تحریکِ ختمِ نبوّت
2017ء تا 2019ء
١٠
ترتیب و تحقیق
شاہینِ ختمِ نبوّت حضرت مَولانا اللہ وسایا مُدَّظِلُّہٗ
عالمی مجلس تحفّظِ ختمِ نبوت
تحریک ختم نبوت
2017ء تا 2019ء
١٠
ترتیب و تحقیق
شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا مدظلہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء تا ۲۰۱۹ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تحریک ختم نبوت
(۲۰۱۷ء تا ۲۰۱۹ء)
(۱۰)
ترتیب و تحقیق:
مولانا اللہ وسایا
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
حضوری باغ روڈ ملتان فون نمبر: 4783486 (061)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء تا ۲۰۱۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
نام کتاب : تحریک ختم نبوت (۲۰۱۷ء تا ۲۰۱۹ء) (جلد دہم)
ترتیب وتحقیق : مولانا اللہ وسایا
صفحات : ۷۱۲
قیمت : ۳۰۰ روپے
اشاعت اوّل : جنوری ۲۰۱۹ء
مطبع : ناصر زین پریس لاہور
ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان
جلد اوّل ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء جلد دوم ۱۹۵۴ء تا ابتداء ۱۹۷۴ء جلد سوم ۲۹ مئی ۱۹۷۴ء تا ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء جلد چہارم ۸ ستمبر ۱۹۷۴ء تا ۳۱ دسمبر ۱۹۸۵ء جلد پنجم ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء جلد ششم ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۷ء جلد ہفتم ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء جلد ہشتم ۲۰۰۴ء تا ۲۰۱۰ء جلد نہم ۲۰۱۱ء تا ۲۰۱۶ء جلد دہم ۲۰۱۷ء تا ۲۰۱۹ء
Ph: 061-4783486
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء تا ۲۰۱۹ء
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
فہرست
تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ۲۰۱۷ء کے حالات و واقعات ۲۹
ووٹر لسٹوں سے قادیانیوں کا بطور ”مسلم ووٹر“ کے اخراج ۳۰
بخدمت عالی جناب ممنون حسین صاحب ۳۰
آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس اسلام آباد ۳۲
مولانا فضل الرحمن کی سربراہی میں ”آل پارٹیز تحریک تحفظ ناموس رسالت“ بحال ۳۶
قادیانیت نوازی قبول نہیں (گوجرانوالہ) ۳۸
سوشل میڈیا پر مقدس شخصیات کی گستاخی پر اسلام آباد ہائی کورٹ کا انتباہ ۳۹
وفد کی آئی جی سندھ سے ملاقات، انجمن سرفروشان اسلام کی سرگرمیاں ۴۱
ماموں کانجن میں قادیانیت کی ذلت ۴۱
کیپٹن محمد صفدر کی قومی اسمبلی میں ناموس رسالت پر تقریر ۴۲
سوشل میڈیا گستاخی کیس، تحقیقاتی ٹیم میں قادیانی افسر؟ ۴۳
چترال نبوت کا جھوٹا دعویدار گرفتار ۴۴
گوجرانوالہ میں قادیانیوں کی غیر قانونی عبادت گاہ ۴۵
شاہ پور ضلع سرگودھا میں ختم نبوت چوک ۴۵
لکی مروت میں ختم نبوت چوک ۴۵
ختم نبوت چوک منظور کالونی کراچی کا نوٹیفکیشن ۴۶
دبئی جرمنی جانے والے ۱۲ قادیانی گرفتار ۴۷
سانحہ دوالمیال کی تازہ ترین رپورٹ ۴۸
جناب میاں محمد نواز شریف اور جناب میاں محمد شہباز شریف کے نام کھلا خط ۴۸
بھکر: قادیانی مرکز سے نیا مورچہ ختم کرا دیا گیا ۵۰
سالانہ ختم نبوت کانفرنس ایبٹ آباد ۵۲
رفتار زمانہ کا حال ۵۲
ستمبر ! ختم نبوت کی بہار کا مہینہ ۵۳
پنجاب اسمبلی، عقیدۂ ختم نبوت کا مضمون نصاب میں شامل کرنے کی قرارداد منظور ۵۴
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء تا ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کے حلف نامہ کی بحالی کے لئے ہنگامی پروگرام ۵۵ وائس چانسلر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد کے نام کھلا خط ۵۶ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد کا جوابی مراسلہ ۵۸ یادگاری ڈاک ٹکٹ بیاد مفکر اسلام مولانا مفتی محمود ۵۸ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بنوں نے قادیانی سازش ناکام بنادی ۵۹ ختم نبوت کے حلف نامہ کی بحالی کی سرگزشت (۱) ۶۰ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کی جدوجہد کی تازہ صورتحال (۲) ۶۳ حلف نامہ ختم نبوت کی بحالی ۷۵ الیکشن اصلاحات بل ۲۰۱۷ء اور ختم نبوت ۷۸ الیکشن ایکٹ ۲۰۱۷ء اور ختم نبوت اسلام آباد ہائیکورٹ کا جرأت مندانہ فیصلہ ۸۰ پنجاب اسمبلی کی قرارداد اور وفاق المدارس العربیہ پاکستان کا فیصلہ ۸۵ ملک و آئین کو سازشیوں سے بچائیے! تحفظ ناموس رسالت کانفرنس ۸۸ ۸/افراد کا قادیانیت سے تائب ہو کر قبول اسلام ۹۰ قبول اسلام ۹۰ کنری میں ایک نوجوان کا قبول اسلام ۹۰ ایک قادیانی کا قبول اسلام ۹۱ چونڈہ کے ایڈووکیٹ عبدالقیوم بٹ کا قبول اسلام ۹۱ چناب نگر کے محلہ دارالنصر غربی کے پانچ قادیانی افراد کا قبول اسلام ۹۱ ختم نبوت کانفرنس پاکپتن ۹۲ ختم نبوت کانفرنس قمبر علی خان ۹۲ سرگودھا کی تحفظ ناموس رسالت ریلی سے مولانا طوفانی کا خطاب ۹۲ دروس ختم نبوت بسلسلہ تحفظ ناموس رسالت سیالکوٹ ۹۲ آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت پروگرام ۹۳ آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت اجلاس حیدرآباد ۹۳ آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت اجلاس خانیوال ۹۴ آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت ﷺ سیمینار ٹوبہ ٹیک سنگھ ۹۴ ختم نبوت کانفرنس حیدرآباد ۹۵
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء تا ۲۰۱۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس نواب شاہ ۹۵ ختم نبوت کانفرنس محراب پور ۹۵ آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت تقریب کہروڑ پکا ۹۶ آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت سیمینار جھنگ ۹۶ آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت اجلاس گوجرانوالہ ۹۷ ختم نبوت کانفرنس گمبٹ ۹۷ ختم نبوت کانفرنس سکھر ۹۷ آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت سیمینار کوئٹہ ۹۸ تحفظ ناموس رسالت کانفرنس مانسہرہ ۹۸ ختم نبوت کانفرنس ضلع لکی مروت ۹۹ چھٹی سالانہ ختم نبوت کانفرنس بنوں ۹۹ آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس راجن پور ۹۹ مولانا عزیز الرحمن جالندھری کے تبلیغی اسفار ۱۰۰ ختم نبوت کانفرنس گوجرہ ۱۰۰ کراچی میں مولانا محمد اکرم طوفانی مدظلہ کے بیانات ۱۰۰ ماہانہ درس قرآن بعنوان ختم نبوت کہروڑ پکا ۱۰۲ صوابی میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۱۰۲ ختم نبوت کوئز پروگرام سمندری ۱۰۳ دو روزہ تحفظ ختم نبوت کورس داتہ ۱۰۳ مدرسہ عربیہ ختم نبوت چناب نگر میں اختتام صحیح بخاری شریف ۱۰۴ آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس قصور ۱۰۷ مبلغین حضرات کا سہ ماہی اجلاس ۱۰۷ ختم نبوت کانفرنس پتوکی ۱۰۸ ختم نبوت کانفرنس سناواں ضلع مظفر گڑھ ۱۰۸ عظمت قرآن و تحفظ ختم نبوت کانفرنس سکھر ۱۰۸ تحفظ ختم نبوت کانفرنس جعفر آباد ۱۰۹ تحفظ ختم نبوت کانفرنس پنوں عاقل ۱۰۹
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء تا ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
آل پارٹیز تحفظ ختم نبوت کانفرنس وہاڑی ۱۰۹ سالانہ ختم نبوت کورس چناب نگر ۱۰۹ چھتیسویں سالانہ ختم نبوت کورس چناب نگر کے شرکاء ۱۱۲ پانچ روزہ ختم نبوت کورس ۱۳۰ دارالعلوم دیوبند میں چھ روزہ تحفظ ختم نبوت تربیتی کیمپ ۱۳۰ مولانا اللہ وسایا کا تبلیغی دورہ گوجرہ ۱۳۲ چھ روزہ تربیتی و اصلاحی تحفظ ختم نبوت کورس ۱۳۲ کراچی میں مولانا مفتی محمد راشد مدنی کے تبلیغی پروگرام ۱۳۳ آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس علی پور ۱۳۴ مولانا پیر ناصر الدین خاکوانی مدظلہ کا دورہ قصور ۱۳۴ سہ ماہی اجلاس مبلغین ۱۳۴ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کے تبلیغی و تنظیمی دورے ۱۳۵ ختم نبوت کورس گوجرانوالہ ۱۳۶ مولانا اللہ وسایا کا دورہ سمندری و کمالیہ ۱۳۶ ختم نبوت کانفرنس ہری پور ۱۳۶ ہری پور میں ختم نبوت کانفرنس ۱۳۷ ختم نبوت کانفرنس راولپنڈی ۱۳۷ افتتاحی تقریب تحفظ ختم نبوت موڑ کھنڈہ صوابی ۱۳۷ ختم نبوت کانفرنس مری ۱۳۷ ختم نبوت پروگرامز ...... مولانا عبدالحئی مطمئن ۱۳۷ درس ختم نبوت جوہر آباد ۱۳۸ ختم نبوت سیمینار چک نمبر ۱۵، جوہر آباد ۱۳۸ ختم نبوت کانفرنس میلسی ۱۳۹ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کے تبلیغی دورے ۱۳۹ مجلس کے وفد کا دورہ ضلع ٹھٹھہ ۱۴۰ مولانا اللہ وسایا کا دورہ ٹوبہ ٹیک سنگھ ۱۴۱ اوکاڑہ اور قصور کے اضلاع میں ختم نبوت پروگرامز ۱۴۱
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء تا ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت انعام گھر مقابلہ نورنگ ۱۴۲ سالانہ ختم نبوت کانفرنس فیصل آباد ۱۴۲ ختم نبوت کانفرنس کلاچی ۱۴۳ سالانہ ختم نبوت کانفرنس گھوٹکی ۱۴۳ ختم نبوت کانفرنس کنری ۱۴۳ مبلغین ختم نبوت کا دورہ میر پور خاص ۱۴۳ جامع مسجد محمد عربی ﷺ میں ختم نبوت کانفرنس ۱۴۴ تحفظ ختم نبوت پروگرام وافتتاحی تقریب ختم نبوت چوک پہاڑ پور ۱۴۴ ختم نبوت کانفرنس بہاول پور ۱۴۴ ختم نبوت کانفرنس بھلوال ۱۴۵ مولانا اللہ وسایا کا دورہ ضلع ڈیرہ غازیخان ۱۴۵ ختم نبوت کانفرنس زڑہ میانہ ۱۴۶ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس، گلستان جوہر کراچی ۱۴۶ سالانہ چھ روزہ ختم نبوت کورس ۱۴۷ یوم تحفظ ختم نبوت ریلی سرائے نورنگ ضلع لکی مروت ۱۴۸ ختم نبوت کانفرنس صوبہ بلوچستان ۱۴۸ ختم نبوت کانفرنس تحصیل تخت نصرتی ضلع کرک ۱۴۹ ختم نبوت کانفرنس کرک ۱۴۹ ختم نبوت کانفرنس تحصیل تجوڑی ۱۵۰ سالانہ تحفظ ختم نبوت کانفرنس سرگودھا ۱۵۰ فتح مبین کانفرنس ڈیرہ اسماعیل خان ۱۵۱ ختم نبوت کانفرنس نوشہرہ ورکاں ۱۵۱ ختم نبوت کانفرنس چیچہ وطنی ۱۵۱ ختم نبوت کانفرنس کہروڑ پکا ۱۵۱ ختم نبوت کانفرنس ٹاؤن ٹو پشاور ۱۵۲ ختم نبوت کانفرنس فیصل آباد ۱۵۲ شاہدرہ میں ختم نبوت کانفرنس ۱۵۲
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء تا ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مبلغین کا سہ ماہی اجلاس ۱۵۲ ختم نبوت کانفرنس لوئر دیر ۱۵۳ آل پارٹیز ختم نبوت اجلاس لاہور ۱۵۳ چھتیسویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کی اجمالی رپورٹ ۱۵۴ ختم نبوت کانفرنس دنیا پور ۱۶۲ ختم نبوت کانفرنس بیریاں والا ٹوبہ ۱۶۲ گوادر کا تبلیغی سفر ۱۶۲ تحفظ ختم نبوت کنونشن اڈا گورمانی کوٹ ادو ۱۶۵ ختم نبوت کانفرنس گوجرانوالہ ۱۶۵ ختم نبوت کانفرنس روڈہ ضلع خوشاب ۱۶۵ کراچی دو روزہ تحفظ ختم نبوت تربیتی ورکشاپ ۱۶۵ ختم نبوت کانفرنس گھوٹکی ۱۶۷ دو روزہ تبلیغی دورہ ٹوبہ ۱۶۷ سہ روزہ ختم نبوت کورس فیصل آباد ۱۶۸ ختم نبوت کانفرنس بدین ۱۶۸ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۸ تا ۲۷ نومبر ۲۰۱۷ء لاہور میں متعدد پروگرامز کی روئیداد ۱۶۸ اوکاڑہ، قصور میں مرکزی قائدین کا تبلیغی دورہ ۱۷۰ ختم نبوت پروگرامز ۱۷۰ ختم نبوت کانفرنس کروڑ لعل عیسن ۱۷۱ سیرت کانفرنس شاہی مسجد راولپنڈی ۱۷۱ پشاور میں کانفرنسوں سے مولانا شجاع آبادی کا خطاب ۱۷۱ ختم نبوت کورس لودھراں ۱۷۲ دروس بعنوان سیرت خاتم النبیین ﷺ خوشاب ۱۷۲ سالانہ کل کراچی بین المدارس تقریری مقابلہ ۱۷۲ دروس بسلسلہ سیرت خاتم الانبیاء ﷺ ڈیرہ اسماعیل خان ۱۸۱ دروس قرآن بسلسلہ سیرت النبی ﷺ سیالکوٹ ۱۸۱ ختم نبوت سیمینار ضلع رحیم یار خان ۱۸۲
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء تا ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا سیرت خاتم الانبیاء کانفرنس کراچی ۱۸۲ سیرت میلاد النبی ﷺ کانفرنس قصور ۱۸۳ ختم نبوت کانفرنس وہاڑی ۱۸۳ ختم نبوت کانفرنس ملکوال ۱۸۳ ختم نبوت کانفرنس کنجوانی ۱۸۳ میانہ گوندل منڈی بہاؤالدین میں جلسہ ۱۸۴ ختم نبوت کانفرنس اوکاڑہ ۱۸۴ ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ ۱۸۴ جہلم میں ختم نبوت سیمینار ۱۸۴ محمدیہ مسجد چناب نگر میں جلسہ سیرت ۱۸۵ حافظ آباد میں ختم نبوت سیمینار ۱۸۵ ختم نبوت کانفرنس جہانیاں ۱۸۵ مولانا اللہ وسایا کا دورہ کراچی واندرون سندھ ۱۸۵ سیرت خاتم الانبیاء کانفرنس میٹرول ۱۸۶ ختم نبوت کانفرنس ساہیوال ۱۸۷ سالانہ ختم نبوت کانفرنس میاں چنوں ۱۸۷ ختم نبوت کانفرنس حیدرآباد ۱۸۷ ختم نبوت کانفرنس نواب شاہ ۱۸۸ مبلغین ختم نبوت کا سہ ماہی اجلاس ۱۸۸ ختم نبوت کانفرنس جوہرآباد ۱۸۹ نوشہرہ میں کانفرنس ۱۸۹ مولانا شجاع آبادی گجرات کے دورہ پر ۱۸۹ سرائے عالمگیر میں فضائل قرآن کے عنوان پر ۱۸۹ ۲۰۱۷ء میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لوئر دیر کی کارکردگی ۱۹۰ تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ۲۰۱۸ء کے حالات و واقعات ۱۹۱ تھرپارکر میں قادیانیوں کی دہشت گردی ۱۹۲ آزاد کشمیر میں ختم نبوت کے تحفظ کا ایک اور سنگ میل عبور ہو گیا ۱۹۲
تحریک ختم نبوت جلد (١٠) ۲۰۱۷ء تا ۲۰۱۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
آزاد کشمیر میں قانون کے تحت قادیانی غیر مسلم ۱۹۵
قادیانی سربراہ کے نام مولانا زاہد الراشدی کا کھلا خط ۱۹۶
قومی اسمبلی سے حلف نامہ میں ترمیم کا ریکارڈ غائب کر دیا گیا ۱۹۹
۹؍ مارچ ۲۰۱۸ء کو اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ ۲۰۱
قادیانی اقلیت کے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ ۲۰۳
جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا فیصلہ اور جنوبی افریقہ کی سپریم کورٹ ۳۲۹
فیصل آباد میں ختم نبوت چوک کا افتتاح ۳۳۱
خوشاب میں قادیانیوں کے ۲۴ غیر قانونی مراکز پر تالے ۳۳۲
قادیانیوں کے لئے لفظ ”احمدی“ استعمال کرنے کی ممانعت ۳۳۳
قومی اسمبلی کی متفقہ قرارداد میں ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کا نام ہٹا دیا گیا ۳۳۳
ختم نبوت چوک کا افتتاح ۳۳۴
راجن پور میں قادیانی تنظیم ہیومنٹی فرسٹ کی کھلے عام فنڈنگ ۳۴۴
راجن پور میں قادیانی سماجی تنظیم کی ناکامی ۳۴۴
بھکر میں قادیانیت کے خلاف ایک اور کامیابی ۳۴۵
وزیر اعظم عمران خان اور عاطف میاں قادیانی ۳۴۵
معروف قادیانی کو قومی اقتصادی کونسل کارکن بنانا بدترین قادیانیت نوازی ہے: علماء کرام ۳۴۸
عاطف میاں قادیانی کی برطرفی پر سوالات کا تجزیہ ۳۴۸
عاطف میاں کی مخالفت کیوں وجوہ اسباب محرکات جناب جاوید چوہدری صاحب کی خدمت میں ۳۴۷
گھسیٹ پورہ فیصل آباد میں قادیانی مسلم تنازعہ ۳۵۹
ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کی نمائش کے خلاف احتجاج ۳۶۰
گستاخانہ خاکوں کے خلاف جرأت مندانہ اقدام کی ضرورت ۳۶۱
نیدرلینڈز کے گستاخانہ خاکے اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم ۳۶۲
ماہِ ستمبر میں ختم نبوت کے محاذ پر نئی چار کامیابیاں ۳۶۴
داتہ ضلع مانسہرہ میں مرزائیت کی آمد واختتام کی تفصیل ۳۶۷
قومی مشاورتی کنونشن اسلام آباد ۳۷۴
آسیہ ملعونہ کی رہائی پر احتجاجی تحریک ۳۷۵
اسلامیات اور قادیانی..... ممبران قومی اسمبلی سے دردمندانہ گزارش ۳۷۸
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء تا ۲۰۱۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
آسیہ مسیح کیس کے عدالتی فیصلے کا تجزیاتی مطالعہ ۳۸۱ کرتار پور کوریڈور اور شورش کاشمیری کی پیش گوئی ۳۹۰ رزڑ ضلع صوابی میں ختم نبوت چوک کی روئیداد ۳۹۲ ڈاکٹر نذر حیات مجوکہ قادیانی کی دوبارہ واپسی ۳۹۲ کنری...... قبول حق کا سفر ، ۴۳ غیر مسلم دائرہ اسلام میں داخل ۳۹۳ لاہور میں قادیانی خاندان حلقہ بگوش اسلام ۳۹۳ ٹالہی...... قادیانیت سے تائب ہوکر اسلام قبول کرنے والے خاندان ۳۹۳ فیصل آباد میں قادیانی کا قبول اسلام....... بیان حلفی ۳۹۴ فیصل آباد میں ایک خاتون کا قبول اسلام....... بیان حلفی ۳۹۴ سابق قادیانی عکرمہ نجمی کے قبول اسلام کی داستان ۳۹۵ میر پور خاص سندھ میں قادیانی گھرانے کا قبول اسلام ۳۹۹ جناب راحیل احمد کی فتنہ قادیانیت سے اظہار لاتعلقی ۳۹۹ بہاول نگر کے ایک قادیانی نوجوان کا قبول اسلام ۳۹۹ عمر کوٹ روجھان ضلع راجن پور میں آٹھ افراد کا قبول اسلام ۴۰۰ فیصل آباد کے سخاوت علی قادیانی کا قبول اسلام ۴۰۱ فیصل آباد چک ۱۹۲ کی ایک خاتون کا قبول اسلام ۴۰۱ ختم نبوت کانفرنسوں کی اجمالی رپورٹ ۴۰۱ ختم نبوت کانفرنس کمالیہ ۴۰۹ ختم نبوت کانفرنس لاہور ۴۱۰ سیرت خاتم الانبیاء کانفرنس گوادر ۴۱۰ ختم نبوت کانفرنس کراچی ۴۱۱ ماہانہ تربیتی اجلاس ۴۱۳ افتتاح ختم نبوت چوک کوٹ قیصرانی ۴۱۳ ختم نبوت کورسز بذریعہ ملٹی میڈیا پروجیکٹر ۴۱۴ سالانہ ختم نبوت کانفرنس سکھر ۴۱۵ ختم نبوت کانفرنس بادشاہی مسجد لاہور کی رابطہ کمیٹی کا دو روزہ دورہ ٹوبہ ۴۱۵ ختم نبوت سیمینار بہاول پور ۴۱۵ انعامی تقریب شعور ختم نبوت چناب نگر ۴۱۶
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء تا ۲۰۱۹ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مرکزی مبلغین حضرات کا دورہ بہاولپور ۴۱۶ ختم نبوت کانفرنس تلہار ۴۱۷ آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کنونشن گوجرانوالہ ۴۱۷ مولانا عزیز الرحمن جالندھری کے تبلیغی اسفار ۴۱۷ ختم نبوت کانفرنس وہاڑی ۴۱۸ ختم نبوت کانفرنس انڈسٹریل اسٹیٹ حطار ضلع ہری پور ۴۱۸ چھٹی سالانہ ختم نبوت کانفرنس ضلع کرک ۴۱۸ خاتم النبیین ﷺ کانفرنس پہاڑ پور ۴۱۹ ختم نبوت کانفرنس دریا خان ۴۱۹ علماء کنونشن بسلسلہ ختم نبوت کانفرنس بادشاہی مسجد لاہور ۴۲۰ علماء کنونشنز بسلسلہ تاریخی ختم نبوت کانفرنس بادشاہی مسجد لاہور ۴۲۲ خصوصی رپورٹ سبزہ زار لاہور ۴۲۲ ختم نبوت کانفرنس بادشاہی مسجد لاہور ۴۲۴ خطبہ استقبالیہ ختم نبوت کانفرنس بادشاہی مسجد لاہور ۴۲۷ ختم نبوت کانفرنس لاہور میں قائد جمعیت کے خطاب کا مکمل متن ۴۳۳ ختم نبوت کانفرنس رحیم یار خان ۴۳۸ ختم نبوت کانفرنس جوانہ بنگلہ رنگپور ۴۳۸ ختم نبوت کانفرنس خانیوال ۴۳۹ ختم نبوت کانفرنس لیاقت پور ۴۳۹ ختم نبوت کانفرنس سنجر پور ۴۳۹ ختم نبوت کانفرنس پشاور ۴۳۹ سالانہ ختم نبوت کانفرنس تحصیل لاچی (کوہاٹ) ۴۴۰ ختم نبوت کانفرنس لیہ ۴۴۰ ختم نبوت کانفرنس گڑھی حبیب اللہ ۴۴۱ مبلغین حضرات کا سہ ماہی اجلاس ۴۴۱ ختم نبوت کانفرنس سناواں ۴۴۱ مولانا قاضی احسان احمد کا دورہ اندرون سندھ ۴۴۲
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء تا ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس دریا خان مری ۴۴۲
ختم نبوت کانفرنس ملکوال ۴۴۳
ذکر مصطفیٰ ﷺ کانفرنس نواب شاہ ۴۴۳
درس ختم نبوت مدینہ مسجد سکرنڈ ۴۴۳
ختم نبوت کانفرنس جھنگ ۴۴۳
۳۷ واں سالانہ ختم نبوت کورس چناب نگر ۴۴۳
ختم نبوت کورس کی اختتامی تقریب سے مولانا طارق جمیل کا بیان ۴۴۷
ختم نبوت کانفرنس کنری ۴۷۶
ختم نبوت کانفرنس تحصیل کوٹ رادھا کشن ۴۷۶
جامعہ علوم شرعیہ جھنگ میں ختم نبوت کورس ۴۷۷
پشاور کا دو روزہ دورہ ۴۷۷
شاہ فاضل مسجد میں کانفرنس ۴۷۸
دارالعلوم دیوبند میں تحفظ ختم نبوت تربیتی کیمپ کی اختتامی تقریب ۴۷۸
بہاول پور میں درس قرآن وحدیث ۴۷۹
تربیتی نشست تونسہ شریف ۴۷۹
ختم نبوت کانفرنس وہوا ۴۷۹
ختم نبوت کانفرنس احمد پور شرقیہ ۴۷۹
رسول پور شکرانی میں ختم نبوت کانفرنس ۴۷۹
خانیوال میں ختم نبوت کورس ۴۸۰
جامعہ فاروقیہ صمد پورہ میں تکمیل قران کانفرنس ۴۸۰
لاہور کا تین روزہ تبلیغی و تنظیمی دورہ ۴۸۰
گوجرانوالہ کا تین روزہ دورہ ۴۸۰
مولانا شجاع آبادی گجرات کے دورہ پر ۴۸۱
جلال پور جٹاں میں ختم نبوت کورس ۴۸۱
تین روزہ تحفظ ختم نبوت کورس کراچی ۴۸۱
مولانا اللہ وسایا کے دورۂ سندھ کی اجمالی رپورٹ ۴۸۲
ختم نبوت کانفرنس حیدرآباد ۴۸۳
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء تا ۲۰۱۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس ٹنڈوالہیار ۴۸۳ خطبات جمعۃ المبارک ۴۸۴ ختم نبوت کانفرنس ہالانی ۴۸۴ ختم نبوت کانفرنس خانواہن ۴۸۴ ختم نبوت کانفرنس محراب پور ۴۸۴ ختم نبوت کورس گوجرہ ۴۸۴ ختم نبوت کانفرنس شہداد پور ۴۸۵ ختم نبوت کانفرنس حیدرآباد ۴۸۵ ختم نبوت سیمینار حیدرآباد ۴۸۵ ختم نبوت کانفرنس گارچی ۴۸۵ ختم نبوت کانفرنس ٹنڈو غلام محمد ۴۸۶ ختم نبوت کانفرنس کوٹ غلام محمد ۴۸۶ ختم نبوت کانفرنس سرائے عالمگیر ۴۸۶ ختم نبوت کانفرنس میر پور خاص ۴۸۶ ختم نبوت کانفرنس مانوخان چانڈیو ۴۸۶ مولانا قاضی احسان احمد کراچی کا دورہ سکھر ۴۸۶ ختم نبوت کانفرنس بہاول پور ۴۸۷ ختم نبوت انعام گھر پروگرام ضلع لکی مروت ۴۸۸ ختم نبوت کانفرنس گوجرہ ۴۸۸ آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت سیمینار ٹوبہ ۴۸۸ ختم نبوت کانفرنس پنوں عاقل ۴۸۹ ختم نبوت سیمینار شورکوٹ ۴۸۹ ختم نبوت کنونشن جھنگ ۴۸۹ یوم دفاع پاکستان و تحفظ ختم نبوت سیمینار بہاول پور ۴۸۹ ختم نبوت کانفرنس فیصل آباد ۴۹۰ یوم دفاع پاکستان و یوم تحفظ ختم نبوت پروگرام ٹوبہ ۴۹۰ یوم تحفظ ختم نبوت سیمینار وافتتاح ختم نبوت چوک ملتان ۴۹۰
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء تا ۲۰۱۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
خطبہ جمعۃ المبارک خانیوال ۴۹۱ دروس ختم نبوت بسلسلہ عشرہ ختم نبوت سیالکوٹ ۴۹۱ عشرہ تحفظ ختم نبوت ۴۹۱ یوم تحفظ ختم نبوت ریلی سرائے نورنگ ۴۹۱ یوم تحفظ ختم نبوت سندھ ۴۹۲ ختم نبوت سیمینار جام پور ۴۹۲ ختم نبوت سیمینار مظفر گڑھ ۴۹۲ پپلاں اور خانقاہ سراجیہ میں درس ختم نبوت ۴۹۲ ختم نبوت کانفرنس میانی ضلع سرگودھا ۴۹۲ ختم نبوت کانفرنس حجرہ شاہ مقیم ۴۹۳ ختم نبوت کانفرنس اوکاڑہ ۴۹۳ خطبات جمعۃ المبارک اوکاڑہ وقصور ۴۹۳ ختم نبوت کانفرنس قصور ۴۹۳ ختم نبوت کانفرنس الہ آباد قصور ۴۹۳ ختم نبوت کنونشن لاڑکانہ ۴۹۴ ختم نبوت کانفرنس لنجاری گھوٹکی ۴۹۴ ختم نبوت کانفرنس گھوٹکی ۴۹۴ سالانہ ختم نبوت کانفرنس منڈی بہاؤالدین ۴۹۴ خطبہ جمعۃ المبارک ٹوبہ ۴۹۵ ختم نبوت کانفرنس شورکوٹ کینٹ ۴۹۵ ختم نبوت سیمینار ٹوپی ۴۹۵ شان امام حسینؓ و ختم نبوت کانفرنس ۴۹۵ ختم نبوت کانفرنس چیچہ وطنی ۴۹۵ سہ ماہی اجلاس مبلغین حضرات ۴۹۶ ختم نبوت کانفرنس جنڈانوالہ ۴۹۶ ختم نبوت کورس ٹاؤن ٹو پشاور ۴۹۶ ختم نبوت کانفرنس کوئٹہ ۴۹۷
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء تا ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے اکابرین کا تین روزہ دورہ ایبٹ آباد ۴۹۷ ختم نبوت کانفرنس حویلیاں ۴۹۸ ختم نبوت کانفرنس قلندر آباد ۴۹۸ ختم نبوت کانفرنس ایبٹ آباد ۴۹۸ سینتیسویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کی رپورٹ ۴۹۸ سیرت النبی ﷺ کانفرنس ٹالہی ۵۱۰ تحفظ ناموس رسالت اجلاس ملتان ۵۱۰ احتجاجی مظاہرہ لکی مروت ۵۱۰ احتجاجی مظاہرہ سرائے نورنگ ۵۱۰ ختم نبوت کانفرنس بوریانوالا ٹوبہ ۵۱۱ تحفظ ناموس رسالت احتجاجی ریلی ملتان ۵۱۱ احتجاجی ریلیاں ۵۱۱ ختم نبوت کانفرنس لوئر دیر ۵۱۲ ختم نبوت کانفرنس شکار پور ۵۱۳ ختم نبوت کانفرنس شکار پور ۵۱۳ ختم نبوت کانفرنس میانوالی ۵۱۳ ختم نبوت کانفرنس جعفر آباد سکھر ۵۱۳ ختم نبوت کانفرنس قمبر شہدادکوٹ ۵۱۳ دو روزہ تحفظ ختم نبوت کورس قمبر ۵۱۴ ناموس رسالت کانفرنس مروال ۵۱۴ تحفظ ناموس رسالت و ختم نبوت سیمینار نواب شاہ ۵۱۴ شعور ختم نبوت و فہم دین کورس نواب شاہ ۵۱۴ شعور ختم نبوت کورس چوہلہ ۵۱۵ ختم نبوت کانفرنس گھوٹکی ۵۱۵ تحفظ ناموس رسالت و ختم نبوت سیمینار دوڑ ضلع نواب شاہ ۵۱۵ خانقاہ عالیہ دین پور شریف میں جانبازان ختم نبوت کی روئیداد سخن ۵۱۵ ختم نبوت کانفرنس چکوال ۵۱۶
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء تا ۲۰۱۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس پرانا سکھر ۵۱۶ ختم نبوت کانفرنس پنوعاقل ۵۱۶ ختم نبوت کانفرنس جہانیاں ۵۱۶ ختم نبوت کانفرنس چوک اعظم ۵۱۷ ختم نبوت کانفرنس آدم شاہ کالونی سکھر ۵۱۷ تحفظ ناموس رسالت کانفرنس چوہلہ ۵۱۷ بھوانہ ضلع چنیوٹ میں ناموس رسالت کانفرنس ۵۱۷ جلسہ سیرت النبی ﷺ مسلم کالونی چناب نگر ۵۱۷ تحفظ ناموس رسالت کانفرنس راولپنڈی ۵۱۸ سیرت خاتم الانبیاء ﷺ کانفرنس شہداد پور ۵۱۸ سالانہ تحفظ ختم نبوت کانفرنس ملیر کراچی ۵۱۸ ختم نبوت کانفرنس لانڈھی ۵۱۹ بھلوال میں ختم نبوت کانفرنس ۵۱۹ ختم نبوت کانفرنس خوشاب ۵۱۹ مدرسہ احیاء العلوم مظفر گڑھ میں ختم نبوت کورس ۵۲۰ مکی مسجد گوجرانوالہ میں ختم نبوت کورس ۵۲۰ جلسہ سیرت النبی ﷺ چناب نگر شہر ۵۲۰ ختم نبوت کانفرنس جیکب آباد ۵۲۰ گمنالہ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں سیرت کانفرنس ۵۲۰ ختم نبوت کانفرنس سیالکوٹ ۵۲۱ ختم نبوت کانفرنس گوجرہ ۵۲۱ ناموس رسالت، ختم نبوت کانفرنس پیرمحل ۵۲۱ تحفظ ناموس رسالت سیمینار ملتان ۵۲۱ ختم نبوت کانفرنس فراش گوٹھ شکار پور ۵۲۲ تاجدار ختم نبوت کانفرنس شکار پور ۵۲۲ خطبات جمعۃ المبارک ٹوبہ ۵۲۲ سیرت خاتم الانبیاء ﷺ کانفرنس چنیوٹ ۵۲۲
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء تا ۲۰۱۹ء
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس کونجاہ گجرات ۵۲۳
ختم نبوت کانفرنس لاہور ۵۲۳
مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کا میر پور اور جہلم میں تین روزہ تبلیغی دورہ ۵۲۳
سہ روزہ ختم نبوت کورس ڈسکہ ۵۲۴
ختم نبوت کانفرنس جہلم ۵۲۴
مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کا تبلیغی دورہ اسلام آباد و راولپنڈی ۵۲۴
ختم نبوت کانفرنس راولپنڈی ۵۲۵
ختم نبوت کانفرنس بچل شاہ میانی سکھر ۵۲۵
ختم نبوت کانفرنس چشتی آباد راولپنڈی ۵۲۵
چھ روزہ تحفظ ختم نبوت کورس ۵۲۵
مبلغین حضرات کا سہ ماہی اجلاس ملتان ۵۲۶
تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ۲۰۱۹ء کے حالات و واقعات ۵۲۷
ڈگری کالج نارتھ کراچی میں قادیانی ٹیچر کی ارتدادی سرگرمیاں ۵۲۸
لیہ ٹی ڈی اے چوک بنام ختم نبوت چوک ۵۲۸
حسینہ واجد کی سرکار قادیانیوں کا سالانہ جلسہ منسوخ کرنے پر مجبور ۵۲۸
تحفظ ناموس رسالت ملین مارچ ۵۲۹
بھکر، چوک سرور شہید اور لیہ میں ختم نبوت چوکوں کے نام سے منظور ۵۳۰
افتتاح ختم نبوت چوک دریا خان مری نوشہرو فیروز سندھ ۵۳۰
جماعت نہم کی نصابی کتاب سے عقیدہ ختم نبوت کا افسوسناک اخراج ۵۳۱
موجودہ حکومت اور قادیانی ..... غفلت یا منظم سازش ۵۳۲
قانون تحفظ ختم نبوت کے خلاف حالیہ قادیانی مہم جوئی ۵۳۴
عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے ہر طرح کی جنگ لڑیں گے ۵۳۶
امریکی صدر کے نام جناب خالد محمود کراچی کا کھلا خط ۵۳۷
قادیانی شکور امریکی دباؤ پر رہا کیا گیا ۵۳۹
قادیانی مسئلہ اور صدر ٹرمپ ۵۴۰
نویں جماعت کی کتاب ”مطالعہ پاکستان“ کی غلطی درست کر دی گئی ۵۴۲
مقالہ خصوصی ...... امریکی صدر سے قادیانی کی ملاقات ۵۴۳
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء تا ۲۰۱۹ء
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیانی بیعت کا نیا ڈرامہ ۵۵۶
امریکہ، کشمیر، محمد عمران خان نیازی، قادیانی اور بھارت ۵۵۷
قادیانی کشمیر کی آزادی کے دشمن ہیں ۵۵۸
قادیانی پھر سے پاکستان پر حملہ آور؟ ۵۶۰
قادیانی پیسوں سے پاکستانی فنکاروں کا لندن میں فراڈ ایوارڈ شو ۵۶۲
مروہ انصر چودھری اینکر پرسن نہیں، پھر بھی ایوارڈ وصول کیا ۵۶۳
سعودی عرب اور اقوام متحدہ میں قادیانیوں کی سرگرمیاں ۵۶۳
اہل مغرب کی سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے گستاخوں سے دوستی ۵۶۴
قادیانیوں سے ترک موالات کی شرعی حیثیت؟ ۵۶۸
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مجلس شوریٰ کا اجلاس ۵۷۱
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مجلس عمومی کا اجلاس ۵۷۳
کیا حقیقت حال کا اظہار مذہبی سیاست گری ہے؟ ....... جناب اوریا مقبول جان کی خدمت میں ۵۷۳
ناروے میں قرآن پاک کی بے حرمتی کی مذموم جسارت ۵۷۵
کرتار پور راہداری اور قادیانی مذہب ۵۷۷
دارالعلوم فاروقیہ ماتلی میں پروگرام اور افتتاح ختم نبوت چوک ۵۷۹
پروفیسر طاہر احمد ڈار شیخوپورہ اپنے خاندان سمیت مسلمان ہو گئے ۵۷۹
قادیانیوں کا قبول اسلام ۵۷۹
ایک ہی خاندان کے بیس افراد قادیانیت سے تائب ہو کر دائرہ اسلام میں داخل ۵۸۰
ایک قادیانی تاجر کا قبول اسلام ۵۸۰
ایک خاتون کا قبول اسلام ۵۸۰
ایک گھرانے کے تین افراد نے قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کر لیا ۵۸۱
چوک اعظم میں ایک قادیانی کا قبول اسلام ۵۸۱
ڈیرہ اسماعیل خان میں پروگرام ۵۸۱
ختم نبوت کانفرنس سرائے نورنگ ۵۸۲
ختم نبوت کوئز پروگرام حیدر آباد ۵۸۲
تحفظ ختم نبوت کورس مانسہرہ ۵۸۳
مولانا اللہ وسایا کا دورہ ڈیرہ اسماعیل خان ۵۸۴
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء تا ۲۰۱۹ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس وانڈا مہر دل ڈیرہ اسماعیل خان ۵۸۴
ختم نبوت کانفرنس درابن ڈیرہ اسماعیل خان ۵۸۵
ختم نبوت کانفرنس گنڈی عاشق ڈیرہ اسماعیل خان ۵۸۵
ختم نبوت کورسز حیدر آباد و ٹنڈوالہیار ۵۸۵
تحفظ ختم نبوت تربیتی نشست کراچی ۵۸۵
اختتامی تقریب تحفظ ختم نبوت کورس برائے خواتین کراچی ۵۸۶
دوروزہ کورس ضلع بدین ۵۸۶
گوٹھ نبی بخش کمبوہ میں بیان ۵۸۷
جامعہ اسلامیہ قاسمیہ ماتلی ضلع بدین میں بیان ۵۸۷
ختم نبوت کانفرنس گولارچی ۵۸۷
تحفظ ناموس رسالت پروگرام کہروڑ پکا ۵۸۷
دو روزہ ختم نبوت کورس لیہ ۵۸۷
دو روزہ تحفظ ختم نبوت کورس مٹھی تھر پارکر ۵۸۸
سیرت خاتم الانبیاء کانفرنس گھاٹ تھر پارکر ۵۸۸
تحفظ ناموس رسالت کانفرنس ہوتھی جوتڑ، اسلام کوٹ ۵۸۸
شعور ختم نبوت کورس رجانہ ۵۸۸
ختم نبوت کانفرنس دھیروکی گوجرہ ۵۸۹
تحفظ ختم نبوت کانفرنس کہروڑ پکا ۵۸۹
تحفظ ناموس رسالت و آغوش پیغمبر کانفرنس ۵۸۹
ختم نبوت کانفرنس کمالیہ ۵۸۹
سیرت خاتم الانبیاء کانفرنس باہو کھوسو جیکب آباد ۵۸۹
تحفظ ختم نبوت کانفرنس بورے والا ۵۹۰
تحفظ ناموس رسالت ﷺ کانفرنس سمبڑیال سیالکوٹ ۵۹۰
تحفظ ختم نبوت کورس پسرور ۵۹۰
ختم نبوت کانفرنس سنجر چانگ ۵۹۱
گوجرانوالہ میں دو روزہ ختم نبوت کورس ۵۹۱
مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ کا خطبہ جمعہ ۵۹۱
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء تا ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس حیدرآباد ۵۹۱ دوروزہ تحفظ ختم نبوت کورس خانیوال ۵۹۲ مرکزی مبلغین کا دورہ صوابی و چارسدہ ۵۹۲ ختم نبوت کانفرنس نواب شاہ ۵۹۲ ختم نبوت کانفرنس محراب پور ۵۹۳ ختم نبوت کانفرنس دریاخان مری ۵۹۳ ختم نبوت کانفرنس سکھر ۵۹۳ ختم نبوت کانفرنس دریا خان بھکر ۵۹۴ ختم نبوت کانفرنس رستم سندھ ۵۹۴ ختم نبوت کانفرنس شکار پور ۵۹۴ حجرہ شاہ مقیم میں ختم نبوت کورس ۵۹۴ تحفظ ختم نبوت کانفرنس کوٹ ابدان ۵۹۵ ختم نبوت کانفرنس پاکپتن ۵۹۵ لاہور میں تین روزہ ختم نبوت کورس ۵۹۵ ختم نبوت کورس پتوکی ۵۹۵ ننکانہ صاحب میں ختم نبوت کورس ۵۹۵ تحفظ ناموس رسالت کنونشن شیخوپورہ ۵۹۶ ختم نبوت کانفرنس سید والا ۵۹۶ ختم نبوت کانفرنس دوڑ ضلع نواب شاہ ۵۹۶ ختم نبوت کانفرنس ساہیوال ۵۹۶ تحفظ ناموس رسالت کانفرنس لیہ ۵۹۷ ختم نبوت کانفرنس خانیوال ۵۹۷ ختم نبوت کانفرنس کرک ۵۹۷ ختم نبوت کانفرنس یوسی پنگی پشاور ۵۹۷ مبلغین حضرات کا سہ ماہی اجلاس ملتان ۵۹۸ مرکزی ناظم اعلیٰ و دیگر مبلغین کے گوجرہ میں خطبات جمعہ ۵۹۸ ختم نبوت کانفرنس پشاور ۵۹۹
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء تا ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سیرت خاتم الانبیاء کانفرنس کہروڑ پکا ۵۹۹ مانسہرہ میں ختم نبوت کانفرنسوں کی بہاریں ۵۹۹ ختم نبوت کانفرنس ہری پور ۶۰۰ ختم نبوت کانفرنس اوکاڑہ ۶۰۰ تحفظ ختم نبوت کانفرنس کروڑ لعل عیسن ۶۰۰ تحفظ ختم نبوت کانفرنس جوآنہ بنگلہ ۶۰۱ دو روزہ ختم نبوت کورس اوکاڑہ ۶۰۱ ختم نبوت کانفرنس سمندری ۶۰۱ سالانہ ختم نبوت کورس چناب نگر کی رپورٹ ۶۰۱ چھبیسویں سالانہ ختم نبوت کورس چناب نگر کے شرکاء ۶۰۶ تحفظ ختم نبوت کورس گوجرانوالہ ۶۲۷ ختم نبوت کانفرنس کوٹ رادھا کیش ضلع قصور ۶۲۷ دو روزہ ختم نبوت کورس قصور ۶۲۸ دارالعلوم دیوبند میں چھ روزہ تحفظ ختم نبوت تربیتی کیمپ ۶۲۸ تین روزہ تحفظ ختم نبوت کورس برائے خواتین کراچی ۶۲۹ تحفظ ختم نبوت کوئز کورس ملتان ۶۳۰ مبلغین حضرات کا سہ ماہی اجلاس ملتان ۶۳۰ تحفظ ختم نبوت کنونشن لاہور ۶۳۰ ختم نبوت کورس پاکپتن ۶۳۱ شعور ختم نبوت کورس ساہیوال ۶۳۱ ختم نبوت کورس ساہیوال ۶۳۱ ختم نبوت کورس ہڑپہ شہر ۶۳۱ ختم نبوت کورس جنڈانوالہ ۶۳۲ ختم نبوت کورس گوجرانوالہ ۶۳۲ صراط مستقیم و تحفظ ختم نبوت کورس جوہر آباد ۶۳۲ ختم نبوت کورس گوجرانوالہ ۶۳۲ ختم نبوت کورس میانہ سرگودھا ۶۳۳
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء تا ۲۰۱۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کورس کوٹ رادھاکشن ۶۳۳ ختم نبوت کورس رینالہ خورد اوکاڑہ ۶۳۳ تحفظ ختم نبوت کورس بدین ۶۳۳ شعور ختم نبوت وفہم دین کورس مدینہ مسجد بدین ۶۳۳ کراچی حلقہ ملیر کی جماعتی سرگرمیاں ۶۳۴ ختم نبوت کورس بصیر پور اوکاڑہ ۶۳۵ ختم نبوت کانفرنس ہڈالی ۶۳۵ ختم نبوت کانفرنس جوہر آباد ۶۳۵ ختم نبوت کانفرنس خوشاب ۶۳۵ شعور ختم نبوت وفہم دین کورس دوڑ ضلع نواب شاہ ۶۳۶ شعور ختم نبوت کورس منڈی چھونا والا ۶۳۶ تین روزہ تبلیغی دورہ راولپنڈی، اسلام آباد ۶۳۶ علماء ومشائخ کنونشن بسلسلہ تحفظ ختم نبوت بنوں ۶۳۷ ختم نبوت کورس سیالکوٹ ۶۳۷ مبلغین ختم نبوت کا چار روزہ دورہ نواب شاہ ڈویژن ۶۳۷ تحفظ ختم نبوت کانفرنس کنڈیارو ۶۳۸ شعور ختم نبوت کورس ٹوبہ ٹیک سنگھ ۶۳۸ شعور ختم نبوت کورس دریا خان مری ۶۳۸ شعور ختم نبوت وفہم دین کورس محراب پور ۶۳۹ ختم نبوت کانفرنس فیصل آباد ۶۳۹ مبلغین ختم نبوت کی اندرون سندھ جماعتی سرگرمیاں ۶۳۹ تحفظ ختم نبوت کورس سمبڑیال ضلع سیالکوٹ ۶۴۰ ختم نبوت کانفرنس بہاول پور ۶۴۱ ختم نبوت کانفرنس ٹوبہ ٹیک سنگھ ۶۴۱ تحفظ ختم نبوت انعام گھر لکی مروت ۶۴۱ مانسہرہ میں آواز ختم نبوت کی گونج ۶۴۲ بارہواں سالانہ تحفظ ختم نبوت تربیتی کورس دفتر کراچی ۶۴۲
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء تا ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تحفظ ختم نبوت تربیتی کورسز لانڈھی ٹاؤن کراچی ۶۴۵ ختم نبوت کانفرنس گوجرہ ۶۴۶ ختم نبوت کورس قائد آباد خوشاب ۶۴۶ تحفظ ختم نبوت کانفرنس سلانوالی ضلع سرگودھا ۶۴۶ تحفظ ختم نبوت کانفرنس سناواں ۶۴۶ ختم نبوت کانفرنس موسیٰ خیل میانوالی ۶۴۶ ختم نبوت کانفرنس میانی ضلع سرگودھا ۶۴۷ تحفظ ختم نبوت اجلاس بسلسلہ عشرہ ختم نبوت لوئیر دیر ۶۴۷ ختم نبوت کانفرنس ڈسکہ ۶۴۷ ختم نبوت کانفرنس خوشاب ۶۴۷ ختم نبوت کانفرنس قائد آباد ۶۴۸ ختم نبوت کانفرنس منڈی بہاؤ الدین ۶۴۸ ختم نبوت کانفرنس اسلام آباد ۶۴۸ ختم نبوت کانفرنس راولپنڈی ۶۴۸ تحفظ ختم نبوت سیمینار بسلسلہ یوم ختم نبوت ملتان ۶۴۹ ختم نبوت کنونشن بسلسلہ یوم ختم نبوت سکھر ۶۴۹ یوم تحفظ ختم نبوت ریلی سرگودھا ۶۴۹ تحفظ ختم نبوت و یوم تشکر ریلی سرائے نورنگ ۶۵۰ ختم نبوت کانفرنس رستم ۶۵۰ ختم نبوت کانفرنس سیالکوٹ ۶۵۰ ختم نبوت کانفرنس نارووال ۶۵۰ ختم نبوت کورس سکھر ۶۵۱ ختم نبوت کانفرنس اوکاڑہ ۶۵۱ ختم نبوت کورس حویلی لکھا ضلع اوکاڑہ ۶۵۱ ختم نبوت کانفرنس قصور ۶۵۱ تاریخ ساز ختم نبوت کانفرنس لاہور کی تیاری کا آغاز ۶۵۲ عظیم الشان تحفظ ختم نبوت کانفرنس لاہور ۶۵۲
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء تا ۲۰۱۹ء
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سبزہ زار لاہور کی رپورٹ ۶۵۹
ختم نبوت کانفرنس گڑھی یاسین ۶۶۰
تحفظ ختم نبوت کورس پیر محل ۶۶۰
شعور ختم نبوت کورس ماموں کانجن ۶۶۰
ختم نبوت کانفرنس سانگی ۶۶۱
ختم نبوت کانفرنس سکھر ۶۶۱
ختم نبوت کانفرنس چیچہ وطنی ۶۶۱
تاریخ ساز سالانہ ختم نبوت کانفرنس سرگودھا ۶۶۱
عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس عارف والا ۶۶۲
ختم نبوت کانفرنس اوچ شریف ضلع بہاول پور ۶۶۲
ختم نبوت کانفرنس احمد پور شرقیہ ضلع بہاول پور ۶۶۳
ختم نبوت کانفرنس جنڈانوالہ ۶۶۳
ختم نبوت کانفرنس محراب پور ۶۶۳
فقید المثال ختم نبوت کانفرنس حیدرآباد ۶۶۳
ختم نبوت کانفرنس صوابی ۶۶۴
اڑتیسویں آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کی رپورٹ ۶۶۴
ختم نبوت کانفرنس دھنی دیو گوجرہ ۶۷۵
سالانہ ختم نبوت کانفرنس بھلوال ۶۷۵
ختم نبوت کانفرنس سکھر ۶۷۵
ختم نبوت کانفرنس گاڑھی موری ضلع خیر پور میرس ۶۷۶
ختم نبوت کورس عارف والا ۶۷۶
ملتان کی ڈائری ۶۷۶
کنڈ احمد اٹڑ کہروڑ پکا میں جلسہ ختم نبوت ۶۷۷
ختم نبوت کانفرنس جوہر آباد ۶۷۷
شعور ختم نبوت کورس سمندری ۶۷۷
شعور ختم نبوت کورس گوجرہ ۶۷۷
ختم نبوت کانفرنس نوتک حمید ضلع ڈیرہ غازی خان ۶۷۸
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء تا ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
میلاد مصطفی ﷺ کانفرنس ڈیرہ غازی خان ۶۷۸ جامع مسجد ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں جلسہ ۶۷۸ شان مصطفی ﷺ و تحفظ ختم نبوت کانفرنس لاہور ۶۷۸ سیرت خاتم الانبیاء ﷺ پروگرام سکھر ۶۷۸ سیرت خاتم الانبیاء ﷺ کانفرنس سکھر ۶۷۹ تحفظ ختم نبوت کورس لاہور ۶۷۹ تحفظ ختم نبوت تربیتی نشست لاہور ۶۷۹ تحفظ ختم نبوت کانفرنس نور پور تھل ضلع خوشاب ۶۷۹ ختم نبوت کورس چیچہ وطنی ۶۷۹ ختم نبوت کانفرنس موسیٰ خیل ضلع میانوالی ۶۸۰ ختم نبوت کانفرنس سمندری ۶۸۰ ختم نبوت کانفرنس گوجرہ ۶۸۰ مولانا حافظ پیر ناصر الدین خاکوانی کا دورہ چیچہ وطنی ۶۸۰ ختم نبوت کانفرنس مصطفی آباد لاہور ۶۸۰ ختم نبوت کانفرنس ہرنولی ضلع میانوالی ۶۸۱ ختم نبوت کانفرنس پاکپتن ۶۸۱ ختم نبوت کانفرنس پرووا ضلع ڈیرہ اسماعیل خان ۶۸۱ ختم نبوت کانفرنس ساہیوال ۶۸۱ ختم نبوت کانفرنس سکھر ۶۸۱ ختم نبوت کانفرنس ڈیرہ اسماعیل خان ۶۸۲ تحفظ ختم نبوت و محفل حسن قرأت کانفرنس ۶۸۲ ختم نبوت کورس کروڑ لعل عیسن لیہ ۶۸۲ ختم نبوت کانفرنس جامعہ قادریہ رحیم یار خان ۶۸۲ ختم نبوت کانفرنس ٹبی کو رائیاں خانپور ۶۸۳ ختم نبوت کانفرنس لیاقت پور ۶۸۳ ختم نبوت کانفرنس شور کوٹ کینٹ ۶۸۳ ختم نبوت کانفرنس کمالیہ ۶۸۴ ختم نبوت کانفرنس ملکوال ضلع منڈی بہاؤ الدین ۶۸۴
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء تا ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
خاتم الانبیاء ﷺ کانفرنس کہروڑ پکا ۶۸۴ ختم نبوت کانفرنس پتوکی ۶۸۴ تحفظ ختم نبوت کورس الہ آباد ۶۸۵ تحفظ ختم نبوت کورس چونیاں ۶۸۵ ختم نبوت کانفرنس رینالہ خورد ۶۸۵ ختم نبوت کانفرنس ضلع قصور ۶۸۵ ختم نبوت کورس شاہ نکڈر ۶۸۵ آزاد کشمیر میں مولانا محمد خالد عابد کا تبلیغی دورہ ۶۸۶ ختم نبوت کانفرنس راوی روڈ لاہور ۶۸۶ دروس ختم نبوت بسلسلہ سیرت النبی ﷺ سیالکوٹ ۶۸۶ ڈیرہ اسماعیل خان شہر میں ختم نبوت کی صدائیں ۶۸۷ کراچی میں عشرہ ختم نبوت کی بہاریں ۶۸۷ شان مصطفیٰ کانفرنس گھوٹکی شہر ۶۸۹ ختم نبوت کورس لاہور ۶۸۹ ختم نبوت کورس سکھر ۶۹۰ ختم نبوت کورس سلانوالی ۶۹۰ سیرت خاتم الانبیاء کانفرنس شہداد پور ۶۹۰ ختم نبوت تربیتی پروگرام گمبٹ ۶۹۰ دو روزہ تحفظ ختم نبوت کورس کنڈیارو ۶۹۱ سیرت خاتم الانبیاء کانفرنس نواب شاہ ۶۹۱ ختم نبوت کانفرنس ضلع چکوال ۶۹۱ ختم نبوت کانفرنس دینہ جہلم ۶۹۲ ختم نبوت کانفرنس ٹنڈو آدم ۶۹۲ ختم نبوت کانفرنس لاہور ۶۹۲ ختم نبوت کانفرنس جوہر آباد ۶۹۲ ناظم اعلیٰ صاحب کا دورہ میر پور خاص کنری ۶۹۳ ختم نبوت کانفرنس حیدر آباد ۶۹۳ ختم نبوت کانفرنس جھڈو ۶۹۳
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء تا ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کورس چیچہ وطنی ۶۹۳ ختم نبوت کانفرنس ماتلی ضلع بدین ۶۹۴ ختم نبوت کانفرنس سانگی ضلع سکھر ۶۹۴ ختم نبوت کانفرنس روہڑی ۶۹۴ ختم نبوت کانفرنس نواں گوٹھ تعلقہ لکھی غلام شاہ ضلع شکار پور ۶۹۴ تحفظ ختم نبوت کانفرنس ضلع شکار پور ۶۹۴ تحفظ ختم نبوت کانفرنس جھونگل ۶۹۵ ختم نبوت کانفرنس خان پور ضلع شکار پور ۶۹۵ ختم نبوت کانفرنس پنوعاقل ضلع سکھر ۶۹۵ مفکر ختم نبوت مولانا عزیز الرحمن جالندھری کے تبلیغی اسفار ۶۹۶ ختم نبوت کورس فاروکہ ۶۹۶ مولانا پیر ناصر الدین خاکوانی کا تین روزہ دورہ سندھ ۶۹۶ تحفظ ختم نبوت سیمنار سنانواں ۶۹۶ ختم نبوت کورس کندھ کوٹ ضلع کشمور ۶۹۷ سالانہ ختم نبوت کانفرنس کندھ کوٹ ضلع کشمور ۶۹۷ ختم نبوت کانفرنس گھوٹکی ۶۹۷ تحفظ ختم نبوت کانفرنس میلسی ۶۹۷ ختم نبوت کانفرنس راجن پور ۶۹۸ سہ ماہی اجلاس مبلغین حضرات ملتان ۶۹۸ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی شوریٰ کے اجلاسوں کی کارروائیاں ۶۹۹ عالمی مجلس کی مرکزی مجلس شوریٰ اور مجلس عمومی و مجلس عاملہ کے اجلاسات ۷۰۰ (۱۲۲ واں) اجلاس مجلس منتظمہ ۷۰۰ (۱۲۳ واں) اجلاس مجلس شوریٰ ۷۰۱ (۱۲۴ واں) اجلاس مجلس منتظمہ ۷۰۴ (۱۲۵ واں) اجلاس مجلس منتظمہ ۷۰۵ (۱۲۶ واں) اجلاس مجلس شوریٰ ۷۰۶ (۱۲۷ واں) اجلاس مجلس منتظمہ ۷۰۸ (۱۲۸ واں) اجلاس مجلس شوریٰ ۷۱۰
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تحریک ختم نبوت
کے سلسلہ میں
۲۰۱۷ء
کے
حالات و واقعات
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
ووٹر لسٹوں سے قادیانیوں کا بطور ”مسلم ووٹر“ اخراج
تحصیل لاوہ کے شہر پچند میں تقریباً ۲۶ سے زائد قادیانیوں کے ووٹ مسلمانوں کی ووٹر لسٹوں میں بطور مسلمان درج کئے گئے تھے۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے نئی کمپیوٹرائزڈ ووٹر لسٹوں کی تیاری کے مرحلے میں پچند کے مقامی مسلمانوں نے اپنے اپنے بلاک میں موجود قادیانیوں کے ووٹوں کے مسلم فہرستوں میں اندراج پر اعتراضات کئے، جس کے پیش نظر فریقین کو نوٹس جاری کئے گئے۔ مفتی اسد محمود امیر عالمی مجلس ختم نبوت تحصیل لاوہ کی قیادت میں مقامی مسلمانوں نے الیکشن کمیشن آفس چکوال میں دستاویزات اور ثبوت جمع کرائے، جس پر الیکشن کمیشن کی جانب سے تیار کی جانے والی نئی کمپیوٹرائزڈ ووٹر لسٹوں سے موضع پچند کے قادیانی مذہب سے تعلق رکھنے والے تمام مرد و خواتین کو مسلمانوں کی ووٹر لسٹوں سے نکال کر قادیانیوں کی اقلیتی ووٹر لسٹوں میں شامل کر دیا گیا ہے۔ اس پر عوام نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں کو بھر پور خراج تحسین پیش کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۲۴ تا ۳۱ جنوری ۲۰۱۷ء ص ۱۶)
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت Aalami Majlise Tahaffuze Khatme Nubuwwat HEAD OFFICE : HAZOORI BAGH ROAD, MULTAN - PAKISTAN PH: 4783486 FAX : 4583486 پشاور: 9223020-0333 کوئٹہ: 2841995-081 کراچی: 32780337-021 فیصل آباد: 7224794-0301 لاہور: 35626404-042 اسلام آباد: 2829186-051 ملتان
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
بخدمت عالی جناب ممنون حسین صاحب
صدر مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان (اسلام آباد)
جناب عالی ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
یہ کہ پاکستان میں حالیہ مردم شماری فارم جس میں ہر مسلمان اور دیگر مذاہب کے افراد کے کوائف درج کئے جاتے ہیں اس میں خانہ مذہب کے بعد حلف نامہ ختم نبوت جس میں اس امر کا اقرار لیا جاتا ہے کہ ”میں حلفیہ اقرار کرتا ہوں کہ حضور ﷺ کے بعد کسی مدعی نبوت کو نبی یا رسول نہیں مانتا۔ نیز قادیانی یا لاہوری گروپ کے کسی فرد کو مسلمان نہیں مانتا اور مرزا غلام احمد قادیانی کو کذاب اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں“ شامل نہیں ہے۔
یہ کہ پاکستان کی اساس اور آئین کی پاسداری کا تقاضا ہے کہ اس حلف نامہ کو مردم شماری فارم میں شامل کیا جائے۔ کیونکہ قادیانی اور لاہوری گروپ اپنے آپ کو اقلیت ماننے سے انکاری ہے۔ اور اپنے آپ کو مسلمان کہلواتے ہیں اور مردم شماری میں بھی اپنے آپ کو بطور مسلمان درج کرواتے ہیں جس سے ملک کی نظریاتی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
لہذا استدعا ہے کہ مردم شماری فارم میں خانہ مذہب کے ساتھ حلف نامہ ختم نبوت شامل کیا جائے۔
مورخہ : 19 جنوری 2017 ء ، بروز جمعرات
کاپی برائے :
- 1 ....... الیکشن کمیشن آف پاکستان ، اسلام آباد۔
- 2 ....... چیف جسٹس آف پاکستان ، سپریم کورٹ ، اسلام آباد۔
سائل / عرض گزار:
- 1 ....... جناب سید وقار علی کاظمی ، اسلام آباد
سید وقار علی کاظمی صدر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد
- 2 ....... جناب حافظ عبد الوحید قاسمی ، اسلام آباد
حافظ عبد الوحید قاسمی مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد
- 3 ....... جناب قاری تعلیم الاسلام ، اسلام آباد
قاری تعلیم الاسلام ناظم عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء
۳۱
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- -1
ڈپٹی سیکرٹری جنرل پاکستان شریعت کونسل پاکستان
- -2
پروفیسر سید محمد یحییٰ عاصم چشتی مرکز جمعیت مشائخ پاکستان U
- -3
فرید احمد پراچہ، ڈپٹی سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان
- -4
علامہ سید ریاض حسین شاہ، ناظم اعلیٰ جماعت اہلسنت پاکستان U
- -5
علامہ عبد المصطفیٰ الازہری
- -6
عبداللطیف رحمانی مجلس احرار اسلام
- -7
بشیر احمد سلفی، ناظم نشر و اشاعت مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان
- -8
عزیز الرحمن نائب ناظم وفاق المدارس العربیہ، پاکستان
- -9
عبد الرحمن مکی مرکزی رہنما جماعۃ الدعوۃ پاکستان
- -10
محمد زکریا
- -11
شیخ الحدیث حافظ عبد الرحمن مدنی
- -12
عبداللہ مرکزی جمعیت اہل حدیث
- -13
0306-4460650 مرکزی سیکرٹری اطلاعات جمعیت اہل حدیث
- -14
حافظ عاکف سعید، امیر تنظیم اسلامی پاکستان
- -15
قاری محمد زوار بہادر، ناظم اعلیٰ جمعیت علمائے پاکستان
- -16
ناظم اعلیٰ، تحریک ختم نبوت مرکز
- -17
محمد اجمل قادری، مرکزی امیر جمعیت علمائے اسلام
- -18
محمد اکرم طوفانی، مرکزی ناظم اعلیٰ مجلس احرار اسلام پاکستان
- -19
جنرل سیکرٹری، جمعیت علمائے پاکستان
- -20
ناظم اعلیٰ، جامعہ عربیہ
- -21
محمد حسن جامعہ مدنیہ کریم پارک لاہور
- -22
عبدالقدیر ابوالحسن مہتمم جامعہ ابوالحسنین لاہور
- -23
قاری یعقوب شیخ، مرکزی رہنما جمعیت علمائے پاکستان
- -24
حکیم طارق محمود، مرکزی سیکرٹری اطلاعات، جمعیت علمائے پاکستان
- -25
محمد افضل باجوہ، امیر تحریک خدام اہل سنت پاکستان
- -26
عادل عمر، صدر مجلس احرار اسلام لاہور
- -27
حکیم محمد احسان ناصر سیکرٹری اطلاعات، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان
- -28
مفتی محمد خان قادری، مہتمم جامعہ اسلامیہ لاہور
- -29
چوہدری محمد اکرم جامع مسجد داتا دربار، جامعہ ہجویریہ لاہور
- -30
عثمان احمد، ناظم
- -31
قاری سعید احمد نائب ناظم اعلیٰ، جمعیت اہل حدیث پاکستان
- -32
حافظ محمد صدر بزم لاہور
- -33
محمد یونس قادری ناظم اعلیٰ، پاکستان سنی تحریک، لاہور
- -34
مفتی محمد
- -35
رضوان احمد، ناظم دارالعلوم جامعہ نعیمیہ، لاہور
- -36
ضیاء الرحمن
- -37
عبد الرحمن
- -38
محمد
- -39
حافظ ریاض محمود ناظم اعلیٰ، لاہور
- -40
حافظ عبد
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس اسلام آباد
- ۱...... دسمبر ۲۰۱۶ء کے اواخر میں اعلان ہوا کہ: میاں نواز شریف وزیر اعظم پاکستان نے قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے ملحق سائنسی ادارہ فزکس کا نام ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے نام پر رکھ دیا ہے۔
- ۲...... اس دوران معلوم ہوا کہ حکومت پنجاب کا محکمہ تعلیم بھٹو دور میں قومیائے گئے تعلیمی ادارے قادیانیوں کو واپس کر رہا ہے۔
- ۳...... دریں اثناء دوالمیال ضلع چکوال میں ۱۲ ربیع الاول کے جلوس پر قادیانیوں نے فائرنگ کی جس سے چار مسلمان زخمی اور ایک شہید ہو گیا۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی مجلس شوریٰ کا ملتان میں اجلاس ہوا جس میں ان امور پر غور وخوض کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ تمام جماعتوں اور چاروں مسالک کی قیادت کے سامنے یہ مسئلہ رکھا جائے اور باہمی مشاورت سے قدم اٹھایا جائے۔ چنانچہ مولانا صاحبزادہ عزیز احمد، مولانا عزیز الرحمن ثانی اور فقیر راقم (اللہ وسایا) نے اس سلسلہ میں قائد محترم مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کی۔ آپ نے فرمایا کہ حکومت کے ذمہ داران سے اصلاح واحوال کے لئے کہتے ہیں۔ مولانا زاہد الراشدی، پروفیسر ساجد میر، محترم جناب سراج الحق، محترم جناب لیاقت بلوچ سے بھی مشاورت ہوئی۔ ان امور پر قوم کی آگاہی کے لئے ۱۲؍ جنوری ۲۰۱۷ء کو ڈریم لینڈ ہوٹل اسلام آباد میں تاجر حضرات اور علماء کرام کا ایک اجلاس رکھا۔ لال مسجد میں جمعہ پر اجتماع میں بھی ان مسائل کو زیر بحث لایا گیا۔
- ۴...... اس دوران مولانا عزیز الرحمن ثانی نے اطلاع دی کہ ۱۲؍ جنوری ۲۰۱۷ء کو ایک قومی اخبار (نوائے وقت) میں جاوید اختر بھارہ کہو (جو اپنے کو سلسلہ قادریہ چشتیہ سے منسوب کرتے ہیں) کا اشتہار شائع ہوا کہ تحفظ ناموس رسالت قانون کو تبدیل کیا جائے۔ ظاہر ہے کہ یہ تمام کارروائی این۔ جی۔ اوز کی تھی۔ ان صاحب کا تو صرف نام استعمال ہوا۔
- ۵...... اگلے روز ۱۳؍ جنوری ۲۰۱۷ء کو ایک قومی اخبار میں خبر شائع ہوئی کہ جناب فرحت اللہ بابر سابق وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ سینٹ آف پاکستان کی انسانی حقوق کی کمیٹی کے اجلاس میں توہین رسالت قانون پر غور کر کے اس کی سزا میں کمی اور مقدمہ کے اندراج کے طریقہ کار میں تبدیلی لائی جائے گی۔ تواتر سے جب یہ اطلاعات موصول ہوئیں تو ماتھا ٹھنکا کہ کوئی گہری چال ہے۔ جس سے بیک وقت گھیرا ڈالا جا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ خیر فرمائیں۔
۱۴، ۱۵؍ جنوری ۲۰۱۷ء کو اسلام آباد میں جمعیۃ علماء اسلام کی مرکزی شوریٰ کا اجلاس تھا۔ متذکرہ اشتہار اور فرحت اللہ بابر کے بیانات کا عکس موبائل کے ذریعہ قائد جمعیۃ کو ارسال کیا گیا۔ مولانا امجد خان سے (جو شریک اجلاس تھے) اجلاس کے دوران بات ہوئی۔ جناب عبدالرحمن چارسدہ نے بھی سلسلہ جنبانی کی۔ جمعیۃ کی شوریٰ میں یہ امر زیر بحث آیا۔ قرارداد منظور ہوئی۔ آخری اجلاس میں پریس بریفنگ کے دوران جمعیۃ کی منظور کردہ قرارداد کی روشنی میں قائد محترم نے اعلان کیا کہ اس قانون میں کوئی تبدیلی نہیں ہونے دیں گے۔
۱۹؍ جنوری ۲۰۱۷ء کو لاہور عالمی مجلس کے دفتر میں لاہور کی تمام جماعتوں اور جملہ مکاتب فکر کے مشترکہ اجلاس میں تمام صوبائی قیادت نے شرکت فرمائی۔ اس اے۔ پی سی میں متفقہ فیصلہ ہوا کہ مرکزی قیادت کا فوری اجلاس اسلام آباد میں بلایا جائے۔ لاہور کے اس اجلاس میں اہم اہم جماعتوں کے نمائندگان کے دستخطوں سے ایک خط بھی صدر مملکت اور وزیر اعظم کو بھجوا دیا گیا۔
مولانا امجد خان اور دوسرے حضرات نے لاہور کے اجلاس کی روشنی میں دعوت نامہ کا مسودہ اور مدعوین کی فہرست مرتب کی۔ اگلے روز دعوت نامہ چھپ گیا۔ ہفتہ کے دن جماعت اسلامی کے دفتر جا کر امیر جماعت جناب سراج الحق اور جناب لیاقت بلوچ کو دعوت
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نامہ پہنچایا۔ فقیر کے ذمہ لگا کہ وہ جنوبی پنجاب کی قیادت کو دعوت نامے پہنچائے۔ ڈاک سے پورے ملک میں جہاں دعوت نامے بھجوانے تھے۔ وہ مولانا محمد نعیم نے بھجوائے۔
۲۲؍ جنوری ۲۰۱۷ء کو لاہور کی تمام مرکزی قیادت جماعتوں اور اداروں کے سربراہان کو مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا قاری جمیل الرحمن اختر، جناب پیر رضوان نفیس نے دعوت نامے پہنچائے۔ اگلے روز مولانا عزیز الرحمن، مولانا قاضی ہارون الرشید، مولانا زاہد وسیم، مولانا محمد طیب فاروقی اور دیگر حضرات نے اسلام آباد اور راولپنڈی کی تمام جماعتوں کو دعوت نامے پہنچائے۔ اس دوران میں جمعیۃ علماء اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبد الغفور حیدری نے تمام قیادت جن کو دعوت نامے پہنچا دیئے گئے تھے ان کو فون کئے۔ دو تین دن اسی جدوجہد میں رفقاء کی بھر پور مصروفیت رہی۔
۲۶؍ جنوری ۲۰۱۷ء کو لیاقت باغ جامعہ اسلامیہ میں علماء کا کنونشن ہوا۔ مولانا عزیز الرحمن ہزاروی کی مسجد صدیق اکبر ﷺ میں فقیر کا جمعہ پر بیان ہوا۔ اگلے روز ظہر تا مغرب جامعہ فاروقیہ دھمیال روڈ راولپنڈی میں مولانا سلیم اللہ خان کی تعزیت کے سلسلہ میں جلسہ عام ہوا۔ جس میں مولانا عبدالغفور حیدری، مولانا قاضی عبدالرشید، جناب اعجاز الحق، مولانا حافظ حمد اللہ سینیٹر، مولانا سعید یوسف نے ان مسائل پر بھی اظہار خیال کیا۔
۲۹؍ جنوری ۲۰۱۷ء کو ہی سالانہ ختم نبوت کانفرنس جامع مسجد قباء ہولی فیملی راولپنڈی میں منعقد ہوئی۔ شہر کی تمام تاجر برادری کی قیادت اور عوام نے بھر پور شرکت کی۔ مولانا سید چراغ الدین شاہ نے دعاء کرائی۔ مولانا عزیز الرحمن ثانی، تاجر رہنماؤں اور دیگر حضرات کے بیانات ہوئے۔ مولانا محمد طیب سٹیج سیکرٹری تھے۔ مولانا قاضی مشتاق الرحمن صدر اجلاس تھے۔ یہ کانفرنس بھی ہر اعتبار سے کامیاب رہی۔
۳۰؍ جنوری ۲۰۱۷ء کو صاحبزادہ عزیز احمد تشریف لائے۔ قائد محترم مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کی۔ کام کی رپورٹ عرض کی۔ آج کے روز مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی بھی تشریف لائے۔
۳۱؍ جنوری ۲۰۱۷ء مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر صاحب مدظلہ، مولانا سعید اسکندر، مولانا اعجاز مصطفی کراچی سے تشریف لائے۔ قائد محترم سے ملاقات کی۔ آج ۳۱؍ جنوری کی شام رات گیارہ بجے اطلاع ملی کہ انتظامیہ نے ہوٹل مالکان کو کہا کہ این۔او۔سی کے بغیر کانفرنس نہیں ہوگی۔ اس وقت رات کو رابطے کرنے شروع کئے مگر بے کار۔ کانفرنس اگلے روز یعنی یکم فروری ۲۰۱۷ء ڈریم لینڈ ہوٹل میں ایک گھنٹہ کی تاخیر سے شروع ہوئی۔ یہ کس نے کیا۔ کوئی ذمہ داری قبول کرنے کے لئے تیار نہ تھا۔ وزارت داخلہ سے پوچھیں تو وہ فرمائیں ہمیں معلوم نہیں۔ ڈی سی صاحب سے پوچھیں تو وہ فرمائیں کہ اوپر سے حکم ہے۔ کمشنر صاحب سے پوچھیں تو لاعلمی کا اظہار کریں۔ صدمہ اور پریشانی تو ہوئی لیکن اللہ تعالیٰ نے فضل کیا کہ کانفرنس کی تمام پابندیاں ختم ہوگئیں۔ کانفرنس ہوئی اور بڑی آب و تاب سے ہوئی۔
آگے چلنے سے قبل ذرا ایک بار خاص خاص شرکاء کرام کے اسماء گرامی کی طرف نظر کریں۔ مولانا قاضی ارشد الحسینی کی تلاوت سے کانفرنس کا آغاز ہوا۔ قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمن نے صدارت فرمائی اور خطبہ استقبالیہ ارشاد فرمایا۔ فقیر راقم کے ذمہ اجلاس کے اغراض و مقاصد کا بیان تھا۔ مولانا محمد امجد خان نقیب محفل تھے۔ مولانا قاری محمد حنیف جالندھری نے ان کی رہنمائی فرمائی۔
اجلاس میں راجہ ظفر الحق، جناب سراج الحق، جناب مولانا سمیع الحق، جناب اعجاز الحق، (گویا چہار جہت حق ہی حق تھا۔ فالحمد للہ ) ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر، جناب عارف حسین واحدی، مولانا قاری زوار بہادر، مولانا زاہد الراشدی، مولانا صاحبزادہ خلیل احمد، مولانا ابتسام الٰہی ظہیر، خانقاہ عالیہ کوٹ مٹھن کے سجادہ نشین پیر و مرشد خواجہ معین الدین کوریجہ، تنظیم المدارس کے ناظم عمومی مولانا غلام محمد
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سیالوی، پاکستان مسلم لیگ کے جناب طارق بشیر چیمہ، مولانا عطاء الرحمن سینیٹر، تنظیم المدارس کے مولانا سید حبیب الحق، قاضی محمد اسحق نورانی، مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی، جناب حافظ عمار یاسر قائد اعظم مسلم لیگ، مولانا اشرف علی اشاعۃ التوحید، مولانا صاحبزادہ قاضی ظہور الحسین اظہر، قاری زاہد حسین رشیدی، مولانا صاحبزادہ ابوبکر خدام اہل سنت، مولانا سعید یوسف آزاد کشمیر، راجہ محمد اصغر، حافظ عاکف سعید تنظیم اسلامی، مولانا ضیاء الحق چشتی گولڑوی جمعیۃ علماء پاکستان، سید محمد کفیل بخاری مجلس احرار اسلام، مولانا عبد المالک خاں اتحادالعلماء، شبیر حسین جہلمی، مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، جناب حامد میر، جناب اسد اللہ بھٹو، مولانا حافظ زبیر احمد ظہیر، مولانا سمیع الحق چشتی خطیب گولڑہ شریف، سید قطب رابطۃ المدارس، مولانا فضل الرحمن خلیل، مولانا قاری جمیل الرحمن شریعت کونسل، مولانا عبد الوحید قاسمی، مولانا محمد طاہر رشید تنولی، مولانا قاضی مشتاق احمد، مولانا قاضی عبدالرشید ناظم وفاق المدارس پنجاب، مولانا محمد نذیر فاروقی، مولانا ظہور احمد علوی، مولانا قاضی نثار احمد اہل سنت والجماعت گلگت، خالد خورشید ہدیۃ الباری، مولانا عزیز الرحمن رحیمی، مولانا محمد شریف ہزاروی، مولانا مفتی عبد السلام، مولانا خلیل الرحمن چشتی، مولانا محمد ابراہیم قاضی اٹک، مولانا عبید الرحمن انور، جناب خالد مسعود، مولانا مفتی محمد معاذ، مولانا صاحبزادہ عبد القدوس چکوال، مولانا محمد آدم خان، جناب سیف اللہ خالد، مولانا محمد رمضان علوی، میاں انعام الٰہی، جناب نصیر خان ایڈووکیٹ صدر ہائیکورٹ بار راولپنڈی ایسے حضرات شریک اجلاس تھے۔ اجلاس ساڑھے گیارہ بجے سے ساڑھے تین بجے تک جاری رہا۔ اجلاس کے اختتام پر مولانا محمد الیاس چنیوٹی بھی تشریف لائے۔ کانفرنس کا مشترکہ اعلامیہ ملاحظہ فرمائیں:
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ملک بھر کی دینی، سیاسی جماعتوں کے سربراہان اور تمام مکاتب فکر کے اکابر علمائے کرام اور مشائخ عظام کا مشترکہ اجتماع ایک بار پھر اس حقیقت کو دہرا رہا ہے کہ مملکت خداداد پاکستان، اللہ اور اس کے رسول مقبول خاتم النبیین ﷺ کے نام پر حاصل کی گئی ہے اور یہ دنیا کی واحد ریاست ہے جو اسلامی نظریہ پر وجود میں آئی ہے۔ لیکن مغربی دنیا اور ان کی این. جی. اوز ایک منظم سازش کے ذریعے سے پاکستان کے اسلامی تشخص کو مجروح کرنے کے درپے ہیں۔
وطن عزیز میں تمام انبیاء کرام علیہم السلام اور بالخصوص آنحضرت ﷺ کی عزت و ناموس کو آئینی و قانونی تحفظ فراہم کیا گیا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے نے اس پر مہر تصدیق ثبت کی۔ لیکن ہر پانچ ، چھ سال کے بعد اس ایمانی ، شرعی اور آئینی قانون میں ترمیم یا تبدیلی کی قرارداد لانے کا اعلان کیا جاتا ہے۔ C-295 کے قانون میں ترمیم یا مقدمہ کے اندراج کے طریقہ کار میں تبدیلی اور سزا میں کمی کے اعلان سے عاشقان رسول ﷺ اور اسلامیان پاکستان کو اضطراب میں مبتلا کر دیا جاتا ہے۔
افسوس کی بات ہے کہ مغرب کو خوش کرنے کے لئے سندھ اسمبلی میں اسلام قبول کرنے کی عمر اٹھارہ سال مقرر کرنے کا قانون منظور کیا گیا اور پھر علماء اور اسلامیان پاکستان کے دباؤ پر قانون واپس کر لیا گیا۔ لیکن سینٹ میں پیپلز پارٹی کے ہی ایک سینیٹر کی جانب سے ایسی مذموم کاوشوں پر یہ اجتماع گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایسے ہتھکنڈوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اعلان کرتا ہے کہ ہر ایسی مذموم سازشوں کا ہر محاذ پر مقابلہ کیا جائے گا۔ یہ اجتماع حکومت سے بھی مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ایسی سازشوں پر نظر رکھے اور ایوان بالا اور ایوان زیریں میں توہین رسالت ﷺ کے قانون میں کوئی تبدیلی نہ لانے کا دو ٹوک اعلان کرے۔
- ۞ ...... امت مسلمہ کا یہ عقیدہ ہے کہ رحمت دو عالم ﷺ اللہ رب العزت کے آخری نبی ہیں۔ مرحوم بھٹو دور میں قومی اسمبلی نے اس بنیادی
عقیدہ کے باغی قادیانیوں کا دین اسلام سے متصادم مؤقف سننے کے بعد انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ سپریم کورٹ اور وفاقی
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
شرعی عدالت سمیت ملک کی تمام عدالتوں نے اپنے فیصلوں میں اس قانون کو مبنی برحق قرار دیا۔ لیکن قادیانی گروہ آئین پاکستان سے انحراف اور عدالتوں کے فیصلوں سے بغاوت کرتے ہوئے خود کو مسلم کہلوانے پر مصر ہے۔
- ...... قادیانیوں نے چناب نگر میں اپنی عدالتیں قائم کر رکھی ہیں۔ اپنے اسٹام پیپر شائع کرتے ہیں۔ گواہوں کے سمن جاری ہوتے
ہیں ۔ ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کی رٹ قائم کی جائے۔ اس گروہ کی آئین شکنی کا نوٹس لیا جائے اور انہیں آئین کا پابند بنایا جائے۔
- ...... حال ہی میں قادیانی ڈاکٹر عبدالسلام کے نام پر قائداعظم یونیورسٹی کے شعبہ فزکس کو منسوب کیا گیا ۔ حالانکہ ڈاکٹر عبدالسلام نے
پاکستان کو لعنتی ملک کہا ہے۔ یہ نمائندہ اجتماع اس اقدام پر شدید اضطراب کا اظہار کرتے ہوئے اس غلط فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کرتا ہے۔
- ...... آئین کی رو سے قادیانی خود کو مسلمان قرار نہیں دے سکتے اور نہ ہی وہ قادیانیت کو اسلام کہہ سکتے ہیں۔ آئین میں ان پر واضح
پابندیاں ہیں۔ لیکن قادیانی چینلز پاکستان کے آئین کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ وزارت اطلاعات اور پیمرا قادیانی چینلز کی اسلام مخالف مہم اور آئین کی بغاوت کا نوٹس لے اور ان نشریات پر پابندی عائد کرے۔
- ...... پاکستان کے سابق وزیراعظم مرحوم ذوالفقار علی بھٹو نے ملک بھر کے تمام تعلیمی اداروں کو قومی تحویل میں لیا۔ لیکن قادیانی تعلیمی
اداروں کو واپس کرنے کے اقدامات کی خبریں گاہے بگاہے سنی جارہی ہیں۔ حکومتوں نے اربوں روپے ان اداروں پر خرچ کئے اور ان اداروں میں پچانوے (95) فیصد عملہ اور زیر تعلیم طلباء مسلمان ہیں۔ قادیانیوں کو تعلیمی ادارے واپس کرنا گویا نوجوان نسل کو قادیانیوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے مترادف ہوگا۔ حکومت ایسا کوئی غلط قدم اٹھانے سے باز رہے۔
- ...... اس سال ۱۲ ربیع الاوّل ، مطابق ۱۲ / دسمبر ۲۰۱۶ء کو دوالمیال ضلع چکوال میں میلادالنبی ﷺ کے جلوس پر قادیانیوں نے فائرنگ
کی جس کے نتیجے میں ایک مسلمان شہید اور کئی مسلمان زخمی ہوئے۔ لیکن قادیانیوں کو قانون شکنی پر سزا دینے کی بجائے مسلمانوں پر جھوٹے مقدمات درج کر کے انہیں پابند سلاسل کر دیا گیا اور مختلف ذرائع سے اب دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ مسلمان قادیانیوں کے خلاف درج کرائے گئے مقدمات واپس لیں۔
- ...... یہ اجتماع پاکستان اسلامی تشخص اور قومی خود مختاری کے خلاف بڑھتے ہوئے مسلسل عالمی دباؤ اور بین الاقوامی اداروں کی یلغار پر
تشویش و اضطراب کا اظہار کرتا ہے اور دینی حلقوں کو توجہ دلانا چاہتا ہے کہ پاکستان کی اسلامی شناخت اور قومی خود مختاری کے معاملات کو سیاستدانوں اور اسٹیبلشمنٹ کے رحم و کرم پر چھوڑنے کی بجائے دینی قوتوں کو خود کردار ادا کرنا ہوگا۔
- ...... یہ اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ:
- ۱...... 295-C کے قانون کے خلاف سرگرمیوں کا نوٹس لیا جائے اور اس قانون کے بہر حال تحفظ کا دو ٹوک اعلان کیا جائے۔
- ۲...... ادارہ فزکس کا ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے نام پر رکھنے کا فیصلہ واپس لیا جائے۔
- ۳...... چناب نگر میں ”ریاست در ریاست“ کا ماحول ختم کیا جائے۔ حکومت کی دستوری اور قانونی رٹ بحال کرنے کے ٹھوس اقدامات
کئے جائیں اور متوازی عدالتیں ختم کر کے ملک کے قانونی نظام کی بالادستی بحال کی جائے۔
- ۴...... قادیانی چینلز کی نشریات کا نوٹس لیا جائے اور ملک کے دستور اور قانون کے تقاضوں کے منافی نشریات پر پابندی لگائی جائے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۵...... قادیانی تعلیمی ادارے، انہیں واپس کرنے کی پالیسی عوامی جذبات اور ملک کی نظریاتی اساس کے منافی ہے۔ حکومت اس طرز عمل پر نظر ثانی کرے اور قوم کو اعتماد میں لے۔
- ۶...... دوالمیال چکوال میں قادیانیوں کی فائرنگ سے شہید اور زخمی ہونے والے مظلوموں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ علاقہ کے مسلمانوں کے مطالبات کو فوری طور پر پورا کیا جائے۔ شہید کے بارے میں ایف. آئی. آر (F.I.R) درج کی جائے، بے گناہ مسلمانوں کو رہا کیا جائے اور مسلمانوں کے خلاف جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے والے حکام کے خلاف کارروائی کی جائے۔
یہ اجتماع حکومت پر واضح کر دینا چاہتا ہے کہ یہ مطالبات رسمی اور وقتی نہیں ہیں۔ پوری قوم کے جذبات کے آئینہ دار ہیں۔ انہیں جلد از جلد منظور کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اس لئے اگر ایک ماہ تک یہ مطالبات منظور نہ کئے گئے اور حکومت کے طرز عمل میں واضح تبدیلی دکھائی نہ دی تو آل پارٹیز ناموس رسالت کانفرنس کی طرف سے ملک گیر تحریک کا آغاز کیا جائے گا جس کے انتظامات کے لئے درج ذیل رہنماؤں پر مشتمل رابطہ کمیٹی کا اعلان کیا جا رہا ہے۔
مولانا فضل الرحمن مدظلہ محترم جناب سراج الحق صاحب محترم جناب راجہ ظفر الحق صاحب محترم جناب پروفیسر ساجد میر صاحب مولانا سمیع الحق صاحب محترم جناب ساجد علی نقوی صاحب صاحبزادہ ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر مولانا قاری محمد حنیف جالندھری محترم جناب اعجاز الحق صاحب خواجہ پیر معین الدین کوریجہ محترم جناب پرویز الٰہی صاحب محترم حافظ عاکف سعید صاحب جناب پیر اعجاز ہاشمی صاحب مولانا زاہد الراشدی صاحب سید کفیل احمد شاہ بخاری صاحب مولانا اللہ وسایا
اختتامی خطاب ودعاء ڈاکٹر مولانا عبدالرزاق اسکندر امیر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت وصدر وفاق المدارس العربیہ پاکستان نے کرائی۔ صاحبزادہ عزیز احمد نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔
۳؍ فروری کو گجرات کے ضلع بھر کے علماء کرام کا اجلاس ہوا۔ رئیس المحدثین مولانا سلیم اللہ خان، مولانا عبدالحفیظ مکی پر تعزیتی ریفرنس ہوا۔ آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس کے فیصلوں کو ضلع بھر میں اجاگر کرنے کا اعلان ہوا۔
۴؍ فروری کو دفتر جماعت اسلامی ملتان میں آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس ہوئی۔ جس میں آنے والے جمعہ کو یوم احتجاج منانے کا اعلان ہوا۔
۵؍ فروری کو شیخوپورہ میں ضلع بھر کے علماء کا اجلاس ہوا۔ غرض آنے والے دنوں میں ملک بھر میں اس عنوان پر نئے جوش وخروش سے کام کو آگے بڑھانے کا سلسلہ شروع ہورہا ہے۔ مولانا زاہد الراشدی کے حکم پر فقیر راقم نے یہ رپورٹ مرتب کی۔ مشورے کا آغاز بھی انہی سے ہوا۔ مضمون کی تکمیل بھی انہی کے حکم پر۔ فالحمد للہ!
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۷ء ص ۳ تا ۹)
مولانا فضل الرحمن کی سربراہی میں ’’آل پارٹیز تحریک تحفظ ناموس رسالت‘‘ بحال
الحمد للہ وحدہ والصلوۃ والسلام علیٰ من لا نبی بعدہ. اما بعد!
۱۰؍ مارچ ۲۰۱۷ء بعد از مغرب اسلام آباد میں قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمن صاحب کے مکان پر آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کانفرنس اسلام آباد کی قائم کردہ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ کمیٹی کے سربراہ اور اجلاس کے داعی مولانا فضل الرحمن صاحب نے صدارت فرمائی ۔ جناب راجہ ظفر الحق صاحب، جناب ساجد علی نقوی صاحب، جناب سراج الحق صاحب، جناب ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر صاحب، مولانا صاحبزادہ عزیز احمد صاحب، جناب حافظ محمد عاکف سعید صاحب، جناب مولانا عبدالغفور حیدری صاحب، مولانا عزیز الرحمن ثانی صاحب، جناب سید محمد کفیل بخاری صاحب، جناب مولانا ظہور الحق علوی صاحب اور دوسرے حضرات نے شرکت فرمائی ۔صدر اجلاس مولانا فضل الرحمن صاحب کے حکم پر جناب سید محمد کفیل بخاری نے تلاوت کا اعزاز حاصل کیا۔ صدر اجلاس نے فقیر راقم (اللہ وسایا) سے حکم فرمایا کہ یکم فروری ۲۰۱۷ء آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس سے اس وقت تک کی کارگزاری عرض کریں ۔ چنانچہ اجلاس کو بتایا گیا کہ اسلام آباد کے اجلاس کے بعد ۳؍فروری سے ملک بھر میں آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس کا ضلعی سطح پر انعقاد شروع کر دیا گیا تھا۔
چنانچہ یکم فروری تا ۱۹؍فروری یومیہ سیالکوٹ شہر کے مختلف حصوں میں تحفظ ناموس رسالت کانفرنسیں منعقد ہوئیں: ۳؍فروری: گجرات آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس ۴؍فروری: ملتان // // // // ۵؍فروری: شیخوپورہ // // // // ۶ / ۷؍فروری: لاہور، قصور، شیخوپورہ۔ ۸؍فروری: اجلاس ملی یکجہتی کونسل لاہور۔ ۹؍فروری: حیدر آباد، خانیوال، اجلاس آل پارٹیز اسلام آباد، داعی مولانا سمیع الحق صاحب ۱۰، ۱۱؍فروری: سرگودھا، بلاک نمبر ۱، جامع مسجد مارکیٹ، مسجد علی المرتضیٰ، تین پروگرام۔ ۱۲؍فروری: ٹوبہ ٹیک سنگھ، لاہور۔ ۱۴؍فروری: علماء کنونشن کراچی دفتر ختم نبوت، اجلاس عام مسجد ناظم آباد۔ ۱۶؍فروری: سنجر چانگ۔ سندھ ۱۷؍فروری: حیدر آباد۔ ۱۸؍فروری: نواب شاہ۔ ۱۹؍فروری: محراب پور، لودھراں ۲۰؍فروری: گمبٹ، ضلع خیر پور ۲۱؍فروری: سکھر۔ ۲۲؍فروری: کوئٹہ۔ ۲۴؍فروری: سیالکوٹ، دینہ۔ ۲۵؍فروری: کرک خیبر پختونخواہ ۲۶؍فروری: سرائے نورنگ۔ ۲۷؍فروری: بنوں۔ یکم؍مارچ: چناب نگر۔ ۲؍مارچ: پھالیہ۔ ۴؍مارچ: لیہ۔ ۵؍مارچ: احمد پور سیال (ضلع جھنگ) ۹؍مارچ: اجلاس ملی یکجہتی کونسل اسلام آباد ۱۰؍مارچ: جمعہ پر ٹیکسلا اور اس وقت یہ اجلاس منعقد ہو رہا ہے۔ متذکرہ شہروں کے علاوہ بعض مقامات پر جیسے لاہور میں جناب مولانا ابتسام الٰہی ظہیر کی قیادت میں تحفظ ناموس رسالت کے عنوان پر بھر پور وقیع مظاہرہ کیا گیا۔ کراچی میں آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس پریس کلب میں منعقد کی گئی۔ جس کی صدارت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت و وفاق المدارس کے صدر محترم مولانا ڈاکٹر
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عبدالرزاق اسکندر مدظلہ نے کی۔ اسی طرح دیگر بھی بہت سارے اضلاع کے ہیڈ کوارٹر پر کم و بیش پینتیس سے چالیس تک یہ کانفرنسیں منعقد کی گئیں۔ جن کے بہت اچھے اثرات مرتب ہوئے۔
ان کانفرنسوں کے علاوہ ہزاروں فلیکس اور لاکھوں پمفلٹ تنصیب و تقسیم کئے گئے۔ یہ کام پوری امت اور تمام مکاتب فکر کی تائید سے مجلس تحفظ ختم نبوت نے سرانجام دیا۔ علاوہ ازیں دیگر جماعتوں نے اجتماعی یا انفرادی طور پر جو کوششیں کیں وہ اس سے علیحدہ ہیں۔ غرض ملک میں جو صورتحال ہے وہ حوصلہ افزا ہے۔ ملک میں بیداری پیدا ہوئی ہے۔ خصوصاً رحمت عالم ﷺ کی عزت و ناموس کے حوالہ سے جناب جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے کیس کی سماعت کے دوران میں جو ریمارکس یا خصوصی احکامات جاری ہوئے اس حوالہ سے پورے ملک میں فرحت و انبساط کا ایک ماحول بن گیا ہے۔ اہانت رسول کرنے والے بلاگرز انٹرنیٹ یا سوشل میڈیا پر وہ ملعون جو اہانت کر رہے تھے۔ اب وہ منہ چھپاتے پھر رہے ہیں۔ حکومت، محکمہ اطلاعات، محکمہ داخلہ اور پی ٹی اے متحرک ہیں۔ اس ماحول کے بنانے میں جہاں تحفظ ناموس آل پارٹیز کانفرنسوں نے کردار ادا کیا۔ وہاں جناب صدیقی صاحب کی صدائے حق نے ماحول کو ایک نورانی ایمان پرور اسٹیج پر لاکھڑا کیا۔
ان کانفرنسوں سے قبل حکومتی سطح پر تحفظ ناموس رسالت، تحفظ ختم نبوت سے بے اعتنائی اور قادیانیوں کی سرکاری طور پر پرورش کے بارے میں پورے ملک میں ایک ہیجان کا ماحول تھا۔ وہ ماحول تحلیل ہوا ہے۔ گھٹن و ہراس چھٹی ہے۔ اس کے بعد صدر اجلاس مولانا فضل الرحمن صاحب نے اجلاس کو بتایا کہ جناب اسحٰق ڈار، جناب صادق ایاز سپیکر اور اس اجلاس میں موجود راجہ ظفر الحق صاحب سے تحفظ ناموس رسالت اے ۔ پی ۔ سی کے مطالبات پر میری تفصیلی ملاقاتیں ہوئی ہیں اور پچھلے چند روز قبل میری جناب میاں محمد نواز شریف وزیر اعظم سے بھی ان مسائل پر تفصیل سے گفتگو ہوئی۔ دوالمیال کیس، قادیانیوں کو تعلیمی ادارے واپس نہ کرنے، ایسے مسائل پر تو وہ متفق ہیں۔ تحفظ ناموس رسالت قانون میں بھی کسی قسم کی ترمیم نہ کرنے کی یقین دہانی کراتے ہیں۔ لیکن فزکس کے ادارہ کا نام قادیانی عبدالسلام کے نام پر رکھنے کی وہ تاویل یا عذر و بہانہ اور نظر انداز کرنے کا کہتے ہیں۔
اجلاس میں بالاتفاق طے پایا کہ مولانا فضل الرحمن صاحب ، جناب راجہ ظفر الحق صاحب، جناب سراج الحق صاحب، جناب پروفیسر ساجد میر صاحب، جناب ساجد علی نقوی اور جناب ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر پر مشتمل ایک وفد وزیر اعظم سے ملاقات کرے اور تمام مطالبات پر ان کو قائل کرے۔
اسی طرح فیصلہ ہوا کہ جمعیۃ علماء اسلام کے صد سالہ عالمی اجتماع کے بعد ملک کے اہم شہروں میں ملکی لیول کی تحفظ ناموس رسالت کانفرنسیں منعقد کی جائیں۔ جس میں تمام مکاتب فکر کی مرکزی قیادت شرکت کرے۔ اس کے لئے ۲۰۱۰ء میں بننے والے مشترکہ پلیٹ فارم ”آل پارٹیز تحریک تحفظ ناموس رسالت“ کو مولانا فضل الرحمن صاحب کی سربراہی میں بحال کر دیا گیا۔
قائد محترم مولانا فضل الرحمن صاحب نے پریس والوں کو خطاب کیا اور ان فیصلوں کا اعلان فرمایا۔ تمام شرکاء اجلاس کو مولانا فضل الرحمن صاحب نے جمعیۃ علماء اسلام کے تاسیسی صد سالہ عالمی اجتماع میں شرکت کی دعوت دی اور شرکاء اجلاس کے اعزاز میں پر تکلف ضیافت کا بھی اہتمام فرمایا۔ یوں یہ اجلاس رات گئے اختتام پذیر ہوا۔ حق تعالیٰ ان فیصلوں پر عمل درآمد کی توفیق رفیق فرمائیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۷ء ص ۳ تا ۵)
قادیانیت نوازی قبول نہیں (گوجرانوالہ)
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلعی امیر مولانا محمد اشرف مجددی اور مرکزی مبلغ مولانا محمد عارف شامی نے ایک مشترکہ اجلاس سے
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آنجہانی ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کی ملک و اسلام دشمنی کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔ اگر غداروں کے ناموں پر اداروں کے نام رکھنے ہیں تو پھر میر جعفر، میر صادق، جنرل (ر) یحییٰ خان اور شیخ مجیب الرحمن کے ناموں پر بھی اداروں کو منسوب کر دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سازش کے تحت قادیانیوں کو تعلیمی ادارے واپس کر کے مسلمان طلباء کی گمراہی کا راستہ کھولا جا رہا ہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۱۷ء ص ۵۵)
سوشل میڈیا پر مقدس شخصیات کی گستاخی پر اسلام آباد ہائی کورٹ کا انتباہ
روس کی شکست کے بعد جب سے امریکا واحد سپر طاقت بنا ہے، اس وقت سے اس نے اسلام، مسلمانوں اور اسلام کی مقدس ترین شخصیات کو نشانہ پر رکھا ہوا ہے۔ ایک طرف وہ، اس کے حواری اور ایجنٹ افغانستان، عراق، شام، برما، فلسطین اور کشمیر میں نہتے مسلمانوں کو قتل و غارت اور ظلم و ستم کی بھٹی میں بھسم کر رہے ہیں تو دوسری طرف انہوں نے پہلے مغربی ممالک کے گستاخوں سے مقدس ترین شخصیات کے گھناؤنے اور گستاخانہ خاکے بنوائے، قرآن کریم کی بے حرمتی کرائی اور اب اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اندر چند بے ضمیر، بے حیا اور بے غیرت ایجنٹ پیدا کر کے سوشل میڈیا پر ان سے گستاخانہ بلاگز بنوا کر حضور اکرمﷺ، ازواج مطہرات، صحابہ کرام اور قرآن کریم کی شان میں نازیبا کلمات اور گستاخانہ مواد اپ لوڈ کرا کر اس کو پھیلانا شروع کرا دیا۔ عاشقان مصطفیٰﷺ کو جیسے ہی اس نازیبا اور گھناؤنی حرکت کا پتہ چلا، انہوں نے قانون اور عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔
محترم جناب جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اس کیس کو سننا شروع کیا تو ان کی ایمانی حرارت نے جو محسوس کیا اور جو کچھ انہوں نے اس کیس کے متعلق ارشاد فرمایا اس کو پڑھتے ہوئے ہر باغیرت مسلمان ان کی جرأت ایمانی کو سلام عقیدت پیش کرتا ہے۔ اب امتحان حکومت، انتظامیہ اور بیورو کریسی کا ہے کہ آیا وہ ان گستاخوں کو گرفتار کر کے ان کو کیفر کردار تک پہنچا کر اپنا نام حضور اکرمﷺ کی ناموس کے محافظین میں لکھواتے ہیں یا اپنے آقاؤں کی ایجنٹی اور غلامی کر کے اپنا نام دشمنانِ رسول اور گستاخانِ رسول میں لکھواتے ہیں۔ اس کیس کی سماعت کے وقت محترم جناب جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے جو کچھ ارشاد فرمایا، قارئین اس کو ملاحظہ فرمائیں اور اپنے ایمان کو جلا بخشیں:
”اسلام آباد (نمائندہ امت) ہائی کورٹ نے سوشل میڈیا پر مقدس ترین شخصیات کی گستاخی کے کیس کو پاکستان کا سب سے اہم کیس قرار دیتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کو آج ذاتی طور پر پیش ہونے کا حکم دے دیا اور سوشل میڈیا پر گستاخانہ مہم چلانے والوں کے خلاف کارروائی کے لئے عدالتی فیصلے پر عملدرآمد نہ کئے جانے پر عدالت نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کیس کی سماعت کے دوران کئی بار آبدیدہ ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ جس دن سے یہ پٹیشن میرے سامنے آئی ہے، خدا کی قسم مجھے نیند نہیں آئی۔ ہم آئین و قانون پر عملدرآمد نہ کر کے خود ’ممتاز قادری‘ پیدا کرتے ہیں، ہم خود قوم کو لاقانونیت کی طرف آنے کی دعوت دیتے ہیں، اگر یہ مواد عوام تک چلا گیا تو وہ حشر کریں گے کہ جس کا ہم تصور نہیں کر سکتے۔ رب کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ اگر اپنے آقاﷺ، ازواج مطہراتؓ، اصحاب رسولﷺ اور قرآن کریم کی عزت و حرمت کے تحفظ کے لئے مجھے اپنے عہدے کی قربانی بھی دینا پڑی تو دے دوں گا مگر اس کیس کو ہر صورت منطقی انجام تک پہنچاؤں گا۔ جسٹس شوکت عزیز نے کہا کہ اس کیس کا مدعی پورا پاکستان ہے، اگر آقاﷺ کی عزت و ناموس کے لئے سوشل میڈیا کو بھی بند کرنا پڑا تو اللہ کی قسم حکم جاری کر دوں گا، جن لوگوں نے گستاخی کی اور جو لوگ تماشہ دیکھتے رہے، ان سب کے خلاف کارروائی ہو گی۔ منگل کے روز پٹیشنر سلمان شاہد ایڈووکیٹ کی جانب سے طارق اسد ایڈووکیٹ عدالت
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا میں پیش ہوئے۔ سماعت کا آغاز ہوا تو وفاقی سیکرٹری داخلہ ، وفاقی سیکرٹری آئی ٹی اور ڈی جی ایف آئی اے کے عدالت میں پیش نہ ہونے پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ اور سب سے اہم کیس یہ ہے۔ عدالت نے چیئرمین پی ٹی اے ڈاکٹر اسماعیل شاہ سے استفسار کیا کہ : ”کیا عدالت کے ۲۷؍فروری کے فیصلے پر عملدرآمد کیا گیا ۔‘‘ اس پر چیئرمین پی ٹی اے نے عدالت کو بتایا کہ تمام گستاخانہ پیجز بلاک کر دیئے گئے ہیں ، تاہم درخواست گزار کے وکیل طارق اسد ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ سوشل میڈیا میں اب بھی تمام گستاخانہ پیجز چل رہے ہیں ، اس پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئین وقانون پر عملدرآمد نہ کر کے ہم خود ممتاز قادری کو جنم دیتے ہیں۔ ایف آئی اے والو ، پی ٹی اے والو ، وزارت آئی ٹی والو ، وزارت داخلہ والو ، فوج والو بتاؤ آقاﷺ سے کس طرح شفاعت مانگو گے ، اتنی گستاخی کے بعد ہم ابھی تک زندہ کیوں ہیں ، یہ مسئلہ ہمارے ایمان کا مسئلہ ہے ، اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ اگر اپنے آقاﷺ ، ازواج مطہراتؓ ، اصحاب رسول ﷺ اور قرآن کریم کی عزت وحرمت کے تحفظ کے لئے مجھے اپنے عہدے کی بھی قربانی دینا پڑی تو دے دوں گا ، مگر اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچاؤں گا ، اس کیس کا مدعی کوئی ایک شخص نہیں ، پورا پاکستان ہے ، آقاﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لئے اگر سوشل میڈیا بھی بند کرنا پڑا تو اللہ کی قسم ! حکم جاری کردوں گا۔ ویلنٹائن ڈے منانے والوں کو آقاﷺ کی یہ گستاخی کیوں نظر نہیں آ رہی ، جب کوئی گستاخ مارا جائے تو پھر کچھ لوگ موم بتی لے کر کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ فاضل جج نے کہا کہ اگر پی ٹی اے سوشل میڈیا میں گستاخانہ مواد کو نہیں روک سکتا تو پی ٹی اے کو ہی ختم کر دیا جائے ، یہ عدالت سوشل میڈیا پر کائنات کی مقدس ترین شخصیات کی گستاخی کے خلاف آپریشن ردالشیطان شروع کر رہی ہے ، جنہوں نے گستاخی کی اور جو لوگ اس کا تماشہ دیکھتے رہے ان سب کے خلاف کارروائی ہوگی ۔ اس معاملے میں بیوروکریسی پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے عدالتی حکم میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کو آج (بدھ) کو عدالت میں ذاتی طور پر پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ”یہ معاملہ انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے ، بہت دکھ کی بات ہے کہ اتنے سنجیدہ مسئلے پر ریاستی مشینری غیر فعال رہے ، تکلیف دہ بات ہے کہ وفاقی سیکرٹری داخلہ اتنے سنجیدہ مسئلے پر بھی آج عدالت میں پیش نہ ہوئے اور انہوں نے اپنی دفتری کارروائی کو ترجیح دی ۔“ عدالت نے اس بات کو محسوس کیا ہے کہ اگر کائنات کی مقدس ترین شخصیات کی گستاخی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جاتی تو سوشل میڈیا میں آقاﷺ ، ازواج مطہرات ، اصحاب رسول ، قرآن کریم اور اللہ کی گستاخی نہ ہوتی ۔ معاملے کی نزاکت کا ادراک کرتے ہوئے فوری طور پر اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے ورنہ ملک میں امن عامہ کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔ آئی جی اسلام آباد نے کہا ہے کہ اگر عدالت احکامات صادر کرے تو پولیس گستاخوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کے لئے تیار ہے ۔ عدالت نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کل ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہو کر بتائیں کہ وفاقی وزارت داخلہ نے سوشل میڈیا میں گستاخانہ مواد کو روکنے اور گستاخی کے مرتکب افراد کے خلاف کارروائی کے لئے کیا حکمت عملی وضع کی ہے ۔ دوران سماعت جسٹس شوکت عزیز صدیقی کئی دفعہ آبدیدہ ہوئے ، عدالتی حکم تحریر کرواتے وقت وہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور رو پڑے ، جس کی وجہ سے مکمل عدالتی فیصلہ تحریر نہ کروا سکے ۔ سماعت کے موقع پر کمرہ عدالت وکلا سے بھرا ہوا تھا ۔ دریں اثنا اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک دوسرے جج نے گستاخ بلاگرز کے خلاف تمام درخواستیں یکجا کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے سلمان حیدر سمیت ۵ بلاگرز کے خلاف مقدمہ درج نہ کرنے پر دائر درخواست چیف جسٹس ہائی کورٹ کو واپس بھجوا دی ۔ عدالت نے کہا کہ کیس سے متعلق دیگر درخواستیں بھی زیر سماعت ہیں ، تمام درخواستوں کو
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
یکجا کیا جائے۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے استدعا کی کہ ۱۵ جنوری کو ایف آئی آر کے لئے پولیس کو درخواست دی تھی، جس پر تا حال عمل درآمد نہیں ہوا۔ عدالت وفاقی سیکرٹری کو آئی جی اور ایس ایچ او کے خلاف کارروائی کا حکم دے۔‘‘
(روزنامہ امت کراچی، ۸ / مارچ ۲۰۱۷ء)
روزنامہ امت کراچی کے مدیر کے بقول : ’’دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کی وزارت داخلہ، محکمہ انفارمیشن ٹیکنالوجی، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) ایف آئی اے، محکمہ پولیس اور دیگر ادارے کب اور کس حد تک فعال ہو کر ان دہشت گردوں کا خاتمہ کرتے ہیں جو مسلمانوں ہی کی نہیں، غیر مسلموں اور ساری کائنات کی عظیم ترین ہستی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اور ان کے صحابہ کرامؓ کے بارے میں گستاخی کے مرتکب ہو کر خود کو جہنم کا مستحق قرار دینے کے علاوہ مسلم معاشرے میں انتشار اور فتنہ و فساد کے بیج بو رہے ہیں۔ قرآن حکیم میں فتنے کو قتل سے زیادہ سنگین جرم قرار دیا گیا ہے۔ فسادی اور فتنہ پرور عناصر پر لعنت بھیجنے کے ساتھ اہل وطن پر واجب ہے کہ وہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی جرأت ایمانی پر انہیں ہدیہ سلام تبریک پیش کریں جو اس دنیا میں ان کا حق ہے، جب کہ یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ روز محشر نبی اکرم ﷺ کی شفاعت اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام کے مستحق قرار پاچکے ہیں۔‘‘
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۲۳ تا ۳۱ / مارچ ۲۰۱۷ء ص ۵، ۶)
وفد کی آئی جی سندھ سے ملاقات، انجمن سرفروشان اسلام کی سرگرمیاں
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے راہنما مولانا قاضی احسان احمد، رانا محمد انور، مولانا توصیف احمد، جمعیت علماء اسلام سندھ کے نائب امیر قاری محمد عثمان اور مولانا ظاہر شاہ نے آئی جی سندھ اللہ ڈنو خواجہ سے ان کے آفس میں ملاقات کی۔ وفد نے آئی جی سندھ کو انجمن سرفروشان اسلام کی سرگرمیوں سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اس جماعت کے سربراہ ریاض احمد گوہر شاہی اور اس کے مریدوں کو میرپور خاص، جھنگ، ڈیرہ غازی خان، لاہور کی عدالتوں نے عمر قید، سزائے موت، جرمانے کی سزائیں سنائی ہیں، جب کہ جوائنٹ اسٹاک کمپنیز نے بھی ان کی تجدید رجسٹریشن نہیں کی۔ رجسٹریشن ایکٹ ۱۸۶۰ کے تحت انجمن سرفروشان اسلام غیر رجسٹرڈ ہو چکی ہے۔ وفد نے مزید کہا کہ تمام مکاتب فکر کے علماء کرام نے ان کے نظریات کو خلاف اسلام قرار دیا ہے۔ وفد نے تمام ثبوتوں کے ساتھ تحریری درخواست جمع کراتے ہوئے آئی جی سندھ سے مطالبہ کیا کہ انجمن سرفروشان اسلام پر پابندی عائد کی جائے۔ آئی جی سندھ نے فی الفور درخواست پر ایکشن لیتے ہوئے ڈی آئی جی حیدرآباد خادم حسین رند، ڈی پی او جامشورو تنویر عالم اوڈھو کو حکم دیا کہ ان کے خلاف ایکشن لیا جائے۔ آئی جی نے وفد کو تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ عدالتی سزا یافتہ تنظیم کی سرگرمیاں ملکی امن کے لئے ناقابل برداشت ہے، اس کا ہر ممکن سدباب کیا جائے گا۔ وفد نے آئی جی سندھ کا تعاون کرنے پر شکریہ ادا کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۶ تا ۲۲ / مارچ ۲۰۱۷ء ص ۱۷)
ماموں کانجن میں قادیانیت کی ذلت
گورنمنٹ ہائی سکول طارق کالونی ماموں کانجن میں لیبارٹری اسسٹنٹ کی سیٹ خالی تھی۔ چک نمبر ۱۹۲ گ۔ ب مرید والا سمندری فیصل آباد کے طارق محمود قادیانی ٹیچر چک نمبر ۵۰۹ گ۔ب ماموں کانجن کے بیٹے نے باپ کے مرنے کے بعد ۱۷ اے، کے کوٹے میں موجودہ سیٹ کے لئے اپلائی کیا۔ پرنسپل گلزار احمد بھٹی صاحب نے اس کے قادیانی معلوم نہ ہونے کی وجہ سے اوکے کر دیا۔ متعلقہ ہائی سکول کے ایک اور باہمت سینئر ٹیچر بھائی احمد حسن صاحب کو جیسے ہی معلوم ہوا انہوں نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ماموں کانجن کے جنرل سیکرٹری
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مولانا عطاء اللہ نقشبندی اور مبلغ مولانا محمد حبیب سے مشورہ کرتے ہی سکول کے باقی تمام ٹیچرز کو عقیدہ ختم نبوت اور مرزائیت کے حوالہ سے بتلایا سب نے مل کر پرنسپل صاحب سے بات چیت کی کہ آپ نے جس ٹیچر کی درخواست پر سائن کئے ہیں۔ وہ مسلمان نہیں قادیانی ہے۔ جو ہمیں کسی بھی صورت میں اس سکول کے اندر برداشت نہیں۔ اللہ نے فضل فرمایا محترم گلزار احمد بھٹی صاحب نے قادیانی ٹیچر کی درخواست ختم کروا کر ایک مسلمان ٹیچر منتخب کر لیا۔ الحمد للہ! عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ماموں کانجن کے وفد نے محترم پرنسپل، بھائی احمد حسن اور دیگر ٹیچرز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مبارک باد پیش کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۱۷ء ص ۵۵)
کیپٹن محمد صفدر کی قومی اسمبلی میں ناموس رسالت پر تقریر
سوشل میڈیا پر توہین رسالت پر مبنی گستاخانہ مواد اپ لوڈ کرنے پر مارچ ۲۰۱۷ء کو قومی اسمبلی میں ریٹائرڈ کیپٹن محمد صفدر خان نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس پر نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے جو تقریر کی۔ ذیل میں ملاحظہ کیجئے:
جناب ڈپٹی سپیکر ! سر میں چھٹی پر تھا اور بڑا اہم واقعہ اس ملک میں رونما ہوا۔ پچھلے ادوار میں بیرون ملک ہمارے آقا ﷺ کے گستاخانہ خاکے بنے۔ اس میں پورے ہاؤس کے ہر ایک لیڈر نے اپنے تاثرات، اپنے جذبات، اپنے عشق، اپنے عشق کی منزل کو بیان کیا۔ مگر جناب ڈپٹی سپیکر ! ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہمارے سامنے ہے کہ سوشل میڈیا پر ہمارے نبی ﷺ کے متعلق گستاخانہ ریمارکس دیئے جاتے ہیں۔ ایک مکمل کیمپین شروع ہے۔
جناب ڈپٹی سپیکر ! یہ علامہ اقبال کا دو قومی نظریہ عشق مصطفیٰ ﷺ کے اردگرد گھوم رہا ہے۔ یہ نبی ﷺ کا عشق ہے جس کے صلے میں یہ پاکستان ہے۔ یہ نبی ﷺ کا عشق ہے کہ ہم اس پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ میں نے دیکھا کہ کسی بھی طرف سے کوئی بیان نہیں آ رہا۔ میں سلام پیش کرنا چاہتا ہوں جسٹس شوکت عزیز صدیقی صاحب کو۔ ان کے ریمارکس میں نے پڑھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی کوئی عزت، عزت نہیں ہے اگر اس کا تعلق عشق مصطفیٰ ﷺ سے نہ ہو۔ (ممبران اسمبلی کی داد، ڈیسک بجا کر)
اگر اس طرح کے جج صاحبان ہماری عدالتوں میں بیٹھے ہوں تو ہماری اس ریاست کو نہ اندرونی طور پر کوئی خطرہ ہے، نہ بیرونی طور پر۔ (ممبران اسمبلی کی داد)
میں صرف آج ہماری منسٹر صاحبہ یہاں تشریف فرما تھیں۔ ان کی موجودگی میں، میں یہ چاہتا ہوں کہ پی ٹی اے والے، جناب چیئرمین جو ہمارا پی ٹی اے کا ہے۔ وہ بات کرے کہ کیا سوشل میڈیا پر کوئی پابندی لگائی؟ یا عدالتوں کی طرف سے کوئی آرڈر آئے گا، تو تب کریں گے۔ ہم اس ہاؤس میں اس لئے بیٹھے ہیں کہ ہم سب سے پہلے اپنے دین، نظریہ، ختم نبوت کے تحفظ کے لئے جانیں قربان کریں۔ (ممبران اسمبلی کی داد)
وہ مائیں زندہ ہیں جو ایسے بچے پیدا کرتی ہیں جو اپنے آقا ﷺ کی شان بڑھانے کے لئے تختہ دار چومتے ہیں۔ ان میں بانجھ پن نہیں آیا۔ وہ (بچے) پیدا کر رہی ہیں۔ کیوں مجبور کیا جا رہا ہے عالم اسلام کے مسلمانوں کو کہ وہ باہر آئیں۔ کیا کوئی قانون ہے؟ یہ سائبر کرائم بل ہم نے بنایا تھا۔ اس لئے بنایا تھا؟ اس کو میں امپلی منٹ (Implement) ہوتا نہیں دیکھ رہا ہوں۔
جناب ڈپٹی سپیکر ! میں اس جج کو سلام اس لئے پیش کر رہا ہوں کہ اس کو یہ خبر ہو کہ اس نے جو اپنی نوکری یہ سب چیزیں قربان کیں کس لئے کیں؟ یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔ اس کے ۱۹۷۳ء کے آئین میں لکھا گیا کہ کوئی قانون اسلام کے متصادم نہیں ہوگا۔ جو قانون
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بنے گا۔ وہ اس ملک کی سلامتی کے لئے ہوگا۔ اگر آج ہم ایٹمی پاکستان ہیں، آج ہم کاشغر سے گوادر جا رہے ہیں، آج بڑے بڑے ڈیمز بنائے جا رہے ہیں، آج جتنی ترقی بھی ہو رہی ہے، اس کا محور صرف اور صرف ایک چیز ہے: ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ (سامعین کی داد) آج ہم نظام مصطفیٰ کی بات کرتے ہیں۔ سود سے نجات کی بات کرتے ہیں۔ ہمارے سوشل میڈیا کے اوپر وہ کون لعنتی لوگ ہیں۔ جن کی دنیا و آخرت ذلت میں گزرے گی۔ وہ آقا ﷺ کی شان میں گستاخی کرتے ہیں۔ اس لئے تو کسی نے کہا تھا:
تیرے در سے جو یار پھرتے ہیں وہ در بدر خوار پھرتے ہیں
اس گلی کا گدا ہوں میں جس میں مانگتے تاجدار پھرتے ہیں
آپ ﷺ کی شان میں گستاخی ہو اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کا پارلیمنٹ خاموش ہو۔ میں آج آپ کی غیرت ایمانی کو جھنجوڑنے آیا ہوں۔ میں چھٹی پر تھا۔ میں سفر کر کے پہنچا کہ آؤ! ایک میسج ان کو دیں جس طرح گولڑہ کے پیر مہر علی شاہ گولڑوی کو کہا گیا تھا کہ واپس جاؤ۔ ختم نبوت کے تحفظ کا وقت آ گیا ہے۔
اٹھو! ایک ایک لاکھ ووٹ لینے والو اٹھو! آج آقا ﷺ کی شان آپ سے ڈیمانڈ کر رہی ہے۔ آج بھی امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے کہے ہوئے وہ الفاظ گونج رہے ہیں کہ: ”میں دیکھ رہا ہوں وہاں سامنے مجھے نبی ﷺ کی بیٹی آواز دے رہی ہے۔ کوئی ہے جو میرے بابا ﷺ کی عظمت پر کٹ مرے۔ پھر ایک ترکھانوں کا بیٹا اٹھا تھا۔ وہ کٹا تھا۔“
جناب اسپیکر ! ہمیں کٹنے پر کیوں مجبور کیا جا رہا ہے۔ اس ملک میں قانون ہے۔ اس کی سزا کیوں نہیں دی جا رہی ہے۔ ہماری منسٹری کہاں سو گئی ہے۔ پی ٹی اے کا چیئرمین اس پر ایکشن کیوں نہیں لیتا۔ کیوں نہیں سوشل میڈیا کو بند کرتے۔ کیا آپ چاہتے ہیں کہ اس ملک کے اندر ایک ہنگامہ آرائی شروع ہو۔ اس ملک کے اندر اور مساجد کے باہر جلوس نکلیں۔ اس ملک کے اندر لوگ ایک دوسرے کا گریبان پکڑیں۔ تو پھر ہمارے یہاں بیٹھنے کا کیا فائدہ؟ جناب اسپیکر ! اس پر آج بات واضح کریں۔ ورنہ یہ ملک انارکی کی طرف جا رہا ہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۷ء ص ۲۷، ۲۸)
سوشل میڈیا گستاخی کیس، تحقیقاتی ٹیم میں قادیانی افسر؟
سوشل میڈیا میں کائنات کی مقدس ترین شخصیات کی بدترین گستاخی کے خلاف کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے بار بار احکامات کے باوجود تحقیقاتی ٹیم میں قادیانی افسر کو شامل کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ تحقیقاتی عمل میں ایک سینئر قادیانی افسر کے شریک ہونے کی وجہ سے ایف آئی اے، سوشل میڈیا پر کائنات کی مقدس ترین شخصیات کی گستاخی میں ملوث ملزمان کی نشاندہی کرنے میں ناکام رہی۔ وفاقی سیکرٹری داخلہ نے عدالت کو یقین دہانی کروائی تھی کہ عدالتی حکم کی تعمیل ہوگی اور کوئی بھی ایسا شخص تحقیقاتی ٹیم کا حصہ نہیں بنے گا جو آئین پاکستان کی رو سے غیر مسلم ہو۔ لیکن باوثوق ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ وفاقی حکومت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ایف آئی اے کی تحقیقاتی ٹیم میں ایک ایسے اعلیٰ افسر کو بھی شامل کیا جو قادیانی ہے۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ۱۷؍ مارچ ۲۰۱۷ء کو کیس کی سماعت کرتے ہوئے ایف آئی اے کی تحقیقات پر مکمل طور پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے شدید برہمی کا بھی اظہار کیا تھا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۷ء ص ۲۴)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
چترال نبوت کا جھوٹا دعویدار گرفتار
چترال (جہانگیر جگر ، نمائندہ جنگ) ضلع چترال کی شاہی جامع مسجد میں منبر پر کھڑے ہو کر ایک شخص کی جانب سے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے پر ہنگامہ کھڑا ہو گیا اور لوگوں نے اس کو قابو کر کے مارنے کی کوشش کی تاہم خطیب مسجد نے صورتحال کی سنگینی سمجھتے ہوئے اسے پولیس کے حوالے کر دیا جس پر ہزاروں افراد نے تھانے پر دھاوا بولتے ہوئے گیٹ توڑ کر اندر جانے کی کوشش کی اور زبردست توڑ پھوڑ اور پتھراؤ کیا۔ پولیس نے مظاہرین کو کنٹرول کرنے کے لئے لاٹھی چارج کیا اور شیلنگ کی جس کے نتیجے میں تین افراد زخمی ہو گئے۔ مظاہرین نے ملزم کی حوالگی کے لئے مزاحمت کی ۔ حالات خراب ہونے اور ہاتھ سے نکلنے پر پولیس کی مدد کے لئے فوج اور اسکاؤٹس کے اہلکار بھی پہنچ گئے اور علاقے کا محاصرہ کرتے ہوئے کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ آخری اطلاعات آنے تک حالات کشیدہ تھے اور رات گئے تک سینکڑوں مظاہرین تھانے کے باہر کھڑے تھے جب کہ چترال کے جنوبی علاقوں سے مذکورہ واقعہ کے خلاف سینکڑوں لوگوں کا ہجوم ، گاڑیوں سے آنے کی کوشش کر رہا ہے جن کو راستے ہی میں روک لیا گیا جس کی وجہ سے گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں۔ جمعہ کو شاہی مسجد میں محمد رشید ولد محمد دین سکنہ ریچ تورکہو نامی شخص نے نعوذ باللہ نبوت کا جھوٹا دعویٰ کر دیا ، جس پر مسجد میں موجود لوگ کھڑے ہو گئے اور اس پر حملہ آور ہوئے تاہم خطیب جامع مسجد مولانا خلیق الزمان نے رشید کو پاگل قرار دے کر پولیس کے حوالے کر دیا ، جس پر مشتعل ہجوم چترال تھانے کے باہر جمع ہو گیا اور تھانے پر پتھراؤ شروع کر دیا اور توڑ پھوڑ کی جس سے تھانے کی عمارت کو نقصان پہنچا ۔ ضلع ناظم حاجی مغفرت شاہ نے لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کی تاہم مشتعل افراد منتشر نہ ہوئے جس پر پولیس نے لاٹھی چارج کے بعد آنسو گیس کی شیلنگ کر دی جس کے نتیجے میں تین افراد زخمی ہوئے ۔ زخمیوں میں حسنین ولد سرفراز سکنہ ریحان کوٹ ، احسان سکنہ مغلاندہ شامل ہیں جن کو ڈی ایچ کیو ہسپتال چترال میں داخل کر دیا گیا ہے جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی گئی ہے بعد ازاں کمانڈنٹ چترال اسکاؤٹس کرنل نظام الدین شاہ نے مشتعل مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گستاخ رسول کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور اس کو قانون کے مطابق سزا ملے گی ۔ واقعہ سی پیک کے خلاف ایک سازش ہے ، لوگ اپنے جذبات قابو میں رکھیں اور چترال کی پُر امن فضا کو خراب کرنے کی کوشش نہ کریں۔ ادھر چترال کے جنوبی علاقوں سے مذکورہ واقعے کے خلاف لوگ جلوس کی شکل میں آئے تاہم شہر آنے والی گاڑیوں کو روک دیا گیا جن کی تعداد سینکڑوں میں ہے، جس کی وجہ سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔ ادھر ڈپٹی کمشنر چترال شہاب حامد یوسفزئی نے نمائندہ جنگ کو بتایا کہ گستاخ رسول کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے ملزم سے ضروری تفتیش کی جارہی ہے، ملزم کی باتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ شاید اس کا دماغی توازن درست نہیں تاہم تفتیش اور میڈیکل رپورٹ آنے کے بعد معلوم ہوگا کہ ملزم واقعی ذہنی بیمار ہے یا کہ یہ کوئی سازش ہے جس کے پس پردہ دیگر محرکات ہیں۔ ملزم بھی کہتا ہے کہ وہ پچاسواں امام ہے اور کبھی خدا ، دریں اثنا چترال میں عوام بدستور مشتعل ہیں اور ملزم کی حوالگی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ پولیس کے ساتھ ان کی آنکھ مچولی رات گئے تک جاری تھی۔ ڈی سی ذرائع کے مطابق ملزم کو نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے اور فوج کو بھی طلب کر لیا گیا ہے جب کہ اسکاؤٹس اہلکار بھی موجود ہیں۔ تھانہ چترال کے باہر ابھی بھی لوگوں کے ہجوم موجود ہیں ، جن میں علماء بھی شامل ہیں ۔ جے یو آئی کے رہنماء اور سابق ایم این اے مولانا عبد الرحمن نے بھی خطاب کیا ہے۔ مظاہرین میں جماعت اسلامی کے رہنماء بھی شامل ہیں ۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ مذکورہ واقعہ جشن کاکلشت پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۶ تا ۲۲؍ مئی ۲۰۱۷ء ص ۱۲، بحوالہ روزنامہ جنگ ۲۲؍ اپریل ۲۰۱۷ء)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گوجرانوالہ میں قادیانیوں کی غیر قانونی عبادت گاہ
۷ مئی ۲۰۱۷ء کو حافظ ظفر اللہ کی کال مولانا محمد عارف شامی مبلغ گوجرانوالہ کو وصول ہوئی کہ گاؤں منڈیالہ گوجرانوالہ میں قادیانی اپنے مذہب کی کھلے عام تبلیغ کر رہے ہیں اور اس کے ساتھ ہی غیر قانونی طور پر اپنی عبادت گاہ بنا رہے ہیں۔ اس اطلاع کے موصول ہونے کے بعد مولانا محمد عارف شامی نے متعلقہ تھانے میں رابطہ کر کے بتایا کہ قادیانی غیر قانونی عبادت گاہ بنا رہے ہیں۔ اس صورتحال میں علاقہ کے اندر نقص امن کا خطرہ ہے۔ لہٰذا قادیانیوں کی تبلیغ اور غیر قانونی عبادت گاہ کی تعمیر کو رکوایا جائے۔ تاکہ حالات خراب ہونے سے بچ سکیں۔ تھانہ کینٹ کی انتظامیہ نے قادیانیوں کو تعمیر سے روک دیا۔ اگلے دن میں قادیانیوں نے راتوں رات عبادت گاہ کی چھوٹی چھوٹی دیواروں پر ہی گاڈر اور ٹائل ڈال دی۔ اہل علاقہ کو معلوم ہوا تو شور و غل ہوا۔ حالات کشیدہ ہوئے تو مولانا محمد عارف شامی نے مولانا عزیر الرحمٰن ثانی لاہور سے رابطہ کر کے ان کو صورتحال سے آگاہ کیا۔ ان کی ہدایات پر اہل علاقہ کی طرف سے درخواست دی گئی جو پچاس آدمیوں کے دستخطوں بمعہ رابطہ نمبروں سے مزین تھی۔ درخواست پر اگلے روز متعلقہ ایس ایچ او نے فریقین کو مدعو کیا۔ موقف سنا تو فیصلہ سنایا کہ قادیانیوں نے غیر قانونی کام کیا۔ اس لئے اس کو فوراً ختم کر دیں۔ اگلے روز ایس ایچ او نے خود حاضر ہو کر ملازمین کے ذریعے سے قادیانیوں کی اس غیر قانونی تعمیر کو ختم کرایا۔ اس غیر قانونی تعمیر کو ختم کرانے میں اہل علاقہ کے ساتھ ساتھ جناب بابر رضوان باجوہ، سید غلام کبریا شاہ، قاری امجد علی معاویہ، بھائی محمد افضل وڑائچ، عباس علی، ماسٹر ثناء اللہ، مولانا اسحاق، قاری سمیع الحق، مفتی غلام نبی، بھائی اسامہ نصر وڑائچ، رانا ظہیر احمد خاں وغیرہ کا واضح کردار رہا ہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۷ء ص ۲۷)
شاہ پور ضلع سرگودھا میں ختم نبوت چوک
شاہ پور سٹی ضلع سرگودھا میں یونین کونسل شاہ پور کا اجلاس ماجد علی شاہ چیئرمین کی صدارت میں منعقد ہوا۔ جس میں وائس چیئرمین یوسی شاہ پور سٹی حاجی فرید انصاری نے شہر کے مشہور و معروف چوک اڈا ٹم ٹم کا نام تبدیل کر کے ختم نبوت چوک رکھنے کی قرارداد پیش کی۔ ارکان اجلاس نے قرارداد بھاری اکثریت میں پاس کی۔ چیئرمین ماجد علی شاہ نے جلد نوٹیفکیشن جاری کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی۔ اس کاوش میں جناب جعفر علی نے بھر پور کردار ادا کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۷ء ص ۴۸)
لکی مروت میں ختم نبوت چوک
اکابرین عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے حکم پر ملک بھر میں اہم چوکوں کے نام تبدیل کر کے ختم نبوت چوک رکھوائے گئے۔ اسی طرح ضلع لکی مروت کو بھی دوسری بار یہ اعزاز حاصل ہوا کہ انہوں نے اپنے ضلع میں دو اہم چوکوں کا نام ختم نبوت چوک کے نام پر رکھا۔ کچھ ہی عرصہ قبل تحصیل سرائے نورنگ ضلع لکی مروت میں لکی روڈ کے سامنے جی ٹی روڈ پر ایک اہم چوک کو ختم نبوت چوک کا نام دیا گیا تھا۔ اب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لکی مروت کے تمام کارکنان کی مساعی حسنہ سے لکی سٹی میں مچن خیل اڈا کے مشہور و معروف چوک کا نام ختم نبوت چوک رکھا گیا۔ حافظ آصف سلیم ایڈووکیٹ نے منظوری کے لئے قرارداد پیش کی جب کہ جناب الحاج ہدایت اللہ نے اپنے دست مبارک سے ختم نبوت چوک کا نوٹیفکیشن جاری کیا جس کا عکس ذیل میں موجود ہے:
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
OFFICE OF THE TEHSIL NAZIM TEHSIL MUNICIPAL ADMINISTRATION LAKKI MARWAT Ph#: 0969-510445 Email: tntmalakkimarwat@gmail.com No. 196 /TN/TMA/LM Dated 07 / 07 /2017
NOTIFICATION:
Pursuant to the application submitted for decleration of "Khatam-e- Nabowat Chowk" at Michan Khel Adda Lakki City and subsequently put up before Tehsil Council in its meeting held on 21.02.2017 for approval. The Tehsil Council in its meeting held on 21.02.2017 accepted and unanimously approved through resoluation for notify the name of "Khatam-e-Nabowat Chwok" at Michan Khel Adda Lakki City.
Therefore the undersigned is pleased to notify "Khatam-e-Nabowat Chwok" at Michan Khel Adda Lakki City with immediate effect.
(Al-Haj Hidayatullah Khan) Tehsil Nazim, TMA Lakki Marwat
Even No. & Date Copy forwarded to:
- 1. The Commissioner Bannu Division Bannu.
- 2. The Deputy Commissioner, Lakki Marwat.
- 3. The Assistant Commissioner Lakki Marwat.
- 4. The TMO, TMA Lakki Marwat.
- 5. Haji Amir Saleh Khan, District Amir for Alami Majlis Tahafuz-e-Khatam-e-
Nabowat Lakki Marwat.
(Al-Haj Hidayatullah Khan) Tehsil Nazim, TMA Lakki Marwat
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۱۷ء ص ۵۱)
ختم نبوت چوک منظور کالونی کراچی کا نوٹیفکیشن
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت منظور کالونی کراچی کے مخلص احباب کی مسلسل جدوجہد کے نتیجہ میں سرکاری سطح پر ختم نبوت چوک کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔ لاکھوں روپے کی مالیت اور کئی ماہ کی مسلسل محنت کے بعد الحمدللہ! خوبصورت ختم نبوت چوک کی تعمیر مکمل ہوئی۔ ختم نبوت چوک کی افتتاحی تقریب بھی منعقد کی گئی۔ جس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما مولانا قاضی احسان احمد، ڈی سی ایسٹ جناب آصف جان، جناب علی رضا عابدی، جمعیت علماء اسلام کے قاری محمد عثمان، مولانا قاری اللہ داد، مولانا محمد رضوان قاسمی، مولانا عبدالحئی مطمئن نے خطابات کئے۔ قاضی صاحب نے ڈی سی صاحب کا شکریہ بھی ادا کیا۔ تقریب میں حلقہ کی سیاسی، مذہبی اور سرکاری شخصیات نے بھی بھر پور شرکت کی۔ ڈی سی صاحب کے دست مبارک سے افتتاح جب کہ قاری محمد عثمان کی دعاء پر تقریب کا اختتام ہوا۔ ذیل میں نوٹیفکیشن ملاحظہ فرمائیں:
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
OFFICE OF THE DEPUTY COMMISSIONER KARACHI EAST District Council Building, Sir Shah Suleman Road Karachi Tel # 021-99231214-5 No. DC / K / EAST / HVC / L.Br / 660 / 2016 Karachi, dated: 31 / 8 / 2016.
NO OBJECTION CERTIFICATE
After perusal of the application of Malik Shahnawaz, Chairman Union Council No. 2, Manzoor Colony Karachi, as well as the report of Mukhtiarkar Ferozeabad Karachi East, vide letter No. Mukh/F.abad/K/E/338/2016, dated. 19-08-2016, for re-construction, renovation and beautification of Roundabout namely Khatm-e-Nabuwat Chowk situated at junction of main Shaheed-e-Millat Expressway and Allama Iqbal Road from Eidgah Chowk Manzoor Colony towards expressway, there is no objection, and the permission is granted / allowed to Malik Shahnawaz, Chairman Union Council No. 2, Manzoor Colony Karachi for re-construction, renovation and beautification of Khatm-e- Nabuwat Chowk situated at above mentioned point subject to following conditions:-
- 1. No Road Obstruction as well as public nuisance shall be allowed.
- 2. No any commercial advertisement shall be allowed on the said round about.
- 3. No any political and religious, banner / flag etc shall be allowed.
- 4. No extension of said roundabout shall be allowed except its actual existing size as per enclosed site sketch / map
- 5. In case of extension of main road / service road as well as other development work in public interest, it will be removed.
- 6. The applicant will be held responsible for the violation of terms and conditions of NOC.
- 7. Availability of premises with permission (if any) from the land owing agency authority etc.
- 8. This NOC is liable to cancel any time without assigning any reason and prior notice.
ADDL: DEPUTY COMMISSIONER-I 31/8/16 SPECIAL JUDICIAL MAGISTRATE FOR DEPUTY COMMISSIONER KARACHI EAST.
Copy to:-
- 1. The Senior Superintendent of Police Karachi East & South, for information.
- 2. The Senior Superintendent of Police (Traffic) Karachi East for information.
- 3. The Administrator DMC Karachi East.
- 4. The Senior Director Traffic Engineering KMC, Karachi.
- 5. The Assistant Commissioner / Mukhtiarkar Ferozeabad Sub-Division Karachi East.
- 6. The SHO, PS Baloch Colony Karachi East.
- 7. The applicant.
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۷ء ص ۵۲)
دبئی جرمنی جانے والے ۱۲ قادیانی گرفتار
لاہور ایئرپورٹ پر ایف۔آئی۔اے امیگریشن کے عملے نے دبئی کے وزٹ ویزا کی آڑ میں جرمنی جانے کی کوشش کرنے والے ۱۲؍ افراد کے گروپ کو آف لوڈ کرکے گرفتار کرلیا۔ گرفتار افراد سے پوچھ گچھ کی گئی تو پتہ چلا تمام قادیانی ہیں اور پاکستان سے پہلی بار باہر جارہے ہیں۔ الگ الگ پوچھ گچھ کے دوران ایک نوجوان نے تسلیم کرلیا کہ وہ دبئی بھجوائے جارہے ہیں اور وہاں سے انہیں امیر نامی ایجنٹ لیبیا بھجوائے گا۔ جس پر تمام گروپ کی تلاشی لی گئی تو ان کے قبضہ سے لیبیا کے ۱۸ جعلی ویزا سٹیکر برآمد ہوئے۔ ان ویزا سٹیکر کو ان افراد کے پاسپورٹوں پر چسپاں کرکے انہیں دبئی سے لیبیا لے جایا جاتا اور پھر کشتیوں کے ذریعے سمندر پار اٹلی پہنچا کر غیر قانونی طور پر جرمنی پہنچایا جاتا۔ ملزموں نے بتایا انہوں نے جرمنی جانے کے لئے ربوہ کے تین ایجنٹوں بلال، عاطف گجر اور دارالفتوح کے رہائشی نفیس کو ۹، ۹ لاکھ روپے دیئے تھے۔ ۱۲؍ افراد میں ایجنٹ نفیس کا اپنا بیٹا اور بلال ایجنٹ کے دو بھائی بھی شامل ہیں۔ ملزموں کو تھانہ پاسپورٹ سرکل کے حوالے
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کر دیا گیا۔ ڈپٹی ڈائریکٹر پاسپورٹ سرکل چوہدری احمد کی ہدایات پر ملزموں کے خلاف مقدمہ درج کر کے تینوں ایجنٹوں بلال، نفیس اور عاطف گجر کی گرفتاری کے لئے ٹیمیں ربوہ روانہ کر دی گئی ہیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۱۷ء ص ۵۶)
سانحہ دوالمیال کی تازہ ترین رپورٹ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت چکوال کے رہنما مولانا پیر عبدالقدوس نقشبندی، مولانا مفتی محمد معاذ فرماتے ہیں: سانحہ دوالمیال میں ملوث ۴۷ حضرات کی ضمانت پر رہائی عمل میں آچکی ہے۔ باقی حضرات کا کیس سپریم کورٹ میں ۲۰؍ جون ۲۰۱۷ء کو لگ چکا ہے۔ امید ہے کہ ان کی ضمانت بھی ہو جائے گی۔ جہاں تک متنازعہ مسجد کا کیس ہے ملک محمد طارق ایڈووکیٹ اہل اسلام کی طرف سے پیروی کر رہے ہیں۔ ہر تاریخ پر مولانا مفتی محمد معاذ، مولانا پیر عبدالقدوس کی سرکردگی میں سو ڈیڑھ سو مسلمان جوش و خروش کے ساتھ شریک ہوتے ہیں۔ گزشتہ دنوں رہا ہونے والے حضرات حاجی ملک محمود، حاجی محمد اقبال، ملک محمد صابر کے اعزاز میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سرپرست مولانا پیر عبدالقدوس نقشبندی نے ظہرانہ دیا۔ جس میں مقامی مجلس کے رہنماؤں کے علاوہ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خصوصی شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۱۷ء ص ۵۶)
جناب میاں محمد نوازشریف اور جناب میاں محمد شہبازشریف کے نام کھلا خط
السلام علیکم!
- ۱...... عید سے قبل پاراچنار، کوئٹہ، احمد پور شرقیہ میں ایک ہی ہفتہ میں ملک میں موت کا کھیل جاری رہا۔ عید کے بعد ملتان ہیڈ محمد والا اور
ملک بھر میں حوادثات نے اہالیان وطن کو بڑی فیاضی سے لقمہ تر بنایا۔ جس کی تفصیلات پر مشتمل روح فرسا مناظر اخبارات میں پڑھنے اور دیکھنے کو روز مل رہے ہیں۔ لگتا یہ ہے کہ ملک سے برکت اٹھ گئی۔ نحوست و بدامنی نے ڈیرے ڈال دیئے ہیں۔
غالباً حضرت شیخ سعدی نے ایک واقعہ لکھا ہے کہ:
ایک بادشاہ شکار یا سیر و سیاحت کے لئے نکلا۔ پیاس کی شدت نے ستایا تو انار کے باغ میں گیا۔ باغ کے مالک کی بیٹی نگران تھی۔ اس سے انار کا رس مانگا۔ لڑکی جلدی سے اٹھی۔ گلاس لیا۔ ایک انار توڑا، نچوڑا اور رس سے بھرا گلاس لا کر بادشاہ کے حضور پیش کر دیا۔ بادشاہ نے غٹ غٹ اسے پیٹ میں اتارا۔ گرمی کا موسم، دوپہر کا وقت، شدت پیاس اور طبیعت کی طلب و فریاد کے بعد انار کے رس نے فرحت و انبساط کی ایسی پر کشش کیفیت دماغ میں بسائی کہ بادشاہ نے گلاس منہ سے ہٹاتے ہی بچی سے کہا کہ ایک گلاس اور لاؤ۔ بچی نے گلاس لیا اور رس لینے گئی۔ بادشاہ کے دل میں خیال آیا کہ اتنا عمدہ اور وسیع باغ۔ اس کو تو نیشنلائز (قومی تحویل میں) ہونا چاہئے یا یہ کہ کم از کم اس پر سرکاری ٹیکس لگنا چاہئے۔ بچی نے رس لانے میں خاصی دیر لگائی۔ بادشاہ نے رس پیا اور بچی سے پوچھا پہلی دفعہ جلدی میں رس لے کر آئی تھیں۔ اب کے خاصی دیر لگادی۔ ماجرا کیا ہے؟ بچی نے کہا کہ پہلے ایک انار نچوڑا، اتنا رس نکلا کہ گلاس بھر گیا تو جلدی آگئی۔ اب کے بار کئی اناروں سے رس نچوڑا تب گلاس بھرا۔ اس لئے دیر ہوگئی۔ بادشاہ نے فرمایا کہ ایسے کیوں ہوا؟ بچی نے بڑی سادگی سے کہا کہ لگتا ہے کہ ہمارے حکمران کی نیت میں فتور آگیا۔ جس سے اللہ تعالیٰ نے مملکت سے برکت اٹھالی ہے اور نحوست نے مملکت میں پڑاؤ ڈال لیا ہے۔ بادشاہ یہ سن کر سراسیمہ و ششدر رہ گیا کہ میں نے اس باغ کو قومیانے یا ٹیکس لگانے کا ارادہ کیا۔ لیکن بچی کو تو پتہ نہیں کہ میں حکمران ہوں یا یہ
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کہ نیت میں فتور آ گیا ہے۔ اس نے مجرم ضمیر سے بچی کی طرف دیکھا اور کہا کہ ایک گلاس رس کا اور لاؤ۔ بچی گئی۔ بادشاہ نے ارادہ بدلا، اللہ رب العزت کے حضور توبہ کی، استغفار کیا، ندامت کے آنسو ابھی پوری طرح خشک بھی نہ ہو پائے تھے کہ بچی جلدی میں رس کا گلاس لے کر حاضر تھی۔ بادشاہ نے پوچھا کہ بیٹا اب پھر جلدی سے آ گئے۔ بچی نے کہا اب کے بار پھر ایک انار کے رس سے گلاس بھر گیا۔ لگتا ہے بادشاہ کی نیت ٹھیک ہو گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی برکتوں نے پھر بارش کر دی اور فتور کی نحوست نے دم توڑ دیا ہے۔
کیا ملک میں بدامنی اور انسانی زندگیوں کی تباہی کے اس کھیل میں حکمرانوں کی نیتوں کے اتار چڑھاؤ کا تو دخل نہیں۔ متذکرہ واقعہ سے تو یہی نتیجہ نکلتا ہے۔ تو کیا ایک بار آپ ہم سب کو اس پر غور کر کے اصلاح کی فکر نہیں کر لینی چاہئے؟ اللہ تعالیٰ توفیق مرحمت فرمائیں:
- ۲...... پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جو خدا تعالیٰ اور مصطفےٰ ﷺ کے نام پر حاصل کیا گیا۔ اسلام اور قرآن و سنت کی حکمرانی کے
وعدے کئے گئے۔ مگر اب ہماری نیتوں میں یہ بات سما گئی کہ اسے لبرل ملک بنانا ہے۔ گویا ہم نے اسلام کو دیس نکالا دینے کی نیت کر لی ہے۔ اس کے اثرات بد سے پوری قوم بدحالی کا شکار تو نہیں؟ اس پر غور کر لیا جائے تو کیا حرج ہے؟
- ۳...... نیک اولاد اور پاک مال، انسان کی عزت و راحت کا باعث ہوتے ہیں۔ لیکن پانامہ کے اس کیس میں اولاد و مال ہی عزت کو
خاک میں ملانے کا باعث ہو گئے ہیں۔ اگر یہ شامت اعمال کا باعث ہے تو پھر اس کی تلافی بھی صرف اور صرف صاحب واقعہ ہی فرما سکتے ہیں۔
- ۴...... بات بہت تلخ حقیقت ہے۔ لیکن اس کا اظہار کئے بغیر چارہ نہیں کہ پانامہ کیس میں سپریم کورٹ کے حکم پر تشکیل پانے والے
جے آئی ٹی کے سامنے محترمہ مکرمہ جناب مریم نواز صاحبہ کے پیش ہونے پر پوری مسلم لیگ کی قیادت سراپا احتجاج ہے۔ اس پر مثبت و منفی تبصروں کا ایک غوغا ہے۔ کان پڑی نہیں سنائی دے رہی ہے۔ آج ۵؍جولائی ۲۰۱۷ء کے اخبارات میں محترم میاں شہباز شریف کا بیان آیا ہے کہ: ’’مریم نواز کو طلب کرنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں ۔‘‘
سو فیصد اس بیان سے اتفاق ہے۔ اس لئے کہ رحمت عالم ﷺ کے امتی ہونے کے ناتے آپ ﷺ کا اسوۂ حسنہ ہمارے سامنے رہنا چاہئے جو آپ ﷺ نے حاتم طائی کی بیٹی کی آمد کے موقعہ پر فرمایا کہ بیٹی، بیٹی ہوتی ہے، چاہے کافر کی کیوں نہ ہو۔ اپنے مبارک کندھوں، خاتم النبیین ذات اقدس کے حامل کندھوں کی چادر مبارک، وہ چادر جس کے متعلق سید عطاء اللہ شاہ بخاری فرماتے تھے کہ اگر یہ چادر قیامت کے دن جہنم کی طرف پھیر دی جائے تو اس کے صدقے خدا تعالیٰ جہنم کو بھی ٹھنڈا فرما دیں گے۔ اس اعزاز کی حامل چادر مبارک کو حاتم طائی کی بیٹی کے سر پر اوڑھایا گیا۔
کل تک بھلا وقت تھا کہ ہم دوسروں کی بچیوں کو اپنی بچیاں سمجھتے ہیں۔ لیکن میراتھن ریس میں قوم کی بچیوں کو کس نے دوڑایا؟ حکمرانوں نے۔ انکوائری کے لئے محترمہ بے نظیر بھٹو کو چکر لگوائے۔ کس نے؟ حکمرانوں نے۔ لیکن معافی چاہتا ہوں کہ آپ فرما سکتے ہیں کہ ایسا کرنے والے دوسرے حکمران تھے۔ بالکل بجا فرمایا۔ لیکن اجازت ہو۔ طبیعت پر گراں نہ گزرے۔ جان کی امان ہو تو عرض کرنے کی اجازت ملنی چاہئے کہ بالکل کل کی بات ہے۔ آپ کے مثالی و نورانی عہد حکمرانی کی بات ہے کہ فورتھ شیڈول میں ڈالے جانے والے لوگوں سے فارم پر کرائے گئے۔ اس میں ان لوگوں کی ماؤں، بہنوں، بچیوں کے نام ان کے فون نمبر بھی درج کئے گئے۔ فورتھ شیڈول میں جن کو ڈالا گیا۔ مان لیا، وہ مجرم ہوں گے۔ لیکن ایک ایک پولیس مین، کلرک لوگوں کے ذریعہ ان کی بچیوں، بیٹیوں، ماؤں، بہنوں کے نام،
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پتے اور فون نمبر معلوم کئے۔ ان بیٹیوں کا کیا قصور تھا؟
مریم نواز بیٹی ہے اور رب محمد ﷺ کی قسم بیٹی ہے اور قابلِ احترام اور واجب التکریم بیٹی ہے۔ ان کے اس طرح جے آئی ٹی کے سامنے بلانے کا جواز نہیں، تو جو کچھ آپ کی حکمرانی میں ہوا؟ معافی چاہتا ہوں اور جو ہورہا ہے کیا وہ بیٹیاں، بیٹیاں نہیں۔ محترمہ مریم نواز کو بلایا گیا تو حکمرانوں اور حکمران جماعت کے ہر چھوٹے بڑے کے دماغوں میں زلزلہ آگیا۔ آنا چاہئے تھا۔ خدا لگتی میں یہ نہیں کہتا کہ یہ ٹھیک ہوا۔ لیکن ظلم ظلم ہے، کوئی کرے۔ پہلے حکمران کریں یا آپ۔ آج کے حکمران کریں یا کل کے۔ لیگی قیادت! تمہیں خدا تعالیٰ و رسول اللہ ﷺ کے فرمان تو آج شاید بوجہ لبرل ازم کے سمجھ نہ آئیں۔
لیکن محترمہ بہن مریم نواز کی عزت کا واسطہ اپنے ان فارموں میں جن قوم کی بیٹیوں کی عزتوں کا خون کیا ہے۔ اس کی تلافی ہوسکے تو اب بھی وقت ہے کہ روٹھے رب کو منا کر فورتھ شیڈول کے فارموں سے یہ ملعونانہ سوالات نکال دو۔ تو پھر شاید بے برکتی کی نحوست دور ہو جائے۔ لیکن نقارہ خانہ میں طوطی کی کون سنے گا؟ شاید توفیق ہو جائے تو اللہ تعالیٰ کے سامنے کیا مشکل ہے کہ وہ دل بدل دے۔
محترم جناب میاں محمد نواز شریف صاحب، محترم میاں شہباز شریف صاحب! آپ توجہ فرمائیں اور اگر ذوق عالی پر گراں نہ ہو تو عرض کرنے کی جرأت کرتا ہوں کہ:
- ۵...... جناب ذوالفقار علی بھٹو کے عہد حکمرانی میں پاکستان کی نیشنل اسمبلی نے متفقہ طور پر قرارداد منظور کی کہ ملک میں اتوار کی بجائے جمعہ
کی چھٹی ہوگی۔ آنجناب میاں محمد نواز شریف حکمران بنے تو اس قرارداد کو اپنے اقتدار کے پاؤں کے نیچے مسل کر بڑے طمطراق سے اعلان کیا کہ جمعہ کی بجائے اتوار کو چھٹی ہوگی۔
محترم! اس اعلان سے پورے ملک میں افتراق پیدا ہوا ہے۔ پوری قوم دو ذہنی میں مبتلا ہے۔ کراچی سے خیبر تک پورے ملک کے اہم شہر بعض جمعہ کو بند ہوتے ہیں اور بعض اتوار کو۔ پوری قوم کی وحدت کا شیرازہ آپ کے اس اعلان کی بدولت بکھرا۔ لیکن بایں ہمہ آپ کو اپنے اعلان کو غلط کہنے اور تلافی کی اخلاقی جرأت پیدا نہ ہوئی۔ اب ہو جائے تو احسان ہوگا۔
- ۶...... علامہ اقبال مرحوم مصور پاکستان نے جواہر لال نہرو کے نام اپنے خط میں فرمایا کہ: ”قادیانی اسلام اور ہندوستان دونوں کے
غدار ہیں۔“
(کلیات مکاتیب اقبال ج ۴ ص ۳۳۰، مطبوعہ بک کارنر جہلم)
پاکستان کی سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مرزا قادیانی کا لٹریچر اہانت رسول ﷺ سے مملو ہے۔ مرزا قادیانی کے ایک پیرو عبدالسلام قادیانی کو یہودی نوبل پرائز ملا۔ اس ملعون نے پاکستان کی سرزمین کو لعنتی کہا ( ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور کہوٹہ ایٹمی سنٹر ص ۸۰ یونس خلش ) پاکستان کو گالی دینے والے کے نام پر آپ نے ایک فزکس ادارہ کا نام رکھ کر اسلامیان وطن، وطن عزیز پاکستان اور علامہ اقبال مرحوم کے نظریہ سے اعراض کیا۔
کیا ممکن ہے کہ ان معروضات پر توجہ فرما کر ان کی تلافی کردیں۔ اس سے ممکن ہے کہ حالات کی نحوست چھٹ جائے اور برکتوں کا نزول و حصول شروع ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ ایسا فرمادیں۔ آمین! فقیر: اللہ وسایا
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۱۷ء ص ۳ تا ۶)
بھکر، قادیانی مرکز سے نیا مورچہ ختم کرادیا گیا
۶؍ اگست ۲۰۱۷ء کو چشتی چوک سے پیالہ چوک کی طرف رکشے پر جارہا تھا۔ ڈھانڈلہ گلی میں قادیانی مرکز چھ کنال رقبہ میں ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اس پر نظر پڑی تو قادیانی مرکز پر دوبارہ مورچہ تعمیر کر لیا گیا تھا۔ اپریل ۲۰۱۳ء کو بھی انہوں نے اپنے مرکز پر مورچہ بنایا تھا۔ اس وقت میرا ہرنیا کا آپریشن ہوا تھا۔ رات کو آپریشن ہوا صبح دس بجے کے قریب ڈھانڈلہ گلی سے ایک مسلمان کا فون آیا کہ قادیانیوں نے اپنے مرکز پر مورچے تعمیر کر لئے ہیں۔ اگلے دن ہسپتال سے فارغ ہو کر گھر آیا۔ اسی دن مولوی محمد علی صدیقی مرحوم اور مولوی محمود حسن فریدی کا سہارا لیکر ڈی سی او بھکر اور ڈی پی او بھکر سے ملا اور صورتحال بتا کر مورچے ختم کرانے کی استدعا کی۔ انتظامیہ فوراً حرکت میں آئی اور دو دن کے اندر اندر مورچے ختم کرا دیئے۔ عرصہ تقریباً تین سال سے ایک حادثہ میں دائیں پاؤں کے گھٹنے اور بائیں پاؤں کی ہڈی ٹوٹ گئی چلنا پھرنا دشوار ہوا ایک قسم کا گوشہ نشین ہوا۔ پھر مولانا محمد علی صدیقی اور جمال عبدالناصر کی وفات کے صدمات نے نڈھال کر دیا۔
قادیانیوں کو اس صورتحال کی پوری خبر تھی اور ان کو توقع تھی کہ دین محمد فریدی حادثے کے بعد اور بیٹوں کی موت کے بعد دل شکستہ ہو گیا ہے۔ اب ہماری حرکتوں کا نوٹس لینے والا کوئی نہیں۔ مگر جہاں پر ایمان کا معاملہ ہو وہاں پر دل ...... شکستی کیسی؟
قادیانی مرکز کے حالات کا مکمل جائزہ لیا۔ صبح ڈی پی او بھکر سے حالات پر تبادلہ خیال کے لئے آفس حاضر ہوا، لیکن اس دن ڈی پی او صاحب دفتر تشریف نہیں لائے۔ سیکورٹی برانچ میں بات ہوئی تو ایک اہم فرد اقلیت کا بہانہ کر کے قادیانیوں کی حرکت کی حمایت پر آمادگی کا اظہار کرتے نظر آیا۔ مجھے شک ہوا کہ ابو بکر خدا بخش نتھوکہ جو کہ ڈی آئی جی ہے اور پنجاب حکومت میں دخیل ہے اور وہ رہائشی ضلع بھکر کا ہے وہ اپنے عہدہ سے ناجائز فائدہ اٹھا کر قادیانیوں کو مسلمانوں پر مسلط کر رہا ہے۔ ان حالات کے اندر میں نے اخباری بیان جاری کر دیا کہ قادیانی بھکر کے حالات خراب کرنا چاہتے ہیں۔ میرے بیان کی تائید میں ڈاکٹر نثار احمد امیر جماعت اسلامی ضلع بھکر اور مولانا صفی اللہ امیر جمعیۃ علمائے اسلام ضلع بھکر کے بیانات آئے جس کی وجہ سے شہر میں تشویش پیدا ہوگئی۔ اب تو انتظامیہ بھی حرکت میں آئی خفیہ ایجنسیوں نے بھی حرکت کی آخر ڈی۔پی۔او ضلع بھکر نے ڈی ایس پی صدر جناب اسد اللہ خان کو تحقیقات کا حکم دیا۔
۱۱؍ اگست ۲۰۱۷ء بروز جمعتہ المبارک کو بندہ کو فون آیا کہ گیارہ بجے ڈی ایس پی صدر کے دفتر میں میٹنگ ہے۔ اپنا مؤقف پیش کریں۔ بندہ ڈی ایس پی صدر کے دفتر پہنچا وہاں صدر انجمن تاجران اور وائس چیئرمین میونسپل کمیٹی بھکر رانا محمد حنیف۔ مولانا صفی اللہ کا نمائندہ مولانا محمد اقبال ...... ڈاکٹر نثار امیر جماعت اسلامی اور بریلوی مکتبہ فکر ضلع بھکر کے راہنما مولانا عبدالرحیم اور دیگر احباب موجود تھے۔
سب احباب نے ایک ہی بات کہی کہ دین محمد فریدی جو بھی بات کرینگے ہم اس کی مکمل تائید کرتے ہیں۔ ایس۔ایچ۔او، سٹی تھانہ بھکر جناب آصف خان نیازی سے پوری تفصیل سے بات کی اور کہا کہ یہ کیمرے پہلے بنے تھے اور انتظامیہ نے گرا دیئے تھے اور میں نے کہا کہ یہ جو کیمرے لگے ہیں وہ دروازے کے اوپر ہوں۔ اونچائی پر لگے کیمرے مسلمانوں کے گھروں کی تصاویر لیتے ہیں جس کی وجہ سے بے پردگی ہوتی ہے۔ ہمیں کیمروں پر کوئی اعتراض نہیں مگر ان کی چیکنگ ضروری ہے گلی والوں نے بتایا ہے کہ یہاں رات کو قادیانیوں کے پراسرار افراد آتے ہیں۔
ڈی۔ایس۔پی نے یہ بات فوراً تسلیم کر لی اور ایس۔ایچ۔او سٹی کو حکم دیا کہ ہر ہفتہ قادیانیوں سے ویڈیو لے کر چیک کرے اور مورچے بھی گرا دیئے جائیں گے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
الحمد للہ ! ہم کامیاب لوٹے۔ اس جمعہ ہم نے احتجاج کا پروگرام بنایا تھا۔ میں نے فوراً احباب کو آگاہ کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں کامیاب کر دیا۔ اب انتظامیہ کا شکریہ ادا کر دیا جائے۔ لہٰذا جمعتہ المبارک میں انتظامیہ بھکر کو مسلمانوں کی طرف سے شکریہ ادا کیا گیا۔ (دین محمد فریدی)
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۷ء ص ۴۵، ۴۶)
سالانہ ختم نبوت کانفرنس ایبٹ آباد
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ختم نبوت کانفرنس ۱۷ ستمبر ۲۰۱۷ء بروز اتوار بعد نماز ظہر مرکزی جامع مسجد ایبٹ آباد مولانا شفیق الرحمن کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ نقابت کے فرائض جناب ساجد اعوان نے انجام دیئے۔ مفتی سید زین العابدین نے کلام پاک کی تلاوت مولانا عبدالباسط اور انعام اللہ نے ہدیہ نعت پیش کیا۔ مہمان مقررین میں مولانا محمد طیب فاروقی اسلام آباد ، مولانا مفتی محمد راشد مدنی رحیم یار خان ، مولانا محمد امجد خان لاہور ، مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی پشاور اور مولانا اللہ وسایا شامل ہیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۷ء ص ۴۶)
رفتار زمانہ کا حال
۲۸ اگست ۲۰۱۷ء کو ایمبیسی لاج کلب روڈ اسلام آباد میں مولانا سمیع الحق صاحب دامت برکاتہم کی دعوت پر اے۔ پی سی کا ایک وقیع اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں پاکستان کے آئین سے دفعہ ۶۲، ۶۳ کی تبدیلی کی سوچ کو یکسر مسترد کر دیا گیا۔ دراصل آئین پاکستان میں شرعی قوانین ، تحفظ ناموس رسالت اور عقیدہ ختم نبوت کے منکرین قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی دفعات اور امتناع قادیانیت قانون کو ختم کرنے کے لئے دروازہ کھولنا چاہتے ہیں۔ اس کے لئے ٹیسٹ کیس کے طور پر ۶۲، ۶۳ کا معاملہ اٹھایا جا رہا ہے۔ اے۔ پی سی کے ذریعہ بھر پور پیغام ان قوتوں کو بھجوایا گیا جو پاکستان کو سیکولر یا لبرل سٹیٹ بنانے کے درپے ہیں۔
- ☆ ...... بھارت کے آرمی چیف جنرل بپن روات نے سی ۔ پیک کو بھارت کی خود مختاری کے لئے چیلنج قرار دیا۔
- ☆ ...... سندھ نے مردم شماری کے نتائج مسترد کر دیئے۔
- ☆ ...... بھارت نے کنٹرول لائن کی خلاف ورزی کر کے تین پاکستانی شہید کر دیئے۔
- ☆ ...... سپریم کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ نیب نے ادارے تباہ کر دیئے ہیں۔
- ☆ ...... شہباز شریف نے کرپشن کا الزام لگانے پر عمران خان کو لیگل نوٹس بھجوایا ہے۔
- ☆ ...... بے نظیر قتل کیس کی سماعت کرنے والی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے اس کیس میں پانچ طالبان کو بری کر دیا۔
- ☆ ...... بے نظیر بھٹو قتل کیس میں سابق سی ۔ پی ۔ او سعود عزیز اور ایس خرم شہزاد کو ۱۷، ۱۷ سال قید ، ۱۰، ۱۰ لاکھ جرمانہ کی سزا اور پرویز مشرف
کی جائیداد قرق کرنے کا حکم سنا دیا۔
- ☆ ...... بھارتی آرمی چیف نے کہا کہ چین اور پاکستان سے دو محاذوں پر جنگ خارج از امکان نہیں ۔
- ☆ ...... میانمار میں روہنگیا کے مسلمانوں پر قیامت ٹوٹ پڑی ۔ سرکاری افواج بستیوں کی بستیوں کو جلا کر راکھ بنا رہی ہے ۔ میانمار کی
حکمران آنگ سان سوچی نوبل پرائز یافتہ ہیں ۔ وہ نوبل پرائز جو قادیانی ڈاکٹر عبدالسلام کو دیا گیا۔ عبدالسلام قادیانی نے
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پاکستان کے ایٹمی راز امریکہ کو دیئے۔ اسلامیان پاکستان کو گزند پہنچایا۔ سان سوچی میانمار کے لاکھوں مسلمانوں کو مارنے پر تلی ہوئی ہے۔ یہ دونوں یہودی نوبل پرائز یافتہ مسلمانوں کے ازلی ابدی قاتل ثابت ہوئے ہیں۔
- ...... آصف زرداری کے اثاثہ جات ریفرنس کی بریت کو نیب نے چیلنج کر دیا۔
- ...... محترمہ کلثوم نواز کا لندن میں گلے کا آپریشن ہوا۔
- ...... نواز شریف فیملی کے خلاف اثاثہ جات کے ریفرنس احتساب عدالت میں دائر ہوئے۔
- ...... پانامہ کیس کے فیصلہ کے خلاف نواز شریف کی نظرثانی کی اپیل مسترد ہوئی۔
- ...... توہین عدالت کیس عمران خان کے وارنٹ جاری۔ پیشی پر عمران خان نے بلامشروط معافی مانگ لی۔
- ...... نیب نے حدیبیہ پیپر ملز کیس میں اپیل دائر کرنے کا اعلان کر دیا۔
- ...... پاکستان کے خلاف امریکہ کے اقدامات کی تیاری۔
- ...... کلثوم نواز الیکشن جیت گئیں۔
- ...... امریکہ نے ایران کو سرکش اور کرپٹ، جب کہ شمالی کوریا کو خودکش قرار دے دیا اور تباہ کرنے کی دھمکی بھی لگا دی۔
- ...... حدیبیہ پیپرز ملز فیصلہ چیلنج۔ اسحاق ڈار کے وارنٹ جاری۔
- ...... ماڈل ٹاؤن کیس کی عدالتی انکوائری رپورٹ شائع کرنے کی اجازت کی بابت ہائیکورٹ نے فیصلہ سنا دیا۔
- ...... انتخابی اصلاحات کے ترمیمی بل میں نواز شریف کے پارٹی سربراہ بننے کی راہ ہموار ہوگئی۔
- ...... پرویز مشرف نے آصف زرداری پر، جب کہ آصف زرداری نے پرویز مشرف پر بینظیر بھٹو کے قتل کا الزام لگا دیا۔
- ...... میاں محمد نواز شریف اور محمد اسحاق ڈار اپنے خلاف دائر مقدمات میں پیش ہونے کے لئے عدالتوں میں حاضر۔ ضمانتی لاکھوں کے مچلکے
جمع کرا دیئے۔ پیشی کے موقعہ پر اسحاق ڈار اپنے دانتوں سے ناخن کاٹتے رہے۔ کاش وہ عقل کے ناخن تراش لیتے تو اچھا ہوتا۔
یہ مہینہ بھر کی ملکی وغیر ملکی خبروں کی رپورٹ ہے جس سے رفتار زمانہ کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فضل فرمائیں۔
کسی نے کیا سچ کہا ہے کہ: ”ہر رشتہ ایک معصوم پرندہ کی طرح ہوتا ہے۔ اگر سختی سے پکڑو گے تو مر جائے گا۔ اگر نرمی سے پکڑو گے تو اڑ جائے گا۔ لیکن اگر محبت سے پکڑو گے تو ساری زندگی ساتھ نبھائے گا۔ مور ناچتے ہوئے روتا ہے۔ ہنس مرتے ہوئے بھی گاتا ہے۔ یہی زندگی کا دستور ہے۔ دکھ والی رات نیند نہیں آتی اور خوشی والی رات کون سوتا ہے؟“
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۷ء ص ۴، ۳)
ستمبر! ختم نبوت کی بہار کا مہینہ
۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کو پاکستان کی پارلیمنٹ نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ اس کی خوشی میں ہر سال کی طرح امسال ۲۰۱۷ء میں بھی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی اپیل پر ۸؍ ستمبر جمعہ کو ”یوم ختم نبوت“ منایا گیا اور ملک بھر کے خطیبوں نے خطاب جمعہ میں ختم نبوت کی اہمیت و فضیلت پر گفتگو فرمائی۔
اسی طرح پورے ملک میں ماہ ستمبر کو ”ماہ ختم نبوت“ کے طور پر منایا گیا۔ فقیر راقم نے:
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۵ ستمبر دن ختم نبوت کورس کراچی دفتر شب کو ختم نبوت کانفرنس اشرف المدارس ۶ ستمبر // // // // // بنوری ٹاؤن ۷ ستمبر // // // // // اتحاد ٹاؤن ۸ ستمبر // جمعہ کلفٹن // // ریاض مسجد دہلی کالونی ۹ ستمبر // ختم نبوت کورس کراچی دفتر // // دکھنی مسجد ۱۰ ستمبر دن کانفرنس بعد از ظہر دہلی مرکنٹائل بعد از مغرب سفر پنجاب ۱۴ ستمبر دن نواں کوٹ مانسہرہ بعد از مغرب داتا ختم نبوت کانفرنس ۱۵ ستمبر بعد از مغرب ناران ۱۶ ستمبر بعد از ظہر ختم نبوت کانفرنس قلندر آباد ۱۷ ستمبر بعد از ظہر تا مغرب ختم نبوت کانفرنس ایبٹ آباد ۱۸ ستمبر اجلاس ملی یکجہتی کونسل بعد از ظہر ختم نبوت کانفرنس لاہور ۲۰ ستمبر ختم نبوت کانفرنس لاوہ ۲۱ ستمبر ختم نبوت کانفرنس سرگودھا ۲۲ ستمبر دن جمعہ ختم نبوت کانفرنس چک نمبر ۶۶ شمالی ۲۳ ستمبر ختم نبوت کانفرنس بعد از ظہر کسراں ضلع اٹک ۲۳ ستمبر رات ختم نبوت کانفرنس اٹک شہر
ستمبر کے ان چودہ دنوں میں بائیس ختم نبوت کانفرنسوں میں فقیر کو حاضری کی سعادت نصیب ہوئی۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا قاضی احسان احمد، مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی، مولانا مفتی محمد راشد مدنی نے اس ماہ میں جن کانفرنسوں سے خطاب کیا وہ علاوہ ازیں ہیں اور ملک بھر میں مجلس کے رفقاء نے ستمبر کے حوالہ سے جو کانفرنسیں رکھیں۔ وہ شمار کی جائیں تو بلا مبالغہ اس ماہ میں سینکڑوں ختم نبوت کے پروگرام صرف عالمی مجلس نے منعقد کئے۔ دیگر جماعتوں، اداروں کی شخصیات کی مساعی در ماہ ستمبر کا احاطہ کیا جائے تو چاروں طرف ملک میں اس ماہ میں ختم نبوت کی بہاروں کا منظر رہا۔ فالحمد للہ اوّلاً وآخراً!
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۷ء ص ۵)
پنجاب اسمبلی ، عقیدۂ ختم نبوت کا مضمون نصاب میں شامل کرنے کی قرارداد منظور
لاہور (خصوصی نمائندہ، نیوز رپورٹر) پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں نئی نسل کو باخبر رکھنے کے لئے عقیدۂ ختم نبوت کے عنوان سے نصاب میں مضمون شامل کرنے کے مطالبہ کی قرارداد منظور کر لی گئی۔ لیگی ایم۔ پی۔اے وحید گل نے قواعد کی معطلی کی تحریک پیش کی اور عقیدۂ ختم نبوت کی قرارداد پیش کی۔ قرارداد حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے متفقہ طور پر منظور کی گئی۔ قرارداد کے فوراً بعد پی۔ٹی۔آئی کی رکن نبیلہ حاکم علی نے کورم کی نشاندہی کر دی۔ جس کے بعد سپیکر نے ۵ منٹ کا وقفہ کیا۔ لیکن ۵ منٹ بعد بھی حکومت کورم پورا کرنے میں ناکام رہی۔ کورم پورا نہ ہونے پر سپیکر نے اجلاس پیر دوپہر ۲ بجے تک ملتوی کر دیا۔
(روزنامہ جنگ، مورخہ ۲۵ /نومبر ۲۰۱۷ء)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کے حلف نامہ کی بحالی کے لئے ہنگامی پروگرام
۲۲ / اکتوبر ۲۰۱۷ء کو مسلم کالونی چناب نگر کے اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ ملک بھر میں ختم نبوت کی جدوجہد کو تیز کیا جائے اور ختم نبوت کانفرنسوں کا جال بچھا دیا جائے۔ تمام مبلغین حضرات کے اس سلسلہ میں ملک بھر میں اسفار شروع ہوئے۔
بلا مبالغہ بیسیوں کانفرنسوں کا قصبہ جات، تحصیلوں، ضلعوں، ڈویژنوں کے صدر مقامات پر کانفرنسیں منعقد ہوئیں۔ اس وقت باقی رفقاء کی سرگرمیوں کی تفصیل راقم کے پاس نہیں۔ البتہ فقیر اپنی حقیر کوششوں کو آپ کے سامنے رکھتا ہے۔
۲۶ / اکتوبر ختم نبوت کانفرنس دنیا پور ۲۷ / اکتوبر ختم نبوت کانفرنس گیلے وال ۶ / نومبر ختم نبوت کانفرنس قلعہ دیدار سنگھ ۷ / نومبر ختم نبوت کانفرنس مدینہ مسجد گوجرانوالہ دن میں ۷ / نومبر ختم نبوت کانفرنس جمن شاہ مسجد رات میں ۸ / نومبر دن کو گوجرانوالہ بار میں بیان ۸ / نومبر ختم نبوت کانفرنس وزیر آباد رات میں ۹ / نومبر اجلاس چناب نگر ۱۰ / نومبر ختم نبوت کانفرنس غلام محمد آباد فیصل آباد ۱۰ / نومبر رات کو روڈہ ضلع خوشاب (فقیر کی عدم حاضری) ۱۱ / نومبر مرکزی اجلاس شوریٰ ملتان ۱۲ / نومبر ختم نبوت کانفرنس چیچہ وطنی ۱۳، ۱۴، ۱۵ / نومبر تنظیمی اسفار ۱۶ / نومبر ختم نبوت کانفرنس گکھڑ کے مضافات میں ۱۷ / نومبر دن پیرمحل، رات چک جولو ٹوبہ ٹیک سنگھ ۱۸ / نومبر لاہور دن رات مختلف کانفرنسیں ۱۹ / نومبر لاہور // // // ۲۰ / نومبر لاہور // // // ۲۱ / نومبر ختم نبوت کانفرنس جلالپور پیروالہ ۲۲ / نومبر ختم نبوت کانفرنس کہروڑ لعل عیسن ۲۳ / نومبر لاہور دن آسٹریلیا مسجد، رات شیرانوالہ خدام الدین۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۲۴؍ نومبر لاہور دن شاہ پور صدر، رات جھاوریاں ۲۵؍ نومبر لاہور آسٹریلیا مسجد پروگرام ہے اور دن کو یہ سطور لکھ رہا ہوں۔ ان بیس دنوں میں باضابطہ چالیس پروگراموں میں حاضری ہوئی۔ دروس و نجی ملاقاتیں اس کے علاوہ ہیں۔ اس تفصیل کے بتانے سے قارئین پر یہ واضح کرنا ہے کہ دن رات دیوانگی سے کام کرنے کی حق تعالیٰ نے توفیق سے نوازا جس کے نتائج بھی آپ کے سامنے ہیں کہ ختم نبوت حلف نامہ بحال ہو گیا۔
فالحمد للہ !
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۱۸ء ص ۳ تا ۱۰)
وائس چانسلر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد کے نام کھلا خط
- ......۱ جناب وائس چانسلر صاحب علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد
- ......۲ جناب ڈین
السلام علیکم ورحمة الله !
عرض ہے کہ جناب کی توجہ ایم۔اے اسلامیات کے ایک کورس ’’پاکستان میں قرآن مجید کے تراجم و تفاسیر‘‘ (کورس کوڈ 4578 ) کی درسی کتاب کے ایک حصہ کی طرف مبذول کروانا ہے۔
(سرورق کتاب لف-A)
حقیقت یہ ہے کہ اپنے اس دعویٰ کہ ’’یہ کتاب علوم اسلامیہ تخصص فی القرآن والتفسیر کے طلباء کے لئے‘‘ کی مکمل ترجمانی کہاں تک کرتی ہے۔ اس کے لئے تفصیلی تبصرہ کی ضرورت ہے کہ کیا کتاب موضوع کا حق ادا کر رہی ہے۔
تاہم آج کی گزارش کورس کے تعارف میں لکھے اس جملے سے متعلق ہے کہ: ’’پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے۔ اس کی بنیاد کلمہ طیبہ پر رکھی گئی ہے۔‘‘ (کورس کا تعارف از مؤلف) اور پھر کتاب کے صفحہ نمبر 10 پر دی گئی۔ ترجمہ سے متعلق دوسری شرط کہ ’’مفسر و مترجم کا رجحان و میلان کسی باطل عقیدہ کی جانب ہو گا تو وہ عقیدہ اس کے فکر پر چھا جائے گا۔‘‘
اس تمہید کے بعد عرض یہ ہے کہ قادیانی دائرہ اسلام سے خارج جدا ایک غیر مسلم اقلیت ہیں۔ چاہے وہ قادیانی احمدی ہوں یا لاہوری احمدی۔ آئین پاکستان کی رو سے ہر دو غیر مسلم اقلیت ہیں۔ لہٰذا ان کے عقائد باطل اور رجحان غیر اسلامی ہیں۔ یوں ان کے کسی فرد کا لکھا ہوا ترجمہ قرآن مجید یا تفسیر ناقابل اعتبار نا قابل اعتماد ہے۔ کوئی بھی مسلمان اس سے علمی یا روحانی فائدہ نہیں پاسکتا۔ اس طرح کے ترجمہ اور تفسیر کو صرف ترجمہ و تفسیر کی فہرست میں تو جگہ دی جاسکتی ہے جب کہ ساتھ یہ وضاحت ہو کہ یہ غیر مسلم کی تحریر ہے اور اس کا اہل اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔
فاضل مؤلف کتاب زیر تبصرہ نے بعض مقامات مثلاً صفحہ نمبر ۲۷ پر مرزا بشیر الدین قادیانی کے متعلق یہ نوٹ دیا ہے کہ یہ قادیانی نقطۂ نظر کے حامل کی تفسیر ہے۔ مصنف نے اپنے عقائد کو ثابت کیا ہے۔ چاہئے تو یہ تھا کہ آئین پاکستان کا حوالہ لکھ کر مزید تاکید ہوتی کہ یہ طبقہ غیر مسلم اقلیت ہے۔ اہل اسلام کا نمائندہ نہیں تاہم اس سے مذکورہ عقائد کے طلباء استفادہ کر سکتے ہیں۔ اس گروہ سے باہر کے طلباء / سکالر اس کے پڑھنے کے مکلّف نہیں۔
(فوٹو کاپی صفحہ نمبر ۲۷، لف-B)
صفحہ نمبر ۶۱ پر تفسیر لوامع القرآن از مرزا احمد علی امرتسری کے حوالے سے لکھا ہے۔ ’’اس تفسیر میں سرسید احمد، غلام احمد پرویز اور غلام احمد قادیانی کے خیالات کا بطور خاص ذکر ہے۔‘‘ اس موقع پر وضاحتی نوٹ تفصیلاً ذکر ہونا ضروری تھا۔ مگر مؤلف نے غیر مسلم قادیانی کا
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دوسرے دو مفسرین سرسید احمد اور غلام احمد پرویز کے ساتھ تقابل کر کے مرزا کو ان کا ہم پلہ ظاہر کیا ہے۔ یوں ناواقف مسلمان اسے بھی انہیں دو کی طرح ایک مسلمان (گویا کہ غلط تفسیر کرنے والے) مفسر ہی خیال کرے گا۔
(فوٹو کاپی صفحہ نمبر ۶۱، لف - C)
سب سے بڑھ کر جو بڑی مشکل ہے وہ صفحہ نمبر ۱۰۷ پر انگریزی زبان میں قرآن مجید کے تراجم وتفاسیر کے ذیل میں ہے۔ یہاں پہلی تفسیر مارماڈیوک محمد پکتھال کی ہے جو کہ خود مقدمہ میں اپنے مسلمان ہونے کا اقرار کرتا ہے۔ جب کہ مؤلف کتاب زیر تبصرہ اسے مسلمانوں کا ہمدرد بہی خواہ لکھتے ہیں۔ دوسرے نمبر پر ”القرآن حامل المتن مع حواشی تفسیر اور ترجمہ مولوی محمد علی ایم. اے امیر جماعت احمدیہ لاہور درج ہے ۔“ یہاں کسی قسم کی پہلی جتنی وضاحت بھی نہیں بلکہ لکھتے ہیں: ”تعلیم یافتہ مسلمانوں میں خوب مقبول ہوا۔ باہر والوں کی نظر میں اسلامی حیثیت سے مستند سمجھا جاتا رہا۔ شروع میں مفصل دیباچہ ہے جس میں اصول دین عقائد واحکام شریعت سب ضروری تفصیل کے ساتھ آگئے ہیں اور اس ذریعہ سے پوری رہنمائی اور واقفیت اسلام کے متعلق ہو جاتی ہے ۔“ وغیرہ وغیرہ!
مزید لکھتے ہیں : ”احمدیت ان حواشی میں زیادہ نہیں۔ البتہ ”سید احمد خانیت“ اچھی خاصی موجود ہے۔ اب یہ ترجمہ انگریزی خواں طبقہ میں مقبول ہے ۔“
(فوٹو کاپی صفحہ نمبر ۱۰۷، ۱۰۸، لف - D)
مؤلف کتاب زیر تبصرہ کے اس تعارف سے جو کچھ سمجھ میں آتا ہے وہ یہ کہ:
- ۱...... ان کے نزدیک ربوہ والے مرزائی تو مسلمان نہیں مگر لاہوری طبقہ کو شاید وہ دائرہ اسلام سے خارج نہیں گردانتے۔ کیونکہ انہوں نے
لاہوری جماعت احمدی کے امیر کو مسلمان مفسرین میں درج کیا ہے۔ مزید براں کتاب کے صفحہ ۱۱۱ میں ایک نئے عنوان کے تحت قادیانی نقطہ نظر سے لکھے گئے تراجم وتفاسیر کا علیحدہ ذکر کیا گیا ہے جو اس گمان کو تقویت دیتا ہے۔
(فوٹو کاپی صفحہ نمبر ۱۱۱، لف - E)
- ۲...... یہ کہ اتنا صائب اور پر زور تبصرہ گویا قاری کو اس تفسیر کی طرف راغب کرنے کے لئے ہے۔ لگتا ہے تخصص فی التفسیر کے طالب علم کو
ایک مسلمان مفسر کی عمدہ تفسیر کے متعلق معلومات فراہم کی جارہی ہیں۔ حالیہ کورس میں شامل طلباء کے مشقی کام میں ایک سوال کے جواب میں یہ تاثر سامنے آیا ہے۔
- ۳...... یہ کہ مؤلف اس تفسیر کی مقبولیت کس حوالے سے کر رہے ہیں جب کہ خود لکھتے ہیں احمدیت ان حواشی میں زیادہ نہیں (ہے تو سہی)
قطرہ شراب کا پانی کے بھرے برتن کو ناپاک کرنے کے لئے کیا کافی نہیں ہوتا؟
جناب کی توجہ اس طرف مبذول کرانے کا مقصد یہ ہے کہ نظریاتی ملک کے تعلیمی نصاب میں پڑھنے والے طلباء کے لئے نظریہ سے دوری کا سامان مہیا کرنا اور پھر ترغیب کے طور پر اس کی مقبولیت کا بار بار تذکرہ کرنا کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔ گزارش ہے کتاب کے ان تمام حصوں کی کسی مستند اہل علم سے نظر ثانی کروا کر آئندہ سال تصحیح شدہ کتاب طلباء میں تقسیم کی جائے ۔ کیونکہ اس کی موجودہ صورت نہ صرف نظریہ وعقیدہ کی خلاف ورزی ہے بلکہ آئین سے متصادم ہونے کی صورت میں قابل تعزیر جرم بھی ہے۔
اللہ رب العزت ہماری حفاظت فرمائیں۔ آمین!
طالب دعاء...... سید شجاعت علی شاہ ساکن داتا...... تحصیل وضلع مانسہرہ ...... ۹؍ستمبر ۲۰۰۷ء
نوٹ: اصل خط میں حوالہ جات کے عکس لف تھے۔ ہم نے یہاں انہیں حذف کر دیا ہے۔ ادارہ!
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۷ء ص ۴۷ تا ۴۹)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد کا جوابی مراسلہ
مندرجہ بالا کے جواب میں ان کا ذیل کا خط موصول ہوا۔ ملاحظہ فرمائیں:
Allama Iqbal Open University FACULTY OF ARABIC & ISLAMIC STUDIES Department of Quran & Tafseer
Ref: S86/Q&T/Sep-2017 Date: 26-09-2017
محترم جناب سید شجاعت علی شاہ ساکنہ دانہ تحصیل، ضلع مانسہرہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
محترمی جناب کا مراسلہ دو ذرائع (جناب وائس چانسلر اور ڈین کلیہ عربی و علوم اسلامیہ کی طرف) سے موصول ہوا۔ جناب کی طرف سے ایم اے علوم اسلامیہ کے ایک کورس "پاکستان میں قرآن مجید کے تراجم و تفاسیر" کوڈ نمبر 4578 میں ملاحظہ کیے گئے چند امور کی طرف توجہ مبذول کروائی گئی ہے۔ جس کے لیے زیر دستخطی جناب کا شکر گزار ہے۔ اور اللہ رب العزت سے دعا گو ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ جیسی شخصیات کو ہمارے اس تعلیمی سلسلہ کا معاون و مددگار بنائے رکھے تاکہ ہم اپنی قوم کو صحیح معنوں میں اسلامی تعلیمی نظام اور بہتر سے بہتر نصاب مہیا کر سکیں۔
جناب کی طرف سے توجہ دلائی گئی عبارات کے پیش نظر پورے کورس کو نظر ثانی کے لیے منتخب کر لیا گیا ہے۔ جس پر ماہرین کی آراء کا انتظار ہے۔ مزید بر آں یہ کہ آنے والے تعلیمی سال 2018 سے اس کورس کو ایم علوم اسلامیہ تخصص فی القرآن والتفسیر کے نصاب سے نکال کر اس کی جگہ متبادل کورس متعارف کروانے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
جناب کے توجہ دلانے کا بے حد مشکور ہوں۔
والسلام کورس رابطہ کار ظفر اقبال، لیکچرر شعبہ قرآن و تفسیر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، اسلام آباد
کاپی برائے اطلاع:
- 1. جناب معاون خصوصی شیخ الجامعہ
- 2. جناب ڈین کلیہ عربی و علوم اسلامیہ
Block #.12, Sector H-8, Islamabad, Ph: 051-9250166, 9057870, 9057787
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۱۷ء ص ۴۷)
یادگاری ڈاک ٹکٹ بیاد مفکر اسلام مولانا مفتی محمود
مفکر اسلام مولانا مفتی محمود کا وصال ۱۴؍ اکتوبر ۱۹۸۰ء کو ہوا۔ آپ کی وفات کے سینتیس سال بعد ۱۴؍ اکتوبر ۲۰۱۷ء کو حکومت پاکستان کی طرف سے آپ کا یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا گیا۔ جو آٹھ روپے مالیت کا ہے۔ اس ٹکٹ کا افتتاح و اجراء جناب وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے وزیر اعظم ہاؤس میں کیا۔ اس تقریب کے مہمان خصوصی مولانا مفتی محمود کے جانشین قائد انقلاب اسلامی مولانا فضل الرحمٰن دامت برکاتہم تھے۔ اس یادگاری تاریخی کارنامہ پر جہاں ہم حکومت کو مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ وہاں توقع رکھتے ہیں
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پاکستان کی اہم قومی شخصیات کو خراج تحسین پیش کرنے کے اس مبارک عمل کو مزید آگے بڑھایا جائے گا۔ ہم مولانا مفتی محمود کے خاندان کے تمام افراد اور جمعیۃ علماء اسلام سے وابستہ تمام رفقاء اور جامعہ قاسم العلوم ملتان کے متعلقین کو اس موقعہ پر مبارک باد پیش کرتے ہیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۱۷ء ص ۲۲)
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بنوں نے قادیانی سازش ناکام بنادی
الحمدللہ! عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بنوں کی مقامی جماعت شب و روز عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور قادیانی سازشوں سے امت مسلمہ کی حفاظت کے سلسلہ میں اکابرین مجلس کی مشاورت سے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس وقت قادیانیوں کے خفیہ سازشوں میں سے ایک سازش یہ ہے کہ وہ پسماندہ جنوبی اضلاع میں مختلف عنوانات سے اہل ایمان کے ایمانوں کو لوٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہاں تحصیل ڈومیل میں قادیانی ذائقہ گھی فیکٹری کے مالکان ملک اعزاز (لاہوری گروپ) طاہر جہانگیر، نگینہ جہانگیر جو کہ عاصمہ جہانگیر کے قریبی رشتہ دار ہیں۔ ان قادیانیوں سے انتہائی متاثر فضل ریاض ڈیلر ذائقہ گھی نے باہمی ایک خفیہ سازش کے تحت ٹورنمنٹ کے عنوان سے قادیانیت اور قادیانی مصنوعات کی تبلیغ اور پرچار شامل تھی۔ اس ٹورنمنٹ میں تقریباً چالیس پینتالیس گروپوں نے شمولیت اختیار کر لی تھی۔ جس کے لئے باقاعدہ با اثر شخصیات اور ہزاروں لوگوں کو مدعو کیا گیا تھا۔ وافر مقدار میں قادیانی فیکٹری ذائقہ گھی انعامات اور دیگر مراعات کا بھی اعلان کیا گیا تھا۔ الحمدللہ! تحصیل ڈومیل کی کابینہ نے بروقت اجلاس بلا کر اس مسئلہ کی طرف علماء کرام کو متوجہ کیا۔ بعد ازاں آل پارٹیز متفقہ اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا گیا۔ تحصیل ڈومیل کی جامع مسجد میں ایک غیر معمولی آل پارٹیز ختم نبوت اجلاس ہوا۔ جس میں ایم پی اے فخر اعظم پیپلز پارٹی، تحصیل ناظم فداء محمد، یوسی ناظم مشرف اور دیگر ناظمین وممبران کے علاوہ کثیر تعداد میں ائمہ مساجد و مہتممین اور شیوخ حضرات نے شرکت کی۔ ڈومیل مجلس کابینہ کے امیر مولانا عبدالستار اور سرپرست مفتی محمد اجمل مفتی منظور حسین نے دیگر اراکین سے تحقیق کرنے کی ذمہ داری سونپی تھی۔ ان اراکین نے اپنی تحقیق اور ٹورنمنٹ کے اغراض و مقاصد میں قادیانی خفیہ تبلیغی سرگرمیوں کے بارے میں بتایا۔ دیگر اراکین و علماء کرام نے اپنے اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ متفقہ طور پر یہ قرارداد پاس ہوئی کہ:
(۱) قادیانی مصنوعات کا سوشل بائیکاٹ کریں گے۔ (۲) بنوں کے قادیانیوں کی خفیہ و اعلانیہ تبلیغی سرگرمیوں پر پابندی کے لئے کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ (۳) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت روز اوّل سے آج تک پرامن جدوجہد محنت اور کام کرنے پر یقین رکھتی ہے۔ لہٰذا کسی قسم کے ناساز حالات پیدا کرنے کی نوبت نہیں آنے دیں گے۔ (۴) اوّل اس ٹورنامنٹ کی انتظامیہ سے وفد کی شکل میں ملاقات ہو جائے ۔ (۵) ہم کھیل اور ورزش کے مخالف نہیں۔ بلکہ اسلامی کھیل اور ورزش کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ البتہ قادیانیت اور قادیانی مصنوعات کی پرچار کی اجازت نہیں دے سکتے۔ (۶) تحصیل ڈومیل کی آٹھ یونین کونسلوں کی مساجد میں عوام الناس کو اس مسئلہ سے آگاہ کیا جائے۔ کیونکہ تیس سال قبل کوٹکہ عظیم کلہ میں قادیانی آباد تھے۔ اس وقت کچھ لوگوں نے ایمان قبول کیا تھا اور بہت کو وہاں سے نکالا گیا تھا۔ الحمدللہ! اجلاس کے بعد فی الفور گیارہ رکنی کمیٹی ٹورنامنٹ کے ذمہ داران سے ملی۔ ان ذمہ داران کے سامنے تمام تحقیقات اور قادیانی ذائقہ گھی ملز کے ثبوت اور ان سے مناظرے اور ان انعامات میں قادیانی خفیہ سرگرمیوں کی روداد پر بات چیت ہوئی۔ ذمہ داران نے مسئلہ سمجھنے کے لئے مختلف سوالات بھی کئے۔ بندہ عاجز (مولانا مفتی عظمت اللہ) نے ان کے تمام سوالات کے اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے کافی شافی جوابات دیئے اور وہ مطمئن بھی ہوئے۔ پھر انہوں نے خود اس گیارہ رکنی وفد کے سامنے اعلان کیا کہ آج کے بعد
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اس ٹورنمنٹ کے ختم کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے قادیانیوں اور ان کے فیکٹری کے مالکان کو شکست ہوئی اور مجلس تحفظ ختم نبوت کی محنت رنگ لائی اور کامیابی حاصل ہوئی۔ اس سے پہلے بھی قادیانیوں نے خفیہ سرگرمیوں کے تحت سکولز، کالجز کے طلباء کو مفت ٹورز کے نام پر دھوکا دینے کی ناکام کوشش کی تھی۔ مگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس میں بھی وہ ناکام رہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۱۷ء ص ۵۴، ۵۵)
ختم نبوت کے حلف نامہ کی بحالی کی سرگزشت (۱)
۲؍اکتوبر ۲۰۱۷ء کو قومی اسمبلی میں انتخابی اصلاحات ۲۰۱۷ء کا بل پاس ہوا۔ اس میں ’’حلف‘‘ کے لفظ کو ’’اقرار‘‘ کے لفظ سے بدل دیا گیا۔ قومی اسمبلی میں جناب طارق اللہ صاحب ایم۔این۔اے کی نشاندہی پر جناب شیخ رشید احمد صاحب نے صدا بلند کی۔ اس خبر نے جنگل کی آگ کی طرح رات ہی رات پورے ملک میں اضطراب و ہیجان کی کیفیت پیدا کر دی۔ ۳؍اکتوبر کی صبح کراچی سے خیبر تک اسلامیان وطن عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے یک آواز ہو گئے۔ جو شخص جہاں تھا اس غلطی کی تلافی کے لئے متحرک ہو گیا۔ پورے ملک میں رحمت عالم ﷺ کی ختم نبوت کے تحفظ کے مقدس مشن کی فضا قائم ہو گئی۔
قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن صاحب ان دنوں عمرہ کے سفر پر تھے۔ انہوں نے فون کر کے میاں نواز شریف صاحب کو واضح اور دو ٹوک پیغام دیا۔ حکومتی وزراء جو جھوٹ کو پروان چڑھانے اور کچھ نہ ہونے کے ترانے گا رہے تھے، اب ان کے لب ولہجہ پر لرزہ طاری ہوا۔ ان کی گردنوں کے سریے ٹیڑھے ہونے شروع ہوئے۔ انہوں نے دبی دبی آواز میں اپنی غلطی کے اعتراف کے ساتھ ساتھ تلافی کے لولی پاپ دینے شروع کئے۔ ۳؍اکتوبر کو ہی سپیکر صاحب نے تمام پارلیمانی پارٹیوں کا اجلاس طلب کیا اور اس ترمیم کو واپس لینے کے لئے قومی اسمبلی میں ترمیمی بل لانے کا اعلان کیا۔ اگلے روز غالباً ۴؍اکتوبر ۲۰۱۷ء کو ترمیمی بل میں ترمیم کرنے کا بل لایا گیا۔
غرض پارلیمانی تاریخ میں یہ تاریخ ساز واقعہ بھی ریکارڈ پر آیا کہ ایک دن حکومت نے ایک ترمیمی بل منظور کیا۔ ایک دن چھوڑ کر اگلے روز اس ترمیمی بل میں ترمیم وتنسیخ کا بل پیش ہو کر منظور ہوا۔ لیکن اس پر بھی اسلامیان وطن کے خدشات ختم نہ ہوئے۔ معلوم ہوا کہ الیکشن اصلاحات کی دفعہ ۷ کی شق ’’بی‘‘ اور ’’سی‘‘ پہلے سے حذف کر دی گئی تھیں۔ اب دوسری ترمیم سے بھی وہ بحال نہیں ہوئیں۔ ان کی بحالی کے لئے جدوجہد شروع ہوئی۔ جمعیۃ علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن صاحب ۲۱؍اکتوبر ۲۰۱۷ء کو چناب نگر ختم نبوت کانفرنس پر تشریف لائے تو آپ نے فرمایا کہ ملک بھر کی تمام سیاسی جماعتوں کی پارلیمانی قیادت نے وعدہ کیا کہ دفعہ ۷ کی شق ’’بی،سی‘‘ متفقہ طور پر بحال ہونی چاہئے۔ قومی اسمبلی و سینٹ کے اجلاسوں میں امید ہے کہ یہ دفعہ بھی بحال ہو جائے گی۔ اس کے لئے جمعیۃ علماء اسلام نے سینٹ میں بھی ترمیم جمع کرا دی ہے۔
۲۲؍اکتوبر ۲۰۱۷ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے شعبہ تبلیغ سے وابستہ تمام رفقاء کرام، علماء کرام ومبلغین حضرات کا چناب نگر میں مرکزی ناظم اعلیٰ کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں ملک بھر میں ختم نبوت کانفرنسوں کے فوری انعقاد کا فیصلہ کیا گیا۔ ملک بھر میں صبح وشام، دن رات کر کے ایک مربوط نظم کے تحت یوں صدائے ختم نبوت بلند کی گئی۔
۱۱؍نومبر ۲۰۱۷ء کو مرکزی دفتر ملتان میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی مجلس شوریٰ کا اجلاس ہوا۔ جس میں جامعۃ الرشید کراچی کے سربراہ مولانا مفتی عبدالرحیم صاحب کی تجویز زیر بحث آئی کہ ہمیں کورٹ میں چلے جانا چاہئے۔ تا کہ جب تک دفعہ ۷ بحال نہیں
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہوتی، سٹے (STAY) لے لیں تاکہ قادیانیوں کا کوئی ووٹ مسلمانوں میں نہ بن سکے۔ مجلس شوریٰ نے اس تجویز کی افادیت پر غور و فکر کرنے کے بعد فیصلہ دیا کہ کورٹ میں اس کیس کو لے جایا جائے۔ چنانچہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی۔ ایک دن درخواست جمع ہوئی ، اگلے روز اس کی ابتدائی سماعت ہوئی۔ اس پر چار صفحات کا عبوری فیصلہ صادر ہوا۔ ۱۴؍نومبر کو فیصلہ ہوا۔ اگلے روز ۱۵؍ نومبر کو ملک بھر کے اخبارات میں خبریں شائع ہوئیں۔ روز نامہ اوصاف کی خبر سرخیوں سمیت آپ بھی ملاحظہ کریں۔ جو یہ ہے:
اسلام آباد ہائیکورٹ الیکشن ایکٹ میں ختم نبوت سے متعلق ترمیم معطل :
الیکشن ایکٹ ۲۰۱۷ء میں ختم نبوت سے متعلق ختم ۸ قوانین بحال، وفاق کو نوٹس جاری، کمیٹی کی سربمہر رپورٹ طلب، چاہے آسمان گر جائے کوئی پروا نہیں، جسٹس شوکت صدیقی۔
نئے ایکٹ کے سیکشن ۲۴۱ کے تحت پورے قوانین ختم کرنا آئین سے متصادم ہوگا ، باقی شقوں پر حکم نامے کا اطلاق نہیں ہوگا، مولانا اللہ وسایا کی درخواست کی سماعت کے دوران ریمارکس۔
اقدام کالعدم قرار دیا جائے ، درخواست گزار کے وکیل کے دلائل ، عدالت حکومت کو سنے بغیر بل کو معطل نہ کرے ، ملک میں افراتفری مچ جائے گی ، ڈپٹی اٹارنی جنرل کی استدعا۔
اسلام آباد (خصوصی نیوز رپورٹر) اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکشن ایکٹ ۲۰۱۷ء میں ختم نبوت سے متعلق ختم کئے گئے ۸ قوانین بحال کر دیئے۔ نئے ایکٹ کی شق ۲۴۱ کو معطل کر کے وفاق کو نوٹس جاری کر دیا۔ راجہ ظفر الحق کمیٹی کی سربمہر رپورٹ بھی طلب کر لی۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے تحریک ختم نبوت کے رہنما مولانا اللہ وسایا کی درخواست کی سماعت کی۔ درخواست گزار کے وکیل حافظ عرفات ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے بتایا کہ الیکشن ایکٹ ۲۰۱۷ء کی شق ۲۴۱ کے تحت ملک میں رائج ۸ انتخابی قوانین منسوخ کئے گئے ہیں۔ اس طرح سابقہ قوانین میں سے ختم نبوت سے متعلق شقیں بھی منسوخ ہوگئی ہیں۔ یہ اقدام آئین پاکستان سے متصادم ہے۔ کیونکہ آئین پاکستان بنیادی انسانی حقوق اور اسلامی تعلیمات کے خلاف کسی کو بھی قانون سازی کی اجازت نہیں دیتا۔ لہٰذا الیکشن ایکٹ ۲۰۱۷ء کو کالعدم قرار دیا جائے۔ وفاق کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے اور انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت انتخابی اصلاحات بل کے ذریعے آئندہ الیکشن کی طرف جارہی ہے۔ اس لئے عدالت وفاقی حکومت کو سنے بغیر انتخابی اصلاحات بل کو معطل نہ کرے۔ کیونکہ اگر الیکشن ایکٹ کو معطل کیا گیا تو اس سے ملک میں افراتفری مچ جائے گی۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیئے کہ چاہے آسمان بھی گر جائے اس کی کوئی پرواہ نہیں۔ فاضل عدالت نے الیکشن ایکٹ ۲۰۱۷ء کے سیکشن ۲۴۱ کے تحت ختم کئے گئے ۸ سابقہ انتخابی قوانین کو بحال کر دیا۔ عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں واضح کیا کہ نئے ایکٹ کے سیکشن ۲۴۱ کے تحت پورے کے پورے قوانین ختم کرنا آئین سے متصادم ہوگا۔ اس لئے الیکشن ایکٹ ۲۰۱۷ء میں ختم نبوت سے متعلق پرانی شقیں بحال کی جارہی ہیں۔ الیکشن ایکٹ کی باقی شقوں پر اس حکم نامے کا اطلاق نہیں ہوگا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ختم نبوت کے جن ۸ قوانین کو بحال کیا ہے ان میں الیکٹورل رولز ایکٹ ۱۹۷۴ء، حلقہ بندی ایکٹ ۱۹۷۴ء، سینٹ الیکشن ایکٹ ۱۹۷۵ء، عوامی نمائندگی ایکٹ ۱۹۷۶ء، الیکشن کمیشن آرڈر ۲۰۰۲ء، پولیٹیکل پارٹیز آرڈر ۲۰۰۲ء، کنڈکٹ آف جنرل الیکشن آرڈر ۲۰۰۲ء، پولیٹیکل پارٹیز آرڈر ۲۰۰۲ء اور انتخابی نشانات الاٹ کرنے کا آرڈر ۲۰۰۲ء شامل ہیں۔ الیکشن ایکٹ ۲۰۱۷ء کی باقی شقوں پر حکم نامے کا اطلاق نہیں ہوگا۔
(روزنامہ اوصاف لاہور، مورخہ ۱۵؍ نومبر ۲۰۱۷ء)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اسی دوران معلوم ہوا کہ ۱۵؍نومبر ۲۰۱۷ء کو سپیکر قومی اسمبلی نے پارلیمانی لیڈران کا اجلاس طلب کیا۔ قومی اسمبلی کے اجلاس جو ۱۶؍نومبر ۲۰۱۷ء سے شروع ہو رہا تھا اس میں زیر بحث لانے والے معاملات پر غور و فکر کرنا تھا۔ یادر ہے کہ مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی مجلس شوریٰ نے مولانا صاحبزادہ عزیز احمد اور فقیر راقم پر ایک دو رکنی کمیٹی قائم کی تھی جس نے مولانا فضل الرحمٰن صاحب سے مل کر دفعہ نمبر ۷ کی شقوں کی بحالی کو فوری یقینی بنانے کی درخواست کرنا تھی ۔ ۱۵؍نومبر کے پارلیمانی پارٹیوں کے اجلاس کی خبر پڑھتے ہی مولانا صاحبزادہ عزیز احمد نے مولانا فضل الرحمٰن سے رابطہ کیا ۔ آپ نے فرمایا کہ جمعیۃ کی طرف سے پارلیمانی پارٹیوں کے اجلاسوں میں ہماری نمائندگی جناب خان محمد اکرم خان درانی کریں گے ۔ آپ ان سے بات کریں وہ ساتھ بیٹھے ہیں ۔ یہ لیں بات کریں ۔ محترم درانی صاحب نے صاحبزادہ صاحب سے فرمایا کہ ۱۵؍نومبر کے اجلاس کے ایجنڈے پر یہ مسئلہ موجود ہے ۔ بل حکومت نے اور جمعیۃ نے بھی اپنے اپنے تیار کئے ہیں ۔ ہم اپنے بل سے حکومتی بل کا موازنہ کریں گے اور پھر اطمینان کے بعد حکومتی سرکاری بل پاس ہوگا۔ پارلیمانی لیڈروں کا اجلاس ہوا ۔ اگلے روز ۱۶؍نومبر ۲۰۱۷ء کو قومی اسمبلی میں فیصلہ کے مطابق انتخابی ترمیمی بل پیش ہوا جو متفقہ طور پر منظور ہوا ۔ اگلے روز تمام قومی اخبارات میں یہ خبریں شائع ہوئیں ۔ آپ بھی ایک خبر ملاحظہ فرمائیں:
قومی اسمبلی حلقہ بندیوں، ختم نبوت حلف نامہ کی بحالی کا بل منظور :
ظفر الحق کمیٹی کی سفارشات ایوان میں پیش کی جائیں ۔ شیخ رشید، ختم نبوت کے حوالے سے انگریزی اور اردو حلف نامے بل میں شامل ، مردم شماری پر ہمارے تحفظات برقرار ہیں : فاروق ستار، مشترکہ مفادات کونسل اجلاس دوبارہ بلانے پر اتفاق ۔ ۷۔ بی اور ۷۔ سی کو مؤثر بنانے کے نکات بل میں شامل، عقیدہ بندے اور اللہ کا معاملہ ہے : احسن اقبال، وزیر اعظم اور نثار بھی اجلاس میں موجود رہے ۔ سینٹ اجلاس آج طلب ، بل کی منظوری لی جائے گی ۔
اسلام آباد ( وقائع نگار خصوصی، سٹاف رپورٹر، نوائے وقت رپورٹ) قومی اسمبلی نے الیکشن ایکٹ ترمیمی بل ۲۰۱۷ء کی منظوری دے دی ۔ وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے قومی اسمبلی میں ترمیمی بل ۲۰۱۷ء پیش کیا۔ ترمیم تجویز کی گئی کہ بل کے تحت ختم نبوت کے حوالے سے ۷ بی اور ۷ سی کی شقیں شامل کی جائیں ۔ اب ۷ بی اور ۷ سی الیکشن ایکٹ ۲۰۱۷ء حصہ بن گئی ہیں ۔ یہ بل آج سینٹ میں منظوری کے لئے پیش کیا جائے گا۔ صدر نے اجلاس طلب کر لیا ۔ ترمیمی بل ۲۰۱۷ء کے اہم نکات کے تحت قادیانی، احمدی یا لاہوری گروپ کا آئین میں درج پہلے والا سٹیٹس برقرار رہے گا جب کہ ختم نبوت کے حوالے سے حلف نامہ اصل شکل میں بحال کر دیا گیا ۔ بل میں ختم نبوت کے حوالے سے انگریزی اور اردو میں حلف نامے شامل کر دیئے گئے ۔ وفاقی وزیر قانون کی ذاتی وضاحت پر ترمیمی بل کی منظوری کے دوران عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے شور شروع کر دیا ۔ ہم نے وزیر قانون زاہد حامد سے کوئی وضاحت نہیں مانگی تو وہ کیوں دے رہے ہیں۔ جس پر سپیکر نے ان کا مائیک بند کر دیا ۔ وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے کہا ہے کہ ۲۰۰۲ء کے عام انتخابات سے قبل نہ صرف نشستوں میں اضافہ کیا گیا بلکہ مشترکہ انتخاب کی بھی منظوری دی گئی ۔ انہوں نے بتایا کہ ختم نبوت کے حلف کے تحت ۱۰ روز میں حلف نامہ جمع کرانا لازمی تھا ۔ تاہم میری تجویز تھی کہ ۱۰ دن کی شق کو ختم کر دیا جائے ۔ اس شق کو اصل صورت میں بحال کرنے کی بات کی تھی ۔ تمام جماعتیں اب اس بات پر متفق ہیں کہ اس شق کو اصل صورت میں بحال کر دیا جائے ۔ جب کہ ۷۔ بی اور ۷۔سی کے الفاظ وہی ہیں جو پہلے تھے ۔ وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ اب دونوں حلف نامے انتخابی ایکٹ میں شامل کر دیئے گئے ہیں ۔ ۷۔بی اور ۷۔سی کا اصل مسودہ اب بھی قائم ہے ۔ وفاقی وزیر قانون وانصاف نے کہا کہ میں عاشق رسول ہوں اور دو حج اور کئی عمرے کر چکا ہوں ۔ ختم نبوت کے حوالے سے شقوں میں تبدیلی کا سوچ بھی نہیں
تحریک ختم نبوت جلد (١٠) ٢٠١٧ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سکتا۔ ختم نبوت پر یقین رکھتا ہوں۔ میرے بارے میں غلط بیان سے کام لیا گیا اور الزامات لگائے گئے۔ مجھے اپنے حلقے کے لئے ایک ویڈیو بھی جاری کرنا پڑی۔ میں اور میری فیملی نبی پاک ﷺ کی حرمت کے لئے جانیں بھی قربان کرنے کے لئے تیار ہیں۔ زاہد حامد کے بیان پر احسن اقبال نے کہا کہ کسی بھی شخص کا ایمان اللہ اور اس کے بندے کا معاملہ ہوتا ہے کیا ہم گلی گلی جا کر بتائیں کہ ہم مسلمان ہیں۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ ریاست کے اندر کسی کا ایمان اور کسی کا اللہ کے رسول ﷺ سے تعلق اس کا اور اس کے خدا کا معاملہ ہے۔ ہم کسی کو صفائیاں دینے کے پابند نہیں۔ ہمارا ختم نبوت اور اللہ پر اتنا ہی ایمان ہے جتنا ٢٠ کروڑ عوام میں کسی اور کا ہے۔ شیخ رشید نے کہا کہ بتایا جائے غلطی کس سے ہوئی۔ ناموس رسالت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ راجہ ظفر الحق کمیٹی کی سفارشات ایوان میں رکھی جائیں۔ اس سے قبل پارلیمانی جماعتوں کے ایک اجلاس میں بل پر اتفاق کیا گیا۔ تاہم ایم کیو ایم کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار نے کراچی کے دس بلاکس میں دوبارہ مردم شماری کا مطالبہ کیا۔ مسلم لیگ نواز کے رہنما اور وفاقی وزیر ریلوے سعد رفیق نے مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس دوبارہ بلانے کی تجویز دی۔ جس پر اتفاق کیا گیا۔ قبل ازیں پارلیمانی رہنماؤں نے جمعرات کو اسلام آباد میں اپنے اجلاس میں انتخابی ترمیمی ایکٹ میں ختم نبوت سے متعلق آئی، این فارم کی شق 7- بی اور 7- سی کو اپنی اصل شکل میں بحال کرنے پر اتفاق کیا۔ قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق نے اجلاس کی صدارت کی۔ سپیکر نے کہا کہ ایم کیو ایم کے سوا پارلیمانی رہنماؤں نے حلقوں کی حد بندی سے متعلق آئینی ترمیم پر اتفاق کیا۔ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ جمہوری نظام کے تسلسل کے لئے انتخابات مقررہ وقت پر ہونے چاہئیں۔ وزیر قانون زاہد حامد نے کہا کہ حلقہ بندیوں سے متعلق ایم کیو ایم کے تحفظات دور کرنے کے لئے یہ معاملہ مشترکہ مفادات کونسل کو دوبارہ بھیجا جائے۔ خیال رہے کہ مردم شماری کے نتائج سامنے آنے کے بعد سندھ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے خدشات سامنے آئے تھے۔ نئی حلقہ بندیاں ان ہی نتائج کے حساب سے بنائی جائیں گی۔ ترمیمی بل ٢٠١٧ء کے نکات کے مطابق احمدیوں کی حیثیت تبدیل نہیں ہوگی۔ انتخابات ایکٹ میں 48- الف شامل کی گئی ہے۔ ختم نبوت پر ایمان نہ رکھنے والے کی حیثیت آئین میں پہلے سے درج والی ہوگی۔ ووٹر لسٹ میں درج کسی پر سوال اٹھے تو اسے ١٥ دن کے اندر طلب کیا جائے گا۔ متعلقہ فرد اقرار نامے پر دستخط سے انکار کرے تو غیر مسلم تصور ہوگا۔ ایسے فرد کا نام ووٹر لسٹ سے ہٹا کر ضمنی فہرست میں بطور غیر مسلم لکھا جائے گا۔ بل میں ”ختم نبوت“ سے متعلق قانون کے آرٹیکل 7- بی اور 7- سی کو مزید مؤثر بنانے کے نکات شامل کئے گئے ہیں۔ قادیانی مسلمانوں کے ساتھ ووٹر لسٹ میں شامل نہیں ہوں گے۔ زاہد حامد نے کہا مجھ پر غلط الزامات لگائے گئے۔ بل میں کوئی کوتاہی نہیں ہوئی۔ پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر نوید قمر نے کہا ہے اگر حکومت نے الیکشن ایکٹ ٢٠١٧ء میں نا اہل شخص کو پارٹی کا عہدیدار بنانے کے خلاف سینٹ میں منظور کئے گئے بل کی قومی اسمبلی میں پیش کرنے کی اجازت نہ دی تو پیپلز پارٹی کے ارکان قومی اسمبلی سے استعفیٰ دے دیں گے۔
(روزنامہ نوائے وقت لاہور، مورخہ ١٧ نومبر ٢٠١٧ء)
عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کی جدوجہد کی تازہ صورتحال (٢)
٢/ اکتوبر ٢٠١٧ء کو نیشنل اسمبلی آف پاکستان سے نون لیگ کی حکومت نے انتخابی اصلاحات کا ایک ترمیمی بل منظور کرایا۔ دیگر ترمیمات کے علاوہ اس میں ایک یہ ترمیم بھی کر دی گئی کہ اسمبلیوں کے ممبران جب الیکشن لڑنے کے لئے درخواست فارم پر کرتے ہیں اس میں رحمت عالم ﷺ کی ختم نبوت سے متعلق حلف نامہ بھی پر کرنا ہوتا ہے۔ جس میں تھا کہ ”میں حلفیہ صدق دل سے اقرار کرتا ہوں“ اس عبارت کو ”میں اقرار کرتا ہوں“ کر دیا گیا۔ اس پر جناب شیخ رشید احمد صاحب نے قومی اسمبلی میں آواز بلند کی اس پر پورے ملک میں بحث
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
شروع ہو گئی۔ سوشل، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر شدید احتجاج ہوا۔ بہت سارے اینکر حضرات نے مسلمانوں کے جذبات کی ترجمانی کا حق ادا کر دیا۔ فقیر نے ۳؍ اکتوبر کو ”حلف نامہ و اقرار نامہ میں فرق“ کے نام پر ایک مختصر نوٹ لکھا جو یہ ہے:
حلف نامہ و اقرار نامہ میں فرق:
واقعات شاہد ہیں کہ:
- ......۱ میاں محمد نواز شریف صاحب نے اپنی پہلی وزارت عظمیٰ کے دور میں اپنی پارٹی کے پارلیمانی اجلاس میں بھی کہا تھا قادیانیوں سے
متعلق اگر ترمیم آئین سے ختم کر دی جائے تو ہمارے سارے قرضے معاف ہو جائیں گے۔ اس کے لئے امریکا تیار ہے، وہ تو جناب راجہ ظفر الحق صاحب ڈٹ گئے کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ جو آپ نے کہا اس کے ردِعمل کا بھی آپ کو اندازہ ہے؟ تو اس پر نواز شریف صاحب طرح دے گئے کہ نہیں، وہ تو میں نے ویسے ہی کہا۔
- ......۲ جناب نواز شریف صاحب نے قادیانیوں کو اپنا بھائی کہا۔ رحمت عالم ﷺ کے ازلی ابدی مخالفین، ختم نبوت کے منکرین اور اہانت
رسول کرنے والوں کو اپنا بھائی کہنے کا کام جناب میاں صاحب نے ہی انجام دیا۔
- ......۳ میاں محمد نواز شریف نے قائد اعظم یونیورسٹی سے ملحقہ فزکس کے ادارہ کا نام ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے نام پر رکھا، جس
عبدالسلام قادیانی نے پاکستان کی سرزمین کو لعنتی کہا۔ ان قادیانیوں کے لئے میاں صاحب کا یہ نرم گوشہ اور علامہ اقبال کا جواہر لال نہرو کو کہنا کہ قادیانی اسلام اور ملک دونوں کے غدار ہیں۔ قادیانیوں کے بارہ میں علامہ اقبال کا فرمان اور میاں محمد نواز شریف کے عمل میں واضح تضاد آخر کیوں؟
- ......۴ مبینہ طور پر نواز شریف صاحب نے حالیہ دورِ اقتدار میں اپنا پرسنل سیکرٹری قادیانی کو لگایا اور پھر جناب خاقان عباسی صاحب کے
وزیر اعظم بننے پر اسے نواز شریف نے پابند کیا کہ اس پرسنل سیکرٹری کو تبدیل نہ کیا جائے۔ اب وہ عباسی صاحب کے ساتھ امریکا کے دورے پر گیا ہے اور یہ کہ اب اسے ورلڈ بینک میں بھیجنے کی تیاری ہو رہی ہے۔
- ......۵ خوشاب میں پہلے ضلعی پولیس آفیسر (ڈی پی او) ابوبکر خدا بخش تھوکہ قادیانی کو لگایا گیا۔ میاں شہباز شریف صاحب کے پاس
ضلع کے ایم این ایز اور ایم پی ایز کا وفد گیا کہ قادیانی کو تبدیل کیا جائے۔ چھوٹے میاں صاحب نے فرمایا کہ کیا تم نے اس کے پیچھے نمازیں پڑھنی ہیں؟ اس پر ممبران نے کہا کہ ایک ضلع قادیانی افسر کے رحم و کرم پر چھوڑنا بھی قرین انصاف نہیں؟ میاں صاحب چپ تو ہو گئے، لیکن تبادلہ کے مطالبہ کو تسلیم نہ کیا۔ ابوبکر خدا بخش تھوکہ قادیانی کی فرعونیت کا اندازہ کریں کہ محکمہ انہار کے ایکسیئن کو اپنے ہاتھ سے پیٹا۔ صوبہ بھر میں محکمہ انہار کے ملازمین نے احتجاج کیا، ابوبکر خدا بخش تھوکہ قادیانی معطل ہوا، قبلہ شہباز شریف صاحب نے اسے بحال کیا، ترقی دی اور ڈی آئی جی بنا دیا اور پھر ابوبکر خدا بخش تھوکہ کی جگہ وقار الحسن تھوکہ قادیانی کو خوشاب کا ڈی پی او لگا دیا گیا، جو قادیانی بھی ہے، خدا بخش تھوکہ کا بھتیجا اور داماد بھی ہے۔ سالہا سال سے خوشاب ضلع کا ضلعی پولیس آفیسر یکے بعد دیگرے قادیانی چلا آ رہا ہے۔ خوشاب میں اٹامک انرجی کا اہم شعبہ کام کر رہا ہے اور قرب و جوار میں قادیانی آبادیاں ہیں اور پاکستان کے ایٹم کا ماڈل اور ایٹمی راز عبدالسلام قادیانی نے امریکا کو مہیا کئے تھے۔ ان تمام تر باتوں کے باوجود میاں صاحبان کا ابوبکر خدا بخش تھوکہ کی ناز برداری کرنا محض اس لئے کہ ابوبکر خدا بخش تھوکہ میاں شہباز صاحب کا کلاس فیلو ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۶ ...... سانحہ دوالمیال میں قادیانیوں کی سپورٹ اور مسلمانوں کو تختہ مشق بنانے کے لئے جو کچھ سرکاری سطح پر ہوا یا ہورہا ہے۔ لگتا ہے کہ
حکومت نے قسم کھالی ہے کہ مسلمانوں کو قادیانیوں کے سامنے سرنگوں کرنا ہے۔
- ۷ ...... عید سے قبل جناب شہباز شریف صاحب سے وفاق المدارس کا وفد مولانا قاری محمد حنیف جالندھری صاحب کی سربراہی میں اور
جمعیت علماء اسلام کا وفد قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن صاحب کی سربراہی میں ملا۔ پنجاب حکومت کے سربراہ نے وعدے کئے لیکن ایک بھی وعدہ کا ایفا نہ کیا، نہ ہی ایک عالم دین کو فورتھ شیڈول سے نکالا گیا۔ نہ ایک مدرسہ کو کھالوں کے سلسلہ میں سہولت دی گئی۔ لگتا یہ ہے کہ حکومت نے تہیہ کر رکھا ہے کہ جھوٹے وعدے کئے جاؤ، ہاں میں ہاں ملائے جاؤ، لیکن ان کا مطالبہ ایک بھی تسلیم نہ کرو۔
- ۸ ...... اب حال ہی میں قومی اسمبلی سے انتخابی اصلاحات کا جو بل منظور کرایا گیا ہے اس میں اسمبلی الیکشن کے لئے امیدواران کو حلف
نامہ جمع کرانا پڑتا تھا کہ ”میں حلفیہ صدق دل سے اقرار کرتا ہوں“ ..... اب اس عبارت کو یوں بدل دیا کہ ”میں اقرار کرتا ہوں“ ....... آخر ختم نبوت کے حلف نامہ کو اقرار نامہ میں تبدیل کرنے کی کیا ضرورت پیش آئی؟ میرے خیال میں میاں صاحبان اتنے سادہ نہیں ہیں کہ وہ حلف نامہ اور اقرار نامہ کے فرق کو نہ سمجھتے ہوں۔ یہ جو کچھ بھی ہورہا ہے ایک گہری سوچ اور خطرناک چال کا حصہ ہے۔ قادیانیوں کو رعایت دینے کے لئے اور ختم نبوت سے متعلق ترمیم کو غیر مؤثر بنانے کے لئے جو کچھ ہوسکتا ہے۔ حکومت موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی، یہ بلاوجہ نہیں، اس کے پس پردہ چھپے ہوئے ہاتھوں کو غیر مؤثر بنانا ضروری ہے۔ لگتا ہے کہ میاں محمد نواز شریف نے ان تمام حالات سے کوئی سبق نہیں سیکھا، قادیانیت نوازی کی نحوست نے ان کو دیدۂ عبرت بنائے بغیر نہیں چھوڑنا۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پاک ﷺ کے غضب سے ہم پناہ چاہتے ہیں۔
(روزنامہ اسلام ۴/ اکتوبر ۲۰۱۷ء)
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن صاحب مدظلہ عمرہ کے لئے حجاز مقدس تشریف لے گئے تھے۔ آپ کو صورتحال کا علم ہوا تو آپ نے جناب نواز شریف کو فون کر کے فرمایا کہ فوراً سے بھی پہلے اس کی تلافی کی جائے۔ غرض جہاں پر جو شخص تھا اس نے حکومت پر دباؤ ڈالا کہ یہ ترمیمی بل واپس لیا جائے۔
۴/ اکتوبر کو رات گئے فقیر راقم اور مولانا قاضی احسان احمد جامعۃ الرشید کراچی کے مہتمم مولانا عبدالرحیم صاحب مدظلہ سے ملنے کے لئے گئے۔ اس موقعہ پر موجود حضرات سے ملاقات ہوئی۔ مولانا عبدالرحیم صاحب مدظلہ ملک بھر کے نامور قانون دان حضرات سے مشورہ کر چکے تھے۔ اس ملاقات میں معلوم ہوا کہ پرویز مشرف کے زمانہ میں انتخابی اصلاحات کا جو بل پاس ہوا اور اس وقت وہ لاگو تھا اس کی دفعہ ۷ کی شق بی اور سی حذف کر دی گئی ہے۔ اس میں یہ حلف نامہ بھی تھا۔ اس پر شدید تشویش ہوئی۔ رات دو بجے کراچی دفتر واپسی ہوئی۔ پوری رات اضطراب میں گزری اگلے دن اخبارات سے بہت ساری تفصیلات کا علم ہوا۔
دفعہ ۷ کی شقوں کا مسئلہ پرویز مشرف کے دور میں:
جنرل ضیاء الحق صاحب نے ملک میں جداگانہ طرز انتخاب طے کیا تو مسلمانوں اور غیر مسلم اقلیتوں کے ووٹروں کی انتخابی فہرستیں علیحدہ علیحدہ شائع ہوں گی۔ شائع ہوئیں، الیکشن ہوتے رہے۔ یہ نظام رائج رہا۔ جناب جنرل پرویز مشرف تشریف لائے تو انہوں نے جداگانہ طرز انتخاب کو مخلوط طرز انتخاب سے بدل دیا۔ جس میں ختم نبوت کا حلف نامہ بھی حذف ہوا۔ مسلم غیر مسلم کی انتخابی فہرستیں بھی ایک ہوگئیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اس پر ۲۰۰۲ء کے رمضان المبارک کی ۲۹ تاریخ کو ظہر کے قریب عبدالخیل میں اپنے مخدوم اور قائد مولانا فضل الرحمن مدظلہ سے مولانا صاحبزادہ خواجہ عزیز احمد کی سربراہی میں مولانا محمد اکرم طوفانی اور فقیر راقم کی ملاقات ہوئی۔ ساری صورتحال تفصیل سے عرض کی کہ حلف نامہ بھی حذف ہو گیا ہے اور قادیانیوں کی فہرستیں بھی مسلمانوں کے ساتھ بنیں گی۔ مولانا فضل الرحمن مدظلہ نے فرمایا کہ آپ اپنے رفقاء کو کہیں میں بھی جمعیت علماء اسلام کے ذمہ داران سے کہتا ہوں۔ اگر کل عید الفطر بنتی ہے تو کل سے اس پر احتجاج شروع کرتے ہیں اور کچھ نہ ہوا تو کم از کم اتمام حجت کے فرض سے سبکدوش ہوں گے۔ چنانچہ عید پر اور اس کے بعد یہ موضوع ایک حساس اہمیت اختیار کر گیا۔
قائد محترم مولانا فضل الرحمن نے عید کے فوری بعد پھر ہم سب کو جمع ہونے کا حکم دیا۔ میٹنگ میں طے پایا کہ جمعیت علماء اسلام کی دعوت پر تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں کی لاہور کے فلیٹیز ہوٹل میں اے پی سی بلائی جائے داعی مولانا فضل الرحمن ہوں۔ دعوت نامہ شائع کرنا مولانا قاری نذیر احمد مرحوم اور فقیر کے ذمہ لگا۔ سیاسی جماعتوں سے رابطہ اور دعوت نامہ پہنچانے کی ذمہ داری مخدوم گرامی مولانا عبدالغفور حیدری ناظم عمومی جمعیت علماء اسلام کے ذمہ لگی۔ دینی جماعتوں اور بالخصوص اپنے مسلک کی قیادت کو دعوت نامہ دینا فقیر کے ذمہ رہا۔ اے. پی. سی کے انتظامات کی ذمہ داری مولانا مفتی محمد جمیل خان کے سپرد کی گئی۔
اے. پی. سی فلیٹیز ہوٹل لاہور میں داعی مولانا فضل الرحمن مدظلہ کی زیر صدارت منعقد ہوئی۔ جناب نوابزادہ نصر اللہ خان مرحوم، پروفیسر ساجد میر، جناب ساجد علی نقوی، غرض چاروں مکاتب فکر اور پورے ملک کی دینی قیادت شریک اجلاس ہوئی۔ اس میں فیصلہ ہوا کہ ایک ہفتہ کا پرویز مشرف حکومت کو نوٹس دیا جائے کہ وہ قادیانیوں کے غیر مسلم ہونے کی صراحت اور حلف نامہ اور اقلیتوں کے لئے علیحدہ ووٹر لسٹوں کو پہلی صورت میں بحال کریں ورنہ ہفتہ کے بعد ملک بھر میں تحریک منظم کی جائے گی۔
اپنی تاریخ میں پہلی بار پرویز مشرف نے شکست تسلیم کی۔ اس کی گردن میں فٹ سریا ٹیڑھا ہوا۔ رعونت ہوا ہوئی اور یہ کہ اے. پی. سی کے دوسرے روز اعلان کر دیا کہ تمام مطالبات منظور ہیں۔ چنانچہ ۲۰۰۲ء کی انتخابی اصلاحات میں دفعہ ۷ کی بی اور سی میں حلف نامہ اور قادیانیوں کے غیر مسلم ہونے کی حیثیت برقرار رکھنے کا مسئلہ شامل ہوا اور بھی تفصیلات ہیں جنہیں اس وقت زیر بحث نہیں لاتا۔
اب اکتوبر ۲۰۱۷ء کے اوائل میں نواز شریف کی نون لیگ کی حکومت نے قادیانیوں کی وہ ضرورت پوری کر دی جو پرویز مشرف دور میں پوری نہ ہوسکی۔ جناب نواز شریف کی لیگ کی تاریخی اسلام دشمنی، ختم نبوت سے غداری اور قادیانیت نوازی کی بدترین شکل تھی جو ایک عذاب و غضب کے طور پر قوم پر مسلط کی گئی۔ اس پر کراچی سے لے کر خیبر تک پورا ملک سراپا احتجاج ہوا۔ حق تعالیٰ کی توفیق سے فقیر نے یہ صورتحال ایڈوانس میسج پر آڈیو ریکارڈ کے ذریعہ قائد جمعیت کو بھجوائی۔ جس میں مندرجہ بالا ساری تفصیل گوش گزار کی۔ حق تعالیٰ شانہ قائد محترم کو دنیا و آخرت میں اس کی بہترین جزائے خیر دیں کہ اگلے لمحہ آپ نے مدینہ طیبہ سے فقیر کو فون کیا اور فرمایا کہ جمعیت علماء اسلام کا پارلیمانی اجلاس شروع ہے۔ یہ ارکان وزیر اعظم جناب شاہد خاقان عباسی کو مل رہے ہیں۔ نواز شریف کو دوٹوک میں نے کہہ دیا ہے کہ اگر فوری اس مسئلہ کا حل نہ نکالا، تلافی نہ کی، دفعات کو بحال نہ کیا تو ہماری راہیں جدا۔ تمام سیاسی مصلحتوں کو قربان کیا جاسکتا ہے۔ اسلام، ایمان اور عقیدہ ختم نبوت کو نظر انداز کرنے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ آپ کی اس حوصلہ افزاء، ایمان پرور گفتگو سے دل و دماغ سے بوجھ اترا۔
فقیر راقم نے جناب عزت مآب راجہ ظفر الحق اور مولانا عبدالغفور حیدری صاحب مدظلہ کو فون کیا۔ ساری صورتحال عرض کی۔ ان حضرات نے حکومتی حلقوں میں پیش رفت کی خوشخبریوں سے آگاہ کیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (١٠) ٢٠١٧ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کفر ہار گیا، اسلام جیت گیا:
رب کریم نے کرم فرمایا کہ ۴؍ اکتوبر کی شام کو ۲۰۰۲ء کی انتخابی اصلاحات دوبارہ نافذ کر دی گئیں۔ ۲؍ اکتوبر ۲۰۱۷ء کے بل میں ترمیم کر دی گئی۔ پاکستان کی تاریخ کا یہ پہلا واقعہ کہ آج ایک ترمیمی بل منظور ہوا۔ ایک روز بعد اس میں ترمیم کر دی گئی۔ اس موقعہ پر وہ حضرات، جماعتیں، ادارے، شخصیات اور مسالک جنہوں نے ختم نبوت کی اس جدوجہد میں کسی بھی قسم کا جتنا بھی فرض ادا فرمایا اس پر اللہ تعالیٰ ان کو بہتر جزائے خیر نصیب فرمائیں۔ حق تعالیٰ کے کرم کو دیکھیں کہ اتنی جلدی ایک بار پھر قادیانیت نے شکست کھائی۔ بلکہ یوں تعبیر بہتر ہوگی کہ ’’ایک بار پھر کفر ہار گیا، اسلام جیت گیا‘‘۔
یاد رہے! کہ ۴، ۵، ۶؍ اکتوبر کو وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلس عمومی کا لاہور میں اجلاس تھا۔ ان حضرات نے لمحہ بہ لمحہ صورتحال پر نظر رکھی۔ ذمہ داروں نے حکومت کو خبردار کیا کہ وہ سنجیدگی سے نوٹس لے کر تلافی کرے۔ مولانا قاری محمد حنیف جالندھری نے ترمیمی بل میں بھی ترمیم پر جہاں متعلقہ حضرات کو مبارک باد دی وہاں پر حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ترمیم کے ذریعہ قادیانیت نوازی، کفر پروری، ختم نبوت سے غداری کے مرتکب افراد کو قرار واقعی سزا دے۔ خود جناب شہباز شریف صاحب نے فرمایا کہ سازشی مجرم کا تعین کر کے اسے کابینہ سے نکالا جائے۔ اس پر قومی اسمبلی میں جناب راجہ ظفر الحق صاحب کی سربراہی میں کمیشن بن چکا ہے۔ کچھ دنوں بعد قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومتی رکن قومی اسمبلی جناب کیپٹن صفدر نے دھواں دھار تقریر فرمائی، جو یہ ہے:
شعبہ فزکس کا نام اور جناب کیپٹن (ر) صفدر کا قومی اسمبلی میں خطاب:
’’قائداعظم یونیورسٹی کے ایک شعبہ فزکس کو ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے نام کے ساتھ جو منسوب کیا گیا ہے وہ شخص متنازعہ ہے ۱۹۷۳ء کا آئین اس کو کافر قرار دے رہا ہے۔ ہم اس پاکستان کے اندر اس کے نام کے ساتھ کسی ایسے شعبہ کو منسوب ہونا پسند نہیں کریں گے۔ کیوں طارق اللہ صاحب!
مولانا مودودی نے دو کتابیں لکھیں: ایک ’’قادیانی مسئلہ‘‘ کتاب لکھی۔ جب عرب اسرائیل وار ہوئی اس دور کے بعد اب عربوں کو پاکستان کے اندر سے پاور چاہئیے تھی۔ جب پاور کے لئے انہوں نے بات کی تو یہاں سے جہازوں کے جہاز بھرتی ہو کر گئے اور بعد میں سعودی گورنمنٹ نے کہا کہ یہ کیا بات ہے کہ (رضا ہراج صاحب! برکت والی بات ہو رہی ہے) ہمارا پیغام اسرائیل میں کیسے جا رہا ہے جب ان کی ایجنسیوں نے رپورٹ دی کہ پاکستان سے جو لوگ آئے ہوئے ہیں وہ اس کو لیک آؤٹ کر رہے ہیں تو اس پہ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی نے کتاب لکھی۔ آج ان کی قبر منور ہے، نور سے بھری ہوئی ہے۔ ۱۹۶۶ء کے اندر کویت میں یہ کتاب شائع ہوئی۔ اس کے بعد انہوں نے ۲۲۵ صفحات کی ایک کتاب لکھی اس کی عربی میں ٹرانسلیشن ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ یہ ایک اسرائیل کا اور تاج برطانیہ کا لگایا ہوا خود کاشتہ پودا تھا جو برصغیر میں مسلمانوں کے اندر ایک فرقہ بنانا چاہ رہا تھا۔ اس کے بعد ان سب لوگوں کو واپس کیا۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی کی ان کتابوں کی عربی میں ٹرانسلیشن ہوئی، پھر افریقہ میں ان کتابوں کو بھیجا گیا آج ان لوگوں کی خدمات ہم نے لائبریریز کے اندر رکھ دی ہیں۔
جناب ڈپٹی اسپیکر! سر اگر اس قائداعظم یونیورسٹی کے شعبہ فزکس کا نام چینج نہ کیا گیا تو میں یہاں پر ہر روز احتجاج بھی کروں گا اور دوسری سب سے بڑی بات جو میں قرارداد میں بھی لے کر آنا چاہ رہا ہوں کہ افواج پاکستان کے اندر قادیانیوں کی بھرتی پر پابندی لگائی
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جائے۔ احمدیوں کی بھرتی پر بھی پابندی لگائی جائے اور لاہوری گروپ پر بھی پابندی لگائی جائے۔ اس لئے کہ ان کے دین میں ان کے جھوٹے مذہب کے اندر جہاد فی سبیل اللہ کا کانسیپٹ نہیں ہے اور کتنا ظلم ہوا جب ہم ۱۹۷۱ء کی جنگ لڑ رہے تھے ٹینک کور کمانڈر جنرل عبدالعلی قادیانی، اس کا بھائی قادیانی اور میں تو حیران ہوں چودھری ظفر ائیر فورس کا چیف وہ بھی قادیانی۔ کیا یہ لوگ جو ہمارے نبی کی ختم نبوت (ﷺ) پر رکیک حملے کرتے ہیں، کیا یہ اس کے نام سے بننے والے ملک سے وفادار ہوں گے؟
اتنی جرأت سے کوئی بات نہیں کرے گا، جناب ڈپٹی سپیکر ! سر آج وقت ہے، آج فیصلہ لے لو ورنہ یہ زندگی بڑی مختصر ہے۔ کھربوں کا سفر قبر کے اندر ہے، عالم برزخ ہے، روز محشر ہے، شفاعت ہے، ایک طرف جنت ہے اور ایک طرف جہنم ہے۔ آؤ! فیصلہ کر لو کہ نبی کے دشمنوں کو اس ملک کے اندر اہم عہدوں پر نہیں دیکھنا چاہتے۔ آج گریڈ بائیس کے لوگ کیوں نہیں آ کے آپ کو ایک حلف نامہ دیتے؟ کہ آقاﷺ کے نعلین پاک پر ہماری نسلیں قربان، ہم ان کی ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔ یہ پاکستان ہے، یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے، یہ بائیس کروڑ عوام کا ملک ہے۔ تمام مکتبہ فکر کے لوگ اس چیز پر اتفاق کرتے ہیں۔ میں چار عدالتوں کے حوالے آپ کو دے رہا ہوں، دو حوالہ جات پاکستان بننے سے پہلے کے ہیں اور دو حوالہ جات پاکستان بننے کے بعد کے ہیں۔ ایک سول جج ہیں فاروقی صاحب، ایک بہاولپور کی عدالت میں سیشن جج کا فیصلہ، ایک گورداسپور کی عدالت میں، جج مسلمان نہیں ہے وہ فیصلہ دے رہا ہے کہ یہ فرقہ مسلمانوں کا فرقہ نہیں ہے۔ اگر لڑکی مسلمان ہے لڑکا قادیانی، لاہوری، احمدی ہے نکاح نہیں ہو سکتا۔ یہ چار فیصلے ہیں، یہ تو ہمارے ۱۹۷۳ء کے آئین میں ہے۔ کیا لوگ تھے وہ۔ لوگ مجھے کہتے ہیں میں سیاست سے ہٹ کر بات کرتا ہوں۔ ذوالفقار علی بھٹو کو میں شہید اس وجہ سے کہتا ہوں کہ اس نے ختم نبوت کا تحفظ کیا تھا، اس کو تختہ دار پر چڑھنا پڑا۔
جناب سپیکر ! آج لوگوں کو تختہ دار چومنا پڑے گا۔ طارق اللہ صاحب! قائد اعظم یونیورسٹی والے مسئلہ پر آپ قرارداد لے آئیں اور افواج پاکستان میں قادیانیوں کی بھرتی پر پابندی پر میں قرارداد لے کر آؤں گا۔ میں اس پر مناظرہ کرنے کے لئے تیار ہوں جو شخص جہاد فی سبیل اللہ پر ایمان نہیں رکھتا وہ ہماری پاک فوج کا حصہ نہیں ہو سکتا۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اگر آپ لوگ اس سے آنکھیں چرائیں گے، دنیا میں بھی ذلت اور آخرت میں بھی ذلت ہے اور جناب میں حیران ہوں کہ ہماری عدالتوں کے کردار پر ، سید عطاء اللہ شاہ بخاری کو جسٹس منیر نے بلایا۔ مکالمہ ہو رہا ہے، بخاری سید کے درمیان اور جسٹس منیر کے درمیان۔ جس طرح ۱۹۵۳ء کی رپورٹ پر جو ختم نبوت کی تحریک چلی تھی تو اس پر بطور لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے ایک رپورٹ لکھی اور اقبال کا بیٹا تڑپ اٹھا، جسٹس اقبال۔ جاوید اقبال نے کہا کہ کاش اس رپورٹ کو شائع نہ کیا جاتا۔
میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جسٹس منیر کی رپورٹ ایک دروازہ کھول رہی ہے قادیانیوں کے لئے۔ میں دکھ سے یہ کہہ رہا ہوں جہاں مولوی تمیز الدین کے خلاف جسٹس منیر نے فیصلہ دے کر ملک دولخت کیا وہاں وہ شخص قادیانیوں کے حق میں فیصلہ دینے جا رہا تھا۔ شکر ہے اللہ کا کہ اس وقت ایمان افروز طاقتیں، ایک وہ طاقت بھی تھی یہ ہماری تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔
اگر جسٹس منیر کو ہم دیکھیں اور اس سے چلتے چلتے ایوب خان کے دور کو دیکھیں تو جسٹس منیر ، ایوب خان کا دست و بازو بنا۔ جب ہم مشرف تک آتے ہیں پھر ہمیں کون ملتا ہے کہیں ہمیں ڈوگر کورٹس ملتی ہیں، کہیں ہمیں جسٹس ارشاد ملتا ہے۔ آج ان کی تین تین سال نوکریاں ختم ہو گئی ہیں۔ کیا ان کو یہ حق حاصل تھا کہ قادیانیوں مرتدوں، لاہوریوں اور احمدیوں کو یہ اپنے قانون کے نیچے بٹھا کر ان کو ایک دفاع دیتے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اس سارے بیک گراؤنڈ کو ذہن میں رکھتے ہوئے میں آج ڈپٹی سپیکر سے، بائیس کروڑ کی اسمبلی سے ریکوسٹ کر رہا ہوں کہ خدا کے لئے ہماری عدلیہ کے اندر جو لوگ بیٹھے ہوئے ہیں ان کا بھی عقیدہ ختم نبوت کے سرٹیفکیٹ پر دستخط کروانا چاہئے۔ کیا یہ لوگ ماضی میں اس فرقے سے تعلق تو نہیں رکھتے تھے، یا چھپ کے ہماری صفوں میں بیٹھ گئے ہیں؟ کیا یہ قرآن وسنت کے مطابق فیصلے کریں گے؟ آج ہمیں عدلیہ کے نظام میں بھی تبدیلی لانا پڑے گی ۔ افواج پاکستان کی بھرتی میں بھی تبدیلی لانا پڑے گی اور میں یہ بات کہتا ہوں نادرا والوں کو اب بتانا پڑے گا کہ جو لوگ ڈیول نیشنل ہیں ۔ ہمارا پاسپورٹ بھی رکھا ہوا ہے، برطانیہ کا بھی رکھا ہوا ہے، امریکہ کا بھی رکھا ہے اور اسی طرح باقی ممالک کا بھی رکھا ہے۔ کیا ان لوگوں پر کوئی کڑی نظر رکھ رہا ہے کہ وہ ان ملکوں سے اسرائیل کو وزٹ کرتے ہوں ۔ ہمارا ملک ایک ایٹمی پاکستان ہے ہم نے اٹامک انرجی کمیشن کو بچانا ہے، ان سازشیوں سے بچانا ہے۔ لہٰذا تحفظ ختم نبوت کا قانون الیکشن کمیشن کو بھی بتانا پڑے گا۔ ہر پارٹی کو چاہئے کہ جب وہ ٹکٹ دیں تو ساتھ ایک سرٹیفکیٹ، اقرار نامہ وہاں پہ بھی لیا جائے کہ میں آقاﷺ محبوب خدا، نبی برحق پر، اس کی ختم نبوت پر یا خاتم النبیین ہونے پر ایمان رکھتا ہوں، پھر اس کو ٹکٹ دیا جائے۔ تب یہ بات آگے چلے۔
میں چاہتا ہوں کہ جو ہمارا اٹامک انرجی کمیشن ہے اس پہ بھی کام کیا جائے ۔ ایجنسیاں ہم ایم۔این۔ایز کے پیچھے نہ دوڑیں ۔ ہمارے ٹیلی فون ریکارڈ نہ کریں ۔ ہمیں الحمد للہ ! ایک ایک لاکھ لوگوں کا اعتماد حاصل ہے وہ خواہ کسی بھی پارٹی سے ہوں ۔ ہمیں تو صادق وامین اسی دن لوگ کہہ دیتے ہیں جب رات کو بکسے کھلتے ہیں ۔ ہمیں کسی سے صادق وامین کا سرٹیفکیٹ نہیں چاہئے ، ہمارے ماں باپ کی تربیت ہی ہماری لئے صادق وامین ہے ۔ کیوں شاہ محمود قریشی صاحب؟ جن آستانوں پہ ہم بیٹھ کر لوگوں کو فیض دیتے ہیں اس سے زیادہ صادق وامین کا سبق کون دے گا ہمیں؟
تو جناب ڈپٹی سپیکر ! آج تاریخ کے اوراق میں چار پوائنٹ لے کر آ گیا ہوں آپ اس کے کسٹوڈین ہیں ایک تو قائد اعظم یونیورسٹی میں فزکس ڈیپارٹمنٹ کا نام کسی مسلمان کے نام پر رکھیں ۔ افواج پاکستان کے اندر قادیانیوں کی بھرتی پر پابندی لگائیں ، گریڈ بائیس کا افسر بھی یہاں پر آ کر بتائے گا کہ میں عقیدہ ختم نبوت پر ایمان رکھتا ہوں ، پاکستان اٹامک انرجی کمیشن میں ان پر پابندی لگائیں ، ایک حساس ادارہ ہے ۔ اس پر کوئی ایسا شخص بیٹھا ہو جو نظریہ پاکستان کے خلاف ہو، جو بنگلہ دیش بننے پر ربوہ میں چراغاں کر رہا ہو، جو پاکستان کے ساتھ ہونے والے ۱۲/اکتوبر کو جب مارشل لاء لگا، آئین توڑ دیا گیا تھا، یہ لوگ خوشیاں منا رہے تھے کہ جس آئین نے ہمیں کافر قرار دیا ہے وہ ٹوٹ گیا ہے ۔ میں نے بیان دیا اس وقت میں جیل میں تھا۔ میں نے کہا کہ ۱۲/اکتوبر کا انقلاب فوجی انقلاب نہیں یہ قادیانی انقلاب ہے۔ اس لئے کہ مشرف کا سسرال قادیانی تھا اور ان کا طریقہ کار یہ ہے کہ اپنی بیٹیاں بڑے بڑے عہدوں پر بیاہ کر ان بیٹیوں سے یہ کام لیتے ہیں ۔
جناب ڈپٹی سپیکر ! میں تلخ حقائق بیان کر رہا ہوں صرف اور صرف اللہ کی رضا کے لئے اور نبی کی شفاعت کے لئے ۔ جو میں الفاظ بیان کر رہا ہوں میں بطور ایک آستانہ کے ایک خانوادہ ہونے کی نیت سے اس حیثیت سے میرے اوپر فرض ہے ۔ میری رگوں میں خون علی ؓ دوڑ رہا ہے۔ آپ اس حق وصداقت کی بات کرو، چھوڑ دو اس ایم این اے شپ کو ، چھوڑ دو اس دنیا کی رفعت کو اور اس کی عارضی عزت کو ۔ تمہارے لئے اللہ نے اور عزتیں اور رفعتیں رکھی ہوئی ہیں ۔
جناب ڈپٹی سپیکر ! یہ کردار آپ کو ادا کرنا پڑے گا۔ یہ چار میرے پوائنٹ ہیں ۔ اگر یہ طارق اللہ صاحب اور یہ سارے مل کے اور شاہ محمود قریشی سیاست سے ہٹ کر میرے ساتھ اس بات پہ چلیں گے تو کل جب ان کے بزرگوں کا عرس ہوگا تو میں وہاں جاکے اس چیز کی شہادت دوں گا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ۷۰ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جناب ڈپٹی اسپیکر! اب ہمیں دو دن میں جواب چاہئے ورنہ ہاؤس کا سینس لے لیں۔ قائداعظم یونیورسٹی کے شعبہ فزکس کو تو ابھی آپ ہاؤس کا سینس لے کر تبدیل کر دیں اس میں کوئی بڑی بات نہیں، کنسنس کر لیں۔
(محترم جناب کیپٹن (ر) صفدر کی تقریر ختم ہوئی)
اس تقریر پر محترم جناب رانا ثناء اللہ پنجاب کے وزیر انصاف وقانون نے ایک مغالطہ آمیز اور متنازعہ، قادیانیوں کے حق میں سماء ٹی وی پر بیان دیا ”جو کسی بھی طرح نہ قرین انصاف ہے نہ مطابق قانون ہے ۔“ اس پر ملک بھر میں ایک بار پھر احتجاج شروع ہو گیا۔ لگتا یہ ہے کہ نون لیگ حکومت کی اس قادیانیت نوازی کے باعث ان کے پاؤں تلے زمین کھسک رہی ہے۔ غلطی پر غلطی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ فقیر راقم نے جناب رانا صاحب کے بیان کے جواب میں چند گزارشات گوش گزار کیں، جو یہ ہیں:
وزیر قانون جناب رانا ثناء اللہ سے چند کھلی گزارش:
محترم جناب رانا ثناء اللہ صاحب کا ایک انٹرویو ۱۱؍اکتوبر ۲۰۱۷ء کو سماء ٹی وی پر آیا ہے۔ جس میں جناب رانا صاحب نے ارشاد فرمایا کہ:
- الف ...... ”اس ملک میں اس (قادیانی) کمیونٹی کے لوگ رہتے ہیں۔ ان کے جان و مال کی حفاظت کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔“
محترم رانا صاحب کی اس بات سے سو فیصد اتفاق ہے کہ اقلیتوں کے جان و مال کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے۔ صرف ریاست نہیں بلکہ ریاست کے عوام کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ اس امر میں بھی حکومت کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہوں اور اقلیتوں کے جان و مال کی نگہداشت کریں۔ لیکن رانا صاحب! کیا اجازت بخشیں گے کہ آپ سے ایک سوال کر لیا جائے کہ جس طرح ریاست وعوام کا فرض ہے کہ اقلیتوں کی جان و مال کی حفاظت کریں کیا اقلیتوں پر بھی کوئی فرض عائد ہوتا ہے یا ان کے صرف حقوق ہی ہیں، ان کے ذمہ فرائض نہیں ہیں؟ اگر ان کے ذمہ بھی فرائض ہیں تو کسی بھی ریاست کی وفادار اور امن پسند اقلیت کا فرض اولین ہے کہ وہ ریاست کے قوانین تسلیم کریں، ان کی پاسداری کریں، ان کے خلاف باغیانہ روش اختیار نہ کریں۔ قانون کی بالا دستی کو دل و جان سے برقرار رکھیں۔ اگر ایک اقلیت، آئین سے بغاوت کی مرتکب ہے وہ حکومت کے منظور شدہ قوانین کو تسلیم نہیں کرتی۔ تو ایسی اقلیت کو آئین کا پابند بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے؟ قانون کی بالا دستی، ریاست کی رٹ کو بحال کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور ضرور ہے تو پھر توجہ فرمائیں! کہ آئین کہتا ہے کہ قادیانی مسلمان نہیں۔ قادیانی آئین سے بغاوت کے مرتکب ہیں۔ ان کو آئین کا پابند بنانا حکومت کی ذمہ داری تھی، ہے اور رہے گی۔ یہ وہ نکتہ ہے جس پر عمل کرنے سے تمام مسائل حل ہو جاتے ہیں۔ قادیانیوں کو قانون کا پابند بنایا جاتا۔ قادیانی قانون کی بالا دستی کو تسلیم کرتے تو ۱۹۷۴ء کے آئینی فیصلے کے بعد سرے سے یہ مسائل پیدا ہی نہ ہوتے۔ حکومت قانون پر عمل نہ کرے۔ قادیانی قانون سے انکار و انحراف و بغاوت کا راستہ اختیار کریں تو اس کا تدارک ہونا چاہئے۔ اس کا یہ حل نہیں ہے کہ جو یہ کہتے ہیں کہ قادیانیوں کو قانون کا پابند بنایا جائے ان کے پیچھے لٹھ لے کر دوڑ پڑیں۔ اس طرز عمل سے مسائل جنم لیتے ہیں۔ محترم رانا صاحب ہمارے پنجاب کے وزیر انصاف ہیں وہ بھی بات ادھوری کریں تو یہ بات زخموں پر نمک پاشی کے مترادف سمجھی جائے گی۔ کاش! رانا صاحب یہ فرماتے کہ قادیانی قانون کی پاسداری کریں۔ ریاست اور عوام قادیانیوں کی جان و مال کا ہمیشہ کی طرح تحفظ کریں۔ مگر ایسا نہ فرمانا پوری بات نہ کہنا قرین انصاف نہیں ہے۔
- ب ...... ”قادیانی نماز پڑھتے ہیں روزہ رکھتے ہیں مساجد بناتے ہیں وہ اذان بھی دیتے ہیں بس وہ ایک پوائنٹ پر اختلاف کرتے ہیں۔“
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
محترم رانا صاحب سے بصد ادب گزارش ہے کہ پہلے اس پر غور فرمائیں کہ نماز ، روزہ ، مساجد بنانا ، اذان دینا ، یہ اسلامی اعمال ہیں ۔ کفر و اسلام کا فیصلہ اعمال پر نہیں ہوتا بلکہ عقائد پر ہوتا ہے ۔
ختم نبوت عقیدہ ہے اس سے انحراف کرنے والا ہزار بار اعمال بجا لائے وہ غیر مسلم گردانا جائے گا ۔ مسیلمہ کذاب اور اس کے پیروکار نماز پڑھتے تھے ، اذان دیتے تھے ، روزہ رکھتے تھے ، اذان میں ’’اشھد ان محمد رسول اللہ ‘‘ کہتے تھے ، قبلہ کی طرف رخ کرتے تھے ، مسلمانوں کا ذبیحہ کھاتے تھے لیکن جب مسیلمہ کذاب نے نبوت کا دعوی کر کے ختم نبوت کا انکار کیا تو اس کے تمام اعمال غارت ہوئے بلکہ اس کے غلط عقیدہ اختیار کرنے سے اسے اور اس کے پیروکاروں کو امت سے علیحدہ سمجھا گیا ۔ یہی حال قادیانیوں کا ہے ۔ غرض کفر و اسلام کا فیصلہ عقائد پر ہوتا ہے ، اعمال پر نہیں ۔
محترم رانا صاحب ! اس موقع پر انتہائی ادب سے مجھے درخواست کرنا ہے کہ اگر اعمال پر ہی کفر و اسلام کا فیصلہ کرنا ہے تو اعمال کے بارہ میں قادیانی مؤقف کیا ہے؟ اس کو سمجھے بغیر کچھ کہنا ’’مدعی سست، گواہ چست‘‘ والی بات ہوگی ۔ آئیے ! چند قادیانی حوالہ جات اور ان کے نتائج پر پہلے نظر ڈالتے ہیں :
- ......۱ ”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ میرے کانوں میں گونج رہے ہیں ۔ آپ نے فرمایا یہ غلط ہے
کہ دوسرے لوگوں سے ہمارا اختلاف صرف وفات مسیح یا اور چند مسائل میں ہے آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی ذات رسول کریم ﷺ قرآن ، نماز ، روزہ ، حج ، زکوٰۃ غرض کہ آپ نے تفصیل سے بتایا کہ ایک ایک چیز میں ہمیں ان (مسلمانوں) سے اختلاف ہے۔“
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان مندرجہ الفضل، ج ۱۹، نمبر ۱۳، مورخہ ۳۰ جولائی ۱۹۳۱ء)
- ......۲ ”اس کے بعد حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) نے صاف حکم دیا کہ غیر احمدیوں کے ساتھ ہمارے کوئی تعلقات ان کی غمی اور
شادی کے معاملات میں نہ ہوں جب کہ ان کے غم میں ہم نے شامل ہی نہیں ہونا تو پھر جنازہ کیسا ۔“
(اخبار الفضل قادیان ج ۳، نمبر ۱۲۰ مؤرخہ ۱۸؍ جون ۱۹۱۲ء)
- ......۳ ”خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے
اور خدا کے نزدیک قابل مواخذہ ہے۔“
(تذکرہ مجموعہ الہامات مرزا ص۶۰ طبع ۴)
- ......۴ ”جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے
والا اور جہنمی ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات ص ۲۷۵، ج ۳)
- ......۵ ”کل جو مسلمان حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا نام بھی نہیں سنا وہ
کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“
(آئینہ صداقت ص ۳۵ مصنفہ خلیفہ قادیان)
- ......۶ ”یہ بات تو بالکل غلط ہے کہ ہمارے اور غیر احمدیوں کے درمیان کوئی فروعی اختلاف ہے۔..... کسی مامور من اللہ کا انکار کفر ہو جاتا ہے
ہمارے مخالف حضرت مرزا صاحب کی ماموریت کے منکر ہیں ۔ بتاؤ کہ یہ اختلاف فروعی کیونکر ہوا۔ قرآن مجید میں تو لکھا ہے لانفرق بین احد من رسلہ لیکن حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے انکار میں تو تفرقہ ہوتا ہے۔“
(نہج المصلیٰ مجموعہ فتاویٰ احمدیہ ۴۲۷، ۴۲۵ مؤلفہ محمد فضل خان قادیانی)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ......۷ ’’ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد کو نہیں مانتا اور یا محمد کو مانتا ہے پر مسیح موعود (مرزا)
کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔‘‘
(کلمۃ الفصل مصنفہ بشیر احمد قادیانی ص ۱۱۰)
- ......۸ ’’ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خدا تعالیٰ کے
ایک نبی کے منکر ہیں۔ یہ دین کا معاملہ ہے اس میں کسی کا اپنا اختیار نہیں کہ کچھ کر سکے۔‘‘
(انوار خلافت ص ۹۰)
- ......۹ ’’(میاں محمود احمد خلیفہ قادیان نے) فرمایا جس طرح عیسائی بچے کا جنازہ نہیں پڑھا جاسکتا اگرچہ وہ معصوم ہی ہوتا ہے۔ اسی
طرح ایک غیر احمدی کے بچے کا بھی جنازہ نہیں پڑھا جاسکتا۔ (خلیفہ قادیان مندرجہ الفضل ج۱۰، نمبر ۳۲، ص۶ مؤرخہ ۲۳؍ اکتوبر ۱۹۲۲ء)
- ......۱۰ ’’پس مسیح موعود (مرزا قادیانی) خود محمد رسول اللہ ہے جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔‘‘
(مرزا بشیر احمد پسر مرزا قادیانی کلمۃ الفصل ص ۱۵۸)
ان قادیانی دس حوالہ جات سے یہ دس باتیں ثابت ہوئیں کہ:
- ......۱ قادیانیوں کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی ذات، حضور سرور کائنات ﷺ کی ذات، قرآن، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ میں مسلمانوں سے
اختلاف ہے۔
- ......۲ قادیانیوں کے نزدیک مسلمانوں کی شادی، غمی، جنازہ، میں شرکت جائز نہیں۔
- ......۳ قادیانیوں کے نزدیک تمام مسلمان جو مرزا کو نبی نہیں مانتے سب نان مسلم ہیں۔
- ......۴ مرزا کو نہ ماننے والا جہنمی ہے۔
- ......۵ مرزا کو نہ ماننے والا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے
- ......۶ قادیانیوں کے نزدیک مسلمانوں سے اختلاف فروعی نہیں اصولی ہے۔
- ......۷ قادیانیوں کے نزدیک مرزا کا نہ ماننے والا صرف کافر نہیں بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔
- ......۸ قادیانیوں کے نزدیک مسلمانوں کو مسلمان نہ سمجھنا فرض ہے۔
- ......۹ مسلمانوں کا نماز جنازہ حتیٰ کہ مسلمانوں کے بچوں کا بھی جنازہ پڑھنا جائز نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ظفر اللہ قادیانی نے قائد اعظم بانی
پاکستان کا نماز جنازہ نہیں پڑھا تھا۔
- ......۱۰ مرزا قادیانی معاذ اللہ محمد رسول اللہ ہے۔
ان قادیانی دس حوالہ جات سے دس نتائج برآمد ہوئے ان کے ہوتے ہوئے ان کے متعلق کہنا کہ مسلمانوں سے معمولی اختلاف ہے یہ کس طرح زیبا ہے؟ اس پر رانا صاحب سے تدبر و تفکر کی درخواست ہے۔
- ج...... ان حوالہ جات کے باوجود محترم رانا صاحب فرماتے ہیں کہ ’’وہ (قادیانی) بس ایک پوائنٹ پر اختلاف کرتے ہیں۔ تو رانا
صاحب کے اس فرمان سے بصد ادب اتفاق کرنا مشکل ہے کیونکہ یہ بات بالکل خلاف واقعہ ہے۔ اس لئے کہ:
- ......۱ مسلمانوں کے نزدیک حضور سرور کائنات ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں قادیانیوں کے نزدیک حضور سرور
کائنات ﷺ کے بعد مرزا قادیانی بھی اللہ کا رسول اور نبی تھا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ......۲ مسلمانوں کے نزدیک رحمت عالم ﷺ کو ایمان کی حالت میں دیکھنے والے صحابہ کرام ؓ ہیں جب کہ قادیانیوں کے نزدیک مرزا قادیانی کے زمانہ میں اس کو قبول کرنے والے بھی صحابی ہیں۔
- ......۳ مسلمانوں کے نزدیک رحمت عالم ﷺ کا خاندان اہل بیت ؓ ہے۔ جب کہ قادیانیوں کے نزدیک مرزا قادیانی کا خاندان بھی اہل بیت ہے۔
- ......۴ مسلمانوں کے نزدیک رحمت عالم ﷺ کی ازواج امہات المؤمنین ؓ ہیں جب کہ قادیانیوں کے نزدیک مرزا قادیانی کی بیوی بھی ام المؤمنین ہے۔
- ......۵ مسلمانوں کے نزدیک مدینہ منورہ میں جنت البقیع کا قبرستان مقدس ہے، قادیانیوں کے نزدیک قادیان کا بہشتی مقبرہ بھی مقدس ہے۔
- ......۶ مسلمانوں کے نزدیک حضور ﷺ کو نہ ماننے والا مسلمان نہیں۔ قادیانیوں کے نزدیک عالم اسلام کے کل مسلمان جو حضور ﷺ کو مانتے ہیں یہ سب مرزا قادیانی کو نہ ماننے کی وجہ سے کافر ہیں۔
- ......۷ مسلمانوں کے نزدیک آخرت کی نجات رحمت عالم ﷺ کی ذات اقدس کی تصدیق واتباع میں منحصر ہے۔ جب کہ قادیانیوں کے نزدیک مرزا قادیانی کو مانے بغیر آخرت کی نجات ممکن نہیں۔
- ......۸ مسلمانوں کے نزدیک مکہ مکرمہ ، مدینہ طیبہ قابل احترام ہیں مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا محمود دوسرا قادیانی خلیفہ کہتا ہے کہ مکہ مدینہ کی چھاتیوں سے دودھ خشک ہو گیا ہے اب اسلام اور روحانیت مرزا قادیانی سے وابستہ ہے اور وہ برکات قادیان میں ہیں۔
- ......۹ مسلمانوں کے نزدیک قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا آخری کلام ہے۔ جب کہ قادیانیوں کے نزدیک مرزا قادیانی پر بھی کلام اللہ نازل ہوا اور وہ اللہ تعالیٰ کا آخری کلام ہے۔
- ......۱۰ مسلمانوں کے نزدیک حدیث رسول اللہ ﷺ مشعل راہ ہے۔ جب کہ قادیانیوں کے نزدیک جو حدیث رسول اللہ ﷺ، مرزا قادیانی کے کلام کے خلاف ہے وہ ردی کی ٹوکری میں ڈالنے کے لائق ہے۔
محترم رانا صاحب ! یہ باتیں ارتجالاً نوک قلم پر آگئیں ان پر ٹھنڈے دل و دماغ سے غور فرمائیں۔ تو خود آپ کو احساس ہو گا کہ قادیانی ”بس ایک پوائنٹ سے اختلاف کرتے ہیں“ آپ کا یہ جملہ حقیقت سے کتنا بعید ہے؟
- ......د محترم رانا صاحب ارشاد فرماتے ہیں کہ ”قادیانی مسجدیں بناتے اور اذانیں دیتے ہیں۔ اس پر سوائے اس کے اور کیا کہا جا سکتا ہے کہ سنا ہے کہ: ”باغبان نے چمن بیچ ڈالا“۔“
محترمی ! پاکستان کے قانون میں قادیانی اپنی عبادت گاہ کو مسجد نہیں کہہ سکتے ۔ اسی پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ کے وزیر قانون قادیانی عبادت گاہ کو مسجد قرار دے رہے ہیں ۔ قادیانی مسلمانوں کی طرز پر اذان نہیں دے سکتے ۔ وزیر قانون ارشاد فرماتے ہیں کہ وہ اذانیں دیتے ہیں ۔ گویا کہ وزیر قانون تسلیم کرتے ہیں کہ قادیانی قانون پاکستان کے توڑنے والے ہیں ۔ ان قانون کے باغیوں کو قانون کا پابند بنانا چاہئے یا ان کی وکالت کرنی چاہئے ؟ اب یہ فیصلہ کرنا ہمارے وزیر قانون وانصاف پنجاب کے ذمہ ہے۔
- ......ھ رانا صاحب فرماتے ہیں کہ ”قادیانی خود کو نان مسلم نہیں مانتے ۔“
محترمی ! یہی تو جھگڑا ہے کہ وہ قادیانیت کو اسلام کہتے ہیں ۔ قادیانی ہو کر اسلام کا ٹائٹل استعمال کرتے ہیں ۔ خود کو مسلمان اور
تحریک ختم نبوت جلد (١٠) ٢٠١٧ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پوری دنیا کے مسلمانوں کو نان مسلم کہتے ہیں۔ مسلمانوں کے تشخص کو مجروح کرنا، اسلام کے تشخص کو برباد کرنا اپنے کفر کو اسلام کے نام پر پیش کرنا۔ یہ وہ قادیانی جرائم ہیں جن کے باعث ان کو پاکستان کی قومی اسمبلی نے غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ اب قادیانیوں کا کہنا کہ کسی اسمبلی کو حق نہیں کہ وہ کسی کو کافر قرار دے۔ خوب بلکہ خوب تر۔ گویا قادیانیوں کو تو حق حاصل ہے کہ پوری دنیا کے مسلمانوں کو مرزا قادیانی کے نہ ماننے کی وجہ سے کافر قرار دیں۔ لیکن قومی اسمبلی ایسے منتخب ادارہ کو حق حاصل نہیں کہ وہ کسی کے متعلق قانون سازی کرے۔
چلیں! ٹھیک سہی۔ لیکن قادیانی قیادت اس بارہ میں کیا ارشاد فرماتی ہے کہ جب قادیانی مسئلہ قومی اسمبلی میں پیش ہوا تو تمہارے خلیفہ کیوں قومی اسمبلی میں پیش ہوئے؟ آپ کی جماعت قومی اسمبلی کی کارروائی میں کیوں شریک ہوئی؟ اور پھر یہ شرکت بھی تمہاری جماعت کی درخواست پر ہوئی کہ ہمیں قومی اسمبلی میں اپنا موقف پیش کرنے دیا جائے۔ خود اپنی مرضی سے درخواست دی۔ خوشی خوشی خلیفہ صاحب اس کارروائی کا حصہ بنے۔ اب انکار ”چہ معنی دارد“؟ ہر ملک کی قومی اسمبلی کو قانون سازی کا حق ہے تو پاکستان کی قومی اسمبلی پر اعتراض کیوں؟ کیا یہ پاکستان کو بدنام کرنے کی قادیانی سازش نہیں ہے؟ ہے اور یقیناً ہے۔ تو کیا ان کی وکالت کرنی چاہئے؟
...... بات کو ختم کرنے سے قبل ایک وضاحت ضروری ہے۔
رانا صاحب! ایک ہندو جب کسی مسلمان سے ملتا ہے تو اس کا مسلمان سے ملتے ہی پہلا تاثر یہ ہوتا ہے کہ میں رام کو ماننے والا ہوں یہ مسلمان، اللہ تعالیٰ کو ماننے والا ہے۔ میں وید کو مانتا ہوں یہ قرآن مجید کو مانتا ہے۔ میں ہندو ہوں یہ مسلمان ہے۔ ایک عیسائی جب کسی مسلمان کو ملتا ہے تو اس کا پہلا تاثر یہ ہوتا ہے کہ میں عیسیٰ علیہ السلام کا امتی ہوں۔ یہ حضور علیہ السلام کا امتی ہے میں انجیل کو مانتا ہوں اور یہ قرآن مجید کو مانتا ہے۔ میں عیسائی ہوں یہ مسلمان ہے۔ ایک یہودی جب کسی مسلمان کو ملتا ہے اس کا پہلا تاثر یہ ہوتا ہے کہ میں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا امتی ہوں یہ حضور علیہ السلام کا امتی ہے، میں تورات کو مانتا ہوں یہ قرآن مجید کو مانتا ہے میں یہودی ہوں یہ مسلمان ہے۔
جب کوئی سکھ مسلمان کو ملتا ہے تو اس کا پہلا تاثر یہ ہوتا ہے کہ میں بابا نانک کا مرید ہوں یہ حضور ﷺ کا غلام ہے۔ میں گرنتھ کو مانتا ہوں۔ یہ قرآن مجید کو مانتا ہے میں سکھ ہوں یہ مسلمان ہے۔ گویا ہندو، عیسائی، یہودی، سکھ نے مسلمانوں کا یہ حق تسلیم کیا کہ حضور ﷺ کو ماننے والے مسلمان ہیں۔ دنیا میں صرف قادیانی ایک ایسا طبقہ ہے کہ جب کوئی قادیانی کسی مسلمان کو ملتا ہے تو قادیانی کا مسلمان کو ملتے ہی پہلا تاثر یہ ہوتا ہے کہ میں مرزا قادیانی کو ماننے والا مسلمان ہوں اور یہ مسلمان حضور ﷺ کو ماننے والا نان مسلم ہے۔
اے کاش مسلمان سوچیں! کہ قادیانی آپ کو کیا سمجھتے ہیں اور آپ ان کے متعلق کیا کیا وکالت کے فرائض سرانجام دیتے ہیں؟ ببیں تفاوت!!!
(وزیر قانون جناب رانا ثناء اللہ سے کی گئیں گزارشات ختم ہوئیں)
گزشتہ ایک ہفتہ (اوائل اکتوبر) میں عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کی جدوجہد کے سلسلہ میں جو تازہ صورتحال تھی وہ دو قسطوں میں عرض کر دی ہے۔ مزید اس پر انتہائی اعتدال و انصاف اور حق پسندی سے قانون کے دائرے میں رحمت عالم ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لئے اپنی جدوجہد کو نئے ولولہ و جذبہ سے جاری رکھیں۔ خدا کرے جلد قادیانیت کے کفر کا خاتمہ ہو۔ اللہ رب العزت، قادیانیوں کو ایمان و اسلام اور عقیدہ ختم نبوت کے قبول کرنے کی سعادت سے سرفراز فرمائیں۔ ان کا اور امت مسلمہ کا اختلاف فروعی نہیں اصولی ہے۔
تازہ صورتحال اور ہماری ذمہ داری:
یاد رہے! کہ بعض ایجنسیاں عقیدہ ختم نبوت کی اس تازہ صورتحال کو سیاسی مفادات کے لئے نیا رنگ دے رہی ہیں۔ ان سے
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گزارش ہے کہ رحمت عالم ﷺ کی ختم نبوت کا عقیدہ ، دین کا بنیادی واساسی مسئلہ ہے اسے سیاسی اغراض، ذاتی مقاصد یا کسی کے سیاسی قد کے اتار چڑھاؤ کے لئے استعمال کرنا شرعاً واخلاقاً کسی بھی طرح روا نہیں۔ اسے غلط مقاصد کے لئے استعمال کرنے والا ۔ خدا تعالیٰ ورسول ﷺ کی ذات اقدس سے دشمنی کا مرتکب ہوگا۔ حق تعالیٰ سب کو اس سے محفوظ فرمائیں۔ آمین! ثم آمین!
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۱۷ء ص۳ تا ۱۵)
حلف نامہ ختم نبوت کی بحالی
حضرت عبدالقیوم حقانی مدظلہ نے ذیل کا مضمون لکھا۔ ملاحظہ فرمائیں:
ختم نبوت سے متعلق متنازعہ ترمیم کا خاتمہ (مولانا عبدالقیوم حقانی):
- ☆ ...... پارلیمنٹ میں ختم نبوت کا پرچم لہرا دیا گیا۔
- ☆ ...... ختم نبوت سے متعلق تمام قوانین بحال کر دیئے گئے۔
- ☆ ...... عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، مذہبی اور سیاسی قیادت کا تاریخی کردار۔
- ☆ ...... مولانا اللہ وسایا کی عدالت سے درخواست ، ایک تاریخی کارنامہ۔
- ☆ ...... جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا جرأت مندانہ تاریخی فیصلہ۔
- ☆ ...... حکومت اپنی آئینی، اخلاقی اور ایمانی ذمہ داری پوری کرے۔
تحفظ ناموس رسالت کے حوالے سے گزشتہ ایک ماہ سے جو کچھ آپ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں، کانوں سے سن رہے ہیں، امریکی دھمکی آمیز مطالبے، حکومتی ارکان کا گھٹیا اور منافقانہ کردار، وزراء کے غیر ذمہ دارانہ بیانات، دینی قوتوں کی بیداری، سینیٹ میں حافظ حمد اللہ اور سراج الحق کا آغاز کار، مولانا سمیع الحق کا بروقت انتباہ، مولانا فضل الرحمن اور راجہ ظفر الحق کا سابق وزیراعظم (میاں نواز شریف) اور حکمرانوں سے رابطہ اور مخلصانہ تفہیم و مشاورت، رائیونڈ کے بزرگوں کی توجہات اور اجتماعات میں دعاؤں کا اہتمام، کیپٹن صفدر اور شیخ رشید تک کا والہانہ جذبہ جنوں، وفاق المدارس کے زعماء کی بیدار مغزی، تحریک لبیک یا رسول اللہ کا دھرنا اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی بیداری و جان نثاری اور اس کے درویش صفت مرکزی رہنما المجاہد فی سبیل اللہ مولانا اللہ وسایا کا بروقت اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع، چیف جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا جرأت مندانہ ایمان افروز فیصلہ، بروقت اقدامات اور اہل حق کی کامیابی نے بالآخر حکومت کو اپنے مذموم عزائم میں پسپا کر دیا۔
قومی پریس اور الیکٹرانک میڈیا میں اس موقع پر قومی وملی، مذہبی اور سیاسی زعماء کا کردار ان کا تذکرہ و تشکر سر آنکھوں پر، مگر بنیاد کا پتھر، بنیاد کا پتھر ہی ہوا کرتا ہے جس کی اہمیت اور قدر و قیمت معمار اور رب غفار ہی جانتا ہے کہ ساری عمارت اسی پر استوار ہوتی ہے۔ اسی طرح تحفظ ختم نبوت کے حوالے سے تمام تر قومی وملی اور سیاسی جدوجہد میں بے نام و گمنام اور مخلصانہ کردار کے حوالے سے بنیاد کے پتھر کے مصداق نیک نام ، درویش خدا مست، مرد قلندر مولانا اللہ وسایا ہیں۔ جو میدان عمل اور معرکہ کارزار کے پس منظر میں اصل اہداف پر کام کرتے رہے اور تمام قوتوں کو ساتھ لے کر بالآخر تحفظ ختم نبوت کے مشن میں کامیاب ہو گئے۔ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا، حکومتی تزویرات کو بے نقاب کر کے قانونی چارہ جوئی میں مکمل کامیابی حاصل کی:
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اس موقع پر میں شورش کاشمیری کا یہ کلام ان کی نذر کر رہا ہوں:
ہم ایسا پھر کوئی خاک چمن سے شاذ اٹھے گا پھرو گے ڈھونڈتے لیکن ہمیں ہرگز نہ پاؤ گے
بگولے تھک کے سو جائینگے صحراؤں کے سینوں پر خود اپنے حال پر وحشت کدوں میں تلملاؤ گے
تمہاری سربلندی ایک دن مجبور کردے گی ہمارے نقش پا ہوں گے جہاں تم سر جھکاؤ گے
زمیں پر جب کوئی افتاد تازہ سر اٹھائے گی ہماری جرأتوں کی داستانیں جگمگاؤ گے
ہم ایسے لوگ یارو آئے دن پیدا نہیں ہوتے وفا کی آرزو لے کر ہمارے گیت گاؤ گے
اسلام کی محبت اور حضور خاتم النبیین ﷺ کا عشق ان کی حیات مستعار کا عزیز ترین سرمایہ ہے۔ تحفظ ختم نبوت سے وابستگی نے ان کے ارادوں کو توانائی اور حوصلوں کو برنائی عطا کی۔ وہ ابتلاء و آزمائش کے شدید ترین مراحل سے گزرے۔ مگر ایک لمحے کے لئے بھی ان کے پائے ثبات میں لغزش نہیں آئی۔ سیاسی راہیں، وقتی فیصلے اور ہنگامی میلانات متنازع فیہ ہو سکتے ہیں۔ مگر مولانا اللہ وسایا شیفتگی اور والہیت کے ساتھ دفاع ختم نبوت کے میدان میں جرأت اور بہادری کے ساتھ لڑے۔ جنہوں نے پوری قوم کو زندگی کے نئے رخ، نئی جہت، نئے ذوق، نئی لذت، نئے زاویے اور نئی روح سے آشنا کر دیا۔
ختم نبوت اسلام کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس بنیاد کے تحفظ کے لئے اپنی زندگی کو خطرے میں ڈالا ہوا ہے۔ مولانا اللہ وسایا جس نے آغاز کار ہی سے علامہ بنوری، مولانا مفتی محمود، خواجہ خان محمد اور زعماء ختم نبوت کا دامن پکڑا، مولانا تحریک تحفظ ختم نبوت کے فدائی ہیں۔ انہیں یہ عشق اپنے عظیم اکابر سے ورثہ میں ملا ہے۔ تاریخ نے ان کو موجودہ حالات میں تحریک تحفظ ختم نبوت کے لئے بنیاد کا پتھر بنا دیا اور تحفظ ختم نبوت کے ایک عظیم علمبردار اور والہ و شیدا کی حیثیت سے اجاگر کر دیا ہے۔ وہ ہر ممکنہ انداز سے ختم نبوت کا دفاع کر رہے ہیں۔ یہ ایک قطعی بات ہے کہ ہمارا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک ہم حضور اقدس ﷺ کو اپنے مال، اولاد اور جان سے زیادہ عزیز نہ سمجھیں۔
مولانا اللہ وسایا نے حضور اقدس ﷺ کو عزیز ہی نہیں عزیز از جان تصور کیا ہوا ہے۔ اس ذات گرامی ﷺ کے ناموس کے لئے کسی قربانی سے کبھی دریغ نہیں کیا۔ یہ بات جہاں ان کی پختگی ایمان کی دلیل ہے۔ وہاں اس حقیقت کو بھی آشکارا کرتی ہے کہ حضور ﷺ کے فیض محبت نے ان کے دل میں عشق رسول ﷺ اور خوف خدا کو اس درجہ راسخ کر دیا ہے کہ وہ کجکلاہوں کی رعونت کو پرکاہ سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ وہ ہر معرکہ عمل، ہر مشکل ترین امتحان اور آزمائش کی ہر گھڑی میں تحفظ ناموس رسالت ہی کے مشن سے لو لگا کر جرأت و بسالت کے چراغ روشن کر رہے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ان کے دور مساعی میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو خوب استحکام حاصل ہوا۔ ضلع ضلع، تحصیل تحصیل اور گاؤں گاؤں میں اس کی تنظیمیں قائم ہوئیں۔ ملک بھر میں تحصیل اور ضلعی سطح پر بڑے بڑے اجتماعات تاریخ ساز کانفرنسوں کا انعقاد ہوا۔ یہاں تک کہ مولانا کی رسائی بھی مشکل ہو گئی ہے۔
اب مولانا اللہ وسایا کی درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے الیکشن ایکٹ ۲۰۱۷ء میں ختم
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نبوت سے متعلق ترمیم معطل کر کے اس سلسلے میں ختم کئے گئے تمام قوانین بحال کر دیئے۔ پوری امت جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو اس عظیم تاریخی اور جرأت مندانہ فیصلہ پر زبردست خراج تحسین پیش کرتی ہے۔ حکومت کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ ہائی کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔ تاہم یہ حقیقت بھی اظہر من الشمس ہے کہ ہائی کورٹ کی جانب سے حکومتی اصلاحات بل پر عدم اعتماد حکومتی بدنیتی کو ثابت کر رہا ہے۔
حکومت ایک ایسا غیر اسلامی اقدام کر بیٹھی ہے کہ ہزار مرتبہ ترمیم واپس لینے کے بعد بھی اس جرم پر پردہ نہیں ڈالا جا سکتا۔ روز اوّل سے مسلم لیگ (ن) کی حکومت بہت سارے ناجائز و غیر اسلامی اقدامات ایسے کرتی آئی ہے جن کو ہمیشہ مخفی رکھا گیا۔ لیکن یہ مبینہ گستاخانہ اقدام سامنے آ گیا اور حکومت کا بھانڈا چوراہے پر پھوٹ گیا۔ علماء، قائدین اور عوام میں تشویش اور غصہ و غضب کی لہر دوڑ گئی جس کا ازالہ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ تاہم جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا یہ فیصلہ ان کی ایمانی جرأت کا مظہر ہے۔ جس پر وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ یقیناً اس تاریخی فیصلہ میں ایمانی، اسلامی اور عوامی جذبات کا احساس کیا گیا۔
الٹ ڈالوں بیک جنبش بساط کہنہ و نو کو زمین کا رنگ بدلوں چرخ کج رفتار تک پہنچوں
پہنچوں گا بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں مژدہ ملا ہے مجھ کو بشارت یہ خواب میں
اُٹھوں گا عاشقان محمد ﷺ کے ہمرکاب لکھا گیا ہے میری شفاعت کے باب میں
جسٹس صدیقی کے فیصلے کو عدالتوں کے مروّجہ نظام میں ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ ایمانی جذبے کے ولولوں اور عشق رسول کے تخیل کی پرواز نے انہیں عظیم تاریخی مقام بخش دیا ہے۔ ان کے ایمان افروز فیصلے میں حاکمانہ جلال سے زیادہ منصفانہ اور عاشقانہ جمال کا کمال ہے۔
ان کے فیصلے میں تفکر سے زیادہ جذبہ اور گہرائی سے زیادہ رعنائی ہے۔ ان کے فیصلے میں عدل کا حسن اور ایمان کی حلاوت بدرجۂ اتم موجود ہے:
معزز جسٹس صاحب نے سابقہ قوانین کو بحال کرنے کا فیصلہ دے کر حق ادا کر دیا ہے۔ جب کہ حکومت ہمیشہ عوام کو بے وقوف بناتی چلی آئی ہے اور یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ ختم نبوت کا مسئلہ حل ہو گیا ہے۔ اب یہ حکومت کا فرض ہے کہ وہ عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کو یقینی بنائے اور یہ بھی ایک افسوسناک روایت ہے کہ وطن عزیز میں خصوصاً اعلیٰ حکومتی عہدوں پر متمکن دین سے محبت کرنے والوں کو برداشت نہیں کیا جاتا۔
آج اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس بھی دین دشمن کی آنکھوں میں کھٹک رہے ہیں۔ تاہم پاکستان میں دین سے محبت کرنے والوں کی بھی کمی نہیں۔ عقیدۂ ختم نبوت ہر مسلمان کے ایمان کا بنیادی جزء ہے۔ جس کے تحفظ کے لئے ماضی میں بھی بے مثال قربانیاں دی گئیں اور محبین رسول آئندہ بھی ہر قسم کی آزمائش پر پورا اترنے کے لئے تیار ہیں۔ لہٰذا حکومت پوری امت کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے آئین و دستور میں اس قدر خطرناک نقب لگانے والوں کو بے نقاب کرے اور سارقین ختم نبوت کو قرار واقعی سزا دے۔ یہ حقیقت ہے کہ اس قضیے میں اب تک سب سے زیادہ سبکی اور بدنامی ہوئی ہے تو وہ موجودہ حکومت ہے جو پہلے ہی پانامہ کیس اور دیگر سیاسی معاملات میں بری طرح الجھی ہوئی ہے۔ اس سازش کے پیچھے موجود عناصر کو بے نقاب کرنا خود حکومت کے بہتر مفاد میں بھی ضروری ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حکمران جماعت کی صف اوّل کی قیادت نے بھی یہ مطالبہ دہرایا ہے کہ نقب زن کا تعین کر کے اسے سزا دی جائے۔ حکومت نے اس پر راجہ ظفرالحق کی سربراہی میں سہ رکنی تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی۔ کمیٹی نے کام مکمل کر کے رپورٹ حکومت کے حوالے کر دی۔ مگر بدقسمتی سے حکومت نے تاہنوز نہ صرف اپنی ہی اس کمیٹی کی رپورٹ پر عمل نہیں کیا ہے۔ بلکہ اس سلسلہ میں پیدا ہونے والے تمام تر شبہات کا بھی کوئی ازالہ نہیں کیا۔ اس دوران امریکہ کا بیان بھی سامنے آیا ہے کہ پاکستان توہین مذہب کے قوانین کا خاتمہ کرے۔
دوسری بات یہ کہ حکومت عوام اور دینی حلقوں کے مطالبات پر کان دھرنے کو تیار نہیں جس سے بعض حلقوں کا یہ شک یقین میں بدلتا نظر آ رہا ہے کہ حکومت بیرونی اشاروں اور دباؤ پر دانستہ اس اہم معاملے کو نظر انداز کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ تاکہ اندرونی مخالفت کو کسی طرح ٹالنے کے بعد باقی کام بھی ہاتھ کی صفائی دکھا کر انجام دیا جا سکے۔ حکومت کی گریز پائی اور لیت ولعل کی پالیسی مظہر ہے کہ معاملات بگاڑنے میں خود ہی اس کا ہاتھ ہے۔ بہتر ہے کہ اب حکومت سنبھل جائے اور تحفظ ختم نبوت سمیت قیام امن بالخصوص ملکی نظریاتی اساس کے تحفظ کے معاملے کو سنجیدہ لے:
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۸ء ص ۱۸ تا ۲۱)
الیکشن اصلاحات بل ۲۰۱۷ء اور ختم نبوت
سپریم کورٹ آف پاکستان کے ایک فیصلہ کے نتیجے میں میاں محمد نواز شریف صاحب وزارت عظمیٰ سے محروم اور سیاست کے لئے نااہل قرار پائے تو ان کی پارٹی پاکستان مسلم لیگ (ن) نے بڑی تگ و دو کے بعد ایک ووٹ کی برتری سے سینٹ سے یہ قانون منظور کرا لیا کہ عدالت سے نااہل کردہ شخص پارٹی سربراہ بن سکتا ہے اور اس کی آڑ میں ۲۰۱۷ء الیکشن اصلاحات میں قادیانیوں اور لاہوریوں کو فائدہ پہنچانے اور اپنے آپ کو بلکہ تمام ایوانوں کے اراکین کو سیکولر ثابت کرنے کے لئے ایسی باریک بینی سے ڈنڈی ماری کہ سینٹ اور قومی اسمبلی کے بڑوں کو اس کی ہوا تک نہ لگنے دی۔ جیسا کہ گزشتہ اداریہ میں تفصیل سے لکھا گیا تھا کہ اراکین اسمبلی کے نامزدگی فارم میں ’’حلف نامہ‘‘ کو ’’اقرار نامہ‘‘ میں تبدیل کیا گیا اور ۲۰۱۷ء کے الیکشن اصلاحات کی دفعہ ۲۴۱ کے ذریعہ ۷ بی اور ۷ سی کو بھی ختم کیا گیا، جب اس پر احتجاج ہوا اور عوامی ردعمل سامنے آیا تو حکومت نے بڑی عجلت میں اور ایک ہی دن کے وقفے کے بعد نامزدگی فارم کو پرانے انداز میں بحال کیا اور ۷ بی اور ۷ سی کو بھی دفعہ ۲۴۱ سے مستثنیٰ قرار دیا گیا۔ بڑا شور مچایا گیا اور عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ ایسا لاشعوری طور پر ہوا ہے اور کہا گیا کہ تلاش کرو اس کا ذمہ دار کون ہے؟ اسے برطرف کیا جائے۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے بھی مطالبہ کیا، اس پر تین رکنی کمیٹی بنائی گئی، اس کی رپورٹ میاں محمد نواز شریف صاحب کو دی گئی، لیکن کمیٹی کی رپورٹ ابھی تک منظر عام پر نہیں لائی گئی بلکہ اب تو بڑی ڈھٹائی کے ساتھ کہا گیا کہ اس کمیٹی کی رپورٹ کو منظر عام پر نہیں لایا جائے گا اور نہ ہی اس میں ملوث افراد کو بے نقاب کیا جائے گا۔ باشعور عوام یہ جانتی ہے اور سمجھتی ہے کہ یہ سب کچھ سوچ سمجھ کر کیا گیا اور عوام کو بے وقوف بنانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی ہے۔
کمیٹی کے سربراہ اب یہ کہہ رہے ہیں کہ اس قانون کو کافی حد تک ٹھیک کر دیا گیا ہے، کچھ کام باقی ہے اور اس کو قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں حل کر لیا جائے گا۔ آپ بھی ان کا یہ بیان ملاحظہ فرمائیں:
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
’’اسلام آباد (خبر نگار) سینٹ میں قائد ایوان راجہ محمد ظفر الحق نے کہا ہے کہ مرحوم آغا شورش کاشمیری برصغیر پاک و ہند کے نامور صحافی ، خطیب ، ادیب ، شاعر اور دانشور تھے۔ ان کی سماجی ، صحافتی ، مذہبی اور ادبی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیشنل پریس کلب میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ (دستور) اور راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام مرحوم آغا شورش کاشمیری کی ۴۲ ویں برسی کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، انہوں نے کہا کہ مرحوم آغا شورش کاشمیری اسلاف کا تسلسل تھے، ان کی زندگی کے آخری دنوں میں بہت گہرا تعلق ہو گیا تھا۔ جب میں نے اسلم قریشی (ختم نبوت تحریک کے ہیرو) کا مقدمہ فوجی عدالت میں لڑا تو وہ بہت خوش تھے اور مجھ سے فرمائش کی کہ پورے مقدمے کی روداد فراہم کی جائے تاکہ وہ اپنے اخبار ’’چٹان‘‘ میں شائع کر سکیں۔ آغا شورش بلند پایہ ادیب ، خطیب اور شاعر بھی تھے اور جدوجہد آزادی میں مسلمانوں کے خون کو شاعری کے ذریعے خوب گرمایا۔ پاکستان کے قیام میں علماء کرام کا کردار بھی نمایاں ہے۔ راجہ ظفر الحق نے کہا کہ انتخابی قوانین میں ختم نبوت کے بارے میں حلف میں تبدیلی کی ترمیم ایک چال تھی، جسے حکومت نے بہت زیادہ تو حل کر لیا ہے باقی آنے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں حل کر لیا جائے گا.... اس موقع پر پارلیمنٹ کی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ قادیانیوں کے حق میں پاکستانی وزارت خارجہ کو امریکی سینیٹرز کو بھیجا جانے والا مشترکہ خط دراصل پاکستان پر ایک دباؤ ہے جس میں واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان قادیانیوں کے لئے تشویشناک ملک ہے۔ پاکستان پر کبھی ختم نبوت اور کبھی توہین رسالت جیسے حساس امور پر بیرونی دباؤ ڈالا جاتا رہا ہے لیکن تازہ اطلاعات کے مطابق اب کئی امریکی سینیٹرز نے مل کر پاکستان کی وزارت خارجہ کو جو خط بھیجا ہے، اس پر پوری قوم ورطۂ حیرت میں ہے..... مرحوم نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ شورش نے علم و ادب اور صحافت کو نئے اسلوب سے روشناس کرایا۔ انہوں نے کہا کہ شورش کاشمیری کا ہی یہ اسلوب تھا کہ انہوں نے میرے والد مولانا مفتی محمود کو اپنی تحریر میں صوبہ سرحد کا درویش وزیر اعلیٰ قرار دیا۔ ملکی حالات ایسے ہیں کہ آج پھر شورش کو یاد کرنا پڑ رہا ہے۔ شورش کا جنازہ بھی میرے والد مفتی محمود نے ہی پڑھایا ، وہ اپنی زندگی میں اپنا مرثیہ خود پڑھا کرتے تھے۔ تعزیتی ریفرنس کے اختتام پر انہوں نے شورش کاشمیری کے درجات کی بلندی کے لئے اجتماعی دعاء کرائی......‘‘
(اداریہ روزنامہ نوائے وقت کراچی ، ۳۰؍ اکتوبر ۲۰۱۷ء)
ختم نبوت قانون کے متعلق اب کون سی کسر باقی رہ گئی ہے؟ اس کی تفصیل یہ ہے:
’’الیکشن ایکٹ ۲۰۱۷ء کی دفعہ ۲۴۱ کے مطابق الیکشن کے متعلق پہلے سے ملک میں رائج ۸ قوانین کو کالعدم قرار دیا گیا ہے، اس کی زد میں قادیانیوں سے متعلق مذکورہ بالا دفعات والا قانون "Conduct of General Election order 2002" بھی آ گیا ہے، لہٰذا مذکورہ دفعات ۷-بی اور ۷-سی کالعدم ہو چکے تھے لیکن دینی جماعتوں اور عوام کے دباؤ پر جب الیکشن ایکٹ ۲۰۱۷ء میں حالیہ ترامیم کی گئیں تو اس کے نتیجے میں پرانی دفعات ۷-بی اور ۷-سی کو الیکشن ایکٹ کا باقاعدہ حصہ بنا کر نئی دفعات کے طور پر شامل نہیں کیا گیا اور نہ ہی نئے دفعات نمبران کے لئے مختص کئے گئے، البتہ مذکورہ آخری دفعہ ۲۴۱ کی ذیلی دفعہ (F) کے آخر میں اضافہ کیا گیا کہ سارا قانون کالعدم قرار پائے گا ، سوائے دفعات ۷-بی اور ۷-سی کے، لیکن ان دفعات کا متن وہاں لکھا ہوا نہیں ہے۔ اس طرح ان دونوں دفعات کا متن الیکشن ایکٹ میں شامل نہیں ہوگا ، لہٰذا متن کی عدم موجودگی کی وجہ سے الیکشن ایکٹ ۲۰۱۷ء کی کتاب جب شائع ہوگی یا کوئی نیٹ پر اس اصلاحاتی بل کو دیکھے گا تو اس میں ۷-بی اور ۷-سی کی دفعات شامل نہیں ہوں گی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ الیکشن ایکٹ میں جب یہ دفعات نہیں ملیں گی تو اس کی تنفیذ اور ان پر عمل درآمد کیسے ہوگا؟ جب کہ صورتحال یہ ہے کہ الیکشن ایکٹ ۲۰۱۷ء میں ووٹرلسٹ سے متعلق ایک درجن
تحریک ختم نبوت جلد(۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سے زائد دفعات موجود ہیں لیکن عقیدۂ ختم نبوت کے متعلق ان دونوں دفعات کا متبادل موجود نہیں ہے، اس طرح ووٹرلسٹوں میں قادیانیوں کے راستے کی تمام رکاوٹیں ختم کردی گئی ہیں اور اب وہ قادیانی آسانی سے مسلمانوں کی ووٹرلسٹ میں اپنے نام لکھواسکتے ہیں اور نام نکلوانے کی کوئی دفعہ موجود نہیں ہے۔
لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ پرانی دفعات ۷۔بی اور ۷۔سی کو الیکشن ایکٹ ۲۰۱۷ء میں باقاعدہ علی الترتیب نئی دفعات ۷۔اے اور ۷۔بی کے طور پر شامل کیا جائے اور پوری عبارت جو پہلے قانون میں موجود تھی، اسے من وعن لکھ دیا جائے، نیز اس کے لئے مطلوبہ Form وغیرہ کو بھی بحال رکھا جائے۔‘‘
وعدے کے مطابق اگر اس معاملے کو فوراً حل نہیں کیا جاتا اور ۷۔بی اور ۷۔سی کو درست نہیں کیا جاتا تو عوام یہ کہنے میں حق بجانب ہوں گے کہ مسلم لیگ (ن) نے قادیانیوں اور لاہوریوں کو نوازنے کے لئے یہ تمام تر ڈرامہ اختراع کیا ہے اور ان قانونی دفعات کو درست کرنے کی طرف بار بار توجہ دلانے کے باوجود وہ ٹس سے مس نہیں ہوئی تو ان شاء اللہ! آئندہ الیکشن سے پہلے قوم اپنی پرامن اور آئین کے دائرہ میں رہتے ہوئے اس حکومت کا بوریا بستر گول کردیں گے اور آئندہ الیکشن میں ان شاء اللہ! انہیں شکست فاش سے بھی دوچار کریں گے۔ وما ذالک علی اللّٰہ بعزیز!
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۶ تا ۲۲؍نومبر ۲۰۱۷ء ص ۵، ۶)
الیکشن ایکٹ ۲۰۱۷ء اور ختم نبوت اسلام آباد ہائیکورٹ کا جرأت مندانہ فیصلہ
۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کو طویل جدوجہد، بڑے صبر آزما مراحل اور بے شمار قربانیوں کے بعد حضور اکرم ﷺ کے منصب ختم نبوت پر حملہ آور قادیانیوں اور لاہوریوں کو پاکستان کی پارلیمنٹ میں آئینی طور پر غیرمسلم اقلیت قرار دینے کا فیصلہ ہوا، لیکن حضور خاتم النبیین ﷺ کے ان باغی گروہوں نے کبھی بھی اپنے آپ کو غیرمسلم اقلیت تسلیم نہیں کیا، بلکہ بیرون ملک ہر فورم پر آئین پاکستان، علماء اور پاکستانی قوم کو بدنام کرنے اور برا بھلا کہنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ پاکستان کے آئین کے باغی اور منکر ہیں اور بین الاقوامی قانون کے مطابق کسی ملک کے دستور اور آئین کے باغیوں کے لئے اس ملک میں کوئی حقوق نہیں ہو سکتے۔ لیکن پاکستان ہی بے چارہ ایک ایسا لاوارث ملک ہے کہ جس میں اس کے آئین کے باغیوں کو نہ صرف کلیدی عہدوں سے نوازا جاتا ہے، بلکہ ان کی آشیر باد اور خوشنودی حاصل کرنے اور ان کو نوازنے کے لئے حکومت وقت اپنے آئین اور قانون کے حلیہ کو بگاڑنے کے لئے ہمہ وقت مستعد اور تیار رہتی ہے۔ ا س لئے کبھی پنجاب کا وزیر قانون نعوذ باللہ! اُنہیں مسلمان باور کرانے کی کوشش کرتا ہے، تو کبھی وفاقی وزیر قانون اُنہیں ریلیف اور رعایت دینے کے لئے مذموم اور گھناؤنی کوششیں کرتا ہے۔
کیا وجہ ہے کہ جب ایک ملک نظریۂ اسلام کی بنیاد پر بنا اور ہر رکن اسمبلی اپنے کاغذات نامزدگی میں یہ حلفیہ اقرار کرتا ہے کہ میں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے کئے ہوئے اس اعلان کا وفادار رہوں گا کہ پاکستان معاشرتی انصاف کے اسلامی اصولوں پر مبنی ایک جمہوری مملکت ہوگی، میں صدق دل سے پاکستان کا حامی اور وفادار رہوں گا اور پاکستان کی خودمختاری اور سالمیت کا تحفظ اور دفاع کروں گا اور یہ کہ میں اسلامی نظریہ کو برقرار رکھنے میں کوشاں رہوں گا جو قیام پاکستان کی بنیاد ہے۔ اس کے باوجود وہ رکن اسمبلی اور وزیر بنتے ہی اس حلف کے ایک ایک جملہ اور ہر حرف کی نہ صرف یہ کہ مخالفت کرتا ہے، بلکہ وہ اس کو اپنا حق سمجھتا ہے، کیا کہا جائے کہ ایسا شخص بانی پاکستان کے اعلان کی پاسداری کررہا ہے یا پاکستان کی سالمیت اور تحفظ کی بنیادیں کھوکھلی کررہا ہے۔ یہی تو وجہ ہے کہ الیکشن ایکٹ ۲۰۱۷ء کا
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مسودہ قانون ساز اداروں میں بعد میں پیش کیا جاتا ہے اور اپنے آقاؤں کے پاس منظوری کے لئے اُسے پہلے بھیجا جاتا ہے۔ کسی بھی باشعور اور سلیم الفطرت انسان سے پوچھا جائے کہ یہ عمل پاکستان اور بانی پاکستان سے وفاداری کا ثبوت ہے یا بے وفائی کا؟ اور جو گروہ دستوری اور آئینی طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا ہو، اسے مسلمان کہنا یا آئین کے باغیوں کو خوش کرنے کے لئے انہیں مراعات دینا اسلامی نظریہ کو دفن کرنے اور آئین ودستور سے غداری نہیں تو اور کیا ہے؟ ! کیا یہ وزراء اس بات کے مستحق نہیں کہ انہیں وزارت سے برطرف کر کے آئین وقانون سے بغاوت اور غداری کے جرم میں ان پر مقدمہ چلایا جائے؟
عدالت نے نواز شریف کو نا اہل قرار دیا تو عدالت کے مد مقابل اس کو اہلیت دلانے کے لئے حکومت نے ایسی پھرتی دکھائی کہ ہفتہ کے اندر اندر اس کے لئے قانون پاس کرالیا کہ عدالت سے نا اہل قرار پانے والا شخص پارٹی سربراہ بن سکتا ہے، لیکن تقریباً دو مہینوں سے پوری قوم سراپا احتجاج ہے کہ عقیدۂ ختم نبوت کے متعلق الیکشن ایکٹ ۲۰۱۷ء میں جو سقم جان بوجھ کر چھوڑا گیا ہے، اسے جلدی ٹھیک کیا جائے ، اس کی شنوائی ہی نہیں، کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ جان بوجھ کر پوری پارلیمنٹ اور پاکستانی قوم کو گمراہ کیا گیا ہے؟ یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ وفاقی وزیر قانون نے جس این. جی. اوز کے کہنے پر بیرونی آقاؤں کی آشیر باد سے یہ کھیل کھیلا وہ بلاوجہ نہیں، اس کے پس منظر میں کئی خوفناک ارادے اور سازشیں کارفرما ہیں۔
اداریہ یہاں تک لکھا ہی تھا کہ میڈیا کے ذریعے یہ خبر آگئی کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے مولانا اللہ وسایا کی مدعیت میں کیس سنتے ہوئے الیکشن ایکٹ ۲۰۱۷ء کی دفعہ ۲۴۱ سے منسوخ شدہ تمام قوانین بحال کر دیئے ہیں اور وفاقی حکومت کو ۲۹؍ نومبر تک جواب داخل کرنے کا حکم دے دیا ہے، یہ خبر آپ بھی ملاحظہ فرمائیں:
’’اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن ایکٹ ۲۰۱۷ء میں ختم نبوت سے متعلق ختم کئے گئے ۸؍ قوانین بحال کر دیئے، نئے ایکٹ کی شق ۲۴۱ کو معطل کر کے وفاق کو نوٹس جاری کر دیا، جب کہ راجا ظفر الحق تحقیقاتی کمیٹی کی سربمہر رپورٹ بھی طلب کر لی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، متحدہ تحریک ختم نبوت رابطہ کمیٹی سمیت تمام دینی جماعتوں نے عدالت عالیہ اسلام آباد کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے خلاف مولانا اللہ وسایا کی درخواست پر سماعت کی۔ حافظ عرفات ایڈووکیٹ اور طارق اسد ایڈووکیٹ درخواست گزار کی طرف سے پیش ہوئے ، جنہوں نے دلائل دیتے ہوئے بتایا کہ الیکشن ایکٹ ۲۰۱۷ء کی شق ۲۴۱ کے تحت ملک میں رائج ۸؍ انتخابی قوانین منسوخ کئے گئے ہیں۔ اس طرح سابقہ قوانین میں سے ختم نبوت سے متعلق شقیں بھی منسوخ ہوگئی ہیں۔ یہ اقدام آئین پاکستان سے متصادم ہے، کیونکہ آئین پاکستان بنیادی انسانی حقوق اور اسلامی تعلیمات کے خلاف کسی کو بھی قانون سازی کی اجازت نہیں دیتا، لہٰذا الیکشن ایکٹ ۲۰۱۷ء کو کالعدم قرار دیا جائے ۔ وفاق کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے اور انہوں نے موقف اختیار کیا کہ حکومت انتخابی اصلاحات بل کے ذریعے الیکشن کی طرف جارہی ہے، اس لئے عدالت وفاقی حکومت کو سنے بغیر انتخابی اصلاحات بل کو معطل نہ کرے، کیونکہ اگر الیکشن ایکٹ کو معطل کیا گیا تو اس سے ملک میں افراتفری مچ جائے گی۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیے کہ چاہے آسمان بھی گر جائے کوئی پروا نہیں۔ فاضل عدالت نے الیکشن ایکٹ ۲۰۱۷ء کے سیکشن ۲۴۱ کے تحت ختم کئے گئے ۸؍ سابقہ انتخابی قوانین کو بحال کر دیا۔ عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں واضح کیا کہ نئے ایکٹ کے سیکشن ۲۴۱ کے تحت پورے کے پورے قوانین ختم کرنا آئین سے متصادم ہوگا ، اس لئے
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
الیکشن ایکٹ ۲۰۱۷ء میں ختم نبوت سے متعلق پرانی شقیں بحال کی جا رہی ہیں۔ الیکشن ایکٹ کی باقی شقوں پر اس حکم نامے کا اطلاق نہیں ہوگا۔ واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ختم نبوت کے جن ۸ قوانین کو بحال کیا ہے، ان میں الیکٹورل رولز ایکٹ ۱۹۷۴ء، حلقہ بندی ایکٹ ۱۹۷۴ء، سینٹ الیکشن ایکٹ ۱۹۷۵ء، عوامی نمائندگی ایکٹ ۱۹۷۶ء، الیکشن کمیشن آرڈر ۲۰۰۲ء، پولیٹیکل پارٹیز آرڈر ۲۰۰۲ء اور انتخابی نشانات الاٹ کرنے کا آرڈر ۲۰۰۲ء شامل ہیں۔ الیکشن ایکٹ ۲۰۱۷ء کی باقی شقوں پر حکم نامے کا اطلاق نہیں ہوگا۔ درخواست گزار نے سرکاری محکموں میں کام کرنے والے قادیانیوں کے اعداد و شمار سے متعلق رپورٹ بھی پیش کرنے کی درخواست کی تھی، جس پر عدالت نے وفاق سے ۱۴ دن میں رپورٹ طلب کر لی۔ دریں اثناء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، نائب امیر مولانا عزیز احمد، مولانا حافظ ناصر الدین خاکوانی، ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا قاضی احسان احمد اور دیگر نے اپنے مشترکہ بیان میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو جرأت مندانہ قرار دیتے ہوئے خیرمقدم کیا اور کہا کہ پورے ملک میں تمام دینی جماعتیں الیکشن ایکٹ کے خلاف صدائے احتجاج بلند کر رہی ہیں، انہوں نے کہا کہ حکومت کو مسئلے کی نزاکت کا ادراک کرنا چاہئے اور اس گھناؤنی سازش کے ذمہ داروں کا تعین کرکے قرار واقعی سزا دینی چاہئے۔ حکومت تاحال ختم نبوت کے مسئلہ سے بے اعتنائی و بے وفائی کی روش اپنائے ہوئے ہے۔ عدالتی فیصلہ آنے کے بعد حکومت راہِ فرار اختیار کرنے کی بجائے مسلمانان پاکستان کے جذبات کے احترام میں اس معاملہ کو فوری حل کرے، جب کہ متحدہ تحریک ختم نبوت رابطہ کمیٹی نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی حلف نامے سے عقیدہ ختم نبوت کا حصہ حذف کرنے سے متعلق طویل دورانیے والی جو خطرناک سازش شروع ہوئی تھی، اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے سے اس سازش کے توڑ کا آغاز ہو گیا ہے۔ ختم نبوت رابطہ کمیٹی کے کنوینر اور مجلس احرار اسلام کے سیکرٹری جنرل عبداللطیف خالد چیمہ نے اس عبوری عدالتی کارروائی کو نیک شگون قرار دیتے ہوئے اُسے تحریک ختم نبوت کی کامیابی سے تعبیر کیا ہے اور کہا ہے کہ عقیدۂ ختم نبوت پر وار کر کے قادیانیوں کے لئے چور دروازہ کھولنے والے لیگی حکمران اور اس جرم کے مرتکبین پہلے کی طرح اب بھی ناکام و نامراد ہوں گے۔
(روزنامہ اسلام کراچی، ۱۶؍ نومبر ۲۰۱۷ء، مطابق ۲۵؍ صفر ۱۴۳۹ھ)
عدالت کے اس تاریخی فیصلے کے بعد قومی اسمبلی نے جمعیت علمائے اسلام کی طرف سے تیار کردہ بل (جس میں ۷۔ بی اور ۷۔ سی کو شامل کیا گیا) منظور کر لیا ہے اور سینٹ سے بھی وہ پاس ہو گیا ہے۔ امید ہے صدرِ پاکستان بھی جلد اس پر دستخط کر کے اس کو قانون کا حصہ بنا دیں گے۔ افادۂ عام کی غرض سے اس بل کا اصل مسودہ اور اس کا اُردو ترجمہ نذرِ قارئین ہے:
(AS PASSED BY THE NATIONAL ASSEMBLY)
A BILL to amend the Elections Act, 2017 WHEREAS it is expedient to amend the Elections Act, 2017 (XXXIII of 2017) for purposes hereinafter appearing; it is hereby enacted as follows:-
- 1. " Short title and commencement.-
- (1) This Act may be called the Elections (Amendment) Act, 2017 .
- (2) It shall come into force at once.
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
2. Insertion of section 48A in Act XXXIII of 2017.-
In the Elections act, 2017 (XXXIII of 2017), hereinafter referred to as the 'said Act', after section 48, the following section 48A shall be inserted:
"48A. Status of Ahmadis etc. to remain unchanged.-
(1) Notwithstanding anything contained in this Act or any other law for the time being in force including Rules or forms prescribed thereunder, the status of Quadiani Group or the Lahori Group (who call themselves 'Ahmadis' ,or by any other name) or a person who does not believe in the absolute and unqualified finality of the Prophethood of Muhammad (peace be upon him), the last of the prophets or claimed or claims to be a Prophet, in any sense of the word or of any description whatsoever, after Muhammad (peace be upon him) or recognizes such a claimant as a Prophet or religious reformer shall remain the same as provided in the Constitution of the Islamic Republic of Pakistan, 1973.
(2) If a person has got himself enrolled as voter and objection is filed before the Revising Authority notified under this Act that such a voter is not a muslim, the Revising Authority shall issue a notice to him to appear before it within fifteen days and require him to sign a declaration reproduced below regarding his belief about the absolute and unqualified finality of the Prophethood of Muhammad (Peace be upon him) In case he refuses to sign the declaration as aforesaid, he shall be deemed to be a Non-Muslim and his name shall be deleted from the joint electoral rolls and added to a supplementary list of voters in the same electoral area as Non- Muslim. In case the voter does not turn up in spite of service of notice, an ex-parte order may be passed against him.
Declaration and oath:
1.____________________(name of the voter), do solemnly swear that I believ in the absolute and unqualified finality of the Prophethood of Muhammad (Peace be upon him), the last of the prophets and that I am not the follower of anyone who claims to be a Prophet in any sense of the word or of any description whatsoever after prophet Muhammad (Peace be upon him), and that I do not recognize such a claimant to be
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
prophet or a religious reformer, nor do I belong to the Qadiani group or the Lahori group or call myself an Ahmadi. (Name and Signature of Voter)
میں ........................................ (ووٹر کا نام) حلفیہ اقرار کرتا/کرتی ہوں کہ میں خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کی ختم نبوت پر مکمل اور غیر مشروط طور پر ایمان رکھتا/رکھتی ہوں اور یہ کہ میں کسی ایسے شخص کا / کی پیروکار نہیں ہوں جو حضرت محمد ﷺ کے بعد اس لفظ کے کسی بھی مفہوم یا کسی بھی تشریح کے لحاظ سے پیغمبر ہونے کا دعوے دار ہو اور نہ ہی میں ایسے دعوے دار کو پیغمبر یا مذہبی مصلح مانتا / مانتی ہوں اور نہ ہی میں قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ سے تعلق رکھتا/رکھتی ہوں یا خود کو احمدی کہتا/کہتی ہوں۔
(ووٹر کا نام و دستخط)
- 3. Amendment of section 241 in Act XXXIII of 2017.
In the said Act, in section 241,in clause (f), before the semicolon, the expression "except Articles 1, 7B and 7C" shall be omitted.
STATEMENT OF OBJECTS AND REASONS
The Bill seeks to incorporate and reaffirm the provisions of Articles 7B and 7C of the Conduct of General Elections Order, 2002 (Chief Excutive's Order No.7 of 2002) through addition of a new section 48A in the Elections Act, 2017. This Bill is in accordance with the suggestion earlier made by the Government in this regard. Hence, this Bill.
ZAHID HAMID MINISTER FOR LAW & JUSTICE
﴿الیکشن ایکٹ 2017ء میں ترمیم﴾
یہ کہ درج ذیل مقاصد کے لئے الیکشن ایکٹ 2017ء (XXX111-2017) ضروری ہے قانون سازی درج ذیل ہے:
- ۱...... مختصر سرورق اور آغاز
- (۱) یہ ایکٹ الیکشن ترمیم 2017 ہے۔
- (۲) اس کا اطلاق فوری ہوگا۔
- ۲...... ایکٹ XXX-111-2017 میں سیکشن A-48 کا داخلہ
الیکشن ایکٹ 2017 (XXX-111-2017) میں 48-A اندراج کیا جائے گا۔
48-A احمدیوں کی حیثیت غیر تبدیل شدہ
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۱....... باوجود یہ کہ وقتی طور پر اس ایکٹ میں یا دیگر قانون نافذ کردہ بشمول اس میں شامل قوانین یا فارمز کے تحت قادیانی گروپ یا
لاہوری گروپ وہ جنہیں احمدیوں یا دیگر نام کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں یا وہ شخص جو کہ حضرت محمد ﷺ کو آخری رسول ماننے پر ایمان نہ رکھتے ہوں یا اس لفظ کے کسی بھی مفہوم یا کسی بھی تشریح میں اپنے آپ کو رسول ہونے کا دعویٰ کریں، حضرت محمد ﷺ کے بعد اپنے آپ کو بطور رسول یا مذہبی مجدد کہلائے، جیسا کہ اسلامی جمہوری پاکستان کے آئین ۱۹۷۳ء میں فراہم کیا گیا ہے۔
- ۲...... اگر کوئی شخص اپنے آپ کو بطور ووٹر اندراج کرائے اور اس ایکٹ کے تحت مستند اتھارٹی کو اعتراض اندراج کراتا ہے کہ مذکورہ
ووٹر مسلمان نہیں ہے تو متعلقہ اتھارٹی کو نوٹس جاری کرے گا کہ وہ ۱۵ دن کے اندر ان کے سامنے پیش ہو اور حضرت محمد ﷺ آخری رسول ہونے پر ایمان رکھنے کا درج ذیل اقرار نامہ پر دستخط کرے، اگر وہ اس اقرار نامہ پر دستخط کرنے سے انکار کرے تو وہ غیر مسلم تصور کیا جائے گا تو اس کا نام مشترکہ الیکٹرول رولز میں سے خارج کر دیا جائے گا اور غیر مسلم کی حیثیت سے اس کا نام الیکٹروایریا میں ووٹرز کی ضمنی لسٹ میں شامل کیا جائے گا۔ نوٹس کی سروس کے باوجود ووٹر حاضر نہ ہو تو اس کے خلاف یکطرفہ آرڈر پاس کیا جائے گا۔
﴿حلف نامہ / اقرار نامہ﴾
میں ..........................................(ووٹر کا نام ) حلفیہ اقرار کرتا / کرتی ہوں کہ میں خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کی ختم نبوت پر مکمل اور غیر مشروط طور پر ایمان رکھتا /رکھتی ہوں اور یہ کہ میں کسی ایسے شخص کا / کی پیرو کار نہیں ہوں اور حضرت محمد ﷺ کے بعد اس لفظ کے کسی بھی مفہوم یا کسی بھی تشریح کے لحاظ سے پیغمبر ہونے کا دعوے دار ہو اور نہ ہی میں ایسے دعوے دار کو پیغمبر یا مذہبی مصلح مانتا / مانتی ہوں اور نہ ہی میں قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ سے تعلق رکھتا / رکھتی ہوں یا خود کو احمدی کہتا / کہتی ہوں۔
(ووٹر کا نام ودستخط)
- ۳...... ایکٹ (2017-111-XXX) میں سیکشن 241 میں ترمیم مذکورہ ایکٹ میں سیکشن 241 میں سیمی کالم سے پہلے کلاز (F)
ماسوائے آرٹیکلز B-7 اور C-7 حذف کیا جائے گا۔
﴿مقاصد اور اسباب کا بیان﴾
بل کے تحت جنرل الیکشن آرڈر 2002ء کے آرٹیکلز B-7 اور C-7 کے قانون کو متحد اور دوبارہ توثیق (چیف ایگزیکٹو آرڈر نمبر 7/2002) نئے سیکشن A-48 کا اضافہ الیکشن ایکٹ 2017ء میں درکار ہے۔ یہ بل حکومت کی جانب سے بھی پیش کیا گیا ہے۔‘‘
اللہ تبارک و تعالیٰ جمعیت علمائے اسلام اور پارلیمنٹ کے تمام اراکین اسمبلی اور اس بل میں جن جن حضرات نے اجتماعی یا انفرادی طور پر کوششیں جدوجہد اور کاوشیں کی ہیں، اللہ تعالیٰ ان سب کی مساعی جمیلہ کو قبول ومنظور فرمائے اور آخرت میں حضور خاتم النبیین ﷺ کی شفاعت نصیب فرمائے اور ہمارے ملک پاکستان کی ہر قسم کے فتنوں سے حفاظت فرمائے اور اس کے دشمنوں کو ناکام و نامراد بنائے، آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ!
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۸ تا ۱۵؍ دسمبر ۲۰۱۷ء ص ۵ تا ۹)
پنجاب اسمبلی کی قرارداد اور وفاق المدارس العربیہ پاکستان کا فیصلہ
گزشتہ شمارہ میں عرض کیا گیا تھا کہ پنجاب اسمبلی نے قرارداد منظور کی ہے کہ پنجاب کے سرکاری تعلیمی اداروں کے نصاب میں ’’ختم نبوت‘‘ کے مضمون کو شامل کیا جائے۔ قارئین لولاک! کو یاد ہوگا کہ اس سے قبل جمعیت علماء اسلام خیبر پختونخواہ کے ممبر صوبائی اسمبلی
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ۸۶ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جناب مولانا فضل غفور صاحب کی پیش کردہ قرارداد میں فیصلہ ہوا۔ پھر اس کی روشنی میں نصاب میں ختم نبوت کا مضمون منظور ہو کر نصابی کتب میں شائع ہو گیا ہے۔ جو صوبہ خیبر پختونخواہ میں پڑھایا جارہا ہے۔
لاہور مجلس تحفظ ختم نبوت کے زعماء پر مشتمل وفد ، لیگی رکن صوبائی اسمبلی جناب وحید گل سے ملا۔ خیبر پختونخواہ اسمبلی کی منظور شدہ قرارداد اور اس پر کارروائی اور نصاب کی کتب جن میں ختم نبوت کا مضمون شامل کیا گیا ہے۔ ان کو پیش کی گئیں۔ حق تعالیٰ شانہ نے جناب وحید گل کو توفیق دی کہ انہوں نے پنجاب اسمبلی میں قرارداد جمع کرائی کہ صوبہ پنجاب کے سرکاری تعلیمی اداروں میں ختم نبوت کے مضمون کو نصاب کا حصہ بنایا جائے۔ الحمد للہ ! قرارداد منظور کر لی گئی۔ اب اس پر عمل درآمد کا مرحلہ ہے۔ اس کی بھر پور پیروی کی ضرورت ہے۔ مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا خالد محمود، جناب میاں رضوان نفیس، مولانا قاری علیم الدین شاکر ، مولانا قاری جمیل الرحمن اختر ، مولانا عبد النعیم اور جملہ رفقاء ڈھیروں مبارک باد کے مستحق ہیں کہ وہ جناب وحید گل سے رابطہ میں رہے اور یوں اللہ رب العزت نے ان کو توفیق بخشی اور یہ کام ہو گیا۔ پنجاب اسمبلی کے سپیکر اور صوبائی وزیر قانون جناب رانا ثناء اللہ بھی مبارک باد کے مستحق ہیں۔ غرض جنہوں نے بھی اس قرارداد کے منظور کرانے کے عمل میں جتنا حصہ ڈالا وہ سب ڈھیروں مبارک باد کے مستحق ہیں۔
وفاق المدارس العربیہ پاکستان کا فیصلہ:
قارئین باخبر ہیں کہ مولانا خواجہ خان محمد کے فرمان پر وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی قیادت بالخصوص شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان کی توجہ پر آئینہ قادیانیت نامی کتاب وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے بنین کے درجہ سابعہ میں داخل نصاب ہوئی۔ سالہا سال سے وہ نصاب کا حصہ ہے۔ حق تعالیٰ شانہ کی ذات گرامی بہتر جانتی ہے کہ اس وقت سے لے کر آج تک کتنے حضرات علماء کرام نے اسے پڑھا اور پڑھایا اور یوں عقیدۂ ختم نبوت سے متعلق خلق خدا کے شعور میں کتنا اضافہ ہوا۔ اس تمام کام کا ان تمام حضرات کو اجر ملے گا جو اس کے لئے مخلصانہ جدوجہد میں کوشاں رہے اور کسی بھی قسم کا تعاون فرمایا۔
خیبر پختونخواہ صوبہ کے سرکاری سکولوں کے نصاب میں مضمون ختم نبوت کی شمولیت ، پنجاب میں مضمون ختم نبوت کی شمولیت کی پیش رفت اور وفاق المدارس کے درجہ سابعہ بنین میں اس کی تدریس کے عمل کے سالہا سال کے اجراء کے بعد ، ضرورت تھی کہ صوبہ سندھ اور بلوچستان کے سکولوں کے نصاب میں بھی اسے شامل نصاب کرا دیا جائے۔ سو اس کے لئے کوشش جاری ہے۔
اس طرح ضرورت تھی کہ ہمارے وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے شعبہ بنات میں بھی آئینہ قادیانیت یا اس کا کچھ حصہ شامل نصاب کیا جائے۔ معلوم ہوا کہ وفاق المدارس کی نصاب کمیٹی کا اجلاس بلایا گیا ہے۔ چنانچہ صدر الوفاق شیخ الحدیث مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر اور قائد وفاق مولانا قاری محمد حنیف جالندھری مدظلہما سمیت نصاب کمیٹی کے اکیس معزز ارکان کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم عمومی کی طرف سے ذیل کا یہ خط ارسال کیا گیا۔
گرامی قدر مولانا ........................................................... صاحب مدظلہ رکن نصاب کمیٹی وفاق المدارس العربیہ پاکستان
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مزاج گرامی!
آج کل جس طرح عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے سلسلہ میں مختلف پلیٹ فارم سے آواز بلند ہو رہی ہے وہ آپ کے سامنے ہے۔ اس سلسلہ میں اعزاز اوّلیت وفاق المدارس العربیہ پاکستان کو حاصل ہے۔ اس لئے کہ عرصہ ہوا وفاق المدارس کے سربراہ شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان مرحوم نے خواجہ خواجگان مولانا خواجہ خان محمد مرحوم کی خواہش اور توجہ دلانے پر وفاق المدارس کے بنین کے درجہ سابعہ میں
تحریک ختم نبوت جلد (١٠) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
”آئینہ قادیانیت“ کو شامل نصاب فرمایا۔ اس پر وفاق المدارس کے جملہ ارکان عاملہ ونصاب کمیٹی کے اراکین سب مبارک باد کے مستحق ہیں کہ ان حضرات نے منظوری سے سرفراز کیا۔ اس کا مثبت اثر آپ حضرات کے سامنے ہے کہ اس وقت تمام دینی مدارس کی نسبت وفاق المدارس کے فضلاء، فتنہ عمیاء قادیانیت کے متعلق زیادہ باخبر ہوتے ہیں۔ فالحمد للہ!
آپ حضرات یہ جان کر خوشی محسوس فرمائیں گے کہ اس وقت سرکاری سطح پر خیبر پختونخواہ میں صوبہ کے تمام سیکنڈری اسکولز تک کے نصاب میں عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کا مضمون سلیبس کا حصہ ہے جو نصابی کتب میں شائع شدہ ہے اور پڑھایا جارہا ہے۔ اس سلسلہ میں جمعیۃ علماء اسلام کے رکن صوبائی اسمبلی مولانا فضل غفور صاحب کی مساعی کو حق تعالیٰ نے بار آور فرمایا۔ فالحمد للہ !
آپ حضرات کے لئے یہ امر بھی صد ہا خوشی کا باعث ہوگا کہ صوبائی اسمبلی پنجاب کے رکن جناب وحید گل صاحب کے ذریعہ پنجاب اسمبلی نے قرارداد منظور کر کے صوبہ پنجاب کے نصاب تعلیم میں عقیدہ ختم نبوت کے مضمون کو شامل نصاب کر لیا ہے۔ اس پر عملدرآمد کے مراحل طے ہورہے ہیں۔ ان تمام خوش کن خبروں کے بعد آپ کی توجہ آپ کے دائرہ کار کے ایک اہم اور فوری مسئلہ کی طرف مبذول کرائی جاتی ہے کہ وفاق المدارس کے بنات کے شعبہ میں عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور فتنہ قادیانیت کے عقائد کفریہ سے متعلق کوئی چیز شامل نصاب نہیں۔ حالانکہ جتنی زیادہ قادیانی خواتین کی سرگرمیوں سے ہمارا نسوانی حلقہ ان کی آماجگاہ ہے وہ آپ سے مخفی نہ ہوگا۔ اس لئے عریضہ ہذا کے ذریعہ التماس ہے کہ:
- ۱...... آئینہ قادیانیت کو عالمیہ بنات کے سال اوّل میں ”اسلام اور تربیت اولاد“ کے ساتھ رکھ دیا جائے تو چند ہفتوں میں یہ کتاب
اسباق میں نکل جائے گی۔
- ۲...... اور اگر ایسا کرنے سے نصاب کے بھاری ہونے کا اندیشہ ہو تو آئینہ قادیانیت کے ابتدائی دس سوالات اور ان کے جوابات جو ختم
نبوت کے عنوان پر ہیں وہ شامل کر لئے جائیں تو ایک دو ہفتہ میں ایک ایک گھنٹہ کے سبق سے چند صفحاتی یہ مضمون پڑھایا جاسکتا ہے۔
امید ہے کہ آپ اس تجویز کی اہمیت، مسئلہ ختم نبوت کی نزاکت اور اس دور میں اس کی اہمیت سے متعلق اس گزارش کو شرف قبولیت سے سرفراز فرمائیں گے۔ واجرکم علیٰ اللہ تعالیٰ!
والسلام مع الاحترام ! (مولانا) عزیز الرحمٰن جالندھری، مرکزی ناظم اعلیٰ ! عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان، حضوری باغ روڈ ملتان
اس خط کے جواب میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا قاری محمد حنیف جالندھری کا ذیل کا مکتوب گرامی موصول ہوا:
14-12-2017 گرامی قدر مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری صاحب زید مجدہم مرکزی ناظم اعلیٰ: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! امید ہے مزاج گرامی بخیر وعافیت ہوں گے آنجناب کا مکتوب گرامی موصول ہوا۔ جس میں آپ نے وفاق المدارس کے عالمیہ بنات سال اوّل کے نصاب میں ”آئینہ قادیانیت“ یا اس کے ابتدائی دس سوالات شامل کرنے کی تجویز پیش فرمائی ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اس سلسلے میں عرض ہے کہ ۲۱؍دسمبر ۲۰۱۷ء بروز جمعرات، وفاق المدارس کی نصاب کمیٹی کا اجلاس متوقع ہے۔ ان شاء اللہ العزیز! اجلاس میں آنجناب کی تجویز برائے غور و خوض پیش کر دی جائے گی۔ والسلام! (مولانا) محمد حنیف جالندھری...... ناظم اعلیٰ وفاق المدارس العربیہ پاکستان مہتمم جامعہ خیر المدارس ملتان...... ۲۵؍ ربیع الاوّل ۱۴۳۹ھ، ۱۴؍ دسمبر ۲۰۱۷ء
چنانچہ ۲۱؍ دسمبر ۲۰۱۷ء جمعرات کو وفاق المدارس کے مرکزی دفتر ملتان میں وفاق کی نصاب کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں ایجنڈا کے اس حصہ کو زیر بحث لا کر منظور کر لیا گیا۔
اللہ رب العزت کو منظور ہے تو ان شاء اللہ العزیز! شوال ۱۴۳۹ھ کے نئے تعلیمی سال سے وفاق المدارس کے درجہ بنات میں بھی ”آئینہ قادیانیت“ کے پہلے حصہ کے دس سوالات و جوابات نصاب کے طور پر پڑھائے جائیں گے اور ان سے سالانہ امتحان میں ایک سوال بھی شامل ہوگا۔ یوں ملک بھر میں وفاق المدارس کے فضلاء کی طرح فاضلات بھی عقیدۂ ختم نبوت سے متعلق معلومات کو سبقاً پڑھنے کی سعادت سے بہرہ ور ہوں گی۔ اس پر وفاق المدارس ہم سب کی طرف سے مبارک باد کا مستحق ہے کہ انہوں نے عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ سے متعلق مبارک قدم اٹھا کر اسلامیان وطن کی شعور ختم نبوت کی آگاہی کا سامان کیا ہے۔ حق تعالیٰ ان کی ان مساعی کو بار آور فرمائیں۔ آمین! اب ضرورت ہے کہ ہمارے باقی مدارس کی تنظیمات بھی اس سلسلہ میں قدم اٹھائیں۔ چنانچہ اس کام کے لئے ان حضرات سے با ضابطہ رابطہ کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ (ان شاء اللہ العزیز)
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۸ء ص ۳ تا ۶)
ملک و آئین کو سازشیوں سے بچائیے ! تحفظ ناموس رسالت کانفرنس
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے قادیانیوں اور سیکولر طبقے کو خوش کرنے کے لئے جو سازش تیار کی تھی وہ بیچ چوراہے پکڑی گئی اور ابھی تک حکومت اس کے زخم چاٹ رہی ہے۔ اگر چہ اس کے وزیر قانون نے استعفیٰ دے دیا ہے، لیکن اس کے چھپے کرداروں کو ابھی تک سامنے نہیں لایا گیا اور نواز شریف نے اپنے طور پر محترم جناب راجہ ظفر الحق صاحب کی سربراہی میں جو کمیٹی بنائی تھی اور چوبیس یا چھتیس گھنٹے میں اس کو رپورٹ دینے کا پابند کیا تھا، وہ رپورٹ ابھی تک منظر عام پر نہیں لائی گئی۔ ہماری معلومات کے مطابق ختم نبوت کے حلف کے متعلق سازش قومی اسمبلی میں بل پیش کرنے سے ایک رات پہلے خفیہ طور پر تیار کی گئی، جس میں وزیر قانون، اس کے بھائی جو ایک این جی اوز چلاتے ہیں، انوشہ رحمٰن، ڈپٹی اٹارنی جنرل جو قادیانی ہے، ایک قادیانی نمائندہ اور اس کی نگرانی جناب نواز شریف صاحب کر رہے تھے۔ شنید ہے کہ محترم جناب راجہ ظفر الحق صاحب نے منع بھی کیا، لیکن وزیر قانون نے یہ کہہ کر انہیں خاموش کرا دیا کہ اوپر سے منظوری ہو گئی ہے۔ بہر حال! حضور اکرم ﷺ کے دشمنوں کو خوش کرنے کے لئے انہوں نے جو کچھ کیا وہ ابھی تک اس کی نحوست سے باہر نہیں نکل سکے اور نہ ہی ان شاء اللہ! وہ اس سے باہر نکل سکیں گے۔
ابھی حالیہ دنوں میں تحریک انصاف کے ایک سینیٹر نے سینیٹ میں تحریک پیش کی ہے کہ حلف نامہ میں جو ”بسم اللہ الرحمٰن الرحیم“ شروع میں لکھی ہے‘ اس کو حذف کیا جائے اور حلف نامہ میں جو ”اسلامی نظریہ“ کی حفاظت کا حلف لیا جاتا ہے‘ اس نے کہا ہے کہ اس کو ”اسلامی نظریہ پاکستان“ کی بجائے ”نظریہ پاکستان“ کر دیا جائے۔ گویا ان کو ”اسلام“ سے چِڑ ہے اور اس کو وہ آئین اور دستور سے نکالنے کے لئے بے تاب ہیں۔ حالانکہ پاکستانی پارلیمنٹ کے غیر مسلم نمائندوں کو اس پر کوئی اعتراض نہیں، لیکن ایک ریاست مدینہ جیسے
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
انصاف کی آواز بلند کرنے والی جماعت کو اس پر اعتراض ہے اور وہ اسلام کو آئین اور ملک سے دیس نکالا دینا چاہتے ہیں۔ اسی کو کہتے ہیں: ’’ہاتھی کے دانت کھانے کے اور، دکھانے کے اور‘‘۔ آپ بھی پوری خبر ملاحظہ فرمائیں:
’’اسلام آباد (نمائندہ ایکسپریس، مانیٹرنگ ڈیسک) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون وانصاف میں غیر مسلموں کے لئے حلف نامے میں تبدیلی کا بل پیش کر دیا گیا، کمیٹی نے حلف نامے سے متعلق ترمیمی بل پر اسلامی نظریاتی کونسل سے رائے طلب کر لی، کمیٹی نے چیف جسٹس ثاقب نثار کے قانون وانصاف کمیشن کی کارکردگی پر تحفظات کا نوٹس لیتے ہوئے سیکرٹری کمیشن سے ادارے کی کارکردگی کے بارے میں رپورٹ و بریفنگ مانگ لی، کمیشن کے ضابطہ کار کو مزید مؤثر بنانے کا اعلان کیا گیا ہے، اجلاس میں کوئٹہ چرچ خودکش حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کے لئے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ اجلاس چیئرمین جاوید عباسی کی صدارت میں ہوا۔ کمیٹی نے کوئٹہ چرچ پر خودکش حملہ کرنے کو پاکستان کو لہولہان کرنے کی مذموم کوشش قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پارلیمنٹ اور پاک فوج دہشت گردی کے ناسور کے خاتمے کے لئے پُرعزم ہیں۔ اجلاس میں ۳ مختلف ترمیمی بلز کا جائزہ لیا گیا۔ مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق تحریک انصاف کے سینیٹر اعظم سواتی نے غیر مسلموں کے لئے حلف نامے میں تبدیلی سے متعلق آئین کے آرٹیکل ۲۵۵ میں ترمیم سے متعلق بل پیش کیا، ترمیمی بل کے متن میں مطالبہ کیا گیا کہ اقلیتوں کے لئے حلف نامے میں ’’تسمیہ‘‘ کی شرط ختم کی جائے۔ بل میں مزید کہا گیا کہ حلف نامے میں نظریہ اسلام کی جگہ نظریہ پاکستان کا لفظ شامل کیا جائے۔ بل میں مسلم و اقلیتی ارکان کے لئے رکنیت کا الگ الگ حلف نامہ ترتیب دینے کا کہا گیا۔ وزارت قانون کے حکام نے بل پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک حساس معاملہ ہے اس لئے اس وقت اس معاملے کو نہ چھیڑا جائے، کمیٹی چیئرمین کا بھی کہنا تھا کہ یہ ایک حساس معاملہ ہے، اس کو فی الحال مؤخر کرتے ہیں۔ کمیٹی نے اس معاملے پر اسلامی نظریاتی کونسل سے رائے طلب کر لی اور کونسل کی کارکردگی بہتر بنانے پر بھی زور دیا۔
(روزنامہ ایکسپریس کراچی، ۱۹؍ دسمبر ۲۰۱۷ء)
ادھر مغربی دنیا اور استعمار بھی مطالبہ کر رہا ہے کہ توہین رسالت قانون کو ختم کیا جائے۔ یہ خبر بھی ملاحظہ فرمائیں:
’’ملتان (عرفان احمد عمرانی) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، نائب امیر پیر ناصر الدین خاکوانی، مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کا توہین رسالت قانون کے ختم کرنے کا مطالبہ عالمی گہری سازش ہے۔ عالمی ادارے کا تحفظ ناموس رسالت کے قانون کے خاتمے کا مطالبہ کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔ توہین رسالت کا قانون اس وقت عالمی طاقتوں اور عالمی سازشوں کی زد میں ہے۔ حکمرانوں نے سینیٹر حافظ حمد اللہ کی بات حلف نامے والے مسئلے میں تو نہیں مانی تھی لیکن اب چیئرمین سینیٹ کے نام حافظ حمد اللہ نے اس سلسلے میں جو خط لکھا ہے اس خط پر مکمل توجہ دی جائے اور قانون تحفظ ناموس رسالت دفعہ ۲۹۵۔سی کو من وعن اپنی اصلی حالت پر باقی رکھا جائے۔ ہم عالمی طاقتوں کے اس مذموم ایجنڈے کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔ مرکزی راہنما مولانا اللہ وسایا، مرکزی ناظم تبلیغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مرکزی ناظم نشر واشاعت مولانا عزیز الرحمن ثانی، مبلغ ختم نبوت مولانا عبدالنعیم، مولانا عبدالعزیز و دیگر علماء کرام نے اجلاس میں اس امر پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اقوام متحدہ نے پاکستان سے چار انسانی حقوق کے کنونشن کے ۱۱۱ نکات پر عملدرآمد اور قانون ناموس رسالت کو ختم کرنے کا جو مطالبہ اور سفارش کی ہے وہ ملک عزیز پاکستان کے اندرونی و مذہبی معاملات میں بے جا مداخلت ہے۔ علماء کرام نے اجلاس میں قانون تحفظ ناموس رسالت میں کسی بھی قسم کی ترمیم یا تبدیلی کو یکسر مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ اس سلسلے میں اقوام متحدہ کے مطالبہ کو ہرگز تسلیم نہ کیا جائے۔ نیز انہوں نے سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کی طرف سے توہین رسالت قانون کے غلط استعمال کے بے بنیاد پروپیگنڈے کی آڑ میں تحفظ ناموس رسالت قانون میں تبدیلی
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کی کاوشوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ناموس رسالت ایکٹ میں ترمیم کی سازش درحقیقت تحفظ ناموس رسالت قانون کو غیر مؤثر بنانے کی ملک دشمن یہودی و قادیانی سازش ہے جسے غیور مسلمان قطعی طور پر برداشت نہیں کریں گے۔ مذہبی رہنماؤں نے کہا کہ قانون ناموس رسالت میں چھیڑ خانی ملکی امن تباہ کرنے اور آگ و خون سے کھیلنے کے مترادف ہے، لہٰذا چیئرمین سینیٹ رضا ربانی ایسی سازشی مہم جوئی کو رکوانے کے لئے اپنا فرض منصبی ادا کریں، کیونکہ پہلے تحفظ ختم نبوت قانون کو چھیڑ کر کروڑوں مسلمانوں کے جذبات سے کھیلا گیا اور اب ناموس رسالت قانون کو چھیڑنے کی یہ سازش ایک نہ ختم ہونے والے نئے ملکی بحران کو جنم دے گی۔ دشمن لابیاں اس قسم کے حساس معاملوں کو چھیڑ کر ملکی امن تہہ و بالا کرنے پر تلی ہیں اور وہ اسلام و ملک دشمنی کا کوئی موقع ہاتھ سے خالی نہیں جانے دیتیں، ان کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانا ہر اسلام پسند و محب وطن کی بنیادی ذمہ داری ہے۔‘‘
(روزنامہ اسلام کراچی، ۱۷؍دسمبر ۲۰۱۷ء)
اس لئے پاکستانی قوم کی اب دوہری ذمہ داری بن جاتی ہے کہ الیکشن میں ہم ان نمائندوں کو منتخب کریں جو ہمارے اسلامی نظریۂ پاکستان اور اس سے متعلقہ اسلامی دفعات کی حفاظت کرنے کا فریضہ انجام دیں، نہ یہ کہ ایسی جماعتوں کو ووٹ دیں جو ہمارے ملک، دستور اور ہماری تہذیب کو دیس نکالا دیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمارے ملک، دستور اور قوم کی حفاظت فرمائیں اور ان کو کسی آزمائش میں مبتلا ہونے سے محفوظ فرمائیں۔ آمین!
