہونی چاہئے۔“
یعنی اس سے میرا مطلب یہ ہے کہ ”ظلی حج“ کیا چیز ہے؟ آپ کے ہاں اس کا کیا تخیل ہے؟ اور وہ حج پر جانے سے زیادہ بہتر ہے قادیان کے......
مرزا ناصر احمد : ہاں، میں جواب ...... اگر ختم ہو جائے تو میں جواب دوں؟
مولانا محمد ظفر احمد انصاری : جی، بالکل۔
مرزا ناصر احمد : آپ (مرزا غلام احمد) نے یہ فرمایا ہے کہ جماعت احمدیہ کے نزدیک حج فرض ہے اور اس حج کا بہت بڑا ثواب ملتا ہے اور جماعت احمدیہ کو جب بھی شرائط حج پوری ہوں، یعنی راستے کی حفاظت ہو وغیرہ ـــــ یہ ہماری فقہ کی کتب میں ہے ـــــ اس وقت حج ضرور کرنا چاہئے۔ ایک بات آپ نے یہ فرمائی ہے۔ دوسری بات آپ نے ...... اور یہ درست ہے، میں اس کو تسلیم کرتا ہوں کہ ہمارے نزدیک حج ارکان اسلام میں سے ہے، اور جو حج کر سکے اور نہیں کرتا، وہ ہمارے نزدیک بڑا سخت گنہگار ہے۔ یعنی ہم دونوں اس پر متفق ہو گئے۔
دوسری بات آپ نے یہ فرمائی کہ ایک نفلی حج ہوا کرتا ہے۔ نفلی حج اس حج کو کہتے ہیں جس ...... اس شخص کے حج کو کہتے ہیں جس نے ایک دفعہ بھی ابھی حج نہ کیا ہو۔ تو جو آپ ہماری طرف یہ بات منسوب کرتے ہیں کہ جس نے ایک دفعہ بھی، نہیں، ایک دفعہ حج کر چکا ہے، جو حج کر چکا ہے، اور اگر ساری عمر اب وہ حج نہ کرے، کیونکہ فریضہ حج عمر میں ایک دفعہ ہے، تو اگر وہ ساری عمر بھی حج نہ کرے تو تب بھی اس کو گناہ نہیں اگر وہ ساری عمر حج نہ کرے اور ساری عمر حج کرنے کے بعد، ایک حج کرنے کے بعد، فریضہ حج ادا کرنے کے بعد، ساری عمر حج اور نہ کرے، نفلی حج نہ کرے، اور اپنے گاؤں میں اپنے بیلوں کے پیچھے ساری عمر ہل چلاتا رہے اور ان کو 1493 گالیاں دیتا رہے، جیسا کہ ہمارے گاؤں میں رواج ہے، اور ایک دوسرا شخص جو حج کر چکا، جس پر اب ساری عمر فریضہ حج عائد نہیں ہوتا، وہ علاوہ اس حج کے ایسی جگہ جاتا ہے جہاں خدا اور رسول کی باتیں اس کے کان میں پڑتی ہیں، اور اصلاح نفس کے مواقع پیدا ہوتے ہیں، تو یہ بڑی اچھی چیز ہے، احمدیوں کو ایسا کرنا چاہئے، یہی ہمارا عقیدہ ہے......
(جناب چیئرمین: آگے چلیں) Mr. Chairman: Next
مرزا ناصر احمد: ...... اور جہاں تک ہمارا پہلا لٹریچر ہے، وہ بھی بہت سی باتیں ہمیں
١٤٠
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
بتاتا ہے۔ ”تذکرۃ الاولیاء“ میں ہے، یہ ہے: ”ایک سال عبداللہ حج سے فارغ ہو کر.......“
یہ ”تذکرۃ الاولیاء“ مشہور کتاب ہے، اس کا حوالہ ہے:
”ایک سال عبداللہ حج سے فارغ ہو کر تھوڑی دیر کو حرم میں سو گئے، تو خواب میں دیکھا کہ دو فرشتے آسمان سے اُترے۔ ایک نے دُوسرے سے پوچھا۔ (فرشتوں نے، آپس کی گفتگو ہے) ایک نے دُوسرے سے پوچھا کہ امسال کتنے شخص حج کو آئے ہیں؟ جواب دیا چھ لاکھ...... دُوسرے فرشتے نے، (سوال کرنے والے فرشتے نے) کہا: کتنے لوگوں کا حج قبول ہوا؟ کسی کا بھی نہیں۔ میں نے یہ سنا تو مجھ کو اِضطراب پیدا ہو گیا۔ میں نے کہا یہ تمام لوگ جہان کے اوڑ چھوڑ سے اس قدر رنج اور تعب کے ساتھ بیابان قطع کر کے آئے ہیں، یہ سب ضائع ہو جائیں گے؟ فرشتے نے کہا: دمشق میں ایک (جوتا بنانے والا) ہے۔ (یہ فرشتے کی بات ہے) دمشق میں ایک جوتا بنانے والا ہے جس کا نام علی ابن الموفق ہے، وہ حج کو نہیں آیا....... مگر اس کا حج مقبول ہے۔ (حج کو وہ آیا ہی نہیں، اس کا حج قبول ہے) اور ان تمام لوگوں کو (چھ لاکھ کو) اس کی وجہ سے بخش دیا گیا ہے۔ میں نے سنا تو اُٹھ بیٹھا اور کہا کہ دمشق میں چل کر اس شخص کی زیارت کرنی چاہئے۔ (آنکھ کھل گئی گھبراہٹ سے) جب دمشق جاکے اس کا گھر تلاش کیا اور آواز دی تو ایک شخص باہر
1494 آئے، میں نے پوچھا: تمہارا کیا نام ہے؟ کہا: علی بن الموفق۔ میں نے کہا: مجھے تم سے ایک بات کہنا ہے۔ کہا: کہو! میں نے پوچھا: تم کیا کرتے ہو؟ کہا: جوتے ٹانکتا ہوں۔ میں نے یہ واقعہ ان سے کہا۔ تو پوچھا: تمہارا نام کیا ہے؟ (اس نے پوچھا) انہوں نے اپنی خواب سنائی۔ تو انہوں نے پوچھا: تمہارا نام کیا ہے؟ میں نے کہا: عبداللہ بن المبارک (رحمتہ اللہ علیہ)۔ انہوں نے ایک چیخ ماری اور گر کر بیہوش ہو گئے۔ جب ہوش میں آئے (وہی جو حج کو گئے نہیں تھے اور جن کا حج قبول ہو گیا تھا) جب ہوش میں آئے تو میں نے پوچھا: اپنی حالت کی خبر دو۔ کہا: تیس سال سے مجھے حج کی آرزو تھی اور جوتے ٹانک کر تین سو درہم میں نے جمع کئے حج کے لئے۔ امسال حج کا عزم کر لیا تھا مگر ایک دن میری بیوی نے جو حاملہ تھی، ہمسایہ کے گھر سے کھانے کی خوشبو پا کر مجھ سے کہا: جا کر ہمسائے کے یہاں سے تھوڑا سا کھانا لے آؤ۔ میں گیا تو اس نے کہا: سات دن رات سے میرے بچوں نے کچھ نہیں کھایا (ہمسائے کی عورت نے کچھ نہیں کھایا)، کچھ نہیں کھایا۔ آج میں نے ایک گدھا مردار دیکھا تو اس کا گوشت کاٹ کر پکایا ہے۔ یہ تم پر حلال نہیں۔ میں نے یہ سنا تو میری جان میں آگ لگ گئی، اور میں نے تین سو درہم اُٹھا کر اس کو دے دیئے اور کہا خرچ کرو، ہمارا حج یہی ہے۔“
١٤١
BLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
1492 یہ اس میں اس مضمون کے حوالے ”اس جلسے میں بھی وہی احکام ہیں جو یہاں اس جلسے میں بھی یہی صورت ہو یعنی اس سے میرا مطلب یہ ہے کہ تخیل ہے؟ اور وہ حج پر جانے سے زیادہ بہتر ہے؟
مرزا ناصر احمد: ہاں، میں جواب...
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: جی،
مرزا ناصر احمد: آپ (مرزا غلا نزدیک حج فرض ہے اور اس حج کا بہت بڑا ثوا پوری ہوں، یعنی راستے کی حفاظت ہو وغیرہ _ حج ضرور کرنا چاہئے۔ ایک بات آپ نے یہ فرما ہے، میں اس کو تسلیم کرتا ہوں کہ ہمارے نزدیک اور نہیں کرتا، وہ ہمارے نزدیک بڑا سخت گنہگار
دوسری بات آپ نے یہ فرمائی کہ آ جس ...... اس شخص کے حج کو کہتے ہیں جس نے طرف یہ بات منسوب کرتے ہیں کہ جس نے آ کرچکا ہے، اور اگر ساری عمر اب وہ حج نہ کر ساری عمر بھی حج نہ کرے تو تب بھی اس کو گنا کرنے کے بعد، ایک حج کرنے کے بعد، فریضہ نفلی حج نہ کرے، اور اپنے گاؤں میں اپنے غ
1493 گالیاں دیتا رہے، جیسا کہ ہمارے گاؤں جس پر اب ساری عمر فریضہ حج عائد نہیں ہوتا، رسول کی باتیں اس کے کان میں پڑتی ہیں، او اچھی چیز ہے، احمدیوں کو ایسا کرنا چاہئے، یہی
(جناب چیئرمین: آگے چلیں)
مرزا ناصر احمد: ...... اور جہاں
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
تو اس واقعے کے بعد ...... یہ پہلا واقعہ ہے...... اس واقعے کے بعد ان کو کشف میں یہ دکھایا گیا: جو نہیں آیا اس کا حج قبول ہو گیا اور اسی کی وجہ سے ....... یہ آ گیا۔ تو ان باریکیوں میں جائیں گے اگر ہم ، تو بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو انسان کا ایمان تازہ کرنے والی ہیں۔ لیکن جو ہمارا عقیدہ ہے وہ میں نے بتا دیا ہے۔
Mr. Chairman: Next, Maulana Zafar Ahmad Ansari. (جناب چیئرمین: آگے چلیں مولانا ظفر احمد انصاری صاحب)
(ظلی حج کے متعلق سوال)
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: جی، دیکھیں، میں یہ ”ظلی حج“ کے متعلق عرض کر رہا تھا، اس میں یہ ”برکات خلافت“ کی Quotation (اقتباس) ہے:
1495 مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کا جلسہ سالانہ کا خطبہ:
”آج جلسے کا پہلا دن ہے اور ہمارا جلسہ بھی حج کی طرح کا ہے۔ حج، خدا تعالیٰ نے مؤمنوں کی ترقی کے لئے مقرر کیا تھا۔ آج احمدیوں کے لئے دینی لحاظ سے تو حج مفید ہے مگر اس کی جو اصلی غرض تھی ، یعنی قوم کی ترقی ، وہ انہیں حاصل نہیں ہو سکتی، کیونکہ حج کا مقام ایسے لوگوں کے قبضے میں ہے جو احمدیوں کو قتل کر دینا بھی جائز سمجھتے ہیں۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے قادیان کو اس کام کے لئے مقرر کیا ہے۔ جیسا حج میں رفث، فسوق اور جدال منع ہے، ایسا ہی اس جلسے میں بھی منع ہے۔“
(برکات خلافت ص ٥٢، از محمود)
”یہ برکات خلافت“.......
مرزا ناصر احمد : صفحہ ٥٢۔
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: جی۔
مرزا ناصر احمد : صفحہ ٥٢۔
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ہاں، یہ ذرا لا رہے ہیں وہ۔
مرزا ناصر احمد : یہ ”خطبات چہارم“ ۔
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: اچھا نہیں، یہ اور ہے۔
(مجھ سے غلطی ہوئی، مرزا ناصر)
مرزا ناصر احمد : نہیں، وہ آپ کا حوالہ اور ہے۔ نہیں، یہ مجھ سے غلطی ہوئی۔
١٤٢
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: وہ دیکھ رہے ہیں۔
مرزا ناصر احمد : جی، وہ ٹھیک ہے۔ میں اس کا جواب دے دیتا ہوں۔
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ہاں، ہاں، جی ہاں۔
مرزا ناصر احمد : جی۔ جیسا آپ نے پہلے پڑھا، یہ نفلی حج کی بات ہو رہی ہے۔ فرضی حج کے متعلق تو ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ وہ بہرحال ہونا چاہئے۔ ابھی میری بات نہیں ختم ہوئی۔ جو ہے 1496 فرض حج اس کے متعلق ابوالاعلیٰ مودودی صاحب، حضرت ابوالاعلیٰ مودودی صاحب کے یہ الفاظ سن لیں:
”حج کے پورے فائدے حاصل ہونے کے لئے ضروری تھا کہ مرکزِ اسلام میں ایسا ہاتھ ہوتا جو اس عالمگیر طاقت سے کام لیتا۔ کوئی ایسا ہوتا جو ہر سال تمام دُنیا کے دل میں خونِ صالح دوڑاتا رہتا۔ کوئی ایسا دماغ ہوتا جو ان ہزاروں، لاکھوں، خداداد قاصدوں کے واسطے دُنیا بھر میں اسلام کے پیغام کو پھیلانے کی کوشش کرتا اور کچھ نہیں تو کم از کم اتنا ہی ہوتا کہ وہاں خالص اسلامی زندگی کا مکمل نمونہ موجود ہوتا (وہاں خانہ کعبہ میں، اور اس کے گرد مکہ مکرمہ میں) اور ہر سال دُنیا کے مسلمان وہاں سے دین داری کا تازہ سبق لے لے کر پلٹتے۔ مگر وائے افسوس کہ وہاں کچھ بھی نہیں۔ مدت ہائے دراز سے عرب میں جہالت پرورش پا رہی ہے۔ عباسیوں کے دور سے لے کر عثمانیوں کے دور تک ہر زمانے کے بادشاہ اپنی سیاسی اغراض کی خاطر عرب کو ترقی دینے کی بجائے صدیوں سے پیہم گرانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے اہلِ عرب کو علم، اخلاق، تمدن، ہر چیز کے اعتبار سے پستی کی انتہا تک پہنچا کر چھوڑا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ وہ سرزمین جہاں سے اسلام کا نور تمام عالم میں پھیلا تھا، آج اسی جاہلیت کے قریب پہنچ گئی ہے جس میں وہ اسلام سے پہلے مبتلا تھی۔ اب نہ وہاں اسلام کا علم ہے، نہ اسلامی اخلاق ہے، نہ اسلامی زندگی ہے۔ لوگ بڑی دُور دُور سے گہری عقیدتیں لئے ہوئے حرم پاک کا سفر کرتے ہیں۔ مگر اس علاقے میں پہنچ کر جب ان کو ہر طرف جہالت، گندگی، طمع، بے حیائی، دُنیا پرستی، بد اخلاقی، بدانتظامی اور عام باشندوں کی ہر طرح گری ہوئی حالت نظر آتی ہے تو ان کی توقعات کا سارا طلسم پاش پاش ہو کر رہ جاتا ہے۔.....“
میں آگے نہیں پڑھتا۔ بات یہ ہے کہ جماعتِ احمدیہ نے یہ کہا، جماعتِ احمدیہ نے یہ کہا کہ جو فرضی 1497 حج ہے وہ تمام مسلمانوں پر فرض ہے، جماعتِ احمدیہ کے افراد پر بھی فرض ہے۔ لیکن فرض حج کی ادائیگی کے بعد ایک ایسا مرکز ہے جو دُنیا میں تبلیغِ اسلام کر رہا ہے۔ جب تم
١٤٤٣
1504 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
وہ فریضہ ادا کر لو اور تمہارے اوپر پھر ساری عمر حج ادا کرنے کا کوئی فریضہ نہ رہے تو اس وقت خدا کے کلام کو سننے کے، جو دنیا میں کام ہو رہے ہیں، جو نتائج نکل رہے ہیں، جو اللہ تعالیٰ کی برکات اسلام کے حق میں نازل ہو رہی ہیں، اُن کو معلوم کرنے کے لئے قادیان میں جلسے پر آؤ اور ہماری باتیں سنو اور اس میں کوئی اعتراض نہیں میرے نزدیک۔
جناب چیئرمین: مولانا ظفر احمد! اب......
مرزا ناصر احمد: مولانا ابوالاعلیٰ مودودی صاحب کی......
جناب چیئرمین: مولانا ظفر احمد! آپ مولانا!......
مرزا ناصر احمد: ...... مولانا ابوالاعلیٰ مودودی صاحب کی......
جناب چیئرمین: ...... اب تحریف قرآن کے متعلق کچھ سوال ہیں؟
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: جی۔
مرزا ناصر احمد: ...... اور ہماری جماعت میں ہزار ہا حاجی موجود ہیں۔
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: نہیں، ذرا اس چیز کی وضاحت......
جناب چیئرمین: نہیں، وہ پوچھیں ناں جی۔
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: نہیں، اس کی ذرا سی وضاحت چاہئے۔ انہوں نے دوسرے بزرگ کا حوالہ دیا۔ اوّل تو وہ غیر متعلق ہے۔ دوسرے سوال یہ ہے کہ انہوں نے یہ بتایا کہ وہاں یہ خرابیاں ہیں۔ پھر انہوں نے بھی کوئی جگہ بتائی کہ اب حج یہاں ہوگا؟ جیسے آپ نے کہا کہ اب قادیان اللہ تعالیٰ نے اس جگہ کے لئے مقرر کیا، کیا انہوں نے بھی کہا کہ لاہور میں ہوگا یا سیالکوٹ میں؟
Mr. Chairman: No, this will not.......
(جناب چیئرمین: نہیں، یہ نہیں ہوگا)
1498 مرزا ناصر احمد: بالکل یہ نہیں کہا۔
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: بڑا فرق ہے۔
Mr. Chairman: This ...... no, from one question, ten questions. No, the witness can ...... Maulana ......
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: دیکھئے، ہمارا Main Objection (اہم اعتراض) یہ ہے کہ اس کے لئے خدا تعالیٰ نے قادیان کو اس کام کے لئے مقرر کیا ہے حج کے
١٤٤٤
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
لئے؟ یہ شعائر اللہ ہے؟ حج کے لئے تو ایک جگہ مقرر ہے جسے کوئی اور نہیں کر سکتا۔
Mr. Chairman: The witness has explaind that they consder Haj as Farz (فرض) and this is the other place, other than that. This they have categorically said. And when they have said it, then why on one question go on insisting for .......
(جناب چیئرمین: گواہ نے وضاحت کر دی ہے، کہ وہ حج کو فرض سمجھتے ہیں اور یہ الگ دوسری جگہ ہے۔ یہ بات گواہ نے بالکل واضح اور صاف طور پر کہہ دی ہے، تو پھر اس سوال پر اصرار کیوں؟)
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: جی، بہت اچھا۔
Mr. Chairman: That is all.
(جناب چیئرمین: بس یہی کچھ)
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: جناب! یہ ”براہین احمدیہ“ حصہ:٥، خزائن ج:١ ص:٢٦٦، ٢٦٧، اس میں مرزا صاحب نے اپنے بیت الفکر اور بیت الذکر کا ذکر کیا ہے: (عربی)
اب یہ: من دخله كان امناً۔ یہ قرآن کی آیت ہے جو مسجد یعنی مکہ کے حرم کے متعلق ہے۔
یہ کہنا کہ مرزا صاحب کا بیت الفکر اور بیت الذکر جو ہے: ”من دخله كان امناً“ قرآن کی اس آیت کو وہاں چسپاں کرنا، وہ تو 1499 ہے کہ مکہ کی مسجد الحرام جسے کہتے ہیں، بیت اللہ جسے کہتے ہیں کہ: ”من دخله كان امناً“ اس کو بیت الفکر اور بیت الذکر پر چسپاں کیا ہے، جس کو یہ ہے.......
مرزا ناصر احمد: جی، آپ کا سوال سمجھ گیا ہوں۔
(بیت الذکر کے لئے مکہ کی فضیلت؟)
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: میں ذرا.......
”بیت الذکر سے مراد وہ مسجد ہے جو اس چوبارے کے پہلو میں بنائی گئی ہے.......“
اور آخری فقرہ مذکورہ بالا اس مسجد کی صفت میں بیان فرمایا ہے:
”.......جس کے حروف سے بنائے مسجد کی تاریخ بھی نکلتی ہے اور وہ یہ ہے کہ.......“
وغیرہ، وغیرہ۔ یعنی بس اتنا ہی یہ میرا مختصر سا سوال ہے۔
١٤٥
PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
وہ فریضہ ادا کر لو اور تمہارے اوپر پھر سارا کلام کو سننے کے، جو دنیا میں کام ہو رہے کے حق میں نازل ہو رہی ہیں، ان کو معلو سنو اور اس میں کوئی اعتراض نہیں میرے
جناب چیئرمین: مولانا
مرزا ناصر احمد: مولانا ابوا
جناب چیئرمین: مولانا
مرزا ناصر احمد: .......مولا
جناب چیئرمین: .......ار
مولانا محمد ظفر احمد انصاری
مرزا ناصر احمد: .......اور
مولانا محمد ظفر احمد انصاری
جناب چیئرمین: نہیں،
مولانا محمد ظفر احمد انصاری
دوسرے بزرگ کا حوالہ دیا۔ اوّل تو وہ کہ وہاں یہ خرابیاں ہیں۔ پھر انہوں نے کہ اب قادیان اللہ تعالیٰ نے اس جگہ ہ سیالکوٹ میں؟
ll not.......
(جناب چیئرمین: نہیں
1498 مرزا ناصر احمد: بالکل
مولانا محمد ظفر احمد انصاری
no, from one question,
.. Maulana ......
مولانا محمد ظفر احمد انص اعتراض) یہ ہے کہ اس کے لئے خدا ا
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
مرزا ناصر احمد : بات یہ ہے کہ آپ یہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی بعثت صرف اس لئے تھی کہ مکہ مکرمہ کے ایک شہر کے اندر اور ایک چھوٹی سی جگہ کو اس کا مقام بنا دیا جائے اور میں آپ سے یہ کہتا ہوں کہ مکہ مکرمہ وہ سمبل ہے، وہ نمونہ ہے، اور ہمیں یہ حکم ہے کہ دنیا میں جگہ جگہ پر وہ مقامات بناؤ جو من دخلہ کان امنا ہو، جو لوگوں کے لئے امن کا ہو، جہاں وہ ہر قسم کے خوف سے بچ جائیں، اس کے اُسوہ میں، اس کے طریق کے اُوپر، انہی اُصولوں کے اُوپر۔ تو من دخلہ کان امنا جو ایک سبق ہے جو سکھایا گیا ہے اور اس کے اُوپر جماعت احمدیہ نے اور اوروں نے بھی کیا پہلے۔ ہماری ساری تاریخ بھری پڑی ہے ان مقامات کے ذکر سے جو امن کے لحاظ سے، باقی جو ہیں اس کی برکات، وہ نہیں یہاں، جو امن کے لحاظ سے اس کی نقل کر کے بنائی گئی ہیں۔
Mr. Chairman: The Delegation is ...... just a minute. The Delegation will wait in the Committee Room for 10, 15 minutes. In the meantime, we will discuss certain matter. If need be then tomorrow's time will be given, otherwise .......
(جناب چیئرمین: وفد کمیٹی روم نمبر ٢ میں ١٠،١٥ منٹ انتظار کرے، اس دوران ہم کچھ معاملات پر بات کریں گے، اگر ضرورت ہوئی تو کل کے اجلاس کا وقت بتا دیا جائے گا ورنہ نہیں)
Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, I am just going to ask one question.
(جناب یحییٰ بختیار: جناب والا! میں صرف ایک سوال کرنا چاہتا ہوں)
1500 وہ ”محضر نامہ“ دے دیجئے۔
......because, I think, if they are not wanted again......
(کیونکہ اگر وفد کو دوبارہ نہ بلایا گیا تو ......)
Mr. Chairman: No, then I am going to call them again after 15 minutes, after 15 minutes.
(جناب چیئرمین: جی نہیں، میں وفد کو پندرہ منٹ بعد بلانے والا ہوں)
مرزا ناصر احمد : اگر ہم نے واپس آنا ہے تو آپ پھر انتظار کریں۔
١٤٦
1507 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
جناب چیئرمین: ١٥ منٹ۔ پھر اس کے بعد کرلیں گے۔ They will be coming here.
جناب یحییٰ بختیار: اچھا، ٹھیک ہے۔ They will be waiting in the room. We will discuss certain matters and if they are needed tomorrow, we will give them tomorrow's time; otherwise we will ask one or two questions, get their signatures and then we will thank them. This is what I am ...... just about ten minutes.
Muhammad Haneef Khan.
(وہ کمرے میں انتظار کر رہے ہیں، ہم کچھ معاملات پر بات کر رہے ہیں۔ اگر ضرورت ہوئی تو وفد کو کل کے اجلاس کا وقت بتا دیں گے۔ بصورت دیگر ایک یا دو سوال پوچھ لیں گے، دستخط کرالیں گے اور ان کا شکریہ ادا کریں گے، میں یہی کہہ رہا ہوں ....... محمد حنیف خان ......)
اس کمرے میں انتظار کر لیں، پھر میں اطلاع بھجواؤں گا۔
----------
(Delegation left the Chamber)
(وفد ہال سے باہر چلا گیا)
----------
جناب چیئرمین: ایک سیکنڈ جی۔
The Reporters may also leave for 10 minutes. They can rest for 10 minutes. We will call them after 10 minutes.
(رپورٹرز حضرات بھی دس منٹ کے لئے چلے جائیں، ہم دس منٹ بعد انہیں بلا لیں گے)
(The Reporters left the Chamber)
(رپورٹرز حضرات ہال سے باہر چلے گئے)
----------
Mr. Chairman: If they like, then they may keep
OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
مرزا ناصر احمد : بات یہ ہے کہ لئے تھی کہ مکہ مکرمہ کے ایک شہر کے اندر اور ا آپ سے یہ کہتا ہوں کہ مکہ مکرمہ وہ سمبل ہے مقامات بتاؤ جو من دخله كان امناً ہو سے بچ جائیں، اس کے اُسوہ میں، اس کے طر كان امناً ، تو ایک سبق ہے جو سکھایا گیا ہے ا کیا پہلے۔ ہماری ساری تاریخ بھری پڑی ہے جو ہیں اس کی برکات، وہ نہیں یہاں، جو امن
Delegation is ...... just a it in the Committee Room ime, we will discuss certain row's time will be given,
(جناب چیئرمین: وفد کمیٹی ر معاملات پر بات کریں گے، اگر ضرورت ہوئی
Sir, I am just going to ask
(جناب یحییٰ بختیار: جناب 1500 وہ ”محضر نامہ“ دے دیجئے،
are not wanted again......
(کیونکہ اگر وفد کو دوبارہ نہ بلایا
n I am going to call them inutes.
(جناب چیئرمین: جی نہیں، مرزا ناصر احمد : اگر ہم نے و
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
sitting. They are part of the House. If they like, they can keep sitting. If they want, they can have a rest of 10 minutes. And no tape.
(Pause)
1501
Mr. Yahya Bakhtiar: One question here and then answer. (جناب یحییٰ بختیار: ایک سوال اور پھر جواب)
Mr. Chairman: One question.
(جناب چیئرمین: ایک سوال) ہاں، بلالیں جی۔
I will request the honourable members to be ......
(میں معزز اراکین سے استدعا کرتا ہوں کہ وہ خاموش رہیں)
----------------
(The Delegation entered the Chamber) (وفد ہال میں داخل ہوا)
----------------
(Interruption)
Mr. Chairman: Only...... I call the House to order.
Only three question will be put. Then certain instructions about clarification will be asked. It won't take more than 10/15 minutes.
Yes, Mr. Attorney-General.
(جناب چیئرمین: میں ایوان میں سکوت کے لئے التماس کرتا ہوں، صرف دو تین سوال پوچھے جائیں گے، وضاحت کرانے کے لئے جس کے لئے دس پندرہ منٹ سے زیادہ نہیں لگیں گے۔ جی۔ اٹارنی جنرل صاحب!)
ایک مولانا ظفر احمد انصاری پوچھیں گے اور......Yes ۔
١٤٨
1509 NATIONAL ASSEM
کیا پوزیشن ہے؟) سوال یہ ہے کہ ”مینارۃ المسیح“ جس پر روایتوں دمشق میں ، آپ کے ہاں کی کتابوں میں ملتا ہے کے متعلق کیا پوزیشن ہے؟.......
قادیان میں بنوایا ہے اور ان کو، قادیان کو دمشق
اینٹ گارے کا بنا ہوا شہر بھی ہے، اور دمشق کے ؟) بھی ہیں۔ تو جو حدیث میں آیا ہے کہ دمشق نہیں یہ کہا کہ یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ دمشق جو Associ (لگاؤ) اُمتِ مسلمہ کے دماغ میں کے طور پر ظاہری وہ مینارہ ہے۔ مینارے کی اور بل کے طور کے اُوپر اس کو کھڑا کیا ہے۔
کیا مناسبت ہے؟) سے کیا مناسبت ہے قادیان کو؟ یہ کوئی واضح کیا؟ ...... ویسے بہت سارے ہیں، اس وقت میرے کا عیسائیت کا بھی مرکز رہا ہے اور یہ مفہوم لیا کہ اس واسطے وہ اس کے شرقی جانب ...... ”شرقی“ ...... جہاں سے اُٹھے گا۔ نے کہ بعثت کا مقصد کیا ہے؟ تو میں نے کہا کہ فرمایا کہ: صلیب کو جس نے مسیح کی ہڈیوں کو توڑا اور جسم
ے مرکز کے قریب کی۔
PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11 se. If they like, they can have a rest of 10 minutes.
- One question here and (جناب یحییٰ بختیار: ایک tion. (جناب چیئرمین: ایک سـ ہاں، بلالیں جی۔ e members to be ...... (میں معزز اراکین سے استـ the Chamber) (و ) be put. Then certain be asked. It won't take
(جناب چیئرمین: میں سوال پوچھے جائیں گے، وضاحت کر لگیں گے۔ جی۔ اٹارنی جنرل صاحب ایک مولانا ظفر احمد انصاری
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
(مینارۃ المسیح قادیان کی کیا پوزیشن ہے؟)
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ایک سوال یہ ہے کہ ”مینارۃ المسیح“ جس پر روایتوں میں آتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوگا دمشق میں، آپ کے ہاں کی کتابوں میں ملتا ہے یہ کہ وہ مرزا صاحب نے وہ مینارہ بنوایا ہے۔ تو اس کے متعلق کیا پوزیشن ہے؟.......
مرزا ناصر احمد: جی؟
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: ....... قادیان میں بنوایا ہے اور ان کو، قادیان کو دمشق بھی قرار دیا ہے۔ یہ کیا صورت ہے؟ آپ.......
مرزا ناصر احمد: جی، جی۔ دمشق ایک اینٹ گارے کا بنا ہوا شہر بھی ہے، اور دمشق کے ساتھ 1502 کچھ مذہبی Associations (لگاؤ) بھی ہیں۔ تو جو حدیث میں آیا ہے کہ دمشق کے قریب اترے گا آنے والا مسیح، بانی سلسلہ نے ہمیں یہ کہا کہ یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ دمشق جو اینٹ گارے کا بنا ہوا ہے وہ ہو۔ بلکہ جو Associations (لگاؤ) اُمتِ مسلمہ کے دماغ میں دمشق کے ساتھ ہیں وہ مراد ہے اور اس کے سمبل کے طور پر ظاہری وہ مینارہ ہے۔ مینارے کی اور کوئی وہ نہیں ہے حرمت۔ لیکن ایک علامت، ایک سمبل کے طور پر اس کو کھڑا کیا ہے۔
(قادیان کو دمشق سے کیا مناسبت ہے؟)
مولانا محمد ظفر احمد انصاری: دمشق سے کیا مناسبت ہے قادیان کو؟ یہ کوئی واضح کیا؟
مرزا ناصر احمد: ہاں، ایک یہ ہے....... ویسے بہت سارے ہیں، اس وقت میرے ذہن میں پورے حاضر نہیں....... لیکن ایک یہ کہ دمشق عیسائیت کا بھی مرکز رہا ہے اور یہ مفہوم لیا کہ چونکہ آنے والے مسیح نے عیسائیت کا مقابلہ کرنا تھا اس واسطے وہ اس کے شرقی جانب....... ”شرقی“ بھی یہاں روحانی طور پر....... یعنی جہاں اسلام کا نور جہاں سے اُٹھے گا۔ اور ایک دفعہ مجھ سے سوال کیا تھا کسی نے کہ بعثت کا مقصد کیا ہے؟ تو میں نے کہا کہ بانی سلسلہ کی زبان میں تمہیں بتاتا ہوں، آپ نے فرمایا کہ: ”میری بعثت کا مقصد ایک یہ ہے کہ اُس صلیب کو جس نے مسیح کی ہڈیوں کو توڑا اور جسم کو زخمی کیا، دلائلِ قاطعہ کے ساتھ توڑ دوں۔“ تو وہ یہ نسبت ہے دمشق کی، عیسائیت کے مرکز کے قریب کی۔
١٤٩
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
Mr. Chairman: Yes, Mr. Attorney-General.
(جناب چیئرمین: جی اٹارنی جنرل صاحب!)
جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! میں آپ کی توجہ یہ ”محضر نامہ“ کے صفحہ: 189 کی طرف دلاتا ہوں۔ بعض ممبر صاحبان یہ محسوس کر رہے ہیں کہ اس کی Relevance (مناسبت) کیا ہے۔ جو آپ کا باقی جواب ہے وہ تو ٹھیک ہے۔ یہاں آپ فرماتے ہیں......
مرزا ناصر احمد: 189؟
1503 جناب یحییٰ بختیار: 189۔
مرزا ناصر احمد: 189۔
(بانی سلسلہ احمدیہ کا پردردانتباہ)
جناب یحییٰ بختیار: ”ایک محضر حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کا پُردرد انتباہ“ پھر وہ اُس میں یہ آتا ہے کہ:
”اے لوگو! تم یقیناً سمجھ لو میرے ساتھ وہ ہاتھ ہے جو آخری وقت تک مجھ سے وفا کرے گا۔ اگر تمہارے مرد، تمہاری عورتیں، تمہارے جوان، تمہارے بوڑھے، تمہارے چھوٹے اور تمہارے بڑے سب مل کر میرے ہلاک کرنے کی بھی دُعائیں کریں، یہاں تک کہ سجدے کرتے کرتے ناک گل جائیں اور ہاتھ شل ہو جائیں، تب بھی خدا ہرگز تمہاری دُعائیں نہ سنے گا۔“
مرزا ناصر احمد: جی۔
(یہ دھمکی ہے یا اپیل ہے یا کیا ہے؟)
جناب یحییٰ بختیار: یہ کوئی دھمکی سمجھتے ہیں یا اپیل ہے یا کیا ہے؟ Relevance (مناسبت) کیا تھی؟
مرزا ناصر احمد: یہ دھمکی نہیں، یہ خواہش بھی نہیں، آپ سمجھ لیں خود کہ کیوں میں یہ لفظ استعمال کر رہا ہوں: ”یہ دھمکی بھی نہیں، یہ خواہش بھی نہیں“۔ یہ صرف ایک عاجزانہ التماس یہ کی گئی ہے کہ تم اپنے اور میرے درمیان جو اختلاف ہے اسے خدا تعالیٰ پر چھوڑ دو اور میرا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پر جب تم چھوڑو گے تو میری دُعائیں قبول ہوں گی اور میں کامیاب ہوں گا اور تمہاری دُعائیں قبول نہیں ہوں گی اور جس مقصد، غلبہ اسلام کے لئے کھڑا کیا گیا ہے مجھے، وہ پورا ہوگا، اور
١٥٠
AKISTAN 24th Aug, 1974 No:11 torney-General. (جناب چیئرمین: جی) جناب یحییٰ بختیار: مر کی طرف دلاتا ہوں۔ بعض ممبر صا (مناسبت) کیا ہے۔ جو آپ کا باقی ج 1503 جناب یحییٰ بختیار: مرزا ناصر احمد: 189 (بانی جناب یحییٰ بختیار: ” پھر وہ اُس میں یہ آتا ہے ”اے لوگو! تم یقیناً مجھ کرے گا۔ اگر تمہارے مرد، تمہاری اور تمہارے بڑے سب مل کر میرے کرتے کرتے ناک گل جائیں اور ہا مرزا ناصر احمد: جی۔ (یہ دھمکی جناب یحییٰ بختیار: بہ (مناسبت) کیا تھی؟ مرزا ناصر احمد: یہ دھمکی استعمال کر رہا ہوں: ”یہ دھمکی بھی نہیں ہے کہ تم اپنے اور میرے درمیان جو اللہ تعالیٰ پر جب تم چھوڑو گے تو میر دُعائیں قبول نہیں ہوں گی اور جس مد
1511 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11 اسلام ساری دُنیا پر غالب آجائے گا۔ جناب یحییٰ بختیار: بس، ٹھیک ہے۔ مجھ سے پوچھا گیا تھا تو میں نے کہا ہے۔ مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، ٹھیک ہے۔ Mr. Yahya Bakhtiar: اب، Sir, shall I ask one more question? (جناب یحییٰ بختیار: جناب والا کیا میں ایک سوال پوچھ سکتا ہوں؟) 1504 Mr. Chairman: Yes. (جناب چیئرمین: جی ہاں) Mr. Yahya Bakhtiar: Mirza Sahib, several questions were asked in the course of these two weeks, and if you want to add anything in reply to any of the answers which you have given, you may kindly do so, because, I think, we have no more questions to ask. It is only fair...... (جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! گزشتہ دو ہفتوں کے دوران متعدد سوالات کئے گئے، آپ نے جو جوابات دیئے، اگر ان میں آپ کچھ اضافہ کرنا چاہتے ہوں تو آپ از راہِ کرم کرلیں، ہمیں آپ سے مزید سوال نہیں کرنا) مرزا ناصر احمد: ہاں، میں سمجھ گیا ہوں۔ بات یہ ہے کہ یہ میں، میں نے کوئی، وہ نہیں کر رہا شکایت، کوئی شکوہ یا گلہ نہیں، میں ویسے حقیقت بیان کرنے لگا ہوں کہ گیارہ دن مجھ پر جرح ہوئی ہے۔ دو دن پہلے۔ گیارہ دن جرح کے ہیں اور جس کا مطلب یہ ہے کہ قریباً ساٹھ گھنٹے مجھ پر سوال پہلے بتا کے جرح کی گئی ہے اور جو میرے دماغ کی کیفیت ہے یہ ہے: نہ دن کا مجھے پتا ہے نہ رات کا مجھے پتا ہے۔ میں نے اور بھی کام کرنے ہوتے ہیں۔ عبادت کرنی ہے، دُعائیں کرنی ہیں، سارے کام لگے ہوئے ہیں ساتھ۔ تو یہ کہ میرے دماغ میں کوئی ایسے سوال حاضر ہیں کہ جن کے متعلق میرا دماغ سمجھتا ہے کہ کوئی اور کہنا چاہئے، وہ تو ہے نہیں، حاضر ہی نہیں ہے۔ میں صرف ایک بات آپ کی اجازت سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے یہ کرنا چاہتا ہوں کہ اگر دل کی گہرائیاں چیر کر میں آپ کو دکھا سکوں تو وہاں میرے اور میری جماعت کے دل میں اللہ تعالیٰ، جبکہ اسلام نے اسے ١٥١
1512 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
پیش کیا ہے دُنیا کے سامنے، اور حضرت خاتم الانبیاء محمد ﷺ کی محبت اور عشق کے سوا اور کچھ نہیں پائیں گے۔ شکریہ!
Mr. Yahya Bakhtiar: I have no more question.
(جناب یحییٰ بختیار: میں کوئی اور سوال نہیں کرنا چاہتا)
Mr. Chairman: That is all.
(جناب چیئرمین: بس یہی تھا)
Mr. Yahya Bakhtiar: I have no more questions to ask Sir. (جناب یحییٰ بختیار: جناب والا! میں کوئی اور سوال نہیں کرنا چاہتا)
Mr. Chairman: Any honourable member through the Attorney-General?
(جناب چیئرمین: کیا کوئی معزز ممبر کوئی سوال پوچھنا چاہتے ہیں؟)
1505 جناب یحییٰ بختیار: آخر میں، میں مرزا صاحب سے کہوں گا کہ وہ بھی تھک گئے ہیں اور میری بھی ایسی حالت ہے......!!
مرزا ناصر احمد: بالکل۔
جناب یحییٰ بختیار: ......کہ آپ کو تو پھر ان کتابوں......
Mr. Chairman: And for the members also. For the members, I must ......
جناب یحییٰ بختیار: وہ تو آپ کے ہاؤس کی عزت ہے۔
Mr. Chairman: I must recognize the patience of all the parties, and, above all, the honourable members whom we have as Judges to examine all the aspects of this problem and they were looking, they were helpful.
Now, I have certain observations to make before I allow the Delegation to withdraw:-
١٥٢
1513 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
No. (1). All the references which have been given or which have been quoted before the House and have not yet been supplied, may be supplied in a day or two or three.
And if there has been any question which has not been answered or any Hawalagaat (حوالہ جات) which can be sent to the Committee, which have remained oustanding, just remained unanswered by mistake or by omission, by the Attorney-General or by the Witness, that may be sent back.
The Delegation may be called any time, before this recommendation is concluded, for further clarification, if need be.
(جناب چیئرمین: میں تمام فریقین کے حوصلے کا معترف ہوں، خاص طور پر تمام معزز اراکین کا جو کہ بطور منصف مسئلے کا تمام جہتوں سے جائزہ لیتے رہے پیشتر اس کے کہ وفد کو واپس جانے کی اجازت دی جائے، میں مندرجہ ذیل معروضات کرنا چاہتا ہوں۔
(تمام حوالہ جات دو تین دن میں جمع کرا دیئے جائیں)
(1) تمام حوالہ جات جو پیش کئے گئے یا جن کا ذکر کیا گیا ہے، ایک دو یا تین دنوں میں جمع کرا دیئے جائیں، اور اگر کوئی ایسا سوال ہو جس کا جواب نہیں دیا گیا، اور یا کوئی ایسا ہی جواب طلب حوالہ ہو، وہ کمیٹی کو بھجوا دیئے جائیں، اگر ضروری ہوا تو وضاحت کے لئے وفد کو سفارشات مرتب کرنے سے پیشتر دوبارہ ایوان کے روبرو طلب کیا جاسکتا ہے)
Mr. Yahya Bakhtiar: It would not happen.
(جناب یحییٰ بختیار: ایسی صورت حال پیش نہیں آئے گی)
1506 Mr. Chairman: It will, it may.
The Delegation may be asked, through ....... writing or through other means, for further elucidation or further calrification of any point which comes during the course of
١٥٣
1514 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
the debate or argument in the Committee of the House. (جناب چیئرمین: اس کا امکان ہو سکتا ہے، ایوان کی کمیٹی کے بحث کے دوران پیش آنے والے نکات کی وضاحت کے لئے وفد کو تحریری طور پر یا دوسرے ذرائع سے کہا جائے گا) مرزا ناصر احمد: شکریہ جی۔ جی؟
Mr. Yahya Bakhtiar: ...... report, in the course of argument..... (جناب یحییٰ بختیار: دلائل کی بحث کی رپورٹ میں......)
Mr. Chairman: In the course of arguments ...... (جناب چیئرمین: دلائل کی بحث میں......)
Mr. Yahya Bakhtiar: ...... they need further clarification.....(جناب یحییٰ بختیار: اگر انہیں ضرورت ہوئی وضاحت کی)
Mr. Chairman: ...... they may be asked. (جناب چیئرمین: وہ پوچھ سکتے ہیں)
Mr. Yahya Bakhtiar: ..... they write to you and ask for that.....
Mr. Chairman: ....... they can ask through a Commission or may be sent by a query or may be. Next point whic I want to make also clear that threr shall be no disclosure of the proceedings of the Committee for any purpose or for any comments till we releas all the evidences which have been recorded. Till then, tere cannot be reporting of even the comments as to how the proceeding continued and what was the purpose, what was the object, what was the ...... In no manner can any comments be made by the ...... members of the ......
١٥٤
1515 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
(جناب چیئرمین: بذریعہ کمیشن یا سوال نامہ دوسری بات جو میں واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ جب تک ہم خود شہادتیں رپورٹ جاری نہ کریں کسی بھی مقصد کے لئے کارروائی ظاہر نہیں کی جائے گی اور نہ ہی کوئی تبصرہ ہوگا۔ اس وقت تک یہ تبصرہ بھی نہیں کیا جائے گا کہ کارروائی کس انداز میں ہوئی، اور یا کہ وفد کے اراکین کا رویہ کارروائی کے دوران کس قسم کا رہا)
جناب یحییٰ بختیار: کوئی Comments (تبصرے) اس پر .......
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، اشاعت نہیں ہونی چاہئے اس کی۔
جناب چیئرمین: 1507 اشاعت بھی اور Comments (تبصرے) بھی نہیں ہونے چاہئیں اس پر۔
مرزا ناصر احمد: ہاں، ہاں، اشاعت میں Comments (تبصرے) وغیرہ۔ آپس میں تم ہم بات کر لیتے ہیں۔
جناب چیئرمین: آپس میں،
The Delegation can discuss among Themselves any time, but not with others, because that would prejudice the results, And secrecy is to be strictly........
(وفد آپس میں بحث کر سکتا ہے، مگر اوروں سے نہیں، کیونکہ اس طرح نتائج اثر انداز ہوں گے، لہٰذا کارروائی کو بالکل خفیہ رکھا جائے)
مرزا ناصر احمد: ہاں، اپنی طرف سے تو بڑی احتیاط کر رہے ہیں، آئندہ بھی کریں گے، انشاء اللہ!
Mr. Chairman: Secrecy......
(جناب چیئرمین: خفیہ ......)
جناب یحییٰ بختیار: یہ سب پر پابندی ہے۔
Mr. Chairman: Secrecy is to be maintained till the last. And with these words, the Delegation is permitted to withdraw.
١٥٥
1516 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
(جناب چیئرمین: آخر وقت تک انتہائی راز داری رکھی جائے گی، ان الفاظ کے ساتھ وفد کو جانے کی اجازت ہے)
مرزا ناصر احمد: میں سمجھتا ہوں کہ شاید میرا حق نہیں کہ میں کچھ کہوں۔ اگر نہیں، تب بھی میں ہر ایک کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ بڑی مہربانیاں کرتے رہے ہیں آپ ہم سے۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ!
Mr. Chairman: Thank you very much.
(جناب چیئرمین: آپ کا بہت بہت شکریہ)
----------
(The Delegation left the Chamber)
(وفد ہال سے باہر چلا گیا)
----------
Mr. Chairman: The Reporters are allowed to withdraw. No tape.
(جناب چیئرمین: رپورٹ کرنے والے حضرات بھی جاسکتے ہیں۔ ٹیپ نہ کریں)
1508
And for day after tomorrow at 10:00.
(جناب چیئرمین: رپورٹ کرنے والے حضرات کل دس بجے تک کے لئے جاسکتے ہیں۔ ٹیپ نہ کریں۔ آپ کا بہت بہت شکریہ)
Thank you very much.
----------
[The Special Committee of the whole House adjourned to meet at tne of the clock, in the morning, on Monday, the 26th August 1974.]
(پورے ایوان پر مشتمل خصوصی کمیٹی کا اجلاس ملتوی ہوا، بروز سوموار ٢٦؍ اگست ١٩٧٤ء کو صبح دس بجے دوبارہ ہوگا)
١٥٦
OF PAKISTAN 24th Aug, 1974 No:11
(جناب چیئرمین: آخر وقت ساتھ وفد کو جانے کی اجازت ہے)
مرزا ناصر احمد: میں سمجھتا ہوں بھی میں ہر ایک کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ بڑی السلام علیکم ورحمۃ اللہ!
you very much.
(جناب چیئرمین: آپ کا بہ - the Chamber)
(وفد ہال - Reporters are allowed to
(جناب چیئرمین: رپورٹ row at 10:00.
(جناب چیئرمین: رپورٹ ہیں۔ ٹیپ نہ کریں۔ آپ کا بہت بہت شکر - e of the whole House clock, in the morning, on
(پورے ایوان پر مشتمل خصو ١٩٧٤ء کو صبح دس بجے دوبارہ ہوگا)
1517 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
No. 12 350
THE
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN
PROCEEDINGS
OF
THE SPECIAL COMMITTEE OF THE
WHOLE HOUSE HELD IN CAMERA
TO CONSIDER THE QADIANI ISSUE
OFFICIAL REPORT
Tuesday, the 27th August, 1974
(Contains No. 1-21)
CONTENTS
Pages
- 1. Recitation from the Holy Qur'an .................................................. 1511
- 2. Agenda for the Day's Sitting ...................................................... 1512-1514
- 3. Replies to Questions in the Cross-examination by a Member other than the
Head of the Delegation ........................................................... 1514
- 4. Oath by the Delegation ............................................................ 1514-1515
- 5. Cross-examination of the Lahori Group Delegation ................................ 1515-1634
- 6. Evasive Answers and Proposed speeches by the Witness .............................. 1634 1636
- 7. Cross-examination of the Lahori Group Delegation-(Continued) ................... 1637-1718
PRINTED BY THE MANAGER, PRINTING CORPORATION OF PAKISTAN PRESS, ISLAMABAD PUBLISHED BY THE NATIONAL BOOK FOUNDATION, ISLAMABAD
1
1518 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
No. 12 350
THE
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN
PROCEEDINGS OF THE SPECIAL COMMITTEE OF THE WHOLE HOUSE HELD IN CAMERA TO CONSIDER THE QADIANI ISSUE
OFFICIAL REPORT
Tuesday, the 27th August, 1974
(Contains No. 1—21)
1519 NATIONAL ASSEMB
1511 THE NATIONAL ASS
پاکستان)
PROCE O THE SPECIAL CO WHOLE HOUSE TO CONSIDER TH
OFFICIA
Tuesday, the 2
ند کمرے کی کارروائی) اء، بروز منگل)
The Special Committ Camera in the Assembly Ch Islamabad, at ten of the cl Acting Chairman (Dr. Mrs. Chair.
اسمبلی چیمبر (سٹیٹ بینک بلڈنگ) اسلام آباد ت خاتون عباسی) کی زیر صدارت منعقد ہوا)
(Recition from
شریف)
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
1511 THE NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN (قومی اسمبلی پاکستان)
PROCEEDINGS
OF
THE SPECIAL COMMITTEE OF THE
WHOLE HOUSE HELD IN CAMERA
TO CONSIDER THE QADIANI ISSUE.
OFFICIAL REPORT
Tuesday, the 27th August. 1974. (کل ایوانی خصوصی کمیٹی بند کمرے کی کارروائی) (٢٧؍ اگست ١٩٧٤ء، بروز منگل)
The Special Committee of the Whole House met in Camera in the Assembly Chamber, (State Bank Building), Islamabad, at ten of the clock, in the morning. Madam Acting Chairman (Dr. Mrs. Ashraf Khatoon Abbasi) in the Chair.
(مکمل ایوان کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس اسمبلی چیمبر (سٹیٹ بینک بلڈنگ) اسلام آباد صبح دس بجے محترمہ قائمقام چیئرمین (ڈاکٹر مسز اشرف خاتون عباسی) کی زیر صدارت منعقد ہوا)
(Recition from the Holy Quran) (تلاوت قرآن شریف)
٣
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
Madam Acting Chairman: Yes, Mr. Attorney-General, have you to say any thing before we call the Delegation? Have you to say anything before we call the Delegation?
(محترمہ قائمقام چیئرمین: جی اٹارنی جنرل صاحب! قبل اس کے ہم وفد کو بلالیں، کیا آپ کو کچھ کہنا ہے؟)
Mr. Yahya Bakhtiar: No Madam, I think, they should be called.
(یحییٰ بختیار: نہیں میڈم، میرا خیال ہے انہیں بلالیں)
Madam Acting Chairman: Yes, call them.
(محترمہ قائمقام چیئرمین: جی ہاں انہیں بلالیں)
(وقفہ)
1512 AGENDA FOR THE DAY'S SITTING
صاحبزادہ صفی اللہ: محترمہ چیئرمین صاحبہ!
Madam Acting Chairman: Please don't call them.
صاحبزادہ صفی اللہ: نہیں، ایک معمولی بات ہے۔ محترمہ قائمقام چیئرمین: اچھا۔
(اجلاس کا ایجنڈا تقسیم نہیں ہوا)
صاحبزادہ صفی اللہ: آج کے اجلاس کا ایجنڈا تقسیم نہیں کیا گیا، نہ ہی ہمیں کچھ نوٹس ملا ہے۔ ہم نے ٹیلیفون پر ایک دوسرے سے بات کی تو معلوم ہوا کہ آج اجلاس ہے۔
محترمہ قائمقام چیئرمین: نہیں، یہ تو ستائیس (٢٧) کا پہلے ہی بتا دیا گیا تھا۔
صاحبزادہ صفی اللہ: نہیں، ستائیس (٢٧) کا پورا یعنی حتمی فیصلہ نہیں ہوا تھا کہ اجلاس ہوگا اس دن۔
٤
EMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
g Chairman: Yes, Mr.
u to say any thing before we call
o say anything before we call the
(محترمہ قائمقام چیئرمین: جی انہیں بلالیں، کیا آپ کو کچھ کہنا ہے؟)
tiar: No Madam, I think, they
(یحییٰ بختیار: نہیں میڈم، میرا خیال ہے
hairman: Yes, call them.
(محترمہ قائمقام چیئرمین: جی ہاں انہیں
(وقفہ)
THE DAY'S SITTING
صاحبزادہ صفی اللہ: محترمہ چیئرمین صا
Chairman: Please don't call
صاحبزادہ صفی اللہ: نہیں، ایک معمولی
محترمہ قائمقام چیئرمین: اچھا۔
(اجلاس کا ایجنڈا تہ
صاحبزادہ صفی اللہ: آج کے اجلاس ملا ہے۔ ہم نے ٹیلیفون پر ایک دوسرے سے بات کی
محترمہ قائمقام چیئرمین: نہیں، یہ تو
صاحبزادہ صفی اللہ: نہیں، ستائیس اجلاس ہوگا اس دن۔
٤
1521 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
محترمہ قائمقام چیئرمین: یہ فیصلہ نہیں ہوا تھا؟
صاحبزادہ صفی اللہ: اس وقت یہ کہا گیا تھا کہ بعد میں ہم دیکھیں گے، فیصلہ کریں گے۔
محترمہ قائمقام چیئرمین: خیر، ستائیس (٢٧)، میں، کہتے ہیں سیکریٹری کو...... ستائیس (٢٧)......
صاحبزادہ صفی اللہ: فیصلہ نہیں ہوا تھا۔
محترمہ قائمقام چیئرمین: ...... کا فیصلہ ہو گیا تھا۔
صاحبزادہ صفی اللہ: نہیں، فیصلہ نہیں ہوا........
مولوی مفتی محمود: ....... کہ صبح کے اجلاس میں وہ پیش ہوں گے یا شام کے اجلاس میں ہوں گے۔ خیال تھا کہ شاید پارلیمنٹ کا اجلاس ستائیس (٢٧) کی صبح کو بھی ہو 1513 جائے تو شام کو پیش ہو جائیں گے۔ تو ہمیں یہ پتا نہیں چل رہا تھا کہ آج اجلاس صبح ہے یا نہیں، یا کمیٹی کا ہے، کوئی پتا نہیں چل رہا تھا۔
محترمہ قائمقام چیئرمین: کل تو بتایا تھا انہوں نے کہ اجلاس ہے۔
مولوی مفتی محمود: کل تو......
پروفیسر غفور احمد: اسپیشل کمیٹی کا اجلاس ہوتا تب تو ٹھیک تھا، لیکن Joint Sitting بھی ہوئی۔
محترمہ قائمقام چیئرمین: کل اس میں آپ تو چلے گئے تھے، واک آؤٹ کر کے۔
ایک رکن: وہ اصل واقعہ یہ ہے جی کہ یہ جلدی تشریف لے گئے تھے، ان کو پتا نہیں چلا۔
مولوی مفتی محمود: اگر ہم واک آؤٹ کر کے چلے گئے تھے تو ہمیں اطلاع تو دینی چاہئے تھی۔ اطلاع ہی دے دیتے کہ بھائی کل آ جاؤ واپس، ہم آ جاتے۔
محترمہ قائمقام چیئرمین: یہ اطلاع تو اب آپ کو پہنچ تو گئی ہوگی، تبھی تو آپ یہاں پر ہیں۔ بس ہو گیا۔ بات تو وہی ہے جو اسٹیئرنگ کمیٹی میں آپ نے فیصلہ کیا ہے، وہی Questions (سوالات) ہوں گے۔ (وقفہ)
مولوی مفتی محمود: ٹیلیفون وغیرہ کر کے یہاں سیکرٹریٹ میں معلومات کیں۔
محترمہ قائمقام چیئرمین: اچھا، پھر اس کا دیکھیں گے۔
مولوی مفتی محمود: ہمیں یعنی آسانی نہیں رہی، بس اتنی بات ہے، اور کوئی بات نہیں۔
٥
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
محترمہ قائمقام چیئرمین: نہیں، وہ دیکھیں گے بعد میں۔ (وقفہ)
جب یہ Sinedie پارلیمنٹ کیا ناں، تو اس ٹائم بتا دیا تھا اسپیکر صاحب نے کہ کل دس بجے اسپیشل کمیٹی کی میٹنگ ہوگی۔
1514 (The Delegation entered the Chamber) (وفد ہال میں داخل ہوا)
REPLIES TO QUESTIONS IN
CROSS-EXMAINATION BY A MEMBER OTHER
THAN THE HEAD OF THE DELEGATION
(سربراہ وفد کے علاوہ ایک دوسرے ممبر وفد کا جرح کے سوالات کا جواب دینا)
Madam Acting Chairman: Before we proceed, the request form the delegation is that because Maulana Sadr-ud-Din will not be able to reply all the questions, therfore, if we allow them, someone else will reply your question, of course, on oath, and the responsibility will be taken by Maulana Sadr-ud-Din. So, if the Committee allows, we will allow them.
(لاہوری صدرالدین کے متعلق وفد کی درخواست)
(محترمہ قائمقام چیئرمین: پیشتر اس کے کہ ہم کارروائی شروع کریں، وفد کی درخواست ہے کہ چونکہ مولانا صدرالدین تمام سوالوں کے جواب نہیں دے سکیں گے، اس لئے حلف لینے کے بعد کسی دُوسرے کو جواب دینے کی اجازت دی جائے، تاہم ذمہ داری مولانا صدرالدین کی ہی ہوگی، چنانچہ اگر کمیٹی اجازت دے تو ہم ایسی اجازت دے دیں)
٦
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
OATH BY THE DELEGATION
محترمہ قائمقام چیئرمین: مولانا صاحب! یہ ابھی آپ ایک Oath (حلف) لیں گے، اور اس میں جو آپ کی طرف سے اور جواب دے گا، وہ بھی Oath (حلف) لے گا۔ یہ آپ کے سامنے ہے Oath (حلف) لیکن اور جو بھی آپ کے ڈیلی گیشن کا ممبر ہے، اس کا جو جواب دے گا، اس کی ساری جواب داری آپ ہی اُٹھائیں گے، یہ جیسے آپ کی طرف سے جواب دیا گیا تھا۔ بتا دیجئے ان کو۔ (وقفہ)
(مولانا صدرالدین کا حلف)
مولانا آپ کو سمجھ میں آ گیا؟ تو ان کو پوچھو اور جو بھی ڈیلیگیٹ جواب دینا چاہتا ہے، وہ ذرا مہربانی سے، جو کچھ میں نے کہا اس کا آپ بتا دیجئے۔ (وقفہ)
مولانا صدرالدین ( گواہ سربراہ جماعت احمدیہ، لاہور): میں جو کچھ کہوں گا خدا تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر اپنے ایمان سے سچ کہوں گا۔
(جناب عبدالمنان عمر کا حلف)
1515
جناب عبدالمنان عمر: میں جو کچھ کہوں گا خدا تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر اپنے ایمان سے سچ کہوں گا۔ (وقفہ)
محترمہ قائمقام چیئرمین: یہ آپ کے ایک ہی جواب دیں گے یا دو حضرات جواب دیں گے؟
مولانا صدرالدین: ایک ہی دیں گے۔
محترمہ قائمقام چیئرمین: ایک۔ (وقفہ) جواب تو آپ زبانی دیں گے، لیکن اگر کوئی حوالہ یا کوئی ریفرنس دینا ہے تو پھر وہ آپ پڑھ کہ سنا سکتے ہیں۔.......
مولانا صدرالدین: وہ میں.......
محترمہ قائمقام چیئرمین: .......وہ پڑھ کر سنا سکتے ہیں۔ یا اگر کوئی لمبا جواب ہے تو پھر آپ یہاں Submit کر دینا، وہ جو ہے، اگر کوئی لمبا جواب ہے اور اس کی کوئی کسی جواب میں وضاحت کرنی ہے تو شروع کریں اب اٹارنی جنرل۔
٧
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
CROSS-EXAMINATION OF THE LAHORI
GROUP DELEGATION
(صدر الدین کے حالات زندگی)
جناب یحییٰ بختیار: مولانا صدرالدین صاحب! ہمیں کچھ اپنی زندگی کے حالات بتائیں۔ پیدائش کی تاریخ، کب احمدی جماعت میں شامل ہوئے، انہوں نے کیا خدمات کیں، ان کی زندگی کے کچھ مختصر حالات، تاکہ ریکارڈ بن رہا ہے، وہ پہلے آپ بیان کریں۔
جناب عبدالمنان عمر (گواہ جماعت احمدیہ، لاہور): مولانا صدرالدین یہ جناب! آپ مختصراً آپ اپنی زندگی کے حالات تھوڑے بیان کریں کہ کب آپ اس جماعت میں شامل ہوئے، کہاں تعلیم پائی، کیا ہوا۔
1516 جناب یحییٰ بختیار: یوم پیدائش سے.......
جناب عبدالمنان عمر: یوم پیدائش سے لے کر۔
مولانا صدرالدین: کب سے لے کر؟
جناب یحییٰ بختیار: اپنی پیدائش سے۔
جناب عبدالمنان عمر: پیدائش سے۔
مولانا صدرالدین: اچھا۔
جناب عبدالمنان عمر: سیالکوٹ میں تعلیم پائی۔ کب اس جماعت میں شامل ہوئے، کیا خدمات انجام دیں، انگلینڈ، جرمنی گیا۔
مولانا صدرالدین: مجھے صدرالدین کہتے ہیں۔ میں سیالکوٹ کا باشندہ ہوں۔ وہاں پر مشن ہائی اسکول میں انٹرنس تک تعلیم پائی۔ اس کے بعد کسی دوسرے کالج میں، مشن کالج میں، میں نے ایف اے تک تعلیم پائی۔ اس کے بعد لاہور میں، میں نے بی اے تک تعلیم پائی۔ اس کے بعد میں نے دو سال کے بعد بی۔ٹی کا امتحان دیا۔ میں ڈسٹرکٹ انسپکٹر مقرر کیا گیا۔ اس کے بعد میں ٹریننگ کالج میں پروفیسر کے طور پر رکھا گیا۔ وہاں سے میں قادیان چلا گیا۔ قادیان سے مجھے دعوت آئی کہ یہاں چلے آؤ۔ میرے لئے ایک بڑا روشن مستقبل تھا۔ لیکن میرے دل میں ذرا برابر خیال نہیں آیا کہ میں یہ روشن مستقبل ترک کر کے قادیان میں جا رہا ہوں۔ میں قادیان چلا گیا۔ وہاں پر میں نے پانچ سال میں ایک ایسا اسکول بنایا جس کی شہرت تمام ضلع میں
٨
EMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12 TION OF THE LAHORI DELEGATION
(صدر الدین کے حا
جناب یحییٰ بختیار: مولانا صدرالدین بتائیں۔ پیدائش کی تاریخ، کب احمدی جماعت میں شا کی زندگی کے کچھ مختصر حالات، تاکہ ریکارڈ بن رہا ہے جناب عبدالمنان عمر (گواہ جماعت جناب! آپ مختصراً آپ اپنی زندگی کے حالات تھوڑ شامل ہوئے، کہاں تعلیم پائی، کیا ہوا۔ 1516 جناب یحییٰ بختیار: یومِ پیدائش سے جناب عبدالمنان عمر: یومِ پیدائش سے مولانا صدرالدین: کب سے لے کر جناب یحییٰ بختیار: اپنی پیدائش سے۔ جناب عبدالمنان عمر: پیدائش سے۔ مولانا صدرالدین: اچھا۔ جناب عبدالمنان عمر: سیالکوٹ میں ہوئے، کیا خدمات انجام دیں، انگلینڈ، جرمنی گیا۔ مولانا صدرالدین: مجھے صدرالدین وہاں پر مشن ہائی اسکول میں انٹرنس تک تعلیم پائی۔ ا میں، میں نے ایف اے تک تعلیم پائی۔ اس کے بعد اس کے بعد میں نے دو سال کے بعد بی-ٹی کا امتحا کے بعد میں ٹریننگ کالج میں پروفیسر کے طور پر رکھا سے مجھے دعوت آئی کہ یہاں چلے آؤ۔ میرے لئے میں ذرا برابر خیال نہیں آیا کہ میں یہ روشن مستقبل قادیان چلا گیا۔ وہاں پر میں نے پانچ سال میں ایک ٨
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
تھی۔ وہ اخلاق کے لحاظ سے اور جسمانی قوت کے لحاظ سے کھیلوں میں، فٹ بال میں، ہاکی وغیرہ میں بہت اعلیٰ درجے کی ٹیمیں تیار کیں اور گورداسپور کے ضلع میں سالانہ جلسے کے موقع پر جب ہماری ٹیمیں وہاں ہاکی اور فٹ بال وغیرہ کھیلتی تھیں تو ضلع کے تمام آفیسران کو دیکھنے کے لئے آتے اور وہ تمام کی تمام کھیلوں میں اوّل نمبر تعلیم پاتے ، انعام پاتے تھے۔
(صدر الدین کا انگلستان جانا)
پھر مجھے وہاں سے انگلستان جانے کا موقع ملا۔ میں نے پہلے چند سالوں میں ایک سو انگریز مرد اور عورت کو مسلمان کیا۔ یہ جذبہ حضرت مسیح موعود کی خدمت میں رہنے کی 1517 وجہ سے پیدا ہوا تھا۔ ہم نے اسلام کا غلبہ دکھانا ہے دُنیا میں اور اس وقت میں انگریزوں کے ماتحت تھا۔ ایک ماتحت شخص ان کے گھر میں جا کر انگریزی زبان میں اسلام کی تعلیمات بیان کرتا اور پہلے تین سال میں ایک سو زن و مردِ اسلام قبول کرتے ہیں۔
دوبارہ مجھے ایک سال یا ڈیڑھ سال کے بعد پھر مجھے موقع ملا انگلستان میں جانے کا۔ وہاں پر کوئی ڈیڑھ سال کے اندر پچاس، ساٹھ مرد و زن انگریز مسلمان ہوئے۔ پھر میں واپس چلا آیا۔
(صدرالدین کا جرمنی جانا)
کچھ عرصے کے بعد مجھے جرمنی جانے کا موقع ملا، ١٩٢٤ء میں۔ وہاں جا کر میں نے ایک مسجد تعمیر کی، اور قرآن شریف کا ترجمہ ایک جرمن فاضل کی مدد سے مجھے بھی جرمن زبان آتی تھی لیکن میں نے احتیاطاً ایک فاضل جرمن مسلمان کو اپنے ساتھ رکھا...... اور جرمنی زبان میں قرآن شریف کا ترجمہ اور قرآن شریف کی تفسیر مفصل لکھ کر شائع کی۔ اس کا بہت بڑا اثر جرمن کے لوگوں پر ہوا۔ جرمنوں میں اور انگریزوں میں کئی ایک اُمور میں فرق ہے۔ جرمن مشرق کو پسند کرتا ہے اور اہلِ مشرق کی تعظیم کرتا ہے۔ اس تعظیم کی وجہ سے اور قرآن کریم کی بلند پایہ تعلیم کی وجہ سے بہت سے جرمن مرد و زن مسلمان ہوئے۔
تو اسی طرح سے میری زندگی کچھ یورپ میں اور کچھ یہاں گزری۔ یہاں پر میں نے ایک لاجواب ہائی اسکول بنایا جو انگریزوں کے، لاہور میں جو انگریزوں کا ایک اسکول تھا، اس سے بڑھ کر ایک اسکول بنایا اور پنجاب کے شرفاء، تمام کے تمام لوگوں نے اپنے بچے اس اسکول میں بھیجے، اور انہوں نے تعلیم، اس مدرسے میں رہ کر نہ صرف انگریزی وغیرہ کی تعلیم حاصل کی، بلکہ اسلام کی تعلیم حاصل کی، اور اسلام پر چلنے کا نمونہ ان کے سامنے پیش کیا گیا۔
٩
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
یہ مختصر سی تاریخ ہے میرے متعلق جو میں نے عرض کی ہے۔ میں دُعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس مجلس میں اپنی برکات نازل فرمائے۔ (وقفہ)
(صدر الدین کی تاریخ پیدائش)
1518 جناب یحییٰ بختیار: مولانا! آپ نے تاریخ پیدائش نہیں بتائی، تاکہ کچھ آئیڈیا ہو، یا سال تقریباً، اندازاً بتا دیجئے کچھ۔
مولانا صدر الدین: 1881ء سیالکوٹ میں۔
(صدر الدین کا قادیان جانا)
جناب یحییٰ بختیار: آپ قادیان کس سال گئے؟ آپ نے فرمایا کہ آپ قادیان چلے گئے۔
مولانا صدر الدین: 1905ء میں۔
جناب یحییٰ بختیار: آپ مرزا غلام احمد صاحب پر بیعت کب لائے؟
مولانا صدر الدین: 1905ء میں۔ (وقفہ)
(مرزا غلام احمد کی بیعت کس معنی میں؟)
اس بارے میں ایک امر گزارش کرتا ہوں کہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب اس امر کی بیعت نہیں لیتے تھے کہ: ”میں نبی ہوں۔“ وہ صرف یہ بیعت لیتے تھے کہ: ”میں اپنی زندگی اسلامی تعلیمات کے مطابق بسر کروں گا۔“ اپنے دعویٰ کے متعلق قطعاً کوئی بات نہ کہتے تھے۔ اگر وہ نبی ہوتے تو ان کا فرض تھا کہ مجھے القاء ...... تلقین کرتے کہ: ”مجھے نبی مانو۔“ لیکن وہ نبی قطعاً نہ تھے۔
جناب یحییٰ بختیار: مولانا! میں .......
مولانا صدر الدین: ....... نبوّت محمد رسول اللہ پر ختم ہو گئی۔
جناب یحییٰ بختیار: مولانا! میں آپ سے اس بارے میں بعد میں سوال پوچھوں گا۔ ذرا آپ موقع دیجئے۔ (وقفہ)
(لاہوری، قادیانی اختلاف کب ہوا)
آپ کی جماعت کے قادیانی جماعت سے اختلافات کب ہوئے اور کس بات پر ہوئے؟
(Interruption)
Madam Acting Chairman: I would request the
١٠
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
honourable members to keep their voice low.
(محترمہ قائمقام چیئرمین: میں معزز اراکین سے التماس کروں گی کہ وہ اپنی آواز نیچی رکھیں)
جناب عبدالمنان عمر: اب ہم جواب کیسے .......
1519 جناب یحییٰ بختیار: ہاں، آپ دے دیجئے، اُن کی طرف سے۔
جناب عبدالمنان عمر: سوال یہ کیا گیا ہے کہ جماعت احمدیہ لاہور کے اختلافات اُن لوگوں سے جو اس وقت ربوہ میں ہیں، کب شروع ہوئے؟ اس کے متعلق گزارش یہ ہے.......
جناب یحییٰ بختیار: اور کس بات پر ہوئے؟
(اختلاف کس بات پر؟)
جناب عبدالمنان عمر: اور کس بات پر ہوئے۔ اس کے متعلق گزارش یہ ہے کہ یہ اختلافات ١٩١٤ء میں شروع ہوئے جبکہ اس جماعت کے مرزا صاحب کی وفات کے بعد پہلے سربراہ مولانا نور الدین کی وفات ہوئی۔ گو ذہنوں میں بعض لوگوں کے ممکن ہے کچھ خیالات ایسے ہوں، لیکن باقاعدگی کے ساتھ اس جماعت کے ساتھ اختلاف کی بنیاد جو ہے وہ یہ تھی کہ یہ لوگ جو احمدیہ انجمن اشاعتِ اسلام لاہور کے نام سے اس وقت روشناس ہیں، یہ کلیۃً اس بات کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں تھے، جیسا کہ آپ نے ابھی مولانا صاحب سے سنا کہ انہوں نے جو مرزا صاحب کی بیعت کی تھی، وہ اس بات پر کی تھی کہ ہم اپنی زندگیوں کو اسلام کے مطابق، قرآن مجید کے مطابق اور نبیوں کے سردار پاک محمد مصطفیٰ ﷺ کی ہدایات کے مطابق اور آپ کے اُسوہ کے مطابق بسر کریں گے۔ ہم نے اُن کو کبھی بھی نبی نہیں مانا، ہم نے کبھی بھی اُن کے دعوے کو نہ ماننے والوں کو کافر نہیں کہا، کبھی اُن کو دائرہ اسلام سے خارج نہیں سمجھا اور کبھی بھی یہ پوزیشن اختیار نہیں کی کہ کوئی نیا دین ہے جو دُنیا میں Introduce کیا جا رہا ہے۔ کبھی بھی یہ نقطہ نگاہ نہ اپنے ذہنوں میں لیا، نہ دُنیا میں کبھی پیش کیا کہ ہم مرزا صاحب کو کوئی ایسا وجود تسلیم کرتے ہیں جس سے اسلام کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں رہتا، نبیوں کے سردار ﷺ کی اُمت سے وہ باہر ہو جاتے ہیں، اور یہ کہ اُنہوں نے جو کچھ بھی پیش کیا ہے وہ محمد رسول اللہ ﷺ کی غلامی میں پیش کیا ہے اور ایک مستقل حیثیت سے جس سے ان کا دائرہ کار اسلام سے باہر ہو جائے، اس چیز کو نہ کبھی انہوں نے سمجھا، نہ اختیار کیا، نہ اپنی جماعت کو یہ تلقین کی، نہ ان کے ماننے والوں میں 1520 سے کسی شخص
١١
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
نے کبھی بھی ایسا خیال کیا۔
بنیادی طور پر یہ اختلاف تین چیزوں پر مبنی تھا۔ ایک اختلاف یہ تھا کہ نبیوں کے سردار پاک محمد مصطفیٰ ﷺ، مرزا صاحب اور آپ کے ماننے والوں کے نزدیک ہر معنوں میں خاتم النبیین تھے۔ کسی قسم کی نبوت، اس کا کچھ نام رکھ لو، لیکن وہ اُن محمد مصطفیٰ ﷺ کی غلامی سے باہر چیز نہیں ہے، آپ کی تعلیمات سے باہر چیز نہیں ہے، قرآن مجید سے باہر وہ تعلیم نہیں ہے، اسلام سے باہر وہ تعلیم نہیں ہے۔ یہاں میں مرزا صاحب کا ایک شعر عرض کرتا ہوں جو ان الفاظ میں ہے:
یہ تھا ان کا مشن، یہ تھا ان کا کام اور یہ تھی ان کی تعلیم کہ مسلمانوں کو صحیح معنوں میں مسلمان بنا دو اور ان کو قرآن مجید کے اُسوہ پر چلنے اور محمد ﷺ کے اُسوہ پر چلنے کی تلقین کرو اور ایک ایسی خادم اسلام جماعت پیدا کرو جو اپنے تن من دھن کو صرف اور صرف اسلام کی خدمت کے لئے لگا دے اور دنیا میں محمد رسول اللہ ﷺ کے نام کی پکار کو پھیلا دے۔ یہی مشن تھا۔
چنانچہ ١٩١٣ء میں سب سے پہلا اس جماعت نے مشن غیر ممالک میں جو قائم کیا وہ ووکنگ میں تھا، جس کے سربراہ اس وقت خواجہ کمال الدین صاحب تھے۔ وہ شخص ایک Known Figure (معروف شخصیت) ہے دنیا کی۔ اس شخص کے لیکچروں کی دنیا میں دھوم ہے۔ وہ کوئی گوشہ نشین شخص نہیں ہے، اس کے خیالات کچھ چھپے ہوئے خیالات نہیں ہیں۔ اس زمانے کے سارے اخبارات دیکھ لیجئے گا، اس زمانے کا سارا لٹریچر دیکھ لیجئے گا، اس زمانے کی اُن کی تقریروں کو دیکھ لیجئے گا، کسی جگہ بھی آپ کو یہ نقطہ نگاہ نہیں ملے گا کہ یہ کوئی ایسا مشن ہے، یورپ میں، جو اسلام سے الگ ہو کر کسی نئے دین کو Preach کرنے کے لئے قائم کیا گیا ہو۔ خواجہ صاحب جب وہاں گئے، میں نے عرض کیا یہ سن ١٩١٣ء کی بات ہے۔ اس وقت تک جماعت بالکل اسی نقطہ نگاہ پر قائم تھی کہ مرزا صاحب نبی نہیں ہیں، مرزا صاحب کا انکار موجب کفر نہیں ہے، مرزا صاحب کو نہ ماننے سے اسلام کے دائرے سے 1521 انسان خارج نہیں ہو جاتا، اور یہ کہ جو شخص بھی مرزا صاحب سے اپنے دامن کو وابستہ کرتا ہے، اس کا کام یہ ہے کہ اس کی زندگی کا مشن یہ ہے کہ جیسا کہ قرآن نے کہا ہے: (عربی)
(پہلا اختلاف)
کہ مسلمانوں کے اندر ایک جماعت ایسی پیدا ہونی چاہئے کہ جو اپنے آپ کو اسلام کی
١٢
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
خدمت کے لئے وقف کردیں، کہ یہ تحریک جو ہے صرف خدمتِ اسلام کی ایک تحریک تھی اور اس میں کسی نئے دین کا، نئی رسالت کا، نئے مذہب کا کوئی بھی کسی رنگ میں کوئی تصور نہیں تھا۔ تو پہلے اختلاف کی بنیاد جو ہوئی وہ میں نے یہ عرض کی کہ مرزا صاحب کو ہم لوگوں نے کبھی بھی نہ اُن کی زندگی، نہ ان کی زندگی کے بعد، کسی ایک دور میں ان کو نبی اور رسول تسلیم نہیں کیا۔
(دوسرا اختلاف)
دوسرا اختلاف اس بنیاد پر تھا کہ ہمارے نزدیک کوئی شخص، اس کا کتنا ہی بڑا مقام کیوں نہ ہو، وہ کتنے ہی بڑے دعوے لے کر کیوں نہ آئے، اس کا خدا سے کتنا ہی تعلق کیوں نہ ہو، لیکن اس کے باوجود وہ محمد رسول اللہ ﷺ کا کفش بردار ہی رہے گا، اس کے باوجود محمد رسول اللہ ﷺ کا غلام ہی رہے گا، اس کے باوجود وہ دائرہ اسلام کے اندر ہی رہے گا، اس کو کوئی نام دے لو، کیونکہ نام میں تو : (عربی)
ہر شخص اس کے لئے کوئی استعمال کرسکتا ہے۔
میں، آپ اس کے لئے کوئی اور لفظ استعمال کریں گے، اُردو میں اور کرلیں گے، کسی دُنیا کی اور زبان میں اس کے لئے کوئی اور ترجمہ کرلیں گے، تصور، حقیقت، اس کے پیچھے جو رُوح کارفرما ہوگی وہ یہ ہے کہ کوئی شخص کتنا ہی بُرا کیوں نہ ہو، لیکن وہ محمد رسول اللہ ﷺ کی غلامی سے باہر نہیں جاسکتا اور یہی مرزا صاحب کا دعویٰ تھا کہ میں محمد رسول اللہ کا غلام ہوں۔
اب دیکھئے! جو شخص محمد رسول اللہ کا غلام ہے، اس کو ماننے اور نہ ماننے کا تعلق کیا ہے؟ انہوں نے کبھی بھی یہ نہیں کہا، کسی ایک دور میں یہ بات نہیں کہی کہ : ”جو شخص میرے 1522 دعوے کا انکار کرتا ہے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔“ تو دُوسرا اختلاف ہمارا یہ تھا کہ ہم مرزا صاحب کے دعوے پر ایمان لانے کے باوجود، خود ان کو تسلیم کرنے کے باوجود ان کو یہ مقام نہیں دیتے تھے کہ وہ اسلام سے ہٹ کر محمد رسول اللہ ﷺ کی غلامی سے نکل کر کوئی مستقل وجود بنیں جس کا ماننا اور نہ ماننا جزو ایمان کے طور پر ہے۔ ہم ان کے ماننے کو جزو ایمان تصور نہیں کرتے تھے۔
(تیسرا اختلاف)
تیسرا اختلاف ہمارا اُن کے ساتھ یہ تھا کہ مرزا صاحب نے یہی تلقین ہمیں کی تھی کہ جو شخص لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا اقرار کرے، اعمال میں اس کے کتنا ہی سقم ہو، غلطیاں ہوں، معتقدات میں بھی اس سے کچھ قصور ہوں، وہ گنہگار ضرور ہے، وہ قابلِ مؤاخذہ ضرور ہے، وہ ١٣
BLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12 نے کبھی بھی ایسا خیال کیا۔ بنیادی طور پر یہ اختلاف تین چیزوں پر پاک محمد مصطفیٰ ﷺ، مرزا صاحب اور آپ کے اُمتیین تھے۔ کسی قسم کی نبوت، اس کا کچھ نام رکھ چیز نہیں ہے، آپ کی تعلیمات سے باہر چیز نہیں ہے سے باہر وہ تعلیم نہیں ہے۔ ایک میں مرزا صاحب
یہ تھا ان کا مشن، یہ تھا ان کا کام اور مسلمان بنا دو اور ان کو قرآن مجید کے اُسوہ پر چلو ایسی خادمِ اسلام جماعت پیدا کرو جو اپنے تن لئے لگا دیں اور دُنیا میں محمد رسول اللہ ﷺ کے نام چنانچہ ١٩١٣ء میں سب سے پہلا اخت ووکنگ میں تھا، جس کے سربراہ اس وقت Known Figure (معروف شخصیت)۔ ہے۔ وہ کوئی گوشہ نشین شخص نہیں ہے، اس کے زمانے کے سارے اخبارات دیکھ لیجئے گا، اس کی تقریروں کو دیکھ لیجئے گا، کسی جگہ بھی آپ کو یہ میں، جو اِسلام سے الگ ہو کر کسی نئے دین کو صاحب جب وہاں گئے، میں نے عرض کیا یہ اسی نقطہ نگاہ پر قائم تھی کہ مرزا صاحب نبی نہیں صاحب کو ماننے سے اسلام کے دائرے سے مرزا صاحب سے اپنے دامن کو وابستہ کرتا جیسا کہ قرآن نے کہا ہے : (عربی) (یہاں) کہ مسلمانوں کے اندر ایک جما
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
قابل گرفت ضرور ہے، لیکن وہ شخص دائرۂ اسلام سے خارج نہیں ہو جاتا۔ دوسرے لفظوں میں ہم نے تکفیر المسلمین کے نقطۂ نگاہ کو کبھی تسلیم نہیں کیا۔ یہ ہمارا تیسرا اختلاف تھا ربوہ والوں کے ساتھ کہ ہم مسلمانوں کو، خواہ وہ کسی فرقے سے تعلق رکھتے ہوں، وہ اہل سنت والجماعت سے تعلق رکھتے ہوں، وہ اہل تشیع سے تعلق رکھتے ہوں، وہ ان کے حکمی جو فرقے ہیں، ان سے تعلق رکھتے ہوں، کسی جہت سے، کسی رنگ میں بھی ہم اُن لوگوں کو دائرۂ اسلام سے خارج نہیں مانتے۔ نہ صرف یہ، بلکہ ہماری زندگی کا ایک بہت بڑا حصہ اس بات میں صرف ہوا ہے، ہم نے جو لٹریچر دُنیا میں پیدا کیا ہے، ہمارے بزرگوں نے جو لٹریچر دُنیا کو دیا ہے، اس کا ایک بہت بڑا حصہ اس چیز پر صرف ہوا ہے کہ مسلمانوں کی تکفیر سے اجتناب کرو۔ اس سلسلے میں مجھے اجازت دیجئے کہ میں آپ کو جماعت لاہور کا جو اس بارے میں تصور ہے، تکفیر المسلمین کے بارے میں، وہ میں آپ کے سامنے پیش کروں۔
تکفیر المسلمین کے سلسلے میں ہمارا مسلک یہ ہے، جس پر ہم، جیسا کہ میں نے عرض کیا، قولاً فعلاً آج سے نہیں، آج سے دس سال پہلے سے نہیں، ١٩٥٣ء کے فسادات کے وقت سے، بلکہ اپنے آغاز سے لے کر اب تک بڑی مضبوطی کے ساتھ، بڑے استحکام کے ساتھ قائم ہیں اور جو ہمارے منشور کا ایک بنیادی نکتہ ہے۔ جو اخبارات ہمارے سلسلے 1523 کی طرف سے شائع ہوتے ہیں، اس کے Heading پر ہم یہ لفظ لکھتے ہیں کہ: ”ہم تکفیر المسلمین کو تسلیم نہیں کرتے“
اور یہ ہمارے منشور کا ایک بنیادی نکتہ ہے کہ کسی کلمہ گو، اہل قبلہ کو دائرۂ اسلام سے باہر قرار دینا بڑی جسارت، بڑا بھاری جرم اور سخت گناہ کی بات ہے۔ اس سے اتحادِ عالم اسلامی پارہ پارہ ہو جاتا ہے اور مسلمانوں کے دشمنوں کے ہاتھ اس سے مضبوط ہوتے ہیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (عربی)
کہ جو شخص شعائرِ اسلامی کا اظہار کرتے ہوئے تمہیں السلام علیکم کہے، اُسے یہ نہ کہو کہ تو مومن نہیں۔ حضرت نبی اکرم ﷺ کی ایک حدیث ہے، صحیح بخاری اور مسلم میں موجود ہے، اور وہ متفق علیہ حدیث ہے کہ جسے کسی نے بھی غلط نہیں کہا: (عربی)
جو شخص اپنے بھائی کو کافر کہتا ہے وہ کفر سزا کے طور پر ان دونوں میں سے ایک پر آ پڑتا ہے،۔ اسی طرح دُوسری ایک حدیث ہے: (عربی)
کہ اہلِ قبلہ کی تکفیر مت کرو۔ قرآن مجید کی آیات اور نبی اکرم ﷺ کی احادیث سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول مقبول مسلمانوں کی تکفیر کو کس قدر ناپسند فرماتے ہیں اور اس
١٤
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
جرم کی کیسی خطرناک سزا تجویز کی گئی ہے کہ جو شخص مسلمان کو کافر کہتا ہے وہ کفر اُلٹ کر اُس کہنے والے ہی پر آ پڑتا ہے۔ اس قدر سخت سزا کیوں تجویز کی گئی؟ اس کی یہی وجہ ہے کہ تا آں مسلمان اس خطرناک طریق سے جو اِسلامی وحدت کو پارہ پارہ کر دینے والا ہے، مجتنب رہے۔ حدیث میں ہے: (عربی)
یہ بخاری کی حدیث ہے۔ یعنی: ”جو شخص ہماری طرح نماز پڑھے، ہمارے قبلے کی طرف منہ کرے، ہمارا ذبیحہ کھائے، تو وہ مسلمان ہے، جس کے لئے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلعم کی امان ہے۔“
1524 قرآن مجید اور احادیثِ رسول کے ان کھلے کھلے ارشادات کے ہوتے ہوئے، یہ صحیح طریق نہیں کہ دُوسروں کے بارے میں موشگافیاں کر کے، بدظنیاں کر کے، متشابہات کے پیچھے پڑ کے اور شکوک و شبہات سے کام لے کر اُنہیں کافر قرار دینے لگ جائیں۔ حضرت خاتم النبیین ﷺ فرماتے ہیں: (عربی)
یعنی قیامت کے روز اُمّتِ محمدیہ کی کثرت میرے لئے وجہ فخر ہوگی۔ پس ایسا کوئی اقدام جس سے اُمّتِ محمدیہ کا دائرہ سکڑتا ہو اور اُس سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ماننے والوں کی تعداد کم ہوتی ہو، دُرست طریق نہیں، ہم دُنیا میں یہ مؤمن بنانے کے لئے آئے ہیں، کافر بنانے کے لئے نہیں آئے۔
اُمّتِ محمدیہ پر، ہمارا نقطہ نگاہ یہ ہے، کہ بہت سے مصائب آئے، اندرونی فسادات ہوئے۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے ہی میں مسلمانوں کے ایک گروہ نے بیت المال میں زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا۔ حضرت عثمانؓ مسلمان کہلانے والوں کے ہاتھ شہید ہوئے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور حضرت معاویہؓ کے درمیان برادرانہ جنگیں ہوئیں، لیکن کیا پاک باطن وہ لوگ تھے۔ حضرت حیدر کرارؓ نے اس شدید مخالفت کے باوجود یہی فرمایا، جو ہمارے لئے اُسوۂ حسنہ کے طور پر ہے، کہ یہ ہمارے بھائی ہیں، جنہوں نے ہمارے خلاف بغاوت کی ہے، ہم اُنہیں کافر نہیں کہتے۔ یہ اُس خلیفہ راشد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے جو ظاہری اور باطنی دونوں خلافتیں اپنے اندر جمع رکھتا تھا۔
جناب والا! یہ خوارج کی جماعت تھی جس نے سب سے پہلے مسلمانوں میں تکفیر کی بنیاد ڈالی۔ اس کے بعد تکفیر بازی کے مشغلے نے اس قدر ترقی کی کہ بڑے بڑے اولیاء اور ربانی علماء بھی اس قسم کے فتوؤں سے نہ بچ سکے۔ اگر اس قسم کے فتوؤں کی بنیاد پر مسلمانوں کی مَردم شماری
١٥
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
کی جائے تو پوری دنیائے اسلام میں شاید ایک متنفس بھی ایسا نہیں ملے گا جسے دائرہ اسلام میں شمار کیا جاسکے۔ تکفیر کے فتوؤں کی ارزانی دیکھنی ہو تو فتوؤں کے اُس انبار پر نظر ڈالئے جو حضراتِ مقلدین نے وہابیوں اور دیوبندیوں پر 1525 لگائے ہیں۔ شیعہ حضرات سنیوں کے متعلق جو خیالات رکھتے ہیں، اُن کے بیان کی حاجت نہیں۔ بریلویوں اور بدایونیوں کے بارے میں حضراتِ اہل حدیث کے جو فتوے ہیں، اُن سے کون واقف نہیں۔ مختصر یہ کہ ہر فرقہ دوسرے فرقے کے علماء کے نزدیک کافر ہے۔ ہم نہیں چاہتے...... یہ بھی ہمارا مسلک ہے...... ہم نہیں چاہتے کہ فتاویٰ کا وہ انبار آپ کے سامنے پیش کر کے آپ کے اوقاتِ گرامی کا حرج کریں۔ ایسے مہروں سے مزین فتوے جتنی تعداد میں آپ چاہیں، بازاروں میں آپ کو مل سکتے ہیں۔
محترمہ قائمقام چیئرمین: آپ سے تو پوچھا تھا کہ کس چیز پر آپ کا اختلاف ہے؟
جناب عبدالمنان عمر: میں نے گزارش یہ کی ہے کہ ہمارا اختلاف اس بات پر ہے کہ مسلمانوں کی تکفیر کرنی جائز نہیں ہے۔ جو شخص اس بارے میں...... ہمارا مسلک وہی ہے جو حضرت امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہے کہ اگر کسی شخص میں ننانوے (٩٩) وجوہ کفر بھی پائے جائیں اور صرف ایک وجہ ایمان آپ اُس میں دیکھیں تو تب بھی اُس شخص کو کافر نہ کہیں۔ یہ ہمارا اختلاف ہے جو اہل ربوہ سے ہمیں ہوا۔ یہ میں اب تک آپ کی خدمت میں تین اختلاف پیش کرچکا ہوں۔
(چوتھا اختلاف)
چوتھا اختلاف جماعتِ ربوہ کے ساتھ ہمارا یہ ہے کہ ہم لوگ مرزا صاحب کے بعد اُس قسم کی خلافت کو جو ربوہ میں پائی جاتی ہے، تسلیم نہیں کرتے۔ ہمارے نزدیک خلافت کا وہ انداز جو اپنے اندر ایک نبوت کی خلافت کا رنگ رکھتا ہے، ہم اُس کو جائز نہیں سمجھتے۔ ہمارے نزدیک جو بھی خلافت ہے، وہ صرف شیوخ کی خلافت ہے، اور شیوخ کی خلافت ہی وہ چیز ہے جس پر ہم نے اپنے نظام کی بنیاد رکھی ہے۔ ہم لوگ نہ تو اس چیز کے قائل ہیں کہ کوئی ایسا نظام بنایا جائے جو سیاسی کام کرے۔ ہم جس چیز کو اپنے ہاں مانتے ہیں، وہ اس قسم کی خلافت کو قطعاً تسلیم نہیں کرتے کہ کوئی پارٹی انڈر گراؤنڈ ہو کر کوئی سیاسی کام کرے، یہ بھی ہمارے نزدیک ناجائز ہے۔ ہم خلافت اس معنوں میں بھی نہیں لیتے کہ وہ شخص غیر مامور ہو کر، خطاؤں کا پُتلا ہو کر، ہزار غلطیوں کا مبدأ ہونے کے باوجود، اُس کی پوزیشن ایسی بنادی جائے کہ وہ سب پر حاکم ہے، اور جمہوریت کا قلع قمع
١٦
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
1526 کر دیا جائے۔ یہ بھی ہمارے نزدیک خلافت کا وہ مفہوم نہیں۔ تو یہ چوتھا پوائنٹ تھا جس پر ہمارا ربوہ والوں سے اختلاف ہے۔
(ڈکٹیٹر شپ والی حکومت)
جناب یحییٰ بختیار: مولانا! یہ فرمائیے، پہلے جو سب سے آخری بات آپ نے کی میں اُس پر آتا ہوں، پھر میں کچھ اور سوالات پوچھوں گا۔ آپ نے فرمایا کہ آپ ایسی خلافت کے خلاف ہیں جو کہ ڈکٹیٹر شپ کی ٹائپ کی ہو اور جو ایک ادنیٰ آدمی کو اتنا طاقت ور بنادے، جو ربوہ میں ہے۔ یہ آپ نے تجربے کی بنا پر کہا یا کس وقت آپ کو اس بات کا احساس ہوا؟ کس وقت وہ شخص بیٹھا جس نے ڈکٹیٹر شپ کی، جس کو آپ نے محسوس کیا اور آپ اُن سے مخالف ہوئے؟
جناب عبدالمنان عمر: جناب! پیش کروں؟
جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔
جناب عبدالمنان عمر: جناب والا! ہمارے اس خیال کی بنیاد حضرت مرزا صاحب کی وصیت پر ہے۔ یہ وصیت ہے جو مرزا صاحب نے ١٩٠٥ء میں اپنی جماعت کو کی۔
(اختلاف کب اور کس بات پر؟)
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں، میرا سوال آپ نہیں سمجھے۔ یہ اختلاف کب پیدا ہوا؟ کس بات پر؟ کس تاریخ کو؟
جناب عبدالمنان عمر: ١٩١٤ء میں۔
جناب یحییٰ بختیار: ١٩١٤ء میں کون ڈکٹیٹر بیٹھا تھا جس نے آپ کو اس بات کا احساس دلایا کہ یہ غلط قسم کی ڈکٹیٹر شپ کر رہا ہے اور آپ کو اس پارٹی سے جدا ہونا چاہئے؟
جناب عبدالمنان عمر: میری گزارش یہ ہے کہ ١٩١٤ء میں جبکہ مولانا نور الدین کی وفات ہوئی تو مرزا محمود احمد صاحب نے یہ موقف اختیار کیا کہ جماعت کا ایک خود مختار ہیڈ (Head) ہونا چاہئے جو خلیفہ ہونا چاہئے۔ یہ ١٩١٤ء میں اُنہوں نے یہ بات کہی۔ ہم نے اس بات کو اس لئے تسلیم نہیں کیا کہ اُن کی ڈکٹیٹر شپ کے کچھ واقعات 1527 ہمارے سامنے تھے، بلکہ ہم نے اُصولاً اس چیز کو رَدّ کر دیا، کیونکہ مرزا صاحب نے جو ہمیں وصیت کی تھی، وہ یہ تھی کہ اُنہوں نے اپنے بعد ایک انجمن قائم کی تھی، اپنی زندگی ہی میں ایک انجمن کو قائم کر دیا تھا اور کہا تھا یہ انجمن کثرت رائے سے اس جماعت کے معاملات کو سر انجام دے۔
١٧
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
(انجمن نے حکیم نور دین کو پہلا خلیفہ بنایا؟)
جناب یحییٰ بختیار: یہ انجمن جو کثرت رائے سے جماعت کے معاملات کو سرانجام دیتی تھی، اسی انجمن نے ایک حکیم نور دین صاحب کو پہلا خلیفہ بنایا، یہ درست ہے؟ اُس وقت میں کوئی ڈکٹیٹر شپ نہیں تھی؟
جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں۔
(حکیم نور دین اصول کے مطابق خلیفہ تھے)
جناب یحییٰ بختیار: وہ بالکل اصول کے مطابق خلیفہ تھے؟
جناب عبدالمنان عمر: بالکل اصول کے مطابق تھے، بلکہ میں عرض کروں کہ وہ شخص جماعت میں مُسَلَّمہ طور پر سب سے بڑا متقی، سب سے زیادہ عالم، اور مرزا صاحب نے اُس کے متعلق لکھا ہے کہ: ”وہ شخص میرا اس طرح متبع ہے جس طرح انسان کی نبض جو ہے وہ اس کے دل کی حرکت کے ساتھ حرکت کرتی ہے۔“ وہ ایسا اُس کا متبع تھا۔ لیکن، اور وہ اس انجمن کا پریذیڈنٹ تھا، اُس پہلے دن سے، بعد میں نہیں۔ یہ جب ١٩١٤ء (بلکہ ١٩٠٨ء صحیح ہے) میں وہ خلیفہ ہوئے ہیں، اُس وقت نہیں وہ پریذیڈنٹ تھے، بلکہ وہ پریذیڈنٹ ١٩٠٥ء سے بن گئے تھے۔ اُس وقت سے چلے آ رہے ہیں وہ پریذیڈنٹ۔ اُنہوں نے کبھی بھی انجمن کو ڈکٹیٹرانہ نظام کے ماتحت نہیں چلایا۔
(مرزا بشیر الدین محمود کے انتخاب سے پہلے آپ پارٹی سے ہٹ گئے؟)
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں یہی آپ سے عرض کر رہا ہوں۔ مولانا صاحب! ذرا غور سے سنیں آپ۔ آپ نے تقریریں پہلے سے تیار کی ہوئی ہیں۔ سوال سنتے نہیں۔ آپ مہربانی کر کے اگر آپ میرا سوال سُن لیں اور اُس کا جواب دے دیں، پھر بے شک بعد میں جو آپ نے لکھا ہوا ہے وہ بھی سنا دیجئے۔
میں عرض یہ کر رہا تھا کہ خلیفہ اوّل جو تھے، حکیم نور دین صاحب! اُن کی وفات کے بعد مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے انتخاب سے پہلے آپ ہٹ گئے پارٹی سے، یہ درست ہے؟
1528 جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، نہیں جی، انتخاب سے پہلے نہیں ہٹے۔ ہم لوگ مرزا صاحب...... یہ جو مولانا نور الدین صاحب کی وفات ہوئی ہے، اُس وقت یہ واقعہ پیش آیا ہے۔
١٨
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
جناب یحییٰ بختیار: لیکن وہ وفات ہوئی اور الیکشن آگیا، دونوں اکٹھے تھے، یہی میں کہہ رہا ہوں۔
جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، جی ہاں۔ بالکل۔
جناب یحییٰ بختیار: تو اُسی وفات کے فوراً بعد.......
جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔
جناب یحییٰ بختیار: ....... آپ الگ ہوگئے۔ تو آپ نے مرزا بشیر الدین صاحب کی ڈکٹیٹر شپ تو دیکھی نہیں ناں، نہ اُن کے تابع آپ رہے۔
جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، اُن کے تابع یہ جماعت کبھی نہیں رہی۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، تو نہ آپ نے اُن کی کبھی ڈکٹیٹر شپ دیکھی، کبھی؟
جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، میں نے تو دیکھی۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یعنی آپ اُس جماعت کے ماتحت اُن کے ماتحت کبھی نہیں رہے، ان پر بیعت نہیں لائے؟
جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: تو اُن کی ڈکٹیٹر شپ کا اثر آپ پر ہو نہیں سکتا تھا۔ آپ نے ویسے ہی دیکھا جیسے میں دیکھتا ہوں یا کوئی اور دیکھ رہا ہے۔
جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، اُنہوں نے ........ میں نے عرض کیا کہ مرزا صاحب کی ایک وصیت ہے۔ اُنہوں نے اس وصیت کی دفعہ ١٨ کی خلاف ورزی کی ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: کب؟
جناب عبدالمنان عمر: اُسی وقت جب وہ اُنہوں نے یہ کہا کہ: ”میں خلیفہ بنتا ہوں۔“ 1529 تو اُنہوں نے کہا کہ: ”آئندہ سے میرے احکام اس انجمن کے لئے اسی طرح واجب التعمیل ہوں گے جس طرح یہ مرزا صاحب کی زندگی میں تھے۔“
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، الیکشن تو ہوا نہیں تھا اُس وقت؟
جناب عبدالمنان عمر: جی۔
جناب یحییٰ بختیار: الیکشن سے پہلے اُنہوں نے کہا؟
جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں۔ الیکشن کا وہ جو وقت تھا اُس میں......
١٩
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔
جناب عبدالمنان عمر: ...... یہ ساری باتیں پیش ہوئیں۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، منتخب ہونے سے پہلے اُنہوں نے یہ بات کی یا منتخب ہونے کے بعد؟
جناب عبدالمنان عمر: پہلے۔
جناب یحییٰ بختیار: پہلے بات کہی۔
جناب عبدالمنان عمر: نہیں، پہلے بھی یہ کہی، مگر یہ ریزولیوشن کی تبدیلی بعد میں ہوئی۔
جناب یحییٰ بختیار: الیکشن کے بعد؟
جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، الیکشن سے پہلے جب آپ چلے گئے تو میں ......
جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، پہلے ہی اُنہوں نے اپنے ان خیالات کا اظہار کر دیا تھا۔
(مرزا بشیرالدین محمود کو الگ کس نے کیا اور کیوں کیا؟)
جناب یحییٰ بختیار: یہ اظہار اُنہوں نے کیا تھا تو اُن کو الگ کس نے کیا، اور کیوں کیا؟
جناب عبدالمنان عمر: جی؟
جناب یحییٰ بختیار: جب اُنہوں نے ان خیالات کا اظہار کیا تو اُن کو کس نے Elect کیا اور کیوں کیا؟
1530 جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، اُنہوں نے جماعت کے اندر رہتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں نے کہا جب جماعت کے اندر اُنہوں نے ان خیالات کا اظہار کیا اور جماعت کی ایک باڈی جس نے اُن کو Elect کرنا تھا......
جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، جماعت نے بحیثیت مجموعی اُن کو انتخاب کرنا تھا، کوئی Electoral College نہیں تھا۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یعنی پھر اُن کو Elect کیوں کیا؟ (مرزا مسعود بیگ سے) آپ فرما دیجئے اگر آپ جانتے ہیں۔ آپ اُن کو بتا دیجئے۔ ہاں جی جو، ہاں، اُن کے ذریعے بول دیجئے کیونکہ پھر ہر ایک کو علیحدہ حلف دینا پڑتا ہے۔
٢٠
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
جناب مسعود بیگ مرزا: اجازت ہے؟
جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، اجازت تو کمیٹی کی ہے، مگر یہ آپ بتا دیجئے۔
(مسعود بیگ مرزا کا حلف)
جناب مسعود بیگ مرزا: میں اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر.......
جناب یحییٰ بختیار: آپ ساتھ اپنا اسم گرامی بتا دیا کریں تاکہ ریکارڈ پر آجائے کہ کن کی طرف سے ہے؟
جناب مسعود بیگ مرزا: میں جو کہوں گا خدا تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر اپنے ایمان سے سچ کہوں گا۔
Mr. Yahya Bakhtiar: And your name please?
(جناب یحییٰ بختیار: اور آپ برائے مہربانی اپنا نام بتا دیں)
جناب مسعود بیگ مرزا: جی، میرا نام ہے مسعود بیگ مرزا۔ میں اس انجمن کا سیکرٹری ہوں۔
(مسعود بیگ مرزا کا تعارف)
پروفیسر غفور احمد: میری گزارش یہ ہے کہ جو صاحب جواب دے رہے ہیں، وہ اگر مختصر سا تعارف بھی کرا دیں اپنا کہ وہ کب منسلک ہوئے تھے تو ہمیں آسانی ہوگی۔
جناب مسعود بیگ مرزا: بہت بہتر۔ جناب! میں، جو اس وقت آپ سے مخاطب ہونے کی عزت حاصل کر رہا ہے، اُس کا نام ہے مسعود بیگ۔ میں اس انجمن کا سیکرٹری 1531 ہوں۔ میں ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کا ایک ریٹائرڈ آفیسر ہوں، اور اس وقت اس انجمن کی خدمت کرتا ہوں اور پہلے بھی کرتا رہا ہوں۔
(قادیانی، لاہوری گروپ)
تو یہ جو سوال تھا بڑا Pertinent ، میں مختصر اس کا جواب دینا چاہتا ہوں۔ وہ سوال بڑا صحیح تھا۔ تو میں، یہ نہیں کہ میرے بھائی میں وہ استعداد نہیں تھی۔ میں نے کہا کہ میں شاید اس کا مختصر جواب دے سکوں۔ تو جناب نے پوچھا کہ آپ نے کیا رنگ دیکھا مرزا بشیر الدین کی ڈکٹیٹر شپ کا، اور وہ سب جماعت نے ان کو Elect کیا۔
٢١
LY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔
جناب عبدالمنان عمر: .......یہ سا
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، منتخب ہونے کے بعد؟
جناب عبدالمنان عمر: پہلے۔
جناب یحییٰ بختیار: پہلے بات کہی
جناب عبدالمنان عمر: نہیں، پہلے
جناب یحییٰ بختیار: الیکشن کے بعد
جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، الیکشن۔
جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، پہلے
(مرزا بشیر الدین محمود کو الگ
جناب یحییٰ بختیار: یہ اظہار اُنہوں
جناب عبدالمنان عمر: جی؟
جناب یحییٰ بختیار: جب اُنہوں Elect کیا اور کیوں کیا؟
1530 جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں خیالات کا اظہار کیا۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں ا خیالات کا اظہار کیا اور جماعت کی ایک باڈی جس
جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، و کوئی Electoral College نہیں تھا۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یعنی چھ سے) آپ فرما دیجئے اگر آپ جانتے ہیں۔ آ ذریعے بول دیجئے کیونکہ پھر ہر ایک کو علیحدہ حلف
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
تو حضور! مرزا صاحب کی وفات ہوئی، ١٩٠٨ء میں۔ ١٩٠٨ء سے ١٩١٤ء تک، جس میں حضرت مولانا نورالدین صاحب کی وفات ہوئی، ان چھ سال میں اختلافات کی بنیاد رکھی جاچکی تھی۔ یہ نبوت کا عقیدہ بھی اسی عرصے میں گھڑا گیا اور تکفیر المسلمین کی طرف بھی مرزا صاحب، خلیفہ نہ ہونے کے باوجود مرزا محمود احمد صاحب مضامین لکھا کرتے تھے اور حضرت مولانا نورالدین صاحب نے ایک دو دفعہ فرمایا کہ: ”یہ کفر کا مسئلہ بڑا نازک ہے، ہمارا میاں ابھی سمجھا نہیں اس کو۔“ جس وقت انتخاب ہوا تو یہ صحیح ہے کہ انتخاب میں زور سے وہ خلیفہ منتخب ہوگئے۔ دھاندلی بھی ہوئی تھی۔ یہ صحیح بات ہے اور لوگوں نے مولانا نورالدین صاحب کی وفات کے آخری ایام میں، ان کے اعزاء نے چکر لگاکے، سفر کر کے لوگوں کو تیار کیا تھا اور حضرت صاحب کا بیٹا ہونے کی وجہ سے ان کا انتخاب بڑا آسان تھا۔ لیکن لاہوری جماعت کے عمائدین، مولانا محمد علی اور دوسرے لوگ جماعت کے اتحاد کو برقرار رکھنا چاہتے تھے، وہ برقرار رکھنا چاہتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ جماعت میں افتراق نہ ہو اور میاں صاحب کہتے تھے کہ: ”ہم آپ کے عقیدے کے ساتھ متفق نہیں ہیں...... یہ نبوت اور تکفیر کا جو ہے..... لیکن ہم جماعت کی وحدت چاہتے ہیں۔“ تو مرزا صاحب نے پہلا کام...... جو جناب کے سوال کا جواب ہے...... ڈکٹیٹرانہ کیا، وہ یہ تھا کہ مرزا صاحب کی وصیت کے مطابق انجمن جو بنی تھی وہ متبوع تھی، انجمن حاکم تھی۔ حضرت مرزا صاحب نے وصیت یہ کی تھی کہ: ”میرے بعد خدا کے خلیفہ کی جانشین یہ انجمن ہے۔ جو کثرتِ رائے سے انجمن فیصلہ کرے گی۔ وہ فیصلہ ناطق ہوگا۔“ یہ حضرت مرزا صاحب کی وصیت تھی اور ١٩٠٥ء میں ہی انہوں نے انجمن بنادی اور مولانا نورالدین صاحب کو اس کا صدر بنایا اور خود تمام معاملات سے الگ ہوگئے۔ آپ نے فرمایا کہ: ”جو انجمن کثرتِ رائے سے فیصلہ کرے گی وہ صحیح ہوگا؛ البتہ میری زندگی تک یہ نظام رہے کہ مجھے اطلاع دی جایا کرے کہ یہ فیصلے ہوئے ہیں۔ شاید کسی فیصلے میں اللہ تعالیٰ کی مصلحت ہو تو پھر میں آپ کو بتاؤں۔ لیکن میرے بعد ہر معاملے میں کثرتِ رائے سے یہ فیصلہ ہوگا۔“ تو مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے پہلا کام یہ کیا، اپریل ١٩١٤ء میں، اس ریزولیوشن کو منسوخ کردیا۔
(لاہوری گروپ مرزا بشیر الدین محمود کے انتخاب سے پہلے الگ ہوا یا بعد میں)
جناب یحییٰ بختیار: آپ دُرست فرمارہے ہیں، میں بعد کی بات نہیں کررہا، جب وہ Elect (منتخب) ہوگئے......
٢٢
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
جناب مسعود بیگ مرزا: جی، جی۔
جناب یحییٰ بختیار: ....... پہلے سے وہ فرما رہے تھے کہ پہلے سے ہی آپ علیحدہ ہو گئے۔
جناب مسعود بیگ مرزا: نہیں، یہ انہوں نے کبھی نہیں کہا۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، پہلے سے الگ نہیں ہو گئے، الیکشن کے بعد آپ الگ ہو گئے؟
جناب مسعود بیگ مرزا: الیکشن سے بعد، الیکشن سے بعد انہوں نے اپریل میں یہ ریزولیوشن پاس کیا اور لاہور کی انجمن کا وجود مئی ١٩١٤ء میں آیا۔ لاہور والے جب مجبور ہو گئے، انہوں نے دیکھا کہ اب ان کے ساتھ Pull on (گزارا) کرنا مشکل ہے تو پھر وہ لاہور آئے۔
(الیکشن میں کوئی اور امیدوار تھا؟)
جناب، یحییٰ بختیار: کیا الیکشن میں کوئی اور شخص بھی اُمیدوار تھا وہاں؟
1533 جناب مسعود بیگ مرزا: اُمیدوار کوئی نہیں تھا۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، اُمیدوار اس بارے میں کہ جس کے بارے میں جماعت والے سوچتے تھے.......
جناب مسعود بیگ مرزا: ہاں جی۔
جناب یحییٰ بختیار: .......کہ اس کو خلیفہ بننا چاہئے۔
جناب مسعود بیگ مرزا: جناب! کوئی اور Proposal نہیں تھا.......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں.......
جناب مسعود بیگ مرزا: ....... ایک ہی نام Propose ہوا، سب نے کہا کہ: ”مبارک، مبارک، مبارک۔“
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ آپ ذرا.......
جناب مسعود بیگ مرزا: جی۔
جناب یحییٰ بختیار: .......سوال میرا سُن لیں۔
جناب مسعود بیگ مرزا: جناب!
جناب یحییٰ بختیار: آپ نے کہا کہ کچھ دھاندلی بھی ہوئی۔
جناب مسعود بیگ مرزا: جی۔
٢٣
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
جناب یحییٰ بختیار: تو جماعت کے جو ممبر تھے کہ جو Elect (منتخب) کرتے تھے یا جو چنتے تھے، ان کی نظر میں ......
جناب مسعود بیگ مرزا: جی۔
جناب یحییٰ بختیار: ...... میاں محمود احمد کے علاوہ کوئی ایسی شخصیت تھی جو چاہتے تھے کہ یہ بہتر شخصیت ہوگی کہ یہ اگر ہمارے خلیفہ بن جائیں وہ ، یا کوئی اور شخص نہیں تھا؟
جناب مسعود بیگ مرزا: کوئی Candidate نہیں تھا۔
1534 جناب یحییٰ بختیار: نہیں، Candidate نہیں کہہ رہا ہوں ......
جناب مسعود بیگ مرزا: لوگوں کی نظر میں تو ہمیشہ ہوتے ہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔ تو کوئی ......
جناب مسعود بیگ مرزا: یعنی ایک خادم اسلام، جو شروع سے اُس انجمن کے سیکرٹری تھے، وہ مولانا محمد علی صاحب علم میں، فضل میں، عمر میں، تجربے میں...... مرزا محمود احمد صاحب کی عمر اُس وقت ١٩ سال تھی...... جس وقت یہ الیکشن ہوا، اُس وقت اُن کی عمر ٢٥ سال...... جس وقت مرزا صاحب فوت ہوئے ١٩ سال تھی۔ Sorry، اُس وقت اُن کی عمر ٢٥ سال تھی۔ وہ ایک نوجوان تھے۔ تو مولانا محمد علی کا تو بہت تجربہ تھا۔ بعض لوگ سمجھتے تھے کہ مولانا محمد علی اس کو بہتر چلا سکتے ہیں۔ لیکن مولانا محمد علی نے کبھی اپنے آپ کو بطور امیدوار کے پیش نہیں کیا۔
(لاہوری پارٹی چاہتی تھی کہ محمد علی خلیفہ ہوں؟)
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ میں نے نہیں کہا۔ پھر اس کے بعد یہ چاہتے تھے کہ مولانا محمد علی صاحب خلیفہ ہوں، وہ جماعت سے علیحدہ ہوگئے؟
جناب مسعود بیگ مرزا: وہ اس وجہ سے جناب! نہیں علیحدہ ہوگئے تھے کہ مولوی محمد علی صاحب Elect (منتخب) نہیں ہوئے تھے، اس وجہ سے الگ نہیں ہوئے۔ انہوں نے، جیسا میں نے گزارش کی پہلے، کہ مہینہ ڈیڑھ مہینہ کوششیں کیں اتفاق اور اتحاد کی۔ وہ کہتے تھے کہ یہ جو آپ نے حضرت صاحب کی وصیت کو بدلا ہے، یہ دُرست نہیں اور یہ آپ کے جو عقائد ہیں ...... مرزا محمود احمد صاحب کہتے تھے کہ: ”یا میری بیعت کرو یہاں رہو، میری بیعت کرو۔“ وہ کہتے تھے کہ: ”ہم آپ کی بیعت ان وجوہ سے نہیں کرسکتے کیونکہ ہم نے حضرت مرزا صاحب کے ہاتھ پر بیعت کی ہوئی ہے۔ جنہوں نے مرزا صاحب کے ہاتھ پر بیعت کی ہے، ہم آپ کے ہاتھ پر
٢٤
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
بیعت کرنا ضروری نہیں سمجھتے۔“ اور دوسرا تھا نظام کے بارے میں، جو ایک بنیادی انہوں نے یہ رخنہ اندازی کی تھی کہ اُس Clause کو ملیا میٹ کر دیا، دفعہ ١٨ جو تھی اس میں۔
1535 جناب یحییٰ بختیار: یہ کب کیا انہوں نے؟
جناب مسعود بیگ مرزا: اپریل ١٩١٤ء میں۔
(الیکشن کب ہوا)
جناب یحییٰ بختیار: الیکشن کب ہوا تھا اُن کا؟
جناب مسعود بیگ مرزا: مارچ ١٩١٤ء میں۔
جناب یحییٰ بختیار: تو اس دوران میں مولانا محمد علی نے اُس پہ بیعت......
جناب مسعود بیگ مرزا: مولانا محمد علی صاحب نے بیعت نہیں کی، لیکن قادیان میں رہے۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، کیوں؟ کیونکہ ابھی تک وہ دفعہ نہیں تھی ختم۔
جناب مسعود بیگ مرزا: میں، میں عرض کرتا ہوں، وہ اس لئے......
جناب یحییٰ بختیار: آپ گزارش کر لیجئے۔
جناب مسعود بیگ مرزا: میں آپ کے سامنے اُس زمانے کے اخبار ”الہلال“ کا ایک Quotation پیش کرتا ہوں......
جناب یحییٰ بختیار: پہلے آپ جواب دے دیجئے۔
جناب مسعود بیگ مرزا: وہ اسی میں جواب ہے۔ جی، یہ الفاظ ہی اُس جواب کے ہیں: ”اُس عرصہ کے...... ایک عرصہ سے اس جماعت میں مسئلہ تکفیر کی بنا پر دو جماعتیں پیدا ہوگئی تھیں۔ ایک گروہ....... بنیاد مسئلہ تکفیر تھی......“
(یہ کس سال کا الہلال ہے؟)
جناب یحییٰ بختیار: یہ کس سال کا ”الہلال“ ہے؟
جناب مسعود بیگ مرزا: یہ جناب ”الہلال“ کا حوالہ میں عرض کر رہا ہوں، ٢٠؍مارچ ١٩١٤ء کا ہے۔ میں نے اس لئے عرض کیا کہ اس میں اس سوال کا، غالباً شاید آپ کے سوال کا جواب آجائے:
٢٥
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
1536”جماعت....... ایک عرصہ سے اس جماعت میں مسئلہ تکفیر کی بنا پر دو جماعتیں پیدا ہو گئی تھیں۔ ایک گروہ کا یہ اعتقاد تھا کہ غیر احمدی مسلمان نہیں گو وہ مرزا صاحب کے دعوؤں پر ایمان نہ لائیں۔ لیکن دُوسرا گروہ صاف صاف کہتا تھا کہ جو لوگ مرزا صاحب پر ایمان نہ لائیں، قطعی کافر ہیں۔ انا لله وانا اليه راجعون ! آخری جماعت کے رئیس صاحبزادہ بشیر الدین محمود ہیں۔ اس گروہ نے انہیں اب خلیفہ قرار دیا ہے۔ مگر پہلا گروہ تسلیم نہیں کرتا۔ مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے نے اس بارے میں جو تحریر شائع کی ہے اور جس عجیب و غریب جرأت اور دلاوری کے ساتھ قادیان میں رہ کر اظہار خیال کیا ہے، جہاں پہلے گروہ کے رؤساء نہیں، وہ فی الحقیقت ایک ایسا واقعہ ہے جو ہمیشہ اس سال کا ایک یادگار واقعہ سمجھا جائے گا۔“
تو میری گزارش یوں ہے جی! اب آپ کے سوال کے جواب میں کہ اختلاف کی بنیاد جو ہے وہ مسئلہ تکفیر تھی، وہ مسئلہ نبوّت تھی، اور مرزا محمود احمد صاحب کے یہ خیالات تھے کہ خلافت کو ایک ڈکٹیٹرانہ نظام کے ماتحت چلایا جائے۔ اس کے لئے وہ مولانا نور الدین کو بھی وقتاً فوقتاً یہ مشورہ دیتے رہے تھے کہ : ”جناب! اس طرح نہ کیجئے، بلکہ خلافت کو پوری طرح اپنے ہاتھ میں لیجئے اور مالی معاملات کو بھی اپنے ہاتھ میں لیجئے۔“
(مولانا محمد علی نے حکیم نور دین کے ہاتھ پر بیعت کی تھی؟)
جناب یحییٰ بختیار: آپ یہ فرمائیے کہ مولانا محمد علی صاحب نے حکیم نورالدین کے ہاتھ پر بیعت کیا تھا؟
جناب مسعود بیگ مرزا: جی ہاں۔
جناب یحییٰ بختیار: تو پھر یہ کیوں اعتراض کیا کہ چونکہ میں مرزا صاحب کے ہاتھ پر بیعت کر چکا ہوں اس لئے مرزا بشیر الدین کی بیعت نہیں کروں گا؟ آپ فرما رہے تھے ......
جناب مسعود بیگ مرزا: میں، میں اس کے متعلق گزارش کروں گا، مولانا صاحب نے خود اس کا جواب دیا۔ انہوں نے فرمایا کہ : ”میں نے حضرت مرزا صاحب کے ہاتھ پر بیعت کی تھی اور اس کے بعد مولانا نورالدین کے ہاتھ پر 1537بیعت کی تھی۔ ان دونوں نے مجھے تکفیر المسلمین کی کبھی تلقین نہیں کی تھی۔ مگر مرزا محمود احمد اس کی تلقین کرتے ہیں، اس لئے اس خیال کو رکھ کر میں ان کی بیعت میں شامل نہیں ہوسکتا۔ اگر مرزا صاحب، مرزا محمود صاحب اس خیال کو چھوڑ دیں تو ہمیں ان کی بیعت سے کوئی انکار نہیں۔“ (وقفہ)
٢٦
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
(تکفیر کا سلسلہ کب شروع ہوا؟)
جناب یحییٰ بختیار: آپ نے فرمایا کہ تکفیر کا سلسلہ پہلے شروع ہو گیا تھا۔ ١٩٠٦ء یا ١٩٠٨ء یا.......
جناب مسعود بیگ مرزا: جی نہیں، ١٩٠٦ء اور ١٩٠٨ء میں نہیں، بلکہ مرزا صاحب کی وفات کے بعد۔
جناب یحییٰ بختیار: ١٩٠٨ء کے بعد۔
جناب مسعود بیگ مرزا: جی آ۔
(کس نے شروع کیا)
جناب یحییٰ بختیار: اور کس نے شروع کیا تھا یہ؟
جناب مسعود بیگ مرزا: یہ اصل میں یہ ایک بڑی تاریخی سی بحث ہے کہ اس کا آغاز کرنے والا کون شخص تھا؟ بظاہر جو معلومات ہمارے سامنے ہیں وہ ایک شخص ظہیر الدین اروپی تھا۔ اس نے ١٩١١ء میں کچھ اس قسم کے خیالات کا اظہار کیا اور مرزا صاحب کی نبوت کو پیش کیا۔ اس سے غالباً....... یہ تو محض قیاس آرائی ہے....... اس سے غالباً مرزا محمود احمد صاحب نے یہ آئیڈیا مستعار لیا اور پھر اپنے خیالات کو اس کے سانچے میں ڈھال کر پھر اس بات کو آگے پھیلانا شروع کیا۔
(کفر سے کیا مراد ہے؟)
جناب یحییٰ بختیار: میں آپ کی توجہ کچھ مرزا صاحب کے Followers (پیروکاروں) کی طرف دلاؤں گا۔ پیشتر اس کے، کچھ سوال ایسے ہیں کہ ان کا اگر جواب دے دیں تو پھر آسانی ہو جائے گی۔ ”کفر“ سے کیا مراد ہے؟ میں آپ سے Simple (آسان) پوچھتا ہوں کہ ”انکار کرنے والا“؟
1538 جناب عبدالمنان عمر: جی، میں عرض کرنے.......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں سمجھتا ہوں، بے شک مطلب تو یہی ہے ناں؟
جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، میں عرض کرتا ہوں۔ ”کفر“ کے لفظ کو دو طرح استعمال کیا گیا ہے اسلامی لٹریچر میں، اور یہی دو طرز کا استعمال مرزا صاحب کے ہاں بھی پایا جاتا ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ جو شخص ارادۃً تارک الصلوٰۃ ہو جائے، وہ کافر ہوتا ہے۔ لیکن اس کو
٢٧
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
اصطلاحی کفر نہیں کہتے۔ اِصطلاح میں جو اس کے لئے لفظ ہے، مجھے معاف کیجئے گا، وہ ہے ”کفر دُون کفر“ عربی کے الفاظ ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ رہتا تو انسان دائرۂ اسلام کے اندر ہے، لیکن حقیقی طور پر وہ مسلمان نہیں ہوتا۔ اس کی جو رُوح ہے اسلام کی، اس پر پوری طرح وہ شخص کاربند نہیں ہوتا۔ ان معنوں میں بھی ”کفر“ کا لفظ......
جناب یحییٰ بختیار: گنہگار ہو گیا ایک قسم......
جناب عبدالمنان عمر: ......لیکن ”کفر“ کا جو حقیقی استعمال ہے، اس کے جو حقیقی معنے ہیں، وہ یہ ہیں کہ کوئی شخص محمد مصطفیٰ ﷺ کی رسالت سے اور کلمہ طیبہ لا الٰہ الا اللہ سے منکر ہو جائے۔ اصل میں اصطلاحاً کفر صرف اور صرف ان معنوں میں استعمال ہو سکتا ہے۔
(قرآن کریم میں مذکور انبیاء کا منکر کافر نہیں ہوگا؟)
جناب یحییٰ بختیار: اگر کوئی شخص ان انبیاء کا انکار کرے جن کا ذکر قرآن شریف میں ہے تو وہ کافر نہیں ہوگا؟
جناب عبدالمنان عمر: بات یہ ہے کہ قرآن مجید کے شروع میں آیا ہے کہ: (عربی) کہ مسلمان ہونے کے لئے ضروری ہے کہ وہ محمد رسول اللہ ﷺ کی وحی پر بھی ایمان لائے اور اس وحی کو بھی تسلیم کرے اور ایمان لائے جو کہ آپ سے پہلے ہو چکی ہے، یہ بالکل شروع کے الفاظ ہیں۔
1539 جناب یحییٰ بختیار: میں کہتا ہوں کہ جو انبیاء ہیں اللہ کے، جن کا ذکر قرآن شریف میں ہے، ان پر ایمان لانا بھی ضروری ہے؟
جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔
(کیا مرزا مسیح موعود تھے؟)
جناب یحییٰ بختیار: اگر ان پر ایمان نہ لایا جائے تو انسان کافر ہو جاتا ہے۔ اب یہ مسیح موعود، جو مرزا صاحب نے دعویٰ کیا تھا، آپ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ مسیح موعود تھے؟
جناب عبدالمنان عمر: جی۔
جناب یحییٰ بختیار: مسیح موعود بھی نبی تھے۔ مسیح؟
جناب عبدالمنان عمر: جی۔
جناب یحییٰ بختیار: حضرت عیسیٰ علیہ السلام......
٢٨
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
جناب عبدالمنان عمر: جی۔
جناب یحییٰ بختیار: ...... نبی تھے اللہ کے......
جناب عبدالمنان عمر: جی۔
جناب یحییٰ بختیار: ...... اور یہ ان کا دوبارہ آنا ہے؟
جناب عبدالمنان عمر: جی۔
جناب یحییٰ بختیار: وہ ان کی نبوت تو نہیں ختم ہوگئی اس دوران میں؟
جناب عبدالمنان عمر: جی، میری گزارش اس سلسلے میں یہ ہے کہ میں اس جماعت کا نقطہ نگاہ بڑی وضاحت سے آپ کے سامنے رکھ دوں۔ وہ یہ ہے کہ ہمارا اعتقاد یہ ہے، جس کو ہم قرآن مجید اور احادیث نبویہ اور بزرگانِ اُمت کے اقوال سے ثابت کرتے ہیں، کہ وہ مسیح جو بنی اسرائیل کی طرف سے رسولاً الیٰ بنی اسرائیل کے مطابق مبعوث ہوئے تھے، وہ اپنی طبعی موت کے ساتھ فوت ہو چکے ہوئے ہیں اور یہ جو احادیث میں آتا ہے کہ آخری زمانے میں مسیح موعود کے رنگ میں......
1540 جناب یحییٰ بختیار: مولانا......!
جناب عبدالمنان عمر: ......مسیح ناصری کا......
جناب یحییٰ بختیار: ...... میں ایک عرض کروں گا کیونکہ اس تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ خواہ وہ جسمانی طور سے آئیں یا کسی اور صورت میں، وہ تو آپ کا اختلاف ہے، وہ اس کی بات نہیں ہے۔ مگر اس سے انکار نہیں وہ آئے کسی نہ کسی شکل میں؟
جناب عبدالمنان عمر: جی۔
جناب یحییٰ بختیار: تو جب جس شکل میں وہ آئیں، جسمانی طور پر آسمان سے اُترے یا کسی اور انسان کی شکل میں، جن میں وہ ساری خوبیاں ہوں، اس صورت میں وہ آئیں تو نبی تو ہوں گے کہ نہیں؟
جناب عبدالمنان عمر: میں عرض کر رہا ہوں......
جناب یحییٰ بختیار: یہ میں پوچھ رہا ہوں۔
جناب عبدالمنان عمر: جی آ۔
جناب یحییٰ بختیار: کہ نبوت ان کی ختم ہو جاتی ہے؟
٢٩
EMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
اصطلاحی کفر نہیں کہتے۔ اصطلاح میں جو اس کے لئے دُون کفر‘ عربی کے الفاظ ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ رہتا تو طور پر وہ مسلمان نہیں ہوتا۔ اس کی جو رُوح ہے اسلا ہوتا۔ ان معنوں میں بھی ”کفر“ کا لفظ......
جناب یحییٰ بختیار: گنہگار ہو گیا ایک قس
جناب عبدالمنان عمر: ...... لیکن ”کفر“...... ہیں، وہ یہ ہیں کہ کوئی شخص محمد مصطفیٰ ﷺ کی رسال ہو جائے۔ اصل میں اصطلاحاً کفر صرف اور صرف ان
(قرآن کریم میں مذکور انبیاء کا
جناب یحییٰ بختیار: اگر کوئی شخص ان ا میں ہے تو وہ کافر نہیں ہوگا؟
جناب عبدالمنان عمر: بات یہ ہے کہ قرآ کہ مسلمان ہونے کے لئے ضروری ہے ک لائے اور اس وحی کو بھی تسلیم کرے اور ایمان لائے جو کے الفاظ ہیں۔
1539 جناب یحییٰ بختیار: میں کہتا ہوں شریف میں ہے، ان پر ایمان لانا بھی ضروری ہے؟
جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔
(کیا مرزا مسیح موع
جناب یحییٰ بختیار: اگر ان پر ایمان نہ مسیح موعود، جو مرزا صاحب نے دعویٰ کیا تھا، آپ یہ تسلی
جناب عبدالمنان عمر: جی۔
جناب یحییٰ بختیار: مسیح موعود بھی نبی تھ
جناب عبدالمنان عمر: جی۔
جناب یحییٰ بختیار: حضرت عیسیٰ علیہ السـ
٢٨
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، میں عرض کرتا ہوں، نبی اکرم ﷺ نے مسیح کی آمد ثانی کا ذکر کیا ہے اور صحیح مسلم کی حدیث کے الفاظ ہیں کہ: ”وہ نبی اللہ ہوگا۔“ لیکن اگر تو وہی مسیح آنا ہے، کیا اس نے حقیقی نبوت کو لے کر آنا ہے؟ تو یہ محمد رسول اللہ ﷺ کی ختم نبوت کے منافی ہے۔ ہمارے رائے میں، ہمارے علم میں، ہمارے اعتقاد کی رُو سے، جس شکل میں بھی اس مسیح نے آنا ہے، ہمارے نزدیک وہ بروزی رنگ ہے، کسی اور شخص کی شکل میں اُس نے آنا ہے۔ لیکن اگر کسی شخص کے ذہن میں یہ ہے کہ اُسی مسیح نے آنا، تو محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی شخص نبوت کو لے کر نہیں آسکتا۔ حقیقی نبوت اگر اس کو حاصل ہے تو ہمارے 1541 نزدیک وہ ختم نبوت کا منکر ہے وہ شخص اور ہمارے نزدیک مرزا صاحب ...... نبی اکرم ﷺ کے بعد نہ پُرانا نبی آسکتا ہے نہ نیا نبی آسکتا ہے، لیکن کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے اس کے لئے ”نبی اللہ“ کا لفظ استعمال کیا ہے، اس لئے ہم اس عزت کے لئے جو اس پاک وجود کی ہمارے دلوں میں ہے، ہم سمجھتے ہیں، اس سے مراد غیر حقیقی رنگ میں اس رنگ کی نبوت ہے جس کو بعض اولیاء نے ”انبیاء الاولیاء“ کا نام دیا ہے۔ ایسی شکل میں تو وہ نبوت آسکتی ہے۔ لیکن اپنے حقیقی معنوں میں، ان معنوں میں کہ محمد ﷺ کے بعد ایک مستقل وجود آگیا، یہ ہمارے نزدیک جائز نہیں ہے اور ہم ایسی ......
(مرزا صاحب نے مسیح موعود کا دعویٰ کیا؟)
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، اب تو، اب تو مولانا! سوال اب یہ ہو جاتا ہے کہ مرزا صاحب نے مسیح موعود کا دعویٰ کیا ......
جناب عبدالمنان عمر: جی۔
جناب یحییٰ بختیار: ...... اور آپ کہتے ہیں کہ ہاں، وہ مسیح موعود تھے اور یہ بھی آپ فرماتے ہیں کہ کسی قسم کے نبی وہ بھی نہیں ......
جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: ...... یعنی اس کا لفظی کہیں، بروزی کہیں .......
جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: ...... ظلی کہیں ......
جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں بالکل۔
جناب یحییٰ بختیار: ...... مجازی کہیں ......
٣٠
1547 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
جناب عبدالمنان عمر: میں، میں بڑی وضاحت سے عرض کروں گا، کسی قسم کی نبوت کے ہم قائل نہیں۔ یہ جو ظلی اور بروزی ہیں، یہ نبوت کی قسمیں نہیں ہیں، یہ غیر نبی کے لئے لفظ استعمال ہوئے ہوئے ہیں اور میں آپ کو ......
1542 جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب ........
جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔
(مرزا نے اپنے لئے نبی کا لفظ استعمال کیا؟)
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مرزا صاحب نے جو اپنے لئے ”نبی“ کا لفظ استعمال کیا ہے ......
جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، ان معنوں میں کیا جن معنوں میں پہلے لوگوں نے ”نبی“ کا لفظ بمعنی ”محدث“ استعمال کیا، یہی معنی مرزا صاحب نے لئے ہیں اور مرزا صاحب کی تحریر میں آپ کے سامنے رکھ دیتا ہوں ......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ تو تحریر میں آپ سے پوچھوں گا ......
جناب عبدالمنان عمر: جی۔
جناب یحییٰ بختیار: ...... تحریر آپ نے یہاں نقل کی ہوئی ہیں، وہ ہم آپ دیکھ چکے ہیں۔
جناب عبدالمنان عمر: جی۔ میں، میں گزارش آپ کے سوال کے سلسلے میں کر رہا تھا کہ وہ جو آنے والا ہے، اس کے بارے میں آپ لوگ کیا سمجھتے ہیں کہ وہ نبی ہوگا کہ نہیں ہوگا؟
جناب یحییٰ بختیار: فرمائیے۔
جناب عبدالمنان عمر: اس کے لئے گزارش یہ ہے کہ آنے والے مسیح موعود کا ...... یہ مرزا صاحب کی ایک کتاب ہے ......
جناب یحییٰ بختیار: کس تاریخ کی ہے؟
جناب عبدالمنان عمر: جی، یہ ”انجام آتھم“ ہے جی اس کا نام۔ اس میں فرماتے ہیں: ”آنے والے مسیح موعود کا نام جو صحیح مسلم وغیرہ میں زبانِ مقدس حضرت نبوی سے نبی اللہ نکلا ہے، وہ ان ہی مجازی معنوں کی رُو سے ہے جو صوفیا کرام کی کتابوں میں مسلم اور ایک معمولی محاورہ مکالمات الہیہ کا ہے۔ ورنہ خاتم النبیین، خاتم الانبیاء کے بعد نبی کیسا۔“
1543 یہ مرزا صاحب کی تحریر ہے جس سے واضح ہو گیا ہوگا کہ مرزا صاحب اور ہم ان کی
٣١
OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، آمد ثانی کا ذکر کیا ہے اور صحیح مسلم کی حدیث مسیح آنا ہے، کیا اس نے حقیقی نبوت کو لے کر ہے۔ ہمارے رائے میں، ہمارے علم میں ہـ نے آنا ہے، ہمارے نزدیک وہ بروزی رنگ اگر کسی شخص کے ذہن میں یہ ہے کہ اُسی مسیح لے کر نہیں آسکتا۔ حقیقی نبوت اگر اس کو حاـ شخص اور ہمارے نزدیک مرزا صاحب ... آسکتا ہے، لیکن کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے اـ ہم اس عزت کے لئے جو اس پاک وجود غیر حقیقی رنگ میں اس رنگ کی نبوت ہے ایسی شکل میں تو وہ نبوت آسکتی ہے۔ لیکن بعد ایک مستقل وجود آ گیا، یہ ہمارے نزدیـ
(مرزا صاحب
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، صاحب نے مسیح موعود کا دعویٰ کیا ......
جناب عبدالمنان عمر: جی
جناب یحییٰ بختیار: ...... اـ فرماتے ہیں کہ کسی قسم کے نبی وہ بھی نہیں۔
جناب عبدالمنان عمر: جی
جناب یحییٰ بختیار: ...... یـ
جناب عبدالمنان عمر: جی
جناب یحییٰ بختیار: ...... تـ
جناب عبدالمنان عمر: جی
جناب یحییٰ بختیار: ...... ہـ
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
ابتداء میں آنے والے، مسیح موعود کے بارے میں ”نبی اللہ“ کا لفظ مجازی معنوں میں، غیر حقیقی معنوں میں، صرف ”محدث“ کے معنوں میں، صرف خدا کا ہم کلام ہونے والوں کے معنوں میں استعمال کرتے ہیں، نبوت کے حقیقی معنوں کی رُو سے کبھی استعمال نہیں ہوا۔
(الہام اور وحی میں کیا فرق ہے؟)
جناب یحییٰ بختیار: اب آپ مولانا! ایک اور Definition بھی دے دیجئے۔ ”کفر“ کی ہو گئی۔ یہ خدا سے ہم کلام ہونے کے۔ ایک الہام ہوتا ہے، ایک وحی ہوتی ہے۔ الہام اور وحی میں کیا فرق ہے؟
جناب عبدالمنان عمر: جناب والا! نبی اکرم ﷺ کی حدیث ہے کہ نبوت ختم ہو چکی ہے لیکن مبشرات کا دروازہ کھلا ہے اور ان ”مبشرات“ سے مراد اولیائے کرام نے جو مراد لی ہے، وہ ہے رُؤیائے صالحہ، وحی، الہام، کشف، ان چیزوں کے لئے یہ لفظ استعمال ہوا ہے اور ہمارے نزدیک جہاں آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہے، وہاں ہمارے نزدیک خدا تعالیٰ کی یہ صفت کہ وہ ہم کلام ہوتا ہے اپنے بندوں سے، یہ معطل نہیں ہوئی اور ہم رُؤیائے صالحہ، الہام، وحی اور کشف کے ذریعے اس خدا تعالیٰ کے مکالمہ، مخاطبہ الٰہیہ کے قائل ہیں۔
(رؤیا، کشف، الہام اور وحی میں کیا فرق ہے؟)
جناب یحییٰ بختیار: اب میں آپ عرض کروں گا کہ آپ رؤیا، کشف، الہام اور وحی میں کیا فرق ہے؟ یہ تشریح ذرا کر دیں تاکہ بعد میں جو ہم سوال پوچھیں ......
جناب عبدالمنان عمر: میں گزارش کر دوں کہ ہمارے نزدیک ”وحی“ اور ”الہام“ کے لفظ گو الگ الگ ہیں، لیکن ہم نے ہمیشہ اس کو، اور مرزا صاحب نے اور پہلے اولیاء اور ربانی علماء نے ہم معنی بھی استعمال کیا ہے۔ لیکن بعض لوگ ”وحی“ اور ”الہام“ میں فرق کرتے ہیں۔ یہ ان کا ہے اصطلاح، ہماری یہ اصطلاح نہیں ہے۔ ہمارے نزدیک ”وحی“ 1544 اور ”الہام“ مترادف الفاظ ہیں۔ وحی اور الہام کی کیفیت یوں ہے کہ رؤیا میں انسان سویا ہوا ہوتا ہے، جس کو ہم عام زبان میں خواب دیکھنا کہتے ہیں۔ لیکن کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان بیدار ہوتا ہے اور دیواروں کے اور فاصلوں کے جو بُعد ہیں، ان کو دُور کر کے وہ شخص دیوار کے پیچھے بھی اور ایک لمبے فاصلے سے بھی اس چیز کو دیکھ لیتا ہے۔ اس میں ایک مثال عرض کروں تو شاید بات واضح ہو جائے گی۔ حضرت عمرؓ مسجد نبوی میں خطبہ جمعہ دے رہے تھے کہ یکدم آپ کی زبان سے یہ نکلا: (عربی)
٣٢
1549 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12. لوگ حیران ہو گئے کہ یہ کیا لفظ ! خطبہ دے رہے ہیں اور ایک غیر متعلق لفظ استعمال ہو گیا۔ تو خطبے کے بعد عبدالرحمن بن عوفؓ ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اُنہوں نے عرض کی کہ: ”جناب! یہ ساریہ والا قصہ کیا ہے؟“ اُنہوں نے کہا کہ : ” کچھ نہیں ، میں خطبہ دے رہا تھا، دیتے دیتے یک دم مجھ پر کشف کی حالت طاری ہو گئی اور میں نے دیکھا کہ شام کی سرحد پر جو مسلمانوں کی فوجیں لڑ رہی ہیں، میدانِ جنگ میں، ایک موقع ایسا آ گیا ہے کہ ساریہ کمانڈر جو ہے جو مسلمانوں کی فوج کو لڑا رہا ہے رومیوں کے خلاف، تو رومیوں کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا فوج کا پیچھے کی طرف پہاڑی کی پشت سے ہو کر ان کے Rear پر، ان کے پچھلے حصے پر حملہ کرنا چاہتا ہے۔ تو میں برداشت نہ کر سکا اور فوراً ہی میری زبان سے نکلا کہ ساریہ پہاڑ کی طرف متوجہ ہو جاؤ۔ چنانچہ یہ کیفیت مجھ سے دُور ہو گئی اور میں نے خطبہ اپنا دینا شروع کر دیا۔“ اس کے بعد واقعہ یہ ہوا کہ جب وہ قافلہ وہاں سے جنگ کی خبریں لے کر مدینہ میں پہنچا تو ساریہ نے جو خط وہاں سے بھیجا وہ یہ تھا کہ یہ حالات ہوئے، یہ ہوا اور یہ ہوا اور ساتھ ہی بتایا کہ: ”جمعہ کے دن، جمعہ کے وقت میں نے ایک آواز سنی جبکہ میں اپنی فوجوں کو لڑا رہا تھا، جس میں مجھے کہا گیا تھا کہ پہاڑ کی طرف متوجہ ہو جاؤ اور وہ جناب کی آواز تھی، یعنی حضرت عمرؓ کی آواز تھی۔ 1545چنانچہ میں نے جو اُس طرف دیکھا تو ایک چھوٹی سی ٹکڑی ہمارے Back پر حملہ کر رہی تھی۔ چنانچہ میں اپنی فوج کو لے کر اس پہاڑی پر چڑھ گیا اور اس طرح ہم اس شکست سے بچ گئے، اور ہمارے انہوں نے، اللہ تعالیٰ نے محفوظ رکھا۔“ تو یہ دیکھئے، یہ وہ کشف کی کیفیت ہے کہ حضرت عمرؓ نے مدینہ میں رہ کر شام کی سرحدوں کا نظارہ دیکھ لیا ہے، اور یہی وہ کیفیت ہے کہ آواز حضرت عمرؓ نے مسجد نبوی میں یہ دی ہے اور وہ آواز سینکڑوں، ہزاروں میل کا فاصلہ طے کر کے حضرت ساریہ کے کان میں پہنچتی ہے اور وہ اس پر عمل پیرا ہو جاتے ہیں۔ یہ کشف کی کیفیت ہے۔
جس کو ”وحی“ اور ”الہام“ کہتے ہیں۔ اس بارے میں ہمارا تصور یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ، جس طرح میں آپ سے بات کر رہا ہوں اور میری آواز آپ کے کانوں میں پہنچ رہی ہے اور خارج میں پہنچ رہی ہے، اندر کے خیالات نہیں ہیں یہ، بلکہ خارج سے ایک آواز آپ کے کانوں میں پہنچتی ہے، اس طرح جو موردِ وحی و الہام ہوتا ہے وہ باہر سے آواز سنتا ہے خدا تعالیٰ کی، اور وہ الفاظ ہوتے ہیں، ان الفاظ میں معانی ہوتے ہیں اور اس میں بہت سی خبریں بھی موجود ہوتی ہیں۔ اس کیفیت کے لئے جو واضح اور اچھا اور صاف لفظ ہے وہ ہے ” مکالمہ مخاطبہ الہیہ “ یعنی خدا تعالیٰ ٣٣
EMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12 اقتدا میں آنے والے، مسیح موعود کے بارے میں ”نبی“ معنوں میں، صرف ”محدث“ کے معنوں میں، صرف ج استعمال کرتے ہیں، نبوت کے حقیقی معنوں کی رُو سے ک
(الہام اور وحی میں کیا
جناب یحییٰ بختیار: اب آپ مولانا! ای ”کفر“ کی ہو گئی۔ یہ خدا سے ہم کلام ہونے کے۔ ایک اور وحی میں کیا فرق ہے؟ جناب عبدالمنان عمر: جناب والا! نبی ا ہے لیکن مبشرات کا دروازہ کھلا ہے اور ان ”مبشرات“ وہ ہے رُؤیائے صالحہ، وحی، الہام، کشف، ان چیزوں نزدیک جہاں آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ یہ صفت کہ وہ ہم کلام ہوتا ہے اپنے بندوں سے، یہ صفت اور کشف کے ذریعے اس خدا تعالیٰ کے مکالمہ، مخاطبہ ال
(رؤیا، کشف، الہام اور وحی
جناب یحییٰ بختیار: اب میں آپ عرض میں کیا فرق ہے؟ یہ تشریح ذرا کر دیں تاکہ بعد میں جو جناب عبدالمنان عمر: میں گزارش کر کے لفظ گو الگ الگ ہیں، لیکن ہم نے ہمیشہ اس کو، ا علماء نے ہم معنی بھی استعمال کیا ہے۔ لیکن بعض لوگ ان کا ہے اصطلاح، ہماری یہ اصطلاح نہیں ہے مترادف الفاظ ہیں۔ وحی اور الہام کی کیفیت یوں ۔ ہم عام زبان میں خواب دیکھنا کہتے ہیں۔ لیکن ب دیواروں کے اور فاصلوں کے جو بُعد ہیں، ان کو دُور ک فاصلے سے بھی اس چیز کو دیکھ لیتا ہے۔ اس میں ایک گی۔ حضرت عمرؓ مسجد نبوی میں خطبہ جمعہ دے رہے ۔ ٣٢
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
اس بندے کے ساتھ مکالمہ کرتا ہے، اس کے ساتھ خطاب کرتا ہے، گفتگو کرتا ہے۔ یہی معانی ہمارے نزدیک ”وحی“ اور ”الہام“ کے ہیں۔ وحی والہام کی بہت سی قسمیں ہیں۔ خود قرآن مجید میں اس کی بہت سی کیفیتیں بیان کی گئی ہیں۔ کبھی اس کو ”ورائے حجاب“ کہا گیا ہے، کبھی اس کے لئے یہ کہا گیا ہے کہ فرشتہ آ کر بولتا ہے۔۔۔۔۔۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں مولانا! پوچھتا ہوں ”وحی“ اور۔۔۔۔۔۔
جناب عبدالمنان عمر: ہمارے نزدیک۔۔۔۔۔۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں۔۔۔۔۔۔
1546 جناب عبدالمنان عمر: ۔۔۔۔۔۔مترادف الفاظ ہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: آپ کے نزدیک نہیں ہوگا، ویسے۔۔۔۔۔۔
جناب عبدالمنان عمر: جی، بعض لوگوں نے۔۔۔۔۔۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، ہاں۔
جناب عبدالمنان عمر: بعض لوگوں نے ”وحی“ اور ”الہام“ میں فرق کیا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ”وحی“ جو ہے یہ صرف انبیاء کے ساتھ ہوتی ہے، اور ”الہام“ جو ہے یہ عام لفظ ہے۔ لیکن یہ بعض لوگوں کا خیال ہے۔ ہم لوگ نہیں اس کو سمجھتے، اور نہ مرزا صاحب نے اپنی اَسّی (٨٠) سے اُوپر کتابوں میں اس فرق کو ملحوظ رکھا ہے۔ (Pause)
(الہام میں غلطی کا احتمال ہوتا ہے یا نہیں)
جناب یحییٰ بختیار: یہ آپ فرمائیے کہ ”الہام“ میں کوئی غلطی کا احتمال ہوتا ہے کوئی کہ نہیں ہو سکتا؟
جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، غلط۔ الہام میں خدا تعالیٰ کا کلام ہے۔ الہام میں قطعاً غلطی نہیں ہوتی۔ لیکن چونکہ ان الفاظ کو سننے والا انسان ہوتا ہے، انسان میں غلطی ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ میں پوچھتا ہوں۔۔۔۔۔۔
جناب عبدالمنان عمر: ۔۔۔۔۔۔اس لئے ”اجتہادی غلطی“ جس کو اصطلاح میں کہتے ہیں، یہ ہو سکتی ہے۔۔۔۔۔۔
جناب یحییٰ بختیار: اور یہی وحی۔۔۔۔۔۔
جناب عبدالمنان عمر: ۔۔۔۔۔۔الہام میں غلطی نہیں ہوتی۔
٣٤
1551 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
(وحی میں غلطی ہو سکتی ہے؟)
جناب یحییٰ بختیار: وحی میں بھی یہ ہو سکتی ہے؟
1547 جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔
جناب یحییٰ بختیار: دونوں میں؟
جناب عبدالمنان عمر: دونوں میں۔
Mr. Yahya Bakhtiar: Madam, shall we have a break for tea? And then we can continue; about 12 o'clock, twelve past 12:00.
(جناب یحییٰ بختیار: محترمہ کیا ہمیں چائے کا وقفہ کرنا ہے؟ اس کے بعد بارہ بجے تک کارروائی چلتی رہے گی)
Madam Acting Chairman: The delegation is allowed to leave and then come back at 12:00.
ہم آپ کو بلائیں گے بارہ بجے پھر، چائے کا وقفہ ہو گیا ہے۔
(محترمہ قائمقام چیئرمین: وفد کو بارہ بجے تک جانے کی اجازت ہے)
جناب یحییٰ بختیار: بارہ سوا بارہ بجے کے قریب پھر۔
مولانا صدرالدین: ٹھیک ہے جی۔ شکریہ۔
Madam Acting Chairman: The members may kindly keep sitting.
(محترمہ قائمقام چیئرمین: معزز ممبران تشریف رکھیں)
(The Delegation left the Chamber)
(وفد اسمبلی ہال سے باہر چلا جاتا ہے)
(Pause)
٣٥
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
Madam Acitng Chairman: The members can have a break for tea for fifteen minutes.
(محترمہ قائمقام چیئرمین: معزز ممبران چائے کے وقفے کے لئے پندرہ منٹ ہیں)
Have you got to say any thing?
(کیا کوئی بات کرنا چاہتے ہیں آپ؟)
Mr. Yahya Bakhtiar: No, nothing.
(جناب یحییٰ بختیار: نہیں کسی چیز کے بارے میں نہیں)
Madam Acting Chairman: Wecan break for fifteen minutes and come back at about 12 o'clock ......
(محترمہ قائمقام چیئرمین: ہم پندرہ منٹ کا وقفہ کریں گے اور بارہ بجے واپس آجائیں گے......)
Mr. Yahya Bakhtiar: About ......
(جناب یحییٰ بختیار: تقریباً.....)
Madam Acting Chairman: ...... for tea break, for tea.
(محترمہ قائمقام چیئرمین: ......چائے کا وقفہ چائے کے لئے)
1548 [The Special Committee adjourned for tea break to meet at 12:00 noon.]
(خصوصی کمیٹی کا اجلاس چائے کے وقفے کے لئے ملتوی ہوا، بارہ بجے دوپہر ہوگا)
[The Special Committee reassembled after tea braek, Madam Acting Chairman (Dr. Mrs. Ashraf Khatoon Abbasi) in the Chair.]