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی یکم تا ۷؍ جنوری ۲۰۱۸ء ص ۵، ۶)
۸؍ افراد کا قادیانیت سے تائب ہو کر قبول اسلام
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت چیچہ وطنی کی تبلیغی کاوشوں سے چک نمبر ۱۱۶/۱۲؍ایل، کسووال میں پیدائشی قادیانی خاندان نے قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کر لیا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت چیچہ وطنی کے مبلغ مولانا عبدالحکیم نعمانی، پیر جی حفظ الرحمٰن، پیر جی لطف الرحمٰن اور حافظ محمد عاصم کی موجودگی میں کسووال کے رہائشی طاہر احمد باجوہ ولد محمد یامین باجوہ نے اپنے تین بیٹوں زاہد احمد، وقاص احمد، اسرار احمد سمیت تمام اہل خانہ نے اسلام قبول کر لیا۔ اس موقع پر مولانا محمد ارشاد، مولانا مفتی ظفر اقبال، قاری زاہد اقبال، مولانا کفایت اللہ حنفی، حافظ محمد اصغر عثمانی، حاجی محمد ایوب اور مولانا عبدالحکیم نعمانی نے اسلام قبول کرنے والے خاندان کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے استقامت فی الدین کی دعاء کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۷ء ص ۱۱)
قبول اسلام
- ☆...... ٹالہی تحصیل کنری ضلع عمر کوٹ میں قادیانیوں کے گاؤں ۱۵؍روائڑ کے رہائشی اشرف آرائیں اور اس کی بیوی، دو بچیاں اور ایک بیٹا
عبدالرحمٰن نے قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کیا ہے۔ محمد اشرف کا کہنا تھا کہ اس نے خوشی سے اسلام قبول کیا اور قادیانیت کو ہمیشہ کے لئے چھوڑ دیا۔ ٹالہی تھرپارکر کے مبلغ مولانا مختار احمد نے ان کو مبارک باد دی اور استقامت کی دعاء کرائی۔
- ☆...... فضل عمر سکول کنری کا ٹیچر رمیش کمار نے اسلام قبول کیا۔ گلزار خلیل خانقاہ میں سائیں ایوب جان سرہندی کے ہاتھ بیعت کی اور
سائیں نے رمیش کمار سے تبدیل کر کے نام محمد ابوبکر رکھا۔ مبلغ ختم نبوت ضلع عمر کوٹ مولانا مختار احمد نے مبارک بادی اور استقامت کی دعاء کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۷ء ص ۲۵)
کنری میں ایک نوجوان کا قبول اسلام
کنری ضلع عمر کوٹ میں مغفور قادیانی کے جوان بیٹے حمزہ قادیانی نے بخاری مسجد کنری میں قادیانیت پر لعنت بھیج کر اسلام قبول
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کیا۔ بخاری مسجد کنری کے خطیب مولانا محمد امان اللہ قیصرانی نے کلمہ پڑھایا۔ مقامی جماعت ختم نبوت کنری کے تمام عہدیداران اور تمام مسلمانوں نے خوشی کا اظہار کیا۔ مبلغ ختم نبوت کنری، تھرپارکر مولانا مختار احمد نے مبارک باد دی اور استقامت کی دعا کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۷ء ص ۵۱)
ایک قادیانی کا قبول اسلام
محمد عبداللہ ولد غلام مصطفیٰ قوم کھلول سکنہ درکھان والا کوٹ ہیبت ضلع ڈیرہ غازی خان نے ۲۵؍ اگست ۲۰۱۷ء کو دبئی شارجہ میں قاری محمد اسماعیل کھلول امیر جمعیت علماء اسلام ڈیرہ غازی خان کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ حضور ﷺ کی ختم نبوت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ میں محمد مصطفیٰ ﷺ کو آخری نبی اور رسول مانتا ہوں ۔ مرزا غلام احمد قادیانی پر لعنت بھیجتا ہوں ۔ آئندہ میرا قادیانیوں کے ساتھ کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ آخر میں شرکاء مجلس میں مٹھائی تقسیم کی گئی۔ جب محمد عبداللہ کے اسلام قبول کرنے کی خبر سوشل میڈیا کے ذریعہ اہل علاقہ کو معلوم ہوئی تو علاقہ بھر کے مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور مسلمانوں نے ان کے اہل خانہ عزیز و اقارب کو مبارک باد پیش کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۱۷ء ص ۲۲)
چونڈہ کے ایڈووکیٹ عبدالقیوم بٹ کا قبول اسلام
گزشتہ روز چونڈہ کے معروف قادیانی ایڈووکیٹ عبدالقیوم بٹ کو اللہ کے فضل و کرم سے ان کے داماد عرفان محمود برق ایڈووکیٹ کی محنت سے عقیدۂ ختم نبوت پر ایمان لانے کی توفیق عطاء فرمائی۔ عبدالقیوم بٹ نے پسرور بار ایسوسی ایشن میں اپنے اسلام کا اعلان کیا جس سے علاقہ کے علماء ، وکلاء، تمام اہل اسلام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ ان کی چونڈہ آمد پر اسٹیشن میں حافظ محمد انور انصر، خورشید عالم ایڈووکیٹ، ذاکر نشاط ایڈووکیٹ، ملک ریاض ایڈووکیٹ، ملک سرفراز اور دیگر سرکردہ لوگوں نے استقبال کیا اور ان کو مبارک باد دی ہے اور ان کی اسلام پر استقامت کی دعاء کی گئی۔ ۲۸؍ نومبر ۲۰۱۷ء کو پسرور ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کے لئے جاتے ہوئے مولانا اللہ وسایا، مولانا فقیر اللہ اختر ، مولانا محمد عارف شامی مختصر وقت کے لئے چونڈہ تشریف لائے اور عبدالقیوم بٹ کو عقیدۂ ختم نبوت پر ایمان لانے پر مبارک باد دی دی اس موقع پر حافظ محمد انور انصر ، حافظ یاسر ابرار ، قیصر اقبال ، خادم حسین بھٹی ، امام دین رحمانی اور دیگر نوجوان بھی موجود تھے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۸ء ص ۶)
چناب نگر کے محلہ دارالنصر غربی کے پانچ قادیانی افراد کا قبول اسلام
جامعہ عربیہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں پانچ قادیانی افراد نے قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کر لیا۔ ۱۰؍ نومبر ۲۰۱۷ء بروز جمعہ کو مولانا غلام مصطفیٰ نے تائب ہونے والے نو مسلموں سے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت، سیدنا حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کا نزول اور حضرت امام مہدی علیہ الرضوان کا ظہور سے متعلق تفصیلی گفتگو کی۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے دجل و فریب اور قادیانیوں کی کفریہ سرگرمیوں سے آگاہ کیا۔ نو مسلم افراد نے کہا کہ پہلے ہماری زندگی کفر اور گمراہی میں گزری جس کی ہم سچے دل سے اللہ تعالیٰ سے توبہ کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں معاف فرمائیں تو مولانا غلام مصطفیٰ نے اسلام قبول کرنے والے افراد کو کلمہ پڑھا کر حلقہ بگوش اسلام کیا۔ ان خوش نصیب دو مرد اور تین خواتین کے نام یہ ہیں: (۱) عادل ولد جہانگیر احمد عمر ۱۸ سال، (۲) عدیل ولد جہانگیر احمد عمر ۱۵ سال، (۳) زاہدہ پروین دختر شبیر احمد عمر ۴۵ سال، (۴) سعدیہ جہانگیر دختر جہانگیر احمد عمر ۲۳ سال، (۵) نادیہ جہانگیر دختر جہانگیر احمد عمر ۲۲
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سال جو کہ چیمہ برادری سے تعلق رکھتے ہیں ۔ اس موقعہ پر مدرسہ کے اساتذہ، مسلم کالونی کے رہائشی چوہدری محمد شبیر چیمہ ولد محمد صادق، آفتاب احمد چیمہ ولد محمد شہباز، حیدر علی چیمہ ولد محمد شبیر چیمہ، مولانا صغیر احمد و دیگر افراد بھی شریک تھے۔ آخر میں نومسلموں کی استقامت کے لئے دعاء کی اور مبارک باد پیش کرتے ہوئے شرکاء مجلس میں مٹھائی بھی تقسیم کی گئی ۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۸ء ص ۲۵)
ختم نبوت کانفرنس پاکپتن
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکپتن کے زیر اہتمام مدرسہ حنفیہ فریدیہ پاکپتن میں سالانہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس مؤرخہ ۲۰/جنوری ۲۰۱۷ء بروز جمعتہ المبارک منعقد ہوئی ۔ کانفرنس سے معروف خطیب مولانا محمد اسماعیل شاہ کاظمی ، مولانا طلحہ ایوب حیدری، مولانا عبدالحکیم نعمانی سمیت دیگر ممتاز علماء کرام نے خطابات کئے ۔ قرب و جوار سے علماء کرام، مذہبی رہنماؤں اور عوام الناس نے اس کانفرنس میں بھر پور شرکت کی ۔ کانفرنس کے خصوصی مہمان جمعیت علماء اسلام کے سینٹر حافظ حمد اللہ بوجہ بیٹے کی علالت کانفرنس میں شرکت نہ کرسکے۔ مقررین نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تحفظ ختم نبوت کا فریضہ سرانجام دینا قربت خداوندی اور شفاعت نبوی ﷺ کو حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے ۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۱۷ء ص ۵۴)
ختم نبوت کانفرنس قمبر علی خان
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۲۳/جنوری ۲۰۱۷ء بروز منگل بعد نماز مغرب نور مسجد محلہ جاگیرانی قمبر میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی ۔ کانفرنس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا ۔ ہدیہ نعت حافظ علی اکبر نے پیش کیا ۔ بعد ازاں مولانا عبدالمجیب قریشی پیر شریف، مولانا حافظ عزیر گل جاگیرانی، مولانا عبدالجبار حیدری لاڑکانہ اور مبلغ مولانا محمد حسین ناصر کے بیانات ہوئے ۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۷ء ص ۵۴)
سرگودھا کی تحفظ ناموس رسالت ریلی سے مولانا طوفانی کا خطاب
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام یکم فروری ۲۰۱۷ء کو اسلام آباد میں منعقد ہونے والی آل پارٹیز ناموس رسالت کانفرنس کے فیصلوں کے مطابق جہاں ملک بھر میں آل پارٹیز کانفرنسیں منعقد ہوئیں وہاں سرگودھا کی باہمت قیادت نے عظیم الشان ریلی نکالی ۔ ریلی سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا محمد اکرم طوفانی اور مقامی رہنماؤں مولانا نور محمد ہزاروی، مولانا قاری عبدالوحید ، مولانا امجد علی سمیت کئی ایک علمائے کرام نے خطاب کیا۔ ریلی میں ہزاروں مسلمانوں اور سینکڑوں کارکنوں نے شرکت کی اور یہ عہد کیا کہ ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے خون کا آخری قطرہ پیش کر دیں گے لیکن قانون قائم رہے گا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۷ء ص ۵۵)
دروس ختم نبوت بسلسلہ تحفظ ناموس رسالت سیالکوٹ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سیالکوٹ کے زیر اہتمام دروس ختم نبوت بسلسلہ تحفظ ناموس رسالت یکم/فروری ۲۰۱۷ء بروز بدھ تا ۱۹/فروری ۲۰۱۷ء بروز اتوار پیر سید شبیر احمد گیلانی امیر عالمی مجلس سیالکوٹ اور مولانا فقیر اللہ اختر مبلغ عالمی مجلس سیالکوٹ کی نگرانی میں گیارہ پروگرام منعقد ہوئے: یکم/فروری ۲۰۱۷ء بروز بدھ بعد نماز عشاء جامع مسجد خاص چائنہ چوک سیالکوٹ میں مولانا سجاد احمد نے ۔ ۳/فروری ۲۰۱۷ء بروز جمعہ بعد نماز عشاء جامع مسجد جہانگیری اقبال روڈ سیالکوٹ میں مولانا شہباز احمد حنفی نے ۔ ۴/فروری ۲۰۱۷ء بروز
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہفتہ بعد نماز عشاء جامع مسجد ختم نبوت بن والی حاجی پورہ مولانا محبوب الہی ہزاروی نے ۔ ۶؍فروری ۲۰۱۷ء بروز پیر بعد نماز عشاء جامع مسجد تقویٰ گجر ٹاؤن میں مولانا حافظ محمد اسلم نے ۔ ۷؍فروری ۲۰۱۷ء بروز منگل بعد نماز عشاء جامع مسجد نور رحمن پوری فتح گڑھ سیالکوٹ میں مولانا فقیر اللہ اختر نے ۔ ۸؍فروری ۲۰۱۷ء بروز بدھ بعد نماز مغرب جامع مسجد ختم نبوت غوث فتح گڑھ سیالکوٹ میں مولانا عزیز الرحمن قاسمی نے ۔ ۸؍فروری ۲۰۱۷ء بروز بدھ بعد نماز عشاء جامع مسجد امیر معاویہ نیکا پورہ سیالکوٹ میں مولانا محمد عاصم شہزاد نے ۔ ۱۲؍فروری ۲۰۱۷ء بروز اتوار بعد نماز مغرب جامع مسجد امیر حمزہ پسرور روڈ سیالکوٹ میں مولانا حماد انور قاسمی نے ۔ ۱۲؍فروری ۲۰۱۷ء بروز اتوار بعد نماز عشاء جامع مسجد موتی شاہ آباد حاجی پورہ سیالکوٹ میں مولانا خان فاروقی نے ۔ ۱۹؍فروری ۲۰۱۷ء بروز اتوار بعد نماز ظہر جامع مسجد یوسف بنوری الہادی ٹاؤن سیالکوٹ میں مولانا محمد طیب زاہد نے اور ۱۹؍فروری ۲۰۱۷ء بروز اتوار بعد نماز عشاء جامعہ فاروقیہ چوک امام سیالکوٹ میں مولانا مفتی عارف حسین نے بیانات فرمائے ۔ تمام پروگراموں میں مقررین نے قانون تحفظ ناموس رسالت کے دفاع کی تائید حاصل کی اور حکومت سے آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس اسلام آباد میں جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیہ کی روشنی میں چھ نکاتی ایجنڈے پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۷ء ص ۲۸)
آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت پروگرام
آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس اسلام آباد منعقدہ یکم فروری ۲۰۱۷ء سے جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیہ کی روشنی میں ملک بھر میں آل پارٹیز اجلاس ، سیمینار اور کانفرنسوں کا اہتمام کیا گیا ۔ اسی سلسلہ میں چھ نکاتی ایجنڈے پر مشتمل مطالبات تسلیم کرانے کے لئے مری ، ایبٹ آباد، راولپنڈی اور اسلام آباد میں بھی درج ذیل پروگرام ہوئے ۔ ۶؍فروری ۲۰۱۷ء کو جامع مسجد فاروق اعظم ﷺ جی ۳-۹ اسلام آباد، ۹؍فروری کو مرکزی جامع مسجد ایبٹ آباد، ۱۰؍فروری کو مرکزی جامع مسجد مانسہرہ اور شہزادہ مسجد ایبٹ آباد، ۱۱؍فروری کو جامعہ صدیقیہ گڑھی حبیب اللہ بالاکوٹ، ۱۲؍فروری کو جامعہ عبداللہ بن مسعود ہری پور، ۲۲؍فروری کو خلفاء راشدین اسلام آباد، ۲۳؍فروری کو ختم نبوت کانفرنس مرکزی جامع مسجد مانسہرہ، ۲۴؍فروری کو جمعتہ المبارک سے خطابات، واہ کینٹ حسن ابدال اور جامع مسجد الرشید گلزار قائد راولپنڈی، ۲؍مارچ کو جامع مسجد خلفاء راشدین اسلام آباد، ۵؍مارچ کو اسلامیہ مسجد مری روڈ راولپنڈی اور محمدی مسجد راولپنڈی میں بھی بھر پور اجتماعات منعقد کئے گئے ۔ ان پروگرامات میں مولانا محمد امجد خان، مفتی شہاب الدین پوپلزئی، مفتی کفایت اللہ، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا محمد طیب، مولانا سید ہدایت اللہ، مفتی وقار الحق عثمان، مولانا عبدالواجد، وقار خان جدون، ساجد اعوان، مولانا فدا محمد خان، شیخ الحدیث مولانا عبدالرؤف، مولانا قاضی مشتاق احمد، مولانا محمد نذیر فاروقی، مولانا ظہور احمد علوی، قاری عبدالوحید قاسمی، مولانا قاضی عبدالرشید، مولانا شفقت اور قاری صداقت نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ نیز سوشل میڈیا پر کی جانے والی گستاخی پر شدید غم وغصہ کا اظہار کرتے ہوئے ان کی روک تھام اور ان بدبختوں کے خلاف قانونی کارروائی کر کے کیفر کردار تک پہنچانے کا بھی مطالبہ کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۷ء ص ۷)
آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت اجلاس حیدرآباد
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی دعوت پر ۹؍فروری ۲۰۱۷ء سہ پہر بروز جمعرات کو دفتر ختم نبوت حیدرآباد میں آل پارٹیز اجلاس منعقد ہوا ۔ جس کی صدارت مجلس حیدر آباد کے امیر مولانا عبدالسلام قریشی نے کی ۔ اجلاس میں مولانا تاج محمد ناہیوں، حافظ خالد حسن
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دھامرا، مولانا ضیاء الرحمن طاہر، حافظ اعظم جہانگیری (جمعیت علماء اسلام ف)، مولانا سیف الرحمن (وفاق المدارس)، حافظ طاہر مجید (جماعت اسلامی)، علامہ عبدالغنی شاہ (جمعیت علماء پاکستان)، محمد حنیف صدیقی ، حافظ محمد فہد عباسی (مسلم لیگ ن)، امیر عبداللہ فاروقی (عالمی تحریک تحفظ حرمین سندھ)، حافظ ارمان احمد ، قاری سعد اللہ (جمعیت علماء اسلام س)، شکیل احمد قریشی (مرکزی جمعیت اہلحدیث)، عدنان دیسوالی، ناصر قریشی (پاکستان مسلم لیگ فنکشنل) اور مولانا توصیف احمد مبلغ ختم نبوت نے شرکت کی ۔ اجلاس میں متفقہ طور پر مطالبہ کیا گیا کہ حکومت اہل اسلام کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے قانون ۲۹۵ سی کے خلاف سرگرمیوں کا نوٹس لے۔ قادیانی چینلز کی خلاف قانون نشریات پر پابندی عائد کرے۔ قادیانی ہیڈ کوارٹر چناب نگر میں ریاست در ریاست کا ماحول ختم کرے۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ فزکس کو ملعون ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے نام منسوب کرنے کا آرڈر واپس لیا جائے۔ چکوال میں عید میلاد النبی کے جلوس پر فائرنگ کرنے والے قادیانیوں کو قرار واقعی سزا دی جائے ۔ تمام رہنماؤں نے اجلاس میں فیصلہ کیا کہ یکم فروری آل پارٹیز کانفرنس اسلام آباد کے مطالبات منوانے کے لئے رائے عامہ کو ہموار کیا جائے گا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۷ء ص ۲۸)
آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت اجلاس خانیوال
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کا اجلاس ۹ فروری ۲۰۱۷ء بروز جمعرات جامع مسجد صدیقی ایک مینار والی میں پیر خواجہ عبدالماجد صدیقی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں ضلعی مبلغ مولانا عبدالستار گورمانی ، مولانا محمد حاتم ، مولانا سیف اللہ شاہ، جمعیت علماء اسلام کے مولانا عباس اختر ، علامہ اکرام القادری، جمعیت علماء اسلام (س) کے مفتی خالد محمود اظہر، جمعیت علماء پاکستان کے مولانا پیر عزیز الرحمن حامدی، جمعیت اہلحدیث کے مولانا قاری سیف اللہ عابد، حکیم محمد آصف مشہدی ، مولانا خبیب احمد سعیدی، پاکستان علماء کونسل کے مفتی عمر فاروق، ٹریڈ چیمبر کے شیخ انعام اللہ قریشی ، جماعت اسلامی کی جانب سے جناب فرخ رحمان ، محمد خالد بخاری، امتیاز علی اسعد و طاہر نسیم ڈسٹرکٹ پریس کلب، بار کونسل سے چوہدری عبدالرؤف ایڈووکیٹ ، مہر محمد مظہر سیال ایڈووکیٹ ، چوہدری غلام عباس ایڈووکیٹ، شیخ محمد اکمل صدر انجمن آرٹیاں، مولانا محمد شاہ عالم ہزاروی، مفتی سمیع اللہ، مولانا معاویہ مہدی، قاری محمد فاروق، قاری ذوالفقار احمد، حافظ محمد صفدر کے علاوہ کئی حضرات شریک ہوئے ۔ میزبانی و ضیافت کا انتظام مجلس کے ناظم مولانا عطاء المنعم نعیم نے کیا۔ اس اجلاس میں طے کیا گیا کہ یکم فروری آل پارٹیز کانفرنس اسلام آباد میں جو فیصلے طے ہوئے اگر ان پر عملدرآمد نہ ہوا تو قائدین کی طرف سے جو حکم آئے گا ہم اس کو صدق دل سے قبول کریں گے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۷ء ص ۲۹، ۵۰)
آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت ﷺ سیمینار ٹوبہ ٹیک سنگھ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ٹوبہ ٹیک سنگھ کے زیر اہتمام ۱۲ فروری ۲۰۱۷ء بروز اتوار بعد نماز ظہر بمقام کے، سی ہوٹل القائم سنٹر میں آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت ﷺ سیمینار منعقد ہوا۔ جس میں تمام دینی سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین ، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ، قاضی فیض احمد ، جمعیت علماء اسلام فیصل آباد کے امیر سید محمد زکریا شاہ، مولانا مجیب الرحمن لدھیانوی، جمعیت علماء اسلام (س) کے مولانا احمد عثمان، جمعیت اہل حدیث کے مولانا برق التوحیدی، مجلس احرار اسلام کے مولانا محکم دین، انٹرنیشنل ختم نبوت کے مولانا لطف اللہ لدھیانوی، اہل سنت والجماعت کے صاحبزادہ مولانا لطف اللہ لدھیانوی، تنظیم الاخوان کے حافظ حفیظ الرحمن، اہل تشیع کے سید اظہر حسین شاہ، پاکستان پیپلز پارٹی کے رانا خالد محمود، تحریک انصاف کے عارف جانباز قاضی، ایم ایس
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ایف کے صدر رضوان اظہر ناز ، امجد عظیم انجمن تاجران ، رانا عبدالقیوم خان چیئر مین مارکیٹ کمیٹی ، مسلم لیگ ن کے ایم این اے جناب جنید انوار چوہدری اور قاری ناصر عمران امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت رجانہ نے شرکت فرمائی۔ ہدیہ حمد ونعت حافظ بشیر احمد عثمانی نے پیش کیا۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے تحفظ ناموس رسالت تحریک کی پوری تفصیل سے آگاہ کیا۔ مقررین نے خطاب کرتے ہوئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا شکریہ ادا کیا اور چھ نکاتی ایجنڈے و آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کے ہر فیصلے کے ساتھ اتفاق رائے کیا۔ اجلاس کا اختتام مولانا محمد عبداللہ لدھیانوی کی دعاء سے ہوا۔ پروگرام میں مولانا سعد اللہ لدھیانوی و دیگر احباب نے بھر پور معاونت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۷ء ص ۴۸ ، ۴۹)
ختم نبوت کانفرنس حیدر آباد
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حیدر آباد کے زیراہتمام ۱۷؍ فروری ۲۰۱۷ء بروز جمعتہ المبارک نورانی مسجد لیاقت کالونی میں ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ کانفرنس کی صدارت مولانا عبدالسلام قریشی نے کی۔ کانفرنس سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا اللہ وسایا، مولانا قاضی احسان احمد، مولانا مختار احمد، مولانا توصیف احمد نے خطاب کیا۔ تمام رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح اللہ رب العزت توحید میں وحدہ لاشریک ہیں۔ اسی طرح محمد ﷺ خاتم النبیین ہونے میں وحدہ لاشریک ہیں۔ عقیدہ ختم نبوت و ناموس رسالت ایمان کی جان اور اتحاد امت کا مظہر ہے۔ مقررین نے کہا کہ حکومت پنجاب قادیانیت نوازی سے باز آئے۔ میاں نواز شریف اجتماعی اور اساسی عقائد و مسائل میں دخل اندازی نہ کریں۔ وفاقی حکومت کا قادیانیت نوازی کرنا، قانون ناموس رسالت کو چھیڑنا ، چناب نگر کے تعلیمی ادارے قادیانیوں کے حوالے کرنا ، قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ فزکس کو ملعون ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے نام منسوب کرنا ، دوالمیال چکوال میں قادیانی غنڈہ گردی کے باوجود ایف آئی آر درج نہ کرنا اور بلا جواز مسلمانوں کو گرفتار کرنے جیسے اقدامات سے ملکی سلامتی کو داؤ پر لگایا جارہا ہے۔ ملک دشمنی کا دوسرا نام قادیانیت ہے۔ کانفرنس میں مولانا سیف الرحمن، مفتی فہیم اشرف، قاری عبدالرشید، قاری اعظم ، مولانا ضیاء الرحمن طاہر ، مولانا عبدالمالک بروہی ، فاروق آزاد سمیت دیگر کئی علماء کرام نے شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۷ء ص ۵۳)
ختم نبوت کانفرنس نواب شاہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام ۱۸؍ فروری ۲۰۱۷ء بروز ہفتہ جامع مسجد کبیر نواب شاہ میں ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس بعد نماز مغرب تا رات گئے جاری رہی۔ کانفرنس کی صدارت شیخ الحدیث مولانا محمد سلیم نے کی۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا محمد تجمل حسین نے سرانجام دیئے۔ کانفرنس قاری محمد رضا کی تلاوت کلام پاک سے شروع ہوئی۔ مولانا حافظ اشفاق اللہ نے حمد ونعت پیش کی۔ کانفرنس سے مولانا قاضی احسان احمد کراچی اور مولانا محمد رفیق جامی فیصل آباد نے اپنے مخصوص انداز میں بیانات کئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۷ء ص ۵۵)
ختم نبوت کانفرنس محراب پور
محراب پور (حافظ تاج محمد ملک) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت محراب پور کے زیراہتمام ۱۹؍ فروری ۲۰۱۷ء بروز اتوار بعد نماز عشاء مرکزی جامع مسجد محراب پور میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس کی صدارت مولانا مفتی محمد یاسین صاحب نے اور نگرانی
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت محراب پور کے امیر مولانا عبدالصمد صاحب نے کی نقابت کے فرائض مولانا تجمل حسین نے سرانجام دیئے۔ کانفرنس بعد نماز عشاء تا رات ڈیڑھ بجے تک جاری رہی۔ کانفرنس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا، تلاوت کی سعادت قاری فتح محمد صاحب نے حاصل کی عاشق اظہر صاحب نے حمد ونعت پیش کی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے مرکزی رہنما مولانا قاضی احسان احمد نے خطاب کیا۔ اس کے بعد مولانا محمد رفیق جامی صاحب نے خطاب کیا۔ مولانا تجمل حسین نے قرارداد پیش کی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ یکم تا ۷؍ اپریل ۲۰۱۷ء ص ۱۰)
آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت تقریب کہروڑ پکا
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۹؍ فروری ۲۰۱۷ء بروز اتوار بعد نماز ظہر جامع مسجد تالاب والی میں آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت تقریب کا انعقاد ہوا۔ تقریب میں نقابت کے فرائض مولانا منیر احمد ریحان سینئر نائب امیر مجلس کہروڑ پکا نے انجام دیئے۔ تقریب سے مجلس کہروڑ پکا کے سرپرست، شیخ الحدیث مولانا منیر احمد منور، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی مرکزی ناظم تبلیغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، مولانا غلام فرید سعیدی جمعیت علماء پاکستان، قاری محمود الحسن جمعیت علماء اسلام، مولانا عبدالرحمن فردوسی جمعیت اہلحدیث ودیگر نے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اپنے مذموم ارادوں سے باز نہ آئی تو پھر اپنے اکابرین کی قیادت میں ملک گیر تحریک چلائی جائے گی۔ مولانا منیر احمد ریحان نے یکم فروری کو ہونے والی آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس کے مشترکہ اعلامیہ کے چھ نکات کی ہاتھ اٹھا کر تائید لی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ قانون میں تبدیلی سے باز رہے۔ تقریب میں مولانا غلام محمد ریحان امیر مجلس ختم نبوت کہروڑ پکا، مولانا محمد صدیق گیلانی جمعیت علماء پاکستان، مولانا محمد شاہد جامعہ غوثیہ، شیخ صابر ایڈووکیٹ، شیخ حبیب احمد جنرل سیکرٹری بار ایسوسی ایشن، محمود الحسن عباسی پیپلز پارٹی، مفتی محمد امین وقاری محمد اقبال جے یو آئی، راجہ محمد ابراہیم مسلم لیگ (ن) وانجمن تاجران، مولانا عبدالقادر، محمد اسحاق، مولانا محمود شریف نعمانی، ڈاکٹر منصور الحق انچارج پی ایچ کیو، صحافی لیاقت علی مغل مع ٹیم، عابد شہزاد پرنٹ میڈیا مع ٹیم سمیت دیگر شعبہ تعلیم، وکلاء، انجمن تاجران، ڈاکٹرز اور تمام مذہبی جماعتوں اور مسالک و مکاتب کے نمائندوں نے شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۷ء ص ۴۹)
آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت سیمینار جھنگ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مدرسہ علوم الشرعیہ ٹوبہ روڈ جھنگ صدر میں ۱۹؍ فروری ۲۰۱۷ء کو آل پارٹیز کانفرنس زیر صدارت مولانا مصدوق حسین شاہ منعقد ہوئی۔ جس میں جھنگ کی مختلف جماعتوں کے قائدین نے شرکت کی۔ جمعیت علماء اسلام کے عبدالرحمن عزیز، مولانا قاری محمد طارق، قاری طاہر محمود، پاکستان پیپلز پارٹی کے محمد ارشد گجر، مسلم لیگ ن کے رانا محمد آصف، جے یو پی کی طرف سے اسرار الحق چیمہ ایڈووکیٹ، ڈاکٹر حمزہ، جمعیت اہلحدیث کے حافظ عبدالباسط جنجوعہ، جے یو آئی س کے قاری اشرف منصوری، جماعت اہل سنت کے مولانا رفیق سیالوی، مجلس احرار الاسلام کے مولانا عبدالغفار احرار، جمعیت اشاعت وتوحید کے مولانا ظہور احمد، جمعیت اہل سنت کے مولانا عمر دراز، جماعت اسلامی کے جاوید احمد، اسلامک لائر فورم کے سلیم بٹ ایڈووکیٹ، زاہد سعید بھٹہ ایڈووکیٹ ودیگر کثیر تعداد میں علماء اکرام نے شرکت کی۔ اے پی سی میں مشترکہ اعلامیہ مولانا محمد اقبال خان شیروانی نے پڑھ کر سنایا۔ سب نے اس کی تائید کی۔ قبل ازیں جمعیت علماء اسلام کے صوبائی ڈپٹی سیکرٹری شہباز احمد ایڈووکیٹ نے دفعہ ۲۹۵-سی کے حوالہ سے شرکاء کو تفصیلی بریفنگ
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دی۔ مشترکہ اعلامیہ میں مطالبہ کیا گیا کہ حکومت مردم شماری کے فارم میں قادیانیوں کا الگ خانہ بنائے ۔ تاکہ کوئی قادیانی اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر کے مردم شماری میں بطور مسلم حصہ نہ لے سکے اور یہ کہ ۲۹۵-سی میں کسی قسم کی ترمیم یا مقدمہ کے اندراج میں طریقہ کار میں تبدیلی کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ حکمران ایسے اقدامات سے باز رہیں۔ اعلامیہ میں مطالبہ کیا گیا کہ چناب نگر چنیوٹ میں قادیانیوں نے جو اپنی عدالتیں بنا رکھی ہیں ان پر فی الفور پابندی عائد کی جائے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۷ء ص ۵۱، ۵۲)
آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت اجلاس گوجرانوالہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ کے زیر اہتمام آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت اجلاس ۱۹؍ فروری ۲۰۱۷ء کو مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں ایک بجے تا نماز عصر منعقد ہوا۔ جس کی صدارت پیر محمد رضوان نفیس رہنما عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور نے کی۔ اجلاس سے مولانا زاہد الراشدی، مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا جمیل الرحمن اختر، مرکزی جمعیت اہلحدیث کے رہنما مولانا حافظ محمد امین محمدی، مولانا حافظ ابرار احمد ظہیر، جماعت اہل سنت کے رہنما چیئرمین امن کمیٹی مولانا قاری محمد سلیم زاہد، جماعت اسلامی کے رہنما فرقان عزیز بٹ، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں مولانا افضال الحق کھٹانہ، مولانا محمد عارف شامی، مولانا ہدایت اللہ جالندھری، مولانا محمد اشرف مجددی، سید احمد حسین زید، جمعیت علماء اسلام (ف) کے چوہدری بابر رضوان باجوہ، وفاق المدارس العربیہ کے مولانا جواد محمود قاسمی، جمعیت علماء اسلام (س) کے مولانا حافظ گلزار احمد آزاد، جمعیت اہل سنت والجماعت کے مولانا مفتی محمد نعمان، پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین علامہ محمد ایوب صفدر، انجمن تاجران کے چیئرمین میاں فضل الرحمن چغتائی، جامعہ نصرت العلوم کے ناظم مولانا صوفی محمد ریاض خان سواتی، اہل سنت والجماعت کے رہنما غلام کبریا شاہ اور ممتاز عالم دین مولانا قاری محمد اسامہ نے خطاب کیا۔ اجلاس میں آل پارٹیز ختم نبوت اسلام آباد کی قراردادوں کی حمایت کا اعلان کیا گیا اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ قانون توہین رسالت ﷺ میں ترمیم کے حوالے سے جاری سرگرمیاں اشتعال انگیز ہیں۔ حکومت قانون کے تحفظ کا دوٹوک اعلان پارلیمنٹ میں کرے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۷ء ص ۵۰، ۵۱)
ختم نبوت کانفرنس گمبٹ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۲۰؍ فروری ۲۰۱۷ء بروز پیر بعد نماز عشاء بمقام پھول باغ گمبٹ میں ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس کی صدارت مولانا نعمت اللہ شیخ نے کی۔ جب کہ نگرانی عالمی مجلس گمبٹ کے امیر مولانا عبدالصمد نے کی۔ کانفرنس کا آغاز قاری امیر احمد کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ قاری صبغت اللہ پنہور اور حافظ عبدالحق چنہ نے حمد ونعت کے نذرانے پیش کئے۔ کانفرنس سے مولانا تجمل حسین، شیخ الحدیث مولانا میر محمد میرک، فرزند علامہ خالد محمود سومرو شہید مولانا طارق محمود سومرو، مولانا قاضی احسان احمد، مولانا محمد رفیق جامی فیصل آباد کے بیانات ہوئے۔ مولانا سائیں عبدالمجیب قریشی پیر شریف اور مولانا مفتی حفیظ الرحمن نے خصوصی شرکت فرمائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۷ء ص ۵۲، ۵۳)
ختم نبوت کانفرنس سکھر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ختم نبوت کانفرنس ۲۱؍ فروری ۲۰۱۷ء بروز منگل بعد نماز عشاء مرکزی جامع مسجد بندر روڈ سکھر میں زیر صدارت قاری جمیل احمد بندھانی، زیر سرپرستی مولانا مفتی عبدالباری اور زیر نگرانی مولانا محمد حسین ناصر مبلغ عالمی مجلس سکھر منعقد ہوئی۔ جس میں حمد ونعت حافظ محمد ارسلان ملک اور سعد اللہ ندیم نے پیش کی۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا عبداللطیف اشرفی اور مولانا تجمل حسین نے
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
انجام دیئے۔ کانفرنس سے مہمانان خصوصی مولانا مسعود احمد سومرو، مولانا سائیں عبدالمجیب قریشی پیر شریف، مولانا قاضی احسان احمد کراچی، مولانا محمد رفیق جامی فیصل آباد اور مولانا عبدالکریم ندیم خانپور و دیگر علماء نے بیانات کئے۔ اس موقع پر مولانا مفتی عبدالغفار جمالی، مولانا اسد اللہ میمن، مفتی شفیع محمد سندھی، آغا سید محمد ہارون شاہ، مولانا سعود افضل ہالیجوی، مولانا تاج محمد چنہ، مولانا رحیم بخش چاچڑ، مولانا الہی بخش ٹانوری، مفتی محکم دین و دیگر حضرات موجود تھے۔ کانفرنس میں مولانا گل محمد، حافظ عبدالغفار، حافظ محمد اویس، مولانا سہیل احمد مدنی، بھائی منیر احمد مہر، محمد مبشر حسین، محمد عزیر، محمد عمیر و دیگر ساتھیوں کا بھر پور تعاون حاصل رہا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۷ء ص ۵۴، ۵۵)
آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت سیمینار کوئٹہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کوئٹہ کے زیر اہتمام آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت سیمینار ۲۲؍فروری ۲۰۱۷ء بروز بدھ صبح ۱۰؍ بجے پریس کلب کوئٹہ میں منعقد ہوا۔ جس میں مقررین نے کہا ہے کہ یورپی یونین اور مغربی ممالک مالی امداد پاکستان کو دینے کے ساتھ ساتھ قانون توہین رسالت ۲۹۵-سی میں ترمیم اور قادیانیوں کے خلاف آئینی ترامیم ختم کرانا چاہتے ہیں اور یہ ان کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔ جب کہ برطانیہ کے قانون کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین پر سزائے موت ہے۔ سینیٹ میں ایک بار پھر توہین رسالت کا مسئلہ اٹھایا جانا سازش کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ مسلمان اپنے تمام تر اختلافات ختم کر کے دین متین کی حفاظت اور آبیاری کے لئے متحد ہو جائیں۔ ان مسائل کے حل کے لئے دینی و سیاسی جماعتیں متحد ہو کر نظام مصطفیٰ ﷺ کی تحریک شروع کریں۔ سیمینار میں عالمی مجلس کوئٹہ کے مولانا عبداللہ منیر، مولانا انوار الحق حقانی، مولانا عبدالرحیم رحیمی، صوبائی مبلغ مولانا محمد یونس، جمعیت علماء اسلام کے ملک سکندر ایڈووکیٹ، جماعت اسلامی کے مولانا عبدالحق ہاشمی، علامہ جمعہ اسدی، عوامی نیشنل پارٹی کے رشید خان ناصر، جامع مفتاح العلوم کے شیخ الحدیث مولانا عبدالباقی، جمعیت علماء اسلام س کے مولانا عبدالحلیم، مجلس وحدت المسلمین کے علامہ ہاشم موسوی، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے محمد رضا وکیل، جمعیت علماء پاکستان کے مولانا عبدالقدوس ساسولی، سابق صوبائی وزیر مولانا حافظ حسین احمد شرودی، پشتونخواہ کے حاجی فضل قادر شیرانی، مرکزی جمعیت اہل حدیث کے مولانا زکریا ذاکر، مرکزی انجمن تاجران کے محمد ابراہیم کاسی، غزالی ویلفیئر سوسائٹی کے عبدالقیوم کاکڑ، مفتی احمد خان، معروف قانون دان محمد علی کاکڑ ایڈووکیٹ، تنظیم اسلامی کے اقتدار احمد، قومی وطن پارٹی کے میر شیر علی میروانی سمیت دیگر علماء کرام، صحافی، وکلاء، تاجران، ڈاکٹرز اور سیاسی وسماجی حضرات نے شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۷ء ص ۵۲)
تحفظ ناموس رسالت کانفرنس مانسہرہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۲۳؍فروری ۲۰۱۷ء بروز جمعرات بعد از نماز عصر مانسہرہ میں کانفرنس ہوئی جو کہ رات گئے تک جاری رہی۔ تلاوت کلام پاک سے کانفرنس کا آغاز کیا گیا۔ اس کے بعد ثناء خوان مصطفیٰ ﷺ نے بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں مدح سرائی کی۔ بعد ازاں کانفرنس سے جمعیت علماء اسلام کے ضلعی صدر سید ہدایت اللہ شاہ نے خطبہ صدارت جب کہ مولانا مفتی کفایت اللہ، مولانا محمد امجد خان، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم تبلیغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، صوبائی امیر مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی، اسلام آباد کے مبلغ مولانا محمد طیب، وکلاء کی نمائندگی کرتے ہوئے جناب شاہ جہاں خان ایڈووکیٹ اور دیگر اداروں سے تعلق رکھنے والے کئی حضرات نے خطابات فرمائے۔ مولانا محمد امجد خان نے آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس کی کارروائی سے سامعین کو آگاہ کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۷ء ص ۵۳)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس ضلع لکی مروت
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۲۶؍ فروری ۲۰۱۷ء کو لکی مروت میں گیارہویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس ضلعی امیر حاجی امیر صالح خان کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز صبح آٹھ بجے حافظ ظہور احمد کی تلاوت کلام سے ہوا۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مفتی ضیاء اللہ اور مولانا محمد ابراہیم ادہمی نے ادا کئے۔ پہلی نشست سے مولانا محمد طیب طوفانی، مولانا ماسٹر عمر خان، مولانا بشیر احمد حقانی، ختم نبوت کے مرکزی ناظم تبلیغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور استاذ الحدیث مولانا عبدالغفار کے خطابات ہوئے۔ نماز ظہر کے بعد دوسری نشست کا آغاز مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی نائب امیر صاحبزادہ خواجہ عزیز احمد مدظلہ کی صدارت میں قاری صفی اللہ کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ اس نشست میں مولانا عبدالرحیم، مولانا اللہ وسایا، صوبائی امیر مولانا مفتی محمد شہاب الدین پوپلزئی، شیخ الحدیث مولانا احمد سعید کے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت پر خطابات ہوئے۔ مقررین نے حکمرانوں کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ فی الفور آل پارٹی کانفرنس اسلام آباد کے اعلامیہ پر عمل کریں اور ناموس رسالت ﷺ کے قوانین میں ترمیم سے باز رہیں۔ بصورت دیگر ملک گیر احتجاجی تحریک قائدین کے حکم پر شروع کریں گے۔ کانفرنس میں شیخ الحدیث عبدالمتین، مفتی عبدالغنی شاہ، مولانا عبدالرحیم، مولانا اعزاز اللہ، حاجی سالار، مولانا عبدالحق، شیخ الحدیث مولانا حسین احمد، حافظ امیر پیاؤ شاہ، مولانا حبیب اللہ اور حافظ قدرت اللہ سمیت کثیر تعداد میں علماء نے شرکت کی۔ صاحبزادہ امین اللہ، مولانا محمد گل، مولانا نقیب اللہ، مولانا برہان الدین، مولانا گل رائس خان، ماجد حسین، انور جی، عظمت اللہ اور امداد اللہ نے بہترین انتظامات جب کہ تنظیم انصار الاسلام کے رضا کاروں نے مولانا گل فراز شاکر کی نگرانی میں سیکورٹی کے فرائض ادا کئے۔ آخر میں مفتی ضیاء اللہ نے سالانہ کارکردگی کی رپورٹ و قراردادیں پیش کیں جو متفقہ طور پر منظور ہوئیں۔ کانفرنس کا اختتام مولانا مفتی محمد شہاب الدین پوپلزئی کی رقت آمیز دعاء سے ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۷ء ص ۵۴، ۵۵)
چھٹی سالانہ ختم نبوت کانفرنس بنوں
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بنوں کے زیر اہتمام ۲۷؍ فروری ۲۰۱۷ء بروز سوموار جامع مسجد حافظ جی بنوں سٹی میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے مہمانان خصوصی صاحبزادہ خواجہ عزیز احمد، مولانا اللہ وسایا، مولانا مفتی محمد شہاب الدین پوپلزئی، مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا مفتی محمد زکریا خالد، مولانا محمد قاسم گجر، چچا حاجی عنایت اللہ، مولانا محمد علی کوہاٹ تھے۔ کانفرنس کی دونوں نشستوں کی صدارت ضلعی امیر مفتی عظمت اللہ سعدی نے کی۔ نقابت کے فرائض مولانا شمس الحق حقانی اور مفتی عبدالغنی اشرفی نے انجام دیئے۔ کانفرنس کا آغاز قاری ظاہر اللہ کی تلاوت سے ہوا۔ کانفرنس میں مہمانان خصوصی کے علاوہ مولانا امام محمد یوسف نقشبندی، مفتی شہید نواز نے بھی خطاب کیا۔ کانفرنس میں قائدین نے بنوں کے علماء ومشائخ کی موجودگی میں ضلعی امارت کی دستار مولانا مفتی عظمت اللہ سعدی کے سر پر رکھی۔ آخر میں کانفرنس کی قراردادیں قانونی مشیر عالمی مجلس بنوں سید ظہیر الدین ایڈووکیٹ نے پیش کیں۔ اس کے بعد ۲۲؍ حفاظ کرام کی دستار بندی ہوئی۔ کانفرنس کی اختتامی دعاء مولانا محمد زکریا خالد ٹیکسلا نے فرمائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۷ء ص ۵۵)
آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس راجن پور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام پریس کلب راجن پور میں ۸؍ فروری ۲۰۱۷ء بروز بدھ آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ جس میں صاحبزادہ حافظ جلیل الرحمن صدیقی امیر مجلس راجن پور، مولانا محمد اقبال مبلغ مجلس راجن پور، مولانا غلام یاسین شاکر ومولانا
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ابوبکر عبداللہ جمعیت علماء اسلام (ف) ، قاری نور الحسن ومفتی شفیق سعیدی اہل سنت بریلوی ، مولانا یاسین راہی جمعیت اہلحدیث ، حافظ عرفان اللہ خان وحافظ محمد عمر جماعت اسلامی ، سید احسن حسین شمسی ایڈووکیٹ وعلامہ تقی فاضل اہل تشیع ، علاوہ ازیں مفتی ارشاد حقانی ، مولانا مولا بخش ، مولانا رفیق گبول ، مولانا منظور احمد نعمانی ، مولانا اکمل حقانی ، مولانا قاری محمود قاسمی ، حافظ فاروق قریشی ، مولانا شاہد منظور ، مولانا عبدالغنی ، مولانا عمر فاروق سومرو ، مولانا الٰہی بخش ساقی ، مفتی اللہ وسایا اور مفتی مشتاق نے خطابات کئے۔ اس موقع پر تمام مذہبی ، سیاسی ، سماجی اور فلاحی اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ مقررین نے کہا کہ تحفظ ناموس رسالت کے قانون ۲۹۵-سی پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔ ہم اپنے بزرگوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے قادیانیوں کا ہر میدان میں مقابلہ کریں گے۔ نمائندہ اجلاس نے تمام شرکاء کانفرنس سے یکم فروری آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس اسلام آباد کے مشترکہ اعلامیہ میں جاری ہونے والے چھ نکاتی ایجنڈا پر تائید حاصل کی اور حکومت سے ان کا مطالبہ کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۷ء ص ۵۰)
مولانا عزیز الرحمن جالندھری کے تبلیغی اسفار
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ مورخہ ۲؍ مارچ ۲۰۱۷ء بروز جمعرات ساہیوال تشریف لائے۔ جامعہ رشیدیہ کے مہتمم اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مولانا کلیم اللہ رشیدی اور مولانا عبدالحکیم نعمانی مبلغ ختم نبوت نے استقبال کیا۔ رات کا قیام جامعہ محمدیہ کوٹ ۸۵/۶ آر میں رہا۔ ۳؍ مارچ کی صبح کو جامع مسجد محمدیہ میں درس ختم نبوت ارشاد فرمایا۔ جمعۃ المبارک کا بیان مدرسہ عربیہ فاروقیہ عارف والا میں ہوا۔ رات کا قیام بہاولنگر کے دفتر میں ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۷ء ص ۵۶)
ختم نبوت کانفرنس گوجرہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۲؍ مارچ ۲۰۱۷ء بروز جمعرات بعد نماز عشاء مرکزی جامع مسجد کپڑا بازار گوجرہ ضلع ٹوبہ میں آل پارٹیز ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت محترم صوفی محمد دین رائے پوری ، قیادت مولانا سعد اللہ لدھیانوی نے فرمائی۔ قاری محمد شریف نے آیات ختم نبوت سے تلاوت کلام پاک فرمائی ۔ نعت رسول مقبول ﷺ مولانا ذوالقرنین ، قاری شرافت علی مجددی نے پیش کی ۔ مولانا اللہ وسایا ، مفتی محمد طیب فیصل آباد ، مولانا رحمت اللہ ارشد جماعت اسلامی ، صاحبزادہ مولانا منعم حسنین صدیقی اہل سنت والجماعت (بریلوی) ، سید ضیاء اللہ شاہ بخاری جمعیت اہل حدیث ، سید سرفراز الحسن شاہ ضلعی چیئرمین اور ایم این اے مسلم لیگ (ن) ، چوہدری خالد جاوید وڑائچ ، صاحبزادہ اسامہ حمزہ پی ٹی آئی ، محترم محمد طارق پیپلز پارٹی ، محترم مجاہد نور پوری نے مشترکہ بیان میں کہا کہ قانون ۲۹۵-سی تحفظ ناموس رسالت ﷺ میں کسی طرح کی بھی ترمیم اور تبدیلی برداشت نہیں کی جائے گی ۔ مولانا اسعد مدنی خطیب وامام مرکزی جامع مسجد کپڑا بازار گوجرہ کے سرپرست مولانا محمد اسلم چشتی کی جانشینی اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرہ کی امارت کی دستار فضیلت رکھی گئی۔ کانفرنس میں میاں محمد فاروق نائب امیر جمعیت علماء اسلام گوجرہ ، میاں مکرم ، شیخ عامر ، مولانا ضیاء اللہ بھلا ، بھائی ذوالفقار ، مولانا عبداللہ معاون و مددگار رہے۔ کثیر عوام کانفرنس میں شریک ہوئی ۔ آل پارٹیز کے چھ مطالبات اور نقابت کے فرائض ضلعی مبلغ مولانا محمد حبیب نے سرانجام دیئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۷ء ص ۵۴)
کراچی میں مولانا محمد اکرم طوفانی مدظلہ کے بیانات
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما اور خاتم النبیین ہارٹ سینٹر سرگودھا کے چیئرمین مولانا محمد اکرم طوفانی حفظہ اللہ مختصر تبلیغی
تحریک ختم نبوت جلد (١٠) ٢٠١٧ء ١٠١ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دورہ پر کراچی تشریف لائے، ساتھیوں نے مختلف مدارس اور مساجد میں آپ کے بیانات کی ترتیب بنائی۔ جس کی تفصیل درج ذیل ہے:
- ☆ ...... ۴/ مارچ ٢٠١٧ء بروز ہفتہ بعد نماز ظہر جامعہ صدیقیہ کے استاذ مولانا مسعود احمد کی تقریب نکاح میں نکاح پڑھایا ، اس موقع پر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے امیر مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ نے نکاح کی اہمیت اور فضائل بیان کئے ، بعد ازاں مولانا طوفانی مدظلہ نے دعاء فرمائی۔ بعد نماز مغرب جامع مسجد عثمان غنی جامعہ عربیہ سیف العلوم پختون آباد میں ختم نبوت پروگرام رکھا گیا تھا، جس میں مولانا عارف اللہ نے پروگرام کی غرض وغایت بیان کی اور مہمانوں کو خوش آمدید کہا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا قاضی احسان احمد نے مجلس کے مشن اور سرگرمیوں پر روشنی ڈالی اور سامعین کو قادیانی مصنوعات کے بائیکاٹ پر آمادہ کیا۔ آخر میں مولانا محمد اکرم طوفانی صاحب نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سوشل میڈیا پر مقدس ترین شخصیات کی گستاخی کرنے والے بلاگرز کے خلاف بھر پور ایکشن لیا جائے اور انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ مولانا طوفانی کی دعاء پر پروگرام اختتام پذیر ہوا۔
- ☆ ...... ۵/ مارچ ٢٠١٧ء بروز اتوار بعد نماز عشاء مولانا طوفانی صاحب بیان کے لئے مولانا عبدالقادر صاحب کی دعوت پر مدینہ مسجد اختر
کالونی میں تشریف لے گئے، جہاں انہوں نے عام مسلمانوں خصوصاً نوجوان طبقہ سے خطاب کرتے ہوئے انہیں قادیانیوں کی فریب کاریوں اور چال بازیوں سے آگاہ کیا اور اپنی دولت ایمان کی حفاظت کرنے کی تلقین کی۔ یہاں سے فراغت کے بعد منظور کالونی میں اللہ والی مسجد میں ختم نبوت کورس کی اختتامی تقریب میں بیان کیا۔ مولانا قاضی احسان احمد نے کورس کا اختتامی لیکچر دیا اور طلباء کو تحفظ ختم نبوت کے لئے بھر پور کام کرنے کی دعوت دی۔ اس تقریب میں مولانا بلال، مولانا شبیر، مولانا رضوان و دیگر علماء و طلباء بھی شریک ہوئے۔
- ☆ ...... ۶/ مارچ ٢٠١٧ء بروز پیر نماز مغرب محمدی مسجد سیکٹر ۵۰۔ اے تیسر ٹاؤن میں مولانا عبدالرحمن کی دعوت پر تشریف لے گئے، جہاں
مولانا قاضی احسان احمد نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ قادیانیوں کی ایک عادت یہ ہے کہ وہ پسماندہ اور غریب بستیوں کے رہائشیوں کی امداد اور فلاحی اداروں کی آڑ ان کے ایمان پر ہاتھ صاف کرتے ہیں۔ لہٰذا ایمان کے ان ڈاکوؤں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ مولانا محمد اکرم طوفانی مدظلہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام مسلمان خود بھی اور اپنے بچوں کو بھی اسلام کے بنیادی عقائد اور اسلامی تعلیمات سکھائیں اور ان پر عمل کریں۔ اس سلسلہ میں علماء کرام سے رابطہ رکھیں۔ یاد رکھیں اسلامی تعلیمات سے بے بہرہ مسلمان بہت جلد گمراہیوں کی دلدل میں پھنس جاتا ہے۔
بعد نماز عصر نارتھ ناظم آباد میں مفتی ریاض صاحب نے اپنے گھر میں یونیورسٹیز کے نوجوانوں کو مدعو کیا تھا۔ جہاں مولانا طوفانی صاحب نے وطن عزیز کے مستقبل کے معماروں کے سامنے اسلام کی روشن اور تابناک تعلیمات بیان کیں۔ عقیدہ ختم نبوت پر ڈھیروں دلائل دیئے اور نوجوانوں کو فتنہ قادیانیت سے آگاہ کیا۔
- ☆ ...... ۷/ مارچ ٢٠١٧ء بروز منگل بعد نماز عشاء جامع صدیق اکبر اسکاؤٹ کالونی میں مولانا محمد اکرم طوفانی صاحب نے بیان کرتے
ہوئے کہا کہ حضرت آدم علیہ السلام پہلے اور حضور نبی کریم ﷺ آخری نبی ہیں۔ پروگرام میں مولانا قاضی احسان احمد ، مولانا عبدالحئی مطمئن ، مولانا سلطان محمد، مولانا عبدالسمیع اور دیگر علماء ، طلباء اور عوام بھی شریک تھے۔
- ☆ ...... ۸/ مارچ ٢٠١٧ء بروز بدھ بعد عشاء جامع مسجد بلال رابعہ سٹی گلستان جوہر میں مولانا عبدالمجید کی نگرانی میں ”علماء کنونشن“ کا
انعقاد کیا گیا، جس میں کثیر تعداد میں گلستان جوہر کے علماء کرام کو ختم نبوت کے تحفظ کے لئے کردار ادا کرنا چاہئے اور امت کی رہنمائی کا فریضہ
تحریک ختم نبوت جلد (١٠) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ادا کرنا چاہئے ۔ مولانا قاضی احسان احمد نے بھی مختصر بیان کیا۔ مولانا طوفانی نے عقیدہ ختم نبوت اور تحفظ ناموس رسالت کے لئے اکابر علماء کرام کی سنہری خدمات کا تذکرہ بڑے والہانہ انداز میں کیا۔
- ☆...... جمعرات صبح ١١ بجے جامعہ اشرف المدارس میں حضرت مدظلہ کا بیان طلباء میں طے پایا تھا۔ پروگرام کے آغاز میں مولانا قاضی
احسان احمد نے جامعہ کے طلباء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام سالانہ ۲۰ روزہ رد قادیانیت کورس چناب نگر میں شرکت کی دعوت دی اور اس کی افادیت سے آگاہ کیا۔ مولانا طوفانی مدظلہ نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ آپ تمام علماء وطلباء بہت مبارک باد کے مستحق ہیں کہ اس پرفتن دور میں بھی آپ اسلام کی سربلندی کے لئے اس دینی ماحول سے وابستہ ہیں، یہ اس بات کا کھلم کھلا اعلان ہے۔ قیامت تک یہ دین ان شاء اللہ ! زندہ رہے گا۔
- ☆...... جامع مسجد الاخوان ایف. بی ایریا دستگیر کالونی میں جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مولانا محمد اکرم طوفانی صاحب نے کہا
کہ آج ہمارے ملک میں قادیانی نواز حکومت اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کی خاطر مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کر رہی ہے۔ ملک عزیز کے تعلیمی ادارے کو غدار اور باغی ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے نام سے منسوب کر کے پوری قوم کی دل آزاری کی گئی ہے۔ چکوال میں بے گناہ مسلمانوں کو پابند سلاسل جب کہ قادیانی مجرمین کو آزاد چھوڑا ہوا ہے۔
- ☆...... بعد نماز عشاء طارق روڈ پر واقع بھائی شکیل کے گھر میں علماء کرام اور نوجوانوں سے مولانا طوفانی صاحب نے سرگودھا میں بنائے
گئے خاتم النبیین میڈیکل ہارٹ سینٹر کی افادیت اور سہولیات پر گفتگو کی ، ہسپتال میں اب تیسری منزل پر بائی پاس آپریشن روم کی تکمیل ہو چکی ہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ یکم تا ۷؍اپریل ۲۰۱۷ء ص ۲۱، ۲۲)
ماہانہ درس قرآن بعنوان ختم نبوت کہروڑ پکا
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام سنہری مسجد ختم نبوت چوک میں ۵؍مارچ ۲۰۱۷ء بروز اتوار بعد نماز مغرب ختم نبوت کے عنوان سے درس قرآن منعقد ہوا۔ جس میں خصوصی بیان جامعہ اسلامیہ باب العلوم کے استاذ الحدیث مولانا قاری محمد احمد مدظلہ کا ہوا۔ پروگرام کی صدارت مولانا غلام محمد مدظلہ امیر مجلس کہروڑ پکا نے فرمائی جب کہ نقابت کے فرائض مولانا منیر احمد ریحان نائب امیر کہروڑ پکا نے سرانجام دیئے۔ پروگرام میں شہر بھر سے تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے حضرات نے بھر پور شرکت فرمائی۔ میاں حاجی اللہ دتہ، میاں اللہ نواز، محمد امیر ساجد اور میاں محمد عمران بھی اس موقع پر موجود تھے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۷ء ص ۵۶)
صوابی میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس
۱۲؍مارچ ۲۰۱۷ء کو صوابی میں خانقاہ عالیہ نقشبندیہ شمسیہ کے زیر اہتمام ایک روزہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی اور کانفرنس چناب نگر کانفرنس اور رائے ونڈ کے اجتماع کا منظر پیش کر رہی تھی۔ کانفرنس کا افتتاح ۱۰؍مارچ عصر کی نماز کے بعد ختم خواجگان اور قاری ضیاء الرحمن کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ قاضی عبدالصمد نے بیان فرمایا، بعد نماز مغرب دوسری نشست منعقد ہوئی۔ حافظ شاہ حامد اور مولانا رفیع اللہ باچا نے نعت پیش کی اور پیر طریقت مولانا اعزاز الحق امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت صوابی ، مولانا قاضی احسان احمد مبلغ کراچی ، مولانا پیر عزیز الرحمن ہزاروی مدظلہ نے خطاب فرمایا اور دعاء کرائی۔ دوسری نشست ۱۱؍مارچ مولانا قاری اکرام الحق امیر مجلس مردان نے درس دیا۔ نعت راج محمد ہمدرد نے پیش کی۔ شیخ الحدیث مولانا سعید الحق، مولانا فضل علی، مولانا حزب اللہ
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جان امیر مجلس چارسدہ کے بیانات ہوئے اور صدارت خانقاہ سراجیہ کے سجادہ نشین مولانا صاحبزادہ خلیل احمد مدظلہ نے کی۔ نیز قبل از ظہر قاری صابر علی مانکی نے نعت پیش کی اور ملک کے نامور ثنا خواں مولانا محمد قاسم گجر نے اپنی مسحور کن آواز سے مجمع کے قلوب واذہان کو خوب گرمایا۔ شیخ الحدیث مولانا حمد اللہ خان ، مولانا مفتی راشد مدنی رحیم یار خان ، مولانا اللہ وسایا کے ولولہ انگیز خطابات ہوئے۔ آخری نشست ظہر کے بعد شروع ہوئی۔ تلاوت کی سعادت قاری رحمت علی نے حاصل کی جب کہ نعت قاری نور اللہ مانکی اور مولانا محمد قاسم گجر لاہور نے پشتو اور اردو میں پیش کیں۔ تلاوت ونعت کے بعد مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے ”گستاخ رسول کی سزا قرآن وسنت اور اجماع امت کی روشنی میں“ کے عنوان پر خطاب فرمایا۔ قصور سے تشریف لائے ہوئے مہمان مولانا محمد یعقوب قصوری نے ”شاد باش وشاد زی اے سرزمین دیوبند، ہند میں تو نے کیا اسلام کا پرچم بلند“ مولانا ظفر علی خان کا کلام خوبصورت انداز اور آواز میں پیش کیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے صوبائی امیر مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی اور آخری بیان دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے مہتمم اور شیخ الحدیث مولانا سمیع الحق دامت برکاتہم کا ہوا۔ اختتامی دعاء خانقاہ شمسیہ کے سجادہ نشین اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت صوابی کے امیر مولانا اعزاز الحق مدظلہ نے کرائی۔ دو دن کانفرنس جاری رہ کر اختتام کو پہنچی۔ کانفرنس کا نظم ونسق سینکڑوں رضا کاروں نے سنبھالا ہوا تھا۔ ہزاروں مسلمانوں کے خوردونوش کا انتظام وسیع پیمانے پر کیا گیا۔ جامعہ کے ناظم اعلیٰ مولانا فیضان الحق اور مجلس کے مبلغ مولانا صابر شاہ شب وروز مصروف رہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۶ تا ۲۲؍ اپریل ۲۰۱۷ء ص ۱۸)
ختم نبوت کوئز پروگرام سمندری
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام جامعہ دارالعلوم اسلامیہ میں ۱۹ تا ۲۶؍ مارچ ۲۰۱۷ء پانچ روزہ کورس منعقد ہوا۔ جس میں ۶۹ طلباء ۶۹ طالبات نے شرکت کی۔ روزانہ صبح دس بجے سے لے کر بارہ بجے تک عقائد ختم نبوت، ناموس رسالت، حیات حضرت عیسیٰ علیہ السلام، سیرت امام مہدی علیہ الرضوان اور کردار مرزا قادیانی جیسے عنوانات پر مولانا محمد خبیب مبلغ عالمی مجلس کے اسباق ہوتے رہے۔ تمام شرکائے کورس کا پرچہ لیا گیا۔ اوّل انعام زوجہ قاری محمد نوید نے ڈنر سیٹ وشیلڈ ، دوم انعام بنت مولانا محمد اسلم عتیق نے ڈنر سیٹ وشیلڈ اور سوم انعام بنت بشیر احمد نے استری وشیلڈ حاصل کیا۔ باقی تمام شرکاء کو کتب، سند اور اعزازی میڈل دیئے گئے۔ اختتامی تقریب میں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، سید احمد رضا شاہ، قاری محمد یونس، مولانا سید ابوبکر شاہ کے ہاتھوں شرکائے کورس کو انعامات سے نوازا گیا۔ مولانا قاری سید احمد رضا شاہ اور مولانا محمد امجد اور اہلیہ محترمہ قاری محمد امجد کو اعزازی شیلڈ دی گئی۔ کورس میں مولانا محمد امجد خان ، فرید اللہ خان ودیگر احباب بھرپور معاون رہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۷ء ص ۵۵، ۵۶)
دوروزہ تحفظ ختم نبوت کورس داتہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامع مسجد خضریٰ داتہ چوک ضلع مانسہرہ میں ۲۳، ۲۴؍ مارچ ۲۰۱۷ء کو دو روزہ کورس کا اہتمام کیا گیا تھا۔ مسجد ہذا کے خطیب ودیگر علماء اور تحفظ ختم نبوت داتہ کے ورکرز نے مسلسل محنت کر کے علاقے بھر کے لوگوں کو اس اہم تربیتی نشست میں شرکت کے لئے آمادہ کیا اور اردگرد کے گاؤں اور دیہاتوں کی مساجد میں تسلسل کے ساتھ گشت کا اہتمام کرتے ہوئے آگاہی مہم جاری رکھی ، جس کے نتیجے میں عوام الناس اور علماء وطلباء کی کثیر تعداد نے دوروزہ کورس میں شریک ہوکر توجہ اور دلچسپی کے ساتھ ایمان تازہ کیا۔ اس دوروزہ کورس کی ترتیب یہ تھی کہ جمعرات ۲۳؍ مارچ کو صبح ۸:۳۰ بجے کورس شروع ہوکر دن ۱۲ بجے تک جاری رہا، پھر وقفہ
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
برائے طعام و نماز ظہر اور ظہر کی نماز سے عصر تک کورس جاری رہا۔ دوسرے دن ۲۴؍ مارچ بروز جمعہ ۸:۳۰ پر کلاس شروع ہوئی اور ۱۱:۳۰ پر نماز جمعہ اور کھانے کا وقفہ ہوا، پھر جمعہ کے بعد عصر تک کلاس جاری رہی اور عصر کی اذان کے وقت اختتامی دعاء کے ساتھ روحانی و علمی تربیتی نشست اختتام پذیر ہوئی۔
اس کورس میں شرکت کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغین نے وقت نکال کر تربیتی کورس کو کامیابی سے ہمکنار کیا، چنانچہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت چناب نگر کے شعبہ تخصص کے نگران، مناظر اسلام مولانا رضوان عزیز مدظلہ کورس پڑھانے کے لئے بروز بدھ مانسہرہ تشریف لائے۔ بدھ کی شام بعد نماز مغرب مدرسہ معہد القرآن الکریم جو کہ استاذ القراء قاری فضل ربی کا لگایا ہوا علمی باغ ہے۔ اس میں مغرب کی نماز کے بعد امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع مانسہرہ مولانا مفتی وقار الحق عثمان صاحب مدظلہ کی زیر صدارت تربیتی نشست کا با قاعدہ آغاز ہوا، جس میں علاقہ بھر کے نوجوان وعوام الناس کے علاوہ کثیر تعداد میں مانسہرہ شہر کے علماء نے شرکت کی۔ مولانا رضوان عزیز صاحب نے انتہائی دلنشین انداز میں انگریزوں کے برصغیر میں فتنہ قادیانیت کو کھڑا کرنے، پھر اس کی پشت پناہی کے عمل کی وضاحت کے ساتھ ساتھ مرزا قادیانی کے گمراہ کن عقائد پر سیر حاصل بحث کی، یہ نشست رات گئے تک جاری رہی۔
دوسرے دن صبح ۸:۳۰ پر جناب مولانا رضوان عزیز صاحب نے جامع مسجد خضریٰ داتہ چوک میں مفتی وقار الحق صاحب کی زیر صدارت با قاعدہ دو روزہ کورس کا افتتاح کیا اور پروجیکٹر کے ذریعہ اسکرین پر حوالہ جات دکھا کر با قاعدہ تین گھنٹے سبق پڑھایا۔ حاضرین نے انتہائی دلچسپی اور توجہ کے ساتھ حوالے نوٹ کر کے ان کی معروضات سے استفادہ کیا، پہلی نشست تقریباً ۱۲ بجے ختم ہوئی۔ ظہر کی نماز کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ناظم تبلیغ اور مناظر اسلام مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی صاحب نے دوسری نشست میں مرزا قادیانی کے جھوٹے دعوؤں اور سچے نبیوں کے خصائص وصفات پر سیر حاصل گفتگو کی۔
دوسرے دن بروز جمعہ ۸:۳۰ بجے مبلغ ختم نبوت اسلام آباد مولانا محمد طیب صاحب نے ”عقیدہ ختم نبوت قرآن وحدیث کے دلائل سے“ پڑھایا اور پھر مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے حیات ونزول مسیح کے عقیدہ کو نقلی وعقلی دلائل سے بصیرت افروز لیکچر کے ذریعے حاضرین کے دل و دماغ میں بٹھایا۔
نماز جمعہ کا خطبہ مولانا رضوان عزیز نے ارشاد فرمایا اور اپنے خطاب میں جناب نبی کریم ﷺ کی جملہ انبیاء پر فضیلت پر انتہائی خوبصورت گفتگو فرمائی۔ نماز کے بعد بذریعہ پروجیکٹر مولانا رضوان عزیز صاحب کا تقریباً ۳ گھنٹے پر مشتمل اہم اختتامی لیکچر ہوا، جس میں عوام الناس کے علاوہ علماء کرام کی بھی کثیر تعداد شریک ہوئی۔ عصر کی اذان سے قبل یہ علمی اور تربیتی نشست انہی کی پُرسوز دعاء کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔
اللہ رب العالمین سے دعاء ہے کہ شرکاء کو کما حقہ اجر سے نوازے اور مبلغین حضرات کے علم وعمل میں برکت عطا فرمائے اور اس سعی جمیلہ کو شرف قبولیت عطا فرمائے۔ آمین !
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ یکم تا ۷؍ مئی ۲۰۱۷ء ص ۱۷، ۱۸)
مدرسہ عربیہ ختم نبوت چناب نگر میں اختتام صحیح بخاری شریف
اللہ کے فضل وکرم اور حضور اقدس ﷺ کی ختم نبوت اور اکابرین ختم نبوت کی اس دھرتی (چناب نگر) پر چالیس سالہ جہد مسلسل کی برکت سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مدرسہ عربیہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں پہلی مرتبہ ۲۶؍ جمادی الاول ۱۴۳۸ھ بمطابق ۲۶؍ مارچ ۲۰۱۷ء بروز اتوار بوقت نو بجے صبح تا ڈیڑھ بجے دوپہر ایک سادہ پروقار تقریب اختتام صحیح بخاری شریف منعقد کی گئی۔ اس تقریب سعید کا آغاز صبح نو بجے تلاوت قرآن کریم اور حمد ونعت سے کیا گیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اس کے بعد سب سے پہلے جامعہ اسلامیہ امدادیہ چنیوٹ کے شیخ الحدیث مولانا سید برہان الدین شاہ نے مختصر بیان فرمایا جس میں انہوں نے شرکاء دورہ حدیث کو اپنی قیمتی نصائح فرمائیں۔ منجملہ ان نصائح میں سے ایک نصیحت یہ فرمائی کہ:
’’امام اہل سنت مولانا سرفراز خان صفدر فارغ التحصیل علماء کرام سے فرماتے تھے کہ دیکھو! فتنوں کا زمانہ ہے۔ دین کی خدمت کرنے کے ساتھ ساتھ ابھرنے والے فتنوں پر کڑی نظر رکھنا اور اپنا اور مسلمانوں کا دین و ایمان ان رہزنوں سے بچائے رکھنا۔ تقریر میں، تحریر میں، درس میں، ہر حال میں ان فتنوں سے آگاہ کرتے رہنا۔ یہ ہماری سب سے بڑی اور اہم ذمہ داری ہے۔‘‘
اس کے بعد جامعہ دارالقرآن فیصل آباد کے شیخ الحدیث مولانا قاری عزیز الرحمن رحیمی نے اختصار کے ساتھ انہوں نے سند حدیث، حفاظت حدیث اور ہمارے اکابرین کے اشتغال بالحدیث پر جامع گفتگو کی۔ پھر مدرسہ احسان القرآن چوبرجی لاہور کے شیخ الحدیث مولانا مفتی انیس احمد مظاہری نے درجہ مشکوٰۃ شریف کے طلباء کرام کو مشکوٰۃ شریف کی آخری حدیث پڑھائی۔
درس مشکوٰۃ میں مدرسہ عربیہ ختم نبوت کے ۱۲ طلباء اور جامعہ اسلامیہ امدادیہ چنیوٹ کے ۱۰ طلباء کل ۲۲ طلباء شریک ہوئے۔ مفتی انیس احمد مظاہری نے اپنے درس میں سب سے پہلے اپنی سند بتائی۔ پھر مشکوٰۃ شریف کے آخری باب ’’باب ثواب ھذہ الامۃ‘‘ کی چند احادیث کا ترجمہ کر کے آخری حدیث کی وضاحت فرمائی جس میں اس آخری امت کی فضیلت، مقام و مرتبہ کو جامع انداز میں بیان فرمایا۔
یادگار اسلاف ناظم اعلیٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے نہایت جامعیت کے ساتھ اہمیت ختم نبوت اور جھوٹے مدعیان نبوت پر روشنی ڈالی۔ اس کے ضمن میں عظمت صحابہ رضی اللہ عنہم کو بھی بیان فرمایا۔ جنہوں نے جان جوکھوں میں ڈال کر ختم نبوت کا تحفظ فرمایا اور پھر کائنات کے ملعون فتنہ ’’فتنہ قادیانیت‘‘ پر گفتگو فرماتے ہوئے اکابرین ختم نبوت کا کردار بتایا اور نہایت درد دل سے ان کی انتھک محنتوں اور شب و روز کی کاوشوں سے متعلق حاضرین و سامعین کو متنبہ فرمایا۔ آخر میں دینی مدارس کی اہمیت وافادیت سے آگاہ فرمایا اور حاملین دین علماء و طلباء سے محبت کرنے کی آبدیدہ ہو کر تلقین فرمائی۔
بعد ازاں مولانا اللہ وسایا نے پیر طریقت رہبر شریعت خلیفہ مجاز مولانا سید نفیس الحسینی ، مولانا محمد یوسف خان مدظلہ استاذ الحدیث جامعہ اشرفیہ لاہور کو صحیح بخاری شریف کی آخری حدیث پاک کے درس کی دعوت دی اور فرمایا کہ:
حسن اتفاق کی بات ہے کہ جیسے شوال المکرم میں بخاری شریف کا آغاز ہوا۔ تب بھی حضرت تشریف لائے۔ بخاری شریف کی پہلی حدیث کا درس دیا۔ آج اختتام صحیح بخاری شریف کی تقریب ہے تب بھی حضرت تشریف لائے ہیں۔ صحیح بخاری شریف کی آخری حدیث کا درس ارشاد فرمائیں گے۔ جیسے بوقت آغاز ہمارے ادارہ کے دورہ کے ساتھیوں کے ساتھ جامعہ امدادیہ چنیوٹ کے دورہ کے ساتھی شریک تھے۔ ویسے ہی آج بوقت اختتام ہمارے دورہ کے ساتھیوں کے ساتھ جامعہ امدادیہ کے دورہ کے ساتھی شریک ہیں۔ جیسے بوقت آغاز جامعہ امدادیہ کے اساتذہ اپنے طلباء کے ساتھ تشریف لائے تھے۔ ایسے ہی بوقت اختتام مولانا سیف اللہ خالد اور ان کے شیخ الحدیث مولانا برہان الدین اور ناظم تعلیمات مولانا محمد فاروق بھی تشریف فرما ہیں۔ اب بخاری شریف کی آخری حدیث ہمارے ادارہ کے چودہ علماء اور جامعہ امدادیہ چنیوٹ کے نو علماء ۔ گویا کل تئیس علمائے کرام مولانا محمد یوسف خان سے پڑھیں گے۔ مجھے معلوم نہیں تھا۔ ورنہ جیسے اپنے ادارہ کے فضلاء کرام کے لئے پگڑیوں کا انتظام کیا تھا۔ اسی طرح ان عزیزوں کے لئے بھی کرتے۔ ان شاء اللہ ! آئندہ خیال رکھیں گے۔ اب میں آپ کے اور حضرت کے مابین زیادہ دیر حائل نہیں ہوتا۔ حضرت کی خدمت میں درخواست کرتا ہوں کہ صحیح بخاری شریف کی آخری حدیث کا درس ارشاد فرمائیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
چنانچہ مولانا محمد یوسف خان مدظلہ نے حدیث کی تلاوت کے بعد درس ارشاد فرمایا۔ جس میں ”ترجمة الباب“ اور اس کے متعلقات پر اور پھر ”سند حدیث“ اور ”متن حدیث“ پر نہایت ہی شرح وبسط کے ساتھ کلام فرمایا جو تقریباً ایک گھنٹہ سات منٹ پر مشتمل رہا۔ درس حدیث کے بعد جامعہ ختم نبوت کے لئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
پھر برادر مکرم مولانا عزیز الرحمن ثانی نے اپنے ادارہ کے فضلاء کرام کے نام ذکر فرمائے جو کہ درج ذیل ہیں:
نمبر شمار نام طالب علم ولدیت ضلع نمبر شمار نام طالب علم ولدیت ضلع ۱ مولوی حبیب اللہ محمد عبداللہ فیصل آباد ۸ مولوی محمد ساجد محمد ابراہیم رحیم یار خان ۲ مولوی محمد ندیم فیض محمد تونسہ شریف ۹ مولوی محمد شعیب محمد ناصر چنیوٹ ۳ مولوی محمد شاہد عمران فلک شیر چنیوٹ ۱۰ مولوی محمد یار شاہ محمد چنیوٹ ۴ مولوی سیف الرحمن حاجی احمد شیر چنیوٹ ۱۱ مولوی محمد امین محمد اقبال فیصل آباد ۵ مولوی شیر عالم شیر خان چنیوٹ ۱۲ مولوی عمر فاروق غلام محمد چنیوٹ ۶ مولوی محمد عاقب جاوید حاجی محمد طفیل راولپنڈی ۱۳ مولوی محمد نوید محمد اسلم سرگودھا ۷ مولوی محمد یوسف محمد حیات چنیوٹ ۱۴ مولوی شمس الحق غلام محمد مظفرگڑھ
پھر مولانا سیف اللہ خالد نے اپنے ادارہ کے فضلاء کرام کے نام ذکر فرمائے۔ چنانچہ یہ کل ۲۳ / علماء کرام آتے گئے اور بزرگان دین واکابرین سے مصافحہ کرتے گئے: (۱) مولانا محمد یوسف خان مدظلہ۔ (۲) مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ۔ (۳) مولانا اللہ وسایا۔ (۴) میاں رضوان نفیس احمد۔ (۵) مولانا مفتی انیس احمد مظاہری۔ (۶) مولانا سید برہان الدین شاہ۔ (۷) مولانا سیف اللہ خالد۔ (۸) مولانا قاری عبدالحمید حامد۔ (۹) جناب پیر صفدر حسین وغیرہم۔
ایسے مقتدر حضرات وشخصیات نے ان ہونہار فارغ التحصیل علماء کرام کے ساتھ مصافحہ بھی فرمایا اور ان کے سروں پر دست شفقت بھی رکھا۔ جامعہ اسلامیہ امدادیہ چنیوٹ کے فضلاء کرام کو مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کا لکھا ہوا ”آسان ترجمہ قرآن“ کا ایک ایک نسخہ بھی دیا گیا۔ اس کے بعد تین خوش نصیب اور سعادت سے بہرہ مند وہ رفقاء کرام جنہوں نے آغاز سال سے ہی طے کر رکھا تھا کہ اختتام صحیح بخاری شریف کے بابرکت موقعہ پر خطبہ نکاح پڑھوائیں گے: (۱) مولوی محمد عاقب جاوید بن حاجی محمد طفیل راولپنڈی۔ ان کا نکاح قاری عبدالرحمن شاکر جھنگ کی دختر نیک اختر سے ہوا۔ (۲) مولوی سیف الرحمن بن حاجی احمد شیر (مرحوم ) احمد نگر چنیوٹ۔ ان کا نکاح جناب ظفر عباس کی دختر نیک اختر سے ہوا۔ (۳) اسامہ احمد بن حاجی احمد شیر (مرحوم )۔ ان کا نکاح جناب جمعہ خان کی دختر نیک اختر سے ہوا۔ سب سے پہلے مولانا محمد یوسف خان مدظلہ نے خطبہ نکاح پڑھا۔ پھر ایجاب وقبول کرائے۔ جب کہ حق مہر کی رقم ہر تینوں کے حصہ کی مولانا محمد یوسف خان نے ادا فرمائی۔
یہ پروقار تقریب آپ کی دعاء پر اختتام پذیر ہوئی۔ دعاء کے وقت مسجد کا ہال چھوٹا پڑا برآمدہ آہوں اور سسکیوں سے گونج رہا تھا اور مسجد انوارات و برکات سے منور تھی۔ یوں لگتا تھا جیسے کہ شہدائے ختم نبوت کی ارواح اپنی مسرتوں اور خوشیوں کے ساتھ متوجہ ہیں۔ دعاء کے بعد چھوارے تقسیم کئے گئے۔ پھر عالمی مجلس کی طرف سے اس پروقار تقریب میں چناب نگر و چنیوٹ کے قرب وجوار اور
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دور دراز سے تشریف لانے والے معزز مہمانان گرامی اور ادارہ کے طلباء کو تیار کردہ کھانا کھلایا گیا۔ مدرسہ کی جدید عمارت کے مختص کمروں میں فضلاء کرام کے مہمانوں وعزیز و اقارب کے لئے کھانے کا انتظام تھا۔ جب کہ قدیم عمارت اور قرآن ہال میں دیگر تشریف لانے والے معزز مہمانان گرامی کے لئے کھانے کا انتظام تھا۔ مولانا غلام مصطفیٰ اور مولانا عزیز الرحمٰن ثانی نے خصوصی مہمانان گرامی جو لاہور، فیصل آباد، منڈی بہاؤالدین، رحیم یار خان، ڈیرہ غازیخان، سرگودھا اور دیگر اضلاع سے تشریف لائے تھے۔ ان کے سنبھالنے کی ذمہ داری سرانجام دی۔ مدرسہ کے جملہ اساتذہ کرام نے تمام مہمانوں کے کھانے وغیرہ کی نگرانی بھی فرمائی اور ان کے لئے ہر طرح کی راحت رسانی کے اسباب مہیا فرمائے۔
نیز یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ شرکاء دورہ حدیث شریف کو عالمی مجلس کی مطبوعہ کتب میں سے چند منتخب کتب مثلاً (۱) مصدقہ رپورٹ پانچ جلدیں، (۲) محاسبہ قادیانیت کی ۵ جلدیں، (۳) قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ، (۴) رئیس قادیان، (۵) فتاویٰ ختم نبوت ۳ جلدیں، (۶) تذکرہ خواجہ خواجگان لولاک نمبر، (۷) قادیانی تفاسیر کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ، (۸) چمنستان ختم نبوت کے گلہائے رنگارنگ ۳ جلدیں، (۹) تذکرہ حکیم العصر اور دیگر مطبوعات مثلاً: (۱۰) تفسیر عثمانی، (۱۱، ۱۲) ترجمہ قرآن، دو مختلف نسخے، (۱۳) عنایۃ الباری شرح بخاری، (۱۴) تقریر بخاری شریف، حضرت شیخ زکریا، (۱۵) دروس مدنیہ، دو حصے مکمل، (۱۶) خارجی فتنہ ۲ جلدیں، (۱۷) دفاع امام حسین رضی اللہ عنہ ، (۱۸) فسق یزید وغیرہ کتب کا بھاری بھر کم سیٹ اور پگڑیاں پہلے سے دے دی تھیں۔
اللہ تعالیٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی ان تمام تر مساعی جمیلہ کو شرف قبولیت عطاء فرمائے۔ آمین!
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۷ء ص ۴۰ تا ۴۵)
آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس قصور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامعہ رحیمیہ قصور میں مورخہ ۲۷/ مارچ ۲۰۱۷ء بروز پیر آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت ضلعی امیر قاری مشتاق احمد رحیمی نے کی۔ جب کہ مہمان خصوصی مولانا عبد الشکور حقانی، مولانا پیر رضوان نفیس لاہور سے تشریف لائے۔ کانفرنس کا آغاز قاری محمد رفیق کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ پروگرام کی غرض و غایت مولانا عبدالرزاق مجاہد مبلغ عالمی مجلس قصور نے بیان کی۔ کانفرنس میں جمعیت علماء اسلام کے مولانا سید زہیر شاہ ہمدانی و حاجی محمد شفیع مغل، جماعت اسلامی کے ڈاکٹر محمد اقبال، جمعیت اہلحدیث کے ملک محمد نذیر سمیت تمام دینی، سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین نے بھرپور شرکت کی۔ تمام مہمانان گرامی نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے یقین دلایا کہ مطالبات تسلیم نہ ہونے تک جو مرکزی کمیٹی فیصلہ کرے گی۔ قصور کے مسلمان اس پر عمل درآمد کرانے کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ اجلاس کا اختتام مہمان خصوصی پیر رضوان نفیس کی دعاء پر ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۷ء ص ۵۵)
مبلغین حضرات کا سہ ماہی اجلاس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغین کا سہ ماہی اجلاس ۳۰/ مارچ ۲۰۱۷ء بروز جمعرات صبح ساڑھے نو بجے مولانا عبدالرشید سیال کی تلاوت کلام پاک سے شروع ہوا۔ اجلاس کی صدارت مولانا حافظ محمد اکرم طوفانی نے فرمائی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اجلاس میں مرحومین کے لئے ایصال ثواب کیا گیا۔ جس میں شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان، مولانا عبدالحفیظ مکی، مولانا محمد علی صدیقی، مولانا محمد اسلم چشتی گوجرہ، مولانا مفتی وجیہ حیدر آباد، مولانا محمد قاسم شاہوی کوئٹہ، شیخ الحدیث مولانا حبیب اللہ فیصل آباد، مفتی محمد یونس وہاڑی، مولانا علی محمد مچن آباد، مولانا عبدالخالق فاضل پور، حافظ بلال احمد راجن پور، مولانا ذوالفقار علی پوری، قاری محمد امجد دریا خان، حافظ محمد جمال کلور کوٹ، ڈاکٹر غلام مصطفیٰ چکوال، مولانا مفتی حفیظ اللہ بھکر، محمد اقبال خان گورمانی، قاری غلام مجتبیٰ، حافظ محمد عمر وحافظ وجاہت قصور، قاری عبدالوحید، مولانا غلام مصطفیٰ، صوفی علی محمد، مولانا ماسٹر محمد رمضان و ناصر جاوید پتوکی اور دیگر کئی حضرات سمیت دہشت گردی کی نذر ہونے والے شہداء کی مغفرت، رفع درجات اور پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دعاء کی گئی۔ اجلاس میں گزشتہ سہ ماہی کی کارکردگی کا جائزہ اور آنے والی سہ ماہی کے پروگرام تشکیل دیئے گئے۔ ۲۰؍روزہ سالانہ تحفظ ختم نبوت کورس چناب نگر کے حوالہ سے ملک بھر کے مدارس میں ترغیبی بیانات کے حوالے سے مبلغین حضرات کے پروگرام ترتیب دیئے گئے۔ اجلاس میں عصری تعلیمی اداروں میں ختم نبوت کورس کا انعقاد کرنے اور آواز لگانے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ اگلے روز مجلس کے مبلغین حضرات نے ملتان شہر کی مختلف مساجد میں جمعتہ المبارک کے اجتماعات سے خطابات فرمائے اور عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے مسلمانوں کو اپنی اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلایا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۷ء ص۵۳،۵۴)
ختم نبوت کانفرنس پتوکی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام ۲؍اپریل ۲۰۱۷ء بروز اتوار بعد نماز عشاء چک نمبر ۴۰ جاگو والہ پتوکی ضلع قصور میں تحفظ ختم نبوت کانفرنس قاری نور محمد شاکر اور مولانا محمد سلیم طارق کی سرپرستی میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز حافظ امن طارق کی تلاوت اور نعت رسول مقبول ﷺ سے ہوا۔ کانفرنس سے مولانا محمد اسحاق، مولانا عبدالرزاق مجاہد، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطابات فرمائے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۷ء ص ۵۵)
ختم نبوت کانفرنس سنانواں ضلع مظفر گڑھ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام ۳؍اپریل ۲۰۱۷ء بروز پیر بعد نماز ظہر جامع مسجد صدیق اکبر ؓ سنانواں شہر میں ایک عظیم الشان تحفظ ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ جس کی صدارت صاحبزادہ خواجہ خلیل احمد مدظلہ نے فرمائی۔ کانفرنس کا آغاز قاری محمد شعیب کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ نعتیہ کلام قاری عبدالجبار گورمانی نے پیش کیا۔ کانفرنس میں مولانا ارشاد احمد گورمانی، مولانا محمد ادریس شیرازی، مولانا قاری محمد تاج، مولانا قاضی عبدالخالق، مولانا عزیز الرحمن ثانی لاہور، مولانا عبدالحمید حقانی، مولانا عبدالقادر ڈیروی و دیگر حضرات کے بیانات ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۷ء ص ۵۴)
عظمت قرآن و تحفظ ختم نبوت کانفرنس سکھر
۹؍اپریل ۲۰۱۷ء بروز اتوار بعد نماز ظہر مسجد امیر حمزہ میں عظمت قرآن و تحفظ ختم نبوت ﷺ کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے مہمان خاص ولی ابن ولی سائیں مولانا عبدالعزیز قریشی پیر شریف والے اور مولانا محمد حسین ناصر مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سکھر تھے۔ کانفرنس کا آغاز حافظ محمد اولیس کی تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔ ہدیہ نعت حاجی امداد اللہ پھلپوٹو نے پیش کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۷ء ص ۵۲)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تحفظ ختم نبوت کانفرنس جعفر آباد
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نیوسکھر کے زیر اہتمام ۲۰/اپریل ۲۰۱۷ء بروز جمعرات بعد نماز مغرب جامع مسجد گاؤں جعفر آباد میں فقیر عبدالحمید مہر کی زیر نگرانی تحفظ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں سکھر سے قاری جمیل احمد بندھانی، مولانا مفتی سعود افضل ہالیجوی، مولانا محمد حسین ناصر مبلغ عالمی مجلس سکھر، مولانا عبدالصمد انقلابی، مولانا سید سعید احمد بخاری کے بیانات کے علاوہ مولانا عبدالمجیب قریشی اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا اللہ وسایا مدظلہ کے خصوصی بیانات ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۷ء ص ۵۲، ۵۳)
تحفظ ختم نبوت کانفرنس پنوعاقل
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پنوعاقل ضلع سکھر کے زیر اہتمام ۲۰/اپریل ۲۰۱۷ء بروز جمعرات بعد نماز عشاء مرکزی عید گاہ میں زیر سرپرستی مولانا غلام اللہ ہالیجوی تحفظ ناموس رسالت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی صدارت مولانا خلیل الرحمن انڈھڑ نے کی۔ جس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا اللہ وسایا مہمان خصوصی تھے۔ کانفرنس سے مولانا محمد حسین ناصر، مفتی حفیظ الرحمن، مولانا محمد اظہر الحسینی، ودیگر علماء کرام کے بیانات ہوئے۔ حافظ عبدالواحد جتوئی نے ہدیہ نعت پیش کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۷ء ص ۵۴)
آل پارٹیز تحفظ ختم نبوت کانفرنس وہاڑی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۲۳/اپریل ۲۰۱۷ء بروز اتوار بوقت صبح دس بجے سٹی ٹاپ ہوٹل وہاڑی میں حافظ شبیر احمد ضلعی امیر مجلس تحفظ ختم نبوت کی صدارت میں آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں مولانا ظفر احمد قاسم، مولانا عبدالستار گورمانی مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، جمعیت علماء اسلام (ف) کے مولانا غلام مرتضیٰ، مولانا عطاء اللہ اور چوہدری مقصود احمد، جمعیت علماء اسلام (س) کے محمد اقبال قیصر، جماعت اسلامی کے سید جاوید علی شاہ، مرکزی جمعیت اہلحدیث کے حافظ حبیب الرحمن ضیاء، حافظ عامر رضا، انجمن خدام الاسلام کے چودھری امتیاز عالم و چودھری محمد انور، پیپلز پارٹی کے راؤ ساجد محمود، مسلم لیگ ن کے چودھری زاہد اقبال، ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے راؤ شیراز احمد ایڈووکیٹ، راؤ محمد اکبر ایڈووکیٹ، چودھری ندیم اکرم ایڈووکیٹ اور ڈاکٹر ایس اے فاروق، مولانا رشید احمد وٹو، مولانا فاروق معاویہ کے علاوہ صحافیوں سمیت تمام مذہبی، سیاسی و سماجی اداروں کے افراد نے شرکت کی۔ اجلاس میں آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس کے چھ نکاتی ایجنڈے کی روشنی میں چلائی جانے والی تحریک کی تائید کی۔ تحفظ ناموس رسالت کمیٹی کی قیادت پر بھر پور اعتماد کا اظہار کیا۔ کانفرنس کی نقابت کے فرائض عبدالخالق وٹو نے انجام دیئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۷ء ص ۵۲، ۵۳)
سالانہ ختم نبوت کورس چناب نگر
محض اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے امسال بھی سالانہ ختم نبوت کورس چناب نگر کا حسب سابق آغاز ۲ شعبان المعظم ۱۴۳۸ھ، مطابق ۲۹/اپریل ۲۰۱۷ء بروز ہفتہ صبح آٹھ بجے ہوا۔ جمعرات شام سے مہمان آنے شروع ہوئے۔ جمعہ کے روز رات گئے تک چار صد سے زائد شرکاء حضرات تشریف لا چکے تھے۔ امسال اللہ رب العزت نے کرم کیا کہ سب سے بڑا قافلہ کراچی اور اندرون سندھ سے تشریف لایا۔ کراچی سے پاکستان ایکسپریس پر تین صد حضرات عازم سفر ہوئے۔ حیدرآباد اور روہڑی سے ایک سو حضرات نے اعزاز ہمسفری حاصل کیا۔ یوں ہفتہ کے روز صبح ساڑھے آٹھ بجے چار سو حضرات پر مشتمل قافلہ فیصل آباد اسٹیشن پر اترا۔ پورے اسٹیشن پر ختم نبوت
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کورس کے شرکاء کی ریل پیل نے بھر پور کشش کا ماحول پیدا کیا ہوا تھا۔ مولانا عبدالرشید مبلغ ختم نبوت فیصل آباد نے بیس ویگنوں کو بک کیا ہوا تھا۔ چار صد حضرات پر مشتمل قافلہ ویگنوں سے مدرسہ ختم نبوت چناب نگر مسلم کالونی پہنچا۔ ہفتہ کے روز ہی شام کے اسباق میں شرکاء کی تعداد آٹھ صد کے قریب ہو گئی تھی۔
امسال بھی ہفتہ، اتوار دو روز داخلہ جاری رکھا گیا۔ کل داخلہ نوصد چون (۹۵۴) ہوا۔ ہر روز دو وقت صبح و شام حاضری لگتی رہی۔ کثرت غیر حاضری یا دیگر وجوہ کی بنیاد پر بعض حضرات کا خارجہ کیا گیا۔ جو انچاس تھے۔ امتحان میں شریک حضرات کی تعداد نوصد پانچ تھی۔ امسال بھی تین امتحان ہوئے۔ پہلے دو دن ابتدائی سبق مولانا محمد شاہد اور مولانا محمد احمد نے پڑھائے۔ مولانا غلام رسول دین پوری، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا مفتی محمد راشد مدنی، مولانا محمد رضوان عزیز، مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا غلام مرتضیٰ، مولانا محمد قاسم رحمانی کے تسلسل کے ساتھ یومیہ اسباق ہوتے رہے۔ ان میں سے بعض حضرات نے پورا دورانیہ اور بعض نے ایک ایک ہفتہ اسباق پڑھائے۔ ذیل کے حضرات کے بھی لیکچر ہوئے۔ مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا زاہد الراشدی، مولانا عزیز الرحمن رحیمی، مولانا قاضی محمد ابراہیم ثاقب (امیر مجلس اٹک)، جناب پروفیسر ڈاکٹر محمد عمران (بہاول پور)، مولانا نور محمد ہزاروی (سرگودھا)، مولانا مفتی محمد حسن (لاہور)، مولانا سید حبیب احمد شاہ (فیصل آباد)، مولانا محمد الیاس گھمن (سرگودھا)، مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ (امیر مجلس کراچی)، مولانا محمد انور اوکاڑوی، مولانا قاضی ہارون الرشید (راولپنڈی)، جناب محمد متین خالد (لاہور)، مولانا قاری علیم الدین شاکر (لاہور)، جناب پیر رضوان نفیس (لاہور)، قاری مولانا جمیل الرحمن (لاہور)، مولانا خالد محمود (لاہور)، مفتی محمد دین (ٹل)، مولانا پیر عبدالرحیم (چکوال)، جناب خالد مسعود ایڈووکیٹ (تلہ گنگ)، مولانا غلام محمد، مولانا حفظ الرحمن بنوری (فیصل آباد)۔ کورس کا سب سے پہلا سبق مولانا عزیز الرحمن صاحب شیخ الحدیث جامعہ دارالقرآن فیصل آباد کا اور سب سے آخری سبق عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر مولانا صاحبزادہ عزیز احمد صاحب خانقاہ سراجیہ کا ہوا اور اتفاق کی بات ہے کہ دونوں حضرات عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ مولانا عبدالمجید لدھیانوی کے شاگردان رشید ہیں۔
کورس کے شرکاء کی خدمت مولانا حبیب احمد (مبلغ ٹوبہ ٹیک سنگھ)، مولانا محمد اقبال (مبلغ ڈیرہ غازی خان)، مولانا محمد اسحاق ساقی (مبلغ بہاول پور)، مولانا صغیر احمد (مدرس جامعہ ختم نبوت چناب نگر) نے سرانجام دی۔ تمام اساتذہ وقراء حضرات بمع طلباء کرام کے پیش پیش رہے۔ مندوب مہمانوں کا نظم قاری عبیدالرحمن کے سپرد رہا۔ تقاریر کے شعبہ کو مولانا فقیر اللہ اختر نے سنبھالا۔ کورس کے مکمل نظم کی مولانا عزیز الرحمن ثانی نے نگرانی کی۔ مولانا محمد وسیم اسلم (ملتان)، مولانا عادل خورشید، مولانا غلام مصطفیٰ آپ کے معاون تھے۔ حسب سابق اس موقعہ پر لائبریری میں نئی کتب کا اندراج بھی مولانا محمد وسیم اسلم اور قاری محمد اصغر نے انجام دیا۔ بحمدہ تعالیٰ نظم معمول کے مطابق بہت ہی اعلیٰ رہا۔ امسال شرکاء کی ریکارڈ حاضری تھی۔ مجموعی طور پر تمام شرکاء کو ”تحفہ قادیانیت“ کا چھ جلدوں پر مشتمل سیٹ اور ”چمنستان ختم نبوت“ کا تین جلدوں پر مشتمل سیٹ دئیے گئے۔ دیگر کتب اس کے علاوہ تھیں۔ فالحمد للہ !
امسال بھی کتابوں کے گفٹ پیک کے لئے مولانا سید حبیب احمد شاہ کے برادران نے کارٹن پرنٹ کر کے ارسال کئے۔ آخری تین روز مجلس کے مکتبہ پر ڈیوٹی مولانا محمد قاسم (مبلغ منڈی بہاؤالدین) اور مولانا عبدالرشید (مبلغ فیصل آباد) نے سرانجام دی۔ امسال بھی ملک بھر سے مختلف مدارس کے اساتذہ اپنے اپنے مدرسہ کے طلباء سے ملنے کے لئے تشریف لاتے رہے۔ جو حضرات بھی تشریف لائے کورس کے بھر پور نظم اور رونقوں کے منظر پر خوشی و انبساط کے اظہار کے ساتھ ساتھ دعاؤں سے نوازتے رہے۔ اہل علم کی اس کام کے لئے عنان توجہ اللہ رب العزت کے بے پایاں انعام کا ہی صدقہ ہے۔ فالحمد للہ !
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اختتامی دعاء ۲۰ مئی ۲۰۱۷ء مطابق ۲۳؍ شعبان المعظم ۱۴۳۸ھ بروز ہفتہ کو ہوئی۔ ڈسکہ، چارسدہ، مانسہرہ، خانقاہ سراجیہ، ہڑپہ، پنوں عاقل، پشاور، لاہور، چنیوٹ، سیالکوٹ، فیصل آباد، اکوڑہ خٹک، چیچہ وطنی سے بہت سارے مہمانان گرامی دعاء میں شرکت کے لئے تشریف لائے۔ نماز فجر کے بعد تمام مہمانان گرامی کو ناشتہ کرایا گیا۔ ۷ بجے مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور ان کے بعد آخری بیان مولانا صاحبزادہ عزیز احمد صاحب کا ہوا۔ آپ نے فیلڈ میں کام کرنے کے لئے ہدایات سے شرکاء کو سرفراز کیا۔ کورس کی اختتامی تقریب کی صدارت مولانا صاحبزادہ خلیل احمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ نے فرمائی۔ چونکہ کراچی وسندھ کے چار صد حضرات کی واپسی ٹرین کے ذریعہ تھی۔ اس لئے ان کو سب سے پہلے اسناد اور انعامی کتب کا سیٹ دیا گیا۔ اس کے بعد رول نمبروں کی ترتیب سے طلباء کو اسناد و کتب دی گئیں۔
جن حضرات کے ہاتھوں سندیں اور انعامی کتب دی گئیں ان کی فہرست یہ ہے: (۱) مولانا صاحبزادہ عزیز احمد صاحب خانقاہ سراجیہ، (۲) مولانا صاحبزادہ خلیل احمد صاحب خانقاہ سراجیہ، (۳) مولانا محمود الحسن عارف لاہور، (۴) جناب پیر رضوان نفیس لاہور، (۵) مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ملتان، (۶) مولانا سیف اللہ خالد چنیوٹ، (۷) قاری عبد الحمید حامد چنیوٹ، (۸) مولانا غلام رسول دین پوری چناب نگر، (۹) مولانا محمد خالد لاہور، (۱۰) قاری ظہور الحق لاہور، (۱۱) مولانا سعید احمد لاہور، (۱۲) قاری عزیز الرحمن رحیمی فیصل آباد، (۱۳) مولانا مفتی ظفر اقبال چیچہ وطنی، (۱۴) قاری محمد زاہد اقبال چیچہ وطنی، (۱۵) جناب محمد خالد مسعود ایڈووکیٹ تلہ گنگ، (۱۶) مولانا قاری عبید الرحمن تلہ گنگ، (۱۷) مولانا غلام مرتضیٰ ڈسکہ، (۱۸) مولانا محمد اسحاق ڈسکہ، (۱۹) مولانا مفتی محمد افضال چنیوٹ، (۲۰) مولانا محمد عارف چنیوٹ، (۲۱) مولانا حاجی محمد منشاء چنیوٹ، (۲۲) حاجی محمد جمیل چنیوٹ، (۲۳) جناب پیر صفدر حسین چنیوٹ، (۲۴) جناب پیر عابد علی چنیوٹ، (۲۵) حاجی عبد الرحمن چارسدہ، (۲۶) مولانا مفتی محمد یار چارسدہ، (۲۷) مولانا فقیر اللہ اختر سیالکوٹ، (۲۸) جناب وحید گل ایم پی اے ن لیگ، لاہور، (۲۹) جناب علامہ ربیع اللہ لاہور، (۳۰) ڈاکٹر محمد فاروق لاہور، (۳۱) مولانا غلام مصطفیٰ چناب نگر، (۳۲) سید ضیاء الحسنین شاہ چناب نگر، (۳۳) مولانا ملک خلیل احمد چنیوٹ، (۳۴) مولانا محمد رضوان عزیز چناب نگر، (۳۵) پروفیسر صفدر حسین قریشی چناب نگر، (۳۶) رانا امان اللہ چناب نگر، (۳۷) سید نور الحسن شاہ چنیوٹ، (۳۸) مولانا عبد الواحد نفیسی چنیوٹ (۳۹) جناب عبد الرؤف روفی مانسہرہ، (۴۰) جناب شیخ عبد الغفار پنوں عاقل، (۴۱) جناب محمد رمضان بگھیلا ہڑپہ۔
تقریری مقابلہ میں پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء کرام کی فہرست درج ذیل ہے:
رول نمبر نام طالبِعلم مع ولدیت ضلع پوزیشن 76 محمد وقاص بن سارنگ علی فیصل آباد اوّل 753 محمد خرم شہزاد بن محمد عبد الستار سرگودھا دوم 271 معاذ احمد بن مطیع الحق اٹک سوم
امتحان میں پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء کرام کی فہرست درج ذیل ہے:
رول نمبر نام طالبِعلم مع ولدیت ضلع حاصل کردہ نمبر پوزیشن 449 نوید اقبال بن پیر زمان خان صوابی 257 اوّل 44 محمد اشفاق بن محمد صادق بہاول پور 242 دوم 807 اعجاز علی بن گلزار محمد مردان 240 سوم
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
امسال کے تجربہ کے بعد آئندہ سال کے لئے فیصلہ کیا گیا:
- ۱...... امسال کورس میں شرکت کرنے والے حضرات اگلے سال مزید رفقاء کو بھجوائیں۔ خود تشریف نہ لائیں۔
- ۲...... اگلے سال کا داخلہ گزشتہ سال کی کمپیوٹرائزڈ فہرستوں کی چھان بین کے بعد ہو۔ تاکہ دوبارہ حضرات شرکت نہ کریں۔
- ۳...... اگلے سال حاضری کے بعد تعلیم کے آغاز پر ہی تمام کمروں کو مقفل کر دیا جائے۔ اس کے لئے مستقل حضرات کی ڈیوٹی لگائی جائے۔
- ۴...... سبق کے دوران تمام گیٹ بند کر دیئے جائیں۔ کسی نے باہر جانا ہو تو تحریری اجازت نامہ مجاز اتھارٹی سے حاصل کئے بغیر نہ جاسکیں۔
- ۵...... دو ٹائم کی حاضری کے علاوہ گاہے بگاہے معمول سے ہٹ کر بھی حاضری لی جائے۔ تاکہ شرکاء کی اسباق میں غیر حاضری کا کوئی چانس باقی نہ رہنے دیا جائے۔
- ۶...... رول نمبر کے اعتبار سے ہر دس ساتھیوں پر مشتمل گروپ بنائے جائیں۔ ان کے امیر مقرر کئے جائیں۔ جو اپنے اپنے رفقاء کی حاضری کی رپورٹ دیتے رہیں۔ اس سے نظم مزید بہتر ہو سکے گا۔
اختتامی تقریب کے اسٹیج سیکرٹری مولانا عزیز الرحمن ثانی تھے۔ آپ نے آٹھ بجے سے گیارہ بجے تک برابر ڈائس پر کھڑے رہ کر کارروائی کو چلایا۔ اختتامی دعاء مولانا صاحبزادہ خلیل احمد صاحب مدظلہ نے فرمائی۔ مہمانوں نے کھانا تناول کیا اور گھروں کو جانا شروع ہوئے۔ عصر کے بعد تک مہمانوں کے تشریف لے جانے کا عمل مکمل ہوا۔ ان گنت تعریفیں حق تعالیٰ کی جس کے بے پایاں کرم کی بارش اس کورس پر ہر لمحہ جاری رہی۔ ان گنت بار درود و سلام حضرت خاتم النبیین ﷺ کی روح پر فتوح پر جن کی عظمتوں کے جھنڈے ان شرکاء کورس کے ذریعہ ملک بھر میں بلند ہوں گے اور آپ کے اعزاز و وصف خاص ختم نبوت کا پھریرا چار دانگ عالم میں مزید در مزید بلند تر ہوتا رہے گا۔ اللہ تعالیٰ سے دعاء ہے کہ مجلس تحفظ ختم نبوت کی ان خدمات کو حق تعالیٰ شرف قبولیت سے سرفراز فرمائیں اور تمام رفقاء کو بے ریا اس خالص مقبول عمل کے لئے بیش از بیش خدمت کی توفیق رفیق فرمائیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۷ء ص۳ تا ۶)
چھتیسویں سالانہ ختم نبوت کورس چناب نگر کے شرکاء
حسب سابق امسال سالانہ رد قادیانیت کورس ۲؍ شعبان المعظم تا ۲۳؍ شعبان المعظم ۱۴۳۸ھ مطابق ۲۹؍ اپریل تا ۲۰؍ مئی ۲۰۱۷ء مدرسہ عربیہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں منعقد ہوا۔ بفضلہ تعالیٰ امسال نوصد چون (۹۵۴) حضرات نے شرکت کی۔ ان میں سے انچاس (۴۹) طلباء کو کثرت غیر حاضری و دیگر وجوہ کی بناء پر خارج کیا گیا۔ ذیل کی فہرست میں خارج شدہ طلباء کے نمبرات داخلہ پر کراس کا نشان لگا دیا گیا ہے۔ طلباء کرام کی فہرست ذیل میں ملاحظہ فرمائیں:
اسمائے گرامی شرکاء کورس:
نمبر شمار نام ولدیت ضلع نمبر شمار نام ولدیت ضلع 1 علی معاویہ محمد معاویہ پاکپتن 2 محمد اکرم حافظ خوشی محمد چنیوٹ 3 محمد احمد محمد شریف جھنگ 4 محمد صلاح الدین فضل الرحمن ڈی آئی خان 5 محمد عبدالرؤف عبدالعزیز ملتان 6 محمد ابوبکر صدیق محمد اعظم ملتان 7 محمد رمضان حافظ نذیر احمد لودھراں 8 نبیل شہزاد شکور احمد مانسہرہ
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ۱۱۳ ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
9 مبصر خان اجمل خان صوابی 10 فیض اللہ عبدالصدیق دیامر 11 بخت منیر اورنگزیب مانسہرہ 12 امت اللہ حاجی اکبر دیامر 13 عمران خان معین الدین کوئٹہ 14 محمد عمران موسیٰ جان قلعہ عبداللہ 15 شبیر خان غلام رحمن مردان 16 ذوالفقار احمد احمد خان جہلم 17 محمد نسیم محمد ہاشم لورالائی 18 امیر محمد کمال الدین لورالائی 19 محمد اشفاق طاہر نذیر احمد ملتان 20 محمد خالد بلال تاج حسین ڈی جی خان 21 محمد عثمان شوکت علی بہاول پور 22 افتخار احمد محمد قدر ایاز بنوں 23 محمد زاہد اشرف محمد اشرف بہاول نگر 24 اکرام الرحمٰن شربت خان ٹانک 25 سعید نواز گل شائیر وزیرستان 26 اکرام اللہ آدم خان ٹانک 27 امداد اللہ عید نواز کرک 28 جمیع اللہ عمر حیات تورغر 29 محمد ابراہیم حاجی محمد شفیق کراچی 30 جواد خان بختیار علی صوابی 31 محمد زبیر خان محمد عمر لکی مروت 32 بلال احمد صالح الرحمٰن دیر بالا 33 رفیع اللہ نورالدین پشین 34 عبدالرحمٰن حاجی عطاء محمد کوئٹہ 35 امین اللہ آغا محمد لورالائی 36 محمد رضا حاجی منیر احمد زیارت 37 عفران الٰہی بخش نوشکی 38 نصیب اللہ ملا آدم خان کوئٹہ 39 نذیر احمد عبدالعزیز گھوٹکی 40 عتیق اللہ مولوی محمد کوئٹہ 41 محمد شعیب عبدالقاہر کوئٹہ 42 صلاح الدین عبدالستار راجن پور 43 اسامہ امین محمد امین حافظ آباد 44 محمد اشفاق محمد صدیق بہاول پور 45 سید امیر خان اطلس خان چنیوٹ 46 محمد حنظلہ حافظ اللہ دتہ بہاول پور 47 محمد زکریا احسان احمد رحیم یار خان 48 محمد عبداللہ محمد عبدالستار جھنگ 49 محمد مہتاب محمد فاروق لاہور 50 محمد عدنان اللہ ڈوایا بہاول پور 51 ساجد قاسمی میر محمد قاسمی باغ 52 محمد عاطف محمد اسماعیل اوکاڑہ 53 قیصر صدیق محمد صدیق قصور 54 محمد انور گاموں راجن پور 55 محمد فاروق محمد اقبال مظفر گڑھ 56 محمد شہزاد محمد اختر خانیوال 57 محمد عمر فاروق محمد ابراہیم ملتان 58 محمد خالد غلام یاسین لودھراں 59 محمد اشفاق عبدالقادر رحیم یار خان 60 محمد عابد غلام سرور ملتان 61 محمد وارث عبدالرحمٰن جھنگ 62 محمد داؤد حافظ بلال وہاڑی
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ۱۱۴ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
63 محمد عامر محمد صادق مظفر گڑھ 64 محمد سمیع اللہ عبداللطیف ڈی جی خان 65 محمد عمر شیر محمد جہلم 66 محمد نعیم محمد اسماعیل رحیم یار خان 67 محمد طارق امتیاز امتیاز الحق ملتان 68 اشفاق احمد حبیب الرحمن لکی مروت 69 سعید اللہ عیسیٰ ولی غذر 70 محمد عامر محمد افضل مانسہرہ 71 امیر حمزہ محمد عباس راولپنڈی 72 خضر حیات مہندی خان گجرات 73 شوکت علی نادر خان گجرات 74 محمد ابوبکر محمد رفیق مانسہرہ 75 مختیار احمد نذر حسین لیہ 76 محمد وقاص سارنگ علی فیصل آباد 77 محمد سفیان عبداللطیف خانیوال 78 محمد ہلال حریف گل نوشہرہ 79 محمد ناصر نعمانی امیر نواز پشاور 80 محمد ظفر محمد شریف بہاول نگر 81 سلیم خان وحید خان لوئر دیر 82 محمد کریم اللہ حاجی نوروز چترال 83 محمد یعقوب محمد ایوب رحیم یار خان 84 محمد ریاست شیر بہادر مانسہرہ 85 احسان الحق عبدالصادق سوات 86 شاہ فہد زمین خان صوابی 87 جواد احمد فدائی رحمت چترال 88 عبدالرحمن موسم خان وزیرستان 89 حبیب اللہ جان لعل بادشاہ مہمند ایجنسی 90 محمد ایاز گل محمد بگرام 91 محمد مزمل عباسی نور محمد خان باغ 92 سلمان شاہ مقرب شاہ ہنگو 93 محمد یونس سحر گل شاہ لکی مروت 94 وقاص شاہ مقرب شاہ ہنگو 95 محمد فرحان سبز علی خان مالاکنڈ 96 نور شریف حلیم اکبر مردان 97 محمد حمزہ فرید احمد اسلام آباد 98 مبشر حسن محمد رمضان راولپنڈی 99 محمد نعمان حیدر علی نوشہرہ 100 کامران خان غلام حیدر راولپنڈی 101 توحید محمد زاہد صوابی 102 عبدالحق شمس الرحمن صوابی 103 محمد سعد فضل الرحمن مانسہرہ 104 محمد عظیم قریشی محمد ریاض اسلام آباد 105 محمد ابرار حسن حسن خان مردان 106 محمد فیاض محمد صابر ایبٹ آباد 107 عبدالغنی اکبر علی وزیرستان 108 محمد فیصل عبدالقیوم مانسہرہ 109 عرفان اللہ عبدالمجید کوہستان 110 اسرار محمد ملنگ جان دیر 111 وقار رحمت رحمت حسین پونچھ 112 نزاکت حسین محب اللہ نیلم 113 ثناء اللہ قیوم گل مالاکنڈ 114 سید نبی خان جان باجوڑ 115 حمید اللہ رضوان اللہ مالاکنڈ 116 صفت شاہ سید شاہ بگرام
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
117 محمد احسان دیوان شاہ مانسہرہ 118 حماد محمد ریاض ایبٹ آباد 119 شبیر احمد عبدالوحید وزیرستان 120 محمد طاہر تازر خان مانسہرہ 121 محمد ادریس لعل خان ہری پور 122 اسد اسحاق محمد اسحاق باغ 123 احمد علی خان عبداللہ ہری پور 124 محمد احسان الحق محمد اخلاق اسلام آباد 125 ظہور احمد عزیز اللہ مانسہرہ 126 ثاقب خان ریاست علی ہری پور 127 سعید خان نصیب خان مانسہرہ 128 احمد جہانگیر خان منظور احمد راولپنڈی 129 محمد مہران خالد خان مردان 130 اسامہ بادشاہ گل بادشاہ بٹگرام 131 فرہاد خان سعید اللہ وزیرستان 132 اسد علی رحمت جان دیر 133 حبیب اللہ امان اللہ مردان 134 محمد فیصل صدیق اکبر بٹگرام 135 مشتاق احمد محمد اسرائیل بونیر 136 حضرت محمد نثار محمد صوابی 137 عدنان احمد سجاد احمد صوابی 138 محمد معاویہ گورمانی محمد ابوبکر سیالکوٹ 139 محمد سمیع اللہ ریاض حسین راجن پور 140 سمیع الحق سعید مولانا محمد سعید کوہستان 141 حامد علی فقیر گل بونیر 142 محمد طارق مکمل شاہ بونیر 143 محمد شیراز عباسی محمد شعیب مردان 144 محمد اسحاق عباسی اشفاق علی مردان 145 وقاص احمد عباسی حب الاسحاق دیر 146 محمد بلال عباسی محمد اللہ مردان 147 حیات اللہ عباسی ثمر گل پشاور 148 محمد عبدالرحمن نصیر اختر مردان 149 محمد عاصم عباسی عبدالباری مردان 150 محمد قاسم عباسی عبدالباری مردان 151 جاوید علی عباسی بخت جمال مردان 152 محمد منیر عباسی حبیب سید شانگلہ 153 احمد گل فقیر گل مردان 154 یوسف شاہ عباسی عبدالواحد مردان 155 محمد حمزہ عباسی اعظم خان مالاکنڈ 156 عبداللہ عباسی طالح زر مردان 157 عارف علی عباسی نور محمد شاہ مردان 158 سردار منیر عباسی بخت منیر مالاکنڈ 159 ظاہر شاہ عباسی علی رحمان مردان 160 اکرام اللہ ساجد محمد مختار سرگودھا 161 محمد ارسلان محمد خان سرگودھا 162 محمد ہاشم فلک شیر چنیوٹ 163 محمد ابوبکر جھنگوی محمد اسلم جھنگ 164 محمد عثمان عارف راؤ محمد عارف خانیوال 165 نعیم اللہ محمد اشرف پاکپتن 166 حیدر علی شاہ احمد علی شاہ نوشہرہ 167 محمد عدنان امین گل نوشہرہ 168 سراج الحق سیف الحق نوشہرہ 169 سہیل احمد تاج محمد نوشہرہ 170 سعادت خان محبت خان نوشہرہ
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا 171 محمد اسامہ محمد عبداللہ ملتان 172 محمد زاہد عثمانی محمد رمضان رحیم یار خان 173 محمد صدیق محمد یوسف راجن پور 174 محمد بلال محمد اکرم لیہ 175 محمد عرفان محمد رمضان سرگودھا 176 محمد اشرف گلزار احمد چنیوٹ 177 محمد حسنین معاویہ اللہ دتہ مظہر جھنگ 178 کاشف علی محمد اسلم ساہیوال 179 شاہد محمود محمد ارشاد پاکپتن 180 محمد اسامہ عزیر محمد جہانگیر ساہیوال 181 محمد عامر محمد شریف جھنگ 182 ساجد محمود رحیم بخش بہاول نگر 183 علی معاویہ محمد نواب بہاول نگر 184 محمد عرفان صابر صابر حسین ساہیوال 185 قیصر فاروق شاہد نذیر احمد ساہیوال 186 محمد رضوان محمد اکرم ساہیوال 187 محمد ارشاد بشیر احمد بہاول نگر 188 کامران اللہ خان قدرت اللہ میانوالی 189 ممتاز احمد خدا بخش ڈی جی خان 190 سیف اللہ صارم بنوں خان ڈی آئی خان 191 رضوان علی مختار علی ننکانہ 192 سیف الرحمن حاجی احمد شیر چنیوٹ 193 عتیق الرحمن عبد الرحمن چنیوٹ 194 سمیع اللہ مدنی قمر اقبال چنیوٹ 195 طلحہ رسول غلام رسول سرگودھا 196 نظار محمد جان محمد بونیر 197 مقصود انور محمود بونیر 198 نوید خان نور افضل بونیر 199 بخت ولی خان ثواب گل بونیر 200 محسن علی اکبر علی اوکاڑہ 201 سیف اللہ محمد اسماعیل بونیر 202 مطہر شاہ زرین بونیر 203 عفان خالد سیف اللہ چنیوٹ 204 سلمان خالد سیف اللہ چنیوٹ 205 صدیق اللہ گل اکبر خان وزیرستان 206 محمد قاسم انتصار احمد لاہور 207 محمد عدنان محمد سرور بہاول نگر 208 محسن علی مقصود علی گوجرانوالہ 209 انعام الحق عبد الستار صوابی 210 فضل ہادی زیارت خان صوابی 211 سعد الدین عبد الحمید ڈی آئی خان 212 عطاء الرحمن بشیر احمد لیہ 213 امیر عمر عبید اللہ ڈی آئی خان 214 نائب شاہ سلطان شاہ ہرنائی 215 عبد الحنان محمد شریف زیارت 216 علاؤ الدین وجیہ الدین ٹانک 217 زومان خان شیر والی خان ڈی آئی خان 218 محمد عمر زکیم خان وزیرستان 219 اختر حسین محمد جمیل وزیرستان 220 محمد قاسم مولوی محمد شفیع لورالائی 221 عبد اللہ غلام رسول لورالائی 222 عامر شہزاد محمد رفیق منڈی 223 محمد یاسین عبد الغفار لاہور 224 غلام مرتضیٰ رحیم بخش ملتان
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
225 محمد انیس الرحمٰن محمد یعقوب جھنگ 226 محمد ظفر محمد رمضان مظفر گڑھ 227 عمر سعید حبیب اللہ کرک 228 جواد اللہ خیر گل پشاور 229 عمران علی گوہر علی چارسدہ 230 فضل واجد محمد فاضل باجوڑ 231 محمد زکریا محمد طفیل خانیوال 232 یاسر احمد حقانی شیر احمد چارسدہ 233 فضل الٰہی محمد الیاس سوات 234 لقمان شاہ شاہ باچہ چارسدہ 235 سکندر شاہ سید محمد شاہ چارسدہ 236 محمد شبیر حاجی منور پشاور 237 محمد شہریار سعادت خان چارسدہ 238 رشید اللہ عمر حیات بونیر 239 جواد خان محمود مردان 240 نجیب الاسلام نجم الاسلام چارسدہ 241 نور اللہ روح اللہ چارسدہ 242 محمد ابراہیم زاہد حاجی محمد جمیل ساہیوال 243 عمران الحق محفوظ الحق لوئر دیر 244 زید اللہ بختیار گل چارسدہ 245 محمد کاشف عبدالرؤف خانیوال 246 محمد ضیاء الرحمٰن مولانا عبدالغنی مظفر گڑھ 247 محمد بلال محمد الیاس مظفر گڑھ 248 محمد ضیاء الحق حبیب الرحمٰن راجن پور 249 محمد شاہد ابراہیم محمد ابراہیم مظفر گڑھ 250 محمد طلحہ محمد شفیع مظفر گڑھ 251 محمد ابوبکر محمد شریف مظفر گڑھ 252 محمد عبداللہ زاہد رب نواز مظفر گڑھ 253 محمد جمیل محمد حسین مظفر گڑھ 254 محمد مدنی سکھانی عبدالکریم مظفر گڑھ 255 محمد شکیل احمد الٰہی بخش مظفر گڑھ 256 محمد اشفاق شاہ محمد مظفر گڑھ 257 محمد جمشید محمد یوسف مظفر گڑھ 258 محمد نعیم اختر محمد یوسف ساہیوال 259 عمر فاروق جاوید الرحمٰن چارسدہ 260 لیاقت علی حضرت بلال سوات 261 محسن ضیاء محمد حنیف وہاڑی 262 نعمان عباسی محمد تعظیم عباسی ایبٹ آباد 263 عباس عالم جان عالم چارسدہ 264 عبدالغنی محمد ظریف زیارت 265 فضل دیان فضل سبحان چارسدہ 266 امان اللہ خان امین خان بنوں 267 فرمان اللہ گل الرحمٰن چارسدہ 268 محمد عاصم محمد خورشید باغ 269 محمد قاسم عباسی محمد سلیم خان باغ 270 فیصل مقبول مقبول احمد اوکاڑہ 271 معاذ احمد مطیع الحق اٹک 272 صفی اللہ مسافر شاہ ہری پور 273 سید یاسر شاہ محمد کریم شاہ چارسدہ 274 کامل خان شہزاد خان چارسدہ 275 محمد طفیل محمد فیاض مانسہرہ 276 سید عطاء اللہ سید انور شاہ مردان 277 خضر حیات محمد گل ترین مردان 278 صدام حسین محمد شہباز ژوب
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
279 سردار خان رحیم گل مردان 280 وقاص پرویز خان مردان 281 عرفان نبی گل رحیم صوابی 282 تیمور شاہ میر عالم مردان 283 جواد علی سمیع اللہ مردان 284 محمد وسیم ذوالقرنین مردان 285 محمد سفیان حاجی محمد بخش بہاول پور 286 محمد شفیق الرحمن حبیب احمد بہاول پور 287 غلام اکبر اللہ ڈتہ بہاول پور 288 حنظلہ اکرام اکرام اللہ بہاول پور 289 محمد بلال محمد الیاس بہاول پور 290 محمد طلحہ محمد ارشاد الحق بہاول پور 291 زین الدین امین اللہ خیبر ایجنسی 292 محمد عمر فاروق محمد اقبال لودھراں 293 امان اللہ ظاہر شاہ خیبر ایجنسی 294 عرفان اللہ یونس خان پشاور 295 مفتاح الدین ضیاء الدین پشاور 296 سمیع اللہ مفتی محمد لوئر دیر 297 نعمان احمد ممتاز احمد پشاور 298 لوبیا خان عالم جان خیبر ایجنسی 299 محمد عریس محمدی قدر گل پشاور 300 محمد کامران محمدی جہانزیب پشاور 301 محمد عمیر محمد یوسف چنیوٹ 302 ضیاء الرحمن خلیل احمد بہاول پور 303 محمد صدیق الرحمن حافظ محمد اسحاق بہاول پور 304 محمد غالب محمد نعیم راولپنڈی 305 حافظ محمد طیب حافظ عبدالرحیم رحیم یار خان 306 سمیع اللہ محمد شفیع بہاول پور 307 محمد نواف ندیم محمد ندیم بہاول پور 308 شفیق الرحمن سیف الرحمن بہاول پور 309 محمد عمر محمد بخش بہاول پور 310 محمد ابوبکر محمد اسحاق بہاول پور 311 محمد جاوید مرید حسین لودھراں 312 محمد عارف رحمت علی ملتان 313 محمد صدیق غلام قاسم بہاول پور 314 محمد حسان ظفر محمد ظفر ربانی بہاول پور 315 محمد کبیر خدا بخش لودھراں 316 محمد عمر فاروق امیر بخش بہاول پور 317 محمد فیاض پیر بخش بہاول پور 318 محمد رضوان محمد سلیمان سرگودھا 319 رحمان علی محمد سردار فیصل آباد 320 مشتاق احمد محمد یوسف میانوالی 321 زین العابدین محمد شاہد چنیوٹ 322 وقار احمد کمال الدین مظفر گڑھ 323 غلام یاسین منظور احمد بہاول پور 324 احسان اللہ سید ولی اللہ لاہور 325 حسین احمد محمد غلام محمود ڈی جی خان 326 عاقب جاوید محمد طفیل جاوید لودھراں 327 ناظم شہزاد محمد رفیق ساہیوال 328 محمد عمر عثمان حمد ذاکر چنیوٹ 329 عطاء الرحمن ضیاء الرحمن پشاور 330 محمد عمیر محمد شفیق میر پور خاص 331 عطاء الرحمن عبد الحلیم عمر کوٹ 332 محمد حذیفہ محمد عبد الرشید میر پور خاص
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
333 محمد حذیفہ اختر علی ٹنڈوالہ یار 334 اللہ بخش گل حسن میر پور خاص 335 محمد شاہد حکموں سانگھڑ 336 عبداللہ بشر تورغر 337 ہدایت اللہ سعد اللہ بونیر 338 امجد علی عبدالرزاق بدین 339 محمد عارف امان اللہ میر پور خاص 340 عتیق الرحمن محمد اشرف کراچی 341 جنید احمد عتیق الرحمن کراچی 342 محمد حذیفہ عبدالرحمن شاد میر پور خاص 343 عبداللہ عبدالرحمن شاد میر پور خاص 344 رضوان احمد انور حسین نوشہرو فیروز 345 نظر محمد لال محمد عمر کوٹ 346 فیاض احمد محمد امین عمر کوٹ 347 عبدالشکور گل شیر ٹنڈوالہ یار 348 حسین احمد شہباز خان ژوب 349 محمد حسین محمد عثمان کوئٹہ 350 مجیب الرحمن محب اللہ پشین 351 مبشر عمر محمد عمر حیدر آباد 352 عمران محمد انور میر پور خاص 353 زبیر احمد محمد عیسیٰ پشین 354 معاویہ حسن سیف الاسلام حیدر آباد 355 محمد عمیر عبدالستار نواب شاہ 356 سجاد احمد سونو خان حیدر آباد 357 محمد رضوان محمد یعقوب گوجرانوالہ 358 محمد عبداللہ بٹ افتخار احمد گوجرانوالہ 359 محمد عمر محمد صابر گوجرانوالہ 360 اکرام اللہ ثناء اللہ شیخوپورہ 361 محمد سلطان محمد منشا شیخوپورہ 362 محمد عباس محمد ادریس ٹنڈوالہ یار 363 سجاول احمد دین میر پور خاص 364 محمد فیصل دوست محمد عمر کوٹ 365 محمد تسلیم محمد مستقیم کراچی 366 حبیب اللہ حفیظ الرحمن کراچی 367 احسان اللہ نیاز محمد استور 368 ایاز حبیب حسین کراچی 369 عمران خان غلام مصطفیٰ میر پور خاص 370 عبدالواجد وزیر محمد کراچی 371 محمد ابوبکر انصاری پیر محمد انصاری کراچی 372 منظور احمد منیر احمد سانگھڑ 373 وکیل احمد محمد امین قصور 374 محمد عمر انصاری حافظ امیر اللہ کراچی 375 عبدالمنان ارشد علی نوشہرو فیروز 376 نور محمد محمد صالح گھوٹکی 377 محمد اسحاق غلام حسین مٹیاری 378 آصف علی محمد اسلم نوشہرو فیروز 379 امان اللہ قاضی خان استور 380 شہزاد احمد میر حسن عمر کوٹ 381 سیف اللہ قاری شبیر احمد گھوٹکی 382 حماد اکرم محمد اکرم کراچی 383 محمد اختر محمد رب نواز بہاول پور 384 نواب علی اصغر علی نوشہرو فیروز 385 صابر علی ثناء اللہ پنجگور 386 خداداد محمد قاسم سانگھڑ
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
387 محمد یوسف رحیم محمد ایوب میر پور خاص 388 محسن عزیز عبدالعزیز میر پور خاص 389 محمد عرفان محمد اقبال کراچی 390 ارسلان احمد مقبول احمد میر پور خاص 391 صلاح الدین محمد سید لسبیلہ 392 محمد طاہر نواز برہان الدین سوات 393 حبیب الرحمن شیر محمد شاکر کوئٹہ 394 سید سیف اللہ سید عبدالواسع قلعہ عبداللہ 395 محمد ذیشان محمد یونس کراچی 396 عمر فاروق بشیر احمد کراچی 397 صداقت خان سفیر احمد حیدر آباد 398 محمد عامر محمد حبیب میر پور خاص 399 نادر شیر زمان کوئٹہ 400 محمد رضوان عبدالعزیز کراچی 401 کلیم اللہ امان اللہ کراچی 402 علی اکبر محمد حسن کراچی 403 اختر زمان زرکشی محمد اصغر کراچی 404 محمد خالد حسن خان لکی مروت 405 عبدالواحد محمد ابراہیم کراچی 406 محمد اشفاق جمال الدین بدین 407 غلام علی محمد علی گجرات 408 محمد احمد محمد شریف سانگھڑ 409 محمد ادریس عبدالمجید قلعہ سیف اللہ 410 محمد عادل محمد سرور سانگھڑ 411 محمد احمد قاری محمد جمیل سانگھڑ 412 عبدالشکور سعید احمد نواب شاہ 413 رضاء اللہ زردعلی خان ٹانک 414 مسعود شاہ محمد شفیق بونیر 415 اکبر نواز جاوید اقبال تورغر 416 ارشد علی گل محمد کراچی 417 طاہر محمد غلام محمد لکی مروت 418 محمد احسان سید غلام سرور مانسہرہ 419 جنید احمد محمد اعظم واشک 420 عطاء الحسن محمد رفیق شیخ حیدر آباد 421 فرمان اللہ عبدالقدیر لکی مروت 422 آصف اللہ عنایت اللہ لکی مروت 423 عبدالواسع ماسٹر ظاہر شاہ قلعہ سیف اللہ 424 عبدالجلیل فضل باری قلعہ سیف اللہ 425 بشیر احمد مولا بخش سانگھڑ 426 محمد عثمان حیدر منیر احمد گھوٹکی 427 گل زمین غیرت سید تورغر 428 ابراہیم خان غازی رحمان بنوں 429 محمد اجمل محمد اصغر رحیم یار خان 430 محمد حسنین محمد حنیف رحیم یار خان 431 محمد جمیل فضل ربی پشاور 432 بشیر احمد دوست خان سوات 433 محمد علی عبدالحق رحیم یار خان 434 جمیل احمد خان محمد قلات 435 زمان یاسین محمد یاسین بدین 436 محمد یاسین مظفر خان چارسدہ 437 ظفر اللہ بسم اللہ دین سانگھڑ 438 نادر شاہ ظاہر شاہ حیدر آباد 439 محمد عامر مولا بخش کیچ تربت 440 شوکت علی سجن عمر کوٹ
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
441 محمد امجد شاہ زرین کراچی 442 سرفراز علی علی محمد کیچ 443 محمد وسیم اکرم راؤ محمد اکرم کراچی 444 محمد طلحہ محمد نعیم کراچی 445 محمد جنید خان فضل دیان کراچی 446 محبوب اللہ امتیاز خان مردان 447 میرا خان جلال الدین کیچ 448 ذاکر علی غلام حسین کیچ 449 نوید اقبال پیر زمان خان صوابی 450 محمد ثناء اللہ ملک خلیل احمد بہاول پور 451 مطیع اللہ فضل الدین ژوب 452 ایوب خان فیض الحق چارسدہ 453 غفور اللہ شیر افضل سوات 454 عبدالوہاب میاں ولی شاہ مردان 455 ثناء اللہ سیف اللہ سجاول 456 عبدالباسط علی حیدر سجاول 457 مسعود احمد میمن کفایت اللہ سجاول 458 فقیر محمد محمد رحمان سجاول 459 زین العابدین محرم مٹیاری 460 محمد اسماعیل جتوئی مولانا تاج محمد سجاول 461 محمد توقیر محمد رفیق حیدرآباد 462 دانیال محمد رفیق شیخ حیدرآباد 463 محمد اسامہ عبدالصمد حیدرآباد 464 محمد ابراہیم یار محمد دیر 465 محمد جنید مینہ بار کراچی 466 عبدالرحمن انور علی نوشہروفیروز 467 ریاض خان فضل اللہ کراچی 468 حافظ عبدالقوی عبدالرب سکھر 469 اللہ نواز شاہ نواز بہاول پور 470 عبدالسلام شبیر احمد بدین 471 حافظ مہتاب علی محمد یعقوب بدین 472 زبیر احمد نانجو بدین 473 محمد اسماعیل مولانا ابوطاہر کراچی 474 سید محمد اشعر سید مظفر حسین کراچی 475 اسامہ نجم الصالحین حیدرآباد 476 سہراب عبدالرشید تربت 477 فرحان احمد عبدالستار بدین 478 معراج الدین اسلام الدین حیدرآباد 479 محمد حسن بڈو خان مٹھی 480 وسیم عبدالغفور تھرپارکر 481 حسین احمد محمد خان کراچی 482 ظہیر احمد محمد اسلام جیکب آباد 483 محمد عدنان محمد یامین جھنگ 484 ثناء اللہ حبیب اللہ مستونگ 485 منصور احمد مقصود احمد جامشورو 486 عبدالواحد احمد خان سجاول 487 ضیاء الرحمن عبدالرحمن جھنگ 488 عبدالرحمن بن یامین کراچی 489 جان محمد عبدالرزاق بدین 490 محمود الحسن عبدالغنی ٹنڈو محمد خان 491 محمد بلال عبدالحلیم نوشکی 492 حق نواز نیک محمد سجاول 493 عبدالرحمن اورنگزیب کراچی 494 جمال علی زئی کراچی
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
495 فیض محمد زاہد حسین حیدرآباد 496 محمد اسد محمد امجد کراچی
497 احمد اللہ اسد الزمان کراچی 498 اسرار اللہ زین اللہ بونیر
499 محمد ندیم محمد سلیم نواب شاہ 500 غلام مصطفیٰ سہیل احمد مٹیاری
501 محمد یوسف محمد حسین کراچی 502 پیر بخش سومار مٹیاری
503 عبدالرحمٰن اقبال کوہستان 504 محمد یوسف رشید احمد حیدرآباد
505 محمد عرفان محمد اسلم ٹنڈو محمد خان 506 اظہر الدین میاں بخش مٹیاری
507 محمد الیاس خدا بخش کچھّی 508 محمد ایوب مظہر الدین مٹیاری
509 حماد اللہ عنایت اللہ خیر پور میرس 510 علی شیر محمد رمضان عمر کوٹ
511 بقاء اللہ محمد ہاشم سانگھڑ 512 وسیم اختر محمد اختر میر پور خاص
513 غلام مجتبیٰ عبدالشکور سانگھڑ 514 داؤد عالم نمیر خان گلگت
515 محمد عثمان میر محمد جیکب آباد 516 عبدالاحد زین العابدین نوشہرو فیروز
517 محمد عرفان عبدالرحمٰن کراچی 518 سمیع اللہ در محمد سانگھڑ
519 رحمت اللہ علی جوہر کراچی 520 غلام نبی محمد یوسف بدین
521 محمد حیات بشیر احمد کوئٹہ 522 شاہ نواز نور محمد بدین
523 علی حسن محمد حسن ننگر پارکر 524 کلیم اللہ غلام حسین ننگر پارکر
525 عبدالقیوم چاچڑ عبدالحکیم سکھر 526 راشد احمد مراد بخش کوئٹہ
527 محمد یوسف نور البشر کراچی 528 علی نواز لغاری نصیر خان بدین
529 محمد فاروق محمد عمر سانگھڑ 530 عبدالکریم محمد فاروق ٹنڈو محمد خان
531 بلال احمد شوکت علی ٹنڈو محمد خان 532 عبید بابر محمد شیرین کوہاٹ
533 ایاز احمد کریم بخش کیچ 534 لیاقت علی محمد خالد ایبٹ آباد
535 وسیم اکرم علیم بدین 536 عبدالواحد خوشی محمد ٹنڈو محمد خان
537 ضیاء الرحمٰن محمد عمر فاروق حیدرآباد 538 مزیب احمد رضا محمد سکھر
539 محمد طلحہ قاری علی اصغر ہری پور 540 سید محمد عثمان سید محمد یامین کراچی
541 سید حذیفہ حسن سید منظر حسن کراچی 542 سیف اللہ غلام محمد سانگھڑ
543 محمد شفیع عثمان عبدالرشید کراچی 544 سید طلحہ مدنی محمد ثناء اللہ حیدرآباد
545 محمد شعیب الیاس محمد الیاس کراچی 546 محمد عالم محمد یعقوب جامشورو
547 محمد جمیل نور عالم کراچی 548 عابد الرحمٰن مجید خان کراچی
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
549 اعجاز علی اللہ بچایو سانگھڑ 550 محمد سہیل الیاس محمد الیاس کراچی 551 زکریا عبدالحکیم کراچی 552 محمد اسماعیل بخت شاہ کراچی 553 زاہد احمد زین العابدین کراچی 554 عبدالمتین عبدالحمید کراچی 555 ظہور احمد فضل محمد قلعہ عبداللہ 556 عبدالخالق عبدالستار کوئٹہ 557 نعمت اللہ نور اللہ خان وزیرستان 558 محمد حنین احمد محمد عابد ناظم آباد 559 عبدالحمید محمد اسلم کیچ 560 امین اللہ محمد رضا پشین 561 محمد یونس دل محمد کراچی 562 محمد شکیل نور عالم کراچی 563 مسعود اللہ عبدالمنان پشین 564 سید نقیب اللہ سید سمیع اللہ کراچی 565 اسرار احمد راز محمد لورالائی 566 غلام حیدر سردار احمد سانگھڑ 567 محمد شہزاد محمد یاسین کراچی 568 عزیز الحق حافظ ظاہر الحق رحیم یار خان 569 اعجاز الحق نور ہاشم کراچی 570 محمد صدیق علی حسین کراچی 571 بشیر احمد محمد سچل میرپورخاص 572 دیدار النبی محمد اسماعیل جیکب آباد 573 واجد علی محمد قابض سانگھڑ 574 محمد اسامہ شوکت علی شکار پور 575 ایاز حسن غلام حسن بھٹی خیر پور میرس 576 فیاض احمد غلام رسول خیر پور میرس 577 عبدالستار عبدالجبار جیکب آباد 578 اعظم خان خیال مرخان کرک 579 محمد عمر صدیقی محمد صدیق کراچی 580 فخر الحق احتشام الحق کراچی 581 عابد الحق حقانی احتشام الحق کراچی 582 حبیب اللہ قربان علی کراچی 583 نظر حسین غلام صدیق لیہ 584 عبدالودود محمد موسیٰ خضدار 585 طاہر احمد شبیر احمد گلگت 586 ابوبکر صدیق محمد فیاض کراچی 587 عبدالرشید مومن شاہ چترال 588 اسامہ خورشید احمد باغ 589 محمد قاسم محمد صیفل گھوٹکی 590 ممتاز احمد غلام قادر جمالی بدین 591 اسد اللہ میر میر محمد کراچی 592 اعجاز نظر نظر محمد کیچ 593 محمد ناظم محمد حسین پونچھ 594 نجیب اللہ حاجی نور علی قلعہ عبداللہ 595 فضل مالک عبدالخالق کراچی 596 محمد اسماعیل غلام رسول کوئٹہ 597 عبدالقادر پیر بان شاہ کراچی 598 نظر محمد مالک ڈنو نواب شاہ 599 عبدالجلیل محمد سلام کراچی 600 فضل الرحمٰن محمد عمر پشین 601 شبیر احمد بشیر احمد قلات 602 ارمان عیسیٰ عیسیٰ کراچی
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
603 عبدالقیوم رحمت اللہ ڈی آئی خان 604 محمد اکرم محمد کلام کراچی 605 ثناء اللہ عبدالمجید کیچ 606 عبیدالرحمن خلیل الرحمن مٹیاری 607 ابوبکر عبدالحمید سانگھڑ 608 مہتاب حسین خدا بخش ٹنڈو محمد خان 609 محمد امجد محمد شبیر سانگھڑ 610 نسیم اللہ محمد اسماعیل حیدر آباد 611 محمد بلال میر زمان گل کراچی 612 لیاقت علی علی خان عمر کوٹ 613 عمر فاروق میر محمد میر پور خاص 614 محمد نواز احمد علی میر پور خاص 615 شاہ نواز پاندی خان کشمور 616 نعیم اللہ مولوی جان محمد کشمور 617 جمیل احمد غلام اکبر خیر پور میرس 618 عدیل احمد محمد عمر خضدار 619 عبدالقادر غلام مصطفیٰ خیر پور میرس 620 محمد عظیم محمد صالح نوشہرو فیروز 621 امتیاز احمد غلام قادر بدین 622 امتیاز علی اسرار علی حیدر آباد 623 حبیب اللہ مجید خان کراچی 624 ثناء اللہ حاجی محمد علی قلعہ عبداللہ 625 جمشید خان محمد ضیاء الدین غذر 626 محمد اظہر یونس محمد یونس باغ 627 محمد سلیمان وکیل خان کراچی 628 محمد کاشف خالد محمود کراچی 629 ثاقب محمود ارشد محمود چکوال 630 صہیب محمد طارق باغ 631 محمد مراد گل رحمان کراچی 632 محمد آفاق لالہ گل کوہاٹ 633 ضیاء الاسلام عبدالبصیر پشاور 634 محمد سلیم عبدالقادر گھوٹکی 635 اسلام نبی غلام نبی کراچی 636 سیف اللہ عطاء اللہ کراچی 637 رحیم الدین عبدالکبیر پشین 638 عزت اللہ عبدالغفور پشین 639 عطاء اللہ مولانا شفیع اللہ کراچی 640 محمد عدنان محمد مراد کراچی 641 محمد شہریار غلام محمد کراچی 642 محمد جان محمد سلیم کراچی 643 احمد حسین فقیر باچہ لوئر دیر 644 کمال الدین خواجہ عالم وزیرستان 645 اظہار علی شبیر احمد گھوٹکی 646 عبداللہ محمد اسلم خانیوال 647 مؤمن اللہ سید اللہ وزیرستان 648 محمد عمیر نذیر الحسن مظفر آباد 649 محمد صادق ظاہر خان پشاور 650 حزب اللہ سعید اللہ تورغر 651 محمد عدنان عطاء محمد کراچی 652 اسد شاہ نور محمد کراچی 653 محمد رضوان شیر عجب کراچی 654 کفایت اللہ تیمور شاہ قلعہ سیف اللہ 655 موسم خان گنڈیر گل کراچی 656 محمد خالد اتوار جان کراچی
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
657 محمد ارشد محمد رزاق کراچی 658 بلال علی ذوالفقار علی کراچی 659 ابوبکر ریاض رحیم یارخان 660 ولی اللہ محمد طالوت تورغر 661 فضل الرحمن محمد منور کراچی 662 رستم علی محمد انور عمرکوٹ 663 محمد مزمل ابوالحسن کراچی 664 محمد اجمل خان محبوب کراچی 665 عیسیٰ خان محمد ثواب خان کراچی 666 عمیر اکرام اللہ کراچی 667 محمد ولید خدا بخش کراچی 668 عبدالحنان عبدالجلیل قلعہ سیف اللہ 669 عدنان احمد نثار احمد کراچی 670 محمد شان محمد اکرم کراچی 671 عبدالرحمن عبدالغفور کیچ 672 عبدالرزاق حاجی دین محمد قلعہ عبداللہ 673 اخلاق احمد محمد الیاس کیچ 674 محمد رئیس لعل خان کراچی 675 محمد علی محمد ظفر کراچی 676 محمد قاسم مکرم خان کراچی 677 ہارون عالم محبوب عالم کراچی 678 عبدالحق پشین خان کراچی 679 عبدالعزیز جاڑو خان سکھر 680 نذیر احمد سائیں ڈنو سکھر 681 ذبیح اللہ عبیداللہ سکھر 682 ضیاء الرحمن دولت خان قلعہ عبداللہ 683 صدام حسین نور الدین شکار پور 684 نجی اللہ عبدالجبار سکھر 685 کاشف حسین نور الدین شکار پور 686 عبدالکریم ثناء اللہ سکھر 687 عمران علی عبدالرزاق شہدادکوٹ 688 محمد عبداللہ محمد ارشاد کراچی 689 شفیق الرحمن عنایت اللہ قلات 690 فضل الرحمن رسول بخش خضدار 691 عبدالوحید گل فراز خان کراچی 692 نعمان خان زرین زادہ کراچی 693 وسیم حبیب حبیب گل مردان 694 امداداللہ نور احمد فیصل آباد 695 حذیفہ حذیفہ مرتضیٰ کراچی 696 ضیاء الرحمن زینت خان کراچی 697 عامر غلام جیلانی مانسہرہ 698 طارق جمیل گل زادہ سوات 699 سمیع اللہ عبدال چنیوٹ 700 محمد یونس عبدالمجید کیچ 701 جان شیر زرولی خان کراچی 702 محمد غیور محمد یحییٰ کراچی 703 محمد حنیف علی نواز سرگودھا 704 عبدالقادر پرویز اختر نواب شاہ 705 سیف اللہ محمد صالح سانگھڑ 706 محمد حسان مولانا محمد اعجاز کراچی 707 محمد حافظ محمد طاہر کراچی 708 محمد عثمان شاکر قاری تاج محمد کراچی 709 محمد داؤد محمد انور کراچی 710 فضل ناصر حاجی محمد چترال
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا 711 محمد عمر خدا بخش رحیم یارخان 712 غلام محمد محمد اسلم اوکاڑہ 713 شراحیل عتیق الرحمن فیصل آباد 714 محمد طلحہ محمد ابونصر فیصل آباد 715 فداء اللہ محمد الطاف کوہاٹ 716 ثناء اللہ محمد اسلم کراچی 717 محمد جمشید محمد منصب خوشاب 718 محمد حسان محمد ابراہیم گوجرانوالہ 719 شہروز خان عبدالرزاق فیصل آباد 720 عابد علی محمد حنیف سکھر 721 ظفر اللہ نواب خان حیدرآباد 722 تنویر احمد رشید احمد ٹوبہ ٹیک سنگھ 723 محمد ریاض محمد یوسف چنیوٹ 724 محمد حبیب اللہ محمد عبداللہ فیصل آباد 725 محمد امین محمد اقبال چنیوٹ 726 محمد عمر دراز صالح محمد چنیوٹ 727 عمیر احسن محمد یاسین فیصل آباد 728 محمد ندیم فیض محمد ڈی آئی خان 729 محمد علاؤ الدین ابوبکر فیصل چنیوٹ 730 محمد سعد محمد ریاض گوجرانوالہ 731 حمید الرحمن حاجی عطاء محمد کوئٹہ 732 حکمت اللہ عمر حیات نوشکی 733 محمد طلحہ محمد آصف فیصل آباد 734 منور حسین قدرت اللہ بہاول نگر 735 نور زمان بشیر احمد چنیوٹ 736 وسیم اکرم محمد شفیع شیخوپورہ 737 تصور عمران خان محمد عاشق میانوالی 738 محمد حمزہ سجاد حسین کوہاٹ 739 عبد الماجد رفیق محمد رفیق راجن پور 740 محمد اسامہ ریحان الدین کوہاٹ 741 شیر عالم خان شیر خان چنیوٹ 742 محمد ارسلان محمد یعقوب کراچی 743 محمد نعمان اللہ بخش بھکر 744 محمد رمضان محمد یعقوب چنیوٹ 745 نعمت اللہ فہم خان قلعہ عبداللہ 746 محمد مدثر عمر عمر حیات چنیوٹ 747 عبدالرشید سلطان محمود بھکر 748 حافظ اللہ دتہ میاں غلام محمد جھنگ 749 حافظ محمد احمد ضیاء اللہ دتہ بہاول نگر 750 امیر حمزہ الطاف حسین لیہ 751 سید عبدالرزاق سید عبدالغفار شیرانی 752 نقیب الرحمن محمود خان خیبر ایجنسی 753 محمد خرم شہزاد محمد عبدالستار سرگودھا 754 ضیاء الرحمن عزیز الرحمن کوہاٹ 755 امیر حمزہ سید امانت شاہ کوہاٹ 756 جلیل الرحمن حافظ محمد ایوب منڈی 757 امان اللہ تاج الرحمن شانگلہ 758 نصیر احمد نور محمد چنیوٹ 759 محمد عمر امام الدین گوجرانوالہ 760 ساجد حسین حاجی گل کوہاٹ 761 منصف علی شمس القمر صوابی 762 محمد امجد محمد اسماعیل مظفر آباد 763 خضر حیات گوہر ایمان مانسہرہ 764 عبدالسلام محمد یونس مانسہرہ
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
765 محمد رضوان شفقت حسین فیصل آباد 766 انوار اللہ نور الخبیر صوابی 767 محمد طائف فضل کریم صوابی 768 شیراز خان شیر نواب خان صوابی 769 عبدالقدوس مہران خان چکوال 770 محمد شہزاد گل جہاں بھلوال 771 نقیب الرحمن سید محمد سرگودھا 772 محمد عابد نجیب اللہ خان میانوالی 773 اسامہ صدیقی غلام حبیب راولپنڈی 774 محمد عثمان محمد اکرم میر پور 775 محمد نعمان عبدالستار سرگودھا 776 محمد لقمان عبدالستار سرگودھا 777 محمد بلال عبدالرحمن راولپنڈی 778 شعیب خان چمن رحمن ہری پور 779 احمد حنظلہ مفتی سعید احمد کراچی 780 امتیاز احمد فیاض احمد کراچی 781 طہ بیگ عارف بیگ کراچی 782 محمد مصطفیٰ محمد اسلم چنیوٹ 783 حضرت شاہ نور شاہ منڈی 784 عبدالصدیق محمد جلال منڈی 785 عبدالرحمن خیر محمد جیکب آباد 786 محمد اسعد محمد شفیع بہاول نگر 787 محمد زمان بشیر احمد بہاول نگر 788 محمد حسن ستار عبدالستار ٹوبہ ٹیک سنگھ 789 محمد ابوذر عبدالرشید لاہور 790 جنید رفیق محمد رفیق لاہور 791 عدنان ہاشمی عبداللہ ہاشمی میانوالی 792 نصیر احمد عبدالرشید جھنگ 793 امان اللہ خان عطاء اللہ خان خانیوال 794 شعیب خان ثناء اللہ خان خانیوال 795 محمد صفنین عبدالرشید ڈی جی خان 796 عثمان اختر محمد اختر ملتان 797 نصیب اللہ نجم خان لورالائی 798 علی احمد نور احمد فیصل آباد 799 یوسف اعجاز اعجاز حسین ڈی جی خان 800 ثناء اللہ عبدالغفور ڈی جی خان 801 محمد ریحان منور منور جاوید بہاول پور 802 محمد شاکر عبدالخالق بہاول پور 803 محمد فیصل قمر خدا بخش بہاول پور 804 محمد نوید طوفانی محمد اسلم سرگودھا 805 عامر رحمن عبدالرحمن سرگودھا 806 عبدالغفار علی بشیر احمد ملتان 807 اعجاز علی خان گلزار محمد مردان 808 عمر فاروق گلزار احمد مردان 809 یاسر علی ایوبی ایوب خان مردان 810 محمد عامر اعجاز رسول ملتان 811 جاوید یوسف محمد یوسف خانیوال 812 محمد اکبر اللہ رکھا لودھراں 813 عبدالوحید حاجی عبدالحمید بہاول پور 814 زبیر احمد حافظ منظور احمد ڈی جی خان 815 طاہر فرید غلام فرید ڈی جی خان 816 عبدالستار قادر بخش ڈی جی خان 817 محمد شکیل فتح محمد لودھراں 818 محمد اسامہ طارق اکرام الحق لودھراں
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
819 سمیع اللہ عثمانی شبیر احمد عثمانی فیصل آباد 820 فضل الرحمن خان وزیر کرک 821 محمد ہارون الطاف الرحمن لودھراں 822 مقصود احمد نصیر احمد رحیم یار خان 823 محمد احسن عبدالعزیز بہاول پور 824 احمد خان ہوران خان ڈیرہ بگٹی 825 محمد ابراہیم منظور احمد رحیم یار خان 826 عمران معاویہ ستار گل کرم ایجنسی 827 شاہد الرحمن عبدالمناف ہنگو 828 عبدالوہاب عبدالجبار رحیم یار خان 829 نعیم اللہ گل زادہ دیر پائیں 830 محمد کاشف محمد یوسف ملتان 831 حسین احمد عبدالغفار ملتان 832 رستم خان محمد فاروق پاکپتن 833 عبدالجلیل بہاؤالحق ڈی آئی خان 834 محمد سعد ابراہیم محمد ابراہیم فیصل آباد 835 محمد اسامہ محمد ہارون چنیوٹ 836 جمیل احمد محمد رمضان رحیم یار خان 837 محمد راشد محمد بلال ڈی جی خان 838 منیر احمد زہر اللہ ڈی جی خان 839 محمد عثمان محمد ابراہیم ڈی جی خان 840 عامر بشیر بشیر احمد وہاڑی 841 محمد ذیشان محمد اظہر اقبال رحیم یار خان 842 محمد سجاد ظہور احمد وہاڑی 843 محمد سلمان محمد رمضان بہاول پور 844 محمد وسیم منظور حسین وہاڑی 845 محمد محسن مختار احمد وہاڑی 846 عبدالقدیر محمد شفیع وہاڑی 847 محمد عمیر سردار محمد وہاڑی 848 نقیب اللہ عبدالمتین موسیٰ خیل 849 محمد زبیر حافظ محمد عالم وہاڑی 850 عنصر محمود محمد شریف شیخوپورہ 851 عمر بشیر بشیر احمد چنیوٹ 852 امان اللہ مطیع اللہ دیر 853 رحمت اللہ عبدالرؤف مظفر گڑھ 854 سعید اللہ محمد سعید خان کرک 855 محمد یاسین عبدالکریم چنیوٹ 856 امیر حمزہ الہی بخش چنیوٹ 857 حبیب اللہ محمد عبداللہ چنیوٹ 858 عبیداللہ علوی محمد وکیل علوی کراچی 859 ثناءاللہ محبوب استور 860 حافظ محمد عاقب محمد آصف چنیوٹ 861 محمد بلال ناصر محمد ناصر چنیوٹ 862 محمد شہزاد ریاض حسین بہاول پور 863 شاہد عمران فلک شیر چنیوٹ 864 محمد سلمان فاروقی بشیر احمد لودھراں 865 محمد ارشد محمد شفیق مردان 866 عبدالوحید محمد حنیف خانیوال 867 اویس محمود طارق محمود ٹوبہ ٹیک سنگھ 868 طارق عزیز منظور احمد فیصل آباد 869 محمد عبیدالرحمن محمد رمضان ٹوبہ ٹیک سنگھ 870 رحمت اللہ جہانزیب کراچی 871 زین اللہ جنداللہ قلعہ سیف اللہ 872 محمد عثمان غنی اکبر خان زیارت
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
873 محمد اسماعیل ملا نصر الدین ژوب 874 عبدالباسط منظور احمد مظفر گڑھ 875 شرف الدین عبدالودود قلعہ عبداللہ 876 طیب اللہ محمد ساد خان کراچی 877 عمر فاروق سید رسول میانوالی 878 محمد عادل محمد فاروق کراچی 879 محمد وحید حاجی غلام فرید کراچی 880 سیف الرحمن مفتی رمضان کراچی 881 محمد وسیم قاری بشیر احمد ننکانہ 882 حمزہ جمیل محمد جمیل سرگودھا 883 محمد اسامہ بشیر احمد ملتان 884 احمد حسین محمد حسین خانیوال 885 عبید الرحمن صدر اقبال صوابی 886 محمد جمشید محمد اکرم بہاول پور 887 محمد فلک شیر محمد قاسم بہاول پور 888 محمد شعیب ندیم محمد حنیف لیہ 889 محمد جاوید فتح محمد لاہور 890 محمد حسن محمد گلزار چنیوٹ 891 محمد یعقوب داؤد خان چکوال 892 محمد حمزہ محمد ابراہیم گوجرانوالہ 893 طلحہ محمد یونس گوجرانوالہ 894 زاہد اللہ عبدالرشید بٹگرام 895 حافظ ابو ہریرہ الطاف خالد فیصل آباد 896 سہیل انور عبدالستار گوجرانوالہ 897 محمد ابوذر کلیم اللہ مظفر گڑھ 898 محمد طیب محمد حنیف لودھراں 899 محمد زبیر احمد منظور حسین وہاڑی 900 محمد سہیل حبیب احمد لودھراں 901 عثمان غنی قمر الدین گوجرانوالہ 902 محمد الیاس عبد الخالق بہاول پور 903 سید انور سادات سید باقر شاہ صوابی 904 شاہ عبد القدیر سید اشرف علی صوابی 905 ضیاء الدین لقمان خان وزیرستان 906 محمد ساجد محمد امین بہاول نگر 907 عظمت اللہ زاہد خان بٹگرام 908 محمد معاویہ عبدالواحد مظفر گڑھ 909 محمد نوید احمد بشیر احمد چنیوٹ 910 محمد محسن محمد ریاض کراچی 911 محمد شعیب محمد منظور جھنگ 912 محمد فیصل حیات ظہور احمد چنیوٹ 913 محمد عمر فاروق احسان احمد جھنگ 914 محمد شعیب محمد ناصر چنیوٹ 915 ندیم اقبال محمد نعیم دیر 916 عمر فاروق عبدالحمید خان لاہور 917 بلال انوار انوار الحق گوجرانوالہ 918 ناصر علی محمد اعظم لاہور 919 عمر فاروق صدیق الرحمن فیصل آباد 920 عبد القہار عطاء الحق پشین 921 خلیل الرحمن خان وزیر راولپنڈی 922 عبدالصبور عبدالوہاب ڈی جی خان 923 محمد امین احمد حاجی محمد کریم باغ 924 عمر سلام اول خان ہنگو 925 رحمت سلام اول خان ہنگو 926 محمد الیاس ملک اعجاز احمد ڈی جی خان
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
927 محمد طارق بشیر احمد مظفر گڑھ 928 شعیب احمد محمد بچن شہداد کوٹ 929 محمد الطاف محمد مراد شہداد کوٹ 930 عبداللہ محمد اللہ خان کوہاٹ 931 خلیل الرحمن فیض الرحمن وزیرستان 932 محمد نعمان محمد عابد بہاول پور 933 محمد شاکر محمد اصغر ٹانک 934 محمد رفیق رحمت علی چنیوٹ 935 محمد عثمان عبدالرشید کراچی 936 محمد اسامہ الحسینی محمد یوسف کراچی 937 محمد نوید عبدالرحیم کراچی 938 عبدالماجد عزیز احمد شاکر کراچی 939 محمد شفیق محمد رمضان کراچی 940 ثناء اللہ سعد اللہ کراچی 941 محمد الیاس محمد یونس کراچی 942 عبدالصمد حضرت کراچی 943 سیف عالم عبدالستار کراچی 944 محمد فخر الدین رحیم جان کراچی 945 محمد ندیم حاجی غلام نبی کراچی 946 محمد ایوب جمعہ خان کراچی 947 محمد اجمل محمد رفیق کراچی 948 نعمت اللہ محمد بخش کراچی 949 وقاص احمد حمید الرحمن کراچی 950 محمد ابو ہریرہ محمد لیاقت کراچی 951 محمد کامران عبدالرحمن سرگودھا 952 محمد وحید خالد محمد خالد اقبال جھنگ 953 عثمان احمد منظور احمد ٹوبہ ٹیک سنگھ 954 حسبی اللہ رحمان اللہ نوشہرہ
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۷ء ص ۳ تا ۵۳)
پانچ روزہ ختم نبوت کورس
میٹروول ....... جامعہ اشرفیہ امدادیہ کے زیر اہتمام جامع مسجد عائشہ میٹروول سائٹ کراچی میں پانچ روزہ ختم نبوت کورس منعقد ہوا، جس کی سرپرستی جامعہ کے مہتمم و بانی مولانا مفتی عبدالجبار صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے فرمائی۔
یہ کورس ۳۰؍اپریل ۲۰۱۷ء بروز اتوار کو شروع ہو کر ۴؍مئی ۲۰۱۷ء بروز جمعرات کو اختتام پذیر ہوا۔ جس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا عبدالحئی مطمئن صاحب اور مولانا مفتی محمد اقبال صاحب (امام و خطیب جامع مسجد عرفات چاکیواڑہ لیاری ٹاؤن کراچی) نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت و عظمت، قادیانیوں کا نظریہ اجرائے نبوت اور ان کے شبہات کے جوابات، حیات اور رفع و نزول عیسیٰ علیہ السلام از قرآن وحدیث، قادیانیوں کا نظریہ وفات عیسیٰ علیہ السلام اور اس پر ان کے شکوک و شبہات کے جوابات، مرزا غلام احمد قادیانی کے کذبات، جھوٹی پیشینگوئیاں، مبالغے، فحش گالیاں اور دیگر بہت سے مسائل پر لیکچر دیئے اور نوٹس بھی تیار کرایا گیا۔
اس کورس میں تقریباً پچیس طلباء نے شرکت کی جس کا جوش و جذبہ قابل دید تھا اور جن کا تعلق شہر بھر کے چھوٹے بڑے مختلف مدارس کے مختلف درجات سے ہے، لیکچرز کا دورانیہ بعد نماز ظہر تا عصر تک تھا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت ۸ تا ۱۵؍جون ۲۰۱۷ء ص ۲۴)
دارالعلوم دیوبند میں چھ روزہ تحفظ ختم نبوت تربیتی کیمپ
ایشیاء کی عظیم درسگاہ دارالعلوم میں کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند کی زیر نگرانی گیارہواں چھ روزہ تعلیمی وتربیتی تحفظ
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کیمپ مئی ۲۰۱۷ء میں مہتمم دارالعلوم دیوبند مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی کی ناصحانہ کلمات کے ساتھ بحسن وخوبی اختتام پذیر ہوا۔ یہ کیمپ ۱۵؍نشستوں پر مشتمل تھا۔ اختتامی نشست کا آغاز قاری محمد عمیر لکھیم پوری کی تلاوت قرآن مجید اور مولانا محمد ارشاد اندوری کی نعت پاک سے ہوا۔ جب کہ نظامت کے فرائض کیمپ کے مربی مولانا شاہ عالم گورکھپوری نے بحسن وخوبی انجام دیے۔
کیمپ کی زیادہ تر نشستوں میں مولانا شاہ عالم گورکھپوری کے تربیتی اسباق ہوئے۔ جس کے بالترتیب تحفظ ختم نبوت کی تاریخ، عہد رسالت سے لے کر موجودہ دور تک کے فتنوں کا تاریخی پس منظر اور مختصرًا تعارف و تجزیہ، فتنہ قادیانیت کا پوسٹ مارٹم قادیانی تحریرات کی روشنی میں، جھوٹے مدعیان مہدویت کی تاریخ اور علمی وعملی میدان میں تحفظ ختم نبوت کے موضوع پر کام کرنے کے طور وطریق جیسے موضوعات تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ اردو ہندی اور دیگر مقامی زبانوں میں لٹریچر کی توسیع واشاعت پر بھی زور دیا اور ممبران کو اس پر آمادہ کیا کہ وہ رضا کارانہ طور پر اس خدمت کو انجام دیں۔
کیمپ کی گیارہویں نشست کو استاذ الاساتذہ مولانا ریاست علی بجنوری کی تعزیتی نشست میں تبدیل کر دیا گیا۔ حضرت اسی نشست میں یا اگلی نشست میں بشرط صحت ’’دور حاضر میں عقائد وعلم کلام کی اہمیت اور ضرورت‘‘ کے موضوع پر خطاب کرنے والے تھے۔ دسویں نشست کی آغاز سے قبل اپنے دولت کدے پر مولانا شاہ عالم گورکھپوری کو طلب فرمایا اور اب تک کے پیش کردہ تمام موضوعات و اسباق کا خلاصہ قدرے تفصیل سے سن کر خوب خوب دعاؤں سے نوازتے ہوئے فرمایا کہ: ’’بیٹے، کل طبیعت صحیح رہی تو صبح کی پہلی نشست میں یا اس کے بعد اختتامی نشست میں خود حاضر ہوں گا۔ بعد نماز مغرب یہ گفتگو ہوئی اور اگلے دن کا سورج طلوع ہونے سے قبل ہی حضرت خالق حقیقی سے جا ملے۔ مولانا شاہ عالم نے جب یہ روداد غم حاضرین مجلس کو سنایا تو تمام آنکھیں اشکبار ہوگئیں۔ اللہ تعالیٰ تحفظ ختم نبوت کی خدمت سے اس بے لوث تعلق و محبت کے صدقے و طفیل میں حضرت مرحوم کو اپنے جوار رحمت میں جگہ نصیب فرمائے اور تمام خدام تحفظ ختم نبوت ولواحقین واہل خاندان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین!
دو نشستوں میں قاری سید محمد عثمان منصور پوری ناظم کل ہند مجلس نے رد قادیانیت پر محاضرہ پیش کیا۔ نیز دو نشستوں میں جناب حافظ اقبال احمد ملی صدر احیاء السنہ اسلامک سینٹر مالیگاؤں نے اور ایک نشست میں مولانا اشتیاق احمد مبلغ کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند نے کذبات مرزا پر بیان کیا۔ مطالعہ اور مشاہدہ کی تمام نشستوں میں مولانا محمد شاہد انور بانکوی، ماسٹر محمد احمد گورکھپوری کارکنان مرکز التراث الاسلامی دیوبند نے علمائے کرام کے بیان کے دوران پیش کئے گئے حوالوں اور کتابوں کو پروجیکٹر سے اسکرین پر تمام شرکاء اور سامعین کو دکھایا اور کتابوں کے حوالے نوٹ کرائے۔
کیمپ میں صوبہ کیرالہ، تامل ناڈ، کشمیر، راجستھان، آسام، منی پور، تری پوری، ناگالینڈ، بہار، یوپی، ہریانہ، دہلی، آندھرا پردیش، تلنگانہ، ایم پی وغیرہ کے فضلاء نے شرکت کی جو دارالعلوم دیوبند، وقف دارالعلوم دیوبند، جامعہ شیخ زکریا دیوبند، مدرسہ اشرف العلوم گنگوہ، جامعہ شاہی مراد آباد، جامعہ مظاہر علوم سہارنپور، دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ اور دارالعلوم رحیمیہ بانڈی پوری کشمیر وغیرہ اداروں سے تعلق رکھتے ہیں، اندراج رجسٹر کے مطابق ان سب کی تعداد ۲۲۵ ہے۔ فضلاء مدارس عربیہ کے علاوہ، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، یوپی، دہلی، حیدرآباد، ہریانہ، راجستھان، ۷۵ کی تعداد میں وہ افراد شریک پروگرام ہوئے جو مدارس سے منسلک نہیں بلکہ وکالت، بزنس، یا عصری تعلیمی اداروں سے تعلق رکھتے ہیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اختتامی نشست سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی نے فرمایا کہ آپ سب کو چھ روزہ تربیتی کیمپ میں شرکت کے بعد یہ احساس ضرور ہوا ہو گا کہ ابھی تک ہم لوگ ان باطل تحریکوں اور فتنوں کی خطرناکی سے نا آشنا تھے۔ اس کیمپ سے استفادہ کے بعد یہ احساس پیدا ہو جانا ہی بہت بڑی کامیابی ہے۔ جن علاقوں میں مجلس تحفظ ختم نبوت قائم کیا گیا ہے۔ مثلاً حیدرآباد، وہاں تو اتنا کام بڑھا ہے کہ وہاں کی مجلس نے اپنی زمین خرید کر مستقل طور پر اپنی عمارت بنائی ہے اور اب وہ مستقل ایک ادارہ بن گیا ہے۔ اب آپ سب یہاں سے احساس ذمہ داری کا جذبہ لے کر اٹھیں اور اپنے اپنے علاقوں میں باطل قوتوں سے مسلمانوں کے ایمان وعقائد کو محفوظ کرنے کی خدمت میں مشغول ہو جائیں اور مرکزی دفتر کل ہند مجلس کو اپنی سرگرمیوں سے باخبر رکھیں۔ بیان کے اختتام سے قبل مولانا شاہ عالم گورکھپوری کی تازہ تصنیف ”اسلامی عقائد و معلومات“ نامی کتاب کے ملیالم زبان کا رسم اجراء بھی حضرت مہتمم صاحب کے بدست عمل میں آیا۔ اس کتاب کا ملیالم زبان میں ترجمہ مولانا بادشاہ کیرالوی شعبہ تحفظ ختم نبوت کے سہ ماہی کورس کے تربیت یافتہ نے کیا ہے۔ بعد ازاں تمام شرکاء کو سند شرکت اور موضوع سے متعلق قیمتی کتابیں بطور انعام دی گئیں اور مولانا مفتی ابوالقاسم کی رقت آمیز دعاء پر پروگرام مکمل ہوا۔
اس موقع پر بطور خاص مولانا محمد نسیم احمد بارہ بنکوی، مولانا اسعد اللہ بستوی، مولانا اشتیاق احمد مہراج گنجی، مولانا محمد شاہد انور بانکوی، ماسٹر محمد احمد گورکھپوری، مولانا محمد حذیفہ گجراتی، مولوی عبداللہ ہریدواری، مولوی عبد الماجد چمپارنی، مولانا محمد یونس راجستھانی و دیگر موجود رہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۱۷ء ص ۴۹، ۵۰)
مولانا اللہ وسایا کا تبلیغی دورہ گوجرہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۴ مئی ۲۰۱۷ء بروز جمعرات بعد نماز عشاء چک نمبر ۱۵۷ گ، ب جتھے اڈہ بشیر آباد مونگی بنگلہ روڈ گوجرہ میں عظمت قرآن کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت مولانا اسعد مدنی نے فرمائی۔ جامعہ فیض القرآن کے مہتمم مولانا قاری حیدر علی، نائب مہتمم قاری محمد عثمان کی دعوت پر مولانا اللہ وسایا صاحب تشریف لائے اور خطاب فرمایا۔ آپ نے کہا کہ تمام تر ترامیم قابل برداشت ہیں۔ لیکن ناموس رسالت کے قانون میں کسی طرح کی ترمیم ، تبدیلی یا کمی بیشی کسی صورت میں بھی برداشت نہیں کی جائے گی۔ علاوہ ازیں کانفرنس میں مولانا مفتی شاہد عمران عارفی نے ختم نبوت و ناموس رسالت پر کلام پیش کر کے کانفرنس کو چار چاند لگائے ۔ مولانا مفتی محمد اعجاز جامعہ امدادیہ فیصل آباد، مولانا عبدالقدوس گجر ، مولانا عاصم و دیگر علماء کرام نے بھی ناموس رسالت کے تحفظ پر اظہار خیال فرمایا۔ کانفرنس کی نقابت ضلعی مبلغ مولانا محمد حبیب نے کی۔ جامعہ کے ۱۶؍ طالبات کی چادر پوشی ۱۴؍ طلباء کی دستار بندی مولانا اللہ وسایا، مولانا اسعد مدنی ، مولانا عاصم اور مفتی محمد اعجاز سے کرائی گئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۷ء ص ۵۶)
چھ روزہ تربیتی و اصلاحی تحفظ ختم نبوت کورس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع ملیر کے زیر اہتمام مدرسہ تعلیم القرآن ختم نبوت جامع مسجد اقصیٰ شاہ لطیف ٹاؤن میں اہل علاقہ کی مستورات اور مدرسہ کی طالبات کے لئے چھ روزہ تربیتی و اصلاحی ختم نبوت کورس کا انعقاد کیا گیا۔ کورس کا آغاز ۶ مئی ۲۰۱۷ء بروز ہفتہ صبح نو بجے مولانا محمد اسحاق مصطفیٰ کے درس سے ہوا۔ درس کا عنوان ”تحفظ ختم نبوت کی اہمیت اور فضیلت“ تھا۔ اس کے بعد مدرسہ ہذا کے شعبہ ناظرہ کے استاذ مولانا صدام حسین نے ”عقیدۂ توحید و رسالت“ پر بیان کیا۔ ۷ مئی کو پہلا سبق حافظ عبد الوہاب پشاوری نے ”آیات ختم نبوت“ پر دیا۔ دوسرا سبق مولانا محمد اسحاق مصطفیٰ نے ”قادیانیت کا تعارف اور مرزا قادیانی کے دجل اور افترا پر پڑھایا اور عقیدۂ ظہور مہدی
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کے عنوان پر بھی درس دیا۔ ۸؍ مئی کو بنت مولانا عبدالرزاق ہزاروی نے ’’خواتین کا دین کی ترویج واشاعت میں کردار‘‘ پر بیان کیا۔ دوسرا درس مولانا طارق محمود قاسمی نے ’’صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا تحفظ ختم نبوت میں کردار‘‘ پر تفصیل سے دیا۔ ۹؍ مئی کو پہلا سبق مولانا صدام حسین اور دوسرا سبق مولانا عبدالحئی مطمئن نے ’’حیات عیسیٰ علیہ السلام اور ظہور مہدی‘‘ کے عنوان پر دیا۔ ۱۰؍ مئی کو مولانا احسن راجہ نے ’’خواتین میں موجودہ رسوم و بدعات‘‘ پر تفصیلی گفتگو کی اور دوسرا درس مرکزی مبلغ ختم نبوت مولانا مفتی محمد راشد مدنی کا ہوا۔ ۱۱؍ مئی کو پہلا سبق مفتی مبشر ابراہیم ، دوسرا سبق مولانا عبد الماجد اور تیسرا سبق مولانا مفتی مسعود کا ہوا اور مفتی مسعود کی دعاء ہی سے کورس اختتام پذیر ہوا۔ اہل علاقہ نے اس کورس کو خوب سراہا اور تقریباً ۵۰ سے زائد خواتین نے شرکت کی اور آئندہ بھی ایسی مجالس میں اپنی شرکت کے ساتھ دوسری خواتین کی شرکت کو بھی یقینی بنانے کا عزم کیا۔ اللہ پاک اس کورس کو اہل علاقہ کے ایمان ویقین کی حفاظت اور باطل فتنوں کے سدباب کا ذریعہ بنائے ۔ آمین!
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۲۳؍جون تا ۷؍جولائی ۲۰۱۷ء ص ۱۱)
کراچی میں مولانا مفتی محمد راشد مدنی کے تبلیغی پروگرام
گزشتہ دنوں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا مفتی محمد راشد مدنی پانچ روزہ دورہ پر کراچی تشریف لائے۔ یہاں پر مختلف دینی مدارس میں آپ کے تبلیغی واصلاحی پروگرام منعقد ہوئے جن کی مختصر روئداد درج ذیل ہے:
پہلا پروگرام: جامعہ اشرف المدارس کی انتظامیہ نے دورۂ حدیث اور تخصص کے طلباء کے لئے ۱۲ روزہ فرق باطلہ کورس ترتیب دیا، جس میں ملک بھر سے اس فن کے ماہرین علماء ومشائخ کو مدعو کیا گیا تھا۔ چنانچہ جامعہ کے رئیس مولانا حکیم محمد مظہر صاحب دامت برکاتہم کی دعوت پر مولانا مفتی محمد راشد مدنی نے تین روز تک ’’عقیدۂ حیات عیسیٰ علیہ السلام اور رد عیسائیت‘‘ کے موضوع پر علماء وطلباء کو لیکچر دیا اور تیاری کروائی۔ شرکاء کے سامنے اپنے علمی اور تجربات کا نچوڑ پیش کیا۔
دوسرا پروگرام: جامعہ بنوریہ سائٹ کراچی کے مہتمم مولانا مفتی محمد نعیم کی خواہش پر مولانا مفتی محمد راشد مدنی نے جامعہ کے تمام تخصصات اور ملکی وغیر ملکی طلباء کو تحفظ ختم نبوت کورس کرایا۔ انہوں نے عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت وفضیلت، قادیانیوں کے گمراہ کن عقائد و نظریات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔
تیسرا پروگرام: ۶؍ مئی بعد نماز عشاء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حلقہ بلدیہ ٹاؤن کے زیر اہتمام جامع مسجد امیر حمزہ میں ختم نبوت کانفرنس منعقد کی گئی۔ جامع مسجد کے امام وخطیب مولانا عبدالستار نے تلاوت کی۔ حمد ونعت کے بعد مولانا مفتی محمد راشد مدنی صاحب نے اسلام کے بنیادی عقائد تفصیل سے بیان کئے۔
چوتھا پروگرام: اسی طرح ۷؍ مئی کو حلقہ اورنگی ٹاؤن کے زیر اہتمام جامع مسجد غوثیہ مدرسہ معاذ بن جبل سیکٹر ۱۱ اورنگی ٹاؤن میں بھی بعد نماز عشاء ختم نبوت کانفرنس انعقاد پذیر ہوئی جس کے آغاز میں امام وخطیب مولانا مفتی عبدالکبیر نے تلاوت کی، جب کہ مولانا شعیب کمال نے نقابت کے فرائض انجام دیئے۔ اس موقع پر مولانا مفتی راشد مدنی نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت پر امت مسلمہ چودہ سو سال سے متفق چلی آرہی ہے۔ اس عقیدہ پر امت کا سب سے پہلا اجماع ہوا اور جھوٹے مدعیان نبوت کو کیفر کردار تک پہنچایا گیا۔ اس پروگرام میں مولانا احسن راجہ نے بھی بیان کیا۔ مقامی علماء کرام اور عوام الناس کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
پانچواں پروگرام: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۸؍ مئی بعد نماز عشاء جامع مسجد گول مارکیٹ ناظم آباد میں درس ختم
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نبوت رکھا گیا، جس میں بیان کرتے ہوئے مولانا مفتی محمد راشد مدنی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات ونزول، ظہور حضرت مہدی علیہ الرضوان اور ردعیسائیت پر دلائل دیئے۔ چھٹا پروگرام: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ذیلی دفتر جامع مسجد اقصیٰ شاہ لطیف ٹاؤن لانڈھی میں چھ روزہ تحفظ ختم نبوت تربیتی کورس منعقد کیا گیا جس میں مختلف علماء کرام نے شرکاء کورس کو لیکچر دیئے۔ اختتامی تقریب میں مولانا مفتی راشد مدنی نے بھی عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے سلسلہ میں اکابر علماء کرام کی سنہری خدمات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۶ تا ۲۲/ جون ۲۰۱۷ء ص۲۴)
آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس علی پور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۷/مئی ۲۰۱۷ء بروز اتوار بمقام جامع مسجد عثمان غنی علی پور میں آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں خصوصی شرکت مولانا تنویر الحق تھانوی کراچی اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری نے فرمائی۔ جماعت اسلامی، جماعت اہل سنت بریلوی، جماعت اہلحدیث سمیت متعدد علماء کرام نے اپنے اپنے بیانات ریکارڈ کرائے۔ کانفرنس میں تمام اداروں اور جماعتوں کے ممبران نے بھرپور شرکت کی۔ آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کے اجتماع سے مجلس تحفظ ختم نبوت کے ضلعی مبلغ قاضی عبدالخالق نے قراردادیں پیش کر کے اجتماع سے تائید حاصل کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۷ء ص۲۹)
مولانا پیر ناصر الدین خاکوانی مدظلہ کا دورہ قصور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور سلسلہ نقشبندیہ کے زیر اہتمام ۱۴/مئی ۲۰۱۷ء بروز اتوار بعد نماز عصر تا عشاء جامع مسجد التوحید میں حاجی محمد شفیع مغل کی صدارت میں اصلاحی پروگرام منعقد ہوا۔ جس میں خصوصی شرکت عالمی مجلس کے مرکزی نائب امیر مولانا پیر حافظ ناصر الدین خاکوانی مدظلہ نے فرمائی۔ عصر کے بعد پہلی نشست کا آغاز محمد اسامہ فاروقی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ محمد نوید نے ہدیہ نعت پیش کیا۔ بعد نماز مغرب دوسری نشست کا آغاز قاری مشتاق احمد رحیمی اور بین الاقوامی شہرت یافتہ قاری احسان اللہ فاروقی کی تلاوت کلام مجید سے ہوا۔ نقابت کے فرائض مفتی ظہیر احمد ظہیر نے سرانجام دیئے۔ آخری اور مفصل خطاب حضرت قبلہ پیر خاکوانی مدظلہ کا ہوا۔ نیز حضرت پیر خاکوانی مدظلہ نے جامع مسجد اللہ اکبر، جامعہ عبداللہ بن عباسؓ، جامع مسجد الحرم، جامع مسجد محمدیہ، جامع مسجد حسین بن علیؓ قصور کا خصوصی دورہ فرمایا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۷ء ص ۵۶)
سہ ماہی اجلاس مبلغین
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغین کا سہ ماہی اجلاس دفتر مرکزیہ میں ۳، ۴/ جولائی ۲۰۱۷ء کو منعقد ہوا۔ جس کی مختلف نشستوں کی صدارت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری، مولانا محمد اکرم طوفانی اور مولانا اللہ وسایا نے کی۔ گزشتہ سہ ماہی میں فوت ہونے والے حضرات مولانا پیر سیف اللہ خالد لاہور، مولانا خلیل احمد رشیدی اوکاڑہ، قاری محمد زکریا دیپالپور، برادر نسبتی مولانا قاری عبدالوحید قاسمی اسلام آباد، صوفی دین محمد گوجرہ کے پوتے حافظ ولی اللہ، مولانا عبدالرشید سیال مبلغ فیصل آباد کے سسر، چوہدری نوازش علی ایڈووکیٹ حجرہ شاہ مقیم، سید انیس جیلانی صادق آباد، اہلیہ محترمہ قاری محمد طیب حنفی بورے والا، اہلیہ محترمہ مولانا حافظ محمد نواز کہروڑ پکا، اہلیہ محترمہ مولانا عبدالرحمٰن رینالہ خورد، والدہ محترمہ مولانا عطاء المنعم نعیم خانیوال، مولانا خالد عابد مبلغ شیخوپورہ کی خالہ، احمد پور شرقیہ کے شہداء سمیت گزشتہ سہ ماہی میں انتقال فرمانے والے جماعتی رفقاء کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی اور دعائے مغفرت کی گئی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گزشتہ سہ ماہی میں ہونے والے ختم نبوت کورسز، کانفرنسز کی کامیابی پر اللہ پاک کا شکر ادا کیا گیا۔ خطباء اور شرکاء کا شکریہ۔ آل پاکستان ختم نبوت کورس چناب نگر کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے مولانا عزیز الرحمن ثانی نے کہا کہ کورس میں امسال نو سو ساٹھ کا داخلہ ہوا۔ جنہیں ختم نبوت کی اہمیت وفضیلت، حیات عیسیٰ علیہ السلام، مرزا قادیانی کے کردار، دعویٰ اور دیگر فرق باطلہ کے عقائد وعزائم پر نوٹس تیار کرائے گئے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغین سمیت ملک بھر سے علماء کرام، مشائخ عظام اور شیوخ حدیث نے لیکچر دیئے۔ شرکاء کورس کو لاکھوں روپے کی کتب کا تحفہ پیش کیا گیا۔ کورس کی کامیابی پر بھی اللہ پاک کا شکر ادا کیا گیا۔ آنے والی سہ ماہی میں ملک بھر کے تمام اضلاع کی تحصیلوں میں ختم نبوت کانفرنسیں، کورسز و دروس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ کوئٹہ کے لئے مولانا محمد اویس آف کراچی، تھرپارکر سندھ کے لئے مولانا محمد حنیف سیال آف کنڈیارو کو مبلغ مقرر کیا گیا۔
چناب نگر، نواب شاہ سمیت ملک بھر میں تعمیر ہونے والے دفاتر، مساجد، مدارس کی تعمیرات کی تفصیلات پیش کی گئیں۔ اجلاس میں ملک بھر میں ہونے والی دہشت گردی کی مذمت کی گئی۔ دہشت گردی کا شکار ہونے والے افراد کے لئے مغفرت اور پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دعاء کی گئی۔ اجلاس میں عہد کیا گیا کہ جب تک روئے زمین پر ایک بھی منکر ختم نبوت موجود ہے ہماری پرامن تحریک جاری رہے گی۔ حکمرانوں سے مطالبہ کیا گیا کہ گستاخی رسول کے مرتکبین جن کے متعلق اعلیٰ عدالتیں سزائے موت سنا چکی ہیں۔ اعلیٰ عدالتوں کے فیصلہ جات پر عملدرآمد کیا جائے۔ تاکہ مشال خان جیسے واقعات رونما نہ ہوسکیں۔ آزاد کشمیر کے کچھ حصے راولپنڈی کے مبلغ مولانا بدر الاسلام عباسی کے سپرد کئے گئے۔ مولانا قاری عبدالوحید قاسمی، مولانا نذیر احمد فاروقی، مولانا محمد طیب فاروقی پر مشتمل کمیٹی قائم کی گئی جو مولانا مفتی خالد میر، مولانا بدر الاسلام عباسی کے تبلیغی پروگراموں کی نگرانی کرے گی۔ تاکہ آزاد کشمیر میں مؤثر تبلیغ کی جاسکے۔
مولانا اعجاز مصطفیٰ امیر مجلس کراچی جمعیت علماء ہند کے صدر وسیکرٹری مولانا سید ارشد مدنی، مولانا سید محمود مدنی، مولانا شاہ عالم گورکھپوری سے رابطہ قائم کرکے کانفرنس میں شرکت کی دعوت دیں گے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۱۷ء ص ۵۳،۵۴)
مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کے تبلیغی و تنظیمی دورے
مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے ماہ شوال المکرم مطابق جولائی میں درج ذیل شہروں کے دورے کئے۔ یکم؍ جولائی ۲۰۱۷ء کو خطبہ جمعہ ربانی مسجد جلالپور پیر والا۔ ۷؍ جولائی کو خطبہ جمعہ جامع مسجد قاسمیہ چوک سرور شہید مظفرگڑھ۔ مظفرگڑھ اور لیہ کے نئے مبلغ مولانا محمد ساجد کے تعارف کے لئے چوک اعظم اور لیہ میں جماعتی احباب سے ملاقاتیں۔ ۸؍ جولائی کو جمن شاہ، دائرہ دین پناہ، کوٹ ادو، سناواں اور چوک قریشی میں اجتماعات سے خطاب اور جماعتی رفقاء سے ملاقاتیں۔ ۹؍ جولائی کو مظفرگڑھ، خان گڑھ احباب سے ملاقاتیں، جامعہ احیاء العلوم کے سابق مہتمم مولانا محمد سالم اور نوابزادہ منصور احمد خان سے ان کی اہلیہ محترمہ کی وفات پر تعزیت اور دعائے مغفرت۔ ۱۰؍ جولائی شہر سلطان، پرمٹ، یاکی والی میں ملاقاتیں اور مبلغ کا تعارف۔ ۱۱؍ جولائی کو علی پور، جتوئی کے رفقاء سے ملاقاتیں۔ مدرسہ دارالہدیٰ پرمٹ میں حفظ کی کلاس کا افتتاح، جامعہ حسینیہ کی کلاسوں کے افتتاحی پروگرام سے خطاب۔ ۱۳؍ جولائی جامع مسجد تالاب والی کہروڑ پکا میں درس قرآن کے اجتماع سے خطاب، علماء شہر واساتذہ کرام جامعہ اسلامیہ باب العلوم سے ملاقاتیں اور سابق امیر مرکزیہ حکیم العصر مولانا عبدالمجید لدھیانوی کے مزار پر حاضری دی۔
تحریک ختم نبوت جلد (١٠) ٢٠١٧ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نیز چشتیاں، بہاولنگر رینالہ خورد میں اجتماعات سے خطابات کئے۔ مولانا عزیز الرحمن ثانی ومولانا عبدالنعیم لاہور کی معیت میں جناب میاں محمد اجمل قادری، مولانا فضل الرحیم، مولانا عبدالرؤف فاروقی، قاری زوار بہادر، جناب سید سلیمان گیلانی، جناب لیاقت بلوچ کو سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کے دعوت نامے دیئے۔ حسن ابدال، ہری پور ہزارہ، ٹیکسلا، راولپنڈی، مری، کہوٹہ، اسلام آباد، خوشاب، جوہر آباد، میلسی میں اجتماعات سے خطاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ٢٠١٧ء ص ٥٦)
ختم نبوت کورس گوجرانوالہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ کے زیر اہتمام شالیمار ٹاؤن کی مرکزی جامع مسجد میں ٨، ٩، ١٠؍ جولائی ٢٠١٧ء بروز ہفتہ، اتوار، پیر بعد نماز عشاء سہ روزہ ختم نبوت کورس منعقد ہوا۔ جس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا قاضی احسان احمد کراچی نے عقیدہ ختم نبوت، حیات مسیح علیہ السلام، امام مہدی علیہ الرضوان اور فتنہ قادیانیت کے موضوعات پر تفصیلی لیکچرز دیئے۔ مولانا لقمان شمس اور ضلعی مبلغ مولانا محمد عارف شامی کے لیکچرز بھی ہوئے۔ ختم نبوت کورس میں تینوں دن بھر پور حاضری رہی۔ کورس کی کامیابی میں حاجی عبدالوحید، جناب غلام نبی، قاری عبدالغفور آرائیں اور مولانا محمد اشرف مجددی کا واضح کردار رہا۔ کورس کے اختتام پر شرکاء کورس کو ختم نبوت کے موضوعات پر لٹریچر اور کتب بھی دی گئیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ٢٠١٧ء ص ٥٢)
مولانا اللہ وسایا کا دورہ سمندری وکمالیہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ١٣؍ جولائی ٢٠١٧ء بروز جمعرات بعد نماز عشاء جامعہ دارالعلوم فیض عام میں قاری سید احمد رضا شاہ امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سمندری کی دعوت پر مولانا اللہ وسایا تشریف لائے۔ کانفرنس کی تلاوت جامعہ کے قاری محمد خبیب وقاری غلام مصطفیٰ نے کی۔ نعت رسول مقبول ﷺ جناب ریاست علی تاندلیانوالا نے پیش فرمائی۔ مولانا محمد خبیب مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کمالیہ ومولانا اللہ وسایا مدظلہ نے عقیدہ ختم نبوت وحیات حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر مدلل ومفصل خطاب فرمایا۔ کانفرنس کی صدارت مولانا قاری محمد یونس جب کہ نگرانی قاری سید احمد رضا شاہ نے فرمائی۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ١٤؍ جولائی ٢٠١٧ء کا خطبہ جمعتہ المبارک جامع مسجد نیم والی کمالیہ میں مولانا پیر جی عتیق الرحمن امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کمالیہ کے مدعو کرنے پر مولانا اللہ وسایا صاحب نے ختم نبوت وناموس رسالت ﷺ پر خطاب ارشاد فرمایا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ٢٠١٧ء ص ٥٤)
ختم نبوت کانفرنس ہری پور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت یونٹ غازی علم دین شہید، کھلا بٹ ہری پور کے زیر اہتمام ٢١؍ جولائی ٢٠١٧ء بروز جمعتہ المبارک جامع مسجد سالکین میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت استاذ العلماء مفتی محمد عمر نے فرمائی۔ حافظ محمد عثمان کی تلاوت کلام پاک سے پروگرام کا آغاز ہوا۔ ہدیہ نعت رسول ﷺ مفتی ہارون الرشید نے پیش کیا۔ مولانا محمد طیب فاروقی اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خصوصی خطاب کیا۔
کانفرنس میں مولانا قاری فدا محمد، مفتی نوید انجم، مولانا عامر شہزاد، مولانا جمیل اختر، مولانا عابد علی شاہ، مولانا عبدالقادر، مولانا محمد صالح، مولانا صاحبزادہ عطاء الحی اور قاری عبدالمالک سمیت علاقہ بھر کے علماء کرام، قراء حضرات اور کثیر تعداد میں عوام الناس نے شرکت
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کی۔ نقابت کے فرائض مولانا احسان عظیم نے سرانجام دیئے۔ کانفرنس کے اختتام پر علماء کرام نے یونٹ کے امیر مفتی شمس الدین نقشبندی کو شاندار پروگرام کے انعقاد پر مبارک باد پیش کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۱۷ء ص ۵۵، ۵۶)
ہری پور میں ختم نبوت کانفرنس
ہری پور ہزارہ کی ملحقہ آبادی ”کھلابٹ“ میں ۲۱ / جولائی ۲۰۱۷ء مغرب کی نماز کے بعد ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت مقامی امیر مولانا قاری فداء محمد خان نے کی۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا احسان عظیم نے سرانجام دیئے۔ تلاوت ونعت کے بعد مولانا محمد طیب اسلام آباد اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کے بیانات ہوئے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۲۳ تا ۳۱ اگست ۲۰۱۷ء ص ۲۱)
ختم نبوت کانفرنس راولپنڈی
راولپنڈی شہر کی شاندار مسجد، جامع مسجد اسلامیہ اسکول مری روڈ میں ۲۲ / جولائی ۲۰۱۷ء مغرب کی نماز کے بعد ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی، جس کی صدارت مسجد کے خطیب مولانا محمد آدم خان نے کی۔ تلاوت و نعت کے بعد مولانا محمد طیب اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کے بیانات ہوئے۔ کانفرنس میں مولانا ابوبکر توحیدی، حافظ محمد الیاس، بھائی محمد ناصر، سمیت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے کارکنوں اور شہر کے علماء کرام نے شرکت کی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۳ تا ۳۱ اگست ۲۰۱۷ء ص ۲۱)
افتتاحی تقریب تحفظ ختم نبوت موڑ کھنڈہ صوابی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۲۳ / جولائی ۲۰۱۷ء بعد نماز عصر صوابی میں ”کھنڈہ موڑ“ کا نام تبدیلی کے بعد ”تحفظ ختم نبوت موڑ کھنڈہ“ مقرر ہونے پر افتتاحی تقریب پیر طریقت مولانا اعزاز الحق شاہ منصوری کی صدارت میں منعقد کی گئی۔ جس میں مولانا مفتی عابد وہاب، مولانا محمد اعجاز ودیگر علماء کے بیانات ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۷ء ص ۵۳)
ختم نبوت کانفرنس مری
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام کوہسار مری میں ۲۳ / جولائی ۲۰۱۷ء مغرب کی نماز کے بعد ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی، جس کی صدارت مری کے امیر مولانا سیف اللہ سیفی نے کی۔ کانفرنس کا انتظام قاری محمد طارق امام جامع مسجد صدیق اکبر جی پی او چوک اور ان کے رفقاء نے کیا۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت راولپنڈی کے مبلغ محمد بدرالاسلام عباسی نے سرانجام دیئے۔ تلاوت و نعت کی سعادت جامع مسجد صدیق اکبر کے دو طلباء نے حاصل کی۔ کانفرنس سے مولانا محمد طیب اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قائد اعظم یونیورسٹی سے ملحقہ فزکس کے شعبہ کا نام جنونی قادیانی ڈاکٹر عبدالسلام سے متعلق نوٹیفکیشن واپس لیا جائے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۳ تا ۳۱ اگست ۲۰۱۷ء ص ۲۱، ۲۲)
ختم نبوت پروگرامز..... مولانا عبدالحی مطمئن
مولانا اللہ وسایا ۲۴ / جولائی ۲۰۱۷ء کو کراچی تشریف لائے، علمائے ختم نبوت اور کارکنان نے نہایت گرم جوشی سے استقبال کیا اور خیر مقدمی کلمات پیش کئے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے زیر اہتمام شہر بھر کے مختلف مقامات پر مولانا مدظلہ کے پروگرامات منعقد کئے گئے، جن کی تفصیل حسب ذیل ہے:
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پہلا پروگرام : ۲۴ / جولائی بروز پیر بعد نماز مغرب مدرسہ یسین القرآن اکبری مسجد نارتھ کراچی میں استاذ العلماء مولانا مفتی نجم الحسن امروہی مدظلہ کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں مولانا اللہ وسایا نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت و فضیلت پر خصوصی خطاب فرمایا بعد نماز عشاء مفتی صاحب سے خصوصی نشست ہوئی۔
دوسرا پروگرام: ۲۵ / جولائی بروز منگل جامع مسجد مدینہ اختر کالونی برادر مکرم مولانا حافظ عبدالقادر کی مسجد میں منعقد ہوا۔ مولانا دامت برکاتہم نے مقامی آبادی اور ماحول کے پیش نظر سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی حیات و رفع اور نزول من السماء کے اہم عنوان پر بہت مدلل اور وقیع خطاب فرمایا۔
تیسرا پروگرام : ۲۶/ جولائی بروز بدھ بعد نماز عشاء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے جدید مرکز گرین ٹاؤن شاہ فیصل کالونی کی جامع مسجد خاتم النبیین میں مولانا مفتی عادل غنی کی زیر نگرانی منعقد ہوا، جس میں مولانا قاضی احسان احمد نے پروگرام کی غرض و غایت بیان کی اور مولانا اللہ وسایا کو خطاب کی دعوت دی۔ مولانا مدظلہ نے اکابرین ختم نبوت کی قربانیوں پر مشتمل دلنشین انداز میں خطاب فرمایا۔
چوتھا پروگرام : ۲۷ / جولائی بروز جمعرات بعد نماز عشاء مرکز ختم نبوت پرانی نمائش ایم اے جناح روڈ ایک تربیتی نشست رکھی گئی، جس میں علاقائی کارکنوں نے بہت محنت اور شوق کے ساتھ شرکت کی الحمد للہ! مسجد کا ہال، برآمدہ، صحن اور گیلری سامعین سے پُر ہو گئے اور تل دھرنے کی جگہ نہ رہی۔ مولانا اللہ وسایا نے جماعتی اصول، مشن کی حفاظت، اپنی ذات کو مشن اور نظریہ کے تحفظ کے لئے قربان کرنا اور اس جیسے اہم ، قیمتی اور ضروری اصولوں پر کارکنانِ تحفظ ختم نبوت سے خطاب فرمایا، ابتدائی اور تفصیلی گفتگو بعد نماز مغرب راقم عبدالحئی مطمئن نے کی۔
پانچواں پروگرام : مولانا نے خطبہ جمعہ جامع مسجد شافعی شیر شاہ میں دیا، جہاں مولانا محمد حامد اور بھائی فیصل نے پُرتپاک استقبال کیا۔ مولانا قاضی احسان احمد بھی حضرت کے ہمراہ تھے انہوں نے خطبہ جمعہ حق الاسلام مسجد میں دیا۔
چھٹا پروگرام : بعد نماز مغرب جامع مسجد پٹھان کیماڑی ٹاؤن مولانا قاضی فخر الحسن امیر جمعیت علماء اسلام حلقہ کیماڑی کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں مولانا اللہ وسایا نے تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء کا پس منظر، مذہبی و سیاسی جماعتوں کی خدمات اور عاشقان مصطفیٰ کے جوش وخروش اور اسمبلی کے تاریخی فیصلے پر دلنشین انداز میں خطاب فرمایا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۲۴ تا ۳۱ / اگست ۲۰۱۷ء ص ۱۳)
درس ختم نبوت جوہر آباد
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جوہر آباد کے زیر اہتمام ۲۵/ جولائی ۲۰۱۷ء بروز منگل بعد نماز مغرب مدرسہ محمدیہ صدیقیہ شبیر کالونی جوہر آباد میں درس ختم نبوت حافظ عبدالغفور کی سرپرستی میں منعقد ہوا۔ پروگرام کا آغاز قاری سعید الرحمن کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ ہدیہ نعت رسول مقبول ﷺ جناب محمد عثمان افضل نے پیش کیا۔ نقابت کے فرائض قاری محمد عرفان نے سرانجام دیئے۔ پروگرام سے خوشاب کے مبلغ مولانا محمد نعیم اور مرکزی ناظم تبلیغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کے بیانات ہوئے۔ پروگرام میں مولانا مفتی زاہد امیر مجلس جوہر آباد، مولانا محمد اسماعیل جوہر آباد، مولانا فداء الرحمن، مولانا قاری محمد آصف گنجیال سمیت شہر بھر اور مضافات سے کثیر تعداد نے شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۱۷ء ص ۱۵)
ختم نبوت سیمینار چک نمبر ۱۵، جوہر آباد
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت چک ۱۵ / جوہر آباد کے زیر اہتمام ۲۶/ جولائی ۲۰۱۷ء بروز بدھ بعد نماز مغرب مولانا محمد عبداللہ کی زیر
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سرپرستی ختم نبوت کا پروگرام منعقد ہوا۔ پروگرام میں تلاوت کلام پاک کی سعادت حافظ عبدالمنان جب کہ نعت رسول مقبول ﷺ کی سعادت جناب محمد اسامہ نے حاصل کی۔ پروگرام سے مولانا محمد عبداللہ، مولانا محمد نعیم مبلغ خوشاب، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی و دیگر حضرات نے خطابات کئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۱۷ء ص ۵۵)
ختم نبوت کانفرنس میلسی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۲۷/ جولائی ۲۰۱۷ء کو جامع مسجد بلال رضی اللہ عنہ عدالتوں والی میں بعد نماز مغرب سالانہ تحفظ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت جامعہ اسلامیہ باب العلوم کہروڑ پکا کے نائب شیخ الحدیث مولانا شیخ حبیب احمد مدظلہ نے فرمائی۔ کانفرنس کا آغاز قاری محمد امیر معاویہ کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ حمد باری تعالیٰ حافظ امیر حمزہ اور نعت رسول مقبول ﷺ مولانا معوذ نے پیش کی۔ کانفرنس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم تبلیغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا خواجہ عبد الماجد صدیقی امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت خانیوال، مولانا عبدالستار گورمانی مبلغ مجلس ضلع وہاڑی و خانیوال کے بیانات ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۱۷ء ص ۵۴، ۵۵)
مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کے تبلیغی دورے
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے صوبہ سندھ کا پندرہ روزہ تبلیغی و تنظیمی دورہ کیا۔ یکم اگست ۲۰۱۷ء بعد نماز عصر جامعہ انوریہ طاہر والی، رات دین پور شریف۔ ۲/اگست ۲۰۱۷ء گیارہ تا بارہ بجے دن جامعہ مخزن العلوم خانپور دورہ حدیث کے طلباء سے خطاب اور رحیم یار خان کے علماء کرام اور جماعتی رفقاء سے ملاقاتیں۔ ۳/اگست ۲۰۱۷ء گیارہ تا بارہ بجے دن جامعہ اشرفیہ سکھر میں طلباء سے خطاب، بعد نماز عشاء مدنی مسجد آدم شاہ کالونی سکھر میں بیان۔ ۴/اگست ۲۰۱۷ء خطبہ جمعۃ المبارک جامع مسجد مکی سانگی پنوعاقل، بعد نماز عشاء پیغام مصطفیٰ ﷺ کانفرنس سکھر میں بیان۔ ۵/اگست ۲۰۱۷ء دارالعلوم سکھر میں گیارہ تا بارہ بجے دن طلباء واساتذہ سے خطاب، بعد نماز عصر جامع مسجد باغ رسول پرانا سکھر، بعد نماز عشاء جامع مسجد الفاروق بمعیت مولانا محمد حسین ناصر۔ ۶/اگست ۲۰۱۷ء جامعہ حمادیہ منزل گاہ میں گیارہ تا بارہ بجے دن، جامعہ فیض العلوم قاسمیہ ٹھیڑھی میں بعد نماز عصر اور ختم نبوت کانفرنس محمدی مسجد محراب پور میں بمعیت مولانا تجمل حسین بعد نماز عشاء بیانات ہوئے۔ ۷/اگست ۲۰۱۷ء بعد نماز ظہر مدینہ مسجد خان واہن، بعد نماز عشاء ختم نبوت کانفرنس کنڈیارو: مولانا محمد ادریس، مولانا سلیم اللہ سومرو، حاجی امداد اللہ پھلپوٹو، مولانا مفتی طاہر ہالیجوی، مولانا سائیں عبدالمجیب قریشی پیر شریف سے ملاقاتیں کیں۔ ۸/اگست ۲۰۱۷ء بھریا روڈ اور دوڑ کے مدارس میں خطاب، بعد نماز عشاء کانفرنس جامع مسجد الکوثر الیسر پور نواب شاہ، مولانا مفتی محمد انیس بمعیت مولانا تجمل حسین۔ ۹/اگست ۲۰۱۷ء بعد نماز عصر دارالعلوم الحسینیہ شہداد پور، بعد نماز عشاء جامع مسجد جدہ شہداد پور میں ختم نبوت کانفرنس بمعیت مولانا تجمل حسین، مولانا توصیف احمد۔ ۱۰/اگست ۲۰۱۷ء ملاقات علامہ احمد میاں حمادی، مولانا مفتی حفیظ الرحمٰن ٹنڈو آدم، گیارہ بجے دارالعلوم اسلامیہ ہالہ میں خطاب۔ ۱۱/اگست ۲۰۱۷ء جامعہ فاطمۃ الزہرہ رضی اللہ عنہا جامشورو میں طالبات وخواتین سے خطاب۔ ۱۲/اگست ۲۰۱۷ء خطبہ جمعۃ المبارک جامع مسجد امیر حمزہ پریٹ آباد حیدر آباد، بعد نماز عشاء ختم نبوت کانفرنس جامع مسجد نہر والی حیدرآباد۔ ۱۳/اگست ۲۰۱۷ء انوار القرآن ٹنڈو محمد خان، جامع مسجد بھٹورو بعد نماز عصر، بعد نماز عشاء مرکزی مسجد سجاول میں ختم نبوت کانفرنس۔ ۱۴/اگست ۲۰۱۷ء جامعہ باب الاسلام، بخاری مسجد ٹھٹھہ اور سونڈ میں ختم نبوت کانفرنس۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۱۵؍ اگست ۲۰۱۷ء کوٹری کے جامعات میں بیانات ۔ ۱۶؍ اگست ۲۰۱۷ء دار الفیوض دادو کے طلباء سے خطاب۔ ۱۷؍ اگست ۲۰۱۷ء جامعہ قاسم العلوم گھوٹکی میں ختم نبوت کانفرنس۔ مذکورہ بالا شہروں میں مولانا محمد حسین ناصر، مولانا تجمل حسین، مولانا توصیف احمد کی رفاقت حاصل رہی۔ ۱۸؍ اگست ۲۰۱۷ء خطبہ جمعہ جامع مسجد حقانیہ منڈی یزمان۔ ۱۹؍ اگست ۲۰۱۷ء بعد نماز عشاء ختم نبوت کانفرنس بہاولپور میں شرکت۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۷ء ص ۵۵، ۵۶)
مجلس کے وفد کا دورۂ ضلع ٹھٹہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے علماء کرام کا ایک وفد ایک روزہ دورہ پر ۴؍ اگست ۲۰۱۷ء بروز جمعتہ المبارک ضلع ٹھٹہ کے لئے بعد نماز فجر مرکز کراچی سے مولانا قاضی احسان احمد کی سربراہی میں روانہ ہوا۔ وفد میں کراچی کے مبلغ مولانا عبدالحی مطمئن، ضلع ملیر کے مبلغ مولانا محمد اسحاق مصطفیٰ، لانڈھی ٹاؤن کے ذمہ دار حافظ عبدالوہاب، مانسہرہ کالونی کے ذمہ دار حافظ احمد اور حافظ محمد شفیق بھی تھے۔ وفد کے اراکین کے لئے جامع مسجد اقصیٰ مرکز ختم نبوت شاہ لطیف ٹاؤن ضلع ملیر کے مبلغ مولانا محمد اسحاق مصطفیٰ کی طرف سے ناشتہ کا اہتمام کیا گیا تھا، ناشتہ سے فراغت کے بعد سفر کا آغاز کیا گیا۔ گھارو شہر میں عالمی مجلس کے بزرگ راہنما حافظ عبدالخالق سے رابطہ قائم کیا۔ ملاقات ہوئی پروگرام سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا اور قافلہ اپنی اگلی منزل کی طرف رواں دواں ہوا۔ بہارو تحصیل ساکرو ضلع ٹھٹہ میں عظیم دینی شخصیت، جنہوں نے اپنے شباب کے زمانہ میں شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف بنوری، مفتی اعظم پاکستان مولانا مفتی محمد شفیع جیسی نابغہ روزگار ہستیوں کی زیارت اور صحبت اٹھائی، قافلہ ختم نبوت کے میزبان تھے، انہوں نے پُر جوش استقبال کیا۔ دوپہر کا کھانا تیار تھا۔ وفد نے حسب ضرورت کھانا لیا اور اپنی اپنی تشکیل کی طرف چل دیئے۔
راقم الحروف محمد عبدالوہاب نے جامع مسجد شیخ زید ہسپتال میں عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت و فضیلت پر بیان کیا۔ مولانا عبدالحی مطمئن نے جامع مسجد رئیس سہراب خان گوٹھ میں حالات حاضرہ میں دین کی ضرورت، عقیدۂ وایمان کی حفاظت اور دشمنانِ اسلام کی سازشوں سے بچاؤ کی تدابیر پر بیان کیا۔ برادرم مکرم عبدالصمد نے مہمانوں کے اکرام کا خصوصی نظم قائم کیا تھا۔
مولانا محمد احمد نے جامع مسجد حاجی محمد حسن گوٹھ میں خطبہ جمعہ میں کہا کہ حضور نبی کریم ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع ملیر کے مبلغ مولانا مفتی محمد اسحاق مصطفیٰ نے جامع مسجد رحمانیہ میں اجتماع سے خطاب کیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مرکزی راہنما مولانا احسان احمد نے مرکزی جامع مسجد نورانی تحصیل ساکرو ضلع ٹھٹہ میں عوام الناس کے اجتماع سے خطاب کیا۔
مولانا عبدالرشید، مولانا رحمت اللہ اور دیگر علماء کرام سمیت مدرسہ جامع مسجد نورانی سے متصل مدرسہ کے طلباء نے پروگرام پر پسندیدگی اور خوشی کا اظہار کیا۔ اللہ کریم تمام احباب کو اپنی طرف سے بہت بہت جزائے خیر عطا فرمائے۔ مساجد میں بیانات سے فارغ ہو کر اب وفد نے واپسی کے سفر کا عزم کیا۔ مولانا عبدالخالق طوفانی سے دوبارہ رابطہ قائم کیا گیا۔ گجو شہر ایک چھوٹی سی بستی مختصر سی آبادی پر مشتمل گھارو سے چند کلومیٹر آگے ایک آبادی ہے، اس کے مضافات میں ایک قدیم قبرستان ہے جس میں بہت قدیم اور تاریخی قبریں موجود ہیں، ان میں سے ایک قبر پر ایک تختی آویزاں کی گئی ہے جس پر کچھ اس طرح سے تحریر کیا گیا ہے: پیر و مرشد حضرت ابوعبدالرحمٰن بن عباس بن ربیع بن حارث ؓ (تابعی)
سلطان الکاملین، شیخ العارفین، والی سندھ، حضرت شیخ ابوحفص ربیع بن صبیح سعد البصری ؒ (تابعی) المعروف حاجی شیخ
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ترابی ؒ کی قبر مبارک پر حاضری کا شرف حاصل ہوا۔ ایصال ثواب کیا۔ اللہ کریم اسلام کے ان خدام کی خدمات کو قبول ومنظور فرمائے۔
مولانا انور بدخشانی مدظلہ ”مباحث علم حدیث“ میں لکھتے ہیں: ”حضرت ربیع بن صبیح اسعدی البصری جن کو تابعی ہونے کا شرف حاصل تھا، جو بہ زمانہ مہدی خلیفہ عباسی فوج کے ایک سپاہی کی حیثیت سے سر زمین سندھ میں داخل ہوئے اور جنہوں نے واپسی پر وفات پائی تھی، ربیع بن صبیح کے متعلق صاحب کشاف الظنون کا بیان ہے : ”قیل ھو اول من صنف وبوب فی الاسلام“ کہا گیا ہے کہ یہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے اسلام میں تصنیف فرمائی۔“
طبقات ابن سعد میں ہے: ”خرج غازیا الی الھند فی البحر فمات فدفن فی جزیرة من جزائر البحر سنه ستین ومائة“ وہ غزوہ کے لئے ہندوستان میں گئے تو وہاں انتقال کیا اور کسی جزیرہ میں ۱۶۰ھ میں دفن ہوگئے۔
راستہ میں کچھ دیر کے لئے کراچی کی طرف آنے والے پانی کے ”بند“ پر جانے کا بھی اتفاق ہوا۔ برلب سڑک ایک خوبصورت جامع مسجد رحمٰن گھارو کے قریب ہے نماز عصر کے لئے رکے، امام صاحب قبلہ حافظ طوفانی سے پہلے سے واقف تھے دیگر شرکاء وفد کا بھی تعارف ہوا، جماعتی امور و دیگر امور پر تبادلہ خیال ہوا۔ طوفانی صاحب کے مدرسہ میں چائے نوش کی۔ نماز مغرب راستہ میں ادا کی اور الحمد للہ ! نماز عشاء مرکز ختم نبوت نمائش پر ادا کی۔ تمام مساجد میں بعد نماز جمعہ سندھی زبان میں لٹریچر تقسیم کیا گیا۔ رب کریم اس کوشش کو قبول فرمائے۔ آمین !
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۲۳ تا ۳۱ / اگست ۲۰۱۷ء ص ۲۳)
مولانا اللہ وسایا کا دورہ ٹوبہ ٹیک سنگھ
۹ /اگست ۲۰۱۷ء بروز بدھ دن ایک بجے ضلع کونسل ہال ٹوبہ میں مولانا محمد عبداللہ لدھیانوی امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ٹوبہ کی سرپرستی میں بعنوان استحکام پاکستان سیمینار منعقد ہوا، جس میں مولانا اللہ وسایا نے بیان فرمایا۔ سیمینار سے ملک کے نامور خطیب مولانا عبدالحمید وٹو، مولانا طاہر محمود، مسلک اہل حدیث کے پروفیسر عبدالرحمٰن لدھیانوی، مولانا ذاکر الرحمٰن صدیقی، مفتی محمد ضیاء مدنی اور مولانا طاہر الحسن نے بیانات کئے۔ سیمینار کی تیاری کے لئے مولانا محمد سعد اللہ لدھیانوی، مولانا محمد رفیق انور چشتی، مولانا انیس الرحمٰن بلوچ اور مولانا محمد حبیب مبلغ عالمی مجلس ٹوبہ نے بھر پور کردار ادا کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۷ء ص ۵۴)
اوکاڑہ اور قصور کے اضلاع میں ختم نبوت پروگرامز
۱۷/ جولائی ۲۰۱۷ء جامعہ محمودیہ تحصیل رینالہ خورد ضلع اوکاڑہ میں استاد المناظرین مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کا بیان نماز مغرب تا عشاء ہوا۔ چوہدری خالد محمود اور قاری عبدالستار نے نعت پیش کی۔
۱۱/اگست کا خطبہ جمعہ مولانا عزیز الرحمٰن ثانی نے جامع مسجد قبا میں اور مولانا عبدالرزاق نے جامع مسجد عثمانیہ میں دیا۔ اسی دن بعد نماز عشاء جامع مسجد محمد خان تحصیل چونیاں میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں تلاوت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع قصور کے قاری مشتاق احمد رحیمی نے کی۔ میاں محمد معصوم انصاری ناظم نشر واشاعت مجلس تحفظ ختم نبوت قصور اور بھائی محمد فہد نے سرپرستی کی۔ علماء کرام نے عقیدۂ ختم نبوت پر بیانات کئے۔ مشہور نعت خواں مولانا عزیز الرحمٰن شاہ آف جہانیاں منڈی نے نعت پڑھی۔ مولانا مقصود احمد، قاری ذوالفقار، حاجی محمد حنیف صدر انجمن تاجران اور مولانا اسرار معاویہ، قاری محمد یوسف شریک ہوئے اور محترم حسن علی انجمن مسجد ہذا نے صدارت کی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۱۲/ اگست بعد نماز عشاء ختم نبوت کانفرنس ناروکی مانجہ جامع مسجد امام اعظم ابو حنیفہ کے چوک تحصیل پتوکی میں مولانا وحید الحسن، مولانا کاشف کی نگرانی میں منعقد ہوئی۔ مولانا اسحاق نے نقابت کی، قاری محمد شاکر نے طلباء کو انعامات تقسیم کئے ، مولانا آصف رشیدی نے ہدیہ نعت پیش کیا۔ مولانا عبدالرزاق، مولانا عزیز الرحمن ثانی ناظم نشر واشاعت کا خطاب ہوا، مولانا عثمان کی دعاء سے کانفرنس ختم ہوئی۔
۱۳/ اگست ختم نبوت کانفرنس منچریاں تحصیل دیپال پور ضلع اوکاڑہ میں مولانا محمود الحسن، قاری محمد اقبال کی نگرانی میں بعد نماز عشاء منعقد ہوئی۔ مشہور نعت خواں قاری ابوبکر حسانی آف لاہور کی نعت مولانا عبدالرزاق، مولانا عزیز الرحمن ثانی مرکزی راہنما عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا بیان اور دعاء ہوئی۔
۱۸/ اگست بعد نماز مغرب تا عشاء مرکزی جامع مسجد گنبد والی، کوٹ مراد خان قصور میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع فیصل آباد کے مولانا سید جاوید حسین شاہ مدظلہ کا بیان اور مجلس ذکر روحانی منعقد ہوئی۔ قاری مشتاق احمد رحیمی کی تلاوت اور مولانا افتخار فخر کی نعت ہوئی۔ مولانا مختار احمد ، قاری حبیب اللہ قادری کے بیانات اور مولانا سید زہیر احمد شاہ نے صدارت کی۔ مولانا قاری احسان اللہ رحیمی نے مولانا محمد سلیم بزرگوں کا اکرام کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۳ تا ۳۰/ ستمبر ۲۰۱۷ء ص ۲۶)
ختم نبوت انعام گھر مقابلہ نورنگ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نورنگ ضلع لکی مروت نے گزشتہ سال کی طرح امسال بھی ۱۳، ۱۴/ اگست ۲۰۱۷ء بروز ہفتہ، اتوار کو جامع مسجد مجیدی میں سکول، کالجز و دینی مدارس کے طلباء کے لئے دو روزہ ختم نبوت انعام گھر مقابلہ منعقد کیا گیا۔ جس کی تیاری کے لئے ضلع کے تمام سکولوں کالجوں دینی مدارس کے طلباء کو دعوت دینے کے ساتھ ساتھ مساجد کے آئمہ حضرات سے خصوصی ملاقاتیں کی گئیں۔ ۱۴/ اگست کی صبح جامع مسجد میں تقریباً ۳۵۰ طلباء اور ۲۳ طالبات نے مقابلے میں حصہ لیا۔ مولانا عبدالرحیم کی صدارت میں تلاوت کلام پاک سے پروگرام شروع ہوا۔ مفتی ضیاء اللہ ، مولانا محمد ابراہیم ادہمی ، مولانا محمد طیب طوفانی ، صاحبزادہ امین اللہ جان، مولانا ماسٹر عمر خان، مولانا بشیر احمد حقانی ، مولانا محمد رحمان، حافظ شبیر احمد اور مولانا محمد امجد نے ختم نبوت انعام گھر کے شرکاء سے سوالات پوچھے ۔ طلباء نے جوش و جذبے سے تمام سوالات کے تسلی بخش جوابات دیئے۔ شیخ الحدیث مولانا حسین احمد نے تمام طلباء کو انعامات دیئے، جب کہ نمایاں پوزیشن لینے والوں کو خصوصی انعامات سے نوازا گیا۔ مزید برآں کثیر تعداد میں سکول و کالج اور دینی مدارس کے طلباء نے ۱۴/ اگست کے دن علماء کرام کی نگرانی میں آزادی پاکستان کی مناسبت سے تحفظ ختم نبوت اور آزادی امن کے نام سے ریلی نکالی ، جو کہ ختم نبوت چوک نورنگ میں آکر جلسہ عام کی صورت اختیار کر گئی ۔ بعد ازاں ختم نبوت چوک میں پرچم کشائی بھی کی گئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۷ء ص ۵۳، ۵۴)
سالانہ ختم نبوت کانفرنس فیصل آباد
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام الفتح گراؤنڈ سلیمی چوک میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس ۱۰/ اگست ۲۰۱۷ء بروز جمعرات بعد نماز عشاء منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امراء پیر طریقت حافظ ناصر الدین خاکوانی مدظلہ اور صاحبزادہ خواجہ عزیز احمد مدظلہ نے فرمائی ۔ کانفرنس کا آغاز تلاوت کلام مقدس سے ہوا۔ تلاوت کے بعد حمد ونعت کا ہدیہ پیش کیا گیا۔ کانفرنس میں صاحبزادہ خواجہ عزیز احمد ، حافظ ناصر الدین خاکوانی ، مولانا اللہ وسایا ، سید جاوید حسین شاہ، سید فاروق شاہ، قاری محمد یاسین ، سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، مولانا زاہد محمود قاسمی ، مولانا شاہ نواز فاروقی ، مولانا عزیز الرحمن رحیمی ، مولانا سید حبیب شاہ، مولانا عبدالرشید غازی ، مولانا
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عبدالرزاق، سید مظہر علی شاہ، مولانا عبدالشکور رضوی، قاری صولت نواز، قاری محمود صدیق سمیت ضلع بھر کے علماء کرام اور تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے خواص نے شرکت و بیانات فرمائے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۷ء ص ۵۱، ۵۲)
ختم نبوت کانفرنس کلاچی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ذمہ داران کی جدوجہد اور مولانا قاری محمد طارق امیر ختم نبوت ڈیرہ، مولانا محمد حمزہ لقمان مبلغ ڈیرہ، مولانا اللہ بخش، مفتی قاضی نصیر الدین کی مشاورت سے کلاچی میں صدیق اکبر ؓ کے نام سے ایک یونٹ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ جس میں ۱۷؍اگست ۲۰۱۷ء بروز جمعرات ختم نبوت کانفرنس منعقد کی گئی۔ کانفرنس میں مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا مفتی محمد راشد مدنی رحیم یار خان، مولانا محمد حمزہ لقمان نے خصوصی شرکت کی۔ صدارت مولانا محمد زمان حقانی نے کی۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض قاضی وجیہ الدین نے سرانجام دیئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۷ء ص ۱۸)
سالانہ ختم نبوت کانفرنس گھوٹکی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گھوٹکی کے زیر اہتمام سالانہ ختم نبوت کانفرنس زیر صدارت سائیں سید نور محمد شاہ، زیر نگرانی مولانا خالد حسین جامع قاسم العلوم ۱۷؍اگست ۲۰۱۷ء کو بعد نماز مغرب منعقد ہوئی۔ پہلی نشست میں تلاوت ونعت کے بعد مولانا محمد حسین ناصر مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سکھر کا بیان ہوا۔ بعد نماز عشاء دوسری نشست میں حمد ونعت کے بعد مقامی علماء کرام کے بیانات ہوئے اور آخر میں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ میں ہماری ذمہ داری اور حیات عیسیٰ علیہ السلام پر تفصیلی خطاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۷ء ص ۵۲)
ختم نبوت کانفرنس کنری
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کنری کے زیر اہتمام ۱۷؍اگست ۲۰۱۷ء بروز جمعرات بعد از نماز عشاء ایک عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی، جس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا، حافظ محمد حذیفہ نے ہدیہ نعت پیش کیا۔ مبلغ ختم نبوت حیدرآباد مولانا توصیف احمد نے ’’عقیدہ ختم نبوت اور ہماری ذمہ داری‘‘ اور ’’قادیانیوں سے نفرت کے اسباب‘‘ پر بیان کیا۔ مرکزی مبلغ مولانا قاضی احسان احمد نے اپنے بیان میں ترجمان سندھ مولانا محمد علی صدیقی کے مجاہدانہ کردار کا تذکرہ کیا اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے جانیں قربان کرنے والے مجاہدین کی لازوال قربانیوں کا ذکر کیا۔
آخری بیان وادی مہران کے خطیب مولانا محمد عیسیٰ سموں کا ہوا، مولانا نے سندھی زبان میں عقیدہ ختم نبوت پر تفصیلی گفتگو کی۔ آخر میں مبلغ ختم نبوت مولانا مختار احمد نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا، خصوصی طور پر علماء کرام مولانا قاری عبدالستار نوکوٹ، مولانا یعقوب چھور کینٹ، مولانا مفتی عدنان، مولانا عبدالقادر بھان اور تمام کنری جماعت کے ساتھیوں کا شکریہ ادا کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۲۳ تا ۳۰؍ستمبر ۲۰۱۷ء ص ۲۶)
مبلغین ختم نبوت کا دورہ میر پور خاص
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سندھ کے مبلغین کرام ۱۸؍اگست ۲۰۱۷ء کو میر پور خاص کے دورہ پر تشریف لائے اور جمعۃ المبارک کے
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اجتماعات سے خطابات کئے۔ میر پور خاص کے مبلغ مولانا مختار احمد اور جمعیت علماء اسلام کے امیر مولانا حفیظ الرحمٰن کی باہمی مشاورت سے خطبات جمعہ کی ترتیب طے کی گئی۔ عالمی مجلس کے مرکزی راہنما مولانا قاضی احسان احمد کراچی نے مدینہ مسجد شاہی بازار، مولانا تجمل حسین نے پرانی جامع مسجد، مولانا مختار احمد نے جامع مسجد دارالسلام، مولانا توصیف احمد نے مسجد سرور کونین ہیرآباد میں عوام الناس کے اجتماعات سے بیانات کئے۔ تمام مبلغین نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت کو اجاگر کیا اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا محمد علی صدیقی مرحوم کو خراج عقیدت پیش کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۷ء ص ۵۴، ۵۵)
جامع مسجد محمد عربی ﷺ میں ختم نبوت کانفرنس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۸؍ اگست ۲۰۱۷ء بروز جمعہ بعد از نماز مغرب جامع مسجد محمد عربی ﷺ ڈی آئی خان میں ایک عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ کانفرنس مولانا قاری محمد طارق امیر مجلس ڈی آئی خان کی علالت کے باوجود ان کی سرپرستی میں منعقد ہوئی۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا قاری احسان اور مولانا قاری عنایت اللہ عثمانی نے سرانجام دیئے۔ مولانا خلیفہ محمد طیب نے کانفرنس کی صدارت فرمائی۔ تلاوت مولانا قاری عبدالباسط نے کی۔ مولانا محمد حمزہ لقمان نے قرآنی آیات کی روشنی میں عقیدہ ختم نبوت پر بیان کیا۔ ان کے بعد استاذ القراء قاری عبداللطیف نے اپنے مخصوص انداز میں تلاوت کی۔ مولانا مفتی محمد راشد مدنی رحیم یار خان نے عقیدہ ختم نبوت کے حوالے سے بڑا دلنشیں اور نظریاتی بیان فرمایا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۷ء ص ۲۰)
تحفظ ختم نبوت پروگرام و افتتاحی تقریب ختم نبوت چوک پہاڑ پور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۸؍ اگست ۲۰۱۷ء بروز جمعۃ المبارک کو دارالعلوم صدیقیہ پہاڑ پور ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں تحفظ ختم نبوت پروگرام منعقد ہوا۔ جس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت رحیم یار خان کے مبلغ مولانا مفتی محمد راشد مدنی اور ضلعی مبلغ مولانا محمد حمزہ لقمان نے خصوصی شرکت و بیانات کئے۔ اس پروگرام کے بعد تحصیلی جماعت کی کاوشوں سے چشمہ روڈ (رنگپور اڈا) پر خاتم النبیین ﷺ چوک کا افتتاح کیا گیا۔ افتتاحی تقریب میں تحصیل کی مجلس عاملہ، مجلس شوریٰ اور ختم نبوت کے رفقاء نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ اختتامی دعاء مولانا مفتی محمد راشد مدنی نے کرائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۷ء ص ۵۳)
ختم نبوت کانفرنس بہاول پور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام سالانہ ختم نبوت کانفرنس شاہی جامع مسجد الصادق بہاول پور میں ۱۹؍ اگست ۲۰۱۷ء بروز ہفتہ بعد نماز عشاء صاحبزادہ خواجہ عزیز احمد مدظلہ نائب امیر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ تلاوت کلام مجید اور حمد ونعت کے بعد مہمانان گرامی کے بیانات کا سلسلہ شروع ہوا۔ مہمانان گرامی میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری مدظلہ، مولانا اللہ وسایا، مولانا عبدالحمید تونسوی، جمعیت اہل حدیث کے مرکزی رہنما سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مفتی عطاء الرحمٰن، مولانا فضل الرحمٰن دھرم کوٹی، مفتی مظہر اسعدی، مولانا قاری محمد احمد مدرس جامعہ اسلامیہ باب العلوم کہروڑ پکا، مولانا محمد اسحاق ساقی مبلغ ختم نبوت بہاولپور، قاری غلام یاسین صدیقی، مولانا عبدالرزاق، مولانا محمد احمد مدرسہ قدسیہ، مولانا محمد حبیب مبلغ ختم نبوت ٹوبہ، مولانا محمد اقبال مبلغ ختم نبوت ڈی جی خان و دیگر علماء کرام شامل تھے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۷ء ص ۵۱)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس بھلوال
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بھلوال کے زیر اہتمام ۲۱؍اگست ۲۰۱۷ء کو بعد از نماز عشاء جامع مسجد مدنی بھلوال میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت مولانا محمد یعقوب احسن، سرپرستی مولانا محمد اکرم طوفانی اور نگرانی علامہ محبوب الحسن طاہر نے کی۔ کانفرنس کا آغاز قاری احمد سعید نے تلاوت قرآن مجید سے کیا۔ ہدیہ نعت قاری محمد راشد، قاری اکرام اللہ مدنی اور شاعر ختم نبوت سید سلمان گیلانی نے پیش کیا۔ مولانا اللہ وسایا، سرگودھا کے امیر مولانا نور محمد ہزاروی، قاری احمد علی ندیم نے خطابات کئے۔ مولانا اللہ وسایا نے قرآن وحدیث کی روشنی میں عقیدہ ختم نبوت اور حیات عیسیٰ پر مدلل گفتگو فرمائی۔ مولانا نور محمد ہزاروی نے ختم نبوت کانفرنس کے انعقاد پر کارکنان کی حوصلہ افزائی کی اور ذمہ داران شیخ منصور احمد، ڈاکٹر محمود الحسن ناصر و دیگر کو مبارکباد پیش کی۔ کانفرنس میں مقامی علماء کے علاوہ سرگودھا سے مولانا ثناء اللہ ایوبی، میانی سے مولانا محمد بلال، بھیرہ سے قاری ریاض گادھی و دیگر علاقہ جات سے متعدد حضرات نے قافلوں کی صورت میں شرکت کی۔ کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لئے خواجہ زاہد، شیخ عمیر منصور، شیخ شاکر، حافظ عبداللہ، شیخ فہد حمید، شیخ وقاص، شیخ محمد فیاض، شیخ شیراز، شیخ زین، مولانا اشرف، ڈاکٹر منظور الحسن، حافظ منشور الحسن، شہباز ذوالفقار، حاجی عبد الوہاب، عمر اکرم، بھائی واجد، اسد و دیگر کارکنان نے بھر پور محنت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۷ء ص ۵۵، ۵۶)
مولانا اللہ وسایا کا دورہ ضلع ڈیرہ غازیخان
۲۵؍ اگست ۲۰۱۷ء کا جمعہ ضلع ڈیرہ غازیخان کے مشہور قصبہ شادن لنڈ کی مرکزی جامع مسجد صدیق اکبر میں رکھا۔ اس پروگرام کے داعی مقامی جماعت کے ذمہ دار اس قصبہ کے کونسلر اور نامور صحافی جناب شہزاد حمید، قاری بلال احمد اور بھائی خلیل احمد تھے۔ تونسہ شریف سے مولانا عبد العزیز لاشاری، مولانا غلام مصطفی اشعری، حکیم عبد الرحیم جعفر، جمعیۃ علماء اسلام کے رہنما حکیم عبد الرحمن جعفر، ڈیرہ غازیخان کے مولانا عبد الرحمن غفاری اپنے اپنے قافلوں کے ساتھ اس پروگرام میں شریک ہوئے۔ مولانا اللہ وسایا کا گھنٹہ بھر ختم نبوت کے عنوان پر مدلل بیان ہوا۔ خطبہ جمعہ اور امامت کے فرائض مولانا محمد اقبال مبلغ ختم نبوت نے سرانجام دیئے۔ نماز جمعہ کے بعد مولانا محمد اقبال، مولانا عبد العزیز لاشاری، مولانا اللہ وسایا کے ساتھ جام پور کی طرف روانہ ہوئے۔ نماز عصر جام پور کی مشہور شخصیت مولانا ابو بکر عبد اللہ کے مدرسہ میں جا کر ادا کی۔ راجن پور سے صاحبزادہ جلیل احمد صدیقی امیر مجلس ضلع راجن پور کے علماء کی قیادت کرتے ہوئے تشریف لائے۔ بعد نماز عشاء داجل میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد کی گئی۔ اس کانفرنس کے داعی مولانا محمد نعیم امیر مجلس داجل حاجی اعجاز پراچہ اور دیگر علماء کرام تھے۔ تاجر حضرات اور معززین شہر نے اس کانفرنس کی سرپرستی کی۔ مقامی علماء کرام مولانا ابو بکر عبد اللہ، صاحبزادہ جلیل احمد صدیقی، مولانا عمر فاروقی اور دیگر علماء کرام کے علاوہ مولانا اللہ وسایا نے اپنے بیان میں مسئلہ ختم نبوت کی عظمت اور قادیانی عقائد سے مسلمانوں کو آگاہ کیا اور وعدہ لیا۔ مرتے دم تک حضور پاک ﷺ کی غلامی میں رہ کر ختم نبوت کے پرچم کو اپنے دامن میں تھام کے رکھیں گے۔ رات گئے تک کانفرنس جاری رہی۔
۲۶؍ اگست کی صبح کی نماز کے بعد جامع مسجد رحمت دو عالم محمد پور دیوان میں مولانا عبد العزیز لاشاری نے ختم نبوت جماعت کی سرگرمیوں کے حوالے سے بیان کیا اور مسلمانوں کو بتایا کہ یہ حضرات گاؤں گاؤں، قریہ قریہ، شہر شہر میں جا کر مسئلہ ختم نبوت بیان کرتے ہیں اور مسلمانوں کے ایمان کے تحفظ کے لئے دنیا بھر میں اپنا پیغام پہنچا رہے ہیں۔ صبح دس بجے اسی مسجد میں مولانا اللہ وسایا کا مدرسہ بنات میں
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مفصل بیان ہوا۔ اس مدرسہ کے ذمہ دار حاجی واحد بخش ہیں۔ اسی دن دوپہر کو یہ قافلہ راجن پور شہر جامع مسجد کینال کالونی حافظ علی محمد صدیقی والی میں پہنچا تو صاحبزادہ جلیل احمد صدیقی اور شہر بھر کے علماء کرام، کونسلر صاحبان، سیاسی، سماجی افراد نے استقبال کیا۔ اسی مسجد کے مین چوک میں شام پانچ بجے ختم نبوت چوک کا افتتاح ہوا۔ میونسپل کمیٹی راجن پور کے چیئرمین جناب کنور کمال اختر کونسلر حافظ محمد بلال، کونسلر کلیم اللہ تگا، شہر بھر کے علماء کرام اور تاجر صاحبان اس تقریب میں شریک ہوئے۔ مولانا اللہ وسایا نے اس تقریب میں دعاء کرائی اور شہر کے تاجروں نے اس خوشی میں مٹھائی تقسیم کی اور ختم نبوت زندہ باد کے نعروں سے پورا چوک گونج اٹھا۔ شام کو بعد نماز مغرب جامع مسجد آفیسر کالونی میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں مقامی علماء مولانا عمر حیدری، مولانا عمر فاروقی اور دیگر علماء کرام کے علاوہ مولانا اللہ وسایا نے مسئلہ ختم نبوت اور قادیانی عقائد سے مسلمانوں کو آگاہ کیا۔ اس کانفرنس میں مقامی افسران اعلیٰ کے علاوہ عوام نے بھرپور شرکت کی۔ اس پروگرام کے داعی قاری محمد صدیق صاحبزادہ جلیل احمد صدیقی اور مولانا محمد منظور اور دیگر علماء کرام تھے۔
دو بجے دن ایک ۲۰ رکنی علماء کرام کا وفد مولانا اللہ وسایا کی قیادت میں خانقاہ عالیہ کوٹ مٹھن پہنچا۔ وہاں خواجہ معین الدین کوریجہ صاحب سراپا انتظار تھے۔ خواجہ صاحب نے آئے ہوئے ہر عالم دین کو تبرکات فریدی بطور تحفہ دیئے۔ جب مولانا اللہ وسایا کو تبرکات دیئے جا رہے تھے تو مولانا نے یہ تبرکات اپنے سر پر رکھ کر فرمایا۔ یہ میرے سر کے تاج ہیں۔ خواجہ غلام فرید (کوٹ مٹھن) کی ایک بڑی تاریخ ہے۔ مولانا اللہ وسایا نے اپنی مشہور تصنیف ”چمنستان ختم نبوت کے گلہائے رنگارنگ“ جلد سوم ص ۱۳۸۸ میں مختصر انداز میں شائع فرمائے۔ اس دورہ میں حضرت خواجہ غلام فرید کا تاریخی کتب خانہ اور تاریخی تبرکات کی زیارت کرائی گئی۔ آخر میں حضرت خواجہ معین الدین کوریجہ نے وفد کو الوداع کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۱۷ء ص ۵۵، ۵۶)
ختم نبوت کانفرنس زڑہ میانہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت زڑہ میانہ کے زیر اہتمام ۵ ستمبر ۲۰۱۷ء کو کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی ساری کارروائی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع نوشہرہ کے امیر مولانا قاری محمد اسلم کی زیر صدارت اور مجلس کے مبلغ مولانا عابد کمال کی زیر نگرانی ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز شاہ فیصل مسجد اسلام آباد کے مدرس مولانا قاری نعیم اللہ کی تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔ حافظ سراج الاعظم نے نعتیہ کلام پیش کیا۔ کانفرنس سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے صوبائی امیر مولانا مفتی محمد شہاب الدین پوپلزئی، پیر حزب اللہ جان حقانی، مجلس کے صوبائی مبلغ مولانا عابد کمال اور جامعہ ابو ہریرہؓ نوشہرہ کے مدرس مولانا محمد قاسم نے خطاب فرمایا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت زڑہ میانہ کے حاجی محمد خان اور نادر خان کی ہمشیرہ نے چار کنال کا قیمتی پلاٹ وقف کر دیا۔ جس پر ایک عالی شان مسجد اور مدرسہ تعمیر کرنے کا ارادہ ہے۔ مولانا مفتی محمد شہاب الدین پوپلزئی، مولانا پیر حزب اللہ، مولانا مہر محمد حقانی، مولانا قاری محمد اسلم، مولانا عابد کمال نے اپنے دست مبارک سے پتھر نصب کر کے مسجد کا با قاعدہ سنگ بنیاد رکھا۔ فالحمد لله على ذالك !
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۱۷ء ص ۵۱، ۵۲)
عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس، گلستان جوہر کراچی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حلقہ گلستان جوہر گلشن اقبال ٹاؤن کے زیر اہتمام جامعہ اشرف المدارس سندھ بلوچ سوسائٹی گلستان جوہر میں ۵ ستمبر ۲۰۱۷ء بروز منگل بعد نماز عشاء عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز مولانا قاری فاروق جان کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ جامعہ اشرف المدارس کے ایک متعلم نے ہدیہ نعت پیش کیا۔ مولانا قاضی احسان احمد نے اپنے بیان میں کہا کہ عقیدہ ختم
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نبوت اسلام کی روح ہے۔ عقیدہ ختم نبوت محمد رسول اللہ ﷺ کی آبرو ہے۔ عقیدہ ختم نبوت میں امت مسلمہ کی وحدت کا راز ہے۔ امت مسلمہ نے ہر دور میں تحفظ ختم نبوت کے خاطر ہر طرح کی قربانیاں پیش کی ہیں۔
مولانا اللہ وسایا نے خصوصی اور تفصیلی خطاب فرمایا جس میں تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء کے اسباب و محرکات، پس منظر، سیاسی حالات و واقعات پر روشنی ڈالی اور ۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کے یادگار، تاریخی فیصلہ پر اظہار تشکر کیا۔
جامعہ اشرف المدارس کے رئیس، یادگار اسلاف، پیر طریقت، رہبر شریعت مولانا شاہ حکیم محمد مظہر نے صدارتی کلمات ادا کئے اور دعاء فرمائی۔
کانفرنس میں علاقائی علماء کرام سمیت اہل اسلام نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ خاص طور پر خانقاہ غرفۃ السالکین جامع مسجد اختر گلستان جوہر کے بانی، شیخ العرب والعجم مولانا شاہ حکیم محمد اختر کے خلیفہ مجاز، مرشد العلماء حضرت شاہ فیروز عبداللہ میمن اپنے پورے حلقہ ارادت کے ساتھ کانفرنس میں تشریف لائے۔ اللہ تعالیٰ یہ تمام کوشش و کاوشیں قبول فرما کر مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت اور غیر مسلموں کی ہدایت کا ذریعہ بنائے اور محشر میں شفیع المذنبین ﷺ کی شفاعت کے حصول کا ذریعہ بنائے۔ آمین ثم آمین!
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۸ تا ۱۵؍ اکتوبر ۲۰۱۷ء ص ۲۳)
سالانہ چھ روزہ ختم نبوت کورس
الحمدللہ! ہر سال کی طرح اس سال بھی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے دفتر جامع مسجد باب الرحمت ایم اے جناح روڈ میں عیدالاضحیٰ کی چھٹیوں میں ۵ تا ۱۰؍ ستمبر ۲۰۱۷ء چھ روزہ ختم نبوت کورس کا اہتمام کیا گیا، جس میں دینی مدارس کے طلباء کے ساتھ ساتھ اسکول، کالج کے ڈیڑھ، دو سو طلباء نے بھی بھر پور حصہ لیا۔ کورس میں مبلغین ختم نبوت کے علاوہ شہر کے کئی جید علماء کرام نے بھی لیکچر دیئے۔
پہلا دن: کورس کے پہلے روز مولانا عبدالحی مطمئن نے صبح ۸ تا ۹ بجے تک ”قادیانیوں کے عقائد“ پر درس دیا۔ ۹ تا ۱۰ بجے تک مرکزی مبلغ مولانا قاضی احسان احمد نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا مختصر تعارف، خدمات ختم نبوت کی تحریکیں اور قادیانیت کے خلاف عدالتی مقدمات میں مجلس کا کردار کے موضوع پر تفصیلی گفتگو کی۔ ان کے بعد مرکزی رہنماء مولانا اللہ وسایا نے ”عقیدہ ختم نبوت“ شرکائے کورس کے گوش گزار کیا۔
دوسرا دن: بروز بدھ کو پہلے درس میں مولانا عبدالحی مطمئن نے ”قادیانیوں کے عقائد“ بیان کئے۔ دوسرے درس میں شیخ الحدیث مولانا الطاف الرحمن عباسی مدظلہ نے ”اکابرین امت پر قادیانی الزامات کی حقیقت“ کے موضوع پر دلائل دیئے۔ آخر میں مولانا اللہ وسایا نے ”عقیدہ حیات عیسیٰ علیہ السلام“ کے عنوان پر قرآن مجید کی روشنی میں تفصیلی سبق پڑھایا۔
تیسرا دن: بروز جمعرات صبح کے درس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے مبلغ مولانا محمد قاسم نے ”قادیانیت کا سیاسی جائزہ“ پر دلائل کے ساتھ سیر حاصل بحث کی، ان کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع ملیر کے مبلغ مولانا مفتی محمد اسحاق مصطفیٰ نے ”اسلام اور قادیانیت کا اصولی اختلاف“ کے عنوان پر درس دیا۔ آج پھر مولانا عبدالحی مطمئن نے اپنے موضوع ”قادیانیوں کے عقائد“ پر تفصیلی گفتگو کی۔ مولانا اللہ وسایا نے ”آیات مبارکہ میں قادیانی تحریفات“ کی نشاندہی کرتے ہوئے شرکائے کورس کو شواہد نوٹ کروائے اور قادیانی تفاسیر کی لفظی و معنوی تحریفات کا پردہ چاک کیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
چوتھا دن: بروز جمعہ کو ضلع غربی کے نگران مولانا محمد شعیب کمال نے ”عقیدہ حضرت مہدی علیہ الرضوان“ کے عنوان پر دلائل ذکر کئے جب کہ مولانا مفتی عبداللہ حسن زئی نے ”فتنہ انکار حدیث“ کے حوالہ سے درس دیا۔ ان کے بعد نماز جمعہ سے قبل کراچی یونیورسٹی کے شعبہ تصنیف و تالیف و ترجمہ کے انچارج پروفیسر محمد خالد جامعی صاحب نے ”فطرت اور مغربیت کی کشمکش“ کے حوالہ سے حاضرین کو لیکچر دیا اسی طرح عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے قانونی مشیر جناب منظور احمد میو راجپوت ایڈووکیٹ نے ”فتنہ قادیانیت اور آئین پاکستان“ کے عنوان پر لیکچر دیا۔
پانچواں دن: بروز ہفتہ کو ضلع شرقی کے نگران مولانا محمد رضوان نے ”مرزا قادیانی اپنی تحریرات کی روشنی میں“ مرزا کی ذات و کردار کا پوسٹ مارٹم کیا۔ جامعہ معہد الخلیل کے استاذ مولانا مفتی محمد شہزاد شیخ مدظلہ نے ”گستاخ رسول کی شرعی سزا اور آئین پاکستان“ کے عنوان پر تفصیل سے لیکچر دیا۔ مولانا مفتی عبداللہ حسن زئی نے اپنے موضوع ”فتنہ انکار حدیث“ پر مزید روشنی ڈالی۔ آخر میں ”احادیث طیبہ میں قادیانی تحریفات“ کے عنوان پر مولانا اللہ وسایا نے کثیر مواد طلباء کے گوش گزار کیا۔
چھٹا دن: بروز اتوار عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے مبلغ مولانا مفتی عادل غنی نے ”ائمہ تلبیس اور جھوٹے مدعیان نبوت کا انجام“ کے موضوع پر تاریخ کی روشنی میں تفصیل ذکر کی۔ بعد ازاں شرکائے کورس کو امتحان کی تیاری کا موقع دیا گیا۔ دس بجے امتحان شروع ہو کر گیارہ بجے ختم ہوا۔ اختتامی تقریب منعقد ہوئی جس میں مولانا عبدالحق مطمئن کے مختصر بیان کے بعد مولانا اللہ وسایا نے بیان فرمایا۔ حضرت کی دعاء سے اس تقریب کا اختتام ہوا۔ الحمد للہ ! اس کورس میں طلباء نے خوب محنت اور دلچسپی سے شرکت کی۔ کورس کا دورانیہ صبح ۸ بجے سے دوپہر ۱۲ بجے تک ہوتا تھا، روزانہ تمام حاضرین کورس کے لئے دوپہر کے کھانے کا نظم کیا جاتا رہا۔ اللہ تعالیٰ تمام منتظمین کو اجر عظیم عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین !
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۸ تا ۱۵/اکتوبر ۲۰۱۷ء ص ۲۱)
یوم تحفظ ختم نبوت ریلی سرائے نورنگ ضلع لکی مروت
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع لکی مروت کے زیر اہتمام ۷/ ستمبر ۲۰۱۷ء بروز جمعرات کو یوم ختم نبوت کے حوالہ سے ایک عظیم الشان ریلی نکالی گئی جس سے قبل ریلی کی کامیابی کے لئے ضلعی مجلس عاملہ نے تقریباً ۶۵ چھوٹے بڑے پروگرامز منعقد کئے۔ ان پروگرامات کی وجہ سے ۷/ ستمبر کو سہ پہر تین بجے اس عظیم الشان ریلی کا آغاز جامع مسجد میناری نورنگ سے ہوا۔ یوم تحفظ ختم نبوت ریلی پاسبان پلازہ سے شروع ہوئی جو کہ بازار کے مختلف گزرگاہوں سے ہوتی ہوئی ختم نبوت چوک کے مقام پر جلسے کی صورت اختیار کر گئی۔ جہاں پر مقررین نے اپنے خطا ب میں کہا کہ ۷/ ستمبر ایک عظیم الشان اور تاریخ ساز دن ہے۔ کیونکہ اس روز پاکستان کی پارلیمنٹ نے امت مسلمہ کا دیرینہ مطالبہ پورا کرتے ہوئے متفقہ قرارداد کے ذریعے قادیانیوں اور مرزائیوں کو غیر مسلم قرار دیا۔ اس پر ہم تمام اراکین پارلیمنٹ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۷ء ص ۵۶)
ختم نبوت کانفرنسز صوبہ بلوچستان
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام صوبہ بلوچستان کے مختلف مقامات پر کانفرنسز کا انعقاد کیا گیا۔ جس کا آغاز ۸/ ستمبر ۲۰۱۷ء مطابق ۷/ ذوالحجہ بروز جمعہ سے کیا گیا۔ اس سلسلہ کی ابتداء اس سرزمین سے ہوئی جس کو ملک پاکستان میں یہ امتیاز حاصل ہے کہ وہاں قادیانیوں کا داخلہ قانونی طور پر بند ہے۔ الحمد للہ ! میری مراد بلوچستان کا ضلع ژوب ہے۔ جہاں پر ۸/ ستمبر بروز جمعہ دو مساجد میں بیان جمعہ کا
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اہتمام کیا گیا۔ مرکزی جامع مسجد میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ناظم تبلیغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب فرمایا۔ جب کہ جامع مسجد شیخان میں صوبائی مبلغ مولانا محمد اویس نے خطاب کیا۔ ۹؍ستمبر بروز ہفتہ خانوزائی میں مرکزی جامع مسجد میں بعد نماز عصر کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ مولانا عبدالظاہر کی زیر سرپرستی میں کانفرنس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا۔ اس کے بعد مبلغ مولانا محمد اویس نے مغرب تک کی پہلی نشست میں گفتگو کی۔ جب کہ بعد نماز مغرب تا عشاء اس کانفرنس کی دوسری اور آخری نشست میں مولانا محمد اسماعیل نے تفصیلی بیان فرمایا۔ ۱۰؍ستمبر بروز اتوار بعد نماز عصر کوئٹہ کی مرکزی جامع مسجد میں ۵۶ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت مولانا انوار الحق حقانی اور صوبہ بلوچستان کے قائم مقام امیر مولانا عبداللہ منیر نے فرمائی۔ اس کانفرنس کا آغاز قاری ابراہیم کاسی نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔ کانفرنس کی پہلی نشست بعد نماز عصر تا مغرب میں مولانا محمد اسماعیل نے بیان کیا۔ دوسری نشست بعد نماز مغرب تا عشاء مرکزی مبلغ مولانا مفتی محمد راشد مدنی رحیم یار خان نے پر مغز بیان کیا۔ تیسری اور آخری نشست بعد نماز عشاء منعقد ہوئی جس میں مولانا قاضی احسان احمد کراچی نے اپنے مخصوص انداز میں ختم نبوت کی اہمیت و فضیلت کو حاضرین مجلس کے سامنے اجاگر کیا۔ ۱۱؍ستمبر بروز پیر دو مقامات پر کانفرنسز منعقد کی گئی۔ ایک لورالائی کی مرکزی جامع مسجد میں جس کی صدارت جناب خواجہ اشرف فرما رہے تھے اور اس کانفرنس کے مہمان خصوصی مولانا قاضی احسان احمد کراچی تھے۔ جب کہ دوسری کانفرنس کوئٹہ گول مسجد سیٹلائٹ میں منعقد کی گئی جس کی صدارت مولانا محمد عبداللہ منیر فرما رہے تھے۔ اس پروگرام کی پہلی نشست عصر تا مغرب میں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے بیان فرمایا۔ دوسری اور آخری نشست میں بعد نماز مغرب تا عشاء مولانا مفتی محمد راشد مدنی نے بیان کیا۔ اختتامی دعاء و قندہاری مسجد کے امام و خطیب جناب مفتی احمد نے فرمائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۷ء ص ۵۳)
ختم نبوت کانفرنس تحصیل تخت نصرتی ضلع کرک
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت تحصیل تخت نصرتی کے زیر اہتمام ۱۷؍ستمبر ۲۰۱۷ء بروز اتوار دن ۱ بجے تا مغرب ایک عظیم الشان، تاریخی سالانہ ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس کی تیار کے لئے ہر چھوٹی بڑی مسجد میں بیانات کئے گئے اور لوگوں کو شرکت کی دعوت دی گئی۔ صبح سویرے ذمہ داران حضرات سپورٹس سٹیڈیم پہنچنا شروع ہو گئے۔ پورے پنڈال کو دن بارہ بجے سے پہلے بینروں سے سجایا گیا۔ ٹھیک دو بجے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت تحصیل تخت نصرتی کے امیر مولانا عبدالرزاق کی صدارت میں کانفرنس کا آغاز علاقے کے مشہور قاری جناب قاری غلام فرید شاکر کی تلاوت کلام پاک سے کیا گیا۔ مہمانان خصوصی میں مرکزی مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مولانا قاضی احسان احمد، صوبائی مبلغ مولانا عابد کمال، شیخ الحدیث مولانا عطاء الرحمن آف کوہاٹ، ختم نبوت کا پروانہ چچا عنایت آف پشاور شامل تھے۔ سب سے پہلے ضلعی مبلغ مولانا علی عثمان نے بیان کیا اور لوگوں کے سینوں کو گرمایا۔ درمیان میں نعت خوانی کی گئی۔ اس کے بعد صوبائی مبلغ مولانا عابد کمال نے جامع و مانع پر اثر خطاب فرمایا۔ سپورٹس اسٹیڈیم میں اگرچہ پنڈال تنگ پڑ گیا۔ مہمان خصوصی کے بیان سے پہلے تحصیل امیر مولانا عبدالرزاق نے مہمانان گرامی اور پورے مجمع کا شکریہ ادا کیا۔ آخر میں مہمانان خصوصی مولانا قاضی احسان احمد کا ایک گھنٹہ تک بیان ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۱۷ء ص ۵۲، ۵۳)
ختم نبوت کانفرنس کرک
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت تحصیل کرک کے زیر اہتمام عظیم الشان کانفرنس ۱۷؍ستمبر ۲۰۱۷ء بروز اتوار صبح ۸ بجے تحصیل کرک میٹھا خیل
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
میں زیر صدارت مولانا جہانزیب (امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت تحصیل کرک) منعقد ہوئی۔ تلاوت کلام قاری غلام فرید شاکر اور اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا محمد خان قاسمی نے سرانجام فرمائے۔ کانفرنس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ضلعی امیر مولانا محمود الرحمن، ناظم حاجی اسلم، قاری امیر اللہ بمع تحصیل عاملہ، قاری عمر صدیق، مفتی محمد حیات، یونین امراء و نظماء کے علاوہ صوبائی مبلغ مولانا عابد کمال اور مہمان خصوصی مولانا قاضی احسان احمد نے شرکت فرمائی۔ قاری حنیف الرحمن، جناب جاوید انور و دیگر حضرات نے نعتیہ کلام پیش کیا۔ کانفرنس سے افتتاحی خطاب مولانا محمد یوسف حنفی نے فرمایا۔ اس کے بعد مولانا عابد کمال کو دعوت سخن دی گئی۔ اس کے بعد مہمان خصوصی مجاہد ختم نبوت مولانا احسان احمد کو اردو زبان میں مائیک پر مدعو کیا گیا۔ خطبہ مسنونہ کے بعد حضرت نے اپنے انداز میں ختم نبوت کے موضوع پر بہت پر مغز خطاب فرمایا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۱۷ء ص ۵۲)
ختم نبوت کانفرنس تحصیل تجوڑی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع لکی مروت نے ۷؍ ستمبر ۲۰۱۷ء یوم ختم نبوت کے کامیاب پروگراموں کے بعد سب تحصیل تجوڑی میں ۱۹؍ ستمبر بروز منگل نماز ظہر کے بعد کانفرنس منعقد ہوئی۔ شیخ الحدیث مولانا مبارک شاہ نے صدارت کی۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا محمد ابراہیم ادہمی نے ادا کئے۔ کانفرنس سے مولانا قاضی احسان احمد کا خصوصی بیان ہوا۔ اس موقع پر مجلس تحفظ ختم نبوت کے مولانا عبدالرحیم، مفتی ضیاء اللہ، مولانا محمد ابراہیم ادہمی، مولانا محمد طیب طوفانی، جمعیت علماء اسلام کے مولانا عبدالرحیم، صاحبزادہ مولانا اشرف علی، مولانا بشیر احمد حقانی، مولانا محمد طاہر، مولانا جمشید اقبال، مولانا اصغر علی، مولانا ماسٹر عمر خان اور صاحبزادہ امین اللہ جان سمیت بڑی تعداد میں سکول کالج و دینی مدارس کے طلباء اور معززین علاقہ موجود تھے۔ قاضی احسان احمد نے کہا کہ آج بعض قوتیں قادیانیوں اور مرزائیوں کی ایماء پر نا موس رسالت ﷺ کے قوانین میں ترامیم اور ختم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ تاہم اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ کوئی ناموس رسالت ﷺ کے قانون کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ کانفرنس کے دوران مقامی پولیس نے سکیورٹی کی خدمات انجام دیں۔ تجوڑی کے علاقے میں ختم نبوت کی یہ پہلی کانفرنس تھی۔ جو کامیاب رہی۔ اہل علاقہ نے مطالبہ کیا کہ تجوڑی کے علاقے میں سالانہ کانفرنس منعقد کی جائے۔ مفتی ضیاء اللہ نے دعا سے پہلے قراردادیں پیش کیں۔ (مولانا محمد ابراہیم ادہمی)
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۱۷ء ص ۵۳)
سالانہ تحفظ ختم نبوت کانفرنس سرگودھا
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ختم نبوت کانفرنس سرگودھا ۲۱؍ ستمبر ۲۰۱۷ء بروز جمعرات بعد نماز عشاء منعقد کی گئی جو کہ فجر کی نماز تک جاری رہی۔ کانفرنس کی صدارت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امراء صاحبزادہ خواجہ عزیز احمد اور پیر حافظ ناصر الدین خاکوانی نے کی جب کہ صاحبزادہ خواجہ خلیل احمد اور پیر حبیب اللہ نقشبندی جھنگ بھی اسٹیج کی زینت رہے۔ کانفرنس کا آغاز قاری عبدالبدری سرگودھا کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ مولانا محمد قاسم گجر لاہور اور سید اعجاز حسین کاظمی اسلام آباد نے وقتاً فوقتاً حمد و نعت کے نذرانے پیش کئے۔ کانفرنس سے مولانا مفتی کفایت اللہ، مولانا اللہ وسایا، مولانا حافظ محمد اکرم طوفانی سرگودھا، مولانا مفتی محمد راشد مدنی رحیم یار خان، مولانا قاضی احسان احمد کراچی اور مولانا نور محمد ہزاروی سرگودھا، مولانا شاہ نواز فاروقی، مولانا مفتی عبدالقدوس ترمذی، مولانا عبدالقدوس گجر، مولانا عبدالجبار چوکیروی، مولانا مفتی طاہر مسعود، مولانا مفتی شاہد مسعود، پیر سیف اللہ قادری، مولانا ضیاء اللہ بندیالوی، مولانا ثناء اللہ ایوبی، مولانا یعقوب حسن بھلوال، مولانا عبدالرشید سمیت تمام مکاتیب فکر کے علماء کرام اور سیاسی و سماجی رہنماؤں نے شرکت و بیانات کئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۷ء ص ۱۰)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
فتح مبین کانفرنس ڈیرہ اسماعیل خان
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ڈی آئی خان کے ذیلی بخاری یونٹ کے زیر اہتمام جامع مسجد خالد بن ولید بستی ترین میں مؤرخہ ۲۲؍ ستمبر ۲۰۱۷ء بعد نماز مغرب دوسری سالانہ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس کی صدارت مولانا مفتی حسین احمد عرفان نے فرمائی۔ کانفرنس کا افتتاح مولانا احسان اللہ احسان کی تلاوت سے ہوا۔ نقابت کے فرائض مولانا قاری محمد عرفان نے انجام دیئے۔ مولانا قاری کفایت اللہ قاسمی، مولانا عبدالمجید قاسمی کے بیانات ہوئے۔ قاری محمد طارق نے کلمات تشکر ادا کئے۔ جب کہ مولانا اللہ بخش نے مجلس ڈیرہ کی سالانہ کارگزاری پیش کی اور ضلع بھر میں بنائے جانے والے یونٹوں کا بمعہ امیر تذکرہ کرتے ہوئے ان کی خدمات کو سراہا۔ جناب شوکت اللہ صدیقی، قاری سلمان سعیدی، حافظ حبیب احمد اور صوفی خدا بخش نے حمد ونعت کے نذرانے پیش کئے۔ ضلع ڈیرہ کے اکثر جید علماء کرام، قراء حضرات، وکلاء حضرات، صحافی حضرات، تاجر حضرات اور غیور مسلمانوں نے بھر پور شرکت کی۔ آخر میں ۷؍ ستمبر کے حوالہ سے تعارفی پمفلٹ بخاری یونٹ، الشیخ علاؤ الدین یونٹ اور خواجہ خان محمد یونٹ کی جانب سے حاضرین مجلس میں تقسیم کئے گئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۷ء ص ۱۳)
ختم نبوت کانفرنس نوشہرہ ورکاں
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت تحصیل نوشہرہ ورکاں ضلع گوجرانوالہ کی مرکزی جامع مسجد ختم نبوت میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۶؍ اکتوبر ۲۰۱۷ء بروز جمعۃ المبارک بعد نماز عشاء منعقد ہوئی۔ کانفرنس سے عالمی مجلس کے مبلغین مولانا عمر حیات لاہور، مولانا محمد عارف شامی، مولانا عبدالوکیل، محمد یونس ربانی کونسلر، جمعیۃ علماء اسلام کے مولانا نذیر الرحمن، شیخ التفسیر پیر مولانا محمد یونس ماجد یاور، عالمی مجلس کے مرکزی رہنما مولانا قاضی احسان احمد اور دیگر نے خطاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۱۷ء ص ۳۱)
ختم نبوت کانفرنس چیچہ وطنی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامع مسجد بلاک نمبر ۱۲ چیچہ وطنی ۶؍ اکتوبر ۲۰۱۷ء بعد نماز عشاء کو سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ صدارت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر مرکزیہ مولانا صاحبزادہ عزیز احمد اور پیر جی عبدالحفیظ رائے پوری نے فرمائی۔ کانفرنس سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مفتی محمد راشد مدنی، جمعیۃ علماء اسلام کے سینیٹر حافظ حمد اللہ سمیت مجلس کے مقامی امیر مولانا محمد ارشاد، مفتی محمد عثمان، مولانا عبدالحکیم نعمانی، مفتی محمد ظفر اقبال، قاری زاہد اقبال، مولانا کفایت اللہ حنفی، حافظ محمد اصغر عثمانی، مفتی محمد یاسر بشیر جالندھری، مولانا مطیع الرحمن، مولانا عبدالباقی اور پیر جی حفیظ الرحمن نے شرکت و خطاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۱۷ء ص ۳۱)
ختم نبوت کانفرنس کہروڑ پکا
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۸؍ اکتوبر ۲۰۱۷ء بروز اتوار بعد نماز مغرب عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس قاسم پارک المعروف کمیٹی باغ میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی صدارت شیخ الحدیث مولانا منیر احمد منور و مولانا غلام محمد ریحان نے کی۔ نقابت کے فرائض مولانا منیر احمد ریحان نے سرانجام دیئے۔ تلاوت کلام پاک قاری نصیر الدین نے کی۔ نعت رسول مقبول ﷺ مختلف نشستوں میں مولانا محمد شاہد عمران عارفی، آصف برادران، محمد عرفان، حافظ محمد طلحہ نے پیش کیں۔ کانفرنس کے خصوصی مہمانان گرامی مولانا اللہ وسایا، مولانا عزیز الرحمن ثانی لاہور، جمعیت علماء اسلام کے مرکزی رہنما سینیٹر حافظ حمد اللہ، مفتی ظفر اقبال چیچہ وطنی اور مولانا شاہد عمران عارفی تھے۔ مہمانان
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گرامی کے علاوہ مولانا محمد حذیفہ شاکر اور مولانا محمد وسیم اسلم مبلغ عالمی مجلس ملتان نے بھی بیانات کئے۔ اس موقع پر جامعہ اسلامیہ باب العلوم کے نائب شیخ الحدیث مولانا حبیب احمد، نگران اعلیٰ مولانا حبیب الرحمٰن مدنی، مولانا مفتی محمد اسماعیل نائب امیر عالمی مجلس کہروڑ پکا، مولانا مفتی محمود احمد امیر عالمی مجلس میلسی، مولانا ظفر احمد قاسم وہاڑی، مولانا قاری محمد یعقوب، قاری عبدالرحمٰن، مولانا عبدالرزاق، جمعیت علماء اسلام کے مولانا محمد امین، قاری محمد اقبال، حافظ محمد نواز، مولانا محمد اقبال، مولانا محمد عارف، مولانا محمد صہیب مسہ کوٹھی، محمد امیر ساجد، جناب نذیر احمد چوہان میلسی، خورشید خان کانجو، جماعت اسلامی کے نواب عمر حیات، جمعیت اہل حدیث کے مولانا عبدالرحمان فردوسی کے علاوہ اراکین پریس کلب، ختم نبوت یوتھ ونگ کے عہدیداران ودیگر مذہبی و سیاسی رہنما موجود تھے۔ کانفرنس کا اختتام مولانا منیر احمد منور کے دعاء سے ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۱۷ء ص ۵۱)
ختم نبوت کانفرنس ٹاؤن ٹو پشاور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت یونین کونسل ڈاگ پی کے سیون پشاور کے زیر اہتمام دوسری سالانہ ختم نبوت کانفرنس ۹؍ اکتوبر ۲۰۱۷ء بروز پیر بعد از نماز ظہر کرکٹ گراؤنڈ ڈاگ میں شیخ الحدیث مولانا عزیز الدین کی سرپرستی میں منعقد ہوئی۔ نقابت کے فرائض قاری اسحاق نے سرانجام دیئے، مفتی صفی اللہ نے تلاوت حافظ نادر شاہ نے ہدیہ نعت پیش کیا، مہمان مقررین میں مفتی راشد مدنی رحیم یار خان، قاضی احسان احمد کراچی، مفتی عبداللہ شاہ چارسدہ، مفتی محمد شہاب الدین پشاور اور قاری اکرام الحق مردان شامل ہیں۔ جب کہ کانفرنس میں تقریباً ۱۵ ساتھیوں میں اکابرین ختم نبوت کے ہاتھوں ختم نبوت خط و کتابت کورس کی اسناد تقسیم ہوئیں۔ کانفرنس نماز مغرب کے وقت مفتی محمد شہاب الدین پوپلزئی کی پرسُوز دعاء سے اختتام کو پہنچی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۱۸ء ص ۵۲)
ختم نبوت کانفرنس فیصل آباد
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۲؍ اکتوبر ۲۰۱۷ء کو نویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس محلہ مصطفےٰ آباد فیصل آباد میں زیر صدارت پیر میاں محمد رضوان نفیس منعقد ہوئی۔ مولانا اللہ وسایا، مولانا عزیز الرحمٰن ثانی، جمعیۃ اہل حدیث کے مولانا عبدالرشید حجازی، جے . یو . پی کے مولانا عبدالشکور رضوی، مولانا شاہ نواز فاروقی، مفتی محمد طیب، مولانا عبدالرشید سیال مبلغ مجلس فیصل آباد، سید حبیب احمد شاہ کے بیانات ہوئے۔ نعتیہ کلام مولانا قاسم گجر، مفتی سعید مدنی، حافظ مونس فاروقی نے پیش کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۸ء ص ۵۲، ۵۳)
شاہدَرہ میں ختم نبوت کانفرنس
۱۴؍ اکتوبر ۲۰۱۷ء بعد نماز عشاء جامع مسجد قاسمیہ شاہدرہ میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی، جس سے جمعیت علماء اسلام کے قائم مقام جنرل سیکرٹری مولانا امجد خان، سرگودھا جمعیت کے امیر مولانا مفتی شاہد مسعود، استاذ محترم مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور مولانا عبدالنعیم کے بیانات ہوئے۔ نعتیہ کلام اسامہ اجمل نے پیش کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۸ تا ۱۵؍نومبر ۲۰۱۷ء ص ۲۵)
مبلغین کا سہ ماہی اجلاس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغین کا اجلاس ۱۴، ۱۵؍ اکتوبر ۲۰۱۷ء بروز جمعرات و جمعہ کو دفتر مرکزیہ ملتان میں مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری کی زیر صدارت منعقد ہوا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اجلاس کا آغاز مولانا محمد امجد کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ اجلاس میں مرحومین کے لئے ایصال ثواب کیا گیا۔ جن میں مولانا میاں زبیر احمد دین پوری، مولانا محمد احمد میاں علی ڈوگراں، چوہدری جمال الدین کمالیہ، سسر مولانا فقیر اللہ اختر سیالکوٹ، سسر مولانا محمد طیب اسلام آباد، مولانا محمد اصغر انڈھڑ برادر مولانا جمال اللہ الحسینی، رانا تاج احمد نون شجاع آباد، جناب شمس الرحمن پرمٹ علی پور و دیگر حضرات شامل تھے۔
گزشتہ اجلاس کے فیصلہ کے مطابق ملک بھر کی ایک سو سے زائد تحصیلوں میں ختم نبوت کانفرنسیں منعقد کی گئیں۔ جن کی رپورٹ کو تسلی بخش قرار دیا گیا۔ اجلاس میں ۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کے تاریخ ساز فیصلہ کے حوالہ سے ملک بھر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام اجتماعات، کانفرنسز، سیمینارز، کنونشنز منعقد کئے گئے۔
۳۶ ویں سالانہ آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس کی کامیابی اور نشر و اشاعت کے لئے ۱۸؍اکتوبر کو جامعہ عربیہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں اجلاس منعقد ہوگا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۷ء ص ۵۴، ۵۵)
ختم نبوت کانفرنس لوئر دیر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لوئر دیر کے زیر اہتمام ۱۵؍ اکتوبر ۲۰۱۷ء کو پہلی سالانہ ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ کانفرنس کی صدارت مجلس لوئیر دیر کے امیر مولانا عمران خان نے کی۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض محسن محمود مبارکزئی نے ادا کئے۔ کانفرنس میں مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی، مولانا قاضی احسان احمد کراچی، مولانا مفتی محمد راشد مدنی رحیم یار خان، مولانا قاری اکرام الحق دوان، مولانا محمد عمران خان حقانی لوئر دیر و دیگر مقررین نے عقیدہ ختم نبوت پر روشنی ڈالی۔ کانفرنس میں مرکزی، صوبائی اور ضلعی قائدین سمیت لوئر دیر کے تمام سیاسی، سماجی حلقوں، وکلاء برادری، سول سوسائٹی اور مذہبی رہنماؤں نے شرکت کی۔ شیخ الحدیث مولانا فضل وہاب نے مہمانوں، انتظامیہ اور کارکنوں کا شکریہ ادا کیا۔ مداح رسول ﷺ مولانا عبدالرحمن اور مردان کے معروف نعت خواں نور الامین باچا نے ہدیہ نعت پیش کیا۔ اس موقع پر جمعیۃ علماء اسلام کے قاضی فضل اللہ روغانی، مولانا زاہد خان، جماعت اسلامی حافظ یعقوب خان، پاکستان پیپلز پارٹی کے ضلعی صدر سابق وزیر محمود زیب خان، ناظم اطلاعات عالم زیب خان ایڈووکیٹ سمیت عوامی نیشنل پارٹی، پاکستان تحریک انصاف، مسلم لیگ نون کے قائدین نے شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۱۷ء ص ۵۳، ۵۴)
آل پارٹیز ختم نبوت اجلاس لاہور
۱۵؍اکتوبر ۲۰۱۷ء ظہر کی نماز کے بعد مرکز ختم نبوت جامع مسجد عائشہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی دعوت پر آل پارٹیز ختم نبوت کنونشن منعقد ہوا، جس کی صدارت مولانا زاہد الراشدی اور ان کے بعد پیر رضوان نفیس نے کی۔ اجلاس سے مولانا شاہ نواز فاروقی، مولانا زاہد الراشدی، حافظ زبیر احمد ظہیر، حاجی عبداللطیف چیمہ، انجینئر ابتسام الٰہی ظہیر، مولانا عبدالرؤف فاروقی، مولانا احمد علی ثانی، مولانا عبدالستار نیازی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا عزیز الرحمن ثانی، قاری جمیل الرحمن اختر سمیت کئی ایک حضرات نے خطاب کیا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب سے ملاقات کے لئے مولانا عبدالرؤف فاروقی کی سرکردگی میں کمیٹی قائم کی گئی، جس میں جناب لیاقت بلوچ، مولانا احمد علی ثانی، میاں محمد اویس، حافظ زبیر احمد ظہیر، قاری زوار بہادر شامل ہوں گے جو ہوم سیکریٹری اور وزیر اعلیٰ پنجاب سے ملاقات کر کے اپنے تحفظات اور مطالبات پیش کرے گی۔ ایک قرارداد میں ہوم سیکرٹری سے نوٹیفکیشن واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔ نیز رانا ثناء اللہ کی برطرفی کا مطالبہ کیا گیا اور کہا گیا کہ تینوں مسائل سازش کی ایک کڑی ہیں، جس میں قادیانیوں کو چور دروازے سے مسلمانوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کی سازش کی گئی۔ مقررین نے عہد کیا کہ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے کسی بڑی سے بڑی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۸ تا ۱۵؍ نومبر ۲۰۱۷ء ص ۲۵، ۲۶)
چھتیسویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کی اجمالی رپورٹ
اللہ رب العزت کے فضل سے چھتیسویں سالانہ آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس ۱۹، ۲۰؍ اکتوبر ۲۰۱۷ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مدرسہ عربیہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں تزک واحتشام سے منعقد ہوئی۔
کانفرنس کی تیاری اور فیصل آباد، سرگودھا، لاہور، گوجرانوالہ ڈویژن میں کانفرنس کی دعوت دینے، تشہیر واعلانات اور تبلیغی بیانات کے لئے مبلغین حضرات کا اجلاس ۸؍ اکتوبر کو صبح آٹھ بجے مدرسہ عربیہ ختم نبوت مسلم کالونی کے دارالحدیث میں منعقد ہوا۔ جس کی صدارت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی بزرگ رہنماء مولانا محمد اکرم طوفانی نے فرمائی۔ اجلاس کے اختتام پر رفقاء، اشتہارات، سٹیکرز، فلیکس اور دعوت نامے لے کر اپنے اپنے متعینہ حلقہ میں تبلیغ کے لئے روانہ ہو گئے۔ اس دوران میں صفائی، رنگ وروغن، وضو خانوں، طہارت خانوں، بجلی کے سسٹم کی ری چیکنگ کرائی گئی۔ حسب سابق محترم جناب خالد مبین (گجر خان)، حافظ محمد الیاس نے راولپنڈی سے خوردونوش کے سامان کا معتدبہ حصہ ٹرک کے ذریعہ بھجوا دیا۔ بقیہ سامان چنیوٹ سے خریدا گیا۔ محترم ڈاکٹر محمد صولت نواز نے اس میں حصہ ڈالا۔ خریداری سامان کی رسیدات محترم مولانا عبدالرشید کے ذریعہ ان کو بھجوا دی گئیں۔ یوں وافر مقدار میں سامان کی خریداری کے عمل سے فارغ ہوئے۔
۱۵؍ اکتوبر کو ٹینٹ کے سامان اور ساتھ ہی ساتھ تنصیب کا عمل بھی شروع ہو گیا۔ قدیم مدرسہ، مسجد کے نئے برآمدہ کی چھت، جدید مدرسہ میں کانفرنس کا پنڈال، مسجد سیدنا امام حسین ؓ (عید گاہ وجنازہ گاہ) کھانا پکانے، گوشت بنانے، استقبالیہ، ٹریفک کنٹرول والوں کے لئے غرض جہاں جہاں سائبان لگنے تھے، لگنے شروع ہوئے۔ اسی طرح ساؤنڈ سسٹم دونوں مدرسوں کے پنڈالوں میں آواز پہنچانے کے لئے ۱۷؍ اکتوبر کی شام تک یہ عمل مکمل ہوا۔ ۱۷؍ اکتوبر کو ہی مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری تشریف لائے۔ ظہر کے بعد آپ کی صدارت میں تمام موجود رفقاء اور مختلف شعبوں کے لئے قائم کمیٹیوں کے سربراہان وممبران کا اجلاس منعقد ہوا اور تمام امور پر تفصیل سے غوروفکر کے بعد مولانا عزیز الرحمن ثانی کی مناسب تجاویز کو زیر غور لا کر ہدایات دی گئیں۔ ۱۸؍ اکتوبر کو پنڈال میں پرالی بچھائی گئی۔ اس کے کئی گھنٹے بعد صفوں کو بچھانے کا عمل مکمل ہوا۔ غرض آج عصر تک ہر لحاظ سے انتظامات مکمل ہو گئے۔ ۱۸؍ اکتوبر کو ظہر کے قریب قافلوں کی آمد شروع ہوئی۔ اللہ رب العزت نے کرم کا معاملہ فرمایا کہ ۱۹؍ اکتوبر فجر کی نماز پر جلسہ گاہ کا پورا پنڈال مہمانان گرامی سے بھر چکا تھا۔ رات بھر ملک کے دور دراز سے قافلوں کی بھر پور آمد جاری رہی۔ ساڑھے پانچ بجے صبح پنڈال میں مولانا مفتی محمد حسن مدظلہ کی اقتداء میں نماز ادا کی گئی۔
دوسری جماعت جامع مسجد ختم نبوت میں پونے چھ بجے ہوئی۔ نماز کے بعد پنڈال میں ہی درس کا اعلان تھا۔ حسب سابق مفتی صاحب نے درس ارشاد فرمایا۔ یوں آپ کی امامت، درس ودعاء سے کانفرنس کا افتتاح ہوا۔ آپ کے درس کے اختتام پر ملک بھر سے آنے والے حضرات کو ناشتہ کرانے کا عمل شروع ہوا۔ پھر دوپہر کا کھانا پھر شام کا کھانا۔ گویا صبح ناشتہ سے لے کر عشاء کے بعد تک کھانا کھلانے کا عمل تسلسل کے ساتھ جاری رہا۔ جو دوست ناشتہ سے فارغ ہوتے گئے۔ وہ آرام کے لئے اپنی اپنی رہائش گاہوں میں چلے جاتے۔ ساڑھے نو بجے صبح سے اعلانات کے ذریعہ دوستوں کو جگانے اور دس بجے کانفرنس کے آغاز کا اعلان ہونا شروع ہوا۔ اللہ رب العزت نے فضل کا معاملہ فرمایا کہ حسب اعلان ٹھیک دس بجے کارروائی کا آغاز ہو گیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پہلا اجلاس...... جمعرات صبح دس بجے:
صدارت: مولانا مفتی محمد حسن صاحب مدظلہ۔ افتتاحی دعاء: مولانا صاحبزادہ خلیل احمد صاحب مدظلہ (خانقاہ سراجیہ) افتتاحی خطاب: مولانا صاحبزادہ عزیز احمد صاحب مدظلہ (نائب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت) تلاوت و نعت: قاری محمد مہتاب احمد لاہوری (متعلم مدرسہ ختم نبوت چناب نگر)، محمد زاہد۔ بیانات: مولانا حافظ عبدالوہاب (مبلغ حافظ آباد)، مولانا غلام حسین (جھنگ)، مولانا عبدالرشید (فیصل آباد)، مولانا محمد حسین ناصر (سکھر)، مولانا امجد علی (سرگودھا)، مولانا محمد قاسم (منڈی بہاؤالدین)، مولانا تجمل حسین، (نواب شاہ)، مولانا ضیاء الدین آزاد (ماموں کانجن)، مولانا عبدالحکیم نعمانی (ساہیوال) نعت: جناب فیصل بلال (گوجرانوالہ) بیانات: مولانا قاری محمد جعفر (جھنگ)، مولانا محمد شعیب چنیوٹی (مدرسہ ختم نبوت چناب نگر)، مولانا محمد علی (مدرسہ ختم نبوت چناب نگر)، مولانا سلمان خالد (جامعہ اسلامیہ امدادیہ چنیوٹ) دعاء: مولانا مفتی محمد حسن صاحب (صدر اجلاس)
نوٹ: یادرہے کہ مولانا مفتی محمد حسن کا جمعرات صبح درس قرآن مجید سے لے کر جمعہ اختتامی دعاء تک سب حضرات سے زیادہ وقت اسٹیج پر گزرا۔ آپ جس طرح پوری کانفرنس میں دل سوزی سے حاضر باش رہے، بہت ہی مبارک اور قابل رشک ہے۔
ایک بجے پہلا اجلاس اختتام پذیر ہوا۔ رفقاء کو کھانا، وضو، نماز کی تیاری کے لئے آدھا گھنٹہ کا وقت دیا گیا۔ اجلاس ختم ہوتے ہی اذان ہوگئی جو دوست کھانا اور وضو کے عمل سے فارغ ہوتے گئے پنڈال میں تشریف لاتے گئے۔ ٹھیک ڈیڑھ بجے پنڈال میں جماعت کھڑی ہوگئی۔ مدرسہ عربیہ ختم نبوت کے استاذ مولانا محمد شاہد نے حسب سابق امامت فرمائی۔ دعاء اور سنتوں کی ادائیگی کے بعد دوسرا اجلاس شروع ہو گیا۔
دوسرا اجلاس...... جمعرات بعد از ظہر:
صدارت: مولانا صاحبزادہ خلیل احمد صاحب۔ مہمان خصوصی: پیر طریقت حافظ ناصر الدین خاکوانی (نائب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت) تلاوت: قاری محمد عمران (کراچی) نعت: جناب محمد واصف (کوہاٹ) بیانات: مولانا محمد خالد (شیخوپورہ)، مولانا خبیب احمد (ٹوبہ)، مولانا عبدالقیوم حقانی (اکوڑہ خٹک)، جناب شبیر احمد (قصور)، حضرت قاری جمیل احمد بندھانی (سکھر) بیان مہمان خصوصی: پیر طریقت حافظ ناصر الدین خاکوانی۔ بیان: ڈاکٹر قاری عتیق الرحمن (امیر جمعیۃ علماء اسلام پنجاب)
اس دوسرے اجلاس میں اسٹیج پر مندرجہ ذیل مہمانان نے خصوصی شرکت سے سرفراز فرمایا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مولانا مفتی عبد الخالق (ہارون آباد)، شیخ الحدیث مولانا عبد الرؤف (اسلام آباد)، مولانا غلام فرید (جامعہ دارالقرآن فیصل آباد)، قاری عبد الرحمن ضیاء (سرگودھا)، مولانا مفتی عبد الرحمن (راولپنڈی)
اختتامی دعاء: مولانا خواجہ خلیل احمد صاحب (خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف میانوالی)
تیسرا اجلاس: عصر کی نماز کے بعد کا وقت سوالات و جوابات کا تھا۔ راقم الحروف نے گزارہ کیا۔
چوتھا اجلاس: مغرب کی نماز کے بعد مجلس ذکر کا تھا اور اس سے قبل اصلاحی بیان اور مجلس ذکر دونوں کام مولانا قاضی ارشد الحسینی اٹک والوں نے سرانجام دیئے۔
پانچواں اجلاس ...... جمعرات بعد از نماز عشاء:
صدارت: مولانا محمد اعجاز مصطفےٰ صاحب (کراچی)
مہمان خصوصی: مولانا مفتی خالد محمود (کراچی)
تلاوت: قاری محمد عثمان مالکی (ساہیوال)، قاری عبد الرشید (لاہور)
نعت: مولانا قاری سلیمان یاسین (کراچی)
بیانات: مولانا محمد یوسف خان (استاذ الحدیث جامعہ اشرفیہ)، مولانا نعیم الدین (استاذ الحدیث جامعہ مدنیہ)
نعت: حافظ محمد شریف مچن آبادی۔
بیان: پیر طریقت میاں محمد اجمل قادری (سجادہ نشین خانقاہ عالیہ شیرانوالہ لاہور)
نعت: مولانا محمد قاسم گجر (لاہور)
بیانات: جناب لیاقت بلوچ صاحب (سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی وملی یکجہتی کونسل)، پیر طریقت مولانا عزیز الرحمن ہزاروی، مولانا قاضی مشتاق الرحمن (امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت راولپنڈی)، مولانا محمد رضوان عزیز (نگران شعبہ تخصص مدرسہ عربیہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر)، پیر طریقت مولانا سائیں عبد المجیب قریشی (پیر شریف)، مولانا محمد ایوب صفدر (گوجرانوالہ)، مولانا عبد الشکور رضوی (فیصل آباد)، مولانا محمد امجد خان (لاہور)، ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر (صدر ملی یکجہتی کونسل پاکستان)
نعت: جناب طاہر بلال چشتی (جھنگ)
بیانات: جناب شرجیل (صدر انجمن تاجران راولپنڈی)، قاضی احسان احمد (کراچی)، سید کفیل بخاری (نائب صدر مجلس احرار اسلام)، مولانا سید عبد الخبیر آزاد (خطیب بادشاہی مسجد لاہور)، علامہ ابتسام الٰہی ظہیر (ناظم متحدہ کونسل اہل حدیث)، مولانا محمد ایوب (ڈسکہ)
نعت: مولانا شاہد عمران عارفی (ساہیوال)
بیان: مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری (ساہیوال)
نعت: سید سلمان گیلانی، امین برادران۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دعاء: مولانا اعجاز مصطفےٰ (صدر اجلاس)
مہمانان خصوصی: جناب میاں پیر محمد رضوان نفیس (لاہور)، قاری جمیل الرحمٰن اختر (لاہور)، مولانا قاری علیم الدین شاکر (لاہور)، مولانا عبدالشکور حقانی (لاہور)، مولانا مفتی محمد معاذ (چکوال)، مولانا پیر عبدالقدوس (چکوال)، مولانا عبیداللہ انور بن مولانا بشیر احمد شاد (چشتیاں)، مولانا قاری عبدالرحیم رحیمی (کوئٹہ)، صاحبزادہ مبشر محمود (فیصل آباد)، مولانا محمد عابد (خیرالمدارس ملتان)، مولانا قاری عبدالجبار (ساہیوال)، مولانا مفتی عظمت اللہ (امیر عالمی مجلس بنوں)
رات گئے اجلاس بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوا۔ صبح نماز فجر کے بعد مولانا منیر احمد منور شیخ الحدیث جامعہ اسلامیہ باب العلوم کہروڑ پکا نے درس قرآن مجید ارشاد فرمایا۔
چھٹا اجلاس...... بروز جمعہ، قبل از جمعہ:
دس بجے صبح چھٹا اجلاس شروع ہوا۔
صدارت: مولانا صاحبزادہ خلیل احمد صاحب۔
تلاوت: قاری محمد عمار ظفر (جامعۃ السراج چیچہ وطنی)، استاذ القراء قاری احسان اللہ فاروقی (لاہور)
بیانات: مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا مختار احمد (میر پور خاص)
نعت: محمد سعید، محمد رؤف (کرک)، عبدالواحد جتوئی (سندھ)
بیانات: مولانا توصیف احمد (حیدر آباد)، ڈاکٹر دین محمد فریدی (بھکر)
دستار بندی: درجہ تخصص میں شریک تیسرے سال کی کلاس کے ۲۸ حضرات کی دستار بندی مولانا محمد عابد (خیرالمدارس ملتان)، مولانا عبدالغفور (ٹیکسلا)، مولانا صاحبزادہ خلیل احمد، مولانا محب اللہ (لورالائی) نے اپنے مبارک ہاتھوں سے کرائی۔
بیانات: جناب راجہ محمد ارشد (آزاد کشمیر)، مولانا محمد راشد مدنی (رحیم یار خان)
نعت: فیصل بلال (گوجرانوالہ)
بیان: مولانا نور محمد ہزاروی (امیر مجلس سرگودھا)
دستار بندی: درجہ حفظ سے پچھلے سال فارغ ہونے والے حفاظ کرام کی دستار بندی پیر طریقت حافظ ناصر الدین خاکوانی، پیر طریقت مولانا حافظ ذوالفقار احمد نقشبندی، شیخ الحدیث مولانا ہاشم خان (امیر جمعیۃ علماء اسلام ضلع چارسدہ)، شیخ الحدیث مولانا عبدالرؤف (امیر جمعیۃ علماء اسلام تحصیل چارسدہ) نے اپنے مبارک ہاتھوں سے کرائی۔
بیان: مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی (امیر مجلس کے. پی. کے پشاور)
پیر طریقت مولانا حافظ ذوالفقار احمد نقشبندی کا ساڑھے بارہ بجے سے ڈیڑھ بجے قبل از جمعہ تک انتہائی جامع اور پرمغز بیان ہوا۔
خطبہ جمعہ اور نماز کی امامت مولانا صاحبزادہ خلیل احمد نے فرمائی۔
ساتواں (آخری) اجلاس...... بعد از جمعہ:
صدارت: مولانا سید سلمان بنوری (نائب مہتمم جامعۃ العلوم الاسلامیہ کراچی)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تلاوت : مولانا قاری مشتاق احمد رحیمی (امیر عالمی مجلس قصور) نعت : مولانا محمد شاہد عمران عارفی (ساہیوال) بیانات : مولانا سید احمد بنوری (کراچی)، مولانا فضل الرحمن درخواستی (خانپور)، مولانا عزیز الرحمن جالندھری (ملتان)، مولانا سید مظہر شاہ اسعدی ( ناظم عمومی جمعیۃ علماء اسلام پنجاب ) نعت : سید سلمان گیلانی بیان : قائد جمعیۃ مفکر اسلام مولانا فضل الرحمن (صدر مرکزیہ جمعیۃ علماء اسلام ) دعائے اختتام: پیر طریقت مولانا حافظ ذوالفقار احمد نقشبندی نے فرمائی۔
بعد از جمعہ کے اجلاس میں ملک بھر کے مشائخ ، دینی جامعات کے شیوخ حدیث ، مدارس کے مہتمم حضرات اور اپنی جماعتوں کے قائدین کی بڑی تعداد اسٹیج پر تشریف فرما تھی۔ جیسے پیر طریقت صوفی دین محمد ( گوجرہ ) ، مولانا قاری محمد یسین ( فیصل آباد ) ، مولانا منیر احمد منور ( کہروڑ پکا ) ، مولانا ظفر احمد قاسم ( وہاڑی ) ، مولانا سید جاوید حسین شاہ ( فیصل آباد ) ، مولانا محب النبی (لاہور)، مولانا عبید اللہ انور (تلہ گنگ ) وغیرہم !
اس دفعہ کانفرنس پر ہمارے اکابر کے جانشین بڑی تعداد میں شریک کانفرنس ہوئے۔
- ۱...... شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف بنوری کے جانشین مولانا سید سلمان بنوری (کراچی)
- ۲...... شیخ الاسلام مولانا محمد عبداللہ درخواستی کے جانشین مولانا فضل الرحمن درخواستی (خانپور)
- ۳...... لاہوری کے جانشین مولانا عبید اللہ انور کے صاحبزادہ میاں محمد اجمل قادری (لاہور)
- ۴...... مفکر اسلام مولانا مفتی محمود کے جانشین مولانا فضل الرحمن (ڈیرہ اسماعیل خان )
- ۵...... مولانا خواجہ خان محمد کے جانشین مولانا صاحبزادہ عزیز احمد، مولانا صاحبزادہ خلیل احمد و صاحبزادہ سعید احمد (خانقاہ سراجیہ کندیاں
ضلع میانوالی)
- ۶...... مولانا قاضی زاہد الحسینی (اٹک) کے جانشین مولانا قاضی محمد ارشد الحسینی (اٹک)
- ۷...... مولانا قاری خلیل احمد بندھانی (سکھر) کے جانشین مولانا قاری جمیل احمد (سکھر)
- ۸...... پیر طریقت سائیں عبد الکریم پیر شریف والوں کے جانشین سائیں عبدالمجیب قریشی ( پیر شریف)
- ۹...... مولانا عبدالعزیز رائے پوری چک نمبر ۱۱ والوں کے جانشین مولانا پیر عبدالحفیظ (چیچہ وطنی)
- ۱۰...... پیر طریقت حافظ غلام حبیب چکوال کے صاحبزادے مولانا پیر عبدالقدوس (چکوال)
- ۱۱...... امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے نواسے سید محمد کفیل شاہ بخاری (ملتان)
- ۱۲...... مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھری کے جانشین مولانا عزیز الرحمن جالندھری (ملتان)
- ۱۳...... محدث کبیر مولانا عبد الرحمن کامل پوری کے پوتے مولانا ڈاکٹر عتیق الرحمن (راولپنڈی)
- ۱۴...... شاعر ختم نبوت سید امین گیلانی کے جانشین سید سلمان گیلانی (لاہور)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۱۵....... نعت خواں رسول جناب صوفی احمد بخش چشتی کے صاحبزادے جناب طاہر بلال چشتی (جھنگ)
- ۱۶....... جناب حفیظ جالندھری (ساہیوال) کے صاحبزادے طارق حفیظ جالندھری (ساہیوال)
- ۱۷....... مولانا عبداللطیف (شاہ کوٹ) کے صاحبزادے مولانا سید احمد (شاہ کوٹ)
- ۱۸....... مولانا عبدالقادر آزاد کے صاحبزادے سید عبد الخبیر آزاد (لاہور)
- ۱۹....... مولانا علامہ احسان الہی ظہیر کے جانشین جناب ابتسام الہی ظہیر (لاہور)
- ۲۰....... پیر طریقت مولانا محمد اسحاق قادری لاہوری کے جانشین قاری جمیل الرحمن (لاہور)
- ۲۱....... مولانا قاری محمد اجمل خان کے صاحبزادے مولانا محمد امجد خان (لاہور)
- ۲۲....... مولانا صوفی اللہ وسایا مرحوم (ڈیرہ غازی خان) کے صاحبزادے جناب مولانا عبدالرحمن غفاری۔
پیر طریقت مولانا عبدالغفور ٹیکسلا والوں نے علالت کے باوجود شرکت سے ممنون فرمایا۔ پیر طریقت مولانا حافظ ذوالفقار نقشبندی نے مسلسل پانچ گھنٹے اسٹیج پر براجمان رہ کر خواجہ خان محمد صاحب کی اسٹیج پر طویل نشستوں کی یاد تازہ کر دی۔ مولانا مفتی محمد حسن آغاز سے اختتام تک برابر اسٹیج پر ہر اجلاس میں شریک رہے۔ زہے ہمت و توفیق !
تمام تر ہمت و کوشش کے باوصف فقیر نہ تو اکابر کے اسماء مبارکہ کا مکمل احاطہ کر پایا ہے نہ ہی رفقاء کرام جو مختلف ڈیوٹیوں پر تھے اور حسب سابق گرانقدر خدمات سرانجام دیں ، ان کا مکمل نقشہ پیش کر سکا ہے۔ البتہ گزشتہ سال لولاک کے شمارہ ربیع الاوّل ۱۴۳۸ھ ص ۲۴ پر مدرسہ ختم نبوت چناب نگر سے تخصص کی تکمیل کرنے والی، سال اوّل ۲۰۱۴ء اور سال دوم ۲۰۱۵ء دو سالوں کے ۳۲ حضرات کی فہرست شائع کی تھی۔ اب اس شمارہ میں تیسرے سال ۲۰۱۶ء کی تخصص کلاس کو مکمل کرنے والے اٹھائیس حضرات کی فہرست پیش خدمت ہے۔ جن کی چھتیسویں سالانہ کانفرنس پر ۲۰ / اکتوبر ۲۰۱۷ء قبل از جمعہ دستار بندی کی گئی۔ ان حضرات کے اسماء گرامی کی فہرست یہ ہے :
اسماء گرامی طلباء تخصص مدرسہ عربیہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر ضلع چنیوٹ :
مسلسل نمبر نمبر شمار نام مع ولدیت ایڈریس ضلع 33 1 مفتی عظمت اللہ سعدی حاجی سعد اللہ خان بنوں 34 2 مولانا محمد حسن حقانی محمد حفیظ نوشہرہ 35 3 مولانا محمد عابد حقانی مشتاق علی نوشہرہ 36 4 مولانا نذیر الرحمن آوس خان لکی مروت 37 5 مولانا جنت اللہ حنفی عبدالجلیل لکی مروت 38 6 مولانا اویس امجد قاضی امجد محمود قاضی راولپنڈی 39 7 مولانا رشید احمد محمد سعید بٹگرام 40 8 مولانا محمد ولید محمد رفیق ہٹیاں بالا 41 9 مولانا فضل جواب حقانی مولانا اکرام اللہ صوابی
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
42 10 مولانا عبدالباسط محمد اسحاق خان پونچھ 43 11 مولانا محمد معمر محمد نسیم تتر خیل لکی مروت 44 12 مولانا محمد شفیع اللہ غلام رسول مظفر گڑھ 45 13 مولانا محمد ناصر اکرام الدین مردان 46 14 مولانا محمد عرفان فقیر عطاء اللہ ڈیرہ اسماعیل 47 15 محمد ابراہیم محمد نواز کوہلو 48 16 مولانا عبدالسلام محمد شفیع گلگت 49 17 مولانا گل محمد حقانی فضل خان لکی مروت 50 18 مولانا عبدالجبار اعوان عبدالرشید اعوان کراچی 51 19 مولانا عبدالمجید جعفر خان راجن پور 52 20 مولانا بدرالاسلام عباسی محمد سفیر خان عباسی آزاد کشمیر 53 21 مولانا محمد ندیم مغل علی عمر جان مظفر آباد 54 22 مولانا محمد سلیم اللہ غلام رسول مظفر گڑھ 55 23 مولانا محمد طاہر ربانی محمد قاسم ربانی حیدر آباد 56 24 مولانا محمد نعمان ضیاء جاوید ارشد ضیاء مظفر گڑھ 57 25 مولانا محمد حفیظ اللہ جام دوست محمد مظفر گڑھ 58 26 مولانا ملک اویس احمد عبدالستار کراچی 59 27 مولانا شیر علی شاہ جہان خان فیصل آباد 60 28 مولانا محمد سعید شاہد خان پشاور
اسی طرح مدرسہ عربیہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر سے ۲۰۰۱ء سے ۲۰۱۵ء تک حفظ مکمل کرنے والے حفاظ کرام کی تعداد ۲۵۵ تھی، جو ماہنامہ لولاک کے شمارہ ربیع الاول ۱۴۳۸ھ کے ص ۱۳ تا ۲۳ پر شائع کی تھی۔ اب سال ۱۴۳۸ھ میں تکمیل تحفیظ القرآن کی کلاس کے شرکاء کی تعداد چھبیس ہے۔ جن کی ۲۰ /اکتوبر ۲۰۱۷ء کو جمعہ کے موقعہ پر چھتیسویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس پر دستار بندی کی گئی۔ ان کی فہرست یہ ہے:
فہرست حفاظ کرام مدرسہ عربیہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر ضلع چنیوٹ: تکمیل تحفیظ القرآن ۱۴۳۸ھ بمطابق ۲۰۱۶ء
مسلسل نمبر نمبر شمار نام طالب علم ولدیت ضلع 256 1 حافظ احمد شیر مختار احمد چنیوٹ 257 2 حافظ ابومعاویہ شہزاد محمد ابراہیم چنیوٹ 258 3 حافظ ابوسفیان ریاض احمد چنیوٹ
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ۱۶۱ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
259 4 حافظ بہاؤالدین مولانا غلام رسول رحیم یار خان 260 5 حافظ عمر فاروق برخوردار چنیوٹ 261 6 حافظ شمس الدین مولانا غلام رسول رحیم یار خان 262 7 حافظ حفظ الرحمن عبدالرشید لودھراں 263 8 حافظ عبدالرحمن محمد ابراہیم چنیوٹ 264 9 حافظ محمد اسامہ مختار احمد چنیوٹ 265 10 حافظ احمد شیر ناصر علی چنیوٹ 266 11 حافظ محمد معوذ عبدالحمید مظفر گڑھ 267 12 حافظ محمد الیاس رحمت علی چنیوٹ 268 13 حافظ محسن علی محمد ریاض چنیوٹ 269 14 حافظ محمد عاقب شہزاد محمد اسماعیل چنیوٹ 270 15 حافظ مزمل عباس غلام یسین چنیوٹ 271 16 حافظ نعمان علی شہباز علی چنیوٹ 272 17 حافظ محمد مبشر محمد خضر حیات چنیوٹ 273 18 حافظ محمد عمر فاروق غلام رسول چنیوٹ 274 19 حافظ محمد شیر خان محمد سعید چنیوٹ 275 20 حافظ محمد یامین یاسین چنیوٹ 276 21 حافظ عدنان فرید محمد فرید چنیوٹ 277 22 حافظ محمد مدثر محمد یعقوب بہاول پور 278 23 حافظ گلفام امجد امجد علی چنیوٹ 279 24 حافظ محمد سرفراز منیر احمد چنیوٹ 280 25 حافظ رانا شاہ زیب رانا معظم علی خان چنیوٹ 281 26 حافظ شاہ برأت خان شمع خان چنیوٹ
گویا ۲۰۰۱ء سے ۲۰۱۷ء تک سترہ سالوں میں ۲۸۱ حضرات نے حفظ قرآن مدرسہ ختم نبوت سے مکمل کیا۔
چھتیسویں سالانہ آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کی منظور شدہ قراردادیں:
- ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کا یہ عظیم اجتماع صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ کے قادیانیوں کے متعلق وضاحتی بیان کو ’عذر گناہ بدتر
از گناہ‘ کا مصداق قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ صوبائی وزیر قانون پاکستانی قوانین سے نابلد ہیں۔ کیونکہ قادیانی قرآن وسنت، اجماع امت اور ۱۹۷۳ء کے آئین کی رو سے دائرہ اسلام سے خارج اور کافر ہیں۔ انہیں مسلمان قرار
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دینا آئین سے بغاوت کے مترادف ہے۔ لہٰذا جب تک اپنے بیان کو علی الاعلان واپس نہیں لیتے انہیں آئینی عہدہ سے چمٹے رہنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔ لہٰذا ان سے وزارت قانون کا قلمدان واپس لیا جائے۔
- پچھلے دنوں ہوم ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے ختم نبوت کے بیان، لٹریچر، اشتہار اور اسٹیکرز لگانے پر لاہور میں ایک ماہ کے لئے پابندی
عائد کر دی ۔ جو سراسر قادیانیت نوازی ہے ۔ لہٰذا یہ اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ یہ نوٹیفکیشن واپس لیا جائے ۔ کیونکہ قادیانی آئین وقانون کی رو سے کافر ہیں اور انہیں کافر کہنا آئینی طور پر کوئی جرم نہیں ۔ لہٰذا یہ آرڈر واپس لیا جائے ۔
- انتخابی اصلاحات کی آڑ میں حلفیہ بیان کو حذف کرنا اور پھر اس کو واپس لینا ۔ یہ اجلاس اس حلفیہ بیان کو واپس لینے کا خیر مقدم
کرتے ہوئے مطالبہ کرتا ہے کہ ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی بد باطن ایسی جرأت نہ کر سکے ۔
- فوج کا ماٹو جہاد ہے جب کہ قادیانی جہاد اسلامی کے منکر ہیں ۔ لہٰذا آئندہ انہیں فوج میں کمیشن نہ دیا جائے ۔
- ملک بھر کے تمام محکموں میں قادیانیوں کو کلیدی عہدوں سے الگ کیا جائے ۔
- عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ”چھتیسویں آل پاکستان دوروزہ سالانہ ختم نبوت کانفرنس“ چناب نگر کا یہ عظیم الشان
اجتماع اللہ پاک کے حضور سجدہ شکر بجالاتے ہوئے تمام مدعوین ومندوبین اور شرکاء کانفرنس کا شکریہ ادا کرتا ہے کہ آپ حضرات کی تشریف آوری سے یہ کانفرنس کامیابی سے ہمکنار ہوئی ۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۱۷ء ص ۳۷ تا ۴۵)
ختم نبوت کانفرنس دنیا پور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام سالانہ ختم نبوت کانفرنس ۲۶؍ اکتوبر ۲۰۱۷ء بروز جمعرات بعد نماز عشاء منشی خان ہوٹل میں منعقد ہوئی ۔ جس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما مولانا اللہ وسایا ، مولانا مفتی محمد حسن لاہور ، مولانا عبدالقیوم حقانی ، مولانا عبدالکریم ندیم ، جمعیت اہلحدیث کے سید ضیاء اللہ شاہ بخاری ، جماعت اسلامی کے ڈاکٹر سید وسیم اختر کے بیانات ہوئے ۔ کانفرنس میں جامعہ اسلامیہ باب العلوم کے شیخ الحدیث مولانا منیر احمد منور ، نگران اعلیٰ مولانا حبیب الرحمٰن مدنی ، مولانا مفتی ظفر اقبال جامعۃ السراج چیچہ وطنی ، مولانا محمد میاں لودھراں ، مولانا منیر احمد ریحان کہروڑ پکا ، مولانا عبدالرحمٰن جلہ ارائیں کے علاوہ علاقہ بھر کے علماء کرام ، سیاسی وسماجی شخصیات اور عوام الناس نے بھر پور شرکت کی ۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۱۷ء ص ۵۲)
ختم نبوت کانفرنس بیریاں والا ٹوبہ
۲۶؍ اکتوبر ۲۰۱۷ء بروز جمعرات بعد نماز عشاء چک نمبر ۲۹۵ گ ب بیریاں والا ضلع ٹوبہ میں تحفظ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی ۔ جس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی نائب امیر مولانا پیر حافظ ناصر الدین خاکوانی مدظلہ ، مولانا غلام حسین مبلغ جھنگ ، مولانا سید کفیل شاہ بخاری ، مفتی کفایت اللہ جے . یو . آئی ، مولانا لطف اللہ ، مولانا شاکر اللہ ودیگر علماء کرام ومشائخ عظام نے خطاب فرمایا ۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۱۸ء ص ۵۲)
گوادر کا تبلیغی سفر
دین اسلام ادیان سماویہ میں سے آخری دین ہے اور یہ دین قیامت کی صبح تک آب و تاب کے ساتھ زندہ وجاوید رہے گا۔ اس دین کی آبیاری اور فروغ کے لئے رب کریم نے ہر دور میں ایسے رجال کار پیدا کئے جنہوں نے اپنی زندگی اسی کام میں لگانے کی دھن سوار کر رکھی تھی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
آج بھی بحمد اللہ تعالیٰ انہیں بزرگوں کی قائم کردہ جماعت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نبی کریم ﷺ کے دین کی دعوت کو لے کر چار سُو توحید و رسالت کا ڈنکا بجانے کا فریضہ سرانجام دے رہی ہے۔
گزشتہ دنوں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے علماء کرام کا ایک وفد گوادر کے تبلیغی دورہ پر گیا، جس میں مرکزی راہنما مولانا قاضی احسان احمد ، راقم عبدالعزیز ملازہی اور مولانا احمد شاہ (تربت) شامل تھے۔
مولانا قاضی احسان احمد کے سفر کا آغاز ۲/نومبر بروز جمعۃ المبارک صبح ساڑھے آٹھ بجے دفتر ختم نبوت پرانی نمائش سے جامعہ عثمانیہ یوسف گوٹھ کے لئے ہوا جو بندہ راقم کے والد محترم شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید ملازہی کا قائم کردہ عظیم دینی ادارہ ہے جس میں درجہ حفظ وناظرہ اور ابتدائی کتب سے لے کر دورۂ حدیث تک درجات قائم ہیں، بحمد اللہ! مولانا احمد شاہ بھی تشریف لے آئے، ناشتہ کے عمل اور ضروری سامان کی ترتیب سے فارغ ہو کر تقریباً پونے گیارہ بجے قافلہ گوادر کی طرف رواں دواں ہوا۔ راستہ میں خوبصورت مناظر رب کریم کی قدرت کو نمایاں کر رہے تھے، ساحل سمندر بھی اپنی موجودگی کا احساس دلاتا، خوبصورت لہریں موتیوں کی چمکدار مالا کی طرح سامنے آتیں، پھر زمین پر بکھرے پانی کی طرح پھیل جاتیں، نماز ظہر اور ماڑا کے ساحل پر ادا کی، بہت خوبصورت دلکش ماحول میں کھانا تناول کیا، ہوٹل پر قائم ٹک شاپ والے بھائی سے دعوتی ملاقات ہوئی، لٹریچر دیا اور سفر کا دوبارہ آغاز ہوا، قبل از نماز عصر پسنی مدرسہ خالد بن ولید ؓ پہنچ گئے، جہاں پر مدیر مدرسہ مولانا مفتی رحمت اللہ، مولانا فہمید ، مولانا موسیٰ، مولانا میمن جاکھانی اور دیگر علماء کرام کے ساتھ بعد نماز عصر خصوصی نشست ہوئی جس میں مولانا قاضی احسان احمد نے عقیدۂ ختم نبوت اور جماعتی پالیسی سے متعلق خطاب کیا۔ بعد نماز مغرب درس قرآن کریم ہوا، جس میں علاقائی احباب اور مدرسہ کے طلباء نے شرکت کی بعد نماز عشاء قبل از طعام مدعوئین کے سامنے ایک مرتبہ پھر مولانا قاضی احسان احمد نے عقیدۂ ختم نبوت اور جماعت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی خدمات کو پیش کیا اور تمام حاضرین سے اس کام میں لگنے کی پُر زور استدعا کی اور الحمد للہ ! شرکاء مجلس نے اپنے اکابر کی جماعت اور اس کی کامیاب ترین مساعی جمیلہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کام میں مکمل آمادگی کا اظہار کیا، بعد طعام گوادر کے لئے قافلہ پا بہ رکاب ہوا۔
۳/نومبر بروز جمعۃ المبارک: تشکیل کے مطابق مولانا قاضی احسان احمد نے گوادر شہر کی مرکزی جامع مسجد بلال میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا، موصوف نے سامعین کے سامنے فکر آخرت اور دنیا کی بے ثباتی پر زور دار بیان کیا۔ ختم نبوت کے موضوع پر بیان کرتے ہوئے کہا کہ آنحضرت ﷺ رب کریم کے آخری نبی ہیں، اب آپ کے بعد کوئی نیا نبی آئے گا اور نہ کوئی کتاب اور نہ ہی کوئی اور نیا دین وشریعت آئے گی، یہی دین، یہی شریعت اور یہی آخری کتاب اور اس کا آخری پیغام آخرت کی کامیابی کا اصل سرچشمہ ہے۔
راقم الحروف نے مکی مسجد گوادر شہر میں خطبہ جمعہ دیا، رب کی توفیق اور اس کے فضل وکرم سے عقیدۂ ختم نبوت کی بلوچی اور اردو زبان میں ترجمانی کا موقع میسر آیا، رب کریم حضور پُرنور سرکار دوجہاں ﷺ کی صحیح نسبت سے سرفراز فرمائے ۔آمین ۔
مولانا احمد شاہ (تربت) نے جامع مسجد عالیہ میں خطبہ جمعہ دیا اور فتنہ قادیانیت کی سرکشی اور گستاخی سے لوگوں کو آگاہ کرتے ہوئے حضور اکرم ﷺ کی عزت ناموس اور عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کا کام کرنے کی بھر پور ترغیب دی۔
قبل از عصر گوادر شہر کے مقتدر علماء کرام سے ملاقاتوں کا نظم طے ہوا، جس میں جامعہ اسلامیہ کوہ بُن کے مدیر مولانا محمد ریاض بلوچ اور برادر گرامی مولانا عبدالحلیم بلوچ سے خصوصی ملاقات ہوئی۔ نماز مغرب جامع مسجد جبل رحمت سے ملحق مدرسہ میں مولانا قاضی احسان احمد کی امامت میں ادا کی، بعد ازاں رخصت لے کر مدرسہ قاسم العلوم گوادر میں ملاقات کے لئے حاضر ہوئے، جہاں مہتمم صاحب کی عدم
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
موجودگی میں ان کے نائبین سے ملاقات ہوئی، جماعتی کام اور محاذ پر گفتگو کے ساتھ ساتھ جماعت کی طرف سے کتب اور لٹریچر کے تحائف بھی پیش کئے گئے۔ مولانا عبدالحمید انقلابی امیر جمعیت علماء اسلام ضلع گوادر کے ادارہ جامع مطلع العلوم میں قبل از عشاء حاضر ہوئے، نماز کے بعد اجازت لے کر اپنے مسکن کی طرف رخصت ہوئے۔
واضح رہے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع گوادر کے زیر اہتمام سالانہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۵؍ جنوری ۲۰۱۸ء جامع مسجد بلال میں منعقد ہوگی، جس کی تمام احباب ملاقات کو شرکت کی دعوت بھی دی گئی، رب کریم مجلس کی محنتوں، کوششوں اور کاوشوں کو شرف قبول عطا فرمائے۔ آمین!
۴؍ نومبر بروز ہفتہ تقریباً پونے آٹھ بجے واپس کراچی کا سفر شروع ہوا، راستہ میں پہلا پڑاؤ مدرسہ دارالتوحید اورماڑہ میں ہوا، جہاں جامعہ کے اساتذہ کرام ہمارے منتظر تھے، جامعہ کے مہتمم مولانا محمد امین ایک مریض کے ہمراہ کراچی کے سفر پر تھے، رب کریم تمام مسلمان مریضوں کو شفاء کامل عاجل نصیب فرمائے۔ جامعہ کے اساتذہ مولانا محمد یونس، مولانا فدا کریم، مولانا حبیب اللہ، مولانا عبادالرحمٰن اور قاری شاہ فیصل سے تفصیلی محبت بھری ملاقات رہی۔ تمام رفقائے مدرسہ نے بہت محبت کا اظہار کیا۔
نماز ظہر کنڈ ملیر کے ساحل پر آباد مسجد میں ادا کی جہاں دور دراز سے سیاح سیروتفریح کے لئے آتے ہیں، خصوصاً کراچی کے بہت سے احباب اس تفریح گاہ سے خوب لطف اندوز ہوتے ہیں۔
بعد نماز فوراً سفر شروع کیا۔ کراچی اور گوادر کے اس سفر میں ہنگلاج کا پہاڑی سلسلہ آتا ہے جس میں ہنگول نامی ایک علاقہ بھی آتا ہے، اس ہنگلاج میں ہنگول پارک کے نام سے ایک علاقہ معروف و مشہور ہے بلند و بالا سخت چٹان نما پہاڑ دور سے یوں محسوس ہوتے ہیں کہ کسی زمانہ میں کشیدہ کاری کے فن کو آزمایا گیا تھا جس کے اثرات آج تک نمایاں طور پر نظر آتے ہیں، جس کی ایک دلیل پہاڑ کی چوٹی پر قائم پرنس آف ہوپ (امیدوں کا شہزادہ) نما ایک بہت بڑا بت کھڑا ہوا نظر آتا ہے، کہا جاتا ہے کہ بہت دور دراز سے ہندو لوگ یہاں آتے ہیں، باقی حقیقت حال اللہ بہتر جانتے ہیں تاہم ختم نبوت کے اس وفد نے اپنا تبلیغی ایمانی فریضہ ادا کرتے ہوئے اس بے آب و گیا سنگلاخ پہاڑوں کی وادی میں کلمہ حق بلند کیا، اذان دی، نعرۂ تکبیر اللہ اکبر، تاج وتخت ختم نبوت زندہ باد کے فلک شگاف نعرے بلند کئے اور پہاڑ کی چوٹی جہاں تک ہمارے لئے جانا ممکن تھا غیر مرئی مخلوق خدا جو وہاں آباد ہوگی اس کو دعوت دین و ایمان پیش کیا اور اس پہاڑوں کی وادی اور مٹی کے ذرات کو گواہ بنایا کہ قیامت کے دن حضور اکرم ﷺ کے ان غلاموں کی موجودگی اور دعوت دین و ایمان کی گواہی دیں، راستہ میں کراچی سے آنے والے ایک وفد سے ملاقات ہوئی، ان کو بھی تحفظ ختم نبوت کی دعوت اور لٹریچر دیا گیا، اس مقام سے آگے چل کر ایک اور تاریخی مقام آتا ہے جہاں فاتح سندھ شہید اسلام محمد بن قاسم کے قافلۂ حق و صداقت کے کچھ سپاہی آسودۂ خاک تھے، ان کے جذبۂ ایمانی، محبت اسلام اور شجاعت و بہادری کی وجہ سے اسلام نے ترقی پائی اور رہتی دنیا تک دین کی بہاریں قائم رہیں گی۔ مزارات پر حاضری دی، دعائے مغفرت کی۔ ان مزارات کے سامنے بالکل مشرقی طرف سڑک عبور کریں تو ایک گیٹ نظر آتا ہے، اس گیٹ کے اندر تقریباً ۱۵ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد ہندو دھرم کالی ماتا کا مندر آتا ہے، جہاں دنیا بھر کے ہندو آتے ہیں۔ اللہ کریم محض اپنے فضل و کرم سے عقل سلیم نصیب فرمائے اور ایمان کی دولت سے سرفراز فرمائے۔ آمین۔
ایک مرتبہ پھر سفر کا آغاز کیا اب اختتام سے پہلے گڈانی کے ساحل پر کچھ دیر کے لئے رکے، پہلے نماز عصر ادا کی، بعد ازاں مختصر سیروتفریح کے بعد جامعہ عثمانیہ یوسف گوٹھ پہنچ کر نماز مغرب ادا کی۔ مولانا عبدالرشید اور دیگر برادران گرامی نے ضیافت کی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۸ تا ۱۵؍ دسمبر ۲۰۱۷ء ص ۲۲، ۲۳)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تحفظ ختم نبوت کنونشن اڈا گورمانی کوٹ ادو
۵؍نومبر ۲۰۱۷ء بروز اتوار صبح دس بجے مدرسہ کریمیہ ہاشمیہ اڈا گورمانی کوٹ ادو ضلع مظفرگڑھ میں تحفظ ختم نبوت کنونشن منعقد ہوا۔ جس کی صدارت مولانا محمد اقبال حنیف نے کی۔ کنونشن کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ ہدیہ نعت رسول مقبول ﷺ حافظ حسنین ربانی نے پیش کی۔ بعد ازاں مولانا محمد یوسف معاویہ، قاری حماد مدنی، مولانا عبدالمجید توحیدی، ایڈووکیٹ ارشد صدیقی، چوہدری شہباز گجر ایڈووکیٹ جھنگ اور مولانا محمد ساجد مبلغ عالمی مجلس مظفرگڑھ نے بیانات کئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۱۸ء ص ۵۶)
ختم نبوت کانفرنس گوجرانوالہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع گوجرانوالہ کی سالانہ ختم نبوت کانفرنس مرکزی جامع مسجد ختم نبوت المعروف شیر شاہ سوری چمن میں ۷؍نومبر ۲۰۱۷ء بعد نماز مغرب مولانا محمد اشرف مجددی کی صدارت میں انعقاد پذیر ہوئی۔ جس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا اللہ وسایا، حضرت درخواستی کے جانشین پیر طریقت مولانا فضل الرحمن درخواستی، پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی، شیخ الحدیث مولانا داؤد احمد، مولانا مفتی غلام نبی، مولانا محمد عارف شامی اور دیگر خطباء و علماء کرام نے خطابات کئے۔ مولانا محمد قاسم گجرات نے نعتیہ کلام پیش کیا۔ کانفرنس کی دو نشستیں ہوئیں۔ پہلی نشست بعد نماز مغرب اور دوسری بعد نماز عشاء منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں مقررین نے کہا کہ ختم نبوت کے بابت دفعات کو چھیڑ کر حکومت نے اپنی عاقبت خراب کر لی ہے۔ حکومتی ذمہ داران ختم نبوت کے بابت شقوں ۷۔بی اور ۷۔سی کو بھی من وعن بحال کرے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی اصلاحات بل کی منظوری کے لئے چوبیس گھنٹوں میں صدر پاکستان نے دستخط کر دیئے تھے بیان حلفی ختم نبوت کی ترمیم پر صدر کی طرف سے دستخطوں میں تاخیر سے شکوک جنم لے رہے ہیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۱۸ء ص ۵۳)
ختم نبوت کانفرنس روڈہ ضلع خوشاب
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ختم نبوت کانفرنس ۱۰؍نومبر ۲۰۱۷ء بروز ہفتہ مدرسہ عربیہ رحیمیہ تعلیم القرآن میں زیر صدارت حافظ دلاور حسین مدظلہ منعقد ہوئی۔ تلاوت حافظ محمد صابر، نعت کی سعادت قاری ارشد محمود صفدر گوجرانوالہ، حافظ محمد وسیم سرگودھا، حافظ محمد اسحاق جوہر آباد اور مولانا عطاء الرحمن عابد گوجرانوالہ نے حاصل کیں۔ کانفرنس سے مولانا حکیم رشید احمد ربانی، مولانا محمد نعیم مبلغ خوشاب، مولانا نور محمد ہزاروی سرگودھا، سابق قادیانی بھائی شمس الدین لاہور، مولانا محمد عثمان فیصل آباد کے بیانات ہوئے۔ اس موقع پر مفتی عمر دراز، مولانا غلام اللہ، ریاست علی، سابق قادیانی ظہیر علی کھبڑ، مولانا عتیق الرحمن، مولانا محمد جاوید کے علاوہ ضلع بھر سے دیگر علماء کرام بھی شریک تھے۔ سیکورٹی کی ذمہ داری شبیر حسین صدیقی کی نگرانی میں عالمی مجلس پیلو وینس کے کارکنان نے نبھائی۔ کانفرنس کا اختتام حافظ دلاور حسین کی دعاء سے ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۱۸ء ص ۵۵)
کراچی دو روزہ تحفظ ختم نبوت تربیتی ورکشاپ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حلقہ نارتھ کراچی کے زیر اہتمام جامعہ مدنیہ للبنات متصل جامع مسجد مدنی آدم نگر میں دو روزہ تحفظ ختم نبوت و تردید قادیانیت، تربیتی ورکشاپ کا انعقاد زیر سرپرستی اہلیہ محترمہ و مکرمہ شہید ختم نبوت مولانا سعید احمد جلال پوری شہید اور زیر نگرانی
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
استاذ العلماء شیخ الحدیث مولانا سعد اللہ مدظلہ مہتمم مدرسہ مدنیہ للبنات کیا گیا، جس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا قاضی احسان احمد اور کراچی کے مبلغ مولانا عبدالحئی مطمئن نے درس دیا۔
پروگرام کا آغاز ۱۳؍نومبر صبح دس بجے اقرأ روضۃ العلم کے استاذ، شعبہ حفظ کے نگران مولانا قاری ارسلان کی تلاوت سے ہوا، بعد ازاں حمد و نعت سیّد سعد اللہ شاہ نے پیش کی۔ پروگرام کی غرض و غایت پروگرام کے منتظم اور نگران مولانا سعد اللہ مدظلہ نے بیان کی۔
کورس کے پہلے مدرس مولانا قاضی احسان احمد نے عقیدۂ ختم نبوت کی تعریف، عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت و فضیلت بیان کرنے کے علاوہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے رفع ونزول اور حیاتِ طیبہ پر تفصیل سے درس دیا۔ عقیدۂ ختم نبوت بیان کرتے ہوئے مولانا نے پانچ بنیادی اور تمہیدی باتیں کیں:
- ۱...... دنیا میں بعثت اور تشریف آوری کے اعتبار سے سب سے پہلے نبی سیدنا آدم علیہ السلام ہیں: ”اوّل الانبیاء آدم۔“
- ۲...... دنیا میں آنے والے سب سے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں: ”و آخرہم محمد ﷺ۔“
- ۳...... سب سے پہلا وہ جس سے پہلے کوئی نہ ہو، سب سے آخری وہ جس کے بعد کوئی نہ ہو۔
- ۴...... آنحضرت ﷺ کو آخری نبی ماننا ایسا ہی ضروری ہے جیسے اللہ تعالیٰ کو وحدہ لاشریک ماننا ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ کی توحید، رسول
اللہ ﷺ کی نبوت و رسالت پر ایمان لانے والا اگر آنحضرت ﷺ کو خاتم النبیین نہیں مانتا تو یہ مسلمان نہیں ہے۔
- ۵...... عقیدۂ ختم نبوت محفوظ تو سارا دین محفوظ، عقیدۂ ختم نبوت غیر محفوظ تو سارا دین غیر محفوظ۔ عقیدۂ ختم نبوت دین اسلام کی روح اور
اساس ہے، اس عقیدہ سے انحراف سے سارے دین کا انکار لازم آتا ہے، اس کے اقرار میں سارے دین کا اقرار ہے۔
عقیدۂ ختم نبوت کی تعریف: آنحضرت ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں، آپ علیہ السلام کے بعد کسی قسم کا کوئی اور نیا نبی پیدا نہیں ہوگا۔ حضور اکرم ﷺ پر تمام قسم کے مراتب نبوت رب کریم نے بند اور ختم کر دیئے ہیں، اب قیامت آئے گی نبوت نہیں آئے گی۔
عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت وفضیلت بیان کرتے ہوئے مولانا قاضی احسان احمد نے کہا:
قرآن کریم کی سو آیات مبارکہ، ۲۱۰ احادیث طیبہ، اجماع صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، اجماع امت، جنگ یمامہ میں ۱۲۰۰ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ کی شہادت، ۱۴ سو سال سے امت کا اتفاق، جھوٹے مدعیان نبوت کی سرکوبی، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کام میں امت کی قربانیاں، اس اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں۔ اسی طرح موجودہ دور میں پاکستان میں ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں دس ہزار سے زائد مسلمانوں کی شہادت، تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء میں قادیانیوں کو کافر قرار دیا جانا، ۱۹۸۴ء کی تحریک امتناع قادیانیت آرڈیننس کا نفاذ اس طرح کی اور بے شمار قربانیاں ہیں جن سے اس عقیدہ کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام کے رفع و نزول اور حیاتِ طیبہ بیان کرتے ہوئے مولانا نے کہا کہ سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام سے متعلق قرآن کریم نے مختلف مواقع پر بہت تفصیل سے آیات وبینات پیش کرکے انسانیت کی راہنمائی فرمائی ہے۔ سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام سے متعلق اس وقت دنیا میں چار قسم کے نظریات رائج ہیں جن میں تین باطل اور ایک صحیح اور حق ہے۔ یہود و نصاریٰ اور قادیانیت تینوں کے نظریات باطل، من گھڑت، ہوا پرستی، بغض وعناد اور مفادات پر مبنی ہیں جب کہ صرف اسلام کا نظریہ ہی حق اور قرآن و سنت، آثار صحابہ اور تعامل امت کے عین مطابق صحیح ہے، یہاں اختصار سے صرف اسلامی نقطۂ نظر پیش کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔
- ☆...... عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام ہی مسیح ہدایت ہیں ایک مرتبہ دنیا میں فریضہ نبوت کی ادائیگی کے لئے
مبعوث ہو چکے ہیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب وتحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا
- ☆ ...... یہود ونصاریٰ کے ناپاک اور گندے ہاتھوں سے محفوظ رہے، زندہ بجسد عنصری آسمان پر اٹھائے گئے۔
- ☆ ...... آسمان پر موجود ہیں، قیامت سے پہلے دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے۔ تفصیلات کے لئے علامات قیامت اور نزول مسیح علیہ السلام
از مفتی محمد رفیع عثمانی مدظلہ مطالعہ فرمائیں۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا عبدالحئی مطمئن نے مرزا قادیانی کے کردار، دجال کی حقیقت اور مہدی علیہ الرضوان کی تشریف آوری پر بہت احسن انداز میں درس دیا۔
پروگرام کے اختتام پر خواتین میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی کتب، لٹریچر اور رسائل کے ساتھ ساتھ اسناد بھی تقسیم کی گئیں، علاقہ بھر کی مقتدر خواتین نے نہ صرف شرکت کی بلکہ پروگرام کو سراہا اور آئندہ جاری رکھنے کا عندیہ دیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ یکم تا ۷؍دسمبر ۲۰۱۷ء ص۱۹، ۲۰)
ختم نبوت کانفرنس گھوٹکی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر انتظام گھوٹکی باغ چنہ میں ۱۶ نومبر ۲۰۱۷ء دوسری سالانہ ختم نبوت کانفرنس زیر نگرانی مولانا محمد امین چنہ نائب امیر مجلس تحفظ ختم نبوت زیر سرپرستی مولانا عبدالحئی چنہ اور زیر صدارت مولانا ذبیح اللہ ہالیجوی منعقد ہوئی۔ کانفرنس سے مولانا محمد حسین ناصر مبلغ سکھر، مولانا محمد راشد مدنی ٹنڈو آدم، مولانا خالد حسین الحسنی امیر مجلس ختم نبوت گھوٹکی، مولانا نعیم اللہ کوٹ سبزل، مولانا عبد الکریم چوہان، مولانا گل حسن، مولانا مفتی محمود چنہ و دیگر علماء کرام نے خطاب فرمایا۔ کانفرنس صبح دس بجے سے لے کر عصر کی نماز تک جاری رہی۔ کانفرنس کو کامیاب کرنے میں تمام مقامی علماء کرام نے بھرپور ساتھ دیا۔ اللہ پاک تمام احباب کو جزائے خیر دے۔ آمین!