(خصوصی کمیٹی کا اجلاس چائے کے وقفے کے بعد میڈم چیئرمین (اشرف خاتون عباسی) کی صدارت میں ہوا)
٣٦
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
محترمہ قائم مقام چیئرمین: یہ میں آنریبل ممبرز کی خدمت میں گزارش کرنا چاہتی ہوں کہ آپ لوگوں کو پتا ہے کہ ہم اس کو جتنا جلدی ہو سکے ختم کرنا چاہتے ہیں اور پندرہ منٹ کے لئے بریک کرتے ہیں، پونے گھنٹے تک پھر کورم نہیں بنتا۔ تو مہربانی کر کے آج شام کو بھی، اگر آپ یہ دو تین دن تکلیف لے کے اور پورے ٹائم سے آجائیں تو ہم اس قصے کو جتنا جلدی ہو سکے، یہ ہم ختم کرنا چاہتے ہیں۔
ہاں، بلا لیجئے ان کو۔
اب گزارش ہے، جب یہ جگہ ہو رہی ہے، آپ مہربانی کر کے ذرا بولنا بھی چاہیں تو ذرا نیچی آواز میں بولیں، بڑی Disturbance ہوتی ہے۔
(The Delegation entered the Chamber) (وفد ہال میں داخل ہوا)
Madam Acting Chairman: Yes, Attorney- General. (محترمہ قائمقام چیئرمین: جی اٹارنی جنرل صاحب!)
جناب یحییٰ بختیار: مولانا! میں آپ سے یہ سوال پوچھ رہا تھا اس وقت، ”وحی“ اور ”الہام“ کے بارے میں، آپ نے فرمایا کہ آپ کے نزدیک دونوں میں فرق نہیں ہے، مگر بعض لوگ فرق کرتے ہیں۔ پھر میں نے آپ سے پوچھا کہ کیا اس میں غلطی ہو سکتی ہے؟ آپ نے کہا سننے والے کی......
جناب عبدالمنان عمر: ...... اجتہادی غلطی ہو سکتی ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، ہو سکتی ہے۔ اگر نبی کو وحی آئے تو اس میں تو غلطی نہیں ہو سکتی؟
1549 جناب عبدالمنان عمر: ٹھیک ہے۔
(مرزا صاحب کی وحی میں غلطی ہو سکتی ہے؟)
جناب یحییٰ بختیار: یہ، یہ آپ...... تو مرزا صاحب کی وحی میں غلطی ہو سکتی ہے؟
جناب عبدالمنان عمر: میں نے گزارش کی کہ وحی میں غلطی نہیں ہو سکتی۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، اگر سننے والے مرزا صاحب غلطی کر سکتے تھے، کہ......
٣٧
OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
irman: The members can inutes.
(محترمہ قائمقام چیئرمین: مح
thing?
(کیا کوئی بات کرنا چاہتے ہیں آ
No, nothing.
(جناب یحییٰ بختیار: نہیں کسی
irman: Wecan break for t about 12 o'clock ......
(محترمہ قائمقام چیئرمین: آجائیں گے......)
About ......
(جناب یحییٰ بختیار: تقریباً
man: ...... for tea break, for
(محترمہ قائمقام چیئرمین:
ee adjourned for tea break
(خصوصی کمیٹی کا اجلاس چائے
eassembled after tea break, r. Mrs. Ashraf Khatoon
(خصوصی کمیٹی کا اجلاس چائے عباسی) کی صدارت میں ہوا)
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No: 12
جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، ہاں ہاں، مرزا صاحب کوئی اجتہادی غلطی ...... جناب یحییٰ بختیار: چونکہ انسان تھے، نبی نہیں تھے۔ جناب عبدالمنان عمر: بالکل۔ جناب یحییٰ بختیار: بالکل۔ (وقفہ)
(غیر نبی کو نبی کہنے والا کافر ہوگا؟)
آپ نے فرمایا کہ دائرہ اسلام سے، جو شخص آنحضرت ﷺ کی اُمت میں ہے، جو شخص آنحضرت ﷺ کی اُمت میں ہو اُس سے غلطیاں بھی ہوں، کچھ بھی ہو، وہ دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا، جب تک آنحضرت ﷺ پر ایمان رکھتا ہے وہ، وحدت پہ ایمان رکھتا ہے وہ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ کے کسی نبی سے جو کوئی شخص انکار کرے، وہ تو آپ نے کہا کہ وہ کافر ہے اور جو شخص کسی ایسے شخص کی نبوت پر ایمان رکھے جو نبی نہ ہو، وہ بھی کافر ہوگا؟
جناب عبدالمنان عمر: اس کے بارے میں میری گزارش یہ ہے کہ میں نے آپ کا تھوڑا سا وقت اس لئے لے لیا تھا کہ مسئلہ تکفیر کے متعلق ہمارا جو نقطہ نگاہ ہے وہ واضح ہو جائے۔ ہم نے گزارش یہ کی تھی کہ ایک شخص اگر مسلمان ہو، کلمہ طیبہ پڑھتا ہو اور اُس میں ننانوے (٩٩) وجوہ کفر بھی ہوں تو ہمارا نقطہ نگاہ یہ ہوگا کہ ہم اُس کو کافر قرار نہ دیں اور یہ کہنا کہ ایک شخص مسلمان بھی ہو اور وہ نبوت کا دعویٰ بھی کرے، ہمارے نزدیک اجتماع نقیضین ہے۔ اگر ایک شخص مدعی نبوت ہے تو وہ مسلمان نہیں۔ اگر وہ مسلمان ہے تو 1550 مدعی نبوت نہیں۔ اس کے لئے میں خود مرزا صاحب کی ہی تحریر آپ کے سامنے رکھتا ہوں ......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ نہیں۔ میرا خیال ہے ...... وہ تحریر تو آپ ضرور رکھیں ...... میں صرف پوزیشن Clear کرنا چاہتا ہوں تاکہ اس میں پھر آگے سوالات پوچھنے میں آسانی ہو ......
جناب عبدالمنان عمر: جی، جی۔ تو میری گزارش یہ ہے ......
(حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نبی نہ ماننے والا مسلمان یا کافر؟)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نبی نہ ماننے والا دائرہ اسلام کے اندر ہے) جناب یحییٰ بختیار: ...... تو میں نے یہ عرض کیا کہ ایک شخص فرض کیجئے، یہ کہتا ہے کہ:
٣٨
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
”حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر میں ایمان نہیں رکھتا، باقی انبیاء کو میں مانتا ہوں۔ مسلمان ہوں مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو میں نبی نہیں سمجھتا۔“ تو مسلمانوں کے نقطہ نظر سے وہ کافر ہوگا یا نہیں؟
جناب عبدالمنان عمر: اس کے بارے میں میں نے ایک اصطلاحی لفظ استعمال کیا تھا: ”کفر ڈون کفر“ کی زد میں آجاتا ہے۔ مگر کفر حقیقی جس کو کہتے ہیں ......
جناب یحییٰ بختیار: دائرۂ اسلام سے خارج نہیں ہوگا وہ؟
جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، کیونکہ وہ نبی کریم ﷺ کو مانتا ہے۔ وہ کوئی اُس کی تاویل کر ......
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، باوجود اس کے .......
جناب عبدالمنان عمر: ...... کوئی اس کی تشریح کرتا ہو ........
جناب یحییٰ بختیار: ...... ایک نبی جو سچا نبی ہے .......
جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔
(سچے نبی کا منکر بھی دائرہ اسلام میں ہے)
جناب یحییٰ بختیار: ...... اُس کی نبوت سے انکار کرے، اس کے باوجود وہ دائرۂ اسلام میں رہتا ہے، آپ کے نقطۂ نظر سے؟
1551 جناب عبدالمنان عمر: جی، اگر وہ محمد رسول اللہ ﷺ کو .......
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، وہ .......
جناب عبدالمنان عمر: جی۔
جناب یحییٰ بختیار: ...... دائرہ ..... تو اس لئے اگر کوئی شخص کسی Imposter (جھوٹا مدعی) کو، جو کہتے ہیں، یا ایسے شخص کو جو نبی نہ ہو اور نبوت کا دعویٰ کرے اُس کو سچا نبی سمجھے، تو وہ آپ کے نقطۂ نظر سے دائرۂ اسلام سے خارج نہیں ہوگا اگر وہ محمد ﷺ کو ......
جناب عبدالمنان عمر: جی، مجھے وضاحت کی اجازت دیجئے۔ میری گزارش یہ تھی کہ ہمارے نزدیک کوئی مسلمان دائرۂ اسلام میں رہتے ہوئے، مسلمان کا اقرار کرتے ہوئے، لا الہ الا اللہ کا اقرار کرتے ہوئے مدعی نبوت نہیں ہو سکتا۔ یہ دو (٢) متضاد چیزیں ہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں نہیں، میں یہ نہیں کہہ رہا .......
جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں .......
٣٩
Y OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں!
جناب یحییٰ بختیار: چونکہ انسان
جناب عبدالمنان عمر: بالکل۔
جناب یحییٰ بختیار: بالکل۔ (ط
(غیر نبی کو نبی
آپ نے فرمایا کہ دائرۂ اسلام شخص آنحضرت ﷺ کی اُمت میں ہو اُس ن خارج نہیں ہوتا، جب تک آنحضرت ﷺ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ کے کسی نبی کافر ہے اور جو شخص کسی ایسے شخص کی نبوت پر ا
جناب عبدالمنان عمر: اس س تھوڑا سا وقت اس لئے لے لیا تھا کہ مسئلہ کنفیو نے گزارش یہ کی تھی کہ ایک شخص اگر مسلمان کفر بھی ہوں تو ہمارا نقطۂ نگاہ یہ ہوگا کہ ہم اُس ہو اور وہ نبوت کا دعویٰ بھی کرے، ہمارے ہے تو وہ مسلمان نہیں۔ اگر وہ مسلمان ہے صاحب کی ہی تحریر آپ کے سامنے رکھتا ہوں
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، رکھیں۔ ..... میں صرف پوزیشن Clear میں آسانی ہو ......
جناب عبدالمنان عمر: جی، و
(حضرت عیسیٰ علیہ السلام
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نبی ما
جناب یحییٰ بختیار: ..... تو ب
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
جناب یحییٰ بختیار: ........میں اس وقت مرزا غلام احمد صاحب کے دعوے پر نہیں جارہا، میں یہ جنرل سوال پوچھ رہا ہوں...... جناب عبدالمنان عمر: جی۔
(جھوٹے مدعی نبوت کو سچا ماننے والا مسلمان ہے یا کافر)
جناب یحییٰ بختیار: .......کہ اگر آج ایک شخص نبوت کا دعویٰ کرتا ہے، اور ہم مسلمان سمجھتے ہیں کہ کوئی نبی آنحضرت ﷺ کے بعد نہیں آسکتا، آج وہ دعویٰ کردیتا ہے، منڈی بہاءالدین میں یا کسی جگہ، اور اس کے ساتھ دو آدمی ہیں یا چار ہیں، وہ یہ کہتے ہیں کہ: ’’ہاں، یہ سچا نبی ہے، ہم اس کو مانتے ہیں۔ یہ ہے امتی نبی۔ آنحضرت کی اُمت میں ہے۔ مگر ہے سچا نبی۔‘‘ تو کیا جس کو ہم سمجھتے ہیں کہ وہ نبی نہیں ہے، اور Imposter (جھوٹا مدعی) ہے، جھوٹا دعویٰ کرنے والا ہے، اور یہ لوگ اس کو نبی سچا کہیں، تو کیا وہ مسلمان رہ سکتے ہیں؟ کافر ہوں گے یا نہیں ہوں گے؟ (وقفہ)
جناب عبدالمنان عمر: 1552 جناب! سوال، جو میں سمجھا ہوں، وہ یہ ہے کہ ایک شخص مدعی نبوت ہو اور کوئی شخص اس کی نبوت کو مانتا ہو، وہ شخص کافر ہوگا یا نہیں؟ شاید میں صحیح سمجھا ہوں۔ اس سلسلے میں میں گزارش یہ کر رہا تھا کہ ہم اُصولاً تکفیر المسلمین کے بڑی سختی سے مخالف ہیں۔ اس سلسلے میں ہمارا مذہب، جیسا کہ میں نے عرض کیا تھا، کہ حضرت امام ابو حنیفہؒ کا مذہب ہے کہ اگر کسی شخص میں ننانوے (٩٩) وجوہ کفر پاؤ اور ایک وجہ ایمان کی اس میں نظر آتی ہو تو اس کو کافر مت کہو۔
اس سلسلے میں ہمارا موقف وہ ہے جو حضرت امام غزالیؒ نے اپنی کتاب ’الاقتصاد‘ میں بیان کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں، وہ امام غزالیؒ ’الاقتصاد‘ میں فرماتے ہیں: ’’آنحضرت ﷺ کے بعد کسی رسول کا مبعوث ہونا اگر کوئی شخص یہ سمجھے کہ جائز ہے کیونکہ عدم جواز میں آنحضرت ﷺ کی حدیث: ’لا نبی بعدی‘ اور خدا تعالیٰ کا خاتم النبیین کہنا پیش کیا جاتا ہے۔ ممکن ہے (وہ شخص کہتا ہے ممکن) کہ حدیث میں نبی کے معنی رسول کے مقابل پر ہوں اور النبیین سے اُولوالعزم پیغمبر مراد ہوں، یعنی آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی اُولوالعزم پیغمبر نہیں آئے گا، عام پیغمبروں کی نفی نہیں۔ (یہ وہ ایک تاویل کرتا ہے، وہ ایک تشریح کرتا ہے) اگر کہا جائے کہ ’النبیین‘ کا لفظ عام ہے تو اس کا جواب وہ یہ دیتا ہے کہ عام کی تخصیص بھی ممکن ہے۔ اس
٤٠
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
قسم کی تاویل کو الفاظ کے لحاظ سے باطل کہنا (امام غزالی کہتے ہیں) ناجائز ہے، کیونکہ الفاظ ان پر صاف صاف دلالت کر رہے ہیں۔ علاوہ ازیں قرآن مجید کی آیتوں میں ایسی دُور اَز قیاس تاویلوں سے کام لیتے ہیں جو ان تاویلوں سے زیادہ بعید ہیں۔ ہاں، اس شخص کی تردید یوں ہو سکتی ہے کہ ہمیں اجماع اور مختلف قرائن سے معلوم ہوا ہے لا نبی بعدی سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت اور رسالت کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند 1553 کر دیا گیا ہے اور خاتم النبیین سے مراد بھی مطلق انبیاء ہیں۔ غرض ہمیں یقینی طور پر معلوم ہے کہ ان لفظوں میں کسی قسم کی تاویل اور تخصیص کی گنجائش نہیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ یہ شخص بھی صرف اجماع کا منکر ہے اور اجماع کے منکر کے متعلق ان کا نقطۂ نگاہ یہ ہے کہ اجماع کے انکار سے بھی کفر لازم نہیں آتا۔"
باقی کوئی شخص مدعی نبوت، یہ ایک ایسا مشکل مسئلہ ہو جائے گا کہ آپ نے یہ فرمایا ہے کہ وہ مدعی نبوت جھوٹا ہے، اس کا فیصلہ کون کرے گا؟ مرزا صاحب کا مذہب اس بارے میں بالکل صاف صاف ہے کہ: "ہم مدعی نبوت کو کافر اور کاذب جانتے ہیں۔"
(جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے وہ کافر ہو گیا)
جناب یحییٰ بختیار: یہی میں نے آپ سے سوال پوچھا کہ جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے، وہ کافر ہو گیا، پھر مسلمان نہیں رہتا؟
جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، میں نے عرض....... مرزا صاحب کے الفاظ ہی آپ کے سامنے رکھ دیئے ہیں: "کیا ایسا بدبخت مفتری جو خود رسالت اور نبوت کا دعویٰ کرتا ہے، قرآن شریف پر ایمان رکھ سکتا ہے۔"
جناب یحییٰ بختیار: یہ کس صاحب کا حوالہ ہے؟
جناب عبدالمنان عمر: یہ مرزا صاحب کی کتاب ہے جی: "انجام آتھم" اس کا صفحہ: ٢٧ (خزائن ج ١١ ص ٢٧) ہے، اس کے حاشیے میں آپ فرماتے ہیں:
"کیا ایسا بدبخت مفتری جو خود رسالت اور نبوت کا دعویٰ کرتا ہے، قرآن شریف پر ایمان رکھ سکتا ہے؟ اور کیا ایسا وہ شخص جو قرآن شریف پر ایمان رکھتا ہے اور آیت: "ولکن رسول الله وخاتم النبیین" کو خدا کا کلام یقین رکھتا ہے، وہ کہہ سکتا ہے کہ میں بھی آنحضرت ﷺ کے بعد رسول اور نبی ہوں" یہ ہے۔
٤١
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
(حضور ﷺ کے بعد کوئی اپنے آپ کو نبی اور رسول کہے وہ کافر ہو گا یا نہیں؟)
1554
جناب یحییٰ بختیار: یہ آپ نے درست فرمایا۔ میں صرف سوال یہ پوچھ رہا تھا کہ اگر کوئی شخص ایسا دعویٰ کرے کہ: ”میں آنحضرت ﷺ کے بعد نبی اور رسول ہوں“ تو وہ شخص آپ کی نظر میں کافر ہو گا یا نہیں؟ اور اس کے ماننے والے کافر ہوں گے یا نہیں؟
جناب عبدالمنان عمر: کفر کے بارے میں ...... کفر کی بنا آنحضرت ﷺ کی تکذیب پر ہے، یہ میں آپ کو ایک اپنا نقطۂ نگاہ عرض کر چکا ہوں کہ کفر کی بنا آنحضرت ﷺ کی تکذیب پر، تاویل کفر کا باعث نہیں بن سکتی۔ کوئی شخص تاویل کرتا ہے اس کی ، وہ کفر کا باعث نہیں بن سکتی اور نہ اس کا باعث کفر ہونا کہیں سے ثابت ہے۔ یہ ہے امام غزالی کا مذہب۔
(قرآن کریم میں مذکور انبیاء کا منکر کافر ہو گا یا نہیں)
جناب یحییٰ بختیار: میں اب مولانا ! آپ سے ایک اور سوال پوچھتا ہوں۔ اگر ایک شخص آنحضرت ﷺ پر ایمان رکھتا ہے، اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے، مگر کہتا ہے: ”باقی کسی انبیاء کے، جتنے، جن کا قرآن میں ذکر آیا ہے، میں کسی کو نہیں مانتا، سب جھوٹے تھے ۔“ وہ شخص آپ کے نقطۂ نظر میں پھر بھی مسلمان ہے، کافر نہیں ہے؟
جناب عبدالمنان عمر: جی، جی، میں نے عرض کیا تھا کہ وہ ”کفر ڈون کفر“ کی زد میں آجاتا ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: مگر یہ ہے کہ اگر ایک بھی اس میں اسلام کی خوبی ہے .......
جناب عبدالمنان عمر: جی۔
جناب یحییٰ بختیار: ....... تب بھی وہ کافر نہیں ہوتا، دائرۂ اسلام سے .......
جناب عبدالمنان عمر: وہ کافر حقیقی ہے، یہ کفر ڈون کفر ہے۔ میں نے عرض کیا تھا کہ ”کفر“ کی دو کیفیتیں ہیں، دو حیثیتیں ہیں۔ ایک کفر ایسا ہے جس میں وہ کافر ضرور ہوتا ہے مگر دائرۂ اسلام سے خارج نہیں ہوتا ......
1555
جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، ہاں۔
1 ؎ معاذ اللہ ! تمام انبیائے قرآنی کا منکر کافر نہیں؟ قادیانی کریلہ ہیں تو لاہوری کریلہ اور نیم چڑھا ...!
٤٢
1559 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
جناب عبدالمنان عمر : ...... دُوسرا کفر وہ ہے جو کفرِ حقیقی ہے۔ وہ ہے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا انکار۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں وہ انکار نہیں کر رہا ......
جناب عبدالمنان عمر : یہ ہی میں نے عرض کیا ......
جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔
جناب عبدالمنان عمر : ...... وہ کفر دُون کفر کی زد میں آئے گا۔
جناب یحییٰ بختیار: جو شخص آنحضرت ﷺ کی ......
جناب عبدالمنان عمر : ...... رسالت کو مانتا ہے ......
جناب یحییٰ بختیار: ...... مانتا ہے، مگر باقی انبیاء کو نہیں ......
جناب عبدالمنان عمر : ...... اور باقی انبیاء کو نہیں مانتا تو ہم یہ کہیں گے کہ وہ کفر دُون کفر کی زد میں آگیا ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: بالکل کافر ہو گیا؟
جناب عبدالمنان عمر : نہ جی۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں؟
جناب عبدالمنان عمر : کفر دُون کفر، کفر دُون کفر یہ ہے کہ ایک ......
جناب یحییٰ بختیار: چھوٹی کیٹگری؟
جناب عبدالمنان عمر : جی ہاں۔
جناب یحییٰ بختیار: چھوٹی کیٹگری؟
جناب عبدالمنان عمر : جی ہاں، بالکل۔
جناب یحییٰ بختیار: گنہگار ہو گیا، کافر نہیں ہے؟
1556 جناب عبدالمنان عمر : بالکل، بالکل۔
جناب یحییٰ بختیار: گنہگار۔ ہاں، یہ ......
جناب عبدالمنان عمر : چھوٹی کیٹگری میں۔
(اگر کوئی نبوت کا دعویٰ کرے اور کہے میں امتی ہوں تو وہ کافر ہو گا یا گنہگار)
جناب یحییٰ بختیار: اور اگر کوئی شخص نبوت کا دعویٰ کرے، آپ کے خیال میں، اور
٤٣
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
کہے کہ میں امتی ہوں، تو وہ بھی گنہگار ہوگا، کافر نہیں ہوگا؟
جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، میں نے عرض کیا تھا، ابھی میں نے مرزا صاحب کا آپ کو حوالہ دیا کہ ہمارے نزدیک کوئی شخص مسلمان ہو کر یہ دعویٰ کر ہی نہیں سکتا۔
جناب یحییٰ بختیار: یہ اگر کرے، میں یہ کہہ رہا ہوں آپ سے کہ اگر دعویٰ کرے......
جناب عبدالمنان عمر: جی۔
جناب یحییٰ بختیار: ...... میں آپ کو مثال دوں گا......
جناب عبدالمنان عمر: جی، جی۔
جناب یحییٰ بختیار: ...... اگر وہ دعویٰ کرے تو پھر وہ کافر ہوگا یا نہیں ہوگا؟
جناب عبدالمنان عمر: میں اس بارے میں گزارش کرتا ہوں، عرض کرتا ہوں، حضرت امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ:
"حضرت عمرؓ...... ایک شخص حضرت عمرؓ کے پاس آیا...... ایک شخص کے متعلق حضرت عمرؓ کے پاس یہ رپورٹ پہنچی کہ یہ شخص دل سے مسلمان نہیں، صرف ظاہر میں مسلمان ہے۔ حضرت عمرؓ نے اس سے پوچھا کہ کیا یہ بات ٹھیک ہے؟ یہ رپورٹ جو تمہارے متعلق پہنچی ہے یہ درست ہے کہ تم ظاہر میں مسلمان ہوئے ہو اور اصل میں مسلمان نہیں۔ تمہاری غرض اسلام لانے سے صرف یہ ہے کہ تم اسلامی حقوق حاصل کرلو۔ اس نے اس کے جواب میں حضرت عمرؓ سے سوال کیا کہ حضور! 1557 کیا اسلام ان لوگوں کو حقوق سے محروم کرتا ہے جو ظاہری اسلام قبول کریں اور کیا ان کے لئے اسلام نے کوئی راستہ کھلا نہیں چھوڑا؟ اس پر حضرت عمرؓ نے جواب دیا کہ اسلام نے ان لوگوں کے لئے بھی راستہ کھلا رکھا ہے اور پھر اس کے بعد آپ خاموش ہوگئے۔"
یہ "کتاب الام" حضرت امام شافعیؒ کی کتاب، اس کی چھٹی جلد میں یہ مضمون بیان کیا گیا۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ تو پھر آپ ایک اور کیٹگری میں چلے جاتے ہیں کہ انسان منافق ہے، پھر بھی مسلمان ہو جاتا ہے۔ جو دل سے نہیں ہوتا، تو اس قسم کا منافق ہوا۔ میں آپ سے ایک سوال پوچھتا ہوں کہ ایک شخص اچھی نیت سے، نیک نیتی سے یہ سمجھتا ہے، دیانت سے سمجھتا ہے کہ وہ نبی ہے اور امتی ہے......
جناب عبدالمنان عمر: جی۔
جناب یحییٰ بختیار: ...... اور خود کو نبی سمجھتا ہے، بے ایمانی سے نہیں، وہ خود Convinced (قائل) ہے۔
٤٤
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
جناب عبدالمنان عمر: جی۔
جناب یحییٰ بختیار: ......کہ نبی آسکتے ہیں.......
جناب عبدالمنان عمر: جی۔
جناب یحییٰ بختیار: ......آنحضرت ﷺ کے بعد، باوجود اس حدیث کے، باوجود قرآن کی آیات کے، وہ یہ سمجھے کہ نبی آسکتے ہیں، اور وہ نبی ہے اور اُمتی ہے، اور نبوت کا دعویٰ کرتا ہے۔ وہ آپ کی نظر میں گنہگار ہے، کافر نہیں ہے؟
جناب عبدالمنان عمر: میں عرض کرتا ہوں، جناب نے فرمایا ہے کہ ایک شخص اُمتی ہے اور وہ نبوت کا دعویٰ کرتا ہے۔ میری نظر میں ’’اُمتی‘‘ وہ شخص ہوتا ہے جو 1558 کلیۃً محمد ﷺ کی شریعت کے تابع ہوتا ہے۔ ’’اُمتی‘‘ کہتے ہی اس کو ہیں۔ ’’اُمتی‘‘ اور ’’نبی‘‘ دو بالکل متضاد اصطلاحیں ہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کہے کوئی شخص کہ: ’’یہ دن بھی ہے اور رات بھی ہے۔‘‘ اُمتی بھی ہو اور محمد رسول اللہ ﷺ کی غلامی کا دَم بھی بھرتا ہو، اور ساتھ وہ ہی یہ دعویٰ بھی کرتا ہو کہ میں نبی بھی ہوں، یہ دو متضاد باتیں ہیں، یہ اکٹھی ہو سکتی ہی نہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: یہ اگر ہو جائیں، ایک شخص ......
جناب عبدالمنان عمر: یعنی میری گزارش ......
(ایک شخص کلمہ پڑھتا ہے اور نبوت کا دعویٰ کرتا ہے اس کا کیا حکم ہے؟)
جناب یحییٰ بختیار: مرزا صاحب! میں آپ سے ایک اور سوال پوچھتا ہوں۔ ایک شخص کلمہ پڑھتا ہے، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ اور نبوت کا دعویٰ کرتا ہے ......
جناب عبدالمنان عمر: تو ہم نے تو عرض کیا کہ ہمارے نزدیک تو یہ عقلاً محال ہے، یا وہ دعویٰ نبوت نہیں کر رہا، یا وہ مسلمان نہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: اگر مسیلمہ جو ......
جناب عبدالمنان عمر: ہاں جی۔
جناب یحییٰ بختیار: ...... مسیلمہ کذاب .......
جناب عبدالمنان عمر: دونوں میں سے ایک بات تھی۔
(مسیلمہ کذاب کی کیا پوزیشن تھی؟)
جناب یحییٰ بختیار: مسیلمہ کذاب کی کیا پوزیشن تھی؟
٤٥
PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
کہے کہ میں امتی ہوں، تو وہ بھی گنہگار ہوگا
جناب عبدالمنان عمر: جی
آپ کو حوالہ دیا کہ ہمارے نزدیک کوئی شخ
جناب یحییٰ بختیار: یہ اگر
جناب عبدالمنان عمر: جی
جناب یحییٰ بختیار: ......
جناب عبدالمنان عمر: جی
جناب یحییٰ بختیار: ...... آ
جناب عبدالمنان عمر:
حضرت امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ:
’’حضرت عمرؓ ...... ایک شخص عمرؓ کے پاس یہ رپورٹ پہنچی کہ یہ شخص دل عمرؓ نے اس سے پوچھا کہ کیا یہ بات ٹھیک کہ تم ظاہر میں مسلمان ہوئے ہو اور اصل یہ ہے کہ تم اسلامی حقوق حاصل کرلو۔ اس
1557 کیا اسلام ان لوگوں کو حقوق سے محرو اسلام نے کوئی راستہ کھلا نہیں چھوڑا؟ اس لئے بھی راستہ کھلا رکھا ہے اور پھر اس کے یہ ’’کتاب الام‘‘ حضرت ام
جناب یحییٰ بختیار: نہیں
انسان منافق ہے، پھر بھی مسلمان ہو جائ
آپ سے ایک سوال پوچھتا ہوں کہ ایک سے سمجھتا ہے کہ وہ نبی ہے اور اُمتی ہے۔
جناب عبدالمنان عمر: جی
جناب یحییٰ بختیار: ...
Convinced (قائل) ہے۔
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
جناب عبدالمنان عمر: ہاں جی، مسیلمہ کذاب......
جناب یحییٰ بختیار: وہ کلمہ پڑھتا تھا اور نبوت کا دعویٰ بھی کیا کرتا تھا۔
جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، میں عرض کرتا ہوں، مسیلمہ کذاب کی...... مسیلمہ کذاب کی پوزیشن جناب والا! یہ تھی کہ اُس نے نبی کریم ﷺ کے زمانے میں کسی دین کے لئے نہیں، کسی وجہ سے نہیں، ایک سیاسی غرض سے کلیۃً سیاسی 1559غرض سے قبول کیا اور آ کے یہ کہا کہ: ”جناب! میں آپ کو مان لیتا ہوں، آدھا ملک آپ بانٹ لیجئے، آدھے پر میری حکمرانی تسلیم کر لیجئے۔“ آپ نے فرمایا کہ یہ تو بات ہی غلط ہے، یہ تو کوئی سیاسی بات تھی نہیں۔ اس کے بعد اُس نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کے زمانے میں Revolt (بغاوت) کیا ہے اسلامی حکومت کے خلاف۔ وہ صرف ایک عقیدے کی بات نہیں ہے۔ جو ابتدا میں اس کا تخیل تھا کہ میں قبضہ کر لوں کسی ملک کے حصے پر، وہ اُس کے لئے اُس نے Revolt (بغاوت) کیا، جس پر حضرت ابوبکرؓ کو اسلامی فوجیں بھیجنی پڑی ہیں اُس کے خلاف۔
جناب یحییٰ بختیار: اُس کو کافر قرار دیا گیا؟
جناب عبدالمنان عمر: نہ، نہ،......
جناب یحییٰ بختیار: کافر قرار دیا گیا مسیلمہ کو؟
جناب عبدالمنان عمر: میں عرض کرتا ہوں یہ حملہ اُس کو کافر قرار دینے کی وجہ سے نہیں ہوا ہے، یہ حملہ اُس کے اُس Revolt (بغاوت) کی وجہ سے ہوا......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ میں سمجھ گیا ہوں، مگر یہ میں پوچھتا ہوں کہ اُس کو کافر قرار دیا گیا تھا؟ جھوٹا قرار دیا گیا تھا؟
جناب عبدالمنان عمر: جی، ”کذاب“ اُس کا نام ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، تو یہی میں نے کہا ہے کہ کذاب، Lier جھوٹا۔
جناب عبدالمنان عمر: ہیں جی؟
جناب یحییٰ بختیار: ”کذاب“ mean، اس کا مطلب ہی ”جھوٹا“ ہوتا ہے۔
جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، کذاب۔
جناب یحییٰ بختیار: تو اُس شخص نے کلمہ کہنے کے باوجود ......
لے اس کی بھی بولورام ہو گئی۔
٤٦
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
جناب عبدالمنان عمر: جی۔
1560 جناب یحییٰ بختیار: دل کا حال تو اللہ جانتا ہے۔ آپ نے خود یہ کہا کہ حضرت عمرؓ نے کہا کہ ایسے لوگوں کے لئے بھی جگہ ہے اسلام میں کہ دل سے مسلمان نہ ہوں، سیاسی وجوہ کی بنا پر وہ مسلمان بن جائیں، ان کے لئے بھی گنجائش ہے۔
جناب عبدالمنان عمر: بالکل، یہ حضرت عمرؓ کا میں نے قول پیش کیا۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔ تو اس لئے مسیلمہ کذاب تو پھر مسلمان ہی رہا، اُس کو کیوں جھوٹا قرار دے رہے ہیں آپ؟
جناب عبدالمنان عمر: جھوٹا ہونے اور کافر ہونے میں تو بڑا فرق ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: کافر نہیں ہوا تھا وہ؟
جناب عبدالمنان عمر: ہاں جی!۔
جناب یحییٰ بختیار: کافر نہیں سمجھا گیا اُسے؟
جناب عبدالمنان عمر: جھوٹا تو ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، کافر نہیں سمجھا گیا وہ؟
جناب عبدالمنان عمر: جی۔
جناب یحییٰ بختیار: مسیلمہ کذاب مسلمانوں کی نظر میں کافر ہے یا نہیں ہے؟
جناب عبدالمنان عمر: میرا خیال ہے کہ میں شاید اپنا خیال واضح نہیں کرسکا......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں......
جناب عبدالمنان عمر: ...... میری گزارش یہ ہے......
جناب یحییٰ بختیار: اس کا آپ جواب دے لیں۔
جناب عبدالمنان عمر: ......کہ مسیلمہ کذاب کا دعویٰ جو ہے ناں، اس کا دعویٰ یہ نہیں ہے جو بیان کیا جارہا ہے۔ اُس کا دعویٰ یہ ہے کہ میں ایک تشریعی نبوت لے کے آیا ہوں۔ قرآن حکیم کا حکم......
1561 جناب یحییٰ بختیار: وہ دوسری بات ہو جاتی ہے۔ دیکھیں ناں، مولانا! آپ اب تشریعی اور غیر تشریعی میں چلے گئے۔
٤٧
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، میں مسیلمہ کذاب کی پوزیشن کو واضح کر رہا ہوں۔
جناب یحییٰ بختیار: میں کہتا ہوں وہ کلمہ گو تھا۔ اُس کے بعد اُس نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ یہ اور بات ہے کہ کس کیٹیگری کی نبوت تھی اُس کی.......
جناب عبدالمنان عمر: کیٹیگری تھی نہیں اُس کی......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ میں کہہ رہا ہوں ناں، اُس نے نبوت کا دعویٰ کیا......
جناب عبدالمنان عمر: جی۔
جناب یحییٰ بختیار: ......اور وہ کلمہ گو تھا......
جناب عبدالمنان عمر: جی۔
جناب یحییٰ بختیار: ......کہتا تھا منہ سے......
جناب عبدالمنان عمر: جی۔
جناب یحییٰ بختیار: ......کہ میں کلمہ گو ہوں۔
جناب عبدالمنان عمر: جی۔
جناب یحییٰ بختیار: تو اُمتّی ہو گیا وہ۔
جناب عبدالمنان عمر: جی۔
جناب یحییٰ بختیار: اور نبوت کا دعویٰ کیا۔ کیا مسلمان اُس کو کافر سمجھتے ہیں یا نہیں سمجھتے؟
جناب عبدالمنان عمر: میری گزارش سنیں۔ (وقفہ)
1562 میں نے عرض کیا تھا کہ کلمہ کی حقیقت کو: لا إله إلا الله محمد رسول الله کی حقیقت کو سمجھنے والا، کوئی کلمہ گو نبوت کا دعویٰ کر نہیں سکتا۔ یہ اجتماعِ نقیضین ہے۔ اُمتّی بھی ہو اور نبوت کا دعویٰ بھی کرے، یہ دونوں باتیں اکٹھی نہیں ہو سکتیں، پہلی میری ایک یہ گزارش تھی۔ پھر میں نے بتایا تھا، مرزا صاحب کا یہ حوالہ دیا تھا کہ: ”کیا ایسا بدبخت مفتری جو خود رسالت اور نبوت کا دعویٰ کرتا ہے، قرآن شریف پر ایمان رکھ سکتا ہے۔“ نہیں رکھ سکتا ہے ایسا شخص۔
”اور کیا ایسا شخص جو قرآن شریف پر ایمان رکھتا ہے اور آیت: ولکن رسول الله وخاتم النبیین کو خدا کا کلام یقین رکھتا ہے کیا وہ کہہ سکتا ہے کہ میں بھی آنحضرت ﷺ کے بعد رسول اور نبی ہوں۔“
٤٨
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
اس سے ہمارا نقطہ نگاہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہم لوگ نبوت کی کوئی کیٹیگریز نہیں مانتے ہیں کہ جی اس قسم کی نبوت ہو جائے تو ٹھیک ہے، اور اس قسم کی ہو جائے تو نہیں ٹھیک ہے۔ ہم مطلقاً کسی قسم کی نبوت، تشریعی، غیر تشریعی، امتی، بروزی، ظلی، یہ ہمارے لئے کوئی نبوت کی اقسام نہیں ہیں۔ اس لئے ہم مسیلمہ کذاب کے بارے میں یہ نہیں کہتے ہیں۔ ہمارے نزدیک وہ شخص، اُس کا دعویٰ جو ہے وہ یہ ہے کہ اُس نے آنحضرت ﷺ کے بالمقابل حقیقی نبوت کا دعویٰ کیا ہے، اور شراب اور زنا کو حلال قرار دیا ہے، اور فریضہ نماز تک کو ساقط کر دیا ہے، قرآن مجید کے مقابلے میں سورتیں لکھی ہیں اور اس طرح کچھ مفسد لوگوں ...... گروہ اپنے تابع کر لیا ہے، تو اس لحاظ سے وہ شخص اس لئے کافر ہوتا ہے جس کے لئے میں نے آپ کو وہ لفظ بولے تھے کہ ہم مدعی نبوت کو کافر و کذاب جانتے ہیں.......
1563 جناب یحییٰ بختیار: مولانا.....! جناب عبدالمنان عمر: ......کیونکہ وہ مدعی نبوت ہے اس لئے ہم اُس کو کافر و کذاب جانتے ہیں۔
(مسیلمہ کذاب دعویٰ نبوت کی بنا پر کافر تھا)
جناب یحییٰ بختیار: مدعی نبوت تھا اس واسطے آپ اُس کو کافر سمجھتے ہیں، کذاب کو؟ جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، بالکل!...... جناب یحییٰ بختیار: تو اگر....... جناب عبدالمنان عمر: ......کیونکہ وہ مدعی نبوت تھا۔
(آج کوئی نبوت کا دعویٰ کرے وہ کافر ہوگا یا نہیں؟)
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، آج اگر کوئی دعویٰ کرے....... جناب عبدالمنان عمر: جی! جناب یحییٰ بختیار: ...... جھوٹا ہی دعویٰ ہوگا....... جناب عبدالمنان عمر: جی۔ جناب یحییٰ بختیار: .......ہمارے نقطہ نظر سے، مسلمانوں کے نقطہ نظر سے....... جناب عبدالمنان عمر: جی، جی۔
١؎ تھوڑی دیر پہلے کہا: "مسیلمہ کافر نہیں" اب کہتا ہے: "مسیلمہ کافر ہے" ...!
٤٩
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
جناب یحییٰ بختیار: ......جھوٹا ہوگا وہ......
جناب عبدالمنان عمر: جی۔
جناب یحییٰ بختیار: ......تو وہ پھر کافر ہوا یا نہیں؟
جناب عبدالمنان عمر: اس کے متعلق میرا خیال ہے کہ اگر ہم بالکل صاف طور پر بات کو کریں تو شاید میرا نقطہ نگاہ زیادہ واضح ہوجائے کہ آیا کوئی ایسی مثال ہے یا Hypothetical Question (فرضی سوال) ہے یہ؟
جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، میں پہلے جنرل پرنسپل کا سوال پوچھتا ہوں آپ سے......
1564 جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، جی ہاں۔
(حضور ﷺ کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آسکتا)
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، دیکھیں ناں، اُس پر کیونکہ ہمارا ایک اُصول ہے، مسلمانوں کا، کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا......
جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، مدعی۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔
جناب عبدالمنان عمر: وہی ہمارا اُصول ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔
جناب یحییٰ بختیار: آپ نے کہہ دیا جی ناں کہ اُصول ہمارا ایک ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا......
جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔
جناب یحییٰ بختیار: ......جو دعویٰ کرے گا وہ جھوٹا ہوگا۔
جناب عبدالمنان عمر: وہ مدعی نبوت کافر و کاذب ہوگا۔
جناب یحییٰ بختیار: بالکل، Hundred Percent (سو فیصد)۔
جناب عبدالمنان عمر: بالکل، ہم نے استعمال کیا ہے لفظ، مرزا صاحب......
جناب یحییٰ بختیار: جو اس کو مانتے نہیں نبی......
جناب عبدالمنان عمر: ہاں جی۔
جناب یحییٰ بختیار: ......وہ بھی کافر ہوں گے پھر؟
جناب عبدالمنان عمر: جو لوگ اُس کو بھی مانتے ہیں؟
٥٠
1567 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
جناب یحییٰ بختیار: اس کو مانتے ہوں گے، جو جھوٹے کو مانے نبی......
جناب عبدالمنان عمر: وہ میں عرض کرتا ہوں کہ علمائے اُمت میں لفظ ”نبی“ کی وجہ سے کسی پر کفر لازم نہیں آتا، کفر لازم آتا 1565 ہے اس حقیقت کے پیچھے کہ وہ شخص انکارِ قرآن کرتا ہے، وہ نئی شریعت لاتا ہے، وہ براہِ راست نبوت حاصل ہونے کا دعویٰ کرتا ہے......
جناب یحییٰ بختیار: مولانا! آپ تفصیل میں جا رہے ہیں۔
جناب عبدالمنان عمر: جی، میں، میرا مطلب واضح نہیں ہوگا اس کے بغیر۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں نہیں، آپ بڑی اچھی طرح واضح کر رہے ہیں جی۔
جناب عبدالمنان عمر: جی۔
جناب یحییٰ بختیار: مگر آپ زیادہ Detail (تفصیل) میں جا رہے ہیں۔ میں پہلے وہ جو اُصول موٹے موٹے ہیں، وہ طے کرانا چاہتا ہوں، کیونکہ جب تک وہ طے نہ ہو جائیں پھر آگے سوال پوچھنے میں کچھ تکلیف ہوگی۔
جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، میرا خیال ہے......
(جھوٹا مدعی نبوت کافر تو اس کے ماننے والے کافر ہوں گے یا نہیں؟)
جناب یحییٰ بختیار: تو میں نے یہ عرض کیا کہ ایسا آدمی جو جھوٹا دعویٰ نبوت کا کرے، وہ کافر ہو گیا، اس کے ماننے والے کافر نہیں ہوں گے، کافر کو نبی کہنے والے کافر نہیں ہوں گے؟ آپ نے یہ کہا...... تفصیلات اور وجوہات تو آپ بعد میں بتائیں گے......
جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، وجوہات نہیں میں عرض کر رہا، میں یہ عرض کر رہا ہوں کہ لفظ ”نبی“ کے استعمال پر کفر کا فتویٰ نہیں لگے گا۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، لفظ ”نبی“ کے استعمال کی بات میں نہیں کر رہا، وہ تو ”بروزی“، ”مجازی“ باتیں آجاتی ہیں، جو کہ مرزا صاحب کے بارے میں آپ تفصیل سے بتائیں گے۔ خیر، میں تنزل بات کر رہا ہوں کہ اگر ایک شخص کہتا ہے کہ ”میں نبی ہوں، میں رسول ہوں......“
جناب عبدالمنان عمر: میں نے عرض کیا ناں کہ اس سے میں پوچھوں گا کہ: ”تمہارے ذہن میں نبوت کا تصور کیا؟
لے تھوڑی دیر پہلے کہا کہ جو دعویٰ نبوت کرے کافر، اب کہتا ہے ”کفر نہیں“......
خوب......!
٥١
Y OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
جناب یحییٰ بختیار: ...... جھوٹا
جناب عبدالمنان عمر: جی۔
جناب یحییٰ بختیار: ...... تو وہ کا
جناب عبدالمنان عمر: اس کے بات کو کریں تو شاید میرا نقطہ نگاہ زیادہ Hypothtical Question (فرضی سوا
جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، میں
1564 جناب عبدالمنان عمر: جی ہا (حضور ﷺ کے بع
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، دیکھ مسلمانوں کا، کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نی
جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں،
جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔
جناب عبدالمنان عمر: وہی ہمارا ایما
جناب یحییٰ بختیار: آپ ۔ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آ سکتا......
جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔
جناب یحییٰ بختیار: ...... جو دعو
جناب عبدالمنان عمر: وہ مدعی
جناب یحییٰ بختیار: بالکل، m
جناب عبدالمنان عمر: بالکل،
جناب یحییٰ بختیار: جو اس کو مان
جناب عبدالمنان عمر: ہاں جی
جناب یحییٰ بختیار: ...... وہ بھی
جناب عبدالمنان عمر: جو لوگ ا
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
1566 جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ کہتا ہے: ”میں نبی ہوں، میں رسول ہوں......“
جناب عبدالمنان عمر: تصور ہے ناں۔
جناب یحییٰ بختیار: وہ ’مجازی‘ کی بات چھوڑ دیجئے......
جناب عبدالمنان عمر: نہیں جی ’مجازی‘ کی نہیں میں پوچھتا، میں یہ پوچھتا ہوں کہ وہ ایک لفظ عربی کا استعمال کرتا ہے، آپ ایک عربی کا لفظ استعمال فرمارہے ہیں، مجھے معلوم ہونا چاہئے.......
جناب یحییٰ بختیار: کہتا ہے کہ: ”مجھ پر اللہ سے وحی آرہی ہے اور وہ وحی ایسی ہی پاک ہے جیسے آنحضرت ﷺ پر وحی آئی تھی......“
جناب عبدالمنان عمر: جی۔
جناب یحییٰ بختیار: ”......اور میں نبی ہوں اور میں رسول ہوں۔“ ایک شخص یہ کہتا ہے......
جناب عبدالمنان عمر: جی۔
جناب یحییٰ بختیار: ......تو اس کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟
جناب عبدالمنان عمر: میں عرض کرتا ہوں، علمائے اُمت نے غیر نبی کے لئے بھی لفظ ”نبی“ استعمال کیا ہے۔ علمائے اُمت نے غیر رسول......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، اگر وہ......وہ تو آپ دیکھیں ناں......
جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، وہ لفظ ”نبی“ تو موجود ہے۔ دیکھئے، جب میں یہ کہوں گا، آپ مجھ سے یہ کہلوانا چاہیں گے کہ میں یہ کہوں گا کہ لفظ ”نبی“ جو استعمال کرتا ہے وہ کافر ہوگیا، حالانکہ میرے نزدیک اس کا یہ مفہوم نہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: اچھا۔ ایک اور بات بتائیے۔ ابھی میں ڈائریکٹ آجاتا ہوں......
جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، وہی اس کا صحیح ہے۔
(آپ مرزا صاحب کو نبی نہیں مانتے؟)
1567 جناب یحییٰ بختیار: آپ مرزا صاحب کو نبی نہیں مانتے؟
جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔
جناب یحییٰ بختیار: اور آپ کا یہ اختلاف ہے ربوہ پارٹی کے ساتھ کہ وہ نبی مانتے ہیں؟
جناب عبدالمنان عمر: یوں نہیں ہے۔
٥٢
MBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
1566 جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ کہتا
جناب عبدالمنان عمر: تصور ہے ناں
جناب یحییٰ بختیار: وہ ”مجازی“ کی با
جناب عبدالمنان عمر: نہیں جی ”مجا کہ وہ ایک لفظ عربی کا استعمال کرتا ہے، آپ ایک ہونا چاہئے.......
جناب یحییٰ بختیار: کہتا ہے کہ: ”مجھ پاک ہے جیسے آنحضرت ﷺ پر وحی آئی تھی.....“
جناب عبدالمنان عمر: جی۔
جناب یحییٰ بختیار: ”.....اور میں نبی ہو
جناب عبدالمنان عمر: جی۔
جناب یحییٰ بختیار: ......تو اس کے با
جناب عبدالمنان عمر: میں عرض کر لفظ ”نبی“ استعمال کیا ہے۔ علمائے اُمت نے غیر رس
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، اگر وہ.....
جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، وہ کہوں گا، آپ مجھ سے یہ کہلوانا چاہیں گے کہ میں ہوگیا، حالانکہ میرے نزدیک اس کا یہ مفہوم نہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: اچھا۔ ایک اور با
جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، وہی
(آپ مرزا صاحب.....)
1567 جناب یحییٰ بختیار: آپ مرزا
جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔
جناب یحییٰ بختیار: اور آپ کا یہ اختل
جناب عبدالمنان عمر: یوں نہیں
٢
1569 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں ناں، آپ نے.......
جناب عبدالمنان عمر: یوں نہیں ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: .....فرمایا شروع میں کہ اگر یہ اختلاف نہیں تو پھر کوئی اختلاف نہیں۔
جناب عبدالمنان عمر: نہیں جی، اختلاف ہے ناں۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں تو یہ ہے ناں کہ وہ.......
جناب عبدالمنان عمر: ہم، نہیں، وہ، ہم لوگ کسی قسم کی نبوت کے قائل نہیں ہیں۔ وہ لوگ اس کی ایک تاویل کرتے ہیں.......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں.......
جناب عبدالمنان عمر: ......اس کی تشریح کرتے ہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ بھی تو مولانا! آپ بھی تو قائل ہیں اگر وہ کہیں کہ ”بروزی ہوں، مجازی ہوں“، شاعری اگر بیچ میں آجائے تو آپ کہتے ہیں کہ اس قسم کے اس نے الفاظ استعمال کئے ہیں، مگر وہ حقیقی نبی نہیں ہے۔
جناب عبدالمنان عمر: وہ غیر نبی کے۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، وہ غیر نبی کے۔
جناب عبدالمنان عمر: ہاں جی۔
1568 جناب یحییٰ بختیار: اس مطلب میں اور آپ کے مطلب میں کچھ فرق نہیں ہے جو ربوہ والے استعمال کرتے ہیں۔
جناب عبدالمنان عمر: یہ تو جس حد تک میں سمجھتا ہوں......
جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں ناں، آپ کو تو علم ہوگا، ہم سے زیادہ علم ہوگا۔
جناب عبدالمنان عمر: نہیں، وہ......
جناب یحییٰ بختیار: آپ کے اختلافات ہیں۔
جناب عبدالمنان عمر: آپ نے ان سے دس دن بحث کی ہے......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں......
جناب عبدالمنان عمر: ......آپ کو زیادہ علم ہوگا۔ میں جو گزارش کرنا چاہتا ہوں......
جناب یحییٰ بختیار: آپ تو ستر (٧٠) سال ان سے بحث کرتے رہے ہیں، میں نے تو دس دن بحث کی ہے۔ آپ یہ بتائیے کہ وہ بھی ان کو نبی سمجھتے ہیں اور آپ بھی کہتے ہیں کسی
٥٣
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
قسم کے نبی ہیں، مگر شرعی نبی نہیں ہیں، بروزی ہے اور جو لفظ اس نے استعمال کئے ہیں، وہ دراصل ایسے لفظ ہیں کہ جس سے مطلب ان کا نبی کا نہیں تھا، آپ یہ کہتے ہیں، مگر انہوں نے استعمال کیا ہے یہ لفظ کسی اور ہی Sense (معنوں) میں، اولیاء کی Sense (معنوں) میں، محدث کی Sense (معنوں) میں، آپ کہتے ہیں کہ یہ ”نبی“ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ وہ کس Sense (معنوں) میں کہتے ہیں؟
جناب عبدالمنان عمر: میں آپ سے عرض کروں.......
جناب یحییٰ بختیار: ....... اختلاف کیا ہے؟
جناب عبدالمنان عمر: یہ بڑا ایک اعلیٰ درجے کا سوال ہے جس سے میرا خیال ہے کہ سارا مسئلہ حل ہو جائے گا۔
1569 ”نبی“ کی دو تعریفیں اُمت میں رائج ہیں، ”نبی“ کے لفظ کی دو تشریحات اُمت میں رائج ہیں۔ ایک تشریح اس کی یہ ہے کہ نبی وہ ہوتا ہے جو نئی شریعت لائے، نبی وہ ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ سے قرب کا مقام براہِ راست حاصل کرے، نبی وہ ہوتا ہے جو پچھلی شریعت کو یا اس کے بعض احکام کو منسوخ کرے، یہ ”نبی“ کی ایک تشریح ہے۔ ”نبی“ کی ایک اور تشریح بھی رائج ہے۔ وہ تشریح یہ ہے کہ جس کے ساتھ خدا تعالیٰ کثرت سے مکالمہ مخاطبہ کرے وہ نبی ہوتا ہے۔ یہ دو الگ الگ.......
جناب یحییٰ بختیار: یہ غیر تشریعی ہو گیا۔
جناب عبدالمنان عمر: نہیں جی نہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: تشریعی اور غیر تشریعی۔
جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔
جناب عبدالمنان عمر: تشریعی اور غیر تشریعی نہیں،.......
جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔
جناب عبدالمنان عمر: ....... بلکہ نبوت کی دو الگ الگ تعریفیں ہیں، قسمیں نہیں، میں عرض کر رہا ہوں، میں دو تعریفیں ”نبوت“ کی عرض کر رہا ہوں.......
جناب یحییٰ بختیار: جی۔
جناب عبدالمنان عمر: ....... ایک تعریف ”نبوت“ کی یہ ہے کہ وہ تشریعی نبی جو
٥٤
1571 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
شریعت لاتا ہے۔ ایک ہے کہ نہیں، نہ وہ شریعت لاتا ہے، نہ وہ پہلی شریعت کو منسوخ کرتا ہے، نہ وہ محمد رسول اللہ ﷺ کی غلامی سے باہر نکلتا ہے، بلکہ خدا تعالیٰ محمد رسول اللہ ﷺ کی غلامی میں ہونے کی وجہ سے اس سے ہم کلام ہوتا ہے، اس کو بھی نبی کہا جاتا ہے۔ یہ ”نبی“ کی دو تعریفیں ہیں۔
اس لئے آپ جب مجھ سے یہ 1570 پوچھتے ہیں کہ کوئی شخص نبوت کا دعویٰ کرتا ہے یا کسی نبی کو مانتا ہے تو بتاؤ وہ کافر ہوتا ہے یا نہیں؟ تو کیونکہ میرے سامنے دو تعریفیں ہیں اُمت میں، تو میری گزارش یہ ہوگی کہ میں آپ سے یہ دریافت کروں گا کہ آپ ان کو کس معنوں میں استعمال فرمارہے ہیں؟
جناب یحییٰ بختیار: میں پھر اپنا مطلب اور واضح کردوں گا۔ دو قسم کے نبی میری نظر میں ہیں: حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام صاحبِ شریعت نبی تھے اور جہاں تک مجھے علم ہے وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہیں تھے۔ یہ دُرست ہے ناں جی؟
جناب عبدالمنان عمر: یہ اس لحاظ سے نہیں دُرست کہ نبوت میں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت وہ براہ راست ان کو ملی تھی، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیروی کے نتیجے میں نہیں ملی تھی۔
جناب یحییٰ بختیار: ان کی اُمت سے نہیں تھے؟
جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: موسیٰ کی اُمت سے نہیں تھے؟
جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، یہی ہے فرق۔ اس لئے میں نے عرض کیا کہ ایک ”نبی“ کی تعریف یہ ہے کہ اس کو انعام براہِ راست ملے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو وہ انعام براہِ راست ملا تھا، کسی پیروی کے نتیجے میں نہیں ملا تھا۔ اس لئے میں پھر گزارش کرتا ہوں کہ تشریعی اور غیر تشریعی نبی کی بحث بالکل نہیں ہے، ہمارے نقطہ نگاہ سے، ہمارے نزدیک ”نبی“ کی دو تعریفیں رائج ہیں، ”نبی“ کی دو تعریفیں اسلامی لٹریچر میں موجود ہیں، ”نبی“ کی دو تعریفیں مرزا صاحب کے لٹریچر میں موجود ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ جب آپ کہتے ہیں کہ کوئی شخص مدعیِ نبوت ہے، وہ کافر ہوگا یا نہیں؟ تو میری گزارش آپ سے یہ ہوگی کہ مجھے یہ فرمادیجئے کہ وہ نبی کی کون سی تعریف لے کر......
(کیا کوئی ایسی حدیث ہے جس میں تیس کذاب کا ذکر ہو؟)
1571 جناب یحییٰ بختیار: پہلے، پہلے میں آپ سے یہ پوچھوں گا کہ ایسی کوئی حدیث ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ: ”میری اُمت میں تیس (٣٠) کذاب پیدا ہوں گے، ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے، حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں“؟
- PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
قسم کے نبی ہیں، مگر شرعی نبی نہیں ہیں، برا ایسے لفظ ہیں کہ جس سے مطلب ان کا ن ہے یہ لفظ کسی اور ہی Sense (معنوں Sense (معنوں) میں، آپ کہتے ہی Sense (معنوں) میں کہتے ہیں؟
جناب عبدالمنان عمر: میں
جناب یحییٰ بختیار: .......ا
جناب عبدالمنان عمر: یہ کہ سارا مسئلہ حل ہوجائے گا۔
1569 ”نبی“ کی دو تعریفیں اُمّ رائج ہیں۔ ایک تشریح اس کی یہ ہے کہ نبی سے قرب کا مقام براہ راست حاصل کر۔ منسوخ کرے، یہ ”نبی“ کی ایک تشریح ہے کہ جس کے ساتھ خدا تعالیٰ کثرت سے مکا
جناب یحییٰ بختیار: یہ غیر تشر
جناب عبدالمنان عمر: نہی
جناب یحییٰ بختیار: تشریعی
جناب عبدالمنان عمر: جی
جناب یحییٰ بختیار: ہاں ج
جناب عبدالمنان عمر: تشر
جناب یحییٰ بختیار: ہاں ج
جناب عبدالمنان عمر: .. میں عرض کر رہا ہوں، میں دو تعریفیں ”نبی“
جناب یحییٰ بختیار: جی۔
جناب عبدالمنان عمر: ..
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
جناب عبدالمنان عمر: اس سے مراد وہی ”نبوت“ کی تعریف ہے جو میں نے عرض کی۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں نے یہ کہا کہ اُمت میں بھی کذاب آئیں گے؟
جناب عبدالمنان عمر: ضرور۔
جناب یحییٰ بختیار: تو یہ ایسے لوگ دعویٰ کرنے والے آئیں گے، آپ کہتے ہیں کہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ امتی بھی ہو اور نبی بھی ہو۔
جناب عبدالمنان عمر: جی، وہ میں نے مسیلمہ کذاب کا عرض کیا تھا کہ وہ شریعت بھی لاتا تھا۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، شریعت کی کوئی بات نہیں۔
جناب عبدالمنان عمر: نہیں جی، وہ مدعی تھا کہ مجھ پر ایک نئی شریعت نازل ہوتی ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، ایک حدیث میں، دیکھیں ناں مولانا! یہ کہتے ہیں: ”میری اُمت میں......“
جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔
جناب یحییٰ بختیار: ......یعنی امتی ہیں۔
جناب عبدالمنان عمر: ہاں، کذاب ہوتے ہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: ......تیس (٣٠) کذاب پیدا ہوں گے۔
جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، ٹھیک ہے جی۔
1572 جناب یحییٰ بختیار: تو اگر کوئی ایسا کذاب پیدا ہو جو کہتا ہے کہ ”میں تشریعی نہیں، امتی ہوں“.......
جناب عبدالمنان عمر: جی، جی۔
جناب یحییٰ بختیار: ......اور نبوت کا دعویٰ کرے.......
جناب عبدالمنان عمر: جی، تو میں نے جواباً یہ عرض کیا ہے کہ مجھے، یہ چونکہ عربی کا لفظ ہے، ذرا وضاحت کی ضرورت ہوگی کہ وہ جو کہتا ہے کہ: ”میں نبی ہوں“ وہ کن معنوں میں اپنے آپ کو نبی کہتا ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یعنی پہلے مطلب یہ ہوا کہ اگر کسی خاص معنوں میں وہ کہے تو اس کو اجازت ہے؟
جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، ضرور اجازت ہے، کیونکہ اولیائے اُمت نے خود یہ
٥٦
NATIONAL ASSEMBLY
یک ہے، میں سمجھ گیا...... سمجھ گیا۔ تو اگر ایک شخص یہ کہے کہ: ”میں نبی ہوں“ تو تے ہیں، وحی آتی ہے، میری اپنی کوئی شریعت نہیں۔“ ..اور یہ جو مجھ پر آتا ہے تو وہ نبی کریم ﷺ کی غلامی .......تو یہ نبی ٹھیک ہے؟ ......نہیں، ٹھیک ہے، میں نے عرض کیا کہ ”نبی“ کی کی حقیقی تعریف وہ ہے....... یں آپ کے نزدیک؟....... میرے نزدیک ”نبی“ کی جو تعریف ہے....... و اس کے کہ وہ کہے کہ ”میں نبی ہوں“؟ حقیقی تعریف نہیں ہے نبوت کی، وہ نبی نہیں ہوگا، یہی یققت الوحی“ میں مرزا صاحب نے فرمایا ہے، یہ میں گے، حاشیہ میں.......
-
میں امتی بھی ہوں اور نبی بھی) یہ سوال طبعاً ہو سکتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ا حالت میں موسیٰ کا افضل ہونا لازم آتا ہے۔ اس کا سب کو خدا نے براہ راست چن لیا تھا۔ حضرت موسیٰ کا میں آنحضرت ﷺ کی پیروی کی برکت سے ہزارہا ا ہے اور نبی بھی۔“
(حقیقت الوحی ص ٢٨، حاشیہ خزائن ج ٢٢ ص ٣٠)
٥٧
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
کہا ہے۔ دیکھنے میں ایک...... جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ ٹھیک ہے، میں سمجھ گیا...... جناب عبدالمنان عمر: جی۔ جناب یحییٰ بختیار: ...... میں سمجھ گیا۔ تو اگر ایک شخص یہ کہے کہ : ”میں نبی ہوں“ تو اس معنی میں کہ ”اللہ تعالیٰ سے مجھے الہام آتے ہیں، وحی آتی ہے، میری اپنی کوئی شریعت نہیں ۔“ جناب عبدالمنان عمر: جی...... اور ”یہ جو مجھ پر آتا ہے تو وہ نبی کریم ﷺ کی غلامی کے نتیجے میں آتا ہے۔“ جناب یحییٰ بختیار: ہاں، اُسی...... تو یہ نبی ٹھیک ہے؟ جناب عبدالمنان عمر: یہ نبی...... نہیں، ٹھیک ہے، میں نے عرض کیا کہ ”نبی“ کی تعریف کرنا پڑے گی۔ میرے نزدیک ”نبی“ کی حقیقی تعریف وہ ہے........ 1573 جناب یحییٰ بختیار: یہ نبی نہیں آپ کے نزدیک؟....... جناب عبدالمنان عمر: ہاں، یہ میرے نزدیک ”نبی“ کی جو تعریف ہے........ جناب یحییٰ بختیار: ...... باوجود اس کے کہ وہ کہے کہ ”میں نبی ہوں“؟ جناب عبدالمنان عمر: جی، یہ حقیقی تعریف نہیں ہے نبوت کی، وہ نبی نہیں ہوگا، یہی ہمارا عقیدہ ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: ابھی یہ ”حقیقت الوحی“ میں مرزا صاحب نے فرمایا ہے، یہ میں صفحہ ٣٠ پڑھ کر سناتا ہوں، آپ پھر دیکھ لیں گے، حاشیہ میں...... جناب عبدالمنان عمر: جی، جی۔
(مرزا صاحب نے کہا کہ میں امتی بھی ہوں اور نبی بھی)
جناب یحییٰ بختیار: ”اس جگہ یہ سوال طبعاً ہو سکتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اُمت میں بہت سے نبی گزرے ہیں، بس اس حالت میں موسیٰ کا افضل ہونا لازم آتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جس قدر نبی گزرے ہیں اُن سب کو خدا نے براہِ راست چن لیا تھا۔ حضرت موسیٰ کا اس میں کچھ بھی دخل نہیں تھا۔ لیکن اس اُمت میں آنحضرت ﷺ کی پیروی کی برکت سے ہزارہا اولیاء ہوئے ہیں اور ایک وہ بھی ہوا جو امتی بھی ہے اور نبی بھی۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٢٨، حاشیہ خزائن ج ٢٢ ص ٣٠)
٥٧
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
تو آپ سمجھتے ہیں کہ یہ جو کہہ رہے ہیں ”امتی بھی ہے اور نبی بھی“۔ جناب عبدالمنان عمر : یہ اپنے حقیقی معنوں کی رُو سے۔ جناب یحییٰ بختیار : نہیں، یہ کیٹگری جو ہے یہ نبی کی نہیں ہے؟ جناب عبدالمنان عمر : جی نہیں۔ (وقفہ) جناب یحییٰ بختیار : اب میں آپ کی توجہ کچھ ...... 1574 جناب عبدالمنان عمر : ایک مجھے لفظ کی اجازت دیجئے ...... جناب یحییٰ بختیار : ہاں جی۔ جناب عبدالمنان عمر : ...... تو مرزا صاحب ہی کا لفظ میں سناؤں: ”میں نے بار بار آپ کی خدمت میں عرض کیا تھا کہ رسول اور امتی کا مفہوم متباین ہے“ تو جب وہ لکھتے ہیں کہ ”میں نبی ہوں اور امتی ہوں“ تو مرزا صاحب خود فرماتے ہیں کہ: ”رسول اور امتی کا مفہوم متباین ہے“ اس لئے ہمیں دیکھنا پڑے گا کہ وہاں ”امتی“ کا مفہوم تو بالکل واضح ہے؛ ”نبی“ کا لفظ کن معنوں میں استعمال کیا ہے؟ ”نبی“ کا لفظ ولی کے معنوں میں، محدث کے معنوں میں، تعلق باللہ کے معنوں میں، نزول خدا کے ...... جناب یحییٰ بختیار : سوال تو مولانا! ابھی بالکل صاف ہو گیا ہے کہ اگر آپ اُن کو ایک نبی بھی کہیں تو وہ ایک محدث کے معنوں میں ہے۔
(لاہوری گروپ بھی مرزا کو نبی کہتا ہے)
جناب عبدالمنان عمر : جی ہاں۔ جناب یحییٰ بختیار : تو ربوہ والے کس معنی میں کہتے ہیں؟ ...... جناب عبدالمنان عمر : اچھا جی، اس کے متعلق میں عرض کروں ...... جناب یحییٰ بختیار : ...... کیونکہ وہی مرزا صاحب کی باتیں آپ کے سامنے ہیں، وہی ان کے سامنے ہیں، وہی تحریریں آپ کے سامنے ہیں، وہی اُن کے سامنے ہیں۔ جناب عبدالمنان عمر : وہ گزارش یہ ہے جی کہ حدیث میں آیا ہے کہ ........
١؎ تھوڑی دیر پہلے عبدالمنان عمر لاہوری نے کہا کہ امتی بھی نبی بھی، یہ نہیں ہو سکتا، اب مرزا قادیانی کا حوالہ سامنے آنے پر: ”اُلجھا ہے پاؤں یار کا زُلفِ دراز میں!“ دیکھیں کیسے نکلتے ہیں...؟
٥٨
1575 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
(مرزا صاحب کی متضاد تحریریں)
جناب یحییٰ بختیار: یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ متضاد تحریریں ہوں، آپ ایک پر Depend (انحصار) کرتے ہیں، وہ دوسرے پر Reply کرتے ہیں ........
جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں ......
جناب یحییٰ بختیار: ....... یا ایسی بات نہیں ہے؟
1575 جناب عبدالمنان عمر: میری گزارش یہ ہے کہ یہ قطعاً قطعاً ...... میں اپنی ساری عمر کے مطالعے کا خلاصہ عرض کرتا ہوں کہ مرزا صاحب کی نبوت کے بارے میں تحریرات میں از ابتدا تا انتہا کوئی تباین نہیں ہے۔ جو موقف پہلے دن اُنہوں نے اختیار کیا، وہی موقف اُن کا، اُن کی وفات ٢٦؍مئی ١٩٠٨ء میں وفات کے وقت تک قائم تھا، اور آپ نے جو اپنی وفات سے، وفات والے دن جو اُن کی تحریر شائع ہوئی ہے اخبار عام میں، اُس تحریر میں بھی آپ نے وہی موقف اختیار کیا ہے جو پہلے دن آپ نے ”ازالۃ اوہام“ یا اُس سے پہلے ”توضیح مرام“ وغیرہ میں استعمال کیا تھا۔ یہ کہنا کہ فلاں وقت آپ نے دعویٰ نہیں کیا، پھر اس میں کچھ تبدیلی کر لی، کچھ ارتقاء ہو گیا، کچھ آپ نے پڑھ کر اسے کچھ دعوے شروع کر دیئے، میری گزارش اس بارے میں یہ ہے کہ ہمارا موقف یوں ہے کہ قطعاً کسی قسم کا نہ ارتقاء ہوا ہے، نہ تضاد ہے، نہ تبدیلی ہے۔ جو موقف پہلے دن تھا کہ ”یقیناً خدا تعالیٰ جل شانہٗ، مجھ سے ہم کلام ہوتا ہے۔“ یہی موقف آخری دن تھا۔ جو یہ تعریف کی ”نبوت“ کی بعضے لوگ اس کو ظلی اور بروزی کہہ دیتے ہیں جو ”نبوت“ کی تعریف نہیں ہے، یہی موقف اُنہوں نے آخری دن بھی اختیار کیا ہے۔ تو جس حد تک ہمارا تعلق ہے، ہم مرزا صاحب کی تحریرات میں نہ تناقض مانتے ہیں، نہ تباین مانتے ہیں، نہ تبدیلی مانتے ہیں اور نہ اُس میں کسی قسم کا ارتقاء مانتے ہیں۔
(ربوہ والے مرزا کو نبی کس معنی میں سمجھتے ہیں؟)
جناب یحییٰ بختیار: اب آپ نے یہ بات واضح نہیں کی کہ ربوہ والے کس Sense (معانی) میں، کس مطلب میں، کس معنی میں اُن کو نبی سمجھتے ہیں؟
جناب عبدالمنان عمر: زیادہ مناسب تو یہ ہے کہ کسی کے معتقدات کے بارے میں یہ براہِ راست سوال اُن سے ہونا چاہئے۔ یہ ایک ہمارا ایک بنیادی ......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، دیکھیں ناں، یہ تو ایک ایسا سوال ہے کہ کسی کے
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
ذاتی معاملے میں آپ دخل نہیں دے رہے...... 1576 جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں۔ جناب یحییٰ بختیار: ......یہ ساری ملت کا سوال ہے...... جناب عبدالمنان عمر: جی آ۔
(مرزا کو نبی کہنے والے کافر ہیں یا نہیں؟)
جناب یحییٰ بختیار: ......کہ ایک طبقہ اٹھ جاتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ مرزا صاحب نبی تھے۔ آپ کہتے ہیں کہ: ”No“ جس معنی میں آپ نبی کہتے ہیں اس معنی میں وہ نبی نہیں تھے، ہمارا اختلاف ہے آپ کے ساتھ۔“ وہ کس معنی میں لیتے تھے جب آپ کا اختلاف ہوا؟ اور اگر اس معنی میں اور آپ کے معنی میں فرق ہے تو جو لوگ اس کو اس معنی میں نبی سمجھتے ہیں وہ کافر ہیں یا نہیں؟ یہ سوال ہے؟
جناب عبدالمنان عمر: میری گزارش یہ تھی جی، میں عرض یہ کر رہا تھا کہ ہم یہ گزارش کرنا چاہتے ہیں کہ آپ معزز ممبران کی خدمت میں کہ کسی شخص یا کسی فرقہ یا کسی جماعت کے معتقدات کے معاملے کو دوسرے کے ہاتھ میں ڈالنا بالکل غلط موقف ہے۔ کتنی ہی میری تحقیق ہو، کتنا ہی میں اپنی جگہ واضح ہوں، لیکن مجھے یہ حق نہیں پہنچتا کہ میں دوسرے کے معتقدات کے بارے میں حکم لگاؤں کہ اس کا عقیدہ......
(ربوہ والے آپ کی نظر میں مسلمان ہیں یا نہیں؟)
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، مولانا! آپ میرا مطلب نہیں سمجھے۔ یہاں اس قوم کو ایک بہت بڑا مسئلہ درپیش ہے۔ آپ یہ تو مانتے ہیں کہ کوئی نہیں چاہتا تھا کہ ان معاملوں میں پڑے، جھگڑوں میں پڑے۔ مگر اسمبلی کو مجبوراً یہ سوال پیش ہے اور اس کا کوئی حل ڈھونڈنا ہے اور اس میں آپ مدد کر سکتے ہیں اسمبلی کی، اپنے علم کی وجہ سے، اپنے تجربہ کی وجہ سے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ آپ ان کو کافر قرار دیں، یا میں یہ نہیں کہتا کہ کافر قرار نہ دیں۔ میں ایک سوال یہ پوچھتا ہوں کہ آپ میں اور ان میں اختلافات ہیں اور آپ نے خود فرمایا ہے کہ ”نبی“ کے سوال پر جو کہ وہ تاویل کر رہے تھے، آپ اس کے، خلاف ہیں۔ تو میں عرض کرتا ہوں جو معنی وہ دیتے ہیں مرزا صاحب کی نبوت کو، اس کے مطابق کیا وہ لوگ مسلمان رہتے ہیں یا نہیں رہتے ہیں آپ کی نظر میں؟
٦٠
1577 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
1577 جناب عبدالمنان عمر: میری گزارش یہ ہے جی کہ میں نے عرض کیا ہے کہ ہمارے ملک کی بڑی بدقسمتی ہوگی اگر ہم لوگوں کے معتقدات کا فیصلہ ان کے معتقدات کے متعلق بیان سننے کی بجائے دوسرے کی تشریح کو قبول کرنے لگیں۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، قبول کوئی نہیں کر رہا جی، یہ صرف بات یہ ہے کہ اسمبلی نے ہر طرف سے نقطہ نظر پوچھنا ہے، دیکھنا ہے۔ وہ خود بھی اپنی طرف سے پڑھ رہی ہے، خود بھی سوچ رہی ہے، کتابیں بھی دیکھیں انہوں نے۔ نہ صرف یہ کہ ربوہ کے ڈیلی گیشن کی بات سنی، باقی علماء بھی موجود ہیں، ان کا بھی نقطہ نظر ان کے سامنے ہے۔ آپ کا نقطہ نظر بھی سامنے ہوگا تو اس پر وہ کسی نتیجے پر پہنچ سکیں گے کہ آخر آپ کے جو اتنے اختلافات ہیں وہ کیوں، کیا وجہ ہے؟ اگر وہ بھی ایک نبی ایسا ہے جو دوسرے معنی میں ہے کہ جو اُمت کا ہے، نبی اس کا مطلب یہ نہیں کہ محدث ہے اور اگر وہ بھی ایسے ہی سمجھتے ہیں تو آپ کے اختلاف نہیں ہونا چاہئے۔.......
جناب عبدالمنان عمر: میں عرض کرتا ہوں.......
جناب یحییٰ بختیار: ......اگر اختلاف ہے کچھ تو اس کی تفصیل بتائیے، اس اختلاف کی بناء پر آپ ان کو پھر بھی یہاں مسلمان سمجھتے ہیں یا نہیں سمجھتے؟
جناب عبدالمنان عمر: میں عرض کرتا ہوں کہ میں نے گزارش یہ کی تھی کہ اس ملک کی بہتری کا تقاضا یہ ہے کہ میں جناب سے یہ گزارش کروں کہ اگر یہ راستہ کھول دیا گیا کہ کسی دوسرے فریق کے معتقدات اس سے سننے کی بجائے یا اس پر فیصلہ کرنے کی بجائے دوسروں کی تشریحات، توضیحات پر اور دوسروں کے مطالعے پر اس کا مدار رکھا جائے تو اس سے بہت سی مشکلات پیدا ہوں گی اور یہ وہی مشکلات ہیں جس کی وجہ سے، جو شروع میں، میں نے گزارش کی تھی، کہ تکفیر کا دروازہ کھلتا ہے۔ اگلا شخص نہ معلوم اس کی کیا تاویل کرتا ہے، کیا تشریح کرتا ہے۔ میں اپنے خیال سے اس کا موقف.......
1578 جناب یحییٰ بختیار: میں، مولانا صاحب! صاف بات کرتا ہوں، آپ سے پوچھوں کہ ”پارسی کافر ہیں یا نہیں؟“ تو آپ کیا کہیں گے کہ: ”نہیں، یہ تو ہم سب پاکستانی ہیں، اس بارے میں کچھ نہیں کہنا چاہتا“؟
جناب عبدالمنان عمر: جی، یہ نہیں آپ پوچھتے، آپ پوچھتے ہیں کہ: ”پارسی کے معتقدات کیا ہیں؟“ آپ کا سوال یہ ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: میں یہی آپ سے پوچھتا ہوں کہ وہ کس معنی.......