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۱۸ء ص ۵۵)
دو روزہ تبلیغی دورہ ٹوبہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ٹوبہ کے زیر اہتمام مولانا عبداللہ لدھیانوی امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ٹوبہ کی دعوت پر مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ۱۶؍نومبر ۲۰۱۷ء بروز جمعرات تشریف لائے۔ جمعرات بعد نماز عشاء چک نمبر ۳۷۹ ج ب کلویا ضلع ٹوبہ میں اجتماع صوفیاء کرام سے خطاب ارشاد فرمایا۔ ۱۷؍نومبر کا خطبہ جمعتہ المبارک جامع مسجد بلال ﷺ غلہ منڈی ٹوبہ میں ارشاد فرمایا مولانا محمد سعد اللہ لدھیانوی، قاضی امتیاز احمد اور ضلعی مبلغ مولانا محمد حبیب شریک رہے۔
۱۷؍نومبر ۲۰۱۷ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ٹوبہ کے زیر اہتمام جامع مسجد رحمانیہ اپر کالونی پیرمحل میں مولانا اللہ وسایا نے خطبہ جمعتہ المبارک ارشاد فرمایا کہ ایک بار پھر پاکستان کی پوری اسمبلی اور سینٹ نے قادیانیت کے کفر پر ٹھپہ ثبت کردیا۔ الحمدللہ! پھر سے اسلام جیتا کفر ہارا۔ مولانا مجاہد مختار، قاری عبیداللہ، ضلعی مبلغ مولانا محمد حبیب بھی شریک تھے۔ بعد نماز عصر مولانا محمد احمد لدھیانوی کے بڑے بھائی کے نماز جنازہ میں شرکت فرمائی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت یونٹ چک نمبر ۲۸۴ گ ب چوہلہ ضلع ٹوبہ کے زیر اہتمام ۵ روزہ شعور ختم نبوت کورس منعقد ہوا جس میں ۲۳۵ طلباء وطالبات مرد و خواتین نے شرکت کی۔ اوّل انعام محمد مدثر ، دوم انعام بنت فیض رسول، سوم انعام بنت نصیر احمد اور بنت محمد اکرام نے حاصل کیا۔ اس کے علاوہ تمام شرکاء کورس کو انعامات سے نوازا گیا۔ مولانا اللہ وسایا نے شرکاء کورس سے خطاب فرمایا اور انعامات تقسیم کئے۔ تمام کورس ضلعی مبلغ مولانا محمد حبیب نے پڑھایا قاری محمد ذوالفقار نے نگرانی فرمائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۱۸ء ص ۵۶)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سہ روزہ ختم نبوت کورس فیصل آباد
میتھ ایجوکیشن سنٹر سمن آباد کے زیر اہتمام ۱۷، ۱۸، ۱۹؍نومبر ۲۰۱۷ء کو تین روزہ ختم نبوت کورس منعقد ہوا۔ جس میں ایک سو سے زائد حضرات نے شرکت کی۔ زیادہ تر عصری تعلیمی اداروں کے فضلاء، طلباء اور پڑھے لکھے نوجوانوں نے شرکت کی: ۱۷؍نومبر : عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت و ضرورت۔ ۱۸؍نومبر: حیات اور رفع ونزول عیسیٰ علیہ السلام اسرار و حِکم ۔ ۱۹؍نومبر: امام مہدی علیہ الرضوان کا ظہور اور دجال کا خروج اور دعویٰ مرزا قادیانی کا رد پڑھایا۔ کورس سے مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا عبدالرشید سیال نے خطاب کیا۔ کورس کا دورانیہ عشاء کے بعد ڈیڑھ گھنٹہ رہا۔ تمام شرکاء کورس کو اعزازی سند دی گئی۔ حافظ ذیشان نے صدارت فرمائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۸ء ص ۵۵)
ختم نبوت کانفرنس بدین
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۱۸؍نومبر ۲۰۱۷ء کو بسم اللہ مسجد میں منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت مولانا محمد اسماعیل خانخیلی نے کی۔ کانفرنس سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا قاضی احسان احمد کراچی ، مولانا توصیف احمد حیدر آباد، مولانا جمیل احمد ، مولانا گل حسن اور مولانا محمد حنیف سیال مبلغ بدین نے خطابات کئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۱۸ء ص ۵۵)
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۸ تا ۲۷؍نومبر ۲۰۱۷ء لاہور میں متعدد پروگرامز کی روئیداد
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا اللہ وسایا ۱۸ تا ۲۷؍نومبر ۲۰۱۷ء دس روزہ دورہ پر لاہور تشریف لائے۔ حضرت کی آمد کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مجلس تحفظ ختم نبوت نے لاہور میں متعدد پروگرامز تشکیل دیئے۔ اللہ کے کرم اور فضل سے تمام پروگرامز کامیاب ہوئے اور عوام نے بھر پور انداز میں شرکت کی۔
پہلا پروگرام ختم نبوت انعام گھر پاکستان منٹ جی. ٹی روڈ لاہور میں منعقد ہوا جس میں خصوصی خطاب مولانا اللہ وسایا ، مولانا مفتی اعجاز احمد ، پروفیسر متین خالد سمیت کئی علماء اور سکولز، کالجز اور دینی مدارس کے طلباء نے شرکت کی۔
دوسرا پروگرام جامع مسجد خضراء سمن آباد میں عظیم الشان آل پارٹیز ختم نبوت کانفرنس مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے امیر مولانا مفتی محمد حسن کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں مولانا اللہ وسایا، جمعیۃ علماء اسلام کے ڈپٹی سیکرٹری مولانا محمد امجد خان ، جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ ، مولانا عبدالرؤف فاروقی ، مولانا مفتی احمد علی ثانی ، مولانا قاری علیم الدین شاکر ، پیر رضوان نفیس ، عالمی مجلس ختم نبوت لاہور کے مبلغ مولانا عبدالنعیم، قاری جمیل الرحمٰن اختر، مولانا قاری عبدالعزیز ، مولانا محبوب الحسن طاہر، ممبر پنجاب اسمبلی میاں محمد اسلم اقبال، ڈپٹی میئر لاہور میاں محمد طارق سمیت اہل علاقہ نے شرکت کی۔
تیسرا پروگرام جامع مسجد اقصیٰ سنی پارک مغلپورہ لاہور میں منعقد ہوا۔ جس میں مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد امجد خان ، مولانا عبدالنعیم ، پیر میاں رضوان نفیس ، مولانا محمد حنیف سومرو ، مولانا طلحی سومرو سمیت علماء اور اہل علاقہ نے شرکت کی۔
چوتھا پروگرام جامعۃ الازہر بادامی باغ راوی روڈ لاہور میں منعقد ہوا۔ مجلس لاہور کے سیکرٹری جنرل مولانا قاری علیم الدین شاکر ، پیر میاں رضوان نفیس ، مولانا عبدالنعیم، شیخ الحدیث مولانا عبدالرحیم ، مولانا مفتی ظہیر شاہ ، مولانا طاہر ندیم ، بھائی مسعود احمد ریحان نے شرکت کی۔
پانچواں پروگرام جامعہ عائشہ صدیقہ للبنات کریم پارک میں منعقد ہوا۔ جس میں مبلغ ختم نبوت لاہور مولانا عبدالنعیم، مولانا قاسم گجر، مولانا محمد عاصم ودیگر علماء کے بیانات ہوئے۔
تحریک ختم نبوت جلد (١٠) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
چھٹا پروگرام جامع مسجد خلفاء راشدین رنگ محل شاہ عالم مارکیٹ لاہور میں قاری مومن شاہ کی صدارت میں منعقد ہوا۔ کانفرنس مولانا نعیم الدین اور مولانا زاہد الراشدی، مولانا کفیل خان، مولانا عبدالنعیم، قاری علیم الدین شاکر سمیت کئی علماء، شعراء اور مشہور قراء نے شرکت کی، پروگرام میں تاجر برادری نے بھر پور شرکت کی۔
ساتواں پروگرام مرکز اہل حق شیرانوالہ لاہور میں مولانا ڈاکٹر میاں محمد اجمل قادری کی صدارت میں منعقد ہوا۔ جس میں خصوصی خطاب مولانا اللہ وسایا، قاری جمیل الرحمن اختر، قاری علیم الدین شاکر، پیر میاں رضوان نفیس، مولانا احمد علی ثانی، مولانا عبدالنعیم، مولانا سید ضیاء الحسن شاہ سمیت خانقاہ کے متعلقین ومتوسلین نے شرکت کی۔
آٹھواں پروگرام تین روزہ ختم نبوت کورس و کانفرنس جامع مسجد آسٹریلیا لاہور میں مولانا عبد الرؤف ملک کی صدارت میں منعقد ہوا۔ جس میں مولانا اللہ وسایا، متین خالد، مولانا نعیم الدین، مولانا عبدالعزیز، مولانا عبدالنعیم، قاری جمیل الرحمن اختر، مولانا سید ضیاء الحسن ودیگر علماء کرام کے لیکچرز ہوئے۔ پروگرام کے میزبان جامعہ عثمانیہ آسٹریلیا مسجد کے مدیر مولانا محمد سلیم، مولانا محمد شاہد، مولانا گلفام، مولانا سعادت تھے۔
نواں پروگرام مدرسہ امدادالعلوم رحمانپورہ میں منعقد ہوا۔ مہمان خصوصی مولانا اللہ وسایا، پیر رضوان نفیس، قاری عبدالعزیز، مولانا عبدالنعیم نے شرکت کی۔ پروگرام کے میزبان مولانا مفتی محمد عثمان تھے۔ پروگرام میں ادارہ کے متعلقین اور اہل محلہ نے بھر پور شرکت کی۔
دسواں پروگرام ختم نبوت کانفرنس جامع مسجد امن باغبانپورہ لاہور میں مجلس لاہور کے سرپرست مولانا قاری جمیل الرحمن اختر کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ خصوصی خطاب مولانا اللہ وسایا کا ہوا۔ جب کہ قاری علیم الدین شاکر، مولانا عبدالنعیم، مولانا محبوب الحسن طاہر، پیر رضوان نفیس، مولانا عبیدالرحمن معاویہ، پیر جمیل سمیت کثیر تعداد میں علماء وعوام نے شرکت کی۔
گیارہواں پروگرام جامعۃ الفیصل للبنات ماڈل ٹاؤن میں منعقد ہوا۔ طالبات میں مولانا اللہ وسایا کا عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت پر مفصل بیان ہوا۔ بارھواں پروگرام جامع مسجد مدنی الحمد کالونی اقبال ٹاؤن لاہور میں منعقد ہوا۔ خصوصی خطاب مولانا اللہ وسایا، پیر رضوان نفیس، مولانا مفتی عزیز الرحمن، مولانا مفتی عظمت اللہ سعدی بنوں، مولانا حافظ محمد اشرف گجر، مولانا محبوب الحسن طاہر، مولانا عبدالنعیم، قاری علیم الدین شاکر، مفتی عبدالحفیظ، مولانا محمد غازی، مولانا عبدالمنان، حافظ نصیر احمد احرار کے بیانات ہوئے۔ جب کہ کانفرنس کے میزبان قاری محمد معاویہ مکی، مولانا محمد طیب مدنی تھے۔ کانفرنس میں علماء کرام اور عوام نے شرکت کی۔
تیرہواں پروگرام ملک کی معروف درسگاہ جامعہ اشرفیہ میں ہوا۔ مولانا اللہ وسایا نے طلباء میں عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور افادیت پر لیکچر دیا۔
چودھواں پروگرام جامع مسجد کوثر لنڈا بازار میں ذکر حبیب خدا منعقد ہوئی۔ جس میں خصوصی خطاب مولانا اللہ وسایا، پیر رضوان نفیس، مولانا عبدالنعیم، قاضی مطیع اللہ سعیدی، ملک کے معروف قراء اور نعت خوان حضرات نے شرکت کی۔ کانفرنس کے میزبان عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے نائب امیر مولانا سید ضیاء الحسن شاہ تھے۔
پندرھواں پروگرام جامع مسجد مکی بوہڑہ والا چوک علامہ اقبال روڈ لاہور میں کورس منعقد ہوا۔ جس میں مولانا راشد مدنی، مولانا محمد امجد خان، مولانا عبدالنعیم ودیگر کئی علماء کرام نے شرکت کی۔
سولہواں پروگرام جامع مسجد مولانا احمد علی لاہوری مسجد میں مفتی محمد حسن، مولانا میاں محمد اجمل قادری، مولانا عبدالرحمن کی صدارت میں شان مصطفیٰ ﷺ کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں ملک کے معروف علماء وخطباء، قراء اور نعت خوانوں نے شرکت کی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کانفرنس کے شرکاء کو قرعہ اندازی کے ذریعے پانچ عمرہ کے ٹکٹ دیے گئے۔ پروگرام بہت کامیاب رہا۔ پروگرام کے میزبان عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے جنرل سیکرٹری مولانا قاری علیم الدین شاکر تھے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۱۸ء ص ٹائٹل نمبر ۲)
اوکاڑہ، قصور میں مرکزی قائدین کا تبلیغی دورہ
گزشتہ دنوں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۹؍ نومبر ۲۰۱۷ء کو ختم نبوت کانفرنس جامعہ محمودیہ رینالہ خورد ضلع اوکاڑہ میں منعقد ہوئی۔ جس میں قاری شفقت عباس نے تلاوت کی۔ عبدالباسط حسانی اسلام آباد اور خالد محمود نے ہدیہ نعت پیش کیا۔ مولانا محمد اکرم طوفانی کا بیان ہوا۔
دوسرا پروگرام ختم نبوت کانفرنس جامعہ امدادیہ حجرہ شاہ مقیم میں ہوا۔ قاری حسن صدیقی کی تلاوت، خالد محمود اور مولانا عبدالقیوم کی نعت، نقابت عبدالرزاق مجاہد، مولانا محمد اکرم طوفانی کا خطاب ہوا۔ سید مبشر شاہ گیلانی نے صدارت فرمائی۔
۲۰؍ نومبر بروز اتوار تیسرا پروگرام جامع مسجد عثمانی منڈی احمد آباد میں مولانا زبیر احمد فہیم کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ مولانا معاویہ کی نقابت، نعت رسول مقبول بابر سلطان بیگ نے پیش کی۔ مولانا عبدالرزاق مبلغ مجلس اوکاڑہ، مولانا محمد اکرم طوفانی اور مولانا انور شاہ بخاری کے بیانات ہوئے۔
چوتھا پروگرام ختم نبوت کانفرنس بھیڑ سوہڈھیاں بعد نماز عشاء منعقد ہوا۔ مولانا آصف عزیزی نے نعت پیش کی۔ مولانا ابوبکر شیخوپوری، مولانا محمد اکرم طوفانی، عبدالرزاق مجاہد کا بیان ہوا۔ میز بانی کے فرائض مولانا ابوبکر، قاری ارشد نے سرانجام دیئے۔ مولانا زبیر احمد فہیم بصیر والوں نے قافلہ کے ساتھ پروگرام میں شرکت کی۔
۲۱؍ نومبر : پانچواں پروگرام مدرسہ تعلیم القرآن کھڈیاں ضلع قصور میں ہوا۔ مولانا محمد اکرم طوفانی نے عظمت قرآن اور ختم نبوت کے حوالہ سے بیان کیا۔ قاری طاہر مہتمم نے مہمانوں کا استقبال کیا۔
بعد از نماز عشاء چھٹا پروگرام ختم نبوت کانفرنس جامع مسجد مکی قصور میں ہوئی۔ قاری مشتاق احمد رحیمی کی صدارت، مولانا محمد اکرم طوفانی کا ایمان افروز بیان ہوا۔
۲۲؍ نومبر کو ساتواں پروگرام دن گیارہ بجے کوٹ رادھا کشن میں ہوا۔ بعد نماز ظہر جامعہ الحسن اٹاری مدرسہ میں طلباء کرام اور عوام الناس سے بیان کیا۔ بعد نماز عشاء ختم نبوت کانفرنس کانکے موڑ کی مرکزی جامع مسجد میں منعقد ہوئی۔ قاری ابوبکر کی تلاوت، نعت مولانا عبدالرزاق اور مولانا اکرم طوفانی کا بیان ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۸ء ص ۵۰)
ختم نبوت پروگرامز
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نوکوٹ کے زیر اہتمام ۲۰؍ نومبر ۲۰۱۷ء بروز پیر بعد نماز ظہر بمقام صدیقیہ مسجد نوکوٹ میں عظیم الشان ختم نبوت سیمینار منعقد کیا گیا، جس میں متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن صاحب نے خطاب کیا۔ عوام الناس کے علاوہ علماء نے بھی بھر پور شرکت کی۔ قاری عبدالستار کی تلاوت کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع میر پور خاص کے مبلغ مولانا مختار احمد نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت اسلام کی روح ہے۔ اس عقیدہ پر ایمان لائے بغیر کوئی شخص مسلمان نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے نوکوٹ میں جماعت ختم نبوت کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب تک قادیانیت کا فتنہ باقی ہے، ختم نبوت کے مجاہد اس کا تعاقب کرتے رہیں گے۔ آخری خطاب
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ۱۷۱ ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مولانا محمد الیاس گھمن مدظلہ نے کیا۔ مولانا نے عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت بیان کی۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح عقیدۂ ختم نبوت کی وضاحت مولانا محمد قاسم نانوتوی نے کی آج تک کوئی نہیں کرسکا۔ عقیدہ ختم نبوت اسلام کا بنیادی اور اساسی عقیدہ ہے اس کا تحفظ کرنا ہمارا فرض ہے۔ مہمان نوازی بھائی سلیم صاحب نے کی اور سندھی ثقافت کے طور پر مولانا قاری عبدالستار صاحب نے اجرک پیش کی۔
دوسرا پروگرام: فاروقیہ مسجد ڈگری میں ہوا، مفتی محمد عادل اور مولانا رضوان اس پروگرام کے میزبان تھے۔ ’’عظمت قرآن و دفاع ختم نبوت‘‘ کے عنوان سے کانفرنس منعقد ہوئی، دور دراز سے لوگوں نے اس پروگرام میں شرکت کی۔ مولانا مختار احمد نے ’’جھوٹے مدعیان نبوت کا تفصیلی جائزہ‘‘ کے عنوان سے بیان کیا اور کذبات مرزا بھی موضوع سخن رہا۔ آخری خطاب مولانا محمد الیاس گھمن صاحب نے کیا۔
تیسرا پروگرام: ۲۱؍نومبر ۲۰۱۷ء بعد نماز ظہر محمدی مسجد کوٹ غلام محمد ضلع میر پور خاص میں ہوا۔ ماسٹر محمد اسلم اور مفتی محمد عدنان اس پروگرام کے میزبان تھے۔ مولانا محمد الیاس گھمن صاحب نے خطاب فرمایا اور آپ کی دعاء پر یہ مجلس اختتام پذیر ہوئی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۲۳ تا ۳۱؍ دسمبر ۲۰۱۷ء ص ٹائٹل نمبر ۳)
ختم نبوت کانفرنس کروڑ لعل عیسن
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۲۲؍ نومبر ۲۰۱۷ء بروز بدھ بعد از نماز مغرب جامع مسجد نور کروڑ لعل عیسن ضلع لیہ میں ایک عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ مولانا محمد حسین (ضلعی امیر) نے کانفرنس کی صدارت فرمائی۔ کانفرنس کا آغاز مولانا اللہ وسایا کے خطاب سے ہوا۔ بعد ازاں پروفیسر مولانا خواجہ ابوالکلام صدیقی نے حیات عیسیٰ علیہ السلام کے حوالے سے مفصل اور مدلل دلنشین خطاب فرمایا۔ اسٹیج کی ذمہ داری مولانا اللہ نواز نے سنبھالی۔ آخر میں حافظ محمد اکرم خوشتر نے ختم نبوت پر نعتیہ اشعار پیش کئے۔ کانفرنس میں مقامی علماء مولانا امان اللہ، مفتی فاروق، قاری فداء الرحمٰن، مولانا حسن عثمانی، مولانا نصیر کے علاوہ فتح پور سے مولانا عظیم، مولانا ثناء اللہ اور لیہ سے قاری عبدالشکور اور قاری امین سمیت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع لیہ کے مبلغ محمد ساجد بھی شریک رہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۸ء ص ۵۱)
سیرت کانفرنس شاہی مسجد راولپنڈی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام شاہی مسجد گولیاں والی راولپنڈی میں ۲۴؍ نومبر ۲۰۱۷ء میلاد النبی ﷺ کے عنوان پر کانفرنس منعقد ہوئی۔ مولانا بدرالاسلام عباسی اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کیا۔ راولپنڈی کے علماء کرام نے بھاری تعداد میں شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۸ء ص ۴۵)
پشاور میں کانفرنسوں سے مولانا شجاع آبادی کا خطاب
مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ۲۴، ۲۵، ۲۶؍ نومبر ۲۰۱۷ء کو تین روزہ دورہ پر پشاور تشریف لائے۔ جہاں آپ نے انجمن تبلیغ القرآن والسنہ کے زیر اہتمام منعقدہ کانفرنسوں سے خطاب کیا۔
۲۴؍نومبر: مدرسہ فیض القرآن جامع مسجد امۃ الرسول نزد سائنس کالج پشاور میں سیرت النبی کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس سے مجلس صوابی کے راہنما مولانا قاری اکرام الحق، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا عابد کمال نے خطاب کیا۔ صدارت مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی نے کی۔
۲۵؍نومبر: جامعہ عثمانیہ میں مولانا امداد اللہ شاہ کی دعوت پر طلباء واساتذہ کرام سے مولانا شجاع آبادی نے خطاب کیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۲۶/نومبر: کو جامعہ احسن المدارس جھگڑا پشاور کے طلباء کرام کے لئے تقسیم انعامات کی تقریب منعقد ہوئی۔ جہاں اوّل، دوم، سوم آنے والے طلباء کرام کو مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کے ہاتھوں انعامات دلوائے گئے۔ قبل ازیں طلباء میں عقیدۂ ختم نبوت اور رد قادیانیت کے عنوان پر تحریری مقابلہ ہوا۔
۲۶/نومبر: کو عشاء کے بعد نمک منڈی چوک میں میلاد النبی کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس سے مولانا عابد کمال، مولانا حسین احمد مدنی ایڈووکیٹ، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کیا۔
۲۷/نومبر: صبح ۸ بجے ملازئی چوک سیون پی. کے میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس سے پشتو زبان کے نامور خطباء، مولانا قاری اکرام الحق و دیگر کے علاوہ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے بھی خطاب کیا۔ کانفرنس سارا دن جاری رہی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۸ء ص ۵۴، ۵۵)
ختم نبوت کورس لودھراں
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لودھراں کے زیراہتمام جامع مسجد ریلوے اسٹیشن میں تین روزہ ختم نبوت کورس ۲۶، ۲۷، ۲۸/نومبر ۲۰۱۷ء کو ضلعی امیر مولانا محمد میاں کی سرپرستی اور مقامی امیر مولانا محمد مرتضیٰ کی صدارت میں منعقد ہوا۔ ۲۶/نومبر ۲۰۱۷ء مولانا محمد اسحاق ساقی اور جامعہ باب العلوم کہروڑ پکا کے شیخ الحدیث مولانا منیر احمد منور نے عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت و ضرورت پر خطاب فرمایا۔ ۲۷/نومبر ۲۰۱۷ء آرمی سے ریٹائرڈ خطیب مولانا محمد حنیف نے مرزا قادیانی کے دعاوی جب کہ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے حیات عیسیٰ علیہ السلام پر لیکچر دیا۔ ۲۸/نومبر ۲۰۱۷ء کو مرزا قادیانی کی شخصیت و کردار پر مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے لیکچر دیا۔ کورس میں ساٹھ کے قریب مردوں اور ساٹھ سے زائد خواتین نے شرکت کی۔ ۱۲/ ربیع الاول کو شرکاء کورس کو اعزازی سندات مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور مولانا محمد حنیف، مولانا سید احمد سعید کاظمی کے ہاتھوں دلوائی گئیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۸ء ص ۵۵)
دروس بعنوان سیرت خاتم النبیین ﷺ خوشاب
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت خوشاب کے زیراہتمام ماہ ربیع الاوّل میں ۲۳ پروگرامات بعنوان سیرت خاتم النبیین ﷺ ۲۷/نومبر تا ۲۳/دسمبر ۲۰۱۷ء منعقد ہوئے۔ تمام پروگرام مولانا قاری سعید احمد اسعد کی زیرسرپرستی اور مبلغ خوشاب مولانا محمد نعیم کی زیرنگرانی منعقد ہوئے۔ ضلع بھر کی مساجد میں دروس کا سلسلہ جاری رہا۔ ان تئیس اجتماعات میں مولانا ظہیر عباس، مولانا ابوبکر، مولانا محمد نعیم، مولانا عمر فاروق، مولانا شاہ محمد، مولانا عزیز الرحمن، مولانا محمد شریف، مولانا غلام محمد، مولانا عثمان اشرف، مولانا محمد ارشد، مولانا طارق اعجاز، مولانا جنید احمد، مولانا محمد احمد، مولانا مفتی رفیق احمد، مولانا حسنین معاویہ، مولانا محمد اشرف، مولانا عبداللہ احمد و دیگر علماء کرام کے ایمان افروز بیانات ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۸ء ص ۴۹)
سالانہ کل کراچی بین المدارس تقریری مقابلہ
الحمدللہ! آپ حضرات بخوبی جانتے ہیں کہ آپ کی جماعت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ اور تردید قادیانیت کے لئے سرگرم عمل ہے۔ اس مقصد کے لئے وقتاً فوقتاً ملک بھر میں مختلف نوعیت کے پروگرامز کا انعقاد کرتی رہتی ہے، جن میں جلسوں کا انعقاد، اسکول کالج اور یونیورسٹی کے طلباء کے لئے کوئز پروگرامز، مساجد میں بیانات، لٹریچر کی تقسیم، سالانہ چھٹیوں میں دینی مدارس اور کالج یونیورسٹی
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کے طلباء کے لئے مختصر کورسز وغیرہ شامل ہیں۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی ”کل کراچی بین المدارس تقریری مقابلہ“ ہے۔ الحمدللہ ! عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کی انتظامیہ نے دینی مدارس کے طلباء کو اسلوب تقریر اور اندازِ گفتگو کی تربیت کے ساتھ عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور فتنہ قادیانیت کی سنگینی سے آگاہ کرنے کے لئے اس سلسلہ کا آغاز کیا۔ ہر سال کراچی میں سہ ماہی امتحانات کے بعد ان مقابلوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ جس میں شہر بھر کے مدارس سے طلباء شریک ہوتے ہیں۔ حسبِ سابق اس سال بھی تقریری مقابلہ کو تین مرحلوں پر تقسیم کیا گیا تھا۔ پہلے مرحلے میں ٹاؤن کی سطح پر تقریری مقابلہ منعقد ہوا، جس میں تقریر کا عنوان تھا ”تحفظ ناموس رسالت قرآن و سنت کی روشنی میں“ جن طلباء نے پہلے مرحلے میں پہلی دوسری پوزیشن حاصل کی وہ دوسرے مرحلہ کے لئے منتخب ہوگئے۔ دوسرے مرحلے میں ضلعی سطح پر تقریری مقابلہ منعقد ہوا، جس میں تقریر کا عنوان تھا ”گستاخ رسول کی شرعی و آئینی حیثیت“ جن طلباء نے دوسرے مرحلے میں پہلی دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کی وہ اب فائنل مقابلہ میں حصہ لینے کے اہل قرار پائے ہیں۔ فائنل تقریری مقابلہ ان شاء اللہ العزیز ۸؍فروری ۲۰۱۸ء کو دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پرانی نمائش میں منعقد ہوگا، جس میں تقریر کا عنوان ”اسلام اور پاکستان کے خلاف قادیانی سازشیں“ ہے۔ سردست پہلے اور دوسرے مرحلے کی مفصل رپورٹ حاضرِ خدمت ہے:
پہلا مرحلہ: پہلے مرحلے میں ٹاؤن کی سطح پر تقریری مقابلوں کا انعقاد کیا گیا تھا، جس کے تحت کراچی کے تمام ۱۸ ٹاؤنز میں مقابلے ہوئے، جس میں ۱۴۴ مدارس کے ۲۲۲ طلباء نے حصہ لیا، جس کی تفصیل یہ ہے:
(۱) بلدیہ ٹاؤن ۱۶؍نومبر ۲۰۱۷ء:
جامعہ عثمانیہ یوسف گوٹھ میں بلدیہ ٹاؤن کے ۹ مدارس کے ۹ طلباء کے درمیان تقریری مقابلہ منعقد ہوا۔ مہمانِ خصوصی جامعہ عثمانیہ یوسف گوٹھ کے مہتمم شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید ملازہی صاحب تھے۔ منصفین کے فرائض مولانا عنایت اللہ عادل صاحب، مولانا پروفیسر عبدالودود صاحب اور مفتی عقیل شہزاد صاحب نے انجام دیئے۔ دیگر مہمانانِ گرامی میں مفتی فیض الحق صاحب، مفتی عبداللطیف طالقانی صاحب، مولانا نورالرحیم صاحب، ضلع غربی کے ذمہ دار مولانا محمد شعیب اور علاقہ بھر سے تشریف لائے ہوئے علماء کرام شامل تھے۔ نقابت کے فرائض مولانا عبدالوحید صاحب نے سرانجام دیئے۔ پروگرام کے میزبان مولانا عبدالعزیز صاحب تھے۔ جامعہ عثمانیہ یوسف گوٹھ سے درجہ سادسہ کے طالب علم صدیق اللہ نے پہلی، جامعہ الصفہ سعید آباد سے محمد اسامہ نے دوسری، جب کہ جامعہ ندوۃ العلم سے درجہ سادسہ کے طالب علم محمد زکریا نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ پروگرام کے تمام تر انتظامات بلدیہ ٹاؤن کے ذمہ دار مولانا عبدالعزیز صاحب نے اپنے رفقاء کے ہمراہ انجام دیئے۔
(۲) جمشید ٹاؤن ۱۶؍نومبر ۲۰۱۷ء:
مدرسہ عربیہ فرقانیہ میں جمشید ٹاؤن کے ۷ مدارس کے ۱۱ طلباء کے درمیان تقریری مقابلہ منعقد ہوا، مہمانِ خصوصی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا قاضی احسان احمد صاحب تھے۔ منصفین کے فرائض مولانا مفتی محمد سلمان یاسین صاحب، مولانا قاری احسان اللہ صاحب اور مولانا محمد طیب صاحب نے سرانجام دیئے۔ میزبان مدرسہ عربیہ فرقانیہ کے مہتمم مولانا قاری عطاء اللہ صاحب تھے۔ نقابت ضلع غربی کے نگران مولانا محمد رضوان صاحب نے کی۔ مدرسہ عربیہ فرقانیہ سے درجہ سادسہ کے محمد آکاش نے پہلی، مدرسہ عربیہ فرقانیہ ہی کے درجہ رابعہ سے محمد ابرار نے دوسری، جب کہ جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن سے درجہ خامسہ کے محمد فہد نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ پروگرام کے انتظامات جمشید ٹاؤن کے ذمہ دار مولانا بلال صاحب اور ان کے رفقاء نے مدرسہ عربیہ کی انتظامیہ کے تعاون سے انجام دیئے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
(۳) لانڈھی ٹاؤن ۱۶؍ نومبر ۲۰۱۷ء
جامعہ تحفیظ القرآن شیر پاؤ کالونی میں لانڈھی ٹاؤن کے ۹ مدارس کے ۱۴ طلباء کے درمیان تقریری مقابلہ منعقد ہوا۔ مہمان خصوصی مولانا قاضی احسان احمد صاحب تھے۔ منصفین کے فرائض جامعہ فاطمۃ الزہراؒ گلشن حدید کے استاذ مولانا مفتی مبشر احمد صاحب، مدینہ مسجد نشتر آباد کے خطیب مولانا طارق محمود قاسمی صاحب اور امیر حمزہ مسجد داؤد چورنگی کے امام وخطیب مولانا طارق محمود صاحب نے سرانجام دیئے۔ میزبان مولانا غلام اللہ صاحب اور مولانا حسین شاہ صاحب تھے۔ نقابت حافظ عبدالوہاب پشاوری صاحب نے کی۔ محمد ندیم نے پہلی، جنید احمد نے دوسری اور فضل ربی نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ پروگرام کے تمام تر انتظامات لانڈھی ٹاؤن کے ذمہ دار حافظ عبدالوہاب صاحب اور ان کے رفقاء نے سرانجام دیئے۔
(۴) لیاری ٹاؤن ۱۶؍ نومبر ۲۰۱۷ء:
جامعہ عثمانیہ بہار کالونی میں لیاری ٹاؤن کے ۵ مدارس کے ۱۱ طلباء کے درمیان تقریری مقابلہ منعقد ہوا۔ مہمان خصوصی جامعہ عثمانیہ کے ناظم اعلیٰ مولانا یاسین صاحب تھے۔ منصفین کے فرائض جامعہ قرطبہ کے مدرس مفتی محمد اسرار صاحب، جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے استاذ مفتی شکور احمد صاحب اور جامعہ رحمانیہ بلال کالونی کے استاذ مولانا عاطف علی صاحب نے انجام دیئے۔ دیگر مہمانان گرامی میں کیماڑی ٹاؤن کے ذمہ دار مولانا حسین صاحب، مولانا مطیع اللہ صاحب، ضلع جنوبی کے نگران حافظ محمد کلیم اللہ نعمان صاحب سمیت جامعہ عثمانیہ کے اساتذہ وعلاقہ بھر کے علماء کرام بھی پروگرام میں شریک رہے۔ نقابت مولانا کامران صاحب نے کی۔ پروگرام کے میزبان مولانا حکیم اللہ صاحب تھے۔ جونا مسجد سے درجہ خامسہ کے طالب علم امیر حمزہ بن عبدالعزیز نے پہلی، جامعہ عثمانیہ بہار کالونی سے درجہ رابعہ کے عبدالقیوم بن حاکم نے دوسری، جب کہ جامعہ عثمانیہ ہی سے درجہ خامسہ کے جواد حسین بن افضل خان نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ پروگرام کے تمام تر انتظامات لیاری ٹاؤن کے ذمہ دار مولانا نعیم اللہ صاحب اور ان کے رفقاء نے سرانجام دیئے۔
(۵) شاہ فیصل ٹاؤن ۱۶؍ نومبر ۲۰۱۷ء:
جامعہ حمادیہ شاہ فیصل کالونی میں شاہ فیصل ٹاؤن کے ۳ مدارس کے ۱۴ طلباء کے درمیان تقریری مقابلہ منعقد ہوا۔ مہمان خصوصی مولانا قاضی احسان احمد صاحب اور جامعہ حمادیہ کے شیخ الحدیث مولانا صدیق احمد صاحب تھے۔ منصفین کے فرائض مولانا عثمان رفیق صاحب، مولانا شفیق الرحمن علوی صاحب اور مولانا اسامہ صاحب تھے۔ نقابت مولانا محمد اشفاق صاحب نے کی۔ پروگرام کے میزبان مولانا قاسم عبداللہ صاحب تھے۔ دیگر مہمانان گرامی میں گلبرگ ٹاؤن کے ذمہ دار مولانا محمد قاسم صاحب، ضلع ملیر کے ذمہ دار مولانا محمد اسحاق مصطفیٰ صاحب بھی پروگرام میں شریک رہے۔ جامعہ فاروقیہ سے درجہ سابعہ کے محمد عبداللہ نے پہلی، جامعہ حمادیہ سے درجہ سابعہ کے حماد الرحمن نے دوسری جب کہ جامعہ فاروقیہ سے دورۂ حدیث کے محمد اسماعیل نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ پروگرام کے تمام تر انتظامات شاہ فیصل ٹاؤن کے ذمہ دار مولانا محمد اشفاق صاحب اور ان کے رفقاء نے جامعہ کی انتظامیہ کی معاونت سے انجام دیئے۔
(۶) گڈاپ ٹاؤن ۱۶؍ نومبر ۲۰۱۷ء:
جامعہ صدیقیہ نور محمد گوٹھ نزد گلشن معمار میں گڈاپ ٹاؤن کے ۱۴ مدارس کے ۲۷ طلباء کے درمیان تقریری مقابلہ منعقد ہوا۔ مہمان خصوصی جامعہ صدیقیہ کے مہتمم مولانا ڈاکٹر منظور احمد مینگل صاحب تھے۔ منصفین کے فرائض جامعہ عربیہ اسلامیہ ملیر سے مولانا قاضی منیب الرحمن صاحب، جامعہ فاروقیہ سے مفتی محمد سمیع الرحمن صاحب اور مفتی امان اللہ صاحب نے انجام دیئے۔ دیگر مہمانان گرامی میں جامعہ منبع العلوم سے مولانا سیف
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اللہ صاحب، ادارۃ العلوم الاسلامیہ سے مولانا شفیق احمد شیرازی صاحب سمیت علاقہ کے دیگر علماء کرام شامل تھے۔ نقابت جامعۃ الرشید کے استاذ مولانا ندیم الرشید صاحب اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے مبلغ مولانا عبدالحئی مطمئن صاحب نے کی۔ جامعہ صدیقیہ سے دورہ حدیث کے طالب علم بادشاہ خان بن محمد شاکر نے پہلی، جامعہ منبع العلوم سے درجہ ثالثہ کے عزیز اللہ بن رحیم اللہ نے دوسری، جب کہ جامعۃ الرشید سے درجہ ثالثہ کے طالب علم اسامہ امجد بن امجد حسین نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ پروگرام کے تمام تر انتظامات گڈاپ ٹاؤن کے ذمہ دار قاری ظفر اقبال صاحب اور ان کے رفقاء نے جامعہ کے ناظم تعلیمات مولانا عبدالباسط جلالی صاحب کی معاونت سے انجام دیئے۔
(۷) لیاقت آباد ٹاؤن ۲۳؍نومبر ۲۰۱۷ء:
جامعہ انوار القرآن صدیقیہ ناظم آباد میں لیاقت آباد ٹاؤن کے ۵ مدارس کے ۱۰ طلباء کے درمیان تقریری مقابلہ منعقد ہوا۔ مہمان خصوصی جامعہ صدیقیہ کے بانی ومہتمم مولانا مفتی ولی اللہ محمد حسنی صاحب تھے۔ منصفین کے فرائض مولانا مفتی محمد ابراہیم صاحب، مولانا اشفاق احمد صاحب اور مولانا نوید احمد صاحب نے انجام دیئے۔ دیگر مہمانان گرامی میں مولانا عبدالرحمن صاحب، قاری محمد عارض صاحب، مفتی سعد اللہ صاحب، مولانا عرفان صاحب، قاری محمد جاوید صاحب اور ضلع شرقی کے نگران مولانا محمد رضوان صاحب سمیت علاقہ کے دیگر علماء کرام بھی پروگرام میں شریک رہے۔ نقابت جناب نور اللہ صاحب نے کی۔ پروگرام کے میزبان مولانا خیر الحق ابرار صاحب تھے۔ مدرسہ ربانیہ سے درجہ سابعہ کے عمر معاویہ بن محمد یونس نے پہلی، جامعہ عربیہ الہیہ سے درجہ سابعہ کے عثمان بن سیف اللہ نے دوسری، جب کہ دورہ حدیث کے طالب علم حماد جیلانی بن حنیف جیلانی نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ پروگرام کے تمام تر انتظامات لیاقت آباد ٹاؤن کے ذمہ دار مولانا خالد محمود صاحب اور ان کے رفقاء نے جامعہ کی انتظامیہ کی معاونت سے انجام دیئے۔
(۸) ملیر ٹاؤن ۲۳؍نومبر ۲۰۱۷ء:
جامعہ خاتم النبیین ماڈل کالونی میں ملیر ٹاؤن کے ۳ مدارس کے ۱۰ طلباء کے درمیان تقریری مقابلہ منعقد ہوا۔ مہمان خصوصی جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کی شاخ مدرسہ عربیہ ملیر کے استاذ الحدیث مولانا سالک ربانی صاحب اور امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی مولانا محمد اعجاز مصطفی صاحب تھے۔ منصفین کے فرائض مفتی عبدالبصیر صاحب، مولانا شفیق صاحب اور مولانا قمر الحسن صاحب نے انجام دیئے۔ دیگر مہمانان گرامی میں مولانا سید محمود صاحب، مولانا طیب صاحب، مولانا عیسیٰ صاحب، حافظ محمد شاہ رخ صاحب اور مولانا محمد قاسم صاحب بھی پروگرام میں شریک رہے۔ جامعہ انوار العلوم ملیر سے درجہ سابعہ کے عطاء الرحمن نے پہلی، مدرسہ عربیہ اسلامیہ ملیر سے درجہ خامسہ کے عزیز اللہ نے دوسری، جب کہ مدرسہ عربیہ اسلامیہ ملیر سے ہی درجہ رابعہ کے محمد بلال نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ پروگرام کے تمام تر انتظامات مولانا محمد اسحاق مصطفی صاحب نے اپنے رفقاء اور مدرسہ ہٰذا کی انتظامیہ کی معاونت سے سرانجام دیئے۔
(۹) اورنگی ٹاؤن ۲۳؍نومبر ۲۰۱۷ء:
دارالعلوم نعمان بن ثابت و جامعہ مسجد حنفیہ میں اورنگی ٹاؤن کے ۶ مدارس کے ۸ طلباء کے درمیان تقریری مقابلہ منعقد ہوا۔ مہمان خصوصی دارالعلوم نعمان بن ثابت کے مہتمم مفتی آصف صاحب تھے۔ منصفین کے فرائض مفتی حق نواز اختر کوہاٹی صاحب، مولانا مجاہد نبی صاحب اور مولانا نذیر کاغانی صاحب نے انجام دیئے۔ دیگر مہمانان گرامی میں حنفیہ مسجد کے امام مولانا عمران احمد عثمانی، عبداللہ مسجد کے امام مولانا رضوان صاحب، ضلع غربی کے ذمہ دار مولانا محمد شعیب اور علاقہ کے دیگر علماء کرام بھی شامل تھے۔ پروگرام کے میزبان دارالعلوم نعمان بن ثابت کے ناظم تعلیمات مفتی سجاد صاحب تھے۔ جامعہ ریاض العلوم سے درجہ ثالثہ کے طالب علم عصمت اللہ نے پہلی، جامعہ محمودیہ
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سے درجہ رابعہ کے طالب علم صدیق اکبر نے دوسری، جب کہ دارالعلوم نعمان بن ثابت سے درجہ خامسہ کے طالب علم محمد ثاقب نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ پروگرام کے تمام تر انتظامات اورنگی ٹاؤن کے ذمہ دار مولانا وسیم صاحب نے اپنے رفقاء کے ہمراہ سرانجام دیئے۔
(۱۰) کیماڑی ٹاؤن ۲۳؍نومبر ۲۰۱۷ء:
جامعہ عثمانیہ شیر شاہ میں کیماڑی ٹاؤن کے ۴ مدارس کے ۱۵ طلباء کے درمیان تقریری مقابلہ منعقد ہوا۔ مہمان خصوصی مولانا مفتی ناصر صاحب تھے۔ منصفین کے فرائض مولانا محمد فاروق صاحب، مفتی ناصر صاحب اور مولانا عبید اللہ صاحب نے انجام دیئے۔ ضلع جنوبی کے نگران حافظ محمد کلیم اللہ نعمانی و دیگر مہمانان گرامی میں مولانا محمد عارف صاحب، مولانا نعیم اللہ صاحب، مولانا محمد حامد صاحب، مولانا کامران صاحب سمیت علاقہ کے دیگر علماء کرام بھی پروگرام میں شریک رہے۔ نقابت جامعہ عثمانیہ کے طالب علم محمد ندیم بن بہادر خان نے کی۔ پروگرام کے میزبان مولانا انعام اللہ صاحب اور مولانا عظیم صاحب تھے۔ جامعہ قرطبہ کلفٹن سے درجہ رابعہ کے محمد فرحان نے پہلی، جامعہ عثمانیہ شیر شاہ سے درجہ ثالثہ کے حفیظ الحق نے دوسری جب کہ جامعہ عثمانیہ ہی سے درجہ خامسہ کے طاہر شاہ نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ پروگرام کے تمام تر انتظامات کیماڑی ٹاؤن کے ذمہ دار مولانا حسین صاحب اور ان کے رفقاء نے جامعہ کی انتظامیہ کی معاونت سے انجام دیئے۔
(۱۱) کورنگی ٹاؤن ۲۳؍نومبر ۲۰۱۷ء:
مدرسہ رحمانیہ بلال کالونی میں کورنگی ٹاؤن کے ۸ مدارس کے ۱۶ طلباء کے درمیان تقریری مقابلہ منعقد ہوا۔ مہمان خصوصی مولانا قاری عتیق اللہ صاحب تھے۔ منصفین کے فرائض مولانا صدیق احمد صاحب، مولانا زر محمد صاحب اور مولانا محمد رمضان صاحب نے انجام دیئے۔ دیگر مہمانان گرامی میں مولانا عبد الحئی مطمئن صاحب، مولانا اسحاق مصطفیٰ صاحب، مولانا محمد قاسم صاحب سمیت علاقہ کے دیگر علماء کرام بھی پروگرام میں شریک رہے۔ پروگرام کے میزبان مولانا سلام اللہ صاحب تھے۔ معہد عثمان بن عفان سے درجہ سادسہ کے ضیاء الرحمن نے پہلی، مدرسہ رحمۃ اللعالمین مہران ٹاؤن سے درجہ خامسہ کے محمد سفیان نے دوسری، جب کہ مدرسہ رحمانیہ بلال کالونی سے درجہ خامسہ کے طارق جمیل نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ پروگرام کے تمام تر انتظامات کورنگی ٹاؤن کے ذمہ دار مولانا رشید احمد اعظمی صاحب اور ان کے رفقاء نے مدرسہ کی انتظامیہ کی معاونت سے انجام دیئے۔
(۱۲) نارتھ کراچی ٹاؤن ۲۳؍نومبر ۲۰۱۷ء:
جامعہ مدنیہ نیو کراچی میں نارتھ کراچی ٹاؤن کے ۷ مدارس کے ۱۱ طلباء کے درمیان تقریری مقابلہ منعقد ہوا۔ مہمان خصوصی جامعہ مدنیہ کے مہتمم مولانا مفتی فیض الباری صاحب اور شیخ الحدیث مفتی عبید اللہ صاحب تھے۔ منصفین کے فرائض جامعۃ الرشید کے استاذ مولانا ندیم الرشید صاحب، جامعہ دارالخیر گلستان جوہر کے مفتی نجیب اللہ عمر صاحب اور مدرسہ بطحاء کے مفتی غلام سرور صاحب نے انجام دیئے۔ دیگر مہمانان گرامی میں مولانا قاری عبد السمیع رحیمی صاحب، نارتھ ناظم آباد ٹاؤن کے ذمہ دار سید عرفان علی شاہ صاحب، گڈاپ ٹاؤن کے ذمہ دار قاری ظفر اقبال صاحب اور جامعہ یاسین القرآن کے مفتی عرفان نذیر صاحب سمیت علاقہ کے دیگر علماء کرام شامل تھے۔ نقابت مولانا سید بخت علی شاہ صاحب اور مولانا عبد الحئی مطمئن صاحب نے کی۔ جامعہ مدنیہ نیو کراچی سے درجہ رابعہ کے اسامہ بن حافظ حسین احمد نے پہلی، مدرسہ انوار العلوم سے درجہ خامسہ کے اسامہ بن قاری غلام سرور نے دوسری، جب کہ بیت العلوم منگھوپیر سے محسن اللہ بن قاری فضل مولیٰ نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ پروگرام کے تمام تر انتظامات نارتھ کراچی ٹاؤن کے ذمہ دار مولانا سلمان صاحب اور ان کے رفقاء نے جامعہ کے نائب مہتمم مولانا فضل باری صاحب کی معاونت سے انجام دیئے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
(۱۳) گلبرگ ٹاؤن ۳۰؍نومبر ۲۰۱۷ء:
مدرسہ تعلیم الاسلام گلشن عمر سہراب گوٹھ میں گلبرگ ٹاؤن کے ۴ مدارس کے ۱۲ طلباء کے درمیان تقریری مقابلہ منعقد ہوا۔ مہمان خصوصی شیخ الحدیث مولانا قاری مفتاح اللہ صاحب تھے۔ دیگر مہمانان گرامی میں مجلس کراچی کے امیر مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ صاحب، مرکزی مبلغ مولانا قاضی احسان احمد صاحب، جامعہ گلشن عمر کے استاذ مولانا قاری نسیم الدین صاحب، ضلع وسطی کے ذمہ دار مولانا عبدالحی مطمئن صاحب، ضلع شرقی کے ذمہ دار مولانا رضوان صاحب اور مسئول شعبہ تخصص فی علوم ختم نبوت (چناب نگر) مولانا رضوان عزیز صاحب بھی پروگرام میں تشریف لائے۔ منصفین کے فرائض جامعہ معہد الخلیل الاسلامی کے استاذ مولانا مفتی سلمان یاسین صاحب، رحمانیہ مسجد گودھرا کے استاذ مولانا افضال احمد صاحب اور الاخوان مسجد دستگیر کے امام مولانا عبدالنعیم فاروقی صاحب نے سرانجام دیئے۔ نقابت گلبرگ ٹاؤن کے ذمہ دار مولانا محمد قاسم صاحب نے کی۔ میزبان مدرسہ گلشن عمر کے ناظم مولانا زبیر احمد صاحب اور استاذ مولانا کامران صاحب تھے۔ مدرسہ گلشن عمر سے درجہ سابعہ کے محمد عدیل نے پہلی، جامعۃ الابرار سے درجہ رابعہ کے محمد کامل نے دوسری، جب کہ گلشن عمر سے درجہ خامسہ کے عباس علی نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ پروگرام کے انتظامات گلبرگ ٹاؤن کے ختم نبوت کارکنان نے جامعہ گلشن عمر کے طلباء کے ہمراہ سرانجام دیئے۔
(۱۴) بن قاسم ٹاؤن ۳۰؍نومبر ۲۰۱۷ء:
جامعہ محمودیہ اشاعت القرآن میں بن قاسم ٹاؤن کے ۵ مدارس کے ۱۰ طلباء کے درمیان تقریری مقابلہ منعقد ہوا۔ مہمان خصوصی جامعہ عربیہ اسلامیہ ملیر کے استاذ مولانا عبیداللہ احرار صاحب تھے۔ منصفین کے فرائض جامع مسجد رفیع گارڈن کے امام وخطیب مولانا ابوبکر صاحب، جامعہ تجوید القرآن کورنگی کے استاذ مولانا ولی اللہ صاحب اور جامعہ فاروقیہ کے استاذ مولانا امان اللہ صاحب نے انجام دیئے۔ میزبان جامعہ محمودیہ کے اساتذہ مولانا علی معاویہ صاحب اور مولانا اجمل شاہ شیرازی صاحب تھے۔ دیگر مہمانان گرامی میں مولانا زبیر صاحب، مولانا قاصد صاحب سمیت علاقہ کے دیگر علماء کرام بھی پروگرام میں شریک رہے۔ نقابت حافظ عبدالوہاب پشاوری اور مولانا جنید صاحب نے کی۔ جامعہ محمودیہ اشاعت القرآن کے انعام اللہ نے پہلی، جامعہ عثمان بن عفان کے محمد عمر نے دوسری، جب کہ جامعہ محمودیہ کے محمد فیصل نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ پروگرام کے انتظامات مولانا محمد اسحاق مصطفیٰ صاحب کی نگرانی میں بن قاسم ٹاؤن کے کارکنان نے مدرسہ کی انتظامیہ کی معاونت سے سرانجام دیئے۔
(۱۵) سائٹ ٹاؤن ۳۰؍نومبر ۲۰۱۷ء
جامعہ اشرفیہ امدادیہ میٹرو ول سائٹ میں سائٹ ٹاؤن کے ۵ مدارس کے ۹ طلباء کے درمیان تقریری مقابلہ منعقد ہوا۔ مہمان خصوصی جامعہ اشرفیہ امدادیہ کے مہتمم مفتی عبدالجبار صاحب تھے۔ منصفین کے فرائض جامعہ عثمانیہ یوسف گوٹھ کے مدرس مفتی سرور صاحب، جامعۃ الرشید کے استاذ مولانا عبداللہ خاور صاحب اور عمر بن خطاب مسجد کے امام وخطیب مولانا عظیم صاحب نے انجام دیئے۔ دیگر مہمانان گرامی میں مدرسہ حنفیہ کے مدرس مولانا رضوان صاحب، جامعہ اشرفیہ امدادیہ کے مدرس مولانا عبداللہ صاحب اور مولانا ابوبکر صاحب، ضلع غربی کے ذمہ دار مولانا محمد شعیب صاحب سمیت علاقہ بھر کے علماء کرام بھی پروگرام میں شریک رہے۔ نقابت مولانا نذیر کاغانی صاحب نے کی۔ پروگرام کے میزبان مفتی عبدالرحمٰن صاحب تھے۔ جامعہ حقانیہ سے درجہ رابعہ کے طالب علم محمد حارث نے پہلی، جامعہ خلفاء راشدین سے درجہ خامسہ کے طالب علم سید مبین بن سید زاہد علی نے دوسری جب کہ جامعہ اسلامیہ تعلیم القرآن سے درجہ رابعہ کے محمد صفوان بن قاری
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قیوم نواز نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ پروگرام کے تمام تر انتظامات سائٹ ٹاؤن کے ذمہ دار مولانا مشتاق احمد صاحب اور ان کے رفقاء نے مولانا محمد صاحب کی معاونت سے انجام دیئے۔
(۱۶) صدر ٹاؤن ۳۰؍نومبر ۲۰۱۷ء:
مہاجر مکی مسجد صدر میں صدر ٹاؤن کے ۹ مدارس کے ۱۶ طلباء کے درمیان تقریری مقابلہ منعقد ہوا۔ مہمان خصوصی مولانا قاضی احسان احمد صاحب تھے۔ منصفین کے فرائض مولانا شفیق الرحمٰن صاحب، مولانا مفتی شکور احمد صاحب اور مولانا خالد محمود صاحب نے انجام دیئے۔ ضلع جنوبی کے نگران حافظ محمد کلیم اللہ نعمان دیگر مہمانان گرامی میں مولانا عنایت اللہ صاحب، مفتی کلیم اللہ صاحب اور علاقہ کے دیگر علماء کرام بھی پروگرام میں شریک رہے۔ نقابت مولانا محمد کامران صاحب اور جناب نور اللہ صاحب نے کی۔ پروگرام کے میزبان مولانا محمد اصغر صاحب اور مولانا عنایت اللہ صاحب تھے۔ جامعہ اسلامیہ کلفٹن سے درجہ سادسہ کے حضرت علی نے پہلی، معہد الشیخ زکریا سے درجہ رابعہ کے جمیل شاہ نے دوسری، جب کہ جامعہ سعیدیہ کلفٹن سے درجہ سادسہ کے حسین احمد نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ پروگرام کے تمام تر انتظامات صدر ٹاؤن کے ذمہ دار مولانا مسعود احمد لغاری صاحب اور ان کے رفقاء نے جامعہ کی انتظامیہ کی معاونت سے انجام دیئے۔
(۱۷) گلشن اقبال ٹاؤن ۳۰؍نومبر ۲۰۱۷ء:
جامعہ اشرف المدارس میں گلشن اقبال ٹاؤن کے ۱۴ مدارس کے ۱۶ طلباء کے درمیان تقریری مقابلہ منعقد ہوا۔ مہمان خصوصی مفتی حسین احمد صاحب تھے۔ منصفین کے فرائض استاذ جامعۃ الرشید مفتی رشید احمد صاحب، مولانا ندیم الرشید صاحب اور استاذ جامعہ علی المرتضیٰ مولانا خرم صاحب نے انجام دیئے۔ دیگر مہمانان گرامی میں مفتی حبیب الرحمٰن لدھیانوی صاحب، مولانا عبدالحمید صاحب، مولانا عبدالکریم صدیقی صاحب سمیت علاقہ کے دیگر علماء کرام شامل تھے۔ نقابت عبدالمعز بن مولانا عبدالسمیع نے کی۔ مدرسہ ابراہیم الاسلامیہ سے درجہ اولیٰ کے اظہر بلال نے پہلی، مدرسہ معارف القرآن سے درجہ رابعہ کے عبدالوحید نے دوسری، جب کہ مدرسہ احسن العظیم سے درجہ سادسہ کے محمد یوسف نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ پروگرام کے تمام تر انتظامات گلشن اقبال ٹاؤن کے ذمہ دار مولانا قاری عبدالسمیع رحیمی صاحب اور ان کے رفقاء نے جامعہ اشرف المدارس کی انتظامیہ کی معاونت سے انجام دیئے۔
(۱۸) نارتھ ناظم آباد ٹاؤن ۳۰؍نومبر ۲۰۱۷ء:
مدرسہ امام ابو یوسف شادمان ٹاؤن میں نارتھ ناظم آباد ٹاؤن کے ۷ مدارس کے ۱۳ طلباء کے درمیان تقریری مقابلہ منعقد ہوا۔ مہمان خصوصی مولانا محب اللہ صاحب تھے۔ منصفین کے فرائض جامعہ یاسین القرآن کے استاذ مفتی محمد عمران نذیر صاحب، جامعہ مدنیہ کے متخصص مولانا محمد شاکر اللہ صاحب اور جامعہ خانقاہ جلیلیہ سرجانی کے استاذ مفتی نجیب اللہ صاحب نے انجام دیئے۔ دیگر مہمانان گرامی میں مجلس کراچی کے امیر مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ صاحب، مولانا قاضی احسان احمد صاحب، مولانا رضوان عزیز صاحب، قاری ظفر اقبال صاحب، مولانا اشفاق صاحب سمیت علاقہ کے دیگر علماء کرام بھی پروگرام میں شریک رہے۔ نقابت مولانا عبدالحئی مطمئن صاحب، مولانا محمد آصف صاحب اور حافظ حبیب صاحب نے کی۔ پروگرام کے میزبان مولانا محمد انس جلال پوری صاحب تھے۔ مدرسہ امام ابو یوسف سے درجہ ثانیہ کے محمد احمد نے پہلی، جامعہ مدنیہ پہاڑ گنج سے درجہ رابعہ کے محمد خوشحال نے دوسری، جب کہ مدرسہ امام ابو یوسف سے درجہ ثالثہ کے عبدالوحید نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ پروگرام کے تمام تر انتظامات سید عرفان علی شاہ نے مولانا زبیر صاحب، مولانا سلمان صاحب اور مولانا احمد جلال پوری صاحب سمیت حلقہ نارتھ ناظم آباد ٹاؤن کے کارکنان اور مدرسہ امام ابو یوسف کی انتظامیہ کی معاونت سے انجام دیئے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دوسرا مرحلہ: دوسرے مرحلے میں ضلعی بنیاد پر کراچی کے کل پانچ مقامات پر تقریری مقابلے منعقد ہوئے، جن میں ٹاؤن کی سطح پر پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء نے شرکت کی۔ جس کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے:
(۱) ضلع جنوبی ۲۱؍دسمبر ۲۰۱۷ء:
جامعہ قرطبہ شیریں جناح کالونی میں ضلع جنوبی کے تقریری مقابلہ میں لیاری ٹاؤن، کیماڑی ٹاؤن اور صدر ٹاؤن کے مقابلوں میں پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء شریک ہوئے۔ جہاں جامعہ اسلامیہ کلفٹن، جامعہ قرطبہ کلفٹن، جامعہ سعیدیہ کلفٹن، جامعہ عثمانیہ بہار کالونی، جامعہ عثمانیہ شیر شاہ، جونا مسجد اور معہد الشیخ زکریا کے ۹ طلباء نے شرکت کی۔ مہمانِ خصوصی مولانا عبادالرحمٰن صاحب تھے۔ منصفین کے فرائض جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے اساتذہ مفتی شکور احمد صاحب، مولانا فیصل خلیل صاحب اور مولانا کامران کیانی صاحب نے انجام دیئے۔ دیگر مہمانانِ گرامی میں مولانا مطیع اللہ صاحب، مولانا عارف اللہ صاحب، مولانا ظہور عباسی صاحب اور دیگر علماء کرام بھی پروگرام میں شریک رہے۔ جامعہ عثمانیہ شیر شاہ سے درجہ خامسہ کے طاہر شاہ نے پہلی، جامعہ عثمانیہ بہار کالونی سے درجہ خامسہ کے جواد حسین نے دوسری، جب کہ جامعہ عثمانیہ شیر شاہ سے درجہ ثالثہ کے حفیظ الحق نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ پروگرام کے انتظامات حافظ کلیم اللہ نعمان صاحب نے ضلع غربی کے رفقاء کے ہمراہ جامعہ کی انتظامیہ کی معاونت سے انجام دیئے۔
(۲) ضلع شرقی ۲۱؍دسمبر ۲۰۱۷ء
جامعہ تعلیم القرآن والسنہ منظور کالونی میں ضلع شرقی کے مدارس مدرسہ گلشن عمر اور جامعۃ الابرار (گلبرگ ٹاؤن)، جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن اور مدرسہ عربیہ فرقانیہ (جمشید ٹاؤن)، جامعہ الہدیٰ اور جامعہ ربانیہ (لیاقت آباد ٹاؤن) سے مقابلہ میں پوزیشن حاصل کرنے والے کل ۹ طلباء نے شرکت کی۔ مہمانِ خصوصی مجلس کراچی کے امیر مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ صاحب تھے۔ منصفین کے فرائض مولانا شفیع الرحمٰن صاحب، لیاقت آباد ٹاؤن کے ذمہ دار مولانا خالد محمود صاحب اور جامعہ تعلیم القرآن والسنہ کے استاذ مولانا مفتی محمد رمضان صاحب نے سرانجام دیئے۔ میزبان مولانا قاری شبیر احمد عثمانی صاحب تھے۔ نقابت گلبرگ ٹاؤن کے ذمہ دار مولانا محمد قاسم صاحب نے کی۔ دیگر مہمانانِ گرامی میں مولانا عبدالرقیب صاحب اور مولانا بلال صاحب، سمیت علاقہ کے دیگر علماء کرام بھی پروگرام میں شریک رہے۔ جامعہ گلشن عمر سے درجہ سابعہ کے محمد عدیل نے پہلی، مدرسہ عربیہ فرقانیہ سے درجہ سادسہ کے محمد آکاش نے دوسری، جب کہ جامعہ الہدیٰ سے دورۂ حدیث کے حماد جیلانی نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ پروگرام کے تمام تر انتظامات ضلع شرقی کے ذمہ دار مولانا محمد رضوان نے اپنے رفقاء کے ہمراہ مدرسہ ہٰذا کی انتظامیہ کے تعاون سے سرانجام دیئے۔
(۳) ضلع ملیر ۲۸؍دسمبر ۲۰۱۷ء:
جامعہ انوار العلوم شاد باغ میں ضلع ملیر کا تقریری مقابلہ ہوا۔ جس میں ملیر ٹاؤن، لانڈھی ٹاؤن اور بن قاسم ٹاؤن کے مقابلوں میں پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء شریک ہوئے۔ جہاں مدرسہ عربیہ ملیر، جامعہ محمودیہ اشاعت القرآن، مدرسہ تحفیظ القرآن، مدرسہ عثمان بن عفان، جامعہ ابوہریرہ لانڈھی اور کنز العلوم لانڈھی کے کل ۹ طلباء نے شرکت کی۔ مہمانِ خصوصی مجلس کراچی کے امیر مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ صاحب تھے۔ منصفین کے فرائض جامعہ حمادیہ شاہ فیصل کے استاذ مولانا مفتی قمر الحسن صاحب، ناظم مدرسہ غفوریہ مولانا لطیف الرحمٰن صاحب اور استاذ جامعہ فاروقیہ مولانا عامر منیر صاحب نے انجام دیئے۔ میزبان جامعہ انوار العلوم شاد باغ کے مہتمم مولانا شفیق الرحمٰن صاحب
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تھے۔ نقابت مولانا محمد اسحاق مصطفیٰ صاحب نے کی۔ دیگر مہمانان گرامی میں حافظ عبداللہ عبدالقادر صاحب، مولانا صباح الدین صاحب، مفتی احسان صاحب اور مولانا سمیع الحق صاحب بھی پروگرام میں شریک رہے۔ جامعہ انوار العلوم شاد باغ سے درجہ سابعہ کے عطاء الرحمن نے پہلی، مدرسہ عثمان بن عفان سے درجہ ثانیہ کے محمد عمر نے دوسری، جب کہ مدرسہ عربیہ ملیر سے درجہ رابعہ کے محمد بلال نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ پروگرام کے تمام تر انتظامات ضلع ملیر کے ذمہ دار مولانا محمد اسحاق مصطفیٰ صاحب اور ان کے رفقاء نے انجام دیئے۔
(۴) ضلع غربی ۲۸؍ دسمبر ۲۰۱۷ء :
جامعہ بنوریہ عالمیہ میں ضلع غربی کا تقریری مقابلہ ہوا۔ جس میں اورنگی ٹاؤن، بلدیہ ٹاؤن اور سائٹ ٹاؤن کے مقابلوں میں پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء شریک ہوئے۔ جس میں جامعہ عثمانیہ یوسف گوٹھ، جامعہ الصفہ، جامعہ ندوۃ العلم، جامعہ حقانیہ تعلیم القرآن، جامعہ خلفاء راشدین، جامعہ تعلیم القرآن، مدرسہ محمودیہ، جامعہ ریاض العلوم اور دارالعلوم نعمان بن ثابت کے کل ۹ طلباء نے شرکت کی۔ مہمان خصوصی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا قاضی احسان احمد صاحب اور جامعہ کے ناظم تعلیمات مولانا عبدالحمید صاحب تھے۔ میزبان جامعہ بنوریہ کے استاذ مولانا غلام رسول صاحب اور مولانا آفتاب الحق صاحب تھے۔ منصفین کے فرائض جامعہ بنوریہ کے استاذ مولانا جہان یعقوب صاحب، مولانا عنایت اللہ عادل صاحب اور مولانا پروفیسر عبدالودود صاحب نے انجام دیئے۔ دیگر مہمانان گرامی میں بلدیہ ٹاؤن کے ذمہ دار مولانا عبدالعزیز صاحب، سائٹ ٹاؤن کے ذمہ دار مولانا مشتاق احمد شاہ صاحب اور مفتی طلحہ عتیق صاحب بھی پروگرام میں شریک رہے۔ نقابت درجہ تخصص کے طالب علم مولانا ساجد اللہ نے کی۔ جامعہ عثمانیہ یوسف گوٹھ سے درجہ سادسہ کے صدیق اللہ نے پہلی، جامعہ حقانیہ تعلیم القرآن سے درجہ رابعہ کے طالب علم محمد حارث نے دوسری، جب کہ جامعہ الصفہ سے درجہ خامسہ کے طالب علم محمد اسامہ نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ پروگرام کے تمام تر انتظامات ضلع غربی کے کارکنان نے مولانا محمد شعیب کی زیر نگرانی جامعہ بنوریہ سائٹ کے استاذ مولانا عبدالواحد صاحب اور بھائی عبدالرحیم صاحب کی معاونت سے انجام دیئے۔
(۵) ضلع وسطی ۲۸؍ دسمبر ۲۰۱۷ء :
جامعۃ الرشید میں ضلع وسطی کا تقریری مقابلہ منعقد ہوا، جس میں گڈاپ ٹاؤن، نارتھ کراچی ٹاؤن اور نارتھ ناظم آباد ٹاؤن کے مقابلوں میں پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء شریک ہوئے۔ جہاں مدرسہ انوار العلوم، مدرسہ امام ابو یوسف، جامعہ صدیقیہ، جامعہ مدنیہ، مدرسہ بیت العلوم، جامعۃ الرشید اور مدرسہ منبع العلوم کے کل ۹ طلباء شریک ہوئے۔ مہمان خصوصی مولانا ڈاکٹر عبدالحلیم چشتی صاحب، مفتی ابو لبابہ صاحب اور شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد صاحب تھے۔ جب کہ میزبان ناظم تعلیمات مولانا محمد قاسم صاحب تھے۔ منصفین کے فرائض نائب مفتی دارالعلوم کراچی مولانا مفتی عبدالمنان صاحب، جامعہ حقانیہ بلدیہ ٹاؤن کے مہتمم مفتی فیض الحق صاحب اور مسجد الحبیب سپریم کورٹ کراچی رجسٹری کے امام مولانا محمد نعمان ارمان مدنی صاحب نے انجام دیئے۔ نقابت مولانا عبدالحئی مطمئن صاحب اور مولانا ندیم الرشید صاحب نے کی۔ دیگر مہمانان گرامی میں مفتاح العلوم منگھوپیر کے مہتمم مولانا عبدالکریم صاحب، منبع العلوم منگھوپیر کے مہتمم مولانا محمد نصیب مینگل صاحب، ناظم جامعہ صدیقیہ گڈاپ مولانا عبدالباسط صاحب، مفتی نصر اللہ احمد پوری صاحب، مولانا فضل الباری صاحب اور مولانا محمد انس جلال پوری صاحب بھی پروگرام میں شریک رہے۔ جامعۃ الرشید سے درجہ ثالثہ کے اسامہ امجد نے پہلی، مدینۃ العلوم سے درجہ رابعہ کے محمد خوشحال نے دوسری، جب کہ جامعہ مدنیہ نیوکراچی سے درجہ رابعہ کے اسامہ بن حافظ حسین احمد نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ پروگرام کے انتظامات ضلع وسطی کے کارکنان نے جامعۃ الرشید کے استاذ قاری فراز صاحب اور جامعہ کے طلباء کی معاونت سے انجام دیئے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
(۶) ضلع کورنگی ۲۸؍ دسمبر ۲۰۱۷ء:
جامعہ صدیقیہ میں ضلع کورنگی کا تقریری مقابلہ منعقد ہوا، جس میں گلشن اقبال ٹاؤن، کورنگی ٹاؤن اور شاہ فیصل ٹاؤن کے مقابلوں میں پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء شریک ہوئے۔ جہاں جامعہ فاروقیہ، مدرسہ معہد عثمان بن عفان، مدرسہ ابراہیم اسلامیہ، مدرسہ رحمۃ اللعالمین، جامعہ احسن العظیم، جامعہ حمادیہ، جامعہ رحمانیہ اور جامعہ ادارۃ المعارف کے ۹ طلباء نے شرکت کی۔ مہمان خصوصی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے امیر مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ صاحب تھے۔ منصفین کے فرائض شیخ الحدیث جامعہ انوارالعلوم مہران ٹاؤن مولانا محمد نعمان صاحب، استاذ دارالعلوم کراچی مولانا محمد یونس صاحب اور استاذ مدرسہ الانوار مولانا امتیاز صاحب نے انجام دیئے۔ میزبان جامعہ صدیقیہ ناتھا خان گوٹھ کے مہتمم مولانا شفیق الرحمٰن صاحب تھے۔ نقابت مولانا عبدالسمیع صاحب اور مولانا عادل غنی صاحب نے کی۔ دیگر مہمانانِ گرامی میں مولانا رشید احمد اعظمی صاحب مولانا سلام اللہ صاحب، مفتی نور الدین صاحب اور مولانا عثمان رفیق صاحب بھی پروگرام میں شریک رہے۔ جامعہ رحمانیہ سے درجہ خامسہ کے طارق جمیل نے پہلی، جامعہ حمادیہ سے درجہ سابعہ کے حماد الرحمان نے دوسری، جب کہ مدرسہ معہد عثمان بن عفان سے درجہ سادسہ کے ضیاء الرحمٰن نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ پروگرام کے تمام تر انتظامات ضلع کورنگی کے ذمہ دار مولانا عادل غنی نے مولانا محمد اشفاق، مولانا احسن نسیم و دیگر رفقاء کے ہمراہ سرانجام دیئے۔
ان تمام مقابلوں میں کراچی کے اہل مدارس نے خدام ختم نبوت کے ساتھ مل کر بڑی جانفشانی کے ساتھ محنت کی اور پروگرامز کی کامیابی میں کردار ادا کیا۔ اللہ تعالیٰ تمام احباب کی محنتوں اور کاوشوں کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت سے نوازیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۸ تا ۱۵؍ فروری ۲۰۱۸ء ص ۱۸ تا ۲۳، ۲۷)
دروس بسلسلہ سیرت خاتم الانبیاء ﷺ ڈیرہ اسماعیل خان
دسمبر ۲۰۱۷ء میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے زیر اہتمام ربیع الاوّل کے مقدس مہینہ میں پچاس پروگرام بسلسلہ سیرت خاتم الانبیاء منعقد ہوئے۔ جس کی سرپرستی عالمی مجلس ڈیرہ کے امیر مولانا محمد طارق نے کی۔ ان پروگرامات سے پورے ضلع میں عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور قادیانی مصنوعات کے بائیکاٹ کی بھرپور آواز بلند ہوئی ہے۔ ضلع ڈی آئی خان کے تمام علماء کرام، طلباء عظام، قراء حضرات اور ثناء خوان مصطفیٰ ﷺ نے دل جوئی سے شرکت فرمائی اور یہ عزم مصمم کیا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے اکابرین جو بھی حکم فرمائیں گے۔ ہم ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔ ان پچاس پروگراموں کے بعد آخر میں ۱۹؍دسمبر ۲۰۱۷ء کو جامع مسجد خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک کانفرنس منعقد کی گئی جس میں مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا محمد احمد انور مان کوٹ اور مولانا محمد حمزہ لقمان کے خصوصی بیانات ہوئے۔ مولانا محمد حمزہ لقمان نے ڈیرہ اسماعیل خان اور اس کے مضافاتی علاقوں کے علاوہ موسیٰ زئی شریف، پہاڑ پور، دریا خان، کلورکوٹ، ضلع بھکر سمیت کئی ایک شہروں کا دورہ کیا۔ ان تمام پروگرامات میں تبدیلی حلف نامہ اور اقرار نامہ کے حوالے سے بھر پور احتجاج ریکارڈ کروایا اور قراردادیں بھی پیش کیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۸ء ص ۴۸)
دروس قرآن بسلسلہ سیرت النبی ﷺ سیالکوٹ
ربیع الاوّل کے بابرکت مہینہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سیالکوٹ کے زیر اہتمام، دسمبر ۲۰۱۷ء میں پیر سید شبیر احمد گیلانی امیر عالمی مجلس سیالکوٹ کی زیر سرپرستی میں سیالکوٹ شہر کی مساجد میں دروس قرآن بسلسلہ سیرت النبی ﷺ کا انعقاد کیا گیا۔ مولانا فقیر اللہ اختر مبلغ مجلس
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سیالکوٹ نے تمام دروس کی نگرانی کی اور تمام پروگراموں میں بیانات بھی کئے جس کی اجمالی رپورٹ درج ذیل ہے: (۱) درس مدرسہ صفدریہ پکی کوٹلی میں منعقد ہوا، جس میں مولانا سجاد احمد اور مولانا فقیر اللہ اختر کے بیانات ہوئے۔ (۲) درس جامع مسجد دارالسلام بٹر روڈ میں منعقد کیا گیا، جس میں نائب امیر مولانا محبوب الہی ہزاروی اور مبلغ مولانا فقیر اللہ اختر کے بیانات ہوئے۔ (۳) درس جامع مسجد الہدیٰ بٹر میں منعقد ہوا۔ مولانا عاصم شہزاد اور مولانا فقیر اللہ اختر کے بیانات ہوئے۔ (۴) درس جامع مسجد ختم نبوت حاجی پورہ میں ہوا۔ جس میں مولانا شہباز احمد حنفی اور مولانا فقیر اللہ اختر کے بیانات ہوئے۔ (۵) درس جامع مسجد امیر حمزہ پسرور روڈ میں منعقد کیا گیا، اس میں مولانا مفتی محمد داؤد نفیسی اور مولانا فقیر اللہ اختر کے بیانات ہوئے۔ (۶) درس جامع مسجد امیر معاویہ نیکا پورہ میں منعقد ہوا۔ جس میں مولانا عاصم شہزاد کا بیان ہوا۔ (۷) درس جامع جہانگیری مسجد نزد علامہ اقبال ہاؤس میں ہوا۔ جس میں مولانا محبوب الہی ہزاروی اور مولانا فقیر اللہ اختر کے بیانات ہوئے۔ (۸) درس جامع مسجد الکوثر مجاہد روڈ میں ہوا۔ جس میں مولانا مفتی محمد عارف حسین اور مولانا فقیر اللہ اختر کے بیانات ہوئے۔ (۹) درس جامع مسجد نور اکبر آباد میں ہوا۔ جس میں مولانا فقیر اللہ اختر کا بیان ہوا۔ (۱۰) درس جامع مسجد نور فتح گڑھ میں ہوا جس میں مولانا زبیر احمد طالب اور مولانا فقیر اللہ اختر کے بیانات ہوئے۔ (۱۱) درس جامع مسجد ختم نبوت محلہ غوث پورہ میں ہوا جس میں مولانا خلیل احمد بلال نے خطاب کیا۔ (۱۲) درس جامع مسجد صغریٰ تقی کھوکھر ٹاؤن میں ہوا۔ جس میں مولانا قاری محمد اسلم اور مولانا فقیر اللہ اختر کے بیانات ہوئے۔ (۱۳) جامع مسجد تقوی گجر ٹاؤن میں مولانا سجاد احمد اور مولانا فقیر اللہ اختر کے بیانات ہوئے۔ (۱۴) جامع مسجد سید یوسف بنوری الہادی ٹاؤن میں مولانا محمد یونس خان کا بیان ہوا۔ (۱۵) جامع مسجد خاص چائنہ چوک میں مولانا محبوب الہی ہزاروی اور مولانا فقیر اللہ اختر کے بیانات ہوئے۔ (۱۶) جامع مسجد ابو بکر صدیق ؓ میانہ پورہ میں مولانا سجاد احمد اور مولانا فقیر اللہ اختر نے بیانات کئے۔ (۱۷) جامع مسجد علی میانہ پورہ میں مولانا ذوالفقار احمد جنید کا بیان ہوا۔ (۱۸) جامع مسجد تاجدار مدینہ ﷺ میں مولانا محبوب الہی ہزاروی نے بیان کیا۔ (۱۹) جامع مسجد مدینہ کشمیر محلہ میں مولانا مفتی داؤد اور مولانا فقیر اللہ اختر کے بیانات ہوئے۔ مقررین نے کہا کہ اگر حافظ حمد اللہ کی ختم نبوت پر قرارداد کو اسی وقت حل کر لیا جاتا تو ملک کے حالات دگرگوں نہ ہوتے۔ نیز مولانا اللہ وسایا نے جو ہائی کورٹ میں ختم نبوت کے قانون کی ایک رٹ جمع کروائی تھی۔ اس کو منظور کرتے ہوئے جج صاحب کے ۷۔ بی، ۷۔ سی کی بحالی کے حکم کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۸ء ص ۴۷، ۴۸)
ختم نبوت سیمینارز ضلع رحیم یار خان
دسمبر ۲۰۱۷ء میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامعہ قادریہ رحیم یار خان اور جامع مسجد النور محلہ مہر آباد صادق میں سیمینار منعقد ہوئے۔ ان پروگراموں میں قاضی احسان احمد، مولانا مفتی محمد راشد مدنی، مولانا محمد رمضان سندھی، مولانا ریاض احمد انوری، مولانا ثناء اللہ قصوری اور قاضی شفیق الرحمٰن کے بیانات ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۸ء ص ۵۶)
سیرت خاتم الانبیاء کانفرنسز کراچی
ہر سال کی طرح امسال بھی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام کراچی کے مختلف علاقوں میں ماہِ ربیع الاوّل میں ”سیرت خاتم الانبیاء کانفرنسز“ کے عنوان سے پروگرامز کا انعقاد کیا گیا، جس کی مختصر روئیداد درج ذیل ہے: پہلا پروگرام: ۱۳/ ربیع الاول ۱۴۳۹ھ مطابق ۲/ دسمبر ۲۰۱۷ء بروز ہفتہ بعد نماز عشاء جامع مسجد پاکستان چوک دکھنی مسجد میں مناظر اسلام مولانا ڈاکٹر منظور احمد مینگل نے بیان کیا
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دوسرا پروگرام: ۱۴؍ ربیع الاوّل ۱۴۳۹ھ مطابق ۳؍ دسمبر ۲۰۱۷ء بروز اتوار بعد نماز مغرب جامع مسجد سنہری برنس روڈ میں منعقد ہوا۔ پروگرام کا آغاز مولانا حمید سعدی کی تلاوت سے ہوا۔ پیر طریقت مولانا عزیز الرحمن ہزاروی نے خطاب فرمایا۔ پروگرام میں مولانا محمد کامران، مولانا عتیق اللہ، مولانا ظفر، مولانا محمد، مولانا عبدالحمید و دیگر کئی علماء و عوام نے شرکت کی۔
تیسرا پروگرام: ۱۴؍ ربیع الاوّل مطابق ۳؍ دسمبر ۲۰۱۷ء بروز اتوار بعد نماز عشاء جامع مسجد دارالسلام لیاقت آباد نمبر ۹ میں منعقد ہوا۔ قاری محمد راشد کی تلاوت و نعت کے بعد مہمان خصوصی مولانا مفتی شکور احمد نے خطاب کیا۔
چوتھا پروگرام: ۲۰؍ ربیع الاوّل مطابق ۹؍ دسمبر بروز ہفتہ بعد نماز عشاء جامع مسجد غوثیہ سٹی ریلوے کالونی گیٹ نمبر ۱۰ میں انعقاد پذیر ہوا۔ مولانا مفتی اسرار احمد نے خطاب کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت ۲۳ تا ۳۱؍ دسمبر ۲۰۱۷ء ص ۲۶)
سیرت میلاد النبی ﷺ کانفرنس قصور
۳؍ دسمبر ۲۰۱۷ء بعد نماز عشاء جامع مسجد گندوالی کوٹ مراد خان قصور میں محفل حمد و نعت سیرت میلاد النبی کانفرنس منعقد ہوئی۔ مولانا سیف الرحمن قصور، جناب افتخار فخر، ماسٹر ذوالفقار، حافظ عادل دیگر مہمانوں نے نعتیں پیش کیں۔ مولانا سید زبیر شاہ ہمدانی نے صدارت فرمائی۔ مولانا اللہ وسایا کا خصوصی بیان ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۸ء ص ۵۲)
ختم نبوت کانفرنس وہاڑی
عالمی مجلس کے زیراہتمام جامع مسجد صدیق اکبر پیر مراد وہاڑی میں ۴؍ دسمبر ۲۰۱۷ء جناب حافظ شبیر احمد کی صدارت اور قاری محمد جاوید کی نگرانی میں کانفرنس منعقد ہوئی۔ تلاوت قاری عبدالمنان اور نعتیہ کلام حافظ محمد ریاض نے پیش کیا۔ عالمی مجلس خانیوال کے مبلغ مولانا عبدالستار گورمانی نے عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت اور فضیلت بیان کی۔ مولانا اللہ وسایا نے موجودہ حالات اور تحفظ ختم نبوت میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے کردار پر سیر حاصل گفتگو فرمائی۔ جامعہ خالد بن ولید کے شیخ الحدیث مولانا ظفر احمد قاسم نے اختتامی دعا فرمائی۔ اجتماع میں مولانا عبدالعزیز طاہر، مولانا طارق محمود، مولانا ثناء اللہ اور رانا افتخار احمد خصوصی طور پر شریک ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۸ء ص ۵۱)
ختم نبوت کانفرنس ملکووال
۵؍ دسمبر ۲۰۱۷ء ملکووال ضلع منڈی بہاؤ الدین میں رانا محمد خاور کے گھر سیرت و ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت مولانا سید عبدالشکور نے کی۔ جب کہ ضلعی امیر قاری عبدالواحد مہمان خصوصی تھے۔ کانفرنس کا آغاز قاری سعید احمد کی تلاوت سے ہوا۔ رانا محمد جنید اور ایک طالب علم نے نعت پڑھی۔ مولانا فیاض احمد عثمانی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کے خطاب ہوئے۔ آخر میں جھاوریاں کے معروف ثنا خواں رانا عبدالرؤف نے نعت پڑھی۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا محمد قاسم سیوطی نے سرانجام دیئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۸ء ص ۵۳)
ختم نبوت کانفرنس کنجوانی
۵؍ دسمبر ۲۰۱۷ء بروز منگل بعد نماز مغرب ڈہٹراں میں سیرت کمیٹی کے زیر انتظام مولانا عابد رضا نائب امیر مجلس کنجوانی کی زیر نگرانی ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت قاری سید احمد رضا شاہ نے فرمائی۔ تلاوت قاری محمد سلیم اور نعت مولانا شاہد عمران
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عافی نے پیش کی۔ مولانا شہباز قاسمی مولانا عبدالقدوس گجر، مولانا محمد حبیب و دیگر علماء کرام کے خطاب کے علاوہ مولانا عطاء اللہ نقشبندی کی دعوت پر مولانا اللہ وسایا نے تشریف لا کر ختم نبوت کانفرنس کو چار چاند لگا دیئے۔ ۶ دسمبر کی فجر کو درس قرآن بھی ارشاد فرمایا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۸ء ص ۵۴،۵۳)
میانہ گوندل منڈی بہاؤالدین میں جلسہ
میانہ گوندل منڈی بہاؤالدین کا معروف قصبہ ہے۔ ضلعی امیر قاری عبدالواحد جامعہ انوار مدینہ کے نام سے بنین و بنات کا مدرسہ چلا رہے ہیں۔ ان کی صدارت میں میانہ گوندل کی مدنی مسجد میں ۶؍دسمبر ۲۰۱۷ء بعد نماز عشاء سیرت النبی ﷺ کے عنوان پر جلسہ منعقد ہوا۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے حلف نامہ سے متعلق موجودہ صورتحال پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا نقطہ نظر پیش کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۸ء ص ۵۶)
ختم نبوت کانفرنس اوکاڑہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام سالانہ ختم نبوت کانفرنس مرکزی جامع مسجد عثمانی گول چوک اوکاڑہ میں ۶؍دسمبر ۲۰۱۷ء بعد نماز عشاء مولانا قاری الیاس امیر عالمی مجلس اوکاڑہ کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ تلاوت کلام پاک قاری عاصم بن عبدالودود نے مصری لہجہ میں کی۔ حافظ محمد عثمان جناب خالد محمود اور ملک کے عظیم ثناء خواں مولانا شاہد عمران عارفی ساہیوال کی خوبصورت نعت سے سماں پیدا کر دیا۔ مولانا قاری سعید احمد عثمانی خطیب گول چوک نے علاقہ جات سے قافلوں کی شکل میں تشریف لانے والوں کا شکریہ ادا کیا۔ مولانا قاری غلام محمود انور، مولانا اسحاق بدر، مفتی غلام مصطفیٰ، قاری سید رمضان شاہ، قاری محمد ابراہیم، مولانا اعجاز، مفتی محمد لقمان، حاجی جاوید اقبال، مولانا سید شمس الحق گیلانی، مولانا عبدالرؤف چشتی، مولانا قاری عبدالکریم قاسم کے علاوہ کافی حضرات نے اسٹیج کو رونق بخشی۔ حافظ عبداللطیف، مولانا قاری محمد اشرف، قاری محمد افضل، مفتی سجاد اللہ، مولانا عبدالقدیر، مولانا عبدالقدیم تشریف لائے۔ مولانا اللہ وسایا کے بیانات ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۸ء ص ۵۳)
ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ
تقریباً پینتیس سال تک چنیوٹ کے لائبریری پارک میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوتی رہی۔ آخری کانفرنس بادشاہی مسجد میں ہوئی تھی اور اب ۷؍دسمبر ۲۰۱۷ء بعد نماز عشاء ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ تلاوت قاری خلیل احمد نے کی۔ نعت مولانا حذیفہ اکرم، حافظ محمد شریف منچن آبادی نے پیش کی۔ اسٹیج سیکرٹری قاری محمد افضل برہانی تھے۔ کانفرنس سے قاری محمد یامین گوہر، جماعت الدعوہ کے مولانا بنیامین عابد، جماعت اسلامی کے چوہدری محمد اسلام کے علاوہ مولانا عبدالواحد نفیسی، مولانا طاہر حسین، مولانا خلیل احمد اشرفی، مولانا مفتی شاہد مسعود سرگودھا اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کیا۔ مولانا طاہر حسین، مولانا محمد عارف، مولانا سیف اللہ خالد، قاری عبدالحمید، مولانا محمد ہارون، جناب پیر صفدر حسین، مفتی محمد افضال، مولانا سیف اللہ نقشبندی نے خصوصی شرکت کی۔ کانفرنس کا انتظام وصدارت مولانا غلام مصطفیٰ نے کی۔ کانفرنس رات گئے جاری رہی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۸ء ص ۵۲،۵۱)
جہلم میں ختم نبوت سیمینار
جامعہ تعلیم الاسلام حنفیہ میں ۷؍دسمبر ۲۰۱۷ء قبل از نماز ظہر ختم نبوت سیمینار منعقد ہوا۔ جس میں علاقہ بھر سے درجنوں علماء کرام نے
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
شرکت کی۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے عقیدۂ ختم نبوت کے لئے علماء کرام کی ذمہ داریوں کے عنوان پر خطاب فرمایا۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا محمد عمر نے سرانجام دیئے۔ مولانا محمد ابوبکر نے صدارت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۸ء ص ۵۶)
محمدیہ مسجد چناب نگر میں جلسہ سیرت
حسب سابق ۸؍ دسمبر ۲۰۱۷ء کو جامع مسجد محمدیہ ریلوے اسٹیشن میں سیرت النبی ﷺ کے عنوان پر جلسہ منعقد ہوا۔ صدارت مولانا غلام مصطفیٰ نے کی۔ حافظ محمد شریف منچن آبادی نے نعتیہ کلام پیش کیا۔ مولانا سیف اللہ نقشبندی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے سیرت النبی ﷺ پر خطاب کیا۔ جلسہ میں سینکڑوں حضرات نے شرکت کی۔ خطبہ جمعہ اور نماز مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے پڑھائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۸ء ص ۵۵)
حافظ آباد میں ختم نبوت سیمینار
مدرسہ اشرفیہ قرآنیہ حافظ آباد میں ۹؍ دسمبر ۲۰۱۷ء ختم نبوت سیمینار منعقد ہوا۔ جس کی صدارت مدرسہ کے مہتمم علامہ احمد سعید اعوان نے کی اور معروف ثناء خوان قاری ارشد محمود گوجرانوالہ نے نعتیہ کلام پیش کیا۔ جب کہ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے بیان فرمایا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۸ء ص ۵۶)
ختم نبوت کانفرنس جہانیاں
۱۲؍ دسمبر ۲۰۱۷ء بروز منگل بعد نماز عشاء جامع مسجد امیر حمزہ جہانیاں میں ختم نبوت کانفرنس مولانا محمد اسماعیل عابد کی صدارت اور قاری مظہر حسین کی نگرانی میں منعقد ہوئی۔ تلاوت کلام پاک قاری محمد طیب نے کی اور نعتیہ کلام حافظ ریاض احمد نے پیش کیا۔ کانفرنس سے مجلس خانیوال کے مبلغ مولانا عبد الستار گورمانی نے عقائد مرزا قادیانی پر گفتگو فرمائی۔ سید عبد المجید ندیم کے جانشین مولانا محمد فیصل ندیم نے ختم نبوت کی فضیلت واہمیت بیان فرمائی۔ کانفرنس میں عوام الناس اور مقامی علماء کرام نے بھی شرکت کی۔ خصوصاً مولانا منیر احمد اختر، قاری محمد سالک نقشبندی اس موقع پر موجود رہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۸ء ص ۵۲)
مولانا اللہ وسایا کا دورہ کراچی واندرون سندھ
مولانا اللہ وسایا ایک ہفتہ کے دورہ پر ۱۲؍ دسمبر ۲۰۱۷ء بروز منگل کو ملتان سے کراچی کے لئے عازم سفر ہوئے۔ ۱۳؍ دسمبر کو کراچی پہنچے۔ اسی روز بعد نماز عشاء جامع مسجد گلشن جامی ماڈل کالونی کراچی میں سیرت خاتم الانبیاء کانفرنس سے خطاب فرمایا۔ ۱۴؍ دسمبر کو بخاری پارک میٹرو ول سائٹ میں عظیم الشان کانفرنس سے خطاب ہوا۔ ۱۵؍ دسمبر کو خطبہ جمعۃ المبارک چھوٹی جامع مسجد دہلی کالونی کراچی میں ارشاد فرمایا۔ اسی شب بعد نماز عشاء چاندنی چوک بلدیہ ٹاؤن میں سیرت الانبیاء کانفرنس میں شرکت کی و بیان فرمایا۔ ۱۶؍ دسمبر کو محمدی فرنیچر مارکیٹ، نزد گجر چوک منظور کالونی میں ختم نبوت کانفرنس میں آپ کا بیان ہوا۔ ۱۷؍ دسمبر کو چار پروگرام ہوئے۔ صبح نو بجے اقراء روضۃ الاطفال میں، بعد از ظہر جامع مسجد بلال اسکاؤٹ کالونی میں ختم نبوت کانفرنس سے ایمان پرور بیان فرمایا۔ بعد نماز مغرب جامع مسجد خاتم النبیین گرین ٹاؤن میں عوام الناس سے خطاب کیا۔ بعد نماز عشاء جامع مسجد اقصیٰ شاہ لطیف ٹاؤن کی ختم نبوت کانفرنس میں مجمع عام سے خطاب فرمایا۔ ۱۸؍ دسمبر کی دوپہر کو کراچی سے حیدرآباد کا سفر کیا اور شب ختم نبوت کانفرنس حیدرآباد میں شرکت و بیان کیا۔ ۱۹؍ دسمبر کو حیدر
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
آباد سے نواب شاہ کا سفر کیا اور بعد نماز عشاء ختم نبوت کانفرنس نواب شاہ میں شرکت کر کے عوام الناس کے دلوں کو ایمانی جلا بخشی ۔ ۲۰؍ دسمبر کی صبح نواب شاہ سے سفر کیا اور بعد نماز عشاء مبارک پور کے پروگرام میں شرکت کی ۔ ۲۱؍ دسمبر کو علی الصبح سفر کر کے ملتان دفتر میں مبلغین کے سہ ماہی اجلاس میں پہنچے ۔ سندھ کے تمام پروگراموں میں قاضی احسان احمد کراچی بھی شریک رہے۔ مولانا اللہ وسایا نے تمام پروگراموں میں حلف نامہ کی تبدیلی پر موجودہ صورتحال کو خوب آشکارا کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۸ء ص۴۹، ۵۰)
سیرت خاتم الانبیاء کانفرنس میٹروول
الحمد للہ ! عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حلقہ میٹروول سائٹ ٹاؤن کے زیر اہتمام طیبہ پارک میٹروول میں ۱۴؍ دسمبر ۲۰۱۷ء بروز جمعرات بعد نماز عشاء دوسری عظیم الشان سیرت خاتم الانبیاء کانفرنس منعقد ہوئی ۔ کانفرنس کی تیاری پچھلے کئی ہفتوں سے جاری رہی ۔ اسی سلسلہ کا ایک پروگرام ۶؍ دسمبر بروز بدھ بعد نماز عشاء، جامع مسجد قبا میٹروول میں ائمہ مساجد اور علاقائی علماء کرام کا اہم اور خصوصی اجلاس ہوا ۔ جس کی صدارت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حلقہ سائٹ کے سرپرست مولانا مفتی عبدالجبار نے کی، جب کہ جامعہ بنوریہ العالمیہ کے استاذ الحدیث مولانا عزیز الرحمن ہزاروی نے نگرانی کی۔ اجلاس میں تحفظ ختم نبوت مجلس احرار اسلام صوبہ سندھ کے امیر مولانا عطاء الرحمن محمود قریشی، مولانا حیات (مہتمم مدرسہ مظاہر العلوم کراچی)، مفتی نذیر احمد کاغانی (امام و خطیب شمس مسجد)، مولانا آزاد عالم (امام و خطیب غفوریہ مسجد)، مولانا عظیم (امام و خطیب عمر بن خطاب مسجد)، مولانا ابو ہریرہ (مہتمم، امام و خطیب جامع مسجد عثمانیہ مکی مسجد)، مولانا محمد (مدرس جامعہ اشرفیہ امدادیہ کراچی)، مولانا فیض ربانی، مولانا مختار، مولانا ساجد، مولانا عبدالمجید اور دیگر کئی علماء کرام نے بھر پور شرکت کی ۔ تمام شرکائے اجلاس نے کانفرنس کے انعقاد کے فیصلہ کو خوب سراہا اور اپنے دائرہ کار اور حلقہ میں کانفرنس کی تیاری اور کامیابی کے لئے بھر پور کردار ادا کرنے کا پختہ عزم کیا۔
۱۴؍ دسمبر ۲۰۱۷ء بروز جمعرات بعد نماز عشاء کانفرنس کا باقاعدہ آغاز قاری عثمان غنی کی تلاوت کلام پاک سے کیا گیا۔ جامعہ اشرفیہ کراچی کے متعلم معتصم باللہ عادل نے ہدیہ نعت پیش کی ۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سائٹ ٹاؤن کے امیر مفتی سید مشتاق احمد شاہ شیرازی مدظلہ نے مختصر بیان کیا ۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا قاضی احسان احمد نے اپنے بیان میں کہا کہ عقیدۂ ختم نبوت اسلام کی روح ہے ۔ عقیدۂ ختم نبوت محمد رسول اللہ ﷺ کی آبرو ہے ۔ عقیدۂ ختم نبوت میں امت مسلمہ کی وحدت کا راز ہے ۔ امت مسلمہ نے ہر دور میں تحفظ ختم نبوت کی خاطر ہر طرح کی قربانیاں پیش کی ہیں اور ان شاء اللہ ! آئندہ بھی ہر قربانی کے لئے تیار رہیں گے ۔ ان کے بعد مولانا فداء الرحمن نے حضور ﷺ کے بارے میں ثنائیہ اشعار بڑی محبت کے ساتھ پیش کیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہنما مولانا اللہ وسایا بطور مہمان خصوصی کے تشریف لائے اور تفصیلی خطاب کیا۔
مشہور و معروف ثناء خواں حافظ حسان احمد حسانی نے ترانۂ ختم نبوت بڑے ولولہ انگیز انداز میں پیش کیا اور حاضرین سے داد وصول کی ۔ مولانا محمد رفیق جامی صاحب فیصل آباد سے تشریف لائے ۔ حضرت سفر کی تھکاوٹ کی بنا پر مختصر بیان فرمایا اور پھر دعاء فرمائی ۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے امیر مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ مدظلہ کانفرنس میں تشریف لائے اور سرپرستی کی، جب کہ جامعہ اشرفیہ امدادیہ کراچی کے رئیس مولانا مفتی عبدالجبار مدظلہ نے کانفرنس کے شرکاء کو خاص طور پر جامعہ اشرفیہ امدادیہ کے اساتذہ اور طلباء نے کانفرنس کے لئے بہت محنت اور کوشش سرانجام دیں ۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۶ تا ۲۲؍ جنوری ۲۰۱۸ء ص ۲۳)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس ساہیوال
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام ۱۵/دسمبر ۲۰۱۷ء جامعہ رشیدیہ ساہیوال میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ صدارت جامعہ کے مہتمم مولانا کلیم اللہ رشیدی نے کی۔ کانفرنس سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی نائب امیر مولانا حافظ پیر ناصرالدین خاکوانی مدظلہ، قاری عبدالجبار، مولانا عبدالحکیم نعمانی، قاری سعید بن شہید، مولانا شاہد عمران عارفی، قاری منظور احمد طاہر، قاری بشیر احمد، مولانا محمد عمران اشرفی، قاری عتیق الرحمٰن، پیر جی عبدالباسط، قاری نصیر احمد اور قاری عبدالعزیز سمیت متعدد مذہبی رہنماؤں نے شرکت وخطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ قادیانی ملک وملت کے غدار اور استعماری طاقتوں کے ایجنٹ ہیں۔ ہمیں تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے عوام الناس کو فتنہ قادیانیت کی سنگینی سے آگاہ کرنا ہوگا۔ کانفرنس میں متعدد قراردادوں کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ قادیانیوں کو اسلامی شعائر کے استعمال سے منع کیا جائے اور امتناع قادیانیت ایکٹ پر مکمل عملدرآمد کرایا جائے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۸ء ص ۵۲)
سالانہ ختم نبوت کانفرنس میاں چنوں
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام پانچویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس ۱۸/دسمبر ۲۰۱۷ء بروز ہفتہ بعد نماز عشاء جامع مسجد ابو عبیدہ بن جراح میں منعقد ہوئی۔ جس میں صدارت مولانا محمد فیصل عمران اشرفی اور نگرانی ڈاکٹر محمد حنیف نے کی۔ کانفرنس کی ابتداء قاری عبدالسمیع کی تلاوت کلام پاک سے ہوئی۔ نعتیہ کلام غلام رسول ساجد نے پیش کیا۔ نقابت مولانا محمودالحسن نے کی جب کہ میزبانی کی ذمہ داری جناب نورالاسلام خان نے ادا کی۔ کانفرنس میں مفتی عبدالغفور، مولانا عبدالستار گورمانی، مولانا شوکت علی ناصر، مولانا قاری صفدر جاوید، مولانا محمد الیاس عابد، پیر طریقت سید جاوید حسین شاہ مدظلہ کے بیانات ہوئے۔ علاوہ ازیں مفتی عبدالعزیز، مولانا سید عبدالقادر شاہ، مولانا ثناء اللہ وہاڑی، مولانا مسعود وہاڑی، مولانا قاری بشیر احمد، مولانا عبدالرحمٰن ودیگر علماء نے بھی شرکت کی۔ کانفرنس مولانا زاہد الحسینی کی دعاء پر اختتام پذیر ہوئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۱۸ء ص ۵۴)
ختم نبوت کانفرنس حیدر آباد
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام ۱۸/دسمبر ۲۰۱۷ء کو شیرین چوک، لیبر کالونی سائیٹ ایریا حیدر آباد میں سیرت خاتم الانبیاء کانفرنس منعقد ہوئی جس میں ہزاروں کی تعداد میں عوام الناس نے شرکت کی۔ کانفرنس سے مولانا اللہ وسایا، مولانا قاضی احسان احمد، مولانا توصیف احمد، مولانا مختار احمد، مولانا سیف الرحمٰن، حافظ خالد حسن دھامرا، مولانا ضیاء الرحمٰن طاہر، مولانا بشیر قریشی، جناب رانا نوید نے خطاب کیا۔ مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ناموس رسالت قانون میں چھیڑ خانی کو امت مسلمہ کسی صورت قبول نہیں کرے گی۔ ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے جانوں کا نذرانہ پیش کردیں گے۔ ختم نبوت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ختم نبوت اور ناموس رسالت کے قانون کو ختم کرنے والے خود ختم ہوجائیں گے۔ لیکن یہ قانون آب وتاب کے ساتھ باقی رہے گا۔ اقوام متحدہ کا ناموس رسالت کے قانون کو ختم کرنے کا مطالبہ پاکستان کے مذہبی معاملات میں دخل اندازی ہے۔ C-295 کے خلاف قادیانی سازشیں جاری ہیں۔ کانفرنس کی صدارت مولانا عبدالسلام قریشی نے کی۔ جب کہ شہر کے علماء کرام مولانا عبداللہ، مولانا علی اکبر، کونسلر لیبر کالونی رشید خٹک، کونسلر جونیجو کالونی شریف مئو، عوامی نیشنل پارٹی کے محمد امین، مولانا سراج الحق، مفتی محمد اصغر، مفتی حبیب
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اللہ، مولانا آصف رضا کھوسو و دیگر کئی علماء کرام نے شرکت کی۔ جمعیت علماء اسلام کے باوردی رضا کاروں نے دلجمعی کے ساتھ سیکورٹی کے فرائض سرانجام دیئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۱۸ء ص ۵۵)
ختم نبوت کانفرنس نواب شاہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع نواب شاہ کے زیر اہتمام سالانہ ختم نبوت کانفرنس بروز منگل ۱۹؍دسمبر ۲۰۱۷ء جامع مسجد کبیر نزد ریلوے اسٹیشن نواب شاہ میں بعد نمازِ مغرب (زیر صدارت مولانا محمد انیس امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع نواب شاہ، زیر سرپرستی مولانا محمد سلیم شیخ الحدیث جامعہ دارالعلوم الحسینیہ شہداد پور اور زیر نگرانی مولانا تجمل حسین مبلغ ختم نبوت نواب شاہ) منعقد ہوئی، جب کہ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض راقم نے سرانجام دیئے۔
کانفرنس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا، تلاوت کی سعادت قاری رضا محمد نے حاصل کی، حافظ محمد اشفاق نے ہدیۂ نعت پیش کیا اور نظمیں پڑھیں، مولانا ثناء اللہ مگسی نے حضور خاتم النبیین ﷺ کی سیرت طیبہ پر بیان کیا۔ اس کے بعد مولانا مختار احمد (مبلغ میر پور خاص) نے بیان کیا، جس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی اب تک کی پُر امن کارکردگی پیش کی۔ پھر مولانا محمد عمران نے ہدیۂ نعت پیش کیا۔ اس کے بعد مولانا قاضی احسان احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مسلمانوں کا مشترکہ پلیٹ فارم ہے، ختم نبوت کے تحفظ کے لئے تمام مکاتب فکر کے علماء کرام نے مل کر جدوجہد کی ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبوت کے جس محل کو حضور سرورِ کونین ﷺ نے آکر آخر میں مزین فرمایا ہے اس حسین محل کی رونق و تحسین کو پامال کرنے کی مرزا قادیانی نے ناپاک اور ناکام کوشش کی ہے، لہٰذا ہم پر لازم ہے کہ ہم باوفا نبی کے ساتھ وفاداری کرتے ہوئے قادیانیوں اور تمام قادیانی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کریں۔ اس کے بعد مولانا اللہ وسایا نے تحفظ ختم نبوت کی اہمیت اور اس مسئلہ پر قومی اسمبلی کی مکمل و مدلل رپورٹ بیان فرمائی اور حضور خاتم النبیین ﷺ کی ختم نبوت کے دفاع کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ قادیانیوں نے میرے نبی کی اہانت کی ہے، لہٰذا ہم قادیانیوں سے مکمل بائیکاٹ کرتے ہیں۔ ہمیں دنیا کا کوئی قانون اس بات پر مجبور نہیں کرسکتا کہ ہم ان کے ساتھ باہمی تعلقات قائم رکھیں۔ آخر میں مقررِ شیریں بیاں مولانا محمد رفیق جامی نے عشقِ مصطفےٰ اور عاشقینِ مصطفےٰ کا تذکرہ فرمایا اور دعاء فرمائی۔ اس طرح رات گئے تقریباً ۱۲ بجے بحمد اللہ تعالیٰ کانفرنس اختتام کو پہنچی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ یکم تا ۷؍ جنوری ۲۰۱۸ء ص ۲۶)
مبلغین ختم نبوت کا سہ ماہی اجلاس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغین کا سہ ماہی اجلاس ۲۱، ۲۲؍ دسمبر ۲۰۱۷ء بروز جمعرات و جمعتہ المبارک کو مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری کی زیر صدارت منعقد ہوا۔
اجلاس میں تلاوت کلام پاک کے بعد گزشتہ سہ ماہی میں مولانا محمد اکرام اعوان، فضل امین فیصل آباد، ملک عبدالشکور احمد پور شرقیہ، قاری مختار احمد، مولانا پیر محمد سعید سراجی موسیٰ زئی شریف، مولانا خلیل احمد رشیدی اوکاڑہ سمیت وفات پانے والے علماء کرام، مشائخ اور جماعتی رفقاء کی وفات پر قلبی رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ایصالِ ثواب کے لئے فاتحہ خوانی اور دعائے مغفرت کی گئی۔ لاہور کے ایم پی اے جناب وحید گل کی پنجاب اسمبلی میں ’’نصاب تعلیم میں ختم نبوت کے مضامین کو شامل کرنے کی‘‘ قرارداد پیش کرنے کے فیصلہ کا خیرمقدم کیا گیا اور پنجاب محکمہ تعلیم سے مطالبہ کیا گیا کہ نئے سال سے نصاب تعلیم میں ختم نبوت کے مضمون کو شامل کرکے پنجاب اسمبلی کے فیصلہ پر عمل
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
درآمد کیا جائے۔ ملک فتنوں کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ قادیانی فتنہ کے ساتھ ساتھ گوہر شاہی بھی تخریبی سرگرمیوں میں مصروف نظر آتے ہیں۔ ان کی خلاف اسلام سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنے کا مطالبہ کیا گیا۔ ۱۰/ مارچ ۲۰۱۸ء کو بادشاہی مسجد لاہور میں عظیم الشان بین الاضلاعی ختم نبوت کانفرنس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ نیز آنے والی سہ ماہی میں چھوٹی بڑی سو کانفرنس اضلاع اور تحصیلوں میں منعقد کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ ختم نبوت کے حلفیہ بیان سے متعلق مولانا اللہ وسایا کی طرف سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں کی گئی رٹ سے عدالت کے فیصلہ کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے کہا گیا کہ حکومت اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کو عملی جامہ پہنائے۔ تحفظ ناموس رسالت کے قانون کے خلاف امریکی شوروغوغا اور اقوام متحدہ کی حکومت سے مطالبہ کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے مترادف قرار دیا گیا۔ مجلس کے مرکزی مبلغین نے ملتان شہر کی دو درجن مساجد میں جمعتہ المبارک کے اجتماعات سے بیانات میں مذکورہ بالا عہد کا اظہار کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۸ء ص ۴۶، ۴۷)
ختم نبوت کانفرنس جوہر آباد
۲۶/ دسمبر ۲۰۱۷ء مغرب کی نماز کے بعد جامعہ سعدیہ جوہر آباد میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ صدارت جامعہ کے مہتمم اور مجلس کے امیر مولانا مفتی محمد زاہد نے کی۔ تلاوت قاری ظفر احمد نعت محمد الیاس اور محمد سلیمان نے پیش کی۔ کانفرنس سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بزرگ سال اور جوان ہمت مبلغ و رہنما مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور ضلعی مبلغ مولانا محمد نعیم کے بیانات ہوئے۔ مولانا طوفانی نے تفصیلی بیان فرما کر اپنی جوانی کے بیانات کی یاد تازہ کر دی۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا محمد یونس نے سرانجام دیئے۔
نوشہرہ میں کانفرنس
نوشہرہ وادی سون سکیسر کی تحصیل ہے جو پنجاب کے ٹھنڈے علاقوں میں سے ہے۔ مدرسہ جامعہ دوستیہ میں ظہر سے عصر تک مولانا پیر حبیب احمد کی صدارت میں کانفرنس منعقد ہوئی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ یکم تا ۷/ فروری ۲۰۱۸ء ص ۱۹)
مولانا شجاع آبادی گجرات کے دورہ پر
مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ایک روزہ دورہ پر گجرات تشریف لائے۔ آپ نے ۲۹/ دسمبر ۲۰۱۷ء کا خطبہ جمعہ قاری عمر فاروق مدظلہ کی دعوت پر جامع مسجد و مدرسہ خلفاء راشدین دولت نگر میں پڑھایا۔ خطبہ جمعہ میں مضافات کے علماء کرام مولانا مدثر نواز گورمانی، مولانا محمد علی چھوکر خورد، مولانا شبیر احمد چھوکر خورد، مولانا غلام شبیر پنجن کسانہ، محبّ العلماء حاجی صوبیدار اللہ رکھا کوٹلہ عرب علی خان سمیت سینکڑوں حضرات نے شرکت کی۔ جمعہ سے فراغت کے بعد حافظ عبدالعزیز کے جنازہ میں چھوکر خورد میں شرکت کی۔
سرائے عالمگیر میں فضائل قرآن کے عنوان پر
جلسہ: جناب اورنگ زیب عالمگیر نے سترھویں صدی کے آخر میں سرائے عالمگیر میں شاہی مسجد اور سرائے تعمیر کی۔ اسی وجہ سے اس شہر کو سرائے عالمگیر کہا جاتا ہے۔ اگرچہ شاہی مسجد کی وہ ہیئت تبدیل ہوچکی ہے۔ وہاں قاری جمیل الرحمٰن بالاکوٹی ایک عرصہ تک خطابت و امامت کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔ نیز موصوف نے ۱۹۹۶ء میں جامعہ حنفیہ تعلیم القرآن کے نام پر مدرسہ کی بنیاد رکھی۔ آج کل مسجد
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ومدرسہ کی نظامت واہتمام کوہاٹ سے تعلق رکھنے والے گل محمد مدظلہ سرانجام دے رہے تھے۔ موصوف جامعہ نصرت العلوم گوجرانوالہ کے فاضل اور شیخین مولانا محمد سرفراز خان صفدر ، صوفی عبدالحمید سواتی کے شاگرد رشید ہیں اور شیخین کا ذوق قرآنی اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔ مولانا کی تشریف آوری پر سرائے عالمگیر کی کئی ایک مساجد میں درس قرآن کا سلسلہ شروع ہے۔ شاہی مسجد میں درس قرآن کی تکمیل ہوئی۔ حافظ محمد خبیب، حافظ محمد ابوبکر کی حفظ قرآن کی تکمیل ہوئی تو اس نسبت سے شاہی مسجد میں عظمت قرآن اور ختم نبوت کے عنوان پر تقریب منعقد ہوئی ، جس میں سینکڑوں حضرات نے شرکت کی۔ تلاوت قاری محمد عامر نے کی ۔ جب کہ نعتیہ کلام مولانا محمد زبیر دانیال نے پیش کیا۔ تقریب سے عظمت قرآن اور ختم نبوت کے عنوان پر مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے تفصیلی بیان کیا اور ختم نبوت کی موجودہ تحریک کے سلسلہ میں تفصیلات سے آگاہ کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ یکم تا ۷؍ فروری ۲۰۱۸ء ص ۲۰)
۲۰۱۷ء میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لوئر دیر کی کارکردگی
الحمدللہ! عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع لوئر دیر خیبر پختونخواہ پچھلے چند سالوں سے اکابرین واسلاف کے طرز پر تاجدار ختم نبوت ﷺ کی عزت وناموس پر پہرہ دے رہے ہیں۔ مولانا مفتی محمد شہاب الدین پوپلزئی کے قیمتی آراء، مولانا قاری اکرام الحق کی بہترین حکمت عملی اور مولانا عمران خان لوئر دیر کی دن رات محنت اور فکر سے الحمدللہ! پورے ضلع سے قادیانیت کو مصنوعات کی مد میں جو کروڑوں روپے منافع ہوتا۔ اب وہ ہزاروں میں بھی نہیں ہے۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لوئر دیر عوام میں عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے اب تک کم وبیش پچاس سے اوپر کانفرنسیں کرچکے ہیں جو کہ یونین کونسل کے سطح پر منعقد ہوتی رہیں۔ اسی طرح ایک ضلعی کانفرنس اور ایک تحصیل کانفرنس منعقد ہوئی۔ مجلس نے ایک سال میں (تین روزہ اور ۲۱ روزہ) متعدد کورسز کئے جس میں ایک کورس ضلعی سطح پر ہوا اور باقی یونین کونسل اور تحصیل لیول پر ہوئے۔ اس میں تقریباً چار ہزار سے زائد طلباء، عوام اور عصری اداروں کے حضرات نے شرکت فرمائی۔ دینی اور عصری اداروں میں طلباء کرام کو اس اہم موضوع کے حوالے سے باخبر رکھنے اور قادیانی دجل وفریب سے آگاہی کے لئے اڑھائی سال میں بارہ ہزار سے زائد طلباء کو لٹریچر کے ذریعے خبردار کیا گیا۔ یونیورسٹی لیول کے طلباء کو کورسز کرانے کے ساتھ اب تک آٹھ سو سے زائد کتب (آئینہ قادیانیت) تقسیم کی گئیں۔ قادیانی مصنوعات سے بائیکاٹ کے مسئلہ کو اجاگر کرنے کے لئے عوام آگاہی مہم میں ہر یونین کونسل کے لیول پر گشت کرائے گئے جس میں تقریباً بیس ہزار فتویٰ جات (مصنوعات کے حوالہ سے) تقسیم کئے گئے۔
انہی مختلف کانفرنسوں میں تقسیم کی اس تعداد کو ملا کر کل چالیس ہزار پمفلٹ (جس میں مصنوعات کی تفصیل بمع فتوٰی درج تھا) تقسیم کیا گیا۔ عام شاہراہوں پر اور چوکوں میں ہر جگہ قادیانیت کو معاشی تباہی سے دوچار کرنے کے لئے تقریباً پندرہ سو بڑے بڑے فلیکس اور پوسٹر لگائے گئے۔ سوشل میڈیا میں اس کام کو آگے بڑھانے کے لئے وٹس ایپ گروپ ، جس میں الحمدللہ! خیبر سے لے کر کراچی تک مجلس تحفظ ختم نبوت کے ساتھی گروپ میں شامل ہیں اور آسانی کے ساتھ پورے ملک کے ساتھی ایک دوسرے کے پروگرامات سے بخوبی آگاہ ہو سکتے ہیں۔ ہر مہینے کے پہلے سوموار کو دفتر ختم نبوت اور ہر تحصیل لیول پر ایک کورس منعقد ہوتا ہے۔ سات تحصیلیں اور ایک دفتر یعنی کل آٹھ کورسز ہر ماہ ہوتے ہیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۱۸ء ص ۵۰)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تحریک ختم نبوت
کے سلسلہ میں
۲۰۱۸ء
کے
حالات و واقعات
تحریک ختم نبوت جلد (١٠) ٢٠١٨ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
تھر پارکر میں قادیانیوں کی دہشت گردی
۵؍جنوری ۲۰۱۸ء کی صبح کو مٹھی تھر پارکر میں دو ہندو دلیپ اور چندر مہیش قتل ہوئے۔ قاتل کون؟ سہولت کار کون؟ اخباری رپورٹ کے مطابق اگلے دن تین بجے مٹھی کے ایک بنگلے پر پولیس نے ریڈ کی اور مشکوک افراد گرفتار کر لئے گئے۔ واضح رہے یہ بنگلہ کس کا تھا اس کو کیوں چھپایا گیا۔ یہ چھپے راز وقت بتائے گا۔ لیکن سچ یہ ہے کہ یہ بنگلہ قادیانیوں کا احمدی مشن ہے۔ اس محلے کا ہر فرد جانتا ہے۔ ایس ایس پی مٹھی نے کہا کہ میں پریس کانفرنس کر کے قاتل بے نقاب کروں گا۔ پریس کانفرنس تو نہیں کی۔ البتہ قادیانیوں کے ہسپتال المہدی سے چند اور گرفتاریاں کیں۔ پریس کانفرنس تو نہیں کی۔ مگر اگلے دن نوکوٹ سے اور قادیانی گرفتار ہوئے۔ پریس کانفرنس تو نہیں کی۔ لیکن اگلے دن عمرکوٹ سے ایک اور قادیانی گرفتار ہوا۔
نوکوٹ اور عمرکوٹ سے جو قادیانی گرفتار ہوئے حنیف مرزائی اور عبدالقادر مرزائی قادیانی۔ ان پر پہلے بھی اغواء کاری کے مقدمے درج ہیں۔ ۲۰۱۵ء میں عمرکوٹ سے جمشید ولد شاہ میر بجیر بچہ اغواء ہوا اور دو سال کے بعد بازیاب ہوا۔ اس بچے نے خود اس قادیانی عبدالقادر کو پہچانا اور ان کے اوپر اغواء کی ایف آئی آر درج ہوئی۔
یہ بات بھی ریکارڈ پر ہے کہ ایک سال قبل ۲۷؍رمضان کو بدین کے ایک مکان میں بم دھماکا ہوا۔ پورے علاقے میں خوف پھیل گیا۔ واقعہ یہ ہوا ایک قادیانی بم بنا رہا تھا۔ وہ بلاسٹ ہو گیا وہ قادیانی زخمی ہوا۔ پولیس نے پورے واقع کا نوٹس لیا۔ زخمی قادیانی اور ان کے ساتھیوں پر دہشت گردی کا مقدمہ درج ہوا۔ بدین کے مذہبی اور سیاسی رہنماؤں کا اجلاس بلایا اور ایس ایس پی عبدالقیوم پتافی سے وفد کی صورت میں مولانا خان محمد کی قیادت میں ملاقات کی۔ ایس ایس پی نے باقی تمام مفرور ملزمان کی گرفتاری کی یقین دہانی کی اور کچھ دن بعد امت اخبار میں خبر لگی کہ ۲۷ قادیانی گرفتار ہو چکے ہیں۔
نقیب اللہ محسود اگر بے گناہ قتل ہوا تو ان دو ہندوؤں کا کیا قصور تھا؟ کیا یہ پاکستانی شہری نہیں۔ ان کے ماں باپ کو کون انصاف دے گا۔ حکومت کو چاہئے کہ تھر پارکر میں قادیانیوں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھے۔ قادیانی ہندو اور مسلم فسادات کرانے کی سازش کرتے ہیں جو پاکستان کی سالمیت کے لئے خطرہ بن سکتے ہیں۔ قادیانی صرف اسلام دشمن نہیں بلکہ پاکستان کے بھی دشمن ہیں۔ یہی قادیانی شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے قول: ’’قادیانی اسلام اور ملک دونوں کے غدار ہیں ۔‘‘ کے اتم مصداق ہیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۸ء ص۲۸)
آزاد کشمیر میں ختم نبوت کے تحفظ کا ایک اور سنگ میل عبور ہو گیا
پاکستان اور بھارت ۱۹۴۷ء کو وجود میں آئے۔ اس وقت متحدہ ہندوستان کو تقسیم کرتے ہوئے فارمولا یہ اختیار کیا گیا کہ جہاں مسلم اکثریت ہوگی وہ حصہ پاکستان کو اور جہاں غیر مسلم اکثریت ہوگی وہ حصہ ہندوستان کو ملے گا۔ گورداسپور میں آبادی کے لحاظ سے مسلم و غیر مسلم دونوں انچاس انچاس فیصد تھے۔ قادیانی دو فیصد تھے۔ انہوں نے الگ سے درخواست جمع کرا دی کہ قادیان کو ویٹی کن سٹی کی طرز پر علیحدہ شناخت دی جائے۔ انہیں وہ شناخت تو نہ ملنا تھی اور نہ ملی۔ البتہ ان کے اس اقدام سے مسلمانوں کی تعداد انچاس فیصد رہی اور دوسرے فریق کی تعداد اکاون (۵۱) فیصد ہو گئی۔ جس سے گورداسپور ضلع ماسوائے شکرگڑھ تحصیل کے ہندوستان کو چلا گیا۔ یوں قادیانی
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کارروائی سے گورداسپور سے کشمیر کو جانے کا واحد راستہ بھارت کے ہاتھ آگیا۔ یہاں سے اسلامیان کشمیر کے لئے امتحان و ابتلاء کا ایک نیا دور شروع ہوا۔
تقسیم سے قبل کشمیر کمیٹی کے نام پر مرزا محمود قادیانی کشمیر میں اپنے مہرے فٹ کر چکے تھے۔ پاکستان بننے کے بعد جو کشمیر کا حصہ پاکستان کو مل گیا۔ اسے آزاد کشمیر کا نام دیا گیا۔ تب ایک وقت ایسا بھی آیا کہ قادیانی یہاں بھی سازشوں کے تانے بانے سے آزاد کشمیر حکومت میں کلیدی عہدوں پر براجمان رہے۔ بلکہ صدارت تک کے عہدوں پر بھی کلی یا جزوی رسائی حاصل کی۔
۱۹۷۳ء میں آزاد کشمیر باغ سے منتخب ہونے والے رکن آزاد کشمیر اسمبلی جناب میجر محمد ایوب حج کے لئے گئے۔ مدینہ طیبہ حاضری کے لئے مسجد نبوی کے صحن سے نماز کی ادائیگی کے بعد مواجہہ شریف پر سلام عرض کرنے کے لئے چلے تو برقی رو کی طرح ایک خیال ان کے دماغ سے ٹکرایا کہ ایوب کس منہ سے آپ ﷺ کے در اقدس پر سلام کے لئے جارہے ہو۔ تمہارے اقتدار میں ہوتے ہوئے بھی آزاد کشمیر میں آپ ﷺ کے دشمن دندناتے اور ختم نبوت کا منہ چڑاتے پھر رہے ہیں۔
بس اس خیال کے آتے ہی ایک سیکنڈ کے لئے رکے۔ اگلے ہی لمحہ دل نے فیصلہ سنا دیا کہ اللہ رب العزت اور ان کے آخری نبی ﷺ سے وعدہ رہا کہ زندگی نے وفا کی تو واپس جاتے ہی آزاد کشمیر اسمبلی میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کی قرارداد پیش کروں گا۔ (یہ بات خود میجر صاحب نے چنیوٹ ختم نبوت کانفرنس کے موقعہ پر ایک ملاقات میں ارشاد فرمائی جس میں فقیر راقم اللہ وسایا بھی موجود تھا) وہ واپس تشریف لائے اور قرارداد جمع کرائی۔ آپ سردار عبدالقیوم مرحوم کی برسر اقتدار پارٹی کے رکن تھے۔
۲۸؍ اپریل ۱۹۷۳ء کو قرارداد پیش ہوئی اور منظور ہوگئی۔ پاکستان کے اس وقت وزیر اعظم جناب بھٹو مرحوم، وفاقی وزیر برائے امور کشمیر خورشید حسن میر، جناب خان عبدالقیوم خان وفاقی وزیر داخلہ اور یوسف بچہ یہ صدر مملکت پاکستان کے مشیر تھے۔ مؤخر الذکر یہ تینوں پنجے جھاڑ کر آزاد کشمیر حکومت کے درپے انتقام ہوئے۔ اس وقت آزاد کشمیر کے وزیر قانون جاوید اقبال بٹ نے آغا شورش کاشمیری کے مبارک بادی کے خط کے جواب میں لکھا تھا کہ رحمت عالم ﷺ کی ختم نبوت پر ہزاروں حکومتیں قربان کر دیں گے۔
اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ کس جرأت و بہادری و عزم و استقلال کا آزاد کشمیر حکومت نے مظاہرہ کیا تھا۔ قرارداد تو منظور ہوگئی لیکن ختم نبوت مخالف قوتوں نے قانون سازی میں روڑے اٹکائے۔ آگے چل کر حق تعالیٰ نے کرم کیا کہ پاکستان میں ۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کو قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ عموماً جو قانون پاکستان میں منظور ہوجائے تو وہ آزاد کشمیر اسمبلی بھی منظور کر کے اپنے آئین و قانون کا حصہ بنا دیتی ہے۔ لیکن قادیانیوں سے متعلق اس آئینی ترمیم کو بوجوہ آزاد کشمیر میں نافذ نہ کیا گیا۔
جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم کے دور میں امتناع قادیانیت آرڈیننس کے ذریعہ قانون سازی ہوئی۔ البتہ یہ آرڈیننس آزاد کشمیر میں بھی نافذ ہوا اور یوں قادیانیوں کو اسلامی اصطلاحات کے استعمال سے بوجہ غیر مسلم ہونے کے روک دیا گیا۔ اب قادیانیوں سے متعلق پاکستان کے آئین کی دفعہ نمبر ۲۶۰ کی شق نمبر ۳ جزو ’’الف‘‘ اور ’’ب‘‘ میں جہاں قادیانی اور مسلم کا امتیاز کیا گیا ہے وہ یہ ہیں:
- الف ...... ”مسلم“ سے کوئی ایسا شخص مراد ہے جو وحدت و توحید قادر مطلق اللہ تبارک و تعالیٰ، خاتم النبیین حضرت محمد (ﷺ) کی ختم نبوت پر
مکمل اور غیر مشروط طور پر ایمان رکھتا ہو اور پیغمبر یا مذہبی مصلح کے طور پر کسی ایسے شخص پر نہ ایمان رکھتا ہو، نہ اسے مانتا ہو جس نے حضرت محمد (ﷺ) کے بعد اس لفظ کے کسی بھی مفہوم یا کسی بھی تشریح کے لحاظ سے پیغمبر ہونے کا دعویٰ کیا ہو یا جو دعویٰ کرے۔
- ب ...... ”غیر مسلم“ سے کوئی ایسا شخص مراد ہے جو مسلم نہ ہو اور اس میں عیسائی، ہندو، سکھ، بدھ یا پارسی فرقے سے تعلق رکھنے والا کوئی
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ۱۹۴ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
شخص، قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ کا (جو خود کو احمدی یا کسی اور نام سے موسوم کرتے ہیں) کوئی شخص یا کوئی بہائی اور جدولی ذاتوں میں سے کسی سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص شامل ہے۔
یہ آزاد کشمیر کے آئین میں شامل نہ ہوئیں۔ اسی طرح آئین پاکستان کی دفعہ نمبر ۴۲ میں صدر مملکت پاکستان کے لئے اور دفعہ نمبر ۹۱ کی ذیلی شق نمبر ۴ میں وزیر اعظم کے لئے یہ حلف نامہ ہے۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
میں ..................................... صدق دل سے حلف اٹھاتا ہوں کہ میں مسلمان ہوں اور وحدت و توحید قادر مطلق تبارک و تعالیٰ، کتب الہیہ جن میں قرآن پاک ختم الکتب سماوی ہے۔ نبوت حضرت محمد رسول اللہ ﷺ بحیثیت خاتم النبیین جن کے بعد کوئی نہیں ہوسکتا۔ روز قیامت اور قرآن پاک و سنت کی جملہ مقتضیات و تعلیمات پر ایمان رکھتا ہوں۔
یہ حلف نامہ صدر مملکت اور وزیر اعظم جب تک نہ اٹھائیں وہ پاکستان کی صدارت و وزارت کے مستحق قرار نہیں پاتے۔ یہ حلف نامہ پاکستان کے آئین میں تو موجود ہے۔ لیکن آزاد کشمیر کے آئین میں موجود نہ تھا۔ متذکرہ آئین پاکستان کی دفعات کو آزاد کشمیر کے آئین میں شامل کرانے کے لئے مختلف مراحل پر وہاں کی دینی قیادت نے کوشش جاری رکھی۔
مولانا محمد الیاس (امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت) ، مولانا مفتی محمد اویس خان (امیر جمعیتہ علماء اسلام) ، مولانا قاضی محمود (جنرل سیکرٹری سواد اعظم) ، پیر سید نذر حسین گیلانی (صدر تنظیم المدارس) ، مولانا زاہد اثری (وفاق المدارس السلفیہ آزاد کشمیر) نے ۱۲؍ستمبر ۲۰۱۴ء کو حکومت سے مذاکرات کئے اور ان امور کو قانون میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا۔
آج سے کچھ عرصہ قبل عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد کے ناظم عمومی اور تحریک ختم نبوت آزاد کشمیر کے صدر مولانا عبدالوحید قاسمی صاحب نے ہائیکورٹ آزاد کشمیر میں رٹ دائر کی۔ ابھی یہ مراحل طے ہو رہے تھے کہ اٹک سے آزاد کشمیر اسمبلی کے منتخب ہونے والے رکن جناب راجہ محمد صدیق صاحب نے وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان سے فرمایا کہ مجھے آپ وزیر نہ بنائیں۔ لیکن ختم نبوت سے متعلق وہ آئینی و قانونی دفعات جو پاکستان میں منظور شدہ ہیں وہ آزاد کشمیر کے بھی آئین و قانون کا حصہ بنا دیں۔ ان کے اس مطالبہ پر ختم نبوت کمیٹی بنائی گئی۔ اس کے بعد متعدد اجلاس ہوئے جس میں طے پایا کہ ایک بل کے ذریعہ آزاد کشمیر اسمبلی سے پاس کیا جائے جس سے ختم نبوت کا حلف نامہ، قادیانیوں کے غیر مسلم اقلیت ہونے کی صراحت ، مسلم و غیر مسلم کی تعریف وغیرہ سب کو آئین و قانون کا حصہ بنایا جائے۔
چنانچہ ممبران آزاد کشمیر اسمبلی پر مشتمل کمیٹی بنائی گئی جس میں وزیر تعلیم سید افتخار گیلانی ، جناب محمد احمد رضا قادری ، ملک پرویز اختر اعوان ، جناب راجہ محمد صدیق اور سید رضا بخاری شامل تھے۔ ان حضرات نے مسودہ تیار کیا۔ پھر کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں طے ہوا کہ اس مسودہ کو اسمبلی کے اجلاس ۲؍ فروری ۲۰۱۸ء میں پیش کیا جائے۔ مولانا محمود الحسن اشرف نے فقیر راقم اللہ وسایا سے فرمایا کہ ۲؍ فروری کو جمعہ ہے۔ آپ یہ جمعہ مظفر آباد سیکرٹریٹ اسمبلی کے قریب جامعہ دارالعلوم الاسلامیہ کی جامع مسجد خاتم النبیین میں پڑھا دیں۔ فقیر جمعرات کو حاضر ہوا۔ مولانا عادل خورشید ، مولانا خالد میر مبلغین حضرات بھی ساتھ تھے۔ جمعرات کو کپڑا مارکیٹ کی مسجد سلطانی میں عصر تا مغرب عظیم الشان ختم نبوت کنونشن منعقد ہوا۔ اگلے روز جمعہ پر خطاب ہوا۔ آزاد کشمیر اسمبلی میں متفقہ طور پر بل منظور کرانے کے بعد جناب راجہ محمد صدیق ، سردار میر محمد اکبر وزیر جنگلات بھی مسجد خاتم النبیین میں تشریف لائے۔ جس طرح عوام نے خیر مقدم کیا اور والہانہ مبارک باد دی۔ وہ منظر قابل دید تھا۔ اگلے روز ۳؍ مئی کو وزیر اعظم آزاد کشمیر کی صدارت میں اجلاس ہوا۔ جس میں کمیٹی کے تمام ممبران اور مولانا عبدالوحید،
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پیر ظاہر بکوٹی، جناب عبدالخالق نقشبندی دیگر حضرات بھی شریک ہوئے۔ اس میں فیصلہ ہوا کہ آزاد کشمیر کونسل اور آزاد کشمیر اسمبلی کا مشترکہ اجلاس ۶؍فروری ۲۰۱۸ء کو طلب کیا ہوا ہے۔ اس میں اس بل کو حتمی اور آخری منظوری کے لئے پیش کیا جائے تاکہ یہ قانون کا حصہ بن سکے۔ رب کریم نے کرم فرمایا کہ کونسل واسمبلی کے مشترکہ اجلاس میں متفقہ طور پر بل پیش ہو کر منظور ہو گیا۔ عبوری آئین ایکٹ ۱۹۷۴ء میں بارھویں ترمیم کے ذریعہ ختم نبوت کے متعلق قانون کو آئین آزاد کشمیر کا حصہ بنادیا گیا ہے۔ ترمیم کے مطابق قانون غیر مسلم کی تعریف کر دی گئی ہے۔
ترمیمی قانون کے مطابق جو شخص نبی کریم ﷺ کو آخری نبی نہیں مانتا وہ مسلمان کی تعریف میں نہیں آئے گا۔ آزاد کشمیر کابینہ، ختم نبوت کمیٹی، آزاد کشمیر کونسل، آزاد کشمیر اسمبلی کے ارکان، تمام مکاتیب فکر کے علماء ومشائخ جنہوں نے جتنی بھی اس کے لئے کوشش کی سب ڈھیروں مبارک باد کے مستحق ہیں کہ ان کی کوششوں سے ایک بار پھر تاریخ میں ختم نبوت کے تحفظ کا ایک اور سنگ میل عبور کر لیا گیا ہے۔ اللہ رب العزت ہمارے قادیانی کرم فرماؤں کو توفیق مرحمت فرمائیں کہ وہ غور کریں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو مان کر وہ کبھی امت مسلمہ کا حصہ نہیں بن سکتے۔ امت مسلمہ کبھی اس حیثیت میں ان کو قبول نہیں کر سکتی۔
کاش وہ غلام قادیان کو چھوڑ کر رحمت عالم ﷺ کی آغوش ختم نبوت میں آجائیں۔ آخر ہیں تو وہ ہمارے جسد کا حصہ جسے ایک دین دشمن اور ختم نبوت کے منکر اور جھوٹے مدعی نبوت نے امت مسلمہ کے وجود سے کاٹ کر غیر مسلموں کے زمرہ میں لا کھڑا کیا۔ حق تعالیٰ ان کو توفیق دیں کہ وہ انگڑائی لیں اور ملعون قادیان سے اپنی گردن خلاصی کرالیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۸ء ص ۳ تا ۶)
آزاد کشمیر میں قانون کے تحت قادیانی غیر مسلم
۱۲ویں آئینی ترمیم کے ذریعے مشترکہ اجلاس میں متفقہ طور پر بل کی منظوری۔ فاروق حیدر کی تمام اراکین کو مبارکباد، آئین میں ختم نبوت کے حوالے سے ابہام ختم ، بل ہماری بخشش کا ذریعہ بنے گا: ارکان۔
اسلام آباد (خصوصی خبر نگار؍خبر ایجنسیاں) ۱۲ویں آئینی ترمیم کے ذریعے آزاد کشمیر میں بھی قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا۔ منگل کے روز قانون ساز اسمبلی کو کونسل کے مشترکہ خصوصی اجلاس کے دوسرے روز ختم نبوت و تحفظ ناموس رسالت ایکٹ ۲۰۱۸ء متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ قادیانی خود کو مسلمان ظاہر نہیں کر سکتے۔ مسجد تعمیر کرنے اذان دینے اور تبلیغ کرنے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی، جب کہ عیسائی، ہندو، سکھ، بدھ مت، پارسی، احمدی، لاہوری مرزائی، بہائی بھی قانون سازی میں غیر مسلم کی تعریف میں آگئے۔ وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر نے کہا ہے کہ ہم نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی خوشنودی کے لئے ختم نبوت کو آزاد کشمیر کے آئین کا حصہ بنایا۔ اجلاس کی صدارت اسپیکر قانون ساز اسمبلی شاہ غلام قادر نے کی جب کہ اس اہم اجلاس میں وزیر اعظم آزاد کشمیر جملہ اراکین کابینہ حکومتی ممبران اسمبلی اور اپوزیشن کی تمام جماعتوں کے پارلیمانی قائدین واراکین نے شرکت کی۔ اجلاس میں عبوری آئین ۱۹۷۴ء میں ۱۲ویں ترمیمی ایکٹ کا مسودہ پیش کیا گیا جس کے تحت قادیانی غیر مسلم اقلیت شمار ہوں گے جس کو ایوان نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ وزیر قانون راجہ نثار احمد نے آزاد جموں و کشمیر عبوری آئین (۱۲ویں ترمیم) ایکٹ ۲۰۱۸ء پر کمیٹی آن بلز کی رپورٹ ایوان میں پیش کی جو پیر کے روز وزیر اعظم پاکستان کی موجودگی میں ایوان میں پیش کیا گیا تھا اور خصوصی اجلاس منگل تک جاری رکھنے کا اسپیکر نے اعلان کیا تھا۔ وزیر قانون نے ایوان میں ترمیم کا مسودہ پڑھ کر سنایا جس کے بعد ایوان میں نئے بل پر عام بحث کا آغاز ہوا۔ نئے بل پر سب سے پہلے ممبر اسمبلی پیر سید علی رضا
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بخاری نے بحث کا آغاز کیا اور ایوان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج ایک ایسا مبارک دن ہے کہ ایوان میں تاریخی بل منظوری کے لئے پیش کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بل پیش کرنے میں تعاون کرنے پر وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان، ارکان کابینہ ممبران اسمبلی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے علماء و مشائخ و ریاست بھر کے عاشقان رسول کو مبارکباد دیتا ہوں۔ پیر سیّد علی رضا بخاری نے کہا کہ امتناع قادیانیت کے قوانین کی منظوری سے معاشرے سے بہت بڑی بُرائی کے خاتمے کا موقع پیدا ہوگا اور مسلمانوں کے عقائد کو بھی تحفظ حاصل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے مقدر میں لکھ چکا تھا کہ تحفظ ختم نبوت کے بل کی موجودہ ایوان سے منظوری ہو اور یہ ایوان گنبد خضریٰ کے مکین سے مکمل وفاداری کا ثبوت فراہم کرے۔ بحث میں حصہ لیتے ہوئے وزیر تعلیم بیرسٹر افتخار گیلانی نے کہا کہ اگرچہ ہمارے آئین میں پہلے بھی ختم نبوت کے حوالے سے شقیں موجود ہیں مگر موجودہ بل کی منظوری کے بعد رہی سہی ابہام کی صورتحال بھی ختم ہو جائے گی۔ ممبر اسمبلی سحرش قمر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب سے آئین پاکستان میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا وہ اس وقت سے اس کوشش میں ہیں کہ کسی طرح ان قوانین کو ختم کر دیا جائے اور موجودہ اسمبلی نے یہ بل لاکر عظیم کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ پیپلز پارٹی کی ممبر اسمبلی شازیہ اکبر نے کہا کہ آپ ﷺ کے خاتم النبیین ہونے پر ایمان لائے بغیر کوئی بھی شخص مسلمان نہیں ہو سکتا۔ آپ ہی اس کائنات کی وجہ تخلیق ہیں ہمارے لئے اس سے بڑھ کر اعزاز کی کیا بات ہو سکتی ہے کہ ہم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی امت میں سے ہیں۔ وزیر خوراک سید شوکت شاہ اور عبدالماجد خان نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پیر سیّد علی رضا بخاری اور راجہ محمد صدیق کی کوششوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے اس بل کو ایوان میں لانے کے لئے محنت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہی بل ہماری بخشش کا سبب بنے گا۔ مفصل بحث کے بعد متفقہ طور پر ایوان نے منظوری دے دی۔
وزیراعظم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا کہ آج کا دن آزاد کشمیر کی تاریخ میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اللہ رب العزت نے ہمیں یہ سعادت بخشی کہ ہم نے اللہ اور اس کے رسول کی خوشنودی کے لئے ختم نبوت کو آزاد کشمیر کے آئین کا حصہ بنایا۔ میری اللہ رب العزت سے دعاء اور مجھے امید ہے کہ اس قرارداد کے حق میں ووٹ دینے والوں کو اس کے صلے میں نبی کریم کی شفاعت نصیب ہوگی، ان لوگوں کا شمار آزاد کشمیر کی پارلیمانی تاریخ کے خوش قسمت ترین لوگوں میں ہوتا ہے۔ بل کی منظوری کے بعد خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ یہ خوش نصیبی کی بات ہوتی ہے جو کسی کسی کے حصے میں آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ سعادت بھی بخشی کہ شریعت کورٹ کے قیام کے حوالے سے بھی ہم نے متفقہ فیصلہ کیا۔ اللہ اور اس کے رسول کی خوشنودی کے لئے اور بھی جو کر سکے کریں گے، امید ہے کہ حزب اختلاف کے اراکین اسی طرح تعاون جاری رکھیں گے۔ اللہ رب العزت کی ذات کا شکرگزار ہوں جس نے ہم سے یہ کام لیا۔ بل کی منظوری پر اسپیکر پیر علی رضا بخاری، راجہ محمد صدیق، راجہ نثار احمد خان سمیت کمیٹی کے تمام اراکین بھی مبارک باد کے مستحق ہیں۔ اسپیکر اسمبلی شاہ غلام قادر نے اجلاس کے اختتام پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب مبارکباد کے مستحق ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہماری یہ حاضری قبول فرمائے اور اس کے صلے میں دنیا و آخرت میں سرخروئی عطا فرمائے، میں اسی کے ساتھ تمام معزز ایوان کو بل متفقہ پاس کرنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ اسی کے ساتھ اجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی ہو گیا۔
(روزنامہ امت کراچی، ۷؍ فروری ۲۰۱۸ء، ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۲۳ تا ۲۸؍ فروری ۲۰۱۸ء ص ٹائٹل نمبر ۳)
قادیانی سربراہ کے نام مولانا زاہد الراشدی کا کھلا خط
اب سے تقریباً ربع صدی قبل اس وقت کے قادیانی امت کے سربراہ مرزا طاہر احمد کے نام ایک کھلا خط لکھا تھا جو ان کو بھجوانے
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کے ساتھ ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ کے ستمبر ۱۹۹۵ء کے شمارے میں شائع ہوا تھا۔ صورتحال جوں کی توں ہے اس لئے وہی خط اب قادیانی امت کے موجودہ سربراہ جناب مرزا مسرور احمد کے نام جاری کیا جا رہا ہے، اس امید کے ساتھ کہ اس پر قادیانی امت اور اس کے بہی خواہ حلقوں میں سنجیدگی کے ساتھ غور کیا جائے گا۔
جناب مرزا مسرور احمد صاحب سربراہ قادیانی جماعت، مقیم برطانیہ
السلام على من اتبع الهدى
گزارش ہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس سال پھر اپنی سالانہ رپورٹ میں پاکستان میں قادیانی جماعت کے مبینہ انسانی حقوق کی پامالی کا ذکر کیا ہے اور متعدد قادیانیوں کے خلاف درج مقدمات کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے حکومت پاکستان کو اس کا ملزم ٹھہرایا ہے۔ میں اس خط کے ذریعے اسی اہم مسئلہ پر آپ سے مخاطب ہو رہا ہوں کیونکہ یہ مسئلہ اس وقت نہ صرف مسلمانوں اور قادیانیوں کے مابین تنازعہ اور کشیدگی میں شدت کا باعث بنا ہوا ہے بلکہ بین الاقوامی اداروں اور لابیوں کے ہاتھ میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ایک ہتھیار کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ اس لئے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس سلسلہ میں آپ کو حقائق و مسلمات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے آپ سے کوئی ایسا معقول طرز عمل اختیار کرنے کی اپیل کی جائے جو اس کشیدگی میں کمی کا باعث بن سکے اور فریقین اپنی بہترین توانائیاں اور صلاحیتیں اس محاذ آرائی پر صرف کرنے کی بجائے انہیں مثبت مقاصد کے لئے استعمال میں لاسکیں۔
جناب مرزا صاحب ! آپ کے دادا مرزا غلام احمد قادیانی نے آج سے ایک صدی قبل نبوت کا دعویٰ کیا تھا اور نئی وحی کے حوالے سے اپنی تعلیمات پیش کرنے کا آغاز کیا تھا، جسے امت مسلمہ کے تمام علمی ودینی حلقوں نے اسلام کے بنیادی عقیدہ ختم نبوت اور اس کی تیرہ سوسالہ اجماعی تعبیر سے انحراف قرار دیتے ہوئے قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا اور مرزا صاحب اور ان کے پیروکاروں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دے کر ان سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کیا تھا۔ جب کہ دوسری طرف مرزا صاحب اور ان کے جانشینوں نے مرزا صاحب پر نازل ہونے والی مبینہ وحی الہی پر ایمان لانے کو ضروری گردانتے ہوئے ایمان نہ لانے والوں یعنی دنیا بھر کے مسلمانوں کو اپنا ہم مذہب تسلیم کرنے سے صاف انکار کر دیا تھا اور اس طرح مسلمان اور قادیانی دونوں فریق اس نکتہ پر متفق ہو گئے تھے کہ دونوں گروہ ایک مذہب کے پیروکار نہیں ہیں بلکہ دونوں کا مذہب الگ الگ ہے اور ان میں مذہبی طور پر کوئی نقطہ اتحاد موجود نہیں ہے۔ یہ ایک واقعاتی حقیقت ہی نہیں بلکہ مذاہب عالم کے درمیان ہزاروں سال سے کارفرما ایک مسلمہ اصول بھی ہے جس کی بنیاد پر مذاہب ہمیشہ سے ایک دوسرے سے الگ شمار ہوتے چلے آ رہے ہیں۔ لیکن قادیانی جماعت عملاً اس حقیقت اور اصول پر عمل پیرا ہونے کے باوجود خود کو مسلمان کہلانے پر اصرار کر کے اس اصول کی مسلسل خلاف ورزی کر رہی ہے جو مسلمانوں اور قادیانیوں کے مابین موجودہ تنازعہ اور کشیدگی میں اصل وجہ نزاع ہے۔
قادیانی جماعت کا کہنا ہے کہ چونکہ وہ قرآن کریم اور حضرت محمد ﷺ پر ایمان رکھتی ہے اس لئے اسے مسلمان کہلانے کا حق ہے۔ لیکن یہ مؤقف مذاہب عالم کے تاریخی تسلسل میں کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں ہے۔ آپ خود تاریخ پر نظر ڈال لیجئے۔ یہودی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نبوت اور توراۃ پر ایمان رکھتے ہیں، جب کہ عیسائی بھی ان دونوں پر ایمان رکھتے ہیں لیکن ان کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت اور انجیل کو بھی مانتے ہیں، اس لئے وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور توراۃ پر ایمان رکھنے کے باوجود یہودی نہیں کہلاتے بلکہ ایک الگ مذہب کے پیروکار شمار ہوتے ہیں۔ اسی طرح مسلمان حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سمیت تمام انبیاء سابقین کی صداقت پر یقین رکھتے ہیں اور توراۃ، زبور اور انجیل سمیت تمام سابقہ کتب وصحائف کو سچا مانتے ہیں، لیکن چونکہ وہ ان سب کے بعد حضرت محمد ﷺ کی نبوت اور
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قرآن کریم پر بھی ایمان رکھتے ہیں، اس لئے وہ نہ یہودی کہلا سکتے ہیں نہ عیسائی بلکہ ان دونوں سے الگ ایک نئے مذہب کے پیروکار تسلیم کئے جاتے ہیں۔
یہ مذاہب عالم کا تاریخی تسلسل ہے جس سے انکار ممکن نہیں ہے اور مسلمانوں کا یہ موقف اسی تاریخی تسلسل کا حصہ ہے کہ قادیانی گروہ چونکہ مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت اور ان پر نازل ہونے والی مبینہ وحی پر ایمان رکھتا ہے اور اس پر ایمان کو اپنے مذہب میں شمولیت کی لازمی شرط قرار دیتا ہے اس لئے وہ حضرت محمد ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان کے دعوے کے باوجود ملت اسلامیہ کا حصہ نہیں ہے بلکہ ایک الگ اور نئے مذہب کا پیروکار ہے۔
مذاہب عالم کے مسلمہ اصول اور تاریخی تسلسل کے ساتھ ساتھ مختلف مذاہب کے درمیان جداگانہ شناخت اور پہچان کے نقطۂ نظر سے بھی ضروری ہے کہ قادیانی گروہ چونکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو اپنا ہم مذہب تسلیم نہیں کرتا اس لئے وہ ان سے اپنی شناخت الگ کرے اور الگ نام اختیار کرنے کے علاوہ مذہبی علامات اور اصطلاحات بھی الگ وضع کرے ، تاکہ دونوں کے درمیان جداگانہ تشخص اور امتیاز قائم ہو جائے اور کوئی فریق دوسرے کے حقوق پر اثر انداز نہ ہو سکے۔ یہی وجہ ہے کہ علمائے امت نے قادیانیوں کے بارے میں ، اس بات سے قطع نظر کہ نبوت کے نئے دعوے داروں کے حوالہ سے جناب رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ؓ وخلفائے راشدین کے طرز عمل کی روشنی میں ایک اسلامی حکومت کی ذمہ داری کیا ہے، مفکر پاکستان علامہ ڈاکٹر محمد اقبال کی تجویز پر صرف اس بات پر قناعت کر لی کہ مسلمانوں اور قادیانیوں کے درمیان جداگانہ مذہبی تشخص قائم کر دیا جائے اور قادیانیوں کو مسلمانوں سے الگ ایک نئے مذہب کا پیروکار تسلیم کر لیا جائے۔ چنانچہ پاکستان میں قادیانیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دینے اور قانونی طور پر اسلام کا نام اور مسلمانوں کی مذہبی علامات واصطلاحات کے استعمال سے روک دینے کے اقدامات کئے گئے ۔ جنہیں آج قادیانیوں کے انسانی حقوق کی پامالی کا عنوان دے کر ملت اسلامیہ اور پاکستان کے خلاف مسلسل مہم چلائی جارہی ہے۔
جناب مرزا صاحب! ”انسانی حقوق“ کے حوالے سے بھی دیکھا جائے تو اصل صورتحال اس سے مختلف ہے کیونکہ مذہبی تشخص اور ملی شناخت کے تحفظ کا حق دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کی طرح مسلمانوں کو بھی حاصل ہے اور انہیں مسلمہ طور پر یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی بھی ایسے گروہ کو اپنا نام استعمال نہ کرنے دیں اور اپنی مذہبی اصطلاحات وعلامات کے استعمال سے روکیں جو ان سے الگ مذہب رکھتا ہے اور وہ اپنا یہ جائز حق استعمال کر کے کسی پر زیادتی نہیں کر رہے اور نہ کسی کا کوئی حق پامال کر رہے ہیں۔ جب کہ اس کے برعکس قادیانی جماعت اپنے مذہب کو مسلمانوں کے مذہب سے الگ قرار دیتے ہوئے بھی اسلام کا نام اور مسلمانوں کی علامات واصطلاحات کے استعمال پر اصرار کر کے مسلمانوں کی مذہبی شناخت کو مجروح کر رہی ہے اور ان کے جداگانہ مذہبی تشخص کو پامال کر رہی ہے جو دنیا بھر کے ایک ارب سے زائد مسلمانوں کے انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔ قادیانی جماعت کا یہ طرز عمل مذاہب عالم کے تاریخی تسلسل اور مذاہب کے درمیان فرق وامتیاز کے مسلمہ اصول سے انحراف ہے اور مسلمانوں اور قادیانیوں کے درمیان موجودہ تنازعہ اور کشیدگی میں یہی اصل وجہ نزاع ہے۔
اس ضمن میں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ قادیانی جماعت کی دو معاصر تحریکوں کے طرز عمل کا بھی حوالہ دیا جائے۔ ایک امریکا کے سیاہ فام لیڈر آلیج محمد کی تحریک ہے جنہوں نے اسی صدی کے دوران اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا لیکن ساتھ ہی نبوت کا دعویٰ کر دیا اور نئی مبینہ وحی کے حوالے سے اپنی تعلیمات پیش کیں، جنہیں ظاہر ہے کہ مسلمانوں نے مسترد کر دیا۔ آلیج محمد کے پیروکاروں کی ایک بڑی تعداد آج بھی
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
موجود ہے لیکن ان کے فرزند جناب وارث دین محمد نے حق کے واضح ہونے کے بعد اپنے باپ کے غلط عقائد سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے ملت اسلامیہ کے اجماعی عقائد کو قبول کرنے اور امت کے اجتماعی دھارے میں شامل ہونے کا اعلان کر دیا اور آج وہ امریکا میں صحیح العقیدہ مسلمانوں کے ایک بڑے گروہ کی قیادت کر رہے ہیں اور دوسری تحریک ایران کے بابیوں اور بہائیوں کی ہے جس کے بانی محمد علی باب اور بہاء اللہ نے نبوت اور نئی وحی کا دعویٰ کیا لیکن ساتھ ہی مذاہب عالم کے مسلمہ اصول کا احترام کرتے ہوئے اپنا نام اور مذہبی شناخت مسلمانوں سے الگ کر لی اور مسلمان کہلانے یا خود کو مسلمانوں کی صف میں شامل رکھنے پر اصرار نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ مذہب کے بنیادی اختلاف کے باوجود ان کے ساتھ مسلمانوں کا اس طرز کا کوئی تنازعہ موجود نہیں ہے جس طرح کا تنازعہ قادیانیوں کے ساتھ چل رہا ہے۔
جناب مرزا صاحب ! یہ ایک نظر آنے والی واضح حقیقت ہے کہ مسلمانوں اور قادیانیوں کے درمیان موجودہ کشمکش کی اصل وجہ مذاہب کا اختلاف نہیں بلکہ مذہبی اختلاف کے منطقی نتائج کو تسلیم نہ کرنا ہے اور یہ امر واقعہ ہے کہ اسے تسلیم نہ کرنے کی تمام تر ذمہ داری قادیانی جماعت پر عائد ہوتی ہے کیونکہ مسلمانوں کا موقف بالکل واضح ہے کہ قادیانی گروہ کا مذہب مسلمانوں کے مذہب سے الگ ہے اس لئے وہ مسلمانوں کا نام اور اصطلاحات استعمال کر کے اشتباہ پیدا نہ کرے اور نہ ہی مسلمانوں کی مذہبی شناخت اور تشخص کو مجروح کرے، بلکہ اپنے لئے الگ نام اور علامات واصطلاحات وضع کر کے اس کشیدگی کے خاتمہ کی طرف قدم بڑھائے۔
ان گزارشات کے ساتھ آنجناب سے یہ گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ ایک غلط اور غیر منطقی موقف پر ضد کر کے نہ خود پریشان ہوں اور نہ مسلمانوں کو پریشان کریں۔ بلکہ بہتر بات تو یہ ہے کہ جناب وارث دین محمد کی طرح غلط عقائد سے توبہ کر کے ملت اسلامیہ کے اجماعی عقائد کی بنیاد پر امت مسلمہ کے اجتماعی دھارے میں شامل ہو جائیں ، آپ کے اس حقیقت پسندانہ فیصلہ کا پوری امت مسلمہ کی طرف سے خیر مقدم کیا جائے گا اور اگر یہ آپ کے مقدر میں نہیں ہے تو بابیوں اور بہائیوں کی طرح اپنی مذہبی شناخت مسلمانوں سے الگ کر لیں اور پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ کا جمہوری فیصلہ قبول کر کے غیر مسلم اقلیت کا جائز اور منطقی کردار اختیار کر لیں۔ اس کے سوا کوئی تیسرا راستہ معقولیت اور انصاف کا راستہ نہیں ہے اور نہ ہی آپ مغربی حکومتوں اور لابیوں کے سہارے کسی غلط اور نامعقول موقف کو مسلمانوں سے منوا سکتے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ یہ گزارشات آپ کو مثبت اور صحیح رخ پر سوچنے کے لئے ضرور آمادہ کر سکیں گی۔ والسلام علیٰ من اتبع الہدٰی!
ابو عمار زاہد الراشدی خطیب مرکزی جامع مسجد، گوجرانوالہ، پاکستان
(روزنامہ اسلام کراچی، ۱۲، ۱۳؍ فروری ۲۰۱۸ء ، ہفت روزہ ختم نبوت کراچی یکم تا ۸؍ مارچ ۲۰۱۸ء ص ۱۰ تا ۱۲)
قومی اسمبلی سے حلف نامہ میں ترمیم کا ریکارڈ غائب کر دیا گیا
وزارت قانون کے اسٹور روم میں پراسرار آتشزدگی سے بھی اہم دستاویزات ضائع ہوگئیں ، ذمہ داران کی نشاندہی راجہ ظفر الحق کی کمیٹی کی رپورٹ سے ہی ممکن ، جسے حکومت پیش کرنے میں ٹال مٹول کر رہی ہے، الیکشن سے قبل عدالتی فیصلہ نواز لیگ کے لئے مشکلات کھڑی کر سکتا ہے : ذرائع
اسلام آباد ہائی کورٹ نے ختم نبوت حلف نامہ میں ترمیم کے حوالے سے راجہ ظفر الحق کمیٹی کی رپورٹ جمع کرانے کے لئے ۲۰؍ فروری ۲۰۱۸ء کی تاریخ مقرر کر دی ہے۔ دوران سماعت ڈپٹی اٹارنی جنرل ارشد کیانی نے بتایا کہ راجہ ظفر الحق کمیٹی کی رپورٹ ابھی تک
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
فائل نہیں ہوئی۔ جس پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیئے کہ: ”یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کمیٹی سربراہ کے دستخط کے باوجود رپورٹ حتمی نہ ہو؟ کیا آپ چاہتے ہیں کہ اسپیکر قومی اسمبلی، چیئرمین سینیٹ سے براہ راست ریکارڈ طلب کریں؟“
ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی میں موجود حلف نامہ میں ترمیم کا ریکارڈ غائب کر دیا گیا ہے، جب کہ وزارت قانون کے اسٹور روم میں ۲؍ جنوری ۲۰۱۸ء کو ہونے والی آتشزدگی سے اہم دستاویزات بھی ضائع ہو گئی ہیں۔ اب حلف نامہ میں ترمیم کے ذمہ داران کی نشاندہی راجہ ظفر الحق کمیٹی کی رپورٹ سے ہی ہو سکتی ہے، جسے حکومت عدالت میں پیش کرنے میں ٹال مٹول کر رہی ہے۔
امت کو ذرائع نے بتایا ہے کہ راجہ ظفر الحق رپورٹ کے حوالے سے حکومت کا مؤقف ہے کہ راجہ ظفر الحق کو پارٹی کے صدر نواز شریف نے حکم دیا تھا کہ وہ حلف نامہ میں ترمیم کے بارے میں تحقیق کریں۔ انہوں نے تحقیق کے بعد رپورٹ نواز شریف کے حوالے کر دی۔ اب یہ نواز شریف کی صوابدید ہے کہ وہ رپورٹ کو پبلک کرتے ہیں یا نہیں۔ معتبر ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے کوشش کی ہے کہ ختم نبوت کا حساس معاملہ مزید زیر بحث نہ آئے، کیونکہ اس کے اثرات عام انتخابات پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ اسی لئے رپورٹ عدالت میں پیش کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی سمیت تمام متعلقہ جگہوں سے ختم نبوت کے حلف نامہ میں ترمیم کا ریکارڈ اس لئے غائب کیا گیا کہ کوئی رکن اسمبلی اس ریکارڈ کے ذریعے حلف نامے میں ترمیم کے اصل محرک تک نہ پہنچ سکے۔ ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ جن لوگوں کے نام راجہ ظفر الحق رپورٹ میں آئے ہیں، رپورٹ عام ہونے کی صورت میں ان کی جان کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ ایک اور ذریعے کا کہنا ہے کہ نواز لیگ اس معاملے کو دفن کرنا چاہتی ہے تاکہ آئندہ عام انتخابات میں یہ معاملہ انتخابی ایشو نہ بننے پائے۔ لیکن ایسا ہونا ناممکن نظر آ رہا ہے۔ ذرائع کے بقول نواز لیگ حکومت خود اس معاملے کو طول دے رہی ہے۔ تاہم اگر اس کیس کا فیصلہ نگراں حکومت کے دور میں ہوا تو نواز لیگ کو شدید نقصان ہوگا، کیونکہ حکومتی تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ سینیٹر راجہ ظفر الحق ختم نبوت حلف نامہ میں تبدیلی کی سازش کا اعتراف کر چکے ہیں۔ واضح رہے کہ راجہ ظفر الحق کمیٹی کی رپورٹ کے حوالے سے میڈیا میں مختلف باتیں گردش کرتی رہی ہیں۔ کئی اخبار نویسوں نے دعویٰ کیا کہ رپورٹ ان تک پہنچ چکی ہے، لیکن سرکاری ذرائع سے کبھی ان کے دعوؤں کی تصدیق نہیں ہوئی۔ کبھی کہا گیا کہ راجہ ظفر الحق کمیٹی نے ختم نبوت حلف نامے میں تبدیلی سے متعلق رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ کاغذات نامزدگی میں ختم نبوت کی شق میں تبدیلی وزیر قانون زاہد حامد نے نہیں بلکہ یہ پوری انتخابی اصلاحات کمیٹی کا فیصلہ تھا۔ کاغذات نامزدگی میں تبدیلی کا فیصلہ پہلے ۱۶رکنی ذیلی کمیٹی نے کیا، اس کے بعد ۳۴ رکنی پارلیمانی کمیٹی نے بھی کیا، ان کمیٹیوں میں تحریک انصاف، پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی، ایم کیو ایم، مسلم لیگ (ق) اور جے یو آئی (ف) کے نمائندے بھی شامل تھے۔ کسی نے دعویٰ کیا کہ راجہ ظفر الحق کی رپورٹ کے مطابق حلف نامے میں تبدیلی کی تجویز وزیر مملکت انوشہ رحمان نے پیش کی تھی، کیونکہ انوشہ رحمن نے دلیل دی تھی کہ حلف نامہ کی تصدیق کے لئے اوتھ کمشنر کے پاس جانا پڑتا ہے۔ اس لئے حلف کی بجائے اقرار کا لفظ استعمال کیا جائے۔ تاہم ذرائع کے مطابق ۱۶ رکنی انتخابی اصلاحات کمیٹی جس کی سربراہی وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کر رہے تھے، نے اس تجویز کی مخالفت کی تھی، لیکن انوشہ رحمن نے مؤقف اختیار کیا کہ ڈکٹیٹر کے دور میں جو نامزدگی فارم بنایا جاتا ہے، اس میں تبدیلی ممکن ہوتی ہے، لہٰذا اسے انتخابی اصلاحاتی ایکٹ میں شامل کیا جائے تاکہ آئندہ اس میں کوئی تبدیلی نہ کی جاسکے، جس کے بعد بالآخر اس تجویز کو مان لیا گیا۔ ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ راجہ ظفر الحق کمیٹی نے اس ترمیم کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی سفارش کی تھی۔ رپورٹ کے متن میں کہا گیا ہے کہ قائمہ کمیٹی نے ختم نبوت کے حلف نامے میں کوئی ترمیم تجویز نہیں کی تھی۔ کمیٹی نے بل اور اس میں دی گئی ترمیم کے حوالے سے تفصیلی امور کا جائزہ لیا۔ تاہم جب بل ایوان میں پیش ہوا تو جے یو آئی کے سینیٹر حافظ حمد اللہ نے حلف نامہ کے متن
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
میں تبدیلی کی نشاندہی کی، جس پر راجہ ظفر الحق نے سینیٹر حافظ حمد اللہ کو کہا کہ ان کے مؤقف کی مسلم لیگ (ن) حمایت کرتی ہے۔ جس کے بعد حافظ حمد اللہ نے سیکشن ۲۰۳ کے حق میں ووٹ دیا جو پارٹی صدر کے انتخاب کے حوالے سے تھا۔ حکومت ایک ووٹ سے سینیٹ میں سیکشن ۲۰۳ پاس کرانے میں کامیاب ہوئی، پھر بل اصل حالت میں قومی اسمبلی کو بھجوایا گیا، جہاں سیکشن ۲۰۳ پر اپوزیشن نے مخالفت تو کی لیکن ختم نبوت کے حوالے سے درستگی اتفاق رائے سے کر کے ترمیم دوبارہ سینیٹ کو بھجوائی گئی۔ سینیٹ نے بھی ختم نبوت کا حلف نامہ اتفاق رائے سے بحال کیا اور صدر مملکت کے دستخط کے بعد یہ قانون بن گیا۔ ختم نبوت کے حوالے سے حلف نامے میں تبدیلی حساس معاملہ تھا۔ رپورٹ کے مطابق کمیٹی نے ڈرافٹ تیار کرنے والوں سمیت دیگر امور کو بھی دیکھا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ ڈرافٹ کا باریک بینی سے قانونی طور پر جائزہ نہیں لیا گیا۔ رپورٹ میں مولانا فضل الرحمن کا حوالہ بھی دیا گیا کہ بحث اور حلف نامے کے حوالے سے ذمہ داریاں پوری نہیں ہوئیں، جب کہ قانون بحال ہونے کے بعد ردعمل کم ضرور ہوا ہے ختم نہیں ہوا۔ ذرائع کے مطابق کمیٹی نے رپورٹ میں ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی سفارش کی ہے، تاہم یہ اختیار پارٹی صدر کو دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں زاہد حامد اور انوشہ رحمن کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ مسودے کو بغور دیکھنا، ان کی ذمہ داری تھی۔ یہ سب باتیں ذرائع ابلاغ میں تو آتی رہیں لیکن ان کی سرکاری سطح پر کبھی تصدیق نہیں ہوئی۔ لوگوں میں اس حوالے سے تجسس اور تشویش باقی ہے، لیکن اس دوران یہ ہوا کہ ۲/جنوری ۲۰۱۸ء کو وزارت قانون کے اسٹور روم میں پراسرار طور پر آگ لگ گئی، جس میں مبینہ طور پر نواز شریف کو پارٹی صدر بنانے والی کمیٹی کی کارروائی کا سارا ریکارڈ جل گیا، جس میں حلف نامہ کو تبدیل کرنے کا ریکارڈ بھی شامل ہے۔ پولیس کے روایتی بیان کے مطابق آگ شارٹ سرکٹ کے باعث لگی اور بہت سی اہم دستاویزات جل کر خاکستر ہو گئیں۔ تاہم فوری طور پر اس بات کا اندازہ نہیں لگایا جا سکا کہ کون سی دستاویزات ضائع ہوئی ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان سیکریٹریٹ کے جس بلاک میں آگ لگی، وہاں وزارت داخلہ اور قانون کے ساتھ حساس اداروں کے دفاتر بھی موجود ہیں۔ بلاک آر کے سیکنڈ فلور پر واقع کمرہ نمبر ۲۲۱ میں اچانک آگ بھڑک اٹھی تھی جس کی زد میں آکر لاجسٹکس ڈویژن، وزارت داخلہ اور قانون کی اہم دستاویزات جل کر راکھ ہو گئیں۔ ذرائع کے بقول اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ یہ آگ دانستہ لگائی گئی ہو۔
(روزنامہ امت کراچی ۱۴/فروری ۲۰۱۸ء، ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۸ تا ۱۵/مارچ ۲۰۱۸ء ص ۱۳، ۱۴)
۹/مارچ ۲۰۱۸ء کو اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ
رفقاء کو یاد ہو گا کہ اکتوبر ۲۰۱۷ء کے ایک بل کے ذریعہ حکومت نے حلف نامہ و اقرار نامہ میں تحریف کی۔ اس موقع پر دیگر کامیاب کوششوں کے علاوہ ہائیکورٹ اسلام آباد میں ایک کیس بھی دائر کیا گیا تھا۔ اس کا اجمالی فیصلہ ۹/مارچ ۲۰۱۸ء کو عدالت عالیہ نے سنایا ہے۔ جب کہ تفصیلی فیصلہ بعد میں آئے گا۔ آج کی مجلس میں سردست اس فیصلہ کے متعلق روزنامہ جنگ کی خبر ملاحظہ فرمائیں۔ باقی تفصیلات سے متعلق وعدہ رہا کہ تفصیلی فیصلہ کے بعد آگاہ کریں گے۔ خبر ملاحظہ ہو:
’’عدلیہ، فوج، بیوروکریسی سے بھی بیان حلفی لئے جائیں۔ پارلیمنٹ عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ یقینی بنائے ۔ چیف جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ختم نبوت شقوں کی تبدیلی کے خلاف دائر درخواستوں پر محفوظ فیصلہ جاری کر دیا۔
اسلام آباد (خبر نگار) اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے الیکشن ایکٹ ۲۰۱۷ء میں ختم نبوت سے متعلق شقوں کی تبدیلی کے خلاف دائر درخواستوں کا مختصر فیصلہ سناتے ہوئے حکم جاری کیا ہے کہ شناختی کارڈ، پیدائش سرٹیفکیٹ، پاسپورٹ کے حصول اور انتخابی فہرستوں میں اندراج کے لئے درخواست گزار سے آئین کی شق ۲۶۰ ذیلی شق ۳ (اے) اور (بی) میں مسلم کی تعریف پر
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مبنی بیان حلفی لازمی قرار دیا جائے۔ تمام سرکاری ونیم سرکاری محکموں بشمول عدلیہ، مسلح افواج، اعلیٰ سول سروسز میں ملازمت کے حصول یا شمولیت کو بھی متذکرہ بالا بیان حلفی سے مشروط قرار دیا جائے۔ نادرا اپنے قواعد میں کسی بھی شہری کی طرف سے اپنے درج کوائف بالخصوص مذہب کے حوالے سے درستی کے لئے مدت کا تعین کرے۔ مقننہ آئین کے تقاضوں، عدالت عظمیٰ اور لاہور ہائیکورٹ کے فیصلوں ( 1993 SCMR 1748 ) اور ( PLD 1992 Lah.1 ) میں طے شدہ قانونی بنیادوں کو روبہ عمل لا کر ضروری قانون سازی کرے اور ایسی تمام اصلاحات جو دین اسلام اور مسلمانوں کے لئے مخصوص ہیں انہیں کسی بھی اقلیت سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنی پہچان چھپانے یا کسی اور مقصد کے لئے استعمال سے روکنے کے لئے موجودہ قانون میں ضروری ترمیم اور اضافہ کرے۔ حکومت تمام شہریوں کے درست کوائف کو یقینی بنائے تاکہ کسی بھی شہری کے لئے اپنی اصل پہچان اور شناخت چھپانا ممکن نہ ہوسکے۔ نادرا میں قادیانیوں، مرزائیوں کی درج تعداد اور مردم شماری کے اعداد و شمار میں نمایاں فرق کی تحقیقات کی جائیں۔ ریاست مسلم امہ کے حقوق، جذبات اور مذہبی عقائد کی حفاظت کرے اور اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ پارلیمنٹ عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ یقینی بنائے۔ پانچ صفحات پر مشتمل مختصر تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ دین اسلام اور آئین پاکستان مذہبی آزادی سمیت اقلیتوں (غیر مسلموں) کے تمام بنیادی حقوق کی مکمل ضمانت فراہم کرتا ہے۔ ریاست پر لازم ہے کہ ان کی جان، مال، جائیداد اور عزت و آبرو کی حفاظت کرے اور بطور شہری ان کے مفادات کا تحفظ کرے۔
آئین کی شق نمبر ۵ کے مطابق ہر شہری کا بنیادی فرض ہے کہ وہ ریاست کا وفادار اور آئین و قانون کا پابند ہو۔ یہ فریضہ ان افراد پر بھی لازم ہے جو پاکستان کے شہری نہیں لیکن یہاں موجود ہیں۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ریاست پاکستان کے ہر شہری کے لئے لازم ہے کہ وہ اپنی شناخت درست اور صحیح کوائف کے ساتھ کرائے۔ کسی مسلم کو اس امر کی اجازت نہیں کہ وہ اپنی شناخت کو غیر مسلم میں چھپائے۔ بعینہ کسی غیر مسلم کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ خود کو مسلم ظاہر کر کے اپنی پہچان اور شناخت کو چھپائے۔ ایسا کرنے والا ہر شہری ریاست سے دھوکہ دہی کا مرتکب ہوتا ہے جو کہ آئین کو پامال کرنے اور ریاست سے استحصال کے زمرے میں آتا ہے۔ فیصلے کے مطابق آئین پاکستان کی شق نمبر ۲۶۰ ذیلی شق ۳ (اے) اور (بی) میں مسلم اور غیر مسلم کی تعریف موجود ہے جسے اجماع قوم کی حیثیت حاصل ہے۔ بدقسمتی سے اس واضح معیار کے مطابق ضروری قانون سازی نہیں کی جاسکی۔ جس کے نتیجے میں غیر مسلم اقلیت اپنی اصل شناخت چھپا کر اور ریاست کو دھوکہ دیتے ہوئے خود کو مسلم اکثریت کا حصہ ظاہر کرتی ہے جس سے نہ صرف مسائل جنم لیتے ہیں بلکہ انتہائی اہم آئینی تقاضوں سے انحراف کی راہ بھی ہموار ہو جاتی ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کا یہ بیانیہ کہ سول سروس کے کسی بھی افسر کی اس حوالے سے شناخت موجود نہیں، ایک المیہ ہے جو کہ آئین پاکستان کی روح اور تقاضوں کے منافی ہے۔
پاکستان میں بسنے والی بیشتر اقلیتیں اپنے ناموں اور شناخت کے حوالے سے جدا گانہ پہچان رکھتی ہیں۔ لیکن ہمارے آئین کی رو سے قرار دی گئی ایک اقلیت اپنے ناموں اور عمومی پہچان کے حوالے سے بظاہر مختلف تشخص نہیں رکھتی۔ اسی لئے ایک سنگین آئینی مسئلہ جنم لیتا ہے اور وہ بآسانی اپنے ناموں کی وجہ سے اپنے عقیدہ کو مخفی رکھ کر مسلم اکثریت میں شامل ہو جاتے ہیں اور اعلیٰ اور حساس مناصب تک رسائی حاصل کر کے ریاست سے فوائد سمیٹتے رہتے ہیں۔ اسلامیات کا مضمون پڑھانے کے لئے اساتذہ کا مسلمان ہونا لازمی شرط قرار دیا جائے۔ اس صورتحال کا تدارک اس لئے ضروری ہے کہ بعض آئینی عہدوں پر کسی غیر مسلم کی تقرری یا انتخاب ہمارے دستور کے خلاف ہے۔ چونکہ پارلیمنٹ کی رکنیت سمیت اکثر محکموں کے لئے اقلیتوں کا خصوصی کوٹہ بھی مقرر ہے۔ اس لئے جب کسی بھی اقلیت سے تعلق رکھنے والا شخص اپنا اصل مذہب اور عقیدہ چھپا کر خود کو فریب کاری کے ذریعے مسلم اکثریت کا جزو ظاہر کرتا ہے تو دراصل وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کے الفاظ اور روح کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ اس خلاف ورزی کو روکنے کے لئے ریاست کو ضروری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ ختم نبوت کا معاملہ ہمارے دین کی اساس ہے اور اس اساس کی حفاظت اور نگہبانی ہر مسلمان پر لازم ہے۔ پارلیمنٹ انتہائی معتبر ادارہ ہونے اور ملک پاکستان کے عوام کی ترجمان ہونے کی حیثیت سے اس اساس کی پاسبان ہے۔ اس ضمن میں پارلیمان سے بھرپور بیداری اور حساسیت کی توقع رکھنا مسلم اکثریت کا حق ہے۔ ختم نبوت کے بنیادی عقیدے کے تحفظ کے ساتھ پارلیمنٹ کو ایسے اقدامات پر بھی غور کرنا چاہئے جن کے ذریعے اس عقیدے پر ضرب لگانے والوں کی سازشوں کا مکمل سدباب ہو سکے۔ ”نبی مہربان ختم المرسلین ہیں اور ان کے بعد کوئی شخص جو نبوت کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا ، خائن اور دائرہ اسلام سے خارج ہے“ کو آئین کے اعلامیہ کے طور پر بھی پڑھا جانا چاہئے۔ پارلیمان اس معاملہ پر غور کرنے کی مجاز ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ قانونی سقم سامنے آتے اور غلطی کا احساس ہوتے ہی پارلیمنٹ نے اجتماعی دانش کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس معاملے پر بھرپور حساسیت کا مظاہرہ کیا اور متذکرہ قانون کو بادی النظر میں آئینی تقاضوں سے ہم آہنگ کیا۔ ایسے معاملات اسی حساسیت اور یکجہتی کا تقاضا کرتے ہیں۔ سینیٹر راجہ ظفر الحق نے ایک منجھے ہوئے قانون دان اور تجربہ کار پارلیمنٹرین کی حیثیت سے اپنی سربراہی میں قائم کمیٹی کی جانب سے انتہائی جامعیت، دیانتداری اور دانشمندی کے ساتھ احاطہ کرتے ہوئے منفی تاثرات کو زائل کیا۔ اب یہ پارلیمان پر منحصر ہے کہ وہ اس معاملہ پر مزید غور یا اجتناب کرے۔
فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ریاست کے لئے لازم ہے کہ سواد اعظم کے حقوق، احساسات اور مذہبی عقائد کا خیال رکھے اور ریاست کے آئین کے ذریعے قرار دیئے گئے ریاست کے مذہب اسلام کے مطابق اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کا اہتمام کرے۔ ان اقدامات کا مقصد معاشرے کو انتشار سے بچانا اور آئینی تقاضوں کے مطابق جداگانہ مذہبی شناخت رکھنے والی تمام اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرنا بھی ہے جو پاکستان کا شہری ہونے کے ناطے انہیں حاصل ہیں۔ فاضل عدالت نے مولانا اللہ وسایا کی درخواست منظور کرتے ہوئے مذکورہ احکامات جاری کئے ہیں۔“
(روزنامہ جنگ ملتان، مورخہ ۱۰/ مارچ ۲۰۱۸ء، ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۸ء ص ۵۱ تا ۵۳)
قادیانی اقلیت کے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ
آرڈر شیٹ
اسلام آباد عدالت عالیہ، اسلام آباد
مولانا اللہ وسایا (رٹ پٹیشن نمبر 3862|2017) بنام: فیڈریشن آف پاکستان بذریعہ سیکرٹری، منسٹری آف لاء اینڈ جسٹس، وغیرہ
....................................
یونس قریشی، وغیرہ (رٹ پٹیشن نمبر 3847|2017) بنام: فیڈرل گورنمنٹ بذریعہ وزیراعظم اسلامیہ جمہوریہ پاکستان، وغیرہ
....................................
تحریک لبیک یا رسول اللہ (رٹ پٹیشن نمبر 3896|2017) بنام: فیڈرل گورنمنٹ بذریعہ وزیراعظم اسلامیہ جمہوریہ پاکستان، وغیرہ
....................................
سول سوسائٹی بذریعہ صدر (رٹ پٹیشن نمبر 4093|2017) بنام: فیڈرل گورنمنٹ بذریعہ وزیراعظم اسلامیہ جمہوریہ پاکستان، وغیرہ
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نمبر شمار حکم و کارروائی تاریخ حکم حکم بمع دستخط جج اور دستخط فریقین و وکلاء (جہاں ضروری ہوں) 1 2 3 20 09-03-2018
حافظ عرفات احمد چوہدری، مس کاشفہ نیاز اعوان اور زاہد تنویر فاضل وکلاء بمع سائل (رٹ پٹیشن نمبر 3862|2017) جناب محمد طارق اسد، ایڈووکیٹ (رٹ پٹیشن نمبر 3847|2017) حافظ فرمان اللہ، ایڈووکیٹ، سید محمد اقبال ہاشمی، ایڈووکیٹ، مس بسمہ نورین، انٹروینرز۔
مسئول علیہم: ارشد محمود کیانی، ڈپٹی اٹارنی جنرل، مس نویدہ نور، ایڈووکیٹ، آئی بی، جناب نعمان منور، اصغر، نمائندگان منسٹری آف لاء اینڈ جسٹس، سید جنید جعفر، لاء آفیسر، جناب عثمان یوسف مبین، چیئرمین، جناب ثاقب جمال، ڈائریکٹر لیگل اور ذوالفقار علی، ڈی جی پروجیکٹ، نادرا
جناب کامران رفعت، ڈپٹی ڈائریکٹر، فیڈرل پبلک سروس کمیشن، جناب ایم شاہد، ڈپٹی ڈائریکٹر، جناب زرناب خٹک، ایس او، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، جناب قیصر مسعود، ایڈیشنل ڈائریکٹر لاء، ایف آئی اے، جناب وقار چوہدری، ڈی جی، لیجسلیشن، قومی اسمبلی
عدالتی معاونین (مذہبی عالم): پروفیسر ڈاکٹر حسن مدنی، پروفیسر ڈاکٹر صاحبزادہ ساجد الرحمٰن، پروفیسر ڈاکٹر محسن نقوی، مفتی محمد حسین خلیل خیل۔
عدالتی معاونین (آئینی ماہر): جناب محمد اکرم شیخ، سینئر ایڈووکیٹ، سپریم کورٹ، ڈاکٹر محمد اسلم خاکی، سینئر ایڈووکیٹ، سپریم کورٹ، ڈاکٹر بابر اعوان، سینئر ایڈووکیٹ، سپریم کورٹ۔
تواریخ سماعت:
22.02.2018 , 23.02.2018 , 26.02.2018 27.02.2018 , 28.02.2018 , 01.03.2018 , 02.03.2018 , 05.03.2018 , 06.03.2018 & 07.03.2018
شوکت عزیز صدیقی: ان تمام وجوہات کی بناء پر جو کہ بعد میں درج کی جائیں گی، یہ تمام آئینی درخواستیں مندرجہ ذیل اعلانیہ و احکامات کے ساتھ منظور کی جاتی ہیں:
- ۱...... دین اسلام اور آئین پاکستان مذہبی آزادی سمیت اقلیتوں (غیر مسلموں) کے تمام بنیادی حقوق کی مکمل ضمانت فراہم کرتا ہے۔
ریاست پر لازم ہے کہ ان کی جان، مال، جائیداد اور عزت و آبرو کی حفاظت کرے اور بطور شہری ان کے مفادات کا تحفظ کرے۔ آئین کی شق نمبر 5 کے مطابق ہر شہری کا بنیادی فرض ہے کہ وہ ریاست کا وفادار اور آئین و قانون کا پابند ہو۔ یہ فریضہ ان افراد پر بھی لازم ہے جو پاکستان کے شہری نہیں، لیکن یہاں موجود ہیں۔
- ۲...... ریاست پاکستان کے ہر شہری کے لئے لازم ہے کہ وہ اپنی شناخت درست اور صحیح کوائف کے ساتھ کرائے۔ کسی مسلم کو اس امر
کی اجازت نہیں کہ وہ اپنی شناخت کو غیر مسلم میں چھپائے، بعینہ کسی غیر مسلم کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ خود کو مسلم ظاہر کر کے اپنی پہچان اور شناخت کو چھپائے۔ ایسا کرنے والا ہر شہری ریاست سے دھوکہ دہی کا مرتکب ہوتا ہے، جو کہ آئین کو پامال کرنے اور ریاست سے استحصال کے زمرے میں آتا ہے۔
- ۳...... آئین پاکستان کی شق نمبر ۲۶۰ ذیلی شق ۳ جز۔اے اور بی میں مسلم اور غیر مسلم کی تعریف بالصراحت موجود ہے، جسے اجماع قوم
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کی حیثیت حاصل ہے۔ بدقسمتی سے اس واضح معیار کے مطابق ضروری قانون سازی نہیں کی جاسکی۔ نتیجۃً غیر مسلم اقلیت اپنی اصل شناخت چھپا کر اور ریاست کو دھوکہ دیتے ہوئے خود کو مسلم اکثریت کا حصہ ظاہر کرتی ہے، جس سے نہ صرف مسائل جنم لیتے ہیں، بلکہ انتہائی اہم آئینی تقاضوں سے انحراف کی راہ بھی ہموار ہوجاتی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کا یہ بیانیہ کہ سول سروس کے کسی بھی افسر کی اس حوالے سے شناخت موجود نہیں، ایک المیہ ہے، جو کہ آئین پاکستان کی روح اور تقاضوں کے منافی ہے۔
- ۴...... پاکستان میں بسنے والی بیشتر اقلیتیں اپنے ناموں اور شناخت کے حوالے سے جداگانہ پہچان رکھتی ہیں، لیکن ہمارے آئین کی رو سے
قرار دی گئی ایک اقلیت اپنے ناموں اور عمومی پہچان کے حوالے سے بظاہر مختلف تشخص نہیں رکھتی۔ بدیں وجہ ایک سنگین آئینی مسئلہ جنم لیتا ہے، وہ باآسانی اپنے ناموں کی وجہ سے اپنے عقیدہ کو مخفی رکھ کر مسلم اکثریت میں شامل ہوجاتے ہیں اور اعلیٰ اور حساس مناصب تک رسائی حاصل کر کے ریاست سے فوائد سمیٹتے رہتے ہیں۔ اسلامیات کا مضمون پڑھانے کے لئے اساتذہ کے لئے مسلمان ہونا لازمی شرط قرار دیا جائے۔
- ۵...... اس صورتحال کا تدارک اس لئے ضروری ہے کہ بعض آئینی عہدوں پر کسی غیر مسلم کی تقرری یا انتخاب ہمارے دستور کے خلاف
ہے۔ چونکہ پارلیمنٹ کی رکنیت سمیت اکثر محکموں کے لئے اقلیتوں کا خصوصی کوٹہ بھی مقرر ہے، اس لئے جب کسی بھی اقلیت سے تعلق رکھنے والا شخص اپنا اصل مذہب اور عقیدہ چھپا کر خود کو فریب کاری کے ذریعہ مسلم اکثریت کا جزو ظاہر کرتا ہے تو دراصل وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے الفاظ اور روح کی صریح خلاف ورزی کرتا ہے۔ اس خلاف ورزی کو روکنے کے لئے ریاست کو ضروری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
- ۶...... ختم نبوت کا معاملہ ہمارے دین کی اساس ہے۔ تاریخ میں اس اساس پر حملوں کی لاتعداد مثالیں موجود ہیں۔ اس اساس کی
حفاظت و نگہبانی ہر مسلمان پر لازم ہے۔ پارلیمنٹ انتہائی معتبر ادارہ ہونے اور ملک پاکستان کے عوام کی ترجمان ہونے کی حیثیت سے اس اساس کی پاسبان ہے۔
اس ضمن میں پارلیمان سے بھرپور بیداری اور حساسیت کی توقع رکھنا مسلم اکثریت کا حق ہے۔ ختم نبوت کے بنیادی عقیدے کے تحفظ کے ساتھ پارلیمنٹ کو ایسے اقدامات پر بھی غور کرنا چاہیے جن کے ذریعے اس عقیدے پر ضرب لگانے والوں کی سازشوں کا مکمل سدباب ہوسکے۔ ”نبی مہربان حضرت محمد ﷺ خاتم المرسلین ہیں اور ان کے بعد کوئی شخص جو نبوت کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا، خائن اور دائرہ اسلام سے خارج ہے ۔“ کو آئین کے اعلامیہ کے طور پر بھی پڑھا جانا چاہیے، پارلیمان اس معاملہ پر غور کرنے کی مجاز ہے۔
- ۷...... یہ امر خوش آئند ہے کہ قانونی سقم سامنے آتے اور غلطی کا احساس ہوتے ہی پارلیمنٹ نے اجتماعی دانش کا مظاہرہ کرتے ہوئے
اس معاملے پر بھرپور حساسیت کا مظاہرہ کیا اور متذکرہ قانون کو بادی النظر میں آئینی تقاضوں کے ہم آہنگ کیا۔ ایسے معاملات اسی حساسیت اور یکجہتی کا تقاضا کرتے ہیں۔ سینیٹر راجہ ظفر الحق نے ایک منجھے ہوئے قانون دان اور تجربہ کار پارلیمنٹرین کی حیثیت سے اپنی سربراہی میں قائم کردہ کمیٹی کی جانب سے انتہائی اعلیٰ رپورٹ مرتب کی، جس میں معاملے کے تمام پہلوؤں کا انتہائی جامعیت، دیانت داری اور دانش مندی کے ساتھ احاطہ کرتے ہوئے منفی تاثرات کو زائل کیا۔ اب یہ پارلیمان پر منحصر ہے کہ وہ اس معاملہ پر مزید غور کرے یا اجتناب۔
- ۸...... ریاست کے لئے لازم ہے کہ سوادِ اعظم کے حقوق، احساسات اور مذہبی عقائد کا خیال رکھے اور ریاست کے آئین کے ذریعہ
قرار دیے گئے ریاست کے مذہب ”اسلام“ کے مطابق اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کا اہتمام کرے۔
بلاشبہ ان اقدامات کا مقصد معاشرے کو انتشار سے بچانا اور آئینی تقاضوں کے مطابق جداگانہ مذہبی شناخت رکھنے والی تمام
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ۲۰۶ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرنا بھی ہے، جو پاکستان کا شہری ہونے کے ناطے اُنہیں حاصل ہیں۔ لہٰذا عدالت یہ حکم جاری کرتی ہے کہ:
- (۱) شناختی کارڈ، پیدائشی سرٹیفکیٹ ، پاسپورٹ کے حصول اور انتخابی فہرستوں میں اندراج کے لئے درخواست گزار سے آئین
کی شق 260 ذیلی شق 3 اور جز اے بی میں مسلم اور غیر مسلم کی تعریف پرمبنی بیان حلفی لازمی قرار دیا جائے۔
- (۲) تمام سرکاری ونیم سرکاری محکموں بشمول عدلیہ، مسلح افواج، اعلیٰ سول سروسز میں ملازمت کے حصول یا شمولیت کو بھی متذکرہ
بالا بیان حلفی سے مشروط قرار دیا جائے۔
- (۳) نادرا اپنے قواعد میں کسی بھی شہری کی طرف سے اپنے درج شدہ کوائف، بالخصوص مذہب کے حوالے سے درستی کے لئے
مدت کا تعین کرے۔
- (۴) مقننہ آئین کے تقاضوں، عدالت عظمیٰ کے فیصلہ 1993SCMR1748 اور عدالت عالیہ لاہور کے فیصلہ PLD1992
1 Lah میں طے شدہ قانونی بنیادوں کو روبعمل لا کر ضروری قانون سازی کرے اور ایسی تمام اصطلاحات جو دین اسلام اور مسلمانوں کے لئے مخصوص ہیں، انہیں کسی بھی اقلیت سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنی پہچان چھپانے کی غرض یا دیگر مقاصد کے لئے استعمال سے روکنے کے لئے بھی موجودہ قانون میں ضروری ترمیم اور اضافہ کرے۔
- (۵) حکومت پاکستان اس بات کا خصوصی اہتمام کرے کہ ریاست کے تمام شہریوں کے درست کوائف موجود ہوں اور کسی بھی
شہری کے لئے اپنی اصل پہچان اور شناخت چھپانا ممکن نہ ہو سکے۔ نادرا میں قادیانیوں/ مرزائیوں کی درج شدہ تعداد اور مردم شماری کے ذریعے اکٹھے کئے گئے اعداد وشمار میں نمایاں فرق کی تحقیقات کے لئے فوری اقدام اٹھائے جائیں۔
- (۶) ریاست اس بات کی پابند ہے کہ وہ مسلم اُمہ کے حقوق، جذبات اور مذہبی عقائد کی حفاظت کرے اور اسلام کی تعلیمات کی
روشنی میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے۔
اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی توفیق سے تمام فاضل وکلاء، قانونی ماہرین اور مذہبی اسکالرز نے اس مقدمہ کے دوران بھر پور معاونت کی اور یہ عدالت ان کی کاوشوں کا اعتراف کرتی ہے۔ اسی طرح تمام سرکاری افسران ۔ جو مختلف اداروں سے تعلق رکھتے ہیں۔ کا تعاون قابل تعریف تھا۔ مزید برآں جناب ارشد محمود کیانی، ڈپٹی اٹارنی جنرل صاحب نے مثالی کردار ادا کیا اور اپنی ہمہ وقت کاوش وانتھک محنت سے عدالت کی طرف سے لگائی جانے والی ذمہ داریوں کو بطریق احسن ادا کیا، جس سے عدالت کو صحیح نتائج پر پہنچنے میں مدد ملی۔
یہ حکم اردو اور انگلش دونوں زبانوں میں جاری کیا جارہا ہے۔‘‘
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۸ء ص ۲۳ تا ۵۰)
۹؍ مارچ ۲۰۱۸ء کو جناب جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اپنے فیصلہ کی آرڈر شیٹ جاری کی جو آپ نے پڑھی۔ بعد میں ان کا تفصیلی فیصلہ پہلے انگلش میں آیا جو:
پی ایل ڈی فروری ۲۰۱۹ء اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلوں کے ص ۶۲ تا ۱۰۴ قسط نمبر ۱ // // مارچ // // // // // ص ۱۰۵ تا ۱۳۶ قسط نمبر ۲ // // اپریل // // // // // ص ۱۳۷ تا ۱۸۴ قسط نمبر ۳ // // مئی // // // // // ص ۱۸۵ تا ۲۲۹ قسط نمبر ۴
میں جا کر پورے فیصلہ کی اشاعت مکمل ہوئی۔ ذیل میں اس فیصلہ کے مکمل متن کا اردو ترجمہ پیش خدمت ہے:
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
فیصلہ:
اسلام آباد ہائیکورٹ، اسلام آباد
عدالتی شعبہ
آئینی درخواست ہائے نمبری 3862, 3847, 3896 اور 4093 بابت سال 2017ء
مولانا اللہ وسایا
(آئینی درخواست نمبری 3862/2017)
یونس قریشی وغیرہ
(آئینی درخواست نمبری 3847/2017)
تحریک لبیک یارسول اللہ ﷺ
(آئینی درخواست نمبری 3896/2017)
سول سوسائٹی بذریعہ صدر
(آئینی درخواست نمبری 4093/2017)
بنام
وفاق پاکستان بذریعہ سیکرٹری وزارت قانون وانصاف، وغیرہ
(آئینی درخواست نمبری 3862/2017)
وفاقی حکومت بذریعہ وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان، وغیرہ
(آئینی درخواست نمبری 3847, 3896 & 4093/2017)
وکلاء درخواست دہندگان: حافظ عرفات احمد چودھری اور محترمہ کاشفہ، نیاز اعوان، ایڈووکیٹس ہمراہ معاونین ایم زاہد تنویر ایڈووکیٹ اور سائل ۔
(آئینی درخواست نمبری 3862/2017)
محمد طارق اسد، ایڈووکیٹ سپریم کورٹ
(آئینی درخواست ہائے نمبری 3847 & 4093/2017)
حافظ فرمان اللہ ایڈووکیٹ ۔ نعمان منیر پراچہ، ایڈووکیٹ ۔ سید محمد اقبال ہاشمی ایڈووکیٹ
مداخلت کنندگان: محترمہ امیر جہاں المعروف بسمہ نورین مداخلت کنندہ ۔ (جملہ مقدمات میں)
وکلاء جواب دہندگان جناب: ارشد محمود کیانی، ڈپٹی اٹارنی جنرل ۔ محترمہ نویدہ نور، ایڈووکیٹ برائے آئی جی جناب نعمان منور اور اصغر، نمائندہ وزارت قانون وانصاف۔ عثمان یوسف مبین، چیئر مین نادرا۔ سید جنید جعفر، لاء آفیسر نادرا، ثاقب جمال، ڈائریکٹر (لیگل) اور ذوالفقار علی، ڈی جی (پراجیکٹس) نادرا۔ کامران رفعت، ڈپٹی ڈائریکٹر (لیگل)، ایف پی ایس سی، اسلام آباد۔ ایم شاہد ڈائیو، ڈپٹی ڈائریکٹر اور زرناب خٹک، ایس او، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن ۔ قیصر مسعود، ایڈیشنل ڈائریکٹر (لاء) ایف آئی اے ۔ وقار چودھری، ڈیٹا پراسیسنگ آفیسر (لیٹی گیشن )، قومی اسمبلی (جملہ مقدمات میں)
منصف کے مددگار (مذہبی مفکرین): پروفیسر ڈاکٹر حافظ حسن مدنی (2018-2-26)، پروفیسر ڈاکٹر صاحبزادہ ساجد الرحمن (2018-2-27)، پروفیسر ڈاکٹر محسن نقوی (2018-2-28)، مفتی محمد حسین خلیل خیل (2018-03-01)
(جملہ مقدمات میں)
منصف کے مددگار (آئینی ماہرین): محمد اکرم شیخ، سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ (2018-03-02)، ڈاکٹر محمد اسلم خاکی، ایڈووکیٹ سپریم کورٹ بمعہ معاون محترمہ یاسمین حیدر ایڈووکیٹ (2018-03-05)، ڈاکٹر بابر اعوان، سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ (2018-03-05)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ۲۰۸ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
(جملہ مقدمات میں)
تواریخ سماعت: 22-02-2018, 23-02-2018, 26-02-2018, 27-02-2018, 28-02-2018, 01-03-2018, 02-03-2018, 05-03-2018,06-03-2018, 07-03-2018 & 09-03-2018
................ ۞ ................ ۞ ................
شوکت عزیز صدیقی، جج: اس ایک فیصلہ کے ذریعے جملہ عنوانی آئینی درخواستیں مندرجہ بالا نپٹائی جاتی ہیں کیونکہ تمام میں قانون اور حقائق کے یکساں سوالات درپیش ہیں۔
- ۲...... آئینی درخواست نمبری 3862/2017 میں درخواست دہندہ مولانا اللہ وسایا ایک نامور مذہبی سکالر ہیں، اسلام کے مختلف
موضوعات پر بہت سی مشہور کتابیں تصنیف کرچکے ہیں اور ’عقیدہ ختم نبوت‘ پر ان گنت لیکچر دے چکے ہیں جو ان کے کام کا موضوع رہا ہے۔ انہوں نے حضرت محمد ﷺ پر نبوت کی تکمیل کے عقیدے پر بہت سی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں ”آئینہ قادیانیت“ ، ”پارلیمان میں قادیانی شکست“ اور ”تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء“ شامل ہیں۔
- ۳...... آئینی درخواست نمبری 3847/2017 میں درخواست دہندگان (مولانا یونس قریشی، ڈاکٹر طیب الرحمٰن زیدی، مولانا فضل
الرحمٰن مدنی) مذہبی سکالر اور مختلف جامع مساجد کے امام ہیں جب کہ درخواست گزار نمبر 4 (عبیداللہ) ایک سماجی کارکن ہیں۔ آئینی درخواست نمبری 3896/2017 تحریک لبیک یا رسول اللہ نے اپنے مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن کے ذریعے دائر کی ہے تاہم بعد ازاں کوئی بھی اس معاملے کو چلانے کے لئے عدالت ہذا کے روبرو پیش نہ ہوا۔ البتہ چونکہ اس آئینی درخواست کو دیگر اسی طرح کی آئینی درخواستوں کے ساتھ جوڑ دیا گیا تھا اس لئے اس پر بھی فیصلہ سنایا جاتا ہے۔ آئینی درخواست نمبری 4093/2017 سول سوسائٹی کی جانب سے اپنے صدر محمد طاہر کے ذریعے دائر کی گئی تھی۔ بعد ازاں سید اقبال ہاشمی ایڈووکیٹ اور محترمہ امیر جہاں المعروف بسمہ نورین نے عدالت ہذا کے روبرو کاروائی میں بطور مداخلت کنندہ شمولیت اختیار کی۔
- ۴...... درخواست دہندگان نے اپنی آئینی درخواستوں کے ذریعے عدالت ہذا کو آئین کے تحت حاصل اختیار سماعت کو بروئے کار
لاتے ہوئے درج ذیل استدعاؤں پر حکم جاری کرنے کی عرض پیش کی ہے۔
آئینی درخواست نمبری 3862/2017
”پس، یہ مؤدبانہ استدعا کی جاتی ہے کہ معزز عدالت مہربانی فرما کر؛
- الف...... مسئول الیہ نمبری 1 کو ہدایت جاری کی جائے کہ قادیانی گروہ/ لاہوری گروہ سے متعلق قانونی دفعات کلیت کے ساتھ (جو کہ
الیکشن ایکٹ 2017ء کے اجراء سے قبل موجود تھیں) کی بحالی کے لئے فوری طور پر مطلوبہ اقدامات کرے اور اسی مسئول الیہ کو مزید ہدایت جاری کی جائے کہ یہ تمام دفعات بنیادی قانون سازی یعنی الیکشن ایکٹ 2017ء کا حصہ بنائی جائیں۔
- ب...... مسئول الیہ نمبری 3 کو ہدایت جاری کی جائے کہ اب کے بعد ایسے افراد کا علیحدہ بنیادی اعداد و شمار (ڈیٹا بیس) تیار کیا جائے
جن کا قادیانی گروہ/ لاہوری گروہ سے تعلق ہو اور جو ملکی ملازمت کا حصہ ہیں تاکہ مستقبل میں انہیں ایسے عہدوں پر تعینات نہ کیا جائے جن میں حساس معاملہ / معاملات شامل ہوں جیسا کہ درخواست ہذا میں اٹھائے گئے ہیں؛
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ج...... مسئول الیہ نمبری 2 کو ہدایت جاری کی جائے کہ وہ اچھی ساکھ کے حامل اور دیانتدار افسر/افسران کے ذریعے ان عناصر اور قوتوں کی مکمل چھان بین کرے جو درج بالا غیر آئینی اور غیر قانونی افعال کے پیچھے کارفرما تھے؛
- د...... مسئول الیہ نمبری 3 کو ہدایت جاری کی جائے وہ قادیانی گروہ/لاہوری گروہ سے تعلق رکھنے والے ایسے افراد/افسران کی ان کے عہدوں سمیت تفصیلی رپورٹ ریکارڈ پر لائے جو اس وقت وفاقی حکومت میں کام کر رہے ہیں؛
کوئی اور ایسی اعانت جو یہ معزز عدالت ضروری اور درپیش حالات میں منصفانہ گردانتی ہے بھی مرحمت فرمائی جائے۔‘‘
آئینی درخواست برائے اجراء پروانہ نمبری 3847/2017
’’لہٰذا درج بالا حالات کے تناظر میں انتہائی مؤدبانہ استدعا کی جاتی ہے کہ یہ معزز عدالت مہربانی فرما کر:
- الف...... ایک غیر جانبدار جوڈیشل کمیشن کا قیام عمل میں لایا جائے تا کہ ڈیکلریشن میں تبدیلی اور سابقہ کنڈکٹ آف جنرل الیکشنز آرڈر 2002ء میں موجود 7(b) اور 7(c) کی دفعات کو حذف کئے جانے کی انکوائری کی جائے تا کہ ذمہ داروں کا تعین ہو، خاص طور پر مسئول الیہ نمبری 8، 9 اور 10 سے قانون کے مطابق نمٹا جا سکے؛
- ب...... الیکشن ایکٹ 2017ء میں ’’نامزد شخص کی جانب سے ڈیکلریشن اور حلف نامہ‘‘ اصل حالت میں بحال کیا جائے جیسا کہ عوامی نمائندگی کے (کنڈکٹ آف الیکشن) رولز 1977ء میں وضع کیا گیا تھا اور اس میں دفعات 7(b) اور 7(c) کے مسودے کو شامل کیا جائے جیسا کہ سابقہ کنڈکٹ آف جنرل الیکشنز آرڈر 2002ء میں موجود تھا؛
- ج...... مسئول الیہ نمبر 1 کو ہدایت کی جائے کہ راجہ ظفر الحق کی سربراہی میں قائم کمیٹی کی انکوائری رپورٹ کو فی الفور شائع کرے۔
- د...... کوئی اور ایسی اعانت جو یہ معزز عدالت ضروری اور درپیش حالات میں منصفانہ گردانتی ہے بھی مرحمت فرمائی جائے۔‘‘
آئینی درخواست نمبری 3896/2017
’’درج بالا بحث کے تناظر میں معزز عدالت سے مؤدبانہ گزارش کی جاتی ہے کہ اس درخواست کو منظور فرماتے ہوئے وفاقی حکومت کو ہدایت جاری کی جائے، مسئول الیہ جس کی نمائندگی کر رہے ہیں، کہ راجہ ظفر الحق کی جانب سے پیش کردہ انکوائری رپورٹ کو شائع اور مشتہر کرے اور اس میں تعین کردہ مجرموں کے خلاف براہ مہربانی متعلقہ قانون کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے۔
کوئی اور ایسی اعانت جو یہ معزز عدالت ضروری اور درپیش حالات میں منصفانہ گردانتی ہے بھی مرحمت فرمائی جائے۔‘‘
آئینی درخواست نمبری 4093/2017
’’درج بالا حالات کے تناظر میں انتہائی مؤدبانہ استدعا کی جاتی ہے کہ یہ معزز عدالت مہربانی فرما کر:
- الف...... ایک غیر جانبدار جوڈیشل کمیشن قائم کرے تا کہ مسئول الیہم نمبر 8، 9 اور 10 سمیت افراد کے خلاف انکوائری مقرر کی جاسکے جو کہ سابقہ کنڈکٹ آف جنرل الیکشنز آرڈر 2002ء میں موجود ڈیکلریشن میں تبدیلی اور دفعات 7(b) اور 7(c) کو حذف کرنے کے فعل کے مرتکب ہوئے ہیں اور ان سے قانون کے مطابق نمٹا جا سکے۔
- ب...... مسئول الیہ نمبری 1 کو ہدایت دی جائے کہ راجہ ظفر الحق کی سربراہی میں قائم کمیٹی کی انکوائری رپورٹ کو فوری طور پر مشتہر کرے،
- ج...... ان غیر سرکاری تنظیموں پر جو کہ ملک میں لادینی سوچ کو فروغ دے رہی ہیں پر پابندی عائد کی جائے۔
- د...... کوئی اور ایسی اعانت جو یہ معزز عدالت منصفانہ گردانتی ہے بھی مرحمت فرمائی جائے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کوئی اور اعانت جسے یہ معزز عدالت مناسب سمجھتی ہو، اس آئینی درخواست کی بنا پر مرحمت فرمائی جائے۔‘‘
......۵ عنوان بالا آئینی درخواستوں میں جو بیش تر ایک جیسے حقائق پیش کئے گئے ان کو درج ذیل میں اختصار سے پیش کیا جا رہا ہے:-
مؤرخہ ۲/ اکتوبر ۲۰۱۷ء کو وفاقی حکومت نے الیکشنز ایکٹ 2017ء (جو اس کے بعد یا تو 2017ء ایکٹ یا ایکٹ متدعویہ لکھا جائے گا) کے عنوان سے ایک نیا قانون متعارف کروایا جس کا مقصد انتخابات کے انعقاد اور ان سے متعلق یا ذیلی معاملات میں ترمیم، یکجا اور منسلک کرنا تھا جب کہ 2017ء ایکٹ کی دفعہ 241 کے تحت درج ذیل قوانین کو منسوخ کر دیا گیا تھا:
- a) The Electoral Rolls Act, 1974 (Act No. XXXIV of 1974).
- b) The Delimitation of Constituencies Act, 1974 (Ac No. XXXIV of 1974.
- c) The Senate Election Act, 1975 (Act No. LI of 1975).
- d) The Representation of the People Act, 1976 (Act No. LXXXV of 1976).
- e) The Election Commission Order 2002 (Chief Executive's Order No.1 of
2002.
- f) The Conduct of General Election Order, 2002 (Chief Executive's Order
No. 7 of 2002).
- g) The Political Parties Order, 2002 (Chief Executive's Order No. 18 of
2002).
- h) The Allocation of Symbols Order, 2002.
درج بالا قوانین اور آئین (دوسری ترمیم) ایکٹ ۱۹۷۴ء کے تحت بننے والے قواعد (جو بلاشبہ وطن عزیز کے مسلمانوں کی طویل، غیر متزلزل اور متعین کوششوں بشمول کنڈکٹ آف جنرل الیکشنز آرڈر ۲۰۰۲ء کی دفعات ۷۔بی اور ۷۔سی جو اقلیت کے مرتبہ اور امیدوار کے مذہب کے تعین کے طریقہ کار سے متعلق ہیں) کے منسوخ کئے اور اس کے نتیجے میں قادیانی گروہ/ لاہوری گروہ (اب کے بعد جس کا حوالہ لفظ قادیانی کی صورت آئے گا) کی قانونی حیثیت کی منسوخی سے ملک گیر احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ بہت سارے لوگ جن کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے تھے اسلام آباد میں جمع ہوئے اور فیض آباد کے قریب ایک احتجاج / دھرنا دے کر بیٹھ گئے جس سے جڑواں شہروں میں زندگی مفلوج ہوگئی اور بظاہر حکومتی مشینری، اگر چہ جس کو تسلیم نہیں کیا گیا ہے، جامد ہوگئی۔ عوامی ردعمل کے نتیجے میں وفاقی حکومت نے 2017ء ایکٹ میں ایکٹ نمبر XXXV of 2017 (جسے اب کے بعد ترمیم شدہ ایکٹ لکھا جائے گا) کے ذریعے چند ترامیم کیں اور 19-10-2017 کو سرکاری گزٹ میں شائع کیں۔ تاہم، بدقسمتی سے یہ ترامیم انتہائی فاش غلطیوں کے مترادف تھیں کیونکہ قادیانیوں سے متعلق بہت سی دفعات جو کہ منسوخ شدہ قوانین کی جزو لاینفک تھیں مکمل طور پر بحال نہیں کی گئی تھیں اور ترمیم شدہ ایکٹ کو نظر کا دھوکا تصور کیا جارہا تھا۔ 2017 کے ایکٹ کے ذریعے قادیانیوں سے متعلق اکثر معاملات ان تفویض شدہ قانون سازی / قواعد پر چھوڑ دیا گیا تھا جنہیں الیکشن کمیشن آف پاکستان (جسے اب کے بعد کمیشن لکھا جائے گا) نے 2017 ایکٹ کی دفعہ 239 کے تحت ابھی وضع کرنا تھے اور وہ بھی وفاقی حکومت کی منظوری کے بغیر جو کہ ملکی آئین کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ اس کے علاوہ یہ اس بات کا بھی مظہر ہے کہ کوئی خفیہ
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہاتھ مکمل طور پر قابل گریز تنازع کے پیدا ہونے کے پیچھے موجود تھا۔ 2017 ایکٹ کی مختلف دفعات کی غیر ضروری قانون سازی نقص امن پر منتج ہوئی۔ ان آئینی درخواستوں میں ایک اور دلیل یہ دی گئی ہے کہ قادیانی ملک میں دوسری اقلیتوں کی طرح عمومی طور پر اپنی شناخت ظاہر نہیں کرتے اور ان میں سے اکثریت بہت سے اہم حکومتی عہدوں پر فائز ہیں جہاں وہ معاملات کو اپنے ظاہری مفاد کے لئے استعمال کر سکتے ہیں اور اصل میں کر بھی رہے ہیں۔
۶...... ابتدائی سماعت کی تاریخ 14-11-2017 کو عدالت نے متدعویہ ایکٹ کے نفاذ کو ختم نبوت کی حد تک معطل کر دیا کیونکہ یہ حد اختیار کے برخلاف اور Constitution (Second Amendment) Act, 1974 سے پوری طرح متصادم ہے۔ اٹارنی جنرل آف پاکستان کو ضابطہ دیوانی کے آرڈر XXVII-A کے تناظر میں نوٹس جاری کیے گئے۔ مسئول الیہ کو ہدایت بدرجہ تاکید کی گئی کہ وہ اپنی رپورٹ اور پیرا وائز تحریری جواب دائر کریں جب کہ وفاق کو مزید ہدایت کی گئی کہ سینیٹر راجہ ظفر الحق کی سربراہی میں قائم ہونے والی کمیٹی کی رپورٹ (ظفر الحق رپورٹ) ریکارڈ پر لائے جو بعد ازاں 20-02-2018 کو ایک سربمہر لفافے میں عدالت میں پیش کر دی گئی جو کہ فیصلے میں (Annex-A) کے طور پر منسلک ہے۔ مختلف سماعتوں کے دوران، عدالت ہذا نے مؤرخہ 22-02-2018 کے حکم کے ذریعے نادرا کو ہدایت جاری کی کہ وہ ریکارڈ / تحریری بیان دائر کرے جس میں ایسے افراد کی اصل تعداد بتائی گئی ہو جنہوں نے بالغوں اور نابالغوں کی تقسیم سے اپنے آپ کو قادیانی ظاہر کیا ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسے افراد کی تعداد بھی بتائی جائے جنہوں نے اپنے آپ کو بطور مسلمان رجسٹر کروایا مگر بعد میں اپنی شناخت تبدیل کرتے ہوئے بطور قادیانی ایک نیا شناختی کارڈ حاصل کیا ہو۔ عدالت کو یہ معلومات 23-02-2018 کو بہم پہنچائی گئیں اور ذیلی لف ب (Annex-B) کی شکل میں منسلک ھذا ہے۔ 27-02-2018 کو چیئرمین نادرا نے 10205 افراد کی علیحدہ سے ایک فہرست بھی پیش کی جس میں عمر کے حساب سے تبدیلی مذہب کو دکھایا گیا ہے جس کے ساتھ 6001 افراد کے پاسپورٹوں کی فہرست بھی لف ہے جنہیں بالترتیب ذیلی لف سی اور ذیلی لف ڈی (Annex-C and Annex-D) کے طور پر منسلک کیا گیا ہے۔ اسی تاریخ کو ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کو ہدایت دی گئی کہ 6001 افراد کی سفری معلومات فراہم کریں جنہوں نے نادرا کے ریکارڈ میں تبدیلی مذہب کے بعد بیرون ملک سفر کیا تھا اور 06-03-2018 کو اس ضمن میں ایک سربمہر لفافے میں رپورٹ پیش کی گئی جسے فیصلے کے ساتھ ذیلی لف ای (Annex-E) کے طور پر منسلک کیا گیا ہے۔ حکم مؤرخہ 05-03-2018 کے تحت، قومی اسمبلی اور سینٹ سیکرٹریٹ کے سیکرٹریوں کو ہدایت کی گئی کہ 2017 ایکٹ کی قانون سازی کے حوالے سے کاروائیوں کے اقتباس مہیا کریں اور اس کے ہمراہ ان سینیٹروں کی فہرست بھی دی جائے جنہوں نے سینٹ کے 267 واں اجلاس مؤرخہ 22-09-2017 میں شرکت کی تھی۔ یہ معلومات ایک سربمہر لفافے میں 07-03-2018 کو فراہم کی گئی جو ذیلی لف ایف (Annex-F) کے طور پر منسلک کی گئی ہے۔ فاضل ڈی اے جی نے بھی فیڈرل پبلک سروس کمیشن، پاسپورٹ، نادرا، انتخابی فہرستوں کے فارم بھی فراہم کئے جن میں مذہب سے متعلق اعلامیہ لازمی جزو ہے۔ اسی طرح 1998 کی مردم شماری بھی پیش کی جس میں قادیانیوں کی تعداد دکھائی گئی ہے اور اس کے ساتھ مردم شماری کمشنر اور شماریات ڈویژن اسلام آباد کی رپورٹ بھی لف ہے جسے ذیلی لف جی (Annex-G) کے طور پر لگایا گیا ہے۔
۷...... درخواست گزاروں کے فاضل وکیل نے دلائل پیش کرتے ہوئے عرض کیا کہ درپیش معاملہ انتہائی اہم اور حساس نوعیت کا ہے جس میں مسلمانوں کے مذہبی احساسات اور جذبات شامل ہیں کیونکہ متدعویہ ایکٹ وطن عزیز کے مسلمانوں کی اس طویل جدوجہد کو گہناتا ہے
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جوانہوں نے آئینی ( دوسری ترمیم ) ایکٹ 1974 کے ذریعے یہ قرار دلوانے کے لئے کہا کہ مرزا غلام احمد قادیانی ( قادیانی / لاہوری گروہ ) کے ماننے والے غیر مسلم ہیں جب کہ وہ اپنے اصل عقیدے کو مخفی رکھتے ہوئے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے ہوئے اعمال سرانجام دیتے ہیں۔ فاضل وکیل نے مزید کہا کہ درج بالا آئینی ترمیم کی روشنی میں مختلف قوانین میں ترامیم متعارف کروائی گئی تھیں جن کا مقصد قادیانیوں کو اسلام مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی ممانعت کی گئی تھی۔ ان میں وہ قوانین بھی شامل تھے جنہیں متدعویہ ایکٹ کے ذریعے منسوخ کر دیا گیا ہے۔ ان قوانین کے تحت قادیانیوں کے خلاف ریاست کے قوانین کی خلاف ورزی بالخصوص نمازوں کی ادائیگی، کلمہ طیبہ کے بیجوں کا استعمال، مذہب کی تبلیغ، عربی لفظ السلام علیکم کا استعمال وغیرہ پر مختلف فوجداری مقدمات قائم کیے گئے تھے اور بہت سے مجرموں کے خلاف متعلقہ قوانین کے تحت مقدمے چلائے گئے تھے۔ فاضل وکیل نے مزید اضافہ کیا کہ حکومت کی جانب سے کی گئی متدعویہ ترامیم کے ذریعے منسوخ شدہ قوانین اور قواعد میں قادیانی / لاہوری گروہ سے متعلق دوسری آئینی ترمیم کے تحت ہونے والی قانون سازی بھی غیر موثر ہو گئی ہے۔ جب کہ بعد میں ملک میں عوامی احتجاج کے نتیجے میں وفاقی حکومت کی جانب سے کی جانے والی ترامیم کی جانے والی غلطی کا ازالہ نہیں کرتیں کیونکہ قادیانی / لاہوری گروہ کے حوالے سے بہت سی دفعات جو کہ منسوخ شدہ قوانین کا لازمی جزو تھیں کو کلی طور پر بحال نہیں کیا گیا ہے۔
- ۸...... فاضل وکیل نے مزید کہا کہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک طے شدہ معاملے کو جس کے لئے ملک کے آئین کو ترمیم کے عمل سے گزرنا
پڑا اور جس کے لئے بے شمار مسلمانوں نے اپنی زندگیوں کے نذرانے پیش کئے تھے اس مسئلے کو دوبارہ سے مشکوک انداز میں کیونکر کھولا گیا ہے، خاص طور پر جب کہ قادیانی گروہ / لاہوری گروہ کے متعلق سابقہ دفعات کو بآسانی نئی قانون سازی کا حصہ بنایا جاسکتا تھا اور درپیش حالات اشارہ دیتے ہیں کہ کوئی خفیہ ہاتھ اس کام میں ملوث تھا جب کہ قانون میں متدعویہ تبدیلی نے وطن عزیز کے مسلمانوں کو اشتعال دلایا اور بھڑکایا جس سے امن عامہ، نظم اور سکون متاثر ہوئے ہیں اور اگر متعلقہ حلقوں کی جانب سے ہنگامی بنیادوں پر مناسب اقدامات نہ کیے گئے تو یہ صورتحال ملک میں طبقاتی نفرت اور تصادم کو جنم دے گی۔ فاضل وکیل نے مزید اضافہ کیا کہ دوران سماعت عدالت ہذا کی ہدایت پر اہم حکومتی عہدوں پر قادیانی گروہ / لاہوری گروہ سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعیناتی کے ضمن میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے جو رپورٹ اور پیرا گراف کے مطابق جواب جمع کروایا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ ایسے کوئی اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں، جس کا مطلب ہے کہ کوئی بھی بیورو کریسی میں قادیانیوں کی اصل تعداد سے واقف نہیں ہے جو اس پوزیشن میں ہیں کہ صورتحال کو اپنے مفاد کے لئے استعمال کر سکیں۔ ایک امکان یہ ہے کہ قادیانی وزارت مذہبی امور یا دوسرے آئینی اداروں مثال کے طور پر اسلامی نظریاتی کونسل میں بھی اختیار / فیصلہ سازی کی پوزیشن میں ہو سکتے ہیں۔ سماعت کے دوران عدالت ہذا میں مختلف ایجنسیوں کی جانب سے پیش کردہ تفصیلات کے مطابق اس مذہب (جو کہ یقینی طور پر نہ تو اسلام کا کوئی فرقہ ہو سکتا ہے اور نہ ہی ہے) سے تعلق رکھنے والے افراد اپنی مذہبی شناخت ظاہر نہیں کرتے اس لئے اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ وہ اپنی سرکاری پوزیشن استعمال کرتے ہوئے کسی بھی قانون سازی یا پالیسی سازی کے عمل پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا، عدالت کی جانب سے پابند کیا جائے کہ ایک علیحدہ ڈیٹا بیس (جیسا کہ آئینی درخواست کی استدعا میں کلاز ’’ب‘‘ میں عرض گزاری گئی ہے) انتہائی ضروری ہے۔ فاضل وکیل نے مزید کہا کہ سماعت کے دوران، عدالت ہذا کی ہدایت پر، نادرا ایک چونکا دینے والا مواد پیش کر چکی ہے کہ حالیہ سالوں میں 10,000 سے زائد لوگ اپنا مذہب تبدیل کر کے اسلام کی بجائے قادیانیت اختیار کر چکے ہیں۔ سماعت کے دوران مزید یہ بات کھل کر سامنے آئی کہ نادرا نے اس معاملے کو منظم کرنے کے لئے کوئی قواعد وضوابط وضع نہیں کئے اور یہ لوگ
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
محض ایک بیان حلفی دے کر کہ مذہب کے خانے میں دی گئی اسلام/مسلمان کا اندراج غلط تھا اپنا مذہب اسلام سے قادیانیت میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ اس صورتحال کے تناظر میں فاضل وکیل نے زور دیا کہ وفاقی حکومت کو ہدایت جاری کی جائے کہ نادرا آرڈیننس 2000 کی دفعہ 44 کے تحت باقاعدہ قواعد مرتب کرے جن میں اس مسئلے پر نادرا کے لئے مناسب رہنمائی فراہم کی جائے۔ اگر چہ نادرا اپنے آرڈیننس کی دفعہ 45 کے تحت با اختیار ہے کہ ضوابط وضع کرے تاہم معاملے کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے، اس معاملے کو قواعد کا حصہ بنایا جانا چاہئے جو کہ حکومت نادرا آرڈیننس کی دفعہ 44 کے تحت وضع کرے گی۔ الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ (1)239 کا حوالہ دیتے ہوئے فاضل وکیل نے کہا کہ ’’سرکاری گزٹ میں نوٹیفکیشن کے ذریعے اور کمیشن کی ویب سائٹ پر مشتہر کر کے کمیشن ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے ایکٹ ہذا کے مقاصد کو پانے کے لئے قواعد وضع کر سکتا ہے۔‘‘ قانون درج بالا اس دفعہ نے ختم نبوت کے معاملے کو عدم تحفظ کا شکار کیا ہے۔ الیکشن ایکٹ 2017 کے جاری ہونے سے قبل، بہت سے ایسے قوانین تھے جو کہ نافذ العمل تھے اور اب الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 241 کے ذریعے وہ تمام قوانین (’’منسوخ قوانین‘‘) منسوخ کر دیئے گئے ہیں۔ منسوخ قوانین کے تحت رولز بنانے کے بعد کمیشن پر لازم تھا کہ وفاقی حکومت کی پیشگی منظوری لے لیکن یہ شرط الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ (1)239 کے تحت ختم کر دی گئی ہے۔ چنانچہ یہ معاملہ کمیشن کے افراد کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے جنہیں ختم نبوت کے معاملے پر قواعد بنانے کی آزادی ہے۔ لہٰذا، معاملے کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے، دفعہ (1)239 میں ایک شق کا اضافہ کرنے کی ہدایت کی جائے تاکہ ختم نبوت کے معاملے کو کمیشن کی قانونی استطاعت سے علیحدہ کیا جا سکے۔ مزید برآں، عدالت اپنے آئینی اختیارات استعمال کرتے ہوئے حکومت کو ہدایات دینے کی مجاز ہے کہ الیکشن ایکٹ 2017 میں موزوں ترامیم کرے۔ درج بالا استدعا کی تقویت میں فاضل وکیل نے رپورٹ شدہ جن نظائر پر انحصار کیا ہے ان میں گورنمنٹ آف پنجاب وغیرہ بنام عامر ظہور الحق وغیرہ (پی ایل ڈی 2016 سپریم کورٹ 421)، مہدی حسن علی المعروف مہدی حسن بنام محمد عارف (پی ایل ڈی 2015 سپریم کورٹ 137)، الیکشن کمیشن آف پاکستان بذریعہ سیکرٹری بنام صوبہ پنجاب بذریعہ چیف سیکرٹری وغیرہ (پی ایل ڈی 2014 سپریم کورٹ 668)، میاں شریف شاہ بنام نواب خان اور پانچ دوسرے (پی ایل ڈی 2011 پشاور 86)، محرم علی المعروف یاور علی بنام فیڈریشن آف پاکستان اور چار دیگر (پی ایل ڈی 1998 لاہور 347) اور گورنمنٹ آف بلوچستان بذریعہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری بنام عزیز اللہ میمن اور 16 دیگر (پی ایل ڈی 1993 سپریم کورٹ 341) شامل ہیں۔ فاضل وکیل نے آخر میں درخواست کی وفاقی حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ دو ترامیم کے ذریعے اس نے ختم نبوت کے معاملے پر منسوخ قوانین کی تمام دفعات کو بحال کر دیا ہے۔ یہ اقرار ظاہر کرتا ہے کہ قبل ازیں بد نیتی پر مبنی کوشش کی گئی تھی کہ دوسری آئینی ترمیم کو کالعدم / کمزور کیا جائے۔ اب یہ ایک طے شدہ قانونی بات ہے کہ تابع قانون سازی یعنی پارلیمنٹ کے قانون یا آرڈیننس کے ذریعے ایک آئینی دفعہ کا اثر کمزور / کالعدم نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں جن رپورٹ شدہ نظائر پر انحصار کیا گیا ہے ان میں ڈاکٹر مبشر حسن بنام ایف او پی (پی ایل ڈی 2010 سپریم کورٹ 265)، مبین الاسلام بنام ایف او پی (پی ایل ڈی 2006 سپریم کورٹ 602)، غلام مصطفیٰ انصاری بنام گورنمنٹ آف پنجاب (2004 ایس سی ایم آر 1903)، زمان سیمنٹ کمپنی بنام سنٹرل بورڈ آف ریونیو (2002 ایس سی ایم آر 312)، لیاقت حسین بنام ایف او پی (پی ایل ڈی 1999 سپریم کورٹ 504)، کلکٹر آف کسٹمز بنام شیخ سپننگ ملز (1999 ایس سی ایم آر 1402) اور اے ایم خان لغاری بنام گورنمنٹ آف پاکستان (پی ایل ڈی 1967 لاہور 227) شامل ہیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۹...... معاملہ ہٰذا کی تسلیم شدہ اہمیت اور حساسیت کے سبب عدالت ہٰذا نے درج ذیل سوالات وضع کئے اور ان کی وضاحت کے لیے
ڈاکٹر حافظ حسن مدنی (انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک سٹڈیز، یونیورسٹی آف دی پنجاب، لاہور)، ڈاکٹر محسن نقوی (سابق رکن اسلامی نظریاتی کونسل)، پروفیسر ڈاکٹر صاحبزادہ ساجد الرحمن (رکن اسلامی نظریاتی کونسل) اور جامعہ الرشید کراچی سے مفتی محمد حسین خلیل خیل کو بطور عدالتی معاون مقرر کیا تا کہ وہ اپنی دانشمندانہ معاونت سے عدالت کو مستفید کر سکیں ۔
- الف...... کیا اسلامی ریاست کوئی ایسا قانون وضع کر سکتی ہے جس سے کسی غیر مسلم کو بالواسطہ یا بلا واسطہ طور پر مسلم تصور اور شناخت کیا جائے؟
- ب...... کیا اسلامی ریاست میں غیر مسلم شہریوں کو اس امر کی اجازت دی جاسکتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو بطور مسلم ظاہر / پیش کریں؟
- ج...... اگر غیر مسلم اپنے آپ کو مسلم کے لبادہ میں چھپائیں تو کیا یہ ریاست کے ساتھ دھوکہ دہی کی تعریف میں آئے گا ؟
- د...... اگر درج بالا سوالات کا جواب اثبات میں ہے تو ریاست کی کیا ذمہ داری بنتی ہے؟
- ہ...... کیا اسلامی ریاست کے لیے لازم نہیں ہے کہ وہ اپنے تمام شہریوں کے مذہب اور مذہبی عقائد کے بارے میں مکمل طور پر آگاہ
اور اس حوالہ سے ایک مؤثر اور جامع طریقہ کار واضح کرے؟
- و...... کیا کسی شہری کے مذہب یا مذہبی عقائد کے بارے میں معلوم کرنا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے ضمن میں آتا ہے؟
فاضل علماء کرام مختلف تاریخوں میں پیش ہوئے اور عدالت ہٰذا کے وضع کردہ سوالات پر اپنی دانشمندانہ معاونت سے عدالت کو مستفید کیا ۔ زبانی بحث کے علاوہ فاضل عدالتی معاونین نے تحریری معروضات بھی پیش کیں جو کہ درج ذیل ہیں :۔
- ۱۰...... ڈاکٹر پروفیسر حافظ حسن مدنی مؤرخہ 26.02.2018 کو عدالت ہٰذا میں پیش ہوئے اور انہوں نے ماہرانہ معاونت کرتے
ہوئے معروض کیا کہ :۔
- (i) کہ قرآن پاک اور سنت سپریم قوانین ہیں اور ایک اسلامی ریاست میں قرآن وسنت کی تعلیمات سے متصادم کوئی قانون لاگو
نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ اس ضمن میں انہوں نے سورۃ النساء کی آیت نمبر 65 اور سورۃ مائدہ کی آیت نمبر 47 وغیرہ کا ذکر کیا ہے ۔
- (ii) اسلامی جمہوریہ پاکستان کی دستوری شقوں 1، 31 تا 37، 42، 62، 203، 227 اور 260 کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے
اس بات پر زور دیا کہ دستور واشگاف الفاظ میں قرآن وسنت کی بالا دستی کے بارے میں بتاتا ہے کہ وہ ملک میں تمام قوانین کی اساس ہیں ۔
- (iii) اس امر کی مزید تصریح کی گئی ہے کہ یہ اسلامی ریاست اور مسلمان حکمران کی ذمہ داری ہے کہ وہ قرآن وسنت کی تعلیمات کو مدنظر
رکھتے ہوئے اچھائی کو قائم کریں، برائی کو روکیں، انصاف کریں اور عوام کو روشن خیال اور تعلیم یافتہ بنانے کا اہتمام کریں ۔ اس ضمن میں نقطہ نظر کو مزید اجاگر کرنے کے لیے قرآن مجید کی درج ذیل آیات کا حوالہ دیا گیا ہے :
وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاء بَعْضٍ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَيُطِيعُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أُوْلَئِكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
(9:71)
’’مومن مرد اور مومن عورتیں، یہ سب ایک دوسرے کے رفیق ہیں، بھلائی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، زکوۃ دیتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرتے ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کی رحمت نازل ہو کر رہے گی، یقیناً اللہ سب پر غالب اور حکیم و دانا ہے۔ سورۃ 9/آیت: 71
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
الَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِيْ يَجِدُوْنَهُ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيْلِ يَأْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَالَ الَّتِيْ كَانَتْ عَلَيْهِمْ فَالَّذِيْنَ آمَنُوْا بِهِ وَعَزَّرُوْهُ وَنَصَرُوْهُ وَاتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِيْ أُنْزِلَ مَعَهُ أُولٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (7:157)
وہ جو (محمد ﷺ) رسول (اللہ) کی ، جو نبی اُمی ہیں، پیروی کرتے ہیں جن ( کے اوصاف ) کو وہ اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں، وہ انہیں نیک کام کا حکم دیتے ہیں اور بُرے کام سے روکتے ہیں اور پاک چیزوں کو اُن کے لئے حلال کرتے ہیں اور ناپاک چیزوں کو اُن پر حرام ٹھہراتے ہیں اور اُن پر سے بوجھ اور طوق جو اُن (کے سر ) پر (اور گلے میں ) تھے اتارتے ہیں تو جو لوگ ان پر ایمان لائے اور ان کی رفاقت کی اور انہیں مدد دی اور جو نُور ان کیساتھ نازل ہوا ہے اس کی پیروی کی ، وہی مراد پانے والے ہیں ۔ (سورۃ 7 آیت نمبر 157)
كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللَّهِ وَلَوْ آمَنَ أَهْلُ الْكِتَابِ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ مِّنْهُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ وَأَكْثَرُهُمُ الْفَاسِقُوْنَ (3:110)
(مومنو!) جتنی امتیں (یعنی قومیں) لوگوں میں پیدا ہوئیں تم اُن سب سے بہتر ہو کہ نیک کام کرنے کو کہتے ہو اور بُرے کاموں سے منع کرتے ہو اور اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہو اور اگر اہل کتاب بھی ایمان لے آتے تو اُن کے لئے بہت اچھا ہوتا۔ اُن میں ایمان لانے والے بھی ہیں (لیکن تھوڑے) اور اکثر نافرمان ہیں۔ (سورۃ 3 آیت نمبر 110)
وَلْتَكُنْ مِّنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُوْنَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأُولٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (3:104)
اور تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہئے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائے اور اچھے کام کرنے کا حکم دے اور بُرے کاموں سے منع کرے۔ یہی لوگ ہیں جو نجات پانے والے ہیں۔ (سورۃ 3 آیت نمبر 104)
إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيْتَاءِ ذِي الْقُرْبٰى وَيَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ (90)
اللہ تمہیں انصاف اور احسان کرنے اور رشتہ داروں کو (خرچ سے مدد) دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی اور نامعقول کاموں اور سرکشی سے منع کرتا ہے (اور) تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم یاد رکھو۔ (سورۃ 16 آیت نمبر 90)
يَا أَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا كُوْنُوْا قَوَّامِيْنَ لِلَّهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلٰى أَلَّا تَعْدِلُوْا اِعْدِلُوْا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ خَبِيْرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ (5:8)
اے ایمان والو! اللہ کے لئے انصاف کی گواہی دینے کے لئے کھڑے ہو جایا کرو اور لوگوں کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ انصاف چھوڑ دو (بلکہ) انصاف کیا کرو کہ یہی پرہیزگاری کی بات ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو کچھ شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے۔ (سورۃ 5 آیت نمبر 8)
وَعَدَ اللَّهُ الَّذِيْنَ آمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمُ الَّذِي ارْتَضٰى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَأُولٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ (24:55)
جو لوگ تم میں سے ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے اُن سے اللہ کا وعدہ ہے کہ اُن کو ملک کا حاکم بنادے گا جیسا اُن سے پہلے لوگوں کو حاکم بنایا تھا اور اُن کے دین کو جسے اُس نے ان کے لئے پسند کیا ہے مستحکم و پائیدار کرے گا اور خوف کے بعد ان کو امن بخشے گا، وہ میری عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی اور کو شریک نہ بنائیں گے اور جو اس کے بعد کفر کرے تو ایسے لوگ بدکردار ہیں۔ (سورۃ 24 آیت نمبر 55)
الَّذِيْنَ إِنْ مَّكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ وَلِلّٰهِ عَاقِبَةُ الْأُمُوْرِ (22:41)
یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم ان کو ملک میں دسترس دیں تو نماز پڑھیں اور زکوٰۃ دیں اور نیک کام کرنے کا حکم دیں اور بُرے کاموں سے منع کریں اور سب کاموں کا انجام اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ (سورۃ 22 آیت نمبر 41)
إِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلٰى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ إِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ إِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِيْعاً بَصِيْراً (4:58)
اللہ تم کو حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں اُن کے حوالے کر دیا کرو اور جب لوگوں میں فیصلہ کرنے لگو تو انصاف سے فیصلہ کیا کرو اللہ تعالیٰ تمہیں بہت خوب نصیحت کرتا ہے بیشک اللہ سنتا اور دیکھتا ہے۔ (سورۃ 4 آیت نمبر 58)
لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيْزَانَ لِيَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ وَأَنْزَلْنَا الْحَدِيْدَ فِيْهِ بَأْسٌ شَدِيْدٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ يَنْصُرُهُ وَرُسُلَهُ بِالْغَيْبِ إِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ (57:25)
ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلی نشانیاں دے کر بھیجا اور ان پر کتابیں نازل کیں اور ترازو (یعنی قواعد عدل) تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں اور لوہا پیدا کیا اس میں (اسلحہ جنگ کے لحاظ سے) خطرہ بھی شدید ہے اور لوگوں کے لئے فائدے بھی ہیں اور اس لئے کہ جو لوگ بن دیکھے اللہ اور اس کے پیغمبروں کی مدد کرتے ہیں اللہ کو معلوم کرلے بیشک اللہ قوی (اور) غالب ہے۔ (سورۃ 57 آیت نمبر 25)
وَأَقِيْمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيْزَانَ (55:9)
اور انصاف کے ساتھ ٹھیک تولو اور تول کم مت کرو۔ (سورۃ 55 آیت نمبر 9)
وَأَوْفُوا الْكَيْلَ إِذَا كِلْتُمْ وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِيْمِ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيْلًا (17:35)
اور جب کوئی چیز ناپ کر دینے لگو تو پیمانہ پورا بھرا کرو اور (جب تول کر دو تو) ترازو سیدھی رکھ کر تولا کرو یہ بہت اچھی بات اور انجام کے لحاظ سے بھی بہت بہتر ہے۔ (سورۃ 17 آیت نمبر 35)
وَيَا قَوْمِ أَوْفُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيْزَانَ بِالْقِسْطِ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِيْنَ (11:85)
اور اے قوم ! ناپ اور تول انصاف کیساتھ پوری پوری کیا کرو اور لوگوں کو اُن کی چیزیں کم نہ دیا کرو اور زمین میں خرابی کرتے نہ پھرو۔ (سورۃ 11 آیت نمبر 85)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قُلْ اَمَرَ رَبِّیْ بِالْقِسْطِ وَاَقِیْمُوْا وُجُوْهَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّادْعُوْهُ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ كَمَا بَدَاَكُمْ تَعُوْدُوْنَ (7:29) کہہ دو کہ میرے رب نے تو انصاف کرنے کا حکم دیا ہے اور یہ کہ ہر نماز کے وقت سیدھا (قبلے کی طرف) رخ کیا کرو اور خاص اسی کی عبادت کرو اور اُسی کو پکارو اُس نے جس طرح تمہیں ابتداء میں پیدا کیا تھا اُسی طرح تم پھر پیدا ہوگے۔ (سورۃ 7 آیت نمبر 29)
- (iv) فاضل عدالتی معاون نے قرآن مجید کی درج بالا آیات سے یہ اخذ کیا کہ حکمران اور ایک اسلامی ریاست کی حکومت ایک غیر
اسلامی ریاست کے حکمران اور حکومت کے برابر نہیں ہو سکتی۔ اسلامی ریاست کو امہ کی بہتری اور بہبود کے لیے متعدد اقدامات کرنے ہوتے ہیں۔ جو عمومی حکمرانوں کے فرائض نہیں پائے جاتے۔ ایک اسلامی ریاست کے حکمران کو جو اختیارات اور طاقت حاصل ہوتی ہے وہ در حقیقت ایک مقدس امانت ہوتی ہے جو اسے اللہ قادر مطلق کے احکامات اور نبی کریم ﷺ کی سنت کے مطابق ادا کرنی ہوتی ہے۔ مقدس امانت کی ادائیگی میں اسے درج بالا آیات میں مذکور احکامات کی فرمانبرداری کرنی ہوتی ہے جو معاشرے میں بھلائی کے قائم کرنے اور برائی کے خاتمے پر محیط ہے۔ ’’بھلائی کو قائم کرنا‘‘ کے مقصد کا حصول قرآن مجید اور سنت کے قائم کردہ معیارات امر بالمعروف کے اسلامی تصور کے تحت نافذ کر کے یقینی بنایا جاتا ہے۔
- (v) درج بالا قوانین کی بنیاد پر فاضل عدالتی معاون نے یہ اخذ کیا ہے کہ ایک اسلامی ریاست قرآن پاک اور سنت کے خلاف کوئی
قانون سازی نہیں کر سکتی اور اس بارے میں آئینی حیثیت بالکل واضح ہے کہ آیا اسلامی ریاست کوئی ایسا قانون بنا سکتی ہے کہ جس کے تحت کوئی غیر مسلم براہ راست یا بالواسطہ طور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر یا شناخت کروانے کی اجازت لے لے اور آیا ایک اسلامی ریاست غیر مسلم شہریوں کو اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنے کی اجازت دے سکتی ہے اس ضمن میں فاضل عدالتی معاون نے جواب دیا کہ سوال نمبر 1 اور 2 کے حوالے سے ایک اسلامی ریاست میں نہ تو ایسی قانون سازی ہو سکتی ہے اور نہ ہی ایسی اجازت دی جاسکتی ہے۔
- (vi) تاکیداً فاضل عدالتی معاون نے سنت، اسلامی قانون اور آنے والے تمام زمانوں کے لیے امت کی رہنمائی کا بنیادی مصدر، کی
اتھارٹی پر انحصار کرتے ہوئے متعدد روایات میں ان اصولوں پر زور دیا ہے۔ فاضل عدالتی معاون نے نبی پاک ﷺ کی روایات کا جو مرتدین یا نبوت کے جھوٹے دعویداروں سے متعلقہ ہیں کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے بنفس نفیس اپنی حیات مبارکہ میں نبوت کے دعویداروں کو غیر مسلم قرار فرمایا۔ اس ضمن میں دو مثالوں کا حوالہ دیا گیا ہے، اوّل: مسیلمہ کذاب کی جھوٹی نبوت کا اور ثانیاً: اسود عنسی کا۔ ان دونوں جھوٹے دعویداروں کے خلاف سخت کارروائی یہ بات ثابت کرنے کو کافی ہے کہ اسلام میں نبوت کے کسی بھی جھوٹے دعویدار کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے اور انہیں پیغمبر علیہ السلام نے بذات خود ملحد قرار فرمایا ہے۔ ان شرانگیزوں کے خلاف مسلمانوں کی کارروائی اس مسئلے پر مضبوط اتھارٹی ہے۔ کہ ریاست اس امر کو یقینی بنانے کی پابند ہے کہ وہ دین کے یقینی تحفظ کی خاطر نبوت کے دعویداروں اور ان کے پیروکاروں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹے گی کیونکہ یہ اسلامی ریاست کی سب سے اہم ذمہ داری ہے۔ اس حوالے سے سنت میں سے درج ذیل روایات کا ذکر کرنا بر محل ہے:
- ☆ ...... ’’ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان فرمایا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ میں سویا ہوا تھا، میں نے (خواب میں) دیکھا کہ
میرے بازو میں سونے کے دو کنگن ہیں اور اس سے میں بہت متفکر ہوا۔ پھر مجھے خواب میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے احکامات ملے
تحریک ختم نبوت جلد (١٠) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کہ انہیں اتار پھینکوں اور میں نے انہیں اتار پھینکا اور دور جا پڑے۔ میں نے اس کی تعبیر کی کہ دو کنگن دو جھوٹوں کی علامت تھے جو میرے بعد ظاہر ہوں گے اور ان میں سے ایک العنسی تھا اور دوسرا الیمامہ کا مسیلمہ کذاب تھا۔‘‘ (صحیح بخاری۔ 3621)
- ☆...... ”ابن عباس نے روایت کیا: مسیلمہ کذاب (جھوٹا) اپنے بہت سے لوگوں کے ساتھ اللہ کے رسول کی حیات مبارکہ میں (مدینہ)
آیا اور کہا کہ اگر محمد ﷺ مجھے اپنا جانشین بنا دیں تو میں ان کی پیروی کروں گا۔ اللہ کے نبی ﷺ ثابت بن قیس بن شماس کے ساتھ اس کے پاس گئے اور اللہ کے نبی کے ہاتھ کھجور کے پتا کا ٹکڑا تھا آپ مسیلمہ کذاب (اس کے ساتھیوں) کے سامنے رکے اور فرمایا، اگر تم مجھ سے (پتے کے) اس ٹکڑے کو بھی مانگو گے تو میں تمھیں یہ بھی نہیں دوں گا تم اپنے انجام سے جو تمہارا مقدر ہو چکا، اللہ کی قسم بچ نہیں سکتے۔ اگر تم نے اسلام کو رد کیا تو اللہ تمہیں تباہ فرما دے گا۔ میرا خیال ہے کہ غالباً تم وہی شخص ہو جسے میں اپنے خواب میں دیکھ چکا ہوں۔‘‘ (صحیح بخاری)
- ☆...... ”جعفر عمر بن امیہ نے روایت کیا: میں عبیداللہ بن عدی بن الخیار کے ساتھ باہر نکلا۔ جب ہم حمص (شام) کے ایک قصبے پہنچے تو
عبیداللہ بن عدی نے (مجھ سے) کہا کیا تم وحشی کو دیکھنا پسند کرو گے تا کہ ہم اسے حمزہ کے قتل کے بارے میں پوچھ سکیں؟ میں نے جواب دیا ہاں۔ وحشی حمص میں رہا کرتا تھا ہم نے اس کے بارے میں پوچھا اور کسی شخص نے ہمیں بتایا کہ وہ اپنے محل کے سایے میں ہے جیسے کوئی بڑا سا کپا ہو۔ پس ہم اس کی طرف چلے گئے اور جب ہم اس سے کچھ فاصلے پر تھے ہم نے اسے سلام کیا اور اس نے بھی جواباً ہمیں سلام کیا۔ عبیداللہ نے اپنی پگڑی پہنی ہوئی تھی اور وحشی اس کی آنکھوں اور پاؤں کے سوا کچھ نہ دیکھ سکا۔ عبیداللہ بولا، او وحشی کیا تم مجھے جانتے ہو؟ وحشی نے اسے دیکھا اور کہا اللہ کی قسم نہیں، لیکن یہ جانتا ہوں کہ عدی بن الخیار نے ابوالعیص کی بیٹی ام قتال نامی عورت سے شادی کی تھی اور اس نے مکہ میں اس کے ایک بیٹے کو جنا تھا اور میں نے اس بچے کے لیے ایک دائی تلاش کی تھی۔ (ایک مرتبہ) میں اس بچے کو اٹھائے ہوئے اس کی ماں کے پاس تھا اور تب میں نے اسے اس کی ماں کے حوالے کیا تھا اور تمہارے پیر اس بچے کے پیروں کے مشابہ ہیں۔ تب عبیداللہ نے اپنے چہرے کو بے نقاب کیا اور (وحشی) سے کہا کیا تم ہمیں حمزہ کے قتل کا (قصہ) سناؤ گے وحشی نے جواب دیا ہاں، حمزہ نے بدر (کی جنگ) میں طعیمہ بن عدی بن الخیار کو قتل کیا تھا اس لیے میرے آقا جبیر بن مطعم نے مجھ سے کہا، اگر تم میرے چچا کے انتقام میں حمزہ کو قتل کر دو تو تمہیں آزاد کر دیا جائے گا۔ جب لوگ ’’عنین‘‘ کے سال میں (احد کی جنگ کے لیے) روانہ ہوئے، عنین احد پہاڑ کے قریب ایک پہاڑ ہے اور اس کے اور احد کے درمیان ایک وادی ہے۔ میں لوگوں کے ساتھ جنگ کے لیے نکلا جب لشکر لڑائی کے لیے تیار ہو گئے تو شیبہ باہر نکلا اور کہا: کیا کوئی (مسلمان) ہے جو میرے مقابلے کے لیے میرا چیلنج قبول کرے؟ حمزہ بن عبدالمطلب سامنے آئے اور کہا او شیبہ او ابن ام عمار جو عورتوں کے ختنے کرنے والی تھی۔ کیا تم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو چیلنج کرتے ہو، پھر حمزہ نے حملہ کیا اور اس کو قتل کر دیا اور اسے یوں کر دیا جیسے وہ کل کا مر چکا ہو۔ میں نے اپنے آپ کو ایک چٹان کے پیچھے چھپا لیا اور جب وہ (یعنی حمزہ ؓ) میرے نزدیک آئے میں نے اپنا نیزہ ان پر دے مارا اور وہ ان کی ناف کے اندر سے گزرتا ہوا ان کی سرین سے باہر جا نکلا اور یوں ان کی موت کا سبب بنا۔ جب سب لوگ مکہ واپس آئے میں بھی ان کے ساتھ واپس ہوا۔ میں (مکہ) میں قیام پذیر رہا۔ حتیٰ کہ (مکہ) میں اسلام پھیل گیا۔ تب میں طائف کے لیے روانہ ہوا اور جب (طائف) کے لوگوں نے اللہ کے نبی کے پاس اپنے قاصد بھیجے تو مجھے بتایا گیا کہ نبی ﷺ ایلچیوں کو نقصان نہیں پہنچاتے، پس میں بھی ان کے ساتھ چلا
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گیا حتیٰ کہ اللہ کے رسول ﷺ کے پاس پہنچ گیا جب انہوں نے مجھے دیکھا تو فرمایا کہ تم وحشی ہو، میں نے جواب دیا جی ہاں، انہوں نے فرمایا کیا وہ تم تھے جس نے حمزہ کو قتل کیا؟ میں نے جواب دیا، وہی واقع ہوا جس کی آپ ﷺ کو خبر دی گئی ہے۔ انہوں نے فرمایا کیا تم اپنا چہرہ مجھ سے چھپا سکتے ہو۔ پس میں چلا گیا جب اللہ کے رسول ﷺ وصال فرما گئے اور مسیلمہ کذاب (نبوت کا دعویٰ کرتے ہوئے) ظاہر ہوا۔ میں نے کہا میں مسیلمہ کے پاس جاؤں گا تاکہ میں اسے قتل کر سکوں اور حمزہ کے قتل کی تلافی کر پاؤں۔ میں لوگوں کے ساتھ (مسیلمہ اور اس کے پیروکاروں کے خلاف لڑنے کے لیے) باہر نکلا اور اس جنگ سے متعلقہ مشہور واقعات رونما ہوئے۔ اچانک ایک آدمی نے (مسیلمہ) کو ایک دیوار کے شگاف کے قریب کھڑا دیکھا۔ وہ ایک سیاہ رنگت اونٹ کی طرح دکھائی دیتا تھا اور اسکے بال بکھرے ہوئے تھے۔ پس میں نے اپنا نیزہ اس پر اچھال دیا جو اس کی چھاتی پہ دونوں شانوں کے درمیان سے چیرتا ہوا پار جا نکلا اور تب ایک انصاری آدمی نے اس پر حملہ کیا اور اس کے سر میں تلوار کی ضرب لگائی۔ عبداللہ ابن عمر نے کہا ’ایک غلام لڑکی نے گھر کی چھت سے یہ کہا: ’افسوس مومنوں کا سردار (مسیلمہ) کو ایک سیاہ غلام نے قتل کر دیا ہے۔‘‘
- ٭...... ”ابن عباس ؓ نے روایت کیا: مسیلمہ کذاب نبی پاک ﷺ کی حیات مبارکہ میں آیا اور یہ کہنا شروع کر دیا کہ اگر محمد ﷺ اپنے
بعد مجھے حکومت دے دیں تو میں ان کی پیروی کروں گا اور وہ اپنے قبیلے کے بے شمار لوگوں کے ساتھ مدینہ آیا اللہ کے نبی ﷺ ثابت بن قیس کے ہمراہ اس کی طرف گئے اور اس وقت اللہ کے نبی ﷺ کے ہاتھ میں کھجور کے درخت کی ایک شاخ تھی۔ جب آپ ( پیغمبر ﷺ ) مسیلمہ کے قریب تھے، جب کہ مؤخر الذکر اپنے ساتھیوں کے درمیان تھا، تو انہوں نے اس سے فرمایا، ’اگر تم مجھ سے ( لکڑی کا ) یہ ٹکڑا بھی مانگو گے تو میں یہ بھی تمھیں نہیں دوں گا اور اللہ کے حکم سے تم بچ نہیں سکتے (بلکہ وہ تمہیں تباہ کر دے گا) اور تم نے اس مذہب سے پیٹھ پھیری تو اللہ تمہیں غارت فرما دے گا اور میرا خیال ہے کہ تم وہی شخص ہو جسے خواب میں مجھے دکھا دیا تھا اور یہ ثابت بن قیس ؓ ہے جو میرے بدلے تمہیں تمہارے سوالوں کے جواب دے گا۔ اس کے بعد پیغمبر ﷺ اس سے دور چلے گئے۔‘‘
- (vii) پہلے خلیفہ راشد حضرت ابو بکر صدیق ؓ کی اپنے عہد خلافت کے دوران سات مرتد قبائل کے خلاف کارروائی اور منکرین زکوۃ کے
خلاف جنگ اور اسود عنسی جو نبوت کا جھوٹا دعوے دار تھا، کے خلاف کاروائی ، نکتہ زیر بحث کو اجاگر کرنے کے لیے تذکرہ کی گئی ہیں۔
- (viii) انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ شعائر اللہ، جو کہ اسلام کی نشانیاں ہیں، کا احترام کرنا اور انہیں محفوظ بنایا جانا لازم ہے،
قرآن پاک کی آیات اور نبی پاک ﷺ کی روایات سے پیغمبر ﷺ کے صحابہ ؓ کے اتفاق رائے (اجماع صحابہ ؓ )، حضرت عمر ؓ کے کئے معاہدے سے یہ معروض کیا گیا ہے کہ غیر مسلم شعائر اللہ کو استعمال کرنے کے حقدار نہیں ہیں، جو کہ مسلم امہ کی شناخت اور منفرد خاصیت ہیں اور یہ اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کی غیر مسلموں کے ہاتھوں بے حرمتی سے ان کی حفاظت و تحفظ یقینی بنائیں۔
- (ix) قادیانیوں کی طرف سے اسلامی شعائر کے استعمال کے حوالے سے انہوں نے بالخصوص اس بات پر زور دیا کہ چار وجوہات کے
باعث، شعائر اللہ کو قائم کرنے کی روش پر بہت زیادہ سختی سے پیروی کی جانی چاہیے، جیسا کہ ایک اسلامی ریاست میں دوسرے غیر مسلموں سے اس بات کا موازنہ کرتے ہوئے، انہوں نے کہا وہ چار وجوہات ان کے نزدیک درج ذیل ہیں:
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- الف ...... قادیانی خود کو مسلمان سمجھتے ہیں اور باقی سب کو غیر مسلم ، اس لیے قادیانیوں کے مسئلہ میں دھوکہ دہی کا عنصر دنیا کی دیگر مذہبی
اقلیتوں کے مقابلے میں بہت زیادہ مضبوط ہے کیونکہ دیگر مذہبی اقلیتیں خود کو مسلمان ہونے کی دعوے دار نہیں ہیں ۔ اس دھوکے دہی سے نمٹنے کے لیے زیادہ ضروری اور احتیاط کا تقاضا ہے کہ قادیانیوں کو مسلمانوں کے لیے مخصوص شعائر اللہ کو استعمال کرنے سے روکنے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں ۔
- ب ...... مرزا غلام احمد قادیانی کو پیغمبر کہہ کر قادیانی مسلم اکثریت کے جذبات مجروح کرتے ہیں اور ان کی طرف شعائر اللہ کا استعمال
ماسوائے اسلامی رسومات کی بے حرمتی اور تذلیل کے سوا اور کچھ نہیں ۔ فاضل عدالتی معاون نے اس ضمن میں قادیانی لٹریچر سے مختلف اقتباسات کا حوالہ دیا ہے ۔
- ج ...... سب سے بڑی چیز جو قادیانیوں نے کی ہے اور جو انہیں دوسری اقلیتوں سے منفرد کرتی ہے وہ ان کا یہ دعویٰ ہے کہ مسلمان کافر
ہیں ، یہ عجیب بدقسمتی ہے کہ اوّلاً انہوں نے ایک نیا مذہب ایجاد کیا ہے اور مضحکہ خیز طور پر وہ اسے اسلام کا نام دیتے ہیں اور پھر ان لوگوں کو جو پاک پیغمبر ﷺ کو آخری نبی ﷺ مانتے ہیں ، کافر قرار دیتے ہیں ۔ ایسا شرمناک دعویٰ نہ پاکستان اور نہ ہی دنیا میں بسنے والی کسی دوسری مذہبی اقلیت نے کیا ہے ۔ مسلمانوں کے عقیدے کی اس قدر بے حرمتی کے باعث ، قادیانیوں کو اسلامی علامات ، رسومات اور ناموں کی استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔
- د ...... فاضل عدالتی معاون نے معروض کیا کہ قادیانیوں کی متعدد تحریروں سے یہ بالکل واضح ہے کہ قادیانی اپنی الگ شناخت کے
دعویدار ہیں ۔ اس کے کیسے اور کیوں ان کو اسلامی رسوم رواج کے استعمال کی اجازت اور وہ بھی خود ان کے اپنے بیان کردہ دعویٰ کے قطعاً برعکس دی جاسکتی ہے؟ اگر ان کا دعویٰ الگ شناخت کا ہے تو انہیں اپنی الگ شناخت قائم کرنے کا کہا جانا چاہیے اور انہیں مسلم لبادے میں خود کو چھپا کر پرفریب طور طریقے استعمال کرنے کی اجازت قطعاً نہیں دی جاسکتی ہے ۔
- (x) فاضل عدالتی معاون نے معروض کیا کہ شریعت کے تحت اگر ایک اسلامی ریاست اپنے شہریوں کو اپنے مذہب اور مذہبی عقیدے
کے اظہار کا مطالبہ کرے تو یہ شہریوں کے بنیادی حقوق کو مجروح کرنا نہیں ہوگا اور یہ حضرت عمر ؓ کے عہد خلافت میں نافذ العمل تھا جب اس ضمن میں رجسٹر مرتب کیے گئے تھے ۔
- (xi) فاضل عدالتی معاون نے یہ بھی معروض کیا کہ غیر مسلم ایک اسلامی ریاست میں خود کو مسلمان ظاہر کرنے کے حق دار نہیں ہیں اور
اگر وہ ایسا کریں تو یہ غداری کے زمرے میں آتا ہے اور انتہائی بلند درجے کی ریاست سے غیر وفاداری ہے ، فاضل عدالتی معاون نے اس تناظر میں زنادقہ سے چوتھے خلیفہ راشد حضرت علی ؓ کے طرز سلوک کی مثالیں پیش کیں ۔ فاضل عدالتی معاون نے معروض کیا ہے کہ اس امر کے بڑے سنگین مضمرات ہیں کہ کوئی شخص جو پہلے خود کو مسلمان ظاہر کرے لیکن بعد میں غیر مسلم ہو جائے یا اسلام سے پھر جائے اسے مرتد کہا جائے گا اور شریعت کے تحت اس جرم کی سزا بہت شدید ہے ۔
- (xii) فاضل عدالتی معاون نے مزید معروض کیا کہ اگر ایسا شخص کسی کلیدی منصب پر فائز ہے اور اس بات کی تصدیق ہو جائے کہ اس
نے اپنے مذہب کے بارے میں غلط بیانی کی ہے تو ریاست پر اس غلط بیانی کے سبب سب سے پہلے فوری اثر یہ ہوگا وہ ایسے شخص کو اس دفتر سے فوری طور پر ہٹا دے اور اس سے ایسی ملازمت کے دوران حاصل ہونے والے مالی فوائد و مراعات کی واپسی یقینی بنائے اس کے علاوہ اسے دیگر تادیبی کاروائی کا بھی سامنا کرنا ہوگا ۔ فاضل عدالتی معاون نے ایک اسلامی ریاست میں غیر
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مسلموں کی طرف سے خود کو مسلمان بنا کر چھپنے کے اس عمل کو روکنے کے لیے متعدد اقدامات تجویز کیے ہیں جو کہ درج ذیل ہیں:
- الف...... حساس اداروں میں افراد کی تعیناتی سے پہلے مذہبی ماہرین اور نفسیات دانوں کے ذریعے ان افراد کے بارے میں جامع
تحقیقات کی جائیں اور اس مقصد کے لیے نظریاتی تصدیق کرنے کے عمل کے لیے ایک بورڈ تشکیل دیا جانا چاہیے؛
- ب...... اگر کوئی شخص سماجی فوائد حاصل کرنے کی غرض سے جھوٹے طور پر اپنا مذہب اسلام سے کسی دوسرے مذہب میں تبدیل کرتا ہے تو
پھر ارتداد کی سزا جو اسلام نے مقرر کی ہے، اس پر لاگو کر دی جائے۔ اس کے برعکس، اگر قادیانی مسلمان ہونے کا دعویدار ہو تو زندیق کی سزا کا اس پر اطلاق کیا جاسکتا ہے؛
- ج...... ایک بورڈ امتناع قادیانیت بورڈ کے نام سے تجویز کیا جاسکتا ہے تا کہ وہ وقت بوقت اس حوالے سے کی گئی کسی آئینی شق اور دیگر
قانون سازی کے عملی نفاذ کے سلسلہ میں ایک رکھوالے کا کردار ادا کر سکے؛
- د...... قادیانیوں کو احمدیت کے نام کے استعمال سے روکا جاسکتا ہے چونکہ اسم احمد پاک پیغمبرﷺ کے لیے قرآن مجید میں مخصوص ہے
اسی طرح انہیں دیگر دینی اصطلاحات مثلاً دین حق، اسلامیات، مسلم ٹی وی احمدیہ، اس اصطلاح ”رضی اللہ تعالیٰ عنہ“ (اللہ ان سے راضی ہو ) کا استعمال کرنے سے یا ”علیہ السلام“ کے استعمال سے، ”خلیفہ“ ، ”رحمۃ اللہ“، ”نور اللہ“ ، ”شہید“ ، ”مرحوم“، ”جنت الفردوس“، ”کلمہ طیبہ“ کی تحریر یا قبروں پر بہت کچھ تحریر کرنے سے اور قادیانیوں کی مسلم قبرستانوں میں تدفین سے منع کر دیئے جانے چاہیں۔
- ۱۱...... پروفیسر ڈاکٹر ساجد الرحمن مورخہ 2018-02-27 کو پیش ہوئے اور اپنی گزارشات پیش کرتے ہوئے بیان کیا کہ:۔
- i- اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں شق (3)260 میں مسلم اور غیر کی تعریف کی گئی ہے اس لئے ریاست کو اس بات کی
اجازت نہیں ہے کہ دستور میں دی گئی مسلمانوں کی تعریف کی خلاف ورزی میں ایک غیر مسلم کو مسلم ظاہر کرے اسی طرح اس کے برعکس بھی۔
- ii- کسی بھی شخص کے لیے مذہب بہت بڑی عزت اور فخر کا معاملہ ہے کسی بھی شخص کو اس کی عزت اور عظمت سے محروم کرنا بدترین گناہ
ہے اس حوالے سے فاضل عدالتی معاون نے نبی پاکﷺ کی ایک روایت بیان کی ہے حضرت ثابت بن ضحاکؓ سے روایت ہے کہ نبی پاکﷺ نے فرمایا " کسی مسلمان کو کافر کہنا اس کو قتل کرنے کے مترادف ہے " اور اس روایت کے معنی اگر دوسرے مفہوم میں لیے جائیں تو کسی غیر مسلم کو مسلمان نہیں کہا جا سکتا ہے۔
- iii- ایک اسلامی ریاست کی بنیاد ہی صرف اسلامی نظریے پر ہے۔ رنگ نسل ملک اور قوم کی بنیاد پر تقسیم کی بجائے اسلامی نظریے کی
حفاظت اور دفاع کرے۔
- iv- اسلام کسی بھی شخص کو مذہب اسلام قبول کرنے پر مجبور نہیں کرتا ہے اسلامی ریاست نہ صرف اپنی حدود اختیار میں رہنے والے غیر
مسلموں کے حقوق کو تسلیم کرتی ہے۔ بلکہ انہیں مکمل دفاع اور تحفظ کا یقین دلاتی ہے۔ کوئی بھی غیر مسلم محض اسلام قبول کر کے مسلم معاشرے کا حصہ بن سکتا ہے لیکن وہ اپنے آپ کو صرف مسلمان ظاہر کر کے مسلمانوں کو دھوکہ نہیں دے سکتا ہے۔ اسلام کے ابتدائی دنوں میں غیر مسلموں کو ان کے جائز حقوق دیے گئے تھے تاہم اسی وقت مسلم شناخت کو بھی الگ برقرار رکھا گیا تھا۔ مسلمانوں کو غیر مسلموں سے الگ شناخت کے سلسلے میں کچھ اقدامات اٹھائے گئے تھے اور اس امتیاز سے غیر مسلموں کی تضحیک
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مراد نہ تھی بلکہ دونوں کی الگ الگ شناخت برقرار رکھنا ضروری تھا یہ اسلامی قانون کے تحت مسلمہ قرار دیا گیا ہے کہ غیر مسلم کو مسلمانوں کی فوج میں شامل ہونے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا ہے۔ غیر مسلم کو زکوٰۃ ادا کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا ہے۔ غیر مسلموں کو نمازیں ادا کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا ہے اور ان مقاصد کے لئے نفاذ شریعت کو مزید مؤثر بنانے کی خاطر مسلم اور غیر مسلم کے درمیان امتیاز بہت ضروری ہے۔
- v- ہر لحاظ سے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے عقائد دو مختلف نظریوں پر منحصر ہیں اور یہ اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے
نظریے کو برقرار رکھے اور اس کا دفاع کرے۔ ایک اسلامی ریاست کے لیے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ غیر مسلموں کو اجازت دے کہ وہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر سکیں اور اسلام میں اس طرح کی قانون سازی کا کوئی تصور نہیں ہے۔
- vi- اگر یہ ثابت ہوجائے کہ کسی غیر مسلم نے کچھ مفاد یا حیثیت حاصل کرنے کی خاطر اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کیا ہے تو یہ ریاست سے
دھوکہ دہی اور غیر وفاداری ہے۔ غیر مسلم اقلیتیں اپنے اور ریاست کے درمیان سماجی معاہدے کے تحت پابند ہیں۔ دستور نے انہیں کچھ ضمانتیں اور حقوق ضرور دیے ہیں۔ لیکن یہ ضمانتیں غیر مسلموں کی طرف سے اپنے عقیدے کے حقیقی اظہار پر منحصر ہیں۔ اگر کوئی غیر مسلم اپنے حقیقی عقیدے کو ظاہر نہیں کرتا پھر وہ کس طرح اپنے حقوق کا استعمال کرنے کے قابل ہوگا؟ یہی وجہ ہے کہ قانون اور آئین ہر فرد کی طرف سے اپنے عقیدے کے سچے اظہار کا مطالبہ کرتے ہیں ورنہ اس کا نتیجہ دستور کی خلاف ورزی ہوگا۔
- vii- یہ ریاست کی اوّلین ذمہ داری ہے کہ وہ ہر شہری کے بارے میں بنیادی معلومات حاصل کرے کیوں کہ اس کے بغیر شہریوں کے
حقوق اور فرائض کا تعین ممکن نہیں ہوگا۔ حتیٰ کہ مدینہ ہجرت کے بعد نبی پاک ﷺ نے مردم شماری کروائی تا کہ مسلمان مردوں، عورتوں اور بچوں کی درست تعداد معلوم ہو سکے اور اسی بات نے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان امتیازی خط کھینچ دیا۔ اگر کوئی شخص میثاق مدینہ اور اس کے فریقین کو دیکھے کہ وہ مسلمان تھے یا یہودی یا کافر ہر ایک اپنی الگ مذہبی شناخت کے ساتھ اس معاہدے میں شامل ہوا۔ حضرت عمر فاروق ؓ نے شہریوں کی شناخت رکھنے کے لیے ایک باقاعدہ محکمہ قائم فرمایا تھا۔ مذہبی شناخت کے بغیر معاشی معاملات کا حل بھی دشوار ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر کسی کی حقیقی مذہبی شناخت کے ساتھ بغیر حلال اور حرام غذاؤں کے درمیان امتیاز کیسے قائم کیا جاسکتا ہے؟ مختصراً ریاست کے لئے ضروری ہے کہ وہ ایسی ساری معلومات کا ریکارڈ رکھے کیوں کہ اس کے بغیر ریاست اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کر سکتی۔
- ۱۲...... ڈاکٹر پروفیسر محسن نقوی نے عدالت کی طرف سے کیے جانے والے سوالات تک محدود ہوتے ہوئے اپنی معروضات کو درج
ذیل الفاظ میں استنباط کیا:
- i- شریعہ کے بنیادی مقاصد میں سے ایک عقیدے کی حفاظت کرنا ہے اور اس کے بعد زندگی کا تحفظ کرنا ہے۔ باقی دیگر مقاصد یعنی فہم و
فراست، خاندان، عزت، دولت اور جائیداد کا تحفظ اس کے بعد آتے ہیں مسلم فقہا کے نزدیک عقیدے کے تحفظ کی اوّلین اہمیت کے پیش نظر مسلم ریاست اور مسلم حکمرانوں کی سب سے اہم ذمہ داری مسلمانوں کے عقیدے کے تحفظ کی خاطر اقدامات کرنا ہے۔
- ii- یہ اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ غیر مسلم شہریوں اور برادریوں پر نظر رکھے کہ وہ اکثریتی مسلمان برادری کے خلاف کسی
سازش کا حصہ نہ بنیں تا کہ اسلام اور مسلمانوں کی حفاظت کرے۔ یہ سورہ النساء کی آیت ۱۰۲ میں اللہ کے حکم کی روشنی میں ہے۔ اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کرے جس طرح سرحدی حدود کا دفاع کرنا لازم ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- -iii سورہ المنافقین کی آیت 4 کا حوالہ یہ ظاہر کرنے کے لیے دیا گیا ہے کہ کوئی شخص اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرے جب کہ اصل
میں وہ مسلمان نہ ہو منافقین کے زمرے میں آتا ہے اور یہ اس آیت میں درج کارروائی ان قادیانیوں پر بھی مساوی طور پر لاگو ہوتی ہے جو اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں۔
- -iv ایک مسلمان ریاست اپنے غیر مسلم شہریوں مثلاً عیسائیوں، ہندوؤں، سکھوں، بدھووں، قادیانیوں اور لاہوریوں کو اپنے آپ
کو رجسٹر کرائے جانے کے لیے لازم قرار دے سکتی ہے۔ اسلامی ریاست کو یہ اختیار بھی حاصل ہے کہ وہ غیر مسلم شہریوں کو الگ شناختی کارڈ جاری کرے یا اس مقصد کے لیے ایک الگ کالم مخصوص کردے۔ غلط بیانی پر تعزیری پابندیاں بھی لگائی جاسکتی ہیں۔
- -v حضرت عمرؓ کے دور میں انہوں نے اس مقصد کے لیے رجسٹروں کی تیاری کا حکم دیا تھا۔ جس میں شہریوں کو ان کے قبیلوں
مذہب اور پیشوں کے اعتبار سے الگ الگ درج کیا گیا تھا۔ عثمانی خلافت کے دوران غیر مسلموں کے لیے زرد رنگ کے بیج متعارف کروائے گئے تھے، جس پر ان کے پیشے بھی درج تھے۔
- -vi اسلامی ریاست میں اگر کوئی غیر مسلم، کافر یا دہریہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرے اور ناجائز مفادات حاصل کرے تو اس کے
خلاف بغاوت کا کیس چلایا جاسکتا ہے۔
- -vii ایک اسلامی ریاست کی طرف سے اپنے شہریوں سے عقیدے کے حقیقی اظہار کا مطالبہ کسی بھی صورت میں بنیادی حقوق کی خلاف
ورزی سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا۔ یہ بھی نشاندہی کی جاسکتی ہے کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے حقوق کی حفاظت کے لیے ایک اسلامی ریاست کے اٹھائے گئے اقدامات پر امتیاز کرنے کا لیبل نہیں لگایا جاسکتا۔
- -viii یہ نقطہ بھی اٹھایا جاسکتا ہے کہ اسلامی ریاست میں رہنے والے غیر مسلم حیثیت اسلامی اصول فقہ اور قانون کے ابتدائی لٹریچر میں
پائے جانے والے ذمیوں کے تصور، معاہداتی یا مستامن کے مساوی قرار نہیں دی جاسکتی، بلکہ ان کی حیثیت شہریوں کی سی ہے اور اس سلسلے میں کوئی بھی قانون سازی بین الاقوامی صورتحال کی مطابقت میں کی جاتی ہے۔
- ۱۳....... مؤرخہ 2018-03-01 کو مفتی محمد حسین خلیل خیل نے عدالت ہذا کی مرتب کردہ سوالات کے جوابات میں درج ذیل
معروضات پیش کیں:۔
- -i ایک اسلامی ریاست ایک سیکولر جمہوری ریاست سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔ ایک لا دینی جمہوری ریاست میں حاکمیت اعلیٰ
لوگوں سے تعلق رکھتی ہے، تاہم اسلامی ریاست میں حاکمیت اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی ہوتی ہے۔ اسلامی ریاست ایک نظریاتی اور اصولی تنظیم ہوتی ہے جس میں ریاست کے معاملات ان لوگوں پر عائد کیے جاتے ہیں، جو اسلامی نظریے اور اسلامی طرز حیات پر یقین رکھتے ہیں۔ اسلامی ریاست میں مسلمانوں کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی متعین کردہ حدود سے تجاوز کرسکیں اور نظام میں حکومت اسلامی حدود کی پابند ہوتی ہے۔ جہاں قرآن وسنت کی تعلیمات کی خلاف ورزی میں کوئی قانون سازی نہیں کی جاسکتی ہے۔ اسلامی ریاست کے حکمران کی بنیادی ذمہ داری شریعت کے مقاصد اور نظریاتی سرحدوں کے ساتھ ساتھ ریاست کی جغرافیائی سرحدوں، مادی مفادات اور انتظامی معاملات کی حفاظت کرنا ہے۔ اگر ریاست اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہے تو یہ اچھا شگون ہے، لیکن اگر یہ غفلت کرتی ہے تب اقامت دین کا تصور روبکار آتا ہے۔ جس کے تحت سورۃ شوریٰ کی آیت 13 کے مطابق یہ امہ کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- -ii اسلام دوسرے تمام نظریات کو ناقص نامکمل اور مبنی بر غلطی سمجھتا ہے۔ لیکن اسلام اپنے پیروکاروں کو تلقین کرتا ہے اور دوسرے
مذاہب کی عزت اور ان کا جائز احترام کریں۔ انسانیت ، ایفائے عہد اور معاہدوں کی پاسداری ، تحمل اور درگزر ، راست بازی، عاجزی اور انصاف کے اصولوں پر عمل کی تلقین کرتا ہے۔ اسلام مسلمانوں کو ہدایت کرتا ہے کہ وہ غیر مسلموں سے صاف و شفاف انداز میں معاملہ کریں۔ غریبوں کی مدد کریں۔ تحائف قبول کریں۔ ان کے مریضوں کی عیادت کریں۔ ان کی خدمات کو قبول کریں۔ ان کی روایات اور تہواروں کا احترام کریں۔ علم اور ٹیکنالوجی کے تبادلے میں ان کے ساتھ تعاون کریں۔ کاروبار اور تجارت میں انہیں شریک کریں۔ انہیں ملازم رکھیں یا ان کی ملازمت میں داخل ہوں۔ وہ قانون کے سامنے مساوی حقوق رکھتے ہیں، جو مسلمانوں کو میسر ہیں۔ انہیں بھی تجارت کرنے اور معاشی معاملات میں پنپنے اور اپنے آپ کو تعلیم یافتہ بنانے کے وہی حقوق حاصل ہیں، جو ریاست کے کسی بھی مسلم شہری کو مہیاء ہیں۔
- -iii سورۃ البقرہ کی آیات نمبر 9 اور 13 کا حوالہ دیتے ہوئے یہ معروض کیا گیا ہے، کوئی مسلم ریاست غیر مسلم شہریوں کو اس بات کی
اجازت نہیں دے سکتی کہ وہ خود کو مسلمان بنا کر پیش کر سکیں۔ نہ تو ریاست اس معاملے میں کوئی قانون سازی کر سکتی ہے، نہ ہی ایسی اجازت دے سکتی ہے۔
- -iv فاضل عدالتی معاون نے اسلامی قانون کے کچھ مختلف پہلوؤں کا تذکرہ کیا ہے، جس میں ایک مسلمان کی غیر مسلم سے مکمل امتیاز کی
جاتی ہے اور کسی کی طرف سے کوئی غلط بیانی ایک مسلمان کو انتہائی گناہ گار اور حرام کاموں میں ڈال سکتی ہے۔ جس کے سبب نا قابل تسخیر قانونی پیچیدگیاں اور تباہ کن نتائج نکل سکتے ہیں۔ جو مسلم معاشرے کی عبادات کے سلسلے کو تباہ و برباد کر سکتے ہیں، فاضل عدالتی معاون نے جن پہلوؤں کی نشاندہی کی وہ درج ذیل ہیں :۔
- ☆ ...... قانون ازدواج ، طلاق ، حضانت ، سرپرستی اور دیگر عائلی قوانین
- ☆ ...... وراثت اور وصیتوں کا قانون
- ☆ ...... کفن و دفن سے متعلقہ شرعی احکامات
- ☆ ...... ذبح کرنے سے متعلق شرعی احکامات
- ☆ ...... شراب کی خرید و فروخت اور اس کی سزا کے نفاذ سے متعلقہ شرعی احکامات
- ☆ ...... گواہی ( شہادت ) کی قبولیت سے متعلقہ شرعی احکامات
- ☆ ...... قضی سے متعلقہ شرعی احکامات
- ☆ ...... زکوٰۃ ،عشر اور خراج سے متعلق شرعی احکامات
- ☆ ...... اوقاف سے متعلقہ شرعی احکامات
- ☆ ...... نماز پڑھانے سے متعلقہ شرعی احکامات
- ☆ ...... سرٹیفکیٹوں اور جائز اور ناجائز اشیاء خوردونوش اور دیگر اشیاء سے متعلقہ شرعی احکامات
- ☆ ...... اسلامی شعائر سے متعلقہ شرعی احکامات
- ☆ ...... جہاد (جنگ ) میں شرکت سے متعلقہ شرعی احکامات
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ☆...... سلام، تعزیت اور دیگر سماجی رسم ورواج سے متعلقہ شرعی احکامات
- ☆...... غیر مسلموں سے الگ شناخت برقرار رکھنے سے متعلقہ شرعی احکامات
- ☆...... حرم میں داخلے اور حج اور عمرہ کی ادائیگی سے متعلقہ شرعی احکامات
- ☆...... ماہ رمضان کی حرمت پر عمل کرنے سے متعلقہ شرعی احکامات
- ☆...... غیر مسلموں کی مذہبی تقریبات میں شرکت کے حوالے سے شرعی احکامات
- ☆...... قرآن مجید کی تشریح کرنے کی قابلیت سے متعلق شرعی احکامات
- ☆...... معاصر مسائل کے حل میں اجتہاد کی صلاحیت سے متعلقہ شرعی احکامات
- ☆...... غیر مسلموں کے ساتھ سودی معاہدات کرنے اور ترسیلات کے حوالے سے شرعی احکامات
- ☆...... ریاست کے سربراہ بننے اور دیگر اہم مناصب پر فائز ہونے کی قابلیت کے حوالے سے شرعی احکامات
- -v مسئلہ مرسلہ کے اصولوں پر تصفیہ کرتے ہوئے فاضل عدالتی معاون نے معروض کیا کہ عقیدے کے اظہار نہ کرنے کے تباہ کن نتائج
نکلتے ہیں۔ اس لیے ریاست اس کی پہچان کرنے کی پابند ہے۔ فاضل عدالتی معاون نے پہلے دو سوالات کا جواب دیتے ہوئے غیر مبہم طور پر بیان کیا کہ اسلام میں ایسی کسی قانون سازی یا اجازت کی گنجائش نہیں جو قرآن پاک اور سنت کی تعلیمات کے برعکس ہو۔
- -vi یہ کہ اسلامی ریاست شہریوں کے مابین سماجی معاہدے کا نتیجہ ہوتی ہے جو آئین میں مذکور ہوتا ہے۔ ایک شہری کی طرف سے اپنی
حقیقی شناخت بلا ارادہ چھپانا ریاست سے غیر وفاداری کے سوا کچھ نہیں ۔ جو کہ بدترین بد دیانتی اور دھوکہ دہی ہے اور معاشرے کی تباہی میں اس کے مضمرات بالکل واضح ہیں۔
- -vii فاضل عدالتی معاون نے اس سوال کے جواب میں کہ ریاست اس مسئلے کو حل کرنے میں کیا مدد کر سکتی ہے۔ بیان کیا کہ معاہدہ
عمرؓ جو کہ عام طور پر شروط عمریہ کے نام سے مشہور ہے، اس ضمن میں راہنما دستاویز ہے۔ فاضل معاون نے اس دستاویز کی اسلامی تاریخ میں اہمیت کو اجاگر کیا۔
- -viii سورہ ممتحنہ کی آیت 10 سے راہنمائی حاصل کرتے ہوئے فاضل عدالتی معاون نے معروضات پیش کیں کہ اسلامی ریاست اپنے
کسی بھی فرد کے مذہبی دعوے کی سچائی جاننے کی خاطر شہادت لے سکتی ہے۔ یہ معروض کیا گیا کہ نبی پاکﷺ ان خواتین کی جانچ پرکھ فرمایا کرتے تھے، جو مکہ میں اپنے شوہروں کو چھوڑ کر مسلمان ہونے کی دعویدار ہوتی تھیں اور مدینہ کی اسلامی ریاست میں آنا چاہتی تھیں ۔ فاضل عدالتی معاون نے اسلامی ریاست کے تحت زندگی گزارنے والے افراد کے عقیدے کے تعین میں قرآن مجید کی اس آیت کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ فاضل عدالتی معاون نے یہ بھی تاکید بیان کی کہ اس حوالے سے قرآن مجید کی آیت اور نبی کریمﷺ کی روایت سارے زمانوں کے لیے حتیٰ کہ آنے والے زمانے میں پیدا ہونے والی ضرورت کے لیے بھی ہدایت کا سامان ہے۔
- -ix فاضل عدالتی معاون نے اپنی معروض برقرار رکھی ہے کہ کسی شہری کے اصل مذہب کے بارے میں جاننا شہریوں کے بنیادی حقوق
کی خلاف ورزی نہیں ہوگی بلکہ یہ ریاست کے دستوری امور کے عین مطابق ہوگی۔ چونکہ بہت سے ایسے حقوق جو غیر مسلموں کے
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حقوق کے لیے مخصوص ہیں، با آسانی ادا ہو سکیں گے۔ انہوں نے اسرائیل کی واپسی کے قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی دفعہ 30 کا اس ضمن میں حوالہ دیا۔
۱۴....... چونکہ اس معاملے میں آئینی تشریح بھی شامل ہے۔ اس لئے عدالت ہذا نے آئین کی تشریح کے لئے مزید کچھ سوالات وضع کئے اور درخواست دہندہ کے ساتھ ساتھ فاضل ڈی۔اے۔جی کی رضا مندی سے جناب محمد اکرم شیخ سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ، ڈاکٹر بابر اعوان ایڈووکیٹ سپریم کورٹ اور ڈاکٹر محمد اسلم خاکی ایڈووکیٹ سپریم کورٹ کو بطور عدالتی دوست کے مقرر کیا تا کہ وہ عدالت ہذا کو اپنی ماہرانہ معاونت دے سکیں۔ ان سوالات کو سہولت کی خاطر ذیل میں دیا جاتا ہے:-
- (i) اسلامی جمہوریہ پاکستان کے 1973 کے آئین کے آرٹیکل 260(3)(a)(b) کے مطابق عمل میں لائی گئی ترمیم جس سے
قادیانی/احمدی غیر مسلم قرار دیئے گئے تھے۔ کیا آئین میں ترامیم کے مقصد کے لئے اس کے مطابق ضروری ترامیم/قانون سازی کی گئی تھی؟
- (ii) اگر درج بالا سوال کا جواب نفی میں ہے اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے کس قسم کی قانون سازی کی ضرورت ہے؟
- (iii) کیا محض کوئی قانون بنا لینے سے آئین کی کوئی شق یا اس میں کی گئی ترمیم کو کالعدم کیا جا سکتا ہے؟
- (iv) آیا تطہیر اور پڑتال کو یقینی بنانے کے لئے شہریوں کے عقیدے کی معلومات لینے کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں درج
بنیادی حقوق کی ضمانت کو کالعدم کرنے کے مترادف ہے؟
- (v) آیا اقلیتوں سے تعلق رکھنے والا اسلامی جمہوریہ پاکستان کے کسی شہری کو اکثریتی مذہب کی آڑ لینے کی اجازت دی جا سکتی ہے اور
تمام فوائد حاصل کرنے کے بعد اپنے آپ کو غیر مسلم ظاہر کرتا ہے تو کیا وہ مالی فوائد کا حقدار رہ سکتا ہے؟
درج بالا معاونین نے عدالت کے سامنے زبانی گزارشات پیش کرنے کے علاوہ تحریری جواب بھی جمع کروائے جن کو ذیل میں بیان کیا جاتا ہے۔
۱۵....... محترم جناب محمد اکرم شیخ سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ 02-03-2018 کو بطور عدالتی معاون کے پیش ہوئے اور عدالتی سوالات کے ضمن میں بیان کیا کہ:-
سوال 1: اسلامی جمہوریہ پاکستان کے 1973 کے آئین کے آرٹیکل 260(3)(a)(b) کے مطابق عمل میں لائی گئی ترمیم جس سے قادیانی/احمدی غیر مسلم قرار دیئے گئے تھے۔ کیا آئین میں ترامیم کے مقصد کے لئے اس کے مطابق ضروری ترامیم/قانون سازی کی گئی تھی؟
رائے: دوسری آئینی ترمیم (ایکٹ نمبر XLIX آف 1974) نے اسلامیہ جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل کی کلاز 3 کا اضافہ کیا ہے، جس میں ”مسلم“ اور ”غیر مسلم“ کی تعریف کی گئی ہے اور وہ شخص جس کا قادیانی گروہ (جس بھی نام سے پکارے جاتے ہوں) سے تعلق ہو کو دو ٹوک الفاظ میں غیر مسلم قرار دیا گیا ہے۔ 1974 کی اس ترمیم کے نتیجے میں، آئین کے آرٹیکل 106 میں بھی ترمیم کی گئی اور قادیانی، احمدی یا لاہوری گروہ کے افراد کی نشستوں کے تعین کے لئے اقلیتوں میں شامل کیا گیا۔
بعد ازاں، مختلف قوانین میں مزید ترامیم کی گئیں اور قادیانی، احمدی یا لاہوری گروہ کی جانب سے اسلام مخالف سرگرمیوں کے حوالے سے (ممانعت اور سزا) آرڈیننس (XX of 1984) کا اجراء کیا گیا۔ خاص طور پر 1984 کے آرڈیننس کے ذریعے تعزیرات
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پاکستان 1860 میں دفعہ 298-بی اور 298-سی کا اضافہ کیا گیا۔ جس کا مقصد قطعیت کے ساتھ احمدی گروہ کے اراکین کو کسی بھی صورت میں اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنے سے روکنا یا مسلمانوں کے مخصوص مقدس شخصیات یا جگہوں سے مختص کسی مقدس نام، حیثیت کا غلط استعمال روکنا تھا۔
مزید برآں آرٹیکل 106 میں کی جانے والی ترمیم میں یہاں تک اہتمام کیا گیا کہ درج بالا اقلیت کے لئے لازم تھا کہ وہ اپنی مخصوص نشستوں کے لئے ہی کاغذات نامزدگی داخل کریں اور اپنے آپ کو غیر مسلم ڈکلیئر کریں۔
متعلقہ قوانین جیسے کہ سول سرونٹس ایکٹ اور متعلقہ دستاویزات جیسے کہ پاسپورٹ اور شناختی کارڈ کے حصول کے لئے درخواست فارموں کا عمیق نظری سے جائزہ لینے سے پتہ چلا کہ ایک پاسپورٹ یا اور قومی شناختی کارڈ کے حصول کے لئے کسی بھی شخص کو ایک ڈکلریشن دینا پڑتا ہے۔ وہ حضرت محمد ﷺ کی ذات اور ختم نبوت پر کامل یقین رکھتا ہے۔ تاہم فیڈرل پبلک سروس کمیشن یا دوسرے ریاستی اداروں میں اعلیٰ اور ادنیٰ گریڈوں میں افراد کی بھرتی کے لئے مذہب کے بارے میں ڈکلیئر کرنے یا ظاہر کرنے کی کوئی ایسی شرط نہیں ہے۔
سوال 2: اگر درج بالا سوال کا جواب نفی میں ہے تو اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے کس قسم کا قانون چاہئے؟
رائے: جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے دوسری آئینی ترمیم کے بعد اس ترمیم کا مطلوبہ مقصد حاصل کرنے کے لئے قوانین بنائے گئے ہیں۔ البتہ یہ قوانین اور ایسی ترامیم کو وسیع پیمانے پر انتظامی تبدیلیاں لا کر مؤثر بنایا جائے۔ مثال کے طور پر یہ ضروری قرار دیا جائے کہ سول سروس کے عہدوں اور امتحانات کے مقابلے کے امیدواروں سے ڈکلریشن لیا جائے۔ ہمارے ریاستی اداروں کے لئے ایسی شرط کوئی نئی بات نہیں ہے کیونکہ پاکستان میں فوج میں بھرتی ہونے سے پہلے اس کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
سوال 3: کیا کسی قانون سے آئین کی کوئی دفعہ یا ترمیم کالعدم ہو سکتی ہے؟
رائے: ہمارے آئینی نظام میں کوئی بھی قانون ایسا نہیں بن سکتا جو آئین کی کسی دفعہ یا ترامیم کو کالعدم کر سکے اور آئین سے متصادم کسی بھی قانون کی حیثیت یا نفاذ کی صورت نہیں ہوتی۔
سوال 4: کیا کسی شخص کے ذاتی عقیدے سے متعلق معلومات لینے کے لئے تطہیری عمل یا جائزے کا اطلاق آئین پاکستان میں دیئے گئے حقوق کی خلاف ورزی ہے؟
رائے: یہ کافی مشکل سوال ہے کیونکہ کسی فرد کے ذاتی عقیدے سے متعلق معلومات لینے کے لئے تطہیری عمل یا جائزہ انتظامیہ کے ہاتھ میں ایک ہتھیار ثابت ہو سکتا ہے اور ان کا غلط استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس احتیاطی نوٹ کے ساتھ اور اقلیتوں کے تحفظ کی نیت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ایسی معلومات ”ڈکلریشن“ کو لازمی بنا کر اکٹھی کی جا سکتی ہے۔
درج بالا اقدامات آرٹیکل 36 سے نکلتے ہیں جو اقلیتوں کے تحفظ سے متعلق کچھ یوں قرار دیتا ہے:
آرٹیکل 36: ریاست اقلیتوں کے جائز حقوق اور مفادات، بشمول وفاقی اور صوبائی نوکریوں میں ان کی نمائندگی، کا تحفظ کرے گی۔
جب کہ آئین کا ابتدائیہ قرار دیتا ہے کہ: ”ہر گاہ اقلیتوں کے لئے مناسب قانون سازی کی جائے گی تا کہ وہ آزادی کے ساتھ اپنے مذہب کا اعلان اور اس پر عمل کرتے ہوئے اپنے کلچر کو فروغ دے سکیں۔“
سوال 5: کیا اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے کسی شہری کو اجازت دی جا سکتی ہے کہ وہ اکثریتی مذہب کی آڑ میں تمام مفادات حاصل کرنے کے بعد اپنے غیر مسلم ہونے کا اقرار کرے۔ ایسی صورت میں کیا وہ مالی مفادات کا حقدار رہتا ہے؟
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
رائے: ایسی صورت میں کہ اگر ریاست نے اقلیتوں کو نہ صرف انفرادی یا ان کی جائیداد بلکہ ان کے مذہبی شعور اور مذہبی عملداری کو تحفظ دینا ہو اور یہ بھی یقینی بنانا ہو کہ انہیں اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کی آزادی ہو تو لازمی ہو جاتا ہے کہ وہ ریاست کو اپنی شناخت کروائیں۔ ایسا اس لئے ضروری ہے کہ بغیر شناخت کے ریاست اقلیتی شہریوں کی جانب اپنی ذمہ داری کی وسعت اور حجم کا بامعنی انداز میں عملی تعین نہیں کر سکتی تا کہ وہ ان کے حقوق کو منتظم کر سکے اور ایسے اقدامات لے سکے، جو ان کے عقائد اور مذہب کو قانون کے مطابق بنیادی حقوق کی صورت میں پورا کر سکے۔ جیسا کہ آرٹیکل 20 کو آرٹیکل 36 سے ملا کر پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اقلیت سے تعلق رکھنے والا کوئی شہری پہلے ہی قانون اور آئین کے مطابق بھر پور تحفظ کا حقدار ہے جسے پاکستانی جھنڈے کے ایک چوتھائی رنگ کے حصے میں ظاہر کیا گیا ہے۔ چنانچہ نہ ہی کسی اکثریتی گروہ کا کوئی رکن یا کسی اقلیتی گروہ کا کوئی رکن اپنی اطراف تبدیل نہیں کر سکتا تا کہ وہ اپنے عقائد کے علاوہ دوسرے عقیدہ سے جڑے مفادات حاصل کر سکے اور اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو قانون کی نظر میں یہ دھوکہ دہی کے مترادف ہے جو قانونی تعزیرات کے مطابق سزاوار ٹھہرتا ہے۔ یہ واضح طور پر سمجھ لینا چاہئے کہ قادیانی، احمدی اور لاہوری گروہ تسلیم شدہ ایک علیحدہ مذہبی (اقلیتی) فرقہ ہیں جن کی حیثیت دوسری آئینی ترمیم کے ذریعے متعین کی گئی ہے اور جس کے لئے قانون میں مطلوبہ تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ وہ خود بھی اپنے آپ کو اسلام کے دوسرے فرقے کے طور پر ایک منکر / غیر مسلم قرار دیتے اور سمجھتے ہیں۔
لہٰذا ایک دوسرے کے جذبات کی تعظیم کی پابندی باہمی اور دوطرفہ ہے۔ اکثریتی برادری یعنی مسلمانوں کو اقلیتوں کی جانب حد درجہ تعظیم کا مظاہرہ کرنا چاہئے اور انہیں ان کے جائز حقوق دینے چاہئے جب کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ان کے استحقاقات کو یقینی بنائے۔ جیسا کہ معزز سپریم کورٹ نے سوؤ موٹو مقدمہ نمبر 1 آف 2014 (جیسا کہ پی ایل ڈی 2014 سپریم کورٹ 699) کے مشہور فیصلے میں قرار دیا ہے اور جس میں آرٹیکل 20، 33 اور 36 پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔
متفرق قانونی مسائل سے متعلق رائے:
عدالت ہذا کی ہدایات جاری کرنے کے حوالے سے اختیار سماعت:
یہ معزز عدالت انتظامیہ کو قانون سازی متعارف کروانے کے لئے ہدایات جاری کرنے کا بے پناہ اختیار رکھتی ہے، جیسا کہ درج ذیل فیصلوں میں قرار دیا گیا ہے:
گورنمنٹ آف بلوچستان بنام عزیز اللہ میمن (پی ایل ڈی 1993 سپریم کورٹ 341)
- ۱۷....... ان حالات میں چونکہ 1968 کا آرڈیننس II کو باطل قرار دیا جاتا ہے جو کہ آئین کے آرٹیکل 9، 25 اور 203 سے متصادم
ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ 1968 کے آرڈیننس II کی عدم موجودگی میں کیا ریلیف دیا جائے کیونکہ کسی نہ کسی مضبوط قانون کو فیلڈ میں ضرور ہونا چاہئے۔ یہ تسلیم شدہ بات ہے کہ ہر ضلع میں ڈسٹرکٹ ججز اور سول ججز مصروف کار ہیں۔ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی صورت میں اعلیٰ عدالتیں وفاقی حکومت یا صوبائی حکومتوں کو حکم جاری کرنے کا اختیار رکھتی ہیں کہ وہ بنیادی حقوق کی پاسداری میں قانون متعارف کروائیں اور یا کسی قانون کو نافذ کریں اور اس سلسلے میں کوئی نوٹیفکیشن جاری کریں۔ جیسا کہ آرٹیکل 7 میں تعریف دی گئی ہے کہ ریاست اپنی آئینی ذمہ داریاں ادا کرنے کی پابند ہے۔ ناکامی کی صورت میں حتیٰ کہ مقننہ اور انتظامیہ کو بھی حکم دیا جاسکتا ہے کہ وہ قانون سازی کے اقدامات کا اجراء کرے تا کہ بنیادی حقوق کے مطابق قانون متعارف کروایا جاسکے۔ ان حالات میں متدعاویہ فیصلوں کو برقرار رکھتے ہوئے
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہم اپیلوں کو مسترد کرتے ہیں، 1968 کے آرڈیننس II کو آئین کے آرٹیکل 9، 25، 175 اور 203 سے متصادم ہونے کے ناطے باطل قرار دیتے ہیں اور اپیل کنندہ کو حکم دیتے ہیں......
- (i) آرڈیننس XII آف 1972 کے سیکشن 1 کے سب سیکشن 2 کی روشنی میں درج بالا آرڈیننس کے نفاذ کے لئے عہدے تخلیق
کر کے اور جوڈیشل مجسٹریٹس اور ایگزیکٹو مجسٹریٹس کو ہائیکورٹ کے انتظامی کنٹرول میں علیحدہ علیحدہ تعینات کرنے کے اگلے تین ماہ میں ضروری نوٹیفکیشن جاری کرے۔
- (ii) آئینی ضرورت کے مطابق قوانین اور عدالتوں، جوڈیشری اور اس کے افسران اور نچلے سٹاف سے متعلق ضوابط اور قوانین میں
ترمیم اور ان کے نفاذ کے لئے ضروری اقدامات اٹھائے تاکہ انہیں چھ ماہ کے اندر آرٹیکلز 9، 25، 175 اور 203 سے ہم آہنگ کیا جائے۔
صوبہ سندھ بنام ایم کیو ایم (پی ایل ڈی 2014 سپریم کورٹ 531۔ پیرا 75)
75...... اپنے آئینی اختیار اور ایک نظام میں ادارہ جاتی حدود جس کی بنیاد اختیارات کی ثلاثی تقسیم ہے، کو ذہن میں رکھتے ہوئے عدالت کوئی ڈکلریشن دینے سے باز رہے گی جو قانون کو ازسرنو تحریر کرنے کے مترادف ہے۔ تاہم جب یہ اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ ایک قانون یا اس میں مخصوص دفعہ آئینی دفعات سے ہم آہنگ نہیں ہے اور اسے آئین کے خلاف ڈکلیئر کرتی ہے تو یہ حکومت کو قانون اور ان دفعات سے ہم آہنگ کرنے کے مناسب احکامات بھی جاری کر سکتی ہے۔
وفاق کو قانون سازی کے اقدامات لینے کے ضمن میں عدالتی اختیار :
حکومت بلوچستان بنام عزیز اللہ میمن پی ایل ڈی 1993 سپریم کورٹ 341 میں عدالت نے ایک قانون کو آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے وفاق کو مطلوبہ قانون سازی کا حکم جاری کیا۔
معزز عدالت عالیہ وفاق یا ایک صوبے کو حکم دینے کی مکمل طور پر اہلیت اور اختیار رکھتی ہے کہ ایسے انتظامی سرگرمیاں/اقدامات لینے کا کہہ سکتی ہے جو آئین کی منشا ہے لیکن مقننہ کو ایسا کوئی حکم نہیں دیا جا سکتا کہ کوئی مخصوص قانون تیار کرے البتہ اس ضمن میں ایک ہدایت جاری کر سکتی ہے۔
الجہاد ٹرسٹ بنام فیڈریشن آف پاکستان (1999 ایس سی ایم آر 1379)
25...... یہ ظاہر ہے کہ آئین کی منشاء کے مطابق انتظامی سرگرمیاں/اقدامات کے لئے ہدایت/ہدایات وفاق کے خلاف جاری کی جاسکتی ہیں لیکن مقننہ کو کوئی ایسا حکم جاری نہیں کیا جا سکتا کہ وہ کوئی مخصوص قانون وضع کرے۔ تاہم، وفاق کو ایک ہدایت جاری کی جاسکتی ہے کہ ایسے انتظامی اور قانونی اقدامات یقینی بنائے تاکہ آئین کے مینڈیٹ کو پایا جاسکے۔ یہ قرار دینے کے بعد سندھ ہائیکورٹ کے فل بینچ نے درج بالا آئینی درخواست جس میں آئین کے آرٹیکل 175 کی کلاز 2 کے مطابق عدلیہ کی انتظامیہ سے علیحدگی کی استدعا کی گئی تھی، درج ذیل ریلیف دیا:
12...... لہٰذا میں دونوں آئینی درخواستوں کی درج ذیل معنوں میں اجازت دیتا ہوں:-
’’(الف) پہلی اور دوسری آئینی درخواستوں میں مسئول الیہ یعنی مسئول الیہ نمبر 2 (یعنی صوبہ سندھ) کو حکم دیا جاتا ہے کہ۔۔۔
- (i) 1972 کے آرڈیننس نمبر XII کے سیکشن نمبر 1 کے سب سیکشن 2 کی روشنی میں مجسٹریسی کو جوڈیشل اور انتظامی دو شاخی تقسیم کے
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
لئے ضروری نوٹیفکیشن جاری کرے اور جوڈیشل مجسٹریٹوں کو چھ ماہ کے اندر ہائیکورٹ کے انتظامی کنٹرول میں دے۔
- (ii) سندھ سول سرونٹس (کارکردگی اور تنظیم) رولز 1978 کے رول 2 کے ذیلی رول 2 اور سندھ سول سرونٹز (تعیناتی، ترقی اور
تبادلہ) رولز 1974 کے رول نمبر 4 کے مطابق ہائیکورٹ کو بطور اتھارٹی ساٹھ دن کے اندر اندر نوٹیفکیشن جاری کرے۔
- (iii) چھ ماہ کے اندر قانون سازی کے اقدامات کرتے ہوئے مغربی پاکستان سول کورٹس آرڈیننس 1962 ضابطہ فوجداری، سندھ
سول سرونٹس ایکٹ 1973 سندھ سول سرونٹس (کارکردگی اور تنظیم) رولز 1973، سندھ سول سرونٹز (تعیناتی، ترقی اور تبادلہ) رولز 1974 اور دوسرے قوانین کو آئین کے آرٹیکلز 175 اور 203 سے ہم آہنگ کرنے کا اہتمام کرے۔
- ۱۶...... ڈاکٹر محمد اسلم خاکی ایڈووکیٹ سپریم کورٹ بطور عدالتی دوست کے 2018-03-05 کو پیش ہوئے اور سوالات پر اپنی
معروضات پیش کرتے ہوئے کہا:-
- (i) پیغمبر ﷺ خدا کی مشہور حدیث کہ ”اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے“ پر انحصار کرتے ہوئے فاضل عدالت کے دوست نے مؤقف
اختیار کیا کہ اس کے باوجود کہ کچھ مذموم مقاصد کے حامل خفیہ عناصر کی موجودگی کو رد نہیں کیا جا سکتا، ہم کسی کی نیت پر شک نہیں کر سکتے ہیں۔ فاضل عدالت کے دوست نے وہ واقعہ بھی بیان کیا جب پیغمبر ﷺ خدا نے ایسے شخص کو مارنے پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا جب حضرت اسامہ بن زید بن حارثہ ؓ نے اس پر قابو پا لیا اور اس نے کلمہ پڑھ لیا مگر پھر بھی حضرت اسامہ بن زید بن حارثہ ؓ نے اس کی جان ختم کر دی۔ پیغمبر خدا ﷺ نے کہا کیا تم نے اس کا دل چیر کر اس کا عقیدہ دیکھا تھا؟
- (ii) فاضل عدالت کے دوست نے کہا کہ آج بھی پاکستان میں ہزاروں عیسائی اور ہندو اپنے مذاہب میں شادی اور طلاق سے متعلق
سخت قوانین کے باعث شادی کے بندھن سے آزاد ہونے کے لئے اسلام قبول کرتے ہیں اور پھر دوبارہ سے اپنے اصل مذہب کی جانب لوٹ جاتے ہیں۔ فاضل عدالت کے دوست نے مؤقف اختیار کیا کہ مذہب کی یہ تبدیلی بھی مذموم مقصد کی ایک شکل ہے لیکن کیا اس طرح کی مذہب کی تبدیلی کے خلاف کوئی قانون ہے؟
- (iii) فاضل عدالت کے دوست نے یہ بھی کہا کہ ایسے مسلمان کے بارے میں کیا قانون ہے جو اپنے آپ کو احمدی ڈکلیئر کرتا ہے اور
سرکاری نوکریوں میں اقلیتوں کے لئے کوٹہ، عمر کی چھوٹ، بلدیاتی انتخابات یا قانون ساز اسمبلیوں میں اقلیتی نشستوں پر امیدواری جیسے مختلف مفادات حاصل کر کے وہ واپس اسلام کی طرف رجوع کر لیتا ہے؟
- (iv) فاضل عدالت کے دوست نے اس امر پر بھی زور دیا کہ عقیدہ یا مذہب کسی قانونی طاقت کے تابع ہونے کے بجائے ایک شخص کی
اپنی ذہنی حالت اور ضمیر کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ فاضل عدالت کے دوست نے ذوالفقار علی بھٹو اور ممتاز قادری کی مثال دی اور کہا کہ اکثر اوقات ایک شخص قانون کی نظر میں تو مرتا ہے لیکن عوام کی نظر میں نہیں مرتا ہے۔
- (v) فاضل عدالت کے دوست نے نقطہ اٹھایا کہ اسلام کا سب سے نمایاں اصول مذہب کی تبدیلی سے متعلق ہے۔ اس لئے نہ ہی ایک
شخص لازمی طور پر ایک مذہب میں داخل ہو سکتا ہے اور نہ ہی اس سے نکل سکتا ہے۔ سورہ 5 کی آیت 54 اور سورہ 2 کی آیت 217 بیان کرتے ہوئے فاضل عدالت کے دوست نے کہا اس نقطے کو تقویت دینے کی کوشش کی کہ مرتد کے لئے سزا اس دنیا کا نہیں بلکہ آخرت کا معاملہ ہے۔ اس لئے ریاست اس کو نافذ نہیں کر سکتی ہے۔ تاہم دوسری طرح کے مرتد وہ لوگ ہیں جو ریاست کے باغی بننا پسند کرتے ہیں اور یہ وہ مقام ہے جہاں ریاست باغیوں کے خلاف جنگ کے اصول پر مداخلت کر سکتی
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہے ۔ فاضل عدالت کے دوست نے یہ بھی کہا کہ بین الاقوامی منظر نامے میں کسی پر مرتد ہونے کی سزا نافذ کرنے سے دنیا کے دوسرے حصوں میں بسنے والے مسلمانوں کے لئے تباہ کن نتائج پیدا کرے گا ۔ مزید برآں ، قادیانیوں کو اپنے مذہب کی تبلیغ سے روکنا ایک طرح سے ” یک طرفہ آپریشن“ کے مترادف ہے جو اسلام میں جائز نہیں اور حتیٰ کہ شیطان کو بھی مقابلے کی کھلی چھٹی دی گئی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے لوگوں کو گمراہ کرے ۔ فاضل عدالت کے دوست نے دھوکہ دہی کو چیک کرنے کے لئے درج ذیل اقدامات تجویز کئے:-
- ☆ ...... اگر ایک شخص مسلمان یا غیر مسلمان ہونے کے حقوق/ استحقاق حاصل کرچکا ہے اور پھر اس کے بعد وہ اپنا مذہب تبدیل کرتا ہے تو
تبدیلی مذہب کی بنا پر پیدا ہونے والے اس کو کسی فائدے یا حق سے انکار کیا جاسکتا ہے جیسے کہ نوکریوں میں پسماندہ علاقے کی بنا پر کوٹے کا معاملہ وغیرہ ہے ۔
- ☆ ...... قومی شناختی کارڈ میں نئے تبدیل شدہ مذہب کے خانے کا اندراج کرتے ہوئے ایک کالم میں اس کے سابقہ مذہب کو بھی ظاہر کیا
جائے اور اس کے ساتھ ساتھ تبدیلی مذہب کی تاریخ کا بھی اندراج ہو ۔
- ☆ ...... ہمیں عقیدے پر نہیں بلکہ قیمتوں ، دہشت گردی ، غربت پر قابو پانا چاہئے ۔
- ☆ ...... تبدیلی مذہب کے لئے ہر طریقے اور انداز کا ایک یکساں ماڈل، حتیٰ کہ دوسرے مذاہب سے اسلام میں نئے آنے کا ایک قانونی
میکانزم تیار کیا جانا چاہئے ۔
- ☆ ...... تبدیلی مذہب کی ضروریات کے تحت نادرا کے ریکارڈ میں تبدیلی مذہب کے لئے پبلک نوٹس اور ڈیٹا انٹری کے لئے قانون سازی
ہونی چاہئے ۔
- ۱۷...... ڈاکٹر بابر اعوان ایڈووکیٹ سپریم کورٹ، 2018-03-05 کو بطور عدالت کے دوست کے پیش ہوئے اور گزارشات پیش
کرتے ہوئے فاضل عدالتی معاون نے آرٹیکل 260(a)(b)(3) پڑھتے ہوئے کہا کہ اس آرٹیکل کے مطابق ہر وہ شخص مسلمان ہے جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور یکتائی، اللہ کی کلی اور غیر مشروط ابدیت پر اور حضرت محمد ﷺ کی نبوت، ان کے آخری نبی ہونے پر ایمان رکھتا ہے اور کسی بھی ایسے شخص کو پیغمبر یا مذہبی مصلح نہ ہی مانتا اور نہ ہی تسلیم کرتا ہے جو حضرت محمد ﷺ کے بعد کسی بھی اعتبار سے نبی ہونے کا دعویٰ رکھتا ہے یا کرے ۔ جب کہ غیر مسلم افراد میں جو عیسائیت، ہندومت ،سکھ مت ،بدھ مت یا پارسی کمیونٹی یا قادیانی گروہ یا لاہوری گروہ سے تعلق رکھنے والے (احمدی یا کسی اور نام سے جانے جانے والے ) یا بہائی کے علاوہ شیڈول ذاتوں سے تعلق رکھنے والے سب لوگ شامل ہیں ۔ فاضل معاون نے آئین کے آرٹیکل 272 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کا تقاضا ہے کہ تمام قوانین کو قرآن وسنت میں دی گئی اسلامی حدود سے ہم آہنگ کیا جائے جب کہ یہ ہر ایسی قانون سازی کی حوصلہ شکنی کرتا ہے جو اسلامی حدود سے باہر ہو۔ مزید برآں، کوئی بھی قانون سازی ملک کا شہری ہونے کے ناطے کسی بھی غیر مسلم شہری کی حیثیت کے ضمن میں اس کے شخصی قوانین کی نفی نہیں کرے گا۔ فاضل معاون نے متذکرہ آرٹیکل کی روشنی میں ترمیم متدعا علیہ کی وضاحت کرتے ہوئے بیان کیا کہ یہ ترمیم اس آرٹیکل کی بنیادی روح کے منافی ہے، کیونکہ انتخابی امیدوار کے لئے حلف نامے کا حذف کرنا قادیانی / احمدی/ لاہوری گروہ کی جانب سے اقلیت ہونے کے سٹیٹس کو چھپانے کے مترادف ہے ۔
فاضل معاون عدالت نے مزید کہا کہ اگرچہ پارلیمنٹ کے پاس اختیار ہے کہ وہ نئی قانون سازی متعارف کروائے لیکن یہ اختیار
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
غیر مشروط اور بلا جواز نہیں کیونکہ ہر حق کا دعویدار ہے جب کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ متدعا علیہ ترامیم متذکرہ بالا آئین کے آرٹیکلز کی بلکہ اس کے ابتدائیہ کی بھی خلاف ورزی ہیں اور ان کا ختم کرنا اور موجودہ قوانین میں اس کا تذکرہ اور اس کے نتیجے میں آئین کے منافی قانون سازی نسخ ہے۔
فاضل عدالتی معاون نے مزید کہا کہ عدالت عالیہ پر لازم ہے کہ کسی بھی قانون کا آئینی جائزہ لے اگر وہ اسے بنیادی حقوق سے متصادم پائے ، جیسا کہ آئین کے آرٹیکل 8 اور 227 میں درج ہے یا جہاں کہیں کسی قانون کی کوئی دفعہ آئین کے بنیادی تصور کے منافی پائی گئی تو اسے نسخ قرار دیا جانا چاہئے ۔ مزید برآں کسی مخصوص شخص یا کمیونٹی کو فائدہ دینے کے لئے بنائے گئے کسی بھی قانون کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہئے اور اسے منسوخ قرار دیا جانا چاہئے ۔ کیونکہ ایسی کوئی بھی کوشش انصاف کی فراہمی کو فروغ دینے کی بجائے معاشرے آئین کے تابع شہریوں کے ضمن میں نا انصافی پر منتج ہوگا۔ اس بابت فاضل عدالتی معاون نے عدالت کی اجازت سے موجودہ نظائر پر انحصار کیا ۔ ان میں (پی ایل ڈی 2012 سپریم کورٹ 106) ، (پی ایل ڈی 2012 سپریم کورٹ 870) اور (پی ایل ڈی 2010 سپریم کورٹ 265) شامل ہیں ۔
- ۱۸...... سید محمد اقبال ہاشمی ایڈووکیٹ جنہوں نے بطور مداخلت کار کے عدالتی کاروائی میں شمولیت اختیار کرنے کی درخواست دہندہ کے
دلائل پر سند رکھی اور مزید کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر حضرت محمد ﷺ کو اپنا آخری پیغام رساں قرار دیا تھا اور اللہ نے قرآن میں کہا: ”اللہ اور اس کے فرشتے اللہ کے آخری پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔ اس لئے اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود بھیجو اور عقیدت کے ساتھ سلام بھیجو ۔“ (سورہ احزاب ) ۔ فاضل وکیل مداخلت کار نے مزید عرض گزاری کہ حضرت محمد ﷺ کی وفات کے فوری بعد عرب میں چند مکار اور جھوٹے پیغمبر نمودار ہوئے جن میں سے سب سے بدنام مسیلمہ تھا جو وسطی عرب کے بنو حنیفہ قبیلے سے تعلق رکھتا تھا۔ اسی طرح عراق کے سرحدی علاقے میں آباد بنی یربوع اور بنو تغلب قبیلے سے سجاح کے نام سے ایک خاتون جھوٹی پیغمبر بھی تھی ۔ جھوٹے پیغمبر تبہ کا فتنہ بھی دبایا گیا تھا۔ مسلمانوں کی جانب سے جھوٹے پیغمبر مسیلمہ کے خلاف ایک خونریز جنگ یمامہ بھی لڑی گئی تھی اور بڑی تعداد میں حفاظ قرآن نے جام شہادت نوش کیا تھا۔ حضرت ابو بکر صدیق ؓ کی قیادت میں تشکیل پانے والی گیارہ جتھوں کو مختلف فرائض تفویض کیے گئے تھے۔ پہلا جتھہ حضرت خالد بن ولید کی سربراہی میں تھا جس کا کام بنو اسد کے طلیحہ کے خلاف کاروائی کرنا تھا جو کہ بزاخہ کے مقام پر تھا جس کے بعد وہ بتاہا کے مقام پر بنی تمیمی کی جانب بڑھے ۔ بالآخر سجاح کو فتح ہوئی ۔ فاضل وکیل مداخلت کار نے مزید کہا کہ گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 میں مرکزی قانون ساز اسمبلی میں ہندوؤں ، شیڈول ذاتوں ، عیسائیوں ، اینگلو انڈین ، مسلمانوں اور سکھوں کے لئے علیحدہ نشستیں مختص کی گئی تھیں ۔ 3 جون کے تقسیم کے منصوبے اور دو ملکوں یعنی بھارت اور پاکستان کے قیام کے بعد ہر ریاست نے مختلف کمیونٹیوں کے لئے اپنی اپنی پالیسیاں وضع کیں ۔ البتہ اسلامی جمہوریہ پاکستان 1973 کے آئین کے وضع ہونے تک "مسلمانوں" کی تعریف کا تعین نہ کیا گیا جب تک کہ آرٹیکل 260 کی ذیلی کلاز 3 کو آئینی (دوسری ترمیم) ایکٹ 1974 کو دوسری آئینی ترمیم ایکٹ XLIX آف 1974 داخل نہ کر دی گئی جس میں حضرت محمد ﷺ کے آخری نبی ہونے پر کامل ایمان ایک مسلمان کے لئے لازمی قرار دیا گیا تھا ۔ آئین کے آرٹیکل 51 میں شق (2A) کا اضافہ کیا گیا جس کے تحت قادیانی گروہ کے افراد کو 1975 کے ایکٹ 71 کے تحت قومی اسمبلی میں ایک نشست دی گئی تھی ۔ آرٹیکل 106 میں شق (03) کو صدارتی حکم نمبر 14 آف 1985 سے تبدیل کیا گیا تھا جس کے مطابق ہر صوبائی اسمبلی میں ایک نشست مختلف غیر مسلموں کو تفویض کی گئی تھی ۔ اس کے بعد لیگل فریم ورک آرڈر 2002 (سی ای او نمبر 24 آف 2002) کے تحت آرٹیکل میں
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ترمیم کی گئی تھی اور شق (2A) کے تحت غیر مسلموں کے لئے دس نشستیں مختص کی گئی تھیں۔ اس ترمیم کی 18 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے توثیق کی گئی جو آئین کے آرٹیکل A-270 کے ذریعے آئین کا حصہ بنائی گئی تھی۔ صدارتی حکم 24 مجریہ 1985 کے ذریعے ایک اہم پیش رفت ہوئی جس کے مطابق آرٹیکل 260 کی شق (3) میں دوسری ترمیم نے ”مسلمانوں“ کی تعریف کی گئی جب کہ (b)(3) میں ”غیرمسلموں“ کی تعریف کی گئی۔ فاضل وکیل نے مزید کہا کہ الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 241 کے تحت درج ذیل سابقہ الیکشن قوانین کو منسوخ کر دیا گیا تھا اور اسی وجہ سے رول بنانے والی دفعات بھی منسوخ کر دی گئی تھیں:
- الف...... الیکشن ایکٹ 1974۔ دفعہ 28، قواعد بنانے کا اختیار (صدر کی منظوری سے)
- ب...... حلقوں کی حد بندی ایکٹ 1974
- ج...... سینٹ (الیکشن) ایکٹ 1975۔ دفعہ 88، قواعد بنانے کا اختیار (وفاقی حکومت ہمراہ کمشنر کے رولز بنانے کے لئے)
- د...... عوامی نمائندگی ایکٹ 1976۔ دفعہ 107، قواعد بنانے کا اختیار (کمشنر صدر کی اجازت سے رولز بنا سکتے ہیں)
- ر...... الیکشن کمیشن آرڈر 2002۔ قواعد بنانے کے لئے دفعہ 9E (کمشنر صدر کی اجازت سے رولز بنا سکتے ہیں)
- س...... کنڈکٹ آف جنرل الیکشن آرڈر 2002 ۔ دفعہ 9، قواعد بنانے کے اختیارات (صدر اس آرڈر کے تحت رولز بنا سکتے ہیں)
- ط...... پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002۔ دفعات، قواعد ۔ (الیکشن کمیشن صدر کی اجازت سے بنا سکتا ہے)
- ع...... انتخابی نشان مختص کرنے کا حکم مجریہ 2002
دفعہ 239، رولز بنانے کا اختیار (الیکشن ایکٹ 2017)
- 1...... کمیشن اپنی ویب سائیٹ پر شائع کر کے قوانین بنا سکتا ہے۔
- 2...... اس اشاعت کے ۱۵ یوم کے اندر داخل کیے جانے والے اعتراضات اور تجاویز کی سماعت کے بعد۔
فاضل وکیل مداخلت کار نے مزید کہا کہ حتیٰ کہ اگر کوئی قانون سے آگاہ اور اس کا بخوبی علم بھی رکھتا ہو تو بھی وہ ۱۵ دنوں کی مقرر کردہ مدت میں جواب دینے/اعتراض کرنے کے قابل نہ ہوگا اس لئے زیادہ توجہ/دانش کی ضرورت تھی، خاص طور جب آئین کے آرٹیکل 260 کے ذیلی آرٹیکلز (3) کی شقوں الف، ب اور ج میں تعریف کردہ شہریوں کی درجہ بندی کا معاملہ در پیش ہو۔
فاضل وکیل مداخلت کار نے رول بنانے کے طریقے سے متعلق چند ایک تجاویز دیں جو ذیل میں دی جا رہی ہیں:۔
- ☆...... وفاقی حکومت کمیشن کی مشاورت سے قواعد بنا سکتی ہے۔
- ☆...... کمیشن کی ویب سائیٹ پر ڈرافٹ کی اشاعت کی جاسکتی ہے اور اعتراضات اور تجاویز دینے کے لئے 30 دن کا وقت دیا جانا
چاہئے اور ان پر سماعت 31 سے 40 ایام کے اندر کی جاسکتی ہے اور اس کے بعد ڈرافٹ کو حتمی شکل دی جائے۔
فاضل وکیل مداخلت کار نے آخر میں عدالتی نظیر پی ایل ڈی 1989 سپریم کورٹ 6 بعنوان عوام الناس بنام وفاق پاکستان پر انحصار کیا۔
- 19...... مداخلت کنندہ مس امیر جہاں المعروف بسمہ نورین نے درخواست دہندہ کے وکلاء کے دلائل کی حمایت کی اور ان کو آگے
بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ متدعویہ ایکٹ آئین کے آرٹیکل 227 کی واضح خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے مزید زور دے کر کہا کہ ترامیم کے ذمہ داران کی نشاندہی ہونی چاہئے اور انہیں پارلیمنٹ کی رکنیت سے نااہل قرار دیا جائے کیونکہ وہ آئین سے بغاوت کے مرتکب
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہوئے ہیں۔ انہوں نے ان آئینی درخواستوں کی منظوری کی درخواست کی۔
- ۲۰...... عدالت کے حکم پر فاضل ڈپٹی اٹارنی جنرل نے متعلقہ اداروں بشمول ایف پی ایس سی، پاسپورٹ، نادرا، وزارت دفاع، ایف
آئی اے وغیرہ سے مطلوبہ دستاویزات حاصل کیں۔ ان میں دونوں ایوانوں کی کاروائیوں کی تفصیل اور راجہ ظفر الحق رپورٹ بھی شامل تھیں جنہیں ایک بند لفافے میں عدالت میں جمع کروایا گیا۔ فاضل ڈی اے جی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ زیر عنوان درخواستیں ناقابل سماعت ہیں کیونکہ کسی قانون کا قرآن اور سنت کے منافی ہونے کا تعین کرنا وفاقی شرعی عدالت کا دائرہ اختیار ہے۔ اس کے باوجود، فاضل ڈی اے جی نے کہا کہ متنازعہ ترمیم ٹائپنگ کی ایک غلطی تھی اور بلا ارادہ تھی جس کی اصلاح کر دی گئی ہے اور انتخابی امیدواروں کے حلف اور ایک فرد کے مذہب سے متعلق ترمیم پر دوبارہ سے قانون سازی کر دی گئی ہے اس لئے یہ درخواستیں غیر مؤثر ہوچکی ہیں اور ان کو اسی تناظر میں نمٹادینا چاہئے۔
- ۲۱...... میں نے درخواست دہندوں کے فاضل وکلاء، فاضل ڈپٹی اٹارنی جنرل، مداخلت کاروں اور فاضل دانشوروں کے ساتھ ساتھ
عدالت کی جانب سے مقرر کیے گئے عدالتی معاونین کی شکل میں آئینی ماہرین کے دلائل سنے ہیں اور ریکارڈ بھی ملاحظہ کیا ہے۔
- ۲۲...... ان آئینی درخواستوں سے پیدا ہونے والے مسائل کو سمجھنے کے لئے کچھ تاریخی واقعات کو بیان کرنے کی ضرورت ہے تا کہ
عدالت ہذا کے سامنے رکھے گئے تنازعے کو اس تناظر میں دیکھا جا سکے۔ میں انہیں بیان کرنے کی ذمہ داری کے زیر بار ہوں۔ احتیاطاً یہ تذکرہ ضروری ہے کہ عدالت کی واحد تشویش وہ تاریخی واقعات تھے جن کا عدالت کے سامنے موجود مسئلے سے تعلق ہے اور یہ خواہش نہ تھی اور نہ ہی ایسا ممکن ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے دور سے لے کر آج تک 150 سال کے عرصے پر محیط واقعات اور لٹریچر کا ذکر کیا جائے۔ صرف ان واقعات کا تذکرہ کیا جا رہا ہے جن کی ناقابل تردید شہادت موجود ہے اور جن کے لئے پارلیمنٹ کی کاروائیوں، انکوائری کمیشن رپورٹ، پارٹیوں کی قراردادوں، سیاسی جلسوں، دونوں اطراف کے رہنماؤں کی تقاریر، متعلقہ دور کی اخباری رپورٹوں، مشہور مفکرین کی تحریروں اور اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں میں دیئے گئے حقائق پر انحصار کیا گیا ہے۔ ان حقائق کو بیان کرتے ہوئے درج بالا مواد کے علاوہ بشیر احمد ایم اے کی کتاب The Ahmadiya Movement اور آغا شورش کاشمیری کی کتاب تحریک ختم نبوت پر بھی انحصار کیا گیا ہے اور جہاں کہیں ضرورت محسوس ہوئی ہے ان میں سے اقتباسات کو بعینہ تحریر کیا گیا ہے۔
- ۲۳...... ایک معروف مفکر، سپریم کورٹ کے شریعت اپیلٹ بنچ کے سابق جج ڈاکٹر محمود اے غازی نے بشیر احمد ایم اے کی کتاب The
Ahmadiya Movement کے دیباچے میں ہندوستانی برصغیر میں قادیانی تحریک پیدا ہونے کی وجوہات تحریر کرتے ہوئے فصاحت سے بیان کیا ہے کہ:
’’1857ء کی جنگ آزادی کی بدقسمت ناکامی کے بعد، انڈین برصغیر کے مسلمانوں نے خود کو بہت مشکل اقتصادی اور ثقافتی بحران میں گھرا پایا۔ برطانوی سامراج نے تمام مغلیہ سلطنت کا کنٹرول حاصل کر لیا اور جنوبی ایشیا پر اپنی حکومت کو مضبوط بنانے اور مستقل کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے۔ مقامی آبادی کو بالخصوص مسلمان قوم کو منتشر کرنے، غیر متحد کرنے، ابہام پیدا کرنے اور شکست خوردہ ذہنیت کی خاطر ہر ممکنہ قدم اٹھایا گیا۔ ہندوستان کی سوچ کے طویل عمیق مطالعہ کی بنیاد پر نو آبادیاتی حکمران کی بنائی ہوئی نئی پالیسی میں مذہبی گرفت میں نو آبادکاروں کے مفادات کی خاطر کام کرنے کے لیے مصنوعی مذہبی رہنما تیار کرنے کی کوششیں شامل تھیں۔ اپنے اس شیطانی منصوبے کے مطابق، زرخیز برطانوی دماغ نے مشرقی پنجاب کے ایک دور افتادہ گاؤں جو قادیان کہلاتا تھا میں کسی مرزا غلام احمد جو کہ اس
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
وقت کے گم نام ترین شخص کو تلاش کر لیا۔ اسے ایک مذہبی نجات دہندہ کے طور پر خود کو آگے لانے پر تیار کیا گیا، جس نے انڈین مسلمانوں کو اس ذہنی اذیت اور مایوسی سے جس سے وہ دوچار تھے، سے نکالنے کے وعدے کئے۔ اپنی شخصیت کی تعمیر کے لیے اس نے مقامی پریس میں لکھنا اور مختلف مذاہب پر تنقید کرنا شروع کر دی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس نے ایک تحریک کی بنیاد ڈالنا شروع کر دی جو بعد ازاں قادیانی یا احمدی تحریک کے طور پر مشہور ہوئی۔ جس نے ہندوستان اور ہندوستان سے باہر برطانوی سامراجیت کے حق میں بڑی ہوشیاری سے خدمت سرانجام دی۔ اس تمام صلیبی جنگ کا محور جہاد کے خلاف پروپیگنڈا کرنا تھا۔ کیونکہ یہ عقیدہ ہندوستانی مسلمانوں کو ہندوستان میں برطانوی نوآبادیاتی ازم کے خلاف کھڑا ہونے پر آمادہ کر رہا تھا اس کا دوسرا خفیہ مقصد انگریز حکمرانوں کے ساتھ وفاداری کے جذبے کی آبیاری تھا اور اسے ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے الٰہی رحمت کے طور پر قبول کرانا تھا۔ مرزا صاحب کی ساری شعبدہ بازی انہی دونوں مقصدوں کے گرد گھومی۔ اس کی مضحکہ خیز وحی ہائے و پیشین گوئیوں نے بلاواسطہ یا بالواسطہ انہی دونوں پیغامات کی ترویج کی۔ مرزا اپنے مصلح ہونے سے مجدد ہونے تک اور پھر نام نہاد ”مسیح موعود“ ہونے کے دعوے سے بڑی سرعت کے ساتھ ہٹ گیا اور آخر کار نبوت کے دعوے کی جرأت و گستاخی کر لی۔ یہ سب کچھ اس کے مربیوں کے مفادات کے حصول کی خاطر سوچی سمجھی حکمت عملی کے عین مطابق وقوع پذیر ہوا۔ غالب گمان ہے کہ مرزا اپنی ہم عصر تحریک بہائیت جس کی روسی زاروں نے ایران میں منصوبہ سازی کی تھی، سے متاثر تھا، اب یہ دونوں تحریکیں اسرائیل میں پھل پھول رہی ہیں۔"
۲۲...... تحریک کی نوعیت اور پیش رفت اور اس کے بانی کے دعوے اس کی اصل خاصیت کو ہویدا کرتے ہیں۔ قادیانی ایک علیحدہ کمیونٹی ہیں اور ان کے اپنے دعووں، عقیدے اور پریکٹس کے مطابق وہ غیر مسلم حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کے بانی اور اس کے جانشینوں کی مختلف تحریریں اس حقیقت کی شہادت دیتی ہیں۔ دینیاتی نظریاتی محاذ پر بہت سے نامور مذہبی دانشوروں نے قادیانیت پر تنقید اور اپنے عقائد پر اپنی تصانیف میں کثرت سے تحریر کیا ہے۔ قادیانیوں کے نمایاں عقائد کو مختصراً ذیل میں پیش کیا جا سکتا ہے۔
- i) صرف قادیانیت / احمدیت ہی اصل اسلام ہے۔ مرزا غلام احمد کے بغیر اسلام کی حیثیت بے جان ہے۔
- ii) مرزا غلام احمد قادیانی ایک مجدد، مہدی، حسب وعدہ مسیحا، ظلی نبی اور رسول، کرشنا اوتار اور تمام مذاہب میں کیے گئے وعدہ ہے۔
- iii) مرزا سچا نبی اور رسول (غیر تشریعی) ہے۔ نبی اور رسول آتے رہیں گے اور ابراہیم، نوح، موسٰی وغیرہ انسانیت کی
رہنمائی کرتے رہیں گے۔ خدا نے اپنی وحیوں میں اسے بغیر خاتم کے لاحقے کے نبی کہہ کر مخاطب کیا۔ وہ ہر اعتبار سے حضرت عیسٰی علیہ السلام سے برتر ہے۔
- iv) دنیا کے وہ مسلمان جو اس کے دعووں پر یقین نہیں رکھتے پکے کافر ہیں اور اسلام کے دائرے سے خارج ہیں۔
- v) خدا نے ایک غیر احمدی امام کے پیچھے نماز، ایک احمدی لڑکی کی غیر احمدی سے شادی اور حتیٰ کہ ایک غیر احمدی مسلمان بچے کی نماز
جنازہ پڑھنے سے بھی منع کیا ہے۔
- vi) مرزا کی بیوی ام المؤمنین ہے، اس کے ساتھی صحابہ کرام ہیں، قادیان مدینۃ المسیح اور خدا کے رسول اور سچے نبی کی گدی ہے۔
- vii) جہاد کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
- viii) حضرت عیسٰی علیہ السلام قدرتی موت فوت ہوئے تھے اور انہیں سری نگر کشمیر میں دفنایا گیا تھا۔
- ix) خلافت احمدیت کا مستقل ادارہ ہے۔ خدا خود خلیفہ کا تقرر اور رہنمائی کرتا ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- x) وحی کا دروازہ کھلا ہے اور مرزا کی وحی تمام انسانوں پر لازم ہے۔
- ۲۵...... تقسیم کے بعد 1947 کے آخری تین ماہ میں احمدیوں کے خلیفہ مرزا محمود نے قادیان (بھارت) سے ہجرت کر کے ضلع جھنگ
(پنجاب) میں ربوہ کے مقام پر 1034 ایکڑ زمین لے کر ایک ظلی قادیان کا قیام عمل میں لایا۔ ربوہ کم و بیش ایک آزاد احمدی سٹیٹ رہا ہے۔ ابتدائی دہائیوں میں ربوہ انتظامیہ نے ایک متوازی حکومت قائم کئے رکھی۔ خود ساختہ ربوہ انتظامیہ کی منظوری کے بغیر مقامی حکومت، عوامی اداروں یا یہاں تک کہ علاقے کا ڈپٹی کمشنر بھی تعینات نہیں کیا جاسکتا تھا۔ ربوہ انتظامیہ کی اجازت کے بغیر کوئی بھی شخص اس علاقے میں جائیداد کی خرید و فروخت یا عمارت کی تعمیر یا کاروبار نہیں کر سکتا تھا۔ کسی کو بھی احمدی اتھارٹی کو چیلنج کرنے کی ہمت نہ تھی۔ منحرفین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا جن میں سوشل بائیکاٹ، بدسلوکی، حملے اور ہتک عزت جیسے ہتھکنڈے شامل تھے۔ حتیٰ کہ جسٹس منیر رپورٹ میں بھی اس بات کو نوٹ کیا گیا کہ:-
’’جب تقسیم کے ذریعے مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ وطن کا قیام یقینی نظر آنے لگا تو احمدیوں کو آنے والے وقت میں درپیش خطرات کی فکر لاحق ہو گئی۔ انہوں نے اپنے آپ کو انتہائی مشکل میں پایا کیونکہ وہ نہ تو بھارت کا انتخاب کر سکتے تھے جو ایک ہندو سیکولر سٹیٹ تھی اور نہ ہی پاکستان کا کر سکتے تھے جہاں فرقہ بندی کی گنجائش نہ تھی۔ ان کی بعض ایسی تحریریں ظاہر کرتی ہیں کہ وہ تقسیم کے خلاف تھے اور تجویز کرتے تھے کہ اگر تقسیم کا ڈول ڈالا گیا تو وہ دوبارہ سے دونوں اطراف کو ملانے کی جدوجہد کریں گے۔‘‘
- ۲۶...... بابائے قوم کی وفات پر مسلمانوں اور قادیانیوں کے بیچ پچاس برس پرانی بحث نے دوبارہ سے سر اٹھایا جب پاکستانیوں کے علم میں
آیا کہ ظفر اللہ نے اس بنا پر کہ وہ (قائد اعظم) غیر مسلم تھے، ان کے جنازے میں شرکت نہیں کی تھی۔ قادیانیوں نے 90 کروڑ مسلمانوں کو کافر قرار دیا تھا اور قائد اعظم کو بھی استثناء نہیں دی تھی۔ اس سے پاکستان بھر میں بہت بڑا تنازعہ پیدا ہو گیا اور قادیانیوں نے اس کی ذرہ برابر پرواہ نہ کی۔ سامراجی طاقتوں نے پاکستان کی سالمیت کو دبانے کے ان کے مذموم عزائم کی بھر پور پشت پناہی کی۔ ہندوستان میں برطانوی راج کے دوران قادیانیوں کا عقیدہ تھا (اور اب بھی یہی ہے) کہ وہ صرف برطانوی پناہ میں ہی خوشحالی اور اپنے عقائد کی ترویج کر سکتے ہیں اور اس سے ہٹ کر نہ تو وہ مکہ میں کھل کر کام کر سکتے ہیں اور نہ ہی کابل میں۔ ظفر اللہ کی قیادت میں اور وزیر خارجہ کی حیثیت سے حکومت میں مؤثر پوزیشن ہونے کے ناطے انہوں نے اب پاکستان کو اپنی امیدوں کا گڑھ بنا لیا تھا۔ اپنے سیاسی دوروں کے دوران مرزا نے اپنے ماننے والوں کو تاکید کی کہ وہ بلوچستان پر توجہ دیں اور اس کی مختصر سی آبادی کو تبدیلی مذہب کے لئے تیار کریں تا کہ وہ کسی ایک صوبے کو اپنا صوبہ کہہ سکیں۔ اس نے ان سے کہا کہ بھیڑوں کے جھنڈ کی طرح ایک یا دو محکموں تک محدود مت رہیں بلکہ تمام اہم شعبوں میں پھیل جائیں اور جہاں تک فوج کا تعلق ہے تو اگر احمدیوں کی تعداد 10,000 ہے تو 9000 کو فوج میں ہونا چاہئے۔ فوجی تیاری بہت اہم چیز ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ اگر آپ نے فوجیوں جیسی خاموشی اختیار کرنا نہ سیکھی تو اپنا کام کیسے آگے بڑھا سکتے ہیں۔ بعد ازاں پاکستان میں تنزلی اور جمہوریت کی خرابی، جمہوری عمل کی تباہی، اسلامی قوانین کی عملداری میں رکاوٹیں اور پہلے بیوروکریسی اور بعد میں فوجی حکمرانی طبقے کا ظہور قادیانیوں کی گہری جڑوں والی سازشوں کے پس منظر میں دیکھنا چاہئے۔ وسیع تناظر میں تقسیم کے بعد قادیانیوں کی پاکستان کی جانب پالیسی درج ذیل نقاط پر مشتمل تھی:
- i) پاکستان میں اپنی بنیاد بنانا۔ مرزا محمود کی نظریں کشمیر اور بلوچستان پر تھیں۔
- ii) آرمڈ فورسز میں رسائی۔
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء
- iii) تقسیم کو ملیا میٹ کر کے دوبارہ سے قادیان کو واپسی ۔ خاص طور پر افریقی وعربی ممالک سر ظفر اللہ کی سپورٹ سے نئے تبلیغی دفاتر کا
اجراء۔
(احمدیہ تحریک از بشیر احمد ایم اے)
- ۲۷....... چار سال کے عرصے میں لیاقت علی خان کے علم میں قادیانیوں کی جانب سے کشمیر اور بلوچستان میں ایک احمدی ریاست کے قیام
کی پیش گوئیاں اور دعوے علم میں آنے لگے۔ ایک متحدہ ہندوستان کے لئے ان کی پالیسی اور خواہشات کے تناظر میں انہوں نے ایک خصوصی انٹیلی جنس سیل تخلیق کی جس کا کام حساس عہدوں پر تعینات قادیانیوں کی فہرست تیار کرنے اور ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کا تھا۔
- ۲۸....... جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا، قادیانیوں نے اپنی طاقت کے مرکز کو قادیان سے سرگودھا کے قریب ربوہ کے مقام پر منتقل کر لیا تھا۔
ویٹیکن کی طرح بدلے ہوئے حالات میں ربوہ کو ایک خصوصی مقام حاصل ہو گیا تھا۔ یہ ریاست کے اندر ریاست والی بات تھی جس کے سامراجی اور صہیونی طاقتوں سے مضبوط روابط تھے۔ ساری منصوبہ بندی، کو روابط اور قادیانیوں کی سرگرمیاں ربوہ سے کنٹرول ہو رہی تھیں۔ کسی بھی حکومت کے انتظامی معاملات میں ان کے اثر ورسوخ کی وجہ سے ان کی سیاسی سرگرمیوں کو سنجیدگی سے پرکھا نہیں گیا۔ اپنے نظریے کا ایک اہم حصہ ہونے کے ناطے معصوم اذہان کے اسلام مخالف کمزوریوں کا استحصال کرتے ہوئے مسلمانوں کے طبقوں میں گھس گئے۔ اپنے قیام کے ابتدائی دنوں میں جب پاکستان اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا تھا، قادیانی سامراجیوں اور نو آبادیاتیوں کے نادیدہ ہاتھوں کی مدد سے بیوروکریسی، مسلح فوج اور دیگر سرکاری اور نیم سرکاری اداروں میں اپنی موجودگی بڑھا رہے تھے۔ ان اداروں میں اہم عہدوں پر ہاتھ صاف کرنے کے بعد انہوں نے اپنے ماتحتوں کو قادیانیت اختیار کروانے یا اس کی کوشش کرتے نظر آئے تھے۔ یہ قطعی طور پر خدا اور اس کے بندے کے درمیان کا معاملہ نہ تھا اور یقینی طور پر نہ قائد اعظم کے اصولی احاطہ کے مطابق تھا۔ یہ ایک سوچی سمجھی، اجتماعی ”شدھی“ سے مماثلت رکھنے والی چال، ایک جارح، استحصالی اور مذہبی انجذاب کا عمل تھا۔ سیکولرازم یا کھلے دماغ والی جمہوری حکومتوں کے وکلاء نے اس جارح عزائم کا کوئی نوٹس نہ لیا۔ نتیجے کے طور پر قادیانیوں کو جزا اور سزا کے طریقہ کار کو وسیع بنیادوں پر اختیار کرتے ہوئے عام لوگوں میں نظریاتی تعلیم پھیلانے کا موقع ملا۔ اپنے عزائم اور خواہشات کے مخالف افراد اور تنظیموں کے شکست دینے اور سزا دینے کے حوالے سے انہیں بے پناہ سیاسی اثر ورسوخ حاصل تھا۔
- ۲۹....... مرزا محمود کی جانب سے نوتخلیقی ریاست پاکستان میں ادا کئے جانے والے کردار سے پاکستان کے عوام میں بے چینی موجود رہی۔
انہیں معلوم ہوا کہ ریاست کی سالمیت کو زیر بار کرنے کے لئے وہ سامراجی عزائم پر عمل پیرا تھے۔ قادیانیوں نے کشمیر اور بلوچستان میں سازشیں کیں اور لیاقت علی خان کے قتل میں ان کے مبینہ کردار سے ان کے مستقبل کے عزائم کی خبر ملتی تھی۔ لوگوں نے سر ظفر اللہ کو برطانوی سامراج کے ملازم ہونے اور خارجہ پالیسی پر ان کے نقطہ نظر کو اس کے ماضی کے تناظر میں پسند نہیں کیا تھا۔ لوگوں کو یقین تھا کہ باؤنڈری کمیشن کے سامنے اس نے پاکستان کا مقدمہ اور اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر کو صحیح انداز میں پیش نہیں کیا تھا۔ 1948 کے وسط میں قادیانی مخالف تحریک نے جنم لیا اور 1953 تک اپنے عروج کو پہنچ گئی۔ چند ماہ میں ہی، ہر مکتبہ فکر کے علماء نے تحریک برپا کر دی تھی۔ تحریک کا مرکزی نقطہ یہ تھا کہ مرزا غلام احمد ایک برطانوی ایجنٹ تھا جسے اسلامی وحدت کو پاش پاش کرنے کے لئے تخلیق کیا گیا تھا۔ اس لئے قادیانیوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنی چاہئے۔ تقسیم سے قبل، مرزا محمود نے اپنے پیروکاروں کو بتایا تھا کہ پاکستان کو وجود میں نہیں آنا چاہئے تھا اور اگر ایسی کوئی ریاست تشکیل پا بھی گئی تو اس کو ختم کرنا ہوگا۔ سر ظفر اللہ ریاست کا وفادار نہیں ہے اس لئے اسے عہدے سے ہٹا دینا چاہئے۔ تمام احمدیوں کو اہم عہدوں سے ہٹا دینا چاہئے۔ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ پنجاب میں 1951 کے انتخابات کے پس منظر میں،
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
احمدیوں نے کراچی میں جلسہ عام کا اعلان کیا۔ جناب ظفر اللہ مرکزی مقرر تھے۔ وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین نے ظفر اللہ کو اس اجتماع میں شرکت کی منظوری نہیں دی۔ لیکن جناب ظفر اللہ اتنے بضد تھے کہ انہوں نے وزیر اعظم کو کہا کہ وہ اس اجتماع میں شرکت کے لئے عہدے سے مستعفی ہونے کو تیار ہیں۔ سرظفر اللہ کی متنازع تقریر سے پنجاب اور کراچی میں مظاہرے شروع ہو گئے اور قادیانی مخالف تحریک شدت اختیار کر گئی۔ کراچی میں ایک مذمتی کل جماعتی مسلم کانفرنس کا انعقاد ہوا جہاں چار مطالبات رکھے گئے:
- (i) احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔
- (ii) سرظفر اللہ کو وزیر خارجہ کے عہدے سے برطرف کیا جائے۔
- (iii) اہم عہدوں سے قادیانیوں کو ہٹایا جائے اور
- (iv) ان مقاصد کے حصول کے لئے کل جماعتی مسلم جماعتوں کا کنونشن منعقد ہونا چاہئے۔
مسلمانوں کے مطالبات کی ضرورت اور ان کی دلیل کی وضاحت پیش کرنے کے لئے مولانا مودودی نے ’قادیانی مسئلہ‘ کے نام سے ایک پمفلٹ لکھا۔ انہوں نے احمدیہ تحریک کے مذہبی و سیاسی مقاصد کی وضاحت ایک عام فہم انداز میں کی۔ اس کو مدلل اور قوی بحث ہونے کی بنا پر سراہا گیا تھا۔ قادیانی جماعت کی لاہوری شاخ نے اس میں زیر بحث اہم مسائل کا بے ڈھنگا جواب دینے کی کوشش کی جس کا الٹا اثر ہوا۔ مولانا مودودی نے یہ وضاحت کی کہ قادیانی مسئلہ اس لئے نہیں اٹھا تھا کہ مسلمان کسی راسخ الاعتقادی یا جنونیت کے دورے میں اچانک مبتلا ہو کر لوگوں کے ایک گروہ کو ”دین بدر“ کرنا چاہتے تھے۔ اس کے برعکس اس کا آغاز مرزا غلام احمد کے مسیحائی اور رسالت کے دعووں سے جوڑا گیا، جس کے نتیجے میں اس پر ایمان نہ لانے والوں کو کافر قرار دیا گیا تھا اور انہیں اسلام کے دائرے سے خارج کر دیا گیا تھا۔ مرزا غلام احمد اور اس کے ماننے والوں کی تحریروں کی بنا پر انہوں نے ثابت کیا کہ احمدیت ایک علیحدہ مذہب ہے اور احمدی انگریزوں کے راج کے خلاف مسلمانوں کی مزاحمت پر اثر انداز ہونے کے مقصد سے چھوڑے گئے سامراجی چیلے اور جاسوس ہیں۔ اپنے وجود میں آنے کے بعد سے اس کا بنیادی مقصد سامراجی مفادات کو فروغ دینا ہے۔ اب وہ پاکستان میں سامراجی طاقتوں کو فروغ دینے کے لئے کام کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے ۱۹۳۵ء میں انگریزوں سے بجا مطالبہ کیا تھا کہ احمدیوں کو ایک علیحدہ فرقہ قرار دیا جائے۔ وہ مذہبی اور سماجی معاملات میں علیحدگی کی پالیسی پر عمل درآمد کرنے کے باوجود سیاسی لحاظ سے اسلام کے دائرے میں رہنا چاہتے تھے تاکہ حکومتی عہدوں سے حاصل ہونے والے سیاسی فائدے حاصل کر سکیں۔ مولانا نے مزید کہا: ”سرظفر اللہ خان کی برطرفی کا مطالبہ نہ صرف اس ہی نظریے کی بنیاد پر ہے کہ ایک اسلامی ریاست میں کسی غیر مسلم کو وزارت کا قلمدان نہیں سنبھالنا چاہئے بلکہ اس کی بنیاد یہ حقیقت بھی ہے کہ سرظفر اللہ خان نے قادیانی تحریک کو فروغ دینے اور مستحکم کرنے کے لئے ہمیشہ اپنے سرکاری عہدے کا ناجائز استعمال کیا تھا۔ ہندوستان کی تقسیم سے قبل اور پاکستان کے قیام کے بعد وہ بطور وزیر خارجہ، قادیانیت کے مفادات کو فروغ دینے کے لئے اپنے منصب کا ناجائز فائدہ اٹھاتے رہے ہیں۔ لہٰذا ان کا سرکاری عہدہ مسلمانوں کے لئے شکایت کی ایک مستقل وجہ ہے۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ ریاستی کابینہ میں ظفر اللہ خان عہدے پر نہ ہوتے تو امریکہ پاکستان کو گندم کا ایک دانہ بھی نہ دیتا۔ میں کہتا ہوں کہ اگر واقعی ایسا ہے تو پھر یہ معاملہ مزید سنگین ہو جاتا ہے۔ اس سے یہ واضح عندیہ ملتا ہے کہ وزارت خارجہ کی صدارت ایک امریکی ایجنٹ کر رہا ہے اور ہماری خارجہ پالیسی کو دس لاکھ ٹن گندم کے عوض فروخت کیا گیا ہے۔“
۳۰...... مارچ ۱۹۵۳ء کے آغاز میں عوامی تحریک تیزی سے پھیلی جس کے نتیجے میں لاہور میں سول حکومت تقریباً ناکام ہوگئی۔ تمام رہنماء
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
علماء کو گرفتار کر کے سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا۔ اس فیصلہ کن مرحلے پر وزیر اعلیٰ پنجاب ممتاز دولتانہ نے ایک بیان جاری کیا جس میں انہوں ان مرکزی مطالبات کو عملی طور پر منظور کیا کہ قادیانی گروہ کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے اور ظفر اللہ خان جیسے قادیانی لیڈر کو عہدے سے ہٹایا جائے۔ اسی روز ۶؍ مارچ ۱۹۵۳ء کو پنجاب میں مارشل لاء لگایا گیا اور تحریک کو کچلنے کے لئے فوج کو بلایا گیا۔ مارشل لاء مئی ۱۹۵۳ء تک نافذ العمل رہا۔ سکندر مرزا نے جی اوسی جنرل اعظم کو مارشل لاء لگانے کے احکامات جاری کئے۔ مارشل لاء انتظامیہ نے اپنی حدود سے واضح طور پر تجاوز کیا۔ پریس کی آواز کو دبایا گیا۔ سخت پیش احتسابی نافذ کی گئی اور کئی اخبارات کو کالعدم کر دیا گیا اور ان کے ایڈیٹروں کو جیل میں ڈال دیا گیا۔ یہ اب بھی واضح نہیں کہ مارشل لاء نے کردار سازی، سماجی اور تعلیمی اصلاحات سے لے کر روزانہ کی صحت وصفائی تک ہر چیز کو اپنے جال کا احاطہ کشادہ کر کے اس میں شامل کیوں کر لیا تھا۔ فوج نے پہلی مرتبہ سول انتظامیہ سنبھالنے کی ”مٹھاس“ چکھی تھی۔ اس نے یہ بھی دیکھا کہ قومی بحران کی صورت میں اس کی اہمیت کیا ہے اور اپنے آپ قومی سیاست اور معاملات میں اپنا ”کردار“ ادا کرنے کے لئے بے تاب پایا۔
- ۳۱...... مارشل لاء کے نفاذ کے بعد فوجی عدالتیں قائم کی گئی تھیں اور شہر کو فوجی انتظامیہ کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ کئی رہنماؤں بشمول مولانا
مودودی کو گرفتار کیا گیا تھا، جنہیں مولانا عبدالستار خان نیازی کے ساتھ فوجی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا اور سزائے موت سنائی گئی۔ یہاں پر بھی فوج کے حکام نے اپنے منشور سے تجاوز کیا جو محض قانون کی بالادستی کی بحالی کے لئے تھا۔ پوری قوم نے اس کی مذمت کی۔ وزیر اعظم نے بھی اس عمل پر برہمی کا اظہار کیا تھا۔ اسلامی دنیا کی طرف سے بھی ایک سخت ردعمل دیکھنے میں آیا تھا۔ گورنر جنرل آف پاکستان کو ان سزاؤں کو عمر قید میں تبدیل کرنے پر مجبور کیا گیا تاہم بعد میں دونوں کو رہا کر دیا گیا تھا۔
- ۳۲...... آگے چل کر جنرل ایوب کی جانب سے بغاوت کی گئی۔ ۲۷؍ اکتوبر ۱۹۵۸ء سے لے کر جون ۱۹۶۲ء تک مارشل لاء قواعد وضوابط
کے تحت پاکستان میں فوج کی حکومت رہی جن کو کسی قانونی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا تھا۔ سیاسی جماعتوں کو کالعدم قرار دیا گیا۔ رہنماؤں کو جیل میں ڈالا گیا۔ پریس کی آزادی پر سخت پابندیاں عائد کی گئیں اور عوامی رائے کو دبایا گیا۔ قادیانیوں کے لئے فوجی آمریت ایک نعمت ثابت ہوئی۔ اس کی بدولت انہیں تنظیم سازی اور بیرون ملک نئے مشن قائم کرنے کا موقع ملا جیسے کہ وہ ماضی میں برطانوی سامراج کی پناہ میں کرتے رہے تھے۔ انہوں نے فوجی آمروں اور بیوروکریسی کے ساتھ تعاون کر کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے معاشی اداروں اور سرکاری محکموں میں اہم عہدے حاصل کئے۔ انہوں نے پاکستان کے اندر اور بیرون ملک اپنی کاوشوں میں سامراجی اور صہیونی حمایت کا بھر پور فائدہ اٹھایا۔ ایوب امریکہ سے بہتر تعلقات کے گیت الاپتے رہے۔ ان کی فوجی بغاوت کے ایک سال بعد انہوں نے امریکی فوج کے ساتھ امریکی فوجی اڈے فراہم کرنے سے متعلق ایک مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کئے اور سوویت یونین کی نگرانی کے لئے پاکستانی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دے دی گئی۔ ایوب نے تمام اہم معاملات میں قادیانی برادری کا سہارا لیا۔ معاشی منصوبہ بندی اور بین الاقوامی شعبے کے اہم ترین حلقوں میں اہم عہدے سنبھالنے کے لئے ان کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ خارجہ پالیسی میں امریکی رجحان کے پیش نظر امریکی معاشی امداد جو کہ ۱۹۵۲ء میں ۱۰ ملین ڈالر تھی۔ ۱۹۶۳ء میں بڑھ کر ۳۸۰ ملین ڈالر تک پہنچ گئی۔ پاکستان نے ”دوستانہ طرز عمل“ سے جواب دیا۔ مرزا غلام احمد کا پوتا مرزا مظفر احمد جو کہ ایک بدنام زمانہ بیوروکریٹ تھا سیکرٹری خزانہ بنا اور پھر پاکستان کے منصوبہ بندی کمیشن کا ڈپٹی چیئر مین تعینات ہوا۔ اسے صہیونیوں کی حمایت یافتہ فورڈ فاؤنڈیشن اور ہارورڈ ایڈوائزری گروہ جیسے معاشی گروہوں کی ملی بھگت سے پاکستانی معیشت میں علاقائی عدم توازن پیدا کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔ ان تنظیموں نے منصوبہ بندی کمیشن اور صوبائی منصوبہ بندی کے
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
شعبہ میں پاکستان کے پانچ سالہ منصوبوں کے لئے معاشی ماہرین کی ایک کھیپ بھیجی جن کی ناقص منصوبہ بندی کے نتیجے میں مشرق و مغرب کے درمیان تضاد نے جنم لیا جو ملک کے مشرقی بازو کی علیحدگی کا پیش خیمہ بنی۔
(احمدیہ تحریک از بشیر احمد ایم اے)
۳۳....... مارشل لاء انتظامیہ چیف آف جنرل سٹاف میجر جنرل احیاء الدین کی شخصیت سے متاثر تھی جو ایک پکے قادیانی تھے۔ وہ تحریک کو کچلنے کے لئے طاقت کے آزادانہ استعمال کے حامی تھے۔ وہ مشتعل افراد کو ایک مناسب فوجی کاروائی کے ذریعے لاہور میں مسجد وزیر خان سے ہٹانا چاہتے تھے جہاں انہیں بند کیا گیا تھا۔ اس منصوبے کو اس کے وسیع تر سیاسی اثرات کی بنیاد پر بعد میں مسترد کر دیا گیا تھا۔ میجر جنرل احیاء الدین قومی معاملات پر تنگ نظری کا شکار تھے۔ ان کا بنیادی مقصد احمدیہ گروہ کے عزائم کی بجا آوری تھا۔ ایوبی آمریت نے قادیانیوں کو تحفظ فراہم کیا اور اپنے مفادات کی پاکستان میں اور بیرون ملک حفاظت کرنے میں ان کی حوصلہ افزائی کی۔ ان کے خلاف لوگوں میں تحفظات عروج کو پہنچے اور علماء نے پاکستانی سیاست میں ان کی بڑھتی مداخلت کے خلاف آواز اٹھائی۔ قادیانی اس قدر اثر و رسوخ رکھتے تھے کہ انہوں نے عوامی ردعمل کو اور خود پر ہونے والی تنقید کو یہ کہہ کر نظر انداز کر دیا کہ یہ مُلّاؤں کا روایتی تعصب اور تنگ نظری ہے۔ جابرانہ مارشل لاء احکامات اور دفاع پاکستان قوانین نے انہیں علماء کے ’’وار‘‘ کے خلاف مناسب تحفظ فراہم کیا۔ قادیانیت کی مخالفت کرنے والے کئی مذہبی رہنماؤں کو ’’فرقہ وارانہ جذبات‘‘ کو فروغ دینے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔ قادیانی مخالف پریس کو دبایا گیا اور کئی اخبارات کے ایڈیٹروں اور پبلشروں کو گرفتار کیا گیا۔ لاہور کے ہفت روزہ چٹان کو ہوم ڈیپارٹمنٹ کی سخت تنبیہ اور اپنے دلیر ایڈیٹر آغا شورش کشمیری کی گرفتاری کے باوجود بے باک تنقید اور قادیانی سازشوں کا پردہ فاش کرنے کا سہرا جاتا ہے۔ انہوں نے بے باکی سے تمام مشکلات کا سامنا کیا اور ختم نبوت کے عظیم مقصد کے لئے دلیری سے جدوجہد کی۔ مذہبی تنظیموں اور سیاسی پارٹیوں نے قادیانی سازشوں کا پردہ فاش کرنے کی خدمات سرانجام دیں اور اس سامراجی سیاسی ایجنسی کی اصلی شکل دکھائی۔ قادیانیوں نے گورنر مغربی پاکستان جنرل موسیٰ خان سے رابطہ کیا اور یکم اپریل ۱۹۶۶ء کو سیکرٹری داخلہ مغربی پاکستان سے دفاع پاکستان قوانین کے تحت تمام ایڈیٹروں، پرنٹروں اور پبلشروں کو ایک سرکلر جاری کروانے میں کامیاب رہے جس کے مطابق ان سے کہا گیا کہ : ’’کسی فرقہ کی ابتداء، الہام، وحیوں اور عقائد پر تبصروں پر مبنی کوئی تحریر شائع نہ کی جائے ۔‘‘ بعد ازاں قادیانی کمیونٹی کو مطمئن کرنے کے لئے ایک اور حکم نامہ جاری کیا گیا۔ ۱۷ جولائی ۱۹۶۷ء کو گورنر مغربی پاکستان نے چٹان ، لاہور کے ایڈیٹر کو ایک حکم جاری کیا۔ جس میں انہیں عوامی امن و امان کی برقراری سے متعلق متعصبانہ، اشتعال انگیز اور فرقہ وارانہ تحریروں میں ملوث ہونے پر انہیں شائع کرنے سے منع کیا گیا کہ : ’’کسی فرقہ کی ابتدا، الہام، وحیوں اور عقائد پر ایسے تبصرے شائع نہ کئے جائیں جس سے مختلف فرقوں کے درمیان عداوت، بد نیتی یا نفرت کے جذبات جنم لیں۔ اخبارات، نقطہ نظر، تبصرے یا کسی بھی اور صورت میں ایسی کسی بھی تحریر کے شائع ہونے پر سنسر لگا دیا گیا تھا جو کسی فرقہ کی ابتدا، الہام، وحیوں اور عقائد یا ان کے تقابلی خوبی یا حیثیت سے تعلق رکھتے ہوں۔‘‘ اخبار اس سے قبل قادیانی تحریک پر آٹھ صفحات شائع کر چکا تھا (جس میں مصنف کا لکھا ہوا آرٹیکل شامل تھا) جسے ضائع کرنا پڑا تھا۔ چٹان نے ربوہ کی ایماء پر پیش آنے والی تمام مشکلات اور حکومتی دباؤ کے باوجود ختم نبوت کا جھنڈا اٹھائے رکھا۔ آخر کار ۲۱ اپریل ۱۹۶۸ء کو ہفت روزہ چٹان کا ڈیکلریشن منسوخ کر دیا گیا اور اس کے پریس کو ضبط کر لیا گیا۔ یہ ایوب آمریت کے بدنام زمانہ تکون یعنی گورنر مغربی پاکستان جنرل موسیٰ، وزیر اطلاعات احمد سعید کرمانی اور ایوب کے چہیتے الطاف گوہر کے شیطانی گٹھ جوڑ کا نتیجہ تھا۔ انہوں نے پاکستان میں احمدیہ مخالف عناصر کو دبانے کے لئے ہر ممکنہ قدم اٹھایا۔ قادیانیوں نے یحییٰ آمریت میں کئی سہولیات کا فائدہ اٹھایا۔ ڈپٹی چیئرمین منصوبہ بندی ڈویژن ایم ایم احمد صدر یحییٰ کا معاشی امور پر مشیر بنا اور ان کی اندرونی کابینہ کے اہم رکن کے طور پر خدمات بھی
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سرانجام دینے لگا۔ سر ظفر اللہ اب بھی یحییٰ کے حلقے اور ریاستی شعبہ کے افسران کے درمیان ایک اہم رابطہ بنے رہے۔ قادیانی بیوروکریٹ پاکستان کی ابھرتی ہوئی لیڈرشپ کی طرف دیکھنے لگے تاکہ ملک کے مستقبل کی سیاسی ترتیب و تنظیم میں اپنا کردار ادا کریں۔ ایم ایم احمد یہودی حمایت یافتہ اسلام آباد میں قائم فورڈ فاؤنڈیشن کے مشیروں کے کافی قریب تھا۔ یہ نام نہاد مشیران یحییٰ حکومت کے ابتدائی سالوں میں ہی پاکستان چھوڑ گئے جب قومی پریس میں ان کی سرگرمیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان علاقائی عدم توازن اور معاشی تضاد پیدا کرنے میں امریکہ کا کردار وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔
(احمدیہ تحریک از بشیر احمد ایم اے)
۳۴...... آگے چل کر ذوالفقار علی بھٹو کے جمہوری دور میں قادیانیوں اور پی پی پی کے درمیانی تعلقات اپریل ۱۹۷۴ء میں تبدیل ہوئے۔ جب حکومت نے بغاوت کی کوشش میں ملوث تین قادیانی فوجی افسران کی گرفتاری کا حکم جاری کیا۔ پی پی پی قیادت نے قادیانی گروہ کی وفاداری پر سوال اٹھایا اور ان کی حمایت ترک کرنے میں مصلحت جانی۔ حکومت نے پاکستان آرمی ایکٹ اور دفاع پاکستان قوانین کے تحت چند افراد کے مسلح افواج کے اہلکاروں کو اپنی ڈیوٹی سے یا حکومت کی اطاعت سے گمراہ کرنے کے جرم میں گرفتار کیا۔ ان منصوبہ سازوں میں تین قادیانی تھے، جن میں میجر فاروق آدم خان، سکواڈرن لیڈر محمد غوث اور لیفٹیننٹ جنرل عبدالعلی ملک کا بھانجا، جو اس وقت کے آرمی چیف سے سینیارٹی میں تین درجے نیچے تھا، شامل تھے۔ اس منصوبے میں تین قادیانیوں کے ملوث ہونے سے ربوہ کی اعلیٰ قیادت کی بدنیتی واضح ہو گئی، جو اقتدار کے خواہشمند تھے اور بغاوت کے ذریعے بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹنا چاہتے تھے۔ انہوں نے بیوروکریسی اور دفتر خارجہ کے چند افسران کی طرف دست تعاون بھی دراز کیا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ مستقبل کے آئین پاکستان کے چند پہلوؤں کو بھی ناپسند کرتے تھے۔ بھٹو نے اپریل ۱۹۷۴ء میں یہ انکشاف کیا کہ پاکستان کے توڑنے میں اسرائیل نے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ اس کی مزید وضاحت کے لئے شورش کشمیری نے جناب ذوالفقار علی بھٹو کو ایک کھلا خط لکھا، جس میں انہوں نے قادیان اور اسرائیل اتحاد سے متعلق مندرجہ ذیل نکات کا ذکر کیا:
- (۱) قادیانی پاکستان میں وہی کردار ادا کرتے رہے ہیں جو صیہونی حمایت یافتہ لابی نے برطانیہ اور امریکہ میں کیا ہے۔
- (۲) قادیانی، اسرائیل تعلقات کی نوعیت جاننے کے لئے ایک انکوائری کی جائے کہ کیسے اور کس طرح سے اسرائیل نے پاکستانی
سیاست میں مداخلت کی ہے؟ اسرائیل کے ایجنٹ کون تھے اور کس سیاسی پارٹی کو ان شیطانی عزائم کی خاطر استعمال کیا گیا تھا؟
- (۳) پاکستانی انٹیلی جنس کی یہ ذمہ داری ہے کہ ہمیں اسرائیل میں قادیان مشن کے آپریشن کی تفصیلات فراہم کرے جو عیسائی تبلیغی سینٹر
کے بھیس میں ایک سیاسی ڈیپارٹمنٹ ہے۔ اس کا کیا مقصد ہے؟ قادیانی کس کو تبلیغ کرتے ہیں؟ اسرائیل عیسائی مبلغین کو تبلیغ کی اجازت نہیں دیتا تو قادیانیوں کو اپنے عقائد کی آزادانہ تبلیغ کرنے کی اجازت کیوں ہے؟ کتنے یہودیوں نے احمدیت کو اپنا لیا ہے؟ کیا یہ واضح نہیں ہے کہ قادیانی سامراجی طاقتوں کے ایجنٹ ہیں اور اسلامی دنیا کے اتحاد کے خلاف کام کرتے رہے ہیں؟
- (۴) پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکولر ذہنیت کے حامل اراکین قادیانی مسئلہ سے مکمل طور پر آگاہ نہ ہیں۔ وہ نوکر شاہی میں بڑے عہدے
حاصل کر رہے تھے، پر پاکستان کے وفادار نہ تھے۔ وہ کسی بھی طریقے سے سیاسی طاقت کے حصول کے لئے خفیہ طور پر منصوبہ بندی میں مصروف ہیں۔
۳۵...... جولائی ۱۹۷۳ء میں شورش کاشمیری نے یہ ثابت کرنے کے لئے کہ یہ نہ صرف ایک مذہبی بلکہ ایک سیاسی مسئلہ بھی ہے، ایک کتابچہ ”عجمی اسرائیل“ مرتب کیا۔ قادیانی ملک کی سالمیت کو خطرے میں ڈالنے کی سازش کر رہے تھے اور پنجاب توڑنے کی ایک اکالی سکھ۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیانی سازش تیار کی جا رہی تھی۔ صفِ اوّل کے علماء کی تجویز پر شورش نے عرب ممالک کے سربراہوں کو درج ذیل مکتوب لکھا جو کہ قادیانی مسئلہ کی اساسی حیثیت اور مسلم دنیا کے لیے اسکے مضمرات پر روشنی ڈالتا ہے۔
”میں ایک اہم مسئلے پر آپ کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں جو کہ شاید اس سے پہلے آپ کی مناسب توجہ حاصل نہیں کر پایا ہے اور یہی وجہ ہے کہ میں آپ سے گزارش کروں گا کہ برائے مہربانی مسئلے کی حقیقی اہمیت یا اس کے گھمبیر پن کو سمجھنے کی خاطر درج ذیل سطور پر ذاتی توجہ وقف فرمائیں۔
- (۱) قادیانی فرقہ انڈیا میں انگریز راج کے قیام کے چالیس سال بعد اس برصغیر میں برطانوی استعماریت کی ایک بنیادی ضرورت کے
طور پر معرض وجود میں آیا۔ برطانوی حکومت اپنی مسلسل کوششوں کے باوجود مسلم آبادی کی اپنی قومی سالمیت میں اپنے عقیدے سے جڑی اساسیت اور جہاد کی قرآنی تعلیم سے وابستگی کو ختم کرنے میں کامیاب نہ ہوسکی۔ یہ مرزا غلام احمد تھا، جس نے مذہبی بنیادوں پر ہر اس شخص کو کافر قرار دے کر جو اس کی نبوت پر ایمان نہیں رکھتا تھا، اس مشن کی تکمیل کی۔ عین اسی وقت وہ تصور جہاد کے مکمل انکار کے ساتھ اس بنیاد پر آگے بڑھا کہ برطانوی راج کی کرم نوازیوں کی موجودگی میں جہاد کی اہمیت ختم ہو چکی تھی۔
- (۲) ان دنوں شمال مغربی سرحدی صوبہ (NWFP) جہادی سرگرمیوں کا مرکز تھا اور علاقے میں پنجاب اس کا اگلا ہمسایہ تھا جو علاقہ بعد میں
برطانوی سلطنت کے لیے سب سے زیادہ وفادار اور جری سپاہیوں اور ناقابل شکست اور لائق جاسوسوں کی بنیادی سپلائی لائن ثابت ہوا۔ ظاہر ہے پنجاب جیسی سرزمین ہی مرزا غلام احمد جیسے نبی کی تخلیق کے لیے سب سے زیادہ موزوں ہو سکتی تھی جو اپنے محسنوں کا سچا وفا دار مددگار تھا جس نے اپنی پوری زندگی میں مسلمانوں کی قومی یکجہتی کو منتشر کرنے کے مقصد میں ان سے غداری نہیں کی۔
- (۳) پاکستان کے قیام تک مختصر قادیانی فرقہ برطانوی حکمرانوں کے فیاضانہ اور سرپرستانہ رجحان کے باعث ایک طاقت ور سیاسی فرقہ
کے طور پر ابھر کر سامنے آ گیا اور جس کا واقعتاً مقصد یہی تھا کہ وہ اپنے مذموم مقاصد کو حاصل کر سکیں۔
- (۴) پاکستان بننے کے بعد قادیانیوں نے مسلم قوم کے اندر ایک طاقتور سیاسی فرقہ کے طور پر پاکستان میں سیاسی طاقت غصب کرنے کے لیے
ایک پورے طے شدہ پروگرام کے تحت اپنا سفر شروع کیا اور یہ پاکستان کی غالب مسلم آبادی کے لیے ایک حقیقی خوفناک مسئلہ ہے۔
- (۵) قادیانیوں نے اپنی سیاسی مہم اور جسے وہ تبلیغی مہم کا نام دیتے ہیں، کی اسرائیل، تل ابیب میں بنیاد رکھی ہے اور پاکستان اور عرب
دنیا دونوں میں سامراجی بلاک کے ایجنٹ کے طور پر کام کر رہے ہیں اپنے آقاؤں کی مذموم سیاسی حکمت عملیوں کے فروغ کے لیے ان کی وطن دشمن سرگرمیوں کے باعث ان کی اتنی پذیرائی ہوئی ہے کہ انہوں نے دنیا کے اس خطے میں اپنے لیے ایک دوسرا اسرائیل بنانے پر غور شروع کر دیا ہے اس مقصد کی خاطر وہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی ذمہ دار قوتوں کی حمایت کرتے رہے ہیں اور اپنے منفی سیاسی رجحان کے تحت وہ بلوچستان اور شمالی مغربی سرحدی صوبہ میں نام نہاد علیحدگی پسند تحریکوں کی سرپرستی بھی کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا واحد مقصد یہ ہے کہ پنجاب کو پاکستان کے دیگر صوبوں سے بالکل الگ کر دیں۔ اس صورت میں مشرقی پنجاب کے سکھ یہ دیکھ کر کہ مسلم پنجاب کو اکیلا اور تنہا کر دیا گیا ہے۔ اس مطالبے کے ساتھ آگے آجائیں گے کہ انہیں اپنے مقدس گردواروں کی سرزمین پر واپس بھیج دیا جائے۔ جواباً قادیانی فوری طور پر اس مطالبے کو تسلیم کئے جانے کی حمایت کر دیں گے اور مدینۃ النبی (قادیان جہاں غلام احمد دفن ہے) کی بحالی کا مطالبہ کر دیں گے۔ آپ با آسانی سوچ سکتے ہیں کہ ایسا اسی وقت ممکن ہے جب سابقہ پنجاب کے دونوں حصے دوبارہ جڑ جائیں اور وہ بھی سکھوں اور قادیانیوں کے مشترکہ سیاسی کنٹرول
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کے تحت۔ برائے مہربانی یہ دیکھئے کہ وکٹوریہ برانڈ نبوت کی یہ اُمت، اس عظیم مسلم ملک کے قیام کے بنیادی نظریے کو کس طرح تخریب کاری کا شکار بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ پاکستان کے تعلیم یافتہ اور باخبر حلقے حالات کی اس ناخوشگوار صورتحال پر سخت بے قرار ہیں۔ قادیانی ایک طرف حکومت پاکستان سے غداری کر رہے ہیں اور دوسری طرف اپنے شاطرانہ پروپیگنڈے کے نظام کے تحت عالمی رائے کو مکمل اندھیرے میں رکھ رہے ہیں۔ قادیانیت ایک مذہب نہیں ہے بلکہ بہت انتقامی عزائم والی ایک سیاسی جماعت ہے جو خالصتاً چالاکی کے ساتھ مسلمان قوم کا حصہ بنے رہنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس طرح سیاسی سہولیات اور مفادات کو حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن مذہبی اور سماجی طور پر وہ یکسر مختلف مسلک رکھتے ہیں وہ پاکستان کی 90 فیصد مسلم آبادی پر سیاسی حاکمیت حاصل کرنے کے لیے معتزلہ کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر اقبال (شاعر مشرق) نے پنڈت (جواہر لال نہرو) کے نام مؤرخہ ۲۱؍ جون ۱۹۳۶ء کو لکھے گئے اپنے خط میں قادیانیوں کو اسلام اور انڈیا دونوں کا غدار بیان کیا تھا انہوں نے انڈین آبادی کے ان حصوں کی سخت مخالفت اور مذمت کی تھی جو قادیانیوں کے کیس میں فیاضی اور مذہبی رواداری کی خاطر اُٹھے ان کے نزدیک کسی بھی قوم کی سالمیت یا کسی کے مذہب کی نظریاتی سرحدوں کا دفاع فیاضی یا اخلاقیات کے اصولوں کے خلاف نہیں تھا۔ درج بالا فراہم کردہ تفصیل سے یہ بالکل واضح ہے کہ:
- i- قادیانی مسئلہ اپنی فطرت کے لحاظ سے فرقہ جاتی نہیں ہے بلکہ کاملاً ایک سیاسی مسئلہ ہے۔
- ii- قادیانی اپنے سامراجی حمایتیوں کی شہ پر پاکستان میں اپنی طرز کی حکومت بنانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن وہ اس ملک کے
مسلمانوں کی ہر کوشش جو انہیں روکنے کے لیے کی جاتی ہے۔ اسے مذہبی یا فرقہ واریت تنازعے کا نام دے کر سبوتاژ کرتے ہیں۔
قادیانیوں نے حکومت پاکستان کے شعبہ دفاع خزانہ اور ابلاغیات میں مختلف اہم عہدوں پر قبضہ جما لیا ہے اور اپنے سیاسی تسلط کے لیے راہ ہموار کرنے میں مصروف ہیں۔ عین اسی وقت بین الاقوامی سامراجی قوتیں جو عرصہ دراز سے سیاسی طاقت کا داؤ لگا چکی ہیں، کو بھی ان کے گروہ سے تعلق رکھنے والے انجینئروں، ڈاکٹروں اور نرسوں کے روپ میں جاسوسی ریکیٹوں کے ذریعے خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔ جن کی اس طرح کی سرگرمیوں کے لیے اپنے مخصوص انداز میں تربیت کی جاتی ہے۔
- ۳۶....... مخالفین کو اپنی طاقت دکھانے کے لئے قادیانی غنڈوں نے نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلباء پر اس وقت حملہ کیا۔ جب وہ ایک
تفریحی سفر سے واپسی پر ۲۹؍ مئی ۱۹۷۴ء کو ربوہ کے قریب سے گزر رہے تھے۔ قادیانیوں نے لاٹھیاں اور ہلکا اسلحہ تھاما ہوا تھا۔ پچاس طلباء بری طرح زخمی ہوئے جب کہ ۱۳ کی حالت انتہائی نازک تھی۔ یہ ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا اور اس وقت کا خلیفہ مرزا ناصر اس کے پیچھے ملوث تھا۔ قادیانی غنڈہ گردی کا ملک بھر سے ردِعمل دیکھنے میں آیا۔ اگرچہ وزیر اعلیٰ پنجاب حنیف رامے نے قانون توڑنے والوں کو سخت تنبیہ کی مگر مظاہرین نے اس کی کوئی پرواہ نہیں کی۔ لاہور ہائیکورٹ کے معزز جج جناب جسٹس کے اے صمدانی ربوہ سانحے کی انکوائری کے لئے مقرر ہوئے۔ پنجاب اسمبلی میں حزب اختلاف کے رہنماؤں نے تحریک التواء جمع کروا دی لیکن سپیکر نے معاملہ عدالت میں ہونے کی بنا پر اس کی اجازت نہ دی۔ وزیراعظم بھٹو نے عوام سے اپیل کی کہ وہ خصوصی عدالت کے نتائج کا انتظار کریں لیکن تحریک میں کوئی کمی واقع نہ ہوئی۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن رہنماؤں نے ربوہ واقعہ پر تحریک التواء پیش کرنے کی بھر پور کوشش کی مگر کامیابی نہ ہوئی۔ اسمبلی کا زیادہ وقت اس تحریک کے تسلیم کئے جانے کی بحث پر لگا۔ واقعے پر بپا ہونے والی تحریک کو جانچنے کے لئے بہت سے مذہبی، سیاسی اور طلباء رہنماؤں کو DPR کے تحت گرفتار کر لیا گیا اور عوامی اجتماعات کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا۔ حکومت نے سخت اقدامات کرتے ہوئے ۱۹۵۳ء کا ڈرامہ دہراتے
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہوئے معاملے کو دبانے کی کوشش کی۔ لوگوں نے پرامن تحریک جاری رکھنے کے لئے بہادری سے تمام مشکلات سہیں۔ ہر کوئی جانتا تھا کہ قادیانی غنڈہ گردی کے پیچھے مرزا ناصر احمد کا ہاتھ تھا، تاہم حکومت اسے گرفتار کرنے سے ہچکچا رہی تھی۔ اس نے لاہور ہائیکورٹ میں ضمانت قبل از گرفتاری کی ایک پٹیشن ڈال دی۔ اسے ربوہ واقعہ کی تحقیق کے لئے بلایا گیا۔ چیف جسٹس محمد اقبال نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کئے جس نے عدالت میں بیان دیا کہ حکومت کا مرزا ناصر کو اس موقع پر گرفتار کرنے کا کوئی ارادہ نہیں اور تفتیش کے دوران اگر اسے گرفتار کرنے کے لئے کوئی مقدمہ بنا تو گرفتار کرنے سے پہلے ہائیکورٹ کو آگاہ کیا جائے گا۔ چنانچہ پٹیشن کو نمٹا دیا گیا۔
- ۳۷...... مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی مجلس عمل جو ۱۸ سیاسی و مذہبی جماعتوں پر مشتمل تھی، نے ختم نبوت کے بڑے مقصد کے لئے معروف
اسلامی مفکر علامہ محمد یوسف بنوری کی قیادت میں بھر پور جدوجہد کی۔ مجلس کے مطالبات میں جو شقیں شامل تھیں ان میں ربوہ کو ایک کھلا شہر قرار دینے، احمدیوں کو کلیدی عہدوں سے ہٹانا، ان کی نیم فوجی تنظیموں پر پابندی، ۲۹؍مئی کے ربوہ ریلوے سٹیشن پر ہونے والے واقعے کے ذمہ داران بشمول مرزا ناصر احمد کی گرفتاریاں اور پاکستان مخالف پراپیگنڈہ کرنے پر چودھری ظفر اللہ خان کے خلاف مقدمہ کی سماعت اور اس کے پاسپورٹ کی ضبطی شامل تھے۔ مجلس نے تحریک کو مہمیز کرنے کے لئے بائیکاٹ کی ایک مہم کا آغاز کیا۔ فار ایسٹرن اکنامک ریویو کے نمائندے نے اس بائیکاٹ موومنٹ کے بارے میں لکھا کہ:
’’پبلک ٹرانسپورٹ پر سٹیکرز آویزاں کر دیئے گئے تھے جن پر مطالبات درج تھے کہ احمدیوں کا بائیکاٹ کیا جائے۔ دکانوں پر ڈسپلے کیا گیا کہ احمدیوں کو سروس نہیں دی جائے گی۔ ملک بھر میں احمدیوں کے حوالے سے انتہائی سخت نعروں سے دیواریں رنگ دی گئیں۔ کمپنیوں کی جانب سے اخبارات اشتہارات سے اٹے پڑے تھے جن میں بیان کیا گیا تھا کہ ان کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں کوئی احمدی نہیں ہے۔ اپنے ارد گرد عوام کا جنونی رجحان دیکھ کر کمیونٹی کے بعض اراکین نے ماضی میں اپنے عقائد پر ندامت کا اظہار کیا اور اپنے سابقہ مذاہب کی طرف رجوع کر لیا۔‘‘
- ۳۸...... تحریک کے عروج پر، این ڈبلیو ایف پی اسمبلی نے پہل کی اور ایک قرارداد پاس کر کے ۱۹۷۴ء میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار
دیا۔ اس فیصلے کو بڑے پیمانے پر سراہا گیا۔ تاہم قادیانیوں نے اسے قائد اعظم کے اصولوں کے منافی قرار دیا اور کہا کہ اس سے ملکی سالمیت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ احمدیہ مخالف تحریک کے دباؤ میں آکر وزیر اعظم بھٹو مسئلے سے جمہوری انداز میں نپٹنے کے لئے تیار ہو گئے۔ ۳۰؍جون ۱۹۷۴ء کو پورا معاملہ دو قراردادوں کی صورت میں قومی اسمبلی کے سامنے رکھنے کا اعلان کیا۔ ایک قرارداد حکومت کی طرف سے تھی جسے اس وقت کے وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ نے پیش کیا۔ دوسری قرارداد اپوزیشن کی جانب سے تھی اور اسے اپوزیشن کے سیکرٹری پارلیمنٹ مولانا شاہ احمد نورانی نے پیش کیا۔ اپوزیشن کی قرارداد پر ۳۷ اراکین نے دستخط کئے تھے۔ حکومتی قرارداد قادیانیوں کی آئینی پوزیشن کے تعین سے متعلق تھی جب کہ اپوزیشن کی قرارداد قادیانیوں کی پوزیشن سے متعلق تھی۔ اس میں کہا گیا:
’’جب کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ (قادیان سے تعلق رکھنے والے) مرزا غلام احمد قادیانی نے نبی پاک ﷺ کے بعد نبی ہونے کا اعلان کیا اور جب کہ اس کا یہ نبی ہونے کا غلط اعلان اور اس کی قرآن پاک کی بیشتر آیات کو جھٹلانے کی کوشش اور جہاد کے تصور کا خاتمہ اسلام کے بنیادی تصور سے خیانت تھی۔ بہر حال اس کے مذہب کے ماننے والوں کا کوئی بھی مسلمانوں والا نام ہو سکتا ہے تاکہ وہ مسلمانوں کے ایک فرقے کا روپ دھار کر مسلمانوں میں شامل ہو سکیں۔ لہٰذا وہ ظاہری اور باطنی طور پر تخریبی سرگرمیوں میں مصروف ہیں اور جیسا کہ عالمی مسلم تنظیم نے ۶ اور ۱۰؍اپریل ۱۹۷۴ء کو مکہ مکرمہ میں ہونے والے اجلاس، جس میں دنیا کی ۱۴۰ مسلم تنظیموں نے حصہ لیا۔ متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ قادیانیت
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جو اپنے آپ کو مسلمانوں کا ایک فرقہ کہتے ہیں دراصل مسلمانوں اور دنیائے اسلام کے خلاف ایک تخریبی تحریک ہے۔ لہٰذا ان وجوہات کی بناء پر اس اسمبلی کو چاہیے کہ وہ مرزا غلام احمد کے ماننے والوں کو جن کا جو بھی نام ہو، غیر مسلم قرار دیں اور (آئین میں ضروری تبدیلیاں لانے کے لیے ) ایک حکومتی بل متعارف کرایا جائے تا کہ ان کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے اس استحقاق کو تحفظ دیا جاسکے۔‘‘
حکومتی اور حزب اختلاف کی قراردادیں قومی اسمبلی کی جانب سے پورے ہاؤس کی سپیشل کمیٹی کو تفصیلی بحث کے لئے اور قومی اسمبلی کو ایک حتمی رپورٹ دینے کے لئے حوالے کر دی گئیں۔ کمیٹی نے ایک سلیکٹ کمیٹی قائم کی جس میں اسمبلی میں مختلف گروہوں کے رہنما شامل تھے۔ مولانا شاہ احمد نورانی (جے . یو. پی)، پروفیسر غفور احمد (جماعت اسلامی)، مولانا مفتی محمود (جے . یو. آئی)، ظہور الٰہی (مسلم لیگ) اور مولا بخش سومرو (آزاد گروپ) نے سپیشل کمیٹی میں اپوزیشن کی نمائندگی کی جب کہ حکومت کی جانب سے وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ اور وزیر اطلاعات و مذہبی امور مولانا کوثر نیازی کو حکومتی نقطہ نظر پیش کرنے کے لئے نامزد کیا گیا۔ ہاؤس کمیٹی اور سلیکٹ کمیٹی نے اپنا کام پوری لگن سے شروع کر دیا۔ قادیانی گروہ کے صدر مرزا ناصر احمد اور لاہوری گروہ کے امیر صدر الدین نے کمیٹی سے درخواست کی کہ انہیں بھی اپنے دفاع میں بات کرنے کا حق دیا جائے۔ کمیٹی نے یہ درخواست مان لی اور انہیں اپنا نقطہ نظر تفصیل سے پیش کرنے کا کہا۔ مرزا ناصر نے ایک تحریری جواب داخل کیا جو ۲۰۰ صفحات پر مشتمل تھا اور اس پر اس وقت کے اٹارنی جنرل آف پاکستان نے جرح کی۔ صدر الدین نے کمیونٹی کے سینئر رکن اور حکیم نور الدین کے صاحبزادے عبدالمنان عمر کو مقرر کیا تا کہ وہ لاہوری گروہ کی نمائندگی کرے۔ اس نے اپنی جماعت کا نقطہ نظر ۱۴ صفحات کی یادداشت کی صورت میں دیا اور اس پر دو دن تک جرح ہوئی۔ قومی اسمبلی کی سپیشل کمیٹی نے اس مسئلے پر ۲۸ سیشن اور ۹۶ اجلاس منعقد کئے۔ مرزا ناصر احمد پر گیارہ دنوں میں ۴۲ گھنٹے تک جرح کی گئی جب کہ صدر الدین اور اس کی ٹیم (لاہوری گروہ) پر ۷ گھنٹے تک جرح ہوئی۔ قرارداد کے محرکین نے ایک کتاب بعنوان ’’ملت اسلامیہ کا مؤقف‘‘ تقسیم کی جب کہ قادیانیوں (کے دونوں گروہوں) نے اپنا لٹریچر تقسیم کیا۔ قادیانی مسئلے پر مسلمانوں کا نقطہ نظر قومی اسمبلی کے ۱۳۷ اراکین نے پیش کیا۔ مولانا بنوری کی رہنمائی میں ماہنامہ الحق اکوڑہ خٹک کے ایڈیٹر مولانا سمیع الحق اور کراچی سے مولانا تقی عثمانی نے پیپر مرتب کیا، جسے اسمبلی میں مولانا مفتی محمود نے پڑھا۔ اس کے بعد ہاؤس کے جن اراکین نے تقاریر کیں ان میں وفاقی وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ شامل تھے جب کہ اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار نے ۱۵ اور ۱۶ ستمبر ۱۹۷۴ء کو درج ذیل تاریخی معروضات پیش کیں:-
’’جہاں تک شہادت کا تعلق ہے، میری کوشش ہوگی، جو کچھ ریکارڈ پر شہادت موجود ہے۔ اسے مختصر طور پر پیش کروں۔ لیکن بحیثیت اٹارنی جنرل میں ایوان کا رکن نہیں ہوں، اس لیے نہ تو میں کوئی فیصلہ جج کی طرح دے سکتا ہوں اور نہ اپنی رائے کا اظہار کر سکتا ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ میرا فرض ہے کہ میں غیر جانب دارانہ طور پر اس ایوان کی معاونت کروں۔ ہم سب کو احساس ہوگا کہ میں یہاں پر صرف ایک فریق کی نمائندگی یا دوسرے کی مخالفت نہیں کر رہا۔ آپ اس معاملے میں منصف کی حیثیت رکھتے ہیں، اس لیے میرا یہ فرض منصبی ہے کہ میں معاملہ کے دونوں پہلو آپ کے سامنے پیش کروں، تا کہ نہ تو کوئی یہ محسوس کرے اور نہ کہہ سکے کہ یہ ایک طرفہ کارروائی تھی اور اٹارنی جنرل نے اپنی حیثیت کا جائز یا ناجائز استعمال کرتے ہوئے فیصلہ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔ چنانچہ مجھے امید ہے کہ میری ان مجبوریوں کو مدنظر رکھ کر اگر میں دونوں فریقوں کے نقطہ نظر یا دوسرے فریق کے نقطہ نظر کو بھی پیش کروں تو اسے صحیح انداز میں سمجھا جائے ۔‘‘
جناب والا! جہاں تک فیصلہ کا تعلق ہے وہ تو معزز اراکین نے ہی کرنا ہے اور مجھے پختہ یقین ہے یہ ایک بہت منصفانہ فیصلہ ہوگا، جو کہ ملک کے عوام کی خواہشات اور احساسات کے مطابق ہوگا۔ ہمیں اسلام اور ملک کے مفادات کو ذہن نشین رکھنا چاہیے اور مجھے ذرہ برابر
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بھی شک نہیں کہ حب الوطنی اور اسلام کے احساسات ہر لمحہ موجود ہیں اور اس لیے مجھے اس بارے میں بھی قطعاً کوئی شبہ نہیں کہ معزز اراکین بالکل درست فیصلہ کریں گے۔ مجھے اس موضوع پر وزیر اعظم (ذوالفقار علی بھٹو) کے ساتھ بحث و مباحثہ کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ وزیر اعظم صاحب اس معاملے کے متعلق بہت فکر مند ہیں، کیونکہ اس کا فیصلہ بہت بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ وزیر اعظم کی سوچ ایک عام مسلمان کی سوچ کی مانند ہے اور ان کے جذبات ایک عام مسلمان کے جذبات کی طرح ہیں، لیکن ساتھ ہی وہ وزیر اعظم بھی ہیں۔ اس لیے ان کی ذمہ داری ہے کہ نہ کوئی شخص اپنے حقوق سے محروم کیا جائے اور نہ کسی کو قانونی جواز کے بغیر: اپنی زندگی، آزادی عزت اور شہرت سے محروم کیا جائے۔ جناب والا ! میں امید کرتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ اس ایوان کے جو رہنما موجود ہیں۔ انہوں نے کافی سوچ بچار کی ہے اور ان کی انتہائی کوشش ہے کہ اس معاملے کا ایک نہایت ہی مناسب اور منصفانہ فیصلہ ہو۔ جناب والا ! آپ کو یاد ہوگا کہ جرح کے دوران میں نے امیر جماعت احمدیہ ربوہ پر واضح کرنے کی کوشش کی تھی کہ یہ ایوان نہ تو کسی کو کوئی نقصان پہنچانا چاہتا ہے اور نہ کسی کی دل آزاری کرنا چاہتا ہے۔ یہ ایوان ایک منصفانہ فیصلہ کرنا چاہتا ہے۔ ان باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی گزارشات عرض کروں گا اور تمام حقائق اور واقعات کو اختصار کے ساتھ پیش کروں گا۔
جناب والا ! ایوان کے سامنے ایک قرار داد اور ایک تحریک ہے۔ تحریک جو کہ معزز وزیر قانون ( عبدالحفیظ پیرزادہ) نے پیش کی تھی جو کہ حسب ذیل ہے۔ ’’رولز آف بزنس کے قاعدہ نمبر ۲۰۵ کے تحت میں مندرجہ ذیل تحریک پیش کرنے کا نوٹس دیتا ہوں :
یہ کہ یہ ایوان ایک ایسی خصوصی کمیٹی کی تشکیل کرے، جو کہ پورے ایوان پر مشتمل ہو، اس کمیٹی میں وہ تمام اشخاص شامل ہوں، جو ایوان سے خطاب کرنے کا حق رکھتے ہوں۔ نیز ایوان کی کارروائی میں حصہ لینے کا استحقاق رکھتے ہوں۔ سپیکر صاحب اس خصوصی کمیٹی کے چیئرمین ہوں اور یہ کمیٹی مندرجہ ذیل امور سرانجام دے:
- ۱...... دین اسلام کے اندر ایسے شخص کی حیثیت یا حقیقت پر بحث کرنا، جو حضرت محمد ﷺ کے آخری نبی ﷺ ہونے پر ایمان نہ رکھتا ہو۔
- ۲...... کمیٹی کی جانب سے متعین کردہ میعاد کے اندر اراکین سے تجاویز، مشورے، قرارداد وصول کرنا اور ان پر غور کرنا۔
- ۳...... مندرجہ بالا متنازع امور کے بارے میں شہادت لینے کے بعد اور ضروری دستاویزات پر غور کرنے کے بعد سفارشات پیش کرنا۔
کمیٹی کی کارروائی کے لیے ’’کورم‘‘ (حاضری کا نصاب) چالیس اشخاص کا ہوگا، جن میں سے دس کا تعلق ان پارٹیوں سے ہوگا جو کہ قومی اسمبلی کے اندر حزب اختلاف سے تعلق رکھتے ہوں۔‘‘
جناب والا ! ایک دوسری قرارداد ہے، جو کہ اس ایوان کے سینتیس (۳۷) معزز اراکین نے پیش کی تھی )
جناب والا ! اس قرارداد کا متن یہ ہے:
ہم مندرجہ ذیل قرارداد پیش کرنے کی التماس کرتے ہیں......
ہرگاہ یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ کے بعد نبی ہونے کا دعویٰ کیا۔ اور ہر گاہ مرزا غلام احمد کا جھوٹا دعویٰ نبوت کئی ایک قرآنی آیات کی غلط تاویل کرنے کی کوشش اور جہاد کو منسوخ کرنے کی کوشش، یہ سب باتیں اسلام کے بنیادی اصولوں کے ساتھ دغا اور فریب ہیں۔
’’اور ہر گاہ وہ ( مرزا غلام احمد قادیانی ) سراسر سامراج کا پیدا کردہ تھا، جس کا واحد مقصد اسلامی اتحاد کو پارہ پارہ کرنا اور اسلام کو بدنام کرنا تھا۔‘‘
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اور ہر گاہ تمام ملت اسلامیہ کا متفقہ فیصلہ ہے کہ مرزا غلام احمد کے پیروکار، خواہ وہ اسے نبی مانتے ہوں یا اسے کسی شکل میں بھی مذہبی رہنما یا مصلح تصور کرتے ہوں تمام کے تمام اسلام کے دائرے سے خارج ہیں۔
اور ہر گاہ اس کے پیروکار خواہ وہ کسی بھی نام سے جانے جاتے ہوں، سب کے سب اپنے آپ کو اسلام کا ایک فرقہ ظاہر کرتے ہوئے ملک کے اندر اور ملک سے باہر تخریب کاری میں ملوث ہیں۔
اور ہر گاہ ۶ / اپریل تا ۱۰/اپریل ۱۹۷۴ء کو مکہ مکرمہ میں ورلڈ مسلم آرگنائزیشن کی کانفرنس جو کہ رابطہ عالم اسلامی کے تحت منعقد ہوئی اور جس میں تمام دنیا کی ۱۴۰ تنظیموں نے حصہ لیا، نے متفقہ طور پر اعلان کیا کہ قادیانیت، اسلام اور عالم اسلام کے خلاف ایک تخریبی تحریک ہے جو کہ محض جھوٹ اور فریب سے اپنے کو اسلام کا ایک فرقہ ظاہر کرتی ہے۔
چنانچہ یہ اسمبلی یہ اعلان کرتی ہے کہ مرزا غلام احمد کے پیروکار، خواہ وہ کسی نام سے بھی پکارے جاتے ہوں، مسلمان نہیں ہیں اور یہ کہ اسمبلی میں ایک مسودہ قانون پیش کیا جائے تاکہ اس اعلان کو قانونی طور پر نافذ کرنے کے لیے آئین میں ضروری ترامیم کی جاسکیں اور ان کے جائز قانونی حقوق کو بطور غیر مسلم اقلیت کے تحفظ دیا جاسکے۔‘‘
جناب والا ! یہ دو تحاریک ہیں۔ ایک قرارداد ہے اور ایک تحریک، ان کے علاوہ کچھ اور قراردادیں بھی ہیں جو کہ اس ایوان کے زیر غور ہیں، لیکن ان کا زیادہ تر تعلق آئینی ترامیم کی تجاویز کے بارے میں ہے۔ دو وجوہ کے باعث میں ان کے متعلق کچھ گزارشات پیش کروں گا۔ پہلے یہ کہ صرف یہی دو دستاویزات اخباروں میں شائع ہوئی تھیں اور ان دستاویزات کی بنیاد پر متعلقہ جماعت (احمدیہ) نے اپنے اپنے جوابات، نقطہ نظر اور یادداشت پیش کی تھیں۔ ان کے بیانات بھی انہی دستاویزات کی بنیاد پر لیے گئے تھے۔ اس لیے دوسری قراردادوں کے بارے میں کچھ کہنا قرین انصاف نہ ہوگا۔ کمیٹی کو ان کے بارے میں کارروائی کرنے کا پورا اختیار ہے۔ جسے کارروائی کے کسی مرحلے پر استعمال کرنے کی مجاز ہے۔ تاہم، میں اپنی گزارشات کو ان دو دستاویزات تک محدود رکھوں گا اور مختصر تبصرہ کروں گا۔ پیش تر ازیں اس ضابطے پر بات کروں، جو کہ دستاویزات پر غور کرنے کے لیے اختیار کیا تھا۔ مجھے امید ہے کہ اگر میں بے باکی سے اپنی گزارشات پیش کروں، تو اس کا غلط مطلب نہیں لیا جائے گا۔ آغاز میں پہلے وہ تحریک جو کہ عزت مآب وزیر قانون نے پیش کی تھی۔ جناب والا ! تحریک کے الفاظ یہ ہیں:۔
’’دین اسلام کے اندر ایسے شخص کی حیثیت یا حقیقت پر بحث کرنا، جو حضرت محمد ﷺ کے آخری نبی ہونے پر ایمان نہ رکھتا ہو۔‘‘
آئیے! پہلے اس جملے یا ترکیب کو لیں: ’’اسلام کے اندر حیثیت اور حقیقت پر بحث کرنا۔‘‘ اگر ایوان کی یہ رائے ہو کہ جو لوگ حضرت محمد ﷺ کی ختم نبوت پر ایمان نہیں رکھتے وہ مسلمان نہیں ہیں، تو پھر ایسے لوگوں کا اسلام میں کوئی مقام نہیں ہے۔ ایسے لوگوں کا اسلام سے کوئی تعلق واسطہ نہیں ہے۔ تحریک بذات خود اپنے اندر تضاد رکھتی ہے۔ اگر یہ کہا جاتا کہ ’’اسلام میں یا اسلام کے حوالے سے بحث کرنا۔‘‘ تو پھر بات سمجھ میں آسکتی تھی۔ لیکن یہ کہنا کہ اسلام میں حیثیت یا مقام اس سے قیاس کیا جاتا ہے کہ وہ مسلمان ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک تضاد ہے جو زیادہ اہم نہ بھی ہو، لیکن یہ تضاد ایوان کے نوٹس میں لانا میرا فرض تھا۔ آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ اسلام میں ان کی حیثیت کیا ہے۔ ہاں! یہ کہہ سکتے ہیں کہ اسلام کے حوالے سے ان کی حیثیت کیا ہے؟ جناب والا ! جو قرارداد سینتیس (۳۷) اراکین نے پیش کی ہے، میں نہایت ادب سے گزارش کروں گا کہ اس میں بھی کچھ تضاد ہے۔ میں زیادہ تفصیل میں تو نہیں جاؤں گا تاہم معزز اراکین اس بات کو نوٹ
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کریں کہ ایک جگہ کہا گیا ہے کہ: ”ہر گاہ مرزا غلام احمد سامراج کا پیدا کردہ تھا، جس کا واحد مقصد اسلامی اتحاد کو پارہ پارہ کرنا اور اسلام کو بدنام کرنا تھا۔“ پھر آگے چل کر کہا گیا: ”ہر گاہ ملت اسلامیہ کا متفقہ فیصلہ ہے کہ مرزا غلام احمد کے پیروکار خواہ اسے نبی مانتے ہوں یا کسی بھی شکل میں مذہبی رہنما یا مصلح تصور کرتے ہوں۔ تمام کے تمام اسلام کے دائرے سے خارج ہیں۔“ پھر آگے چل کر: ” (مرزا غلام احمد کے ) پیروکار خواہ وہ کسی بھی نام سے پکارے جاتے ہوں، سب کے سب اپنے آپ کو اسلام کا ایک فرقہ ظاہر کرتے ہوئے ملک کے اندر اور ملک کے باہر تخریب کاری میں ملوث ہو رہے ہیں۔“ یہ بالکل ٹھیک ہے۔ لیکن اس کے بعد مطالبہ ہے کہ: انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دو، یعنی غیر مسلم مذہبی اقلیت اور آئین میں ترمیم کرو اور ان کے جائز قانونی حقوق کا تحفظ کرو، کیا آپ تخریب کاری کو دوام دینا چاہتے ہیں؟ کیا آپ ان چیزوں کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں، جن کا ذکر دیباچے میں کیا گیا ہے۔ یہ ایک ایسا تضاد ہے جس کی طرف میں آپ کی توجہ مبذول کرانا چاہتا تھا۔ ایک طرف تو آپ یہ کہتے ہیں کہ انہیں ایک اقلیت قرار دو۔ ایک الگ اکائی بناؤ اور یہ قرارداد کا ایک بہت ہی عمدہ جزو ہے، میں اس کی قدر کرتا ہوں۔ جب یہ کہا جاتا ہے کہ ان کے جائز حقوق کا قانونی تحفظ کیا جائے تو اس کی تعریف کرتا ہوں۔ ایک طرف کہتے ہیں کہ (جماعت احمدیہ ) ایک تخریبی تحریک ہے، وہ ملک کے اندر اور ملک کے باہر تخریب کاری میں ملوث ہے۔ وہ تخریب کاری کیا ہے، ان کے اپنے مذہب (یا عقیدے ) کا پرچار۔ ان کے (اپنے عقیدے کے مطابق ) مذہب پر عمل درآمد، آپ ان کے حقوق کا تحفظ بھی چاہتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ان کی مذمت بھی کرتے ہیں۔ یہ دونوں باتیں یک جا نہیں ہوسکتیں۔ یہ تو بالکل صاف بات ہے۔ میں کوئی تنقید نہیں کر رہا، مجھے تنقید کا کوئی حق نہیں۔ لیکن میرا فرض ہے کہ میں معزز ارکان کی توجہ اس امر کی طرف مبذول کراؤں کہ اگر آپ شہری آبادی کے کسی حصے کو ایک الگ مذہبی جماعت قرار دیتے ہیں تو پھر نہ صرف ملک کا آئین بلکہ آپ کا مذہب تقاضا کرتا ہے کہ آپ ان کے حقوق کی حفاظت کریں۔ ان کے اپنے مذہب کے پرچار اور عمل کا حق دیں۔ اس سے زیادہ کچھ اور نہیں کہنا چاہتا۔ کیونکہ مجھے پورا احساس ہے کہ میرے پاس وقت بہت محدود ہے۔ چنانچہ ان دو دستاویزات کی روشنی میں ( تحریک اور قرارداد) اس معزز ایوان نے کچھ متنازع امور کا فیصلہ کرنا ہے، جو کہ درج ذیل ہیں:
- ۱...... کیا مرزا غلام احمد آف قادیان نے نبوت کا دعویٰ کیا؟
- ۲...... اس دعوے کے اسلام میں یا اسلام کے حوالے سے کیا مضمرات ہیں؟ [یہاں] میں نے اسلام میں اور اسلام کے حوالے سے
دونوں کا ذکر کیا ہے۔
- ۳...... ختم نبوت کا مطلب یا تصور کیا ہے؟ جب ہم خاتم النبیین کہتے ہیں تو ہمارا کیا مطلب ہوتا ہے؟
- ۴...... کیا ملت اسلامیہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قادیان کے مرزا غلام احمد کے پیروکار جو اسے نبی یا مسیح موعود مانتے ہیں، یا دونوں
حیثیتوں سے مانتے ہیں، دائرہ اسلام سے خارج ہیں؟
- ۵...... کیا مرزا غلام احمد اور اس کے پیروکار، ایسے مسلمانوں کو جو مرزا غلام احمد کو نبی یا مسیح موعود نہیں مانتے، کافر اور دائرہ اسلام سے
خارج تصور کرتے ہیں؟
- ۶...... مرزا غلام احمد نے ایک علیحدہ مذہبی جماعت کی بنیاد رکھی، جو کہ دائرہ اسلام سے باہر ہے؟ یا کہ اس نے اسلام کے اندر ہی نئے
فرقے کا آغاز کیا؟
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۷...... اگر مرزا نے الگ مذہبی جماعت کی بنیاد رکھی، تو ایسی جماعت کا اسلام کے حوالے سے کیا مقام یا حیثیت ہو گی اور آئین کے
مطابق اس جماعت کے حقوق کیا ہوں گے؟
اب میں مختصر طور ان واقعات کا ذکر کروں گا، جو قرارداد اور تحریک کے پیش ہونے سے رونما ہوئے۔ یہ قرارداد اور تحریک، ۳۰؍ جون ۱۹۷۴ء کو پیش کیے گئے تھے۔ ان کے شائع ہونے کے بعد مرزا غلام احمد کے ماننے والے دو گروہوں کی طرف سے یادداشتیں داخل کی گئی تھیں۔ اس کے بعد دونوں گروہوں کے نمائندوں کو بلایا گیا تھا کہ وہ حلف لینے کے بعد اپنے بیانات اور یادداشتوں کو پڑھ کر سنائیں۔ مجھے یاد ہے کہ انہوں نے اپنی طرف سے زبانی بیان دینے کی خواہش کا اظہار کیا تھا، تاکہ وہ اپنا نقطہ نظر زیادہ وضاحت سے بیان کر سکیں۔ جو دستاویزات انہوں نے داخل کیں۔ ان میں (مجلس کار پرداز) ”قرارداد“ میں عائد کردہ تمام الزامات سے انکار کیا گیا۔ ایوان کی کمیٹی نے ایک بنانے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ سوالات کو وصول کرے اور ان کا تجزیہ کرے۔ اس مقصد کے لیے کمیٹی نے مجھے ہدایت کی کہ ۲۵؍ جولائی ۱۹۷۴ء سے اسلام آباد میں موجود رہوں۔ اسی ہدایت کے مطابق میں ۲۱؍ جولائی کو اسلام آباد آگیا تھا۔ سٹیئرنگ کمیٹی نے سوالات کی جانچ پڑتال ایک ہفتے میں کر لی تھی، حالانکہ سوالات سینکڑوں کی تعداد میں تھے۔ مرزا ناصر احمد کا مزید بیان ۲۰؍ اگست تا ۲۴؍ اگست ہوا یعنی کل گیارہ روز تک بیان ہوتا رہا۔ اس کے بعد احمدیہ جماعت کے دوسرے گروہ کا بیان ہوا، جس کے سربراہ مولانا صدر الدین تھے۔ چونکہ مولانا صدر الدین کافی بوڑھے ہیں اور اچھی طرح بات سننے کی قوت نہیں رکھتے۔ اس لیے اس کا بیان میاں عبدالمنان عمر کے وسیلے سے ہوا اور یہ بیان دو دن میں ہوا۔ یہ اس وجہ سے نہیں ہوا کہ ایوان کسی بھی گروہ کے ساتھ کسی قسم کا امتیاز برت رہا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ بہت سے حقائق، دستاویزات اور مرزا غلام احمد کی تحریریں پہلے گروہ کے بیانات میں ریکارڈ پر آچکے تھے اور جہاں تک دوسرے گروہ کا تعلق ہے، مزید تفصیلات میں جانے کی ضرورت نہ تھی۔
جہاں تک پہلے متنازعہ مسئلہ کہ آیا مرزا نے نبوت کا دعویٰ کیا یا نہیں کا تعلق ہے۔ یہ بہتر ہو گا کہ ہم مرزا غلام احمد اس کی کتابوں اور احمدیہ تحریک پر مختصر طور پر تبصرہ کر لیں۔ ابتدا میں متنازعہ مسئلہ پر گفتگو کروں گا۔ مرزا ناصر نے مرزا غلام احمد کی زندگی میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات کا مختصر طور پر ذکر کچھ یوں کیا ہے:
”وہ ۱۳؍ فروری ۱۸۳۵ء کو قادیان میں پیدا ہوا ۱؎۔ اس کے والد کا نام غلام مرتضیٰ تھا۔ اس نے ابتدائی تعلیم گھر پر مختلف اساتذہ سے حاصل کی۔ اس کے اساتذہ میں فضل الٰہی، فضل احمد اور گل محمد شامل ہیں۔ جنہوں نے اسے عربی، فارسی اور دین کی بنیادی تعلیم دی۔ اس کے والد نے اسے (علم طب) سکھایا۔ وہ شروع ہی سے دین اسلام کی فلاح کو لے کر خاصہ حساس تھا اور دنیاوی امور میں شمولیت اختیار نہ کی۔ اس کے اشعار میں سے ایک یوں ہے:
۱؎ مرزا ناصر نے جھوٹ بولا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی ۱۸۳۵ء میں پیدا ہوا۔ جب کہ مرزا قادیانی نے خود لکھا ہے کہ ۴۰-۱۸۳۹ء میں پیدا ہوا۔ مرزا قادیانی نے پیشین گوئی کی تھی کہ میں ۸۰ سال یا پانچ چھ سال کم یا زیادہ، گویا کم از کم ۷۴ سال زیادہ سے زیادہ ۸۶ سال میری عمر ہو گی۔ ۱۸۳۹ء میں پیدا ہوا، ۱۹۰۸ء میں مرا تو اس کی کل عمر ۶۸، ۶۹ سال بنتی ہے۔ ۷۴ سے ۸۶ سال کی عمر میں مرنے کی پیشین گوئی جھوٹی ثابت ہوئی۔ مرزا قادیانی کے مرنے کے بعد قادیانیوں نے ۱۸۳۵ء کی پیدائش بتا کر اس کی عمر ۷۴ سال پورا کرنے کی کوشش میں مرزا قادیانی کے تحریری اعتراف کا بھی انکار کر دیا کہ کسی طرح مرزا سچا ثابت ہو جائے۔ اس لئے پیشین گوئی سچی بنانے کے لئے قادیانیوں نے جھوٹ گھڑا کہ ۱۸۳۵ء میں پیدا ہوا۔ حالانکہ اس کا اپنا اعتراف ہے کہ میں ۱۸۳۹ء یا ۱۸۴۰ء میں پیدا ہوا۔ (کتاب البریہ ص ۱۴۶ حاشیہ خزائن ج ۱۳ ص ۱۷۷) مرتب!
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
(ترجمہ) کہ میں تو کسی دوسرے استاد کا نام تک نہیں جانتا کہ میں نے تو ساری تعلیم نبی محمد ﷺ کے در دولت سے حاصل کی ہے۔
۱۸۷۶ء کے آس پاس ان کے آریاؤں اور عیسائیوں سے اسلام کی نمائندگی کرتے ہوئے مذہبی بحث ومباحثے ہوئے تھے اور انہوں نے ۱۸۸۴ء میں اپنی مشہور کتاب ”براہین احمدیہ“ شائع کی جو قرآن آنحضرت محمد ﷺ اور اسلام کی حمایت میں ایک مثالی اشاعت سمجھی جاتی ہے۔ انہوں نے جیسا کہ خدا نے ان کو حکم دیا تھا۔ ۱۸۸۹ء میں اپنی بیعت کا عہد لینا شروع کر دیا اور ۱۸۹۱ء میں خدا کی طرف سے الہام حاصل کرنے کے بعد اپنے آپ کو مسیح موعود قرار دے دیا۔ ان کی ساری زندگی اسلام کی خدمت میں گزری اور انہوں نے عربی ، فارسی ، اردو میں ۸۰ کتابیں لکھیں اور ان ساری زبانوں میں شاعری بھی کی۔ ان کے اور ان کی جماعت کے سامنے واحد اور اکلوتا مقصد اسلام کی تبلیغ تھا اور جو کہ ابھی تک وہی ہے ۔ وہ ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کو فوت ہو گئے اور اس وقت کے اخبارات اور رسالوں نے ان کی اسلام کے لیے کی گئی خدمات پر ان کو خراج تحسین پیش کیا۔ ان کے ورثاء میں چار بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں اور اب ان کے افراد خانہ تقریباً ۲۰۰ ہیں ۔“
جناب اب جو کچھ میں نے پڑھا ہے اس کی کچھ تفصیل شامل کرنا چاہتا ہوں اور یہ میں نے ان دستاویزات سے اخذ کی ہے جو مجھے مہیا کئے گئے۔
مرزا غلام احمد کا پنجاب کے نمایاں اور محترم مغل خاندان سے تعلق تھا جو مغل شہنشاہ بابر کے زمانے میں قندھار سے ہجرت کر کے آیا تھا۔ مرزا غلام احمد کے پہلے جد جنہوں نے انڈیا کی طرف ہجرت کی مرزا ہادی بیگ تھے۔ ”لیپل گرفن“ اپنی کتاب بعنوان The Punjab Chief میں ذکر کرتے ہیں۔
مرزا ہادی بیگ قادیان کے آس پاس ۷۰ دیہاتوں پر مجسٹریٹ مقرر کیے گئے۔ قادیان کو مرزا ہادی بیگ نے تعمیر کیا، جنہوں نے اس کا نام اسلام پور قاضی رکھا ، جو بتدریج قادیان میں بدل گیا ۔ یہ خاندان کئی نسلوں تک حکومتی منصب پر فائز ہوتا رہا۔ جب سکھوں کو اقتدار ملا ، اس خاندان کو غربت میں دھکیل دیا گیا۔
اس کے بعد میں ۱۹۵۳ء اور ۱۹۵۴ء میں پیش کی گئی ۔ جسٹس منیر احمد انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کا ایک حصہ پڑھوں گا ۔ یہ رپورٹ مرزا غلام احمد کے بارے میں حسب ذیل تبصرہ کرتی ہے :۔
”مرزا غلام مرتضیٰ کا پوتا سکھ فوج میں جنرل تھا ۔ اس نے فارسی اور عربی میں گھر پر تعلیم حاصل کی ، لیکن کوئی مغربی تعلیم حاصل نہیں کی ۔ ۱۸۶۴ء میں اس نے ضلعی عدالت سیالکوٹ میں ایک معمولی سی نوکری حاصل کی اور چار سال ملازم رہا۔ اپنے والد کی وفات کے بعد انہوں نے اپنے آپ کو مذہبی لٹریچر کے لیے وقف کر دیا اور ۱۸۸۰ء اور ۱۸۸۴ء کے دوران عالمی طور پر مشہور چار جلدوں میں ”براہین احمدیہ“ شائع کی ۔ اس کے بعد انہوں نے بہت سی دوسری کتابیں لکھیں ۔ یہ دور تلخ مذہبی بحث مباحثہ اور دلائل کا دور تھا۔ اسلام پر صرف عیسائیوں کے حملے نہیں ہو رہے تھے ، بلکہ آریہ سماج بھی حملہ آور تھی ۔ آریہ سماج ایک ہندو تحریک تھی اور ان دنوں مقبولیت حاصل کر رہی تھی ۔“
میں نہیں سمجھتا کہ جسٹس منیر درست ہیں ۔ جب وہ مرزا غلام احمد کو مرزا غلام مرتضیٰ کا پوتا کہتے ہیں ...... اس کی وجہ یہ ہے کہ مرزا ناصر بیگ نے کہا ہے کہ مرزا غلام مرتضیٰ ان کے والد تھے ۔ (دادا نہیں) اس ایوان کے سامنے مرزا ناصر کے بیان کے مطابق انگریز ۱۸۶۰ء سے ۱۸۸۰ء کے دوران اپنے ساتھ مشیروں کی ایک فوج لائے تھے ، جن کی تعداد ۷۰ کے لگ بھگ تھی۔ وہ مذہبی بحث مباحثہ اور دلائل کو ہوا دینے کے ذمہ دار تھے ۔ انہی مشیروں نے یہ اعلان کیا تھا کہ انہوں نے ہند کے تمام مسلمانوں کو عیسائیت میں تبدیل کر دیا ہے ۔ مرزا ناصر نے
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حسب ذیل الفاظ میں اسلام اور محمد ﷺ پر کئے گئے ان حملوں پر تبصرہ کیا ہے :۔
’’انہوں نے حکومت کی ہدایت پر ایسا کرنا شروع کیا اور وہ یہ کام کر رہے تھے۔ مرزا ناصر کے مطابق صرف چند علماء اور اسلام سے محبت کرنے والے رہنما آگے بڑھے تا کہ اسلام پر عیسائیوں کے حملوں کو روکا جاسکے۔ ان میں نواب صادق حسین خان، مولوی آل حسن خان، مولوی رحمت اللہ مہاجر دہلوی، احمد رضا صاحب اور مرزا غلام احمد شامل تھے۔ مرزا ناصر کہتے ہیں میں ان سب کو نہیں جانتا لیکن میں ان سب بشمول مرزا غلام احمد کو مانتا ہوں۔ اللہ نے دور اندیشی اور اسلام کی محبت عطاء کی تھی ۔‘‘
اور یہی وجہ تھی جو وہ اس میدان میں کود پڑے تا کہ اسلام اور حضرت محمد ﷺ پر عیسائیوں کے حملوں کا خاتمہ کیا جاسکے۔ مرزا کے بحث ومباحثہ اور دلائل مسلمانوں میں بہت مقبول تھے۔ وہ مسلمانوں کے ہیرو بن چکے تھے اور ایسا لگتا ہے کہ ان کی مقبولیت کی اولین وجہ ان کا وہ کردار تھا، جو انہوں نے اسلام کے خلاف حملوں کو تحلیل کرنے میں ادا کیا۔ اگرچہ شہادت سے اس عمل کی نشاندہی ہوتی ہے کہ بہت سے طریقے جنہیں ان حملوں کو روکنے کے لیے اختیار کیا گیا، نہ صرف نامناسب تھے، بلکہ قابل اعتراض تھے۔ مثال کے طور پر جس طرح یسوع مسیح کو گستاخی کا نشانہ بنایا تھا۔ وہ نہ صرف آج کے مسلمانوں کے لیے قابل اعتراض ہے بلکہ اس وقت کے مسلمانوں نے بھی اس پر تنقید کی۔ ان دنوں مرزا غلام احمد کو بھی مسلسل اپنی پوزیشن واضح کرنا پڑی تھی۔ میں تفصیل میں نہیں جانا چاہتا غالباً اس مقبولیت کے باعث انہوں نے جب وہ ۵۴ سال کے تھے تو ۱۸۸۹ء میں اپنے پیروکاروں سے حلف لیا تھا۔ یہ واضح ہے کہ مرزا نے پہلے سے ہی براہین احمدیہ میں یہ اعلان کر رکھا تھا کہ ان کے خدا سے رابطے ہیں اور وہ الہام حاصل کرتے ہیں۔ ہر شخص یہ بات جانتا تھا۔ ان کے بیٹے کے مطابق جو جماعت احمدیہ قادیان اور ربوہ کے دوسرے خلیفہ تھے، کے مطابق انہوں نے دسمبر ۱۸۸۹ء میں تحریک کی بنیاد رکھی۔ دراصل اس تحریک کی بنیاد مارچ ۱۸۸۵ء میں رکھی گئی۔ شروع میں یہ واضح نہیں کہ انہوں نے نبی ہونے یا مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ تاہم اس کا ذکر موجود ہے کہ انہوں نے اپنے پیروکاروں سے حلف لینا شروع کر دیا تھا۔ اس بات میں کوئی ابہام نہیں ہے کہ انہوں نے اپنے پیروکاروں کی توجہ حاصل کر لی تھی۔ انہیں عربی، فارسی اور اردو پر قدرت حاصل تھی اور برائے مہربانی اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ ۱۸۸۹ء کے بارے میں ابہام موجود ہے۔ ایک جگہ یہ لکھا ہے کہ دسمبر ۱۸۸۹ء میں مرزا کو خدا کی طرف سے الہام نازل ہوا کہ وہ مسیح موعود ہیں، لیکن انہوں نے اس کا اعلان نہیں کیا اور قادیان سے لدھیانہ چلے گئے اور اپنے پیروکاروں سے حلف لینا شروع کر دیا۔ انہوں نے قادیان میں اس کا اعلان کیوں نہ کیا؟ اس کا فیصلہ آپ حضرات نے کرنا ہے۔ یہ کتاب احمدیت اور اصل اسلام مرزا محمود کی لکھی ہوئی ہے۔ مجھے یہ معلوم ہوا ہے کہ وہ حلف لینے لدھیانہ گئے تھے۔ اسلامی لٹریچر میں کہیں اور میں نے یہ پڑھا ہے کہ مسیح موعود ایک مقام جس کا نام لدھوگا، پر اپنے بارے میں اعلان کریں گے۔ غالباً یہی وجہ تھی کہ مرزا غلام احمد نے حلف لینے کے لیے لدھیانہ جانے کا فیصلہ کیا۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے قادیان سے اس بات کا آغاز نہیں کیا۔ یہی وہ بات ہے جس کی میں خاص طور پر آپ کے سامنے نشاندہی کرنا چاہتا ہوں۔ عیسائیوں سے مباحث پر میں بعد میں تبصرہ کروں گا۔ یہ میری ذمہ داری ہے کہ میں ان سب سے بڑے اعتراض جو مرزا غلام احمد اور احمدی جماعت کے خلاف اٹھایا جاتا ہے کو نمایاں کروں اور وہ یہ ہے کہ ان کو انگریزوں نے تیار کیا اور معرض وجود میں لائے۔ اس بات کا ذکر نہ صرف قرارداد میں موجود ہے بلکہ دوسرے لٹریچر میں بھی موجود ہے کہ یہ مسئلہ پیدا کیا گیا تھا۔ جب سامراجی قابض قوتوں کے خلاف سوڈان سے سماٹرا تک جہاد کا اعلان کیا گیا تھا۔ برطانیوں نے جہاد کو روکنے کی منصوبہ بندی کی تھی اور اس مقصد کی خاطر مرزا غلام احمد کی خدمات اُجرتاً حاصل کی تھیں۔ یہ نقطہ بھی آپ کی توجہ کا متقاضی ہے۔ اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ مرزا غلام احمد کے پیروکاروں پر یہ فرض ہے کہ وہ برطانیہ سے مکمل وفاداری اور عقیدت اپنے ایمان کے
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
لازمی جزو کے طور پر رکھیں۔ انہیں یہ وعدہ کرنا پڑتا ہے جب وہ حلف اٹھاتے ہیں۔ یہ بہت زیادہ اہم بات ہے کیونکہ مسلمان انگریزوں سے وفاداری کی ذمہ داری اٹھانے کے بہت زیادہ خلاف تھے اور قابض سامراج سے نجات حاصل کرنا چاہتے تھے جس نے بزور طاقت انہیں ان کی حکمرانی اور اختیار سے محروم کر دیا تھا۔ برطانیہ سے وفاداری کا حلف اٹھانے سے احمدیوں یا مرزا غلام احمد کے پیروکاروں نے خود کو انگریزوں کا بہترین جاسوس ثابت کیا۔ یہ دستاویزاتی طور پر موجود ہے کہ ۱۹۲۵ء میں دو مرزائیوں / احمدیوں کو افغانستان میں پھانسی دے دی گئی۔ صرف اس وجہ پر نہیں کہ وہ مرتد ہو چکے تھے بلکہ ان کے قبضے سے کچھ ایسی دستاویزات ملی تھی۔ جس سے ثابت ہوتا تھا کہ وہ انگریزوں کے جاسوس تھے اور افغانستان حکومت کا تختہ الٹنا چاہتے تھے۔ میں صرف حقائق اجاگر کر رہا ہوں۔ میں ان کی صداقت پر بات نہیں کر رہا۔ جہاں تک مرزا صاحب کی قرآن فہمی یا سوچ کا تعلق ہے، میں سمجھتا ہوں وہ کم وبیش سرسید احمد خان جیسی ہے۔ ماسوائے چند آیات کے جن کا تعلق حضرت مسیح علیہ السلام سے ہے یا جن کا تعلق مرزا صاحب کی اپنی ’’نبوت‘‘ کے بارے میں ہے۔ وہ قرآن کا فہم وادراک رکھتے تھے اور اپنے مخالفین کو ڈرانے دھمکانے کے لیے ان ( مرزا صاحب ) کا نمایاں ہتھیار اس کی وہ دو پیشین گوئیاں تھیں، جن کے ذریعے وہ محدود مدت کے اندر اندر مخالفین کی موت یا تذلیل کا دعویٰ کرتے تھے۔ ۱۸۹۱ء میں مرزا صاحب نے پہلے مسیح موعود ہونے کا اعلان اور بعد میں ’’نبی‘‘ ہونے کا اعلان کیا۔ موصوف نے کس قسم کی نبوت کا اعلان کیا، اس کا ذکر میں بعد میں کروں گا۔ مرزا غلام احمد کے بیٹے مرزا بشیر الدین محمود اپنی کتاب ’’احمدیت اور سچا اسلام‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’اس کا کام ان غلطیوں اور توجیہات کا ازالہ کرنا تھا، جو کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دین (اسلام) کے اندر سرائیت کر گئی تھیں، بلکہ اس کو اس سے بھی اعلیٰ تر مقصد کی تکمیل کرنا تھی۔ اس کو لامحدود خزانے، اٹل سچائیاں اور پوشیدہ قوتیں تلاش کرنا تھیں ۔
قرآن کے اس معجزے کا اعلان کرتے ہوئے مسیح موعود نے ایک روحانی انقلاب برپا کر دیا۔ مسلمانوں کا یہ تو پختہ ایمان تھا کہ قرآن کریم ایک مکمل کتاب ہے۔ لیکن گزشتہ ۱۳ سو برسوں میں کسی نے یہ خیال نہیں کیا تھا کہ قرآن کریم نہ صرف مکمل کتاب ہے، بلکہ اس میں مستقبل کی ضروریات کے لیے ایک کبھی نہ ختم ہونے والا ذخیرہ موجود ہے، جس کی تفتیش اور تحقیق سے روحانیت کے انمول خزانے رونما ہوں گے۔ دنیا کے سامنے قرآن کے اس اعجاز کو نمایاں کر کے بانی سلسلہ احمدیہ نے روحانیت کی تحقیق اور تفتیش کے راستے کھول دیے۔ یہ دنیاوی سائنس کے مقابلے میں بہت ہی اعلیٰ اقدام ہے۔ مرزا غلام احمد نے نہ صرف اسلام کو تمام غلطیوں سے پاک کر دیا بلکہ قرآن کریم پر ایسی روشنی ڈالی جس سے دنیا اور انسانیت کے سامنے عقل ودانش کی تسکین کا سامان بہم پہنچایا۔ گویا مستقبل کی تمام مشکلات کو حل کرنے کی کلید پیش کر دی ۔‘‘
محترم! اس بارے میں صرف ایک دو باتیں کروں گا، یعنی یہ کہ مرزا غلام احمد نے ان پوشیدہ خزانوں کا پتہ لگا لیا، جن تک گزشتہ تیرہ سو سالوں میں کوئی مسلمان نہیں پہنچ سکا تھا۔ اس میں تو کسی شک وشبہ یا تردید کی گنجائش نہیں ہے کہ قرآن کریم خزائن کا مجموعہ ہے۔ یہ عقل وحکمت کا منبع ہے۔ جوں جوں انسان ترقی کرے گا اور قرآن کے اندر گہرا تدبر کرے گا، عقل ودانش کے اسرار ورموز اس پر عیاں ہوتے چلے جائیں گے۔ میں مرزا ناصر احمد سے خصوصی طور پر سوال کیا تھا کہ: ’’وہ کون سے انکشافات تھے جو مرزا غلام احمد سے قبل کسی اور مسلمان پر ظاہر نہ ہوئے؟ ماسوائے ختم نبوت کے مطلب کے بارے یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی کے بارے میں کہ آیا وہ زندہ ہیں یا نہیں؟‘‘ میرے اس سوال کے جواب میں مرزا ناصر احمد نے کہا کہ: ’’مرزا غلام احمد کی سورۃ فاتحہ کی تفسیر کا ستر فیصد حصہ نیا ہے ۔‘‘ اس بارے میں فیصلہ کرنا یا کوئی رائے دینا، اس ایوان کے فاضل علماء کا کام ہے۔ مجھے اور کچھ نہیں کہنا۔ مجھے تو صرف علامہ اقبال کا وہ قول یاد ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ:
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
یعنی ہمارے دور میں ایک ایسا ”نبی“ پیدا ہوا، جس کو قرآن میں اپنے سوا کچھ اور نظر نہیں آتا۔
میرا خیال ہے کہ یہ ایک نہایت ہی مناسب تبصرہ ہے۔ جہاں تک ہم سمجھ سکے ہیں، مرزا صاحب نے قرآن مجید کے صرف انہی حصوں کی تفسیر کی، جس میں ان کی ذاتی دلچسپی تھی۔
۳۹...... مؤرخہ ۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کو قومی اسمبلی کے ۴۰ معزز اراکین پرمشتمل پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی کی طرف بہت کٹھن محنت کی تکمیل پر جس کے نتیجے میں دستور (دوسری ترمیم) ایکٹ ۱۹۷۴ء پاس ہوا کے موقع پر اس وقت کے وزیر اعظم پاکستان جناب ذوالفقار علی بھٹو نے قومی اسمبلی کے ایوان میں ایک تاریخی تقریر کی جو کہ موجودہ کاروائی میں زیر بحث معاملہ کے حوالے سے بہت زیادہ تاریخی اہمیت کی حامل ہے۔ اس لیے اس کو ذیل میں من وعن درج کیا جا رہا ہے۔
”جناب سپیکر! جب میں کہتا ہوں کہ آج کا فیصلہ پورے ایوان کا فیصلہ ہے اس سے میری نیت کوئی سیاسی نمبر حاصل کرنے کی نہیں ہوتی۔ ہم نے ایوان کے مختلف اراکین کے ساتھ اس پر تبادلہ خیال کیا ہے اور اس ایوان میں سب مکتبہ فکر کی نمائندگی موجود ہے۔ یہ ایک قومی فیصلہ ہے یہ پاکستان کے لوگوں کا فیصلہ ہے۔ یہ فیصلہ پاکستان کے عوام کی سوچ اور ارادوں کا عکاس ہے۔ میں یہ نہیں چاہتا کہ کوئی گروہ یا فرد اس کا کریڈٹ لے۔ میں یہ کہنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ متعدد وجوہات کی بناء پر یہ ایک مشکل فیصلہ تھا بلکہ ایک بہت مشکل فیصلہ اور ایک جمہوری اداروں والے جمہوری ملک کے بغیر اس فیصلے تک پہنچا ہی نہیں جاسکتا تھا۔ یہ ایک پرانا مسئلہ ہے۔ ایک نوے سالہ پرانا مسئلہ جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پیچیدہ ہوتا چلا گیا، ہمارے معاشرے میں پائے جانے والی تلخی اس کی وجہ سے بڑھ گئی۔ جیسا کہ اس کا حل پیش کیا گیا یا اختیار کیا گیا۔ ہمیں بتایا گیا کہ یہ مسئلہ ماضی میں پیدا کیا گیا تھا اور ایک مرتبہ نہیں بلکہ متعدد بار ماضی میں اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے کوششیں کی گئیں۔ میں نہیں جانتا کہ کیا اقدامات اٹھائے گئے تھے، لیکن مجھے یاد ہے کہ ۱۹۵۳ء میں کیا ہوا تھا۔ عوام کو کچلنے کے لیے مطلق طاقت کا استعمال ہوا تھا۔ اس وقت کے مشیران نے عوام کی رائے کو وحشیانہ اور بربریت کیساتھ طاقت کے استعمال سے کچلنے کی وکالت کی تھی اور جب طاقت استعمال کی جاتی ہے۔ مسئلہ پس پردہ چلا جاتا ہے اور پھر وہ کبھی حل نہیں ہوتا۔
ہماری نیت اس مسئلے کے مستقل حل تلاش کرنے کی تھی اور میں آپ کو یقین دلا سکتا ہوں کہ درست حل تلاش کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں چھوڑا ہے۔ عوام کے جذبات مجروح تھے۔ امن وامان کا مسئلہ پیدا ہو چکا تھا۔ ہمارے ہاں فسادات برپا ہو چکے تھے۔ گلیوں اور مسجدوں میں تقریریں کی گئی تھیں اور پچھلے تین ماہ سے پوری قوم اضطراب میں تھی۔ میں ۲۲ اور ۲۹ مئی کے دوران جو کچھ ہوا، اس کو دوہرانا نہیں چاہتا اور میں اس کی تفصیلات میں بھی نہیں جانا چاہتا لیکن میں اس ایوان کی توجہ ۱۳؍ جون کو قوم سے کئے گئے اپنے خطاب کی طرف مبذول کرانا چاہوں گا۔ اپنے خطاب میں میں نے قوم کو بتایا تھا کہ یہ ایک مذہبی مسئلہ ہے اور چونکہ پاکستان مسلمانوں کے لیے مذہبی بنیادوں پر قائم کیا گیا تھا۔ اس لئے کوئی ایسا فیصلہ جو اکثریت کے جذبات کو مجروح کرے وہ ملکی مفادات کے حق میں مہلک ہوگا۔ چونکہ یہ ایک خالصتاً مذہبی مسئلہ تھا۔ اس لیے یہ میری حکومت کے کسی بھی فرد کے لیے مناسب نہیں تھا کہ وہ تیرہ جون کو کوئی فیصلہ جاری کر دے۔
میں لاہور میں بہت سے لوگوں کو ملا جنہوں نے احتجاج کیا تھا اور مجھ سے چاہتے تھے کہ میں پاکستان کے عوام کی اکثریت کی خواہش کے مطابق وہیں کے وہیں فیصلہ سنا دوں۔ انہوں نے مجھے یہ بھی بتایا کہ مقبولیت حاصل کرنے کے لیے یہ ایک سنہری موقع تھا اور یہ فیصلہ سنانے سے میں ہمیشہ کے لیے یاد رکھا جاؤں گا لیکن میں نے انہیں بتایا کہ یہ ایک ۹۰ سالہ پرانا مسئلہ ہے اور اس نے پاکستان کے قیام سے پہلے اور بعد مسلمانوں کے درمیان سخت بے چینی پیدا کی ہے۔ میرے لیے صورتحال سے فائدہ اٹھانا درست نہیں تھا۔ اس لئے میں نے
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
انہیں بتایا کہ ہم نے پاکستان میں جمہوریت بحال کی ہے اور ہمارے پاس قومی اسمبلی ہے جو بحث ومباحثہ کرنے کا مقام ہے اور میری عاجزانہ رائے میں اس مسئلے پر بحث کرنے کا یہی مقام ہے۔
ایوان میں اکثریت کا رکن ہونے کے ناطے میں اراکین پر کسی بھی قسم کا دباؤ نہیں ڈالوں گا اور ممبران کی دانش پر اس فیصلے کو چھوڑوں گا۔ پیپلز پارٹی کے اراکین اس بات کی توضیح کریں گے کہ میں نے ان کے فیصلے پر اثر انداز ہونے کی کوشش نہیں کی ہے۔ سوائے اس وقت کے جب اس مسئلے پر دو ٹوک بحث ہوئی تھی۔ جناب سپیکر میں آپ کو یہ نہیں بتانا چاہوں گا کہ میں اس مسئلے پر متذبذب تھا اور رات کو سو نہیں سکا تھا۔ میں اس فیصلے کے مالی اخراجات کے اور اس کے سیاسی و سماجی مضمرات سے واقف ہوں اور اس سے ملک کے دفاع پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ یہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں ہے۔ پاکستان اسلام کے اصولوں پر قائم ہونے والی ایک اسلامی ریاست ہے، جس میں مسلمان اکثریت میں آباد ہیں اور میں نے اس فیصلے کے نفاذ کے وقت کسی بھی اصول کی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔
پیپلز پارٹی کا پہلا اصول یہ ہے کہ اسلام ہمارا مذہب ہے اور اسلام کی خدمت ہماری اولین ترجیح ہے۔ پیپلز پارٹی کا دوسرا اصول جمہوریت ہے۔ یہ ہماری پالیسی ہے۔ اس لیے ہماری پارٹی کے لئے اس مسئلے کو اس ایوان میں پیش کرنا ہی مناسب تھا اور میں فخر سے یہ بات کہتا ہوں کہ ہم نے اپنی پارٹی کے اشتراکی ہونے کی روایات پر عمل کیا ہے۔ پس ہم نے اپنی پارٹی کے کسی اصول کی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔ یہ ایک مذہبی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک سیکولر فیصلہ بھی ہے۔
مذہبی اس معنی میں کہ یہ مسلمانوں کو متاثر کرتا ہے جو پاکستان میں اکثریت میں ہیں اور سیکولر ان معنوں میں کہ ہم موجودہ زمانے میں رہتے ہیں اور ہمارے دستور میں کسی فرقے یا مذہب کو نشانہ نہیں بنانا چاہئے اور ہر پاکستانی کو بلا خوف و خطر اپنے مذہب کے بارے میں اپنی رائے رکھنے کا حق حاصل ہونا چاہئے۔ یہ میری حکومت کے لیے بہت ضروری ہے کہ وہ پاکستان کے تمام شہریوں کے تحفظ کی ضمانت دے اور یہ ہمارا اخلاقی فرض ہے۔
جناب سپیکر! میں آپ کو یقین دلانا چاہوں گا اور اس ایوان کے باہر ہر کسی کو یہ بتانا چاہوں گا کہ ہم نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے اور کسی کو اپنے ذہن میں یہ شک نہیں رکھنا چاہئے کہ کسی بھی قسم کی مداخلت برداشت کی جائے گی اور پاکستان کے کسی بھی شہری کی تذلیل کی اجازت دی جائے گی۔
جناب سپیکر! پچھلے تین مہینوں میں بہت زیادہ احتجاج اور فسادات ہوتے رہے ہیں۔ بہت سی گرفتاریاں کی گئی ہیں اور لوگوں کو جیل بھیجا گیا ہے۔ یہ ہماری ذمہ داری تھی کہ اس ملک میں انتشار کو روکا جائے۔ جیسا کہ یہ ایوان ایک متفقہ فیصلے پر پہنچ چکا ہے۔ میں آپ کو یقین دلانا چاہوں گا کہ فوری اقدامات کئے جائیں گے اور گرفتار شدہ لوگوں کے حوالے سے زیادہ نرم اقدامات کئے جائیں گے اور ان میں سے کچھ لوگوں کو چھوڑا جائے گا۔ (اگر انہوں نے دوبارہ لوگوں کے خلاف احتجاج نہ کیا یا دوبارہ تشدد استعمال نہ کیا)
جناب سپیکر! جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کہ ہمیں امید کرنی چاہیے کہ ہم نے اس مسئلے سے نمٹ لیا ہے اور یہ میری کامیابی نہیں ہے بلکہ پاکستان کے عوام کی کامیابی ہے۔ میں عوام کو مبارک باد دیتا ہوں اور محسوس کرتا ہوں کہ یہ متفق علیہ فیصلہ نہیں ہو سکتا تھا اگر ساری جماعتیں تعاون نہ کرتیں۔ دستور ہمارے ملک کی زندگی اور روح ہے اور اسے مکمل کرنے میں ۲۷ سال لگے ہیں اور وہ پاکستان کی تاریخ میں ایک یادگار موقع تھا۔ جب تمام جماعتوں نے اسے قبول کیا۔
جناب سپیکر! کون جانتا ہے کہ مستقبل میں ہمیں کیا کیا فیصلے کرنے ہوں گے؟ لیکن میری ادنیٰ رائے میں پاکستان کے قیام سے لے
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کہ اب تک یہ سب سے پیچیدہ اور مشکل ترین مسئلہ تھا، جس کا ہم نے سامنا کیا ہے۔ جب میں ماضی پر نگاہ ڈالتا ہوں تو میں یہ بات دہراتا ہوں کہ یہ سب سے پیچیدہ اور مشکل ترین معاملہ تھا، جس سے ہم کبھی ہمکنار ہوئے۔ اس نے ملک کے ہر گھر ہر گاؤں اور ہر فرد کو متاثر کیا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ پیچیدہ ہوتا گیا۔ ہمیں تلخ سچائی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ہم اسے اسلامی نظریاتی کونسل یا عدالت عالیہ میں بھجوا سکتے تھے۔ (اسے مؤخر کرتے ہوئے) لیکن ہم اسے ایوان میں پیش کرنے کی جرأت رکھتے تھے اور ایک خاص کمیٹی اس مسئلے کے حوالے سے خفیہ طور پر ملی۔ خفیہ طور پر کیوں؟ کیوں کہ کیا آپ کا یہ خیال ہے کہ کوئی نتیجہ نکل سکتا تھا؟ اگر بند دروازوں کے پیچھے اس پر مباحثہ نہیں کروایا گیا ہوتا؟
اگر اراکین کھلے عام اور میڈیا کے سامنے اس پر سیر حاصل بحث کرتے تب بہت دشواری ہونی تھی۔ ہم نے اراکین کو یقین دلایا کہ ان کی آراء کو خفیہ رکھا جائے گا اور سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے انہیں توڑ مروڑ کر پیش نہیں کیا جائے گا۔ میرا خیال ہے کہ ان خفیہ اجلاسوں کی کارروائیوں کو ظاہر نہ کرنا اس ایوان کے لیے بہت ضروری تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے لیے ممکن ہوتا جائے گا کہ اس ریکارڈنگ کو ظاہر کر دیا جائے۔ میں یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ نئی بلندیوں تک پہنچنے کے لیے اور ملک کے مفاد میں نئے فیصلے کرنے میں ہمیں اجلاسوں کو خفیہ رکھنا ہوگا۔ یہ فیصلہ ہمارے لیے بڑا شگون ہے اور ہمیں قوم پر اثر انداز ہونے والے کسی بھی مسئلے کے حل کی کوشش کرتے ہوئے اسی جوش و جذبے کے ساتھ آگے بڑھنا چاہئے۔
کچھ لوگ اس فیصلے سے خوش نہیں ہوں گے اور ہر آدمی کو خوش کرنا مشکل ہوا کرتا ہے۔ کچھ لوگ سوچتے ہیں کہ (بہت زیادہ طاقت کے استعمال سے) یہ مسئلہ ۱۹۵۳ء میں حل کر دیا گیا تھا لیکن یہ لوگ صورتحال کا تجزیہ کرنے میں ناکام ہو گئے ہیں۔ میں جانتا ہوں کچھ لوگ اس فیصلے سے زیادہ ناخوش ہوں گے۔ میرے لئے ان لوگوں کی نمائندگی ممکن نہیں ہے لیکن اگر وہ یہ سوچیں کہ ان کے لئے زیادہ اچھا ہے کہ ان کے حقوق کا تحفظ کر دیا گیا ہے۔
مجھے یاد ہے کہ مولانا شاہ احمد نورانی نے (حزب اختلاف میں ہوتے ہوئے) اس درخواست کو پیش کیا تھا۔ انہوں نے ان لوگوں کے تحفظ کی ضمانت دینے کی بات کی تھی جو اس فیصلے سے متاثر ہوں گے۔ ایوان اس ضمانت پر پرعزم ہے۔
یہ اس ایوان، اس پارٹی، حزب اختلاف اور حکومت کی اخلاقی ذمہ داری کہ وہ پاکستان کے تمام شہریوں کا تحفظ کرے۔ یہ اسلام کی تعلیم ہے اور ایک اسلامی معاشرے کا نشان امتیاز بھی۔ اسے نوٹ کیا جانا چاہئے کہ یہودیوں نے جب انہیں یورپ میں مارا جا رہا تھا عثمانی سلطنت میں پناہ لی تھی۔ اس لئے جب یہودی ترکوں اور عربوں میں اپنا تحفظ تلاش کر سکتے ہیں تو ہم تو پاکستانی ہیں اور یہ ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے کہ ہم پاکستان کے تمام فرقوں اور تمام شہریوں کو تحفظ فراہم کریں۔
جناب سپیکر! میں ان الفاظ کے ساتھ اپنی تقریر ختم کرتا ہوں۔ آپ کا بہت بہت شکریہ!
۴۰...... ایک طویل مشق کے نتیجے میں، بالآخر، ۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کو قادیانیوں کے دونوں گروہوں کو حسب ذیل آئینی ترمیم کے ذریعے غیر مسلم قرار دیا گیا تھا:۔
(۱) مختصر عنوان اور آغاز نفاذ:
- (۱) یہ ایکٹ دستور (ترمیم دوم) ایکٹ، ۱۹۷۴ء کے نام سے موسوم ہوگا۔
- (۲) یہ فی الفور نافذ العمل ہوگا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ۲۵۶ ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
(۲) دستور کے آرٹیکل ١٠٦ کی ترمیم :
اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور میں، بعدازیں جس کا حوالہ دستور کے طور پر دیا گیا ہے، آرٹیکل ١٠٦ میں، شق (۳) میں، الفاظ ”کمیونٹیز“ کو الفاظ اور قوسین ”اور قادیانی گروہ یا لاہوری گروہ کے اشخاص (جو خود کو احمدی کے نام سے موسوم کرتے ہیں)“ شامل کر دیئے جائیں گے۔
(۳) دستور کے آرٹیکل ۲۶۰ کی ترمیم :
دستور میں، آرٹیکل ۲۶۰ میں، شق (۲) کے بعد حسب ذیل نئی شق کا اضافہ کر دیا جائے گا، یعنی ۔۔۔
- (۳) کوئی ایسا شخص مراد ہے جو خاتم النبیین حضرت محمد (ﷺ) کی ختم نبوت پر مکمل اور غیر مشروط ایمان نہ رکھتا ہو، یا حضرت
محمد (ﷺ) کے بعد اس لفظ کے کسی بھی مفہوم میں یا کسی بھی تشریح کے لحاظ سے نبوت کا دعویدار ہو، یا پیغمبر یا مذہبی مصلح کار ہونے کے دعویدار کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہو، دستور یا قانون کی اغراض کے لئے مسلمان نہ ہوگا۔“
بعد میں جنرل ضیاء الحق کے دور میں ۶ سے ۸؍ جولائی ۱۹۷۸ء کو پاکستان نے کراچی میں پہلی ایشیائی اسلامی کانفرنس کا اہتمام کیا۔ اس میں ۲۷ ممالک سے لگ بھگ ۲۰۰ مندوبین نے شرکت کی۔ اس کو رابطہ عالم اسلامی نے سپانسر کیا تھا جو ایک بین الاقوامی این.جی.او اور پارٹی وابستگی سے بالاتر ہے اور دنیا بھر کے مسلمانوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ مندوبین کے علاوہ، امریکہ اور روس سے بہت سے سکالر بھی کانفرنس میں شرکت کے لئے آئے۔ پاکستان میں منعقد ہونے والی یہ پانچویں کانفرنس تھی۔ اس سے قبل چار ایسی کانفرنسیں موریطانیہ (۱۹۷۶ء)، امریکہ (۱۹۷۷ء)، آسٹریلیا (۱۹۷۵ء) اور ٹرینیڈاڈ (۱۹۷۷ء) میں منعقد ہوئی تھیں۔ کانفرنس نے قادیانی مسئلے پر اسلام مخالف ایسی قوتوں جو غیر ملکی طاقتوں کے تعاون سے اسلامی دنیا کی یگانگت کے خلاف کام کر رہی ہیں پر بحث کی۔ اس کانفرنس میں اس مسئلے پر درج ذیل مواد تحریر کیا گیا:
”قادیانیت ایک تباہ کن مذہبی نظریہ ہے جو کہ اپنے سرکش اور بدنیتی پر مبنی عقائد کو مخفی رکھنے کے لیے اسلام کی آڑ میں چھپتا ہے۔ اس کے سب سے بڑھ کر غیر اسلامی دعوے یہ ہیں:
- الف...... اس کے لیڈر کا بے بنیاد نبوت کا دعویٰ۔
- ب...... قرآن کے الفاظ کو توڑ مروڑ کر بیان کرنا۔
- ج...... جہاد (اسلام کی خاطر جنگ) کے متعلق غلط بیانی کرنا۔
قادیانیت برطانوی سامراج کی سوتیلی بیٹی ہے جو کہ اس کی سرپرستی اور تحفظ کے تحت زندہ ہے۔ قادیانیت وفاداری کے ساتھ امت مسلمہ کے مقصد کے لئے اپنا کردار ادا نہیں کرتی : یہ آنکھ بند کر کے سامراج اور صیہونیت کی وفادار ہے؛ اور دل و جان سے غیر مسلم طاقتوں اور یہودیت طریقہ کاروں کی حمایت کرتی ہے۔ یہاں تک کہ یہ غیر مسلم طاقتوں کو اسلامی عقیدے کے بنیادی اصولوں کو مسمار کرنے اور ان کے خاتمے کے لیے استعمال کرتی ہے۔ قادیانیت ان سرکش اور بدنیتی پر مبنی مقاصد کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔“
۱۹۸۴ء کے اوائل میں عوامی جلسوں اور مظاہروں کے ایک سلسلہ کے بعد تحریک ختم نبوت کانفرنس کی مجلس عمل نے مندرجہ ذیل مطالبات پر زور دینے کے لئے ۲۷؍ اپریل ۱۹۸۴ء کو راولپنڈی میں جلسے کے انعقاد کا فیصلہ کیا:۔
- i) قادیانیوں کو کلیدی آسامیوں سے ہٹانا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- (ii) دوسری ترمیم کا مؤثر نفاذ۔
- (iii) احمدیہ تبلیغ پر پابندی عائد کرنا۔
- (iv) قادیانیوں کے حوالے سے اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کا نفاذ (کونسل نے مرتد کے لیے سزائے موت تجویز کی)
- (v) مولانا اسلم قریشی کی گمشدگی کے سلسلے میں مرزا طاہر احمد اور اس کے چند ساتھیوں کی گرفتاری اور مولانا قریشی کی فوری بازیابی۔
- (vi) احمدیوں کی سیاسی اور خفیہ سرگرمیوں اور یہودیوں کے ساتھ ان کے تعاون پر کڑی نظر رکھنا۔
- (vii) ربوہ کے نیم فوجی گروہوں جس طرح کہ خدام احمدیہ وغیرہ پر پابندی عائد کرنا۔
- (viii) شناختی کارڈ اور پاسپورٹ پر احمدیوں کی بطور غیر مسلم شناخت۔
بہت سے نامور علماء اور تحریک کے عہدیداران کو ۱۶ / ایم. پی. او اور ۱۵۳ پی. پی. سی کے تحت اس بنا پر گرفتار کر لیا گیا کہ وہ کانفرنس میں اپنی شرکت روکنے پر قابل اعتراض تقاریر کر رہے تھے۔ انتظامیہ کی جانب سے بیش بہا پابندیوں کے باوجود ، جن میں علماء کی گرفتاری، لاؤڈ سپیکر کے استعمال پر پابندی ، راولپنڈی شہر میں دفعہ ۱۴۴ کا نفاذ شامل تھے ، جہاں پاکستان کے چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر سے لوگ کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لئے امڈے چلے آئے تھے۔ تحریک نے دھمکی دی کہ اگر ان کے مطالبات نہ مانے گئے تو وہ براہ راست کاروائی کریں گے۔ اس وقت کے وزیر اطلاعات و نشریات راجہ ظفر الحق نے تحریک کی قیادت اور حکومت کو ایک میز پر لانے میں سرگرم کردار ادا کیا۔ حکومت کو اس مشہور تحریک کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑے جو دوسری صورت میں مارشل لاء کے خلاف ایک احتجاجی تحریک کی صورت اختیار کر سکتی تھی۔ کانفرنس (۲۶ / اپریل ۱۹۸۴ء) سے ایک روز قبل صدر پاکستان نے آرڈیننس نمبر XX آف 1984 کا اجراء کیا جسے قادیانی گروہ، لاہوری گروہ اور احمدیوں کی اسلام مخالف سرگرمیاں (ممانعت و سزا) آرڈیننس ۱۹۸۴ء سے تعبیر کیا گیا۔ اس میں قادیانیوں اور احمدیوں کو اسلام مخالف سرگرمیوں سے منع کیا گیا تھا۔ تعزیرات پاکستان میں ایک نئی دفعہ ۲۹۸- بی شامل کی گئی ، جس کے تحت ان گروہوں میں ایسے شخص کے لئے تین سال کی سزا اور جرمانہ مقرر کیا گیا جو زبانی یا تحریری الفاظ سے ، یا کھلم کھلا مرزا غلام احمد کے جانشینوں کو امیر المومنین پکارے گا، یا اس کے ساتھیوں کو صحابہ پکارے گا اور اس کے خاندان کے افراد کو اہل بیت سے تعبیر کرے گا یا اپنی عبادت کی جگہ کو مسجد کہے گا۔ اس دفعہ میں ایسی ہی سزا کسی ایسے شخص کے لئے بھی مقرر کی گئی ہے جو نماز کے لئے پکار کو اذان سے تعبیر کرے گا یا مسلمانوں کے انداز میں اذان دے گا۔ تعزیرات پاکستان میں شامل کی جانے والی نئی دفعہ میں ایسی ہی سزا ایسے شخص کے لئے بھی ہے جو اپنے آپ کو مسلمان اور اپنے عقیدے کو اسلام سے تعبیر کرتا ہے یا اپنے عقیدے کی تبلیغ یا ترویج کرتا ہے، یا دوسروں کو اپنا عقیدہ ماننے کی دعوت دیتا ہے یا کوئی ایسا طریقہ استعمال کرتا ہے جس سے مسلمانوں کے جذبات مشتعل ہو سکتے ہیں۔ اس آرڈیننس نے ضابطہ فوجداری ۱۸۹۸ء کی دفعہ ۹۹-اے میں بھی ترمیم کی تا کہ صوبائی حکومت کو اختیار دیا جاسکے کہ وہ کسی اخبار، کتاب یا دوسری دستاویز کو ضبط کر سکے جو تعزیرات پاکستان میں درج کی جانے والی دفعات سے متصادم ہوں۔ ترمیم کے ذریعے مغربی پاکستان پریس اینڈ پبلی کیشن آرڈیننس ۱۹۶۳ء کی دفعہ ۲۴ میں بھی ترمیم کی گئی۔ جس کے تحت صوبائی حکومت کو اختیار دیا گیا کہ وہ تعزیرات پاکستان میں درج کی گئی ۔ نئی دفعات کی خلاف ورزی پر کسی پرنٹنگ، پبلی کیشن ، کسی کتاب یا کسی پیپر کی بندش کر سکے، کسی ایسے اخبار کی ڈکلریشن منسوخ کر سکے جو ان دفعات کی نفی کرتا ہے اور ایسی کتاب یا صفحے کو ضبط کر سکے جس میں ایسا مواد ہو جس کی اشاعت متذکرہ دفعات میں ممنوع قرار دی گئی ہے۔ قادیانی مخالف آرڈیننس کو مختلف طبقہ ہائے فکر کی مذہبی ، سماجی اور سیاسی تنظیموں اور دنیا بھر کے مسلمانوں نے بڑے پیمانے پر سراہا۔ ملک کے سرکردہ
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اخبارات نے اسے بروقت اقدام قرار دیا اور قادیانیوں کی اسلام مخالف سرگرمیوں کو چیک کرنے کے لئے حکومتی کوشش کی تعریف کی۔ تمام معروف روزناموں نے آرڈیننس کو خوش آئند قرار دیا اور اس کے کلی طور پر اطلاق کا مطالبہ کیا۔ احمدیوں کو مشورہ دیا گیا کہ وہ پاکستان میں دیگر امن پسند شہریوں کی طرح رہیں اور اپنی اسلام مخالف سرگرمیاں ترک کر دیں۔
- ۴۱...... ۲۶ /اپریل ۱۹۸۴ء کو، صدر پاکستان ضیاء الحق کے مارشل لاء کے دور میں، مجموعہ تعزیرات پاکستان میں آرڈیننس ۲۰ کا اضافہ کیا
گیا۔ آرڈیننس ۲۰ ایک قانون ہے جو کہ احمدیہ مسلم کو اپنے مذہب کی کھلے عام تبلیغ کرنے سے روکتا ہے۔
”قادیانی گروہ، لاہوری گروہ اور احمدی جو اسلام مخالف سرگرمیوں میں مصروف ہوں کو روکنے کی بابت قانون میں ترمیم کی جائے؛
ہرگاہ کہ یہ قرین مصلحت ہے کہ قادیانی گروہ، لاہوری گروہ اور احمدی جو اسلام مخالف سرگرمیوں میں مصروف ہوں کو روکنے کے لیے قانون میں ترمیم کی جائے:
اور چونکہ صدر مملکت کو اطمینان حاصل ہے کہ ایسے حالات موجود ہیں جن کی بناء پر فوری کارروائی کرنا ضروری ہو گیا ہے؛
لہٰذا اب، ۵/ جولائی ۱۹۷۷ء کے اعلان کی پیروی میں اور اس ضمن میں اسے مجاز کردہ تمام اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے، صدر مملکت نے حسب ذیل آرڈیننس وضع اور جاری کیا ہے:
حصہ اوّل: ابتدائیہ
- ۱...... مختصر عنوان اور آغاز نفاذ۔
- (۱) یہ آرڈیننس قادیانی گروہ، لاہوری گروہ اور احمدیوں کی اسلام مخالف سرگرمیوں (ممانعت اور سزا) آرڈیننس ۱۹۸۴ء کے نام
سے موسوم ہوگا۔
- (۲) یہ فی الفور نافذ العمل ہوگا۔
- ۲...... آرڈیننس عدالتوں کے احکامات یا فیصلوں پر غالب ہوگا۔
اس آرڈیننس کے احکامات کسی بھی عدالت کے کسی بھی حکم یا فیصلہ کے باوجود مؤثر ہوں گے۔
حصہ دوم: مجموعہ تعزیرات پاکستان (ایکٹ نمبر ۴۵ بابت ۱۸۶۰ء) کی ترمیم
- ۳...... ایکٹ نمبر ۴۵ بابت ۱۸۶۰ء میں، نئی دفعات ۲۹۸-ب اور ۲۹۸-ج کا اضافہ۔ مجموعہ تعزیرات پاکستان (ایکٹ نمبر ۴۵ بابت
۱۸۶۰ء) میں باب پندرہ میں، دفعہ ۲۹۸-الف کے بعد، حسب ذیل نئی دفعات کا اضافہ کر دیا جائے گا، یعنی:
۲۹۸-ب: بعض مذہبی شخصیات یا زیارت گاہوں کے لیے منسوب القاب، بیانات اور عنوانات، وغیرہ کا ناجائز استعمال۔
- (۱) قادیانی گروہ یا لاہوری گروہ کا کوئی بھی شخص (جو اپنے طور پر ”احمدی“ یا کسی بھی دوسرے نام سے موسوم ہو) جو بذریعہ الفاظ،
خواہ تقریری یا تحریری یا ظاہری شبیہ کے ذریعے سے؛
- (الف) حضرت محمد ﷺ کے خلیفہ یا ساتھی کے علاوہ کسی بھی شخص کو ”امیر المومنین“، ”خلیفۃ المومنین“، ”خلیفۃ المسلمین“، ”صحابی“ یا
”رضی اللہ عنہ“ کے طور پر حوالہ دیتا ہو یا مخاطب کرتا ہو۔
- (ب) حضرت محمد ﷺ کی زوجہ کے علاوہ کسی بھی شخص کا ”اُم المومنین“ کے طور پر حوالہ دیتا ہو، یا مخاطب کرتا ہو۔
- (ج) حضرت محمد ﷺ کے خاندان (اہل بیت) کے رُکن کے علاوہ کسی بھی شخص کا بطور ”اہل بیت“ حوالہ دیتا ہو، یا مخاطب کرتا ہو۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- (د) اپنے عبادت کے مقام کا ”مسجد“ کے طور پر حوالہ دیتا ہے یا نام دیتا ہے یا پکارتا ہے۔
تو اس کو کسی بھی نوعیت کی سزائے قید اتنی مدت کے لئے دی جائے گی جو تین سال تک ہو سکتی ہے اور وہ جرمانے کا بھی مستوجب ہوگا۔
- (۲) قادیانی گروہ یا لاہوری گروہ کا کوئی بھی شخص (جو اپنے طور پر احمدی یا کسی بھی دوسرے نام سے موسوم ہو ) جو بذریعہ الفاظ تقریراً
تحریراً یا ظاہری شبیہ کے ذریعے سے اپنے عقیدے کے ذریعے عبادات کی پیروی کرنے کے لیے طریقہ کار یا بلانے کے طرزِ عمل کا حوالہ، ”اذان“ یا اذان دینے کے طور پر دے جو مسلمانوں کی جانب سے استعمال کیا جاتا ہے، تو تین سال تک سزائے قید کا سزا وار ہوگا اور جرمانے کا بھی مستوجب ہوگا۔
- (۳) ۲۹۸۔ج، قادیانی گروہ وغیرہ کا شخص جو اپنے آپ کو مسلمان کہلائے یا اپنے عقیدے کی تبلیغ کرے یا اسے پھیلائے۔
قادیانی گروہ یا لاہوری گروہ کا کوئی بھی شخص (جو اپنے آپ کو احمدی یا دیگر کسی نام سے پکارتا ہو ) جو بلواسطہ یا بلاواسطہ اپنے آپ کو بطور مسلمان ظاہر کرتا ہو یا اپنے عقیدے کا بطور اسلام حوالہ دیتا ہو یا پکارتا ہے یا اپنے عقیدے کی تبلیغ کرتا ہو یا اسے پھیلاتا ہو یا دوسروں کو اپنے عقیدے کو قبول کرنے کی دعوت دیتا ہو بذریعہ الفاظ خواہ تقریری ہوں یا تحریری ہوں یا ظاہری شبیہ کے ذریعے یا کسی بھی طریقہ کار میں جو بھی ہو مسلمانوں کے احساسات کا استحصال کر رہا ہو تو اُسے کسی بھی نوعیت کی سزائے قید اتنی مدت کے لیے دی جائے گی جو تین سال تک ہو سکتی ہے اور وہ جرمانے کا بھی مستوجب ہوگا۔
حصہ سوم: مجموعہ ضابطہ فوجداری ۱۸۹۸ء (ایکٹ نمبر ۵ بابت ۱۸۹۸ء) کی ترمیم
- ۴...... ایکٹ نمبر ۵ بابت ۱۸۹۸ء کی دفعہ ۹۹۔الف کی تبدیلی۔ مجموعہ ضابطہ فوجداری ۱۸۹۸ء (ایکٹ نمبر ۵ بابت ۱۸۹۸ء) میں، جس
کا بعد ازیں مذکورہ ضابطہ حوالہ دیا گیا ہے، کی دفعہ ۹۹۔الف میں ذیلی دفعہ (۱):
- (الف) بعد ازاں الفاظ و سکتہ ”اُس شق کے“ الفاظ ، ہندسے ، قوسین ، حرف اور سکتہ ” یا مغربی پاکستان طابع و اشاعت آرڈیننس
۱۹۶۳ء کی دفعہ ۲۴ کی ذیلی دفعہ ۱ کی شق (دوم) میں محولہ کسی نوعیت کے معاملہ میں“ شامل کر دیئے جائیں گے؛ اور
- (ب) بعد ازاں ہندسہ اور لفظ ”۲۹۵۔ الف“ ہندسے اور الفاظ ”یا دفعہ ۲۹۸۔ الف یا دفعہ ۲۹۸۔ ب یا دفعہ ۲۹۸۔ج“ شامل کر
دیئے جائیں گے۔
- ۵...... ایکٹ نمبر ۵ بابت ۱۸۹۸ء کے جدول دوم کی تبدیلی۔ مذکورہ مجموعہ میں جدول دوم میں دفعہ ۲۹۸ الف سے متعلق اندراجات
میں حسب ذیل مندرجات کو شامل کر دیا جائے گا؛
۱ ۲ ۳ ۴ ۵ ۶ ۷ ۸ ۲۹۸ ب مذہبی ہستیوں یا مقدس مقامات کے لئے مختص کردہ القاب، بیانات اور عنوانات وغیرہ کا ناجائز استعمال ایضاً ایضاً ناقابل ضمانت ایضاً تین سال کے لئے کسی بھی نوعیت کی سزائے قید اور جرمانہ۔ ایضاً ۲۹۸ ج قادیانی گروہ وغیرہ کا کوئی شخص جو خود کو بطور مسلمان کہے یا اپنے عقیدے کی تبلیغ کرے یا اسے پھیلائے۔ ایضاً ایضاً ایضاً ایضاً ایضاً ایضاً
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حصہ چہارم : مغربی پاکستان مطابع واشاعت آرڈیننس ۱۹۶۳ء میں ترمیم (ڈبلیو۔ پی۔ آرڈیننس نمبر ۳۰ مجریہ ۱۹۶۳ء)
- ٦...... مغربی پاکستان آرڈیننس نمبر ۳۰ مجریہ ۱۹۶۳ء کی، دفعہ ۲۴ کی ترمیم۔
مغربی پاکستان مطابع واشاعت آرڈیننس، ۱۹۶۳ء (ڈبلیو۔ پی۔ آرڈیننس نمبر ۳۰ مجریہ ۱۹۶۳ء) میں، دفعہ ۲۴ میں ذیلی دفعہ (۱) میں بعد ازاں شق
- (اوّل) حسب ذیل نئی شق شامل کر دی جائے گی، یعنی؛
- (دوم) ”مجموعہ تعزیرات پاکستان (ایکٹ ۲۵ بابت ۱۸۶۰ء) دفعہ ۲۹۸- الف، دفعہ ۲۹۸-ب یا دفعہ ۲۹۸-ج میں محولہ نوعیت کی
ہوں“ یا جنرل محمد ضیاء الحق، صدر مملکت
- ۴۲...... مرزا طاہر کی ہدایات کے مطابق، قادیانیوں نے خاموشی مگر ہچکچاہٹ سے آرڈیننس کو قبول کر لیا۔ عبادت گاہوں سے مسجد کا لفظ
ہٹا دیا گیا تھا اور اس کی جگہ بیت الحمد، بیت الذکر وغیرہ جیسے الفاظ لکھ دیئے گئے۔ اذان دینا بند کر دیا اور خلافت لائبریری ربوہ اور دیگر کھلی جگہوں سے احمدیہ لٹریچر ہٹا دیا گیا تھا۔ بہت سے قادیانی انڈر گراؤنڈ ہو گئے۔ بعض ایک نے پاکستان چھوڑ دیا اور سویڈن، مغربی جرمنی، ہالینڈ، ڈنمارک، برطانیہ، کینیڈا اور امریکہ جیسے ممالک میں پناہ لے لی۔ آرڈیننس نے انہیں ملک سے باہر سیٹل ہونے اور ان ممالک میں مختلف مدوں میں کام کرنے والی اسلام مخالف تنظیموں کی مدد حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا۔ پاکستان میں احمدیوں پر ایذا رسانی کے جھوٹے نعرے بلند کر کے اور ضیاء حکومت کی غیر نمائندہ حیثیت کا استحصال کر کے انہوں نے معاشی اور سیاسی طور پر بہت کچھ حاصل کیا۔
- ۴۳...... آل پاکستان مجلس تحفظ ختم نبوت ﷺ نے سال ۱۹۸۵ء کے اواخر میں ہونے والے متعدد جلسہ ہائے عام میں مندرجہ ذیل
مطالبات پیش کئے :
قادیانیوں سے متعلقہ آرڈیننس کی اسمبلی سے ایک بل کی صورت میں منظوری دی جائے تاکہ یہ آئین کا حقیقی جزو بن سکے۔ قادیانیوں کو اسرائیل سے قریبی تعلقات کی بناء پر وزارت خارجہ، دفاع اور اندرون ملک وزارتوں بشمول کہوٹہ ایٹمی پلانٹ میں موجود تمام اہم آسامیوں سے ہٹایا جائے۔ شناختی کارڈ اور پاسپورٹ میں قادیانیوں کے لئے علیحدہ کالم بنایا جائے جس میں انہیں بطور ایک غیر مسلم ظاہر کیا جائے۔ دراصل قادیانی تنظیمیں اسلامی نقاب کی آڑ میں تخریب کاری میں مصروف ہیں جن کو کہ پاکستان مخالف سرگرمیوں اور پاکستان کے آئین سے متصادم ہونے کی وجہ سے غیر قانونی قرار دینا چاہئے اور ان کی املاک کو ضبط کر لینا چاہئے۔
- ۴۴...... ۱۵ / جولائی ۱۹۸۴ء کو امیر جماعت احمدیہ راولپنڈی ایڈووکیٹ مجیب الرحمن نے مرزا طاہر کی ہدایات پر وفاقی شرعی عدالت میں
آرڈیننس کے خلاف ایک پٹیشن دائر کی۔ وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس جناب آفتاب حسین، جناب جسٹس فخر عالم، جناب جسٹس چودھری محمد صدیق، جناب جسٹس مولانا ملک غلام علی اور جناب جسٹس مولانا عبدالقدوس قاسمی پر مشتمل ایک فل بینچ نے آئینی درخواست کی سماعت کی۔ لاہوری جماعت نے بھی اپنا نقطہ نظر پیش کیا۔ عدالت ۲۱ روز تک سماعت کرتی رہی اور ۱۲ / اگست ۱۹۸۴ء کو ایک مختصر حکم کے ذریعے دونوں آئینی درخواستیں غیر مؤثر قرار دے کر مسترد کر دیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ درخواستوں میں عائد کئے گئے الزامات کہ متدعویہ آرڈیننس قادیانیوں کے ہر طرح کے عقیدے کی آزادی کو متاثر کرتا ہے یا انہیں اپنی رسومات ادا کرنے سے منع کرتا ہے یا ان کے حق عبادت کو متاثر کرتا ہے درست نہ ہیں۔ متذکرہ آرڈیننس آئین کی دفعات اور قرآن وسنت کے احکامات کے تناظر میں درخواست دہندوں یا دوسرے قادیانیوں کے اپنے مذہب کو قائم رکھنے اور اس پر عمل کرنے کے حقوق کو متاثر نہیں کرتا ہے۔ ان کو آزادی ہے کہ وہ
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیانیت یا احمدیہ مذہب اختیار کریں یا مرزا غلام احمد پر بطور پیغمبر ، یا مسیحا یا مہدی کے طور پر عقیدہ رکھیں۔ ان کو اس بات کی بھی آزادی ہے کہ وہ اپنی عبادت گاہوں میں اپنے مذاہب کے مطابق عبادت کریں۔ عدالتی فیصلہ قرار دیتا ہے کہ متدعویہ آرڈیننس ۱۹۸۴ء کی آئینی ترمیم کا نتیجہ ہے جس کے تحت قادیانی اور لاہوری گروہ کو اسلامی شریعت کے احکامات کے مطابق غیر مسلم قرار دیا گیا تھا۔ اس آئینی فیصلے کا نفاذ جسے قادیانیوں نے اپنے لئے سزا سے بریت کے طور پر درخور اعتناء نہ جانا تھا۔ قادیانیوں کو اس امر کی ممانعت کرتا ہے کہ وہ بلا واسطہ یا بالواسطہ اپنے آپ کو مسلمان کہلوائیں یا ایسا ظاہر کریں یا اپنے عقیدے کو اسلام کہیں۔ اپنی عبادت گاہ کو مسجد کہنا اور عبادت کے لئے اذان دینا مسلمانوں کے لئے مختص ہے۔ ایک ہی طرح کا نام یا ایک ہی طرح کی اذان سے مسلمانوں کو دھوکہ ہو سکتا ہے اور وہ ایک غیر مسلم امام یا ایک غیر مسلم جگہ پر عبادت کے مرتکب ہو سکتے ہیں۔ قادیانی اپنی عبادت گاہ کو کسی اور نام سے پکار سکتے ہیں اور اپنے عقیدے کے ماننے والوں کو کسی اور طریقے سے عبادت کے لئے بلا سکتے ہیں۔ ام المومنین ، صحابہ ، اہل بیت وغیرہ جیسے القابات کا احمدیوں کی جانب سے استعمال نہ صرف مسلمانوں کے جذبات کو بھڑکا سکتا ہے بلکہ خود ان کے بارے میں تاثر مل سکتا ہے کہ قادیانی بھی مسلمان ہیں۔ یہ ممانعت کسی طرح بھی احمدیوں کے ایک مذہب رکھنے اور اس کی عبادت کرنے میں مداخلت نہیں ہے۔ احمدیوں کے مذہب کی ترویج کی ممانعت قرآن اور پیغمبر خدا ﷺ کی سنت کے منافی نہیں ہے۔ یہ ممانعت احمدیوں اور قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے بھی عین مطابق ہے جو انہیں اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنے سے منع کرتی ہے۔ تبلیغ میں ان کی کل حکمت عملی مبلغ کے زیر اثر مسلمان کو مطمئن کرنا ہے کہ احمدی ہونے کے باوجود وہ مسلمان رہے گا۔ یہ آئین کے منافی بات ہوگی ۔ ۲۲۴ ٹائپ شدہ صفحات پر پھیلا ہوا تفصیلی عدالتی فیصلہ مرزا غلام احمد کو کافر قرار دیتا ہے۔ فیصلے کے مطابق اس کی زندگی کی تاریخ بتاتی ہے کہ وہ ایک دھوکہ باز اور بددیانت شخص تھا جس نے مرحلہ وار اور ایک منصوبے کے تحت اپنی تحریروں اور اقوال سے اپنے آپ کو محدث اور مسیحا کے طور پر ابھارا۔ اس کی پیش گوئیاں اور الہام جھوٹے ثابت ہوئے لیکن اپنے مخالفین کے ہاتھوں خفت سے بچنے کے لئے اس نے بسا اوقات اپنی تحریروں کی وضاحت میں کہا کہ اس نے کبھی پیغمبری یا رسالت کا دعویٰ نہیں کیا۔ قائد اعظم کا قادیانیوں کے ساتھ ایسا کوئی معاہدہ نہیں تھا کہ انہیں مسلمان تصور کیا جائے گا یا انہیں اسلام کے نام پر عبادت کرنے کی اجازت ہوگی ۔ وفاقی شرعی عدالت میں مجیب الرحمٰن و دیگر ۳ وغیرہ بنام وفاقی حکومت پاکستان وغیرہ کے شاندار فیصلے ( جو کہ پی ایل ڈی ۱۹۸۵ء ایف ایس سی ۸ میں رپورٹ ہوا) سے چند ایک پیراگراف یہاں نقل کرنے کے لائق ہیں تاکہ اس وقت کی صورتحال کی عکاسی ہو سکے :-
”مرزا غلام احمد کے دعوؤں کے تاریخی جائزے اور ان کے ارتقائی رجحان سے یہ بات پہلے ہی نوٹ کی گئی ہے کہ ہندوستانی برصغیر کے مسلمان مرزا غلام احمد کی جانب سے مجدد اور مامور من اللہ (اللہ کا معین کردہ شخص) کے دعوے سے بے چینی کا شکار تھے۔ انہوں نے بشارت کے انداز میں کہا تھا کہ یہ تو پیغمبری کی جانب پہلا قدم ہے۔ مرزا صاحب نے فوری طور پر اس کی تردید کی اور کہا کہ وہ حضرت محمد ﷺ کی ختم نبوت پر پکا یقین رکھتا ہے اور اس کے خیال میں پیغمبری کا دعویٰ کفر سے کم نہیں ہے۔ مسلمانوں میں یہ بے چینی ، تذبذب اور معاندانہ رجحانات تب بڑھے جب ۱۸۹۰ء میں وعدہ شدہ مسیحا اور مہدی کا دعویٰ کیا گیا۔ مرزا صاحب کی کتابوں اور دیگر قادیانی لٹریچر سے واضح ہوگا کہ جب وہ مختلف شہروں میں جاتا اور کہیں قیام کرتا تو مسلمانوں کا ٹھٹھ لگ جاتا ۔ علماء بھی بہت زیادہ سیخ پا تھے۔ یہ احتجاج تب اپنی انتہا کو پہنچا جب ۱۹۰۱ء میں مرزا صاحب نے پیغمبری کا دعویٰ کیا۔
قیام پاکستان کے بعد یہ احتجاج اس حد تک بڑھا کہ اس پر قابو پانے کے لئے ۱۹۵۳ء میں مارشل لاء لگانا پڑا۔ تاہم اس سے مسلمانوں کے مطالبوں کو ختم نہ کیا جا سکا جو علماء کی جانب سے ۲۲ نکاتی پروگرام کی صورت سامنے آیا اور کہا گیا کہ آئین میں قادیانیوں کو
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
غیر مسلم اور اقلیت کا درجہ دیا جائے۔
مارشل لاء کے نفاذ کے باوجود احتجاج جاری رہا تا آنکہ قادیانیوں کے نقطہ نظر کی فرقہ قادیانیت کے سربراہ مرزا ناصر احمد کی زبانی بھر پور سماعت کے بعد پارلیمنٹ اور قومی اسمبلی میں مسلمانوں کے نمائندوں نے آئینی (دوسری ترمیم) ایکٹ ۱۹۷۴ء پاس کیا اور ۱۹۷۳ء کے آئین کے آرٹیکل ۲۶۰ میں ایک تعریف کا اضافہ کیا گیا جس کے مطابق قادیانیوں کے دو بڑے گروہوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا اور آرٹیکل ۱۰۶ میں ترمیم کے ذریعے دوسری اقلیتوں بشمول عیسائیوں ، پارسیوں اور ہندوؤں کے ہم پلہ اقلیت قرار دیا گیا۔
اس ڈکلریشن کے نتیجے میں جو مسلمانوں کا مشترکہ مطالبہ تھا ، قادیانیوں کے لئے ممکن نہ رہا کہ اپنے آپ کو مسلمان کہہ سکیں یا اپنے تصور اسلام کو صحیح اسلام سے تعبیر کریں لیکن انہوں نے آئینی ترمیم کی پرواہ نہ کی اور اپنی روش برقرار رکھتے ہوئے اپنے عقیدے کو اسلام سے تعبیر کرتے رہے۔ وہ اپنے مذہب کی کتابوں ، رسالوں وغیرہ کی اشاعت سے کھلے بندوں تشہیر کرتے رہے جس سے انفرادی سطح پر مسلمانوں میں غم وغصہ پیدا ہوتا رہا جس سے نقص امن کا خطرہ بڑھتا جا رہا تھا اور یہ سب کچھ تب تک ہوتا رہا جب تک کہ موجودہ آرڈیننس پاس ہو کر مشتہر نہیں ہو گیا۔ اندریں حالات، یہ آرڈیننس آرٹیکل ۲۰ کی استثناء سے امن وامان کے قیام سے متعلق ہے۔‘‘
۲۵....... درج بالا آرڈیننس کے تحت لگائے جانے والی پابندیاں لاہور ہائی کورٹ میں مرزا خورشید احمد وغیرہ بنام حکومت PLD1992Lahore1 کے عنوان سے چیلنج کی گئیں جس میں قرار دیا گیا:
’’ (۳۶) مزید برآں ، ایسے بینر اور جھنڈے شہریوں کی غالب اکثریت کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کا باعث بنتے ہیں جو اس طرح کے جشن کو کالعدم قرار دینے کی ایک اور دلیل فراہم کرتے ہیں کیونکہ اس کے نتیجے میں امن وامان میں خلل کا خدشہ تھا۔ یہ بھی قابل ذکر بات ہے کہ عقیدہ رکھنا اور اس پر عمل کرنے کے حقوق کا صرف دعویٰ کیا گیا تھا لیکن درخواست گزار کے فاضل وکلاء یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ ایسے جشن کا انعقاد اور اور منصوبہ بندی قادیانی عقیدہ رکھنے کے حق کی کس طرح خلاف ورزی ہے یا اس کی حیثیت کو گھٹاتا ہے۔ قادیانی بھی ہندوؤں ، سکھوں، پارسیوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں کی طرح اپنا ایمان رکھتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہوئے تمام آزادیوں کا لطف اٹھاتے ہیں لیکن ان کے اپنے طرز عمل سے ایک مشکل پیدا ہوتی ہے جب وہ مسلمان کہلانے کی کوشش کرتے ہیں اور شعائر اسلام یا کلمہ طیبہ کا استعمال کرتے ہیں جو اسلام کے بنیادی عقائد میں شامل ہے۔ کوئی ناخوشگوار صورتحال یا واقعہ اس صورت میں پیش نہیں آئے گا اگر قادیانی آئینی مینڈیٹ کی پاسداری کرتے ہیں اور اپنے آپ کو مسلمانوں سے مختلف اور علیحدہ برادری تسلیم کرتے ہیں....... جو کہ ان کا اپنا ہی مقدمہ ہے۔ ان کا اپنے آپ کو مسلمانوں کی جگہ رکھ کر عام مسلمانوں کو اسلام کے دائرے سے خارج کرنے کا عمل مسلم امہ کو ہرگز قابل قبول نہیں ہے۔ ان کی ملک، آئین اور اپنی علیحدہ حیثیت سے وفاداری ان کے تحفظ اور ان کے بہبود کو یقینی بنائے گی۔ انہیں اسلام کو ہائی جیک کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ انہیں اپنا عقیدہ رکھنے کی بھر پور آزادی ہے لیکن وہ مسلمانوں کے عقیدے کو ناپاک کرنے پر اصرار کیوں کرتے ہیں۔ مسلمانوں کا اپنے عقیدے کی پاکیزگی کے تحفظ کے لئے اٹھایا جانے والا کوئی بھی عمل قادیانیوں کو نہیں کھٹکنا چاہئے اور نہ ہی ان کے لئے یہ شکایت کی وجہ ہونی چاہئے۔
قادیانیوں (دونوں گروہوں) نے وفاقی شریعت کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ (شریعت بنچ) میں آئین کے آرٹیکل ۲۰۳-ایف کے تحت چیلنج کیا۔ درخواست گزار مجیب الرحمٰن ، مرزا نصیر احمد ، مبشر لطیف احمد اور مظفر احمد قادیان جماعت کی ترجمانی کر رہے تھے اور کیپٹن (ر) عبدالواجد نے لاہوری جماعت کا نقطہ نظر پیش کیا۔ قادیانی ترجمانوں نے اپیل جمع کروائی کہ متدعویہ آرڈیننس احمدیوں
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کے عقیدے اور عبادت کے بنیادی حقوق میں مداخلت ہے اور قرآن وسنت کی منشاء سے متصادم ہے۔ ان کا بیان تھا کہ : ”مختصر دلائل کے ساتھ اپیل کی یہ دستاویز مختصر حکم کی بنیاد پر درج کروائی جارہی ہے۔ اپیل دہندگان اپیل کے لئے مفصل دلائل تب پیش کریں گے جب مفصل فیصلہ جاری کیا جائے گا۔“ ان کی اپیل کے لئے مختصر دلائل یہ تھے کہ وفاقی شریعت کورٹ نے اپنے مختصر فیصلے میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ : ”متدعویہ آرڈیننس، ۱۹۷۴ء کی آئینی ترمیم کا نتیجہ تھی جس کے مطابق قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا تھا خواہ وہ لاہوری گروہ سے تعلق رکھتے ہوں یا کسی اور گروہ سے اور یہ کہ یہ آرڈیننس آئینی فیصلے کا نفاذ تھا۔ وفاقی شریعت کورٹ اس بات کا تعین کرنے میں ناکام رہی ہے کہ آرڈیننس کے آئینی ترمیم کا نتیجہ ہونے کا درخواست گزار کی استدعا سے کوئی تعلق نہیں تھا (آئین کا آرٹیکل ۲۰۳۔ ڈی)۔ وفاقی کورٹ کی ذمہ داری اس بات کا تعین کرنا تھا کہ کیا یہ آرڈیننس قرآن مجید اور سنت کے احکامات سے روگردانی ہے یا نہیں؟ اس کا آئین سے تعلق نہیں تھا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے ۱۰ اور ۱۱؍جنوری ۱۹۸۸ء کو دونوں شریعت اپیلوں کی سماعت کی اور انہیں واپس لئے جانے پر خارج کردیا۔
- ۲۶...... یہ ۲۳؍مارچ ۱۸۸۹ء تھا جب مرزا غلام احمد نے لدھیانہ، پنجاب میں بیعت قبول کرکے باقاعدہ طور پر احمدیہ تحریک کا آغاز کیا۔
کچھ عرصے سے قادیانی منصوبہ بندی کررہے تھے کہ ۱۹۸۹ء کو اپنی کمیونٹی کی صد سالہ تقریبات کے طور پر منایا جائے۔ اس ضمن میں ربوہ کے احمدیوں نے اس موقع کو شایان شان طریقے سے منانے کے لئے ایک تفصیلی پروگرام ترتیب دیا تھا۔ البتہ حکومت پنجاب نے مارچ کے مہینے میں ربوہ میں ان تقریبات کے انعقاد پر پابندی لگادی۔ احمدیوں کی جانب سے بے رحمانہ مباہلہ کی مہم کے بعد مسلمانوں کا غم وغصہ عروج پر تھا اور یہ خدشہ بجا تھا کہ ایسی تقریبات مسلمانوں کو اشتعال دلائیں کہ وہ اس کے خلاف سخت ردعمل کا مظاہرہ کریں۔ حکومتی پابندیوں کے باوجود ربوہ اور ملک کے دیگر حصوں میں رہنے والے احمدیوں نے باقاعدہ طور پر اس موقع پر جشن کا اہتمام کیا۔ پنجاب حکومت کی جانب سے جشن پر پابندیوں سے پشیمان ربوہ کے بڑوں نے لاہور ہائیکورٹ میں ایک پٹیشن دائر کی جس میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ صوبائی ہوم سیکرٹری کے مورخہ ۲۰؍مارچ ۱۹۸۹ء کے صوبہ پنجاب میں جشن کی تقریبات پر پابندی کے احکامات کو غیر قانونی قرار دیا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ ضلعی مجسٹریٹ جھنگ اور ریذیڈنشل مجسٹریٹ ربوہ کی جانب سے تقریب کے دروازے ہٹانے، بینر اور روشنیوں کو ہٹانے اور اس کے ساتھ ساتھ دیواروں پر تحریریں درج نہ کرنے کے احکامات کو بھی غیر قانونی قرار دیا جائے۔ عدالت نے حکومت پنجاب کی جانب سے تقریبات پر پابندی کو جائز قرار دیا۔ جناب جسٹس خلیل الرحمن نے اپنے عدالتی فیصلے میں لکھا کہ قادیانی اپنا عقیدہ رکھنے اور پریکٹس کرنے میں ہندوؤں، سکھوں، پارسیوں اور دیگر مذاہب کی اقلیتوں کی طرح آزاد ہیں لیکن مشکل تب پیدا ہوتی ہے جب وہ اپنے آپ کو مسلمان کے طور پر پیش کرتے ہیں اور شعائر اسلام یا کلمہ طیبہ کا استعمال کرتے ہیں جو اسلام کے بنیادی ستون ہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ اگر قادیانی آئینی مینڈیٹ کو نافذ کریں تو نقص امن کا خطرہ نہیں اور وہ اپنے آپ کو مسلمانوں سے علیحدہ کمیونٹی تصور کریں اور اپنے آپ کو مسلمانوں کی صف سے باہر رکھیں۔ ان کی ملک، آئین اور اپنی علیحدہ شناخت سے وفاداری ان کے لئے تحفظ اور پرسکون زندگی یقینی بنائے گی۔ انہیں اسلام کو ہائی جیک کرنے کی اجازت کیوں دی جائے؟ وہ کوئی بھی عقیدہ رکھ سکتے ہیں لیکن وہ مسلمانوں کے عقیدے میں ملاوٹ نہیں کر سکتے۔ مسلمانوں کی جانب سے اپنے عقیدے کو ملاوٹ سے پاک رکھنے کا عمل قادیانیوں کے لئے باعث پریشانی نہیں ہونا چاہئے یا اس سے انہیں کوئی شکایت نہیں ہونی چاہئے۔
- ۲۷...... مرزا طاہر احمد کی ہدایت پر، قادیانیوں نے سپریم کورٹ میں اس عدالتی حکم کے خلاف اپیل دائر کی۔ انہوں نے قادیانیت کی
ممانعت کے قانون کو بھی اس بنا پر چیلنج کیا کہ یہ آئین کے آرٹیکل ۲۰ کے منافی تھا جو ہر شہری کو آزادی سے اپنا مذہب رکھنے، مشتہر کرنے اور
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پریکٹس کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ جولائی ۱۹۹۳ء میں جناب جسٹس شفیع الرحمن کی سربراہی میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے پانچ ججوں پر مشتمل فل بینچ نے احمدیوں کی اپیل کو مسترد کر دیا جو آرڈیننس XX کی مختلف دفعات کو چیلنج کرنے کے لئے دائر کی تھی۔ فل بینچ میں جناب جسٹس شفیع الرحمن، جناب جسٹس عبدالقدیر چودھری، جناب جسٹس محمد افضل لون، جناب جسٹس سلیم اختر اور جناب جسٹس ولی محمد خان شامل تھے۔ بہت سے احمدیوں کی اپیلیں تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۸-بی کے تحت کلمہ طیبہ کے بیج کے استعمال اور اذان کہنے پر سزا سے متعلق تھیں۔ جناب جسٹس عبدالقدیر چودھری، جن کا فیصلہ بینچ کی اکثریت نے قبول کیا تھا، نے لکھا کہ ایسا صرف پاکستان میں نہیں بلکہ دنیا بھر میں ہوتا ہے کہ قوانین ایسے الفاظوں، ناموں اور القابات کا تحفظ کرتے ہیں جن کے خاص حوالے اور معنی ہوتے ہیں۔ احمدیوں کے اس مؤقف پر کہ ان میں سے بہت کو کلمہ طیبہ والا بیج لگانے پر سزا ہوئی ہے، جناب جسٹس چودھری نے بھارتی کمپنی لاء کی دفعہ ۲۰ کا تذکرہ کیا جو ایک ہی نام پر کوئی اور رجسٹریشن کی ممانعت کرتا ہے۔ فاضل جج نے کہا کہ بھارتی آئین میں بھی ایسے ہی بنیادی حقوق کا تذکرہ ہے جیسے ہمارے آئین میں ہیں لیکن بھارتی عدالتوں کا ایک بھی ایسا فیصلہ نہیں ہے جو رجسٹریشن کو بنیادی حقوق کے منافی قرار دیتا ہو۔ یہ تاثر دینے کے لئے دوسروں کے ٹریڈ مارک یا تفصیل کا استعمال کہ وہ دراصل استعمال کنندہ سے متعلق ہیں، ایک جرم کے مترادف ہے اور ایسا کرنے والے کو قید اور جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔ جناب جسٹس عبدالقدیر نے کہا کہ مقدمہ ہٰذا میں اپیل کنندگان جو کہ غیر مسلم ہیں کی منشاء ہے کہ وہ اسلام کو اپنا عقیدہ بیان کریں۔ ”اس بات کو سراہا جانا چاہئے کہ دنیا کے اس حصے میں عقیدہ ابھی بھی ماننے والے کے لئے سب سے قیمتی شے ہے اور وہ ایسی حکومت کو برداشت نہیں کرتا جو اسے اس قسم کے دھوکہ دہی اور جعل سازی سے محفوظ نہ رکھے۔“ فاضل جج نے کہا کہ قادیانی کمیونٹی کا اصرار ہے کہ وہ ممنوعہ القابات اور ”شعائر اسلام“ استعمال کریں گے اس سے عام آدمی کے ذہن میں کوئی شک نہیں رہتا کہ اپیل کنندگان (قادیانی) ایسا بالاارادہ کرنا چاہتے ہیں اور اس سے ان پاک شخصیات کی توہین ہوتی ہے اور یہ دوسروں کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ فاضل جج نے ایک امریکی جیورسٹ کا حوالہ دیا جس کا کہنا ہے کہ مذہب کا لبادہ کسی کو عوام سے فراڈ کی اجازت نہیں دیتا۔ ”اگر احمدی کمیونٹی کا دھوکہ دہی کا ارادہ نہیں ہے تو وہ اپنے القابات کیوں نہیں بنا لیتے؟ انہیں احساس کیوں نہیں ہے کہ دوسرے مذاہب کے خاص علامتوں، نشانوں اور رسوم و رواج پر انحصار کر کے وہ اپنے مذہب کے کھوکھلے پن کو ہویدا کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں کوئی بھی قانون احمدیوں کو اپنے القابات ایجاد کرنے اور ان کے بلااستثناء استعمال سے منع نہیں کرتا ہے۔ اس نقطے کی طرف آتے ہوئے کہ متدعویہ آرڈیننس مذہبی آزادی سے متصادم ہے جناب جسٹس عبدالقدیر چودھری نے کہا کہ مذہب اختیار کرنے آزادی قانون، عوامی امن اور اخلاقیات کے تابع ہے۔ فاضل جج نے کہا کہ دیگر ممالک کی عدالتیں آزادی عمل کی پاسداری کرتی ہیں۔ آزادی عمل قانون کے تابع ہے اور اس سے ہٹ کر اس کا تصور نہیں کیا جا سکتا ہے۔ فاضل جج نے Joh Stuart Mill کے ”آزادی“ کے موضوع پر لکھے گئے مضمون کا حوالہ دیا اور کہا کہ آزادی کا مطلب کسی فرد کے پاس ایک ایسا لائسنس نہیں کہ جو جی میں آئے کرتا پھرے کیونکہ ایسی آزادی کا مطلب امن و امان کی عدم موجودگی ہوگا جو بالآخر آزادی کی تباہی پر منتج ہوگا۔ جناب جسٹس عبدالقدیر نے کہا کہ اپیل کنندگان (احمدیوں) نے وضاحت نہیں کی کہ متنازع القابات ان کے مذہب کا لازمی حصہ ہیں۔ دنیا بھر میں یہ طے شدہ اصول ہے کہ کوئی بھی ریاست کسی کے حقوق کے نام پر اسے اس بات کی اجازت نہیں دے سکتی کہ وہ دوسروں کے حقوق کی خلاف ورزی کرے یا ان سے ان کے حقوق چھین لے۔ ”کسی کو بھی کسی دوسرے طبقے کے مذہب کی ہتک، نقصان یا توہین کی اجازت نہیں دی جاسکتی یا ان کے مذہبی جذبات بھڑکانے اور امن وامان کی صورتحال خراب کرنے کی اجازت نہیں دی سکتی ہے۔“ فاضل جج نے مرزا غلام احمد اور اس کے نام نہاد خلفاء کی تحریروں کا کثرت
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سے حوالہ دیتے ہوئے ثابت کیا کہ وہ (احمدی) مسلمانوں کے مقابلے میں مذہبی اور سماجی طور پر علیحدہ ہیں۔ احمدیوں کو کوئی حق نہیں کہ ان القابات وغیرہ یا شعائر اسلام کو استعمال کریں جو بالخصوص مسلمانوں سے متعلق ہیں۔ ان کا استعمال ان پر قانونی طور پر منع کیا گیا ہے۔ فاضل جج نے قرار دیا کہ پیغمبر خدا پر اعتقاد اور ان پر درود و سلام ہر مسلمان کا افضل عقیدہ ہے اس لئے اگر پیغمبر ﷺ کے خلاف کچھ کہا جاتا ہے تو اس سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔ فاضل جج نے کہا کہ ”احمدیوں کو عوامی مقامات اجتماع یا جلسے کی اجازت دینے کا مطلب خانہ جنگی کی اجازت دینا ہے،“ معزز عدالت عظمیٰ نے اہم نقاط پر ایک متفقہ فیصلہ دیا جب کہ جناب جسٹس عبدالقدیر چودھری نے کچھ نقاط پر اپنا اختلافی نوٹ لکھا۔ ان کے فیصلے کے چند اقتباسات فیصلہ ہذا کا حصہ بنا رہے ہیں اور انہیں یہاں دوبارہ سے درج کیا جارہا ہے:-
”ایک مرتبہ پھر اگر اپیل کنندگان یا ان کی کمیونٹی کے دھوکہ دہی کے عزائم نہیں ہیں تو وہ اپنے القابات وغیرہ کیوں ایجاد نہیں کر لیتے ہیں؟ کیا انہیں اس کا احساس نہیں کہ دوسروں کے مذاہب کی علامات ،نشانات اور رسوم ورواج کو استعمال کرنے سے وہ ان کے اپنے مذہب کے کھوکھلے پن کو ہویدا کریں گے۔ اس صورت میں اس کا مطلب ہو سکتا ہے کہ ان کا نیا مذہب پیش رفت نہیں کر سکتا ہے یا اپنے بل بوتے، اہمیت اور میرٹ پر وسعت نہیں پا سکتا ہے بلکہ اسے فریب پر انحصار کرنا پڑے گا۔ آخر کو دنیا میں بہت سے دیگر مذاہب ہیں اور ان میں سے کسی نے بھی مسلمانوں یا کسی اور کے القابات پر قبضہ نہیں جمایا ہے بلکہ وہ فخر کے ساتھ اپنے عقائد رکھتے ہیں اور پیش کرتے ہیں اور اپنے ہیروؤں کو اپنے انداز میں خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ تاہم یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں ایسا کوئی قانون نہیں جو احمدیوں کو اپنے القابات وغیرہ ایجاد اور ان کا بلا استثناء استعمال کرنے سے منع کرتا ہو اور ان کے مذہب کے خلاف کسی قسم کی کوئی قید نہیں ہے۔
مسلمان سمجھتے ہیں کہ برصغیر میں انگریز راج کے دوران مسلم معاشرے میں احمدی کمیونٹی کا جنم نظریاتی محاذوں پر ایک سنجیدہ اور منظم حملہ تھا۔ وہ اسے اپنی سالمیت اور یگانگت کے خلاف ایک مستقل خطرہ سمجھتے ہیں کیونکہ مسلم معاشرے کی سماجی و سیاسی تنظیم کی اساس مذہب ہے۔ اس تناظر میں ان کے القابات وغیرہ کا اس انداز میں استعمال جس سے مسلمانوں میں احساس پیدا ہوتا ہو کہ ان کی مذہبی شخصیات کی توہین اور ہتک مقصود ہے تو یہ امہ کی یگانگت اور قومی سکون کے لئے خطرہ ہے اور ماضی کی طرح اس سے امن وامان کا مسئلہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔
احمدیوں کی جانب سے مسلمانوں کی علامات کے استعمال پر اصرار ان کے مشکوک موقف اور اسلام کو بطور پیغام افشا کرتا ہے اور اس مقصد کے لئے آرڈیننس کا انکار قابل فہم ہے۔ تاہم آئین اور آرڈیننس اپنی نیت اور مقصد کی تکمیل کرتے ہیں۔ اس صورت میں ایک قادیانی کی جانب سے یہ دعویٰ، اعلان اور اظہار یا اقرار اسی بات کا مظہر ہے کہ وہ اپنے عقیدے کو جھٹلائے بغیر مسلمان ہے جو نہ صرف آرڈیننس بلکہ آئین کی بھی خلاف ورزی ہے۔ ایسے واقعات مستقبل میں بھی ظہور پذیر ہو سکتے ہیں جس سے ماضی کی طرح امن و امان کو سخت خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب متدعویہ آرڈیننس اصل القابات، تشبیہات، خطابات اور دیگر ضروریات کا تحفظ یا اطلاق یقینی بناتا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کو ان کے سوا کوئی اور استعمال نہیں کر سکتا ہے جن کے لئے تحریر کیے گئے ہیں۔ احمدی ان کی بے توقیری کرتے رہے ہیں اور انہیں لوگوں کو دھوکہ دینے کے لئے اپنے رہنماؤں اور عقائد وغیرہ کے لئے استعمال کرتے رہے ہیں کہ وہ بھی اسی قسم، رُتبہ اور اہلیت کے حامل لوگ ہیں۔ یہ طریقہ کار نہ صرف معصوم، سادہ اور لاعلم لوگوں کو دھوکے کے مترادف ہے بلکہ اس سارے عرصے کے دوران امن وامان کو بھی خدشات لاحق رہے ہیں۔ اس لئے یہ قانون سازی لازمی تھی جو کسی بھی طرح سے احمدیوں کی مذہبی آزادی کی مخالفت نہیں کرتی ہے اور صرف ان القابات وغیرہ کے استعمال کی ممانعت کرتی ہے جن پر ان کا کوئی دعویٰ نہیں ہے۔ یہ آرڈیننس انہیں اپنے القابات ایجاد کرنے
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سے منع نہیں کرتا ہے۔“
اس مرحلے پر چھوٹی عدالت سے تاریخی اہمیت کے دو فیصلے تاریخی اہمیت کے حامل ہیں جن کا تذکرہ موجودہ عدالتی فیصلہ میں ضروری ہے۔ ان میں ایک فیصلہ تقسیم سے قبل کالونی راج کے دوران کیا گیا تھا جب کہ دوسرا فیصلہ تقسیم کے بعد پہلی دہائی کے دوران ہوا تھا جو دوسری آئینی ترمیم، دیگر قانون سازی اور عدالتی فیصلوں سے دو دہائیاں قبل کیا گیا تھا۔ یہ دونوں فیصلے برصغیر کی عدالتی تاریخ میں مینارہ نور ہیں جن میں فاضل جج صاحبان نے اس موضوع پر متعلقہ قوانین کی فریقین کے پرسنل لاء کے قانون کی روشنی میں وضاحت کی تھی۔ یہ دونوں فیصلے ترمیم کے پاس ہونے سے بھی پہلے واضح کر رہے تھے کہ قادیانیوں کی قانونی حیثیت اور درجہ قرآن وسنت کی روشنی میں بہت واضح ہے۔
۲۴؍جولائی ۱۹۲۶ء کو احمد پور شرقیہ کے گاؤں مہند کے رہائشی مولوی الہی بخش نے اپنی بیٹی غلام عائشہ کی ایماء پر عبدالرزاق قادیانی کے خلاف احمد پور شرقیہ کی ایک نچلی عدالت میں ایک دعویٰ دائر کیا تھا۔ دعوے میں مدعیہ نے الزام لگایا تھا کہ عبدالرزاق، جس سے اس کی سن بلوغت سے قبل شادی ہوئی تھی، قادیانی عقیدہ اختیار کرنے کے بعد اب اس کا قانونی شوہر نہیں رہا ہے۔ وہ اسلام کے دائرے سے خارج ہو چکا ہے اور شریعت کے قانون کے تحت ایک مرتد کے ساتھ اس کی شادی منسوخ قرار دی جائے۔ مدعاعلیہ نے اپنے جواب میں کہا کہ قادیانی محض اسلام کا ایک فرقہ ہے اور ان کے عقیدے کے مطابق انہیں کافر اور مرتد قرار نہیں دیا جاسکتا ہے۔ اس لئے شادی کی منسوخی کی کوئی ٹھوس وجہ نہ ہے۔ یہ مقدمہ مختلف مراحل سے گزرا اور ڈسٹرکٹ جج بہاولنگر منشی محمد اکبر خان بی اے، ایل ایل بی کے سامنے سماعت کے لئے پیش ہوا۔ فاضل جج نے کئی سالوں کی بھرپور بحث کے بعد جس میں دونوں اطراف سے نامور علماء نے شرکت کی، ۷فروری ۱۹۳۵ء کو اپنا فیصلہ سنایا۔ اس فیصلے کے مطابق :
”فیصلہ: مدعیہ کے ایماء پر یہ ثابت کیا گیا ہے کہ مرزا صاحب (قادیان کے مرزا غلام احمد) جھوٹی نبوت کا دعویدار ہے اس لئے مدعاعلیہ جس نے مرزا صاحب کو پیغمبر تسلیم کیا ہے کو مرتد قرار دیا جائے۔ اس لئے احمد پور شرقیہ کے منصف کی جانب سے ۲؍نومبر ۱۹۲۶ء کو جو ابتدائی تنقیح وضع کی تھی وہ مدعیہ کے حق میں ثابت ہوتی ہے اور قرار دیا جاتا ہے کہ مدعاعلیہ قادیانیت اختیار کرنے کی وجہ سے مرتد ہو چکا ہے اور اس لئے فریقین کے مابین شادی مرتد ہونے کی تاریخ سے ختم سمجھی جاتی ہے۔ اگر مدعاعلیہ کے عقیدے کو بحث کے تناظر میں دیکھا جائے تو مدعیہ نے مدعاعلیہ کے الزام کے ضمن میں ثابت کر دیا ہے کہ محمد ﷺ کے بعد کوئی امتی بطور پیغمبر نہیں ہوگا۔ اس کے علاوہ عقیدے کے دیگر پہلو جو کہ مدعاعلیہ نے اپنے لئے بیان کئے ہیں اسلامی عقیدے کے عمومی اصولوں کے مطابق ہیں اور وہ ویسے ہی ان پر عمل کرے گا جس طرح مرزا صاحب نے ہدایت کی ہے اور چونکہ یہ مسلم امہ کے طریقہ کار سے مختلف ہے اس لئے وہ اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہہ سکتا ہے اور دونوں صورتوں میں وہ ایک مرتد ہے اور مرتد کی شادی اس کے مرتد ہونے کی وجہ سے ختم تصور ہوتی ہے۔ لہٰذا مدعیہ کے حق میں دعویٰ ڈگری کیا جاتا ہے جو کہ مدعاعلیہ کے مرتد ہونے کی وجہ سے اس کی بیوی نہیں رہی ہے اور وہ دعوے کے اخراجات کی بھی حقدار ہے۔“
- ۴۸...... اس مسئلے پر ایک اور عدالتی فیصلہ ایڈیشنل سیشن جج راولپنڈی کی عدالت سے ہوا تھا جو ذیل میں دیا جا رہا ہے :-
فیصلہ شیخ محمد اکبر صاحب ۔ ایڈیشنل سیشن جج راولپنڈی
فیصلہ: نقل فیصلہ از عدالت شیخ محمد اکبر صاحب پی سی ایس ایڈیشنل سیشن جج راولپنڈی، مورخہ ۳؍جون ۱۹۵۵ء در اپیل ہائے دیوانی نمبر ۳۳، ۳۴، ۱۹۵۵ء از مسماۃ امۃ الکریم بنام لیفٹیننٹ نذیر الدین ملک و از لیفٹیننٹ نذیر الدین بنام مسماۃ امۃ الکریم مقدمہ ہائی کورٹ نمبر آر. ایس. اے ۴۰۸، ۱۹۵۵ء
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مسماۃ امتہ الکریم دختر کرم الٰہی ( قوم لوہار از روئے بیان میاں عطاء اللہ وکیل اپیل کنندہ ) ۲۵ ستمبر ۱۹۴۹ء کو بہ تقرر مبلغ دو ہزار روپیہ بطور مہر ایک میٹریکولیٹ مسمی نذیر الدین ( قوم بڑھئی مطابق بیان میاں عطاء اللہ ) کے ساتھ بیاہی گئی تھی ۔ یہ نکاح مبینہ طور پر ایک حنفی مولوی سے پڑھوایا گیا تھا ۔ اپیل کنندہ کے دوسرے وکیل خواجہ محمد اقبال کے بیان کی رو سے مسمی نذیر الدین نے ایک بڑھئی اور میٹریکولیٹ ہوتے ہوئے بھی جب اپنی خوش بختی کے باعث افواج پاکستان میں کمیشن حاصل کر لیا تو اس نے سوچا کہ آئندہ جب افسران اعلیٰ کے ساتھ اس کے مراسم بڑھیں گے ، تو ایک لوہار کی بیٹی کا شوہر ہونے کے باعث اس کی تذلیل ہو گی اور افسران کی نگاہ میں اسے ”سوشل“ نہ سمجھا جائے گا ۔ چنانچہ اس نے مورخہ ۱۶؍جولائی ۱۹۵۱ء کو ایک باقاعدہ طلاق نامہ کے ذریعے سے اپنی بیوی کو طلاق دے ڈالی ۔ اس پر مسماۃ امتہ الکریم نے اپنے سابقہ شوہر لیفٹیننٹ نذیر الدین ملک کے خلاف مبلغ دو ہزار روپیہ مہر کی وصولیابی کے لیے مقدمہ دائر کر دیا ۔ اس کے علاوہ اس نے ایک اور دعویٰ مبلغ ۲
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مقدمہ کی سماعت اور کارروائی کے اختتام پر میاں محمد سلیم صاحب سینئر سول جج راولپنڈی نے اپنے فاضلانہ فیصلے مورخہ ۲۵ / مارچ ۱۹۵۴ء کے ذریعے سے مقدمہ طے کیا اور دیگر باتوں کے حسب ذیل نتائج اخذ کیے :
- ۱۔ فریقین کی شادی کسی قسم کے فریب یا دھوکہ دہی کے ذریعے سے طے نہیں پائی۔
- ۲۔ مدعیہ اپنے حق مہر سے کبھی دست بردار نہیں ہوئی۔
- ۳۔ مدعیہ کا سامان جہیز مالیتی مبلغ ۲۴۰۳ روپے مدعا علیہ کے قبضہ میں ہے۔
میں نے مدعیہ مسماۃ امۃ الکریم کی جانب سے میاں عطاء اللہ ایڈووکیٹ اور مدعا علیہ لیفٹیننٹ نذیر الدین ملک کی جانب سے جناب ظفر محمود ایڈووکیٹ کی بحث اور دلائل سنے ہیں۔ مگر ان میں سے کسی نے میرے روبرو محولہ بالا نتائج کی صحت کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ عدالت سماعت کے اخذ کردہ دیگر نتائج یہ ہیں :
- (الف) قادیانیوں کو اہل کتاب تصور نہیں کیا جا سکتا۔
- (ب) مدعا علیہ کے ساتھ شادی کے وقت مدعیہ مسماۃ امۃ الکریم قادیانی ہونے کے سبب غیر مسلم تھی۔
- (ج) فریقین کا نکاح مطلقاً ناجائز اور باطل تھا اور ازدواجی تعلقات کے بعد بھی اسے جائز نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔
- (د) مہر قانوناً قابل بازیابی ہے۔
اوپر دیئے گئے نتائج اور معلومات کی بنا پر میاں محمد سلیم صاحب نے مسماۃ امۃ الکریم کے حق میں اس کے سابقہ شوہر سے مبلغ ۲۴۰۳ روپے بابت مالیت سامان جہیز کے حصول کی، جو اس کے قبضہ میں تھا، ڈگری دے دی مگر اس کے دعویٰ حق مہر کو خارج کر دیا۔ اس فیصلہ ڈگری کے خلاف یہ دو اپیلیں داخل کی گئی ہیں۔ مسماۃ امۃ الکریم نے تو اپنے مہر مبلغ ۲۰۰۰ روپے کی وصولی کے لیے اپیل کی ہے اور لیفٹیننٹ نذیر الدین ملک کی اپیل سامان جہیز کی مالیت سے متعلق ڈگری سے چھٹکارا پانے کے لیے ہے۔ مختلف شہادتوں اور خصوصاً مسماۃ امۃ الکریم کے خطوط سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ نکاح کے وقت قادیانی تھی لہٰذا میں عدالت سماعت کے اخذ کردہ اس نتیجہ کی توثیق کرتا ہوں۔
اپنی بحث کے آغاز میں اپیل کنندہ کے فاضل وکیل میاں عطاء اللہ نے بشمولہ اور باتوں کے درج ذیل امور پیش کیے :
- ۱۔ مسلمانوں کا اس امر پر کوئی اجماع نہیں ہے کہ پیغمبر اسلام محمد ﷺ اللہ کے آخری نبی تھے اور آپ کے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہوگا۔
- ۲۔ مسلمانوں کا اس بات پر بھی اجماع نہیں ہے کہ جو شخص حضرت محمد ﷺ کی ختم نبوت پر ایمان نہ رکھے وہ مسلمان نہیں۔
- ۳ اور نہ ہی ان کا اس بات پر اجماع ہے کہ قادیانی احمدی غیر مسلم ہیں۔
عدالت سماعت کے فاضل جج مسئلہ زیر بحث نمبر ۱ (الف) پر بحث سننے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے تھے کہ یہ مسلمانوں کا بنیادی عقیدہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ سلسلہ انبیاء کے آخری نبی تھے اور آپ ﷺ کے بعد کوئی اور نبی نہیں ہوگا۔ ان کے اس عقیدے کی خاص بنیاد ”خاتم النبیین“ کے وہ الفاظ ہیں جنہیں قرآن حکیم نے ہمارے نبی اکرم ﷺ کی ذات اقدس کے لیے استعمال کیا ہے۔ لیکن قادیانی حضرات ان الفاظ کو ”خاتم النبیین“ پڑھ کر ان کے معانی ”نبیوں کے مہر کنندہ“ کے کرتے ہیں۔ ان کے ہاں ان الفاظ کی یہ تعبیر اپنے اندر نبیوں کے ایک ایسے سلسلے کے جاری رہنے کی گنجائش رکھتی ہے جو آپ ﷺ کے بعد آپ ﷺ کی مہر لگ کر آتے رہیں گے۔ ان کے عقیدے کے مطابق مرزا غلام احمد صاحب بھی اسی نوع کے انبیاء سے تھے اور قرآن حکیم سے علیحدہ کوئی کتاب لے کر مبعوث نہیں ہوئے بلکہ ان کے ذمہ یہ فرض تھا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والے مزید الہامات کی روشنی میں اس کتاب کی تشریح و توضیح کریں۔ قادیانی اس طرح کے نبی کو ”ظلی“ یا
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
’’غیر تشریعی‘‘ نبی کہتے ہیں جو کہ ’’تشریعی نبی‘‘ یعنی نئی شریعت کے حامل نبی سے مختلف ہوتا ہے۔ اس موقع پر عدالت سماعت نے یہ ضروری خیال کیا کہ خود مرزا صاحب کے مصنفہ ایک کتابچہ سے حوالے دے کر یہ دکھایا جائے کہ مرزا صاحب کا دعویٰ اصل میں کیا تھا؟
’’پہلے میرا عقیدہ بھی یہی تھا کہ مجھے عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام سے کوئی نسبت نہیں ہو سکتی، آپ رسول تھے اور آپ مقربین خداوندی میں سے ہیں اور جب کبھی میری فضیلت جتانے کی خاطر مجھ پر کوئی نشانی ظاہر کی گئی تو میں نے اسے محض جزوی فضیلت ہی پر محمول کیا مگر جس وقت میرے اوپر وحی الٰہی بارش کی طرح آنا شروع ہوئی تو میں اپنے سابقہ عقیدے پر قائم نہ رہ سکا آخر کار مجھے صاف طور پر اعزاز نبوت بخش دیا گیا۔‘‘
(حقیقت الوحی ص ۱۴۹، ۱۵۰، خزائن ج ۲۲ ص ۱۵۳، ۱۵۴ مرتب)
اس باب میں مرزا صاحب کے متبعین کے نظریہ کو واضح کرنے کے لئے دوسرے قادیانی خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود کے مندرجہ ذیل اقتباس کو پیش کرنا ضروری سمجھا گیا:
’’ہمارا یہ فرض ہے ہم غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور نہ ان کی اقتداء میں نمازیں پڑھیں کیونکہ ہمارے نزدیک وہ اللہ کے ایک نبی کے منکر ہیں۔‘‘
(انوار خلافت ص ۹۰، انوار العلوم ج ۳ ص ۱۴۸ مرتب)
عدالت سماعت مزید اس نتیجہ پر پہنچی کہ نبوت کے بارے میں قادیانی نظریہ دوسرے مسلمانوں کے عقیدہ کے سراسر خلاف ہے۔ مدعیہ کے فاضل وکیل نے عدالت سماعت کے سامنے مقدمہ نمبر اے آئی آر ۱۹۲۳ء مدراس کی نظیر بھی پیش کی ہے جس میں قادیانیوں کو مسلمانوں ہی کا ایک فرقہ قرار دیا گیا ہے۔ لیکن اس نظریہ کی بنا یہ تھی کہ مرزا غلام احمد صاحب کے اعلان نبوت کو اتنا قلیل عرصہ گزرا تھا کہ یہ کہنا ممکن نہیں تھا کہ
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کوئی اختلاف نہیں کیا لیکن ان کے نزدیک قادیانیوں کو اہل کتاب بھی شمار نہیں کیا جا سکتا۔ فریقین کے وکیل اس بات پر متفق تھے کہ ”اہل کتاب“ کی کوئی معین تعریف (definition) کہیں نہیں ملتی۔ اس اصطلاح کے لفظی معانی ”کسی الہامی کتاب کو ماننے والا“ کے ہیں۔ مدعیہ کی جانب سے اس بات پر پورا زور بحث صرف کیا گیا ہے کہ قادیانیوں کا چونکہ قرآن مجید پر ایمان ہے لہٰذا وہ اہل کتاب ہیں مگر ایسا کہنے سے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے نظریہ کی بنیاد ہی منہدم ہو جاتی ہے کیونکہ اگر ایک مرتبہ یہ تسلیم کر لیا جائے کہ قادیانی قرآن مجید پر ایمان رکھتے ہیں تو پھر انہیں غیر مسلم قرار دینے کی کوئی معقول وجہ جواز باقی نہیں رہتی۔ مجھے یہ دلیل پسند نہ آئی۔ عدالت سماعت نے مزید کہا کہ درحقیقت واقعہ یہ ہے کہ قرآن پر قادیانیوں کا ایمان مسلمانوں کی متفقہ تاویل وتشریح کے مطابق نہیں بلکہ اس کے برعکس وہ اپنی مطلب برآری کے لیے قرآنی آیات کے مطالب کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں۔ اس وجہ سے انہیں دائرہ اسلام سے خارج سمجھا جاتا ہے۔ نیز قادیانی قرآن مجید پر اس طرح ایمان نہیں رکھتے جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے پیش کیا بلکہ مرزا غلام احمد کے پیش کردہ مطالب قرآن پر ایمان رکھتے ہیں۔ یہ بات بلاشبہ درست ہے کہ عیسائیوں نے بھی اپنی الہامی کتاب یعنی انجیل میں تحریفیں کی ہیں لیکن اس کے باوجود ان کو اہل کتاب ہی سمجھا گیا ہے لیکن اس کا سبب یہ ہے کہ مسلمان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا نبی
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کے اختتام کے قریب پھر ایک ”الہام“ ہوا جس میں بتایا گیا کہ مسیح ناصری یعنی عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام نے نہ تو صلیب پر وفات پائی اور نہ ہی انہیں آسمان پر اٹھا لیا گیا تھا بلکہ ان ان کے حواریوں نے زخمی حالت میں صلیب پر سے اتار لیا تھا اور پھر ان کے زخم اچھے ہو گئے۔ اس کے بعد آپ چھپ کر کشمیر چلے گئے جہاں آپ طبعی موت مرے اور یہ عقیدہ کہ وہ قیامت کے قریب اپنی اصل جسمانی حالت میں دوبارہ نزول فرمائیں گے، غلط ہے۔ آپ کے ظہور ثانی کے وعدہ کا مطلب محض یہ ہے کہ ایک شخص عیسیٰ ابن مریم کی صفات کا حامل ہوگا۔ پیغمبر اسلام ہی کی امت میں سے ظاہر ہوگا، سو اب اس وعدہ کی تکمیل خود مرزا صاحب کی بعثت کی صورت میں ہو چکی ہے جو مثل
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دین کو تمہارے لیے مکمل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے اور تمہارے لیے اسلام کو تمہارا دین چن لیا ہے۔
(المائدہ: ۳:۵)
اس کے علاوہ متعدد احادیث اور قرون اولیٰ کی جن میں مستند تفاسیر سے استدلال کیا گیا ہے، وہ سب اس مطلب کی ہیں کہ ہمارے نبی اکرم ﷺ کے بعد کوئی نیا نبی آنے والا نہیں۔
لیفٹیننٹ نذیر الدین کے فاضل وکیل شیخ ظفر محمود نے اپنی بحث میں رسالہ طلوع اسلام جولائی ۱۹۵۲ء پمفلٹ ”نکاح مرزائیاں“ رسالہ ”ترجمان القرآن“ نومبر ۱۹۵۳ء اور ”قادیانی مسئلہ“ از مولانا ابوالاعلیٰ مودودی سے استدلال کیا ہے۔
میاں عطاء اللہ نے رسالہ ”طلوع اسلام“ جولائی ۱۹۵۲ء ”ختم نبوت کی حقیقت“ از مرزا بشیر احمد ایم ۔ اے (برخوردار مرزا غلام احمد صاحب) ”الحق“ عرف مباحثہ لدھیانہ ”از بانی فرقہ احمدیہ“، ”حقیقت الوحی“ از بانی سلسلہ احمدیہ، فسادات پنجاب ۱۹۵۳ء پر تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ، مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کے قادیانی مسئلہ کا قادیانیوں کی طرف سے جواب ”تحقیقاتی عدالت میں مرزا بشیر الدین محمود کا بیان“، ”مقدمہ بہاولپور“ از جلال الدین شمس احمد ”تصدیق احمدیت“ از بشارت احمد وکیل حیدر آباد دکن ”حقیقت الوحی“ چوتھا ایڈیشن ۱۹۵۰ء تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ پر ایک نظر ، از جلال الدین شمس صدر انجمن احمدیہ پاکستان کے مفصل حوالے پیش کیے ہیں انہوں نے میری توجہ خاص طور پر قادیانیوں کے اس نقطۂ نظر کی جانب مبذول کرائی ہے جس کا اظہار احمدیہ کمیٹی کے فاضل وکیل جناب عبدالرحمٰن خادم نے تحقیقاتی عدالت کے روبرو کیا تھا۔ وہاں خادم صاحب نے قرآن مجید کی حسب ذیل آیات سے استدلال کیا تھا۔
جو اللہ اور رسول کی اطاعت کریں گے وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے، جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے یعنی انبیا (جو تعلیم دیتے ہیں) اور صدیقین (جو صداقت کے شیدائی ہیں) اور شہدا (جو گواہی دیتے ہیں) اور صالحین (جو نیک کام کرتے ہیں) کیسے اچھے ہیں یہ رفیق جو کسی کو میسر آئیں۔
(النساء: ۶۹:۴)
اور جو لوگ اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں ایسے ہی لوگ اپنے رب کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں ان کے لیے ان کا اجر اور ان کا نور ہوگا اور جو لوگ کافر ہوئے اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا یہی لوگ دوزخی ہیں۔
(الحدید: ۱۹:۵۷)
اے بنی آدم! یاد رکھو اگر تمہارے پاس خود تم ہی میں سے ایسے رسول آئیں جو تمہیں آیات سنائیں! تو جو کوئی نافرمانی سے بچے گا اور اپنی اصلاح کر لے گا اس کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے۔
(الاعراف: ۳۵:۷)
اے نبیو! تمام پاکیزہ اور اچھی چیزوں سے مستفید ہو۔ نیک کام کرو کیونکہ جو کچھ تم کرتے ہو میں اس سے پوری طرح باخبر ہوں۔
(المؤمنون: ۵۱:۲۳)
بحث اور دلائل کے عمل سے مندرجہ بالا آیات سے یہ ثابت کرنے کی سعی کی گئی ہے کہ مستقبل میں یعنی آنحضرت ﷺ کے بعد بھی ایسی ہستیاں پیدا ہوتی رہیں گی جن پر ”نبی“ اور ”رسول“ کے الفاظ کا اطلاق ہو سکے گا اور ان دلائل کو مزید مضبوط بنانے کی کچھ احادیث، کچھ تفاسیر اور کچھ قابل احترام روحانی مرتبہ کے بزرگوں کے اقوال سے بھی استدلال کیا گیا ہے۔ اگرچہ اس بات کو تو نہیں جھٹلایا گیا کہ مرزا غلام احمد صاحب نے اپنے لیے نبی کا لفظ استعمال کیا تھا تاہم یہ بحث کی گئی ہے کہ انہوں نے اس لفظ کو ایک مخصوص مفہوم میں استعمال کیا تھا نہ کہ اس کے اصطلاحی مفہوم میں اور وہ کوئی ایسے شخص نہیں تھے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی تازہ پیغام لے کر آئے ہوں جو پہلے سے نازل شدہ کسی حکم کی ترمیم و تنسیخ کرتا ہو نیز ان کا دعویٰ ”ظلی“ اور ”بروزی“ نبوت کا تھا نہ کہ تشریعی نبوت کا۔ فریق مخالف نے اس بات پر زور دیا کہ ”بروزی“ اور ”ظلی“ جن کا ترجمہ ”جسمانی ظہور“ کیا
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہونے کا دعویٰ کرے جس کو ”وحی نبوت“ سے تعبیر کیا جاسکے بہرحال ایک نئی امت کی تشکیل کرتا ہے اور آپ سے آپ دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ چنانچہ مرزا غلام احمد صاحب، ان کے فرقہ کے موجودہ سربراہ اور اس فرقہ کے نمائندہ مصنّفین کی متعدد تحریروں کی مدد سے یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ مرزا صاحب نے ایسے الہامات یا وحی پانے کا دعویٰ کیا تھا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کے لیے خاص ہے۔ لہٰذا اب ساری بحث سمٹ کر اس سوال پر آ جاتی ہے کہ آیا مرزا صاحب نے کبھی ایسی وحی کے ملنے کا دعویٰ کیا جسے وحی نبوت سے موسوم کیا جا سکے؟ ماضی میں جب بھی کوئی نبی آیا اس نے لوگوں پر جن کے درمیان اس کی بعثت ہوئی ایک ذمہ داری عائد کی (جس طرح ہمارے نبی اکرم ﷺ نے ساری انسانیت پر آپ ﷺ کے دعوے کو پرکھنے اور اس پر ایمان لانے کی ذمہ داری ڈالی) اور اپنی نبوت کا انکار کرنے پر انہیں آخرت کے مواخذہ کے مستحق ٹھہرایا۔ لہٰذا وہ لوگ اپنے آپ کو مجبور پاتے ہیں کہ یا تو وہ اس کے دعوائے نبوت کو تسلیم کریں یا پھر کھلے بندوں اسے رد کر دیں۔ ایسے کسی دعوے کو قبول کرنے والوں پر مشتمل ایک نئی مذہبی برادری معرضِ وجود میں آجاتی تھی جسے پچھلے عقیدہ کے حامل لوگ اپنے سے خارج سمجھتے تھے اور نئی جماعت ان لوگوں کو اپنی برادری سے باہر تصور کرنے لگتی تھی جو اس کے نبی پر ایمان نہیں لاتے تھے۔ مرزا صاحب نے
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
باتیں اسلام اور رسول مقبول ﷺ کی کھلی توہین ہیں۔
- ۴۔ ’’دافع البلاء‘‘ کے صفحہ ۱۱ (خزائن ج۱۸ ص ۲۳۱ مرتب) پر لکھا کہ سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔
- ۵۔ ’’حقیقت الوحی‘‘ کے صفحہ ۱۴۹، ۱۵۰ (خزائن ج۲۲ ص ۱۵۳ مرتب) پر لکھا ہے کہ پہلے میرا عقیدہ یہ تھا کہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا
ہمسر نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ رسول تھے مگر بعدازاں جب مجھ پر وحی کی بارش ہوئی مجھے اپنے سابقہ عقیدے کو ترک کرنا پڑا۔ اب اللہ مجھے رسول کہہ کر پکار
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۸۔ مرزاغلام احمد کے مذکورہ بالا اعلانات سے نبوت کو ان کے جانشین اور احمدیہ فرقہ کے موجودہ سربراہ مرزا بشیر الدین محمود کی
طرف سے مسلسل دہرایا جاتا رہا ہے۔ اپنی کتاب ’’حقیقت النبوۃ کے صفحہ ۲۲۸ (انوار العلوم ج ۲ ص ۵۴۲ مرتب) پر مرزا محمود نے لکھا ہے کہ یہ امر روز روشن کی طرح ایک مسلمہ حقیقت کا روپ دھار چکا ہے کہ پیغمبر اسلام کے بعد نبوت کا دروازہ بند نہیں ہوا۔ ’’انوار خلافت‘‘ (ص۶۲، انوار العلوم ج ۳ ص ۱۲۲مرتب) میں انہوں نے کہا ہے کہ مسلمانوں نے غلط طور پر یہ سمجھ رکھا ہے کہ خدا کے خزانے خالی ہو چکے ہیں۔ انہیں اللہ کی قدرت کا اندازہ نہیں ورنہ ایک تو کیا میں یقین سے کہتا ہوں کہ ہزاروں انبیا اور آئیں گے۔ اپنی اسی کتاب کے صفحہ ۶۵ (انوار العلوم ج۳ ص۱۲۷مرتب) پر احمدیوں کے موجودہ سربراہ نے لکھا ہے کہ اگر اس کی گردن کے دونوں جانب تلواریں رکھ کر اس سے یہ بیان کرنے کو کہا جائے کہ پیغمبر اسلام ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا تو وہ یہی کہے گا (کہ ایسے بیان کا مطالبہ کرنے والا) شخص جھوٹا ہے کیونکہ سچے نبی کریم ﷺ کے بعد انبیاء کی بعثت ہوسکتی ہے اور بالیقین نبی مبعوث ہوئے ہیں۔ اس طرح مرزا غلام احمد صاحب نے نت نئے نبیوں کے ظہور کا دروازہ کھولا اور قادیانی جماعت نے مرزا غلام احمد صاحب کو سچا نبی مانا۔ اس مسئلہ پر حسب ذیل مثالیں پیش کی ہیں :
- الف ۔ ۵؍ مارچ ۱۹۰۸ء کے ’’بدر‘‘ (ملفوظات ج۱۰ص۱۷۲ مرتب) میں مرزا غلام احمد صاحب نے لکھا کہ انہیں اللہ کے حکم سے نبی
بنایا گیا ہے۔
- ب ۔ مرزا بشیر الدین نے ’’حقیقت النبوۃ‘‘ کے صفحہ ۱۷۴ (انوار العلوم ج۲ص۴۹۳ مرتب) پر لکھا ہے کہ مرزا غلام احمد صاحب ’’نبی‘‘
کی اصطلاح کی معروف تعبیر اور شریعت کے مطابق نبی تھے ، وہ مجازی نہیں بلکہ حقیقی نبی تھے۔
اس نوع کی نبوت کے دعوے کا یہ لازمی تقاضا ہے کہ جو کوئی مدعی کے اعلان کردہ مرتبہ کو تسلیم کرنے سے انکار کرے وہ کافر قرار پائے۔ بیان بھی
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۱۰۳، خزائن ج ۲۱ ص ۱۳۳ مرتب)
یہ ہے وہ مرتبہ ومنصب جس کے مرزا صاحب دعوے دار ہیں اور اس مرتبہ کا انکار کرنے والوں کو کافر قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کے اس عقیدہ کو اپنی نبوت کی تائید کا ذریعہ بنانے کی سوچی کہ حضرت عیسیٰ کی صلیب پر وفات نہیں ہوئی بلکہ وہ چوتھے آسمان پر زندہ ہیں جہاں سے یوم حشر سے قبل آپ کا زمین پر نزول ثانی ہوگا اور یہ نزول قرب قیامت کی علامات میں سے ہے۔ چنانچہ انہوں نے مسیح علیہ السلام کا مرتبہ اپنے لیے مختص کیا اور مسیح موعود ہونے کا لقب اختیار کیا۔ یہ ان کے سلسلہ الہامات کے دوسرے مرحلہ کا ذکر ہے۔ مسلمانوں کا ایک اور عقیدہ یہ بھی ہے کہ قیامت سے قبل حضرت امام مہدی تشریف لائیں گے۔ چنانچہ مرزا صاحب نے اپنے لیے مہدی موعود کے منصب کا بھی دعویٰ کیا۔ وہ یہ حقیقت جانتے تھے کہ گزشتہ چودہ صدیوں میں مسلمہ کذاب اور اس قماش کے جس کسی فرد نے بھی نبوت کا دعویٰ کیا ہے اسے مسلمانوں نے برداشت نہیں کیا اس لیے انہوں نے ’’مہربان حکومت انگلیشیہ‘‘ کی مخالفت کا سہارا تلاش کیا۔ تحقیقاتی عدالت کے فاضل ججوں نے اس نکتہ پر حسب ذیل تبصرہ کیا ہے :
’’اس قسم کے تفرقات انگریزوں کے لیے مفید مطلب تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کے محکومین ایسے جھگڑوں میں اس حد تک الجھے رہیں جہاں تک ملکی امن و امان کو کسی خطرے کا اندیشہ نہ ہو۔ اگر لوگ ایک دوسرے کو جنت و جہنم میں بھیجنے کے بارے میں باہم اس طرح دست و گریبان رہیں کہ نہ تو ان میں کوئی سر پھٹول ہو اور نہ ہی وہ دنیاوی مفادات کا کوئی مطالبہ کریں تو انگریز اس قسم کے نزاعات کا پورے سکون و استقلال بلکہ تسکین خاطر کے ساتھ تماشا دیکھتے رہتے تھے۔ مگر جونہی انہیں کوئی فریق آمادہ پیکار دکھائی دیتا تو وہ سخت گیر اور غیر مصالحت پسندانہ پالیسی اختیار کر لیتے۔ مرزا صاحب برطانوی راج کی اس برکت کی پوری قدر جانتے تھے جو ایسے بحث مباحثوں کی نہ صرف اجازت دیتا تھا بلکہ ان کی حوصلہ افزائی بھی کرتا تھا اور تحریک احمدیہ کے بانی اور
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ان ہی وجوہات کے تحت پاکستان کے بارے میں قادیانیوں کے رویہ کا لب لباب تحقیقاتی عدالت کے معزز ججوں نے اپنی رپورٹ کے صفحہ ۱۹۶ پر اس طرح بیان کیا ہے :
’’۱۹۱۸ء کی پہلی جنگ عظیم کے دوران ترکی کی شکست اور بغداد پر برطانوی قبضہ ہو جانے پر قادیان میں جشن فتح منایا گیا۔ اس نے مسلمانوں میں سخت ناراضگی اور برہمی پیدا کر دی اور احمدیت کو انگریزوں کی لونڈی سمجھا جانے لگا۔ جب افق پر ملک کی تقسیم کے ذریعے مسلمانوں کے لیے جداگانہ وطن کے واقعات کے تصور سے تشویش ہونے لگی۔ ان کی ۱۹۲۵ء سے ۱۹۲۷ء کے اوائل تک بعض تحریروں میں انگریزوں کے جانشین بننے کی توقعات کی جھلک پائی جاتی ہے مگر جب پاکستان کا دھندلا سا تصور ایک متوقع حقیقت کا روپ دھارنے لگا تو ایک نئی مملکت کے نظریہ سے خود کو مستقلاً ہم آہنگ کرنے کے لیے انہیں قدرے مشکلات محسوس ہوئیں اس وقت وہ سخت گومگو کی کیفیت سے دو چار تھے کیونکہ اپنے قیام کی خاطر نہ تو ہندوستان ہی کا انتخاب کر سکتے تھے جو ایک ہندو لادینی ریاست بننے کو تھا اور نہ ہی پاکستان کا کہ اس میں فرقہ بندی کی
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہے اور مسجد حرام کے قریب جب تک وہ تم سے نہ لڑیں، تم بھی نہ لڑو، مگر جب وہ وہاں لڑنے سے نہ چوکیں تو تم بھی بے تکلف انہیں مار دو کہ ایسے کافروں کی یہی سزا ہے پھر اگر وہ باز آجائیں تو جان لو کہ اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔
وَقَاتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّيَكُوْنَ الدِّيْنُ لِلّٰهِ ۗ فَإِنِ انْتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ اِلَّا عَلَى الظّٰلِمِيْنَO البقرہ 2:193
تم ان سے لڑتے رہو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ کے لیے ہو جائے پھر اگر وہ باز آجائیں تو سمجھ لو کہ ظالموں کے سوا اور کسی پر دست درازی روا نہیں۔
اَلشَّهْرُ الْحَرَامُ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ وَالْحُرُمٰتُ قِصَاصٌ ۗ فَمَنِ اعْتَدٰی عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰی عَلَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاعْلَمُوْا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِيْنَO البقرہ 2:194
ماہ حرام کا بدلہ ماہ حرام ہی ہے اور تمام حرمتوں کا لحاظ برابری کے ساتھ ہوگا۔ لہٰذا جو تم پر دست درازی کرے تم بھی اس پر دست درازی کرو۔ البتہ اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ انہیں لوگوں کے ساتھ ہے، جو اس کی حدود توڑنے سے پرہیز کرتے ہیں۔
لَا يَنْهٰكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِيْنَ لَمْ يُقَاتِلُوْكُمْ فِى الدِّيْنِ وَلَمْ يُخْرِجُوْكُمْ مِّنْ دِيَارِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْهُمْ وَتُقْسِطُوْا اِلَيْهِمْ ۗ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَO الممتحنہ 8:60
اللہ تعالیٰ تم کو ان لوگوں کے ساتھ احسان اور انصاف کا برتاؤ کرنے سے منع نہیں کرتا جو تم سے دین کے بارے میں نہیں لڑے اور تم کو تمہارے گھروں سے نہیں نکالا۔ اللہ تعالیٰ انصاف کا برتاؤ کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے۔
فَلْيُقَاتِلْ فِى سَبِيْلِ اللّٰهِ الَّذِيْنَ يَشْرُوْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا بِالْآخِرَةِ ۚ وَمَنْ يُقَاتِلْ فِى سَبِيْلِ اللّٰهِ فَيُقْتَلْ اَوْ يَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِيْهِ اَجْراً عَظِيْمًاO وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِى سَبِيْلِ اللّٰهِ وَالْمُسْتَضْعَفِيْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اَخْرِجْنَا مِنْ هٰذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ اَهْلُهَا ۚ وَاجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ وَلِيًّا ۙ وَاجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ نَصِيْرًاO النساء 4:74-75
پھر جو اللہ کی راہ میں لڑے گا اور مارا جائے گا، یا غالب رہے گا، اسے ضرور ہم اجر عظیم عطا کریں گے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں ان بے بس مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر نہ لڑو جو کمزور پا کر دبا لیے گئے ہیں اور فریاد کر رہے ہیں کہ خدایا ہم کو اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں اور اپنی طرف سے ہمارا کوئی حامی و مددگار پیدا کر دے۔
فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَيْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ وَخُذُوْهُمْ وَاحْصُرُوْهُمْ وَاقْعُدُوْا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ ۚ فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلَاةَ وَاٰتَوُا الزَّكَاةَ فَخَلُّوْا سَبِيْلَهُمْ ۗ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌO التوبہ 9:5
پس جب حرام (حرمت والے) مہینے گزر جائیں تو مشرکوں کو قتل کرو جہاں پاؤ اور انہیں پکڑو اور گھیرو اور ہر گھات میں ان کی خبر لینے کے لیے بیٹھو۔ پھر وہ اگر توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو انہیں چھوڑ دو۔ اللہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔
فَلَا تُطِعِ الْكَافِرِيْنَ وَجَاهِدْهُمْ بِهٖ جِهَادًا كَبِيْرًاO الفرقان 25:52
پس اے نبی ﷺ کافروں کی بات ہرگز نہ مانو اور اس قرآن کو لے کر ان کے ساتھ جہاد کبیر کرو۔
لیکن جہاد کے بارے میں احمدی نظریہ یہ ہے کہ جہاد بالسیف کی اجازت صرف اپنے دفاع کی خاطر دی گئی ہے اور اس مسئلہ پر اپنا نظریہ پیش کرتے ہوئے مرزا غلام احمد صاحب نے محض اس عقیدہ
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کیونکہ انہوں نے کسی قرآنی حکم یا ہدایت کی تنسیخ کا دعویٰ نہیں کیا لیکن فریق مخالف کی دلیل یہ ہے کہ مرزا صاحب نے اس مسئلے پر اظہار رائے کے لیے جو الفاظ استعمال کیے ہیں ان سے صاف طور پر یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ قرآنی حکم کی محض تشریح وتوضیح ہی نہیں کر رہے ہیں بلکہ ایک موجود قرآنی قانون کی صریحاً تنسیخ کر رہے ہیں۔ اس سلسلہ میں حسب ذیل عبارتوں پر انحصار کیا گیا ہے:
”میں ایک حکم لے کر آپ لوگوں کے پاس آیا ہوں وہ یہ ہے کہ اب سے تلوار کے جہاد کا خاتمہ ہے۔“
(گورنمنٹ انگریزی اور جہاد ص۲۰، خزائن ج۱۷ ص۱۵ مرتب)
”اب جہاد دین کے لیے حرام ہے۔“
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص۲۶، خزائن ج۱۷ ص۷۷ مرتب)
”دین کی تمام جنگوں کا اب اختتام ہے۔“
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص۲۶، خزائن ج۱۷ ص۷۷ مرتب)
”مسیح کے آنے کا یہ نشان ہے کہ وہ دین کی لڑائیاں ختم کر دے گا۔“
(ضمیمہ گورنمنٹ انگریزی اور جہاد ص۷، خزائن ج۱۷ ص۲۸ مرتب)
”میں نے جہاد کی مخالفت کے بارے میں نہایت مؤثر تقریریں کیں۔“
(کتاب البریہ ص۷، خزائن ج۱۳ ص۷ مرتب)
”میں نے جہاد کے خلاف صدہا کتابیں تحریر کیں اور عرب مصر اور بلاد شام اور افغانستان میں گورنمنٹ کی تائید میں شائع کی ہیں۔“
(کتاب البریہ ص۷، خزائن ج۱۳ ص۷، ۸ مرتب)
”مسیح موعود کے وقت قطعاً جہاد کے حکم منسوخ کر دیئے گئے۔“
(تجلیات الہٰیہ ص۸ حاشیہ، خزائن ج۲۰ ص۴۰۰ مرتب)
”اب زمین کے فساد بند کیے گئے۔“
(اشتہار مینارۃ المسیح ضمیمہ خطبہ الہامیہ ص ت، خزائن ج۱۶، ۱۷ مرتب)
”اب جو دین کے لیے تلوار اٹھاتا ہے اور غازی نام رکھ کر کافروں کو قتل کرتا ہے وہ خداوند تعالیٰ اور اس کے رسول کا نافرمان ہے۔“
(اشتہار مینارۃ المسیح مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۲۸۴ مرتب)
”میرے فرقے میں، جس کا خدا نے مجھے امام اور رہبر مقرر فرمایا ہے، تلوار کا جہاد بالکل نہیں۔ یہ فرقہ اس بات کو قطعاً حرام جانتا ہے کہ دین کے لیے لڑائیاں کی جائیں۔“
(ضمیمہ تریاق القلوب بنام اشتہار واجب الاظہار ص۱، خزائن ج۱۵ ص۵۱۷، ۵۱۸ مرتب)
”اسلام میں جہاد کا مسئلہ ہے میری نگاہ میں اس سے بدتر اسلام کو بدنام کرنے والا اور کوئی مسئلہ نہیں۔“
(اشتہار ’اپنی جماعت کے لئے ضروری نصیحت‘ مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۸۲ مرتب)
”مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے۔“
(اشتہار ”بحضور نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر“ مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۱۹ مرتب)
مرزا صاحب اور ان کے جانشینوں کی تحریروں میں پائے جانے والے ان فقروں اور ”اربعین“ جلد چہارم کے صفحہ۶ (خزائن ج۱۷ ص۴۳۶ مرتب) کی عبارت ”میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی“ کی بنیاد پر یہ بات بڑے پر زور انداز میں پیش کی گئی ہے کہ ان عبارتوں میں مندرج اعلانات ایک قرآنی قانون کی ترمیم وتنسیخ ہی کرتے ہیں۔ اپیل کنندہ کی جانب سے اس بات کا جواب دیا گیا ہے کہ ان تحریروں میں جو الفاظ اور مطالب اختیار کیے گئے ہیں ان سے تنسیخ کا کوئی پہلو نہیں نکلتا بلکہ وہ تو ایک ایسے قرآنی حکم کی تشریح کرتے ہیں جس کو تیرہ سو سال سے غلط سمجھا جاتا رہا ہے اور بہر حال دوسرے لوگ مرزا صاحب کے اقوال کی تعبیرات خواہ کچھ بھی کریں احمدیوں نے تو ان کا مطلب ہمیشہ یہی لیا ہے کہ قرآن میں کوئی نیا حکم نہیں نکلتا اور مرزا صاحب کے سارے کام کی اصل غرض وغایت قرآن کے حقیقی احکامات پر سے کھوٹ اور میل کو دور کرنا تھی۔ اس بارے میں احمدی فریق نے ”یضع الحرب“ والی روایت کے حوالے سے یہ دلیل فراہم کی ہے کہ مرزا صاحب نے جیسا کہ ان کی کچھ تحریروں سے ثابت ہے جو کچھ کیا، وہ محض یہ تھا کہ انہوں نے مذکورہ روایت کے مصداق جنگ کو معطل کر
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دیا اور کسی قانون کی تنسیخ ہرگز نہیں کی۔ یہاں یہ نکتہ بڑی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ اگر مان لیا جائے کہ مرزا صاحب کے ان خیالات کا مقصد قرآنی قانون کی تنسیخ سے ایک نئے حکم کا اجرا یا اس میں جزوی ترمیم تھا (ان کے پیروؤں کے نزدیک انہوں نے یہی کچھ کیا) تو پھر ان کی حیثیت تشریعی نبی کی ہوتی ہے۔ مگر یہ بات آیت ”خاتم النبیین“ کی احمدیوں کی خود کردہ تفسیر کے خلاف پڑتی ہے اور یہ نتیجہ خاص طور پر اس صورت تو لازماً نکلے گا جب کہ اس نئے حکم کی بنیاد ”وحی“ و ”الہام“ پر رکھی گئی ہو۔ غیر احمدی طریق نے اس دلیل کو یوں آگے بڑھایا ہے کہ ان تحریروں پر مبنی نظریات کی نوعیت اگر محض تشریحی یا تصدیقی بھی ہو تب بھی اصولی طور پر مرزا صاحب کی حیثیت تشریعی نبی کی ہی رہتی ہے کیونکہ اگر شارح کسی قانون کی تعبیر کے بجائے اپنے لیے اس کے استقرار (declaratory
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تحقیقاتی عدالت کے روبرو انہوں نے جو مؤقف اختیار کیا، اس سے صاف طور پر مترشح ہوتا ہے کہ وہ اپنے مذہب کے بانی اور اس کے جانشینوں کے وضع کردہ اصولوں اور عقائد کے معانی کو تبدیل کرنے کے لیے کوشاں رہے مگر ہمارے پاس احمدیہ فرقہ کے بانی اور اس کے جانشینوں کی تصنیف کردہ وہ کتب موجود ہیں جن سے میاں عطاء اللہ نے استدلال کیا ہے گویا اس طرح ہمارے سامنے کثرت سے وہ ذرائع موجود ہیں
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کردار سے جو وہ ہند میں بالخصوص تحریک کشمیر میں جس سے وہ خود بھی بہت حد تک منسلک تھے، مکمل طور پر آگاہ ہو چکے تھے۔ انہوں نے مناسب توسط کے ذریعے مہاراجہ کشمیر کے ساتھ بہتر معاملہ کے لیے کشمیر کمیٹی کے لیے مرزا محمود کی صدارت کو یقینی بنانے کے لیے کلیدی محرک کا کام کیا تھا۔ چند ہی مہینوں میں انہیں اس بات کا ادراک ہو گیا کہ قادیانیت بہت مکروہ چہرے کی حامل ہے جو انسان دوستی کے پیچھے چھپے ہوئی تھی، انہوں نے دیکھا کہ یہ تحریک ناصرف انڈیا کے مسلمانوں کے لیے بلکہ تمام عالم اسلام کے لیے خوفناک سیاسی مضمرات رکھتی تھی۔ انہوں نے پچھلے ۵۰ سالہ (۱۸۸۰ تا ۱۹۳۵) ریکارڈ کی بنیاد پر اس تحریک میں ہونے والی تبدیلی ہیئت کا مشاہدہ کیا اور تاریخ کے طالبعلم کے طور پر اسے ایک اسلام مخالف، رجعتی اور سامراجیت نواز گروہ کے طور پر بھانپ لیا جو نام نہاد مذہبی تجدید نو کے نازک پردے کے پیچھے کام کر رہی ہے۔ ۲؍مئی ۱۹۳۵ء کو ڈاکٹر محمد اقبال نے قادیانی مسئلے کے سماجی اور سیاسی مضمرات کے بارے میں اپنا تاریخی بیان پریس کو بھیجا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ انڈیا میں مسلم آبادی کی اساس صرف اور صرف مذہبی نظریے پر قائم ہے اس لیے کوئی مذہبی گروہ جو اسلام کی گود سے تاریخی طور پر ظاہر ہوا ہو اور اپنی بنیاد میں نئی نبوت کا دعویدار ہو اس کی مبینہ سلسلہ وحی کی سچائی کو نہ ماننے والے تمام مسلمانوں کو کافر قرار دیتا ہو ہر مسلمان کو اسلام کی یکجہتی کے لیے اس کو ایک سنگین خطرہ سمجھنا چاہئے۔ ایسا اس لیے بھی ضروری ہے کہ مسلم معاشرے کی سالمیت کی ضمانت صرف اور صرف ختم نبوت کے نظریے پر ہے۔ ان کے بیان کے اقتباسات حسب ذیل ہیں:
’’......کوئی مذہبی گروہ جو اسلام کی گود سے تاریخی طور پر ظاہر ہوا ہو اور اپنی بنیاد میں نئی نبوت کا دعویدار ہو اور اس کی مبینہ سلسلہ وحی کی سچائی کو نہ ماننے والے تمام مسلمانوں کو کافر قرار دیتا ہو۔ ہر مسلمان کو اسلام کی یکجہتی کے لیے اس کو سنگین خطرہ سمجھنا چاہئے۔ ایسا اس لیے بھی ضروری ہے کہ مسلم معاشرے کی سالمیت کی ضمانت صرف اور صرف ختم نبوت ﷺ کے نظریے پر ہے......‘‘
’’......جس شدت جذبات سے انڈین مسلمانوں نے قادیانی تحریک کے خلاف مظاہرہ کیا ہے، وہ جدید عمرانیات کے طالبعلم کے لیے مکمل طور پر قابل فہم ہیں وہ ایک اوسط مسلم جس کو کہ گزشتہ دن ایک لکھاری نے سول اور ملٹری گزٹ میں مولوی کے اشارے پر چلنے والے کے طور پر بیان کیا، وہ اس تحریک کی مخالفت میں ختم نبوت کے مفہوم پر مکمل دسترس رکھنے کی نسبت اپنی شناخت کی جبلت کے تحت اس تحریک کی مخالفت پر وجدانی طور پر آمادہ ہے۔ نام نہاد روشن خیال مسلمان نے اسلام میں ختم نبوت کے نظریے کی حقیقی ثقافتی اہمیت کو سمجھنے کی شاذ و نادر ہی کوشش کی ہے اور مغربیت کے آہستہ رو اور غیر محسوس انداز میں کارفرما تعامل نے اپنی شناخت کی جبلت سے بھی اس کو محروم کر دیا ہے ان نام نہاد روشن خیال مسلمانوں میں سے کچھ اپنے دینی بھائیوں کو ’’رواداری‘‘ کی تبلیغ کرنے کی حد تک چلے گئے ہیں؟ میں مسلمانوں کو رواداری کی تبلیغ کرنے پر سر بریٹ ایمرسن سے با آسانی معذرت کر سکتا ہوں، ایک جدید یورپی کے لیے جس کی پیدائش اور نشو و نما ایک بالکل الگ ثقافت میں ہوئی ہو وہ اس بصیرت کا حامل نہیں ہوتا ہے یا شاید نہیں ہو سکتا ہے جو کسی کو اس بات کی تفہیم ممکن بناتا ہے کہ وہ ایک قوم کی ساخت کے بنیادی مسئلے کو مکمل مختلف ثقافتی نظریے سے دیکھ سکے۔ حکومت کو موجودہ صورتحال پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے اور اگر ممکن ہو تو اس مسئلے کے حوالے سے ایک اوسط مسلمان کے ذہنی سطح کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ وہ اپنی قوم کی سالمیت کو کس قدر مطلق حیات تصور کرتا ہے۔ بہر حال اگر کسی قوم کی سالمیت خطرے میں پڑ جائے تو اس قوم کے پاس اس کا شیرازہ بکھیرنے کے درپے قوتوں کے خلاف واحد راستہ اپنا دفاع ہوتا ہے اور خود دفاعی کے کیا کیا راستے ہوتے ہیں؟‘‘
’’......اس شخص کی متنازعہ تحریریں اور دعوؤں کا ردعمل جو اصل قوم کی طرف سے ایک مذہبی مہم جوئی سمجھا جاتا ہے۔ کیا یہ پھر مناسب بات ہوگی کہ اس کی بنیادی قوم کو رواداری کی تبلیغ کی جائے جس کی سالمیت کو خطرے میں ڈالا جائے اور اس کے باغی گروہ کو اپنے پراپیگنڈا
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جاری رکھنے کی آزادی دی جائے جب کہ وہ پراپیگنڈا بے حد بدسلوکی والا ہی کیوں نہ ہو۔ اگر بنیادی قوم کے نقطہ نظر سے کوئی باغی گروہ حکومت کے کسی خاص سروس میں ہو تو مؤخر الذکر ان کی خدمات کے حوالے سے جتنا بہترین ہو سکتا ہے اس کا معاوضہ یا انعام دینے کی آزادی رکھتے ہیں۔ دوسری قومیتیں اس کے خلاف عناد نہیں رکھیں گی لیکن اس بات کی توقع نہیں کی جاسکتی ہے کہ کوئی قومیت اپنی اجتماعی زندگی پر اثر انداز ہونے والی ساری قوتوں کو خاموشی سے نظر انداز کر دے۔ اجتماعی زندگی اپنی تحلیل کے خطرے کے حوالے سے اتنی ہی حساسیت کی حامل ہوتی ہے، جتنی ایک انفرادی زندگی۔ اس حوالے سے یہ اضافہ کرنا بہت مشکل ہے کہ مسلمانوں کے فرقوں کا باہمی فقہی جھگڑا ان بنیادی اصولوں پر اثر انداز نہیں ہوتا جن پر یہ تمام فرقے ایک دوسرے پر بدعت کے الزامات کے باوجود اپنے اختلافات کے ساتھ متفق ہیں......‘‘
”......اس کے علاوہ ایک اور نقطہ ہے جو سرکار سے خصوصی غور کرنے کا متقاضی ہے، جدید آزادیوں کے نام پر انڈیا میں مذہبی مہم جو افراد کی حوصلہ افزائی لوگوں کو مذہب سے زیادہ سے زیادہ لا پرواہ کرتی ہے، جس سے ہندوستانی قومیتوں کی زندگی سے مذہب کا اہم عنصر بتدریج مکمل ختم ہو جائے گا۔ ہندوستانی ذہن پھر مذہب کے کسی متبادل کو تلاش کرے گا جو امکانی طور پر ماسوائے لا دینی مادیت کی شکل میں ہو گا جیسا کہ روس میں ظاہر ہوا ہے......“
”...... میں سمجھتا ہوں کہ اس بیان سے کچھ حلقوں میں کچھ غلط فہمی پیدا ہوئی ہے۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ میں نے حکومت کو لطیف تجویز دی ہے کہ وہ قادیانی تحریک کو بزور قوت کچل دیں۔ ایسا کچھ نہیں۔ میں نے واضح کر دیا ہے کہ مذہب میں عدم مداخلت کی پالیسی وہ واحد پالیسی ہے جسے ہندوستان کے حکمران اپنا بنا سکتے ہیں۔ کوئی دوسری پالیسی ممکن ہی نہیں ہے تاہم مجھے اعتراف ہے کہ میرے اپنے ذہن کے مطابق ریاستی مذہبی پالیسی قومیتوں کے مفادات کے لیے مضر ہے لیکن اس سے فرار نہیں ہے اور جنہیں اس سے نقصان پہنچے انہیں مناسب ذرائع سے اپنے مفادات کا تحفظ کرنا ہو گا۔ میری رائے میں ہندوستانی حکمرانوں کے لیے بہترین راستہ یہ ہے کہ وہ قادیانیوں کو الگ قومیت قرار دے، یہ مکمل طور پر خود قادیانی پالیسی سے ہم آہنگ ہو گی اور ہندوستانی مسلمان ان کے ساتھ ویسے ہی رواداری برتے گا، جیسی رواداری وہ دیگر مذاہب کے ساتھ برتا ہے......“
۵۰...... ڈاکٹر محمد اقبال بہائیت کو قادیانیوں کی نسبت زیادہ دیانتدار قرار دیتے ہیں کہ وہ اوّل الذکر خود کو کھلے عام اسلام سے الگ قرار دیتے ہیں جب کہ مؤخر الذکر ظاہری طور پر اسلام کے زیادہ وفادار نظر آتے ہیں، لیکن اندرونی طور پر اسلام کی روح کے سخت دشمن ہیں ”قادیانی اور کٹر راسخ العقیدہ مسلمان“ کے بارے میں ڈاکٹر محمد اقبال کے بیان اور اس پر کی جانے والی تنقید راہنما کے طور پر موجود ہے درج ذیل خط جو اس ”Statesman“ کو جواباً لکھا گیا تھا اور ۱۰/ جون ۱۹۳۵ء کو شائع ہوا تھا:
”میں اپنے بیان پر آپ کے تنقیدی تبصرے پر آپ کا شکر گزار ہوں جو ۱۴/ مئی (۱۹۳۵ء) کے شمارے میں شائع ہوا تھا۔ آپ نے اپنے تبصرے میں جو سوال اٹھایا ہے وہ بہت اہم ہے اور میں حقیقتاً خوش ہوں کہ آپ نے اسے اٹھایا ہے۔ میں نے اسے اپنے بیان میں نہیں اٹھایا تھا کیونکہ مجھے محسوس ہوا کہ قادیانیوں کی جداگانہ پالیسی، جو انہوں نے ابتدا سے ہی خود حریف نبوت کی بنیادوں پر ایک نئی قومیت تعمیر کا خیال اور اپنی تحریک کے خلاف مسلمانوں کے احساسات کی شدت سے اپنے مذہبی اور سماجی معاملات کو جس تندہی سے پیروی کرتے رہے ہیں، یہ بلکہ خود حکومت کی ذمہ داری تھی کہ وہ ہندوستان کی مسلم قومیت کی طرف سے ایک رسمی نمائندہ کا انتظار کئے بغیر قادیانیوں اور مسلمانوں کے درمیان بنیادی اختلاف کا انتظامی سطح پر ادراک کرتی۔ مجھے سکھ قومیت کے معاملے میں حکومت کے رویے سے یہ محسوس کرنے
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
میں حوصلہ ملا تھا جو 1919ء تک انتظامی سطح پر الگ سیاسی اکائی کے طور پر تسلیم نہیں کی گئی تھی۔ لیکن بعد ازاں بغیر سکھوں کی نمائندگی کے اور باوجود اس کے کہ لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا تھا کہ سکھ ہندو ہیں، سکھوں کو الگ سیاسی اکائی مان لیا تھا۔ تاہم اب آپ نے یہ سوال اٹھایا ہے جس پر میں اس مسئلہ پر کچھ مشاہدات پیش کرنا چاہوں گا، جو مجھے لگتا ہے کہ انگریزوں اور مسلمانوں دونوں کے نقطہ ہائے نظر کے لیے بہت زیادہ اہم ہیں۔ آپ چاہتے ہیں کہ میں مکمل وضاحت کر دوں کہ آیا میں کب اور کہاں کسی قومیت کے مذہبی اختلافات پر رواداری کا باقاعدہ تنظیمی طور پر غور کر سکتا ہوں۔ مجھے نشاندہی کرنے کی اجازت دیجئے:
اولاً : کہ اسلام لازمی طور پر ایک مذہبی قومیت ہے جس کی حدود کا تعین کامل طور پر کر دیا گیا ہے یعنی خدا کی وحدانیت پر ایمان تمام انبیاء پر ایمان اور محمد ﷺ کی ختم نبوت پر ایمان۔ آخر الذکر عقیدہ درحقیقت وہ عنصر ہے جو مسلمانوں اور غیر مسلمانوں کے درمیان حد فاصل کھینچ دیتا ہے اور کسی کو یہ فیصلہ کرنے کے قابل بناتا ہے آیا کوئی فرد یا گروہ اس قومیت کا حصہ ہے یا نہیں۔ مثال کے طور پر براہموس خدا پر یقین رکھتے ہیں اور محمد ﷺ کو اللہ کا ایک نبی مانتے ہیں تاہم وہ اسلام کا جزو لاینفک نہیں مانے جاسکتے کیونکہ وہ بھی قادیانیوں کی طرح انبیاء کرام کے ذریعے دائمی وحی کے نظریے پر یقین رکھتے ہیں اور محمد ﷺ کی ختم نبوت پر ایمان نہیں رکھتے۔ جہاں تک میں جانتا ہوں کسی اسلامی فرقے نے اس حد فاصل کو عبور کرنے کی کوشش نہیں کی ہے۔ ایران میں بہائیوں نے ختم نبوت ﷺ کے اصول کو کھلے عام رد کر دیا ہے لیکن عین اسی وقت وہ بڑی کشادگی کے ساتھ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ وہ ایک نئی قومیت ہیں اور لفظی تکنیکی لحاظ سے مسلمان نہیں ہیں۔ ہمارے عقیدے کے مطابق اسلام خدا کا وحی کردہ مذہب ہے لیکن ایک سماج یا قوم کے طور پر اسلام کے وجود کا مکمل انحصار نبی پاک ﷺ کی ذات مبارکہ پر ہے۔ میری رائے میں قادیانیوں کے پاس دو ہی راستے ہیں یا تو وہ بہائیوں کی کھلے طور پر پیروی کریں یا پھر اسلام میں ختم نبوت کے تصور کی اپنی تشریحات کو ترک کر دیں اور اس تصور کو اس کے تمام تر نتائج کے ساتھ قبول کرلیں۔ ان کی دوغلانہ تشریحات محض اس خواہش کے تابع ہیں کہ وہ اسلام کے دائرے میں رہتے ہوئے ظاہری سیاسی فوائد حاصل کرسکیں۔
ثانیاً: ہمیں عالم اسلام کے بارے میں قادیانیوں کی اپنی پالیسی اور ان کے رویے کو نہیں بھولنا چاہیے۔ تحریک کے بانی نے اپنی اصل قومیت کو خراب دودھ سے تعبیر کیا اور اپنے پیروکاروں کو تازہ دودھ کہا اور موخر الذکر کو اول الذکر کے ساتھ ملنے جلنے سے خبردار کیا۔ مزید یہ کہ بنیادی ارکان کی امداد سے اپنے آپ کو قومیت کے طور پر ایک نیا نام (احمدی) دینے سے اسلام کی باجماعت نمازوں میں اپنی عدم شرکت سے شادیوں کے معاملے میں مسلمانوں سے الگ سماجی معاملات رکھنے وغیرہ وغیرہ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ عالم اسلام کو کافر قرار دینے سے۔ یہ تمام چیزیں قادیانیوں کا اپنے آپ کو الگ گروہ کے طور پر منظم کرنے کو تشکیل دیتی ہیں۔ درحقیقت درج بالا حقائق واضح طور پر دکھاتے ہیں کہ وہ ہندو ازم سے سکھوں کی الگ شناخت کی نسبت اسلام سے بہت زیادہ دور ہیں۔ کیونکہ سکھ کم از کم ہندوؤں سے باہمی طور پر شادیاں کرتے ہیں، اگرچہ وہ مندروں میں عبادت نہیں کرتے ہیں۔
ثالثاً : اس کے لیے کسی خاص ذہانت کی ضرورت نہیں ہے۔ کہ کیوں قادیانی مذہبی اور سماجی معاملات میں علیحدگی کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے بے قرار رہتے ہیں۔ کہ وہ دائرہ اسلام میں سیاسی طور پر شامل رہیں۔ دائرہ اسلام میں رہتے ہوئے وہ حکومتی ملازمت کے دائرہ کار میں سیاسی مفادات کے حصول کے لیے پرعزم رہے ہیں۔ واضح رہے کہ اپنی موجودہ آبادی کے پیش نظر جو آخری مردم شماری کے مطابق محض پچاس یا ساٹھ ہزار ہے، وہ ملک کی کسی قانون ساز اسمبلی میں ایک سیٹ کے حق دار نہیں ہیں اور نہ ہی ہو سکتے ہیں۔ اس لیے انہیں اس لحاظ سے ایک سیاسی اقلیت کے طور پر مانے جائیں جس کے لیے وہ اس اصطلاح کو استعمال کرتے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ قادیانیوں نے ابھی تک
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اپنے لیے الگ الگ سیاسی حقائق کے طور پر علیحدگی کا مطالبہ نہیں کیا ہے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اپنی موجودہ حیثیت سے وہ خود کو قانون ساز اداروں میں نمائندگی کے قابل نہیں سمجھتے ہیں۔ نیا دستور ایسی اقلیتوں کے تحفظ کی شقوں سے خالی نہیں ہے۔ میرے ذہن میں یہ واضح ہے کہ اپنی علیحدگی کے معاملے میں حکومت تک رسائی کرنے کے لیے قادیانی کبھی بھی پہل نہیں کریں گے۔ مسلم قومیت ان احمدیوں کے اپنے اصل قومیت سے علیحدگی کا دعویٰ کرنے میں مکمل طور پر حق بجانب ہیں۔ اگر حکومت نے اس مطالبے سے فوری طور پر اتفاق نہ کیا تو ہندوستانی مسلمان اس شک میں چلے جائیں گے کہ انگریز حکومت اس نئے مذہب کو پال رہی ہے جیسا کہ یہ علیحدگی کو پہلے بھی مؤخر کرتے رہے تھے چوں کہ اپنے ماننے والوں کی بہت قلیل تعداد کے پیش نظر موجودہ طور پر بھی وہ صوبے میں چوتھی قومیت کے افعال سر انجام دینے سے قاصر ہیں، اسی کے باعث مقامی قانون ساز ادارے میں پنجاب کے مسلمانوں کی پہلے سے دیوار سے لگی اکثریت کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہے۔ حکومت نے ۱۹۱۹ء میں سکھوں کی علیحدگی کے لیے کسی نمائندگی کا انتظار نہیں کیا تھا تو اب کیوں قادیانیوں کی طرف سے ایک رسمی نمائندگی کا انتظار کیا جانا چاہیے۔
۵۱...... تاریخ کی یہ ستم ظریفی کہ احمدیت نے بھارت میں ایک عجیب ہمدرد پایا جو کہ ایک قوم پرست، سیکولر اور کانگریس کا سوشلسٹ رہنما تھا، یعنی پنڈت جواہر لال نہرو۔ اس نے علامہ اقبال کے مضامین المورا جیل میں قید کے دوران پڑھے تھے۔ اس نے ان مضامین پر مختصر نوٹ تحریر کئے تھے تاکہ بھارتی سیاست میں اپنا اثر و رسوخ جما سکے۔ اس کو شدت سے احساس تھا کہ قادیانیت سامراجیت کی ایک ذیلی پراڈکٹ تھی اور اس نے سیاست میں ہمیشہ برطانیہ نواز مؤقف اپنایا تھا۔ یہ کانگریس کی جانب سے شروع کی جانے والی مختلف تحریک کو سبوتاژ کرنے میں بھی ملوث تھی لیکن اس کے باوجود سیاسی مصلحت نے اسے قادیانیوں کو سپورٹ کرنے پر مجبور کیا تاکہ اسماعیلیوں پر تہمت باندھ کر سر آغا خان اور مسلم لیگ کا امیج خراب کر سکے۔ اپنے مختصر مضامین میں نہرو نے علامہ اقبال کی تحریروں میں اپنی دلچسپی دکھائی کیونکہ ان سے اسے ایک ایسی دنیا کو سمجھنے کا موقع ملا تھا جو اس کے لئے آسان نہ تھا۔ اس نے علامہ اقبال کو اسلام پر ایک قابل احترام اتھارٹی قرار دیا اور کہا کہ اس نے ایک راسخ العقیدہ نقطہ نظر کی نمائندگی کی ہے۔ اس نے ڈاکٹر اقبال کے مضمون قادیانیت اور راسخ العقیدہ مسلمان کا حوالہ دیا جو اس نے بتایا کہ اس نے المورا جیل میں بڑی دلچسپی سے پڑھا تھا جو احمدیوں کے ایشو کے تناظر میں اسلام کی یکجہتی کو زیر بحث لاتا ہے۔ اس مضمون نے اسے مجبور کیا کہ وہ ماڈرن ریویو کلکتہ کو ۲۰/ اگست ۱۹۳۵ء کو اپنے خیالات لکھ بھیجے جو کہ نومبر ۱۹۳۵ء کے شمارے میں شائع ہوئے تھے۔ پنڈت نہرو نے عرب دنیا میں راسخ العقیدہ نقطہ نظر سے اٹھنے والی قوم پرستی کی لہر کے بارے میں مختصر بیان کیا۔ اس کا خیال تھا کہ اقوام نیشنلسٹ نظریات کے تابع اسلامی یکجہتی کو فراموش کرچکی ہیں۔ اس نے استدلال کیا کہ قادیانیت کا مسئلہ ان بین الاقوامی واقعات کے تناظر میں غیر اہم ہو جاتا ہے۔ علامہ اقبال پنجاب میں ایک سچے لیڈر کی ضرورت پر زور دیتے ہیں تاکہ قادیانیت کے طوفان کا مقابلہ کیا جاسکے۔ لیکن اس کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیں وہ جو راہنمائی دیتے ہیں وہ یہ ہے کہ آغا خان ہندوستانی مسلمانوں کے رہنما ہیں۔ پنڈت نہرو نے تبصرہ کیا کہ کیا وہ علامہ اقبال کی تعریف کردہ اسلامی یکجہتی کے معیار پر پورا اترے ہیں؟ ۲۱/ اگست ۱۹۳۵ء کے ایک اور نوٹ میں اس نے عزت مآب سر آغا خان پر حملہ کرتے ہوئے انہیں تنہا کیا اور سوال اٹھایا کہ آیا ان کا فرقہ اسلامی یکجہتی سے میل کھاتا ہے۔ پنڈت نہرو کی تیسری تحریر جس کا عنوان تمام مذاہب کی راسخ العقیدی کا اتحاد تھا اگست ۱۹۳۵ء کے آخری ہفتے میں لکھی گئی تھی جو ماڈرن ریویو کلکتہ کے دسمبر ۱۹۳۵ء کے شمارے میں شائع ہوئی تھی۔ یہ ان مختصر مضامین سے مترشح ہوئی تھی جن میں وہ مسلمانوں کو تاثر دینا چاہتا تھا کہ کانگریس کی نام نہاد حامی جماعت مجلس احرار کی جانب سے قادیان مخالف تحریک کو کانگریس کی حمایت حاصل نہیں ہے۔ وہ اسماعیلیوں کو قادیانیوں سے غیر مسلم
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
فرقے کے طور پر ملا کر سر آغا خان کو مسلم لیگ سے علیحدہ کر کے اس کی آئینی اور مالی پوزیشن بھی کمزور کرنا چاہتے تھے۔ احمدیت کے ایشو پر لکھنے سے پنڈت نہرو کو مختلف سیاسی حلقوں کی جانب سے ناپسندیدگی کا سامنا کرنا پڑا۔ جے ڈی جنکنز نے ۱۸ اور ۲۲ جولائی ۱۹۳۶ء کو ٹائمز آف انڈیا میں شائع ہونے والے اپنے خطوط میں پنڈت نہرو کے پہلے مضمون کو انتہائی خطرناک، نامناسب، انتہائی جارحانہ، شرمناک، حیران کن، مبالغہ آرائی کا مرقعہ اور لایعنی منطق قرار دیا۔ اس نے نہرو پر الزام لگایا کہ وہ مسلم جذبات کو مجروح کرنے کی راہ اپنائے ہوئے ہے اور یوں ایک کمیونٹی میں دوسری کے خلاف تلخی پیدا کر رہا ہے۔ اس نے برطانوی حکومت کو بھی تجویز کیا کہ اس کے خلاف کارروائی کی جائے۔ علامہ اقبال کو مختلف مذہبی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے خطوط موصول ہوئے کہ وہ پنڈت کے مضامین کا ٹھوس جواب دیں۔ کچھ چاہتے تھے کہ وہ احمدیوں کی جانب سے ہندوستانی مسلمانوں کے رویے کی وضاحت اور جواز پیش کریں۔ جنوری ۱۹۳۶ء علامہ محمد اقبال نے نہرو کی جانب سے اپنے مضامین میں اختیار کئے گئے دلائل کے جواب میں قادیانیت پر ایک تاریخی مضمون لکھا۔ علامہ اقبال کا جواب جو ایک مضمون اسلام اور احمدیت کے نام سے شائع ہوا اگرچہ کلی طور پر یہاں درج کرنے کے لائق ہے۔ تاہم اس کا ایک پیرا ہی مقصد کو بھرپور طریقے سے بیان کردے گا:
”ماڈرن ریویو آف کلکتہ میں پنڈت جواہر لعل نہرو کے تین آرٹیکل سامنے آنے پر مجھے مختلف مذہبی فرقوں اور سیاسی نقطہ نظر والے مسلمانوں کے بہت سے خطوط ملے ہیں ان خطوط کے کچھ کاتب مجھ سے یہ چاہتے ہیں کہ میں احمدیوں کے بارے میں ہندوستانی مسلمانوں کے رویہ کو مزید واضح کروں اور دلائل دوں۔ دوسرے لوگ مجھے یہ کہتے ہیں کہ احمدی مذہب کے مسئلہ کو میں حقیقت میں کیا سمجھتا ہوں۔ اس بیان میں اوّلاً ان مطالبات کو پورا کرنا چاہتا ہوں۔ جو میں سمجھتا ہوں کہ بالکل جائز ہیں اور پھر ان سوالات کو جو پنڈت جواہر لعل نہرو نے اٹھائے ہیں کا جواب دوں گا۔ تاہم مجھے اندیشہ ہے کہ اس بیان کے کچھ حصے پنڈت کی دلچسپی کے حامل نہیں ہو سکتے اس لئے ان کا وقت بچانے کے لیے میں تجویز کرتا ہوں کہ وہ ایسے حصوں سے صرف نظر کر سکتے ہیں۔
میرے لیے یہ کہنے کی بمشکل ضرورت ہے کہ میں اس بات میں جو میرے نزدیک مشرق کا شاید ساری دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ ہے میں پنڈت صاحب کی دلچسپی کا خیر مقدم کرتا ہوں میرا یقین ہے کہ وہ پہلے نیشنلسٹ ہندوستانی رہنما ہیں جنہوں نے عالم اسلام کی موجودہ روحانی بے چینی کو سمجھنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے اس بے چینی کے مختلف پہلوؤں اور ممکنہ ردعمل کے پیش نظر اس بات کی بہت ضرورت ہے کہ متفکر ہندوستانی سیاسی رہنما اس بات کا مطلب سمجھنے کے لیے اپنے اذہان کھولیں کہ لمحہ موجود میں کیا چیز اسلام کے دل کو دہائی دے رہی ہے۔
تاہم میں پنڈت صاحب سے یا اس بیان کے کسی دوسرے قاری سے یہ حقیقت نہیں چھپانا چاہتا ہوں کہ پنڈت صاحب کے آرٹیکلوں نے ایک لمحے کے لیے بھی میرے ذہن کو محسوسات کی تکلیف دہ کشمکش سے دوچار کیا۔ ان کو وسیع المشرب ہمدردیوں والا انسان جانتے ہوئے میں یہ خیال کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ جن سوالات کو اٹھا کر انہوں نے سمجھنے کی خواہش ظاہر کی ہے وہ بالکل حقیقی ہیں۔ پھر بھی جس انداز میں انہوں نے اپنے آپ کا اظہار کیا ہے وہ اس نفسیات کے خلاف ہے جسے میں ان سے منسوب کرنا مشکل محسوس کرتا ہوں۔ میں یہ سوچنے پر مجبور ہوں کہ قادیانیت پر میرے بیان نے جو جدید خطوط پر مذہبی ڈاکٹرائن کی محض تشریح کے سوا کچھ نہیں، پنڈت صاحب اور قادیانی دونوں مضطرب ہوئے ہیں۔ شاید دونوں ہی مختلف وجوہات کے باعث مسلم سیاسی اور مذہبی یکجہتی کی کامیابی کے امکانات بالخصوص ہندوستان میں ہیں پر اندر ہی اندر غصہ کرتے ہیں۔ یہ صاف ظاہر ہے کہ ہندوستانی قوم پرست، جن کی سیاسی مثالیت پسندی نے اس حقیقت کے ادراک کا قتل کر دیا ہے، شمال مغربی ہندوستان اسلام کے دل میں حق خودارادیت کی خواہش کے جنم لینے کے ہی روادار نہیں ہیں۔ وہ
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
میری رائے میں غلط طور پر یہ خیال کرتے ہیں کہ ہندوستانی قومیت کا واحد حل اس بات میں مضمر ہے کہ ملک کی تمام ثقافتی شناختوں کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے۔ اگرچہ ان کے ہی صرف تعامل سے ہندوستان ایک امیر اور دیر پا تہذیب کے طور پر ابھر کر سامنے آ سکتا ہے۔ وہ قومیت جو ایسے طریقوں سے حاصل کی جائے ماسوائے اس بات کے کچھ نہیں کہ باہمی تلخیاں حتیٰ کہ جبر پھیلائے۔ یہ مساوی طور پر واضح ہے کہ قادیانی بھی ہندوستانی مسلمانوں کی سیاسی بیداری پر پریشانی محسوس کرتے ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے ہندوستانی مسلمانوں کی سیاسی ساکھ میں اضافہ ان کے عزائم کی یقینی شکست ہے۔ جو وہ عرب پیغمبر کی امت سے ہندوستانی نبی کی نئی امت کے لیے رکھتے ہیں میرے لیے یہ کم حیرت کی بات نہیں ہے کہ ہندوستان میں اپنی تاریخ کے اس نازک لمحے میں ہندوستانی مسلمانوں کے اپنے باہمی اتحاد کی شدید ضرورت پر زور دینے کی میری کوشش اور سالمیت کے درپے قوتوں کے خلاف جو اصلاح پسندانہ تحریکوں کے بھیس میں چھپی ہوئی ہیں کے خلاف میری تنبیہ سے پنڈت صاحب کو یہ موقع ملنا چاہیے کہ ایسی قوتوں سے اظہار ہمدردی کرے۔
تاہم پنڈت صاحب کے عزائم کا تجزیہ کرنے کے ناخوشگوار کام کا پیچھا نہیں کرنا چاہتا۔ ان لوگوں کے فائدے کے لیے جو قادیانیوں کے بارے میں تمام مسلم رویے کی مزید وضاحت چاہتے ہیں میں فلسفے کی ڈیورانٹ سٹوری سے ایک اقتباس کا حوالہ دینا چاہوں گا جس سے مجھے امید ہے کہ قارئین کو قادیانیت کے اس مسئلے کا زیادہ واضح تصور ملے گا۔ ڈیورانٹ کے چند جملوں نے عظیم فلسفی سپائی نوزا (Spinoza) کے دین بدری پر یہودی نقطہ نظر کا خلاصہ پیش کیا ہے قاری کو یہ خیال نہیں کرنا چاہیے کہ اس اقتباس کا حوالہ دینے سے میری مراد سپائی نوزا، اور احمدیت کے بانی کے درمیان کسی قسم کا موازنہ کرنے کا میرا کوئی اشارہ ہے دونوں کے مابین، دانش اور سیرت کے لحاظ سے فرق بے تحاشا ہے، ’’خدائی کے نشہ میں مخمور‘‘ سپائی نوزا نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ وہ نئی تنظیم کا مرکز ہے اور تمام یہودی جو اس پر ایمان نہیں رکھتے، یہودیت سے خارج ہیں۔ لہٰذا ڈیورانٹ کا اقتباس مسلمانوں کے قادیانیت کے بارے میں رویے کے بارے میں یہودیوں کے سپائی نوزا کے دین بدری کے رویے کی نسبت زیادہ مؤثر طور پر لاگو ہوتا ہے۔ اقتباس حسب ذیل ہے:
’’مزید برآں، لگتا ہے کہ بڑوں کا اس بات پر اتفاق رائے ہو گیا تھا کہ ایمسٹرڈیم میں مختصر یہودی گروہ کو منتشر ہونے سے محفوظ رکھنے کا وہ ذریعہ اور غالباً اتحاد محفوظ رکھنے کا آخری طریقہ اور اسی طرح دنیا بھر میں بکھرے ہوئے یہودیوں کی بقا کو یقینی بنانے کا واحد طریقہ یہی تھا۔ اگر ان کی اپنی ریاست ہوتی تو اپنا دیوانی قانون ہوتا، لادینی قوتوں اور ہم رتبہ لوگوں کا اپنا ادارہ ہوتا، اندرونی اتحاد اور بیرونی ساکھ پر زور دیتا ہوتا، جو زیادہ روادار ثابت ہوتے۔ لیکن ان کا مذہب ان کے لیے جذبہ حب الوطنی اور ان کا ایمان تھا۔ ان کا منبر ان کی سماجی اور سیاسی زندگی کے ساتھ ساتھ اکرام اور عبادت کا مرکز تھا اور بائبل جس کی حقانیت کو سپائی نوزا نے چیلنج کر دیا تھا۔ ان لوگوں کے لئے سفری وطن تھا۔ ان حالات کے تحت انہوں نے الحاد کو غداری جانا اور رواداری کو خود کشی۔
یہودیوں کی طرح جو ایمسٹرڈیم میں اقلیتی آبادی تھے وہ سپائی نوزا کو اپنی قومیت کی تحلیل کے لیے خطرہ کے باعث منتشر کر دینے والا عنصر خیال کرنے میں حق بجانب تھے۔ اسی طرح ہندوستانی مسلمان قادیانی تحریک کے حوالے سے بھی حق بجانب ہیں جو تمام عالم اسلام کو کافر کہتی ہے اور سماجی طور پر ان کا بائیکاٹ کرتی ہے۔ جو کہ ہندوستان میں اسلام کی اجتماعی زندگی کے لئے یہودیوں کی اجتماعی زندگی کے لئے سپائی نوزا کی مابعدالطبیعیات کی نسبت بہت زیادہ خطرناک ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ہندوستانی مسلمان ہندوستان میں اپنے موجودہ مقام کے باعث حالات کی اس خطرناک نوعیت کو جبلتی طور پر محسوس کرتا ہے اور قدرتی طور کسی دوسرے ملک کے مسلمانوں کی بہ نسبت سالمیت کے درپے قوتوں کے حوالے سے زیادہ حساس ہے۔ میری رائے میں ایک عام مسلمان کی جبلتی سوچ بالکل درست ہے اور مجھے کوئی
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ابہام نہیں ہے کہ ہندوستانی اسلام کے شعور میں وہ گہری اساس رکھتا ہے۔ جو لوگ رواداری کے لفظ کے استعمال کرنے میں بے حد لا پرواہ ہیں جس کا مجھے خوف ہے کہ وہ اسے سمجھتے نہیں ہیں۔ رواداری کا جذبہ انسانی ذہن مختلف رؤیوں سے جنم لے سکتا ہے۔ جیسا کہ گبن نے کہا: ”فلسفی کی رواداری یہ ہے کہ سارے مذاہب برابر کے سچے ہیں مؤرخ کی رواداری یہ ہے کہ اس کے نزدیک سارے غلط ہیں اور سیاستدان کی رواداری یہ ہے کہ سب مساوی طور پر مفید ہیں۔ یہ اس انسان کی رواداری ہے جو سوچ اور رؤیے کے دوسرے اظہاروں سے رواداری کرتا ہے۔ کیونکہ اس نے خود سوچ اور رؤیے کے تمام طور طریقوں سے مطلقاً بے نیاز پرورش پائی ہے یہ ایک کمزور آدمی کی رواداری ہے جو محض کمزوری کی بنیاد پر ان تمام چیزوں یا افراد جنہیں وہ عزیز رکھتا ہے کے لئے ہر طرح کی توہینوں کو اپنی جیب میں ڈالتا رہے۔“
صاف ظاہر ہے کہ رواداری کی ان قسموں کی کوئی اخلاقی قدر نہیں ہے دوسری طرف یہ اس آدمی کی روحانی مفلسی کا بھی صریح انکشاف کرتی ہے جو ان پر عمل کرتا ہے۔ حقیقی رواداری دانشمندانہ اور روحانی وسعت کی آفریدہ ہوا کرتی ہے۔ یہ روحانی طور پر طاقتور انسان کی رواداری ہوا کرتی ہے جو اپنے ہی مذہب کی سرحدوں سے بلند ہو کر رواداری کر سکتا ہے اور حتیٰ کہ اپنے مذہب کے علاوہ عقیدے کی تمام صورتوں کو تعین کر سکتا ہے اس طرح کی رواداری کی مثال صرف ایک سچا مسلمان ہی ہوتا ہے۔ اس کا اپنا مذہب امتزاجی ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ دوسرے مذاہب کے ہمدردی اور تحسین کی بنیادوں کو باآسانی تلاش کر سکتا ہے۔ ہمارے عظیم ہندوستانی شاعر امیر خسرو نے ایک ہندو پجاری کی کہانی میں اس طرح کی رواداری کے جوہر کو بیان کیا ہے بتوں سے شدید محبت کے ذکر کے بعد شاعر اپنے مسلم قارئین سے حسب ذیل مخاطب ہوتا ہے:
ترجمہ: اے کہ تم جو ہندو کو طعنہ دیتے تو کم سے کم اسی سے پوجا کا ہنر تو سیکھ لو۔
صرف خدا سے سچی محبت کرنے والا عقیدت کی اس طرز کو خراج تحسین پیش کر سکتا ہے اگرچہ یہ بتوں سے متعلقہ ہے جن پر وہ خود یقین نہیں رکھتا ہے۔ رواداری کے ہمارے مبلغین کی حماقت اس انسان کے رؤیے کو بیان کرنے پر مشتمل ہے جو اپنے دین کی حدود پر عامل ہے اور اسے غیر روادار کہا گیا وہ اسے غلط طور پر اخلاقی احساس کمتری کی علامت کے طور پر برا خیال کرتے ہیں۔ وہ یہ بات نہیں سمجھتے ہیں کہ اس رؤیے کی قدر لازمی طور پر حیاتیاتی ہے جہاں اس گروہ کا کوئی رکن یا تو جبلتی طور پر یا منطقی دلیل کی بنیاد پر یہ محسوس کرتا ہے کہ جس سماجی نوع سے اس کا تعلق ہے اس کی تنظیمی حیات خطرے کا شکار ہے۔ ان کے دفاعی رؤیے کو حیاتیاتی معیار کے حوالے ہی سے سمجھا جانا چاہئے اس حوالے سے ہر سوچ اور عمل کو اس میں موجود زندگانی کی طرز کے تحت جانچا جانا چاہئے۔ اس مقدمے میں یہ سوال نہیں ہے کہ کسی آدمی کے بارے میں جسے ملحد قرار دیا گیا ہے، کسی ایک فرد یا قومیت کا رؤیہ اخلاقی طور پر اچھا یا برا ہے؟ سوال یہ ہے کہ آیا یہ حیات بخش ہے یا حیات کش؟
پنڈت جواہر لال نہرو یہ خیال کرتے نظر آتے ہیں کہ مذہبی اصولوں پر قائم کردہ معاشرہ میں تحقیقاتی ادارے کی ضرورت ہے۔ یہ در حقیقت عیسائیت کی تاریخ کے بارے میں سچ ہے لیکن پنڈت صاحب کی منطق کے برعکس اسلام کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ اسلامی زندگی کی پچھلی تیرہ صدیوں کے درمیان مسلم ممالک میں تحقیقات کا ادارہ مطلقاً غیر معروف ہے۔ قرآن بالصریح ایسے کسی ادارے سے روکتا ہے: ”دوسروں کی خامیوں کو مت تلاش کرو اور اپنے بھائی بندوں کے خلاف کہانیاں مت گھڑو۔“ در حقیقت پنڈت صاحب اسلامی تاریخ سے یہ پالیں گے کہ یہودیوں اور عیسائیوں نے اپنے ملکوں میں مذہبی ظلم و ستم سے فرار پا کر یہیں اسلامی ملکوں میں پناہ حاصل کی ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
وہ دو اصول جس کی بنیاد پر اسلام کا تصوراتی ڈھانچہ کھڑا ہوا ہے وہ بہت سادہ ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ دائرہ اسلام ملحد کو باہر نکالنے کے تصور کو تقریباً ناممکن بنا دیتا ہے، یہ درست ہے کہ وہ شخص جسے ملحدانہ ڈاکٹرائن اختیار کرنے والا قرار دیا جائے، وہ سماجی سلسلے کے وجود کو ہی خطرے میں ڈال دیتا ہے ایک آزاد مسلم ریاست یقیناً اس کے خلاف کارروائی کرے گی لیکن اس صورت میں ریاست کی کارروائی کا تعین سیاسی بنیادوں پر زیادہ کیا جائے گا بہ نسبت خالصتاً مذہبی بنیادوں پر کرنے سے۔ میں اچھے طریقے سے احساس کر سکتا ہوں کہ پنڈت صاحب جیسے بندے کے لیے جو اس معاشرے میں پیدا ہوا ہو اور پرورش پائی ہو، جس میں کوئی باقاعدہ حدود بندی نہ ہو اور باہمی اتحاد کی بھی کوئی صورت نہ ہو جب وہ یہ نتیجہ اخذ کرنے میں دشواری محسوس کرے کہ ایک مذہبی معاشرہ لوگوں کے عقائد کے اندر چھان بین کرنے والے حکومتی سطح پر قائم کیے ہوئے کمشنروں کے بغیر زندہ رہ سکتا ہے اور پنپ سکتا ہے۔ یہ اس اقتباس سے جس میں انہوں نے کارڈینل نیومین کا حوالہ دیا ہے سے صاف واضح ہے اور اس بات پر وہ حیران ہوتے ہیں کہ میں کارڈینل کے اسلام کے بارے میں کیے گئے فیصلے کے اطلاق کو کس طرح قبول کروں گا۔ مجھے انہیں یہ بتانے دیجیئے کہ اسلام اور کیتھولک ازم کے اندرونی ڈھانچے کے درمیان بے پناہ اختلاف ہے اور جیسا کہ عیسائیت کی پوری تاریخ بتلاتی ہے کیتھولک ازم میں پیچیدگی ہے غیر منطقی عنصر اور بے شمار الجھاؤ ہیں جس کی بنیاد پر نئے نئے ملحدانہ تشریحات کے ہمیشہ امکانات ابھرے ہیں۔ محمد ﷺ کے سادہ ایمان کی بنیاد دو اصول ہیں کہ خدا ایک ہے اور یہ کہ محمد ﷺ ان مقدس انسانوں کی قطار کے آخری انسان ہیں جو وقتاً فوقتاً تمام ملکوں میں آتے رہے ہیں اور ہر دور میں زندگی گزارنے کے درست طریقوں سے انسانیت کی رہنمائی کرتے رہے ہیں۔ اگر جیسا کہ کچھ عیسائی مصنفین سوچتے ہیں کہ کسی مافوق المنطق اصول پر کسی عقیدے کی وضاحت کی جانی چاہئے تا کہ اس پر مذہبی یکجہتی کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے تو اس پر کسی مابعد الطبیعیات عنصر کو سمجھے بغیر ہی اتفاق رائے ہونا چاہئے تب کہ اسلام میں یہ جو سادہ اصول عقیدے کے طور پر بیان ہی نہیں کئے جا سکتے ہیں: کیونکہ یہ دونوں اصول انسانیت کے تجربے سے بھی ثابت شدہ ہیں اور یہ منطقی دلیل کے لحاظ سے بھی قابل عمل ہیں الحاد کے سوال پر جس پر فیصلے کی ضرورت ہے یہ دیکھا جانا ہے کہ اس کا مصنف کیا حدود کے اندر ہے یا باہر، یہ سوال اس مذہبی معاشرے میں کھڑا ہو سکتا ہے جس کی بنیاد ان سادہ اصولوں پر رکھی گئی ہو۔ جب کوئی ملحد ان دونوں کو یا ان میں سے کسی ایک اصول کو رد کر دیتا ہے یہ الحاد اسلامی تاریخ میں شاذ و نادر ہونا چاہیے اور رہا بھی ہے۔ جو کہ اپنی ہی حدود سے حسد کرتے ہوئے، انہی حدود کے اندر تشریحات کی آزادی کی اجازت دیتا ہے اور جیسا کہ الحاد کی کسی بھی قسم کا مظاہرہ جو اسلام کے حدود و قیود کو متاثر کرتا ہے۔ تاریخ اسلام میں بہت نایاب رہا ہے اس لیے جب کبھی اس طرح کی بغاوت جنم لیتی ہے تو ایک عام مسلمان کے جذبات فطری طور پر شدید ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے فارس میں رہنے والے مسلمان کے جذبات بہائیوں کے خلاف اتنے شدید تھے یہی وجہ ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کے احساسات، قادیانیوں کے خلاف اتنے شدید ہیں۔
یہ درست ہے کہ مسلمان مذہبی فرقوں کے اندر چھوٹے چھوٹے فقہی اور دینی نقطوں پر اختلافات کے باعث الحاد کے باہمی الزامات کے نسبتاً عمومی رہے ہیں۔ کفر کے لفظ کے بلا امتیاز استعمال میں جو دونوں صورتوں میں یعنی چھوٹے چھوٹے فقہی اختلاف رائے اور الحاد کے بڑی بڑی اقسام کے لیے استعمال کرنے پر، جس کے تحت ملحد کو دین بدر کر دیا جاتا ہے اس میں موجودہ دور کے پڑھے لکھے مسلمان جو مسلم مذہبی جھگڑوں کی تاریخ کا عملاً کوئی علم نہیں رکھتے ہیں وہ اسے مسلم قومیت کے سماجی اور سیاسی انتشار کی ایک علامت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ تاہم یہ ایک یکسر غلط تصور ہے۔ مسلم مذہبیات کی تاریخ ظاہر کرتی ہے کہ چھوٹے چھوٹے اختلافات کی بنیاد پر بدعت کے قدرتی الزامات تفرقہ ڈالنے والی قوتوں کے کارفرما ہونے کے برعکس ایک جاندار مذہبی تصور کو مہمیز کرنے میں انہوں نے بنیادی کردار ادا کیا ہے
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
”جب ہم ”محمدن لاء“ کے ارتقاء کی تاریخ کو پڑھتے ہیں“ پروفیسر Hurgrounje کہتے ہیں ”ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ایک طرف ہر عصر کے ڈاکٹر چھوٹی چھوٹی باتوں پر بدعت کے باہمی الزامات پر ایک دوسرے کی مذمت کرتے ہیں اور دوسری طرف وہی لوگ اسی مقصد کی خاطر زیادہ سے زیادہ اتحاد کے ساتھ اپنے پیشروؤں کے اسی طرح کے جھگڑوں کی توثیق کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔“ مسلم مذہبیات کے طالبعلم کو معلوم ہے کہ مسلم فقہاء کے اندر اسی طرح کی بدعت کو تکنیکی اعتبار سے بدعت تحت بدعت کہا جاتا ہے یعنی بدعت کی وہ قسم جس کے تحت مجرم کی دین بدری شامل نہیں ہوتی ہے۔ اس بات کا تاہم اقرار کیا جاسکتا ہے کہ ملاؤں کے ہاتھوں جن کی فکری کاہلی مذہبی سوچ و بچار کی ساری مخالفتوں کو مطلق قرار دیتی ہے اور اختلاف رائے کے اتحاد پر نتیجتاً نابینا ہو جاتی ہے اس صورت یہ ادنیٰ بدعت ایک بہت بڑے انتشار کا سبب بن سکتی ہے۔ اس انتشار کو صرف اس صورت دور کیا جاسکتا ہے کہ ہمارے مذہبی سکولوں کے طلباء کو حقیقی اسلامی روح کے زیادہ واضح تصور سے ہمکنار کیا جائے اور مذہبی دائرہ کار میں تحرک کے اصول کے طور پر منطقی اختلافات کے تأمل میں ان کو دوبارہ سے تعلیم دی جائے۔ یہ سوال کہ بڑی بدعت کسے کہا جائے اس صورت میں کھڑا ہوتا ہے جب کسی مفکر کی یا مصلح کی تعلیمات اسلام کے عقیدے کی حدود پر اثر انداز ہوتی ہیں بدقسمتی سے یہی سوال قادیانیت کی تعلیمات کے حوالے سے بھی جنم لیتا ہے یہاں اس بات کی نشاندہی بہت ضروری ہے کہ احمدی تحریک دو کیمپوں میں تقسیم شدہ ہے جنہیں قادیانی اور لاہوری کہا جاتا ہے اوّل الذکر اس کے بانی کو سرعام ایک مکمل نبی قرار دیتا ہے جب کہ مؤخرالذکر نے اپنے عقیدہ یا پالیسی کے تحت اس بات کو زیادہ قابل عمل گردانا ہے کہ قادیانیت کی ظاہری طور پر دھیمے لہجوں میں تبلیغ کو بہتر سمجھا ہے۔ تاہم یہ سوال آیا کہ احمدیت کا بانی ایک نبی تھا جس کے مشن کا انکار یہ لاحقہ لگاتا ہے جسے میں بڑی بدعت کہتا ہوں وہ دو حصوں کے درمیان جھگڑے کا معاملہ ہے۔ یہ میرے مقاصد کے لیے غیر ضروری ہے کہ احمدیوں کی اس اندرونی کشمکش کے معیارات کو جانچوں۔ میرا یقین ہے کہ ان وجوہات کی بناء پر جو کہ موجودہ وضاحت کی جانی ہے کہ وہ مکمل نبوت جس کا لاحقہ منکر کے اسلام سے اخراج پر منتج ہوتا ہے وہ احمدیت کے لیے امر لازم ہے اور یہ کہ قادیانیوں کا موجودہ سربراہ تحریک کی روح سے، بہ نسبت لاہوریوں کے امام کے، زیادہ منضبط ہے۔
اسلام میں ختم نبوت کے تصور کی ثقافتی قدر کی میں نے کہیں اور مکمل وضاحت کی ہے۔ اس کا مفہوم ہے محمد ﷺ کے بعد کسی انسان کے سامنے روحانی طور پر نہ جھکنا کہ انہوں نے اپنے پیروکاروں کو ایک ایسا قانون دے کر آزاد کر دیا ہے جو کہ انسانی عقل وشعور کے ہر اعتبار سے قابل محسوس ہے، مذہبی ڈاکٹرائن طور پر سماجی، سیاسی تنظیم جو ”اسلام“ کہلاتی ہے مکمل اور ابدی ہے۔ کوئی ایسی وحی کہ جس کا انکار الحاد پر منتج ہو، محمد ﷺ کے بعد ممکن ہی نہیں، جو اس طرح کی کسی وحی کا دعویدار ہو وہ اسلام کا غدار ہے۔ چونکہ قادیانی حضرات احمدیہ تحریک کے بانی کو اسی طرح کی وحی کا علمبردار مانتے ہیں، وہ یہ قرار دیتے ہیں کہ تمام عالم اسلام کافر ہے، خود بانی تحریک کی اپنی دلیل، قرن وسطیٰ کے مذہبی عالم کی ہی ہے وہ یہ کہ اسلام کے نبی پاک ﷺ کی روحانیت کو اگر وہ کسی دوسرے پیغمبر کی تخلیق نہ کرے یا تو لازماً ناقص گردانا جائے۔ وہ اپنی نبوت کو اسلام کے مقدس پیغمبر ﷺ کی روحانیت کو پیغمبر عطا کرنے والی طاقت کی گواہی کے طور پر دعویٰ کرتے ہیں۔ لیکن اگر آپ ان سے یہ پوچھیں کہ آیا محمد ﷺ کی روحانیت ایک سے زیادہ پیغمبر عطا کرنے پر قادر ہے تو ان کا جواب ہو گا ”نہیں“ درحقیقت اس بات سے مراد ہی یہ ہے کہ ”محمد ﷺ آخری نبی نہیں ہیں میں آخری نبی ہوں“۔ انسانی تاریخ میں بالعموم اور ایشیا میں بالخصوص، ختم نبوت کے اسلامی نظریہ کی ثقافتی قدر کے فہم سے کوسوں دور وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ختم نبوت سے یہ مراد ہے کہ محمد ﷺ کا کوئی پیروکار نبوت کے مقام تک نہیں پہنچ سکتا جو محمد ﷺ کی نبوت کے ناقص ہونے کی ایک علامت ہے۔ جہاں تک میں نے اس کے ذہن کی نفسیات کا مطالعہ کیا ہے وہ اپنی نبوت کے دعویٰ کے حق میں، یہ سہولت حاصل کرتا ہے جسے وہ اسلام کے پاک پیغمبر ﷺ کی تخلیقی روحانیت سے تعبیر کرتا ہے اور عین اسی وقت نبی
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کریم ﷺ کو ان کی ختم نبوت سے بھی ان کی روحانیت کی تخلیقی صلاحیت سے صرف ایک ہی نبی کی تخلیق تک یعنی احمدیہ تحریک کے بانی تک محدود کر کے محروم کر دیتا ہے۔ اس طرح کیا نیا پیغمبر خاموشی سے اس ہستی سے اس کی ختم نبوت کو چرا لیتا ہے جسے وہ اپنا روحانی وارث ہونے کا دعویٰ کرتا ہے؟ وہ اسلام کے نبی پاک ﷺ کا ’’بروز‘‘ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آپ ﷺ کا ’’بروز‘‘ ہونے کے ناتے اس کی ختم نبوت دراصل محمد ﷺ کی ختم نبوت ہے اور یہ کہ معاملہ کا ایک نکتہ نظر نبی پاک ﷺ کی ختم نبوت کی خلاف ورزی نہیں کرتا ہے۔ دونوں ختم ہائے نبوت کی شناختوں میں، ایک اس کی اپنی اور دوسری نبی پاک ﷺ کی، وہ نظریہ ختم نبوت کے دنیاوی معنی کے نظارہ کو بڑی سہل پسندی سے کھو دیتا ہے، تاہم یہ صاف واضح ہے کہ لفظ ’’بروز‘‘ حتیٰ کہ مکمل مماثلت کے مفہوم کے باوجود اس کی کوئی مدد نہیں کر سکتا کیونکہ ’’بروز‘‘ کو اپنی اصل کے ہمیشہ دوسری طرف رہنا ہوتا ہے۔ صرف نتائج کے مفہوم میں ’’بروز‘‘ اپنی اصل کی مثل بن جاتا ہے پس اگر ہم لفظ ’’بروز‘‘ سے یہ مراد لیں ’’روحانی صلاحیتوں میں ایک جیسا‘‘ تو یہ دلیل غیر مؤثر ٹھہرتی ہے۔ اگر دوسری طرف لفظ کے آریائی مفہوم ہیں اس سے مراد اصل کے نتائج لیں تو یہ دلیل قابل فہم بن جاتی ہے لیکن اس کا مصنف محض بہروپیا مجوسی بن جاتا ہے۔
سپین کے عظیم مسلم صوفی محی الدین ابن عربی کے اس قول پر مزید دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ایک مسلمان بزرگ کے لیے اپنی روحانی ارتقاء میں پیغمبرانہ شعور ہی کی تجزیاتی خصوصیات کی مثل صلاحیت حاصل کرنا ممکن ہے۔ میں ذاتی طور پر شیخ محی الدین ابن عربی کے اس نکتہ نظر کو نفسیاتی طور پر درست نہیں سمجھتا ہوں لیکن اسے درست فرض کر لیا بھی جائے تب بھی قادیانی دلیل ان کی صحیح حیثیت کے بارے میں مکمل طور پر غلط فہمی کی بنیاد پر قائم ہے۔
شیخ اس بات کو خالصتاً ذاتی کامیابی گردانتے ہیں جو ایسے کسی بزرگ کو یہ قرار نہیں دلواتی اور نہ ہی اشیاء کی فطرت میں ایسا ہو سکتا ہے کہ وہ تمام لوگ جو اس پر یقین نہیں رکھتے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ درحقیقت شیخ کے نقطہ نظر میں ایک ہی زمانے یا ملک میں رہنے والے ایک سے زیادہ بزرگ ہو سکتے ہیں جو پیغمبرانہ شعور حاصل کر سکتے ہیں۔ جس نکتہ کو سمجھنا چاہیے وہ یہ ہے کہ کسی بزرگ کے لیے پیغمبرانہ تجربہ کو حاصل کرنا نفسیاتی طور پر ممکن ہے اس کا اپنا تجربہ کسی نئی تنظیم کے لئے خود اسے مرکز بنا دینے کے لیے کسی سماجی اور سیاسی اہمیت کا حامل نہیں ہو گا اور خود کو اس تنظیم کے لیے اس خطاب کا حق دار قرار دینا کہ ایمان کا دارومدار وہ خود ہے یا محمد ﷺ کے پیروکار کا انکار ہے۔
اس پراسرار علم نفسیات کو ایک طرف رکھتے ہوئے، میں فتوحات کے متعلقہ اقتباسات کے محتاط مطالعے سے اس بات پر قائل ہوں کہ عظیم ہسپانوی صوفی محمد ﷺ کے ختم نبوت پر اتنا ہی پکا ایمان رکھتے ہیں جتنا کہ کوئی دوسرا کٹر مسلمان رکھتا ہے اور اگر انہیں اپنے صوفیانہ نگاہ سے دیکھ لیتے کہ ایک دن مشرق میں صوفی ازم میں کوئی متنبی ان کی صوفیانہ علم نفسیات کے پردے تلے نبی کریم ﷺ کے ختم نبوت کو تباہ کرنا چاہے گا وہ یقیناً ہندوستانی علماء کو پیشگی کہہ دیتے کہ دنیا کے مسلمانوں کو اسلام کے اندر ان غداروں کے بارے میں تنبیہ کر دیں۔
اب احمدیت کی اصل روح کی طرف آتے ہیں۔ ان ذرائع پر بحث اور اس انداز پر جس میں قبل از اسلام مذہبی نظریات نے اسلامی تصوف کے ذرائع کے ذریعے اس کے مصنف کے ذہن پر کس طرح کام کیا۔ وہ تقابل ادیاں کے نکتہ نظر سے بہت دلچسپ ہوگا۔ تاہم یہاں پر اس بحث کو چھیڑنا میرے لیے ناممکن ہو گا۔ اتنا کہنا ہی کافی ہو گا کہ احمدیت کی اصل فطرت قرون وسطیٰ کے صوفی ازم اور مذہبیت کی ضد میں چھپی ہوئی ہے۔ اس لیے ہندوستانی علماء نے اسے خالصتاً مذہبی تحریک کے طور پر لیا اور اس سے نمٹنے کے لئے مذہبی ہتھیار کے ساتھ سامنے آئے۔ تاہم میرا یقین ہے کہ اس تحریک سے نمٹنے کا یہ مناسب طریقہ نہیں تھا اور اس لیے علماء کی کامیابی جزوی تھی۔ بانی تحریک کی تعلیمات کا محتاط نفسیاتی تجزیہ شاید ان کی شخصیت کی باقی زندگی کی پردہ کشائی کا مؤثر طریقہ ہو گی۔ اس سلسلے میں مولوی منظور الٰہی کی بانی
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا
کی تعلیمات کے ذخیرہ (ملفوظات احمدیہ مرتبہ منظور الٰہی) کا ذکر کر سکتا ہوں جو اس کے وافر تنوع مواد کی نفسیاتی تحقیق کی دعوت دیتا ہے۔ میری رائے میں یہ ایک کتاب بانی کے کردار اور تحقیق کے لیے کلید مہیا کرتی ہے اور میں یہ امید کرتا ہوں کہ ایک دن جدید علم نفسیات کا کوئی نوجوان طالب علم اس کا سنجیدہ مطالعہ کرے گا۔ اگر وہ اپنا معیار قرآن کو بنائے ، جو کہ اسے بوجوہ جن کی یہاں وضاحت نہیں ہو سکتی کو بنانا چاہئے اور اپنے مطالعہ کو احمدیہ تحریک کے بانی کے تجربات اور ہم عصر غیر مسلم صوفیاء کے تقابلی جائزہ کی حد تک بڑھاتا ہے جیسا کہ بنگال کے رام کرشنا ہیں ۔ اسے تجربے کے لازمی عنصر کے حوالے سے جن کی بنیاد پر احمدیت کے بانی کے لیے نبوت کا دعویٰ کیا جاتا ہے ، ایک سے زیادہ بار حیرتوں سے دوچار ہونا پڑے گا۔
ایک سادہ آدمی کے نقطہ نظر سے دوسرا یکساں مؤثر اور مزید مفید طریقہ یہ ہے کہ احمدیت کے اصل جڑ کو کم از کم ۱۷۹۹ء سے ہندوستان میں مسلم مذہبی تاریخ کی روشنی میں سمجھنا چاہئے ۔ سال ۱۷۹۹ء عالم اسلام کی تاریخ میں بے حد اہمیت کا حامل ہے اس سال ٹیپو کو شکست ہو گئی اور اس کی شکست کا مطلب ہندوستان میں سیاسی وقار کے لیے مسلم امیدوں کا خاتمہ تھا ۔ اسی سال نوارینو کی جنگ لڑی گئی جس میں ترکی بحری بیڑہ تباہ ہو گیا تھا ۔ ٹیپو کی شکست پر تاریخ کی تخریج کے مصنف کے یہ الفاظ الہامی تھے جسے سرنگا پٹیم کے سیاح ٹیپو کے مقبرہ کی دیوار پر کندہ دیکھتے ہیں ” انڈیا کے ساتھ ساتھ روم کی عظمت رخصت ہو چکی‘‘ پس سال ۱۷۹۹ء میں ایشیا میں اسلام کا سیاسی بخت اپنی آخری حد تک پہنچ چکی تھی ۔ لیکن بعینہ جینا کے دن جرمنی کی ذلت سے جس طرح جدید جرمن قوم کھڑی ہو گئی اسی سچائی کے ساتھ یہ کہا جا سکتا ہے کہ سال ۱۷۹۹ء میں اسلام کی سیاسی بے وقاری سے جدید اسلام اور اس کے مسائل نے جنم لیا۔ اس نکتہ کی میں بعد میں وضاحت کروں گا۔ فی الحال میں ان چند سوالات کی طرف قاری کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں جو مسلم انڈیا میں ٹیپو کی شکست اور ایشیا میں یورپی سامراجیت کے ارتقاء کے وقت سے پیدا ہوئے ہیں۔ کیا اسلام میں خلافت کا تصور ایک مذہبی ادارے کو جنم دیتا ہے؟ ہندوستانی مسلمان اور ترک سلطنت سے باہر والے تمام مسلمانوں سے متعلقہ معاملات کا ترکی کی خلافت سے کیسے تعلق ہے؟ کیا ہندوستان دارالحرب ہے یا دارالسلام؟ اسلام میں جہاد ڈاکٹرائن کا حقیقی مفہوم کیا ؟ قرآنی آیت : ” خدا کی اطاعت کرو، رسول ﷺ کی اطاعت کرو اور سلطان کی اطاعت کرو ، یعنی اسے میں نے حکمران کیا تم میں سے‘‘ ”تم سے اصطلاح‘‘ کا کیا مطلب ہے؟ امام مہدی علیہ الرضوان کے ظہور کی پیشینگوئی پر مبنی پیغمبر ﷺ کی روایت کی کیا اہمیت ہے؟ یہ اور چند دوسرے سوال جو ما بعد پیدا ہوئے ۔ ظاہری وجوہات کی بنیاد پر ،صرف ہندوستانی مسلمانوں کے لیے ہی تھے : تاہم یورپی سامراج جو اس وقت عالم اسلام میں بڑی تیزی کے ساتھ سرایت کرتا جا رہا تھا، بھی ان سوالات میں گہری دلچسپی رکھتا تھا۔ وہ متنازع فیہ معاملات جن سے ان سوالات نے جنم لیا ، ہندوستان میں اسلامی تاریخ کا سب سے دلچسپ باب بناتے ہیں ، کہانی بہت طویل ہے جس کے لیے ابھی تک بہت طاقتور قلم کی ضرورت ہے ۔ مسلم سیاستدان جن کی نگاہیں زیادہ تر صورتحال کے حقائق پر جمی ہوئی تھیں ۔ علماء کے ایک طبقے کو اعتماد میں لینے پر کامیاب ہو گئے کہ علماء مذہبی دلیل جسے وہ صورتحال پر منطبق تصور کرتے تھے کا طریقہ اختیار کریں لیکن یہ امر جو ہندوستان میں اسلام کے ماننے والوں کے شعور پر صدیوں تک حکمرانی کر چکا تھا اس کے ذریعے عقائد کو محض منطقی طور پر ختم کرنا آسان نہ تھا۔ اس صورتحال میں منطق یا تو سیاسی مصلحت کی بنیاد پر کارفرما ہو سکتی تھی یا سنتوں اور روایات کی تازہ آگہی خطوط پر آگے بڑھ سکتی تھی ۔ ہر دو صورتوں میں دلیل عوام الناس کو اپیل کرنے میں کم ہو جائے گی ۔ اسلام کے بہت زیادہ مذہبی لوگوں کو صرف ایک بات نتیجہ خیز اپیل کا کام کر سکتی ہے اور وہ ہے الہامی اتھارٹی ۔ مذہبی عقائد کے مؤثر خاتمے کے لیے یہ ضروری پایا گیا کہ درج بالا سوالات سے ہم کو مذہبی ڈاکٹرائن کے سیاسی طور پر مفید پیشکش کے لیے ایک الہامی بنیاد کو تلاش کیا جائے ۔ یہ الہاماتی بنیاد احمدیت فراہم کرتی ہے اور خود احمدی اپنی
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
طرف سے برطانوی سامراجیت کے لیے اسے سب سے عظیم خدمت سرانجام دینے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ سیاسی اہمیت کے مذہبی تصورات کے لیے الہیاتی بنیاد کا پیغمبرانہ دعویٰ سے قرار دینے کے مترادف ہے کہ وہ جو مدعی کے نظریات کو قبول نہیں کرتے ہیں وہ بدترین کافر ہیں اور ان کا مقدر جہنم کی آگ ہے۔ جیسا کہ تحریک کی اہمیت کو سمجھتا ہوں کہ احمدی عقیدہ کہ مسیح علیہ السلام ایک عام انسان کی طرح فوت ہو گئے اور یہ کہ ان کے اس دوسرے ظہور کا مطلب صرف ایک شخص کا ظہور جو روحانی طور پر ان کے جیسا ہے، تحریک ایک قسم کی منطقی شکل وجوہات عطاء کرتا ہے، لیکن وہ تحریک کی روح کے لیے حقیقتاً ضروری نہیں ہے۔ میری رائے میں وہ صرف مکمل نبوت کے تصور کی طرف ابتدائی اقدامات ہیں جو تن تنہا، تحریک کے ان مقاصد کو پورا کر سکتی ہے جو اسے بالآخر ایک سیاسی قوت کے طور پر معرض وجود میں لا سکے۔ قدیم ممالک میں یہ منطق نہیں بلکہ اتھارٹی ہے جو لبھاتی ہے۔ جہالت کی وافر مقدار کی موجودگی میں خوش فہمی بسا اوقات حیران کن حد تک اچھی خاصی ذہانت کے ساتھ ساتھ شریک موجود ہوتی ہے اور ایک شخص جو اس حد تک گستاخ ہو کہ اپنے آپ کو آسمانی وحی کا حامل قرار دے دے اور جس کا انکار دائمی طور پر مذمت پر منتج ہو، یہ خاص مسلمان ملک میں آسان ہے کہ سیاسی مذہبیات کو ایجاد کیا جائے اور ایک ایسی قومیت کو پروان چڑھایا جائے جس کا نصب العین ہی سیاسی بقاء ہو اور پنجاب میں حتیٰ کہ ناکارہ مذہبی اظہار کے ناقص جال کے ذریعے معصوم کسان کو جو کہ صدیوں تک ہر قسم کی استحصال کا پہلے ہی سے ہدف رہا ہے کو بڑی آسانی سے شکار کیا جا سکتا ہے پنڈت جواہر لال نہرو تمام مذاہب کے ماننے والوں کو متحد ہونے کا درس دیتے ہیں اور اس طرح وہ کام میں تاخیر کا باعث بنتے ہیں جسے وہ ہندوستانی نیشنل ازم سے تعبیر کرتے ہیں یہ طعن آمیز تلقین یہ فرض کر لیتی ہے کہ احمدیت ایک اصلاحی تحریک ہے۔ وہ یہ بات نہیں جانتے ہیں کہ جہاں تک ہندوستان میں اسلام کا تعلق ہے احمدیت بے حد اہمیت رکھنے والے مذہبی اور سیاسی دونوں طرح کے مسائل کو الجھاتی ہے۔ جیسا کہ میں نے اوپر وضاحت کی ہے کہ مسلم مذہبی فکری تاریخ میں احمدیت کا کام ہندوستان کے موجودہ سیاسی محکوموں کے لیے ایک الہاماتی بنیاد فراہم کرنا ہے، خالص مذہبی معاملات ایک طرف رکھتے ہیں۔ محض سیاسی مسائل کی بنیاد پر یہ پنڈت جواہر لال نہرو جیسے فرد کو زیب نہیں دیتا کہ انڈین مسلمانوں کو رجعتی قدامت پسندی کا الزام دیں۔ مجھے کوئی شبہ نہیں کہ اگر انہیں احمدیت کی اصل نوعیت پر پوری گرفت ہو جاتی تو ایک ایسی مذہبی تحریک جسے ہندوستان کو پریشانیاں دینے والا الٰہی اتھارٹی کا دعویٰ ہو، کے بارے میں انڈین مسلمانوں کے رویے کو وہ ضرور خراج تحسین پیش کرتے۔
پس قاری دیکھے گا کہ احمدیت کی پھیلاہٹ جسے ہم آج ہندوستانی اسلام کے گالوں پر موجود پاتے ہیں وہ ہندوستان میں مسلم مذہبی فکری تاریخ میں اچانک ظہور نہیں ہے وہ تصورات جو اس تحریک کی شکل میں ڈھل گئے احمدیت کے بانی کی پیدائش سے بہت عرصہ قبل سیاسی مباحث میں نمایاں ہو چکے تھے۔ نہ ہی میرا یہ اشارہ کرنا مراد ہے کہ احمدیت کے بانی اور اس کے ساتھیوں نے اس پروگرام کو جان بوجھ کر پلان کیا ہے میں یہ کہنے کی جرات رکھتا ہوں کہ احمدیہ تحریک کے بانی نے ایک آواز ضرور سنی تھی لیکن آیا یہ آواز زندگی اور طاقت کے خدا کی طرف سے آئی تھی یا لوگوں کے روحانی افلاس سے نکلی تھی۔ اس بات کا انحصار تحریک کی نوعیت پر ہے جسے اس نے جنم دیا ہے اور جس قسم کی فکر اور جذبہ اس نے ان لوگوں کو دیا ہے جو اسے سن چکے ہیں۔ قاری کو ہرگز یہ خیال نہیں کرنا چاہیے کہ میں کوئی استعاراتی زبان استعمال کر رہا ہوں۔ اقوام کی حیاتیاتی تاریخ یہ دکھلاتی ہے کہ جب لوگوں کی زندگی کی موج اترنے لگتی ہے تو یہ زوال از خود الہام کا ایک ذریعہ بن جاتا ہے۔ ان کے شاعروں، فلاسفروں، صوفیوں، مدبر سیاستدانوں کو متاثر کرنے لگتا ہے اور ان کو حواریوں کی جماعت میں بدلنے لگتا ہے جس کا واحد کام منطق کے نہایت دلفریب فن کی طاقت سے اپنے لوگوں کی زندگیوں میں ہر طرح کی ذلت اور گندگی کی تیرگی عطاء کرنا ہوتا ہے۔ یہ حواری غیر شعوری طور پر مایوسی کو امید زرق برق کپڑوں میں ملبوس کرتے ہیں، اظہار کے روایتی قدروں کو پامال کرتے ہیں اور اس طرح ان
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
لوگوں کی جو ان کا شکار ہو جاتے ہیں کی روحانی جوانمردی کو تباہ کر دیتے ہیں۔ کوئی بھی شخص لوگوں کی مرضی کی گلی سڑی کیفیت کا محض تصور کر سکتا ہے جنہیں مرضی کی الہیاتی اتھارٹی کی بنیاد پر ان کے سیاسی ماحول کو ہی حتمی طور پر قبول کرایا جاتا ہے۔ پس وہ تمام ادا کار جنہوں نے احمدیت کے ڈرامے میں کام کیا، میرا خیال ہے، کہ جہالت کے ہاتھوں میں محض معصوم آلہ کار تھے۔ فارس میں بھی اس سے پہلے یہ ڈرامہ رچایا جا چکا تھا، لیکن وہاں اس نے ویسے مذہبی اور سیاسی معاملے کی قیادت نہیں کی تھی اور نہ ایسا کر سکتا تھا۔ جو احمدیت نے ہندوستان میں اسلام کے لیے پیدا کر دی ہیں۔ روس نے بابی ازم کے لیے رواداری برتی اور بابیوں کو اشک آباد میں اپنا پہلا مشنری مرکز کھولنے کی اجازت دی۔ انگلستان نے بھی ووکنگ میں اپنا پہلا مشنری مرکز کھولنے کی اجازت دے کر احمدیوں کے لیے اس رواداری کا مظاہرہ کیا۔ آیا روس اور انگلستان نے سامراجی مصلحت کا مظاہرہ کیا یا خالصتاً وسیع القلبی کی بناء پر ہمارے لیے اس کا فیصلہ کرنا مشکل ہے یہ بات بالکل واضح ہے کہ اس رواداری نے ایشیا میں اسلام کے لیے مشکل مسائل پیدا کر دیئے ہیں۔ اسلام کی ساخت کے لحاظ سے جیسا کہ میں اس کی تفہیم کرتا ہوں میرے ذہن میں ذرہ برابر شائبہ نہیں ہے کہ اسلام اپنے خلاف پیدا کردہ ان تمام مشکلات میں سے زیادہ خالص ہو کر ابھرے گا۔ ہندوستان میں معاملات نے پہلے اپنا نیا رخ اختیار کیا ہے۔ جمہوریت کی تازہ روح جو ہندوستان میں آ رہی ہے احمدیوں کو یقیناً ان کے اعتقاد کے بے معنی ہونے پر مایوس کر دے گی اور انہیں مذہبی ایجاد کے مطابق بے کار ہونے پر قائل کر لے گی۔ نہ ہی اسلام قرون وسطیٰ کے تصوف کی کسی احیاء کی اجازت دے گا جس سے پہلے ہی اپنے پیرو کاروں سے ان کی صحت مندانہ جبلتوں کو بدلے میں انہیں صرف مبہم افکار دیتے ہیں۔ پچھلی صدیوں کے دوران یہ تصوف اسلام کے بہترین اذہان کو کھا گیا ہے اور ریاست کے معاملات کی صرف اوسط درجے کے لوگوں کے حوالے کر گیا ہے۔ جدید اسلام اس تجربے کو دہرانے کی اجازت نہیں دے سکتا ہے۔ نہ ہی پنجاب والے تجربے کو دہرانے کے روادار ہو سکتے ہیں جس نے مسلمانوں کو پچاس سالوں تک ان مذہبی مسائل میں الجھائے رکھا تھا جس کا زندگی کے حوالے سے کوئی سروکار ہی نہیں تھا۔ اسلام پہلے ہی تازہ فکر اور تجربے کی چکا چوند روشنی میں داخل ہو چکا ہے اور کوئی صوفی یا پیغمبر اسے قرون وسطیٰ کے دھندلکوں میں واپس نہیں لا سکتا ہے۔
آخر میں انہوں نے پنڈت نہرو کے اس دعویٰ سے اختلاف کیا کہ قادیانی اور اسماعیلی ایک ہی زمرے میں شمار ہوتے ہیں۔
”قادیانیوں کے برعکس، اسماعیلی اسلام کے بنیادی اصولوں پر یقین رکھتے ہیں“ انہوں نے اس کی وضاحت کی۔
”درج بالا پیرا گراف آج عالم اسلام کی درست صورتحال کا الگ بیان کرتے ہیں۔ اگر اسے صحیح طور پر سمجھ لیا جائے تو یہ واضح ہو جائے گا کہ اسلامی یکجہتی کی بنیادیں کسی بیرونی یا اندرونی قوتوں کے ہاتھوں نہیں ہلی ہیں۔ اسلام کی یکجہتی، جیسے کہ میں نے پہلے وضاحت کی ہے ۔ اسلام کے دو ساختیاتی اصولوں پر بمعہ پانچ مشہور و معروف ”ارکان ایمان“ پر یکساں ایمان پر مشتمل ہے یہ اسلامی یکجہتی کے اولین لازمی امور ہیں جو ان معنوں میں نبی پاک ﷺ کے عہد سے لے کر اس وقت تک موجود رہے ہیں۔ جب تک فارس میں بہائیوں اور ہندوستان میں قادیانیوں نے فی زمانہ اس میں مداخلت نہیں کر لی۔ یہ عالم اسلام میں عملاً یکساں روحانی ماحول کی ضمانت ہے۔ یہ مسلم ریاستوں کے سیاسی اتحاد میں سہولت کار ہیں۔ جو یہ اتحاد دنیاوی ریاستوں (مثالی) کی شکل میں ہو سکتا ہے یا مسلم ریاستوں کی لیگ کی شکل میں یا پھر متعدد آزاد ریاستوں کی شکل میں جن کے معاہدات اور اتحاد خالصتاً اقتصادی اور سیاسی مقاصد کے ساتھ طے پاتے ہیں، یہ ہے اس مذہب کا تصوراتی ڈھانچہ جو کہ وقت کے تعامل کے ساتھ متعلق ہے اس تعلق کی گہرائی کو صرف قرآن کی مخصوص آیات کی روشنی میں سمجھا جا سکتا ہے اور یہاں اس کی وضاحت موضوع زیر بحث سے ہٹے بغیر ممکن نہیں ہے۔ سیاسی طور پر اسلام کی یکجہتی تب متزلزل ہو جاتی ہے جب مسلمان ریاستیں ایک دوسرے کے خلاف جنگ مسلط کریں ۔ مذہبی طور پر اس وقت یہ متزلزل ہوتی ہے جب مسلمان کسی بنیادی عقیدے یا ارکان
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ایمان کے خلاف بغاوت کردیں۔ یہ بات اس ابدی یکجہتی کے مفاد میں ہے کہ اسلام اپنے دائرے کے اندر کسی باغی گروہ کو برداشت نہیں کر سکتا۔ دائرہ اسلام کے باہر ایسا گروہ اسی برداشت اور رواداری کا حق دار ہے جیسا کہ کسی بھی دوسرے مذہب کے ماننے والوں کا حق ہے۔ مجھے یہ لگتا ہے کہ لمحہ موجود میں اسلام عرصہ تغیر سے گزر رہا ہے۔ یہ سیاسی یکجہتی کی ایک قسم سے دوسری شکل میں منتقل ہورہا ہے جس کے بارے میں تاریخی قوتوں نے ابھی تعین کرنا ہے۔ جدید دنیا میں واقعات اتنی تیزی سے رونما ہورہے ہیں کہ کوئی بھی پیشین گوئی کرنا قریباً ناممکن ہے۔ اگر ایسی ہی کوئی شے سامنے آئی تو سیاسی طور پر متحد اسلام کا ان غیر مسلموں سے کیا سلوک ہوگا یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب صرف تاریخ ہی دے سکتی ہے میں جو کچھ کہہ سکتا ہوں وہ یہ ہے کہ ایشیا اور یورپ کے درمیان راستے ہونے اور زندگی کے بارے میں مشرقی اور مغربی نظریات کے آمیزش کے طور پر اسلام کو مشرق و مغرب کے مابین مصالحت کار کا سا کردار ادا کرنا ہے لیکن جب یورپ کی حماقتیں ناقابل مفاہمت اسلام کو تخلیق کرتی ہیں اور جیسا کہ یورپ میں دن بہ دن نئی نئی چیزیں پنپ رہی ہیں ان کا تقاضا ہے کہ یورپ اسلام کے بارے میں یورپی رویے کی بنیادی تبدیلی آنی چاہیے۔ ہم صرف امید ہی کر سکتے ہیں کہ سیاسی نظریہ سامراجی تسلط یا اقتصادی استحصال کے ہاتھوں خود کو اس کا شکار نہیں ہونے دے گا۔ جہاں تک ہندوستان کا تعلق ہے میں پورے اعتماد کے ساتھ یہ کہہ سکتا ہوں کہ ہندوستان کے مسلمان سیاسی مثالیت کی کسی بھی قسم کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے جو بھی ان کے ثقافتی تشخص کو برباد کرنا چاہے گی، اس یقینی بات کے ناتے مذہب اور حب الوطنی کے دعویٰ کی توثیق کو جاننے کے لیے ان پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے۔ عزت مآب آغا خان کے بارے میں صرف ایک لفظ پنڈت جواہر لال نہرو کو آغا خان پر حملہ کرنے پر کس چیز نے آمادہ کیا میرے لیے اس کو دریافت کرنا مشکل ہے شاید وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ قادیانی اور اسماعیلی ایک ہی زمرے کے تحت آتے ہیں۔ واضح طور پر وہ اس بات سے واقف نہیں ہیں کہ اگرچہ اسماعیلیوں کی مذہبی تشریح میں غلطی ہو سکتی ہے تاہم وہ اسلام کے بنیادی عقائد پر یقین رکھتے ہیں یہ درست ہے کہ وہ ایک دائمی امانت پر یقین رکھتے ہیں لیکن ان کے نزدیک امام کسی وحی کا حامل نہیں ہوتا ہے وہ صرف قانون کا شارع ہوتا ہے یہ اگلے دن کی بات ہے (بحوالہ The Stay Allahabad مؤرخہ ۱۲؍ مارچ ۱۹۳۴ء) کہ عزت مآب آغا خان نے اپنے پیروکاروں سے حسب ذیل تقریر فرمائی:
’’گواہ ہو جاؤ کہ اللہ ایک ہے محمد ﷺ اللہ کے نبی ہیں قرآن اللہ کی کتاب ہے۔ کعبہ سب کا قبلہ ہے تم سب مسلمان ہو اور مسلمانوں کے ساتھ رہنا چاہیے۔ مسلمانوں کو السلام علیکم کہا کرو۔ اپنے بچوں کے نام اسلامی رکھا کرو۔ مسلمانوں کے ساتھ مساجد میں نماز ادا کیا کرو۔ باقاعدگی سے روزے رکھا کرو۔ اپنی شادیوں کو نکاح کے اسلامی اصولوں کے مطابق کیا کرو۔ سارے مسلمانوں سے اپنے بھائیوں جیسا سلوک کیا کرو۔‘‘
اب یہ پنڈت جی کے لیے ہے کہ وہ فیصلہ کریں کہ آغا خان اسلام کی یکجہتی کی نمائندگی کرتے ہیں یا نہیں؟
مؤرخہ ۲۱؍ جون ۱۹۳۶ء کو پنڈت جواہر لال نہرو کے نام لکھے گئے ایک خط میں ڈاکٹر اقبال نے کہا کہ احمدی ہندوستان اور اسلام دونوں کے غدار ہیں:
’’میرے عزیز پنڈت جواہر لال نہرو! آپ کا مکتوب جو مجھے کل ملا تھا، کے لیے آپ کا بہت شکریہ۔ اس وقت جب میں نے آپ کے آرٹیکلوں کے جواب میں لکھا تھا مجھے یقین تھا کہ آپ کو احمدیوں کے سیاسی رویّہ کا تصور نہیں تھا، درحقیقت وہ بنیادی وجہ جس کے باعث میں نے جواب لکھا تھا، بالخصوص آپ کو دکھانا مقصود تھا کہ کس طرح مسلم وفاداری کا آغاز ہوا تھا اور کس طرح بتدریج اس نے احمدیت میں وحی پر مبنی بنیاد تلاش کر لی تھی۔ مقالے کی اشاعت کے بعد میں نے شدید حیرت میں دریافت کیا کہ حتیٰ کہ تعلیم یافتہ مسلمانوں کو بھی ان تاریخی
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عوامل کا کوئی تصور نہیں تھا جنہوں نے احمدیت کی تعلیمات کو شکل دی تھی۔ مزید برآں پنجاب کے اور اس کے علاوہ دوسری جگہوں کے مسلمانوں نے آپ کے آرٹیکلوں پر سخت اضطراب محسوس کیا جیسا کہ انہیں لگا کہ آپ کو احمدیہ تحریک سے ہمدردی تھی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ احمدی آپ کے آرٹیکلوں پر بہت شاداں وفرحاں تھے۔ احمدی پریس آپ کے بارے میں اس غلط فہمی کا بنیادی طور پر ذمہ دار تھا۔ تاہم میں یہ جان کر بہت خوش ہوں کہ میرا تاثر غلط تھا۔ مجھے خود مذہبیات میں بہت کم دلچسپی ہے لیکن مجھے اس معاملے میں کچھ حد تک شامل ہونا پڑا تا کہ احمدیوں کو ان کی اپنی سطح پر جواب دے سکوں۔
میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں نے اپنا مقالہ اسلام اور ہندوستان کے بہترین مفاد میں تحریر کیا تھا۔ میرے ذہن میں کوئی ابہام نہیں ہے کہ احمدی اسلام اور ہندوستان دونوں کے غدار ہیں۔
مجھے آپ سے لاہور میں ملاقات کا موقع ضائع ہونے پر بہت زیادہ افسوس ہوا تھا۔ میں ان دنوں بیمار تھا اور اپنی جگہ سے ہل نہیں سکتا تھا۔ پچھلے دو سال سے میں مسلسل بیماری کے باعث عملاً ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہا ہوں۔ یہ خبر دیجئے کہ آپ اگلی بار کب پنجاب تشریف لائیں گے۔ کیا آپ کو اپنے لبرل آزادیوں کے مجوزہ اتحاد سے متعلق میرا خط موصول ہوا؟ جیسا کہ آپ نے اپنے خط میں اس کا تذکرہ نہیں کیا ہے اس لیے مجھے خوف ہے کہ یہ آپ تک نہیں پہنچا۔
آپ کا مخلص: محمد اقبال‘
۵۲...... ڈاکٹر محمد اقبال کی قادیانیت پر تحریریں مسلمانوں کے اذہان پر بہت اثر انداز ہوئیں۔ اس سے ہندوستان اور اسلامی دنیا میں قادیانی الحاد کے خلاف خاصا غم وغصہ پیدا ہوا۔ یہ ڈاکٹر اقبال کی قادیانیت کے خلاف جدوجہد کا نتیجہ تھا کہ انجمن حمایت اسلام لاہور نے ۱۹۳۵ء کے اپنے سالانہ اجلاس میں وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل میں سر ظفر اللہ کے بحیثیت مسلم رکن شمولیت کے خلاف قرارداد پاس کی۔ ڈاکٹر محمد اقبال نے اجلاس کی صدارت کی اور مولانا ظفر علی خان نے اکثریتی حمایت سے یہ قرارداد پیش کی۔ اگلے سال (۱۹۳۶ء) میں احمدیہ گروہ کے ارکان کو انجمن سے نکال باہر کیا۔ یہ امر مرزا یعقوب بیگ لاہور جماعت کے ایک سینئر احمدی اور انجمن کی جنرل کونسل کے رکن کے حق میں مہلک ثابت ہوا۔
۵۳...... سب سے سنگین مسئلہ جس کے ریاست پاکستان کے لیے سنگین مضمرات تھے اور تا حال ہیں وہ ملک میں قادیانیوں کی اصل تعداد کا ظاہر نہ ہونا ہے۔ یہ بات ریکارڈ پر آئی ہے کہ اصل آبادی کا کبھی معلوم نہیں ہوسکا ہے۔ کاغذوں میں درج ”تعداد“ ہمیشہ اتنی کم رکھی گئی ہے کہ اس گروہ کی اکثریت شناخت جان بوجھ کر پوشیدہ رکھی گئی ہے تا کہ خود کو مسلمان ظاہر کر کے ریاستی اداروں میں گھسنے کے قابل ہوسکیں اس صورتحال کا سال ۱۹۷۴ء میں پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی کے اراکین نے سنجیدگی سے نوٹس لیا تھا۔ مختلف جماعتوں کے اراکین اور بالخصوص متحرک اراکین جو حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھتے تھے نے بہت اہم سوالات اٹھائے اور اس معاملے میں انہوں نے سنجیدہ نوعیت کے تحفظات کا اظہار کیا۔ اس نکتہ کو واضح کرنے کے لیے کمیٹی کی (چند) رپورٹ شدہ تقاریر سے اقتباسات حسب ذیل دئے گئے ہیں:
ڈاکٹر غلام حسین: پی پی رہنماء اور جہلم سے رکن پارلیمان نے ۵؍ستمبر ۱۹۷۴ء کو تعدادی قوت پر حسب ذیل سوال کیا:
”ہم نے قادیانیوں کے دونوں گروہوں سے ان کی پاکستان میں عددی قوت کے بارے میں پوچھا۔ لیکن انہوں نے صحیح تعداد بتانے سے گریز کیا۔ انہوں نے مختلف جوابات دیئے۔ ایک موقع پر یہ تعداد ۳۵ لاکھ بتائی گئی۔ جب کہ دوسرے موقع پر ۳۰ لاکھ اور یہاں تک کہا گیا کہ ہمارے ان کے پاس ہر ایک رکن کا ریکارڈ موجود ہے۔ جب بھی کوئی نیا رکن گروہ میں شامل ہوتا ہے وہ اپنی تمام تفصیلات مہیاء کرتا ہے۔“
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سردار مولا بخش سومرو: ممبر پارلیمان سے پاکستان پیپلز پارٹی سکھر سے تعلق، مؤرخہ ۲؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کو اپنی تقریر میں کہا کہ: ”جناب! اب یہ بالکل صاف واضح ہے کہ یہ (قادیانیت) ایک منصوبہ تھا اور اس منصوبہ کو اس کی تمام تر محرکات کے ساتھ زیر بحث لایا جاچکا ہے۔ اس کے بعد اس بات میں کوئی دو رائے نہیں ہوسکتی کہ مسلم تصور کے نزدیک وہ ”کافر“ کے علاوہ کچھ نہیں، اب جب کہ یہ بات بالکل واضح ہو چکی ہے، اس وضاحت کے بعد یہ نتیجہ نکالا یا اقدام اٹھایا جائے گا وہ نہ صرف انہیں غیر مسلم قرار دینا ہو گا بلکہ ان کی تمام شائع شدہ کتب اور لٹریچر پر بھی پابندی لگانا ہوگی۔ جناب! ان (قادیانیوں) کے عزائم واضح ہیں۔ ان کا نشانہ حضرت محمد ﷺ کی شان اقدس ہے اور وہ اسی شان اقدس کے طلبگار ہیں اور ان کا مقصد اس کو حاصل کرنا ہے۔ اس لیے جناب ان کی اشاعت پر پابندی لگنی چاہیے۔
ڈاکٹر بیگم اشرف خاتون عباسی: خواتین کی نمائندگی کرتے ہوئے، پی پی پی لاڑکانہ سے تعلق، ۵؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کی تقریر کی اور اس بات کی نشاندہی کی کہ: ”جناب! معزز اراکین کے مباحث اور تقاریر کو سننے کے بعد اور اس مقرر خصوصی کمیٹی کے روبرو ”محضر نامے“ پیش ہونے کے بعد اور احمدی جماعت کے دو رہنماؤں پر جرح کے بعد اس امر کو آشکار کر دیا ہے اور اس میں کوئی ابہام باقی نہیں رہا کہ یہ احمدی اور قادیانی یا آپ ان کو جو بھی نام دیں، ہم میں سے نہیں ہیں۔ مسلمان جیسا کہ ہم ہیں میں اس بات پر زور دینا چاہتی ہوں کہ پاکستان کی خواتین آبادی کو بھی اس مسئلہ پر اتنے ہی تحفظات ہیں جتنے کہ پاکستان کی مرد آبادی کو ہیں۔ ہم جانتے ہیں جناب کہ مسئلہ قطعاً واضح ہو چکا ہے اور ہم ہمیشہ کے لیے اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے خاص قوانین پاس کرنے والے ہیں۔ اس مسئلہ کے حل کے بعد ہمیں حل کے مضمرات کا بھی تجزیہ کرنا ہوگا۔“
ملک محمد سلیمان: نارووال سے پی پی پی رکن پارلیمان نے ۵؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کو اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ: ”ہمارے دوستوں نے قادیانیوں یا مرزائیوں کے لیے ”احمدیوں“ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ ہمیں اس پر بہت شدید اعتراض ہے کہ وہ ”احمدی“ نہیں ہیں۔ اس کا آسان سا مفہوم یہ ہے کہ ہمیں اپنے نبی مہربان ﷺ سے منافرت کا درس دیا جارہا ہے۔ اس بات کا تسلسل سے مظاہرہ کیا گیا ہے۔ یہ احمدی مسئلہ نہیں بلکہ ایک قادیانی مسئلہ ہے۔ مرزا صاحب نے دعویٰ کیا ہے کہ محمد ﷺ کے بعد وہ قادیان (انڈیا) واپس چلے جائیں گے۔ ان کا ایجنڈا اسرائیلیوں کے ایجنڈے سے بالکل مماثل ہے۔ اگر تمام قادیانی نظام کا باریک بینی سے مشاہدہ کیا جائے تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ یہ ایک خطرناک گروہ ہے ان کا مذہب محض ایک دھوکہ ہے اور ان کی تنظیم صہیونیوں کی طرح کی ہے۔“
پروفیسر غفور احمد: ایک رہنما جماعت اسلامی کے رکن پارلیمان اس پر تبصرہ کرتے ہوئے مسئلہ پر روشنی ڈالی کہ: ”دستور میں ترمیم کے بعد ضروری قانون سازی کی جائے گی اور یہ دیکھا جانا ہے کہ کون کون سے قوانین میں ترامیم ہونا ہیں۔ میں تفصیلات میں نہیں جانا چاہتا لیکن میں نشاندہی کر سکتا ہوں کہ متعدد قوانین میں ترامیم کی ضرورت ہوگی اور دستور میں ترمیم کے بعد ان قوانین میں ترامیم بے حد ضروری ہوں گی اور سب سے اوّلین اور ضروری قدم اس حوالے سے احمدی گروہ کی مردم شماری کرانا ہوگی چونکہ قادیانیوں کے لاہوریوں اور ربوہ دونوں گروہوں نے اپنے پیروکاروں کی اصل تعداد سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ اتنا زیادہ منظم گروہ اپنے پیروکاروں کی اصل تعداد سے کیسے بے خبر ہوسکتا ہے؟“
مولانا ظفر احمد انصاری: رہنما تحریک پاکستان اور رکن پارلیمان نے مؤرخہ ۶؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کو کہا کہ:
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
”مرزا غلام احمد نے سال ۱۹۰۱ء میں حکومت سے درخواست کی تھی کہ مردم شماری میں ان کے پیروکاروں کو الگ شمار کیا جائے۔ اس درخواست کو اس وقت کی انگریز حکومت نے منظور کرلیا تھا اور اس پر ۱۹۳۱ء تک عمل ہوتا رہا تا ہم ۱۹۴۱ء میں اس امتیاز نظر انداز کر دیا گیا میری درخواست ہے کہ ہم اس درخواست پر پھر سے عمل کریں گے اور مردم شماری میں ان کا الگ سے شمار کیا جائے گا۔“
جناب عبدالحفیظ پیرزادہ: بھٹو کابینہ کے وفاقی وزیر نے دوسری آئینی ترمیم کے موقع پر پارلیمان کے ایوان میں ایک نہایت اہم اور تاریخی تقریر کی تھی ، انہوں نے قوانین میں مابعد ترامیم اور قادیانیوں کی تعدادی قوت کی شناخت کے مسئلہ پر بالخصوص بات کی۔ انہوں نے پاکستان کے عوام کی خواہش کا تذکرہ کرتے ہوئے اپنی آواز بلند کی:
”پوری تفصیل سے سننے کے بعد ہم محسوس کر سکتے ہیں کہ کیوں مسلمانوں نے اس مسئلہ پر اتنے گہرے اور جذباتی ردّعمل ظاہر کیا تھا۔ ایک چیز جو ہمارے مباحث، اجلاسوں اور گفتگوؤں کے نتیجے میں سامنے آئی وہ یہ ہے کہ ہمارا عقیدہ جو کہ محمد ﷺ کی ختم نبوت کا مسلمانوں کے ایمان کا بنیادی رکن ہے جو کچھ مرضی واقع ہو جائے محمد ﷺ کی ختم نبوت پر ایمان کے بنیادی عقیدے پر کسی بھی صورت میں مسلمان سمجھوتہ نہیں کر سکتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ میں نے کہا: جناب کہ یہ حکومت کا مسئلہ نہیں تھا۔ یہ حزب اختلاف کا مسئلہ نہیں تھا، ہمیں اسے قومی مسئلہ کے طور پر نمٹنا تھا اور قوم اس اہم ترین مسئلہ پر خود کو تقسیم کرنے کی حامل نہ تھی اور اس لیے حکومت کی کوششوں سے حکومت کے رہنماء جناب وزیر اعظم پاکستان کے ذریعے اور اس ایوان میں بیٹھے ہوئے ہمارے سارے دوستوں کے ذریعے اتفاق رائے کے حصول کا مقصد تھا تاکہ اس اہم ترین مسئلہ پر قوم تقسیم نہ ہو۔ قومی اسمبلی کا فیصلہ مکمل اتفاق رائے اور یکجہتی سے آنا چاہئے۔
جناب! مجھے یہ بات مطلقاً واضح کر دینے دیجئے کہ ہمارے دستور کی شق ۲۰ ہر شخص کو اپنے مذہب پر ایمان لانے ، اس کی تبلیغ اور اس پر عمل کرنے کا بنیادی حق دیتی ہے اور یہ کہ ہر گروہ کو آزادی ہوگی اپنے مذہب پر ایمان لانے کی ، اس کی اشاعت کرنے کی اور اس پر عمل کرنے کی لیکن جیسا کہ میں نے کہا کہ مسلمانوں کا عقیدہ ختم نبوت جیسا کے دستور کی شق ۲۶۰ میں بیان کیا جائے گا، یہ رکنِ عقیدے کی بنیاد ہے، اس لیے یہ سفارش تجویز کرتے ہیں کہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۵۔اے میں ایک وضاحت کے اضافے کے ساتھ ترمیم کی جانی چاہیے۔
تعزیرات پاکستان میں ایک شق پہلے سے موجود ہے جو لوگوں کو اپنے مذہب کی اس طرح اشاعت سے روکتی ہے جس سے دوسرے مذہبی عقیدوں کی دل شکنی ہوتی ہو۔ اس لیے ہم مسلمان چونکہ دوسروں کو اپنے مذہب پر عمل کرنے سے، ایمان لانے سے یا اس کی اشاعت کرنے سے نہیں روک سکتے ہیں، لیکن اگر کوئی شخص جو محمد ﷺ کی ختم نبوت کے عقیدے کے خلاف ایمان لایا ہے، عمل کرتا ہے یا اس کی اشاعت کرتا ہے، جیسا کہ شق ۲۶۰ کی ذیلی شق (۳) میں درج کیا گیا ہے، اس شق کے تحت قابل سزا ہوگا۔
جناب! فطری طور پر، ان ترامیم کے ساتھ، متعاقب طریقہ کار پر مبنی ترامیم ہوں گی یا قوانین میں یا ضوابط میں یا فارمز میں تبدیلیاں ہوں گی۔ جیسے کہ ہمارے ”قومی رجسٹریشن ایکٹ اور انتخابی قواعد“ میں اور یہ بھی غور کرنے کے لیے ایک سفارش ہوگی کہ ایسی متعاقب ترامیم مناسب وقت پر حکومت کرے کیونکہ کچھ ایسے قوانین بھی ہو سکتے ہیں جہاں اندراج پر چارج کیا جائے، لوگوں وغیرہ کے ادخال اور اشخاص کے ادخال پر، علیٰ ہذا القیاس وغیرہ وغیرہ:
لیکن دوسری آئینی ترمیم کے بعد، نہ تو قوانین میں متعاقب تبدیلی کی جاسکیں، شاید سیاسی بحران اور فوج کے ہاتھوں دستوری ڈھانچہ کو توڑ دینے کے باعث اور نہ ہی لوگوں کے ادخال وغیرہ اور اشخاص کے ادخال اور علیٰ ہذا القیاس وغیرہ وغیرہ“ کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا جاسکتا ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۵۴...... میں نے درج ذیل نکات واضح کرنے کے لئے مسلمان تاریخی واقعات، مسلم رہنماؤں ، علماء اور دانشوروں، اراکین پارلیمنٹ کے خیالات اور قادیانیت کے خلاف عوامی جدوجہد کا تذکرہ کیا ہے:-
- (i) مسلمان قادیانیت کو غیر مسلم سمجھتے ہیں جو آئینی ترمیم کی صورت میں ان کی حتمی قرارداد بنی۔
- (ii) آئینی ترامیم ملک کی اعلیٰ عدالتوں کی جانب سے عدالتی نظر ثانی کا ٹیسٹ بھی پاس کر چکی ہیں۔
- (iii) قادیانی مسئلہ کی سیاسی بنیادیں اور محرکات ہیں۔ اسی وجہ سے تسلسل کے ساتھ مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ قوانین وضع کئے جائیں تاکہ
قادیانیوں کو اسلام اور مسلمانوں سے علیحدہ کیا جا سکے۔ اس سلسلے میں آرڈیننس ۱۹۸۴ء مشتہر کیا گیا تھا جس کا مقصد ایسے اقدامات کرنا تھا جن سے دوسری آئینی ترمیم کو کسی حد تک موثر بنایا جاسکے۔
- (iv) آرڈیننس ۱۹۸۴ء بھی ملک کی اعلیٰ عدالتوں سے عدالتی نظر ثانی کا ٹیسٹ پاس کر چکا ہے اور اسے آئینی ضمانتوں، اقلیتوں کے
حقوق اور مذہبی آزادی کے عین مطابق ایک درست قانون قرار دیا گیا ہے۔
- (v) وفاقی حکومت کی ذمہ داری تھی کہ آئینی مینڈیٹ کو موثر بنانے کے لئے دیگر قوانین میں ترامیم کرتی لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں کیا
گیا ہے۔
- (vi) اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر کے قادیانیوں کی ریاستی اداروں اور کلیدی عہدوں بشمول اعلیٰ آئینی عہدوں پر تعیناتی اور گھس بیٹھنے
کے عمل کی مؤثر درستگی ہونی چاہئے تھی لیکن اس سمت میں کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے اگر چہ قوم کا مطالبہ اور دوسری آئینی ترمیم کی منشاء یہی ہے۔
- (vii) قادیانی مسئلہ ملک میں ہمیشہ سے بنیادی مسئلے کے طور پر رہا ہے اور حتیٰ کہ آزادی سے پہلے بھی موجود تھا جس کے سبب فوجی
مداخلتیں ہوئیں، حکومتیں تاراج کی گئیں اور آئینی ڈیڈلاک پیدا ہوئے۔ اس مسئلے کی نزاکت فوری اقدامات کی متقاضی ہے لیکن وفاقی حکومت نے مؤثر اقدامات نہیں کئے ہیں جس کے نتیجے میں حالیہ فیض آباد دھرنے کے دوران حکومتی مشینری فیل ہو گئی تھی اور یہ خطرہ آگے بھی موجود رہے گا۔
درج بالا کے تناظر میں، درخواست دہندوں نے عدالت سے رجوع کیا، خاص طور پر آئینی درخواست نمبر 3862/2017 میں کہا گیا کہ سول سروس میں داخل ہونے والے قادیانی/لاہوری گروہ سے تعلق رکھنے والے افراد کا ایک علیحدہ درخواست ہذا تیار کرنے کا حکم دیا جائے تاکہ مستقبل میں اہم نوعیت کے عہدوں پر تعینات نہ کئے جائیں جیسا کہ پٹیشن ہذا میں بتایا گیا ہے اور ایک تفصیلی رپورٹ ریکارڈ پر لائی جائے تاکہ ان افراد / افسران کا پتہ چل سکے جو قادیانی/لاہوری گروہ سے تعلق رکھتے ہیں اور اس وقت وفاقی حکومت میں اپنے عہدوں پر فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔
۵۵...... اس ضمن میں اعتراض کی کوئی بات نہیں کہ عدالت ہذا وفاقی شرعی عدالت کے احکامات کے تحت پابند ہے جو سپریم کورٹ کے وضع کردہ قانون کے تحت آئین کے آرٹیکل ۲۰۳ جی جی اور آرٹیکل ۱۸۹ کے مطابق اس کے دائرہ سماعت میں ہے۔ اس لئے وہ معاملات جو حتمی صورت اختیار کر چکے ہیں اور جن کا اوپر تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے کو نہیں چھیڑا جاسکتا ہے۔
عدالتی معاون کو عدالت کی جانب سے کیے گئے سوال کہ آیا ایک اسلامی ریاست کوئی ایسا قانون بنا سکتی ہے جس کے تحت ایک غیر مسلم کو بالواسطہ یا بلا واسطہ اجازت دی جاسکے کہ وہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرے یا بطور مسلمان اپنی پہچان کروائے؟ اور یہ کہ آیا ایک اسلامی
تحریک ختم نبوت جلد (١٠) ٢٠١٨ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ریاست ایک غیر مسلم شہری کو اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنے کی اجازت دے سکتی ہے؟ اس پر مختلف مکتبہ فکر (جیسے کہ اہل سنت والجماعت بریلوی اور اہل سنت والجماعت دیوبند، اہلحدیث اور اہل تشیع) سے تعلق رکھنے والے عدالتی معاونین کا باہم اتفاق تھا کہ اسلامی ریاست کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں ہے کہ وہ ایسا قانون بنا سکے یا ایسی کوئی اجازت دے سکے۔ اسی طرح، ان سب کا دوسرے سوالات پر بھی اتفاق ہے جیسا کہ اوپر دیئے گئے تفصیلی تذکرے سے واضح ہوتا ہے۔ اوپر دیئے گئے سوالات کے ضمن میں فاضل عدالتی معاون نے اسلام میں مسلمانوں سے غیر مسلموں کی علیحدہ شناخت، شعائر اسلام کا مقام، ان کی اہمیت، اقدامات جو کہ اپنی علیحدہ شناخت اور جدا گانہ خصوصیات کو برقرار رکھنے کے لیے کرنے چاہیے، مسلم کمیونٹی میں غیر مسلموں کی جانب سے اپنی شناخت اور عقیدہ چھپا کر شمولیت پر اسلامی حدود برقرار رکھنے کے لئے اسلامی ریاست کی جانب سے کئے گئے اقدامات کی وضاحت بھی کی ہے۔ ان تمام گزارشات پر ذیل میں غور کیا گیا ہے:
الف...... قرآن مجید کے احکامات: قرآن مجید کی آیات پر انحصار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا گیا کہ اللہ نے تمام مسلمانوں پر شعائر اللہ کی عزت و توقیر کو لازم قرار دیا ہے یہ حکم قرآن مجید کے ان احکامات میں سے ایک ہے جنہیں بار بار ارشاد فرمایا گیا ہے۔ اس بات کا روشن ہدایت میں بار بار دہرانا اسلام میں اس کی اہمیت اور لازمی رکن کے طور پر عظمت کو ظاہر کرتا ہے اس سے فرار کی کوئی گنجائش نہیں او راس کی نافرمانی اللہ کے غضب کو نہ صرف انفرادی بلکہ اجتماعی طور پر دعوت دینے کے لیے کافی ہے۔ شعائر اللہ کے معاملے میں خدا کے حکم کو درج ذیل آیات میں پایا جا سکتا ہے:
آیات:
إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَن يَطَّوَّفَ بِهِمَا وَمَن تَطَوَّعَ خَيْراً فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيْمٌ (158)
بیشک (کوہ) صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں تو جو شخص خانہ کعبہ کا حج یا عمرہ کرے اُس پر کچھ گناہ نہیں کہ دونوں کا طواف کرے (بلکہ طواف ایک قسم کا نیک کام ہے) اور جو کوئی نیک کام کرے تو اللہ تعالیٰ قدر شناس اور دانا ہے۔ (سورۃ 2 آیت 158)
ذٰلِكَ وَمَن يُعَظِّمْ حُرُمَاتِ اللَّهِ فَهُوَ خَيْرٌ لَّهُ عِندَ رَبِّهِ وَأُحِلَّتْ لَكُمُ الْأَنْعَامُ إِلَّا مَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ (30)
”یہ (ہمارا حکم ہے) اور جو شخص ادب کی چیزوں کی جو اللہ نے مقرر کی ہیں عظمت رکھے تو یہ اللہ کے نزدیک اس کے حق میں بہتر ہے اور تمہارے لئے مویشی حلال کر دیئے گئے ہیں سواء اُن کے جو تمہیں پڑھ کر سنائے جاتے ہیں تو بتوں کی پلیدی سے بچو اور جھوٹی بات سے اجتناب کرو۔“ (سورۃ 22 آیت 30)
حُنَفَاء لِلَّهِ غَيْرَ مُشْرِكِينَ بِهِ وَمَن يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاء فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ أَوْ تَهْوِي بِهِ الرِّيحُ فِي مَكَانٍ سَحِيقٍ (31)
”صرف ایک اللہ کے ہو کر اور اُس کیساتھ شریک نہ ٹھہرا کر اور جو شخص (کسی کو) اللہ کیساتھ شریک مقرر کرے تو وہ گویا ایسا ہے جیسے آسمان سے گر پڑے پھر اُس کو پرندے اچک لے جائیں یا ہوا کسی دُور جگہ اُڑا کر پھینک دے۔“ (سورۃ 22 آیت 31)
ذٰلِكَ وَمَن يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ (32)
”یہ (ہمارا حکم ہے) اور جو شخص ادب کی چیزوں کی جو اللہ نے مقرر کی ہیں عظمت رکھے تو یہ (فعل) دلوں کی پرہیز گاری میں سے
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہے ۔‘‘
(سورۃ 22 آیت 32)
لَكُمْ فِيهَا مَنَافِعُ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ مَحِلُّهَا إِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيقِ (33)
’’ ان میں ایک وقت مقرر تک تمہارے لئے فائدے ہیں پھر ان کو خانہ کعبہ (یعنی بیت اللہ) تک پہنچنا (اور ذبح ہونا) ہے۔‘‘
(سورۃ 22 آیت 33)
وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنسَكًا لِّيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَى مَا رَزَقَهُم مِّن بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ فَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَلَهُ أَسْلِمُوا وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِينَ (34)
’’اور ہم نے ہر ایک اُمت کے لئے قربانی کا طریقہ مقرر کر دیا ہے تا کہ جو مویشی چارپائے اللہ نے اُن کو دیئے ہیں (اُن کے ذبح کرنے کے وقت) اُن پر اللہ کا نام لیں سو تمہارا معبود ایک ہی ہے اُسی کے فرمانبردار ہو جاؤ اور عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دو۔‘‘
(سورۃ 22 آیت 34)
الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَالصَّابِرِينَ عَلَى مَا أَصَابَهُمْ وَالْمُقِيمِي الصَّلَاةِ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ (35)
’’ یہ وہ لوگ ہیں کہ جب اللہ کا نام لیا جاتا ہے تو اُن کے دل ڈر جاتے ہیں اور (جب) ان پر مصیبت پڑتی ہے تو صبر کرتے ہیں اور نماز آداب سے پڑھتے ہیں اور جو (مال) ہم نے ان کو عطا کیا ہے اُس میں سے (نیک کاموں میں) خرچ کرتے ہیں۔‘‘
(سورۃ 22 آیت 35)
وَالْبُدْنَ جَعَلْنَاهَا لَكُم مِّن شَعَائِرِ اللَّهِ لَكُمْ فِيهَا خَيْرٌ فَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا صَوَافَّ فَإِذَا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ كَذَلِكَ سَخَّرْنَاهَا لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ (36)
’’اور قربانی کے اونٹوں کو بھی ہم نے تمہارے لئے شعائر اللہ مقرر کیا ہے اس میں تمہارے لئے فائدے ہیں تو (قربانی کرنے کے وقت) قطار باندھ کر اُن پر اللہ کا نام لو جب پہلو کے بل گر پڑیں تو اُن میں سے کھاؤ اور قناعت سے بیٹھ رہنے والوں اور سوال کرنے والوں کو بھی کھلاؤ اس طرح ہم نے اُن کو تمہارے زیر فرماں کر دیا ہے تاکہ تم شکر کرو۔‘‘
(سورۃ 22 آیت 36)
لَن يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِن يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنكُمْ كَذَلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ وَبَشِّرِ الْمُحْسِنِينَ (37)
’’اللہ تک نہ اُن کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون بلکہ اُس تک تمہاری پرہیزگاری پہنچتی ہے، اسی طرح اللہ نے اُن کو تمہارا مسخر کر دیا ہے تا کہ اس بات کے بدلے کہ اُس نے تمہیں ہدایت بخشی ہے، اُسے بزرگی سے یاد کرو اور (اے پیغمبر!) نیکوکاروں کو خوشخبری سنا دو۔‘‘
(سورۃ 22 آیت 37)
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحِلُّوا شَعَائِرَ اللَّهِ وَلَا الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَلَا الْهَدْيَ وَلَا الْقَلَائِدَ وَلَا آمِّينَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّن رَّبِّهِمْ وَرِضْوَانًا وَإِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوا وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ أَن صَدُّوكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ أَن تَعْتَدُوا وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ (2)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
”مؤمنو! اللہ کے نام کی چیزوں کی بے حرمتی نہ کرنا اور نہ ادب کے مہینے کی اور نہ قربانی کے جانوروں کی اور نہ اُن جانوروں کی (جو اللہ کی نذر کر دیئے گئے ہوں اور) جن کے گلوں میں پٹے بندھے ہوں اور نہ اُن لوگوں کی جو عزت کے گھر (یعنی بیت اللہ) کو جا رہے ہوں (اور) اپنے رب کے فضل اور اُس کی خوشنودی کے طلبگار ہوں اور جب احرام اتار دو تو (پھر اختیار ہے کہ) شکار کرو اور لوگوں کی دشمنی اس وجہ سے کہ انہوں نے تمہیں عزت والی مسجد سے روکا تھا تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم اُن پر زیادتی کرنے لگو اور (دیکھو) نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو اور گناہ اور ظلم کی باتوں میں مدد نہ کیا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو کچھ شک نہیں کہ اللہ کا عذاب سخت ہے۔“
(سورۃ 5 آیت 2)
قرآن کی درج بالا آیات میں، شعائر کی اصطلاح کا ایک خاص معنی اور مفہوم ہے، مختلف مکتبہ ہائے فکر کے مسلمان علماء نے قرآن مجید کی متعلقہ تفاسیر میں اس اصطلاح کے معنی ومفہوم کی وضاحت کی ہے۔ جس طور پر اس اصطلاح کی مختلف تفاسیر میں تعریف اور وضاحت کی گئی ، وہ اس لائق ہے کہ اسے حسب ذیل ذکر کیا جائے :
جسٹس (ر) محمد تقی عثمانی نے اس کی یہ تعریف کی ہے: ”لفظ شعائر کا لغوی طور پر معنی ہے ایسی علامات جو کچھ خاص حقائق کی نمائندگی کریں۔ یہ شریعت کے ان تمام مظاہر پر منطبق ہوتا ہے جنہیں اللہ (سبحانہ وتعالیٰ) نے ضروریات لازم کے طور پر تعین فرمائے ہیں۔ بالخصوص حج کے مقدس مقامات شعائر اللہ میں شامل ہیں۔ جن کی عزت وتوقیر ایمانی تقاضے کے طور پر کرنا لازم ہے۔“
(تفسیر آسان قرآن)
مولانا صلاح الدین یوسف نے اسے حسب ذیل واضح کیا ہے: ”لفظ شعائر، شعیرہ کی جمع ہے جس کا مطلب ہے ایک علامت یا ایک شناختی نشان ہے جسے جنگ کے وقت ایک دوسرے کی شناخت کے لیے مخصوص کیا جاتا ہے۔ شعائر اللہ اسلام کے وہ نمایاں اور امتیازی احکامات ہیں جو ایک مسلمان کا دوسرے مذاہب کے پیروکاروں سے فرق کرتے ہوئے اس کی ایک امتیازی شناخت قائم کرتے ہیں۔“
(تفسیر مکہ)
مولانا اسحاق مدنی نے اس کے معنی پر تبصرہ کرتے ہوئے حسب ذیل اس کی تعریف بیان فرمائی ہے: ”شعائر اللہ سے مراد وہ عمل ہے جس سے اللہ سبحان وتعالیٰ نے انسانوں کو مطلع کیا ہے اور اسے ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ پس اسلام کا ہر وہ حکم جو اس کی ایک علامت خیال کیا جاتا ہے وہ شعائر اللہ کا حصہ ہے۔“
(تفسیر مدنی کبیر)
ڈاکٹر اسرار احمد نے درج ذیل معنوں میں اس کی تعریف کی ہے: ”شعائر کی واحد شعیرہ ہے جو لغوی اعتبار سے لفظ شعور سے متعلق ہے اس تناظر میں ہر وہ چیز جو انسانوں کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ، اس کی صفات کا اور اس کی حتمی اطاعت کا شعور عطا کرے وہ شعائر اللہ سمجھی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے صفا، مروہ، بیت اللہ اور مقام ابراہیم شعائر اللہ کہلاتے ہیں۔“
(تفسیر بیان القرآن)
مفتی محمد شفیع اپنی مقبول عام تفسیر میں بیان کرتے ہیں کہ: ”لفظ شعائر شعیرہ کی جمع ہے، جس کے معنی علامت کے ہیں۔ وہ اشیاء جو کسی خاص مذہب یا گروہ کے لیے امتیازی علامات سمجھی جاتی ہیں، شعائر کہلاتے ہیں۔ اسلامی شعائر وہ مخصوص احکامات ہیں جو ایک مسلمان کی شناختی علامات کے طور پر شمار کئے جاتے ہیں۔“
(تفسیر معارف القرآن)
حافظ عبدالسلام بھٹوی اس کو یوں بیان کرتے ہیں: ”وہ چیزیں جنہیں اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اس لیے قائم فرمایا کہ وہ اس کی عظمت کی یاد دہانی یا شعور پیدا کریں، شعائر اللہ کہلاتی ہیں۔ جو کوئی ان کی توقیر اور ان کا اکرام کرے وہ ایک متقی دل کا مالک ہے۔“
(تفسیر القرآن)
جسٹس (ر) پیر کرم شاہ الازہری نے اپنی مشہور تفسیر میں اسے یوں بیان کیا ہے: ”اس سے مراد کسی شے یا اشیاء کی شناخت اور پہچاننے کے لیے علامات ہیں جو درست اور غلط کے درمیان تمیز پیدا کرے وہ شعائر اللہ کہلاتی ہیں۔“
(تفسیر ضیاء القرآن)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مولانا حافظ احمد محمد حسن نے اس کی حسب ذیل تعریف بیان کی: ’’شعائر ہر قوم اور شخص کے لیے مخصوص نشانات اور علامات، اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے شعائر وہ مخصوص رسومات ہیں جو اللہ نے اپنے فرمانبرداروں کے لیے امتیازی علامات کے طور پر متعین فرمادی ہیں۔ ان نشانات پر عمل تقویٰ پر مبنی عمل ہے۔ ان علامات کو کم تر سمجھتے ہوئے ان پر عمل نہ کرنا اللہ کی نافرمانی والا عمل ہے۔ اس رویے سے قومی یکجہتی کو نقصان پہنچتا ہے۔‘‘ (تفسیر احسن التفسیر)
شعائر کی درج بالا تعریفوں کو جو محترم سکالروں نے فرمائی ہے انہیں سید ابوالاعلیٰ مودودی نے اپنی تفسیر تفہیم القرآن میں یوں بیان کیا ہے: ’’جو کچھ صفاتی طور پر ایسا ایک مخصوص نظریہ جو نسل، انداز فکر یا مسلک کو ظاہر کرے، اسے ایک علامت کے طور پر شناخت کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر سرکاری جھنڈے، مسلح افواج کی وردیاں، سکے، کرنسی نوٹ اور ٹکٹیں وہ علامات ہیں جنہیں حکومتیں استعمال کرتی ہیں۔
گرجے، قربان گاہیں اور صلیبیں عیسائیت کی علامات ہیں۔ سر پر بالوں کا مخصوص گچھا، ایک مخصوص قسم کی مالا اور مندر ہندو ازم کی علامات ہیں۔ پگڑی، کڑا، کرپان (ایک مخصوص خنجر جو سکھ رکھتے ہیں) سکھ مذہب کی علامات ہیں۔ ہتھوڑا اور درانتی اشتراکیت کی علامات ہیں۔
ان نظریات کے پیروکاروں پر لازم ہے کہ وہ ان علامات سے احترام کا برتاؤ کریں۔ اگر کوئی شخص کسی مخصوص نظریہ سے منسلک کسی علامت کی توہین کرتا ہے اسے دشمنی سے تعبیر کیا جاتا ہے اور اگر کوئی شخص اس نظریہ کا خود بھی پیروکار ہے تب اس کی طرف سے کی گئی توہین سے مراد اس نظریہ کو ترک کیے جانے اور اس کے خلاف بغاوت کے مترادف خیال کیا جاتا ہے۔ شعائر اللہ کی اصطلاح ان تمام رسومات کا حوالہ دیتی ہے جو بت پرستی اور مکمل عدم ایمان اور الحاد کے برخلاف، خدا کی کامل اطاعت اور صفاتی علامات ہیں۔‘‘ (تفسیر تفہیم القرآن)
درج بالا سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ رسوماتی علامات ایک خاص مذہب یا نظریے کے کردار، خصوصیت کے اظہار اور نمائندہ علامات ہوتی ہیں۔ ایک اسلامی تصور کے طور پر وہ نہ صرف بیرونی ہیئت، بظاہر رجحان، یا حاشياتی شکل، یا علیحدہ خصوصیت، یا شناختی نشان کے مقصد کو پورا کرتے ہیں، بلکہ احساسات کی ترجمانی، اللہ کے حکم کی اطاعت اور اتحاد اور امہ کی سالمیت کی علامت بھی ہوتے ہیں۔ مذہبی علامات پر بحث کرتے ہوئے، یہ ذہن میں رہنا چاہئے کہ ایک مذہبی علامت بلا مقابلہ اثر رکھتی ہے۔ ایک مذہبی علامت سے جڑی شے اور ایک غیر جانبدار اور لادین سے جڑی شے میں فرق رسوماتی رویے کا ہوتا ہے۔ یہ ایسی رسومات اور اطاعت پر مائل کرتا ہے جو مذہبی عقائد کے تناظر میں ہی واضح کئے جاسکتے ہیں اور ان کا جواز ڈھونڈا جاسکتا ہے۔
۵۶...... لینارڈ رائیڈن اپنی کتاب بعنوان The symbol of the centre and its religious function in Islam (Religious Symbols and their Functions, Edited by HARALDS BIZEAIS) رسوم ورواج کی علامتوں کی بنیادی مثالوں میں سے ایک مثال اسلام میں مرکزیت یعنی کعبۃ اللہ کی مثال ہے، جسے بیت اللہ، بیت الحرام کہا جاتا ہے اور مکہ کا وہ علاقہ جہاں یہ واقع ہے ’’ام القریٰ‘‘ یعنی شہروں کی ماں کہلاتا ہے۔ یہ علامت انتہائی اثر انگیز ہے کیونکہ اس کے نفسیاتی اثرات مرتب ہوتے ہیں، یہ جذبات کو ہوا دیتا ہے اور ان کا اظہار کرتا ہے، روحانی تجربات سے گزارتا ہے، خدا کے فرائض اور دینی بھائیوں کے ساتھ باہمی پن کے جذبات کی آبیاری کرتا ہے، یہ جذبات نہ صرف اسلام کے بنیادی اصولوں کا تصور پیش کرتے ہیں بلکہ اس علامت کے تجربے
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سے یہ خیالات فرد (بلکہ کروڑوں افراد) کی شخصیت میں سماجی اور سیاسی یگانگت پیدا کرتے ہیں۔ یہ حقیقت کہ مرکز کو بلا تخصیص قبلہ سمجھا جاتا ہے جو روزمرہ کے رسومات کی سمت ہوتا ہے جس سے معاشرے میں اخلاقی ،قومی اور سیاسی حدود سے بالاتر ہوکر ایک قوم بننے کا تصور ابھرتا ہے۔
۵۷...... عبادات کی قبولیت کے لیے ضروری ہے کہ انہیں کعبہ کی طرف منہ کر کے ادا کیا جائے۔ جانور کی قربانی بھی کعبہ کی طرف منہ کر کے کی جاتی ہے۔ فوت ہو جانے والے کا منہ کعبے کی طرف رکھ کر دفنایا جاتا ہے۔ قبلہ مساجد کے رخ کا تعین کرتا ہے اور اسی لیے بالواسطہ طور پر شہروں کی پلاننگ مسلم دنیا کو تشکیل دیتی ہے۔ مکہ حاجیوں کا مرکز بھی ہے۔ مکہ کی خاص اہمیت اور کعبہ کا تقدس قرآن سے بھی مترشح ہوتا ہے: ’’ پہلا گھر جو لوگوں (کے عبادت کرنے) کے لئے مقرر کیا گیا تھا وہی ہے جو مکہ میں ہے، بابرکت اور جہان کے لئے موجب ہدایت ۔ اس میں کھلی ہوئی نشانیاں ہیں جن میں سے ایک ابراہیم علیہ السلام (مقام ابراہیم) کے کھڑے ہونے کی جگہ ہے۔ جو شخص اس (مبارک) گھر میں داخل ہوا، اس نے امن پا لیا اور لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا حق (یعنی فرض) ہے کہ جو اس گھر تک جانے کا مقدور رکھے وہ اُس کا حج کرے ۔‘‘ (سورۃ 3:96)
یہاں پر مرکز سے مراد ایک مخصوص شے یعنی کعبہ ہے اور کسی حد تک مکہ کا پورا شہر مراد ہے کیونکہ وہ اسلام کے جغرافیائی رسم کے اعتبار سے ہر کسی کا مرکز نگاہ ہے۔ کعبہ (اور مکہ) کس طرح سے مسلم دنیا کا علامتی مرکز ہوسکتا ہے؟ اس علامت کی آج کیا اہمیت ہے؟ اسلام میں مرکز کی علامت کا کیا مذہبی عمل دخل ہے؟
- (i) مکہ اور کعبہ کے تقدس اور منفرد حیثیت کو ’’پناہ کے حق‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے ’’وہ محفوظ ہے جو داخل ہو گیا ۔‘‘ (سورۃ 28:57
3:97/91 اور 29:67) احترام ناقابل نسخ ہے لیکن اس پناہ کا حق بھی حدود و قیود سے مبرا نہیں۔ یہ کافروں کے لیے جائز نہیں جو مسلمانوں پر حملہ کرتے ہیں۔ (سورۃ 2:181/187) اور کوئی مجرم جو وہاں پناہ چاہے اسے خوراک نہیں دی جانی چاہیے تاکہ وہ جلد از جلد خود کو گرفتاری کے لیے پیش کر دے ۔ یہ حرمت پودوں اور جانوروں کے لیے بھی ہے ۔ پودے اور جانور (ماسوائے کچھ استثنات کے) مکہ کے حرم کے اندر محفوظ ہیں۔ حج کے دوران قربانی کی رسم کعبہ میں ادا نہیں کی جاتی ہے، (جیسا کہ قرآن حکم دیتا ہے : سورۃ 22:33/34) بلکہ منیٰ میں ادا کی جاتی ہے۔ جانوروں کو مارنے پر پابندی کا ایک نتیجہ مکہ کی مسجد میں کبوتروں کی بہتات ہے۔
- (ii) مکہ ایک چھوٹی سی مسلم دنیا بن چکا ہے ۔ مکے کی مذہبی اہمیت کے باعث کثیر لوگ اس میں آباد ہوچکے ہیں۔ اسلام کے تمام نسلی
گروہ اور قومیتیں یہاں موجود ہیں۔ عقیدت کے مرکز کے طور پر کعبہ کا کردار اس حقیقت سے بھی واضح ہے کہ اس عبادت گاہ کی تصاویر گھروں اور مسجدوں میں ’’عقیدت کے نشان‘‘ کا فریضہ سرانجام دیتی ہیں اور مرکز کی علامت بحیثیت مجموعی مذہب کی علامت بننے کا رجحان رکھتی ہے۔
- (iii) اس بات پر بھی غور کیا جاسکتا ہے کہ کعبہ کا امام بہت اہم شخصیت کا حامل ہوتا ہے جو سفارتی وفود وغیرہ کی سربراہی کرتا ہے ۔
- (iv) اس علامت کا احترام، مسجد کی شان و شوکت اور خوبصورتی سے بھی ظاہر ہے ۔ مکہ میں سب سے زیادہ اہم تبدیلی کعبہ کے ارد گرد
مسجد کی دوبارہ تعمیر ہے جب کہ کعبہ کی حیثیت اپنی جگہ برقرار ہے۔
- (v) ساری دنیا سے مسلمان مکہ میں جمع ہوتے ہیں وہ اپنے ہم مذہبوں سے ملتے ہیں ۔ سارے کے سارے ایک جیسے لباس میں ملبوس،
ایک جیسی رسومات ادا کرتے ہوئے ۔ عموماً اس بات پر زور دیا جاتا ہے کہ اسلام کی اخوت، اتحاد اور مساوات کا ٹھوس تجربات
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کے طور پر وہاں عملاً مظاہرہ کیا جاتا ہے جسے مسلمان کو اپنی روزمرہ زندگی میں نافذ کرنا چاہیے اس سالانہ عمل کے ذریعے شامل تمام مسلم قوم پاک ہو جاتی ہے۔
- (vi) کعبہ اور مکہ کا حرم حج کے سب سے اہم لازمی رکن الوقوف ’’عرفات‘‘ میں ’’قیام‘‘ کا حصہ نہیں ہے، جو کہ آدم اور حوا کی ملاقات
کی اور پیغمبر محمد ﷺ کے خطبہ حجۃ الوداع کی یاد میں کیا جاتا ہے۔
- (vii) حج اور عمرہ دونوں میں ایک اہم رسم طواف ہے کعبہ کے گرد رسمی مشق خرام، طواف، حجر اسود کے کونے کو نقطہ آغاز کے طور پر لیتے
ہوئے طواف اور گھڑی کی سوئی کے برخلاف سات چکر لگا کر کیا جاتا ہے۔ گھڑی کی سوئی کے برخلاف یہ طواف کرنا دیگر مذاہب میں ایک غیر معمولی رجحان تصور کیا جاتا ہے۔ جہاں تک اس رسم کی توجیہ وتشریح کی گئی ہے اسے خدا کے حضور اطاعت کا عمل کہا جاتا ہے۔ یہ رسم حج کی تمام رسوم کی طرح ابراہیم علیہ السلام کی طرف سے جاری کردہ خیال کی جاتی ہے۔ طواف وداع، حج اور عمرہ دونوں میں آخری رسم ہے جسے حاجی مکہ چھوڑنے سے بالکل پہلے ادا کرتا ہے اس رسم کی ادائیگی میں گہرے جذباتی لگاؤ کا اظہار شامل ہے۔
- (viii) مشرقی کونے اور کعبہ کے دروازے کے درمیان شمال مشرقی دیوار کا حصہ شامل ہے جسے ’’الملتزم‘‘ کہا جاتا ہے جہاں زائرین
دیوار کے ساتھ اپنا چہرہ اور سینہ لگاتے ہیں اپنے بازوؤں کو اپنے سروں سے اوپر لے جا کر وہ اس جہان کی اور دوسرے جہان کی نعمتیں مانگتے ہیں۔
- (ix) مقام ابراہیم کعبہ کے شمال مغربی حصے میں موجود پتھر ہے۔ روایت کے مطابق ابراہیم علیہ السلام نے اس پتھر پر کھڑے ہو کر کعبہ کی تعمیر کی۔
- (x) کعبہ کے مشرق میں زم زم کا کنواں، روایت کے مطابق وہ ذریعہ ہے جس سے اسماعیل علیہ السلام کی زندگی بچی۔ جب وہ اور ان کی
والدہ ہاجرہ علیہما السلام نے اس بنجر وادی میں پانی کو تلاش کیا۔ اس میں پانی کا بہاؤ معجزاتی خیال کیا جاتا ہے۔
- (xi) ابراہیم علیہ السلام کے خاندان اور حاجی کے درمیان تعلق کو دیگر رسومات سے بھی واضح ہوتا ہے: سعی، صفا اور مروہ کا درمیانی راستہ
ہاجرہ علیہما السلام کی پانی کی تلاش کی یاد دلاتا ہے۔
- (xii) جمرات میں شیطان کو کنکریاں مارنا، بیٹے کو قربان کرنے کے متعلق اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی پر اکسانے کے شیطانی بہکاوے کو
رد کرنے کی یاد دلاتا ہے۔ اس تقریب کا اہتمام اس لیے ہے کہ حاجی برائی کی مذمت کرتا ہے اور شیطانی بہکاووں کے خلاف لڑنے کو تیار ہے۔
- (xiii) منیٰ میں قربانی کی رسم: جو تمام مسلم دنیا میں عیدالاضحیٰ کے ساتھ ادا کی جاتی ہے وہ ابراہیم علیہ السلام کی عظیم قربانی کی مشق ہے اور ان
کی اطاعت کی یاد تازہ کرتی ہے۔ اس رسم کی اہمیت یہ بیان کی جاتی ہے کہ یہ اپنی ذاتی ملکیت (یا حتیٰ کہ اپنی زندگی) کو ترک کر دینے کی رضامندی کا اظہار ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس کا مقصد حاجی کو ضرورت مند کی مدد کرنے کے فرض کی یاد دہانی ہے۔
- (xiv) بہت سوں نے اس بات کا تجربہ کیا ہے کہ حج میں کعبہ کا محض نظارہ بہت شدید جذبات کو ابھار سکتا ہے۔ اسے ایک گہرے مذہبی
تجربے، روحانی خوشی کے حصول کے ذریعے، ’’دوبارہ جنم‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
- (xv) حجر اسود: اگرچہ قرآن میں اس کا تذکرہ موجود نہیں ہے، یہ ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام کے کعبہ کی باقیات تصور کیا جاتا ہے بعض
اوقات اسے خدا اور اولاد آدم کے مابین عہد سے بھی منسلک کیا جاتا ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
(xvi) زکی بداوی کہتے ہیں کہ کعبہ کو عقیدہ توحید کی خاص نشانی کے طور پر گردانا جاتا ہے کعبہ اور مکہ اسلام کی جغرافیائی مذہبیت کا مرکز ہے ۔ اسلام میں مرکز کی علامت، ایک طرف قابل قدر چیز، شہر ہے اور عبادت گاہ ہے اور دوسری طرف اس مرکز سے جڑا رسوماتی طرز سلوک یعنی طواف قبلہ وغیرہ وغیرہ۔
(Lennard Ryden; The symbol of the Centre and its religious function in Islam
in Religious Symbols and their Functions; Edited by Haralds Biezais)
۵۸...... دیگر علامتی رسومات کو ایک طرف رکھتے ہوئے میں نے صرف حج پر توجہ دی ہے تاکہ یہ دکھایا جا سکے کہ پوری دنیا کے مسلمانوں کا کس قدر مذہبی عقیدہ صرف اور صرف اس علامت سے جڑا ہوا ہے۔ اگر میں اسلام سے جڑی دوسری علامتوں کی وضاحت کروں تو یہ بحث کبھی نہ ختم ہونے والی ہو گی۔ عقیدہ اسلام کی ہر علامت اپنے اعتبار سے اپنا ایک زاویہ، اپنا اندرونی مقصد اور عمل کے اعتبار سے اپنی مخصوص خصوصیات رکھتی ہے جو کہ اس کو دنیا کے دوسرے مذاہب سے ممتاز کرتی ہے قرآن شریف کی ان آیات میں رسوماتی شناخت کی اہمیت پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے۔ ہر مذہب کی رسومات کی ایک علیحدہ خصوصیت ہوتی ہے اور ان پر عملدرآمد ان کے اظہار، رابطے، علم اور اختیار کا ایک ذریعہ ہوتا ہے۔ ہر رسم کے پیچھے ایک عالمی نظریہ ہے۔ ہر رسم اور اس کی ادائیگی کا ایک مقصد اور طریقہ کار ہے۔ یہ فعل اور مقصد ظاہری بھی ہو سکتا ہے اور خفیہ بھی، لیکن ان کے ماننے والوں کے رسمی رویّے اپنے شریک کاروں کو ایک مذہبی یا کوئی ایسا پیغام دیتے ہیں جس کے معنی وہ سمجھ رہے ہوتے ہیں جس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔
ب ...... سنت کی اتھارٹی:
معاملے کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ اسلام کی رسومی علامات کا پیغمبر ﷺ سے قریبی ربط ہے۔ اذان سے لے کر لازمی وضو تک جو کہ لازم ہے، دن میں پانچ مرتبہ نماز کی ادائیگی کا فرض، اقامت کا تصور، مسجد میں اجتماع، ایک امام کی امامت میں باہم نماز کی ادائیگی، قرآن سے آیات کی تلاوت، قیام، رکوع، سجود اور اطاعت کی دیگر علامتیں خود پیغمبر خدا ﷺ نے سکھائی ہیں۔ پیغمبر خدا ﷺ نے کہا کہ اسی طرح نماز ادا کرو جس طرح مجھے ادا کرتے دیکھتے ہو۔ اس طرح، اسلام کی رسومات پیغمبر ﷺ سے کچھ یوں جڑی ہوئی ہیں کہ ان کی پیغمبر خدا ﷺ کی ذات سے ہلکی سی بھی دراڑ کا تصور خلل در معقولات سمجھا جاتا ہے۔
اسلام کی اپنی علیحدہ شناخت ہے جو کسی سے مماثلت نہیں رکھتی ہے۔ اسلامی قوانین سے ہٹ کر اگر ہم صرف اسلام کے پانچ ستونوں کی بات کریں تو اسلامی رسومات کی انفرادیت واضح ہو جاتی ہے۔ دنیا کا کوئی اور مذہب خدائی احکامات کی بجا آوری میں ایسے کھرے پن کا متقاضی نہیں ہوتا۔ یہ قدرتی بات ہے کہ مسلمان اپنی رسومات کی حفاظت میں بہت حساس واقع ہوئے ہیں جو ان کے مذہب کی نمایاں خصوصیت ہے۔ وہ اسے ان کے ہاتھوں ملاوٹ کا شکار نہیں ہونے دیتے جو ان کے نزدیک عقیدے کے باغی ہوتے ہیں۔ یہ علامات خصوصی طور پر سماجی عمل کا عنصر ہیں اور ان کے عمل میں مثبت ایجنٹ کا کردار ادا کرتی ہیں۔ ان رسمی علامات کا کلیدی کردار مسلم معاشرے کی پوری سماجی زندگی، پیدائش سے لے کر بستر مرگ اور تدفین کی رسومات، کا احاطہ کرتا ہے۔ اس لئے کسی بھی ایسے مذہبی گروہ جسے مسلمان غیر مسلم تصور کرتے ہیں کو اجازت نہیں دے سکتا کہ اپنے آپ کو مسلمانوں کے لبادے میں پیش کریں۔ مسلمان قادیانیوں کی جانب سے اپنی مذہبی رسومات کی ادائیگی سے منع نہیں کرتے لیکن وہ ان کی یہ کوشش کامیاب نہیں ہونے دیں گے کہ وہ اسلام کے لبادے میں اپنے مذہب کو چھپائیں۔ ایسی کوئی بھی کوشش ان کے احساسات، جذبات، عقائد پر خطرے کی گھنٹی بجا دیتی ہے جن کی حفاظت ان کی مذہبی
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ذمہ داری ہے۔
علیحدہ مسلم تشخص کا تصور مسلم کمیونٹی کی سوچ، ذہن اور عقیدے میں گہری جڑیں رکھتا ہے۔ مسلم برادری کو یہ تصور کسی اور نے نہیں بلکہ خود پیغمبر ﷺ نے سکھایا اور راسخ کیا ہے۔ اللہ کا پیغام جو پیغمبر خدا کے ذمے پہنچانے کے لئے لگایا گیا تھا اس میں واضح علامتوں کا ان سے بیان کر دینا بھی شامل تھا۔ پیغمبر ﷺ کے دنوں میں ریاست مدینہ کی مسلم برادری کو حکم تھا کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے ہمسایہ قبائل سے اپنی علیحدہ شناخت قائم رکھیں۔ یہاں تک کہ ایک مسلمان کے انفرادی انداز واطوار بھی یہودیوں اور عیسائیوں سے علیحدہ ہوتے تھے بلکہ بعض ایسے مواقع پر حکم دیا گیا کہ علیحدہ شناخت اختیار کرو۔ درج ذیل احادیث اس نقطے کے سمجھنے کے لئے کافی ہوں گی۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتٍ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي مُنِيبٍ الْجُرَشِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ.
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے گا اس کا شمار اسی قوم میں ہوگا۔
أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِاللّٰهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ جُنْدَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: غَيِّرُوا الشَّيْبَ وَ لَا تَشَبَّهُوا بِالْيَهُودِ.