٦١
BLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
ذاتی معاملے میں آپ دخل نہیں دے رہے.......
1576 جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں،
جناب یحییٰ بختیار: .......یہ ساری لمـ
جناب عبدالمنان عمر: جی آ۔
(مرزا کو نبی کہنے والے
جناب یحییٰ بختیار: .......کہ ایک طـ تھے۔ آپ کہتے ہیں کہ: ”No“، جس معنی میں ہمارا اختلاف ہے آپ کے ساتھ۔” وہ کس معنی مـ اس معنی میں اور آپ کے معنی میں فرق ہے تو جو لو نہیں؟ یہ سوال ہے؟
جناب عبدالمنان عمر: میری گزارش کرنا چاہتے ہیں کہ آپ معزز ممبران کی خدمت معتقدات کے معاملے کو دوسرے کے ہاتھ میں ڈ کتنا ہی میں اپنی جگہ واضح ہوں، لیکن مجھے یہ حـ بارے میں حکم لگاؤں کہ اس کا عقیدہ.......
(ربوہ والے آپ کی نظر مـ
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، مـ کو ایک بہت بڑا مسئلہ درپیش ہے۔ آپ یہ تو ما پڑے، جھگڑوں میں پڑے۔ مگر اسمبلی کو مجبوراً یہ اس میں آپ مدد کر سکتے ہیں اسمبلی کی، اپنے علم کہ آپ ان کو کافر قرار دیں، یا میں یہ نہیں کہتا کـ آپ میں اور ان میں اختلافات ہیں اور آپ ۔ کر رہے تھے، آپ اس کے، خلاف ہیں۔ تو میـ کی نبوت کو، اس کے مطابق کیا وہ لوگ مسلمان ہـ
1578 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
جناب عبدالمنان عمر: معتقدات تو آپ ان سے پوچھئے ناں......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں......
جناب عبدالمنان عمر: ...... مجھ سے کیوں آپ ان کے معتقدات پوچھتے ہیں؟ مجھ سے میرے معتقدات پوچھئے، ان کے معتقدات ان سے پوچھئے، پھر آپ فیصلہ کیجئے۔ میں اس کے حق میں نہیں ہوں کہ میرے معتقدات کا فیصلہ زید کرے، اور زید کے معتقدات کا فیصلہ بکر کرے۔ معتقدات کے متعلق آپ کو یہ قانون بنانا چاہئے، میری گزارش ہوگی کہ آپ ڈیکلریشن لیں ہر فرقے سے کہ وہ اپنے معتقدات کیا سمجھتے ہیں۔
(مسیلمہ کذاب کا فیصلہ کس نے کیا؟)
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مسیلمہ کذاب کا کس نے فیصلہ کیا؟ خود اُس نے کیا یا کسی اور نے کیا؟
جناب عبدالمنان عمر: میں سمجھا نہیں لے
جناب یحییٰ بختیار: ایک شخص جھوٹا دعویٰ کرتا ہے نبوت کا......
جناب عبدالمنان عمر: جی، جی۔
جناب یحییٰ بختیار: ...... تو کیا اُسی پہ چھوڑ دیا جاتا ہے کہ وہ صحیح کہہ رہا ہے یا غلط کہہ رہا ہے؟ یا کوئی بات کرے گا، کوئی اس پر سوچے گا کہ کیا کہہ رہا ہے؟
1579 جناب عبدالمنان عمر: میری گزارش یہ تھی کہ جو شخص دعویٰ کرتا ہے...... جھوٹا اور سچے کی بحث نہیں، بالکل بحث نہیں ہے کہ کسی، اس شخص کا دعویٰ سچا یا جھوٹا ہے...... جو شخص دعویٰ نبوت کرتا ہے، جھوٹے یا سچے میں ہم نے پڑنا نہیں......
جناب یحییٰ بختیار: وہ ٹھیک ہے، آپ دُرست فرما رہے ہیں،......
جناب عبدالمنان عمر: ...... وہ مدعی نبوت اگر ہے تو وہ کافر و کاذب ہے۔
(جھوٹے مدعی نبوت کو ماننے والے کافر ہیں یا نہیں؟)
جناب یحییٰ بختیار: اور اس کو ماننے والے بھی کافر ہیں؟
لے "سمجھا نہیں" نہیں بلکہ اختیار کردہ موقف مچھلی کے کانٹے کی طرح نہ اُگلے بنے نہ نگلے بنے...!
٦٢
1579 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
جناب عبدالمنان عمر: ہم نے یہ نہیں دیکھا کہ ...... اس کے معتقدات پر بحث نہیں کر رہے!۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، ٹھیک ہے، اُصولاً بات میں کر رہا تھا ناں، اسی واسطے، کہ جو میں بات اُصولاً کر رہا تھا، کہہ دیتا ہوں کہ نہیں، ......
جناب عبدالمنان عمر: جی، جی۔
جناب یحییٰ بختیار: ......کہ آپ ......کریں۔ تو جو اس کو ماننے والے ہوں گے وہ بھی کافر ہوں گے کیا، نبوت کا دعویٰ کرے؟
جناب عبدالمنان عمر: میری پھر گزارش ہے کہ نبوت کے متعلق میں پھر وہی سوال دُہراؤں گا کہ ”نبوت“ کا لفظ کیونکہ بعض لوگ کچھ اور معنوں میں بھی استعمال کرتے ہیں......
(نبوت کی دو تعریفیں)
جناب یحییٰ بختیار: مولانا! ایک، ایک بات تو بالکل صاف ہوگئی ہے کہ نبوت کی دو قسمیں بتائیں آپ نے......
جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، قسمیں نہیں میں نے......
جناب یحییٰ بختیار: دو تعریفیں؟
جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، نہیں، دو قسمیں نہیں بتائیں۔
جناب یحییٰ بختیار: دو تعریفیں بتائیں نہیں آپ نے؟
1580 جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔ جو ایک حقیقی نبی کی تعریف ہے......
جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔
جناب عبدالمنان عمر: ........اور ایک غیر نبی کی تعریف ہے جس پر لفظ ”نبی“ استعمال ہوتا ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: ہوتا ہے۔ اُس، اُس معنی میں آپ مرزا صاحب کو نبی کہتے ہیں کہ یا وہ اپنے آپ کو کہتے ہیں؟
جناب عبدالمنان عمر: جی؟
جناب یحییٰ بختیار: غیر حقیقی نبی کے معنی میں.......
لے پھر وہی: ”خود کردہ را علاجے نیست“ پھنس گئے صاحب...!
٦٣
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں کہ میں عرض.......
جناب یحییٰ بختیار: ...... آپ ان کو کہتے ہیں کہ یہ لفظ جو اُنہوں نے استعمال کئے کہ حقیقی نبی نہیں ہے، یہ محدث کے معنی میں ہے؟
جناب عبدالمنان عمر: جی۔
جناب یحییٰ بختیار: اور وہ جو ہیں وہ ان کو اصلی معنوں میں یا محدث کے معنی میں، کس معنی میں سمجھتے ہیں نبی؟ کیونکہ آپ کا اختلاف ہوا ہے اس واسطے کہتا ہوں۔ آپ پر......
جناب عبدالمنان عمر: نہیں، میں عرض کرتا ہوں......
جناب یحییٰ بختیار: اس بات سے آپ کہتے ہیں جی کہ: ”میں جواب نہیں دیتا۔“
جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، میں.......
(ربوہ والے مرزا کو نبی کس معنی میں لیتے ہیں؟)
جناب یحییٰ بختیار: کیونکہ دو (٢) پارٹیاں ہیں، دونوں مرزا صاحب کے Followers (پیروکار) ہیں، ایک Sense (معنوں) میں یا دوسری Sense (معنوں) میں، آپ کہتے ہیں کہ ہمارا بڑا بنیادی اختلاف ہے، الیکشن سے یہ اختلاف نہیں تھا کیونکہ کون خلیفہ بنتا ہے، کون نہیں بنتا، تو اس1581 لئے یہ بڑا ضروری سوال ہو جاتا ہے کہ آپ کا اختلاف جو تھا نبی کے معاملے میں، وہ کس معنی میں اس کو نبی لیتے ہیں جو آپ کا اختلاف ہو گیا؟
جناب عبدالمنان عمر: وہ میں عرض کر دیتا ہوں۔ میں نے عرض کیا تھا کہ دو (٢) قسموں کی تعریفیں رائج ہیں، میں نے یہ بھی عرض کیا تھا کہ یہ جو دو قسم کی تعریفیں ہیں، دو (٢) قسم کے نبی نہیں ہیں۔ ایک اس کی حقیقی تعریف ہے۔ جس طرح شیر ایک جانور ہے، اس کے لئے ”شیر“ کا لفظ جو ہے وہ اس ایک درندے کے بارے میں ہے، لیکن کبھی کبھی کسی بہادر شخص کو کہہ دیتے ہیں کہ یہ شیر ہے۔ اب یہ نہیں ہم کہیں گے کہ اب ”شیر“ کی دو (٢) تعریفیں ہو گئیں۔ تعریف تو وہی ہے ”شیر“ کی۔
(شیر کی مثال)
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، ابھی یہ بتائیں کہ یہ مولانا! اگر وہ شیر جو حقیقی شیر نہیں ہے، وہ کہے: ”دیکھو! میں شیر ببر کی طرح میرا چہرہ ہے، میرے شیر کی طرح پنجے ہیں، میرے شیر کی طرح دانت ہیں، میں بالکل شیر کی تصویر ہوں اور میں شیر ہوں اور شیر کی خوبیاں مجھ میں موجود ہیں۔“
٦٤
MBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں کہ میں
جناب یحییٰ بختیار: ...... آپ ان کو ک حقیقی نبی نہیں ہے، یہ محدث کے معنی میں ہے؟
جناب عبدالمنان عمر: جی۔
جناب یحییٰ بختیار: اور وہ جو ہیں وہ ا کس معنی میں سمجھتے ہیں نبی؟ کیونکہ آپ کا اختلاف ہ
جناب عبدالمنان عمر: نہیں، میں عرض
جناب یحییٰ بختیار: اس بات سے آس
جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، میں۔
(ربوہ والے مرزا کو نبی کس
جناب یحییٰ بختیار: کیونکہ دو (٢) Followers (پیروکار) ہیں، ایک Sense میں، آپ کہتے ہیں کہ ہمارا بڑا بنیادی اختلاف ہے خلیفہ بنتا ہے، کون نہیں بنتا، تو اس 1581 لئے یہ بڑا ضر نبی کے معاملے میں، وہ کس معنی میں اس کو نبی لیتے ہی
جناب عبدالمنان عمر: وہ میں عرض ک قسموں کی تعریفیں رائج ہیں، میں نے یہ بھی عرض کی کے نبی نہیں ہیں۔ ایک اس کی حقیقی تعریف ہے۔ ”شیر“ کا لفظ جو ہے وہ اس ایک درندے کے بار دیتے ہیں کہ یہ شیر ہے۔ آپ یہ نہیں ہم کہیں گے تعریف تو وہی ہے ”شیر“ کی۔
(شیر کی مث
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، ابھی یہ بتا وہ کہے: ”دیکھو! میں شیر، ببر کی طرح میرا چہرہ ہے، میر دانت ہیں، میں بالکل شیر کی تصویر ہوں اور میں شی
٦٤
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
اُس کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟
جناب عبدالمنان عمر: یہ بالکل صحیح ہے، یہی ہمارا نقطہ نگاہ ہے، اگر وہ یہ کہتا ہے کہ: ”میں شیر ہوں، میرے پنجے ہیں، میں درندہ ہوں، میں وہ ہوں“ تو ہم وہی قدم اٹھائیں گے کہ جو میں نے عرض کیا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد جو مدعی نبوت ہے، وہ کافر و کاذب ہوتا ہے۔ لیکن لفظ ”نبی“ کی بات نہیں ہوگی وہاں۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، میں شیر کی بات کر رہا ہوں۔
جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، بالکل۔
جناب یحییٰ بختیار: ایک حقیقی شیر ہے ......
جناب عبدالمنان عمر: وہ خصائص ......
(نقلی شیر کو اس کے ماننے والے اصلی کہیں تو؟)
1582 جناب یحییٰ بختیار: ...... ایک نقلی شیر ہے، مگر اُس کے پیروکار کہتے ہیں: ”ہاں، یہ اصلی تھا، اُس میں سارے اصل شیر کی خوبیاں موجود ہیں۔“
جناب عبدالمنان عمر: اگر اُس میں وہ خصائص نبوت مانتے ہیں، اگر وہ اُس میں لوازم نبوت مانتے ہیں، اگر اُس میں نبوت کی جو شرائط ہیں، وہ تسلیم کرتے ہیں، تو ہم کہیں گے یہ حقیقی نبوت کے مدعی ہیں۔ لیکن اگر وہ صفات تو اُس میں شیر کی نہ مانیں، لیکن کہیں کہ: ”اُس کو کہو شیر، لفظ ”شیر“ استعمال کرو“ تو یہ اُس کا حقیقی استعمال نہیں ہوگا، مجازی استعمال ہوگا۔
اب میری گزارش یہ ہے کہ ہمارا اُن سے اختلاف کیا ہے؟ یہ تھا آپ کا Question (سوال) اُس کے متعلق میری گزارش یہ ہے کہ ہمارے نزدیک مکالمہ ومخاطبہ الٰہیہ کسی شخص پر جو نازل ہوتا ہے، یہ ”نبوت“ کی حقیقی تعریف نہیں ہے اور اُن کا خیال ...... بلکہ یہ بمعنی محدثیت ہے۔ یہ ہمارا نقطہ نگاہ ہے۔ اُن کا نقطہ نگاہ یہ ہے: ”نہیں، جناب! نبوت کی حقیقی تعریف ہے ہی یہ، اور یہ لفظ بمعنی محدثیت نہیں استعمال ہوا۔“ یہ ہے ہمارا اور اُن .......
(غیر تشریعی نبی نہیں ہوتا؟)
جناب یحییٰ بختیار: آپ کا مطلب یہ ہے کہ نبی حقیقی معنوں میں وہی ہوتا ہے جو نئی شرع لے آئے، جو شرع نہ لائے وہ نبی نہیں؟
جناب عبدالمنان عمر: نبی نہیں، بالکل۔
٦٥
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
جناب یحییٰ بختیار: ......تو میں نے آپ سے عرض کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام شرع نہیں لائے۔
جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، میں نے تین شرطیں......
جناب یحییٰ بختیار: آپ نے کہا ڈائریکٹ.......
جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، میں نے تین شرطیں نبوت کی بتائی ہیں۔
1583نمبر ایک، شریعت لائے، جدید شریعت لائے، اُس کو یہ انعام براہِ راست ملا ہو، اور وہ، اُس کو خدا نے نبی کا نام دیا ہو۔ تو خیر یہ تو ضروری شرط ہے۔ یہ ہیں چیزیں جس سے کوئی شخص......
جناب یحییٰ بختیار: آپ، آپ دیکھئے ناں، مولانا!......
جناب عبدالمنان عمر: پہلی شریعت کے کسی حصے کی......
جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، ایک یہ تو......
جناب عبدالمنان عمر: اب حضرت عیسیٰؑ......حضرت مسیح کی آپ نے مثال دی۔ اب میں نے عرض کیا تھا کہ حضرت مسیح نبی ہیں، حقیقی معنوں میں نبی ہیں۔ قطعاً کوئی فرق نہیں ہے اُن میں اور اُس سے پہلے انبیاء میں......
جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے، آپ......
جناب عبدالمنان عمر: .......کیونکہ وہ جو تشریعی والی تھی بات وہ نہیں میں.......کیونکہ حضرت مسیح کے متعلق آتا ہے قرآن مجید میں: (عربی)
وہ پہلی شریعت کے بعضے حصوں کو منسوخ کرتے تھے۔ تو یہ کہنا کہ وہ کچھ اور قسم کے تھے، نہیں، وہ تین (٣) شرائط جو میں نے عرض کی تھیں، براہِ راست جو میں نے عرض کیا تھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی متابعت کے نتیجے میں نبی نہیں بنے، وہ کوئی جدید شریعت لائے یا پہلی شریعت کو منسوخ کیا؟
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، تو پھر اس کا مطلب یہ ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آپ ایسا نبی سمجھتے ہیں جو شریعت لایا تھا کہ نہیں؟ غیر شرعی (تشریعی) نہیں تھے؟
جناب عبدالمنان عمر: (عربی)۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں آپ سے پوچھ رہا ہوں کہ......
1584جناب عبدالمنان عمر: جی، میں نے عرض کیا ہے کہ وہ میں صرف اس میں فرق
٦٦
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
حضرت موسیٰ علیہ السلام میں اور اُن میں یہ سمجھتا ہوں کہ ان کو، جو شریعت مسیح کو دی گئی تھی، انہوں نے بہت سا حصہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کا Adopt کیا ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: یہ تو آنحضرت ﷺ نے بھی Adopt (اختیار) کیا ہے۔ یہ تو سوال......
جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، نہیں......
جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں ناں جی کہ وہ تو اللہ کا کلام ہے، انہوں نے غلطیاں اس میں کیں، آنحضرت ﷺ نے دُرست کیا اُس کو۔
جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، یوں نہیں ہے......
جناب یحییٰ بختیار: ہاں؟
جناب عبدالمنان عمر: ......کہ انہوں نے توراۃ اور انجیل سے لے کر کوئی چیز لے لی۔ جو کچھ Adopt کیا وہ براہِ راست اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ پر......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ وہی اللہ نے پیغام جو ان کو بھیجا تھا وہی پیغام بھیجا ہے اللہ.......
جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، وہ نہیں ہے، فرق ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: فرق تو انہوں نے کیا ناں جی، اللہ کے پیغام میں تو فرق نہیں تھا۔
جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، فرق ہے، بہت سی شریعت کی چیزیں جو پہلوں کو نہیں دی گئیں......
جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، نہیں، وہ ٹھیک ہے......
1585 جناب عبدالمنان عمر: ...... وہ آنحضرت ﷺ......
جناب یحییٰ بختیار: ...... مگر یہ کہ اللہ کا پیغام دونوں تھے......
جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔
جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں ناں، اس پر......
جناب عبدالمنان عمر: بالکل۔
جناب یحییٰ بختیار: .......Direct ملے دونوں کو.......
جناب عبدالمنان عمر: جی آ۔
جناب یحییٰ بختیار: ...... تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کوئی پیغام ملا......
٦٧
KISTAN 27th Aug, 1974 No:12
جناب یحییٰ بختیار:
شرع نہیں لائے۔
جناب عبدالمنان عمر:
جناب یحییٰ بختیار: آ
جناب عبدالمنان عمر
1583 نمبر ایک، شریعت
اور وہ، اُس کو خدا نے نبی کا نام دیا
شخص.......
جناب یحییٰ بختیار: آ
جناب عبدالمنان عمر
جناب یحییٰ بختیار: با
جناب عبدالمنان عمر
میں نے عرض کیا تھا کہ حضرت مسیح
میں اور اُس سے پہلے انبیاء میں.....
جناب یحییٰ بختیار:
جناب عبدالمنان عمر
حضرت مسیح کے متعلق آتا ہے قرآن
وہ پہلی شریعت کے بعض
نہیں، وہ تین (٣) شرائط جو میں ۔
موسیٰ علیہ السلام کی متابعت کے نتیج
منسوخ کیا؟
جناب یحییٰ بختیار:
آپ ایسا ہی سمجھتے ہیں جو شریعت لا
جناب عبدالمنان عمر
جناب یحییٰ بختیار:
1584 جناب عبدالمنان
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
جناب عبدالمنان عمر: براہ راست ملا۔ جناب یحییٰ بختیار: ...... اور اگر کسی اور شخص کو بھی ایسے پیغام ملے ...... جناب عبدالمنان عمر: بالکل۔ جناب یحییٰ بختیار: ...... تو وہ بھی نبی ہوگا؟ جناب عبدالمنان عمر: اسی لئے وہ نبی ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: اب یہ فرمائیے کہ ابھی شیر کی ہم بات کر رہے تھے...... اصلی شیر اور نقلی شیر۔ جناب عبدالمنان عمر: جی۔
(اصلی نبی اور جھوٹے مدعی نبوت میں فرق کس طرح ہوگا؟)
جناب یحییٰ بختیار: اب اصلی نبی اور ایسا شخص جو دعویٰ کرے ...... جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، نقلی شیر اور اصلی شیر نہیں، بلکہ ”شیر“ کے لفظ کا حقیقی استعمال اور اس کا مجازی استعمال۔ جناب یحییٰ بختیار: ہاں، مطلب یہ کہ جیسے ”شیر پنجاب“ اور ”شیر بنگال۔“ جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔ بالکل بالکل۔ 1586 جناب یحییٰ بختیار: اور وہ جو ہوتے ہیں، وہ تو خیر چھوڑ دیجئے....... جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، بالکل۔ جناب یحییٰ بختیار: ...... کیونکہ ان میں فرق نہیں ہوتا۔ ہاں، نہیں، وہ، وہ بات میں نہیں کر رہا۔ مگر ایک، ایک چیز کو آپ دیکھتے ہیں کہ بھائی یہ چیز کیسی ہے؟ کہ یہ چیز گلاس ہے۔ تو آپ کہتے ہیں کہ گلاس کی کیا خوبی ہے؟ اس قسم کا Shape ہوگا، جس میں پانی یا کوئی چیز آپ ڈال سکیں گے۔ ممکن ہے بڑا سائز ہو، چھوٹا سائز ہو، ایک Shape ہو، دوسرا Shape ہو، شیشے کا ہو، کسی اور چیز کا ہو، گلاس ہو جاتا ہے۔ نبی بھی ایک انسان ہوتا ہے، محدث بھی ایک انسان ہوتا ہے۔ یہ دونوں Common Factor (مشترکہ امر) تو ان کے شروع میں آ جاتے ہیں۔ اس کے بعد وہ کہتے ہیں جی کہ اللہ سے نبی پر وحی نازل ہوتی ہے، نبی پر اللہ کی طرف سے وحی نازل ہوتی ہے اور ایک شخص جس کو آپ محدث کہتے ہیں وہ کہتا ہے: ”مجھ پر بھی اللہ کی طرف سے وحی نازل ہوتی ہے“ ......
٦٨
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، دونوں میں بڑا فرق ہے۔ مرزا صاحب نے ......
جناب یحییٰ بختیار: میں، مرزا صاحب کی بات نہیں کر رہے تھے ......
جناب عبدالمنان عمر: ہیں جی؟
جناب یحییٰ بختیار: اس وقت میں مرزا صاحب کی بات نہیں کر رہا، میں جنرل بات کر رہا ہوں۔
جناب عبدالمنان عمر: میں سمجھتا ہوں کہ وحی، وحی کی بہت سی اقسام ہیں۔ ایک وحی ہوتی ہے جس کو ”وحی متلو“ کہتے ہیں، جیسے ”وحی قرآن“ کہتے ہیں۔ یہ نبی کریم ﷺ سے خاص ہے اور اس قسم کی وحی کا دروازہ تا قیامت بند ہے۔ نہ اس قسم کا الہام ہو سکتا ہے کسی کو، نہ وحی ہو سکتی ہے۔ جس کو وحی نبوت کہتے ہیں، یہ نہیں، یہ دروازہ بند ہے۔ ہم ہرگز نہیں سمجھتے کہ مرزا صاحب پر بھی وہی وحی نازل ہوتی تھی اور اس کی وہی کیفیت تھی اور اس کا وہی مقام تھا، اس کا وہی درجہ تھا جو نبی کریم ﷺ کا تھا، بالکل نہیں۔
1587 جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں پہلے اس تفصیل میں نہیں جانا چاہتا۔
جناب عبدالمنان عمر: جی، جی۔
جناب یحییٰ بختیار: میں آپ سے یہ پوچھنا چاہتا تھا کہ جب آپ کہتے ہیں دو شخص ہیں۔ ایک ہے محدث، مجدد، اولیاء، نیک بندہ، انسان، اور ایک ہے اللہ کا نبی۔ آپ دیکھتے ناں، اس پر، دونوں پر وحی آ سکتی ہے، آپ یہ کہتے ہیں؟
جناب عبدالمنان عمر: جی، وہی تو میں نے عرض کیا، وحی نبوت نہیں آسکتی۔
(ایک شخص کہے کہ مجھ پر وحی نبوت آئی ہے؟)
جناب یحییٰ بختیار: وحی نبوت نہیں آ سکتی؟
جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں نہیں آسکتی، بالکل نہیں آسکتی۔ میں عرض کرتا ہوں......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں نہیں، میں یہ پوچھ رہا تھا تا کہ اگر .......
جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، وحی نبوت نہیں آسکتی۔
جناب یحییٰ بختیار: اور اگر ایک شخص کہے کہ مجھ پر وحی نبوت آئی ہے......
جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، بالکل۔
جناب یحییٰ بختیار: ...... تو وہ ......
٦٩
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
جناب عبدالمنان عمر: تو وہ مدعی نبوت بن جائے گا۔
جناب یحییٰ بختیار: بن جائے گا۔ بس آگے پھر ابھی میں.......
جناب عبدالمنان عمر: بالکل نبی بن جائے گا۔ میں صرف ایک گزارش......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں،.......
جناب عبدالمنان عمر: ...... کی اجازت دیجئے گا مجھے..... مرزا صاحب فرماتے ہیں:
”اگرچہ ایک ہی دفعہ وحی کا نزول فرض کیا جائے اور صرف ایک فقرہ حضرت جبریل علیہ السلام لاویں اور پھر چپ ہو جاویں یہ امر بھی ختم نبوت کے 1588 منافی ہے، کیونکہ جب ختم نبوت کی مہر ٹوٹ گئی اور وحی رسالت پھر نازل ہونی شروع ہو گئی تو پھر تھوڑا یا بہت نازل ہونا برابر ہے۔ ہر ایک دانا سمجھ سکتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ صادق الوعد ہے اور آیت خاتم النبیین میں وعدہ دیا گیا ہے اور حدیثوں میں بالتصریح بیان کیا گیا ہے کہ اب جبریل علیہ السلام کو بعد وفات رسول اللہ ﷺ ہمیشہ کے لئے وحی نبوت لانے سے منع کیا گیا ہے۔“ تو یہ تمام باتیں سچ اور صحیح ہیں۔ ہم وحی نبوت کا ایک فقرہ بھی نازل ہو جائے، اس کو بھی ختم نبوت کے منافی سمجھتے ہیں۔ جبریل امین ایک فقرہ وحی نبوت کا لے کے کسی شخص پر نازل ہو اور وہ کہے: ”مجھ پر نازل ہوتا ہے“ ہم کہیں گے وہ شخص مدعی نبوت ہے اور ہم ایک فقرے کی آمد کے بھی قائل نہیں ہیں بعد نبی کریم ﷺ کے۔
(مرزا صاحب کے جماعت بنانے اور ان سے بیعت لینے کا مقصد کیا تھا؟)
جناب یحییٰ بختیار: اچھا، اب آپ یہ فرمائیے کہ جو مرزا صاحب نے اپنی جماعت بنائی اور لوگوں سے کہا بیعت ان پر کریں، ان کا مقصد کیا تھا؟ ایک علیحدہ اُمت بنانا تھا یا ایک اور فرقہ مسلمانوں کا بنانا تھا، یا صرف ایک گروہ تھا جو خدمت کریں؟ کیا......
جناب عبدالمنان عمر: جناب والا! میری گزارش یہ ہے کہ مرزا صاحب نے یہ جو جماعت بنائی تھی اس سے قطعا کوئی نئی اُمت بنانا مقصد نہیں تھا، اس سے......
جناب یحییٰ بختیار: اور فرقہ بنانا تھا......
جناب عبدالمنان عمر: میں عرض کرتا ہوں......
جناب یحییٰ بختیار: ...... مسلمانوں کا؟
جناب عبدالمنان عمر: اس سے مسلمانوں کے اندر ایک ایسی چیز پیدا کرنا نہیں تھا جس سے افتراق بین المسلمین اور تکفیر بین المسلمین کا دروازہ کھلے۔ میں جناب کے سامنے وہ
٧٠
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
شرائط رکھ دوں گا جس سے آپ خود اندازہ کرلیں گے کہ مرزا صاحب نے یہ جو جماعت بنائی تھی اس کی غرض کیا تھی۔ ایک جگہ آپ فرماتے ہیں کہ:
1589”اس جماعت کے بنانے کی غرض دو (٢) ہیں۔ ایک غرض یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق قائم ہو جائے۔ انسان نیک بن جائے۔ انسان محمد رسول اللہ ﷺ کے اُسوہ پر چلنے کے قابل ہو جائے۔ قرآن کریم کی خدمات، قرآن مجید کی تعلیم کو کلیۃً اپنے اُوپر وہ شخص وارد کر لے اور محمد رسول اللہ ﷺ کا حقیقی غلام اور حقیقی امتی اور حقیقی تابع دار بن جائے اور دُوسری غرض اس جماعت کے قائم کرنے کی میری یہ ہے کہ تا دُنیا میں اسلام کی اشاعت ہو، محمد رسول اللہ ﷺ کی چمکار سے دُنیا روشن ہو جائے اور وہ لوگ جو ابھی دائرۂ اسلام میں نہیں آئے، محمد رسول اللہ ﷺ کی غلامی میں نہیں آتے، جو لا الہ الا اللہ سے ناواقف ہیں، جو توحید نہیں جانتے، جو رسالت نہیں جانتے، جو قرآن نہیں جانتے، اُن لوگوں کو دائرۂ اسلام میں لایا جائے۔“
چنانچہ میری بات کی تائید فرمائیں گے مولانا صاحب...... یہ یورپ میں تشریف لے گئے۔ پہلے انگلستان تشریف لے گئے، پھر یہ جرمنی میں تشریف لے گئے...... آپ ان کی شہادت لے سکتے ہیں کہ انہوں نے وہاں جا کر کبھی بھی نہ مرزا صاحب کی نبوت کو پیش کیا، نہ مرزا صاحب کے وجود کو اس طرح پیش کیا کہ وہ ایک مستقل قسم کا انسان ہے جس کو محمد رسول اللہ ﷺ کی غلامی سے کوئی تعلق نہیں۔ ہم وہاں جاتے ہیں، مسلمان بنانے کے لئے جاتے ہیں۔
اور اس کے علاوہ یہ جناب! اب میں نے آپ کے سامنے یہ عرض کیا تھا کہ میں بیعت کی......
جناب یحییٰ بختیار: وہ جی ہم نے پڑھی ہے۔
جناب عبدالمنان عمر: جی دس (١٠) شرائط ہیں بیعت.......
جناب یحییٰ بختیار: دس شرائط ہم نے دیکھی ہیں۔
1590 جناب عبدالمنان عمر: ...... کی طرف جناب کی توجہ دلاؤں گا۔
جناب یحییٰ بختیار: وہ ہم نے دیکھی ہیں جی، وہ ہم نے دیکھی ہیں، ریکارڈ پر آچکی ہیں۔
جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، میں صرف اس ایک بات کی طرف جناب کی توجہ دلاؤں گا۔
مولانا صدرالدین: صاحبزادہ صاحب نے فرمایا تھا میرے متعلق۔ میں دو (٢) دفعہ انگلستان میں گیا ہوں، اور بہت سے انگریزوں کو مسلمان کیا ہے، لیکن میں نے کبھی کسی پرائیویٹ مجلس میں بھی حضرت مرزا صاحب کا ذکر نہیں کیا، کیونکہ میں حضرت مرزا صاحب کو اسلام
٧١
'Y OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
جناب عبدالمنان عمر: تو وہ مدعی
جناب یحییٰ بختیار: بن جائے گا
جناب عبدالمنان عمر: بالکل نبی
جناب یحییٰ بختیار: نہیں،......
جناب عبدالمنان عمر: ......کی ا
”اگر چہ ایک ہی دفعہ وحی کا نزول علیہ السلام لاویں اور پھر چُپ ہو جاویں یہ ا نبوت کی مہر ٹُوٹ گئی اور وحی رسالت پھر نازل ہے۔ ہر ایک دانا سمجھ سکتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ گیا ہے اور حدیثوں میں بالتشریح بیان کیا اللہ ﷺ ہمیشہ کے لئے وحی نبوت لانے سے وحی نبوت کا ایک فقرہ بھی نازل ہو جائے، ا ایک فقرہ وحی نبوت کا لے کے کسی شخص پر نازل وہ شخص مدعی نبوت ہے اور ہم ایک فقرے کی
(مرزا صاحب کے جماعت بنانے
جناب یحییٰ بختیار: اچھا، اب بنائی اور لوگوں سے کہا بیعت ان پر کریں، ان فرقہ مسلمانوں کا بنانا تھا، یا صرف ایک گروہ تھ
جناب عبدالمنان عمر: جناب جماعت بنائی تھی اس سے قطعاً کوئی نئی اُمت
جناب یحییٰ بختیار: اور فرقہ بنا
جناب عبدالمنان عمر: میں عر
جناب یحییٰ بختیار: ...... مسلما
جناب عبدالمنان عمر: اس۔ جس سے افتراق بین المسلمین اور تکفیر بین
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
کا بانی نہیں سمجھتا۔ محمد رسول اللہ ﷺ اسلام لائے ہیں......
جناب یحییٰ بختیار: مولانا......
مولانا صدر الدین: ......میں اسلام کا وعظ کرتا تھا......
جناب یحییٰ بختیار: مولانا! بہت سے......
مولانا صدر الدین: ......مرزا صاحب کا نام بالکل نہیں لیتا تھا۔
(صدر الدین اپنے وعظ میں مرزا کا نام لیتے تو لوگ مسلمان نہ ہوتے)
جناب یحییٰ بختیار: آپ گستاخی معاف کریں، بہت سے لوگوں کا یہ خیال ہے کہ اگر آپ اُن کا ذکر کرتے تو لوگ مسلمان نہ ہوتے۔ آپ اسلام کا نام لیتے جب ہی مسلمان ہو جاتے۔ ہم......
جناب عبد المنان عمر: میں گزارش یہ کر رہا تھا......
جناب یحییٰ بختیار: ......مگر اُس بات کو چھوڑ دیجئے۔
جناب عبد المنان عمر: جی نہیں، میں اسی سلسلے میں ......کہ یہ سمجھنا کہ اگر وہاں اسلام کا نام لینے کے علاوہ کوئی اور نام لیا جاتا تو اسلام نہ پھیلتا اور اس وجہ سے ہم لوگوں نے اُس سے اجتناب کیا، ایک مصلحت کے تحت اجتناب کیا، میں بڑے ادب سے گزارش 1591 کروں گا کہ یہ واقعہ صحیح نہیں ہے۔ ہم نے قطعاً......ہم تو پہلی دفعہ باہر گئے ہیں۔ ١٩١٣ء میں۔ سب سے پہلی دفعہ ہم نے پہلا مشن جو ہے ١٩١٣ء میں انگلینڈ میں قائم کیا، برمنگھم میں۔ خواجہ کمال الدین صاحب کی معتقدات، اُن کی تقریریں، کوئی چھپی ہوئی بات نہیں ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ......
جناب عبد المنان عمر: کسی مصلحت کے تحت نہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: یہ تو آپ دُرست فرما رہے ہیں۔ کیا خواجہ صاحب جب جا رہے تھے ایک دفعہ، مرزا صاحب کی زندگی میں پروگرام بن رہا تھا ایک دفعہ کہ وہ جائیں......
جناب عبد المنان عمر: جی نہیں، یہ ١٩١٣ء کی میں نے گزارش کی ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: مجھے معلوم ہے۔
جناب عبد المنان عمر: ١٩٠٨ء میں مرزا صاحب فوت ہو گئے۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی۔ اس سے پہلا پلان تھا کہ بھیجے جائیں آدمی پہلے مرزا
٢٧٢
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
صاحب کی زندگی میں۔
جناب عبدالمنان عمر: خواجہ صاحب نہیں بلکہ کچھ لوگ۔
(مرزا صاحب کا ذکر نہیں ہونا چاہئے)
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، تو اُس زمانے میں جب اُن کو کہا گیا کہ مرزا صاحب کا ذکر نہیں ہونا چاہئے تو اُنہوں نے کہا: پھر تو وہ بات ہی نہیں ہوئی۔
جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، میں عرض کرتا ہوں......
جناب یحییٰ بختیار: کوئی ایسی بات ہوئی تھی کہ نہیں؟
جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، وہ لاہور کے ایک مولوی انشاء اللہ صاحب تھے، اُنہوں نے کہا کہ: ”ہم آپ کو روپے کی امداد دیتے ہیں، ہم آپ کو ..... آپ باہر مشن 1592 قائم کیجئے، اور اس طرح ہم اور آپ مل کر اشاعتِ دین کا کام کرتے ہیں۔“ اب اگر وہ بات ہوتی، جیسا کہ آپ نے فرمایا ہے، تو ہمیں یہ Offer (پیشکش) اُس وقت قبول کرلینی چاہئے تھی۔ ہمیں مالی امداد بھی ملتی تھی، ہماری شہرت بھی ہوتی تھی، ہمارے لئے راستے بھی کھلتے تھے۔ ہم نے اُس سے انکار کردیا۔ کیا وجہ؟ معلوم ہوا کہ ہمارے سامنے نہ سستی شہرت حاصل کرنا مقصود تھا، نہ روپیہ لینا مقصود تھا۔ کیا وجہ ہوئی کہ ہم نے اس کا انکار کیا؟ وہ واقعہ یہ ہے....... چھپا ہوا واقعہ ہے، خفیہ نہیں ہے۔ "Review" کی فائلوں میں وہ بحث موجود ہے....... ہم نے اس لئے کہا، اُنہوں نے کہا کہ: ”جناب آپ وہاں جاکے قرآن کی وہ تشریح نہ پیش کیجئے جو کہ مرزا صاحب نے آپ کو دی۔ تشریح وہ پیش کیجئے جو ہم بتاتے ہیں۔“ تو یہ تو عجیب بات تھی کہ ہم ایک شخص کو خدا کا ایک مقرب سمجھتے ہیں، اُس کے متعلق یہ سمجھتے ہیں کہ اُس کو خدا تعالیٰ رہبری کرتا ہے، وہ قرآن مجید کے معارف جانتا ہے، وہ قرآن شریف کی ایسی تفصیلات اور تشریحات دیتا ہے جو دُوسروں کے ہاں نہیں ہیں، اور ہم یہ عہد کر کے چل پڑیں کہ ہم نے وہاں اُن کا نام پیش نہیں کرنا! میں نے جو گزارش کی ہے وہ یہ ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، آپ جو کہتے ہیں: ”ہم.....“ میں نے کہا کہ مرزا صاحب نے یہ اعتراض کیا تھا، یا کسی اور نے اعتراض کیا تھا۔
جناب عبدالمنان عمر: یہ مرزا صاحب کی زندگی ہی کا واقعہ ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: اُنہوں نے خود اعتراض کیا تھا کہ ......
٧٣
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
جناب عبدالمنان عمر: یہ اُن کے ساتھ تو یوں گفتگو نہیں چل رہی تھی، یہ گفتگو خواجہ صاحب، مولانا محمد علی صاحب اور مولوی انشاء اللہ خان صاحب کے درمیان تھی۔ جناب یحییٰ بختیار: اور خواجہ صاحب اور مولانا محمد علی راضی تھے اس بات پر کہ....... 1593 جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، مولانا صاحب کا چھپا ہوا بیان موجود ہے........ جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک ہے....... جناب عبدالمنان عمر: ......کہ ہم اس کے لئے....... جناب یحییٰ بختیار: ضمناً میں نے سوال پوچھا۔ جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔ تو میں گزارش جو کر رہا تھا یہ تھی کہ ہم لوگوں نے وہاں قرآن کی وہ تشریح جو ہم سمجھتے ہیں......مثال میں دیتا ہوں، کوئی راز نہیں ہے ہمارا......میں مثال یہ دیتا ہوں کہ ہم حضرت نبی کریم ﷺ کے بعد کسی قسم کے نئے یا پُرانے نبی کی آمد کے قائل نہیں ہیں۔ اب یہ تشریح ہے ہماری جو بعضے لوگوں کو پسند نہیں ہے۔ بعضے لوگ کہتے ہیں کہ پُرانا نبی آ سکتا ہے، نیا نہیں آ سکتا ہے۔ اب یہ تشریح میں ہمارا اور اُن کا اختلاف ہے۔ ہم وہاں جا کر کبھی یہ نہیں کریں گے کہ جناب چار پیسے ادھر سے مل گئے ہیں، چلو جی! وہاں جا کے کہہ دوں پُرانا آ سکتا ہے۔ ہم تشریح وہ کریں گے جو ہم سمجھتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کامل طور پر خاتم النبیین تھے، اور کلیۃً ہر قسم کی نبوّت، کوئی شکل نہیں نبوّت کی جو نبی کریم ﷺ کے بعد جاری ہو۔ اس لئے ہم وہاں جا کے نئے اور پُرانے والی بات نہیں کرتے ہیں، ہم ہر قسم کی نبوّت کو ختم کرنے کا وہاں اعلان کرتے ہیں۔
میں جو گزارش کر رہا تھا وہ یہ تھی کہ ہم لوگوں نے وہاں مرزا صاحب کو ایک مستقل شخصیت کے طور پر پیش نہیں کیا، ہم نے مرزا صاحب کو ایک ایسا انسان پیش نہیں کیا جس کے بعد کفر و اسلام کی نئی تفریقیں سامنے آجائیں، جس کے بعد ایک نیا معاشرہ قائم ہونے لگ جائے، جس کے بعد ایک نیا دین اور ایک نیا مذہب اور ایک نئی ملت قائم ہونے لگ جائے۔ یہ چیز ہم نے کبھی وہاں پیش نہیں کی۔ میں گزارش کر رہا تھا کہ آپ نے فرمایا کہ: ”جناب! کاہے کے لئے آپ نے، مرزا صاحب نے یہ جماعت قائم کی؟“ 1594 میں نے عرض کیا کہ اُس کے دو (٢) مقاصد تھے۔ ایک یہ کہ انسان کو بدیوں سے نکالا جائے۔ دوسرا یہ کہ اُس کی، اسلام کی دُنیا میں اشاعت کی جائے اور اُس کے لئے اُنہوں نے کچھ شرائط بیعت مقرّر کئے تھے جو آپ کے ریکارڈ میں موجود ہیں، آپ ملاحظہ فرما چکے ہیں۔ میں صرف اُس کی دو (٢) چیزوں کی طرف توجہ دلانا
٧٢
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
چاہتا ہوں۔ ایک اُس کا یہ ہے کہ مقصد کیا ہے؟ یہ کہ دین اور دین کی عزت اور ہمدردیاں۔ اسلام کو اپنی جان، اپنے مال اور اپنی عزت، اپنی اولاد اور اپنے ہر ایک عزیز سے زیادہ عزیز سمجھے گا۔ ایک مقصد یہ تھا اور یہ دس (١٠) شرائطِ بیعت ہیں جن میں سے نو (٩) چیزیں وہ اسی قسم کی ہیں۔ صرف دسویں شرط جو ہے، جس سے آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ ہم نے مرزا صاحب کی بیعت کیوں کی؟ مرزا صاحب کے ساتھ ہم وابستہ کیوں ہوئے؟ ہم مرزا صاحب کے ساتھ کسی شکل میں وابستہ ہوئے؟ وہ میں آپ کے سامنے الفاظ عرض کر دیتا ہوں۔ دسویں شرط یہ ہے کہ:
”اس عاجز (یعنی حضرت مرزا غلام احمد صاحب) سے عقدِ اُخوّت محض للہ، باقرار تحت در معروف باندھ کر اس پر تا وقتِ مرگ قائم رہے گا، اور اس عقدِ اُخوّت میں بھائی کا جو بھائی چارہ ہے، اس عقدِ اُخوّت میں ایسا اعلیٰ درجے کا ہوگا، اُس کی نظیر دُنیوی رشتوں اور تعلقوں اور تمام خادمانہ حالتوں میں پائی نہ جاتی ہو۔“
یہ ہے مرزا صاحب کی بیعت لینے کی غرض! یہ ہے مرزا صاحب کے جماعت بنانے کی غرض! یہ ہے مرزا صاحب کے وہ تنظیم قائم کرنے کی غرض جس کے لئے آپ نے اس جماعت کو قائم کیا! اور اس کے لئے ، جیسا کہ میں نے عرض کیا تھا، کسی قسم کی ڈکٹیٹر شپ کی طرف وہ نہیں جماعت کو لے کر گئے، بلکہ وہی جو مشاورت جس کو ہم کہتے ہیں، شوریٰ جس کو ہم کہتے ہیں، وأمرہم شوریٰ بینہم کہ قرآن مجید کی تلقین ہے، اس کے مطابق انہوں نے ایک انجمن کی بنیاد رکھی اور اس انجمن کے قواعد و ضوابط گورنمنٹ میں رجسٹر شدہ 1595 ہیں، اور ان میں یہی مقاصد لکھے ہوئے ہیں، قرآن کی اشاعت، دین کی اشاعت، محمد رسول اللہ ﷺ کی اشاعت، اور خدمتِ اسلام، خدمتِ بنی نوع انسان، خدمتِ تعلیم۔ یہ چیزیں ہیں جو ہمارے اغراض و مقاصد ہیں، اور یہ وہ چیزیں ہیں جس کے گرد، جس کی وجہ سے ہم مرزا صاحب کے گرد جمع ہوئے۔
(مرزا کی جماعت بنانے کی غرض الگ امت بنانا تھا)
جناب یحییٰ بختیار: ذرا ایک، ایک سوال میں آپ سے پوچھ لوں، پھر آپ ...... اچھا جی، میں نے آپ سے پوچھا کہ آپ نے جو جماعت بنائی تھی اس کی یہ غرض نہیں تھی کہ وہ ایک علیحدہ اُمت بنائیں یا ......
جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، یا فرقہ بنائیں مسلمانوں میں، یہ بھی نہیں تھا؟ فرقہ تو بن گیا۔
٧٥
PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
جناب عبدالمنان عمر: یہ صاحب، مولانا محمد علی صاحب اور مولوی
جناب یحییٰ بختیار: اور خول
1593 جناب عبدالمنان عمر:
جناب یحییٰ بختیار: ٹھیک
جناب عبدالمنان عمر: ....
جناب یحییٰ بختیار: ضمناً
جناب عبدالمنان عمر: جو وہاں قرآن کی وہ تشریح جو ہم سمجھتے ہیں۔ مثال یہ دیتا ہوں کہ ہم حضرت نبی کریم ﷺ نہیں ہیں۔ اب یہ تشریح ہے ہماری جو ہم آسکتا ہے، نیا نہیں آسکتا ہے۔ اب یہ تشر یہ نہیں کریں گے کہ جناب چار پیسے ادھر ہے۔ ہم تشریح وہ کریں گے جو ہم سمجھتے تھے، اور کلیۃً ہر قسم کی نبوّت، کوئی شکل نہیں وہاں جاکے سنے اور پرانے والی بات نہیں کرتے ہیں۔
میں جو گزارش کر رہا تھا وہ شخصیت کے طور پر پیش نہیں کیا، ہم نے کفر و اسلام کی نئی تشریحیں سامنے آجائیں جس کے بعد ایک نیا دین اور ایک نیا مذہب کبھی وہاں پیش نہیں کی۔ میں گزارش کر آپ نے ، مرزا صاحب نے یہ جماعت مقاصد تھے۔ ایک یہ کہ انسان کو بدیوں اشاعت کی جائے اور اُس کے لئے اُنہوں میں موجود ہیں، آپ ملاحظہ فرما چکے ہیں
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
جناب عبدالمنان عمر: ”فرقہ“ کا لفظ تو جماعت کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے، تو یہ تو میں نہیں عرض کروں گا.......
جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔
جناب عبدالمنان عمر: ...... کیونکہ ١٩٠١ء میں جو مردم شماری گورنمنٹ نے کروائی تھی، اُس میں ایک خانہ اُن فرقوں کا بھی اُنہوں نے رکھا ہوا تھا، تو ہمارا جو اصطلاحی نام ہے، جو قانونی نام ہے، جس پر ہم اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں، وہ میں عرض کر دیتا ہوں، وہ ”مسلمان فرقہ احمدیہ“ ہے۔ یہ وہ رجسٹرڈ نام ہے جو کہ ١٩٠١ء کی مردم شماری سے ہمارے لئے اختیار کیا گیا۔
(مرزا صاحب کی ڈائریکشن)
جناب یحییٰ بختیار: یہ مرزا صاحب نے آپ کو ڈائریکشن دی تھی کہ آپ اپنا نام ایسے درج کروائیں؟
جناب عبدالمنان عمر: جی، جی ہاں، یہ مرزا صاحب کے لفظ ہیں......
1596 جناب یحییٰ بختیار: اب یہ بتائیے کہ........
جناب عبدالمنان عمر: ...... ”مسلمان فرقہ احمدیہ۔“
جناب یحییٰ بختیار: ...... کہ مرزا صاحب کی ڈائریکشنز اور ہدایات کے مطابق آپ کے باقی مسلمانوں سے سوشل، Religious مذہبی تعلقات کیا کیا ہیں؟
جناب عبدالمنان عمر: مسلمانوں کے ساتھ، تو بات یہ ہے جی کہ جیسا میں نے عرض کیا، اگر ہم......
جناب یحییٰ بختیار: اُن ہدایات کے مطابق۔
جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، اگر ہم شروع سے اس بات کے قائل ہوتے جو مرزا صاحب نے کی، یعنی سارے مسلمان ملک کے، تو شاید یہ مصیبت جس سے ہم دوچار ہیں، یہ پیدا نہ ہوتی۔ مرزا صاحب کا نقطہ نگاہ یہ تھا، جیسا کہ میں عرض کر چکا ہوں، کہ: ”کسی شخص سے اختلاف کی وجہ سے ............ اگر وہ اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے ............ تو اس قسم کے اختلافات نہ کرو جس کے نتیجے میں تمہیں مذہبی طور پر کوئی مصیبت پڑ جائے۔“ چنانچہ جب بہت اختلافات بڑھ گئے تھے تو اُس زمانے کا میں، ایک واقعہ مجھے یاد آیا ہے، میں عرض کرتا ہوں۔ مولانا محمد حسین بٹالوی اُس وقت زندہ تھے، تو مرزا صاحب نے یہ تجویز پیش کی کہ:
٧٦
1593 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
”دیکھو! تم لوگ گالیاں دیتے ہو، تم لوگ ہمیں مسجدوں میں جانے سے منع کرتے ہو، تم لوگ ہمارا کوئی فوت ہو جائے تو اُس کو قبرستان میں دفن نہیں ہونے دیتے ہو، کوئی شخص مسجد میں چلا جائے تو اُس کو مار مار کے نکال دیتے ہو، اس سے اسلام کمزور ہوتا ہے، تم ہم سے سات سال کے لئے ایک معاہدہ کر لو، وہ معاہدہ کیا ہے؟ کہ تم ہمیں صرف خدمتِ اسلام کا موقع دے دو، اور پھر اُس کے نتائج پر نگاہ رکھو۔ اگر ہم دُنیا میں غیر معمولی طور پر اسلام کو فتح یاب نہ کردیں اور اُن علاقوں 1597 میں جہاں کہ محمد رسول اللہ ﷺ کا نام جو ہے نہیں پہنچا، خدا کا نام جہاں نہیں پہنچا، اگر ہم اُن علاقوں کو محمد رسول اللہ ﷺ کے قدموں میں لا کے گرا نہ دیں اور ایک عظیم الشان تغیر دُنیا میں پیدا نہ کردیں، تو آپ پھر ہمارا گریبان پکڑ لیجئے۔“
یہ تھا مرزا صاحب نے جو اُس وقت بھی پیش کیا، یہ ہم آج بھی اُس کو پیش کرتے ہیں۔ ہم ہر وقت اس کے لئے تیار ہیں۔
آپ کا فرمان یہ تھا کہ اس جماعت کے بنانے کے نتیجے میں، میں نے عرض کیا، کہ اس کے بنانے کے نتیجے میں کسی قسم کا مذہبی افتراق یا مذہبی اختلاف یا مذہبی لڑائی یا مذہبی دنگا فساد کبھی بھی احمدیوں نے نہیں کیا، پوری ہسٹری میں یہ واقعہ دیکھ لیجئے۔
جناب یحییٰ بختیار : نہیں، نہیں، میں نے نہیں کہا، یہ دیکھیں، میں نے نہیں کہا کہ احمدیوں نے دنگا فساد کیا۔ دیکھئے، مولانا! میں ......
جناب عبدالمنان عمر : آپ نے نہیں فرمایا۔
جناب یحییٰ بختیار : نہیں، میں یہ عرض کر رہا تھا کہ جب مرزا صاحب نے اپنی جماعت بنائی ......
جناب عبدالمنان عمر : جی۔
(مسلمان مرزا صاحب کے مخالف کیوں ہوئے؟)
جناب یحییٰ بختیار : ...... پھر وہ فرقہ تھا یا جماعت تھی، وہ تبلیغ کا کام کر رہے تھے یا اپنا فرض سمجھتے تھے، اس کے نتیجے میں مسلمان کا بڑا سخت Reaction (ردِعمل) ہوا ہے کہ آپ کہتے ہیں کہ قبرستان میں نہیں دفن ہونے دیتے تھے، مسجدوں میں نہیں جانے دیتے تھے، احمدیوں کو ایک قسم کا Persecute (تشدد) کرنا شروع کیا اُنہوں نے، آپ کے نقطہ نظر سے ......
جناب عبدالمنان عمر : ایک طبقے نے۔
٧٧
LY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
جناب عبدالمنان عمر : "فرقہ" کا ہے، تو یہ تو میں نہیں عرض کروں گا ......
جناب یحییٰ بختیار : ہاں ۔
جناب عبدالمنان عمر : ...... کیونکہ تھی، اُس میں ایک خانہ اُن کا فرقوں کا بھی اُنہوں قانونی نام ہے، جس پر ہم اپنے آپ کو پیش کرتے احمدیہ" ہے۔ یہ وہ رجسٹرڈ نام ہے جو کہ ١٩٠١ء کی مر
(مرزا صاحب
جناب یحییٰ بختیار : یہ مرزا صاحب ایسے درج کروائیں؟
جناب عبدالمنان عمر : جی، جی ہاں
1596 جناب یحییٰ بختیار : اب یہ بتا
جناب عبدالمنان عمر : ......"مسلم
جناب یحییٰ بختیار : ......کہ مرزا صا کے باقی مسلمانوں سے سوشل ، Religious
جناب عبدالمنان عمر : مسلمانوں کیا، اگر ہم ......
جناب یحییٰ بختیار : اُن ہدایات کے
جناب عبدالمنان عمر : جی ہاں، ا صاحب نے کی، یعنی سارے مسلمان ملک کے ب نہ ہوتی۔ مرزا صاحب کا نقطہ نگاہ یہ تھا، جیسا کہ می کی وجہ سے .......... اگر وہ اپنے آپ کو مسلما کرو جس کے نتیجے میں تمہیں مذہبی طور پر کوئی م بڑھ گئے تھے تو اُس زمانے کا میں، ایک واقعہ مجھے بٹالوی اُس وقت زندہ تھے، تو مرزا صاحب نے یہ
٦
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
1598 جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں، تو آخر کیوں...؟
جناب عبدالمنان عمر: وہ اس لئے جی.......
جناب یحییٰ بختیار: ......کیا بات تھی جو مرزا صاحب نے کہی کہ جس پر وہ اتنے غصے میں آگئے؟
جناب عبدالمنان عمر: وہ میں عرض کرتا ہوں جناب! کہ بات یہ ہے کہ کسی کا غصے میں آنا، کسی کا ناراض ہونا، کسی کا اس قدر اشتعال میں آجانا اور ایسے ایسے اقدام کرنا، اس کے لئے قطعاً قطعاً اس چیز کی ضرورت نہیں ہے کہ اُس شخص نے کوئی بڑا ہی بھیانک فعل کا ارتکاب کیا ہے۔ ایسی ایسی لڑائیاں ہمارے اس ملک میں ہوئی ہیں کہ کسی شخص نے آمین بالجہر کہہ دی ہے، کسی شخص نے تشہد میں انگلی اٹھا دی ہے، اور اس قسم کے معمولی فروعی اختلافات جو سب کے بیان ہیں.......
جناب یحییٰ بختیار: مولانا! یہ، یہ آپ دُرست فرما رہے ہیں، میں وہ نہیں کہہ رہا۔ ایک بات، ایک آدمی غصے میں کوئی بھی بات کر جاتا ہے، بعد میں سوچتا ہے۔ مگر یہ ایک مسلسل ستر (٧٠)، اُسّی (٨٠) سال سے چیز آ رہی ہے.......
جناب عبدالمنان عمر: ہاں جی۔
جناب یحییٰ بختیار: .......کہ احمدیوں کے خلاف بڑا سخت Reaction (ردّعمل) ہوتا ہے۔ باقی آپ نے دُرست فرمایا کہ سارے مسلمان فرقے ایک دُوسرے کو کافر کہتے رہتے ہیں۔ مگر یہ Reaction نہیں ہوا کبھی کہ نماز مت پڑھو اکٹھی، شادیاں مت کرو، کفن مت دو اِن کو، دفن مت ہونے دو۔ یہ Reaction کیوں ہوا اتنا؟
جناب عبدالمنان عمر: جناب والا! میں بڑے ادب سے عرض کروں گا کہ یہ دونوں باتیں مجھے تسلیم نہیں، نہ ١٩٥٣ء سے پہلے اس قسم کا دنگا اور فساد کبھی بھی ہوا ہے۔ وہ واقعات ملک گیر نہیں تھے، وہ جیسا کہ اُس وقت کی منیر انکوائری کمیٹی میں تحقیق کے بعد.......
(بغیر پولیس کے مرزا صاحب تقریر نہیں کر سکتے تھے کیوں؟)
1599 جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں سمجھتا ہوں کہ مرزا صاحب کے زمانے میں...... جہاں تک میں نے حالات پڑھے ہیں، اور میں آپ کو سناؤں گا، آپ کو ان سے اِتفاق ہو یا نہ ہو....... جب تک کہ بہت زیادہ پولیس کی Protection نہیں ہوتی تھی، مرزا صاحب کسی جگہ
٧٨
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
تقریر نہیں کر سکتے تھے اور زیادہ مخالف عیسائی اور آریہ سماجی نہیں تھے، بلکہ مسلمان تھے۔ حالانکہ ایک ایسا اسٹیج تھا کہ مسلمانوں کے وہ ہیرو تھے، ایک ایسا اسٹیج تھا جب وہ آریہ سماجیوں سے بحث کرتے تھے، اُن کے جوابات دیتے تھے، عیسائیوں کے جوابات دیتے تھے۔ تو جب اُنہوں نے دعویٰ کیا، آپ سمجھتے ہیں اُنہوں نے نہیں کیا، بہر حال جو Impression (تاثر) پڑا مسلمانوں پر، پھر اُنہوں نے کہا کہ: ”میں مہدی ہوں، میں مسیح موعود ہوں یا نبی ہوں یا اُمتی نبی ہوں۔“ اُس کے بعد بڑا Sharp Reaction ہوا ہے۔
جناب عبدالمنان عمر: جناب عالی! میں پھر گزارش کروں گا، یہ جو مرزا صاحب کے الفاظ آپ نے بیان فرمائے ہیں، یہ ”توضیح مرام“ میں موجود ہیں، جو اُن کی بالکل ابتدائی تصنیفات میں سے ہے، یعنی ”براہین احمدیہ“ کے بعد وہی کتاب ہے۔ یہ کہنا کہ اُس وقت مرزا صاحب نے ایسی باتیں نہیں کہی تھیں، یہ باتیں اُس وقت بھی کہی تھیں۔ دُوسرا آپ نے فرمایا کہ اُن کو کبھی بھی تقریر کی اجازت نہ دی گئی، وہ پبلک میں نہ آسکے .......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، اجازت تھی مگر پولیس کی بہت زیادہ Protection (حفاظت) تھی۔
جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، میں، میں اس سے اختلاف کرنے کی جرأت کروں گا۔ میں آپ کو دو (٢) سفروں کے حالات آپ کے سامنے رکھوں گا۔ مرزا صاحب نے ١٩٠٤ء میں غالباً جہلم کا سفر کیا ہے۔ کوئی فوج نہیں، کوئی پولیس نہیں، کوئی Protection 1600 نہیں، مرزا صاحب کے مریدوں کا کوئی اجتماع نہیں، کچھ بھی نہیں۔ مرزا صاحب آتے ہیں اور ہزار در ہزار انسان جو ہے اُن کے گرد جمع ہو گیا ہے، اور اُن کی باتیں سنتا ہے اور اُن کی پذیرائی کرتا ہے۔ تو یہ کہنا کہ جناب وہ کبھی بھی نہیں ملا، یہ واقع نہیں ہے۔ میں نے جو کچھ گزارش کی ......
جناب یحییٰ بختیار: تبھی ہوا ہوگا، عام طور پر نہیں۔
جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، میں تو ایک واقعہ عرض کرتا ہوں۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں آپ سے .......
جناب عبدالمنان عمر: میں دُوسرا واقعہ سیالکوٹ کا عرض کرتا ہوں۔ تیسرا واقعہ میں آپ کو لاہور کا عرض کرتا ہوں۔ آپ کا ایک مضمون پڑھا گیا جس میں مرزا صاحب خود تشریف رکھتے تھے، جو دُنیا کی بہت سی زبانوں میں اسلامی اُصول کی فلاسفی پر شائع ہوا۔ یہ پڑھا گیا اور اُس وقت کے جو اُس کے Moderator تھے، اُس وقت کے صدر تھے، جو لوگ اُس میں حاضر
٧٩
1596 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
تھے، جو نمائندے اخبارات کے اُس وقت موجود تھے......
جناب یحییٰ بختیار: یہ دیکھیں ہمیں اس کا علم ہے جی۔ ١٨٩٦ء کی بات کر رہے ہیں آپ۔ میں اُس وقت کی بات نہیں کر رہا، میں آپ کو یہ حوالے دوں گا کہ جہاں جہاں، لاہور میں بھی، اس میٹنگ میں کتنی پولیس موجود تھی، جب اُن کو لے آئے وہاں سے، امرتسر میں کتنی موجود تھی، سیالکوٹ میں کتنی موجود تھی۔
جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، یہ صرف دہلی کا ایک واقعہ ہے جس میں وہ......
جناب یحییٰ بختیار: خیر، وہ بات اور ہو جاتی ہے۔ آپ مجھے......
جناب عبدالمنان عمر: وہ اور بات ہے، وہ ایک مناظرے کا رنگ تھا۔
Mr. Yahya Bakhtiar: We will have ......
(جناب یحییٰ بختیار: ہم کریں گے......)
1601 جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔ تو......
Mr. Yahya Bakhtiar: ...... break?
(جناب یحییٰ بختیار: وقفہ کریں گے......)
جناب عبدالمنان عمر: میں عرض یہ کر رہا تھا کہ مرزا صاحب......
جناب یحییٰ بختیار: ابھی آپ......
جناب عبدالمنان عمر: یہ ضروری نہیں ہوتا......
جناب یحییٰ بختیار: بعد میں، پھر بعد میں۔
محترمہ قائم مقام چیئرمین: ابھی ہم بریک کریں گے۔
جناب یحییٰ بختیار: لنچ کے لئے بریک کریں گے۔
محترمہ قائم مقام چیئرمین: پھر ساڑھے پانچ بجے آئیے گا۔
----------
The Delegation ........
----------
جناب یحییٰ بختیار: ساڑھے پانچ ، ساڑھے پانچ ۔
Madam Acting Chairman: The Delegation is allowed to leave. You will have to come at 5:30 p.m.
٨٠
Y OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
تھے، جو نمائندے اخبارات کے اُس وقت موجود
جناب یحییٰ بختیار: یہ دیکھیں ہمیں آپ۔ میں اُس وقت کی بات نہیں کر رہا، میں آ بھی، اس میٹنگ میں کتنی پولیس موجود تھی، جب تھی، سیالکوٹ میں کتنی موجود تھی۔
جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں،
جناب یحییٰ بختیار: خیر، وہ بات
جناب عبدالمنان عمر: وہ اور بات
We will have ......
(جناب یحییٰ بختیار: ہم کریں گے
1601 جناب عبدالمنان عمر: جی ہا
...... break?
(جناب یحییٰ بختیار: وقفہ کریں؟
جناب عبدالمنان عمر: میں عرض
جناب یحییٰ بختیار: ابھی آپ...
جناب عبدالمنان عمر: یہ ضروری
جناب یحییٰ بختیار: بعد میں، پھر
محترمہ قائم مقام چیئرمین: ابھی
جناب یحییٰ بختیار: لنچ کے لئے
محترمہ قائم مقام چیئرمین: پھر
tion .......
جناب یحییٰ بختیار: ساڑھے پا
irman: The Delegation is to come at 5:30 p.m.
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
(محترمہ قائمقام چیئرمین: وفد کو جانے کی اجازت ہے، وفد ٥:٣٠ بجے شام واپس آئے)
کتاب؟ کیا آپ کی ہیں؟ ہوں۔ دروازے بند کر دیں۔ ہاں، چھوڑ جایئے۔
Members are requested to keep sitting.
(ممبران تشریف رکھیں)
نہیں آپ جاسکتے ہیں۔
(The Delegation left the Chamber)
(وفد ہال سے باہر چلا گیا)
----------
Madam Acting Chairman: The Attorney-General has to say anything? Any member wants to say something?
(محترمہ قائمقام چیئرمین: اٹارنی جنرل صاحب نے کچھ کہنا ہے؟ یا کوئی رکن کچھ کہنا چاہتا ہے؟)
1602 [The Special Committee adjourned for lunch break to meet at 5:30 p.m.]
(خصوصی کمیٹی کا اجلاس دوپہر کھانے کے لئے ملتوی ہوا، پھر ساڑھے پانچ بجے شروع ہوگا)
----------
[The Special Committee re-assembled after lunch break. Madam Acting Chairman (Dr. Mrs. Ashraf Khatoon Abbasi) in the Chair.]
(خصوصی کمیٹی کا اجلاس دوپہر کھانے کے بعد میڈم چیئرمین کی صدارت میں ہوا)
----------
(The Delegation entered the Chamber)
(وفد ہال میں داخل ہوا)
----------
٨١
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
Madam Acting Chairman: Yes, Mr. Attorney-General.
(محترمہ قائمقام چیئرمین: جی اٹارنی جنرل صاحب)
(مرزا صاحب کی ہر جگہ مخالفت کیوں ہوتی تھی؟)
جناب یحییٰ بختیار: میں آپ سے سوال پوچھ رہا تھا کہ جہاں بھی مرزا صاحب جاتے تھے لیکچر دینے کے لئے، تو بڑی سختی سے مخالفت ہوتی تھی اور جو شخص نبوت کا دعویٰ نہ کرے اور اس بارے میں کوئی غلط فہمی نہ ہو تو کیوں اُن کی سخت مخالفت ہوتی تھی؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں، ایک دفعہ ہی مخالفت ہوئی تھی جب دہلی گئے تھے۔ باقی جگہ مخالفت نہیں ہوتی رہی اور صرف پولیس کی Protection (حفاظت) میں ہی جلسے سے خطاب کر سکتے تھے اور شاذ و نادر ہی انہوں نے جلسے سے خطاب کیا ہو جہاں پولیس کی Protection (حفاظت) نہ ہو۔ تو اُس پر آپ نے فرمایا کہ وہاں گئے تھے جہلم۔ جہلم میں کوئی جلسہ یا لیکچر دینے نہیں گئے تھے، مقدمے کے سلسلے میں گئے تھے۔ وہاں نہ کوئی انہوں نے لیکچر دیا۔ اُس کے علاوہ جہاں تک لاہور کا تعلق تھا، آپ نے کہا کہ انہوں نے ١٨٩٦ء میں لیکچر دیا تھا۔ تو اس لیکچر میں وہ خود موجود نہیں تھے۔
جناب عبدالمنان عمر: موجود تھے۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہاں جو میرے پاس ریکارڈ ہے، نہیں تھے، وہ نہیں تھے۔ اُدھر سے وہ لیکچر اُن کا پڑھ کر سنایا گیا تھا وہاں۔ ایک اور لیکچر میں موجود تھے، شاید آپ اس کی طرف ......
1603 جناب عبدالمنان عمر: لاہور کا لیکچر ”لیکچر لاہور“ کے نام سے ......
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، وہ ایک اور ہے، اُس میں وہ موجود تھے۔
جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔
(مرزا بشیرالدین محمود کی گواہی)
جناب یحییٰ بختیار: یہ مرزا بشیرالدین محمود صاحب جو ہیں، انہوں نے اُن کی ایک بائیو گرافی لکھی تھی:
"Ahmad, the Messenger of the latter days" (احمد، آخری دنوں کا پیغمبر ) یہ اُردو میں لکھی تھی۔ اُس کا یہ ترجمہ ہوا ہے۔ تو یہ تو میں نہیں کہتا کہ جو کہہ رہے ہیں،
٨٢
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
دُرست کہہ رہے ہیں، مگر وہ موقع پر موجود رہے ہیں اور وہ یہ لاہور میں جو لیکچر دیا، اُس وقت وہ سین Describe (پیش) کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں:
"Sinse it had been known by experience that wherever he went, people of every religion and sect displayed a keen animosity towards him....."
(یہ بات تجربے میں آئی تھی کہ وہ جہاں کہیں بھی گیا ہر طبقے اور مذہب کے لوگوں نے اس کی دشمنی کا مظاہرہ کیا)
"...... especially the so-called Musalmans."
خاص طور پر وہ جو مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔
"The police authorities had on the occasion made very admirable arrangements for his safety."
(اس موقع پر پولیس حکام نے اس کی حفاظت کے لئے قابلِ تعریف انتظامات کئے تھے)
اب میں وہ Arrangements (انتظامات) آپ کو پڑھ کر سناتا ہوں، جب وہ جلسے سے خطاب کر کے نکل رہے ہیں، وہ کہتے ہیں:
"They had, therfore, taken special precaution to ensure the safety of the Promised Messiah on his return journey from the lecture hall. First rode a number of mounted plice. Then came the carriage bearing the Promised Messiah. This was followed by a member of policemen on foot. After them there rode a number of mounted men. Thereafter walked another party of the policemen. Thus was the Promised Messiah escorted back to his residence with the greatest possible care."
(..... چنانچہ انہوں نے مسیح موعود کی لیکچر ہال سے واپسی پر اس کی حفاظت کے لئے خصوصی احتیاطی تدابیر اختیار کی تھیں۔ سب سے آگے پولیس گھڑ سواروں کا دستہ تھا، اس کے پیچھے مسیح موعود کی بگھی تھی، جس کے پیچھے بہت سارے پیدل پولیس والے تھے، پھر ان کے پیچھے
٨٣
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
گھڑ سواروں کا ایک اور دستہ تھا، اور آخر میں پیدل پولیس کی ایک اور پارٹی تھی۔ اس طرح مسیح موعود کو اپنی جائے رہائش تک انتہائی احتیاط کے ساتھ واپس پہنچایا گیا)
1604 تو آپ دیکھیں گے کہ جہاں بھی مرزا صاحب گئے ہیں، وہ دہلی ہو، امرتسر ہو، اُس میں یہی حالت رہی ہے کہ جہاں وہ لیکچر دیتے رہے ہیں، وہاں پر بہت ہی زیادہ پولیس والے ہوتے اور خاص طور پر اُن کا ایک شکوہ مرزا بشیر الدین صاحب کو ہے: ”جہاں یوروپین پولیس والے نہیں ہوتے، باقی پولیس والے اتنا احتیاط نہیں کرتے تھے۔“ تو میں یہ آپ سے پوچھ رہا تھا کہ کیا وجہ تھی کہ مسلمان اتنے زیادہ اُن کی مخالفت کر رہے تھے؟ اگر آپ کہتے ہیں کہ اُنہوں نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا، ایک محدث تھے، اور یہ اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ دعویٰ کرنے سے پیشتر مسلمان اُن کی عزت کرتے تھے اور انہوں نے کافی خدمت کی۔ مگر جب اُنہوں نے یہ دعویٰ کیا مہدی کا اور مسیح موعود کا، یا نبی کا، تو اتنی سخت مخالفت ہوئی، اور آپ کہتے ہیں وہ دعوے کی کوئی مخالفت نہیں ہوئی، نہ اُس پر کوئی جھگڑا تھا، نہ اُس پر کوئی شک تھا، یہ سب ١٩١٣-١٤ء کے بعد شروع ہوا۔
جناب عبدالمنان عمر: میری گزارش یہ ہے، میں عرض یہ کر رہا تھا کہ جب کسی شخص کی مخالفت ہو تو ضروری نہیں ہوتا کہ اُس مخالفت کے اسباب اُس شخص کی طرف سے پیدا کئے گئے ہوں، اور یہ بھی ضروری نہیں ہوتا کہ وہ کوئی ایسا دعویٰ کر رہا ہو جو صحیح نہ ہو۔ اس کے بعد میں نے یہ گزارش کی تھی کہ مرزا صاحب نے جب یہ دعویٰ کیا تو اس کی ایک ہسٹری ہے ہمارے پاس، اس کی ایک تاریخ ہے ہمارے سامنے۔ جناب والا! مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی ایک کتاب کا حوالہ میرے سامنے رکھا ہے۔ میں بڑے ادب سے گزارش کروں گا کہ میں اُن کو کسی جہت سے بھی اس قابل نہیں سمجھتا ہوں کہ ان کی باتوں پر اعتماد کیا جائے یا ان کی کسی کتاب کو بطور ریفرنس کے ایک مسلمہ...........!
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، دیکھیں ناں، مرزا صاحب! میرا یہ مطلب نہیں ہے۔ میں نے کہا ممکن ہے کہ یہ غلط ہو گیا ہو۔ میں نے یہ کہا اور میں یہ کہتا ہوں کہ ہمارے 1605 پاس کوئی اس کے علاوہ اور شہادت نہیں ہے جس کو یہ رَد کرے۔ ایک شخص موجود رہا ہے، باپ کے ساتھ جاتا رہا ہے، یہ بھی اپنے باپ کی عزت کرتا تھا، اور ساتھ ہی یہ بھی کہتا ہے کہ جہاں بھی میرا والد جاتا گیا، لوگ اُن کو گالیاں دیتے تھے۔
جناب عبدالمنان عمر: میں عرض کرتا ہوں کہ جب اُن کے والد فوت ہوئے، اُن کی عمر زیادہ سے زیادہ صرف اُنیس (١٩) سال تھی اور جب کا یہ واقعہ بیان فرما رہے ہیں اُس وقت
٨٤
1601 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
آپ اندازہ کر لیں کہ اُن کی عمر کیا ہوگی؟
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مگر یہ کہ ایک بچہ اگر آٹھ سال کا بھی ہو، دس کا بھی ہو، جو پولیس ہوتی ہے، پولیس پارٹی ہوتی ہے، اور اس کی اور جگہ بھی Evidence (شہادت) مل جاتی ہے کہ مرزا صاحب جب لیکچر پر جاتے تھے تو بہت ہی زیادہ پولیس کی ضرورت پڑتی تھی۔
جناب عبدالمنان عمر: تو میں گزارش یہ کر رہا تھا کہ جس کا ہمارے سامنے حوالہ دیا گیا، وہ ایک حجت نہیں ہے۔
دوسری گزارش میں یہ کر رہا ہوں کہ جناب والا! حضرت مرزا صاحب ١٣؍ فروری ١٨٣٥ء کو پیدا ہوئے اور اس کے بعد یہ ١٨٦٦ء سے ١٨٦٨ء تک سیالکوٹ میں مقیم رہے۔ اُس وقت اُن کی پوزیشن یہ تھی کہ ”زمیندار“ اخبار کے مولانا ظفر علی خان کے والد مولانا سراج الدین صاحب بھی اُس زمانے میں وہاں تھے۔ اُس کی شہادت اس بارے میں یہ ہے کہ مرزا صاحب نے ایک متقی اور پارسا اور دین دار انسان کی سی زندگی بسر کی۔ مجھے اجازت دیجئے گا، میں ذرا تھوڑی سی ہسٹری...... اُن کی بات آپ نے کی ہے اس لئے مجھے Quote (حوالہ دینا) کرنا پڑ رہا ہے...... اور وہیں علامہ اقبال کے اُستاذ شمس العلماء مولانا میر حسن صاحب اُس زمانے میں وہاں تھے۔ اُنہوں نے بھی جو شہادت مرزا صاحب کے کام کے بارے میں دی، وہ یہ تھی کہ وہ نہ صرف یہ کہ متقی، بزرگ اور پاکباز انسان تھے، بلکہ یہ کہ انہوں نے، اسلام کی اشاعت کا اُن کو اتنا درد تھا کہ وہ اپنے اوقات کا بہت بڑا حصہ یا قرآن مجید کے 1606مطالعے میں صرف فرماتے تھے، اور یا پھر وہ عیسائیوں وغیرہ کے مقابلے میں مناظرے کر کے اور اسلام کی حقانیت کو ثابت کرنے میں اپنے اوقات کو صرف کرتے تھے۔ اِس کے بعد انہوں نے ١٨٨٠ء سے لے کر ١٨٨٤ء تک، یہ ان کی تصنیفی زندگی کا ایک باقاعدہ آغاز ہوتا ہے، اور انہوں نے اس میں وہ اپنی معرکۃ الآرا کتاب لکھی جس میں سب سے زیادہ اُن کے الہامات اور پیش گوئیاں درج ہیں۔ یہ میں خاص طور پر جناب کی خدمت میں گزارش کرتا ہوں کہ یہ وہ کتاب ہے جس میں اُنہوں نے اپنے بہت سے الہامات اور اپنی وحی کو بیان کیا ہے۔ یہ ہے جہاں سے نقطہ آغاز ہونا چاہئے اُس شخص کی مخالفت کا۔ لیکن اس کے مقابلے
١؎ لاہوری اور قادیانی دونوں کا جھوٹ پر اتفاق ہے، یہ تاریخ پیدائش غلط بیان کر رہے ہیں۔ خود مرزا قادیانی کتاب البریہ میں لکھتے ہیں کہ: ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء میں میری پیدائش ہوئی۔ خوب تماشا...! ”نبی صاحب“ فرماتے ہیں کہ میں ٤٠-١٨٣٩ء میں پیدا ہوا، ”اُمت“ کہتی ہے نہیں جی، آپ ١٨٣٥ء میں پیدا ہوئے۔ اچھا تھا پیدا ہی نہ ہوتے نہ اختلاف پڑتا!