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بڑھاپے کا رنگ بدلو اور یہودیوں کی مشابہت نہ رکھو۔
ج...... اجماع امہ:
- ۵۹...... فاضل عدالتی معاون نے یہ مَوقِف بھی اختیار کیا کہ مسلمانوں کی جانب سے ایک علیحدہ شناخت قائم کرنے کی روش خلیفہ دوم
حضرت عمر فاروقؓ اور ان کے بعد آنے والے خلفاء نے جاری رکھی۔ اس ضمن میں واضح شہادت موجود ہے کہ مسلمانوں نے خلافت راشدہ کے دور میں اور بعد میں امیہ اور عباسیہ ادوار میں غیر مسلموں کو اجازت نہیں دی کہ وہ مسلم تشخص کو اپنائیں اور اپنے لئے ایک ممتاز طرز عمل اپنائے رکھیں۔ پروفیسر ڈاکٹر حافظ حسین مدنی نے شروط العمریہ کی تاریخی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ عمرؓ کے دور کا معاہدہ پر خلافت راشدہ، حضرت عمر بن عبدالعزیز، خلیفہ ہارون الرشید، خلیفہ حاکم بامراللہ، سلطان الناصر محمد بن قلاؤن اور دوسروں کے دور میں بھی عمل درآمد ہوا تھا۔ یہ مَوقِف بھی اختیار کیا گیا کہ ایسے اقدامات دونوں طرح سے اختیار کیے گئے تھے۔ ایک طرف مسلمانوں سے کہا گیا کہ اپنی علیحدہ شناخت قائم رکھیں جب کہ دوسری جانب غیر مسلموں کو بھی مسلمانوں کا طرز عمل اختیار کرنے سے منع کیا گیا تھا۔ غیر مسلموں سے علیحدہ شناخت قائم رکھنے کی حساسیت سے متعلق تاریخی شہادت تاریخی دستاویز ”عمر کا معاہدہ“ میں بھی ملتا ہے جسے شروط عمریہ بھی کہا جاتا ہے جو شام کی فتح کے موقع پر کیا گیا تھا۔ اس معاہدے کی شرائط بتاتی ہیں کہ صحابہ اپنی علیحدہ شناخت سے کس درجہ حساس تھے اور کس طرح یہودیوں اور عیسائیوں کو مسلم رسم و رواج کی علامتوں کو اپنانے سے باز رکھا گیا تھا۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ یہ معاہدہ بعد میں آنے والی حکومتوں کے لئے اسلامی ریاست میں شامل ہونے والے غیر مسلموں سے متعلق ایک ماڈل کی حیثیت اختیار کئے رکھا۔ فاضل عدالتی معاون نے کہا کہ شروط العمریہ کو بعد میں آنے والے خلفاء اور مسلم ریاستوں کے حکمرانوں نے تسلیم کیا اور اس کو لاگو کرتے رہے۔ احکام السلطانیہ کے مصنف نے اسے اسلامی ریاست کے لئے ایک رہنما دستاویز قرار دیا۔ فاضل عدالتی معاون حافظ حسن احمد مدنی نے کہا کہ احکام السلطانیہ کے موضوع پر ۲۲ عظیم اسلامی مصنّفین نے اسے ایک اہم دستاویز کے طور پر اپنی تصانیف میں شامل کیا ہے۔
- ۶۰...... جناب مدنی نے امام ابوالحسن ماوردی شافعی، امام ابن قدامہ حنبلی، امام ابو یوسف حنفی، امام ابن تیمیہ، امام ابن قیم اور دوسرے
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
فقہاء کی تحریروں سے یہ ظاہر کیا ہے کہ اس مسئلے پر اس دستاویز کو اجماع صحابہ سمجھا جانا چاہیے جیسا کہ ان میں سے کسی نے بھی اس طریقہ کار / معاہدہ کو مبینہ طور پر نامنظور نہیں کیا ہے بلکہ جانشین خلفاء کی طرف سے اس کو اختیار کر لینا اس کی درستگی اور قانونی اہمیت پر مہر تصدیق ثبت کرنا ہے۔ اس معاہدے پر ۱۵ ہجری میں مہاجرین اور انصار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی موجودگی میں عملدرآمد ہوا تھا۔ اس تاریخی دستاویز پر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ، حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ بن سفیان رضی اللہ عنہ نے بطور گواہ دستخط کیے۔ یہ روایت کیا جاتا ہے کہ خلیفہ راشد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس دستاویز کی تقدس پر رائے دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس معاہدے میں درج کسی بھی شرط میں ترمیم نہیں کر سکتے کیونکہ وہ (حضرت عمر رضی اللہ عنہ) سیاسی دانشمندی، اپنی رائے اور اپنی راست بازی میں سب سے بہترین تھے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام مکتبہ ہائے فکر نے مسلم امہ کے مفادات کی حفاظت اور تحفظ کے لیے شروط عمریہ کے نفاذ کی اہمیت کو تسلیم کیا جو کہ حسب ذیل ہیں :
حدیث کے علماء نے عبدالرحمان بن غنم العشری سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ، ’’میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے لیے معاہدہ امن کی شرائط کو لکھا جو انہوں نے الشام (شام) کے عیسائیوں کے ساتھ کیا تھا:
’’اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان اور نہایت رحم فرمانے والا ہے۔ یہ فلاں فلاں شہر میں عیسائیوں کی طرف سے اللہ کے غلام عمر، امیر المومنین کی طرف ایک دستاویز ہے، جب تم (مسلمان) ہمارے پاس آئے ہم نے اپنے لیے، بچوں کے لیے، ملکیت کے لیے اور اپنے مذہب کے پیروکاروں کے لیے تم سے تحفظ کی درخواست کی ہے۔ ہم نے خود اپنے لیے یہ شرط رکھی کہ ہم اپنے علاقوں میں نہ کوئی خانقاہ، گرجا گھر، نہ اپنے راہب کے لیے معبد بنائیں یا کھڑا کریں گے نہ کوئی ایسی عبادت گاہ دوبارہ بنائیں گے جسے دوبارہ بنانے کی ضرورت ہے اور نہ ان میں سے کسی کو بھی مسلمانوں کے خلاف دشمنی کے مقصد کے لیے استعمال کریں گے۔ ہم کسی بھی مسلمان کو چاہے وہ دن میں آئے یا رات کو اپنے گرجا گھروں میں آرام کرنے سے نہیں روکیں گے اور ہم اپنے (عبادت کے گھروں کے) دروازوں کو مسافروں اور راہ چلنے والوں کے لیے کھول دیں گے وہ مسلمان جو ہمارے مہمان بنیں گے وہ تین دن تک ہمارے یہاں قیام کر سکیں گے اور کھانا کھانے کے اہل ہوں گے۔ ہم اپنے گرجا گھروں اور گھروں میں مسلمانوں کے خلاف کسی جاسوس کو اجازت نہیں دیں گے یا مسلمانوں کے خلاف کسی دھوکہ (بے وفائی) کے مرتکب ہوں گے۔ ہم اپنے بچوں کو قرآن نہیں پڑھائیں گے، شرک کی رسومات کی اشاعت نہیں کریں گے، کسی کو شرک کی دعوت نہیں دیں گے یا اپنے پیروکاروں میں سے کسی کو اسلام قبول کرنے سے نہیں روکیں گے اگر وہ ایسا کرنا چاہیں گے۔ ہم مسلمانوں کا احترام کریں گے اور ان مقامات سے جہاں ہم بیٹھے ہوں تو اٹھ جائیں گے اگر مسلمانوں نے ان مقامات پر بیٹھنا اختیار کیا۔ ہم ان کے لباس، ٹوپیوں، پگڑیوں، جوتوں، بالوں کے انداز، تقریر، عرفیت اور ان کے خطابات یا گھوڑوں پر سواری، کندھوں پر تلواروں کے لٹکانے میں، کسی بھی قسم کے ہتھیاروں کو اکٹھا کرنے یا ان ہتھیاروں کے اٹھانے میں مسلمانوں کی نقل نہیں کریں گے۔ ہم عربی میں اپنی مہریں نہیں بنائیں گے اور نہ ہی شراب بیچیں گے۔‘‘
’’ہم اپنے سر کے اگلے حصے کے بال کاٹیں گے ۔ اپنے رواجی کپڑے پہنیں گے۔ ہم جہاں کہیں بھی ہوں اپنی کمر کے گرد پٹکا باندھیں گے اپنے گرجا گھروں سے باہر صلیبیں کھڑی کرنے اور ان کا مظاہرہ کرنے سے اجتناب کریں گے اور اپنی کتابوں کی مسلمانوں کے میلوں اور بازاروں میں نمائش نہیں کریں گے ۔ ہم اپنے گرجا گھروں میں ماسوائے بہت آہستگی کے، گھنٹیاں نہیں بجائیں گے یا مسلمانوں کی موجودگی میں گرجا گھروں کے اندر اپنی مقدس کتابوں کی تلاوت کے دوران اپنی آوازیں بلند نہیں کریں گے اور نہ ہی اپنے جنازوں میں
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ۳۰۹ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
(دعائیہ ) آوازیں بلند کریں گے یا مسلمانوں کے میلوں یا ان کے بازاروں میں جنازوں کے جلوسوں میں شمعیں جلائیں گے۔ نہ تو ہم اپنے مردہ کو مسلمان مردہ کے ساتھ دفن کریں گے یا جو غلام مسلمانوں کے قبضے میں ہوئے ان کو خریدیں گے۔ ہم مسلمانوں کے گائیڈ کا کام کریں گے اور مسلمانوں کے گھروں میں ان کی نجی زندگی میں جھانکنے سے بھی باز رہیں گے۔ جب میں نے اس دستاویز کو حضرت عمرؓ کو دیا انہوں نے اس میں اضافہ کیا: ’’ہم کسی مسلمان کو نہیں ماریں گے۔ یہ وہ شرائط ہیں جو ہم نے حفاظت اور تحفظ کے بدلے اپنے لیے اور اپنے ہم مذہبوں کے لیے طے کی ہیں۔ اگر ہم ان وعدوں میں سے کسی کو توڑ دیں، تو ہمارا ذمہ (تحفظ کا وعدہ ) ٹوٹ جائے گا اور تمہیں اس بات کی اجازت ہو گی کہ تم ہمارے ساتھ وہ سلوک کرو جس کی تمہیں سرکش اور باغی لوگوں کے ساتھ کرنے کی اجازت ہے۔‘‘
۶۱ ...... مقاصد شریعہ پر مبنی دلائل:
ہمارے سامنے براہ راست سوالات مقاصد شریعہ سے متعلق ہیں۔ مسلم دانشور شروع دن سے شریعت کے بنیادی مقاصد کو زیر بحث لاتے رہے ہیں اور بنیادی مقاصد کی روشنی میں شریعت کے کردار کی تشریح کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے اسلامی قوانین کو مختلف مقاصد سے جوڑا ہے اور پھر نتیجہ نکالا کہ اسلام کے تمام قوانین بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر کسی ایک یا دوسرے مقصد کا تحفظ ، حمایت یا ترویج کرتے ہیں۔ مقاصد الشریعہ کے چند نمایاں علامات میں الماترودی (d. 333/945) ، الشاشی (d. 365/975) ، الباقلانی (d. 403/1012) ، الجوینی (d. 478/1085) ، الغزالی (d. 505/1111) ، فخر الدین الرازی (d. 606/1252) ال آمدی (d. 631/1234) ، عز الدین عبدالسلام (d. 660/1252) ، ابن تیمیہ (d. 728/1327) ، الشاطبی (d. 790/1388) ، ابن آشور (d. 1393/1973) شامل ہیں جب کہ دور جدید کے مفکرین میں سے مسعود (1977)؛ الریسونی (1992) ، ابن الخوجہ (2004) ، pp. Vol.2, 79-278 ، نیازی (1994) ، pp. 189-268 ؛ الخادمی (2005)؛ اور اودہ (2006) قابل ذکر ہیں۔
۶۲ ...... مقاصد شریعہ یا قرآن وسنت میں بیان کئے گئے ہیں یا مختلف دانشوروں نے ان سے اخذ کئے ہیں۔ یہ تمام شریعت کی حقیقت بیان کرتے ہیں جو، جیسا کہ تمام محققوں نے تسلیم کیا ہے، بنی نوع انسان کے مصالح و مفادات (جلب المصالح) پورے کرتے ہیں اور انہیں ضرر (درء المفاسد) سے بچاتے ہیں۔ پانچویں صدی ہجری کے نمایاں اور انتہائی قابل عزت مصلح امام ابو حامد الغزالی نے مقاصد کو پانچ بڑی اقسام میں تقسیم کیا ہے اور کہا ہے کہ :
’’شریعت کا بنیادی مقصد عوام کی فلاح کا فروغ ہے جو ان کے عقیدے، نفس، عقل، نسل اور مال کی حفاظت میں پنہاں ہے۔ جو کوئی بھی ان پانچ عوامل کی حفاظت یقینی بناتا ہے وہ عوامی مفاد پورا کرتا ہے اور قابل ستائش ہے اور جو کوئی ان کو نقصان پہنچاتا ہے وہ عوامی مفاد کے خلاف ہے اور اس کا خاتمہ ضروری ہے۔‘‘
یہ مقاصد درج ذیل میں اختصار سے پیش کئے جاتے ہیں :-
- (i) دین کی حفاظت
- (ii) نفس کی حفاظت
- (iii) عقل کی حفاظت
- (iv) نسل کی حفاظت اور
- (v) مال کی حفاظت
تاہم صرف یہی مقاصد ہی نہیں جو انسانی حقوق اور ضروریات کو پورا کر کے انسانی بہتری یقینی بناتے ہیں بلکہ اس کے علاوہ بھی قرآن اور سنت میں یا مفکرین کی جانب سے ان سے اخذ کردہ نتائج پر مبنی عوامل بھی شامل ہیں۔ لہٰذا، جب کہ ان پانچ کو بنیادی (الاصلیہ ) تصور کیا جاتا ہے دیگر کو ان کا ضمنی نتیجہ (تبعیہ) قرار دیا جاسکتا ہے۔ ضمنی مقاصد کا تصور بھی ناگزیر ہے کیونکہ بنیادی مقاصد کو ان کے بغیر سمجھنا مشکل ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عمومی طور پر تسلیم کیا جانے والا فقہی اصول ہے کہ وسائل کی قانونی حیثیت بھی وہی ہے جو مقاصد کی ہے۔ چنانچہ ایک مشہور قانونی قول (القاعدہ الفقیہہ) قرار دیتا ہے: ”کہ کوئی ایسی بات جس کے بغیر ایک فرض کی ادائیگی نہیں ہو سکتی بھی فرض ہے ۔“ ان میں سے کچھ ضمنی نتائج کچھ وقت کے لئے دوسروں سے کم اہمیت کے حامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم طویل المدت میں وہ سب یکساں اہمیت کے حامل ہیں اور ان کی ادائیگی سے کوتاہی گہری سماجی و معاشی اور سیاسی مسائل کو جنم دے سکتی ہے۔ (ایم عمر چھاپرا: مقاصد الشریعہ کے تناظر میں ترقی کا اسلامی وژن)۔ اسلام میں ریاست اور قانون سازی میں ڈاکٹر محمود احمد غازی لکھتے ہیں کہ یہ مقاصد خمسہ نہ صرف انصاف کا اصل ہیں بلکہ جملہ انسانی حقوق کی بنیاد ہیں۔ انسانی حقوق کی اسلامی تشریح انہی مقاصد پر منحصر ہے۔ عظمت، عزت اور بنیادی حقوق کے انسانی زندگی کے دیگر پہلو شریعت کے مقاصد کے محتاج ہیں۔ پہلے مقصد یعنی دین کا تحفظ کی منشاء اسلامی نظریے کا تحفظ، دفاع اور فروغ ہے جو مسلم ریاست اور معاشرے کی اساس ہے۔ اس لئے، ایک فرد کی زندگی خاندانی تعلقات، سماجی رویہ، قانونی اور تعلقات کار کا منبع ہے۔ دین کا تحفظ مسلم معاشرے اور ریاست کی اساس ہے۔ اگر اس پر سمجھوتہ ہو جائے یا مفقود ہو جائے تو مسلم معاشرے اور مسلم ریاست کے وجود کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ اگر اس عظیم مقصد کو بغیر دفاع کے چھوڑ دیا جائے تو اس کی سالمیت اور یگانگت خطرے میں پڑ جائے گی۔ ”عقیدے کے تحفظ“ کے تناظر میں عدالتی معاونین نے مقاصد شریعہ کے نظریہ کو اٹھائے گئے سوالات کی روشنی میں صحیح طور پر اجاگر کیا ہے کیونکہ عقیدے یا دین کا تحفظ جو اسلامی ریاست کا بنیادی خاصہ ہے۔ اسلامی ریاست نہ صرف اپنی زمینی سرحدوں کی محافظ ہے بلکہ نظریاتی اور بنیادی سرحدوں کا تحفظ بھی کرتی ہے جس کے لئے اس کا قیام عمل میں لایا جاتا ہے۔ درج بالا بحث اور عدالتی فیصلے کے بعد کے حصے سے یہ روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتا ہے کہ اکثریت کو اقلیت سے مذہب کی آڑ میں اپنے مذہب کو خودکش حملے کا خطرہ ہوتا ہے۔ اس مخصوص تناظر میں یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ اکثریت کے عقیدے کی حفاظت کے اقدامات کرے اور اسے اقلیت کے ہاتھوں پراگندہ ہونے سے بچائے۔ ہر شہری کو قانون کا یکساں تحفظ اس کا حق ہے۔ اقلیت کو اپنا مذہب رکھنے کے حق کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اکثریت کے بنیادی مذہبی نظریات اور رواجوں کو ملیا میٹ کر دے۔
۶۳...... سعد الذریعہ کے اصول پر ریاست کا اختیار:
فاضل عدالتی معاونین نے اس دلیل کو بھی بڑھاوا دیا ہے کہ اسلامی ریاست ذریعہ کے اصول کے تحت دو طرح کے مناسب احکامات جاری کر سکتی ہے: ایک مثبت اور ایک منفی، جس کا مطلب ہے فتح الذریعہ اور سعد الذریعہ۔ ریاستی حکومت کا انتظامی معاملات میں مناسب حکم پاس کرنے کا متذکرہ اصول قرآن پاک اور سنت کی حدود کی بنیاد پر ہے جسے سب سے پہلے مالکی قانون دانوں نے کھوجا تھا اور پھر اسے حنبلی فقہ اور بعد ازاں حنفی فقہاء نے بھی اختیار کر لیا تھا۔ لفظ ذریعہ کا مطلب مثال ہے۔ ایک مالکی فقیہہ امام قرافی نے ذریعہ کی بجائے وسیلہ کی اصطلاح استعمال کی ہے۔ ذریعہ یا وسیلہ سے مراد وہ شے یا عمل ہے جو ایک ذریعہ بنتا ہے یا کسی اور شے کے وقوع پذیر ہونے میں آلے کا کردار ادا کرتا ہے یا پھر کسی برے یا غیر قانونی عمل کی سرزدگی پر منتج ہوتا ہے اور اسے لازمی تصور کیا جاتا ہے۔ اس اصول کی تشریح کرتے ہوئے امام قرافی نے کہا: ایک عمل جس کے لئے بہترین ذرائع استعمال ہوں بہتر ذریعہ کہلاتا ہے۔ جو درمیانی درجے کے مقاصد پورے کرتا ہے اسے درمیانی درجے کا قرار دیا جاتا ہے۔ ذریعہ کے اصول کا یہ مختصر سا مطلب ہے۔ اس اصول کا اطلاق کرتے ہوئے ڈاکٹر محمود احمد غازی اپنی کتاب ’اسلام میں ریاست اور قانون سازی‘ میں کہتے ہیں کہ ریاست کا سربراہ یا اس کی شوریٰ انتظامی احکامات جاری کر سکتی ہے جس سے کسی قانونی عمل کو ممنوع قرار دیا جا سکتا ہے جو کسی غیر قانونی عمل کی سرزدگی میں بدل چکا ہو یا غیر قانونی شے کے وقوع پذیر ہونے کا سبب بن رہا ہو، یا شہریوں کو ایسی شے یا عمل کرنے کا تقاضا کرتا ہو جو اگرچہ فرد پر لازمی نہیں لیکن شریعہ کے کسی مقصد کے حصول کا واحد ذریعہ بن جاتا ہے یا شریعہ کے کسی حکم یا مقدس فرمان کی تکمیل کے لئے لازمی ہوتا
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہے ۔ اس فقید المثال اصول کی عملداری کی متعدد مثالیں ہیں۔ آٹھویں صدی ہجری کے ایک نامور حنبلی فقیہ اعلام الموقعین ابن القیم نے سعد الذریعہ کے اصول پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ اس کے مطابق، قانونی نوعیت کے آدھے سے زیادہ انتظامی احکامات ذریعہ کے اصول کے تابع ہیں (صفحہ 159)۔ ابن القیم کی جانب سے دی گئی ننانوے مثالوں میں سے اکثر شوریٰ میں امام کی انتظامی صوابدید کی وسعت پر روشنی ڈالتی ہیں (مثال کے طور پر مثال نمبر 99, 57, 45, 37, 33, 29, 25 دیکھی جاسکتی ہیں)۔ اس بحث کی بنیاد پر، یہ قرار دیا جاتا ہے کہ قادیانیوں کی جانب سے غلط استعمال روکنے کے لئے ریاست کی جانب سے قانون سازی کے لئے اس اصول کا اطلاق جائز ہے۔
۶۴ ...... دفع الضرر یا دفع الفساد کا اصول :
قادیانیوں کی جانب سے مخفی شناخت کی آڑ میں منفی، ضرر رساں ، تباہ کن اور خطرناک سرگرمیوں کے اثرات کے پس منظر میں عدالتی معاونین نے عدالت کی توجہ اس جانب مبذول کروائی کہ ریاست کی جانب سے مناسب قانون سازی کے لئے دفع الضرر یا دفع الفساد کا اصول استعمال کیا جا سکتا ہے خواہ اس سے قبل کے دور میں ایسی کوئی قانون سازی کی نظیر موجود نہ ہو۔ فاضل عدالتی معاونین نے زور دیا کہ اگر کسی معاملے میں واضح ممانعت نہ ہو (جیسا کہ موجودہ معاملے میں ) تو بھی ایسی صورتحال میں ایک اسلامی ریاست محض تماشائی بن کر نہیں بیٹھ سکتی ہے۔ اس کے برعکس ایسی کسی بھی صورتحال میں ضروری قانون سازی اور احکامات جاری کرنا ضروری ہو جاتے ہیں۔ ضرر کا لفظی ترجمہ خطرہ، نقصان، گھاٹا اور زخم کے ہیں جب کہ فساد سے مراد بدعنوانی ، تباہی، برائی، بدنامی سے لبریز عمل وغیرہ ہوتا ہے۔ یہ اسلام کے بنیادی اصولوں میں سے ایک ہے کہ ضرر اور فساد، جو جس بھی شکل یا درجے کا ہو، کو جہاں تک ممکن ہو ختم کرنے کی کوشش کی جائے۔ بہت سے قانونی اقوال اس اصول کے مختلف پہلوؤں سے متعلق ہیں۔ مجلۃ الاحکام العدلیہ کی شق 19 قرار دیتی ہے : لا ضرر ولا ضرار یہ قانونی اصول بھی ایک حدیث ہے جسے امام مالک نے اپنی ’موطا‘ میں، ابن ماجہ اور امام دارقطنی نے اپنی سنن میں، امام حاکم نے مستدرک میں، امام بیہقی نے اپنی السنن الکبیر میں روایت کیا ہے یہ حدیث ابوسعید خدری نے عبادہ ابن الصامتؓ ، عبداللہ ابن عباسؓ اور دیگر کی سند پر روایت کی ہے، یہاں ’’ضرر‘‘ سے مراد نقصان دینا یا کسی دوسرے شخص کے ساتھ غلط کرنا ہے۔ جب کہ ’ضرار‘ کا مطلب ضرر کو ضرر سے رفع کرنا ہے۔ حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ کوئی ضرر کو ضرر سے اور تکلیف کو تکلیف سے رفع نہ کرے۔ ’’قرآن اور حدیث میں موجود بے شمار متنی احکامات کے تحت یہ حکم ہے تمام ناجائز اور نقصان دہ عمل اس اصول کی بنیاد پر ممنوع ہیں۔ اسی اصول پر بہت سی سزائیں اور اقتصادی جرمانے بھی مبنی ہیں ۔‘‘ اسی اصول کی بنیاد پر ایک دوسرا اصول بھی اخذ کیا گیا ہے جو یہ قرار دیتا ہے کہ حتی الوسع طور پر ضرر سے بچا جانا چاہیے ۔ (مجلہ - 31) یہ اصول ضروری قرار دیتا ہے کہ ہر ممکنہ طور پر ضرر کے واقع ہونے سے بچنے کے لیے ہر کوشش کی جانی چاہیے۔ اصول حجر کی بنیاد بھی یہی اصول ہے۔ فقہاء نے اس اصول کی بنیاد پر عمومی عدالتی کارروائیوں کے بغیر غیر شائستگی، غیر اخلاقی اور فساد فی الارض کے لیے بدنام اشخاص کی تادیبی قید کی اجازت دی ہے۔ دوسرا اصول یہ ہے کہ ’’ضرر کبیر کو ضرر صغیر لگا کر دور کیا جائے (اگر دونوں میں سے ایک ناگزیر ہو ) ۔‘‘ (مجلہ - 27) اسی طرح ایک دوسرا اصول بھی یہ قرار دیتا ہے کہ ’’عوامی نفرت سے بچنے کے لیے نجی ضرر بھی لگائی جاسکتی ہے ۔‘‘ (مجلہ - 27) درج بالا حدیث سے اخذ کیا ہوا یہ بھی ایک مسلمہ اصول ہے کہ ’’برائیوں (مفاسد) کے خاتمے کو اچھائیوں (مصالح) کے حصول پر فوقیت حاصل ہے ۔‘‘ اس سے مراد ہے کہ برائی کے خاتمے اور اچھائی کے حصول کے مابین کشمکش کی صورت میں فوقیت برائی کے خاتمے کو دی جانی چاہیے اور یہ بھی کہ ’’ایک ضرر پرانی اور وقت کی قید (کی بنیاد پر نظر انداز) نہیں کی جائے گی ۔‘‘ (مجلہ ) ۔ اس لیے ایک ضرر، چاہے کتنی ہی قدیم ہو ختم کر دینی چاہیے۔ میرے خیال میں مذہب اسلام کو نقصان دینے سے بڑھ کر کوئی نقصان بڑا نہیں ہوسکتا اور
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مسلمانوں کے عقیدے کی بنیادوں کو تباہ کرنے کی کوشش سے زیادہ شدید فساد نہیں ہو سکتا ہے انہی قانونی اصولوں کے زور پر کسی بھی طور پر اسلامی ریاست کے ہر طرح کے ضروری اقدامات اٹھائے جانے کے حق اختیار پر کسی بھی لحاظ سے اعتراض نہیں کیا جا سکتا ہے۔ (عمران احسن خان نیازی: اسلامی قانونی اصول، المجلہ الاحکام العدلیہ)
۶۵ ...... مصلحہ کے اصول:
مفتی محمد حسین خلیل خیل، فاضل عدالتی معاون نے بھی مختلف مکتبہ ہائے فکر کی اصول الفقہ کی بڑی بڑی ۲۲ کتابوں پر تکیہ کرتے ہوئے، یہ اظہار کیا ہے کہ اسلامی ریاست کے انتظامی احکامات مصلحہ یا رفاہ عامہ یا عوامی بھلائی یا عوامی فلاح کے اصول پر قانونی جواز کا اطلاق کر سکتے ہیں۔ قانونی اصطلاح میں کہا گیا ہے: ”امام کی طرف سے کارروائی (یعنی تصرف یا انتظامی اور دوسرے اختیار) قائم کرنے کی طاقت مصلحہ پر واقعاتی بنیاد ہے۔“ کتاب ”ریاست اور اسلام میں قانون سازی میں سے ایک اقتباس اس تصور کے درست تناظر میں وضاحت کرنے کے لیے متعلقہ ہوگا:
”بیسویں صدی میں اسلامی قانون پر مقبول مقتدر، شیخ مصطفیٰ زرقا کے مطابق، یہ اصول ان حدود و قیود کی تعریف کرتا ہے جن کے اندر رہ کر حکمران اپنے انتظامی اور سیاسی اختیار کو روبہ عمل لا سکتے ہیں اور عوام الناس کے حقوق اور آزادیوں کو متاثر کرنے والے اقدامات اٹھا سکتے ہیں۔“ یہ فرض کر لیتا ہے اولا الامر کی جانب سے اٹھائے گئے تمام اقدامات اور کاروائیاں جو لوگوں پر ان کے نجی اور عوامی حقوق کے حوالے سے لازمی حق استعمال کی حامل ہیں، کی بنیاد قوم کی عمومی بہبود اور اس کی فلاح پر مبنی ہونی چاہئیں۔ کیونکہ حکومتی مشنریاں خلیفہ سے لے کر مختلف انتظامی شعبوں کے ملازمین تک سارے لوگ خود اپنے لیے کارکن نہیں ہیں۔ وہ ”امہ“ (Amah) کے صرف کارندے ہیں جس کے ذمے انصاف کے قائم کرنے، ناانصافی اور ظلم کے خاتمے، حقوق، اخلاقیات کے تحفظ اور اس تحفظ کو قائم رکھنے، علم کے فروغ، عوامی سہولیات کی فراہمی، معاشرہ کی فساد سے تطہیر اور ہر اس چیز کا حصول جو امہ کے لیے موجودہ اور آنے والے زمانے میں بہتر ہو، تمام بہترین ممکنہ ذرائع سے کیا جانا ہے۔ یعنی وہ تمام تر اقدامات جو عوامی فلاح و بہبود کے لیے ضروری خیال کیے جائیں۔ اس لیے ہر وہ کارروائی یا اقدام جو حکمران اس مصلحہ کے خلاف اٹھائیں۔ جس سے اجارہ داری، اقربا پروری اور مطلق العنانی کا راستہ نکلے یا جو ضرر یا فساد برپا کرے، غیر قانونی ہوگا ...... اس لیے مصلحہ بھی۔ اسے اسلامی قانون کا ثانوی لیکن اہم ماخذ قرار دیا گیا ہے اس کی تعریف حسب ذیل کی گئی ہے۔ ”یہ ہر بھلائی، ہر مصلحت اور ہر اہم ضرورت ہے جس کے بارے میں بالخصوص یا بالعموم شریعت میں کوئی واضح حکم موجود نہیں ہوتا ۔“ ہر وہ چیز جو شریعت کی کسی شق کی خلاف ورزی کئے بغیر انسانی حیات کی پانچ بنیادی ضروریات کا تحفظ کرتی ہے، وہ مصلحہ ہے۔ یہ پانچ بنیادی ضروریات، مذہب، روح (یعنی زندگی)، عقل و فہم، آل اولاد اور سرمایہ یا ملکیت ہیں۔ اول الامر کے پاس ان پانچ ضروریات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے اور اصولوں اور قوانین کی قانون سازی کا وسیع حق امتیاز موجود ہے۔ قومی مفادات کے معاملے میں عوامی رائے کے اظہار کے لیے ایک قابل عمل نظام تشکیل دینے کا مسئلہ بھی ”عرف اور مصلحہ“ کے زمروں میں آتا ہے۔ جیسا کہ موجودہ حکومتوں کو حدود شریعت کے اندر معاہدات کی تمام صورتوں کے بہتر اور منصفانہ انعقاد کی خاطر اصول و قواعد مرتب کرنے کا حق اختیار حاصل ہے، انہیں یہ بھی اختیار ہے کہ وہ اس معاہدہ کے لیے اغلاط سے مبرّا طریقوں کو، بلاشبہ، امت کے قابل بھروسہ نمائندوں کی مشاورت اور اس حوالے سے شریعت کے بڑے بڑے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے واضح کریں۔“
قرآن مجید کی محولہ بالا آیات اور نبی کریم ﷺ کی سنت (دونوں ہی شریعت اور آئین کے تحت قانون کے بنیادی مآخذ ہیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ۳۱۳ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اس پہلو پر اس فیصلے کے آنے والے پیراگرافوں میں پوری وضاحت کر دی گئی ہے ) اور ثانوی مآخذات مثلاً اجماع ، مصلحہ ، مرسلہ اور ’’اصول سدالذریعہ‘‘ اور ’’اصول دفع الضرر‘‘ یا ’’دفع الفساد‘‘ کی بنیاد پر ریاست کے حق اختیار کے بارے میں ریاست کے طرزِ عمل اور قانون سازی کے اصل کی بنیاد پر، یہ باحفاظت نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ یہ اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ شعائر اللہ کی حفاظت کرے، اپنے حدود و اختیار میں رہنے والے عنصر کی طرف سے اکثریت کے ایمان پر خفیہ حملہ کرنے والے تمام چھپے ہوئے چھپائے گئے اور خفیہ طریقوں کے مکمل خاتمے کے لیے اقدامات اٹھائے۔
اس قول میں کسی اعتراض کی گنجائش نہیں ہے کہ ایک اسلامی ریاست شاندار عمارت ربانی حاکمیت اعلیٰ کی بنیاد پر قائم ہے اور یہ کہ تمام اختیار اور حاکمیت اعلیٰ کا حقیقی اور حتمی مالک اللہ قادر مطلق ہے جو اس کائنات کا خالق ہے، سلطنت (ملک) اسی کا ہے۔
قرآنی آیات: 7:178, 120, 40, 18, 5:17, 3:26, 2:107 وغیرہ
اسی کے پاس حکمرانی (امر) مکمل اختیار ہے۔
قرآنی آیات: 106:2, 109, 148 وغیرہ
قرآنی آیات: 3:134, 7:54, 11:123, 30:4, 23:5 وغیرہ
صرف اسی کے پاس فیصلے (حکم) کرنے کا مکمل اختیار ہے،
قرآنی آیات: 6:57, 62, 12:40, 28:70, 67, 88 وغیرہ
حاکمیت اعلیٰ کی طرف سے تفویض کردہ فرائض سرانجام دینے کی خاطر اس کے وفاداروں غلاموں (عباد) کو اس کے احکامات پر عمل کرنے کے قابل بنانے کے لیے محدود حق اختیار دیا گیا ہے جسے خلافت کی اصطلاح سے بیان کیا گیا ہے۔ انفرادی خلافت انبیائے کرام کو عطا کی گئی تھی جب کہ اجتماعی خلافت امت مسلمہ کو تفویض فرمائی گئی ہے۔ خلافت کا تصور متعدد مقامات پر قرآن میں بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً ’’وہی تو ہے جس نے تمہیں زمین پہ خلیفہ بنایا اور تمہارے مناصب بلند کئے دوسروں پر فضیلت بخشی تاکہ جو نعمتیں اس نے تمہیں بخشی ہیں اس میں تمہیں جانچ سکے۔‘‘ (قرآن 6:165) اس لیے ایک اسلامی ریاست میں شریعت کی حاکمیت کا اصول ایک بنیادی اصول ہے۔ ڈاکٹر محمود احمد غازی ’’ریاست اور اسلام میں قانون سازی‘‘ کتاب میں اس تصور کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’شریعت کی حاکمیت سے یہ آسان مفہوم مراد ہے کہ ملک میں قرآن پاک اور سنت اعلیٰ ترین درجے کے قوانین ہونے چاہئیں، جو ریاست کے تمام اداروں اور شہریوں پر مساویانہ طور پر قابل عمل اور مساویانہ طور پر قابل نفاذ ہوں۔ ریاست میں ہر سطح پر پالیسی سازی اور فیصلہ سازی کے لیے راہنمائی کا بنیادی مآخذ شریعت کو ہونا چاہیے۔ تمام قوانین، فیصلے، پالیسیاں اور انتظامی اقدامات شریعت کے تابع ہونے چاہئیں اور شریعت ہی کے تحت ان کو چیلنج کیا جائے اور ان کی چھان بین کی جائے۔ شریعت کی حاکمیت کا تقاضا ہے کہ کوئی قانون رسم یا رواج حتیٰ کہ ریاست کا سب سے بڑا قانون، انتظامی کارروائی، محصولات کی وصولی یا ان کا خرچ اگر وہ شریعت سے متصادم ہوں تو انہیں کالعدم قرار دینا چاہیے۔ شریعت کی حاکمیت ہمیشہ اسلامی ریاست کا اصل الاصول رہی ہے قرآن ایسی آیات سے بھرا پڑا ہے جو یہ آشکار کرتیں ہیں کہ کسی مسلمان کے پاس ایسے معاملے میں فیصلہ کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے جن کا اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے پہلے سے فیصلہ فرما دیا ہو۔ قرآن یہ بھی لازم قرار دیتا ہے کہ شہریوں کے مابین یا شہریوں اور حاکم کے مابین تنازعہ ہو دونوں صورتوں میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ یعنی شریعت سے رجوع کیا جانا چاہیے۔ نبی ﷺ کے فرامین اور خلفائے راشدین کے عمل سے بھی اس ضمن میں واضح احکامات ملتے ہیں کہ
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
شریعت کو باقی تمام چیزوں سے بالاتر رکھنا چاہئے ۔ اسی اصل الاصول کو مسلمان حکمرانوں ، عوام الناس ،فقہاء اور سیاسی مفکرین نے ہمیشہ برقرار رکھا تھا ۔ مسلمانوں کے اذہان میں کبھی کوئی شک نہیں رہا ہے کہ شریعت کی حاکمیت ہی ایک اسلامی ریاست کی بنیادی ضرورت تھی ‘ اس حوالے سے دستوری حیثیت ناموس رسالت کیس بہ عنوان سلمان شاہد بنام وفاق پاکستان ( PLD-2017 Islamabad 218) کے اقتباسات سے صاف واضح ہے جو کہ حسب ذیل درج کئے جاتے ہیں:
پاکستان کی سپریم کورٹ نے اٹھارویں ترمیم کے فیصلے (بعنوان ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی بنام وفاق پاکستان ) میں یہ قرار دیا ہے کہ پاکستان کے دستور پر ایک طائرانہ نظر ڈالنے سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ پاکستان ایک جمہوریت ہے جہاں حتمی اقتدار اعلیٰ اللہ رب العزت کا ہے اور یہ اختیار پاکستان کے عوام کو تفویض کیا گیا ہے۔ اسی فیصلے کے پیرا نمبر ۵۴ میں اکثریتی فیصلے کے متن میں ، جسے جسٹس شیخ عظمت سعید نے تحریر کیا ہے ، یہ قرار دیا ہے کہ :
”یہ بات بالکل واضح اور روشن ہے کہ ہمارے اصول قانون جو کہ عدالتوں کے نظائر کی روشنی میں ارتقاء پذیر ہوئے ، یہ بات مسلمہ طور پر ثابت اور تسلیم کردہ ہے کہ دستور کوئی متفرق دفعات کا جتھا نہیں جنہیں باہمی گانٹھ دیا گیا ہو بلکہ دستور کی دفعات میں ایک یکسانیت اور مربوط اسکیم ہے جو دستور کی بنیادی دفعات سے واضح ، ہے، جو کہ دستور کی نمایاں اور واضح خصوصیات ہیں ۔“
اسی بات کو جسٹس جواد ایس خواجہ نے اپنی اقلیتی نوٹ میں بیان کرتے ہوئے کہا کہ ”آئین کے کسی بھی آرٹیکل کو باقی آئین سے علیحدہ کر کے ، انفرادی طور پر نہیں سمجھا جا سکتا “ مزید فرمایا کہ ہمارے اصول قانون میں اب تک یہ بات طے ہو چکی ہے کہ آئین کا مطالعہ تاریخی تناظر میں اور ایک نامیاتی کل (Organic Whole) کے طور پر کیا جائے گا ۔ اگر آئین کی جزوی شقوں اور احکامات کو باقی آئین سے الگ کر کے دیکھا جائے تو یہ قاری کو گمراہ کر سکتا ہے ۔ لہذا آئین کا مفہوم اور مدعا معلوم کرنے کے لیے اس کے اجزا کی میکانکی انداز میں عقلی توجیہ کرنے کی بجائے اسے اک مربوط کل کی طرح دیکھنا پڑے گا ۔ یہ بات ہماری قدیم اور سادہ دانش کا عطر رہی ہے جو منطق کی رو سے بھی کشید ہوتی ہے اور نظائر سے استدلال کے طریقے میں بھی پوری طرح راسخ ہے ۔ اس کے نتیجے میں آئین کی تعبیر وتشریح کا یہ اصول طے پاتا ہے کہ آئین کو ایک زندہ حقیقت یا نامیاتی کل کے طور پر دیکھا اور سمجھا جائے ۔“
۱۹۷۳ء کے آئین کا سرچشمہ پاکستان کے عوام ہیں ۔ پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی جس نے ۱۹۴۹ء میں قرارداد مقاصد کو منظور کیا، ایسے ارکان پرمشتمل تھی جو جدوجہد آزادی کے سرخیل اور بلاشبہ پاکستان کے بانیان تھے۔ جن کی قیادت میں مملکت خداداد پاکستان معرض وجود میں آئی۔ پہلی دستور ساز اسمبلی نے جب سے قرارداد مقاصد منظور کی تو یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ قرارداد مقاصد اس وقت پاکستان کے ہر آئین کا دیباچہ رہی اور ۱۹۷۳ء کے آئین کا بھی دیباچہ اور آئینی تمہید قرارداد مقاصد ہی ہے جو کہ دستور کے ساتھ بطور ضمیمہ بھی شامل ہے۔ یہ بات بھی واضح ہے کہ ۱۹۴۹ء میں اور ۱۹۷۳ء میں بھی قانون ساز اسمبلی کے ارکان آئینی اصولوں کے نازک اور باریک معاملات کو خوب اچھی طرح سمجھتے تھے۔ پاکستان کی عدالتی تاریخ میں قرارداد مقاصد اس حوالے سے بھی ایک اہم موضوع کے طور پر زیر بحث رہی ہے کہ آیا باقی دستور پر قرارداد مقاصد کو بالا تر حیثیت حاصل ہے یا نہیں ؟ بہر حال قرارداد مقاصد کی باقی آئین پر بالا تر حیثیت پر اختلاف کے باوجود یہ امر متفقہ طے شدہ ہے کہ قرارداد مقاصد کو دستور کی دیگر دفعات کی طرح ایک اہم مقام حاصل ہے اور عدالت عظمیٰ کے اٹھارویں ترمیم کے فیصلے کے مطابق دستور کی تشریح کا ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ اسے ایک ہم آہنگ اور نامیاتی کل کے طور پر لیا جائے ۔ اگر پاکستان کے دستور کو ایک ہم آہنگ ، مربوط ، منظم اور نامیاتی کل کے طور پر دیکھا جائے تو دستور کی دینی ساخت اور اسلامی حیثیت کا تعین کرنا چنداں
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مشکل نہیں۔ دستور کی متعدد دفعات اور ترجمان، ماضی کا بیان اور مستقبل کا نشان ہوتا ہے جس سے نہ صرف تمام ادارے وجود میں آتے ہیں بلکہ یہی وہ میزان اور مقیاس ہے جس سے عوامی امنگوں، قومی مقاصد اور نصب العین کو پرکھا اور جانچا جاسکتا ہے۔ دراصل دستور ہی وہ آئینہ ہے جس سے ایک طرف ملک کی تاریخ کا عکس جھلکتا ہے، حال کا ادراک ہوتا ہے اور واشگاف الفاظ میں پاکستان کی جمہور کی طرف سے یہ Preamble مستقبل کا نقشہ نظر آتا ہے۔ اس تناظر میں ۱۹۷۳ء کا آئین سب سے پہلے اپنی تمہید میں اعلان کرتا ہے ”جمہوریت، آزادی، مساوات، رواداری اور عدل عمرانی کے اصولوں پر جس طرح اسلام نے ان کی تشریح کی ہے، پوری طرح عمل کیا جائے گا۔ جس میں مسلمانوں کو انفرادی اور اجتماعی حلقہ ہائے عمل میں اس قابل بنایا جائے گا کہ وہ اپنی زندگی کو اسلامی تعلیمات ومقتضیات کے مطابق، جس طرح قرآن پاک وسنت میں ان کا تعین کیا گیا ہے، ترتیب دے سکیں‘، اس امر کا بھی اظہار کیا گیا ہے کہ ”بنیادی حقوق کی ضمانت دی جائے گی اور ان حقوق میں قانون اور اخلاق عامہ کے تابع حیثیت اور مواقع میں مساوات، قانون کی نظر میں برابری، معاشرتی، معاشی اور سیاسی انصاف اور خیال، اظہار خیال، عقیدہ، دین، عبادت اور اجتماع کی آزادی شامل ہوگی۔“ اور پھر مزید یہ اقرار کہ ”لہٰذا، اب ہم جمہوریہ پاکستان؛ قادر مطلق اللہ تبارک وتعالیٰ اور اس کے بندوں کے سامنے اپنی ذمہ داری کے احساس کے ساتھ، پاکستان کی خاطر عوام کی دی ہوئی قربانیوں کے اعتراف کے ساتھ؛ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے اس اعلان سے وفاداری کے ساتھ کہ پاکستان عدل عمرانی کے اسلامی اصولوں پر مبنی ایک جمہوری مملکت ہوگی؛ اس جمہوریت کے تحفظ کے لیے وقف ہونے کے جذبے کے ساتھ جو ظلم وستم کے خلاف عوام کی انتھک جدوجہد کے نتیجے میں حاصل ہوئی ہے...... اسے اپنا دستور تسلیم کرتے ہیں۔“ دستور کی دفعہ ۲ میں اسلام کو پاکستان کا ریاستی مذہب قرار دیا گیا ہے۔ دستور کی دفعہ ۲۔الف میں یہ قرار دیا گیا کہ ”ضمیمہ میں نقل کردہ قرارداد مقاصد میں بیان کردہ اصول اور احکام کو بذریعہ ہٰذا دستور کا مستقل حصہ قرار بحسبہ مؤثر ہوں گے۔ ضمیمہ میں شامل قرارداد مقاصد کے متن کا ترجمہ درج ذیل ہے:
”اللہ تعالیٰ ہی کل کائنات کا بلا شرکت غیرے حاکم مطلق ہے۔ اس نے جمہور کے ذریعے مملکت پاکستان کو جو اختیار سونپا ہے، وہ اس کی مقررہ حدود کے اندر مقدس امانت کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔
مجلس دستور ساز نے جو جمہور پاکستان کی نمائندہ ہے، آزاد وخودمختار پاکستان کے لیے ایک دستور مرتب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
جس کی رو سے مملکت اپنے اختیارات واقتدار کو جمہور کے منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال کرے گی۔
جس کی رو سے اسلام کے جمہوریت، حریت، مساوات، رواداری اور عدل عمرانی کے اصولوں کا پورا اتباع کیا جائے گا۔
جس کی رو سے مسلمانوں کو اس قابل بنا دیا جائے گا کہ وہ انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنی زندگی کو قرآن وسنت میں درج اسلامی تعلیمات ومقتضیات کے مطابق ترتیب دے سکیں۔
جس کی رو سے اس امر کا قرار واقعی اہتمام کیا جائے گا کہ اقلیتیں، اپنے مذاہب پر عقیدہ رکھنے، عمل کرنے اور اپنی ثقافتوں کو ترقی دینے کے لیے آزاد ہوں۔
جس کی رو سے وہ علاقے جو اب تک پاکستان میں داخل یا شامل ہو جائیں، ایک وفاق بنائیں گے، جس کے صوبوں کو مقررہ اختیارات واقتدار کی حد تک خودمختاری حاصل ہوگی۔
جس کی رو سے بنیادی حقوق کی ضمانت دی جائے گی اور ان حقوق میں جہاں تک قانون واخلاق اجازت دیں، مساوات، حیثیت و مواقع کی نظر میں برابری، عمرانی، اقتصادی اور سیاسی انصاف، اظہار خیال، عقیدہ، دین، عبادت اور جماعت کی آزادی شامل ہوگی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جس کی رو سے اقلیتوں اور پسماندہ و پست طبقات کے جائز حقوق کے تحفظ کا قرار واقعی انتظام کیا جائے گا۔
جس کی رو سے نظام عدل گستری کی آزادی پوری طرح محفوظ ہوگی ۔
جس کی رو سے وفاق کے علاقوں کی صیانت، آزادی اور جملہ حقوق ، بشمول خشکی و تری اور فضا پر صیانت کا تحفظ کیا جائے گا۔
تا کہ اہل پاکستان فلاح و بہبود کی منزل پاسکیں اور اقوام عالم کی صف میں اپنا جائز و ممتاز مقام حاصل کریں اور امن عالم اور بنی نو انسان کی ترقی و خوشحالی کے لیے اپنا بھر پور کردار ادا کرسکیں۔‘‘
دستور کا ایک اہم عنصر دفعہ ۲۶۰ (۳) میں دی گئی مسلمان اور غیر مسلم کی تعریف ہے ۔ دستور میں دی گئی تعریف کی رو سے ”مسلمان وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت و توحید اور محمد رسول اللہ ﷺ کے مطلقاً خاتم النبیین ہونے پر ایمان رکھے اور کسی ایسے شخص کو نہ مانتا ہو نہ ایمان رکھتا ہو جو محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد نبی ہونے کا دعویٰ کرے خواہ وہ کسی بھی مفہوم میں ۔‘‘ غیر مسلم کی تعریف کرتے ہوئے واشگاف الفاظ میں ”قادیانی اور لاہوری گروہ (جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں ) اور بہائیوں کو ، غیر مسلم میں شمار کیا گیا ہے ۔‘‘ جس کی بنیادی وجہ مسلمانوں کا علیحدہ تشخص اور مستقل وجود کا اظہار و اقرار ہے ۔ دستور کی یہ دفعات جو مسلمان کی تعریف میں نبی مہربان حضرت محمد ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کے اعلان سے متعلق ہیں وہ انتہائی اہمیت کی حامل ہیں اور نبی کریم ﷺ کی ذات کے بارے میں امت کے مؤقف کی ترجمان ہیں ۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ دستور نے ایسے شخص کو غیر مسلم قرار دیا ہے جو نبی کریم ﷺ کو بطور خاتم النبیین تسلیم نہ کرتا ہو تو پھر ایسے شخص کے بارے میں نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں نازیبا الفاظ استعمال کرے اس کے انجام کے تعین میں کوئی ابہام باقی رہتا ہے؟ جس طرح نبی کریم ﷺ کی ذات کو آخری نبی تسلیم کرنے سے انکار کرنا یا پس و پیش سے کام لینا دستور و شریعت کے مطابق دائرہ اسلام سے اخراج کا سبب ہے تو نبی کریم ﷺ کی ذات پر سب و شتم بدرجہ اولیٰ انکار اور کفر ہے ۔ اسی طرح دستور پاکستان میں جمہور کی منشاء کی ترجمانی کرتے ہوئے ایک مستقل باب ۱۰ بعنوان اسلامی دفعات کی دفعہ ۲۲۷ میں قرار دیا ہے کہ پاکستان میں کوئی قانون قرآن وسنت کے منافی نہیں بنایا جائے گا بلکہ مملکت پر یہ بھی لازم کیا گیا ہے کہ پہلے سے موجودہ تمام قوانین کو اسلام کی تعلیمات جو کہ قرآن اور سنت میں بیان کی گئی ہیں کے مطابق ڈھالا جائے گا۔ اس مقصد کے حصول کے لیے دستور پاکستان نے اسلامی نظریاتی کونسل کا ادارہ تشکیل دیا ، دستور کی دفعات 228,229,230,231 اس سلسلے میں مستقل ہدایات سموئے ہوئے ہیں ۔ دفعہ 230(1)(a) میں اسلامی نظریاتی کونسل کے اغراض و مقاصد اور فرائض میں یہ صراحت کی گئی ہے کہ وہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کو اپنی تجاویز دے کہ جن کے ذریعے پاکستان کے مسلمانوں کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں کو تمام معاملات میں اسلام کے اصولوں و مقتضیات جو قرآن وسنت میں بیان ہوئے ہیں ، کے مطابق زندگی گزارنے کے قابل بنائے اور اس کی حوصلہ افزائی کرے ۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ دستور نے مذکورہ دفعہ میں اس ضمن میں حوصلہ افزائی (Encouraging) کا لفظ استعمال کیا ہے تا کہ اس امر کی وضاحت ہو سکے کہ ریاست کی ذمہ داری صرف قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزارنے کے قابل بنانا ہی نہیں بلکہ اس کی حوصلہ افزائی بھی کرنا ہے ۔ دستور مسلمانوں کو نہ صرف قرآن وسنت کے مطابق زندگی گزارنے کی ضمانت دیتا ہے بلکہ ریاست کی یہ ذمہ داری قرار دیتا ہے کہ وہ اس حوالے سے تمام ضروری اقدامات کرے اور اس عمل کی حوصلہ افزائی کرے ۔ اس مقدمے کی سماعت کے دوران یہ دستوری تقاضا عدالت کے سامنے رہا ہے کہ جہاں اسلامی نظریاتی کونسل کو یہ فریضہ سونپا گیا ہے کہ وہ ایسی سفارشات پیش کرے جن کے ذریعے مسلمانان پاکستان قرآن وسنت کے مطابق اپنی زندگی کو انفرادی و اجتماعی سطح پر تشکیل دے سکیں تو یقیناً دستور پاکستان میں ایک ایسا ماحول پیدا کرنا چاہتا ہے جہاں اطاعت خداوندی کی حوصلہ افزائی
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہو، سنت رسول کے اتباع کی افزائش ہو، نیکیوں کی ترویج ہو۔ عصمت انبیاء، ناموس صحابہ، حرمت امہات المومنین کی حفاظت ہو اور فحاشی، بے راہ روی اور اسلام دشمنی کے تمام راستے مسدود کیے جاسکیں۔”آرٹیکل (3)228 کی رو سے قومی اسمبلی ،صوبائی اسمبلی، صدر یا کوئی گورنر اسلامی نظریے کی مشاورتی کونسل کو مشورے کے لیے سوال بھیج سکتے ہیں کہ آیا مجوزہ قانون قرآن وسنت میں بیان اسلامی تعلیمات کی مقتضیات کے منافی تو نہیں۔ ”آرٹیکل 22 میں کہا گیا کہ کوئی قانون قرآن وسنت میں بیان اسلامی تعلیمات ومقتضیات کے منافی نہیں بنایا جائے گا اور موجودہ تمام قوانین کو قرآن وسنت کے مطابق ڈھالا جائے گا‘ آرٹیکل 230 کے مطابق کونسل کے وظائف مندرجہ ذیل ہیں:
- 1...... پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے لیے سفارشات تیار کرنا تا کہ پاکستان کے مسلمان اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں کو ہر لحاظ
سے اسلام کے اصولوں اور تصورات کے مطابق بناسکیں۔
- 2...... کسی ایوان، اسمبلی، صدر یا گورنر کی اس بارے میں راہ نمائی کرنا کہ آیا مجوزہ قانون اسلام کے مطابق ہے یا نہیں۔
- 3...... موجودہ قوانین کا جائزہ لے کر ایسی سفارشات تیار کرنا تا کہ یہ قوانین احکام اسلام کے مطابق ہو جائیں۔
- 4...... احکام اسلام کو ایک مناسب شکل میں ترتیب دینا تا کہ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیاں ان پر قانون سازی کرسکیں۔
آرٹیکل ۳۰ میں ریاست کے بنیادی اصول بیان کرتے ہوئے یہ قرار دیا گیا ہے ۔”پاکستان کے مسلمانوں کو انفرادی اور اجتماعی طور پر اس قابل بنایا جائے کہ وہ اپنی زندگی اسلام کے بنیادی اصولوں اور اساسی تصورات کے مطابق ڈھالیں اور انہیں ایسی سہولتیں بہم پہنچائی جائیں جن کی مدد سے وہ ان اصولوں اور تصورات کے مطابق زندگی کا مفہوم سمجھنے کے قابل ہو جائیں۔ پاکستان کے مسلمانوں کے لیے قرآن مجید اور اسلامیات کی تعلیم لازمی قرار دی جانا چاہیے۔ باہمی اتحاد اور اسلامی اخلاقی معیار کو فروغ دیا جانا چاہیے۔ زکوٰۃ ، اوقاف اور مساجد کی باقاعدہ تنظیم کا اہتمام کیا جانا چاہیے ۔ “ دستور پاکستان کو قرآن وسنت کی بنیاد پر وضع کرنے کا کس درجہ اہتمام کرتا ہے وہ اسی حقیقت سے عیاں ہے کہ جہاں ایک طرف دستور ملک کی مقننہ پر یہ پابندی عائد کرتا ہے کہ وہ قانون کو قرآن وسنت کے منافی کوئی قانون سازی نہیں کرے گی تو دوسری طرف اس سلسلے میں مکمل راہنمائی اور جائزے کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل کا ادارہ قائم کرتا ہے۔ لیکن اگر اس کے باوجود بھی کوئی قانون قرآن وسنت کی تعلیمات کے خلاف منشاء ظہور پر آ جائے یا پہلے سے وقوع پذیر ایسا قانون باقی رہ جائے تو وفاقی شرعی عدالت اس کا جائزہ لے سکے اور اگر اس قانون کو قرآن وسنت کے منافی پائے تو اسے کالعدم قرار دے کر ختم کر دے۔ دستور کا باب۳-اے اس حوالے سے ایک مستقل ضابطہ ہے۔ دفعہ ۲۰۳-جے جو کہ عدالت کے اختیار سماعت سے متعلق ہے، عدالت کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ ”عدالت اپنی کسی تحریک پر ، یا پاکستان کے کسی شہری، وفاقی حکومت یا کسی صوبائی حکومت کی درخواست پر کسی قانون یا اس کی کسی شق کا جائزہ لے سکتی ہے اور فیصلہ کر سکتی ہے کہ آیا یہ قانون یا اس کی کوئی شق احکام اسلام، جیسا کہ قرآن وسنت میں مذکورہ ہیں، کے منافی تو نہیں ہے۔“
اسلامی نظریہ ملک کی اساس ہے اور غیر مسلم عہدیدار بھی اس کے تحفظ کا حلف اٹھائے گا، دستور کے جدول دوم میں سولہ دستوری عہدوں کے حلف کی عبارتیں ملتی ہیں۔ ان میں سے پہلے بارہ عہدوں: صدر ، نائب صدر ، وزراء و وزرائے مملکت ،اسپیکر قومی اسمبلی، ڈپٹی اسپیکر، رکن قومی اسمبلی ، رکن سینٹ ، گورنر صوبہ جات ، صوبائی وزراء، صوبائی اسمبلیوں کے سپیکر، صوبائی اسمبلیوں کے ڈپٹی اسپیکر اور رکن صوبائی اسمبلی کے حلف کی تمام عبارتوں میں یہ جملہ موجود ہے ”کہ میں اسلامی نظریہ کو برقرار رکھنے کے لیے کوشاں رہوں گا جو قیام پاکستان کی بنیاد ہے“ حالانکہ ان دستور عہدوں میں سے صدر اور نائب صدر کے سواء کسی کے لیے مسلمان ہونا شرط نہیں ہے۔ ان پر غیر مسلم بھی فائز ہو سکتے ہیں۔ لیکن حلف کی عبارت میں سیاسی اعتبار سے یہ اہتمام موجود ہے کہ اگر کوئی غیر مسلم کسی وقت ان عہدوں پر فائز ہو تو اپنے مذہب اور
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عقیدے پر قائم رہتے ہوئے بھی وہ پاکستان کی نظریاتی بنیاد۔۔۔۔اسلامی نظریہ۔۔۔کا تحفظ کرے گا۔‘‘
یہ تو دستور کا ایک سرسری جائزہ ہے جو صرف اس امر کے اظہار کے لیے بیان کیا گیا ہے کہ پاکستان کا دستور جس کی حفاظت ہم سب پر فرض ہے۔ دفعہ ۵ کے مطابق پاکستان کے ہر شہری کا فرض ہے کہ وہ دستور کی پاسداری کرے اور ریاست اسلامی جمہوریہ پاکستان کا وفادار رہے۔ اعلیٰ عدلیہ کے جج کی حیثیت سے یہ عدالت عوام کی ہدایات کی امین ہے اور اس حیثیت میں آئین کے تحفظ پر مامور ہے اور آئین کے تحت حلف کی روشنی میں اس کے فرائض منصبی میں آئین کی حفاظت اور دفاع شامل ہے۔
۶۶...... درج بالا پیراگراف میں دیئے گئے تاریخی تناظر میں، علامہ اقبال کی تحریریں، پارلیمنٹ کے فلور اور کمیٹی کے معزز اراکین کے سامنے کی جانے والی تقاریر سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ مسلمانان برصغیر کی متفقہ رائے ہے کہ قادیانیت ایک ردعمل، اسلام مخالف اور سامراجیت نواز لابی کے مکروہ سیاسی عزائم پر مشتمل ہے جو مذہبی احیاء کے لبادے میں کام کر رہی ہے۔ مسلمانان برصغیر نے قادیانیت کو ایک علیحدہ مذہب اور علیحدہ سماجی اور سیاسی حیثیت دی ہے جو آزادی کے دن سے مسلم عقائد، اسلام اور نظریہ پاکستان کے خلاف ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا جو بعد ازاں پارلیمنٹ کی کاروائیوں سے بھی مترشح ہے کہ قادیانیوں نے ہمیشہ برطانوی سامراج اور ہندو حکومتوں کی غیر مشروط، غیر متزلزل اور کھلی وفاداری کی ہے جب کہ ایک آزاد اسلامی ریاست ان کے لیے ایک کڑوی گولی کی حیثیت رکھتی رہی ہے۔ ان کی جانب سے ایک خطرناک کوشش یہ کی گئی کہ ریاست پاکستان میں ایک قادیانی ریاست کا قیام عمل میں لایا جائے۔ میں یہ کہنے سے باز نہیں رہ سکتا کہ پاکستان میں کوئی اور کمیونٹی، مذہبی گروہ یا اقلیت نے ایسے مکروہ عزائم اور مشتعل رجحانات کا پرچار نہیں کیا ہے۔
اس لئے مسلمانان برصغیر نے پہلے دن سے مطالبہ کیا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا جائے اور انہیں کلیدی عہدوں سے ہٹایا جائے۔ ۱۹۷۴ء میں دوسری آئینی ترمیم کے پاس ہونے کے بعد اس آئینی ترمیم پر بلاکم وکاست عمل درآمد کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔ بعد ازاں ایک مرتبہ پھر عوامی مطالبے پر ۱۹۸۴ء میں ایک آرڈیننس کے ذریعے قادیانیوں پر مخصوص القابات اور خطابات جو مقدس شخصیات یا مقامات کے لیے مختص ہیں استعمال پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ اسی طرح ان پر اپنے آپ کو مسلمان کہلوانے پر بھی پابندی لگائی گئی ہے۔ ان پر اپنے عقیدے کے پرچار، یا دوسروں کو زبانی یا تحریری اپنا عقیدہ اپنانے کی دعوت دینے یا کسی اور ایسے طریقے سے جن سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے ہوں کی قادیانیوں اور لاہوریوں کو ممانعت کی گئی ہے لیکن خفیہ طریقے سے قادیانیوں کا مسلمانوں میں گھلنے کا ایک خلا رہ گیا تھا جو دیگر قوانین میں مطلوبہ ترامیم نہ کر کے پیدا کیا گیا تھا اور قادیانیوں کو موقع مل گیا کہ وہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کریں کیونکہ پاکستانی عوام کی امنگوں کو قوانین کا حصہ بنانے کے لئے مطلوبہ اقدامات نہیں کئے گئے تھے۔ تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ شناختی کارڈ اور پاسپورٹ پر قادیانیوں کی علیحدہ شناخت کا مطالبہ تسلسل کے ساتھ کیا جاتا رہا ہے۔ بلاشبہ ۱۹۸۴ء کے آرڈیننس کے اجراء سے ایک اہم قدم اٹھایا گیا تھا جس کے تحت قادیانیوں کو مخصوص اسلامی خطابات کے استعمال سے روکا گیا، لیکن اگر قادیانی اپنی شناخت مخفی رکھتے ہیں تو کیا کیا جائے؟ ایسی صورت میں کیا کیا جائے اگر ایک قادیانی اپنی شناخت مخفی رکھ کر اعلیٰ ترین آئینی عہدے پر پہنچ جاتا ہے؟ ایسی صورت میں کیا کیا جائے اگر کوئی فرد یا افراد آئین اور قانون کو چکمہ دے کر ریاست کی سلامتی اور سالمیت کو خطرے میں ڈالتے ہیں یا اس کی خلاف ورزی کرتے ہیں؟ یہ اصطلاح اکثر و بیشتر استعمال کی جاتی ہے کہ ہر غلطی کی ایک تلافی ہے۔ پاکستانی عوام کے پاس اس دھوکہ دہی اور بے وفائی پر کیا راستہ بچتا ہے؟ یہ بار بار قرار دیا گیا ہے کہ قوانین کا مقصد وسیع تر عوامی مفاد کسی بھی غیر قانونی کام کی ممانعت ہوتی ہے لیکن کیا ایسی غلط کاریوں کے قلع قمع کے لئے قوانین بنائے گئے ہیں؟ پاکستان کے عوام اپنی حکومت سے پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ دوسری آئینی ترمیم کو حقیقی معنوں میں مؤثر بنانے کے
تحریک ختم نبوت جلد (١٠) ٢٠١٨ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
لئے کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان شر پسند عناصر پر نظر رکھنے کے لئے کیا اقدامات کیے گئے ہیں جو سوسائٹی میں بگاڑ پر بضد ہیں؟ وہ قادیانی، جو اپنا مذہب ظاہر کرتے ہیں، اقلیتوں کا سٹیٹس قبول کرتے ہیں اور وہ حقوق، استحقاق اور آزادیاں استعمال کرتے ہیں جو آئین اور قانون عطا کرتے ہیں لائق تحسین ہیں مگر ان کے خلاف کیا اقدامات کیے گئے ہیں جو اپنے آپ کو اکثریتی مسلمانوں کا حصہ قرار دے کر اس اکثریت کے حقوق پامال کرتے ہیں جب کہ وہ ان جیسے نہیں ہوتے ہیں؟ ایسے کون سے تادیبی قوانین اور قانونی پابندیاں طے کی گئی ہیں جو دوسری آئینی ترمیم کے تحت لوگوں کے نمائندے اپنے ڈکلیریشن میں بیان کرتے ہیں؟ پاکستان کے عوام آئین کے تابع از خود اس بات کا انتخاب کرتے ہیں کہ ان کی ریاست کا سربراہ ایک مسلمان کو ہونا چاہئے لیکن تب کیا ہوا گر ایک قادیانی اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر کے غلط کوائف اور شناخت کے تحت اس مقدس عہدے پر پہنچ جاتا ہے؟ ان تمام سوالوں کا جواب ایک بہت بڑی مایوسی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
٦٧ ...... آئینی ترامیم کو حقیقی اور مطلوبہ معنوں میں مؤثر بنانے کے حوالے سے ریاست کے لئے یہ ضروری تھا کہ ملک کے دیگر قوانین میں ملتی جلتی ترامیم کرے۔ یہ وہ کم سے کم عزت اور احترام ہے جو ایک آئینی شق کا استحقاق رکھتا ہے اور تقاضہ کرتا ہے۔ آئینی شق عوامی امنگوں کا مظہر ہے اور ریاست آئینی استقرار کے فرمان کو دبا کر آئین کی منشاء کو دبا نہیں سکتی۔ ریاستی سطح پر قادیانیوں کو غیر مسلم کا قرار دینا مخصوص نتائج سے منسلک تھا لیکن وہ نتائج حقیقت کا روپ نہ دھار سکے اور آئینی ترمیم محض ایک بات بن کر رہ گئی ہے۔ آئینی ترمیم کی روح ، مقصد اور وجود کو ریاستی مشینری کی جانب سے مطلوبہ استحقاق نہیں دیا گیا جس سے موجودہ بحران نے جنم لیا جب انتخابی قوانین میں متذکرہ ترامیم نے ریاست کے سب سے اہم قانون ساز حصے یعنی پارلیمنٹ میں اپنی راہ ہموار کر لی اور مؤثر قانون سازی کی شکل اختیار کی اور ملک گیر احتجاج ، شور و غل اور عدم استحکام کو دعوت دی۔ اس صورتحال کا اس حد تک استحصال ہوا کہ حکومتی مشینری غیر مؤثر ہو کر رہ گئی ، عدالت عظمیٰ کے ججوں کی نفرت پر مبنی تقاریر سے علی الاعلان بے توقیری کی گئی ، وزیر موصوف کو مستعفی ہونے پر مجبور کیا گیا اور یہاں تک کہ ترامیم کی واپسی کے باوجود خوفناک سیاسی عزائم کی تکمیل کے لئے احتجاج جاری رہا۔ یہ سب کیوں ہوا؟ اس صورتحال کے کیا عوامل تھے؟ دوسرے عوامل کو ایک طرف رکھتے ہوئے، اس بات سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا کہ قادیانیوں کی مسلمانوں کے بھیس میں اعلیٰ عہدوں تک رسائی اس طرح کے عدم استحکام کا سبب بنتی ہے اور ان تنازعات میں اتنی طاقت پوشیدہ ہوتی ہے کہ ملک کے آئینی نظام کو ہلا کر رکھ دے۔ ہماری ریاست میں قادیانیوں کا اثر و رسوخ کا اندازہ موجودہ قانونی ترامیم اور ان سے جنم لینے والے واقعات سے کیا جاسکتا ہے جب پوری پارلیمنٹ کو دھوکے سے ان کے عزائم کے تابع اور یرغمال بنایا گیا۔
٦٨ ...... ١٩٧٣ء کے آئین کی اساس قرارداد مقاصد کے پاس ہونے کے دن سے قادیانی لابی، خاص طور پر دوسری آئینی ترمیم کے بعد جب انہیں غیر مسلم قرار دیا گیا اور آرڈیننس ١٩٨٤ء کا اجراء کیا گیا جس میں انہیں باقاعدہ غیر مسلم قرار دیا گیا، پاکستان میں مذہبی آزادیوں پر پابندیوں پر آواز اٹھاتی رہی ہے اور اقلیتوں کے حقوق کو دبانے کا غلغلہ مچاتی رہی ہے جس کی کوئی ٹھوس بنیاد نہیں ہے اور جس کا مقصد محض ریاست پاکستان کو بدنام کرنا ہے۔ تحریک پاکستان جس کی اساس مسلمانان برصغیر کی اس خواہش میں تھی کہ انہیں ایک علیحدہ مملکت چاہئے اور اسی لئے مسلمانوں کی علیحدہ مملکت کی نظریاتی بنیاد کو مخصوص حلقوں کے لئے ہضم کرنا آسان نہیں۔ اس تاثر کی نفی کے لئے بابائے قوم محمد علی جناح کا پہلا اہم بیان ١١ اگست ١٩٤٧ء میں آیا جو اقلیتوں کے حقوق سے متعلق تھا جس میں انہوں نے کہا:’’ اسلام انصاف، مساوات، مناسب برتاؤ، برداشت اور حتیٰ کہ غیر مسلموں کے ساتھ سخاوت کا تقاضا کرتا ہے جو ان کے زیر اطاعت ہوں ۔‘‘
ثانیاً: ١٩٤٨ء میں جب انہوں نے کہا کہ ’’ان کے حقوق کا تحفظ اعلیٰ ترین مقتدر یعنی قرآن کے احکامات کے مطابق کیا جائے گا
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جیسا کہ قرآن کسی اقلیت کے ساتھ منصفانہ سلوک کیے جانے کو ضروری قرار دیتا ہے۔‘‘
- ۶۹...... ۱۹۴۳ء میں انہوں نے ایک ہندو وفد سے بات چیت کرتے ہوئے اپنی بات دہرائی ’’ہم آپ کی اقلیتوں کا اس انداز سے بھی
بہتر انداز میں سلوک روا رکھیں گے جو کوئی مہذب حکومت روا رکھتی ہے۔ کیونکہ اقلیتوں سے ایسے طرزسلوک کا خود قرآن میں حکم ہے:
واضح طور پر اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ان کا سیاق و سباق اسلام تھا۔ ۱۴؍ جولائی ۱۹۴۷ء کی پریس کانفرنس میں جب کہ وہ نئی دہلی میں تھے۔ ان سے اقلیتوں کے مسئلے پر ایک مختصر بیان دینے کے لیے کہا گیا تھا۔ ان کا جواب شفاف اور ٹھوس تھا۔ ’’اس وقت میں صرف نامزد گورنر جنرل ہوں‘‘۔ انہوں نے کہا: ’’ایک لمحے کے لیے ہم یہ فرض کریں گے کہ ۱۵؍ اگست کو میں پاکستان کا حقیقی گورنر جنرل ہوں گا۔ اس بنیاد پر مجھے یہ بتانے دیجئے کہ میں اپنی اس بات سے جو میں اقلیتوں کے حوالے سے متواتر کہتا رہا ہوں سے منحرف نہیں ہوں گا جب کبھی میں نے اقلیتوں کے بارے میں جو میرا مطلب تھا وہی کہا اور جو کچھ کہا وہی میرا مطالبہ تھا۔
’’انہیں ان کے حقوق اور استحقاق حاصل ہوں گے اور بلا شک و شبہ اسی کے ساتھ ان پر بطور شہری ذمہ داریاں بھی عائد ہوں گی۔‘‘
مثال کے طور پر ۱۱؍ اکتوبر ۱۹۴۷ء کو اپنی تقریر میں انہوں نے کہا: ’’تقسیم ہند پر اتفاق اس صریح اور مقدس اقرارنامے کے ساتھ ہوا تھا کہ دونوں خود مختار حکومتیں اقلیتوں کا تحفظ کریں گی اور یہ کہ ان اقلیتوں کو جب تک کہ وہ ریاست سے وفادار رہیں کوئی خوف کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر حکومت ہند کی یہی پالیسی ہے اور مجھے یقین ہے کہ ابھی تک ہے تو انہیں مسلمانوں کے خلاف انتقامی کاروائی کو روک دینا چاہئے جو اگر جاری رہی وہ دونوں ریاستوں کے لیے تباہی کے مترادف ہوگی‘‘
- ۷۰...... ان کی ۳۰؍ اکتوبر ۱۹۴۷ء اور ۲۵؍ جنوری ۱۹۴۸ء کی تقریریں بھی اسی طرح کی ہیں اقلیتوں کو تحفظ دینے کے لیے انہوں نے حتیٰ
کہ اسلامی تعلیمات سے استعانت حاصل کی: ’’انہوں نے کہا اسلامی عقائد ہر مسلمان کو اپنے ہمسایوں اور بلا امتیاز حسب ونسب کے اقلیتوں کے تحفظ کو لازم قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے امریکی عوام سے اپنے پیغام میں اسی بات کو دہرایا انہوں نے کہا دستور پاکستان ابھی پاکستان دستور اسمبلی کی طرف سے وضع کیا جانا ہے میں نہیں جانتا کہ اس دستور کی حتمی شکل کیا ہو گی لیکن مجھے یقین ہے کہ یہ جمہوری طرز کا ہو گا جو اسلام کے بنیادی اصولوں پر مبنی ہو گا جو کہ آج بھی اتنے ہی لاگو ہیں جس طرح وہ تیرہ سو سال پہلے تھے۔ اسلام اور اس کی فلسفہ تصوریت نے ہمیں جمہوریت کا سبق پڑھایا ہے۔ اسلام نے انصاف اور ہر شخص سے منصفانہ سلوک کی تعلیم دی ہے۔ ہم انہی شاندار روایات کے وارث ہیں اور اپنی ذمہ داریوں اور فرائض کے حوالے سے پاکستان کے مستقبل کے دستور کے معمار ہونے کے ناتے پوری طرح بیدار ہیں۔‘‘
- ۷۱...... قائد اعظم جانتے تھے کہ تحریک پاکستان کی مذہبی بنیاد غیر مسلموں میں یہ سنجیدہ غلط فہمی پیدا کر رہی تھی جو یہ خیال کرتے تھے کہ نئی
ریاست ملائیت میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ جناح نے اسلامی ریاست اور ملائیت کے مابین فرق کو واضح کیا انہوں نے کہا: ’’کسی بھی صورت پاکستان ملائیت والی ریاست نہیں بن رہی ہے کہ اس پر کسی الہامی مشن کے ساتھ ملاّ حکومت کریں ہمارے پاس بہت غیر مسلم، ہندو، عیسائی اور پارسی موجود ہیں لیکن وہ سب پاکستانی ہیں وہ پاکستان کے معاملات میں مساوی جائز حصہ سے مستفید ہوں گے۔
- ۷۲...... بابائے قوم کی واضح یقین دہانی کے مدنظر پہلی آئین ساز اسمبلی میں پاس کی گئی قرارداد مقاصد میں کئے گئے اعلانات اور دی گئی
آئینی ضمانتیں ہر طرح کے ابہام کا خاتمہ کر دیتی ہیں۔ اقلیتوں کا تحفظ اور ان کے حقوق اور استحقاقات کی فراہمی مسلم عقیدے کی روح ہے۔ اگر ایسی آئینی ضمانتیں نہ ہوتیں تو بھی مسلم امہ کی تاریخ، خاص طور پر برصغیر میں مسلم راج کی تاریخ از خود اقلیتوں کی دیکھ بھال کی عمدہ مثال ہے۔ اس احساس ذمہ داری کی اساس قرآن اور سنت کی تعلیمات میں پائی جاتی ہے جن پر عمل کرتے ہوئے مسلمان ہر طرح کی صورتحال
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
میں لوگوں سے انصاف کرتے ہیں۔ ۲۰ ویں صدی کے مشہور مسلم مفکر ڈاکٹر محمد حمید اللہ نے اپنی مشہور کتاب ”ریاست کا مسلم کردار“ میں شریعت کے تابع غیر مسلموں کو حاصل حقوق کو بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ :
”اسلامی قانون نے مسلم اور غیر مسلم عوام میں فرق کو ملحوظ خاطر رکھا ہے۔ بہت سے اعتبار سے غیر مسلم زیادہ بہتر حالت میں ہیں۔ وہ اضافی جائیداد پر لگنے والے ٹیکس (زکوۃ) سے مبرا ہیں جو تمام مرد و عورت، جوان یا بوڑھے مسلمان اڑھائی فیصد کے حساب سے اپنے کیش، کاروباری سامان، مویشیوں کے گلے وغیرہ پر ادا کرتے ہیں جو کہ حیدر آبادی چالیس روپے (دو سے دس پاؤنڈ) کم از کم ہے۔ ان پر جہاد بھی فرض نہیں ہے جب کہ تمام مسلمانوں پر حربی خدمت لازم ہے۔ وہ ایک اعتبار سے خود مختاری سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ ان کے مقدمات میں ان کے ہم مذہب اپنے عائلی فیملی قوانین کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں۔ اسلامی ریاست میں ان کی زندگی اور جائیداد کی اسی طرح حفاظت کی جاتی ہے جس طرح مسلمانوں کی جاتی ہے۔ اس سب کے جواب میں ان پر لازم ہے کہ وہ ۱۲ سے ۴۸ درہم (تقریباً دو سے آٹھ روپے) فی کس ادا کریں جب کہ انہیں بہت سے استثنات حاصل ہیں:
”فی کس محصول صرف مردوں سے لیا جاتا ہے خواتین اور بچے مستثنیٰ ہیں۔ امیروں کو ۴۸ درہم ادا کرنے پڑتے ہیں، درمیانے درجے کے شخص کو ۲۴ اور اپنی روزی کمانے والے دستکار کو ایک کسان کی طرح صرف ۱۲ درہم ادا کرنے ہوتے ہیں جو کہ سال میں صرف ایک بار وصول کیے جائیں گے نقد رقم کے بجائے وہ اس کی قدر بھی ادا کر سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ فی کس محصول اس مقامی فرد سے بھی وصول نہیں کیا جاتا جو صدقہ خیرات لیتا ہے اور نہ اس نابینا سے جس کا کوئی پیشہ نہیں اور نہ وہ کوئی کام کرتا ہے اور نہ ہی شدید بیمار مرد سے جو صدقہ خیرات لیتا ہے نہ ہی لولے لنگڑے سے ماسوائے ان شدید بیمار اور لولے لنگڑوں سے اور اندھوں سے جو امیر ہیں۔ نہ ہی خانقاہوں میں رہنے والے راہبوں سے نہ ہی ان بوڑھوں سے جو نہ تو کام کر سکتے ہیں نہ ہی ان کے پاس دولت ہے اور نہ کسی پاگل سے حاصل کیا جاتا ہے۔۔۔۔۔ اور اے امیر المومنین خدا تری مدد کرے یہ ضروری ہے کہ تم بھی ان لوگوں کو تحفظ دو جنہیں تیرے پیغمبر اور ترے چچا زاد بھائی محمد ﷺ (یعنی غیر مسلم رعایا) کو نرمی کے ساتھ تحفظ دیا تھا اور ان کے حالات معلوم کرتے رہو تا کہ نہ ان پر ظلم ہو اور نہ انہیں کوئی تکلیف پہنچے نہ ان کی گنجائش سے بڑھ کر محصول لگایا جائے نہ ہی ان سے ان کی ملک کوئی شے ماسوائے اس محصول کے جس کا ان پر بار ہو، وصول کی جائے جیسا کہ پیغمبر ﷺ خدا سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا ”جو کوئی کسی غیر مسلم رعایا پر ظلم کرے یا اس کی حیثیت سے بڑھ کر محصول لگائے تو میں اس کے ساتھ ایک فریق ہوں گا“ اور وہ آخری الفاظ جو خلیفہ عمر رضی اللہ عنہ ابن خطاب نے اپنے بستر مرگ پر بولے وہ درج ذیل ہیں۔ ”میں اپنے جانشین کو ان لوگوں کے ساتھ جن (یعنی غیر مسلم رعایا) کی حفاظت اللہ کے رسول ﷺ نے فرمائی، حسن سلوک کی نصیحت کرتا ہوں۔ ان کے ساتھ کئے معاہدے کی مکمل پاسداری ہونی چاہئے اور ان کی زندگی اور ملک کا دفاع جنگ لڑ کر بھی کیا جانا چاہیے۔ ان کی حیثیت سے زیادہ ان پر محصول نہیں لگانے چاہئیں۔“ ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایک گلی سے گزرے جہاں کوئی شخص خیرات مانگ رہا تھا وہ بوڑھا اور نابینا تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی پشت پر ہاتھ تھپتھپایا اور پوچھا تم کس قوم سے ہو؟ اس نے جواب دیا کہ ایک یہودی ہوں انہوں نے کہا تجھے کس چیز نے اس بات پر مجبور کیا ہے جو میں تجھ میں دیکھتا ہوں۔ اس نے جواب دیا: مجھے فی کس محصول دینا ہوگا؛ میں غریب ہوں؛ اور بوڑھا ہوں۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے گھر لے گئے اور اسے اپنی ذاتی خزانے سے کچھ دیا۔ پھر انہوں نے بیت المال (ریاستی خزانہ) کے خزانچی کو یہ فرمان بھیجا: ”اسے دیکھو اور اس کی قوم کو دیکھو۔ خدا کی قسم ہم انصاف نہیں کر رہے ہوں گے اگر ہم اس کی جوانی کو کھا جائیں اور اسے بڑھاپے میں اکیلا چھوڑ دیں۔ حکومتی محصولات غریبوں اور مقامی لوگوں کے لیے ہیں۔“ غریب سے مراد مسلمان ہیں اور صحیفوں میں یہ
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ۳۲۴ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مقامی ہے اور عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر اور اس کی قوم پر فی کس محصول ختم کر دیا۔
(امام ابویوسف : کتاب الخراج،ص۶۹-۷۲)
اسی طرح غلام بھی اس محصول سے مستثنیٰ ہیں۔ اگر غیر مسلم رعایا اپنی مرضی سے فوجی خدمات سرانجام دے تو وہ خدمات کے دوران اس سے مستثنیٰ ہیں۔ ایسی مثالیں موجود ہیں جب شاندار خدمات کے صلے میں یہ محصول معاف کر دیا گیا جیسے کہ مثال کے طور پر خلیفہ عمر رضی اللہ عنہ نے کیا جب ایک غیر مسلم نے قاہرہ سے بحیرہ احمر تک نہر کھودنے کے لئے جگہ کے تعین میں مدد کی۔
اوپر کی گئی بحث کے تناظر میں اس میں کوئی شک نہیں رہ جاتا ہے کہ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کرے چونکہ ملکی آئین نے اسلام کو سرکاری مذہب قرار دیا ہے۔
۷۳...... اب اس تاریخی پس منظر اور تناظر میں عدالت ہذا بآسانی آئینی درخواستوں میں اٹھائے گئے تنقیحات کے جواب دے سکتی ہے۔ جہاں تک پہلی استدعا کا تعلق ہے، یہ پارلیمنٹ کے لئے ہے جو حقیقی ارادے کی وضاحت کر سکتی ہے لیکن بادی النظر میں یہ تاثر ابھرتا ہے کہ بل کا مسودہ تیار کرنے والوں نے قادیانیوں کو اکثریت کے حلقے میں لانے کی ایک سوچی سمجھی اور مبنی بر محرک کوشش کی تھی تاکہ ان کی بطور غیر مسلم علیحدہ شناخت کو ختم کیا جاسکے۔ میں سخت تشویش کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ قومی اسمبلی اور سینٹ کے تمام اراکین، (جماعتی وابستگی سے بالاتر ) اس کے محرک، غلطی اور سادہ قانون، جس کی قانون میں اجازت نہیں، کے ذریعے آئینی ترمیم کو بگاڑنے کے لئے کی جانے والی کوشش کو بھانپنے میں ناکام رہے۔ عدالت کا انحصار پی ایل ڈی 2010 سپریم کورٹ 265 (ڈاکٹر مبشر حسن بنام فیڈریشن آف پاکستان)، پی ایل ڈی 2006 سپریم کورٹ 602 ( مبین الاسلام بنام فیڈریشن آف پاکستان)، 2004 ایس سی ایم آر 1903 (غلام مصطفیٰ انصاری بنام حکومت پنجاب)، 2002 ایس سی ایم آر 312 (زمان سیمنٹ کمپنی بنام سنٹرل بورڈ آف ریونیو)، پی ایل ڈی 1999 سپریم کورٹ 504 (لیاقت حسین بنام فیڈریشن آف پاکستان)، 1999 ایس سی ایم آر 1402 (کلکٹر آف کسٹم بنام شیخ سپننگ ملز) اور پی ایل ڈی 1967 لاہور 227 (اے ایم خان لغاری بنام گورنمنٹ آف پاکستان)۔
۷۴...... میری رائے میں پارلیمنٹرین نے یا تو بہت عمومی رویے کا مظاہرہ کیا یا مسئلے کی حساسیت کو سمجھنے سے قاصر رہے اور اس ضمن میں آئین کے خلاف بنے گئے جال کو افشاء کرنے میں ناکام رہے۔ یہ افسوسناک ہے کہ توجہ دلانے کے باوجود پارلیمنٹرین کی اکثریت اس نازک مسئلے کو مطلوبہ اہمیت اور توجہ دینے میں ناکام رہی جو ۲۲ ستمبر ۲۰۱۷ء، جمعے کے روز منعقد ہونے والے سینٹ کے ۲۷۶ ویں اجلاس کی کارروائی سے ظاہر ہے۔ چونکہ یہ مسئلہ تفصیلی جانچ پڑتال کا متقاضی ہے اس لئے عدالت ہذا کے لئے کسی ایک فرد، جماعت یا گروہ کو علیحدہ کرنا مشکل ہے۔ تاہم اس ضمن میں ظفر الحق رپورٹ متعلقہ ہے جو ضمیمہ ’’الف‘‘ کے طور پر منسلک کی گئی ہے اور یہ عدالت اسے جاری کرنے کا حکم دیتی ہے۔ سہولت کی غرض سے اس رپورٹ کے متعلقہ حصے یہاں پر بیان کئے جارہے ہیں:-
- ”9 ......
- (الف) ......
- (ب) ......
- (ج) ......
- (د) ......
- (ح) ۲۴؍ مئی ۲۰۱۷ء کو منعقدہ اپنے ۱۹ ویں اجلاس میں ذیلی کمیٹی نے الیکشن بل کے مسودہ پر غور کیا۔ فارم نمبر XXVII ،XXIII اور
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
XXVIIC جنہیں ممبر قومی اسمبلی انوشہ رحمن اور شفقت محمود نے دوبارہ سے مسودہ تیار کیا تھا اور یہ فیصلہ کیا تھا کہ سب کمیٹی کے اگلے اجلاس میں سٹیٹ منسٹر انوشہ رحمن فارمز کا ازسر نو جائزہ اور دوبارہ سے اس کا مسودہ تیار کر سکتی ہیں۔‘‘
- ”11- بعد میں، تمام پارلیمانی پارٹیوں کے رہنماؤں سے سپیکر قومی اسمبلی نے رابطہ کیا تھا اور انہیں اس مسئلے کی نزاکت کا
احساس دلایا تھا اور ۴؍ اکتوبر ۲۰۱۷ء کو سپیکر کی جانب سے بلائی گئی میٹنگ میں اتفاق کیا گیا اور الیکشن (ترمیم) ایکٹ ۲۰۱۷ء کے ذریعے ڈکلیریشن کے اصل الفاظ کو بحال کر دیا گیا تھا۔
- 12- تمام سیاسی پارلیمانی جماعتوں نے ابتدا میں اتفاق کیا کہ کنڈکٹ آف جنرل الیکشنز ایکٹ ۲۰۰۲ء کی شق ۷-بی اور
۷-سی کو اصل حالت میں بحال کیا جائے۔ نتیجتاً، ان دفعات کو بحال کرنے کے لئے ترامیم کی گئیں۔ اسے متذکرہ بالا الیکشنز (ترمیم) ایکٹ کے ذریعے بھی لاگو کیا گیا۔ (ضمیمہ جی)
- 13- بعد میں تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے سے الیکشن ایکٹ ۲۰۱۷ء میں دفعہ ۲۸-اے کے ذریعے پہلے کنڈکٹ
آف جنرل الیکشنز ایکٹ ۲۰۰۲ء کی شق ۷-بی اور ۷-سی کو بہتر انداز میں حصہ بنایا گیا۔ نئی دفعہ ۲۸-اے کے اضافہ سے شق ۷-بی اور ۷-سی کو فعال کر دیا گیا جسے ۱۵ برس پہلے ۲۶؍ جون ۲۰۰۲ء کو غیر فعال کیا گیا تھا (ضمیمہ ایچ)
- 14- وفاقی وزیر برائے قانون وانصاف زاہد حامد جو پارلیمانی کمیٹی برائے انتخابی اصلاحات کے رکن اور اس کی ذیلی کمیٹی کے
کنوینر تھے، اس مسئلے پر منعقد ہونے والی ایک میٹنگ میں اس حقیقت کو تسلیم کیا بنیادی طور پر یہ ان کی ذمہ داری تھی کہ آیا مسودہ میں کوئی متنازع شے تو موجود نہیں ہے تاہم اس کے مطابق وہ اپنی قانونی عقل وفہم، تجربے اور اس زبان پر عبور ہونے کے باوجود فرض کی ادائیگی میں ناکام رہے۔
- 15- اس کمیٹی کے علم میں آیا کہ پی سی ای آر کی ذیلی کمیٹی کی ۹۳ ویں میٹنگ کا ریکارڈ اپنے منسلکہ دستاویزات سمیت
(جس میں نیا آسان نامزدگی فارم بھی تھا) قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے ذریعے مشتہر ہونا تھا لیکن ذیلی کمیٹی کے کنوینر نے قومی اسمبلی کے افسر سے کہا کہ وہ ان کو مشتہر نہ کرے اور یہ بات ۲۲؍ جون ۲۰۱۷ء کے ریکارڈ میں موجود بھی ہے۔ درج بالا حقائق کے تناظر میں یہ ظاہر ہے کہ ایسے حساس اور مقدس معاملے پر ذیلی کمیٹی کے کنوینر، پی سی ای آر کے رکن اور وفاقی وزیر برائے قانون وانصاف زاہد حامد کی ناکامی تھی۔
- 16- جب حتمی مسودہ کو منظوری کے لئے پی سی ای آر کو اس کی ۲۵ ویں میٹنگ میں بھیجا گیا، پارلیمانی پارٹیوں کے اراکین
نے ختم نبوت سے متعلق ڈکلیریشن میں تبدیلی پر دھیان نہیں دیا۔
چونکہ قانون میں ضروری ترامیم پہلے ہی کر دی گئی تھیں اس لئے عدالت کے لئے یہ مناسب نہیں کہ معاملے پر تفصیل میں جائے ماسوائے اس کے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کا اصول وضوابط بنانے کے اختیارات کا از سر نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے کیونکہ ایک سنجیدہ تشویش پائی جاتی ہے کہ کوئی ایسا اصول اور ضابطہ جو قانون کے مقاصد یعنی مذہب کا ظاہر کرنا کہ آیا ایک شخص مسلمان ہے یا غیر مسلم کے لئے عمل میں لایا گیا تو اس سے امن وامان کی صورتحال اور آئین کے فرمان کو چیلنج کرنے کے مترادف ہوگی۔ یہاں یہ کہنا بجا ہوگا کہ ایسے اقدامات کرنے چاہئے جن سے یقینی ہو سکے کہ ہر پارلیمنٹرین کو دوسری آئینی ترمیم کے پاس ہونے کے موقع پر ہونے والی پارلیمانی بحث سے مناسب آگاہی دی جائے۔
- ۷۵...... بلاشک وشبہ، ۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء جب پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر دوسرا آئینی ترمیمی بل پاس کیا وہ ہر مسلمان کے لئے ایک بڑی خوشی
کا موقع تھا لیکن بدقسمتی سے مخصوص قوانین اس آئینی ترمیم کو بڑھاوا نہ دے سکے۔ دوسری جانب، قادیانیوں نے مختلف طریقوں اور بہانوں سے دوسری آئینی ترمیم کے مقاصد کو بگاڑنے کی بھرپور کوشش کی۔ قادیانیوں (کے دونوں گروہوں کو) غیر مسلم قرار دینے کے بعد ان کی
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
علیحدہ شناخت، پہچان اور چھان بین کے لئے کچھ اقدامات ضروری تھے کیونکہ قادیانی دوسری اقلیتوں کی طرح نہیں ہیں جنہیں اپنی ظاہری شکل وصورت، ناموں، عقائد اور طریقہ عبادت سے بآسانی پہچانا جاسکتا ہے۔ جب کہ قادیانیوں کے مسلمانوں جیسے نام، ظاہری خدوخال اور حتی کہ ان کی عبادات بھی ملتی جلتی ہیں اس لئے ان کی علیحدہ شناخت کے حوالے سے ابہام انہیں غیر مسلم قرار دینے سے ختم ہو سکتا تھا لیکن یہ مقصد حاصل نہ ہو سکا۔ مثال کے طور پر ”احمد“ کا نام قادیانیوں سے مختص ہے اور اسی بنیاد پر وہ احمدی کہلاتے ہیں جس کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔ کیونکہ ”احمد“ کا نام نامی حضرت محمد ﷺ سے موسوم ہے، جنہیں دیگر مذہبی کتب کے علاوہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اس نام سے پکارا ہے۔ مسلمان اس نام کے حوالے سے بہت جذباتی ہیں اور کسی فرد کے پہلے تعارف یا ملاقات میں اس کا نام اس کے مذہب کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس ضمن میں قرآن کی موجودہ آیت کا حوالہ دیا جا سکتا ہے۔
وَإِذْ قَالَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ يَا بَنِيْ إِسْرَائِيْلَ إِنِّيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ إِلَيْكُمْ مُّصَدِّقاً لِّمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَمُبَشِّراً بِرَسُوْلٍ يَّأْتِيْ مِنْ بَعْدِیْ اسْمُهُ أَحْمَدُ فَلَمَّا جَاءَهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِيْنٌ (6)
”اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب مریم کے بیٹے عیسیٰ نے کہا کہ اے بنی اسرائیل! میں تمہارے پاس اللہ کا بھیجا ہوا آیا ہوں (اور) جو (کتاب) مجھ سے پہلے آ چکی ہے (یعنی) تورات اس کی تصدیق کرتا ہوں اور ایک پیغمبر جو میرے بعد آئیں گے جن کا نام احمد ہوگا ان کی بشارت سناتا ہوں (پھر) جب وہ ان لوگوں کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے تو کہنے لگے کہ یہ تو صریح جادو ہے۔“ (سورۃ الصّف آیت نمبر 6)
- ۷۶...... اس لئے حالات کا تقاضا ہے کہ قادیانیوں کو غلامان مرزا یا مرزئی سے تعبیر کیا جائے اور کسی صورت احمدی نہ پکارا جائے کیونکہ یہ
اصطلاح اور حوالہ ان مسلمانوں کو الجھن میں ڈالتا ہے جن کا حضرت محمد ﷺ کے ختم نبوت پر عقیدہ ہے۔ قادیانیوں کو اجازت نہیں ہونی چاہئے کہ وہ مسلمانوں جیسے نام رکھ کر اپنی شناخت کو خفیہ رکھیں اس لئے ان کو یا تو مسلمانوں سے ملتے جلتے نام رکھنے کی ممانعت ہونی چاہئے یا متبادل کے طور پر قادیانی، غلام مرزا یا مرزئی کو اس کے نام کا حصہ بنایا جانا چاہئے اور اس کا تذکرہ بھی کیا جائے۔
- ۷۷...... ادارہ شماریات پاکستان کے جمع کردہ ڈیٹا کے مطابق، ۱۹۸۱ء اور ۱۹۹۸ء کے سالوں میں صوبوں کی سطح پر کی جانے والی مردم
شماری کے مطابق قادیانیوں کی آبادی کچھ یوں ہے:-
نمبر شمار قادیانی (احمدی) ۱۹۸۱ء مردم شماری ۱۹۹۸ء مردم شماری ۱ ۲ ۳ ٹوٹل (پاکستان) 104,244 286,212 شمال مغربی سرحدی صوبہ/خیبر پختونخواہ 11,360 42,162 فاٹا 673 6,541 پنجاب 63,694 181,428 سندھ 21,210 43,524 بلوچستان 5,824 9,800 اسلام آباد 1,183 2,757
جب کہ نادره نے ان لوگوں کی تفصیلات فراہم کیں جو دوسرے مذاہب بشمول احمدی/ قادیانی سے اب تک مسلمان ہوئے جو کچھ یوں ہے:
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مذہب تعداد مذہب تعداد افریقی تہذیب 162 دہریت 120 بہائی 11697 بدھ مت 143 چائنی گروہ 131 عیسائیت 9363 ہندو مذہب 3072 یہودیت 26 کالاشہ 1 غیر مذہب 25 دوسرے 6843 شنتو مذہب 51 سکھ 211 علم روحانی 3 خدا پر اعتقاد نہ رکھنے والے چینی مذہب 1 پارسی 211 جزوی تعداد 32060 احمدیہ 6248 کل تعداد 38488
ان مسلمانوں کی تفصیلات جنہوں نے مذہب اسلام سے دوسرے مذاہب بشمول قادیانیت میں شمولیت اختیار کی درج ذیل ہیں:
مذہب تعداد مذہب تعداد افریقی تہذیب 113 دہریت 106 بہائی 190 بدھ مت 31 چائنی گروہ 58 عیسائیت 4749 ہندو مذہب 2097 یہودیت 78 کالاشہ 8 غیر مذہب 54 دوسرے 61 شنتو مذہب 32 سکھ 127 علم روحانی 3 خدا پر اعتقاد نہ رکھنے والے چینی مذہب 5 پارسی 54 جزوی تعداد 7766 احمدیہ 10205 کل تعداد 17971
- ۷۸...... ریاست پاکستان مخصوص طریقہ کار اور نئے سائنسی اقدامات کے ذریعے اس اقلیت کی اصل تعداد کا پتہ چلائے۔ یہ ایسی صورتحال
میں مزید ضروری ہو جاتا ہے جب اس اقلیت کی ایک بڑی تعداد اصل شناخت چھپاتی ہے اور مسلمان ہونے کا غلط تاثر دیتی ہے۔ جنرل پرویز مشرف کے آمرانہ دور میں، ہر کسی نے قادیانیوں کی جانب سے طاقت کی راہداریوں تک رسائی کو محسوس کیا تھا اور یہ تشویش کا باعث بنتا رہا
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہے۔ طارق عزیز (ایک سرکاری افسر جو قادیانی تھا) نے صدر جنرل پرویز مشرف کے پرنسپل سیکرٹری ہونے کے ناتے اپنا کردار ادا کیا اور مختلف محکموں میں قادیانیوں کی شمولیت کو یقینی بنایا۔ ان میں آئینی عہدے بھی شامل ہیں اور اس وجہ سے مختلف اہم حساس نوعیت کے معاملات میں قادیانیوں کو مشاورت کا حصہ بنادیا۔ یہاں دوبارہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کتنے پاکستانی اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر کا پرنسپل سیکرٹری آئین پاکستان کے آرٹیکل 260(3)(a)(b) کے تحت مسلمان تھا یا غیر مسلم تھا۔ حال ہی میں واجد شمس الحسن نے قادیانیوں کے سر پرست ملک برطانیہ میں قادیانیوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اپنے قادیانی عقیدے کو افشاء کیا ہے۔
۷۹...... یہاں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ پاکستان کا ہر شہری بلا امتیاز نسل، ذات، عقیدہ یا مذہب کے زندگی کا حق رکھتا ہے اور آئین کی حدود میں اپنے مذہب پر عمل کرنے کا حق رکھتا ہے۔ تاہم، چونکہ قادیانیوں کو پہلے ہی غیر مسلم قرار دیا جا چکا ہے، اس لئے ان کو دیگر اقلیتوں کی طرح ہی تصور کیا جانا چاہئے جن کو بآسانی شناخت کر لیا جاتا ہے اور اپنے ناموں سے اپنے مذہب کو چھپانے کا اہتمام نہیں کرتے۔
۸۰...... یہ عدالت تشویش کے ساتھ اس بات کا بھی جائزہ لیتی ہے کہ مذہب تبدیل کرنے کا عمل جو مخصوص افراد کی جانب سے حکام کو دھوکہ دینے کے لئے شروع کیا گیا ہے اور وہ ایک ایسے مذہب کا فائدہ اٹھاتے ہیں جن سے وہ تعلق نہیں رکھتے ہیں۔ اس بات کا اطلاق ان تمام افراد پر ہوتا ہے جنہوں نے عقیدے کے طور پر نہیں بلکہ بے بہا فوائد سمیٹنے کے لئے مذہب تبدیل کیا ہے۔ نادرا ریکارڈ کے مطابق ایسے افراد کے حوالے سے جنہوں نے وفاقی تحقیقاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق مذہب تبدیل کر کے بیرون ملک سفر کیا کی تعداد بہت زیادہ ہے۔
۸۱...... ملک کے وسیع تر مفاد میں عدالت ایسے افراد کے نام ظاہر کرنے سے باز رہے گی جو قادیانی عقائد رکھتے ہیں مگر انہوں نے اپنی مذہبی شناخت چھپا کر بیورو کریسی، عدلیہ، فوج، نیوی، ایئرفورس اور دیگر حساس اور اہم اداروں میں اعلیٰ عہدے حاصل کئے ہیں کیونکہ اس سے بد مزگی پیدا ہوگی مگر اس روش کا خاتمہ ہونا چاہئے۔ ملک کے ہر شہری کا حق ہے کہ وہ ایسے افراد کے بارے میں جانے جو اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں وہ کس مذہبی برادری سے تعلق رکھتے ہیں، جو لوگ ان کے بچوں کے لئے نصاب ترتیب دیتے ہیں کن مذہبی عقائد کے حامل ہیں، جو لوگ ان کی پالیسیاں مرتب کرتے ہیں ان کے پیارے نبی ﷺ کو کیا تکریم دیتے ہیں، وہ لوگ جو سفیر ہیں اور ان کے اسلامی نظریے کے نمائندہ ہیں اور دنیا بھر میں اس کا پرچار کرنے کے لئے تعینات ہیں کون سے نظریے کی تشہیر کرتے ہیں اور کس کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں اور سب سے آخر میں لیکن اتنی ہی اہم بات ہے کہ وہ لوگ جن کے ذمے پاکستان کا دفاع ہے وہ کس مذہب سے تعلق رکھتے ہیں؟ یہ ریاست کی ذمہ داری تھی اور بالخصوص وفاقی حکومت کی لیکن یہ اس سے عہدہ برآ ہونے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے جس وجہ سے عدالت احکامات جاری کرنا ضروری سمجھتی ہے۔
۸۲...... مختصر حکم کی درج ذیل وجوہات ہیں۔ تمام تبصرے اور احکامات جن کی تفصیل یہاں ہے وہ ۹؍مارچ ۲۰۱۸ء کے حکم کا حصہ ہوں گے اور ان کو درج ذیل میں پیش کیا جارہا ہے:-
- 1) اسلام اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کا آئین بھرپور مذہبی آزادی فراہم کرتا ہے جس میں اقلیتوں (غیر مسلموں) کے بنیادی حقوق
شامل ہیں۔ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ان کی زندگی، دولت، جائیداد، عزت اور ان کے اثاثوں کا بطور پاکستان کے شہری کے تحفظ کرے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل ۵ کے تحت، ہر شہری کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ ریاست سے وفادار رہے اور قانون اور آئین کے تابع رہیں۔ یہ قانون ان پر بھی لاگو ہوتا ہے جو پاکستانی شہری نہیں ہیں لیکن اس وقت پاکستان میں رہ رہے ہیں۔
- 2) پاکستان کے ہر شہری کے لئے لازمی ہے کہ مخصوص کوائف پر مشتمل اپنی شناخت حاصل کرے۔ کسی مسلمان کو اجازت نہیں ہے کہ
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اپنی شناخت کو بطور غیر مسلم کے بھیس میں رکھے اور کسی غیر مسلم کو حق حاصل نہیں ہے کہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرے۔ کوئی بھی شہری جو ایسا کرتا ہے ریاست سے دھوکہ دہی کا مرتکب ہوگا اور آئین کے استحصال کا مرتکب قرار پائے گا۔
- (3) آئین کے آرٹیکل (b)(a)(3)260 میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کی تعریف کی گئی ہے جس پر قوم کا اتفاق ہے۔ بدقسمتی سے
اس علیحدگی کے معیار پر قانون سازی نہیں ہو سکی جس کی وجہ سے ایک غیر مسلم اقلیت اپنے آپ کو مسلم اکثریت کا حصہ ظاہر کر کے اپنی اصل شناخت کو چھپاتا ہے اور ریاست سے دھوکہ دہی کا مرتکب ہوتا ہے جس کی وجہ سے پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں بلکہ انتہائی نوعیت کے اہم آئینی تقاضوں کی راہ بھی ہموار ہوتی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی ایک رپورٹ کے مطابق اس سے متعلقہ کسی بھی سرکاری ملازم کا کوئی ریکارڈ دستیاب نہیں ہے جو خطرناک امر ہے اور ایک بڑا دھچکے کے مترادف ہے اور یہ آئین کی روح اور تقاضوں کے بھی منافی ہے۔
- (4) پاکستان میں رہنے والی اکثر اقلیتیں اپنے ناموں اور پہچان کے اعتبار سے علیحدہ شناخت رکھتی ہیں لیکن آئین کے مطابق ان
اقلیتوں میں سے ایک اقلیت اپنے ناموں اور ظاہری لباس کے اعتبار سے علیحدہ شناخت نہیں رکھتے جس سے بحرانی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ اپنے ناموں کی وجہ سے وہ آسانی سے اپنا عقیدہ چھپا سکتے ہیں اور ایک مسلم اکثریت کا حصہ بن سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں، وہ اہم اور حساس عہدوں تک رسائی بھی پا سکتے ہیں اور جملہ مفادات حاصل کر سکتے ہیں۔
- (5) اس صورتحال کو سنبھالنا اہم ہے کیونکہ ایک غیر مسلم کی آئینی عہدوں پر تعیناتی ہمارے مقامی قانون اور رسومات کے منافی ہے۔
اسی طرح، غیر مسلم مخصوص آئینی عہدوں کے لئے منتخب بھی نہیں ہو سکتے ہیں۔ اکثر اداروں/شعبوں بشمول پارلیمنٹ کی ممبر شپ، اقلیتوں کے لئے مخصوص نشستیں ہیں۔ اسی لئے جب کسی اقلیتی گروہ کا کوئی رکن اپنے اصل مذہبی عقیدے کو دھوکہ دہی سے چھپاتا ہے اور اپنے آپ کو مسلم اکثریت کا حصہ ظاہر کرتا ہے تو وہ آئین کے الفاظ اور روح کی نفی کر رہا ہوتا ہے۔ اس پامالی سے محفوظ بنانے کے لئے ریاست کو فوری اقدامات کرنے چاہئے۔
- (6) حضرت محمد ﷺ کی ختم نبوت کا معاملہ ہمارے مذہب کا مرکزی نقطہ ہے۔ ہر مسلمان پر لازم ہے اس کی حفاظت اور پاسداری
کرے۔ پارلیمنٹ بحیثیت ایک اعلیٰ معزز ادارے کے پاکستانی قوم کے نمائندہ ہونے کے ناطے اس مذہبی روح کی محافظ ہے۔ اس صورتحال میں، یہ مسلم اکثریت کا حق ہے مناسب آگاہی اور حساسیت کی توقع رکھے۔ ختم نبوت کے بنیادی عقیدے کے تحفظ کے علاوہ، پارلیمنٹ کو ایسے اقدامات بھی کرنے چاہئے جو ان کا قلع قمع کر سکے جو اس عقیدے کو داغ لگانے کی کوشش کرے۔
- (7) یہ حقیقت قابل تعریف ہے کہ الیکشن ایکٹ ۲۰۱۷ء میں خرابی ظاہر ہونے کے فوری بعد پارلیمنٹ نے اجتماعی دانش اور فہم کے
ذریعے معاملے کی طرف مکمل حساسیت کا مظاہرہ کیا اور اسے مطلوبہ تقاضوں سے ہم آہنگ کیا۔ یہ معاملات حساسیت اور اتحاد کے طالب ہیں۔ سینیٹر راجہ ظفر الحق بطور وکیل اپنے قانونی عقل و فہم کے حوالے سے اچھی شہرت کے حامل ہیں اور ایک تجربہ کار قانون ساز بھی ہیں جنہوں نے کمیٹی کی صدارت کرتے ہوئے بہت اعلیٰ رپورٹ بنائی۔ مزید برآں، اپنی دیانتداری اور دانش کی مدد سے انہوں نے تمام نکات کا سیر حاصل احاطہ کیا ہے جس نے تمام منفی تاثرات کو ختم کر دیا۔ اب یہ پارلیمنٹ کا کام ہے کہ وہ اس معاملہ پر مزید بحث کرتی ہے یا نہیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- 8) یہ ریاست کے لئے لازمی ہے وہ جذبات اور مذہبی عقائد کا تحفظ کرے اور اقلیت کے حقوق کا ریاست پاکستان کے آئین کے
مطابق اعلان کردہ مذہب ”اسلام“ کے مطابق تحفظ کرے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ان اقدامات کا مقصد معاشرے کو بحران سے بچانا ہے اور اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے جن کی آئینی ضمانتوں کے مطابق جداگانہ مذہبی شناخت ہے اور جو وہ بطور پاکستان کے شہری کے حق رکھتے ہیں۔
درج بالا بحث کی روشنی میں عدالت درج ذیل قرار دیتی ہے اور حکم دیتی ہے کہ:-
- 1) قومی شناختی کارڈ، پاسپورٹ، پیدائشی پرچی اور فہرست رائے دہندگان میں اندراج کے لئے درخواست دہندہ کو آئین کے
آرٹیکل 260(3)(a)(b) کے مطابق مسلمانوں اور غیر مسلموں کی تعریف کی بنیاد پر ایک بیان حلفی دینا ہوگا۔
- 2) اوپر بتائے گئے بیان حلفی کو تمام حکومتی اور نیم حکومتی اداروں خصوصاً عدلیہ، آرمڈ فورسز اور سول سروسز میں تعیناتی کے لئے لازمی
قرار دیا جائے۔
- 3) نادرا کو کسی بھی شہری کے لئے وقت کا تعین کرنا چاہئے جو اپنے پہلے سے دیئے گئے کوائف میں، خصوصاً مذہب کے خانے میں،
درستگی / تبدیلی کا خواہاں ہے۔
- 4) پارلیمنٹ آئینی تقاضوں اور معزز سپریم کورٹ آف پاکستان اور لاہور ہائیکورٹ لاہور کے بنیادی قانونی اصولوں رپورٹ شدہ
کیس لاء بالترتیب (1993 ایس سی ایم آر 1784 اور پی ایل ڈی 1992 لاہور 1) کی روشنی میں ضروری قانون سازی کرے اور مروجہ قوانین میں مطلوبہ ترامیم متعارف کروائے تاکہ اس امر کو یقینی بنایا جا سکے کہ ’اسلام‘ اور ’مسلمانوں‘ کے لئے استعمال ہونے والے مخصوص اصطلاحات کسی اور اقلیت کو اپنی شناخت چھپانے یا کسی اور مقصد کے لئے استعمال کی اجازت نہ ہو۔
اسلامیات / دینیات کی بطور مضمون تعلیم کے لئے ہر ادارے پر مسلم اساتذہ کی موجودگی لازمی قرار دی جائے۔
- 5) حکومت پاکستان تمام شہریوں کے درست کوائف کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لئے خصوصی اقدامات کرے تاکہ کسی بھی شہری کے
لئے اپنی شناخت کو چھپانا ممکن نہ ہو۔ حکومت کو ایسے اقدامات بھی فوری طور پر یقینی بنانے چاہئے تاکہ نادرا اور حالیہ مردم شماری کے نتیجے میں حاصل ہونے والے اعداد و شمار میں موجود خطرناک فرق کی تفتیش ہو سکے۔
- 6) یہ ریاست پر لازم ہے کہ مسلم امہ کے حقوق، احساسات اور مذہبی عقائد کا خیال رکھے اور اس بات کو بھی یقینی بنائے کہ ملک کے
آئین میں اعلان کردہ مذہب اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرے۔
- ۸۳....... اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ تمام فاضل وکلاء، آئینی ماہرین اور مذہبی دانشوروں نے کارآمد حصہ ڈالا ہے اور پوری دیانتداری سے عدالت کی
معاونت کی ہے جس کی عدالت ہذا بھرپور تعریف کرتی ہے۔ اسی طرح، مختلف حکومتی شعبوں کے افسران کی شمولیت جو کہ عدالت ہذا کے سامنے گاہے گاہے پیش ہوئے بھی لائق تحسین ہے۔ مزید برآں، فاضل ڈپٹی اٹارنی جنرل ارشد محمود کیانی کا کردار بھی قابل تعریف ہے جنہوں نے محنت اور لگن سے کام کرتے ہوئے عدالت کی جانب سے تفویض کی گئی تمام ذمہ داریوں اور کاموں کی کامیابی سے تکمیل کی تاکہ درست نتائج تک پہنچا جاسکے۔
- ۸۴....... مختصر عدالتی حکم میں متذکرہ بالا کی شمولیت کے علاوہ میں عمران شفیق ایڈووکیٹ کی معاونت کا بھی شکر گزار ہوں جنہوں نے تحقیقی
امور میں پوری دلجمعی اور بے حد ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ (شوکت عزیز صدیقی)
اشاعت کے لئے منظور شدہ۔ جج
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا فیصلہ اور جنوبی افریقہ کی سپریم کورٹ
(اوریا مقبول جان) جنوبی افریقہ کے خوبصورت ساحلی شہر کیپ ٹاؤن میں مسلم جوڈیشل کونسل کے دفتر میں مجھے دو حیرتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ پہلی حیرت یہ کہ ایک سیکولر ملک جس میں ہماری طرح برطانوی سامراج حکومت کرتا رہا ہو، جس کے تمام قوانین اور جوڈیشل سسٹم بھی ہماری طرح برطانوی اینگلو سیکسن قانون پر مرتب کیا گیا ہو۔ جس کی عدالتوں میں ہماری طرح ہی بیرسٹر اور ایڈووکیٹ پیش ہوتے ہوں۔ اس ملک میں مسلمانوں کے قانون کی ملکی سطح پر نمائندہ اور اسلامی قوانین اور طرز زندگی کی محافظ ”مسلم جوڈیشل کونسل“ میں کہیں بیرسٹر، ایڈووکیٹ یا مغربی قانون کا تعلیم یافتہ نظر نہ آئے۔
بلکہ ایک شاندار عمارت میں علمائے کرام، اسلامی قوانین کے شارح، محافظ کے طور پر موجود تھے۔ وہاں مجھے کوئی ”کالے کوٹ والا“ نظر نہیں آیا کہ قانون کو سمجھنے اور عدالت میں لڑائی لڑنے کے لئے ماہرین اینگلو سیکسن کو قانون کی ضرورت ہوگی۔ گفتگو اور مکالمے نے ذہن میں پیدا ہونے والی اس الجھن کو دور کر دیا کیونکہ مسلم جوڈیشل کونسل کے ممبران اسلامی شریعہ کے ساتھ ساتھ اینگلو سیکسن قانون پر بھی یکساں عبور رکھتے تھے۔ لیکن دوسری حیرت تو وہ تھی جسے پاکستان کے جدید سیکولر اور لبرل حلقے میں بیان کرو، پہلے تو وہ یقین نہ کریں، لیکن اگر کرلیں تو جس طرح آج ان سب کی توپوں کا رخ صاحب ایمان واستقامت وہی جسٹس شوکت عزیز صدیقی صاحب کی جانب ہے۔
ویسے ہی وہ جنوبی افریقہ کی سپریم کورٹ کے ان پانچ ججوں ہوکسٹر (Hoexter) سمال برجر(BergerSmall)، سٹین (Steyn)، مرائس (Marais) اور شٹز (Shutz) کو تنقید کا نشانہ بناتے، انہیں مذہبی اور دقیانوسی ثابت کرتے اور ویسے ہی کرتے جیسے جسٹس شوکت عزیز صدیقی صاحب کے تازہ فیصلے سے اس بحث کا آغاز کر دیا گیا ہے کہ اس سے اقلیت کے خلاف نفرت اور اذیت رسائی میں اضافہ ہوگا۔
مسلم جوڈیشل کونسل نے جب میرے سامنے جنوبی افریقہ کی سپریم کورٹ کے ۲۶؍ ستمبر ۱۹۹۵ء کو سنائے جانے والے فیصلے کا حوالہ دیا جس میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا تھا تو میرے جیسے شخص کے لئے جس کی بنیادی تعلیم قانون اور وہ بھی اینگلو سیکسن قانون ہے، اس کے لئے بھی سپریم کورٹ کی سطح پر اس طرح کے سوال کو زیر بحث لانا کہ کون مسلمان اور کون نہیں ہے، ایک چونکا دینے والی حقیقت تھی، لیکن ۱۶۹ صفحات پر مشتمل یہ فیصلہ تفصیل کے ساتھ اس پر بحث کرتا ہے کہ کون مسلمان ہے اور کون نہیں ہے۔ مرزا غلام احمد کی تعلیمات اور اس کے تمام زندگی میں کئے گئے دعوؤں کا اس میں ذکر ہے۔ قادیانی اور لاہوری مرزائیوں میں فرق کو واضح کیا گیا ہے۔ جامعۃ الازہر اور دیگر اسلامی اداروں کے فتاویٰ اس میں دیئے گئے ہیں۔ فیصلے میں جنوبی افریقہ میں قادیانی مسلمان تنازع کی تاریخ کو بیان کیا گیا ہے۔ یہ تنازع ۱۹۶۰ء میں اس احتجاج سے شروع ہوا جو مسلمانوں نے قادیانیوں کے اس پمفلٹ کے خلاف شروع کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ مرزا غلام احمد کی نبوت کو ماننا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ اس پر مسلم جوڈیشل کونسل نے معاملہ الازہر یونیورسٹی کے علماء کے پاس بھیجا جنہوں نے قادیانیوں کو خارج از اسلام قرار دے دیا۔
یہ فتویٰ ۱۹۶۵ء میں موصول ہوا اور ۲؍مئی ۱۹۶۵ء کو مسلم جوڈیشل کونسل جنوبی افریقہ نے مسلمانوں کے لئے کئی ایک قوانین منظور کئے جن میں احمدیوں، قادیانیوں اور بہائیوں اور ان سے ہمدردی رکھنے والوں (Sympathiser) کو مرتد قرار دیا گیا۔ ان کا داخلہ مسلم مساجد میں منع کر دیا گیا۔ ان کے نکاح اور جنازوں کو مساجد میں ادا کرنے سے روک دیا گیا۔ چونکہ بہت سے قادیانی مسلمانوں کے بھیس میں چھپ کر ان مساجد میں امامت کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ اس لئے یہ مسئلہ انتہائی اہم تھا کہ کون مسلمان کہلانے کا حقدار ہے اور کون نہیں ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
یہ معاملہ اصلی اور جعلی ’Counterfeit‘ کا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ عدالت نے اپنے فیصلے میں کیپ ٹاؤن میں موجود ان اصلی اور نقلی گروہوں کی تعداد بھی لکھی ہے۔ عدالت کے مطابق ۸۰ء کی دہائی میں مغربی کیپ میں سنی مسلمانوں کی تعداد دو لاکھ ساٹھ ہزار تھی جب کہ لاہوری مرزائی صرف ۲۰۰ جب کہ قادیانی اس سے بھی کم تھے۔ فیصلے میں مسلمان عقائد کے بارے میں تفصیلی بحث ہے اور مؤقف کو درست تسلیم کیا گیا ہے کہ قادیانی اپنے مرکز کا نام مسجد نہیں رکھ سکتے اور نہ ہی وہ علامتیں استعمال کر سکتے ہیں جو مسلمانوں یا اسلام کے لئے مخصوص ہیں۔
جنوبی افریقہ کے شہر کیپ ٹاؤن میں مسلم جوڈیشل کونسل کے ممبران کے درمیان بیٹھا اس فیصلے کی ورق گردانی کرتے ہوئے میں یہ سوچ رہا تھا کہ اس ملک میں تو صرف اصلی اور نقلی کے درمیان فرق کو واضح کرنا تھا تا کہ ایک جعلی شخص خود کو مسلمانوں کا نمائندہ ظاہر نہ کر سکے۔ قانون کی زبان میں اسے ’Misrepresentation‘ یعنی دھوکہ دہی یا فراڈ کہا جاتا ہے جو ایک جرم ہے اور اس عقیدے کے جرم کی وضاحت کے لئے سپریم کورٹ کے پانچ ممبر بنچ نے ۱۶۹ صفحات پر مشتمل فیصلہ لکھا۔
جب کہ میرے ملک میں تو یہ آئین پاکستان سے غداری کا مسئلہ ہے۔ ایک شخص پاکستان کے آئین سے انکاری نہیں بلکہ اس آئین کی توہین کرتا ہے جب آئین اسے یہ حق نہیں دیتا کہ وہ فلاں گروہ کا حصہ کہلائے۔ لیکن وہ غلط بیانی، فراڈ اور دھوکہ سے اس کا حصہ رہتا ہے اور پھر جب اس ملک کو بدنام کرنے کے لئے اسے چھوڑ کر کسی دوسرے ملک میں سیاسی پناہ لیتا ہے تو اپنے پاسپورٹ پر مذہب قادیانیت لکھوا لیتا ہے۔ پوری دنیا کے مغربی ممالک میں ان قادیانیوں نے یہ تاثر دیا ہوا ہے کہ ہم شاید پاکستان کی سب سے زیادہ معتوب کمیونٹی ہیں اس سے زیادہ حقائق کا مذاق نہیں اڑایا جاسکتا۔ بلوچستان میں گزشتہ سالوں میں جتنے پنجابی مارے گئے یا پھر کراچی میں ۱۹۸۶ء سے لے کر آج تک جتنے پٹھان، سندھی، اردو بولنے والے مارے گئے ان کی تعداد شاید قادیانیوں کے کل ماننے والوں سے بھی زیادہ ہو۔ لیکن چونکہ یہ لڑائیاں مذہب کی بنیاد پر نہیں ہیں بلکہ رنگ اور نسل کی بنیاد پر ہیں اس لئے مغربی دنیا میں اس پر شور نہیں اٹھتا۔
اوسلو کے ریلوے اسٹیشن پر قادیانیوں نے اپنے لٹریچر کا ایک سٹال لگایا ہوا تھا۔ ایک گورا وہاں وہ لٹریچر تقسیم کر رہا تھا۔ میں نے اپنا اور اپنے ملک کا تعارف کروایا تو اس نے کہا کہ وہاں قادیانیوں سے بہت امتیازی برتاؤ ہوتا ہے انہیں خود کو سنی مسلمان کہہ کر نوکریاں کرنا پڑتی ہیں۔ یہ چند سال پہلے کی بات ہے، میں سول سروس میں تھا، میں نے اسے اپنا سرکاری نیلا پاسپورٹ دکھایا اور کہا کہ میں تمہیں حقیقت بتاتا ہوں۔ میں نے نوکری کا زیادہ عرصہ بلوچستان میں گزارا ہے۔ وہاں ۱۹۸۸ء سے اب تک اکثریتی پارٹی جمعیت علمائے اسلام ہے جس کا بانی مولانا مفتی محمود تھا۔ وہ انہیں آئینی ترمیم کے حوالے سے جانتا تھا۔ میں نے بتایا کہ بلوچستان کی سول سروس میں دو قادیانی تھے جو واضح اعلان کرتے تھے کہ ہم قادیانی ہیں۔ ان میں سے ایک مبشر احمد ظفر ۱۹۹۵ء اور ۱۹۹۶ء میں سبی میں کمشنر تھا اور میں اس کے ماتحت ڈپٹی کمشنر تھا۔ جمعیت علمائے اسلام جیسی کٹر مذہبی پارٹی برسر اقتدار ہو اور میرے جیسا کٹر مذہبی شخص اس کا ماتحت ہو۔ کیا آپ کو یقین آتا ہے؟ اسے بات پر یقین آنے لگا تو وہاں موجود دو پاکستانی قادیانیوں نے بحث کو دشنام اور گالی گلوچ میں بدلنے کی کوشش کی۔ اس لئے کہ اس حقیقت سے وہ انکار نہیں کر سکتے تھے۔
بات ختم ہو گئی۔ میں واپس آ گیا۔ لیکن میرے ملک کی عزت نیلام کرنے والے وہاں موجود ہیں۔ دنیا کا قانون ایک اصلی اور جعلی گھڑی، ٹیلی ویژن اور ائیر کنڈیشنر میں تمیز کرتا ہے تا کہ لوگ دھوکہ نہ کھائیں اور اصل برانڈ کی چیز خریدیں۔ وہ کسی دوسرے کو اس برانڈ کا نام استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ وہاں وہ عقائد کی دھوکہ دہی پر گرفت نہ کرے، ایسا تو جنوبی افریقہ کی سیکولر لبرل اینگلو سیکسن عدالت نے بھی نہیں ہونے دیا۔ وہ تو صرف دھوکہ دہی کا مقدمہ تھا۔ یہاں تو آئین سے غداری کا معاملہ ہے۔ بشکریہ! روزنامہ ۹۲
(روزنامہ جنگ مؤرخہ ۲۱/ مارچ ۲۰۱۸ء، ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۸ء ص ۵۴ تا ۵۶)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
فیصل آباد میں ختم نبوت چوک کا افتتاح
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی اپیل پر ملک بھر میں دو درجن سے زائد شہروں میں اہم چوکوں کے نام ”ختم نبوت چوک“ مقرر کئے گئے۔ اسی جدوجہد کے نتیجہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی کاوشوں سے ۹ فروری ۲۰۱۸ء کو ناولٹی پل، سنٹر جیل چوک کا نام ختم نبوت چوک سے تبدیل کر کے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔ اس چوک کے افتتاح کے لئے ایک تقریب بھی منعقد کی گئی۔ تقریب سے صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ، ممبر امن کمیٹی اور عالمی مجلس سمن آباد کے امیر مولانا سید مظفر اقبال، سید حبیب احمد شاہ اور راقم الحروف نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار بھی کیا۔ ذیل میں ختم نبوت چوک کا نوٹیفکیشن ملاحظہ فرمائیں:
MUNICIPAL CORPORATION FAISALABAD مثالی فیصل آباد Municipal Corporation Faisalabad.
Ref. GB/MR/14/MCF Date: 9/2/2018.
NOTIFICATION.
In exercise of powers delegated by the house of Municipal Corporation Faisalabad vide Resolution No.5 dated 03.03.2017, I, Muhammad Razzaq Malik, Mayor Municipal Corporation Faisalabad hereby declare the name of Chowk near Quaid-e-Azam Town, Scheme No. 212 Moman Abad, Novelty Pull, Faisalabad as "Khatam-e-Nabuwat Chowk". It is, therefore, directed that this chowk may be named/called and be written as "Khatam-e-Nabuwat Chowk" in future in official correspondence and in general as well in best public interest.
Muhammad Razzaq Malik MAYOR Municipal Corporation Faisalabad
No. & Date even:
A copy is forwarded for information to:-
- 1. The Honorable Mr. Rana Sana Ullah Khan, Law Minister Punjab.
- 2. The Secretary, LG&CD Department Lahore for confirmation please.
- 3. The Commissioner, Faisalabad Division, Faisalabad.
- 4. The Deputy Commissioner, Faisalabad.
- 5. The Chief Officer, Municipal Corporation Faisalabad for legal necessary action.
- 6. The Municipal Officer (Regulation), Municipal Corporation Faisalabad to display
sign board at auspicious place there.
Municipal Corporation Faisalabad, Railway Station Chowk Corner The Mall Road , Faisalabad. Email: mcffaisalabad@gmail.com, Email: mayor.mcf.mrazzaqmalik@gmail.com Tel. +92-41-9200075-6, Fax: +92-41-9200531
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۸ء ص ۴۹)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
خوشاب میں قادیانیوں کے ۲۴ غیر قانونی مراکز پر تالے
روزنامہ امت کراچی بدھ 09/مئی 2018ء
خوشاب میں قادیانیوں کے 24 غیرقانونی مراکز پر تالے
سابق ڈی پی او وقاص نتھوکہ کی سرپرستی میں قائم ہوئے۔ دینی تنظیموں نے بھی تحریک کا اعلان کر رکھا تھا۔ ”امت“ کی خبر پر ایکشن
اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) امت کی خبر پر کارروائی کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ نے خوشاب میں غیر قانونی قادیانی مراکز کی تالہ بندی کر دی جس پر قادیانیوں نے امتیازی سلوک کا واویلا شروع کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ مذکورہ مراکز کے لیے قواعد و ضوابط کی پابندی نہیں کی گئی تھی۔ تفصیلات کے مطابق ”امت“ نے خوشاب میں سابق ڈی پی او خوشاب وقاص نتھوکہ کی تعیناتی کے دوران اس کی سر پرستی میں رجسٹریشن اور این او سی کے بغیر 24 قادیانی عبادت خانے کھولے جانے کی خبر شائع کی تھی۔ امت میں خبر شائع ہونے پر تحفظ عقیدہ ختم نبوت کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا۔ صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد اسسٹنٹ کمشنر نور پور کی قیادت میں پولیس نے موضع پیلو وینس کے غیر قانونی قادیانی مراکز بند کر کے سیل کر دیے ہیں جس پر قادیانی جماعت نے حکام کو خطوط تحریر کیے جن میں غیر قانونی مراکز کی بندش کو انتہائی ڈھٹائی سے امتیازی سلوک قرار دیا گیا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ ”امت“ نے سابق ڈی پی او وقاص نتھوکہ کی خوشاب میں تعیناتی کے دوران غیر قانونی قادیانی مراکز کے قیام، ای ڈی او صحت نذر حیات نجوکہ اور سابق ڈسٹرکٹ افسر سوشل ویلفیئر نبیلہ ملک کے ذریعے گروٹ ایٹمی تنصیبات اور پاک فضائیہ کے سکیسر بیس کے گردونواح میں اراضی کے غیر قانونی حصول کی خبریں شائع کر کے قادیانی سازشوں کو بے نقاب کیا تھا۔ وقاص نتھوکہ اور اس کے کار خاص سب انسپکٹر عظمت جوئیہ نے مسلمانوں کو احتجاج سے روکنے کے لیے خوشاب میں جعلی پولیس مقابلوں کے ذریعے خوف و ہراس قائم کئے رکھا اور مسلمانوں کی مساجد پر قادیانیوں کے قبضے کی کوششوں کی بھی پشت پناہی کرتے رہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۱۸ء ص ۵۶)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیانیوں کے لئے لفظ ’احمدی‘ استعمال کرنے کی ممانعت
اسلام آباد (امت نیوز) اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکم دیا ہے کہ قادیانیوں کے لئے لفظ ’احمدی‘ استعمال نہ کیا جائے اور شناخت واضح کرنے کے لئے ان کے نام کے ساتھ قادیانی، غلام مرزا یا مرزائی لگایا جائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ قادیانیوں کو نام کے آخر میں احمد لگانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی کیونکہ وہ غیر مسلم ہیں اور احمد نبی کریم ﷺ کا نام ہے۔ اس حوالے سے عدالت نے سورۃ الصف کی آیت ۶ کا حوالہ بھی دیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کا دن ہر مسلمان کے لئے باعث مسرت واطمینان تھا جب پارلیمنٹ نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے لئے ۱۹۷۳ء کے آئین میں دوسری ترمیم کا بل بھاری اکثریت سے منظور کیا مگر قادیانیوں کے دونوں گروپوں کو غیر مسلم قرار دیئے جانے کے بعد ان کی علیحدہ شناخت واضح رکھنے کے لئے مؤثر اقدامات نہیں کئے گئے اور قادیانیوں نے مختلف چال بازیوں سے اس ترمیم کے مقاصد کو ناکام بنانے کی بھرپور کوشش کی، فیصلے میں کہا گیا کہ دیگر غیر مسلم اقلیتیں اپنے نام اور طریقہ عبادت سے فوری پہچان میں آجاتی ہیں مگر قادیانیوں نے مسلمانوں جیسے نام رکھے ہوئے ہیں اور ان کی عبادت بھی مسلمانوں جیسی ہیں۔
(روزنامہ امت کراچی، ۵؍جولائی ۲۰۱۸ء، ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۱۶ تا ۲۲؍جولائی ۲۰۱۸ء ص ۹)
قومی اسمبلی کی متفقہ قرارداد میں ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کا نام ہٹا دیا گیا
قارئین! آپ کو یاد ہوگا کہ آج سے سالہا سال پہلے میاں محمد نواز شریف صاحب نے امریکہ کی حقوق اقلیتوں کی کمیٹی کے ممبران کانگریس کے مطالبہ پر اسلام آباد میں فزکس کے ادارہ کا نام ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے نام پر رکھ دیا تھا۔ ان کے کہنے پر صدر پاکستان ممنون حسین نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ اس پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے صدائے احتجاج بلند کی۔ اسلام آباد میں اے. پی. سی بھی بلائی جس میں پورے ملک کی دینی وسیاسی قیادت نے شرکت کی۔ اعلامیہ میں متفقہ طور پر میاں محمد نواز شریف سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے نام سے منسوب کرنے کا نوٹیفکیشن منسوخ کرے۔
قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمن نے عالمی مجلس کی اے۔ پی۔ سی کے صدر ہونے کے ناتے میاں محمد نواز شریف سے ملاقات بھی کی اور ان کو اس متفقہ مطالبہ کی طرف توجہ بھی دلائی۔ لیکن میاں محمد نواز شریف کے سر پر امریکہ کے حکم کی تعمیل کا ایسا نشہ سوار تھا کہ وہ کمال ڈھٹائی کے ساتھ کسی بھی مطالبہ پر ٹس سے مس نہ ہوئے۔ اللہ تعالیٰ کی لاٹھی بے آواز ہے۔ خود میاں نواز شریف قہر خداوندی کا شکار ہو کر اقتدار سے محروم ہوئے۔ اب در بدر چیختے چلاتے پھرنا ان کا مقدر بن گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے کرم کے انوکھے فیصلے ہوتے ہیں۔ میاں نواز شریف کے خاندان کے ایک فرد جناب کیپٹن صفدر نے اپنے متعدد قومی اسمبلی کے ممبران دوستوں کے دستخطوں سے ۳؍مئی ۲۰۱۸ء کو قومی اسمبلی میں قرارداد پیش کی جس سے ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کا نام تبدیل کر کے اس کی جگہ فزکس کے ادارہ کا قرون اولیٰ کے مسلم سائنسدان ابوالفتح عبدالرحمن منصور الخزائنی کے نام پر رکھ دیا گیا۔ یہ قرارداد ۳؍مئی کو قومی اسمبلی میں متفقہ طور پر منظور ہوئی۔ اب اس پر عمل میں تاخیری حربے استعمال کئے جارہے ہیں۔ امید ہے کہ قومی اسمبلی کے فیصلہ پر عمل درآمد ہو کر ایک قادیانی کی کفریہ نحوست سے محفوظ ہوں گے۔ حق تعالیٰ اسلامیانِ وطن کو جلد یہ خوشی نصیب فرمائیں۔ آمین!
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۸ء ص۱۲، ۱۳)
ختم نبوت چوک کا افتتاح
شہر عبدالحکیم تحصیل کبیر والا ضلع خانیوال میں ٹی چوک کا نام ختم نبوت چوک میں تبدیل کرالیا گیا۔ اس موقع پر مختصر افتتاحی تقریب کا
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
انعقاد بھی کیا گیا۔ تقریب میں سجادہ نشین کندیاں شریف صاحبزادہ خواجہ خلیل احمد تشریف لائے۔ انہوں نے اپنے دست مبارک سے ختم نبوت چوک کا بورڈ لگوایا اور دعا بھی کرائی۔ ٹی چوک عبدالحکیم کا نام ختم نبوت چوک میں تبدیل کرانے کے لئے چوہدری خالد اقبال کونسلر، رانا شوق محمد کونسلر ، میونسپل چیئر مین حاجی شیخ عبدالطیف کے علاوہ علاقہ کے علماء کرام کی محنت اور کوشش قابل تحسین ہے۔
مجاہدین ختم نبوت کی اس کامیابی پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۲۷/ جولائی ۲۰۱۸ء جامع مسجد مدنی محلہ شیخانوالہ عبدالحکیم تحصیل کبیر والا میں مولانا اللہ وسایا کے خطبہ جمعہ کا اہتمام کیا گیا۔ خطبہ جمعہ میں علاقہ بھر کے علمائے کرام سمیت کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت فرمائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۱۸ء ص ۵۴)
راجن پور میں قادیانی تنظیم ہیومنٹی فرسٹ کی کھلے عام فنڈنگ
راجن پور کے علاقہ چک شکاری میں قادیانی گروپ نے سماجی تنظیم ہیومنٹی فرسٹ بنا کر اپنے عقائد کی کھلے عام تبلیغ شروع کر رکھی ہے۔ پانی کی فراہمی کا بہانہ بنا کر نلکے لگانے کی آڑ میں سادہ لوح مسلمانوں کے عقائد کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مقامی انتظامیہ کی خاموشی معنی خیز ہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت راجن پور کے امیر مولانا جلیل الرحمن صدیقی ، مولانا عبدالعزیز یزدانی اور مولانا منظور احمد نعمانی سمیت دیگر علمائے کرام نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے انتظامی افسران سے مطالبہ کیا کہ قادیانی جماعت کی اس کارروائی کو فی الفور روکا جائے۔ بصورت دیگر تمام دینی جماعتیں بھر پور احتجاج کریں گی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۱۸ء ص ۵۵)
راجن پور میں قادیانی سماجی تنظیم کی ناکامی
قارئین کرام کو یاد ہوگا کہ گزشتہ شمارہ کے آخر میں قادیانی این جی او ہیومنٹی فرسٹ کی راجن پور میں کھلے بندوں اپنے عقائد کی تبلیغ اور غنڈہ گردی کے بارے میں خبر شائع ہوئی کہ قادیانی سادہ لوح مسلمانوں کے ایمانوں کا سودا کرنے کے لئے پانی کی فراہمی کو آڑ بناتے ہوئے قادیانیت کے پرچار میں مصروف عمل تھی۔ اس پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مقامی امیر مولانا جلیل الرحمن صدیقی نے دیگر علماء کرام کے ہمراہ پریس کانفرنس کی اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا تھا کہ فی الفور قادیانیوں کو اس امر قبیح سے روکا جائے۔ جس پر انتظامیہ حرکت میں آئی۔ علاقہ میں گشت کیا۔ صورتحال کا جائزہ اور مسلمانوں کے بیانات لینے کے بعد قادیانی سماجی تنظیم کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں قادیانیت کی تبلیغ سے روکا گیا۔ مسلمانوں نے قادیانیوں کی اس شاطرانہ چال کو سمجھنے کے بعد ان کے لگائے ہوئے ہینڈ پمپ بھی اتار دیئے اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ذمہ داران کو اپنا ایک بیان حلفی بھی لکھ کر دیا۔ جس کی عبارت درج ذیل ہے:
بیان حلفی: منجانب: حبیب اللہ ولد فرید بخش قوم ورائچ سکنہ چک شکاری تحصیل و ضلع راجن پور
مظہر حلفاً بیان کرتے ہیں کہ من مظہر ان چک شکاری تحصیل و ضلع راجن پور کے مستقل سکونتی ہیں اور سچے مسلمان ہیں۔ ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔ مزید حلفاً بیان یہ ہے کہ مؤرخہ ۹/ جون ۲۰۱۸ء سے قبل چند افراد نعیم ، نسیم وغیرہ ہیومنٹی فرسٹ نامی انٹرنیشنل این جی او کے نام پر ہمارے قصبہ چک شکاری میں ہینڈ پمپ لگانے کے لئے آئے۔ ہمیں مطمئن کر کے دس عدد ہینڈ پمپ لگا دیئے۔ پھر اسی بہانے ہمارے علاقہ میں قادیانی مذہب کی تعلیم دینے اور سادہ قسم کے لوگوں کو ورغلا پھسلا کر قادیانی بنانے کی کوشش کرنے لگے۔ جس پر ہم نے ڈسٹرکٹ راجن پور کو جا کر بتایا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر سے رابطہ کیا۔ ختم نبوت راجن پور کے امیر نے ہماری موجودگی میں قادیانی این جی او کے لگائے گئے ہینڈ پمپس کو بند کرانے اور قادیانیوں کو چک شکاری کے علاقہ سے نکالنے کے لئے انتظامیہ راجن پور کو اطلاع کردی۔ مظہر
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حلفاً بیان کرتے ہیں کہ ہم قادیانی گروپ اور مرزا قادیانی پر لعنت بھیجتے ہیں اور ان کے کاموں پر بھی بائیکاٹ کرتے ہیں۔ تصدیق: بیان بالا بالکل درست ہے۔ العبد حبیب اللہ ولد فرید بخش قوم دریشک سکنہ چک شکاری راجن پور۔ دیگر حلف اٹھانے والوں کے نام جن کے دستخط اسٹام پیپر پر موجود ہیں: (۱) عبدالرحمن۔ (۲) خادم حسین۔ (۳) اللہ دتہ۔ (۴) لعل بخش۔ (۵) نذر حسین۔ گواہان: (۱) جلیل الرحمن صدیقی امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت راجن پور۔ (۲) حبیب الرحمن رحمانی ولد عبدالخالق مرحوم قوم تھہیم سکنہ امیر حمزہ کالونی راجن پور۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۱۸ء ص ۵۶)
بھکر میں قادیانیت کے خلاف ایک اور کامیابی
(ڈاکٹر دین محمد فریدی) بھکر میں جنرل الیکشن سے چند روز قبل اطلاع ملی کہ ڈاکٹر نذر حیات مجوکہ قادیانی، خوشاب سے تبدیل ہو کر بھکر میں سی ای او ہیلتھ کی سیٹ پر تعینات ہو گیا ہے۔ خوشاب میں اس نے اپنی تعیناتی دور میں قادیانیت کو خوب فروغ دیا۔ خوشاب کے ایٹمی پلانٹ کے گرد نو سو پانچ کنال زمین قادیانیوں کو دلوائی۔ سکیسر ایئر بیس کے قریب بھی قادیانیوں کو زمین دلوائی۔ قادیانی ڈی پی او ابوبکر خدا بخش تھوکہ اور وقاص تھوکہ نے ان سے بھر پور تعاون کیا۔ بندہ نے اخباری خبر فوراً ارسال کی۔ جامع مسجد عمر فاروق ﷺ میں نذر حیات کی تعیناتی پر احتجاج کیا۔ تمام جماعتوں کا اجلاس بلا کر احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔
الحمد للہ! پورا ضلع متفق ہو کر میدان عمل میں آیا اور آئندہ جمعہ میں ضلع بھر کی مساجد میں احتجاج ریکارڈ ہوا۔ نواز شریف دور میں اس کا بھائی شوکت حیات مجوکہ ٹی ایم او بھکر تعینات ہوا تھا۔ سینٹر ظفر اللہ خان ڈھانڈلہ اور ایم این اے ڈاکٹر محمد افضل ڈھانڈلہ سے احتجاجاً درخواست کی تھی۔ انہوں نے ٹی ایم او قادیانی کو فوراً نکال دیا تھا۔ اب عوامی احتجاج پر ڈاکٹر نذر حیات مجوکہ قادیانی ۳۰ اگست کو خود ہی ضلع چھوڑ کر برطانیہ بھاگ گیا۔ مصدقہ معلوم ہوا ہے کہ قادیانی ڈاکٹر نذر حیات کے پاس برطانیہ کی شہریت بھی ہے۔ بھکر کے مسلمانوں کی مساعی اور خواجہ خلیل احمد مدظلہ کی دعائیں کام آئیں کہ ایک بار پھر عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ پر مسلمانوں کو کامیابی نصیب ہوئی۔ فالحمد للہ اولاً و آخراً!
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۸ء ص ۴۲)
وزیر اعظم عمران خان اور عاطف میاں قادیانی
تحریک انصاف کے چیئرمین اور موجودہ وزیر اعظم جناب عمران خان صاحب نے الیکشن مہم میں تحفظ ختم نبوت اور مدینہ منورہ جیسی اسلامی ریاست کی طرح پاکستان کو چلانے کے لئے ووٹ مانگے۔ عوام نے ان پر اعتماد کیا اور وہ کامیاب ہو کر حکومت بنا چکے ہیں۔ حکومت بناتے ہی انہوں نے ۱۸ رکنی اکنامک ایڈوائزری کا اعلان کیا جس میں اسلام سے مرتد ہو کر قادیانیت قبول کرنے والے ایک عاطف میاں نامی شخص کا نام بھی شامل تھا۔ یہ وہی شخص ہے جس کے بارہ میں جناب عمران خان صاحب نے گزشتہ سالوں میں دھرنے کے دوران اعلان کیا کہ وہ جب حکومت میں آئیں گے تو ”عاطف میاں“ کو وزیر خزانہ بنائیں گے، جب ان کو بتایا گیا کہ وہ تو قادیانی ہے تو انہوں نے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ مجھے معلوم نہیں تھا کہ وہ قادیانی ہے۔ اب جب ان کو ایڈوائزری کونسل میں شامل کیا تو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے اکابرین کو کھٹکا ہوا کہ قادیانی ایک بار پھر اس حکومت کے ذریعے اپنا ایجنڈا پاکستانیوں پر مسلط کرنا چاہتے ہیں تو انہوں نے اس کے خلاف بھر پور تحریک چلائی اور الحمد للہ! وزیر اعظم نے ان کو اس ایڈوائزری کونسل سے خارج کر دیا۔ قادیانیوں اور ان کے ایجنٹوں کو بڑی تکلیف ہوئی تو انہوں نے وزیر اطلاعات کے ذریعے صحافی بھائیوں کے منہ میں ایک بات ڈال دی کہ کیا اقلیتوں کے حقوق نہیں؟ ہم
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نے جواب دیا کہ یہ مسئلہ اقلیتوں کا نہیں۔ اقلیتوں کے حقوق محفوظ ہیں اور وہ مملکتی نظام میں شریک ہوتے ہیں، ان پر کسی کو کبھی بھی کوئی اعتراض نہیں ہوا، مسئلہ یہ ہے کہ قادیانی آئین کے باغی ہیں اور اپنے آپ کو اقلیتوں میں نہیں مانتے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ قادیانی جب بھی کسی عہدہ پر آتے ہیں تو وہ ملکی سلامتی کے خلاف کام کرتے ہیں۔ اس پر مولانا زاہد الراشدی صاحب نے اپنے مضمون ’’قادیانیوں کی پاکستان کے لئے خدمات‘‘ کے عنوان سے اس پر روشنی ڈالی ہے، اس کو ملاحظہ فرمائیں:
’’وزیر اعظم عمران خان نے ملک کے اقتصادی و معاشی معاملات کے حوالہ سے جو ایڈوائزری کونسل قائم کی ہے اس میں عاطف میاں کی شمولیت پر سوشل میڈیا میں بحث چھڑ گئی ہے کہ وہ مبینہ طور پر قادیانی ہیں اور مرزا قادیانی کے خاندان کے ساتھ ان کا تعلق بھی بتایا جاتا ہے، اس لئے اس کونسل میں ان کی شمولیت درست نہیں ہے اور وزیر اعظم سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ان کا نام کونسل سے خارج کردیں۔ اس پر بعض حلقوں کی طرف سے یہ کہا جا رہا ہے کہ یہ مذہبی انتہا پسندی کا بے جا اظہار ہے اور مطالبہ کرنے والوں کو ایسا نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ ان کے خیال میں قادیانی اس ملک کے شہری ہیں اور ملک کے نظام میں شرکت ان کا بھی حق ہے۔ ہم اس سلسلہ میں جذباتی فضا سے ہٹ کر زمینی حقائق کے حوالہ سے کچھ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ آخر ملک کے دینی حلقوں کو کسی قادیانی کے کسی منصب پر فائز ہونے پر کیوں اعتراض ہوتا ہے اور وہ کسی بھی حوالہ سے اس گروہ کے کسی فرد کو برداشت کرنے کے لئے تیار کیوں نہیں ہیں؟
پاکستان بننے کے بعد چودھری ظفر اللہ خان ملک کے وزیر خارجہ اور جوگندر ناتھ منڈل وزیر قانون بنے تھے۔ اوّل الذکر قادیانی اور دوسرے ہندو تھے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ ان میں سے صرف ظفر اللہ خان کو کابینہ میں شامل کرنے پر احتجاج کیا گیا اور ملک کے تمام دینی مکاتب فکر نے متفقہ طور پر ان کی برطرفی کا مطالبہ کیا اور یہ مطالبہ ظفر اللہ خان کے وزیر خارجہ بنتے ہی نہیں بلکہ اس کے پانچ سال بعد ۱۹۵۳ء میں کیا گیا جب کہ ہندو وزیر قانون کے خلاف نہ کوئی مہم چلی اور نہ ہی ان کی برطرفی کا کسی نے مطالبہ کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بات مسلمان یا غیر مسلم کی نہیں بلکہ متعلقہ گروہ اور فرد کے طرز عمل کی ہے جس نے لوگوں کو اس مطالبہ پر مجبور کر دیا۔ چودھری ظفر اللہ خان کا یہ کردار اس سے قبل ریکارڈ پر آچکا تھا کہ انہوں نے قیام پاکستان کے وقت پنجاب کی تقسیم کی حدود طے کرنے والے ریڈ کلف کمیشن کے سامنے مسلم لیگ کی نمائندگی کی، مگر ضلع گورداسپور کے حوالہ سے جہاں قادیانیوں کی اچھی خاصی تعداد آباد تھی ان کا کیس مسلم لیگ کے مؤقف سے ہٹ کر الگ پیش کیا، جس سے یہ ضلع غیر مسلم اقلیت کا ضلع قرار پا کر بھارت میں شامل ہو گیا اور اسی سے ہندوستان کو کشمیر میں دخل اندازی کا راستہ ملا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت کے امیر مرزا بشیر الدین محمود کی ہدایت ہے کہ قادیانیوں کا کیس مسلمانوں سے الگ پیش کیا جائے، اس لئے وہ ان کے حکم کی خلاف ورزی نہیں کر سکتے۔ اس کے باوجود انہیں وزیر خارجہ کے طور پر کافی عرصہ برداشت کیا گیا مگر جب یہ رپورٹیں عام ہونے لگیں کہ مختلف ممالک میں ان کے زیر سایہ پاکستان کے سفارت خانے قادیانیوں کی تبلیغ اور سرگرمیوں کا مرکز بنتے جا رہے ہیں تو ان کے اس طرز عمل کو برداشت نہ کرتے ہوئے ۱۹۵۳ء میں ان کی برطرفی کا مطالبہ کیا گیا۔ اس دوران یہ واقعہ بھی ہوا جس نے اشتعال میں اضافہ کیا کہ کراچی کی قادیانی جماعت نے ایک پبلک جلسہ میں ظفر اللہ خان کے خطاب کا اعلان کیا تو وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین نے انہیں روکا کہ وہ اس جلسہ سے وزیر خارجہ کی حیثیت سے خطاب نہ کریں۔ جسٹس منیر انکوائری کمیشن کی رپورٹ کے مطابق چودھری ظفر اللہ خان نے وزیر اعظم سے کہا کہ: وہ اپنے منصب سے استعفیٰ دے سکتے ہیں مگر جلسہ سے خطاب ضرور کریں گے اور انہوں نے جلسہ سے خطاب کیا۔
اس کے بعد جنرل یحییٰ خان کے دور میں مرزا غلام احمد قادیانی کے پوتے ایم ایم احمد کو ملک کی اقتصادی کمیشن کا ڈپٹی چیئرمین بنایا
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ۳۳۷ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گیا اور وہ جنرل یحییٰ خان کے معتمد ترین افسر سمجھے جاتے تھے۔ مگر ان کے بارے میں مشرقی پاکستان سے قومی اسمبلی کے رکن مولوی فرید احمد مرحوم اور دیگر ذمہ دار حضرات نے کھلم کھلا یہ کہا کہ وہ مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان کے درمیان معاشی اور سیاسی دونوں حوالوں سے خلیج بڑھانے کا باعث بن رہے ہیں جب کہ بہت سی دیگر رپورٹوں میں بھی یہ بات سامنے آئی کہ پاکستان کو دو حصوں میں تقسیم کر دینے کے مکروہ عمل میں ایم ایم احمد کا خاصا کردار رہا ہے۔ اس حوالہ سے راقم الحروف کے ایک مضمون کا اقتباس ملاحظہ کیجئے جو ۱۲؍ مارچ ۱۹۷۱ء کو ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور میں شائع ہوا:
’’قارئین کو یاد ہوگا کہ حالیہ انتخابات سے قبل مشرقی پاکستان کے متعدد سیاسی رہنماؤں نے ایک مشترکہ بیان میں مسٹر ایم ایم احمد کو اقتصادی منصوبہ بندی کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین کے عہدہ سے برطرف کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ ماضی میں اقتصادی طور پر مشرقی پاکستان کے ساتھ جو زیادتیاں ہوئیں، ان کے ذمہ دار مسٹر ایم ایم احمد ہیں کہ انہوں نے اقتصادی منصوبہ بندی میں مشرقی پاکستان کو ثانوی حیثیت دی اور شیخ مجیب الرحمن کے چھ نکات جو آج سیاسی بحران کا باعث بنے ہیں اسی ناانصافی اور ترجیحی سلوک کی صدائے بازگشت ہیں۔ صدر مملکت نے مسٹر ایم ایم احمد کو ڈپٹی چیئرمین کے عہدہ سے تو ہٹا دیا مگر اس سے زیادہ اہم پوسٹ ان کو دے کر اپنا اقتصادی مشیر مقرر کر لیا اور صدر کے مشیر کی حیثیت سے ان صاحب نے جو ’’خدمات‘‘ سرانجام دیں وہ پاک فضائیہ کے سابق سربراہ، پی آئی اے کے سابق سربراہ، سابق ڈپٹی چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور سابق گورنر مغربی پاکستان جناب نور خان سے دریافت کیجئے۔ انہوں نے ۲؍ مارچ ۱۹۷۱ء کو اپنی ہنگامی پریس کانفرنس میں قومی اسمبلی کے اجلاس کے التواء پر تبصرہ کرتے ہوئے اس طرف اشارات کئے ہیں۔ روزنامہ آزاد لاہور ۳؍ مارچ ۱۹۷۱ء کے مطابق جناب نور خان نے مشرقی پاکستان کے ساتھ ناانصافیوں کا ذمہ دار نوکر شاہی خصوصاً ایم ایم احمد کو قرار دیا اور الزام لگایا کہ موصوف صدر مملکت کو غلط مشورے دے کر ملک کے دونوں حصوں کے درمیان اختلافات کی خلیج کو وسیع کر رہے ہیں۔ جناب نور خان نے یہ بھی بتایا کہ موجودہ سیاسی بحران بپا کرنے کے لئے مسٹر ایم ایم احمد اور ان کے ساتھی افسروں نے اور بھی خفیہ سازشیں کی ہیں۔‘‘
پھر ایک قادیانی سفارت کار مسٹر منصور احمد کا یہ کردار بھی پیش نظر رہے کہ جب جنیوا انسانی حقوق کمیشن میں حکومت پاکستان کے خلاف قادیانیوں نے اپنے مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے حوالہ سے درخواست دائر کی تو جنیوا میں پاکستان کا سفیر ہونے کے ناتے سے مسٹر منصور احمد حکومت پاکستان کو اعتماد میں لئے بغیر قادیانی ہوتے ہوئے بھی پاکستان کے نمائندہ کے طور پر پیش ہوئے اور قادیانیوں کی درخواست کے حق میں فیصلہ دلوایا جو ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔
یہ چند مثالیں ہیں جو ریکارڈ پر ہیں اور قادیانیوں کے بارے میں مسلمانوں کی بے اعتمادی کے بنیادی اسباب پر شواہد کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ورنہ جس ملک میں جوگندر ناتھ منڈل، جسٹس اے آر کارنیلیس، جسٹس دراب پٹیل، فادر روفن جولیس اور ان جیسی درجنوں غیر مسلم شخصیات کو حکومتی مناصب پر قبول کیا گیا ہے، وہاں دو چار قادیانیوں کے آجانے سے کیا فرق پڑتا ہے۔ لیکن اصل بات یہ نہیں، بلکہ اس کی اصل وجہ وہ ہے جو جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے آخری ایام میں اپنے جیل کے نگران کرنل محمد رفیع سے کہی تھی اور جو ان کی یادداشتوں میں چھپ چکی ہے کہ قادیانی حضرات پاکستان میں وہ پوزیشن حاصل کرنے کی تگ و دو میں مسلسل مصروف ہیں جو یہودیوں کو امریکہ میں حاصل ہے کہ ملک کا کوئی فیصلہ ان کی مرضی کے خلاف نہ ہو اور کوئی پالیسی ان کی منشاء سے ہٹ کر طے نہ پاسکے۔
ہم وزیر اعظم عمران خان اور ان کے رفقاء سے یہ عرض کرنا چاہیں گے کہ وہ اسے صرف مذہبی جذباتیت کے حوالہ سے نہیں بلکہ پاکستان کے مفاد میں زمینی حقائق کی بنیاد پر دیکھیں اور پاکستانی قوم کے اجتماعی فیصلے اور جذبات کا احترام کرتے ہوئے مفکر پاکستان علامہ
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
محمد اقبال کے ان مضامین کا بھی ایک بار ضرور مطالعہ کر لیں، جن میں قادیانیت کو یہودیت کا چربہ اور قادیانیوں کو اسلام اور ملک دونوں کا غدار کہا گیا ہے۔
(روزنامہ اسلام لاہور، ۴؍ستمبر ۲۰۱۸ء)
بقول ان کے خلیفہ صاحب کے قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ : ”ملکی سیاست میں خلیفہ وقت سے بہتر اور کوئی رہنمائی نہیں کر سکتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت اس کے شامل حال ہوتی ہے۔“
(الفضل، ۲۵؍دسمبر ۱۹۳۲ء)
ہر قادیانی ہر معاملے میں اپنے خلیفہ وقت کا حکم پہلے مانتا ہے۔ بعد میں وہ کسی اور کی سنتا ہے، اس پر کئی شواہد موجود ہیں۔ جن میں سے چند شواہد کی طرف اوپر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس خطرے کے پیش نظر ہمیں اندیشہ تھا کہ ”عاطف میاں“ مرتد اور قادیانی جو کہ قادیانیوں کے موجودہ مرزا مسرور احمد قادیانی کا مالی مشیر اور جنوبی افریقا میں قادیانی مشن کا سربراہ ہے۔ یہ پاکستان کی اقتصادی حالت بہتر بنانے کے مشورے دے گا یا اپنے پیشرو قادیانیوں کی طرح اپنے خلیفہ سے ہدایات لے کر پاکستان کے لئے مشکلات کھڑی کرے گا؟ اس بات کی تائید اس سے بھی ہو گئی کہ اس کا نام ہٹانے کے بعد دو اور اراکین عاصم اعجاز اور عمران رسول نے بھی استعفیٰ دے دیا۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ”بلی تھیلے سے باہر آگئی“ یعنی یہ پوری ٹیم ایک منصوبہ کے ساتھ اس میں گھسائی گئی تھی، جب ان کو اس منصوبہ میں ناکامی نظر آنے لگی تو انہوں نے استعفیٰ دے دیا۔ ان اريد الا الاصلاح ما استطعت وما توفيقى الا بالله!
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۲۳ تا ۳۰؍ستمبر ۲۰۱۸ء ص ۵، ۶، ۲۷)
معروف قادیانی کو قومی اقتصادی کونسل کا رکن بنانا بدترین قادیانیت نوازی ہے: علماء کرام
کراچی (پ ر) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، مولانا خواجہ عزیز احمد، مولانا حافظ ناصر الدین خاکوانی، مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے میاں عاطف قادیانی کو قومی اقتصادی کونسل کا رکن بنانے پر حکومتی فیصلہ کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ میاں عاطف جیسے معروف قادیانی کو اس کونسل کا رکن بنانا بدترین قادیانیت نوازی ہے۔ انہوں نے میاں عاطف قادیانی کو کونسل سے نکالنے اور چیف اکنامک ایڈوائزر کے عہدے سے سبکدوش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ مجلس کے مرکزی رہنما مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ، مولانا قاضی احسان احمد و دیگر علماء کرام نے حکومت کی بدترین قادیانیت نوازی کی پُر زور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حکومت سے اپنے فیصلہ پر نظر ثانی کرنے کی اپیل کی ہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۶ تا ۲۲؍ستمبر ۲۰۱۸ء ص ۸)
عاطف میاں قادیانی کی برطرفی پر سوالات کا تجزیہ
عاطف میاں قادیانی کے والدین مسلمان تھے۔ وہ براعظم افریقا کے ایک ملک نائیجیریا میں رہائش پذیر تھے۔ ان کے ہاں ان کی پیدائش ۱۹۷۴ء میں ہوئی۔ ۱۹۹۳ء میں تعلیم کے لئے امریکا گئے تو یونیورسٹی میں ایک جاننے والے شیخ احمد قادیانی نے قادیانیت کی تبلیغ کی۔ ۲۰۰۲ء میں ارتداد اختیار کر کے قادیانیت کا فارم بھر دیا۔ تب سے قادیانی جماعت کی تنظیم ”خدام الاحمدیہ“ میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ قادیانی جماعت کے ہیڈ کوارٹر لندن میں قادیانی جماعت کے چیف کے مشیر ہیں۔
آئی ایم ایف نے جس طرح پوری دنیا کے ترقی پذیر ممالک کو قرضوں میں جکڑا ہوا ہے، وہ دنیا کے سامنے ہے۔ ان کے نزدیک عاطف میاں قادیانی پچیس ماہرین اکنامکس میں سے ایک ہیں۔
مصور پاکستان علامہ اقبال نے فرمایا تھا کہ: ”قادیانیت یہودیت کا چربہ ہے۔“ دوسری جگہ علامہ مرحوم نے پنڈت جواہر لعل نہرو کے نام اپنے مکتوب میں فرمایا کہ : ”قادیانی اسلام اور ملک دونوں کے غدار ہیں۔“ یہودیوں نے سیدنا مسیح علیہ السلام کو شدید طعن و دشنام کا نشانہ
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بنایا۔ یہی کچھ سیدنا مسیح ابن مریم علیہما السلام کے بارہ میں مرزا قادیانی نے طرز کلام اختیار کیا۔ جس پر اس کی کتب گواہ ہیں۔ نوبل یہودی تھا۔ یہودیوں کے پرائز کے لئے عاطف میاں قادیانی کا نامزد ہونا، قبل ازیں ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی بھی اس انعام سے مستفید ہوچکے ہیں۔ آئی.ایم.ایف پر جس طرح یہودی چھائے ہوئے ہیں وہ کسی سے مخفی نہیں۔ ان حالات میں جناب عمران خان صاحب نے ۱۳؍ستمبر ۲۰۱۴ء کو اپنے دھرنا کے دوران عاطف میاں قادیانی کو وزیر خزانہ بنانے کا مژدہ سنایا۔ جب اس پر شدید احتجاج ہوا تو جناب عمران خان صاحب نے فرمایا کہ اس کے قادیانی ہونے کا مجھے علم نہ تھا۔ چنانچہ انہوں نے وزیر بنانے کے اعلان سے یوٹرن لے لیا۔
اب وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب کے عاطف میاں قادیانی کو ایڈوائزری کونسل کا رکن نامزد کرنے سے اس بحث نے شدت اختیار کرلی۔ اللہ رب العزت نے کرم کیا کہ ۷؍ستمبر ۲۰۱۸ء کو عاطف میاں قادیانی سے استعفیٰ لے لیا گیا۔ لیکن ان کی تقرری سے استعفیٰ تک مخالف و موافق حضرات نے اس بحث میں بہت سارے سوالات اٹھائے۔ آج کی مجلس میں ان سوالات کا تجزیہ پیش کرنا مقصود ہے۔
سوال نمبر ۱: یہ کیا گیا کہ ”عاطف میاں قادیانی کی تقرری سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بانی پاکستان جناب محمد علی جناح نے بھی تو ظفر اللہ قادیانی کو اپنی کابینہ میں لیا تھا“ تو پھر عاطف میاں قادیانی کی تقرری پر اتنا احتجاج کیوں؟
جواباً گزارش یہ ہے: پہلی بات تو یہ ہے کہ عاطف میاں قادیانی کی حمایت کرنے والے ہمارے قابل احترام رہنما بہت سے حقائق کو یہاں نظرانداز کر رہے ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ جناب ظفر اللہ خان کو میاں سر فضل حسین کی جگہ انگریز وائسرائے ہند نے اپنی کونسل میں لیا۔ اس کے لئے ظفر اللہ خان کا نام سر فضل حسین نے دیا تھا۔ جب سر فضل حسین صاحب سے سوال ہوا کہ آپ نے ان کا نام کیوں دیا تو واضح طور پر انہوں نے فرمایا کہ مجھے وائسرائے کی خواہش کا احترام تھا۔ وہ ظفر اللہ صاحب کو اپنی کونسل میں لینا چاہتے تھے۔ اس لئے میں نے ایسا نام دیا، جس سے وائسرائے ہند خوش ہو جائیں۔ قیام پاکستان کے وقت جو معروضی حالات تھے، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ کسی قادیانی کو کابینہ میں لینے کا یہ پہلا تجربہ تھا۔ لیکن یہ کیوں صرف نظر کر دیا جاتا ہے کہ یہی جناب ظفر اللہ قادیانی تھے جنہوں نے جناب بانی پاکستان کے جنازہ کے موقع پر موجود ہونے کے باوجود جنازہ پڑھنے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا تھا کہ: ”مسلمان حکومت کا کافر وزیر یا کافر حکومت کا مسلمان وزیر ہوں“ ظاہر ہے کہ وہ خود کو غیر مسلم نہیں فرما رہے تھے۔ پوری مملکت اسلامی پاکستان کو اس نے غیر مسلم اسٹیٹ بنادیا۔ مزید کفر کی زناری بھی دیکھئے کہ ۱۹۵۲ء میں جہانگیر پارک کراچی کے قادیانی جلسہ میں جانے سے پاکستان کے وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین نے اس ظفر اللہ قادیانی کو روکا تو ظفر اللہ خان نے صاف کہہ دیا کہ: میں پاکستان کی وزارت خارجہ چھوڑ دوں گا، اپنی جماعت کے جلسہ کی شرکت ترک نہیں کر سکتا۔ پاکستان کے ممتاز صحافی جناب مجید نظامی باہر کے دورہ پر گئے۔ واپس آ کر پاکستان میں پہلا بیان یہ دیا کہ بیرون کے پاکستانی سفارتخانوں کو ظفر اللہ نے قادیانیت کی تبلیغ کے مراکز بنادیئے ہیں۔
یہی وہ نکتہ ہے جس سے ساری بحث کو سلجھایا جاسکتا ہے کہ تمام قادیانی اپنے عقیدہ کے مطابق پہلے قادیانی جماعت کے وفادار ہوتے ہیں، پھر وہ کسی ملازمت سے مخلص ہوں گے۔ اس وقت پوری قادیانی جماعت نے پاکستان کے آئین میں طے شدہ اپنی حیثیت کو تسلیم نہ کر کے آئین پاکستان سے بغاوت کا طرز اپنا رکھا ہے۔ ایک ایسے آئین پاکستان کے باغی گروہ کو جس کی تمام تر ہمدردیاں یہودیوں اور مغربی دنیا کے ساتھ ہوں۔ جو پہلے اپنی جماعت کے وفادار ہوں۔ پاکستان کے آئین سے بغاوت کر کے پاکستان کو پوری دنیا میں بدنام کر رہا ہو اور مغربی دنیا کے مختلف ممالک سے پاکستان کی اقتصادی ناکہ بندی کرائی جارہی ہو جس کے پیچھے واضح طور پر قادیانی لابی کام کر رہی ہے۔ جہاں واشنگٹن سے لندن تک، اسرائیل سے آئی ایم ایف تک ہر جگہ قادیانی کاوش پاکستان کو مشکلات میں ڈال رہی ہو۔ جیسا
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کہ جناب ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا یہ انٹرویو ریکارڈ کا حصہ ہے کہ پاکستان کے ایٹمی راز امریکہ تک قادیانی جماعت نے پہنچائے۔ ان تمام تر امور کو نظر انداز کر کے آئی ایم ایف کے ممدوح کو ایڈوائزری کونسل میں لینا عقل و دانش اور حالات و واقعات کی رو سے ناقابل فہم تھا۔
سوال نمبر ۲: ”اقتصادی کونسل سے عاطف میاں قادیانی کا استعفیٰ لینا، حکومت کے اس اقدام سے لوگوں کے دل ٹوٹ گئے، پاکستان کا امیج دنیا میں خراب ہو گیا۔ ایسے کمزور اور ناقص فیصلہ سے پرانا پاکستان بہتر تھا۔“
اس سلسلہ میں جواباً گزارش ہے کہ عاطف میاں قادیانی کے استعفیٰ سے کن لوگوں کے دل ٹوٹے؟ آیا ان لوگوں کے جو پاکستان کے اسلامی تشخص کے حق میں نہیں، جو پاکستان کو ایک سیکولر اسٹیٹ بنانا چاہتے ہیں۔ جو ناچ گانا، میراتھن ریس، مادر پدر آزاد مغربی دنیا کا یہاں معاشرہ قائم کرنا چاہتے ہیں۔ جہاں جنس پرستی ایسے افعال کی قانونی اجازت ہو کہ مرد مرد سے، عورت عورت سے شادی کر سکے۔ مسلم وغیر مسلم کا کوئی امتیاز نہ ہو تو حکومت پاکستان کا عاطف میاں قادیانی سے استعفاء لینا اس ذہنیت کے حضرات کے لئے یقیناً گراں ہوگا۔ لیکن اگر پاکستان ایک نظریاتی آزاد مملکت ہے اور آئین میں اسلام کو سٹیٹ کا سرکاری مذہب قرار دیا گیا ہے۔ اس ترقی پذیر اسلامی مملکت کو آئی ایم ایف کے چنگل سے اپنی جان کو بچانا اور چھڑانا ہے تو پھر عاطف میاں قادیانی کے استعفاء کا فیصلہ سنہری حروف سے لکھنے کے قابل ہے۔ دنیا کو کیا ہو گیا کہ آئی ایم ایف کی فہرست جس میں پچیس ممتاز ماہرین معاشیات کے نام ہیں، اس میں تو عاطف میاں قادیانی کا نام ہے، جس سے ان کی وابستگی آئی ایم ایف سے روز روشن کی طرح واضح ہے۔ لیکن وہ سو افراد کی فہرست جو معاشیات میں پوری دنیا کے ماہر مانے جاتے ہیں، ان میں عاطف میاں قادیانی کا کہیں دور دور تک نام تو درکنار نشان تک بھی نہیں ملتا۔ کیا پھر یہ واضح نہیں ہو جاتا کہ پچیس افراد کی فہرست آئی ایم ایف کے مہروں کی فہرست سے زیادہ وقعت نہیں رکھتی۔
جناب ایم ایم ادیب نے خوب فرمایا کہ: ”کیا پاک وطن میں ماہرین اقتصادیات و معاشیات کا قحط پڑ گیا ہے۔“ اگر نہیں اور بالکل نہیں تو محب وطن ماہرین اقتصادیات کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔ آئی ایم ایف کے منظور نظر افراد کو نظر انداز کرنا چاہئے۔ اس سے پاکستان کا امیج خراب نہیں ہوگا، بلکہ اس سے پاکستانی قوم کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کا حوصلہ ملے گا۔ سامراجی طاقتوں کے اقتصادی جال سے باہر آزاد ماحول میں ہم سانس بھی لے سکیں گے۔ لہٰذا عاطف میاں قادیانی سے جان چھڑانے سے پاکستان کو آزاد فضا میں سانس لینے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ یہ ناقص یا کمزور فیصلہ نہیں بلکہ بڑی جرأت و بہادری اور حوصلہ مندی و ثبات قدمی کا فیصلہ ہے۔ اس پر واویلا کرنا، ان بیمار ذہنوں کی اختراع ہے جو پاکستان کو آئی ایم ایف کے چنگل میں رکھنے کے آرزومند ہیں۔
سوال نمبر ۳: یہ کیا گیا کہ: ”عاطف میاں قادیانی سے استعفاء لینا افسوس ناک ہے۔ کیونکہ قائد اعظم محمد علی جناح کے پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق غصب کر لئے گئے ہیں۔“
اس سلسلہ میں صرف یہ عرض کر دینا کافی ہوگا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں عاطف میاں قادیانی کی تقرری کے خلاف رٹ دائر ہوئی۔ عدالت نے رٹ پٹیشنر کے وکیل سے سوال کیا کہ: اقلیتوں کو ایڈوائزری کونسل میں لینے سے قانون کی کیسے خلاف ورزی ہوئی؟ وکیل صاحب نے جواب میں کہا کہ: عاطف میاں قادیانی ڈیکلریشن دے دیں کہ پاکستان کے آئین کی رو سے ہم تمام قادیانی غیر مسلم ہیں۔ اگر وہ یہ ڈیکلریشن نہیں دیتے تو وہ آئین پاکستان کو تسلیم نہیں کرتے اور ظاہر ہے کہ مملکت کے آئین سے انحراف کرنے والے کی اس مملکت میں پذیرائی کو کیسے درست اقدام قرار دیا جا سکتا ہے؟
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
یہ سوال اٹھانے والے حضرات کیوں بھول جاتے ہیں کہ پاکستان میں تمام اقلیتوں کو دوہرے ووٹ کا حق دیا گیا۔ آج تک کوئی مرکزی یا صوبائی کابینہ پاکستان کی تاریخ میں نہیں بنی، جس میں اقلیتوں کے وزراء نہ لئے گئے ہوں، تو پھر یہ کہنا کہ اقلیتوں کے حقوق غصب ہو گئے ۔ یہ صرف قادیانی راگ ہے جو وہ پاکستان کے خلاف پوری دنیا میں الاپ رہے ہیں۔ معترضین حضرات کو سوچنا چاہئے کہ اس وقت بھی کراچی سے خیبر تک ہزاروں مسیحی ، ہندو، حتیٰ کہ قادیانی بھی پاکستان کی سرکاری ملازمتوں پر فائز ہیں اور آبادی کے تناسب سے بھی زیادہ فائدہ حاصل کر رہے ہیں۔ قادیانی حضرات کا یہ پروپیگنڈا کہ پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق غصب ہورہے ہیں۔ پاکستان دشمنی کا شاخسانہ ہے، ان سے متاثر ہو کر ایسے سوالات اٹھانا یا مفروضے گھڑنا، پاکستان میں انارکی پھیلانے کے مترادف ہے۔ اس سے اجتناب حب الوطنی کا تقاضا ہے۔
سوال نمبر ۴ : یہ کہ ” آنحضرت ﷺ کے زمانہ حیات میں ایسے واقعات ملتے ہیں کہ کفار اور مشرکین سے فنی مہارت حاصل کی گئی۔ صحابہ کرامؓ کے دور میں بھی ایسے واقعات ملتے ہیں۔ اب قادیانی غیر مسلم ہیں تو ان سے فنی مدد کیوں نہیں لی جاسکتی ۔“
جواباً عرض ہے ۔ یہ تو تسلیم ہے کہ رحمت عالم ﷺ نے جنگ بدر کے ایسے قیدی جو فدیہ نہیں دے سکتے تھے اور پڑھے لکھے تھے، ان کو کہا کہ: آپ فدیہ کی رقم کے بدلہ میں صحابہ کرامؓ کو پڑھنا لکھنا سکھا دیں۔ جب ایسے ہو جائے گا تو تمہیں آزاد کر دیا جائے گا۔ اس جیسے واقعات سے ثابت ہوا کہ غیر مسلم لوگوں سے فنی خدمات حاصل کی جاسکتی ہیں۔ لیکن یہاں بھی چند امور کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ کفار یا مشرکین کی ایک قسم وہ ہے جو ظاہر و باہر کافرو مشرک ہے۔ جیسے بدر کے قیدی۔ ان کی فنی مہارت سے فائدہ اٹھایا گیا۔ اب بھی یہودی ، مسیحی ، ہندو، سکھ یا دیگر اس قسم کے لوگوں کی فنی مہارت سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے اور پاکستان بھر میں اٹھایا جارہا ہے۔ البتہ ریاست مدینہ میں ایک اور خطرناک صورت جب یہ پیدا ہوگئی کہ مدینہ طیبہ کے بعض لوگ دلوں میں کفر رکھتے تھے اور بظاہر خود کو مسلمانوں میں شمار کرتے تھے۔ ان کے بعض کام مسلمانوں کی شناخت کو مجروح کرنے یا دھوکہ دہی کا باعث بنے تو اس فتنہ کو قانون کی حکمرانی کی رٹ قائم کرنے کے لئے دبا دیا گیا۔ جیسے انہوں نے مسجد ضرار مسلمانوں کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کے لئے بنائی تو اسے نہ صرف مسمار کیا گیا بلکہ اسے خاکستر بھی کیا گیا۔ اب آئیے اس طبقہ کی طرف جن سے ہمیں پالا پڑا ہے کہ وہ بھی غیر مسلم ہیں۔ لیکن خود کو مسلمان کہتے ہیں اور مسلمانوں کو غیر مسلم کہتے ہیں۔ کیا یہ واقعہ نہیں کہ تمام قادیانی بشمول عاطف میاں قادیانی کے وہ قادیانیت کو اسلام کہتے ہیں۔ قادیانی ہو کر اسلام کا ٹائٹل استعمال کرتے ہیں۔ مسلمانوں کے تشخص کو مجروح کرنا، اسلام کے تشخص کو برباد کرنا، اپنے کفر کو اسلام کے نام پر پیش کرنا، یہ وہ قادیانی جرائم ہیں جن کے باعث ان کو پاکستان کی قومی اسمبلی نے غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ اگر وہ اپنے متعلق قومی اسمبلی کے آئینی فیصلہ کو جس کی سپریم کورٹ کے درجنوں فیصلوں کے ذریعہ توثیق ہوچکی ہے، اس کے مطابق اپنی آئینی حیثیت تسلیم کر لیتے تو تمام تنازعات یکسر ختم ہو جاتے۔ لیکن قادیانی حضرات نے آئینی حیثیت کو تسلیم کرنا تو درکنار، اس کے خلاف الٹا محاذ بنالیا ہے اور دن رات مسلمانوں، اسلام اور پاکستان کے اس آئینی فیصلہ کے خلاف محاذ آرائی میں مگن ہیں۔ گویا ان کے نزدیک دنیا میں اور کوئی کام ہی نہیں۔
ہاں ! اگر قادیانی عقیدہ کے حاملین کو چھٹی دے دی جائے کہ وہ خود کو مسلمان اور مسلمانوں کو غیر مسلم کہیں تو پھر سب اچھا ہوگا۔ اسی مقصد براری کے لئے امریکہ اور اقوام متحدہ سے ہمیں واچ لسٹ پر ڈالا جاتا ہے۔ امداد کے لئے شرط عائد کی جاتی ہے کہ قادیانیوں کو مسلمان سمجھا جائے۔ گویا قادیانیوں کو حق دیا جائے کہ وہ دنیا کے دو ارب مسلمانوں کو مرزا قادیانی کو نہ ماننے کی وجہ سے کافر قرار دیں۔ قادیانی عقیدہ کے مطابق چند لاکھ قادیانیوں کے علاوہ باقی دنیا میں کوئی مسلمان نہیں۔ گویا مسلم دنیا کی بربادی میں قادیانیت کی ترقی کا راز مضمر ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیانی مسلمانوں کو کیا سمجھتے ہیں؟ اور ان کے بارہ میں ان کے کیا عقائد ہیں، اس کو جاننے کے لئے چند قادیانی حوالہ جات اور ان کے نتائج پر نظر ڈالتے ہیں:
- ۱...... ”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ میرے کانوں میں گونج رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا: یہ غلط ہے کہ دوسرے لوگوں سے ہمارا اختلاف صرف وفات مسیح یا اور چند مسائل میں ہے آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی ذات، رسول کریم ﷺ قرآن، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ غرض کہ آپ نے تفصیل سے بتایا کہ ایک ایک چیز میں ہمیں ان (مسلمانوں) سے اختلاف ہے۔“
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان مندرجہ الفضل، ج۱۹، نمبر۱۳، مورخہ ۳۰ جولائی ۱۹۳۱ء)
- ۲...... ”اس کے بعد حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) نے صاف حکم دیا کہ غیر احمدیوں کے ساتھ ہمارے کوئی تعلقات ان کی غمی اور شادی کے معاملات میں نہ ہوں جب ان کے غم میں ہم نے شامل ہی نہیں ہونا تو پھر جنازہ کیسا۔“
(اخبار الفضل قادیان ج۳، نمبر۱۲۰ مورخہ ۱۸؍جون ۱۹۱۲ء)
- ۳...... ”خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے اور خدا کے نزدیک قابل مواخذہ ہے۔“
(تذکرہ مجموعہ الہامات مرزا ص ۶۰۷، طبع ۴)
- ۴...... ”جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات ص ۲۷۵، ج ۳)
- ۵...... ”کُل جو مسلمان حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“
(آئینہ صداقت ص ۳۵ مصنفہ خلیفہ قادیان)
- ۶...... ”یہ بات تو بالکل غلط ہے کہ ہمارے اور غیر احمدیوں کے درمیان کوئی فروعی اختلاف ہے ...... کسی مامور من اللہ کا انکار کفر ہو جاتا ہے ہمارے مخالف حضرت مرزا صاحب کی ماموریت کے منکر ہیں۔ بتاؤ کہ یہ اختلاف فروعی کیونکر ہوا۔ قرآن مجید میں تو لکھا ہے ”لا نفرق بین احد من رسلہ“ لیکن حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے انکار میں تو تفرقہ ہوتا ہے۔“
(نہج المصلی ص ۴۵، ۴۷ مؤلفہ محمد فضل خان قادیانی)
- ۷...... ”ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد کو نہیں مانتا یا محمد کو مانتا ہے پر مسیح موعود (مرزا) کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“
(کلمۃ الفصل مصنفہ بشیر احمد قادیانی ص ۱۱۰)
- ۸...... ”ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خدا تعالیٰ کے ایک نبی کے منکر ہیں۔ یہ دین کا معاملہ ہے اس میں کسی کا اپنا اختیار نہیں کہ کچھ کر سکے۔“
(انوار خلافت ۹۰)
- ۹...... ”(میاں محمود احمد خلیفہ قادیان نے) فرمایا جس طرح عیسائی بچے کا جنازہ نہیں پڑھا جا سکتا اگرچہ وہ معصوم ہی ہوتا ہے۔ اسی طرح ایک غیر احمدی کے بچے کا بھی جنازہ نہیں پڑھا جا سکتا۔“
(خلیفہ قادیان مندرجہ الفضل قادیان ج ۱۰، نمبر ۳۲، ص ۶ مورخہ ۲۳؍ اکتوبر ۱۹۲۲ء)
- ۱۰...... ”پس مسیح موعود (مرزا قادیانی) خود محمد رسول اللہ ہے جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔“
(مرزا بشیر احمد پسر مرزا قادیانی کلمۃ الفصل ص ۱۵۸)
ان دس قادیانی حوالہ جات سے یہ دس باتیں ثابت ہوئیں کہ:
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۱...... قادیانیوں کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی ذات ،حضور سرور کائنات ﷺ کی ذات، قرآن، نماز، روزہ، حج، زکوۃ میں ان کو مسلمانوں
سے اختلاف ہے۔
- ۲...... قادیانیوں کے نزدیک مسلمانوں کی شادی، غمی، جنازہ، میں شرکت جائز نہیں۔
- ۳...... قادیانیوں کے نزدیک تمام مسلمان جو مرزا کو نبی نہیں مانتے سب نان مسلم ہیں۔
- ۴...... مرزا کو نہ ماننے والا جہنمی ہے۔
- ۵...... مرزا کو نہ ماننے والا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے
- ۶...... قادیانیوں کے نزدیک مسلمانوں سے اختلاف فروعی نہیں اصولی ہے۔
- ۷...... قادیانیوں کے نزدیک مرزا کو نہ ماننے والا صرف کافر نہیں بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔
- ۸...... قادیانیوں کے نزدیک مسلمانوں کو مسلمان نہ سمجھنا فرض ہے۔
- ۹...... مسلمانوں کا نماز جنازہ حتی کہ مسلمانوں کے بچوں کا بھی جنازہ پڑھنا جائز نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ظفراللہ قادیانی نے قائد اعظم بانی
پاکستان کا نماز جنازہ نہیں پڑھا تھا۔
- ۱۰...... مرزا قادیانی معاذ اللہ محمد رسول اللہ ہے۔
مسلمانوں اور قادیانیوں کے درمیان مزید دس نکات بھی لائق توجہ ہیں:
- ۱...... مسلمانوں کے نزدیک حضور سرور کائنات ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ قادیانیوں کے نزدیک حضور سرور
کائنات ﷺ کے بعد مرزا قادیانی بھی اللہ کا رسول اور نبی تھا۔
- ۲...... مسلمانوں کے نزدیک رحمت عالم ﷺ کو ایمان کی حالت میں دیکھنے والے صحابہ کرام ؓ ہیں۔ جب کہ قادیانیوں کے نزدیک
مرزا قادیانی کے زمانہ میں اس کو قبول کرنے والے بھی صحابی ہیں۔
- ۳...... مسلمانوں کے نزدیک رحمت عالم ﷺ کا خاندان اہل بیت ؓ ہے۔ جب کہ قادیانیوں کے نزدیک مرزا قادیانی کا خاندان بھی
اہل بیت ہے۔
- ۴...... مسلمانوں کے نزدیک رحمت عالم ﷺ کی ازواج امہات المؤمنین ؓ ہیں۔ جب کہ قادیانیوں کے نزدیک مرزا قادیانی کی
بیوی بھی ام المؤمنین ہے۔
- ۵...... مسلمانوں کے نزدیک مدینہ منورہ میں جنت البقیع کا قبرستان مقدس ہے۔ قادیانیوں کے نزدیک قادیان کا بہشتی مقبرہ بھی مقدس ہے۔
- ۶...... مسلمانوں کے نزدیک حضور سرور کائنات ﷺ کو نہ ماننے والا مسلمان نہیں۔ قادیانیوں کے نزدیک عالم اسلام کے کل مسلمان جو
حضور ﷺ کو مانتے ہیں یہ سب مرزا قادیانی کو نہ ماننے کی وجہ سے کافر ہیں۔
- ۷...... مسلمانوں کے نزدیک آخرت کی نجات رحمت عالم ﷺ کی ذات اقدس کی تصدیق و اتباع میں منحصر ہے۔ جب کہ قادیانیوں
کے نزدیک مرزا قادیانی کو مانے بغیر آخرت کی نجات ممکن نہیں۔
- ۸...... مسلمانوں کے نزدیک مکہ مکرمہ ، مدینہ طیبہ قابل احترام ہیں۔ جب کہ مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا محمود دوسرا قادیانی خلیفہ کہتا ہے کہ مکہ
مدینہ کی چھاتیوں سے دودھ خشک ہو گیا ہے اب اسلام اور روحانیت مرزا قادیانی سے وابستہ ہے اور وہ برکات قادیان میں ہیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۹...... مسلمانوں کے نزدیک قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا آخری کلام ہے۔ جب کہ قادیانیوں کے نزدیک مرزا قادیانی پر بھی کلام اللہ نازل
ہوا اور وہ اللہ تعالیٰ کا آخری کلام ہے۔
- ۱۰...... مسلمانوں کے نزدیک حدیث رسول اللہ ﷺ مشعل راہ ہے۔ جب کہ قادیانیوں کے نزدیک جو حدیث رسول اللہ ﷺ ، مرزا
قادیانی کے کلام کے خلاف ہے وہ ردی کی ٹوکری میں ڈالنے کے لائق ہے۔
ان حقائق کے ہوتے ہوئے کیا قادیانیوں کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ اپنی آئینی حیثیت نہ مان کر قانون شکنی کے مرتکب ہونے کے باوجود وہ مسلمانوں کے سروں پر مسلط رہیں۔ عیسائی، ہندو، سکھ ان سب کا مسلمانوں سے یہ تنازعہ نہیں کہ مسیحی، ہندو، سکھ غیر مسلم ہونے کے باوجود خود کو مسلمان کلیم کر کے مسلمانوں کے درپے آزار یا قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوں۔ مگر قادیانیوں کے طرز عمل نے یہ صورتحال پیدا کر دی ہے کہ جس سے مسائل جنم لے رہے ہیں۔ ان کا تدارک صرف اور صرف یہ ہے کہ ان کو قانون کا پابند کیا جائے۔ پاکستان میں واحد قادیانی جماعت ہے جس نے اپنی عدالتیں قائم کر رکھی ہیں۔ اپنے فیصلہ، ان کی اپیل، پھر ان پر اپیل در اپیل کا پورا عدالتی سسٹم قائم کر رکھا ہے۔ اپنے اسٹام پیپر شائع کرتے ہیں۔ عدالتی طریقہ کار پر اپنے سمن جاری کرتے ہیں۔ ان کی عدالتوں میں باقاعدہ وکیل پیش ہوتے ہیں۔ پیشیاں پڑتی ہیں۔ فیصلے ہوتے ہیں۔ اگر ملک میں کسی اور جماعت یا ادارہ نے یہ سسٹم جاری کیا ہوتا تو طوفان کھڑا ہو جاتا کہ اسٹیٹ کے اندر اسٹیٹ کا سسٹم ناقابل برداشت ہے۔ ان کے مرتکب کو قانون کا پابند بنایا جاتا بلکہ دیدہ عبرت بھی، مگر قادیانی ایک ایسی البیلی اقلیت ہے کہ ان کی اس حرکت پر کوئی ملکی ادارہ قانون کی رٹ قائم کرنے اور قانون کی حکمرانی کی بات نہیں کرتا۔ اگر کبھی ان کے خلاف کوئی آواز اٹھے تو ہمارے نامور صحافی فرماتے ہیں کہ کیا قادیانیوں کو جینے کا حق نہیں؟ ان بندگان خدا سے کوئی پوچھے کہ کوئی مطالبہ کرے کہ چوری کو روکو، ڈاکہ کو روکو، دوسرا ستائش باہمی کا ممبر کھڑا ہو جائے کہ کیا چوروں کو ڈاکوؤں کو زندہ رہنے کا حق نہیں؟ تو ایسے عقلمند آدمی کو کیا کہا جائے؟
جناب! چور کو زندہ رہنے کا حق حاصل ہے مگر اس کے لئے چوری اور ڈاکے کا لائسنس تو جاری نہیں کیا جا سکتا۔ ہم کہتے ہیں کہ قادیانیوں کو قانون کا پابند بنایا جائے۔ کیا دنیا میں انصاف نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی کہ ہمارے معزز مسلمان صحافی بھائی بھی قادیانیوں کی حمایت میں دوسرے لفظوں میں ایک قانون شکن جماعت کی حوصلہ افزائی کے درپے ہو جاتے ہیں۔
سوال نمبر ۵: ’’جناب بھٹو صاحب کے متعلق عدالتی فیصلہ پیپلز پارٹی، جناب نواز شریف صاحب کے متعلق عدالتی فیصلہ مسلم لیگ تسلیم نہیں کرتی۔ اگر قادیانی اپنے متعلق فیصلہ کو نہیں مانتے تو اس پر شدید ردعمل کیوں؟‘‘
جواباً گزارش ہے کہ عدالتی فیصلہ پر جائز تنقید کی قانون اجازت دیتا ہے۔ عدالتی فیصلہ سے رائے کا اختلاف ممکن ہے۔ لیکن عدالت کی توہین کی اجازت کوئی قانون نہیں دیتا۔ اگر عدالتی فیصلہ کی بنیاد پر کوئی توہین کرے تو اس پر توہین عدالت کا کیس لاگو ہوگا۔ ہاں! اگر کوئی شخص آئین پاکستان سے انحراف کرتا ہے تو اس پر بغاوت کا کیس درج ہوگا۔ توہین عدالت اور بغاوت کے کیس میں جتنا فرق ہے، فیصلوں سے اختلاف کا اظہار اور قانون سے بغاوت میں اتنا بلکہ اس سے بھی زیادہ فرق ہے۔ کیا دنیا کے کسی ملک کا کوئی قانون یا کوئی حکومت، قانون شکن لوگوں کو قانون شکنی اور بغاوت کی اجازت دیتی ہے؟ اگر نہیں تو پھر یہاں وہ پہلو کیوں فراموش کر دیا جاتا ہے۔
سوال نمبر ۶: ’’عاطف میاں قادیانی کے مکہ یونیورسٹی میں اقتصادیات پر بیانات ہوئے۔ قادیانی حضرات کلپس چلا رہے ہیں کہ وہ مکہ میں مسلمان ہے تو پاکستان میں کیوں نہیں۔‘‘
جواباً گزارش کہ پاکستانی حکومت اور پاکستان کے قانون سے زیادہ سعودی حکومت اور اس کا قانون حساس ہے۔ دنیا جانتی ہے
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کہ قادیانیوں کا دوسرے کافروں کی طرح حرمین شریفین میں داخلہ بند ہے۔ اگر لاعلمی میں ایسے ہوا تو اس سے استدلال میں جتنا وزن ہو سکتا ہے، اس سے کوئی ہوشمند بے خبر نہیں۔
سوال نمبر ۷: عقائد کی وجہ سے نفرت کیوں؟
جواباً گزارش کہ ہمیں مرض سے نفرت ہے۔ مریض سے نفرت نہیں۔ مریض سے تو ہم دلی ہمدردی رکھتے ہیں۔ قادیانیت جس کا عقیدہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی بھی محمد رسول اللہ ہے۔ (معاذ اللہ) قادیانی تعلیمات کے مطابق سیدنا مسیح ابن مریم علیہما السلام کے ہاتھ میں سوائے مکر و فریب کے کچھ نہ تھا۔ (معاذ اللہ) کیا ان عقائد سے کوئی مسلمان محبت کر سکتا ہے؟ قادیانیت کی حمایت کرنے والے حضرات کے طرزِ عمل کو دیکھ کر حیرت کے مارے دماغ شائیں شائیں کرنے لگ جاتا ہے۔ افسوس! کہ مسلمان لوگ کیسے ان عقائد رکھنے والوں کی حمایت پر دیدہ دلیری اور سینہ زوری کرتے ہیں۔ کاش وہ اپنی ایمانی غیرت اور حب الوطنی کو سامنے رکھتے ہوئے ان کے متعلق سوچتے اور فیصلہ کرتے۔
سوال نمبر ۸: ’’عاطف میاں قادیانی ہے۔ کیا قادیانی اس قابل نہیں کہ انہیں پاکستان کی ترقی میں شامل کیا جاسکے؟‘‘
اگر آئی. ایم. ایف کی سفارش پر ان کے پسندیدہ شخص کو آپ رکھنا چاہتے ہیں تو آئی. ایم. ایف کی نوازشات ’’گیس، تیل، بجلی، کھاد اور ڈالر‘‘ کی مہنگائی کے ساتھ ساتھ عاطف میاں قادیانی کو بھی رکھ لیں تو اس کے جو ہوش ربا، بھیانک نتائج برآمد ہوں گے، اس کے لئے تمام پاکستانی حضرات پھر تیار رہیں۔ میرے بھائیو! سوال اس کے رکھنے کا نہیں۔ بلکہ اس کے نتائج کی ذمہ داری کو قبول کرنے کے حوصلہ کا ہے۔ ایم. ایم. احمد قادیانی نے مشرقی پاکستان کو جدا کرنے میں جو کردار ادا کیا۔ وہ کس باخبر آدمی سے مخفی ہے۔ ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی نے امریکہ کو ایٹمی راز دیئے۔ پاکستان کو لعنتی ملک کہا اور قادیانیوں کے عقیدہ کے مطابق پاکستان کی یہ تقسیم عارضی ہے۔ اکھنڈ بھارت بنے گا۔ قادیانی پاکستان میں اپنی لاشیں امانتاً دفن کرتے ہیں۔ ان تمام باتوں سے کیا سمجھا جائے کہ قادیانی پاکستان اور پاکستانی قوم سے مخلص ہیں؟ ان کے بارہ میں آپ مزید تجربہ کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو کون روک سکتا ہے۔ لیکن ’’آزمودہ را آزمودن خطا است‘‘ جن سیانے لوگوں نے فرمایا اس کو نظر انداز کرنے پر خیر کی توقع فعل عبث اور باعث ندامت ہوگا۔
سوال نمبر ۹: ’’اقلیتوں کو تحفظ فراہم کیا جانا چاہئے نہ کہ ملک میں اقلیتوں کے خلاف انتہاء پسندی کی فضا قائم کی جائے۔‘‘
جواباً عرض ہے کہ قادیانیوں کے علاوہ تمام اقلیتیں دل و دماغ کی گہرائیوں سے پاکستان میں خوش ہیں۔ قادیانی بھی آئینی طور پر دیگر اقلیتوں والا طرزِ عمل اختیار کرلیں تو تمام مذکورہ سوالات اپنی موت آپ مر جائیں گے۔
سوال نمبر ۱۰: ’’ملک عزیز پاکستان میں قادیانیوں کے علاوہ اور بہت سی اقلیتیں رہتی ہیں جیسے عیسائی، یہودی، ہندو، سکھ وغیرہ ان دیگر اقلیتوں کے کسی اہم اور کلیدی عہدہ پر فائز ہونے کی وجہ سے آواز خلق بلند نہیں ہوتی۔ احتجاج نہیں ہوتا تو پھر قادیانیوں کے متعلق احتجاج اور شور شرابہ کیوں کیا جاتا ہے۔‘‘
اس سوال کے جواب کے لئے آپ ایک حقیقت کو ذہن میں رکھیں کہ ایک ہندو جب کسی مسلمان سے ملتا ہے تو اس کا مسلمان سے ملتے ہی پہلا تاثر یہ ہوتا ہے کہ میں رام کو ماننے والا ہوں۔ یہ مسلمان، اللہ تعالیٰ کو ماننے والا ہے۔ میں وید کو مانتا ہوں۔ یہ قرآن مجید کو مانتا ہے۔ میں ہندو ہوں یہ مسلمان ہے۔
ایک عیسائی جب کسی مسلمان کو ملتا ہے تو اس کا پہلا تاثر یہ ہوتا ہے کہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا امتی ہوں۔ یہ حضور ﷺ کا امتی ہے۔ میں انجیل کو مانتا ہوں اور یہ قرآن مجید کو مانتا ہے۔ میں عیسائی ہوں یہ مسلمان ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ایک یہودی جب کسی مسلمان کو ملتا ہے اس کا پہلا تاثر یہ ہوتا ہے کہ میں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا امتی ہوں۔ یہ حضور ﷺ کا امتی ہے۔ میں تورات کو مانتا ہوں یہ قرآن مجید کو مانتا ہے۔ میں یہودی ہوں یہ مسلمان ہے۔
جب کوئی سکھ مسلمان کو ملتا ہے تو اس کا پہلا تاثر یہ ہوتا ہے کہ میں بابا نانک کا مرید ہوں۔ یہ حضور ﷺ کا غلام ہے۔ میں گرنتھ کو مانتا ہوں۔ یہ قرآن مجید کو مانتا ہے۔ میں سکھ ہوں یہ مسلمان ہے۔
گویا ہندو، عیسائی، یہودی، سکھ نے مسلمانوں کا یہ حق تسلیم کیا کہ حضور ﷺ کو ماننے والے مسلمان ہیں۔ دنیا میں صرف قادیانی ایک ایسا طبقہ ہے کہ جب کوئی قادیانی کسی مسلمان کو ملتا ہے تو قادیانی کا مسلمان کو ملتے ہی پہلا تاثر یہ ہوتا ہے کہ میں مرزا قادیانی کو ماننے والا مسلمان ہوں اور یہ مسلمان جو حضور ﷺ کو آخری نبی ماننے والا (مرزا غلام احمد قادیانی کو نہ ماننے کی وجہ سے) غیر مسلم ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جب بھی کوئی اس طرح کا کیس سامنے آتا ہے تو احتجاج شروع ہو جاتا ہے۔ یہ سب قادیانیوں کی پیدا کردہ سوچ ہے۔ سب ان کے کرم کا مرہون منت ہے۔ ان کے کرتوتوں کی سزا، امت محمدیہ ﷺ کو بھگتنا پڑ رہی ہے۔ وہ ایسی فضا نہ بناتے تو آج یہ دن دیکھنا نہ پڑتے۔ یہ سب ان کا کیا دھرا ہے۔ ہر قادیانی قادیانیت کا وکیل ہے۔ کاش مسلمان بھی سوچیں کہ قادیانی آپ کو اپنے عقیدہ کے مطابق کیا سمجھتے ہیں اور آپ ان کے متعلق کیا وکالت کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں؟ مندرجہ بالا سوالات جو سوشل، پرنٹ یا الیکٹرانک میڈیا پر اٹھائے گئے ہیں، ان کے جوابات تو ہو چکے۔ اب ہمارے مولانا مفتی ابولبابہ شاہ منصور نے جو بات ارشاد فرمائی ہے وہ بھی ملاحظہ فرمالیں:
واہ صادق مسیح:
’’ویسے تو یہ دنیا عجائبات سے بھری پڑی ہے۔ لیکن ایسے عجائبات بھی دیکھنے پڑیں گے، اس کا تصور بھی نہ کیا تھا۔ نوائے وقت میں ملازم ایک خاکروب (جھاڑو دینے والا) نے یہ کہہ کر استعفاء دے دیا ہے کہ: ’’آپ نے جس (قادیانی) جماعت کا اشتہار چھاپا ہے اس کا بانی حضرت عیسیٰ اور بی بی مریم علیہما السلام کی بے ادبی کا مرتکب تھا۔ جب کہ میں ان دونوں کی عزت کرتا ہوں۔ میں دو مہینے کی تنخواہ معاف کرتا ہوں۔ لیکن ایسی جگہ کام نہیں کرسکتا جہاں عیسیٰ (علیہ السلام) کی عزت نہ ہو۔‘‘ دوسری طرف شرمناک خبر یہ ہے کہ مشیران اقتصاد میں شامل دو ارکان عاصم اعجاز خواجہ اور ڈاکٹر عمران رسول نے عاطف میاں قادیانی جیسے نااہل اور عالمی ساہوکاروں کے ایجنٹ کو شامل نہ کرنے پر استعفے دے دیئے ہیں۔ ان حضرات کو اپنے ایمان اور انجام کی خیر منانی چاہئے کہ ان کی ہمدردیاں اس شخص کے ساتھ ہیں جس کو غیر مسلم بھی بے ادب اور گستاخ سمجھتے ہیں۔ سمجھ نہیں آتا کہ ان حضرات کو اگر تمام پاکستانی متشدد معلوم ہوتے ہیں تو کیا انہیں تاریخ کا علم بھی نہیں یا وہ پاکستان کے دوست، دشمن میں فرق نہیں کر سکتے یا شقاوت نے ان کو گھیر لیا ہے کہ مت ماری گئی یا کوئی آفت ان کی عقل پر آ پڑی ہے۔ ہمارے اکابر فرماتے تھے کہ: ’’اگر ہم آقا ﷺ کی نبوت یا حرمت کا تحفظ نہیں کر سکتے تو گلی کا کتا بھی ہم سے بہتر ہے۔‘‘ جو مالک کے جان مال کے تحفظ کی خاطر جان قربان کر دیتا ہے۔ صہیونی مرزائیوں سے وفاداری نبھانے والوں سے تو لاہور کے خاکروب بہتر ہیں جنہیں دنیا ’’چوہڑا‘‘ سمجھتی ہے۔ لیکن ان میں ان نام نہاد مشیروں سے زیادہ غیرت ہے۔‘‘
(مفتی ابولبابہ شاہ منصور، روزنامہ اسلام ملتان، مؤرخہ ۹؍ستمبر ۲۰۱۸ء)
علاوہ ازیں عاطف میاں قادیانی کے حوالہ سے میڈیا پر یہ بات موجود ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ پاکستان کی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ:
- ۱...... پاکستان کا جوہری صلاحیت کا حامل ہونا ایک جوہری تعیش ہے۔ ایٹم کو ختم کر دینا چاہئے۔
- ۲...... پاکستان کی فوج میں تخفیف اور فوجی اخراجات میں کمی کی جائے۔
- ۳...... پاکستان، کشمیر کو ہمیشہ کے لئے بھول جائے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اگر عاطف میاں قادیانی کی یہ تین باتیں صحیح تسلیم کر لیں تو پاکستان کا کام تمام ہوا۔ یہ تجاویز پاکستان کے دشمن کی تو ہو سکتی ہیں ایک محب وطن کی نہیں اور ہرگز نہیں ۔ اگر یہ صحیح ہیں تو اس کے حامی سوچیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں ۔ پاکستان کی حمایت میں یا معاذ اللہ .....؟ سچ فرمایا تھا مصور پاکستان علامہ اقبال نے کہ : ”قادیانی ملک و اسلام دونوں کے غدار ہیں ۔“
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۸ء ص ۳ تا ۱۴)
عاطف میاں کی مخالفت کیوں وجوہ اسباب محرکات جناب جاوید چوہدری صاحب کی خدمت میں
وزیر اعظم عمران خان صاحب نے الیکشن مہم میں عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت اور پاکستان کو مدینہ منورہ جیسی اسلامی ریاست بنانے کے لئے عوام سے ووٹ مانگے ۔ نظر بظاہر عوام نے ان پر اعتماد کیا ، جس کی بنا پر وہ وزیر اعظم بنا دیئے گئے ۔ انہیں دنوں ہالینڈ کی پارلیمنٹ کے ایک رکن کے خلاف پوری مسلم برادری سمیت پاکستان میں بھی غم وغصہ، جلسے جلوس اور مظاہرے ہو رہے تھے، جس نے ہمارے نبی کریم ﷺ کے توہین آمیز خاکے بنانے والوں میں مقابلہ کرانے اور انعام دینے کے لئے اعلان کر رکھا تھا۔ جناب عمران خان صاحب نے بحیثیت وزیر اعظم سینیٹ میں تقریر کی اور اسلامیان پاکستان کی پوری پوری ترجمانی کرتے ہوئے فرمایا کہ: ہم او۔ آئی۔ سی کا اجلاس بلا کر ان سے قرارداد منظور کرانے کے بعد متفقہ طور پر اقوام متحدہ سے مطالبہ کریں گے کہ اس بارہ میں قانون سازی کی جائے کہ دنیا کے تمام مذاہب کی مقدس شخصیات کی توہین اور تذلیل قابل سزا جرم قرار دی جائے ، تاکہ یہ سلسلہ ہمیشہ کے لئے رُک جائے ۔ وزیر اعظم کی اس تقریر کا پورے ملک میں خیر مقدم کیا گیا ۔
جناب وزیر اعظم صاحب نے حکومت بنانے کے ساتھ ہی ۱۸/رکنی اکنامک ایڈوائزری کونسل کا اعلان کیا ، جس کی فہرست میں ایک نام اسلام سے مرتد ”عاطف میاں قادیانی “ کا بھی لیا گیا ، عاطف میاں پاکستانی ماں باپ کے ہاں براعظم افریقہ کے ملک نائجیریا میں پیدا ہوا ، امریکہ پڑھنے کے لئے گیا، وہاں احمد شیخ نامی قادیانی مبلغ نے اس سے دوستی گانٹھی ، آٹھ سال تک اس کے پیچھے لگا رہا ، بالآخر ۲۰۰۲ء میں اس کو اسلام سے مرتد کرا کر قادیانیت میں داخل کیا ، اس نے معاشیات میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے، یہ اس وقت قادیانیوں کی جماعت خدام احمدیہ کا سرگرم رکن ہے اور یہ لندن میں مرزا مسرور کا مالیاتی مشیر اور اس مرکز کا مالیاتی نگران اور افریقہ میں قادیانی مشن کا سربراہ ہے ۔ اس کے والدین اس کے قادیانی ہونے کی وجہ سے اس سے قطع تعلق کئے ہوئے ہیں ۔ یہ وہی شخص ہے جس کے بارہ میں عمران خان صاحب نے اسلام آباد ڈی چوک کے دھرنے کے دنوں میں کہا تھا کہ میں جب حکومت میں آؤں گا تو ”عاطف میاں “ کو وزیر خزانہ بناؤں گا۔ ایک انٹرویو کے دوران جب ان سے سوال کیا گیا کہ ”عاطف میاں “ قادیانی ہے، کیا آپ پاکستان جیسے ایک اسلامی ملک میں افریقہ میں پیدا ہونے والے ایک قادیانی کو وزیر خزانہ بنائیں گے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ: مجھے معلوم نہیں تھا کہ وہ قادیانی ہے۔ اب جب اس اکنامک ایڈوائزری میں ان کا نام سامنے آیا تو پوری مذہبی ، دینی اور سیاسی تنظیموں اور جماعتوں نے اس کے خلاف آواز بلند کی ، جس پر وزیر اطلاعات جناب فواد چوہدری صاحب نے ایک پریس کانفرنس کے دوران عاطف میاں کے بارہ میں سوال کے جواب میں کہا کہ: کیا اقلیتوں کے کردار کے بارہ میں پابندی لگا دینی چاہیے؟ کیا ہمارے ملک میں جو اقلیتیں ہیں، ان کو اٹھا کر باہر پھینک دینا چاہیے؟ اس نے عاطف میاں کی تقرری پر اعتراض کرنے والوں کے بارے میں یہ بھی کہا کہ کس قسم کے یہ لوگ ہیں جو یہ باتیں کر رہے ہیں، پوری دنیا کہہ رہی ہے کہ اگلے پانچ سالوں میں اس کو نوبل انعام ملنا ہے ۔ اکنامک ایڈوائزری میں اس کو لگایا ہے، کوئی اس کو اسلامی نظریاتی کونسل کا ممبر تو نہیں لگایا ، پاکستان اقلیتوں کا بھی اتنا حق ہے جو پاکستان میں اکثریت ہے، ان کا ہے ۔ مجھے نہیں لگتا کہ کسی کو اس کے اوپر اعتراض کرنا
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
چاہیے اور جو اعتراض کر رہے ہیں، وہ بنیادی طور پر ایکسٹری مسٹ (انتہا پسند) ہیں اور ہم نے ایکسٹری مسٹوں کے سامنے نہیں جھکنا۔ ہر مسلمان کا یہ مذہبی فریضہ ہے کہ وہ اپنے ساتھ بسنے والے لوگوں کی حفاظت کرے اور یہ کوئی بات نہیں ہے کہ جو آپ کی پسند کا نہیں ہے، ان کو اٹھا کر بحیرۂ عرب میں پھینک دیں۔ یہ ہیں وہ فرمودات جو انہوں نے کہے۔ وزیر اطلاعات کی کانفرنس کے بعد کچھ صحافی بھائیوں نے بھی اپنے کالم اور ٹی وی پروگراموں کے ذریعے وزیر موصوف کی بات کو آگے بڑھایا۔ روزنامہ ایکسپریس کے صحافی جناب جاوید چوہدری صاحب نے بھی اپنے کالم : ”کیا قائد اعظم کو پتا نہیں تھا؟“ میں عاطف میاں کی تعریف میں خوب آسمان اور زمین کے قلابے ملائے اور کہا کہ: چوہدری فواد، ایاز صادق ، شہلا رضا اور احسن اقبال کی بھی سن لیں اور ساتھ چند سوالات، اشکالات و اعتراضات بھی اُٹھائے :
- ......۱ کیا یہ ملک صرف مسلمانوں کا ہے؟ اور مسلمان بھی دیوبندی۔
- ......۲ ہم نے ہندوؤں کو نکالا، پھر پاکستانی یہودیوں کو، پھر چن چن کر پڑھے لکھے اور ماہر عیسائیوں کو، پھر مہذب، صلح جو اور کامیاب
بزنس مین پارسیوں کو اور اب ہم ہر اس قادیانی کے پیچھے لگ گئے ہیں جو اس ملک میں کام کرنا چاہتا ہے، کیوں؟
- ......۳ قائد اعظم محمد علی جناح نے سر ظفر اللہ کو پاکستان کا پہلا وزیر خارجہ کیوں بنایا تھا؟
- ......۴ ظفر اللہ خان دنیا کے پہلے وزیر خارجہ تھے جنہوں نے اقوام متحدہ میں فلسطین کا ایشو اٹھایا تھا؟
- ......۵ وہ پہلے ایشیائی اور واحد پاکستانی تھے جنہوں نے اقوام متحدہ میں جنرل اسمبلی کے اجلاس کی صدارت کی اور عالمی عدالت انصاف
کے صدر بنے۔
- ......۶ عاطف میاں کے خلاف وہ لوگ تحریک چلا رہے ہیں جو ۱۹۴۷ء تک پاکستان کے وجود کے خلاف تھے، کیوں آخر کیوں؟
اس کے بعد جناب جاوید چوہدری صاحب نے اپنے ممدوح قادیانیوں کے دلی جذبات کو زبان دیتے ہوئے وہ سب کچھ کہہ دیا جو قادیانیوں کی مدتوں سے خواہش تھی اور جو انہوں نے ہر دین بے زار، سیکولر اور دین دشمن طبقے کے دل و دماغ میں ڈال رکھی ہے کہ: ”پھر ہمیں چند بڑے فیصلے کرنا ہوں گے:
- ......۷ ہمیں مذہب کو پرائیویٹ اسٹیٹس دینا ہوگا۔
- ......۸ ہمیں اس ملک میں رہنے والے تمام شہریوں کو مذہب، رنگ، نسل اور قبیلے سے بالاتر ہو کر برابری کے حقوق دینا ہوں گے۔ اگر
رانا بھگوان داس اور جسٹس کارنیلئس سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بن سکتے ہیں تو پھر یہ ملک کے صدر کیوں نہیں بن سکتے؟
- ......۹ اگر عاطف میاں پاکستانی شہری ہیں تو یہ پھر اکنامک ایڈوائزری کونسل کے رکن کیوں نہیں بن سکتے؟
- ......۱۰ اور پارسی اگر ملک کی تجارتی پالیسیوں کے آرکی ٹیکٹ ہو سکتے ہیں تو پھر یہ لوگ وزیر کیوں نہیں بن سکتے؟ یہ لوگ ملک کی خدمت
کیوں نہیں کر سکتے؟
- ......۱۱ رسول اللہ ﷺ نے اگر عبداللہ بن ابی منافق اعظم ڈکلیئر ہونے کے باوجود ریاست مدینہ سے بے دخل نہیں کیا تھا تو پھر ہم اس
ملک میں غیر مسلموں کو کام سے روکنے والے کون ہوتے ہیں؟ ہمیں اپنے دل، سوچ اور ظرف تینوں بڑے کرنا ہوں گے، ورنہ آج ہم جب اسلام کے نام پر ان لوگوں کو نکال رہے ہیں تو کل کوئی ہم سے بڑا مسلمان ہمیں بھی اس ملک سے نکال دے گا۔“
(روزنامہ ایکسپریس، ۶ ستمبر ۲۰۱۸ء، بروز جمعرات)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اسی طرح روزنامہ جنگ کے کالم نگار جناب محمد بلال غوری صاحب نے ۶ ستمبر ۲۰۱۸ء کی اشاعت میں ”شکریہ عمران خان“ کے نام سے ایک کالم تحریر کیا: اس میں ایک بات تو یہ لکھی کہ:
- ۱...... اختلاف دلیل کی بنیاد پر ہونا چاہئے، نا کہ تعصب، بغض اور عناد کے زیر اثر۔
- ۲...... آپ نے پارلیمنٹ کے ذریعے قانون سازی کر کے انہیں غیر مسلم قرار دے دیا تو کیا اب انہیں اقلیت کے طور پر پاکستان میں
جینے کا بھی کوئی حق نہیں؟ اس دلیل کے جواب میں یہ تاویل پیش کی جاتی ہے کہ ان کا معاملہ ہندوؤں، عیسائیوں، سکھوں اور دیگر کافروں سے مختلف ہے۔ یہ پارلیمنٹ کے اس فیصلے کو نہیں مانتے، جس کی رو سے انہیں غیر مسلم قرار دیا گیا، یہ ریاست کے باغی ہیں، لہٰذا کسی رعایت کے مستحق نہیں۔
کیا پیپلز پارٹی ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے عدالتی فیصلے کو تسلیم کرتی ہے؟ کیا مسلم لیگ (ن) حالیہ عدالتی فیصلوں کو درست مانتی ہے؟ ایسے گروہ بھی موجود ہیں جو کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر کہتے ہیں کہ وہ پاکستان کے آئین کو تسلیم نہیں کرتے۔ یہ دونوں صحافیوں کے چیدہ چیدہ ۱۳ سوالات، اعتراضات و اشکالات ہیں۔
اچھا ہوا کہ وزیر اعظم صاحب نے دانشمندانہ اقدام کرتے ہوئے اسلام سے مرتد قادیانی ”عاطف میاں“ کو اکنامک ایڈوائزری سے الگ کر دیا اور وفاقی وزیر اطلاعات جناب فواد چوہدری صاحب نے سجدہ سہو کرتے ہوئے فرمایا: ہم علماء اور معاشرے کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں اور ایک آدمی کی وجہ سے ہم انتشار نہیں چاہتے۔ ہم فواد چوہدری صاحب کے ان جذبات کی قدر کرتے ہیں اور انہیں مشورہ دینا چاہتے ہیں کہ آپ پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات ہیں، قادیانیوں کے ترجمان نہیں۔ آپ نے جن پاکستانیوں کو ”ایکسٹری مسٹ“ انتہاء پسند کہا ہے، آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس سے بلا تفریق مسلک و مذہب تمام مسلم برادری کی دل آزاری ہوئی ہے، آپ کو ان سے معافی مانگنی چاہیے اور یہ کہ آئندہ کے لئے عقل مندوں کے اصول کے مطابق ”پہلے تولو پھر بولو“ کے اصول پر سختی سے عمل کرنا چاہیے۔
اب ہم اپنے صحافی بھائیوں کے اٹھائے گئے سوالات، اشکالات و اعتراضات کا ترتیب وار جواب لکھتے ہیں:
سوال ۱: کیا یہ ملک صرف مسلمانوں کا ہے اور مسلمان بھی دیوبندی؟
جواب: یہ ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان نہ صرف مسلمانوں کا ہے، بلکہ اس میں رہنے والی تمام ان قومیتوں اور مذاہب کے ماننے والوں کا بھی ہے جو دل و جان سے اس ملک کے وفادار، آئین کے پاسدار، اپنی شناخت یہودی، عیسائی، ہندو، سکھ، پارسی، بہائی وغیرہ کو نہ چھپانے والے، حضور اکرم ﷺ کو اللہ تبارک و تعالیٰ کا آخری نبی ماننے والوں کو مسلمان کہنے اور اپنے آپ کو اپنے مذہب سے ظاہر کرنے والوں کا بھی ہے۔
باقی آپ کا یہ طعن اور طنز کرنا کہ قادیانیوں کا قلع قمع کرنے والے اور ان کے خلاف تحریک چلانے والے صرف دیوبندی ہیں، یہ ایک ایسی گمراہ کن بات ہے جو صرف اور صرف قادیانیوں اور ان کے مغربی دنیا کے آقاؤں کی کاسہ لیسی اور ان کے مخفی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے سوا کچھ نہیں۔
کون نہیں جانتا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے یومِ تاسیس سے لے کر آج تک بلکہ قیام پاکستان سے پہلے انگریز کے ”خود کاشتہ پودے“ کی دسیسہ کاریوں اور انگریز کی اطاعت کو اپنا مذہبی فریضہ سمجھنے اور مسلم امہ کے جاسوسوں کے گھناؤنے کردار کو آشکارا کرنے والی
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جماعت مجلس احرار اسلام میں بریلوی، دیوبندی، اہل حدیث، شیعہ اور اسلام سے کسی بھی طرح تعلق رکھنے والے افراد سب اس میں شامل تھے، شامل ہیں اور ان شاء اللہ ! اس قادیانی فتنے کے خلاف متحد اور متفق رہیں گے۔
قادیانیوں کو مسلمانوں سے علیحدگی کا مطالبہ، آج کے صرف کٹھ ملا اور مسلم امہ کے افراد کا نہیں، بلکہ اس سے بہت پہلے بقول شورش کشمیری: علامہ اقبال نے قادیانی امت کے عمیق مطالعہ کے فوراً بعد ہندوستان کی برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا کہ مرزائیوں کو مسلمانوں سے الگ کر دیا جائے۔ وہ محمد عربی کی امت میں نقب لگا کر ایک علیحدہ امت پیدا کرتے ہیں۔ مرزا غلام احمد کوئی امت پیدا نہ کر سکتے تھے۔ اگر وہ الگ امت پیدا کرتے تو اسلامی ملکوں میں انگریزی استعمار کے لئے مفید نہ ہوتے۔ انہوں نے اپنے پیروؤں کی جمعیت کو اس طرح ڈھالا کہ وہ اپنے سوا تمام مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہیں، لیکن کام ان سے اس طرح لیا گیا، گویا وہ مسلمانوں ہی کا ایک فرقہ اور جماعت ہے۔
علامہ اقبال نے مزید فرمایا کہ: ۱:- قادیانی مسلمانوں میں صرف سیاسی فوائد کے حصول کی خاطر شامل ہیں، ورنہ وہ تمام عالم اسلام کو اپنے عقائد کی رو سے کافر قرار دیتے ہیں۔
وہ اسلام کی باغی جماعت ہے اور مسلمانوں کو اس مطالبہ کا پورا پورا حق حاصل ہے کہ قادیانیوں کو ان سے الگ کر دیا جائے۔
(تحریک ختم نبوت، ص: ۲۲۱)
کیوں جناب ! علامہ اقبال بھی صرف دیوبندی تھا جو انگریز حکومت سے قادیانیوں کو مسلمانوں سے علیحدگی کا مطالبہ کر رہا تھا؟
سوال ۲: ہم نے ہندوؤں کو نکالا ، پھر پاکستانی یہودیوں کو، پھر چن چن کر پڑھے لکھے اور ماہر عیسائیوں کو، پھر مہذب، صلح جو اور کامیاب بزنس مین پارسیوں کو اور اب ہم ہر اس قادیانی کے پیچھے لگ گئے ہیں جو اس ملک میں کام کرنا چاہتا ہے، کیوں؟
جواب: جناب جاوید چوہدری صاحب ! ہمارا اعتراض قادیانیوں کے پاکستان میں رہنے پر نہیں ، مسلمانوں میں رہنے پر ہے۔ وہ پاکستان میں رہنا چاہتے ہیں، شوق سے رہیں ۔ پھر اس کا فیصلہ وہ خود ہی کر لیں کہ مسلمانوں کے مسلّمات کا استعمال، ان کی ظلی نبوت اور علیحدہ اقلیت کے حسب حال ہو گا یا نہیں؟
یہ کہنا کہ پاکستان میں کوئی جماعت یا شخصیت ان کی جان، مال اور آبرو کی دشمن ہے اور انہیں معدوم کرنے کی دوڑ میں لگی ہوئی ہے۔ یہ سراسر بہتان اور الزام تراشی ہے۔ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ قادیانی امت ہمارے مطالبہ سے قطع نظر جب خود اپنے پیغمبر اور خلیفہ کی ہدایت اور روایت کے مطابق مسلمانوں سے الگ اُمت ہے تو اپنے آپ کو مسلمانوں سے علیحدہ اقلیت میں شمار کیوں نہیں کرتے ، تا کہ آئین پر بھی عمل ہو اور وہ ملک میں مناصب بھی حاصل کریں۔
یہ بھی چوہدری صاحب آپ نے صرف ہوا میں تیر چلایا ہے کہ ہم نے پاکستانی یہودیوں ، ماہر عیسائیوں، مہذب صلح جو اور کامیاب بزنس مین پارسیوں کو پاکستان سے نکالا ہے۔ اگر ایسا ہے تو اس کا ثبوت پیش کریں اور جن لوگوں نے ایسا کیا ہے تو ان کو قانون کے حوالہ کریں، تا کہ جو لوگ اس میں ملوث ہیں وہ سامنے آئیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کے ساتھ قانون کے مطابق کارروائی کریں۔ اگر ایسا نہیں ہے اور یقیناً ایسا نہیں ہے تو پاکستانی مسلمانوں کو خواہ مخواہ بدنام نہ کریں اور نہ ہی بیرونی دنیا کو پاکستان کے خلاف جگ ہنسائی اور پروپیگنڈہ کا جواز مہیا کریں۔ آپ ماشاء اللہ ! دور اندیش اور صاحب نظر صحافی ہیں ۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ آپ کے اسی کالم کو جواز بنا کر پاکستان کے خلاف مستقبل میں کیا کچھ کیا جا سکتا ہے۔
سوال ۳: قائد اعظم محمد علی جناح نے سر ظفر اللہ کو پاکستان کا پہلا وزیر خارجہ کیوں بنایا تھا؟
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جواب: قائد اعظم محمد علی جناح نے سر ظفر اللہ کو پاکستان کا پہلا وزیر خارجہ کیوں بنایا تھا؟ اس کے جواب میں ہم اتنا عرض کریں گے کہ ”پاکستان کی پہلی کابینہ“ اور ”پاکستان کیوں ٹوٹا ؟“ نامی دو کتابوں کو ملاحظہ فرمالیں جن سے معلوم ہوگا کہ قائد اعظم نے نامساعد حالات اور بعض مجبوریوں کے تحت جنرل سر ڈگلس گریس کو آزاد، خود مختار ریاست پاکستان کی فوج کا ”کمانڈر انچیف“، سردار جوگندر ناتھ مینڈل کو ”وزیر قانون“ اور ظفر اللہ خان کو ”وزیر خارجہ“ لینے کا فیصلہ بادل نخواستہ قبول کیا۔ انگریز وائسرائے کے دباؤ کے تحت یہ فیصلے تسلیم کئے گئے۔ ان تاریخی حقائق سے پتہ چلتا ہے کہ انگریز وائسرائے نے ظفر اللہ خان کی تقرری پر بہت اصرار کیا اور یہاں تک دھمکی دی کہ جب تک یہ اعلان نہیں کیا جاتا، اختیارات کی منتقلی نہیں ہو سکے گی۔
(پاکستان کی پہلی کابینہ بحوالہ قادیانیت کا سیاسی تجزیہ، ص:۴۷۵)
درج ذیل واقعہ سے آپ اندازہ لگائیں کہ ظفر اللہ خان قائد اعظم کی کتنی بات مانتا تھا: ”بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے جب انگریزوں سے ”عدم تعاون“ اور ترک موالات کے سلسلے میں تمام اہل وطن سے اپیل کی کہ وہ انگریزوں کے عطا کردہ ”اعزازات“ و ”خطابات“ واپس کردیں تو صرف چودھری ظفر اللہ خان واحد شخص تھا جس نے انگریزوں کا عطا کردہ ”سر“ کا خطاب واپس کرنے سے صاف صاف انکار کر دیا تھا۔“
(ماہنامہ ”صوت الاسلام“ ص:۳، فیصل آباد، مدیر مولانا مجاہد الحسینی، بحوالہ نوائے وقت لاہور)
پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان سے ایک مرتبہ سوال کیا گیا کہ ”قائد اعظم“ نے خطابات کی واپسی کا مطالبہ کیا تھا۔ آپ کے پاس بھی تو سر کا خطاب تھا۔ چودھری صاحب نے جواب دیا کہ انہیں معلوم نہیں کہ انہوں نے کس وقت یہ اعلان کیا تھا کہ خطابات واپس کر دو۔
سوال: ۱۹۴۶ء میں۔ جواب: میں ان باتوں کو کوئی وقعت نہیں دیتا کہ خطاب ملے یا نہ ملے اور اگر خطاب ہو تو چھوڑ دیا جائے یا رکھ لیا جائے۔“
(آتش فشاں لاہور، جلد:۹، شمارہ:۹، مئی ۱۹۸۰ء)
بعض مسلم لیگی کارکنوں کا کہنا ہے کہ سر میاں فضل حسین کی سفارش پر چودھری ظفر اللہ خان کو وائسرائے کونسل میں لیا جانا ایک باقاعدہ سازش تھی، جہاں تک بانی پاکستان قائد اعظم کی ذات کا تعلق ہے، ظفر اللہ خان کو منصب وزارت پر فائز کرنے کے سلسلہ میں انہیں مورد الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا، کیونکہ : اوّلاً قائد اعظم قانون دان تھے، وکالت ان کا اوڑھنا بچھونا تھی۔ ثانیاً: قیام پاکستان کی جدوجہد، خرابی صحت اور نامساعد حالات کی بنا پر قائد اعظم محمد علی جناح قادیانیوں کے مذہبی عقائد اور سیاسی عزائم کا صحیح مشاہدہ نہ کر پائے تھے، لیکن یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ قائد اعظم بعد میں ظفر اللہ خان کی وطن دشمنی، مشکوک سرگرمیوں سے آگاہ ہو چکے تھے۔ قائد اعظم نے ۱۹۴۸ء میں راجہ صاحب محمود آباد کی کراچی آمد کے موقع پر ان کو آگاہ کیا تھا کہ: ”قادیانی وزیر خارجہ (سر ظفر اللہ خان) کی وفاداریاں مشکوک ہیں، ان پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہوں اور عملی اقدامات اٹھانے کے لئے مجھے مناسب وقت کا انتظار ہے۔“
(قائد اعظم کی تقریر، بحوالہ قادیانیت کا سیاسی تجزیہ، ص:۴۷۵ از صاحبزادہ طارق محمود)
اور یہی ظفر اللہ خان تھا جس نے قائد اعظم کی نماز جنازہ یہ کہہ کر نہیں پڑھی تھی کہ: ”مسلمانوں میں مجھے ایک کافر سمجھ لیں یا کافروں میں مجھے ایک مسلمان۔“ گویا وہ صرف اپنے آپ کو مسلمان کہہ رہا تھا اور بشمول قائد اعظم ہم سب کو کافر کہہ رہا تھا۔ محترم جناب! اب ذرا اس کی وزارت خارجہ کی کارکردگی بھی ملاحظہ فرمالیں کہ : ”اپنے دورِ وزارت میں زیادہ وقت بیرون ملک گزارا، چودھری صاحب پارلیمنٹ میں آنے سے کتراتے رہے۔ وزارت خارجہ سے محب وطن افراد کو نکال کر مخصوص قادیانیوں کو وسیع پیمانے پر بھرتی کیا گیا۔ پاکستان کی خارجہ
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پالیسی پاکستان کے نقطہ نظر کی بجائے جماعت احمدیہ کی پالیسی کے مطابق وضع کی گئی۔ غیر ملکی ممالک میں ہمارے خارجہ دفاتر کو قادیانیت کی تبلیغ اور جاسوسی کے اڈوں میں تبدیل کیا گیا۔ اسلامی ملکوں سے روابط اور تعلقات بڑھانے کی بجائے یورپی ممالک خصوصاً امریکہ و برطانیہ سے تعلقات بڑھائے گئے۔ عرب ممالک سے رشتہ اخوت مستحکم کرنے کے بجائے انہیں پاکستان سے بدظن کرنے اور پاکستان سے دور کرنے کی پالیسی اختیار کی گئی اور عربوں کی جاسوسی کے لئے مختلف ممالک میں قادیانی سیل قائم کئے گئے۔ اسلامی ہمسایہ برادر ملک افغانستان، مصر سے جان بوجھ کر تعلقات کشیدہ کئے گئے، جن کا خمیازہ آج تک بھگتا جا رہا ہے۔ پاکستان کے جغرافیائی محل وقوع اور وطن عزیز کے دفاعی نقطہ نظر سے ہمسایہ ملک چین کی بجائے امریکہ جیسے خود غرض ملک کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھائی گئیں۔ مسئلہ کشمیر حل کرنے کی بجائے دیدہ و دانستہ طور پر خراب کیا گیا اور اس مسئلے کا کوئی پائیدار حل تلاش نہ کیا گیا۔ چودھری ظفر اللہ خان پاکستان کے وزیر خارجہ کی حیثیت سے تنخواہ قومی خزانے سے وصول کرتے تھے، لیکن اندرون و بیرون ملک وہ جماعت احمدیہ کے لئے کام کرتے تھے۔
چودھری ظفر اللہ خان کے دور میں ناقص پالیسی کے باعث ہمیں سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی طور پر نا قابل تلافی نقصان پہنچا، چونکہ احمدیہ جماعت برطانیہ کی خود کاشتہ اور امریکہ کی لے پالک تھی، اس لئے اس نے پاکستان کو یورپی ممالک کا دست نگر اور امریکہ کا اقتصادی بھکاری بنا دیا۔ یہ تمام باتیں ہم یوں ہی ہوا میں تیر نہیں پھینک رہے، بلکہ اس کی تائید اس وقت کی قانون ساز اسمبلی کے اراکین کی تقاریر اٹھا کر پڑھیں تو آپ کی آنکھیں کھل جائیں گی۔ ان اراکین اسمبلی میں سے ایک رکن جناب محمد ہاشم گزدر نے کراچی کی مسلم پارٹیز کنونشن مؤرخہ ۲؍ جون میں تقریر کرتے ہوئے کہا: ”چوہدری ظفر اللہ خان کشمیر کا مسئلہ پیش کرنے کے لئے لیک سکس گئے تھے۔ میں ان دنوں وہاں موجود تھا، وہاں لابی میں مشہور تھا کہ سر ظفر اللہ خان وہی کام کرنا چاہتے ہیں جو ہندوستان چاہتا ہے۔ میں نے اسی روز تمام احوال سے حکومت پاکستان کے منسٹر کو مطلع کر دیا۔ اس کے بعد میں نے تمام ممالک کا دورہ کیا اور محسوس کیا کہ اکثر ممالک میں ہمارے خارجہ دفاتر مرزائیت کی تبلیغ کے اڈے بنے ہوئے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ: چوہدری ظفر اللہ خان کے انگریزوں اور ہندوؤں سے گہرے مراسم ہیں۔ ظفر اللہ خان قادیانی‘ پاکستان سے زیادہ اپنے امام مرزا بشیر الدین کے وفادار ہیں اور اپنے امام کی ہدایت کے مقابلہ میں حکومت پاکستان کے احکام کو ٹھکرا دیتے ہیں۔ (تقریر کرتے ہوئے کہا) میرے کئی دوست محض دنیاوی فوائد کے لئے مجبوراً قادیانی ہو گئے۔ پاکستان میں جو شخص اکھنڈ بھارت کے نعرے لگاتا ہے، وہ پاکستان کا دشمن ہے اور ہماری بدقسمتی ہے کہ اکھنڈ بھارت ہندوستان کا عقیدہ رکھنے والے مرزائی ملک کی ستر فیصد کلیدی آسامیوں پر فائز ہیں۔ اگر خدانخواستہ کسی وقت جنگ ہو گئی تو معلوم نہیں کہ ہمارا کیا حال ہوگا اور آفیسران کی پوزیشن کیا ہوگی۔“
(ہفت روزہ ”لولاک“، فیصل آباد، ص:۱۲، ج:۲۴، ش۱۱ / ۱۰، ۱۹ جون ۱۹۸۷ء)
سوال ۴: ظفر اللہ خان دنیا کے پہلے وزیر خارجہ تھے جنہوں نے اقوام متحدہ میں فلسطین کا ایشو اٹھایا تھا؟ جواب: آپ نے لکھا کہ دنیا کے پہلے وزیر خارجہ تھے، جنہوں نے اقوام متحدہ میں فلسطین کا ایشو اٹھایا، اس جواب سے پہلے اتنا عرض کرنا چاہوں گا کہ: ہر قادیانی کے نزدیک حکومت، عہدہ، منصب ہو یا ملازمت سب سے مقدم اپنے خلیفہ کی بات ماننا ہے۔ اگر حکومتی امور یا فرائض منصبی میں سے کوئی کام کرنا ہے تو وہ خلیفہ کی منظوری سے مشروط ہوگا، گویا وزیر اعظم، صدر یا حکام بالا میں سے کسی نے آئینی امور یا انتظامی امور میں سے کوئی آرڈر یا حکم دیا ہے تو وہ خلیفہ کی اجازت یا رضامندی ہو گی تو وہ روبعمل ہوگا، ورنہ جیسا خلیفہ چاہے گا، وہ ہوگا۔ اس کے لئے ملاحظہ ہو: الفضل ۲۵ دسمبر ۱۹۳۲ء جس میں مرزا محمود قادیانی لکھتا ہے: ”ملکی سیاست میں خلیفۂ وقت سے بہتر اور کوئی رہنمائی نہیں کر سکتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی تائید اور نصرت اس کے شامل حال ہوتی ہے۔“
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اس بات کی تائید کہ ہر قادیانی کے لئے اپنے خلیفہ کا حکم ماننا سب سے مقدم ہے۔ علامہ اقبال نے کہا: ”بدقسمتی سے کمیٹی میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنے مذہبی فرقہ کے سوا کسی دوسرے کا اتباع کرنا سرے سے گناہ سمجھتے ہیں، چنانچہ احمدی وکلاء میں ایک صاحب نے جو میر پور کے مقدمات کی پیروی کر رہے تھے، حال ہی میں اپنے ایک بیان میں واضح طور پر اس خیال کا اظہار کر دیا۔ انہوں نے صاف طور پر کہا کہ: وہ کسی کشمیر کمیٹی کو نہیں مانتے، جو کچھ انہوں نے یا ان کے ساتھیوں نے اس ضمن میں کیا، وہ ان کے امیر کے حکم کی تعمیل تھی۔“
(رئیس احمد جعفری، ’اقبال اور سیاست ملی‘، صفحہ: ۱۵۹-۱۶۰)
اور اس کی تائید اس واقعہ سے بھی ہوتی ہے کہ : ”جب عرب نمائندے فلسطین کا مسئلہ یو۔ این۔ او میں پیش کرنا چاہتے تھے تو انہوں نے یو۔ این۔ او میں اپنی قرارداد کے حق میں فضا سازگار کرنے کے لئے دوست ملکوں کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں اور اپنی حمایت پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ اس سلسلہ میں وہ چودھری ظفر اللہ خان سے بھی ملے اور ان سے تعاون کی التجاء کی۔ ظفر اللہ خان نے انہیں کہا کہ: اگر ان کے امام جماعت مرزا بشیر الدین محمود خلیفہ ربوہ انہیں اس بات کی ہدایت کریں گے تو وہ ان کی ضرور مدد کریں گے، اس لئے آپ لوگ مجھے کچھ کہنے کے بجائے ربوہ میں ہمارے خلیفہ صاحب سے رابطہ قائم کریں۔“ بے چارے عرب نمائندوں نے کسی نہ کسی طرح مرزا محمود صاحب سے رابطہ قائم کیا اور ان سے امداد کی درخواست کی۔ مرزا صاحب نے عرب نمائندوں کو یہاں سے تار دیا کہ ہم نے چودھری ظفر اللہ خان کو ہدایت کر دی ہے کہ وہ یو۔ این۔ او میں تمہاری امداد کرے۔ اتفاق سے یہ تار خطیب پاکستان قاضی احسان احمد شجاع آبادی کے ہاتھ آ گیا۔ انہوں نے لیاقت علی خان مرحوم سے ملاقات کی اور ان سے دریافت کیا کہ مملکت پاکستان کے سربراہ آپ ہیں یا مرزا محمود؟ اور انہیں تار اور سارا ماجرا کہہ سنایا۔ لیاقت علی مرحوم نے قاضی صاحب مرحوم سے وہ تار اور چند دوسری چیزیں لے لیں اور ظفر اللہ خان کو وزارت خارجہ سے علیحدہ کرنے کا ارادہ کر لیا۔ کچھ عرصہ بعد لیاقت علی خان مرحوم شہید ہو گئے اور ظفر اللہ خان علیحدہ نہ کئے جاسکے۔“
(ہفت روزہ ’لولاک‘ لائل پور، ۷ اپریل ۱۹۷۱ء، جلد نمبر: ۱۲، شمارہ نمبر ۲)
عرب ڈیلی گیشن نے امریکہ سے جماعت احمدیہ کے سربراہ کے نام جو تار ارسال کیا، وہ قادیانیوں کے آرگن رسالہ میں ان الفاظ میں شائع ہوا: ”لیکس سیکس ۶ نومبر عرب ڈیلی گیشن نے امریکہ سے بذریعہ تار حضرت امام جماعت احمدیہ کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کے ڈیلی گیشن چودھری ظفر اللہ خان کو مسئلہ فلسطین کے تصفیہ تک یہیں ٹھہرنے کی اجازت دی۔“
(الفضل، ۸ نومبر ۱۹۴۷ء)
عرب ڈیلی گیشن کا جو تار انجمن احمدیہ لاہور کے دفتر میں موصول ہوا، اس میں لکھا ہے: اس سے ہمیں بے حد اطمینان ہوا ہے اور ہمیں امید ہے کہ اس سے عربوں کے مطالبہ کو بے حد تقویت حاصل ہو گی: سر ظفر اللہ خان کے اس بھیانک کردار اور قادیانی جماعت کے اثر ونفوذ پر حکومت کو متنبہ کرتے ہوئے مرزا غلام نبی جانباز لکھتے ہیں: ”یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر چودھری سر ظفر اللہ حکومت پاکستان کی طرف سے لیک سیکس گئے تھے تو پھر عرب ڈیلی گیشن کا تار حکومت پاکستان کے نام آنا چاہیے تھا نہ کہ مرزا بشیر الدین محمود کے نام۔ اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ چودھری ظفر اللہ نے عرب ڈیلی گیشن کو یقین دلایا تھا کہ میں تو اپنے لیڈر مرزا بشیر الدین محمود کے حکم سے یہاں آیا ہوں۔ نیز اسی کے حکم سے یہاں مزید دنوں کے لئے ٹھہر سکتا ہوں۔ ورنہ عرب ڈیلی گیشن کو پاکستان گورنمنٹ سے اجازت لینی چاہیے تھی، نہ کہ قادیانی خلیفہ سے۔“
(قادیانیت کا سیاسی تجزیہ، ص: ۴۷۹)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سوال ۵: وہ پہلے ایشیائی اور واحد پاکستانی تھے جنہوں نے اقوام متحدہ میں جنرل اسمبلی کے اجلاس کی صدارت کی اور عالمی عدالت انصاف کے صدر بنے۔
جواب: ظاہر ہے جس نے ساری زندگی انگریز کی چاکری اور ان کے لئے مسلمانوں کی مخبری کی ہو تو اس کا حق تو بنتا ہے کہ اسے نمائشی طور پر اقوام متحدہ میں جنرل اسمبلی کی صدارت اور عالمی عدالت انصاف کی صدارت ملے، جیسے ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی، ملعونہ تسلیمہ نسرین، سلمان رشدی اور ملالہ یوسف زئی یہ سب وہ لوگ ہیں جنہوں نے اسلام، پیغمبر اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچایا تو انہیں اعزازات اور مناصب سے نوازا گیا۔
اسی طرح اب اسلام سے مرتد ہو کر قادیانیت قبول کرنے والے جنہیں آپ معاشیات کا ماہر، پاکستان کو بلا تنخواہ اپنی خدمات پیش کرنے والے ہیرو بنا کر پیش کر رہے ہیں، یہ بھی ”اکنامک ایڈوائزری ٹیم“ میں شامل ہوتا تو ایک طرف آئی ایم ایف کا کام آسان ہو جاتا، دوسری طرف پاکستان کو اقتصادی طور پر مفلوج کرنے کے صلہ میں اسے بھی نوبل انعام سے نوازا جاتا، جیسا کہ وفاقی وزیر اطلاعات پیش گوئی کر رہے ہیں۔ آپ نے بھی لکھا کہ: اسے نوبل انعام مل جاتا، لیکن پاکستانی ہونا انعام دینے والوں کے سامنے آڑے آ گیا۔
محترم! عاطف میاں قادیانی مرتد کا پاکستانی ہونا ان کے سامنے آڑے نہیں آیا، بلکہ ایک کام تو اس نے کر دیا کہ اسلام سے مرتد ہو کر قادیانیت قبول کی، یہ اسلام اور مسلمانوں کا بظاہر نقصان کیا، لیکن اس نے ابھی تک اسلامی جمہوریہ پاکستان کے خلاف کام کر کے (غداری کی) کوئی کارکردگی نہیں دکھائی تھی۔ اس کے لئے اسے اس کونسل میں گھسانا تھا اور اس سے پاکستان کے خلاف کام لینا تھا۔ جب پاکستانیوں نے اسے قبول نہیں کیا تو وجدان یہ کہتا ہے کہ اب اسے نوبل انعام بھی نہیں ملے گا، کیونکہ وہ (اسلام، مسلمانوں یا ان کے ملک کے خلاف) کسی کارکردگی کے ساتھ مشروط ہے اور وہ اب رہی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب ان کا منصوبہ ناکام ہوا تو عاصم اعجاز خواجہ اور عمران رسول نے بھی استعفیٰ دیا، جو ایک پلان اور منصوبہ کے تحت یہاں بھیجے جا رہے تھے۔
سوال ۶: عاطف میاں کے خلاف وہ لوگ تحریک چلا رہے ہیں جو ۱۹۴۷ء تک پاکستان کے وجود کے خلاف تھے۔ کیوں آخر کیوں؟
جواب: عزیز من! پہلی بات تو یہ ہے کہ عاطف میاں کے خلاف تحریک کسی ایک طبقے، مسلک اور ایک گروہ نے نہیں چلائی، بلکہ چند مٹھی بھر قادیانی ٹولے کے ہمنوا، سیکولر ذہن رکھنے والوں کے علاوہ پوری پاکستانی قوم نے چلائی اور یقینی بات ہے کہ اس میں ہر مسلک، سوسائٹی اور تنظیم سے تعلق رکھنے والے افراد تھے، لیکن آپ نے جو دوسرا طنز مجلس احرار اسلام کے سربراہ سید عطاء اللہ شاہ بخاری قدس سرہٗ اور مولانا سید حسین احمد مدنی قدس سرہٗ کی ذات پر کیا ہے، یہ آپ جیسے صحافی کے شایان شان نہیں۔ اگر صحافت اسی کا نام ہے کہ جھوٹ کو سچ اور سچ اور سچ کو جھوٹ کہا جائے تب تو ٹھیک ہے اور اگر صحافت اس کا نام نہیں اور یقیناً اس کا نام نہیں تو پھر سچ کو چھپایا نہ جائے، بلکہ سچ کا سچ اور جھوٹ کا جھوٹ ہونا واضح اور ظاہر کیا جائے۔ اب سنیے!
کسی کام کے کرنے اور نہ کرنے میں یا یہ کام اس طرح ہو اور اس طرح نہ ہو، اس میں آراء مختلف ہو سکتی ہیں اور رائے کا اختلاف کوئی بری چیز نہیں، لیکن جب ایک کام ہو جائے تو پھر یہ کہنا کہ یہ کام کیوں ہوا؟ یا یہ کہنا کہ ہم کوشش کریں گے کہ یہ کام ختم ہو جائے۔ دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔
اس میں شک نہیں کہ بعض مسلمان رہنماؤں نے قیام پاکستان کی مخالفت کی، لیکن یہ ان کی سیاسی رائے تھی اور انہوں نے قیام پاکستان کے بعد نہ صرف پاکستان کی حقیقت کو ذہنی و قلبی طور پر تسلیم کیا، بلکہ پاکستان کے استحکام، اس کی سالمیت و بقا اور دفاع کے لئے اپنی
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تمام تر توانائیاں صرف کر دیں۔ مسلمان راہنماؤں نے قیام پاکستان کی مخالفت سیاسی نقطۂ نظر سے کی ، جب کہ آپ کی ممدوح قادیانی جماعت نے پاکستان کے قیام کی مخالفت بانی جماعت احمدیہ کے الہامی عقیدہ پر کی ۔ جیسا کہ قادیانیوں کے خلیفہ مرزا محمود نے کہا:
- ۱...... ”میں (خلیفہ محمود) قبل ازیں بتا چکا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت ہندوستان کو اکٹھا رکھنا چاہتی ہے، لیکن قوموں کی منافرت کی وجہ
سے عارضی طور پر الگ بھی کرنا پڑے..... یہ اور بات ہے ۔ ہم ہندوستان کی تقسیم پر رضامند ہوئے تو خوشی سے نہیں ، بلکہ مجبوری سے اور پھر یہ کوشش کریں گے کہ کسی نہ کسی طرح پھر متحد ہو جائیں۔
(الفضل ۱۷؍مئی ۱۹۴۷ء)
دوسرا حوالہ بھی ملاحظہ فرمائیں ، مرزا بشیر الدین محمود کہتا ہے کہ :
- ۲...... ”بہر حال ہم چاہتے ہیں کہ اکھنڈ ہندوستان بنے اور ساری قومیں باہم شیر وشکر ہو کر رہیں۔“
(روزنامہ الفضل، ۱۵؍اپریل ۱۹۴۷ء)
جب کہ مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری نور اللہ مرقدہٗ نے لاہور میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا: ”تم میری رائے کو خود فراموشی کا نام نہ دو ، میری رائے ہار گئی اور اس کہانی کو یہیں ختم کر دو...... بہر حال قوم نے فیصلہ کر دیا اور جس دیانت داری سے ہم نے اختلاف کیا تھا ، اسی دیانت داری سے ہم نے برادری کے فیصلے کو تسلیم کر لیا۔ اب یہ ملک میرا ہے، میں اس کا وفادار شہری ہوں ، جنہوں نے جانا تھا جا چکے ہیں، میں یہاں ہوں اور یہیں رہوں گا۔ یہاں تو میری جنگ کا اختتام ہے اور وہاں جاؤں تو ابھی میری جنگ کا آغاز ہوگا۔“
(روزنامہ آزاد، ۱۴؍نومبر ۱۹۴۹ء)
پھر مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری قدس سرہٗ نے احرار رضا کاروں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا : ”احرار رضا کارو! آج کے بعد تم احرار رضا کار نہیں رہے ، جاؤ قومی رضا کاروں کی نیشنل گارڈز میں بھرتی ہو جاؤ۔ اب گلی کوچوں میں چپ وراست کا وقت نہیں رہا ، فوجی ٹریننگ حاصل کر کے ملک وملت پر جان قربان کرنے کے لئے تیار ہو جاؤ۔ مجلس احرار اسلام کا سرمایہ تم ہو ، میری ساری عمر کی کمائی تم ہو ، میں تمہیں قوم کے سپرد کرتا ہوں اور خوش ہوں کہ ہماری عمر بھر کی کمائی صحیح کام آئی..... فوجی وردی میں ملبوس ہو کر رائفل پکڑو اور دین وملت کی پاسبانی کے لئے جان قربان کرنے کی تربیت حاصل کرو۔“
(روزنامہ آزاد ،لاہور ، ۲۸؍نومبر ۱۹۴۹ء)
اور مولانا سید حسین احمد مدنی قدس سرہٗ سے جب ان کے ایک مرید نے خط لکھ کر پوچھا کہ : ”حضرت! ہم تو پاکستان میں ہیں اور آپ ہندوستان میں ہیں۔ اب ہمارے لئے کیا حکم ہے؟“ آپ نے فرمایا: ”جب تک مسجد وجود میں نہیں آتی تو اختلاف ہوتا ہے کہ یہاں بنے یا وہاں ، لیکن مسجد جب ایک بار بن جائے تو پھر اس کی حفاظت ضروری ہوتی ہے۔“
یہ تھا ہمارے اکابر اور بزرگوں کا اخلاص، پاکستان کو مسجد جیسا تقدس دے رہے ہیں اور پاکستان کے استحکام، سالمیت وبقا اور دفاع کے لئے اپنے رضا کاروں کو جانیں قربان کرنے کے لئے تربیت کا کہہ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے رضا کار آج تک پاکستان کے استحکام ، سالمیت وبقا اور دفاع پر لگے ہوئے ہیں اور جنہوں نے پاکستان کو کمزور کرنے اور اکھنڈ بھارت کا خواب دیکھنے والی قادیانی جماعت کے سر براہوں اور ان کے افراد کی نیندیں حرام کی ہوئی ہیں۔ وہ پاکستان کو کمزور کرنا چاہتے ہیں ، لیکن یہ سر بکف رضا کار ان کی تمام چالوں اور حیلہ سازیوں کو وقت سے پہلے بیچ چوراہے طشت از بام کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عاطف مرتد قادیانی کو اکنامک ایڈوائزری سے نکالنے کے بعد اس جماعت اور ان کے ہمنواؤں کی چیخیں نکل رہی ہیں۔
سوال ۷: آپ فرماتے ہیں: ہمیں مذہب کو پرائیویٹ اسٹیٹس دینا ہوگا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جواب: جناب من! بات مذہب کی نہیں نہ ہی ان قادیانیوں کے ساتھ جھگڑا صرف مذہب کا ہے، بلکہ بات یہ ہے کہ جب قادیانی امت کا مذہبی محاسبہ کیا جائے تو وہ سیاسی پناہ تلاش کرتے ہیں اور جب ان کا سیاسی محاسبہ کیا جائے تو وہ مذہبی اقلیت ہونے کا تحفظ چاہتے ہیں ۔ مسلمانوں کے ساتھ یہ مذاق ناروا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ قادیانی ہمیشہ یہ تاثر دیتے چلے آرہے ہیں کہ انہیں ملاّ قسم کے لوگ مذہب کے واسطے مارنا چاہتے ہیں اور ان کی جان، مال اور آبرو کے دشمن ہیں، اس تاثر کے عام ہونے کی وجہ صرف یہ ہے کہ پاکستان میں جولوگ ان کا محاسبہ کررہے ہیں اور ان کے خطرناک عزائم سے پردہ چاک کرتے ہیں وہ اکثر وبیشتر نہ تو یورپ اور مغربی دنیا کی زبان سے واقف ہیں اور نہ ان کے پاس ظفر اللہ، ڈاکٹر عبدالسلام، ایم ایم احمد اور عاطف میاں مرتد قادیانی جیسے شاطر، عیار اور استعمار کے ایجنٹ موجود ہیں۔
پاکستان میں مسلمانوں کی عمومی حالت یہ ہے کہ جب تک کوئی خطرہ ان کے سر پر آکر مسلط نہ ہوجائے، وہ اس کا نوٹس نہیں لیتے ۔ علامہ اقبال نے علامہ سید سلیمان ندوی کو خط لکھا، جس کا ذکر شورش کشمیری نے اپنی کتاب تحریک ختم نبوت ،ص:۱۹۳ پر کیا ہے کہ: ”میں ڈکٹیٹر بن جاؤں تو سب سے پہلے مغرب زدہ طبقے کو ہلاک کردوں ۔ ابھی تک اس نے نہ قادیانی مذہب کو سمجھنے کی ضرورت محسوس کی ہے اور نہ وہ قادیانیوں کی سیاسی مضرتوں سے آگاہ ہے۔ وہ یہی سمجھتا ہے کہ ایک چھوٹی سی اقلیت کو مسلمانوں کے کٹ ملاّ تنگ کر رہے ہیں۔ ان مغرب زدہ اور سیکولر ذہنیت کے لوگوں سے بجا طور پر سوال کیا جاسکتا ہے کہ مسلمان ایک وحدت کا نام ہے اور یہ وحدت ختم نبوت کے تصور سے استوار ہوئی ہے۔ اگر کوئی اس وحدت کو توڑتا ہے اور ختم نبوت کی مرکزیت کو ظلی و بروزی کی آڑ میں اپنی طرف منتقل کرنا چاہتا ہے تو کیا اس کا وجود خطرناک نہیں؟ باغی کون، وہ یا محاسب؟ کیا اپنی قومی سرحدوں کی حفاظت کرنا جرم ہے یا مذہبی جارحیت؟ بعض لوگ رواداری کا سبق دیتے ہیں، لیکن وہ رواداری کے معنی نہیں جانتے ۔ اگر رواداری کے معنی غیرت، حمیت، عقیدے، مسلک اور اپنے شخصی یا اجتماعی وجود سے دستبردار ہونے کے ہیں تو یہ معانی کہاں ہیں؟ اور کس تحریک کے داعی، پیغمبر اور نظام نے بتلائے ہیں؟ قادیانیوں کے باب میں مسلمانوں کا معاملہ ذاتی نہیں ، اجتماعی ہے اور اس کے عناصر اربعہ میں غیرت وحمیت، عقیدہ و مسلک شامل ہیں۔“
سوال ۸: ہمیں اس ملک میں رہنے والے تمام شہریوں کو مذہب، رنگ، نسل اور قبیلے سے بالاتر ہوکر برابری کے حقوق دینا ہوں گے۔ اگر رانا بھگوان داس اور جسٹس کارنیلس سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بن سکتے ہیں تو پھر یہ ملک کے صدر کیوں نہیں بن سکتے؟
جواب: الحمد للہ! اس ملک میں رہنے والے چاہے وہ اکثریت میں ہیں یا اقلیت میں، سب کو آئین نے جو حقوق دیئے ہیں، وہ حقوق برابری کے ہیں اور تمام اقلیتیں وہ حقوق لے رہی ہیں، تکلیف صرف ان کو ہے جو آئین کے باغی اور اپنے آپ کو اقلیت کہلوانے کے روادار نہیں ۔
رہی غیر مسلم کے صدر بننے کی بات تو اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے اور وہ نظریہ اسلام ہے، یہاں کی اکثریتی آبادی مسلمان ہے اور ہمارے آئین میں ہے کہ خداداد مملکت کا مذہب اسلام ہوگا اور اس کا صدر اور وزیراعظم مسلمان ہوگا، تو اس میں اعتراض کی کیا بات ہے؟ اگر اس پر اعتراض ہے تو بتائیں اسرائیل کا صدر یا وزیراعظم مسلمان ہوسکتا ہے؟ اگر وہاں نہیں بن سکتا اور ان کے صدر یا وزیراعظم یہودی ہونے پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں تو یہاں کیوں اعتراض ہے؟
سوال ۹: اگر عاطف میاں پاکستانی شہری ہیں تو یہ پھر اکنامک ایڈوائزری کونسل کے رکن کیوں نہیں بن سکتے؟
جواب: عاطف میاں کا معاملہ اب تو کھل کر آگیا ہے کہ آئی ایم ایف کی ۲۵ رکنی ٹیم میں ان کا نام بھی شامل ہے اور آئی ایم ایف یہودیوں
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کے کنٹرول میں ادارہ ہے اور وہ پاکستان کو اقتصادی طور پر دبوچنے اور مفلوج کرنے کے درپے ہیں، یہی وجہ ہے کہ مقتدر حلقوں نے حکومت کو اس عاطف میاں کے نام شامل کرنے سے پہلے باخبر کیا تھا، جیسا کہ اخبارات میں آچکا ہے۔
سوال ۱۰: اور پارسی اگر ملک کی تجارتی پالیسیوں کے آرکی ٹیکٹ ہو سکتے ہیں تو پھر یہ لوگ وزیر کیوں نہیں بن سکتے؟ یہ لوگ ملک کی خدمت کیوں نہیں کر سکتے؟
جواب : پارسیوں کو وزیر بننے سے کسی نے کبھی منع نہیں کیا، اگر وہ اپنے کوٹے میں وزیر بن سکتے ہیں اور آئین میں اس کی گنجائش ہے تو ضرور بنیں، کس نے ان کو منع کیا ہے۔ اتنی بات ضرور کہنا چاہیں گے کہ بات اگر قادیانیوں کے آئین کے دائرہ میں رہنے کی، کی جاتی ہے تو وہ واویلا کرتے ہیں اور ان اقلیتوں کے پیچھے چھپنے کی کوشش کرتے ہیں اور اگر بات مذہبی اعتبار سے کی جائے کہ تم ایک نئے نبی کی امت ہو تو مسلمانوں سے الگ رہو تو وہ مسلمانوں میں نہ صرف یہ کہ گھستے ہیں، بلکہ کہتے ہیں کہ اصلی مسلمان ہم ہیں اور تم کافر ہو۔
سوال ۱۱: رسول اللہ ﷺ نے اگر عبداللہ بن ابی منافق اعظم ڈکلیئر ہونے کے باوجود ریاست مدینہ سے بے دخل نہیں کیا تھا تو پھر ہم اس ملک میں غیر مسلموں کو کام سے روکنے والے کون ہوتے ہیں؟ ہمیں اپنے دل، سوچ اور ظرف تینوں بڑے کرنا ہوں گے، ورنہ آج ہم جب اسلام کے نام پر ان لوگوں کو نکال رہے ہیں تو کل کوئی ہم سے بڑا مسلمان ہمیں بھی اس ملک سے نکال دے گا۔
جواب : یہ بات ٹھیک ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے عبداللہ بن ابی منافق کو مدینہ کی ریاست سے بے دخل نہیں کیا تھا، لیکن ان کو ریاست کے کسی اہم منصب پر فائز بھی نہیں کیا تھا اور جب وہ حضور اکرم ﷺ کے مقابل آگئے اور مدینہ کی ریاست کو چیلنج کرنے کے لئے مسجد ضرار تعمیر کر لی تو آپ ﷺ نے اس کو جلانے کا حکم دیا۔ الحمدللہ ! پاکستانی مسلمانوں نے کسی غیر مسلم کو کام سے نہیں روکا۔ تمام اقلیتیں خوش ہیں۔ اگر عاطف میاں مرتد اور قادیانی کو منع کیا ہے تو وہ اس لئے کہ بارہا کے تجربوں سے یہ بات ثابت ہوئی کہ یہ طبقہ پاکستان اور پاکستانی قوم کے لئے مشکلات کھڑی کرتا ہے۔ مغربی دنیا کے لئے جاسوسی کا کام کرتا ہے، اس لئے حکومت، ریاست اور مملکت کے ذمہ داران حضرات ان سے اجتناب کریں اور ہوشیار رہیں۔ اگر مذہبی جماعتوں اور پاکستانی قوم نے جب ملک کی سالمیت، استحکام اور حفاظتی نقطہ نظر سے یہ بات کی ہے تو یہ جرم انہیں قبول ہے اور اس کی جو سزا ہے، وہ بھگتنے کے لئے تیار ہیں۔
سوال ۱۲: اختلاف دلیل کی بنیاد پر ہونا چاہیے، نا کہ تعصب، بغض اور عناد کے زیر اثر۔
جواب : جناب محمد بلال غوری صاحب سے یہ کہنا چاہیں گے کہ الحمد للہ ! قادیانیوں سے ہمارا اختلاف دلیل کی بنیاد پر ہی ہے، کسی تعصب، عناد یا بغض کی بنا پر نہیں اور اگر عاطف میاں مرتد قادیانی سے اختلاف کیا ہے تو یہ بھی دلیل کی بنیاد پر ہے۔ میں آپ سے پوچھتا ہوں، جو آدمی کلمہ اسلام اور مسلمانوں کو چھوڑ کر قادیانیت قبول کر سکتا ہے، تو کیا وہ اپنے یا اپنی جماعت اور جن کے یہ ایجنٹ ہیں، ان کی خوشنودی کے لئے آپ کے ملک کو داؤ پر نہیں لگا سکتا؟ جب کہ اس کے خیالات یہ ہوں، وہ کہتا ہے:
- ۱...... پاکستان کی ترقی کے لئے یہ ضروری ہے کہ ایٹم بم ناکارہ کر دیا جائے۔ پاکستان کا جوہری صلاحیت کا حامل ہونا ایک جوہری تعیش ہے۔
- ۲...... پاکستان کی فوج میں تخفیف اور فوجی اخراجات میں کمی کی جائے۔
- ۳...... پاکستان کشمیر کو ہمیشہ کے لئے بھول جائے۔
اگر عاطف میاں کی یہ باتیں تسلیم کر لی جائیں تو پھر پاکستان کا اللہ ہی حافظ۔ کیا یہ باتیں کسی محب وطن کی ہو سکتی ہیں؟ اور اگر ایسے لوگوں کو حکومت میں گھسنے کا موقع دے دیا جائے تو کیا وہ اپنے ایجنڈے پر عمل نہیں کریں گے؟
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سوال ۱۳: آپ نے پارلیمنٹ کے ذریعے قانون سازی کر کے انہیں غیر مسلم قرار دے دیا تو کیا اب انہیں اقلیت کے طور پر پاکستان میں جینے کا بھی کوئی حق نہیں؟ اس دلیل کے جواب میں یہ تاویل پیش کی جاتی ہے کہ ان کا معاملہ ہندوؤں، عیسائیوں، سکھوں اور دیگر کافروں سے مختلف ہے۔ یہ پارلیمنٹ کے اس فیصلے کو نہیں مانتے، جس کی رو سے انہیں غیر مسلم قرار دیا گیا، یہ ریاست کے باغی ہیں، لہٰذا کسی رعایت کے مستحق نہیں۔
جواب: محترم! قادیانیوں کو پاکستان میں جینے اور رہنے سے کسی نے منع نہیں کیا، کیا آپ نہیں جانتے کہ چناب نگر جہاں قادیانیوں نے ریاست کے اندر ایک ریاست بنائی ہوئی ہے، وہ پاکستان میں ہی ہے۔ اس کے علاوہ بھی کئی اور شہروں میں جاسوسی کے لئے اپنے خفیہ ٹھکانے بنا کر جاگزیں ہیں پورے ملک میں۔
ہاں! جیسا کہ آپ نے خود لکھا کہ: ”یہ لوگ آئین کو نہیں مانتے، اپنے آپ کو غیر مسلم اقلیت نہیں مانتے۔“ ہم یہ کہتے ہیں کہ جناب! جب یہ آئین کو نہیں مانتے تو اس ملک کے کسی کلیدی عہدے کے بھی مجاز نہیں۔ باقی آپ نے آئین سے غداری کو عدالتوں کے فیصلوں کے اختلاف پر منطبق کیا، یہ تطبیق درست نہیں، اس لئے کہ عدالتی فیصلے پر جائز تنقید کی قانون اجازت دیتا ہے۔ ہاں! کوئی عدالت کی توہین کرے تو اس پر توہین عدالت کا کیس ہوگا، لیکن اگر کوئی شخص آئین پاکستان کو نہیں مانتا تو وہ باغی ہے اور اس پر بغاوت کا کیس ہوگا۔ فیصلے سے اختلاف کو ہر عدالت، معاشرہ اور ملک تسلیم کرتا ہے۔ لیکن بغاوت اور قانون شکنی کو کوئی عدالت، ملک یا معاشرہ قبول نہیں کرتا۔ باقی آپ کا یہ فرق کرنا کہ جو ریاست کے خلاف جب تک ہتھیار نہ اٹھائے، وہ قابل برداشت ہے، یہ آپ کی منطق ہے۔ کوئی عدالت، ملک یا قانون اس کو قبول نہیں کرتا۔ آیئے! ہم آپ کو یہ بھی بتا دیں کہ پاکستان کے آئین کے بارہ میں قادیانیوں کے کیا خیالات ہیں؟ اس کے لئے قادیانیوں کے چوتھے سربراہ مرزا طاہر احمد کا یہ ایک کلپ سن لیں، کلپ بھی جو یوٹیوب پر موجود ہے، وہ کہتا ہے:
”اگر یہ آئین جس کا میں ذکر کر رہا ہوں، یہ اسی طرح رہنے دیا گیا اور کوئی اور تبدیلی کا دور ایسا نہ آیا کہ اس آئین کو اٹھا کر ایک طرف پھینک دے تو یہ آئین ملک کو برباد کرے گا اور اگر یہ آئین توڑا گیا تو بہتر ہے، ورنہ یہ آئین ملک کو توڑ دے گا۔ اس لئے آخری خیرسگالی اور بھلائی ملک کی ہے، یہ بات ایسی ہے کہ جس میں کوئی شک نہیں۔ یہ آئین رہے گا، ورنہ اس آئین کو ملک توڑنے کی کھلی چھوٹ دے دی جائے گی۔ یہ کیسے اور کب ہوگا؟ اللہ بہتر جانتا ہے۔ میرا یہ اندازہ تھا کہ شاید ابھی ارباب حل وعقد کو اتنی ہوش آچکی ہو کہ وہ دیکھ لیں کہ یہ ملک کے کسی کام نہیں آسکتا۔ یہ ردی کا پرزہ ہے جسے پھاڑ کر پھینک دینا چاہیے اور اس آئین کے ساتھ ظلم کا پھاڑا جانا بھی ضروری تھا، جو جماعت احمدیہ سے وابستہ ہے، اس آئین میں جتنی دفعہ بھی تبدیلی کی کوشش ہوئی ہے، ہر تبدیلی کے وقت انصاف کے تقاضے کو بھلا دیا گیا۔ بنیادی طور پر یہ نہ وہ آئین ہے جس کو قائد اعظم چاہتے تھے اور نہ وہ آئین ہے جو انصاف اور تقویٰ کا تقاضا چاہتا ہے اور خصوصاً اس آئین میں بار بار جماعت احمدیہ کے حقوق کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ یہ وجہ ہے جو میں یقین سے کہتا ہوں، اگر جماعتی حقوق کو اسی طرح نظر انداز کرتا رہا یہ قانون اور اس میں مناسب تبدیلیاں نہ لائی گئیں تو پھر یہ قانون خود اس ملک کو چاٹ جائے گا، جس ملک میں ہمارے حقوق چاٹے ہوں۔ اس میں کسی انسانی کوشش کا کوئی دخل نہیں، کوئی دور کا بھی تعلق نہیں۔ اس ملک کے قانون بنانے والوں کا خود اب آئندہ اس میں امتحان ہے کہ وہ کوئی ناجائز غیر منصفانہ قانون کو ملک میں ٹھونسے رکھیں گے یا اسے تبدیل کریں گے۔“
جناب من! یہ ہیں قادیانیوں کے سربراہ مرزا طاہر کے وہ غلیظ عزائم جن کو پورا کرنا ان کی جماعت کا ہر فرد اپنے لئے مذہبی فریضہ
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سمجھتا ہے اور اسی تگ و دو میں لگا ہوا ہے۔ کیا اب بھی آپ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ قادیانی ملک کے خیر خواہ ہیں؟ اور کسی منصب پر آنے سے وہ اپنے خلیفہ کے مذموم اور ناپاک عزائم کو پورا کرنے کے لئے ملک کے خلاف سازشیں نہیں کریں گے؟
بہر حال اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں سمجھنے کی توفیق دے اور اللہ تبارک و تعالیٰ ہمارے ملک کی حفاظت کرے ، اس کو مزید استحکام بخشے، اس کی اقتصادی حالت کو درست فرمادے اور ہمارے حکمرانوں کو ہمیشہ ان آستین کے سانپوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۶ تا ۲۲/اکتوبر ۲۰۱۸ء ص ۵ تا ۸)
گھسیٹ پورہ فیصل آباد میں قادیانی مسلم تنازعہ
فیصل آباد سے لاہور جاتے ہوئے بتیس کلومیٹر مین روڈ پر کھرڑیانوالہ اور بلوچنی کے درمیان ایک بڑا گاؤں ہے جس کا نام گھسیٹ پورہ ہے۔ یہاں پر گاؤں میں اکثریت اہل سنت والجماعت بریلوی مسلک کے دوستوں کی ہے۔ چند گھرانے قادیانیوں کے بھی ہیں۔ جب کہ قادیانی عبادت گاہ بھی یہاں پر موجود ہے۔ ۱۱/ ذی الحجہ ۱۴۳۹ھ مطابق ۲۳/ اگست ۲۰۱۸ء کو یہاں اہل سنت کی جامع مسجد کے خطیب کے بھائی نے گزرتے ہوئے راستہ پر بیٹھی مرغی کو پاؤں کی ٹھوکر مار کر سڑک سے بھگا دیا کہ کہیں موٹر سائیکل وغیرہ کی زد میں آ کر ہلاک نہ ہو جائے۔ یہ مرغی قادیانی کی تھی۔ وہ ان سے الجھا اور توتکار والجھاؤ میں گاؤں کے دونوں طبقہ کے لوگ یعنی مسلمان وقادیانی خاصے جمع ہو گئے۔ اس پر قادیانی سینہ زوری دیکھئے کہ انہوں نے فائرنگ کر دی۔ جس سے ۱۳ مسلمان زخمی ہو گئے۔ دوسری طرف سے بھی فائرنگ ہوئی یا خود قادیانی فائرنگ سے تین قادیانی بھی زخمی ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ نے کرم فرمایا کہ اس حادثہ میں فریقین کا کوئی جانی نقصان نہ ہوا۔ اس دوران قادیانیوں نے اپنی فائرنگ کو جواز مہیا کرنے ، اپنے ظلم و بربریت کو چھپانے کے لئے اپنی عبادت گاہ کو خود آگ لگا دی۔ قادیانی عبادت گاہ پر کیمرہ لگا ہوا تھا۔ وہ دیکھ لیا جاتا تو اصل ملزمان پکڑنے میں آسانی ہو جاتی۔ قادیانیوں نے کیمرہ ریموٹ بھی غائب کر دیا تا کہ ان کی تعدی وظلم ، قانون شکنی ، دہشت گردی پر پردہ پڑا رہے اور یوں وہ مسلمانوں کو ظالم ثابت کر سکیں۔ انتظامیہ متحرک ہوئی۔ دونوں طرف کے زخمی ہسپتال داخل کرائے گئے۔ کمشنر و ڈی آئی جی نے امن کمیٹی کا اجلاس طلب کیا۔ تمام تر حقائق کے باوجود دونوں فریق کے خلاف مقدمہ درج ہوا۔ دونوں اطراف سے گرفتاریاں شروع ہوئیں۔ حالانکہ قادیانی، حالات و واقعات کی روشنی میں جبراً قہراً ظالم اور قانون شکن تھے۔ لیکن مسلمانوں کی تمام تر توجہ دلانے کے باوجود انتظامیہ نے چوڑھے کی چھپری کی طرح جو حلال و حرام سب پر چلتی ہے، کا کردار ادا کیا کہ ظالم قادیانیوں کے ساتھ مظلوم مسلمانوں کو بھی پرچہ میں شریک جرم کر لیا۔
چونکہ عید قربان سے دوسرے روز یہ وقوعہ ہوا تھا۔ اخبارات کی چھٹی تھی۔ سوشل میڈیا پر ناواقف لوگوں یا خود قادیانیوں نے مبالغہ آرائی اور کذب بیانی سے وہ طوفان قائم کیا کہ الامان ۔ اتنا غلیظ پروپیگنڈہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے فضل کیا کہ ملک میں کہیں اس پر ردعمل نہ ہوا۔ ورنہ سوشل میڈیا پر مبالغہ آرائی میں کوئی کمی نہ تھی۔ پرچہ درج ہوتے ہی قادیانی تو گاؤں سے نو دو گیارہ ہو گئے۔ مسلمانوں کی گرفتاریاں شروع ہو گئیں۔ ۱۳ مسلمان اور تین قادیانی زخمی ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ ان کو گرفتار کر کے زیر حراست لے لیا گیا۔
اس دوران میں گاؤں کی چودھراہٹ نے فریقین سے صلح کے لئے ڈول ڈالا۔ ہمارے بریلوی حضرات کی قیادت نے اس پر آمین فرما دیا۔ لیکن کافر کی عیاری بھی دیکھ، چونکہ مسلمان زیادہ گرفتار تھے قادیانیوں نے صلح سے انکار کر دیا۔ انتظامیہ و پولیس ضلعی و ڈویژنل انتظامیہ کو معلوم تھا۔ حقائق ان کے علم میں تھے کہ سراسر قادیانیوں نے قانون کو ہاتھ میں لیا ہے اور اپنی عبادت گاہ کو خود آگ لگا کر خود ساختہ
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مظلومیت کا راگ بھی الاپ رہے ہیں۔ ملک کو بدنام کرنے میں بھی کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی اور گاؤں کی پنچائیت کی صلح کے لئے بھی آمادہ نہیں ۔ چنانچہ ۲۸ اگست ۲۰۱۸ء کو رات گئے پولیس نے قادیانیوں یعنی فریق ثانی کے کچھ لوگوں کو بھی حراست میں لے لیا۔ آج ۲۹ اگست کی رپورٹ یہ ہے کہ قادیانی صلح پر نہ صرف آمادہ ہوگئے ہیں بلکہ گاؤں کی چودھراہٹ کی منتیں کر رہے ہیں۔ صلح کے لئے بنیادی فارمولا یہ طے ہوا کہ قادیانی خود کو پاکستانی قانون کا پابند رکھیں گے اور آئندہ مسلمانوں کو اشتعال دلانے سے خود کو باز رکھیں گے۔ مسلمان بھی ان کے حقوق کا قانون کے مطابق خیال رکھنے کے پابند ہوں گے ۔ یہ طے ہو گیا تو فریقین کے تمام ملزمان رہا اور تمام پرچے واپس ہو جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے ملک کو ہر قسم کے فتنہ و فساد سے محفوظ رکھیں۔
اگر صلح ہو جاتی ہے تو قادیانی توجہ فرمائیں کہ چرا کارے کند عاقل کہ باز آید پشیمانی۔ کاش وہ پہلے سے ملکی قانون کا احترام کرتے تو یہ صورتحال پیدا نہ ہوتی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۸ء ص ۵، ۶)
ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کی نمائش کے خلاف احتجاج
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی اپیل پر ملک بھر میں ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کی نمائش کے خلاف یوم احتجاج منایا گیا خطبات جمعہ میں احتجاج کرتے ہوئے نگران حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہالینڈ کی پارلیمنٹ میں گستاخانہ خاکوں کی نمائش کے اعلان پر عمل درآمد روکنے کے لئے اپنا بھر پور کردار ادا کر کے امت مسلمہ کے جذبات کی ترجمانی کرے۔ ہالینڈ کی اسلام دشمن سیاسی جماعت ”فریڈم پارٹی“ کے سربراہ ملعون ”گیرٹ ولڈرز نے ایک بار پھر دنیا کا امن داؤ پر لگاتے ہوئے نبی پاک ﷺ کی شان اقدس کے خلاف خاکوں کی نمائش کا مقابلہ کروانے کا اعلان کیا جو کہ سراسر توہین رسالت ہے اور توہین سب سے بڑی دہشت گردی ہے عالمی دنیا اس دہشت گردی کو رکوانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ علماء نے مطالبہ کیا ہے کہ گیرٹ ورلڈ کی جانب سے ہرزہ سرائی سے پوری دنیا کا امن خطرے میں پڑ چکا ہے۔ اس لئے گیرٹ ورلڈ نامی ملعون کو اس شیطانی کھیل سے روکا جائے ورنہ پھر کوئی ممتاز قادری، عامر چیمہ ، غازی علم دین پیدا ہو جائیں گے ۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے امیر شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد حسن، مرکزی ناظم نشر و اشاعت مولانا عزیز الرحمن ثانی، پیر رضوان نفیس، مولانا قاری علیم الدین شاکر، قاری جمیل الرحمن اختر ، مبلغ ختم نبوت لاہور مولانا عبدالنعیم، مولانا قاری عبدالعزیز، مولانا سید ضیاء الحسن شاہ، مولانا عبدالشکور حقانی، مولانا خالد عابد، مولانا قاری ظہور الحق، مولانا خالد محمود، مولانا سعید وقار، قاری محمد اقبال، مولانا ظہیر احمد قمر، مولانا مسعود احمد بہاولپوری، قاری محمد امین عاجز، مولانا عبدالشکور یوسف، مولانا عبید الرحمن معاویہ، مولانا پیر زبیر جمیل و دیگر علماء نے ہالینڈ کی پارلیمنٹ میں گستاخانہ نمائش کے اعلان پر خطبات جمعہ میں شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ یہ گستاخانہ شیطانی اعلان تہذیبوں میں تصادم کرانے اور دنیا کا امن تباہ کرنے کی ناپاک سازش ہے اس گستاخانہ نمائش کے اعلان سے دنیا کی ایک چوتھائی قوم دو ارب مسلمانوں کے جذبات انتہائی بری طرح مجروح ہوئے۔ عالمی ادارے اور مسلم امہ و مہذب دنیا اس شیطانی گستاخانہ نمائش کو رکوانے کے لئے اپنا مؤثر و بھر پور کردار ادا کرے یو این او اپنے چارٹرڈ کے مطابق ہالینڈ کی پارلیمنٹ کے اس شیطانی اعلان کے خلاف کارروائی کرے کیونکہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق چارٹرڈ میں کسی بھی مذہب کے ماننے والوں کی مقدس شخصیات کی توہین سراسر نا قابل تلافی جرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہالینڈ کی پارلیمنٹ میں گستاخانہ نمائش کے اعلان نے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ نگران حکومت، ہالینڈ کے سفیر کو طلب کر کے احتجاج کرے اور ان تک امت مسلمہ کے جذبات پہنچائے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۱۸ء ص ٹائٹل نمبر ۲)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ۳۶۱ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گستاخانہ خاکوں کے خلاف جرأت مندانہ اقدام کی ضرورت
جون ۲۰۱۸ء میں ہالینڈ کی اسلام مخالف جماعت ”فریڈم پارٹی آف ڈچ“ کے متعصب، جنونی، انتہاء پسند گیرٹ ولڈرز نے ہالینڈ کی پارلیمنٹ میں رحمت عالم ﷺ کے خلاف خاکوں کا مقابلہ منعقد کرانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ سلسلہ ستمبر ۲۰۰۲ء سے شروع ہے۔ جب ڈنمارک کے لکھاری پلویکس نے آپ ﷺ کے خلاف کتابچہ تحریر کیا۔
۳۰ ستمبر ۲۰۰۵ء کو ڈنمارک کے اخبار جیلنڈر پوسٹس نے بارہ عدد گستاخانہ خاکے شائع کئے۔ یکم فروری ۲۰۰۶ء کو فرانس میں چارلی ہیڈو نے جرمن، اٹلی، ہالینڈ، اسپین اور سوئٹزرلینڈ میں یہ خاکے شائع کرائے۔ ۲۰۰۸ء میں ہالینڈ کے کارٹونسٹ گریکوری نیکشٹ نے خاکوں میں اسلامی اقدار کا تمسخر اڑایا۔ اسی سال ۲۰۰۸ء میں ہالینڈ پارلیمنٹ کے رکن گیرٹ ولڈرز نے متنازعہ فلم بنائی۔ ۲۱ مارچ ۲۰۱۱ء کو پادری ٹیری جونز نے معاذ اللہ قرآن مجید پر مقدمہ چلا کر مجرم ثابت کیا اور سزا کے طور پر قرآن مجید کو نذر آتش کیا۔ ۲ نومبر ۲۰۱۱ء کو فرانس کے اخبار چارلی ہیڈو نے آنحضرت ﷺ کی گستاخی پر مبنی شمارہ ”شریعہ ہیڈو“ شائع کیا۔
۲۰۱۵ء میں ایک مسلح شخص نے اسی اخبار کے دفتر میں فائرنگ کی۔ جس سے بارہ آدمی ہلاک ہو گئے۔ اس واقعہ کے بعد چند نشریاتی اداروں نے گستاخانہ خاکے شائع نہ کرنے کا اعلان کیا۔ لیکن مغرب نے اکٹھے ہو کر پیرس میں اعلان کیا کہ ہم سب چارلی ہیں۔ پھر اگلے شمارہ میں مزید خاکوں پر مشتمل اخبار کو ۶ زبانوں میں تیس لاکھ کی تعداد میں شائع کیا۔ اب پھر ہالینڈ کی اسلام دشمن جماعت ”فریڈم پارٹی“ کے سربراہ ملعون گیرٹ ولڈرز نے ۱۰ نومبر ۲۰۱۸ء کو ہالینڈ پارلیمنٹ میں خاکوں کی نمائش کا اعلان کیا ہے۔ گیرٹ ولڈرز کو ہالینڈ گورنمنٹ کی مکمل حمایت حاصل ہے اور وہ یہ ملعون حرکت بھی پارلیمنٹ میں کرنے کا دعویدار ہے۔
آج کی مجلس میں غور کیا جائے کہ کیا کسی مقدس شخصیت کی اہانت کا کوئی مذہب روادار ہے؟ اگر نہیں تو ایسا کرنے پر یہ لوگ کیوں مصر ہیں۔ وہ اپنے عقیدہ و مذہب کی بنیاد پر نہیں بلکہ مغرب نے جو غیر اعلانیہ جنگ مسلمانوں اور اسلام کے خلاف برپا کر رکھی ہے۔ یہ خاکوں کی وارداتیں اسی جنگ کا ایک حصہ ہیں۔ مشرق سے مغرب تک کے مسلمانوں کو ایک اعلان کے ذریعہ وہ تڑپتا دیکھ کر نفسیاتی طور پر اپنی فتح اور مسلمانوں کی بے بسی پر رقص کر کے ان کا انگ انگ اپنی فتح پر مسرت محسوس کرتا ہے۔ یہودیوں نے سیدہ مریم علیہا السلام پر گھناؤنا الزام لگایا۔ ”وقولهم على مريم بهتانا عظيما “ آج کے مسیحوں نے اپنے نبی کی ماں پر الزام لگانے والے یہودیوں کو سینے سے لگایا ہوا ہے اور مسلمان و اسلام دشمنی پر مسیحی و یہودی ایک پیج پر ہیں۔
اسلام نے، قرآن مجید نے، پیغمبر اسلام نے اور مسلمانوں نے ساڑھے چودہ سو سال سے سیدہ مریم علیہا السلام اور سیدنا مسیح علیہ السلام کی صفائی کے وکیل کا کردار ادا کیا ہے اور کر رہے ہیں۔ مسیحی حضرات اس پر مسلمانوں کا شکریہ ادا کرنے کی بجائے ان کو تڑپانے کے لئے نبی آخر الزمان حضرت محمد مصطفی ﷺ کی اہانت پر اتر آئے ہیں۔ خود اہانت کرتے ہیں، اہانت کرنے والوں کی سرپرستی اور معاونت کے لئے صفِ اوّل میں کھڑے ہیں۔ ادھر قریباً دو دہائیوں سے ہم مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ ان واقعات پر احتجاج کرتے ہیں۔ بائیکاٹ کرتے ہیں۔ جلوس نکالتے، مظاہرے کرتے ہیں اور پھر خواب غفلت میں گہری تان کر محو خواب ہو جاتے ہیں۔ ہمارے حکمران بھی اسمبلیوں میں قرارداد، بیانات، سفیر کو بلا کر مراسلہ کے بعد اسی تنخواہ پر پھر نوکری پوری کرنے لگ جاتے ہیں۔
اب کے جناب عمران خان صاحب نے ایوان بالا میں جاندار گفتگو کی ہے اور مغرب کو باور کرایا ہے: ”ہولو کاسٹ“ سے جتنی
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
آپ کو تکلیف ہوتی ہے پیغمبر اسلام کی اہانت سے کئی گنا زیادہ اس پر مسلمانوں کو تکلیف ہوتی ہے۔ اگلے دن پاکستان کے وزیر خارجہ جناب شاہ محمود قریشی نے ہالینڈ کے اپنے ہم منصب سے خاکوں کے خلاف بات کی۔ اسلامی ممالک کی تنظیم کا اجلاس بلانے کے مطالبہ پر مشتمل خط لکھا۔ ترکی کے وزیر خارجہ سے بات ہوئی۔ جناب عمران خان نے اقوام متحدہ میں اس پر آواز بلند کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ادھر پاکستان میں تمام دینی جماعتیں، بار رومز، قانون دان، سکول و کالجز کے طلباء سب سڑکوں پر ہیں۔ جمعیۃ علماء اسلام، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، تحریک لبیک پاکستان اس پر ایک بار یوم احتجاج منا چکی ہیں۔ اب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے جمعیۃ علماء اسلام کے تعاون سے ۹ ستمبر ۲۰۱۸ء کو لاہور میں بہت بڑے احتجاجی مظاہرہ کا اعلان کیا ہے۔ آج ۲۹ اگست ہے۔ جماعت اسلامی کی دعوت پر ملی یکجہتی کونسل میں شریک تمام جماعتوں نے ۹ ستمبر کے مظاہرہ میں شرکت کا فیصلہ کیا ہے۔ ادھر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی لاہور میں قائم رابطہ کمیٹی، مولانا عزیز الرحمن ثانی، جناب پیر رضوان نفیس، قاری جمیل الرحمن اختر، جناب قاری علیم الدین شاکر، جناب مولانا خالد محمود، مولانا عبدالشکور حقانی، مولانا محمد اشرف گجر، مولانا عبدالرؤف فاروقی اور دیگر حضرات نے دن رات ایک کیا ہوا ہے۔ لاہور اور اس کے گردونواح میں پچاس کمیٹیوں کے اجلاس منعقد ہو چکے ہیں۔ ہینڈ بل، اشتہارات، فلیکس دن رات شائع ہو رہے اور لگ رہے ہیں۔ لاہور کی چھ تحصیلوں میں تیاری کے لئے چھ کانفرنسوں کا اعلان ہو چکا ہے۔ اس کے انتظامات ہو رہے ہیں۔ تمام مسالک کی قیادت نے شرکت کا وعدہ کیا ہے۔ مخدوم العلماء مولانا فضل الرحمن اس کی قیادت فرمائیں گے۔
پوری اسلامی دنیا کے مسلمان ہر جگہ احتجاج کرتے ہیں۔ یہ سب ایمان کا تقاضہ ہے۔ ضرورت اور وقت کا تقاضہ یہ ہے کہ اسلامی ممالک ان اہانت کرنے والے ممالک سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کریں۔ اقوام متحدہ سے مسلمہ مقدس شخصیات کی آبرو کے تحفظ کا قانون منظور کرایا جائے۔ تمام مسلمان حکمرانوں کا یہ فرض ہے۔ پاکستان اسلام کے نام پر واحد ملک ہے جو قائم ہوا۔ اس کا فرض بنتا ہے کہ وہ خالصتاً ایمان وعقیدہ کے مسئلہ پر جرأت مندانہ مؤقف اختیار کرے۔ اللہ تعالیٰ توفیق دیں۔ آمین!
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۸ء ص ۳ تا ۵)
(نوٹ) یاد رہے کہ ۹ ستمبر کے مظاہرہ سے قبل خاکوں کے مقابلہ پر ہالینڈ گورنمنٹ نے پابندی لگا دی۔ اس لئے یہ مظاہرہ ملتوی کر دیا گیا۔
نیدرلینڈز کے گستاخانہ خاکے اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم
(مولانا زاہد الراشدی) سینیٹ آف پاکستان نے ناموس رسالت کے حوالہ سے ہالینڈ (نیدر لینڈز) میں دس نومبر کو منعقد کی جانے والی گستاخانہ خاکوں کی مجوزہ نمائش کی مذمت کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی ہے اور وزیر اعظم عمران خان نے اس موقع پر ایوان بالا میں خطاب کرتے ہوئے گستاخانہ خاکوں کے مقابلوں کو ناقابل برداشت قرار دیا ہے اور معاملہ کو اقوام متحدہ میں اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں مغربی ذہنیت کو جانتا ہوں، وہاں کے عوام کو اس بات کی سمجھ نہیں آتی، عوام کی بڑی تعداد کو اندازہ ہی نہیں کہ ہمارے دلوں میں نبی اکرم ﷺ کے لئے کتنا پیار ہے، انہیں نہیں پتا کہ وہ ہمیں کس قدر تکلیف دیتے ہیں اور وہ آزادی اظہار کے نام پر اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ دنیا کو بتانا چاہئے کہ جیسے ہولوکاسٹ سے ان کو تکلیف ہوتی ہے، گستاخانہ خاکوں سے وہ ہمیں اس سے کہیں زیادہ تکلیف دیتے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ اس معاشرے میں فتنہ اور جذبات بھڑکانا بہت آسان ہے، مغرب میں وہ لوگ جو مسلمانوں سے نفرت
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کرتے ہیں ان کے لئے یہ بہت آسان بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنی حکومت میں یہ کوشش کریں گے کہ او آئی سی (آرگنائزیشن آف اسلامک کو اپریشن) کو اس پر متفق کریں، اس چیز کا بار بار ہونا مجموعی طور پر مسلمانوں کی ناکامی ہے، گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر او آئی سی کو متحرک ہونا ہوگا اور اسے اس معاملے میں کوئی پالیسی بنانی چاہئے۔ یہ دنیا کی ناکامی ہے، مغرب میں لوگوں کو اس معاملہ کی حساسیت کا اندازہ نہیں، لہٰذا مسلم دنیا ایک چیز پر اکٹھی ہو اور پھر مغرب کو بتائیں کہ ایسی حرکتوں سے ہمیں کتنی تکلیف ہوتی ہے۔
وزیر اعظم عمران خان کا یہ خطاب ہمارے خیال میں پوری قوم کے دلوں کی آواز ہے اور اسے سیاسی و گروہی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر سب کو سپورٹ کرنا چاہئے۔ اس کے علاوہ ملک بھر میں اس سلسلہ میں احتجاجی مہم کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے ۹؍ ستمبر کو لاہور میں ایک بڑے عوامی مظاہرے کا اعلان کیا ہے جس کی قیادت متحدہ مجلس عمل کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کریں گے۔ گزشتہ روز اس مظاہرہ میں منظم طور پر شرکت کی تیاری کے لئے گوجرانوالہ میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مختلف دینی جماعتوں کے نمائندوں کا اجلاس ہوا جس میں لاہور کے ۹؍ ستمبر کے مظاہرہ میں بھر پور شرکت کے لئے پروگرام وضع کیا گیا اور طے پایا کہ اسی سلسلہ میں ۴؍ ستمبر کو مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں ایک کنونشن منعقد کیا جائے گا جس میں دینی جماعتوں اور تاجر تنظیموں کے رہنما خطاب کریں گے اور مختلف مکاتب فکر کے زعماء شریک ہوں گے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کی سرگرمیاں دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ یہ بادشاہی مسجد کی ختم نبوت کانفرنس کی طرز پر عوامی قوت کا ایک بڑا مظاہرہ ہوگا جس کی کامیابی کے لئے سب کو تعاون کرنا چاہئے۔ اس سے قبل ۲؍ ستمبر کو لاہور میں محترم صاحبزادہ پیر شفاعت رسول قادری کی دعوت پر بھی مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام کا ایک مشترکہ اجلاس ہو رہا ہے اور اس کی تیاریاں جاری ہیں۔ پشاور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی طرف سے ایک احتجاجی ریلی منعقد کرنے کا اعلان سامنے آیا ہے اور دیگر متعدد تنظیموں اور اداروں کی طرف سے بھی احتجاج و اضطراب کے اظہار کا سلسلہ روز افزوں ہے۔
جہاں تک ایمانی جذبات کے اظہار کا تعلق ہے وہ تو بحمد اللہ تعالیٰ مسلسل بڑھ رہا ہے بلکہ دنیا بھر میں ہالینڈ کے بعض نا عاقبت اندیشوں کی اس مذموم حرکت پر ناراضگی اور شدید غصے کی لہر ابھرتی دکھائی دے رہی ہے۔ مگر ہمارے خیال میں محض جذبات اور غم و غصہ کا اظہار کافی نہیں ہے بلکہ اصل فورم پر یہ جنگ لڑنے کی ضرورت ہے جس کا وزیر اعظم عمران خان نے تذکرہ کیا ہے، جب کہ ہم ایک عرصہ سے ان کالموں میں مسلسل گزارش کر رہے ہیں کہ (۱) ناموس رسالت، (۲) تحفظ ختم نبوت، (۳) اور پاکستان کی اسلامی شناخت کے معاملات پر حقیقی معرکہ آرائی بین الاقوامی اداروں اور لابیوں میں ہو رہی ہے مگر وہاں ہمارا یعنی دینی حلقوں کا کوئی مورچہ موجود نہیں ہے۔ سیکولر حلقے اور منکرین ختم نبوت بین الاقوامی معاہدات کے ہتھیاروں کے ساتھ عالمی اداروں اور حلقوں میں دین، اہل دین اور پاکستان کے خلاف محاذ گرم کئے ہوئے ہیں مگر ہم سوشل میڈیا، مساجد اور سڑکوں پر اپنے جذبات کا اظہار کر کے مطمئن ہو جاتے ہیں کہ فرض ادا ہو گیا ہے۔ مجھے سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں اس مہم کی ضرورت و اہمیت سے انکار نہیں ہے بلکہ میں خود اپنی استطاعت کے مطابق اس میں شریک رہتا ہوں لیکن بین الاقوامی اداروں اور لابیوں کا وسیع تر اور مؤثر محاذ ہماری نمائندگی سے خالی ہے اور ہمیں اس کا احساس تک نہیں ہے۔
ہمارے ہاں کی عمومی صورتحال یہ ہے کہ سیکولر حلقوں نے ابھی تک پاکستان کے دستور کو سنجیدگی سے نہیں لیا جب کہ دینی حلقوں کی بین الاقوامی معاہدات کے بارے میں یہی صورتحال ہے۔ حالانکہ بین الاقوامی معاہدات اور دستور پاکستان دونوں زندہ حقیقتیں ہیں جن سے صرف نظر کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔ سیکولر حلقوں کا خیال ہے کہ دستور پاکستان محض ایک نمائشی اور کاغذی دستاویز ہے جسے پس پشت ڈال کر پاکستان میں وہ اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھا سکتے ہیں جب کہ دینی حلقوں کے نزدیک بین الاقوامی معاہدات کی کم و بیش یہی حیثیت ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دونوں کو اپنے اپنے طرز عمل پر نظر ثانی کرنا ہوگی اور زمینی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے آگے بڑھنا ہوگا ورنہ قوم اسی طرح ذہنی اور فکری خلفشار کا شکار رہے گی اور دونوں طرف کے مہم جو گروہ اس سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے۔
ہمارے نزدیک اس کا حل وہی ہے جو وزیراعظم عمران خان نے بتایا ہے بلکہ اس سے قبل ملائیشیا کے وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد اقوام متحدہ کی پچاس سالہ تقریبات کے موقع پر، جب کہ وہ خود او آئی سی کے صدر تھے، یہ تجویز دے چکے ہیں کہ مسلم امہ کو متحد ہو کر اقوام متحدہ سے دو مسئلوں پر بات کرنا ہوگی۔ ایک یہ کہ بین الاقوامی معاہدات پر مسلم امہ کے دینی و تہذیبی تحفظات کے حوالہ سے نظر ثانی کی ضرورت ہے اور دوسرا یہ کہ اقوام متحدہ کے پالیسی ساز ادارہ سلامتی کونسل میں مسلم امہ کی نمائندگی متوازن نہیں ہے اور وہ ویٹو پاور کی فیصلہ کن اتھارٹی کے دائرہ سے باہر ہے۔ مغربی دنیا اور عالم اسلام کے درمیان موجودہ بے اعتمادی بلکہ کشمکش کی بڑی وجہ یہی ہے اس لئے اقوام متحدہ کے ساتھ اجتماعی طور پر دو ٹوک بات کرنا ان کے نزدیک ضروری ہے۔ ہمارے خیال میں حکومت پاکستان کو اس سلسلہ میں ڈاکٹر مہاتیر محمد اور ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کے ساتھ بھی مشاورت کا اہتمام کرنا چاہئے، بلکہ مسلم دنیا کے ان مشترکہ مسائل کے حل کے لئے اگر سعودی عرب کے شاہ سلمان، ترکی کے رجب اردگان، ملائیشیا کے ڈاکٹر مہاتیر محمد، پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان اور ایران کے صدر حسن روحانی باہمی مشاورت کے ساتھ پیشرفت کریں تو وہ یقیناً بے نتیجہ نہیں ہوگی۔ خدا کرے کہ ایسا ہو جائے ، آمین یا رب العالمین!
(روزنامہ اوصاف اسلام آباد، ۲۹؍ اگست ۲۰۱۸ء، ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۶ تا ۲۲؍ ستمبر ۲۰۱۸ء ص ۷، ۸)
ماہ ستمبر میں ختم نبوت کے محاذ پر نئی چار کامیابیاں
الحمدللہ! مجھے (مولانا قاضی احسان احمد) آج بھی وہ منظر یاد ہے جب ملتان دفتر مرکزیہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی مجلس شوریٰ کا اجلاس مولانا خواجہ خان محمد کی زیر صدارت منعقد تھا۔ اجلاس میں ایک موقع پر ایک بزرگ جو اس وقت دنیا میں نہیں ہیں، فرمانے لگے: مجلس کام خوب کر رہی ہے مگر نظر نہیں آتا۔ ہماری تشہیر نہیں ہوتی۔ شہید اسلام مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ فرمانے لگے: حضرت! ہم جن کے لئے کام کرتے ہیں وہاں ہماری بہت تشہیر ہے۔ دنیا کی فانی تشہیر کی ضرورت نہیں ہے۔ بس اپنا کام کرتے جاؤ۔ اسی طرح ایک موقع پر میں نے اپنے اضطراب کا اظہار مولانا اللہ وسایا صاحب سے کیا تو آپ نے فرمایا: قاضی صاحب! کام ہو رہا ہے، نتیجہ مل رہا ہے، رخ درست ہے؟ میں نے ہاں میں جواب دیا تو بہت ہی خوش ہو کر فرمایا: مجلس تحفظ ختم نبوت، محاذ تحفظ ختم نبوت پر بنیادی اینٹ کی حیثیت رکھتی ہے۔ آپ کو معلوم ہے بنیاد کی اینٹ نظر نہیں آیا کرتی مگر عمارت کا مکمل بوجھ اسی پر ہوتا ہے۔
الحمدللہ! آج بھی اپنے اکابر کے نقش قدم پر چلتے ہوئے صرف اور صرف رضاء الہی کے لئے رسول انور ﷺ کی عزت و ناموس اور عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کا فریضہ سرانجام دیا جا رہا ہے۔ ستمبر ۲۰۱۸ء کے مہینہ میں رب کریم نے ختم نبوت کے کام کو چار نمایاں کامیابیوں، کامرانیوں سے نوازا۔ ذیل میں اس کی تفصیل ملاحظہ ہو:
عاطف قادیانی کی برطرفی:
- ۱...... آپ کو یاد ہوگا، ۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کو نیشنل اسمبلی نے قادیانیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دیا۔ مسلمانوں کی ۹۰ سالہ محنت ثمر آور ہوئی۔
اسلام کا بول بالا ہوا۔ یہ ستمبر کا ہی مہینہ تھا۔ واہ میرے اللہ! ٹھیک ۴۴ سال بعد اسی ستمبر کے مہینہ میں ایک مرتبہ پھر حضور نبی کریم ﷺ کی ختم نبوت کے تحفظ کے لئے امت کو اسی طرح میدان میں کھڑا کر دیا جس طرح ۴۴ سال پہلے کھڑی تھی۔ ہوا یہ کہ نئی حکومت نے اقتصادی کونسل
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قائم کی جس کے مختلف ممبران تھے۔ مگر ایک ممبر عاطف میاں نامی شخص کو بھی نامزد کیا گیا۔ جس کا تعلق قادیانی کمیونٹی سے تھا۔ بس پھر کیا تھا مشرق ومغرب، دن رات، عوام وخواص سب حضور ﷺ کی ختم نبوت کے وکیل بن کر میدان میں اتر آئے۔ سوشل، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا غرض یہ کہ تمام ذرائع ابلاغ حرکت میں آئے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اپنی تمام ماتحت جماعتوں کو سرکلر جاری کئے۔ مساجد میں اعلانات، بیانات، قراردادیں، خطبات جمعہ میں احتجاج، حکومت وقت کو ای میل، خطوط، تار، ٹیلی گرام جو ہو سکتا تھا کیا۔ بالآخر ۷؍ ستمبر ۲۰۱۸ء بروز جمعہ ملک بھر میں اجتماعی مظاہرے ہوئے۔ حکومت کو اسلامیان وطن کی بات ماننی پڑی اور عاطف میاں قادیانی کو اقتصادی کونسل سے رخصت کر دیا گیا۔ الحمد للہ!
نوائے وقت میں قادیانی اشتہار اور پھر تردید:
- ۲...... اسی طرح آپ جانتے ہیں قادیانی زخمی سانپ کی طرح انگڑائیاں لیتے رہتے ہیں۔ مگر ان کی یہ انگڑائیاں امت مسلمہ کے کام کو
اجاگر اور نمایاں کرنے کے کام آتی ہیں۔ قادیانیوں کو منہ کی کھانی پڑتی ہے۔ ۶؍ ستمبر ۲۰۱۸ء کے نوائے وقت اخبار میں قادیانی جماعت کی طرف سے یوم دفاع وشہداء پاکستان کی ہیڈنگ سے ایک اشتہار شائع ہوا۔ جس میں شہید ہونے والے مسلمان شہداء کی بھی تصاویر دی گئیں اور جو قادیانی مارے گئے ان کی بھی تصاویر دے کر شہید لکھا گیا۔ اشتہار کا مقصد مسلمان شہداء کو خراج تحسین پیش کرنا نہیں تھا بلکہ اپنے قادیانیوں کی تشہیر کرنا اور اجاگر کرنا مقصود تھا۔ ان قادیانیوں کے لئے شہداء یا غازی کی اصطلاح کا استعمال اور خود کو مسلمان باور کرانا تھا۔ جو قانوناً و شرعاً غلط ہے۔ بہر کیف اشتہار شائع ہوا۔ فوری طور پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے ذمہ داران نے نوائے وقت کے ذمہ داران سے رابطہ کیا۔ جس میں ڈپٹی ایڈیٹر سعید راہی، محترمہ رمیزہ مجید نظامی کے پی۔اے جناب شفیق سلطان سے ملاقات کا وقت طے کیا۔ چنانچہ ایک بھر پور وفد مولانا عزیز الرحمن ثانی کی سربراہی میں ملاقات کے لئے حاضر ہوا۔ وفد میں قاری جمیل الرحمن اختر، قاری علیم الدین شاکر، جناب پیر رضوان نفیس، مولانا فہیم الحسن تھانوی، مولانا مجیب الرحمن انقلابی، لاہور مجلس کے مبلغ مولانا عبد النعیم شامل تھے۔ وفد نے اشتہار کے شائع ہونے پر امت مسلمہ میں پائے جانے والے اضطراب اور ہیجان کی کیفیت نوائے وقت انتظامیہ کے سامنے رکھی۔ اللہ تعالیٰ ان حضرات کو خوش رکھے۔ انہوں نے حالات اور مسئلہ کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے وفد کا شکریہ ادا کیا اور اگلے روز کی اشاعت میں انتہائی واضح اشتہار کی صورت میں ’’اعتذار‘‘ کے عنوان سے ایک اشتہار شائع کیا جو یہ ہے:
اعتذار:
”۶؍ ستمبر ۲۰۱۸ء کے ہمارے روزنامہ نوائے وقت میں جماعت احمدیہ پاکستان کی طرف سے ایک اشتہار شائع ہوا ہے۔ اشتہار دینے والی پارٹی نے دھوکہ دہی سے یہ الفاظ واعزاز استعمال کر کے قادیانیوں کو بالواسطہ مسلمان ثابت کرنے کی مذموم کوشش کی ہے اور قادیانی جماعت کے وہ افراد جنہوں نے وطن عزیز پاکستان کے لئے خدمات سرانجام دیں۔ اس اشتہار میں انہیں غازی یا شہید کا خطاب دیا۔ جس کی کسی طرح سے تائید نہیں کی جاسکتی۔ ہماری اس غیر ارادی سہو پر اسلامیان وطن، بہی خواہان ملک وملت کو جو ذہنی صدمہ ہوا اس پر ہم اللہ رب العزت کے حضور برملا معافی کے طلب گار ہیں اور دعاء گو ہیں کہ اللہ رب العزت ہم سب پاکستانیوں کو ملک کی بے لوث ہر قسم کی خدمت کرنے اور استحکام کے لئے گرانقدر خدمات سرانجام دینے کی توفیق بخشے اور ایک محبّ وطن قوم کی طرح آئین کی پاسداری اور سربلندی کے لئے کام کرنے کا دل وجان سے جذبہ نصیب فرمائے۔ آمین!“
(ادارہ نوائے وقت)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اورنج ٹرین کے اسٹیشن کا نام ختم نبوت اسٹیشن:
- ۳...... سابق حکومت نے اپنے دور حکومت میں کئی ایک منصوبے شروع کئے۔ انہی تعمیراتی اور ترقیاتی کاموں میں سے ایک منصوبہ لاہور
کی یادگار سرزمین پر اورنج ٹرین کا منصوبہ ہے اورنج ٹرین کے روٹ پر مختلف ناموں سے اسٹیشن قائم کئے گئے۔ ایک اسٹیشن شاہ نور کے نام سے بھی موسوم تھا۔ بادشاہی مسجد لاہور کی ختم نبوت کانفرنس کی تیاری کے سلسلہ میں جامعہ مدنیہ رسول پارک میں مولانا محب النبی کی صدارت میں ۴؍اپریل ۲۰۱۸ء کو اجلاس رکھا گیا۔ مہمان خصوصی کے طور پر ملتان مرکز سے مولانا اللہ وسایا تشریف لائے اور تفصیلی خطاب کیا۔ شرکاء اجلاس میں مہر اشتیاق احمد (ایم.این.اے) اور جناب میاں مرغوب (ایم.پی.اے) اور تین یونین کونسل کے چیئر مین بھی موجود تھے۔ متفقہ طور پر قرارداد پیش ہوئی جو منظور کی گئی کہ اسی شاہ نور اسٹیشن کا نام تبدیل کر کے ختم نبوت اسٹیشن رکھا جائے گا۔ کارروائی کو آگے بڑھایا گیا۔ میٹرو پولیٹن کارپوریشن میں درخواست پیش کی گئی جو یکم ستمبر ۲۰۱۸ء کو ایجنڈے کا حصہ بنی۔ ۳۱۸ معزز ممبران پر مشتمل ایوان میں جناب میاں نثار احمد ایڈووکیٹ ، چیئر مین یونین کونسل نمبر ۷۹ سید پور لاہور کی طرف سے قرارداد پیش کی گئی۔ جسے پورے ایوان نے منظور کیا اور یوں بحمد اللہ تعالیٰ اس اسٹیشن کو ختم نبوت اسٹیشن کے نام سے منظور کر لیا گیا۔ اس قرارداد کی منظوری میں اورنج لائن ٹرین کے چیئرمین خواجہ احمد حسان، میاں محمد طارق ڈپٹی میئر لاہور، اپوزیشن لیڈر ضلع کونسل عفیف صدیقی اور جناب محمود شاہ ایڈووکیٹ نے اہم کردار ادا کیا۔ اس تمام تر کارروائی میں متعلقہ حکام کو بریفنگ اور مذہبی ذمہ داریوں کو ادا کرنے پر آمادہ کرنے کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے احباب نے بھی انتہائی محنت و کوشش کی۔ جس میں مولانا عزیز الرحمن ثانی، قاری علیم الدین شاکر، پیر رضوان نفیس، مولانا عبد النعیم، مولانا عبد الشکور، مولانا عبد العزیز، مولانا عبد الشکور یوسف، مولانا ظہیر احمد قمر، محمد یسین فاروقی شامل ہیں۔
بل واپس:
- ۴...... قانون تحفظ ناموس رسالت شروع دن سے اسلام دشمن قوتوں کی نظر میں کھٹک رہا ہے۔ جو انہیں ابھی تک ہضم نہیں ہوا۔ جب کہ
وفاقی شرعی عدالت، ہائی کورٹ، سپریم کورٹ آف پاکستان اسی قانون کو ہر لحاظ سے صحیح اور جامع قرار دے چکے ہیں۔ مگر پھر بھی نئی حکومت میں وزیر مملکت برائے خزانہ جناب حماد اظہر نے قانون تحفظ ناموس رسالت میں ترمیم کے حوالہ سے سینٹ میں قرارداد پیش کی۔ جس میں مؤقف یہ اختیار کیا کہ توہین رسالت کا مقدمہ درج کروانے والا شخص اگر گستاخ کی گستاخی سے متعلق مکمل کوائف اور ثبوت پیش نہ کر سکے تو اسے اس کیس کو ثابت نہ کر سکنے کی پاداش میں سزائے موت دی جائے۔ یہ قرارداد کس حد تک درست ہے۔ اس کے عزائم و مقاصد کیا ہیں؟ اس کے پس منظر، پیش منظر اور تہہ منظر کیا چیزیں ہیں۔ یہ ہمارا اس وقت موضوع نہیں۔ تاہم اسی قرارداد کے ذریعہ تحفظ ناموس رسالت قانون کو غیر مؤثر بنائے جانے کی طرف پیش قدمی تھی۔
جس روز یہ قرارداد سامنے آئی اخبارات، سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا کے ذریعہ سے علماء کرام اور مفتیان کرام نے اس پر اضطراب کا اظہار کیا اور فی الفور اس کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ چنانچہ ۲۱؍ستمبر ۲۰۱۸ء کے اخبارات سے لے کر قرارداد کے واپس ہونے تک تمام اخبارات نے اس نازک مسئلہ پر بھر پور آواز بلند کی۔ بالآخر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ایک وفد نے مولانا علیم الدین شاکر کی سربراہی میں وفاقی وزیر مملکت برائے خزانہ حماد اظہر سے حاجی محمد ارشاد ڈوگر رہنما پاکستان تحریک انصاف کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ وفد میں پیر رضوان نفیس، مولانا عبد النعیم، مولانا عبد العزیز، حافظ نصیر احمد احرار، مولانا عبد الشکور اور محمد یسین فاروقی شامل تھے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
وفد نے وفاقی وزیر مملکت جناب حماد اظہر کو اس حساس مسئلہ سے متعلق آگاہ کیا اور عوام میں پائی جانے والی تشویش کی نازک صورتحال بھی پیش کی۔ دریں اثناء جناب حماد اظہر اور شبلی فراز نے اپنے قائدین کو آگاہ کیا اور بل فوری طور پر واپس لینے کی درخواست کی۔ جس پر تحریک انصاف نے بل واپس لینے کا حکم دیا۔ علماء کے وفد نے اس کارروائی پر اپنے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ایم۔کیو۔ایم کے خالد مقبول صدیقی کے متعلق بھی انکوائری کا مطالبہ کیا۔ یادرہے! مسلمان عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے بڑا حساس دل رکھتا ہے۔ یوں اسلامیان وطن کی جدوجہد سے رب کریم نے جماعت کی مساعی جمیلہ کو شرف قبولیت نصیب فرمائی۔ فالحمد لله علیٰ ذالک!
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۱۸ء ص ۴۳ تا ۴۶)
داتہ ضلع مانسہرہ میں مرزائیت کی آمد و اختتام کی تفصیل
داتہ میں مرزائیت ایک یمین نامی شخص کے ذریعہ داخل ہوئی۔ یمین کا والد ضلع مانسہرہ کے ایک گاؤں سجی کوٹ میں امام مسجد تھا۔ جس کا نام مطلب تھا اور وہ کوہستان کا رہنے والا تھا۔ یمین حصول علم کی غرض سے ہندوستان گیا اور قادیان جا پہنچا۔ وہاں سے اسے داتہ میں بطور مبلغ طالب علم کے روپ میں متعین کیا گیا۔ یہ یمین وہی شخص ہے جس کا ذکر پیر مہر علی شاہ گولڑوی کے زمانے میں ان کی طرف سے چھاپی گئی ان کی کتاب سیف چشتیائی کے ضمیمہ میں مرزا کے ترجمان کے طور پر موجود ہے۔
یمین کی ابتدائی کوشش سے نمبردار حیات علی شاہ مرزائی ہوا۔ حیات علی شاہ کے والد سید فتح علی شاہ صاحب گیلانی ایک بزرگ شخصیت تھے۔ لہٰذا انہوں نے اس وقت اپنے بیٹے سے قطع تعلق کیا جس پر اس نے حکومت کو درخواست دی اور اس پر میجر ٹامسن ڈی سی ہزارہ نے ۱۹۰۳ء میں جرگہ سے فیصلہ کروایا۔ جس فیصلہ کی رو سے مرزائی مسلمانوں سے علیحدہ مذہب کے پیروکار تسلیم ہوئے اور ان کو مسلمانوں کی مسجد میں آنے سے روک دیا گیا۔ حیات علی شاہ کی کوشش سے اس کا چچا زاد بھائی سرور شاہ ولد سید اشرف شاہ گیلانی بھی مرزائی ہوگیا۔ بعد ازاں حیات علی شاہ کا چھوٹا بھائی میر گل شاہ بھی مرزائی ہوا۔ مگر وہ جلد ہی فوت ہوگیا۔ جس کی تعزیت قادیان کے رسالہ البدر مؤرخہ ۱۲؍اگست ۱۹۰۴ء میں چھپی ہے۔ ان دونوں یعنی حیات علی شاہ اور سرور شاہ کے علاوہ ملا احمد جی ولد ملا موسیٰ قوم گجر اور مولوی عبدالغنی ولد مولوی محمد حسین قوم سواتی بھی مرزائی ہوگئے جو ۱۹۰۳ء کے جرگہ میں حیات علی شاہ اور سرور شاہ کے ساتھ مرزائیوں کے نمائندے تھے۔
قادیان کے اخبار البدر جلد ۷ شمارہ ۳، مؤرخہ ۲۳؍جنوری ۱۹۰۷ء میں داتہ کے دو اور مرزائیوں یعنی عبدالقدوس ولد عبدالغنی اور یعقوب شاہ ولد سرور شاہ کا ذکر ہوا ہے اور ۴؍اکتوبر ۱۹۰۴ء کے البدر میں بہادر ولد رحمت اللہ اور علی بہادر ولد خیر اللہ کے مرزائی ہونے کی شہادت درج ہے۔ ان ابتدائی مرزائیوں کے علاوہ قوم سراڑہ (عباسی) کے دوستوں جمعہ دار گل حسن اور منشی اکرم، سرور شاہ کے زیر اثر ہونے کی وجہ سے مرزائی ہوئے۔ ان دونوں نے اپنے خاندان کے فقیر ولد مہند علی کو مرزائی بنایا۔ بعد میں ایک شخص مولوی عبدالرحمٰن سکنہ تریڑھی داتہ میں آکر مرزائیوں کا امام بنا۔ اس کا بھائی مسیح الزمان رجسٹرار پشاور یونیورسٹی بھی داتہ سے متعلق تھا جو کہ مرزائی مرا۔ اس کے بعد باہر سے آکر داتہ میں آباد ہونے والے مرزائیوں میں ماسٹر عبدالرؤف ولد سید احمد اور اس کا بھائی سلیم تھے۔ گوجر قوم میں ایک اور شخص عبداللہ ولد عبدالستار مرزائی ہوا اور پھر اس نے کوشش کر کے رحمت اللہ ولد ملاں حبیب کو مرزائی بنالیا۔ ماسٹر عبدالرؤف کی کوشش سے ہیڈ ماسٹر عبدالحمید ولد پیرا خان بھی قادیانی ہوگیا۔ حیات علی شاہ سے چونکہ سب قریبی رشتہ داروں نے قطع تعلق کر لیا تھا، اس لئے اس نے حبیب اللہ شاہ کی بیٹی سے شادی کی اور سسر کو بھی قادیانی بنادیا۔ ان ابتدائی مرزائیوں کے تذکرہ کے بعد اب ہر ایک کی تفصیل:
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۱....... یمین ولد مطلب ساکن بجی کوٹ براستہ قادیان آیا اور ابتدائی کام کیا۔ اس کا ایک لڑکا جس کا نام ابراہیم تھا۔ یہ لاہوری مرزائی
تھا۔ جس کے پانچ لڑکے تھے اور گاؤں میں صرف ایک ذاتی مکان کے علاوہ اور کوئی جائیداد نہ تھی۔ (۱) نصیر : سکول ماسٹر تھا۔ داتہ سے مکمل نقل مکانی کر گیا اور سنا ہے کہ بعد میں وہ مسلمان ہوا۔ مگر داتہ میں کوئی تعلق نہیں۔ پشاور میں رہتا ہے۔ (۲) بشیر : یہ پولیس کے محکمہ فنگر پرنٹ میں (ڈی.ایس.پی) کے عہدہ پر تھا۔ پشاور میں مستقل رہائش اختیار کر لی۔ یہاں داتہ میں کوئی تعلق نہیں۔ (۳) نثار : یہ بھی پشاور کا رہائشی تھا۔ یہاں سے نقل مکانی کر گیا۔ داتہ سے کوئی تعلق نہیں۔ (۴) افتخار : یہ بھی پشاور کا رہائشی تھا۔ یہاں سے نقل مکانی کر گیا۔ داتہ سے کوئی تعلق نہیں۔ (۵) قمر : یہ مسلمان ہو گیا تھا اور داتہ میں رہتا تھا۔ مگر بعد میں ایک تنازعہ میں قتل ہوا۔ پھر اس کے بھائیوں نے مکان فروخت کر دیا اور مکمل طور پر یہاں سے پشاور منتقل ہو گئے۔ ان کی ایک بہن ایک مرزائی سفیر نامی کے گھر میں تھی۔ جس نے بعد میں بمعہ اپنی بیوی کے مسلمان ہونے کا اعلان کر دیا اور اب وہ داتہ محلہ باغیچہ میں بطور مسلمان رہائش پذیر ہے۔
- ۲....... حیات علی شاہ : یہ ابتدائی مرزائی تھا۔ ۱۹۱۹ء میں مرگیا۔ تین بیٹے تھے۔ (۱) عبدالقیوم شاہ۔ (۲) اقبال شاہ۔ (۳) عبدالسلام
شاہ۔ اوّل الذکر دونوں کم سنی میں یتیم ہوئے تو اپنے چچا زاد بھائی حاجی معظم شاہ رئیس داتہ کی زیر کفالت رہے جو بریلی کے چشتیہ نیازیہ سلسلہ میں بیعت تھے۔ انہوں نے ان کی اسلامی تربیت کی اور ۱۹۷۴ء کی تحریک میں عبدالقیوم شاہ کو ختم نبوت کا دفاع کرنے کے سلسلہ میں ہتھکڑی لگی جس پر وہ تاحیات فخر کرتے تھے۔ تیسرا بیٹا عبدالسلام شاہ اپنے نانا حبیب اللہ شاہ کی زیر کفالت تھا اور مرزائی تھا۔ مگر ۱۹۷۴ء میں مسلمان ہو گیا اور مسلمان مرا۔ اس کے دو بیٹے نثار احمد شاہ اور رضا علی شاہ مسلمان ہیں۔ محلہ جبڑی مانسہرہ میں رہائش پذیر ہیں۔ لنڈے والے خان کے بھانجے ہیں جو ایک مسلمان خاندان ہے۔ حیات علی شاہ کی اولاد مرزائیت سے پاک ہے۔
- ۳....... میر گل شاہ : یہ ۱۹۰۴ء میں فوت ہوا اور اس کی کوئی اولاد نہیں تھی۔
- ۴....... سرور شاہ ولد اشرف شاہ : اس کے تین بیٹے تھے۔ عبدالعزیز شاہ: ریٹائرڈ (ڈی.ایف.او) یہ مرزائی تھا اور مانسہرہ کے مرزائی
خان بہادر غلام ربانی خان کا بہنوئی تھا۔ مانسہرہ لوہار بانڈہ میں مستقل رہائش تھی۔ ۱۹۷۴ء کے بعد مسلمان ہونے کا اعلان کیا لیکن مشکوک تھا۔ بعد میں جب اس کی بیوی فوت ہوئی تو مانسہرہ کی ختم نبوت کی جماعت نے اس کے مسلمان ہونے کی تصدیق کر دی اور لوہار بانڈہ کی مسجد کے امام صاحب نے جنازہ میں مسلمان ہونے کا بھرپور اعلان کیا اور نماز جنازہ پڑھائی۔
- الف....... عبدالعزیز شاہ خود گزشتہ سال فوت ہوا۔ انہی امام صاحب نے جنازہ میں اعلان کیا اور خود نماز جنازہ پڑھائی۔ اس کے چار بیٹے
تھے۔ (۱) ریاض حسین شاہ : یہ ایک بینک افسر تھا اور بعد میں ایک یونیورسٹی کا وائس چانسلر بھی رہا۔ مسلمان ہونے کا اعلان کیا ہوا تھا۔ فوت ہوا تو مسلمانوں نے نماز جنازہ پڑھی۔ (۲) خالد احمد : مسلمان ہے اور لوہار بانڈہ میں رہائش پذیر ہے۔ (۳) عبدالظاہر شاہ، (۴) عبدالکبیر شاہ : مسلمان ہونے کا اعلان کئے ہوئے ہیں اور لوہار بانڈہ مانسہرہ کے مستقل رہائشی ہیں۔
- ب....... عبدالرشید شاہ : یہ ہائیکورٹ کا جج ریٹائرڈ ہے اور ۱۹۷۴ء میں مسلمان ہونے کا اعلان کر دیا تھا۔ ایک بیٹا ہے۔ باپ بیٹا دونوں
مسلمان ہیں۔
- ج....... عبدالمجید : یہ لاہوری مرزائی تھا اور ۱۹۷۴ء میں ہڑتالوں کے دوران مسلمانوں کے ڈر سے اسلام آباد بھاگ گیا۔ اس کے بعد
کبھی داتہ نہیں آیا۔ اسلام آباد میں مرا اور وہیں دفن ہے۔ اس کی تین شادیاں ہوئی تھیں۔ ہر ایک کی اولاد درج ذیل ہے : ایک لڑکا طارق نامی تھا۔ باپ سے قطع تعلق کر کے داتہ میں والدہ کے ساتھ رہتا تھا۔ مسلمان تھا اور مسلمان فوت ہوا۔ دوسری بیوی بھی
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
داتہ میں رہائش پذیر ہے اور خاوند سے قطع تعلق کر دیا تھا۔ اس کے چھ بیٹے تھے۔ (۱) امتیاز: بہت پہلے فوت ہوا۔ دماغی توازن ٹھیک نہیں تھا۔ (۲) اعجاز: حال ہی میں انکم ٹیکس سے ریٹائرڈ ہوا۔ مانسہرہ میں فوجی فاؤنڈیشن کے پاس مکان بنایا ہوا ہے اور مسلمان ہے۔ (۳) افتخار: بینک کی نوکری سے نکالا گیا ہے۔ ایبٹ آباد میں سکول چلا رہا ہے۔ کچھ سرگرمیاں مشکوک تھیں۔ مگر اپنی صفائی بیان کرتا ہے۔ مسلمانوں کے ساتھ اسلامی طریقہ سے رہتا ہے۔ والد سے مکمل قطع تعلق تھا۔ اس کے مرنے پر نہیں گیا اور گاؤں میں اپنی حاضری کو یقینی بنایا۔ (۴) آفتاب: بینک سے نکالا ہوا ہے۔ پریس رپورٹر ہے اور مسلمان ہے۔ (۵) شہزاد: ایف آئی اے میں ملازم ہے اور کٹر بریلوی ہے۔ (۶) نوید: سعودی عرب میں ملازم ہے اور مسلمان ہے۔ تیسری بیوی کے تین بیٹے ہیں: (۱) حفیظ: یہ اپنی ماں کے ساتھ اسلام آباد میں رہتا تھا۔ باپ کی زندگی میں اس کے ساتھ رہا۔ باضابطہ مسلمان ہونے کا اعلان کبھی نہیں کیا۔ مگر داتہ میں کبھی کسی تقریب میں نہیں دیکھا گیا۔ اسلام آباد کا مستقل رہائشی ہے۔ (۲) ناصر: ریٹائرڈ فوجی افسر ہے۔ داتہ میں مسلمان ہونے کا اعلان کیا ہے۔ اسلام آباد کا مستقل رہائشی ہے۔ (۳) امجد: پریس رپورٹر ہے۔ داتہ میں مسلمان ہونے کا اعلان کیا ہے۔ اسلام آباد کا مستقل رہائشی ہے۔ ان بھائیوں کا مکان اسلام آباد میں ہے۔ وہاں ہی مستقل رہائش ہے۔ داتہ میں آمدورفت بالکل نہیں اور زمین بھی بیچ دی ہے۔
- ۵...... یعقوب شاہ ولد سرور شاہ: یہ ابتداء ہی میں لاولد فوت ہوگیا تھا۔
- ۶...... حبیب اللہ شاہ ولد محمد علی شاہ: یہ مرزائی مرا۔ اس کے تین بیٹے تھے۔ (۱) پیر زمان شاہ: یہ وکیل تھا۔ مانسہرہ میں اکبر خان روڈ پر اپنا
مکان بنایا۔ وہیں رہتا تھا۔ مرزائی مرا۔ انبالہ انڈیا کی ایک مرزائی خاتون سے شادی کی۔ ایک لڑکی اور ایک لڑکا تھا۔ لڑکا لاولد فوت ہو چکا ہے۔ (۲) شاہ محمد: یہ کٹر مرزائی تھا اور پڑھا لکھا تھا۔ مرزا قادیانی کی طرف سے انڈونیشیاء میں مربی مقرر تھا۔ وہیں رہتا تھا، وہیں مرا۔ یہاں اس کا کچھ بھی نہیں۔ اس کی بیٹی سنا ہے کہ انڈونیشیاء میں کسی حکومتی اعلیٰ منصب پر رہی۔ واللہ اعلم! (۳) احمد زمان شاہ (عرف سمندر شاہ): یہ کٹر مرزائی تھا۔ ۱۹۷۴ء کی تحریک میں اہل وعیال کے ساتھ ربوہ (چناب نگر) چلا گیا۔ وہیں رہا۔ واپس نہیں آیا اور وہیں مرا اور دفن ہوا۔
احمد زمان شاہ کے چھ بیٹے تھے۔ (۱) مسعود احمد شاہ: انجینئر تھا اور مرزائی تھا۔ ربوہ (چناب نگر) کا رہائشی تھا۔ وہاں ” The Nation“ اخبار کا رپورٹر تھا اور اپنے اثر ورسوخ کو مرزائیت کے حق میں خوب استعمال کرتا تھا۔ باپ کے مرنے کے عرصہ بعد یہاں آیا اور چنیوٹ کی عدالت کا ایک بیان حلفی ساتھ لایا کہ مسلمان ہوں اور مساجد میں اعلان کیا۔ بعد میں اس کی ربوہ آمدورفت ثابت ہوئی تو اسے تنبیہ کی گئی۔ جس پر اس نے جرگہ کے روبرو اقرار کیا کہ میری وہاں جائیداد ہے۔ میں اسے ٹھکانے لگا کر وعدہ کرتا ہوں کہ پھر نہیں جاؤں گا۔ اب گاؤں داتہ کا رہائشی ہے۔ مسلمانوں کے ساتھ مسلمانوں کی طرح رہتا ہے۔ بقول خود اس کا کسی قادیانی سے کوئی تعلق نہیں۔ بریلوی مکتب سے تعلق ہے۔ ان کی مسجد میں جاتا ہے۔ بیوی بچے نہیں ہیں۔ (۲) طاہر: یہ باپ کی زندگی میں مسلمان ہو کر یہاں آگیا تھا اور اعلان کر دیا تھا کہ مسلمان ہے۔ اس وقت سے اپنے آبائی مکان میں رہتا ہے اور جائیداد زمین وغیرہ کا نگران ہے۔ واپڈا میں ملازم ہے۔ (۳) مظفر: یہ دوسرے بھائی طاہر کے مسلمان ہونے کے کچھ عرصہ بعد آیا اور مسلمان ہونے کا اعلان کیا۔ وکیل ہے۔ ایبٹ آباد میں پریکٹس کرتا ہے۔ وہاں ہی رہائش ہے۔ کبھی کبھار غم اور شادی کے موقع پر موجود ہوتا ہے۔ (۴) محمود احمد: مرزائی ہے۔ ربوہ (چناب نگر) کا ہی رہائشی ہے۔ باپ کے ساتھ ۱۹۷۴ء میں گیا۔ فوج میں ملازم تھا۔ پھر واپس نہیں آیا۔ بھائیوں کے بقول ان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ (۵) مبشر احمد: باپ کے ساتھ ۱۹۷۴ء میں گیا۔ مرزائی ہے۔ وہاں سے ڈپلومہ کیا اور ایچ آر ایف فیکٹری ٹیکسلا میں ملازم تھا۔ وہاں سے
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بیرون ملک چلا گیا۔ ربوہ کا رہائشی ہے۔ بقول بھائیوں کے ان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ اس وقت کے بعد گاؤں نہیں آیا۔ (۶) منور احمد: باپ کے ساتھ ۱۹۷۴ء میں ربوہ چلا گیا۔ مرزائی ہے۔ وہاں ہی رہائش پذیر ہے۔ یہاں گاؤں کبھی نہیں آیا۔ بقول بھائیوں کے کوئی علاقہ نہیں رکھتا۔ کوئی حالات معلوم نہیں۔ اس کے علاوہ احمد زمان شاہ کی چار بیٹیاں تھیں۔ دو مسلمان ہو کر داتہ گاؤں آگئیں۔ ایک مر چکی ہے۔ مسلمانوں نے جنازہ پڑھایا اور دفن کیا۔ دوسری طارق ولد مجید شاہ مذکورہ بالا کی بیوہ ہے جو مسلمان تھا۔ یہ بھی مسلمان ہے۔ تین بیٹے ہیں۔ تینوں مسلمان ہیں اور یہاں کے رہائشی ہیں۔ چند سال قبل ماں کی ربوہ (چناب نگر) فوتگی پر خود کو یہاں داتہ میں ہی حاضر ثابت کیا اور شرکت نہیں کی۔ واللہ اعلم!
۷...... مولوی عبدالغنی ولد مولوی محمد حسین: ان کے اجداد گاؤں داتہ کے امام مسجد رہے۔ یہ شخص ابتدائی قادیانی تھا۔ ۱۹۰۷ء کے رسالہ البدر میں اس کے بیٹے عبدالقدوس کے مرزائی ہونے کا ذکر ہے۔ اس کے تین بیٹے تھے۔ عبدالقدوس، عبدالصبوح اور عبدالحکیم۔ یہ تینوں مرزائی تھے۔ دو نے قادیان میں تعلیم حاصل کی اور سب اعلیٰ عہدوں پر رہے۔ مگر قادیان سے واپس آ کر باپ کے مرنے کے بعد ایبٹ آباد میں رہائش اختیار کی اور گاؤں داتہ کو خیر آباد کہہ دیا۔ یہاں ان کا کوئی تعلق نہیں سنا۔ داتہ گاؤں میں کسی قسم کی آمد و رفت نہیں۔ عبدالغنی کا بھتیجا مولوی اسماعیل ولد عبدالکریم مرکزی مسجد کے ۱۹۱۲ء والے مقدمہ میں مدعی تھا کہ وہ امام مسجد ہے۔ عدالت نے بحال کیا مگر بعد میں معزول کر دیا گیا۔ دوسرے مسلمانوں کا مؤقف ۱۹۱۲ء کے مقدمہ میں یہ تھا کہ چونکہ مرزائی اس کی اقتداء میں نماز پڑھنے پر راضی ہیں۔ جب کہ مرزا قادیانی کا فتویٰ یہ ہے کہ اس کے کسی پیروکار کی مسلمان امام کے پیچھے نماز نہیں ہوتی۔ لہٰذا یہ بھی مرزائی ہے۔ اس کے دو بیٹے تھے۔ (۱) عبدالرحیم: ہیڈ ماسٹر (ریٹائرڈ) مسلمان ہے۔ ابھی زندہ ہے۔ اولاد بھی مسلمان ہے۔ گاؤں کے باہر ایبٹ آباد روڈ پر مکان اور زمین ہے۔ وہاں پر ہی رہائش پذیر ہے۔ (۲) پروفیسر عبداللہ: مرزائی ہو گیا تھا اور ایبٹ آباد میں رہائش اختیار کر لی تھی۔ وہیں مرا اور دفن ہوا۔ دو بیٹے ہیں۔ پہلا بیٹا میجر خالد خود کو مسلمان کہتا ہے۔ لشکر طیبہ سے تعلق ہے۔ جب کہ دوسرا بیٹا بریگیڈیئر عبدالرب مرزائی تھا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد راولپنڈی میں رہائش اختیار کر لی۔ مرنے کے بعد ورثاء نے داتہ روڈ کے قریب اپنی زمین میں دفن کیا اور اعلان کیا کہ مسلمان ہو گیا تھا۔ واللہ اعلم!
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۱۸ء ص ۳۷ تا ۴۱)
۸...... احمد جی ولد ملاں موسیٰ قوم گجر: یہ ابتدائی مرزائیوں میں تھا۔ اس کے تین بیٹے تھے۔ بابو رحمت اللہ، عبداللطیف اور فضل دین۔ بابو رحمت اللہ: یہ مرزائی تھا اور قادیان کے سکول میں تعلیم حاصل کی۔ محکمہ جنگلات میں ذمہ دار حیثیت میں ملازم تھا۔ قومی اور منصبی حیثیت کو مرزائیت کے فروغ کے لئے خوب استعمال کیا۔ اس کے دو بیٹے تھے۔ عطاء ولد رحمت اللہ: یہ مرزائی تھا۔ سکول ماسٹر تھا۔ رانا کرامت اللہ کے جنازے کے ساتھ نہر میں ڈوبنے والوں میں تھا۔ اس کی شادی بالاکوٹ کے مرزائیوں میں ہوئی تھی۔ اس کے مرنے کے بعد اس کے بیٹے مسلمان ہو گئے اور تبلیغی بھائیوں کے زیر اثر ہیں۔ اللہ استقامت دے۔ محمود عرف مودی: یہ مرزائی ہے اور ربوہ چلا گیا تھا۔ وہاں ہی رہائش اختیار کر لی۔ گاؤں والوں سے تعلق نہیں ہے۔ اب سنا ہے بیرون ملک چلا گیا ہے۔ واللہ اعلم!
عبداللطیف ولد احمد جی: مرزائی تھا اور مرزائی مرا۔ ایک لڑکا کاکا حفیظ نامی ہے جو مسلمان ہو چکا ہے اور بحیثیت مسلمان گاؤں داتہ کا رہائشی ہے۔ بیٹا عمر نامی مسلمان ہے۔ مرزائیوں کے ساتھ کوئی تعلق سننے میں نہیں آیا۔ اللہ استقامت دے۔ فضل دین ولد احمد جی: مرزائی مرا۔ اس کے دو بیٹے تھے۔ عبدالرحیم ولد فضل دین: یہ فوج میں ملازم تھا۔ صوبیدار ریٹائرڈ ہوا۔ بڑا با اثر قادیانی تھا۔ ۱۹۷۴ء میں
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ربوہ چلا گیا۔ وہاں ہی مرا اور دفن ہوا۔ اس کے مرنے پر تعزیت کے لئے کچھ مسلمان ہونے والے رشتہ داروں کی شرکت کی اطلاع جب ملی تو ان سے بائیکاٹ کیا گیا۔
بعد میں ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت کی ہدایت پر قاضی احسان صاحب مبلغ اسلام آباد سے تشریف لائے اور ان لوگوں سے پختہ قول و قرار لیا۔ اس کے بعد ان لوگوں کی اسلام پر استقامت اور مرزائیوں سے قطع تعلق ہے۔ لہٰذا کوئی منفی بات سننے میں نہیں آئی۔ اللہ استقامت دے۔
عبد الرحیم ولد فضل دین کے بیٹوں میں : رفیع احمد : شروع میں مسلمان ہو گیا اور اپنی خوش دامن کے ساتھ شیخ آباد نامی گاؤں میں رہتا ہے۔ کبھی کبھار غمی خوشی میں نظر آتا ہے۔ دیگر اولاد میں : شریف : مرزائی ہے۔ ہری پور حطار میں ملازم ہے اور وہیں ہی مستقل رہائش اختیار کر رکھی ہے۔ گاؤں میں کوئی تعلق واسطہ نہیں ہے۔ دو بیٹے سراج اور حماد مرزائی ہیں۔ عزیز : فوج کا ملازم تھا۔ کٹر مرزائی تھا۔ رہائش مانسہرہ میں اختیار کر لی تھی اور گاؤں سے تعلق ختم کر دیا تھا۔ جب فوت ہوا تو مرزائیوں نے دفن کیا۔ ایک لڑکا طاہر نامی اب مسلمان ہو چکا ہے۔ تین بیٹے شاہد، زاہد اور ارشاد مرزائی ہیں۔ اظہر، عرف گلابا : مرزائی ہے۔ بیرون ملک ملازم ہے اور گاؤں سے کوئی تعلق واسطہ نہیں ہے۔ مستقل رہائش ربوہ میں ہے۔
شاکر : مرزائی ہے بیرون ملک ہے۔ احسان : مرزائی ہے۔ بیرون ملک ہے۔ کامران : مرزائی ہے داتہ سے تعلق نہیں۔ انیس : مرزائی تھا۔ لا ولد فوت ہو گیا۔ عبد الکریم ولد فضل دین : جنگل کے محکمہ میں ملازم تھا۔ بہت با اثر مرزائی تھا۔ ۱۹۷۴ء میں منافقانہ اعلان کیا۔ مگر بعد میں مکر گیا۔
اس کے نو بیٹے تھے۔ صدیق : ابتداء میں مسلمان ہوا اور باپ سے علیحدہ ہو کر کراچی چلا گیا۔ فوت ہوا تو مسلمانوں نے دفن کیا۔ خالد : مسلمان ہو چکا ہے۔ مرزائی بیوی کو چھوڑ کر مسلمان عورت سے شادی کر لی ہے۔ گاؤں میں بحیثیت مسلمان رہتا ہے۔ آصف : ایئر فورس سے ریٹائرڈ ہے۔ مسلمان ہے اور بحیثیت مسلمان رہتا ہے۔ کلیم الدین : مسلمان ہے اور سعودی عرب میں ملازم ہے۔ خورشید : مرزائی ہے اور جرمنی کا رہائشی ہے۔ گاؤں میں کوئی تعلق واسطہ نہیں ہے۔ جمیل : مرزائی تھا۔ دو بیٹے ہیں۔ دونوں مرزائی ہیں۔ رفیق : دماغی توازن خراب تھا۔ فوت ہو گیا ہے۔ عارف : مرزائی ہے اور جرمنی میں ہے۔ گل : مرزائی اور بیرون ملک ہے۔
- ۹...... بہادر ولد رحمت اللہ : اس کی کوئی اولاد نہ تھی اور نہ ہی مزید حالات معلوم ہو سکے۔
- ۱۰...... علی بہادر ولد خیر اللہ : یہ مرزائی مرا۔ اس کے تین بیٹے تھے۔ حامد : یہ برطانیہ چلا گیا۔ سنا ہے وہاں مسلمان ہو گیا اور تبلیغ میں لگ گیا۔ واللہ اعلم! داتہ سے کوئی تعلق نہیں۔ اللہ یار : یہ مرزائی تھا۔ ہری پور میں رہائش تھی۔ مرنے پر اس کی میت لے آئے اور وہاں کے لوگوں نے گواہی دی کہ مسلمان تھا۔ بعد میں تمام اولاد مسلمان ہے اور کوئی امر خلاف اسلام نہیں دیکھا گیا۔ نسیم : یہ ایبٹ آباد کا مستقل رہائشی تھا اور سنا ہے وہاں مسلمان ہو چکا تھا۔ کچھ عرصہ قبل فوت ہوا اور مسلمانوں نے جنازہ پڑھا۔
- ۱۱...... ہدایت اللہ ولد خیر اللہ : علی بہادر کا بھائی تھا۔ تین لڑکے تھے۔ یوسف : یہ کٹر مرزائی تھا۔ مرزائی مرا۔ کوئی نرینہ اولاد نہیں تھی۔ بیٹیوں کے مسلمان ہونے کی اطلاع ہے۔ عبد العزیز : مرزائی تھا اور اس کا بیٹا صدیق مسلمان ہے۔ ایبٹ آباد کا مستقل رہائشی ہے۔ احمد حسن : صحیح العقیدہ مسلمان ہے۔ ایبٹ آباد کا مستقل رہائشی ہے۔ (حال ہی میں فوت ہوا۔ مسلمانوں نے جنازہ پڑھا اور دفن کیا)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۱۲...... جمعدار گل حسن: مرزائی تھا، مرزائی مرا۔ اس کا بیٹا ڈاکٹر سعید ہری پور چلا گیا اور وہاں ہی کا ہو کر رہ گیا۔ جب مرا تو ہری پوری
والے لوگ اسے داتہ لے آئے اور جنازہ کر کے داتہ میں اس کی زمین میں دفن کر دیا۔ داتہ کے صرف چار آدمی اس کے جنازے میں شریک ہوئے۔ بعد میں خطیب جامع مسجد داتہ نے انہیں سزا دی اور توبہ کروا کر تجدید نکاح کروایا۔ ”قادیانی جنازہ“ نامی رسالہ اسی کے جنازے سے متعلق ہے۔ مگر سائل نے سوال میں داتہ کے لوگوں کا ذکر دیا جو حقیقت میں درست نہیں۔ جنازہ پڑھانے والا امام بھی ہری پور کا تھا اور لوگ بھی وہاں ہی سے آئے تھے۔ صرف چار لوگ داتہ کے تھے۔ اس کے بیٹے ماسوائے ایک کے جن کے نام شریف احمد، نذیر احمد اور احمد ہیں مسلمان ہو گئے۔ مگر کوئی بھی داتہ میں رہائش نہیں رکھتا۔ ایک بھائی بشیر نامی مرزائی ہے اور ہری پور میں رہتا ہے۔ گل حسن کا دوسرا بیٹا احمد حسن تھا۔ پشاور یونیورسٹی کا افسر تھا۔ وہاں ہی رہائش پذیر ہوا اور داتہ سے کوئی تعلق نہیں۔ اولاد کا پتہ نہیں۔
- ۱۳...... منشی اکرم: یہ مرزائی تھا اور بیٹے بھی مرزائی تھے۔ ۱۹۷۴ء میں مسلمان ہو گئے تھے۔ شریف : ایبٹ آباد کا رہائشی ہے۔ تمام اولاد
ماسوائے ایک بیٹے کے مسلمان ہے۔ ایک بیٹا ودید احمد مرزائی ہے اور کینیڈا میں ہے۔ بشیر : مانسہرہ میں رہائش پذیر ہے۔ منیر : ریٹائرمنٹ کے بعد داتہ میں آگیا ہے۔
- ۱۴...... فقیر ولد مہند علی: یہ کٹر مرزائی تھا۔ مرزائی مرا اور ربوہ میں دفن ہوا۔ اس کے دو بیٹے مرزائی ہیں اور بیرون ملک ہیں۔ عام رہائش
ربوہ (چناب نگر ) میں ہی ہے۔ داتہ نہیں آتے۔ بیٹوں کے نام تاج، مبارک اور بشارت ہیں۔ بشارت چند سال قبل مسلمان ہوا اور یہاں سے ایک سابقہ مرزائی موجودہ مسلمان کے ہاں شادی کی۔
- ۱۵...... عبد الرحمن سکنہ تریڑھی : یہ مرزائیوں (قادیانی گروپ) کا امام تھا۔ مرزائی مرا۔ اس کے دو بیٹے تھے۔ عبدالسلام : سکول ماسٹر
تھا۔ مرزائی مرا۔ کوئی اولاد نہ تھی۔ نصیر احمد : نیوی میں ملازم تھا۔ بعد میں مسلمان ہوا۔ مگر داتہ میں رہائش نہیں رکھی۔ داتہ سے کوئی تعلق نہیں۔
- ۱۶...... ماسٹر عبدالرؤف: یہ لاہوری مرزائی تھا۔ سکول ٹیچر تھا۔ ۱۹۷۴ء میں واہ کینٹ نقل مکانی کر لی اور اپنا واحد مکان فروخت کر دیا۔ دو
بیٹے تھے۔ بشارت : آرمی میں اعلیٰ افسر۔ مسعود : خان پور کالج کا پرنسپل تھا۔ دونوں بعد میں والد کے ہمراہ واہ کینٹ میں مسلمان ہوئے۔ وہاں ہی رہائش پذیر ہیں۔ داتہ سے کوئی تعلق نہیں۔ ماسٹر عبدالرؤف کا ایک بھائی سلیم تھا جو داتہ میں نہیں رہا۔ مانسہرہ کا رہائشی تھا۔ مزید حالات معلوم نہیں۔
- ۱۷...... مسیح الرحمن: مرزائی تھا۔ مرزائی مرا۔ تین بیٹے مرزائی ہیں۔ ذوالفقار : مرزائی ہے۔ ہری پور میں ہزارہ پبلک سکول کا مالک
ہے ۔ وہاں پر ہی رہتا ہے۔ حنیف : مرزائی ہے۔ ایم سی بی میں ملازم ہے اور ہری پور میں مستقل رہائش ہے۔ منظور : مرزائی ہے۔ کاروبار اور رہائش ہری پور میں ہے۔
- ۱۸...... فیض اللہ ولد عبداللہ : مرزائی مرا۔ ایک بیٹا حمید ہے جو جرمنی میں ہے۔ ربوہ کا مستقل رہائشی ہے۔ داتہ سے تعلق نہیں ہے۔
- ۱۹...... رحمت اللہ ولد ملاں حبیب : مرزائی تھا اور مرزائی مرا۔ دو بیٹے اسلم اور سفیر مسلمان ہو گئے اور داتہ میں رہتے ہیں۔ اللہ استقامت دے۔
- ۲۰...... فضل الرحمن ولد عبداللہ : یہ تربیلہ سے آیا۔ فیض اللہ کا داماد تھا۔ تحریک ۱۹۷۴ء کے دوران نقل مکانی کر کے ایبٹ آباد چلا گیا اور
وہاں ہی رہائش پذیر ہے۔ تمام بیٹے مرزائی ہیں مگر داتہ سے تعلق نہیں ۔ (مبشر مر گیا ہے۔ تنویر ، مطیع ، شیراز)
- ۲۱...... عبد الحمید : یہ مسلمان گھرانے کا تھا۔ ہیڈ ماسٹر تھا۔ بعد میں مرزائی ہوا اور پختہ مرزائی تھا۔ تحریک ۱۹۷۴ء کے بعد دوبارہ مسلمان
ہو گیا اور جماعت اسلامی سے تعلق رہا۔ مسلمان مرا۔ بیٹا مسلمان ہے۔ بھائی سارے صحیح العقیدہ مسلمان ہیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۲۲...... محمد فرید ولد محمد حسین: ریلوے میں ملازم تھا۔ کراچی کا رہائش پذیر ہے۔ مرزائی ہو گیا تھا۔ آخر میں مسلمان ہونے کا اعلان کر دیا۔
دیگر تمام بھائی اور سارا خاندان مسلمان ہے۔
- ۲۳...... ملاں دینہ: یہ گاؤں لنڈہ کا رہنے والا تھا۔ دو بیٹے تھے اور داتہ میں رہائش تھی۔ غلام نبی: قتل کیس میں پھانسی ہوگئی۔ ڈاکٹر محمد دین:
مرزائی تھا۔ اسلام کا اعلان کیا۔ مگر داتہ میں رہائش نہیں رکھی۔ بیٹا سنا ہے لندن میں ہے۔ مذہب کا پتہ نہیں۔ سردار ظہور کا بہنوئی ہے۔
- ۲۴...... غلام قادر: مرزائی تھا۔ داتہ سے نقل مکانی کر کے چلا گیا تھا۔ تین بیٹے تھے۔ غلام احمد، ضیاء احمد اور آفتاب احمد۔ تینوں بھائی داتہ
میں نہیں رہے۔ اولاد کا پتہ معلوم نہیں۔ داتہ کے وہ لوگ جو ابھی تک مرزائی ہیں:
(۱) حفیظ احمد ولد شاہ عبدالحمید : اسلام آباد میں مستقل رہائش ہے۔ داتہ سے لاتعلق ہے۔ (۲) محمود (مودی ) ولد بابو رحمت اللہ : مرزائی ہے۔ بیرون ملک ملازم ہے۔ اہل وعیال ربوہ کے رہائشی ہیں۔ داتہ میں آمدورفت نہیں۔ (۳) عبدالرحیم ولد فضل دین: مرزائی مرا۔ اس کی اولاد: شریف ولد عبدالرحیم: طاہر ہری پور میں ملازم ہے اور رہائش بھی وہیں ہے۔ داتہ میں آمدورفت بالکل نہیں ہے۔ دو بیٹے سراج اور حماد مرزائی ہیں۔ باپ کے ساتھ رہتے ہیں۔ عزیز ولد عبدالرحیم: فوت ہو چکا ہے۔ تین بیٹے شاہد، زاہد اور ارشاد مرزائی ہیں۔ پہلے مانسہرہ کے رہائشی تھے۔ اب رہائش کا پتہ معلوم نہیں۔ داتہ میں آمدورفت بالکل نہیں۔ ایک بیٹا طاہر چند سال قبل مسلمان ہو گیا تھا مگر داتہ میں رہائش نہیں ہے۔ انیس: مرزائی تھا۔ شاکر، احسان، کامران، اظہر مرزائی ہیں۔ بیرون ملک ہیں۔ (۴) عبدالکریم ولد فضل دین: مر چکا ہے۔ اولاد میں چار بیٹے مسلمان اور باقی مرزائی ہیں۔ مگر مرزائی بیٹوں میں سے کسی کی رہائش داتہ میں نہیں۔ کوئی بیرون ملک اور بعض کراچی میں ہیں۔ صدیق: مسلمان تھا۔ فوت ہو چکا ہے۔ رہائش کراچی میں تھی۔ خالد: مسلمان ہے داتہ میں ہے۔ آصف: مسلمان ہے داتہ میں ہے۔ کلیم الدین: مسلمان ہے۔ سعودیہ عرب میں ملازم ہے۔ جمیل: مرزائی فوت ہوا۔ کراچی کا رہائشی تھا۔ بیٹے بھی مرزائی ہیں مگر کراچی میں ہیں۔ داتہ میں آمدورفت نہیں۔ خورشید: مرزائی ہے اور جرمنی میں ہے۔ عارف: مرزائی ہے اور جرمنی میں ہے۔ گل: مرزائی ہے اور بیرون ملک ہے۔ (۵) محمود، مبشر، منور : احمد زمان شاہ کے تینوں لڑکے مرزائی ہیں اور ربوہ کے مستقل رہائشی ہیں۔ یہاں داتہ میں آمدورفت بالکل نہیں۔ (۶) ڈاکٹر سعید ہری پور والے کی ایک بیٹی اور ایک بیٹا بشیر مرزائی ہیں۔ مستقل رہائش ہری پور میں ہے۔ داتہ سے تعلق نہیں۔ (۷) تاج، مبارک: فقیر کے دونوں بیٹے مرزائی ہیں اور بیرون ملک ہیں۔ اہل وعیال ربوہ میں ہیں۔ (۸) حمید ولد فیض اللہ : مرزائی ہے جرمنی میں رہتا ہے۔ ربوہ میں آمدورفت ہے۔ داتہ سے تعلق نہیں۔ اولاد کا پتہ نہیں۔ (۹) فضل الرحمن: مرزائی ہے۔ مستقل رہائش ایبٹ آباد میں ہے۔ تینوں بیٹے تنویر، مطیع اور شیراز مرزائی ہیں اور والد کے ساتھ رہتے ہیں۔ داتہ سے کوئی تعلق نہیں۔ (۱۰) ذوالفقار ولد مسیح الرحمن: مرزائی ہے۔ ہری پور میں رہائش ہے اور وہاں پر ہزارہ پبلک سکول کے نام سے ادارے کا مالک ہے۔ بیوی بھی جو کہ ڈاکٹر سعید (قادیانی جنازہ والے) کی بیٹی ہے۔ سرگرم مرزائی ہے مگر داتہ میں آمدورفت نہیں ہے۔ (۱۱) حنیف ولد مسیح الرحمن : مرزائی ہے۔ ہری پور کا رہائشی ہے۔ ایم سی بی بینک میں ملازم ہے۔ داتہ میں آمدورفت نہیں ہے۔ (۱۲) منظور ولد مسیح الرحمن : مرزائی ہری پور کا رہائشی ہے۔ ماربل کا کاروبار کرتا ہے۔ داتہ سے تعلق نہیں ہے۔ (۱۳) ودید ولد شریف : مرزائی ہے۔ کینیڈا میں ملازم ہے۔ والد کی مستقل رہائش ایبٹ آباد میں ہے۔ داتہ میں آمدورفت نہیں ہے۔
دعاء ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام قادیانیوں کو دین اسلام قبول کرنے اور قادیانیت ترک کرنے کی توفیق عنایت فرمائیں۔ آمین!
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۱۸ء ص ۴۴ تا ۴۸)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قومی مشاورتی کنونشن اسلام آباد
۸/اکتوبر ۲۰۱۸ء کو متحدہ مجلس عمل کے زیر اہتمام اسلام آباد ہوٹل میں مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کی میزبانی میں قومی مشاورتی کنونشن منعقد ہوا۔ صدر گرامی مولانا فضل الرحمٰن صاحب کے حکم پر عالمی مجلس کے نائب امیر مولانا صاحبزادہ عزیز احمد صاحب نے لکھا ہوا یہ بیان پڑھ کر سنایا۔ تحریر مولانا زاہد الراشدی صاحب کی تھی۔ پڑھا محترم صاحبزادہ صاحب نے تھا۔
اسلام کے نام پر قائم ہونے والے ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان کو اپنے وجود میں آنے کے دن سے ہی اس المیہ کا سامنا ہے کہ اس کے بعض طاقتور حلقوں اور ان کے عالمی پشت پناہوں نے اس ریاست کی اسلامی نظریاتی شناخت کو قبول کرنے سے انکار کر رکھا ہے۔ وہ سات عشروں سے مسلسل اسے کمزور کرنے ، بلکہ پاکستان کو اسلامی تعارف سے محروم کر دینے کے لئے اس کے خلاف مکروہ سازشوں میں مصروف ہیں۔ پاکستانی عوام کے اجتماعی مؤقف ، رجحانات اور ان کے جمہوری دستوری فیصلوں کو سبوتاژ کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ بالخصوص تحفظ ناموس رسالت ﷺ اور تحفظ عقیدۂ ختم نبوت کے بنیادی امور میں دستور وقانون کی واضح دفعات اور پاکستانی قوم کے دینی وقومی جذبات کے علی الرغم سیکولر حلقوں اور قادیانیوں کی پشت پناہی کی جا رہی ہے۔ جب کہ یہ پاکستانی عوام کی استقامت اور ان کا ایمانی عزم ہے کہ اس حوالہ سے جو سازش بھی ان کے علم میں آتی ہے وہ متفقہ طور پر اسے ناکام بنا دیتے ہیں۔ جس کی واضح مثال گزشتہ تھوڑے سے عرصہ میں:
- ......۱ الیکشن قوانین میں ترامیم کی آڑ میں قادیانیوں کو مسلمانوں کی صفوں میں داخل کرنے۔
- ......۲ معروف قادیانی عاطف میاں کو ملک کے اقتصادی مشاورت کے نظم میں شامل کرانے۔
- ......۳ ناموس رسالت ﷺ کے قانون میں ترامیم کے لئے سینٹ آف پاکستان میں چند روز قبل پیش کیا جانے والا بل۔
جنہیں پوری پلاننگ اور گہری چالوں کے ذریعہ کامیاب بنانے کی کوشش کی گئی۔ مگر پاکستان کے دینی حلقوں میں بیداری اور عوام کے اتحاد واتفاق کے باعث ان اقدامات کو پسپائی کا سامنا کرنا پڑا اور ان شاء اللہ تعالیٰ آئندہ بھی ایسی چالوں کو اسی حشر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مگر متحدہ مجلس عمل کے زیر اہتمام اس قومی مشاورت اور آل پارٹیز کانفرنس کے موقع پر ہم ملک کی دینی وسیاسی جماعتوں اور قوم کے تمام حلقوں اور طبقات کو اسی طرف توجہ دلانا ضروری سمجھتے ہیں کہ ان وقتی کارروائیوں کی ناکامی پر مطمئن ہو جانے کی بجائے ان معاملات پر مسلسل نظر رکھنے اور ان کا مستقل طور پر سدباب کرنے کے لئے ٹھوس حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ چنانچہ اسلام آباد میں جمع ہونے والی دینی وسیاسی قیادت کو اس کے لئے مناسب فیصلے کرنے چاہئیں۔ جس کے لئے ہماری تجویز یہ ہے کہ:
- O...... پارلیمنٹ میں قادیانیوں اور تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے نافذ العمل قوانین پر مؤثر عمل درآمد کے لئے مزید قانون سازی کا
اہتمام کیا جانا چاہئے۔
- O...... چناب نگر میں ”ریاست در ریاست“ کا ماحول ختم کرنے اور ریاستی اداروں کی موجودگی میں قادیانیوں کے متوازی عدالتی
و انتظامی شعبوں کا نوٹس لینے کی ضرورت ہے۔ جو حکومتی رٹ اور دستور وقانون کی عملداری کے لئے چیلنج کی حیثیت رکھتے ہیں۔
- O...... حکومتی سطح پر یہ پالیسی طے کرنا ضروری ہے کہ دستور وقانون کی بالادستی کو واضح طور پر قبول کرنے کے اعلان کے بغیر کسی قادیانی کو
کسی پالیسی ساز ادارے میں شمولیت کا حق نہیں ہے اور انہیں دیگر غیر مسلم اقلیتوں کے طرز کی مراعات اور حقوق نہیں دیئے جاسکتے ہیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- O...... دوالمیال ضلع چکوال میں قادیانیوں اور مسلمانوں کے درمیان مقدمات میں انتظامی افسران کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف
قادیانیوں کی پشت پناہی کے طرزعمل کا نوٹس لے کر مسلمانوں کو قانونی و معاشرتی انصاف فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
- O...... تحفظ ناموس رسالت ﷺ، تحفظ ختم نبوت اور پاکستان کی اسلامی نظریاتی شناخت کے تحفظ کے لئے جدوجہد کرنے والے
اداروں، جماعتوں اور حلقوں کے درمیان رابطہ و تعاون کی فضا قائم کرنے اور اس سلسلہ کی تمام مساعی کو باہم مربوط بنانے کے لئے بھی متحدہ مجلس عمل کی اجتماعی قیادت کو کوئی لائحہ عمل طے کرنا چاہئے۔
ہم اس قومی مشاورت اور کل جماعتی کانفرنس کے انعقاد پر ایم.ایم.اے کی قیادت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اسے وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہیں اور اس کے فیصلوں پر عملدرآمد کے لئے ہر ممکن تعاون کا یقین دلاتے ہیں اور اس کی بھرپور کامیابی کے لئے دعاء گو ہیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۱۸ء ص ۴، ۳)
آسیہ ملعونہ کی رہائی پر احتجاجی تحریک
۳۱؍اکتوبر ۲۰۱۸ء کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے گستاخ رسول آسیہ ملعونہ کو بری کر دیا۔ واقعہ یہ تھا کہ : جون ۲۰۰۹ء میں صوبہ پنجاب کے ضلع شیخوپورہ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون آسیہ ملعونہ نے فالسہ کے باغ میں اپنے ساتھ کام کرنے والی مسلمان خواتین کے سامنے آنحضرت ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کے کلمات کہے تھے۔ اس واقعہ کی اطلاع جب گاؤں والوں کو ہوئی تو پنچائیت بلوائی گئی، وہاں اس خاتون نے اپنے جرم کا اعتراف کیا، جس کے بعد ایک ایس پی افسر نے تفتیش کی اور ملزمہ کے اعتراف جرم نیز گواہوں کے بیانات کی روشنی میں ایف آئی آر درج کرنے کی سفارش کی۔ ایف آئی آر درج ہونے کے بعد اس خاتون پر سیشن کورٹ میں مقدمہ چلا، جس کے نتیجہ میں آسیہ ملعونہ کو گستاخی کی مرتکبہ قرار دیتے ہوئے ۲۰۱۰ء میں سیشن کورٹ نے سزائے موت سنائی گئی۔ آسیہ ملعونہ نے اس فیصلہ کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی۔ ۲۰۱۴ء میں ہائی کورٹ نے بھی پورا مقدمہ سننے کے بعد سزائے موت کو برقرار رکھا۔ اب مجرمہ نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار کی سربراہی میں فیصلہ سناتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ اور سیشن کورٹ کے فیصلوں کو کالعدم کر دیا اور گستاخ رسول آسیہ ملعونہ کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
واضح رہے کہ گستاخ رسول آسیہ ملعونہ کا کیس، معمولی کیس نہیں ہے بلکہ اس گستاخ رسول کی رہائی کے لئے عیسائیوں کے سابق پوپ بھی دہائی دے چکے ہیں اور کئی مغربی ممالک نے حکومت پاکستان کو قرضہ دینے کے لئے آسیہ ملعونہ کی رہائی کی شرط لگا رکھی تھی۔ یہ کیس اس لئے بھی نزاکت و حساسیت کا پہلو رکھتا ہے کہ سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے ملعونہ کی حمایت میں بیان جاری کرتے ہوئے: توہین رسالت کے قانون کو ’’کالا قانون‘‘ قرار دیا تھا، جس کے بعد ان کے گارڈ عاشق رسول ممتاز قادری نے انہیں گولیوں سے چھلنی کر دیا تھا، جب کہ سابق وفاقی وزیر برائے اقلیتی امور شہباز بھٹی بھی اس ملعونہ کی حمایت کے جرم میں مارے گئے ہیں۔ بعد ازاں سلمان تاثیر کے گارڈ ممتاز قادری شہید کو عدالت عظمیٰ نے سزائے موت سنائی تھی، جس پر عملدرآمد بھی فوری کر دیا گیا۔ یہ بھی یاد رہنا چاہئے کہ اسی کیس کی بنیاد پر ۲۰۱۰ء میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے قومی اسمبلی میں قانون ناموس رسالت میں ترمیم کا بل پیش کیا تھا اور اس وقت کے صدر مملکت آصف علی زرداری ویٹی کن سٹی میں عیسائیوں کے پوپ سے آسیہ مسیح کی رہائی کا وعدہ کر کے آئے تھے۔ اس کے خلاف تمام مکاتب فکر نے ’’تحریک تحفظ ناموس رسالت‘‘ چلائی۔ جس کا اجلاس عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی میزبانی میں اسلام آباد میں بلوایا گیا اور ملک بھر میں عظیم الشان
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
احتجاجی مظاہرے، ہڑتالیں اور جلسے منعقد کر کے زبردست احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔ ایسے ہی ایک عظیم الشان جلسے سے کراچی میں خطاب کرتے ہوئے قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن، جو انہی دنوں سفر عمرہ سے واپس تشریف لائے تھے، نے فرمایا کہ: ”اگر ہمارے حکمران ویٹی کن سٹی میں عیسائیوں کے پوپ سے ناموس رسالت کے قانون کو ختم کرنے کا عہد کر کے آئے ہیں تو میں گنبد خضریٰ کے مکین (ﷺ) سے اس قانون کی حفاظت کا وعدہ کر کے آیا ہوں ۔‘‘ بالآخر حکومت کو پسپائی اختیار کرنا پڑی اور ترمیمی بل واپس لینا پڑا بلکہ آئندہ کے لئے بھی اسے نہ چھیڑنے اور اس میں کسی قسم کی ردو بدل نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی۔ الحمدللہ ! عاشقانِ رسول کامیاب ہوئے۔
اب ایک بار پھر عاشقانِ رسول کا امتحان سر پر ہے کہ ایک گستاخ رسول کو نہ صرف رہا کر دیا گیا بلکہ ہمارے موجودہ وزیراعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں اس فیصلے کو بالکل درست قرار دیا ہے۔ ۳۱؍ اکتوبر ۲۰۱۸ء کو یہ فیصلہ آتے ہی پورے ملک میں آگ سی لگ گئی اور مسلمانانِ وطن احتجاج کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان مرکز میں تمام مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس کے بعد اکابرین مجلس کی طرف سے پورے ملک میں پُر امن احتجاجی مظاہرے منعقد کرانے اور جمعہ کے خطبات میں اس فیصلہ کے خلاف آواز اٹھانے کی اپیل کی گئی، چنانچہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے زیر اہتمام اسی روز دہلی کالونی، بھینس کالونی، ملیر، ختم نبوت چوک منظور کالونی، صدر ٹاؤن سمیت شہر کے مختلف علاقوں، چوکوں چوراہوں میں احتجاج کیا گیا جس میں عوام الناس نے عشق رسالت کا ثبوت دیتے ہوئے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اگلے روز یکم نومبر بروز جمعرات دوپہر ۲ بجے کراچی پریس کلب پر بہت بڑا احتجاجی مظاہرہ منعقد ہوا، جس میں کراچی کے تمام اضلاع سے قافلے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور جمعیت علماء اسلام کے ذمہ داران کی قیادت میں شریک ہوئے۔ ہزاروں کا مجمع کراچی پریس کلب پر سراپا احتجاج تھا، جب کہ اس روز عوام الناس نے بھی اپنے کاروبار، بازار، تعلیمی ادارے اور ٹرانسپورٹ از خود بند رکھ کر سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف ریفرنڈم دیا اور اسے یکسر مسترد کر دیا، اس احتجاجی مظاہرے سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے امیر مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ، مرکزی مبلغ مولانا قاضی احسان احمد، ضلعی و مقامی ذمہ داران مولانا عبدالحی مطمئن، مولانا محمد اسحاق مصطفیٰ، مولانا محمد قاسم، مولانا عادل غنی، مولانا محمد رضوان، مولانا محمد اشفاق، مولانا محمد شعیب کمال، مولانا محمد کلیم اللہ نعمان، مولانا محمد پراچہ، بھائی آفتاب جب کہ جمعیت علماء اسلام کے قاری محمد عثمان، مولانا ناصر محمود سومرو، مولانا محمد غیاث، مولانا حذیفہ شاکر، مفتی فیض الحق جماعت اسلامی کے راہنما یونس بارانی سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس مظاہرے میں جو مطالبات پیش ہوئے اور قراردادیں منظور کی گئیں، وہ درج ذیل ہیں:
- ۱...... آج کا یہ اجتماع گستاخ رسول آسیہ ملعونہ کی رہائی کے فیصلے کو غلط اور نا انصافی پر مبنی قرار دیتے ہوئے یکسر مسترد کرتا ہے۔
- ۲...... آج کا یہ اجتماع مطالبہ کرتا ہے کہ فوری طور پر اس فیصلے پر نظر ثانی کی جائے۔
- ۳...... گستاخ رسول آسیہ ملعونہ کے اعتراف جرم کے باوجود سپریم کورٹ کا اسے نظر انداز کرنا اور گواہوں کی گواہی اور ثبوتوں میں سقم
تلاش کرنا حیران کن ہے۔
- ۴...... گستاخ رسول آسیہ ملعونہ کا نام ای سی ایل میں ڈال کر اسے بیرون ملک جانے سے روکا جائے۔
- ۵...... پُر امن احتجاج ہمارا بلکہ پاکستان کے ہر شہری کا حق ہے، ہمیں اس حق سے روکنے کی باتیں نہ کی جائیں۔
- ۶...... وزیراعظم عمران خان کو معاملہ کی حساسیت و نزاکت کو سمجھتے ہوئے بیان جاری کرنا چاہئے۔ ناموس رسالت پر مسلمان کٹنے مرنے
کے لئے تیار رہتا ہے۔ آسیہ کیس میں سلمان تاثیر، شہباز بھٹی کی جانوں کا ضیاع اور عاشق رسول ممتاز قادری کی شہادت کا سانحہ
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اس کیس کی حساسیت کو اور بڑھا دیتا ہے، اس لئے ہمارے حکمرانوں کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہئے جن سے جان و مال کے ضیاع کا خدشہ ہو۔
- ۷...... ماضی میں گستاخان رسالت کو بری کرنے کی رسم بد جاری رہی ہے، اب اس روش کو ختم ہونا چاہئے اور گستاخان رسالت کے ساتھ قرآن وسنت اور آئین پاکستان کے تحت معاملہ ہونا چاہئے۔
- ۸...... آسیہ ملعونہ کی رہائی کے بعد سے پورا ملک سراپا احتجاج ہے۔ عوام سڑکوں، چوکوں، چوراہوں اور سوشل میڈیا پر اپنے جذبات کا اظہار کر رہے ہیں۔ ایسے میں الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کو بھی آنحضرت ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لئے بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہئے اور پیچھے نہیں رہنا چاہئے۔
- ۹...... ہم کل سے احتجاج کر رہے ہیں، آج بھی احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں اور آئندہ کل جمعہ کو بھی یوم احتجاج منایا جائے گا۔ اس احتجاج میں کسی قسم کی توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ، جان و مال کو نقصان پہنچانا ہمارا شیوہ نہیں رہا ہے۔ عوام نے بھی رضا کارانہ طور پر آج یکم نومبر ۲۰۱۸ء کو اپنے کاروبار، تعلیمی ادارے اور ٹرانسپورٹ بند رکھ کر بھرپور حصہ لیا ہے۔
- ۱۰...... قومی اسمبلی میں متحدہ مجلس عمل کے اراکین نے قوم کی ترجمانی کرتے ہوئے اس مسئلہ پر بھرپور احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ دیگر سیاسی جماعتیں بھی اسمبلی کے فورم پر یکجان ہو کر آنحضرت ﷺ سے عشق و محبت کا ثبوت دیں۔
- ۱۱...... کل بروز جمعہ ۲؍ نومبر ۲۰۱۸ء کو ائمہ مساجد جمعۃ المبارک کے خطبات میں ناموس رسول اکرم ﷺ کی اہمیت کو اجاگر کریں، عوام الناس سے قرار داد مذمت منظور کرائیں، نیز مساجد کے باہر احتجاجی مظاہروں کا بھی انعقاد کریں۔
چنانچہ ۲؍ نومبر بروز جمعۃ المبارک کو کراچی شہر کی درجنوں مساجد کے باہر احتجاجی مظاہرے ہوئے، جس کی تفصیل مندرج ہے:
’’گستاخ رسول آسیہ ملعونہ کی رہائی کے خلاف عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی اپیل پر ۲؍ نومبر نماز جمعہ کے بعد یوسف گوٹھ بس ٹرمینل، اتحاد ٹاؤن مفتی محمود چوک، بسم اللہ چوک نئی آبادی، چاندنی چوک، بلدیہ ٹاؤن نمبر ۷ اورنگی ٹاؤن، جامعہ رحمانیہ بنارس، قلندریہ چوک، ناگن چورنگی، جامعہ اسلامیہ کلفٹن، شمیم مسجد، اقصیٰ مسجد اور دہلی کالونی، عائشہ باوانی مسجد بزرٹہ لائن، مدینہ مسجد، محمدی مسجد کلفٹن، برنس روڈ، پٹیل پاڑہ، بنوری ٹاؤن گرومندر، پرانی نمائش چورنگی، ہجرت کالونی، صدر ٹاؤن، پاکستان چوک، گرین ٹاؤن شاہ فیصل کالونی، لانڈھی ٹاؤن اور بھینس کالونی ملیر سمیت شہر کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے جن میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے امیر مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ، مرکزی مبلغ مولانا قاضی احسان احمد، جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے استاذ مفتی شکور احمد، مولانا محمد قاسم، مولانا محمد اسحاق مصطفیٰ، مولانا محمد عادل غنی، مولانا محمد شعیب کمال، مولانا محمد رضوان، مولانا محمد کلیم اللہ نعمان، مولانا محمد پراچہ، مولانا مسعود لغاری، مولانا ظفر، مولانا حمید سعدی، مولانا رمیض شہزاد، مولانا احمد حنظلہ جلال پوری، مولانا عبدالرحمٰن، مولانا فیصل، مولانا الیاس، مفتی زعیم قادری، قاری عبدالشکور شاہ، مولانا ربنواز، حافظ عبدالوہاب پشاوری، مولانا علی معاویہ، حافظ محمد شاہ رخ، محمد فیضان، فاروق سیّد اور بھائی آفتاب نے خطاب کیا۔
مقررین نے کہا کہ ناموس رسالت ہر مسلمان کے نزدیک حساس ترین مسئلہ ہے، کوئی مسلمان گستاخ رسول کو برداشت نہیں کر سکتا اور ناموس رسالت کی خاطر جان و مال کی قربانی دینے کے لئے تیار رہتا ہے۔ آسیہ ملعونہ نے اپنے جرم کا اعتراف کیا ہے، اسے رہا کرنا عدل وانصاف کا خون ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا
مقررین نے مطالبہ کیا کہ ناموس رسالت کا تحفظ یقینی بناتے ہوئے گستاخ رسول کو سزائے موت دی جائے تاکہ آئندہ کسی کو مسلمانوں کی دل آزاری کرنے کی جرأت نہ ہو اور ملک میں اسلام اور عدل و انصاف کا بول بالا ہو۔ نیز جب تک یہ فیصلہ واپس نہیں لیا جاتا، ہمارا احتجاج جاری رہے گا۔‘‘
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا اپنی احتجاجی تحریک میں شروع سے یہ مطالبہ رہا ہے کہ:
- ۱...... سپریم کورٹ کا فیصلہ سراسر عالمی دباؤ کا نتیجہ ہے، لہذا اسے مسترد کرتے ہیں۔ اس پر نظرثانی کی جائے۔
- ۲...... اس پورے معاملہ میں گواہوں کے بیانات کے علاوہ مجرمہ کے اعتراف جرم کو نظر انداز نہ کیا جائے۔
- ۳...... عالمی طاقتیں اس فیصلے سے بہت خوش ہیں اور مزید گستاخوں کی رہائی کا مطالبہ کررہی ہیں، لہذا اس فیصلے کی حیثیت مشکوک ہوچکی ہے۔
- ۴...... آسیہ کا نام ای سی ایل میں ڈال کر اسے بیرون ملک جانے سے روکا جائے۔
- ۵...... ناموس رسالت قانون وجود میں آنے سے اب تک کئی مجرموں پر سزائیں ثابت ہونے کے باوجود اس قانون کا عدم نفاذ
مسلمانوں میں بے چینی پیدا کرتا ہے، جس کی بنا پر وہ قانون کو ہاتھ میں لینے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اس قانون پر عمل درآمد یقینی بنا کر قانون ہاتھ میں لینے کی روایت کو توڑا جائے تا کہ وطن عزیز فتنہ و فساد اور قتل وغارت گری سے محفوظ رہ سکے۔
واضح رہے کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اپنے مطالبات پر عملدرآمد نہ ہونے تک اپنی پر امن احتجاجی تحریک ختم نہیں کرے گی، بلکہ احتجاج کا یہ سلسلہ وسیع تر ہوتا جائے گا۔ لہذا حکومت وقت ہوش کے ناخن لے اور محض وعدوں پر قوم کو نہ ٹرخائے، بلکہ عمل کر دکھائے تا کہ دنیا و آخرت میں سرخرو ہو سکے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۳ تا ۳۰ نومبر ۲۰۱۸ء ص ۵ تا ۷)
اسلامیات اور قادیانی ..... ممبران قومی اسمبلی سے دردمندانہ گزارش
بعض ذرائع اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا کہ مقامی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ سکولوں اور کالجوں میں اسلامیات کا مضمون غیر مسلم اساتذہ پڑھائیں گے۔
حکومت کے اس غیر آئینی اور غیر قانونی فیصلہ سے مسلمانوں میں بے حد رنج و غصہ کی کیفیت ہے۔ قادیانیوں کو ان کے کفریہ عقائد کی بنیاد پر ملک کی منتخب پارلیمنٹ نے ۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کو متفقہ طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ غیر مسلم اقلیت ہونے کے باوجود قادیانی اپنی عبادت گاہ کو مسجد، مرزا قادیانی کو محمد رسول اللہ، مرزا قادیانی کی بیوی کو ام المومنین ، مرزا قادیانی کے دوستوں کو صحابی، قادیان کو مکہ، ربوہ کو ’’مدینہ‘‘، مرزا کی باتوں کو ’’حدیث‘‘ اور اس پر نازل ہونے والی نام نہاد وحی کو ’’قرآن مجید‘‘ کہتے ہیں۔ چنانچہ ۲۶؍ اپریل ۱۹۸۴ء میں قادیانیوں پر خود کو مسلمان کہنے، اپنے مذہب کو اسلام کہنے، اپنے مذہب کی تبلیغ کرنے اور شعائر اسلامی استعمال کرنے پر سختی سے پابندی عائد کر دی گئی۔ اس سلسلہ میں تعزیرات پاکستان میں ایک نئی دفعہ ۲۹۸/بی اور ۲۹۸/سی بھی شامل کی گئی۔ جس میں مذکورہ بالا پابندیوں کی خلاف ورزی پر قادیانیوں کو قید و جرمانہ کا ذکر ہے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے تاریخی فیصلہ (ظہیر الدین بنام سرکار page.1718 scmr 1993) میں قرار دیا ہے کہ قادیانی اپنے عقائد کے لحاظ سے ’’سلمان رشدی‘‘ کی طرح ہیں۔ مزید کہا کہ جب قادیانی اسلامی شعائر استعمال کرتے ہیں تو اعلانیہ طور پر حضور نبی کریم ﷺ کی توہین کرتے ہیں، جس سے مسلمانوں کا مشتعل ہونا اور طیش میں آنا فطری امر ہے۔ پاکستان کی اعلیٰ عدالتیں یہ
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا قرار دے چکی ہیں کہ قادیانی جب بھی لفظ ”محمد“ لکھتے یا بولتے ہیں تو اس سے مراد ”مرزا غلام احمد قادیانی“ بھی لیتے ہیں۔ عدالتوں نے یہ بھی قرار دیا کہ اگر کوئی قادیانی کلمہ طیبہ پڑھے یا لکھے تو اس کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۵-سی کے تحت مقدمہ درج ہوگا، جس کی سزا سزائے موت ہے۔ قادیانی آئین میں دی گئی اپنی آئینی حیثیت کو نہیں مانتے۔ نہ قانون کو اور نہ ہی سپریم کورٹ کے فیصلوں کو تسلیم کرتے ہیں۔ جب کہ پنجاب اسمبلی میں یہ قرارداد بھی پاس ہو چکی ہے کہ کوئی قادیانی اسلامیات نہیں پڑھا سکتا اور اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی اپنے فیصلہ میں یہی بات تحریر کی ہے کہ کوئی غیر مسلم اسلامیات نہیں پڑھا سکتا۔
ان حقائق کی روشنی میں آپ آسانی سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جب کوئی قادیانی کسی سکول و کالج میں مسلمان طلباء کو اسلامیات پڑھائے گا تو اس کے کیا نتائج برآمد ہوں گے؟ یہی معاملہ دیگر غیر مسلم اقلیتوں بالخصوص عیسائیوں اور ہندوؤں کا ہے۔ کوئی عیسائی اور ہندو قرآن مجید کی مقدس آیات، ان کا ترجمہ، ان کی تفسیر، حضور نبی کریم ﷺ کی احادیث مبارکہ کی تشریح کن افکار و تعلیمات کی روشنی میں کرے گا؟
ہم دیانت داری سے سمجھتے ہیں کہ اگر حکومت نے زبردستی یہ فیصلہ مسلط کرنے کی کوشش کی تو اس سے پورے ملک میں لاء اینڈ آرڈر کی سنگین صورتحال پیدا ہوگی۔ لہٰذا ممبران قومی اسمبلی سے دردمندانہ گزارش ہے کہ دین اسلام کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں اس سنگین مسئلہ کو حل کرنے کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔ اللہ تعالیٰ آپ کا حامی و ناصر ہو۔ آمین!