٨٥
Y OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
گھڑ سواروں کا ایک اور دستہ تھا، اور آخر میں موعود کو اپنی جائے رہائش تک انتہائی احتیاط کے 1604تو آپ دیکھیں گے کہ جہاں بھـ میں یہی حالت رہی ہے کہ جہاں وہ لیکچر دینے ہوتے اور خاص طور پر اُن کو ایک شکوہ مرزا بشیر الـ نہیں ہوتے، باقی پولیس والے اتنا احتیاط نہیں کر تھی کہ مسلمان اتنے زیادہ اُن کی مخالفت کر رہے دعویٰ نہیں کیا، ایک محدث تھے، اور یہ اس میں مسلمان اُن کی عزت کرتے تھے اور انہوں نے مہدی کا اور مسیح موعود کا، یا نبی کا، تو اتنی سخت مخالفت نہیں ہوئی، نہ اُس پر کوئی جھگڑا تھا، نہ اُس پر کوئی
جناب عبدالمنان عمر: میری گزار کی مخالفت ہو تو ضروری نہیں ہوتا کہ اُس مخالفت ہوں، اور یہ بھی ضروری نہیں ہوتا کہ وہ کوئی ایسا گزارش کی تھی کہ مرزا صاحب نے جب یہ دعویٰ کی ایک تاریخ ہے ہمارے سامنے۔ جناب والا حوالہ میرے سامنے رکھا ہے۔ میں بڑے ادب اس قابل نہیں سمجھتا ہوں کہ ان کی باتوں پر احـ ایک مسئلہ.............!
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں ہے۔ میں نے کہا ممکن ہے کہ یہ غلط ہو گیا ہو۔ میں کوئی اس کے علاوہ اور شہادت نہیں ہے جس کو ساتھ جاتا رہا ہے، یہ بھی اپنے باپ کی عزت کر والد جاتا گیا، لوگ اُن کو گالیاں دیتے تھے ۔
جناب عبدالمنان عمر: میں عرض عمر زیادہ سے زیادہ صرف انیس (١٩) سال تھی
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
میں واقعہ کیا ہے کہ اُس زمانے میں بڑے مقتدر لیڈر مولانا محمد حسین صاحب بٹالوی، وہ بڑے زور سے...... میں آپ کے اوقات کو زیادہ نہیں لوں گا اس میں...... وہ اس کتاب کی اتنی تعریف کرتے ہیں اور اُس کو ایک تیرہ سو سال کا ایک کارنامہ بتاتے ہیں۔ اگر وحی اور الہام جس پر کہ مرزا صاحب نے، میں نے بتایا کہ اُن کا شروع سے لے کر آخر تک موقف جو رہا، اِس دعوے کا رہا، یہ دعویٰ ہے جو انہوں نے پہلے دن پیش کیا، یہ دعویٰ ہے جو انہوں نے آخری دن تک پیش کیا۔ یہ دعویٰ اُس وقت موجود ہے، وحی اور الہام ہو رہا ہے اُن کے دعوے کے مطابق، اُس کو وہ شائع کر رہے ہیں، لیکن جو ایک بہت بڑا عالم دین ہے، وہ اُس کی تعریف کرتا ہے......
(مولانا محمد حسین بٹالوی کے علاوہ کسی عالم دین کا ذکر نہیں سنا)
جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں، سوائے اِس عالم دین کے ہم نے کسی اور کا ذکر نہیں سنا، کیا بات ہے؟
جناب عبدالمنان عمر: جی؟
جناب یحییٰ بختیار: پہلے جو ربوہ گروپ آیا تھا، انہوں نے بھی بٹالوی صاحب کا ہی حوالہ دیا ہمیں کہ ”براہین احمدیہ“ کی اتنی بڑی تعریف کی۔
جناب عبدالمنان عمر: میں ایک اور بہت بڑے انسان کا نام......
1607 جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں کہتا ہوں کہ اُس پر ہمیں کوئی شک نہیں ہے......
جناب عبدالمنان عمر: نہیں، میں ایک اور بڑے انسان کا نام لے لیتا ہوں، شیخ الحدیث مولانا نذیر حسین۔
جناب یحییٰ بختیار: اِن کا بھی ذکر کیا ہے، اِن کا بھی ذکر کیا۔
جناب عبدالمنان عمر: یہ بھی شاید نام......
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، انہوں نے ذکر کیا۔
جناب عبدالمنان عمر: تو اس لئے اُن لوگوں، انہوں نے بھی...... میں اور شخص کا ذکر......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں نہیں، اس کی بات نہیں ہے۔ دیکھیں ناں......
جناب عبدالمنان عمر: میرا پوائنٹ یہ ہے اگر وہ دعویٰ اس قابل تھا کہ لوگ اُس سے بھڑک اُٹھتے اور شروع سے لے کر آخر تک جہاں تک ہمارا......
٨٦
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
(مرزا کے دعویٰ نبوت کی بنا پر مسلمان ان کے مخالف ہو گئے)
جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں، دیکھیں، صاحبزادہ صاحب! ایک معمولی سی بات ہے، ایک کتاب لکھتا ہے ایک شخص بڑی محنت سے، چار سال لگتے ہیں، چار پانچ ان کے Volume ہیں، عام ملک میں ہمارے جو مسلمان ہیں، وہ پڑھے لکھے لوگ نہیں ہوتے۔ بہت کم لوگ پڑھتے ہیں۔ ویسے بھی اتنی بڑی کتاب کون پڑھیں گے؟ پانچ پڑھیں گے، دس پڑھیں گے، سو پڑھیں گے۔ تو لوگوں کو علم نہیں ہوتا تمہارا۔ ایک شخص یہ اشتہار جاری کر دیتا ہے کہ: ”میں نبی ہوں!“ تب لوگوں کو خیال آ جاتا ہے کہ بھئی! کیا بات ہو گئی؟ تو میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ کیا بات ہو گئی کہ ایک دم...... ایک شخص نے خدمت بھی کی، میں آپ سے اتفاق کرتا ہوں کہ عیسائیوں کے خلاف، آریہ سماجیوں کے خلاف مناظرے کئے، پمفلٹ لکھے، اشتہار لکھے، خدمت کی انہوں نے اور مسلمان ان کی بڑی قدر کر رہے تھے اور اچانک ایک دَم اتنے ان کے مخالف ہو گئے کہ ہر جگہ اُن کو گالیاں 1608 پڑ رہی ہیں، پولیس کی Protection (حفاظت) کیوں؟ اگر اُس شخص نے نبی کا دعویٰ نہیں کیا، ایسی کون سی بات تھی کہ جس سے مسلمان اتنے سیخ پا ہو گئے؟
جناب عبدالمنان عمر: میں گزارش یہ......
جناب یحییٰ بختیار: آپ یہ کہتے ہیں کہ مسلمان ناراض نہیں ہوئے، تو اور بات ہے۔ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ اُن کی مخالفت نہیں ہوئی تو اور بات ہے۔ اگر آپ مانتے ہیں کہ اُس زمانے سے شروع ہو گئی اور بڑے زور سے شروع ہے......
جناب عبدالمنان عمر: میں جو گزارش کر رہا ہوں وہ یہ نہیں ہے کہ میں ان کی کتاب ”براہینِ احمدیہ“ کی کسی عظمت کا ذکر کر رہا ہوں۔ میرا یہ موقف نہیں ہے۔ میرا موقف یہ ہے کہ مرزا صاحب کا دعویٰ شروع سے لے کر آخر تک ملہم من اللہ ہونے کا تھا، مکالمہ مخاطبہ الٰہیہ کا تھا۔ اس دعوے پر وہ پہلے دن آئے، اِس دعوے پر وہ ساری عمر رہے اور اِس دعوے پر انہوں نے اپنی زندگی کو ختم کیا۔ میرے گزارش کرنے کا منشا یہ ہے کہ اگر وہ معتقدات، اگر وہ دعوے، اگر وہ وحی، اگر وہ الہام، اگر وہ مکالمہ مخاطبہ الٰہیہ جس کا انہوں نے دعویٰ کیا تھا، اِس قدر اشتعال انگیز تھا تو کم سے کم عوام نہ سہی...... آپ کہتے ہیں کہ عوام نے نہیں پڑھا...... میں تو اُس زمانے کے چوٹی کے علماء کا ذکر کرتا ہوں، چوٹی کے لیڈروں کا ذکر کرتا ہوں، اُس زمانے کی فعال جماعت کا ذکر کرتا ہوں، کہ اُن لوگوں نے اُس کتاب کو دیکھا اور یہ نہیں کہ نظر انداز کر دیا۔ اُس کتاب کو دیکھ کے
٨٧
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
انہوں نے اس پر تبصرے کئے، اُس کتاب کو دیکھ کر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور میں گزارش کروں کہ یہ وہ کتاب ہے جس کا ہزارہا کی تعداد میں اُس زمانے میں ...... اندازہ کیجئے ١٨٨٠ء سے ١٨٨٤ء تک کا زمانہ..... اُس زمانے میں اس کتاب کا ہزارہا کی تعداد میں انگریزی زبان میں اشتہار شائع کیا گیا اور اُردو زبان میں شائع کیا گیا ہے اور اس کے نسخے، مجھے پیچھے جب جانے کا اتفاق ہوا، وہاں امریکا اور انگلینڈ 1609 میں، تو وہاں کی لائبریریوں میں اُس زمانے کے بھی رکھے ہوئے نسخے موجود تھے۔ تو یہ چیزیں جو ہیں، یہ نہیں کہ یہ کتاب Unknown (غیر معروف) رہی ہے، یہ نہیں کہ عوام کو اس کا علم نہیں ہوا ہے۔ یہ بڑے بڑے رؤسا سے لے کر عام آدمی تک اور معمولی پڑھے لکھوں سے لے کر بہت بڑے علماء تک کی نظروں سے یہ کتاب گزری ہے، اور ان کا یہ دعویٰ، اور الہام اور وحی کا، اُس میں موجود ہے اور اس کو انہوں نے پڑھا ہے، اور اُس وقت اُن کو اشتعال پیدا نہیں ہوا۔
اس کے بعد میں گزارش یہ کروں گا جناب! کہ ١٨٩٣ء میں پنجاب کی سب سے بڑی دینی جماعت انجمن حمایت اسلام اپنا ایک اجلاس منعقد کرتی ہے، اور اس کی صدارت کے لئے کس کو چنتی ہے؟ انہی مرزا صاحب کے سب سے بڑے مرید مولانا نورالدین کو۔ وہ اُن کے جلسے کی صدارت کرتے ہیں، وہ اس میں قرآن مجید کی تفسیر بیان فرماتے ہیں۔ اُس میں وہ ایک بڑا تفصیلی لیکچر دیتے ہیں۔ اگر اُن کے خلاف یہی بات تھی کہ یہ لوگ کوئی جلسہ کر ہی نہیں سکتے تھے یا عوام کو خطاب ہی نہیں کر سکتے تھے، اُن کی اتنی شدید مخالفت تھی کہ ان کے......
جناب یحییٰ بختیار: دیکھئے! میں مرزا صاحب کا کہہ رہا ہوں، آپ دوسری طرف چلے جاتے ہیں۔
جناب عبدالمنان عمر: یعنی میں مرزا صاحب کی زندگی کی بات عرض کر رہا ہوں۔ اُن کے سب سے بڑے مرید کی بات کر رہا ہوں۔
(مرزا صاحب پر ہی رہیں)
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، آپ مرید کی بات نہ کریں۔ آپ مرزا صاحب پر پہلے اگر رہیں تو بہتر ہے۔
جناب عبدالمنان عمر: تو اُس وقت بھی یہ جماعت جو ہے اپنے معتقدات، اور مرزا صاحب اپنے معتقدات کے باوجود اس قسم کے کشتنی اور گردن زدنی نہیں قرار دیئے 1610 گئے تھے۔
٨٨
1605 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12 اس کے بعد میں عرض کرتا ہوں کہ ١٨٩٦ء میں جلسہ مذاہب عالم ہوا، جس میں مرزا صاحب کا ایک مضمون پڑھا گیا۔ تو دیکھئے اگر اُس شخص کے دعوے ایسے تھے، اگر اُس کے معتقدات ایسے تھے تو ٹھیک ہے، مرزا صاحب نہ ہوں، مگر مرزا صاحب ہی کا مضمون سنایا جارہا ہے، مرزا صاحب ہی کے خیالات کو پھیلایا جارہا ہے، مرزا صاحب ہی کی Representation (تعبیر) جو اسلام کی وہ دیتے ہیں، وہ بیان کی جارہی ہے۔ تو اگر اس قدر ہی وہ خیالات ایسے تھے جو برداشت نہیں ہوسکتے تھے تو واقعہ کیا ہے؟ واقعہ یہ ہے کہ اُس وقت وہ مضمون اس قدر دلچسپی، اس قدر خاموشی کے ساتھ، اس قدر توجہ کے ساتھ سنا گیا کہ تمام لوگ جو ہیں وہ رطب اللسان تھے اُس کی خوبی کے۔ تو ایک شخص کافر ہو، بے ایمان ہو، بہت برے عقائد رکھتا ہو، بہت برے خیالات اور دعووں کا اظہار کر رہا ہو، مسلمان اُس کے خیالات کو اس طرح سنیں گے؟ یہ کہنا کہ اُن کو کسی جگہ Representation نہیں ہوتی تھی، اُن کے خیالات کو سننے کے لئے کوئی نہیں ہوتا تھا......
(مرزا کی مخالفت کیوں ہوئی)
جناب یحییٰ بختیار: میں نے یہ پوچھا آپ سے، دیکھیں، صاحبزادہ صاحب! کہ یہ اُن کی مخالفت کیوں ہوئی؟ آپ یہ بتا دیجئے۔
جناب عبدالمنان عمر: میں وہیں حاضر ہو رہا ہوں، وہی بات عرض کرنے لگا ہوں۔ تو اُس کے بعد ١٩٠٠ء کا زمانہ آتا ہے۔ انگلینڈ سے ایک پادری لفرائے آتے ہیں۔ وہ پنجاب میں ایک طوفان مچاتے ہیں عیسائیت کی تبلیغ کا، اور وہ ایک سلسلہ تقاریر شروع کرتے ہیں، ”زندہ نبی“، ”معصوم نبی۔“ اس قدر مشکلات پیدا ہوتی ہیں لوگوں کو کہ پھر مرزا صاحب ہی کی طرف رجوع کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ آپ اس کا مقابلہ کریں۔ چنانچہ اس شخص نے جو اپنا گڑھ بنایا تھا، وہ لاہور میں انارکلی کے لوہاری دروازے کی طرف کا جو گرجا ہے، وہاں انہوں نے شروع کیا اور اس کے بعد یہ شخص وہاں سے ایسا 1611 بھاگا ہے اور مرزا صاحب نے اس کا اس قدر تعاقب کیا ہے کہ وہ وہاں سے کراچی گیا، بمبئی گیا، اور آخر وہ ملک چھوڑ کر چلا گیا اور دعویٰ وہ یہ لے کر آیا تھا کہ: ”میں چند سال میں اس برصغیر کے مسلمانوں کو (نعوذ باللہ) عیسائیت کی آغوش میں لے جاؤں گا۔“ تو مرزا صاحب کو اُن لوگوں نے اپنا Representative بنایا۔ بعض لوگوں نے کہا، میں اعتراف کرتا ہوں جناب والا! اس بات کا کہ بعض لوگوں نے کہا کہ یہ کافر ہے اور یہ چیز پادری لفرائے نے پیش کی کہ جناب.......
٨٩
LY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12 انہوں نے اس پر تبصرے کئے، اُس کتاب کو دیکھ کہ یہ وہ کتاب ہے جس کا ہزارہا کی تعداد میں ١٨٨٤ء تک کا زمانہ..... اُس زمانے میں اِس اشتہار شائع کیا گیا اور اُردو زبان میں شائع کیا اتفاق ہوا، وہاں امریکا اور انگلینڈ 1609 میں ، تو و ہوئے نسخے موجود تھے۔ تو یہ چیزیں جو ہیں، یہ رہی ہے، یہ نہیں کہ عوام کو اس کا علم نہیں ہوا ہے۔ معمولی پڑھے لکھوں سے لے کر بہت بڑے علما یہ دعویٰ، اور الہام اور وحی کا، اُس میں موجود ہے اشتعال پیدا نہیں ہوا۔
اس کے بعد میں گزارش یہ کروں گا دینی جماعت انجمن حمایت اسلام اپنا ایک اجلا کس کو چنتی ہے؟ انہی مرزا صاحب کے سب ۔ کی صدارت کرتے ہیں، وہ اس میں قرآن مجی تفصیلی لیکچر دیتے ہیں۔ اگر اُن کے خلاف یہی عوام کو خطاب ہی نہیں کر سکتے تھے، اُن کی اتنی شد
جناب یحییٰ بختیار: دیکھئے! میں چلے جاتے ہیں۔
جناب عبدالمنان عمر: یعنی میں اُن کے سب سے بڑے مرید کی بات کر رہا ہوں
( مرزا صاحب
جناب یحییٰ بختیار: نہیں ، آپ اگر رہیں تو بہتر ہے۔
جناب عبدالمنان عمر: تو اُس وق صاحب اپنے معتقدات کے باوجود اس قسم کے
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
جناب یحییٰ بختیار: جی، میں مان گیا کہ اُن کی کسی نے مخالفت نہیں کی! ابھی مجھے اگلا سوال پوچھنے دیجئے۔ میں مان گیا کہ کسی نے مخالفت نہیں کی اُن کی !
جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، میں نے یہ نہیں کہا کہ کسی نے اُن کی مخالفت نہیں کی۔
جناب یحییٰ بختیار: میں اگلا سوال پوچھتا ہوں۔ اگر آپ نے ہر سوال کا اسی طرح سوال کا جواب دینا ہے تو بڑا مشکل ہو جائے گا، کیونکہ یہ ساری باتیں صاحبزادہ صاحب ! ہم سُن چکے ہیں، ایک ایک مناظرے کا ہم سُن چکے ہیں، ایک ایک بحث سُن چکے ہیں، ایک ایک حوالہ اُن کا ہم پڑھ چکے ہیں۔ یہ پندرہ دن اسی میں گزرے، اسی لئے ہم آپ کو تکلیف نہیں دینا چاہتے تھے۔
جناب عبدالمنان عمر: وہ چونکہ خفیہ تھا اس لئے ہمیں علم نہیں تھا۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں میں اس واسطے کہہ رہا ہوں کہ یہ اگر یہ......
جناب عبدالمنان عمر: میں گزارش یہ کر رہا تھا کہ یہ میرا موقف نہیں تھا......
جناب یحییٰ بختیار: لاہور کے لیکچر اُن کے آگئے، باقی لیکچر آگئے، ایک ایک پادری ایک ایک "انجام آتھم" سارے کے سارے جو وعدے تھے جو "عبداللہ آتھم" نے کہا، یہ قصے ہم سُن چکے ہیں۔
جناب عبدالمنان عمر: میں وہ قصے نہیں سنا رہا ہوں، میں Stand آپ کو اپنا یہ......
جناب یحییٰ بختیار: میں نے صرف یہ سوال پوچھا کہ آخر اگر وہ......
جناب عبدالمنان عمر: ......کہ اُن کی مخالفت کیوں ہوئی؟
جناب یحییٰ بختیار: ......اس زمانے میں وہ ہیرو تھے، ایک دم اُن کی مخالفت ہوتی ہے......
جناب عبدالمنان عمر: اسی کے متعلق میں عرض کرنے لگا ہوں کہ میں گزارش یہ کر رہا تھا جناب والا ! کہ اُن کی مخالفت کے لئے ضروری نہیں تھا کہ وہ کوئی ایسا عقیدہ پیش کرتے جس سے کہ مخالفت ہوتی، جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ یہ عقیدہ اور یہ اپنا موقف اور یہ اپنا مقام اُنہوں نے "براہین" کے زمانے میں بھی پیش کیا تھا۔
(مرزا صاحب کے زمانہ میں مسلمانوں سے سوشل تعلقات کیسے تھے؟)
جناب یحییٰ بختیار: بس ٹھیک ہے جی، ابھی میں ایک اور سوال آپ سے یہ پوچھتا ہوں، میں پوچھ رہا تھا Actually کہ آپ کے سوشل تعلقات باقی مسلمانوں کے ساتھ......
٩٠
1607 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
آپ نے کہا کہ احمدیہ فرقہ ایک علیحدہ فرقہ ہے اور ایسے ہی Census میں درج کیا گیا ١٩٠١ء میں۔ باقی مسلمان جو ہیں اُن کے ساتھ احمدی مسلمانوں کے کیا تعلقات رہے ہیں مرزا صاحب کے زمانے سے؟ آج کا میں نہیں کہتا کہ مرزا بشیر الدین ......
جناب عبدالمنان عمر: مرزا صاحب کے زمانے سے اُن کے تعلقات یہ رہے ہیں کہ مرزا صاحب کے سب سے بڑے بیٹے مرزا محمود احمد صاحب کی جو شادی ہوئی پہلی، وہ اپنے باپ کی دو بیٹیاں تھیں، اُن میں سے ایک بیٹی مرزا محمود احمد سے یعنی مرزا صاحب کے بڑے بیٹے سے بیاہی گئی، اور دُوسری بیٹی اُن کی خلیفہ اسد اللہ صاحب، جو جماعت سے تعلق نہیں رکھتے تھے، اُن کے ساتھ بیاہی گئی اور یہ باپ جو تھا ان 1613 بیٹیوں کا، وہ اس انجمن کے بانی ممبروں میں سے تھا، سب سے ابتدائی جو چودہ ممبر اس انجمن کے مرزا صاحب نے قائم کئے تھے، وہ معمولی شخصیت کا آدمی نہیں تھا، بہت بڑی شخصیت کا آدمی تھا......
جناب یحییٰ بختیار: وہ جماعت کا ممبر تھا؟
جناب عبدالمنان عمر: جماعت کا ممبر تھا، جماعت کا سرکردہ ممبر تھا۔ اُس کی ایک بیٹی ایک احمدی کے ساتھ بیاہی جاتی ہے، دُوسری بیٹی اُس کی دُوسرے احمدی کے ساتھ بیاہی جاتی ہے، غیر احمدی کے ساتھ جو جماعت میں شامل نہیں، اُس کا کوئی تعلق نہیں ہے، وہ اُس کے ساتھ بیاہی جاتی ہے۔ تو یہ کہنا......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں میں تو پوچھتا ہوں، میں نے ابھی آپ سے پوچھا، میں نے ابھی کچھ کہا نہیں......
جناب عبدالمنان عمر: میں تو صرف گزارش کر رہا ہوں کہ واقعہ کیا ہے۔
(کسی احمدی لڑکی کی شادی غیر احمدی سے ہو سکتی ہے؟)
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، تو آپ کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے کہ اگر کسی احمدی لڑکی کی شادی کسی غیر احمدی مسلمان سے ہو؟
جناب عبدالمنان عمر: محض اس بنیاد پر، کیونکہ شادیوں میں آپ جانتے ہیں کہ بہت سے خیالات، بہت سی چیزیں کفو کے سلسلے میں دیکھنی پڑتی ہیں۔ اس لئے یہ کوئی مذہبی مسئلہ نہیں ہے، یہ کوئی دینی مسئلہ نہیں ہے۔ یہ ایک سوشل مسئلہ ہے۔ جیسے ہم اور آپ شادیوں کے موقع پر اور بہت سی باتیں دیکھتے ہیں، اسی طرح ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ کسی ایسی جگہ شادی نہ ہو کہ جس میں اُن کے گھریلو
٩١
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
تعلقات، میاں اور بیوی کے، محض مذہبی عقائد کی وجہ سے خراب ہو جائیں۔ اس نقطہ نگاہ سے تو ہم ضرور دیکھیں گے اور یہ ہر شخص کا انفرادی فعل ہوگا۔ لیکن اس لئے وہ مرزا صاحب کو نہیں مانتا، اور یہ اتنا بڑا جرم اُس کا ہو گیا، اُس وجہ سے شادی مت کرو، یہ Stand نہیں ہے ہمارا اور بہت سے 1614 اس وقت بھی بہت سے ہمارے سرکردہ لوگ ہیں، اُن کی شادیاں جو ہیں وہ ایسے گھرانوں میں ہوئی ہیں جو مرزا صاحب کے ماننے والے نہیں ہیں، اُن کی لڑکیاں ایسے گھرانوں میں آئی ہیں، جو مرزا صاحب کو ماننے والے ہیں۔ تو یہ چیز مذہبی نقطہ نگاہ سے نہیں ہے۔
اب لیجئے سوشل تعلقات میں سے جنازہ وغیرہ، اب رہ گیا جنازہ وغیرہ۔ یہ بھی ایک ٹھیک ہے، مذہبی حصہ ہے، لیکن اس کا بہت سا سوشل حصہ ہے۔ تو اس کے متعلق میں آپ کو گزارش کروں گا کہ مرزا صاحب کا اور ہماری جماعت کا موقف یہ ہے کہ ہم لوگ ...... میں ایک خط کا فوٹواسٹیٹ آپ کے سامنے رکھتا ہوں اور یہ لکھنے والا شخص اس جماعت کا بہت بڑا انسان یعنی مولانا نورالدین ہے، اور وہ الفاظ اپنے نہیں لکھتا بلکہ مرزا صاحب کا لکھتا ہے۔ لکھتے ہیں:
”جو مخالف نہیں اور شرارت نہیں کرتے اور سیدھے سادے نماز پڑھتے ہیں اُن کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے۔“ یہ الفاظ حضرت مرزا صاحب کے ہیں ......
جناب یحییٰ بختیار: آپ ......
جناب عبدالمنان عمر: ...... یہ میں نے مرزا صاحب کا ایک خط پیش کیا ہے۔
(جو مخالف نہیں اس سے کیا مراد ہے؟)
جناب یحییٰ بختیار: ”جو مخالف نہیں“ اس سے کیا مراد ہے؟
جناب عبدالمنان عمر: میں عرض کرتا ہوں، ”مخالف نہیں ہے“ کا مطلب یہ ہے کہ وہ کوئی دنگا فساد بھی نہیں کرتا، وہ گالی گلوچ بھی نہیں کرتا، وہ بُرا بھلا نہیں کہتا، اور وہ اس قسم کے رویہ اختیار نہیں کرتا کہ مذہبی اختلاف کی وجہ سے ان اختلافات کو سوشل معاملات میں بڑھا دے اور مشکلات پیدا کر دے۔
جناب یحییٰ بختیار: تو مرزا صاحب کی مخالفت یا اُن کو بُرا بھلا کہنے والے تو وہی لوگ تھے جو اُس کو نبی نہیں مانتے تھے، یا اُن کے دعوے نہیں مانتے تھے۔
1615 جناب عبدالمنان عمر: یہ ضروری نہیں ہے۔ بہت سے لوگ، بڑی تعداد ہے، مجھے آپ موقع دیں تو میں آپ کو عرض کروں گا کہ مسلمانوں کے بہت بڑے بڑے چوٹی کے لوگ
٩٢
1609 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
مرزا صاحب کی تعریف کرتے تھے اور یہ کہنا کہ جی، جو مرزا صاحب کے عقیدے کو نہیں مانتا وہ مرزا صاحب ہی کا مخالف ہے، بُرا بولتا ہے، یہ صحیح نہیں ہے۔ میں اس کے لئے جناب والا! اگر آپ اجازت دیجئے تو میں عرض کروں گا......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، بہت کچھ کہا آپ نے......
جناب عبدالمنان عمر: جناب والا! ڈاکٹر سر محمد اقبال بہت بڑے چوٹی کے انسان تھے۔ اُن کو بعد میں ہم سے اختلاف بھی پیدا ہو گیا تھا۔ مولوی غلام محی الدین صاحب قصوری کا بیان اور یہ تحقیق جو ہے، منیر انکوائری میں پیش ہوچکی ہے۔ اُن کا یہ بیان ہوچکا ہے کہ اُنہوں نے مرزا صاحب کے دعوے کے پانچ سال بعد ١٨٩٧ء میں مرزا صاحب کی بیعت کرلی تھی اور یہ چیز اخبار ”نوائے وقت“ ١٥؍ نومبر ١٩٥٣ء میں بھی چھپ چکی ہے۔
(کس نے بیعت کرلی؟)
جناب یحییٰ بختیار: یہ کس نے بیعت کرلی تھی؟
جناب عبدالمنان عمر: سر محمد اقبال۔
جناب یحییٰ بختیار: سر اقبال نے؟
جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔ اچھا جی، پھر......
جناب یحییٰ بختیار: ایک بات آپ سے پوچھ سکتا ہوں میں؟
جناب عبدالمنان عمر: جناب والا!
جناب یحییٰ بختیار: کیونکہ آپ بات مجھے کرنے نہیں دیتے۔ اگر آپ ذرا میری......
جناب عبدالمنان عمر: معاف کیجئے گا، ابھی میری ذرا......
جناب یحییٰ بختیار: اگر تھوڑی سی میری عرض سن لیں آپ، کہ آپ نے یہاں جو حوالے دیئے ہیں......
1616 Madam Acting Chairman: (To the witness) Please speak slowly.
(محترمہ قائمقام چیئرمین: (گواہوں سے) براہ کرم آہستہ بولیں)
جناب یحییٰ بختیار: ......آپ نے مرزا صاحب کی نبوت کے انکار کے حوالے دیئے ہیں کافی، ١٩٠١ء کے بعد، اُن کے بعد بھی۔ تو جب آپ یہ حوالے دیتے ہیں یا وہاں سے کچھ
٩٣
MBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
تعلقات، میاں اور بیوی کے، محض مذہبی عقائد کی وجہ ضرور دیکھیں گے اور یہ ہر شخص کا انفرادی فعل ہوگا۔ لیکن اتنا بڑا جرم اُس کا ہو گیا، اُس وجہ سے شادی مت کرو 1614 اس وقت بھی بہت سے ہمارے سرکردہ لوگ ہیں ہوئی ہیں جو مرزا صاحب کے ماننے والے نہیں ہیں، مرزا صاحب کو ماننے والے ہیں۔ تو یہ چیز مذہبی نقطہ نگاہ اب لیجئے سوشل تعلقات میں سے جنازہ ٹھیک ہے، مذہبی حصہ ہے، لیکن اس کا بہت سا سوشل کروں گا کہ مرزا صاحب کا اور ہماری جماعت کا ص فوٹو اسٹیٹ آپ کے سامنے رکھتا ہوں اور یہ لکھتے ہ مولانا نورالدین ہے، اور وہ الفاظ اپنے نہیں لکھتا بلکہ ”جو مخالف نہیں اور شرارت نہیں کرتے ا پڑھنا جائز ہے۔“ یہ الفاظ حضرت مرزا صاحب کے ہی
جناب یحییٰ بختیار: آپ......
جناب عبدالمنان عمر: ......یہ میں نے
(جو مخالف نہیں اس سے
جناب یحییٰ بختیار: ”جو مخالف نہیں“
جناب عبدالمنان عمر: میں عرض کرتا ہ وہ اُس کو دنگا و فساد بھی نہیں کرتا، وہ گالی گلوچ بھی نہیں رویہ اختیار نہیں کرتا کہ مذہبی اختلاف کی وجہ سے الا اور مشکلات پیدا کر دے۔
جناب یحییٰ بختیار: تو مرزا صاحب کی تھے جو اُس کو نبی نہیں مانتے تھے، یا اُن کے دعوے نہیں
1615 جناب عبدالمنان عمر: یہ ضروری مجھے آپ موقع دیں تو میں آپ کو عرض کروں گا کہ مسل
٩٢
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
حوالے پڑھتے ہیں، صرف آپ وہی حوالے پڑھتے ہیں جو آپ کے حق میں ہوں یا آپ کی Stand کی جو Support کرتے ہوں۔ جو مخالف ہوں وہ تو آپ نہیں دیتے۔
جناب عبدالمنان عمر: نہیں، جناب والا! میرا موقف، میں نے شروع میں عرض کیا تھا......
جناب یحییٰ بختیار: میں یہ آپ سے پوچھتا ہوں کہ علامہ اقبال کا آپ ذکر کرتے ہیں کہ ان کی وفات پر انہوں نے یہ کہا۔ میں یہ نہیں کہتا کہ علامہ اقبال نے تیس سال کے بعد کیا کہا......
جناب عبدالمنان عمر: میں وہ عرض کروں گا۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، آپ کے اپنے جواب میں......
جناب عبدالمنان عمر: نہیں جی، میں ضرور عرض کروں گا کہ علامہ صاحب......
جناب یحییٰ بختیار: مولانا مودودی نے پوری کتاب لکھ دی، آپ اُس کا ذکر نہیں کر رہے۔
جناب عبدالمنان عمر: ضرور کروں گا جناب!
جناب یحییٰ بختیار: آپ نے ایک فقرہ لے لیا کہیں سے کہ مولانا مودودی نے یہ کہا ہے؟
جناب عبدالمنان عمر: نہیں جناب! میں اُن کا ضرور یہ موقف بیان کروں گا۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں نے یہ پوچھا کہ آپ نے......
1617 جناب عبدالمنان عمر: اگر وہ مجھے.......
(علامہ اقبال کا ایک فقرہ لے لیا)
جناب یحییٰ بختیار: آپ بات نہیں کرنے دیتے۔ آپ نے جو جواب داخل کیا ہے، میں اس کا پوچھ رہا ہوں کہ اس میں آپ نے ذکر کیا کہ علامہ اقبال نے یہ کہا، ایک فقرہ اُن کا لے لیا۔ مولانا مودودی نے یہ کہا، ایک فقرہ اُن کا لے لیا۔ بعد میں یہ ذکر نہیں کرتے کہ انہوں نے بعد میں کیا کہا۔ علامہ اقبال نے ١٨٩٥ء میں بیعت کی، علامہ اقبال نے ١٩١١ء میں تعریف کی کہ بہت بڑے مفکر تھے اسلام کے۔ علامہ اقبال نے ١٩٣٠ء میں جا کے پڑھی تھی کیا ظلم ہوا، اِس آدمی نے کیا کیا ہے۔ پھر ١٩٣٤ء میں جاکے ان کو اور خبر پڑی۔ پھر انہوں نے کہا کہ نہیں، یہ تو معاملہ ہی اور ہے۔ تو آپ ایسا نہیں کہہ رہے کہ پہلے یہ کہا۔ میں وکیل ہوں، عدالت میں جاتا ہوں۔ میرا ایک کیس ہوتا ہے۔ تین نظیریں میرے خلاف ہیں۔ چار نظیریں میرے حق میں ہیں۔ اگر میں اپنے پیشے کو تھوڑا سا بھی جانتا ہوں گا اور جو بھی وکیل تھوڑا بھی اپنا پیشہ جانتا ہے تو جو نظیر خلاف ہو وہ بھی سامنے لا کے رکھ دیتا ہے، جو حق میں ہو وہ بھی سامنے رکھ دیتا ہے۔ یہ ایک عدالت ہے۔......
٩٤
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
اور پھر کہتا ہے کہ جی! اس کا مطلب یہ ہے، یہ میرے کیس میں نہیں Apply کرتا، وہ اس سے یہ شک پیدا ہو سکتا ہے، اور یہ میرے کیس پر Apply کرتا ہے۔ تو آپ جو ہیں، علامہ اقبال کا ذکر کر دیتے ہیں کہ وہ بیعت لے آئے تھے، اور اس کا ذکر نہیں کرتے کہ جب پنڈت نہرو حکومت اور اقتدار میں آنے لگے تھے ٣٦-١٩٣٥ء میں کتنے بڑے قادیان والوں نے اُس کے جلوس نکالے، جلسے نکالے۔ انہوں نے کہا کہ بھئی! یہ دیسی پیغمبر بن رہا ہے، بڑی اچھی بات ہے یہ۔ پھر علامہ اقبال کود پڑے، ان کی مخالفت کی۔ اس کا آپ ذکر نہیں کرتے۔ تو اس لئے ایسے آدمی کا ذکر نہ کریں کہ جنہوں نے آپ کی بہت زیادہ مخالفت کی ہے، اور آپ کہیں گے کہ ایک فقرہ میرے حق میں جا 1618 رہا ہے یا علامہ اقبال نے بیعت کیا، کیونکہ اس کا فائدہ نہیں۔ نہ ہی وہ حوالے ہمیں پیش کریں جو کہ آپ کے حق میں ہوں، وہ حوالے جو خلاف ہیں، آپ کہتے ہیں کہ جی ”یہ ہم نہیں پیش کر رہے ۔“ کیونکہ آپ نے ہماری مدد کرنی ہے یہاں کہ ہم صحیح فیصلے پر پہنچیں، اور یہی مطلب ہے کہ آپ کو Reques (درخواست) کی کہ آپ آئیے اور کچھ بتائیے، اس پہ آپ۔ اب جو میں آپ سے سوال پوچھتا ہوں، آپ اس پر ایک تقریر شروع کر دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ سوال وہیں کا وہیں رہ جاتا ہے۔
میں نے آپ سے معمولی سوال پوچھا کہ سوشل تعلقات کیا ہیں؟ آپ نے کہا کہ ہم شادی کی اجازت دیتے ہیں کہ اگر احمدی لڑکی ہے تو وہ غیر احمدی مسلمان سے شادی کرسکتی ہے۔ ویسے تو یہ ٹھیک ہے۔ کوئی مسلمان بھی دیکھے کہ اچھے گھر میں شادی ہو، وہ تو اور Consideration (مقصد) ہے۔ آپ کو اس پر کوئی اعتراض نہیں، یہ بات ہم نے نوٹ کرلی۔
جناب عبدالمنان عمر: میں گزارش...... موقع مجھے نہیں ملا عرض کرنے کا۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، آپ کو پورا موقع ملے گا۔ پہلے آپ میرے سوال کا جواب دے دیں۔
جناب عبدالمنان عمر: میں اس کی کوشش کروں گا۔
(غیر احمدی کو لڑکی دینے پر خلیفہ وقت نے اسے امامت سے ہٹا دیا)
جناب یحییٰ بختیار: تو ابھی آپ نے جو شادی کی بات کی ناں آپ نے، تو میں آپ سے یہ پوچھتا ہوں کہ کیا پہلے خلیفہ کے وقت اور مرزا صاحب کی وفات کے بعد ایک احمدی نے غیر احمدی کو لڑکی دی تو حضرت خلیفہ اوّل نے اس کو احمدیوں کی امامت سے ہٹا دیا اور جماعت
٩٥
md5:fc8330fc8914614e03b2f29377f0d046}
MBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
سے خارج کر دیا، اور اپنی خلافت کے چھ سالوں م بار بار توبہ کرتا رہا۔ یہ ایک ”انوارِ خلافت“ میں حوالہ مگر یہ Fact ہوا ہے کہ نہیں، حقیقت ہے کہ نہیں
جناب عبدالمنان عمر: میں عرض کرتا
مرزا محمود احمد صاحب......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، وہ
جناب عبدالمنان عمر: نہیں، جی، وہ کا یہ واقعہ بیان کیا جاتا ہے۔ کون شخص ہے جس کا کو قبول نہیں ہوئی۔ چھ سال کے بعد پھر کیا ہوا؟ وہ کون
جناب یحییٰ بختیار: چھ سال تک تو وہ
جناب عبدالمنان عمر: نہیں، وہ واقع
جناب یحییٰ بختیار: ایک شخص تھے، م
جناب عبدالمنان عمر: اُس شخص کا پت
جناب یحییٰ بختیار: مطلب یہ کہ ایس
جناب عبدالمنان عمر: نہیں، نہیں، ج
جناب یحییٰ بختیار: نہیں نہیں، آپ
جناب عبدالمنان عمر: میں نے عر واقعہ نہ پیش کیا جائے......
جناب یحییٰ بختیار: یہی تو میں کہہ رہ
جناب عبدالمنان عمر: نہیں.......
hairman: The honourable
جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں ناں جی! وکیلوں والی بحث، وہ تو ہم کرتے نہیں ہیں، کیس ک ویسی بات.......
٩٦
1613 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
Madam Acting Chairman: Mr. Attorney- General, don't you have the name of that person?
(محترمہ قائمقام چیئرمین: اٹارنی جنرل صاحب! کیا آپ کے پاس اس آدمی کا نام نہیں ہے؟)
1620 Mr. Yahya Bakhtiar: Whatever I have got is given in "Anwar-i-Khilafat". They have not mentioned the name of the person. But may be given there in that. We can find it out.
(جناب یحییٰ بختیار: میرے پاس جو کچھ ہے، ”انوارِ خلافت“ میں دیا ہوا ہے، انہوں نے اس آدمی کا نام نہیں لکھا)
جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، میرے علم میں ایسا کوئی نام نہیں آیا۔
جناب یحییٰ بختیار: ایسا کوئی واقعہ نہیں آیا؟
جناب عبدالمنان عمر: جی، میرے علم میں یہ نام کبھی آیا نہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: اچھا، یہ آپ بتائیے، یہ تو سوشل......
(سوشل تعلقات کے سوال پر بے مقصد طویل گفتگو)
جناب عبدالمنان عمر: جی، میں سوشل کی ....... ذرا اجازت دیجئے تو میں گفتگو کروں۔ میں نے علامہ اقبال کا نام اس لئے نہیں لیا تھا کہ وہ اُن کا کوئی فقرہ ایک آدھ میری نظر کے سامنے سے گزر گیا تھا۔ میں آپ کے سوشل تعلقات کے ذکر میں اُس کو لایا کہ یہ علامہ اقبال صاحب، اتنی شدید مخالفت بعد میں انہوں نے کی ہے۔ اگر مرزا صاحب کی وجہ سے ان کی مخالفت ہوتی، مرزا صاحب کے معتقدات کی وجہ سے ہوتی تو وہ اتنا حکیم شخص تھا، اُس نے اتنا عرصہ ....... معتقدات اُن کے سامنے ہیں، بیعت وہ شخص کرتا ہے ....... معلوم ہوا وہ اُن معتقدات کے باوجود وہ بیعت کر رہا تھا۔ اُس کو اختلاف پیدا ہوا۔ میں اُن اختلافات کا ضرور ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ وہ اختلافات پیدا ہوئے اور اتنے شدید پیدا ہوئے کہ اس پر کتابیں اُنہوں نے لکھیں۔ یہی میرا موقف ہے جناب! کہ لوگوں کو اختلاف جو ہے مرزا صاحب کے وجود میں، مرزا صاحب کے زمانے میں، مرزا صاحب کے معتقدات کی وجہ سے نہیں پیدا ہوا، بلکہ بعد میں ایسے حالات پیدا
٩٧
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
ہوگئے اور ایسے نئے Factors جمع ہوگئے جن کی وجہ سے وہ لوگ جو پہلے مرزا صاحب کو مانتے تھے، انہوں نے بھی آپ کو چھوڑا۔ یہ تھا میرا موقف۔
اور دوسری گزارش اس سلسلے میں جو کرنا چاہتا تھا کہ علامہ اقبال وہ ہیں، وہ خود جماعت کے بڑے سخت مخالف، مگر اُن کے بھتیجے جماعت میں شامل، اُن کے بھائی 1621 جماعت میں شامل، اُن کے والد جماعت میں شامل۔ کوئی تعلق خراب نہیں تھے، وہی علامہ اقبال جن کے بھائی جماعت میں شامل تھے، وہ اُن کو باپ کی طرح سمجھتے تھے۔ تو محض یہ کہنا کہ اختلافِ عقائد کی وجہ سے سوشل تعلقات خراب ہوگئے تھے، یہ صورت نہیں ہے۔ جو بُرے لوگ تھے وہ بُرے تعلقات رکھتے تھے۔ جو اچھے لوگ، فہمیدہ لوگ تھے، سلجھے ہوئے لوگ تھے، اُنہوں نے تعلقات خراب نہیں کئے۔ میں نے علامہ اقبال کی مثال اس لئے عرض کی ہے کہ اُسی ایک گھر کے اندر بھائی اور دوسرا بھائی، اُن کے بھتیجے، اُن کے بیٹے کوئی تعلقات خراب نہیں، اُن کے تعلقات بڑے اچھے تھے۔ یہ تھی وجہ اس نام کے پیش کرنے کی۔
دوسرا میں عرض یہ کر رہا تھا کہ اگر اُن کے تعلقات اُن کے معتقدات اتنے خراب تھے تو چاہئے یہ تھا کہ وہ شخص جب دعویٰ کرتا تھا، میں نے بتایا ہے کہ اُس وقت بھی اُس کے خلاف کوئی آواز نہیں اُٹھی۔ درمیان میں ایک دور آیا مخالفت کا اور وہ انفرادی طور پر جگہ بہ جگہ اُس مخالفت کا ظہور ہوتا رہا۔ جس بات کا میں نے انکار کیا تھا وہ یہ تھی کہ اس طرح ملک گیر پیمانے پر سوائے ١٩٥٣ء کے اور سوائے موجودہ حالات کے، یہ اختلافات نے اتنی شدید اور بھیانک صورت اختیار نہیں کی تھی۔ یہ میں نے تقابل کے طور پر پیش کیا تھا۔ یہ میرا موقف بالکل نہیں تھا کہ بالکل جماعت کی مخالفت ہوئی نہیں۔ میں نے تو خود عرض کیا تھا کہ ان لوگوں کے بعض حصے ایسے تھے، بعض لوگ ایسے تھے، بعض محلے ایسے تھے کہ وہاں اُن کو مسجدوں میں نہیں جانے دیتے تھے، اُن کے جنازے خراب ہوجاتے تھے، تو یہ میں تسلیم کرتا ہوں، یہ حالات پیدا ہوئے، اور اس کی وجہ سے دقتیں بھی پیدا ہوئی تھیں۔ مگر میں عرض یہ کر رہا تھا کہ معتقدات اپنی جگہ یا وہ دعوے ایسے نہیں تھے جن کی وجہ سے اتنا عالمگیر قسم کا اور اتنا ہمہ گیر قسم کا کوئی اختلاف ہوتا۔ یہ میرے علم میں صرف دو مثالیں ہیں۔ پھر یہ کہ مرزا صاحب جب فوت ہوئے تو جماعت کا ذکر میں نہیں کر رہا، مسلمانوں کا ذکر 1622 کر رہا ہوں جو اُن کے ہم عقیدہ نہیں تھے، اُن میں سے یہ دیکھئے مولانا ابوالکلام آزاد، وہ فرماتے ہیں: ”وہ شخص، بہت بڑا شخص جس کا قلم سحر تھا، زبان جادو، وہ شخص دماغی عجائبات کا مجموعہ تھا، جس کی نظر فتنہ اور آواز حشر تھی، جس کی اُنگلیوں سے انقلاب کے تار اُلجھے ہوئے تھے، جس کی
٩٨
1615 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
یاں بجلی کی دو بیٹریاں تھیں۔ وہ شخص جو مذہبی دُنیا کے لئے تیس برس تک زلزلہ اور طوفان بنا رہا، جو شور قیامت ہو کر خفتگان خواب ہستی کو بیدار کرتا رہا، خالی ہاتھ دُنیا سے اُٹھ گیا۔ یہ تلخ موت، یہ زہر کا پیالہ جس نے مرنے والی کی ہستی تہ خاک پنہاں کردی، ہزاروں لاکھوں زبانوں پر تلخ کامیاں بن کے رہیں گے اور قضاء کے حملے نے ایک جیتی جان کے ساتھ جن آرزوؤں اور تمناؤں کا قتلِ عام کیا ہے، صدائے ماتم مدّت تک اس کی یاد تازہ رکھے گی۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی رحلت اس قابل نہیں کہ اس سے سبق حاصل نہ کیا جائے اور ایسے لوگ جن سے مذہبی یا اپنی دُنیا میں انقلاب پیدا ہوتا ہے، ہمیشہ دُنیا میں نہیں آتے۔ یہ نازش فرزندان تاریخ بہت کم منظر عالم پر آتے ہیں اور جب آتے ہیں تو دُنیا میں انقلاب پیدا کر کے دکھا دیتے ہیں۔ مرزا صاحب کی اس رحلت نے اُن کے بعض دعاوی اور بعض معتقدات سے شدید اختلاف کے باوجود ہمیشہ کی مفارقت پر مسلمانوں کو اُن تعلیم یافتہ اور روشن خیال مسلمانوں کو محسوس کرا دیا کہ اُن کا ایک بہت بڑا شخص اُن سے جدا ہو گیا ۔"
یہ مولانا ابوالکلام آزاد، جو ان کے ماننے والے نہیں تھے، یہ اُن کا تاثر ہے۔
اسی طرح 1......
(یہ کس سوال کا جواب ہے )
جناب یحییٰ بختیار: یہ آپ کس سوال کا جواب دے رہے ہیں؟
1623
جناب عبدالمنان عمر: یہ میں اس کا دے رہا ہوں جی کہ ان کے معتقدات ایسے نہیں تھے جس کے نتیجے میں ملک کی سوشل حالت خراب ہو یا جس سے پڑھا لکھا طبقہ جو ہے وہ یہ محسوس کرے کہ ہمارے اندر بڑا خطرناک اشتعال پیدا ہوتا ہے اس شخص کے......
جناب یحییٰ بختیار: یہ سوال ختم ہو چکا ہے، صاحبزادہ صاحب ! میں اس کے بعد آپ سے پوچھ رہا ہوں Details (تفصیلات ) میں نے عرض کیا کہ سوشل تعلقات کیسے تھے؟ آپ نے کہا: شادی کی اجازت دیتے تھے وہ ۔ اب یہاں میں آپ کو پھر وہ بشیر الدین صاحب کا ایک حوالہ پڑھ کر سناتا ہوں، یہ اُسی کتاب سے ہے "......Ahmad" جو ان کی کتاب ہے۔ وہ ایک چیز کہہ رہے ہیں ، وہ چیز غلط ہے تو آپ بتا دیں گے کہ آپ نے اُس چیز کی تردید کی ہے اور یہ ١٦-١٩١٥ء کی بات ہے۔ وہ کہتے ہیں:
1؎ یہ تحریر مولانا ابوالکلام آزاد کی نہیں ہے۔ ان سے منسوب کی گئی۔ لیکن انہوں نے بہت واضح انداز میں اس کی تردید کر دی تھی۔ (مرتب)
٩٩
...Y OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
ہو گئے اور ایسے نئے Factors جمع ہو گئے جو تھے، اُنہوں نے بھی آپ کو چھوڑا۔ یہ تھا میرا موقـ اور دُوسری گزارش اس سلسلے میں جو مـ کے بڑے سخت مخالف، مگر اُن کے بھتیجے جماعت اُن کے والد جماعت میں شامل۔ کوئی تعلق خـ جماعت میں شامل تھے، وہ اُن کو باپ کی طرح سے سوشل تعلقات خراب ہو گئے تھے، یہ صورت رکھتے تھے۔ جو اچھے لوگ، فہمیدہ لوگ تھے، سلجھے گئے۔ میں نے علامہ اقبال کی مثال اس لئے عـ بھائی، اُن کے بھتیجے، اُن کے بیٹے کوئی تعلقات تھی وجہ اس نام کے پیش کرنے کی۔
دُوسرا میں عرض یہ کر رہا تھا کہ اگر اُن چاہیے یہ تھا کہ وہ شخص جب دعویٰ کرتا تھا، میں آواز نہیں اُٹھی۔ درمیان میں ایک دور آیا مخالفت ظہور ہوتا رہا۔ جس بات کا میں نے انکار کیا ١٩٥٣ء کے اور سوائے موجودہ حالات کے، اختیار نہیں کی تھی۔ یہ میں نے تقابل کے طور پر جماعت کی مخالفت ہوئی نہیں۔ میں نے تو خود بعض لوگ ایسے تھے، بعض محلے ایسے تھے کہ وہاں جنازے خراب ہو جاتے تھے، تو یہ میں تسلیم کر دقتیں بھی پیدا ہوئی تھیں۔ مگر میں عرض یہ کر رہا جن کی وجہ سے اتنا عالمگیر قسم کا اور اتنا ہمہ گیر قـ مثالیں ہیں۔ پھر یہ کہ مرزا صاحب جب فوت 1622 ذکر کر رہا ہوں جو اُن کے ہم عقیدہ نہیں فرماتے ہیں: ”وہ شخص، بہت بڑا شخص جس کا قلـ تھا، جس کی نظر فتنہ اور آواز حشر تھی، جس کی اُنگلـ
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
"The same year 1898......"
اٹھارہ سو اٹھانوے میں:
"The same year with a view to strengthen the bonds of the Community and to preserve its distinctive features he promulgated rules regarding marriage and social relations and forbade Ahmadis to give their daughters in marriage to non-Ahmadis."
(اسی سال یعنی ١٨٩٨ء میں جماعت کے رشتوں کو استوار کرنے کے لئے اور جماعت کی نمایاں حیثیت کی خاطر اس سے شادی بیاہ اور معاشرتی اُمور کے بارے میں حکم جاری کیا اور احمدیوں کو اپنی بیٹیوں کی شادیاں غیر احمدیوں کے ساتھ کرنے سے روک دیا)
یہ ١٨٩٨ء میں مرزا صاحب نے اپنے فرقے کے تعلقات کو مضبوط کرنے کے لئے یہ حکم دیا کہ احمدی لڑکیوں کی شادی غیر احمدیوں سے نہیں ہوگی۔ یہ کیا آپ اپنے لٹریچر میں بتا سکتے ہیں کہ اس بات کی آپ نے کبھی بھی تردید کی؟
جناب عبدالمنان عمر: جناب والا! میں گزارش کرتا ہوں کہ مرزا محمود احمد صاحب کی تحریرات، ان کی کتابیں، ان کے بیانات، ان کی بیان کردہ تاریخ، کسی قسم کی نہ صرف یہ کہ حجت نہیں ہے، بلکہ مجھے معاف کیجئے گا جب میں یہ کہوں کہ وہ خطرناک حد تک Misleading ہیں۔
1624 جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں نے صرف ایک عرض کیا آپ سے کہ ایک آدمی مرزا صاحب کے بارے میں، جو اُن کا بیٹا ہے، خلیفہ وقت بیٹھا ہوا ہے، اور آپ اُن کے زہد ’’الفضل‘‘ اور آپ کے اخباروں میں Controversy چل رہی ہے، اور یہ پورے ١٩١٤ء سے آج تک ہم دیکھ رہے ہیں، یہ Controversy جاری ہے: مرزا صاحب نے یہ نہیں کہا، اُس نے کہا، یہ نہیں کہا۔ جب اتنی بڑی بات کہتے ہیں کہ غیر احمدی مسلمان سے لڑکی کی شادی نہیں ہوسکتی۔ یہ ١٩١٥ء میں یہ کہتے ہیں، ١٩١٦ء میں، اور اُس سے آج تک آپ کے کسی لٹریچر میں یہ ہے کہ یہ چیز غلط ہے؟
جناب عبدالمنان عمر: میں شاید پورا صحیح بیان نہیں کرسکتا۔ میں نے عرض کیا تھا اسی مرزا بشیرالدین کی سالی کی شادی جو ہے، انہی بشیرالدین کی......
١٠٠
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
(غیر احمدی کو لڑکی نہ دو، یہ آرڈر مرزا صاحب کا تھا یا نہیں؟)
جناب یحییٰ بختیار: میں سمجھ گیا ہوں، نہیں، میں یہ سمجھ گیا ہوں، میں یہ پوچھ رہا ہوں کہ یہ مرزا صاحب کا آرڈر تھا یا نہیں؟
جناب عبدالمنان عمر: ظاہر ہے کہ Statement (بیان) غلط ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: یہ غلط ہے؟
جناب عبدالمنان عمر: بالکل غلط ہے۔ عمل بتا رہا ہے، اُن کے اپنے گھر کا واقعہ بتا رہا ہے کہ غلط ہے۔
(آپ کسی مسلمان امام کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں یا نہیں؟)
جناب یحییٰ بختیار: اچھا جی، یہ آپ بتائیے یہ جو نماز ہوتی ہے، باقی مسلمانوں سے مل کر پڑھتے ہیں آپ؟ نماز باقی مسلمانوں سے مل کر پڑھتے ہیں؟ کوئی مسلمان امام آپ کی جماعت کا امام نہ ہو تو آپ اُس کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں یا نہیں؟
جناب عبدالمنان عمر: جناب والا! میں نے گزارش کی تھی کہ ہم لوگ، مرزا صاحب کی ہمیں جو تلقین ہے، یہ ہے کہ کوئی شخص جب تک خود کافر نہیں بن جاتا وہ مسلمان ہے، اور اُس کے پیچھے ہمیں نماز پڑھنی چاہئے۔ لیکن نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان ہے 1625کہ جو کسی مسلمان کو کافر کہتا ہے، وہ کفر اُلٹ کر اُس پر پڑ جاتا ہے اور آدمی کو چاہئے کہ اپنے امام مقتدیوں میں سے بنائے۔ جب وہ شخص ایک، ہماری رائے میں، وہ ایک ایسے شخص کو جو ہمارے نزدیک مؤمن مسلمان ہے، کافر قرار دیتا ہے تو نبی کریم کا فرمان یہ ہے کہ وہ کفر اُلٹ کر اُس پر پڑا۔ اگر علماء آج یہ فتوے واپس لے لیں کہ مرزا صاحب کافر نہیں ہیں تو ہم آج بھی کسی کلمہ گو کو کافر نہیں کہتے اور اُن کے پیچھے نماز پڑھنے کے لئے تیار ہیں۔
(کسی اپنے امام کے پیچھے قائد اعظم کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھی)
جناب یحییٰ بختیار: جزاک اللہ، بڑی اچھی بات آپ نے کی۔ میں آپ سے ایک اور سوال پوچھتا ہوں۔ یہ قائد اعظم کی جب بات تھی کہ چودھری ظفر اللہ خان نے ان کی نماز جنازہ میں شرکت نہیں کی، یہ اس سے بڑی Controversy ہوگئی ہے، حالانکہ آپ کا اُن سے کوئی تعلق نہیں ہے، چودھری صاحب اور دُوسرے جو ہیں۔ کیا آپ لوگوں نے کوئی قائد اعظم کی
101
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
غائبانہ نماز جنازہ پڑھی کسی اپنے کسی امام کے پیچھے؟
جناب عبدالمنان عمر: جناب! پڑھی ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: پڑھی ہے، ٹھیک ہے۔
جناب عبدالمنان عمر: اور نہ صرف اُن کی بلکہ اور بھی بہت مثلاً سر آغا خان مرحوم کی اور بھی بہت سارے۔
جناب یحییٰ بختیار: مگر ربوہ والے نہیں کرتے وہ؟
جناب عبدالمنان عمر: جناب! اُن کے متعلق میں ......
جناب یحییٰ بختیار: انہوں نے کہا کہ ...... اچھا وہ یہ بتائیے کہ اگر امام نے یہ فتویٰ نہ دیا ہو تب تو آپ اُس کے پیچھے نماز پڑھیں گے؟
1626
جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔ ہمارے امام مولانا نورالدین کا یہ شائع شدہ فتویٰ موجود ہے کہ انہوں نے کہا کہ جب آپ مکے وغیرہ میں جاتے ہیں یا دوسری جگہ میں جاتے ہیں، یورپ میں جاتے ہیں، تو وہاں تو فتویٰ ہمارے خلاف نہیں تھا، وہ کہتے ہیں نماز پڑھو، اور پڑھتے ہیں۔
(آپ کسی مسلمان کا جنازہ پڑھتے ہیں؟)
جناب یحییٰ بختیار: اور یہ بتائیے کہ اگر کوئی آدمی ہو جس نے کوئی فتویٰ نہ دیا ہو، یا اُس فرقے سے جس سے اُس کا تعلق ہو اُس فرقے نے فتویٰ نہ دیا ہو، وہ مرجائے تو جنازہ بھی پڑھتے ہیں آپ کے ہاں؟
جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، بالکل۔
جناب یحییٰ بختیار: اور اگر فتویٰ دیا ہو تو پھر نہیں پڑھتے؟
جناب عبدالمنان عمر: وہ اس لئے کہ نبی اکرم ﷺ کے فرمان کے خلاف ہوجاتا ہے۔ اُس میں ہم نہیں کوئی فتویٰ دیتے۔
(مرزا صاحب کے لڑکے اس پر ایمان نہیں لائے؟)
جناب یحییٰ بختیار: یہ کہاں تک دُرست ہے کہ مرزا صاحب کے دو تین ...... دو لڑکے تھے جو ان پر بیعت نہیں لائے، احمدی نہیں ہوئے؟
جناب عبدالمنان عمر: پھر آگے فرمائیے۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ دُرست ہے کہ تھے مرزا صاحب کے کوئی ایسے لڑکے؟
١٠٢
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
جناب عبدالمنان عمر: مرزا صاحب کے پانچ بیٹے تھے جن میں سے سب سے بڑے کا نام مرزا سلطان احمد، مرزا سلطان احمد، وہ اپنی وفات سے پہلے احمدی ہو چکے تھے۔
جناب یحییٰ بختیار: کوئی اور لڑکا جو احمدی نہیں تھا؟
جناب عبدالمنان عمر: جی، ایک تھا جو فضل احمد صاحب تھے۔
جناب یحییٰ بختیار: وہ احمدی نہیں تھے؟
1627
جناب عبدالمنان عمر: احمدی کا سوال نہیں ہے، بلکہ اُن کے اپنے باپ کے ساتھ اتنے خطرناک تعلقات......
جناب یحییٰ بختیار: میں آپ سے ایک Simple (آسان) سوال پوچھتا ہوں، آپ کیوں بیچ میں اور باتیں لے آتے ہیں؟ وہ احمدی ہوئے یا نہیں ہوئے؟ جس وجہ سے نہیں ہوئے......
جناب عبدالمنان عمر: احمدی نہیں ہوئے، مگر جنازے کی میں نے عرض......
(مرزا صاحب نے اپنے بیٹے کا جنازہ نہیں پڑھا؟)
جناب یحییٰ بختیار: میں جنازے پر بھی آ جاتا ہوں۔ میں نے ساری تفصیل نوٹ کی ہے۔ ہم یہی کام کرتے رہے ہیں، اور کچھ نہیں کیا۔ اُن کی وفات پر مرزا صاحب نے جنازے میں شرکت کی؟
جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں کی۔ مرزا صاحب نے یہ کہا کہ: ”یہ میرا نافرمانبردار بیٹا تھا“؟
جناب عبدالمنان عمر: مگر ساتھ یہ کہا کہ اُس نے ایک دین کے معاملے میں ایسے لوگوں کے ساتھ اتحاد کیا تھا جو خدا تعالیٰ کی منشاء کے خلاف تھا۔
جناب یحییٰ بختیار: اتحاد کیا تھا؟
جناب عبدالمنان عمر: کہ ان کے خاندان میں، ایک مرزا صاحب کے خاندان میں پٹی کے ایک خاندان تھا وہ......
جناب یحییٰ بختیار: میں آپ سے یہ پوچھتا ہوں کہ اُس نے کوئی فتویٰ دیا تھا مرزا صاحب کے خلاف؟
جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، جناب! فتویٰ نہیں ہے۔ اُن کے تعلقات گھریلو جو ہیں......
١٠٣
OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
غائبانہ نماز جنازہ پڑھی کسی اپنے کسی امام کے پی
جناب عبدالمنان عمر: جناب ا
جناب یحییٰ بختیار: پڑھی ہے، ن
جناب عبدالمنان عمر: اور نہ ص اور بھی بہت سارے۔
جناب یحییٰ بختیار: مگر ربوہ و
جناب عبدالمنان عمر: جناب
جناب یحییٰ بختیار: انہوں نے دیا ہو تب تو آپ اُس کے پیچھے نماز پڑھیں گے
1626
جناب عبدالمنان عمر: جی ا موجود ہے کہ انہوں نے کہا کہ جب آپ کے یورپ میں جاتے ہیں، تو وہاں تو فتویٰ ہمارے
(آپ کسی مسلمان
جناب یحییٰ بختیار: اور یہ بتا اُس فرقے سے جس سے اُس کا تعلق ہو اُس پڑھتے ہیں آپ کے ہاں؟
جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں
جناب یحییٰ بختیار: اور اگر فتو
جناب عبدالمنان عمر: وہ اس ہے۔ اُس میں ہم نہیں کوئی فتویٰ دیتے۔
(مرزا صاحب کے لڑ
جناب یحییٰ بختیار: یہ کہاں لڑکے تھے جو ان پر بیعت نہیں لائے، احمدی
جناب عبدالمنان عمر: پھر آ
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
1628 جناب یحییٰ بختیار: بس جی، اور باتیں چھوڑ دیجئے۔ ہم بات کر رہے تھے فتویٰ کی۔ آپ نے کہا: اُنہوں نے فتویٰ دیا اس لئے اُن کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے۔ میں نے کہا: اُن کے گھر میں ایک لڑکا پیدا ہوا ہے، وہ لڑکا بڑا ہوا ہے، وہ بڑا فرمانبردار اور نیک لڑکا ہے، وہ احمدی نہیں ہوا، وہ مرتا ہے، اُس نے فتویٰ نہیں دیا، مرزا صاحب نے اُس کی نماز نہیں پڑھی۔
جناب عبدالمنان عمر: میں نے عرض کیا، جناب! وہ اس لئے نہیں کہ مرزا صاحب نے یہ کہا ہو۔ ایک لفظ مرزا صاحب کا یہ دکھایا جائے کہ: ”میں اس شخص کا اس لئے نماز جنازہ نہیں پڑھتا کہ اس نے مجھے نہیں مانا؟“ ایک لفظ دکھایئے سارے لٹریچر میں سے؟
جناب یحییٰ بختیار: اور وجہ کیا تھی؟
جناب عبدالمنان عمر: تعلقات کی خرابی۔
جناب یحییٰ بختیار: تعلقات؟ مُردے سے کیا تعلقات؟ اپنے بچے سے کیا تعلقات؟ انہوں نے کہا کہ یہ فرمانبردار ہے۔
جناب عبدالمنان عمر: یہ اعتراض ہو سکتا ہے۔ مگر اس کا تعلق اس سے نہیں ہے کہ وہ دین کی وجہ سے یا اُن کے نہ ماننے کی وجہ سے وہ جنازہ نہیں پڑھا۔ ایسی کوئی مثال نہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں، دیکھیں، صاحبزادہ صاحب! ایک Simple (آسان) بات ہے۔ ایک طرف سے مرزا صاحب کا یہ بیان ہمارے سامنے ہے جو کہتا ہے کہ: ”یہ میرا بیٹا نیک تھا اور فرمانبردار تھا......“
جناب عبدالمنان عمر: میرا خیال ہے یہ لفظ ”نیک“ وہاں نہیں ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: ”فرمانبردار“؟
جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔
جناب یحییٰ بختیار: ”فرمانبردار۔“ فرمانبردار نیک ہی ہوتا ہے ناں جی۔
1629 جناب عبدالمنان عمر: نہیں، اس میں اور چیز بھی آتی ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: تو فرمانبردار وہ خود کہتے ہیں کہ یہ تھا۔ پھر ان کی وفات ہوتی ہے اور اس کے بعد مرزا صاحب جنازے میں شرکت نہیں کرتے۔
جناب عبدالمنان عمر: یہ دیکھئے دو باتیں ہیں۔ میں بہت سے لوگوں کا جو لاہور میں یا راولپنڈی میں فوت ہوں، میں اُن کے جنازے میں شرکت نہیں کروں گا یا نہیں ہوا ہوں گا۔ اس سے کوئی شخص یہ نتیجہ نکالے ......
١٠٤
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، یہ بات اور ہے کہ لاہور میں ......
جناب عبدالمنان عمر: یہ لکھا ہے کہ مرزا صاحب نے یہ کہا ہو کہ : ”میں اس کا جنازہ اس لئے نہیں پڑھتا ہوں کہ یہ مجھے نہیں مانتا“؟
جناب یحییٰ بختیار: بس چھوڑ دیجئے۔ میں نے یہ آپ کو بتا دیا کہ وہ احمدی نہیں ہوا، میں نے یہ بتا دیا کہ وہ فرمانبردار تھا، میں نے یہ بتا دیا کہ مرزا صاحب نے وفات پر جنازہ نہیں پڑھا۔ اس کے علاوہ کوئی زیادہ Evidence (شہادت) کی ہمیں ضرورت نہیں ہے۔ اگر آپ کوئی چیز ہے تو ہمیں بتائیے۔
جناب عبدالمنان عمر: وہ میں نے عرض کیا کہ اُن کے تعلقات اس قدر خراب تھے، سوشل، اس قدر خراب تھے سوشل کہ وہ اس وجہ سے شامل نہیں ہو سکتے تھے۔
(مرزا صاحب نے بیٹے کو کہا کہ تم اپنی بیوی کو طلاق دو)
جناب یحییٰ بختیار: میں پھر ایک اور بات کرلوں۔ مرزا صاحب نے اس کو کہا تھا کہ ”تم اپنی بیوی کو طلاق دو۔“ مرزا صاحب نے کہا کہ : ”میں تمہاری ماں کو بھی طلاق دیتا ہوں کیونکہ تم کوشش نہیں کرتے کہ محمدی بیگم مجھ سے شادی کرے۔“ یہ دُرست ہے، یہی وجہ تھی؟
جناب عبدالمنان عمر: جناب! میں، کیونکہ محمدی بیگم کا واقعہ آگیا ......
جناب یحییٰ بختیار: آپ جو کہتے ہیں کہ اور وجوہات تھیں۔
1630 جناب عبدالمنان عمر: ...... اس لئے اب مجھے عرض کرنے کی اجازت ہو گئی ہے۔
مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: نماز کا وقت ہو گیا ہے۔
جناب عبدالمنان عمر: پہلا یہ اعتراض یہ فرمایا گیا ہے کہ انہوں نے کہا کہ : ”اپنی بیٹی کو ...... بیوی کو طلاق دے دو!“ جناب! یہ واقعہ بالکل اس سے ملتا جلتا ہے ......
Mr. Yahya Bakhtiar: Still five minutes more......
ابھی پانچ منٹ ہیں۔
(جناب یحییٰ بختیار: صرف پانچ منٹ ہیں......)
محترمہ قائم مقام چیئرمین: اچھا، Five (پانچ) منٹ ہیں۔
جناب عبدالمنان عمر: شکایت یہ کی گئی کہ انہوں نے کہا کہ : ”اپنی بیوی کو طلاق دے دو!“ یہ گھریلو معاملات ہوتے ہیں۔ ایک باپ زیادہ صحیح سمجھتا ہے کہ میری بہو جو ہے کن
١٠٥
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
اوصاف کی مالک ہونی چاہئے۔ اُس کو اتنا حق ضرور ملنا چاہئے۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں میں اِس تفصیل میں نہیں جانا چاہتا۔ یہی وجہ تھی یا اور کوئی وجہ تھی؟ جناب عبدالمنان عمر: نہیں، نہیں، یہ وجہ نہیں تھی۔ جناب یحییٰ بختیار: پھر اس کو چھوڑ دیجئے۔ جو وجہ ہے وہ بتائیے آپ؟ جناب عبدالمنان عمر: میں عرض یہ کر رہا تھا کہ پٹی کا ایک خاندان تھا جو ان کا دُور کا رشتہ دار بھی تھا، مرزا صاحب کا۔ ان لوگوں کی اخلاقی، دینی اور مذہبی حالت بہت ہی بُری تھی، مرزا صاحب کی نظر میں۔ اِس لئے مرزا صاحب نے کوشش کی کہ اُن لوگوں کو، جس طرح کہ وہ باہر کے لوگوں کو دین دار بنانے کی کوشش کرتے تھے، اِس لئے انہوں نے یہ کوشش کی کہ اُس خاندان میں بھی مذہب کو، اسلام کو، نبی کریم ﷺ کو روشناس کرائیں۔ لیکن وہ لوگ قریب دہریت کے پہنچ گئے تھے اور وہ اِس قسم کی وعظ و نصیحت سے....... جناب یحییٰ بختیار: یہ وہ محمدی بیگم کے خاندان کی بات کر رہے ہیں یا کوئی اور ہے؟ 1631 جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔ جناب یحییٰ بختیار: وہی Indirectly کہتے ہیں، یہ گھریلو معاملے پھر لے آتے ہیں آپ۔ مرزا احمد بیگ کا ذکر کر رہے ہیں آپ؟ جناب عبدالمنان عمر: میں عرض کر رہا تھا کہ آپ نے پوچھا کہ محمدی بیگم....... جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ مرزا احمد بیگ کا ذکر کر رہے ہیں آپ......؟ جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔ جناب یحییٰ بختیار: بات وہی ہو گئی جو میں کہتا ہوں تو کہتے ہیں: ”نہیں، یہ نہیں ہے، یہ گھریلو معاملہ ہے۔“ جناب عبدالمنان عمر: نہیں، میں نے تو عرض کیا کہ وہی بات ہے۔ (محمدی بیگم کی شادی مجھ سے کر دو گے تو تمام تکلیفات دور) جناب یحییٰ بختیار: وہ سب ہم Study (مطالعہ) کر چکے ہیں، صاحبزادہ صاحب! اور اسی لئے میں نے عرض کیا کہ ان کی گھریلو حالت بہت خراب تھی، دہریے ہو رہے تھے، اسلام سے دُور جا رہے تھے، اور مرزا صاحب نے کہا کہ: ”محمدی بیگم کی شادی مجھ سے کر دو گے تو اِسلام کے قریب آ جاؤ گے، تکلیفات دُور ہو جائیں گی۔“
١٠٦
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
جناب عبدالمنان عمر: نہیں جناب! اس طرح واقعہ نہیں ہے.......
----------
[At this stage Madam Acting Chairman vacated the Chair which was occupied by Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali).]
----------
جناب عبدالمنان عمر: یہ اس طرح واقعہ نہیں ہے۔ واقعہ اس طرح ہے کہ مرزا صاحب نے کہا کہ: ”میں تمہیں ایک رحمت یا عذاب کا نشان دکھاتا ہوں، کیونکہ معمولی وعظ ونصیحت سے تم لوگ صحیح راستے پر نہیں آسکتے ہو۔“ اور اللہ تعالیٰ کے نشانات ایک ایسی چیز ہے کہ اُس کو دکھانے سے، اگر وہ واقع میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نشان انسان دیکھے تو اُس شخص کی ذات پر اثر ہوسکتا ہے۔ یہ ہے Starting Point۔
1632 جناب یحییٰ بختیار: نہیں یہ ٹھیک ہے جی، دیکھئے ناں، بات یہ ہے، صاحبزادہ صاحب! میں بار بار آپ کی بات میں دخل دے رہا ہوں، دراصل یہ سب کچھ جو ہے، یہ واقعات بڑی تفصیل سے آچکے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا مرزا صاحب اس بات پہ ناراض ہو گئے کہ لڑکے نے اُن کے کہنے پر اپنی بیوی کو طلاق نہیں دی؟ اور مرزا صاحب، ٹھیک ہے، باپ ٹھیک جانتا ہے کہ کیسی بہو ہونی چاہئے ، وہ آپ کی بات میں مانتا ہوں۔ مگر مرزا صاحب اس بات پہ ناراض ہو گئے اُن سے اور نمازِ جنازہ نہیں پڑھی؟
جناب عبدالمنان عمر: نہیں جناب! یہ میں نے کہا کہ نہیں، کوئی تاریخ میں مجھے نہیں ملی کم سے کم...... اگر آپ کے علم میں ہو تو میرے لئے بڑی خوشی کا موجب ہوگا...... کہ مرزا صاحب نے اس لئے اُس کا جنازہ نہیں پڑھا، یہ وجہ بیان کی ہو مرزا صاحب نے۔ میرے علم میں جناب......!