آسیہ مسیح کی رہائی پر مولانا فضل الرحمٰن صاحب نے پہلا ملین مارچ کراچی میں منعقد کیا۔ دوسرا ۱۵؍ نومبر ۲۰۱۸ء کو لاہور میں تھا۔ اس سے ایک روز قبل منصورہ میں آل پارٹیز کانفرنس تھی، جس کا اعلامیہ یہ ہے:
مشترکہ اعلامیہ ...... آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت ﷺ کانفرنس
(۱۲؍ نومبر ۲۰۱۸ء، منصورہ لاہور) آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس میں شامل تمام دینی و قومی جماعتوں کے قائدین تنظیمات مدارس اور مختلف طبقات زندگی کے نمائندگان اور نامور علمائے کرام و مشائخ عظام، موجودہ حکومت کے غیر ملکی ایجنڈے پر عمل درآمد کرتے ہوئے اساس پاکستان کے منافی غیر اسلامی اقدامات کی پرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ مدینہ منورہ کی اسلامی ریاست کے ماڈل کو اپنا ہدف اور منزل قرار دینے کے بعد حکومت وہ تمام اقدامات کر رہی ہے جو اسلامیان پاکستان اور عاشقان مصطفیٰ ﷺ کی دل آزاری اور دشمنان اسلام کی خوشنودی کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ ایسے عالم میں کہ یورپین یونین کی عدالت کے مسیحی ججوں نے فیصلہ دیا ہے کہ آزادیٔ اظہار کی آڑ میں توہین رسالت کی قطعاً اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی عدالت عظمیٰ کے مسلمان ججوں نے چند کمزور بنیادوں پر اہانت رسول ﷺ کی مجرمہ کی برأت کا فیصلہ دیا ہے۔ جس سے مسلمانان پاکستان کے دل دکھی اور زخمی ہیں۔ عالمی دباؤ کی بدترین مثال یہ ہے کہ یورپین یونین کی ویب سائٹ پر اس فیصلہ سے بہت پہلے یہ موجود تھا کہ پاکستان کے ساتھ تجارتی معاہدے آسیہ کیس کے فیصلہ کے ساتھ مشروط ہوں گے۔ فیصلہ کے بعد امریکہ، برطانیہ، یورپین یونین وغیرہ کی طرف سے جس طرح اس فیصلہ کا والہانہ اور فوری خیرمقدم کیا گیا ہے، اس ہی سے واضح ہے کہ جمہوریت کے یہ نام نہاد دعوے دار ممالک اور عالمی ادارے اسلام دشمنی میں ہر حد پار کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
عاشقان مصطفیٰ ﷺ کی دل آزاری اور ان کے زخموں پر نمک پاشی کی یہ بدترین مثال ہے کہ ۳۱؍ اکتوبر ۱۹۲۹ء کو عاشق رسول غازی علم الدین شہید کو سزائے موت دی گئی تھی۔ جب کہ اہانت رسول کی مجرمہ کی رہائی کے لئے دانستہ ۳۱؍ اکتوبر ۲۰۱۸ء کی ہی تاریخ منتخب کی گئی۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ میں ناموس رسالت ﷺ کے قوانین کو یکسر نظر انداز کر کے کمزور وجوہات کو اہمیت دی گئی ہے۔ گویا کہ عالمی دباؤ پر اور مغربی قوتوں کو خوش کرنے کے لئے کمزور وجوہات تلاش کی گئی ہیں۔ اجلاس عاشقان مصطفیٰ ﷺ کی طرف سے فوری ردعمل کے طور
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پر سڑکوں پر نکل آنے اور متحدہ مجلس عمل و دیگر جماعتوں کی طرف سے ملین مارچ اور ناموس رسالت ریلیوں کی تحسین کرتا ہے۔ عوام کی طرف سے یہ ردعمل عشق رسالت ﷺ کے جذبے کی ایک قابل قدر مثال ہے۔
- ۞ ...... اجلاس وزیر اعظم پاکستان کی طرف سے عاشقان مصطفیٰ ﷺ کو ایک مختصر ٹولہ کہہ کر تضحیک اڑانے کی مذمت کرتا ہے اور وزیر اعظم پر واضح کرتا ہے کہ پاکستان کا بچہ بچہ عشق رسالت ﷺ پر کٹ مرنے کے لئے تیار ہے اور وہ ریاستی طاقت کے گھمنڈ میں مبتلا ہو کر دھمکیاں دینے کا سلسلہ بند کر دیں۔ یقیناً ان کی اس تقریر نے جلتی پر تیل ڈالنے کا کام کیا ہے۔
- ۞ ...... اجلاس اسرائیل کو تسلیم کرنے کی حکومتی بے تابی، حکومتی رکن اسمبلی کی طرف سے پارلیمنٹ میں یہودیوں کے حق میں تقریر اور قرآن پاک کی غلط تشریح نبی کریم ﷺ کی نعوذ باللہ اہانت پر مبنی دلائل، اسی طرح اسرائیلی جہاز کی اسلام آباد آمد کی خبروں پر حکومت کی طرف سے واضح اور دو ٹوک تردید وضاحت سے پہلو تہی پر شدید تشویش کا اظہار کرتا ہے۔
- ۞ ...... اجلاس نامور عالم دین، معروف دینی رہنما اور اتحاد امت کے داعی و نقیب مولانا سمیع الحق کی شہادت پر گہرے رنج وغم کا اظہار کرتا ہے اور ان کی بلندی درجات کے لئے دعاء کرتا ہے۔ ان کے قتل کی واردات کا آپ ﷺ کی ناموس پر ایمان افروز تقریر کے فوری بعد ہونا بھی چشم کشا ہے۔ اسی طرح حکومت کی مولانا سمیع الحق شہید کے قاتلوں کی گرفتاری میں ناکامی ہماری قومی زندگی کا ایک المناک سانحہ ہے۔ اجلاس مولانا سمیع الحق شہید کے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کرتا ہے۔
- ۞ ...... اجلاس حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ اہانت رسول ﷺ کی مجرمہ کی بریت کے فیصلہ پر سپریم کورٹ میں نظر ثانی اپیل حکومت خود دائر کرے۔ ہم یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ نظر ثانی اپیل کی سماعت سپریم کورٹ کا فل کورٹ بینچ کرے۔ نیز نظر ثانی کو مؤثر بنانے کے لئے حکومت اسلامی نظریاتی کونسل سمیت تمام مکاتب فکر کے جید علمائے کرام، نامور مفتیان کرام اور ماہرین قوانین اسلامی سے فوری مشاورت کرے۔ اجلاس میں طے کیا گیا کہ اجلاس میں شامل دینی جماعتوں کی طرف سے از خود نامور وکلاء، علمائے کرام، مفتیان عظام کا اجلاس بھی جلد بلایا جائے گا۔
- ۞ ...... اجلاس حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ آسیہ ملعونہ کی بیرون ملک روانگی کی خبروں کی فوری وضاحت کرے۔ نیز اس کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی کارروائی فوری طور پر مکمل کی جائے۔
- ۞ ...... اجلاس وزارت مذہبی امور میں قائم شدہ تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے خاتمے کی بھی مذمت کرتا ہے۔
- ۞ ...... اجلاس یہ بھی مطالبہ کرتا ہے کہ توہین رسالت ﷺ کے ایسے مجرمان جن کی تمام اپیلیں خارج ہوچکی ہیں۔ ان کی سزاؤں پر فی الفور عمل درآمد کیا جائے۔
- ۞ ...... اجلاس ملک کے عدالتی نظام کو اسلام کے مطابق ڈھالنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ ہم یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ نچلی عدالتوں سے لے کر اعلیٰ عدالتوں کے جج حضرات کو اسلامی قانون کی تعلیم وتربیت دی جائے۔ نیز لاء کالجز کے نصاب تعلیم وتربیت کو اسلامی تعلیمات اور تقاضوں کے مطابق تبدیل کیا جائے۔
- ۞ ...... اجلاس واضح کرتا ہے کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی آئینی دفعات اور امتناع قادیانیت اور ناموس رسالت ﷺ کے قوانین سے چھیڑ خانی کی ناپاک جسارت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا اور کسی کو بھی آئین پاکستان کی اسلامی شقوں سے کھیلنے کی قطعاً اجازت نہیں دی جائے گی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ...... اجلاس متنبہ کرتا ہے کہ ماضی میں بھی جس حکومت نے دینی اقدار اور عشق رسالت ﷺ کے جذبات سے ٹکرانے کی جسارت کی
ہے ۔ اسے منہ کی کھانی پڑی ہے اور ان کا اقتدار اللہ کی گرفت میں آیا ہے اور اگر اس حکومت نے بھی غیر ملکی ایجنڈے پر عمل درآمد اور غیر اسلامی اقدامات کی روش بند نہ کی تو اس کا انجام بھی مختلف نہیں ہو سکتا۔ اجلاس میں شامل تمام دینی وقومی جماعتوں نے مشترکہ طور پر تحریک تحفظ ناموس رسالت چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ ایک ملک گیر، ہمہ پہلو بھر پور اور مکمل پر امن تحریک ہوگی۔ اس تحریک کو چلانے کے لئے ایک سٹیئرنگ کمیٹی بھی تشکیل دی جا رہی ہے جو اس تحریک کے مرحلہ وار پروگرام طے کرے گی ۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۱۹ء ص ۲۰ تا ۲۲)
آسیہ مسیح کیس کے عدالتی فیصلے کا تجزیاتی مطالعہ
متعلقہ وقوعے کا مختصر بیان:
مختصر الفاظ میں قصہ یہ ہے کہ تھانہ ننکانہ صاحب کی حدود میں محمد ادریس کا فالسے کا ایک کھیت ہے جس میں خواتین فالسے چننے کا کام کرتی ہیں۔ آسیہ مسیح، معافیہ بی بی اور اسماء بی بی بھی اس کھیت میں کام کرتی ہیں جو کہ دونوں بہنیں بھی ہیں۔ کام کے دوران آسیہ مسیح نے انہیں پانی پلانا چاہا تو انہوں نے ایک عیسائی کے ہاتھوں پانی پینے سے انکار کر دیا۔ جس سے تلخ کلامی ہوئی اور جھگڑے کی فضا بن گئی۔ اب الزام یہ ہے کہ اس تلخ کلامی میں آسیہ مسیح نے حضور نبی کریم ﷺ اور قرآن مجید کی شان میں گستاخی کی ہے۔ دونوں مسلمان بہنوں نے اس گستاخی کی اطلاع مقامی امام قاری سلام کو اور گاؤں کے دیگر افراد کو دی۔ اس کے نتیجے میں سینکڑوں افراد کا اجتماع ہوا۔ جس میں آسیہ مسیح پیش ہوئی اور اس نے عوامی اجتماع میں گستاخی کے الزام کا اقرار کیا۔ اس کے نتیجے میں مقامی تھانے میں ایف آئی آر کاٹی گئی۔ ننکانہ صاحب کی مقامی سیشن کورٹ نے مقدمے کی سماعت کے بعد آسیہ مسیح کو قانون کے مطابق سزائے موت تجویز کی۔ آسیہ مسیح نے ہائی کورٹ میں اپیل کی۔ ہائی کورٹ نے سیشن کورٹ کے موت کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ آسیہ مسیح نے سپریم کورٹ میں اپیل کی۔ سپریم کورٹ نے دونوں ماتحت عدالتوں کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے آسیہ مسیح کو اس الزام سے بری قرار دے دیا۔ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ۵۷ صفحات پر مشتمل ہے کہ جس میں شروع کے ۳۳ صفحات چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے ہیں اور بقیہ کے ۲۴ صفحات جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کے ہیں۔ شروع کے ۱۵ صفحات میں فاضل جج ثاقب نثار نے کتاب وسنت کی روشنی میں توہین رسالت کی سزا موت کی تاکید و تصویب فرمائی ہے کہ اس جرم کی یہی سزا ہے اور یہی ہونی چاہیے۔
آسیہ مسیح کا بیان:
سب سے پہلے اگر ہم ملزمہ آسیہ مسیح کے بیان کا جائزہ لیں تو اس نے اپنے بیان میں اپنا دفاع کچھ یوں کہا ہے کہ اس وقوعے کے عدالتی گواہان جو کہ سات ہیں، آپس میں ملے ہوئے تھے۔ حتیٰ کہ پولیس بھی استغاثہ سے ملی ہوئی تھی۔ لیکن ان سب کے آپس میں ملے ہونے کی جو وجوہات ملزمہ بیان کرتی ہے۔ وہ ناقابل سمجھ ہیں۔ سب سے پہلے تو آسیہ مسیح کا کہنا ہے کہ دونوں بہنوں معافیہ بی بی اور اسماء بی بی نے مجھ پر گستاخی کا الزام اس لئے لگایا کہ: ”کیونکہ ان دونوں کو میرے ساتھ جھگڑے اور سخت الفاظ کے تبادلے کی وجہ سے بے عزتی اور ذلت کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔“ (عدالتی فیصلہ : ص ۲۲) یہ تو معقول وجہ ہو سکتی ہے۔ لیکن اب قاری سلام بھی آسیہ مسیح کے خلاف گواہی کیوں دے رہے ہیں۔ اس کا جواب آسیہ مسیح کے بیان میں کچھ یوں ہے : ”قاری سلام / شکایت گزار بھی مقدمے میں اپنا مفاد رکھتا ہے۔ کیونکہ یہ دونوں خواتین اس کی زوجہ سے قرآن پڑھتی رہی ہیں ۔“ (ص ۲۲) اب قاری صاحب کی بیوی سے قرآن پڑھنا یہ کوئی معقول وجہ ہے کہ قاری صاحب اس
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
معاملے میں ان دوخواتین کے ساتھ ملے ہوئے تھے؟ پھر پولیس کے بارے ان خاتون کا صرف دعویٰ ہے کہ وہ بھی استغاثہ سے ملی ہوئی تھی۔ لیکن پولیس کے ملنے کی کوئی معقول وجہ بیان نہیں کی۔ آسیہ مسیح کے الفاظ ہیں: ”لیکن چونکہ پولیس بھی شکایت گزار سے ملی ہوئی تھی۔ اس لئے پولیس نے مجھے اس مقدمے میں غلط طور پر پھنسایا۔“ (ایضاً: ص۲۲) پھر استغاثہ کے گواہ محمد ادریس کے بارے آسیہ مسیح کا کہنا ہے: ”استغاثہ کا گواہ ادریس بھی ایسا گواہ ہے جو مقدمے میں اپنا مفاد رکھتا ہے۔ کیونکہ اس کا متذکرہ بالا خواتین سے قریبی تعلق ہے۔“ (ایضاً: ص۲۲) ملزمہ کے اس بیان میں ان دو بہنوں کا ادریس سے کیا قریبی تعلق ہے؟ ایک تو یہ واضح نہیں ہے اور دوسرا ادریس کا اس وقوعے سے مفاد کیا ہے؟ اس کا بھی ذکر نہیں ہے۔ بہرحال ملزمہ کے بیان میں اس طرح کی عبارتیں یہ واضح کرتی ہیں کہ یہ ملزمہ کا ایک دعویٰ ہے کہ یہ سب آپس میں ملے ہوئے تھے۔ حتی کہ سرکاری پولیس بھی۔ لیکن اس کے پاس اپنے اس دعوے کی کوئی معقول توجیہہ موجود نہیں ہے۔
چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا فیصلہ:
چیف جسٹس نے اس مقدمہ میں آسیہ بی بی کو باعزت بری کرنے کی ایک بنیادی وجہ یہ بیان کی ہے کہ استغاثہ کے گواہان کے بیانات میں تضاد ہے۔ یہ تضاد انہوں نے دوطرح سے بیان کیا ہے۔ ایک تو ایک ہی گواہ کے مختلف مواقع کے بیانات میں تضاد ہے اور دوسرا دو گواہوں کے باہمی بیانات میں بھی تضاد ہے:
(۱) ایک ہی گواہ کے مختلف مواقع کے بیانات میں تضاد کی حقیقت:
ایک ہی گواہ کے متنوع مواقع پر بیانات میں تضاد بیان کرتے ہوئے چیف جسٹس لکھتے ہیں: ”استغاثہ کے گواہان کے بیان میں بہت سے تضادات اور اختلافات ہیں۔ معافیہ بی بی کے ضابطہ فوجداری کے تحت دیئے گئے بیان اور دوران جرح دیئے گئے بیان میں فرق پایا گیا۔ اپنی جرح کے دوران اس نے بتایا کہ عوامی اجتماع میں تقریباً ہزار سے زائد لوگ موجود تھے۔ لیکن اس کے سابقہ بیان میں یہ نہیں بتایا گیا تھا۔ جرح کے دوران اس نے کہا کہ عوامی اجتماع اس کے والد کے گھر پر ہوا تھا۔ جب کہ یہ بات بھی اس کے سابقہ بیان کا حصہ نہ تھی۔ دوران جرح اس نے بیان دیا کہ بہت سے علماء عوامی اجتماع کا حصہ تھے۔ لیکن یہ بات بھی اس کے سابقہ بیان میں شامل نہ تھی۔“
(ایضاً: ص۲۴)
معلوم نہیں فاضل جج ”بیان میں اضافے“ اور ”بیان میں تضاد“ کے مابین فرق کیوں نہیں کر رہے؟ گواہ کے دونوں بیانات میں فرق صرف اتنا ہے کہ گواہ نے دوسرے بیان میں ایسا اضافہ کیا ہے جو اس کے پہلے بیان سے متضاد نہیں ہے۔ اسے تضاد کیسے کہہ سکتے ہیں؟ البتہ یہ اضافہ ضرور ہے۔ اضافے کا امکان ہر بیان میں موجود رہتا ہے کہ کوئی بات انسان ایک موقع پر بیان کرنا بھول گیا۔ لیکن دوسرے موقع پر اس نے بیان کر دی اور یہ معقول ہے۔ اسی طرح دوسرے گواہ کے بیانات کے باہمی تضاد کو فاضل جج نے یوں بیان کیا ہے: ”اسماء بی بی نے اپنی جرح کے دوران بیان دیا کہ عوامی اجتماع اس کے پڑوسی رانا رزاق کے گھر میں ہوا۔ لیکن اس بات کا ذکر اس کے سابقہ بیان میں نہ تھا۔ جرح کے دوران اس نے کہا کہ عوامی اجتماع میں دو ہزار سے زائد لوگ شریک تھے۔ لیکن اس بات کا تذکرہ اس کے سابقہ بیان میں نہ تھا۔“
(ایضاً: ص۲۴)
اب اس پر غور کریں تو یہ بھی بیان کا تضاد نہیں بلکہ اس میں اضافہ ہے۔ اسی طرح کا اعتراض فاضل جج نے تیسرے گواہ پر بھی کیا ہے۔ فاضل جج لکھتے ہیں: ”قاری محمد سلام نے بھی ایف آئی آر کے اندراج کے لئے دی گئی اپنی درخواست کے حقائق میں رد و بدل کیا۔ قاری محمد سلام نے بیان ابتدائی میں کہا کہ معافیہ بی بی اور اسماء بی بی اس کو وقوعے کی اطلاع دینے کے لئے آئیں تو وہ گاؤں میں موجود تھا
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اور اس وقت محمد افضل اور محمد مختار بھی موجود تھے جب کہ اپنی شکایت میں اس نے بیان کیا کہ معافیہ بی بی اور اسماء بی بی نے اسے اور گاؤں کے دوسرے لوگوں کو وقوعے کی اطلاع دی۔‘‘
(ایضاً: ص۲۴)
وہ مزید لکھتے ہیں: ’’اس نے مزید بیان دیا کہ عوامی اجتماع مختار احمد کے گھر پر ہوا۔ لیکن اس بات کا ذکر اس کی شکایت میں نہیں تھا۔‘‘
(ایضاً: ص۲۵)
اب اس تضاد کی حقیقت بھی صرف اتنی ہی ہے کہ یہ اضافہ ہے نہ کہ تضاد۔
(۲) مختلف گواہان کے بیانات میں باہمی تضاد کی حقیقت:
مختلف گواہان کے بیانات کے باہمی تضادات کی بھی کئی ایک مثالیں چیف جسٹس نے بیان کی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ: ’’گواہان نے عوامی اجتماع کے وقت اور دورانیے کے متعلق بھی متضاد بیان دیا۔ ایک گواہ نے کہا کہ جمعہ کے روز بارہ بجے منعقد ہوا اور اس کا دورانیہ پندرہ سے بیس منٹ تک تھا۔ دوسرے نے کہا کہ عوامی اجتماع بارہ بجے دوپہر کو منعقد ہوا اور پندرہ منٹ جاری رہا۔ تیسرے نے بیان دیا کہ گیارہ سے بارہ بجے دوپہر منعقد کیا گیا اور دو سے ڈھائی گھنٹے جاری رہا۔‘‘
(ایضاً: ص۲۷)
جس طرح سے گواہان کے بیانات میں تضاد نکالا جا رہا ہے۔ یہ ہمیں بہت دلچسپ معلوم ہوا۔ ہمارا کہنا یہ ہے کہ اگر ایک گواہ نے کہا کہ اجلاس کا دورانیہ پندرہ سے بیس منٹ تھا۔ دوسرے نے کہا کہ پندرہ منٹ تھا۔ تو یہ تضاد ہو گیا؟ کمال ہے! البتہ کسی قدر اختلافی بیان اس کو کہا جا سکتا ہے کہ یہ اجلاس دو سے ڈھائی گھنٹے جاری رہا ہے۔ اس اختلاف کی منطقی وعقلی توجیہہ بھی ممکن ہے کہ جمع ہونے اور باہمی گفتگو میں دو گھنٹے لگ گئے ہوں۔ لیکن جب لوگ جمع ہو گئے تو اس وقت کے بعد کی باقاعدہ کاروائی میں پندرہ بیس منٹ لگے ہوں۔ پھر تینوں گواہوں کا اتفاق ہے کہ جمعہ کے دن اجلاس ہوا۔ دوپہر کے وقت ہوا، بارہ بجے کے قریب ہوا۔ تو اتنی سخت جرح کے باوجود اس قدر اتفاقات کیا اتفاق سے وجود میں آ گئے؟ اگر یہ دعویٰ کیا جائے کہ گواہوں کا پہلے ہی سے ایک بیان پر اتفاق تھا کہ جس کی وجہ سے دن اور وقت کے بیان میں ان کا اتفاق ہوا تو پھر سوال یہ ہے کہ ان کا اجلاس کے دورانیے کے بیان میں اختلاف کیوں ہوا؟ کیا وہ یہ پہلے طے کرنا بھول گئے تھے۔ جب کہ فاضل جج صاحبان کا کہنا یہ بھی ہے کہ پانچ دن تک سازش تیار ہوتی رہی؟ اگر یہ طے شدہ سازش تھی تو اس کا لازمی نتیجہ تو یہ ہونا چاہئے تھا کہ گواہوں کے بیانات میں اتفاق ہو۔ تا کہ جو انہیں پڑھایا گیا تھا۔ وہ اس کے مطابق اگل دیتے۔ کیونکہ مقدمے کے فیصلے میں یہ بات بھی موجود ہے کہ ایف آئی آر درج کروانے کے لئے اسے لکھنے والے ایک وکیل تھے۔ گویا کہ اس سازش کو شروع ہی سے وکلاء کی سرپرستی حاصل تھی تو پھر اتنے بڑے بلنڈرز گواہان نے کیسے کر لئے؟ ان کا اختلاف تو یہ واضح کرتا ہے کہ یہ فطری طریقے پر گواہی تھی نہ کہ پڑھائی اور سجھائی ہوئی۔ چیف جسٹس کی طرف سے ایک اعتراض یہ کیا گیا کہ عوامی اجتماع میں افراد کی تعداد کے بارے بھی گواہان کا اتفاق نہیں ہے: ’’عوامی اجتماع میں افراد سے متعلق ایک گواہ نے سو افراد کہے۔ دوسرے نے دو سو سے اڑھائی سو۔ تیسرے گواہ نے ہزار۔ چوتھے نے دو ہزار۔‘‘
(ایضاً: ص۲۶)
لیکن فاضل جج یہ ذکر کرنا بھول گئے کہ دو مردوں کی گواہی کا بیان سو سے دو سو افراد کے مابین ہے۔ جب کہ عورتوں کی گواہی کا بیان ہزار سے دو ہزار کا ہے۔ تو اس میں مردوں کی گواہی کو ترجیح دی جا سکتی تھی کہ ان کے عوامی اجتماع میں براہ راست حاضر ہونے اور اجلاس کی کارروائی میں شریک ہونے کے امکانات بالکل واضح ہیں۔ جب کہ دونوں عورتوں کو اس عوامی اجتماع کا علم بالواسطہ ہونے کا امکان زیادہ تھا کہ لوگوں کو ایک جگہ جمع ہوتے گلیوں میں آتے جاتے دیکھ لیا۔ لیکن اجلاس کی کاروائی میں براہ راست شریک نہ تھیں۔ لہٰذا
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ایک اندازہ لگایا جو کہ صحیح نہ تھا۔ پھر کسی جم غفیر کے بارے بالکل صحیح اندازہ لگانا کیسے ممکن ہے؟ خاص طور اس ملک میں جس کے وزیر اعظم صاحب کو پانچ ہزار کے افراد کا جلسہ لاکھوں کا سونامی معلوم ہوتا ہے تو اس ملک کے عوام کو سینکڑوں میں غلطی لگ جانا کوئی بعید از قیاس نہیں ہے۔ پھر فاضل جج اس تضاد سے ثابت کیا کرنا چاہتے ہیں؟ کیا یہ کہ یہ عوامی اجلاس نہیں ہوا تھا؟ اگر یہ بات ہے تو یہ تو خود ملزمہ کے بیان میں موجود ہے کہ عوامی اجلاس ہوا تھا۔ تو اس بے کار کی جرح کا کیا فائدہ ہے۔ سوائے یہ ثابت کرنے کے کہ گواہان جھوٹے ہیں۔ حالانکہ انہیں مکمل طور جھوٹا ماننا خود جج صاحبان کے لئے ممکن نہیں ہے کہ وہ خود اپنے فیصلے میں یہ مان رہے ہیں کہ یہ اجتماعی اجلاس ہوا تھا۔ چیف جسٹس بیان کرتے ہیں: ”ماورائے عدالت اقبال جرم بھی آزاد نہ تھا۔ بلکہ زبردستی اور دباؤ کے تحت حاصل کیا گیا تھا۔ کیونکہ شکایت گزار نے اپیل گزار کو زبردستی عوامی مجمع کے سامنے کھڑا کیا جو کہ اسے مارنے کے درپے تھا۔“
(ایضاً: ص ۱۹)
ایک اور جگہ چیف جسٹس لکھتے ہیں: ”زیر نظر مقدمے میں اپیل گزار کو سینکڑوں لوگوں کے مجمع میں لایا گیا۔ وہ اس وقت تنہا تھی۔ صورتحال ہیجان انگیز تھی اور ماحول خطرناک تھا۔ اپیل گزار نے اپنے آپ کو غیر محفوظ اور خوفزدہ پایا اور مبینہ ماورائے عدالت بیان دے دیا۔ گو یہ بیان اپیل گزار کی جانب سے عوامی اجتماع کے روبرو دیا گیا۔ لیکن اس کو رضا کارانہ طور پر دیا گیا بیان تصور نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی اس کو سزا، بطور خاص سزائے موت کی بنیاد گردانا جاسکتا ہے۔“
(ایضاً: ص ۲۹، ۳۰)
تو جب آپ مان رہے ہیں کہ اجتماعی اجلاس ہوا ہے تو اس اجتماعی اجلاس کے بارے گواہان کے بیانات پر یہ اعتراضات کہ وہ ایک اجلاس کے افراد کی تعداد اور دورانیے کے بارے مختلف بیان دے رہے ہیں، سے کیا ثابت ہوتا ہے؟ اگر تو جج صاحبان یہ ثابت کرنا چاہ رہے ہوں کہ یہ اجتماعی اجلاس ہوا ہی نہیں ہے تو پھر تو بات سمجھ میں آتی ہے۔ لیکن چیف جسٹس ایک طرف تو یہ مان رہے ہیں کہ اجتماعی اجلاس ہوا ہے تو زیادہ سے زیادہ چیف جسٹس کی جرح سے یہ ثابت ہو سکتا ہے کہ گواہان نے کچھ غلط بیانی کی ہے۔ لیکن مکمل جھوٹ نہیں بولا۔ کیونکہ مکمل جھوٹ کا مطلب تو یہی بنتا ہے کہ عوامی اجلاس بھی نہ ہوا تھا۔ اب گواہان نے جو غلط بیانی کی ہے تو وہ کیسے معلوم ہو گا کہ اس جگہ کی ہے اور اس جگہ نہیں کی۔ دیکھیں! ہماری بات بہت معقول ہے کہ چیف جسٹس کا مقدمہ اس وقت مضبوط بنتا، جب کہ وہ گواہان کو مکمل طور جھوٹا قرار دیتے ہوں۔ لیکن جب وہ گواہان کے بیان کو کچھ سچ اور کچھ جھوٹ مان رہے ہیں تو پھر اس کی تمیز کہ یہ گواہان کے بیان میں فاضل جج صاحبان کے نزدیک سچ ہے اور یہ جھوٹ ہے۔ اس کا معیار کیا ہے؟ یہ اس فیصلے میں بالکل بھی واضح نہیں ہے۔ پھر گواہان کا کم از کم بیان یہ ہے کہ سو افراد تھے اور چیف جسٹس نے بھی اپنے فیصلے میں مانا کہ سینکڑوں افراد موجود تھے تو سینکڑوں افراد کی گواہی تو خبر متواتر بن جاتی ہے کہ جس میں لوگوں کا جھوٹ پر جمع ہونا محال ہوتا ہے۔ تو اگر سینکڑوں افراد کا مجمع یہ کہہ رہا ہو کہ یہ ملزمہ کا رضا کارانہ بیان تھا تو پھر چیف جسٹس کے اس دعویٰ کی دلیل کیا ہے کہ: ”صورتحال ہیجان انگیز تھی اور ماحول خطرناک تھا۔ اپیل گزار نے اپنے آپ کو غیر محفوظ اور خوفزدہ پایا اور مبینہ ماورائے عدالت بیان دے دیا۔“
(ص ۲۹، ۳۰)
یہ ساری صورتحال کس نے بیان کی ہے؟ یا اس دعوے کی حیثیت ایک تجزیے کی سی ہے؟ پھر چیف جسٹس کا یہ بھی اعتراض ہے کہ عوامی اجتماع کے مقام کے بارے گواہان کا اختلاف ہے کہ وہ کہاں منعقد ہوا تھا۔ حالانکہ خود اس فیصلے میں موجود ہے کہ عوامی اجتماع کے انعقاد کے بارے دونوں مردوں کا اتفاق ہے کہ مختار احمد کے گھر ہوا۔ ایک عورت نے کہا کہ اس کے والد عبدالستار کے گھر ہوا۔ دوسری نے اپنے پڑوسی رانا رزاق کا نام لیا۔ (ایضاً: ص ۲۶) تو دو عورتوں کا اختلاف معمولی ہے کہ جب لوگ زیادہ ہوں تو قریب کے دو گھروں میں جمع ہو ہی جاتے ہیں۔ اسی طرح اگر تیسرا گھر بھی اسی گلی میں یا محلے میں ہے تو تیسرے گواہ کا اختلاف بھی معمول کا ہے۔ جن لوگوں کو کسی ہجوم میں
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
شمولیت کا موقع ملا ہو تو وہ یہ بات اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں کہ ایسے ہجوم کا عموماً کوئی ٹھکانہ نہیں ہوتا۔ یہاں اجتماع ہوا تو یہاں جمع ہو گئے اور پھر چار لوگوں نے مشورہ دیا کہ وہاں چلتے ہیں تو وہاں چل پڑے تو یہ تضاد کہاں سے ہو گیا؟ البتہ گواہان کے بیانات کا یہ تنوع ایک وقوعے کی مختلف اوقات کی جزوی کڑیوں کی روداد کا بیان ہو سکتا ہے۔ معلوم نہیں فاضل جج کے نزدیک اس مقدمے میں اتنے تضادات نکالنے میں کیا حکمت پوشیدہ تھی کہ انہوں نے پولیس کے ملزمہ کو گرفتار کرنے کے وقوعے میں بھی تضادات نکال دیئے۔ وہ لکھتے ہیں: ”یہاں پر پولیس کو درخواست دینے اور ایف آئی آر کے اندراج کے بارے بھی خاصا تضاد پایا جاتا ہے۔“
(ایضاً: ص ۲۷)
جج صاحب ایک اور جگہ لکھتے ہیں: ”ملزمہ کی گرفتاری سے متعلق کچھ تضاد محمد ارشد سب انسپکٹر کے بیان میں پایا جاتا ہے کہ اس نے ملزمہ کو دو ساتھی خواتین کانسٹیبل کی مدد سے جوڈیشل مجسٹریٹ کی موجودگی میں گرفتار کیا۔ جرح کے بیان میں اس نے کہا کہ اس نے ملزمہ کو اس کے گھر دیہات ’اٹاں والی‘ سے شام چار پانچ بجے گرفتار کیا۔ ایک اور موقع پر کہا کہ شام سات بجے اسے اس کے گھر سے گرفتار کیا۔ (ایضاً:ص۲۸)
اب اس تضاد سے کیا ثابت ہوتا ہے کہ ملزمہ کی گرفتاری کا وقوعہ بھی نہیں ہوا؟ یعنی ملزمہ گرفتار ہی نہیں ہوئی۔ کیونکہ پولیس کے بیان میں تضاد ہے؟ تو بھئی اس کا گرفتار ہونا تو ایک حقیقت ہے جس کا انکار ممکن نہیں ہے۔ بھلے پولیس کے بیان میں تضاد ہی کیوں نہ ہو۔ اس سے تو یہ ثابت ہو رہا ہے کہ بیان میں تضاد کا نتیجہ یہ نکالنا کہ وقوعہ ہوا ہی نہیں ہے۔ بالکل بھی درست نہیں ہے۔ دوسرا یہ کہ پولیس کی ملی بھگت اور سازش سے یہ سب ہوا ہے تو اس پر فاضل جج صاحبان کو ان پولیس والوں کو معطل کرنے کی تجویز کا فیصلہ بھی کم از کم جاری کرنا چاہئے تھا۔ پھر یہ کہ پولیس والوں کو ایک مسیحی عورت کو پھانسی کے پھندے پر چڑھانے میں کیا مفاد اور دلچسپی تھی۔ یہ اس فیصلے میں موجود نہیں ہے۔ پھر چیف جسٹس کا ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ فالسے کے کھیت میں جو دیگر خواتین موجود تھیں۔ پچیس تیس وہ استغاثہ کے حق میں گواہ کے طور پیش نہ ہوئیں: ”اس امر کا بیان کرنا بھی ضروری ہے کہ مذکورہ خواتین استغاثہ کے موقف کی تائید کے لئے عدالت میں پیش نہیں ہوئیں۔“
(ایضاً: ص ۲۱)
لیکن یہاں سوال یہ بھی ہے کہ کیا وہ بقیہ خواتین ملزمہ کے حق میں گواہ کے طور پیش ہوئیں؟ تو اس کی وجہ صاف ظاہر ہے کہ ہمارے ملک کا جو عدالتی نظام ہے کہ جس میں ایک انسان دوران جرح جس طرح سے خوار ہو جاتا ہے تو لوگ عام طور اس میں بطور گواہ پیش ہونے سے بچتے ہی ہیں۔ اس کی ایک معقول وجہ تو یہ ہو سکتی ہے۔ لیکن دوسری معقول وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ یہ جھگڑا دو بہنوں اور آسیہ مسیح کے مابین ہوا اور توہین آمیز جملوں کا تبادلہ بھی انہی کے مابین ہوا۔ لیکن جب بات توہین تک پہنچی تو خوب شور شرابے سے دیگر خواتین بھی جمع ہو گئیں جو کہ براہ راست ان توہین آمیز جملوں کی سامع نہ تھیں۔ لہٰذا انہوں نے احتیاط کے پیش نظر گواہی سے اجتناب کیا۔
(۳) خود چیف جسٹس کے بیان میں تضاد:
جائے وقوعہ پر کتنی خواتین موجود تھیں؟ اس بارے ایک جگہ چیف جسٹس لکھتے ہیں: ”جب توہین کے الفاظ کہے گئے تو وہاں ۲۵ سے ۳۶ خواتین موجود تھیں۔ جب کہ سوائے معافیہ بی بی اور اسماء بی بی کسی نے معاملے کی اطلاع نہ دی۔“
(ایضاً: ص ۲۱)
اسی بارے چیف جسٹس ایک اور جگہ فیصلے میں لکھتے ہیں: ”جائے وقوعہ پر ۲۵، ۳۰ خواتین موجود تھیں۔ لیکن حیران کن طور پر کسی نے بھی ماسوائے یاسمین بی بی استغاثہ کے الزام کی توثیق نہ کی۔“
(ایضاً: ص ۳۱)
اب ان دونوں عبارتوں میں یہ الفاظ چیف جسٹس کے اپنے ہیں۔ آپ فیصلے کا سیاق و سباق دیکھ لیں۔ یہاں یہ سوال تو بنتا ہے ناں کہ ایک ملک کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس خود ہی، ایک ہی فیصلے میں، ایک ہی بیان میں، جب ایسی متضاد باتیں کر گئے کہ انہیں پچیس تیس اور پچیس چھتیس کا فرق معلوم نہ ہو سکا تو وہ کس بنیاد پر ان نا خواندہ دیہاتی گواہان پر اعتراض کر رہے ہیں کہ وہ مجمع کے افراد کی صحیح تعداد
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نہ بتلاسکے۔ پھر چیف جسٹس کی طرف سے ایک اعتراض یہ کیا گیا کہ : ایف آئی آر پانچ دن دیر سے درج کی گئی کہ جس سے شبہ ہوتا ہے کہ درمیان میں سازش ہوئی ہے۔ حالانکہ اس بارے خود استغاثہ کی طرف سے معقول وضاحت موجود ہے کہ ایف آئی آر درج کروانے میں پانچ دن کیوں لگائے گئے۔
عدالتی فیصلے میں موجود ہے کہ : ’’ایف آئی آر کی ڈائری میں پانچ روز کی تاخیر سے متعلق جو وضاحت عدالت کو دی گئی۔ اس کے مطابق یہ تاخیر معاملے کی نزاکت اور اہمیت کی وجہ سے تھی۔ چونکہ لگائے گئے الزامات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے تھے جس کے بارے شکایت گزار نے پہلے خود تصدیق کی اور حالات کا جائزہ لینے کے بعد معاملے کو پولیس کے سپرد کیا ۔‘‘
(ایضاً: ص۲۰)
ایف آئی آر میں تاخیر کی یہ ایک معقول وجہ تھی۔ اس معقول وجہ کے ساتھ ہی یہ اعتراض بھی رفع ہو جاتا ہے۔ لیکن بہرحال ایف آئی آر کے دیر سے درج ہونے کے بارے خود چیف جسٹس کے الفاظ اس فیصلے میں یوں موجود ہیں: ’’ایف آئی آر کے اندراج میں ہونے والی تاخیر تمام مقدمات میں مہلک نہیں ہوتی۔ کیونکہ یہ مصدقہ اور قابل اعتبار آنکھوں دیکھی اور واقعاتی شہادت کو ساکت یا ضائع نہیں کرتی۔ مذکورہ دلیل سے کوئی اختلاف نہ ہے۔‘‘
(ایضاً: ص۲۳)
جب چیف جسٹس کو اس دلیل سے کوئی اختلاف نہیں ہے کہ بعض کیسز میں ایف آئی آر دیر سے درج ہونے میں حرج نہیں ہے تو پھر آگے چل کر یہ کیوں کہہ رہے ہیں: ’’پس ایف آئی آر کا کردار انتہائی مرکزی ہوتا ہے۔ اگر ایف آئی آر کے اندراج اور تفتیش کے شروع ہونے میں تاخیر ہوتی ہے تو یہ شک کو جنم دیتی ہے جس کا فائدہ بلاشبہ ملزم کے سوا کسی اور کو نہیں دیا جاسکتا۔‘‘
(ایضاً: ص۲۳)
پھر فاضل جج کے یہ الفاظ قابل غور ہیں : ’’عدالت عالیہ میں ملزمہ کی طرف سے اپیل گیارہ روز بعد دائر کی گئی ۔ لہٰذا اس بنا پر خارج تصور کی گئی۔ مزید یہ کہ معاملے میں ایک خاتون کی زندگی اور موت کا سوال ہے۔ اس لئے (عدالتی فیصلے کے خلاف ) اپیل کو صرف قانون کی موشگافیوں کی بنیاد پر فارغ نہیں کیا جاسکتا۔‘‘
(ایضاً: ص۱۹)
یہاں ایک ’’خاتون‘‘ کا لفظ بہت ہی قابل غور ہے۔ کیا مرد انسان نہیں ہے؟ کیا ’’انسان‘‘ کا لفظ یہاں استعمال نہیں کیا جاسکتا تھا؟
جج آصف سعید خان کھوسہ کا فیصلہ:
چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے اپنے فیصلے میں اس الزام کا ذکر نہیں کیا جو کہ ملزمہ پر لگایا گیا تھا۔ لیکن فاضل جج آصف سعید کھوسہ نے اس الزام کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے: ’’الزام یہ تھا کہ اپیل گزار نے یہ بیان دیا کہ اس نے کچھ ایسی باتیں کہیں جیسے (نعوذ باللہ ) حضرت محمد ﷺ اپنی وفات سے قبل شدید علیل ہو کر بستر سے لگ گئے تھے اور آپ کے دہن مبارک اور کان مبارک میں کیڑے پیدا ہوگئے تھے۔ آپ نے حضرت خدیجہ سے نکاح ان کی دولت کے حصول کے لئے کیا تھا اور دولت حاصل کر کے آپ نے انہیں چھوڑ دیا تھا۔‘‘
(ایضاً: ص۳۴)
ایک اور جگہ لکھتے ہیں: ’’یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ اسی موقع پر ہی اپیل گزار نے یہ الفاظ کہے کہ قرآن کریم خدا کی الہامی کتاب نہ ہے۔ بلکہ خود ساختہ کتاب ہے۔‘‘
(ایضاً: ص۳۴)
اب دونوں فاضل جج صاحبان کے فیصلوں میں تضاد ہے۔ لہٰذا فیصلہ کالعدم ہے۔ یہ وہ منطق ہے جو اس پورے عدالتی فیصلے میں چیف جسٹس نے گواہان کے بیانات کے خلاف استعمال کی ہے۔ اب اگر فاضل جج صاحبان یہ کہیں کہ ہمارے فیصلے میں تضاد کہاں ہے۔ تو اس کے لئے ہمارے پاس یہی جواب ہے کہ جو تضاد انہوں نے گواہان کے بیانات میں ڈھونڈ نکالا ہے۔ ان کے فیصلوں کا تضاد بھی اسی نسل سے
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تعلق رکھتا ہے۔ پھر یہ بھی کہ ایک مسلمان، خاص طور دیہاتی مسلمان کی نفسیات، سے بہت زیادہ بعید از قیاس ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے بارے ایسے الفاظ اختراع کر سکے کہ معاذ اللہ : ” آپ کے دہن مبارک اور کان مبارک میں کیڑے پیدا ہو گئے تھے۔“ ایک مسلمان کے ذہن میں یہ سوچ آنا بھی ممکن نہیں ہے۔ چہ جائیکہ وہ ان کو بطور الزام زبان پر لے آئے۔ البتہ یہ امکان موجود ہے کہ وہ یہ الفاظ بطور خبر نقل کر دے۔
فاضل جج کھوسہ صاحب کے فیصلے میں یہ بھی موجود ہے کہ: ”ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا ہے کہ اپیل گزار عیسائی مذہب کی مبلغہ تھی جو اس مقدمے کا محرک بنا۔“
(ایضاً: ص ۳۶)
یہ بھی بہت اہم نقطہ ہے۔ استشراق (orientalism) کا ایک طالب علم ہونے کے نتیجے میں ہمارے علم میں ہے کہ عیسائی دنیا پچھلی کئی صدیوں سے پیغمبر اسلام ﷺ کی توہین کے لئے ایسے الفاظ استعمال کرتی چلی آ رہی ہے۔ جن کا اوپر ذکر ہوا ہے اور عام عیسائیوں کو ان کے پادریوں کی طرف سے پیغمبر اسلام کے بارے باقاعدہ ایسے تصورات کی تعلیم دی جاتی ہے تو یہ بھی معمول کی بات ہے۔ مزید تفصیل کے لئے ہماری کتاب ”اسلام اور مستشرقین“ کا مطالعہ مفید رہے گا۔ لہٰذا فاضل عدالت کے لئے یہ معلوم کرنا مشکل نہ تھا کہ آسیہ مسیح عیسائی مبلغہ تھی یا نہیں؟ اگر مبلغہ تھی تو اس سے ایسے جملوں کے صادر ہونے کے امکانات کافی زیادہ تھے۔ پھر یہ بات دونوں ججوں نے کہی ہے کہ آسیہ مسیح نے ” ضابطہ فوجداری کے تحت بر حلف بیان ریکارڈ کروانے کو نہیں چنا اور اپنے دفاع میں کوئی شہادت نہیں پیش کی۔“
(ایضاً: ص ۴۰)
تو یہ بھی اس شبہ کو قوی کرتا ہے کہ ملزمہ کے پاس نہ تو اپنی صفائی میں کوئی گواہی موجود ہے اور نہ ہی وہ اپنے بیان میں بائبل پر حلف دینے کو تیار ہے۔ فاضل جج آصف کھوسہ کا بیان یہ بھی ہے کہ دونوں مسلمان بہنیں معافیہ اور اسماء اور وہ دونوں جھوٹا بیان دے سکتی ہیں۔“
(ایضاً: ص ۴۱)
اب جھوٹا بیان دے سکنا اور جھوٹا بیان دیا ہے۔ دونوں میں بہت فرق ہے۔ اگر فاضل جج کی فائنڈنگ یہ ہے کہ وہ دونوں جھوٹا بیان دے سکتی ہیں تو اس سے یہ کیسے ثابت ہو گیا کہ ان دونوں نے جھوٹا بیان دیا ہے۔ پھر فاضل جج نے یہ بھی لکھا ہے کہ: ”محمد امین بخاری، ایس پی انوسٹی گیشن نے ابتدائی عدالت سماعت کے روبرو جو بیان دیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مبینہ توہین رسالت کا ارتکاب عیسائی اپیل گزار (آسیہ مسیح) نے اپنی مسلمان ساتھی خواتین کے ہاتھوں ، اپنے مذہب کی توہین کروانے اور اپنے مذہبی جذبات مجروح ہونے کے بعد کیا۔ کیونکہ وہ یسوع مسیح پر یقین رکھتی تھی اور حضرت عیسیٰ کی پیرو کار تھی۔“
(ایضاً: ص ۵۳)
اس پر فاضل جج تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ” توہین رسالت ایک سنگین جرم ہے۔ لیکن شکایت کنندہ فریق کی جانب سے اپیل گزار کے مذہب اور مذہبی احساسات کی توہین اور پھر اللہ کے نبی کے نام پر سچ میں جھوٹ کو ملانا بھی توہین رسالت سے کم نہیں ہے۔“
(ایضاً: ص ۵۶)
فاضل جج مزید لکھتے ہیں: ”اس تناظر میں اپیل گزار کے مذہب کی مسلمان ساتھی خواتین کی جانب سے توہین بھی مذہب کی توہین سے کم نہ ہے۔
(ایضاً: ص ۵۳)
وہ مزید لکھتے ہیں: ”آسیہ مسیح کی مسلمان ساتھیوں نے اپیل گزار کے مذہب جس کی وہ پیروی کرتی ہیں اور معبود پر اس یقین کی، توہین کرتے ہوئے، اللہ تبارک تعالیٰ کے احکامات کی خلاف ورزی کی۔“
(ایضاً: ص ۵۳)
فاضل جج کی اس بات سے یہ مقدمہ اور قوی ہو جاتا ہے کہ آسیہ مسیح نے ایسے کچھ الفاظ استعمال کئے تھے جو کہ توہین آمیز تھے۔ چاہے اس رد عمل میں کہے تھے کہ اس کے مذہب پر تنقید ہوئی تھی۔ باقی فاضل جج نے جس مہارت سے اسے مسلمان عورتوں کے خلاف توہین کا
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مقدمہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ وہ واقعتاً قابل داد ہے۔ مذکورہ بالا عبارات میں غور کرنے سے واضح طور معلوم ہوتا ہے کہ اس کا امکان ہے کہ مسلمان عورتوں نے اس عیسائی عورت کے مذہب عیسائیت یعنی مروجہ عیسائیت کو جھوٹا مذہب کہا ہو۔ لیکن اس سے توہین رسالت کیسے نکل آئی۔ یعنی مسیح علیہ السلام کی توہین؟ کیونکہ یہ مروجہ عیسائیت تو مسیح علیہ السلام کا لایا ہوا دین ہے نہیں اور یہی قرآن مجید کا بیان ہے۔ اگر توہین رسالت کی بنیاد یہی ہے تو پھر سب سے پہلے تو یہ توہین نعوذ باللہ خود قرآن مجید نے کی ہے جو کہ ناممکن ہے۔ دوسرا امکان یہ ہے کہ مسلمان عورتوں نے یہ کہا ہو کہ حضرت مسیح علیہ السلام اللہ کے بیٹے نہیں ہیں۔ تو اب آسیہ مسیح کا عقیدہ تو یہی ہے۔ تو اس کے عقیدے کے مطابق یہ توہین ہوگئی۔ لیکن امر واقعہ میں یہ توہین نہیں ہے۔ نہ آئینی طور اور نہ ہی شرعی طور۔ فیصلے کی مذکورہ بالا دونوں عبارات میں غور یہ بتلاتا ہے کہ مسلمان عورتوں کی طرف سے اگر توہین ہوئی تھی تو وہ اسی نوعیت کی تھی۔ فاضل جج یہ بھی لکھتے ہیں کہ: ”عربی زبان میں آسیہ لفظ کے معنی گنہگار ہیں۔“
(ایضاً:ص ۵۶)
حالانکہ ”آسیہ“ کی بجائے ”عاصیہ“ کا یہ معنی ہے جو فاضل جج نے یہاں ذکر کیا ہے۔
خلاصہ کلام:
اس پورے فیصلے کے مطالعے کے بعد ہم اس نتیجے تک پہنچے ہیں کہ اس کیس میں آسیہ مسیح کو بالکل بری کر دینا تو یہ کسی طور درست فیصلہ نہیں تھا۔ البتہ یہ کیا جاسکتا ہے کہ اگر گواہان کی گواہی میں اختلاف کی وجہ سے ملزمہ کو شک کی بناء پر کچھ فائدہ دینا تھا تو وہ اس صورت دیا جاسکتا تھا کہ اس سے حد ساقط کر دی جاتی۔ لیکن اسے تعزیری سزا ہونی چاہئے تھی۔ چاہے وہ عمر قید کی صورت میں ہوتی یا قید اور جرمانے دونوں کی صورت میں۔ رہی یہ بات کہ اس نے قید کی صورت میں سزا تو بھگت لی ہے تو عدالت کا فیصلہ یہ کہہ رہا ہے کہ یہ اس کے ساتھ ظلم ہوا ہے۔ اس کی سزا یہ نہیں بنتی تھی جو اس کو دی گئی ہے۔
اب رہا عوام کے کرنے کا کام تو اس بارے ہماری رائے یہی ہے کہ عوام الناس کی املاک کی توڑ پھوڑ اور عوامی مقامات کو بند کرنا مناسب نہیں ہے۔ بلکہ ظلم و زیادتی ہے۔ ہاں پرامن احتجاج مذہبی طبقات کا حق ہے اور انہیں کرنا بھی چاہئے۔ لیکن اپنی ہی عوام کے خلاف نہیں۔ بلکہ ان مقتدر قوتوں کے خلاف جو اس فیصلے کی وجہ بنی ہیں۔ تو ان سڑکوں اور رستوں پر ضرور پرامن دھرنا دینا چاہئے اور بیٹھنا چاہئے کہ جو وزیراعظم، کابینہ کے وزراء، حکومتی مشینری اور عدلیہ کے ججز کے گھروں، کالونیوں اور سرکاری دفاتر کو جاتے ہوں۔ تاکہ اس عدالتی فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے اسے میرٹ پر دیکھا جائے۔ عام لوگوں کے رستے بند کر کے انہیں تکلیف پہنچانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ سوائے اس کے کہ ان کی خاموش حمایت سے بھی محروم ہو جایا جائے۔
فیصلے میں مذکورہ نکات کے تفصیلی جائزے کے بعد درج ذیل قانونی پہلو:
سپریم کورٹ فیصلے میں مذکورہ نکات کے تفصیلی جائزے کے بعد درج ذیل قانونی پہلو جو سامنے آتے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں:
- ۱...... قانونی مسلمہ اصول ہے کہ بیک وقت تحقیق و تفتیش اور اس کا فیصلہ ایک ہی شخص نہیں کرسکتا۔ بلکہ یہ قانون کے دو علیحدہ شعبے ہیں اور
دونوں کو علیحدہ ہی رکھنا چاہئے۔
- ۲...... اپیل کا اصول ہے کہ اس میں واقعات کی بجائے قانونی پہلو پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے۔ واقعات کی تفتیش پولیس کی ذمہ داری ہے۔
پھر سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ نے بھی اس پر اپنا تفصیلی موقف دے دیا ہے۔ یہاں جج حضرات اپیل میں اٹھائے گئے نکات سے تجاوز کرتے ہوئے ابھی تک واقعات کی تفتیش کر کے ان دونوں اصولوں کو نظر انداز کر رہے ہیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۳...... وقوعہ کی تصدیق میں گواہی پر انحصار کرنا ہوتا ہے اور جج اپنے ذاتی علم و تجربے کی بنا پر کوئی مؤقف اختیار نہیں کر سکتا۔ جب کہ اس
فیصلہ میں ذاتی رجحان کی بنا پر جج نے آسیہ مسیح کے مطالبے کے بغیر ہی اس کو مجبوری کا اعتراف بنالیا جو قانوناً درست نہیں۔
- ۴...... آسیہ مسیح نے مجمع میں اعتراف کے علاوہ ایس پی سید امین بخاری ، سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ کے سامنے بھی علیحدگی میں اعتراف
کیا تھا جس کو اس نے اپنی رپورٹ میں درج کیا ہے۔ اس کو تو جبر قرار نہیں دیا جاسکتا۔
- ۵...... پہلے سے فیصلہ دے چکنے والا جج غیر جانبدار نہیں ہوتا۔ چنانچہ جسٹس آصف کھوسہ کا ممتاز قادری کا فیصلہ موت کر دینا۔ اس کی اس
فیصلے میں شرکت کو غیر قانونی بنا دیتا ہے۔
- ۶...... جرم کو ثابت کرنا استغاثہ کا کام ہے اور اس میں کسی رعایت کو لینے کے لئے گنجائش کا ثبوت مدعاعلیہ کے ذمے ہے۔ چنانچہ استغاثہ
نے جرم توہین ثابت کر دیا۔ لیکن آسیہ مسیح نے جھگڑے کو اس کی بنیاد پر ثابت کرنا تھا۔ اس رعایت کے لئے مجرمہ نے نہ تو خود حلف لیا اور نہ ہی کوئی عینی گواہی پیش کی۔ اس کا بار بھی استغاثہ پر ڈال دینا سنگین قانونی سقم ہے۔
- ۷...... جسٹس ثاقب نثار کا خود مئی ۲۰۱۸ء میں اس کیس کو سماعت کے لئے طلب کرنا پرامید رہنے کی نوید سنانا ، عین ۸۹ سال بعد غازی
علم الدین کی شہادت کے دن تک فیصلہ کو مؤخر کرنا اور پھر باضابطہ طور پر اعلان کر کے اسے کلیتاً بری کرنا۔ اس معاملے میں اس کی جانبداری کے کھلے قرائن ہیں۔ عاصمہ جہانگیر کی شان میں قصیدے پڑھنا بھی اسے انہی رجحانات پر عمل پیرا بتاتا ہے۔
- ۸...... جو جج اپنی توہین پر ۱۰ سال کی سزا دینے سے نہیں چوکتے ۔ اپنے نبی ﷺ کی توہین کے وقت ان کے پاس بہانے اور جواز ختم
نہیں ہوتے۔
- ۹...... ججوں نے ثبوت کے لئے ارد گرد کے سارے سوال دہرا دیئے اور ۹ سال گزر جانے کے بعد ان میں معمولی اختلاف کو جو تضاد کی
بجائے تنوع کا اختلاف و اضطراب ہے، ہوا بنا کر پیش کر دیا۔ جب کہ اصل سوال کہ توہین ہوئی یا نہیں؟ اور اعترافی اجتماع ہوا تھا کہ نہیں۔ اس کو سرے سے موضوع بحث ہی نہیں بنایا۔ یہ بھی جانبداری واضح کرتا ہے۔ ۱۰۰ سے زائد افراد کو تو یہ بات سمجھ نہیں آئی۔ پہلی تین عدالتوں کو پتہ بھی نہیں چلا۔ اب وقوعہ کے اتنے سال گزر جانے کے بعد جب کہ بہت سی واقعاتی شہادتیں محو ہو چکیں ایک نیا ہی اضطراب بلکہ بحران ڈال دیا گیا۔
- ۱۰...... آصف کھوسہ کا آسیہ مسیح کو مجرم کی بجائے جرم کا شکار بتانا دراصل غمازی کرتا ہے کہ آسیہ مسیح کی بریت کے بعد مدعایان پر ہاتھ
ڈالا جائے گا۔ جب کہ فیصلہ میں باضابطہ طور پر توہین رسالت کے جھوٹے الزام کو برابر جرم قرار دیتے ہوئے ریاست کو اپنی ذمہ داری انجام دینے کی تلقین کی گئی ہے۔ بریت کے کچھ دنوں بعد ۹ سال قید میں رکھنے کی سزا مدعیان اور ممتاز اہل محلہ کو بھگتنا ہوگی۔ مناسب ہوگا کہ اس سزا میں ایس پی، سیشن جج اور ہائی کورٹ کے جج کو سر فہرست رکھا جائے۔
- ۱۱...... عدالت نے توہین رسالت کے جرم کے لئے جس قدر کڑے ثبوت کا مطالبہ کیا ہے کہ توہین کرنے والا اگر عدالت کے سامنے
توہین کرے۔ تب ہی اس کا اعتبار کیا جائے۔ اگر کسی اور مقام پر پہلے اعتراف موجود ہو تو اس میں ذاتی رجحان پر مبنی شکوک پیدا کر کے ملزم کو بری کر دیا جائے۔ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ اگر برقرار رہتا ہے تو پھر مستقبل میں نہ تو عوام توہین رسالت کے مسئلے پر عدالتوں پر اعتماد کریں گے۔ بلکہ یہ طبقہ قانون کو ہاتھ میں لینے پر مجبور ہوں گے اور اس کی شکایت درج کروانے والے اصل
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مجرم ہوں گے ۔ جیسا کہ جسٹس کھوسہ نے قرار دیا ہے ۔ بلکہ آئندہ کے لئے بھی حسب ماضی اس جرم کی سزا ناممکن ہو جائے گی اور یہ ایک نمائشی قانون کی حیثیت اختیار کر جائے گا ۔ مناسب ہوتا کہ عدالت یہ بھی قرار دیتی کہ آئندہ صرف اسی قتل اور زنا کی سزا دی جائے جو عدالت کے روبرو کیا جائے گا ۔ کیونکہ مجرم اعتراف تو کرتے نہیں اور واقعاتی گواہی میں کئی احتمال پیش کئے جاسکتے ہیں ۔ (ڈاکٹر حافظ محمد زبیر )
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۱۹ء ص ۲۳ تا ۳۴)
کرتار پور کوریڈور اور شورش کاشمیری کی پیش گوئی
جب سے ملعونہ آسیہ کو سپریم کورٹ نے بری کیا ہے، پوری دینی قیادت اور پاکستانی مسلم عوام کرب وابتلاء میں ہے۔ متحدہ مجلس عمل اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے کراچی، لاہور، سکھر اور مظفر گڑھ میں بڑی بڑی تاریخی کانفرنسیں اور تحفظ ناموس رسالت ملین مارچ کئے ہیں ۔ لیکن ابھی تک ہماری حکومت اور سپریم کورٹ اس مسئلہ کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی۔ سکھر کا ملین مارچ جو پانچ چھ کلو میٹر طویل انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر کا منظر پیش کر رہا تھا ۔ اس میں متحدہ مجلس عمل اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے علماء کے بیانات کے علاوہ متحدہ مجلس عمل کے صدر اور جمعیت علماء اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمٰن دامت برکاتہم العالیہ نے بڑا مفصل اور کھل کر بیان کیا ۔ آپ کے خطاب کے اہم نقاط جو راقم الحروف کے الفاظ میں کچھ یوں ہیں :
آپ نے فرمایا: ”آسیہ کا فیصلہ بین الاقوامی دباؤ پر کیا گیا۔ یہ ملک کی اسلامی شناخت کو تبدیل کرنا ہے۔ ملکی جمہوریت مغرب کی لونڈی بن چکی ہے۔ مقتدر قوتیں اس قوم کے صبر وتحمل کا امتحان نہ لیں، ہمارا چیف جسٹس ہسپتالوں میں جاتا ہے، اس گاؤں میں خود کیوں نہیں چلا جاتا جہاں گستاخی ہوئی ہے۔ خود جا کر تحقیق وتفتیش کرلے، جب اسے سیشن کورٹ، ہائی کورٹ اور ایس پی لیول کے افسر کی تحقیق وتفتیش پر اعتماد نہیں، سپریم کورٹ نے آسیہ ملعونہ کا فیصلہ اردو میں لکھا ہے تو سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ کے فیصلوں کا بھی اردو میں ترجمہ کرا کر قوم کے سامنے پیش کریں۔ تاکہ قوم بھی ان فیصلوں کے فرق کو سمجھ سکے۔ ممتاز قادری شہید کے فیصلے پر جب قرآن وسنت کا حوالہ دینے سے روکا گیا تو آسیہ ملعونہ کے فیصلے میں قرآن وسنت کے حوالے پیش کرنے کی کیا ضرورت پیش آگئی؟ یہ کیسا فیصلہ ہے کہ دنیائے کفر اس پر مطمئن اور خوشیاں منا رہی ہے اور عالم اسلام اس پر مضطرب اور کرب وابتلا میں ہے۔“
خود بیلجیم کی انسانی حقوق کی مرکزی عدالت میں آسٹریا کی ایک خاتون جس نے رسول اللہ کی توہین کی اور حال ہی میں اس کا ایک فیصلہ آیا کہ رسول اللہ کی توہین یہ اظہار رائے کی آزادی کے زمرہ میں نہیں آتا اور اس کی جرمانہ کی سزا برقرار رکھی گئی۔ آسٹریا کی اس خاتون کو جس نے رسول اللہ کی توہین کی وہاں کی عدالت نے اس کو مجرم کہا ، اس کے اوپر کی عدالت نے اس کو مجرم کہا اور پورے بیلجیم کی اور یورپی یونین کے انسانی حقوق کی عدالت نے ان کو مجرم کہا یورپی پارلیمنٹ کو اپنی عدالتوں کے فیصلہ کا بھی لحاظ نہیں ہوا اور پاکستان کی عدالت کے فیصلہ کو سراہ رہے ہیں ۔ پاکستانی قوم احتجاج کرتی ہے تو انہیں کہا جاتا ہے کہ چھوٹا سا طبقہ ہے۔ یہ تو وہی بات ہے جو فرعون نے اس وقت حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کے ماننے والوں کے بارے میں کہی تھی : ان هؤلاء لشرذمة قليلون ۔
کیا وجہ ہے کہ اس حکومت کے آتے ہی قادیانی نیٹ ورک متحرک اور خوشیاں منا رہا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ اس حکومت کے آتے ہی قادیانیوں کے سربراہ کی سربراہی میں لندن میں جلسہ ہوا اور لندن ہی میں برطانیہ کے وہاں کے ایک منسٹر نے اس میں خطاب کیا، عمران خان کا نام لے کر کہا کہ ہم ان کو واضح یاد دلانا چاہتے ہیں اور وہ جب برطانیہ کبھی آئیں تو دیکھیں گے کہ وہ ان وعدوں پہ پورا اترا ہے یا نہیں
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اترا۔ یہ برطانوی وزیر قادیانیوں کے جلسہ میں کہہ رہا ہے اور وہ اس پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔ پاکستان میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی باتیں شروع ہو گئی ہیں، دلیل یہ دی جاتی ہے کہ عرب حکمرانوں نے ان کو تسلیم کر لیا ہے۔ مولانا نے فرمایا : عرب حکمرانوں نے تسلیم کیا ہے ، عرب عوام نے نہیں۔ اسرائیل کو تسلیم کرنا ایسا ہے جیسے مقبوضہ کشمیر پر بھارت کا حق تسلیم کرنا۔ کشمیریوں کی ستر سالہ جدوجہد آزادی پر پانی پھیرنا ہے۔
دوسری بات یہ کہ کوریڈور کھولا کہاں جا رہا ہے گورداسپور کے لئے اور یہ سڑک کرتار پور سے گزرتے ہوئے قادیان پر جا کے رکتی ہے۔ نام سکھوں کا لے رہے ہو ، راستہ قادیانیوں کو دے رہے ہو اور قادیانی اپنی خوشی کا اظہار کر چکے ہیں کہ اب جب پاکستان میں ربوہ یا انڈیا میں قادیان میں ہمارا جلسہ ہوگا تو ہم آسانی کے ساتھ اس جلسہ میں آجاسکیں گے اور شریک ہوسکیں گے۔ یہ ہیں اصل حقائق ، ہندوستان اور پاکستان کے قادیانیوں کو پاکستان میں کھلے بندوں آنے کے راستے مہیا کرنا اور اس کو نام دینا کوریڈور کا اور فرنٹ پر رکھنا سکھوں کو ، یہ چالیں نہیں چلیں گی ، پاکستان اس طرح نہیں چلنے دیا جائے گا۔‘‘
اس کرتار پور اور سکھ قادیانیت گٹھ جوڑ کے بارہ میں آج سے چوالیس سال پہلے مجلس احرار کے اہم راہنما، سیّد عطاء اللہ شاہ بخاری نور اللہ مرقدہ کے دست راست اور تحریک ختم نبوت کے عظیم سپاہی مولانا شورش کشمیری نور اللہ مرقدہ نے جو کچھ فرمایا تھا وہ من وعن آج سامنے نظر آ رہا ہے اور اس کی شروعات ہوچکی ہیں، پہلے ایک نظر آپ اس تحریر کو ملاحظہ فرمائیں:
’’..... ہندوستان کی خوشنودی کے لئے پاکستان ان کی بندر بانٹ کے منصوبہ میں ہے، وہ اس کو بلقان اور عرب ریاستوں کی طرح چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں منقسم کرنا چاہتی ہیں۔ ان کے سامنے مغربی پاکستان کا بٹوارہ ہے وہ پختونستان، بلوچستان، سندھودیش اور پنجاب کو الگ الگ ریاستیں بنانا چاہتی ہیں، ان کے ذہن میں بعض سیاسی روایتوں کے مطابق کراچی کا مستقبل سنگاپور اور ہانگ کانگ کی طرح ایک خود مختار ریاست کا ہے، خدانخواستہ اس طرح تقسیم ہوگئی تو پنجاب ایک محصور (Sandwitch) صوبہ ہو جائے گا۔ جس طرح مشرقی پاکستان کا غصہ مغربی پاکستان میں صرف پنجاب کے خلاف تھا، اسی طرح پختونستان، بلوچستان اور سندھودیش کو بھی پنجاب سے ناراضی ہوگی ۔ پنجاب تنہا رہ جائے گا تو عالمی طاقتیں سکھوں کو بھڑکا کر مطالبہ کرا دیں گی کہ مغربی پنجاب ان کے گروؤں کا مولد ، مسکن اور مرگھٹ ہے۔ لہٰذا ان کا اس علاقہ پر وہی حق ہے جو یہودیوں کا فلسطین (اسرائیل) پر تھا اور انہیں وطن مل گیا۔ عالمی طاقتوں کے اشارے پر سکھ حملہ آور ہوں گے، اس کا نام شاید پولیس ایکشن ہو، جانبین میں لڑائی ہوگی لیکن عالمی طاقتیں پلان کے مطابق مداخلت کر کے اس طرح لڑائی بند کرا دیں گی کہ پاکستانی پنجاب بھارتی پنجاب سے پیوست ہو کر سکھ احمدی ریاست بن جائے۔ جس کا نقشہ اس طرح ہوگا کہ صوبہ کا صدر سکھ ہوگا تو وزیر اعلیٰ قادیانی۔ اگر وزیر اعلیٰ سکھ ہوگا تو صدر قادیانی۔ اسی غرض سے استعماری طاقتیں قادیانی امت کی کھلم کھلا سر پرستی کر رہی ہیں۔ بعض مستند خبروں کے مطابق سر ظفر اللہ خان لندن میں بھارتی نمائندوں سے پخت و پز کر چکے ہیں۔ قادیانی اس طرح اپنے ’’نبی کا مدینہ‘‘ (قادیان) حاصل کر پائیں گے جو ان کا شروع دن سے مطمح نظر ہے اور سکھ اپنے بانی گرو نانک کے مولد میں آجائیں گے۔ یہی دونوں کے اشتراک کا باعث ہوگا۔ قادیانی عالمی استعمار سے اپنی ریاست کا وعدہ لے چکے ہیں اور اس کے عوض عالمی استعمار کے گماشتہ کی حیثیت سے اسرائیل کی جڑیں مضبوط کرنے کے لئے وہ مسلمانوں کی صف میں رہ کر عرب ریاستوں کی بیخ کنی اور مخبری کے لئے افریقہ کی بعض ریاستوں میں مشن رچا کے بیٹھے ہیں.......‘‘
(تحریک ختم نبوت ص۲۲۴، ۲۲۵)
یہ باتیں بھی پیش نظر رکھیں کہ یہی بھارتی سکھ اور بھارت کا باشندہ نوجوت سنگھ سدھو پاکستان آنے سے پہلے قادیانیوں کے مرکز میں جا کر مرزا غلام احمد قادیانی کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا رہا ہے اور اس کے بعد پاکستان آتا ہے تو کرتار پور بارڈر کھولنے
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کی دہائی دیتا ہے اور تین ماہ نہیں گزرے کہ اس کے مطالبہ کو پورا کر دیا گیا ہے اور مزید ان کو سہولتیں دینے کی باتیں بھی ہورہی ہیں، اس کے بعد ایک اور منظر آتا ہے کہ سکھوں کا ایک پوپ، قادیانیوں کے سربراہ مرزا مسرور احمد قادیانی سے لندن میں ملاقات کرتا ہے اور ان کے عملہ کی تعریف کرتا ہے اور اس کے بعد اس کے ساتھ تصویر بنانے کی خواہش کرتا ہے، مرزا مسرور اس کی خواہش میں اس کے ساتھ تصویر بناتا ہے۔ یہ سب قادیانی اور سکھ گٹھ جوڑ سے پاکستانی عوام کو کیا بتایا جارہا ہے؟
ادھر ہندوستان بھی جو بظاہر پاکستان سے مذاکرات سے مسلسل انکار کر رہا ہے۔ سارک کانفرنس میں شرکت سے گھبراتا ہے۔ لیکن کرتار پور بارڈر کھولنے کے لئے وہ بھی تیار ہو جاتا ہے۔ کہیں یہ امریکا اور مغربی آقاؤں کا دباؤ تو نہیں ہے؟ اگر ایسا ہے تو عوام کو بتایا جائے۔ کیا یہ تمام اقدامات ہمارے ملک کو غیر محفوظ کرنے کی کوشش نہیں ہے اور ان تمام کوششوں میں تیزی آنے سے یہ نہیں محسوس ہوتا کہ ان اکابر نے جو خدشات پیش کئے تھے وہ تمام درست اور صحیح ثابت ہو رہے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو کشمیر کی جدوجہد آزادی، ہماری خودمختاری کے خلاف اور ہماری قوم کی اپنے وطن کی آزادی کے لئے دی گئی قربانیوں کو پامال کرنے کے مترادف نہیں؟
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۹ء ص ۳ تا ۷)
رزڑ ضلع صوابی میں ختم نبوت چوک کی روئیداد
ضلع صوابی تحصیل رزڑ کے مرکزی مقام شیوہ اڈہ چوک میں کچھ عرصہ ختم نبوت کا بورڈ عین چوک میں لگا رہا۔ لیکن بعد میں نامعلوم وجوہ کی بنا پر مذکورہ بورڈ وہاں سے غائب ہوگیا۔ جس کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت تحصیل رزڑ کے ذمہ داران نے فیصلہ کیا کہ اس چوک کا نام حسب قانون ختم نبوت چوک رکھنے کے لئے حکومتی اداروں سے اجازت لی جائے اور مکمل قانونی تقاضے پورے کئے جائیں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے یونین کونسل چکنودہ کے امیر مولوی غنی سید اور مولوی شفیع اللہ نے ضلعی قیادت کی نگرانی میں ایک سال تک شب و روز اپنی کوششیں جاری رکھیں۔ سب سے پہلے شیوہ اڈہ چوک کا نام ختم نبوت چوک رکھنے کے لئے کرنل شیر کلے یونین کونسل سے اجازت لی گئی۔ اگلے مرحلے میں تحصیل رزڑ اور ضلع صوابی کی انتظامیہ سے قانونی کارروائی مکمل کر کے اجازت حاصل کی گئی۔ آخری مرحلے کے طور پر خیبر پختونخوا ہائی ویز اتھارٹی سے بھی مذکورہ چوک کا نام تبدیل کرنے کی اجازت حاصل کی گئی۔ یوں ختم نبوت کے پروانوں کی شبانہ روز کاوشیں رنگ لائیں اور شیوہ اڈہ چوک کا نام سرکاری دستاویزات میں ختم نبوت چوک منظور کر لیا گیا۔ ان کوششوں میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مقامی کارکنان کو تحصیل اور ضلع کے تنظیمی اکابرین خاص کر ضلعی ناظم مفتی عابد وہاب اور پیر طریقت مولانا اعزاز الحق کی مکمل پشت پناہی حاصل رہی۔ شیوہ اڈہ چوک کا نام ختم نبوت چوک رکھنے کی باقاعدہ تقریب افتتاح ۲۴؍ستمبر ۲۰۱۸ء بروز اتوار شیوہ اڈہ چوک میں منعقد کی گئی۔ جس میں پیر طریقت، مولانا اعزاز الحق، مفتی عابد وہاب، مولانا عطاء الحق درویش، مولانا نعیم اللہ، مولانا قاری مشتاق، مولانا فیضان الحق اور راقم الحروف کے علاوہ ختم نبوت کے پروانوں کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی۔ موجودہ حالات میں ختم نبوت کے منکرین پاکستان کے آئین میں ترامیم اور ختم نبوت سے متعلقہ قوانین ختم کرنے کی سازشوں میں لگے ہوئے ہیں۔ اس تناظر میں اس کو محض نام کی تبدیلی نہیں سمجھا جاسکتا۔ بلکہ یہ ایک مزاحمت کا استعارہ ہے کہ ختم نبوت کے پروانے سو نہیں رہے، جاگ رہے ہیں۔ اللہ جل شانہ سے دعاء گو ہوں کہ وہ اسی طرح ہر بڑے، چھوٹے محاذ پر عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۱۹ء ص ۱۶)
ڈاکٹر نذر حیات مجوکہ قادیانی کی دوبارہ واپسی
قارئین لولاک کو یاد ہوگا کہ ڈاکٹر نذر حیات مجوکہ قادیانی کی بھکر میں تعینات کے حوالہ سے ایک رپورٹ شائع کی گئی تھی جو کہ
تحریک ختم نبوت جلد (١٠) ٢٠١٨ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
لولاک صفر ۱۴۴۰ھ ص ۴۲ پر درج ہے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ: ” بھکر میں مجاہدین ختم نبوت کے پر امن احتجاج کے نتیجہ میں ۳۰؍اگست ۲۰۱۸ء کو ڈاکٹر نذر حیات مجوکہ ضلع چھوڑ کر چلا گیا ہے۔ اس کے پاس برطانیہ کی شہریت بھی ہے ۔“ چنانچہ یہ دوہری شہریت کا حامل ڈاکٹر نذر حیات ۳۰؍اگست کو تین ماہ کی چھٹی کا کہہ کر برطانیہ فرار ہو گیا تھا۔ چھٹی ختم ہوئی تو پھر سے چارج لینے کے لئے بھکر ڈپٹی کمشنر کے پاس آیا اور کہا کہ مجھے دوبارہ تعینات کیا جائے۔ مگر ڈپٹی کمشنر بھکر نے صاف کہہ دیا کہ تمہاری تعیناتی پر بھکر ضلع کے حالات خراب ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا بھکر میں تمہیں تعینات ہونے کی میں اجازت نہیں دے سکتا۔ اسے پھر سے بہ حسرت دوبارہ واپس برطانیہ جانا پڑا۔ بندہ خادم ختم نبوت ( دین محمد فریدی ) ڈپٹی کمشنر صاحب سے ملا۔ ان کا شکریہ ادا کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۱۹ء ص ۲۳)
کنری...... قبول حق کا سفر، ۴۳ غیر مسلم دائرہ اسلام میں داخل
کنری (نامہ نگار) دین حق سے متاثر ہو کر ۴۳ غیر مسلم دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے جن میں قادیانی، عیسائی اور درجنوں ہندو خاندان شامل ہیں۔ تفصیلات کے مطابق اسلامی تعلیمات سے متاثر ہو کر سنجر چانگ چیمبر کے قادیانی منور احمد تعلقہ ڈیپلو کے بگو، تعلقہ ڈیپلو ہی کی رانی، تعلقہ پتھورو کے گوند رام لیاقت یونیورسٹی حیدرآباد، حیدرآباد کی کرسچن خاتون شمائلہ، تعلقہ عمرکوٹ کی جنتی، کھپرو کی تارکی تعلقہ کنری، ریشما کولہی سمیت درجنوں غیر مسلموں نے خانقاہ گلزار خلیل سامارو کے سجادہ نشین پیر محمد ایوب جان سرہندی کے ہاتھ پر کلمہ پڑھ کر اسلام قبول کر لیا...... نو مسلموں نے بتایا کہ ان پر کسی کا دباؤ نہیں تھا بلکہ وہ اسلامی تعلیمات سے متاثر ہو کر اپنی رضا و خوشی سے مسلمان ہوئے ہیں۔
(روزنامہ نوائے وقت کراچی ۱۵؍ جنوری ۲۰۱۷ء، ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۳ تا ۳۱؍ جنوری ۲۰۱۸ء ص ۱۵)
لاہور میں قادیانی خاندان حلقہ بگوش اسلام
لاہور قادیانی خاندان نے جناب عرفان محمود برق کے ہاتھ پر قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کر لیا۔ سابق قادیانی اویس احمد بٹ نے کہا کہ میں نے قرآن وحدیث، اسلامی تعلیمات اور ختم نبوت کے لٹریچر کے مطالعہ کے بعد قادیانیت سے تائب ہو کر حضور اکرم ﷺ کی ختم نبوت پر ایمان لاتے ہوئے اپنی اہلیہ فریدہ خانم بٹ اور بچوں دانیال احمد بٹ، سبیلہ سوسن بٹ، فارس احمد بٹ، جلیس احمد بٹ، سمیت بلا جبر واکراہ اسلام قبول کیا ہے۔ جس پر شعبہ تبلیغ محکمہ مذہبی امور اوقاف بادشاہی مسجد لاہور نے ان کے اسلام قبول کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے باضابطہ طور پر قبول اسلام کی سند جاری کر دی۔
(روزنامہ اسلام کراچی ۲۹؍ جنوری ۲۰۱۸ء، ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۶ تا ۲۲؍ فروری ۲۰۱۸ء ص ۲۲)
ٹالہی ......قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کرنے والے خاندان
- ٭...... ۹؍ فروری ۲۰۱۸ کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکز جامع مسجد ختم نبوت ٹالہی ضلع عمرکوٹ سندھ کے گاؤں ۱۷ ارواٹر میں رہائش پذیر
پانچ خاندان کے ۲۳؍ افراد نے قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کر لیا۔ اسلام قبول کرنے والوں میں کھمن ولد مبارک گرگیج، محمد اعظم ولد محمد عیسیٰ گرگیج، نور حسن ولد یعقوب گرگیج، نظام ولد یعقوب گرگیج، ضمیر علی ولد امیر حسن گرگیج اور ان کے بھائی امید علی گرگیج، ان کے اہل خانہ سمیت ان کے بیٹے عبد الکریم، محمد نعیم، عالم حسن، امیر حسن، نجم الدین شامل ہیں۔ جنہوں نے مولانا منظور احمد کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ جمعہ کی ایک بڑی تقریب میں مولانا منظور احمد اور مولانا مختار احمد نے استقامت کی دعاء کی گئی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ☆...... ۲۳؍فروری بروز جمعرات اسی گاؤں میں گرگیج قوم کا ۱۱؍افراد پر مشتمل ایک اور خاندان قادیانیت سے تائب ہو کر مسلمان ہوا۔
ان کو کلمہ پڑھانے کے لئے مولانا مختار احمد کی دعوت پر کراچی سے خصوصی علماء کرام کا ایک وفد تشریف لایا۔ جن میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے امیر مولانا محمد اعجاز مصطفی، مولانا مفتی محمد رفیق بالاکوٹی بنوری ٹاؤن اور بھائی انوار الحسن شاہ شامل تھے۔ جناب محمد یعقوب گرگیج اور ان کے اہل خانہ نے مولانا محمد اعجاز مصطفی کے ہاتھ پر قادیانیت پر لعنت بھیجتے ہوئے اسلام قبول کیا۔ تا دم زیست آقا مدنی ﷺ کے دامن سے وابستگی کا عہد کیا۔ ان تمام مسلمانوں کے لئے استقامت فی الدین کی دعاء کی گئی۔
- ☆...... ۲۰؍فروری ۲۰۱۸ بروز منگل نمازِ مغرب جامعہ عربیہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب میں بخاری شریف کے درس کے دوران محمد حسنین
ولد محمد بوٹا محلہ دارالنصر شرقی موجودہ چناب نگر بھی قادیانیت سے تائب ہو کر دائرہ اسلام میں داخل ہوا۔ اس نے مولانا غلام رسول دین پوری کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ بعد ازاں حدیث کے درس میں شریک رہا۔ اس موقع پر مولانا غلام مصطفیٰ نے نو مسلم کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے اس کے لئے استقامت کی دعاء کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۸ء ص ۵۶)
فیصل آباد میں قادیانی کا قبول اسلام...... بیان حلفی
میں مسمّٰی فیاض احمد ولد محمود احمد قوم انصاری گلی نمبر ۹ بلاک آئی محلہ نعمت آباد تحصیل وضلع فیصل آباد شناختی کارڈ نمبر: 33102-8482177-5 خداوند قدوس کو حاضر وناظر جانتے ہوئے اس بات کا حلفیہ اقرار کرتا ہوں کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے آخری نبی ورسول ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد جو دعویٰ نبوت کرے جیسے مرزا غلام احمد قادیانی ولد غلام مرتضیٰ سکنہ قادیان نے کیا۔ اس کو اور اس کے تمام ماننے والوں کو کذاب، دجال، مرتد، زندیق اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا اور مانتا ہوں۔ میرا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ زندہ آسمانوں پر موجود ہیں وہ قرب قیامت تشریف لائیں گے۔ حضرت امام مہدی علیہ الرضوان کا بھی ظہور ہوگا۔ ان کے علاوہ جس نے بھی مسیح موعود اور مہدی معہود ہونے کا دعویٰ کیا جیسا کہ مرزا غلام قادیانی وغیرہ ان تمام کو جھوٹا مانتا ہوں۔ نیز میں بلا جبر وکراہ با ہوش وحواس مولانا غازی عبدالرشید سیال مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت فیصل آباد کے ہاتھ پر اسلام قبول کرتا ہوں۔ مرزا غلام قادیانی اور اس کے ماننے والوں پر لعنت بھیجتا ہوں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ میرا قبول اسلام میرے لئے مبارک فرمائے۔
گواہان: (۱) محمد فیصل رشید۔ (۲) شیخ عبدالستار۔ (۳) مولانا عبدالرشید سیال۔
نوٹ: حلف نامہ میں نومسلم فیاض احمد ولد محمود احمد سمیت تینوں گواہوں کے دستخط موجود ہیں۔
فیصل آباد میں ایک خاتون کا قبول اسلام...... بیان حلفی
میں مسماۃ ماریہ نصرت بنت رفیق احمد سکنہ چک نمبر: ۱۹۴؍ر،ب چھوٹا لاٹھیاں والا تحصیل جڑانوالہ فیصل آباد شناختی کارڈ نمبر: 33104-4511199-0 خداوند قدوس کو حاضر و ناظر جانتے ہوئے اس بات کا اقرار کرتی ہوں کہ میں میرے آقا ومولا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو غیر مشروط طور پر اللہ پاک کا آخری نبی ورسول مانتی ہوں۔ نیز یہ کہ آپ ﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کرنے والے مرزا غلام قادیانی ولد مرزا مرتضیٰ سکنہ قادیان کو دعویٰ نبوت میں دجال، کذاب، مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج، کافر، جھوٹا اور جہنمی جانتی ہوں۔ نیز میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جسم عنصری کے ساتھ آسمانوں پر زندہ موجود مانتی ہوں۔ وہ قرب قیامت حضور ﷺ کے امتی ہونے کی حیثیت سے آسمانوں سے تشریف لا کر تمام مذاہب باطلہ کا خاتمہ کریں گے۔ نیز میں حلفاً اقرار کرتی ہوں کہ مرزا غلام قادیانی کو نبی یا مذہبی مصلح ماننے والے قادیانی اور
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ۳۹۵ ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
لاہوری گروپ کو دائرہ اسلام سے خارج مانتی ہوں۔ خواہ وہ میرے والدین ہی کیوں نہ ہوں۔ نیز میں بلا جبر و باہوش وحواس اپنے استاذ محترم محمد فیصل رشید اور مبلغ ختم نبوت مولانا عبدالرشید سیال کے ہاتھ پر اسلام قبول کرتی ہوں۔ اللہ عزوجل مجھے استقامت دائمی عطا فرمائے اور کفریہ مذاہب کا مقابلہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ میرے آقا و مولا حضرت محمد ﷺ کا دامن ہمیشہ میرے ساتھ رہے۔ آمین!
گواہان: (۱) محمد فیصل رشید۔ (۲) عمیر حسن۔ (۳) مولانا عبدالرشید سیال۔
نوٹ : حلف نامہ میں نومسلمہ ماریہ نصرت (سابقہ قادیانی مبلغہ جو کہ اب فیصل آباد گلی گلی کوچہ کوچہ حضور ﷺ کی ختم نبوت کا پرچار کر رہی ہے۔) بنت رفیق احمد اور تینوں گواہوں کے دستخط موجود ہیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۸ء ص ۴۵، ۴۶)
سابق قادیانی عکرمہ نجمی کے قبول اسلام کی داستان
اللہ تبارک وتعالیٰ کی قدرت کا نظام ہے کہ جس نے بھی قادیانیت کو تعصب کی عینک لگائے بغیر سمجھنے اور پرکھنے کے لئے پڑھنے کی کوشش کی، تو قادیانیت اور اس کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی کا اصل روپ اور چہرہ کھل کر سامنے آگیا۔ وہ یہ سمجھنے پر مجبور ہو گیا کہ یہ شخص مکار، دروغ گو اور جھوٹا تھا، اس نے اپنی فاسد اغراض کی خاطر یہ سب ڈھونگ رچایا۔ اس لئے تمام قادیانیوں سے ہماری خیر خواہانہ درخواست ہے کہ وہ قادیانیت کو پڑھیں اور اس کو سمجھنے کی کوشش کریں، ان شاء اللہ! جناب عکرمہ نجمی صاحب کی طرح وہ قادیانیت پر دوحرف بھیج کر اسلام قبول کرلیں گے۔ لیجئے! جناب عکرمہ نجمی صاحب کی انصاف پر مبنی تحریر ملاحظہ فرمائیں:
قادیانیوں کے انگلینڈ مرکزی مرکز کے فلسطین سے تعلق رکھنے والے عربی نائب امام اور مؤذن عکرمہ نجمی نے مرزائیت سے توبہ تائب ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ میں دنیا بھر میں اپنے سب احمدی دوستوں کے سامنے یہ اعلان کرتا ہوں کہ احمدیت ( قادیانیت ) کے بانی (مرزا غلام احمد ) کے بارے میں مجھ پر یہ بات عیاں ہو چکی ہے کہ وہ ایک جھوٹا اور بد اخلاق انسان تھا اور اس کی جماعت (قادیانیت) اس کے بعد مسلسل جھوٹ، گمراہی اور کھوٹے پیمانہ پر قائم ودائم ہے۔
ہر آدمی کے لئے یقیناً یہ بات باعث صدمہ ہوگی کہ وہ (بحث وتحقیق کے بعد ) اس نتیجہ پر پہنچے، لیکن اس کے بغیر کوئی چارہ بھی نہیں، کہ ہم اب اپنی اگلی نسل کو شہادۃ الزور کی بنیاد پر مزید خیانت اور گمراہی کے راستہ میں چھوڑ کر، انہیں مزید مصیبتوں کے دلدل میں دھکیل دیں۔
احمدیت (قادیانیت) کے ساتھ میرا گزرا ہوا یہ زمانہ جو ولادت سے لے کر اب تک تقریباً نصف صدی پر مشتمل تھا، اسکے آخری ایام میں، مَیں عالم عرب کے مختلف ممالک میں جماعۃ احمدیہ (قادیانیت) کا مرکزی ذمہ دار تھا اور نئے مبایعین کی ذمہ داری بھی مجھ پر تھی اور اسی طرح کچھ دوسری ذمہ داریاں بھی میرے سپرد تھیں اور اس سے پہلے عربی چینل کے ڈائریکٹر کی نیابت اور دوسرے فرائض بھی انجام دے رہا تھا۔
میں پیدائشی احمدی ( قادیانی ) ہوں اور میرے نانا کبابیر ( فلسطین) میں عودہ خاندان کے سب سے پہلے قادیانی تھے، جو تقریباً 90 سال قبل قادیانی ہوئے، میں نے جب ہوش سنبھالا اور دین کی طرف متوجہ ہوا، تو میں نے اس جماعت کی تعلیمات کو بغور پڑھا اور دل وجان سے ان تعلیمات کو اپنی زندگی کا حصہ بنالیا اور کبابیر میں کافی عرصہ اس جماعت کا مرکزی رکن رہا، پھر جب ۲۰۰۷ء میں لندن منتقل ہوا، تو لندن مرکز میں تقریباً ایک سال کام کرتا رہا اور میں مرزائی خلیفہ کے بہت مقربین میں سے تھا اور ان کی عبادت گاہ کا مؤذن بھی رہا اور نائب امام کے فرائض بھی انجام دیتارہا۔
بلاشبہ آپ انتہائی کٹھن صورتحال سے اس وقت گزر رہے ہوتے ہیں جب آپ کسی جماعت کی آغوش میں آنکھیں کھولیں اور پھر
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اس کی خدمت میں دل وجان ایک کر دیں اور اس کام سے عشق کی حد تک لگاؤ ہو جائے اور اس کی خدمت کی خاطر آپ اپنی پوری زندگی صرف کر دیں، اس گمان میں کہ یہ کام اللہ اور حق مبین کے لئے ہو رہا ہے، لیکن پینتالیس سال گزارنے کے بعد آپ کو یہ اندازہ ہو کہ یہ جماعت پہلے دن سے ہی جھوٹ وفریب کی بنیاد پر قائم تھی اور یہ جماعت نہ اسلام کے لئے کوئی خدمات سر انجام دے رہی ہے، نہ انسانیت کی ترقی کے لئے، بلکہ یہ صرف اپنی ذات اور جماعت کی مصلحت کے لئے اپنی قوت صرف کر رہی ہے۔
بہر حال! میں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہوں کہ، جس نے غیر جانبدارانہ بحث وتحقیق کے بعد، محض اپنے فضل وکرم سے مجھے اس جماعت سے نکلنے میں میری مدد فرمائی اور اب میں یقین کے اس مرحلہ پر پہنچ چکا ہوں کہ اب میں اپنی یہ ذمہ داری سمجھتا ہوں کہ میں اپنی گواہی اور اس جماعت کے ساتھ گزارا ہوا اپنا تجربہ لوگوں سے شیئر کروں، شاید اللہ تبارک وتعالیٰ ان قابل قدر اور مخلصین لوگوں کو احمدیت سے نجات حاصل کرنے میں مدد فرمائیں، جو اس جماعت کی اصلیت سے ناواقف اور بے خبر ہیں، یا ان کے اندر اس جماعت کی حقیقت کا سامنا کرنے کی صلاحیت نہیں، یا وہ لوگ جو اس بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہتے۔
میں کافی عرصہ سے اس بات کو نوٹ کر رہا تھا کہ یہ جماعت ہانی طاہر صاحب کی باتوں کا حقیقت پسندانہ جواب نہیں دے پارہی، چنانچہ مرزائی خلیفہ نے ایک دن اس بارے میں میری رائے لی، تو میں نے کہا: درحقیقت ان کی باتوں کا دندان شکن جواب نہیں دیا جا رہا، تو خلیفہ نے کہا کہ آپ بحث وتحقیق کریں اور ان کا جواب دیں، چنانچہ میں نے بحث وتحقیق کرنے کا تہیہ کر لیا، مگر پھر ندامت ہوئی اور بحث وتحقیق کا ارادہ ترک کرنا چاہا، مجھ پر اس بات کا خوف وقلق طاری تھا کہ اگر واقعی تمہاری جماعت جھوٹی ثابت ہوگئی، تو تم کیا کرو گے؟ اور اگلی زندگی کا کیا لائحہ عمل ہوگا؟ اور ان دوستوں کا کیا ہوگا جنہیں تم نے اس جماعت کا حصہ بنایا تھا؟ اور اپنے اہل خانہ واقارب اور بچوں کا سامنا کیسے کرو گے؟ انہیں یہ سب حقائق کیسے بتاؤ گے؟ اور ان کا ردعمل کیا ہوگا؟ اور ان پر اس کے کیسے نفسیاتی اثرات مرتب ہوں گے؟
اس کے بعد دعاء کا سلسلہ شروع ہوا اور میں نے اپنے رب سے یہ معاہدہ کرلیا کہ میں صرف حق وسچ کا ساتھ دونگا اور حق کو تھام لوں گا، چاہے مجھے اس کی کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے، کیوں کہ آخر میں مجھے اللہ تعالیٰ کی رضا ہی مطلوب ہے، چنانچہ اس دوران میں بہ کثرت اس دعاء کا ورد کرنے لگا: (اَللّٰھُمَّ اَرِنَا الْحَقَّ حَقًّا وَّارْزُقْنَا اتِّبَاعَہ، وَاَرِنَا الْبَاطِلَ بَاطِلًا وَّارْزُقْنَا اجْتِنَابَہ) (ترجمہ: اے اللہ! ہمیں حق کو حق سمجھنے اور اسے اختیار کرنے کی توفیق عطا فرما اور باطل کو باطل سمجھنے اور اس سے بچنے کی توفیق عطا فرما)
اس کے بعد بحث وتحقیق اور دردناک قصوں کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوا، اس دوران میں ہمیشہ کرب کی صورتحال سے گزرا، کیوں کہ مجھے میرے مَن کی بات کہیں بھی نہ ملی، مجھے اس بات کا غم کھائے جا رہا تھا کہ عصر حاضر کے سب سے بڑے دھوکہ کا تم حصہ بن چکے تھے۔
مثلاً: مرزا قادیانی کی عربیت کے بارے میں سب سے بڑا جھوٹ بولا گیا تھا، حالانکہ اس کی عربی کے اکثر الفاظ ”مقامات حریری“ سے چرائے گئے تھے۔
بحث وتحقیق کی یہ دردناک کہانی اس وقت اپنے انجام کو پہنچی، جب میں نے یہ فیصلہ کیا کہ حقائق کا یہ پلندہ مرزائی خلیفہ کے سامنے رکھا جائے، چنانچہ میں نے ایک تفصیلی خط تحریر کیا اور ملاقات کا وقت طے ہوگیا، ملاقات سے پہلے میں ایک عجیب کشمکش میں مبتلا تھا، خیر میں نے خط ان کے حوالہ کر دیا، جس کا مضمون یہ تھا:
”قابل ستائش و قابل احترام، بعد از سلام! میں خدا کو حاضر و ناظر جان کر یہ گواہی دے رہا ہوں، کہ میں کبھی بھی یہ تصور نہیں کر سکتا تھا کہ میں اس کشمکش میں مبتلا ہو جاؤں گا، لیکن مجھے اتنا بڑا دلی صدمہ پہنچا ہے کہ میری صحت پر بھی اس کا بہت بُرا اثر پڑا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
آپ کے ساتھ ہم نے زندگی کے بہت خوبصورت اور کٹھن ایام گزارے، ہمارا یہ خواب تھا کہ اس جماعت کے ذریعہ ہم اسلام کی خدمت کریں، ہم اس جماعت کے ساتھ اتنے خوش تھے کہ اس کی خدمت کے لئے ہمہ تن گوش رہتے تھے اور اس پر من تن اور دھن قربان کرنے کے لئے تیار رہتے تھے، ہمارا یہ گمان تھا کہ ہم اللہ کی راہ میں یہ خدمات سرانجام دے رہے ہیں، اسی بناء پر ہم احمدیوں کی بہت سی غلطیوں سے صرف نظر کرتے رہے اور ان سے اچھا گمان قائم کیا اور یہ صرف اس لئے کہ اس جماعت کے مؤسس اور خلیفہ کو دل و جان سے چاہتے تھے۔
اور ہم نے بہت کوشش کی کہ ان حقائق سے صرف نظر کرتے رہیں جو پچھلے چند ماہ میں ہماری نظر سے گزرتے رہے، لیکن کب تک؟ انسان کب تک اپنی عقل کو دھوکہ دے سکتا ہے؟ ہانی طاہر صاحب کی باتوں کے جوابات حقیقت پسندی سے بالکل عاری، بلکہ سب وشتائم سے لبریز تھے، جس سے یہ صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ یہ جماعت ایک متکبرانہ اور ظالمانہ سوچ کی حامل ہے، جو لوگوں کی سوچنے کی صلاحیت پر قدغن لگاتی ہے، حالانکہ ہانی طاہر صاحب اخوت ومؤدت، سوچ وفکر اور حقیقت پسندانہ تجزیہ کی دعوت دیتے رہے اور انہوں نے اب تک اپنا یہ طرز جاری رکھا ہوا ہے، حالانکہ بعض لوگوں نے انہیں سب وشتائم کی طرف کھینچنے کی بہت کوشش کی، جو انہوں نے ناکام بنادی، انہوں نے صرف اتنا ہی تو کیا تھا کہ مؤسس جماعت (مرزا غلام احمد) کی (ناجائز) باتوں کو اجاگر کرتے رہے۔
مجھے سب سے زیادہ دکھ اس بات پر ہوا تھا کہ، یہ جماعت اپنے مؤسس کے دفاع میں یکجان نہ ہوسکی اور ان لوگوں پر یہ کام چھوڑ دیا جو دلی رنجشوں کے مارے ہوئے تھے اور ہانی طاہر صاحب کی باتوں کا حقیقی رد کرنے سے یکسر عاجز رہے۔
مثال کے طور پر ہانی طاہر صاحب نے ایک اعتراض یہ کیا تھا کہ اگر سن ۱۹۰۶ء میں یہ جماعت چار لاکھ نفوس پر مشتمل تھی، تو سن ۱۹۴۴ء میں بھی اس کی تعداد صرف چار لاکھ ہی تھی؟ حالانکہ مرزائی خلیفہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اس کی تعداد سو گنا بڑھ چکی تھی۔
اسی طرح ہانی طاہر صاحب نے مرزا غلام احمد کی نحوی غلطیوں کی طویل فہرست پیش فرمائی۔
اسی طرح ہانی صاحب نے قرآن وحدیث اور کتب تفسیر کی طرف ان کے غلط اور من گھڑت حوالوں کی فہرست بھی پیش فرمائی۔
اسی طرح انہوں نے ’’اعجاز مسیح‘‘ نامی کتاب کا بھی مدلل رد پیش کیا اور یہ مطالبہ بھی کیا کہ ایک غیر جانبدارانہ کمیٹی تشکیل دی جائے جو اس کا فیصلہ کرے۔
لیکن ہماری جماعت ان کی کسی بھی بات کا نہ تو مدلل جواب پیش کرسکی، بلکہ ہر شخص اپنے تئیں نامعقول جواب دینے کی ناکام کوشش کرتا رہا، کسی نے کہا کہ مؤسس نے کبھی ’’مقامات حریری‘‘ پڑھی ہی نہیں اور کسی نے کہا کہ وہ ’’مقامات حریری‘‘ سے بہت متاثر تھے اور کسی نے کہا کہ جان بوجھ کر اس کتاب سے اقتباس کیا تاکہ وہ لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرسکیں، جس سے اس جھوٹ کا بخوبی ادراک ہوا جس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے چالیس ہزار عربی الفاظ لغۃً سکھائے گئے تھے، اگر یہ ان کا معجزہ تھا تو ’’مقامات حریری‘‘ سے چوری چہ معنی دارد؟
اور جب ہمیں مؤسس کے بُرے اخلاق اور گندی گالیوں کا علم ہوا، تو ہم بہت ہی صدمہ سے دوچار ہوئے، کیونکہ ہم نہیں چاہتے کہ ہماری اولاد یہ باتیں سنیں اور دنیا میں یہ باتیں نشر ہوں، مثال کے طور پر ایک کتاب میں متواصل ایک ہزار لعنتیں لکھنا اور ایک شادی شدہ عورت سے شادی پر اصرار کرنا اور لوگوں کے سامنے بار بار اس بارے میں اعلان شائع کرنا، ہم ان سب باتوں کو نا قابل قبول جرم اور باعث عار سمجھتے ہیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اسی طرح مؤسس کی باتوں میں خود ازدراء ادیان سے متعلق کافی کچھ مواد موجود ہے، مثال کے طور پر عیسائیت کے بارے میں یہ کہنا کہ یہ ایسا دین ہے جس سے انسان کو متلی آجائے۔
جہاں تک مؤسس کی غیبی نبوءات کا تعلق ہے، تو یہ بات بہرحال واضح ہے کہ وہ کبھی بھی سچ نہ ہوئیں، بلکہ ہمیشہ ان کے خلاف گئیں، مگر جماعت احمدیہ والے ہمیشہ اس کی غلط تاویلات پیش کرتے رہے، یہاں تک کہ انہیں ان کی نبوءات سے متعلق جھوٹی عبارتیں گھڑنی پڑیں، مثال کے طور پر ثناء اللہ امرتسری کے بارے میں یہ کہنا: کہ مؤسس نے اکتوبر ۱۹۰۷ء کو یہ فرمایا تھا کہ ہم میں سے جھوٹا شخص سچے کی موت کے بعد زندہ رہے گا، حالانکہ اس جھوٹ کا حوالہ تا حال میسر نہ آسکا۔
میری گزارشات:
میں اب بھی یہی امید رکھتا ہوں کہ ہمارے تعلقات پہلے جیسے قائم رہیں گے، لیکن یہ بات میں بتا دینا چاہتا ہوں کہ مؤسس جماعت اپنے دعوے میں سچے نہیں تھے، میں اب بھی جماعت احمدیہ کے ساتھ اپنا تعلق اس شرط پر برقرار رکھنا چاہتا ہوں کہ میں مؤسس جماعت کو نہ تو مہدی مانتا ہوں نہ مسیح موعود، بلکہ میں اس جماعت کو اس گڑھے سے نکالنا چاہتا ہوں، بصورت دیگر آپ مجھے اس جماعت سے نکالنے کے مجاز ہوں گے۔
سر! مجھے آپ سے بہت امیدیں ہیں، کیونکہ آپ ہی وہ واحد شخصیت ہیں جن کے پاس احمدیت کا مؤثر حل موجود ہے، آپ چاہیں تو موجودہ احمدیوں اور ان کی اگلی نسل کو اس دلدل سے نکال سکتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو راضی کر سکتے ہیں، میرا مشورہ ہے کہ آپ اس جماعت کو نئے منشور سے تبدیل کر کے کوئی جمعیۃ خیریہ یا اس طرز پر کوئی نیا پروگرام پیش کریں اور اس جماعت کو خیر اور سلامتی پھیلانے والی جماعت میں تبدیل کر دیں، میں اس نئے پروگرام میں آپ کا بھر پور تعاون کرنے کے لئے تیار ہوں، چاہے اس میں جتنا وقت لگ جائے۔
میں یہ جانتا ہوں کہ لوگوں کو یکدم اس جماعت کی حقیقت بتانا بہت مشکل ہے، بلکہ اس کے منفی اثرات شاید زیادہ ہوں، لیکن ان حقائق سے پردہ پوشی کر لینا اور بڑا جرم ہوگا، اگر واقعی آپ اس مسئلہ کو جڑ سے اکھاڑنے میں کامیاب ہو گئے تو یقین جانئے! تاریخ آپ کو سنہرے الفاظ میں یاد کرے گی اور اللہ تعالیٰ آپ سے راضی ہو جائے گا، اگر میری یہ گزارشات آپ کو قبول ہوں، تو میں آپ کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کے لئے تیار ہوں۔ فقط والسلام!‘‘
چنانچہ یہ خط میں نے انہیں حوالہ کر دیا تو انہوں نے پوچھا کہ آپ نے اس میں کیا لکھا ہے؟ میں جواب دیا: حقیقت تو بہت کڑوی ہے، میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میں اس پریشانی میں مبتلا ہو جاؤں گا، مگر پہلے آپ اسے پڑھ لیں، پھر ہی ہماری میٹنگ ممکن ہے۔
انہوں نے کہا: کیا بات ہے؟ کہیں تم جماعت کو چھوڑنا تو نہیں چاہتے؟ میں نے کہا: پہلے آپ اس مضمون کا مطالعہ کر لیں، میں نے بہت تفصیلی خط لکھا ہے۔ تو انہوں نے کہا: مجھے ایک دو دن کا ٹائم دو، میں پڑھ کر دوبارہ ملاقات کرتا ہوں، مگر تقریباً چالیس منٹ بعد میرا چوکیدار گھبرایا ہوا آیا اور مجھ سے کہنے لگا: کہ خلیفہ نے آپ کو ابھی اور اسی وقت طلب کیا ہے، چنانچہ میں دوبارہ حاضر ہوا، تو وہاں مجھے یہ جواب ملا: کہ آپ نے مؤسس جماعت کے بارے میں غیر منطقی باتیں کی ہیں، جو ہم کسی صورت قبول نہیں کر سکتے، میں نے آپ کا پورا خط پڑھ لیا ہے اور میں آپ کو آپ کے کام اور جماعت احمدیہ سے نکالنے پر مجبور ہوں۔
اس طرح بغیر کسی بات چیت، بغیر کسی قیل وقال اور بغیر کسی اپنی (خودساختہ) روحانی کرامت دکھائے یہ قصہ تمام ہوا، بلکہ
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مؤسس جماعت (مرزا غلام احمد قادیانی) کے دفاع میں اپنے کسی اعتقاد کا ذکر تک نہیں کر سکے، بلکہ فوراً مجھے کام سے نکالنے اور جماعت سے الگ کرنے کی دھمکی دیدی۔
میں نے ان سے پوچھا کہ اگر آپ میری جگہ ہوتے تو کیا کرتے؟ انہوں نے کہا: شاید میں بھی وہی کرتا جو تم نے کیا، اس کے بعد میرے ساتھ گالی گلوچ ، کردار کشی کا ایک ایسا سلسلہ شروع کیا گیا جو ہر اس شخص کو ہزار دفعہ سوچنے پر مجبور کر دے جو احمدیت سے توبہ کرنے کا خیال بھی اپنے دل میں لانا چاہے، یا وہ کرے جو میں نے کیا، یا حقیقت پسندی سے احمدیت کا جائزہ لینے کی کوشش کرے اور آزادی کی وہ زندگی جیئے جو میں جی رہا ہوں۔
میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ احمدیوں کو حق وسچ قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور انہیں اپنے خاندان، اپنے بچوں اور عزیز وا قارب کو حق و سچ بتانے کی ہمت عطا فرمائے اور جھوٹ و منکرات نشر کرنے سے چھٹکارا عطا فرمائے، بلکہ ان پر یہ لازم ہے کہ حق و سچ کو پڑھنے اور سمجھنے میں ایک دوسرے کی مدد کریں اور ان کو اللہ تعالیٰ ہر بات کو باریک بینی سے مطالعہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اللہ تبارک وتعالیٰ تمام قادیانیوں کو راہِ ہدایت اور اسلام قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور قادیانیت کے دجل وفریب کو ان پر آشکارا ہونے اور اس سے جان چھڑانے کی سعادت نصیب فرمائے، آمین!
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی یکم تا ۷؍اگست ۲۰۱۸ء ص ۵ تا ۸)
میر پور خاص سندھ میں قادیانی گھرانے کا قبول اسلام
پنہور کالونی میر پور خاص سندھ کے رہائشی محمد اسحاق سابق قادیانی اپنے بیوی بچوں سمیت قادیانیت پر لعنت بھیج کر مسلمان ہو گیا۔ میر پور خاص مدینہ مسجد کے امام وخطیب مولانا حفیظ الرحمٰن کے ہاتھ پر قادیانی گھرانے نے قادیانیت سے برأت کا اعلان اور خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ کی ختم نبوت کا اقرار کرتے ہوئے حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا اللہ وسایا، کراچی کے مبلغ مولانا قاضی احسان احمد، حلقہ میر پور خاص کے مبلغ مولانا مختار احمد اور مولانا توصیف احمد مبلغ حیدر آباد نے نو مسلم حضرات کو مبارک باد پیش کی اور تادمِ زیست دینِ اسلام پر استقامت کی دعاء کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۱۸ء ص ۴۸)
جناب راحیل احمد کی فتنہ قادیانیت سے اظہار لاتعلقی
۲؍اکتوبر ۲۰۱۸ء کو جناب راحیل احمد قادیانیت سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے حلقہ بگوش اسلام ہو گئے۔ انہوں نے مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی پشاور کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ راحیل احمد نے جناب نبی کریم ﷺ کو ہر اعتبار سے آخری نبی ورسول تسلیم کرتے ہوئے جھوٹے مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی پر لعنت بھیجی۔ تمام شرکاء نے نو مسلم راحیل احمد کو مبارک پیش کی اور ان کے لئے استقامت کی دعاء کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۹ء ص ۵۶)
بہاول نگر کے ایک قادیانی نوجوان کا قبول اسلام
سلطان احمد ولد ظفر احمد نوجوان نے ۲۴؍ دسمبر ۲۰۱۸ء بروز اتوار راقم کے ہاتھ پر کلمہ پڑھ کر اسلام قبول کیا۔ سلطان احمد بہاولنگر کا رہائشی ہے۔ دادا، والد اور سسرال قادیانی ہیں۔ سلطان احمد راقم کے پاس دفتر ختم نبوت بہاولنگر میں آیا اور کہا کہ میں علماء کرام سے ختم نبوت کے عنوان پر بیانات سنتا رہتا تھا۔ میرا ایک بھائی قادیانیوں کا مربی ہے، اس سے بھی قادیانیت کے بارے میں سنتا رہتا تھا۔ علماء کرام سے
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عقیدہ ختم نبوت قرآن وحدیث کی روشنی میں سننے کے بعد دل میں خیال پیدا ہوا کہ قادیانی ذریت اپنے آپ کو سچا کہتی ہے۔ جب کہ مسلمان قرآن وحدیث کی روشنی میں قادیانیوں کو کافر ثابت کرتے ہیں۔ آخر معاملہ کیا ہے؟ یہ خیال روز بروز بڑھتا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کرم کیا۔
ایک رات میں نے خواب دیکھا:
میرا دادا اپنی قبر میں اس حالت میں تھا کہ اس کا جسم گل سڑ چکا ہے۔ صرف چہرہ نظر آتا ہے۔ میں نے پوچھا: دادا یہ کیا؟ دادا نے جواب دیا مجھ سے نہ پوچھو۔ مرزا قادیانی کو دیکھو۔ میں نے دیکھا تو مرزا قادیانی مجھے خنزیر کی شکل میں نظر آیا۔ اس کا بھی سارا جسم گل سڑ چکا ہے اور منہ سے خون اور پیپ جاری ہے۔ میری آنکھ کھل گئی۔ میرا دادا اور والد چناب نگر قبرستان میں دفن ہیں۔ آنکھ کھلتے ہی میں نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ میرے سامنے حقیقت کھل گئی تھی۔ صبح ہی میں نے یہ خواب بھائی اور دوسرے خاندان والوں کو سنایا تو انہوں نے کہا تو پاگل ہو گیا ہے۔ مجھے خوب مارا۔ گھر سے نکال دیا۔ سب کچھ چھین لیا۔ میں نے فیصلہ کیا کہ جن کے بیانات سنے تھے ان کے پاس جا کر مزید معلومات لوں گا۔ تو میں دفتر ختم نبوت بہاول نگر کا پتہ پوچھ کر آپ کے پاس حاضر ہوا ہوں۔ راقم نے عقیدہ ختم نبوت قرآن وحدیث کی روشنی میں سمجھایا۔
سلطان احمد نے کہا کہ میں اسلام قبول کرتا ہوں۔ تو گواہوں کی موجودگی میں دفتر ختم نبوت میں سلطان احمد نے اسلام قبول کیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی پر لعنت بھیجی کہ وہ دجال، کذاب اور دائرہ اسلام سے خارج تھا۔ مرزائیت کفر ہے اور اسلام سچا مذہب ہے۔ نومسلم نوجوان نے عہد کیا کہ اب میں بقیہ زندگی اسلام کے مطابق گزاروں گا۔ اس خوشی میں مٹھائی تقسیم کی گئی۔ راقم نے استقامت علی الدین کی دعاء کرائی۔ گواہان میں بھائی حاجی نذیراحمد، مدثر، شہباز احمد، شکیل احمد، حاجی محمد یعقوب، احسان احمد اور دوسرے دوست موجود تھے۔ قارئین لولاک اس نومسلم نوجوان کے لئے استقامت کی دعاء کریں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۱۹ء ص ۴۹)
عمر کوٹ روجھان ضلع راجن پور میں آٹھ افراد کا قبول اسلام
بستی پنجاب عمر کوٹ تحصیل روجھان ضلع راجن پور میں ۷؍ افراد قادیانیت سے تائب ہوکر ڈیرہ غازی خان کے امیر مولانا جلیل الرحمٰن صدیقی اور مولانا قاری محمد افضل ندیم کے ہاتھ پر کلمہ پڑھتے ہوئے حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔ اسلام میں داخل ہونے والوں میں :
(۱) محمد ارشاد نسیم، (۲) محمد فہیم نسیم، (۳) معراج مائی بیوہ محمد نسیم، (۴) ناصر احمد ولد نصر اللہ، (۵) نادر احمد ولد نصر اللہ، (۶) طاہر احمد ولد نصر اللہ، (۷) شہلا بی بی ولد نصر اللہ شامل ہیں۔
دائرہ اسلام میں داخل ہونے کے بعد تمام لوگوں نے تحریری بیان حلفی بھی دیا جس میں انہوں نے لکھا کہ ہم نے بغیر کسی دباؤ کے اپنی مرضی سے مذہب اسلام کو پسند کیا ہے اور اس تحریر میں ہم نے کوئی غلط بیانی نہ کی ہے۔ اس بیان حلفی پر گواہان قاری محمد افضل ندیم، حافظ نیک احمد، حافظ امجد، سید محمد آصف شاہ، اشفاق احمد شفقت، اعجاز احمد اور حفیظ الرحمٰن کی تصدیق و دستخط موجود ہیں۔
(۸) جب کہ ایک نوجوان عرفات قادر ولد قادر بخش جو کہ مسلمان ہوتے ہوئے قادیانی لوگوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے میں اسلام اور اہل اسلام کے متفقہ عقیدہ، عقیدۂ ختم نبوت سے دور ہو گیا تھا۔ ضلع ڈی جی خان کے متحرک اور فعال رہنماؤں اور کارکنان کی بدولت قادیانیت سے توبہ تائب ہوکر دوبارہ دائرہ اسلام میں داخل ہوا۔ بعد ازاں نومسلم نے کہا کہ علماء کرام اور دوست احباب کا شکر گزار ہوں کہ جن کی محنتوں کے نتیجہ میں حلقہ بگوش اسلام ہوا ہوں۔ جن میں مولانا جلیل الرحمٰن صدیقی، ناصر علی، ایڈووکیٹ نصر اللہ قریشی، عباد اللہ انجم اور سید آصف حسین شاہ و دیگر احباب شامل ہیں۔ ان تمام نومسلم کو مولانا عبدالعزیز لاشاری، قاری جلیل الرحمٰن صدیقی، مولانا محمد اقبال سمیت
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دیگر علماء کرام، عزیز واقارب اور دوست احباب نے مبارک باد پیش کی اور ان کے لئے استقامت فی الدین کی دعاء کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۱۹ء ص ۱۹)
فیصل آباد کے سخاوت علی قادیانی کا قبول اسلام
۱۴؍ دسمبر ۲۰۱۸ء بروز جمعہ جامع مسجد الرشید میں تمام نمازیوں کے سامنے سخاوت علی گل مکان نمبر ۹-۴/ پی شادمان ٹاؤن سرگودھا روڈ فیصل آباد کے رہائشی نے مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے ماننے والوں پر لعنت بھیج کر اسلام قبول کر لیا۔ تمام اہل اسلام کو مبارک ہو۔
فیصل آباد چک ۱۹۴ کی ایک خاتون کا قبول اسلام
فیصل آباد چک نمبر ۱۹۴، ر.ب چھوٹا لاٹھیا نوالہ میں جناب محمد جاوید کی والدہ محترمہ سلیمہ بی بی صاحبہ نے مرزا قادیانی ملعون اور اس کے ماننے والوں پر لعنت بھیج کر مولانا محمد عارف حسان کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا۔ اہل اسلام کو بہت بہت مبارک ہو۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۱۹ء ص ۱۶)
ختم نبوت کانفرنسوں کی اجمالی رپورٹ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغین حضرات کے گزشتہ سہ ماہی یعنی دسمبر ۲۰۱۷ء اجلاس میں یہ فیصلہ کیا تھا کہ آئندہ سہ ماہی میں تحصیلی و ضلعی سطح پر تقریباً ایک سو کانفرنسیں منعقد کی جائیں گی۔ ان میں سے گیارہ کانفرنسوں کی رپورٹ گزشتہ شمارہ میں شائع ہو چکی ہیں۔ وہ گیارہ کانفرنسیں ان مقامات پر منعقد ہوئیں۔
- ۱...... ختم نبوت کانفرنس کہروڑ لعل عیسن ۔
- ۲...... ختم نبوت کانفرنس مصطفےٰ آباد فیصل آباد ۔
- ۳...... ختم نبوت کانفرنس شاہی مسجد راولپنڈی ۔
- ۴...... سیرت کانفرنس قصور ۔
- ۵...... ختم نبوت کانفرنس پیر مراد وہاڑی ۔
- ۶...... ختم نبوت کانفرنس ملکوال
- ۷...... ختم نبوت کانفرنس کنجوانی تحصیل سمندری ۔
- ۸...... ختم نبوت کانفرنس اوکاڑہ ۔
- ۹...... ختم نبوت کانفرنس شاہی مسجد چنیوٹ ۔
- ۱۰...... ختم نبوت کانفرنس جہانیاں ۔
- ۱۱...... ختم نبوت کانفرنس جامعہ رشیدیہ ساہیوال ۔
ان کے علاوہ جو کانفرنسیں منعقد ہوئیں۔ ان کی اجمالی فہرست ملاحظہ فرمائیں:
- ۱۲....... ختم نبوت کانفرنس جی الیون تھری اسلام آباد: ۱۷؍ دسمبر ۲۰۱۷ء بعد نماز مغرب جامع مسجد مدنی: صدارت: شیخ الحدیث مولانا
عبدالرؤف۔ بیانات: مولانا اللہ وسایا، مولانا خلیق الرحمن چشتی، مولانا محمد طیب۔ نعت خواں: حافظ عمار علوی۔
- ۱۳....... ختم نبوت کانفرنس ایف-۸، اسلام آباد: ۸؍ دسمبر ۲۰۱۷ء بروز جمعہ صدارت: مولانا فضل ربی، بیان: مولانا اللہ وسایا۔
- ۱۴....... ختم نبوت کانفرنس کھنہ پل اسلام آباد: ۸؍ دسمبر ۲۰۱۷ء بعد نماز مغرب۔ صدارت: جناب ملک وسیم ثناء۔ بیانات: مولانا اللہ
وسایا، مولانا محمد طیب، نعت خواں: حافظ عمار علوی۔
- ۱۵....... ختم نبوت کانفرنس چمن پارک ہری پور: ۹؍ دسمبر ۲۰۱۷ء بعد نماز ظہر، صدارت: قاری فدا محمد خان۔ بیانات: مولانا اللہ وسایا، مولانا
مفتی کفایت اللہ، مولانا شاہ نواز فاروقی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۱۶....... ختم نبوت کانفرنس ای - ۱۱، اسلام آباد: ۱۵؍ دسمبر ۲۰۱۷ء، صدارت: مولانا قاری ضیاء الرحمن۔ بیان: مولانا غلام مصطفیٰ (چناب نگر)
- ۱۷....... ختم نبوت کانفرنس سرائے صالح ہری پور: ۱۵؍ دسمبر ۲۰۱۷ء بعد نماز مغرب ۔ صدارت: فدا محمد خان ۔ بیانات: مفتی محمود حسن
مسعودی ، مولانا غلام مصطفیٰ (چناب نگر )۔ نعت خواں: حافظ ابوبکر (کراچی )
- ۱۸....... ختم نبوت کانفرنس حیدرآباد: ۱۸؍ دسمبر ۲۰۱۷ء لیبر کالونی سائیٹ ایریا حیدرآباد ۔ صدارت: مولانا عبدالسلام قریشی ۔
بیانات : مولانا اللہ وسایا ، مولانا قاضی احسان احمد ، مولانا توصیف احمد ، مولانا مختار احمد ، مولانا سیف الرحمن، حافظ خالد حسن دھامرا ، مولانا ضیاء الرحمن طاہر ، مولانا بشیر قریشی اور رانا نوید۔
- ۱۹....... ختم نبوت کانفرنس نواب شاہ: ۱۹؍ دسمبر ۲۰۱۷ء بعد نماز مغرب جامع مسجد کیرئیرز ریلوے اسٹیشن نواب شاہ ۔ صدارت: مولانا محمد
انیس ۔ سرپرستی: شیخ الحدیث مولانا محمد سلیم ۔ بیانات : مولانا اللہ وسایا ، مولانا محمد رفیق جامی ، قاضی احسان احمد ، مولانا تجمل حسین، مولانا مختار احمد ، مولانا ثناء اللہ مگسی ۔
- ۲۰....... ختم نبوت کانفرنس میانوالی: ۲۳؍ دسمبر ۲۰۱۷ء بروز ہفتہ بعد نماز عشاء جامع مسجد مکی سراجیہ میانوالی ۔ تلاوت : قاری محمد ادریس
آصف ۔ نعت: جناب عزیز الرحمن شاہ ، جناب ظہیر احمد فاروقی ۔ صدارت : صاحبزادہ خواجہ خلیل احمد کندیاں شریف ۔ خطابات : مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ، مولانا محمد اکرم طوفانی ، مولانا نور محمد ہزاروی ، مولانا محمد نعیم مبلغ خوشاب ۔
- ۲۱....... ختم نبوت کانفرنس بونیر: ۲۳؍ دسمبر ۲۰۱۷ء بروز ہفتہ صبح ۸ بجے تا عصر ، بمقام طوطالے خوڑ ضلع بونیر۔ صدارت : مولانا سبز علی
خان ۔ سرپرستی : مولانا پیر اعزاز الحق ۔ بیانات : مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی ، مولانا قاضی احسان احمد ، مولانا مفتی کفایت اللہ (سابق ایم ۔ پی ۔ اے ) ، مفتی فضل غفور (ایم ۔ پی ۔ اے ) ، مولانا قاری اکرام الحق (مردان) ، مولانا محمد عابد کمال (مبلغ پشاور )
- ۲۲....... ختم نبوت کانفرنس جامع مسجد شاہی پشاور : ۲۳؍ دسمبر ۲۰۱۷ء بروز ہفتہ بعد نماز مغرب تا رات گئے ، بمقام جامع مسجد شاہی گلبہار
پی ۔ کے ٹو پشاور ۔ بیانات : مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی ، مولانا قاضی احسان احمد ، مولانا محمد رضوان عزیز۔
- ۲۳....... ختم نبوت کانفرنس ٹاؤن تھری پشاور: ۲۴؍ دسمبر ۲۰۱۷ء بروز اتوار صبح ۸ بجے تا ظہر ، بمقام سفید ڈھیری ٹاؤن تھری پشاور ۔ بیانات :
مولانا اللہ وسایا ، مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی ، مولانا قاضی احسان احمد ، ڈاکٹر فدا محمد ۔
- ۲۴....... ختم نبوت کانفرنس تہکال پایاں ٹاؤن تھری پشاور : ۲۴؍ دسمبر ۲۰۱۷ء بروز اتوار بعد نماز مغرب ۔ صدارت: مولانا قاری احسان
الحق ۔ بیانات: مولانا اللہ وسایا ، قاضی احسان احمد ، مفتی شہاب الدین پوپلزئی ۔
- ۲۵....... ختم نبوت کانفرنس واں بھچراں : ۲۴؍ دسمبر ۲۰۱۷ء بروز اتوار بعد نماز مغرب ، جامع مسجد بلال واں بھچراں ۔ تلاوت : قاری
شہر اللہ قاسمی ۔ نعت : جناب محمد آصف ۔ صدارت : قاری ضیاء اللہ ۔ خطابات : مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ، مولانا مفتی قربان علی ، مولانا محمد نعیم ۔
- ۲۶....... ختم نبوت کانفرنس دیب گراں مانسہرہ : ۲۵؍ دسمبر ۲۰۱۷ء ۔ صدارت : مولانا مفتی وقار الحق ۔ بیانات: مولانا اللہ وسایا ، مولانا
توصیف احمد (مبلغ حیدرآباد )
- ۲۷....... ختم نبوت کانفرنس جوہر آباد: ۲۵؍ دسمبر ۲۰۱۷ء بعد نماز مغرب ، جامعہ سعدیہ قاضی کالونی جوہر آباد ۔ تلاوت : حافظ محمد
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حذیفہ۔ سرپرستی: مفتی محمد زاہد (جوہر آباد)۔ خطابات: مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا محمد اکرم طوفانی، حکیم نصیر احمد (خوشاب)، مولانا محمد نعیم، حافظ محمود احمد (جوہر آباد)
- ۲۸...... ختم نبوت کانفرنس نوشہرہ وادی سون: ۲۶/ دسمبر ۲۰۱۷ء بروز منگل۔ تلاوت: قاری محمد عبداللہ۔ نعت: جناب اسد احمد (کفری
شہر)، عبدالواحد (صدیق آباد)۔ سرپرست: مولانا محمد دین (مردوال وادی سون)۔ خطابات: مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، پیر حبیب احمد، مولانا مفتی طیب (نوشہرہ)، مولانا محمد اسماعیل (جابہ)، مولانا محمد نعیم۔
- ۲۹...... ختم نبوت کانفرنس ناڑی والی مسجد مانسہرہ: ۲۶/ دسمبر ۲۰۱۷ء۔ بیانات: مولانا اللہ وسایا، مولانا توصیف احمد (حیدر آباد)
- ۳۰...... ختم نبوت کانفرنس وزیر والا فیصل آباد: ۲۷/ دسمبر ۲۰۱۷ء۔ صدارت: صاحبزادہ پیر مظفر شاہ گیلانی۔ بیانات: مولانا اللہ وسایا،
مولانا قاری محمد حنیف ربانی، مولانا فاروق احمد (کھڑیا نوالہ)، مولانا خبیب احمد شاہ، مولانا عبدالرشید سیال۔
- ۳۱...... ختم نبوت کانفرنس چک جھمرہ فیصل آباد: ۲۸/ دسمبر ۲۰۱۷ء بروز جمعرات بعد نماز عشاء، مین بازار مرکزی جامع مسجد چمڑا منڈی
چک جھمرہ فیصل آباد۔ صدارت: مفتی محمد اکرم۔ مہمانان گرامی: مولانا اللہ وسایا، مولانا عبدالحمید وٹو، جناب محمد مبشر صائم۔
- ۳۲...... ختم نبوت وتکمیل قرآن کانفرنس سرائے عالمگیر گجرات: ۲۹/ دسمبر ۲۰۱۷ء بروز جمعہ بعد نماز عشاء، جامع مسجد شاہی۔
صدارت: مولانا عبدالحق خان بشیر۔ سرپرستی: مولانا گل محمد، مولانا قاری محمد طارق۔ خطاب: مولانا پروفیسر اشفاق حسین منیر، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا محمد قاسم سیوطی۔
- ۳۳...... ختم نبوت کانفرنس ہنگو: ۳۱/ دسمبر ۲۰۱۷ء بروز اتوار بعد نماز ظہر، بمقام جامع مفتاح العلوم ہنگو۔ بیاد: مولانا فخر الاسلام
کاکا خیل۔ صدارت: میاں ضیاء الاسلام ہنگو۔ سرپرستی: شیخ الحدیث مفتی دین اظہر، نگرانی: پیر طریقت مولانا محمد عباس۔ بیانات: مولانا مفتی محمد شہاب الدین پوپلزئی، شیخ الحدیث مولانا علیم اللہ۔
- ۳۴...... ختم نبوت کانفرنس شیر شاہ کراچی: یکم جنوری ۲۰۱۸ء بروز سوموار بعد نماز عشاء بمقام جامعہ حقانیہ پنکھا ہوٹل شیر شاہ کراچی۔
بیان: مولانا قاضی احسان احمد (کراچی)
- ۳۵...... ختم نبوت کانفرنس پہلوان گوٹھ کراچی: ۳/ جنوری ۲۰۱۸ء بروز بدھ فاروقی مسجد پہلوان گوٹھ۔ بیانات: مولانا شاہ نواز فاروقی،
مولانا قاضی احسان احمد (کراچی)
- ۳۶...... ختم نبوت کانفرنس جامع مسجد نیم والی کمالیہ: ۴/ جنوری ۲۰۱۸ء بروز جمعرات بعد نماز عشاء۔ صدارت: پیر جی عتیق الرحمن۔
تلاوت: قاری سعود اشرف۔ نعت: قاری محمود اشرف۔ خطاب: مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا عبداللطیف، مولانا منور حسین، مولانا عمر فاروق، مولانا محمد حبیب۔
- ۳۷...... ختم نبوت کانفرنس گوادر: ۵/ جنوری ۲۰۱۸ء بروز جمعہ بعد نماز عصر تا رات، جامع مسجد بلال مین گوادر۔ صدارت: مولانا محمد اعجاز
مصطفیٰ (کراچی): بیانات: مولانا اللہ وسایا، مولانا قاضی احسان احمد، مولانا الیاس دلاوری (مکران)، مولانا عبدالعزیز ملازئی، مولانا عبدالحمید انقلابی، مولانا عبدالحئی مطمئن۔
- ۳۸...... ختم نبوت کانفرنس جامعہ حقانیہ قینچی لاہور: ۵/ جنوری ۲۰۱۸ء بروز جمعہ بعد نماز عشاء: صدارت مولانا عبدالشکور حقانی: بیانات:
مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا عبدالنعیم۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۳۹...... ختم نبوت کانفرنس جامع مسجد الاخوان کراچی: ۷؍ جنوری ۲۰۱۸ء بروز اتوار ۔ تلاوت: قاری محمد ابوبکر مالکی ، حافظ محمد اشفاق۔
بیانات: مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد امجد خان، قاضی احسان احمد۔
- ۴۰...... ختم نبوت کانفرنس کورنگی کراچی: ۸؍ جنوری ۲۰۱۸ء جامع مسجد البہار کورنگی ۔ بیانات: قاضی احسان احمد ، مولانا عالم زیب۔
- ۴۱...... ختم نبوت کانفرنس کورنگی کراسنگ کراچی: ۱۳؍ جنوری ۲۰۱۸ء بروز ہفتہ بمقام شمیم مسجد کورنگی کراسنگ کراچی ۔ بیانات: مفتی محمد سہیل
خان، مولانا محمد رضوان، قاضی احسان احمد۔
- ۴۲...... ختم نبوت وحمد ونعت کانفرنس لاری اڈا ہرنولی: ۱۹؍ جنوری ۲۰۱۸ء بوقت صبح ۱۰ بجے تا شام جامع مسجد صدیقیہ ۔ تلاوت : قاری
عتیق الرحمن۔ نعت: حافظ ظہیر احمد فاروقی (جہلم)، جناب کلیم حانی (اسلام آباد)، اسد علی طاہر۔ صدارت: قاری سیف اللہ (ہرنولی)۔ نگران: مولانا فیض اللہ ہرنولی۔ خطابات: مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد نعیم ۔
- ۴۳...... ختم نبوت کانفرنس سنجروال لاہور: ۱۹؍ جنوری ۲۰۱۸ء بعد نماز مغرب ۔ صدارت: مولانا مفتی محمد حسن (لاہور)۔ بیانات: مولانا
میاں محمد اجمل قادری، مولانا عزیز الرحمن ثانی۔ نعت: مولانا محمد قاسم گجر ۔
- ۴۴...... ختم نبوت کانفرنس کوٹ قیصرانی ضلع ڈیرہ غازیخان: ۲۱؍ جنوری ۲۰۱۸ء بروز اتوار بوقت دوپہر تا شام ۔ صدارت: خواجہ
عبدالمناف ۔ نگران: مولانا عبدالعزیز لاشاری، مولانا محمد اقبال ۔ بیانات: مولانا اللہ وسایا۔ مولانا عبدالحمید ربانی، پروفیسر عطاء محمد جعفری، مولانا عبدالقادر ڈیروی، مولانا محمد شریف حیدری، مولانا امان اللہ چیئرمین ۔ نعت: جناب ناصر محمود میلسوی۔
- ۴۵...... ختم نبوت کانفرنس ستیانہ بنگلہ فیصل آباد: ۲۰؍ جنوری ۲۰۱۸ء بروز ہفتہ ۔ بمقام مدرسہ امام اعظم ابوحنیفہ۔ صدارت: جناب ڈاکٹر
اللہ رکھا۔ بیانات: مولانا محمد اشرف منصور ، مولانا حبیب احمد شاہ، مولانا عبدالرشید سیال۔
- ۴۶...... ختم نبوت کانفرنس صالحانی گوٹھ پنوں عاقل: ۲۱؍ جنوری ۲۰۱۸ء بروز اتوار بعد نماز مغرب ۔ صدارت: مولانا خلیل انڈھڑ ۔
نگرانی: مولانا محمد احمد قاضی ۔ بیانات: مولانا عبدالمجیب پیر شریف، مولانا راشد محمود سومرو، مولانا مفتی محمد راشد مدنی، مولانا سید حبیب اللہ شاہ، مولانا عبدالقیوم ہالیجوی، مولانا مفتی محمد طاہر ہالیجوی، مولانا محمد حسین ناصر ۔
- ۴۷...... ختم نبوت کانفرنس میر پور آزادکشمیر: ۲۲؍ جنوری ۲۰۱۸ء بروز پیر، بمقام اسماعیل مسجد سی -۴ سیکٹر میر پور آزاد کشمیر۔
بیانات: مولانا مفتی محمد حسن (لاہور)، قاضی اویس خان، مفتی ظفر اقبال ڈھمبر، مفتی عبدالوحید، مفتی خالد میر و دیگر ۔ یوں اب تک چھوٹی بڑی ۴۷ کانفرنسیں منعقد ہو چکی ہیں ۔ فالحمد للہ علی ذالک!
- ۴۸...... خاتم المعصومین ﷺ کانفرنس داجل: ۱۴؍ جنوری ۲۰۱۸ء بروز اتوار بعد نماز عشاء جامع مسجد اللہ والی ۔ صدارت: مولانا ابوبکر
عبداللہ ۔ ہدیہ نعت: حافظ حسن افضال (لاہور)، مولانا طاہر فاروقی (لاہور)۔ بیانات: مولانا مفتی محمد راشد مدنی (رحیم یار خان)، مفتی ارشاد احمد حقانی (راجن پور)، مفتی مشتاق احمد۔
- ۴۹...... ختم نبوت کانفرنس جوہر آباد: ۱۶؍ جنوری ۲۰۱۸ء بروز منگل جامع مسجد فاروق اعظم نایچ کالونی جوہر آباد ضلع خوشاب ۔
زیرصدارت: مولانا محمد اسحاق ۔ تلاوت: قاری محبوب احمد ۔ نعت: حافظ محمد یوسف میانوالی ۔ بیانات: مولانا مفتی محمد زاہد، مولانا حکیم رشید ربانی، مولانا محمد نعیم اور مولانا عثمان علی ۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۵۰...... ختم نبوت کانفرنس سفید ڈیری پشاور : ۲۱/ جنوری ۲۰۱۸ء بروز اتوار جامع مسجد ابوایوب سفید ڈیری پشاور ۔ زیرسرپرستی : حافظ عابد
جان ۔ بیانات : مفتی محمد شہاب الدین پوپلزئی اور مولانا عابد کمال۔
- ۵۱...... ختم نبوت کانفرنس ہڈالی ضلع خوشاب : ۲۵/ جنوری ۲۰۱۸ء بروز جمعرات بعد نماز عشاء جامع مسجد کلیریاں والی ۔ زیرسرپرستی :
صاحبزادہ خواجہ خلیل احمد ۔ تلاوت : حافظ وسیم اکرم تونسوی ۔ نعت : حافظ محمد حماد راولپنڈی ۔ بیانات : مولانا نور محمد ہزاروی (سرگودھا)، مولانا عبدالواحد قریشی ، مولانا عبدالکریم ڈیروی اور مولانا محمد نعیم ۔
- ۵۲...... غازیان ختم نبوت کانفرنس مردان : ۲۵/ جنوری ۲۰۱۸ء بروز جمعرات بعد نماز عصر تا رات گئے ، جامع مسجد ابوبکر صدیق ارم
کالونی ۔ زیرانتظام : مولانا سید محمد بلال ۔ زیرصدارت : مولانا پیر محمد ہاشم صدیقی ۔ نعت : مولانا محمد عابد ، حافظ نادر شاہ ۔ بیانات : مولانا شجاع الملک ، مفتی اسد اللہ ، مولانا ندیم پشاوری ، مولانا قاری اکرام الحق ، پروفیسر ڈاکٹر محمد علی اور مولانا ندیم احمد حقانی ۔
- ۵۳...... ختم نبوت کانفرنس کلر کہار چکوال : ۲۸/ جنوری ۲۰۱۸ء بروز اتوار مدرسہ انوارالعلوم ڈھٹہ کوٹ کلر کہار ۔ زیرصدارت : صاحبزادہ
پیر عبدالقدوس نقشبندی ۔ بیانات : مولانا اللہ وسایا ، پیر سید عنایت اللہ شاہ چترالی ، حافظ عمر حیات رتو چھا ، حاجی محمود دوالمیال ، جناب ملک شفیق دوالمیال اور مولانا مفتی خالد میر ۔
- ۵۴...... ختم نبوت کانفرنس وادی کنڈاو ضلع صوابی : ۲۸/ جنوری ۲۰۱۸ء بروز اتوار بعد نماز ظہر مدرسہ امام ابو یوسف جھنڈا وادی کنڈاو۔
زیرصدارت : مولانا مفتی محمد رحیم ۔ زیرسرپرستی : پیر اعزاز الحق نقشبندی ۔ بیانات : قاری اکرام الحق مردان ، مولانا عطاء الحق درویش اور مولانا ابراہیم مظہری ۔
- ۵۵...... ختم نبوت کانفرنس دینہ : ۳۱/ جنوری ۲۰۱۸ء بروز بدھ بعد نماز مغرب جامع مسجد مدنی مین بازار ۔ زیرصدارت : قاری خالق داد
عثمان ۔ بیانات : مولانا اللہ وسایا ، مولانا عبدالواحد رسول نگری ( گوجرانوالہ )، مولانا خالد محمود اور مولانا مصعب عمیر ۔
- ۵۶...... ختم نبوت کانفرنس خوشاب : یکم/ فروری ۲۰۱۸ء بروز جمعرات بعد نماز ظہر مدرسہ عربیہ حسینیہ چک نمبر ۵۶/۳ ایم.بی۔
زیرصدارت : مولانا فداء الرحمن ۔ نعت : مولانا محمد قاسم گجر ( لاہور ) ۔ بیانات : مولانا مفتی محمد حسن ( لاہور )، مولانا نور محمد ہزاروی ( سرگودھا )، مولانا اظہار الحسن اور مولانا محمد نعیم (مبلغ)۔
- ۵۷...... ختم نبوت سیمینار آزاد کشمیر : ۲/ فروری ۲۰۱۸ء بروز جمعہ صبح ۱۰ تا نماز جمعہ ، مدرسہ دارالعلوم الاسلامیہ لوئر چھتر ۔ زیرصدارت :
مولانا قاضی محمود الحسن اشرف ۔ بیانات : مولانا اللہ وسایا اور مولانا الطاف شیخ ۔
- ۵۸...... ختم نبوت سیمینار آزاد کشمیر : ۲/ فروری ۲۰۱۸ء بروز جمعہ قبل از نماز جمعہ آزاد کشمیر ۔ زیرصدارت : مولانا محمد الیاس ۔ بیانات :
مولانا مفتی محمد خالد میر اور مولانا محمد فرید ۔
- ۵۹...... ختم نبوت کانفرنس سکھر : ۲/ فروری ۲۰۱۸ء بروز جمعہ بعد نماز مغرب مرکزی جامع مسجد بندر روڈ ۔ زیرنگرانی : قاری جمیل احمد بندھانی ۔
زیرانتظام : مولانا عبداللطیف ۔ نعت : حافظ محمد ارسلان ملک ۔ بیانات : مولانا عبدالمجیب قریشی بیر شریف ، مولانا عزیز الرحمن جالندھری ، مولانا محمد امجد خان ، مولانا قاضی احسان احمد ، مولانا محمد اسحاق ساقی ، مولانا محمد حسین ناصر اور مفتی سعود افضل ہالیجوی ۔
- ۶۰...... ختم نبوت سیمینار گوجرانوالہ : ۷/ فروری ۲۰۱۸ء بروز بدھ بعد نماز عشاء جامعہ عثمانیہ پونڈانوالہ چوک ۔ زیرسرپرستی :
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مولانا محمد اشرف مجددی۔ نعت: فیصل بلال حسان۔ بیانات مولانا محمد امجد خان، مولانا مفتی محمد راشد مدنی، مولانا عبدالقدوس قارن، مولانا محمد عارف شامی اور بابر رضوان باجوہ۔
- ۶۱ ...... ختم نبوت کانفرنس میانوالی کالونی کراچی: ۷؍فروری ۲۰۱۸ء بروز بدھ جامع مسجد فاروق اعظم۔ تلاوت: قاری محمد نعمان۔ نعت:
احسان اللہ فاروقی۔ خصوصی بیان: مولانا قاضی احسان احمد۔
- ۶۲ ...... ختم نبوت کانفرنس تنگی چارسدہ: ۷؍فروری ۲۰۱۸ء بروز بدھ چارسدہ۔ سرپرستی: مولانا خلیل احمد تنگی۔ بیانات: مولانا پیر حزب
اللہ جان، مفتی محمد شہاب الدین پوپلزئی۔
- ۶۳ ...... ختم نبوت سیمینار بہاول پور: ۷؍فروری ۲۰۱۸ء بروز بدھ پریس کلب۔ صدارت: حاجی سیف الرحمٰن۔ بیانات: مولانا محمد
اسماعیل شجاع آبادی، مولانا عبدالکریم ندیم، مولانا محمد اسحاق ساقی، مفتی سید مظہر اسعدی، سید تابش انوری، حکیم اکرام الحق، پروفیسر مظفر علی ظفر، پروفیسر عون محمد سعیدی۔
- ۶۴ ...... ختم نبوت کانفرنس واہنڈو ضلع گوجرانوالہ: ۸؍فروری ۲۰۱۸ء بروز جمعرات بعد نماز عشاء مرکزی مسجد طوبیٰ۔ زیرسرپرستی: مولانا محمد اشرف
مجددی۔ بیانات: مولانا مفتی محمد راشد مدنی (رحیم یار خان)، مولانا اکرام اللہ مجددی، مولانا محمد عارف شامی اور مولانا عطاء الرحمٰن۔
- ۶۵ ...... ختم نبوت کانفرنس پنڈی بھٹیاں: ۹؍فروری ۲۰۱۸ء بروز جمعہ بعد نماز عشاء شاہی جامع مسجد۔ سرپرستی: حاجی نواب شاہین۔
نعت: جناب فیصل بلال حسان۔ بیانات: مفتی محمد راشد مدنی، مولانا محمد رضوان عزیز، مولانا عمر حیات، مولانا محمد عارف شامی، مولانا اشرف طاہر، قاری عبدالولی۔
- ۶۶ ...... ختم نبوت کانفرنس پاکپتن: ۹؍فروری ۲۰۱۸ء بروز جمعتہ المبارک بعد نماز مغرب دارالعلوم حنفیہ فریدیہ۔ نعتیہ کلام: مولانا محمد آصف
رشید، قاری عنایت الرحمٰن۔ بیانات: مولانا اللہ وسایا، مولانا مفتی محمد عثمان، مولانا محمد طلحہ ایوب حیدری اور مولانا عبدالحکیم نعمانی۔
- ۶۷ ...... ختم نبوت سیمینار ڈنگہ ضلع گجرات: ۹؍فروری ۲۰۱۸ء بروز جمعہ جامع مسجد صدیق اکبر ؓ۔ خصوصی بیان: مولانا نور محمد ہزاروی (سرگودھا)
- ۶۸ ...... ختم نبوت کانفرنس منڈی بہاؤالدین: ۹؍فروری ۲۰۱۸ء بروز جمعہ بعد نماز عشاء جامع مسجد رحمانیہ رکن۔ زیرسرپرستی: قاری
عبدالواحد۔ بیانات: مولانا نور محمد ہزاروی، مولانا سید عبدالشکور شاہ۔
- ۶۹ ...... ختم نبوت سیمینار حیدرآباد: ۹؍فروری ۲۰۱۸ء بروز جمعہ جامع مسجد میر کرم الٰہی شاہی بازار۔ زیرصدارت: مفتی محمد رشید۔
بیانات: قاضی احسان احمد، مولانا توصیف احمد، مولانا مسعود الرحمٰن۔
- ۷۰ ...... ختم نبوت کانفرنس جام شورو: ۹؍فروری ۲۰۱۸ء بروز جمعہ بعد نماز عشاء حبیب اللہ موڑ۔ بیانات: مولانا قاضی احسان احمد، مولانا
توصیف احمد، مولانا غلام شبیر، مولانا محمد قاسم خارانی۔
- ۷۱ ...... ختم نبوت کانفرنس مٹیاری: ۱۰؍فروری ۲۰۱۸ء بروز ہفتہ مدینہ مسجد بھٹ شاہ۔ بیانات: مولانا قاضی احسان احمد، مولانا قاری محمد
کامران، مولانا توصیف احمد۔
- ۷۲ ...... ختم نبوت کانفرنس خوشاب: ۱۰؍فروری ۲۰۱۸ء بروز ہفتہ بعد نماز عشاء جامع مسجد فاروق اعظم چک نمبر ۱۵/۳۹۔ سرپرستی: مولانا
مفتی محمد زاہد۔ تلاوت: قاری محمد شفیق۔ نعت: حافظ محمد اسحاق۔ بیانات: مولانا اللہ وسایا، مولانا ممتاز کلیار، مولانا نور محمد ہزاروی، مولانا عزیز احمد، مولانا محمد نعیم، مولانا محمد عبداللہ۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۷۳...... ختم نبوت کانفرنس گلشن راوی لاہور: ۱۰/ فروری ۲۰۱۸ء بروز ہفتہ۔ زیر صدارت: پیر محمد رضوان نفیس۔ بیانات: مولانا
عزیز الرحمن ثانی، مولانا اسلم ندیم، مولانا عزیز الرحمن، قاری عبدالعزیز۔
- ۷۴...... ختم نبوت کانفرنس شادی پورہ لاہور: ۱۱/ فروری ۲۰۱۸ء بروز اتوار بعد نماز عشاء۔ زیرصدارت: پیر محمد رضوان نفیس۔
بیانات: مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا خالد محمود۔
- ۷۵...... ختم نبوت کانفرنس شیخ محمدی پشاور: ۱۱/ فروری ۲۰۱۸ء بروز اتوار۔ زیرصدارت: حاجی بخت زادہ۔ زیرسرپرستی: شیخ الحدیث
مولانا عزیز اللہ۔ بیانات: مولانا مفتی محمد شہاب الدین پوپلزئی، مولانا محمد عابد کمال۔
- ۷۶...... ختم نبوت کانفرنس کنری: ۱۱/ فروری ۲۰۱۸ء بروز اتوار بعد نماز عشاء جامع مسجد بخاری۔ سرپرستی: حاجی محمد ناصر آرائیں۔
بیانات: قاضی احسان احمد، مولانا توصیف احمد، مولانا مختار احمد۔
- ۷۷...... ختم نبوت کانفرنس عمرکوٹ: ۱۲/ فروری ۲۰۱۸ء بروز پیر بعد نماز ظہر سادراسٹیشن۔ زیرصدارت: مولانا سائیں محمود چھور کینٹ۔
بیانات: مولانا قاضی احسان احمد، مولانا مختار احمد۔
- ۷۸...... ختم نبوت سیمینار میرپورخاص: ۱۲/ فروری ۲۰۱۸ء بروز پیر بعد نماز عشاء جامع مسجد بیت المکرم۔ زیرسرپرستی: مولانا عمران
الحق۔ بیانات: مولانا قاضی احسان احمد، مولانا توصیف احمد۔
- ۷۹...... ختم نبوت کانفرنس تلہار ضلع بدین: ۱۳/ فروری ۲۰۱۸ء بروز منگل بعد نماز عشاء بمقام پبلک پارک تلہار۔ زیرصدارت: مولانا
خان محمد جمالی۔ بیانات: مولانا سائیں عیسیٰ سموں، مولانا قاضی احسان احمد، مولانا توصیف احمد، مولانا مختار احمد اور مولانا محمد حنیف سیال۔
- ۸۰...... ختم نبوت کانفرنس حسن ٹاؤن لاہور: ۱۳/ فروری ۲۰۱۸ء بروز منگل بعد نماز عشاء۔ بیانات: مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی،
مولانا عبدالنعیم، قاری شفیق الرحمن، مولانا محمد طاہر مجید۔
- ۸۱...... ختم نبوت سیمینار سیالکوٹ: ۱۴/ فروری ۲۰۱۸ء بروز بدھ بعد نماز مغرب جامع مسجد قاری خلیل احمد مرحوم والی۔
زیرصدارت: مولانا فقیر اللہ اختر۔ بیانات: مولانا نور الحسن قاری (نارووال)، مولانا عبدالباسط فاروقی، مولانا سجاد احمد اور علامہ اویس احمد۔
- ۸۲...... ختم نبوت کانفرنس تاندلیانوالہ ضلع فیصل آباد: ۱۴/ فروری ۲۰۱۸ء بروز بدھ بعد نماز عشاء چک نمبر گ۔ب ۴۲۰ برہان کی جھوک
تاندلیانوالہ۔ صدارت: قاری بشیر احمد عزیزی۔ نعت: حافظ ظفر شہزاد گجر۔ بیانات: مولانا اللہ وسایا، مولانا ضیاء اللہ شاہ، پروفیسر عتیق اللہ عمر، مولانا شبیر احمد عثمانی، مولانا عبدالرشید سیال، مولانا عبدالرشید حجازی۔
- ۸۳...... ختم نبوت کانفرنس ایچوگل لاہور: ۱۶/ فروری ۲۰۱۸ء بروز جمعتہ المبارک بعد نماز عشاء۔ زیرصدارت: پیر محمد رضوان نفیس۔
بیانات: مولانا عزیز الرحمن ثانی، قاری علیم الدین شاکر، مولانا خالد محمود اور قاری سعید وقار۔
- ۸۴...... ختم نبوت کانفرنس تلونڈی موسیٰ خان: ۱۶/ فروری ۲۰۱۸ء بروز جمعہ کو ختم نبوت کانفرنس تلونڈی موسیٰ خان میں منعقد ہوئی۔
تلاوت: قاری سعید احمد۔ نعتیہ کلام: جناب فیصل بلال حسان۔ بیانات: مولانا محمد رمضان شیخوپورہ، مولانا غلام نبی، مولانا محمد عارف شامی، قاری سیف اللہ اور قاری نذیر احمد۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء
۴۰۸
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۸۵...... ختم نبوت سیمینار منڈی بہاؤالدین: ۱۶؍ فروری ۲۰۱۸ء بروز جمعہ مرکزی جامع مسجد ریلوے روڈ۔ صدارت: مولانا عبد الماجد شہیدی۔ نعتیہ کلام: قاری محمد شوکت۔ خصوصی بیان: مولانا اللہ وسایا۔
- ۸۶...... ختم نبوت کانفرنس بورے والا: ۱۶؍ فروری ۲۰۱۸ء بروز جمعۃ المبارک بعد نماز مغرب مدرسہ عربیہ اسلامیہ بورے والا۔ تلاوت: قاری عبد الماجد حاصل پوری۔ نعتیہ کلام: سید عزیز الرحمن شاہ۔ صدارت: مولانا حافظ محمد ہارون۔ بیانات: مفتی محمد انور اوکاڑوی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، سید محمد کفیل بخاری، مولانا زبیر احمد صدیقی، پیر خواجہ عبد الماجد صدیقی، مولانا عبدالستار گورمانی۔
- ۸۷...... ختم نبوت کانفرنس پھالیہ: ۱۶؍ فروری ۲۰۱۸ء بروز جمعۃ المبارک بعد نماز عشاء جامع مسجد مہاجرین۔ تلاوت: قاری ثناء اللہ مکی۔ نعتیہ کلام: قاری شفیق ملتانی۔ زیرسرپرستی: قاری عبد الواحد ضلعی امیر۔ زیرصدارت: شیخ الحدیث مولانا محمد دل پذیر۔ بیانات: مولانا اللہ وسایا، مولانا مسعود حجازی، مولانا شاہ نواز فاروقی، مولانا محمد قاسم اور صوفی عبدالغفور۔
- ۸۸...... ختم نبوت کانفرنس شاہ جمال لاہور: ۱۷؍ فروری ۲۰۱۸ء بروز ہفتہ بعد نماز عشاء شاہ جمال لاہور۔ بیانات: مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا قاری محمد علیم الدین شاکر۔
- ۸۹...... ختم نبوت کانفرنس جوہر ٹاؤن لاہور: ۱۷؍ فروری ۲۰۱۸ء بروز ہفتہ بعد نماز عشاء۔ صدارت: پیر محمد رضوان نفیس۔ بیانات: مولانا اللہ وسایا، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، مولانا اسلم ندیم، پروفیسر عبدالکریم، مولانا عبدالنعیم، محترم امیر العظیم۔
- ۹۰...... ختم نبوت کانفرنس حافظ آباد: ۱۷؍ فروری ۲۰۱۸ء بروز ہفتہ چک چٹھہ ضلع حافظ آباد۔ زیرسرپرستی: علامہ سعید احمد۔ نعت: فیصل بلال حسان۔ بیانات: مولانا غلام مصطفیٰ چناب نگر، مولانا غلام رسول دین پوری، مولانا محمد عارف شامی۔
- ۹۱...... ختم نبوت کانفرنس وہاڑی: ۱۷؍ فروری ۲۰۱۸ء بروز ہفتہ بعد نماز مغرب خالد بن ولید ٹھینگی۔ زیرسرپرستی: مولانا ظفر احمد قاسم۔ تلاوت: قاری عبدالرحمن رحیمی۔ نعتیہ کلام: محمد احسان رشید۔ بیانات: حافظ پیر ناصر الدین خاکوانی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا قاضی احسان احمد کراچی، مولانا محمد رفیق جامی فیصل آباد، مولانا عبدالستار گورمانی، مولانا محمد فاروق۔
- ۹۲...... ختم نبوت کانفرنس کینال بینک لاہور: ۱۸؍ فروری ۲۰۱۸ء بروز اتوار بعد نماز مغرب جامع مسجد رحمۃ للعالمین۔ صدارت: پیر محمد رضوان نفیس۔ بیانات: مولانا اللہ وسایا، مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا خالد محمود۔
- ۹۳...... ختم نبوت کانفرنس ٹاؤن شپ لاہور: ۱۸؍ فروری ۲۰۱۸ء بروز اتوار بعد نماز عشاء جامع مسجد توحید۔ بیانات: مولانا عبد الخبیر آزاد، مولانا قاری علیم الدین شاکر، مولانا عبدالنعیم، مولانا اسلم ندیم۔
- ۹۴...... ختم نبوت کانفرنس گوجرانوالہ: ۱۸؍ فروری ۲۰۱۸ء بروز اتوار بعد نماز عشاء جامع مسجد صدیقی رسول پورہ۔ زیرسرپرستی: مولانا محمد اشرف مجددی۔ نعتیہ کلام: جناب فیصل بلال حسان۔ بیانات: مولانا نور محمد ہزاروی سرگودہا اور مولانا محمد عارف شامی۔
- ۹۵...... ختم نبوت کانفرنس سبزہ زار لاہور: ۱۹؍ فروری ۲۰۱۸ء بروز سوموار بعد نماز عشاء سبزہ زار لاہور۔ بیانات: مولانا عبدالشکور حقانی، مولانا عبدالشکور یوسف اور جناب یاسین فاروقی۔
- ۹۶...... ختم نبوت کانفرنس سمبڑیال ضلع سیالکوٹ: ۱۹؍ فروری ۲۰۱۸ء بروز سوموار بعد نماز عشاء جامع مسجد عثمانیہ رسول پورہ۔ زیرصدارت: مولانا سعید احمد خان۔ زیرسرپرستی: پیر سید شبیر احمد گیلانی۔ نعتیہ کلام: مولانا محمد قاسم گجر لاہور۔ بیانات: مولانا اللہ
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
وسایا، خواجہ عبد الماجد صدیقی ( خانیوال ) ، مولانا فقیر اللہ اختر ، مولانا محمد یونس صدیقی،سید محبوب احمد گیلانی ، مفتی محمد داؤد نفیسی ۔
- ۹۷...... تاجدار ختم نبوت کانفرنس ننکانہ : ۲۱ / فروری ۲۰۱۸ء بروز بدھ بعد نماز مغرب مرکز ختم نبوت بھوڑو شاہ کوٹ ۔ سرپرستی: حکیم حبیب
اللہ ۔ صدارت: صوفی مبارک علی ۔ بیان : مولانا اللہ وسایا ، مولانا خالد عابد ۔
- ۹۸...... ختم نبوت کانفرنس شیخوپورہ : ۲۱ / فروری ۲۰۱۸ء بروز بدھ بعد نماز عشاء جامعہ اسلامیہ پتھری چوک ۔ زیر سر پرستی : مولانا مقبول
الرحمن ۔ تلاوت : قاری عبید الرحمن ۔ نعتیہ کلام : حافظ محمد عمران ۔ بیانات : مولانا اللہ وسایا ، مولانا شاہ نواز فاروقی اور مولانا خالد عابد ۔ انتظامات : مولانا قاری محمد ابوبکر ۔
- ۹۹...... ختم نبوت کانفرنس ٹاؤن ٹو پشاور : ۲۲ / فروری ۲۰۱۸ء بروز جمعرات بعد نماز ظہر ٹاؤن ٹو پشاور ۔ زیر سر پرستی: شیخ الحدیث مولانا
عزیز الرحمن ۔ نعتیہ کلام : حافظ نادر شاہ ۔ بیانات : مفتی محمد شہاب الدین پوپلزئی ، مفتی محمد راشد مدنی ، قاری اکرام الحق اور مولانا قاری اسحاق ۔
- ۱۰۰...... تقریری مقابلہ و ختم نبوت کانفرنس پشاور : ۲۲ / فروری ۲۰۱۸ء بروز جمعرات مدنی مسجد دیر کالونی پشاور ۔ نعتیہ کلام : حافظ نادر شاہ ۔
بیانات : مولانا مفتی شہاب الدین ، مفتی محمد راشد مدنی ، شیخ الحدیث مولانا خیر البشر ، مولانا حسین احمد ایڈووکیٹ ، مولانا قاری محمد حنیف فاروقی ۔
- ۱۰۱...... حسن قرأت و ختم نبوت کانفرنس کراچی : ۲۲ / فروری ۲۰۱۸ء بروز جمعرات لانڈھی ۔ خصوصی خطاب: مولانا قاضی احسان احمد ۔
- ۱۰۲...... ختم نبوت کانفرنس اسلام پورہ لاہور : ۲۲ / فروری ۲۰۱۸ء بروز جمعرات بعد نماز عشاء جامعہ حنیفہ اسلام پورہ ۔ زیر صدارت: پیر محمد
رضوان نفیس ۔ بیانات : مولانا اللہ وسایا ، مولانا محب النبی ، مولانا انیس الرحمن مظاہری ، مولانا عبد القوی اور قاری عبد العزیز ۔
- ۱۰۳...... خاتم الانبیاء کانفرنس پشاور : ۲۳/ فروری ۲۰۱۸ء بروز جمعہ بعد نماز عصر تا عشاء، ڈاک خانہ چوک ، دلہ زاک روڈ پشاور ۔
بیانات : مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی ۔ مولانا سمیع اللہ جان فاروقی ، مولانا قاضی احسان احمد کراچی ، مولانا مفتی محمد راشد مدنی ۔ مولانا حسین احمد ایڈووکیٹ ۔
قارئین کرام ! یوں ایک سو سے زائد کانفرنسیں منعقد ہو چکی ہیں اور ابھی فروری کے اواخر اور مارچ کے اوائل میں درجنوں کانفرنسیں طے ہیں ۔ وما توفیقی الا باللہ!
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ، اپریل ۲۰۱۸ء)
ختم نبوت کانفرنس کمالیہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کمالیہ کے زیر اہتمام ۴ / جنوری ۲۰۱۸ء بروز جمعرات بعد نماز عشاء جامع مسجد نیم والی میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی ۔ جس کی صدارت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کمالیہ کے امیر مولانا پیر جی عتیق الرحمن نے فرمائی ۔ تلاوت کلام پاک قاری سعود اشرف متعلم العصر تعلیمی مرکز پیر محل نے کی ۔ ہدیہ نعت مقبول ﷺ قاری محمود اشرف نے پیش کیا ۔ کانفرنس سے مولانا محمد اکرم طوفانی کے علاوہ مولانا عبد اللطیف ، مولانا منور حسین سمندری ، مولانا محمد عمر فاروق کمالیہ اور مولانا محمد حبیب مبلغ ٹوبہ و دیگر علماء کرام نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ختم نبوت کے حلف نامے اور ناموس رسالت عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے اپنی جان بھی دینی پڑی تو دارین کی سعادت عظمیٰ سمجھیں گے ۔ حافظ محمد عمران ، قاری محمد عدیل نے کانفرنس کے لئے بھر پور محنت کی ۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۱۸ء ص ۵۶)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس لاہور
لاہور: ۵/ جنوری ۲۰۱۸ء کو بعد نماز عشاء جامعہ حقانیہ قینچی میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ صدارت جامعہ کے مہتمم اور ختم نبوت کانفرنس کی رابطہ کمیٹی کے ممبر مولانا عبداللہ انور حقانی مدظلہ نے کی، جب کہ علامہ عبدالغفار ذہبی مہمان خصوصی تھے۔ کانفرنس سے مولانا عبدالنعیم، مولانا عزیز الرحمٰن ثانی اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کیا۔ کانفرنس میں بادشاہی مسجد میں منعقد ہونے والی ختم نبوت کانفرنس کا پس منظر، اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی گئی اور سامعین کو بتلایا گیا کہ بڑی کانفرنس کی کامیابی کے لئے چھوٹی چھوٹی تقریباً ایک سو کانفرنسیں منعقد کی جائیں گی، کانفرنس پیر رضوان نفیس مدظلہ کی دعاء پر اختتام پذیر ہوئی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۶ تا ۲۲/ فروری ۲۰۱۸ء ص ۲۳)
سیرت خاتم الانبیاء کانفرنس گوادر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع گوادر بلوچستان میں سالانہ ”ختم نبوت کانفرنس“ کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا، طے پایا کہ یہ کانفرنس ۵/ جنوری ۲۰۱۸ء بروز جمعہ بعد نماز عصر گوادر شہر کی مرکزی جامع مسجد بلال میں منعقد ہوگی۔ کانفرنس کی تیاری کے سلسلہ میں گوادر شہر کی مساجد میں اعلانات و بیانات کے لئے کانفرنس سے پہلے راقم الحروف بندہ عبدالحئی مطمئن کی تشکیل ہوئی۔
یکم/ جنوری ۲۰۱۸ء بروز پیر سے لے کر ۴/ جنوری ۲۰۱۸ء بروز جمعرات تک مولانا سید احمد شاہ کی معیت میں گوادر شہر کی مساجد و مدارس و جامعہ قاسم العلوم، جامعہ مطلع العلوم، جامعہ فیض القرآن، جامعۃ العلوم الاسلامیہ میں وقتاً فوقتاً حاضری رہی، اساتذہ کرام، منتظمین اور متعلقین کو پروگرام میں شرکت کی دعوت دی۔ ۳/ جنوری ۲۰۱۸ء بروز بدھ قصبہ سربندر جا کر مدرسہ باب الاسلام کے منتظمین مولانا اللہ بخش، مولانا عبدالرشید اور دیگر حضرات سے ملاقات کی۔ انہیں پروگرام کی دعوت دی گئی۔
۴/ جنوری ۲۰۱۸ء کو بعد نماز مغرب کانفرنس کے مہمانان گرامی کراچی سے گوادر شہر پہنچ گئے بعد نماز عشاء جامعہ قاسم العلوم میں مقامی علماء کرام کے لئے خصوصی نشست رکھی گئی تھی، جس میں شہر بھر کے علماء کرام نے بھر پور تعداد میں شرکت کی۔ خاص طور پر ضلع تربت سے شیر مکران استاذ العلماء مولانا محمد الیاس دلاوری اپنے رفقاء کے ہمراہ شریک ہوئے۔ مولانا محمد مجاہد کی تلاوت سے اس نشست کا آغاز ہوا۔ مولانا سید احمد شاہ نے علماء کرام کے سامنے نشست کی غرض و غایت بیان کی۔ مرکزی مبلغ مولانا قاضی احسان احمد نے شرکاء کا شکریہ ادا کیا، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا مختصر تعارف اور خدمات کا اجمالی خاکہ بیان کیا۔ مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی نے مختصر خطاب کیا۔ مولانا اللہ وسایا نے ”تحفظ ختم نبوت کے مشن پر اکابرین دیوبند کی خدمات“ کا تذکرہ کیا۔ حضرت کی دعاء پر مجلس کا اختتام ہوا۔ جماعت ختم نبوت کی طرف سے علماء کرام کے لئے عشائیہ کا پُر تکلف اہتمام کیا گیا تھا۔
۵/ جنوری ۲۰۱۸ء مولانا اللہ وسایا نے جامع مسجد جامعہ قاسم العلوم، مولانا قاضی احسان احمد نے مرکزی جامع مسجد بلال، مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ نے جامع مسجد مکی، مولانا محمد رضوان نے جامع مسجد عالیہ، صوبہ بلوچستان کے مبلغ مولانا ملک اویس احمد نے جامع مسجد مدنی سربندر، مولانا عبدالعزیز ملا زہی نے جامع مسجد مدرسہ باب الاسلام سر بندر اور راقم الحروف (مولانا عبدالحئی مطمئن) نے جامع مسجد مکی سربندر میں جمعۃ المبارک کے اجتماعات میں بیانات کئے۔
۵/ جنوری بروز جمعۃ المبارک بعد نماز عصر مرکزی جامع مسجد بلال میں چوتھی سالانہ عظیم الشان سیرت خاتم الانبیاء کانفرنس کا آغاز
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مدرسہ دارارقم تربت کے مدرس مولانا قاری عبدالقیوم کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ جامعۃ العلوم الاسلامیہ کوہ بن گوادر کے متعلم حافظ اسامہ اصغر نے مناقب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر نظم پیش کی۔ مولانا سید احمد شاہ نے نقابت کے فرائض انجام دیئے۔ مولانا عبدالحئی مطمئن کے مختصر بیان کے بعد ضلع گوادر کی تحصیل جیونی کے مشہور خطیب مولانا محمد عارف ارجمندی نے سیرت النبی کے عنوان پر بلوچی زبان میں خطاب کیا اور قادیانی مصنوعات کے بائیکاٹ پر زور دیا....... بعد نماز مغرب حافظ اسامہ اصغر نے نعتیہ کلام پیش کیا۔ شیر مکران استاذ العلماء مولانا محمد الیاس دلاوری نے اپنے مخصوص انداز میں بلوچی زبان میں خطاب کیا۔ جامعہ عثمانیہ یوسف گوٹھ کراچی کے نائب رئیس مولانا عبدالعزیز ملازہی نے بلوچی زبان میں اپنے بیان میں ”محبت رسول کا تقاضا“ پر سیر حاصل گفتگو کی۔ مولانا ملک اویس احمد نے اپنے بیان میں عقیدۂ ختم نبوت کی حقیقت و اہمیت کو واضح انداز میں پیش کیا۔ مرکزی مبلغ خطیب ختم نبوت مولانا قاضی احسان احمد نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے یہاں جمع ہونے کا دنیاوی کوئی مقصد اور لالچ نہیں بلکہ ہم سب صرف اور صرف اپنے پیارے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی محبت میں جمع ہیں۔ ختم نبوت کا کام یہی ہے کہ ہر مسلمان کے محبت نبوی کے تعلق کو مضبوط کیا جائے۔ اسی محنت کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اکابرین کی سرپرستی میں سرگرم عمل ہے۔ اپنے نبی کی محبت میں جمع ہونا کل قیامت کے دن ان شاء اللہ ! جام کوثر اور شفاعت نبوی کے حصول کو آسان اور یقینی بنانے کا ذریعہ ہے۔
مہمان خصوصی مولانا اللہ وسایا نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم سب مسلمانوں کا یہ ایمان اور عقیدہ ہے کہ ہمارے نبی حضرت محمد عربی ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر، نبی اور رسول ہیں۔ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا، آپ کے بعد جو بھی نبوت کا مدعی ہو وہ مسلمان نہیں چاہے دورِ رسالت کا مسیلمہ کذاب، اسود عنسی ہو یا متحدہ ہندوستان کا مسیلمہ پنجاب مرزا غلام احمد قادیانی۔ جمعیت علماء اسلام ضلع گوادر کے امیر، جامعہ مطلع العلوم کے مدیر مولانا عبدالحمید انقلابی نے اہلیان گوادر کی طرف عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ذمہ داران اور راہنماؤں کا خصوصی شکریہ ادا کیا کہ ان کی توجہ اور شفقت سے ضلع گوادر میں ختم نبوت کی صدائیں گونجنے لگی ہیں۔ کامیاب کانفرنس کے انعقاد پر انہوں نے تمام شرکاء اور مسجد انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا۔ خاص طور پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مکران ڈویژن کے رضا کار مولانا سید احمد شاہ کو فعال کردار ادا کرنے پر مبارکباد پیش کی۔ سیکورٹی انتظامات پر انہوں نے سرکاری سیکورٹی اداروں کا بھی شکریہ ادا کیا۔ مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ مدظلہ کی دعاء پر یہ عظیم الشان کانفرنس اختتام پذیر ہوئی۔ یوں عصر کے بعد شروع ہونے والا پروگرام تقریباً رات ۱۰ بجے اختتام کو پہنچا۔ اللہ تعالیٰ یہ ساری کوششیں قبول فرما کر تمام مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت اور تمام غیر مسلموں کی ہدایت کا ذریعہ بنائے۔ آمین !
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۸ تا ۱۵؍ فروری ۲۰۱۸ء ص ۲۴، ۲۵)
ختم نبوت کانفرنس کراچی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام کراچی کے ضلع وسطی میں ”ختم نبوت کانفرنس“ کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا، چنانچہ ۷؍ جنوری ۲۰۱۸ء بمطابق ۱۹؍ ربیع الثانی ۱۴۳۹ھ بروز اتوار دارالعلوم مدنیہ (الاخوان مسجد) دستگیر سوسائٹی، بلاک ۱۵، فیڈرل بی ایریا میں کانفرنس منعقد ہوئی جس کے مہمان خصوصی مولانا اللہ وسایا اور جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری مولانا محمد امجد خان صاحب تھے۔ کانفرنس دو نشستوں پر مشتمل تھی، پہلی نشست کا آغاز بعد نماز مغرب ہوا۔ راقم (مولانا عبدالحئی مطمئن) نے ابتدائی گفتگو میں کانفرنس کے اغراض و مقاصد بیان کئے، اس کے بعد قاری عبدالرحیم مدنی نے تلاوت کلام پاک کی، جب کہ حمد باری تعالیٰ اور نعت رسول
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مقبول ﷺ حافظ محمد شاہ رخ نے پیش کی۔ جامعہ معہد الخلیل الاسلامی کے استاذ مفتی سلمان یاسین نے اپنے خطاب میں تحفظ ختم نبوت کی اہمیت وفضیلت پر روشنی ڈالی، قادیانیت کی زہرناکی سے خبردار کیا اور مجمع سے قادیانی مصنوعات کے بائیکاٹ کا عہد لیا۔ بعدازاں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے مبلغ مولانا عبدالحی مطمئن نے اپنے خطاب میں شرکاء کو آگاہ کیا کہ وہ تحفظ ختم نبوت کے مقدس مشن میں کیسے حصہ لے سکتے ہیں؟! آپ نے کہا کہ یہاں جو باتیں آپ سنیں اسے دوسروں تک پہنچائیں، ختم نبوت پر لٹریچر کا مطالعہ کریں اور اپنے مسلمان بھائیوں کے ایمان کو قادیانی لٹیروں سے بچانے کی فکر کریں۔
کانفرنس کی دوسری نشست کا آغاز وطن عزیز کے معروف قاری جناب قاری اکبر مالکی کی تلاوت سے ہوا، آپ کے پُرسوز لہجہ سے شرکائے جلسہ کافی دیر تک محظوظ ہوئے۔ مشہور نعت خواں مولانا حافظ محمد اشفاق نے اپنی گداز آواز میں حمد ونعت پیش کر کے مجمع سے داد وصول کی۔ حافظ سہل سہیل نے ختم نبوت پر نظم پڑھ کر سامعین کے جذبات کو گرمایا۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا قاضی احسان احمد نے کہا کہ اکابرین امت اور اولیاء اللہ کی سرپرستی میں یہ جماعت تحفظ ختم نبوت کا علم تھامے ہوئے ہے۔
کانفرنس کے مہمان خصوصی مولانا اللہ وسایا نے فرمایا کہ دسمبر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر ملتان میں ملک بھر کے تمام مبلغین کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف کے اس فیصلہ کا خیرمقدم کیا گیا جس میں انہوں نے ۲۰۱۸ء کے سال کو ”ختم نبوت“ کا سال کے طور پر منانے کا اعلان کیا ہے۔ چنانچہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے امیر مولانا محمد اعجاز مصطفی مدظلہ کی ہدایات کی روشنی میں مرکزی مبلغ مولانا قاضی احسان احمد نے تجاویز لکھ کر وزیر موصوف کے نام ارسال فرمادی ہیں۔ چنانچہ آپ کی آج کی یہ کانفرنس انہی کانفرنسوں کی ایک کڑی ہے۔ اس کے علاوہ ان شاء اللہ! امسال آپ کے شہر کراچی کی سطح پر ایک عظیم الشان ”ختم نبوت کانفرنس“ کا بھی اہتمام کیا جائے گا۔
آپ نے مزید کہا کہ ”ختم نبوت“ سے متعلق حالیہ سانحہ پر آپ کی اس جماعت نے عدالتی محاذ پر بھی جنگ لڑی اور اس ترمیم کے خلاف حکم امتناعی لیا، جب کہ عوامی شعور بیدار کرنے کے لئے مختلف ذرائع ابلاغ کا بھی حتی الامکان استعمال کیا۔ ہم نے اس مقدس مشن کو سیاسی، مسلکی، جماعتی اور ذاتی وابستگیوں سے ہمیشہ بالا رکھا اور ملک کے آئین وقانون کی بھی پاسداری کرتے ہوئے انتشار و خانہ جنگی سے گریز کیا۔ اس کے علاوہ اس ترمیم کے خلاف حکومتی ایوانوں میں پوری قوم کی نمائندگی جمعیت علمائے اسلام نے کی اور اس حوالہ سے انہوں نے جو کردار ادا کیا، اس پر میرے بھائی مولانا محمد امجد خان روشنی ڈالیں گے۔
جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری مولانا محمد امجد خان مدظلہ نے کانفرنس سے آخری اور خصوصی خطاب کیا۔ آپ نے جمعیت علمائے اسلام کے پارلیمانی کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس ترمیم کے صرف چوبیس گھنٹے کے اندر قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ جو اس وقت سفر عمرہ پر تھے‘ نے فوراً پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں محمد نواز شریف صاحب سے رابطہ کیا، جس کے بعد نواز شریف صاحب نے ترمیم کو واپس لینے کا حکم دیا۔ نیز ۷۔بی اور ۷۔سی کی بحالی کے لئے جمعیت علمائے اسلام اور حکومت پاکستان نے علیحدہ علیحدہ بل تیار کر کے ایوان بالا و ایوان زیریں میں پیش کئے، اراکین اسمبلی نے متفقہ طور پر جمعیت علمائے اسلام کا پیش کردہ بل منظور کر لیا اور جیسے قادیانیت کے خلاف ۱۹۷۴ء میں مولانا مفتی محمود کی قیادت میں اراکین اسمبلی نے متفقہ فیصلہ دیا تھا اور ایک ووٹ بھی اس کی مخالفت میں نہ آیا تھا، بعینہٖ آج فرزند مفتی محمود مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کی قیادت میں قادیانیت کے خلاف یہ فیصلہ بھی متفقہ ہوا اور ایک ووٹ بھی مخالفت میں نہ آیا۔ ان شاء اللہ! آئندہ بھی جمعیت علمائے اسلام ختم نبوت کے تحفظ کے لئے اپنا پارلیمانی کردار ادا کرتی رہے گی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
آخر میں کانفرنس کے میزبان اور دارالعلوم مدنیہ کے مدیر اعلیٰ مولانا عبدالکریم فاروقی نے شرکائے جلسہ سے خطاب میں اکابر علماء و مہمانان گرامی کا شکریہ ادا کیا جب کہ جامعہ اشرف المدارس کے شیخ الحدیث اور مولانا شاہ حکیم محمد اختر کے خلیفہ مجاز مولانا عبدالرشید مدظلہ کی دُعا پر رات بارہ بجے کانفرنس اپنے اختتام کو پہنچی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۲۳ تا ۳۱/جنوری ۲۰۱۸ء ص ۱۴، ۱۵)
ماہانہ تربیتی اجلاس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی حلقہ سلطان آباد کے علماء کرام کا ماہانہ اجلاس ۲۰/جنوری ۲۰۱۸ء بعد نماز مغرب جامعہ فاروقیہ الاسلامیہ سلطان آباد میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے مرکزی مبلغ مولانا قاضی احسان احمد کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں علاقہ بھر کے نامور جید علماء کرام کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
اجلاس کا آغاز راقم الحروف (مولانا کلیم اللہ) کی تلاوت سے ہوا۔ اجلاس کی غرض وغایت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے مبلغ مولانا عبدالحی مطمئن نے بیان کی۔ بعد ازاں مجلس کے مرکزی مبلغ مولانا قاضی احسان احمد نے معزز علماء کرام کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا۔ مولانا نے کہا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر احسان ہے کہ اس نے ہمیں اپنے آخری نبی ﷺ کی عزت و ناموس اور عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے منتخب کیا ہے۔ الحمد للہ! انہوں نے کہا کہ مجلس کے مبلغین ہر علاقہ میں دن رات خوب محنت اور کوشش کر رہے ہیں۔ علاقہ بھر کے علماء کرام سے درخواست ہے کہ آپ حضرات مولانا خواجہ خان محمد کی نصیحت کے مطابق کم از کم مہینہ کا ایک جمعہ تحفظ ختم نبوت کے عنوان پر ضرور پڑھانے کی کوشش فرمائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہفتہ واری درس قرآن وحدیث بسلسلہ تحفظ ختم نبوت کا بھی اہتمام فرمائیں۔ ان دو اہم اور ضروری کاموں سے اپنے علاقہ میں کام کا آغاز فرمائیں۔ ہفت روزہ ختم نبوت اور ماہنامہ لولاک اور لٹریچر ساتھیوں تک پہنچانے کا اہتمام کیا جائے۔
بعد ازاں علماء کرام نے اس اجلاس میں اپنی قیمتی آراء پیش کیں اور کام کے فروغ کے لئے اپنی گرانقدر خدمات پیش کرنے کا عہد یہ دیا۔ رب کریم احباب کی محنتوں کو قبول فرمائے۔ آمین!
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۸ تا ۱۵/فروری ۲۰۱۸ء ص ۲۵)
افتتاح ختم نبوت چوک کوٹ قیصرانی
کوٹ قیصرانی تحریک ختم نبوت کے حوالہ سے تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی حیثیت کے پیش نظر ۲۱/جنوری ۲۰۱۸ء بروز اتوار ختم نبوت کانفرنس کا اہتمام کیا۔ مجلس کے مبلغ مولانا محمد اقبال اور قاری عبدالخالق اور مقامی علماء کرام نے کانفرنس کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ کانفرنس سے ایک روز قبل ۲۰ جنوری گیارہ بجے دن کوٹ قیصرانی سے ایک پروقار ریلی مولانا محمد اقبال اور مولانا فیروز خان کی قیادت میں نکالی گئی۔ جو شہر کے مختلف شاہراہوں سے ہوتی ہوئی ختم نبوت چوک پہنچی۔ مجاہدین ختم نبوت کے جذبات اور جوش وخروش کی حوصلہ افزائی کے لئے تحصیل تونسہ شریف کے امیر مولانا عبدالعزیز لاشاری نے ان نوجوانوں کے جذبات کو خراج تحسین پیش کیا۔ ۲۱/جنوری کو ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں علاقہ بھر کی دینی قیادت، تاجر، زمیندار، کاشتکار، سکول اور کالجوں کے طلباء، دینی مدارس کے طلباء نے قافلوں کی صورت میں شرکت کی۔ دو بجے کے قریب مولانا اللہ وسایا صاحب، مولانا عبدالرحمن غفاری اور مولانا شریف حیدری کے ہمراہ کانفرنس میں تشریف لائے تو مولانا قاری امان اللہ قیصرانی ودیگر علماء کرام نے ان کا پر تپاک استقبال کیا۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا عبدالصمد نے سرانجام دیئے۔ کانفرنس سے پیر طریقت مولانا عبدالقادر ڈیروی، شیخ الحدیث مولانا حبیب الرحمن عثمانی، مولانا عبدالحمید ربانی
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اور امیر جماعت اسلامی ضلع ڈیرہ غازی خان اور پروفیسر عطا محمد جعفری نے خطابات کئے۔ مشہور ثناء خوان مصطفیٰ ﷺ جناب نواز بلوچ اور ناصر محمود ناصر میلسی نے ہدیہ نعت پیش کیا۔ آخر میں کوٹ قیصرانی یونین کونسل کے چیئرمین مولانا امان اللہ قیصرانی نے مولانا اللہ وسایا مدظلہ کو خطاب کی دعوت دی۔ مولانا نے اپنے خطاب میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے اسلام آباد ہائی کورٹ کی رٹ کی کارروائی بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ دنیا کی کوئی طاقت پاکستان اور مسئلہ ختم نبوت کے خلاف کوئی سازش نہیں کر سکتی۔ پاکستان بھی ہمیشہ قائم رہے گا اور ختم نبوت کا مسئلہ بھی ہمیشہ قائم رہے گا۔ دنیا بھر میں قادیانی اور قادیانی نواز لوگ رسوا ہو چکے ہیں۔ عصر کی نماز کے بعد کوٹ قیصرانی کی شمالی طرف گزرنے والی شاہراہ کے چوک شہلانی کو ختم نبوت چوک کے نام سے تبدیل کرتے ہوئے افتتاح کیا گیا۔ تقریب سے مولانا امان اللہ قیصرانی نے کہا یہ چوک ختم نبوت کا پیغام ملک بھر میں اجاگر کرے گا۔ چونکہ اسی چوک سے ہی بین الاقوامی منصوبہ گیس اینڈ آئل ڈوڈک پلانٹ اور بہار والی پلانٹ ، سب تحصیل وہوا اور تونسہ شریف کوٹ قیصرانی کی سرکاری اور پرائیویٹ گاڑیاں گزرتی ہیں۔ ان شاء اللہ ! یہ چوک ختم نبوت ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم نبوت کا نا صرف پیغام دے گا۔ بلکہ اس علاقہ کے قادیانیوں اور قادیانی نوازوں کے لئے ہدایت کا ذریعہ بنے گا۔ مولانا اللہ وسایا نے چوک کی افتتاحی دعاء کرائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۱۸ء ص ۵۴، ۵۵)
ختم نبوت کورسز بذریعہ ملٹی میڈیا پروجیکٹر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حالات کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے عقیدہ ختم نبوت کا پرچار کر رہی ہے اور ہر ممکن طریقہ سے مرزائیوں کو پھلنے اور پھولنے سے روکنے میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ جب وقت کا تقاضا تھا کہ روڈ پر نکل کر جان کا نذرانہ پیش کیا جائے تو مسلمانوں نے لاہور مال روڈ پر ۱۰ ہزار جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ جب پارلیمنٹ میں بحث چلی تو اس میں بھی ملت نے اپنا بھر پور کردار ادا کیا۔ وقت چلتا رہا اور اکابرین وقت کے تقاضوں کے ساتھ ساتھ کام کرتے رہے۔ مرزائیوں نے سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر گمراہیوں کو پھیلانا شروع کیا تو عالمی مجلس نے اس میدان میں بھی اس کا راستہ روکا۔ پرنٹ میڈیا کے ذریعہ مختلف لٹریچر اور ماہنامہ لولاک اور ہفت روزہ ختم نبوت پورے ملک میں پہنچایا۔
انٹرنیٹ سے وابستہ افراد تک اپنا پیغام پہنچانے کے لئے www.amtkn.com اور لیپ ٹاپ و کمپیوٹر کے لئے ”مکتبہ ختم نبوت“، موبائلز کے لئے ”قادیانی شبہات کے جوابات“ اور ”آئینہ قادیانیت“ کی سرچ ایبل ایپلی کیشن تیار کی گئی۔ لیکن بہت بڑا طبقہ ایسا تھا جو ان ذرائع سے مستفید نہیں ہو سکتا تھا ان تک ختم نبوت کا پیغام پہنچانے کے لئے جہاں پر مختلف اوقات میں ملک بھر میں شمع ختم نبوت کے پروانے ختم نبوت کانفرنسوں کا انعقاد کرتے ہیں وہیں اس کام کو منفرد اور دلچسپ انداز میں عوام کے سامنے پیش کرنے کے لئے استاذ محترم مولانا محمد رضوان عزیز چناب نگر نے ایک کورس ترتیب دیا جو بذریعہ ملٹی میڈیا پروجیکٹر پڑھایا جاتا ہے۔
اس کورس کی افادیت کو سامنے رکھتے ہوئے مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی مدظلہ کی زیر نگرانی اس کورس کو جنوری ۲۰۱۸ء سے مسجد وار شروع کیا گیا۔ پشاور ٹاؤن ون سے اس کی ابتداء ہوئی اور ہر یونین کونسل میں کم از کم دو مساجد میں اس کورس کی ترتیب بنائی گئی۔ جس میں اس یونین کونسل کی باقی مساجد کے احباب کو بھی مدعو کیا جاتا۔ یہ کورس مساجد کے ساتھ ساتھ مدارس ، سکول، کالج اور یونیورسٹی کے طلباء میں بھی کروائے گئے۔ کورس کا دورانیہ اوسطاً ایک گھنٹہ رہا اور اوسطاً شرکاء کی تعداد ۱۵۰ رہی۔ جب کہ بعض کورسز ایسے بھی تھے جن میں شرکاء کی تعداد تقریباً ۵۰۰ بھی رہی اور اب تک الحمد للہ ۱۰۰ کورسز مکمل ہو چکے ہیں۔ پشاور کے اندر یوسی ایک تا تئیس، ریگی، تہکال، پلوسی، ادیزئی، بازید خیل، گڑھی عطاء محمد، غریب آباد، نوتھیہ، مسکین آباد، سفید ڈھیری، مریم زئی، اضاخیل، زنگلی، متنی، شریکیرہ اور اس کے علاوہ
تحریک ختم نبوت جلد (١٠) ٢٠١٨ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بھی نوشہرہ اور ان کے گردونواح میں قاری محمد اسلم مدظلہ کی زیر نگرانی ضلع بھر میں کورسز ہوئے اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ الحمد للہ!
(ماہنامہ لولاک ملتان ماہ جون ۲۰۱۸ء ص ۴۷)
سالانہ ختم نبوت کانفرنس سکھر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سکھر کے زیر اہتمام سالانہ ختم نبوت کانفرنس ۲/ فروری ۲۰۱۸ء بروز جمعۃ المبارک بعد نماز مغرب منعقد ہوئی۔ مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ اور مولانا محمد اسحاق ساقی جمعرات شام سکھر تشریف لائے۔ جب کہ مولانا امجد خان ، مولانا قاضی احسان احمد جمعہ کی صبح تشریف لائے۔ ان تمام حضرات نے جمعہ کے خطبات سکھر میں ارشاد فرمائے۔ مولانا عزیز الرحمن جالندھری کا خطبہ اللہ والی مسجد ، مولانا امجد خان کا خطبہ شہید اسلام مسجد ، مولانا قاضی احسان کا بیان مدنی مسجد اور مولانا محمد اسحاق ساقی کا جامع مسجد سکھر میں ہوا۔ بعد نماز مغرب ختم نبوت کانفرنس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ تلاوت کے بعد مولانا سہیل مدنی ، مولانا عبد اللطیف اشرفی کا بیان ہوا۔ بعد نماز عشاء کانفرنس کا باقاعدہ آغاز قاری محمد امین کی تلاوت سے ہوا۔ حافظ محمد ارسلان اختر نے ہدیہ نعت پیش کیا۔ مولانا سائیں عبد المجیب قریشی ، مولانا عزیز الرحمن جالندھری ، مولانا قاضی احسان احمد ، مولانا محمد امجد خان ، مولانا محمد اسحاق ساقی ، مولانا سعود افضل ہالیجوی کے بیانات ہوئے۔ مقررین نے کہا کہ قادیانی جب تک عقیدہ ختم نبوت کا اقرار نہیں کریں گے۔ اس وقت تک مسلمان نہیں ہو سکتے۔ ملک پاکستان کے اندر قادیانی لابی سازشوں میں مصروف ہیں۔ ہم حکومت اور آرمی سے مطالبہ کرتے ہیں کے قادیانیوں کی کڑی نگرانی کی جائے اور ان کی سازشوں کو بے نقاب کیا جائے۔ مولانا عبد اللطیف اشرفی نے اسٹیج سیکرٹری کے فرائض سرانجام دئے۔ اس موقعہ پر مولانا اسد اللہ میمن ، مفتی محمد شفیع ، مولانا الٰہی بخش ، قاری محمد حنیف بندھانی ، مولانا امداد اللہ ، مولانا امان اللہ ، مولانا تاج محمد چنہ جیکب آباد ، مولانا رحیم بخش چاچڑ ، و دیگر علماء اکرام موجود تھے۔ محمد مبشر حسین نے اپنی ٹیم کے ہمراہ دور دراز سے آنے والے قافلوں کا خوب اکرام کیا۔ کانفرنس الحمد اللہ ! خوب کامیاب رہی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۸ء ص ۵۳،۵۴)
ختم نبوت کانفرنس بادشاہی مسجد لاہور کی رابطہ کمیٹی کا دو روزہ دورہ ٹوبہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۰/ مارچ بروز ہفتہ کو بادشاہی مسجد لاہور میں منعقد ہونے والی ختم نبوت کانفرنس کی تیاری کے سلسلہ میں مولانا عزیز الرحمن ثانی ، پیر رضوان نفیس ، مفتی خالد پر مشتمل وفد ۵ اور ۶/ فروری بروز پیر اور منگل کو ٹوبہ ٹیک سنگھ تشریف لائے۔ دو دن میں کئی اجلاس اور بیانات ہوئے۔ ۵/ فروری....... علوم الشرعیہ جھنگ ، بعد نماز ظہر جامع مسجد بلال ؓ غلہ منڈی ، بعد نماز عصر جامعہ امداد العلوم رجانہ ، بعد نماز مغرب العصر تعلیمی مرکز ، بعد نماز عشاء پیرمحل کے علماء کرام سے مشاورتی اجلاس۔ ۶/ فروری....... جامعہ حسین بن علی پھلور میں ، بعد میں جامعہ دار العلوم ربانیہ میں ، بعد نماز ظہر جامع مسجد نیم والی کمالیہ میں ، بعد نماز مغرب جامع مسجد ختم نبوت گوجرہ میں علماء کرام اور معززین شہر سے مشاورتی اجلاس ہوئے۔ ان اجلاسوں میں مولانا عبد اللہ لدھیانوی ، قاضی فیض احمد ، مفتی محمد شیراز ، حافظ محمد ندیم ، قاری محمد انور ، پیر جی عتیق الرحمن ، مولانا اسعد مدنی ، مولانا مصدق عباس ، ضلعی مبلغ مولانا محمد حبیب شریک دورہ رہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۸ء ص ۵۲، ۵۳)
ختم نبوت سیمینار بہاول پور
۷/ فروری ۱۹۳۵ء کو ریاست بہاول پور میں چیف کورٹ کے جج محمد اکبر نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے کر ایک مسلمان
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
خاتون کا نکاح قادیانی سے کالعدم قرار دیا تھا۔ اس تاریخی فیصلہ کی یاد میں ۷؍ فروری ۲۰۱۸ء بروز بدھ کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام پریس کلب بہاول پور میں ایک سیمینار منعقد ہوا۔ جس کی صدارت مقامی امیر حاجی سیف الرحمٰن نے کی۔ سیمینار سے مرکزی ناظم تبلیغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا عبدالکریم ندیم، مولانا محمد اسحاق ساقی، مولانا مفتی ارشاد احمد، مولانا شمس الدین انصاری، قاری غلام یاسین صدیقی، سید تابش انوری، مفتی سید مظہر اسعدی، جماعت اسلامی کے حکیم اکرام الحق، جمعیت اہلحدیث کے پروفیسر مظفر علی ظفر، جمعیت علماء پاکستان کے پروفیسر عون محمد سعیدی سمیت کئی ایک عمائدین نے خطاب کیا۔ مقررین حضرات نے اس فیصلہ کے کردار کو سراہتے ہوئے جج محمد اکبر، والی ریاست بہاول پور، شیخ الجامعہ مولانا غلام محمد گھوٹوی، مولانا انوار شاہ کشمیری، مولانا مفتی محمد شفیع، مولانا سید بدر عالم میرٹھی، ابو الوفاء شاہجہانپوری، علامہ رحمت اللہ ارشد سمیت تمام شخصیات کو خراج تحسین پیش کیا اور ان کے رفع درجات کے لئے دعاء کی۔ سیمینار میں وکلاء، انجمن تاجران کے عمائدین کے علاوہ تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۸ء ص ۵۴، ۵۵)
انعامی تقریب شعور ختم نبوت چناب نگر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامعہ عربیہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں ۷؍ فروری ۲۰۱۸ء بروز بدھ کو ایک عظیم الشان انعامی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں درجہ اعدادیہ سے لے کر دورۂ حدیث شریف تک کے طلباء کرام نے بھر پور حصہ لیا۔ اس تقریب کی صدارت مولانا غلام مصطفیٰ مرکزی خطیب مسلم کالونی چناب نگر نے فرمائی۔ نظم و نسق اور انعامات کی ترتیب کا اہتمام مولانا غلام رسول دین پوری نے فرمایا۔ تقریب میں نقابت کے فرائض مولانا محمد شاہد ندیم نے سرانجام دیئے۔ تقریب میں: ’’عقیدۂ ختم نبوت، حیات عیسیٰ علیہ السلام، امام مہدی علیہ الرضوان، تحریک ختم نبوت اور جھوٹے مدعیان نبوت اور ان کے دعاویٰ‘‘ سے متعلق درجہ وار طلباء سے سوالات کئے گئے۔ طلباء نے الحمد للہ! بھر پور تیاری کے ساتھ جوابات دیئے۔ بعدازاں مولانا غلام مصطفیٰ اور مولانا غلام رسول دین پوری نے مختصر بیانات کرتے ہوئے طلباء کی حوصلہ افزائی کی۔ پھر اوّل، دوم، سوم پوزیشن حاصل کرنے والوں کو خصوصی اور باقی طلباء کو اعزازی انعامات سے نوازا گیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۸ء ص ۳۰)
مرکزی مبلغین حضرات کا دورۂ بہاولپور
مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ۸؍ فروری ۲۰۱۸ء بروز جمعرات کو احمد پور شرقیہ ضلع بہاولپور تشریف لائے۔ بعد نماز ظہر دارالعلوم فتحیہ احمد پور شرقیہ میں بیان فرمایا۔ رات کو حمزہ مسجد عباسیہ چوک ماڑی گسانی میں درس قرآن ارشاد فرمایا۔ ۹؍ فروری بروز جمعہ بعد نماز فجر مسجد صدیق اکبر رضی اللہ عنہ میں درس قرآن دیا۔ بعدازاں اوچ شریف میں مرکزی مبلغین نے جمعہ کے اجتماعات سے عوام الناس میں عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے للو والی موری مولانا محمد ابراہیم والی مسجد میں، مولانا مفتی محمد راشد مدنی رحیم یار خان نے جامع مسجد کمیٹی والی اوچ شریف میں اور مولانا محمد اسحق ساقی بہاولپور نے اسماعیل خان والی مسجد میں خطبات جمعہ ارشاد فرمائے۔ مقررین نے آزاد کشمیر اسمبلی ممبران کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ۶؍ فروری ۲۰۱۸ء کے تاریخ ساز فیصلے کا خیر مقدم کیا۔ مبلغین نے مقامی امیر جناب شیر محمد قریشی کے بچوں کی جو کہ ایک حادثہ میں شدید زخمی ہوئے عیادت کی اور ان کی جلد صحت یابی کے لئے دعاء بھی کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۸ء ص ۵۵)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس تلہار
۱۳؍فروری ۲۰۱۸ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام عظیم الشان تحفظ ختم نبوت کانفرنس پبلک پارک تلہار ضلع بدین میں مولانا خان محمد جمالی کی سرپرستی اور مولانا فتح محمد مہیری کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ نقابت کے فرائض مولانا محمد حنیف سیال مبلغ بدین نے سرانجام دیئے۔ قاری عبدالرزاق جمالی کی تلاوت سے کانفرنس کا آغاز کیا گیا، جب کہ ہدیۂ نعت حافظ سعید احمد راجپر نے پیش کیا۔ کانفرنس سے مولانا قاضی احسان احمد مرکزی مبلغ، مولانا توصیف احمد مبلغ حیدرآباد، مولانا مختار احمد مبلغ میر پور خاص کے بیانات ہوئے۔ مقررین نے عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت و عظمت کو اجاگر کرتے ہوئے فتنۂ قادیانیت کی سازشوں کو بے نقاب کیا اور سامعین سے قادیانی مصنوعات کے بائیکاٹ کا عہد لیا۔ اس کانفرنس میں قاری عبدالواحد فاروقی، مولانا محمد اسماعیل خانخیلی، مولانا سید خلیل احمد شاہ، مولانا عبدالحمید کھٹی و دیگر علماء کرام نے بھی شرکت کی۔ کانفرنس مولانا محمد عیسیٰ سموں کے دعائیہ کلمات پر اختتام پذیر ہوئی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۸ تا ۱۵؍مارچ ۲۰۱۸ء ص ۱۸)
آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کنونشن گوجرانوالہ
۱۴؍فروری ۲۰۱۸ء بعد نماز ظہر جامع مسجد شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ میں عقیدہ ختم نبوت اور قانون ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے آل پارٹیز بین المسالک کنونشن منعقد ہوا۔ جس کی صدارت مولانا زاہد الراشدی نے کی۔ کنونشن سے تمام مسالک کے جید علماء کرام نے خطابات کئے۔ اجلاس میں ایک بین المسالک رابطہ کمیٹی بھی تشکیل دی گئی جس کی سرپرستی مولانا زاہد الراشدی کریں گے۔ کمیٹی میں مولانا صاحبزادہ نصیر احمد اویسی، مولانا حافظ گلزار احمد آزاد، سید احمد حسین زید، مولانا محمد مشتاق چیمہ، مولانا حافظ امجد محمود معاویہ، مولانا حجاج اللہ صمدانی، بابر رضوان باجوہ، مولانا ابرار ظہیر، حافظ رفیق عابد علوی، مولانا ظہیر الدین بابر بٹ، حافظ حمید الدین اعوان، جناب فرقان عزیز بٹ اور سید ظہیر حسین نقوی شامل ہیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۸ء ص ۵۳)
مولانا عزیز الرحمن جالندھری کے تبلیغی اسفار
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری ۱۶؍فروری ۲۰۱۸ء کو چیچہ وطنی کے تبلیغی دورہ پر تشریف لائے۔ مولانا عبدالحکیم نعمانی نے کارکنان ختم نبوت کے ساتھ استقبال کیا۔ نماز مغرب کے بعد مدرسہ تجوید القرآن المعروف درس پیر جی میں منعقدہ ایک عظیم الشان جلسہ سے خطاب کیا۔ اس موقع پر خانقاہ عزیزیہ کے سجادہ نشین مولانا پیر جی عبدالحفیظ رائے پوری، پیر جی عبدالجلیل رائے پوری، پیر جی عزیز الرحمن رائے پوری کے علاوہ شہر بھر کی مذہبی قیادت موجود تھی۔ جلسہ کے اختتام پر مولانا عزیز الرحمن جالندھری کے ہاتھوں بچوں کی دستار بندی کرائی گئی۔ جلسہ کی اختتامی دعا مولانا محمد ریاض نے کروائی۔ ۱۷؍فروری کو مولانا پیر جی عبدالعزیز رائے پوری کے مزار پر حاضری دے کر خانقاہ عزیزیہ چک نمبر ۱۱/۱۱-ایل میں تشریف لائے۔ مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے جامع مسجد میں جمعتہ المبارک کے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت اور اسلامی تعلیمات پر چلنے کی تلقین و نصیحت فرمائی۔ چیچہ وطنی سے واپسی پر میاں چنوں میں ڈاکٹر احسان الحق چوہدری سے ملاقات ہوئی۔ مجلس کے اکابرین کے تذکروں سے ایمان کو تازگی ملی۔ میاں چنوں سے واپسی پر چک ۸۴/۱۰-آر میں حافظ شہاب الدین کی وفات پر ان کے اقرباء و اعزہ سے تعزیت مسنونہ کی۔ چک ۸۴ سے نیازی چوک خانیوال کے قریب حافظ محمد یوسف کے بیٹوں سے ملاقات ہوئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۸ء ص ۵۵)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس وہاڑی
۷ فروری ۲۰۱۸ء بعد نماز مغرب جامع مسجد شرقی کالونی وہاڑی میں انجمن خدام الدین کی مساعی حسنہ سے مولانا ظفر احمد قاسم کی سرپرستی اور حافظ شبیر احمد کی نگرانی میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر مرکزیہ مولانا حافظ پیر ناصر الدین خاکوانی مدظلہ، مولانا محمد رفیق جامی فیصل آباد، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا قاضی احسان احمد، مولانا عبدالستار گورمانی اور مولانا محمد فاروق معاویہ کے بیانات ہوئے۔ میز بانی کے فرائض حاجی عبدالمجید اور رانا افتخار احمد نے سرانجام دیئے۔ کانفرنس میں کثیر تعداد میں مذہبی، سیاسی و سماجی رہنماؤں سمیت عوام الناس نے شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۸ء ص ۵۲)
ختم نبوت کانفرنس انڈسٹریل اسٹیٹ حطار ضلع ہری پور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت یونٹ خواجہ خان محمد حطار ضلع ہری پور کے زیر اہتمام دوسری سالانہ ختم نبوت کانفرنس ۷ فروری ۲۰۱۸ء بروز ہفتہ بعد نماز مغرب جامع مسجد خلفائے راشدین بانڈی گلو میں زیر صدارت مولانا فدا محمد خان، زیر نگرانی مفتی ہارون الرشید شامی، زیر سرپرستی مفتی زاہد خان، زیر انتظام مفتی محمد شفاقت منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز استاذ القراء قاری محمد امین کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ قاری مصعب حسین فاروقی اور قاری جواد عزیز حسانی نے نعتیہ کلام پیش کیا۔ کانفرنس سے مولانا عبدالقیوم حقانی اور مولانا سید ابوبکر شاہ نے خطاب کیا۔ مقررین نے عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت اور علمائے دیوبند کی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے قادیانیوں سے بائیکاٹ کی ترغیب دی۔ کانفرنس کو کامیاب کرنے میں یونٹ کے تمام ارکان نے بھر پور محنت کی۔ اللہ تعالیٰ تمام احباب کو جزائے خیر عطاء فرمائے۔ آمین!
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۸ء ص ۵۲)
چھٹی سالانہ ختم نبوت کانفرنس ضلع کرک
۳ / مارچ ۲۰۱۸ء بروز ہفتہ دوپہر ۱ بجے بمقام تنگوڑی سر چوک ضلع کرک میں ایک عظیم الشان چھٹی سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے لئے تیاری مجلس کی ضلعی جماعت نے تقریباً ایک مہینہ قبل شروع کی تھی جس کی کامیابی کے لئے ذمہ داروں نے ضلع کے مختلف اطراف کے دورے کئے۔ جس میں تحصیل بانڈہ داؤد شاہ کا دورہ مولانا کرامت اللہ، تحصیل تخت نصرتی کی ہر یونین کا دورہ مولانا علی عثمانی فریدی اور مولانا عبدالرزاق نے کیا، جب کہ پرنٹ اور سوشل میڈیا پر تشہیر کا کام مولانا ہاشمی نے سرانجام دیا۔ حسب سابق امسال بھی کانفرنس میں ہزاروں کی تعداد میں عاشقان مصطفیٰ ﷺ شریک ہوئے، جس میں خصوصی طور پر جانشین خواجہ خواجگان خان محمد خواجہ عزیز احمد مدظلہ نائب امیر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، پیر طریقت حافظ ناصر الدین خاکوانی مدظلہ نائب امیر مرکزیہ، مولانا مفتی محمد شہاب الدین پوپلزئی صوبائی امیر مجلس، مرکزی مبلغ مقرر شعلہ بیان مولانا قاضی احسان احمد کراچی اور صوبائی مبلغ مولانا عابد کمال شامل ہیں۔ جب کہ مقامی علماء مولانا حافظ ابن امین ضلعی امیر جے یو آئی کرک، جنرل سیکرٹری جے یو آئی مولانا ظہور احمد، مولانا قاری جہانزیب، پیر طریقت مولانا صاحب نور، قاری عمر صدیق اور شیخ الحدیث مولانا عبدالحمید شریک ہوئے۔ ان کے علاوہ جاوید اقبال خٹک اور تاجر برادری کے راہنما حاجی سلطان اعظم نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ پروگرام کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کی سعادت حافظ القاری عبدالرزاق مروت نے حاصل کی، جب کہ نعت شریف حافظ واصف اور جناب جاوید انور نے پیش کی، جب کہ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حافظ جاوید نے نبھائے ، مولانا عابد کمال نے مختصر الفاظ میں عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت بیان کی ۔ مولانا قاضی احسان احمد نے تقریباً ایک گھنٹہ تک پُر جوش انداز میں آقائے نامدار ﷺ کے ساتھ عشق و محبت کے موضوع پر بیان فرمایا اور سارے مجمع سے وعدہ لیا کہ ناموس رسالت کے لئے ہر قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے ۔ مرکزی نائب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پیر طریقت حافظ ناصر الدین خاکوانی نے ختم نبوت کے مسئلے پر علمی انداز میں خطاب کیا ۔ آخری بیان سے پہلے حافظ واصف نے نعت کے ذریعے مجمع کو بیدار کیا ۔ آخری بیان صوبائی امیر مجلس مفکر ختم نبوت مولانا مفتی محمد شہاب الدین پوپلزئی کا ہوا جنہوں نے تفصیلاً بیان فرما کر حکومت کی قادیانیت نواز پالیسیوں پر شدید تنقید کی اور درجہ ذیل مطالبے پیش کئے :
- ۱...... تمام اہم عہدوں سے عموماً اور وزیراعظم کا پرسنل سیکرٹری خصوصاً جو قادیانی ہے کو فی الفور برطرف کیا جائے ۔
- ۲...... اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کے مطابق مرتد کی سزا فی الفور نافذ کی جائے ۔
- ۳...... قانون تحفظ ناموس رسالت میں کسی قسم کی چھیڑ خانی سے گریز کیا جائے ۔
- ۴...... الیکٹرونک میڈیا پر چلنے والی قادیانی ارتدادی مہم کو فی الفور بند کیا جائے جیسے MTV وغیرہ ۔
کانفرنس کا اختتام مولانا خواجہ عزیز احمد مدظلہ کی دعاء سے ہوا ۔ آپ نے دعاء سے قبل ایک دو باتیں ارشاد فرمائیں کہ : ختم نبوت کے حلف نامہ سے متعلق تنازعہ کا حل دو مقامات سے تھا : (۱) پارلیمنٹ ، (۲) عدالت ۔
ہمارے بڑوں نے انہی دو مقامات سے بحال کروایا ، ہماری جدوجہد قانون کے دائرے میں ہے اور ہم قانون کو کبھی بھی ہاتھ میں نہیں لینا چاہتے ۔ دوسری بات یہ کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ۔ ختم نبوت سے متعلق مطالبات منوانے کے لئے ہم غیر قانونی طریقہ کار کا انتخاب نہیں کرتے جس طرح کچھ مہینے پہلے ایک گروہ نے کیا تھا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۶ تا ۲۲؍ اپریل ۲۰۱۸ء ص ۲۶)
خاتم النبیین ﷺ کانفرنس پہاڑ پور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۴؍ مارچ ۲۰۱۸ء بروز اتوار بعد از نماز مغرب گراؤنڈ پہاڑ پور ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں خاتم النبیین ﷺ کانفرنس منعقد ہوئی ۔ صدارت خواجہ خلیل احمد نے کی ۔ تلاوت کلام پاک قاری عطاء الرحمن نے کی ۔ شاعر ختم نبوت فیصل بلال گوجرانوالہ نے نعتیہ کلام پیش کیا ۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض قاری محمد کفایت اللہ قاسمی نے سرانجام دیئے ۔ کانفرنس میں مولانا محمد عابد کمال ، مولانا مفتی اسعد محمود ، مولانا پیر حفیظ الرحمن کراچی ، مولانا قاری محمد رضوان کراچی ، مولانا محمد حمزہ لقمان علی پوری کے علاوہ معزز مہمانان گرامی مولانا محمد سعید یوسف اور مولانا قاضی احسان احمد کراچی نے خطابات کئے ۔ مقررین نے کہا کہ ہم اس پروگرام میں اپنی شرکت کو باعث فخر و سعادت سمجھتے ہیں ۔ کیونکہ یہ خالصتاً تحفظ ختم نبوت کے لئے منعقد کی گئی ہے ۔ ہمارے اکابرین نے ان فتنوں کا ہر میدان میں ڈٹ کر مقابلہ کیا ۔ انہیں کی محنتوں سے ۶؍ فروری ۲۰۱۸ء کو آزاد کشمیر میں بھی قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہے ۔ ہم ان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۸ء ص ۵۵)
ختم نبوت کانفرنس دریا خان
دریا خان میں ۵؍ مارچ ۲۰۱۸ء بروز سوموار ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ۔ کانفرنس کا آغاز قاری محمد ارشد کی تلاوت سے ہوا ۔ اس کے بعد حافظ حبیب اور حافظ ابراہیم نے نعتیہ کلام پیش فرمایا ۔ کانفرنس میں قاری محمد بلال حنیف ملتان نے خطاب فرمایا ۔ مولانا حمزہ
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
لقمان علی پوری نے قادیانیت سے بائیکاٹ کی ترغیب دی ۔ آخر میں مولانا محمد اکرم طوفانی کا فکر انگیز خطاب ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۸ء ص ۵۲)
علماء کنونشن بسلسلہ ختم نبوت کانفرنس بادشاہی مسجد لاہور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۰/ مارچ ۲۰۱۸ء بروز ہفتہ کو منعقد ہونے والی عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس بادشاہی مسجد لاہور کی تیاریوں کے لئے پنجاب بھر میں علماء کنونشن منعقد کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا جو کہ یکم جنوری سے لے کر تا حال جاری ہے اور کانفرنس کے انعقاد تک جاری رہے گا۔
کانفرنس کی تیاریوں کے لئے ایک مرکزی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ جس میں مرکزی ناظم نشر واشاعت مولانا عزیز الرحمن ثانی، پیر میاں رضوان نفیس ، مولانا خالد محمود، مولانا عبدالشکور حقانی ، مولانا علیم الدین شاکر ، مولانا جمیل الرحمن اختر اور مولانا محمد اشرف گجر شامل ہیں۔ مذکورہ بالا مرکزی کمیٹی پنجاب بھر کے اضلاع میں علماء کنونشن منعقد کر کے ضلعی سطح پر کمیٹیاں تشکیل دے رہی ہے جو کانفرنس کی تیاریوں کے لئے بھر پور کردار ادا کریں گے ۔ اب تک جن حلقوں اور اضلاع میں کنونشن منعقد ہوئے اور وہاں جو حضرات کمیٹی کا حصہ بنے ۔ ان کی اجمالی رپورٹ درج ذیل ہے۔
یکم جنوری ۲۰۱۸ء ...... بروز سوموار ، مدرسہ نجم العلوم سمن آباد لاہور ، بعد نماز عشاء ۔ کمیٹی : مولانا فہیم الحسن تھانوی ، مولانا عبدالعزیز ، مولانا امیر حمزہ ، مولانا عاصم مخدوم ، حافظ محمد ہاشم ، جناب طیب قریشی ۔
۲/ جنوری ۲۰۱۸ء ...... بروز منگل ، بادامی باغ لاہور ، بعد نماز عشاء ۔ کمیٹی : مولانا ذوالفقار احمد ، مولانا عبدالرؤف ، مولانا رحمت اللہ ، مولانا محمد اویس ، مولانا سرفراز ۔
۳/ جنوری ۲۰۱۸ء ...... بروز بدھ ، مسجد الرفیق واہ کینٹ لاہور ، بعد نماز عشاء ۔ کمیٹی : مولانا حسام الدین ، مولانا محمد شریف ، مولانا دوست محمد ، مولانا یعقوب فیض ، مولانا مزمل شاہ ۔
۴/ جنوری ۲۰۱۸ء ...... بروز جمعرات ، ادارۃ الفرقان لاہور ، بعد نماز ظہر ۔ کمیٹی : مفتی جمیل رشید ، قاری امان اللہ ، مولانا ضیاء الحق ، مولانا سعید وقار ، مولانا محمد امجد ، مولانا محمد علی ۔
۴/ جنوری ۲۰۱۸ء ...... بروز جمعرات ، مرکزی مسجد انار کلی لاہور ، بعد نماز عشاء ۔ کمیٹی : مولانا محمد طیب طاہر ، مولانا عبدالقدوس ، مولانا محمد اسامہ ، مولانا محمد میاں ، قاری محمد عزیر ربانی ۔
۸/ جنوری ۲۰۱۸ء ...... بروز سوموار ، شیخوپورہ، صبح دس بجے ۔ کمیٹی : مولانا طاہر عالم ، مولانا محمد ہارون ، قاری محمد الیاس ، مولانا مشرف حسین ، قاری محمد رمضان شاہ ، مفتی زین العابدین ، قاری محمد امتیاز کشمیری ، جناب سید تجمل حسین ، مولانا محمد خالد عابد ۔
۸/ جنوری ۲۰۱۸ء ...... بروز سوموار ، ننکانہ ، بعد نماز ظہر تا عصر ۔ کمیٹی : قاری محمد اقبال ، مفتی صغیر حسین ، قاری محمد ارشد ، چوہدری بشیر زرگر ، چوہدری نصیب الٰہی گجر ۔
۹/ جنوری ۲۰۱۸ء ...... بروز منگل ، معہدالترمذی ٹھوکر لاہور ، صبح ۱۱ بجے ۔ کمیٹی : مولانا محمد عثمان ، دوست احباب و جملہ اراکین ۔
۹/ جنوری ۲۰۱۸ء ...... بروز منگل جامع مسجد آسٹریلیا لاہور ، بعد نماز عشاء ۔ کمیٹی : مولانا محمد سعادت ، مولانا عثمان حیدر ، مولانا محمد عبداللہ ، مولانا ماجد نواز ، مولانا محمد ایاز ، مولانا محمد عمران ۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۱۰؍جنوری ۲۰۱۸ء....... بروز بدھ، جامع مسجد سعدی، سعدی پارک لاہور، بعد نماز عشاء۔
۱۱؍جنوری ۲۰۱۸ء....... بروز جمعرات، جامع مسجد بیگماں بند روڈ لاہور، بعد نماز ظہر۔ کمیٹی: مولانا عبدالرؤف عثمانی، مولانا شاہ نواز نقشبندی، مولانا اجمل طاہر، مولانا محمد مسعود، مولانا وسیم الحق۔
۱۲؍جنوری ۲۰۱۸ء....... بروز جمعہ، جامع مسجد احیاء العلوم گلشن راوی لاہور، بعد نماز عشاء۔ کمیٹی: مولانا عبدالخالق، مولانا محمد عباس، مولانا حبیب الرحمٰن ضیاء، مولانا محمد عمران، مولانا محمد محمود۔
۱۳؍جنوری ۲۰۱۸ء....... بروز ہفتہ، مدرسہ بیت القرآن، صبح دس بجے۔ کمیٹی: قاری غلام مصطفیٰ، مفتی محمد اشفاق، مفتی محمد عمر، مولانا نفیس رحیمی، مولانا محمد شکیل۔
۱۴؍جنوری ۲۰۱۸ء....... بروز اتوار، مدرسہ قاسمیہ شاہدرہ لاہور، بعد نماز ظہر۔ کمیٹی: مولانا شبیر احمد عثمانی (شاہدرہ)، مولانا محمود الحسن، مولانا محمد اقبال۔
۱۵؍جنوری ۲۰۱۸ء....... بروز سوموار، پسرور ضلع سیالکوٹ، بارہ بجے دوپہر۔ کمیٹی: مولانا محمد طیب زاہد، مولانا فقیر اللہ اختر، مفتی سعید الحق، علامہ محمد طیب، مفتی عبیداللہ، مولانا اختر رسول، مولانا حافظ محمد قاسم۔
۱۵؍جنوری ۲۰۱۸ء....... بروز سوموار، نارووال، بعد نماز عشاء۔ کمیٹی: مولانا فقیر اللہ اختر، مفتی عصمت اللہ، مولانا طلحہ عثمانی، جناب مقصود احمد باجوہ، جناب محمد آصف بٹ۔
۱۶؍جنوری ۲۰۱۸ء....... بروز منگل، جامع مسجد مولانا احمد علی لاہوری اچھرہ، بعد نماز عشاء۔ کمیٹی: مولانا علیم الدین شاکر، مولانا عبداللہ مدنی، حافظ مبشر، مولانا محمد مختار، مولانا عبدالرحمٰن ساجد۔
۱۷؍جنوری ۲۰۱۸ء....... بروز بدھ، حافظ آباد لاہور، ۱۱؍بجے دن کمیٹی: مولانا علامہ احمد سعید، حافظ عبدالوہاب، حکیم محمد اقبال، حافظ اللہ دتہ، قاری لیاقت علی، مفتی محمد جمیل۔
۱۷؍جنوری ۲۰۱۸ء....... بروز بدھ، گوجرانوالہ، بعد نماز ظہر۔ کمیٹی: مولانا زاہد الراشدی، مولانا بابر رضوان باجوہ، مفتی محمد نعمان، مولانا شوکت نصیر، سید احمد حسین زاہد، مولانا محمد عارف شامی، مولانا عطاء الرحمٰن جالندھری، مولانا محمد فیصل بلال حسان۔
۱۸؍جنوری ۲۰۱۸ء....... بروز جمعرات، گجومتہ پرانا کاہنہ لاہور، بعد نماز ظہر۔ کمیٹی: مولانا مفتی مسعود الرحمٰن، مولانا خلیل احمد، مفتی محمد شریف، مولانا عبدالقدوس، مولانا عبدالحفیظ، مولانا مقصود الوری، مولانا عبدالرحیم۔
۲۰؍جنوری ۲۰۱۸ء....... بروز ہفتہ، مدرسہ عربیہ ختم نبوت چناب نگر ضلع چنیوٹ، دوپہر بارہ بجے۔ کمیٹی: مولانا غلام مصطفیٰ، مولانا سیف اللہ خالد، مولانا ملک خلیل احمد، مولانا محمد عارف، قاری محمد عمیر۔
۲۰؍جنوری ۲۰۱۸ء....... بروز ہفتہ، جامع مسجد حسان چوبرجی، بعد نماز عشاء۔ کمیٹی: مفتی عبدالقوی لاہور، مولانا محمد سلیم، مولانا بدرالدین، مولانا انیس الرحمٰن، مولانا ڈاکٹر عبدالواحد قریشی، مفتی محمد خرم۔
۲۱؍جنوری ۲۰۱۸ء....... بروز اتوار، حجرہ شاہ مقیم ضلع دیپالپور، ۱۰؍بجے صبح۔ کمیٹی: مولانا ساجد الرحمٰن، مولانا محمد عثمان، مولانا نصراللہ ضیاء، مولانا محمد آصف، مولانا عبدالرزاق مجاہد۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۲۱؍جنوری ۲۰۱۸ء....... بروز اتوار، عید گاہ محمودیہ اوکاڑہ، بعد نماز ظہر۔ کمیٹی: مولانا قاری محمد الیاس، مولانا سعید احمد عثمانی، مولانا سید شمس الحق گیلانی، مولانا محمد اعظم، مولانا عبدالقدیر، قاری غلام محمود انور، مولانا عبدالرزاق مجاہد۔
۲۲؍جنوری ۲۰۱۸ء....... بروز سوموار، دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مسلم ٹاؤن لاہور، بعد نماز ظہر۔
۲۴؍جنوری ۲۰۱۸ء....... بروز بدھ، سرگودھا، بعد نماز عشاء۔ کمیٹی: مولانا محمد اکرم طوفانی، جناب نور محمد ہزاروی، مفتی شاہد مسعود، مولانا ثناء اللہ ایوبی، مولانا عبدالرشید، مولانا ایوب طوفانی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۱۸ء ص ۴۷ تا ۴۹)
علماء کنونشنز بسلسلہ تاریخی ختم نبوت کانفرنس بادشاہی مسجد لاہور
۲۸؍جنوری ۲۰۱۸ء بروز اتوار صبح دس بجے جامع مسجد وہاب ڈسکہ میں علماء کنونشن منعقد ہوا۔ جس میں لاہور سے مرکزی رابطہ کمیٹی نے شرکت کی۔ کنونشن کی صدارت مقامی امیر مولانا حافظ محمد افضل شاکر نے کی۔ مولانا عزیز الرحمن ثانی نے کانفرنس کے اغراض و مقاصد کو بیان کیا۔ کانفرنس کی تیاری کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی۔ جو کہ مولانا محمد افضل، مولانا محمد اسحاق، مولانا غلام مرتضیٰ، مولانا ارشد محمود خان، مولانا طیب خان، مولانا سہیل گجر، مولانا محمد شہباز اور قاری محمد یامین شامل ہیں۔ ۲۸؍جنوری....... بروز اتوار بعد نماز ظہر جامعہ فاروقیہ چوک امام صاحب سیالکوٹ میں کنونشن منعقد ہوا۔ صدارت پیر شبیر گیلانی نے کی۔ لاہور سے مرکزی رابطہ کمیٹی کے ہمراہ عبدالقدیر راہی اور شیخ عتیق الرحمن رہنما جماعت اسلامی بھی تشریف لائے۔ کمیٹی مولانا فقیر اللہ اختر، مولانا قاری نذیر احمد، سید محبوب احمد گیلانی، مولانا حماد انذر قاسمی، مولانا مفتی محمد یونس، مفتی عارف حسین، مولانا مفتی محمد، مولانا سجاد احمد، علامہ اویس فاروقی پر مشتمل ہے۔ ۱۱؍فروری....... بروز اتوار جامعہ دارالقرآن فیصل آباد میں اور ۱۸؍فروری بروز اتوار چک جھمرہ فیصل آباد میں علماء کے مشاورتی اجلاس منعقد ہوئے۔ جن میں مولانا اللہ وسایا اور مولانا عبدالرشید سیال نے خصوصی بیانات کئے اور علماء کے ختم نبوت کانفرنس بادشاہی مسجد کی تیاریوں کے لئے کمیٹیاں قائم کیں۔ اسی طرح مرکزی مبلغ مولانا محمد اسحاق ساقی نے ۱۲؍فروری کو کہروڑ پکا، ۱۳؍فروری کو دنیا پور، ۱۸؍فروری کو بہاولپور اور ۲۲؍فروری کو حاصل پور میں کنونشن منعقد کر کے بادشاہی مسجد لاہور میں کانفرنس کی تیاریوں کے لئے جدوجہد کی۔ ان شہروں کے علاوہ مرکزی رابطہ کمیٹی نے پنجاب بھر کے مختلف شہروں میں علماء کنونشن منعقد کر کے کمیٹیاں ترتیب دیں۔ جن شہروں میں علماء کنونشن منعقد ہوئے ان میں لاہور کے تمام حلقوں سمیت اوکاڑہ، پتوکی، قصور، دیپال پور، رینالہ خورد، شیخوپورہ، ننکانہ، گوجرانوالہ، گجرات، منڈی بہاؤالدین، پھالیہ، خوشاب وغیرہ شامل ہیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۸ء ص ۵۲)
خصوصی رپورٹ سبزہ زار لاہور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے ۱۰؍مارچ ۲۰۱۸ء بادشاہی مسجد لاہور میں ختم نبوت کانفرنس کے اعلان کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے ذمہ داران نے عائشہ مسجد (دفتر ختم نبوت) میں لاہور کے چیدہ چیدہ اراکین کا اہم اجلاس طلب کیا جس میں کانفرنس کی تیاری کے لئے لاہور کو ۵۰ حصوں میں تقسیم کیا گیا، جس کے مطابق چوک یتیم خانہ تا ٹھوکر نیاز بیگ سبزہ زار سکیم سے ملحقہ آبادیوں کو ایک حلقہ قرار دیا گیا اس حلقہ میں مولانا محب النبی، مولانا عبدالجبار سلفی، معروف مصنف مولانا محمد اسلم زاہد، خلیفہ حضرت مکی مفتی عتیق الرحمن، شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمن، قاری محمد امین عاجز، مولانا قاری محمد زکریا اور سبزہ زار سکیم سے مسلسل تیسری مرتبہ کونسلر منتخب ہونے والے سیاسی و سماجی شخصیت محمد یاسین فاروقی جو ہر دینی و مذہبی تحریکوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں وہ بھی مقیم ہیں۔ مولانا عبدالشکور یوسف
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جو تحریک ختم نبوت کے دیرینہ کارکن ہیں وہ بھی اسی حلقہ کے رہائشی ہیں۔ مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے فیصلہ کے بعد محمد یاسین فاروقی اور مولانا عبدالشکور یوسف نے باہمی مشورہ سے حلقہ کے متحرک اور فعال کارکنان کا اجلاس طلب کیا اور پورے حلقہ کو پانچ سیکٹرز پر تقسیم کیا۔ ہر سیکٹر کا ایک انچارج اور دو معاونین کا تقرر کیا جس کے مطابق سیکٹر نمبر ۱ حاجی محمد شفیق، نمبر ۲ قاری ظہیر احمد قمر، سیکٹر نمبر ۳ قاری محمد شفیق، سیکٹر نمبر ۴ قاری فضل الرحمن، سیکٹر نمبر ۵ مولانا عبدالحفیظ انچارج بنائے گئے۔ شیخ الحدیث مولانا محب النبی مدظلہ نے خصوصی طور پر محمد یاسین فاروقی کو نگران اور مولانا عبدالشکور یوسف کو معاون مقرر کیا۔ اس طرح یہ سات اراکین پر مشتمل ایک ٹیم تشکیل پائی۔ مشورہ میں طے پایا کہ سب سے پہلے ختم نبوت رابطہ کمیٹی لاہور کے اکابر کو مدعو کیا جائے۔ لہٰذا ۶ / جنوری کو دارالعلوم مدنیہ میں حلقہ کے کارکنان کے اجلاس میں مولانا پیر رضوان نفیس، مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا علیم الدین شاکر، مولانا عبدالنعیم نے خصوصی ہدایات اور تجاویز دیں جن کی روشنی میں کانفرنس کی تیاریوں کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا۔
الحمدللہ! جنوری میں پانچ پانچ کی بجائے ہر سیکٹر میں درجنوں میٹنگز و پروگرام ہوئے، فروری کو ماہ ختم نبوت کے طور پر منانے کا فیصلہ ہوا۔ فروری میں پانچوں سیکٹرز میں پانچ بڑے جلسے ہوئے۔ اب تک جن مساجد میں پروگرام ہو چکے ان میں مدینہ مسجد جمیل ٹاؤن، مدنی مسجد نیازی اڈہ، فاطمہ مسجد جے بلاک سبزہ زار، علماء اکیڈمی منصورہ، احباب مسجد، اویسیہ مسجد، مسجد ابراہیم جمیل ٹاؤن، بلال مسجد سبزہ زار، زبیر مسجد مصطفیٰ پارک، ادارہ فہم الدین، جامعہ عبداللہ بن مسعود سمن زار، بلال مسجد مرغزار، کوثر مسجد اعوان ٹاؤن، رضوان مسجد اعوان ٹاؤن، سعدیہ مسجد کھاڑک، رحمۃ اللعالمین مسجد کھاڑک، تقویٰ مسجد اعوان ٹاؤن، نیاز مسجد جمیل ٹاؤن، تقویٰ مسجد جمیل ٹاؤن، عمر بن خطاب مسجد ایچ بلاک سبزہ زار، خانقاہ خلیلیہ مکیہ ایچ بلاک سبزہ زار، حسان بن ثابت مسجد مرغزار، شہداء بدر مسجد اتفاق ٹاؤن، نور مسجد، جامع مسجد عبیداللہ انور، جامع مسجد عبدالرزاق جھگیاں ناگرہ، خلیل مسجد ڈھولنوال، بدرالسلام مسجد بی بلاک سبزہ زار، ڈاکٹر رشید مسجد یتیم خانہ، حسان بن ثابت مسجد ایل بلاک، سبزہ زار، مسجد عمار بن ثابت، مدنی مسجد سید پور، ختم نبوت مسجد مدینہ کالونی، ادارہ زبیر اسلام حافظ ٹاؤن، کوثر مسجد حسن ٹاؤن اور دیگر مساجد میں ختم نبوت کانفرنسز ہوئیں۔ اس طرح ۶۰ دنوں میں ۵۵ پروگرام ہوئے جن میں حاضرین کی تعداد اور جوش وجذبہ قابل دید تھا۔ مذکورہ اجتماعات سے شیخ الحدیث مولانا محب النبی، مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا عبدالجبار سلفی، مولانا عبدالشکور حقانی، مولانا علیم الدین شاکر، مولانا اسماعیل قاسمی، مولانا عبدالعزیز، مولانا ظہیر احمد قمر اور مبلغ ختم نبوت مولانا عبدالنعیم نے خطاب کیا۔ رابطہ کمیٹی کے نگران اور روح رواں محمد یاسین فاروقی نے حاضرین کو ختم نبوت کانفرنس کی اہمیت اور اس میں شرکت کیوں ضروری ہے کے حوالہ سے آگاہ کیا۔ مولانا عبدالشکور یوسف نے پروگراموں کی تشکیل اور ترتیب دی۔
۵ / مارچ کو دارالعلوم مدینہ میں علاقہ کے تمام سیکٹرز کی مشترکہ بڑی ختم نبوت کانفرنس ہوئی۔ جس میں مولانا اللہ وسایا نے خطاب کیا۔ حاضرین کی تعداد سینکڑوں میں تھی۔ کانفرنس میں یاسین فاروقی نے اورنج ٹرین کے شاہ نور سٹیشن کو ختم نبوت سے منسوب کرنے کی قرار داد پیش کی۔ شرکاء کانفرنس اور ایم۔این۔اے مہر اشتیاق احمد، میاں مرغوب احمد ایم۔پی۔اے، چیئرمین چوہدری خادم حسین نمبردار، چیئرمین چوہدری خادم حسین نمبردار، چیئرمین میاں نثار احمد ایڈووکیٹ، چیئرمین میاں منظور حسین اور دیگر سیاسی وسماجی شخصیات نے بھرپور تائید کی اور اپنے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ ۸ / مارچ جمعرات کو ڈیڑھ بجے دوپہر بعد نماز ظہر ختم نبوت موٹر سائیکل ریلی چونگی ملتان روڈ براستہ سبزہ زار چوک یتیم خانہ تک نکالی گئی جس میں سینکڑوں نوجوانوں اپنی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں سمیت شرکت کی۔ ۱۰ / مارچ کو ختم نبوت کانفرنس بادشاہی مسجد میں شرکت کے لئے اجتماعی روانگی دارالعلوم مدنیہ رسول پارک سے شیخ الحدیث مولانا محب النبی، محمد یاسین فاروقی، مولانا
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عبدالشکور یوسف، حاجی محمد شفیق، قاری ظہیر احمد قمر، قاری محمد شفیق، قاری فضل الرحمٰن، مولانا عبدالحفیظ، کلیم اللہ وزیر، حاجی معظم علی، مولانا نظام دین اشرفی، قاری انتظار احمد، مفتی عبدالجلیل، مولانا معاویہ کی قیادت میں روانہ ہوئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۸ء ص ٹائٹل نمبر ۳)
ختم نبوت کانفرنس بادشاہی مسجد لاہور
۱۰؍ مارچ ۲۰۱۸ء کو بادشاہی مسجد لاہور میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی تیاری کے لئے رابطہ کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس نے لاہور، گوجرانوالہ، سرگودھا، فیصل آباد ڈویژنوں میں شامل تمام اضلاع کا دورہ کیا۔ جگہ جگہ ضلعی علماء کنونشن منعقد ہوئے۔ ضلعی کمیٹیاں تشکیل دی گئیں۔ ان کمیٹیوں نے آگے تحصیلوں میں کمیٹیاں تشکیل دیں۔ پھر تحصیل کمیٹیوں نے اپنی اپنی تحصیل کے ہر اہم قصبہ اور تھانہ میں اس کام کو وسعت دی۔
اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے تمام دینی مدارس، تمام دینی مسلکی جماعتوں کے رفقاء نے اس کام کو عبادت سمجھ کر اس میں نہ صرف حصہ لیا بلکہ اس کام میں فنائیت کی حد تک منہمک ہو گئے۔ جگہ جگہ دوستوں نے اپنے اپنے طور پر جلسے کئے۔ کنونشن ہوئے۔ خطبات جمعہ پر خطیب حضرات نے اس کانفرنس کے حوالہ سے خطبات ارشاد فرمائے۔ دوستوں نے فلیکس بنوائے۔ بینرز تیار ہوئے۔ ہینڈ بل شائع ہوئے۔ اخبار میں اشتہار دیئے گئے۔ لاہور مرکز سے شائع ہونے والے مرکزی اشتہارات کی تنصیب ہوئی۔ گویا ایسے محسوس ہوتا تھا کہ لاہور کے گردونواح کے اضلاع کانفرنس کے انعقاد سے قبل ہی کانفرنس کے پنڈال کا منظر پیش کرنے لگ گئے۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور فقیر (اللہ وسایا) کی کئی ہفتے پہلے وہاں تشکیل ہوئی۔ ہر روز کمیٹی کے رفقاء اور لاہور کے مبلغین اور علماء کرام کے علیحدہ علیحدہ جلسے ہوئے۔ تاجر کنونشن ہوئے۔ وکلاء سے بار رومز میں خطابات ہوئے۔ مساجد کے دروس و جلسے اور میٹنگز جگہ جگہ منعقد ہوئیں۔ مولانا عزیز الرحمٰن ثانی، جناب میاں محمد رضوان نفیس، مولانا قاری جمیل الرحمٰن اختر، مولانا عبدالخبیر آزاد، مولانا خالد محمود، مولانا عبدالعزیز، مولانا مفتی عزیز الرحمٰن، مولانا محمد اشرف گجر، مولانا قاری علیم الدین شاکر، جناب محمد ابراہیم اور مولانا عبدالنعیم نے تو دن رات ایک کر دیئے۔ ان حضرات کے کام کی جوں جوں رفتار بڑھتی گئی عوام کی محبتوں اور محبت بھری تیاریوں کا بھی ٹیمپو رنگ پکڑتا گیا۔ آخری دنوں میں تو لاہور کے درو دیوار فلیکسوں، بورڈوں، بینروں، اشتہارات سے مزین نظر آتے تھے کہ چاروں طرف سے کانفرنس کی تیاری کی بہار ہی بہار نظر آتی تھی۔ لاہور کے قرب میں جھگی نشینوں کا کنونشن بھی منعقد ہوا۔ اس میں مولانا عزیز الرحمٰن، جناب محمد ابراہیم، مولانا عبدالعزیز نے خطاب کیا۔ ان کا بھرپور وفد بھی کانفرنس میں شریک ہوا۔ ساؤنڈ سسٹم اور بجلی جنریٹروں کا نظم فیصل آباد سے کیا گیا۔
چناب نگر سے صفیں، چادریں، سرہانے اور دیگر سامان کا ٹرک منگوایا گیا۔ اسی طرح لاہور بادشاہی مسجد کی تمام دریوں اور صفوں کو مصرف میں لایا گیا۔ یوں خدا خدا کر کے مسجد کے وسیع و عریض صحن کو سجا اور بچھا دیا گیا کہ سامعین کو جہاں جگہ ہو نماز بھی آسانی سے ادا کر سکیں اور فرش پر دریاں بچھے ماحول میں تسلی سے کانفرنس سن بھی سکیں۔ اندازہ تھا کہ اجتماع مسجد میں سما نہیں پائے گا تو باہر حضوری باغ، مزار اقبال، لال قلعہ تک آواز پہنچانے کے لئے سپیکر کا اہتمام کیا گیا۔ گزشتہ کانفرنس کے تجربہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کہ اسٹیج پر کھڑے خطیب کو مسجد کے نصف کے بعد سامعین نہیں دیکھ پاتے۔ جگہ اتنی وسیع ہے۔ اس کا حل یہ نکالا گیا کہ نصف پنڈال تک تو حصہ براہ راست اسٹیج کی طرف متوجہ رہ کر کارروائی کانفرنس دیکھ سکے۔ باقی نصف کے لئے وسیع و عریض دو سکرینوں کا اہتمام کیا گیا۔ جس سے مسجد کے آخری کونہ تک کے دوست بھی براہ راست کانفرنس کی کارروائی کا نظارہ کر سکے۔ یوں پوری مسجد کھچا کھچ بھر گئی اور ہر فرد شریک و سامع بھی براہ راست کانفرنس کو دیکھتے رہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۹/ مارچ جمعہ کے روز مولانا قاری عزیز الرحمن رحیمی نے فیصل آباد سے اپنے جامعہ کے رفقاء کی ایک بس کانفرنس کی تیاری کے لئے بھجوا دی۔ ۱۰/مارچ کی صبح کو ہی پوری مسجد میں بجلی، سپیکر، سٹیج، صفوں کی بچھائی، استقبالیہ کیمپ،سیکورٹی کا نظم مکمل ہو گیا۔ لاہور، مانسہرہ، فیصل آباد کی جماعتوں کے احباب نے اس بے جگری کے ساتھ نظم کو سنبھالا۔ جس نے دیکھا وجد آفریں کیفیت سے مسرور ہوا۔ خوشی و انبساط سے ہر شخص معمور نظر آتا تھا۔ جملہ گردو نواح کے مبلغین حضرات نے اس نظم میں بھر پور کردار ادا کیا:
ہفتہ کے روز ظہر تک قافلوں کی آمد شروع ہوئی۔ عصر، مغرب کی نمازیں مولانا عبد الخبیر آزاد نے پڑھائیں۔ عشاء کی جامعہ اشرفیہ لاہور کے مدیر مخدوم العلماء مولانا فضل الرحیم اشرفی نے پڑھائی۔ عصر کی نماز پر مسجد کا آدھا صحن صفوں سے آراستہ نظر آیا۔ مغرب پر پورا صحن کھچا کھچ بھرا ہوا نہیں بلکہ اٹا ہوا نظر آتا تھا۔ چاروں سمت انسانوں کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر کا مد و جزر قابل دید تھا۔ جس کی قلم و بیان کے ذریعہ منظر کشی مشکل امر ہے۔ جس نے دیکھا سراپا شکر ہو گیا۔ چہار سو انسانوں کے سر ہی سر نظر آتے تھے۔ کانفرنس حسب اعلان عصر کی نماز پڑھتے ہی شروع کر دی گئی تھی۔ اب ذرا مقررین کی فہرست پر نظر دوڑائیں ۔
اجلاس اول بعد از نماز عصر:
کانفرنس کا افتتاح پیر طریقت مولانا محب اللہ صاحب لورالائی کی دعاء سے ہوا۔
تلاوت: بادشاہی مسجد کے قاری انیس الرحمن نے فرمائی۔ نعت: جناب حافظ مولوی محمد مہتاب (متعلم جامعہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر ) ، جناب فیصل بلال حسان (گوجرانوالہ) مہمان خصوصی: جناب پروفیسر ساجد میر۔ مہمانان گرامی: جناب رانا محمد شفیق پسروری، جناب طارق فیروز (صدر انجمن تاجران)، جناب طاہر ادریس (سیکرٹری انجمن تاجران)
اجلاس دوم بعد از نماز مغرب:
صدارت: مولانا صاحبزادہ عزیز احمد۔ تلاوت: قاری محمد اکرم قصوری۔ نعت: مولانا محمد قاسم گجر۔ بیانات: مولانا محمود الحسن (مظفر آباد)، جناب راجہ محمد صدیق (ممبر آزاد کشمیر اسمبلی)، مولانا محمد اکرم طوفانی (سرگودھا)، مولانا محمد مبشر نظامی، مولانا قاری علم الدین شاکر (لاہور)، مولانا عبد الرؤف فاروقی، مولانا محمد عباس (بہاول نگر)۔
اس اجلاس کی آخری دعاء شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کے خلیفہ مجاز پیر طریقت حافظ محمد دستگیر نے کرائی۔ عشاء کی نماز مولانا فضل الرحیم مہتمم جامعہ اشرفیہ وسرپرست ختم نبوت کانفرنس نے پڑھائی۔
اجلاس سوم بعد از نماز عشاء:
مہمان خصوصی: مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر صاحب مدظلہ۔ مہمانان گرامی: مولانا پیر ناصر الدین خاکوانی (ملتان)، مولانا پیر عزیز الرحمن ہزاروی (راولپنڈی)، مولانا پیر قاضی ارشد الحسینی (اٹک)، مولانا صاحبزادہ خلیل احمد (خانقاہ سراجیہ)، مولانا ڈاکٹر عبد الحلیم چشتی (شیخ الحدیث کراچی)، مولانا مفتی
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
محمد حسن (لاہور)، شیخ الحدیث مولانا منیر احمد منور (باب العلوم کہروڑ پکا)، مولانا سید جاوید حسین (فیصل آباد)، مولانا میاں محمد اجمل قادری (خانقاہ شیرانوالہ لاہور)، مولانا سید رشید میاں (جامعہ مدنیہ لاہور)، مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ (امیر مجلس کراچی)، مولانا مفتی خالد محمود (ناظم عمومی اقراء روضۃ الاطفال کراچی)، مولانا مفتی محمد بن مفتی محمد جمیل خان شہید (کراچی)، مولانا عبد الشکور نقشبندی، مولانا عبدالرؤف مکی، مولانا محمد ایوب خان (ڈسکہ)
بیانات: جناب ڈاکٹر سعید عنایت اللہ (مکہ مکرمہ)، سید محمد کفیل بخاری (ملتان)، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ (لاہور)، مولانا عبد المجید ہزاروی (راولپنڈی)، مولانا زاہد الراشدی (گوجرانوالہ)، مولانا محمد امجد خان (لاہور)، مولانا مفتی محمد طیب (جامعہ امدادیہ فیصل آباد)، مولانا زبیر احمد ظہیر (لاہور)، چوہدری اشتیاق احمد (سابق صدر بار لاہور)، مولانا قاری محمد حنیف جالندھری (ملتان)، مولانا محمد رفیع عثمانی (مفتی اعظم پاکستان)، خواجۂ خواجگان خواجہ معین الدین کوریجہ (سجادہ نشین خانقاہ کوٹ مٹھن)، مولانا ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر (حیدرآباد)، مولانا محمد رضوان عزیز (چناب نگر)، مولانا قاضی مشتاق الرحمٰن (راولپنڈی)، مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری (ساہیوال)، مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی (پشاور)
نعت: سید محمد سلمان گیلانی، مولانا مفتی محمد شاہد عمران عارفی (ساہیوال)
بیانات: مولانا سید محمود میاں (لاہور)، مولانا سعید یوسف پلندری (آزاد کشمیر)
خطبہ استقبالیہ: ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر صاحب مدظلہ۔
بیانات: مولانا ڈاکٹر سعید عبد الرزاق، جناب سردار محمد یوسف (وفاقی وزیر مذہبی امور اسلام آباد)، مولانا محمد اویس نورانی (کراچی)۔
اختتامی خطاب: قائد انقلاب اسلامی مولانا فضل الرحمٰن صاحب دامت برکاتہم
اختتامی دعاء: رات ۲ بجے مولانا عبد الخبیر آزاد۔
اسٹیج سیکرٹری: مولانا عزیز الرحمٰن ثانی (لاہور)، مولانا قاضی احسان احمد (کراچی)، مولانا عبد الخبیر آزاد، مولانا محمد امجد خان۔
اوّل سے آخر تک جس دلجمعی کے ساتھ تمام مکاتب فکر کی قیادت کے خیالات سنے گئے وہ قابل رشک منظر تھا۔ مولانا صاحبزادہ عزیز احمد نے اس منظر اور قابل رشک کانفرنس کی مثالی کامیابی کو دیکھا تو کانفرنس میں تجویز پیش کی کہ کانفرنس کی استقبالیہ کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عزیز الرحمٰن ثانی کی دستار بندی کرائی جائے۔ چنانچہ آپ کی تجویز پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ وفاق المدارس کے صدر، کانفرنس کے سرپرست مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر اور قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن (امیر جمعیۃ علماء اسلام) و ختم نبوت کانفرنس شاہی مسجد کے صدر دونوں حضرات نے مشترکہ طور پر اپنے مبارک ہاتھوں سے مولانا عزیز الرحمٰن ثانی کی دستار بندی کرائی۔ حق تعالیٰ کانفرنس کے تمام شرکاء کو دنیا و آخرت میں خیر سے نوازیں۔ کانفرنس میں قراردادیں جامعہ دارالقرآن فیصل آباد کے شیخ الحدیث مولانا صاحبزادہ قاری عزیز الرحمٰن رحیمی نے منظور کرائیں۔ اسی پر اکتفاء کرتا ہوں کہ ابھی ایک تبلیغی سفر درپیش ہے۔ ورنہ کانفرنس کے تذکرے تو مدتوں رہیں گے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۸ء ص ۳ تا ۶)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
خطبہ استقبالیہ ختم نبوت کانفرنس بادشاہی مسجد لاہور
(۱۰/مارچ ۲۰۱۸ء) حضرات علمائے کرام، مشائخ عظام، خطبائے مکرم، ملک کے دور دراز حصوں سے تشریف لانے والے مہمانان گرامی! اللہ رب العزت کی توفیق وعنایت سے ایک بار پھر اس تاریخ ساز ختم نبوت کانفرنس میں ہم سب شریک ہیں۔ آپ حضرات کی تشریف آوری پر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے آپ کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ دعا ہے کہ اس نیک مقصد کے لئے اٹھنے والے ہر قدم پر آپ کو اللہ تعالیٰ اپنی رحمتوں سے سرفراز فرمائیں۔ آمین بحرمۃ النبی الکریم!
حضرات گرامی! لاہور پاکستان کا دل ہے اور لاہور کا دل بادشاہی مسجد ہے اور اس دل میں آپ بیٹھے ہیں۔ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے اپنے دلوں میں ایک ولولہ وعزم رکھتے ہیں۔ یہ ختم نبوت کے مشن پر کام کرنے والوں کے لئے انعام الٰہی ہے۔ یقین فرمائیے کہ اس مقدس کام کے لئے آپ آئے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت آپ کو محمد عربی ﷺ کی شفاعت کے لئے لے کر آئی ہے۔ اس پر ہم سب کو اللہ تبارک وتعالیٰ کے حضور سجدہ شکر بجالانا چاہئے۔ امید ہے کہ آپ اس موقعہ کو غنیمت جان کر سکون قلبی اور تحمل کے ساتھ پورے احترام ووقار سے مقررین کے خیالات کو سنیں گے۔ ان کو اپنے قلب وجگر میں جگہ دیں گے اور اس کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے بقیہ زندگی کے ہر سانس کو عقیدہ ختم نبوت کی پاسبانی ودربانی کے لئے وقف کردیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق نصیب فرمائیں۔ آمین!
حضرات گرامی قدر! لاہور شہر کی عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے ایک شاندار گرانمایہ تاریخ ہے اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے تحت منعقد ہونے والی یہ عظیم الشان و تاریخ ساز ختم نبوت کانفرنس اس عہد رفتہ کا ایک تسلسل ہے۔ تصور فرمائیے اور اپنی خوش بختی پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اس نے ہمیں نہ صرف اپنے اکابر کی روایات کو زندہ رکھنے کی توفیق سے نوازا بلکہ اس اجتماع میں شرکت سے ہمیں خلافت صدیق اکبرؓ کے عہد سے عقیدہ ختم نبوت کی سنہری جدوجہد والی کڑی میں پرو دیا آپ اسے حسن اتفاق قرار دیں یا قدرت کی دین کہ آج بائیس جمادی الثانی کی شب ہے جو یوم وفات صدیق اکبرؓ ہے۔ فالحمد للہ علیٰ ذالک!
حضرات گرامی قدر! لاہور سے پچاس ساٹھ میل دور شمال مشرق میں مشرقی پنجاب انڈیا کے ایک گاؤں قادیان کا ایک شخص ”ملعون قادیان“ نے ۲۳/مارچ ۱۸۸۹ء کو لدھیانہ میں قادیانی فتنہ کی بنیاد رکھی۔ اس دن سے لے کر آج تک اسلامیان لاہور نے موقعہ بموقعہ اس فتنہ کے خلاف تاریخی قائدانہ کردار ادا کیا۔ آج اس کی یاد میں یہ اجتماع آپ حضرات کی تشریف آوری سے تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔
آپ جس شاہی مسجد میں جمع ہیں اس مسجد میں عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے ۲۵/اگست ۱۹۰۰ء میں ایک اجتماع ہوا تھا جس میں مرزا قادیانی ملعون کا ، پیر طریقت سید مہر علی شاہ گولڑوی سے دو بدو مناظرہ طے ہوا۔ پیر مہر علی شاہ مظاہر العلوم سہارنپور کے بانی ، شارح بخاری، مولانا احمد علی محدث سہارنپوری کے شاگرد تھے۔ مولانا حاجی امداد اللہ مہاجر مکی نے پیر مہر علی شاہ کو نہ صرف فتنہ انکار ختم نبوت کے مقابلہ کے لئے مہمیز لگائی بلکہ خلافت سے بھی نوازا۔ مرزا قادیانی ملعون نے جب نبوت کا دعویٰ کیا تو پیر صاحب کو رحمت دوعالم ﷺ کی خواب میں زیارت ہوئی اور آپ ﷺ نے فرمایا: مہر علی شاہ! مرزا قادیانی الحاد کی قینچی سے میری شریعت واحادیث کو کتر رہا ہے اور تم خاموش بیٹھے ہو۔ اس خواب کے بعد پیر صاحب، مرزا قادیانی کے مقابلے میں شیر یزداں بن گئے۔ مرزا قادیانی کی مخالفت میں دن رات ایک کر دیا۔ تب مرزا قادیانی نے آپ کو مناظرہ کے لئے چیلنج دیا۔ آپ نے قبول کیا جس دن آپ گولڑہ سے روانہ ہوئے مرزا قادیانی کا ٹیلی گرام ملا کہ آپ کے ساتھ سرحد کے پٹھان آرہے ہیں اور فتنہ کا اندیشہ ہے۔ نہ معلوم مرزا قادیانی پٹھانوں سے کیوں اپنے دل میں خوف
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
رکھتا تھا۔ یہ خوف بذات خود اس کے جھوٹے ہونے کی دلیل ہے۔ اس لئے کہ نبی دنیا کے لوگوں کو ڈرانے کے لئے آتا ہے۔ ان سے ڈرنے کے لئے نہیں آتا۔ جو دنیا سے ڈرے وہ بزدل تو ہوسکتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا نبی نہیں ہوسکتا۔
پیر صاحب نے جواب میں ٹیلی گرام ارسال کیا کہ جولوگ آپ کے ساتھ آئیں ان کے حفظ امن کے ذمہ دار آپ۔ جو میرے ساتھ ہیں ان کے حفظ امن کا میں ذمہ دار ہوں۔ ایک بار آ جائیے ، آمنا سامنا ہو جائے ، حق وباطل کی تمیز ہو جائے گی۔ مرزا قادیانی کو نہ آنا تھا نہ آیا۔ اس شاہی مسجد میں جہاں آپ تشریف رکھتے ہیں آج سے ایک سو اٹھارہ سال قبل ہزاروں خلق خدا بھی اسی طرح جمع ہوئی ، جس طرح آپ جمع ہیں۔ پنجاب و خیبر پختونخواہ کے سات سو سے زائد جید علمائے کرام جمع ہوئے۔ اس میں دیوبندی ، بریلوی، اہلحدیث، شیعہ، سب موجود تھے۔ تین دن تک اجتماع ، دن رات ، صبح شام ، علم و فضل کی بارش رہی۔ لیکن قادیانیت کے کذب و ڈھیٹ پن کا اندازہ فرمائیے کہ پیر صاحب اپنے رفقاء کے ساتھ شاہی مسجد لاہور میں جمع ہیں۔ مرزا ملعون ، قادیان کی ڈھاب کی راب چاٹ رہا ہے۔ لیکن لاہور آنے کا حوصلہ نہیں کر رہا۔ مرزا ملعون ، قادیان میں اس طرح دبک کر بیٹھ گیا جس طرح ابلیس نے مرزا قادیانی کے دل میں اپنا گھر بنالیا تھا۔ مرزا قادیانی کی ذلت آمیز شکست کے باوجود، قادیانیوں نے لاہور کے درودیوار پر اشتہار لگا دیئے کہ پیر صاحب شکست کھا گئے۔ اس کذب بیانی پر ابلیس بھی جھوم اٹھا اور اسلامیان لاہور سر پیٹ کر رہ گئے کہ: چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد!
حضرات گرامی قدر! یہ وہی لاہور ہے جہاں مولانا محمد انور شاہ کشمیری کی قیادت میں پانچ سو علمائے کرام نے مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری کو مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی کی تحریک پر فتنہ قادیانیت کے استیصال کے لئے کوہ ہمالیہ بنا دیا تھا۔
- ☆...... یہ وہی لاہور ہے جس میں واقع اچھرہ کے ایک خاندان نے قادیان میں مجلس احرار کے شعبہ تبلیغ کی نگرانی کی۔
- ☆...... یہ وہی لاہور ہے جہاں چوہدری افضل حق ، ماسٹر تاج الدین انصاری، شیخ حسام الدین ، مولانا ابوالحسنات قادری، مولانا ظفر علی
خان ، آغا شورش کاشمیری ، سید مظفر علی شمسی ، مولانا داؤد غزنوی ، مولانا مفتی محمد حسن امرتسری، مولانا احمد علی لاہوری ، مولانا محمد ادریس کاندھلوی ، سید ابوالاعلیٰ مودودی ، علامہ احسان الٰہی ظہیر ، مولانا عبدالقادر روپڑی ، مولانا مظہر علی اظہر، مولانا اختر علی خان جیسے جید حضرات نے اپنے اپنے دور میں قادیانیوں کے خلاف علم ختم نبوت کو سرنگوں نہ ہونے دیا۔
- ☆...... یہ وہی لاہور ہے جس کے موچی دروازہ کے باہر برکت علی ہال میں ۱۹۵۳ء میں ملک کی دینی قیادت نے ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم
نبوت کی بنیاد فراہم کی۔
- ☆...... یہ وہی لاہور ہے جس نے تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء میں اپنے جگر گوشوں کی قربانی دے کر سنت صدیق اکبر ؓ کو زندہ کیا۔ آج
بھی لاہور کے درو دیوار، کوچہ و بازار، سڑکیں اور شاہراہیں ان شہدائے ختم نبوت کی داستانوں اور قربانیوں پر نازاں ہیں۔
- ☆...... یہ وہی لاہور ہے کہ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کی امارت لاہور کے مرد جلیل
مولانا ابوالحسنات قادری اور نظامت ، لاہور کے درویش سید مظفر علی شمسی کے حصے میں آئی۔
- ☆...... یہ وہی لاہور ہے جس میں ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کا پہلا جلوس شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوری کی قیادت میں نکلا جس میں ایک
لاکھ آدمی جمع تھے۔ چیرنگ کراس پر جلوس کو روکا گیا تو مولانا احمد علی لاہوری نے اذان کہی۔ جماعت کروائی تو ایک لاکھ آدمی جماعت میں شریک ہوا۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہ سب باوضو تھے۔ اس سے یہ حقیقت بھی آشکارا ہوتی ہے کہ ختم نبوت کا کام ہم
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عبادت سمجھ کر کرتے ہیں۔ پورے جلوس میں ایک آدمی کے پاس اسلحہ تو درکنار چاقو بھی نہ تھا۔ اس سے سمجھا جاسکتا ہے کہ وہ کتنی مقدس پرامن تحریک تھی۔ جسے پھر جنرل اعظم خان اور قادیانی اوباشوں نے تشدد کے راستے پر ڈالا۔
حضرات گرامی قدر ! عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت آج بھی عقیدہ ختم نبوت کی پاسبانی کے لئے پرامن اور عدم تشدد کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور کبھی نہ بھولئے کہ ہمیں منبر ومحراب سے لے کر نیشنل اسمبلی تک، مقامی عدالتوں سے سپریم کورٹ تک تمام کامیابیاں پرامن جدوجہد سے ملی ہیں۔ آئندہ بھی جب تک جدوجہد پرامن رہے گی کامرانی آپ کے قدم چومے گی۔ جس دن دشمن کی چالوں سے تشدد کی راہ پر چل پڑے، اکابر کے طریقہ کار کو ترک کر دیا۔ تحریک ختم نبوت کی جدوجہد میں وہ گھڑی افسوس ناک ہوگی۔ اس اجتماع کے ذریعے یہ پیغام لے کر جائیں کہ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے جو شخص تشدد کو اپنائے وہ اس تحریک کی روح سے ناواقف ہے یا دشمن کی چال کا شکار ہو گیا ہے۔ آپ پر امن ذرائع سے قانون کے دائرے میں رہ کر قادیانیت کے احتساب کا شکنجہ کستے جائیں گے تو دیکھیں گے کہ قادیانیت کا بت اس دھڑام سے گرے گا کہ غبار چھٹنے کے بعد قادیانیت نام کی کوئی بھی چیز آپ کو دیکھنے سے بھی نہ ملے گی۔ ان شاء اللہ ثم ان شاء اللہ ! وہ وقت قریب ہے اور یہ اجتماع اللہ رب العزت کے فضل وکرم سے ایک نئی جدوجہد کی بنیاد فراہم کرے گا۔ وما ذالک علی اللہ بعزیز!
- ☆ ...... حضرات گرامی قدر! یہ وہی لاہور ہے جہاں پر ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت میں مسجد شیرانوالہ باغ میں آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل
تحفظ ختم نبوت کا پہلا اجلاس منعقد ہوا تھا۔ جس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف بنوری کو کنوینر مقرر کیا گیا اور پھر فیصل آباد میں آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل کا آپ کو امیر بنایا گیا۔ اسی لاہور کے مولانا محمود احمد رضوی قادری اس کے سیکرٹری جنرل تھے۔ تب مفکر اسلام مولانا مفتی محمود، مولانا غلام غوث ہزاروی، مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا عبدالحق، مولانا عبدالحکیم، پروفیسر غفور احمد، مولانا ظفر احمد انصاری اور ان کے رفقاء قومی اسمبلی میں اور ملک بھر میں مولانا عبیداللہ انور، سید نفیس الحسینی، مولانا عبداللہ درخواستی، مولانا قاری محمد اجمل خان، مولانا سید حامد میاں، مولانا عبدالقادر آزاد، مولانا عبدالستار نیازی، نوابزادہ نصر اللہ خان، مولانا تاج محمود، مولانا محمد شریف جالندھری، سردار میر عالم خان لغاری، خواجہ قمر الدین سیالوی، مولانا صاحبزادہ افتخار الحسن، مولانا صاحبزادہ فیض الحسن، مولانا مفتی زین العابدین، مولانا عبدالکریم بیر شریف، مولانا مفتی احمد الرحمن، مولانا عبدالواحد، مولانا سراج احمد دین پوری، مولانا منظور احمد چنیوٹی، مولانا فیض القادری، مولانا مفتی سرفراز نعیمی، مولانا مفتی مختار احمد نعیمی، مولانا عبدالرحمن اشرفی، مولانا عبید اللہ اشرفی، جناب بارک اللہ خان، جناب خاقان بابر، مولانا عبیداللہ احرار، مولانا سید عطاء المنعم بخاری، مولانا عبدالشکور دین پوری، مولانا نور الحسن بخاری، مولانا سید محمد شاہ امروٹی، مولانا حماد اللہ ہالیجوی، شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان، چوہدری ظہور الہی، شورش کاشمیری ایسے دیگر رہنماؤں نے پاکستان کے درودیوار کو عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کی صدائے بازگشت سے گرما دیا تھا۔
- ☆ ...... حضرات گرامی قدر! یہ وہی لاہور اور اس کی شاہی مسجد ہے جہاں یکم ستمبر ۱۹۷۴ء میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس شیخ الاسلام
مولانا محمد یوسف بنوری کی زیر صدارت منعقد ہوئی تھی۔
- ☆ ...... یہ وہی لاہور ہے جہاں سے مولانا خواجہ خان محمد امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی سربراہی اور مولانا مفتی مختار احمد نعیمی کی نظامت
میں آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے تحت ۱۹۸۴ء کی تحریک ختم نبوت کو پروان چڑھایا گیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ...... یہ وہی لاہور ہے جہاں سے وفاقی شرعی عدالت نے قادیانیت کے کفر کا تاریخ ساز فیصلہ دیا۔
- ...... یہ وہی لاہور ہے جس کے ہائی کورٹ نے قادیانی صد سالہ جشن کے خلاف فیصلہ دیا۔
- ...... یہ وہی لاہور ہے جہاں ۹؍اپریل ۲۰۰۹ء کو مجلس تحفظ ختم نبوت کی اسی مسجد میں فقید المثال کانفرنس منعقد ہوئی تھی۔
حضرات گرامی! ختم نبوت کے تحفظ کے حوالے سے لاہور کے جستہ جستہ حالات بیان کرنے میں آپ کا خاصا وقت لے لیا۔ لیکن حقیقت ہے کہ پوری طرح واقعات کا اشاریہ بھی بیان نہیں ہوسکا۔
حضرات گرامی قدر! سامعین کرام! عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی قیادت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی، مولانا محمد علی جالندھری، مولانا لال حسین اختر، مولانا محمد حیات، مولانا سید محمد یوسف بنوری، خواجہ خان محمد، شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید لدھیانوی اپنے اپنے عہد میں کرتے رہے۔ تب مولانا محمد عبداللہ رائے پوری، مولانا مفتی احمد الرحمن، مولانا محمد یوسف لدھیانوی، مولانا سید نفیس الحسینی نائب امیر رہے، اب مولانا پیر ناصر الدین خاکوانی، مولانا صاحبزادہ عزیز احمد نائب امیر ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پر فضل ہے کہ آج بھی میرے جیسے فقیر (مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر) مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ جیسے بزرگ کے ہاتھ میں اس کی قیادت ہے۔ آج بھی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اتحاد بین المسلمین کا اسٹیج ہے۔ پرامن جدوجہد کو ہم آگے بڑھانے کی مخلصانہ جدوجہد کر رہے ہیں۔
حضرات گرامی! عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے شعبہ نشر واشاعت نے مولانا سید انور شاہ کشمیری سے لے کر اس وقت تک کے اکابر کی نایاب کتب و رسائل کو احتساب قادیانیت کے نام پر جدید حوالہ جات کے ساتھ ساٹھ جلدوں میں جمع کر دیا ہے جس میں تین سو تریسٹھ مصنفین کی سات سو چھہتر کتب و رسائل جمع ہو گئے ہیں، اب محاسبہ قادیانیت کے نام سے یہ سلسلہ شروع کیا ہے جس میں ایک سو پانچ مصنفین کے ایک سو چوبیس رسائل جمع ہو گئے ہیں گویا احتساب قادیانیت کی ساٹھ اور محاسبہ قادیانیت کی آٹھ جلدوں میں ۴۶۸ مصنفین کی ۹۰۰ کتب ورسائل جمع ہو گئے ہیں۔ احتساب قادیانیت تو اب نایاب ہے البتہ محاسبہ قادیانیت کا سلسلہ جاری رہے گا۔ فتاویٰ ختم نبوت تین جلدیں، تحفہ قادیانیت چھ جلدیں، قادیانی شبہات کے جوابات کی تین جلدیں، قومی اسمبلی کی کارروائی پانچ جلدوں میں یکجا شائع کی ہیں۔ ان کے علاوہ خطبات شاہین ختم نبوت، چمنستان ختم نبوت کے گلہائے رنگارنگ ۴ جلدیں، خطبات مشاہیر، ائمہ تلبیس، رئیس قادیان، قادیانیوں سے فیصلہ کن مناظرے، قادیانی مذہب، فتنہ قادیانیت کا تعاقب اور دیگر بیسیوں کتب بھی شائع کیں۔ میں توقع رکھوں گا کہ دینی جامعات، سکول و کالجز کی لائبریریوں میں مجلس کی مطبوعات کے سیٹ رکھوانے کے لئے آپ توجہ وتعاون فرمائیں گے۔ تاکہ ملک بھر کی اہم لائبریریوں میں جہاں کوئی جائے اسے رد قادیانیت پر بھر پور مواد مل سکے۔
حضرات گرامی! مجلس کے دو ترجمان ہیں۔ ہفتہ وار ختم نبوت جو کراچی سے شائع ہوتا ہے۔ ماہنامہ لولاک جو دفتر مرکزیہ ملتان سے شائع ہوتا ہے۔ اس کے آپ ممبر بنیں۔ دفتر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان کے پتہ پر رابطہ کریں اور اس پہلو سے بھی عقیدہ ختم نبوت کی ذمہ داریوں کو پورا کریں۔
حضرات محترم! قادیانیت دین اسلام سے بغاوت کا دوسرا نام ہے۔ قادیانیت رحمت عالم ﷺ کے باغیوں کا وہ ملعون گروہ ہے کہ ان کا وجود ہی رسول اللہ ﷺ کی اہانت پر مبنی ہے۔ قادیانیوں سے بچنا، ان سے امت کے ہر فرد کو بچانا ہمارا فرض منصبی ہے۔ اس کے لئے اس اجتماع کے ذریعہ چند کاموں کی طرف آپ دوستوں کو متوجہ کرتا ہوں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۱...... یہ کہ ہر عالم دین مہینہ میں ایک جمعہ عقیدہ ختم نبوت کے بیان کے لئے وقف کرے۔ مثلاً ایک شہر کی سو مساجد میں جمعہ پر رد قادیانیت
پر بیان ہو۔ فی مسجد ایک ہزار آدمی تصور کریں تو یوں ایک شہر میں صرف جمعہ کے بیان سے ایک لاکھ آدمی تک ہم ختم نبوت کا پیغام پہنچا پائیں گے ۔ گویا ہر ماہ کو جمعہ پر ختم نبوت کے بیان کی اگر پورے ملک میں سکیم چل نکلے تو ہر ماہ ایک بار پورے ملک میں آپ نے کروڑوں افراد تک ختم نبوت کا پیغام پہنچادیا۔ علمائے کرام کی معمولی توجہ سے پورا ملک ختم نبوت کی جلسہ گاہ بن جائے گا۔ امید ہے کہ آپ اس پر نہ صرف توجہ کریں گے ۔ بلکہ جو حضرات موجود نہیں ان تک نہ صرف آواز پہنچائیں گے بلکہ ان کو آمادہ بھی کریں گے ۔
- ۲...... آپ تمام حضرات پر امن جدوجہد اور سعی مقبول سے قادیانیت سے اجتناب کریں۔ لوگوں کی ذہن سازی کریں۔ رسول
اللہ ﷺ کے دشمن سے ہاتھ نہ ملانا۔ اس کی دکان سے سودا نہ لینا۔ دنیا کا کونسا قانون ہے جو مجھے مجبور کرے کہ تم ایسا نہ کرو ۔ یہ میرا حق خودارادیت ہے کہ اگر میں اپنے ماں باپ کے دشمن سے تعلق نہیں رکھتا تو آپ ﷺ کے دشمنوں سے بھی تعلق نہ رکھوں ۔ قادیانی خود کو مسلمان کہلا کر، مسلمانوں کو، حضور ﷺ کے نام لیواؤں کو اور پوری امت مسلمہ کو کافر قرار دیتے ہیں ۔ مرزا قادیانی کو نبی اور محمد رسول اللہ ، مرزا قادیانی کے دیکھنے والوں کو صحابی، مرزا قادیانی کی بیوی کو ام المومنین ، مرزا قادیانی کے خاندان کو اہل بیت کہتے ہیں ۔ جنت البقیع کے مقابلہ میں بہشتی مقبرہ کا ڈھونگ رچایا ہے۔ وہ اپنے کفر پر اسلام کی اصطلاحات کا چولہ پہنا رہے ہیں ۔ وہ ہمارے تشخص کو برباد کر رہے ہیں ۔ آئین پاکستان کہتا ہے کہ قادیانی کافر ہیں ۔ وہ خود کو مسلمان کہہ کر آئین پاکستان سے اعلانیہ بغاوت کے مرتکب ہورہے ہیں ۔ مسلمانوں کو کافر کہہ کر پوری مسلم امہ کے وجود کو ملیا میٹ کرنے کے درپے ہیں ۔ ان سے بچنا اور تمام مسلمانوں کو بچانا ہمارے لئے فرض کا درجہ رکھتا ہے۔ اگر رحمت عالم ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لئے ہم کام نہیں کرتے ، اپنے فرض منصبی کو نہیں نبھاتے تو خدشہ ہے کہ کہیں ہمارے دل زنگ آلود تو نہیں ہو گئے ۔ ہم حضور ﷺ کے دشمن ، قادیانیوں سے تعلقات رکھ کر حضور ﷺ کی دشمنی میں ان ملعون قادیانیوں کے ساتھ تو شریک نہیں ؟
- ۳...... عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی تحریک پر پچاس سے زیادہ اہم شہروں میں ختم نبوت چوک قائم ہوگئے ہیں، چوکوں کا نام ختم نبوت
چوک رکھنا یہ مستقل تبلیغ ہے۔ اس کے لئے اس انتخابی مرحلے پر کینڈیڈیٹ حضرات سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ اپنے حلقہ کے اہم شہروں میں ختم نبوت کے چوک قائم کرائیں ۔ یہ موقع ہے اس سے بھر پور فائدہ اٹھایا جائے ۔
- ۴...... سالانہ ختم نبوت کورس چناب نگر جو ۴ شعبان سے ۲۵ شعبان تک منعقد ہو گا ۔ اس میں بھر پور شرکت کی جائے ۔
برادران گرامی ! نماز ، روزہ ، حج ، زکوۃ ، تبلیغ ، جہاد، سب فرائض کا تعلق حضور ﷺ کے اعمال سے ہے۔ ختم نبوت کا تعلق حضور ﷺ کی ذات سے ہے۔ حضور ﷺ کی عزت و ناموس کی پاسبانی و دربانی افضل الفرائض میں شامل ہے۔ باقی فرائض پر عمل ہے حضور ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کی فکر نہیں تو نہ صرف حبط اعمال کا اندیشہ ہے بلکہ قیامت کے دن شفاعت سے محرومی کا باعث ہے۔ کیا خوب کہا:
نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ بطحا کی حرمت پر خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا
آپ رحمت عالم ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لئے سراپا نمونہ بن جائیں اور کچھ نہیں تو کم از کم درجہ یہ ہے کہ قادیانیوں سے اجتناب کریں۔ اگر یہ بھی نہیں کرتے تو فکر کریں کہ ہم میں ایمان بھی ہے یا نہیں ۔ قانون اور ملک کے باغی قادیانی گروہ کو راہ راست پر
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
لانے کے لئے ان سے اجتناب کا حربہ استعمال کریں۔ تاکہ ان کو احساس ہو کہ وہ مرزا قادیانی ملعون کو مان کر مسلم امت کا حصہ شمار نہیں ہو سکتے۔ جب ان میں یہ احساس پیدا ہو گا وہ مرزا قادیانی ملعون کی غلامی کا طوق اپنی گردن سے اتارنے پر مجبور ہوں گے ۔امید ہے کہ اس پر امن جدوجہد کو بھر پور کامیاب کیا جائے گا۔
حضرات گرامی! اس تاریخ ساز کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لئے لاہور کے تمام علمائے کرام ، مشائخ عظام ، مدارس عربیہ کے منتظمین نے ہماری سر پرستی کی ۔لاہور کے گردونواح کے اضلاع اور شہروں میں جس طرح پوری دینی قیادت نے اس کام کو اپنا کام سمجھ کر ہمیں ممنون احسان کیا۔ قافلوں کی ترتیب و تیاری، اپنے اپنے طور پر جگہ جگہ اجتماعات ، اعلانات ، اشتہارات ، بینرز کا اہتمام کیا۔ اس پر تمام حضرات ، غرض جس نے ایک لمحہ کے لئے بھی اس عظیم الشان کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لئے صرف کیا وہ ہم سب کی طرف سے ہزاروں ہزار مبارک باد کے مستحق ہیں ۔ رابطہ کمیٹی مولانا عزیز الرحمن ثانی، قاری جمیل الرحمن اختر ، جناب میاں رضوان نفیس ، مولانا قاری علیم الدین شاکر، مولانا محمد اشرف گجر، مولانا مفتی عزیز الرحمن، مولانا خالد محمود ، مولانا عبدالرؤف فاروقی ، مولانا عبدالشکور حقانی اور مولانا سید عبد الخبیر آزاد نے جس طرح طول وعرض کے طویل اور طوفانی دورے کئے اور اپنا فرض پورا کیا اس پر وہ مبارک باد کے مستحق ہیں۔ آپ حضرات دور دراز سے طویل مسافت طے کر کے آئے اس پر اللہ تعالیٰ آپ کو بہت ہی جزائے خیر نصیب فرمائے۔ پنجاب حکومت نے منظوری، سیکورٹی، محکمہ اوقاف نے مسجد کے استعمال کی اجازت دی اس پر وہ بھی شکریہ کے مستحق ہیں۔ تمام مکاتب فکر کے علماء، خطباء، جماعتوں کے سر براہ و نمائندگان نے شرکت سے ممنون احسان فرمایا۔ اس پر ان کا بھی بہت ہی شکریہ۔
توقع ہے کہ یہ بھر پور محبت و شفقت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو آپ کی طرف سے ہمیشہ حاصل رہے گی ۔خدا کرے ایسا ہی ہو۔
آمین !تاج وتخت ختم نبوت زندہ باد! ( مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر )
کانفرنس میں منظور شدہ قراردادیں:
- ۱...... اسلامی نظریاتی کونسل کی منظور کردہ سفارشات کے مطابق ارتداد کی شرعی سزا نافذ کی جائے۔
- ۲...... امتناع قادیانیت قانون اور تحفظ ناموس رسالت کے قانون پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔
- ۳...... یہ اجلاس ملک میں بڑھتے ہوئے توہین رسالت کے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے عذاب خداوندی کو دعوت دینے
کے مترادف قرار دیتا ہے اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ توہین رسالت ایکٹ پر اس کی روح کے مطابق سختی کے ساتھ عملدرآمد کیا جائے ۔تاکہ کسی بدباطن کو توہین رسالت کی جرأت نہ ہو سکے۔
- ۴...... یہ اجلاس ملک بھر کے خطباء سے اپیل کرتا ہے کہ ہر ماہ کا ایک جمعہ عقیدہ ختم نبوت کے بیان کے لئے وقف کریں تا کہ نئی نسل کو
قادیانی عقائد کی سنگینی کا احساس ہو۔
- ۵...... یہ اجلاس آزاد کشمیر اسمبلی، آزاد کشمیر کونسل کے مشترکہ اجلاس ۶؍ فروری ۲۰۱۸ء میں پاکستان کے منظور کردہ تمام قوانین ختم نبوت
کو آزاد کشمیر کے قانون کا حصہ بنانے میں ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مبارک باد پیش کرتا ہے۔
- ۶...... یہ اجلاس لاہور اور مضافات کے دینی مدارس کے علمائے کرام ، رابطہ کمیٹی ختم نبوت کانفرنس ، نیز سیکورٹی کے فرائض سرانجام دینے
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
والے سینکڑوں نوجوانوں، کانفرنس کی کامیابی کی کوشش کرنے والے اداروں بالخصوص حکومت پنجاب، محکمہ اوقاف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے دعا گو ہے کہ اللہ پاک انہیں اپنے شایان شان جزائے خیر عطاء فرمائیں۔
- ۷...... یہ اجلاس ملک شام میں ہونیوالے خوفناک قتل عام کی پرزور مذمت کرتا ہے اور عالم اسلام کے رہنماؤں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اصلاح احوال کے لئے اپنے فرائض منصبی کو بروئے کار لائیں۔
- ۸...... اس اجلاس کے توسط سے اسلامیان وطن کو اس بات پر متوجہ کیا جاتا ہے کہ قادیانی مصنوعات اور ان کے اداروں خصوصاً شیزان کمپنی کی تمام مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے۔
حق تعالیٰ شانہ ہم سب کے حامی و ناصر ہوں۔ آمین!
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۸ء ص ۴۷ تا ۵۰)
ختم نبوت کانفرنس لاہور سے قائد جمعیت کے خطاب کا مکمل متن
بزرگان ملت، حضرات علماء کرام، اکابر امت، میرے دوستو اور بھائیو! عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مبارک باد کی مستحق ہے۔ ایک طویل عرصے کے بعد لاہور کی اس بادشاہی مسجد میں ختم نبوت کانفرنس کا یہ عظیم الشان منظر ایک بار پھر ہمیں دکھایا۔ اس اجتماع میں ہمیں شمولیت کی دعوت دی۔ اس اعتبار سے بالخصوص میں مولانا اللہ وسایا کو اور ان کی ٹیم کو اس کانفرنس کی کامیابی کو یقینی بنانے میں ان کے کردار کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ برصغیر میں فتنہ قادیانیت برپا ہوا۔ عقیدہ ختم نبوت پر حملہ کیا گیا اور ہندوستان کے تمام مکاتب فکر کے علماء نے ایک جامع حکمت عملی کے ذریعے اس فتنے کا مقابلہ کیا۔ تمام عالمی قوتیں ان کی پشت پر تھیں۔ لیکن پاکستانی قوم نے جس وحدت کا مظاہرہ کیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ قوم جیت گئی اور عالمی قوتیں شکست کھا گئیں۔ آپ اپنے آپ کو کمزور مت سمجھیں۔ آپ کی یکجہتی اور آپ کے صفوں کی وحدت اور اس محاذ پر آپ کی قربانیاں۔ اس کا آپ نے بھی مشاہدہ کیا، ہم نے بھی مشاہدہ کیا کہ پھر کس طرح اللہ رب العزت نے آپ کی قربانیوں کی لاج رکھی۔
۱۹۵۳ء میں لاہور کی سڑکیں ، لاہور کے گلی کوچے دس ہزار ختم نبوت کے پروانوں کی لاشوں کے خون سے رنگین ہوئے۔ جب اتنی بڑی قربانیاں دی جاتی ہیں تو بعض دفعہ قوموں کے حوصلے پست ہوجاتے ہیں۔ لیکن امت مسلمہ کی جو وحدت ہے اللہ اس کو دیکھتا ہے۔
۱۸۵۷ء کو شاملی میدان کا سانحہ اور دہلی میں لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام ، ہزاروں علماء کرام کو سولیوں پر چڑھایا گیا اور جب جیلوں کی سولیاں بھرگئیں تو سڑکوں کے اوپر درختوں پر ان کو لٹکایا گیا۔ انگریز یہ سمجھ رہا تھا کہ اب ہم نے آزادی کے لئے لڑنے والوں کا خاتمہ کر دیا ہے اب ہم نے تحریک کی کمر توڑ دی ہے۔
لیکن ہندوستان کی سرزمین نے اور اس سرزمین کے باسیوں نے آزادی کے لئے جس عہد و پیمان کا اعلان کیا تھا قائم رہے۔ فکری لحاظ سے شکست نہیں کھائی۔ اپنے مؤقف کو تبدیل نہیں کیا۔ آپ نے دیکھا کہ برصغیر کی سرزمین نے وہ منظر دیکھا اور آسمان نے اس منظر کا مشاہدہ کیا کہ ہندوستان آزاد ہوا اور پاکستان معرض وجود میں آیا اور تاج برطانیہ کو شکست ہوئی اور برطانیہ کو یہاں سے نکلنا پڑا۔
تحریکیں مدوجزر کا شکار ہو جاتی ہیں۔ تحریکیں نشیب و فراز کا شکار ہو جاتی ہیں۔ لیکن تحریکوں کی مثال سمندر کی لہروں کی سی ہوتی ہے۔ لہریں کبھی ڈوب جاتی ہیں۔ پھر ابھرتی ہیں۔ ابھر کر پھر ڈوب جاتی ہیں اور پھر ابھرتی ہیں۔ لیکن بالآخر ساحل پر جا کر دم لیتی ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد ۱۹۵۳ء کی قربانیوں کے بعد حوصلے نہیں ٹوٹے۔ مؤقف تبدیل نہیں ہوا۔ شکست کا معنی یہ نہیں ہے کہ آپ میدان جنگ میں ہار گئے۔ آپ کی قوت کمزور ہوگئی۔ آپ پٹ گئے۔ شکست اس کا نام ہے کہ آپ کے اعصاب ٹوٹ گئے۔ آپ کی قوت ارادی شکست
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کھا گئی۔ آپ کا مؤقف کمزور ہو گیا۔ آپ پسپائی اختیار کر گئے۔ اس کا نام ہے شکست۔ الحمد للہ! فدایان ختم نبوت نے ۱۹۵۳ء میں قربانیاں تو دے دیں۔ بظاہر معلوم ہوا کہ شکست کھالی۔ لیکن بالآخر وہ لہریں منزل پر جا کے پہنچیں۔
میرے دوستو! ہوشیار تو ضرور رہنا چاہئے۔ ہمیں ہر وقت بیدار رہنا چاہئے۔ لیکن دنیا کو آج کے اجلاس سے یہ پیغام بھی دے دیں کہ خاطر جمع رکھو۔ تم کبھی بھی پاکستان کی سرزمین پر قادیانیوں کی غیر مسلم حیثیت کو ختم نہیں کر سکتے۔ جب ہم ختم نبوت کی بات کرتے ہیں تو اس کا صاف معنی یہی ہے کہ: ”الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا“ ختم نبوت کا معنی ہی یہی ہے کہ اب اسلام آخری دین ہے اور قیامت تک اسی نظام نے چلنا ہے۔ ختم نبوت ہمارا مشترکہ عقیدہ ہے۔ کیا اسلام ہمارا مشترک نہیں ہے؟ یہ سوچ کب پیدا ہوگی؟ ہم جس طرح کی گفتگو کرتے ہیں۔ تقریروں میں ہم مختلف فورمز پر جاتے ہیں۔ تمام مکاتب فکر کے لوگ بیٹھتے ہیں۔ مختلف سیاسی جماعتیں بیٹھتی ہیں۔ ختم نبوت کے حوالے سے اور ناموس رسالت کے حوالے سے تو ہم کہتے ہیں کہ یہ ہمارا قدر مشترک ہے۔ لیکن جو قرآن جناب رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوا، جو دین اسلام رسول اللہ ﷺ نے انسانیت کو عطا کیا، امت کے سپرد کیا، وہ امت کے درمیان قدر مشترک نہیں ہے؟ ہم نے اس کو آپس کی تفرقہ بندیوں کی نظر کر دیا۔ ہماری ترجیحات کیا ہیں؟ یہ واضح کرنا ہوگا۔ ہم نے ہمیشہ یہی رونا رونا ہوتا ہے کہ حکمران اسلام نافذ نہیں کر رہے۔ پارلیمنٹ اسلامی قانون سازی نہیں کر رہی۔ اسلامی دفعات تبدیل ہو گئیں۔ آئین معطل ہو گیا۔ ختم نبوت کا قانون معطل ہو گیا۔ حکمران ذمہ دار ہیں۔ پارلیمنٹ ذمہ دار ہے۔ پارلیمنٹ کے ممبران ذمہ دار ہیں۔ ساری زندگی یہی رونا رونا ہے اور کبھی بھی خود اس عقیدہ کے لوگوں کو ایوان تک نہیں پہنچانا۔
ایک صحافی نے مجھ سے پوچھا کہ: آپ مسلم لیگ کے اتحادی ہیں۔ آپ سے انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ ہم اسلامی قانون سازی کریں گے اور یہ کریں گے اور وہ کریں گے اور یہ اصلاحات اور وہ اصلاحات۔ کیا انہوں نے وہ وعدے پورے کئے؟ میں نے ان سے کہا کہ آپ نے مجھے کب اتنا سادہ سمجھ لیا کہ میں مسلم لیگ سے توقع رکھوں گا کہ وہ پاکستان کو اسلامی مملکت بنائیں گے اور قانون سازی کریں گے۔ آپ نے کب مجھے اتنا سادہ سمجھا ہے؟ یہ کام اسی وقت ہوگا جب ہم خود اقتدار میں ہوں گے اور اکثریت ہمارے ہاتھ میں ہوگی۔
اب جب ہم دو چار دانے ایوان میں ہوتے ہیں تو پھر ہمیں ایک حکمت عملی بنانی ہوتی ہے کہ اس چھوٹی سی تعداد کے ساتھ اس نظام حکومت میں اس نظام سیاست میں ہمارا کردار کیا ہو سکتا ہے؟ ہم اپنی حکمت عملی بناتے ہیں کہ ہم نے اس طاقت کو استعمال کیسے کرنا ہے؟ اور پھر اپنی حجت پوری کرتے ہیں۔ جہاں وہ قیام پاکستان سے لے کر آج تک اسلامی قانون سازی سے بیزاری اور اس سے دوری کے گنہگار ہیں۔ تھوڑا سا ہمارے معاہدہ کے خلاف کر کے اللہ کے سامنے خود ہی جوابدہ ہوں نا! سمجھ میں بات آ رہی ہے یا نہیں؟ ہم بھی آج پیدا نہیں ہوئے۔ ہم بچے نہیں ہیں۔ ۱۹۸۸ء سے میں پارلیمنٹ کے اندر ہوں اور بزرگوں کے زمانہ سے لے کر آج تک انہیں غلام گردشوں کی آوارگی کرتے پھر رہے ہیں۔ بہت تجربے ہو چکے ہیں۔ کھنگال لیا ہے ہم نے۔ لیکن اب تک عوام کو نہیں سمجھا سکے۔ قصور اتنا ہی ہے کہ اگر پاکستان کا آئین کہتا ہے کہ اسلام پاکستان کا مملکتی مذہب ہوگا اور قرآن وسنت کے مطابق قانون سازی ہوگی۔ قرآن وسنت کے منافی قانون نہیں بنے گا۔ یہ تو پارلیمنٹ نے کرنا ہے اور پارلیمنٹ میں آپ نے وہ دنیا بھیجی ہے اپنے ووٹوں سے کہ جس کو سورۃ فاتحہ نہیں آتی اور جن کو قل ہو اللہ نہیں آتی۔ ان سے توقع رکھیں گے آپ کہ وہ قرآن وسنت کے مطابق قانون سازی کریں گے؟ کسی اسلامی قانون کے لئے نہ ان کے پاس کوئی حوالہ ہے، نہ صلاحیت ہے، نہ قرآنی آیات کو جانتے ہیں، نہ کسی حدیث کا حوالہ دے سکتے ہیں، نہ کسی فقہ کا حوالہ دے
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سکتے ہیں اور نہ ہی وہ جذبہ اور احساس ہے۔ قصور کس کا نکلا؟ قصور آپ کا نکلا۔ تسلیم کر لو کہ قصور آپ کا ہے۔ جب تک آپ ان کو ووٹ دیتے رہیں گے کم از کم مجھ سے تو گلہ مت کریں کہ اسلام کیوں نہیں آ رہا۔
کئی سال پہلے یہاں کسی مدرسہ میں کچھ صحافی حضرات مجھ سے ملے۔ ایک صحافی مجھے کہتا ہے کہ آپ نے اسلامی نظام کے لئے اسمبلی میں کیا کیا؟ میں نے بھی اسی لہجے میں جواب دیا کہ آپ نے پورے پنجاب میں کتنا ووٹ دیا؟ میری قوت تو آپ کا ووٹ ہے۔ اس قانون سازی کے لئے آپ نے مجھے کتنی طاقت دی ہے۔ وہ طاقت بتاؤ؟ لیکن اس کے لئے پنجاب کے علماء کو بھی حرکت میں آنا ہو گا۔ ہمارا مولوی صاحب وہ بھی اپنا تمام تر دینی فریضہ ختم نبوت کا ایک جلسہ منعقد کر کے پورا کر لیتا ہے۔ اپنے مدرسے کا سالانہ چندہ کر کے پورا کر لیتا ہے۔
ایک بزرگ والد صاحب کے پاس آئے۔ قاسم العلوم کے دفتر میں بیٹھے ہوئے تھے۔ کہا مفتی صاحب آپ نے میرے ساتھ جلسے میں جانا ہے۔ دور دراز کہیں مظفر گڑھ یا ڈیرہ غازی خان کی طرف کسی گاؤں کا جلسہ تھا۔ مفتی صاحب بیمار تھے۔ پاؤں میں زخم تھے۔ کہنے لگے میں آپ کے ساتھ نہیں جا سکتا۔ میری صحت مجھے اجازت نہیں دے رہی کہ میں دور دراز دیہاتوں میں جاؤں۔ خیر اس کا اصرار بڑھتا گیا۔ مفتی صاحب کا انکار بڑھتا گیا۔ ذرا مسئلہ تیز ہو گیا تو مفتی صاحب مشتعل ہو گئے اور کہا نہیں جاتا آپ کے ساتھ۔ کیا کر لیں گے؟ اس سے بھی زیادہ کچھ کہہ دیا ہو گا انہوں نے۔ وہ مہمان تھا۔ بڑے وقار کے ساتھ بڑی تسلی کے ساتھ مفتی صاحب کے ساتھ باتیں کر رہا تھا۔ مفتی صاحب آپ کوئی خطیب تو نہیں ہیں۔ آپ سے زیادہ اچھے خطیب بہتیرے ۔ آپ کوئی مقرر تو نہیں۔ آپ تو جلسے میں بھی اسی طرح بولتے ہیں جیسے ہمارے ساتھ مجلس میں بولتے ہیں۔ مقرر بھی آپ سے بہتیرے۔ اللہ نے آپ کو مقام دیا ہے۔ اللہ نے آپ کو عظمت عطاء کی ہے۔ آپ ایک بڑے آدمی ہیں پاکستان کے۔ اگر آپ میرے ساتھ مدرسے میں چلے جائیں تو میرا چندہ ذرا اچھا ہو جائے گا۔ مفتی صاحب مشتعل تھے۔ یہ سن کر ہنس پڑے اور اس کو ہاتھ ملایا اور فرمایا اتنا سچ مجھے آج تک کسی نے نہیں کہا کہ یہ سب مجھے چندوں کے لئے ہی لے جاتے ہیں۔
میرے دوستو ! یہاں سے نکلو۔ تھوڑا سا اس ذہنیت سے آگے بڑھو۔ کچھ عرصہ پہلے یہاں پر بڑے بڑے درگاہوں کے کچھ سجادہ نشین اکٹھے ہوئے تھے ایک گھر میں ۔ تو میں نے ان سے بھی یہ کہا کہ آپ ہمارے بزرگ ہیں۔ ہمارے لئے قابل احترام ہیں۔ لیکن آپ خانقاہوں میں رہ رہے ہیں۔ درگاہوں میں رہ رہے ہیں۔ آپ مجھے ایک مسلک سے وابستہ کر دیتے ہیں۔ میری شخصیت کو آپ بہت محدود بنا دیتے ہیں۔ جب کہ میری سوچ یہ ہے کہ میں علماء کو ، مذہبی طبقہ کو، ان درگاہوں کو ، ان مدارس و مساجد کو اور اس میں کردار ادا کرنے والوں کو، اتنی خود اعتمادی دے دوں اور اتنا احساس بلندی ان کے اندر پیدا کر دوں کہ اگر نواز شریف اور زرداری ملک پر حکومت کرنے کا سوچتے ہیں تو آپ بھی ملک پر حکومت کرنے کا سوچیں۔ میں آپ کو اس وقت کہاں پر لے جانا چاہتا ہوں ۔ میں مذہبی طبقہ کو اوپر لے جانا چاہتا ہوں ۔ یقیناً میری علمی اور حدیث کی سند دارالعلوم دیوبند سے گزرتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ میں اس نسبت کا نہ انکار کر سکتا ہوں اور نہ بیزاری کا اظہار کر سکتا ہوں۔ یہ میری شناخت ہے۔ اگر میں نسبی لحاظ سے پشتون ہوں اور پشتون ہونے کے ناتے میں اس نسبی تعلق سے انکار نہیں کر سکتا تو میں علمی، اعتقادی اور فکری لحاظ سے بھی انکار نہیں کر سکتا۔ میرا پیغام جمعیت علماء کا پیغام ہے۔ وہ عالمگیر پیغام ہے۔ اس پیغام کو میں انسانیت کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں۔ میری طرف کسی مسلک کا انگلی اٹھا کر اشارہ نہ کیجئے۔ میں جب اسلام کی بات کروں گا تو پوری امت مسلمہ کی بات کروں گا۔ جب میں پاکستان کی بات کروں گا تو پوری قوم کی بات کروں گا۔ یہ بات میں نے پارلیمنٹ کے اندر بھی کہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان ترجیحات کو سمجھیں ۔ ترجیحات کیا ہیں ہماری؟ صرف مسجد پر قبضہ کرنا۔ یہ علماء کرام کی ترجیحات ہیں؟ محراب پر قبضہ کرنے کی ہم جنگیں لڑ رہے ہیں۔ یہ بریلوی کی مسجد ہے۔ یہ دیوبندی کی مسجد ہے۔ یہ مقلد کی مسجد ہے۔ یہ غیر مقلد کی
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہے ۔ یہ سطح ہے آپ کی ؟ آپ کا علم ، آپ کی نسبت ، آپ کو اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ آپ اس سطح پر سوچا کریں؟ حضرت شاہ جی کے بارے میں مجھے اپنے بزرگوں نے ایک واقعہ سنایا کہ کسی مسجد پر قبضہ ہو گیا تھا۔ کسی نے حضرت شاہ جی سے آکر کہا کہ کسی بریلوی نے قبضہ کر لیا ہے۔ کچھ کیجئے ۔ تو انہوں نے فرمایا کہ وہ وہاں جاکر رقص کریں گے یا نماز پڑھیں گے؟ یہ کوئی مسئلہ ہے جو آپ لے کر آئے ہیں ؟ اس قسم کی سطح پر جب ہم سیاست کریں گے تو پھر یہ مت سوچو کہ آپ ملک میں اسلامی انقلاب لاسکیں گے یا آپ اسلام کے حوالے سے کوئی پیش رفت کرسکیں گے ۔
ہاں ! پارلیمانی جدوجہد ہے۔ بزرگوں کو ہم نے دیکھا پارلیمنٹ میں کردار ادا کرتے ہوئے ۔ خدا کے لئے بین الاقوامی حالات کو سمجھیں ۔ جب تک سووی ایٹ یونین موجود تھا سووی ایٹ کے خلاف جنگ میں امریکہ اور مغربی دنیا مذہب کو استعمال کرنا چاہتی تھی ۔ کیمونزم کے خلاف مذہب کو لڑانا چاہتی تھیں ۔ تو وہ آپ کے ساتھ گزارا کرتے تھے ۔
۱۹۷۳ء کا آئین ان حالات میں بنا تھا۔ آج ہم تو کہتے تھے کہ کیمونسٹ اسلام کا دشمن ہے۔ کیمونزم اسلام کا دشمن ہے۔ وہ اسلام کا خاتمہ چاہتا ہے۔ لیکن آج امریکہ اور مغربی دنیا نے عملی طور پر دنیا کو پیغام دے دیا ہے کہ ہمیں یہ مذہب نہیں چاہیے۔ ہمیں مدرسہ نہیں چاہیے۔ ہمیں قرآن وحدیث کے علوم نہیں چاہئیں ۔ جس طرح ہم مغرب میں اپنے آپ کو عیسائی کہتے ہیں ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں بس یہی کافی ہے۔ ان کے مذہب پر اور ان کی کتاب پر عمل کرنا ہمارے لئے ضروری نہیں ۔ مسلمان بھی اسی حیثیت میں کہ قرآن سے اپنی نسبت کی بات کرے۔ رسول اللہ ﷺ سے اپنے امتی ہونے کا دعویٰ تو کرے۔ لیکن اس کے دین پر عمل کرنے کا احساس ختم کردے۔ یہی چاہتے ہوئے انگریز نے علی گڑھ مدرسہ قائم کر دیا ۔ یہی آج امریکہ اور مغربی دنیا چاہتی ہے۔ وہ قتل عام کر رہا ہے آپ کا افغانستان میں اور وہی آگ پاکستان میں آئی ، عراق میں چلی ، لیبیا میں گئی ، الجزائر میں گئی ، یمن میں آئی ۔ اسی طرح شام میں آپ دیکھ رہے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے؟ سعودی عرب پر خطرات منڈلا رہے ہیں ۔ صومالیہ میں گئی ، سوڈان میں گئی ، کہاں کہاں پر کیا کیا کچھ نہیں ہوا ۔ یہ قتل عام وہ انسانیت کا کر رہے ہیں ۔ کسی قیمت پر مذہب کو زندہ نہیں ہونے دیتے ۔ آج جو ہم جنگ لڑ رہے ہیں اسی تناظر میں ہے ۔
اسی لئے میں کبھی کبھی اپنے علماء کرام سے اور دینی حلقوں کے علماء کرام سے کہتا ہوں کہ آپ کبھی کبھی غلبہ اسلام کی باتیں کرتے ہیں ۔ ذرا تھوڑا سا نیچے آ جائیے ۔ یہ دور بقائے اسلام کی جنگ کا ہے ۔ آؤ ! ہم اپنے دین کی بقاء کی جنگ لڑیں ۔ ان کے اداروں کی بقاء کی جنگ لڑیں ۔ مدارس کی بقاء کی جنگ لڑیں۔ مساجد کی بقاء کی جنگ لڑیں ۔ آج آپ پر قدغنیں لگائی جارہی ہیں ۔ دینی مدارس کو دہشت گردی کے مراکز کہا جارہا ہے ۔ مذہبی جماعتوں کو دہشت گردوں کے سہولت کار کا نام دیا جارہا ہے ۔
خود انسانیت کا قتل کریں اور کہیں کہ ہم امن بحال کر رہے ہیں ۔ پورے افغانستان کو بھون ڈالا ، عراق کو بھون ڈالا ، لیبیا کو بھون ڈالا ہے۔ ملک تقسیم ہو گئے ہیں ۔ آج شمالی عراق اور جنوبی عراق الگ الگ ہو گئے ، عربی اور کرد کی تقسیم ہے۔ شیعہ اور سنی کی تقسیم ہے۔ آپ لیبیا میں جائیں ۔ لیبیا کے اندر تین ملک بنے ہوئے ہیں ۔ تین جگہوں پر تین قسم کی حکومتیں ہیں ۔ بکھیر دیا ہے ملکی وحدت کو ۔ افغانستان میں جب آپ جنگ لڑ رہے تھے تو امریکہ آپ کے ساتھ تھا۔ مجاہدین آپ کے ساتھ تھے ۔ پاکستان ان کی پشت پر تھا ۔ پاکستان کی سرزمین ان کے لئے کھول دی گئی تھی۔ لیکن آج امریکہ اور ہندوستان افغانستان میں ہے اور پاکستان وہاں پر موجود نہیں ہے۔ آج ایران کا صدر ایک
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ۴۳۷ ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سال کے اندر دومرتبہ ہندوستان کا دورہ کر رہا ہے۔ آج گوادر بندرگاہ کے مقابلے میں ایران کی چاہ بہار بندرگاہ انڈیا بنا رہا ہے۔ تاکہ گوادر کی بندرگاہ کا مقابلہ کیا جاسکے۔ خطے میں جو اس کی افادیت ہوگی۔ اس کو کم کیا جاسکے اور چاہ بہار کے راستے سے تجارتی راستہ وسط ایشیاء تک ہندوستان اپنے قبضے میں لے۔ ساری منصوبہ بندی ہورہی ہے۔ اس پر کام شروع ہو گیا ہے۔
ہندوستان کی طرف سے آپ کے دریا روکے جارہے ہیں۔ وہاں ڈیم بن رہے ہیں اور آپ کا پانی ہندوستان استعمال کر رہا ہے۔ یہی صورتحال افغانستان کی طرف سے آنے والے پانیوں کی ہے کہ وہ بھی ڈیم بنا کر آپ کے پاکستان کا پانی روک رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں نازک حالات سے پاکستان گزر رہا ہے۔ پڑوسی دنیا میں جس تنہائی کا سامنا ہے اس پر پاکستان کو فکرمند ہو جانا چاہیے کہ ہم اپنے وطن کی بقاء کی جنگ کیسے لڑیں۔ بار بار ایک سال سے کہتا رہا ہوں کہ پاکستان میں سیاسی بحران مت پیدا کرو۔ اگر یہاں سیاسی بحران پیدا ہوئے تو آپ عالمی قوتوں کو ملک کے اندر لائیں گے۔ امریکہ کہہ چکا ہے نیو ورلڈ آرڈر کے حوالے سے کہ اب ہم دنیا میں نئی جغرافیائی تقسیم چاہتے ہیں۔
۱۹۴۷ء کے زمانے اور اس دور کی پچھلی صدی کی تقسیم، وہ کہتے ہیں یہ تو برطانیہ کی خواہشات کے مطابق تھی۔ ان کے مفادات کے تابع تھی۔ اب ہم نے ازسرنو تقسیم چاہتے ہیں۔ تو اس کے لئے کیا ہوتا ہے؟ پہلے بحران پیدا کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد ملک کو تقسیم کرنے کی باتیں شروع ہو جاتی ہیں۔ ان ساری باتوں پر ہماری نظر ہے۔ ہم آج اگر حکومت سے اختلاف کرتے ہیں، اگر آج ہم اسٹیبلشمنٹ سے اختلاف کرتے ہیں تو اس بات پر اطمینان ہوتا ہے کہ ہمیں حالات کے تجزیئے کی صلاحیت ہے اور ہم جو حالات کا مطالعہ کرتے ہیں اور اس پر رائے قائم کرتے ہیں، اس میں وزن ہوا کرتا ہے۔ یہ ہیں ہمارے مشترکات، آج ہم ملک کو کیسے بچائیں، آج ہم ملک کے اندر ملک کے نظریئے کو کیسے بچائیں، آج ہم دین اسلام کو کیسے بچائیں؟
آپ انڈیا جائیں۔ انڈیا ایک سیکولر ملک ہے۔ اس کا آئین سیکولر ہے۔ پوری قوم کا سیکولر ہونے پر اتفاق ہے۔ لیکن مودی کی حکومت ہے۔ فرقہ واریت واپس آرہی ہے۔ ہندو مسلمان کے درمیان پھر تنازعات پیدا ہو رہے ہیں۔ پاکستان ایک مذہبی ملک ہے۔ پورے ملک کا اس میں اتفاق ہے کہ یہ اسلامی جمہوریہ ہے۔ یہاں کا سرکاری مذہب اسلام ہے۔ لیکن آپ دیکھ رہے ہیں ملکی اداروں کو، اسٹیبلشمنٹ کو، اداروں بیورو کریسی پر اثرات ایک لبرل اور سیکولر حلقے کے ہیں۔ ملک کا نظام ان کے ہاتھ میں چل رہا ہے۔ مذہبی حلقے کو سیاسی نظام سے باہر کر دیا گیا ہے۔ یہ ہیں وہ عالمی تبدیلیاں اور تغیرات جو ہمیں متاثر کر رہے ہیں۔ تو کیا ان حالات میں ہمیں سوچنا نہیں پڑے گا؟
ہم اصحاب کہف ہیں کہ تین سو سال تک غار میں رہے اور ہمیں دنیا کا کچھ پتہ نہیں۔ ہمارے دینی مدرسوں کو اس طرح بنایا جارہا ہے۔ ان کی صلاحیت اور استعداد کو کم کیا جارہا ہے تو اس اعتبار سے آج ہمیں یہ دیکھنا ہے۔ الحمدللہ ! آپ خوش قسمت ہیں کہ آپ کی جماعت پارلیمنٹ کے اندر موجود ہے۔ ہمیں معلوم ہے کون حملے کر رہا ہے ناموس رسالت کے قانون پر۔ پچھلی حکومت میں ناموس رسالت کے حوالے سے قانون میں تبدیلی کا مسئلہ پیش آیا۔ تب دینی قوتیں اکٹھیں ہوئیں اور ایک جلسہ کراچی میں کیا دوسرا لاہور میں اور تیسرے جلسے کی نوبت نہیں آئی تھی کہ حکومت سرنڈر ہوگئی تھی کہ ہم نہیں کر سکتے ٹھیک ہے۔ یہ آپ کو بتا دوں جب پیپلز پارٹی کی گورنمنٹ تھی۔ ہم نے ان سے مذاکرات کئے خود پیپلز پارٹی کی حکومت نے باقاعدہ رپورٹ تیار کی کہ ناموس رسالت کا موجودہ قانون کافی اور شافی ہے اور اس میں تبدیلی
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن اس کے باوجود انہیں کی پارٹی کے لوگ سینٹ کے اندر اس قانون کے خلاف پھر تجاویز لا رہے ہیں۔
ابھی جو ختم نبوت کا ایک مسئلہ پیدا ہوا اس میں ہمارے علماء کے خلاف اگر کسی نے ووٹ ڈالا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے ڈالا یا پاکستان پیپلز پارٹی نے ڈالا ۔ حالات بدلتے رہتے ہیں۔ آج مشکل سے ہمارے دوستوں کی تحریک کے نتیجے میں آزاد کشمیر کی اسمبلی نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا تو ان پارٹیوں والے اسمبلی سے باہر رہ گئے ۔ ووٹ نہیں دیا، ڈالا ہی نہیں ۔ تو ان حالات سے جب ہم گزر رہے ہیں ۔ آپ نے اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا ہے۔ یہ سب کچھ حکومت نہیں کر سکتی ۔ بتاتا ہوں میں ، ہم تو ہر بات پر گالیاں حکمرانوں کو دیتے ہیں۔ آج با قاعدہ لابیاں ہیں، این جی اوز ہیں ، این جی اوز دیمک کی طرح گھس گئیں ہیں اداروں میں اور وہ قانون کی تبدیلی کے لئے خفیہ کام کرتی ہیں۔ پتہ ہی نہیں چلنے دیتیں، تو ان این جی اوز کا راستہ روکنا ہے اور ان این جی اوز کا راستہ روکنے کے لئے آپ جب تک اپنی مذہبی قوتوں کو سپورٹ نہیں کریں گے تو یہ حالات نہیں بدلیں گے ۔ ان شاء اللہ ختم نبوت کا عقیدہ محفوظ ہوگا۔ ان شاء اللہ ناموس رسالت کا قانون محفوظ ہوگا ۔ اسلامی قوانین بھی محفوظ ہوں گے اور کسی مائی کے لال کو تحفظ ناموس رسالت کے قانون کو ختم کرنے کی جرات نہیں ہوگی ۔ ان شاء اللہ !
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۸ء ص ۱۶ تا ۲۲)
ختم نبوت کانفرنس رحیم یارخان
۱۸/ مارچ ۲۰۱۸ء کو مغرب کی نماز کے بعد جامع مکی مسجد رحیم یارخان میں ختم نبوت کانفرنس مقامی امیر مولانا قاضی شفیق الرحمن کی صدارت اور علامہ عبدالرؤف ربانی ضلعی امیر جمعیت کی نگرانی میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز حافظ ابوبکر کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ ثناء خوان مصطفیٰ ﷺ حافظ محمد عثمان نے ہدیہ نعت کا نذرانہ پیش کیا۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا مفتی محمد راشد مدنی نے سرانجام دیئے۔ مرکزی نائب امیر مولانا حافظ ناصر الدین خاکوانی مدظلہ اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب فرمایا۔ مقررین نے کہا کلمہ طیبہ کے اقرار کے علاوہ جب تک حضور خاتم النبیین ﷺ کے آخری نبی اور رسول ہونے کا اقرار نہ کیا جائے تب تک کوئی شخص خود کو مسلمان نہیں کہہ سکتا۔ یہ آئین پاکستان کا مسئلہ ہے۔ ملک کو لعنتی سرزمین کہنے اور ایٹمی راز فاش کرنے والا شخص ملک وقوم کا غدار ہے۔ ایسے شخص کے نام پر یونیورسٹی کے شعبہ جات کو منسوب کرنا قرین انصاف نہیں ۔ اسی لئے مقررین نے حکومت وقت سے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے نام کی بجائے ڈاکٹر عبدالقدیر کے نام پر شعبہ فزکس کو منسوب کیا جائے۔ کانفرنس میں ضلع بھر کے علماء کرام سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افسران نے بھی شرکت کی ۔ علاوہ ازیں کثیر تعداد میں مجاہدین ختم نبوت و کارکنان ختم نبوت اس موقع پر موجود تھے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۸ء ص ۵۵)
ختم نبوت کانفرنس جو آنہ بنگلہ رنگپور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جو آنہ بنگلہ رنگپور ضلع مظفر گڑھ کے زیر اہتمام ۱۹/ مارچ ۲۰۱۸ء بروز پیر بعد از نماز ظہر بمقام ریسٹ ہاؤس ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی ۔ جس کی صدارت مولانا خالد مکی نے کی۔ سرپرستی شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید فاروقی نے کی۔ اسٹیج کی ذمہ داری مولانا عبدرحیمی نے سنبھالی۔ کانفرنس کا آغاز مولانا محمد ساجد کی تلاوت سے ہوا۔ نعت مولانا حسنین، مولانا عبدالشکور برادران نے پیش کی ۔ مولانا اللہ وسایا، شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید فاروقی ، برادر صغیر مفتی شفیع ، مولانا خالد مکی ، مبلغ عالمی مجلس مظفر گڑھ مولانا محمد ساجد، مولانا شاہ نواز فاروقی کے بیانات ہوئے ۔ کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لئے مولانا قاری عمر حیات خطیب اقصیٰ مسجد ، مولانا محمد احمد گھگلہ،
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قاری عطاء الرحمن، شیخ ارشاد و دیگر حضرات نے بھر پور محنت کی۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس محنت کو قبول فرما کر شفاعت نبوی ﷺ کے حصول کا ذریعہ بنائے۔ آمین!
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۸ء ص ۵۳)
ختم نبوت کانفرنس خانیوال
۲۰؍ مارچ ۲۰۱۸ء بروز منگل بعد نماز عشاء جامع مسجد صدیقی ایک مینار والی میں عظیم الشان سالانہ کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت پیر خواجہ عبد الماجد صدیقی سجادہ نشین خانقاہ مالکیہ نے فرمائی۔ آغاز حافظ محمد انس وقاری ذوالفقار کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ نعتیہ کلام حافظ حبیب الرحمن، قاری مظہر حسین اور قاضی مطیع اللہ کراچی نے پیش کئے۔ کانفرنس میں مولانا عبد الستار گورمانی، مولانا محمد عباس اختر، مولانا عطاء المنعم نعیم، مولانا پیر خورشید احمد، مولانا محمد رفیق جامی اور مولانا اللہ وسایا کے بیانات ہوئے۔ اختتامی دعاء عالمی مجلس کے ضلعی امیر پیر عبد الماجد صدیقی نے کرائی۔ اگلے روز حسب سابق خانقاہ مالکیہ نقشبندیہ کا سالانہ اجتماع شروع ہوا جس میں ملک بھر سے سلسلہ نقشبندیہ کے مشائخ عظام نے بیانات فرمائے اور متعلقین و متوسلین حضرات نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۸ء ص ۵۱، ۵۲)
ختم نبوت کانفرنس لیاقت پور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۲۲؍ مارچ ۲۰۱۸ء بعد نماز ظہر جامعہ قادریہ میں ختم نبوت کانفرنس مولانا اصغر علی ناصر کی نگرانی میں منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت میاں سہیل احمد دین پوری نے کی۔ کانفرنس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا۔ اس کے بعد جناب محمد اکرم خوشتر علی پور نے نعتیہ کلام پیش کیا۔ کانفرنس سے مولانا اللہ وسایا، مولانا قاضی احسان احمد، مولانا مفتی راشد مدنی نے بیانات کئے۔ مقررین نے ۶؍ فروری ۲۰۱۸ء کو آزاد کشمیر اسمبلی کے تاریخی ساز فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے وزیر اعظم، ارکان اسمبلی، علماء کرام سمیت تمام مسلمانان جنہوں نے جس درجہ مساعی حسنہ میں حصہ ڈالا کو خراج تحسین پیش کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۸ء ص ۵۵، ۵۶)
ختم نبوت کانفرنس سنجر پور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۲۲؍ مارچ ۲۰۱۸ء بعد نماز مغرب جامعہ فرقانیہ سنجر پور تحصیل صادق آباد ضلع رحیم یار خان میں فقید المثال کانفرنس زیر صدارت میاں سہیل احمد دین پوری اور زیر نگرانی قاری مجیب الرحمن منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں خصوصی بیانات مولانا اللہ وسایا مدظلہ، مولانا قاضی احسان احمد اور مولانا مفتی محمد راشد مدنی کے ہوئے۔ مقررین نے اپنے بیانات میں ختم نبوت کے حوالہ سے موجودہ صورتحال پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے فیصلے پر تفصیلی گفتگو کی۔ مقررین کا کہنا تھا کہ ختم نبوت ایمان کا بنیادی اور لازمی جز ہے بلکہ پورے ایمان کی روح ہے۔ جس طرح انسان کا روح کے بغیر انسانی جسم بے کار ہوتا ہے ایسا ہی عقیدہ ختم نبوت پر ایمان رکھے بغیر ایمان کامل نہیں ہو سکتا۔ اسی لئے عقیدہ ختم نبوت کا دفاع کرنا ہر مسلمان کے اولین فرائض میں شامل ہے۔ کانفرنس میں مثالی اجتماع تھا۔ انتظامیہ سمیت تمام کارکنان نے کانفرنس کے انعقاد میں کردار ادا کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۸ء ص ۵۶)
ختم نبوت کانفرنس پشاور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت یو سی ۱۳ شیخ آباد ٹاؤن ون پشاور کے زیر اہتمام ۲۴؍ مارچ ۲۰۱۸ء بروز ہفتہ بوقت بعد از نماز مغرب
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بمقام سیدنا عثمان ذوالنورین ؓ پارک میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت شیخ الحدیث مولانا خیر البشر نے کی۔ کانفرنس کی ابتداء قاری احتشام الحق کی تلاوت کلام پاک سے ہوئی۔ ہدیہ نعت مولانا قاری احسان قدیر اور قاری الیاس خالد نے پیش کیا۔ نقابت کے فرائض مولانا واحد اللہ عمر نے خوش اسلوبی سے انجام دیئے۔ کانفرنس کے مہمانان خصوصی مولانا قاری اکرام الحق، مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی، مولانا قاری سمیع اللہ جان فاروقی تھے۔ کانفرنس میں مولانا رضوان عزیز، مولانا عابد کمال، مولانا گل اسلام، مولانا مختار سمیت ضلع پشاور کے ممتاز علماء کرام نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ مقررین نے کہا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پوری دنیا میں عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے بھر پور جدوجہد کررہی ہے اور خصوصاً پاکستان کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدات کے تحفظ میں بھر پور کردار ادا کر رہی ہے۔ ملک بھر میں پرامن جدوجہد اور دلائل کے ساتھ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ میں ہراول دستے کا کردار ادا کر رہی ہے۔ مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی نے حکومت پاکستان سے پرزور مطالبہ کیا کہ ناموس رسالت ﷺ کے قانون مثلاً ۲۹۸-سی اور ۲۹۵-سی کو عملی جامہ پہنائے۔ علماء کرام نے شرکاء کانفرنس سے مطالبہ کیا کہ قادیانیوں کی تمام تر مصنوعات سے بائیکاٹ کریں۔ اختتامی دعاء مولانا مفتی محمد شہاب الدین پوپلزئی نے کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۸ء ص ۵۲)
سالانہ ختم نبوت کانفرنس تحصیل لاچی (کوہاٹ)
۲۵؍مارچ ۲۰۱۸ء کو تحصیل لاچی کی سطح پر ایک عظیم الشان ،فقیدالمثال ”ختم نبوت کانفرنس“ کا انعقاد کیا گیا۔ جس کی تیاری پورا ایک مہینہ پہلے سے شروع کی گئی تھی اور پوری تحصیل کی ہر چھوٹی اور جامع مسجد اور عوامی مقامات پر لوگوں کو عقیدہ ختم نبوت کا درس دیا اور سمجھایا گیا۔ کانفرنس والے دن صبح ہی سے لوگوں کا آنا شروع ہوا۔ ظہر کے افتتاحی بیان میں شرکاء اور اکابر کی تشریف آوری کا شکریہ ادا کیا۔ مہمان خصوصی مولانا عزیز الرحمٰن ثانی صاحب نے اپنے خطاب میں مسلمانوں کو اس فتنہ سے بچنے کی ترغیب دی۔ مولانا عزیز الرحمٰن ثانی نے اس بات پر زور دیا کہ سامراج اور عالمی کافر قوتیں مملکت خداداد پاکستان میں توہین رسالت کے قانون کو ختم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ لہٰذا مسلمانان پاکستان سامراجی قوتوں کے ان مذموم مقاصد کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ اس کے جواب میں پورے پنڈال میں موجود سامعین نے کھڑے ہو کر ”لبیک لبیک اللّٰہم لبیک“ کے فلک شگاف نعروں سے وعدہ کیا کہ ہم اس قانون کو غیر فعال اور ختم کرنے کے خلاف قائدین عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ہر حکم پر ہر قربانی دینے کے لئے تیار ہوں گے۔
اس کانفرنس کے آخری مقرر مولانا قاری اکرام الحق صاحب ضلعی امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مردان تھے۔ انہوں نے اپنی علاقائی زبان پشتو میں ختم نبوت کے عقیدے پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور اپنے مخصوص و جذباتی انداز میں بدنام زمانہ مشال کیس پر سیر حاصل خطاب کیا اور مشال کے توہین آمیز نظریات سے سامعین کو آگاہ کیا اور حکومت وقت پر زور دیا کہ توہین رسالت کے مجرموں کو اگر قانون کے مطابق سزائے موت نہیں دی جاتی، تو پھر مشال قتل کیس کی طرح کے واقعات رونما ہوا کریں گے۔ کانفرنس کی صدارت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر مرکزیہ جناب مولانا خواجہ عزیز احمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے کی اور انہی کی دعاء سے یہ فقید المثال کانفرنس اختتام پذیر ہوئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۸ء ص ٹائٹل نمبر ۳)
ختم نبوت کانفرنس لیہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لیہ کے زیر اہتمام ۲۵؍مارچ ۲۰۱۸ء بروز اتوار بعد نماز ظہر بمقام دارالعلوم محمود شہزاد کالونی لیہ میں ختم
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت مجلس کے ضلعی امیر مولانا محمد حسین نے کی۔ اسٹیج کی ذمہ داری ضلعی مبلغ مولانا محمد ساجد نے سنبھالی۔ کانفرنس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ تلاوت کی سعادت مولانا قاری احسان اللہ نے حاصل کی۔ نعتیہ کلام حافظ محمود الحسن، غلام حسین تونسہ اور حافظ خلیل، شاعر اسلام اللہ نواز سرگانی برادران نے پیش کی۔ مہمان خصوصی مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی تھے۔ پیر طریقت مولانا عبدالقادر ڈیروی، مولانا محمد اسلم نیازی نے بیان فرمایا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۸ء ص ۵۲، ۵۳)
ختم نبوت کانفرنس گڑھی حبیب اللہ
۲۸ / مارچ ۲۰۱۸ء بروز بدھ جامع مسجد سگدھار بعد نماز مغرب تا عشاء گڑھی حبیب اللہ میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں مہمان خصوصی مولانا مفتی عبدالواحد قریشی اور مولانا حفیظ الرحمن مانسہرہ، زیرصدارت: مولانا مفتی وقارالحق عثمان، زیرسرپرستی: مولانا شفقت الرحمن، زیرنگرانی: مولانا صداقت، تلاوت: مولانا قاری صداقت، نعت: بھائی ثاقب اور کثیر تعداد میں علماء کرام اور عوام الناس نے شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۸ء ص ۵۱)
مبلغین حضرات کا سہ ماہی اجلاس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا سہ ماہی اجلاس مرکزی دفتر ملتان میں بروز اتوار و سوموار ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری کی صدارت میں منعقد ہوا۔ جس میں پورے ملک میں کانفرنسیں اور اجتماعات کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے فیصلہ کا خیر مقدم کیا گیا اور کہا گیا کہ جن افسران نے دجل و فریب سے کام لیتے ہوئے اپنے آپ کو مسلمان شو کیا ان پر دھوکہ دہی کے الزام میں کیس رجسٹرڈ کئے جائیں اور جو مسلمان تھے اور بعد میں قادیانی شو کیا تو انہوں نے ارتداد کا ارتکاب کیا۔ ان کے خلاف ارتداد کے کیس قائم کئے جائیں اور انہیں قرار واقعی سزا دی جائے۔ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ قانون کو اس کے نام سے معنون کرنا گستاخی رسول کو رواج دینے کے مترادف ہے۔ پنجاب یونیورسٹی اپنا فیصلہ واپس لے۔ اگر کسی خاتون کے نام سے معنون کرنا ضروری ہے تو محترمہ آپا نثار فاطمہ کے نام سے معنون کیا جائے۔ جن کی مساعی جمیلہ سے محمد خان جونیجو اسمبلی نے گستاخ رسول کی سزا کا قانون بنایا۔ ۱۰ / مارچ کو لاہور میں منعقدہ ختم نبوت کانفرنس کی کامیابی پر اللہ کا شکر ادا کیا گیا کہ اللہ پاک نے کانفرنس کو کامیابی سے سرفراز فرمایا۔ اجلاس میں عہد کیا گیا کہ ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے کسی بڑی سے بڑی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا اور مطالبہ کیا گیا کہ سینٹ کی نام نہاد انسانی حقوق کی کمیٹی اس میں ترمیم کا خیال دل سے نکال دے۔ کیونکہ اسلامیان پاکستان ناموس رسالت سے متعلق کوئی ترمیم و تبدیلی قبول نہ کریں گے۔ ناموس رسالت اور عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت کے لئے گزشتہ سہ ماہی میں ایک صد سے زائد کانفرنسیں منعقد ہوئیں۔ اس اجلاس میں بھی مختلف شہروں میں ۹۰ کانفرنسیں تجویز کی گئیں اور مقامی مبلغین کو ہدایت کی گئی کہ حسب سابق تمام مسالک کو مدعو کر کے کانفرنسوں میں شرکت کے لئے آمادہ کریں اور دیگر بہت سے انتظامی مسائل پر غور و فکر کیا گیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۸ء ص ۵۱، ۵۲)
ختم نبوت کانفرنس سنانواں
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سنانواں کے زیر اہتمام مورخہ ۷ / اپریل ۲۰۱۸ء بروز ہفتہ ختم نبوت کانفرنس جامع مسجد المجاہد میں مولانا عبدالحمید حقانی کی نگرانی میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز قاری انوار الخالق کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ نعتیہ کلام جناب شہزاد اور جناب
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عبدالشکور برادران نے پیش کیا۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا ارشاد گورمانی نے سرانجام دیئے۔ کانفرنس سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر مرکزیہ مولانا حافظ ناصر الدین خاکوانی مدظلہ، مولانا اللہ وسایا، مولانا خالد مکی ، قاری تاج محمد ثاقب اور ضلعی مبلغ مولانا محمد ساجد نے بیانات کئے۔ حضرت خاکوانی مدظلہ نے عقیدہ ختم نبوت پر قرآن وحدیث کی روشنی میں وضاحت فرمائی جب کہ مولانا اللہ وسایا نے موجودہ صورتحال، حلف نامہ واقرار نامہ کی تبدیلی، سیون بی اور سیون سی کے علاوہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے فیصلہ کی روشنی میں مدلل ومفصل بیان فرمایا۔ کانفرنس میں مولانا محمد اقبال حنیف، مفتی سجاد، مولانا ابوبکر معاویہ، حافظ الہی بخش، حافظ ابوبکر، حافظ غلام سرور، ظہور الصمد، مولانا محمد ابوبکر، قاری محمد یوسف صدیقی اور مفتی آصف عزیز سمیت علاقہ بھر کے علماء کرام نے بھر پور شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۸ء ص ۵۶)
مولانا قاضی احسان احمد کا دورہ اندرون سندھ
مولانا قاضی احسان احمد تین روزہ دورہ پر نواب شاہ ومضافات میں تشریف لائے۔ ۷؍ اپریل ۲۰۱۸ء بروز ہفتہ بعد نماز عصر جامعہ عزیزیہ حسینیہ دوڑ میں بیان فرمایا۔ بعد نماز عشاء ختم نبوت کانفرنس دریا خان مری میں خطاب فرمایا۔ رات مدرسہ عربیہ انوار الہدی حمادیہ چاناری میں قیام فرمایا۔ ۸؍ اپریل بروز اتوار صبح بھائی عبداللہ رند اور دیگر ساتھیوں سے ان کے گاؤں میں ملاقات ہوئی۔ اس کے بعد پھل شہر میں مسجد ختم نبوت کے پلاٹ پر دعاء کرائی اور جامعہ مخزن العلوم پھل شہر میں علماء وطلباء سے بیان فرمایا۔ بعد نماز ظہر جامع صدیقیہ مسجد بھریا روڈ میں خطاب فرمایا۔ بعد نماز عشاء مدرسہ عربیہ محمدیہ پڈعیدن میں جلسہ ختم نبوت میں خطاب فرمایا۔ رات جامعہ عربیہ مدینۃ العلوم محراب پور میں قیام فرمایا۔ ۹؍ اپریل بروز سوموار صبح جامعہ کے علماء وطلباء سے خطاب فرمایا۔ اس کے بعد دوپہر کھرڑاہ میں جامعہ شمس العلوم میں جلسہ تقریب ختم بخاری شریف سے خطاب فرمایا۔ اس کے بعد جامعہ حقانیہ دوڑ میں قاری جمیل احمد اور مولوی محمد اسجد سے ملاقات ہوئی۔ مدرسہ نور الہدی محمدیہ عباسی واٹر میں نور احمد عباسی اور اساتذہ سے ملاقات ہوئی۔ بعد نماز عصر جامع مسجد کبیر نواب شاہ میں درس ہوا۔ بعد نماز عشاء مدینہ مسجد منو آباد میں درس ہوا۔ رات کو مدرسہ اسلامیہ رشیدیہ غریب آباد میں سالانہ عظمت قرآن جلسہ سے حضرت قاضی صاحب اور مولانا تجمل حسین نے خطاب فرمایا۔ اللہ پاک ان تمام پروگراموں کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت عطاء فرمائے اور ہم سب کے لئے ذخیرۂ آخرت بنائے۔ آمین!
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۸ء ص ۴۵)
ختم نبوت کانفرنس دریا خان مری
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت یونٹ دریا خان مری کے زیراہتمام ۷؍ اپریل ۲۰۱۸ء بروز ہفتہ بعد نماز مغرب ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس رات گئے تک جاری رہی۔ کانفرنس کی صدارت قاری محمد حسن مورو جو نے کی۔ نگرانی قاری نیاز احمد خاصخیلی نے کی۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض قاری عبدالحق مری اور قاری مسعود احمد مری نے ادا کئے۔ تلاوت کلام اللہ کی سعادت قاری عبد الماجد خاصخیلی نے حاصل کی۔ نذیر احمد شر اور عبدالباسط سومرو نے ہدیہ نعت پیش کیا۔ کانفرنس سے مولانا اسجد، مولوی منیر احمد مورو جو، مبلغ ختم نبوت نواب شاہ مولانا تجمل حسین، مولانا عبدالرحمن ڈنگراج اور آخر میں مولانا قاضی احسان احمد نے خطاب کیا۔ حاضرین میں جماعت کا لٹریچر تقسیم کیا گیا۔ جن ساتھیوں نے اس کانفرنس کے لئے محنت کی، تعاون کیا اور شرکت کی۔ ان تمام ساتھیوں کو اللہ رب العزت جزاء خیر عطاء فرمائے۔ آمین!
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۸ء ص ۴۲)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس ملکوال
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام چھٹی سالانہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۲۰/ اپریل ۲۰۱۸ء بروز جمعہ بعد نماز مغرب الطارق میرج ہال ملکوال شہر میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی دو نشستیں ہوئیں۔ پہلی نشست کا آغاز قاری محمد اعجاز کی تلاوت سے ہوا اور اس کے بعد مدرسہ انوار مدینہ میانہ گوندل کے طلباء نے تلاوتیں بھی کیں اور نعتیں بھی پڑھیں۔ صدارت اور اسٹیج سیکرٹری کے فرائض قاری عبدالواحد ضلعی امیر نے سرانجام دیئے۔ پہلی نشست کا اختتام مولانا محمد عارف شامی مبلغ گوجرانوالہ کے بیان سے ہوا۔ دوسری نشست بعد نماز عشاء شروع ہوئی۔ تلاوت قاری محمد تصور نے فرمائی اور نعتیں سید اعجاز حسین شاہ کاظمی نے پیش فرمائیں۔ مولانا عزیز الرحمٰن ثانی، مولانا مفتی کفایت اللہ جمعیت علماء اسلام، مولانا عبدالحنان صدیقی حافظ آباد اور مولانا اللہ وسایا کے تفصیلی بیانات ہوئے۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا مسعود حجازی نے سرانجام دیئے۔ کانفرنس کے مکمل انتظامات تحصیل ملکوال کے امیر قاری عمر فاروق اور ناظم حافظ محمد طاہر نے کئے اور ان کے رفقاء نے کئے۔ رات کو ڈیڑھ بجے کانفرنس کی اختتامی دعاء ہوئی۔ -
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۸ء ص ۴۳)
ذکر مصطفیٰ ﷺ کانفرنس نواب شاہ
نواب شاہ ختم نبوت کے یونٹ اویس قرنی میں سالانہ پروگرام ذکر مصطفیٰ ﷺ کانفرنس کے عنوان سے ۲۱/ اپریل ۲۰۱۸ء بروز ہفتہ کو منعقد ہوا۔ کانفرنس کی صدارت مولانا حکیم عبدالستار بھٹی نے کی۔ نگرانی مولانا محمد یسین بھٹی نے کی۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض بھائی غلام نبی گل سومرو نے ادا کئے۔ سندھ کے مشہور نعت خواں حاجی امداد اللہ پھلپوٹو نے ہدیہ نعت پیش کیا۔ کانفرنس بعد نماز مغرب تا رات گئے تک جاری رہی۔ کانفرنس سے مولانا محمود الحسن جوگی، مولانا عبدالغفور بھٹو، مبلغ ختم نبوت مولانا تجمل حسین، مولانا سائیں عبدالمجیب قریشی (پیر شریف) کا خصوصی خطاب ہوا۔ مولانا قاضی احسان احمد کراچی کا بھی خصوصی خطاب ہوا۔ مدرسہ کے طلباء کی دستار بندی بھی کرائی گئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۸ء ص ۴۲)
درس ختم نبوت مدینہ مسجد سکرنڈ
۲۱/ اپریل ۲۰۱۸ء بروز ہفتہ بعد نماز مغرب تا عشاء جامع مسجد مدینہ سکرنڈ میں مولانا قاضی احسان احمد کا خصوصی درس ختم نبوت ہوا۔ جماعت کا لٹریچر بھی تقسیم کیا گیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۸ء ص ۴۵)
ختم نبوت کانفرنس جھنگ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۲۱/ اپریل ۲۰۱۸ء کو ٹھنڈی مسجد نزد ریل بازار جھنگ شہر میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی دو نشستیں ہوئیں۔ قاری محمد شاہد نے تلاوت کلام پاک اور نعت رسول مقبول ﷺ پیش کی۔ کانفرنس کی صدارت مولانا غلام حسین نے کی۔ مولانا عزیز الرحمٰن ثانی لاہور اور مولانا صادق الامین فیصل آباد کے خصوصی بیانات ہوئے۔ -
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۱۸ء ص ۵۳)
۳۷واں سالانہ ختم نبوت کورس چناب نگر
اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے امسال بھی ۳۷واں سالانہ ختم نبوت کورس چناب نگر ۴/ شعبان المعظم تا ۲۵/ شعبان المعظم ۱۴۳۹ھ مطابق ۲۱/ اپریل تا ۱۲/ مئی ۲۰۱۸ء بائیس روزہ جامعہ عربیہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اہتمام منعقد ہوا۔ امسال کورس میں آٹھ سو نوے حضرات نے داخلہ لیا۔ جو حضرات پہلے کورس کر چکے تھے ان سے معذرت کر لی گئی۔ مجبوراً ایک آدھ مجذوب کے دوبارہ آجانے سے چشم پوشی بھی کی گئی کہ اس کے بغیر گزارہ نہ تھا۔ پہلے دن پہلے سبق میں سینکڑوں دوستوں کی شرکت بہت ہی بابرکت ثابت ہوئی۔ وفاق المدارس کا امتحان ختم ہوتے ہی ۲ شعبان کو ساتھی آنا شروع ہو گئے۔ جمعرات شام سے ہفتہ صبح تک بھر پور حاضری ہو گئی۔ حسب روایت ہفتہ صبح ساڑھے سات بجے حاضری لگنا شروع ہوئی۔ قریباً آٹھ بجے تلاوت کے بعد مولانا غلام رسول دین پوری کی دعاء سے کورس کا ”توکلاً علی اللہ“ آغاز ہوا۔ جو تسلسل کے ساتھ بائیس دن جاری رہا۔ مولانا غلام رسول دین پوری اور مولانا محمد رضوان عزیز کے اسباق اوّل سے آخر تک تسلسل کے ساتھ جاری رہے۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ، مولانا عزیز الرحمن ثانی ، مولانا مفتی محمد راشد مدنی، مولانا محمد قاسم رحمانی کے اسباق ایک ایک ہفتہ ہوئے۔ مولانا زاہد الراشدی ، مولانا مفتی محمد انور اوکاڑوی، مولانا غلام مرتضیٰ ڈسکہ کے اسباق تین تین دن ہوئے۔ مولانا مفتی محمد حسن لاہور، مولانا منیر احمد منور کہروڑ پکا، مولانا پیر عزیز الرحمن ہزاروی، مولانا محمد الیاس گھمن، مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا نور محمد ہزاروی سرگودہا، مولانا محمد شاہد ندیم، مولانا محمد احمد چناب نگر، مولانا مفتی محمد دین ٹل، جناب محمد متین خالد لاہور، مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ کراچی، مولانا سعود افضل سکھر، مولانا قاری جمیل الرحمن اختر لاہور، جناب خالد مسعود ایڈووکیٹ تلہ گنگ نے ایک ایک لیکچر دیا۔ جناب مولانا محمد قاسم گجر نے بھی بطور خاص ایک سبق میں اپنا کلام سنایا اور خوب داد سمیٹی۔ فالحمد للہ!
مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ نے قریبا ایک دن وہاں گزارا۔ رات قیام فرمایا۔ پہلے ہفتہ امتحان کا معائنہ فرمایا۔ ظہر کے بعد ایک سبق بھی پڑھایا۔ ڈھیروں دعاؤں سے نوازا۔ فالحمد للہ!
امسال بھی ہفتہ، اتوار دو دن داخلہ جاری رکھا گیا۔ پیر کے دن داخلہ روک دیا گیا۔ مزید آنے والے دوستوں سے معذرت کر لی گئی کہ وہ باضابطہ داخلہ تو اگلے سال پر موقوف رکھیں البتہ تعلیم میں شریک ہو سکتے ہیں۔ رہائش و خوراک کی بھی سہولت دی گئی۔ اس طرح بغیر داخلہ کے بھی کچھ دوست شریک تعلیم رہے۔ درجہ رابعہ یا میٹرک کی تعلیمی شرط کی پابندی پر سختی سے عمل کیا گیا۔ البتہ اندرون سندھ کے صرف ایک ساتھی ثالثہ پاس تھے۔ وہ چونکہ تشریف لے آئے تھے۔ واپس کرنا مناسب نہ سمجھا گیا۔
امسال تمام داخلہ کی ذمہ داری مولانا محمد وسیم اسلم نے سرانجام دی۔ مولانا محمد اقبال نے ساتھیوں کو رہائش فراہمی کا نظم سنبھالا۔ پہلے دو ہفتے مولانا محمد اسحاق ساقی اور مولانا محمد اقبال نے کھانے کے نظم کی نگرانی فرمائی۔ آخری ہفتہ مولانا خبیب احمد اور مولانا محمد قاسم نے نظم کو خوب سے خوب تر نبھایا۔ پورے کورس کے دورانیہ میں مولانا صغیر احمد نے خوب مستعدی دکھائی۔ مکتبہ کی ذمہ داری مولانا محمد قاسم، مولانا محمد شفیق اور دیگر دوستوں نے پوری کی۔ وظیفہ کی تقسیم مولانا حافظ عتیق الرحمن کے ذریعہ انجام پذیر ہوئی۔ رجسٹروں کی تکمیل مولانا حافظ شیر عالم نے فرمائی۔ حسب سابق تین امتحان ہوئے۔ جملہ اساتذہ حفظ و کتب ، موجود مبلغین حضرات امتحان اور نمبرنگ وغیرہ کا عمل پورا کرتے رہے۔ اللہ تعالیٰ سب کو اپنی شایان شان جزائے خیر نصیب فرمائیں۔
مولانا محمد وسیم اسلم اور مولانا قاری محمد اصغر نے اس دوران لائبریری میں جدید کتب کے اندراج کے عمل کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ جناب ڈاکٹر محمد محسن چنیوٹ اور مولانا قاری محمد اصغر نے ختم نبوت فری ڈسپنسری کے سسٹم کو متحرک رکھا۔ کورس و حفظ کے شرکاء اور عملہ سمیت بارہ صد حضرات نے ڈسپنسری سے حسب ضرورت خوب فائدہ اٹھایا۔ کالونی کے اصحاب دل بھی کورس کے شرکاء کے لئے سراپا تشکر بنے رہے۔ کالونی کے رہائشیوں نے کورس کے شرکاء کو ایسا اپنائیت کا ماحول دیا کہ جس سے مہمانان رسول ﷺ بہت ہی خوش ہوکر گئے۔ چنیوٹ
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کے سبزی و پھل فروش حضرات طلباء مہمانوں کے لئے سراپا خدمت رہے۔ اس طرح ہمبوآنہ کے پیر طریقت سید پیر صفدر حسین نے سپیشل ایک ویگن تربوز بھیج کر تمام شرکاء کی ”تربوز پارٹی“ کی۔ یوں تین ہفتے شب و روز نور کی برسات کا سماں قائم رہا۔ پانچوں نمازوں میں مسجد کا ہال و برآمدہ اور جدید برآمدہ میں صفوں کا منظر ایک پر بہار کیف و سرور کا ماحول پیش کرتا رہا۔ مدرسہ کا مطعم ، قرآن مجید کے ہالوں کا برآمدہ اور کمرہ نمبر ۶ سے کمرہ ۱۳ تک برآمدہ، ان کے سامنے سائبانوں کے نیچے ناشتہ و دوپہر کے دسترخوان خوش کن منظر پیش کرتے۔ البتہ شام کو قدیم مدرسہ کے پورے صحن کے پلاٹوں میں ہزار بارہ صد مہمانان و طلباء حفظ کے لئے ایک ساتھ دسترخوان لگتے تو لمبی لمبی دسترخوانوں کی لائنوں میں حضرات مہمانان گرامی کے ایک ساتھ بیٹھنے کا ماحول دلربا منظر کا حامل ہوتا۔
غرض یوں اللہ رب العزت کے فضل و عنایت سے ایسے طور پر یہ دن گزرے کہ پتہ ہی نہ چلا۔ مندوب مہمانوں کی میزبانی قاری عبدالرحمن نے کی اور دیگر مہمانوں کی دوسرے قاری صاحبان نے اپنی کلاس سمیت ایک ایک ہفتہ میزبانی کا شرف حاصل کیا۔ وقت پر تینوں وقت کا کھانا، آرام، نمازیں، درس، اسباق، تلاوت، بیانات ایسے طور پر انجام پائے گویا ایک کمپیوٹرائزڈ نظام اللہ رب العزت کی رحمت نے طے کر دیا۔ فاالحمد للہ اولاً و آخراً!
اساتذہ و نگران حضرات کے علاوہ بہت سارے دوسرے مہمانان گرامی صرف زیارت اور حاضری کے لئے تشریف لائے۔ ایبٹ آباد سے جناب سید مجاہد شاہ، جناب ساجد اعوان بمع احباب تشریف لائے اور قدیم حصہ تعمیر کے فرنٹ پر بنے تمام چوکٹوں میں تحریک ختم نبوت کے اکثر و بیشتر حضرات کے ناموں کے فلیکس تیار کرا کے لائے۔ ان کے فریم بنا کر لگائے۔ صحن میں ہر دیکھنے والا عش عش کر اٹھتا۔ ان ناموں میں اپنے طور پر بہت محنت کی کہ چاروں مکاتب فکر کے علماء و مشائخ، مذہبی قیادت جنہوں نے بھی ختم نبوت کے کام میں حصہ ڈالا سب کے نام آ جائیں۔ اس میں وہ بہت کامیاب رہے۔ ہر چند کہ اس میں مزید ناموں کی ضرورت ہے۔ لیکن جو آگئے خوب ہو گیا۔ اس طرح اٹک سے مولانا قاضی محمد ابراہیم ثاقب۔ لاہور سے جناب میاں رضوان نفیس اور مولانا خالد محمود۔ فیصل آباد سے جناب مولانا سید حبیب شاہ تشریف لائے۔ سید حبیب شاہ کے برادران نے کتب شرکاء کو پیش کرنے کے لئے پیکنگ کتب کے کارٹن بنوا اور طبع کرا کے لائے۔ غرض حسب سابق جو شخص جتنا زیادہ اس کام میں حصہ ڈال سکتا تھا کسی نے کمی نہ ہونے دی۔ فاالحمد للہ!
ختم نبوت کورس کے اشتہارات میں اختتامی تقریب کے لئے ۱۲ مئی بروز ہفتہ کا اعلان کیا گیا۔ امسال مولانا صاحبزادہ خلیل احمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ، جناب ڈاکٹر پیر شاہد اویس خلیفہ مجاز مولانا پیر حافظ ذوالفقار نقشبندی اور صاحبزادہ عزیز احمد نے تشریف لانا تھا۔ لیکن اس دوران میں کراچی جامعہ اشرف المدارس کے استاذ الحدیث اور ناظم صاحبان مولانا محمد ارشاد اعظم اور مولانا محمد حسین جمعہ شام کو تشریف لائے۔ ایک ایک سبق بھی پڑھایا اور اختتامی تقریب کو بھی شرکت سے پر رونق کیا۔ امسال ستر کے لگ بھگ صرف جامعہ اشرف المدارس کراچی کے علماء وطلباء تھے۔ ان حضرات کی نصرت کے لئے مہتمم صاحب پیر طریقت حکیم محمد مظہر دامت برکاتہم نے ان دو اساتذہ کی تشکیل فرمادی۔ یہ حضرات تشریف کیا لائے کہ شرکاء کورس کی عید ہو گئی۔ کورس کے اختتام پر ایک غیبی انعام بھی ہوا۔ جس کی تفصیل یہ ہے۔
مبلغ اسلام مولانا طارق جمیل کی غیر متوقع آمد:
۱۰؍ مارچ ۲۰۱۸ء کو شاہی مسجد لاہور میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے ختم نبوت کانفرنس کا اہتمام کیا۔ جو عدیم المثال طور پر کامیاب رہی۔ اس کانفرنس کے لئے طے کیا کہ ملک کی دینی اعلیٰ قیادت کو کانفرنس میں مدعو کیا جائے۔ شیخ الاسلام مولانا محمد تقی عثمانی یا مفتی اعظم پاکستان مولانا محمد رفیع عثمانی کو بلانے کا فیصلہ ہوا۔ تو مؤخر الذکر تشریف لائے۔ قائد اسلامی انقلاب مولانا فضل الرحمن، قائد عالمی مجلس
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا و وفاق المدارس ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر تشریف لائے ۔ اس طرح فیصلہ ہوا کہ یادگار اسلاف حاجی عبدالوہاب مدظلہ یا مبلغ اسلام مولانا طارق جمیل مدظلہ سے درخواست کی جائے ۔ حاجی صاحب مدظلہ کی علالت و بڑھاپے کے باعث مولانا طارق جمیل صاحب سے ملنے کا فیصلہ ہوا ۔ جناب میاں رضوان نفیس ، مولانا عزیز الرحمن ثانی ، قاری جمیل الرحمن اختر ، مولانا مفتی محمد اعجاز پر مشتمل وفد کے ہمراہ فقیر (اللہ وسایا) نے بھی حاضری کی سعادت حاصل کی ۔ اس نشست کے ملاقاتیوں میں سے پہلے ہمیں ملاقات کا اعزاز نصیب ہوا ۔ وفد کی معروضات سن کر آپ نے شرکت کا مشروط وعدہ کیا ۔ بشرط صحت و فرصت ۔ تاہم ملاقات سے محبتوں میں اضافہ ہوا ۔ بہت ہی خوشی ہوئی ۔ مولانا طارق جمیل مدظلہ شاہی مسجد لاہور کانفرنس پر تشریف نہ لاسکے ۔ لیکن ۱۱ مئی کو رات پونے گیارہ بجے آپ کا فقیر کے نام فون آیا کہ کل آپ کے ہاں چناب نگر ختم نبوت کورس کی اختتامی تقریب ہے ۔ اس میں مجھے بھی شریک ہونا ہے ۔ یہ سن کر فقیر کی حیرت و استعجاب کی حد نہ رہی کہ یا اللہ ! ابھی دنیا میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو اپنے کہے کی لاج رکھتے ہیں ۔ دو چار منٹ تو اسی طرح کی کیفیت سے دوچار رہا ۔ اپنے مقدر پے نازاں بھی ہوا کہ اتنے بڑے آدمی اپنے خدام کی سر پرستی کے لئے کل تشریف لائیں گے ۔ ہمارے کورس کے شرکاء کو اس سے کتنی خوشی ہوگی ۔ ختم نبوت کے کاز پر کام کرنے والوں کو کتنا حوصلہ ملے گا ؟ صبح کی ہماری تقریب مزید رونق بار ہو جائے گی ۔ اس پر اللہ رب العزت کا شکر ادا کیا ۔ مسرت و انبساط کے جذبات سے مولانا عزیز الرحمن ثانی کو فون کیا کہ صبح کورس کی اختتامی تقریب میں مبلغ اسلام مخدوم گرامی مولانا طارق جمیل دامت برکاتہم تشریف لائیں گے ۔ وہ آٹھ بجے تشریف لائیں گے ۔ آگے اسلام آباد ڈاکٹر سے چیک اپ کے لئے وقت طے ہے ۔ اس میں تاخیر مشکل ہے ۔ آٹھ بجے ان کے تشریف لاتے ہی بیان کا نظم بنالیں ۔ مولانا نے خوشی کا اظہار کیا ۔
قارئین! چالیس سال قبل شیخ الاسلام مولانا محمد یوسف بنوری کا وصال ہوا ۔ آپ اس وقت عالمی مجلس کے امیر مرکزیہ تھے ۔ ان دنوں عالمی مجلس کا ترجمان لولاک ، ہفت روزہ تھا اور فیصل آباد سے شائع ہوتا تھا ۔ ماہواری اشاعت ملتان سے بعد میں شروع ہوئی ۔ فقیر راقم (اللہ وسایا) ان دنوں یعنی چالیس سال قبل بھی ہفت روزہ لولاک فیصل آباد کی بعض ذمہ داریوں پر فائز تھا ۔ تب خوب یاد ہے کہ اس وقت کے تنظیم اہل سنت پاکستان کے مہتمم اعلیٰ امام اہل سنت مولانا سید نورالحسن شاہ بخاری کو عریضہ لکھا کہ : ہفت روزہ لولاک کی اشاعت کے لئے شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف بنوری پر آپ تعزیتی مضمون تحریر فرمائیں : حضرت شاہ صاحب نے جواب میں ایک مختصر مگر کوثر و تسنیم سے دھلا ہوا ایک مضمون تحریر فرمایا ۔ اب فقیر قارئین کو کیسے باور کرائے کہ سید نورالحسن شاہ بخاری کا کتنا نفیس اور اعلیٰ رسم الخط تھا ۔ ان کا خط آبدار موتیوں کی مالا ہوتی تھی ۔ اس مضمون میں حضرت شاہ صاحب نے حضرت بنوری کا ایک واقعہ تحریر کیا ۔ مولانا نور الحسن شاہ فرماتے ہیں کہ کراچی کے سفر میں نیوٹاؤن (اب بنوری ٹاؤن) حضرت بنوری سے ملنے کے لئے گیا ۔ ملاقات پر عرض کیا کہ رحمت عالم ﷺ اور سیدنا صدیق اکبر ؓ پر مشترکہ کتاب لکھی ہے اس کا نام آپ (حضرت بنوری) تجویز فرمادیں ۔ تو حضرت بنوری نے چہرے پر ہاتھ پھیرا ۔ سر مبارک جھکایا ، اگلے لمحہ سر اٹھایا اور فرمایا اس وقت ذہن میں کوئی نام نہیں آ رہا ۔ ذہن میں آگیا تو خط کے ذریعہ اطلاع کردوں گا ۔ مولانا سید نور الحسن بخاری نے فرمایا کہ میں سمجھا حضرت بنوری اتنے عدیم الفرصت انسان ہیں ۔ انہیں کیسے یاد رہے گا ۔ مشکل ہوگا ۔ یہ تاثر لے کر واپس چلا آیا ۔ لیکن میرے ملتان پہنچنے پر اگلے روز حضرت بنوری کا والا نامہ ملا ۔ اس میں تھا کہ آپ کے جانے کے بعد خیال آیا کہ آپ اس کتاب کا نام ”نبی و صدیق“ رکھیں ۔ چنانچہ سید نورالحسن بخاری نے فرمایا کہ میری حیرت کی انتہاء نہ رہی کہ حضرت بنوری کتنے بڑے آدمی ہیں کہ روایتی طور پر جو سرسری وعدہ کیا اسے بھی نبھایا ۔ پھر سید نورالحسن بخاری نے یہی نام اپنی کتاب کا تجویز فرمایا ۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ۴۴۷ ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قارئین! معافی چاہتا ہوں کہ آپ کو لمبا سفر کرا رہا ہوں۔ مبلغ اسلام مولانا طارق جمیل مدظلہ کے فون کے بعد مذکورہ بالا واقعہ ذہن میں گھومنے لگا کہ آج بھی اسلاف کی یادگار، ان کی روایات کے امین ، ان کی تاریخ کے شاندار کردار، ان کے کام اور نام کے آگے بڑھانے اور مزید روشن کرنے اور چمکانے والے موجود ہیں۔ ہم بھی آج دنیا کے سامنے مولانا طارق جمیل کو پیش کر سکتے ہیں کہ نصف صدی بعد بھی شیخ الاسلام حضرت بنوری کے طریق کو شاہراؤں میں بدلنے والے ، ان کی یادوں کی برات کو سدا بہار بنانے والے ، مبلغ اسلام مولانا طارق جمیل مدظلہ موجود ہیں۔ جنہوں نے ایک وعدہ فرمایا کہ ہر چند کہ روایتی وعدہ ، سرسری طور پر موقع کے مناسب جو جواب موزوں تھا عنایت فرما دیا۔ لیکن مولانا کی عظمتوں کا اعتراف نہ کرنا زیادتی ہو گی کہ آپ نے اس سرسری وعدہ کو بھی یاد رکھا۔ جو فرمایا تھا وہ بھلائے نہیں بلکہ دل میں فیصلہ کر لیا کہ قدرت نے موقع دیا تو عہد کو نبھایا جائے گا۔
خیر مولانا کے تشریف لانے کی خبر سے دل و دماغ تو گلشن بنے ۔ عطر بار یادوں نے کئی انگڑائیاں لیں ۔ کتنے خوشیوں کے طوفان ساحل ذہن سے ٹکرانے لگے۔ فقیر ان الفاظ کے ذریعہ مولانا طارق جمیل کی بڑائی ، بڑے پن اور بزرگانہ اداؤں کو جہاں خراج تحسین پیش کر رہا ہے وہاں ختم نبوت کا نفرنس چناب نگر تشریف آوری کے لئے تمہید کے طور پر بھی اسے ادا کر رہا ہے۔ اگر فقیر کی ان سطور کو اللہ تعالیٰ نے قبول فرما کر مبلغ اسلام کے دل میں ڈال دیا اور وہ تشریف لائے تو منکرین ختم نبوت کی شاید ہدایت کا سامان ہو جائے ۔ ورنہ اتمام حجت تو ہماری طرف سے ہو جائے گا کہ یا اللہ ! ہم ان گم گشتہ راہ لوگوں کو راہ راست پر لانے کے لئے دنیائے اسلام کے نامور سپوت ، عالم اسلام کے بین الاقوامی مبلغ اسلام کو بھی اسٹیج پر لا کر دعوت و تبلیغ کے فریضہ سے سبکدوش ہوئے۔
قارئین! میری دیوانگی آج اس واقع کے بیان کرنے سے سوا ہو رہی ہے ۔ اس وقت ملک بھر کی چار شخصیات کو ہمارے مسلک میں بین الاقوامی شہرت حاصل ہے :
- (۱) الحاج حاجی عبدالوہاب صاحب۔ (۲) مولانا محمد تقی عثمانی صاحب۔
- (۳) مولانا فضل الرحمن صاحب۔ (۴) مولانا طارق جمیل صاحب۔
چاروں حضرات کا وجود ہمارے مسلک کے لئے ”عناصر اربعہ“ کا درجہ رکھتا ہے۔ چاروں حضرات کے ذریعہ چار سو عالم ، نور کی برسات کا سماں قائم ہے ۔ چاروں حضرات اپنے اپنے فن کے امام اور یادگار زمانہ ہیں ۔ ”هؤلاء آبائی فجئنی بمثلهم“ کے طور پر ہمیں بھی ان کی قیادت نے میدان مبازرت میں قدم جمانے اور سینہ تاننے کا موقع دیا ہے۔
بات چلی تھی مؤخر الذکر کے تشریف لانے کی ہمت افزاء، قابل رشک ولائق تبریک مژدہ جانفزا سے کہ وہ کل تشریف لائیں گے۔ انہیں حسین تمناؤں کو پہلو میں لئے ”نم كنومة العروس“ کی ہمسائیگی میں چلا گیا۔ ( اس لئے کہ نوم کو بھی اخت الموت کہا گیا ہے ۔ ) صبح سپنے سے بیداری کی کیفیت میں اٹھے ۔ نماز پڑھی ۔ یاد اللہ کی توفیق سے بہرہ ور ہوئے۔ کام میں جٹ گئے ۔ رفقاء نے ساتھیوں کو سات بجے ناشتہ کرا دیا ۔ اختتامی تقریب کا اجلاس عام شروع ہو گیا ۔ تلاوت و نظم کے بعد فقیر بھی اسٹیج پر جا بیٹھا ۔ مولانا شجاع آبادی ، مولانا دین پوری صاحبان اپنے اپنے امور کو سنبھالے ہوئے ، سب کی نگرانی مولانا ثانی صاحب کر رہے ہیں ۔ کہ مین گیٹ سے مسجد و مدرسہ کے صحن میں تین گاڑیوں کا قافلہ آیا۔ مولانا ثانی صاحب جلدی استقبال کو لپکے۔ فقیر بھی حاضر ہوا۔ تو ہمارے مخدوم مہمان گرامی ، محسن و مکرم مبلغ اسلام، آبروئے تبلیغ دین مولانا طارق جمیل صاحب مہمان خانہ میں تشریف لے جاچکے تھے۔ فقیر نے سرائیکی روایات کے مطابق گھٹنوں کو ہاتھ
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
لگایا۔ مہمان مکرم نے سینہ سے لگایا۔ بیٹھے تو ہمارے چہروں کی دمکتی خوشیوں کو دیکھ کر فرمایا کہ شاہی مسجد لاہور کے وعدہ کی قضاء کے لئے حاضری ہوئی۔ فقیر نے عرض کیا کہ کانفرنس کے وعدہ کی قضا تو کانفرنس میں شرکت سے ہی ادا ہوگی۔ یہ تشریف آوری تو اس کا عہد نو ہے۔ اس پر آپ نے قہقہہ لگایا جس نے تمام حاضرین کے دلوں میں محبتوں کے سمندر کو تلاطم خیز فرمادیا۔ آپ نے فرمایا کہ کل ۱۱؍مئی ۲۰۱۸ء شام کے قریب مکان کے ملازم نے اطلاع دی کہ چند طلباء کراچی سے ملنے کے لئے دروازے پر کھڑے ہیں۔ میں نے انہیں جلدی سے بلوالیا۔ مصافحہ ہوا۔ پوچھا کہ تم کہاں پھر رہے ہو؟ انہوں نے فرمایا کہ چناب نگر ختم نبوت کے کورس میں شرکت کے لئے اکیس روز سے آئے ہوئے تھے۔ کورس ختم ہو گیا ہے کل واپسی ہے۔ تو آپ کی زیارت کے لئے حاضر ہو گئے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ کورس میں کتنے علماء و طلباء شریک ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوسو، تو حیرت افزاء مسرت ہوئی۔ ان طلباء سے معلوم ہوا کہ تعلیم مکمل ہو گئی ہے۔ اب کل آٹھ بجے اختتامی تقریب ہے۔ تو اسی وقت فیصلہ کر لیا کہ اس میں مجھے شرکت کرنا چاہئے۔ بس دل میں داعیہ پیدا ہوا۔ آپ (فقیر راقم) کا فون نمبر میرے پاس نہ تھا۔ مولانا عبدالخبیر آزاد خطیب شاہی مسجد لاہور سے نمبر لیا۔ آپ کو فون کیا۔ اب حاضر ہو گیا ہوں۔ فقیر نے عرض کیا کہ ہم سب، مسجد و مدرسہ، کورس، اس کے شرکاء، اسٹیج سب کچھ آپ کے ہیں۔ آپ آج مالک بھی ہیں اور میزبان بھی۔ آپ جیسے حضرات اس کام کے اور اکابر کی میراث کے وارث ہیں۔ ہمیں تو اللہ تعالیٰ نے بطور آلہ کے اس کے لئے توفیق سے سرفراز فرمایا ہے۔ آپ کی مہربانی کہ آپ نے ہمارے سروں پر دست شفقت رکھا۔ اس عزت افزائی پر ہمارا رُواں رُواں آپ کا شکرگزار ہے۔ مولانا نے پانی کا ایک گلاس لیا، دوائی لی۔ اسٹیج پر جانے کے لئے کھڑے ہوئے۔ مسجد میں تشریف لانے پر سنت کے مطابق تحیۃ المسجد کے نوافل ادا فرمائے۔ اسٹیج پر تشریف لائے۔ قریباً پون گھنٹہ بڑی بشاشت قلبی سے رواں خطاب فرمایا۔ ہمیشہ کی طرح آج بھی انہوں نے بیان کا سماں باندھ دیا۔ ماضی قریب میں مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا سحبان الہند احمد سعید دہلوی، مولانا ظفر علی خان کی خطابت کے چرچے رہے۔ ہر چند کہ ہم ان حضرات کی خطابت سے براہ راست بہرہ ور نہ ہوئے۔ البتہ مولانا قاضی احسان احمد، مولانا محمد علی جالندھری، مولانا احتشام الحق تھانوی، آغا شورش کاشمیری، نواب زادہ نصر اللہ خان، علامہ احسان الٰہی ظہیر، سید مظفر علی شمسی، سید اظہر حسن زیدی، سید فیض الحسن شاہ اور مولانا مفتی محمود ایسے خطیبوں کو سننے کی سعادت حاصل کی ہے۔ اسی طرح ہمارے اس دور کے رفقاء بہت ہی خوش نصیب ہیں کہ وہ مولانا طارق جمیل کو سننے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔ میں تقابل نہیں کر رہا لیکن حسن اتفاق تو آپ بھی سمجھیں گے کہ ایک وقت میں اگر امیر شریعت کے نام پر لاکھوں کا اجتماع ہو جاتا تھا تو آج یہی مقام قدرت نے مولانا طارق جمیل کو ودیعت کیا ہے کہ ان کے نام پر لاکھوں کا اکٹھ ہو جاتا ہے۔ ذالک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء!
اس پر ہم سب کو اللہ رب العزت کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ یہ عزت آپ کے مسلک کو اللہ تعالیٰ نے نصیب فرمائی ہے۔ نہیں اعتبار تو ان کے نام کا اعلان کر کے تجربہ کر لیجئے۔ فقیر دلائل نہیں دے رہا۔ واقعات کا سہارا لے رہا ہے۔ جو تاریخ کا حصہ ہیں اور تاریخ بے رحم ہے کسی کا لحاظ نہیں کرتی۔
آج مولانا ابوالکلام آزاد کا طنطنہ، مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی گھن گرج، مولانا سحبان الہند احمد سعید دہلوی کا اتار چڑھاؤ، مولانا ظفر علی خان کا پیچ و تاب، مولانا قاضی احسان احمد کی ادائیں، مولانا محمد علی جالندھری کا سوز و ساز، مولانا احتشام الحق تھانوی کا الف لیلہ، آغا شورش کاشمیری کی الٹ پلٹ، نواب زادہ نصر اللہ خان کا حقائق و معلومات کا جوار بھاٹا، علامہ احسان الٰہی ظہیر کا بانکپن، سید مظفر علی
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
شمسی کی منظر کشی، سید اظہر حسن زیدی کی تعبیرات کا بہاؤ، سید فیض الحسن شاہ کا مدوجزر اور مولانا مفتی محمود کی پارلیمانی طرز ادا کا قدرتی اجتماع دیکھنا ہو تو مولانا طارق جمیل صاحب میں سب یکساں نظر آئے گا۔ پھر قدرت کی طرف سے ان پر یہ کرم کہ حکمرانوں سے عوام تک، طلباء، علماء، مشائخ، نواب، سیاستدان، امیر وغریب، گلوکار، کھلاڑی، اپنے، پرائے اور اندرون و بیرون ملک میں ان کی چاہت کی مثالیں اور قبولیت کی داستانیں عام ہیں۔ آج ۲۵؍مئی روزنامہ جنگ کے ادارتی صفحہ پر معروف کالم نگار جناب عطاء الحق قاسمی کا مضمون چھپا ہے کہ ملک میں کوئی ایسا لیڈر نہیں جسے پورے ملک میں یکساں مقبولیت حاصل ہو۔ ان سے درخواست ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن ایسے رہنما ہیں جو پورے ملک کے چاروں صوبوں، قبائل و کشمیر میں یکساں محبوبیت و مقبولیت رکھتے ہیں۔ لیکن ان کو تو آپ نے ماننا نہیں۔ جیسا کہ ابھی مسلم لیگ نے فاٹا کے انضمام پر ان سے دھوکہ کیا ہے۔ چلو! ان کو نہیں ماننا، نہ سہی۔ لیکن مبلغ اسلام مولانا طارق جمیل کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟ جنہیں ملک کے چپہ چپہ اور چہار سو عالم، شش جہت، ہفت اقلیم خطابت کا اس وقت امام و رہنما کے طور پر ان کے جاننے والا ہر شخص مانتا ہے۔ آواز خلق نقارہ خدا آخر اسی کو ہی تو کہتے ہیں۔
قارئین! میری دیوانگی نے مولانا کی قصیدہ خوانی کا روپ دھار لیا۔ لیکن جو میرے پر بیتی ہے کسی اور شریف انسان پر بیتی تو وہ بھی یقیناً ایسے کرتا۔ ’’من لم یشکر الناس لم یشکر اللہ‘‘ بھی فرمان قابل تسلیم و توجہ ہے۔ ضرور ہے۔ تو پھر مجھے معذور سمجھا جائے کہ ان کے احسان عظیم نے کہ بغیر دعوت کے خلاف توقع ان کی تشریف آوری پر یہ الفاظ کیا حق ادا کریں گے؟ مجھے تو ان کا سراپا سپاس گزار ہونا چاہئے، ویسے ان سے فقیر کی کئی نسبتیں قائم ہیں۔ فقیر حضرت رائے پوری کے منظور نظر حضرت جالندھری کا شاگرد ہے اور مبلغ اسلام، حضرت رائے پوری کے محبوب خلیفہ جناب حاجی عبدالوہاب کے ترجمان ہیں۔ مبلغ اسلام اگر حضرت رائے پوری کے خلیفہ مجاز سید نفیس الحسینی شاہ کے خلیفہ مجاز ہیں تو انہیں سید نفیس الحسینی سے غلامی و نیاز مندی کا فقیر کو بھی شرف حاصل ہے۔
مبلغ اسلام کو حضرات صحابہ کرامؓ اور حضرات اہل بیتؓ کی بطور خاص وکالت کا شرف حاصل ہے تو اسی اعزاز کے حصول کا فقیر بھی متمنی ہے۔ مبلغ اسلام سے انہی نسبتوں کا صدقہ ہے کہ فقیر آج بھی متذکرہ بالا اکابر کے ساتھ مبلغ اسلام کی بھی محبتوں کا اسیر بے دام ہے۔ تعبیرات کی ادائیگی کے تفاوت کو کفر و اسلام کے اختلاف کی کیفیت دے دینا غیر مناسب ہوگا۔ کیا آپ نے نہیں سنا کہ: ’’عبارتنا شتّٰی وحسنک واحد‘‘ وادیٔ عشق رسالت مآبﷺ میں اپنے محبوبﷺ کی اداؤں کے پھریرے بلند کرنے کی کاش ہمیں سعادت مل جاتی تو اس راہ کے سب مسافروں کے قدموں کی دھول بھی کیمیائے نظر ہو جاتی۔
قارئین! مبلغ اسلام کے خطاب کو میرے رفیق کار مولانا محمد وسیم اسلم نے اس شمارہ میں محفوظ کر دیا ہے۔ آپ وہاں پڑھیں گے تو لطف اندوز ہوں گے۔ حکایت لذیذ بود دراز شد!
اختتامی تقریب کی رپورٹ:
مبلغ اسلام مولانا طارق جمیل کے بیان کے دوران تمام مہمانان گرامی تشریف لا چکے تھے۔ مبلغ اسلام تو بیان کے بعد اسلام آباد کے لئے روانہ ہوگئے۔ مولانا صاحبزادہ خلیل احمد کی زیر صدارت پروگرام جاری رکھا گیا۔ پیر طریقت مولانا حافظ ذوالفقار احمد نقشبندی کے خلیفہ اجل، اکاس اکیڈمی لاہور کے بانی و مدیر گرامی ڈاکٹر شاہد اویس اور جامعہ دارالقرآن کے شیخ الحدیث مولانا عزیز الرحمٰن رحیمی کے ایمان پرور بیانات ہوئے۔
ہمارے بہت ہی قابل احترام، ملک عزیز کے نامور عالم دین، مفتی اور نعت خوان رسول مقبولﷺ جناب مولانا شاہد عمران
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عارفی نے اپنے سوز دروں میں ڈوبے عشق رسالت مآب ﷺ کلام و ہدیہ نعت پیش کیا تو مسجد و مدرسہ کے در و دیوار جھوم اٹھے۔ پورے کورس کے نگران اعلیٰ مولانا عزیز الرحمٰن ثانی تھے۔ آج انہوں نے اسٹیج کے نظم کو بھی شاندار طریقہ پر چلایا۔ کورس کے شرکاء کو رول نمبروں کے اعتبار سے بلاتے گئے اور مندرجہ ذیل مہمانوں کے ہاتھوں ان کو سندات اور کتابیں دی گئیں۔ جن حضرات کے ہاتھوں سندات دلوائی گئیں ان کے نام یہ ہیں:
جناب میاں رضوان نفیس (لاہور)، جناب قاضی محمد ہارون (راولپنڈی)، مولانا محمد ارشاد اعظم (کراچی)، مولانا محمد حسین (کراچی)، مولانا مفتی محمد ظفر اقبال (چیچہ وطنی)، مولانا عزیز الرحمٰن رحیمی (فیصل آباد)، مولانا سیف اللہ خالد (چنیوٹ)، جناب قاری عبدالحمید حامد (چنیوٹ)، مولانا ملک خلیل احمد (چنیوٹ)، مولانا قاری ظہور احمد (لاہور)، جناب قاری سعید وقار (لاہور)، مولانا شاہد عمران عارفی، جناب خالد مسعود ایڈووکیٹ، مولانا سعد اللہ لدھیانوی (ٹوبہ ٹیک سنگھ)، مولانا محمد حنیف عثمانی (فیصل آباد)، پیر صفدر حسین (چنیوٹ)، پیر غلام دستگیر فاروقی (لاہور)، مولانا محمد عارف (چنیوٹ)، مفتی محمد افضال (چنیوٹ)، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی (ملتان)، مولانا غلام مصطفیٰ (چناب نگر)، جناب میاں محمد معصوم (قصور)، میاں محمد رمضان بگھیلا (ہڑپہ)
یاد رہے کہ کورس کے دوران شرکاء کو پورے دورانیہ میں تقاریر و بیانات کا موقع دیا جاتا ہے۔ اس کی نگرانی مولانا فقیر اللہ اختر کے ذمہ ہوتی ہے۔ چنانچہ جہاں تحریری امتحان میں پوزیشن ہولڈرز حضرات کو خصوصی انعامات دیئے جاتے ہیں وہاں تقریری مقابلہ کے پوزیشن ہولڈرز حضرات کو بھی خصوصی انعامات دیئے جاتے ہیں۔ چنانچہ مقابلہ کا امتحان پاس کرنے والوں کا نقشہ یہ ہے:
تقریری مقابلہ ...... پوزیشن ہولڈر طلباء کرام:
نمبر شمار رول نمبر نام مع ولدیت ضلع حاصل کردہ نمبر 1 327 محمد سرفراز بن غلام یاسین سرگودھا 88 اوّل 2 869 عبدالغفار بن عبیداللہ وہاڑی 87 دوم 3 576 اسداللہ بن شادی خان کراچی 86 سوم
تحریری امتحان ...... پوزیشن ہولڈر طلباء کرام:
نمبر شمار رول نمبر نام مع ولدیت ضلع حاصل کردہ نمبر 1 449 مہتاب عالم بن شمس الہادی کراچی 274 اوّل 2 885 سعداللہ بن تنویر احمد کراچی 255 دوم 3 555 محمد اعجاز بن محمد محبوب کراچی 254 سوم
ان چھ پوزیشن ہولڈرز حضرات کو مہمان خصوصی ڈاکٹر شاہد اویس اور صدر اجلاس مولانا صاحبزادہ خلیل احمد نے انعامات اپنے دست برکت سے عنایت کئے۔ آخر میں صدر اجلاس کی ایمان پرور دعاء سے تقریب سعید کا اختتام ہوا۔ فالحمد للہ اوّلاً وآخراً!
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۸ء ص ۳ تا ۱۲)
اسماء گرامی شرکاء کورس:
حسب سابق امسال سالانہ رد قادیانیت کورس ۴؍ شعبان المعظم تا ۲۵؍ شعبان المعظم ۱۴۳۹ھ مطابق ۲۱؍ اپریل تا ۱۲؍ مئی ۲۰۱۸ء
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مدرسہ جامعہ عربیہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں منعقد ہوا۔ بفضلہ تعالیٰ امسال آٹھ سو نوے (۸۹۰) حضرات نے شرکت کی۔ ان میں سے ستائیس (۲۷) طلباء کو کثرت غیر حاضری و دیگر وجوہ کی بناء پر خارج کیا گیا۔ ذیل کی فہرست میں خارج شدہ طلباء کے اضلاع والے خانہ میں ’’خارج شد‘‘ لکھ دیا گیا ہے۔ طلباء کرام کی فہرست ذیل میں ملاحظہ فرمائیں:
نمبر شمار نام ولدیت ضلع نمبر شمار نام ولدیت ضلع 1 محمد عدنان خان محمد سالم خان مانسہرہ 2 محمد طاہر سلطان سلطان انور مانسہرہ 3 بلال احمد نیاز محمد بٹگرام 4 عقل زادہ وزیر رحمٰن لوئر دیر 5 محمد ساجد شفیع ولی استور 6 صفی اللہ اشرف نور کوہاٹ 7 نصیب اللہ محمد اکبر ڈی آئی خان 8 نور زادہ جان عالم شانگلہ 9 محمد سلیمان روح الامین مردان 10 الیاس احمد اسرار نبی صوابی 11 احمد حسان ذاکرین باچا راولپنڈی 12 ضیا الرحمٰن عزیز الرحمٰن مانسہرہ 13 عمیر فاروق محمد فاروق پاکپتن 14 محمد احمد منظور احمد وہاڑی 15 محمد اسد خان رحمٰن خان کراچی 16 امیر حمزہ عبد اللہ خیر پور میرس 17 عمیر لطیف محمد لطیف وہاڑی 18 محمد نیر شوکت محمد شوکت خان باغ 19 نعیم اللہ صفی اللہ استور 20 اشفاق الرحمٰن عبد الرشید ڈی آئی خان 21 امین الحق سر زمین خان لوئیر دیر 22 خالد محمود قریشی ساجد محمود قریشی راولپنڈی 23 محمد عقیل محمد شریف خارج شد 24 فاروق حسین عبد النبی مردان 25 عبد الودود رحمٰن غنی دیر 26 آصف علی ماصل خان صوابی 27 محمد اشرف محمد جہان ہنگو 28 محمد عزیز ابراہیم ابراہیم خان اسلام آباد 29 یاسین اللہ داود جان کرم ایجنسی 30 عبد الرحمٰن صوفی محمد بخش بہاول پور 31 آغا محمد سید نور زیارت 32 محمد سہیل عثمانی عبد الباسط نیلم 33 محمد اشفاق شرف دین جہلم ویلی 34 مجیب الرحمٰن قمر ولی غذر 35 مدثر رفیق محمد رفیق خان باغ 36 عمیر اللہ مصباح اللہ نوشہرہ 37 طارق رحمٰن شیر رحمٰن کرم ایجنسی 38 منور اقبال حضرت جنان میانوالی 39 اعجاز احمد عالم زیب مردان 40 فرمان اللہ نوشیر کوہستان 41 رحیم اللہ نعمت خان کوہستان 42 محمد مسکین سردار میر زمان کراچی 43 نور سلام میروپ خان وزیرستان 44 محمد ہشام فلک شیر لکی مروت 45 نور اللہ شیر احمد اسلام آباد 46 عبید اللہ عبد الظاہر بٹگرام 47 اعزاز اللہ محمد رفیق اللہ دیر بالا 48 رحیم نیاز شاہ میر قیاس شاہ بنوں
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
49 محمود علی عبدالستار کراچی 50 منصف علی مجتبیٰ احمد خارج شد
51 محمد اکبر محمد سلیم قلعہ سیف اللہ 52 فضل الرحمٰن شفیق الرحمٰن رحیم یار خان
53 محمد ارشد مدنی مولانا نور احمد کوئٹہ 54 حافظ سمیع اللہ پیر محمد کوئٹہ
55 گل محمد مجنون لورالائی 56 زین اللہ عبدالظاہر شاہ ہرنائی
57 محبت علی غلام قادر گھوٹکی 58 وسیم اللہ سید نقیب اللہ کوئٹہ
59 نعیم اللہ غلام سرور خارج شد 60 عادل بشیر بشیر احمد لیہ
61 لعل باز لعل شاہ نوشہرہ 62 عبدالوحید عبدالرحیم پونچھ
63 عبدالوہاب گل میر خان راولپنڈی 64 عبدالباسط عبدالقدیر ایبٹ آباد
65 حسنین یاسین محمد یاسین ایبٹ آباد 66 عمیر احمد علوی ظفر مجید علوی بہاول نگر
67 محمد اسامہ طلحہ نوشہرہ 68 محمد عارف شہزادہ نوشہرہ
69 حذیفہ زمان محمد زمان بہاول نگر 70 محمد عاکف بختیار نوشہرہ
71 محمد اسحق جوہر علی خارج شد 72 کامل حسن طارق زیب نوشہرہ
73 عبدالوہاب محمد علی نوشہرہ 74 عبدالرحیم عبدالخالق مانسہرہ
75 ظہیر احمد محمد ادریس مانسہرہ 76 عبدالوسیم قریشی عبدالغفور نوشہرہ
77 محمود خان محمد سلیم نوشہرہ 78 آفتاب گل صراب گل نوشہرہ
79 محمد انور شیر محمد ہری پور ہزارہ 80 محمد کامران گل زمین صوابی
81 احسان اللہ مختار علی صوابی 82 صدام حسین ظفر علی خان نوشہرہ
83 ناصر شفقت شفقت علی شانگلہ 84 امان اللہ محمد نثار پشاور
85 سیف اللہ نذیر حسین راولپنڈی 86 گل رحیم رحیم اللہ دیر
87 عبدالروف محمد حنیف نوشہرہ 88 محمد حکیم عبدالحکیم مالاکنڈ
89 محبوب خان ظفر خان خارج شد 90 گل زادہ سول خان وزیرستان
91 راحیل حسین بشیر حسین ایبٹ آباد 92 مسعود الرحمٰن فاروق احمد مظفر آباد
93 محمد عباس بشیر احمد ساہیوال 94 محمد نعیم محمد اسماعیل رحیم یار خان
95 محمد اشفاق عبدالقادر چنیوٹ 96 محمد عامر مسعود مسعود الرحمٰن ایبٹ آباد
97 محمد سعید راز محمد لورالائی 98 محمد سلطان طاہر خان لورالائی
99 عزیر شہزاد کرامت علی سرگودھا 100 ذاکر اللہ محمد زرین بٹگرام
101 طیب ظہور ظہور احمد ساہیوال 102 فاروق اعظم محمد اسحق پاکپتن
103 سیف اللہ حافظ محمد شفیع خانیوال 104 محمد اسامہ انعام الحق بہاول نگر
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
105 محمد اکمل محمد علی ساہیوال 106 نجیب اللہ معصوم خان راولپنڈی
107 جنید ممتاز ممتاز حسین باغ 108 عمر فاروق ظفر الحق راولپنڈی
109 محمد اویس فضل میر افضل جلالی راولپنڈی 110 حضرت عمر بخشی خان شانگلہ
111 محب اللہ نیک محمد خان کرک 112 محمد عثمان بخشی خان شانگلہ
113 جان سردار عمل خان شانگلہ 114 حافظ اللہ مومین خان بٹگرام
115 بلال احمد گل زادہ راولپنڈی 116 محمد امین کامل خان مانسہرہ
117 محمد ابراہیم الحق عبدالحق ڈی آئی خان 118 محمد دلدار شفیع محمد شفیع مظفر آباد
119 محمد بلال محمد زمان مالاکنڈ 120 محمد نوید سراج محمد بٹگرام
121 عبدالودود راجہ ارشد محمود اسلام آباد 122 ارسلان الرحمٰن عبدالرحمٰن اسلام آباد
123 عبدالرحمٰن خان گل محمد گجرات 124 امین اللہ جان سید باجوڑ ایجنسی
125 مظہر خان محمد یوسف مانسہرہ 126 عبدالنافع بخت عالم دیر
127 سمیع اللہ خان بہرام خان بٹگرام 128 حماد علی محمد صدیق مانسہرہ
129 ضیاء الرحمٰن خون نذر کرم ایجنسی 130 سعید الرحمٰن ولی راز کرم ایجنسی
131 محمد شفیق اللہ محمد طاہر اسلام آباد 132 نور الدین عمران الدین وزیرستان
133 محمد فاروق خدا بخش سرگودھا 134 محمد زبیر عبدالستار چنیوٹ
135 صبغت اللہ مولانا حمید اللہ اسلام آباد 136 انعام احمد پاشا عمران پاشا فیصل آباد
137 امتیاز احمد حاجی خدا بخش لودھراں 138 نصیر محمد بختیار محمد صوابی
139 غلام مرتضیٰ محمد حنیف جھنگ 140 محمد واجد عبید اللہ مظفر گڑھ
141 حافظ عبدالستار محمد سعید اوکاڑہ 142 محمد اسحق گل زمان ٹانک
143 نظیر اللہ حکیم وزیرستان 144 عبدالصمد محمد امین بنوں
145 محمد اسامہ محمد حنیف راولپنڈی 146 محمد عزیر شاکر اللہ مردان
147 سعید الرحمٰن نور الرحمٰن مردان 148 امین اللہ امیر عالم اپر دیر
149 عبید اللہ عبداللہ صوابی 150 عاکف نواز گل نواز کرک
151 محمد عابد عبدالرشید مانسہرہ 152 محمد ضیاء اللہ عبدالغفار بھکر
153 محمد احمد محمد عباس بہاول نگر 154 عمران خان ولی خان چترال
155 حفیظ الرحمٰن حبیب الرحمٰن چترال 156 سراج الدین رحمٰن الدین چترال
157 محمد رضا رحیم بخش ڈیرہ بگٹی 158 محمد اسامہ محمد یوسف سرگودھا
159 محمد احتشام الحق محمد اسلام سرگودھا 160 محمد ارسلان محمد رشید فیصل آباد
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
161 محمد حذیفہ شبیر محمد شبیر سرگودھا 162 محمد ساجد عبدالستار لاہور 163 عطاء اللہ خان احسان الحق خارج شد 164 جمیل اقبال صالح الدین خارج شد 165 عبدالغفار غلام مصطفیٰ مظفر گڑھ 166 بشارت الہی شاہجہان صوابی 167 ثناء اللہ میروس خان صوابی 168 شعائر اللہ منیر خان چارسدہ 169 ناصر خان محمد رحمٰن مردان 170 رحم دل ظہیر اللہ مردان 171 ساجد الرحمٰن سردار الرحمٰن مردان 172 عطاء اللہ عمر الرحمٰن مردان 173 محمد یعقوب زیارت گل مردان 174 عظمت شاہ ظاہر شاہ مردان 175 محمد بلال محمد شاہ بان خانیوال 176 عبداللطیف عبدالعزیز ڈی جی خان 177 محمد سرور جان جان محمد کوہلو 178 محمد قاسم محمد اسلم ڈی جی خان 179 محمد زبیر منظور حسین خانیوال 180 محمد عبداللہ خان محمد صدیق ٹوبہ ٹیک سنگھ 181 زین العابدین زاہد محمود ٹوبہ ٹیک سنگھ 182 سیف الرحمٰن عزیز الرحمٰن خارج شد 183 محمد سفیان خیر محمد ڈی جی خان 184 محمد یوسف حفیظ اللہ ڈی جی خان 185 محمد حذیفہ محمد اجمل ٹوبہ ٹیک سنگھ 186 محمد عبداللہ شبیر احمد بہاول نگر 187 محمد حماد محمد اقبال فیصل آباد 188 رانا خرم سرفراز سرفراز خان اوکاڑہ 189 محمد جعفر امین محمد امین وہاڑی 190 محمد بلال خمیم مانسہرہ 191 عبدالرحمٰن محمد رفیق مانسہرہ 192 مجاہد حسین محمد پرویز قریشی ایبٹ آباد 193 محمد طفیل محمد آفتاب ایبٹ آباد 194 محمد سہیل محمد نواز اٹک 195 قمر الاسلام عبدالرحمٰن اسلام آباد 196 حفیظ اللہ شہباز خان وزیرستان 197 سالار خان سیار رحمٰن پشاور 198 صدام فردوس محمد فردوس مانسہرہ 199 ضیاء الاسلام نور الاسلام پشاور 200 محمد عمر جنت گل کوہاٹ 201 گوہر رحمٰن نور الرحمٰن بٹگرام 202 خیر الابرار تازہ گل خارج شد 203 محمد اویس محمد وجاہت پشاور 204 محمد رضوان حمیش گل پشاور 205 محمد یوسف عبدالحمید قصور 206 مظہر علی میاں خان پشاور 207 زرک خان شہریار چارسدہ 208 پیاوی الرحمٰن تواز گل کرک 209 کفایت اللہ عبدالجلیل لکی مروت 210 لطیف خان نیازمان الدین کرک 211 اسرار الرحمٰن میر عبدالرحمٰن مظفر آباد 212 فیصل فلک نیاز پشاور 213 عبدالخالق حافظ عبدالشکور ڈی جی خان 214 حماد اللہ خیال جان خیبر ایجنسی 215 محمد عابد جمعہ خان کوہستان 216 محمد عامر محمد اکرم ایبٹ آباد
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا 217 محمد ابراہیم شفیع الرحمن مانسہرہ 218 شفیق الرحمن سیف الرحمن نوشہرہ 219 عبدالقیوم گل فراز خان باجوڑ ایجنسی 220 عمران خان محمد ظریف پشاور 221 فہیم اللہ محمد سعید پشاور 222 عطاء اللہ عبدالجلیل پشاور 223 یاسین خان نجیب اللہ پشاور 224 واجد رحمن محمد اعظم خان پشاور 225 مہران خان عبدالاکبر پشاور 226 نیک محمد نیاز محمد پشاور 227 اسماعیل ممتاز خان مہمند ایجنسی 228 عبداللہ احسان اللہ پشاور 229 قسمت اللہ غازی مرجان لکی مروت 230 وحید اللہ امیر شاہجہان لکی مروت 231 احسن الحسن میر حسن ہٹیاں بالا 232 محمد قاسم احسان اللہ گوجرانوالہ 233 صفی اللہ شاہ عنایت اللہ شاہ پشاور 234 پیر زادہ مانس خان پشاور 235 عبداللہ اسرار الدین پشاور 236 عبدالمجید حاجی میوہ ڈی جی خان 237 عثمان علی محمد غنی چارسدہ 238 محمد نعمان گل خان چارسدہ 239 منصور احمد قاسم چارسدہ 240 عبدالحبیب عبدالمالک چارسدہ 241 محمد عبداللہ فداء حسین ڈی جی خان 242 حیدر علی مظہر علی پشاور 243 ثناء اللہ روح اللہ چارسدہ 244 سید محمد بلال سید محمد رمضان وہاڑی 245 تیمور احمد طارق شہزاد ڈی جی خان 246 محمد الحق حافظ نذر محمد بہاول پور 247 محمد سلیمان ولی محمد چارسدہ 248 عبدالکبیر انعام اللہ پشاور 249 حمید اللہ علی اکبر سانگھڑ 250 محمد نوید عالم نذیر احمد بہاول نگر 251 محمد صدیق حامد علی مظفر گڑھ 252 محمد امجد فاروق محمد عاشق حسین ڈی جی خان 253 محمد اصغر بشیر احمد مظفر گڑھ 254 محمد سمیع اللہ غلام مصطفیٰ مظفر گڑھ 255 محمد سلمان شاہ غلام مرتضیٰ شاہ مظفر گڑھ 256 محمد طارق غلام اکبر مظفر گڑھ 257 محمد عرفان محمد رمضان مظفر گڑھ 258 محمد راشد محمد صادق بہاول پور 259 محمد شاہد محمد حسین مظفر گڑھ 260 محمد حسنین محمد عبداللہ مظفر گڑھ 261 محمد مختار شاہ محمد بہاول پور 262 محمد شیراز محمد فاروق مظفر گڑھ 263 محمد شعیب اللہ داد مظفر گڑھ 264 ریاض حسین بگو خان بہاول پور 265 حافظ جمال محمد غلام نازک انجم رحیم یار خان 266 عبدالقدیر غلام فرید مظفر گڑھ 267 محمد ثناء اللہ ملک سانجھی راجن پور 268 اللہ بخش ملک حاجی احمد رحیم یار خان 269 محمد عدنان غلام محمد بہاول پور 270 محمد فیصل محمد صدیق بہاول پور 271 محمد محسن خادم حسین بہاول پور 272 محمد سلیمان غلام محمد بہاول پور
تحریک ختم نبوت جلد (10) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
273 عدنان چن زیب مانسہرہ 274 محمد رحمٰن حبیب الرحمٰن مردان 275 مرسلین تاج محمد مردان 276 حمزہ شیخ غلام رسول علی پور 277 محمد اللہ یار عبدالعزیز مظفر گڑھ 278 عبدالستار کریم بخش سکھر 279 محمد مراد محمد راشد خیرپور میرس 280 محمد یحییٰ محمد رفیق گھوٹکی 281 عبدالقیوم ذوالفقار بینظیر آباد 282 کریم بخش رحیم بخش بینظیر آباد 283 محمد عیسیٰ عبدالنبی شکار پور 284 محمد عمیر حمایت اللہ سانگھڑ 285 محمد اصغر محمد حاجن خیرپور میرس 286 عبداللہ انڑ خان محمد جعفر آباد 287 احمد محمد کشمور 288 محمد سلمان عبدالرزاق خیرپور میرس 289 منصور احمد ریاض احمد سکھر 290 عبدالرؤف محمد ہارون خیرپور میرس 291 سراج الدین غلام قادر خیرپور میرس 292 راشد احمد نذیر احمد خیرپور میرس 293 سیف اللہ محمد اسماعیل سکھر 294 عبداللطیف محمد ابراہیم نوشہرو فیروز 295 محمد عاصم محمد ریاض لودھراں 296 عابد حسین عبدالحکیم سکھر 297 غلام مصطفیٰ حاجی گلزار سکھر 298 محمد عمران حاجی ریاض ڈی جی خان 299 محمد عمر نور محمد ڈی جی خان 300 عبدالقادر محمد بچل خیرپور میرس 301 مٹھار علی سہراب علی نوشہرو فیروز 302 عزیز الرحمٰن عبدالرحمٰن چنیوٹ 303 محمد وقاص محمد خالد راجن پور 304 محمد سہیل محمد رمضان بہاول پور 305 محمد اختر حاجی اللہ دتہ بہاول پور 306 مجیب الرحمٰن محمد شریف بہاول پور 307 محمد شکیل نصیر احمد رحیم یار خان 308 محمد علی شیر شفیق احمد بہاول پور 309 غلام مجتبیٰ امیر علی شاہ بہاول پور 310 محمد زید عبدالمالک رحیم یار خان 311 محمد شان عبداللطیف لودھراں 312 انوار الحق عرفان الحق بہاول پور 313 محمد زبیر عبداللہ محمد عبداللہ بہاول پور 314 محمد شعیب یار محمد لودھراں 315 غلام مجتبیٰ غلام فرید بہاول پور 316 محمد عثمان عبدالکریم بہاول پور 317 محمد حمزہ عبدالشکور رحیم یار خان 318 محمد ایوب محمد اجمل بہاول پور 319 زبیر احمد منظور احمد بہاول پور 320 محمد رضوان افتخار احمد بہاول پور 321 کلیم اللہ محمد اسلم مظفر گڑھ 322 محمد سجاد محمد سبحان بہاول پور 323 محمد اسحاق خدا بخش بہاول پور 324 عبدالرحمٰن محمد ایوب نوشہرو فیروز 325 محمد طیب وزیر احمد بہاول پور 326 محمد مظہر محمد عطاء اللہ مظفر گڑھ 327 حافظ محمد سرفراز غلام یاسین سرگودھا 328 ضیاء الرحمٰن گلزار احمد سرگودھا
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
329 ابوطلحہ محمد سعد اللہ سرگودھا 330 ذیشان جاوید جاوید اختر قصور 331 تیمور علی نزاکت خان قصور 332 محمد طلحہ مدنی جاوید اختر قصور 333 اعجاز احمد نزاکت خان قصور 334 عبدالستار پیر بخش خارج شد 335 محمد صدیق گل محمد رحیم یار خان 336 محمد سلیمان محمد اسلم بہاول پور 337 محمد بلال رفیق محمد رفیق جھنگ 338 محمد عمر نواز غریب نواز بہاول پور 339 حمزہ ہارون ہارون الرشید بہاول پور 340 محمد علی غلام محمد سانگھڑ 341 محمد آصف عبدالحمید بدین 342 محمد عمران خوشی محمد بدین 343 عبدالرحمٰن علی مراد حیدر آباد 344 محمد عمران عبدالغنی سانگھڑ 345 محمد فیضان عبدالغفار سانگھڑ 346 جنید احمد شہمیر خان سانگھڑ 347 محمد جنید شکور شکور محمد سانگھڑ 348 عبدالغنی عبدالجبار کراچی 349 محمد درجان شبیر احمد کراچی 350 محمد اسماعیل محمد اکبر میر پور خاص 351 سعد اللہ باری داد کراچی 352 گل محمد محمد اشرف خارج شد 353 محمد ایوب جان محمد سانگھڑ 354 محمد سیف اللہ سعید احمد سانگھڑ 355 محمد نوید غلام قادر سانگھڑ 356 ساجد علی عبدالرحمٰن سانگھڑ 357 محمد نصرت اللہ عبدالوہاب کراچی 358 محمد عبداللہ غلام رسول کراچی 359 محمد طارق عبدالصمد کراچی 360 محمد ابراہیم محمد یونس کراچی 361 جمیل احمد محمد حسن کراچی 362 عتیق الرحمٰن محمد صدیق میر پور خاص 363 عابد علی دوست محمد میر پور خاص 364 محمد عثمان سجاول خان میر پور خاص 365 ماجد احمد زمان خان کراچی 366 عباس الیاس کراچی 367 راشد علی شبیر احمد سانگھڑ 368 محمد نعیم محمد ایوب سانگھڑ 369 عطاء اللہ حزب اللہ سانگھڑ 370 محمد فاروق اشفاق احمد سانگھڑ 371 شاہ زمان خان رحیم داد خان سانگھڑ 372 محمد عطاء اللہ امیر بخش بہاول پور 373 محمد حسن محمد اکرم کراچی 374 عبدالوہاب عبدالمجید کراچی 375 یاسر خان سعید خان کراچی 376 ظہور احمد عبدالحلیم کراچی 377 مشہود احمد سیف اللہ کراچی 378 نصیر احمد احمد اللہ کراچی 379 منیر احمد احمد اللہ کراچی 380 جہانزیب وزیر محمد کراچی 381 انور زیب جہانزیب کراچی 382 محمد فاروق شیرا جان کراچی 383 محمد حسن محمد ارشد کراچی 384 زاہد حسین محمد خان حیدر آباد
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء
385 عبدالحفیظ عبدالعلیم حیدرآباد 386 شہزاد علی اسلام علی کراچی 387 عاطف اللہ عبدالجلیل کراچی 388 جلال خان احسان الحق نوشہرہ 389 شعیب علی شفیع محمد میر پور خاص 390 نذیر احمد اللہ بچایو کراچی 391 نوید محبوب علی میر پور خاص 392 احسان اللہ عارف شاہ کراچی 393 محمد سہیل عبدالرشید کراچی 394 ابرار الحق علی محمد کراچی 395 فضل الرحمٰن عبدالرحمٰن کراچی 396 اظہر الدین فضل محمد کراچی 397 خلیل الرحمٰن مجید خان کراچی 398 محمد الیاس فضل سبحان کراچی 399 عبدالبصیر علی شیر کراچی 400 کلیم اللہ غلام مصطفیٰ مٹھی 401 محمد عثمان فقیر محمد کراچی 402 کمال زادہ شمکے کراچی 403 عارف اللہ محمد عارب جعفرآباد 404 محمد اسامہ غلام سرور کراچی 405 محمد یعقوب محمد ایوب حیدرآباد 406 محمد سعید الحق گل مراد شاہ کراچی 407 انوار اللہ شیر محمد کراچی 408 عبداللطیف محمد مقیم کراچی 409 صدام حسین محمد خان کراچی 410 اسلام الدین خمیسو کراچی 411 غلام رحیم محمد عباس کراچی 412 سالک عباسی محمد سرفراز خان کراچی 413 محمد جہانگیر یاسین مانسہرہ 414 عبدالخالق امیر بخش کراچی 415 کامران حاکم داد کراچی 416 محمد رحیم محمد اسماعیل کراچی 417 محمد علی قائم الدین نوشہرو فیروز 418 محمد یاسر محمد یونس خارج شد 419 شیر گل عجب گل کراچی 420 عمر خیام محمد رفیق مانسہرہ 421 محمد کاشف محمد الیاس کراچی 422 محمد مسلم محمد حسین کراچی 423 سلال بدر بدرالدین کراچی 424 حسام الدین عبدالباقی کراچی 425 حمیداللہ عمر خان کراچی 426 عرض محمد محمد انور کراچی 427 علی احمد حیات اللہ کراچی 428 محمد نعمان محمد صابر بہاول پور 429 سعید اللہ گل بدین اسلام آباد 430 محمد ہاشم ایوب جہانگیر کراچی 431 غلام مصطفیٰ راؤ محمد عبداللہ کراچی 432 حمد اللہ عبدالرؤف خضدار 433 حسین احمد امیر محمد کراچی 434 احمد علی قاضی منیر احمد حیدرآباد 435 ہدایت اللہ عبدالمقتدر کراچی 436 محمد صالح غلام الدین کراچی 437 آصف امام امام بخش کراچی 438 عبدالصمد محمد اسماعیل کراچی 439 محمد نثار امیر گل کراچی 440 محمد عثمان سانوکھان سکھر
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
441 اشتیاق رحیم عبدالرحیم کراچی 442 عارف اللہ صنوبر خان کراچی 443 ریاض احمد محمد زمان کراچی 444 محمد فواد شاہ زمان کراچی 445 سیف اللہ حضرت اکبر کراچی 446 عرفان الدین گل سردار خان کراچی 447 بلال خان رستم خان کراچی 448 محمد عبادہ جمیل جمیل احمد کراچی 449 مہتاب عالم شمس الہدیٰ کراچی 450 خالد شفیق احمد خارج شد 451 عبدالغنی بختاور کراچی 452 نعیم اللہ سلطنت خان کراچی 453 محمد آصف محمد مسکین ایبٹ آباد 454 امین الدین عبیداللہ کراچی 455 ناصر علی ارباب خان کراچی 456 محمد اسامہ شیر بہادر کراچی 457 محمد ہارون محمد عیسیٰ حیدرآباد 458 محمد عثمان غنی عبدالمجید میرپورخاص 459 دانیال رحمن عبدالرحمن خان کراچی 460 محمد جنید نوار خان کراچی 461 محمد ظاہر دل روز خان کراچی 462 مجاہد علی علی زر خان کراچی 463 زبیر احمد حاجی محمد خان کراچی 464 احمد فراز محب علی خان کراچی 465 حسین احمد محمد رسول کراچی 466 سعید احمد حاجی یار محمد کراچی 467 عمر دراز محمد فاروق کراچی 468 عظمت اللہ باران گل حیدرآباد 469 محمد بشار محمد اشرف حیدرآباد 470 محمد اسامہ محمد اسلم حیدرآباد 471 صدیق لقمان حکیم حیدرآباد 472 نجیب اللہ عبدالہادی حیدرآباد 473 عابد حسین محمد جمع حیدرآباد 474 امیر حمزہ عبدالعزیز کراچی 475 محمد عبداللہ گل وزیر خان کراچی 476 افتخار مختار کراچی 477 محمد واصف محمد یوسف کراچی 478 نصر اللہ سعید الرحمن کراچی 479 افتخار علی خان عزیز اللہ کراچی 480 سیف الرحمن سید رسول کراچی 481 محمد ارشد عبدالغفور کراچی 482 محمد عرفان ادریس محمد کراچی 483 فرید اللہ خان میر سوب خان کراچی 484 جان محمد شیر محمد کراچی 485 قدرت اللہ رائی خان کراچی 486 ریحان شاہ ثناء اللہ کراچی 487 احمد اللہ عبدالجلیل کراچی 488 عتیق الرحمن ذوالقرنین میرپورخاص 489 عبدالسلام عبدالجبار حیدرآباد 490 محمد حسنین عبدالاحد کراچی 491 محمد امیر اللہ محمد اجمل خان چنیوٹ 492 ضیاء اللہ کفایت اللہ کراچی 493 غلام حسین غلام رسول کراچی 494 محمد فاروق فیض محمد حب 495 یاسین خٹک اسلام خان حیدرآباد 496 عبدالودود عبدالغنی کراچی
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
497 محمد بلال محمد ابراہیم کراچی 498 عبدالرحمن اللہ نظر کراچی 499 محمد بلال دین محمد نوشہرو فیروز 500 مصدق محمد رمضان حیدرآباد 501 علی زمان بنیاد گجر خارج شد 502 حیدر علی رجب علی خان کوہاٹ 503 محمد قاسم عبداللہ قلعہ عبداللہ 504 سعد اللہ فداء محمد قلعہ عبداللہ 505 محمد عمر شاہ دیوان شاہ کراچی 506 محمود احمد عبدالحمید پشین 507 حفیظ اللہ ملک روزی پشین 508 کفایت اللہ حاجی فیض احمد سرگودھا 509 بختیار اللہ سلطان محمد خان تورغر 510 ثناء اللہ محمد یعقوب صحبت پور 511 محمد ادریس تاج الدین لکی مروت 512 محمد خان احمد خان لکی مروت 513 عبدالحمید محمد رحیم ژوب 514 اکبر خان جمعہ خان حیدرآباد 515 سید دانیال شاہ سعید شاہ خارج شد 516 عطاء الرحمن حبیب الرحمن کراچی 517 اسرار احمد مبارک خان کوئٹہ 518 عبدالباقی عبدالخالق کراچی 519 وقار احمد سلطان سکھر 520 عبدالعظیم راحب خشک جام شورو 521 محمد شعیب فیض محمد ڈیرہ غازیخان 522 اکبر جان خان دل جان لکی مروت 523 سکندر علی جکھرو سانگھڑ 524 محمد دلاور ریاض احمد بدین 525 شاہ نواز عبدالمجید عمرکوٹ 526 عزیز اللہ سمیع الرحمن سوات 527 عرفان اللہ شیر بہادر خان سوات 528 شوکت علی حضرت علی قلعہ عبداللہ 529 عبدالرحمن مرزا انوار بیگ کراچی 530 محمد عادل محمد سعید میرپورخاص 531 عبدالرقیب عبداللطیف خارج شد 532 محمد سلیم عبدالعزیز کراچی 533 محمد یونس عبدالوہاب کراچی 534 محمد نعیم عبدالغنی کراچی 535 محمد اکبر محمد صدیق حب 536 محمد بختیار اصغر علی کراچی 537 ذاکر اللہ امان اللہ کراچی 538 سعید احمد محمد عبداللہ کراچی 539 فیصل احمد گل محمد کراچی 540 شاہ نظر عطاء اللہ کراچی 541 محمد ایوب عبدالرشید بہاول نگر 542 نیک والی نور زعلی خان کراچی 543 کفایت اللہ غلام حیدر کراچی 544 حبیب اللہ خستہ گل کراچی 545 رستم علی امام ڈنو حیدرآباد 546 محمد سلیمان آدم کراچی 547 محمد سعد غلام فاروق کراچی 548 غلام مرتضیٰ نذیر احمد کراچی 549 محمد نوید محمد عظیم سرگودھا 550 محمد عرفان محمد رفیق بہاول نگر 551 نصر اللہ عبدالمنان کراچی 552 سعید الرحمن ذوالقرنین میرپورخاص
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
553 محمد آصف محمد خان سرگودھا 554 ابرار احمد سرفراز احمد سرگودھا 555 محمد اعجاز محمد محبوب کراچی 556 عاصم اسلم محمد اسلم کراچی 557 قاسم رفیق رفیق کراچی 558 شکیل احمد ارشد محمود کراچی 559 جاوید احمد ولی محمد کراچی 560 علی گل علی مراد حیدرآباد 561 محمد مشتاق عبدالقیوم کراچی 562 عزت مجبوت جمیل کراچی 563 محمد یوسف محمد الیاس کراچی 564 عبدالوحید بشیر احمد کراچی 565 محمد صدیق محمد اسماعیل کراچی 566 محمد تقی ثناء اللہ کراچی 567 فہیم اللہ خان عنایت اللہ کراچی 568 ساجد علی ظفر علی کراچی 569 امان اللہ عنایت اللہ کراچی 570 آصف سید قبول سید کراچی 571 محمد حسنین محمد حسین کراچی 572 محمد علی محمد نذر کراچی 573 مصباح الدین سید محمد ظاہر شاہ کراچی 574 محمد عامر داد محمد کراچی 575 طفیل احمد حاجی دوشنبے کراچی 576 اسد اللہ شادی خان کراچی 577 حسین احمد غلام حسین کراچی 578 مقصود احمد غلام مصطفیٰ کراچی 579 انضام الحق شمس الحق کراچی 580 بخت رحیم بخت نسیم کراچی 581 جان علی جان محمد کراچی 582 حبیب الرحمن عبدالکریم کراچی 583 امان اللہ رسول بخش حیدرآباد 584 عبیداللہ حبیب الرحمن حیدرآباد 585 عبداللہ غلام مصطفیٰ سانگھڑ 586 اکرام الدین محمد اسلم حیدرآباد 587 زید عبیداللہ پنھوار کراچی 588 سید عدنان شاہ سید عمران شاہ کراچی 589 نور قادر نور آفر علی کراچی 590 محمد یونس شہاب الدین کراچی 591 محمد طلحہ شیخ محمد اختر شیخ کراچی 592 عبدالرحمن رفیع الزمان کراچی 593 عبدالمعیز اللہ بخش کراچی 594 محمد معاویہ قیمت گل کراچی 595 محمد عاقب کریم اللہ حیدرآباد 596 شیراز شیخ خان محمد کراچی 597 عبدالحمید میر محمد سانگھڑ 598 روح اللہ سالم خان کراچی 599 نور واحد ازدام خان کراچی 600 سرفراز احمد نصیر احمد خاران 601 شیر زمان پردول خان کراچی 602 مجیب الحق صفت ولی کراچی 603 مقصود احمد نور خان حیدرآباد 604 نثار محمد محمد ہارون کراچی 605 نعمان خان رحمان غنی حیدرآباد 606 حبیب اللہ حاجی وزیر گل کراچی 607 طائب خان بلور خان کراچی 608 وقار احمد محمد اشرف کراچی
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
609 طارق شاہ شاہ جہان کراچی 610 محمد شعیب عبدالرشید کراچی 611 محمد اسامہ خالد محمود کراچی 612 محمد طلحہ محمد الیاس کراچی 613 احمد حیات محمد حیات کراچی 614 توقیر اعجاز حسین کراچی 615 عبدالکلیم محمد شریف حیدرآباد 616 یاسر محمود عبدالقادر کراچی 617 محمد نیاز جان عالم کراچی 618 نظام الدین عبدالخالق کراچی 619 عامر زیب شیر افروز کراچی 620 رحیم اللہ عزیز الرحمٰن کراچی 621 عبدالباسط مطیع اللہ کراچی 622 رحمت اللہ محمد رمضان پشین 623 فضل محمد گل رحیم کراچی 624 محمد رئیس خان محمد ہاشم خان کراچی 625 محمد طلحہ صفدر عبدالعلیم صفدر کراچی 626 فیضان اللہ خیال گل کراچی 627 سید رحمت اللہ سید شیخ احمد کراچی 628 عادل ریحان خانی زمان کراچی 629 علی شیر در محمد رحیم یار خان 630 محمد عمر امان اللہ کراچی 631 سعید اللہ حاجی میاں کراچی 632 محمد ندیم اجمل خان کراچی 633 عبدالمنان غلام حیدر کراچی 634 عتیق اللہ حبیب اللہ کراچی 635 امین اللہ دارو خان کراچی 636 عبدالکریم مقبول حسین کراچی 637 عبدالمنان نور محمد شاہ کراچی 638 نصیر احمد محمد انور کراچی 639 آصف علی عزیز خان کراچی 640 امداد اللہ عبدالرشید خضدار 641 نقیب اللہ مراد خان کراچی 642 محمد بلال عاشق حسین ڈیرہ غازیخان 643 محمد فہیم علی محمد کراچی 644 عبدالمنان عبدالحکیم کراچی 645 محمد عادل محمد حسین کراچی 646 شفیع اللہ رحیم اللہ کراچی 647 امداد اللہ محمد یاسین کراچی 648 اریب حسن واحد حسین کراچی 649 زرخان مند عالم خان کراچی 650 محمد انس حکیم داد کراچی 651 محمد یوسف غلام رسول کراچی 652 جنید احمد حسین محمود سانگھڑ 653 محمد سمیع اللہ محمد الیاس کراچی 654 محمد یونس دل محمد کراچی 655 شمس الرحمٰن محمد نسیم کراچی 656 محمد یاسین نیاز محمد کراچی 657 عطاء اللہ نور اللہ کراچی 658 عمر فاروق لعل محمد کراچی 659 عبدالجبار عبدالقیوم کراچی 660 محمد قاسم اعتبار گل کراچی 661 ذاکر اللہ سید محمد خان کراچی 662 نثار احمد محمد عیسیٰ خضدار 663 نصیر احمد جمعہ خان خضدار 664 ذوالفقار احمد عبدالسمیع کراچی
تحریک ختم نبوت جلد (١٠) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا 665 ارشد علی محمد علی کراچی 666 گل زیب عبدالستار کراچی 667 عبدالواحد راج محمد خان کراچی 668 عبادالرحمن افسر غازی کراچی 669 ذاکر الدین عبدالقیوم کراچی 670 ممتاز احمد عبدالکریم کراچی 671 موسیٰ محمد اسماعیل کراچی 672 محمد علی فیض محمد کراچی 673 اعجاز علی عمر خطاب کراچی 674 محمد اسماعیل امیر حسین کراچی 675 عبداللہ عبدالرحیم کراچی 676 محمد حذیفہ محمد یاسین کراچی 677 نور محمد شمس العالم کراچی 678 عبداللطیف رئیس خان ٹانک 679 محمد اسد عبدالرحمن کراچی 680 عطاء اللہ محمد قاسم کراچی 681 سہیل نبی نورالنبی خارج شد 682 شہزاد مجید عبدالمجید مظفرگڑھ 683 اسامہ قریشی محمد عثمان قریشی مظفرگڑھ 684 صدام حسین محمد وارث کراچی 685 ذیشان احمد محمد انور سیالکوٹ 686 محمد اویس احمد ارشد محمود سیالکوٹ 687 محمد حسنین غلام مرتضیٰ سیالکوٹ 688 عبدالکریم داؤد خان کراچی 689 عطاء اللہ عزیز الرحمن گوجرانوالہ 690 سعید عین اللہ ہری پور 691 یار محمد دین محمد حیدرآباد 692 محمد خورشید محمد فاروق سرگودھا 693 محمد عرفان محمد زبیر کراچی 694 محمد احمد عبدالستار مظفرگڑھ 695 محمد اسماعیل محمد نذیر مظفرگڑھ 696 فیاض علی امام ڈنو حیدرآباد 697 شمس اللہ ولی محمد حیدرآباد 698 ظہور احمد علی مراد حیدرآباد 699 محمد فراز نعیم الدین حیدرآباد 700 بلال احمد امان اللہ کراچی 701 شاہ زیب جہانزیب جامشورو 702 محمد نعیم کپتان وزیرستان 703 محمد اسماعیل میر محمد مٹیاری 704 حق نواز محمد صدیق میر پور خاص 705 محمد ساجد منظور حسین رحیم یار خان 706 فیاض احمد فیض محمد جھنگ 707 مرتضیٰ خان ممتاز حسین جھنگ 708 عبدالستار غلام رسول لاہور 709 محمد طلحہ شبیر شبیر احمد عتیق ساہیوال 710 محمد علی محمد حنیف سرگودھا 711 محمد وقار سعید اختر میانوالی 712 اعجاز احمد مشتاق احمد ڈیرہ غازیخان 713 ثناء اللہ خان محمد الیاس خان جھنگ 714 شاہد عباس محمد حیات خان جھنگ 715 اللہ دتہ نور محمد سرگودھا 716 محمد رمضان محمد عبداللہ وہاڑی 717 کمال الدین ظہیر الدین باجوڑ ایجنسی 718 گل رحمان نورالرحمان ہنگو 719 خالد خان پرویز خان پشاور 720 محمد سراج محمد یوسف وہاڑی
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
721 اکرام اللہ عصمت اللہ ٹانک 722 عمر عبداللہ مختار احمد لاہور 723 محمد اسامہ غلام مصطفیٰ لاہور 724 ضیاء الرحمٰن خان محمد دین کوہاٹ 725 محمد عابد نواز محمد نواز چنیوٹ 726 معین علی بضر جمال ہری پور 727 عمر فاروق فداء حسین مظفر گڑھ 728 محمد آصف شفیع الرحمٰن کوہاٹ 729 سیف الرحمٰن مولانا عبدالحق کرم ایجنسی 730 محمد جاوید سید باچہ پشاور 731 عمر فاروق محمد عرفان پشاور 732 نعیم عبید عبیداللہ فیصل آباد 733 فضل سبحان شیر داد خان کراچی 734 محمد کاشف فضل مالک مردان 735 محمد سلطان مخمل خان کراچی 736 عبدالرزاق عمر شاہ کراچی 737 محمد یوسف گل مت خان راولپنڈی 738 رفیق عالم محمد صابر حسین دیامر 739 محمد اسحاق قاسم خان دیامر 740 ذاکر احمد شیر افضل راولپنڈی 741 نظر محمد محمد عمر کوئٹہ 742 عظیم الدین نجم الدین چکوال 743 سیف الرحمٰن عبدالوکيل خارج شد 744 صدیق اللہ پروانت خان کراچی 745 ہمشید خان عیدت خان کراچی 746 ظہیر الدین سعید الدین کراچی 747 مصعب زبیر عبدالخالق جھنگ 748 محمد حذیفہ یحییٰ محمد یحییٰ بہاول نگر 749 فیصل عباس غلام حسین خانیوال 750 احتشام الحق غلام سرور منڈی بہاؤالدین 751 خلیل شیر محمد شیر محمد اسلام آباد 752 محمد ذیشان مہر محمد رمضان مہر گوجرانوالہ 753 محمد اسماعیل لیاقت علی گوجرانوالہ 754 محمد عبداللہ محمد فاروق ایبٹ آباد 755 محمد اسحاق غلام رسول چنیوٹ 756 محمد ارشد گل شید نوشہرہ 757 عبدالقدیر محمد عبداللہ خارج شد 758 محمد شاہد سلطان احمد رحیم یار خان 759 محمد خالد بشیر احمد رحیم یار خان 760 محمد ارسلان فداء حسین رحیم یار خان 761 محمد اسد محمود منظور احمد چنیوٹ 762 محمد اصغر محمد عنصر راجن پور 763 محمد خالد عاشق حسین راجن پور 764 محمد تنویر کریم بخش بہاول پور 765 عبدالوارث تاج رعیت کرک 766 ظفر اللہ شاہ عالم خان کرک 767 جہانزیب محمد بچل میر پور خاص 768 محمد امیر حمزہ مبین احمد خارج شد 769 عابد حسین کرم الٰہی راجن پور 770 ذوہیب رشید رشید احمد فیصل آباد 771 محمد زمان غلام مصطفیٰ سرگودھا 772 عبداللہ عبدالستار سانگھڑ 773 غلام مرتضیٰ محمد بخش لاڑکانہ 774 سمیع اللہ محمد امیر شاہ کرک 775 محمد عامر منیر عبدالباسط سرگودھا 776 محمد سلیم محمد اقبال کراچی
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
777 محمد ابوبکر بلال شاہد محمود سیالکوٹ 778 عبدالمجید عبدالجبار فیصل آباد 779 عبداللہ محمد یوسف بدین 780 رفیق امین محمد امین تھرپارکر 781 فضل الرحمٰن محمد داؤد بدین 782 عبدالخالق محمد معروف عمر کوٹ 783 خالد انور عبیداللہ انور سانگھڑ 784 واجد فخر فخر الاسلام بدین 785 حمزہ احمد سومار بدین 786 انس محمود عبدالمجید حیدرآباد 787 محمد یاسین عبدالرحمٰن جامشورو 788 ثاقب علی محمد صدیق بدین 789 اسامہ عنایت اللہ بدین 790 کامران علی عبدالخالق بدین 791 بشار احمد اشفاق احمد حیدرآباد 792 سہیل احمد غلام مصطفیٰ میر پور خاص 793 نثار احمد مٹھو خان مٹیاری 794 محمد ذاکر عبدالعظیم بدین 795 رفیق الزمان نیاز محمد بدین 796 عبدالحکیم منٹھار تھرپارکر 797 فیصل خان اسلم خان حیدرآباد 798 محمد خان عبدالرحیم بدین 799 علی حسن غلام حسین تھرپارکر 800 محمد ابوبکر محمد عبدالستار گوجرانوالہ 801 محمد طیب محمد منیر گوجرانوالہ 802 عمیر علی نذیر علی کراچی 803 محمد شیراز حفیظ الرحمٰن صوابی 804 محمد ذوہیب شیر اکبر صوابی 805 محمد طلحہ محبوب علی کراچی 806 ضیاء الرحمٰن محمد نواز کراچی 807 محمد توقیر احمد محمد منیر ملتان 808 محمد عباس محمد سعید بہاول پور 809 عرفان اللہ قاسم خان خارج شد 810 محمد یوسف محمد سخی جان ڈیرہ غازیخان 811 محمد اطہر محمد طاہر چنیوٹ 812 محمد عاصم بلال عبدالرحمٰن کراچی 813 احسن علی خورشید زمان کراچی 814 محمد طیب بشیر احمد خانیوال 815 محمد اشرف محمد احمد خانیوال 816 عبدالعزیز محمد اکمل خانیوال 817 محمد اکرام عبدالخالق فیصل آباد 818 محمد سلیم غلام شبیر لاہور 819 عبدالرحیم شیر محمد چنیوٹ 820 محمد عامر محمد سرفراز سرگودھا 821 محمد جمیل گل بت خان کرم ایجنسی 822 سید مدثر حسین سید ملازم حسین خانیوال 823 محمد طیب اسلام ربی کرک 824 اسلام خان زری مرجان کرک 825 محمد حامد محمد ارشد خارج شد 826 محمد امیر حمزہ محمد ارشد بہاول پور 827 محمد اشتیاق مشتاق احمد ٹوبہ ٹیک سنگھ 828 ظہیر عباس نذر محمد ٹوبہ ٹیک سنگھ
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
829 محمد اسحاق حاجی محمد عبداللہ ملتان 830 محمد علی المرتضیٰ خالد محمود مظفر گڑھ 831 محمد عمر محمد سعید جھنگ 832 نوید احمد محمد منیر سیالکوٹ 833 محمد رضوان ظفر عباس چنیوٹ 834 ذیشان اشرف محمد اشرف مظفر گڑھ 835 محمد فیصل فراز اشفاق احمد ملتان 836 عبدالمجید جمعہ میر خارج شد 837 محمد ابراہیم عبدالحق کشمور 838 احسان الحق عبدالحق کشمور 839 محمد یوسف آلو خارج شد 840 ذوالفقار علی احمد علی سجاول 841 شبیر احمد عظیم سجاول 842 مشتاق احمد لکھا ڈنو سجاول 843 محمد امین محمد عمر سجاول 844 امتیاز علی حاجی عثمان سجاول 845 محمد موسیٰ محمد یوسف سجاول 846 محمد عظیم نعیم احمد سجاول 847 تاج محمد محب علی سجاول 848 محمد زید حافظ محمود سجاول 849 محمد عیسیٰ محمد اسماعیل سجاول 850 فضل الرحمن شفیع محمد سجاول 851 مشتاق احمد محمد رحیم سجاول 852 محمد صدیق بدرالدین سجاول 853 منظور الحسن فتح محمد سجاول 854 محمد خان اللہ ڈنو سجاول 855 غلام رسول محمد حسین سجاول 856 عبدالسلام غلام حسین سجاول 857 محمد ابراہیم محمد بخش سجاول 858 محمد ثقلین محمد خورشید سجاول 859 محمد رضوان محمد رمضان ملتان 860 محمد ندیم اسلم محمد اسلم ملتان 861 رضوان احمد نذیر احمد ملتان 862 علی شیر عبدالرشید خارج شد 863 مسعود احمد نصیر الدین خارج شد 864 منصور احمد کریم بخش خارج شد 865 شیر افضل میر ولی خان راولپنڈی 866 محمد ارشد خالد حسین ملتان 867 عبد الماجد اللہ یار ملتان 868 محمد شعیب اللہ دتہ وہاڑی 869 عبد الغفار عبید اللہ وہاڑی 870 محمد حمزہ امداد اللہ وہاڑی 871 محمد شاہد عبدالرشید مظفر گڑھ 872 محمد عثمان محمد صدیق فیصل آباد 873 عثمان حیدر اللہ دتہ فیصل آباد 874 محمد عرفان عبد الغفار مظفر گڑھ 875 محمد وسیم احمد بخش مظفر گڑھ 876 محمد صدام نیاز احمد مظفر گڑھ 877 محمد صفدر محمد رمضان مظفر گڑھ 878 محمد سفیان صدیق احمد بہاول پور 879 محمد ساجد محمد اسلم قصور 880 محمد ثاقب محمد فیاض احمد قصور 881 نوید شیر شیر محمد قصور 882 محمد سلیمان فضل حسین سرگودھا 883 محمد تیمور معاویہ محمد شفیع قصور 884 سعید جان گل اشرف چارسدہ
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
885 محمد سعد اللہ تنویر احمد کراچی 886 محمد حمزہ پراچہ محمد عتیق پراچہ کراچی 887 ہدایت اللہ عبداللہ خان کراچی 888 سید منیر احمد شہزاد حسن کراچی 889 جواد احمد محمد یوسف کراچی 890 ابو صالح محمد طارق ............
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۸ء ص ۵۶ تا ۵۷)
ختم نبوت کورس کی اختتامی تقریب سے مولانا طارق جمیل کا بیان
الحمد لله الذی ليس کمثله شئى وهو السميع البصير، المتعالى والمجيد والزکی والرفیع واشهد ان لا اله الا الله وحده لا شریک له واشهد ان محمدا عبده ورسوله. اما بعد!
میرے عزیزو، محترم جناب مولانا اللہ وسایا اور باقی تمام حضرات! آپ حضرات کو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ تھوڑا سا اس حوالے سے پس منظر بیان کردوں۔ تحریک ختم نبوت کے پہلے امیر تھے سید عطاء اللہ شاہ بخاری۔ ان کے بعد تھے قاضی احسان احمد شجاع آبادی۔
قاضی احسان احمد شجاع آبادی نے میرے باپ کو اپنا بیٹا بنایا ہوا تھا۔ وہ ہمارے گاؤں میں تشریف لاتے۔ مجھے ان کی ساری شکل یاد ہے۔ مجھے ان کے لہجے کی مٹھاس آج بھی یاد ہے۔ بولتے تھے تو لگتا تھا شہد جیسی بات ہو رہی ہے۔ اتنی مٹھاس تھی ان کے لہجے میں۔ ہمارے ایک پردادا تھے، بہت بڑا خزانہ تھا ان کے پاس۔ اس زمانہ میں بینک تو ہوتے نہیں تھے۔ انہوں نے خزانہ زمین میں دفن کر رکھا تھا۔ وہ جلد ہی جوانی میں فوت ہو گئے تھے۔ تو کسی کو پتا ہی نہیں کہ خزانہ کہاں دفن ہے۔ ہمارے بزرگ کہتے تھے کسی اللہ والے کو بلائیں گے۔ وہ چلہ کاٹے گا۔ پھر بتائے گا کہ کہاں چھپا ہوا ہے خزانہ۔ تو قاضی صاحب تشریف لائے۔ ان کا بڑا نورانی چہرہ۔ میں اور میرا بھائی ہم دونوں چھوٹے چھوٹے تھے۔ میرا بھائی کہنے لگا: ”ابا جی! اے اوہی پیرا اے جیڑا سانو خزانہ کڈ دیسی؟“ ﴿یہی وہ پیر صاحب ہیں جو ہمیں خزانہ نکال کر دیں گے؟﴾ ایسا نورانی چہرہ تھا ان کا۔
قاضی صاحب کے خطاب میں نے سنے ہوئے ہیں ابا جی کے ساتھ۔ ایک بار قاضی صاحب تلمبہ تشریف لائے۔ میری عمر اس وقت چھ سال تھی۔ اچھی طرح یاد ہے۔ میرے دادا تو پہلے فوت ہو چکے تھے۔ میں نے ان کو نہیں دیکھا۔ دادا کے چھوٹے بھائی فوت ہوئے تھے تو ابا جی نے قرآن خوانی پر قاضی صاحب کو درخواست کی تو وہ تشریف لائے۔ پورا علاقہ، پورے علاقے کے بڑے بڑے زمین دار جمع تھے۔ ایک کوئی اور عالم آئے ہوئے تھے۔ انہوں نے تقریر کی ”موت کیا ہے؟ موت کے بعد کیا ہوگا؟“ یہ مضمون تھا ان کی تقریر کا۔ باقی سارا بیان تو مجھے یاد نہیں۔ بس اتنا یاد ہے کہ موت پر بیان کیا۔
اس کے بعد قاضی صاحب کھڑے ہوئے۔ مجھے نہیں معلوم کیا بیان تھا ان کا۔ لیکن یہ میں دیکھ رہا تھا کہ سب رو رہے تھے۔ سب لوگوں کے آنسو پانی کی طرح بہہ رہے تھے۔ ان کے لہجے کی مٹھاس آج بھی یاد ہے۔ بات بھی انہوں نے کوئی آدھ گھنٹہ کی ہوگی۔ لیکن اس طرح بات کی کہ بڑے بڑے پتھر دل بھی زار و قطار رو رہے تھے۔ پھر میں لاہور سکول میں داخل ہو گیا۔ قاضی صاحب بیمار ہو کر سلطان فونڈری کے رئیس فضل صاحب جو کہ بعد میں تبلیغ کے بڑے بزرگ بنے۔ ان سے میرا تعارف رہا۔ رائیونڈ کے ذمہ داران میں سے تھے۔ ان کے ہاں قاضی صاحب بیمار ہو کر تشریف لائے ہوئے تھے۔ میں وہاں ان کی عیادت کے لئے گیا۔ اس وقت میں تقریباً آٹھویں کلاس میں پڑھتا تھا۔ جب میں عیادت کے لئے گیا تو انہوں نے مجھے اتنا پیار دیا کہ میں آج تک اس کی لذت محسوس کرتا ہوں۔ مجھے بار بار فرماتے تھے: ”تسی میرے بیٹے ہو، تسی میرے بیٹے ہو،“ پھر پتا نہیں کتنی دیر مجھے اپنے پاس بٹھائے رکھا۔ یہ تھوڑا سا میرا تعارف تھا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
باقی تحفظ ختم نبوت ہر مسلمان کا عقیدہ، اس کی محنت ہے۔ اللہ نے انسان تو انسان، جانوروں کو بھی یہ بتا دیا ہوا ہے۔ ایک بدو گوہ کا شکار کر کے لایا۔ گوہ جانتے ہیں؟ تو اللہ کے نبی ﷺ کی مجلس لگی ہوئی ۔ اس بدو نے مجلس کی طرف دیکھا، پوچھا وہ کون ہے؟ اسے بتایا گیا کہ یہ وہ ہے جو کہتا ہے کہ میں اللہ کا نبی ہوں۔ اس بدو نے اپنی اونٹنی کو یوں موڑا۔ شکار کرسی سے باندھا ہوا تھا۔ رسی کو توڑا۔ ایسے کر کے سامنے پھینک دیا۔ پھر آپ ﷺ سے بدو کہنے لگا : جب تک یہ گوہ تجھ پر ایمان نہ لائے گی میں بھی تجھ پر ایمان نہیں لاؤں گا۔
بدو تھا بڑا مطمئن کہ مرا ہوا تو انسان نہیں بولتا، یہ جانور کیسے بولے گا ؟ گوہ کی تو گردن ہی ایسے ہوتی ہے ٹیڑھی ( جھکی ہوئی ) ۔ آپ ﷺ نے اس کو دیکھ کر فرمایا : ” یا ضب ! “ گوہ کو عربی میں ضب کہتے ہیں۔ گوہ نے فوراً آنکھیں کھولیں اور کہا: ” لبیک و سعدیک“ ﴿ سبحان اللہ !﴾ ” لبیک و سعدیک یا زین من وافی“ کیا خوبصورت نام دیا ہے۔
میرے پاس ایک کتاب ہے علامہ سندھی کی۔ اس میں اللہ کے نبی کے گیارہ سو ستر ۱۱۷۰ نام ہیں ۔ سب صفاتی نام ہیں ۔ ایک تو اللہ نے دیئے ۔ اصفہانی کی روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ نے میرے دس نام رکھے : ” انا محمد و احمد و الماحی و الحاشر و العاقب والفاتح و الخاتم وابو القاسم وطہٰ و یٰسین “ اس کے بعد حضور ﷺ کے جتنے صفاتی نام ہیں ان میں اس جیسا کوئی نہیں ہے۔ میں بتاتا ہوں اس نے کیا کہا : ” لبیک !“ کہ میں حاضر ہوں ۔ ” وسعدیک “ مجھے دو جہاں کے سردار نے پکارا ہے ۔ ” یا زین من وافی یوم القیامۃ “ ویسے تو قیامت کا دن بڑا خوف ناک ہے ۔ پر، اے وہ ذات ! جس کے طفیل قیامت کا دن بھی خوبصورت ہو جائے گا۔ جس نے قیامت کے دن کو مزین کر دیا۔ زین بمعنی مزین ۔ یعنی قیامت کے دن کو خوبصورت بنانے والے ۔
آپ ﷺ نے فرمایا: ” من تعبد “ تیرا رب کون ہے ؟ تو اس نے کہا: ” الذی فی السماء عرشہ، وفی الارض سلطانہ، وفی البحر سبیلہ، وفی الجنۃ رحمتہ، وفی النار عقابہ “ کہ میرا رب وہ ہے جس کا عرش آسمان میں ہے، بادشاہت اس کی زمین میں ہے۔ راستہ سمندر میں ہے، رحمت اس کی جنت میں ہے اور عذاب اس کا جہنم میں ہے۔
پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ” من انا “ میں کون ہوں ؟ تو اس نے کہا ” انت رسول رب العالمین “ آپ حیران ہوں گے کہ اسے بھی پتا ہے کہ ابھی کلام پورا نہیں ہوا۔ تو اس نے کیا کہا ؟ ” انت رسول رب العالمین و خاتم النبیین “ (سبحان اللہ ) ” قد افلح من صدقک و قد خاب من کذبک “ جو آپ ﷺ کی مانے گا وہ کامیاب۔ جو آپ ﷺ کی نہیں مانے گا وہ ناکام ۔ آپ ﷺ نے بدو سے فرمایا : ہاں بھائی ! اب کیا کہتے ہو؟ تو اس بدو نے کہا مجھے کلمہ پڑھا دو ۔ ایک جانور بھی جانتا ہے کہ آپ ﷺ آخری نبی ہیں ۔
پیدا ہوتے ہی ساری صفات انبیاء، آپ ﷺ کے اندر اتار دی گئیں ۔ آپ ﷺ پیدا ہوئے تو آپ ﷺ کی پیدائش بھی عجیب ہے ۔ ماں کے پیٹ سے تشریف لا رہے ہیں تو خوشبو پھیل رہی ہے ۔ کوئی گندگی باہر نہیں آ رہی۔ جیسے جیسے باہر آ رہے ہیں خوشبو پھیل رہی ہے۔ روشنی پھیل رہی ہے۔ آپ کا ختنہ ماں کے پیٹ سے ہوا ہوا تھا۔ آپ کی ناف ماں کی آنت سے جدا ہے۔ آپ کے جسم پر گندگی کا کوئی ادنیٰ ذرہ بھی نہیں ۔ دھلے ہوئے ۔ بالکل صاف ستھرے ۔ لہذا دائی شفاء بنت عمرو یا شفاء بنت اسد جو عبد الرحمن بن عوف کی والدہ ہیں۔ کہنے لگی : یہ کیسا بچہ ہے ؟ اسے پہلو میں لٹایا۔ یہ معصوم بچہ پہلو میں لیٹے ہوئے صرف دس منٹ یا پندرہ منٹ گزرے ہی ہوں گے، ایک زبردست کروٹ لی اور پورے سجدے میں چلے گئے ۔ الٹے نہیں ہوئے بلکہ گھٹنے ٹیک کر ایک لمبا سجدہ کیا، لمبا سجدہ ۔ سجدہ سے اٹھ کر ایک (بائیں ) ہاتھ سے سہارا لیا اور دوسرے ( دائیں ) ہاتھ کی شہادت کی انگلی سے یوں اشارہ کیا تو ایک نور پھیل گیا۔ ماں نے اٹھا کر گود میں لے
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
لیا۔ پھر دیکھا کہ یک دم چھت پھٹ گئی اور اس میں ایک دھواں آیا۔ بادل نہیں، دھند۔ جیسے سردیوں میں ہوتی ہے کہ دو فٹ سے کوئی نظر نہیں آتا۔ وہ سارے کمرے میں پھیل گئی۔ اللہ کے نبی ﷺ حضرت آمنہ کی گود میں ہیں۔ لیکن نظر نہیں آ رہے۔ ایک دم آواز آئی: ”طوفوا بہ مشارق الارض و مغاربہا“ اس بچے کو کل کائنات کا چکر لگواؤ۔ ”لیعرفوا باسمہ ونعتہ و صورتہ“ تاکہ ساری دنیا جان لے کہ یہی ہے جس کے پیچھے چل کے منزل ملے گی۔ ساری دنیا کو بتا دو کہ اس کو پہچانو، اس کی مانو، اس کے پیچھے چلو۔
ایک اور آواز آئی: ”واتوہ خلق آدم، ومعرفة شیث، وشجاعة نوح، وخلة ابراہیم، و ذبحة اسمعیل، وفصاحة صالح، وحكمة لوط، ورضا اسحاق، وبشارة یعقوب، وجمال یوسف، وشدة موسٰی، وجہاد یوشع، وحب دانیال، ووقار الیاس، وقلب ایوب، ولحن داؤد، وطاعة یونس، وعصمة یحیٰی، وزہد عیسٰی علیہم الســــلام“ اس بچے کو آدم کے اخلاق دو، شیث کی معرفت دو، نوح کی شجاعت دو، ابراہیم کی دوستی دو، اسماعیل کی قربانی دو، صالح کی فصاحت دو، لوط کی حکمت دو، اسحاق کی رضا دو، یعقوب کی بشارت دو، یوسف کا حسن و جمال دو، (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں مصری عورتوں نے یوسف کو دیکھ کر ہاتھ کاٹ دیئے۔ میرے محبوب کو دیکھ لیتیں تو دل کاٹ کے بیٹھ جاتیں۔ پہلے حدیث پوری کرلوں پھر ایک بات ذہن میں آئی ہے وہ کروں گا) تو موسٰی کی شدت دو، یوشع کا جہاد دو، دانیال کی محبت دو، الیاس کا وقار دو، ایوب کا دل دو، داؤد کی خوش آواز دو، یونس کی فرمانبرداری دو، یحیٰی کی پاک دامنی دو، عیسٰی کا زہد دو اور تمام انبیاء علیہم السلام کو جو دیا گیا اس بچے کے اندر اتار دو۔ یہ پہلے دن کا واقعہ ہے۔ پھر تریسٹھ سال چار مہینے پرواز ہے۔ کون پکڑ سکتا ہے آپ ﷺ کو؟
یوسف علیہ السلام حسین تھے اور میرے نبی پاک ﷺ وسیم تھے، قسیم تھے۔ ایک بوڑھیا کا واقعہ سناتا ہوں جس نے میرے نبی کا حلیہ بیان کیا یعنی ام معبد۔ وہ کہتی ہیں کہ ”رایت رجلا ظاہر الوضائة ...... الخ“ یہ کب کا واقعہ ہے۔ آپ ہجرت کر کے جارہے ہیں مدینہ۔ راستہ میں ام معبد کا خیمہ تھا۔ کچھ کھانے کو مانگا۔ کچھ تھا نہیں۔ ایک بکری کھڑی تھی بوڑھی، بیمار۔ ام معبد سے پوچھا کچھ ہے؟ کہا: نہیں۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس بکری سے دودھ نکال لوں۔ اس نے کہا: یہ؟! اس کے اوپر سوائے کھال کے اور کوئی شئے ہے ہی نہیں، تو دودھ کہاں سے دے گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا اجازت ہے؟ اس نے کہا: ہاں۔ اب عجیب سا کام ہو رہا تھا کہ بیمار بکری سے دودھ کیسے نکل سکتا ہے۔ وہ یوں غور سے آپ ﷺ کو دیکھنے لگی۔ یہ کون ہے؟ عجیب واقعہ ہو رہا تھا۔ ام معبد کا غور سے دیکھنا آج حلیہ بیان کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ آپ ﷺ نے تھنوں کو ہاتھ لگایا وہ لٹک کے نیچے آ گئے۔ گڈوا بھر گیا۔ تینوں کو پلایا۔ چوتھے آپ ﷺ خود تھے۔ دوبارہ برتن بھر دیا۔ بکری سے دودھ نکلتا ہے کوئی ایک پاؤ۔ آپ ﷺ نے کئی کلو نکال دیا۔ بکری کی عمر ہوتی ہے سات سال۔ سات سال ذبح نہ کرو تو آٹھویں سال میں مرجائے گی۔ اس بکری نے عمر پائی بائیس سال۔ صرف اللہ کے نبی کے ہاتھ لگنے کے طفیل بائیس برس۔ جب اس کا خاوند آیا شام کو، تو کہنے لگا: یہ دودھ کہاں سے؟ وہ کہنے لگی: اسی بکری سے۔ کہا: وہ کیسے؟ کہا: کہ جادوگر تھا، یا وہ بہت حسین تھا، یا اس کے ہاتھوں میں جادو ہے۔ وہ دودھ نکال کر لایا ہے۔ اچھا بتا کیسا تھا۔ تو وہ میں نے آپ کو بتایا: ”رایت رجلا ظاہر الوضائہ، ابلغ الوجہ، حسن الخلقہ، لم تعبہ سجلہ، لم تزرہ صعلہ، وسیم قسیم فی عینہ دعج، فی اشفارہ وطف، فی لحیتہ کثافہ، فی صوتہ صحل، فی عنقہ سطع ان تکلم علاہ البہاء وان سکت علاہ الوقاء فہو اندب الثلاثہ“
آپ الفاظ کی موسیقی محسوس کر رہے ہیں؟ الفاظ میں کیسی موسیقی ہے۔ الفاظ میں کتنا ردھم ہے۔ چاہے ترجمہ سمجھ میں نہیں آ رہا ہے۔ مشکل الفاظ ہیں۔ تھک جاتا ہے آدمی اس کے ترجمے ڈھونڈتے ڈھونڈتے۔ کہنے لگی: میں نے ابو معبد ایک شخص دیکھا۔ مجھے یوں لگا
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جیسے چودھویں کا چاند ہی کپڑے پہن کر زمین پر آ گیا۔ حسن اس کا غلام، جمال اس کا نوکر، چمکتا ہوا چہرہ، خوبصورت بھنویں کمان دار، آنکھوں میں چمک، پلکیں بڑی لمبی ۔ پلکیں لمبی ہوں تو آنکھ خوبصورت ہو جاتی ہے۔ آنکھیں بڑی حسین۔ اگر اور حدیثوں کو جمع کریں تو ” اکحل، احول، اشکل، ابرق، انجل، احزل “ یہ میرے نبی کی آنکھوں کے تعریفی الفاظ ہیں۔ جن کا ایک ترجمہ بنتا ہے:” ایسی آنکھ کائنات میں کسی کو نہیں ملی ۔“
” لم تعبه سجله “ پیٹ نکلا ہوا نہیں تھا کہ بدصورت ہو جائے ۔ ” و لم تزره صعله “ اتنا دبلا پتلا بھی نہیں تھا کہ بے رعب ہو جائے۔ پیٹ نکلا ہوا ہونا ہر آدمی کے لئے عیب ہے۔ لیکن مولوی کا پیٹ نکلا ہو تو سب سے بری بات ہے۔ ”پیٹ سجے پاسے تے آپ کھبے پاسے“ پیٹ دائیں طرف اور خود بائیں طرف ہم کھانے کے لئے زندہ نہیں ہیں۔ بلکہ زندہ رہنے کے لئے کھاتے ہیں۔ کھانے پر تباہی مچا دینا۔ ضیافت کا سن کر دوپہر کا کھانا چھوڑ دینا کہ رات کو کھائیں گے ٹکا کے ۔ نہیں نہیں ! ہر محدث نے اپنی کتاب میں کتاب الاطعمہ کا عنوان باندھا ہے۔ کہ کھانا کیسے ہے۔ یہ بھی ایک علم ہے۔ کھانا کیسے ہے، کیا کھانا ہے، کتنا کھانا ہے۔
میرے نبی وسیماً قسیماً۔ وسیم کسے کہتے ہیں؟ وسیم اسے کہتے ہیں کہ جس کو جتنا دیکھو، دیکھنے کا شوق بڑھتا جائے۔ آنکھ تھکے اور نہ دل بھرے، اسے وسیم کہتے ہیں۔ یہ دنیا میں صرف ایک آیا ہے:” محمد بن عبداللہ بن عبد المطلب بن ھاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرة بن کعب بن لؤی بن غالب بن فھر بن مالک بن نضر بن کنانه بن خزيمة بن مدركة بن الیاس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان بن عود بن همیسع بن سلمان بن عوث بن بوس بن قموال بن ابی بن عوام بن ناشر بن حزام بن بلداس بن بدلان بن يدلاف بن جاهم بن ناحش بن ماحی بن عیفی بن عبقر بن عبید بن الدعاء بن حمدان بن سمبر بن یثربی بن یحزن بن یلحن بن ارعوا بن عیوی بن ذیشان بن عیسر بن اقناد بن ايهام بن مقصر بن فاحی بن زارح بن سمیع بن مزی بن عود بن عرام بن قيدار بن اسمعيل بن ابراهيم بن آزار بن ناحور بن سروج بن رعوج بن فاعر بن عارج بن افحشذ بن سام بن نوح بن لامک بن متوشالح بن ادریس بن یارد بن ملح بن الايل بن قینان بن آنوش بن شيث بن آدم علیہما السلام “
یہ ہیں وسیم ۔ وسیم نام بھی ہوتا ہے۔ لیکن شاید مطلب آپ کو پہلی دفعہ سننے کو ملا ہو۔ وسیم وہ حسن جس کو دیکھ کر آنکھ نہ بھرے اور قسیم کسے کہتے ہیں؟ جو ہر طرف سے خوبصورت ہو۔ سر سے لے کر پاؤں تک ، دائیں سے لے کر بائیں ، بائیں سے لے کر دائیں، آگے سے پیچھے، پیچھے سے آگے، اوپر سے نیچے، نیچے سے اوپر ، سر کے بالوں سے لے کر پاؤں کے ناخن تک ۔ جس کا ہر ہر عضو حسن کا پیکر ہو، اسے قسیم کہتے ہیں۔ تو ہمارے نبی وسیم تھے اور قسیم تھے۔ یہ ایک بدو بوڑھیا نے میرے نبی کا حلیہ بیان کیا ہے۔ بولتے تھے نور چھا جاتا تھا، خاموش ہوتے تھے وقار چھا جاتا تھا۔ یہ میرے نبی پاک ﷺ کا حلیہ مبارک ہے۔
دوستو ! اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اس امت نے اپنے نبی کی ہر ہر چیز کی حفاظت کی ہے۔ آپ ﷺ کی زندگی میں عقیدہ ختم نبوت پر اسود عنسی نے ڈاکہ ڈالا۔ پھر مسیلمہ کذاب نے ۔ اللہ کے حکم سے امت نے سر دھڑ کی بازی لگا کر ختم نبوت کے جھنڈے گاڑے ۔ یہ اسی سلسلے کی کڑی مولانا اللہ وسایا بھی آپ کے سامنے موجود ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ : اس بستی کا نام چناب نگر نہیں ہونا چاہئے ، اللہ وسایا نگر ہونا چاہئے ۔ میرے بس میں ہوتا تو میں ابھی سارے اللہ وسایا نگر کے بورڈ لگوا دیتا ۔ لیکن میرے پاس اتنی طاقت نہیں ہے۔ سرکاری اختیارات میرے قبضہ میں نہیں ۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تو اسود عنسی کو قتل کیا گیا۔ مسیلمہ کذاب کی طرف حضرت ابوبکر صدیقؓ نے عکرمہؓ بن ابی جہل کو بھیجا۔ شکست ہوئی۔ واپسی مڑنے لگے تو ابوبکر صدیقؓ کا پیغام آیا کہ مدینہ میں زندہ داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔ یا جان دے دو یا ختم نبوت کے جھنڈے گاڑ دو۔ پھر فوراً آپ نے خالد بن ولیدؓ کو پیغام بھیجا۔ وہ اس وقت طلیحہ سے لڑ رہے تھے۔ اسے شکست ہوئی اور وہ بھاگ کر شام چلا گیا۔ ابوبکر صدیقؓ نے خالد بن ولیدؓ کو پیغام بھیجا کہ جلدی پہنچو عکرمہؓ بن ابی جہل کی مدد کے لئے۔ عکرمہؓ اور خالد بن ولیدؓ کے لشکر مل کر مسلمانوں کی تعداد بارہ ہزار تھی۔ مسیلمہ کے لشکر کی تعداد کم از کم چالیس ہزار، یا ساٹھ ہزار، یا ایک لاکھ دس ہزار تھی۔ میں بیچ کی تعداد لے رہا ہوں ساٹھ ہزار۔ صحابہؓ کا لشکر بارہ ہزار۔ کوئی ذاتی لڑائی نہیں، کوئی ملک نہیں چھینا، کوئی اموال پر قبضہ نہیں کیا۔ بلکہ ختم نبوت پر ڈاکہ ڈالا تو ابوبکر صدیقؓ نے کہا: ”اینقص الدین وانا حیی“ میرے ہوتے ہوئے دین میں کمی آ جائے۔ میں زندگی میں یہ کیسے برداشت کروں۔ مدینے کو خالی کر دیا کہ نکل جاؤ۔ جب تک سارے قبائل دوبارہ دین اسلام میں داخل نہیں ہوتے، جھوٹے مدعیان نبوت دعویٰ سے رجوع نہیں کرتے۔ مدینے میں لوٹ کر کوئی نہ آئے۔ خالد بن ولیدؓ کے لشکر میں زید بن خطابؓ کے ہاتھ میں جھنڈا تھا مہاجرین کا۔ ثابت بن قیسؓ کے ہاتھ میں جھنڈا تھا انصار کا۔ درمیان میں خالد بن ولیدؓ خود تھے۔ پہلے حملے میں زید بن خطابؓ شہید ہوئے تو جھنڈا گر گیا۔ اسے سالم مولیٰ ابو حذیفہ نے اٹھایا۔ یہ غلام تھے ابو حذیفہ کے۔ زخموں سے چور چور ہو کر گر گئے۔ مہاجرین بھاگ گئے۔ نہیں رک سکے۔
یہ جو ریاض سنتے ہیں سعودیہ کا شہر ہے۔ یہ پرانا یمامہ ہے۔ یہاں جنگ یمامہ ہوئی تھی مسیلمہ کذاب کے خلاف۔ جب مہاجرین کے قدم اکھڑ گئے تو مرتدین خیموں تک چلے گئے۔ سیدنا خالد بن ولیدؓ پریشان ہو گئے کہ میں اب ان کو دوبارہ کھڑا کیسے کروں۔ اللہ کے نبی مشکل وقت میں ہمیشہ مدینہ والوں کو آگے کرتے تھے۔ خالد بن ولیدؓ کو خیال آیا۔ اسی وقت انہوں نے زور سے صدا لگائی: براء، براء، براء بن مالک! میرے نبی کا فرمان ہے کہ میری امت کے کچھ لوگ ایسے ہیں جب وہ ہاتھ اٹھاتے ہیں تو اللہ ان کو خالی نہیں لوٹاتے۔ ان میں سے ایک براء بن مالک بھی ہیں۔ حضرت خالد نے فرمایا: براء! معاملہ ہاتھ سے نکل گیا ہے۔ اب اللہ پر قسم اٹھا! ؎
کبھی ہم بھی تم بھی تھے آشنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
کبھی اللہ سے بڑے تعلق تھے۔ بس! ”یَا“ کہنے سے ہی دروازے کھل جاتے تھے۔ لاکھوں آدمی ختم قرآن کی رات چیخ و پکار رہے ہوتے ہیں حرمین شریفین میں۔ میرے رب کے دروازے کبھی بند نہیں ہوتے۔ شاید ہمارے مانگنے میں کوئی کھوٹ ہے۔ تو فرمایا: براء! آج قسم اٹھا اور مجھے مدینے والے کھڑے کر دے۔ افراتفری کا منظر ہے۔ شکست ہو چکی ہے۔ سارے بھاگ چکے ہیں۔ شکست میں کون کھڑا ہوتا ہے؟ خالد بن ولیدؓ نے کہا کہ یہ بھی تو ہی کر۔ براء بن مالکؓ چھلانگ لگا کر چٹان کے اوپر چڑھے۔ کیا آواز تھی تلواروں کی، گھوڑوں کی، اونٹوں کی۔ اس کے درمیان براء نے زور دار آواز لگائی: ”یا معشر الانصار“ اے انصار کی جماعت! انصار اس طرح دوڑے جس طرح شہد کی مکھی اپنے چھتے کی طرف دوڑتی ہے۔ فرمایا کہ: ”اما المدینہ فلا مدینہ“ اب مدینہ بھول جاؤ۔ یہاں قبر بنانے کی نیت کرو۔ مدینہ کی راہ کو بھول جاؤ۔ یہیں مرنا ہے۔ ہمارا رب اپنا فیصلہ ہمارے حق میں کرے یا یہیں ہماری قبر بنے گی۔
ایک انصاری صحابی ان کے سینے میں تیر پیوست تھا۔ آواز سنی ”یا معشر الانصار“ تو انہوں نے رینگنا شروع کر دیا۔ سینے کے بل رینگتے ہوئے جا رہے ہیں۔ عبداللہ بن عمرؓ نے دیکھا تو پوچھا: کہاں جا رہے ہو؟ تو کہا: آواز لگی ہے: ”یا معشر الانصار“ اور
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
میں انصاری ہوں۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے کہا کہ تمہیں نہیں بلا رہے۔ صحت مند لوگوں کو بلایا ہے۔ کہا: آواز لگانے والے نے یہ نہیں کہا کہ بیمار نہ آئیں، صرف صحت مند آئیں۔ بلکہ پکارنے والے نے کہا کہ انصار آ جائیں۔ رینگنے لگے، زخم پھٹ گئے۔ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے کہا کہ عبداللہ! مجھے اسی پتھر پر بیٹھا دو۔ انہوں نے پتھر پر بیٹھا دیا۔ پھر زور سے آواز لگائی: ”یا معشر الانصار! یوم کیوم بدر وکرة ککرة حنین“ مدینے والو! آج بدر کے دن کی یاد تازہ کر دو۔ آج حنین کی طرح لوٹنے کی یاد تازہ کر دو۔ پھر دوبارہ زور سے کہا۔ سینہ پھٹا، گرے اور شہید ہو گئے۔
تین ہزار کو پھر چلایا براء بن مالک رضی اللہ عنہ، ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ، عباد بن بشر رضی اللہ عنہ، ابو دجانہ رضی اللہ عنہ اور کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے ۔ ان پانچ نے آگے بڑھ کر جھنڈا اٹھایا۔ ان کے پیچھے تین ہزار کا لشکر ۔ مہاجرین بھاگ چکے ہیں۔ پھر تین ہزار نے ساٹھ ہزار کا منہ پھیر دیا۔ ان کو قلعہ تک پہنچا کر قلعہ کے اندر دھکیل دیا۔ قلعہ تک پہنچتے پہنچتے ابو دجانہ شہید ہو گئے۔ ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے۔ عباد بن بشر رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے۔ کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ کٹ گیا۔ باقی بچ گئے براء بن مالک رضی اللہ عنہ ۔ انہوں نے کہا مجھے ڈھال پر بیٹھا کر دھکا دو اور قلعہ کے اندر پھینک دو۔ اوپر سے تیروں کی بارش ہو رہی ہے۔ انہوں نے ڈھال پر بٹھایا، ڈھال کے نیچے نیزے رکھ کر دھکا دیا۔ اڑتے ہوئے دیوار پر اور دیوار سے چھلانگ لگا کر اندر چلے گئے۔ پھر اکیلے ہی لڑتے لڑتے قلعہ کا دروازہ کھول دیا۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اندر داخل ہوئے۔ مسیلمہ کذاب ایک ٹیلے پر کھڑا جنگ کا منظر دیکھ رہا تھا اور لڑ رہا تھا۔ حضرت وحشی رضی اللہ عنہ، نام سنا ہے؟ جنہوں نے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو قتل کیا تھا۔ انہوں نے اپنا برچھا نکالا۔ جس سے انہوں نے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو شہید کیا تھا۔ کہنے لگے: وحشی! آج اس کذاب کو مار دے تو حمزہ رضی اللہ عنہ کا داغ دھل جائے گا۔ پھر دعاء کی: یا اللہ! آج اس کی موت میرے ہاتھ میں لکھ دے۔ حمزہ رضی اللہ عنہ کا داغ میرے سینے پر ہے، کپڑے پر نہیں ہے۔ میں اسے دھونا چاہتا ہوں۔ پھر حضرت وحشی رضی اللہ عنہ ایک طرف سے نکلے۔ دوسری طرف سے محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ ۔
صحابہ رضی اللہ عنہم میں کچھ لوگ ایسے تھے کہ جب ان میں سے ایک نکلتا تو کہا جاتا تھا ایک ہزار آ گیا۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ایک ہزار کے برابر، ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ ایک ہزار کے برابر، براء بن مالک رضی اللہ عنہ ایک ہزار کے برابر، عباد بن بشر رضی اللہ عنہ ایک ہزار کے برابر، کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ ایک ہزار کے برابر، مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ ایک ہزار کے برابر، عمرو تیمی رضی اللہ عنہ ایک ہزار کے برابر، فضل بن عباس رضی اللہ عنہما ایک ہزار کے برابر، عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما ایک ہزار کے برابر، رافع بن عمیرہ رضی اللہ عنہ ایک ہزار کے برابر، ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ ایک ہزار کے برابر، زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ ایک ہزار کے برابر، عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ ایک ہزار کے برابر۔ یہ اچانک چند ایک نام میرے ذہن میں آگئے ۔ ایسے ایک بڑی جماعت ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جو ایک ایک ہزار کے برابر سمجھی جاتی تھی۔ اس میں محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ بھی ہیں ایک ہزار کے برابر۔
اب ایک طرف سے محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ بڑھ رہے ہیں مسیلمہ کو قتل کرنے کے لئے ۔ دوسری طرف سے وحشی رضی اللہ عنہ بڑھ رہے ہیں قتل کرنے کے لئے ۔ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں تلوار تھی۔ ان کو سر تک پہنچنا ضروری تھا۔ جب کہ وحشی رضی اللہ عنہ کو سر تک پہنچنا ضروری نہیں تھا۔ صرف ان کے برچھے کی زد میں آنا ضروری ہے۔ وحشی رضی اللہ عنہ نے دور سے نشانہ لیا اور برچھا مارا۔ ادھر انیس بیس کے فرق سے محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کی تلوار پڑی۔ اس نے مسیلمہ کذاب کا سر پھاڑ دیا۔ حضرت وحشی رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ میں نہیں جانتا کہ میرا برچھا پہلے لگا، یا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کی تلوار پہلے لگی۔ لیکن ایک لڑکی باندی کمرے کے اوپر چھت پر کھڑی دیکھ رہی تھی اس کی گواہی حضرت وحشی رضی اللہ عنہ کے حق میں گئی۔ اس نے کہا: ”وا سیدا قد قتلہ العبد الاسود“ ہائے ! ہمارے سردار کو کالے غلام نے قتل کر دیا۔ یہ اس لڑکی کی گواہی حضرت وحشی رضی اللہ عنہ کے حق جاتی ہے کہ حضرت وحشی رضی اللہ عنہ کا برچھا پہلے لگا۔ قیاس بھی یہی ہے کہ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کے پہنچنے میں چند گھڑیاں دیر ہوئی اور وحشی رضی اللہ عنہ کا
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
برچھا کام کر گیا۔ پھر حضرت وحشی رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ اگر میرے برچھے نے کام دکھایا ہے تو امید ہے کہ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کا داغ دھل گیا ہوگا اور اگر محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کی تلوار نے کام دکھایا تو اللہ مہربان غفور رحیم ہے معاف کر دے گا۔ میرے عزیزو! یہ ہماری تاریخ ہے۔ ہم ایک امت ہیں:
فتنے اس وقت اٹھتے ہیں جب ہم غافل ہوتے ہیں۔ پہلے مجرم ہم ہیں۔ اللہ نے اس امت کو یہ فضیلت بخشی ہے کہ آج تک جتنے فتنے اٹھے ہیں اس امت نے اس کا قلع قمع کیا اور اپنے اپنے دین کو اس طرح بچایا۔ جیسے میرے نبی کے سامنے قرآن پڑھا جاتا تھا آج بھی ویسے پڑھا جاتا ہے۔ جیسے میرے نبی کی زبان سے کلمات نکلے ویسے ہی آج پڑھے جاتے ہیں۔ اس امت نے سند کو ایجاد کیا۔ ہر بات کو متصل کیا۔ ”وبہ قال، ای بالسند المتصل منا“ کہ جو حدیث پڑھ رہا ہوں یہ کوئی ہوا میں اڑ کر نہیں آئی۔ اخبار جہاں سے نہیں آئی۔ جنگ، نوائے وقت سے نہیں آئی۔ مجھ سے میرے نبی تک پورا ایک سلسلہ سند ہے۔ میں تبرکاً سنایا کرتا ہوں۔
بخاری شریف میں نے پڑھی محمد عبداللہ ساہیوال سے، انہوں نے خیر محمد سے، انہوں نے محمد یاسین سے، انہوں نے محمود الحسن سے، انہوں نے محمد قاسم نانوتوی سے، انہوں نے شاہ عبدالغنی سے، انہوں نے شاہ محمد اسحاق سے، انہوں نے شاہ عبدالعزیز سے، انہوں نے شاہ ولی اللہ سے، انہوں نے ابو طاہر مدنی سے، انہوں نے ابراہیم کردی سے، انہوں نے احمد القشاشی سے، انہوں نے ابو المواہب الشناوی سے، انہوں نے محمد بن احمد الدجلی سے، انہوں نے ابو یحییٰ انصاری سے، انہوں نے ابن حجر عسقلانی سے، انہوں نے ابراہیم بن احمد تنوخی سے، انہوں نے احمد بن ابی طالب الحجار سے، انہوں نے حسین بن مبارک الخفی سے، انہوں نے عبدالاول بن عیسیٰ سے، انہوں نے عبدالرحمن بن مظفر الداؤدی سے، انہوں نے عبداللہ بن احمد السرخسی سے، انہوں نے محمد بن یوسف سے، انہوں نے محمد بن اسماعیل البخاری سے، انہوں نے حمیدی سے، انہوں نے یحییٰ بن سعید سے، انہوں نے محمد بن ابراہیم سے، انہوں نے علقمہ بن وقاص رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے، عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
عزیزو! مولانا (اللہ وسایا) ہمارے دین کا سرمایہ ہیں۔ میں نے ان کی جوانی دیکھی ہے۔ ۱۹۸۰ء میں سال لگا رہا تھا۔ اس دوران میری تشکیل ہوئی چنیوٹ میں۔ چنیوٹ میں انہی دنوں ختم نبوت کا جلسہ ہوتا تھا۔ ادھر ان کا ربوہ میں ہوتا تھا۔ ادھر وہاں چنیوٹ میں جلسہ ہوا کرتا تھا۔ مولانا اسٹیج پر ہوتے تھے۔ بالکل جوان تھے۔ کالی داڑھی تھی۔ جوش خطابت بھی تھا اور جوش جوانی بھی تھا۔ جوش جوانی ہائے ہائے! مجھے وہ یاد ہے۔ جلسہ میں ایک مولانا عبدالرحمن جامعہ اشرفیہ والوں کا خطاب یاد ہے۔ ایک مولانا اجمل تھے ان کا بیان یاد ہے۔ علامہ احسان الہی ظہیر کا بیان یاد ہے۔ بس یہی دو چار نام یاد تھے۔ ہاں! ایک نواب زادہ نصر اللہ خان تھے ان کی شاعری ایسی تھی کہ ان کی اپنی ایک لذت تھی۔ باقی ان کے مضمون سے کوئی خاص تعلق نہیں تھا۔ لیکن بڑے ادیب اور شاعر آدمی تھے۔ مولانا تاج محمود تھے جو اسٹیج سیکرٹری کے فرائض سر انجام دے رہے تھے۔ ہم نے تینوں دن سارا جلسہ اٹینڈ کیا۔ کیونکہ ہمارا تبلیغی مرکز سامنے تھا۔ ہماری تین دن کی تشکیل ہوئی تو میں نے سب سے کہا کہ ہم نے تینوں دن اس جلسے کو اٹینڈ کرنا ہے ہماری تشکیل یہیں ہے۔ تینوں دن اس میں ہم شریک ہوتے رہے۔ لیکن یہ مجھے چند نام یاد ہیں۔ باقی ایک شیعہ حضرات میں سے تھے عین غین کراروی۔ ان کی تقریر تو یاد نہیں ان کا حلیہ یاد آ گیا ہے۔ دبلے پتلے سے تھے۔
میرے عزیزو! آپ نے بہت کچھ یہاں (ختم نبوت کورس) سے لیا۔ اس کو امت میں پھیلانا، پہنچانا اب آپ کی ذمہ داری
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہے ۔ میری ایک نصیحت ہے کہ اپنی زندگی میں نرمی کو شامل کر لو۔ اپنی گفتگو میں ، اپنے اخلاق میں ، اپنے کردار میں ۔ کل کو تمہاری شادی ہونے والی ہے ، بیوی کے ساتھ نرمی ۔ ماں باپ کے ساتھ نرمی ۔ کل کو تمہاری اولاد ہو گی تو اولاد کے ساتھ نرمی ۔ پڑھانے کا موقع ملے تو شاگردوں کے ساتھ نرمی ۔ تمہارا کوئی پڑوسی ہے تو پڑوسی کے ساتھ نرمی اختیار کرو ۔ معذرت کے ساتھ ہم دینی مدارس کے طلباء میں شدت ہوتی ہے۔ برداشت نہیں ہوتی ۔ جلدی غصے میں آ جاتے ہیں ۔ مجھ سے ایک آدمی نے پوچھا کہ مولانا ! مدرسہ کے طالب علم جلدی غصہ میں آ جاتے ہیں ۔ کالج کے طالب علم جلدی غصہ میں نہیں آتے ۔ اس کی کیا وجہ ؟ میں نے اس سے کہا کہ ان کا پہلے دن سبق ہوتا ہے : ”ضرب، ضربا“ (قہقہہ لگا) پہلے دن ہی لڑائی ، مار کٹائی ۔ لہٰذا الفاظ اثر کرتے ہیں ۔ الفاظ میں جادو ہوتا ہے۔ یہ ”ضرب، ضربا، ضربوا، ضربت“ یہ چودہ دفعہ کہنا پھر ”لم یضرب، لن یضرب، اضرب، لاتضرب“ یہ سارا دن ضرب ہی ضرب ہوتا ہے۔ ضرب زید، پتا نہیں کہاں سے آ گیا زید ۔ ساری نحو ہی برباد ہو گئی زید کے پیچھے ۔ میں آپ سب بچوں سے گزارش کروں گا کہ نرمی ، نرمی ۔
زندگی کے ہر شعبہ میں جیسے پانی اور ہوا ہے اس کے بغیر زندگی کوئی نہیں ۔ اسی طرح نرمی کے بغیر دین کوئی نہیں ۔ قرآن کا سنٹر والا لفظ کیا ہے؟ ”ولیتلطف“ یہاں کوئی اور لفظ بھی تو آسکتا تھا۔ ”ولیتلطف“ کا مطلب کیا ہے ؟ انتہائی نرمی ۔ باب تفعل میں مبالغہ ہے۔ باب تفعل اور تفعیل دونوں میں مبالغہ ہوتا ہے اور تکرار ہوتا ہے۔ ”ولیتلطف“ یہ قرآن کا درمیان والا لفظ ہے ۔ یہ مزاج قرآن بتا رہا ہے۔ ترازو کے درمیان میں ایک کانٹا ہوتا ہے۔ وہ کانٹا صحیح ہو تو وزن صحیح ہوتا ہے۔ اگر ٹیڑھا ہو تو وزن غلط ہو جاتا ہے۔ مزاج قرآن اور قرآن کا کانٹا : ”ولیتلطف“ نرمی مزاج ہے۔ شدت ہو گی تو یوں یا ادھر کو ہو جاؤ گے یا ادھر کو ہو جاؤ گے ۔ اگر یوں اعتدال میں رہنا چاہتے ہوں ۔
تو بچو ! نرمی پیدا کرو ، نرمی پیدا کرو ۔ اللہ نے اپنے نبی کو احسان جتلایا: ”الم نشرح لک صدرک، ووضعنا عنک وزرک، الذی انقض ظھرک، ورفعنا لک ذکرک“، ”انا اعطیناک الکوثر“، ”الم یجدک یتیما فاویٰ، ووجدک ضالا فھدیٰ، ووجدک عائلا فاغنیٰ“ احسان جتلایا ہے ۔ جس احسان کو بہت بڑا کر کے جتلایا ہے وہ ہے نرمی ، نرمی ۔ کیسے ہے؟ احسان بعد میں ہے اور انداز پہلے ”فبما“ میں ”ما“ کو کھینچوں گا ۔ (ما کو کھینچا) ”ما“ کا مطلب ہے میرے محبوب (ﷺ)! تیرے رب کی وہ رحمت آئی ہے جو مشرق و مغرب سے بھی بڑی ہے ۔ شمال و جنوب سے بھی بڑی ہے ۔ زمین و آسمان سے بھی بڑی ہے ۔ اتنی بڑی رحمت تیرے رب کی آپ ﷺ کے اوپر آئی اور آپ ﷺ نرم ہو گئے ۔
تو بچو! اگر ہم سخت ہوں گے تو کیسے ہمارا کام چلے گا۔ بیوی نفرت کرے گی۔ بچے نفرت کریں گے ۔ شاگرد نفرت کریں گے ۔ آگے اللہ کہتا ہے: ”لو کنت فظا غلیظ القلب لانفضوا من حولک“ میرے محبوب (ﷺ)! اگر آپ ﷺ کے مزاج میں شدت ہوتی ، آپ ﷺ کے مزاج میں سختی ہوتی ، آپ ﷺ کے بول میں سختی ہوتی تو کیا کیا ہوتا ؟ ”لانفضوا“ یہ آپ کو چھوڑ جائیں گے ۔ انفضوا فرمایا ۔ انفضاض کیا ہوتا ہے ؟ اب ہم یہاں موجود ہیں ۔ جب مجلس ختم ہو گی تو ہم کیسے نکلیں گے ۔ آرام سے ۔ اللہ نہ کرے کوئی زلزلہ کا جھٹکا آئے تو پھر کیسے اٹھو گے ؟ پھر تو تمہیں مولانا اللہ وسایا بھی یاد نہیں رہیں گے ۔ تم نے کہنا ہے کہ ہماری جان بچ جائے ۔
ہماری جماعت میں ایک ساتھی تھے صدیق ۔ ان کو دو آدمی اٹھاتے بٹھاتے تھے ۔ پھر بیان ختم ہوتا ، تو لے جاتے ، گاڑی میں بٹھاتے ۔ وہ موٹے بہت تھے گھٹنوں میں بھی درد ۔ ایک اور ساتھی تھا اقبال ۔ وہ بھی اتنا ہی معذور تھا ۔ لیکن وہ تھوڑا یوں ٹانگ کو ٹیڑھا (لنگڑا) کر کے چل لیتا تھا ۔ تو اسے بیان کرنے کو دیا ۔ مسجد بہت بڑی تھی ۔ زلزلے کا جھٹکا آیا ۔ شکر ہے میرا بیان نہیں تھا ورنہ بدنامی ہوتی ۔ تو
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
وہ جو تھے نا صدیق صاحب وہ سب سے آگے بھاگ رہے تھے اور اقبال صاحب اس سے بھی آگے بڑھ رہے تھے۔ سمجھے ہو؟ اس کو کہتے ہیں ”انفضاض“۔
ہمارے بچپن میں پنجاب میں ریچھ، کتے کی لڑائیاں ہوتی تھیں۔ ہمارے علاقہ میں یہ بہت زیادہ تھا۔ ہمارے ایک بھائی نے بہت بڑی جائیداد برباد کر دی ریچھ کتے لڑا لڑا کے۔ ہمارے علاقہ میں ایک لڑائی تھی ریچھ کتے کی۔ اس میں ہمارے علاقہ کے بڑے زمین دار مہر صاحب بھی شریک تھے۔ ان کا وزن تھا: غور سے سننا ”صرف آٹھ من، آٹھ من“ چار نوکر ہر وقت ان کے ساتھ ہوتے تھے۔ اب ان کو بھی شوق ہوا کہ میں بھی لڑائی دیکھوں۔ ان کو لایا گیا اور میدان میں چار پائی رکھ کر ان کو بٹھا دیا۔
ریچھ دو طرح کے لڑتے تھے۔ یہ ساری میرے بچپن کی تصویریں مجھے نظر آ رہی ہیں۔ ایک ریچھ جو قدآور ہوتا وہ کھڑے ہو کر لڑتا تھا۔ دوسرا جو چھوٹے قد کا ہوتا وہ دوڑتے دوڑتے لڑتا تھا۔ ادھر بھاگ کے گیا ایک تھپڑ مارا۔ ادھر کو گیا تو ایک تھپڑ مارا۔ یہ بھاگنے والا عام طور پر جیت جاتا تھا۔ کھڑا ہو کر لڑنے والا عام طور پر ہار جاتا تھا۔ کبھی ایسا ہوتا جو بھاگنے والا ریچھ ہے، اس کا رسا ہی چھوٹ جاتا تھا اس کے سر مارنے کی وجہ سے اور جھٹکا دینے کی وجہ سے۔ ایسا ہی ہوا کہ لڑائی ہو رہی تھی۔ اس نے جھٹکا مارا تو رسہ ٹوٹ گیا۔ اب ریچھ سیدھا مہر صاحب کی طرف۔ مہر پہلوان جس کو چار آدمی اٹھاتے تھے وہ دیکھ رہا ہے کہ یہ میری طرف آ رہا ہے۔ جب اسے یقین ہوا کہ یہ تو آیا میری طرف۔ اس نے ایک چھلانگ لگائی اور بھاگا۔ پیچھے گھر تھا سیدوں کا۔ اندر گھسنے لگا۔ لوگوں نے کہا مہر جی! سیداں دا گھر اے۔ اس نے کہا: ”پچھوں سرلیندا اے ریچھ، تہانوں پردے دی پئی اے“
یہ ہے ”لانفضوا من حولک“ کا ترجمہ۔ ”انفضاض“ اٹھنے یا چھوڑنے کو نہیں کہتے۔ بلکہ ”بھگدڑ مچ جائے، بھگدڑ“ اسے کہتے ہیں ”انفضاض“ لہٰذا میرا اللہ کہہ رہا ہے کہ میرے محبوب! آپ جیسی ہستی ہو اور مزاج میں سختی ہو تو بھاگ جائیں گے، پیچھے مڑ کر نہیں دیکھیں گے۔ کون؟ صحابہ ؓ۔
میرے بچو! آپ اگر شدت دکھاؤ گے، غصہ دکھاؤ گے تو آپ میں اور غیروں میں کیا فرق رہ جائے گا۔ میں منیٰ سے جا رہا تھا۔ رمی کا دن تھا۔ سعید انور، انضمام الحق، مشتاق احمد اور ایک ساتھی اور تھے۔ تو ایک غیر مقلد بھائی تھے انہوں نے حج میں کہیں میرا بیان سنا۔ اب بس میں انہوں نے مجھ پر خوب چڑھائی شروع کر دی۔ تو نے یہ کیوں کہا مجھے جواب دو۔ یہ یوں کیوں کہا مجھے جواب دو۔ میں نے کہا کہ میں نے تو جو جواب دینا تھا دے دیا۔ اب تو میرے پاس کوئی زیادہ علم نہیں ہے۔ اس نے کہا: نہیں نہیں مجھے پتا ہے تم بڑے عالم ہو، مجھے جواب دو۔ میں نے کہا: بھائی! میرے پاس اب کوئی جواب نہیں ہے۔ تو اس نے مجھے بے عزت کرنا شروع کیا۔ ٹکا کے، ٹکا کے بے عزت کرنا شروع کیا اور میں چپ، چپ ( منہ پر انگلی رکھ کر اشارہ فرمایا )۔ جب ہم جمرات پر اترے تو سعید انور نے مجھے کہا کہ مولانا! آج ایک بات کا پتا تو چل گیا کہ صحیح کون ہے اور غلط کون ہے۔ کہنے لگا جب وہ گرمی دکھا رہا تھا تو میرا جی چاہا کہ میں اس کو ایک چھکا ماروں۔ لیکن پھر مجھے خیال آیا کہ جس کی بے عزتی ہو رہی ہے وہ چپ بیٹھا ہے تو پھر میں کیوں بولوں۔ لہٰذا میں بھی چپ ہی رہا۔ لیکن مجھے اتنا ضرور پتا چل گیا کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے۔
میرے بچو! کبھی غصے میں نہ آنا۔ کہیں بھی، کسی سے واسطہ پڑے تو نرمی: ”اللہ لیعطی علی الرفق مالا یعطی علی الخرق“ اللہ تعالیٰ جو نرمی پہ دیتا ہے وہ سختی پہ نہیں دیتا۔ میرے نبی ﷺ کا فرمان ہے کہ: ”لو کان الرفق خلقا لما رأی الناس
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
خلقا اجمل منہ‘‘ اگر اللہ تعالیٰ نرمی کی کوئی شکل بناتا تو اس سے خوب صورت کوئی شکل نہ ہوتی۔ اگر سختی کی کوئی شکل بناتا تو اس سے بد صورت کوئی شکل نہ ہوتی۔ تمہیں ممبر پر بیٹھنا ہے، آستینیں نہ چڑھانا۔ گلہ نہ پھاڑنا۔ کسی پر چڑھائی نہ کرنا۔ کسی کا رد بھی کرو تو ایسے انداز سے کرو کہ اگلا سمجھے کہ یہ میرا خیر خواہ ہے۔ جیسے مولانا زاہد الراشدی صاحب کے قلم میں جو حسن ہے ان کے کلام میں جو حسن ہے، چاہے وہ کسی کا رد بھی کرتے ہیں تو پڑھنے والا سننے والا ضرور کہے گا کہ یہ بندہ میرا ہمدرد ہے۔ مانے یا نہ مانے وہ ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ان کی تحریر کا، گفتگو کا یہ وصف ہے کہ پڑھنے والا مجبور ہو جاتا ہے یہ کہنے پر کہ یہ بندہ میرا خیر خواہ ہے۔
تو بچو! یہ اللہ سے مانگو کہ اللہ تمہیں عطا فرمائے۔ آخر میں اتنا کہوں گا کہ ہم تبلیغ والے ہیں۔ مانگے بغیر تو ہمارا بھی گزارا نہیں ہو سکتا۔ اب تم یہاں سے فارغ ہو رہے ہو۔ میں سال تو نہیں مانگتا کہ تم مختلف درجات کے ہو۔ لیکن کم از کم چلہ تو لگالو۔ کیا خیال ہے؟ تو کون تیار ہے؟ سارے تیار ہیں ماشاء اللہ! بہت مہربانی۔ اب میں نے 9 بجے چلنا ہے۔ کوئی مصافحہ نہ کرے۔ مجھے بہت خوشی ہوئی کہ اس پاکیزہ، روح پرور مجمع میں اللہ نے مجھے پہنچایا۔ میں ان تین، چار بچوں کا بڑا شکر گزار ہوں جو مجھے فیصل آباد میں ملنے آئے۔ کون تھے؟ وہ بچے کہاں ہیں؟ اگر بیٹھے ہیں تو کھڑے ہو جائیں (وہ کھڑے ہو گئے تو آپ نے فرمایا)۔ ہاں! یہ وہ بچے ہیں مولانا (اللہ وسایا)! جن کے ذریعہ مجھے معلوم ہوا کہ یہاں ایک خوبصورت منظر ہے اور میں آ گیا۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین!
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۸ء ص ۱۶ تا ۲۸)
ختم نبوت کانفرنس کنری
۲۶/ اپریل ۲۰۱۸ء بروز جمعرات بعد نماز عشاء بخاری چوک کنری میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ قاری عبید اللہ نے تلاوت کی۔ حافظ حذیفہ نے ہدیہ نعت پیش کی۔ پہلا بیان حیدر آباد کے مبلغ مولانا توصیف احمد کا ہوا۔ دوسرا بیان سندھ کے عظیم خطیب مولانا عیسیٰ سموں کا ہوا۔ مولانا نے سندھی زبان میں تفصیلی گفتگو فرمائی اور لوگوں سے قادیانیوں کے بائیکاٹ کا عہد لیا۔ اس کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما مولانا عزیز الرحمن ثانی کا بیان ہوا۔ مولانا نے کہا کہ قادیانی صرف اسلام کے دشمن نہیں بلکہ پاکستان کے بھی دشمن ہیں اور پاکستان کی سالمیت کے لئے منفی کردار ادا کرنے والے قادیانی ادارے ہیں۔ مزید مولانا ثانی نے کہا کہ جب تک جان میں جان باقی ہے ناموس رسالت کے قانون کو تبدیل نہیں ہونے دیں گے۔ آخر میں قاری کامران کا بیان ہوا۔ مبلغ ختم نبوت مولانا مختار احمد نے اسٹیج سیکرٹری کے فرائض سرانجام دیئے۔ تمام علماء اور عوام الناس کا شکریہ ادا کیا اور گزشتہ ماہ ٹالہی کے قریب ۲۲ افراد جو قادیانیت سے تائب ہو کر مسلمان ہوئے ان کے دو سربراہان کو خوش آمدید کہتے ہوئے اسٹیج پر بلوایا اور اجرک پیش کی تو سارا مجمع ختم نبوت زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا۔ ان کی استقامت کے لئے دعاء کی گئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۸ء ص۴۳، ۴۴)
ختم نبوت کانفرنس تحصیل کوٹ رادھاکشن
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۴شعبان المعظم مطابق یکم مئی ۲۰۱۸ء کو جامع مسجد قباء میں مولانا حاجی عبدالغنی صوبائی رہنما جمعیت علماء اسلام کی صدارت میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ تلاوت کلام پاک کی سعادت قاری محمد اکرم نے حاصل کی۔ ہدیہ نعت مولانا محمد آصف عزیزی اور حافظ عمر فاروق نے پیش کیا۔ کانفرنس سے مولانا محمود الحسن، مبلغ ختم نبوت مولانا عبدالرزاق مجاہد، مرکزی ناظم تبلیغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے بیانات کئے۔ مقررین نے مرزا قادیانی کا کردار بیان کرتے ہوئے امتناع آرڈیننس کی وضاحت
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کی۔ مولانا محمود الحسن، مولانا عبدالحق، مولانا عبیداللہ اور مولانا عبدالرزاق نے کانفرنس کی تیاری و کامیابی کے لئے خوب محنت کی۔ مستورات کے لئے جامعہ فضیلت للبنات میں الگ باپردہ انتظام کیا گیا۔ کثیر تعداد میں مستورات نے کانفرنس میں شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۸ء ص۴۴)
جامعہ علوم شرعیہ جھنگ میں ختم نبوت کورس
جامعہ کی بنیاد مولانا سید صادق حسین شاہ بخاری نے رکھی۔ موصوف بنیادی طور پر تلہ گنگ ضلع چکوال کے رہنے والے تھے۔ دورۂ حدیث شریف دارالعلوم دیوبند سے کیا۔ شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی کے شاگرد رشید تھے۔ فراغت کے ایک عرصہ بعد جھنگ کی جامع مسجد حق چار یار غلہ منڈی کے خطیب مقرر ہوئے اور پھر تاحیات یہاں کے ہو کر رہ گئے۔ غلہ منڈی کے قریب جامعہ علوم شرعیہ کے نام سے مدرسہ قائم کیا۔ آپ سیاسی طور پر جمعیت علماء اسلام سے تاحیات وابستہ رہے۔ ایک تبلیغی سفر میں مولانا رشید احمد مدنی، حاجی عزیز الرحمن، حافظ محمد حذیفہ، جناب عبدالرحمن کے ساتھ ۷؍ستمبر ۱۹۹۱ء کو جام شہادت نوش فرمایا۔ ختم نبوت کی ہر تحریک میں دل و جان سے شریک رہے۔ قید و بند کی صعوبتیں ان کے راستہ میں رکاوٹ نہ بن سکیں۔ غلہ منڈی کے قریب جامعہ علوم شرعیہ کے نام سے ادارہ قائم کیا۔ آپ کی شہادت کے بعد آپ کے فرزند ارجمند مولانا سید مصدوق حسین شاہ مدظلہ آپ کے جانشین مقرر کئے گئے اور موصوف جامعہ کے مہتمم اور جامع مسجد حق چار یار غلہ منڈی کے خطیب مقرر ہوئے۔ مولانا سید مصدوق حسین شاہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مقامی یونٹ کے امیر اور مولانا اقبال احمد شیروانی ناظم اعلیٰ، مولانا غلام حسین مبلغ ہیں۔ موصوف نے بنات کے شعبہ میں ختم نبوت کورس رکھا، جس میں مجلس کے مبلغین مولانا غلام حسین، مولانا حبیب احمد، مولانا محمد قاسم رحمانی، مجلس سرگودھا کے امیر مولانا نور محمد ہزاروی نے مختلف عنوانات پر تربیتی لیکچر دیئے۔ آپ کے حکم پر راقم (مولانا محمد اسماعیل) نے بھی ۳؍مئی کو صبح ۸ بجے سے گیارہ بجے تک نعت و تلاوت کے وقفہ سے لیکچر دیا۔
پشاور کا دو روزہ دورہ
چاچا عنایت اللہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور جمعیت علماء اسلام کے جانباز مجاہد ہیں۔ مفکر اسلام مولانا مفتی محمود صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ تھے، تو چاچا آپ کے خادم تھے۔ ساری زندگی جمعیت علماء اسلام میں گزاری، جب مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی مجلس پشاور کے امیر بنے تو چاچا عنایت اللہ مجلس میں آگئے اور آج کل عملاً مفتی صاحب کے سیکرٹری ہیں۔ چاچا نے فون پر فرمایا کہ دو دن کے لئے پشاور آنا ہے۔ پروگرام رکھے ہیں تو راقم ۴؍مئی کا جمعہ حافظ آباد میں ادا کرنے کے بعد مولانا احمد سعید اعوان حفظہ اللہ کی معیت میں خیبر پختونخواہ کے لئے روانہ ہوا رات مولانا قاری محمد اسلم مدظلہ کے ہاں نوشہرہ میں گزاری اور ۵؍مئی کو قبل از دوپہر مولانا عبدالقیوم حقانی کی زیارت و ملاقات کے لئے ”خالق آباد“ جامعہ ابوہریرہ میں آپ کی قیادت میں حاضری دی۔
”پبی“ جامعہ حقانیہ اور طبیہ کالج کے فاضل مولانا حکیم جنت گل مطب چلاتے ہیں آدھ پون گھنٹہ حکیم صاحب سے ملاقات کی اور پشاور روانہ ہوئے جہاں ہمارے میزبان جناب حاجی شیر محمد لالی کے فرزند ارجمند محمد زکریا نے ہمیں وصول کیا، چند لمحہ بعد جناب چاچا عنایت اللہ بھی تشریف لے آئے اور حاجی محمد عابد کی معیت میں جامع مسجد اقصیٰ فاریسٹ کالج کالونی یونیورسٹی کیمپس کے خطیب اور مجلس کے مقامی یونٹ کے امیر مولانا ڈاکٹر مظفر خان نے اپنے رفقاء سمیت خیر مقدم کیا اور مغرب کی نماز کے بعد ایک تلاوت اور نعت کے بعد راقم نے عقیدۂ ختم نبوت کی حفاظت کے لئے امت مسلمہ کی عظیم الشان قربانیوں کا سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں مسیلمہ کذاب سے لے کر مرزا
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیانی کے دور خباثت تک مختصر تذکرہ کیا اور خیبر پختونخواہ کے علماء کرام مولانا مفتی محمود، مولانا غلام غوث ہزاروی، مولانا عبدالحق اکوڑہ خٹک، مولانا صدر الشہید، مولانا مفتی عبدالقیوم پوپلزئی سمیت مجاہدین ختم نبوت کو خراج تحسین پیش کیا۔
شاہ فاضل مسجد میں کانفرنس
۶ مئی ۲۰۱۸ء کو میاں شاہ فاضل کچی محلہ اندرون لاہوری گیٹ کی جامع مسجد میں مغرب کی نماز کے بعد ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی، جس کی صدارت امیر محترم مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی مدظلہ نے کی۔ تلاوت کے بعد جناب سراج الحق نے پشتو اور اردو زبانوں میں حمد و نعتیں پیش کیں۔ امیر محترم نے پشتو زبان میں پُرمغز بیان فرمایا۔ حفظ و ناظرہ امتحان میں کامیاب ہونے والوں کی دستار بندی کی گئی اور انہیں انعامات سے نوازا گیا۔ راقم نے بھی عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت، قرآن پاک حفظ و ناظرہ کے فضائل پر خطاب کیا، چاچا عنایت اللہ، مولانا یاسر خان، حاجی شیر محمد لالی کی رفاقت حاصل رہی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۶ تا ۳۰؍ جون ۲۰۱۸ء ص ۲۴، ۲۵)
دارالعلوم دیوبند میں تحفظ ختم نبوت تربیتی کیمپ کی اختتامی تقریب
کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند کی زیر نگرانی منعقدہ چھ روزہ تحفظ ختم نبوت تربیتی کیمپ ۱۱؍ مئی ۲۰۱۸ء بحسن و خوبی اختتام پذیر ہو گیا۔ چھ روزہ تربیتی کیمپ میں کل ۱۵؍ نشستیں ہوئیں۔ اکثر نشستوں میں مربی خصوصی مولانا شاہ عالم گورکھپوری کے مفصل تربیتی خطابات ہوئے۔ انہوں نے قادیانیوں، شکیلیوں اور جھوٹے مدعیان مہدویت کی گمراہی و بطلان کو انہیں کی تحریرات و کتب سے واضح کیا۔ ایک نشست میں مولانا اشتیاق احمد مہراج گنجی مبلغ کل ہند مجلس کا ’’کذبات مرزا اور پیشین گوئیاں‘‘ پر بیان ہوا۔ دو نشستوں میں قاری سید محمد عثمان منصورپوری ناظم کل ہند مجلس نے ’’مسئلہ رفع و نزول عیسیٰ علیہ السلام‘‘ پر محاضرہ پیش فرمایا۔ دو نشستوں میں حافظ اقبال احمد کا تحفظ سنت کے موضوع پر تفہیمی انداز میں بیان ہوا۔ ایک نشست میں مولانا محمد راشد گورکھپوری نے بصیرت افروز خطاب کیا۔ چار نشستوں میں علمائے کرام کے بیانات میں پیش کئے گئے حوالہ جات مولانا محمد شاہد انور بانکوی، ماسٹر محمد احمد ایم اے گورکھپوری کارکنان مرکز التراث الاسلامی دیوبند، مولانا ضیاء الاسلام گڈھاوی، مولانا اشرف علی تملناڈو اور راقم الحروف متعلمین شعبہ تحفظ ختم نبوت نے نوٹ کرائے۔ مرکز التراث الاسلامی دیوبند کی توسط سے جملہ حوالوں کو کمپیوٹر اور پروجیکٹر کی مدد سے اسکرین پر دکھلائے گئے۔ علاوہ ازیں ایک نشست میں مولانا محمد اظہر قاسمی دربھنگوی اور ڈاکٹر محمد عزیر احمد ممبئی نے رد شکیلیت پر کام کرنے کے طور و طریق اور اپنی روئداد و کارگزاری بیان کئے۔ اختتامی نشست سے خطاب کرتے ہوئے مولانا شاہ عالم گورکھپوری نے تحفظ ختم نبوت کی علمی، سماجی، تبلیغی، صحافتی، تصنیفی، تدریسی ہمہ جہت خدمات اور حالات حاضرہ کے تقاضوں کی تکمیل سے مسلسل وابستہ رہنے کے لئے شرکاء کیمپ سے اپیل کی کہ وہ بذات خود کسی بھی خدمت یا عہدے سے وابستہ ہونے سے قبل تحفظ ختم نبوت کے ممبر بنیں اور عوام کو بھی رضا کارانہ طور پر ممبر بنائیں۔ ہمارے اکابر نے تحفظ ختم نبوت کی خدمات کو قومی خدمات کے طور پر متعارف کرایا تھا۔ لیکن اب اسے مسلکی محاذ میں تبدیل کر کے محدود کر دیا گیا ہے۔ لہٰذا تحفظ ختم نبوت کی خدمات کا دائرہ قومی سطح پر اس طرح وسیع کیا جائے کہ قوم کا ہر فرد ایمان و عقائد کے تحفظ کے لئے تحریک تحفظ ختم نبوت کا بے لوث سپاہی بنے۔ مولانا نے موضوع کے تعلق سے اردو ہندی اور دیگر مقامی زبانوں میں لٹریچر کی توسیع و اشاعت پر بھی زور دیا۔ بعد ازاں شرکاء کیمپ کو گراں قدر قیمتی انعامات بشکل کتب اور سند شرکت سے نوازا گیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۱۸ء ص ۵۰)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بہاول پور میں درس قرآن وحدیث
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام یکم تا سولہ رمضان المبارک مطابق ۱۵ تا ۳۰؍ جون ۲۰۱۸ء جامع مسجد الصادق میں صبح کی نماز کے بعد درس کا سلسلہ عرصہ دراز سے جاری ہے۔ مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا محمد قاسم رحمانی، مولانا مفتی محمد راشد مدنی، مولانا محمد اسحاق ساقی، مولانا عبدالحکیم نعمانی اور مولانا محمد وسیم اسلم نے امسال درس دیئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۱۸ء ص ۵۵)
تربیتی نشست تونسہ شریف
۲۸؍ جون ۲۰۱۸ء بروز جمعرات بعد نماز ظہر جامعہ محمدیہ تونسہ شریف میں تربیتی نشست ہوئی جس میں مہمان خصوصی مولانا اللہ وسایا نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور فضیلت کو بیان فرمایا۔ تحصیل تونسہ شریف کی تمام دینی قیادت، وکلاء اور تاجر طبقہ نے خصوصی شرکت کی اور اس پروگرام کے میزبان مولانا حبیب الرحمن عثمانی تھے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت تحصیل تونسہ شریف کے امیر مولانا عبدالعزیز لاشاری اور مبلغ مولانا محمد اقبال، حکیم عبدالرحمن جعفر، حکیم عبدالرحیم جعفر، مولانا غلام مصطفیٰ اشعری اور کئی ایک حضرات نے شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۱۸ء ص ۳۰)
ختم نبوت کانفرنس وہوا
۲۸؍ جون ۲۰۱۸ء بروز جمعرات بعد نماز عشاء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت وہوا کے زیر اہتمام ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ صدارت: مولانا عبدالعزیز لاشاری، نعت: جناب غلام فرید طیب، بیان: مولانا اللہ وسایا، مولانا حبیب الرحمن عثمانی۔ زیر نگرانی: مبلغ ختم نبوت ڈیرہ غازی خان مولانا محمد اقبال، مولانا سعد اللہ سعدی اور قاری محمد شوکت۔ خصوصی شرکت مولانا محمد شریف حیدری۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۱۸ء ص ۵۳)
ختم نبوت کانفرنس احمد پور شرقیہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام یکم؍ جولائی ۲۰۱۸ء بروز ہفتہ بعد نماز عشاء احمد پور شرقیہ میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس قاری خلیل احمد کے زیر انتظام اور جناب شیر محمد قریشی امیر عالمی مجلس احمد پور شرقیہ کی زیر صدارت منعقد ہوئی۔ کانفرنس سے مولانا اللہ وسایا، مولانا عبدالکریم ندیم، مولانا عبدالغفور حقانی، مولانا محمد اسحاق ساقی و دیگر علماء کرام نے بیانات کئے۔ دارالعلوم فتحیہ کے اساتذہ کرام، مولانا سیف الرحمن راشدی ان حضرات نے کانفرنس کی کامیابی کے لئے بھر پور کردار ادا کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۱۸ء ص ۵۳)
رسول پور شکرانی میں ختم نبوت کانفرنس
اوچ کے مغربی جانب پانچ سات کلومیٹر کے فاصلہ پر رسول پور شکرانی ہے جس میں قادیانیوں کے چند گھر ہیں۔ سہ ماہی میٹنگ میں طے ہوا کہ یکم؍ جولائی ۲۰۱۸ء کو رسول پور شکرانی میں ختم نبوت کانفرنس منعقد کی جائے۔ مولانا محمد اسحاق ساقی مبلغ بہاولپور نے کوشش کر کے عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کیا، کانفرنس ظہر سے عصر تک جاری رہی۔
تلاوت ونعت کے بعد مولانا یار محمد عابد، راقم الحروف محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا قاری محمد صادق اچ شریف، مولانا عبدالکریم ندیم اور مولانا اللہ وسایا کے بیانات ہوئے، مقررین نے قادیانیوں کو دعوت اسلام دی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
خانیوال میں ختم نبوت کورس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامع مسجد میں دو روزہ ختم نبوت کورس ۳، ۴/ جولائی ۲۰۱۸ء کو منعقد ہوا۔ ۳/ جولائی کو صدارت جمعیت علماء اسلام کے رہنما جناب اکرام القادری نے کی۔ مولانا محمد اسماعیل نے اوصاف نبوت پر ایک گھنٹہ خطاب کیا۔ ۴/ جولائی کو کورس کے شرکاء سے مولانا خواجہ عبد الماجد صدیقی مدظلہ، مولانا عطاء المنعم اور مولانا عبد الستار گورمانی نے خطاب کیا۔
جامعہ فاروقیہ صمد پورہ میں تکمیل قران کانفرنس
۵/ جولائی ۲۰۱۸ء عشاء کی نماز کے بعد جامع مسجد و مدرسہ فاروقیہ صمد پورہ میں تکمیل قران و ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی، جس کی صدارت مولانا قاری غلام محمود نے کی، جب کہ مہمان خصوصی مولانا مفتی غلام مصطفیٰ تھے۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا عبد الرزاق مجاہد نے سرانجام دیئے۔ تفصیلی خطاب مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے فرمایا، جس میں فضائل قرآن اور عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت وفضیلت پر سیر حاصل بحث کی۔
لاہور کا تین روزہ تبلیغی و تنظیمی دورہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی تین روزہ تبلیغی و تنظیمی دورہ پر لاہور تشریف لائے۔
آپ نے ۶/ جولائی جمعتہ المبارک کا خطبہ مرغزار کالونی کی جامع مسجد فاروق میں دیا، سینکڑوں مسلمانوں تک ختم نبوت کی آواز پہنچائی۔
۷/ جولائی بعد نماز عصر جامع مسجد کوثر لنڈا بازار میں درس دیا۔
۸/ جولائی بعد نماز ظہر جامع مسجد زبیر گلشن راوی میں منعقدہ ختم نبوت کورس کے شرکاء سے خطاب فرمایا، کورس میں سینکڑوں حضرات نے شرکت کی۔
گوجرانوالہ کا تین روزہ دورہ
مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی تین روزہ تبلیغی دورہ پر گوجرانوالہ تشریف لائے۔ آپ نے اپنے دورہ کا آغاز کامونکی سے کیا، آپ نے کامونکی میں ایک مقامی ہوٹل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جسٹس جناب شوکت عزیز صدیقی کا فیصلہ اسلامیان پاکستان کے دلوں کی آواز ہے۔
مغرب کی نماز کے بعد مولانا محمد مزمل کی دعوت پر جامع مسجد طیب کامونکی میں عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت پر خطاب کیا۔ عشاء کی نماز کے بعد جامعہ فاروقیہ کے اساتذہ و طلباء سے خطاب فرمایا۔ جامعہ فاروقیہ کے مہتمم ہمارے حضرت خا کوانی صاحب دامت برکاتہم کے مسترشدین میں سے ہیں۔ کامونکی میں درجہ کتب کا شاندار ادارہ چلا رہے ہیں۔ رات کا قیام عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی کنگنی والا ہاشمی کالونی گوجرانوالہ میں رہا۔
۱۰/ جولائی بعد نماز عصر جامع مسجد خلفاء راشدین کھیالی دروازہ میں بیان ہوا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ کے ناظم تبلیغ قاری عبد الغفور کی معیت حاصل رہی، بعد نماز عشاء منڈیالہ وڑائچ میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ تلاوت ونعت کے بعد مولانا محمد عارف شامی، مولانا فقیر اللہ اختر کے بیانات ہوئے، آخری بیان مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کا ہوا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۱۱؍ جولائی مرکز ختم نبوت میں اسکولوں کے طلباء کو عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت وضرورت پر لیکچر دیا، لیکچر کا انتظام مولانا سید احمد حسین زید نے کیا۔ بعد نماز مغرب استاذ العلماء والمفتین مولانا مفتی محمد عیسیٰ گورمانی کی مسجد میں درس دیا۔ درس کا اہتمام مفتی صاحب کے فرزند ارجمند مولانا مفتی احمد اللہ نے کیا۔ قاری عبدالغفور آرائیں کی رفاقت حاصل رہی۔
مولانا شجاع آبادی گجرات کے دورہ پر
۱۲؍ جولائی مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی گجرات تشریف لائے۔ ۱۰ بجے صبح مکی مسجد تبلیغی مرکز سے متصل مدرسہ کے طلباء اور اساتذہ کرام سے عقیدۂ ختم نبوت اور ہماری ذمہ داری کے عنوان پر خطاب فرمایا۔ مدرسہ کے نگران اور صدر مدرس مولانا محمد یوسف مدظلہ ہیں۔ سینکڑوں طلباء کرام درجہ حفظ و ناظرہ اور شعبہ کتب میں زیرتعلیم ہیں۔ اسی روز ظہر کی نماز کے بعد دارالعلوم بسوال کے شعبہ بنات میں سینکڑوں طالبات اور خواتین سے خطاب فرمایا، عنوان تھا: ’’ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے مسلمان عورت کا کیا کردار ہونا چاہئے؟‘‘ دارالعلوم بسوال مولانا محمد عاصم زیدمجدہ کے اہتمام وانتظام میں ترقی کے منازل طے کر رہا ہے۔ عصر کی نماز دارالعلوم کے شعبۂ بنین میں ادا کی اور بچوں کو نصیحتیں فرمائیں۔
۱۳؍ جولائی جمعۃ المبارک کا خطبہ جامع مسجد صدیق اکبر کالرہ خاصہ گجرات میں ارشاد فرمایا۔ مذکورہ بالا مسجد کے خطیب مولانا پروفیسر اشفاق حسین منیر ہیں۔ پروفیسر مذکور جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے فاضل ہیں۔ مختلف کالجز میں لیکچرار اور پروفیسر رہے ہیں۔ دینی کاموں میں پیش پیش رہتے ہیں، جماعت کے خوردوکلاں سے محبت فرماتے ہیں۔ ان کے حکم پر جمعۃ المبارک کا خطبہ ان کی مسجد میں رکھا گیا۔
جلال پور جٹاں میں ختم نبوت کورس
۱۳؍ جولائی مغرب سے عشاء تک جامع مسجد میان بڑھا میں دوروزہ ختم نبوت کورس منعقد ہوا۔ کورس کی نگرانی اور انتظام وانصرام مولانا قاری ندیم جعفر مدظلہ نے کیا۔ کورس کا آغاز ایک طالب علم کی تلاوت کلام سے ہوا۔ نعت قاری شبیر احمد قاسمی سلمہ نے پڑھی اور شاعر ختم نبوت سید امین گیلانی کے کلام سے اپنی خوبصورت آواز سے سامعین کو محظوظ کیا۔ بعد ازاں مولانا شجاع آبادی نے ’’ختم نبوت اور اجرائے نبوت‘‘ پر بیان کیا۔ عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت پر قرآن پاک، احادیث نبویہ، اجماع امت اور عقل سلیم سے دلائل بیان کئے، جب کہ قادیانیوں کے نظریہ اجرائے نبوت کے تار و پود بکھیرے۔ ایک سو سے زائد حضرات نے شرکت کی۔ رات کا آرام وقیام مولانا قاری ندیم جعفر کے گھر رہا اور اگلا سارا دن بھی موصوف کے مکان پر گزارا۔
۱۴؍ جولائی مغرب سے عشاء تک کورس کی دوسری نشست منعقد ہوئی، جس میں مولانا نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور رفع و نزول پر عام فہم لیکچر دیا اور قادیانیوں کے معروف اشکالات اور ان کے جوابات ارشاد فرمائے۔ عنایت حسین بھٹی، حافظ محمد مدثر، حافظ محمد اشرف، محمد یعقوب، محمد اویس، مولانا قاری محمد محسن نے کورس کی کامیابی کے لئے تبلیغی گشت کئے۔ اللہ پاک ان حضرات کی مساعی جمیلہ کو قبول فرمائیں۔ آمین!
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۸ تا ۱۵؍ اگست ۲۰۱۸ء ص ۲۰ تا ۲۲)
تین روزہ تحفظ ختم نبوت کورس کراچی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حلقہ اسٹیل ٹاؤن کے تحت تین روزہ ختم نبوت کورس ختم نبوت کے مبلغ اور ضلع ملیر کے ذمہ دار مولانا محمد اسحاق مصطفیٰ کی نگرانی میں منعقد ہوا، جب کہ کورس کی سرپرستی جامع مسجد المصطفیٰ کے امام وخطیب نے کی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کورس سے قبل اسٹیل ٹاؤن کی تمام مساجد میں دعوت چلائی گئی۔ ۱۳تا ۱۵/ جولائی بروز جمعہ تا اتوار مغرب تا عشاء تقریباً سوا گھنٹہ سبق ہوا۔ پہلے روز سبق مولانا محمد اسحاق مصطفیٰ نے پڑھایا۔ دوسرا سبق بروز ہفتہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا قاضی احسان احمد نے پڑھایا، جس میں آپ نے کہا کہ امت مسلمہ کا قادیانیوں سے اختلاف اصولی ہے نہ کہ فروعی اور کہا کہ قادیانیوں اور عام غیر مسلموں میں فرق کفر و زندقہ کا ہے اور آخر میں آپ نے حیات عیسیٰ علیہ السلام اور وفات عیسیٰ علیہ السلام پر بھی مختصر مگر مدلل گفتگو کی۔ تیسرا سبق عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا عبدالحئی مطمئن نے پڑھایا، جس میں انہوں نے امام مہدی علیہ الرضوان کی علامات اور ان کی آمد سے متعلق احادیث بیان کیں۔ الحمد للہ! تینوں مبلغین حضرات نے اپنے اسباق انتہائی مدلل و موثر انداز میں پڑھائے اور تینوں دن حاضرین کی تعداد چالیس سے پچاس کے درمیان رہی۔ کورس کا اختتام مولانا عبدالحئی مطمئن کی دعاء پر ہوا اور تمام شرکاء نے ختم نبوت کے کام کا پختہ عزم کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۶ تا ۳۱/اگست ۲۰۱۸ء ص ۲۲)
مولانا اللہ وسایا کے دورۂ سندھ کی اجمالی رپورٹ
مولانا اللہ وسایا چھ روزہ دورۂ سندھ پر ۱۵/ جولائی ۲۰۱۸ء کو کراچی تشریف لائے۔ ۱۵/ جولائی بروز اتوار صبح ۱۱ بجے شایان لان بلوچ کالونی میں مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ کی سرپرستی، استاذ العلماء مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر امیر مرکزیہ کی زیر صدارت اور مولانا محمد رضوان کی زیرنگرانی تحفظ ختم نبوت سیمینار منعقد ہوا۔ جس میں کثیر تعداد میں علماء کرام، عوام الناس اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے حضرات نے شرکت کی، خواتین کے لئے پردہ کا انتظام بھی کیا گیا۔ تلاوت کلام پاک مولانا حافظ محمد کلیم اللہ نعمان، ہدیہ نعت حافظ عرفان سعید اور نقابت کے فرائض مولانا عبدالحئی مطمئن نے ادا کئے۔ سیمینار سے اختتامی کلمات اور دعاء مولانا حافظ عبدالقیوم نعمانی مدظلہ نے کرائی۔
اسی روز جامع مسجد شاداب کی انتظامیہ اور امام و خطیب مولانا مفتی ڈاکٹر عزیز الرحمن اور مولانا مفتی محمد خرم عباسی مہتمم جامعۃ الابرار اور مقامی کارکنوں کی کوشش اور محنت سے مولانا اللہ وسایا کا جامع مسجد شاداب، گلبرگ ٹاؤن بلاک ۱۱، فیڈرل بی ایریا میں بعد نماز عشاء مفصل بیان ہوا۔ مولانا محمد قاسم پروگرام کے منتظم تھے۔ پروگرام کے اختتام پر ”گلستان ختم نبوت کے گلہائے رنگا رنگ“ مولانا مفتی محمد خرم عباسی کی طرف سے تحفتاً تقسیم کی گئی۔ پروگرام ہر اعتبار سے خوب رہا۔
۱۶/ جولائی بروز پیر صبح ساڑھے گیارہ بجے سے ساڑھے بارہ بجے تک جامعہ اشرف المدارس میں اساتذہ و طلباء کے سامنے عقیدہ تحفظ ختم نبوت پر سیر حاصل علمی گفتگو فرمائی۔ اسی روز نماز عصر دکھنی جامع مسجد میں ادا کی، جہاں بھائی محمد مستقیم پراچہ کے بھائی اور بیٹے مولانا محمد بن مستقیم پراچہ سے تعزیت کی اور مرحوم کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ رات بعد نماز عشاء جامعہ معہد الخلیل کے استاذ مفتی محمد سلمان یاسین کی دعوت پر نجم مسجد شہید ملت روڈ پر مولانا اللہ وسایا کا ایمان افروز اور وجد آفرین بیان ہوا۔
۱۷/ جولائی بروز منگل بعد نماز عشاء جامع مسجد الہدیٰ بفرزون میں پروگرام منعقد ہوا، پروگرام کا اہتمام عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حلقہ بفرزون اور شادمان ٹاؤن کے ذمہ داران نے کیا۔ بعد ازاں جامعہ فاروقیہ فیز ٹو میں مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان سے ملاقات کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا ایک وفد مولانا اللہ وسایا کی سربراہی میں جامعہ فاروقیہ فیز ٹو میں گیا۔ وفد میں قاضی احسان احمد، جناب سیّد انوار الحسن شاہ شامل تھے۔ مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان صاحب سے تقریباً آدھ گھنٹہ ملاقات رہی اور مختلف امور پر تبادلہ خیال ہوا۔ انہوں نے ختم نبوت جماعت کی بھر پور محنتوں اور کاوشوں کو سراہا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۱۸/ جولائی بروز بدھ بعد نماز عشاء جامع مسجد مدنی آئی بلاک نارتھ ناظم آباد میں مولانا اللہ وسایا نے خطاب کیا، پروگرام کا انتظام مولانا معاذ پراچہ نے مولانا محمد یونس اور مولانا محمد نعیم کی نگرانی میں کیا۔
۱۹/ جولائی بروز جمعرات صبح پونے دس کے قریب جامعہ معہد الخلیل الاسلامی میں مولانا اللہ وسایا تشریف لے گئے۔ جامعہ کے منتظمین نے عزت افزائی فرمائی، طلباء سے خطاب فرمایا۔ بعد ازاں کراچی سے میر پور خاص کا سفر مولانا اللہ وسایا نے محترم الحاج طارق سمیع اور سید انوار الحسن شاہ کی معیت میں شروع کیا، میر پور خاص میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے جدید مرکز اور مسجد کے تعمیراتی کام کا جائزہ لیا۔ دعائے خیر کی اور احباب میر پور خاص سے ملاقات ہوئی۔ عصر کے بعد مدینہ مسجد میں بیان کیا اور پانچ نو مسلم حضرات کو اسلام قبول کرنے پر مبارک باد دی۔
۱۹/ جولائی بروز جمعرات بعد نماز عشاء گلزار حبیب مسجد پاک کالونی ٹنڈو الہیار میں ختم نبوت کانفرنس استاذ العلماء مولانا مفتی محمد عرفان مدظلہ مہتمم مدرسہ صدیق اکبر ٹنڈوالہ یار کی زیر سرپرستی، محبوب العلماء مولانا محمد راشد محبوب امیر مجلس تحفظ ختم نبوت ٹنڈوالہ یار کی زیر صدارت اور امام و خطیب جامع مسجد گلزار حبیب مولانا خالد نثار کی زیر نگرانی منعقد ہوئی۔ تلاوت اور نعت کے بعد تقاریر کا سلسلہ شروع ہوا، نقابت کے فرائض عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حیدر آباد ڈویژن کے مبلغ مولانا توصیف احمد نے سرانجام دیئے۔ پروگرام کے مہمان خصوصی مولانا اللہ وسایا تھے۔ پروگرام میں خطیب سندھ واعظ خوش الحان مولانا قاری کامران، مولانا قاضی احسان احمد اور دیگر نے بھی شرکت کی۔ اس کے بعد حیدر آباد کی طرف قافلہ روانہ ہوا۔
۲۰/ جولائی بروز جمعۃ المبارک کو مولانا توصیف احمد نے حیدر آباد کی مشہور و معروف وسیع وعریض جامع مسجد ابراہیم خلیل اللہ میں مولانا اللہ وسایا اور جامع مسجد نعمانیہ لطیف آباد نمبر ۷ میں مولانا قاضی احسان احمد کا جمعہ طے کر رکھا تھا۔ خطبات جمعہ سے فراغت کے بعد مولانا اللہ وسایا اور مولانا قاضی احسان احمد حیدر آباد سے ملتان کے لئے عازم سفر ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۱۸ء ص ۵۴، ۵۵)
ختم نبوت کانفرنس حیدرآباد
۱۸/ جولائی ۲۰۱۸ء بروز منگل بعد عشاء نزد جامع مسجد ختم نبوت، بہار کالونی کوٹری ضلع جامشورو میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس سے مرکزی مبلغ مولانا قاضی احسان احمد، مولانا صبغت اللہ جوگی، مولانا راشد مدنی کے بیانات ہوئے۔ جب کہ مولانا توصیف احمد، مولانا عبدالمجید ہالیجوی و دیگر کئی علماء کرام نے شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۸ء ص ۵۲)
ختم نبوت کانفرنس ٹنڈوالہیار
۱۹/ جولائی ۲۰۱۸ء کو بعد عشاء جامع مسجد گلزار حبیب پاک کالونی ٹنڈوالہیار میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے تحت ختم نبوت کانفرنس منعقد کی گئی۔ کانفرنس سے مولانا اللہ وسایا، مولانا قاضی احسان احمد، قاری کامران احمد نے مجمع عام سے خطاب کیا۔ کانفرنس کی صدارت مفتی محمد عرفان نے کی۔ تلاوت قاری علی حسن اور نعت حافظ شہباز شاہ نے پیش کی۔ جب کہ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا توصیف احمد نے سرانجام دیئے۔ کانفرنس کے انتظامات مولانا خالد نثار اور مسجد انتظامیہ نے سنبھالے۔ شہر کے علماء کرام مفتی ذوالفقار احمد، مفتی شبیر احمد، مفتی مجیب الرحمٰن، مولانا طالب و دیگر نے بھی شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۸ء ص ۵۲)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
خطبات جمعۃ المبارک
۲۷/ جولائی ۲۰۱۸ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغین حضرات نے گمبٹ صوبہ سندھ میں جمعۃ المبارک کے اجتماعات سے خطابات فرمائے۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے جامع مسجد رحمانیہ میں، مولانا قاضی احسان احمد نے جامع مسجد مکی میں، مولانا محمد حسین ناصر نے جامع مسجد ٹاؤن غازی میں اور مولانا تجمل حسین نے جامع مسجد ختم نبوت خاتم النبیین میں عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور تحفظ ناموس رسالت کے موضوعات کو اجاگر کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۸ء ص ۵۵)
ختم نبوت کانفرنس ہالانی
۲۷ جولائی ۲۰۱۸ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جناب فضل علی شاہ قریشی مسکین پور کے نام سے منسوب مدرسہ دارالفضل ہالانی صوبہ سندھ میں کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی صدارت مولانا سید نثار احمد شاہ اور نگرانی مولانا سید حماد اللہ ایڈووکیٹ نے کی۔ کانفرنس سے مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا قاضی احسان احمد اور مولانا تجمل حسین کے بیانات ہوئے۔ بعد ازاں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے مولانا ولی اللہ عباسی کی دعوت پر مدرسہ دارالعلوم فضلیہ سیدو باغ میں حاضری دی۔ یہ مدرسہ بھی جناب قریشی مسکین پوری کے نام سے منسوب ہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۸ء ص ۵۳)
ختم نبوت کانفرنس خانواہن
۲۸/ جولائی ۲۰۱۸ء بروز ہفتہ کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام بعد نماز ظہر تا عصر مدینہ مسجد خانواہن میں کانفرنس منعقد ہوئی۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا قاضی احسان احمد اور مولانا تجمل حسین کے بیانات ہوئے۔ کانفرنس کے انتظامات ملک عبد الغفور اور ان کے رفقاء کرام نے کئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۸ء ص ۵۲)
ختم نبوت کانفرنس محراب پور
۲۸/ جولائی ۲۰۱۸ء بعد نماز عشاء جامع مسجد قباء میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت مقامی امیر مولانا عبدالصمد اور نگرانی مولانا خالد محمود نے کی۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا قاضی احسان احمد اور مولانا تجمل حسین نے کانفرنس میں عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ پر زور دیا۔ ختم نبوت کے مبلغین حضرات کا قیام مدرسہ مدینۃ العلوم میں ہوا۔ اگلے روز ٹھل شہر کی عظیم دینی درسگاہ میں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور مولانا قاضی احسان احمد کے بیانات ہوئے۔ مدرسہ انوار القرآن محمدیہ عباسی واٹر کا بھی دورہ ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۸ء ص ۵۲، ۵۳)
ختم نبوت کورس گوجرہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامعہ رحمتہ للعالمین ۸۴ پھاٹک گوجرہ میں پانچ روزہ ختم نبوت کورس ۲۸/ جولائی تا یکم / اگست ۲۰۱۸ء کو منعقد ہوا۔ جس میں ۵۶ طلباء کرام اور ۶۵ طالبات نے شرکت کی۔ کورس میں عقیدہ ختم نبوت، تحفظ ناموس رسالت، سیدنا عیسیٰ علیہ السلام، سیدنا امام مہدی علیہ الرضوان اور قادیانیت جیسے اہم موضوعات پر مولانا مفتی محمد شیراز العصر تعلیمی مرکز پیرمحل، مولانا غلام حسین جھنگ، مولانا مجاہد مختار مدرس العصر تعلیمی مرکز پیرمحل اور ضلعی مبلغ مولانا محمد حبیب نے لیکچر دیئے۔ شرکاء کورس میں سے اول انعام بنت
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
محمد رفیق، اہلیہ محمد جاوید، دوم انعام محمد سفیان ولد بشیر احمد، سوم انعام غلام مصطفیٰ ولد محمد شریف، شہباز علی ولد لیاقت علی نے حاصل کئے اول، دوم، سوم کے علاوہ تمام شرکاء کورس کو انعامات سے نوازا گیا پورے کورس کی نگرانی جامعہ رحمتہ للعالمین کی انتظامیہ بالخصوص قاری عبداللطیف نے فرمائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۸ء ص ۵۵)
ختم نبوت کانفرنس شہداد پور
۲۹؍ جولائی ۲۰۱۸ء بروز اتوار بعد نماز عشاء سنہری مسجد شہداد پور میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس کی صدارت جامعہ الحسینیہ دارالعلوم کے شیخ الحدیث مولانا محمد سلیم مدظلہ نے فرمائی۔ کانفرنس میں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور مولانا قاضی احسان احمد نے بیانات فرمائے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۸ء ص ۵۳)
ختم نبوت کانفرنس حیدر آباد
۳۰؍ جولائی ۲۰۱۸ء بروز پیر کو مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی حیدرآباد ڈویژن کے دورہ پر تشریف لائے۔ بعد نماز ظہر جامع مسجد سبحان اللہ ہالا ناکا میں خطاب کیا۔ پروگرام کے میزبان مہتمم جامعہ عمر مولانا گلزار احمد تھے۔ بیان میں شہر کے علماء کرام مفتی محمد عرفان، قاری اعظم، قاری خالد محمود، قاری شمس الدین، جامعہ کے اساتذہ کرام نے شرکت کی۔ رات کو بعد نماز عشاء جامع مسجد بلال کہسار سوسائٹی حیدر آباد میں ختم نبوت کانفرنس مولانا محمد عمران کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ تلاوت طالب علم عبدالباسط، نعت قاری محمد شعیب نے پیش کی۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا توصیف احمد نے مجمع سے بیان کیا۔ آخر میں لولاک رسالے کی ترغیب بھی دی گئی۔ الحمد للہ کثیر تعداد میں نمازی حضرات ماہنامہ لولاک کے خریدار بنے۔ پروگرام میں مولانا سیف الرحمٰن، مولانا محمد عمران امام مسجد ہٰذا، مفتی محمد عرفان، مولانا نیاز احمد، مولانا حمید اللہ، مولانا محمد اکرم نے شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۸ء ص ۵۳)
ختم نبوت سیمینار حیدر آباد
۳۱؍ جولائی ۲۰۱۸ء بروز منگل صبح ۱۱ بجے جامعہ البنات میں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کا بیان ہوا۔ رات کو بعد عشاء جامع مسجد مدینہ العلوم پٹھان کالونی میں ختم نبوت سیمینار منعقد ہوا۔ ان پروگرامز میں مولانا صادق الاسلام، مفتی مجیب الرحمٰن، مفتی ذوالفقار احمد، و دیگر کئی علماء کرام نے شرکت کی۔ اگلے روز یکم اگست کو جامعہ قاسمیہ ماتلی میں صبح ۱۱ بجے طلباء و اساتذہ میں بیان فرمایا۔ بعد نماز عصر مدرسہ بیت السلام ماتلی جو دارالعلوم الحسینیہ شہداد پور کی شاخ ہے میں بیان ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۸ء ص ۵۶،۵۵)
ختم نبوت کانفرنس گلارچی
یکم اگست ۲۰۱۸ء بروز بدھ بعد نماز عشاء جامع مسجد مدینہ گلارچی میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مولانا محمد ابراہیم صدیقی کی زیرصدارت کانفرنس منعقد ہوئی۔ مہمان خصوصی مولانا حکیم محمد عاشق تھے۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا توصیف احمد اور مولانا محمد حنیف کے بیانات ہوئے۔ ۲؍ اگست بروز جمعرات کو جامعہ خدیجۃ الکبریٰ میں طالبات اور خواتین سے مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کا بیان ہوا۔ بعد نماز ظہر خضریٰ مسجد میں درس ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۸ء ص ۵۳
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس ٹنڈو غلام محمد
۲؍اگست ۲۰۱۸ء بروز جمعرات کو بعد نماز عشاء جامع مسجد قاضی مبارک میں مولانا حافظ محمد زبیر مدظلہ کی زیر صدارت ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا توصیف احمد اور مولانا محمد حنیف سیال کے بیانات ہوئے۔ رات کا قیام ڈگری جامع مسجد عمر فاروق ﷺ میں ہوا۔ مولانا غلام مصطفیٰ جالندھری کے ہاں ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۸ء ص ۵۴)
ختم نبوت کانفرنس کوٹ غلام محمد
۳؍اگست ۲۰۱۸ء کو بعد نماز عشاء محمدی مسجد کوٹ غلام محمد میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس کی صدارت مولانا پروفیسر محمد اسلم نے کی۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا مختار احمد، مولانا توصیف احمد کے بیانات ہوئے۔ اگلے روز ۴؍اگست کو مبلغین حضرات نے فجر کی نماز کے بعد شہر کی مختلف مساجد میں بیانات کئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۸ء ص ۵۴)
ختم نبوت کانفرنس سرائے عالمگیر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامع مسجد شاہی سرائے عالم گیر ضلع گجرات میں ۳؍اگست ۲۰۱۸ء بعد نماز مغرب ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ جامعہ حنفیہ تعلیم القرآن کے متعلمین حافظ محمد معاذ نے تلاوت جب کہ مولانا قاری محمد عاطف نے حمد ونعت کا ہدیہ پیش کیا۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض ختم نبوت گجرات کے مبلغ مولانا محمد قاسم نے انجام دیئے۔ کانفرنس سے خصوصی بیان مولانا اللہ وسایا کا ہوا۔ میز بانی کی ذمہ داریاں مولانا گل محمد خطیب جامع مسجد ہذا اور قاری محمد طارق نے نبھائیں۔ اہلیان علاقہ نے بھر پور نمائندگی کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۸ء ص ۱۷)
ختم نبوت کانفرنس میر پور خاص
۴؍اگست ۲۰۱۸ء کو بعد نماز مغرب ختم نبوت کانفرنس جامع مسجد اقصیٰ میں مولانا شبیر احمد کرنالوی کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا مختار احمد نے خطاب کیا۔ اسی روز بعد نماز ظہر مدرسہ مظہر العلوم میں مولانا حکیم محمد اختر کے فرزند ارجمند اور جانشین مولانا حکیم محمد مظہر سے ملاقات ہوئی۔ میر پور خاص میں زیر تعمیر مرکز ختم نبوت میں مولانا حکیم محمد مظہر کی معیت میں حاضری دی اور حضرت والا کی دعاء میں شرکت کی۔ رات کا قیام بھی مولانا حکیم محمد مظہر کے قائم کردہ مدرسہ مظہر العلوم میں ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۸ء ص ۵۴)
ختم نبوت کانفرنس مانو خان چانڈیو
۵؍اگست ۲۰۱۸ء بروز ہفتہ بعد نماز عشاء جامع مسجد میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس سے مولانا منظور احمد سومرو، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا مختار احمد اور مولانا خان محمد پٹھان کے بیانات ہوئے۔ رات کا قیام بھائی شکیل احمد برادران نواب شاہ کے ہاں ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۸ء ص ۵۴)
مولانا قاضی احسان احمد کراچی کا دورہ سکھر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سکھر کے مبلغ مولانا محمد حسین ناصر کی دعوت پر قاضی احسان احمد ۶؍اگست ۲۰۱۸ء کو سکھر تشریف لائے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بعد نماز عصر پنوعاقل میں مدرسہ کے طلباء سے بیان کیا۔ بعد نماز مغرب صالحانی گوٹھ جامع مسجد میں مولانا محمد حسین ناصر اور قاضی احسان احمد کا بیان ہوا۔ بعد نماز عشاء مرکزی جامع مسجد پنوعاقل میں حافظ عبد الغفار شیخ ، مولانا محمد حسین ناصر اور قاضی احسان احمد کے بیانات ہوئے ۔ ۱۷؍ اگست کو بعد نماز ظہر جامعہ دارالعلوم سکھر میں قاضی احسان احمد نے طلباء کرام کو لیکچر دیا ۔ بعد نماز عصر الفاروق مسجد سکھر میں مختصر بیان ہوا۔ بعد نماز عشاء جامع مسجد باب رحمت میں مفتی عبدالباری کی سرپرستی میں قاضی احسان احمد کراچی کا مفصل بیان ہوا۔
علاوہ ازیں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سکھر کے مبلغ مولانا محمد حسین ناصر نے اندرون سکھر شہر میں درجن سے زائد مساجد میں بیانات کر کے مقامی سطح پر یونٹ قائم کئے ۔ سکھر کے علاوہ رستم سومرانی شریف ، میر پور ماڑو ، روہڑی سمیت دیگر مضافاتی علاقوں میں بھی مقامی جماعتوں کے یونٹ قائم کئے گئے۔ ۱۷؍اگست کو پرانا سکھر میں مولانا محمد حسین ناصر نے خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔ بعد ازاں پریس کلب سکھر کے سامنے توہین آمیز خاکوں کے خلاف بھر پور احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرے میں مولانا سعود افضل ، مولانا محمد صالح انڈھڑ ، مولانا محمد حسین ناصر سمیت دیگر علماء کرام نے بیانات کئے ۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۸ء ص ۵۶)
ختم نبوت کانفرنس بہاول پور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام شاہی جامع مسجد الصادق بہاول پور میں ۱۱؍ اگست ۲۰۱۸ء بروز ہفتہ بعد نماز عشاء سالانہ فقید المثال ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ۔ جس کی صدارت صاحبزادہ خواجہ عزیز احمد مدظلہ اور نگرانی مولانا محمد اسحاق ساقی نے فرمائی ۔ کانفرنس کی تیاری کے لئے مولانا محمد خبیب مبلغ عالمی مجلس ٹوبہ ٹیک سنگھ ، مولانا محمد اقبال مبلغ ڈیرہ غازی خان نے بھر پور محنت کی۔ علماء کرام کے اجلاس رکھے گئے ۔ انتظامی امور کے حوالہ سے مولانا صہیب احمد کا تعاون لائق صد تحسین ہے ۔ کانفرنس کا آغاز قاری محمد اقبال کی تلاوت کلام پاک سے ہوا ۔ ہدیہ نعت مولانا امام الدین تبسم ملتانی نے پیش کیا ۔ کانفرنس سے عالمی مجلس کے مرکزی قائدین مولانا عزیز الرحمن جالندھری ، مولانا اللہ وسایا ، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور مولانا عبد الکریم ندیم نے بیانات فرمائے ۔ پہلا بیان مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے کرتے ہوئے عالمی مجلس کی کارکردگی پر روشنی ڈالی ۔ پھر مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے فرمایا ۱۹۳۵ء سے آج تک جامع مسجد صادق میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس ہوتی چلی آرہی ہے ۔ آپ لوگوں کا یہاں تشریف لانا ، علماء کرام کے بیانات سننا ، اس سے بڑی خوش بختی اور کوئی نہیں ہے ۔ بعد ازاں مولانا اللہ وسایا نے مسئلہ ختم نبوت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ تورات و انجیل میں بھی واضح موجود ہے کہ آپ ﷺ اللہ کے آخری پیغمبر و رسول ہیں ۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی کوشش سے کئی خاندان قادیانیت سے تائب ہو کر دائرہ اسلام میں داخل ہوئے ۔
آخر میں مولانا عبد الکریم ندیم کا خطاب ہوا ۔ انہوں نے حضور خاتم الانبیاء ﷺ کی سیرت طیبہ اور پھر عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ پر تفصیلی گفتگو فرمائی ۔ جامع مسجد الصادق میں مجلس کے زیر اہتمام مدرسہ تعلیم القرآن عرصہ دراز سے قائم ہے ۔ اس موقع پر بسبب تکمیل قرآن دو بچوں کی دستار بندی صاحبزادہ عزیز احمد کے دست مبارک سے کرائی گئی ۔ اسٹیج پر مولانا مفتی عطاء الرحمن ، مولانا منیر احمد منور کہروڑ پکا ، مولانا فضل الرحمن دھرم کوٹی ، مفتی محمد مظہر اسعدی ، قاری محمد احمد چشتیاں ، مولانا قاری راشد محمود نظامیہ ، مولانا حبیب الرحمن کہروڑ پکا ، قاری غلام یاسین ، مولانا عبد الرزاق سمیت دیگر علماء کرام کی ایک کھیپ موجود تھی ۔ نقابت کے فرائض مولانا محمد خبیب اور مولانا محمد اسحاق ساقی نے انجام دیئے ۔ کانفرنس سوا بارہ بجے صاحبزادہ خواجہ عزیز احمد کی دعاء سے اختتام پذیر ہوئی ۔ مقامی انتظامیہ شکریہ کی مستحق ہے کہ انہوں نے بھر پور تعاون کیا ۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۸ء ص ۵۱)
ص ۵۱)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت انعام گھر پروگرام ضلع لکی مروت
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع لکی مروت کے ضلعی امیر حاجی امیر صالح کی صدارت میں مدارس اور سکول و کالجز کے طلباء کے درمیان ۱۳؍ اور ۱۴؍ اگست کو جامع مسجد مجیدی نورنگ میں ختم نبوت انعام گھر مقابلہ ہوا۔ ختم نبوت چوک نورنگ میں ایک روزہ آگاہی و داخلہ کیمپ لگایا گیا۔ ایک روزہ داخلہ کیمپ میں سکول و کالجز کے طلباء نے زور و شور سے حصہ لیا۔ ۱۳؍ اگست صبح آٹھ بجے جامع مسجد مجیدی نورنگ میں تربیتی پروگرام کا پہلا سیشن شروع ہوا پہلے دن تقریباً ۸۰ طلباء نے حاضری کر کے باقاعدہ کلاسوں میں شرکت کی۔ شرکاء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ضلعی ناظم مفتی ضیاء اللہ، ناظم مالیات مولانا محمد ابراہیم ادہمی، ناظم تبلیغ مولانا محمد طیب طوفانی، ناظم نشر و اشاعت صاحبزادہ امین اللہ جان، ناظم دفتر مولانا ماسٹر عمر خان نے سکول و کالج کے طلباء کو ختم نبوت کے موضوع پر درس دیا۔ ۱۴؍ اگست صبح آٹھ بجے جامع مسجد مجیدی نورنگ میں حافظ ذبیح اللہ ادہمی، حافظ محمد رضوان کی تلاوت قرآن پاک اور شہید الرحمٰن کی نعتیہ کلام کے بعد مولانا محمد ابراہیم ادہمی نے سوالات و جوابات کا سلسلہ شروع کیا۔ تقریباً چار سو طلباء نے مقابلے میں بھر پور اور جوش و جذبے سے حصہ لیا۔ پہلی دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء کو خاص انعامات جب کہ ختم نبوت انعام گھر مقابلے میں شریک تمام طلباء کو انعامات نوازا گیا۔ اختتامی تقریب سے عالمی مجلس کے ضلعی سرپرست اعلیٰ شیخ الحدیث مولانا حسین احمد، شیخ الحدیث مولانا عبدالرحیم، مولانا مفتی ضیاء اللہ، ختم نبوت کے ضلعی ناظم مالیات مولانا محمد ابراہیم ادہمی، ناظم تبلیغ مولانا محمد طیب طوفانی، ناظم اطلاعات صاحبزادہ امین اللہ، ناظم دفتر مولانا ماسٹر عمر خان، سابق ضلعی جنرل سیکرٹری مولانا بشیر احمد حقانی صاحب نے خطاب کئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۸ء ص ۵۶)
ختم نبوت کانفرنس گوجرہ
۱۴؍ اگست ۲۰۱۸ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام، جامعہ رحمۃ اللعالمین میں بعد نماز ظہر ختم نبوت کانفرنس زیر صدارت رانا حاجی عارف خان منعقد ہوئی۔ تلاوت قاری محمد اعجاز جامعہ ہذا نے اور نعت رسول مقبول ﷺ قاری شرافت علی مجددی، جناب عبداللہ اور عبدالواحد اور ترانہ محمد اعجاز، محمد صادق، محمد احمد نے پیش کیا۔ کانفرنس میں مولانا اللہ وسایا، اہل حدیث کے ترجمان علامہ برق التوحیدی، مسلک بریلوی کے ترجمان صاحبزادہ مجاہد اسرار شاہ، جماعت اسلامی گوجرہ کے امیر مولانا رحمت اللہ ارشد کے خصوصی بیانات ہوئے۔ ضلعی مبلغ مولانا محمد حبیب نے تمام مکاتب فکر کے علماء عوام الناس کا شکریہ ادا کیا۔ سید سرفراز الحسن شاہ، مولانا مصدق عباس، مفتی محمد حسین، مولانا غلام مرتضیٰ، مولانا محمد زکریا، قاری محمد رمضان اور دیگر مقامی علماء کرام کے علاوہ کثیر عوام نے شرکت فرمائی۔ اختتامی دعاء عالمی مجلس سمندری کے جنرل سیکرٹری مولانا قاری محمد یونس نے فرمائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۸ء ص ۵۴، ۵۵)
آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت سیمینار ٹوبہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ٹوبہ، پاکستان علماء کونسل ٹوبہ کے زیر اہتمام ۳۰؍ اگست ۲۰۱۸ء بروز جمعرات دن دس بجے لاثانی ہوٹل رجانہ روڈ ٹوبہ میں آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت ﷺ سیمینار منعقد ہوا۔ جس کی صدارت جامعہ دار العلوم ربانیہ کے مدیر قاری محمد انور نے فرمائی۔ تلاوت کلام پاک قاری ناصر عمران نے کی۔ ہدیہ نعت رسول مقبول ﷺ مولانا غلام مرتضیٰ نفیسی نے پیش کیا۔ عالمی مجلس کے مرکزی رہنماء مولانا محمد اسماعیل صاحب شجاع آبادی، پی ٹی آئی کے نو منتخب ایم پی اے سعید احمد سعیدی، مسلم لیگ ن کے ضلعی صدر اور سابقہ ایم پی اے امجد علی جاوید، انجمن تاجران کے صدر امجد عظیم، مسلک اہلحدیث کے ترجمان علامہ برق التوحیدی، مسلک بریلوی کے ترجمان سنی تحریک
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کے ضلعی صدر مولانا صاحبزادہ منعم حسنین صدیقی ، مجلس احرار اسلام کے مولانا لطف اللہ لدھیانوی ، چوہدری نذیر احمد ، عالمی وحدت اسلامی مشن کے امیر مولانا ڈاکٹر رفیق انور چشتی ، جے یو آئی ٹوبہ کے امیر مولانا مجیب الرحمن لدھیانوی ، پاکستان علماء کونسل ٹوبہ کے امیر مولانا سعد اللہ لدھیانوی ، عالمی اتحاد اہل سنت والجماعت کے مولانا طیب گجر ، مفتی محمد عابد فرید ، صحافت کے چوہدری عبدالجبار طاہر ، مسیح برادری کے رہنماء رشید جلال اور مسیحیت کے ضلعی فادر شفیق نے مشترکہ بیانات میں کہا کہ ہم سب کچھ برداشت کر سکتے ہیں مگر آنحضرت ﷺ کی عزت و ناموس پر کوئی آنچ بھی نہیں برداشت کر سکتے۔ ناموس رسالت ﷺ کے تحفظ کے لئے کسی بھی قربانی دینے سے دریغ نہیں کریں گے۔ سیمینار کی نگرانی ضلعی مبلغ مولانا محمد حبیب نے کی۔ اختتامی دعاء دارالعلوم عید گاہ ٹوبہ کے استاذ الحدیث ورئیس دارالافتاء مولانا مفتی محمد قاسم امین نے کروائی۔
بعد ازاں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے بعد نماز مغرب جامع مسجد بلال ؓ غلہ منڈی میں بیان فرمایا۔ ۳۱؍ اگست بروز جمعۃ المبارک کو فجر کا درس قرآن مرکزی جامع مسجد چک نمبر ۳۲۵ گ ب میں عظمت ناموس رسالت ﷺ پر دیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۸ء ص ۴۵)
ختم نبوت کانفرنس پنوں عاقل
۲؍ ستمبر ۲۰۱۸ء بروز اتوار کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مرکزی جامع مسجد پنوں عاقل میں ختم نبوت کانفرنس زیر صدارت قاری خلیل الرحمن انڈھڑ اور زیر نگرانی حافظ عبدالغفار شیخ منعقد ہوئی۔ کانفرنس سے مولانا محمد حسین ناصر ، مولانا عبداللطیف اشرفی اور عالمی مجلس کے مرکزی رہنما مولانا مفتی محمد راشد مدنی رحیم یار خان کے خصوصی بیانات ہوئے۔ مقررین نے کہا عقیدہ ختم نبوت دین اسلام کی بنیاد اور اساس ہے اور کوئی قادیانی یا قادیانی نواز اس بنیاد کو نہیں ہلا سکتا۔ موجودہ حکومت قادیانیت کی پشت پناہی سے باز رہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۸ء ص ۵۲)
ختم نبوت سیمینار شورکوٹ
۴؍ ستمبر ۲۰۱۸ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام بعد نماز ظہر جامعہ عثمانیہ میں ختم نبوت سیمینار منعقد ہوا۔ جس کی صدارت مولانا حافظ محمد علی نے کی۔ جب کہ مولانا محمد ساجد مہمان خصوصی تھے۔ سیمینار سے دیگر علماء کرام کے علاوہ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے تفصیلی خطاب فرمایا اور ۱۹۷۴ء کی تحریک میں شامل قائدین ، کارکنان ، اسیران اور شہداء کو خراج تحسین پیش کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۸ء ص ۵۲)
ختم نبوت کنونشن جھنگ
۵؍ ستمبر ۲۰۱۸ء کو مسجد و مدرسہ جامعہ اشرفیہ مومن آباد میں بعد نماز ظہر ختم نبوت کنونشن سید مصدوق حسین شاہ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ مہمان خصوصی شیخ الحدیث مولانا عبدالرحیم تھے۔ مولانا محمد اقبال شیروانی نے اسٹیج سیکرٹری کے فرائض سرانجام دیئے۔ کنونشن میں ایک صد سے زائد مشائخ عظام ، علماء کرام ، ائمہ مساجد و خطباء حضرات نے شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۸ء ص ۵۲)
یوم دفاع پاکستان و تحفظ ختم نبوت سیمینار بہاول پور
۶؍ ستمبر ۲۰۱۸ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام پریس کلب بہاول پور میں یوم دفاع پاکستان و تحفظ ختم نبوت سیمینار حاجی
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عبدالرحمن انصاری کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ سیمینار کا باقاعدہ آغاز قاری محمد مشتاق کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ حافظ محمد ابوبکر چغتائی نے ہدیہ نعت رسول مقبول ﷺ پیش کیا۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا صاحبزادہ محمد صہیب نے سرانجام دیئے۔ سیمینار سے مولانا محمد اسحاق ساقی، مفتی محمد مظہر اسعدی، پروفیسر عون محمد، پروفیسر عبدالرحمن، مشتاق احمد وڑائچ ایڈووکیٹ، ظفر اقبال قانون دان، محمد سلیم بھٹی اور سابق ایم پی اے ڈاکٹر وسیم اختر نے خطابات کئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۸ء ص ۵۳)
ختم نبوت کانفرنس فیصل آباد
۶ ستمبر ۲۰۱۸ء بعد نماز عشاء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامع مسجد محمود ریلوے اسٹیشن فیصل آباد میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس مولانا سید جاوید حسین شاہ مدظلہ کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس سے دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث مکاتب فکر کے علماء کرام و مشائخ عظام نے خطابات کئے۔ تفصیلی بیان عالمی مجلس کے رہنما مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کا ہوا۔ مقررین نے ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت کے کلیدی کردار مولانا تاج محمود اور دیگر قائدین کو خراج تحسین پیش کیا۔ کانفرنس رات گئے تک جاری رہی۔ کانفرنس کی کامیابی کے لئے صاحبزادہ مبشر محمود، مولانا عبدالرشید سیال اور جناب عبدالرزاق سکا نے بھر پور کردار ادا کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۸ء ص ۵۳)
یوم دفاع پاکستان و یوم تحفظ ختم نبوت پروگرام ٹوبہ
۷ ستمبر ۲۰۱۸ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ٹوبہ کے زیر اہتمام ۶ ستمبر یوم دفاع پاکستان اور ۷ ستمبر یوم تحفظ ختم نبوت کے حوالہ سے قاضی فیض احمد اور مولانا عبداللہ لدھیانوی کی سرپرستی میں چک ۳۱۵ کالا پہاڑ، مرکزی جامع مسجد کپڑا بازار، ختم نبوت مسجد امامیہ کالونی، جامع مسجد عائشہ نیو ماڈل سٹی گوجرہ، جامع مسجد نیم والی کمالیہ، جامعہ امدادالعلوم رجانہ، انوار القرآن طالبان کالونی، مرکز ختم نبوت پیریا نوالا، جامع مسجد بلال ؓ غلہ منڈی سمیت ٹوبہ میں کئی مقامات پر پروگرام منعقد ہوئے۔ جس میں قاری نصراللہ انور، پیر جی عتیق الرحمن، مولانا سعداللہ، مولانا لطف اللہ، مولانا مجیب الرحمن، مولانا اسعد مدنی، مولانا ناصر عمران، قاری محمد سفیان، ضلعی مبلغ مولانا محمد حبیب نے بیانات کئے۔ مزید ۷ ستمبر کے خطبات جمعتہ المبارک بھی کمالیہ، پیرمحل، سمندری، گوجرہ، مامونکانجن، رجانہ، ٹوبہ و مضافات کی تمام مساجد میں یوم تحفظ ختم نبوت کے حوالہ سے دیئے گئے۔ الحمدللہ ! یوں پورا ٹوبہ ختم نبوت کی صداؤں سے گونج اٹھا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۸ء ص ۵۲، ۵۳)
یوم تحفظ ختم نبوت سیمینار وافتتاح ختم نبوت چوک ملتان
۷ ستمبر ۲۰۱۸ء بروز جمعتہ المبارک کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامع مسجد اللہ اکبر بسم اللہ چوک معصوم شاہ روڈ میں مولانا منیر احمد جالندھری کی زیر صدارت ایک سیمینار بسلسلہ یوم تحفظ ختم نبوت منعقد ہوا۔ جس میں مولانا محمد وسیم اسلم اور مولانا منیر احمد جالندھری کے خصوصی بیانات ہوئے۔ مقررین نے ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کے تاریخ ساز فیصلہ پر روشنی ڈالتے ہوئے ملک گیر تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء کے پس منظر کو بیان کیا۔ مولانا منیر احمد جالندھری اور حافظ محمد طلحہ جالندھری کی کوششوں سے بسم اللہ چوک معصوم شاہ روڈ کے نزدیک ایک اہم چوک کا نام ”ختم نبوت چوک“ رکھا گیا۔ یوم تحفظ ختم نبوت سیمینار کے متصل نماز جمعہ کے بعد چوک کی پروقار افتتاحی تقریب ڈاکٹر نصیر الدین کی صدارت میں منعقد کی گئی۔ مولانا محمد وسیم اسلم نے ختم نبوت چوکوں کی اہمیت پر مختصر گفتگو کرنے کے بعد دعاء
کرائی۔ تقریب میں حافظ محمد سعد جالندھری، حافظ محمد صہیب جالندھری، مولانا ولی محمد، ملک محمد عاشق، محمد اطہر ، محمد الیاس شیخ، جاوید اقبال، شیخ محمد عاطف، واجد شوکت سمیت دیگر اہلیان علاقہ نے بھر پور شرکت کی۔ بعد ازاں اہل علاقہ میں مٹھائیاں اور کولڈ ڈرنکس بھی تقسیم ہوئیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۸ء ص ۵۴)
خطبہ جمعتہ المبارک خانیوال
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت خانیوال کے امیر مولانا عبدالماجد صدیقی خطیب جامع مسجد ایک مینار والی ، عشرہ تحفظ ختم نبوت کے سلسلہ میں پشاور، نوشہرہ اور خیبر پختون خواہ کی دوسری کانفرنسوں کے لئے تشریف لے گئے۔ ان کی عدم موجودگی میں ۷؍ستمبر کا خطبہ جمعہ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے ارشاد فرمایا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۸ء ص ۵۶،۵۵)
دروس ختم نبوت بسلسلہ عشرہ ختم نبوت سیالکوٹ
۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کے تاریخی اور یادگار دن کے حوالہ سے ختم نبوت کے شہداء اور شرکاء کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے سیالکوٹ میں عشرہ ختم نبوت منایا گیا۔ جس کی سر پرستی پیر سید شبیر احمد گیلانی اور نگرانی مولانا فقیر اللہ اختر نے کی۔ شہر بھر کی بیسیوں جامع مساجد میں دروس ختم نبوت بسلسلہ ۷؍ستمبر یوم ختم نبوت کے حوالہ سے پروگرام منعقد ہوئے۔ جن میں مولانا محبوب الٰہی، مولانا حافظ محمد اسلم، مولانا مفتی داؤد احمد، مولانا عاصم شہزاد، مولانا مفتی محمد الیاس، مولانا حماد انذر قاسمی، مولانا قاری خلیل احمد بلال، مولانا عبدالباسط فاروقی، مولانا یونس خان، مولانا محمد شہباز قادری، مولانا سجاد احمد، مولانا عمر حیات، مولانا محمد عارف شامی، مولانا مفتی غلام نبی، مولانا غلام مرتضی، مولانا محمد ایوب ثاقب، اویس احمد فاروقی کے بیانات ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۱۸ء ص ۵۶،۵۵)
عشرہ تحفظ ختم نبوت
۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کے تاریخ ساز فیصلہ جس میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تھا کی یاد میں حسب سابق امسال بھی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ملک بھر میں عشرہ ختم نبوت عقیدت واحترام کے ساتھ منایا گیا۔ اسلام آباد، نوشہرہ، پشاور، کوہاٹ اور لاہور میں بڑے بڑے اجتماعات منعقد ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۸ء ص ۵۲)
یوم تحفظ ختم نبوت ریلی سرائے نورنگ
۷؍ستمبر ۲۰۱۸ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع لکی مروت کے زیر اہتمام حسب سابق امسال بھی بعد نماز جمعتہ المبارک ۳ بجے ایک عظیم الشان ریلی نکالی گئی۔ جس کی قیادت حاجی امیر صالح خان، شیخ الحدیث مولانا حسین احمد، مولانا عبدالرحیم، مفتی ضیاء اللہ، مولانا محمد ابراہیم ادہمی، مولانا محمد طیب طوفانی، مولانا عمر خان اور صاحبزادہ امین اللہ جان نے کی۔ مختلف علاقوں سے لوگ قافلوں کی شکل میں جامع مسجد منیاری پہنچے۔ بعد ازاں یوم تشکر ریلی پاسبان پلازہ نورنگ سے شروع ہوئی جو کہ بازار کے مختلف شاہراہوں پر سے گزری اور ختم نبوت چوک کے مقام پر جلسے کی صورت اختیار کر گئی۔ ریلی نے ختم نبوت زندہ باد اور پاکستان پائندہ باد کے فلک شگاف نعرے لگائے۔ ریلی میں ہزاروں کی تعداد میں سکول، کالج اور دینی مدارس کے طلباء سمیت علماء، خطباء اور معززین علاقہ نے شرکت کی۔ ریلی کی سب سے خاص بات یہ تھی کہ تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں کے مقامی قائدین اور کارکن یک آواز ہو کر شریک ہوئے۔ ریلی میں سیکورٹی کے فرائض مقامی پولیس
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کے ساتھ جے یو آئی کی ذیلی تنظیم انصار الاسلام کے رضا کاروں نے مولانا گل فراز شاکر کی نگرانی میں انجام دیئے۔ ریلی کو کامیاب اور تاریخ ساز بنانے کے لئے تقریباً ایک ماہ قبل تیاریاں شروع کی گئی تھی اور اس حوالے سے مختلف علاقوں میں ۸۰ چھوٹے بڑے پروگرامات کا انعقاد ہوا۔ ریلی میں صحافیوں نے بھر پور انداز میں شرکت کی۔ نیز سات ستمبر صبح ساڑھے چھ بجے یونین کونسل تر خیل میں ریلی نکالی گئی۔ جب کہ پانچ بجے شام یونین کونسل احمد خیل اور یونین کونسل عیسیٰ خیل میں بھی ریلیاں نکالی گئیں۔ اسی طرح نماز عشاء کے بعد یونین کونسل پہاڑ خیل میں جلسہ عام منعقد کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ تمام ساتھیوں کی محنت کو قبول فرمائیں۔ آمین!
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۸ء ص ۵۴، ۵۵)
یوم تحفظ ختم نبوت سندھ
۷؍ ستمبر ۲۰۱۸ء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جمعۃ المبارک کو پورے سندھ میں مذہبی جوش و جذبے سے منایا گیا۔ سکھر کی مساجد میں مولانا محمد حسین ناصر، قاری جمیل احمد، مفتی عبدالباری، مولانا عبداللطیف اشرف، مفتی صفوان احمد و دیگر علماء کرام نے ۷؍ ستمبر کے تاریخ ساز فیصلہ کی روشنی میں خطبات جمعہ ارشاد فرمائے۔ بعد نماز جمعہ مدرسہ منزل گاہ سکھر سے پریس کلب تک تحفظ ختم نبوت ریلی بھر پور انداز میں نکالی گئی۔ جس سے سکھر شہر کے جید علماء کرام نے خطابات کرتے ہوئے تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء پر روشنی ڈالی۔ سکھر کے علاوہ روہڑی، پنوں عاقل، لاڑکانہ، کندھ کوٹ، میر پور ہڑو، شکار پور سمیت متعدد شہروں میں ریلیاں نکالی گئیں۔ کثیر تعداد میں عوام الناس نے شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۸ء ص ۵۵)
ختم نبوت سیمینار جام پور
۷؍ ستمبر ۲۰۱۸ء بروز جمعۃ المبارک بعد نماز مغرب جامع مسجد حنفی جام پور میں ختم نبوت سیمینار منعقد ہوا۔ جس کی صدارت مولانا محمد اقبال نے کی۔ مہمان خصوصی مولانا محمد ابوبکر تھے جب کہ تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء کے موضوع پر تفصیلی بیان مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کا ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۸ء ص ۵۵)
ختم نبوت سیمینار مظفر گڑھ
۸؍ ستمبر ۲۰۱۸ء بروز ہفتہ بعد نماز ظہر جامع احیاء العلوم مظفر گڑھ میں ختم نبوت سیمینار منعقد ہوا۔ جس کی صدارت مدرسہ کے مہتمم مولانا محمد عاصم نے کی۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے اکابرین ختم نبوت اور ممبران قومی اسمبلی کو خراج تحسین پیش کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۸ء ص ۵۶)
پپلاں اور خانقاہ سراجیہ میں درس ختم نبوت
۹؍ ستمبر ۲۰۱۸ء کو بعد نماز مغرب پپلاں میں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کا بیان ہوا۔ اگلے روز ۱۰؍ ستمبر کو مولانا خواجہ خان محمد کے جامعہ میں صبح دس بجے تا گیارہ بجے مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے اساتذہ کرام وطلباء حضرات سے خطاب فرمایا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۸ء ص ۵۶)
ختم نبوت کانفرنس میانی ضلع سرگودھا
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۰؍ ستمبر ۲۰۱۸ء کو میانی شہر ضلع سرگودھا میں سالانہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کیا گیا۔ جس کی سرپرستی قاری محمد عثمان اور نگرانی مولانا سر بلند ومولانا محمد رفیق نے کی ۔ کانفرنس سے مولانا قاضی احسان احمد کراچی ، مولانا نور محمد ہزاروی ، مولانا عبدالواحد رسول نگری ، مولانا محمد قاسم سیوطی اور مولانا قاری ارشد محمود صفدر نے بیانات کئے ۔ کانفرنس میں سینکڑوں کی تعداد میں مجاہدین ختم نبوت نے پروانوں کی طرح شرکت کی ۔ انتظامات کے حوالہ سے مولانا محمد بلال ، مولانا نعیم الاحسان ، قاری محمد آصف اور قاری محمد نصیر سمیت دیگر کارکنان ختم نبوت نے بھر کر دار ادا کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۱۸ء ص ۵۲، ۵۳)
ختم نبوت کانفرنس حجرہ شاہ مقیم
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۳ ستمبر ۲۰۱۸ء کو جامع مسجد رابعہ بصریہ حجرہ شاہ مقیم میں بعد نماز عشاء ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی ۔ تلاوت کلام پاک مولانا قاری حق نواز جب کہ ہدیہ نعت رسول مقبول ﷺ مولانا عبدالقیوم نے پیش کیا۔ مولانا راشد نے نقابت کے فرائض سرانجام دیئے۔ مولانا عبدالرزاق مجاہد اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کے بیانات ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۱۸ء ص ۵۳)
ختم نبوت کانفرنس اوکاڑہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۴ ستمبر ۲۰۱۸ء بعد نماز عشاء جامع مسجد عثمانی منڈی احمد آباد ضلع اوکاڑہ میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی ۔ تلاوت کلام پاک کا شرف قاری عبدالستار کو حاصل ہوا۔ ہدیہ نعت رسول مقبول ﷺ بابر سلطان اور مختار مدنی نے پیش کیا۔ نقابت کے فرائض مولانا محمد معاویہ نے انجام دیئے۔ مولانا عبدالرزاق مجاہد اور مولانا اللہ وسایا کے خصوصی بیانات ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۱۸ء ص ۵۳)
خطبات جمعتہ المبارک اوکاڑہ و قصور
۱۴ ستمبر ۲۰۱۸ء بروز جمعتہ المبارک کو مولانا اللہ وسایا نے مدنی مسجد بصیر پور شہر میں جب کہ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے جامعہ عربیہ رحمانیہ الہ آباد ضلع قصور میں خطبات جمعتہ المبارک ارشاد فرمائے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۱۸ء ص ۵۶)
ختم نبوت کانفرنس قصور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۵ ستمبر ۲۰۱۸ء بعد نماز عشاء جامع مسجد میواتی بھیڑ سوہڈیاں ضلع قصور میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ تلاوت کلام پاک سے کانفرنس کا آغاز کیا گیا۔ بعد ازاں مولانا زبیر خلیل اور جعفر ضیاء نے ہدیہ نعت ﷺ پیش کیا۔ نقابت کے فرائض محمد اسامہ نے انجام دیئے ۔ کانفرنس سے مولانا زبیر فہیم ، مولانا عبدالرزاق مجاہد اور مولانا اللہ وسایا کے بیانات ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۱۸ء ص ۵۳)
ختم نبوت کانفرنس الہ آباد قصور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۶ ستمبر ۲۰۱۸ء بعد نماز عشاء جامع مسجد امیر معاویہ ؓ میں ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ جس میں تلاوت مولانا قاری اکرم اور نقابت مولانا عابد احسان نے کی ۔ معروف ثناء خوان مصطفیٰ ﷺ مولانا آصف رشیدی نے خوبصورت آواز میں ہدیہ نعت رسول مقبول ﷺ پیش کیا۔ مولانا اللہ وسایا نے خصوصی بیان فرمایا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۱۸ء ص ۵۴)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کنونشن لاڑکانہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاڑکانہ کے زیر اہتمام ۲۵؍ ستمبر ۲۰۱۸ء کو بعد نماز عشاء کنونشن منعقد ہوا۔ کنونشن میں دیگر علماء کرام کے علاوہ خصوصی شرکت و بیان مولانا قاضی احسان احمد کا ہوا۔ مقررین نے کہا کہ قادیانی لابی ملک کو انارکی کی طرف دھکیلنے کے لئے سرگرم ہے۔ مجاہدین ختم نبوت ہر میدان میں ان کا تعاقب کرتے ہوئے ان کی ناپاک سازشوں کو بے نقاب کریں گے۔ کنونشن سے قبل بعد نماز عصر مولانا قاضی احسان احمد، مولانا عبداللطیف اشرفی، مولانا محمد حسین ناصر نے شہید اسلام مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو کے مزار پر فاتحہ خوانی کی۔ بعد نماز مغرب مولانا ناصر محمود سومرو سے ملاقات ہوئی اور ان کے مدرسہ کے طلباء واساتذہ کرام میں قاضی احسان احمد کا بیان بھی ہوا۔ پروگرام کو کامیاب بنانے کے لئے مولانا مسعود احمد سومرو، مولانا ظفر اللہ سندھی مبلغ لاڑکانہ و دیگر علماء کرام نے بھرپور محنت و تعاون کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۱۸ء ص ۲۲)
ختم نبوت کانفرنس لنجاری گھوٹکی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۲۶؍ ستمبر ۲۰۱۸ء بعد نماز ظہر مدرسہ مفتاح العلوم حمادیہ لنجاری میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں مولانا غلام برڑو، حافظ عبدالغفار اسعدی، مولانا محمد حسین ناصر اور مولانا قاضی احسان احمد کے بیانات ہوئے۔ قاضی احسان احمد نے کہا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پوری دنیا میں عقیدہ ختم نبوت کا پرچار کر رہے ہیں گلی گلی، نگر نگر مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت کر رہی ہے۔ کانفرنس کی کامیابی کے لئے حافظ عبدالغفار شیخ، بشیر احمد لنجار، مولانا عبدالباسط لنجار، شاہ زمان خان نے بھرپور تعاون کیا۔ کانفرنس قاضی احسان احمد کی دعاء پر اختتام پذیر ہوئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۱۸ء ص ۵۳،۵۴)
ختم نبوت کانفرنس گھوٹکی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام گھوٹکی شہر میں ۲۶؍ ستمبر ۲۰۱۸ء کو بعد نماز مغرب مدرسہ قاسم العلوم میں عظیم الشان کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس سے مولانا عبدالغفار اسعدی، مولانا محمد امین چنہ، مولانا محمد حسین ناصر، مولانا قاضی احسان احمد اور مولانا سائیں عبدالمجیب پیر شریف نے بیانات کرتے ہوئے فتنہ قادیانیت کی ریشہ دوانیوں سے آگاہ کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۱۸ء ص ۵۴)
سالانہ ختم نبوت کانفرنس منڈی بہاؤ الدین
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع منڈی بہاؤ الدین کے زیر اہتمام ۲۶؍ ستمبر ۲۰۱۸ء بروز بدھ بعد نماز مغرب مرکزی جامع مسجد ریلوے روڈ میں بڑے تزک واحتشام سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی صدارت خانقاہ سید احمد شہید کے سجادہ نشین خلیفہ مجاز جناب سید نفیس الحسینی محترم پیر میاں محمد رضوان نفیس صاحب نے کی۔ کانفرنس سے مولانا اللہ وسایا اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولانا عزیز الرحمن ثانی نے خطاب کیا۔ کانفرنس میں معروف ثناء خوان مولانا محمد قاسم گجر نے انتہائی خوبصورت انداز میں نعتیہ کلام بالخصوص اہل بیت کی شان میں اشعار پیش کر کے سماں باندھ دیا اور مجمع سے خوب داد سمیٹی۔ پروگرام کی نقابت روز نامہ اسلام ضلع منڈی بہاؤ الدین کے بیورو چیف محمد مسعود حجازی نے کی۔ کانفرنس کی بھرپور کامیابی پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع منڈی بہاؤ الدین کے سرپرست مولانا عبد الماجد شہیدی، ضلعی امیر قاری عبدالواحد اور مبلغ ختم نبوت مولانا محمد قاسم سیوطی کو خراج تحسین پیش کیا گیا بالخصوص مبلغ ختم نبوت مولانا محمد قاسم سیوطی کی کامیابی کے لئے انتھک دعوتی اور اشتہاری مہم کو خوب سراہا گیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۸ء ص ٹائٹل نمبر ۳)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
خطبہ جمعۃ المبارک ٹوبہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ٹوبہ کے زیر اہتمام ۲۸؍ ستمبر ۲۰۱۸ء کا خطبہ جمعہ جامع مسجد بلال غلہ منڈی میں نائب امیر مرکزیہ مولانا حافظ پیر ناصر الدین خاکوانی اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے مبلغ مولانا قاضی احسان احمد نے ارشاد فرمایا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۱۸ء ص ۵۶)
ختم نبوت کانفرنس شورکوٹ کینٹ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت شورکوٹ کینٹ کے زیر اہتمام ۲۸؍ ستمبر ۲۰۱۸ء بروز جمعۃ المبارک بعد نماز عشاء جامع مسجد مکی میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت پیر طریقت صاحبزادہ مولانا خواجہ خلیل احمد نے فرمائی۔ تلاوت کلام پاک قاری زکریا خالد جب کہ حمد ونعت بین الاقوامی ایوارڈ یافتہ سید سلمان گیلانی شاہ نے پیش کیں۔ کانفرنس سے مولانا اللہ وسایا، قاضی احسان احمد کراچی، مولانا سید کفیل شاہ بخاری ملتان، مولانا غلام حسین جھنگ، مولانا محمد حبیب مبلغ ٹوبہ نے خطابات کئے۔ مقامی علماء کرام میں مولانا بشیر احمد الحسینی، مولانا زاہد انور، قاری نوید الرحمن، قاری سلیم اللہ، مفتی محمد شیراز، مفتی ذبیح اللہ، مولانا محمد احسن، مولانا محمد شفیق جالندھری، قاری محمد عابد، مفتی محمد ارشد، مولانا محمود الحسن، مفتی عمر خالد اور رانا محمد اشفاق نے شرکت فرمائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۱۸ء ص ۵۴، ۵۵)
ختم نبوت سیمینار ٹوپی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام دالوڑی یونٹ گدون، ٹوپی ضلع صوابی میں ۲۸؍ ستمبر ۲۰۱۸ء بروز جمعۃ المبارک کو علاقہ بھر کا پہلا کامیاب ختم نبوت سیمینار منعقد ہوا۔ جس میں علامہ ڈاکٹر نور الہادی، مولانا محمد رسال اور پیر طریقت شیخ الحدیث مولانا عبد الہادی نے بیانات فرمائے اور عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت و ضرورت سے عوام الناس کو روشناس کرایا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۱۹ء ص ۵۲، ۵۳)
شان امام حسینؓ و ختم نبوت کانفرنس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۲۹؍ ستمبر ۲۰۱۸ء بعد نماز ظہر تا عصر عظیم الشان کانفرنس منعقد ہوئی۔ مولانا محمد حسین ناصر، مولانا محمد طارق سومرو، مولانا ریاض احمد سومرو کے خطابات ہوئے۔ کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لئے مولانا ہزار خان، مولانا عبید اللہ اور مولانا ظہیر احمد نے بھر پور محنت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۱۸ء ص ۵۵)
ختم نبوت کانفرنس چیچہ وطنی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۲؍ اکتوبر ۲۰۱۸ء کو مرکزی جامع مسجد بلاک ۱۲ میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس خانقاہ عزیزیہ کے سجادہ نشین جناب پیر جی عبد الحفیظ کی زیر صدارت منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں خصوصی خطاب مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا اللہ وسایا، مولانا قاضی احسان احمد کراچی کے ہوئے۔ علاوہ ازیں پروفیسر جاوید منیر، مولانا عبد الحکیم نعمانی، مولانا مفتی ظفر اقبال، مولانا کفایت اللہ حنفی، مفتی محمد یاسر بشیر جالندھری، مفتی محمد عثمان، حاجی محمد ایوب، حافظ محمد اصغر عثمانی، مولانا عبد الباقی، مولانا احمد ہاشمی مولانا مطیع الرحمن، مولانا محمد ریاض سمیت متعدد شخصیات نے شرکت و خطابات کئے۔ کانفرنس کی تشہیری مہم میں مفتی محمد ساجد اور مفتی عبید الرحمن نے کلیدی کردار ادا کیا۔ جامعہ اسلامیہ بلاک نمبر ۱۲ کے طلباء نے کانفرنس کے دعوتی عمل کو احسن طریقہ سے سرانجام دیا۔ کانفرنس میں چیچہ وطنی اور قرب وجوار سے کارکنان ختم نبوت نے قافلوں کی شکل میں شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۱۸ء ص ۵۵)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سہ ماہی اجلاس مبلغین حضرات
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا سہ ماہی اجلاس ۴، ۵؍ اکتوبر ۲۰۱۸ء کو مرکزی دفتر ملتان میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے کی۔ دوران سہ ماہی میں وزیرآباد، منڈی بہاؤالدین، ننکانہ، سکھر، حیدرآباد، کنری، بدین، تھرپارکر، نواب شاہ، علی پور چٹھہ، لالیاں سمیت متعدد شہروں میں ”ختم نبوت کورسز“ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ نیز فیصلہ کیا گیا کہ ربیع الاول میں میلاد خاتم الانبیاء ﷺ اور ختم نبوت کانفرنسیں پورے ملک میں منعقد کی جائیں گی۔
شعبہ تبلیغ میں دو نئے مبلغین کی شمولیت کا خیر مقدم کیا گیا۔ مولانا ظفر اللہ سندھی لاڑکانہ میں اور مولانا عبدالسلام گلگت میں فرائض سرانجام دیں گے۔ اجلاس میں تمام مبلغین کو ہدایت کی گئی کہ وہ آنے والے دنوں میں حکمرانوں کے فیصلوں پر کڑی نظر رکھیں۔ خدانخواستہ کوئی اقدام ختم نبوت کے منافی ہو تو اس پر بھرپور احتجاج کیا جائے۔ ۵؍ اکتوبر کے خطبات جمعۃ المبارک تمام مرکزی حضرات نے ملتان شہر کی دو درجن سے زائد مساجد میں ارشاد فرمائے اور موجودہ صورتحال کے پیش نظر قراردادیں بھی منظور کرائی گئیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۱۸ء ص ۵۱)
ختم نبوت کانفرنس جنڈانوالہ
۷؍ اکتوبر ۲۰۱۸ء بروز اتوار بعد از نماز عشاء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامع مسجد علی المرتضیٰ عید گاہ شمالی جنڈانوالہ ضلع بھکر میں ختم نبوت کانفرنس مولانا صاحبزادہ عزیز احمد نائب امیر مرکزیہ کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز قاری رضوان گل کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ قاری خالد عبداللہ، مولانا اللہ دتہ ساقی، حافظ وسیم (سرگودھا) نے ہدیہ نعت مقبول ﷺ پیش کیا۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا حمزہ لقمان مبلغ مظفر گڑھ نے سرانجام دیئے۔ کانفرنس سے مولانا اللہ وسایا، مولانا نور محمد ہزاروی سرگودھا، ضلع بھکر کے مبلغ مولانا محمد ساجد کے بیانات ہوئے۔ بھکر سے مولانا معاویہ حقانی، مولانا عطاء الرحمن ڈھڈیاں والا، مولانا فاروق رحیمیہ حسینیہ سمیت کلورکوٹ، دریا خان، دلیوالہ اور نور پور تھل سے شرکاء قافلوں کی صورت میں شریک ہوئے۔ کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لئے مقامی امیر مفتی محمد اویس، مفتی محمد عامر شفیق، سید عبدالقیوم شاہ، مولانا محمد عثمان، مفتی محمد سلیم نے بھرپور محنت کی۔ اللہ تعالیٰ ان کی محنتوں کو قبول فرمائے۔ کانفرنس کا اختتام مولانا صاحبزادہ عزیز احمد کی دعاء سے ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۱۹ء ص ۴۸)
ختم نبوت کورس ٹاؤن ٹو پشاور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت یونین کونسل پنام ڈھیری پشاور کے زیر اہتمام دوسرا سالانہ ختم نبوت کورس ۱۰؍ اکتوبر ۲۰۱۸ء بروز منگل بعد از نماز ظہر قاری اکبر علی کی زیر صدارت شروع ہوا۔ کورس کی چار کلاسیں منعقد ہوئیں۔ پہلی کلاس میں ضلعی مبلغ مولانا تاج محمد ازہر نے قادیانیت اور اسلام کا تقابلی جائزہ پڑھایا۔ دوسری نشست میں صوبائی مبلغ مولانا عبد کمال نے کذب مرزا کو واضح کیا۔ تیسری کلاس میں مرکزی مبلغ قاضی احسان احمد کراچی نے ختم نبوت کی ضرورت واہمیت کو اجاگر کیا۔ چوتھی کلاس میں مرکزی مبلغ مولانا مفتی محمد راشد مدنی رحیم یار خان نے حیات عیسیٰ علیہ السلام اور قادیانی دجل وفریب پر روشنی ڈالی۔ کورس میں سینکڑوں کی تعداد میں سکولز، کالجز اور مدارس کے طلباء کرام نے شرکت کی۔ کورس کا اختتام مولانا مفتی محمد شہاب الدین پوپلزئی کے بیان اور پرسوز دعاء سے ہوا۔ جب کہ کورس کی انتظامیہ میں قاری مشتاق، حاجی خان گل، ڈاکٹر وجاہت افضل اور مولانا صابر موجود تھے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۱۸ء ص ۵۳)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس کوئٹہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بلوچستان کے زیر اہتمام صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ۱۴، ۱۵؍ اکتوبر ۲۰۱۸ء دو روزہ ۵۷ویں سالانہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنماء مولانا اللہ وسایا ، مولانا مفتی محمد راشد مدنی رحیم یار خان ، مولانا قاضی احسان احمد کراچی ، مقامی امیر مولانا عبداللہ منیر ، مولانا انوار الحق حقانی ، مفتی احمد خان ، مولانا محمد اویس سمیت جید علماء کرام نے شرکت و خطاب کئے۔ کانفرنس کا پہلا سیشن جامع مسجد قندہاری میں جب کہ دوسرا سیشن جامع مسجد محمدی سیٹلائٹ ٹاؤن میں منعقد ہوا۔ کانفرنس میں بڑی تعداد میں عاشقان رسول ﷺ نے شرکت کی ۔ مقررین نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے خلیفہ بلافصل سیدنا ابوبکر صدیق کے دور خلافت میں سینکڑوں صحابہ کرام ؓ نے شہادت دے کر اس عظیم عقیدہ کا تحفظ کیا۔ طاغوتی قوتیں قادیانیوں کے حوالے سے آئینی ترامیم غیر مؤثر کرنا چاہتی ہیں۔ عالم کفر ایک سازش کے تحت امت مسلمہ کو کمزور کرنے کے درپے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ امت مسلمہ متحد ہو کر اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کرے۔ قادیانی مملکت خداداد کے وفادار قطعاً نہیں۔ قادیانیوں نے بلوچستان کو ۱۹۵۲ء تک احمدی صوبہ بنانے کا اعلان کیا اس سازش کو ناکام بنانے کے لئے تمام مکاتب فکر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے پلیٹ فارم پر متحد ہوئے تحریک چلائی اور اسے کامیاب کرایا۔ قبل ازیں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بلوچستان کی جانب سے مرکزی رہنماؤں کے اعزاز میں استقبالیہ دیا گیا۔ جس سے مولانا اللہ وسایا نے خطاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۱۹ء ص ۴۸، ۴۹)
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے اکابرین کا تین روزہ دورہ ایبٹ آباد
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ایبٹ آباد کے زیر اہتمام ۱۹، ۲۰، ۲۱؍ اکتوبر ۲۰۱۸ء کو تین روزہ ختم نبوت کانفرنسز ، خطبات جمعہ ، مدارس و سکولز اجتماعات سمیت ضلع بھر میں ۱۳ پروگرامز منعقد ہوئے۔ مولانا اللہ وسایا ، مولانا قاضی احسان احمد کراچی ، مولانا مفتی محمد راشد مدنی رحیم یار خان اور مولانا محمد طیب اسلام آباد نے تمام پروگرامز میں جب کہ مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی نے آخری پروگرام میں بطور خاص شرکت فرمائی۔ ۱۹؍ اکتوبر ۲۰۱۸ء بروز جمعۃ المبارک کو مرکزی جامع مسجد ایبٹ آباد میں وفاق المدارس کے مولانا قاضی عبدالرشید نے ، جامع مسجد صدیق اکبر ؓ چمبہ پل حویلیاں میں مولانا قاضی احسان احمد نے ، جامعہ مدنیہ اسلامیہ سپلائی بازار ایبٹ آباد میں مولانا مفتی محمد راشد مدنی نے ، جب کہ شہر کی دوسری بڑی جامع مسجد واقع گھاس منڈی میں مولانا محمد طیب نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت وافادیت کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا۔ ۲۰؍ اکتوبر بروز ہفتہ صبح ۸ بجے مولانا مفتی محمد راشد مدنی جامعہ اسلامیہ کالا پل میں ، مولانا قاضی احسان احمد نے صبح ۹ بجے اقراء روضۃ الاطفال سپلائی کے اسمبلی گراؤنڈ میں ، جب کہ ۱۰ بجے مولانا محمد طیب نے جامعہ ام سلمہ للبنات پولیس لائن میں طلباء و طالبات کو عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کی اہمیت اور فضیلت سے روشناس کروایا۔ مولانا قاضی احسان احمد نے دن ۱۱ بجے تعمیر وطن سکول جناح آباد کے وسیع وعریض گراؤنڈ میں بارہ سو سٹوڈنٹس سے پرجوش خطاب کیا جو قریباً دو گھنٹے تک جاری رہا۔ بعد نماز ظہر قلندر آباد اور بعد نماز مغرب حویلیاں میں تمام حضرات نے کانفرنسوں میں شرکت کی۔ ۲۱؍ اکتوبر کو صبح ۹ بجے جامعہ انوار الاسلام کیہال ایبٹ آباد میں مولانا مفتی محمد راشد مدنی کا طلباء وطالبات کے جم غفیر سے جامع خطاب ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۱۹ء ص ۵۶)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس حویلیاں
۲۰/اکتوبر ۲۰۱۸ء بعد از نماز مغرب بمقام جامع مسجد لکڑ منڈی حویلیاں میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت تحصیل حویلیاں کے زیر اہتمام بھر پور ختم نبوت کانفرنس کا آغاز ہوا۔ کانفرنس کی صدارت مولانا مفتی عبدالواجد نے کی ۔ جس سے مولانا قاضی احسان احمد کراچی اور مولانا محمد طیب کے ایمان افروز خطابات ہوئے ۔ اہلیان حویلیاں نے تحفظ ختم نبوت اور تحفظ ناموس رسالت کے لئے ہر قربانی دینے کے جذبے کا اظہار کیا۔ اسی دوران ایک دوسرا پروگرام جامع مسجد عثمان غنی ؓ موضع کرچھ حویلیاں میں جاری رہا۔ جس سے مولانا مفتی محمد راشد مدنی نے مفصل خطاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۱۹ء ص ۴۹)
ختم نبوت کانفرنس قلندر آباد
۲۰/اکتوبر ۲۰۱۸ء بعد از نماز ظہر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ایبٹ آباد کے زیر اہتمام قلندر آباد میں ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس سے مولانا اللہ وسایا ، مولانا قاضی احسان احمد کراچی ، مولانا مفتی راشد مدنی رحیم یار خان اور مولانا محمد طیب اسلام آباد کے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے حوالہ سے مفصل خطابات ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۱۹ء ص ۴۹)
ختم نبوت کانفرنس ایبٹ آباد
۲۱/اکتوبر ۲۰۱۸ء بعد نماز ظہر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام سالانہ ختم نبوت کانفرنس مولانا پروفیسر سید افسر علی شاہ کی زیر صدارت منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز قاری افتخار الحق ترابی کی تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔ حمد باری تعالیٰ انعام اللہ خان نے پیش کی۔ کانفرنس کی دو نشستیں ہوئیں ۔ پہلی نشست سے مولانا محمد طیب اسلام آباد ، مولانا مفتی محمد راشد مدنی رحیم یار خان ، مولانا قاضی احسان احمد کراچی اور مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی کے بیانات ہوئے ۔ مولانا قاضی احسان احمد اپنے والد گرامی جناب قاضی فیض احمد کی وفات کے تیسرے دن ان کے ایصال ثواب کی نیت سے ایبٹ آباد پہنچے ۔ تحفظ ختم نبوت کے اس دورہ ایبٹ آباد میں وجد آفرین اور ایمان افروز خطاب کیا۔ مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی نے اہلیان ہزارہ سے مطالبہ کیا کہ ہمیں آپ سے بہت سی توقعات ہیں تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء میں آپ کا بہت بڑا حصہ ہے آج تحفظ ختم نبوت کے لئے ہمیں مولانا غلام غوث ہزاروی دے دو۔ مجمع پر سناٹا چھا گیا ۔ نماز عصر کے بعد دوسری نشست کا آغاز ہوا ۔ مولانا مفتی عبدالواجد ناظم عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع ایبٹ آباد نے تمام مہمانوں ، علماء کرام اور تاجر برادری کا شکریہ ادا کیا اور قراردادیں منظور کروائیں۔ مکتب عبداللہ بن مسعود ؓ کے بچوں محمد حسنین اور ساتھیوں نے ختم نبوت اور حالات حاضرہ پر ترانہ پیش کر کے سامعین کے دلوں کو خوب گرمایا۔ آخری خطاب مولانا اللہ وسایا کا ہوا ۔ کانفرنس کا اختتام اذان مغرب پر مولانا سید افسر علی شاہ کی دعاء پر ہوا ۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۱۹ء ص ۴۹، ۵۰)
سینتیسویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کی رپورٹ
اللہ تعالیٰ کی عنایت و کرم سے حسب سابق تزک احتشام سے سینتیسویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر ۲۵، ۲۶/اکتوبر ۲۰۱۸ء بروز جمعرات و جمعہ کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مدرسہ عربیہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی تیاری اور سالانہ تبلیغی دعوتی دورہ کے لئے مبلغین حضرات کا حسب سابق اجلاس ۱۱/ اکتوبر ۲۰۱۸ء کو مسلم کالونی میں
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
منعقد ہوا۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا عزیز الرحمن ثانی نے رفقاء سے طویل مشاورت کے بعد معمولی ردوبدل سے ساتھیوں کے دعوتی دورہ کو حتمی شکل دی۔ اسی دن ظہر تک تمام رفقاء اپنے اپنے حلقہ کے دورہ پر تشریف لے گئے۔
وضوخانہ کی تعمیر وتکمیل :
اللہ رب العزت کے فضل واحسان سے ہر سال کانفرنس کو ملک بھر میں محبوبیت ومقبولیت کا درجہ روز افزوں حاصل ہورہا ہے۔ ہر کانفرنس پر پہلے سے زیادہ رش ہوتا ہے۔ حاضری بڑھ جاتی ہے۔ امسال چار نئے فیصلے کئے گئے۔ ایک تو وضو کے لئے تمام تر سہولتوں کے باوجود مسجد کا وضوخانہ، نئے مدرسہ کی بلڈنگ کے دونوں جانب عقب میں وضو خانے اور مسجد سیدنا امام حسین ؓ ( عیدگاہ وجنازہ گاہ ) میں وضوخانہ کے باوجود حاضرین وشرکاء کو بہت ہی انتظار کرنا، لائن بنانی پڑتی ہے۔ بالخصوص جمعہ کے دن فجر اور جمعہ کی نمازوں پر وضو کے لئے بہت دقت ہوتی ہے۔ امسال ملتان مبلغین کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ نئے مدرسہ کی ٹینکی کے مشرق ومغرب میں دیوار کے ساتھ دو نئے وضوخانے تعمیر کر لئے جائیں۔ ٹینکی کے مشرقی جانب تو ٹربائن کا بور، ٹھنڈے پانی کا نظم اور بجلی وغیرہ کے سسٹم کے باعث ارادہ ملتوی کرنا پڑا۔ البتہ ٹینکی کی مغربی جانب وسیع وضوخانہ فوری تعمیر کرایا گیا۔ جس پر دو پائپ لگوائے گئے۔ ہر پائپ کے دونوں طرف گویا دو پائپوں کے دونوں جانب چار لائنوں میں بیٹھ کر ساتھی وضو کرسکیں ۔ اس پر تعمیر کا آغاز کیا گیا ۔ مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا ظفر اللہ سندھی (مبلغ سندھ )، مولانا محمد حنیف سیال ( مبلغ سندھ ) نے نگرانی کی۔ یوں مبلغین حضرات کی میٹنگ تک وضوخانہ کا پلیٹ فارم بمعہ سیڑھیوں کے مکمل ہوگیا تھا۔ مبلغین حضرات کے دعوتی دورہ پر جانے کے بعد اس پر ماربل کی لگوائی، پائپوں کی تنصیب، ٹوٹیوں کا کساؤ، پانی کا کنکشن، وال لگوانے کا عمل بھی مکمل ہوگیا۔
اللہ رب العزت کے کرم کے اپنے فیصلے ہوتے ہیں۔ کام کی بنیاد اخلاص پر ہو تو کارکنوں کی کمیوں کوتاہیوں کے باوجود حق تعالیٰ محض اپنے فضل وکرم سے انجام بخیر فرماتے ہیں۔ دارالعلوم دیوبند، تبلیغی جماعت، جمعیۃ علماء اسلام، مجلس تحفظ ختم نبوت کی بنیاد اس وقت کی پوری دینی قیادت کے باہمی طویل مشورہ کے بعد عمل میں لائی گئی۔ اب ان اداروں کی ترقی کے عمل کو دیکھیں گے تو آپ کو یہ بات قبول کرنے میں عذر نہ ہوگا۔ جو جماعتیں یا ادارے بغیر تمام دینی قیادت کے مشورہ، یا کسی عمل کے ردعمل میں سرگرم رہیں تو ہزاروں تیز رفتاری کے باوجود ان کا جو اتار چڑھاؤ ہے نتیجہ کے اعتبار سے قابل دید ہے۔ اللہ رب العزت کا لاکھوں لاکھ شکر ہے کہ ہمیشہ ملک کے اہل حق، خانقاہوں کے شب بیدار اولیاء اللہ کی مجلس تحفظ ختم نبوت کو دعاؤں کا سہارا، شفقتوں وسرپرستی کی سعادت، تعاون وتائید کی موسلا دھار بارش کا اعزاز حاصل رہا۔
اس وقت خانقاہ عالیہ قادریہ، راشدیہ دین پور شریف کے سجادہ نشین مولانا میاں مسعود دین پوری کی شفقتوں کو دیکھیں کہ اپنے جدّ اعلیٰ خانقاہ دین پور شریف کے بانی مولانا خلیفہ غلام محمد، حضرت ثانی قطب وقت میاں عبدالہادی، حضرت ثالث جنید زمانہ میاں سراج احمد کی طرح عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے کاموں کے لئے میاں مسعود احمد صاحب متوجہ ہیں۔ جس طرح کسی زمانہ میں مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوری، مولانا محمد علی مونگیری، مولانا احمد علی لاہوری، مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری، مولانا شیخ الحدیث محمد زکریا کاندھلوی، حکیم الامت اشرف علی تھانوی، مولانا سید اسعد مدنی امیر الہند متوجہ رہے۔
میاں مسعود احمد دین پوری مدظلہ کا عرصہ سے معمول ہے کہ جھنگ، سرگودھا کے اپنے خانقاہی سفر کے دوران جب بھی اس طرف آنا
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہو تو آتے ہوئے اور واپسی پر ایک دو روز مدرسہ ختم نبوت میں ضرور قیام فرماتے ہیں۔ مجلس کے ایک ایک کام کی رپورٹ لیتے اور مشوروں سے نوازتے ہیں۔ امسال کانفرنس سے قبل آپ تشریف لائے۔ علالت کے باعث چلنا دشوار تھا تو وہیل چیئر پر نئے مدرسہ کے معائنہ کے لئے تشریف لائے۔ نئے وضوخانہ کو دیکھا تو وہاں تشریف لائے۔ وضوخانہ کی ٹونٹیوں کا پانی چلا کر دکھانے کا حکم فرمایا کہ پانی مدخل میں گرتا ہے یا پھر فرش پر چھینٹے تو نہیں پڑتے۔ جگہ کی تنگی کے باوجود ساتھیوں نے ان امور کا بھر پور تعمیر میں خیال رکھا تھا۔ میاں صاحب نے وضوخانہ چالو کرا کر دیکھا تو بہت خوشی وانبساط ومسرت کا اظہار فرمایا۔ قارئین ! یہ وضوخانہ، مسجد کے وضوخانہ سے بڑا ہے کہ بیک وقت بانوے (۹۲) نمازیوں کے ایک ساتھ بیٹھ کر اس پر وضو کرنے کی نئی سہولت اس تعمیر سے شرکاء کو حاصل ہوگئی۔ فالحمد للہ ! اس کے باوجود پھر بھی خلق خدا کی تشریف آوری پر رش کا عالم یہ تھا کہ بہت سارے شرکاء کو وضو کے لئے خاصی زحمت اٹھانا پڑی۔ بہت سارے دوستوں کو وادی عزیز شریف ویگنوں پر فجر اور جمعہ کے لئے وضو کی خاطر جانا پڑا۔ بعض حضرات کی وضو میں تاخیر کے باعث نماز قضاء ہوگئی۔ ان تمام مشکلات کا ہمیں بڑی شدت سے احساس ہے۔ کوشش ہوگی کہ آئندہ سال اس کے لئے مزید اضافہ سے وضو کے نظم کو اور بہتر کیا جاسکے۔
پنڈال میں سائبان کی تنصیب:
امسال کانفرنس کے نظم کو بہتر کرنے کے لئے دوسرا فیصلہ یہ کیا گیا کہ چونکہ مدرسہ کے دونوں اطراف شرق وغرب کی جانب دوسری منزلوں کی تعمیر مکمل ہوگئی ہے تو دوسری منزل کی دونوں چھتوں کے برابر تاروں کا شرقاً غرباً جال بن دیا جائے۔ درمیان کا رقبہ زیادہ ہے۔ اس لئے ان تاروں کے جال کی سپورٹ کے لئے تین پائیپوں کے مضبوط پلر کھڑے کر دیئے جائیں اور ان پر شمالاً جنوباً موٹی اور مضبوط تار لگا دی جائے تا کہ شرقاً غرباً تاروں کے جال کو اس سے سپورٹ مل سکے۔ چونکہ یہ بلندی پچیس فٹ بنتی ہے اور رقبہ بھی اتنا زیادہ ہے کہ ان پر سائباں کا پھیلانا مشکل امر تھا۔ اس لئے سایہ کی خاطر بننے والے پلاسٹک کے کپڑے کے سبز رنگین تھان فیکٹری سے منگوائے۔ ان کی سلائی ، سائز کے مطابق کرائی۔ ڈوری باندھنے کے لئے کنکشن دیئے گئے۔ یوں لاکھوں کے خرچہ سے امسال پنڈال پر اونچے سایہ کے لئے یہ اہتمام کیا گیا۔ اس سے یہ فائدہ ہوا کہ سائبان بلندی پر ہونے کے باعث ہوا کا گزر باآسانی ہو گیا اور حبس سے بھی بچاؤ ہوا۔ بلندی پر ہونے کے باعث دوسری منزل کے شرکاء بھی باآسانی کانفرنس کو مکمل طور پر آنکھوں کے سامنے سارے مناظر کا نظارہ کرتے رہے۔ یوں دوسری منزل پر مقیم سینکڑوں سے متجاوز تعداد آسانی کے ساتھ کانفرنس کو دیکھنے کے عمل میں شریک رہی۔
پنڈال میں سکرینوں کی تنصیب:
اب حضرات علماء کرام نے فیصلہ دیا ہے کہ لائف پروگرام براہ راست کوریج فوٹو کے حکم میں نہیں۔ اس کا ویڈیو بنانا ، اسے محفوظ کر کے چلاتے رہنا یہ تو فوٹو کے حکم میں ہے۔ براہ راست لائف پروگرام اس کی گنجائش پر علماء کرام کی آراء آگئی ہیں۔ کہتے ہیں کہ دارالعلوم دیو بند کا بھی اس سلسلہ میں رعایت کا فتویٰ ہے۔ ہمارے لئے تو بالکل مجبوری تھی کہ شمالاً جنوباً اجتماع کا پنڈال اتنا دراز ہے کہ آدھے پنڈال کے بعد اجتماع میں شامل شرکاء وحاضرین کو اسٹیج پر مقرر کی مکمل شکل نظر ہی نہیں آتی۔ اس سے پنڈال کا نصف آخر حصہ اٹھک بیٹھک اور بے قراری کا شکار رہتا ہے۔ اس کے لئے تیسرا فیصلہ یہ کیا گیا کہ دو بڑی سکرینوں کا اہتمام کیا گیا۔ ایک سکرین تو اسٹیج کے عقب میں لگائی گئی۔ اس سے سامعین کی پوری حاضری اوّل سے انتہاء تک پنڈال میں موجود سکرین کے ذریعہ کانفرنس کے اسٹیج ومقرر کو مکمل طور پر صاف صاف ملاحظہ کرتی رہی اور بااطمینان وسکون پورے منظر کو گویا قریب سے دیکھتی رہی۔ اس کا یہ بھی فائدہ ہوا کہ دوسری منزلوں میں رہائش پذیر
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مہمانان جلسہ کی کارروائی کے وقت دوسری منزل کے برآمدہ میں جمع ہو کر وہاں سے ہی مکمل کارروائی سنتے اور ملاحظہ کرتے رہے۔ اس طرح دوسری سکرین قدیم مدرسہ کے صحن میں لگائی گئی۔ قدیم مدرسہ کے صحن اور مسجد کے صحن کے شرکاء پوری کانفرنس ملاحظہ کرتے اور سنتے رہے۔ یوں پوری کارروائی سننے اور دیکھنے کے لئے دوسرا پنڈال قدیم مدرسہ و مسجد کا صحن بنا رہا۔ اس سے بھی سامعین کو بہت سہولت رہی۔ اس دوسرے پنڈال میں بھی سائبان اور چٹائیوں کا اہتمام کیا گیا تھا۔
نماز جمعہ کی ادائیگی:
نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے امسال چوتھا فیصلہ یہ کیا گیا کہ مدرسہ کے صحن میں دونوں جانب لگے درختوں کی مبالغہ سے چھنگائی کرائی گئی کہ وہ درخت اسٹیج کی کارروائی دیکھنے کے لئے رکاوٹ نہ بنیں۔ پھر سائبان تاروں پر بلند لگایا گیا تھا۔ پہلے والا سارا سسٹم سائبانوں کے بانسوں اور برآمدوں کے پلروں کے ساتھ رسے باندھنے کا تردد نہ رہا۔ اس سے نہ صرف پنڈال میں وسعت ہوئی بلکہ یہ سہولت بھی ہوگئی کہ پنڈال میں مکمل دو صفوں کی مزید گنجائش نکل آئی۔ پھر خطبہ و نماز جمعہ کے لئے پنڈال کی بجائے غربی برآمدہ کے درمیانے کمرہ کے دروازہ میں امام صاحب کے لئے مصلیٰ کی جگہ بنائی گئی۔ یوں غربی جانب اوپر نیچے دونوں برآمدوں میں دو دو صفوں کی مزید گنجائش پیدا ہوگئی۔ مجموعی طور پر شمالاً جنوباً پورے پنڈال میں اوپر اور نیچے کی منزلوں کے غربی برآمدہ سمیت پورے اجتماع کے لئے مکمل چھ صفوں کی گنجائش مزید پیدا کی گئی۔ اس کے باوجود پنڈال کے شرکاء نے جنوبی سڑک پر بھی ہزاروں کی تعداد میں نماز جمعہ پڑھی۔ دوسرا جمعہ مسجد کا ہوا تو تب بھی مسجد کا صحن، ہال، برآمدہ اس کی چھت، مدرسہ کا صحن، برآمدہ، کمرے سارا حصہ مکمل طور پر اٹ گیا۔ مین گیٹ تک صفیں تھیں پھر بھی بہت ساری خلق خدا بچ گئی تو مسجد کے صحن کے جنوبی دروازہ کو کھول کر صفوں کا اتصال کیا گیا۔ اس سے کھانے کے شرقی گراؤنڈ کے پلاٹوں کا ایک حصہ بھر گیا۔ آئندہ سال کے لئے مزید نظم کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ بہت ساری خلقت جمعہ کی نماز ادا کرنے سے رہ جاتی ہے۔ یا یہ کہ بہت مشقت سے انہیں گزرنا پڑتا ہے۔ اللہ تعالیٰ وسعتوں سے سرفراز فرمائیں۔
اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے بدھ صبح کو تمام انتظامات مکمل ہو گئے تھے۔ بدھ صبح نماز پر اتنا اجتماع تھا کہ ہمارے قرب وجوار میں ہونے والے اجتماعات کے کل شرکاء کی اتنی تعداد نہیں ہوتی۔ بدھ دوپہر کو مزید قافلے آنے بھی شروع ہوگئے۔ بدھ دوپہر کو پنڈال میں پرالی بچھائی گئی۔ قریب عصر صفیں بچھا دی گئیں۔ رات بھر قافلوں کی آمد کا سلسلہ شروع رہا۔ فالحمد للہ! جمعرات کی صبح کی نماز مسجد میں علیحدہ ہوئی۔ پنڈال میں علیحدہ ہوئی۔ پنڈال کے تین حصہ میں صفیں ہی صفیں تھیں۔ حسب سابق مولانا مفتی محمد حسن مدظلہ، شیخ الحدیث جامعہ مدنیہ جدید نے پنڈال میں صبح کی امامت کرائی اور نماز کے بعد آپ کے درس قرآن مجید سے کانفرنس کا آغاز ہو گیا۔ مفتی صاحب مدظلہ کے درس قرآن اور دعاء کے بعد باہر سے تشریف لانے والے مہمانوں کو ناشتہ کرانے کا نظم تھا۔ ناشتہ کا نظم، دوپہر کا کھانا اور پھر شام کا کھانا۔ مہمانوں کے لئے ناشتہ سے لے کر شام کے کھانے سے فراغت تک مسلسل مہمان بھی آتے رہے اور کھانے کی تقسیم کا عمل بھی جاری رہا۔ بعض دفعہ دستر خوانوں کی صفائی یا دوسری ضروریات کے لئے دس پندرہ منٹ کے وقفے تو ہونے ناگزیر تھے لیکن نظم صبح سے رات گئے تک تقسیم طعام جاری رہا۔ امسال سالن کا نظم تو ٹھیک رہا، البتہ جمعرات شام کو آخری وقت روٹیوں کی پکائی میں کمی و تاخیر ہوئی۔ آئندہ سے تندوروں کو بڑھانے کا نظم ناگزیر ہے۔ حسب سابق ناشتہ کے لئے چنیوٹ، لالیاں، مسلم کالونی جامعہ امدادیہ سے پکی پکائی دیگیں بھی آتی رہیں یوں اتنی بڑی تعداد کو کھانے کھلانے کا نظم قائم رہا۔ اس کے باوجود یہاں پر ایک اعلان ضروری ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ضروری اعلان:
ایک تو آئندہ کے لئے تمام ساتھی جائے نماز یا چادر ضرور ہمراہ لائیں۔ جوں ہی نماز بالخصوص جمعہ کی ادائیگی کے لئے کھڑے ہوں صفوں کے ساتھ ملحقہ و متصل جہاں جگہ ملے چادر و جائے نماز بچھائی تو نماز پڑھ لی۔ اس کے بغیر با جماعت نماز کی ادائیگی کا نظم کسی طرح قابو میں نہیں آ رہا۔ ساتھی فیشن اختیار کرتے ہیں۔ نہ کندھے پر چادر نہ رومال نہ بغل میں جائے نماز اب جماعت کھڑی ہے، جگہ ہے۔ لیکن صف نہیں تو ادھر ادھر بھاگتے ، پریشان ہوتے اور نماز کے لئے زحمت سے دوچار ہوتے ہیں۔ ہر سال پلاسٹک کی نئی صفیں منگواتے ہیں۔ صفوں اور دریوں کا سٹاک بھی ہے۔ سب کچھ بچھانے کے باوجود پھر بھی تمام شرکاء کے لئے ہزار کوشش کے بعد نماز کی خاطر صفوں کا ہونا سخت دشوار بلکہ ناممکن ہے۔ مثلاً مسجد میں نماز کی جماعت کھڑی ہوئی۔ سڑک تک صفیں بن گئیں۔ وضو ہو تو جہاں جگہ ملے کندھے کی چادر ، رومال یا جائے نماز بچھائی۔ نماز کی ادائیگی کر لی۔ دوست اس کا خصوصیت سے اہتمام کریں تو آسانی کے ساتھ ہر شخص کی نماز کی ادائیگی کا نظم ہو سکتا ہے۔ وضو کے لئے مزید ہم اہتمام کر رہے ہیں۔ ان شاء اللہ ! اسی طرح دوسرا اعلان یہ ہے کہ تمام ساتھی جس طرح تبلیغی اجتماع پر جاتے ہیں تو اپنے اپنے کھانے کا نظم کرتے ، اس کا بھی اہتمام اپنے اپنے طور پر ابھی سے کرنا شروع کریں۔ ورنہ ہزار تیاری کے باوجود ہمارے لئے نظم کرنا اتنے بڑے اجتماع کے لئے تمام تر کوششوں کے باوجود مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ ہم اس نظم کو مزید در مزید وسعت دیں گے۔ اس کے باوجود ابھی سے ساتھی ضرور اپنے اپنے طور پر بھی کھانے کا نظم کریں۔ ہر ساتھی ہلکی پھلکی تیار شدہ کھانے کی اشیاء ہمراہ لائے ، وہ استعمال کی ، چائے لی اور فارغ ہو گئے۔ کوئی کوفت نہیں اور قافلے والے حضرات تو اپنی سواریوں پر کھانے کا پورا سامان لا کر اپنے اپنے طور پر نظم بھی کر سکتے ہیں۔ اس کے لئے توجہ کی جائے۔
امسال پشاور کی جماعت کے دوستوں نے چائے کا سٹال لگایا۔ رفقاء نے بھی کوشش کی ، تمام کینٹینوں کو مناسب ریٹ پر چائے مہیا کرنے کا فکر کیا تو بہت حد تک نظم ٹھیک رہا۔ یہ باتیں تو محض جوش جنوں میں لکھ دی ہیں۔ منتظمین کو اپنے نظم میں بہت توسیع کرنی چاہئے۔ شرکاء کو اپنے طور پر کھانے کا نظم کرنا چاہئے۔ دونوں جانب سے ہمت ہوئی تو ان شاء اللہ یہ نظم بھی بہت درست ہو جائے گا۔ قارئین کرام! آیئے اب کانفرنس کی کارروائی ، اجلاسوں کی رپورٹ اور مقررین حضرات کے اسماء گرامی پر ایک نظر ہو جائے تو پھر باقی حصہ کو لیں گے۔
پہلا اجلاس: ۲۵؍ اکتوبر بروز جمعرات قبل از دوپہر منعقد ہوا۔
تلاوت و نعت: حافظ مولوی مہتاب احمد (متعلم مدرسہ ختم نبوت) ، حافظ نادر شاہ چارسدہ افتتاحی دعاء: مولانا صاحبزادہ خلیل احمد (سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ) صدارت: مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ مہمانان خصوصی: مفتی محمد حسن ، مولانا محمد عباس ، قاری جمیل الرحمن اختر ، جناب عنایت اللہ پشاوری ، مولانا غلام مرتضیٰ (ڈسکہ) افتتاحی خطاب: مولانا محمد اکرم طوفانی (سرگودھا) بیان: مولانا سلمان خالد (جامعہ امدادیہ چنیوٹ) ، مولانا محمد الطاف (مدرسہ ختم نبوت) ، مولانا محمد علی ، مولانا محمد فیصل گوہر، مولانا محمد سلیم ، مولانا محمد مظہر (شرکاء دورۂ حدیث مدرسہ ختم نبوت) ، مولانا محمد راشد مدنی (ٹنڈو آدم) ، مولانا غلام حسین (جھنگ) ، مولانا مفتی سعود احمد سومرو (لاڑکانہ) ، مولانا مختار احمد (میر پور خاص) ، مولانا مفتی محمد دین ٹل، مولانا محمد حبیب (ٹوبہ ٹیک سنگھ) ، مولانا محمد خالد عابد (شیخوپورہ)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
آخری بیان: مولانا سائیں عبدالمجیب صاحب (سجادہ نشین خانقاہ عالیہ پیر شریف)
دوسرا اجلاس: ۲۵؍ اکتوبر بروز جمعرات بعد از ظہر۔
صدارت: مولانا صاحبزادہ خلیل احمد (سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ)
تلاوت: قاری محمد جمال
نعت: مولانا محمد قاسم گجر (لاہور)، حافظ مہتاب احمد، محمد مظہر (چناب نگر)، جناب اسرار (خیبر پختونخواہ)، حافظ محمد شریف منچن آبادی
مہمانان خصوصی: پیر طریقت مولانا محبّ اللہ (لورالائی)، مولانا عبدالعزیز شاہ (سابق ایم. این. اے)، مولانا حافظ ناصر الدین خاکوانی، مولانا صاحبزادہ عزیز احمد، مولانا مفتی محمد حسن (لاہور)، مولانا ذوالفقار احمد دین پوری
بیان: مولانا عبدالقیوم حقانی شارح مسلم شریف (نوشہرہ)، مولانا جمیل الرحمٰن اختر (لاہور)، جناب حافظ صاحبزادہ مبشر محمود (فیصل آباد)، مولانا محمد ایوب ثاقب (ڈسکہ)، مولانا قاری جمیل احمد بندھانی (سکھر)، مولانا محمد رضوان عزیز (چناب نگر)، مولانا صاحبزادہ محمد اشرف علی (مہتمم تعلیم القرآن راولپنڈی)
تیسرا اجلاس: ۲۵؍ اکتوبر بروز جمعرات بعد از عصر:
نشست سوال وجواب: (مولانا) اللہ وسایا
چوتھا اجلاس: ۲۵؍ اکتوبر ۲۰۱۸ء بروز جمعرات بعد از مغرب: مجلس ذکر۔
تلاوت: استاذ القراء قاری احسان اللہ فاروقی (لاہور)
نعت: جناب اعجاز حسین شاہ کاظمی
بیان و مجلس ذکر: مولانا پیر قاضی ارشد الحسینی (اٹک)
پانچواں اجلاس: ۲۵؍ اکتوبر بروز جمعرات بعد از عشاء:
صدارت: مولانا میاں مسعود احمد دین پوری سجادہ نشین خانقاہ عالیہ دین پور شریف
مہمانان خصوصی: مولانا صاحبزادہ عزیز احمد، صاحبزادہ خلیل احمد، مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ (کراچی)، مولانا مفتی خالد محمود (اقراء کراچی)، مولانا قاری فیض اللہ (چترال)، شیخ الحدیث مولانا منیر احمد منور (کہروڑپکا)، مولانا عبدالمجید (چوک سرور شہید)، مولانا قاضی محمد ابراہیم ثاقب، مولانا صاحبزادہ عبدالقدوس (چکوال)، مولانا صاحبزادہ عبدالشکور نقشبندی (راولپنڈی)، مولانا مفتی محمد معاذ (چکوال)، مولانا مفتی طاہر مسعود (سرگودھا)، مولانا حافظ ناصر الدین خاکوانی (ملتان)، مفتی محمد حسن (لاہور)، مولانا مفتی شاہد مسعود (سرگودھا)، مولانا محمد اکرم طوفانی (سرگودھا)، مولانا فضل محمد (کراچی)، پیر طریقت مولانا سید جاوید حسین شاہ (فیصل آباد)، مولانا مفتی محمد عمران (دیر)، مولانا جمیل الرحمٰن درخواستی (خانپور)، مولانا قاضی مشتاق الرحمٰن (راولپنڈی)، مولانا عبدالرؤف (شیخ الحدیث اسلام آباد)، قاری عبدالرحمٰن (راولپنڈی)، مولانا ظہور احمد علوی (اسلام آباد)
تلاوت: قاری محمد عثمان مالکی (ساہیوال)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نعت: حافظ محمد شریف منچن آبادی، جناب صوفی محمد جعفر، رانا محمد عثمان قصوری، مولانا محمد قاسم گجر، جناب طاہر بلال چشتی، مولانا سلمان یٰسین، مولانا شاہد عمران عارفی، سید سلمان گیلانی
بیان: میاں محمد اجمل قادری (لاہور)، مولانا پیر عزیز الرحمٰن ہزاروی (راولپنڈی)، مولانا راشد محمود سومرو (لاڑکانہ)، مولانا بشیر احمد شاد (چشتیاں)، مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری (ساہیوال)، جناب سید محمد کفیل بخاری (ملتان)، مولانا صاحبزادہ حامد الحق (اکوڑہ خٹک)، مولانا محمد امجد خان (لاہور)، جناب عبداللہ حمید گل (اسلام آباد)، مولانا عبدالشکور رضوی، جناب پروفیسر مولانا ساجد میر (لاہور)، مولانا سید محمد اویس نورانی شاہ (کراچی)
آخری خطاب: مولانا فضل الرحمٰن (صدر متحدہ مجلس عمل پاکستان)
دعاء: مولانا فضل الرحمٰن درخواستی
رات گئے کانفرنس کا یہ اجلاس بخیر وخوبی اختتام پذیر ہوا۔
چھٹا اجلاس: ۲۶؍ اکتوبر ۲۰۱۸ء بروز جمعہ بعد از نماز فجر: درس قرآن مجید
درس قرآن: مولانا منیر احمد منور صاحب (شیخ الحدیث جامعہ باب العلوم کہروڑ پکا)
ساتواں اجلاس: ۲۶؍ اکتوبر ۲۰۱۸ء بروز جمعہ صبح ۹ بجے منعقد ہوا۔
صدارت: مولانا قاضی ہارون الرشید (راولپنڈی)
تلاوت: مولانا محمد قاسم رحمانی (بہاول نگر)
نعت: قاری شفیق الرحمٰن حسانی (جھنگ)، عبدالواحد جتوئی (سندھ)، جناب فضل امین (چارسدہ)، مولانا زاہد علی معاویہ (چنیوٹ)، جناب فیصل بلال حسان (گوجرانوالہ)
بیان: مولانا عبدالرزاق مجاہد (اوکاڑہ)، مولانا عبدالحکیم نعمانی (ساہیوال)، مولانا مفتی محمد احمد (کوئٹہ)، مولانا محمد عارف شامی (گوجرانوالہ)، مولانا توصیف احمد (حیدر آباد)، مولانا محمد اویس (کوئٹہ)، مولانا مفتی عظمت اللہ سعدی (بنوں)، مولانا نور محمد ہزاروی (سرگودھا)، مولانا ضیاء الدین آزاد (ماموں کانجن)، جناب ڈاکٹر دین محمد فریدی (بھکر)، مولانا تجمل حسین (نواب شاہ)، مولانا حماد اللہ درخواستی (خان پور)، مولانا محمد راشد مدنی (رحیم یار خان)، مولانا فضل محمد (استاذ الحدیث جامعۃ العلوم الاسلامیہ کراچی)، مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی (پشاور)
اذان جمعہ: خطبہ جمعہ و امامت جمعہ مولانا صاحبزادہ خلیل احمد (خانقاہ سراجیہ)
آٹھواں اختتامی اجلاس:
صدارت: پیر طریقت حافظ ناصر الدین خاکوانی مدظلہ
مہمانان خصوصی: مولانا قاری محمد یٰسین (فیصل آباد)، مولانا منیر احمد منور (کہروڑ پکا)، مولانا عبدالمجید (چوک سرور شہید)، مولانا محب النبی (لاہور)، مولانا سید محمود میاں (لاہور)، مولانا انیس احمد مظاہری (لاہور)
تلاوت ونعت: مولانا محمد رضوان (کراچی) محمد اسامہ اجمل، سید محمد سلمان گیلانی
قراردادیں: مولانا محمد راشد مدنی (رحیم یار خان)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بیان: مولانا عزیز الرحمٰن ثانی (لاہور)، پیر طریقت حافظ ناصر الدین صاحب خاکوانی، مولانا محمد الیاس گھمن (سرگودھا)، مولانا ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر (صدر ملی یکجہتی کونسل آف پاکستان)
اختتامی بیان و دعاء: پیر طریقت مولانا ذوالفقار احمد نقشبندی (جھنگ)
یوں اللہ رب العزت کے فضل و احسان، کرم و رحمت سے جمعرات صبح نماز فجر سے شروع ہو کر جمعہ عصر کی نماز پر کانفرنس کا بخیر و خوبی اختتام ہوا۔ فالحمد للہ علیٰ ذالک!
اسٹیج سیکرٹری: مولانا قاضی احسان احمد، مولانا محمد قاسم رحمانی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی۔
(۱) تخصص فی علوم ختم نبوت:
گزشتہ کانفرنس ۲۰۱۷ء پر ختم نبوت کے عنوان پر تخصص کرنے والے سال سوم کے ساتھیوں کی دستار بندی کی گئی تھی جن کی فہرست ماہنامہ لولاک کے شمارہ ربیع الاوّل ۱۴۳۹ھ ص۴۳ پر شائع ہوئی۔ ان کی سال اوّل سے سال سوم کے اختتام تک کل تعداد ساٹھ تھی۔ اب ختم نبوت کانفرنس ۲۰۱۸ء میں جمعہ کے روز قبل از جمعہ ۲۶؍ اکتوبر ۲۰۱۸ء کو سال چہارم کے جن ساتھیوں کی دستار بندی کرائی گئی ان کے اسماء گرامی یہ ہیں:
مسلسل نمبر شمار اسمائے گرامی ولدیت ضلع ۶۱ ۱ مولوی محمد اقبال قاری رب نواز مظفر گڑھ ۶۲ ۲ مولوی شاہ نواز پاندی خان کشمور ۶۳ ۳ مولوی ظہیر الدین گلزار احمد نثار نیلم ۶۴ ۴ مولوی سیار محمد حقانی امیر محمد مردان ۶۵ ۵ مولوی آصف اللہ حقانی محمد شیر چارسدہ ۶۶ ۶ مولوی حسین الرحمٰن حقانی ثمر گل صوابی ۶۷ ۷ مولوی ارشاد اللہ فضل الرحمٰن لکی مروت ۶۸ ۸ مولوی شاہ نواز علی نواز ٹنڈو محمد خان ۶۹ ۹ مولوی محمد زبیر احمد ناتھو بدین ۷۰ ۱۰ مولوی محمد عمر حقانی حاجی شیر علی ژوب ۷۱ ۱۱ مولوی عبد الرزاق بخت زادہ بونیر ۷۲ ۱۲ مولوی نور اللہ عبد الرحیم ہرنائی بلوچستان ۷۳ ۱۳ مولوی ہدایت اللہ سعد اللہ بونیر ۷۴ ۱۴ مولوی محمد عمیر احمد ساؤن خان ڈیرہ اسماعیل خان ۷۵ ۱۵ مولوی ابو بکر صدیق لیاقت علی بہاول نگر ۷۶ ۱۶ مولوی سلیم ممتاز سوات
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۷۷ ۱۷ مولوی محمد ابرار خادم خادم حسین بہاول نگر
(۲) شعبہ تخصص فی الافتاء کی دستار بندی:
سال ۱۴۳۸-۳۹ھ سے مدرسہ عربیہ ختم نبوت میں تخصص فی الافتاء کا آغاز کیا گیا۔ تخصص فی الافتاء کے سال اوّل ۱۴۳۸-۳۹ھ میں فارغ ہونے والے مفتیان کرام کی فہرست مندرجہ ذیل ہے۔ جن کی ۲۶؍ اکتوبر بروز جمعہ قبل از جمعہ کے اجلاس میں علماء ومشائخ نے دستار بندی فرمائی۔ ان کے اسماء گرامی یہ ہیں:
مسلسل نمبر شمار اسمائے گرامی ولدیت ضلع ۱ ۱ مولوی عمیر احسن محمد یاسین فیصل آباد ۲ ۲ مولوی سیف الرحمٰن حاجی احمد شیر چنیوٹ ۳ ۳ مولوی محمد امین محمد اقبال چنیوٹ ۴ ۴ مولوی محمد امیر حمزہ محمد مبین فیصل آباد ۵ ۵ مولوی علی معاویہ عبدالمجید کراچی ۶ ۶ مولوی محمد وقار سرور محمد سرور پاکپتن ۷ ۷ مولوی ضیاء الرحمٰن لقمان خان شمالی وزیرستان ۸ ۸ مولوی نائب شاہ سلطان شاہ ہرنائی بلوچستان ۹ ۹ مولوی محمد شعیب محمد ناصر چنیوٹ
(۳) دورۂ حدیث شریف:
مدرسہ عربیہ ختم نبوت میں دورۂ حدیث شریف کا آغاز شوال ۱۴۳۷ھ میں کیا گیا۔ دورۂ حدیث شریف سال اوّل ۱۴۳۷-۳۸ھ میں فارغ التحصیل ہونے والے علماء کرام کی فہرست یہ ہے:
مسلسل نمبر شمار اسمائے گرامی ولدیت ضلع ۱ ۱ مولوی محمد حبیب اللہ محمد عبداللہ معاویہ فیصل آباد ۲ ۲ مولوی سیف الرحمٰن حاجی احمد شیر چنیوٹ ۳ ۳ مولوی محمد یار شاہ محمد چنیوٹ ۴ ۴ مولوی محمد ساجد محمد ابراہیم رحیم یار خان ۵ ۵ مولوی محمد نوید محمد اسلم سرگودھا ۶ ۶ مولوی شاہد عمران فلک شیر چنیوٹ ۷ ۷ مولوی محمد عمر فاروق غلام محمد چنیوٹ ۸ ۸ مولوی محمد شعیب محمد ناصر چنیوٹ ۹ ۹ مولوی محمد ندیم فیض محمد تونسہ
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۱۰ ۱۰ مولوی محمد عاقب جاوید حاجی محمد طفیل لودھراں ۱۱ ۱۱ مولوی شیر عالم شیر خان چنیوٹ ۱۲ ۱۲ محمد امین محمد اقبال چنیوٹ
دورۂ حدیث شریف سال دوم ۳۹-۱۴۳۸ھ میں فارغ ہونے والے سولہ حضرات علماء کرام تھے جن کی ۳۷ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر پر ۲۶؍اکتوبر ۲۰۱۸ء بروز جمعہ قبل از جمعہ کے اجلاس میں دستار بندی کرائی گئی۔ ان حضرات کے اسماء گرامی یہ ہیں:
مسلسل نمبر شمار اسمائے گرامی ولدیت ضلع ۱۳ ۱ مولوی محمد وقاص حاجی منیر احمد بہاول پور ۱۴ ۲ مولوی عبدالرحیم شیر محمد چنیوٹ ۱۵ ۳ مولوی محمد مدثر عمر حیات چنیوٹ ۱۶ ۴ مولوی عبدالرحمن میر اسلم خان وزیرستان ۱۷ ۵ مولوی محمد بلال حاجی حضرت خان وزیرستان ۱۸ ۶ مولوی محمد عبد اللہ عبد الستار جھنگ ۱۹ ۷ مولوی حافظ ظفر اللہ سندھی نواب خان حیدر آباد ۲۰ ۸ مولوی عتیق الرحمن حاجی سیف الرحمن لودھراں ۲۱ ۹ مولوی محمد طلحہ حضور بخش مظفر گڑھ ۲۲ ۱۰ مولوی حبیب اللہ محمد رمضان مظفر گڑھ ۲۳ ۱۱ مولوی عظمت علی منظور حسین چنیوٹ ۲۴ ۱۲ مولوی محمد بلال انعام الٰہی چنیوٹ ۲۵ ۱۳ مولوی زاہد علی محمد اسلم چنیوٹ ۲۶ ۱۴ مولوی امیر حمزہ مفتی عبد اللہ خیر پور میرس ۲۷ ۱۵ مولوی محمد اسحاق حاجی غلام رسول مظفر گڑھ ۲۸ ۱۶ مولوی محمد سرفراز حاجی شیر محمد چنیوٹ
(۴) تحفیظ القرآن کے فارغ التحصیل حفاظ کرام کی دستار بندی:
مدرسہ عربیہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر کے درجہ حفظ سے فارغ ہونے والے حفاظ کرام کی ۲۰۰۱ء سے ۲۰۱۷ء کی تعداد ۲۸۱ ہے جن کی فہرست لولاک ربیع الاوّل ۱۴۳۹ھ کے ص ۴۴، ۴۵ پر شائع ہو چکی ہے۔ امسال تعلیمی سال ۳۹-۱۴۳۸ھ میں حفظ کے شعبہ سے مدرسہ ختم نبوت کے ۲۵ طلباء تھے جنہوں نے حفظ مکمل کیا۔ ان کی دستار بندی ۲۶؍اکتوبر جمعہ کو ۳۷ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس کے موقعہ پر کی گئی۔ ان کے اسماء گرامی یہ ہیں:
مسلسل نمبر شمار اسمائے گرامی ولدیت ضلع
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۲۸۲ ۱ حافظ محمد علی محمد عظیم چنیوٹ ۲۸۳ ۲ حافظ عبدالوہاب محمد مبین وہاڑی ۲۸۴ ۳ حافظ زر محمد خان نور محمد خان چنیوٹ ۲۸۵ ۴ حافظ سیف الرحمن نور الحسن چنیوٹ ۲۸۶ ۵ حافظ ابراہیم میر اسلم خان جنوبی وزیرستان ۲۸۷ ۶ حافظ شعیب امتیاز امتیاز احمد بہاول نگر ۲۸۸ ۷ حافظ ابوبکر صدیق محمد انعام بہاول نگر ۲۸۹ ۸ حافظ محمد عثمان اللہ بخش چنیوٹ ۲۹۰ ۹ حافظ سلیم محمد نواز چنیوٹ ۲۹۱ ۱۰ حافظ صداقت علی خضر حیات چنیوٹ ۲۹۲ ۱۱ حافظ قدیر شاہ منان شاہ ہرنائی ۲۹۳ ۱۲ حافظ عامر خان نور محمد خان چنیوٹ ۲۹۴ ۱۳ حافظ ثمر عباس جعفر علی چنیوٹ ۲۹۵ ۱۴ حافظ عمر حیات محمد حیات چنیوٹ ۲۹۶ ۱۵ حافظ محمد اشفاق غلام مرتضیٰ چنیوٹ ۲۹۷ ۱۶ حافظ محمد انور خان حاجی جہانداد زیارت ۲۹۸ ۱۷ حافظ محمد سعید منصب علی چنیوٹ ۲۹۹ ۱۸ حافظ طالب حسین بشیر احمد چنیوٹ ۳۰۰ ۱۹ حافظ سعد اللہ ظفر ظفر عباس چنیوٹ ۳۰۱ ۲۰ حافظ مبشر عباس سلطان علی چنیوٹ ۳۰۲ ۲۱ حافظ محمد دلشاد عبداللطیف بہاول پور ۳۰۳ ۲۲ حافظ محمد شعیب جاوید اقبال چنیوٹ ۳۰۴ ۲۳ حافظ غلام نبی اللہ بخش چنیوٹ ۳۰۵ ۲۴ حافظ محمد خزیمہ مولانا محمد احمد بہاول پور ۳۰۶ ۲۵ حافظ محمد اسامہ محمد حنیف سرگودھا
۳۷ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کی منظور شدہ قراردادیں:
- ...... ”عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ’۳۷ویں آل پاکستان دوروزہ سالانہ ختم نبوت کانفرنس‘ چناب نگر کا یہ عظیم الشان
اجتماع اللہ پاک کے حضور سجدہ شکر بجالاتے ہوئے تمام مدعوین و مندوبین اور شرکاء کانفرنس کا شکریہ ادا کرتا ہے کہ آپ حضرات
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کی تشریف آوری سے یہ کانفرنس کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔
- گزشتہ دنوں چنیوٹ انتظامیہ کی طرف سے چناب نگر میں ناجائز تجاوزات آپریشن کی آڑ میں صرف مسلمان ریڑھی بانوں کے
خلاف کارروائی قابل مذمت ہے۔ اس سے چناب نگر کے غریب ریڑھی بانوں کے روز گار کو چھیننے کی قادیانی سازش ہے۔ انتظامیہ قادیانیت نوازی سے باز رہے۔
- یہ اجتماع لمز یونیورسٹی لاہور کے طلباء کی چناب نگر میں پراسرار آمد کو نوجوان نسل کے ایمان پر ڈاکہ زنی اور بدترین قادیانیت نوازی
سے تعبیر کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں قادیانیوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کا نوٹس لے۔
- آسیہ ملعونہ کو عدالت کے ذریعہ رہا کرانے کے لئے اندرونی و بیرونی طور پر لاوہ پک رہا ہے۔ یہ اجتماع مطالبہ کرتا ہے کہ انصاف
کو قتل نہ کیا جائے۔ انصاف کے مطابق وہ اہانت رسول کی مرتکب ہے۔ آئین میں طے شدہ سزا کے مطابق اسے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ اس کو ناجائز ذرائع سے رعائت دینا ملک و اسلام کے خلاف خطرناک کھیل ہوگا۔ جسے اسلامیان وطن کبھی برداشت نہیں کریں گے۔
- حال ہی میں تحفظ ناموس رسالت قانون کو غیر مؤثر کرنے کی کوشش کی گئی ، جس کی واپسی کا اعلان تو کیا گیا ، لیکن تاحال سینٹ کے فلور
سے واپسی کا اعلان نہیں ہوا۔ یہ اجتماع حکومت وقت سے مطالبہ کرتا ہے کہ فی الفور سینٹ کے فلور سے واپسی کا اعلان کیا جائے۔
- فوج کا ماٹو جہاد ہے جب کہ قادیانی جہاد اسلامی کے منکر ہیں۔ لہٰذا آئندہ انہیں فوج میں کمیشن نہ دیا جائے۔
- ملک بھر کے تمام سول اور فوج کے محکموں سے قادیانیوں کو کلیدی عہدوں سے الگ کیا جائے۔
- یہ اجتماع مطالبہ کرتا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کی روشنی میں ارتداد کی شرعی سزا کا اجراء اور نفاذ کیا جائے اور دیگر
اقلیتوں کے اوقاف کی طرح قادیانی اوقاف بھی تحویل میں لیا جائے۔
- قادیانیوں نے چناب نگر میں اپنا عدالتی نظام قائم کر رکھا ہے۔ جو سٹیٹ اندر سٹیٹ کے مترادف ہے۔ لہٰذا چناب نگر میں سرکاری
رٹ کو قائم کرتے ہوئے انہیں ملکی قانون کا پابند کیا جائے اور چناب نگر میں سیکورٹی کے نام پر قادیانیوں کی غنڈہ گردی اور مسلمانوں کو ہراساں کرنے کے عمل کا نوٹس لیا جائے۔
- ملک بھر کی عسکری تنظیموں پر پابندی ہے لیکن قادیانیوں کی تربیت یافتہ مسلح تنظیم خدام الاحمدیہ کو کھلی چھٹی دی جا چکی ہے۔ دیگر عسکری
تنظیموں کی طرح قادیانیوں کی مسلح تنظیم خدام الاحمدیہ پر پابندی عائد کی جائے اور اس کے اثاثے بحق سرکار ضبط کئے جائیں۔
- کانفرنس کا یہ اجتماع مطالبہ کرتا ہے کہ چناب نگر کے باسیوں کو بلا استثناء مالکانہ حقوق دیئے جائیں۔
- عدلیہ کے فیصلے اور تمام مکاتب فکر کے علماء کے ارشادات کی روشنی میں گوہر شاہی ایک گستاخ رسول تھا۔ اس کو سزا ہوئی اور اس کی
جماعت انجمن سرفروشان اسلام اور مہدی فاؤنڈیشن اس کے باطل نظریات کو چلا کر ارتدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ ان پر فی الفور پابندی عائد کی جائے۔‘‘
امسال ۳۷ ویں سالانہ کانفرنس میں چھ نئے مقررین حضرات تھے۔ (۱) مولانا پروفیسر ساجد میر (لاہور) ، (۲) مولانا شاہ محمد اویس نورانی (کراچی) ، (۳) مکرم جناب عبداللہ حمید گل (اسلام آباد) ، (۴) مولانا راشد محمود سومرو (لاڑکانہ) ، (۵) مولانا حماد اللہ درخواستی (خان پور) ، (۶) مولانا فضل محمد (استاذ الحدیث جامعہ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کانفرنس اللہ رب العزت کے فضل و کرم ، احسان ورحمت سے ہر طرح کامیاب ترین کانفرنس تھی۔ سب حمد وثناء، قلبی ولسانی ذکر اس ذات باری تعالیٰ کے لئے جس نے عقیدہ ختم نبوت کی ترویج واشاعت کے لئے مجلس تحفظ ختم نبوت کو سب سے زیادہ قبولیت و کامرانی سے نوازا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۱۹ء ص ۳ تا ۱۶)
سیرت النبی ﷺ کانفرنس ٹالہی
۲۹؍ اکتوبر ۲۰۱۸ء بروز جمعرات بعد نماز عشاء مرکز ختم نبوت ٹالہی میں عظیم الشان سیرت النبی ﷺ کانفرنس منعقد ہوئی۔ دور دراز سے کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت میر پور خاص کے مبلغ مولانا مختار احمد نے اسٹیج سیکرٹری کے فرائض سر انجام دیتے ہوئے مبلغ ختم نبوت تھر پارکر مولانا محمد حنیف سیال کو دعوت دی۔ انہوں نے عقیدۂ ختم نبوت پر خوب گفتگو کی۔ اس کے بعد مولانا شاہ مسعود خطیب بخاری مسجد کنری نے بیان کیا۔ آخر میں مولانا عبداللہ سندھی نے سیرت النبی ﷺ پر گفتگو کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۹ء ص ۴۶)
تحفظ ناموس رسالت اجلاس ملتان
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مرکزی دفتر ملتان کے زیر اہتمام ۳۱؍ اکتوبر ۲۰۱۸ء کو آسیہ ملعونہ کی رہائی کے خلاف تحفظ ناموس رسالت کے حوالہ سے ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری ، مولانا اللہ وسایا ، وفاق المدارس کے ناظم اعلیٰ مولانا قاری حنیف جالندھری سمیت تمام مکاتب فکر اور تمام دینی و سیاسی جماعتوں کے ضلعی قائدین کا بھر پور اجلاس ہوا۔ اجلاس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور وفاق المدارس نے مشترکہ طور پر فیصلہ کیا کہ ۲ نومبر بروز جمعتہ المبارک ملک گیر پر امن احتجاجی مظاہرے ریلیاں نکالی جائیں۔ نیز ملک بھر کی طرح ملتان میں بھی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کی مشترکہ ریلی کا انعقاد کیا جائے۔ چنانچہ فیصلہ ہوا کہ ۲؍ نومبر کا خطبہ جمعہ عالمی مجلس کے مرکزی دفتر کی جامع مسجد میں مولانا قاری محمد حنیف جالندھری پڑھائیں گے اور بعد از نماز جمعتہ المبارک مشترکہ ریلی عالمی مجلس کے مرکزی دفتر سے ہی نکالی جائے گی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۱۹ء ص ۵۴)
احتجاجی مظاہرہ لکی مروت
۳۱؍ اکتوبر ۲۰۱۸ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت تحصیل لکی کے زیر اہتمام احتجاجی ریلی نکالی گئی ریلی میں لکی سٹی کے تمام مدارس کے علماء کرام وطلباء کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں عاشقان رسول ﷺ نے شرکت کی۔ ریلی سے مقامی امیر شیخ الحدیث مولانا احمد سعید ، ناظم حافظ قدرت اللہ، مولانا عبدالرحیم ، مولانا احمد شاہ قریشی ، مولانا عبدالوکیل اور شیخ الحدیث مولانا عبدالمتین سمیت دیگر علماء کرام نے خطاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۱۹ء ص ۵۵)
احتجاجی مظاہرہ سرائے نورنگ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ملک بھر کی طرح سرائے نورنگ ضلع لکی مروت میں بروز بدھ ۳۱؍ اکتوبر ۲۰۱۸ء کو توہین رسالت ﷺ کیس میں لاہور ہائی کورٹ سے سزا یافتہ گستاخ آسیہ ملعونہ کی رہائی کے خلاف ہنگامی طور پر نماز ظہر کے بعد احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ جس کی قیادت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ضلعی ناظم اعلیٰ مولانا عبدالرحیم اور ضلعی ناظم مفتی ضیاء اللہ نے کی۔ جب کہ اس موقع پر مولانا
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بشیر احمد، مولانا محمد ابراہیم ادہمی، مولانا محمد طیب طوفانی، مولانا محمد ظہور احمد نقشبندی، مولانا فاروقی، حاجی عظیم خان، مولانا سمیع اللہ مجاہد، مفتی رضوان اللہ، مولانا اعزاز اللہ، جناب اختر زمان، جناب حاجی امان اللہ اور مولانا محمد امجد طوفانی سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ آسیہ مسیح نے حضور نبی کریم ﷺ کی شان مبارک میں گستاخی کی ہے۔ آسیہ مسیح پر یہ جرم ثابت ہونے کے بعد لاہور ہائی کورٹ نے اسے سزائے موت کی سزا سنائی۔ تاہم گزشتہ روز سپریم کورٹ آف پاکستان کا فیصلہ انتہائی تشویش ناک ہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۱۹ء ص۵۴، ۵۵)
ختم نبوت کانفرنس پیریا نوالا ٹوبہ
یکم نومبر ۲۰۱۸ء بروز جمعرات بعد نماز عشاء چک نمبر ۲۹۵ گ۔ب ٹوبہ ٹیک سنگھ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت مولانا محمد موسیٰ مدظلہ نے فرمائی۔ تلاوت کلام پاک قاری محمد امین جب کہ نعت ہدیہ رسول مقبول ﷺ جناب ظفر شہزاد نے پیش کیا۔ کانفرنس میں مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد الیاس چنیوٹی، مولانا فضل الرحمٰن درخواستی کے خصوصی بیانات ہوئے۔ مقررین نے کہا کہ آسیہ مسیح کی رہائی کے فیصلہ سے امت مسلمہ کی دل آزاری ہوئی ہے۔ مسلمانان پاکستان رہبروں کے روپ میں چھپے رہزنوں سے واقف ہوچکے ہیں، ناموس رسالت ﷺ کے قانون کو چھیڑنے کی بھی ناپاک کوششیں ہورہی ہیں، مسلمان اتحاد و اتفاق اور بیداری کا ثبوت دیں۔ مقامی علماء میں سے قاری محمد انور مولانا لطف اللہ لدھیانوی، مولانا امین ربانی، مولانا سعد اللہ لدھیانوی، مولانا مجیب الرحمٰن، سید حسان احمد طلحہ شاہ، مولانا شاکر اللہ، مولانا مطیع اللہ، مولانا قاری نصر اللہ انور، مولانا محمد حبیب ضلعی مبلغ نے بھی اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ شیخ زاہد اقبال، محمد سفیان اللہ و دیگر کئی حضرات کانفرنس کے انتظامات و اہتمام میں سرفہرست رہے۔ کانفرنس میں کثیر علماء حفاظ، طلباء اور عوام الناس نے شرکت فرمائی، الحمد للہ ! کانفرنس کامیاب رہی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۱۹ء ص ۵۰)
تحفظ ناموس رسالت احتجاجی ریلی ملتان
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان کے زیر اہتمام ۲؍ نومبر ۲۰۱۸ء کو تمام مکاتب فکر اور سیاسی و مذہبی جماعتوں کی مشترکہ احتجاجی ریلی مرکزی دفتر سے نکالی گئی اور گھنٹہ گھر چوک میں پہنچ کر پرامن مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری، مولانا اللہ وسایا، جامعہ خیر المدارس کے مدیر مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، مجلس احرار اسلام کے سید عطاء اللہ شاہ بخاری ثالث، جمعیت علماء اسلام کے شیخ حافظ محمد عمر، جناب نور محمد ہانس، جمعیت علماء اسلام (س) کے مفتی ممتاز احمد، جماعت اسلامی کے ڈاکٹر صفدر اقبال ہاشمی، میاں آصف محمود اخوانی، تحریک لبیک یا رسول اللہ کے حافظ محمد ایوب مغل، جمعیت علماء پاکستان کے مولانا شفیق اللہ مدنی، علامہ فاروق سعیدی، جمعیت اہلحدیث کے علامہ عبد الرحیم گجر، علامہ خالد محمود، رابطہ المدارس کے مولانا عبد الرزاق، جمعیت اتحاد العلماء کے مولانا انعام اللہ، قومی تاجر اتحاد کے سلطان محمود ملک، بار ایسوسی ایشن کے چوہدری خالد منیر، حافظ اللہ دتہ کاشف، ذو الفقار سندھو کے علاوہ علامہ عبد الحق مجاہد، مولانا حافظ محمد انس، قاری محمد عثمان جالندھری، مولانا منیر احمد جالندھری، جناب اسرار حسین اور جناب حسان اخوانی سمیت دیگر علماء کرام و سیاسی عمائدین نے خطابات و شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۱۹ء ص ۵۵)
احتجاجی ریلیاں
۲؍ نومبر ۲۰۱۸ء بروز جمعتہ المبارک عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام لکی مروت سرائے نورنگ میں ختم نبوت کے ضلعی ناظم
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ادھر مولانا عبدالرحیم ، ضلعی ناظم مفتی ضیاء اللہ اور ناظم مالیات مولانا محمد ابراہیم ادہمی کی قیادت میں جب کہ غزنی خیل میں اڈہ پر پی کے ۹۲ کے امیر مولانا مطیع اللہ، مولانا محمد زعفران ، مولانا عبید اللہ، مولانا ارشاد اللہ، حاجی معین اللہ جان ، مولانا محمد رضا اور مولانا محمد یوسف کی قیادت میں اور تجوڑی شہر کے مین بازار میں مولانا اصغر علی ، مولانا محمد طاہر، مولانا مبارک شاہ کی قیادت میں گستاخ آسیہ مسیح ملعونہ کی بریت کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی گئیں۔ جس میں آسیہ مسیح کی رہائی ”نامنظور نامنظور“ کے فلک شگاف نعرے لگائے گئے ۔ مقررین نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ عاشق رسول ﷺ غازی ممتاز قادری کو پھانسی دی گئی ۔ جب کہ گستاخ رسول ملعونہ آسیہ کو بری کر دیا گیا ۔ یہ کیسا انصاف ہے کہ ایک اسلامی ملک میں ایک گستاخ کو پروٹوکول دے کر باعزت طور پر رہا کر دیا گیا۔ ریلیوں میں مطالبہ کیا گیا کہ سپریم کورٹ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے ۔ نیز ۹؍نومبر بروز جمعہ کو لکی سٹی میں قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن کے حکم پر ایک اور عظیم الشان ریلی مولانا عبد الرحیم کی قیادت میں نکالی گئی۔ ریلی میں مقررین نے حکومت کی دوغلی پالیسی پر شدید تنقید کی اور قائدین کے حکم پر ہر قسم کی قربانی کے لئے عزم مصمم کیا۔ ریلی میں ہزاروں کی تعداد میں عاشقان رسول ﷺ نے شرکت کی ۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۱۹ء ص ۵۵، ۵۶)
ختم نبوت کانفرنس لوئر دیر
۴؍ نومبر ۲۰۱۸ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لوئر دیر کے زیر اہتمام ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر تیمر گرہ کے وسیع وعریض میدان ریسٹ ہاؤس گراؤنڈ پر دوسری سالانہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ۔ کانفرنس کا آغاز صبح ۹ بجے ہوا۔ کانفرنس کی صدارت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لوئر دیر کے امیر مولانا عمران خان نے کی ۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض ضلعی میڈیا ترجمان محسن محمود مبارکزئی نے ادا کئے ۔ مشہور و معروف قاری قمر زمان نے تلاوت کی ، ثناء خواں مولانا نادر شاہ نے حمد ونعت پیش کی ۔ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس کی نگرانی ضلعی سرپرست شیخ الحدیث مولانا فضل وہاب صاحب نے کی، جب کہ مفتی مجیب الرحمن مدظلہ کی سر پرستی میں اس عظیم الشان کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔
ختم نبوت کانفرنس میں مرکزی، صوبائی اور ضلعی قائدین سمیت لوئر دیر کے تمام سیاسی ، سماجی حلقوں ، وکلاء برادری ، اساتذہ تنظیموں ، سول سوسائٹی اور مذہبی راہنماؤں نے شرکت کی ۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت خیبر پختونخواہ کے امیر مفتی شہاب الدین پوپلزئی نے کہا کہ آزادی اظہار رائے کے نام پر گستاخی کسی صورت برداشت نہیں ۔ ملک خداداد پاکستان کا آئین بھی اس بات کو تسلیم نہیں کرتا کہ آقائے مدنی کریم ﷺ کی توہین کی جائے ۔ مصور پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے واشگاف الفاظ میں فرمایا تھا کہ قادیانی ملک اور ملت کے غدار ہیں ۔ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے ہم سب ایک ہیں۔ حکومت آئین اور قانون کے باغیوں کا محاسبہ کرے ۔ ملک خداداد پاکستان کے غیور مسلمان آئین اور قانون کے تحفظ کی جدوجہد کرتے رہیں گے ۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ نصاب میں عقیدہ ختم نبوت کے حوالے سے مضامین کو شامل کیا جائے ۔ ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کراچی کے اسکالر مولانا قاضی احسان احمد نے کہا کہ منکرین ختم نبوت، ملک وملت کے غدار قادیانی پاکستان کے لئے سیکورٹی رسک ہیں۔ اعلیٰ عہدوں پر فائز قادیانیوں کو فی الفور فارغ کیا جائے ۔ حکومت ان کی منفی سرگرمیوں کو روک دے ۔ تحفظ ناموس رسالت کے لئے ہم کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت اسلام کی شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۲۳ تا ۳۰؍نومبر ۲۰۱۸ء ص ۲۶)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس شکار پور
۱۰؍نومبر ۲۰۱۸ء بعد نماز ظہر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت شکار پور کے زیر اہتمام حاجی پیلو گوٹھ میں کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں مولانا قاضی احسان احمد کراچی اور مولانا محمد حسین ناصر سکھر کے خصوصی بیانات ہوئے۔ مقررین نے بیرونی دباؤ پر آسیہ کی رہائی پر شدید مذمت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۹ء ص ۴۶)
ختم نبوت کانفرنس شکار پور
۱۰؍نومبر ۲۰۱۸ء بروز ہفتہ بعد نماز عشاء دادو اتی روڈ شکار پور شہر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ حمد و نعت کے بعد لاڑکانہ کے مبلغ مولانا ظفر اللہ سندھی کا بیان ہوا۔ بعد ازاں مولانا محمد حسین ناصر، مولانا محمد طیب، مولانا ناصر محمود سومرو اور مولانا قاضی احسان احمد کراچی کے بیانات ہوئے۔ کانفرنس میں تحفظ ناموس رسالت پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ مقررین نے مطالبہ کیا کہ آسیہ کی سزا کو بحال کیا جائے۔ کانفرنس کی کامیابی کے لئے مولانا محمد یوسف سومرو، مولانا عبد الباسط بروہی، مولانا عبد الصمد، جناب عبد الفتاح نے بھر پور محنت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۹ء ص ۴۶، ۴۷)
ختم نبوت کانفرنس میانوالی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت چھدرو واں بھچراں کے نئے یونٹ کا افتتاح کیا گیا اور اس سے پہلے یونٹ کی تشکیل ہوئی۔ ۱۱؍نومبر کو واں بھچراں میں کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس سے مولانا محمد نعیم، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور مولانا کفایت اللہ پہاڑ پور کے علاوہ دیگر علماء کرام نے عقیدۂ ختم نبوت اور ناموس رسالت کے عنوان پر سیر حاصل خطاب فرمایا اور سامعین نے پر جوش نعروں کی گونج میں یقین دہانی کرائی کہ وہ حسب سابق ناموس رسالت ﷺ کے لئے جب بھی ضرورت پڑی تن من دھن قربان کر کے اس کی حفاظت کریں گے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۱۹ء ص ۵۱)
ختم نبوت کانفرنس جعفر آباد سکھر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۱؍نومبر ۲۰۱۸ء کو بعد نماز مغرب جعفر آباد نیو سکھر میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں مولانا قاضی احسان احمد کراچی، مولانا محمد حسین ناصر، مولانا حافظ خادم حسین بلوچ کے بیانات ہوئے۔ جناب حاجی امداد اللہ نے ہدیہ نعت پیش کیا۔ جناب فقیر عبد الحمید مہر کی محنت کانفرنس کے کامیاب انعقاد میں شامل حال رہی۔ نیز اس روز دوپہر بعد نماز ظہر جامعہ اسلامیہ اشاعت القرآن میں طلباء سے مولانا قاضی احسان احمد کا بیان بھی ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۹ء ص ۴۷)
ختم نبوت کانفرنس قمبر شہداد کوٹ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت باڑہ قمبر ضلع شہداد کوٹ کے زیر اہتمام ۱۱؍نومبر ۲۰۱۸ء بعد نماز عشاء ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی نگرانی مولانا مفتی نصیر احمد اور سرپرستی مولانا ناصر محمود سومرو نے کی۔ کانفرنس سے مولانا قاضی احسان احمد کراچی، مولانا محمد حسین ناصر، مولانا ظفر اللہ سندھی، مولانا عبد الجبار حیدری، مولانا جمال مصطفیٰ، جناب محبت علی کھوڑو اور جناب محمد الیاس چنہ کے بیانات ہوئے۔ مقررین نے عقیدۂ ختم نبوت پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے قادیانیوں سے بائیکاٹ پر سامعین سے عہد لیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۹ء ص ۴۷)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دوروزہ تحفظ ختم نبوت کورس قمبر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مؤرخہ ۱۱، ۱۲؍نومبر ۲۰۱۸ء بعد نماز مغرب تا عشاء مدرسہ جامعہ اسلامیہ دارالقرآن مدنیہ قمبر ضلع شہداد کوٹ میں دو روزہ ختم نبوت کورس منعقد ہوا۔ جس کی سرپرستی مولانا سائیں عبدالمجیب پیر شریف والوں نے اور نگرانی مولانا عبدالعزیز عباسی نے کی۔ کورس میں مولانا مفتی محمد راشد مدنی رحیم یار خان ، مولانا قاضی احسان احمد کراچی اور مولانا محمد حسین ناصر سکھر کے لیکچرز ہوئے۔ شرکاء کورس کو عقیدۂ ختم نبوت، حیات ونزول عیسیٰ علیہ السلام اور ظہور امام مہدی علیہ الرضوان کے موضوعات پر نوٹس تیار کرائے گئے۔ کورس کے کامیاب انعقاد میں صاحبزادہ مولانا عبدالناصر ، صاحبزادہ قاری عبدالحفیظ اور مبلغ لاڑکانہ مولانا ظفر اللہ سندھی کا بھر پور تعاون شامل رہا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۹ء ص ۵۳)
ناموس رسالت کانفرنس مردوال
مردوال وادی سون کا صحت افزاء مقام ہے۔ جہاں ۱۲؍نومبر کو عشاء کی نماز کے بعد ناموس رسالت کے تحفظ کے عنوان پر کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں مولانا محمد اسماعیل ( جابہ )، مولانا محمد نعیم (مبلغ خوشاب) اور مرکزی مبلغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ناموس رسالت کی حفاظت ایمان کی جان ہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۱۹ء ص ۵۱)
تحفظ ناموس رسالت وختم نبوت سیمینار نواب شاہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نواب شاہ کے زیر اہتمام مؤرخہ ۱۳؍نومبر ۲۰۱۸ء بروز منگل علیز گیسٹ ہاؤس اینڈ مصالحہ ریسٹورنٹ میں تحفظ ناموس رسالت وختم نبوت سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ سیمینار کی کارروائی سہ پہر تقریباً تین بجے شروع ہوئی۔ سیمینار کا آغاز مدرسہ مریم تجوید القرآن کے طالب علم حافظ محمد حاشر نے تلاوت قرآن کریم سے کیا۔ حافظ محمد اعظم نے حمد ونعت کا ہدیہ پیش کیا۔ جب کہ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض قاری عبداللہ فیض نواب شاہ نے سرانجام دیئے۔ مولانا قاری محمد انیس، مولانا قاضی احسان احمد کراچی اور مولانا مفتی محمد راشد مدنی رحیم یار خان نے خطابات کئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۱۹ء ص ۵۳)
شعور ختم نبوت وفہم دین کورس نواب شاہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نواب شاہ کے زیر اہتمام دو روزہ شعور ختم نبوت وفہم دین کورس مؤرخہ ۱۳، ۱۴؍نومبر ۲۰۱۸ء بروز منگل، بدھ جامع مسجد عالماں میں منعقد ہوا۔ کورس کی ابتدائی نشست کا آغاز ۱۳؍نومبر بروز منگل بعد نماز مغرب قرآن کریم کی تلاوت سے کیا گیا۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض قاری عبداللہ فیض نے سرانجام دیئے۔ پہلے مقامی امیر مولانا قاری محمد انیس اور مبلغ مولانا تجمل حسین نے لیکچرز دیئے۔ پھر مولانا قاضی احسان احمد نے مسلمانوں کے عقائد اور قادیانی تحریفات پر لیکچر دیا۔ آخر میں مولانا مفتی محمد راشد مدنی نے فروعی اور اصولی اختلاف کا فرق اور مسلمان وقادیانیوں کے مابین چھ اصولی اختلاف وضاحت سے شرکاء کورس کو قلم بند کروائے۔ بعد نماز عشاء دوسری نشست ہوئی۔ اس نشست میں مولانا مفتی محمد راشد مدنی نے رفع نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر سبق پڑھایا۔ ۱۴؍نومبر بروز بدھ بعد نماز مغرب کورس کی تیسری نشست ہوئی۔ مولانا قاضی احسان احمد نے عقیدۂ ختم نبوت اور قادیانیوں کے غلیظ عقائد سے آگاہی کے لئے چند کتب کے نام لکھوائے۔ بعد ازاں مولانا مفتی محمد راشد مدنی نے مسلمان اور قادیانیوں کے مابین دس اصولی بنیادی اختلافات اور رفع ونزول حضرت
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عیسیٰ علیہ السلام پر مفصل لیکچر دیا۔ نماز عشاء کے بعد آخر میں سوال و جواب کی نشست ہوئی۔ مولانا مفتی محمد راشد مدنی نے شرکاء کورس کے سوالوں کے جواب دیئے اور دعاء فرمائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۱۹ء ص ۵۴،۵۳)
شعور ختم نبوت کورس چوبلہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ٹوبہ کے زیر اہتمام ۱۴؍ نومبر بروز منگل تا ۱۸؍ نومبر ۲۰۱۸ء بروز اتوار بعد نماز مغرب چک نمبر ۱۴۸ گ، ب، چوبلہ میں پانچ روزہ شعور ختم نبوت کورس منعقد ہوا۔ جس میں عقیدہ ختم نبوت، تحفظ ناموس رسالت ﷺ، حیات سیدنا عیسیٰ علیہ السلام، سیرت امام مہدی علیہ الرضوان، کردار آنجہانی مرزا قادیانی پر ضلعی مبلغ مولانا محمد خبیب اور مولانا مجاہد مختار مدرس العصر تعلیمی مرکز پیرمحل نے لیکچر دیئے، شرکاء کورس طلباء وطالبات کی تعداد دوسو کے قریب تھی جن میں سے ۶۹ نے پیپر دیا۔ پہلی چاروں پوزیشنیں طالبات نے حاصل کیں اعزازی دس انعامات میں سے پانچ انعامات طالبات نے اور پانچ انعامات طلباء نے حاصل کئے۔ کورس کی نگرانی جناب قاری ذوالفقار علی منتظم جامعہ حسنین معاویہ چک چوبلہ نے فرمائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۱۹ء ص ۵۴)
ختم نبوت کانفرنس گھوٹکی
۱۴؍ نومبر ۲۰۱۸ء بروز بدھ صبح دس بجے سے عصر کی نماز تک گھوٹکی سائٹ ایریا میں تحفظ ختم نبوت کانفرنس مولانا محمد امین چنہ کے زیر انتظام اور مولانا عبدالحئی چنہ کی زیر صدارت منعقد ہوئی۔ مولانا گل حسن گپول، مولانا محمد حسین ناصر مبلغ اور مولانا طارق محمود سومرو کے خصوصی بیانات ہوئے۔ حکومتی پالیسیوں کی سخت مذمت کی گئی اور حکمرانوں سے باز رہنے کا مطالبہ کیا گیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۹ء ص ۴۷)
تحفظ ناموس رسالت و ختم نبوت سیمینار دوڑ ضلع نواب شاہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت دوڑ کے زیر اہتمام مورخہ ۱۴؍ نومبر ۲۰۱۸ء بروز بدھ دبئی میرج ہال دوڑ شہر میں تحفظ ناموس رسالت و ختم نبوت سیمینار کا انعقاد قاری جمیل احمد کی زیر صدارت کیا گیا۔ سیمینار کی کارروائی سہ پہر تقریباً دو بجے شروع ہوئی۔ سیمینار کا آغاز حافظ حسین احمد نے تلاوت قرآن کریم سے کیا۔ حافظ محمد نعمان جمیل نے حمد ونعت کا ہدیہ پیش کیا، جب کہ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا محمد اسجد جمیل نے سرانجام دیئے۔ عالمی مجلس نواب شاہ کے مبلغ مولانا تجمل حسین، مولانا قاضی احسان احمد کراچی اور مولانا مفتی محمد راشد مدنی رحیم یار خان نے بیانات کئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۹ء ص ۵۵)
خانقاہ عالیہ دین پور شریف میں جانبازان ختم نبوت کی روئیداد سخن
مدرسہ عربیہ صدیقیہ راشدیہ متصل خانقاہ عالیہ دین پور شریف جس کی سرپرستی امام الاولیاء پیر طریقت مولانا میاں مسعود احمد دین پوری مدظلہ اور اس کا اہتمام صاحبزادہ مولانا میاں عزیر احمد مدظلہ فرما رہے ہیں، میں تمام اساتذہ وقتاً فوقتاً اور مولانا مفتی راشد مدنی ہر ہفتے بروز بدھ ایک گھنٹہ طلباء کرام کو عقیدہ ختم نبوت، امام مہدی علیہ الرضوان اور عقیدہ حیات علیہ السلام سمیت دوسرے تحقیقی عنوانات پر اپنے منفرد انداز بیان میں طلباء کی تربیت فرماتے ہیں۔ انہی کی کاوش اور میاں صاحب کی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ساتھ محبت کا نتیجہ ہے کہ ادارہ ہذا کے طلباء کرام ختم نبوت کے محاذ پر صف آراء ہیں۔ مولانا مفتی راشد مدنی کے ایماء اور مشورہ پر صاحبزادہ میاں سہیل احمد دین پوری کی زیر نگرانی، طلباء کے درمیان عقیدہ ختم نبوت کے عنوان پر تقریری مقابلہ کا انعقاد ۵؍ ربیع الاوّل، مطابق ۱۴؍ نومبر ۲۰۱۸ء کو مدرسہ ھذا میں منعقد
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہوا۔ مختلف درجات کے طلباء کرام نے بھر پور تیاری کے ساتھ شرکت کی۔ پوزیشن ہولڈر طلباء کے لئے چار انعام تیار کئے گئے۔ جس میں مختلف کتب بطور انعام دی گئیں۔ علاوہ ازیں ہر طالب علم کو اعزازی انعام بھی دیا گیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے بھی طلباء کو کتب بطور انعام دی گئیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۹ء ص ۷)
ختم نبوت کانفرنس چکوال
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت چکوال کے زیر اہتمام دوسری سالانہ ختم نبوت کانفرنس ۱۵؍ نومبر ۲۰۱۸ء کو جامع مسجد الفلاح میں منعقد ہوئی۔ صدارت مولانا پیر عبدالقدوس نقشبندی مدظلہ نے کی۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض امیر چکوال مجلس مولانا مفتی محمد معاذ نے سرانجام دیئے۔ نعت کی سعادت جناب محمد بلال بالی، سید اسامہ اجمل (لاہور)، مولوی شیر محمد نے حاصل کی۔ مولانا نور محمد ہزاروی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن نے عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت اور ناموس رسالت کے تحفظ کے عنوان پر خطاب فرمایا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۱۹ء ص ۵۱)
ختم نبوت کانفرنس پرانا سکھر
۱۵؍ نومبر ۲۰۱۸ء بعد نماز عشاء شاہی مسجد پرانا سکھر میں تحفظ ختم نبوت کانفرنس مولانا جمیل احمد لغاری کی زیر نگرانی منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں مولانا محمد حسین ناصر، قاری جمیل احمد بندھانی، مولانا امان اللہ، قاری لیاقت علی مغل، مولانا محمد اسماعیل شاہ کاظمی کے بیانات ہوئے۔ الحمدللہ! کانفرنس بھر پور کامیاب رہی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۹ء ص ۴۷)
ختم نبوت کانفرنس پنوعاقل
۱۷؍ نومبر ۲۰۱۸ء بعد نماز مغرب جامع مسجد پنوعاقل میں ختم نبوت کانفرنس مولانا خلیل الرحمٰن کی زیر صدارت اور حافظ عبدالغفار کی زیر نگرانی منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں مولانا اللہ وسایا، مولانا قاضی احسان احمد، مولانا محمد حسین ناصر، مفتی محمد مظہر شاہ، مولانا محمد اظہر، مولانا سعود احمد سومرو، مولانا طارق محمود سومرو کے بیانات ہوئے۔ کانفرنس کو کامیاب کرنے میں قاری عبدالقادر چاچڑ، جناب غلام شبیر شیخ، حافظ محمد ایاز شیخ، مولوی فہد علی، جناب بشیر احمد ہنجار نے بھر پور تعاون کیا۔ مولانا غلام اللہ ہالیجوی، مولانا محمد صالح انڈھڑ، مولانا عبدالسبحان نے بھر پور سرپرستی کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۹ء ص ۴۸)
ختم نبوت کانفرنس جہانیاں
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مولانا محمد اکرم لانگ کی نگرانی، خواجہ عبد الماجد صدیقی کی سرپرستی اور حاجی نذیر احمد کی صدارت میں ۱۷؍ نومبر ۲۰۱۸ء کو عشاء کی نماز کے بعد ٹاؤن ہال بلدیہ میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ تلاوت قاری محمد رمضان نے کی۔ نعتیہ کلام حافظ ابو ہریرہ نے پیش کیا۔ مولانا عطاء المنعم نعیم، مولانا عبدالستار گورمانی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری مدظلہ اور معروف تبلیغی بزرگ مولانا کریم بخش مہتمم جامعہ عمر بن خطاب ؓ ملتان نے خطاب فرمایا۔ کانفرنس کے انتظامات مولانا اکرام الحق لانگ، مولانا سید وجیہ الرحمان نے کئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۱۹ء ص ۵۲)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس چوک اعظم
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام ۱۶؍نومبر ۲۰۱۸ء کو جامع مسجد سیدنا علی المرتضیٰ ؓ میں عشاء کی نماز کے بعد ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت مولانا عبیداللہ مہتمم دارالہدیٰ چوک اعظم نے کی ۔ جب کہ کانفرنس سے مولانا محمد ساجد (مبلغ لیہ)، مولانا محمد نعیم ( مبلغ میانوالی )، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور مولانا نور محمد ہزاروی امیر مجلس سرگودھا نے خطاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۱۹ء ص ۵۱، ۵۲)
ختم نبوت کانفرنس آدم شاہ کالونی سکھر
۱۸؍نومبر ۲۰۱۸ء بعد نماز عشاء آدم شاہ کالونی سکھر میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس مولانا عبیداللہ انصاری کی زیر نگرانی منعقد ہوئی۔ کانفرنس سے قاری لیاقت علی مغل ، مولانا سید حبیب اللہ شاہ ، مفتی عبدالرحیم ، مولانا محمد حسین ناصر، مولانا قاضی احسان احمد نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت عقیدہ ختم نبوت بین الاقوامی جماعت ہے جو مسلمانوں کے ایمان کا تحفظ کر رہی ہے اور قادیانیوں کو دعوت اسلام دے رہی ہے۔ کانفرنس کو کامیاب کرنے میں مولانا عبید اللہ انصاری کے ساتھ مولانا مفتی محکم الدین مہر و دیگر حضرات نے بھر پور تعاون کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۹ء ص ۴۸)
تحفظ ناموس رسالت کانفرنس چوہلہ
۱۸؍ نومبر ۲۰۱۸ء بروز اتوار کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ٹوبہ کے زیر اہتمام چک نمبر ۱۲۸ / گ، ب چوہلہ میں بعد نماز مغرب آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت محترم جناب قاری ذوالفقار نے فرمائی، تلاوت کلام پاک قاری عامر علی نے کی۔ ہدیہ نعت رسول مقبول محترم جناب قاری شرافت علی مجددی نے پیش کیا۔ عالمی مجلس کے رہنما شیخ الحدیث مولانا غلام رسول دین پوری چناب نگر، مسلک اہل حدیث کے علامہ برق التوحیدی اور مسلک بریلوی کے مولانا صاحبزادہ منعم حسنین صدیقی کے خصوصی بیانات ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۱۹ء ص ۵۲)
بھوانہ ضلع چنیوٹ میں ناموس رسالت کانفرنس
بھوانہ ضلع چنیوٹ کی تحصیل ہے، اس کے مضافات میں ٹاہلی منگینی نامی بستی میں ناموس رسالت کانفرنس ۱۹؍ نومبر ۲۰۱۸ء کو منعقد ہوئی، جس کی صدارت مولانا قمر منیر بھوانہ نے کی۔ مولانا سید علی حسنین شاہ، مولانا غلام مصطفیٰ خطیب چناب نگر ، مولانا غلام حسین مبلغ جھنگ اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کے ’’ناموس رسالت کی حفاظت‘‘ کے عنوان پر بیانات ہوئے۔ آخر میں سرگودھا کے ثناء خواں جناب عبدالرؤف خان نے اپنی نعتوں ،نظموں اور رانگڑی زبان میں لطائف سے سامعین کو محظوظ کیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۱۶ تا ۲۲؍ دسمبر ۲۰۱۸ء ص ۲۱)
جلسہ سیرت النبی ﷺ مسلم کالونی چناب نگر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام جامعہ عربیہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں سالانہ جلسہ سیرت النبی ﷺ مؤرخہ ۲۱؍نومبر ۲۰۱۸ء بروز بدھ بعد نماز مغرب منعقد ہوا۔ جس کی صدارت مرکزی خطیب مولانا غلام مصطفیٰ نے فرمائی۔ جلسہ سے خصوصی خطاب
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مولانا سیف اللہ نقشبندی نے فرمایا۔ جلسہ میں چنیوٹ کے علماء کرام سمیت بھر پور عوام نے شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۹ء ص ۵۳)
تحفظ ناموس رسالت کانفرنس راولپنڈی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامع مسجد اولی راولپنڈی میں ۲۲؍ نومبر ۲۰۱۸ء کو بعد نماز مغرب کانفرنس کا آغاز ہوا۔ حمد ونعت کے بعد مولانا پیر عزیز الرحمن ہزاروی، مولانا عبدالقیوم حقانی اور آخر میں مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی کا بیان ہوا۔ راولپنڈی اسلام آباد سے کثیر تعداد میں علماء کرام اور عوام الناس نے شرکت کی ، صدارت مولانا رمضان علوی جمعیت علماء اسلام (س) اور شیخ الحدیث مولانا عبدالرؤف نے فرمائی اور اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا محمد طیب نے ادا کئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۹ء ص ۴۸، ۴۹)
سیرت خاتم الانبیاء ﷺ کانفرنس شہداد پور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت شہداد پور کے زیر اہتمام مؤرخہ ۲۲؍ نومبر ۲۰۱۸ء بروز جمعرات بعد نماز عشاء بمقام مجتبیٰ گارڈن ہالا چوک شہداد پور میں شیخ الحدیث مولانا محمد سلیم اور جناب غلام قادر کیریو کی صدارت میں ”سیرت خاتم الانبیاء ﷺ کانفرنس“ کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس کا آغاز قاری محمد عثمان کی تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔ حافظ معاذ یونس، حافظ ابوبکر ، حافظ عبدالمتین اور حافظ اسامہ رشیدی نے ہدیہ نعت پیش کیا جب کہ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مفتی محمد اسلم شاکر نے انجام دیئے۔ کانفرنس سے نواب شاہ کے مبلغ مولانا تجمل حسین، مولانا قاضی احسان احمد کراچی اور مولانا عزیز الرحمن ثانی لاہور نے خطابات فرمائے۔ آخر میں مولانا صاحبزادہ خلیل احمد نے دعاء فرمائی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا لٹریچر بھی تقسیم کیا گیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۹ء ص ۴۸)
سالانہ تحفظ ختم نبوت کانفرنس ملیر کراچی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع ملیر کے زیر اہتمام ۲۵؍ نومبر ۲۰۱۸ء بروز اتوار بعد نماز عشاء جامع مسجد اقصیٰ سیکٹر ۱۷۔بی شاہ لطیف ٹاؤن میں ایک عظیم الشان اور پُر وقار سالانہ تحفظ ختم نبوت کانفرنس منعقد کی گئی۔ کانفرنس کی کامیابی کے لئے مختلف علاقوں میں دعوتی مہم اور اعلانات بھی کئے گئے۔ کانفرنس کا آغاز عشاء کی نماز کے بعد متصل قاری محمد جواد حسین کی تلاوت سے ہوا۔ حمد ونعت حافظ محمود خاطر اور حافظ عبداللہ عبدالقادر نے پیش کی اور حافظ محمد جریج اور حافظ محمد شاہ رخ نے عشق رسالت سے بھر پور اشعار سنا کر سامعین کو گرمایا۔ پہلا خطاب نوجوان خطیب مولانا احسان اللہ ہزاروی کے صاحبزادے مولانا ولی اللہ ہزاروی نے کیا، انہوں نے آنحضرت ﷺ کی سیرت اور کردار پر روشنی ڈالی اور سامعین سے آقا مدنی ﷺ کی سنتوں پر عمل کرنے کا عہد لیا۔ دوسرا خطاب مقامی عالم دین عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مخلص رفیق مولانا طارق محمود قاسمی نے کیا انہوں نے آنحضرت ﷺ سے محبت اور عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت وفضیلت کو اجاگر کیا۔ تیسرا خطاب مہمان خصوصی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا مفتی محمد راشد مدنی مدظلہ نے کیا ، آپ نے عقیدۂ ختم نبوت پر سامعین کو بہترین دلائل و براہین سے مالا مال کیا اور اپنے خوبصورت انداز بیان سے ختم نبوت کے مشن کو عوام الناس کے قلب وجگر میں راسخ کیا۔ آخری خطاب میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا قاضی احسان احمد مدظلہ نے فرمایا کہ آپ ﷺ کا آخری نبی بن کر آنا یہ اس امت کا اعزاز ہے، ہمیں اس اعزاز کی قدر ومنزلت پہچاننی چاہئے، کیونکہ تمام جہانوں میں آپ ﷺ کی ختم نبوت کے صدقہ نجات ملے گی۔ مولانا نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں عقیدہ کو بھی واضح کیا اور امام مہدی علیہ الرضوان کی تشریف آوری پر بھی روشنی ڈالی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۳ تا ۳۱؍ دسمبر ۲۰۱۸ء، ص ۹)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس لانڈھی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لانڈھی ٹاؤن کراچی کے زیر اہتمام ساتویں سالانہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۲۶ نومبر ۲۰۱۸ء بروز پیر جامع مسجد قباء قذافی ٹاؤن لانڈھی میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز مولانا قاری حبیب الرحمن صاحب (مدرس جامعہ دارالعلوم کراچی) کی تلاوت کلام پاک سے ہوئی۔ قاری صاحب کی تلاوت کے بعد حافظ محمود خاطر صاحب نے نعتیہ کلام پیش کیا۔ بعد ازاں مولانا مفتی محمد راشد مدنی صاحب (مرکزی مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت رحیم یار خان) نے بیان فرمایا۔ مولانا قاضی احسان احمد صاحب (مرکزی مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت) نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور فتنہ قادیانیت کے متعلق مفصل بیان فرمایا۔ مولانا اللہ وسایا (مرکزی رہنما عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت) نے ملک پاکستان کی موجودہ صورتحال اور تحفظ ناموس رسالت کے متعلق تفصیلی بیان فرمایا۔
کانفرنس میں مولانا اسد اللہ حقانی صاحب (امام وخطیب جامع مسجد قباء قذافی ٹاؤن)، مولانا غلام اللہ خان صاحب (مدیر جامعہ تحفیظ القرآن لانڈھی)، مولانا محمد نواز صاحب (استاذ الحدیث جامعہ تحفیظ القرآن لانڈھی) مولانا محمد زوہیب شاہ صاحب (امام وخطیب جامع مسجد قوت الاسلام قذافی ٹاؤن)، مولانا ہارون الرشید صاحب (امام وخطیب جامع مسجد اقصیٰ قذافی ٹاؤن)، مولانا احسان اللہ ٹکروی صاحب (امیر جمعیت علماء اسلام ضلع ملیر)، مولانا مختار احمد ، مولانا طارق محمود قاسمی صاحب، مولانا مفتی محمد سمیع الحق صاحب (مدرس جامعہ تحفیظ القرآن لانڈھی)، مولانا لائق شاہ صاحب، مولانا عبد الصمد صاحب، مفتی کفایت اللہ صاحب اور ان کے علاوہ کثیر تعداد میں علماء کرام اور عوام الناس نے شرکت کی۔ کانفرنس میں سیکورٹی انتظامات اور استقبالیہ مولانا محمد عمران سواتی، قاری سید حسن شاہ ، قاری محمد عثمان، حافظ گوہر رحمان آفریدی، حافظ اویس قرنی، بھائی عمران، بھائی کامران، بھائی محمد ایوب اور دیگر کارکنان ختم نبوت کو سونپی گئی تھی۔ کانفرنس کے کامیاب انعقاد کے لئے لانڈھی ٹاؤن کی ۳۳ مساجد میں مختصر پروگراموں کا انعقاد کیا گیا۔ جن میں مولانا عبد الحئی مطمئن ، مفتی محمد اسحاق مصطفیٰ، مفتی محمد عادل غنی، مولانا محمد قاسم، مفتی سمیع الحق اور راقم الحروف نے مختصر بیانات کئے اور عوام الناس کو کانفرنس کی دعوت دی۔ اللہ رب العزت تمام پروگرامات کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت عطا فرمائیں۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۳ تا ۳۱؍ دسمبر ۲۰۱۸ء ص ۱۱)
بھلوال میں ختم نبوت کانفرنس
دریں اثناء بھلوال میں ایک کنال سے زیادہ قطعہ اراضی خرید کر جامع مسجد خاتم النبیین کی بنیاد رکھی اور گزشتہ سال ۲۰۱۷ء میں ختم نبوت کانفرنس کا بھلوال میں آغاز کیا۔ ۲۹؍ نومبر ۲۰۱۸ء کو دوسری سالانہ کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت علاقہ کے بزرگ عالم دین مولانا محمد یعقوب احسن مدظلہ نے کی۔ تلاوت ونعت کی مقامی حضرات نے سعادت حاصل کی۔ شاعر ختم نبوت سید محمد امین گیلانی کے شاگرد رشید جناب فیصل بلال حسان نے اپنی پر ترنم آواز سے نعت کی سعادت حاصل کی۔ جس پر حاضرین داد تحسین کے ڈونگرے برسائے۔
مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا محمد امجد خان لاہور ، مولانا نور محمد ہزاروی کے بیانات ہوئے۔ کانفرنس پر جوش طریقہ سے تقریباً بارہ بجے رات تک جاری رہی۔
ختم نبوت کانفرنس خوشاب
جناب مولانا محمد عدنان کی شب و روز محنت سے ۳۰؍ نومبر ۲۰۱۸ء کو محلہ توحید آباد میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی، جس کی
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
صدارت قاری سعید احمد اسعد نے کی۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مفتی محمد زاہد نے سرانجام دیئے۔ مجلس احرار اسلام کے جنرل سیکرٹری حاجی عبداللطیف چیمہ، مولانا سعید احمد اسعد اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کے بیانات ہوئے۔ جناب ملک شہادت علی طاہر، جناب حسان حنیف رام پوری نے نظموں، نعتوں سے خوب سماں باندھا، کانفرنس ساڑھے گیارہ بجے رات تک جاری رہی۔
مدرسہ احیاء العلوم مظفر گڑھ میں ختم نبوت کورس
جامعہ کے مہتمم مولانا محمد عاصم کی دیرینہ خواہش تھی کہ جامعہ میں ’’ختم نبوت کورس‘‘ ہو تو یکم اور ۲؍ دسمبر ۲۰۱۸ء کو ظہر سے عصر تک کورس منعقد ہوا۔
مکی مسجد گوجرانولہ میں ختم نبوت کورس
مکی مسجد ڈیوڈ ہا پھاٹک گوجرانوالہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام ۲ تا ۴؍ دسمبر ۲۰۱۸ء کو سہ روزہ ختم نبوت کورس منعقد ہوا۔ جس میں کثیر مسلمانوں نے شرکت کی۔ آخری روز مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا مفتی غلام نبی، مولانا سید احمد حسین زید، مولانا محمد عارف شامی اور دیگر احباب کی معیت میں حاضری اور ’’اوصاف نبوت اور مرزا قادیانی، حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام‘‘ کے عنوان پر سبق کا موقع ملا۔ مسجد میں کورس کے اختتام پر مجلس کا لٹریچر تقسیم کیا گیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۲۳ تا ۳۱؍ جنوری ۲۰۱۹ء ص ۲۴، ۲۵)
جلسہ سیرت النبی ﷺ چناب نگر شہر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام جامع مسجد محمدی ریلوے اسٹیشن چناب نگر میں ۴۳ واں سالانہ جلسہ مورخہ ۳۰؍ نومبر ۲۰۱۸ء بروز جمعتہ المبارک کو منعقد ہوا۔ جلسہ میں مولانا سیف اللہ نقشبندی، مولانا غلام مصطفیٰ اور مولانا غلام رسول دین پوری نے بیان کرتے ہوئے سیرت النبی ﷺ کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ قادیانیوں کو جھوٹے مدعی نبوت مرزا قادیانی سے پہلو تہی کرکے حلقہ بگوش اسلام ہونے کی دعوت دی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۹ء ص ۵۳)
ختم نبوت کانفرنس جیکب آباد
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت باہو کھوسو ضلع جیکب آباد کے زیراہتمام یکم؍ دسمبر ۲۰۱۸ء بروز ہفتہ بعد نمازِ عشاء جامع مسجد میں تحفظ ختم نبوت کانفرنس مولانا قاری سعید الرحمن کی سرپرستی میں مولانا حکیم منظور احمد طوفانی کی زیر صدارت میں ہوئی۔ جس میں مولانا محمد حسین ناصر نے خطاب کرتے ہوئے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور فتنہ قادیانیت کی سنگینی سے مسلمانوں کو خبردار کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۹ء ص ۴۹)
گمتالہ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں سیرت کانفرنس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مولانا محمد عبداللہ لدھیانوی مدظلہ کے حکم پر ۴؍ دسمبر ۲۰۱۸ء کو چک نمبر ۳۱۹ گمتالہ گوجرہ روڈ میں منعقدہ جلسہ سیرت و ختم نبوت میں حاضری کی سعادت نصیب ہوئی۔ جلسہ کی صدارت خطیب چک ہذا مولانا مختار احمد نے کی۔ تلاوت ونعت کے بعد ضلعی مبلغ مولانا خبیب احمد نے سیرت و میلاد النبی کے عنوان پر فاضلانہ خطاب کیا۔ بعدازاں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے بھی اسی موضوع پر گفتگو کی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۸ تا ۱۵؍ جنوری ۲۰۱۸ء ص ۲۶)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس سیالکوٹ
۵؍ دسمبر ۲۰۱۸ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام عشاء کی نماز کے بعد جامع مسجد امیر معاویہؓ سیالکوٹ میں ختم نبوت کانفرنس مولانا پیر شبیر احمد گیلانی کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ، مولانا فقیر اللہ اختر ، مولانا محمد عارف شامی اور خطیب مسجد مولانا محمد شہباز حنفی کے بیانات ہوئے۔ مولانا پروفیسر حماد انذر قاسمی نے خصوصی شرکت کی ۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۹ء ص ۴۹)
ختم نبوت کانفرنس گوجرہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرہ کے زیر اہتمام ۵؍ دسمبر ۲۰۱۸ء بروز بدھ بعد نماز مغرب جامع مسجد عائشہ نیو ماڈل ٹاؤن گوجرہ میں زیر نگرانی صاحبزادہ مولانا محمد اسعد مدنی سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت پیر سید سرفراز الحسن شاہ گیلانی نے فرمائی۔ تلاوت کلام پاک قاری عمر حسنین مدرس جامعہ امدادیہ گوجرہ نے فرمائی اور ہدیہ نعت قاری شرافت علی مجددی اور جناب کامران مغل نے پیش کیا۔ کانفرنس سے مولانا اللہ وسایا ، ضلعی مبلغ مولانا محمد حبیب ، مسلک اہل حدیث کے مولانا عبد القادر عثمان ، مسلک بریلوی کے مفتی افتخار الحسن ، جماعت اسلامی کے علامہ ڈاکٹر رحمت اللہ ارشد ، عالمی اتحاد اہل سنت کے مولانا عبدالقدوس گجر نے بیانات کئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۹ء ص ۴۹، ۵۰)
ناموس رسالت ، ختم نبوت کانفرنس پیرمحل
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام چک ۲۲ چھوٹو رام والی پیرمحل میں ۶؍دسمبر ۲۰۱۸ء بروز جمعرات بعد نماز عشاء مولانا محمد عمران اور مولانا اسد الرحمن کی زیر نگرانی ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت مجلس پیرمحل کے امیر مولانا مفتی محمد شیراز نے فرمائی۔ کانفرنس سے مولانا اللہ وسایا ، مولانا عبدالقدوس گجر ، مولانا علی معاویہ، ضلعی مبلغ مولانا محمد حبیب نے بیانات کئے۔ مقررین نے کہا کہ ناموس رسالت اور عقیدہ ختم نبوت ہمیں جان و مال عزت و آبرو سے زیادہ عزیز ہے۔ وقت آیا تو عشق مصطفیٰ میں خون کا آخری قطرہ تک بہا دیں گے، لیکن ناموس محمد ﷺ پر آنچ نہیں آنے دیں گے، کانفرنس میں علماء و طلباء کے علاوہ عوام الناس نے بھر پور شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۹ء ص ۵۰)
تحفظ ناموس رسالت سیمینار ملتان
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۶؍دسمبر ۲۰۱۸ء صبح دس تا ایک بجے دوپہر ملتان شہر کے علماء کرام ، ائمہ مساجد اور خطباء حضرات کا بھر پور سیمینار منعقد ہوا۔ سیمینار کی صدارت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ نے فرمائی۔ مولانا اللہ وسایا، شیخ الحدیث مولانا محمد احمد انور مان کوٹ، حافظ محمد انس ، مولانا محمد وسیم اسلم اور شیخ حافظ محمد عمر کے بیانات ہوئے۔ مقررین نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت اور تحفظ ناموس رسالت کے قانون میں کوئی بھی ترمیم یا اس میں کسی قسم کی چھیڑ خانی قطعاً برداشت نہیں کی جائے گی۔ کراچی ، لاہور اور سکھر کے تحفظ ناموس رسالت ملین مارچ میں اہل اسلام کے ٹھاٹھیں مارتے سمندروں نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ کی عزت و ناموس کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کرنے کو تیار ہیں۔ اس موقع پر مولانا سلطان محمود ضیاء، مولانا قاری محمد طاسین ، مولانا ایاز الحق قاسمی ، مولانا محمد معاویہ انصاری ، مولانا محمد ابراہیم ، قاری محمد اقبال ، قاری شمس الدین میو ، مولانا قاری منیر احمد
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جالندھری، مولانا قاری شفیق الرحمن ، مولانا محمد قاسم ، مولانا محمد امیر حمزہ اور قاری محمد کاشف سمیت کثیر علماء کرام نے شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۱۹ء ص ۵۴، ۵۵)
ختم نبوت کانفرنس فراش گوٹھ شکار پور
۶؍ دسمبر ۲۰۱۸ء بعد نماز مغرب فراش گوٹھ ضلع شکار پور کی جامع مسجد میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں مولانا قاضی احسان احمد اور سکھر کے مبلغ مولانا محمد حسین ناصر نے قادیانیوں کی اسلام دشمنی اور چوہدری ظفر اللہ قادیانی ، ایم ایم احمد قادیانی اور ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کی ملک وملت سے غداری پر تفصیلی خطابات کئے۔ حکمرانوں سے قادیانی سرپرستی سے باز رہنے کا مطالبہ کیا گیا۔ فراش گوٹھ کے علماء کرام نے بھرپور تعاون کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۹ء ص ۵۰)
تاجدار ختم نبوت کانفرنس شکار پور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سومرانی شریف لکی غلام شاہ ضلع شکار پور کے زیر اہتمام عظیم الشان تحفظ ختم نبوت کانفرنس ۶؍ دسمبر ۲۰۱۸ء کو زیر سرپرستی مولانا سائیں عبداللہ مہر سجادہ نشین درگاہ سومرانی شریف کی زیر نگرانی مولانا محمد صالح انڈھڑ مولانا غلام اللہ مہر اور زیر انتظام مولانا عبدالحکیم مہر منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں مولانا عبدالقیوم ہالیجوی، مولانا محمد حسین ناصر، مولانا قاضی احسان احمد کراچی ، قاری جمیل احمد بندھانی ، مولانا محمد امجد خان لاہور ، حافظ خادم حسین شر، مولانا طارق خالد محمود سومرو اور مولانا ظفر اللہ سندھی کے بیانات ہوئے۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا عبدالحلیم مہر نے انجام دیئے۔ مقررین نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت مسلمانوں کے بنیادی عقائد میں سے ہے۔ حضور اکرم ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ کانفرنس الحمدللہ صبح دس بجے سے لے کر رات نو بجے تک جاری رہی۔ کانفرنس کی کامیابی کے لئے مولانا عبدالحکیم مہر ، مولانا فضل الرحمن مہر ، مولانا غلام اللہ مہر ، مولانا توفیق احمد مہر ، مولانا محمد اکرم مہر ، مولانا عبدالحلیم مہر ، مولانا نجی اللہ مہر ، مولانا لال اختر مہر اور مولانا غلام محمد مہر نے بھرپور محنت کی۔ سائیں عبدالحئی مہر ، سائیں فیض القیوم مہر اور سائیں عبداللہ مہر سجادہ نشین درگاہ سومرانی شریف نے بھر پور سرپرستی اور دعاؤں سے نوازا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۹ء ص ۵۰، ۵۱)
خطبات جمعتہ المبارک ٹوبہ
مولانا قاضی احسان احمد نے ۷؍ دسمبر ۲۰۱۸ء کا خطبہ جمعتہ المبارک عقیدہ ختم نبوت اور ہماری ذمہ داریاں کے عنوان پر مرکزی جامع مسجد فاروقیہ ٹوبہ ، مولانا محمد حبیب نے ’’عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ کیوں ضروری ہے؟‘‘ کے عنوان پر جامع مسجد مدنی ٹوبہ میں ارشاد فرمایا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۹ء ص ۵۶)
سیرت خاتم الانبیاء ﷺ کانفرنس چنیوٹ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مورخہ ۷؍ دسمبر ۲۰۱۸ء بروز جمعتہ المبارک بعد نماز عشاء دوسری سالانہ سیرت خاتم الانبیاء ﷺ شاہی مسجد چنیوٹ میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی نگرانی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما مولانا غلام مصطفیٰ نے فرمائی۔ کانفرنس سے دیگر علماء کرام کے علاوہ مولانا محمد صادق الامین فیصل آباد اور مولانا عزیز الرحمن ثانی لاہور کے خصوصی بیانات ہوئے۔ ضلع چنیوٹ کے علماء کرام کے علاوہ کثیر تعداد میں عوام الناس نے شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۹ء ص ۵۱)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس کولیگی گجرات
کولیگی ضلع گجرات کا معروف قصبہ ہے۔ جہاں مرزا قادیانی کے زمانہ میں ہی قادیانیت نے پر پرزے نکالے۔ اکمل کولیگی اسی قصبہ کا رہنے والا تھا۔ جس نے مرزا قادیانی کے متعلق ایک رباعی لکھی۔ جس سے اس کی باچھیں کھل گئیں۔ ملعون نے لکھا: نقل کفر کفر نہ باشد ۔
محمد جس نے دیکھنے ہوں اکمل غلام احمد کو دیکھے قادیان میں
گولیگی میں ایک وقت تھا کہ دوسو سے زائد قادیانیوں کے گھر تھے۔ صرف بیس بچ گئے۔ ۷؍دسمبر ۲۰۱۸ء کو عشاء کی نماز کے بعد حافظ غلام نبی استاذ الحفاظ کی صدارت میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور مولانا محمد قاسم سیوطی کے خصوصی خطابات ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۹ء ص ۵۱)
ختم نبوت کانفرنس لاہور
۸؍دسمبر ۲۰۱۸ء بروز ہفتہ کو جامعہ صدیقیہ گلستان کالونی مصطفیٰ آباد اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے اشتراک سے آٹھویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس لاہور کے علاقہ مصطفیٰ آباد کینٹ میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی صدارت مولانا مفتی عزیز الرحمن نے کی۔ نقابت کے فرائض حافظ محمد عمر یعقوب اور راقم (محمد اسامہ قاسم) نے سرانجام دیئے۔ کانفرنس کا آغاز مولانا قاری عبدالرشید خان کی تلاوت اور ثناء خوان مصطفیٰ حافظ محمد افتخار قصوری کی حمد ونعت سے ہوا۔ زینت القراء قاری احسان اللہ فاروقی نے اپنے مخصوص و مقبول انداز میں تلاوت کلام اللہ سے محفل میں نورانی ماحول پیدا کیا۔ کانفرنس سے مولانا اللہ وسایا، مولانا مفتی عبدالواحد قریشی، مولانا محمد یعقوب فیض کے بیانات ہوئے۔ کانفرنس میں مولانا شاہد عمران عارفی اور حافظ محمد عمران نقشبندی نے اپنے نعتیہ کلام پیش کیا۔ قاری علیم الدین شاکر، مولانا محمد یعقوب فیض کی محنت، خلوص اور محبت نے پروگرام میں نورانیت و روحانیت کے رنگ بکھیر دیئے۔ استاذ العلماء مولانا دوست محمد کی پرسوز دعاء پر پروگرام کا اختتام ہوا۔ پروگرام میں آنے والے تمام مہمانوں کی ضیافت بھی کی گئی۔ مقامی علماء کرام میں مولانا مفتی محمد ریاض جمیل، قاری محمد شریف، مولانا محمد افضال، مولانا نوفل ربانی، مولانا محمد علی اور حفیظ چوہدری مرکزی صدر اسلامک رائٹرز موومنٹ پاکستان نے خصوصی طور پر شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۹ء ص ۵۱، ۵۲)
مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کا میر پور اور جہلم میں تین روزہ تبلیغی دورہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم تبلیغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی تین روزہ تبلیغی دورہ پر تشریف لائے۔ آپ نے اپنے دورہ کا آغاز دینہ کی مسجد صدیق اکبر میں ۹؍دسمبر ۲۰۱۸ء سے کیا۔ مذکورہ بالا مسجد میں ناموس رسالت کے عنوان پر مغرب سے عشاء تک خطاب فرمایا۔ صدارت مولانا محمد ظفر نے کی۔ جب کہ مہمان خصوصی جمعیت علماء اسلام کے میاں محمد رفیق تھے۔ ۱۰؍دسمبر ۲۰۱۸ء کو ظہر کی نماز کے بعد جمعیت علماء اسلام میر پور آزاد کشمیر کے دفتر میں عمائدین شہر کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے عقیدہ ختم نبوت کی حقانیت و اہمیت اور قادیانیوں کی ملک وملت دشمنی کے عنوان پر خطاب کیا۔ جامع مسجد سیکٹر بی-۵ میر پور میں اسی روز مغرب کی نماز کے بعد ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ ۱۱؍دسمبر ۲۰۱۸ء ظہر کی نماز کے بعد جامعہ الحسینیہ نکودر کے مہتمم مولانا قاری خالق داد جو ہماری مرکزی مجلس شوریٰ کے
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
رکن استاذ الحفاظ والقراء قاری محمد یاسین مدظلہ دارالقرآن فیصل آباد کے خصوصی تلامذہ میں سے ہیں کے حکم پر مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے طلباء اور اساتذہ کرام سے خطاب فرمایا۔ بعد نماز عشاء جہلم کی ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کی۔ ۸؍ دسمبر ۲۰۱۸ء کو صبح ساڑھے آٹھ بجے سے نو بجے تک بنات میں اور گیارہ سے پونے بارہ بجے تک بنین میں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے طلباء اور طالبات سے خطاب کیا۔ مولانا محمد یوسف مدظلہ اور دیگر اساتذہ کرام نے خصوصی شرکت فرمائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۹ء ص ۵۶،۵۵)
سہ روزہ ختم نبوت کورس ڈسکہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۰ تا ۱۲؍ دسمبر ۲۰۱۸ء بروز اتوار، سوموار، منگل بعد نماز مغرب تا عشاء تین روزہ ختم نبوت کورس جامع مسجد رحمانیہ بالمقابل دارالعلوم مدنیہ ڈسکہ میں منعقد ہوا۔ کورس کی سرپرستی مولانا محمد ایوب خان ثاقب مہتمم دارالعلوم مدنیہ ڈسکہ اور صدارت مولانا حافظ محمد افضل شاکر امیر مجلس ڈسکہ نے کی۔ کورس کے پہلے روز مولانا زاہد الراشدی، مولانا محمد اسحاق نے، دوسرے روز مولانا قاضی احسان احمد (کراچی) اور تیسرے روز مولانا عبدالرؤف فاروقی، مولانا غلام مرتضیٰ، مولانا فقیر اللہ اختر اور مولانا عزیز الرحمٰن ثانی (لاہور) نے لیکچرز دیئے۔ نیز اختتامی تقریب میں مولانا طیب خان، مفتی محمد اجمل اور قاری محمد سمیت دیگر علماء کرام نے شرکت و بیانات کئے۔ کورس کی کامیابی پر انتظامیہ کے تعاون پر ان کا شکریہ ادا کیا گیا۔ آخر میں لٹریچر اور شرکاء کورس میں اسناد بھی تقسیم کی گئیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۹ء ص ۵۵،۵۴)
ختم نبوت کانفرنس جہلم
۱۱؍ دسمبر ۲۰۱۸ء عشاء کی نماز کے بعد جامع مسجد توحید باغ محلہ جہلم میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کا انتظام قاری محمد وسیم اور ان کے رفقاء نے کیا۔ تلاوت و نعت کے بعد جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام جہلم کے مدیر و مہتمم مولانا ابوبکر صدیق اور استاذ محترم مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے ختم نبوت اور ناموس رسالت کے عنوان پر بیانات کئے۔ رات کا آرام و قیام جامعہ حنفیہ میں رہا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۹ء ص ۵۲)
مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کا تبلیغی دورہ اسلام آباد و راولپنڈی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہنما مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی تین روزہ دورہ پر ۱۲؍ دسمبر ۲۰۱۸ء کو اسلام آباد تشریف لائے۔ اسی روز جامعہ خالد بن ولید سوہان میں ختم نبوت کانفرنس امیر محترم شیخ الحدیث مولانا عبدالرؤف کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ مولانا محمد طیب فاروقی اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کے بیانات ہوئے۔ کانفرنس کا اہتمام قاری محمد زبیر اور قاری محمد ارشد برادران نے فرمایا۔ ۱۳؍ دسمبر ۲۰۱۸ء کو جامعہ فرقانیہ مدنیہ کرتار پورہ میں ظہر کی نماز کے بعد علماء کنونشن منعقد ہوا۔ جس میں تین درجن سے زائد علماء کرام، مشائخ عظام اور سینکڑوں طلباء اور عوام نے شرکت کی۔ کنونشن کی صدارت شیخ الحدیث مولانا قاضی مشتاق احمد امیر مجلس راولپنڈی نے کی۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض قاری زبیر احمد زرین نے سرانجام دیئے۔ امیر محترم کے علاوہ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور مولانا محمد طیب فاروقی نے عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت اور علماء کرام کی ذمہ داریاں کے عنوان پر خطاب کیا۔ بعد نماز عشاء عائشہ مسجد ڈبل روڈ پنڈوڑہ میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ ۱۴؍ دسمبر ۲۰۱۸ء کو اکال گڑھ کی مرکزی جامع مسجد جس میں ہماری شوریٰ کے ایک سابق رکن مولانا محمد رمضان
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
علوی خطیب رہے۔ اب ان کے فرزند ارجمند مولانا عبدالرحمن علوی خطیب ہیں۔ ان کے حکم پر استاذ محترم نے ان کی مسجد میں جمعۃ المبارک کا خطبہ دیا۔ جب کہ مولانا محمد طیب فاروقی نے جامع مسجد نور جہاں میں خطبہ دیا۔ بعد نماز مغرب چشتی آباد کی کانفرنس میں شرکت فرمائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۹ء ص ۵۶)
ختم نبوت کانفرنس راولپنڈی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۳؍دسمبر ۲۰۱۸ء جامع مسجد عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پنڈورہ ، راولپنڈی میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت شیخ الحدیث مولانا قاضی مشتاق احمد نے کی۔ مولانا محمد طیب اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کے بیانات ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۹ء ص ۵۲)
ختم نبوت کانفرنس بچل شاہ میانی سکھر
۱۳؍دسمبر ۲۰۱۸ء بروز جمعرات بعد نماز مغرب سے رات گئے تک بچل شاہ میانی سکھر میں عظیم الشان تحفظ ختم نبوت کانفرنس زیر صدارت مولانا سید سعید احمد شاہ منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔ ہدیہ نعت جناب عبدالواحد جتوئی نے پیش کیا۔ علماء کرام میں مولانا عبداللطیف اشرفی، مولانا محمد حسین ناصر مبلغ سکھر، مولانا سراج احمد جمالی اور مولانا طاہر خالد محمود سومرو کے بیانات ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۹ء ص ۵۲، ۵۳)
ختم نبوت کانفرنس چشتی آباد راولپنڈی
۱۴؍دسمبر ۲۰۱۸ء بعد نماز مغرب مکی مسجد چشتی آباد راولپنڈی میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت مولانا تابع الرحمن نے کی۔ کانفرنس سے مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور مولانا محمد طیب نے تفصیلی خطاب فرمایا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۹ء ص ۵۳)
چھ روزہ تحفظ ختم نبوت کورس
ملیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام چھ روزہ تحفظ ختم نبوت کورس جامع مسجد قوسین گلشن منیر ملیر ۱۵ میں منعقد ہوا۔ کورس کا آغاز پانچ سالہ بچے مائد مختار بلوچ جو اسی مسجد ہذا کے مدرسہ کا طالب علم ہے کی تلاوت سے ہوا۔ کورس کا دورانیہ بعد نماز عشاء ایک گھنٹہ رکھا گیا تھا۔ پہلے دن ۲۵؍دسمبر کو مبلغ ختم نبوت ضلع کورنگی مولانا محمد عادل غنی نے عقیدہ ختم نبوت کو قرآن وحدیث کی روشنی میں بڑے احسن انداز میں بیان کیا۔ دوسرے دن کورس کا آغاز ۴ سالہ ابوبکر کی تلاوت سے ہوا اور پھر مولانا مفتی محمد اسحاق مصطفیٰ مبلغ ختم نبوت ضلع ملیر نے ’’سیدنا مہدی‘‘ کے متعلق مسلمانوں کا کیا عقیدہ ہونا چاہئے اور فتنہ دجال پر سیر حاصل گفتگو فرمائی۔ تیسرے دن ۵ سالہ ابراہیم رحمت اللہ کی تلاوت سے آغاز ہوا اور پھر مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مولانا محمد قاسم نے گوہر شاہی کے فتنہ سے لوگوں کو آگاہ کیا اور ’’تحفظ ختم نبوت ہماری ذمہ داری‘‘ کے موضوع پر لوگوں کو خوب بیدار کیا۔ چوتھے دن تلاوت ۵ سالہ نادیہ یوسف نے کی اور مولانا فیض ربانی نے ’’مرزا غلام احمد قادیانی کا تعارف‘‘ کرایا۔ پیدائش سے لے کر موت تک کے حالات بتلائے۔ پانچویں دن کورس کا آغاز ۵ سالہ عبیداللہ یامین کی تلاوت سے ہوا اور مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مولانا عبدالحی مطمئن نے ’’اسلام اور قادیانیت کا اختلاف‘‘ بڑے احسن انداز میں لوگوں کو بتلایا۔ ۳۰؍دسمبر کو ۵ سالہ عمران سید اکبر کی تلاوت سے کورس کا آغاز ہوا پھر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا قاضی احسان
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۸ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
احمد نے ”حیات عیسیٰ علیہ السلام کو قرآن وحدیث کی روشنی میں“ بیان کیا۔ مسجد ہذا کے مؤذن قاری عبدالوہاب مگسی نے چھ روزہ کورس میں روزانہ بارگاہ نبوت عزت مآب میں گلہائے عقیدت نچھاور کر کے لوگوں میں عشق محمدی کے جذبہ کو خوب ابھارا۔ بعد ازاں سوال و جواب کی نشست ہوئی۔ صحیح جوابات دینے پر شرکائے کورس کو انعامات سے نوازا گیا۔ پروگرام کے منتظمین جامع مسجد قوسین کے امام وخطیب مولانا محمد یوسف خان اور کزئی علی خیل، مولانا مفتی ابوبکر صدیق، مولانا امان اللہ، مولانا راؤ وقاص، حاجی زاہد علی بلوچ، عبدالکریم بلوچ اور مثال اکبر اورکزئی تھے۔ منتظمین نے تمام شرکاء کے لئے کتاب آئینہ قادیانیت اور لٹریچر کا اہتمام بھی کیا اور آخر میں تمام ساتھیوں کے طعام کا بھی انتظام کیا گیا تھا اور اسی کورس میں خواتین کی کثیر تعداد بھی شریک ہوئی۔ آخر میں مولانا قاضی احسان کی دعاء سے کورس اختتام پذیر ہوا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ یکم تا ۷؍ فروری ۲۰۱۹ء ص ۸)
مبلغین حضرات کا سہ ماہی اجلاس ملتان
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے زیر اہتمام مرکزی مبلغین کا اجلاس ۲۷، ۲۸ دسمبر ۲۰۱۸ء بروز جمعرات و جمعہ کو دفتر مرکزیہ ملتان میں مولانا عزیز الرحمن جالندھری کی صدارت میں منعقد ہوا۔
اجلاس میں انسداد توہین رسالت قانون کو غیر مؤثر کرنے اور گستاخان رسول کو رسپانس دینے کی پر زور مذمت کی گئی۔ آنے والی سہ ماہی میں پچاس مقامات پر تحفظ ناموس رسالت کانفرنسز اور سیمینارز منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ تیس مقامات پر ختم نبوت کورسز منعقد کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
کرتار پور بارڈر قادیانیوں کی سہولت کے لئے کھولنے کی پر زور مذمت کی گئی۔ بظاہر سکھوں کو رسپانس دینے کی آڑ میں درحقیقت قادیانیوں کو تقویت دی جا رہی ہے۔ کیونکہ کرتار پور بارڈر سے قادیان پچپن کلو میٹر اور سوا گھنٹہ کی ڈرائیو پر ہے۔ اجلاس میں کہا گیا کہ قادیانیوں سے متعلق پارلیمنٹ کے فیصلوں کو سبوتاژ کرنا، پنڈورہ بکس کھولنے کے مترادف ہے۔ ایک قرارداد میں اسلامیات پڑھانے کے لئے اقلیتوں کو پانچ فیصد کوٹہ دینے کی بھی مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ حکمران اپنے مغربی آقاؤں کی خوشنودی کے لئے قادیانیت کے سہولت کار نہ بنیں۔ نیز اجلاس میں کہا گیا کہ ہندو، سکھ، پارسی اور عیسائیوں کی اسلامیات کا مضمون پڑھانے کی کوئی دلچسپی نہیں، جب کہ قادیانی اس مضمون سے نسل نو کے قلوب واذہان کو ارتداد کی طرف راغب کریں گے۔ کیونکہ قرآن وحدیث میں جہاں کہیں رحمت عالم ﷺ کا نام نامی اسم گرامی محمد یا احمد آتا ہے قادیانی اس سے مرزا قادیانی بھی مراد لیتے ہیں۔ جس سے نسل نو کے گمراہ ہونے کے چانسز ہیں۔ حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ اس قسم کا فیصلہ کر کے قوم کو باطل اور کفریہ عقائد کا شکار نہ کریں۔
اجلاس میں تجدید عہد کا اعلان کیا گیا کہ اسلامیان پاکستان، ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ اجلاس میں دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے سابق مہتمم اور ملک کے نامور عالم دین، شیخ الحدیث مولانا سمیع الحق شہید کے قاتلوں کو گرفتار کر کے عبرتناک سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ اجلاس میں نئے سال سے ملک بھر میں سہ سالہ ممبر سازی کا فیصلہ کیا گیا اور مندرجہ بالا مبلغین کو اپنے اپنے اضلاع کا ناظم انتخابات مقرر کیا گیا۔ تمام مبلغین کو ہدایات کی گئیں کہ وہ چار ماہ کے اندر اندر ممبر سازی اور تشکیل جماعات کا سلسلہ مکمل کریں۔ اجلاس کے آخر میں خانقاہ سراجیہ کندیاں کے سجادہ نشین مولانا صاحبزادہ خلیل احمد تشریف لائے۔ ان کے آنے کا خیر مقدم کیا گیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۱۹ء ص ۲۵، ۲۶)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تحریک ختم نبوت
کے سلسلہ میں
۲۰۱۹ء
کے
حالات و واقعات
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
ڈگری کالج نارتھ کراچی میں قادیانی ٹیچر کی ارتدادی سرگرمیاں
گورنمنٹ ڈگری گرلز کالج الیون.آئی نارتھ کراچی میں قادیانی ٹیچر مبشرہ طاہر نے بی.کام کی کلاس میں لیکچر دیتے ہوئے عقیدۂ ختم نبوت کے متعلق قادیانی عقیدہ کے مطابق کہا کہ نبوت کا سلسلہ ختم نہیں ہوا ہے، نبی آتے رہیں گے۔ کلاس میں ۳۰ سے زائد طالبات تھیں۔ جس کے بعد طالبات نے انہیں منع کیا کہ ایسا نہیں ہے۔ یہ غیر مذہب (غیر مسلموں) کا عقیدہ ہے۔ ہم مسلمانوں کا یہ عقیدہ نہیں ہے۔ جس کے بعد بھی خاتون ٹیچر نے اس پر اصرار کیا۔ اس کے بعد طالبات اور مذکورہ ٹیچر کے مابین سخت تلخ کلامی ہوگئی اور نوبت ہاتھا پائی تک آئی۔ جس کے بعد دیگر خواتین اساتذہ نے بیچ بچاؤ کرا کر خاتون ٹیچر مبشرہ کو گھر روانہ کیا۔ جس کے بعد وہ جمعہ کو کالج دوبارہ نہیں آئی ہیں۔ معلوم رہے کہ مذکورہ کالج میں ایک سال سے مبشرہ طاہر اردو کی لیکچرار تعینات ہے، جو روزانہ ملیر سے نارتھ کراچی کالج آتی ہے۔ گورنمنٹ گرلز کالج میں مجموعی طور پر آرٹس سائنس اور کامرس کی کلاسیں بی.اے، بی.کام تک کی ہوتی ہیں۔ مذکورہ کالج میں اساتذہ کی کل تعداد ۲۶ ہے۔ جب کہ طالبات کی مجموعی تعداد ۱۶۰۰ سے زائد ہے۔ کالج کی پرنسپل غزالہ جلیس کا کہنا ہے کہ مجھے ان کے بارے میں علم تھا کہ قادیانی کمیونٹی سے ہیں، میں نے انہیں منع کیا تھا کہ وہ بس اپنے کام سے کام رکھیں، تاہم میں دو روز سے چھٹیوں پر تھی کہ اس دوران کالج میں یہ واقعہ پیش آیا، تاہم میں آج (ہفتہ کو) کالج جاؤں گی، جس کے بعد معلومات لوں گی کہ اصل میں واقعہ کیوں اور کیسے پیش آیا ہے۔ تاہم میں نے جب مبشرہ طاہر سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میں جذباتی ہوگئی تھی۔ کیونکہ طالبات نے مجھ سے سوالات کئے، جس کے بعد میں نے انہیں جوابات دیئے ہیں۔ اس حوالے سے مبشرہ طاہر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بات کرنے کے بجائے اپنے شوہر طاہر کو فون دے دیا۔ جس کے بعد ان کے شوہر طاہر کا کہنا تھا کہ ہماری ابھی کالج کی پرنسپل سے بات ہوئی ہے۔ آج بروز ہفتہ وہ دونوں کا مؤقف سن کر مزید بات کریں گے۔ اس حوالے سے ریجنل ڈائریکٹر کالجز ڈاکٹر معشوق علی بلوچ اور سلیم غوری سے رابطہ کیا گیا، جنہوں نے فون ریسیو ہی نہیں کیا۔
(روزنامہ امت کراچی بروز ہفتہ مؤرخہ ۱۲؍ جنوری ۲۰۱۹ء، ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۱۹ء ص ۵۶)
لیہ ٹی ڈی اے چوک بنام ختم نبوت چوک
لیہ چیئرمین میونسپل کمیٹی حافظ محمد جمیل صاحب نے ٹی ڈی اے کو ’’ختم نبوت چوک‘‘ کے نام سے موسوم کر دیا۔ جس پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لیہ کے امیر مولانا محمد حسین صاحب نے مبارک باد دی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۲۳ تا ۳۱؍ مارچ ۲۰۱۹ء ص ۲۷)
حسینہ واجد کی سرکار قادیانیوں کا سالانہ جلسہ منسوخ کرنے پر مجبور
بنگلہ دیشی مسلمانوں کے شدید احتجاج اور ملک گیر تحریک کی وارننگ کے بعد حسینہ واجد حکومت قادیانیوں کا سالانہ جلسہ منسوخ کرنے پر مجبور ہوگئی۔ بنگلہ دیشی حکومت نے قادیانیوں کو کہا ہے کہ وہ اپنی تبلیغی سرگرمیوں کو محدود کر لیں۔ بصورت دیگر ان کا تحفظ حکومت کے لئے مشکل ہو جائے گا۔ مقامی قادیانی جماعت کے عہدیداران کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کے گروپ اب بھی قادیانیوں کے مرکز کے اطراف موجود ہیں۔ مسلمانوں نے بنگلہ دیشی حکومت کی ضمانت پر یقین کرنے سے انکار کر دیا ہے کہ قادیانیوں کا ۲۲؍ فروری سے شروع ہونے والا سالانہ جلسہ منسوخ کر دیا گیا ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بنگلہ دیشی مسلمان رہنما عبدالرزاق کا کہنا ہے کہ وہ ۲۲ فروری کا انتظار کر رہے ہیں اور اگر اس روز ختم نبوت کے منکر قادیانیوں نے کوئی جلسہ منعقد کیا تو وہ کسی قربانی سے گریز نہیں کریں گے۔ بنگلہ دیشی مدارس کی تنظیم حفاظت اسلام کے سربراہ مولانا شاہ احمد شفیع نے حسینہ واجد حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ قادیانیوں کو فی الفور غیر مسلم قرار دیں۔ کیونکہ یہ لوگ ختم نبوت کے منکر اور کاذب مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکار ہیں۔ چنانچہ ان کو بنگلہ دیشی حکومت کسی قانون یا آرڈیننس کے تحت فوری طور پر کافر قرار دے۔ ورنہ ”حفاظت اسلام“ راست قدم اٹھائے گی۔ ادھر قادیانیوں کے ترجمان جریدے ”ربوہ ٹائمز“ نے الزام لگایا ہے کہ احمد نگر میں قادیانی کمیونٹی پر مسلمانوں نے حملہ کر کے درجنوں قادیانیوں کو زخمی کر دیا ہے۔
اس سلسلے میں مقامی قادیانیوں کی تنظیم کے سرغنہ احمد تبشیر چودھری نے ”نیو ایج بنگلہ دیش“ کو ایک مختصر انٹرویو میں بتایا ہے کہ ضلعی انتظامیہ نے اسے مطلع کیا ہے کہ موجودہ حالات کے سبب مسلمانوں میں شدید ترین اشتعال پھیلا ہوا ہے جس کی وجہ سے قادیانیوں کا سالانہ جلسہ منسوخ کر دیا گیا ہے۔ قادیانی جماعت کے سرغنہ احمد تبشیر کا کہنا تھا کہ وہ مسلمانوں کے خلاف قادیانیوں پر حملہ کی ایف. آئی. آر درج کرانے پولیس اسٹیشن گیا تھا۔ لیکن پولیس نے اس کو مطلع کیا کہ جوابی مقدمات اور اشتعال پھیلنے سے خود قادیانیوں کو ہی نقصان ہو سکتا ہے جس کے بعد قادیانی سرغنہ دبے پاؤں واپس آ گیا۔ ادھر ڈھاکہ ٹریبون نے بتایا ہے کہ قادیانی مربیوں کے پرچار سے مسلمانوں میں اشتعال در آتا ہے اور مسلمانوں کے ہجوم قادیانی مبلغوں کو اپنے علاقوں سے بزور نکال دیتے ہیں۔ یوں کچھ عرصہ کے لئے قادیانیوں کی سرگرمیاں بند ہو جاتی ہیں۔ لیکن اس کے بعد وہ دوبارہ اپنی مذموم سرگرمیوں میں ملوث ہو جاتے ہیں۔
مقامی ڈپٹی کمشنر ایم. غلام اعظم نے بنگلہ دیشی میڈیا کو بتایا ہے کہ قادیانی جماعت نے ہر سال کی طرح امسال بھی اپنے پر پرزے نکالنے شروع کر دیئے تھے۔ ان کی تبلیغی سرگرمیوں کا محور سالانہ جلسہ منعقد کیا جا رہا تھا، جس پر مقامی مسلمانوں کی تنظیموں سمیت تحفظ ختم نبوت کے علمائے دین نے شدید احتجاج کیا اور حکومت سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔ بعد ازاں مسلمانوں نے پنچا گڑھ احمد نگر میں احتجاجی مظاہرہ کیا تھا جس میں قادیانیوں اور مسلمانوں کا تصادم ہو گیا۔ تصادم کے نتیجے میں ۵۵/ افراد زخمی ہوئے۔ واقعے کے بعد مسلمانوں اور مدارس کے علماء و طلباء کی تنظیم ”حفاظت اسلام“ کے احتجاج پر ڈپٹی کمشنر نے پنچا گڑھ بازار جامع مسجد میں اعلان کرایا کہ مسلمانوں کے مطالبے پر قادیانیوں کا سالانہ جلسہ منسوخ کر دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ اس وقت بنگلہ دیش میں قادیانیوں کی تعداد ۱۵/ ہزار بتائی جاتی ہے۔ قادیانیوں کی ایک بڑی تعداد حکومتی حفاظت میں برہم باڑیا میں مقیم ہے جس کے بارے میں قادیانی کمیونٹی کا دعویٰ ہے کہ برہم باڑیا میں ۱۰/ ہزار قادیانی مقیم ہیں اور باقی ماندہ میں سے ساڑھے تین ہزار قادیانی کشور گنج میں اور باقی تین ہزار قادیانی میمن سنگھ میں رہتے ہیں۔ ڈھاکہ میں مقیم صحافی عبدالقادر موجدار نے بتایا ہے کہ بنگلہ دیش میں قادیانی فتنہ ۱۹۰۲ء میں پہنچا تھا۔ اس وقت بھی دس ہزار قادیانی برہم باڑیا مرکز میں مقیم ہیں۔ لیکن غیور بنگلہ دیشی مسلمان اور عشاقان رسول ﷺ کے احتجاج کے بعد یہ پہلا موقع ہو گا کہ بنگلہ دیش میں قادیانی جماعت کے سالانہ جلسہ کی اجازت منسوخ کی گئی ہے۔ جس سے مرزائیوں کے منہ لٹک گئے ہیں۔
(روزنامہ امت کراچی مورخہ ۱۷/ فروری ۲۰۱۹ء بروز اتوار ص۳، ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۹ء ص۴۲، ۴۳)
تحفظ ناموس رسالت ملین مارچ
آسیہ مسیح کی رہائی پر کفر کی دنیا نے جس طرح خوشی کا اظہار کیا وہ کسی سے مخفی نہیں لیکن اس کے ساتھ ہی یہ مطالبہ بھی سامنے آیا کہ پاکستان کے قانون سے تحفظ ناموس رسالت کی دفعات کو ختم کیا جائے اور ساتھ ہی موجودہ حکومت کی طرف سے پہلے دن سے عاطف قادیانی کو
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حکومتی فنانس کمیشن کے ممبر بنانے اور قادیان کے قریب نیا ویزہ پوائنٹ بنانے کے اقدامات پر تشویش پیدا ہوئی کہ اگر اس کی روک تھام کے لئے کام کا آغاز نہ کیا گیا تو خطرہ ہے کہ کہیں کوئی بڑا حادثہ نہ ہو جائے۔ حق تعالیٰ نے قائد جمعیۃ علماء اسلام مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کو توفیق بخشی۔ آپ نے ”تحفظ ناموس رسالت“ ملین مارچ منعقد کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس وقت تک دس ملین مارچ منعقد ہو چکے ہیں۔ جن کی تفصیل یہ ہے:
- ......۱ کراچی ۸؍نومبر ۲۰۱۸ء
- ......۲ لاہور ۱۵؍نومبر ۲۰۱۸ء
- ......۳ سکھر ۲۵؍نومبر ۲۰۱۸ء
- ......۴ مظفر گڑھ ۲۳؍دسمبر ۲۰۱۸ء
- ......۵ ڈیرہ اسماعیل خان ۲۷؍جنوری ۲۰۱۹ء
- ......۶ مردان ۱۷؍فروری ۲۰۱۹ء
- ......۷ ٹنڈو غلام علی، بدین ۲۲؍فروری ۲۰۱۹ء
- ......۸ نصیر آباد ۲۸؍فروری ۲۰۱۹ء
- ......۹ وزیرستان (میران شاہ) ۲۴؍مارچ ۲۰۱۹ء
- ......۱۰ سرگودھا ۳۱؍مارچ ۲۰۱۹ء
- ......۱۱ خیبر ایجنسی ۲۴؍اپریل ۲۰۱۹ء
- ......۱۲ مانسہرہ ۲۸؍اپریل ۲۰۱۹ء
حق تعالیٰ کے کرم کو دیکھیں کہ تحفظ ناموس رسالت ملین مارچ کیا منعقد ہونے شروع ہوئے کہ حق تعالیٰ نے خلق خدا کے قلوب واذہان کو اس طرف متوجہ کر دیا۔ ہر ملین مارچ پہلے سے زیادہ کامیاب رہا۔ ان کی یہ پذیرائی دیکھ کر کفر کے بیرونی ایجنڈا کو سانپ سونگھ گیا۔ پاکستان میں اس ایجنڈا کو نافذ کرنے والوں کو ایک انچ آگے بڑھنے کی جرأت نہ ہو پائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۹ء ص ۶)
بھکر، چوک سرور شہید اور لیہ میں ختم نبوت چوکوں کے نام سے منظور
- ۞ بھکر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے متحرک کارکن جناب ڈاکٹر دین محمد فریدی کی توجہ، مولانا محمد صفی اللہ کی محنت اور چیئرمین جناب
عبدالرحمٰن خان ڈھانڈلہ، وائس چیئرمین جناب رانا محمد حنیف کی دلچسپی سے پیالہ چوک کا نام ختم نبوت چوک منظور کیا گیا۔ اس پر عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور بھکر کی عوام نے ان حضرات کے اس کار خیر کا خیر مقدم کیا اور انہیں مبارک باد پیش کی۔
- ۞ چوک سرور شہید کے علماء کی مشاورت سے چیئرمین جناب رانا اورنگزیب نے ختم نبوت چوک منظور کیا۔ چوک کا افتتاح جناب
حافظ جنید اشرف نے کیا۔
- ۞ لیہ چیئرمین میونسپل کمیٹی جناب حافظ محمد جمیل نے ٹی.ڈی.اے چوک کو ”ختم نبوت چوک“ منظور کر دیا۔ جس پر عالمی مجلس تحفظ ختم
نبوت لیہ کے امیر مولانا محمد حسین نے انہیں مبارک باد دی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۹ء ص ۱۲)
افتتاح ختم نبوت چوک دریا خان مری نوشہرو فیروز سندھ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت یونٹ دریا خان مری ضلع نوشہرو فیروز کے ساتھیوں کی انتھک محنت ولگن سے پھل شہر روڈ پر ختم نبوت چوک میونسپل کمیٹی سے منظور کرایا گیا۔ جس کا افتتاح مولانا قاضی احسان احمد اور مولانا عزیز الرحمٰن ثانی نے کیا۔ افتتاح کی صدارت جناب قاری محمد حسن مورو جو نے کی۔ نگرانی قاری نیاز احمد خاصخیلی نے کی۔ جب کہ نواب شاہ کے مبلغ مولانا تجمل حسین، اتحاد اہل السنۃ والجماعۃ سندھ کے امیر مولانا محمد احمد حنفی، مولوی محمد یوسف بروہی، قاری غلام اللہ مورو جو، قاری قربان علی، مولوی عبدالمجید، یونین کونسل چاناری کے چیئرمین احمد شریف گبول، قاری عبد الماجد، امجد حسین خاصخیلی، قاری زاہد حسین، بھائی محمد انور، ماسٹر منیر احمد، ڈاکٹر عزیز اللہ سمیت دیگر احباب نے بھی اس موقع پر شرکت کی۔ ختم نبوت چوک پر بورڈ بھی آویزاں کیا گیا اور شرکاء میں مٹھائی بھی تقسیم کی گئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۹ء ص ۴۶)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جماعت نہم کی نصابی کتاب سے عقیدۂ ختم نبوت کا افسوسناک اخراج
(مولانا زاہد الراشدی) مسلمانوں کی نئی نسل کو اسلامی عقائد واحکام کی تعلیم سے آراستہ کرنا کسی بھی مسلم ملک کی حکومت و ریاست کی ذمہ داری ہے اور نو آبادیاتی اور غلامی سے قبل ہزار بارہ سو سال تک مسلمان حکومتیں اس فریضہ سے عہدہ برآ ہوتی چلی آرہی ہیں۔ البتہ بہت سے مسلم ممالک پر استعمار کے تسلط اور نو آبادیاتی ماحول قائم ہونے کے بعد قابض غیر مسلم حکومتوں نے اسے اپنی ریاستی و حکومتی پالیسی سے خارج کر دیا ہے۔ جب کہ برصغیر پاک و ہند میں تو برطانوی حکومت نے جو نئی تعلیمی پالیسی دی۔ اس پالیسی کے مرتب لارڈ میکالے نے صاف طور پر کہہ دیا کہ ہم ایک ایسا نظامِ تعلیم دے رہے ہیں جس سے تعلیم و تربیت پانے والا مسلمان اپنے دین پر قائم نہیں رہ سکے گا۔ چنانچہ اسی لئے مستقبل کے خدشات پر نظر رکھنے والے علماء کرام اور اہل دانش نے دینی تعلیم کا الگ سے پرائیویٹ نظام قائم کر کے مسجد و محلہ کی سطح پر قرآن کریم اور دینیات کی تعلیم کا ماحول بنایا۔ دینی مدارس کا ایک وسیع جال پورے جنوبی ایشیا میں پھیل گیا۔ جو آج بھی پورے عزم وحوصلہ کے ساتھ مسلمان بچوں کو دینی تعلیمات سے بہرہ ور کرنے اور ان کے عقیدہ وثقافت کی حفاظت میں مصروف ہے۔
یہ سلسلہ برطانوی استعمار سے ملک کی آزادی اور اسلامی تہذیب وثقافت کے تحفظ وفروغ کے نام پر ایک الگ مسلم ریاست پاکستان کے نظام سے قائم ہو جانے کے بعد اس ملک کے حکمرانوں کی ذمہ داری تھی کہ وہ پاکستان کے بچوں اور بچیوں کو قرآن وسنت کی تعلیمات سے آراستہ کریں۔ مگر ستر سال گزر جانے کے باوجود ابھی تک ایسا نہیں ہوسکا۔ دینی تعلیم کی تمام تر ذمہ داری دینی مدارس کے سپرد کر دی گئی ہے جو بے سروسامانی کے باوجود بلکہ مسلسل کردار کشی اور دباؤ کے ہوتے ہوئے بھی بحمد اللہ اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔
جب کہ موجودہ حکومت کی طرف سے دینی اور عصری تعلیم کے دونوں نصابوں کو یکجا کرنے کے بار بار اعلانات کے بعد وفاقی وزیر تعلیم کے حوالہ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پرائیویٹ سکولوں کا وسیع تر سسٹم جو او لیول، آکسفورڈ اور کیمبرج جیسے مغربی ٹائیٹلز کے ساتھ اپنا دائرہ دن بدن وسیع کرتا جارہا ہے۔ وہ دونوں تعلیمی نصابوں کی یکجائی کو قبول کرنے پر تیار نہیں ہے۔ یعنی وہ اپنے نصاب کے ساتھ قرآن و سنت اور دینیات کی تعلیم کو اپنے تعلیمی نظام میں شامل کرنے سے گریزاں ہے جس سے دونوں نصابوں کو جمع کر کے مشترکہ نصابِ تعلیم رائج کرنے کا منصوبہ کھٹائی میں پڑ گیا ہے۔
حالانکہ دینی مدارس نے اپنے نظام میں میٹرک تک نصاب کو شامل کر لیا ہے اور اپنے تشخص و امتیاز کو باقی رکھتے ہوئے اگلے مراحل سے بھی انہیں انکار نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ایک اور پہلو بھی قابل توجہ ہے کہ ریاستی نظام تعلیم میں دینی تعلیمات کا جو بہت تھوڑا حصہ شامل ہے۔ اسے نہ صرف یہ کہ مسلسل کم کیا جارہا ہے۔ بلکہ اس میں ایسی تبدیلیاں بھی سامنے آرہی ہیں جو بنیادی اسلامی عقائد کے منافی ہیں اور مسلمانوں کے اجماعی عقائد و روایات سے متصادم ہیں۔ مثال کے طور پر بعض حلقوں کی طرف سے یہ شکایت کی گئی ہے کہ مطالعہ پاکستان کے جماعت نہم کے نصاب میں عقیدۂ ختم نبوت کو تبدیل کر دیا گیا ہے جس کی تفصیل یہ بیان کی گئی ہے کہ ۲۰۱۷ء کی نصابی کتب میں ’’عقائد و عبادات‘‘ کے باب میں رسالت ﷺ کے بارے میں عقیدہ یوں درج ہے کہ : ’’عقیدہ رسالت کا مطلب تمام رسولوں پر ایمان لانا ہے۔ دائرۂ اسلام میں آنے کے لئے لازم ہے کہ عقیدہ رسالت کو دل وجان سے تسلیم کیا جائے اور کسی اعتبار سے اس میں شک وشبہ نہ کیا جائے۔ حضرت محمد ﷺ کو اللہ تعالیٰ کا آخری رسول ماننا عقیدۂ رسالت کا لازمی جزو ہے۔‘‘
یہ عبارت پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ لاہور کی شائع کردہ نصابی کتاب میں موجود ہے۔ مگر سال رواں میں جی ، ایف ،
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ایچ پبلشرز اردو بازار لاہور کی طرف سے جماعت نہم کے لئے مطالعہ پاکستان و اسلامیات کے لئے شائع کی جانے والی کتاب میں یہ عبارت اس طرح درج ہے کہ : ”عقیدۂ رسالت کا مطلب رسولوں پر ایمان لانا ہے۔ دائرۂ اسلام میں آنے کے لئے لازم ہے کہ رسالت کو دل وجان سے تسلیم کیا جائے اور کسی بھی اعتبار سے اس میں شک وشبہ نہ کیا جائے ۔ قرآن اور اسوۂ رسول ﷺ کو سرچشمہ ہدایت ماننا عقیدۂ رسالت کا لازمی تقاضہ ہے ۔“
جب کہ اس کتاب کے ٹائٹل پر یہ عبارت درج ہے کہ: ”مقابلے میں اول قرار پانے والی یہ کتاب حکومت پنجاب کی طرف سے تعلیمی سال 20-2019ء کے لئے پنجاب کے سرکاری سکولوں میں تقسیم کی گئی ، پروجیکٹ میں شامل ہے۔“ اس طرح حکومت پنجاب کی منظوری سے نہم جماعت کے لئے تقسیم کی جانے والی اس نصابی کتاب سے ختم نبوت کا عقیدہ خارج کر دیا گیا ہے۔ جس پر صوبہ کے دینی حلقوں کی طرف سے شدید احتجاج کیا جارہا ہے۔ گزشتہ دنوں چیف جسٹس آف پاکستان نے پرائیویٹ سکولوں کی فیسوں میں اضافہ کے حوالہ سے زیر بحث ایک کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے ملک کے تعلیمی نظام کی طرف قومی اداروں کی عدم توجہی کا ذکر کیا تھا۔
ہم ان سے عرض کرنا چاہیں گے کہ یہ مسئلہ عدم توجہ سے کہیں زیادہ ریاستی نصاب تعلیم میں دینی مواد کو کم کرتے چلے جانے اور اسلام کے بنیادی عقائد سے نئی نسل کو بے خبر رکھنے کا ہے۔ جو کسی باقاعدہ منصوبہ بندی کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔ کیا محترم چیف جسٹس اس طرف بھی توجہ دے سکیں گے؟
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۹ء ص ۳۲، ۳۳)
موجودہ حکومت اور قادیانی..... غفلت یا منظم سازش
آج ۸؍ جولائی ۲۰۱۹ء کے معاصر اخبار خبریں ملتان کے صفحہ اوّل پر ایک خبر شائع ہوئی ہے۔ پہلے وہ ملاحظہ فرمائیں : ”پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی غفلت یا منظم سازش...... ۹ویں جماعت کے مطالعہ پاکستان سے ختم نبوت سے متعلق الفاظ حذف، عبارت تبدیل۔
ملتان (نمائندہ خصوصی) پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ نے ساتویں جماعت کی انگریزی کی کتاب میں مقبوضہ کشمیر کو انڈیا کا حصہ پڑھانے کے بعد نویں جماعت کی مطالعہ پاکستان کی کتاب ۲۰-۲۰۱۹ء کے ایڈیشن میں ختم نبوت سے متعلق الفاظ حذف کر دیئے۔ ۱۹-۲۰۱۸ء میں پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ نے نویں جماعت کے مطالعہ پاکستان کی کتاب میں نظریہ پاکستان کی اساس کے سبق میں صفحہ نمبر ۵ پر عقائد و عبادات کے پیرے میں ”حضرت محمد ﷺ کو اللہ تعالیٰ کا آخری رسول ماننا عقیدۂ رسالت کا لازمی جزو ہے۔“ لکھا تھا جب کہ اب پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ نے نویں جماعت کی مطالعہ پاکستان کی کتاب کے ۲۰-۲۰۱۹ء کے ایڈیشن میں ”حضرت محمد ﷺ کو اللہ تعالیٰ کا آخری رسول ماننا عقیدۂ رسالت کا لازمی جزو ہے۔“ ختم کر کے ”اسوۂ رسول ﷺ کو سرچشمہ ہدایت ماننا عقیدۂ رسالت کا لازمی تقاضا ہے۔“ میں تبدیل کر دیا ہے۔ اسلام اور اسلامی تعلیمات کے حوالے سے حضور اکرم ﷺ کو آخری رسول ماننا عقیدۂ رسالت کا لازمی جزو ہے۔ واضح رہے کہ اس سے پہلے پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ نے ساتویں کی انگریزی کی کتاب میں مقبوضہ کشمیر کو انڈیا کا حصہ قرار دے دیا تھا۔ جس پر ”خبریں“ نے نشاندہی کی تھی کہ ۲۰-۲۰۱۹ء سیشن میں مقبوضہ کشمیر کو انڈین حصہ تسلیم کیا جاچکا ہے اور لاکھوں طلباء کے ذہن کو گمراہ کر چکا ہے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ نہ ہی ان کتابوں کو بین کیا گیا ہے اور نہ ہی واپس طلب کی گئی ہیں اور ایڈیشن میں تبدیلی کرنے والے متعلقہ افسران کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ جب کہ اب نویں جماعت کی مطالعہ پاکستان میں ختم نبوت کے حوالے سے الفاظ تبدیل کر دیئے گئے ہیں۔ پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی طرف سے شائع ہونے والی کتابیں نہ صرف پنجاب بھر کے سرکاری سکولوں میں بلکہ پرائیویٹ
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سکولوں میں پڑھائی جاتی ہیں۔ سرکاری سکولوں اور پرائیویٹ سکولوں میں پڑھنے والے بچے ایک سال سبق میں کچھ پڑھتے ہیں تو دوسرے سال اسی سبق میں ایک لائن یا دو سے تین الفاظ تبدیل کر کے اس کا مطلب اور متن بھی تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ جس سے طلباء وطالبات کے ذہن خراب ہو رہے ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ اس طرح اچانک تبدیلی کے بارے میں تحقیقات کریں کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔‘‘
توحید، رسالت، قیامت، تقدیر، بعث بعد الموت کے عقائد کی طرح عقیدہ ختم نبوت پر بھی ایمان ویقین کے بغیر آدمی مسلمان نہیں ہو سکتا۔ ہمارے اس خطہ میں انگریز کے زمانہ میں ملعون قادیان نے تحریف وتلبیس کی قینچی سے عقیدہ ختم نبوت کو ٹکڑے ٹکڑے بلکہ تار تار کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ انگریز کے ایماء وسرپرستی میں اس حد تک اپنے کفر میں جری ہوا کہ اس نے دعویٰ نبوت کی جرأت کافرانہ کر ڈالی۔ اس وقت کی تمام دینی قیادت سے لے کر مؤسس پاکستان علامہ اقبال مرحوم تک ، سبھی نے قادیانیت کے بے لگام گھوڑے کو قابو کرنے کے جتن کئے۔ قیام پاکستان کے بعد یہاں پر تحریکیں چلیں اور پھر قومی اسمبلی نے آئینی ترمیم کے ذریعہ عقیدہ ختم نبوت کو آئین میں تحفظ فراہم کیا اور قادیانیوں کو آئین میں مسلمانوں سے علیحدہ غیر مسلم اقلیت تسلیم کیا گیا۔ پاکستان ایک اسلامی اسٹیٹ ہے۔ اسٹیٹ کا اسلامیان وطن کو اسلامی ماحول مہیا کرنا، اس کے فرائض منصبی میں شامل ہے اور یہ بات آئین میں بھی درج ہے۔ ان تمام تر باتوں کے باوجود نویں جماعت کے مطالعہ پاکستان کی نصابی کتاب پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی شائع شدہ کتاب میں جہاں پاکستان کی اساس کے سبق اور عقائد و عبادات کے پیرے میں ’’حضرت محمد ﷺ کو اللہ تعالیٰ کا آخری رسول ماننا عقیدہ رسالت کا لازمی جزو ہے۔‘‘ اس پیرے کی عبارت کو یوں تبدیل کر دیا گیا۔ ’’اسوہ رسول کو سرچشمہ ہدایت ماننا عقیدہ رسالت کا لازمی تقاضہ ہے۔‘‘ یہ تبدیلی بلاوجہ نہیں۔ یہ تبدیلی حکومتی پالیسی کا حصہ نہیں تو محکمہ تعلیم میں قادیانی مہروں کی چابک دستی کا کرشمہ ضرور ہے۔ اس سے قبل کشمیر کو انڈیا کا حصہ ہمارے نصاب کی کتابوں میں قرار دیا گیا۔ ان دونوں باتوں کے ڈانڈے قادیانی ذہنیت سے ملتے ہیں۔ قادیانیوں نے گورداسپور کو ہندوستان میں شامل کرا کر ہندوستان کو کشمیر جانے کا واحد راستہ مہیا کیا۔ قادیانی قیادت نے تقسیم کو عارضی قرار دے کر اکھنڈ بھارت بنانے کا پرچار کیا۔ یہ کوئی سیاسی بات نہ تھی قادیانی جماعت کے نام نہاد خلیفہ مرزا محمود کا یہ اعلان قادیانی جماعت کے ایمان وعقیدہ کا حصہ ہے۔ اسلامیان وطن ! ملک پر کیا وقت آیا ہے کہ پاکستان کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کو قادیانی کھوکھلا نہیں بلکہ ملیا میٹ کر رہے ہیں اور حکومت وقت خاموش ہے۔ آخر یہ سب کچھ بلاوجہ نہیں۔ کشمیر کے موقف پر پاکستان کی نفی پر ساتویں جماعت کی کتاب پر پابندی نہ لگائی گئی۔ نہ ہی اس تبدیلی کے مرتکب کو سزا دی گئی۔ وہ اتنے جری ہو گئے کہ اب عقیدہ ختم نبوت پر انہوں نے کلہاڑا چلا دیا۔ موجودہ حکومت مہنگائی کے ذریعہ اس ملک کے عوام کو موت کے منہ میں جہاں دھکیل رہی ہے وہاں اس ملک کے نوجوانوں کے رحمت عالم ﷺ سے ایمانی تعلق کو ختم کرنے کے درپے ہے۔ کہاں ہیں ہمارے پنجاب کے وزیر تعلیم؟ کہاں ہیں سیکرٹری تعلیم کہ ان کے سایہ تلے ملک کے اساس ونظریات پر حملہ ہوا ہے؟ نہ ہی حکومت نے ذمہ دار کو سزا وار عبرت بنایا نہ کتابوں کو واپس لیا۔ اے اسلامیان! سوچئے کہ ملک کے مستقبل کو کس طرح داؤ پر لگایا جا رہا ہے۔ تف بر تو چرخ گردون تف۔ یقین فرمائیے کہ ہم اس ایشو کو دبنے اور ہضم کرنے نہیں دیں گے۔ حکومت، اسلامیان وطن کے ردعمل سے قبل اس کی ایسی تلافی کرے جو سب کو نظر آئے اور سب کے اطمینان کا باعث ہو۔
اس کے ساتھ ہی قادیانیوں سے گزارش ہے کہ وہ عقل کے ناخن لیں۔ اس قسم کی حرکتیں کر کے غضب الٰہی کو دعوت نہ دیں۔ ورنہ اس کے ردعمل میں ان کو چھٹی کا دودھ یاد آ جائے گا۔ حکومت اور قادیانی سوچیں اور بار بار سوچیں کہ اس میں ان کا بھلا ہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۱۹ء ص ۳ تا ۵)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قانون تحفظ ختم نبوت کے خلاف حالیہ قادیانی مہم جوئی
بسم الله الرحمن الرحيم، الحمد لله وسلام علٰی عبادہ الذین اصطفٰی
منکرین ختم نبوت قادیانی جس روز سے آئین پاکستان کے تحت غیر مسلم اقلیت قرار دیئے گئے ہیں تب سے یہ زخمی سانپ کی مانند اپنا پھن پھیلائے پھنکارتے نظر آتے ہیں اور کوئی دن نہیں گزرتا جب یہ قانون تحفظ ختم نبوت کے خلاف اپنے زہریلے پروپیگنڈا سے فضا مسموم نہ کرتے ہوں۔ ان کی مسلسل یہ کوشش رہتی ہے کہ کسی طرح قانون ختم نبوت میں ترمیم ہو یا اسے ختم کیا جاسکے تاکہ یہ اسلام کے لبادہ میں کفر کی تبلیغ کر سکیں۔ زمزم کا لیبل لگا کر شراب فروخت کر سکیں اور بکری کا گوشت کہہ کر دھوکا دہی سے حرام گوشت اہل اسلام کو کھلا سکیں۔
واضح رہنا چاہئے کہ قادیانی صرف آئین پاکستان کے تحت غیر مسلم نہیں ہیں بلکہ اس سے بھی پہلے اپریل ۱۹۷۴ء میں پوری دنیا کے مسلمانوں کی عالمی تنظیم رابطہ عالم اسلامی کے سالانہ اجلاس میں انہیں متفقہ قرارداد کے ذریعہ دائرہ اسلام سے خارج کر دیا گیا تھا۔ گویا ان کے کفر پر تمام عالم اسلام کی متفقہ مہر ثبت ہے اور کوئی مسلمان، منکرین ختم نبوت قادیانیوں کے کافر ہونے میں شک و شبہ کا شکار نہیں۔
آج قادیانی پوری دنیا کے مسلمانوں کے اجماع اور اتفاق کو تسلیم کرنے سے نہ صرف انکاری ہیں بلکہ اسے چیلنج کرتے ہوئے خود کو مسلمان کہلوانے پر مصر ہیں۔ اب تو ان کی دلیری اس قدر بڑھ چکی ہے کہ حال ہی میں ان کے نام نہاد خلیفہ مرزا مسرور کی ویڈیو جو سوشل میڈیا پر دیکھی گئی ہے، اس میں ایک سوال کے جواب میں اس نے یہ ہرزہ سرائی کی ہے کہ عنقریب پاکستان کے آئین میں تبدیلی ہو جائے گی اور ہم احمدی (دراصل مرزائی / قادیانی ... ناقل) وہاں سانس لے سکیں گے۔
ایک اور ویڈیو جس سے عالم اسلام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے وہ ایک شخص عبدالشکور قادیانی کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی ہے۔ اس میں صاف دیکھا اور سنا جا سکتا ہے کہ یہ شخص امریکی صدر کے سامنے اپنی مظلومیت کی جھوٹی داستان سرائی کرتے ہوئے وطن عزیز پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کا مرتکب ہوا۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ امتناع قادیانیت آرڈیننس کے تحت قادیانیوں کو شعائر اسلام استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے اور مسلمان حق بجانب ہیں کہ ان کے مذہبی تشخص کا احترام کیا جائے لیکن قادیانی پاکستان کے آئین سے بغاوت کرتے ہوئے اسے پامال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ عبدالشکور نامی قادیانی کا بھی یہی قصہ ہے، یہ چناب نگر (سابقہ ربوہ) میں توہین آمیز قادیانی لٹریچر اور کتب کی اشاعت کا کام کرتا تھا، اس جرم میں اسے دسمبر ۲۰۱۵ء میں گرفتار کیا گیا، اس کے پاس سے توہین آمیز مواد برآمد ہوا، چنانچہ اس پر مقدمہ چلا اور اسے انسداد دہشت گردی ایکٹ (اے ٹی اے) ۱۱ ڈبلیو ۸۹ کے تحت پانچ سال اور ۲۹۸-سی کے تحت تین سال قید کی سزا سنائی گئی، لیکن سزا پوری ہونے سے قبل ہی اکتوبر ۲۰۱۸ء میں امریکی کانگریس کے اشاروں پر ہیومن رائٹس کمیشن نے اس کی رہائی کی آواز بلند کر دی، امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے سفیر کے ذریعہ ۱۴؍ مارچ ۲۰۱۹ء کو اس کی رہائی کا مطالبہ کیا، پھر ۱۷؍ مارچ کو امریکی وزیر نے یہ مطالبہ دہرایا، بالآخر ۲۰؍ مارچ ۲۰۱۹ء کو اسے رہا کر کے پاکستان سے فرار کرا دیا گیا اور یہ امریکا پہنچ گیا۔
اب قارئین خود فیصلہ کریں کہ یہ سزا یافتہ مجرم امریکی صدر کے سامنے سچ کہہ رہا ہے یا دراصل اپنے جرم کو چھپانے کے لئے عالمی اداروں کی ہمدردی کا سہارا لینا چاہ رہا ہے۔ اسی سے اس کے پاکستان پر لگائے گئے الزامات کی حقیقت بھی عیاں ہو جاتی ہے۔ یہ بات تو پاکستان کا بچہ بچہ بھی جانتا ہے کہ پاکستان میں نہ تو قادیانیوں کے گھر جلائے جاتے ہیں، نہ انہیں مارا جاتا ہے اور نہ ہی ان کی عزتیں لوٹی جاتی ہیں، یہ محض پاکستان کے خلاف مذموم پروپیگنڈا ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بہر کیف ! قادیانیوں کی ان تازہ خلاف اسلام وخلاف پاکستان سرگرمیوں نے ہر محب وطن کو بے چین کر رکھا ہے اور ہر مسلمان قادیانیت کی سازشوں کے جال پھیلتے دیکھ کر فکرمند ہے۔ چنانچہ اہلیان وطن کی ترجمانی کرتے ہوئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے اکابرین کے حکم پر دفتر ختم نبوت کراچی میں ایک ہنگامی اجلاس ۲۰؍ جولائی ۲۰۱۹ء کو منعقد ہوا، جس کی تفصیل درج ذیل ہے:
”عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی دفتر میں ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں قانون ختم نبوت کے خلاف حالیہ قادیانی سرگرمیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ناظم عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی محمد انور رانا نے کہا کہ ۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کو مسلسل ۲۲ روز کی جرح کے بعد قادیانی آئین پاکستان میں غیر مسلم اقلیت قرار دیئے گئے، جرح کے دوران انہیں اپنا مؤقف پیش کرنے کی مکمل آزادی تھی اور قومی اسمبلی نے ان کا کفر جاننے کے بعد ہی بغیر کسی مسلکی و سیاسی وابستگی کے انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا، اسمبلی کے کسی رکن نے اس فیصلہ سے اختلاف نہیں کیا، چنانچہ قادیانیوں کو آئین پاکستان کے تحت وہ تمام حقوق و آزادی حاصل ہے جو غیر مسلم اقلیتوں کا حق ہے لیکن انہیں مسلمانوں کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں۔ لیکن آج قادیانی اپنی آئینی حیثیت تسلیم کرنے کی بجائے خود کو مسلمان کہلوانے پر مصر ہیں اور دنیا بھر میں جھوٹے پروپیگنڈے پر مشتمل مذموم مہم چلارہے ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان میں قادیانیوں کی جان، مال عزت و آبرو کی حفاظت کا ضامن یہی آئین ہے، جسے وہ تسلیم کرنے سے کھلم کھلا انکاری ہیں اور اب اس آئین کو ختم کرنے کی باتیں اور خود پر جھوٹے مظالم کا رونا رو رہے ہیں۔ درحقیقت ان قادیانیوں پر آئین پاکستان کو تسلیم نہ کرنے، اسے توڑنے کی سازشیں کرنے، اس کے خلاف پروپیگنڈا کرنے اور وطن عزیز پاکستان پر الزامات عائد کرنے کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنا چاہئے۔
اجلاس کے شرکاء نے متفقہ طور پر یہ قرارداد منظور کی کہ قانون ختم نبوت کے خلاف حالیہ قادیانی سرگرمیاں تشویش ناک ہیں اور ہم ہر قیمت پر اس قانون کا تحفظ کریں گے۔ اجلاس میں امیر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر کا پیغام پڑھ کر سنایا گیا جس میں انہوں نے تمام مسلمانوں سے عموماً اور علماء، خطباء وائمہ سے خصوصاً اپیل کی ہے کہ موجودہ حالات میں قانون ختم نبوت کی حفاظت کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے، لہٰذا پوری امت دعاؤں کا خصوصی اہتمام کرے، مساجد کے ائمہ کرام نمازوں میں قنوت نازلہ کا اہتمام کریں، ائمہ و خطباء مساجد اپنے دروس اور جمعہ کے خطبات میں عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ پر مشتمل بیانات کے ذریعہ عوام کو شعور و آگاہی فراہم کریں۔
اجلاس میں ناظم دفتر محمد انور رانا، سیّد انوارالحسن، مبلغین و مقامی ذمہ داران مولانا عبدالحئی مطمئن، مولانا محمد اسحاق مصطفیٰ، مولانا محمد قاسم، مولانا محمد رضوان، مولانا عادل غنی، مولانا شعیب کمال، مولانا محمد کلیم اللہ نعمان، مولانا احمد شاہ بلوچ اور حافظ سید عرفان علی شاہ نے شرکت کی۔“
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی تحریک پر پورے ملک میں قادیانیت کے عزائم کو ناکام بنانے کے لئے مہم شروع کردی گئی ہے اور مختلف مدارس اور مساجد میں علمائے کرام کے اجلاس اور بیانات ہورہے ہیں۔ اس کے علاوہ ۲۳؍ جولائی ۲۰۱۹ء کو پاکستان کے قومی اخبارات روزنامہ جنگ، روزنامہ اسلام، روزنامہ امت کے تمام ایڈیشنوں میں درج ذیل اشتہار چھپوایا گیا:
”قانون تحفظ ختم نبوت پارلیمنٹ کا متفقہ آئینی فیصلہ ہے، اس کو ختم کرنے کا مطالبہ یا اس کے خلاف مذموم پروپیگنڈا ملکی سالمیت کے خلاف سازش اور آئین سے بغاوت کے مترادف ہے۔ رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ کے سالانہ اجتماع اپریل ۱۹۷۴ء میں پوری دنیا کے علماء اسلام نے منکرین ختم نبوت کے خلاف متفقہ طور پر قرارداد پاس کر کے انہیں اسلام سے خارج قرار دیا۔ قانون تحفظ ختم نبوت کے خلاف بیرونی دباؤ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے ساتھ ساتھ مداخلت فی الدین ہے، جسے عالم اسلام کے غیور مسلمان ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔“
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اسی طرح مندرجہ ذیل خبر اخبارات میں شائع ہوئی:
’’منکرین ختم نبوت دنیا بھر میں اسلام اور پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کر رہے ہیں، لیکن انہیں اچھی طرح جان لینا چاہئے کہ وہ اپنے ناپاک عزائم میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔ پاکستان کے عوام عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا دینے کو تیار ہیں۔ قانون ختم نبوت جن شہداء اور اسیروں کی قربانیوں سے وجود میں آیا، انہیں ضائع نہیں ہونے دیں گے۔ نیز پاکستانی حکمرانوں سے درخواست ہے کہ منکرین ختم نبوت کی خلاف اسلام اور خلاف پاکستان سرگرمیوں پر سخت نوٹس لیتے ہوئے انہیں آئین و قانون کا پابند بنائیں اور دنیا میں پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والے منکرین ختم نبوت اور ان کے ہم نواؤں پر غداری کا مقدمہ چلایا جائے۔ پاکستان کے حکمران ہر قسم کا بیرونی دباؤ مسترد کر دیں اور دنیا کو یہ پیغام دے دیں کہ تحفظ ختم نبوت پر کسی قسم کا اور کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ حکمرانوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ مصورِ پاکستان علامہ محمد اقبال نے کہا تھا کہ منکرین ختم نبوت اسلام اور وطن دونوں کے غدار ہیں، لہٰذا ان غداروں کے حق میں کسی قسم کے دباؤ کا شکار نہ ہوں۔ ان خیالات کا اظہار عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، مولانا ناصر الدین خاکوانی، مولانا عزیز احمد، مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا محمد اکرم طوفانی، علامہ احمد میاں حمادی، مفتی شہاب الدین پوپلزئی، مولانا عزیز الرحمن ثانی اور مولانا قاضی احسان احمد نے اپنے ایک بیان میں کیا۔
نیز کراچی کے مختلف مقامات پر مبلغین ختم نبوت مولانا عبدالحی مطمئن، مولانا محمد اسحاق مصطفیٰ، مولانا محمد قاسم، مولانا محمد رضوان، مولانا محمد عادل غنی، مولانا محمد شعیب کمال، مولانا محمد کلیم اللہ نعمان نے مساجد میں بیانات اور اجلاسوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ منکرین ختم نبوت اپنے پیروکاروں کو یہ دلاسے دے رہے ہیں کہ جلد پاکستان سے ختم نبوت کا قانون ختم ہو جائے گا۔ یہ لمحہ فکریہ ہے اور اہلِ اسلام کو ہمہ وقت اس قانون کے تحفظ کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ منکرین ختم نبوت اپنے اس ناپاک ارادہ میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے بلکہ وہ اس قسم کے شوشے چھوڑ کر ہم اہلِ ایمان کے ایمانوں کا امتحان لیتے ہیں، جس میں ہم ان شاء اللہ! کامیاب و سرخرو ثابت ہوں گے۔‘‘
اللہ تعالیٰ سے دعاء ہے کہ مجاہدین ختم نبوت کامیاب ہوں اور قادیانیت ایک بار پھر ذلیل و رسوا ہو۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کے ایمانوں کی حفاظت فرمائیں اور تحفظ ختم نبوت کے لئے بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی توفیق مرحمت فرمائیں، آمین! وصلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ سیدنا محمد وعلی آلہ وصحبہ اجمعین۔ (مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ)
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۸ تا ۲۲؍ اگست ۲۰۱۹ء ص ۵ تا ۷)
عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے ہر طرح کی جنگ لڑیں گے
راولپنڈی: قادیانی سربراہ کا آئین پاکستان کو چھیڑنے کا بیان قومی سلامتی پر براہِ راست حملہ ہے، کیا آئین پاکستان کے خلاف ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے شکایت پاکستانی عدالتوں سے ملنے والی سزا پر واویلا کرنا، وطن عزیز پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت پر حملہ نہیں؟ ایک ایسے وقت میں جب ملک کا وزیراعظم امریکا کے دورے پر ہے۔ قادیانیوں کی امریکی صدر اور اعلیٰ امریکی عہدیداروں سے ملاقاتیں اس دورے کی حیثیت پر سوالات نہیں اٹھا رہیں؟
ہم یہ بات واضح کر دینا چاہتے ہیں قانون ناموس رسالت میں کسی قسم کا ردو بدل برداشت نہیں کیا جائے گا۔ بات سیدھی سی ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی نبی نے نہیں آنا، اگر کوئی نبوت کا دعویٰ کرے گا تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہوگا۔ تعجب کی بات ہے کہ اگر امریکی صدر کا باغی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کرے اور اس کی سازش پکڑی جائے تو سزا صرف موت ہے اور محمد عربی ﷺ کے باغی کی سزا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ نہیں ہونی چاہئے۔ قادیانیوں / مرزائیوں کی اسلام اور آئین دشمن سرگرمیوں پہ ہمیں شدید تحفظات ہیں،
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ۵۳۷ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
طاقت کے مراکز ان کا نوٹس لیں، قادیانی اپنی سازشوں سے باز رہیں۔ ۲۵؍ جولائی کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور جمعیۃ علماء اسلام سمیت تمام اپوزیشن جماعتیں اسلام آباد میں ناموس رسالت ریلی نکالیں گی۔
ان خیالات کا اظہار عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہنما مولانا اللہ وسایا، مولانا پیر محمد عزیز الرحمن ہزاروی، مولانا عبدالرؤف، مولانا قاضی مشتاق، جمعیۃ علماء اسلام کے راہنما مولانا عبدالمجید ہزاروی، مفتی عبداللہ، ڈاکٹر ضیاء الرحمن، مفتی اویس عزیز، تاجر راہنما شرجیل میر، شاہد غفور پراچہ، طلباء یونین کے راہنما حافظ عامر سلیمان و دیگر نے راولپنڈی پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ راہنماؤں نے کہا کہ ہم راولپنڈی، اسلام آباد کے تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے حضرات سے اپیل کریں گے کہ وہ ۲۵؍ جولائی کی ریلی میں بھر پور شرکت کریں۔
جاری کردہ ....... مولانا محمد طیب فاروقی (مرکزی راہنما عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد) برائے رابطہ: 7550481-300 / 5555161-0333 مفتی اویس عزیز (ترجمان جمعیۃ علماء اسلام (ف) اسلام آباد) مولانا قاضی ہارون الرشید (جنرل سیکرٹری عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت راولپنڈی)
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۸ تا ۲۲؍ اگست ۲۰۱۹ء ص ۱۶)
امریکی صدر کے نام جناب خالد محمود کراچی کا کھلا خط
کھلا خط ! جناب صدر امریکہ! گزارش یہ ہے کہ ابھی حال ہی میں قادیانی کمیونٹی کے ایک فرد عبدالشکور قادیانی جس کو پاکستان میں متنازع کتب کی اشاعت پر آئین پاکستان کے تحت سزا ہوئی تھی ، یہ شخص پاکستان سے فرار ہو کر بذریعہ شان تاثیر آپ کے پاس لایا گیا، جس نے آپ کے سامنے اپنی نام نہاد مظلومیت کا رونا رویا، حالانکہ ان باتوں میں کوئی صداقت نہیں جو اس نے آپ کے سامنے غلط انداز سے کہی ہیں۔
حقیقت حال یہ ہے کہ مسلمانوں کے اجماعی عقیدہ کے مطابق قرآن کریم اور احادیث کی روشنی میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر اٹھالے گئے تھے اور قرب قیامت میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے حکم سے دوبارہ آسمان سے تشریف لائیں گے اور یہ ایک ایسی بات ہے کہ جس کو بائبل بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ان الفاظ میں بیان کرتی ہے کہ: ”میں تمہیں یتیم نہ چھوڑوں گا، میں تمہارے پاس آؤں گا ۔“ (یوحنا باب:۱۴، آیت:۱۸)
اور پھر آگے دوبارہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے حوارین کو تسلی دیتے ہوئے فرماتے ہیں: ”تم سن چکے ہو کہ میں نے تم سے کہا کہ جاتا ہوں اور تمہارے پاس پھر آتا ہوں ۔“
(یوحنا باب:۱۴، آیت:۲۸)
اور عبدالشکور قادیانی اپنے جس روحانی پیشوا مرزا قادیانی کو مانتا ہے، معاذ اللہ! اس کا کہنا یہ ہے کہ : ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام دنیا ہی میں وفات پا گئے ہیں“ اور ان کی قبر کو اپنی کتابوں میں چار مختلف جگہوں پر بتاتا ہے، حالانکہ اس کی تردید نہ صرف علمائے اہل اسلام نے کی، بلکہ آپ کے ہم مذہب عیسائی پادری بھی اپنی کتابوں میں لکھ کر کر چکے ہیں۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں مرزا قادیانی کے ایسا لکھنے کی وجہ صرف یہی تھی ، کہ اس نے آگے چل کر خود ”مسیح موعود اور مہدی“ ہونے کا جھوٹا دعویٰ کیا۔ جو مرزا قادیانی کی کتابوں میں درج ہیں ، جن کی تصدیق کے لئے آپ وہ کتابیں دیکھ سکتے ہیں۔
لہٰذا یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی پارلیمان میں مرزا قادیانی اور اس کے ماننے والوں کے ان کفریہ عقائد پر کئی دنوں پر مشتمل بحث و
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جرح ہوئی، جہاں اس وقت کے مرزائیوں کے خلیفہ مرزا ناصر احمد کو اس کا مؤقف اور عقیدہ بیان کرنے کا پورا پورا موقع فراہم کیا گیا، لیکن کیونکہ پوری امت مسلمہ کے اجماعی عقائد سے ہٹ کر مرزائیت کے عقائد ونظریات مرزا قادیانی کے خودساختہ کفریہ عقائد پر موجود ہونے کی وجہ سے ان کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر آئین پاکستان میں ان کے حقوق کا تحفظ کیا گیا، مگر قادیانیت نے آئین پاکستان کی ۱۹۷۴ء کی کارروائی کو ماننے سے انکار کر دیا اور اس وقت سے لے کر اب تک یہ قادیانی کمیونٹی مختلف انداز سے اہل اسلام اور پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے پروپیگنڈا کرتی رہتی ہے، لہٰذا عبدالشکور قادیانی کا واویلا بھی اسی پروپیگنڈا کا حصہ ہے۔ خالد محمود، کراچی
دوسرا کھلا خط:
جناب ڈونلڈ ٹرمپ صاحب! عبدالشکور قادیانی جس نے آپ کے سامنے رونا دھونا کر کے دھوکا دہی سے کام لیا ہے، ان کے مکروہ چہرے کا دوسرا حصہ یہ ہے کہ ان کا نام نہاد پیشوا مرزا قادیانی جس نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ بھی کر رکھا ہے۔ (جس کا ذکر میں آپ کے نام پہلے خط میں کر چکا ہوں) نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں بدترین گستاخیاں کی ہیں، مگر کوئی قادیانی، مرزائی آپ کو اس بارے میں کبھی کچھ نہیں بتائے گا۔ مثلاً مرزا قادیانی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں کہتا ہے کہ: ’’خدا نے اس امت میں مسیح بھیجا جو اس سے پہلے مسیح سے اپنی شان میں بہت بڑھ کر ہے۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۱۵۲)
پھر کہتا ہے کہ: ’’مجھے قسم ہے اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانے میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں، وہ ہرگز نہ کر سکتا اور وہ نشان جو مجھ میں ظاہر ہو رہے ہیں، ہرگز نہ دکھلا سکتا۔‘‘
(روحانی خزائن ج۱۹ ص۲۰)
حضرت مسیح علیہ السلام کی شان میں مزید گستاخی اور توہین کرتے ہوئے مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ: ’’آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص۴، مندرجہ روحانی خزائن حاشیہ ج۱۱ ص۲۹۱)
جناب صدر صاحب! اس کے علاوہ مرزا قادیانی نے: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کو مکر و فریب کہا۔ آپ علیہ السلام کو گالیاں دینے، بدزبانی اور جھوٹ بولنے والا کہا۔ ’’معاذاللہ، استغفر اللہ العظیم، نقل کفر، کفر نباشد!