جناب یحییٰ بختیار: کوئی وجہ آپ کو معلوم نہیں؟
جناب عبدالمنان عمر: جناب! نہیں، یہ وجہ نہیں معلوم۔
جناب یحییٰ بختیار: کیا وجہ تھی اُنہوں نے نہیں پڑھائی؟ آپ کہتے ہیں وجہ بتائیں گے آپ۔
جناب عبدالمنان عمر: میں نے عرض کیا تھا کہ گھریلو تعلقات خراب تھے۔
١٠٧
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
جناب یحییٰ بختیار: یعنی کس بات پر؟
جناب عبدالمنان عمر: بہت سے ہیں، وہ تو بہت سی باتیں ہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں ناں جی، بیٹا جو باپ کی بات نہیں مانتا تو باپ ناراض ہو جاتا ہے۔
جناب عبدالمنان عمر: ٹھیک ہے، دو چار مثالیں آپ دے دیں گے۔ آپ ایک نوے ستر سال کا پرانا واقعہ ہے، اُس کی Details (تفصیلات) آپ مجھ سے یوں دریافت کرنا چاہیں کہ وہ گھر میں کیا واقعہ ہوا تھا؟ میں نے عرض کیا کہ تعلقات خراب تھے۔
1633 جناب یحییٰ بختیار: آپ کو علم نہیں ہے اس کا؟
جناب عبدالمنان عمر: نہیں، میں نے عرض کیا کہ تعلقات خراب تھے، میرے علم میں ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: تعلقات خراب تھے؟
جناب عبدالمنان عمر: مگر یہ موجب نہیں تھا۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، دیکھیں ناں یہ میں...... ادھر نماز کا وقت ہو رہا ہے...... ایک عرض کروں گا آپ سے کہ اپنے دماغ میں ایک چیز رکھئے جب یہ جواب دیں کہ تعلقات خراب تھے، باپ ناراض ہو گیا، جنازہ نہیں پڑھا۔ باپ کہتا ہے: ”فرمانبردار تھا، میں جنازہ نہیں پڑھتا۔“ آپ کیسے اس کو Reconcile کرتے ہیں؟ اس پر آپ سوچیں۔ پھر نماز کے بعد بات کریں گے۔
Mr. Chairman: And break for Maghrib.
(جناب چیئرمین: نمازِ مغرب کے لئے وقفہ)
The Delegation to come back at 7:30.
(وفد کو ٧:٣٠ بجے شام تک کی اجازت ہے)
The honourable members may keep sitting.
(معزز اراکین تشریف رکھیں)
The Delegation is permitted to leave, to come back in the House at 7:30.
(آپ جائیں، ساڑھے سات بجے تشریف لے آئیں۔ ساڑھے سات)
١٠٨
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
(The Delegation left the Chamber) (وفد باہر چلا گیا)
Mr. Chairman: The House to meet at 7:30 p.m. (جناب چیئرمین: ایوان کا اجلاس شام ٧:٣٠ بجے ہوگا)
-----------------------
[The Special Committee adjourned for Maghrib prayers to re-assemble at 7:30 p.m.] (خصوصی کمیٹی کا اجلاس مغرب کی نماز کے لئے ملتوی ہوا، پھر ٧:٣٠ بجے شام ہوگا)
-----------------------
1634 [The Special Committee re-assembled after Maghrib Prayers. Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali) in the Chair.] (خصوصی کمیٹی کا اجلاس مغرب کی نماز کے بعد مسٹر چیئرمین (صاحبزادہ فاروق علی) کی صدارت میں ہوا)
-----------------------
EVASIVE ANSWERS AND PREPARED
SPEECHES BY THE WITNESS
(گواہ کے ٹال مٹول پر مبنی جوابات اور پہلے سے تیار شدہ تقاریر)
Mr. Chairman: I would like to know from the Attorney-General about the procedure, because I have just arrived. I do not know what has happened in the morning. (جناب چیئرمین: چونکہ میں ابھی آیا ہوں، مجھے معلوم نہیں صبح سے کیا کارروائی ہوئی ہے۔ میں چاہوں گا کہ اٹارنی جنرل صاحب مجھے ضابطے کے بارے میں بتائیں)
Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, I am making super-human efforts to ask him some questions ...... (جناب یحییٰ بختیار: میں اس (یعنی گواہ) سے کچھ سوالات پوچھنے کی مافوق
١٠٩
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
الفطرت کوشش کر رہا ہوں)
Mr. Chairman: No. Any difficulty? I have only requested the Attorney-General to guide me if the Chair's assistance is needed......
(جناب چیئرمین: نہیں، کیا کوئی مشکل پیش آ رہی ہے؟ میں نے اٹارنی جنرل صاحب سے درخواست کی ہے کہ وہ بتائیں کہ ان کو صدارت کی طرف سے کسی امداد کی ضرورت تو نہیں؟)
Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, what happend, this morning......
Mr. Cahirman: ........ because I am totally blank as to what they have said and now the questions have been put.
(جناب چیئرمین: ....... مجھے کچھ معلوم نہیں کہ انہوں نے کیا کہا ہے، اور سوالات کس طرح پوچھے گئے ہیں)
Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, I just briefly explain. This morning, I asked him some quetions about Mirza Sahib's claim. He was not answering and was avoiding; and so I left the subject with a view to come back on the subject. Again he was avoiding. I left it. I went to a third subject. And now I am coming back to the same subject again. But I have to give up the subject because the man insists on delivering speeches which he has prepared.
(لاہوری نمائندہ ٹال مٹول کر رہا ہے)
(جناب یحییٰ بختیار: آج صبح میں نے گواہ سے مرزا صاحب کے موقف کے بارے میں چند سوالات پوچھے تھے، وہ جواب نہیں دے رہا اور ٹال مٹول کر رہا ہے، چنانچہ میں نے موضوع چھوڑ دیا اور دوسرے موضوع کو لے لیا۔ گواہ نے پھر بھی ٹال مٹول کیا۔ میں نے اُسے بھی
١١٠
1627 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
چھوڑ دیا اور ایک تیسرے موضوع پر آ گیا، اور اب میں پھر اسی موضوع کو لوٹ رہا ہوں۔ لیکن مجھے موضوع چھوڑنا پڑے گا، کیونکہ گواہ اپنی طرف سے پہلے سے تیار شدہ تقریریں کرنے پر مصر ہے)
Mr. Cahirman: No, we are not here to hear .......
Mr. Yahya Bakhtiar: After all, he has got a right to speak, but he has prepared some speeches .......
(جناب یحییٰ بختیار: گواہ کو جواب دینے کا حق ہے، مگر اس نے کچھ تقریریں تیار کر رکھی ہیں)
Mr. Chairman: But, they have to reply to questions. (جناب چیئرمین: انہیں سوالات کا جواب دینا چاہئے)
Mr. Yahya Bakhtiar: ...... anticipating certain questions. And actually they should have been examined first. And they have prepared those speeches. They would have been very useful to us at that stage. But we are all well-aware of what happend in the 1635 Course of two weeks. So, he is repeating those facts and, once or twice, I was rather harsh also. I felt sorry that I should not have stopped him, but he would not listen.
(جناب یحییٰ بختیار: اصل میں ان کا بیان ہی ہونا چاہئے تھا، پھر یہ تقریریں سود مند ہوتیں، گواہ باتوں کو بار بار دہرا رہا ہے۔ ایک مرتبہ تو سختی سے مجھے کہنا پڑا کہ وہ متعلقہ بات کرے اور باتوں کو بار بار دہرانے سے اسے روک دیا، جس کا مجھے افسوس ہے)
Mr. Chairman: Just, just a minute. And my submission would be, we must try to finish it, if not this night, tomorrow in the morning session, try to finish it.
(جناب چیئرمین: صرف ایک منٹ، میں محسوس کرتا ہوں کہ گواہ کا بیان آج رات، یا کل صبح ختم کرنے کی ہمیں کوشش کرنا چاہئے)
Mr. Yahya Bakhtiar: That is what my efforts .......
111
1628 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
Mr. Chairman: ...... because then our whole schedule and the programme would be upset. By tomorrow morning, we must in the morning session, try to finish it.
(جناب چیئرمین: ورنہ ہمارا تمام پروگرام تہ و بالا ہو جائے گا، صبح کے اجلاس میں ہمیں اسے (گواہ کے بیان کو) ختم کرنا چاہئے)
Mr. Yahya Bakhtiar: We should sit as far as possible.
(جناب یحییٰ بختیار: جہاں تک ممکن ہو ہمیں اجلاس جاری رکھنا چاہئے)
Mr. Chairman: Dr. Muhammad Shafi.
(جناب چیئرمین: ڈاکٹر محمد شفیع) ڈاکٹر محمد شفیع: ان کا تعارف ذرا ہمیں چاہئے۔ ہمیں پتا نہیں یہ کون کون ہیں؟ سوائے ...... جناب چیئرمین: تعارف پہلے جو کرا دیا تھا۔ یہ میں آپ کو بتا دیتا ہوں: مولانا صدرالدین، امیر جماعت، انجمن اشاعتِ اسلام، لاہوری۔ مرزا مسعود بیگ، جنرل سیکریٹری۔
(ایک کان والا کون ہے؟)
ایک آواز: سر! وہ جو ہے ایک کان والا، وہ کیا ہے؟ جناب چیئرمین: جی؟ ایک آواز: ایک کان والا۔ اُس کا ایک کان نہیں ہے۔ وہ کون ہے، جو ادھر بیٹھتا ہے؟ دیکھ لیں، میں مذاق نہیں کرتا، نہیں ہے ایک کان۔
Mr. Chairman: I have shown my ingorance because I have returned just now. So, I will take some time to have my own impression. So, after time, we will discuss it.
1636 صاحبزادہ صفی اللہ: جناب والا! جناب چیئرمین: جی، کورم نہیں ہے؟ صاحبزادہ صفی اللہ: نہیں، میں یہ عرض کر رہا ہوں کہ پہلے وفد کو آپ نے کچھ
١١٢
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
ہدایات دی تھیں اور وہ ان ہدایات کے مطابق کچھ چلنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اب ان کو پتا نہیں ہے۔ اٹارنی جنرل صاحب سوال پوچھتا ہے تو وہ بیچ میں شروع کر دیتا ہے۔ پورا تقریر وہ......
جناب چیئرمین: میں نے سر اسی واسطے پوچھا کہ مجھے گائیڈ کریں کہ مجھے صبح سے پتا نہیں ہے کہ کس طریقے سے چلا رہا ہے۔ جو آپ......
صاحبزادہ صفی اللہ: وہ قواعد کی بالکل خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
جناب چیئرمین: میں نے چیمبر میں اٹارنی جنرل صاحب سے ڈسکس کیا ہے۔ کہ سوال........He has shown me certain difficulties
مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی: نہیں، اب اس وقت محترم اٹارنی جنرل صاحب نے اُس کو صحیح طریقے سے چیک کیا ہے۔
جناب چیئرمین: ٹھیک ہے۔
مولانا شاہ احمد نورانی: اب تو ٹھیک چل رہا ہے۔
جناب چیئرمین: اچھا۔ مجھے اٹارنی جنرل صاحب نے کہا ہے کہ وہ میں وہ procedure adopt کروں گا اگر کوئی Difficulty ہو تو then, he will ask the Chair to get a definite answer. So, we can call them now.
(تب وہ صاحب صدر کے ذریعے (گواہ سے) حتمی جواب حاصل کرنے کے لئے التماس کریں گے۔ اب ہم انہیں بلا لیتے ہیں)
(The Delegation entered the Chamber)
(وفد ہال میں داخل ہوا)
Mr. Chairman: Yes, Mr. Attorney-General.
(جناب چیئرمین: جی اٹارنی جنرل صاحب)
(انوار خلافت کا حوالہ کہ غیر احمدی کا جنازہ پڑھنا)
1637 جناب یحییٰ بختیار: صاحبزادہ صاحب! یہ ایک میں پھر گستاخی کرتا ہوں اور بشیر الدین محمود احمد صاحب کا جو ہے ناں ”انوارِ خلافت“ اس سے اِسی مسئلے پر جو میں آپ کو کہہ رہا تھا کہ مرزا صاحب کے بیٹے کی وفات ہوئی اور انہوں نے جنازہ نہیں پڑھا، وہ جس طرح یہ Describe (ذکر) کرتے ہیں، اُس سے جو بھی آپ سمجھتے ہیں کہ جہاں غلط ہے، آپ پوائنٹ
١١٣
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12 آؤٹ کر دیں کہ یہ حصہ مانتے ہیں، یہ نہیں مانتے۔ تو یہ میں آپ کو پڑھ کر سناتا ہوں۔ ”انوار خلافت“ صفحہ: 91 پہ ہے، ninety-one:
”غیر احمدی کا جنازہ پڑھنا:
پھر ایک سوال غیر احمدی کا جنازہ پڑھنے کے متعلق کیا جاتا ہے۔ اس میں ایک یہ مشکل پیش آتی ہے کہ حضرت مسیح موعود نے بعض صورتوں میں جنازہ پڑھنے کی اجازت دے دی (جیسے آپ نے فرمایا یہ مشکل تھی) اس میں شک نہیں کہ بعض حوالے ایسے ہیں جن سے یہ بات معلوم ہوتی ہے اور ایک خط بھی ملا ہے جس پر غور کیا جائے گا۔ لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا عمل اس کے برخلاف ہے۔ چنانچہ آپ کا ایک بیٹا فوت ہو گیا جو آپ کی زبانی طور پر تصدیق بھی کرتا تھا۔ جب وہ مرا تو مجھے یہ یاد ہے کہ آپ ٹہلتے جاتے اور فرماتے کہ اس نے کبھی شرارت نہ کی تھی بلکہ میرا فرمانبردار ہی رہا ہے۔ ایک دفعہ میں سخت بیمار ہوا اور شدتِ مرض سے مجھے غش آ گیا۔ جب مجھے ہوش آیا تب میں نے دیکھا وہ میرے پاس کھڑا نہایت درد سے رو رہا تھا۔ آپ یہ بھی فرماتے تھے کہ میری بڑی عزت کرتا تھا۔ لیکن آپ نے اُس کا جنازہ نہیں پڑھا۔ ورنہ وہ اتنا فرمانبردار تھا کہ بعض احمدی بھی اتنے نہ ہوں گے۔ محمدی بیگم کے متعلق جب جھگڑا ہوا تو اُس کی بیوی 1638 کے رشتہ دار بھی اُس کے ساتھ شامل ہو گئے۔ حضرت صاحب نے اس کو فرمایا کہ تم اپنی بیوی کو طلاق دے دو۔ اُس نے طلاق لکھ کر حضرت صاحب کو بھیج دی کہ آپ جس طرح مرضی ہے اس طرح کریں۔ لیکن باوجود اس کے جب وہ مرا تو آپ نے اُس کا جنازہ نہ پڑھا۔“
ایک تو وہ لفظ یہ استعمال کرتے ہیں : ”مرا“، ”وفات“ کا نہیں کہتے۔ ”مرحوم“ نہیں کہتے۔ یہ خیر، ان کا point of view (نقطۂ نظر) ہے۔ میں یہ کہہ رہا ہوں کہ یہ Fact جو ہے ناں، میں اس کی وجہ آپ سے پوچھ رہا تھا کہ کیا وجہ تھی؟ آپ نے کہا کہ آپ بتائیں گے۔ ایک طرف سے وہ فرمانبردار ہے، اور پھر کہتے ہیں کہ سوشل تعلقات ایسے تھے کہ جس کی بنا پر ایک اتنے مرتبے کا آدمی، آپ جس کو محدث سمجھتے ہیں، وہ اپنے بیٹے کا جنازہ نہ پڑھے!
جناب عبدالمنان عمر : میری گزارش اس سلسلے میں یہ ہے کہ میں پھر عرض کروں گا کہ مرزا محمود احمد صاحب اس معاملے میں ہمارے فریق مقدمہ ہیں۔ اس بات میں ہمارا اور اُن کا اختلاف ہے۔ وہ کچھ تاریخی باتیں جمع کرنا چاہتے ہیں، کچھ حوالے جمع کرنا چاہتے ہیں، کچھ اِدھر اُدھر کی باتیں اکٹھی کر کے یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ جو اُن کے معتقدات ہیں، جو اُن کا رویہ ہے، وہ دُرست ہے اور ہم یہ موقف رکھتے ہیں کہ اُن کا رویہ غلط ہے، اُن کے معتقدات غلط ہیں۔
١١٤
1631 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
ہم اس وجہ سے اُن سے اختلاف کرتے ہیں۔ میں بڑے ادب سے گزارش کروں گا کہ جناب! اُس فریقِ مقدمہ کو آپ بطور گواہ میرے سامنے لاتے ہیں......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، گواہ نہیں، میں تو حقائق پیش کر رہا ہوں۔
جناب عبدالمنان عمر: جی، میں عرض کرتا ہوں کہ یہ بالکل کتاب ایسی ہے......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں کتاب کی بات نہیں کر رہا، میں نے کہا کہ لفظ ”مرا“ استعمال کیا، آپ ضرور وہ استعمال نہیں کریں گے۔ ان چیزوں کو چھوڑ دیجئے کہ یہ حقیقت 1639 ہے کہ نہیں کہ مرزا صاحب کے بیٹے تھے، وفات کر گئے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ فرمانبردار تھے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ مرزا صاحب نے جنازہ نہیں پڑھا۔ تو اُس کے بعد آپ نے کہا کہ ایک اور وجہ آپ بتاسکیں گے۔
جناب عبدالمنان عمر: میں عرض کرتا ہوں۔ میں عرض یہ کر رہا ہوں جی کہ اس شخص کے واقعات کو آپ مُسلّمہ مان لیتے ہیں پہلے......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، اس کو نہیں، میں......! اس کو چھوڑیں۔ ابھی میں نے اس واسطے کہا تا کہ آپ کو......
جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، اس کو ہمارے سامنے پیش نہیں ہونا چاہئے، یہ حجت نہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں ناں جی، مجبوراً ہمیں پیش کرنے پڑتے ہیں، چونکہ انہی کی کتابوں سے تو ہمیں پتا چلتا ہے کہ کیا Attitude (رویہ) رہا ہے۔ آپ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ ”ہم اس کو رَد کرتے ہیں“ کس حد تک رَد کرتے ہیں۔ بعض آدمی، جس کو آپ سمجھتے ہیں کہ بالکل جھوٹا بھی ہے، غلطی سے بھی کبھی سچ کہہ دیتا ہے۔ بعض سچا آدمی غلطی سے جھوٹ کہہ دیتا ہے۔ تو یہ چیزیں ہیں۔ آپ دیکھیں گے کہ آپ کی اپنی تعلیمات، تجربے اور اپنے علم کے مطابق کون سی بات صحیح ہے، کون سی نہیں ہے۔
اب یہ بات آپ نے تسلیم کی کہ مرزا صاحب کے بیٹے فضل احمد تھے۔ یہ بات آپ نے تسلیم کر لی کہ وہ احمدی نہیں ہوئے۔ یہ بات آپ نے تسلیم کر لی کہ اُن کی وفات مرزا صاحب کی زندگی میں ہوئی۔ یہ آپ نے تسلیم کر لیا کہ اُس نے اُن کا جنازہ نہیں پڑھا۔ اب اس کے بعد باقی جو وجوہات ہیں، وہ کہتے ہیں کیونکہ وہ غیر احمدی تھے، اس وجہ سے جنازہ نہیں پڑھا، آپ کہتے ہیں کہ نہیں، اور وجہ ہے۔ تو اُس پر آپ بتا دیجئے۔
1640 جناب عبدالمنان عمر: میں نے عرض یہ کیا تھا کہ پہلا میرا استدلال یہ ہے کہ کسی
١١٥
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
جگہ سارے لٹریچر میں سے، مرزا محمود احمد صاحب کی ان ساری کتابوں کے باوجود، وہ کبھی بھی ایسا کوئی حوالہ نہیں پیش کر سکے کہ مرزا صاحب نے اُن کا جنازہ اس وجہ سے نہیں پڑھا کہ وہ غیر احمدی تھے۔ کوئی ایک حوالہ نہیں، کوئی ایک مثال نہیں، کوئی ایک واقعہ نہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: آپ، میں نے عرض کیا کہ آپ بتائیں کہ وجہ کیا تھی؟
جناب عبدالمنان عمر: ہاں جی، میں گزارش یہ کرتا ہوں، اس چیز کو میں عرض کر رہا ہوں۔
دوسری میں نے گزارش یہ کی تھی کہ یہ جہاں سے آپ نے یہ واقعات لئے ہیں، یہ عجیب بات ہے کہ یہ ١٩١٥ء کی کتاب چھپی ہوئی ہے۔ اُس کے بعد آج تک اتنے Controversial Point (متنازعہ مسئلے) پر اس کتاب کو اُس شخص نے دوبارہ نہیں چھاپا۔ نصف صدی سے زیادہ اُس کا وقت گزرا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کس قدر کمزور پوزیشن انہوں نے اس میں اختیار کی۔
تیسری بات میں اس سلسلے یہ عرض کرتا ہوں کہ مرزا فضل احمد کے متعلق یہ جو کہا کہ ”وہ فرمانبردار بھی تھا“ اگر آپ ...... اور جب وہ فوت ہوئے، اگر آپ ان دونوں کے زمانوں کو مدنظر رکھ لیں تو شاید یہ مسئلہ فوراً حل ہو جائے۔ جب کہا کہ: ”وہ فرمانبردار تھا اور وہ اچھا تھا۔“ وہ ١٨٩٢ء کے قریب کی بات ہے۔ تو اُس کے کئی سال کے بعد کا یہ واقعہ ہے جب وہ شخص فوت ہوا۔ تو آپ سمجھتے ہیں کہ انسان میں تغیر نہیں آتا؟ اُس کے اخلاق کسی وقت Deteriorate (پست) نہیں کر جاتے؟ تو وہ اور زمانے کی شہادت ہے، یہ دوسرے زمانے کی شہادت ہے۔ اس لئے اُس کو پیش نہیں کیا جاسکتا۔
(مسلمانوں سے تمام تعلقات حرام)
جناب یحییٰ بختیار: ایک اور میں اُن کا حوالہ پڑھ کر سناتا ہوں Review of" "Religions سے۔ مرزا یا اُن کا ہے یا بشیر احمد صاحب کا ہے۔ وہ صاحبزادے ہیں اُن 1641 کے۔ دونوں زیادہ لکھتے رہے ہیں اُس دور میں۔ تو یہ میں نکال دوں آپ کو Review" "of Religions کے صفحہ ١٢٩ پر، وہ کہتے ہیں:
”حضرت مسیح موعود نے غیر احمدیوں کے ساتھ صرف وہی سلوک جائز رکھا جو نبی کریم نے عیسائیوں کے ساتھ کیا۔ غیر احمدیوں سے ہماری نمازیں الگ کی گئیں۔ ان کو لڑکیاں دینا حرام قرار دیا گیا۔ ان کے جنازے پڑھنے سے روکا گیا۔ اب باقی کیا رہا؟ کیا رہ گیا ہے جو ہم اُن کے
١١٦
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
ساتھ کر سکتے ہیں؟ دو قسم کے تعلقات ہوتے ہیں۔ ایک دینی، دوسرے دنیاوی۔ دینی تعلقات کا سب سے بڑا ذریعہ عبادت کا اکٹھا ہونا ہے اور دنیاوی تعلق کا بھاری ذریعہ رشتہ اور ناطہ ہے۔ سو یہ دونوں ہمارے لئے حرام قرار دیئے گئے۔ اگر کہو کہ یہ ہم کو ان کی لڑکیاں لینے کی اجازت ہے تو میں کہتا ہوں کہ نصاریٰ کی لڑکیاں لینے کی بھی اجازت ہے اور اگر یہ کہو کہ غیر احمدیوں کو سلام کیوں کیا جاتا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ حدیث سے ثابت ہے کہ بعض اوقات نبی کریم نے یہود تک کو سلام کا جواب دیا۔‘‘
تو میں نے ایسے کہا کہ یہ چیز یہ بار بار کہتے رہے ہیں۔ اگر آپ کا یہ خیال ہے کہ یہ ۱۹۱۴-۱۵ء کی بات ہے، بعد میں نہیں کہی، تو ہو سکتا ہے، مگر پریکٹس اور Practical Experince (عملی صورت) یہ رہا ہے کہ احمدی لڑکی کی شادی غیر احمدی سے بہت بُرا سمجھتے ہیں۔ بعض دفعہ ہو جاتی ہے، وہ اور بات ہے۔ مگر اس کی وجہ یہی ہے کہ انہوں نے، مرزا صاحب کا کوئی یہ آرڈر ہے جو میں نے آپ کو پڑھ کر سنایا، ۱۸۹۸ء میں کہ آپ ایسا نہ کریں۔
جناب عبد المنان عمر: میری گزارش یہ ہے کہ جناب! یہ حوالہ جو آپ نے پڑھا، یہ مرزا بشیر احمد صاحب کا حوالہ ہے، جو اُن کے چھوٹے بھائی ہیں۔ یہ ہم رَدّ کرتے ہیں ان باتوں کو۔ ہم ان کو غلط سمجھتے ہیں۔ ہم اس کو Hate کرتے ہیں ان باتوں کو اور ہمارے متعلق آپ ہمارے کسی لٹریچر کو پیش فرمائیے۔ یہ چیزیں غلط ہیں۔ یہ اُن کے موقف غلط 1642 ہیں۔ ہم اس وجہ سے اُن سے الگ ہو چکے ہوئے ہیں۔ ہم اُن کو اس رستے میں صحیح نہیں سمجھتے۔ تو یہ فرمانا کہ مرزا بشیر احمد نے یہ کہا تھا، مرزا محمود احمد صاحب نے یہ کہا، یہ چیزیں ہمارے لئے حجت نہیں ہیں ہمارے لئے.......
( تحریک احمدیہ کا اسلام کے مقابلہ میں وہی مقام ہے جو کہ عیسائیت کا یہودیت کے مقابلے میں )
جناب یحییٰ بختیار: اب ایک اور ہے کہ:
"Ahmadia Movement stands in the same relation to Islam in which Christainity stood to Judaism."
( تحریک احمدیہ کا اسلام کے مقابلے میں وہی مقام ہے جو کہ عیسائیت کا یہودیت کے مقابلے میں ہے )
جناب عبد المنان عمر: جناب عالی! یہ کس کا مضمون ہے؟
۱۱۷
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
جناب یحییٰ بختیار: یہ مولانا محمد علی صاحب کا ہے۔
جناب عبدالمنان عمر: نہیں ہے، جناب!
جناب یحییٰ بختیار: یہ مجھے کہا گیا ہے کہ "Review of Religions"......
جناب عبدالمنان عمر: "Review of Religions" میں ہر مضمون اُن کا نہیں ہوتا۔
جناب یحییٰ بختیار: اُن کا نہیں؟ مجھے یہ کہا گیا ہے اُن کا ہے، مجھے یہ کہا گیا ہے اور ۱۹۰۶ء کا مضمون ہے یہ۔
جناب عبدالمنان عمر: یہ میں نے عرض کیا ناں......
جناب یحییٰ بختیار: آپ نوٹ کر لیجئے، آپ دیکھ لیجئے۔
جناب عبدالمنان عمر: میرے پاس نوٹ ہے جی کہ Review of" "Religions میں میرا خیال ہے کہ یہ نہیں دکھایا جا سکے گا کہ یہ مولانا صاحب کا وہ.......
جناب یحییٰ بختیار: اچھا.......
جناب عبدالمنان عمر: اب میں اس کے متعلق عرض کر دیتا ہوں تاکہ بات Clear (واضح) ہو جائے......
جناب یحییٰ بختیار: آپ کے پاس ہوگا یہ؟
1643 جناب عبدالمنان عمر: کچھ تمثیلیں ایسی ہوتی ہیں......
جناب یحییٰ بختیار: یہ ۱۹۰۶ء کا ہے جی، یہ آپ کے پاس ہوگا۔ Review of" "Religions in English" ۔ مولانا محمد علی اُس کے ایڈیٹر تھے اُس زمانے میں۔
جناب عبدالمنان عمر: نہیں، یہاں نہیں ہے، یہ یہاں نہیں ہے۔ تو اس کے متعلق میں آپ کو گزارش کر دوں کہ بعض دفعہ جب تمثیل بیان کی جاتی ہے تو وہ ایک پیمانہ نہیں ہوتی کہ اس کے ایک ایک لفظ کو، ایک ایک حصے میں وہ تمثیل ہو۔
جناب یحییٰ بختیار: ابھی آپ نے صبح یہ فرمایا کہ اگر کفر کا فتویٰ دیا جائے تو لوٹ کے آ جاتا ہے وہ۔
جناب عبدالمنان عمر: یہ میں نے نہیں عرض کیا، میں نے حدیث پیش کی۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، حدیث ہے جو ناں، اُس کی بنا پر وہ آپ کے خلاف فتوے دیئے اُنہوں نے۔ تو مجبوراً آپ اُن کے ساتھ نماز نہیں پڑھتے ہوں گے اُن کے پیچھے۔ یہ
۱۱۸
1635 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
وجہ تھی۔ اُس سے پیشتر آپ نے یہ کہا کہ جو آدمی کلمہ پڑھتا ہو وہ آپ کی نظر میں کافر نہیں ہوتا۔
جناب عبدالمنان عمر: حقیقی کافر نہیں ہوتا، دائرۂ اسلام سے خارج نہیں ہو جاتا۔
(کفر کی اقسام)
جناب یحییٰ بختیار: اچھا! ابھی ایک کیٹگری ”حقیقی کافر“ ہے؟
جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، مجھے یاد نہیں، شاید آپ کو ہوگا، میں نے ”کفر دون کفر“ کی مثال دی تھی۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں نہیں، وہ ٹھیک ہے، تو وہ حقیقی کافر نہیں ہوتا؟
جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: اور مسلمان رہتا ہے وہ؟ مسلمان رہتا ہے وہ؟
جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، مسلمان ہے وہ۔
1644 جناب یحییٰ بختیار: اور اس کے باوجود آپ اس کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے؟
جناب عبدالمنان عمر: وہ اس لئے میں نے عرض کیا ناں جی کہ بعض دفعہ انسان اخلاقی اور روحانی لحاظ سے اتنا گر جاتا ہے کہ دائرۂ اسلام میں رہنے کے باوجود...... وہ نماز کا ایک امام جو ہے وہ ایک قسم کا Representative (نمائندہ) ہے، وہ نماز میں ہمارے آگے ہوتا ہے، وہ ہمارا لیڈر ہوتا ہے، وہ ہمارا پیش امام ہوتا ہے۔ اُس میں اگر ایسی باتیں پائی جائیں جو نبی کریم ﷺ کی وعید کے نیچے آنے والا وہ شخص ہو، وہ محمد رسول اللہ ﷺ کے منشاء کے خلاف چلنے والا ہو، محمد رسول اللہ ﷺ کے احکام کی نافرمانی کرنے والا ہو، تو ایسے شخص کے بارے میں پھر یہ رویہ اختیار کرنا کہ نہیں وہ محمد رسول اللہ ﷺ کی کتنی مخالفت کیوں نہ کرتا چلا جائے، آپ اس کو بالکل ویسا ہی رکھیں، یہ صحیح نہیں ہے۔ لیکن اصولی طور پر جیسا کہ میں نے شروع میں بھی عرض کیا تھا کہ ہمارا اصول یہ ہے کہ:
”یہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ اگر ہزار ہا کافروں کو کافر نہ کہا جائے، بلکہ اُن کی نسبت خاموشی اختیار کی جائے تو اس میں کوئی بڑا گناہ نہیں، بخلاف اس کے کہ ایک مسلمان کو کافر کہہ دیا جائے، یہ ایسا گناہ ہے جو تمام گناہوں سے خطرناک ہے۔“
یہ امام غزالیؒ کے میں نے الفاظ اُن کی کتاب ”الاقتصاد فی الاعتقاد“ میں سے سُنائے ہیں۔ یہی ہمارا مسلک ہے۔
119
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ ٹھیک ہے، آپ نے Explain (واضح) کردیا اُس پر۔ اب آپ....... میں ایک اور طرف جاتا ہوں کہ محدث کا Status (رتبہ) کیا ہوتا ہے اسلام میں؟
1645 جناب عبدالمنان عمر: محدث کا Status (درجہ) اسلام میں یہ ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے ساتھ اُس کا ایک ایسا تعلق ہوتا ہے جو نبیوں والا نہیں ہوتا، بلکہ خدا اُن سے ہم کلام ہوجاتا ہے، اُن کے ساتھ اُس کا ایک خصوصی تعلق ہوجاتا ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: یعنی وہ نبی کے Status (درجے) سے نیچے ہی رہتا ہے، اُوپر تو نہیں ہوجاتا؟
جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: برابر بھی نہیں ہوتا؟
جناب عبدالمنان عمر: نہ جی، نہ برابر، نہ اُوپر۔ نہ اُوپر ہے نہ برابر۔
جناب یحییٰ بختیار: کیونکہ محدث اسلام میں کافی گزرے ہیں، آپ کے نقطۂ نظر سے، حضرت عمرؓ کے بارے میں بھی یہ کہا جاتا تھا کہ وہ محدث تھے، حضرت علیؓ کے بارے میں اور باقی بھی کوئی بزرگ محدث گزرے ہیں۔ تو آپ کہتے ہیں کہ مرزا صاحب بھی ایسے بزرگوں اور اولیاؤں میں سے ایک تھے جن کو محدث کا Status (رتبہ) دیا گیا؟
جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، زُمرۂ اولیاء۔
جناب یحییٰ بختیار: مگر وہ نبی کے Status (رتبہ) کے نہیں تھے؟
جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: اور نبی جو ہو، خواہ کسی بھی تعریف کا ہو.......
جناب عبدالمنان عمر: جی۔
جناب یحییٰ بختیار: ...... کسی تعریف کا بھی نبی ہو، تو آپ نے تعریفیں کیں ”نبی“ کی دو۔
جناب عبدالمنان عمر: ایک میں نے ”نبی“ کی حقیقی تعریف کی ہے، ایک اُس کے Figurative (تمثیلی) استعمال کے متعلق کہا ہے۔
1646 جناب یحییٰ بختیار: ....... نہیں، میں اُس پہ نہیں جارہا، وہ تو آپ نے Explain (واضح) کردیا ہے۔
جناب عبدالمنان عمر: چونکہ وہ ”نبی“ کی قسم نہیں ہے۔
١٢٠
1637 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12 جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، ”ختم“ میں نہیں کہہ رہا۔ ابھی آپ نے حضرت عیسیٰ اور حضرت موسیٰ کا ذکر کیا۔ جناب عبدالمنان عمر: ہاں۔ جناب یحییٰ بختیار: دونوں نبی ہیں؟ جناب عبدالمنان عمر: دونوں نبی ہیں۔ جناب یحییٰ بختیار: آپ کہتے ہیں کہ محدث اُن کے لیول کے نہیں ہیں؟ جناب عبدالمنان عمر: نہ۔ جناب یحییٰ بختیار: بس یہ میں آپ سے معلوم کرنا چاہتا تھا۔ جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، بالکل واضح ہے یہ کہ محدث نبی کے لیول کا نہیں ہوتا۔
(ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو، اس کا کیا مطلب؟)
جناب یحییٰ بختیار: اگر محدث یہ کہے کہ: ”ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو، اس سے بہتر غلام احمد ہے۔“
(دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)
تو کیا مطلب لیں گے آپ اس سے؟ جناب عبدالمنان عمر: شعر کی بندش دیکھئے، نبی اکرم ﷺ کی عظمت میں یہ شخص کھویا ہوا ہے۔ یہ شخص کہتا ہے کہ تم یہ جو خیال کئے بیٹھے ہو کہ محمد رسول اللہ کی اُمت کی اصلاح ایک غیر اُمتی آ کر کرے گا، یہ ایک باہر کا شخص آ کر کرے گا، یہ بات صحیح نہیں ہے، اُس کا خیال چھوڑ دو۔ محمد رسول اللہ ﷺ کی اُمت کی اصلاح محمد رسول اللہ ﷺ کے اپنے شاگرد کر سکتے ہیں۔ اس لئے وہاں لفظ چونکہ ذرا ملتے جلتے ہیں، لفظ ہے ”غلام احمد“ یعنی محمد رسول اللہ ﷺ.......
1647
جناب یحییٰ بختیار: میں سمجھ گیا ہوں، مگر ”غلام احمد“ ایک احمد کا غلام۔ جناب عبدالمنان عمر: غلام۔ جناب یحییٰ بختیار: اللہ کا بندہ۔ جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔
(نبی سے بہتر کا دعویٰ کیونکر؟)
جناب یحییٰ بختیار: وہ کیوں دعوے کرے کہ وہ نبی سے بہتر ہے؟ دیکھیں ناں،
١٢١
IATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
آپ خود بتائیے۔۔۔۔۔
جناب عبدالمنان عمر: بالکل صحیح ہے۔ میں اس کے متعلق عرض کرتا ہوں کہ میں یہ عرض یہ کر رہا تھا کہ وہاں جو آپ نے شعر پیش فرمایا ہے، اُس میں مضمون یہ بیان ہو رہا ہے کہ: ”ابنِ مریم کے ذکر کو چھوڑو“ اس وقت تم لوگوں نے یہ جو اُمید لگائی ہوئی ہے کہ کوئی بنی اسرائیل کا شخص، اُمّتِ محمدیہ سے باہر کا شخص اُمتِ محمدیہ کی آکے اصلاح کرے گا، یہ صحیح بات نہیں ہے۔ بلکہ یہ اصلاح کا فریضہ جو ہے، وہ اس قسم کا فریضہ ہے کہ مسیح ناصری جو تھے وہ ایک چھوٹی سی قوم کے لئے، ایک محدود وقت کے لئے ، مختص الزمان اور مختص المقام، وہ ایک نبی تھے۔ لیکن محمد مصطفیٰ ﷺ کا دائرہ عمل جو ہے، وہ دائرہ کار جو ہے، وہ ساری دُنیا میں وسیع ہے، وہ عالمگیر نبوت کے حامل تھے۔
جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں، صاحبزادہ صاحب! میں تو آپ سے صاف سوال پوچھ رہا ہوں۔ محمد ﷺ کا عیسیٰ علیہ السلام سے مقابلہ ہم نہیں کر رہے، ایک اُن کے اُمتی کا، اُن کے ایک غلام کا۔ کیا کوئی بھی اُمتی غلام کہہ سکتا ہے کہ: ”میں اُن انبیاء میں سے کوئی بھی ایک ہو، جن کا قرآن شریف میں ذکر ہے، اُس سے بہتر ہوں“؟ کسی لحاظ سے بھی وہ کہہ دے، کسی لحاظ سے بھی وہ اس کو جائز سمجھتے ہیں؟
جناب عبدالمنان عمر: میں نے عرض کیا کہ یہاں ”غلام احمد“ سے کسی شخص کی طرف اشارہ نہیں ہے۔
1648 جناب یحییٰ بختیار: ”احمد“ تو نہیں ہو سکتا ناں، ”غلام احمد“ کہا اُس نے۔
جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، اپنا نہیں ذکر کیا۔
جناب یحییٰ بختیار: ”غلام احمد“ سے مطلب ”احمد“ ہے؟
جناب عبدالمنان عمر: ہاں۔ نبی کریم۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، میں سمجھ گیا ہوں۔
اچھا جی، اب آپ یہ فرمائیے، جب وہ یہ فرماتے ہیں کہ:
عیسیٰ کجاست تا بنہد پای منبرم“
(ازالہ اوہام ص ١٥٨، خزائن ج ٣ ص ١٨٠)
یہاں تو ابھی ”احمد“ نہیں آیا بیچ میں۔ وہ تو صرف خود ہے، اور عیسیٰ کا مقابلہ ہو گیا۔
جناب عبدالمنان عمر: کیا مقابلہ آ رہا ہے کہ میرے نزدیک ”عیسیٰ کجاست“
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
میرے نزدیک مسیح ناصری فوت ہو چکے ہیں، حضرت مسیح ناصری کہیں بھی موجود نہیں ہیں، وہ زندہ نہیں ہیں۔ اُن کا مسلک یہ ہے، اُن کا عقیدہ یہ ہے۔ اُن کا مذہب یہ ہے کہ حضرت مسیح فوت ہو گئے ہیں۔ تو وہ یہ کہتے ہیں کہ: ”عیسیٰ کجاست۔“ کہاں ہے وہ عیسیٰ، وہ فوت ہو چکا ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: فوت ہو چکے ہیں۔ آنحضرت...... دیکھیں، دیکھیں، صاحبزادہ صاحب! بات سُن لیں....... آنحضرت ﷺ بھی فوت ہو چکے ہیں۔
جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔
جناب یحییٰ بختیار: اس لئے مرزا صاحب کہیں گے کہ: ”میرے منبر پر کوئی نہیں آ سکتا“؟ آپ ذرا سوچیں جو آپ جواب دے رہے ہیں۔
جناب عبدالمنان عمر: میں یہی عرض کر رہا تھا جی۔
(مرزا صاحب کا غرور اور تکبر)
1649
جناب یحییٰ بختیار: ایک نبی ہے عیسیٰ، اور اُس کے متعلق کہہ رہے ہیں کہ:
یعنی اتنا Arrogance (تکبر)، اتنا غرور کیا ایک بندہ کرتا ہے؟ آپ اس کا جواب دیجئے، آپ یہ کہیں گے کہ جی وہ تو فوت ہو چکے ہیں؟ کیا آنحضرت فوت نہیں ہو چکے؟
جناب عبدالمنان عمر: میں اُن کا عقیدہ پیش کر رہا ہوں۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، اُن کے عقیدے کی بات نہیں ہے۔
جناب عبدالمنان عمر: وہ تو اپنے عقیدے کے مطابق.......
جناب یحییٰ بختیار: ہمارا تو عقیدہ ہے کہ وہ زندہ ہیں۔ آپ اپنا عقیدہ کہہ رہے ہیں کہ وہ فوت ہو چکے ہیں۔ میں یہ کہتا ہوں کہ آپ کے عقیدے کے مطابق آنحضرت (ﷺ) بھی فوت ہو چکے ہیں۔ مگر اُس کا یہ مطلب نہیں کہ اُن کا پیغام نہیں رہا، اُن کا Status (رُتبہ) نہیں رہا، وہ زندہ نبی نہیں ہیں۔
جناب عبدالمنان عمر: یہ فرق ہے۔ یہی ہمارا موقف ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کو ہم زندہ نبی ان معنوں میں سمجھتے ہیں کہ اُن کا مقام اور اُن کا پیغام جو ہے وہ قیامت تک چلنے والا ہے۔ مسیح کے پیغام کو ہم یہ مقام نہیں دیتے باوجود اس کے کہ.......
جناب یحییٰ بختیار: جہاں تک آنحضرت (ﷺ) کے پیغام کا تعلق ہے، آپ
١٢٣٣
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
درست فرماتے ہیں۔ جہاں تک مسیح کا تعلق ہے مرزا غلام احمد صاحب کے ساتھ، مرزا غلام احمد صاحب ایک انسان ہیں، نبی نہیں ہیں۔ بڑے نیک انسان ہوں گے آپ کے نقطہ نگاہ سے، محدث ہیں، مجدد ہیں اور آپ خود کہتے ہیں کہ ایک نبی کے Status (رتبہ) کا نہیں ہوتا جناب عبدالمنان عمر: بالکل۔
(وہ نبی کون جو میرے منبر پر قدم رکھ سکے؟)
جناب یحییٰ بختیار: اور وہ کہتا ہے کہ: ”وہ نبی کون جو میرے منبر پر آ کر قدم رکھ سکے“ 1650 اس کی کیا وجہ ہے؟
جناب عبدالمنان عمر: وہ میں نے عرض کیا تھا کہ وہ بیان یہ کر رہے ہیں مضمون کہ: ”میرے عقیدے کی رُو سے مسیح فوت ہو چکا ہے۔ اب یہ جو منبر محمد رسول اللہ ﷺ کی خدمت کے لئے اور آپ کے مقام کی اشاعت کے لئے دُنیا میں قائم کیا گیا ہے، وہ اس جگہ نہیں آ سکتا، فوت شدہ شخص نہیں آ سکتا۔“ یہ ہے مضمون اس کا۔
(میں عرفان میں کسی سے کم نہیں ہوں)
جناب یحییٰ بختیار: اچھا جی، یہ تو فوت ہو چکے ہیں۔ ابھی آگے سنئے آپ، آپ ذرا توجہ سے:
من بہ عرفان نہ کمترم زکسے“
(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
تو اب جتنے بھی انبیاء ہیں، وہ کہتے ہیں، بہت گزر چکے ہیں، مگر ”عرفان میں، میں کسی سے کم نہیں ہوں۔“ کیا ایک محدث کہتا ہے یہ یا کوئی نبی کہہ رہا ہے یہ؟ اور مقابلہ کیوں وہ نبیوں سے کر رہا ہے؟ محدث جو ہے، مجھے یہ بتائیے کہ بار بار .......... میں حوالوں پر بعد میں آؤں گا، اس وقت تو آپ سے صرف یہ عرض کر رہا ہوں کہ ایک شخص محدث ہے، ایک شخص آنحضرت (ﷺ) کی جوتیوں میں بیٹھنے والا ہے، خود ہی یہ کہتا ہے کہ: ”میں ان کا غلام ہوں“ انبیاء کو سب مانتا ہے، مگر جب بھی اپنا مقابلہ کرتا ہے تو کسی ایک نبی کو گھسیٹ لیتا ہے، یا کسی اور کو، یا سب کو اکٹھا کر کے۔ ”یہ سب میرا مقابلہ نہیں کر سکتے!“ تو یہ بتائیے کہ یہ Comparison (مقابلہ) جب تک کہ خود اس کا دعویٰ نبوت کا نہ ہو، وہ کیونکر کرتا ہے؟
١٢٤٢
1641 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
جناب عبدالمنان عمر: میں گزارش یہ کروں گا کہ کلام ہر شخص کے ...... اور خود قرآن مجید کا انداز بیان یہی ہے ...... کہ اُس میں کچھ محکمات ہوتے ہیں، کچھ متشابہات ہوتے ہیں، جو اُس شخص کا ایک ایسا ...... جب کسی شخص کے کلام کی آپ تشریح یا توضیح کرنا چاہتے ہیں تو اُس نے جو محکم باتیں کی ہوئی ہیں، مضبوط اُس کا موقف ہے، اُس سے ہٹ کر نہیں کر سکتے آپ بات۔ آپ نے ہماری گزارشات کو سننا ہوگا۔ ہم اس کو بڑے 1651 زور سے مرزا صاحب کے بیانات کو پیش کرتے ہیں کہ مرزا صاحب نے کہا ہے کہ: ”میں ہرگز مدعی نبوت نہیں ہوں، میں مدعی نبوت کو کافر و کاذب جانتا ہوں۔ میرے نزدیک آنحضرت ﷺ کے بعد اگر کوئی شخص ایک فقرہ کے متعلق یہ کہہ دے کہ جبرائیل وحیِ نبوت لے کر میرے پاس آیا ہے، وہ کافر ہو جاتا ہے۔“ اور مسجد میں کھڑے ہو کر، دو دفعہ خانہ خدا میں کھڑے ہو کر، وہ شخص بڑے زور کی قسمیں کھاتا ہے کہ: ”میں نبی نہیں ہوں!“ اُس کے بعد اُس کے کچھ شعروں کو پیش کر کے، اُس کے کلام کے کچھ حصوں کو پیش کر کے، اُس کے کلام کے کچھ حصوں کو لے کر، جہاں اُس نے ہزارہا دفعہ اپنی نبوت ......
(مرزا صاحب نے کہیں کچھ کہا، کہیں کچھ کہا)
جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں مرزا صاحب! Sorry (مجھے افسوس ہے) صاحبزادہ صاحب! بات یہ ہے کہ اب اسمبلی کے لئے بڑا مشکل مسئلہ ہے۔ ایک جماعت ہے جو کہتی ہے کہ مرزا صاحب نبی تھے۔ اُمتی نبی ہوں، ناقص نبی سمجھیں، کسی خاص کیٹیگری کا سمجھیں۔ آپ کہتے ہیں وہ نہیں تھے۔ حوالے اتنے ہی مرزا صاحب کے کہیں انہوں نے کچھ کہا ہے، کہیں کچھ کہا ہے۔ یہ پوزیشن ہم نے Clear (صاف) کرنی ہے۔ آپ کی مدد کی ضرورت ہے۔ اُن کی بھی مدد کی ضرورت تھی۔ تو اِن حالات میں آپ کہہ رہے ہیں کہ وہ سو دفعہ کہہ چکا ہے کہ وہ نبی نہیں، ہزار دفعہ کہہ چکا ہے کہ : ”میں نبی نہیں ہوں!“ تو یہ مشکل آ جاتی ہے۔ اس لئے ہم پوچھتے ہیں کہ جو آدمی اتنی دفعہ کہہ چکا ہے کہ وہ نبی ہے، اتنی دفعہ کہہ چکا ہے کہ وہ نبی نہیں ہے، تو اُن میں پھر یہ Evidence (شہادت) آتی ہے کہ جب وہ شعر کہتا ہے، بار بار کہتا ہے، اور اپنے Status (رُتبے) کو سب سے بڑا کہتا ہے، تو اُس کے لئے میں آپ سے عرض کر رہا تھا کہ یہ جو وہ کہہ رہا ہے:
١٢٥
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
من بہ عرفاں نہ کمترم زکسے“
1652 یہ اتنا بڑا دعویٰ ہے کہ ایک محدث کیسے کر سکتا ہے؟ پھر آگے آپ سنئے:
داد آں جام را مرا بہ تمام“
(نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
یعنی ”سارے نبیوں کو جو جام ملا، مجھے اُن سب سے زیادہ بھر کے جام دیا گیا۔“ یہ اگر دعویٰ دیکھیں، پھر یہ آپ کہتے ہیں کہ وہ محدث ہے۔
جناب عبدالمنان عمر: سوال یہ کیا گیا ہے کہ مرزا صاحب نے کسی جگہ کہہ دیا ہے کہ: ”میں نبی ہوں“ اور کسی جگہ کہہ دیا: ”میں نبی نہیں ہوں“ اِس کے متعلق ایک بڑا Simple (آسان)، سادہ سا ایک اُصول میں پیش کرتا ہوں، جس سے یہ ساری مشکل حل ہو جائے گی۔ میں نے عرض کیا تھا کہ ”نبی“ کا لفظ جو ہے، ایک اُس کا حقیقی استعمال ہے، ایک اُس کا مجازی استعمال ہے۔ مرزا صاحب کی تمام تحریرات کو آپ اِس فارمولے کی روشنی میں دیکھیں گے تو آپ کو کوئی اختلاف نظر نہیں آئے گا۔ جس جس جگہ انہوں نے نبوت یا رسالت سے انکار کیا ہے، اِن معنوں میں کیا ہے کہ وہ گویا کوئی نئی شریعت لانے والے نہیں ہیں۔ اِن معنوں میں کیا ہے کہ اُن کو جو کچھ بھی مقام ملا ہے وہ محمد مصطفیٰ ﷺ کی غلامی میں ہی ملا، بلکہ براہ راست نہیں ملا۔ یہ انکار کرتے ہیں بالکل۔ وہ کسی شریعت سابقہ یعنی قرآن مجید کے ایک شوشے کو بھی منسوخ نہیں کر سکتے۔ یہ ہے تمام تحریرات کا خلاصہ جس میں انہوں نے کہا ہے کہ: ”میں نبی ہوں“ یعنی وہ مجازی معنوں میں جو حقیقی نہیں ہوتے ہیں، جس طرح میں نے عرض کیا تھا کہ ”شیر“ ایک بہادر کو آپ ”شیر“ کہتے ہیں، اُسی طرح مرزا صاحب نے صرف مکالمہ مخاطبہ الٰہیہ کے لئے یہ لفظ استعمال کیا۔ انکار اِن معنوں میں ہے کہ: ”میں کوئی شریعت نہیں لایا۔“ انکار اِن معنوں میں ہے کہ گویا: ”مجھے محمد رسول اللہ ﷺ سے کوئی تعلق نہیں۔“ انکار اِن معنوں میں ہے کہ: ”میں قرآن کا کوئی شوشہ بھی منسوخ نہیں کر سکتا۔“ لیکن اقرار صرف اِن معنوں میں ہے کہ: ”خدا تعالیٰ مجھ سے بولتا ہے اور مجھ سے ہم کلام ہوتا ہے۔“
1653 جناب یحییٰ بختیار: اور ”اُس معنی میں، میں نبی ہوں“؟
جناب عبدالمنان عمر: نہیں، جناب! وہ معنی نہیں ہے، ”نبی“ کا کوئی، وہ اُس کا
١٢٦
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
مجازی استعمال ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: مجازی استعمال سہی، بروزی سہی، ظلی سہی...... جناب عبدالمنان عمر: وہ قسم نہیں ہے نبوت کی۔ جناب یحییٰ بختیار: ......قسم نہیں سہی...... جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔ جناب یحییٰ بختیار: ......مگر وہ اُس طریقے سے ”نبی“ اُس کو کہتے ہیں آپ؟ جناب عبدالمنان عمر: بمعنی...... آپ اُس جگہ ”نبی“ کے لفظ کی بجائے لکھادیں ”مکالمہ مخاطبہ الہیہ“ اور یہ خود مرزا صاحب نے کہا۔
(مرزا صاحب نے کہا کہ مسلمان اس وقت سے ناراض ہیں
جب میں نے اپنے لئے نبی کا لفظ استعمال کیا)
جناب یحییٰ بختیار: اچھا، یہ بتائیے کہ کیا مرزا صاحب نے کسی وقت یہ کہا تھا کہ: ”بعض مسلمان اس وقت سے ناراض ہیں کہ میرے متعلق ”نبی“ کا لفظ میں نے اپنے آپ کے متعلق استعمال کیا ہے“؟ جناب عبدالمنان عمر: ہاں جی۔ جناب یحییٰ بختیار: جب عبدالحکیم کلانوری کی اس سے بحث ہوئی...... جناب عبدالمنان عمر: فرمایا کہ: ”اس کو بے شک کاٹا ہوا سمجھیں۔“ جناب یحییٰ بختیار: ”کاٹا ہوا سمجھیں“ تردید شدہ؟ جناب عبدالمنان عمر: جی۔
(مرزا صاحب نے کہا کہ نبی کا لفظ کاٹا ہوا سمجھیں،
اس کے باوجود اپنے لئے نبی اور رسول کا لفظ کیوں استعمال کیا؟)
جناب یحییٰ بختیار: اُس کے بعد پھر مرزا صاحب نے یہ لفظ استعمال کیا کہ نہیں، اپنے متعلق، اور کیوں؟ آپ بتائیے یہ کہ ایک آدمی جو ہوتا ہے محدث، ایک اچھے آدمی1654 کی، ایک نیک آدمی کی، ایک پارسا آدمی کی، ایک بڑے آدمی کی یہ خوبی ہوتی ہے کہ صاف بات کرتا ہے، Confuse (خلط ملط) نہیں کرتا کہ Confound (گڑبڑ) نہیں کرتا۔ آپ یہ
١٢٧
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
دیکھئے کہ: ”ہاں، مجھ سے غلطی ہوگئی، سادگی سے ہوا۔ اس لئے اب یہ لفظ جو استعمال ہوا ہے، مسلمانوں کو دُکھ ہوا ہے، غلط فہمی پیدا ہوئی ہے، آئندہ کے لئے ترمیم شدہ سمجھیں ۔“
یہ بات ختم ہونے کے بعد پھر وہی ”نبی“ کا لفظ، پھر وہی ”رسول“ کا لفظ ، یہ آپ بتائیے کیوں؟
جناب عبدالمنان عمر: جناب عالی! یہ مرزا صاحب نے یہ لکھا ہے کہ: ”میں بوجہ مأمور ہونے کے اس لفظ کو چھپا نہیں سکتا ہوں۔“ دیکھئے ! اُس شخص کی عظمت دیکھئے ، وہ کہتا ہے کہ:
”میں بوجہ مأمور ہونے کے اس لفظ کو چھپا نہیں سکتا ہوں۔ مگر کیونکہ اب آپ لوگ اس کے کچھ اور معنی سمجھتے ہیں اور وہ معنی مجھ میں نہیں پائے جاتے اس لئے میں آپ کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کہ آپ اس کو ترمیم شدہ سمجھ لیں ۔ اس کو کاٹا ہوا سمجھ لیں۔ اُس کی بجائے ”محدث“ کا لفظ سمجھیں ۔ مفہوم اُس کا جو ہے وہ محدثیت ہی کا رہے گا۔“
یہ فرمائیے کہ اس کے بعد اگر کبھی مرزا صاحب نے استعمال کیا تو آیا محدثیت کے علاوہ کسی معنوں میں استعمال کیا ؟ ہرگز نہیں کیا، کبھی نہیں کیا۔
جناب یحییٰ بختیار: اب یہ فرمائیے ، وہ کہتے ہیں کہ: ”محدث ہوں، اور محدث کے معنوں میں ”نبی“ میں اپنے لئے لفظ استعمال کرتا رہا ہوں اور کرتا رہوں گا۔“ جیسی بھی پوزیشن تھی۔ تو اگر کوئی آدمی انکار کرتا ہے اس لفظ کے استعمال سے کہ: ”میں نبی نہیں ہوں“ جس قسم کا نبی آپ اپنے آپ کو کہتے ہیں ......
1655
جناب عبدالمنان عمر: میں عرض کروں گا کہ کسی قسم کا نبی نہیں کہتے اپنے آپ کو۔
جناب یحییٰ بختیار: یعنی جو لفظ وہ استعمال کرتے ہیں۔
جناب عبدالمنان عمر: تمام پرانے اولیاء اس لفظ کو استعمال کرتے ہیں ۔
جناب یحییٰ بختیار: جب کسی اولیاء نے یہ لفظ استعمال کیا اور کسی نے کہا کہ ہم آپ کو نہیں مانتے ، تو وہ کافر تو نہیں ہو جاتا؟
جناب عبدالمنان عمر: نہ مرزا صاحب کے نہ ماننے کی وجہ سے کوئی کافر ہو جاتا ہے۔
(مرزا صاحب کو نہ ماننے والا کافر نہیں ہوتا)
جناب یحییٰ بختیار: اور کسی قسم کا بھی کافر نہیں ہو جاتا؟
جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں ، یہ نہیں کہا۔
١٢٨
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
جناب یحییٰ بختیار: آپ تو دو قسم کے کافر کہتے ہیں۔
جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں؟ یہ نہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: آپ تو دو قسم کے کافر کہتے ہیں۔ ایک گناہگار ”کافر“ کے معنوں میں۔ پکا گنہگار بھی ہو جاتا ہے وہ جو مرزا صاحب کو محدث نہ مانے؟
جناب عبدالمنان عمر: ہاں گنہگار ضرور ہو جاتا ہے وہ، مگر کافر نہیں ہوتا، دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہو جاتا، وہ اس قسم کے گناہ کا مرتکب نہیں ہوتا جس سے ہم اُس کو اُمّتِ محمدیہ سے خارج کردیں۔۔۔۔۔
جناب یحییٰ بختیار: ذرا ٹھہرئیے۔
جناب عبدالمنان عمر: ۔۔۔۔۔ یہ ایسا ہی گناہ ہے۔
(جو مسیح موعود کو نہیں مانتا وہ کافر؟)
جناب یحییٰ بختیار: ”کفر کی دو قسمیں ہیں۔ اوّل ایک یہ کفر کہ ایک شخص اسلام سے ہی انکار کرتا ہے۔۔۔۔۔“
آپ ذرا سن لیجئے، میں ”حقیقۃ الوحی“ سے پڑھ رہا ہوں، پھر آپ کو حوالہ دے دیتا ہوں:
1656 ”۔۔۔۔۔ اوّل، ایک یہ کفر کہ ایک شخص اسلام سے ہی انکار کرتا ہے اور آنحضرت ﷺ کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔ دوم، دُوسرے یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اتمامِ حجت کے جھوٹا جانتا ہے، جس کے ماننے اور سچا جانے کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے، اور پہلے نبیوں کی کتابوں میں بھی تاکید پائی جاتی ہے۔ پس اس لئے کہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے، غور سے دیکھا جائے تو دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم کے کفر میں داخل ہیں۔“
(حقیقۃ الوحی ص١٧٩، خزائن ج٢٢ ص١٨٥)
جناب عبدالمنان عمر: آگے بھی ذرا اگر آپ کے پاس ہے تو پڑھ دیجئے۔
جناب یحییٰ بختیار: ”۔۔۔۔۔ کیونکہ جو شخص باوجود شناخت کر لینے کے خدا اور ۔۔۔۔۔“ اور آگے تو نہیں ہے، مگر یہ بڑا Clear (صاف) ہے۔
جناب عبدالمنان عمر: آگے میں پڑھ دُوں گا تو آپ کو واضح ہوجائے گا۔
جناب یحییٰ بختیار: یعنی اس کے بعد، اس سے آگے کیا ضرورت ہے؟ صفحہ ١٨٥۔
١٢٩
27th Aug, 1974 No:12
دیکھئے کہ: ”ہاں، مجھ سے مسلمانوں کو دُکھ ہوا ہے، یہ بات ختم بتائیے کیوں؟
جناب عبد مأمور ہونے کے اس لفظ ”میں بوجہ اس کے کچھ اور معنی سمجھتے عرض کرتا ہوں کہ آپ کا لفظ سمجھیں۔ مفہوم اس یہ فرمائیے کہ کسی معنوں میں استعما
جناب یحییٰ معنوں میں ”نبی“ میں تھی۔ تو اگر کوئی آدمی ا آپ اپنے آپ کو کہتے
1655
جناب
جناب یحییٰ
جناب عبد
جناب یحییٰ نہیں مانتے، تو وہ کافر تو
جناب عبد )
جناب یحییٰ
جناب عبد
1646 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
جناب عبدالمنان عمر: یہ نکالتے ہیں حوالہ۔ میں عرض کرتا ہوں، اُسی جگہ، اُس کے آگے مرزا صاحب فرماتے ہیں، فرماتے ہیں: ”میں اب بھی کسی کلمہ گو کو کافر نہیں کہتا ہوں۔“ دیکھ لیا، اب واضح ہو گیا۔ شروع میں بھی کہتے ہیں کہ ”کفر کی دو قسمیں ہیں“ اخیر میں بھی کہتے ہیں......
جناب یحییٰ بختیار: ......”دونوں میں فرق بھی نہیں ہے۔“
جناب عبدالمنان عمر: جی؟
1657 جناب یحییٰ بختیار: ابھی آپ دیکھ لیجئے۔ میں ذرا عرض کرتا ہوں۔ میں ذرا موٹے دماغ کا آدمی ہوں، اور میں نے یہ کتابیں پڑھی نہیں ہیں، اور مجھے سمجھ نہیں آتی اور میں آپ سے......
جناب عبدالمنان عمر: میں کوشش کروں گا کہ میں خدمت کر سکوں۔
جناب یحییٰ بختیار: ......میں Clarifications چاہتا ہوں۔ مرزا صاحب کہتے ہیں، جہاں تک میں سمجھ سکا، کہ: ”کفر کی دو قسمیں ہیں۔ ایک تو وہ جو آنحضرت ﷺ کو نہیں مانتا۔“ ایک وہ کافر ہوا جو آنحضرت ﷺ کو نہیں مانتا، وہ تو کافر ہو گیا۔ ”دوسرا وہ جو مسیح موعود کو نہیں مانتا۔“ وہ بھی کافر ہے۔ کیوں کافر ہے؟ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کہا کہ اس کو مانو، خدا اور رسول نے کہا کہ اس کو مانو اور خدا اور رسول کے حکم سے انکار کر رہا ہے، وہ بھی کافر ہے۔ تو دراصل دونوں کفر ایک قسم کے ہو گئے۔ اور اس کے بعد پھر کہتے ہیں کہ نہیں، اس کو کچھ تھوڑا سا Concession دے دو، اب یہ کہہ رہے ہیں......
جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، یہ نہیں ہم کہہ رہے، ہم یہ عرض کر رہے ہیں کہ مرزا صاحب کی اپنی عبارت کہہ رہی ہے کہ کفر کی دو قسمیں ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ بنیادی طور پر وہ کفر کی دو قسمیں بتا رہے ہیں۔ اُس سے کوئی شخص اس غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ شاید دُوسری قسم کا جو کفر ہے اُس کے نتیجے میں کوئی مؤاخذہ نہیں ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں نہیں، یہ دیکھیں ناں، یہ جو ہے، پھر آگے فرماتے ہیں: ”جو خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے، کافر ہے۔“ غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔
١٣٠
1647 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
1658 جناب عبدالمنان عمر: معلوم ہوا، ہیں تو دو ہیں، دونوں کو بھی قائم رکھنا پڑے گا۔
جناب یحییٰ بختیار: نتیجہ اُن کا ایک ہی ہو جائے گا۔
جناب عبدالمنان عمر: نتیجہ حصوں میں ایک ہو جائے گا۔ اب میں اُس کے متعلق عرض کرتا ہوں......
جناب یحییٰ بختیار: ”چونکہ جو شخص باوجود شناخت کر لینے کے خدا اور رسول کے حکم کو نہیں مانتا اور بموجب قرآن اور حدیث کے خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا، اس میں شک نہیں کہ جس پر اللہ تعالیٰ کے نزدیک اوّل قسم کفر یا دُوسری قسم کفر کی نسبت اتمامِ حجت ہو چکا ہے، وہ قیامت کے دن مؤاخذہ کے لائق ہوگا۔“
(حقیقت الوحی ص ١٨٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٨٦)
جناب عبدالمنان عمر: اب دیکھئے کہ وہاں شروع میں ہی آپ فرماتے ہیں کہ کفر کی دو قسمیں ہیں۔ یہ Stand جو میں پہلے آپ کی خدمت میں پیش کیا تھا کہ کفر کی دو قسمیں ہیں، مرزا صاحب اس کو بھی تسلیم کرتے ہیں۔ اس کے بعد ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا دُوسری قسم کے کفر کے نتیجے میں مؤاخذہ کوئی نہیں ہوگا؟ تو وہ ایک فضول سا کام ہے؟ بے شک کرتا رہے کوئی شخص؟ اُس کے لئے فرمایا کہ نہیں، اُس کے لئے مؤاخذہ ضرور ہوگا، اور مؤاخذہ کے لحاظ سے دونوں کفر جو ہیں وہ ایک کیٹیگری میں آجائیں گے۔ یہ ہے نتیجہ جو اس سے نکالا ہے۔ چنانچہ عبارت میں عرض کر دیتا ہوں: ”ایک کفر یہ ہے کہ ایک شخص اسلام سے ہی انکار کرتا ہے اور آنحضرت ﷺ کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔“
یہ ایک اصلی کفر ہے جس کے متعلق میں پہلے عرض کر چکا ہوں۔ دُوسرا یہ کفر جس کی پھر مثالیں دے رہے ہیں، مثلاً یعنی دُوسرا کفر ایک اُس سے Low (کم) درجہ کا ہے، اس کی ایک مثال دیتے ہیں:
1659 ”دُوسرے یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا، اور اُس کو باوجود اتمامِ حجت کے، باوجود یہ سمجھ جانے کہ یہ شخص سچی بات کر رہا ہے، وہ پھر اُس کو جھوٹا جانتا ہے......“
(اتمام حجت کا مطلب)
جناب یحییٰ بختیار: آپ، ایک منٹ، مرزا صاحب! ”اتمامِ حجت کے بعد“ اُس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ سچی بات کر رہا ہے؟
جناب عبدالمنان عمر: ”اتمامِ حجت“ کا مطلب ہے کہ جو اُس نے......
١٣١
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
جناب یحییٰ بختیار: ...... بیان کیا۔
جناب عبدالمنان عمر: ...... بیان کیا اور اُس اگلے شخص کو اتنا مواد دے دیا کہ وہ اُس کی صداقت کو سمجھ جائے۔ ورنہ نہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: اُس کو یہ سارا Material دے دیا، اُس کو سارے Arguments (دلائل) دے دیئے......
جناب عبدالمنان عمر: ...... اور وہ اب یہ یقین کر لیا اُس نے کہ یہ سچّا ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جب ایک وکیل ایک عدالت میں پوری بحث کر جاتا ہے، اُس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اُس نے سچ کہہ دیا؟
جناب عبدالمنان عمر: نہ ”اتمامِ حجت“ کے یہ معنی نہیں ہیں جو آپ نے فرمایا۔
”اتمامِ حجت“ یہ ہے کہ اُس نے جو دلائل دیئے ہیں......
جناب یحییٰ بختیار: ...... وہ سب پورے دے دیئے ہیں۔
جناب عبدالمنان عمر: نہیں جی، پورے دے نہیں دیئے، اگلے شخص کے لئے قابلِ قبول ہیں، وہ پھر انکار کرتا ہے۔ یہ ہے ”اتمامِ حجت“۔ قابل قبول صرف نہیں ہیں، بلکہ یہ کہ وہ اُس کو قبول کر لینے چاہئیں، مگر سمجھ لینے کے باوجود کہ یہ سچّی بات کہہ رہا ہے، پھر انکار کرتا ہے، چلا جاتا ہے، اس کو کہتے ہیں ”اتمامِ حجت“۔ 1660 تو میں عرض یہ کر رہا تھا کہ: ”جس کے ماننے اور سچّا جاننے کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے۔“
اپنے نہ ماننے، انکار کی وجہ سے کافر نہیں قرار دیا اُس کو، اُس کو خدا اور رسول کے نہ ماننے کی وجہ سے کافر قرار دیا: ”اور پہلے نبیوں کی کتابوں میں تحریر......“
...... پس اس لئے کہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے، کافر ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں، کیونکہ جو شخص ”باوجود شناخت کر لینے کے خدا اور رسول کے حکم کو نہیں مانتا......“
”باوجود شناخت کر لینے کے“...... اب دیکھئے، کتنا بڑا جرم ہے، شناخت بھی کرتا ہے، پھر وہ انکار کرتا ہے۔ تو یہ خدا اور رسول کا انکار ہو گیا۔ مرزا صاحب کے انکار کی وجہ سے کہیں نہیں اُنہوں نے کہا کہ وہ شخص کافر ہو جاتا ہے:
”وہ بموجب نصوص صریحہ قرآن اور حدیث کے خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔ اس میں شک نہیں کہ جس پر خدا کے نزدیک اوّل قسم یا دُوسری قسم کفر کی نسبت اتمام حجت ہو چکا ہے، وہ
١٣٦٢
1649 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
قیامت کے دن مؤاخذہ کے لائق ہوگا اور جس پر خدا کے نزدیک اتمام حجت نہیں ہوا اور وہ مکذب اور منکر ہے، تو وہ شریعت نے اُس کا نام بھی کافر ہی رکھا ہے۔ مگر ہم بھی اُس کو بہ اتباع شریعت کافر کے نام سے پکارتے ہیں۔ مگر پھر بھی وہ خدا کے نزدیک بموجب آیہ: ”لا يكلف الله نفسا الا وسعها“ قابلِ مؤاخذہ نہیں ہوگا۔
پروفیسر غفور احمد: جناب! میری گزارش یہ ہے کہ گواہان کو بتا دیا جائے کہ ہمارے پاس Earphones بھی ہیں۔ اگر وہ نارمل آواز سے بولیں تو آواز ہمیں بخوبی آجائے گی۔1661 یہ لاؤڈاسپیکر جو اُن کے سامنے رکھا ہے، ہمارے پاس Earphones ہیں، یہ ہم استعمال کرتے ہیں۔
جناب عبدالمنان عمر: کون سی آواز؟
جناب یحییٰ بختیار: ذرا دور رکھ لیجئے، آہستہ، آہستہ، کیونکہ وہ کانوں میں لگتے ہیں۔
جناب عبدالمنان عمر: جی، جی۔
اب مرزا صاحب بات یہ کہہ رہے ہیں کہ کفر خواہ کلمہ طیبہ کا ہو یا مسیح موعود کا، وہ خدا کے رسول کی وجہ سے کافر بنتا ہے نہ کہ مسیح موعود کے انکار کی وجہ سے۔ آپ نے ان الفاظ پر غور نہیں فرمایا۔ اُس حوالے میں یہ امر غور طلب ہے کہ حضرت مرزا صاحب اپنے انکار کو کفر نہیں کہتے بلکہ محض گناہ قرار دے کر داخلِ اسلام رہتے ہیں، اور نہ ماننے والے کو کافر کی بجائے نافرمان کہتے ہیں۔ اصولی طور پر آپ کے نہ ماننے والوں کے بارے میں آپ کا ارشاد یہ ہے: ”ابتدا سے میرا یہی مذہب ہے۔۔۔“ یہ مرزا صاحب کی عبارت میں سنا رہا ہوں، جناب: ”ابتدا سے میرا یہی مذہب ہے کہ میرے دعوے کے انکار کی وجہ سے کوئی شخص کافر یا دجال نہیں ہو سکتا۔“
یہ ہے اصولی مرزا صاحب کا موقف کہ آپ کے انکار کی وجہ سے کوئی شخص کافر نہیں ہوتا۔ وہاں جو بات ہے وہ ”قابلِ مؤاخذہ ہونی چاہئے۔
(اس کا حوالہ کہ مسیح موعود کے نہ ماننے والے کافر ہیں یا نہیں؟)
جناب یحییٰ بختیار: ایک حوالہ پڑھ کے سناتا ہوں:
”مسیح موعود کے نہ ماننے والے کافر ہیں یا نہیں؟“ یہ سوال آیا: ایک شخص نے سوال کیا کہ آپ کو نہ ماننے والے کافر ہیں یا نہیں؟ حضرت اقدس مسیح موعود نے فرمایا کہ:1662 مولویوں سے جاکے پوچھو کہ اُن کے نزدیک جو مسیح اور مہدی آنے والا ہے، جو اُس کو نہ مانے، اُس کا کیا
LY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
جناب یحییٰ بختیار: ......بیان کیا۔
جناب عبدالمنان عمر: ......بیان کی صداقت کو سمجھ جائے۔ ورنہ نہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: اُس کو یہ Arguments (دلائل) دے دیئے......
جناب عبدالمنان عمر: ......اور وہ
جناب یحییٰ بختیار: اس کا یہ مط پوری بحث کر جاتا ہے، اُس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اُ
جناب عبدالمنان عمر: نہ ”اتمامِ ”اتمامِ حجت“ یہ ہے کہ اُس نے جو دلائل دیئے
جناب یحییٰ بختیار: ......وہ سب
جناب عبدالمنان عمر: نہیں جی! قبول ہیں، وہ پھر انکار کرتا ہے۔ یہ ہے ”اتمامِ اُس کو قبول کر لینے چاہئیں، مگر سمجھ لینے کے باوج جاتا ہے، اس کو کہتے ہیں ”اتمامِ حجت۔“1660 جاننے کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید اپنے نہ ماننے یا انکار کی وجہ سے کافر کی وجہ سے کافر قرار دیا: ”اور پہلے نبیوں کی کتا
......پس اس لئے کہ وہ خدا اور ر دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم کے خدا اور رسول کے حکم کو نہیں مانتا......“
”باوجود شناخت کر لینے کے“... پھر وہ انکار کرتا ہے۔ تو یہ خدا اور رسول کا انکا اُنہوں نے کہا کہ وہ شخص کافر ہو جاتا ہے:
”وہ بموجب نصوص صریحہ قرآ میں شک نہیں کہ جس پر خدا کے نزدیک اتم
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
حال ہے؟ پس میں وہی مسیح اور مہدی ہوں جو آنے والا تھا۔‘‘
جناب عبدالمنان عمر: تو یہ جواب تو اُن سے پوچھ لیجئے گا، کہ وہ کیا کہتے ہیں۔ مرزا صاحب نے تو کہا ہے جو مسلمانوں کا موقف ہے......
(کیا خدا نے کہا کہ مرزا پر ایمان لانا چاہئے)
جناب یحییٰ بختیار: یعنی وہ کافر ہیں۔ آپ کہتے ہیں کہ ایک اور کیٹگری کے کافر بن جاتے ہیں۔ یہ خدا نے کہاں کہا کہ مرزا صاحب پر ایمان لانا چاہئے؟ کوئی ہے اُس کا حوالہ؟
جناب عبدالمنان عمر: مرزا صاحب پر ایمان کی بحث نہیں، مسیح پر......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، ماننا......
جناب عبدالمنان عمر: مرزا صاحب کے ماننے اور نہ ماننے کا سوال نہیں، سوال اِس وقت اُصولی بحث ہے۔ اُصولی بحث یہ ہے کہ وہ جس کے متعلق نبی کریمﷺ نے فرمایا: (عربی) اُس کے ماتحت جو شخص آئے گا دُنیا میں، اُس کا نہ ماننا قابلِ مؤاخذہ ہے یا نہیں؟
جناب یحییٰ بختیار: اب آپ بتائیے یہی بات کہ کسی محدث کو کوئی نہ مانے تو وہ کسی قسم کا کافر ہوسکتا ہے؟
جناب عبدالمنان عمر: ہاں جی۔
جناب یحییٰ بختیار: محدث کو نہ مانے؟
جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں ”کفر دون کفر“ والا ہوجاتا ہے۔ وہ تو بہت میں نے بتایا۔
1663 جناب یحییٰ بختیار: آپ مرزا صاحب کے علاوہ کسی محدث کا ذکر کریں آپ کہ جو اُس کو نہ مانے......
جناب عبدالمنان عمر: اِرادۃً کوئی شخص تارک الصلوٰۃ ہوجائے، حدیث اس کو بھی کافر کہتی ہے۔ مگر یہ ایک گناہ ہے، بمعنی گناہ ہے، اور یہ آپ جانتے ہیں کہ گناہ تو ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب جیسے عظیم انسان کو کوئی شخص نہ مانے، وہ خود کہتا ہے:
”مجھے خدا نے اس زمانے میں مجدد بنا کے بھیجا ہے۔“
جناب یحییٰ بختیار: نہ ماننے کا یہ مطلب کیا ہے؟ وہ کہتے ہیں جی: ”مجھے نبی نہیں مانتا......“
جناب عبدالمنان عمر: نہیں جی، نبی نہیں، بالکل نہیں، کہیں مرزا صاحب نے نہیں
١٤٤٤
1651 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
کہا کہ: ”جو شخص مجھے نبی نہیں مانتا......“
جناب یحییٰ بختیار: اُس معنی میں جو آپ لے رہے ہیں۔
جناب عبدالمنان عمر: نہیں جی، مرزا صاحب نے کبھی کہا ہی نہیں کہ: ”جو شخص مجھے نبی نہیں مانتا وہ کافر ہے۔“ ساری ایسی کتابیں مرزا صاحب کی موجود ہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: میں بتاتا ہوں آپ کو اُن کی کتابیں......
جناب عبدالمنان عمر: وہ نکالئے جی!
(سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا)
جناب یحییٰ بختیار: ......مرزا صاحب نے کہا ہے کہ: ”سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“
(دافع البلاء ص١١، خزائن ج١٨ ص٢٣١)
کیا مطلب تھا اس کا؟
جناب عبدالمنان عمر: مطلب اس کا یہ ہے جی کہ تمام اولیاء کی تحریروں میں آپ کو ملے گا یہ کہ وہ لوگ محدثوں کے لئے بھی ”رسول“ اور ”نبی“ کا لفظ مجازی طور پر غیر نبی کے لئے استعمال ہو جاتا ہے، اور یہی استعمال مرزا صاحب نے کیا ہے اور مرزا صاحب نے کہا ہے کہ: 1664 ”رسول کے لفظ میں محدث بھی شامل ہے۔“
(میری وحی ویسی ہی پاک ہے جیسی آنحضرت ﷺ کی)
جناب یحییٰ بختیار: اور مرزا صاحب نے یہ بھی فرمایا کہ: جو وحی اُن پر نازل ہوتی ہے، وہ ایسی ہی (خطاؤں سے) پاک وحی ہے جو کہ آنحضرت ﷺ پر نازل ہوئی
(نزول المسیح ص٩٩، خزائن ج١٨ ص٤٧٧)
جناب عبدالمنان عمر: آپ نے یہ سوال کیا ہے کہ مرزا صاحب نے کہا ہے کہ: ”مجھ پر ویسی ہی وحی نازل ہوتی ہے جیسی کہ قرآن“......
جناب یحییٰ بختیار: ”میں اس پر ایسا ایمان رکھتا ہوں اور اُسے ایسا ہی پاک سمجھتا ہوں۔“
جناب عبدالمنان عمر: یہ دونوں الفاظ نہیں ہیں جی، ”پاک سمجھتا ہوں“ بھی نہیں ہے۔ میں عرض کر دیتا ہوں وہ کیا چیز ہے۔ وہ یہ ہے کہ مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ: ”مجھ پر جو وحی نازل ہوتی ہے، میں اُس بارے میں کسی شبہے میں نہیں ہوتا۔“ وہ ”یقینی اور قطعی سمجھتا ہوں۔ یہ کہ مجھے کوئی خیال آگیا، کوئی آواز سی سُن لی میں نے، کچھ شبہ سا مجھے ہو گیا کہ
١٣٥
LY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
حال ہے؟ پس میں وہی مسیح اور مہدی ہوں جو آ۔
جناب عبدالمنان عمر: تو یہ جوا۔ صاحب نے تو کہا ہے جو مسلمانوں کا موقف ہے
(کیا خدا نے کہا کہ مرز
جناب یحییٰ بختیار: یعنی وہ کافر ہ جاتے ہیں۔ یہ خدا نے کہاں کہا کہ مرزا صاحب
جناب عبدالمنان عمر: مرزا صاح
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، ماننا...
جناب عبدالمنان عمر: مرزا صاح وقت اصولی بحث ہے۔ اصولی بحث یہ ہے کہ وہ اُس کے ماتحت جو شخص آئے گا دُنیا
جناب یحییٰ بختیار: اب آپ بتا قسم کا کافر ہو سکتا ہے؟
جناب عبدالمنان عمر: ہاں جی۔
جناب یحییٰ بختیار: محدث کونسا
جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں ”کفر
1663 جناب یحییٰ بختیار: آپ م کہ جو اُس کو نہ مانے......
جناب عبدالمنان عمر: ارادۃً کو کافر کہتی ہے۔ مگر یہ ایک گناہ ہے، بمعنی گناہ ہے ولی اللہ صاحب جیسے عظیم انسان کو کوئی شخص نہ ما۔ ”مجھے خدا نے اس زمانے میں مجدد
جناب یحییٰ بختیار: نہ ماننے کا مانتا......“
جناب عبدالمنان عمر: نہیں جی
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
مجھ پر وحی ہورہی ہے۔“
فرماتے ہیں: ”یہ کیفیت نہیں ہے میری۔ مجھے جس طرح دن چڑھا ہوا ہوتا ہے اس طرح یقین ہے کہ میری وحی صحیح ہے۔“
یہ کہ وہ قرآن کریم کے ہم پلہ ہے؟ قرآن کی حیثیت کے مطابق ہے؟ قرآن جیسی شان رکھتی ہے؟ حاشا وکلا! مرزا صاحب نے یہ کبھی نہیں کہا۔ کبھی مرزا صاحب کی ساری کتابوں میں آپ نہیں دکھا سکتے کہ انہوں نے اپنی وحی کو.......
جناب یحییٰ بختیار: آپ نے صبح فرمایا کہ جو وحی آتی ہے کسی محدث پر، اُس میں غلطی ہو سکتی ہے سننے والے کی۔
1665
جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، سننے والے کی۔
جناب یحییٰ بختیار: اللہ کی طرف سے تو غلطی نہیں ہو سکتی؟
جناب عبدالمنان عمر: جی، جی۔
جناب یحییٰ بختیار: بات یہی ہے اصل کہنے والی۔ مگر نبی کے معاملے میں یہ نہیں سوال ہو سکتا۔
جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔
جناب یحییٰ بختیار: یہ غلطی ہو سکتی ہے۔ مگر مرزا صاحب کہتے ہیں کہ: ”میری کوئی غلطی نہیں، مجھے کوئی شک نہیں۔“
جناب عبدالمنان عمر: نہیں جی، ”غلطی“ اور ”شک“ میں بڑا فرق ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: شک تو غلطی سے.......
جناب عبدالمنان عمر: نہ جی، شک یہ ہے کہ یہ وحی ہے یا نہیں؟ یہ شک ہے، یہ منجانب اللہ ہے یا نہیں؟
جناب یحییٰ بختیار: اور پھر اُس میں کوئی غلطی مرزا صاحب کی وحیوں میں نہیں ہوئی آپ کے نزدیک؟
جناب عبدالمنان عمر: نہیں، دیکھئے میں پھر دونوں چیزوں میں فرق کرنے کی کوشش کروں گا۔ ایک یہ کہ مرزا صاحب نے یہ کہا ہو کہ: ”میری وحی جو ہے وہ قرآن کے ہم پلہ ہے۔“ یہ کبھی نہیں فرمایا۔ ایک یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ: ”میری وحی یقینی ہے، اس میں مجھے شک اور شبہ نہیں ہے۔“ جس طرح میں نے مثال دی ہے کہ کوئی شخص کہے دن کے وقت کہ: ”مجھے یقین
١٣٦
L ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
مجھ پر وحی ہو رہی ہے۔“
فرماتے ہیں: ”یہ کیفیت نہیں ہے میری۔ مجھے جس طرح یقین ہے کہ میری وحی صحیح ہے۔“
یہ کہ وہ قرآن کریم کے ہم پلہ ہے؟ قرآن کی جو شان رکھتی ہے؟ حاشا وکلا ! مرزا صاحب نے یہ کبھی نہیں کہا
میں آپ نہیں دکھا سکتے کہ انہوں نے اپنی وحی کو......
جناب یحییٰ بختیار: آپ نے صحیح فرمایا کہ جو غلطی ہو سکتی ہے سننے والے کی۔
1665 جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، سننے والے
جناب یحییٰ بختیار: اللہ کی طرف سے تو غلطی نہیں
جناب عبدالمنان عمر: جی، جی۔
جناب یحییٰ بختیار: بات یہی ہے اصل کہنے سوال ہو سکتا۔
جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔
جناب یحییٰ بختیار: یہ غلطی ہو سکتی ہے۔ مگر مرزا غلطی نہیں، مجھے کوئی شک نہیں۔“
جناب عبدالمنان عمر: نہیں جی، ”غلطی“ اور ”
جناب یحییٰ بختیار: شک تو غلطی سے ........
جناب عبدالمنان عمر: نہ جی، شک یہ ہے کہ منجانب اللہ ہے یا نہیں؟
جناب یحییٰ بختیار: اور پھر اُس میں کوئی غلطی آپ کے نزدیک؟
جناب عبدالمنان عمر: نہیں، دیکھئے میں پھر کوشش کروں گا۔ ایک یہ کہ مرزا صاحب نے یہ کہا ہو کہ: ” ہے۔“ یہ کبھی نہیں فرمایا۔ ایک یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ: ”میر شبہ نہیں ہے۔“ جس طرح میں نے مثال دی ہے کہ کوئی شخص
١٣٦
1653 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
ہے کہ اس وقت دن ہے۔ تو اس کے یہ معنی نہیں کہ اُس کے اس یقین کے متعلق ہم یہ کہیں کہ: ”دیکھو جی! یہ تو قرآن کے برابر ہونے کا دعویٰ کر رہا ہے۔“ یہ نہیں ہے کیفیت۔ وہ یہ بتاتے ہیں کہ: ”میری وحی جو مجھ پر نازل ہوتی ہے، اُس 1666 کے بارے میں مجھے کسی قسم کا شبہ نہیں ہے۔ میں اُس کو ویسا ہی خدا کی طرف سے سمجھتا ہوں جیسے کہ کسی اور وحی، کسی اور نبی کے۔“
جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، اُنہوں نے یہ فرمایا ہے، ابھی آپ سُن لیجئے، میں آپ سے عرض کر رہا تھا کہ: ”میں خدا کی تیس برس کی متواتر وحی کو کیسے رَدّ کر سکتا ہوں؟ میں اس کی اس پاک وحی پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ اُن تمام وحیوں پر ایمان لاتا ہوں جو مجھ سے پہلے ہوچکی ہیں۔“
(حقیقت الوحی ص ١٥٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٢)
یہ ”روحانی خزائن“ آپ دیکھ لیجئے، ”حقیقۃ الوحی“، جو بات میں نے کہی آپ سے، آپ کہتے ہیں کہ نہیں کہی اُنہوں نے: ایسی پاک ہے جیسے اُن سے پہلے انبیاء پر وحی آچکی ہے۔
جناب عبدالمنان عمر: میں نے عرض کیا ہے جی کہ مرزا صاحب......
(صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا)
جناب یحییٰ بختیار: میں پھر پڑھ کر سناتا ہوں: ”خدا کی تیس برس کی متواتر وحی کو کیسے رَدّ کر سکتا ہوں؟ میں اس پاک وحی پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ اُن تمام وحیوں پر ایمان لاتا ہوں جو مجھ سے پہلے ہو چکی ہیں۔“
”حقیقت الوحی“ (لائبریرین سے) یہ آپ نکال کے دے دیجئے ”روحانی خزائن“ میں سے، ج ٢٢، ص ١٥٤۔ یہ ہے جی، میں پڑھ کر سناتا ہوں، میں ذرا پھر آپ کو پڑھ کر سناتا ہوں، اس طرح، یہ ص ١٥٣ پر:
”اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے؟ وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے اور اگر کوئی اَمر میری ہی فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اُس کو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا۔ مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی 1667 وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی تو اُس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور ”نبی“ کا خطاب مجھے دیا گیا......“
(حقیقت الوحی ص ١٤٩، ١٥٠ ، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٢، ١٥٣)
”صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا“ اللہ میاں جو تھے ناں، اُس کے ساتھ یہ Define کرنا کہ مجازی ہو، اصلی نہیں ہو: ...نعوذ باللہ!...بھول گئے
١٣٧
1654 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
”نبی کا خطاب مجھے دیا، مگر اس طرح کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے اُمتی۔“
اب اُن کا حاشیہ جو ہے، وہ بھی میں پڑھ کے سناتا ہوں۔ یہاں حاشیے میں وہ دیتے ہیں کہ:
”یاد رہے کہ بہت سے لوگ میرے دعوے میں نبی کا نام سُن کر دھوکا کھاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ گویا میں نے اس نبوت کا دعویٰ کیا ہے جو پہلے زمانوں میں براہِ راست نبیوں کو ملی ہے۔ لیکن وہ اس خیال میں غلطی پر ہیں۔ میرا ایسا دعویٰ نہیں، بلکہ خدا تعالیٰ کی مصلحت اور حکمت نے آنحضرت ﷺ کے افادہ اور روحانیت کا کمال ثابت کرنے کے لئے یہ مرتبہ بخشا ہے کہ آپ کے فیض کی برکت سے مجھے نبوت کے مقام تک پہنچایا۔ اس لئے میں صرف نبی نہیں کہلا سکتا۔ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی......“
(حقیقت الوحی ص ١٥٠، حاشیہ خزائن ج٢٢ ص١٥٤)
آپ جو صبح کہہ رہے تھے کہ: ”ہو ہی نہیں سکتا اُمتی نبی۔“ پھر آگے فرماتے ہیں:
”اور جیسا کہ میں نے نمونے کے طور پر بعض عبارتیں خدا تعالیٰ کی وحی کی اس رسالہ میں بھی لکھی ہیں۔ اُس میں سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ مسیح ابن مریم کے مقابل پر خدا تعالیٰ نے میری نسبت کیا فرماتا ہے، میں خدا تعالیٰ کی تیس برس کی متواتر وحی کو کیونکر رَدّ کر سکتا ہوں۔ میں اس پاک وحی پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ اُن تمام خدا کی وحیوں پر ایمان لاتا ہوں جو مجھ سے پہلے ہو چکی ہیں اور میں 1668 یہ بھی دیکھتا ہوں کہ مسیح ابن مریم آخری خلیفہ موسیٰ علیہ السلام کا ہے اور میں آخری خلیفہ نبی کا ہوں جو خیرالرسل ہیں۔“
(حقیقت الوحی ص ١٥٠، خزائن ج٢٢ ص١٥٤)
اب وہ جو موسیٰ علیہ السلام کے مقابلے میں عیسیٰ (علیہ السلام) کا Status (رُتبہ) ہے نبی کا، وہ محمد ﷺ کے مقابلے میں اپنا Status (مقام) بتا رہے ہیں۔ وہ بھی اُمتی وہاں، یہ بھی اُمتی یہاں، وہ بغیر شرع والا اور غیر شرعی، یہ بھی غیر شرعی۔
جناب عبدالمنان عمر: تین چیزیں اکٹھی ہو گئی ہیں، اس لئے میں کوشش کروں گا......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں نے بتایا ناں، آپ نے کہا ناں......
جناب عبدالمنان عمر: میں الگ الگ اس کے جواب عرض کرتا ہوں۔
پہلا یہ تھا کہ مرزا صاحب نے اپنی وحی کو قرآن کے ہم پلہ قرار دیا۔ میں نے عرض کیا تھا کہ جناب! یہ ہم پلہ نہیں ہے، بلکہ مضمون آپ یہ بیان کر رہے ہیں کہ وہ وحی شبہ والی نہیں ہے، یقینی وحی ہے۔ ”مجھے اس کے بارے میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ وحی ہے یا نہیں ہے۔“ چنانچہ دیکھئے وہ اصل عبارت جو ہے جو ”حقیقت الوحی“ کی آپ نے پڑھی ہے، وہ صفحہ: ٢١١ پر ہے:
”در حقیقت یہ امر بارہا آزمایا گیا ہے کہ وحی الہی کو میں دلی تسلی دینے کے لئے ایک
١٣٨
1655 NATIONAL ASSEMBLY
یقین ہے جو وحی الہی پر ہو جاتا ہے۔ افسوس کہ اُن سم کے یہ بھی کہتے ہیں کہ جی ہمارے الہام ظنی اُمور اموں کا ضرر اُن کے نفع سے زیادہ ہے.......“ اُن کو پتا لگتا ہے: ”یہ الہام مجھے رحمانی ہوا ہے کھا کے کہتا ہوں کہ میں اُن الہامات پر اُسی طرح خدا کی دُوسری کتابوں پر اور جس طرح میں قرآن وں، اُسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتا نہیں، اس کے یقین ہونے کو پیش فرما رہے ہیں: ہے۔“
مگر اس کے ساتھ الہی چمک اور نور دیکھتا ہوں......“
غرض اس عبارت میں مرزا صاحب نے اپنی وحی کو امر کا اظہار مقصود ہے کہ: ”مجھ پر جو کلام نازل ہوتا
ں، یہ آپ کس حوالے...... لے کے متعلق میں نے گزارش کی کہ یہ کوئی...... پ پڑھ کر سنا رہے ہیں، یہ اپنا خیال ہے یا نوٹ ہے؟ دیا ہے جی میں نے۔ پھر مرزا صاحب یہ فرماتے ٣١ پر ہے: ”جو شان قرآن کی وحی کی ہے، وہ اولیاء ، وحی ولایت ہے، اولیاء کی وحی ہے، وحی نبوت نہیں کی وحی کی ہے۔ یہ، آپ یہ....... میں آپ سے یہ پوچھتا ہوں کہ ہیں۔ ایک انسان پر آتا ہے، ایک نبی پر آتا ہے۔ تو ن تو اللہ کا ہے، یہ Source (منبع) تو وہی ہے، Status (مقام) ہونا چاہئے۔
١٣٩
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
ذاتی خاصیت ہے اور مبر اس خاصیت کی وہ یقین ہے جو وحی الٰہی پر ہو جاتا ہے۔ افسوس کہ اُن لوگوں کے کیسے الہام ہیں کہ باوجود دعویٰ الہام کے یہ بھی کہتے ہیں کہ جی ہمارے الہام ظنی اُمور ہیں۔ نہ معلوم یہ شیطانی ہیں یا رحمانی۔ ایسے الہاموں کا ضرر اُن کے نفع سے زیادہ ہے۔......"
یہ بات فرما رہے ہیں کہ یہ بھی اُن کو پتا لگتا ہے: "یہ الہام مجھے رحمانی ہوا ہے شیطانی۔" فرماتے ہیں:
"1669......مگر میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کے کہتا ہوں کہ میں اُن الہامات پر اُسی طرح ایمان لاتا ہوں جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دُوسری کتابوں پر اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں، اُسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتا ہے خدا کا کلام یقین کرتا ہوں......" فضیلت نہیں، اس کے یقین ہونے کو پیش فرما رہے ہیں:
"......کیونکہ......"
جناب یحییٰ بختیار: "پاک ایسا ہی۔"
جناب عبدالمنان عمر: "......کیونکہ اس کے ساتھ الٰہی چمک اور نور دیکھتا ہوں......"
اب دیکھئے، دُوسری بات یہ تھی۔ غرض اس عبارت میں مرزا صاحب نے اپنی وحی کو قرآن مجید کے مقابل پر پیش نہیں کیا بلکہ اس امر کا اظہار مقصود ہے کہ: "مجھ پر جو کلام نازل ہوتا ہے، وہ بھی قطعی اور یقینی طور پر ہے۔"
جناب یحییٰ بختیار: یہ لیکچر ہے جی، یہ آپ کس حوالے......
جناب عبدالمنان عمر: یہ اس حوالے کے متعلق میں نے گزارش کی کہ یہ کوئی......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ جو آپ پڑھ کر سنا رہے ہیں، یہ اپنا خیال ہے یا نوٹ ہے؟
جناب عبدالمنان عمر: یہ نوٹ دیا ہے جی میں نے۔ پھر مرزا صاحب یہ فرماتے ہیں، اُن کی کتاب ہے "الہدیٰ" اُس کے ص٣٣ پر ہے: "جو شان قرآن کی وحی کی ہے، وہ اولیاء کی وحی کی شان نہیں۔" تو مرزا صاحب کی وحی، وحی ولایت ہے، اولیاء کی وحی ہے، وحیِ نبوت نہیں ہے۔ اُن کی وحی کی وہ شان ہو نہیں سکتی جو نبیوں کی وحی کی ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: 1670 آپ یہ، آپ یہ...... میں آپ سے یہ پوچھتا ہوں کہ کیوں نہیں ہو سکتی؟ یعنی اللہ کے دو بیان آتے ہیں۔ ایک انسان پر آتا ہے، ایک نبی پر آتا ہے۔ تو کیوں شان نہیں ہوتی؟ شان تو اللہ کی ہے، بیان تو اللہ کا ہے، یہ Source (منبع) تو وہی ہے، منبع وہی ہے، ویسا ہی پاک ہونا چاہئے اور وہی Status (مقام) ہونا چاہئے۔
١٣٩
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
جناب عبدالمنان عمر: جی Status (رُتبہ) نہیں، محمد رسول اللہ ﷺ کی وحی کا Status (رُتبہ) ہمارے مذہب اور عقیدے کے لحاظ سے دُنیا کے کسی بھی انسان کی وحی کے برابر نہیں ہے۔ کوئی دُنیا کا بڑے سے بڑا انسان ہو، بڑے سے بڑا نبی ہو......
جناب یحییٰ بختیار: آپ دیکھیں......
جناب عبدالمنان عمر: ......وہ وحی محمد رسول اللہ ﷺ کی وحی سے فروتر ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، صاحبزادہ صاحب! میں آپ سے ایک اور عرض کروں گا۔ ابھی آنحضرت (ﷺ) کی حدیثیں ہیں ہمارے پاس۔ اگر انہوں نے کسی بہت بڑے آدمی سے بات کی یا بڑے غریب آدمی سے بات کی، بڑے گھٹیا قسم کے آدمی سے بات کی، تو آپ تو یہ نہیں کہیں گے کہ چونکہ گھٹیا آدمی سے بات کی اس لئے اس کا وہی Status (رُتبہ) نہیں، آپ کی حدیث کا جو کسی بڑے آدمی سے بات کی۔ یہ تو نہیں ہوسکتا۔
جناب عبدالمنان عمر: جناب والا! اگر کسی جگہ......
جناب یحییٰ بختیار: یعنی بات اُن (ﷺ) کی ہے، اُن کی بات ایک برابر ہے، کسی سے بھی کہی ہو۔ اللہ جو باتیں کرتا ہے، الہام بھیجتا ہے، وحی نازل کرتا ہے تو اُس پہ آپ نہیں کہیں گے کہ اس کا Status Low (رُتبہ کم) ہوگیا۔ چونکہ ایک محدث سے اُس نے، یا کسی ولی کو یہ وحی بھیجی ہے، اور وہ دُوسرے نبی کو بھیجی ہے، اللہ میاں نے، اس وجہ سے اپنی جو وحی بھیجی ہے یا جو پیغام بھیجا ہے، اُس میں کوئی فرق کردیا ہے۔
1671 جناب عبدالمنان عمر: جناب والا! یہ معتقدات کی بات ہے۔ ممکن ہے میں اپنے عقیدے کو آپ سے نہ منواسکوں۔ مگر میرا عقیدہ......
جناب یحییٰ بختیار: یہ ارادہ نہیں ہے، دیکھیں ناں جی، ہم تو Clasification چاہ رہے ہیں۔
جناب عبدالمنان عمر: میرا عقیدہ یہ ہے کہ مرزا صاحب یا کسی ولی کی وحی محمد رسول اللہ ﷺ کی وحی کے مطابق ہو سکتی نہیں۔ وہ وحی اس قدر بڑی ہے، میں اس کی ایک مثال عرض کروں گا آپ کو۔ نبی کریم ﷺ پر وحی نازل ہوئی......
جناب یحییٰ بختیار: یہ جو کہتے ہیں ناں کہ: ”میں اس وحی پر، اس پاک وحی پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسے ان تمام وحیوں پر ایمان......“
١٤٠
1657 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
جناب عبدالمنان عمر: اُس کے ظنی ہونے کے مقابلے میں۔ میں نے اس لئے حوالے کا اُوپر کا حصہ جو چھوڑ دیا گیا تھا وہاں، وہ میں نے یہاں پڑھا ہے، اسی لئے، یہی بتانے کے لئے کہ وہاں عظمت کا ذکر نہیں ہے۔ میں پھر عرض کر دیتا ہوں......
جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں ناں جی، وہ ایسے ہی پاک ہے جیسے دوسری وحی پاک ہے، اللہ کی طرف سے ہے......
جناب عبدالمنان عمر: درحقیقت......
جناب یحییٰ بختیار: ......اور ایمان دونوں پر ایک جیسا لاتا ہے......
جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، دونوں پر ایک جیسا نہیں لاتا ہے......
جناب یحییٰ بختیار: وہ کہتا ہے......
جناب عبدالمنان عمر: میں عرض کرتا ہوں ناں جی، وہ اُوپر بیان ہوا ہے ناں جی، اُس کی عبارت کو......
(اسلام سادہ لوگوں کے لئے آیا تھا یا وکیلوں کے لئے؟)
1672 جناب یحییٰ بختیار: ابھی آپ ایک بات بتائیں، پیشتر اس کے کہ ہم ذرا کچھ آگے جائیں۔ یہ اسلام جو ہے، یہ بڑے سادہ لوگوں، غریب لوگوں، یہ عوام کا مذہب تھا یا وکیلوں کے لئے آیا تھا؟
جناب عبدالمنان عمر: جناب! یہ تو بالکل ہمارے جیسے سادہ لوگوں......
(پتہ نہیں چلتا کہ مرزا صاحب کیا کہتے ہیں؟)
جناب یحییٰ بختیار: سادہ لوگوں کا۔ یہ باتیں جو مرزا صاحب کر رہے ہیں کہ: ”میں نبی ہوں، بروزی ہوں، مجازی ہوں، نہیں ہوں، ہوں، ہوں“ اس سے اسلام کو پھیلانے کا مطلب تھا کہ Confuse (غلط ملط) کرنے کا مطلب تھا؟ آپ یہ بتائیے۔ دیکھئے نا! میں ایک وکیل ہوں، ۲۶ سال کا میرا تجربہ ہو چکا ہے، ایک ماہ سے لگا ہوا ہوں، پتا نہیں چلتا کہ مرزا صاحب کہتے کیا تھے؟ میں عرض کرتا ہوں جی......
جناب عبدالمنان عمر: میں عرض کرتا ہوں، جی......
۱۴۱
OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
جناب عبدالمنان عمر: جی As Status (رتبہ) ہمارے مذہب اور عقید برابر نہیں ہے۔ کوئی دُنیا کا بڑے سے بڑا انسا
جناب یحییٰ بختیار: آپ دیکھی
جناب عبدالمنان عمر: ......وہ
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، صا گا۔ ابھی آنحضرت (ﷺ) کی حدیثیں ہیں سے بات کی یا بڑے غریب آدمی سے بات ک نہیں کہیں گے کہ چونکہ گھٹیا آدمی سے بات کی کی حدیث کا جو کسی بڑے آدمی سے بات کی
جناب عبدالمنان عمر: جناب
جناب یحییٰ بختیار: یعنی بات سے بھی کہی ہو۔ اللہ جو باتیں کرتا ہے، الہام گے کہ اس کا Status Low (رتبہ کم) ہ وحی بھیجی ہے، اور وہ دُوسرے نبی کو بھیجی ہے، پیغام بھیجا ہے، اُس میں کوئی فرق کر دیا ہے
1671 جناب عبدالمنان عمر: ب اپنے عقیدے کو آپ سے نہ منوا سکوں۔ مگر میر
جناب یحییٰ بختیار: یہ ارادہ ن چاہ رہے ہیں۔
جناب عبدالمنان عمر: میرا ع اللہ ﷺ کی وحی کے مطابق ہو سکتی نہیں۔ و کروں گا آپ کو۔ نبی کریم ﷺ پر وحی نازل
جناب یحییٰ بختیار: یہ جو کہتے ”میں اس وحی پر، اس پاک و ایمان.......“
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
(یہ بہت بڑا فتنہ ہے؟)
جناب یحییٰ بختیار: اور ایک ۱۵ دن انہوں نے تقریریں کیں، وہ نہیں Clear کرسکے۔ ابھی آپ کہہ رہے ہیں، آپ Clear نہیں کرسکے۔ آپ اندازہ لگائیں خدارا! مسلمانوں کی کیا حالت ہوگی؟ اس سے زیادہ کوئی فتنہ ہوسکتا ہے؟ یہ جو بار بار آپ نے اُس سے معنی نکالے ہیں، "بروزی"، "مجازی"، "اصلی نبی"، "نقلی نبی"، "یہ وحی ایسی پاک ہے"، "یہ وحی پاک نہیں ہے" اور آپ کہتے ہیں کہ یہ Simple (آسان) دین ہے، Straight Forword، جس میں کوئی مغالطے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ تو آپ پھر بتائیں، وہ کہتا ہے کہ: "میری وحی ایسی پاک ہے جیسی باقی انبیاء پر آتی ہے۔ میں اُس پر ایسے ہی ایمان رکھتا ہوں جو باقی......" آپ کہتے ہیں کہ: "نہیں، یہ نہیں ہے ویسے۔" تو یہ تو صاحبزادہ صاحب! بڑی Confuse کردیتی ہے بات۔
1673 جناب عبدالمنان عمر: میں عرض کرتا ہوں، Confusion جو ہے جی، یہ بعض دفعہ اس بات میں نہیں ہوتا، اگلے شخص کے سمجھنے میں ہوتا ہے۔ قرآن مجید بالکل سادہ......
جناب یحییٰ بختیار: تو یہ کہتے ہیں کہ اگلے لوگ تو سادہ ہیں ناں جی؟
جناب عبدالمنان عمر: میں عرض کرتا ہوں جی مگر دُنیا کی اکثریت اُس کی سادگی کے باوجود اُس کی صداقت کو نہیں مانتی۔ تو یہ دلیل جو ہے کہ جی لوگوں کو اُلجھاؤ ہے پیدا، یہ دلیل نہیں ہے۔ قرآن مجید بڑی صحیح چیز ہے، سادہ چیز ہے، آسان چیز ہے: (عربی)
جناب یحییٰ بختیار: جی، قرآن شریف تو بالکل صحیح ہے، جب اُس نے "خاتم النبیین" کہہ دیا، ہم نے کہا کہ سلسلہ ختم، مہر لگ گئی، Sealed ۔ آپ کہتے ہیں: "نہیں!" کوئی کہتے ہیں: "کھڑکی کھلی ہوئی ہے"، کوئی کہتے ہیں: "بند ہے!"
جناب عبدالمنان عمر: نہیں جی، ہم نہیں کہتے۔
جناب یحییٰ بختیار: آپ نہیں کہتے، ٹھیک ہے، نہیں، "لا نبی بعدی" کی حدیث آئی کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ آپ کہتے ہیں کہ: "نبی نہیں آئے گا، بالکل ٹھیک ہے، مگر وہ اس معنی میں کہ وہ بروزی ہو، مجازی ہو، اور اُس میں وہ خوبیاں ہوں گی، مگر نبی نہیں ہوگا، اس قسم کا آسکتا ہے، جو اپنے لئے یہ لفظ استعمال کرے، وہ ٹھیک ہے، اُس کو نہ ماننا گنہگار ہے، کافر نہیں ہے۔" آپ دیکھ لیجئے، آنحضرت (ﷺ) نے کوئی ایسی بات نہیں کی۔
۱۴۲
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
اُنہوں نے کہا کہ کوئی نبی نہیں آسکتا۔ آپ سارا دن صبح سے یہ کہہ رہے ہیں کہ اس معنوں میں نہیں تھا، دوسرے معنوں میں تھا۔
جناب عبدالمنان عمر: میں نے عرض کیا کہ اس قسم کا کوئی نبی نہیں، نہ اس قسم کا، نہ اُس قسم کا، کسی قسم کا نہیں آسکتا، میں نے اپنا......
1674 جناب یحییٰ بختیار: اور جب وہ کہتے ہیں کہ: ”میں نبی ہوں، خدا کا رسول ہوں“؟
جناب عبدالمنان عمر: وہ بمعنی محدث کہا ہے، کیونکہ پہلے لوگوں نے بمعنی محدث کہا ہے۔
(محدث کی بجائے نبی کا لفظ کیوں؟)
جناب یحییٰ بختیار: کیوں نہیں کہتا وہ محدث؟ جب اُس نے ایک دفعہ کہہ بھی دیا کہ: ”مسلمانوں کو دھوکا ہوا ہے، مجھ سے غلطی ہوگئی ہے۔ آئندہ کے لئے اُس کو Amend کرو۔“ اُس کے بعد پھر وہی حرکت۔ آپ یہ بتائیے؟
جناب عبدالمنان عمر: وہ حرکت جو ہے، وہ یہ ہے......
جناب یحییٰ بختیار: یعنی یہ بات جو تھی کہ: ”مجھ سے غلطی ہو جاتی ہے، لوگ مجھے کہتے ہیں کہ آپ نے غلط......“
جناب عبدالمنان عمر: نہیں، نہیں، غلطی نہیں......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں بات کر رہا ہوں کہ آپ نے ہمیں دھوکا دیا؟ ”میں نے کہا کہ مجھ سے غلطی ہوگئی ہے، میرا مطلب یہ نہیں تھا، آپ اِس میں ترمیم سمجھیں۔“ وہ خوش ہوگئے۔ ”دوسرے دن میں نے پھر وہی لکھنا شروع کر دیا۔“ تو اس پر بھی لوگ سوچتے ہیں کہ آخر مطلب کیا تھا۔ Clear پوزیشن لے آدمی، Stand لے۔ Status (رُتبہ) ہے ایک محدث کا، اور ایک طرف کہتے ہیں: ”نبی ہوں!“ پھر کہتے ہیں: ”میں نہیں ہوں!“ پھر کہتے ہیں: ”میرا مطلب محدث تھا!“ پھر کہتے ہیں: ”میں پھر لفظ نبی استعمال کروں گا!“
جناب عبدالمنان عمر: میں پھر گزارش یہ کروں گا کہ اُس شخص نے جو کچھ کہا، وہی چیز دوسروں نے بھی کہی۔ اُس کی میں آپ کے سامنے مثال عرض کرتا ہوں......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، دیکھیں، ہمارے سامنے صرف مرزا صاحب کا سوال ہے۔
جناب عبدالمنان عمر: مرزا صاحب ہی کا۔
1675 جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔
١٤٣٣
1660 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
جناب عبدالمنان عمر: مرزا صاحب نے کہا کہ: ”میں محدث ہوں!“ آپ کہتے ہیں: ”محدث ہونے کے باوجود لفظ ’نبی‘ کیوں استعمال کیا؟“ اب میں ......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں جی، انہوں نے خود کہا کہ: ”ترمیم سمجھو، میری ساری تحریروں میں ترمیم سمجھ لو!“ پھر اُس کے بعد ......
جناب عبدالمنان عمر: میں جناب کے سامنے ایک بہت بڑے انسان کا ذکر کرنا چاہتا ہوں ...... شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ ...... وہ فرماتے ہیں کہ: ”انبیاء کو نبوت نام بطور عہدہ کے دیئے گئے اور ہم محض عنوان مدعی دیئے گئے۔ یعنی ہم پر نبی کا نام جائز نہیں رکھا گیا باوجودیکہ حق تعالیٰ ہم کو ہمارے باطن میں اپنے کلام اور اپنے رسول اللہ کے کلام کے معنی ......“ اور فرماتے ہیں: (عربی) ”کہ انبیاء جو ہیں، اُن کو تو اسم، نام نبوّت دیا گیا ہے، ہمیں نبی کا لقب دیا گیا ہے۔“ اب دیکھئے وہ محدّث ہیں۔ وہ ولی اللہ ہیں ......
جناب یحییٰ بختیار: اچھا، ان کو ”نبی“ کا لقب دیا گیا تھا ......
جناب عبدالمنان عمر: وہ فرماتے ہیں ......
جناب یحییٰ بختیار: اچھا، ابھی ایک اور حوالہ پڑھوں گا ......
جناب عبدالمنان عمر: وہ خود فرماتے ہیں ......
(اس کا حوالہ کہ نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص ہوں)
جناب یحییٰ بختیار: بس اسی پیج پر ایک اور حوالہ سُن لیجئے۔ یہ مرزا صاحب فرماتے ہیں: ”اس سلسلۂ کثیرہ کی الہامات اور اُمورِ غیبیہ اس اُمت میں سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں۔ جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء، ابدال اور اقطاب اس اُمت میں سے 1676 گزر چکے ہیں، اُن کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا، پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے ...... میں ہی مخصوص کیا گیا ہوں۔“
(حقیقت الوحی ص۳۹۱، خزائن ج۲۲ ص۴۰۶)
جناب عبدالمنان عمر: ”...... میں ہی مخصوص کیا گیا۔“
جناب یحییٰ بختیار: ”...... صرف میں ہی مخصوص کیا گیا۔“ یہ تو وہ Status (رتبہ) نہیں ہے، جو عبدالقادر جیلانی صاحب کا ہے؟
جناب عبدالمنان عمر: وہ اُن کا نہیں تھا۔
۱۴۴
1661 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
جناب یحییٰ بختیار: وہ اُن کا نہیں تھا۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ: ”اس کے لئے صرف میں ہوں۔“ یہ ایک اور نبی کا Status (رُتبہ) ہے، تو یہ بتائیے یہ کون سا Status (مقام) ہے؟
جناب عبدالمنان عمر: یہ جناب! وہ Status (رُتبہ) ہے جو نبی کریم ﷺ نے خود فرمایا ہے، مسلم کی حدیث عرض کروں گا کہ : ”نبی اللہ آئے گا۔“ اب دیکھئے ، خاتم النبیین ہیں، لا نبی بعدی ہے، کسی قسم کا نبی نہیں آسکتا۔ فرماتے ہیں کہ: ”وہ نبی اللہ آئے گا“ تو یہ مرزا صاحب، اور یہ کسی اور ولی کے متعلق، کسی اور محدّث کے متعلق، کسی اور مجدّد کے متعلق، تمام ذخیرۂ احادیث میں یہ لفظ نہیں ملتا، لفظ ”نبی۔“ تو مرزا صاحب کیا فرما رہے ہیں؟
”محمد رسول اللہ ﷺ کی زبان میں، تمام اولیاء، تمام ابدال، تمام اقطاب، تمام محدثین، تمام مجدّدین میں سے صرف ایک مسیح موعود کے لئے لفظ ”نبی“ استعمال کیا گیا ہے اور کسی کے لئے استعمال نہیں کیا گیا۔“
جناب یحییٰ بختیار: وہ تو نبی ہوگئے۔
جناب عبدالمنان عمر: یہ اُس حدیث کی طرف اشارہ ہے۔
1677 جناب یحییٰ بختیار: ہاں تو نبی ہوگئے ناں جی۔
جناب عبدالمنان عمر: نہ جی، نبی نہیں ہوگئے۔
جناب یحییٰ بختیار: اس کے باوجود؟
جناب عبدالمنان عمر: اگر لقب ”نبی“ کا دینے سے نبی ہوجاتا ہے، میں نے عرض کیا کہ شیخ عبدالقادر جیلانی فرماتے ہیں کہ: ”مجھے نبی کا لقب دیا گیا ہے“، آیا وہ نبی ہوگئے ہیں؟
Mr. Yhaya Bakhtiar: Sir, we break for tea, because I do not follow this. Can we have five minutes break?
(جناب یحییٰ بختیار: جناب والا! چائے کا وقفہ کریں، کیونکہ مجھے تو سمجھ نہیں آرہا۔ کیا ہمیں پانچ منٹ کا وقفہ مل سکتا ہے؟)
Mr. Chairman: The House is adjourned for fiftenn minutes.
۱؎ ”ہٹ دھرمی“ کا دوسرا نام : ”قادیانیت“ ہے، جس کا مظہر یہ جواب ہے۔!
۱۴۵
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
The Delegation, if they like they can sit here, or, if they like, can come after fifteen minutes, at 9:05. (جناب چیئرمین: ایوان کا اجلاس پندرہ منٹ کے لئے ملتوی کیا جاتا ہے۔ وفد اگر چاہے تو تشریف رکھے، اور اگر وہ پسند کرے تو پندرہ منٹ کے بعد یعنی ۹:۰۵ بجے واپس آسکتا ہے) بیٹھے رہیں پندرہ منٹ کے بعد پھر شروع کردیں گے۔
----------
The honourable members can go. (معزز اراکین جاسکتے ہیں)
At 9:15, we will assemble again at 9:05. (۹:۰۵ بجے اجلاس دوبارہ شروع ہوگا)
----------
[The Special Committee adjourned for tea break to re-assembled at 9:05 p.m.] (خصوصی کمیٹی کا اجلاس چائے کے وقفے کے بعد پھر شام ۹:۰۵ بجے ہوگا)
----------
[The Special Committee re-assembled after tea break, Mr. Chairman (Sahibzada Farooq Ali) in the Chair.] (خصوصی کمیٹی کا اجلاس چائے کے وقفے کے بعد مسٹر چیئرمین (صاحبزادہ فاروق علی) کی صدارت میں ہوا)
----------
Mr. Chairman: Yes, Mr. Attorney-General. (جناب چیئرمین: جی اٹارنی جنرل صاحب!)
(شیخ عبدالقادر جیلانی کی صحیح عبارت)
جناب یحییٰ بختیار: یہ آپ نے حضرت عبدالقادر جیلانی کا پڑھ کے سنایا تھا، اس کا جو ترجمہ مجھے دیا گیا ہے، اس میں وہ فرماتے ہیں کہ:
۱۴۶
NATIONAL AS
دیئے گئے اور ہم محض یہ عنوان مدعی دیئے تعالیٰ ہم کو ہمارے باطن میں اپنا کلام اور میں رکھا گیا۔‘‘ گزارش یہ ہے کہ سید عبدالقادر جیلانی گیا ہے) کے بعد کیا فرماتے ہیں؟ ہی جو ہم کہتے ہیں کہ کوئی شخص بھی
نع کردیا گیا، بند کردیا گیا) الاپیش کیا تھا۔ آپ اُس کے۔
وں جی۔
تھی کہ، میں گزارش یہ کررہا تھا۔۔۔۔ ا اور رسول رکھا گیا) صاحبزادہ صاحب! یہاں تو یہ انہوں گیا!’’عہدے کی بات نہیں ہے،لقب
ا گیا‘‘ منع کردیا گیا، بند کردیا گیا‘‘ اور مرزا کیا گیا ہوں‘‘دونوں باتوں کے زمین
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
1678’’انبیاء کو نبوّت کا نام بطور عہدہ کے دیئے گئے اور ہم محض یہ عنوان مدعیٰ دیئے گئے۔ یعنی ہم پر نبی کا نام جائز نہیں رکھا گیا، باوجودیکہ حق تعالیٰ ہم کو ہمارے باطن میں اپنا کلام اور رسول اللہ ﷺ کے کلام کے معنی کی خبر دیتا ہے۔‘‘ ’’جائز نہیں رکھا گیا۔‘‘
جناب عبدالمنان عمر: جناب والا! میری گزارش یہ ہے کہ سید عبدالقادر جیلانی صاحب کے الفاظ عربی زبان میں ہیں: (ہمیں یہ لقب دیا گیا ہے)
جناب یحییٰ بختیار: اور اُس کے بعد، اُس کے بعد کیا فرماتے ہیں؟
جناب عبدالمنان عمر: اُس کے بعد وہی جو ہم کہتے ہیں کہ کوئی شخص بھی سید عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ.....
مولوی مفتی محمود: اس کے بعد کا لفظ یہ ہے:
”حُجِرَ اسم نبی علینا“ (ہم پر نبی کا نام منع کر دیا گیا، بند کر دیا گیا)
جناب عبدالمنان عمر: میں نے تو ”لقب“ والا پیش کیا تھا۔
جناب یحییٰ بختیار: آگے بھی پیش کریں ناں آپ اُس کے۔
مولوی مفتی محمود: ساتھ ہی لکھا ہوا ہے۔
جناب عبدالمنان عمر: یہی میں عرض کر رہا ہوں جی۔
مولوی مفتی محمود: اُسی کی تفسیر ہے: (عربی)
جناب عبدالمنان عمر: تو میں نے گزارش یہ کی تھی کہ، میں گزارش یہ کر رہا تھا.....
(مرزا صاحب نے کہا کہ میرا نام نبی اور رسول رکھا گیا)
1679جناب یحییٰ بختیار: نہیں، بات یہ تھی، صاحبزادہ صاحب! یہاں تو یہ انہوں نے کہا، مرزا صاحب نے کہا کہ: ”میرا نام نبی اور رسول رکھا گیا!“ عہدے کی بات نہیں ہے، لقب کی بات نہیں ہے۔ ”میرا نام نبی اور رسول رکھا گیا۔“
جناب عبدالمنان عمر: ”مجھے نبی کا خطاب دیا گیا“
١؎ شیخ عبدالقادرؒ فرماتے ہیں: ”ہم پر نبی کا نام منع کر دیا گیا، بند کر دیا گیا“ اور مرزا قادیانی کہتا ہے کہ: ”نبی کا نام پانے کے لئے میں مخصوص کیا گیا ہوں“ دونوں باتوں کے زمین و آسمان کے فرق کو قادیانی گواہ مٹانے کے درپے ہے...!
١٤٧
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
یہ آپ نے مجھے حوالہ پڑھ کر سنایا تھا۔ میں نے عرض کیا ہے کہ ان لفظوں سے حضرت سید عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ ختم نبوت کے منکر نہیں تھے، وہ مدعی نبوت نہیں تھے، اُن کا آخری نبی ہونے پر ایمان تھا۔ بتانا مقصود یہ ہے کہ اولیائے اُمت کے یہاں اس لفظ کا استعمال غیر نبی کے لئے بھی ہوتا ہے اور محدثین کے لئے بھی یہ لفظ استعمال ہو جاتا ہے۔ چنانچہ وہ بھی اولیاء کی کٹیگری کے آدمی تھے۔
جناب یحییٰ بختیار: وہ تو کہتے ہیں کہ: ”ہم پر منع کیا گیا ہے“؟
جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، منع کیا گیا ہے۔ اس میں ”نبی“: (عربی)
(لقب ہمیں دیا گیا ہے نبی کا)
مولوی مفتی محمود: ”لقب نبی کا“ تو نہیں کہا۔
جناب عبدالمنان عمر: کیا لقب دیا گیا ہے؟
مولوی مفتی محمود: لقب نبی کا تو نہیں دیا گیا۔
جناب عبدالمنان عمر: کیا لقب جی؟
مولوی مفتی محمود: لقب اولیاء کا، قطب کا، ابدال کا، غوث کا، یہ لقب دیئے گئے ہیں۔
1680 جناب یحییٰ بختیار: اولیاء کا کہیں، جو کچھ کہیں آپ۔
جناب عبدالمنان عمر: یہ یہاں نہیں ہے، یہ تشریح یہاں نہیں ہے۔
مولوی مفتی محمود: آگے ہے۔ (عربی)
تشریح اُس کی یہ ہے:
”ہم پر بند کر دیا گیا نام رکھنے کا......“
جناب یحییٰ بختیار: اور مرزا صاحب تو کہتے ہیں کہ:
”خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں۔ اگر میں اس سے انکار کروں تو میرا گناہ ہوگا۔ جس حالت میں خدا میرا نام نبی رکھتا ہے تو میں کیونکر انکار کر سکتا ہوں۔ میرا نام نبی رکھ دیا گیا ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٩٧، خط بنام اخبار عام لاہور ٢٦؍مئی ١٩٠٨ء ص ٧، کالم ١ تا ٣)
جناب عبدالمنان عمر: میں گزارش یہ کر رہا تھا کہ بعض دفعہ اولیاء کے ہاں لفظ ”نبی“ استعمال ہوتا ہے، مگر اُس سے نبوت حقیقی مراد نہیں ہوتی۔ اس کے لئے میں گزارش کروں گا کہ مولانا رُوم اپنی مثنوی کے دفتر پنجم میں فرماتے ہیں:
١٤٨
MBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
یہ آپ نے مجھے حوالہ پڑھ کر سنایا تھا۔ میں سید عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ ختم نبوت کے منکر نہیں نبی ہونے پر ایمان تھا۔ بتانا مقصود یہ ہے کہ اولیائے کے لئے بھی ہوتا ہے اور محدثین کے لئے بھی یہ لفظ کثیری کے آدمی تھے۔
جناب یحییٰ بختیار: وہ تو کہتے ہیں کہ:
جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، منع کیا (لقب ہمیں دیا گیا ہے نبی کا)
مولوی مفتی محمود: ”لقب نبی کا“ تو نہیں
جناب عبدالمنان عمر: کیا لقب دیا گیا
مولوی مفتی محمود: لقب نبی کا تو نہیں دیا
جناب عبدالمنان عمر: کیا لقب جی؟
مولوی مفتی محمود: لقب اولیاء کا، قطب کا
1680 جناب یحییٰ بختیار: اولیاء کا کہیں،
جناب عبدالمنان عمر: یہ یہاں نہیں ہے
مولوی مفتی محمود: آگے ہے۔ (عربی)
تشریح اُس کی یہ ہے: ”ہم پر بند کر دیا گیا نام رکھنے کا......“
جناب یحییٰ بختیار: اور مرزا صاحب تو ”خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں۔ اگر میں حالت میں خدا میرا نام نبی رکھتا ہے تو میں کیونکر انکار کر (مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٥٩، خط
جناب عبدالمنان عمر: میں گزارش یہ ک استعمال ہوتا ہے، مگر اُس سے نبوت حقیقی مراد نہیں ہ مولانا رُوم اپنی مثنوی کے دفتر پنجم میں فرماتے ہیں:
1665 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
زانکہ زو نور نبی آید پدید
مقر کن در کار نیک و خدمتے
تا نبوت یابی اندر امتے
یعنی پیر کے متعلق فرماتے ہیں کہ وہ نبی وقت ہوتا ہے، وہ اپنے زمانے کا نبی ہوتا ہے۔ اب پیر تو نبی نہیں ہوتا، وہ غیر نبی ہوتا ہے، مگر مولانا روم اس کو کہتے ہیں:
(اے میرے مرید! وہ اپنے وقت کا نبی ہوتا ہے)
1681 کیوں نبی ہوتا ہے؟ حقیقی نبی نہیں ہوتا:
(کیونکہ اُس کے ذریعے سے محمد رسول اللہ ﷺ کے نور کا ظہور ہو رہا ہوتا ہے)
پھر فرماتے ہیں:
(تمہیں چاہئے کہ کوشش کرو اس کام میں)
(تاکہ اُمت میں رہتے ہوئے، اُمی ہوتے ہوئے تجھے نبوت حاصل ہو جائے)
یعنی پیر سے چونکہ آنحضرت ﷺ کا نور ظاہر ہوتا ہے، اس لئے وہ اپنے وقت کا نبی ہوتا ہے۔ پس خدمت اور اطاعت میں کوشش کر تا کہ اُمت میں تجھ کو نبوت حاصل ہو۔
اب یہ دیکھئے، لفظ ”نبوت“ ہے، ”اُمت“ ہے۔ تلقین ہے، پیر کو ”نبی وقت“ کہا ہے۔ مگر اس کے باوجود مولانا رُومؒ نبوت کو جاری نہیں سمجھتے تھے، وہ آخری نبی مانتے تھے، خاتم النبیین پر اُن کا ایمان وایقان تھا۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ محض لفظوں سے دھوکا نہیں کھانا چاہئے، لفظ کبھی غیر نبی کے لئے یہ ایسا ہو جاتا ہے۔ مفہوم اُس کا لیجئے۔
میں نے مفہوم آپ کو وہ عرض کئے تھے کہ مرزا صاحب نے جس جگہ بھی ”نبی“ کا لفظ استعمال کیا، وہ صوفیا کی اس اصطلاح میں استعمال کیا جس میں وہ غیر نبی کے لئے بھی اس لفظ کا استعمال کر لیتے ہیں۔ لیکن اس سے وہ خواصِ نبوت، وہ لوازمِ نبوت، وہ حقیقتِ نبوت، وہ اُن لوگوں میں نہیں آتی۔ تو مرزا صاحب نے کسی جگہ بھی حقیقی نبوت کا دعویٰ نہیں کیا۔ نبی میں جو
١٤٨ ١٤٩
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
خصائص ہوتے ہیں، اُن میں سے کسی خاصیت کے پائے جانے کا کبھی ادّعا نہیں کیا۔
(خصوصیات نبوت کا دعویٰ)
1682 جناب یحییٰ بختیار: آپ ذرا اس کو چھوڑ دیجئے۔ میں یہ سوال آپ سے پوچھتا ہوں۔ نبی کی خاصیتیں آپ صبح بتا رہے تھے اور نبی کی جو آپ نے تعریف کی، وہ بھی آپ نے بتائی۔ مرزا صاحب وہ ساری تعریف جو نبی کی ہے، اُس کے مطابق کہتے ہیں کہ: ”مجھ پر وحی آتی ہے، نبی پر وحی آتی ہے۔ میں نبی ہوں۔ میرے نہ ماننے والا کافر ہے۔“ اب یہ ”محدّث“ کی تعریف ہو جاتی ہے کہ اُس کو وحی بھی آتی ہے۔ اُس کو نہ ماننے والا کافر بھی ہو جاتا ہے؟ اور کہے اپنے آپ کو کہ: ”ہوں میں نبی، محدّث نہیں۔ محدّث کا لفظ میں نے Cancel (منسوخ) کردیا، لیکن اس کے باوجود استعمال کروں گا۔“
جناب عبدالمنان عمر: میں گزارش یہ کر رہا تھا جی کہ مرزا صاحب نے کبھی نہیں کہا۔ آپ نے فرمایا کہ اُنہوں نے کہا ہے کہ: ”میرے ماننے والا کافر ہو جاتا ہے...... نہ ماننے والا۔“ میں نے عرض کیا کہ اُنہوں نے کہا ہے کہ: ”میرے دعوے کو نہ ماننے سے کوئی شخص کافر نہیں ہو جاتا۔“
یہ میں نے صریح حوالہ اُن کا پیش کیا ہے۔ ”تریاق القلوب“ اُنہی کی کتاب ہے۔ اُس میں سے میں نے یہ حوالہ پیش کیا تھا کہ: ”میرے دعوے کے انکار کی وجہ سے کوئی شخص کافر نہیں ہو جاتا۔“ بلکہ مزید اس سلسلے میں وہ فرماتے ہیں کیوں کافر نہیں ہو جاتا: ”آخر میرے پر بھی تو وحی آتی ہے۔ وہ نہیں مجھے مانتا، پھر بھی تو....“
(محدّث کا لفظ میرے مقام کے مطابق نہیں نبی استعمال ہونا چاہئے)
جناب یحییٰ بختیار: صاحبزادہ صاحب! یہ فرمائیے آپ کہ ”ایک غلطی کا ازالہ“ میں یہ نہیں فرماتے کہ: ”محدّث کا لفظ میرے Status (مقام) کے مطابق نہیں۔“ ”نبی“ میرے لئے استعمال ہونا چاہئے“؟
جناب عبدالمنان عمر: یہ تو نہیں فرمایا کہ میرے Status (رتبہ) کے مطابق نہیں ہے۔
1683 جناب یحییٰ بختیار: نہیں، اس سے وہ Satisfied (مطمئن) نہیں تھے، میں کہتا ہوں وہ ٹھیک ہے؟ آپ سے ڈسکس نہیں کرتا ہوں۔
١٥٠
1667 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
جناب عبدالمنان عمر: نہیں، جناب! یہ نہیں کہا۔ اُنہوں نے صرف یہ کہا کہ لغوی طور پر مکالمہ و مخاطبہ الٰہیہ جس کو حاصل ہو، لغت میں اُس کو محدث نہیں کہتے۔ یہ ایک لغوی بحث ہے، Status (رتبہ) کی بحث نہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: آپ پھر کیوں کہتے ہیں؟
جناب عبدالمنان عمر: لغواً نہیں کہتے، حقیقتاً کہتے ہیں۔ لغت کے لحاظ سے یہ لفظ نہیں ہے، اُس کے لئے صحیح۔ اُس کے لئے ”مکلم“ کا لفظ ہے، یعنی خدا اُس سے کلام کرتا ہے۔ یہ ہے اُس کے لئے لغت کے.......
جناب یحییٰ بختیار: وہ نبی ہو جاتا ہے پھر؟
جناب عبدالمنان عمر: نہ جی، نبی نہیں ہو جاتا۔
جناب یحییٰ بختیار: وہ کہتا ہے پھر کہ ”نبی“ کا لفظ استعمال کرو۔
جناب عبدالمنان عمر: ”نبی کا لفظ استعمال تو میں نے کیا ہے“ یہ دیکھئے، فرمایا ہے انہوں نے کہ: ”او نبی وقت باشد۔“ ”نبی“ کے لفظ سے جھگڑا۔ جھگڑا یہ ہے کہ آیا اُس میں خواصِ نبوت آ جاتے ہیں۔ خواصِ نبوت میں نے چار آپ کی خدمت میں پیش کئے ہیں۔ ایک یہ کہ اُس کی وحی، وحی نبوت ہوتی ہے۔ مرزا صاحب کی اسّی (٨٠) سے اوپر کتابوں میں ایک لفظ بھی نہیں دکھایا جاسکتا کہ اُنہوں نے فرمایا ہو کہ: ”میری وحی، وحی نبوت ہے۔“
(میری وحی ایسی پاک جیسی آنحضرت ﷺ پر آئی ہو)
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ کہتے ہیں کہ: ”میری وحی ایسی پاک ہے جیسے آنحضرت (ﷺ) پر آئی ہو، اور میں اُس پر ویسے ہی ایمان لاتا ہوں۔“
1684
جناب عبدالمنان عمر: نہیں جی، اُس کے معنی وہ ہیں کہ وہ یقینی ہے۔ ”اُس میں یہ شبہ نہیں ہے مجھے کہ وہ شاید خدا کا کلام ہو یا نہ ہو۔“ یہ نہیں کہ شیطانی ہے کہ نہیں ہے۔ یہ فرمایا ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں دیکھئے ناں جی، وہ تو ٹھیک ہے، اُس میں کوئی شک ہے نہیں کہ خدا کا کلام اُن پر آیا؟
جناب عبدالمنان عمر: ہاں، خدا کا کلام آیا۔
جناب یحییٰ بختیار: اس میں تو کوئی شک نہیں ہے، اور پھر وہ کہتے ہیں کہ: ”میں اُس پر ایسے ایمان لاتا ہوں جیسے خدا کے کلام پر جو کسی نبی پر آیا ہو۔ ایسے ہی پاک ہے جیسے وہ ہو۔“
Y OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
خصائص ہوتے ہیں، اُن میں سے کسی خاصیت
(خصوصیات
1682
جناب یحییٰ بختیار: آپ ف ہوں۔ نبی کی خاصیتیں آپ صبح بتا رہے تھے بتائی۔ مرزا صاحب وہ ساری تعریف جو نبی کی ہے، نبی پر وحی آتی ہے۔ میں نبی ہوں۔ میر تعریف ہو جاتی ہے کہ اُس کو وحی بھی آتی ہے اپنے آپ کو کہ: ”ہوں میں نبی، محدّث نہیں کریا، لیکن اس کے باوجود استعمال کروں گا۔“
جناب عبدالمنان عمر: میں گز کہا۔ آپ نے فرمایا کہ اُنہوں نے کہا ہے کہ والا ۔“ میں نے عرض کیا کہ اُنہوں نے کہا ہے نہیں ہو جاتا۔“
یہ میں نے صریح حوالہ اُن کا پیش میں سے میں نے یہ حوالہ پیش کیا تھا کہ: ”میں ہو جاتا۔“ بلکہ مزید اس سلسلے میں وہ فرماتے ہ آتی ہے۔ وہ نہیں مجھے مانتا، پھر بھی تو....“
(محدث کا لفظ میرے مقام کے
جناب یحییٰ بختیار: صاحبزادہ یہ نہیں فرماتے کہ: ”محدّث کا لفظ میرے م لئے استعمال ہونا چاہئے“؟
جناب عبدالمنان عمر: یہ تو نہی نہیں ہے۔
1683
جناب یحییٰ بختیار: نہیں میں کہتا ہوں وہ ٹھیک ہے؟ آپ سے ڈسکس
1668 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
جناب عبدالمنان عمر: مگر وحی نبوت نہیں۔ دیکھئے جی، وحی نبوت تو ایک کیٹگری ہے ۔ وحی نبوت جو ہے، وہ.......
جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں صاحبزادہ صاحب! میں جو آپ سے عرض کر رہا ہوں، وہ میری Difficulty (مشکل) پر غور کریں۔ چونکہ میں ضروری نہیں سمجھتا جی اس کو کہ ایک شخص کہتا ہے کہ: ”مجھ پر وحی آتی ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتی ہے، وہ ایسی پاک ہے جو باقی انبیاء پر وحی آئی ہے اور میں اُس پر ایسے ہی ایمان لاتا ہوں جیسے باقی انبیاء پر ایمان لاتا ہوں، اُن کی وحیوں پر ایمان ہے میرا۔“ اور ساتھ ہی کہتا ہے کہ: ”میں نبی بھی ہوں۔“ آپ کہتے ہیں کہ یہ ”نبی“ اُس معنی میں نہیں۔ تو ہم کہتے ہیں کہ: جب وہ کہتا ہے کہ: ”وحی مجھ پر آ رہی ہے، وہ ایسی پاک ہے، اللہ سے ہے، اور میں اُس پر ایمان لاتا ہوں، میں نبی ہوں۔“ اُس کے بعد کہتے ہیں۔ اس کے باوجود گنجائش رہ جاتی ہے اس بات کی کہ وہ کہتا ہے کہ: ”میں نہیں ہوں نبی۔“ یہ پوزیشن Clear (واضح) کریں کہ آپ کس طور پر؟ جب وہ کہتا ہے کہ: ”میں نبی ہوں، اور وحی بھی آ رہی ہے اور وحی بھی پاک ہے، اور 1685 اُس پر ایمان بھی لاتا ہوں جیسے باقی انبیاء کی وحی آئی اسی طرح۔“
جناب عبدالمنان عمر: میں نے گزارش کیا تھا کہ یہ حوالہ پورا میں نے پڑھ کے سنایا تھا۔ مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ: ”خدا تعالیٰ کی جو وحی مجھ پر نازل ہوتی ہے، میں اُس کو قرآن مجید پر پیش کرتا ہوں، لیکن اگر وہ قرآن مجید سے مطابقت نہ رکھے تو میں اُس کو اسی طرح پھینک دیتا ہوں جیسے کھنگال کو آدمی پھینک دیتا ہے۔“ یہ ہے مرزا صاحب کی وحی میں جو اُن پر آتی ہے: ”قرآن کے مقابلے میں کھنگال کی طرح“ وہ کہتے ہیں۔
(اللہ تعالیٰ کو کیا ضرورت کہ ایک امتی کو وحی بھیجے)
جناب یحییٰ بختیار: آپ یہ بتائیے! اگر ایک وحی اُن پر نازل ہوتی ہے اور وہ قرآن مجید سے مطابقت نہیں رکھتی تو اُس کو پھینک دیتے ہیں، اگر رکھتی ہے تو اُس کی حاجت کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ کو کیا ضرورت تھی کہ ایک اُمتی کو وحی بھیجے؟ (وقفہ)
جناب عبدالمنان عمر: تو میں گزارش یہ کر رہا تھا کہ آپ نے فرمایا کہ قرآن کی جو وحی ہے، جو قرآن کی آیات ہیں، وہ مرزا صاحب پر نازل ہوئیں۔ یہ کیوں نازل ہوئی ہیں؟ یہ تو
١٥٢
1669 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
غلط بات ہے کہ قرآن پر نازل ہو گئیں، رسول اللہ پر نازل ہو گئیں۔ میں عرض کرتا ہوں کہ اولیائے اُمت پر قرآن مجید کی آیتیں نازل ہوتی تھیں۔ جناب یحییٰ بختیار: میں نے کہا: اگر اُن پر وحی ایسی آ رہی ہے...... جناب عبدالمنان عمر: اُس کی حاجت کیا ہے؟
(مرزا پر جو وحی آتی ہے وہ قرآن کے مطابق نہیں تو اس کی کیا حاجت؟)
جناب یحییٰ بختیار: ...... جو کہ قرآن کے مطابق ہے، وہی قرآن کی وحیاں...... میں نہیں کہتا، وہ کہتے ہیں...... کہ جو قرآن شریف کی آیات ہیں، وہ کہتے ہیں کہ: ”مجھ پر بھی نازل ہو گئی ہیں۔“ ساتھ ہی کچھ اور اُن پر وہ Add ہو جاتا ہے۔ وہ اور 1686 بات ہے۔ جو وحی اُن پر نازل ہوتی ہے اور وہ قرآن شریف کی آیات کے مطابق ہے مگر وہ آیات نہیں، پھر اُن کی کیا حاجت ہے؟ جناب عبدالمنان عمر: ضرورت کیا ہے، حاجت کیا ہے؟ جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، ضرورت کیا ہے؟ جناب عبدالمنان عمر: گزارش یہ ہے جی کہ جس زمانے میں مرزا صاحب آئے ہیں، اُس زمانے کے فتنے اپنی مخصوص نوعیت کے ہیں۔ ہر زمانے کا ایک الگ فتنہ ہے۔ اُس زمانے کا فتنہ یہ ہے کہ وحی الٰہی نازل ہوتی ہے کہ نہیں۔ الحاد اور دہریت زیادہ اس طرف جا رہی ہے کہ خدا تعالیٰ کوئی کلام نہیں کرتا۔ یہ ہے اس زمانے کا ہماری رائے میں سب سے بڑا فتنہ۔ اس کو دُور کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے ایک شخص کو بھیجا ہے اور اُس پر مختلف قسم کے کلام نازل کرتا ہے جس میں قرآن مجید کی آیات بھی ہوتی ہیں، اور دُوسری باتیں بھی ہوتی ہیں، اور اُس کی شان، اُس کا مقام، اُس کی عزت، اُس کا رُتبہ قرآن کے رُتبے کے کسی طرح برابر نہیں ہو سکتا۔ جناب یحییٰ بختیار: اگر قرآنی آیات اُن پر نازل ہو جاتیں...... جناب عبدالمنان عمر: پھر بھی وہ نہیں ہوتا۔ چنانچہ دیکھئے کہ سیّد عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: (عربی) کی آیت مجھ پر نازل ہوئی۔“ یہ قرآن مجید کی آیت ہے۔ محمد رسول اللہ کے متعلق، کے بارے میں ہے۔ تو یہ ”فتوح الغیب“ کے مقالہ اٹھائیس (٢٨) پر درج ہے۔ تو اس قسم کی آیتیں جو ہیں، وہ نازل ہو جاتی ہیں۔ ١٥٣
PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
جناب عبدالمنان عمر: مگر ہے۔ وحی نبوت جو ہے، وہ....... جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں وہ میری Difficulty (مشکل) پر غور شخص کہتا ہے کہ: ”مجھ پر وحی آتی ہے، اللہ باقی انبیاء پر وحی آئی ہے اور میں اُس پر ایمان اُن کی وحیوں پر ایمان ہے میرا۔“ اور ساتھ یہ ”نبی“ اُس معنی میں نہیں۔ تو ہم کہتے ہیں پاک ہے، اللہ سے ہے، اور میں اُس پر ایمان اس کے باوجود گنجائش رہ جاتی ہے اس بات Clear (واضح) کریں کہ آپ کس طور ہے اور وحی بھی پاک ہے، اور 1685 اُس طرح۔“ جناب عبدالمنان عمر: میں تھا۔ مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ: ”خدا تعالیٰ کی جو وحی مجھ پر نازل لیکن اگر وہ قرآن مجید سے مطابقت نہ رکھتی ردّی پھینک دیتا ہے۔“ یہ ہے مرزا صاحب میں کھنگال کی طرح“ وہ کہتے ہیں۔
(اللہ تعالیٰ کو کیا ضرورت)
جناب یحییٰ بختیار: آپ بتائیں مجید سے مطابقت نہیں رکھتی تو اُس کو پھینک تعالیٰ کو کیا ضرورت تھی کہ ایک اُمتی کو وحی جناب عبدالمنان عمر: تو میں وحی ہے، جو قرآن کی آیات ہیں، وہ مرزا
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
اسی طرح دیکھئے، میں عرض کرتا ہوں کہ مجدّد الف ثانی کے ہاں صاحبزادے، اُن کے سب سے چھوٹے صاحبزادے محمد یحییٰ پیدا ہوئے تو اُس وقت اُن کی پیدائش سے قبل اُن کو الہام ہوا: 1687 (عربی)
اب یہ قرآن مجید کی آیت ہے، اِس ولی اللہ پر نازل ہوئی۔ یہ نبی نہیں ہے، مجدّد ہے صرف۔ اُس مجدّد پر: (عربی) کی قرآنی آیت نازل ہوئی۔ اِسی بنا پر اُس صاحبزادے کا نام اُنہوں نے محمد یحییٰ رکھا تھا۔
اسی طرح خواجہ میر درد رحمۃ اللہ علیہ یوں فرماتے ہیں کہ، فرماتے ہیں: (عربی) یہ قرآن مجید کی آیت ہے۔ حضرت میر درد دہلوی فرماتے ہیں کہ یہ مجھ پر نازل ہوئی ہے۔ (عربی)
یہ محمد رسول اللہ صلعم کے بارے میں قرآن مجید کی آیت ہے۔ یہ کہتے ہیں:”مجھ پر نازل ہوئی ہے۔“ قرآن مجید کی آیت ہے: (عربی)
خواجہ میر درد فرماتے ہیں: ”یہ مجھ پر نازل ہوئی ہے۔“
حضرت امام جعفر صادق کا ایک میں قول پیش کرنے کی عزت حاصل کروں گا، آپ فرماتے ہیں کہ:”پورا کا پورا قرآن مجید مجھ پر نازل ہوا۔“ بہت بڑا مقام ہے، مگر دیکھئے ......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں نے تو ......
جناب عبدالمنان عمر: میری گزارش یہ تھی کہ ضرورت کیا ہوتی ہے: (عربی)
1688 جناب یحییٰ بختیار: نہیں، آپ نے جواب میرا دے دیا۔ میں نے تو یہ کہا کہ جو اُن پر وحی نازل ہوتی ہے، جو کہ قرآن سے مطابقت رکھتی ہے، آیات نہیں ہوتیں، اُن کی کیا حاجت؟ آپ نے کہا کہ چونکہ لوگ سمجھتے ہیں کہ وحی نہیں آ سکتی، اِس لئے یہ اللہ تعالیٰ نے کیا۔ وہ تو جواب آ چکا آپ کا۔
(مرزا صاحب کے دعویٰ کی تشریح)
اب میں آپ سے، یہ ”ایک غلطی کا ازالہ“ میں جو مرزا صاحب کہتے ہیں، اِس کی ذرا آپ تشریح کردیں:
”چنانچہ چند روز ہوئے ہیں کہ ایک صاحب پر ایک مخالف کی طرف سے یہ اعتراض پیش ہوا کہ جس سے تم نے بیعت کی، وہ نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور اُس کا جواب محض
١٥٤
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
انکار کے الفاظ میں دیا گیا حالانکہ ایسا جواب صحیح نہیں۔ حد یہ کہ خدا تعالیٰ کی وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے، اُس میں ایسے لفظ رسول اور مرسل اور نبی کے موجود ہیں، نہ ایک دفعہ بلکہ صدہا دفعہ۔ پس کیونکر یہ جواب صحیح ہو سکتا ہے کہ ایسے الفاظ موجود نہیں۔ بلکہ اس وقت پہلے زمانے کی نسبت بہت تصریح اور توسیع سے یہ الفاظ موجود ہیں۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ١، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٦)
تو وہ پھر خود ہی کہہ رہے ہیں کہ اگر کوئی کہے کہ : ”آپ نبی بھی ہیں“...... وہ دعویٰ کیا تھا...... ”آپ یہ نہ کہیں کہ نہیں۔ کیونکہ میرے لئے یہ لفظ استعمال ہوئے ہیں۔“
آگے پھر وہ Explain (وضاحت) کرتے ہیں...... جیسے میں نے کہا کہ دعویٰ بھی کر لیتے ہیں، پھر انکار بھی کر دیتے ہیں، پھر دعویٰ کر دیتے ہیں، پھر انکار کر دیتے ہیں...... تو ہمارے لئے Confusion (اُلجھن) ہو گئی ہے اس میں۔
جناب عبدالمنان عمر: میں اس بارے میں یہ گزارش کروں گا کہ ہم نے مرزا صاحب کی تحریرات کے جو حوالے آنجناب کی خدمت میں پیش کئے ہیں، وہ آغاز سے لے کر اُن کی وفات تک کے عرصہ پر محیط ہیں۔ کسی دور کو، کسی زمانے کو، کسی حصہ اُن کی زندگی کے 1689 کو ہم نے چھوڑا نہیں ہے۔ پہلے دن کے حوالے بھی ہیں، درمیانی عرصہ کے حوالے بھی ہیں، ١٩٠١ء کے حوالے بھی ہیں، ١٩٠١ء کے بعد کے حوالے بھی ہیں، اور اُن کی وفات کے عین اُس دن جو اُن کی تحریر شائع ہوتی ہے، اُس کے حوالے بھی ہیں اور اُن سب میں، میں نے عرض کیا تھا نبوّت حقیقی سے آپ نے انکار کیا ہے۔ آپ نے میرے سامنے ......
جناب یحییٰ بختیار: دیکھئے ناں جی، میں آپ کو اُنہی میں سے پڑھ کر سناتا ہوں تو پھر ذرا پوزیشن Clear (واضح) ہو جائے گی۔ (وقفہ)
یہ آپ کا جی نمبر ٦ ہے۔ اُن کے جو آپ نے حوالے دیئے ہیں، ضمیمہ ’ج‘ سے، یہ ١٩٠١ء کے بعد کے جو ہیں اُن میں سے پڑھ رہا ہوں ...... ٦ اور ٧:
”اور پھر ایک اور نادانی یہ ہے کہ جاہل لوگوں کو بھڑکانے کے لئے کہتے ہیں کہ اس شخص نے نبوّت کا دعویٰ کیا ہے۔ حالانکہ یہ ان کا سراسر افتراء ہے، بلکہ جس نبوّت کا دعویٰ کرنا قرآن شریف سے منع معلوم ہوتا ہے، ایسا کوئی دعویٰ نہیں کیا گیا۔“
دیکھئے ناں، صرف یہ دعویٰ ہے کہ : ”ایک پہلو سے میں اُمّتی ہوں اور ایک پہلو سے آنحضرت ﷺ کے فیضِ نبوّت کی وجہ سے نبی ہوں۔“
”اُمّتی بھی ہوں، نبی بھی ہوں آنحضرت ﷺ کے فیض کی وجہ سے!“
١٥٥
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
جناب عبدالمنان عمر: میں نے عرض کیا تھا کہ ”اُمتی نبی“ غیر نبی کو کہتے ہیں۔ ”اُمتی“ اپنے اصلی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ اُمتی نبی غیر نبی کو کہتے ہیں۔ بس یہ ایک اُصول ہے۔
1690 جناب یحییٰ بختیار: ہاں ٹھیک ہے۔ آگے سن لیجئے:
”اور یہ کہنا کہ نبوّت کا دعویٰ کیا ہے، کس قدر جہالت، کس قدر حماقت اور کس قدر حق سے خروج ہے۔ اے نادانو! میری مراد نبوّت سے یہ نہیں کہ میں نعوذ باللہ آنحضرت ﷺ کے مقابلے میں کھڑا ہو کر نبوّت کا دعویٰ کرتا ہوں، یا کوئی نئی شریعت لایا ہوں۔ صرف مراد میری نبوّت سے کثرتِ مکالمت ومخاطبت الٰہیہ سے ہے جو آنحضرت ﷺ کی اقتداء سے حاصل ہے۔ سو کثرتِ مکالمہ ومخاطبہ کے آپ لوگ بھی قائل ہیں۔ پس یہ صرف ...... ہوئی۔“
اور پھر اُن کا ایک نوٹ آتا ہے کہ:
”ہم بارہا لکھ چکے ہیں کہ حقیقی اور واقعی طور پر یہ امر ہے کہ ہمارے سیّد مولانا آنحضرت ﷺ خاتم الانبیاء ہیں، اور آنجناب کے بعد مستقل طور پر کوئی نبوّت نہیں ہے اور نہ کوئی شریعت ہے۔“
یعنی بغیر شرعی نبی کے اور غیر مستقل نبی آ سکتا ہے۔
جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں۔ میں نے عرض کیا کہ جو غیر مستقل ہوتا ہے، وہ نبی نہیں ہوتا، جس کے ساتھ شریعت نہیں ہوتی، وہ نبی نہیں ہوتا، ہمارا موقف یہ ہے۔ وہ نبوّت کی کوئی قسم نہیں ہے۔ اُس کے معنی یہ ہیں کہ وہ نبی نہیں ہے۔ جو نبی ہے وہ کہے گا کہ: ”میں نبی ہوں۔“ وہ یہ کیوں کہتا ہے کہ: ”میں اُمتی نبی ہوں“؟ ظاہر ہے کہ جب وہ ایک لفظ ساتھ لگاتا ہے تو وہ یہ بتانا چاہتا ہے کہ: ”میرے میں نبوت دراصل نہیں پائی جاتی۔“ یہ نبوت کی Negation (نفی) ہے۔
(لا نبی بعدی)
جناب یحییٰ بختیار: ہمیں مشکل یہ آجاتی ہے کہ: ”لا نبی بعدی“ میں اُنہوں (ﷺ) نے نہیں کہا کہ اُمتی آ سکتا ہے۔ اگر وہ یہ فرما دیتے آنحضرت (ﷺ)، تب تو یہ مسئلہ نہیں چھڑتا۔ اُنہوں نے کہا: ”کوئی نبی نہیں آئے گا۔“
1691 جناب عبدالمنان عمر: ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ کوئی نبی نہیں آئے گا۔
جناب یحییٰ بختیار: مگر آپ کہتے ہیں: ”اُمتی آئے گا۔“
جناب عبدالمنان عمر: اُمتی آئے گا، اُمتی نبی نہیں، اُمتی نبی کی کوئی نبوّت نہیں ہوتی۔
١٥٦
1673 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
(مرزا نے اپنے لئے بار بار نبی کا لفظ استعمال کیا)
جناب یحییٰ بختیار: تو پھر یہ لفظ استعمال کیوں کیا اُنہوں نے بار بار؟
جناب عبدالمنان عمر: یہ دو لفظ ......
جناب یحییٰ بختیار: بار، بار جب اُنہوں نے ایک دفعہ کہا بھی۔ میں پھر آپ کو یہ...... میرا خیال ہے آپ مجھ سے تنگ آگئے ہوں گے...... کہ انہوں کہا کہ اس لفظ سے لوگوں کو غلطی ہوتی ہے، غلط فہمی پیدا ہوگی۔ آئندہ مت استعمال کریں۔ اُس کے بعد پھر کیوں استعمال کرتے ہیں؟
جناب عبدالمنان عمر: میں نے عرض کیا کہ وہ اُنہوں نے فرمایا کہ: ”مجھ پر چونکہ وحی ...... میری وحی میں چونکہ لفظ ’نبی‘ موجود ہے، میں تو مامور ہونے کی وجہ سے اُس کو نہیں چھپاؤں گا، میں تو اُس کو ظاہر کروں گا۔ مگر تم لوگ اُس کے غلط معنی نہ سمجھنا، وہ بمعنی محدثیت ہے اور اگر تمہیں یہ لفظ بھی بُرا لگتا ہے......
جناب یحییٰ بختیار: وہ خود کہتے ہیں کہ لفظ ”محدث“ سے وہ مطلب حل نہیں ہوتا جو میرے لئے ہے۔
جناب عبدالمنان عمر: وہ لغت کے لحاظ سے، اصطلاح کے لحاظ سے نہیں۔ اصطلاح کے لحاظ سے آپ محدث ہی ہیں۔ لغت میں تو دیکھ لیں ناں جی، ”محدث“ کے معنی مکالمہ ومخاطبہ الٰہی کے مورد کے تو نہیں ہیں۔ وہ تو کوئی غلط بات نہیں کی۔ لغتیں دُنیا میں موجود ہیں۔ کہیں کوئی شخص نکال کے دکھا دے کہ ”محدث“ کے یہ معنی ہوتے ہیں؟ تو انہوں نے تو وہاں ایک لغوی بحث کی ہے۔ وہ ایک زبان کا مسئلہ ہے۔ وہ بیان کر رہے ہیں کہ 1692 اُس کو لغت کے لحاظ سے کہو گے تو ”نبی“ کہنا پڑے گا، اصطلاح کے لحاظ سے کہو گے تو ”محدث“ کہنا پڑے گا۔ (وقفہ)
(محدث اور ایک عالم میں کیا فرق ہے)
جناب یحییٰ بختیار: ابھی یہ آپ نے کہا تھا کہ جو محدث ہوتا ہے اور وہ جو قرآن شریف کی تشریح اور تفسیر کرتا ہے، اُس کا کیا Status (مقام) ہے، کیا پوزیشن ہوتی ہے، ایک عام عالم کے مقابلے میں؟
جناب عبدالمنان عمر: ایک عام......؟
جناب یحییٰ بختیار: ......عالم کے مقابلے میں؟
١٥٧
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
جناب عبدالمنان عمر : یہ جو قرآن کی تشریح کرتا ہے، ایک عالم ربانی بھی قرآن مجید کی تفسیر کرسکتا ہے، اور ایک مجدد بھی کر سکتا ہے، اور ایک محدث بھی کر سکتا ہے، ایک ولی اللہ بھی کرسکتا ہے۔
جناب یحییٰ بختیار : وہ Binding (لازمی) تو نہیں ہوتا کوئی اس میں؟
جناب عبدالمنان عمر : جی نہیں۔
جناب یحییٰ بختیار : کہ یہ زیادہ Binding (لازمی) ہے کم ہے؟
جناب عبدالمنان عمر : جی نہیں، جی نہیں! یہ اتنا ہی ہے جتنا کہ ایک اعلیٰ درجے کے وکیل ہوں، ان کی بات کو ہم زیادہ وقعت دیں گے۔ میرے جیسا ناقص آدمی، اس کی کوئی حیثیت نہیں۔
جناب یحییٰ بختیار : میرا سوال، جو میں نے پوچھا آپ سے کہا، پوزیشن یہ ہوتی ہے کہ اب یہ ایک وکیل ہے...... یہ اسمبلی ہے، یہ قانون بناتی ہے۔ قانون پاس کر دیا انہوں نے۔ اس کے بعد کوئی میرے پاس آتا ہے کہ اس قانون کا کیا مطلب ہے؟ میں اس کی تشریح کردوں گا، تفسیر کردوں گا۔ کوئی معنی نہیں رکھتی وہ تو ۔
1693 جناب عبدالمنان عمر : قانون نہیں بنے گا۔
جناب یحییٰ بختیار : ہاں! اس کا مطلب نہیں بدل گیا قانون کا۔
جناب عبدالمنان عمر : جی ہاں! بالکل نہیں۔
جناب یحییٰ بختیار : مگر جب وہ عدالت میں جاتا ہے اور جج اس پر وہاں فیصلہ کرتا ہے کہ اس کا یہ مطلب ہے، تو مطلب جو ہے اس اسمبلی کو بھی ماننا پڑتا ہے۔
جناب عبدالمنان عمر : جی ہاں، ٹھیک ہے۔
جناب یحییٰ بختیار : اگر ان کو پسند نہیں، ان کا ارادہ یہ نہیں تھا، تو پھر اور قانون بنائیں گے۔ مگر جہاں تک جج کا وہ قول ہے، وہ Binding (لازمی) ہو جاتا ہے کہ ان الفاظ کے یہ معنی لیا۔ تو میں یہ پوچھتا ہوں کہ محدث ایک تفسیر کرتا ہے کہ ......
جناب عبدالمنان عمر : کوئی قرآن مجید کی آیت کے کوئی معنی کرتا ہے۔
جناب یحییٰ بختیار : ہاں! ”خاتم النبیین“ کا یہ مطلب ہے......
جناب عبدالمنان عمر : کوئی معنی کردے۔
جناب یحییٰ بختیار : وہ پھر Binding (لازمی) ہو جاتا ہے یا نہیں ہوتا؟
جناب عبدالمنان عمر : جی نہیں، میں عرض کرتا ہوں کہ Binding (لازمی)
١٥٨
1675 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
نہیں ہوتا۔ اس کی میں دو مثالیں عرض کروں گا۔ مولوی محمد علی صاحب مرزا کے مرید تھے۔ مرزا صاحب نے حضرت مسیح کی پیدائش کے متعلق قرآن مجید کی روشنی میں یہ سمجھا کہ حضرت مسیح کی پیدائش بغیر باپ کے ہوئی تھی۔ نہیں، مرزا صاحب نے یہ لکھا ہے کہ: ”مسیح کی پیدائش بغیر باپ کے ہوئی تھی۔“ اور قرآن مجید سے انہوں نے یہ سمجھا۔ مولانا محمد علی ان کے مرید ہیں۔ انہوں نے اپنی تفسیر ........ یہاں میرے پاس موجود ہے ........
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، ٹھیک ہے، میں نے دیکھا ہوا ہے۔
1694 جناب عبدالمنان عمر: ...... اپنی تفسیر میں انہوں نے کہا کہ اُن کا باپ ہے۔ اب دیکھئے، وہ ان کو محدث مانتے ہیں، ان کو مجدد مانتے ہیں، اُن کو ولی اللہ مانتے ہیں، مگر Differ کرتے ہیں اُن کی تفسیر کے ساتھ۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، آپ نے صبح فرمایا کہ آپ کو ایک Offer (پیشکش) ہوئی تھی کہ آپ چلے جائیں، تبلیغ کریں، کچھ پیسے بھی دے رہے تھے، مگر وہ تفسیر جو مرزا صاحب نے کی، وہ نہ کریں آپ۔ انہوں نے کہا: ”ہم یہ نہیں مانیں گے۔“ اس لئے میں پوچھ رہا ہوں کہ آپ اِس کو Binding (لازمی) سمجھتے تھے؟
جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، ہمارے نزدیک وہ جیسے آپ ایک تشریح کریں تو میرے نزدیک وہ اتنی قابل قدر ہوگی کہ میں کہوں گا: ”جناب! میں اُن کی بات کو مقدم کرتا ہوں۔“ اور ایک معمولی سا آدمی میرے خیال میں وکیل کہے گا: ”نہیں جناب! یہ کوئی ضروری نہیں۔“ ہمارے نزدیک مرزا صاحب کی وحی جو ہے یا مرزا صاحب کی جو تشریح ہے یا تفسیر ہے، وہ اس رنگ میں Binding (لازمی) نہیں ہے کہ: ”آپ اُس کے خلاف نہیں جا سکتے۔ میں نے اُس کی عملی مثال دی ہے۔ ایک اور مثال دیتا ہوں۔ یہ تو وحی نہیں ہے، میں وحی کی مثال دیتا ہوں۔ مرزا صاحب کو ایک دفعہ یہ بتایا گیا: ”آج عید ہے۔“ الہام ہوا کہ: ”آج عید ہے۔“ آگے کیا ہے؟ ”چاہے کرو، چاہے نہ کرو۔“ دیکھئے Binding (لازمی) نہیں رہا۔ تو کبھی کبھی مرزا صاحب نے اپنی وحی کو، اپنی تفسیر کو، اپنی توضیحات کو اس رنگ میں نہیں پیش کیا کہ وہ قرآن مجید کی طرح غیر مبدل ہے اور وہ ........
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں نے وہ نہیں کہا۔
جناب عبدالمنان عمر: ...... وہ اتنی Binding (لازمی) بھی نہیں ہے، Binding (لازمی) بھی اس قسم کی نہیں ہے۔
١٥٩
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
جناب یحییٰ بختیار: میں، اُس کی جو تشریح کی، جو تفسیر اُن کی ہے، میں وہ کی بات کر رہا ہوں۔ کیا اُس کو آپ Binding (لازمی) سمجھتے ہیں یا نہیں؟
1695 جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں۔ میں نے تو دو مثالیں عرض کی ہیں کہ ہم Binding (لازمی) نہیں سمجھتے۔
جناب یحییٰ بختیار: ابھی دیکھیں ناں کہ آنحضرت (ﷺ) قرآن کی کسی آیت کا مطلب سمجھا گئے ہیں، ہمارے پاس حدیث موجود ہے.......
جناب عبدالمنان عمر: بالکل ہم Binding (لازمی).......
جناب یحییٰ بختیار: .......وہ Binding (لازمی) ہو جاتی ہے اگر صحیح ہو۔
جناب عبدالمنان عمر: بالکل۔
جناب یحییٰ بختیار: تو یہ میں کہتا ہوں کہ ایسا Status (رتبہ) تو آپ نہیں دیتے مرزا صاحب کی اُس کو؟
جناب عبدالمنان عمر: بالکل ایسا Status (رتبہ) نہیں مل سکتا۔
جناب یحییٰ بختیار: اچھا جی، اب یہ آپ بتائیے کہ اسلام میں یہ قرآن کی تفسیر کی ہمیں اجازت دی گئی ہے۔ آنحضرت صلعم (ﷺ) کی وفات کے بعد، اس پر ہمیں کسی ایک شخص کی تفسیر Binding (لازمی) نہیں ہو سکتی۔ میں یہ آپ سے پوائنٹ لینا چاہتا تھا۔
جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، بالکل صحیح موقف ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: اور یہ جو ربوہ والے ہیں، اُن کا کیا ہے؟ وہ Binding (لازمی) ہے یا نہیں؟
جناب عبدالمنان عمر: میں کچھ کہہ نہیں سکتا۔
جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں ناں جی، آپ کے اختلافات ان سے ہیں ناں۔ اگر میں کہتا ہوں.......
جناب عبدالمنان عمر: بات یہ ہے کہ اُن کی اس قدر متضاد.......
جناب یحییٰ بختیار: .......کیونکہ.......
1696 جناب عبدالمنان عمر: میں وجہ ایک عرض کردوں.......
جناب یحییٰ بختیار: .......یہ نہیں کہ میں آپ کو آپس میں کوئی لڑانے کی بات کر رہا ہوں۔ ہماری کوشش یہ رہی ہے کہ ان سے بھی ہم نے کچھ سوال پوچھے ۔ انہوں نے کہا کہ: "ہم
١٦٠
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
اس بارے میں نہیں پوچھنا چاہئے ۔" مگر وہ ایسی بات تھی کہ ضرورت نہیں پڑی۔ جو باتیں تھیں وہ بتاتے تھے۔ تو ہم اس واسطے پوچھتے ہیں تاکہ Differences (اختلافات) جو ہیں وہ Clear (واضح) ہو جائیں کہ آخر یہ Diffrence (اختلاف) کس بات کا تھا؟ ابھی آپ کہتے ہیں کہ یہ ایک مجازی طور پر نبی تھے۔
جناب عبدالمنان عمر: "مجازی طور پر نبی" کہنے کا مطلب ہے غیر نبی تھے۔
جناب یحییٰ بختیار: غیر نبی تھے۔ "مجازی" اس واسطے کہہ رہا ہوں۔
جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔
جناب یحییٰ بختیار: اور بروزی سمجھیں یا کوئی سمجھیں، مگر اصلی نبی یا حقیقی نبی کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا؟
جناب عبدالمنان عمر: بالکل نہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: وہ بھی یہی کہتے ہیں۔
جناب عبدالمنان عمر: آپ کا جو میں مطلب سمجھا ہوں وہ غالباً یہ ہے کہ پھر ہمارے اور اُن کے موقف میں فرق کیا ہے؟
جناب یحییٰ بختیار: جی ہاں۔
جناب عبدالمنان عمر: میں عرض کرتا ہوں کہ کیا فرق ہے۔ پہلا فرق بڑا نمایاں فرق، جس میں دراصل ہمارا اُن لوگوں کے ساتھ بڑا بھاری اختلاف ہے، وہ یہ ہے کہ مرزا صاحب کا جو بھی Status (رتبہ) ہو، نبوت کی جو بھی تشریح کی جائے، نبوت کے جو بھی معنی کئے جائیں، مرزا صاحب کے اُس مقام کو نہ ماننے کی وجہ سے ہمارے نزدیک کوئی شخص 1697 کافر نہیں ہو جاتا۔ مگر اُن کا نقطہ نگاہ جو انہوں نے ١٩١٥ء اور ١٩١٤ء میں پیش کیا، وہ یہ تھا کہ وہ کافر ہیں۔ یہ ہمارا......
جناب یحییٰ بختیار: وہ کافر بھی تو اُس قسم کے ہیں جو......
جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، یہ میں نے جو موقف اُن کا......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، اُنہوں نے بھی یہی کہا۔
جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، بالکل نہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: جیسے "کافر" آپ کہتے ہیں، وہ بھی سیکنڈ کیٹگری "گنہگار" کہتے ہیں۔
جناب عبدالمنان عمر: بالکل نہیں، میرا دعویٰ ہے کہ وہ ١٩١٤ء، ١٩١٥ء اور ١٩١٧ء کی تحریرات میں مجھے ایک لفظ ایسا دکھائیں......
١٦١
MBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
جناب یحییٰ بختیار: میں، اُس کی جو تشریح کر رہا ہوں۔ کیا اُس کو آپ Binding (لازمی) سمجھتے
جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں 1695 Binding (لازمی) نہیں سمجھتے۔
جناب یحییٰ بختیار: ابھی دیکھیں ناں کہ میں نے جو آپ کو مطلب سمجھا گئے ہیں، ہمارے پاس حدیث موجود ہے، یہ آپ......
جناب عبدالمنان عمر: بالکل ہم Binding......
جناب یحییٰ بختیار: ......وہ Binding ہے؟
جناب عبدالمنان عمر: بالکل۔
جناب یحییٰ بختیار: تو یہ میں کہتا ہوں کہ کیا وہ Binding ہے مرزا صاحب کی اُس کو؟
جناب عبدالمنان عمر: بالکل ایسا Status (رتبہ) ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: اچھا جی، اب یہ بتائیے کہ مرزا صاحب نے ہمیں اجازت دی گئی ہے۔ آنحضرت صلعم (ﷺ) کے بعد۔ اُس کی تفسیر Binding (لازمی) نہیں ہو سکتی۔ میں آگے چلتا ہوں۔
جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، بالکل، جی ہاں۔
جناب یحییٰ بختیار: اور یہ جو ربوہ وفد کا محضر نامہ ہے، یہ آپ کو Binding (لازمی) ہے یا نہیں؟
جناب عبدالمنان عمر: میں کچھ کہہ نہیں سکتا۔ میں نے اس کو پڑھا نہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں ناں جی، اُس میں کچھ چیزیں ہیں، اُس میں کہتا ہوں......
جناب عبدالمنان عمر: بات یہ ہے کہ میں......
جناب یحییٰ بختیار: ......کیونکہ......
1696 جناب عبدالمنان عمر: میں جواب دیتا
جناب یحییٰ بختیار: ...... یہ نہیں کہ آپ کیا کہتے ہیں۔ ہماری کوشش یہ رہی ہے کہ ان سے بھی ہم پوچھیں
١٦٠
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میرے پاس موجود ہے۔ ”کافر ہے۔ پکا کافر ہے“ وہ یہ کہتے رہے ہیں۔ مگر جو ناصر احمد کا کہتے ہیں، وہ کہتے ہیں دو قسم کے ہیں۔ اُنہوں نے اور الفاظ استعمال کئے ہیں۔
جناب عبدالمنان عمر: نہیں، جناب! اُنہوں نے لکھا ہے کہ: ”دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔“
جناب یحییٰ بختیار: ہاں اُنہوں نے پھر اس کی تفسیر ایسے دی ہے کہ دائرۂ اسلام کے علاوہ ایک اُمت کا بھی دائرہ ہے۔ اسلام کے دائرے سے خارج مگر اُمت کے دائرے میں رہتے ہیں۔
جناب عبدالمنان عمر: وہ کون سا دائرہ ہے؟ یہ ہماری فہم سے بالا ہے۔۔۔۔۔۔
جناب یحییٰ بختیار: ہم نے پہلی دفعہ سنا ہے۔
جناب عبدالمنان عمر: ۔۔۔۔۔۔ کہ اسلام کا بھی ایک دائرہ ہے، پھر ایک اُمت کا بھی دائرہ ہے۔ کم سے کم میرے دماغ میں تو نہیں آتا۔
1698 جناب یحییٰ بختیار: میں نے یہ بھی کہا، اُمت جو ہے، نہیں جی، اُنہوں نے کہا ایک ملت ۔۔۔۔۔۔
جناب عبدالمنان عمر: ۔۔۔۔۔۔ کا دائرہ ہے، ایک اسلام کا دائرہ ہے۔ جناب! ہماری عقل میں تو نہیں آتا۔
جناب یحییٰ بختیار: دیکھئے! اُمت ہے، کہتے ہیں، وہ اُمت ہے۔۔۔۔۔۔۔
(خلط ملط کر دیا)
جناب عبدالمنان عمر: ہم تو بالکل بری الذمہ ہیں اُن کی ان تشریحات سے۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں اس واسطے کہہ رہا ہوں کہ ہمیں تو Confuse (خلط ملط) کردیا ہے ناں جی، کیونکہ ہم نے یہ چیز پہلے نہیں سنی تھی۔ تو ہم تو پڑھتے رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔
جناب عبدالمنان عمر: ہماری بات تو Confusing (خلط ملط کرنے والی) صاف صاف ۔۔۔۔۔۔ نہیں ہے، ہم تو ۔
جناب یحییٰ بختیار: ہم تو پڑھتے رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔
جناب عبدالمنان عمر: ۔۔۔۔۔۔ ہم تو صاف صاف کہتے ہیں کہ جناب! وہ دائرۂ اسلام سے خارج نہیں ہو جاتا، دیکھئے، میں آپ کو عرض کروں، اُن کی تشریحات جو ہیں ناں، کچھ چیزیں،
١٦٢
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
کیونکہ نصف صدی ہوگئی ہے.......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں آپ کو اس واسطے عرض کر رہا ہوں.......
جناب عبدالمنان عمر: مثلاً میں اُن کا ایک قول پیش کرتا ہوں:
’’اگر میری گردن کے اس طرف بھی تلوار رکھ دی جائے اور اُس طرف بھی تلوار رکھ دی جائے......‘‘
جناب یحییٰ بختیار: وہ سب سُنا ہے اُن لوگوں سے ہم نے۔
جناب عبدالمنان عمر: اب بتائیے اس میں کیا تشریح ہوسکتی ہے؟ یہ ہمارا اُن سے بنیادی اختلاف ہے۔
1699 جناب یحییٰ بختیار: یہ میں نے اُن کو سُنایا۔
جناب عبدالمنان عمر: جی۔
جناب یحییٰ بختیار: ...... جو آپ کہہ رہے ہیں۔ یہ بشیر احمد صاحب کا ہے وہ ’’کلمۃ الفضل‘‘ سے۔
جناب عبدالمنان عمر: ’’کلمۃ الفصل‘‘ سے۔
(نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج)
جناب یحییٰ بختیار: ’’جو تمام رسولوں کو ماننا جزو ایمان نہیں سمجھتے۔ پھر اس آیت کے تحت ہر ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا، عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد رسول اللہ ﷺ کو نہیں مانتا اور محمد رسول اللہ ﷺ کو مانتا ہے پر مسیح موعود کو نہیں مانتا، وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔‘‘
(کلمۃ الفصل ص١١٠)
جناب عبدالمنان عمر: یہ مرزا صاحب کی تحریر کے منافی ہے۔ مرزا صاحب نے کہا کہ: ’’میرے انکار سے تو کوئی کافر نہیں ہو جاتا۔‘‘ یہ کہتے ہیں کہ کافر ہو جاتا ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، انہوں نے اس پہ کہا کہ نہیں، یہ کافر سیکنڈ کیٹگری کا ہے جس کو آپ کہتے ہیں: ’’گنہگار‘‘!
جناب عبدالمنان عمر: وہ نہیں، میں عرض کرتا ہوں کہ وہ نہیں ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: اُنہوں نے یہ کہا۔
جناب عبدالمنان عمر: ٹھیک ہے، میں عرض یہ کر رہا ہوں کہ وہ صحیح ہے یا غلط ہے، یہ
١٦٧٣
Y OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میرے کہتے رہے ہیں۔ مگر جو ناصر احمد کا کہتے ہیں، و استعمال کئے ہیں۔
جناب عبدالمنان عمر: نہیں، ج خارج ہے۔‘‘
جناب یحییٰ بختیار: ہاں اُنہوں نے ایک اُمت کا بھی دائرہ ہے اسلام کے دائرے س
جناب عبدالمنان عمر: وہ کون سا
جناب یحییٰ بختیار: ہم نے پہلی م
جناب عبدالمنان عمر: ...... کہ ا دائرہ ہے۔ کم سے کم میرے دماغ میں تو نہیں آت
1698 جناب یحییٰ بختیار: میں ۔ کہا ایک ملت.......
جناب عبدالمنان عمر: ...... کا د عقل میں تو نہیں آتا۔
جناب یحییٰ بختیار: دیکھئے! اُمید (غلط م
جناب عبدالمنان عمر: ہم تو بالکل
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں (غلط ملط) کر دیا ہے ناں جی، کیونکہ ہم نے یہ
جناب عبدالمنان عمر: ہماری ی صاف صاف...... نہیں ہے، ہم تو۔
جناب یحییٰ بختیار: ہم تو پڑھتے
جناب عبدالمنان عمر: ...... ہم سے خارج نہیں ہو جاتا، دیکھئے، میں آپ کو ع
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
تو وہ جانے ناں۔ جناب! ہمارا اُن سے بنیادی اختلاف یہ ہے کہ مرزا صاحب......
جناب یحییٰ بختیار: ابھی تو اُنہوں نے وہ Amend (ترمیم) کر دیا، اسمبلی کا ریکارڈ موجود ہے۔
جناب عبدالمنان عمر: بالکل ہے جی۔
1700 جناب یحییٰ بختیار: تو پھر آپ کہتے ہیں کہ اختلافات کچھ نہیں رہے؟
جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، Amend (ترمیم) کر دیا ہے، تو اسی لئے میں نے عرض کیا کہ ہمارا اختلاف اُن سے اُس وقت سے چلا آ رہا ہے......
جناب یحییٰ بختیار: ابھی تو اختلاف نہیں رہا ناں آپ کا؟
جناب عبدالمنان عمر: اگر وہ نہیں رہے گا تو نہیں رہے گا۔ بات یہ ہے کہ ہمیں تو علم نہیں ہے کہ آپ کے سامنے اُنہوں نے کیا بیان دیا ہے؟ یہ تو خفیہ کارروائی تھی۔
جناب یحییٰ بختیار: وہ تو آجائے گی، خفیہ کارروائی دیر تک نہیں رہے گی۔ اُنہوں نے یہی کہا ہے۔
جناب عبدالمنان عمر: آپ جتنی اطلاع بخشیں گے آپ کی بڑی مہربانی ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: دیر تک نہیں رہے گی۔ مگر اُنہوں نے یہی کہا ہے کہ وہ کافر جو ہے وہ اُس معنی میں ہے جو گنہگار کے ہیں۔
جناب عبدالمنان عمر: تو دو چار تبدیلیاں اور کرلیں تو وہ آپ کے اور ہمارے بھائی ہیں، ہم سب مل جائیں گے۔ لیکن ہم نے جو Stand لیا ہے وہ Stand جناب عالی! یہی ہے کہ مرزا صاحب کی جو مرضی حیثیت مان لو......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، آپ تھوڑی سی تبدیلی کرلیں، تھوڑی سی وہ کرلیں۔
(قہقہے)
جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، ہماری تبدیلی، جناب والا! ہمیں آپ کوئی تبدیلی تجویز فرمائیں اور وہ اسلام کے، قرآن کے اور رسول کے اور حدیث کے مطابق ہو، ہماری گردنیں جھک جائیں گی اُس کے آگے۔ آپ ہمیں اصرار میں کبھی نہیں پائیں گے کہ ہم اصرار کرتے ہیں۔ مگر بات وہ ہونی چاہئے جو قرآن اور حدیث سے ہو۔ وہ کسی شخص کا قول نہیں ہونا چاہئے۔ کوئی چیز آپ پیش کیجئے قرآن اور حدیث کے مطابق ہوگی تو 1701 ہمارے لئے رُجوع بالکل آسان ہوگا۔
١٦٤
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
(حقیقی نبی، حقیقی کافر کی طرح کوئی حقیقی مسلمان ہوتا ہے؟)
جناب یحییٰ بختیار: اچھا جی، ابھی آپ، جیسا آپ نے کہا کہ ”حقیقی نبی“ اور ”حقیقی کافر“ ایسے کوئی ”حقیقی مسلمان“ بھی ہوتا ہے؟ جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔
(حقیقی مسلمان کون؟)
جناب یحییٰ بختیار: وہ کون ہوتے ہیں؟ جناب عبدالمنان عمر: جو قرآن مجید کے سارے احکام کو مانے، جو محمد رسول اللہ کے اُسوہ پر چلے، جو حدیث کی باتوں کو مانے، جو سنتِ رسول کو مانے، وہ حقیقی مسلمان ہوتا ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: اور اگر وہ اُن سب کو ماننے کے باوجود مرزا صاحب کو نہ مانے محدث یا نبی یا کسی اور حیثیت میں، تو پھر؟ جناب عبدالمنان عمر: مسلمان ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: حقیقی ہے کہ نہیں؟
(جو مرزا صاحب کو نہ مانے مسلمان ہے یا نہیں؟)
جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، چونکہ اُس نے خدا کے ایک حکم جو خدا کے محمد رسول اللہ ﷺ کی ایک بہت عظیم الشان پیش گوئی ہے، وہ محمد رسول اللہ ﷺ کی ایک پیش گوئی کا منکر ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ میں پوچھ رہا تھا کہ آپ کے نقطہ نظر سے ...... جناب عبدالمنان عمر: ...... گنہگار ہے۔
(غیر احمدی حقیقی مسلمان نہیں ہوسکتا؟)
جناب یحییٰ بختیار: ......کوئی غیر احمدی حقیقی مسلمان نہیں ہوسکتا؟ جناب عبدالمنان عمر: جی نہ، جناب! یہ نہیں ہے کہ غیر احمدی حقیقی مسلمان نہیں ہوسکتا، یہ نہیں ہے ہمارا پوائنٹ۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، جو غیر احمدی ہے وہ حقیقی مسلمان نہیں ہے؟ 1702 جناب عبدالمنان عمر: میں نے عرض کیا جی، وہ لوگ صرف ایک حکم کا انکار کرتے ہیں۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں نے وجہ نہیں پوچھ لی آپ سے۔ اُس انکار کی وجہ سے
١٦٥
OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
تو وہ جانے ناں۔ جناب! ہمارا اُن سے بنیادی جناب یحییٰ بختیار: ابھی تو اِنـ ریکارڈ موجود ہے۔ جناب عبدالمنان عمر: بالکل 1700 جناب یحییٰ بختیار: تو پھر آ جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں نے عرض کیا کہ ہمارا اختلاف اُن سے اُس وقت جناب یحییٰ بختیار: ابھی تو اختلـ جناب عبدالمنان عمر: اگر وہ نبیـ نہیں ہے کہ آپ کے سامنے اُنہوں نے کیا بیا جناب یحییٰ بختیار: وہ تو آ جا نے یہی کہا ہے۔ جناب عبدالمنان عمر: آپ جـ جناب یحییٰ بختیار: دیر تک نہیں وہ اُس معنی میں ہے جو گنہگار کے ہیں۔ جناب عبدالمنان عمر: تو دو چا ہیں، ہم سب مل جائیں گے۔ لیکن ہم نے جو ہے کہ مرزا صاحب کی جو مرضی حیثیت مان لو، جناب یحییٰ بختیار: نہیں، آپ جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں تجویز فرمائیں اور وہ اسلام کے، قرآن کے او جھک جائیں گی اُس کے آگے۔ آپ ہمیں اصـ مگر بات وہ ہونی چاہئے جو قرآن اور حدیث آپ پیش کیجئے قرآن اور حدیث کے مطابق
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
میں پوچھ رہا ہوں کہ وہ پھر حقیقی مسلمان تو نہیں ہوتے؟
جناب عبدالمنان عمر: حقیقی کافر نہیں ہوتا وہ۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، کافر نہیں کہتا، میں تو بڑی کیٹگری میں جانا چاہتا ہوں۔
جناب عبدالمنان عمر: دیکھئے، حقیقی مسلمان وہ ہوتا ہے جو حقیقی معنی ..... حقیقی کافر......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں ، آپ نے بتا دیا۔ دیکھئے جی، میں ، میں سارے، میں تو بڑا گنہگار ہوں ، مگر فرض کیجئے میں کوشش کرتا ہوں کہ جتنے بھی اللہ تعالیٰ کے احکام ہیں اُن کو پورا کروں ، جو بھی اچھی باتیں ہیں وہ سب پوری کردوں ، جو بھی ایک نیک مسلمان باتیں کرسکتا ہے، جو اللہ تعالیٰ کا حکم ہے، وہ میں بجالاؤں۔ مگر میں یہ کہوں گا کہ میں مرزا صاحب کو نہ نبی، نہ محدث مانتا ہوں ......
جناب عبدالمنان عمر: وہ تو ماننا جزوِ ایمان نہیں ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: ......تو میں......
جناب عبدالمنان عمر: جزوِ ایمان نہیں ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: ......تو میں حقیقی...... دیکھئے ناں، سوال یہ ہے، میں حقیقی مسلمان تو نہ ہوا ناں، کیونکہ آپ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا حکم میں نے نہیں مانا۔
جناب عبدالمنان عمر: میں نے عرض کیا جی کہ وہ شخص...... ہم اس کو جزوِ ایمان قرار نہیں دیتے ہیں۔ تو جب ایمان کا جزو نہیں ہے تو پھر معتقدات کا جزو نہیں ہے۔ تو اب اس کے لئے یہ ہم کیوں کہیں کہ وہ شخص جو ہے ...... ہم کہیں گے کہ اُس سے کمزوری ہوئی ہے۔
1703 جناب یحییٰ بختیار: ہاں، ایک کمزوری جب ہوجائے تو حقیقی مسلمان تو نہ ہوا ناں؟ میں ”Perfect (مکمل) مسلمان“ پوچھتا ہوں آپ سے؟
جناب عبدالمنان عمر: حقیقی......
جناب یحییٰ بختیار: نہیں ہوا جی پھر وہ تو؟
جناب عبدالمنان عمر: یہ ہم جو Stand لے رہے ہیں، وہ یہ ہے کہ مرزا صاحب کا ماننا جزوِ ایمان نہیں۔ مرزا صاحب کے دعوے کے انکار کی وجہ سے بھی وہی پوزیشن ہوجائے گی۔ آپ اس کا Reverse (الٹ) لے لیجئے۔
جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں ناں، انکار ہو یا ماننا ہو، بات ایک ہی ہو جاتی ہے وہ۔
جناب عبدالمنان عمر: نہ ”انکار“ اور ”ماننا“ تو متضاد باتیں ہیں ناں جی۔
١٦٨٦
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، انکار کرنے سے میں حقیقی بن جاتا ہوں؟ حقیقی نہیں بن سکتا۔ ماننے سے میں حقیقی ہوسکتا ہوں۔ دیکھیں ناں۔
جناب عبدالمنان عمر: اُسی کا Reverse (اُلٹ) ہوگا۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، یہی ہوگا ناں۔ تو یہ سارے کا سارا میرے حقیقی مسلمان ہونے کے لئے میں ساری دُنیا میں جتنی بھی خوبیاں ہیں، میں اپنے اندر پیدا کرلوں، اُس کے باوجود اگر مرزا صاحب کو میں نے محدّث یا نبی نہ مانا، اس معنی میں جیسے آپ کہتے ہیں، تو میں حقیقی مسلمان نہیں ہوا؟
جناب عبدالمنان عمر: مرزا صاحب کو نہ ماننے کا سوال نہیں، جناب محمد رسول اللہ صلعم کی ایک چیز کو، آپ اگر رسول کے کسی بھی فرمان کو......
(یہ اللہ اور رسول کا حکم ہے کہ مرزا کو مانو؟)
جناب یحییٰ بختیار: آپ کے نقطہ نظر سے یہ اللہ اور رسول کا حکم ہے کہ مرزا صاحب کو مانو؟
جناب عبدالمنان عمر: بالکل جناب! جو رسول کے فرمان کا منکر ہوگا، میں اُس کو حقیقی طور پر نہیں قرار دوں گا۔
1704 جناب یحییٰ بختیار: تو آپ کا یہ نقطہ نظر ہے کہ اللہ اور رسول کا فرمان ہے......
جناب عبدالمنان عمر: فرمان کی وجہ سے نہ کہ مرزا صاحب کی وجہ سے۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، مرزا صاحب...... اللہ اور رسول کا یہ فرمان ہے...... میں پوزیشن Clear (صاف) کرنا چاہتا ہوں...... کہ مرزا صاحب مسیح موعود ہیں، اس کو مانو اور میں کہتا ہوں کہ میں نہیں مانتا۔ تو میں حقیقی مسلمان نہیں ہوسکتا؟
جناب عبدالمنان عمر: چونکہ......
جناب یحییٰ بختیار: "چونکہ" کو چھوڑ دیجئے۔
جناب عبدالمنان عمر: نہ جی۔
جناب یحییٰ بختیار: "چونکہ" بعد میں بتائیے۔ پہلے، دیکھئے ناں، مرزا صاحب......
جناب عبدالمنان عمر: ایک التباس کا ڈر ہے۔ وہ یہ ہے......
جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں، مرزا صاحب! Please (براہِ کرم)، میں ایک
١٦٧
OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
میں پوچھ رہا ہوں کہ وہ پھر حقیقی مسلمان تو نہیں
جناب عبدالمنان عمر: حقیقی مسلمان
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، کامل
جناب عبدالمنان عمر: دیکھئے
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، آپ
گنہگار ہوں، مگر فرض کیجئے میں کوشش کرتا
کروں، جو بھی اچھی باتیں ہیں وہ سب پوری
جو اللہ تعالیٰ کا حکم ہے، وہ میں بجا لاؤں۔ مگر
مانتا ہوں......
جناب عبدالمنان عمر: وہ تو مان
جناب یحییٰ بختیار: ......تو میں
جناب عبدالمنان عمر: جزوای
جناب یحییٰ بختیار: ......تو میں
تو نہ ہوا ناں، کیونکہ آپ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ
جناب عبدالمنان عمر: میں ی
قرار نہیں دیتے ہیں۔ تو جب ایمان کا جزو نہی
لئے یہ ہم کیوں کہیں کہ وہ شخص جو ہے...... خ
1703 جناب یحییٰ بختیار: بالکل
ناں؟ میں 'Perfect' (مکمل) مسلمان
جناب عبدالمنان عمر: حقیقی
جناب یحییٰ بختیار: نہیں ہو
جناب عبدالمنان عمر: یہ ہم ن
کا ماننا جزوِ ایمان نہیں۔ مرزا صاحب کے م
گی۔ آپ اس کا Reverse (اُلٹ) یا
جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں ن
جناب عبدالمنان عمر: نہ "اُل
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
Request (درخواست) کر رہا ہوں کہ میں جو سوال پوچھتا ہوں، اُس کا پہلے جواب دے دیجئے۔ پھر بے شک ایک گھنٹے تک اُس کی تفصیل کر دیجئے۔ کہ کیا وجوہات ہیں؟ میں نے صرف یہ پوچھا آپ سے، اور تین چار دفعہ عرض کی کہ اگر ایک شخص نیک ہے، اللہ کا نیک بندہ ہے، اولیاء ہے، بزرگ ہے، سارے اللہ کے احکام جو ہیں وہ پورے کرتا ہے، مگر وہ آپ کے مطابق ایک حکم کو نہیں مانتا، آپ کے مطابق، کہ مرزا صاحب جو مسیح موعود یا محدث ہیں، ان کو بھی مانو، تو آپ کے نقطہ نظر سے وہ حقیقی مسلمان نہیں ہوتا؟ آپ پہلے کہیں کہ ہوتا ہے کہ نہیں ہوتا؟
جناب عبدالمنان عمر: میں عرض کرتا ہوں......
(آپ جواب نہیں دیتے)
جناب یحییٰ بختیار: دیکھیں ناں، آپ کبھی بھی جواب نہیں دیتے۔ مجھے Request (درخواست) کرنی پڑے گی اسپیکر صاحب سے کہ پہلے آپ جواب دیجئے، پھر تفصیل کیجئے۔ آپ کہیں کہ حقیقی مسلمان ہو سکتا ہے کہ نہیں؟
(مرزا کا منکر حقیقی مسلمان نہیں)
1705 جناب عبدالمنان عمر: میں گزارش یہ کر رہا تھا کہ مرزا صاحب کو آپ لانے کی بجائے آپ سے جو میرا Stand (موقف) ہے......
جناب یحییٰ بختیار: اُس کو میں سمجھ گیا ہوں، میں نے پہلے ہی عرض کی کہ اگر ایک شخص...... میں، فرض کرو ایسے کہتا ہوں، ایک شخص اللہ کے سارے حکم کو مانتا ہے......
جناب عبدالمنان عمر: ......اور ایک حکم کو نہیں مانتا؟
جناب یحییٰ بختیار: اور ایک حکم کو نہیں مانتا۔
جناب عبدالمنان عمر: جناب! نہیں ہو سکتا۔
جناب یحییٰ بختیار: تو وہ حقیقی مسلمان نہیں ہو سکتا۔
دوسرا سوال یہ ہے کہ آپ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا یہ حکم ہے کہ مرزا صاحب مسیح موعود ہیں، اُن کو مانو۔ جو نہیں مانتا، وہ حقیقی مسلمان نہیں ہو سکتا؟
جناب عبدالمنان عمر: وہ اگر اُس پر اتمام حجت نہیں تو ہو جائے گا۔
جناب یحییٰ بختیار: ”اتمام حجت“ کو چھوڑ دیجئے فی الحال۔
جناب عبدالمنان عمر: نہیں جی ناں......
١٦٨
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
جناب یحییٰ بختیار: بس جی وہ ہو چکا ہے، فرض کیجئے کہ ہو چکا ہے۔ جناب عبدالمنان عمر: اتمام حجت ہو چکا ہے؟ جناب یحییٰ بختیار: ہو چکا ہے۔ جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، پھر بالکل نہیں، کیونکہ وہ ایک صداقت کو سمجھتے ہوئے اُس کا انکار کرتا ہے۔ پھر نہیں۔ لیکن اگر وہ اتمام حجت کے بغیر نہیں مانتا تو کوئی حرج نہیں، بالکل کوئی حرج نہیں۔ پھر وہ مسلمان ......
(غیر احمدیوں میں کوئی حقیقی مسلمان ہے؟)
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، یہ مجھے بتائیے کہ جو مسلمان اس وقت ہیں اور مرزا صاحب کو نہیں مانتے، یعنی غیر احمدی ہیں، آپ کے نقطہ نظر سے ان میں کوئی حقیقی مسلمان ہے؟ 1706 جناب عبدالمنان عمر: بہت، بہت، بہت۔ جناب یحییٰ بختیار: حقیقی؟ جناب عبدالمنان عمر: ہاں جی، بہت۔ کیوں آپ ...... جناب یحییٰ بختیار: اللہ کا حکم نہیں مانتے، آپ یہ نہیں دیکھتے؟ جناب عبدالمنان عمر: نہیں جناب! ہم بالکل مانتے ہیں۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں، اللہ کا وہ ایک حکم نہیں مان رہے۔ جناب عبدالمنان عمر: دیکھئے، آپ نے، اُس کو کچھ چھوڑ دیا ہے آپ نے۔ آپ نے کہا ہے کہ وہ تو فضول سی بات ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: نہیں نہیں، میں کہتا ہوں کہ اللہ کا ایک حکم نہیں مانتے وہ۔ جناب عبدالمنان عمر: وہ تو آپ نے چھوڑ دیا ہے کہ ہاں، وہ تو نہیں، اُس کا میرا جواب ہے کہ نہیں ہے وہ حقیقی مسلمان۔ جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔ جناب عبدالمنان عمر: اب آپ نے لیا ہے مرزا صاحب کو۔ جناب یحییٰ بختیار: میں آپ کو بتاتا ہوں کہ اس اسمبلی میں جو ممبر بیٹھے ہوئے ہیں، اگر ان پر اتمام حجت نہیں ہوا تو دُنیا میں کسی پر نہیں ہوا، کیونکہ ایک مہینے سے یہ سُن رہے ہیں ...... جناب عبدالمنان عمر: بالکل، ٹھیک ہے۔
١٦٩
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
جناب یحییٰ بختیار: ......کہ مرزا صاحب کے جتنے دلائل تھے وہ آگئے۔
جناب عبدالمنان عمر: بالکل نہیں ہوگا، اگر اتمام حجت نہیں ہوا، قطعا یہ ہم نہیں کہیں گے کہ یہ غیر مسلم ہو گئے ہیں یا یہ کافر ہو گئے ہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: یہاں تو ہو گیا ہے اتمام حجت۔
1707 جناب عبدالمنان عمر: بالکل نہیں، یہ بالکل صحیح نقطہ نگاہ ہے کہ اگر ان پر کسی پر اتمام حجت نہیں ہوا، وہ بالکل ہو سکتا ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: اور اگر ہو گیا ہو؟
جناب عبدالمنان عمر: ہاں، پھر تو ٹھیک ہے۔ تو ”اتمام حجت“ کے معنی میں عرض کر چکا ہوں کہ ایک صداقت کو تسلیم کر کے کہ یہ ایک صداقت ہے، وہ کہتا ہے کہ: ”میں نہیں مانوں گا“ یہ تو واقعی میں بُری بات ہے۔
(مرزا صاحب جب مسلمان کا لفظ استعمال کرتے ہیں
یہ لوگ حقیقی مسلمان ہوتے ہیں؟)
جناب یحییٰ بختیار: اچھا، یہ فرمائیے کہ جب مرزا صاحب اپنی تحریروں میں ”مسلمان“ لفظ استعمال کرتے ہیں اور اُن کا مطلب ”احمدی“ سے نہیں ہوتا، تو کیا اُن کے نزدیک یہ لوگ حقیقی مسلمان ہوتے ہیں یا نہیں؟
جناب عبدالمنان عمر: بعض جگہ حقیقی ہوں گے، بعض جگہ نہیں ہوں گے، یہ اُس شخص کی حالت پر ہے۔ کیونکہ جب وہ کہتے ہیں کہ: ”جو مجھے نہیں مانتا“ تو وہ تو سینکڑوں، ہزاروں، لکھوکھا انسان ہیں۔ تو محض اس کی وجہ سے تو فیصلہ ہم نہیں کر سکتے۔
جناب یحییٰ بختیار: ابھی دیکھیں یہاں، وہ یہاں ایک جگہ اُن کے صاحبزادے فرماتے ہیں، جن کو آپ Reject (مسترد) کرتے ہیں، مگر آپ دیکھ لیجئے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ یہ بات ٹھیک ہے کہ نہیں، وہ آپ اپنا اندازہ لگائیں۔ مگر وہ یہ کہتے ہیں کہ: ”معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح کو......“
جناب عبدالمنان عمر: خدا جانتا ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: دیکھئے ناں جی، میں اُس پر آ رہا ہوں، اس میں کئی Complications (پیچیدگیاں) ہیں۔
١٧٠
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
ایک آواز: اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، یہ دیکھیں ناں جی، خدا تو بہتر جانتا ہے مگر یہ جو مرزا صاحب فرماتے ہیں.......
1708 ایک آواز: اور نہ خدا نے ہمیں مکلف کیا ہے کہ ہم یہ پیمانہ لے کے کھڑے ہوں۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں یہ ذرا عرض کر رہا ہوں۔
جناب عبدالمنان عمر: مرزا محمود صاحب کا کچھ فرمان ہے؟
ایک آواز: یہ لوگوں کو توڑنا خدا نے ہمارے سپرد نہیں کیا ہے۔
(مسلمان سے مراد مدعی اسلام، اس کا حوالہ)
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، مرزا بشیر احمد صاحب جو ہیں ناں، مرزا بشیر احمد صاحب فرما رہے ہیں کہ: ”حضرت مسیح موعود کو بھی بعض وقت اس بات کا خیال آیا ہے کہ کہیں میری تحریروں میں غیر احمدیوں کے متعلق مسلمان کا لفظ دیکھ کر لوگ دھوکا نہ کھا جائیں۔ اس لئے آپ نے کہیں کہیں بطور ازالہ کے غیر احمدیوں کے متعلق ایسے الفاظ بھی لکھ دیئے ہیں کہ: ’وہ لوگ جو اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں۔‘ تا جہاں کہیں بھی ’مسلمان‘ کا لفظ ہو تو اُس سے مدعی اسلام، سمجھا جاوے نہ کہ حقیقی مسلمان۔“ (کلمۃ الفصل ص ١٢٦) تحفہ گولڑویہ میں آیا ہوا ہے، اُن کا صفحہ: ١٨ میں، مرزا صاحب کا۔
جناب عبدالمنان عمر: یہ مرزا بشیر احمد صاحب کی تحریر نہ ہمارے لئے حجت ہے، نہ یہ دُرست ہے، نہ ہمارے سامنے اس کو پیش ہونا چاہئے۔ ہم اُن کے اس نقطۂ نگاہ کے خلاف ہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ کہتے ہیں کہ مرزا صاحب نے بعض دفعہ اس کو استعمال کیا ہے۔
جناب عبدالمنان عمر: وہ جی، وہ غلط کہتے ہیں۔ مرزا صاحب کی تحریر لائیے میرے سامنے تو میں کچھ عرض کروں۔
جناب یحییٰ بختیار: وہ بھی لے آؤں گا میں۔
جناب عبدالمنان عمر: اُس کے لئے میں حاضر ہوں۔ مرزا بشیر احمد صاحب کو میں حجت نہیں سمجھتا۔
١٧١١
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
1709 جناب یحییٰ بختیار: وہ کہتے ہیں کہ: ”اس لئے آپ نے کہیں کہیں بطور ازالہ کے غیر احمدیوں کے متعلق ایسے الفاظ بھی لکھ دیئے کہ وہ لوگ جو اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں“
جناب عبدالمنان عمر: ان کی ایسی تحریروں کی وجہ سے ہی تو ہم ان کے مخالف ہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: یہ ”تحفۂ گولڑویہ“ جو ہے، اس کے صفحہ: ١٨ پر تحریر فرماتے ہیں .....
جناب عبدالمنان عمر: کیا فرماتے ہیں جی؟
جناب یحییٰ بختیار: ”..... جو اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں۔ تو پھر دُوسرے فرقوں کو جو دعویٰ اسلام کرتے ہیں، نام بھی ترک کرنا پڑے گا۔“
(اربعین نمبر ٤ ص ٢٨، خزائن ج ١٧ ص ٤١٧)
یہ فرماتے ہیں: ”..... جو دعویٰ اسلام کرتے ہیں، نام بھی ترک کرنا پڑے گا۔“ ص ١٨، انہوں نے لکھا ہوا ہے۔
جناب عبدالمنان عمر: ص ١٨ فرمایا جی آپ نے؟
جناب یحییٰ بختیار: وہاں تو یہی لکھا ہے، پتا نہیں کہ ایڈیشن کوئی مختلف ہو گیا ہو۔
Mr. Chairman: Should we close for today? (جناب چیئرمین: کیا آج کی کارروائی ختم کردیں؟)
Mr. Yahya Bakhtiar: Just one or two questions, Sir, on this point. (جناب یحییٰ بختیار: اس بارے میں صرف ایک یا دو سوال کرنا چاہتا ہوں جناب!)
Mr. Chairman: All right. (جناب چیئرمین: ٹھیک ہے)
(مرتد کون ہوتا ہے؟)
جناب یحییٰ بختیار: یہ آپ فرمائیے کہ ”مرتد“ کون ہوتا ہے؟
جناب عبدالمنان عمر: ”مرتد“ کون ہوتا ہے؟
جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، اسلام میں؟
1710 جناب عبدالمنان عمر: ”مرتد“ کی اصطلاح میں یہ معنی ہیں کہ جو شخص اسلام کو ایک دفعہ قبول کر کے پھر وہ اس اسلام کو چھوڑ دے۔
١٧٢
Y OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
1709 جناب یحییٰ بختیار: وہ کہتے ہیں ”اس لئے آپ نے کہیں نہیں لکھا لکھ دیئے کہ وہ لوگ جو اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں
جناب عبدالمنان عمر: ان کی اسکو
جناب یحییٰ بختیار: یہ ”تحفہ گولڑویہ
جناب عبدالمنان عمر: کیا فرماتے
جناب یحییٰ بختیار: ”...... جو اس دعویٰ اسلام کرتے ہیں، بکلی ترک کرنا پڑے گا۔ یہ فرماتے ہیں: ”...... جو دعویٰ اسلام ص ١٨، انہوں نے لکھا ہوا ہے۔
جناب عبدالمنان عمر: ص ١٨ فرما
جناب یحییٰ بختیار: وہاں تو یہی لکھ
ld we close for today?
(جناب چیئرمین: کیا آج کی کا
r: Just on or two questions,
(جناب یحییٰ بختیار: اس بارے
ght.
(جناب چیئرمین: ٹھیک ہے )
(مرتد کو لا
جناب یحییٰ بختیار: یہ آپ فرما
جناب عبدالمنان عمر: ”مرتد“
جناب یحییٰ بختیار: ہاں جی، اسلا
1710 جناب عبدالمنان عمر: ”مر ایک دفعہ قبول کر کے پھر وہ اس اسلام کو چھوڑ د۔
1689 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
(خاص قسم کا اسلام یا عام اسلام)
جناب یحییٰ بختیار: یہ کوئی خاص قسم کا اسلام ہے یا عام اسلام؟
جناب عبدالمنان عمر: محمد رسول اللہ صلعم کا لایا ہوا اسلام، قرآن کا لایا ہوا اسلام۔
جناب یحییٰ بختیار: یہ آپ جو حکیم صاحب جو تھے، یہ احمدیہ جماعت میں شامل ہوئے، بیعت لے آئے......
جناب عبدالمنان عمر: میں اُس سے پہلے عرض کر سکتا ہوں؟
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، میں پہلے ذرا یہ سوال پوچھ لوں، پھر آپ......
جناب عبدالمنان عمر: میرا خیال ہے کہ وہ سوال پیدا نہیں ہوگا، سوال خود بخود ہٹ جائے گا اور یہ لفظ جو ہے، لغوی اس کے معنی یہ ہیں کہ ایک چیز کو خیال کر کے، ایک چیز کو مان کے، ایک رستے کو اختیار کر کے، اُس کو چھوڑ دے آدمی، واپس آجائے اُس سے، یہ لغواً......
Ch. Jahangir Ali: Mr. Chairman, Sir, on a point of explanation. Janab, the witness is here to answer the questions of the Attorney-General and, if there is no question, then I think, he need not explain any thing. Therefore, he should hear the question of the honourable Attorney-General and then he should speak in explanation or in reply of that question Sir. If there is no question, then he is not supposed to give any speech or explanation.
(چوہدری جہانگیر علی: جناب نقطہ وضاحت! یہاں پر گواہ نے اٹارنی جنرل صاحب کے سوال کا جواب دینا ہوتا ہے۔ جب تک سوال نہ کیا جائے، گواہ کو وضاحت میں بیان دینے کی ضرورت نہیں۔ اسے پہلے سوال سننا چاہئے اور پھر اس کے بعد وہ جواب میں وضاحت کرے)
Mr. Chairman: The Attorney-General will raise this objection, if any.
(جناب چیئرمین: اگر ضروری ہو تو اٹارنی جنرل صاحب یہ اعتراض کر سکتے ہیں)
جناب یحییٰ بختیار: میں نے یہ آپ سے ایک پہلے Simple (آسان) سوال
١٧٣
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
پوچھا کہ ”مرتد“ کے اسلام میں معنی کیا ہیں؟ میں لغوی معنوں کی طرف نہیں جا رہا۔ لغوی معنی ہم جانتے ہیں کہ "Renegade" (مرتد) جس کو کہتے ہیں انگریزی میں۔ جو مذہب کی دوسری طرف چلا ١٧١١ جائے، آپ اس کو کہتے ہیں کہ جی Floor Cross کر گیا۔ وہ بھی Renegade (مرتد) ہو گیا؟ ایسی چیزیں ہوتی رہتی ہیں۔ وہ لغوی معنوں میں ہیں۔ عام مرتد، جس کو سزا یہ ہے کہ اس کو سنگسار کر دیا جاتا ہے، ”مرتد“ اس معنی میں کہہ رہا ہوں۔
جناب عبدالمنان عمر: ہیں جی؟
جناب یحییٰ بختیار: مرتد جس کی سزا قرآن شریف میں مقرر ہے واجب القتل۔
جناب عبدالمنان عمر: مجھے تو کہیں قرآن میں نہیں ملی۔
جناب یحییٰ بختیار: اسلام میں نہیں ہے واجب القتل؟
جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: اور یہ مرتد کے لئے نہیں ہے یہ؟
جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: اور یہ مرتد ہوتا کیا ہے؟
جناب عبدالمنان عمر: میں نے عرض کیا ناں کہ اگر تو اصطلاحی معنی میں ہے تو یہ معنی ہیں کہ کوئی شخص اسلام قبول کر کے پھر اس کو چھوڑ دے، اس کو مرتد کہتے ہیں۔
(مرزا صاحب نے قادیانیت چھوڑنے والے عبدالحکیم کو مرتد کہا)
جناب یحییٰ بختیار: تو پھر عبدالحکیم جو تھے، وہ مسلمان تو پہلے بھی تھے۔ پھر احمدی بنے۔ پھر وہ مرزا صاحب سے باہر چلے آئے۔ ان کو نبی نہیں مانتے تھے۔ جھگڑا ان کا ہو گیا......
جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، یہ واقعہ نہیں ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ عبدالحکیم خاں پٹیالہ کے ایک ڈاکٹر صاحب تھے۔ ان کے.......مسلمان تھے۔ مرزا صاحب کو بھی مانا انہوں نے۔ اس کے بعد انہوں نے ایک ایسا عقیدہ اختیار کیا جو اسلام کے منافی تھا۔ وہ یہ کہتے تھے کہ مسلمان وہ ہو سکتا ہے جو محمد رسول اللہ ﷺ کو بھی نہ مانے۔ یہ ان کا عقیدہ تھا۔ اس عقیدے کی وجہ سے مرزا صاحب نے ان سے قطع تعلق کیا، ان کو ١٧١٢ جماعت سے خارج کیا اور ان کے متعلق لفظ ”مرتد“ استعمال کیا کہ جو شخص محمد رسول اللہ ﷺ کو نہیں مانتا، اس کو جزوِ ایمان نہیں سمجھتا، اس کے بغیر بھی وہ سمجھتا ہے کہ نجات ہو جائے گی، تو ایسا شخص مسلمان نہیں ہے۔
١٧٤
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12 جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ تو اس معنی میں ہے ناں کہ مرزا صاحب یہ فرماتے تھے کہ ”میں محمد ہوں......“ جناب عبدالمنان عمر: نہیں جی، نہیں...... جناب یحییٰ بختیار: ”......فانی الرسول ہو گیا ہوں۔ جو محمد ﷺ کو نہیں مانتا، جو مجھے نہیں مانتا وہ محمد ﷺ کو نہیں مانتا۔“ یہ گردان بھی کرتے تھے ناں۔ تو اس میں تو ان کو نہیں پکڑا؟ جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، وہ جو انہوں نے ایک تفسیر قرآن بھی لکھی، اس میں انہوں نے کہا کہ صرف ”لا الہ الا اللہ“ کہنا کافی ہے، ”محمد رسول اللہ“ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ ان کے معتقدات ہیں۔ مرزا صاحب نے بڑی تفصیل کے ساتھ ان خیالات کو ردّ کیا ہے، پوری کتاب اس پہ لکھی ہے، مرزا صاحب نے کہ عبدالحکیم خان کے خیالات اسلام کے منافی تھے۔ جناب یحییٰ بختیار: یہ مرزا صاحب نے کہا ہے یا عبدالحکیم صاحب نے بھی خود بھی یہ کہا ہے؟ جناب عبدالمنان عمر: ہاں جی، عبدالحکیم صاحب نے خود۔ یہ چھپا ہوا ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: اس نے یہ کہا؟ جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، اس کی یہ تفسیر ہے۔ جناب یحییٰ بختیار: کیا یہ بھی دُرست ہے کہ وہ پہلے مرزا صاحب کے ساتھ تھے؟ جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔ 1713 جناب یحییٰ بختیار: اور جب مرزا صاحب نے نبوّت کا دعویٰ کیا تو انہوں نے، اس سے بڑی بحث ہوئی لاہور میں؟ جناب عبدالمنان عمر: جی، نہیں جی، کوئی نبوّت کے بارے میں ان سے بحث نہیں ہوئی، ان سے اس بارے میں بحث نہیں ہوئی۔ جناب یحییٰ بختیار: اور انہی کے کہنے کے بعد انہوں نے کہا تھا کہ: ”میرے لئے محدّث کا لفظ استعمال نہ کرو“؟ جناب عبدالمنان عمر: نہیں جی، یہ وہ عبدالحکیم نہیں ہیں، وہ عبدالحکیم اور کوئی صاحب ہیں، وہ لاہور کے ہیں، کلانور کے نہیں۔ جناب یحییٰ بختیار: ہاں۔ یہ پٹیالہ کے تھے۔ جناب عبدالمنان عمر: میں نے اسی لئے شروع میں ان کے لئے ”ڈاکٹر“ اور وہ لفظ ١٧٥
Y OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12 پوچھا کہ ”مرتد“ کے اسلام میں معنی کیا ہیں؟ جانتے ہیں کہ "Renegade" (مرتد) طرف چلا 1711 جائے، آپ اس کو کہتے ہیں Renegade (مرتد) ہو گیا؟ ایسی چیزیں ہو جس کو سزا یہ ہے کہ اس کو سنگسار کر دیا جاتا ہے، ” جناب عبدالمنان عمر: ہیں جی؟ جناب یحییٰ بختیار: مرتد جس کی جناب عبدالمنان عمر: مجھے تو کہیں جناب یحییٰ بختیار: اسلام میں نہی جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں۔ جناب یحییٰ بختیار: مرتد کے لئے جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں۔ جناب یحییٰ بختیار: اور یہ مرتد ہو جناب عبدالمنان عمر: میں نے ہیں کہ کوئی شخص اسلام قبول کر کے پھر اس کو چھوڑ (مرزا صاحب نے قادیانیت چ جناب یحییٰ بختیار: تو پھر عبدالح بنے۔ پھر وہ مرزا صاحب سے باہر چلے آئے، ہ جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں، کے ایک ڈاکٹر صاحب تھے۔ ان کے ......مسل کے بعد انہوں نے ایک ایسا عقیدہ اختیار کیا جو ہو سکتا ہے جو محمد رسول اللہ ﷺ کو بھی نہ مانے صاحب نے ان سے قطع تعلق کیا، ان کو 1712 جو استعمال کیا کہ جو شخص محمد رسول اللہ ﷺ کو نہیں سمجھتا ہے کہ نجات ہو جائے گی، تو ایسا شخص مسلما
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
استعمال کیا تھا تا کہ ان کا ......
جناب یحییٰ بختیار: ان کو مرتد قرار دیا تھا اسی وجہ سے، جماعت کی وجہ سے نہیں کہ مرزا صاحب کی بیعت چھوڑ گئے وہ؟
جناب عبدالمنان عمر : کون؟
جناب یحییٰ بختیار: وہ۔
جناب عبدالمنان عمر : مرزا صاحب نے ان کو اس وجہ سے جماعت سے خارج کر دیا تھا۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ پہلے بیعت لائے تھے، پھر چھوڑ گئے تھے۔
جناب عبدالمنان عمر : نہیں جی، پہلے بیعت کی تھی۔ مرزا صاحب نے اس کو نکال دیا تھا۔
جناب یحییٰ بختیار: باوجود اس کے کہ بیعت کی؟
1714 جناب عبدالمنان عمر: ہاں جی، کیونکہ وہ یہ عقیدہ رکھتے تھے۔ مرزا صاحب تو یہ برداشت نہیں کر سکتے تھے کہ کوئی شخص محمد رسول اللہ ﷺ کے متعلق ایسے لفظ کہے کہ نجات ہو سکتی ہے اس عظیم الشان رسول کو مانے بغیر۔ یہ وجہ تھی کہ اس کو انہوں نے جماعت سے نکالا اور ”مرتد“ کا لفظ استعمال کیا۔
جناب یحییٰ بختیار: یہ یہاں جو ہے، صاحبزادہ صاحب تو اور وجہ بتارہے ہیں کہ انہوں نے مرزا صاحب سے انکار کر دیا۔
جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں، صاحبزادہ صاحب کے بہت سے کمالات ہیں۔ عبدالحکیم کے عقیدے کے متعلق میں عرض کروں جی، اس کے نزدیک ایک شخص اسلام سے مرتد ہو کر بھی بوجہ اپنی کچھ توحید کے نجات پاسکتا ہے، اور ایسا آدمی بھی نجات پاسکتا ہے جو یہود و نصاریٰ یا آریوں میں سے موحد ہو۔ وہ اسلام کا مکذب اور آنحضرت ﷺ کا دشمن ہے۔ تو پھر اس کی یہی رائے ہوگی۔ یہ ہے جناب ! عبدالحکیم خان جس کے متعلق ”مرتد“ کا لفظ استعمال کیا اور بالکل صحیح کیا۔ محمد رسول اللہ ﷺ سے دشمنی رکھ کر نجات پا جائے، یہ ہو نہیں سکتا۔ مرزا صاحب تو اس کو برداشت نہیں کر سکتے تھے۔
جناب یحییٰ بختیار: یہ اس وقت میں نے آپ کو ...... یہ میں نے آپ کو پڑھ کر سنایا تھا۔ آپ نے کہا کہ یہ احمدیت ......
"Ahmadia movement stands in the same relation to Islam in which Christainity stood to Judaism"
٧١
1693 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
("Review of Religions")
(تحریک احمدیہ کا اسلام کے مقابلے میں وہی مقام ہے جو عیسائیت کا یہودیت کے مقابلے میں ہے)
یہ خود جناب مولوی محمد علی صاحب سلسلہ احمدیہ کا ذکر ان الفاظ میں فرما چکے ہیں۔ یہ کتاب آپ سے Common (عام طور پر) کتاب چھپی ہوئی ہے۔
1715 جناب عبدالمنان عمر: میں نے عرض کیا تھا کہ یہ اگر ذرا وضاحت ہو جائے، کیونکہ آپ نے اس کا مطالعہ فرمایا ہے، آیا یہ مولانا صاحب کی اپنی تحریر ہے؟
جناب یحییٰ بختیار: اپنی تحریر ہے۔
جناب عبدالمنان عمر: اپنی تحریر ہے؟
جناب یحییٰ بختیار: اس میں یہ لکھا ہوا ہے، آپ دیکھ لیجئے۔ آپ دیکھیں گے؟
Mr. Chairman: The librarian may hand over the book.
(جناب چیئرمین: لائبریرین کتاب فراہم کریں)
جناب یحییٰ بختیار: کتاب دے دیجئے گا۔ خود جناب مولوی محمد علی صاحب......
جناب عبدالمنان عمر: کس "Review of Religions"......
جناب یحییٰ بختیار: "Review of Religions" ہے جی، اس کا "Review of Religions" انگریزی ١٩٠٦ء۔
جناب عبدالمنان عمر: جناب! اس کے نیچے کوئی حاشیہ بھی ہے؟
جناب یحییٰ بختیار: (لائبریرین سے) یہ "مباحثہ راولپنڈی" جو ہے، یہ ان کو دکھا دیجئے۔ (گواہ سے) یہ آپ کی Common Publication (عمومی طور پر شائع شدہ) معلوم ہوتی ہے۔
جناب عبدالمنان عمر: جی نہیں۔ "Review of Religions" .....
جناب یحییٰ بختیار: یہ اُس کا حوالہ، اُس کا ذکر، یہ جو آپ کی Common Publication ہے، اُن کی نہیں ہے۔
جناب عبدالمنان عمر: نوٹ کر لیتے ہیں۔
جناب یحییٰ بختیار: ہاں، نوٹ کرلیں اس پر۔ دونوں طرف سے Publications (شائع شدہ) ہے، دونوں طرف سے دستخط موجود ہیں۔
١٧٧
BLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
استعمال کیا تھا تا کہ ان کا ......
جناب یحییٰ بختیار: ان کو مرتد قرار مرزا صاحب کی بیعت چھوڑ گئے وہ؟
جناب عبدالمنان عمر: کون؟
جناب یحییٰ بختیار: وہ۔
جناب عبدالمنان عمر: مرزا صاحب
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، وہ پہلے
جناب عبدالمنان عمر: نہیں جی، پہلا
جناب یحییٰ بختیار: باوجود اس کے
1714 جناب عبدالمنان عمر: ہاں ت برداشت نہیں کر سکتے تھے کہ کوئی شخص محمد رسول اللہ اس عظیم الشان رسول کو مانے بغیر۔ یہ وجہ تھی کہ لفظ استعمال کیا۔
جناب یحییٰ بختیار: یہ یہاں جو انہوں نے مرزا صاحب سے انکار کر دیا۔
جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں
عبدالحکیم کے عقیدے کے متعلق میں عرض کرچک ہو کر بھی بوجہ اپنی کچھ توحید کے نجات پاسکتا ہے یا آریوں میں سے موحد ہو۔ وہ اسلام کا مکذب رائے ہوگی۔ یہ ہے جناب! عبدالحکیم خان جو کیا۔ محمد رسول اللہ ﷺ سے دشمنی رکھ کر نجا برداشت نہیں کر سکتے تھے۔
جناب یحییٰ بختیار: یہ اس وقت تھا۔ آپ نے کہا کہ یہ احمدیت......
nds in the same relation to l to Judaism"
1694 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
جناب عبدالمنان عمر: ہیں جی؟
1716 جناب یحییٰ بختیار: اس پر بھی دونوں کے دستخط ہیں۔ مولانا محمد علی صاحب کے بھی دستخط ہیں۔
جناب عبدالمنان عمر: نہیں جی، یہ کوئی جو میں گزارش کر رہا ہوں، وہ یہ ہے کہ مولانا صاحب ایڈیٹر ہوتے تھے، اور اُس وقت دُوسروں کی تحریریں بھی چھپتی تھیں۔
جناب یحییٰ بختیار: نہیں، نہیں، یہ اُس پر لکھا ہوا ہے کہ اپنے لئے انہوں نے یہ کہا ہے۔
جناب عبدالمنان عمر: یہی میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ میں Ascertain (معلوم) کرلوں.......
جناب یحییٰ بختیار: آپ نوٹ کرلیں۔
جناب عبدالمنان عمر: ....... تو پھر میں اُن کی رائے بتاؤں گا کہ مولانا صاحب کے معتقدات کیا ہیں اور ان کا نقطہ نگاہ کیا ہے۔ مگر جب تک اُن کی وہ تحریر میرے سامنے نہ ہو، کچھ عرض کرنا مشکل ہوگا۔
Mr. Chairman: is that all? (جناب چیئرمین: کیا بات مکمل ہوگئی؟)
Mr. Yahya Bakhtiar: Sir, the next subject I shall take up in the morning. (جناب یحییٰ بختیار: جناب اگلی بات میں کل صبح شروع کروں گا)
Mr. Chairman: The Delegation is permitted to leave, for tomorrow at 10:00 a.m. (جناب چیئرمین: وفد کو کل صبح دس بجے تک کی اجازت ہے)
Mr. Jehangir Ali: Mr. Chairman, before the Delegation leaves, the members want to know that the honourable members of the Delegation, who is replying on behalf of Maulana Sadar-ud-Din, they want to know his introduction, and whether it is true that he is the son of Hakim Nur-ud-Din, Khalifa-e-Awal?
١٧٨
NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
(چوہدری جہانگیر علی: جناب صدر! وفد کی واپسی سے قبل اراکین یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ وفد کے معزز رکن جو کہ مولانا صدرالدین کی جگہ جواب دے رہے ہیں، ان کا تعارف کیا ہے؟ کیا یہ درست ہے کہ وہ حکیم نورالدین خلیفہ اوّل کے صاحبزادے ہیں؟)
1717 جناب چیئرمین: ہاں، کہہ دیں جی، ممبر صاحبان جو پوچھ رہے ہیں۔
(عبدالمنان عمر کا تعارف)
جناب عبدالمنان عمر: خاکسار کا نام عبدالمنان عمر ہے۔ میرے والد صاحب کا نام ہے حکیم نورالدین۔ میں نے پنجاب یونیورسٹی سے پہلے مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا۔ اس کے بعد علی گڑھ یونیورسٹی چلا گیا۔ وہاں چھ سال رہا اور وہاں سے میں نے ایم اے کا امتحان پاس کیا۔ 1957ء میں ہارورڈ یونیورسٹی میں پاکستان سے جو انٹرنیشنل سیمینار میں ڈیلی گیشن تین آدمیوں پر مشتمل گیا تھا۔ اُن میں سے ایک خاکسار بھی تھا۔ میری پیدائش 1910ء کی ہے اور پچھلے دنوں میں میں انسائیکلوپیڈیا آف اسلام جو پنجاب یونیورسٹی کی طرف سے شائع ہو رہی ہے، اُس کا ایڈیٹر رہا ہوں۔ اب میں وہاں سے ریٹائر ہو چکا ہوں۔
چوہدری جہانگیر علی: مولانا حکیم نورالدین جو خلیفہ اوّل تھے آپ کی جماعت کے؟
جناب عبدالمنان عمر: جی ہاں۔
چوہدری جہانگیر علی: اچھا۔
Mr. Chairman: That is all.
The Delegation is permitted to leave; to report tomorrow at 10:00 a.m.
(جناب چیئرمین: آج کی کارروائی اختتام پذیر ہوتی ہے، وفد کو کل صبح دس بجے تک جانے کی اجازت ہے)
The honourable members may keep sitting.
(معزز اراکین تشریف رکھیں)
مولانا عبدالحق: جناب چیئرمین صاحب! وفد نے فرمایا ہے کہ قرآن میں ”مرتد“ کا ذکر......
جناب چیئرمین: ذرا ٹھہر جائیں۔
١٧٩
1696 NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN 27th Aug, 1974 No:12
مولانا عبدالحق: (عربی)
1718 چونکہ اُنہوں نے کہا کہ قرآن میں ذکر نہیں ہے مرتد کی سزا کا، تو یہ آیت مبارک ہے اور امام بخاریؒ نے اسی کو مرتد کی سزا کے بارے میں نقل کیا ہے۔
جناب چیئرمین: ان کا بھی آپ کل جواب دیں گے، جو آیت پڑھی گئی ہے اس کا بھی جواب۔
مولوی مفتی محمود: اور احادیث کا بھی جواب دینا ہے۔
جناب چیئرمین: اس کا بھی جواب کل دیں گے۔
مولانا عبدالمصطفیٰ الازہری: یہ ذرا یہ بتادیں کہ سیمینار میں جو تشریف لے گئے تھے، اس میں کوئی سرظفراللہ صاحب کا بھی حصہ تھا بھیجنے میں یا نہیں؟
Mr. Chairman: نہیں , disallowed. This question should be processed through Attorney-General.
(جناب چیئرمین: اس کی اجازت نہیں، یہ سوال اٹارنی جنرل صاحب کی وساطت سے کیا جائے)۔
(وفد سے) آپ جائیں جی، آپ جائیں۔ آپ فارغ ہیں، آپ فارغ ہیں، جائیں۔ صبح دس بجے۔
(The Delegation left the Chamber)
(وفد ہال سے چلا گیا)
--------
[The Sepcial Committee of the whole House adjourned to meet at ten of the clock, in the morning, on Wednesday, the 28th August, 1974.]
(پورے ایوان کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس ملتوی ہوتا ہے، بروز بدھ ٢٨؍ اگست ١٩٧٤ء کو صبح دس بجے ہوگا)
--------
١٨٠