جناب صدر امریکہ ڈونلڈ ٹرمپ صاحب! یہ وہ باتیں ہیں: ’’جن کو نہ تو آپ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حوالے سے برداشت کر سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی غیور مسلمان مومن ان باتوں کو برداشت کر سکتا ہے۔ کیونکہ آپ کے یہاں بائبل اور ہمارے یہاں قرآن کریم میں جن انبیاء کرام علیہم السلام کا ذکر مبارک مشترکہ طور پر ملتا ہے، ہم اہل اسلام ان کی شان میں ادنیٰ بے ادبی کو قرآن وحدیث کی روشنی میں کفر کہتے ہیں اور یہ بات ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔‘‘
لہٰذا عبدالشکور قادیانی کا آپ کے سامنے یہ کہنا کہ: ’’ہمیں پاکستان میں مسلمان نہیں سمجھا جاتا یا کہا جاتا‘‘ تو اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ مرزا قادیانی اور اس کے ماننے والے دین اسلام کے بنیادی عقائد سے منحرف اور انبیاء کرام علیہم السلام بشمول حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے گستاخ و توہین کرنے والے ہیں، جن کو کوئی بھی عیسائی اور مسلمان ہرگز برداشت نہیں کر سکتا، خصوصاً مسلمان تو کسی صورت کسی بھی نبی ورسول کی توہین و گستاخی برداشت نہیں کر سکتا، اسی لئے وطن عزیز پاکستان کی پارلیمان نے ان قادیانیوں کو دائرہ اسلام سے خارج اور غیر مسلم اقلیت قرار دیا ہے۔ اس لئے عبدالشکور قادیانی کا رونا دھونا اور پاکستان کو بدنام کرنا ، دھوکے اور فریب کے سوا کچھ نہیں ہے۔ (خالد محمود، کراچی)
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۸ تا ۲۲؍ اگست ۲۰۱۹ء ص۱۶)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیانی شکور امریکی دباؤ پر رہا کیا گیا
پلاننگ کے تحت واشنگٹن پہنچایا گیا ، ہائیکورٹ بریت کی اپیل مسترد کر چکا تھا ،مقتول گورنر سلمان تاثیر کے بیٹے شان تاثیر سمیت ۲۷ رکنی وفد کی ٹرمپ سے ملاقات پلاننگ کے تحت کرائی گئی ، توہین مذہب پر گرفتار پروفیسر جنید حفیظ کو چھڑانے کے لئے بھی امریکا نے دباؤ بڑھا دیا ، مرزا مسرور قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کی شق ختم کرانے کے خواب دیکھنے لگا : رپورٹ
(امت رپورٹ) امریکا میں پاکستان کے خلاف مذہبی ناانصافیوں کا پروپیگنڈا کرنے والے قادیانی شکور چشمے والے کو براہ راست امریکی دباؤ پر رہا کیا گیا۔ اب واشنگٹن توہین مذہب پر گرفتار ایک اور پاکستانی پروفیسر کو رہا کرانے کی کوششیں کر رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ان تمام کوششوں کا پس منظر یہ ہے کہ قادیانیوں کا نام نہاد خلیفہ مرزا مسرور نہ صرف پاکستان میں توہین کے قانون کو ختم کرانا چاہتا ہے بلکہ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے والی آئینی شق میں ترمیم کا بھی خواہش مند ہے۔ اس سلسلے میں اسے اسرائیل اور امریکا کی طاقتور یہودی لابی کی سرپرستی حاصل ہے۔ واشنگٹن میں موجود ذرائع کے بقول قادیانیوں کی ہمدرد یہودی لابی کی کوشش ہے کہ وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کے موقع پر صدر ٹرمپ پاکستان میں مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے تحفظ سے متعلق معاملات ضرور اٹھائیں ، تا کہ بالخصوص توہین کے قانون کو ختم کرانے کا راستہ ہموار کیا جاسکے ۔ ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان کے دورے سے قبل پاکستانی قادیانیوں ، عیسائیوں ، ہندوؤں اور نام نہاد لبرلز پر مشتمل وفد کی ٹرمپ سے ملاقات اسی سلسلے کی کڑی تھی ۔ وہ امریکی صدر جس سے ملاقات کے لئے دوسرے ممالک کے سربراہ تک بڑی مشکل سے ٹائم لے پاتے ہیں، لیکن اسی صدر کے ساتھ طاقتور امریکی یہودی لابی سے عام گمنام پاکستان کی آسانی سے ملاقات کرا دی ، اوول آفس میں ٹرمپ سے ملاقات کرنے والے ۲۷ رکنی وفد میں قادیانی شکور چشمے والا اور ممتاز قادری کے ہاتھوں مارے جانے والے گورنر سلمان تاثیر کا بیٹا شان تاثیر بھی شامل تھا۔ شکور چشمے والا جب ٹرمپ کو اردو میں اپنی تین سالہ قید کی روداد سنا رہا تھا تو اس کے مترجم کی ذمہ داری برابر میں کھڑا شان تاثیر پوری کر رہا تھا۔ شکور چشمے والے کو توہین پر مبنی کتابیں فروخت کرنے اور قادیانی لٹریچر تقسیم کرنے کا جرم ثابت ہونے پر مجموعی طور پر آٹھ برس قید کی سزا ہوئی تھی ۔ پانچ برس سزائے قید توہین کے قوانین کے تحت جب کہ تین برس کی قید انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت سنائی گئی تھی ۔اسے ۲۰۱۵ء میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ہائی کورٹ نے عبدالشکور کی بریت کی اپیل مسترد کر دی تھی۔ تاہم اس کی سزا میں تین برس کمی کر دی گئی ۔ شکور چشمے والے کو فوری طور پر رہا کیا جائے ۔ جس کے اگلے ماہ اسے نہ صرف فیصل آباد کی جیل سے رہا کر دیا گیا بلکہ چند ہفتے بعد امریکی ویزا لگوا کر واشنگٹن پہنچا دیا گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ شکور چشمے والے کو امریکا پہنچانے کا اہتمام یہودی لابی نے کیا ، جس کا مقصد شکور کی زبانی پاکستان میں مذہبی ناانصافی کا پروپیگنڈا کرا کے توہین کے قانون کے خلاف دباؤ بڑھانا تھا۔ ٹرمپ سے ملاقات کرنے والے وفد میں شامل کرنے سے پہلے شکور قادیانی کو واشنگٹن میں قادیانی جماعت کے زیر اہتمام نام نہاد مذہبی آزادی کے نام پر منعقد کئے جانے والے سیمینار میں مدعو کیا گیا۔ جہاں اس نے اسکرپٹ کے مطابق پاکستان میں مذہبی ناانصافیوں کا پروپیگنڈا کیا اور اپنی گرفتاری اور رہائی کی داستان سنائی ۔ اس سیمینار میں قادیانی اداکار مہر شالہ علی اور برطانوی وزیر لارڈ طارق نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی ۔ ٹرمپ سے ملاقات کرنے والے ایک پاکستانی کرسچن نے بھی نہ صرف پاکستان میں عیسائی کمیونٹی کے خلاف مظالم کا پروپیگنڈا کیا ، بلکہ امریکی صدر سے یہ استفسار بھی کیا کہ آیا وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کے موقع پر پاکستان میں مذہبی آزادی کے حوالے سے بھی بات کریں گے ؟ شکور چشمے والے اور شان تاثیر سمیت ۲۷ رکنی وفد میں شامل دیگر لوگوں کا صدر ٹرمپ سے مطالبہ تھا کہ وہ
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پاکستان میں مذہبی آزادی کو یقینی بنائیں۔ یعنی ان پاکستانیوں نے ایک دوسری ریاست کے سربراہ کو پاکستانی ریاست اور اس کے آئین میں مداخلت کی کھلی دعوت دی۔ تاہم واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانہ خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔
شکور چشمے والے کو آزاد کرانے کے بعد واشنگٹن کا اگلا ٹاسک توہین مذہب پر گرفتار پاکستانی پروفیسر جنید حفیظ کو رہا کرانا ہے۔ اس معاملے سے آگاہ ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی دباؤ کی شدت کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ کچھ عرصے میں جنید حفیظ بھی رہا ہو کر امریکا یا کسی یورپی ملک چلا جائے گا اور یوں مغرب کو پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے کے لئے ایک اور کردار مل جائے گا۔ وزیر اعظم عمران خان کے دورہ واشنگٹن سے ایک روز قبل امریکی نائب صدر مائک پینس نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ توہین مذہب پر گرفتار پروفیسر جنید حفیظ کو فوری رہا کر دے۔ واشنگٹن میں مذہبی آزادی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی نائب صدر نے دنیا بھر سے آئے درجنوں وفود کی موجودگی میں کہا کہ پاکستان نے جنید حفیظ کو توہین مذہب کے غیر تصدیق شدہ الزامات پر قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے۔ راجن پور سے تعلق رکھنے والے جنید حفیظ کو ۲۰۱۳ء میں توہین شان ناموس رسالت قانون کی شق ۲۹۵-سی کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ جنید حفیظ مذہب کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والے نام نہاد پاکستانی لبرلز کے گروپ میں شامل تھا۔ اس نے ”ملا منافق“ کے نام سے اپنا سوشل میڈیا اکاؤنٹ بنا رکھا تھا۔ اس اکاؤنٹ کے ذریعہ توہین پر مبنی پروپیگنڈا کیا کرتا تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ برطانیہ میں مقیم قادیانیوں کے نام نہاد خلیفہ مرزا مسرور کو اس وقت نہ صرف اسرائیل کی سرکاری سرپرستی حاصل ہے، بلکہ اسرائیل کی متعصب صہیونی لابی بھی ان کی پشت پر آگئی ہے۔ اسی صہیونی لابی نے تل ابیب میں قادیانیوں کو دفتر بھی کھول کر دیا ہے۔ قادیانی اگرچہ تل ابیب کے مختلف اضلاع میں موجود ہیں، تاہم یہ مبالغہ آمیز جھوٹی داستان عبدالشکور نے پہلی بار نہیں دہرائی، بلکہ عالمی استعمار کی شہ پر قادیانی جماعت ہمیشہ اس جھوٹی کہانی کو ایک متعینہ اسٹریٹجی اور ایجنڈے کے طور پر استعمال کرتی چلی آرہی ہے۔ جس کا مقصد پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنا ہے۔ جس سے عالمی قوتوں کے لئے پاکستان پر دباؤ ڈال کر اپنی شرائط منوانا آسان ہو جاتا ہے۔ اب قادیانی کھل کر سامنے نہیں آئے، بلکہ اپنی سرپرست بین الاقوامی طاقتوں کے سہارے اور لابیوں کی مدد سے پاکستان کو مختلف پابندیوں میں جکڑنے کے لئے کئی حربے استعمال کرتے ہیں۔ جن کے نتیجے میں بین الاقوامی معاہدوں، غیر ملکی امداد اور مذاکرات کے دوران مذہبی آزادی کے نام پر پاکستان پر مختلف پابندیاں عائد کی جاتی ہیں اور من مانی شرائط منوانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے۔ قانون توہین رسالت کا مسئلہ اس کی واضح مثال ہے، جس کے خاتمے کے لئے یورپی یونین اور امریکا ایک آواز اور مصروف عمل ہیں۔
امریکا نے قادیانیوں کے سرپرست ہونے کا عندیہ دے کر دینی قوتوں کے خلاف اور قادیانیوں کی حمایت میں کھڑا ہونے کا اشارہ دے دیا ہے۔ اب تحفظ ختم نبوت محاذ پر سرگرم جماعتوں کے خلاف کھلم کھلا کارروائیوں اور کریک ڈاؤن کا امکان پیدا ہو چکا ہے۔ یہ کٹھن وقت اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ دینی قوتوں کے ذمہ دار مشترکہ لائحہ عمل تیار کریں اور عدم تشدد کی پالیسی کو برقرار رکھتے ہوئے ختم نبوت کا پیغام عام کریں، قادیانیوں کی تخریبی و اشتعال انگیز سرگرمیوں کو بین الاقوامی فورم پر آشکار کریں اور پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈا کے سدباب کے لئے ان کی مذموم کارروائیوں کو منظر عام پر لا کر رائے عامہ کو ہموار کریں، تاکہ ان کی مبینہ مظلومیت کی نقاب کشائی ہو کر حقیقت عیاں ہو جائے۔
(روزنامہ امت کراچی، ۲۱ / جولائی ۲۰۱۹ء مندرجہ ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۸ تا ۲۲ / اگست ۲۰۱۹ء ص ۲۶، ۲۷)
قادیانی مسئلہ اور صدر ٹرمپ
(مولانا زاہد الراشدی) چند روز قبل امریکا کے صدر جناب ٹرمپ کے ساتھ ایک قادیانی وفد کی ملاقات کی خبر سے قادیانی مسئلہ
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ایک نیا رخ اختیار کر گیا ہے، بتایا جاتا ہے کہ قادیانی وفد نے امریکی صدر سے شکایت کی ہے کہ پاکستان میں انہیں مسلمان تسلیم نہیں کیا جاتا اس کے جواب میں صدر امریکا نے کیا کہا اس کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکا مگر اس کے بارے میں سوشل میڈیا پر جو بحث و تمحیص کا سلسلہ از سر نو شروع ہو گیا ہے وہ بہر حال توجہ طلب ہے۔
اس حوالہ سے بنیادی سوال یہ ہے کہ یہ شکایت صدر امریکا کے سامنے پیش کرنے کا مقصد کیا ہے اور کیا دنیا کے کسی ملک میں کسی فرد یا گروہ کو مسلمان قرار دینے کا فیصلہ صدر امریکا نے کرنا ہے؟ یا ان کے پاس کوئی اتھارٹی ہے کہ وہ اس بات کا فیصلہ کریں کہ دنیا کے کون سے ملک میں کس گروہ کو مسلمان تسلیم کر لینا چاہئے ۔ کسی فرد ، طبقہ یا گروہ کو مسلمان تسلیم کرنا یا غیر مسلم قرار دینا ایک مذہبی مسئلہ ہے جس میں فیصلہ کی اتھارٹی مسلمہ مذہبی قیادت ہی ہوتی ہے، چنانچہ عالم اسلام کے تمام مذہبی مکاتب فکر نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو دائرہ اسلام سے خارج اور مسلمانوں سے الگ ایک نئے مذہب کا پیروکار قرار دیا ہوا ہے اور پاکستان میں تمام علمی اور دینی مراکز اس فیصلہ سے متفق ہیں۔
البتہ کسی گروہ کے معاشرتی اسٹیٹس اور سماجی درجہ کا تعین اس ملک کی پارلیمنٹ کرتی ہے یا عدالت عظمیٰ بوقت ضرورت فیصلہ صادر کرتی ہے، جیسا کہ پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ اور عدالت عظمیٰ دونوں نے تمام مکاتب فکر کی مذہبی قیادت کے اس اجتماعی فیصلہ کو تسلیم کرتے ہوئے قادیانیوں کو دوسری غیر مسلم اقلیتوں کی طرح ایک اقلیت کا درجہ دے رکھا ہے اور ملک بھر کی سول سوسائٹی بھی اس میں پارلیمنٹ، عدالت عظمیٰ اور مذہبی قیادت کے ساتھ ہے۔ اب ان چاروں مجاز اداروں کے فیصلہ کے بعد کسی شخصیت ، ادارے یا گروہ کا کیا حق باقی رہ جاتا ہے کہ وہ اس سے الگ کوئی فیصلہ کرے۔
مجھے نہیں معلوم کہ صدر ٹرمپ اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں یا کیا کرتے ہیں لیکن میں ان کے سامنے یہ بات مثال کے طور پر پیش کرنا چاہوں گا کہ خود امریکا کو اسی نوعیت کا مسئلہ درپیش ہے کہ اب سے دو صدیاں قبل ایک امریکی پادری جوزف اسمتھ نے نبوت کا دعویٰ کیا اور کہا کہ اس پر ایک کتاب نازل ہوئی ہے جسے اس نے بائبل کا حصہ قرار دیا اور مبینہ طور پر وہ کتاب لے کر آنے والے فرشتے کے نام پر اس فرقہ کا نام ”مورمن“ رکھا۔ یہ مورمنز امریکا میں لاکھوں کی تعداد میں آباد ہیں ، بڑی منظم اور مالدار کمیونٹی شمار ہوتی ہے اور نئی وحی اور کتاب کے عنوان سے دوسرے عیسائیوں سے مختلف عقائد رکھتی ہے مگر عیسائیت کے تینوں بڑے فرقوں کیتھولک ، پروٹسٹنٹ اور آرتھوڈکس میں سے کوئی بھی انہیں اپنا حصہ تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہے اور وہ ان سب سے الگ تھلگ ایک نئے مذہب کے پیروکار شمار کیے جاتے ہیں۔ ان کے معاشرتی اور سماجی اسٹیٹس کا مسئلہ امریکا کے سیکولر دستور کے حوالہ سے یقیناً وہاں کی منتخب پارلیمنٹ یا عدالت عظمیٰ کے دائرہ اختیار میں ہو گا مگر انہیں مسیحی تسلیم کرنا یا مسیحیت سے الگ ایک نیا مذہب قرار دینا بہر حال مذہبی قیادتوں کا کام ہے اور اس بارے میں فائنل اتھارٹی انہی کے پاس ہے۔ مجھ سے ایک بار امریکا ہی کے ایک شہر ہیوسٹن کے ایک نشریاتی پروگرام میں ایک مسیحی مذہبی رہنما نے سوال کیا تھا کہ آپ لوگ احمدیوں کو مسلمان تسلیم کیوں نہیں کرتے حالانکہ وہ قرآن کریم اور حضرت محمد ﷺ کو مانتے ہیں، تو میں نے ان سے سوال کر دیا کہ کیا آپ مورمنز کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور انجیل مقدس پر ایمان کے باوجود مسیحی تسلیم کرتے ہیں؟ اور کیا ویٹی کن سٹی اس گروہ کو رکنیت دینے کے لئے تیار ہے؟ انہوں نے جواب نفی میں دیا تو میں نے عرض کیا کہ ہم بھی اسی بنیاد پر قادیانیوں کو مسلم امت کا حصہ تسلیم نہیں کرتے ، اس پر انہوں نے خاموشی اختیار کر لی ۔ اس لئے اصولی گزارش ہے کہ اس سوال کو صدر ٹرمپ کے پاس لے جانے میں کوئی معقولیت نہیں ہے ، یہ اتھارٹی انہیں تو حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی کو مسلمان یا غیر مسلم بلکہ مسیحی اور غیر مسیحی قرار دینے کا فیصلہ کریں ۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا ثناء اللہ وسایا
میں نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے حوالہ سے تین مجاز اداروں کا ذکر کیا ہے کہ مسلمہ مذہبی قیادتیں یہ فیصلہ دے چکی ہیں، پارلیمنٹ کئی بار یہ فیصلہ کر چکی ہے، عدالت عظمیٰ کا فیصلہ اسی سلسلہ میں دوٹوک اور واضح ہے، جب کہ سول سوسائٹی بھی مکمل طور پر اس متفقہ موقف اور فیصلے سے متفق ہے۔ اس لئے قادیانیوں کو ان فیصلوں کو چیلنج کرنے اور ان کے خلاف دنیا بھر میں لابنگ اور پروپیگنڈا کی مہم کا حق حاصل نہیں ہے کیونکہ یہ بات دستور سے انحراف اور ملک سے بغاوت کے دائرے میں آتی ہے اور دنیا بھر کے اداروں اور جماعتوں سے بھی گزارش ہے کہ وہ پاکستان کے قومی فیصلہ کا احترام کریں، اگر ان کی عدالتوں اور منتخب ایوانوں کے فیصلے قابل احترام ہیں تو پاکستان کی پارلیمنٹ اور عدالتوں کے فیصلے بھی قابل احترام ہیں۔ تعجب کی بات ہے کہ امریکا عافیہ صدیقی کے مسئلہ پر صرف اس لئے کوئی بات سننے کو تیار نہیں ہے کہ یہ وہاں کی عدالت کا فیصلہ ہے، تو اسے پاکستان کی عدالت عظمیٰ کے فیصلہ کو بھی تسلیم کرنا چاہئے اور اگر مغرب کا کوئی ملک اپنی پارلیمنٹ کے کسی فیصلہ کا اس لئے دفاع کرنا اپنا حق سمجھتا ہے کہ اس کی منتخب اسمبلی کا فیصلہ ہے تو پاکستانی قوم کو بھی یہ حق ہے کہ وہ اپنی منتخب اسمبلیوں کے فیصلہ کا دفاع کرے اور ان کے خلاف کوئی بات سننے سے انکار کر دے۔
(روزنامہ اسلام لاہور ۲/ اگست ۲۰۱۹ء مندرجہ ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۸ تا ۱۵ ستمبر ۲۰۱۹ء ص ۲۰، ۲۱)
نویں جماعت کی کتاب ’’مطالعہ پاکستان‘‘ کی غلطی درست کر دی گئی
قارئین لولاک کو یاد ہوگا کہ گزشتہ لولاک شمارہ کے ادارتی صفحات پر ہم نے عرض کیا تھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی طرف سے طلباء کو تقسیم ہونے والی کتاب اور ایک پرائیویٹ ناشر کی شائع شدہ کتاب میں فرق ہے۔ اس اداریہ کے ساتھ عالمی مجلس کے مرکزی دفتر سے خطوط ، وفود کے ذریعہ متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ اس کی تلافی کی جائے۔ ہمیں خوشی ہے کہ روزنامہ خبریں نے اس سلسلہ میں بھر پور آواز بلند کی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے کرم کیا کہ مسلمانوں کا مطالبہ تسلیم کر لیا گیا۔ ذیل میں روزنامہ خبریں ملتان کی ۱۰/ جولائی ۲۰۱۹ء کی خبر ملاحظہ ہو:
’’ملتان (نمائندہ خصوصی) ’’خبریں‘‘ کی نشاندہی پر پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ نے ایکشن لے لیا۔ نویں جماعت کی مطالعہ پاکستان کی کتاب میں ختم نبوت سے متعلق حذف کئے گئے الفاظ پر خبر شائع ہونے پر مارکیٹ سے ۳۰؍ ہزار کتابوں کی کاپیاں ضبط کر لیں جب کہ کتاب کے پبلشرز کو فوری طور پر بلیک لسٹ کرتے ہوئے اس کے خلاف ایف آئی آر کی درخواست دے دی۔ پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کے مطابق انہوں نے ختم نبوت سے متعلق الفاظ حذف نہیں کئے بلکہ ایک پرائیویٹ پبلشرز جی۔ایچ۔ایف کی شائع کردہ جس کا مسودہ بھی منظور شدہ نہیں ہے، پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کے ریکارڈ کے مطابق منظور شدہ مسودہ کے صفحہ نمبر ۵ پر ختم نبوت سے متعلق عبارت موجود ہے۔ ’’خبریں‘‘ میں خبر شائع ہونے پر پی۔بی۔ٹی۔بی کے نوٹس میں یہ بات آئی کہ کتاب کا تحریف شدہ ایڈیشن مارکیٹ میں دستیاب ہے۔ جس پر پی۔بی۔ٹی۔بی چھاپہ مار ٹیمیں تشکیل دیں جو مارکیٹ اور گوداموں سے اس کتاب کا تمام سٹاک ضبط کر رہی ہیں۔‘‘
اس کے ساتھ ہی پبلشرز کے خلاف مقدمہ درج ہوا۔ انہوں نے اردو بازار کے ناشران کتب کی میٹنگ طلب کی۔ جس میں عالمی مجلس کے مرکزی راہنما مولانا عزیز الرحمن ثانی اور لاہور کے رہنما جناب رضوان نفیس بھی شریک ہوئے۔ پبلشرز نے میٹنگ میں بتایا کہ ٹیکسٹ بک بورڈ میں قادیانی کارندوں کی یہ سازش ہے کہ انہوں نے ایک سرکاری مسودہ میں ترمیم کی اور جو پرائیویٹ ادارے کو مسودہ دیا گیا اس میں تصحیح نہیں کی۔ اب اس مسئلہ کے اٹھائے جانے کے بعد میں نے پنجاب بھر کی مارکیٹوں سے کتب منگوا کر وہ پورا ورقہ تصحیح کر کے لگا دیا ہے۔ یاد رہے کہ ٹیکسٹ بورڈ نے اپنی ویب سائٹ پر یہ اشتہار جاری کیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
”PCTB (پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ) کی شائع کردہ نویں جماعت کی مطالعہ پاکستان کی کتاب میں ختم نبوت سے متعلق کسی قسم کی تبدیلی یا تحریف نہیں کی گئی ہے۔ زیر بحث کتاب ایک پرائیویٹ پبلشر GHF کی شائع کردہ ہے جو کہ منظور شدہ مسودے کے مطابق نہیں ہے۔ PCTB کے ریکارڈ کے مطابق منظور شدہ مسودے کے صفحہ نمبر ۵ پر ختم نبوت سے متعلق عبارت موجود ہے جو کہ اس لنک پر دیکھی جاسکتی ہے۔ https://pctb.punjab.gov.pk/system/files/Pakistan_studies9UM.pdf پبلشر کے خلاف FIR تھانہ انارکلی لاہور میں درج کروائی جارہی ہے“
پرائیویٹ پبلشرز کے خلاف مقدمہ درج ہوا۔ انہوں نے کتب منگوائیں اور تصحیح کر کے مارکیٹ میں فروخت کے لئے بھجوا دیں۔ اب بورڈ والے کہیں کہ پبلشر کی غلطی ہے۔ پبلشر فرمائیں کہ بورڈ والوں کا قصور ہے۔ واقعات یہی چغلی کھاتے تھے کہ بورڈ والوں کی غلطی ہے۔ اگلے دن تاجروں کا وفد ، سی . پی . او لاہور سے ملا۔ انہوں نے اپنی تحقیقات کا وعدہ کیا۔ اس دوران معلوم ہوا کہ گوجرانوالہ کے ناشر نے بھی تحریف شدہ نسخہ شائع کیا ہے تو ناشران تاجران کتب اردو بازار لاہور کے صدر جناب فیصل صاحب سے عرض کیا کہ وہ اپنا وعدہ ایفاء کریں اور تصحیح کرائیں۔
قارئین کرام! جماعتی احباب، مجلس کے رفقاء، جمعیۃ علماء اسلام پنجاب کے ذمہ داران جس جس نے اس سلسلہ میں آواز بلند کی سب کا شکریہ اور مبارک باد کہ اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم سے اس معاملہ کو درست فرما دیا اور قادیانی ملعون سازش مکمل رسوائی سے دوچار ہوئی۔ فالحمد للہ !
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۱۹ء ص ۴، ۳)
مقالہ خصوصی ...... امریکی صدر سے قادیانی کی ملاقات
الحمد للہ و کفیٰ و سلام علیٰ عبادہ الذین اصطفیٰ . اما بعد !
آج کل قادیانی جماعت کی امریکی صدر ٹرمپ کے سامنے مملکت خداداد پاکستان کی شکایت سے قادیانی مسئلہ نے ایک بار پھر نئی صورتحال کو جنم دیا ہے۔ اس تناظر میں چند ضروری گزارشات پیش خدمت ہیں :
جملہ اہل اسلام کا متفقہ عقیدہ ہے کہ سب سے پہلے نبی سیّدنا آدم علیہ السلام تھے اور سب سے آخری نبی سیّدنا محمد عربی ﷺ ہیں۔
جملہ اہل اسلام کا متفقہ عقیدہ ہے آنحضرت ﷺ اللہ ربّ العزت کے آخری نبی ہیں، آپ کا دین آخری دین ہے، آپ کی شریعت آخری شریعت ہے، آپ کی اُمت آخری اُمت ہے اور آپ ﷺ کی ذات اقدس پر نازل ہونے والی سماوی کتاب ”قرآن مجید“ اللہ ربّ العزت کی آخری کتاب ہے۔
جملہ اہل اسلام کا عقیدہ ہے کہ جس طرح اللہ ربّ العزت اپنی ذات وصفات میں وحدہٗ لاشریک ہیں، اسی طرح آنحضرت ﷺ بھی خاتم النبیین ہونے میں وحدہٗ لاشریک ہیں۔ اس لئے کہ اللہ ربّ العزت نے سیّدنا آدم علیہ السلام سے لے کر سیّدنا محمد ﷺ تک ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء میں سے سوائے آنحضرت ﷺ کے کسی کے سر مبارک پر ختم نبوت کا تاج نہیں رکھا۔
اس لئے جس طرح اللہ تعالیٰ کی توحید کا منکر مسلمان نہیں۔ اسی طرح آپ ﷺ کی ختم نبوت کا منکر بھی مسلمان نہیں۔ یہی وجہ ہے سراج الائمہ حضرت امام ابوحنیفہؒ نے فرمایا کہ : ”ان دعوۃ النبوۃ بعد نبینا کفر بالاجماع (فقہ اکبر) “ ہمارے نبی حضور سرور کائنات ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ بالاجماع کفر ہے۔ چنانچہ اسلام کی تاریخ گواہ ہے کہ قرنِ اوّل سے لے کر آج تک، جب کبھی، کہیں،
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کسی نے بھی نبوت کا دعویٰ کیا تو اُمت مسلمہ نے ایک لمحہ تاخیر کئے بغیر، متفقہ اور اجماعی مؤقف اختیار کیا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا دعویدار جھوٹا اور مکار ہے، جھوٹا مدعی نبوت اور اس کے متبعین ملت اسلامیہ سے خارج ہیں، ان کا اسلام اور اہل اسلام سے کوئی تعلق نہیں، یہ کہ وہ اُمت محمدیہ سے خارج ہیں۔
تاریخ شاہد ہے کہ خیر القرون کے زمانے میں مسیلمہ کذاب نے نبوت کا دعویٰ کیا تو سیّدنا صدیق اکبرؓ کے عہد خلافت میں حضور سرور کائنات ﷺ کی اُمت کا سب سے پہلا اجماع اس پر منعقد ہوا کہ مسیلمہ کذاب اور اس کے متبعین کا اُمت اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ دائرۂ اسلام سے خارج، غیر مسلم اور کافر ہیں۔
چنانچہ آگے چل کر ہمارے ہمسایہ ملک ایران میں ایک جھوٹا مدعی نبوت کھڑا ہوا۔ جس نے نبی، مسیح موعود اور مہدی ہونے کا دعویٰ کیا۔ تب اس وقت کی دینی قیادت نے متفقہ مؤقف اختیار کیا کہ یہ بہاء اللہ ایرانی اور اس کے ماننے والوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ مسلم اُمہ کا حصہ نہیں۔ اسلام کے دائرہ وسوسائٹی سے خارج ہیں۔
پاک وہند میں انگریزی راج کے وقت مشرقی پنجاب کے ایک دیہات وگاؤں قادیان تحصیل بٹالہ ضلع گورداسپور میں ایک شخص جس کا نام مرزا غلام احمد قادیانی تھا۔ اس نے اپنے آپ کو نبی، مسیح موعود، مہدی معہود بلکہ اپنے آپ کو خدا خالق ارض وسماء، محمد رسول اللہ، نجات دہندہ وغیرہ کے کفریہ دعوے کئے۔ چنانچہ مرزا قادیانی کے ان دعاوی کے سامنے آتے ہی علمائے لدھیانہ میں سے مولانا محمد لدھیانوی، مولانا رحمت اللہ کیرانوی مہاجر مکی، مولانا احمد علی محدث سہارنپوری، مولانا فضل الرحمٰن گنج مراد آبادی، مولانا غلام دستگیر قصوری، مولانا نذیر حسین دہلوی، مولانا محمد حسین بٹالوی، مولانا رشید احمد گنگوہی، مولانا علی الحائری، غرض اُمت کے تمام طبقات ومکاتب فکر نے مرزا قادیانی کی تحریرات کی رو سے متفقہ اور اجماعی فیصلہ وفتویٰ کے ذریعہ قرار دیا کہ مرزا قادیانی کا مسیلمہ کذاب، وبہاء اللہ ایرانی ایسے مدعیان نبوت، مسیحیت ومہدیت کی طرح اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔
آگے چل کر قیام پاکستان سے قبل علامہ اقبال مرحوم نے جواہر لعل نہرو کو اپنے ایک مکتوب کے ذریعہ فرمایا کہ: ’’قادیانی اسلام اور ملک دونوں کے غدار ہیں‘‘۔ رہی قادیانیوں کی پاکستان دشمنی تو دنیا جانتی اور مانتی ہے کہ قادیانی جماعت کا الہامی عقیدہ ہے کہ پاکستان کا معرض وجود میں آنا یعنی تقسیم یہ عارضی ہے، دوبارہ اکھنڈ بھارت بنے گا۔ قیامِ پاکستان کے وقت قادیانیوں نے پاکستانی قیادت کے مؤقف کے خلاف خود کو علیحدہ قرار دے کر گورداسپور کو بھارت میں شامل کرا کر کشمیر کے لئے بھارت کو واحد راستہ مہیا کیا۔
پاکستان کے بانی قائد اعظم مرحوم کے جنازہ میں قادیانی ظفر اللہ خان نے موجود ہوتے ہوئے یہ کہہ کر جنازہ میں شرکت نہ کی کہ: قائد اعظم کو جب مسلمان نہیں سمجھتا تو اس کا جنازہ کیوں کر پڑھتا؟
ماریشس، بہاول پور، مصر، شام، لیبیاء، عرب امارات، جوہانسبرگ، سعودی عرب کی عدالت ہائے عظمیٰ وعدالت ہائے عالیہ نے قادیانی عقائد ونظریات کے باعث دلائل وبراہین کی روشنی میں قادیانی تحریرات کے ملاحظہ ومشاہدہ کے بعد قادیانیوں کے متعلق فیصلہ دیا کہ یہ اُمت مسلمہ میں شامل نہیں، یہ مسلمان نہیں بلکہ غیر مسلم ہیں۔ چنانچہ اپریل ۱۹۷۴ء میں ’’رابطہ عالم اسلامی‘‘ کا اجلاس حرم کعبہ کے زیر سایہ مکہ مکرمہ میں منعقد ہوا۔ جس میں دنیا بھر کی ایک سو بیالیس مسلم تنظیموں کے جید علماء، مشائخ ومفتیان، اکابر وعظام نے متفقہ طور پر قرار دیا کہ قادیانی مسلمان نہیں۔ اس اجلاس نے مسلم ممالک سے بھی اپیل کی کہ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے کر ان کے ساتھ غیر مسلموں کا معاملہ کیا جائے۔ یہ اسلام اور مسلمانوں میں شامل نہیں۔ یہ اسلام واہل اسلام کی نمائندگی کے قطعاً مستحق نہیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اس وقت مشرق سے لے کر مغرب تک دنیا بھر کے تمام براعظموں کے مسلمان، منبر و محراب، دارالافتاء، مساجد و مدارس، تمام مسلم تنظیمات، اُمت مسلمہ کے تمام خورد و کلاں، عرب و عجم قادیانیوں کو مسلمان نہیں سمجھتے۔ اس بات کو یہاں چھوڑ کر اب آپ یہ خبر ملاحظہ کریں کہ: ”میرا تعلق احمدیہ ”مسلم“ کمیونٹی سے ہے۔ (۱) ۱۹۷۴ء میں ہمیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ ہمارے گھر بھی لوٹ لئے گئے اور دُکانیں بھی۔ کئی گھروں کو آگ لگا دی گئی۔ (۲) تو میں ربوہ آ گیا اور سرگودھا میں کتابوں کا کام کرتا تھا۔ جس پر انہوں نے مجھے سزا دی۔ پانچ سال قید بامشقت اور چھ لاکھ روپے جرمانہ، سوا تین سال بعد اب میں رہا ہو کر آیا ہوں۔ ہم بڑے پرامن طریقے سے یہاں (امریکہ) میں رہتے ہیں۔ (۳) میں یہاں (امریکہ میں) اپنے آپ کو مسلمان کہہ سکتا ہوں۔ مگر پاکستان میں نہیں کہہ سکتا۔ (۴) ہماری جماعت بڑی پرامن جماعت ہے۔ (۵) وہ ہمیں گالیاں دیتے ہیں، ہمارے گھروں کو آگ لگاتے ہیں۔“
(روزنامہ اسلام ادارتی صفحہ مورخہ ۲۱؍ جولائی ۲۰۱۹ء)
یہ وہی گفتگو کا متن ہے جو عبدالشکور قادیانی نے امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات کے دوران کی۔ فقیر نے اس پر نمبر لگا دیئے ہیں۔ ذیل میں اسی ترتیب سے گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں۔
- ۱...... ۱۹۷۴ء میں ہمیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ ہمارے گھر بھی لوٹ لئے گئے اور دُکانیں بھی۔
اس میں دو باتیں قابلِ غور ہیں۔ غیر مسلم قرار دیا جانا، یہ کہ ہمارے گھر لوٹ لئے گئے۔
قادیانی غیر مسلم: تسلیم ہے کہ پاکستان میں آئینی طور پر انہیں ۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ لیکن جہاں تک قادیانیوں کے غیر مسلم ہونے کا تعلق ہے وہ اس آئینی فیصلہ سے قبل بھی غیر مسلم تھے اور مشرق و مغرب کے مسلمان انہیں غیر مسلم سمجھتے تھے اور آج بھی سمجھتے ہیں اور جب تک جسم میں جان باقی ہے، انہیں غیر مسلم سمجھیں گے۔ قادیانی اور ان کے ہم نوا توجہ فرمائیں کہ رحمت عالمﷺ کے بعد جھوٹے مدعی نبوت کو خیر القرون کے زمانے سے اُمت غیر مسلم سمجھتی آئی ہے۔ اس کی تفصیلات پہلے گزر چکی ہیں۔ مرزا قادیانی نے کہا کہ: ”سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“
(دافع البلاء ص ۱۱، خزائن ج ۱۸ ص ۲۳۱)
مرزا قادیانی نے لکھا کہ: ”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں۔“
(ملفوظات ج ۱۰ ص ۱۲۷)
مرزا قادیانی کے ان دعاوی پر پوری اُمت نے مرزا اور اس کے متبعین کو اس آئینی فیصلہ سے نوے سال پہلے غیر مسلم قرار دیا۔ ہمارے نزدیک یہ فتویٰ دین اسلام کے عین مطابق ہے۔ ہاں! اگر آپ کے نزدیک یہ جرم ہے تو آپ حضرات کا مرزا قادیانی کے متعلق کیا خیال ہے۔ جس نے پوری اُمت مسلمہ کو اپنے کو نہ ماننے کی وجہ سے نان مسلم قرار دیا۔ جہنمی اور کافر کہا۔ اگر مرزا قادیانی پوری کائنات کے مسلمانوں کو کافر کہے تو یہ تمام قادیانیوں کے ایمان کا حصہ ہے اور اگر مسلمان، قادیانیوں کے متعلق یہ فیصلہ کریں، ان کی پارلیمنٹ یہ فیصلہ کرے، مقامی عدالتوں سے سپریم کورٹ تک کی عدالتیں یہ فیصلہ دیں تو اس پر واویلا۔ یہ دوہرا معیار کیوں؟
اس قادیانی کا یہ کہنا کہ ۱۹۷۴ء میں ہمارے گھر لوٹ لئے گئے۔
اس ضمن میں ۱۹۷۴ء کے حالات کو سامنے رکھنا ہوگا۔ ۲۲؍ مئی ۱۹۷۴ء کو نشتر میڈیکل کالج کے طلباء سوات کی سیاحت کے لئے چناب ایکسپریس کے ذریعے ملتان سے پشاور جا رہے تھے۔ ٹرین جب ربوہ کے اسٹیشن پر پہنچی تو قادیانیوں نے ان طلباء سمیت سواریوں میں قادیانی لٹریچر اور اپنا اخبار ”الفضل“ تقسیم کیا۔ قادیانیوں کے اس عمل سے طلباء میں اشتعال پھیلا اور انہوں نے نعرے لگائے۔ اگر قادیانی لٹریچر تقسیم نہ کرتے تو نہ اشتعال پھیلتا نہ نعرے لگتے۔ اس اشتعال کا باعث قادیانی جماعت کا مسلمان سواریوں میں لٹریچر تقسیم کرنا تھا تو اصل مجرم کون؟ پھر یہ طلباء اسی ٹرین سے ۲۹؍ مئی کو واپس آ رہے تھے۔ گاڑی جب ربوہ اسٹیشن پر رکی تو سرگودھا سے لالیاں تک جو قادیانی اس
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
گاڑی میں سوار ہوئے تھے انہوں نے ان نہتے اور بے خبر سوئے طلباء کو برتھوں سے اٹھا کر اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر اچھالا۔ اس وقت قادیانی خلافت کے معتمد مرزا طاہر کی قیادت میں ہاکیوں، لوہے کے ہنٹروں، آہنی مکوں اور لاٹھیوں سے مسلح ربوہ کے قادیانی نوجوانوں نے ربوہ پلیٹ فارم پر ان مسلمانوں کو مارا پیٹا، ظلم و ستم، بربریت کا طوفان برپا کیا۔ مسلمان طلباء کی کلائیاں، ناک، سر، پیشانیاں پھوڑیں۔ مار مار کر ان کو ادھ موا کیا گیا۔ اس زمانہ میں پنجاب کے وزیراعلیٰ جناب حنیف رامے تھے۔ انہوں نے ہائیکورٹ کے جج مسٹر جسٹس صمدانی پر مشتمل انکوائری کمیشن مقرر کیا۔ اس میں جو گواہیاں ہوئیں وہ سارا ریکارڈ چھپ گیا ہے۔ دنیا میں اگر کوئی انصاف پسند قادیانی ہے اس کے ضمیر پر میں دستک دیتا ہوں کہ اس واقعہ کے بعد اگر ملک میں تحریک چلی تو انصاف فرمائیں کہ اس تحریک کا باعث اور پورے ملک کو تحریک میں دھکیلنے کی بنیاد کس نے فراہم کی؟
قادیانی جماعت آج اپنی مظلومیت کا فرضی اور خود ساختہ ڈھنڈورا پیٹنے کی بجائے اپنی اداؤں پر غور کرے۔ دعوےٰ سے کہا جاسکتا ہے کہ قادیانیوں کی اس بربریت کے باوجود پورے ملک میں مجموعی طور پر ۱۹۷۴ء کی تحریک پرامن رہی۔ جہاں کہیں اکا دکا واقعات ہوئے ان کا باعث بھی وہاں کے قادیانیوں کی اشتعال انگیزی تھی۔ قادیانیوں کی یہ ہمیشہ سے ٹکنیک رہی ہے کہ وہ پہلے اشتعال انگیزی کے ذریعہ مسلمانوں کو للکارتے ہیں۔ پھر اپنی خود ساختہ مظلومیت کو بیرونی دنیا میں کیش کرا کر پناہ حاصل کرتے ہیں۔ یہ قادیانی جماعت کا کاروبار ہے۔ اس کے سہارے اس وقت وہ امریکہ، یورپ کی عیاشیوں میں مست ہو رہے ہیں۔ قادیانی عوام کو قادیانی قیادت دھوکہ میں رکھ کر ان سے یہ حرکتیں کراتے ہیں تا کہ قیادت کا کاروبار چمکتا رہے۔ دھندہ ماند نہ پڑے۔ جب تک احمق مرید موجود ہیں قادیانی قیادت ان کا خون پسینہ چوستی رہے گی۔ قادیانی قیادت جونک کی طرح جب تک اپنا پیٹ فل نہیں کر لیتی اس وقت تک یہ سارا ڈرامہ دہرایا جاتا رہے گا۔ شکور قادیانی کا ٹرمپ کے سامنے سارا ڈرامہ بھی اسی پالیسی کا لازمی حصہ ہے۔ ورنہ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ پاکستان میں قادیانی کمیونٹی کے لوگ راضی خوشی رہ رہے ہیں۔ مکانات محفوظ ہیں، کاروبار چل رہا ہے۔ کوئی روک ٹوک نہیں۔ اس کے باوجود پاکستان دشمنی میں اندھے ہو کر پاکستان کو بدنام کرنا، اس پر ہمارے عوام، حکمران، فوج، سول، عدلیہ، میڈیا سب کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں کہ تمام تر اقلیتوں کو جتنا تحفظ پاکستان میں حاصل ہے اتنا کہیں اقلیتوں کو یہ تحفظ حاصل نہیں۔ اس کے باوجود قادیانیوں کا پروپیگنڈہ صرف اور صرف پاکستان کو بدنام کرنے کی ناپاک سازش کے سوا کچھ نہیں۔
قادیانیوں کا فرض بنتا تھا کہ وہ پارلیمنٹ کے فیصلہ کو مان لیتے تو تنازعہ ختم ہو جاتا۔ جان کر وہ آئین سے انحراف کر کے ملک سے بغاوت کے مرتکب ہورہے ہیں اور پاکستان کو بدنام کر کے اس کے لئے مشکلات کے پہاڑ کھڑے کر رہے ہیں۔ کاش! ہمارے مقتدر ادارے و حکمران اس چال کو سمجھ کر ملک کی صحیح وکالت کا کردار ادا کرتے۔ باقی رہی قانون میں تبدیلی تو ؎
- ۲...... اس کے بعد میں سرگودھا سے ربوہ آ گیا اور کتابوں کی نشرواشاعت کرتا تھا کہ مجھے گرفتار کر کے سزا دی گئی۔
یہاں پر پاکستان کے خلاف شکایت کنندہ شکور قادیانی خالصتاً کذب بیانی سے کام لے رہے ہیں۔ شکور صاحب کتابیں چھاپتے نہیں تھے، وہ قادیانی جماعت کی شائع شدہ ممنوعہ کتب فروخت کرتے تھے۔ جن کتابوں پر پابندی ہے ان کو فروخت کرنا، یہ خلاف قانون حرکت، مجرمانہ فعل، قابل مذمت اور قابل دست اندازی پولیس کیس تھا۔
پنجاب گورنمنٹ نے مرزا غلام احمد قادیانی کی کتب پر پابندی لگائی۔ پہلے دیکھئے کہ یہ پابندی کیوں لگی۔ ان کتابوں میں
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جو ہفوات و خرافات درج تھیں۔ وہ ذیل کے حوالہ جات سے معلوم ہو جائیں گی کہ یہ قادیانی اس طرح کی ان کتب کو شائع کر کے ملک میں کیا پیغام دینا چاہتے تھے۔ ہزاروں صفحات کی خرافات سے چند قادیانی عقائد پر ذیل میں نظر دوڑائیں۔
- ’’وہ خدا جو ہمارا خدا ہے ایک کھا جانے والی آگ ہے۔‘‘
(سراج منیر ص ۵۵، خزائن ج ۱۲ ص ۷۲)
- ’’وہ خدا جس کے قبضہ میں ذرہ ذرہ ہے اس سے انسان کہاں بھاگ سکتا ہے۔ وہ فرماتا ہے کہ میں چوروں کی طرح پوشیدہ آؤں گا۔‘‘
(تجلیات الٰہیہ ص ۲، خزائن ج ۲۰ ص ۳۹۶)
- ’’میں (مرزا) نے اپنے کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں۔‘‘
(کتاب البریہ ص ۸۵، خزائن ج ۱۳ ص ۱۰۳)
- ’’انت منی بمنزلۃ اولادی. اے مرزا تو مجھ سے میری اولاد جیسا ہے۔‘‘
(اربعین نمبر ۴ ص ۱۹ حاشیہ، خزائن ج ۱۷ ص ۴۵۲)
- ’’خاطبنی اللہ بقولہ اسمع یا ولدی. اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ کہہ کر خطاب کیا کہ اے میرے بیٹے سن۔‘‘
(البشریٰ ج ۱ ص ۴۹)
- ’’سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔‘‘
(دافع البلاء ص ۱۱، خزائن ج ۱۸ ص ۲۳۱)
- ’’یہ بات روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ آنحضرت (ﷺ) کے بعد نبوت کا دروازہ کھلا ہے۔‘‘
(حقیقت النبوۃ ص ۲۲۸)
- ’’آنحضرت ﷺ کے تین ہزار معجزات ہیں۔‘‘
(تحفہ گولڑویہ ص ۴۰، خزائن ج ۱۷ ص ۱۵۳)
- ’’میرے (مرزا کے) نشانات کی تعداد دس لاکھ ہے۔‘‘
(براہین احمدیہ ص ۵۶، خزائن ج ۲۱ ص ۷۲)
- ’’نشان، معجزہ، کرامت اور خرق عادت ایک چیز ہے۔‘‘
(نصرۃ الحق ص ۵۰، خزائن ج ۲۱ ص ۶۳)
- ’’سوال نمبر ۵ ایسے موقع پر مسلمان معراج پیش کر دیتے ہیں۔ حضرت اقدس (مرزا قادیانی) نے فرمایا کہ معراج جس وجود سے
ہوا تھا وہ یہ ہگنے موتنے والا وجود تو نہ تھا۔‘‘
(ملفوظات احمدیہ ج ۹ ص ۴۵۹)
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں
(اخبار بدر قادیان ج ۲ ش ۴۳ ص ۱۴، مؤرخہ ۲۵؍اکتوبر ۱۹۰۶ء)
- بڑی فتح مبین: اور اظہار افضلیت کے لئے ایک عنوان یہ اختیار کیا گیا کہ مرزا قادیانی کے زمانہ کی فتح مبین، آنحضرت ﷺ کی
فتح مبین سے بڑھ کر ہے۔ چنانچہ ملاحظہ ہو: ’’اور ظاہر ہے کہ فتح مبین کا وقت ہمارے نبی کریم کے زمانے میں گزر گیا اور دوسری فتح باقی رہی کہ پہلے غلبہ سے بہت بڑی اور زیادہ ظاہر ہے اور مقدر تھا کہ اس کا وقت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا وقت ہو۔‘‘
(خطبہ الہامیہ ص ۱۹۳، ۱۹۴، خزائن ج ۱۶ ص ۲۸۸)
- ذہنی ارتقاء: یہ بھی کہا گیا کہ مرزا قادیانی کا ذہنی ارتقاء آنحضرت ﷺ سے بڑھ کر تھا۔ چنانچہ ملاحظہ ہو: ’’حضرت مسیح موعود
(مرزا قادیانی) کا ذہنی ارتقاء آنحضرت ﷺ سے زیادہ تھا اور یہ جزوی فضیلت ہے جو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو آنحضرت ﷺ پر حاصل ہے۔ نبی کریم کی ذہنی استعدادوں کا پورا ظہور بوجہ تمدن کے نقص کے نہ ہوا اور نہ قابلیت تھی، اب تمدن کی ترقی سے حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے ذریعہ ان کا پورا ظہور ہوا۔‘‘
(ریویو مئی ۱۹۲۹ء بحوالہ قادیانی مذہب ص ۲۶۶، اشاعت نہم مطبوعہ لاہور)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۞ ...... مرزا بعینہ ”محمد رسول اللہ“: مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ ہے کہ وہ (نعوذ باللہ) ”مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ“ ہے۔ چنانچہ ملاحظہ ہو: ”مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ وَالَّذِيْنَ مَعَهُ اَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ. اس وحی الہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ۱، خزائن ج ۱۸ ص ۲۰۷)
- ۞ ...... ”پس مسیح موعود خود محمد رسول اللہ ہے جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔ اس لئے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں۔ ہاں! اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی۔“
(کلمۃ الفصل ص ۱۵۸)
- ۞ ...... ”جب کہ میں (مرزا قادیانی) بروزی طور پر آنحضرت ﷺ ہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدی مع نبوت محمدیہ کے میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں تو پھر کون سا الگ انسان ہوا جس نے علیحدہ طور پر نبوت کا دعویٰ کیا؟“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ۵، خزائن ج ۱۸ ص ۲۱۲)
- ۞ ...... مرزا خاتم النبیین: جب قادیانی عقیدہ کے مطابق محمد رسول اللہ کی قادیانی بعثت، جو مرزا قادیانی کی بروزی شکل میں ہوئی، بعینہ محمد رسول اللہ کی بعثت ہے تو مرزا قادیانی بروزی طور پر خاتم النبیین بھی ہوا۔ چنانچہ ملاحظہ ہو: ”میں بارہا بتلا چکا ہوں کہ میں بموجب آیت: ”وَاٰخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ“ بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے اور مجھے آنحضرت ﷺ کا ہی وجود قرار دیا ہے۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ۵، خزائن ج ۱۸ ص ۲۱۲)
- ۞ ...... ”مبارک ہیں وہ جس نے مجھے پہچانا، میں خدا کی سب راہوں میں سے آخری راہ ہوں اور میں اس کے سب نوروں میں سے آخری نور ہوں۔ بدقسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے۔ کیونکہ میرے بغیر سب تاریکی ہے۔“
(کشتی نوح ص ۵۶، خزائن ج ۱۹ ص ۶۱)
- ۞ ...... مرزا افضل الرسل: ”آسمان سے کئی تخت اترے مگر تیرا (مرزا قادیانی کا) تخت سب سے اونچا بچھایا گیا۔“
(مرزا کا الہام مندرجہ تذکرہ طبع دوم ص ۳۴۶)
(نزول المسیح ص ۱۰۰، خزائن ج ۱۸ ص ۴۷۸)
ترجمہ: زندہ ہوا ہر نبی میری (مرزا قادیانی کی) آمد سے۔ تمام رسول میرے کرتہ میں چھپے ہوئے ہیں۔
- ۞ ...... ”اور خدا تعالیٰ میرے لئے اس کثرت سے نشان دکھلا رہا ہے کہ اگر نوح (علیہ السلام) کے زمانہ میں وہ نشان دکھلائے جاتے تو وہ لوگ غرق نہ ہوتے۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ۱۳۷، خزائن ج ۲۲ ص ۵۷۵)
- ۞ ...... ”پس اس امت کا یوسف یعنی یہ عاجز (مرزا) اسرائیلی یوسف (علیہ السلام) سے بڑھ کر ہے۔ کیونکہ یہ عاجز قید کی دعاء کر کے بھی قید سے بچایا گیا۔ مگر یوسف بن یعقوب (علیہما السلام) قید میں ڈالا گیا۔“
(براہین احمدیہ پنجم ص ۷۶، خزائن ج ۲۱ ص ۹۹)
- ۞ ...... ”خدا تعالیٰ نے مجھے (مرزا قادیانی کو) تمام انبیاء کا مظہر ٹھہرایا ہے اور تمام نبیوں کے نام میری طرف منسوب کئے گئے ہیں۔ میں آدم ہوں، میں شیث ہوں، میں نوح ہوں، میں ابراہیم ہوں، میں اسحاق ہوں، میں اسماعیل ہوں، میں یعقوب ہوں، میں یوسف ہوں، میں موسیٰ ہوں، میں داؤد ہوں، میں عیسیٰ ہوں اور آنحضرت (ﷺ) کے نام کا میں مظہر ہوں، یعنی ظلی طور پر محمد اور احمد ہوں۔“
(حقیقت الوحی ص ۷۲، خزائن ج ۲۲ ص ۷۶)
- ۞ ...... عیسیٰ علیہ السلام کی توہین: ”مسیح (علیہ السلام) کا چال چلن کیا تھا؟ ایک کھاؤ، پیو، نہ زاہد، نہ عابد، نہ حق کا پرستار، متکبر، خودبین، خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔“
(مکتوبات احمدیہ ج ۳ ص ۲۱ تا ۲۴)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ...... ”ایک دفعہ مجھے ایک دوست نے یہ صلاح دی کہ ذیابیطس کے لئے افیون مفید ہوتی ہے۔ پس علاج کے لئے مضائقہ نہیں کہ
افیون شروع کر دی جائے۔ میں نے جواب دیا کہ یہ آپ نے بڑی مہربانی کی کہ ہمدردی فرمائی۔ لیکن اگر میں ذیابیطس کے لئے افیون کھانے کی عادت کرلوں تو میں ڈرتا ہوں کہ لوگ ٹھٹھا کر کے یہ نہ کہیں کہ پہلا مسیح تو شرابی تھا اور دوسرا افیونی۔“
(نسیم دعوت ص ۶۷، خزائن ج ۱۹ ص ۴۳۴، ۴۳۵)
- ...... ”آپ (یسوع مسیح) کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے۔ ورنہ کوئی پرہیز گار
انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگا دے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ۷ حاشیہ، خزائن ج ۱۱ ص ۲۹۱)
- ...... ”لیکن مسیح کی راست بازی اپنے زمانے میں دوسرے راست بازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر فضیلت
ہے۔ کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آکر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملایا یا ہاتھوں اور سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اسی وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا۔ مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا۔ کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔“
(مقدمہ دافع البلاء حاشیہ، خزائن ج ۱۸ ص ۲۲۰)
- ...... ”یہ بھی یاد رہے کہ آپ (عیسیٰ علیہ السلام) کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ۵ حاشیہ، خزائن ج ۱۱ ص ۲۸۹)
- ...... ”عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ۶ حاشیہ، خزائن ج ۱۱ ص ۲۹۰)
- ...... ”ممکن ہے کہ آپ (یسوع مسیح) نے معمولی تدبیر کے ساتھ کسی شب کور وغیرہ کو اچھا کیا ہو یا کسی اور بیماری کا علاج کیا ہو۔ مگر
آپ کی بدقسمتی سے اسی زمانہ میں ایک تالاب بھی موجود تھا۔ جس سے بڑے بڑے نشان ظاہر ہوتے تھے۔ خیال ہو سکتا ہے کہ اس تالاب کی مٹی آپ بھی استعمال کرتے ہوں گے۔ اسی تالاب سے آپ کے معجزات کی پوری پوری حقیقت کھلتی ہے اور اسی تالاب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ اگر آپ سے کوئی معجزہ ظاہر ہوا ہو تو وہ آپ کا نہیں بلکہ اس تالاب کا معجزہ ہے اور آپ کے ہاتھ میں سوا مکر اور فریب کے اور کچھ نہ تھا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ۷ حاشیہ، خزائن ج ۱۱ ص ۲۹۱)
- ...... ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
(دافع البلاء ص ۲۰، خزائن ج ۱۸ ص ۲۲۰)
- ...... ”تجویز آئی کہ ایسا رسالہ شائع کریں جس میں مرزا کا نام نہ ہو۔ مگر حضرت اقدس (مرزا) نے اس تجویز کو اس بناء پر رد کر دیا کہ
مجھ کو چھوڑ کر کیا مردہ اسلام کو پیش کرو گے۔“
(اخبار الفضل قادیان ج ۱۶ ش ۳۲، مورخہ ۱۹؍اکتوبر ۱۹۲۸ء)
- ...... صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی توہین: ”جیسا کہ ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہ) جو غبی تھا اور درایت اچھی نہیں رکھتا تھا۔“
(اعجاز احمدی ص ۱۸، خزائن ج ۱۹ ص ۱۲۷)
- ...... خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کی توہین: ”پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑ دو۔ اب نئی خلافت لو۔ ایک زندہ علی (مرزا) تم میں موجود ہے۔ تم
اس کو چھوڑتے ہو اور مردہ علی (رضی اللہ عنہ) کی تلاش کرتے ہو۔“
(ملفوظات احمدیہ ج ۱ ص ۱۳۱، ج ۲ ص ۱۴۲)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ”ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کیا تھے وہ تو حضرت غلام احمد کی جوتیوں کے تسمے کھولنے کے بھی لائق نہ تھے۔“
(ماہنامہ المہدی بابت جنوری، فروری ۱۹۱۵ء ص ۱۵۷ احمدیہ انجمن اشاعت لاہور)
- حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی توہین: ”اے قوم شیعہ! تو اس پر مت اصرار کرو کہ حسین رضی اللہ عنہ تمہارا منجی ہے۔ کیونکہ میں سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں ایک (مرزا) ہے جو اس حسین رضی اللہ عنہ سے بڑھا ہوا ہے۔“
(دافع البلاء ص ۱۳، خزائن ج ۱۸ ص ۲۳۳)
- ”حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کشفی حالت میں اپنی ران پر میرا (مرزا کا) سر رکھا اور مجھے دکھایا کہ میں (مرزا) اس میں سے ہوں۔“
(ایک غلطی کا ازالہ حاشیہ ص ۵، خزائن ج ۱۸ ص ۲۱۳)
- ”حضرت مسیح موعود (مرزا) نے فرمایا:
کہ میرے گریبان میں سو حسین رضی اللہ عنہ ہیں۔ لوگ اس کے معنی یہ سمجھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود (مرزا) نے فرمایا ہے کہ میں سو حسین رضی اللہ عنہ کے برابر ہوں لیکن میں (مرزا بشیر الدین) کہتا ہوں۔ اس سے بڑھ کر، اس کا مفہوم یہ ہے کہ سو حسین رضی اللہ عنہ کی قربانی کے برابر میری (مرزا کی) ہر گھڑی کی قربانی ہے۔“
(خطبہ مرزا بشیر الدین، مندرجہ الفضل ج ۱۳ ش ۸۰، مورخہ ۲۶؍جنوری ۱۹۲۶ء)
- آسمانی وحی کا دعویٰ: ”جو کچھ میں اللہ کی وحی سے سنتا ہوں، خدا کی قسم اسے ہر قسم کی خطاء سے پاک سمجھتا ہوں۔ قرآن کی طرح میری وحی خطاؤں سے پاک ہے۔ یہ میرا ایمان ہے...... خدا کی قسم یہ کلام مجید ہے، خدائے پاک وحدہ کے منہ سے۔“
(نزول المسیح ص ۹۹، خزائن ج ۱۸ ص ۴۷۷ ترجمہ)
- ”میں (مرزا) خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ان الہامات پر اسی طرح ایمان لاتا ہوں جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دوسری کتابوں پر اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے (مرزا) پر نازل ہوتا ہے۔ خدا کا کلام یقین کرتا ہوں۔“
(حقیقت الوحی ص ۲۱۱، خزائن ج ۲۲ ص ۲۲۰)
- ”یہ بھی مدت سے الہام ہو چکا ہے کہ: ’اِنَّا اَنْزَلْنٰهُ قَرِیْبًا مِّنَ الْقَادِیَانِ‘ میں نے دل میں کہا کہ واقعی طور پر قادیان کا نام قرآن شریف میں درج ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ۷۷، ۷۷ حاشیہ، خزائن ج ۳ ص ۱۳۹، ۱۴۰)
- زمین قادیاں اب محترم ہے
(درثمین اردو کلام مرزا قادیانی ص ۵۰)
- ”حضرت مسیح موعود (مرزا) نے فرمایا کہ جو لوگ قادیان نہیں آتے مجھے ان کے ایمان کا خطرہ رہتا ہے۔“
(انوار خلافت ص ۱۱۷، انوار العلوم ج ۳ ص ۱۷۱)
- ”ہمارا جلسہ بھی حج کی طرح ہے...... جیسا کہ حج میں رفث، فسوق اور جدال منع ہے۔“
(خطبہ محمود مندرجہ برکات خلافت ص ۲۷، مجموعہ تقاریر بشیر جلسہ سالانہ ۱۹۱۲ء، خطبات محمود ج ۴ ص ۲۵۷، ۲۵۶)
- ”جیسے احمدیت کے بغیر یعنی مرزا کو چھوڑ کر جو اسلام باقی رہ جاتا ہے وہ خشک اسلام ہے۔ اسی طرح اس ظلی حج (جلسہ قادیان) کو چھوڑ کر مکہ والا حج بھی خشک رہ جاتا ہے۔“
(پیغام صلح مورخہ ۱۹؍ اپریل ۱۹۳۳ء)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ...... ”لوگ معمولی اور نفلی طور پر حج کرنے کو بھی جاتے ہیں۔ مگر اس جگہ (قادیان میں) ثواب زیادہ ہے اور غافل رہنے میں نقصان اور خطر، کیونکہ سلسلہ آسمانی ہے اور حکم ربانی ہے۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ۳۵۲، خزائن ج ۵ ص ایضاً)
- ...... سیدنا پیر مہر علی شاہ گولڑوی کے متعلق لکھا: ”مجھے (مرزا) ایک کتاب کذاب (پیر مہر علی شاہ) کی طرف سے پہنچی ہے وہ خبیث کتاب اور بچھو کی طرح نیش زن ہے۔ پس میں نے کہا کہ اے گولڑہ کی زمین تجھ پر لعنت ہو۔ تو ملعون (پیر صاحب) کے سبب سے ملعون ہوگئی۔ پس تو قیامت تک ہلاکت میں پڑے گی۔“
(اعجاز احمدی ص ۷۱، خزائن ج ۱۹ ص ۱۸۸)
- ...... مرزا پر ایمان نہ لانے والے مسلمان ”کافر“ ہیں: ”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (مرزا) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے، خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود (مرزا) کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر ہیں اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“
(آئینہ صداقت ص ۳۵، مصنفہ مرزا محمود احمد)
- ...... ”جو ہماری (مرزا کی) فتح کا قائل نہ ہوگا تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں۔“
(انوار الاسلام ص ۳۰، خزائن ج ۹ ص ۳۱)
- ...... ”میرے مخالف جنگلوں کے سؤر ہو گئے اور ان کی عورتیں کتوں سے بڑھ گئیں۔“
(نجم الہدیٰ ص ۱۰، خزائن ج ۱۴ ص ۵۳)
- ...... ”میری ان کتابوں کو ہر مسلمان محبت کی نظر سے دیکھتا ہے اور اس کے معارف سے فائدہ اٹھاتا ہے اور میری دعوت کی تصدیق کرتا ہے اور اسے قبول کرتا ہے، مگر رنڈیوں (بدکار عورتوں) کی اولاد نے میری تصدیق نہیں کی۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ۵۴۷، ۵۴۸، خزائن ج ۵ ص ۵۴۷، ۵۴۸)
- ...... ”خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری (مرزا کی) دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے۔“
(تذکرہ ص ۶۰۷، الہام، مارچ ۱۹۰۶ء)
- ...... ”حضرت مسیح موعود کا حکم اور زبردست حکم ہے کہ کوئی احمدی غیر احمدی کو اپنی لڑکی نہ دے۔ اس کی تعمیل کرنا بھی ہر احمدی کا فرض ہے۔“
(برکات خلافت، مجموعہ تقاریر محمود ص ۲۵)
- ...... ”ہم تو دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود (مرزا) نے غیر احمدیوں کے ساتھ صرف وہی سلوک جائز رکھا ہے جو نبی کریم (ﷺ) نے عیسائیوں کے ساتھ کیا۔ غیر احمدیوں سے ہماری نمازیں الگ کی گئیں۔ ان کو لڑکیاں دینا حرام قرار دیا گیا۔ ان کے جنازے پڑھنے سے روکا گیا...... دینی تعلقات کا سب سے بڑا ذریعہ عبادت کا اکٹھا ہونا ہے اور دنیوی تعلقات کا بھاری ذریعہ رشتہ ناطہ ہے۔ سو یہ دونوں ہمارے لئے حرام قرار دیئے گئے۔ اگر کہو کہ ہم کو ان کی لڑکیاں لینے کی اجازت ہے تو میں کہتا ہوں کہ نصاریٰ کی لڑکیاں لینے کی بھی اجازت ہے۔“
(کلمۃ الفصل ج ۱۴ نمبر ۳ ص ۱۶۹، مصنفہ مرزا بشیر احمد پسر مرزا قادیانی)
- ...... ”ہمارا یہ فرض ہے کہ غیر احمدیوں (مسلمانوں) کو مسلمان نہ سمجھیں اور نہ ان کے پیچھے نماز پڑھیں۔ کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خدا تعالیٰ کے ایک نبی (مرزا) کے منکر ہیں۔“
(انوار خلافت ص ۹۰، از مرزا بشیر الدین محمود)
- ...... ”غیر احمدی مسلمانوں کا جنازہ پڑھنا جائز نہیں۔ حتیٰ کہ غیر احمدی معصوم بچے کا بھی جائز نہیں۔“
(انوار خلافت ص ۹۳ از مرزا بشیر الدین، الفضل مورخہ ۲۳؍اکتوبر ۱۹۱۷ء، الفضل مورخہ ۳۰؍جولائی ۱۹۳۱ء)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اسلامیان وطن! وطن عزیز کے نامور انصاف پسند شہریوں سے عدل وانصاف کے نام پر میری درخواست ہے وہ مندرجہ بالا حوالہ جات پر غور فرمائیں کہ کیا یہ کتابیں پاکستان کے امن وسلامتی کے منافی نہیں؟ اور اگر ہیں اور یقیناً ہیں تو پھر قادیانی حضرات بھی اپنی قیادت کے مطالبہ پر غور فرمائیں کہ وہ پاکستان میں کیا تبلیغ چاہتے ہیں؟ یہی کہ یہ کتابیں چھاپنے اور تقسیم کا حق دیا جائے؟ رَبّ محمد کی قسم! اس کاوش کا قلع قمع کرنا ہر محبّ وطن کا فرض ہے۔ حکومت وعوام سب کا۔
- ۳...... میں یہاں امریکہ میں خود کو مسلمان کہہ سکتا ہوں پاکستان میں نہیں۔
اس پر قادیانی حضرات سے گزارش ہے کہ وہ سوچیں کہ آپ کی قیادت مغل بچہ اپنے اس بغل بچہ سے کیا کہلوا رہی ہے؟ کیا امریکہ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ تمام دنیا کے مسلمانوں کے عقائد وایمان میں مداخلت کرے؟ یہ مداخلت فی الدین ہے۔ صرف پاکستان نہیں پوری دنیا کے مسلمان قادیانیوں کو غیر مسلم سمجھتے ہیں۔
خود مسیحی حضرات کے ہاں ایک فرقہ ہے جو خود کو ”ویٹنس مسیحا“ گواہان مسیح کے نام سے پکارتے ہیں اور مسیحی ہونے کے مدعی ہیں۔ مگر دنیا کی کوئی مسیحی سلطنت ان کو مسیحی نہیں مانتی۔ اگر یہ مدعی مسیحیت، مسیحی عقائد کے خلاف عقیدہ رکھ کر مسیحی نہیں ہو سکتے تو قادیانی بھی مسلمانوں کے خلاف عقائد رکھ کر خود کو مسلمان نہیں کہلا سکتے۔
ہاں! اگر قادیانیوں کا خیال ہے کہ امریکہ پاکستان کی پارلیمنٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دلوائے، تو یہ بات قادیانیوں کے سوچنے کی ہے کہ وہ کیا مطالبہ کر رہے ہیں؟ امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی کی پارلیمنٹ اگر خود مختار ہے ان کے فیصلے، ان کے قانون کا حصہ ہیں تو پاکستان بھی خود مختار ملک ہے، اس کی پارلیمنٹ کا مثالی طور پر متفقہ فیصلہ بھی ہمارے آئین پاکستان کا حصہ ہے۔ قادیانی یا ٹرمپ کو ہرگز یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ وہ ہماری پارلیمنٹ کے فیصلہ کو سبوتاژ کرے۔ اگر قادیانی یہ سمجھتے ہیں تو وہ اپنی خواب خیالی سے باز آئیں! اس میں ہمارے سے کہیں زیادہ ان کا اپنا فائدہ ہے۔ کبھی نہ بھولیں کہ پاکستانی قوم، اسلامیان وطن اپنے ملک کی خود مختاری، پارلیمنٹ کی آزادی، اسلام اور ایمان کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے قادیانی سازشوں کو ناکام بنائیں گے۔ قادیانی گیدڑ بھبکیاں ہمارے نزدیک گوز شتر سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتیں!
قیامت کی صبح تک پاکستان بھی رہے گا، اسلام بھی رہے گا، آئین بھی رہے گا، محمد عربی ﷺ کی اُمت اور ختم نبوت بھی رہے گی۔ ملک وملت کے بدخواہ، ختم نبوت کے منکر اسلام کے دشمن اپنے انجام کو پہنچیں گے۔ اسلام، ختم نبوت اور ملک پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ دیدہ باید!
- ۴...... ہماری جماعت پر امن ہے۔
بالکل ٹھیک ہے! جناب (شکور قادیانی) نے سو کی ایک کہی۔ لیکن آپ امریکہ کے صدر بہادر کے سامنے بھول گئے، کاش! آپ کو خیال رہتا کہ آپ کے متعلق برطانوی حکومت کے جج مسٹر جی. ڈی کھوسلہ سیشن جج گورداسپور نے مورخہ ۶؍ جون ۱۹۳۵ء کو کیا لکھا تھا؟ کاش! وہ پڑھ لیتے تو میاں مٹھو بن کر قادیانی جماعت کی ”پُرامنی“ کا دعویٰ نہ کرتے جو جج نے لکھا وہ یہ ہے:
”مرزائیت کی تاریخ: اپیلانٹ کے خلاف فرد جرم پر نظر ڈالنے سے پہلے چند واقعات کا بیان کرنا ضروری ہے جو معاملہ زیر بحث سے تعلق رکھتے ہیں۔ تقریباً پچاس برس کا عرصہ ہوا قادیان کے ایک شخص مسمّی غلام احمد نے دنیا کو اعلان کیا کہ وہ مسیح موعود ہے۔ اس اعلان کے ساتھ ہی اس نے اسلام کے ”اعلیٰ پادری“ کی حیثیت بھی اختیار کر لی اور ایک نئے فرقے کی بنیاد ڈال دی۔ جس کے ارکان اگرچہ مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے تھے لیکن ان کے بعض عقائد اور اُصول اسلام کے عام مسلمہ اُصولوں سے بالکل متضاد تھے۔ اس فرقے کا جو ”قادیانی“ یا
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
”مرزائی“ یا ”احمدی“ کہلاتا ہے، امتیازی نشان یہ ہے کہ اس کے ارکان اس فرقے کے بانی کی (جسے ”مرزا“ کہا جاتا ہے) نبوت پر کامل اعتقاد رکھتے ہیں۔ جو تحریک اس طرح شروع کی گئی اس نے جلدی ہی شکل پکڑی اور آہستہ آہستہ لیکن غیر مشتبہ طور پر بڑھنا شروع کیا اور اس کے پیرو چند ہزار کی تعداد میں ہو گئے۔ قدرتاً کچھ مخالفت ہوئی اور مسلمانوں کی اکثریت بانی فرقہ کی مذہبی فوقیت کے گھمنڈ سے سخت ناراض ہوئی۔ نوزائیدہ مذہب کے مخالفوں نے ”کافر“ کے الزام کا جو مرزا نے ان پر لگایا شدت سے جواب دیا۔ مگر قادیانیوں نے اس بیرونی تنقید کا بالکل خیال نہ کیا اور اپنے وطن قادیان میں مقامی طور پر محفوظ ہوتے ہوئے جہاں تک ہوسکا حالات کے مطابق خوشحال رہے۔
قادیانیوں کا تمرّد اور دہشت انگیزی: مقابلۃً محفوظ ہونے کی اس حالت نے غرور پیدا کر دیا جس نے قادیانیوں میں تمام تمرّد کی شکل اختیار کر لی۔ اپنے دلائل کو منوانے اور فرقے کو ترقی دینے کے لئے انہوں نے ان ہتھیاروں کا استعمال شروع کیا جن کو عام طور پر نہایت ناپسندیدہ کہا جائے گا۔ انہوں نے ان اشخاص کے دلوں میں جنہوں نے ان کی جماعت میں شامل ہونے سے انکار کیا، نہ صرف بائیکاٹ، اخراج اور بعض اوقات اس سے بھی بدتر مصائب کی دھمکیوں سے دہشت انگیزی پیدا کی بلکہ اکثر انہوں نے ان دھمکیوں کو عملی جامہ پہنا کر اپنے تبلیغی سلسلہ کو مضبوط کیا۔ قادیان میں ایک والنٹیر کور مرتب کی گئی جس کا منشا غالباً اپنے احکام کو منوانے کے لئے قوت پیدا کرنا تھا۔ انہوں نے عدالتی اختیارات کا استعمال بھی اپنے ذمہ لیا۔ دیوانی مقدمات میں ڈگریاں صادر کی گئیں اور اجراء بھی کرایا گیا۔ فوجداری مقدمات میں سزا کے حکم سنائے گئے اور سزائیں بھی دی گئیں۔ لوگوں کو فی الحقیقت قادیان سے نکال دیا گیا۔ قصہ یہیں ختم نہیں ہوتا۔ قادیانیوں پر صریح الزام لگایا گیا کہ انہوں نے مکانوں کو تباہ کیا اور جلایا اور قتل تک بھی کئے۔
الزامات کا ثبوت: اس خیال سے کہیں یہ نہ سمجھا جائے کہ مذکورہ بالا واقعات محض احرار کے تخیل کی اختراع ہیں۔ یہ لازمی ہے کہ میں چند واقعی مثالیں بیان کر دوں جو اس مقدمہ کی مثل پر لائی گئی ہیں۔
قادیان سے لوگوں کا اخراج: کم از کم دو اشخاص کو اپنے وطن قادیان سے باہر نکالا گیا۔ کیونکہ ان کے خیالات مرزا صاحب کے خیالات سے متفق نہ تھے۔ وہ اشخاص حبیب الرحمٰن اور اسماعیل ہیں۔ مثل پر ایک چٹھی ڈی. زیڈ ۳۳ موجود ہے جس کا کاتب خود موجودہ مرزا ہے اور جس میں حکم دیا گیا ہے کہ حبیب الرحمٰن گواہ صفائی نمبر ۲۸ کو قادیان میں آنے کی اجازت نہیں۔ اس چٹھی کو مرزا بشیر الدین محمود احمد گواہ صفائی نمبر ۳۷ نے تسلیم کیا ہے۔ گواہ صفائی نمبر ۲۰ (خان صاحب فرزند علی) نے تسلیم کیا ہے کہ اسماعیل کو جماعت سے خارج کیا گیا اور قادیان میں داخل نہ ہونے کا حکم دیا گیا۔ بہت سے دیگر گواہوں نے تشدد اور ظلم کی داستانیں بیان کی ہیں۔ بھگت سنگھ گواہ صفائی نمبر ۴۹ بیان کرتا ہے کہ مرزائیوں نے اس پر حملہ کیا۔ ایک شخص غریب شاہ کو قادیانیوں نے مارا اور جب اس نے مقدمہ کرنا چاہا تو کوئی شخص اس کی شہادت دینے کے لئے آگے نہ آیا۔ قادیانی ججوں کے فیصلہ کردہ مقدمات کی مثلیں پیش کی گئیں اور مثل پر موجود ہیں، مرزا صاحب (محمود) نے تسلیم کیا ہے کہ عدالتی اختیارات قادیان میں استعمال کئے جاتے ہیں اور ان معاملات میں وہ خود آخری عدالت اپیل ہے۔ عدالت کی ڈگریوں کے اجراء کئے جاتے ہیں اور ایک مثال بھی موجود ہے۔ جہاں ڈگری کے اجراء میں ایک مکان کو نیلام کیا گیا۔ قادیان میں ایک والنٹیر کور کی موجودگی کی شہادت گواہ صفائی نمبر ۴۰ (مرزا شریف احمد) نے دی ہے۔
مولانا عبدالکریم مباہلہ کی داستان درد اور محمد حسین شہید کا قتل: علاوہ ازیں سب سے سنگین معاملہ عبدالکریم کا ہے جس کی داستان حقیقتاً ایک داستان درد ہے۔ اس شخص نے مرزائی مذہب قبول کیا اور قادیان کو چلا گیا۔ مگر وہاں اس کے دل میں مذہبی شکوک و شبہات پیدا ہوئے اور اس نے مرزائیت سے توبہ کی۔ تب اس پر ستم آرائی کی ابتداء ہوئی۔ اس نے ایک اخبار مباہلہ نامی جاری کیا۔ جس کا مقصد مرزائی
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ۵۵۴ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جماعت کے معتقدات پر تنقید کرنا تھا۔ مرزا (محمود) نے ایک تقریر میں جو دستاویز ڈی زیڈ نمبر ۳۹ (الفضل مورخہ یکم اپریل ۱۹۳۰ء) میں شائع ہوئی ہے۔ اخبار مباہلہ والوں کی موت کی پیشین گوئی کی۔ اس تقریر میں ان لوگوں کی طرف اشارہ بھی کیا جو اپنے مذہب کی خاطر قتل کرنے کو بھی تیار ہوتے ہیں۔ اس تقریر کے جلد بعد عبدالکریم پر قاتلانہ حملہ بھی ہوا۔ لیکن وہ بچ گیا۔ ایک شخص محمد حسین ، عبدالکریم کی امداد کرتا تھا اور ایک فوجداری مقدمہ میں جو عبدالکریم کے خلاف چل رہا تھا۔ اس کا ضامن تھا اس پر فی الحقیقت حملہ ہوا اور اسے قتل کر دیا گیا۔ قاتل پر مقدمہ چلا اور اسے پھانسی کی سزا دی گئی۔
قاتل کی عزت افزائی: پھانسی کے حکم کی تعمیل ہوئی اور پھانسی پانے کے بعد لاش قادیان میں لائی گئی اور بڑی دھوم دھام سے اسے اس جگہ دفن کیا گیا۔ جس کا بہشتی مقبرہ نام رکھتے ہیں۔ الفضل اخبار میں جو مرزائی جماعت کا اخبار ہے قتل کی تعریف اور قاتل کی مدح سرائی کی گئی۔ یہ لکھا گیا ہے کہ قاتل مجرم نہیں تھا اور امر واقعہ سے قبل ہی جان دے کر پھانسی کی بدنام کنندہ سزا سے بچ گیا۔ خدا نے اپنے عدل وانصاف میں یہ مناسب سمجھا کہ پھانسی کی ذلت سے پہلے ہی اس کی روح قبض کرلے۔
مرزا محمود کی صریح غلط بیانی اور اس کا فساد نیت: جب عدالت میں مرزا کا ایک معاملہ کے متعلق بیان لیا گیا تو اس نے بالکل مختلف کہانی بیان کی اور کہا کہ محمد حسین کے قاتل کو باعزت طریق پر اس لئے دفن کیا گیا تھا کہ اس نے اپنے جرم پر اظہار ندامت کیا تھا اور اس طرح گناہ سے بری ہو چکا تھا لیکن دستاویز ڈی زیڈ نمبر ۴۰ نے اس کی تردید کر دی ہے اور مرزا کی نیت اور اس کی دلی کیفیت کا پتہ اس اظہار خیالات سے بالکل عیاں ہے جو اس نے ڈی زیڈ نمبر ۴۰ میں کیا۔
لاہور ہائیکورٹ کی توہین: میں یہاں یہ بھی کہہ دوں کہ اس دستاویز کا مضمون لاہور ہائیکورٹ کی توہین بھی ہے۔
محمد امین کا قتل: ایک اور واقعہ بھی ہے جو محمد امین کے قتل سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ محمد امین بھی مرزائی تھا اور یہ امر واقعہ ہے کہ وہ اس فرقہ کا ایک مبلغ تھا۔ اس کو بخارا بھیجا گیا تھا کہ وہ مرزا کے مذہب کی تبلیغ کرے۔ لیکن کسی وجہ سے اس کو ملازمت سے سبکدوش کیا گیا۔ اس کی موت کلہاڑی کی ایک ضرب سے ہوئی جو چوہدری فتح محمد گواہ صفائی نمبر ۲۱ نے لگائی۔ عدالت ماتحت نے اس معاملہ کو سرسری نگاہ سے دیکھا ہے لیکن اس پر نظر غائر ڈالنے کی ضرورت ہے۔ محمد امین اگرچہ مرزائی تھا لیکن وہ مرزا کا مورد عتاب ہو چکا تھا اور اس لئے مستحق رحم نہیں رہا تھا۔ اس کی موت کے واقعات خواہ کچھ ہی ہوں، یہ امر نا قابل انکار ہے کہ محمد امین تشدد کی موت مرا اور کلہاڑی کے وار سے قتل کیا گیا۔ پولیس کو وقوعہ کی اطلاع دی گئی۔ لیکن بالکل کوئی کارروائی نہ کی گئی۔ یہ بحث کرنا فضول ہے کہ قاتل حفاظت خود اختیاری کر رہا تھا۔ کیونکہ یہ فیصلہ تو اس عدالت کا کام ہے جو مقدمہ کی سماعت کرے۔ یہ امر کافی تعجب انگیز ہے کہ چوہدری فتح محمد نے عدالت میں بحلف صالح بیان دیا ہے کہ اس نے محمد امین کو قتل کیا تھا۔ مگر پولیس اس معاملہ میں کچھ کارروائی نہ کر سکی اور اس کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ مرزائی طاقت اتنی بڑھ گئی تھی کہ کوئی گواہ سامنے آکر سچ بولنے کے لئے تیار نہیں تھا۔ ہمارے سامنے عبدالکریم کے مکان کا واقعہ بھی ہے۔ عبدالکریم کو قادیان سے نکالنے کے بعد اس کا مکان جلا دیا گیا۔ اسے قادیان کی سمال ٹاؤن کمیٹی سے حکم حاصل کر کے نیم قانونی طریقے سے گرانے کی کوشش بھی کی گئی۔
قادیان میں طوائف الملوکی: یہ افسوس ناک واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ قادیان میں طوائف الملوکی تھی جس میں آتش زنی اور قتل تک ہوتے تھے۔ ان واقعات پر اس امر کا اور اضافہ کرو کہ مرزائے قادیانی کروڑوں مسلمانوں کو جو اس کی فوقیت پر ایمان نہیں رکھتے تھے، شدید دشنام طرازی کا نشانہ بنایا۔ اس کی تصنیفات ایک مقدس اعلیٰ پادری کے اخلاق و آداب کی ایک انوکھی تفسیر ہیں۔ جو فقط نبوت کا ہی دعویٰ نہیں کرتا بلکہ خدا کا برگزیدہ اور مسیح ثانی ہونے کا مدعی بھی ہے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حکومت مفلوج ہوچکی تھی: ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حکام ایک غیر معمولی وجہ کے فالج کا شکار ہوچکے تھے اور دنیاوی اور دینی معاملات میں مرزا (محمود) کے حکم کے خلاف کبھی آواز نہ اٹھائی گئی۔ مقامی افسروں کے پاس کئی مرتبہ شکایات کی گئیں لیکن کوئی انسداد نہ ہوا۔ مثل پر ایک دو ایسی شکایات ہیں لیکن ان کے مضمون کا حوالہ دینا غیر ضروری ہے اور اس مقدمہ کے اغراض کے لئے یہ بیان کردینا کافی ہے کہ قادیان میں ظلم وجبر جاری ہونے کے متعلق غیر مشتبہ الزامات عائد کئے گئے۔ لیکن معلوم ہوتا ہے کہ ان کی طرف مطلقاً توجہ نہ کی گئی۔‘‘
(سیشن جج گورداسپور جی. ڈی کھوسلہ کے فیصلہ سے اقتباس ص ۲ تا ۷، مطبوعہ مباہلہ بک ڈپو امرتسر)
آپ نے قادیانی جماعت کی دہشت گردی، قانون شکنی، انارکیت، رعونت، ظلم و بربریت کا عدالتی فیصلہ کے اقتباس میں نمونہ ملاحظہ کیا۔ مجھے اعتراف ہے کہ قادیانیوں نے اس کے پیراگراف حذف کرانے میں انگریز حکومت کے پاؤں پر اس طرح سررکھے جس طرح مسٹر ٹرمپ صاحب کے سامنے آج قادیانی شکور سراپا مشکور و ممنون بنا ہوا ہے۔
اس فیصلے سے حکومت برطانیہ کا قادیانی جماعت کی شورہ پشتی کی حمایت بے جا کا پردہ چاک ہوتا تھا۔ سرکاری وکیل سمیت سب ہی اس فیصلہ کے بعض پیراگراف حذف کرانے پر تل گئے۔ لیکن بہرحال حقیقت وہی تھی جو قادیانیوں سے متعلق مسٹر کھوسلہ نے بیان کرکے قادیانی خودساختہ امن پسندی کو واشگاف کردیا تھا۔ بایں ہمہ میں قادیانی جماعت سے پوچھتا ہوں:
- ......۱ قادیانی سبزی فروش کی بیٹی کو ربوہ میں کس نے قتل کرایا؟
- ......۲ فیصل آباد کے نوجوان کو ربوہ میں کس نے قتل کرایا؟
- ......۳ ربوہ میں اپنی جماعت کے لوگوں کا معاشرتی و معاشی بائیکاٹ کس نے کرایا؟
- ......۴ چناب نگر کے قادیانی جماعت کے افراد کو اخراج جماعت کی سزا کس نے دلوائی؟
- ......۵ عبدالعزیز بھانبڑی مرزا محمود کا پالتو جس نے ربوہ کے عوام کی چیخیں نکلوائیں۔
- ......۶ ربوہ کا پوپ۔
- ......۷ تاریخ محمودیت کے خفیہ اوراق۔
- ......۸ ربوہ کا راسپوٹین ان کتابوں کے مصنفین کون تھے؟
- ......۹ ۱۹۷۴ء میں مسلمان طلباء پر ظلم کس نے کیا؟
- ......۱۰ کراچی کے ہنگاموں میں قادیانی ہاتھ پاکستان میں فسادات، آپ کس طرح انکار کرسکتے ہیں؟
اس پر دلائل کی ضرورت ہو تو طلب کرنے پر مستقل کتاب کی ہماری ذمہ داری رہی!
- ......۵ شکور صاحب کا یہ کہنا: مسلمان ہمیں گالیاں دیتے ہیں۔
افسوس کہ اس قادیانی مہرہ کو پتہ نہیں کہ تمام مسلمانوں کو خنزیر، ان کی عورتوں کو کتیا، اپنے نہ ماننے والوں کو کنجری کی اولاد کس نے کہا۔ (حوالہ جات گزر چکے)
مرزا قادیانی بدزبانوں کا عالمی چمپئن تھا۔ اس کے مرید اپنی پاکی دامان کی حکایت کو دراز کریں تو ان کی مرضی، لیکن انصاف کا خون کرنا قطعاً درست نہیں۔
یہاں تک شکور چشمہ والا قادیانی کی ٹرمپ صاحب سے ملاقات کے ارشادات پر اظہار خیال ضروری تھا۔ مرزا مسرور کا ارشاد کہ
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پاکستان کے قانون سے منکرین ختم نبوت سے متعلق دفعات ختم ہو جائیں گی۔ اس کے جواب میں عرض ہے : سنا ہے کہ مینڈکی کو زکام ہوگیا ہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۱۹ء ص ۱۲ تا ۲۸)
قادیانی بیعت کا نیا ڈرامہ
(مولانا محمد رضوان عزیز ) انسانی تاریخ میں جس طرح سنجیدہ لوگ اپنی کارکردگی اور عمدہ کارناموں کے باعث زندہ رہ جاتے ہیں، ایسے ہی بعض جوکر قسم کے لوگ بھی اپنی فلمی زندگی جس میں انسانوں کے لئے مزاح کا وافر سامان مہیا کر کے تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں۔ عہد گزشتہ میں متنبی خرافہ، ابوزید سروجی ، ملا دو پیازہ اور بیربل یہ وہ مزاحیہ اور فضول قسم کے کریکٹر ہیں جنہوں نے عوام سے داد وصول کرنے کے لئے نئے نئے لطائف کو جنم دیا۔ لیکن ہندوستان کی زمین نے ایک ایسے جوکر کو جنم دیا جس کی پوری زندگی ہی فن لطیفہ کا قبیح باب تھی اور اس پر المیہ کہ اپنی باقیات میں ایسی جماعت کو چھوڑ گیا جس کا ہر فرد ہی کذب بیانی، ملمع سازی اور دھوکہ دہی میں یکتا و بے مثل ہے۔ اس جوکر کا نام مرزا غلام احمد قادیانی ہے اور ان کے پیروکاروں کو جماعت احمدیہ قادیانیہ کہتے ہیں۔ حال ہی میں ایک ویڈیو قادیانی جماعت نے وائرل کی ، جس میں ہزاروں لوگ جماعت قادیانیہ کے موجودہ خلیفہ کے ہاتھ پر بیعت کر کے مرزائیت کو اختیار کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ’’ڈوبتے کو تنکے کا سہارا‘‘ مرزائیت اب الحمد للہ ! دم توڑ رہی ہے۔ ان کی اصلیت دنیا پر کھلتی جارہی ہے۔ اب اپنی بقاء کے لئے اور وجود کا ثبوت دینے کے لئے جھوٹ کا سہارا لینے پر مجبور ہیں۔
پہلی بات تو یہ ذہن میں رہے کہ جرمنی میں ایسا کوئی واقعہ نمودار نہیں ہوا۔ مولانا افتخار احمد کولون حال مقیم جرمنی اور مولانا سہیل باوا صاحب آف لندن کی طرف سے اس کی تردید بھی آچکی ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ سب پھر ہے کیا؟ قادیانی جماعت اپنے سالانہ جلسے میں کچھ نو گرفتار شدہ لوگوں کو جن کو مختلف مذاہب سے دھوکہ دے کر قادیانی کیا گیا ہوتا ہے ان کی بیعت کا ڈرامہ کرتی ہے اور ساتھ ہی کسی فلمی سین کی طرح ایک ہیرو کے سامنے جیسے کیمرے کے کمال سے انسانی بھیڑ کو بھاگتا دکھایا جاتا ہے یہاں ایک قادیانیوں کا ریوڑ اپنے خلیفہ کے سامنے بٹھا دیا جاتا ہے تا کہ قلیل کو کثیر اور سوکڑا زدہ کو صحت مند موٹا پہلوان بنا کر نسل انسانی کو گمراہ کیا جاسکے۔ اگر واقعی بیس ہزار مسلمانوں نے بیعت فارم فل کر دیا ہے۔ بقول ان کے تو جماعت قادیانیہ سے درخواست ہے کہ بندہ کی اس تحریر کے بعد فوراً ان کے کوائف سوشل میڈیا پر پیش کردے۔ جن کے ساتھ ان کے دستخط اور موجودہ تاریخ کا اندراج بھی ہو۔ لیکن ایسا یہ ہرگز نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ یہ تو وہی پرانے کردار ہیں جو ہر سال تجدید بیعت کے نام سے ایک ویڈیو بنوانے کے لئے بلائے جاتے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ مسلمانوں کو اس سے تنگ دل ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے۔ خدانخواستہ پوری دنیا بھی ان مرتدین سے بھر جائے تب بھی ہمارا ایمان ہے کہ غالب میرے سچے نبی حضرت محمد ﷺ کا دین ہی آنا ہے۔ کسی اور کو غالب نہیں آنا۔ مرزا قادیانی اور اس کی امت کا طرز عمل ہی یہی ہے کہ ہمیشہ اپنی جعلی بڑھتی ہوئی تعداد کا جعلی اظہار کر کے اپنے حق پر ہونے کی دلیل بنانا، لیکن کاش قادیانی امت اپنے مقام کا تعین تو اپنے خود ساختہ نبی کے فرمودات کی روشنی میں کرلیتی۔ مرزا غلام احمد اپنے اوپر ایمان لانے والوں کا تعارف کس صورت میں کروا کر گیا ہے، آئیے ذرا اس کی تحریروں کی روشنی میں ان بیعت کے ڈرامے بازوں کی حقیقت کو سمجھ لیں کہ خود ان کے خود ساختہ نبی نے ان کے بارے میں کیا کہا ہے؟ اب اگر مرزا قادیانی نے سچ کہا ہے تو قادیانی توبہ کرلیں اور اگر جھوٹ کہا ہے تو ایسے جھوٹے کی اتباع سے باہر نکل آئیں۔ امت مسلمہ آج بھی تمہاری واپسی کی منتظر ہے۔ مرزا قادیانی کے ارشادات ملاحظہ فرمائیں:
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۱...... ”میری جماعت میں ایسے کج دل لوگ ہیں جو اپنی جماعت کے غریبوں کو بھیڑیوں کی طرح دیکھتے ہیں اور اس قدر خود غرض اور
سفلہ پن کا شکار ہیں کہ ادنیٰ ادنیٰ خود غرضی کی بنیاد پر لڑتے ہیں۔“
(ضمیمہ شہادۃ القرآن ص۲، خزائن ج۶ ص۳۹۵)
- ۲...... ”اے بن (جنگل قادیان) کے رہنے والو! تم ہرگز نہیں ہو آدمی۔ کوئی ہے روبہ کوئی خنزیر اور کوئی ہے مار۔ یعنی قادیانی بقول ان
کے نبی کے یا لومڑی ہوتا ہے یا سانپ یا سور یعنی خنزیر۔“ لو اور کر لو بیعتیں ۔
- ۳...... ”اس گاؤں قادیان میں بڑے بڑے خبیث اور شریر اور ناپاک طبع اور کذاب اور مفتری رہتے ہیں۔“
(نزول مسیح ص ۶۰ تا ۶۴، خزائن ج ۱۸ ص ۴۴۰ تا ۴۴۴ ملخص)
ہم بھی یہی کہتے ہیں جو ان کا نبی کہتا ہے کہ قادیانی خبیث شریر ناپاک جھوٹے اور مفتری ہوتے ہیں۔ اس لئے ان کی ایسی ویڈیوز کا یقین نہ کیا جائے ۔ اب اگر ہم انہیں جھوٹا کہنے میں غلط ہیں تو ان کا نبی بھی ان کے نزدیک جھوٹا ہے کیا ؟
- ۴...... ”ہماری جماعت کے لوگوں میں اب تک کوئی اہلیت، تہذیب ، پاک دلی اور پرہیزگاری اور للٰہی محبت پیدا نہیں ہوئی۔“
(ضمیمہ شہادۃ القرآن ص۲، خزائن ج۶ ص۳۹۵)
یعنی نااہل ، غیر مہذب ، ناپاک دل اور فاسق جماعت ہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۱۹ء ص ۲۵، ۲۶)
امریکہ ، کشمیر ، محمد عمران خان نیازی ، قادیانی اور بھارت
- ۱...... ملک عزیز پاکستان کے وزیر اعظم محمد عمران خان نیازی ، جناب جنرل قمر جاوید باجوہ چیف آف آرمی اسٹاف پاکستان پر مشتمل وفد
۱۹؍ جولائی ۲۰۱۹ء کو پاکستان سے روانہ ہوا۔
- ۲...... ۲۱؍ جولائی ۲۰۱۹ء کو جناب عمران خان کا ایرینا اسٹیڈیم واشنگٹن میں جلسہ عام تھا۔ جس میں چھیاسی فیصد حاضری قادیانیوں کی تھی۔ جو
یورپ و امریکہ سے وہاں پہنچے۔ فیصل آباد ، سیالکوٹ ، راولپنڈی ، لاہور کے انٹرنیشنل ائیرپورٹوں سے جو لوگ امریکہ کے لئے ان دنوں گئے ان کا ڈیٹا معلوم کیا جائے کہ ان دنوں عمران خان صاحب کے جلسہ واشنگٹن کے لئے پاکستان سے کتنے قادیانی گئے۔ ان کو کس نے سپانسر کیا۔ ٹکٹوں کی فنڈنگ کس نے کی تو معاملہ شاید اور بھی گھمبیر ہو جائے۔ یہ سب قادیانی جماعت نے کیوں کیا ؟ اگر ہمارے ملک کی کوئی ایجنسی ان معلومات کو جمع کر کے اسلامیان وطن کے سامنے رکھے تو شاید سب پر چانن ہو جائے اور اسلامیان وطن صورت حال سے صحیح طور پر باخبر ہو جائیں۔ لیکن اگر ڈیٹا نکلوانا ہو تو چیئرمین نادرا پر بھی نظر رہے وہ بھی مستحق نظر ہیں۔
- ۳...... ہمارے ملک کے وفد کے وہاں پہنچنے سے قبل قادیانی نمائندہ کی امریکی صدر سے ملاقات ، قادیانیوں کا پاکستان کو مورد الزام
ٹھہرانا ، شکایات کے انبار ، بدنام کرنے کی منظم سازش ان پر کیا توجہ فرمائی جائے گی؟ یہ بات محبین وطن کے توجہ کرنے کی ہے۔
- ۴...... امریکی صدر کا از خود ملاقات میں کشمیر پر ثالثی کی پیشکش۔ اس کے چند دن بعد انڈیا کے وزیراعظم مودی کا کشمیر کی امتیازی حیثیت
ختم کر کے اسے بھارت میں ضم کرنا۔
- ۵...... آسام کے انیس لاکھ مسلمانوں کی صدیوں سے چلی آنے والی نسلوں کی بھارتی نیشنلٹی کو ختم کرنا۔
- ۶...... اس سے قبل آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کی سرحد کو سیل کرنا ، آزاد کشمیر میں تحریک آزادی کشمیر کے مراکز کی زبوں حالی۔
- ۷...... وزیراعظم پاکستان کا اعلان کرنا کہ انڈیا سے مذاکرات نہیں کریں گے۔ اس اعلان کے باوجود کرتار پور بارڈر پر کام کا بند نہ ہونا ،
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دونوں ملکوں کے نمائندوں کا اس پر مذاکرات جاری رکھنا، پاکستان کا کرتار پور فری انٹری ویزا کے اجراء کا وعدہ کرنا، پانچ ہزار یومیہ وہاں کے افراد کا پاکستان کے لئے مفت ویزا حاصل کرنا، کرتار پور سے قادیان کا چند میل کا فاصلہ ہونا۔
- ۸...... نظام الدین، سرہند کے زائرین جو پاکستان سے جاتے ہیں، ان کے ساتھ امتیازی برتاؤ اور قادیانیوں کے ساتھ دونوں ممالک کی طرف
سے مراعات، زائرین نظام الدین وسرہند کو تنگ کرنا، قادیان جانے والے پاکستانی قادیانیوں پر دونوں حکومتوں کی نوازشات۔
- ۹...... قادیان اور قرب وجوار میں حکومت ہند کے تربیتی مراکز اور پھر قریبی بارڈر کرتار پور سے انٹری۔
- ۱۰...... تقسیم کے وقت قادیانیوں کا خود کو علیحدہ قرار دے کر پاکستان کو ووٹ نہ دینا، جس کے باعث گورداسپور پاکستان میں شامل نہ ہو
پایا۔ گورداسپور سے واحد زمینی راستہ جو انڈیا کو کشمیر سے ملاتا ہے قادیانی سازش سے یہ راستہ انڈیا کو مل گیا۔
- ۱۱...... جناب شہباز شریف قائد حزب اختلاف کا بیان جو اخبارات میں ریکارڈ پر موجود ہے کہ ”کشمیر کا سودا ہو چکا۔“
یہ وہ عوامل ہیں جو کسی بت کدے میں کہے جائیں تو صنم بھی ہری ہری پکار اٹھیں۔ اسلامیان وطن ! حالات پر غور کرو کہ اس خطہ کے مسلمانوں کے سروں پر کیا آفت منڈلا رہی ہے۔ اللہ رب العزت فضل و کرم کا معاملہ فرمائیں۔ ان خوفناک اور مہیب خطرات کے باوجود کشمیریوں کی مخلصانہ جدوجہد ، آزادی کشمیر کے لئے بے پناہ تحریکی تگ و دو، ہماری محب وطن فوج کا جذبہ جہاد اور حق تعالیٰ کی رحمت سے توقع ہے کہ وہ کشمیریوں کو آزادی نصیب فرمائیں گے۔ وما ذالک علیٰ اللہ بعزیز!
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۹ء ص ۴، ۳)
قادیانی کشمیر کی آزادی کے دشمن ہیں
(جناب عبدالحکیم غوری ) برصغیر پاک و ہند کی تقسیم میں قادیانی جماعت کا بڑا ہی گھناؤنا کردار رہا ہے۔ پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ ظفر اللہ خان نے باؤنڈری کمیشن کے سربراہ اور وائسرائے ہند سے مل کر پاکستان کے خلاف ایسی گھناؤنی اور شرمناک سازشیں کیں، جن کی وجہ سے ریاست حیدر آباد دکن، ریاست کشمیر، تحصیل پٹھان کوٹ، گجرات، شکرگڑھ، گورداسپور اور کئی مسلم اکثریتی علاقے بھارت میں شامل کرا دیئے۔ اس سازش میں ریڈکلف، ماؤنٹ بیٹن اور ظفر اللہ قادیانی شریک تھے۔ تاریخ کے اوراق میں اس سازش کے کئی پوشیدہ ثبوت موجود ہیں۔ تقسیم کے وقت گورداسپور میں ۴۹ فیصد مسلمان تھے، ۴۹ فیصد ہندو اور ۲ فیصد قادیانی تھے۔ طے یہ ہوا تھا کہ اکثریت کی بنیاد پر فیصلہ ہوگا۔ اس موقع پر قادیانیوں نے ہندوؤں کا ساتھ دیا اور مسلمانوں سے الگ ہو گئے۔ اس طرح ہندو ۴۹ فیصد سے ۵۱ فیصد ہو گئے اور مسلمان ۴۹ فیصد رہ گئے۔ یوں قادیانیوں اور ہندوؤں کی ملی بھگت سے گورداسپور جاتا رہا۔ یہ واحد زمینی راستہ تھا جو کہ گورداسپور سے کشمیر کو جاتا تھا۔ بھارت نے اپنی فوجیں کشمیر میں داخل کر کے وادی پر ناجائز قبضہ کر لیا۔ دوسرے لفظوں میں ریاست کشمیر کے خلاف ریڈ کلف، ماؤنٹ بیٹن اور قادیانیوں نے ناپاک سازش تیار کی۔ جس کے نتیجے میں کشمیر کا مسئلہ پیدا ہوا ہے۔ عثمانی خلافت کے خاتمے کے لئے یہودی سازش اور قادیانی شریک تھے۔ قادیانیوں نے اس خلافت کے خاتمے کے لئے دعائیں مانگیں۔ یہود کے ساتھ ہر قسم کا تعاون کیا۔ قادیانی امت نے خلافت عثمانیہ کے خاتمے پر جشن منایا۔ مقبوضہ وادی میں کشمیر کی آزادی کی جدوجہد جاری و ساری ہے۔ وادی میں ہر جگہ آزادی کے نعرے لکھے ہیں۔ لیکن اگر کسی جگہ نہیں لکھے ہیں تو وہ قادیانیوں کی بستی ہے۔
بھارت نے دنیا بھر میں اپنے پروپیگنڈے کے لئے انٹرنیشنل پریس سنڈیکیشن بنایا ہے اور اس کو بین الاقوامی رنگ دے کر اپنا مؤقف ساری دنیا کے ذہنوں پر مسلط کر رہا ہے۔ اسی پروپیگنڈے میں کشمیر میں آزادی کی تحریک کو کچلنے کا جواز بھی پیش کیا جا رہا ہے۔ اس
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مذمت سے پہلے اس انٹرنیشنل پریس سنڈیکشن کی ویب سائٹ پر ایک رپورٹ شائع ہوئی جو اسٹیلا پاؤل نامی صحافی نہیں بلکہ ایک سیاہ فام بھارتی ہے جو مغربی بنگال کے کسی پسماندہ طبقے سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ اسٹیلا پاؤل کیسے بنی؟ اس کی کہانی سامنے نہیں آئی۔ اس نے کشمیر کا دورہ کیا اور اپنی رپورٹ میں لکھا، جنوبی کشمیر میں سڑک کے ساتھ سفر کرتے ہوئے میں نے دیکھا کہ وادیوں پر آزادی کے حق میں اور بھارت کے خلاف نعرے لکھے ہوئے تھے۔ یہاں تک کہ بھارت مخالف نعرے تارکول کی سڑکوں پر، گھروں کی دیواروں پر، سائن بورڈز پر، درختوں کے تنوں اور ان کی شاخوں پر اور یہاں تک کہ لیمپ پوسٹ پر بھی نعرے لکھے ہوئے تھے۔ یہ نعرے تھے:
’’گو انڈیا گو بیک ...... وی وانٹ فریڈم ...... برہان وانی زندہ ہے ...... برہان وانی زندہ ہے‘‘ برہان وانی وہ نوجوان انتہاء پسند جو ۲۰۱۶ء میں سیکورٹی فورسز کی گولیوں سے مارا (شہید) کیا گیا تھا۔ لیکن سفر کرتے کرتے اچانک سارا منظر بدل جاتا ہے۔ بھارت مخالف یہ نعرے نہیں نظر آتے۔ بلکہ ہماری نظر دوسرے نعروں پر پڑنے لگتی ہے۔ ویلکم، خوش آمدید، لو فار آل، ہیٹ فار نن...... سب کے لئے محبت، نفرت کسی کے لئے نہیں۔ ہم احمدیہ کمیونٹی (قادیانیوں) کے گاؤں میں داخل ہوئے تھے۔ اس کی آبادی دس ہزار تھی۔ ریاست کشمیر (مقبوضہ) کی کل آبادی ایک کروڑ بیس لاکھ ہے۔ یہ اقلیتی کمیونٹی جنوبی کشمیر کلگام اور شوپیاں ضلع کے چار دیہاتوں کانپورہ، شکرات، ہری پورہ اور ریاشی نگر میں جمع ہو کر رہ گئی ہے۔ ان دیہاتوں کی دیواروں پر مذہبی ہم آہنگی اور ایک دوسرے کے احترام کے لئے خوبصورت رنگوں میں نعرے لکھے ہوئے تھے۔ جب ان دیہاتوں میں جانے والا ان قادیانیوں سے بات کرتا ہے تو وہ علمی باتیں کرتے اور روزگار کی باتیں کرتے اور عالمی ماحولیات کی باتیں کرتے، لیکن ان کے منہ سے بھارت مخالف کوئی بات نہیں نکلتی۔ موجودہ صورتحال کے باوجود احمدیہ کمیونٹی (قادیانی، مرزائی) بھارت مخالف مظاہروں میں نہیں شریک ہوتی۔ اسٹیلا پاؤل لکھتی ہے کہ (کیونکہ یہ اصل اسلامی تعلیمات پیش کر رہے ہیں (جیسے کہ اسٹیلا کو ہی اصل اسلام کی خبر ہے؟)
یہ ایک اقتباس اس رپورٹ کا ہے جو بھارتی ویب سائٹ پر شائع ہوئی تو مرزائیوں نے اپنی ویب سائٹ پر لگادی۔ گویا انہوں نے اس بات پر مہر تصدیق کر دی کہ کشمیر کی آزادی میں مرزائی، قادیانی ہی اصل رکاوٹ ہیں۔ یہ اسرائیل میں فلسطینیوں کے دشمن ہیں اور کشمیر میں بھارت کے اتحادی ہیں۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی پولیس میں زیادہ تر افسر قادیانی ہیں جو حریت پسند کشمیریوں پر ظلم و ستم توڑنے میں کسر نہیں چھوڑتے۔ قادیانیوں کی سازشوں سے حریت کانفرنس کے رہنماء بے خبر نہیں ہیں۔ میر واعظ عمر فاروق اپنے ایک خطبے میں کشمیری عوام کو خبردار کر چکے ہیں کہ قادیانی کشمیر میں نہایت ناپاک عزائم رکھتے ہیں۔ ہم قادیانیوں کو کشمیر میں اپنی جڑیں نہیں پھیلانے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ قادیانیوں نے محض اسلام کا نقاب اوڑھا ہوا ہے۔ یہ عیسائی مشنروں کی طرح کشمیر میں قادیانیت پھیلا رہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے مفتی اعظم بشیر الدین مرحوم جن کا اسی سال فروری میں انتقال ہوا ہے انہوں نے ۲۰۱۲ء میں مقبوضہ کشمیر اسمبلی میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کی تحریک پیش کی تھی۔ کیونکہ انہیں کشمیر میں قادیانیوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں سے تشویش تھی اور انہوں نے یہ جواز بتایا تھا کہ دیگر ممالک میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا جا چکا ہے۔
کشمیری مسلمان یہ حقیقت سمجھ چکے ہیں کہ ان کی آزادی کی راہ میں اصل رکاوٹ جھوٹے نبی کے پیروکاروں نے ڈالی تھی۔ قادیانیت نے پاکستانی مفادات کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ کشمیری مسلمان ۷۰ برسوں سے بھارتی ظلم و جبر کی چکی میں پستے چلے آ رہے ہیں۔ یہ مہربانی بھی قادیانیت کی تھی جو آج کشمیر پر بھارتی ناجائز قبضہ ہے۔ پنجاب باؤنڈری کمیشن میں دو مسلم اور دو غیر مسلم ممبران شامل تھے اور سر ظفر اللہ خان وکیل تھے۔ قادیانی اخبار الفضل قادیان مورخہ ۱۹؍ جون ۱۹۴۷ء کے مطابق اس وقت کے
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیانی سر براہ مرزا بشیر الدین نے تقسیم کی اکائی ضلع کے بجائے تحصیل کو قرار دیا جسے حکم جان کر سر ظفر اللہ خان سکہ بند قادیانی نے یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ سراسر بھارتی مفاد میں ہے۔ اس کے باوجود (حد بندی) کی اکائی تحصیل سطح پر منتخب کی۔ نتیجتاً ہندو اکثریت والی پٹھان کوٹ کی تحصیل بھارت کی جھولی میں جاگری جس کی بدولت بھارت کو کشمیر کا راستہ مل گیا۔ ضلع گورداسپور مسلم اکثریتی ضلع تھا۔ اس کی صرف ایک تحصیل پٹھان کوٹ ہندو اکثریت رکھتی تھی۔ اگر حد بندی ضلعی سطح پر ہوتی تو بھارت کو کشمیر پر ناجائز قبضہ کا راستہ نہ ملتا اور نہ ہی پاکستانی دریا بھارتی کنٹرول میں جاتے۔ جن کے منبع کشمیر ہیں۔ قادیانیوں نے صرف ہندوؤں کی محبت میں انگریز سرکار کو کہا تھا کہ انہیں امت مسلمہ میں نہ گنا جائے۔ وہ الگ الگ مذہب کے پیروکار ہیں۔ لیکن جب مسلمان یہی کہتے ہیں تو وہ اپنے آقاؤں سے اس کی شکایت کرتے ہیں۔
(نوائے وقت ملتان مؤرخہ ۳۱ اگست ۲۰۱۹ء، ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۹ء ص ۳۷ تا ۳۹)
قادیانی پھر سے پاکستان پر حملہ آور؟
(جناب کامران گورائیہ) یوں تو بعض عوامی، سماجی اور مقامی سیاسی حلقوں میں تحریک انصاف کی حکومت کا ایک برس مکمل ہونے پر ان کی کارکردگی پر خاصی تنقید کی جا رہی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اس تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ تاہم ملک کے طول وعرض میں چند شکوک وشبہات کے پہلو بھی زیر بحث ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ قادیانی ایک بار پھر پاکستان پر حملہ آور ہو چکے ہیں۔ پچھلے کچھ عرصہ سے ملک بھر میں قادیانیوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ اگر اس بات میں سچائی موجود ہے کہ قادیانی واقعتاً پاکستان پر ایک بار پھر حملہ آور ہو چکے ہیں اور وہ یہاں پر اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہے ہیں تو یہ محض اہل دین کے ہی سوچنے کی بات نہیں بلکہ ہر محب وطن پاکستانی کو بھی اس پر تشویش لاحق ہے۔ پاکستان میں قادیانیوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے شکوک وشبہات کو تقویت دینے کے لئے بہت سی کڑیاں ملائی جارہی ہیں۔
وزیراعظم پاکستان کے دورہ امریکہ سے پہلے سوشل میڈیا پر ایک وڈیو وائرل ہوئی جس میں ایک قادیانی، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کر رہا تھا۔ اس وڈیو کے ذریعے یہ تاثر دیا گیا کہ پاکستان میں قادیانیوں کے ساتھ انتہائی نامناسب اور برا سلوک ہوتا ہے اور یہ ایشو وزیر اعظم پاکستان کے سامنے اٹھایا جائے۔
قادیانیوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی ایک مثال کے طور پر برطانیہ میں منعقد کی جانے والی ایک ایوارڈ تقریب کا حوالہ بھی دیا جا رہا ہے جس میں بہت سے پاکستانی فنکاروں نے بھی شرکت کی۔ کہا جا رہا ہے کہ برطانیہ میں منعقد کی جانے والی اس تقریب کے منتظمین قادیانی تھے۔ جنہوں نے پاکستان میں اپنا اثر ورسوخ بڑھانے کے مقصد کے تحت ایک ایوارڈ تقریب کا انعقاد کیا۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اس تقریب میں شرکت کے لئے پہنچنے والے سیاستدانوں اور فنکاروں کو بھاری معاوضوں پر برطانیہ مدعو کیا گیا۔ یہی نہیں کہ مدعو کئے گئے مہمانوں کو بھر پور شاپنگ بھی کروائی گئی۔ پاکستان میں قادیانیوں کے بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ کے حوالے سے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ پچھلے کئی سالوں سے قادیانی پاکستان میں اپنی اجارہ داری قائم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور اس سلسلے میں وہ حکمت عملی کے تحت پاکستان کے اہم ریاستی اداروں اور اعلیٰ ترین اختیاراتی اداروں میں بڑے عہدوں پر قادیانیوں کو بھرتی کروارہے ہیں۔ جس کے لئے بے دریغ پیسہ اور اثر و رسوخ استعمال کیا جارہا ہے۔ اگر اس معاملہ میں ذرا سی بھی سچائی موجود ہے تو پاکستان اور یہاں کے عوام کے لئے ایک تشویشناک پہلو اور حکومت کے لئے بھی لمحہ فکریہ ہے کہ قادیانیوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لئے ٹھوس اور جامع حکمت عملی اپنائے۔ حکومت کی ایک بڑی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ پاکستان کے تمام اداروں میں قادیانیوں کی بھرتیوں کے حوالے سے بلا تاخیر چھان بین کرے اور
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
قادیانیوں کی پشت پناہی کرنے والی غیر ملکی طاقتوں کو بے نقاب کرے اور ان پر واضح کرے کہ یہ ملک اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا تھا۔ اس میں قادیانیت کی قطعی طور پر کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ہر کلمہ گو مسلمان کا یہ ایمان ہے کہ نبی کریم ﷺ آخری نبی ہیں اور اب قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا۔
پنڈت جواہر لعل نہرو کے نام ایک خط میں علامہ اقبال نے فرمایا: قادیانی اسلام اور ملک دونوں کے غدار ہیں۔ قادیانیوں کے کفریہ عقائد وعزائم کی بنا پر ملک کی منتخب جمہوری حکومت نے متفقہ طور پر ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کو انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا اور آئین پاکستان کی شق (۲) ۱۰۶ اور (۳) ۲۶۰ میں اس کا اندراج کر دیا۔ جمہوری نظام حکومت میں کوئی بھی اہم فیصلہ ہمیشہ اکثریتی رائے کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ دنیا کی تاریخ کا واحد واقعہ ہے کہ حکومت نے فیصلہ کرنے سے پہلے قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا ناصر کو پارلیمنٹ کے سامنے اپنا نکتہ نظر پیش کرنے کے لئے بلایا۔ اسمبلی میں اس کے بیان کے بعد حکومت کی طرف سے اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار نے قادیانی عقائد کے حوالے سے اس پر جرح کی۔ جس کے جواب میں مرزا ناصر نے نہ صرف مذکورہ بالا تمام عقائد ونظریات کا برملا اعتراف کیا۔ بلکہ باطل تاویلات کے ذریعے ان کا دفاع بھی کیا۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ قادیانی پارلیمنٹ کے اس متفقہ فیصلے کو تسلیم کرنے سے یکسر انکاری ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ دنیا کی کوئی حکومت، پارلیمنٹ یا کوئی اور ادارہ انہیں ان کے عقائد کی بنا پر غیر مسلم قرار نہیں دے سکتا۔ بلکہ الٹا وہ مسلمانوں کو کافر اور خود کو مسلمان کہتے ہیں اور آئین میں دی گئی اپنی حیثیت تسلیم نہیں کرتے۔ قادیانی پوری دنیا میں شور مچاتے ہیں کہ پاکستان میں ہم پر ظلم ہورہا ہے۔ ہمارے حقوق غصب کئے جارہے ہیں۔ ہمیں آزادی اظہار نہیں ہے۔ وہ کبھی اقوام متحدہ سے اپیلیں کرتے ہیں، کبھی یہودیوں اور عیسائیوں سے دباؤ ڈلواتے ہیں۔ حالانکہ ہم بڑی سادہ سی جائز بات کہتے ہیں کہ تم مرزا قادیانی کو محمد رسول اللہ نہ کہو۔ کلمہ طیبہ مسلمانوں کا ہے۔ تم اس پر قبضہ نہ کرو۔ لیکن قادیانی اس سے باز نہیں آتے۔ بلکہ الٹا اسلام کے نام پر اپنے خود ساختہ عقائد ونظریات کی تبلیغ و تشہیر کرتے ہیں۔
تحریک لبیک بھی اپنا موقف پیش کرتے ہوئے قادیانیوں کے امریکہ سے روابط پر تنقید کرتی نظر آتی ہے۔ تحریک لبیک کا کہنا ہے کہ قادیانی اکثر و بیشتر امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقاتیں کرتے ہیں اور ٹرمپ کی بارگاہ میں شکایتیں لگانے کا مطلب اسے پاکستان کے خلاف اکسانا اور یہاں پر اپنا اثر و رسوخ بڑھانے میں حائل رکاوٹوں کی طرف توجہ دلانا ہوتا ہے۔ قادیانیوں کا مقصد نا صرف پاکستان میں اپنے عزائم کی تکمیل ہے بلکہ وہ کھل کر اینٹی اسٹیٹ کارروائیاں بھی شروع کرنا چاہتے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ حکومت پاکستان ان کے خلاف آئین کے مطابق کارروائی کرے۔ پاکستان میں یا بیرون ملک میں قادیانیوں کا کوئی بھی خیر خواہ شخص کبھی بھی پاکستان سے مخلص نہیں ہوسکتا۔ اس خدشہ کا بھی اظہار کیا جا رہا ہے کہ بعض مقتدر حلقے قادیانیوں کے لئے آسانیاں پیدا کرنے کے لئے آئین کو چھیڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس لئے یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ ۲۹۵ سی اور آئین میں موجود قادیانیوں کے خلاف شقوں کو چھیڑا گیا تو اسے ملک کے عوام کبھی برداشت نہیں کریں گے۔ عالمی سطح پر قادیانی جعلی مظلومیت کے ذریعے غیر مسلم قوتوں کو تیزی سے اپنا ہمنوا بنا رہے ہیں۔ امن اور قادیانیت آپس میں متضاد ہیں۔ قادیانیوں نے ہمیشہ بیرونی قوتوں کا آلہ کار بن کر پاکستان کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ اسلام و پاکستان کے کھلے دشمن ہیں اور وطن عزیز پاکستان کے خلاف ان کی سازشیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ ختم نبوت پر ایمان ہر مسلمان کے ایمان کا بنیادی جزو ہے۔ کلمہ طیبہ کی بنیاد پر حاصل کئے گئے ملک میں قادیانیوں کو اہم عہدوں سے فی الفور ہٹایا جائے اور اسلام و پاکستان دشمن سرگرمیوں سے روکا جائے۔ اس سلسلہ میں ناصرف حکومت اپنی آئینی اور شرعی ذمہ داریاں پوری کرے بلکہ عوام پر بھی یہ بھاری ذمہ
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قادیانیوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور ان کی نشاندہی بھی کرتے ہیں : کالم نگار سینئر صحافی ہیں۔
(روزنامہ خبریں ملتان اداراتی صفحہ ،مؤرخہ ۲۸؍اگست ۲۰۱۹ء، ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۹ء ص ۴۰ تا ۴۲)
قادیانی پیسوں سے پاکستانی فنکاروں کا لندن میں فراڈ ایوارڈ شو
فراڈیا عطاء الحق قادیانی لندن میں ایونٹ کرواتا ہے، کئی بار عابدہ پروین، راحت فتح علی، عارف لوہار کے نام پر ٹکٹیں فروخت کر کے منسوخ کر چکا۔ ٹکٹوں کے پیسے بھی واپس نہیں کئے۔
تقریب کا نام 10 THAPAA 2019 رکھا گیا۔ قادیانی عطاء الحق نے Glory ایونٹ مینجمنٹ کمپنی کے مالک عاطف انصاری اور مروہ انصر چودھری سے بھاری معاوضہ پر فنکاروں کی شرکت کا معاہدہ کیا۔ شو میں جاوید شیخ، بہروز سبزواری، عامر باکسر، احمد علی بٹ، میکال حسن، اعجاز اسلم، فیصل قریشی، رفاقت علی خان، اداکارہ ثناء، ریمبو، صاحبہ، انوشے، ہمایوں سعید، سہیل احمد، مومل شیخ اور رابی پیرزادہ شریک ہوئے۔ اینکر پرسن سہیل وڑائچ، وسیم بادامی، اقرار الحسن کی بھی شرکت۔ عطاء الحق (اے حق) ڈیم مہم کے نام پر بھی ذاتی اکاؤنٹ کھلوا کر برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں سے لاکھوں پاؤنڈ بٹور چکا ہے۔
لندن میں مقیم قادیانیوں نے ایسے وقت میں ایوارڈز تقریب منعقد کروائی جب بھارت کے کشمیریوں پر مظالم عروج پر ہیں، ایل. او. سی پر مسلسل حالات کشیدہ اور ہمارے فوجی جوان جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں۔
یہ وہی فرقہ ہے جو پوری دنیا میں پاکستان کا نام بدنام کر رہا ہے۔ اس کی حالیہ مثال ٹرمپ سے شکایت کرنے والا قادیانی تھا۔ فنکار چند ٹکوں کے عوض پاکستان کے خلاف سازشیں کرنے والی لابی کی تقریب میں شریک ہو جاتے ہیں۔
لندن (امداد حسین شہزاد) پاکستان اچیومنٹ ایوارڈ کے نام پر لندن میں بہت بڑے فراڈ کا انکشاف۔ پاکستان اچیومنٹ ایوارڈ کے منتظم عطاء الحق کا تعلق مرزائی کمیونٹی سے ہے۔ ایوارڈ کے علاوہ کئی مرتبہ پاکستان کے معروف فنکاروں کے نام پر شوز کی ایڈوانس ٹکٹیں فروخت کر کے عین وقت پر شوز منسوخ کر چکا ہے۔ تفصیلات کے مطابق لندن میں مرزائی کمیونٹی کی سرپرستی میں ہونے والے فراڈ ایوارڈز کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ پاکستان کا نام استعمال کر کے ان ایوارڈز کا اہتمام کرنے والا مشہور فراڈیا عطاء الحق عرف اے. حق عرف بوبی ٹیکسی ڈرائیور ہے۔ پاکستان اچیومنٹ ایوارڈز کے نام پر ہونے والے ان ایوارڈز کو لندن میں مقیم مرزائی کمیونٹی کی مکمل حمایت اور سرپرستی حاصل ہے۔ عطاء الحق عرف اے حق ٹیکسی ڈرائیور سے کروڑ پتی کیسے بنا۔ اس بارے میں بھی حیرت انگیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔ جن کے مطابق اے حق مختلف کاروباری افراد کو ایوارڈز تقریب میں پارٹنر بنا کر منافع کا لالچ اور خوبرو ادا کاراؤں کے ساتھ ملاقات کا جھانسا دیتا اور ایوارڈز کی تقریب کے بعد گھاٹے کا بہانہ بنا کر کمپنی بنا کر غائب ہو جاتا ہے اور پھر کچھ عرصے کے بعد ایک نئے فراڈ کے ساتھ منظر عام پر لوگوں کو لوٹنے کا دھندہ شروع کر دیتا ہے۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ چند ماہ قبل بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لئے چلائی جانے والی مہم کے دوران اے حق نے اپنے ذاتی اکاؤنٹ کھلوا کر برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی سے لاکھوں پاؤنڈز بٹور لئے۔ عطاء الحق عرف اے حق لندن کے بینکوں میں مختلف ناموں سے بینک اکاؤنٹ کھلوا کر نادہندہ ہونے کی وجہ سے بینک کرپٹ ڈکلیئر ہو چکا ہے۔ اے حق فراڈیا اس قدر شاطر ہے کہ ایک کمپنی بنانے کے ڈیفالٹ ہونے کے بعد اپنے یا اپنی بیوی کے نام پر ایڈریس بدل کر اور کسی دوسرے شخص کو جعلی ڈائریکٹر بنا کر اپنا الو سیدھا کر لیتا ہے۔ اے حق کے خلاف عدالتوں میں کئی مقدمات درج ہیں۔ واضح رہے کہ مرزا عطاء الحق لندن میں معروف
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا ثناءاللہ وسایا
گلوکاروں عابدہ پروین، راحت علی خان اور عارف لوہار کے نام پر شوز کی ٹکٹیں فروخت کر کے شوز منسوخ کر چکا ہے اور ٹکٹوں کے پیسے بھی واپس نہیں کئے۔ پاکستان اچیومنٹ ایوارڈ کے منتظم عطاء الحق کا تعلق مرزائی کمیونٹی سے ہے۔
(روزنامہ خبریں ملتان ص ۱، مورخہ ۲۰/اگست ۲۰۱۹ء)
مروہ انصر چودھری اینکر پرسن نہیں، پھر بھی ایوارڈ وصول کیا
لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) لندن میں قادیانیوں کے ایوارڈ کی تقریب منعقد ہوئی اور اس وقت جب پاکستان بھارت کے ساتھ کشمیر کے محاذ پر ہے اور ایل.او.سی پر فائرنگ کے ساتھ ساتھ ہمارے فوجی جوان بھی جام شہادت نوش فرما رہے ہیں یہ ایک ایسی تنظیم ہے جس کو پاکستان میں غیر مسلم تصور کیا جاتا ہے۔ اس ایوارڈ کو 10 THAPAA 2019 کا نام دیا گیا ہے۔ جس میں Glory PR ایونٹ منیجر اور مروہ انصر چودھری نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ مروہ انصر چودھری اینکر پرسن ہے ہی نہیں۔ اس کے باوجود سفارشی ایوارڈ وصول کیا۔
(روزنامہ خبریں ملتان ص ۱، مورخہ ۲۰/اگست ۲۰۱۹ء، ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۹ء ص ۴۳، ۴۴)
سعودی عرب اور اقوام متحدہ میں قادیانیوں کی سرگرمیاں
قادیانی فتنہ کی تازہ صورتحال پر ہمارے مخدوم مولانا زاہد الراشدی صاحب نے ذیل کا مضمون لکھا ہے۔ پہلے وہ ملاحظہ کریں۔ بعد میں آخر پر چند سطروں کا اضافہ بھی زیر نظر رہے ...... ادارہ !!
”حرمین شریفین اور حجاج کرام ومعتمرین کی مسلسل خدمت کی وجہ سے سعودی عرب عالم اسلام کی عقیدتوں کا مرکز ہے اور حرمین شریفین کے تقدس وتحفظ کے حوالے سے سعودی حکومت کے ساتھ ہم آہنگی ویکجہتی کا اظہار بلاشبہ ہمارے ایمانی تقاضوں میں شامل ہے۔ اس کے ساتھ ہی دینی وملّی امور میں رہنمائی کے لئے مسلمانوں کا سعودی عرب بالخصوص ”رابطہ عالم اسلامی“ اور سعودی علماء ومشائخ کی طرف متوجہ رہنا بھی فطری امر ہے۔ چنانچہ ۱۹۷۴ء کے دوران جب پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا مسئلہ درپیش تھا تو رابطہ عالم اسلامی کی ایک متفقہ قرارداد نے اس معاملہ میں بنیادی رہنمائی فراہم کی تھی، جو ۱۰؍ اپریل ۱۹۷۴ء کو اس کے مکہ مکرمہ کے اجلاس میں منظور کی گئی تھی اور اس میں قادیانیوں کو دائرہ اسلام سے خارج ایک کافر اور اسلام سے باغی گروہ قرار دیا گیا تھا۔ اسی طرح سعودی عرب کے مشائخ عظام وعلماء کرام نے مختلف مواقع پر امت مسلمہ کی رہنمائی کی ہے۔ جس کی بدولت اہل اسلام کو بہتر فیصلے کرنے میں مدد ملی ہے۔
مگر گزشتہ دنوں قادیانیوں کے حوالے سے ایک خبر نے تشویش کا ماحول پیدا کر دیا ہے کہ برطانیہ سے قادیانی رہنما لارڈ طارق احمد نے ایک وفد کے ہمراہ ۱۸؍ ستمبر ۲۰۱۹ء کو سعودی عرب کے وزیر مذہبی امور معالی الشیخ عبداللطیف آل الشیخ حفظہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کر کے انسانی حقوق اور مذہبی آزادیوں کے حوالے سے ان سے مذاکرات کئے ہیں۔ چنانچہ اس حوالے سے اس حقیقت کی ایک بار پھر یاددہانی ضروری ہوگئی ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے تمام مکاتب فکر کے علماء کرام نے متفقہ طور پر قادیانیوں کے دونوں گروہوں کو دائرہ اسلام سے خارج، کافر گروہ قرار دے رکھا ہے۔ جس کی توثیق ملک کی منتخب پارلیمنٹ نے دستوری ترمیم کے ذریعے ۱۹۷۴ء میں کی تھی اور عدالت عظمیٰ بھی متعدد بار اس کی توثیق کر چکی ہے۔ مگر قادیانی گروہ ان تمام فیصلوں کو مسترد کرتے ہوئے خود کو مسلمان کہلانے اور اسلام کے نام پر اپنے مذہب کے فروغ اور اس کی دعوت پر بضد ہے اور دنیا بھر میں اس انحراف اور بغاوت کا کھلم کھلا اظہار کر رہا ہے۔ جب کہ اس گروہ نے اپنی سرگرمیوں پر پردہ ڈالنے اور عالمی اداروں کے اثر ورسوخ کے ذریعے خود کو مسلمان تسلیم کرانے کے لئے ”انسانی حقوق“ کا عنوان اختیار کر رکھا ہے، جو سراسر مکروفریب ہے اور انسانی حقوق کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ اسی غرض سے قادیانی گروہ کے نمائندے مختلف مسلم
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حکومتوں سے رابطے کر کے اپنی مہم کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ حتیٰ کہ گزشتہ ماہ امریکی صدر ٹرمپ سے ایک قادیانی وفد نے ملاقات کر کے یہی شکایت کی ہے۔ نیز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک بین الاقوامی این جی او کی طرف سے پیش کردہ مختلف تجاویز اس وقت زیر بحث ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ حکومت پاکستان سے قادیانیوں کے بارے میں ملک کے دستور و قانون کی دفعات پر نظر ثانی کے لئے کہا جائے۔ جب کہ اس سلسلے میں پاکستان شریعت کونسل نے پاکستان کے وفاقی وزیر مذہبی امور صاحبزادہ ڈاکٹر نور الحق قادری سے باضابطہ درخواست کی ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی متعلقہ کمیٹی میں زیر بحث اس مسئلے کو معمول کی کارروائی سمجھنے اور محض سفارتی عملے کی صوابدید پر چھوڑ دینے کی بجائے حکومت پاکستان کی طرف سے نمائندگی اور وکالت کے لئے سرکردہ علماء کرام اور ممتاز قانونی ماہرین کا وفد بھیجا جائے۔ جیسا کہ جنوبی افریقہ کی سپریم کورٹ میں زیر بحث اسی مسئلے کے لئے سرکاری وفد بھیجا گیا تھا، جس نے سپریم کورٹ آف جنوبی افریقہ کو صحیح فیصلہ کرنے میں مدد دی تھی اور وہ فیصلہ مسلمانوں کے حق میں ہوگیا تھا۔
اس پس منظر میں ہمارا خیال ہے کہ برطانیہ کے قادیانی لارڈ طارق احمد کی سعودی عرب کے وزیر مذہبی امور سے مذکورہ ملاقات دنیا بھر کے مسلمانوں اور خاص طور پر عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے مسلسل محنت کرنے والے علماء کرام اور جماعتوں کے لئے باعث تشویش ہے۔ چنانچہ سعودی وزارت مذہبی امور سے ہماری استدعا ہے کہ قادیانی جماعت کو ایسی ملاقاتوں سے غلط فائدہ اٹھانے کا موقع نہیں ملنا چاہئے اور اس حوالے سے جلد کوئی نہ کوئی وضاحت سامنے آنی چاہئے تاکہ مسلمانوں کا اضطراب دور ہو۔ کیونکہ ”المملكة العربية السعودية“ حرمین شریفین کی مسلسل خدمت و انتظام اور ملت اسلامیہ کے مسائل میں مخلصانہ توجہات کی وجہ سے مسلمانان عالم کی عقیدت ومحبت کا مرکز ہے اور دنیا بھر کے مسلمان راہنمائی کے لئے اس کی طرف دیکھتے ہیں۔ اس لئے اس کی طرف سے ایسے کسی معاملہ میں ہلکی سی لچک کا شبہ بھی مسلمانوں کے لئے تشویش واضطراب کا باعث بن جاتا ہے۔
(روزنامہ اسلام ۲۹ ستمبر ۲۰۱۹ء)
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اقوام متحدہ اور سعودی عرب کو متذکرہ امور پر اپنی یاداشتیں بھجوائی ہیں۔ مناسب وقت پر ریکارڈ کے لئے انہیں شائع کر کے سامعین کے سامنے بھی لائیں گے۔ اللہ رب العزت نصرت فرمائیں۔ آمین بحرمة النبي الكريم!
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۹ء ص ۴۳)
اہل مغرب کی سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے گستاخوں سے دوستی
(عطاء محمد جنجوعہ) پاکستان کا قادیانی عبدالشکور متنازعہ اور ممنوعہ کتب بیچنے کے جرم میں گرفتار ہوا۔ ہائیکورٹ کے جج نے عدالتی کارروائی کے بعد اسے آٹھ سال قید اور جرمانہ کی سزا سنائی۔ امریکی ادارے ریلیجس فریڈم (کمیشن برائے مذہبی آزادی) نے اس سزا پر تنقید کی اور رہائی پر زور دیا اور اقوام متحدہ نے بھی سفارش کی۔ ساڑھے تین سال بعد اسے رہائی مل گئی۔ پھر اس نے امریکہ میں پناہ حاصل کرلی اور امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات کی اور نہایت مظلومانہ انداز میں اپنی داستان سنائی۔ امریکی صدر نے ہاتھ بڑھا کر اس سے ہاتھ ملایا اور تسلی دے کر رخصت کیا۔ انسانی فطرت کا تقاضا ہے کہ وہ اپنے مذہبی قائد سے والہانہ محبت کرتا ہے اور اس کے عقیدت مندوں سے دوستی کا رشتہ پیوست کرتا ہے۔ جب کہ ان کی توہین کرنے والوں سے نفرت کرتا ہے۔ لیکن صلیبی قوم کا رویہ اس کے متضاد ہے۔ یورپ اور امریکہ میں عیسائیوں کی اکثریت ہے جو عیسیٰ علیہ السلام کو ابن اللہ مانتے ہیں۔ لیکن ان کی دوستی یہودیوں اور قادیانیوں سے ہے جو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے بارے گستاخانہ نظریہ رکھتے ہیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
یہودی رویّہ:
سیدنا مسیح علیہ السلام نے نبوت ملنے کے بعد بنی اسرائیل کی اصلاح کی، ان تھک کوشش کی، انہیں تورات کے احکام یاد دلائے، ان کی غلطیوں کی نشان دہی کی، انجیل کے احکام سنائے اور سکھائے، مگر ماسوائے چند کے بگڑی قوم کی حالت نہ سنور سکی بلکہ یہودی سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے دشمن بن گئے۔ سیدنا زکریا علیہ السلام پر سیدہ مریم سے زنا کا الزام لگایا اور بالآخر ان کو اسی وجہ سے قتل کر دیا۔ سیدنا یحییٰ علیہ السلام نے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی تصدیق کی تو انہیں بھی حکومت کی وساطت سے مروا ڈالا۔ ان دونوں انبیاء کرام کے قتل کے بعد یہودی سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے دشمن بن گئے۔ یہودی احبار نے ان پر مقدمہ چلایا اور حکومت پر دباؤ ڈال کر انہیں سولی پر لٹکانے کی کوشش کی۔ عیسائی تسلیم کرتے ہیں کہ یہودیوں کی شکایت کرنے پر بادشاہ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ہی سولی دی۔ انجیل متی میں مذکور ہے: ”یسوع نے بڑی آواز سے چلا کر کہا: ”ایلی ایلی لما سبقتنی؟“ یعنی اے میرے خدا اے میرے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔،،
(متی: ۲۷:۴۶)
اور آپ نے چیخ چیخ کر جان دی پھر یوسف نامی شخص نے پلاطوس سے درخواست کی کہ لاش اس کے حوالے کر دی جائے۔ چنانچہ اس نے آپ کو قبر میں دبایا اور پھر چٹان رکھ دی۔ یہ جمعہ کی شام کا وقت تھا۔ پھر تین دن بعد اتوار کو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہو کر لوگوں کو دکھائی دیئے۔ پھر آسمان پر چڑھ گئے اور دوبارہ آنے کا وعدہ کر گئے۔ عقیدہ کفارہ کی عمارت اس پر کھڑی کی گئی۔ یہودی سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی مخالفت اور اپنی بداعمالیوں کی بناء پر معاشرہ میں نفرت کا نمونہ بن گئے۔ وہ در بدر نقل مکانی کرتے رہے۔ بالآخر یہودی لیڈروں نے مل کر ترکیب سوچی۔ انہوں نے یورپی حکمرانوں کو قرضے دے کر اثر و رسوخ حاصل کر لیا اور من پسند مقاصد حاصل کئے۔ اسرائیل کا قیام اس کی زندہ مثال ہے۔ سابقہ پوپ جان پال دوم نے بھی یہودی دباؤ کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے تھے اور صدیوں سے قائم عیسائیوں کے اس الزام سے اسرائیلیوں کو بری قرار دے دیا کہ: ”یہودی یسوع مسیح کے قاتل ہیں۔“
مزید برآں انہوں نے پروپیگنڈہ مہم تیز کر دی۔ چونکہ انجیل میں حضرت مسیح علیہ السلام کا قول مذکور ہے کہ: ”میں اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کی تلاش میں آیا ہوں۔“ اس بناء پر عیسائیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسرائیل کی حفاظت کے لئے جان پر کھیل جائیں۔ علاوہ ازیں ان کو یقین دلایا کہ سیدنا مسیح کے نزول پر یہودی ان پر ایمان لائیں گے۔ مذکورہ پروپیگنڈہ حقائق کے منافی ہے۔ نزول مسیح کے وقت عیسائی اسلام میں داخل ہو کر سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا ساتھ دیں گے جب کہ یہودی دجال کا ساتھ دیں گے۔
نزول مسیح کے وقت قوم یہود کی قیادت دجال کے ہاتھ میں ہوگی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لا کر دجال کو قتل اور اس کے ساتھی یہودیوں کا صفایا کریں گے۔ اس سے فارغ ہو کر قوم نصاریٰ کی غلطیوں کی اصلاح فرمائیں گے۔ ان کے اعتقادی بگاڑ کی بنیاد عقیدہ تثلیث، کفارہ اور صلیب پرستی پر مبنی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری سے عیسائیوں پر واضح ہو جائے گا کہ وہ دوسرے انسانوں کی طرح ایک انسان ہیں۔ اس طرح آپ کا وجود عقیدۂ تثلیث کی تردید کرے گا۔ کفارہ اور صلیب پرستی کا دارومدار اس پر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو معاذ اللہ سولی پر لٹکایا گیا۔ حضرت عیسیٰ کا بقید حیات ہونا عقیدہ کفارہ اور تقدس صلیب کی نفی ہوگی۔ اس طرح عیسائی اسلام کے حلقہ بگوش میں جائیں گے۔ اہل مغرب! آپ یہودیوں سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تعلقات قائم رکھیں لیکن ان پر اعتماد کر کے دوستی کے رشتہ میں پیوست نہ کریں۔ اس میں آپ کی فلاح اور کامیابی ہے۔
قادیانی عقیدہ:
جب کہ قادیانی نقطۂ نظر ہے کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام زندہ حالت میں آسمان پر نہیں اٹھائے گئے بلکہ بلوائیوں نے انہیں گرفتار کر لیا تھا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پھر ان کی توہین و تذلیل کی تھی۔ مارا پیٹا حتیٰ کہ اپنے خیال میں انہیں قتل کر ڈالا۔ جب وہ آپ کی نعش مبارک چھوڑ کر وہاں سے چلے گئے تو حواری جو بے بسی کی تصویر بن کر سارا منظر دیکھ رہے تھے، آہستہ آہستہ آگے بڑھے۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا معائنہ کیا تو پتہ چلا کہ مسیح علیہ السلام ابھی زندہ ہیں۔ چنانچہ انہیں وہاں سے کسی خفیہ جگہ پر منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج کیا گیا۔ وہ شفایاب ہوئے پھر ہجرت کر کے کشمیر آ گئے ۔ وہاں دعوت وتبلیغ میں رہ کر بالآخر وفات پا گئے اور وہیں دفن ہوئے ۔
قادیانیوں کے گرو مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے بارے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا: ’’تب تواتر سے اس بارہ میں الہامات شروع ہوئے کہ تو ہی مسیح موعود ہے۔‘‘
(اعجاز احمدی ص ۷، خزائن ج ۱۹ ص ۱۱۳)
اور سیدنا مسیح ابن مریم علیہما السلام کے بارے نازیبا اور توہین آمیز جملے تحریر کرتا رہا۔ ’’عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا اور اس دن سے کہ آپ نے معجزہ مانگنے والوں کو گندی گالیاں دیں اور ان کو حرام کار اور حرام کی اولاد ٹھہرایا۔ اسی روز سے شریفوں نے آپ سے کنارہ کر لیا۔‘‘
(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ۶ ، خزائن ج ۱۱ ص ۲۹۰)
’’ آپ (عیسیٰ علیہ السلام ) کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص ۷ ، خزائن ج ۱۱ ص ۲۹۱)
عیسائی صاحبان سیدنا مسیح ابن مریم علیہما السلام کو ابن اللہ کہتے ہیں۔ جب کہ قادیانی قائد کا موقف ہے کہ ان کا خدائی دعویٰ شراب خوری کا نتیجہ ہے: ’’یسوع اس لئے اپنے تئیں نیک نہیں کہہ سکا کہ لوگ جانتے تھے کہ یہ شخص شرابی ، کبابی ہے اور یہ خراب چال چلن ، خدائی کے بعد بلکہ ابتداء ہی سے ایسا معلوم ہوتا ہے۔ چنانچہ خدائی کا دعویٰ شراب خوری کا ایک بد نتیجہ ہے۔‘‘
(ست بچن حاشیہ ص ۱۷۲، خزائن ج ۱۰ ص ۲۹۶)
باعث تعجب ہے کہ یہودی سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ سیدہ مریم علیہا السلام پر الزام تراشی کریں اور عیسائی ان کو سر آنکھوں پر بٹھائیں اور عالمی سطح پر ان کو تحفظ فراہم کریں؟ قادیانی قائد مرزا غلام احمد برملا بہتان تراشی کر کے کہ عیسیٰ علیہ السلام شراب کے نشہ میں خدائی دعویٰ کرتا تھا۔ زنا کار اور کسبی عورتوں کے خون سے عیسیٰ علیہ السلام کا وجود ظہور پذیر ہوا۔ ان توہین آمیز نظریہ رکھنے والے قادیانیوں کا برطانیہ میں ’’احمدیہ مسلم کمیونٹی‘‘ ہیڈ کوارٹر ہے۔ یورپ ان کو سیاسی پناہ کی آڑ میں ویزے جاری کرے اور امریکی صدر ہاتھ بڑھا کر ان کو تعاون کا یقین دلائے۔ حالانکہ مغرب کا یہ رویہ انسانی فطرت کے منافی اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی عقیدت و محبت سے متعلق منافقانہ کردار ہے۔ اللہ سبحانہ نے نوع انسانی کی راہنمائی کے لئے یکے بعد دیگرے انبیاء کرام علیہم السلام کو اپنا سفیر بنا کر مبعوث فرمایا۔ جن کے کردار کو داغدار بنا کر پیش کرنا اللہ تعالیٰ کے انتخاب پر انگلی اٹھانے کے مترادف ہے۔
موجودہ دور کے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کریں۔ مثلاً امریکہ اپنا سفیر کسی ملک میں تعینات کرتا ہے اس ملک کا سربراہ اس سفیر سے توہین آمیز سلوک کرے تو امریکہ یقیناً اسے اپنی توہین تصور کرے گا۔ اسی طرح انبیاء کرام علیہم السلام کی شان اقدس میں گستاخی دراصل ان کو مبعوث کرنے والی اللہ سبحانہ کی ذات کی توہین ہے۔ اس بناء پر توہین رسالت کے قانون پر کسی کا اعتراض کرنا نامناسب فعل ہے۔
عیسائی قوم پر حیرت ہے کہ وہ اپنا دشمن مسلمان قوم کو تصور کرتے ہیں جو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کا مقرب اور معصوم نبی تسلیم کرتے ہیں۔ سیدہ مریم علیہا السلام ہیکل کے حجرہ میں مقیم رہ کر اللہ کی عبادت میں مصروف رہا کرتی تھیں۔ اللہ سبحانہ کے حکم سے فرشتوں نے کہا: ’’ يَا مَرْيَمُ اِنَّ اللّٰهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ اسْمُهُ الْمَسِيْحُ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَجِيْهًا فِی الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِيْنَ (۴۵) وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَ كَهْلاً وَّمِنَ الصَّالِحِيْنَ (آل عمران: ۴۵، ۴۶) ‘‘ اے مریم ! اللہ تعالیٰ تجھے
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اپنے ایک کلمہ کی خوشخبری دیتا ہے جس کا نام مسیح عیسیٰ بن مریم ہے۔ وہ دنیا و آخرت میں ذی عزت ہے اور وہ میرے مقربین میں سے ہے۔ وہ لوگوں سے اپنے گہوارے میں باتیں کرے گا اور ادھیڑ عمر میں بھی اور وہ نیک لوگوں میں سے ہوگا۔ ﴿﴾
سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو تیس سال کی عمر میں نبوت ملی۔ اس کے بعد تین سال مسلسل دین کی تبلیغ میں مصروف رہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی معجزات سے بھرپور ہے۔ آپ کی پیدائش والد کے نطفہ کے بجائے نفخۂ جبرائیل سے ہوئی۔ آپ نے مہد میں کلام کر کے والدہ کی پاک دامنی کا تذکرہ فرمایا۔ آپ مردوں کو اللہ کے حکم سے زندہ کرتے تھے۔ یہودیوں نے ان کو سولی پر لٹکانے کی کوشش کی۔ اللہ تعالیٰ نے معجزانہ طور پر انہیں دشمنوں کی دسترس سے بچا کر آسمانوں پر اٹھا لیا۔ پھر قیامت کے قریب ان کا نزول ہوگا۔ آپ ادھیڑ عمر میں باتیں کریں گے۔ سیدنا مسیح علیہ السلام کے دشمن یہودیوں، عیسائیوں کا سیدنا مسیح علیہ السلام کے دشمن یہودی اور قادیانیوں کو سینہ سے لگانا لیکن ان کو اللہ کا برگزیدہ معصوم نبی تسلیم کرنے والوں کو اپنا دشمن تصور کرنا خیر و شر میں تمیز نہیں بلکہ عدل وانصاف کے منافی عمل ہے۔
اہل مغرب ! آپ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو ابن اللہ پکارتے ہیں لیکن جن قادیانیوں کو مظلوم سمجھ کر تم تحفظ فراہم کرتے ہو ان کے قائد مرزا غلام احمد قادیانی کے والد کا نام مرزا غلام مرتضیٰ، اس کی والدہ کا نام چراغ بی بی ہے۔ انڈیا کے قصبہ قادیان میں پیدا ہوا۔ جس نے مسیح موعود کا دعویٰ کیا اور کہا: ”خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے اور اس نے اس دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا۔“
(دافع البلاء ص ۱۳، خزائن ج ۱۸ ص ۲۳۳)
مرزا نے دوسری جگہ دعویٰ کیا ؎
(دافع البلاء ص ۲۰، خزائن ج ۱۸ ص ۲۴۰)
اہل مغرب ! آپ انجیل کو مانتے ہیں اور آپ کے سربراہ انجیل پر حلف اٹھاتے ہیں، لیکن اس کا مطالعہ کرنے کی زحمت نہیں کرتے۔ جس میں صاف لکھا ہوا ہے: ”کیونکہ بہتیرے میرے نام سے آئیں گے اور کہیں گے میں مسیح ہوں اور بہت سے لوگوں کو گمراہ کریں گے۔“
(متی: ۲۴:۵)
”اور بہت سے جھوٹے نبی اٹھ کھڑے ہوں گے اور بہتیروں کو گمراہ کریں گے۔“
(متی: ۲۴:۱۱)
انجیل نے جن کو گمراہ قرار دیا ہے۔ مسلمان بھی ان کو گمراہ کہتے ہیں۔ پاکستان کی پارلیمنٹ نے بھی ان کو گمراہ سمجھ کر غیر مسلم اقلیت قرار دیا ہے۔ اس لحاظ سے پاکستان کی پارلیمنٹ پر اعتراض کرنا غیر مناسب فعل ہے۔ اہل مغرب ! آپ اس پہلو پر غور کریں۔ ریاستی سربراہ نے کسی کو اپنا جانشین نامزد نہ کیا ہو۔ اگر کوئی شہری خواہ مخواہ دعویٰ کرے کہ میں نائب ہوں اور جعلی ضابطے جاری کرنا شروع کر دے تو وہ ریاست کی نظروں میں باغی تصور ہوگا۔ قادیان (انڈیا) کے مرزا غلام احمد نے یکے بعد دیگرے مجدد، مسیح موعود اور نبوت کا دعویٰ کیا اور اعلان کیا کہ میں عیسیٰ ابن مریم سے بڑھ کر ہوں اور وہ اللہ تعالیٰ کے ضابطوں کو منسوخ کرتا اور نئے احکامات جاری کرتا رہا۔ جس کا مسیح ابن مریم علیہ السلام سے دور کا بھی تعلق نہ ہو تو اس کا دجل وفریب یقیناً باغیانہ ہے۔ جعلی مسیح کے پیروکاروں نے یورپ اور امریکہ میں احمدیہ کمیونٹی مراکز قائم کئے ہوئے ہیں۔ سیدنا مسیح علیہ السلام کو خدائی درجہ دینے والوں کا فرض ہے کہ ان کی قانونی طور پر باز پرس کریں کہ تم نے مسیح علیہ السلام کے کردار اور ان کے خاندان پر الزام تراشی کیوں کی ہے؟
اہل مغرب ! سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی ذات کو مرکز مان کر جائزہ لیں تو یقیناً یہودی تمہارے دوست نہیں دشمن ہیں اور مسلمان تمہارے
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
خیر خواہ ہیں جو تم سب کو اس امر کی دعوت دیتے ہیں کہ سیدنا مسیح ابن مریم علیہما السلام ابن اللہ نہیں بلکہ وہ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس پہلو پر غور وفکر کی توفیق دے۔ آمین!
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۹ء ص ۲۲ تا ۲۶)
قادیانیوں سے ترک موالات کی شرعی حیثیت؟
( مولانا محمد حبیب ) قرآن وسنت کی تعلیمات اور قطعیات سے یہ مسئلہ اظہر من الشمس ہے کہ نبی آخرالزمان حضرت محمد محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد تا صبح قیامت کوئی بھی نیا نبی یا رسول نہیں ہوگا۔ ۱۹۷۴ء میں پاکستان کی قومی اسمبلی نے بھی متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ جھوٹے مدعی نبوت مرزا قادیانی کو ماننے والے دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ ۱۹۸۴ء میں امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری ہوا۔ جس کی رو سے کوئی بھی قادیانی کسی بھی شعائر اسلام کو استعمال نہیں کر سکتا۔ علاوہ ازیں تمام مکاتب فکر کے فتویٰ جات بھی ’’فتاویٰ ختم نبوت‘‘ کے نام سے موجود ہیں۔
ذیل میں پیر محل ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کے ایک رہائشی نے اگست ۲۰۱۹ء میں صورت مسئولہ کی ایک تحریر مرتب کر کے تین مکاتب فکر کے دارالافتاؤں سے جوابات چاہے صورت مسئولہ پر جو جوابات موصول ہوئے۔ بالترتیب ملاحظہ فرمائیں: (۱) جواب بریلوی مکتب فکر۔ (۲) جواب دیوبندی مکتب فکر۔ (۳) جواب اہل حدیث مکتب فکر
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
سوال : کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں پیرمحل ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کا رہائشی اور پیرمحل میں ایک جیولر ہوں۔ ہماری جیولرز یونین میں چار دکانیں قادیانیوں / مرزائیوں کی ہیں۔ کافی عرصہ سے وہ لوگ قادیانیت کی تبلیغ بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ کئی واقعات سامنے ہیں۔ چند باتیں شرعی نقطۂ نظر سے معلوم کرنا چاہتے ہیں۔ شرعی طور پر رہنمائی فرمادیں۔
- ۱...... بحیثیت ایک مسلمان جیولر، قادیانی جیولر سے کسی طرح کا کوئی لین دین کرسکتا ہے یا نہیں؟
- ۲...... قادیانی جیولروں کی کسی فوتگی کی وجہ سے اظہار ہمدردی میں مسلمان جیولرز اپنی دکانیں بند کریں گے یا نہیں؟
- ۳...... قادیانی ہماری یونین کا حصہ بن سکتے ہیں یا نہیں یا پھر ان کو یونین سے نکالنا کیسا ہے؟
- ۴...... یونین اگر مسلمان جیولروں کے کہنے پر قادیانیوں کو یونین سے نہ نکالیں تو اس صورت میں مسلمان جیولروں کو ایک الگ یونین جس
میں قادیانی شامل نہ ہوں بنانے کا حق حاصل ہے یا نہیں؟
والسلام مع الاکرام! محمد شمس پیرمحل ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
الجواب بعون الملک الوہاب اللہم ہدایۃ الحق والصواب
قادیانی مرزائی اپنے عقائد کفریہ رذیلہ کے سبب کافر ومرتد ہیں اور قادیانیت کا تعارف کروا دینا زیادہ مناسب ہے تاکہ تفہیم جواب میں آسانی ہو۔ قادیانیت کیا ہے؟ قادیانیت محمد عربی ﷺ سے بغاوت کا نام ہے۔ قادیانیت سرکار دو عالم ﷺ کی ختم نبوت پر ڈاکہ زنی اور قزاقی کا نام ہے۔ قادیانیت یہودیت کا دوسرا نام ہے اور بقول علامہ اقبال قادیانیت یہودیت کا چربہ ہے۔ قادیانیت جناب سید عالم ﷺ کی سچی اور سُچی نبوت کے مقابل مرزا قادیانی کی مکروہ انگریزی نبوت کا نام ہے۔ قادیانیوں کے دو فرقے ہیں۔ ان کی غالب
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اکثریت مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی اور رسول مانتی ہے۔ دوسرا فرقہ مرزا قادیانی کو مجدد اور محدث مانتا ہے۔ اس کو لاہوری جماعت کہا جاتا ہے۔ یہ دونوں فرقے جو مرزا قادیانی کو نبی اور رسول مانتے ہیں اور جو اسے مجدد یا مصلح یا مذہبی پیشوا مانتے ہیں، کافر ہیں اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ مورخہ ۳۰؍ جون ۱۹۷۴ء کو جو قرارداد پیش کی گئی اور جس کی وجہ سے پاکستانی آئین وقانون میں ان کو کافر قرار دیا گیا، اس کے متن میں بھی یہ بات شامل ہے کہ قادیانیوں کے یہ دونوں فرقے کافر خارج از اسلام ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی مشرقی پنجاب کے ضلع گورداسپور کے ایک گاؤں قادیان میں ۱۸۴۰ء میں پیدا ہوا۔ وہ لکھتا ہے کہ: ”جب اس کی عمر چالیس سال کی ہوگئی تو اس پر زور شور سے مکالمات الہیہ کا سلسلہ شروع ہوا ۔“
(تریاق القلوب ص ۶۸، خزائن ج ۱۵ ص ۲۸۳)
بھارت کے صوبہ مشرقی پنجاب کے ضلع گورداسپور کے گاؤں قادیان کے رہنے والے اس کذّاب نے یکدم ہی نبوت کا دعویٰ نہیں کیا بلکہ یہ بدبخت کبھی عالم کے روپ میں سامنے آیا۔ کبھی ایک سازش کے تحت عیسائیوں سے مناظرے کر کے ایک مناظر کی شکل میں ظاہر ہوا۔ کبھی اپنی تعلیمات کے اشتہارات شائع کر کے سستی شہرت حاصل کرتا رہا۔ کبھی اپنے آپ کو مجدد کہا۔ کبھی مامور من اللہ بنا۔ کبھی ملہم بنا۔ کبھی خود کو محدث کہا۔ کبھی مسیح موعود ہونے کا اعلان کیا۔ کبھی ظلی و بروزی نبی بنا۔ کبھی ظلی طور پر محمد رسول اللہ بنا اور آخر میں ۱۹۰۱ء میں تمام حدود پھلانگتے ہوئے اپنی نبوت و رسالت کا اعلان کر دیا۔ مرزا قادیانی اور اس کی امت خبیثہ کے عقائد باطلہ ملاحظہ فرمائیں کہ ان خبیثوں نے کس طرح شعائر اور اصطلاحات اسلامی کو مسخ کرنے کی ناپاک جسارت کی ہے۔ ان قزاقوں کے ، اللہ تعالیٰ ، حضور نبی کریم ﷺ ، انبیاء کرام علیہم السلام ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ، قرآن وسنت اور مسلمانوں کے بارے میں عقائد خبیثہ ملاحظہ ہوں۔
خدا تعالیٰ کی توہین:
- ☆...... ”وہ خدا جو ہمارا خدا ہے ایک کھا جانے والی آگ نعوذ باللہ ہے۔“
(سراج منیر ص ۶۲، خزائن ج ۱۲ ص ۶۴)
- ☆...... ”میں نے خواب میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں۔ میں نے یقین کر لیا کہ میں وہ ہی ہوں۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ۵۶۴، خزائن ج ۵ ص ۵۶۴ / کتاب البریہ ص ۷۸، خزائن ج ۱۳ ص ۱۰۳)
حضور نبی کریم ﷺ کی توہین:
- ☆...... ”نبی ﷺ سے دین کی اشاعت مکمل نہ ہوسکی۔ میں نے پوری کی ہے۔“
(حاشیہ تحفہ گولڑویہ ص ۱۰۱، خزائن ج ۱۷ ص ۲۶۳)
- ☆...... مرزا قادیانی اپنے بارے میں کہتا ہے: ”میں بار ہا بتا چکا ہوں میں بموجب آیت : وآخرین منھم لم یلحقوا بھم بروزی
طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں جو خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے اور مجھے آنحضرت کا ہی وجود قرار دیا ہے۔“ نعوذ باللہ!
(ایک غلطی کا ازالہ ص ۵، خزائن ج ۱۸ ص ۲۱۲)
انبیاء کرام علیہم السلام کی توہین:
- ☆...... ”میں خود اس بات کا قائل ہوں کہ دنیا میں کوئی ایسا نبی نہیں آیا جس نے کبھی اجتہادی غلطی نہیں کی۔“ نعوذ باللہ !
(تتمہ حقیقت الوحی ص ۱۳۵، خزائن ج ۲۲ ص ۵۷۳)
- ☆...... ”زندہ ہوا ہر نبی میری آمد سے تمام رسول میرے کرتے میں چھپے ہوئے ہیں۔“
(نزول المسیح ص ۱۰۰، خزائن ج ۱۸ ص ۴۷۸)
- ☆...... ”خدا تعالیٰ میرے لئے اس کثرت سے نشان دکھلا رہا ہے کہ اگر نوح علیہ السلام کے زمانہ میں وہ نشان دکھلائے جاتے تو وہ لوگ غرق
نہ ہوتے۔“ نعوذ باللہ !
(تتمہ حقیقت الوحی ص ۱۳۷، خزائن ج ۲۲ ص ۵۷۵)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین:
مسیح کا چال چلن کیا تھا؟ ایک کھاؤ پیو، نہ زاہد نہ عابد، نہ حق کا پرستار، متکبر، خود بین، خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔ نعوذ باللہ!
(مکتوبات احمدیہ ج ۳ ص ۲۱ تا ۲۴)
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی توہین:
- ☆...... ”ابوبکر ؓ وعمر ؓ کیا تھے؟ وہ تو حضرت غلام احمد کی جوتیوں کے تسمے کھولنے کے بھی لائق نہ تھے۔“
(ماہنامہ المہدی بابت جنوری، فروری ۱۹۱۵ء، ۲ / ۳، ص ۷۵، احمدیہ انجمن اشاعت لاہور)
- ☆...... ”پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑو۔ اب نئی خلافت لو۔ ایک زندہ علی تم میں موجود ہے۔ تم اس کو چھوڑتے ہو اور مردہ علی (ؓ) کو
تلاش کرتے ہو۔“ نعوذ باللہ!
(ملفوظات احمدیہ ج ۱ ص ۳۱)
- ☆...... اعلیٰ حضرت، امام اہل سنت، مجدد دین وملت امام احمد رضا خان لکھتے ہیں: ”علمائے حرمین شریفین نے قادیانی کی نسبت بالاتفاق
فرمایا کہ: ”من شک فی عذابہ و کفرہ فقد کفر“ جو اس کے عذاب اور کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔“
(فتاویٰ رضویہ ج ۱۴ ص ۳۲۱)
- ۱...... قادیانیوں کے ساتھ لین دین کرنا جائز نہیں بلکہ ہر طرح کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے۔
- ۲...... اگر کوئی قادیانی مرجائے تو ان کے ساتھ تعزیت یا اظہار ہمدردی حرام ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے۔ ”وامــــــــــا
ینسیّنک الشیطان فلا تقعد بعد الذکریٰ مع القوم الظالمین“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور جو کہیں تجھے شیطان بھلا دے تو یاد آنے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔
(سورۃ الانعام:۶۸)
حدیث مبارکہ ہے: ”ولاتواکلوھم ولا تشاربوھم ولاتناکحوھم“ اور نہ ان کے ساتھ کھاؤ اور نہ پیو اور نہ ان سے نکاح کرو۔
(الضعفاء الکبیر ج ۱ ص ۱۲۶، دارالکتب العلمیہ بیروت، فتاویٰ رضویہ ج ۱۱ ص ۴۷۲)
قرآن پاک میں اللہ کا ارشاد ہے: ”ولا تصل علی احد منھم مات ابداً ولا تقم علی قبرہ“ اور آپ ان میں سے کسی کی میت پر نماز نہ پڑھیں اور نہ (کبھی) ان میں سے کسی کی قبر پر کھڑے ہوں۔
(سورۂ توبہ:۸۴)
حضور ﷺ نے بد مذہبوں کے بارے فرمایا: ”ان مرضوا فلاتعودھم وان ماتوا فلاتشھدوھم وان لقیتمواھم فلاتسلموا علیھم“ اگر بیمار پڑ جائیں تو ان کی عیادت نہ کرو اور اگر مرجائیں تو ان کی نماز جنازہ (فاتحہ خوانی) نہ پڑھو اور اگر تمہیں ملیں تو ان کو سلام نہ کرو۔
(ابن ماجہ ص ۱۰)
- ۳، ۴...... قادیانیوں کو مسلمان یونین کا حصہ بنانا یا کسی مسلمان کا قادیانی یونین کا حصہ بننا دونوں چیزیں ناجائز ہیں اگر انہیں مسلمانوں کی
یونین سے نہ نکالا جائے تو مسلمانوں کو الگ سے اپنی یونین بنانا لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب!
کتبہ: (مفتی) سید علی زین العابدین کرمانی غفرلہ دارالافتاء جامعہ نعیمیہ گڑھی شاہو لاہور ۲۶/ ذی الحجہ ۱۴۴۰ھ، بمطابق ۲۸/ اگست ۲۰۱۹ء
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
الجواب باسم ملہم الصواب
واضح رہے کہ قادیانی لوگ اجماع امت سے کافر ہیں۔ مگر چونکہ وہ لوگ اپنے کفریہ عقائد میں باطل تاویلات کر کے انہیں اسلامی عقائد قرار دیتے ہوئے خود کو مسلمان کہلوانے پر اصرار کرتے ہیں۔ اس لئے شرعاً وہ زندیق قرار پاتے ہیں اور زندیق شریعت کی نظر میں عام کافروں سے زیادہ خطرناک ہیں۔ اس لئے زندیق سے ہر قسم کے تعلقات رکھنے کو منع کیا گیا ہے۔
لہٰذا قادیانیوں سے ہر قسم کے کاروباری و دوستانہ معاملات و تعلقات سے بچنا لازم ہے۔ ان سے لین دین کرنا، فوتگی کی وجہ سے دکانیں بند کرنا، ان کو یونین کا حصہ بنانا جائز نہیں۔ فقط : واللہ اعلم بالصواب!
عبید اللہ مجددی عفی عنہ دار الافتاء جامعہ اشرفیہ لاہور مؤرخہ ۲۶/ ذو الحجہ ۱۴۴۰ھ / ۲۸/ اگست ۲۰۱۹ء
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
الجواب بعون الوهاب وهو الموفق للصواب
فاقول وبالله التوفيق!
- ۱...... نہیں ۔
- ۲...... نہیں ۔
- ۳...... مسلمان کی یونین کا حصہ نہیں بن سکتے۔
- ۴...... حق ہے۔
هذا ما عندى والله اعلم بالصواب!
جامعہ تعلیم الاسلام ماموں کانجن ضلع فیصل آباد ...... ۲۶/ اگست ۲۰۱۹ء
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۹ء ص ۲۷ تا ۳۱)
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مجلس شوریٰ کا اجلاس
(حافظ محمد انس) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر صاحب دامت برکاتہم کے فرمان مبارک پر مجلس شوریٰ کا اجلاس ۱۷/ اکتوبر ۲۰۱۹ء بروز سوموار کو جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی میں منعقد ہوا۔ جس کی صدارت حضرت الامیر دامت برکاتہم نے فرمائی۔
اجلاس کا آغاز مولانا قاری محمد یاسین مدظلہ کی تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔ ابتدائی کلمات ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ نے ارشاد فرمائے۔ سابقہ اجلاس کی کارروائی پڑھ کر سنانے کی سعادت راقم الحروف کے حصہ میں آئی۔ حضرت الامیر مدظلہ نے سابقہ اجلاس کی کارروائی سماعت فرمانے کے بعد توثیقی دستخط فرمائے۔ فوت شدگان اور بیماروں کے لئے حضرت الامیر مدظلہ کے حکم پر حضرت نائب امیر مرکزیہ مولانا حافظ پیر ناصر الدین خاکوانی مدظلہ نے دعاء کرائی۔
مجلس شوریٰ کے اجلاس کے اہم فیصلے:
- ۱...... مولانا مفتی خالد محمود صاحب (اقراء روضۃ الاطفال کراچی) کی تجویز مبارکہ پر مجلس شوریٰ نے فرمایا کہ مجلس کے کام کا دائرہ کار
سکول و کالج ، یونیورسٹیز تک کام کو مزید سے مزید پھیلایا جائے تاکہ اس نوجوان نسل میں عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت اور قادیانیت کی زہرناکیوں کو اجاگر کیا جائے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۲ ...... مجلس کوئٹہ کے دفتر کے لئے بھی فیصلہ کیا گیا کہ مجلس کوئٹہ کے مقامی احباب باہمی مشاورت سے دفتر کی جدید تعمیر کا فیصلہ کرنے کے
بعد ملتان مرکز کے مشورہ سے دفتر کوئٹہ جس کی عمارت بوسیدہ ہوچکی ہے اس کو گرا کر نئے سرے سے جدید طرز پر تعمیر کیا جائے۔
- ۳ ...... گوجرانوالہ میں سیالکوٹی دروازے کے قریب مجلس کا جو پرانا دفتر ہے جس کی عمارت کافی بوسیدہ ہوچکی ہے اس کے متعلق فیصلہ
کیا گیا کہ ناظم مالیات مولانا اللہ وسایا صاحب گوجرانوالہ شہر کا ایک دورہ کریں اور مقامی احباب میں اتفاق رائے کو ہموار فرمائیں۔ اتفاق رائے ہو جانے کے بعد اس دفتر کو فروخت کر دیا جائے اور اس کی رقم مجلس کے بیت المال میں جمع کرائی جائے۔ پھر کسی موزوں جگہ پر اسے صرف کیا جائے۔
- ۴ ...... اجلاس شوریٰ میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ آنے والے وقتوں میں گوادر شہر کی اہمیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے وہاں پر بھی ابھی سے
ہی مجلس کے لئے کوئی مناسب قطعہ اراضی خرید کر لیا جائے تا کہ آنے والے وقتوں میں وہاں مجلس کے کام کو وسعت دی جاسکے۔
قارئین کرام ! عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملک کے اندر واحد جماعت ہے جس کے ادنیٰ سے ادنیٰ کارکن سے لے کر امیر مرکزیہ تک تمام حضرات صرف اور صرف رضائے الٰہی اور شفاعت محمدی ﷺ کے حصول کے لئے مجلس کے ساتھ وابستہ ہیں۔ کوئی بھی فرد یا رکن عہدہ کی لالچ کی خاطر مجلس سے وابستہ نہیں ہے۔ اکابرین کے فرامین کے مطابق تحفظ ختم نبوت کا کام کرنا براہ راست حضور اکرم ﷺ کی ذات کا تحفظ کرنا ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ یہ بہت بڑی سعادت اور خوش بختی کی بات ہے لیکن ان تمام تر باتوں کے باوجود جو حضرات عہدوں پر موجود ہیں ان حضرات کی بھی کوشش ہوتی ہے کہ میری جگہ کسی اور کو یہ منصب دیا جائے۔ کہیں مبادا مجھ سے اس منصب کے تقاضوں میں کوئی کمی نہ رہ جائے۔ مجھے وہ اجلاس شوریٰ بھی اچھی طرح یاد ہے کہ جس میں مجلس کے سابقہ امیر مولانا عبدالمجید لدھیانوی کی وفات کے بعد مولانا ڈاکٹر صاحب مدظلہ کو امیر نامزد کیا گیا تو مولانا ڈاکٹر صاحب نے اوّلاً شدید انکار فرمایا کہ مجھے امیر نہ بنایا جائے۔ کسی اور کو نامزد کریں۔ لیکن جب اجلاس کے تمام شرکاء نے حضرت کے حق میں ہی حمایت کا اعلان کیا تو حضرت الامیر اس طرح بلبلا کے روئے جس طرح بچے روتے ہیں۔ حضرت الامیر کے رونے پر تمام شرکائے اجلاس پر عجیب کیفیت طاری ہو گئی تھی۔ اس دفعہ پھر اجلاس میں حضرت الامیر نے ایک مرتبہ پھر کمال در کمال عاجزی کا مظاہرہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ میں کمزور بھی ہوں، بیمار بھی۔ اس لئے آپ حضرات کسی اور کو منتخب فرمالیں۔ لیکن پھر نائب امیر مرکزیہ مولانا صاحبزادہ عزیز احمد صاحب نے سب کی طرف سے نمائندگی فرماتے ہوئے حضرت الامیر سے درخواست کی۔ ہم آپ کی تمام باتوں میں اتباع کریں گے مگر اس حکم میں آپ ہمیں معذور سمجھیں۔ ہم سارے آپ سے دست بستہ درخواست کرتے ہیں کہ آپ ہمیں اپنی شفقتوں اور سرپرستی سے محروم نہ فرمائیں۔ پورے ہاؤس نے اس کی تائید فرمائی۔
حضرت الامیر مدظلہ کی سماعت کا بھی کچھ عذر ہے۔ اللہ کریم صحت وعافیت سے نوازیں۔ حضرت کے صاحبزادے مولانا سعید اسکندر خان مدظلہ نے حضرت الامیر کے کان مبارک کے قریب جا کر یہ بات عرض کی تو حضرت الامیر نے اس درخواست کو قبول فرمایا۔ بعد ازاں حضرت خاکوانی صاحب مدظلہ کی رقت آمیز دعاء پر اجلاس اختتام پذیر ہوا۔ آخر میں میں مجلس کی طرف سے جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی کے تمام منتظمین بالخصوص مولانا محمد سلیمان بنوری، مولانا سعید اسکندر اور مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ صاحب امیر مجلس کراچی استاذ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اجلاس کے لئے بہترین سے بہترین انتظامات فرمائے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۱۹ء ص۴۴، ۴۵)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مجلس عمومی کا اجلاس
مؤرخہ ۱۱؍اکتوبر ۲۰۱۹ء بروز جمعہ بمقام جامع مسجد ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان پاکستان ایک رجسٹرڈ ادارہ ہے، جس کے دستور کے مطابق درج ذیل اغراض ومقاصد ہیں: (۱) تبلیغ واشاعت اسلام حدیث ’’انا علیہ واصحابی‘‘ کی روشنی میں۔ (۲) اصلاح عقائد واعمال، صحابہ، تابعین، ائمہ دین کی نشاندہی کے مطابق بالخصوص ’’عقیدۂ ختم نبوت کا تحفظ‘‘ جس کے لئے مندرجہ ذیل ذرائع اختیار کئے جاتے ہیں۔
مبلغین، شعبہ نشر واشاعت، دینی مدارس کا قیام، تعلیم بالغان، تعلیم نسواں۔ مجلس تحفظ ختم نبوت مذکورہ تبلیغی، تعلیمی واصلاحی فریضہ وطن عزیز کی مروجہ سیاسیات سے بالاتر ہوکر سرانجام دے گی۔ مجلس کی غیرسیاسی ہونے کی حیثیت کو مجلس شوریٰ بھی تبدیل نہیں کرسکے گی۔ ہر وہ شخص جو عاقل وبالغ ہو مرد ہو یا عورت اور وہ تمام ایسی عادات جو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کے خلاف ہوں ان سے پاک ہو۔ وہ مجلس کا ممبر بن سکتا ہے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کی ممبرشپ تین سال کے لئے ہوتی ہے۔ رکنیت فیس مبلغ ۱۰ روپے ہے۔
امسال بھی ملک بھر میں مجلس تحفظ ختم نبوت کی ممبرشپ کی گئی۔ ممبرشپ مکمل ہونے اور مقامی جماعتی نظام کی تشکیل کے بعد مرکزی تنظیم کے انتخاب کے لئے مجلس عمومی کا اجلاس ۱۱؍اکتوبر بروز ۲۰۱۹ء بروز جمعۃ المبارک مسلم کالونی چناب نگر میں منعقد ہوا۔ جس کی صدارت نائب امیر مرکزیہ مولانا صاحبزادہ عزیز احمد نے فرمائی۔ تلاوت کلام پاک حافظ محمد یوسف عثمانی رکن مجلس شوریٰ نے فرمائی۔ ابتدائی کلمات ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے فرمائے۔ درج ذیل مرکزی عہدوں کے لئے درج ذیل حضرات کی مجلس عمومی کے ممبران نے توثیق فرمائی۔
نائب امیر اوّل: مولانا حافظ ناصرالدین خاکوانی صاحب مدظلہ۔ نائب امیر دوم: مولانا صاحبزادہ عزیز احمد صاحب مدظلہ۔
بعدازاں مولانا صاحبزادہ عزیز احمد صاحب کی دعاء پر اجلاس اختتام پذیر ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۱۹ء ص ۴۶)
کیا حقیقت حال کا اظہار مذہبی سیاست گری ہے؟...... جناب اوریا مقبول جان کی خدمت میں
(مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ کراچی) ہمارے ملک کے معروف صحافی اور سینئر تجزیہ نگار جناب اوریا مقبول جان صاحب نے ۶؍نومبر ۲۰۱۹ء کو روزنامہ ۹۲ نیوز میں ایک کالم ’’کرتار پور راہداری اور مذہبی سیاست گری‘‘ کے عنوان سے لکھا جس کے پڑھنے سے محسوس ہوتا ہے کہ موصوف کا یہ پورا کالم صرف مذہبی طبقے کو گالیاں دینے اور جناب عمران خان نیازی کی صفائی دینے پر وقف ہے۔ اس کے علاوہ اس کا کوئی مقصد نہیں۔ موصوف لکھتے ہیں:
’’جب سے کرتار پور راہداری کھول کر سکھوں کے مقدس ترین مقام کو راستہ دینے کا اعلان ہوا ہے۔ ہمارے مذہبی، مسلکی، جمہوری اور سیاسی رہنماؤں نے اسے درپردہ قادیانیوں کو سہولت دینے کی سازش قرار دیا ہے۔ پھر انہوں نے لکھا کہ: کرتار پور لاہور سے ۱۲۵ کلو میٹر ہے۔ ربوہ سے لاہور ۷۰ کلو میٹر اور لاہور سے قادیان براستہ امرتسر ۱۰۲ کلو میٹر۔ یہ کل آٹھ گھنٹوں کا سفر ہے۔ اب قادیانیوں اور حکومت کی ملی بھگت سے قادیانی پہلے ربوہ سے ۷۰ کلومیٹر سفر کر کے لاہور۔ پھر یہ بے وقوف ۱۰۲ کلومیٹر صاف ستھری سڑک کا راستہ چھوڑ کر ۱۲۵ کلو میٹر صاف شفاف روڈ چھوڑ کر ۱۴۵ کلو میٹر ٹوٹی پھوٹی روڈ کرتار پور جائیں گے۔ پھر وہاں سے ۴۴ کلو میٹر مزید فاصلہ طے کر کے ایک
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب وتوثیق : حضرت مولانا اللہ وسایا
اور بوسیدہ سڑک پر سفر کر کے قادیان پہنچیں گے۔ یعنی سفر کی اذیت کے علاوہ چار گھنٹے مزید سفر بھی کریں گے۔ لیکن کمال ہے اس عصبیت اور منافقت کا جو عمران خان کی دشمنی میں ہمارے مذہبی طبقے کو بھی جھوٹا پروپیگنڈا کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ آگے چل کر لکھتے ہیں : ایسے میں اگر ایک سلیم الفطرت قادیانی بچہ بھی دین کی طرف مائل ہونے سے رک گیا تو اس کا گناہ ان تمام مذہبی لوگوں پر ہوگا جو جھوٹ کو سیاست کے لئے استعمال کرتے ہیں۔‘‘
میرے محترم! (۱) کرتار پور راہداری کھولنے کو ہمارے مذہبی، مسلکی ، جمہوری اور سیاسی رہنماؤں نے درپردہ قادیانیوں کو سہولت دینے کی سازش یوں ہی قرار نہیں دیا۔ اس راہداری کو کھولنے کا مطلب صرف یہاں سے گزرنا ہی نہیں ، بلکہ مستقبل میں سکھ اور قادیانی گٹھ جوڑ سے ہمارے ملک پاکستان کے خلاف ایک بڑی سوچی سمجھی سازش تیار کی جا رہی ہے۔ جس کا ذکر آج سے پچاس سال قبل مرحوم شورش کاشمیری نے اپنی کتاب ”عجمی اسرائیل اور تحریک ختم نبوت‘‘ میں کر دیا تھا۔ (۲) آپ نے جو حساب و کتاب لگایا ہے اور واہگہ بارڈر کی طرف سے راستہ کا کم ہونا ، آرام دہ ہونا اور کرتار پور راستے کا زیادہ ہونا اور روڈ کا ٹوٹا ہوا ہونا بتایا ہے۔ یہ خود سوچیں کہ یہ کتنی کمزور اور بے وزن دلیل ہے۔ بات یہ ہے کہ جب قادیانیوں کو بتایا جائے گا کہ ہمارے مرزا غلام احمد قادیانی متحدہ ہندوستان کے وقت آنے جانے میں یہی راستہ اختیار کیا کرتے تھے تو آپ ہی بتلائیے مرزا غلام قادیانی کا کون پیروکار ایسا ہوگا جو سفر کی طوالت اور پر مشقت ہونے کے باوجود اپنے نبی کی سنت پر عمل کرتے ہوئے اس راستہ کو اختیار نہیں کرے گا؟ (۳) سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سکھ انڈیا کے ہوں یا لندن کے۔ کیوں بار بار قادیانیوں کے قادیان اور لندن کے مراکز میں جا جا کر ان قادیانیوں کا شکریہ ادا کر رہے ہیں؟ آخر کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے؟ (۴) قادیانیوں نے کرتار پور پہنچ کر اور لندن سے اپنے بیانات کے ذریعے خود کہا کہ : یہی کرتار پور والا راستہ ہی ہم استعمال کریں گے۔ (۵) انڈیا اور پاکستان کی حکومتوں کے درمیان اس کرتار پور راہداری پر جو معاہدہ ہوا۔ اس میں واضح یہ کیوں لکھا گیا کہ یہ راہداری صرف سکھوں کے استعمال کے لئے نہیں۔ بلکہ تمام مذاہب کے لوگ اس راہداری سے آ جاسکیں گے؟
یہ وہ تمام حقائق ہیں جن کی بنا پر تمام مذہبی ، مسلکی ، جمہوری اور سیاسی رہنماؤں نے اسے در پردہ قادیانیوں کو سہولت دینے کی سازش قرار دیا۔ ادھر کرتار پور راہداری کھولنے کی ۹؍ نومبر ۲۰۱۹ء کی تقریب جس میں ہمارے وزیر اعظم سمیت کئی وفاقی وزراء اور مقتدر اداروں کے سربراہان براجمان ہوئے۔ انہوں نے اس کو ملکی لیول کی کوئی تقریب باور کرائی ۔ انڈیا نے اس کو اہمیت نہ دیتے ہوئے اپنا وزیر اعظم تو درکنار کوئی وفاقی سطح کا وزیر بھی اس تقریب میں نہیں بھیجا۔ یہ تو حال ہے ہماری خارجہ پالیسی اور ڈپلومیسی کا۔
دوسرا یہ کہ ہم جن سکھوں کے لئے ۴۲؍ ایکڑ پر مشتمل گردوارہ کو بڑھا کر ۸۴۲؍ ایکڑ پر لے گئے اور دنیا کا سب سے بڑا گردوارہ بنا کر اور اربوں روپے ہم نے اس پر جھونک دیئے۔ وہ سکھ پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کر رہے ہیں کہ ہم پاکستان میں گھس کر مریدکے اور بہاولپور میں کارروائیاں کرائیں گے اور ہم پاکستانی لوگوں کو ان کی فوج کے خلاف کھڑا کرا کر اپنا بدلہ لیں گے۔ حالانکہ یہ وہی سکھ ہیں کہ پاکستان بناتے وقت ہمارے آباء واجداد کو سب سے زیادہ انہوں نے قتل کیا۔ ہماری ماؤں بہنوں کی عصمت دری انہوں نے کی۔ ہم ان تمام باتوں کو بھلا کر آج دنیا کا سب سے بڑا گردوارہ بنا کر ان کو نواز رہے ہیں۔ دنیا کا مؤرخ کیا لکھے گا کہ آج کی حکومت اور مقتدر قوتیں اپنے آباء واجداد سے غداری اور ان کے خون کا سودا کر رہی تھیں یا اپنے ماضی سے نابلد اور جاہل تھیں۔
ہماری حکومت نے تو قوم کو یہ باور کرایا تھا کہ ہم سکھوں پر یہ احسان اس لئے کر رہے ہیں کہ وہ کشمیر سمیت پاکستان کے مفادات میں ہمارا ساتھ دیں گے۔ پاکستانی مفادات اور کشمیر میں ساتھ دینے کی بجائے الٹا دولاکھ سکھوں کی فوج ہمارے کشمیری بھائیوں ، بہنوں اور
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بیٹیوں کو یرغمال بنا کر ان کو قتل، زخمی اور ان کی عصمت دری کر رہی ہے۔ کیا ہماری حکومت بتا سکتی ہے کہ کسی ایک سکھ نے بھی ہمارے اس احسان کا بدلہ دیتے ہوئے انڈیا کی فوج سے استعفیٰ دیا ہو یا کشمیری بھائیوں کے حق میں کوئی آواز بلند کی ہو۔ اگر ایسا نہیں ہے اور یقیناً ایسا نہیں ہے تو ملکی مفاد کے خلاف اتنا بڑا رسک کیوں لیا گیا؟ حالانکہ سکھ برملا یہ اعلان کر رہے ہیں کہ : ہم انڈیا کے ساتھ ہیں، ہم اس کی فوج کا حصہ ہیں اور ہم انڈیا کے مفادات کو مقدم رکھیں گے۔ آخر ایسا کیوں؟
محسوس یوں ہوتا ہے کہ ہماری حکومت اور مقتدر قوتوں نے مغربی استعمار کی خوشنودی اور حکم کی بجا آوری میں یہ طے کر رکھا ہے کہ اس ملک میں ہم نے دین اسلام کی تو ہر آواز کو مذہبی کارڈ کا نام دے کر اسے دبانا اور خاموش کرانا ہے اور غیر مسلم چاہے وہ سکھ ہوں یا ہندو، بدھ مذہب کے لوگ ہوں یا قادیانی وعیسائی ان کی ہر ایک بات کی تشہیر اور ان کے ہر مذہبی تہوار کو اپنے میڈیا کے ذریعے خوب اجاگر کرنا ہمارا منشور اور ایجنڈا ہے۔ تاکہ مغربی آقاؤں کو پیغام دیا جا سکے کہ دیکھئے! ہم کتنا رواداری کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس تقریب میں شریک ہمارے پاکستان کے وزیر خارجہ اعلان کرتے ہیں کہ ہم گیارہ ارب روپے خرچ کر کے ۴۰۰ مندروں کی تعمیر کریں گے۔
نعوذ باللہ من ذلک! کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ اعلان ایک اسلامی جمہوری ملک کے وزیر خارجہ کا اعلان ہے؟
آخر یہ حکومت دین کے خلاف کیا کرنا چاہتی ہے؟ کیا کوئی ایسا رجل رشید نہیں ہے جو اس حکومت سے پوچھ سکے کہ آپ کی معاشی حالت اس کی اجازت دیتی ہے؟ جس ملک میں ہسپتالوں کے لئے فنڈ نہ ہو، دوائیوں کے لئے رقم نہ ہو، یونیورسٹیوں کے لئے بجٹ نہ ہو تو ایسے ملک میں گردوارہ اور مندروں کی تعمیر میں اربوں کھربوں روپے لگانا چہ معنی دارد؟
ہماری حکومت تو ۴۰۰ مندر بنانے پر تلی ہوئی ہے۔ جب کہ انڈیا اپنے ملک میں مساجد کو توڑ رہا ہے۔ بابری مسجد کی جگہ ان کی سپریم کورٹ مندر بنانے کا فیصلہ دے رہی ہے اور ہماری حکومت ان کی مذمت میں ایک لفظ تک نہیں بول سکی۔
لگتا یوں ہے کہ یہ بین الاقوامی ایجنڈا ہے کہ اسلام، اسلامی اقدار اور اسلامی تہذیب کو اسلامی ممالک سے دیس نکالا دیا جائے۔ اس نے سعودی عرب، عرب امارات اور پاکستان میں حکمرانوں کو اس کام پر لگایا ہوا ہے کہ تم اپنے اپنے ممالک میں ہندوؤں، سکھوں اور بدھ مذہب کے لوگوں کی دلداری اور ان کی خوشنودی کے لئے مندر اور گردوارے بنانے سمیت ہر وہ کام کرو جو دین اسلام اور مسلمانوں کے مذہبی شعائر، ان کی تہذیب اور اقدار کے خلاف ہو۔ جس سے ظاہر ہو سکے کہ واقعی یہ حکومتیں ہماری فرماں بردار اور ہمارے احکامات کو پوری تندہی سے بجا لا رہی ہیں۔ یا أسفیٰ علی الأمراء المسلمین!
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۲۰ء ص ۳ تا ۵)
ناروے میں قرآن پاک کی بے حرمتی کی مذموم جسارت
(مولانا محمد وسیم اسلم) اسلاموفوبیا ایک جدید لفظ ہے جو مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ فوبیا یونانی زبان کا لفظ ہے اس کا معنی ”ڈرنا“۔ اسلاموفوبیا یعنی اسلام کا خوف۔ عام مفہوم تو ”اسلام اور اہل اسلام پر انتہا پسندی، بنیاد پرستی اور دہشت گردی کے لیبل لگائے جانے کا نام اسلاموفوبیا ہے ۔“
یورپ کے دیگر ممالک میں چلنے والی اسلاموفوبیا کی وبا سے تحریک پا کر ایک عرصہ سے ناروے میں بھی اسلام سے نفرت کو بڑھاوا دینے کے لئے ”سیان“ یعنی ”اسٹاپ اسلامائزیشن ان ناروے“ نامی ایک تنظیم قائم کر رکھی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس سیان نامی تنظیم کے دو متعصب اور جنونی ملحد آرنے تھومیر اور لارس تھورسن ایک عرصے سے ناروے میں مسلمانوں کے خلاف عوامی سطح پر نفرت کو ہوا دینے میں
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مصروف عمل ہیں۔ عقیدہ اور نظریہ کے اعتبار سے یہ دنیا کے کسی مذہب کو نہیں مانتے لیکن ان کی نفرت و عداوت کا نشانہ اسلام اور اس کے پیروکار ہیں۔ ان شر پسند لوگوں نے ناروے میں مسلمانوں کو مشتعل کرنے اور دین اسلام پر پابندی لگوانے کے تمام ہتھکنڈے اپنائے، لیکن مسلمانوں نے ہر قدم پر نہایت تحمل، برداشت اور حکمت عملی کے ذریعہ دلیل کے ہتھیار کو اپنا دست بازو بنائے رکھا۔ اس تنظیم کی جب ہر کوشش ناکام ہوئی تو جنون اور ناکامی کے ملے جلے احساسات کے تحت یہ تنظیم قرآن پاک کی بے حرمتی پر اتر آئی۔
چنانچہ ۱۶؍ نومبر ۲۰۱۹ء کو ناروے کے شہر کرسٹین سینڈ میں ان جنونی اور نسل پرستوں نے اپنے ہم نواؤں کو اکٹھا کر کے مقامی پولیس کے حصار میں کیمروں کے سامنے قرآن کریم کو جلانے کی مذموم جسارت کا ارتکاب کیا۔ مجمع میں ایک نوجوان عمر الیاس دھابہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا اور قرآن کریم جلانے والے لارس تھورسن پر جھپٹ کر قرآن کریم کو نذر آتش ہونے سے بچایا اس کو دیکھ کر چار اور نوجوان بھی میدان میں آئے اور امت مسلمہ کی طرف سے فرض کفایہ ادا کیا۔ ان پانچوں نوجوانوں کا تعلق فلسطین اور شام سے ہے۔
اس خبر کو پھیلنے میں خاصہ وقت لگا۔ ۲۲ نومبر کو پاکستان میں سوشل میڈیا کے ذریعہ یہ ویڈیو عام ہوئی اور ۲۴ نومبر کے تمام قومی اخبارات نے اس خبر کو اہمیت و جگہ دی۔
قرآن مجید کی اس طرح بے حرمتی کے واقعے پر تمام حلقوں میں شدید تشویش لاحق ہوئی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، وفاق المدارس العربیہ، جمعیت علماء اسلام، جماعت اسلامی، تحریک انصاف، مسلم لیگ، پیپلز پارٹی سمیت تمام سیاسی، سماجی تنظیموں، تاجروں، وکلاء کی بار ایسوسی ایشنوں اور ملک کی نابغہ روزگار شخصیات کی جانب سے بھرپور مذمت اور احتجاج کیا گیا۔ بین الاقوامی ممالک میں ترکی نے اس واقعہ کی شدید مذمت کی۔ مظاہرین نے کہا کہ مغربی ممالک نے سیکولر اور لبرل ہونے کے باوجود کسی بھی یہودی کے خلاف اور ہم جنسی کے قبیح و غیر فطری عمل کے خلاف کسی کو رائے کے اظہار کا حق نہیں دیا۔ لیکن اسلام اور اہل اسلام کے خلاف آزادی اظہار کے نام پر نفرت انگیزی کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے جو کسی بھی اعتبار سے درست نہیں۔ لہٰذا احتجاجی مظاہروں میں حکومت وقت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فی الفور ناروے سے سفارتی تعلقات ختم کرے اور ملزم کو قرار واقعی سزا دلوائے۔
جس پر حکومت نے ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر کو نارویجن حکام کو تشویش سے آگاہ کرنے کی ہدایت کی۔ دفتر خارجہ کے ذریعے ناروے حکومت کو مسلمانوں میں پائی جانے والے تشویش سے آگاہ کرنے کا بھی حکم دیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے ترجمان جنرل آصف غفور نے مسلمان نوجوان عمر الیاس دھابہ کی جرأت کو سراہا۔ پنجاب اور کے. پی. کے، کی صوبائی اسمبلیوں اور سینٹ آف پاکستان میں بھی اس واقعہ کے خلاف قرارداد مذمت پیش کی گئیں۔ بعد ازاں ترجمان وزیر خارجہ ڈاکٹر فیصل کے بیان کے مطابق ناروے سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر کے کہا گیا کہ وہ اپنی نارویجن حکومت کو آگاہ کرے کہ اس واقعہ سے سوا ارب سے زائد مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔ چنانچہ نارویجن حکومت واقعہ کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے اور آئندہ ایسے واقعات سے بچنے کے لئے ٹھوس اقدامات کرے۔
ناروے کے شہر کرسٹین سینڈ جہاں دو ہزار سے زائد مسلمان آباد ہیں۔ شہر کے وسط میں ایک جامع مسجد اور شہر کے اطراف میں درجنوں چھوٹی مساجد بھی موجود ہیں، وہاں بھی مسلمانوں کی ایک تنظیم ”مسلم یونین آف اگدر“ کا اجلاس شہر کی جامع مسجد کی کمیٹی کے صدر اکمل علی کی سربراہی میں منعقد ہوا۔ اس تنظیم کے رکن اور پاکستانی نژاد چارٹرڈ اکاونٹنٹ محمد الیاس نے بتایا کہ ملزم پر فرد جرم عائد ہو چکا ہے اور ماہرین قانون دان کی خدمات حاصل کرتے ہوئے تنظیم پر پابندی کی درخواست بھی دائر کریں گے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ادھر نارویجن حکومت نے نسل پرستی سے متعلق ایک آئینی پیرا گراف ۱۸۵ کے تحت قانون میں ترمیم کر کے مذہبی علامتوں کو نقصان پہنچانے والی کسی بھی سرگرمی کو روکنا پولیس کے لئے لازمی قرار دیا اور مسلمان پانچ نوجوانوں کو بھی رہا کیا گیا لیکن ساتھ ساتھ عمر الیاس دھابہ پر جرمانہ کی رقم بھی عائد کی گئی۔
واضح رہے کہ جب تک یورپین ممالک بلا تفریق و امتیاز توہین مذہب کے حوالہ سے کوئی قانون سازی نہیں کرتا تب تک ایسے واقعات پیش آتے رہیں گے۔ اسی لئے عوامی سطح پر ملک کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہروں، ریلیوں، جلسے اور جلوسوں کے ذریعے ناروے سے سفارتی تعلقات ختم کرنے اور ملزم کو سزا دیئے جانے اور عالمی سطح پر قانون سازی کئے جانے کے مطالبات تا حال جاری ہیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۲۰ء ص ۲۳، ۲۴)
کرتار پور راہداری اور قادیانی مذہب
(مولانا زاہد الراشدی) ان دنوں کرتار پور راہداری کے بارے میں بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے۔ اس کے مختلف پہلوؤں پر اخبارات اور سوشل میڈیا پر اظہار خیال کیا جا رہا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان بین الاقوامی سرحد پر نارووال سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر کرتار پور ایک جگہ کا نام ہے۔ جہاں تقسیم ملک سے قبل دونوں طرف آنے جانے کا راستہ ہوتا تھا۔ یہ راستہ تقسیم ہند کے وقت بند ہو گیا تھا۔ جسے گزشتہ دنوں کھول دیا گیا ہے۔ ۹؍ نومبر ۲۰۱۹ء کو پاکستان کے وزیر اعظم جناب عمران خان نے اس کا افتتاح کیا ہے۔ یہاں سکھوں کا ایک بڑا گوردوارہ ہے جو ان کے اہم اور مقدس مقامات میں شمار ہوتا ہے۔ سکھوں کو وہاں آنے جانے کی سہولت فراہم کرنے کے عنوان سے اس راہداری کو باضابطہ صورت دی گئی ہے اور اب وہاں سے بین الاقوامی مسلمہ دستاویزات کے ساتھ کوئی بھی آ سکتا ہے اور جا بھی سکتا ہے۔
کرتار پور کا علاقہ نارووال، گورداسپور، سیالکوٹ اور شکر گڑھ کے درمیان ہے جن میں سے گورداسپور تقسیم ملک کے وقت سے انڈیا کا حصہ ہے۔ جب کہ باقی تینوں شہر پاکستان میں شامل ہیں۔ قادیانیوں کا مرکزی مقام ”قادیان“ گورداسپور کے علاقہ میں ہے۔ اس لئے انہیں بھی وہاں سے آمدورفت کی سہولت مل گئی ہے۔ اس سہولت کے حاصل ہونے پر سکھوں کی طرح قادیانی بھی بہت خوش ہیں۔ اس پر پاکستان کے محبّ وطن اور دینی حلقوں میں مسلسل تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ جنہیں سمجھنے اور ان پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس پروگرام میں قادیانیوں کی شمولیت موجودہ صورتحال میں اہل پاکستان اور مسلمانوں کے لئے تشویش کا باعث ہے۔
جہاں تک سکھوں اور قادیانیوں کے باہمی ربط و تعلق کی بات ہے تو وہ قابل فہم ہے۔ اس لئے کہ دونوں نئے مذہب ہیں۔ پانچ سو سال قبل بابا گورو نانک نے ہندو مذہب ترک کر کے ایک نئے مذہب کی بنیاد رکھی تھی۔ انہیں بت پرستی اور ذات پات سے نفرت تھی۔ چنانچہ اپنا نیا مذہبی راستہ متعین کرنے کے لئے انہوں نے مسلم صوفیائے کرام کے حلقوں میں خاصی دیر آمدورفت رکھی۔ بیت اللہ شریف کا حج کیا اور بغداد میں حضرت شاہ عبدالقادر جیلانی کے مزار پر چلہ کشی بھی کی۔ مگر اسلام قبول کرنے کی بجائے ایک نئے مذہب کی داغ بیل ڈال دی۔ انہیں سکھوں کے ہاں اللہ تعالیٰ کا فرستادہ سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی انہیں انبیاء کرام کی فہرست میں شمار کیا ہے۔ بابا گورو نانک کی کتاب ”گورو گرنتھ“ کو الہامی کتاب قرار دیا جاتا ہے اور آسمانی وحی کی طرح اس کی قرأت بھی کی جاتی ہے۔
سکھوں کا سب سے مقدس مقام شیخوپورہ کے علاقہ میں ننکانہ صاحب کا شہر ہے جو بابا گورو نانک کا مقام ولادت ہے۔ جب کہ قادیانیوں کا سب سے مقدس مقام قادیان ہے۔ ان دونوں علاقوں کا مرکز پنجاب ہے جس کا مغربی حصہ پاکستان کا اور مشرقی حصہ بھارت کا صوبہ ہے۔ پنجاب کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنانے اور اس کے مستقبل کو اپنے نام کرنے کی خواہش دونوں حلقوں میں موجود ہے۔ جسے ان بین
تحریک ختم نبوت جلد (١٠) ٢٠١٩ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
الاقوامی طاقتوں اور لابیوں کی حمایت حاصل ہے جو پاکستان کو غیر مستحکم دیکھنا چاہتی ہیں اور اس کے اسلامی نظریاتی تشخص کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔
کچھ عرصہ قبل دونوں طرف سے ننکانہ صاحب اور قادیان کو ”اوپن سٹی“ قرار دینے کا مطالبہ بین الاقوامی حلقوں میں مشترکہ طور پر چلتا رہا ہے اور عالمی سیکولر لابیاں اس کی حمایت کرتی رہی ہیں۔
سکھوں نے ”آزاد خالصتان“ کے نام پر ایک عرصہ سے تحریک شروع کر رکھی ہے۔ اس سلسلہ میں ”آزاد حکومت“ کی بھی ”جگجیت سنگھ چوہان“ کی سربراہی میں تشکیل ہوئی تھی۔ جن سے کافی سال پہلے ساؤتھ ہال لندن میں مولانا منظور احمد چنیوٹی کے ہمراہ ایک عوامی جلسہ کے اسٹیج پر میری ملاقات ہوئی تھی۔ بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے دور میں ”خالصتان“ کی اس تحریک کے ماحول میں سکھوں کے سب سے بڑے مرکز گولڈن ٹیمپل امرتسر میں اسلام آباد کی لال مسجد کے سانحہ کی طرز پر رونما ہونے والا واقعہ قارئین کو یاد ہوگا۔ جس میں سرکاری مسلح آپریشن کے دوران بہت سے دیگر لوگوں کے ہمراہ سکھوں کی مسلح جماعت کے سربراہ ”جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ“ بھی جاں بحق ہو گئے تھے۔
آزاد خالصتان کی اس تحریک کے سلسلہ میں عام طور پر جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم کا نام بھی لیا جاتا ہے۔ جب کہ خود میرا مشاہدہ یہ ہے کہ ایک دفعہ ٹورانٹو ایئر پورٹ پر فلائیٹ کے انتظار میں بیٹھا تھا اور میرے ساتھ ایک سکھ سردار صاحب بھی بیٹھے تھے۔ میں نے ان سے سرسری طور پر پوچھ لیا کہ: سردار جی! آپ کے خالصتان کا کیا بنا؟ انہوں نے بڑی حسرت کے ساتھ جواب دیا کہ: ”ساڈا جیاوالحق ہی مر گیا، خالصتان کتھوں بنوں؟“ یعنی ہمارا ضیاء الحق ہی فوت ہو گیا ہے اب خالصتان کہاں سے بنے گا؟
اسی طرح ”قادیانیت“ بھی ایک نیا مذہب ہے۔ جو گزشتہ ڈیڑھ سو برس سے نئی وحی اور نئے نبی کے عنوان سے کام کر رہا ہے۔ مگر سکھوں کی طرح الگ عنوان اور اصطلاحات اختیار کرنے کی بجائے خود کو مسلمانوں میں شمار کرنے پر مصر ہے۔ سکھ مذہب ہندوؤں سے الگ ہو کر بنا ہے اور قادیانی مذہب اسلام کے اجتماعی عقائد اور مسلمانوں کی ملی اساس سے انحراف کر کے تشکیل پایا ہے۔ اس لئے نئے اور منحرف مذاہب ہونے کے پس منظر میں ان دونوں کے اشتراک عمل کے اسباب سمجھ میں آتے ہیں۔ لیکن دونوں میں ایک بنیادی فرق موجود ہے۔ جسے اس ساری ”گیم“ میں نظر انداز کیا جا رہا ہے اور جسے اس کھیل کا کوئی فریق بھی سمجھنے کے لئے تیار دکھائی نہیں دیتا۔ جب کہ ہمارے نزدیک یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جس پر اس پوری مہم کی کامیابی یا ناکامی کا دارومدار ہے۔ سکھوں نے اپنے مذہب کو ہندوؤں سے الگ ایک مستقل مذہب قرار دے رکھا ہے۔ اس لئے ان کے ساتھ اس حوالہ سے ہندوؤں کا کوئی تنازعہ نہیں۔ بلکہ مسلمانوں کی مذہبی روایات کے ساتھ کسی قدر مماثلت ہونے کے باوجود مسلمانوں کا بھی ان کے ساتھ کوئی جھگڑا نہیں ہے۔
چنانچہ مسلمان اور ہندو ایک مستقل مذہب کے طور پر سکھ برادری کے ساتھ معاملات کرنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کرتے۔ مگر قادیانیت کے پیروکار اسلام اور مسلمانوں سے الگ ہو جانے کے باوجود خود کو مسلمانوں کی صف میں شمار کرانے پر اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو کافر قرار دیتے ہوئے خود کو مسلمان کہلانے پر بضد ہیں۔ جو کہ مسلمانوں کے لئے کسی درجہ میں بھی قابل قبول بلکہ قابل برداشت نہیں ہے اور اس سلسلہ میں مسلمانوں کے احساسات اور جذبات سب کے سامنے ہیں۔ جن کا اظہار پاکستان میں قومی سطح پر دو چار بار نہیں بلکہ کئی بار ہو چکا ہے۔
ہمیں پاکستان کے مفاد میں اور علاقائی صورتحال کے تناظر میں سکھوں کے ساتھ تعلقات از سر نو استوار کرنے میں کوئی حرج محسوس نہیں ہوتا۔ لیکن اس کے لئے:
- ١...... پاکستان کی سالمیت و وحدت اور اسلامی نظریاتی تشخص کے تحفظ کو یقینی بنانا ہوگا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۲...... قادیانیوں کا معاملہ پہلے طے کرنا ہوگا کہ اس منصوبہ سے فائدہ اٹھانے کے لئے بھارت سے آنے والے قادیانیوں سے ان کی
حیثیت ایک الگ مذہب کے طور پر تسلیم کرائی جائے۔ جب کہ پاکستان کے شہری قادیانیوں کو دستور پاکستان اور امت مسلمہ کے اجماعی فیصلے کے سامنے سپر انداز ہونے پر مجبور کیا جائے۔
چنانچہ ہم اس ”گیم“ کے تمام عالمی، علاقائی اور مقامی منصوبہ سازوں سے گزارش کریں گے کہ وہ معاملات کا از سر نو جائزہ لیں اور یہ بات بہر حال ذہن نشین کر لیں کہ جنوبی ایشیا بالخصوص پاکستان کے مسلمانوں کے عقائد و جذبات کو نظر انداز کر کے ان کی کوئی مہم کامیاب نہیں ہو سکے گی اور انہیں ملت اسلامیہ کے ایمان وعقیدہ اور جذبات واحساسات کا بہرحال احترام کرنا ہوگا۔
(روزنامہ اوصاف، ۱۶/نومبر ۲۰۱۹ء، ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۲۰ء)
دارالعلوم فاروقیہ ماتلی میں پروگرام اور افتتاح ختم نبوت چوک
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۷؍دسمبر ۲۰۱۹ء کو دارالعلوم فاروقیہ میں ظہر کی نماز کے بعد تبلیغی واصلاحی پروگرام منعقد ہوا۔ جس سے بلبل سندھ مولانا سائیں عبدالغفور قاسمی کے جانشین مولانا محمد اسماعیل قاسمی، مولانا قاضی احسان احمد، مولانا محمد حنیف سیال اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کے بیانات ہوئے۔ عصر کے بعد ٹنڈو غلام علی ماتلی روڈ پر ختم نبوت چوک کا افتتاح کیا گیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۲۰ء ص ۱۵)
پروفیسر طاہر احمد ڈار شیخو پورہ اپنے خاندان سمیت مسلمان ہو گئے
فروری ۲۰۱۹ء میں قادیانی جماعت ضلع شیخو پورہ کے مرکزی سرکردہ رکن پروفیسر طاہر احمد اپنے خاندان سمیت مسلمان ہو گئے۔ پروفیسر صاحب شیخو پورہ جماعت کے تمام امور کو چلا رہے تھے۔ ان کے مسلمان ہونے سے قادیانیت کو بڑا دھچکا لگا ہے۔ پروفیسر طاہر احمد نے کہا کہ میرا سارا خاندان قادیانی ہے، لیکن میں اور میرے بچے اللہ کے فضل سے حضور نبی کریم ﷺ کی ختم نبوت پر ایمان لے آئے ہیں۔ اس کے لئے میں نے کافی مطالعہ کیا۔ مرزا قادیانی کی کتب میں اس کے دعوؤں میں بہت جھوٹ اور تضاد پایا۔ میں اپنے متعلقین کو بھی اسلام قبول کرنے کی دعوت دیتا ہوں۔ پروفیسر صاحب نے بتایا کہ قادیانیوں کو ورغلایا جا رہا ہے ان کی رہنمائی کی ضرورت ہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ایک وفد نے ان سے ملاقات کی اور انہیں اسلام قبول کرنے پر مبارک باد پیش کی۔ راقم نے انہیں قومی اسمبلی کی کارروائی کا سیٹ پیش کیا۔ وفد کی جانب سے ان کے لئے استقامت فی الدین کی دعاء کی گئی۔ وفد میں عالمی مجلس شیخو پورہ کے امیر مولانا امتیاز احمد کاشمیری، چوہدری شفقت علی، سید تجمل حسین شاہ، سید راشد شاہ، جناب حسین معاویہ، جناب یعقوب سندھو اور مولانا محمد خالد عابد شامل تھے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۹ء ص ۴۴)
قادیانیوں کا قبول اسلام
۴؍اپریل ۲۰۱۹ء بروز جمعرات چار بجے شام کاٹراپلی قصبہ، منڈل رائے پرتی، ضلع ورنگل انڈیا میں قادیانیوں کے صدر محمد ناصر ولد محمد یعقوب نے اسلام اور قادیانیت کا فرق سمجھ کر مولانا سید ایوب قاسمی صاحب کے ذریعے کلمہ شہادت پڑھ کر حاضرین مجلس کے سامنے مسجد کاٹراپلی میں بلا کسی جبر واکراہ کے، ہوش وحواس کے ساتھ قادیانیت پر لعنت بھیج کر خاندان کے چار افراد کے ساتھ اسلام قبول کیا ہے۔ دعاء کیجئے کہ اللہ تعالیٰ موصوف کو استقامت عطاء فرمائے اور شر و فتن سے حفاظت فرمائے۔ آمین!
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۹ء ص ۴۰)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ایک ہی خاندان کے بیس افراد قادیانیت سے تائب ہو کر دائرہ اسلام میں داخل
تحصیل پسرور ضلع سیال کوٹ کے ایک گاؤں ’’داتا زیدکا‘‘ قلعہ کالروالا کے ایک ہی خاندان کے ۲۰؍ افراد نے قادیانیت سے تائب ہو کر مولانا قاری محمد افضل باجوہ جٹ مدیر جامعہ اسلامیہ فیروزیہ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ نو مسلم حضرات کا تعلق بھی قوم جٹ سے ہے۔ جس خاندان کے بیس افراد نے قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کیا ان سب کا تعلق سلیم باجوہ قادیانی کے گھرانے سے ہے۔ سلیم باجوہ قادیانی عقائد ونظریات رکھتا تھا۔ ساری زندگی قادیانی رہا اور قادیانی عقائد ونظریات پر ہی اسے موت آئی۔ سلیم باجوہ قادیانی کے دو بیٹے ہیں: (۱) افتخار احمد۔ (۲) ندیم احمد۔ دونوں کی دو دو بیویاں ہیں۔ دونوں بھائی اپنے تمام اہل خانہ سمیت مسلمان ہوئے۔ ذیل میں تفصیل ملاحظہ فرمائیں ۔
ندیم احمد کی ۲ بیویاں اور ۳ بیٹیاں ہیں ، سب مسلمان ہوئے۔ (۶؍ افراد)
افتخار احمد کی بھی ۲ بیویاں ۹ بیٹے اور ۲ بیٹیاں ہیں ، سب مسلمان ہوئے۔ (۱۴؍ افراد)
افتخار احمد کے ۹ بیٹوں کے نام یہ ہیں: (۱) خرم احمد۔ (۲) شیراز احمد۔ (۳) سرفراز احمد۔ (۴) دانیال احمد۔ (۵) دانش احمد۔ (۶) حسنین احمد۔ (۷) حسین احمد۔ (۸) سفیان احمد۔ (۹) عثمان احمد۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے مولانا فقیر اللہ اختر کی قیادت میں ایک وفد نے نومسلم حضرات سے ملاقات کر کے ان کو قبول اسلام پر مبارک باد پیش کی۔ ان کے لئے استقامت فی الدین کی دعاء بھی کی اور جماعت کا لٹریچر بھی تقسیم کیا۔ عالمی مجلس کے وفد میں مولانا فقیر اللہ اختر کے علاوہ مولانا حافظ محمد اسحٰق ، مولانا حافظ محمد طیب زاہد اعوان ، مولانا حافظ محمد قاسم طاہر اعوان ، قاری محمد عبد الباسط اعوان موجود تھے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۱۹ء ص ۵۵)
ایک قادیانی تاجر کا قبول اسلام
عائشہ باوانی کالج کراچی کے سابق قائم مقام پرنسپل کا تاجر بیٹا عدنان شاہد قادیانیت چھوڑ کر دائرہ اسلام میں داخل ہو گیا۔ عدنان شاہد کا دادا اسلام آباد میں قادیانی جماعت کا سیکرٹری مال رہا۔ قادیانی دنیا بھر میں مسلمانوں کو مرتد بنانے کا پروپیگنڈا کرتے ہیں ، لیکن پاکستانی قادیانیوں میں سے روز کوئی نہ کوئی فرد ملعون مرزا قادیانی کے دعوؤں کو جھوٹا اور خود ساختہ تسلیم کرتے ہوئے اس کے بچھائے ہوئے جال سے نکل رہے ہیں۔ گزشتہ روز بھی کراچی میں عدنان شاہد نامی شخص نے سابق قادیانی جناب عرفان محمود برق کے ہاتھوں اسلام قبول کر لیا۔ عرفان محمود برق سے عدنان شاہد کی ملاقات اس کے دوست سعید النبی خان نے کرائی تھی۔ بدرشاہ کے گھر پر ملاقات میں ڈپٹی گورنر (ر) قاضی عبد المقتدر ، محمد شوکت اویسی اور دیگر افراد کی موجودگی میں عدنان شاہد کے اعتراضات و خدشات کے جوابات مسلسل تین گھنٹے تک جناب برق صاحب نے دیئے۔ مبلغ ختم نبوت نے قادیانیوں کی کتب کے حوالوں سے قادیانیت کو جھوٹا مذہب ثابت کیا۔ جس کے بعد کراچی میں ذاتی کاروبار کے مالک عدنان شاہد نے اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا۔ قبول اسلام کے بعد عدنان شاہد نے اپنی سکول ٹیچر اہلیہ اور بچوں کو بھی دعوت اسلام دینے کا عزم ظاہر کیا۔
(روزنامہ امت کراچی ۲۵ جولائی ۲۰۱۹ء ، ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۱۹ء ص ۵۵)
ایک خاتون کا قبول اسلام
احمد نگر ضلع چنیوٹ کی رہائشی عائشہ دختر گلزار احمد نے قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کر لیا۔ عائشہ دختر گلزار احمد کا کہنا ہے کہ
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
میں نے اسلامی کتب کا بہت زیادہ مطالعہ کیا۔ تعلیمات اسلام کی روشنی میں قادیانی جھوٹے اور ان کے عقائد باطل ہیں۔ اسی لئے میں نے قادیانیت چھوڑ کر اسلام قبول کیا۔ اہل اسلام نے نو مسلم خاتون کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور عائشہ بی بی کو مبارک باد بھی پیش کی گئیں۔
(روزنامہ اسلام یکم/جولائی ۲۰۱۹ء، ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۱۹ء ص ۵۶)
ایک گھرانے کے تین افراد نے قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کر لیا
جام پور ضلع راجن کے رہائشی ظفر اقبال جاوید ولد دولت خان اپنی دو بیٹیوں میرم مہرین دختر ظفر اقبال جاوید اور امبر آفرین دختر ظفر اقبال جاوید سمیت ۲۰/ستمبر ۲۰۱۹ء کو جامعہ ابی بکر جام پور میں مولانا محمد ابوبکر عبداللہ کے ہاتھ پر قادیانیت سے تائب ہوتے ہوئے حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم برضا و رغبت بلا اکراہ و جبر اپنے سابقہ نظریہ و مذہب قادیانیت اور مرزائیت پر لعنت بھیجتے ہیں۔ قادیانی و مرزائیوں کے نظریات قرآن وسنت اور آئین پاکستان کے منافی ہیں اور ہم اقرار کرتے ہیں کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد تشریعی، غیر تشریعی، ظلی یا بروزی کسی بھی قسم کا کوئی نبی نا پیدا ہوا نہ قیامت کی صبح تک پیدا ہوگا۔ بالخصوص مرزا غلام احمد قادیانی اپنے دعویٰ میں جھوٹا ہے۔ مرزا قادیانی اور اس کی تمام ذریت کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں۔ انہوں نے انتظامیہ سے بھی درخواست کی ہمارے نام اقلیتوں کی ووٹر لسٹوں اور دیگر فہرستوں سے نکال کر مسلمانوں کی لسٹوں میں شامل کیا جائے اور اسی کے مطابق نادرا کا ریکارڈ بھی صحیح کیا جائے۔ نومسلموں نے اقرار نامے بھی لکھ کر دیئے، جن پر ان کے ساتھ تشریف لانے والے حضرات مولانا غلام محی الدین، بھائی محمد سہیل اور محمد خرم شہزاد نے تائیدی دستخط بھی کئے۔ اس موقع پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مولانا محمد اقبال، ضلعی مبلغ مولانا محمد اقبال، مولانا عبدالعزیز لاشاری، حافظ جلیل الرحمٰن صدیقی، قاری امتیاز احمد رحیمی، قاری محمد مظہر، مولانا عبدالقدوس مبشر، مولانا عبدالمجید ساقی، مولانا عبدالعزیز، مولانا عبدالرحمٰن غفاری بھی موجود تھے۔ انہوں نے نومسلموں کو مبارک باد پیش کی اور ان کے لئے استقامت فی الدین کی دعاء کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۱۹ء ص ۵۵، ۵۶)
چوک اعظم میں ایک قادیانی کا قبول اسلام
مولانا محمد ساجد نے مکی مسجد کروڑ میں دین اسلام کی حقانیت اور عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور فتنہ قادیانیت کی سنگینی پر خطاب فرمایا۔ بعد ازاں کروڑ کے علماء کرام مولانا عبدالرب، مولانا عبداللہ، مولانا محمد عمر، مفتی محمد فاروق ناظم عالمی مجلس کروڑ لعل عیسن کی موجودگی میں صہیب احمد ولد حنیف کو کلمہ طیبہ پڑھایا۔ نومسلم جوان نے قادیانی ذریت اور مرزا قادیانی پر چار حرف بھیج کر اسلام قبول کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۲۰ء ص ۵۶)
ڈیرہ اسماعیل خان میں پروگرام
تحفظ ناموس رسالت ملین مارچ ڈیرہ اسماعیل خان کے حوالہ سے ۳۱/دسمبر ۲۰۱۸ء تا ۲۱/جنوری ۲۰۱۹ء پروگرامات منعقد ہوئے۔ اس سلسلہ میں پہلا اجلاس ۲۸/دسمبر ۲۰۱۸ء بروز سوموار بوقت تین بجے بمقام دارالعلوم صدیقیہ پہاڑ پور ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور جمعیت علماء اسلام تحصیل پہاڑ پور کا مشترکہ اجلاس ہوا۔ جس میں مولانا لطف الرحمٰن نے خصوصی شرکت کی۔ ۴/جنوری ۲۰۱۹ء کو مولانا محمد اکرم طوفانی نے بمقام دارالعلوم صدیقیہ پہاڑ پور میں خطبہ جمعۃ المبارک ارشاد فرمایا۔ ۷/جنوری کو مولانا قاضی احسان احمد نے بمقام مسجد ڈہوٹر جدید میں خطاب فرمایا۔ ۱۱/جنوری کو مولانا محمد عابد کمال نے بمقام میانودہ میں خطبہ جمعتہ
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب وتوثیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
المبارک، بعد نماز عصر مدرسہ احسن العلوم (تقی شاہ بورڈ) کاٹھگڑھ، بعد نماز مغرب مسجد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پہاڑ پور اور بعد نماز عشاء نیازی آباد شاہداؤ میں بیانات فرمائے۔ ۱۴؍جنوری کو مولانا مولانا عزیز الرحمٰن ثانی نے دس بجے تا ظہر مدرسہ رحمانیہ خانو خیل میں، بعد نماز ظہر مسجد قاری داؤد بگوانی شمالی میں، بعد نماز عصر جامع مسجد فاروقیہ شاہداؤ، بعد نماز مغرب جامع مسجد رنگپور اور بعد نماز عشاء بمقام بند کورائی میں بیانات فرمائے۔ ۱۹؍جنوری کو مولانا اللہ وسایا نے بارہ بجے تا ظہر جامع مسجد زکریا کچہ علی خیل میں، بعد نماز ظہر جامع مسجد علی المرتضیٰ پہاڑ پور میں اور بعد نماز عشاء سر زمین جمعیتہ وانڈہ مہر دل میں بیانات فرمائے۔ ۲۰؍جنوری بعد نماز فجر مسجد قائد جمعیت عبدالخیل میں درس قرآن سے مولانا اللہ وسایا نے خطاب کیا۔ ۲۱؍جنوری کو مولانا محمد عابد کمال بعد نماز ظہر مدرسہ مظہر العلوم اسلم آباد میں، بعد نماز عصر مسجد شیر عالم کالونی میں، بعد نماز مغرب مسجد فیروز خان (کامرانی آباد) سید علیاں روڈ اور بعد نماز عشاء مراد آباد بگوانی شمالی (مسجد مولوی حضرت اللہ وزیر) میں بیانات ارشاد فرمائے۔ (سمیع اللہ صدیقی)
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۹ء ص۵۲)
ختم نبوت کانفرنس سرائے نورنگ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سرائے نورنگ ضلع لکی مروت کے زیر اہتمام ۶؍جنوری ۲۰۱۹ء کو تیرہویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس قلعہ گراؤنڈ سرائے نورنگ میں ضلعی امیر حاجی امیر صالح خان کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز حافظ ذبیح اللہ ادہمی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مفتی ضیاء اللہ اور مولانا محمد ابراہیم ادہمی نے ادا کئے۔ ابراہیم خلیلی، امیر حسین، صفدر برکی، ابصار مروت اور شاکر اللہ نے نعتیہ کلام پیش کیا۔ پہلی نشست میں مولانا قاضی احسان احمد، مولانا عابد کمال، مولانا طیب طوفانی، صاحبزادہ امین اللہ جان، مولانا ماسٹر عمر خان، مولانا بشیر احمد حقانی، مولانا محمد انور، مولانا سیف اللہ جان، مولانا احمد سعید، مولانا عبدالمتین، مولانا صدر عبدالوحید، مولانا عبدالرحیم، مولانا عطاء الرحمٰن، مولانا محمد حیات، مولانا اعزاز اللہ، مولانا مطیع اللہ، مولانا سمیع اللہ مجاہد، مولانا عبدالصبور نقشبندی، مفتی عظمت اللہ، مفتی شمس الحق اور مولانا عبدالوکیل کے بیانات ہوئے۔ پیر طریقت مولانا عبدالغفار کی دعاء سے پہلی نشست کا اختتام ہوا۔ بعد نماز ظہر دوسری نشست عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی نائب امیر مولانا صاحبزادہ خواجہ عزیز احمد کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ قاری صفی اللہ نے تلاوت فرمائی۔ شیخ الحدیث مولانا حسین احمد، مولانا عبدالرحیم کے کلمات تشکر کے بعد مفتی ضیاء اللہ نے قراردادیں پیش کیں۔ بعد ازاں صاحبزادہ عزیز احمد نے اپنے مختصر خطاب میں تیرہویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس میں ہزاروں کی تعداد میں شرکت کرنے پر منتظمین اور شرکاء کو مبارکباد دی اور حکمرانوں کو متنبہ کرتے ہوئے فرمایا کہ آقا ﷺ کے غلام غافل نہیں ہیں۔ زندگی کی آخری سانس تک ناموس رسالت ﷺ کی تحفظ کے لئے تیار بھی ہیں اور بیدار بھی۔ مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی مدظلہ نے کانفرنس سے آخری مفصل خطاب کرتے ہوئے فرمایا عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اپنا آئینی حق استعمال کرتے ہوئے ہر فورم پر آواز اٹھائے گی۔ چاہے ہماری جانیں کیوں نہ چلی جائیں۔ عاشقان ختم نبوت کسی صورت میں بھی ختم نبوت کے قوانین میں ترامیم کی اجازت نہیں دیں گے۔ کانفرنس میں شدید سردی کے باوجود ایک بڑی تعداد میں لو گوں نے شرکت کی۔ مقامی انتظامیہ کے ساتھ ساتھ جے یو آئی کی ذیلی تنظیم انصار الاسلام کے رضا کار بڑی تعداد میں موجود رہے۔ کانفرنس مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی کی رقت آمیز دعاء کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۱۹ء ص ۵۲)
ختم نبوت کوئز پروگرام حیدر آباد
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حیدر آباد کے زیر اہتمام ۱۱؍جنوری ۲۰۱۹ء دفتر ختم نبوت حیدر آباد میں سکول کے اسٹوڈنٹ کا ختم نبوت
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کوئز پروگرام ہوا۔ جس میں چھٹی تا میٹرک کے چالیس سکولز کے طلباء نے حصہ لیا۔ طلباء کرام کو شعور ختم نبوت وفتنہ مرزائیت (سوالاً جواباً) نامی رسالہ دیا گیا۔ جس میں مختلف موضوعات پر تقریباً ۲۲۳ سوالات و جوابات تھے۔ شعور ختم نبوت وفتنہ مرزائیت رسالہ کو طلباء کرام نے بھرپور یاد کیا۔ نماز عصر کی ادائیگی کے بعد حافظ محمد بشار کی تلاوت سے پروگرام کا آغاز ہوا۔ پروگرام کے مہمان خصوصی مولانا قاضی احسان احمد نے طلباء کرام سے تمہیدی گفتگو اور کوئز پروگرام کی غرض وغایت کو بیان کیا۔ مولانا قاضی نے سوالات کا سلسلہ شروع کیا۔ ایک تا پانچ سوالات کے صحیح جوابات دینے پر مختلف انعامات دیئے گئے ۔ پہلے راؤنڈ میں طلباء کرام سے پانچ سوالات کئے گئے۔ آٹھ طلباء کرام نے مکمل جوابات دیئے۔ ان سے اگلے راؤنڈ میں مزید پانچ سوالات کئے ۔ دوسرے مرحلہ میں مکمل جوابات دینے والے طلباء کے مابین قرعہ اندازی کی گئی۔ جس میں خوش نصیب طالب علم کو بمپر پرائز انعام سائیکل سے نوازا گیا۔ بمپر پرائز انعام سائیکل کے ونر محسن حسن پبلک ہائی اسکول لطیف آباد نمبر ۴ کے اسٹوڈنٹ شاہ زیب بن انور علی بنے۔ انعامات کی مختلف کیٹگریز بنائی گئیں ۔ تمام طلباء کرام کو قیمتی انعامات سے نوازا گیا۔ کوئز پروگرام میں علماء کرام وعوام الناس نے بھی شرکت کی۔ شرکاء کرام نے پروگرام کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسکول کے بچوں کے لئے اس طرح کے پروگرام ہوتے رہنے چاہئیں۔ مولانا قاضی احسان احمد کی دعاء سے پروگرام ختم ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۹ء ص ۵۰)
تحفظ ختم نبوت کورس مانسہرہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام سات روزہ کورس مانسہرہ شہر کے مختلف مقامات پر ۱۲ تا ۱۸ / جنوری ۲۰۱۹ء بروز ہفتہ تا جمعتہ المبارک کو منعقد ہوا۔ کورس کی نگرانی مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی مدظلہ اور مفتی وقار الحق عثمان مدظلہ نے کی ۔ اسلام آباد کے مبلغ مولانا محمد طیب ، مولانا عادل خورشید اور مولانا محمد حسن حقانی نے ملٹی میڈیا پروجیکٹر کے ذریعہ عقیدہ ختم نبوت ، عقیدہ حیات ونزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور قادیانیوں سے بائیکاٹ کے عنوانات پر اسباق پڑھائے ۔ ۱۲ / جنوری کو بعد از نماز مغرب جامع مسجد بانڈہ لعل خان مانسہرہ میں کورس منعقد ہوا۔ ۱۳ / جنوری بروز اتوار کو بعد از نماز ظہر جامع مسجد خضریٰ داتہ چوک اور بعد از نماز مغرب جامع مسجد پانو ڈھیری مانسہرہ میں پروگرام کا انعقاد ہوا۔ ۱۴ / جنوری کو بعد نماز ظہر جامع مسجد امیر معاویہ محلہ ڈب مانسہرہ اور بعد از نماز مغرب گاؤں دیبگراں میں کورس پڑھایا گیا۔ ۱۵ / جنوری صبح کی نماز کے بعد جامع مسجد دیبگراں میں درس ۔ بعد از نماز ظہر مدرسہ معہدالقرآن الکریم محلہ ڈب مانسہرہ اور بعد از نماز مغرب گاؤں پھگلہ کی مسجد میں کورس منعقد ہوا۔ ۱۶ / جنوری کو گڑھی حبیب اللہ، سگدھار کے مقامی سکول میں دن دس بجے کورس منعقد ہوا۔ بعد نماز ظہر جامع مسجد گڑھی حبیب اللہ میں ختم نبوت اور ہماری ذمہ داری کے عنوان سے مختصر بیان ہوا۔ ۱۷ / جنوری کو صبح کی نماز کے بعد جامع مسجد سگدھار میں تفصیلی درس قرآن مولانا محمد طیب کا ہوا۔ ظہر کی نماز کے بعد جامع مسجد امیر حمزہ پکھوال چوک، جب کہ مغرب کی نماز کے بعد گاؤں پکھوال کی جامع مسجد میں کورس ہوا۔ ۱۸ / جنوری بروز جمعہ کو آخری پروگرام جامع مسجد سیدنا صدیق اکبر گاؤں بحالی ضلع مانسہرہ میں رکھا گیا تھا۔ جمعہ کا خطبہ مولانا طیب نے دیا اور اپنے بیان میں مرزائیت کے تعاقب کے علاوہ حالات حاضرہ اور مرائیوں کی ریشہ دوانیوں کو بیان کیا ۔ نماز جمعہ کے بعد مولانا عادل خورشید ، مولانا حسن حقانی نے ملٹی میڈیا کے ذریعے مرزا قادیانی کی مکروہ عبارات کو دکھا کر قادیانیت سے بائیکاٹ کے موضوعات کی وضاحت کی۔ تمام پروگراموں کی صدارت مقامی امیر مفتی وقار الحق عثمان نے کی اور تمام پروگرام آپ کی دعاء پر ہی اختتام پذیر ہوئے۔ کورس میں داتہ، ہڑیالہ ، غازی کوٹ کے علاوہ علاقہ قلندر آباد سے بھر پور انداز میں شرکاء شامل کورس ہوئے ۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۱۹ء ص ۵۳)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مولانا اللہ وسایا کا دورہ ڈیرہ اسماعیل خان
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا اللہ وسایا چار روزہ دورہ پر ۱۷؍ جنوری بروز جمعرات شام کو ڈیرہ اسماعیل خان تشریف لائے۔ ان چار دنوں میں پندرہ سے زائد پروگرام منعقد ہوئے۔ جس کی مختصر رپورٹ درج ذیل ہے: ۱۸؍ جنوری بروز جمعۃ المبارک بعد نماز فجر درس قرآن جامع مسجد خالد بن ولید بستی ترین، خطبہ جمعۃ المبارک مرکزی عیدگاہ کلاں اور بعد نماز عشاء جامع مسجد عشرہ مبشرہ میں بیان فرمایا۔ رات کا قیام مولانا شیخ محمود الحسن کے گھر پر کیا۔
۱۹؍ جنوری بروز ہفتہ کو بعد از ناشتہ مولانا محمود الحسن کے والد گرامی شیخ محمد ایاز محمود شہید کے مزار پر حاضری دی اور دعاء مغفرت کی۔ بعد ازاں ڈیرہ شہر کے قدیمی مدرسہ میں طلباء سے عقیدہ ختم نبوت کے موضوع پر بیان فرمایا۔ دس بجے شورکوٹ کے قریب ختم نبوت چوک کا افتتاح اپنے دست مبارک سے کیا اور جم غفیر سے مختصر بیان بھی فرمایا۔ بارہ بجے چشمہ بیراج کے قریب بستی کچہ ملی خیل میں اور بعد نماز ظہر جامع مسجد علی المرتضیٰ معاویہ نگر تحصیل پہاڑ پور میں ختم نبوت کانفرنسوں سے خطاب کیا۔ مدرسہ صدیقیہ پہاڑ پور میں عصر کی نماز ادا کر کے وانڈا مہر دل میں منعقدہ ختم نبوت کانفرنس بعد نماز عشاء کے لئے عازم سفر ہوئے۔ ڈیرہ اسماعیل خان سے پچاس کلو میٹر کے فاصلے پر بستی پٹیالہ میں خانقاہ یاسین زئی کی مسجد میں مغرب کی نماز ادا کی۔ یہ بستی مفکر اسلام مولانا مفتی محمود کی جائے پیدائش بھی ہے۔ نماز کے بعد خانقاہ یاسین زئی کے سجادہ نشین مولانا سید عبداللہ شاہ جو کہ ان دنوں صاحب فراش تھے کی تیمارداری کی۔ بعد نماز عشاء وانڈا مہر دل میں ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کی۔
۲۰؍ جنوری بعد نماز فجر مولانا فضل الرحمٰن کی مسجد عبدالخیل میں درس قرآن ارشاد فرمایا۔ ناشتہ کے بعد نو بجے پہاڑوں کے دامن میں ایک قبرستان، مفکر اسلام مولانا مفتی محمود کی قبر مبارک پر حاضری دی۔ حاضری کے بعد تحصیل کلاچی کے لئے عازم سفر ہوئے۔ شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی کے شاگرد رشید مولانا قاضی عبداللطیف اور مولانا قاضی عبدالکریم کے مدرسہ میں اساتذہ و طلباء سے خطاب کیا۔ خطاب کے بعد ٹانک کے لئے روانہ ہوئے اور ظہر کی نماز مرکزی جامع مسجد ٹانک میں ادا کی۔ بعد نماز ظہر اسی جامع مسجد میں منعقدہ پروگرام سے مفصل بیان فرمایا۔ بعد نماز مغرب ڈیرہ کی تحصیل درابن سے چند کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع بستی چودہواں میں ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کی۔ کانفرنس کی رپورٹ اسی شمارہ میں دوسرے مقام پر ملاحظہ فرمائیں۔ رات کا قیام خانقاہ موسیٰ زئی شریف میں ہوا۔
۲۱؍ جنوری صبح نو بجے مفتی شہاب الدین امیر عالمی مجلس درابن کے مدرسہ میں طلباء سے بیان فرمایا اور امتحانات میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والوں کو اپنے دست مبارک سے انعامات تقسیم کئے۔ دس بجے مدرسہ فیض المدارس میں بیان فرمایا اور بعد ازاں آخری پروگرام یعنی ختم نبوت کانفرنس گنڈی عاشق میں شرکت و خطاب فرمایا۔ کانفرنسوں کی رپورٹ الگ موجود ہے۔ (مولانا محمد رضوان قاسمی)
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۹ء ص ۵۳)
ختم نبوت کانفرنس وانڈا مہر دل ڈیرہ اسماعیل خان
۱۹؍ جنوری ۲۰۱۹ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام تحفظ ختم نبوت کانفرنس بسلسلہ تحفظ ناموس رسالت ملین مارچ کے حوالہ سے وانڈا مہر دل ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی صدارت مولانا محمد کفایت اللہ قاسمی نے کی۔ تلاوت کلام پاک اور حمد و نعت کے بعد مولانا محمد حمزہ لقمان، مولانا محمد عابد کمال، مولانا نور محمد ایم این اے اور مولانا اللہ وسایا کے بیانات ہوئے۔ کانفرنس کا اختتام مولانا محمد کفایت اللہ قاسمی کی دعاء سے ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۹ء ص ۴۶)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس درابن ڈیرہ اسماعیل خان
۲۰؍ جنوری ۲۰۱۹ء کو بعد نماز مغرب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام بستی چودہواں تحصیل درابن کی مرکزی جامع مسجد میں ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس کی صدارت مولانا مفتی شہاب الدین امیر عالمی مجلس تحصیل درابن نے کی۔ نقابت کے فرائض جامع مسجد کے خطیب مولانا محمد یونس نے سرانجام دیئے۔ کانفرنس سے مولانا محمد حمزہ لقمان، مولانا محمد عابد کمال اور مولانا اللہ وسایا کے بیانات ہوئے۔ مقررین نے کہا کہ امت مسلمہ کو اپنے تمام تر اختلافات رفع کر کے حضور ﷺ کی عزت و ناموس کے لئے یک جان ہو جانا چاہئے۔ کانفرنس کا اختتام مولانا مفتی شہاب الدین امیر عالمی مجلس تحصیل درابن کی دعاء سے ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۹ء ص ۴۶)
ختم نبوت کانفرنس گنڈی عاشق ڈیرا اسماعیل خان
۲۱؍ جنوری ۲۰۱۹ء کو صبح دس بجے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت تحصیل درابن کے زیر اہتمام گنڈی عاشق میں ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس کی صدارت حضرت لاہوری کے شاگرد رشید مولانا قاضی مہربان نے فرمائی۔ حمد و نعت کے بعد راقم (محمد رضوان قاسمی)، مولانا محمد حمزہ لقمان، مولانا محمد عابد کمال اور مولانا اللہ وسایا کے بیانات ہوئے۔ مقررین نے کہا کہ تاریخ شاہد ہے کہ رحمت عالم ﷺ کی عزت و ناموس پر حملہ کرنے والوں کو اللہ رب العزت نے دنیا میں نشان عبرت بنایا ہے اور آخرت کا معاملہ ابھی باقی ہے۔ کانفرنس مولانا قاضی مہربان کی دعاء پر ختم ہوئی۔ (مولانا محمد رضوان قاسمی)
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۹ء ص ۴۶)
ختم نبوت کورسز حیدر آباد و ٹنڈو الہیار
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حیدر آباد کے زیر اہتمام دفتر ختم نبوت آٹو بھان روڈ لطیف آباد نمبر ۲ میں ۲۵؍ جنوری بروز جمعہ جب کہ ۲۶؍ جنوری کو مسجد کھتری پاڑہ ٹنڈو الہیار میں بروز ہفتہ عصر تا عشاء ختم نبوت کورس منعقد ہوا۔ جس میں علماء، تاجر برادری و عوام الناس نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ ختم نبوت کورس میں مہمان خصوصی مولانا مفتی محمد راشد مدنی رحیم یار خان نے ”قانون ناموس رسالت اور ہماری ذمہ داری، دور حاضر میں نبوت و مہدویت کے جھوٹے دعویدار اور عقیدہ ختم نبوت اور تجارت کے جدید مسائل اور بنیادی اصول“ پر جب کہ مولانا توصیف احمد نے ”اسلام اور قادیانیت کے اصولی اختلاف اور حضرت سیدنا عیسیٰ بن مریم کی حیات اور رفع و نزول“ پر لیکچر دیا۔ ختم نبوت کورسز کے انعقاد کا مقصد امت مسلمہ کی ذہن سازی ہے۔ آخر میں شرکاء نے تجارت کے متعلق سوالات کئے جس کے مفتی محمد راشد مدنی نے تسلی بخش جوابات دیئے۔ حیدر آباد کورس کی صدارت مولانا عبدالسلام قریشی جب کہ ٹنڈو الہیار کورس کی صدارت ضلعی امیر مولانا محبوب راشد نے کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۹ء ص ۵۰)
تحفظ ختم نبوت تربیتی نشست کراچی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامع مسجد قاسمیہ بزرٹہ لائن میں ۲۵ تا ۲۷؍ جنوری ۲۰۱۹ء تین روزہ تحفظ ختم نبوت تربیتی نشست کا انعقاد ہوا۔ بروز جمعۃ المبارک بعد نماز عشاء مولانا محمد قاسم (مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی) نے لیکچر دیا۔ یہ بابرکت نشست ایک گھنٹہ جاری رہی۔
دوسرے دن بروز ہفتہ بعد نماز عشاء مولانا عبدالحی مطمئن (مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی) نے سیر حاصل گفتگو کی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تیسرے دن بروز اتوار بعد نماز عشاء مولانا محمد اسحاق مصطفیٰ (مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی) نے فتنہ مرزائیت اور کذب مرزا قادیانی پر سبق پڑھایا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۵ تا ۲۱ / مارچ ۲۰۱۹ء ص ۱۸)
اختتامی تقریب تحفظ ختم نبوت کورس برائے خواتین کراچی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا قاضی احسان احمد مدظلہ کی سرپرستی، رہنمائی اور نگرانی میں مدرسہ عائشہ شاہ فیصل کالونی نمبر ۱ کراچی میں خواتین کے لئے ۲۰ روزہ ’’تحفظ ختم نبوت کورس‘‘ رکھا گیا۔
کورس میں درسِ نظامی، دراسات، مدارس کی تخصصات، فاضلات، کالج اور یونیورسٹی سمیت زندگی کے مختلف شعبوں سے وابستہ طالبات ومعلمات نے حصہ لیا۔ ۱۲ / اگست ۲۰۱۸ء سے شروع ہونے والا یہ کورس ۳۰ / دسمبر ۲۰۱۸ء تک جاری رہا، چونکہ خواتین آس پاس کے دور وقریب مختلف علاقوں سے شریک ہوتی تھیں، نیز مختلف شعبوں سے وابستہ تھیں، اس لئے ان کی سہولت کے پیش نظر کورس کی کلاسز تعطیل والے دن یعنی اتوار کو ہوتی رہیں، جب کہ ہفتے کے دیگر دنوں میں لکھنے، یاد کرنے اور مطالعہ کرنے کے لئے کام دیا جاتا رہا۔
کورس میں شیخ الحدیث مولانا شفیق الرحمٰن کشمیری، مولانا قاضی احسان احمد، ضلع ملیر کے مسئول مولانا محمد اسحاق مصطفیٰ، ضلع کورنگی کے مسئول مولانا محمد عادل غنی، مجلس کراچی کے مبلغین مولانا عبدالحی مطمئن، مولانا محمد قاسم، جمعیت علماء اسلام کے رکن مولانا شیر محمد علوی اور مولانا محمد اشفاق (ذمہ دار حلقہ شاہ فیصل ٹاؤن) نے مختلف عنوانات پر لیکچرز دیئے۔ عقیدۂ ختم نبوت، حیات عیسیٰ علیہ السلام، ظہور امام مہدی، قانون ناموس رسالت، قیامت کی نشانیاں، تحریک ختم نبوت، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی تاریخ و کردار سمیت ۳۴ عنوانات پر تفصیلی لیکچرز ہوئے۔ اساتذہ کرام کے تمام اسباق کو ریکارڈ کیا گیا۔ کورس کے اسباق کو تحریری طور پر مرتب کیا گیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے جملہ لٹریچر کا بالاستیعاب مطالعہ کروایا گیا۔ آئینہ قادیانیت، تحفظ ختم نبوت اہمیت وفضیلت، ناموس رسول اور قانون توہین رسالت، اسلام اور قادیانیت کا تقابلی مطالعہ، قادیانی شبہات کے جوابات، تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء سمیت مجلس کی دستیاب بیشتر کتب سے مطالعے اور استفادے کا وقت اور سہولت مہیا کی گئی۔ کورس کے آخر میں امتحان کی تیاری کے لئے دو ہفتے کا وقت دیا گیا۔ طالبات نے دن رات ایک کرکے پیپر کی تیاری کی، تکرار اور مطالعے کی باقاعدہ کلاسز لگیں۔ ۶۰ سوالات پر مشتمل تفصیلی پرچہ ہوا۔ الحمدللہ ! ۲۷ خواتین نے امتحان پاس کیا۔
انعامات واسناد کی تقسیم کے لئے اختتامی تقریب ۲۷ / جنوری ۲۰۱۹ء بروز اتوار بعد نماز ظہر مدرسہ عائشہ شاہ فیصل کالونی نمبر ۱ میں منعقد ہوئی، جس کی صدارت جامعہ دارالعلوم کراچی کے استاذ الحدیث ونائب مفتی عبدالمنان صاحب مدظلہ نے فرمائی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا قاضی احسان احمد، مولانا محمد اسحاق مصطفیٰ، مولانا محمد قاسم، مولانا محمد عادل غنی، مولانا شیر محمد علوی، مولانا محمد جنید سمیت دیگر علماء وکارکنانِ ختم نبوت شریک ہوئے۔ امتحان پاس کرنے والی تمام طالبات کو مجلس کی طرف سے کتب کا ہدیہ اور مدرسے کی طرف سے دیگر انعامات دیئے گئے۔ نیز حضرت امیر مرکزیہ کے مبارک دستخط سے مزین خوبصورت سند دی گئی۔ پوزیشن حاصل کرنے والی طالبات کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے بیش قیمت کتب کا سیٹ اور شیلڈز دی گئیں۔ مفتی عبدالمنان ومولانا قاضی احسان احمد نے اپنے اختتامی خطاب میں قیمتی نصائح اور دعائے خیر فرمائی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۳ تا ۲۸ فروری ۲۰۱۹ء ص ۲۱)
دوروزہ کورس ضلع بدین
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام قاضی مبارک مسجد ومدرسہ تعلیم الاسلام ٹنڈو غلام علی ضلع بدین میں ۲۷، ۲۸ / جنوری ۲۰۱۹ء
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کو دوروزہ شعور ختم نبوت وفہم دین کورس منعقد ہوا، جس کا دورانیہ ظہر تا عصر رہا۔ کورس کی سرپرستی مولانا زبیر احمد میمن، صدارت مولانا قادر ڈنو میمن اور نگرانی مولانا محمد حنیف سیال مبلغ ختم نبوت بدین نے کی۔ پہلے دن شرکاء کورس کو مولانا توصیف احمد، مولانا مفتی محمد راشد مدنی نے عقیدۂ ختم نبوت اور ظہور امام مہدی علیہ الرضوان پر لیکچر دیا۔ دوسرے روز مولانا قاضی احسان احمد اور مولانا مفتی محمد راشد مدنی نے حیات حضرت عیسیٰ علیہ السلام، عیسائیت اور رد قادیانیت پر لیکچر دیئے۔
گوٹھ نبی بخش کمبوہ میں بیان
۲۷؍ جنوری ۲۰۱۹ء بروز اتوار بعد نماز عشاء جامع مسجد گوٹھ نبی بخش کمبوہ میں مولانا محمد حنیف سیال نے عقیدۂ ختم نبوت پر بیان کیا، بعد ازاں مولانا مفتی محمد راشد مدنی مرکزی راہنما عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی تفصیلی گفتگو ہوئی۔
جامعہ اسلامیہ قاسمیہ ماتلی ضلع بدین میں بیان
جامعہ ہذا کی بنیاد معروف عالم دین مولانا سائیں عبدالغفور قاسمی نے ۱۹۹۶ء میں رکھی۔ امام الصرف والنحو مولانا محمد عباس تھری کو اس کا انچارج مقرر کیا۔ بہت ہی باہمت عالم دین تھے، ان کی وفات کے بعد سے مولانا مفتی محمد رمضان سومرو مدظلہ، اس کے ناظم اعلیٰ اور انچارج چلے آ رہے ہیں۔ ۲۸؍ جنوری بروز پیر کو جامعہ ہذا میں صبح ۹ بجے مولانا مفتی محمد راشد مدنی نے طلباء کو خطاب کیا اور چناب نگر ختم نبوت کورس میں شرکت کرنے کی بھی دعوت دی۔ اس سفر میں مولانا بلال احمد بھان، خطیب سندھ مولانا گل حسن بھی ہمراہ رہے۔
ختم نبوت کانفرنس گولارچی
۲۸؍ جنوری ۲۰۱۹ء بروز پیر بعد نماز عشاء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مرکزی مدینہ مسجد گولارچی ضلع بدین میں (بیاد مولانا محمد علی صدیقی مرحوم) کے عظیم الشان تحفظ ختم نبوت کانفرنس زیر سرپرستی مولانا فتح محمد مہیری، زیر صدارت حکیم محمد عاشق نقشبندی زیر نگرانی مولانا محمد ابراہیم صدیقی منعقد ہوئی۔ کانفرنس سے مولانا محمد طیب، مولانا محمد شاہد عباسی، مولانا محمد حنیف سیال مہمان خاص مولانا مفتی محمد راشد مدنی رحیم یار خان اور مولانا قاضی احسان احمد کراچی کے خصوصی بیانات ہوئے۔
تحفظ ناموس رسالت پروگرام کہروڑ پکا
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۲۸؍ جنوری ۲۰۱۹ء کو بعد نماز مغرب پیر جیون میں قاری اللہ بخش لانگ کی سرپرستی میں پروگرام منعقد ہوا۔ جس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ کے رہنما مولانا عمر حیات اور مولانا منیر احمد ریحان امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کہروڑ پکا نے بیانات کئے۔ پروگرام کے آخر میں جماعت کا لٹریچر بھی تقسیم کیا گیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۹ء ص ۳۳)
دوروزہ ختم نبوت کورس لیہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لیہ کے زیر اہتمام ۲۸، ۲۹؍ جنوری ۲۰۱۹ء بروز سوموار، منگل دوروزہ شعور ختم نبوت کورس منعقد کیا گیا۔ جس کا دورانیہ ایک گھنٹہ رکھا گیا۔ دن کو مدرسہ اشرف المدارس میں گیارہ بجے سے بارہ بجے اور عوام الناس و کاروباری حضرات کے لئے بعد از نماز مغرب تا عشاء جامع مسجد کرنال میں منعقد کیا گیا۔ کورس میں پہلے دن عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے عقیدۂ ختم نبوت کے حوالہ سے لیکچر دیا۔ جامع مسجد کرنال میں کورس کی ابتداء قاری محمد عثمان (مدرس شعبہ تجوید
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا ثناء اللہ وسایا
جامع مسجد کرنال) کی تلاوت سے ہوئی اور دوسرے دن حیات سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور اوصاف نبوت سے آگاہ کیا۔ کورس کے اختتام پر عوام الناس کے سوالات کے جوابات دیئے گئے اور جماعتی لٹریچر تقسیم کیا گیا۔ طلباء کرام میں جس نے صحیح سنایا اس کو انعام سے بھی نوازا گیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۹ء ص ۵۱)
دو روزہ تحفظ ختم نبوت کورس مٹھی تھرپارکر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامع مسجد مٹھی تھرپارکر میں ۲۹ ، ۳۰/ جنوری ۲۰۱۹ء کو دو روزہ تحفظ ختم نبوت کورس منعقد ہوا، جس کا دورانیہ ظہر تا عصر رہا، جس کی سرپرستی سائیں محمد موسیٰ درس، مفتی خیر محمد بجیر ، صدارت مفتی محمد اسحق درس، نگرانی مولانا محمد حنیف سیال (مبلغ ختم نبوت ضلع تھرپارکر ) نے کی۔ شرکاء کورس کو مولانا مفتی محمد راشد مدنی ، مولانا قاضی احسان احمد اور مولانا محمد حنیف سیال نے لیکچر دیئے۔
سیرت خاتم الانبیاء کانفرنس گھاٹ تھرپارکر
۲۹/ جنوری ۲۰۱۹ء بروز منگل بعد نماز عشاء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام سیرت خاتم الانبیاء کانفرنس مدرسہ احسان العلوم گھاٹ بارڈر ایریا تھرپارکر میں زیرنگرانی حافظ محمد شمشاد کہری کے منعقد ہوئی۔ تلاوت ، حمد ونعت کے ساتھ کانفرنس کا آغاز کیا گیا۔ مولانا محمد حنیف سیال مبلغ تھرپارکر کے بیان کے بعد مہمان خصوصی مولانا مفتی محمد راشد مدنی اور مولانا قاضی احسان احمد نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت پر بیان فرمایا۔
تحفظ ناموس رسالت کانفرنس ہوتھی جوتڑ، اسلام کوٹ
۳۰/ جنوری ۲۰۱۹ء بروز بدھ بعد نماز عشاء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت و جملہ جماعت گوٹھ ہوتھی جوتڑ اسلام کوٹ کے زیر اہتمام تحفظ ناموس رسالت کانفرنس زیر سرپرستی مولانا تاج محمد سومرو، زیر صدارت سائیں ابراہیم نہڑی، زیرنگرانی مولانا اللہ بخش نہڑی منعقد ہوئی۔ تلاوت کلام پاک کی سعادت حافظ عبد الرحمن نہڑی نے حاصل کی، جب کہ قاری محمد صدیق بجیر نے اپنے مخصوص انداز میں منظوم کلام پیش کیا۔ کانفرنس میں مولانا محمد حنیف سیال، مولانا مفتی محمد راشد مدنی ، مولانا قاضی احسان احمد نے فتنہ قادیانیت کی سنگینی پر تفصیلی گفتگو فرمائی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی یکم تا ۷ مارچ ۲۰۱۹ء ص ۲۴ ، ۲۵)
شعور ختم نبوت کورس رجانہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ٹوبہ کے زیر اہتمام جامعہ امدادالعلوم رجانہ میں ۴ روزہ شعور ختم نبوت و فتنہ مرزائیت کورس منعقد ہوا۔ جس میں ضلعی مبلغ مولانا محمد حبیب نے ۳۰/ جنوری بروز بدھ کو سیرت امام مہدی علیہ الرضوان اور قادیانیت پر لیکچر دیا۔ ۳۱/ جنوری بروز جمعرات کو مولانا عبدالحکیم نعمانی مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ساہیوال نے حیات سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور قادیانیت پر سبق پڑھایا۔ یکم فروری بروز جمعہ کو مولانا محمد مجاہد مختار نے عقیدہ ختم نبوت پر جب کہ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے ۲/ فروری بروز ہفتہ کو اسلام اور قادیانیت پر مفصل و مدلل خطاب فرمایا۔ کورس کی مکمل نگرانی پیر طریقت مولانا قاری ناصر عمران صدیقی نے فرمائی۔ کورس کی اختتامی دعاء وذکر مولانا عبدالقادر خلیفہ مجاز سید جاوید حسین شاہ نے فرمائی۔ کورس میں کثیر تعداد میں مرد وخواتین نے شرکت فرمائی۔ رانا عزیز الرحمن کی خصوصی کاوش رہی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۹ء ص ۵۱)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ۵۸۹ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس دھیرو کی گوجرہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ٹوبہ کے زیر اہتمام ۲؍ فروری ۲۰۱۹ء بروز جمعہ بعد نماز عشاء چک نمبر ۲۴۳ ج ب دھیرو کی گوجرہ میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت عالمی مجلس کے ذمہ دار محترم جناب عرفان اللہ نے فرمائی۔ کانفرنس سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنماء مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا محمد حبیب اور مولانا محمد شریف کے بیانات ہوئے۔ کانفرنس کے انتظامات میں بھائی محمد ثاقب علی، باقر علی، ثروت اقبال، عتیق الرحمن، نعیم صفدر نے بھر پور محنت و کوشش کی۔ الحمد للہ! کانفرنس کامیاب رہی اور مکمل قادیانی سوشل بائیکاٹ کا عہد و پیماں ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۹ء ص ۴۷)
تحفظ ختم نبوت کانفرنس کہروڑ پکا
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مولانا منیر احمد ریحان کی زیر نگرانی ۳؍ فروری ۲۰۱۹ء کو مسجد کوثر المعروف مولانا شریف نعمانی والی محلہ ریحان میں ایک سیمینار منعقد ہوا۔ جس میں مولانا مختار احمد مبلغ میر پور خاص سندھ اور مولانا محمد وسیم اسلم، مولانا محمود نعمانی اور مولانا منیر احمد ریحان امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کہروڑ پکا نے خطابات کئے۔ مقررین نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت دین اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے۔ پروگرام کے آخر میں جماعت کا لٹریچر بھی تقسیم کیا گیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۹ء ص ۳۳)
تحفظ ناموس رسالت و آغوش پیغمبر کانفرنس
۵؍ فروری ۲۰۱۹ء بروز منگل بلدیہ کمیٹی گراونڈ پتوکی میں کانفرنس منعقد ہوئی۔ تلاوت کلام پاک، حمد ونعت کے بعد مولانا عبد الرزاق مجاہد، قاری محمد ابراہیم مفید، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور مولانا زاہد الراشدی کے بیانات ہوئے۔ اس موقع پر پروفیسر مسعود الحسن، قاری نور محمد شاکر، مولانا رضاء القاسمی اور حافظ اشرف اٹھوال موجود تھے۔ ۶؍ فروری جامعہ محمودیہ رینالہ خورد ضلع اوکاڑہ میں بعد نماز عصر بسلسلہ کورس چناب نگر مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کا بیان ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۹ء ص ۴۷)
ختم نبوت کانفرنس کمالیہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ٹوبہ کے زیر اہتمام ۷؍ فروری ۲۰۱۹ء بروز جمعرات بعد نماز عشاء جامع مسجد نیم والی کمالیہ میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کمالیہ پیر جی عتیق الرحمن نے فرمائی۔ تلاوت قرآن مجید قاری محمد عمران نے فرمائی۔ مولانا محمد قاسم گجر لاہوری اور قاری شرافت علی مجددی گوجرہ نے ہدیہ نعت اور مرزا قادیانی کی کہانی سنا کر کانفرنس کو دو بالا کر دیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنماء مولانا محمد اکرم طوفانی اور مولانا محمد حبیب کے خصوصی بیانات ہوئے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اسلام اور پاکستان کے تحفظ کے لئے ہر محاذ پر کوشاں رہے گا۔ کانفرنس میں کثیر علماء کرام اور عوام الناس نے شرکت فرمائی۔ الحمد للہ! کانفرنس کامیاب رہی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۹ء ص ۴۷)
سیرت خاتم الانبیاء کانفرنس باہو کھوسو جیکب آباد
جامعہ انوار العلوم باہو کھوسو کے زیر اہتمام ۷؍ فروری ۲۰۱۹ء بروز جمعرات سیرت خاتم الانبیاء کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا محمد حسین ناصر، قاری جمیل احمد، جمعیت علماء اسلام کے مرکزی رہنما مولانا حافظ حمد اللہ، مولانا محمد خان شیرانی و دیگر علماء کرام نے کہا کہ
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حکمران عقیدہ ختم نبوت کے پاسبان بن جائیں بصورت دیگر مسلمانوں کی یہود و نصاریٰ کے ایجنٹوں کے خلاف ہماری کھلی جنگ ہو گی۔ قادیانی مرزائی اکھنڈ بھارت کا نظریہ رکھتے ہیں۔ اس وقت پاکستان میں یہ جس عہدے پر ہیں کہیں ایسا نہ ہو کہ وہاں بیٹھ کر کلبھوشن کا کردار ادا کر رہے ہوں۔ کانفرنس صبح دس بجے سے لے کر شام پانچ بجے تک جاری رہی۔ کانفرنس کو کامیاب کرنے میں قاری سعید احمد، حافظ منظور احمد، مفتی عبدالمجید، حافظ نیاز احمد بنگلانی اور مدرسہ کے طلباء نے بھر پور محنت کی۔ اللہ پاک سب کو جزائے خیر دے۔ (محمد مبشر حسین)
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۹ء ص ۵۱)
تحفظ ختم نبوت کانفرنس بورے والا
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۵/فروری بروز جمعۃ المبارک مدرسہ عربیہ اسلامیہ بورے والا میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ مولانا حافظ محمد ہارون نعمانی نے نگرانی کی۔ کانفرنس کا آغاز بارہ بجے دوپہر ہوا۔ تلاوت کلام پاک اور حمد ونعت کے بعد جمعہ سے قبل عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری اور مولانا محمد انور اوکاڑوی کے بیانات ہوئے۔ خطبہ جمعہ شیخ الحدیث مولانا ظفر احمد قاسم نے پڑھا۔ نماز جمعہ کے بعد تلاوت کلام پاک قاری زکریا خالد جھنگ نے اور ہدیہ نعت مولانا محمود الرحمن عارفی و سید عزیز الرحمن شاہ جہانیاں نے پیش کیا۔ بعدازاں مولانا عبدالستار گورمانی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، عالمی مجلس کے نائب امیر مرکزیہ مولانا حافظ پیر ناصر الدین خاکوانی کے بیانات ہوئے۔ مولانا قاری محمد طیب حنفی، مولانا عبدالرزاق، مولانا ناصر محمود راشدی، مولانا عبدالعزیز طاہر سمیت متعدد حضرات اسٹیج پر موجود رہے۔ کانفرنس میں تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ کانفرنس کا اختتام شام پانچ بجے کے بعد ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۹ء ص ۴۸)
تحفظ ناموس رسالت ﷺ کانفرنس سمبڑیال سیالکوٹ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سمبڑیال ضلع سیالکوٹ کے زیر اہتمام ۱۸/فروری ۲۰۱۹ء کو جامع مسجد عثمانیہ رسول پورہ میں تحفظ ناموس رسالت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت مولانا قاری محمد یونس نے اور نگرانی مولانا یاسر عرفان نعمانی نے کی۔ حمد ونعت کے بعد مولانا فقیر اللہ اختر اور مولانا قاضی احسان احمد کے خصوصی بیانات ہوئے۔ اس موقع پر مولانا مفتی محمد داؤد نفیس، مولانا عبدالباسط فاروقی اور علامہ اویس فاروقی بھی موجود تھے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۹ء ص ۴۸)
تحفظ ختم نبوت کورس پسرور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام تین روزہ کورس ۲۰، ۲۱، ۲۲/فروری ۲۰۱۹ء جامع مسجد ختم نبوت و مدرسہ حیات القرآن پسرور میں ضلع سیالکوٹ میں منعقد ہوا۔ کورس کی صدارت حافظ محمد اسحاق، سرپرستی مولانا قاری عبدالحفیظ اعوان اور نگرانی مولانا محمد طیب زاہد اعوان نے کی۔ کورس میں پہلے دن مولانا مفتی محمد راشد مدنی رحیم یار خان نے ، دوسرے دن مولانا فقیر اللہ اختر اور مولانا غلام مرتضیٰ، جب کہ تیسرے دن مولانا عزیز الرحمن ثانی نے اسباق پڑھائے۔ کورس میں مقامی علماء کرام، سکول و کالج کے ٹیچرز و پروفیسر حضرات اور کالج کے اسٹوڈنٹس سمیت کثیر تعداد میں عوام الناس نے شرکت کی۔ مولانا حافظ محمد قاسم اعوان اور مولانا عبدالباسط اعوان دونوں بھائیوں نے کورس کے حوالہ سے پورے شہر میں ختم نبوت کی صداء بلند کی۔ جید علماء کرام سمیت سکول و کالج اور بار ایسوسی ایشن میں فرداً فرداً ملاقاتیں کیں اور کورس کی اہمیت و ضرورت پر زور دیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۹ء ص ۵۲)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس سنجر چانگ
۲۱؍ فروری ۲۰۱۹ء بروز جمعرات بعد نماز عصر مدرسہ عربیہ خاتم النبیین سنجر چانگ ضلع ٹنڈو الہیار میں نویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت مولانا محمد سلیم شیخ الحدیث شہداد پور نے کی۔ تلاوت حافظ محمد فیصل اور طالب علم محمد وقاص نے کی۔ جب کہ ہدیہ نعت محمد شہباز، بھائی شفیع محمد نے پیش کیا۔ کانفرنس سے مولانا اللہ وسایا، مولانا قاضی احسان احمد، مولانا مختار احمد، شیخ الحدیث مولانا صالح الحداد، مولانا غلام حسین میمن سجاول، مولانا نصیر احمد نے خطابات کئے۔ مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ختم نبوت و ناموس رسالت کے خلاف جاری سازشوں کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ قانون ناموس رسالت کی حفاظت جانوں کو ہتھیلی پر رکھ کر کریں گے۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض راقم نے ادا کئے۔ جب کہ کانفرنس کی میزبانی مولانا محمد بلال مہتمم مدرسہ ہذا نے کی۔ مفتی محمد عرفان اور مولانا قادر بخش، مولانا افتخار نظامی، مفتی ذوالفقار احمد، مفتی مجیب الرحمن، مفتی عدنان، جامعہ اشرف المدارس کوٹ غلام محمد، جامعہ صدیق اکبر، دارالعلوم اسلامیہ، مدینۃ العلوم ٹنڈو الہیار کے اساتذہ سمیت شہر بھر کے علماء کرام نے شرکت کی۔ مولانا صالح الحداد کی دعا پر کانفرنس اختتام پذیر ہوئی۔ (مولانا توصیف احمد)
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۹ء ص ۴۸)
گوجرانوالہ میں دو روزہ ختم نبوت کورس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام دو روزہ ختم نبوت کورس ۲۱، ۲۲؍ فروری کو مرکزی جامع مسجد سٹلائٹ ٹاؤن گوجرانوالہ میں منعقد ہوا۔ شہر بھر میں اشتہار فلیکس بینر بھر پور لگائے گئے۔ علمائے کرام کی دلچسپی اور محنت سے کورس کامیاب رہا۔ کورس کے پہلے دن تلاوت قاری طاہر محمود نے کی۔ نعت حافظ ابوبکر نے پڑھی۔ کورس کے اغراض ومقاصد راقم نے بیان کئے۔ بعد ازاں مناظر اسلام مفتی محمد راشد مدنی نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت، تحریک ختم نبوت کا تاریخی پس منظر اور فتنہ قادیانیت کے عقائد پر گفتگو فرمائی۔ ختم نبوت کورس کے دوسرے روز مفتی غلام نبی، مولانا ہدایت اللہ جالندھری کے بیانات کے بعد مفتی محمد راشد مدنی نے حیات مسیح اور سیرت امام مہدی پر مفصل گفتگو فرمائی۔ دونوں دن شرکاء کورس کی بھر پور حاضری تھی۔
جامع مسجد کے صدر خواجہ مظاہر کلیم اور خطیب مولانا داؤد احمد اور امام قاری محمد اسحاق مولانا محمود الرشید قدوسی نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی خدمات کو سراہا۔ اختتام کورس پر تمام شرکاء کورس کو ختم نبوت کا لٹریچر بھی دیا گیا۔ شرکاء کورس کے لئے کاغذ قلم اور کھانے کا وسیع تر انتظام تھا۔ (محمد عارف شامی)
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۹ء ص ۲۸)
مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ کا خطبہ جمعہ
۲۲؍ فروری ناظم اعلیٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے خطبہ جمعہ جامع مسجد طٰہٰ مدرسہ عثمان وعلی لیہ میں ارشاد فرمایا۔ جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ دنیا میں پہلے بھی جو امن قائم ہوا وہ اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے سے ہوا، اب بھی اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے سے ہی امن ممکن ہے۔ (مولانا محمد ساجد)
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۹ء ص ۲۰)
ختم نبوت کانفرنس حیدرآباد
۲۲؍ فروری بروز جمعہ بعد نماز مغرب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت و مدرسہ زم زم حیدرآباد کے زیر اہتمام گیارھویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس بسلسلہ تقریب ختم بخاری شریف جنرل بس اسٹینڈ داؤد خان گراؤنڈ میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی صدارت مولانا عبدالسلام قریشی
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حیدر آباد نے کی۔ تلاوت حافظ محمد فضل ، جب کہ ہدیہ نعت مولانا غلام مرتضیٰ اور حافظ عبداللہ نے پیش کیا۔ کانفرنس سے مولانا اللہ وسایا ، مولانا قاضی احسان احمد ، حافظ عبداللہ بن مولانا ضیاء الرحمن طاہر اور راقم نے بیانات کئے ، جب کہ شیخ الحدیث مولانا جان محمد نے مدرسہ زم زم للبنین والبنات کی ۱۴/ فاضلات کو بخاری شریف کے آخری سبق کا درس دیا۔ کانفرنس کی میزبانی مولانا ضیاء الرحمن طاہر لطیف آباد نے کی۔ اسٹیج سیکرٹری کی ذمہ داری مولانا عبدالرحیم صدیقی نے نبھائی۔ کانفرنس سے مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہر دور میں تحفظ ناموس رسالت کا فریضہ سرانجام دیا گیا ۔ کانفرنس میں مولانا سیف الرحمن ، مفتی محمد عرفان ، مولانا عبدالغفار مورو جو ، مولانا نور السلام ، مولانا سراج الحق ، مولانا فضل ربی ، مولانا عبدالولی و دیگر کئی علماء کرام نے شرکت کی۔ (مولانا توصیف احمد)
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۹ء ص ۴۹)
دو روزہ تحفظ ختم نبوت کورس خانیوال
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام دو روزہ تحفظ ختم نبوت کورس ۲۲، ۲۳/ فروری کو جامع مسجد المنظور خانیوال میں منعقد ہوا۔ کورس کا دورانیہ بعد نماز مغرب تا عشاء رہا۔ کورس کی نگرانی مولانا محمد عبداللہ عابد اور مولانا محمد اکرم نے ، جب کہ سر پرستی صاحبزادہ خواجہ عبدالماجد صدیقی نے کی۔ مولانا عبدالستار گورمانی ، مولانا عبدالحکیم نعمانی ، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور مولانا پیر خواجہ عبدالماجد صدیقی نے اسباق پڑھائے۔ مولانا مفتی سمیع اللہ ، مولانا محمد رمضان ، مولانا رحمت اللہ ، قاری عبید اللہ اور مولانا عبدالرؤف نے بھر پور تعاون کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۹ء ص ۵۲)
مرکزی مبلغین کا دورہ صوابی و چارسدہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغین خیبر پختونخواہ تشریف لائے۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے تین روزہ دورہ کیا۔ ۲۳/فروری کو ظہر کی نماز کے بعد صوابی میں مولانا اعزاز الحق کے روحانی اجتماع جس کا عنوان ہمیشہ ”ختم نبوت کانفرنس“ منعقد ہوتا ہے، میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنماؤں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ، مولانا محمد اکرم طوفانی ، مولانا مفتی راشد مدنی اور مولانا عابد کمال کے خطابات ہوئے۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے اگلے دن جامعہ خدیجۃ الکبریٰ للبنات میں مولانا ضیاء الاسلام کی دعوت پر خطاب فرمایا۔ دس بجے جامعہ فیض القرآن والسنۃ میں مولانا محمد عبداللہ کی دعوت پر بیان کیا۔ ساڑھے گیارہ بجے جامعہ رقیہ للبنات میں مولانا ضیاء الحق کی دعوت پر خطاب کیا۔ ساڑھے بارہ بجے کے بعد آپ نے جامعہ عمر موٹروے مفتی فضل غفور کی دعوت پر بیان کیا۔ دو بجے جامعہ محمدیہ خانماکئی میں ایک اجتماع سے خطاب کیا۔ بعد نماز عصر جامعہ مسجد امیر آباد میں ایک جلسے سے بیان فرمایا۔ بعد نماز عشاء شبیر پاؤگل مولانا نذیرگل ، قاری محمد شاکر کی دعوت پر خطاب کیا۔ جس کی صدارت عقیل تنگی کے امیر مولانا خلیل الرحمن نے کی۔ مہمان خصوصی مولانا نجیب الاسلام تھے۔ ۲۵/ فروری صبح دس بجے جامعہ تسلیم تنگی میں بیان ہوا۔ گیارہ بجے تنگی کے ڈگری کالج میں پروفیسر اور اسٹوڈنٹس سے خطاب فرمایا۔ دو بجے جامعہ اسلامیہ فریدیہ کانگڑ میں مولانا ایاز حقانی کی دعوت پر اور پانچ بجے دارالعلوم نعمانیہ شبقدر میں جلسہ سے خطاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۹ء ص ۵۵)
ختم نبوت کانفرنس نواب شاہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ختم نبوت کانفرنس بروز ہفتہ ۲۳/فروری ۲۰۱۹ء جامع مسجد کبیر نزد ریلوے اسٹیشن نواب شاہ میں بعد نماز مغرب زیر صدارت مولانا محمد انیس ، زیر سرپرستی شیخ الحدیث مولانا محمد سلیم اور زیر نگرانی مولانا تجمل حسین منعقد ہوئی۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض راقم نے سرانجام دیئے۔ کانفرنس کا آغاز قاری رضا محمد کی تلاوت کلام پاک سے کیا گیا۔ حافظ انعام اللہ انس نے ہدیہ
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حمد و نعت پیش کیا۔ مولانا ثناء اللہ مگسی ، مولانا توصیف احمد ، مولانا قاضی احسان احمد کراچی ، مولانا قاری کامران احمد ، مولانا اللہ وسایا اور مولانا سائیں عبدالمجیب پیر شریف کے بیانات ہوئے ۔ مقررین نے کہا کہ ہم پر لازم ہے کہ ہم حضور نبی کریم ﷺ کے ساتھ وفاداری کرتے ہوئے قادیانیت اور قادیانی تمام مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کریں ۔ مولانا قاری محمد امجد مدنی ، قاری نیاز احمد خاخیلی ، قاری علی اصغر، قاری محمد تصور، حافظ محمد سلیم بخاری، بھائی عبدالرؤف، مدارس کے طلباء کرام اور کارکنان سمیت کانفرنس کے جملہ امور اور علماء کرام اور دیگر مہمانوں کی خدمت میں مصروف رہے ۔ بحمد اللہ تعالیٰ کانفرنس میں ہر طبقے کے لوگوں نے بھر پور شرکت کی۔ کانفرنس کا اختتام رات تقریبا ایک بجے ہوا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی تین سالہ رکنیت سازی بھی کی گئی ۔ جماعت کی طرف سے کتب کا اسٹال بھی لگایا گیا اور آخر میں جماعت کا لٹریچر بھی تقسیم کیا گیا ۔ (قاری محمد عبداللہ فیض)
(ماہنامہ لولاک ملتان اپریل ۲۰۱۹ء ص ۴۹)
ختم نبوت کانفرنس محراب پور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت محراب پور ضلع نوشہرو فیروز کے زیر اہتمام بروز جمعہ یکم / مارچ ۲۰۱۹ء بعد نماز عشاء مرکزی جامع مسجد اسٹیشن روڈ محراب پور میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس زیر صدارت مقامی امیر مولانا عبدالصمد منعقد کی گئی ۔ جب کہ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا خالد محمود نے سرانجام دیئے ۔ تلاوت کی سعادت قاری محمد عرفان میمن نے حاصل کی ۔ پھر حافظ عبدالاحد نے ہدیہ نعت پیش کیا ۔ اس کے بعد مولانا تجمل حسین اور مولانا قاضی احسان احمد نے خطاب فرمایا ۔ آخر میں مولانا عزیز الرحمن ثانی نے خطاب فرمایا اور دعاء فرمائی ۔ کانفرنس کے اختتام پر ختم نبوت کا لٹریچر بھی تقسیم کیا گیا اور شرکاء نے مجلس تحفظ ختم نبوت کی رکنیت بھی حاصل کی ۔ (قاری عبداللہ فیض)
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۹ء ص ۵۱)
ختم نبوت کانفرنس دریا خان مری
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع نوشہرو فیروز کے زیر اہتمام بروز جمعہ یکم / مارچ ۲۰۱۹ء بوقت گیارہ بجے صبح مرکزی جامع مسجد قاسم العلوم دریا خان مری میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی ۔ کانفرنس بعد نماز جمعہ تک جاری رہی ۔ کانفرنس کی صدارت قاری محمد حسن مورو جو نے کی ۔ نگرانی قاری نیاز احمد خاخیلی نے کی ۔ جب کہ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض قاری محمد یاسین اور حافظ خضر حیات نے ادا کئے ۔ تلاوت کلام اللہ کی سعادت قاری غلام قادر کورائی نے حاصل کی ۔ نذیر احمد شر نے ہدیہ نعت پیش کیا ۔ کانفرنس سے مولانا تجمل حسین ، مولانا محمد احمد حنفی ، مولانا عزیز الرحمن ثانی نے خطاب فرمایا ۔ آخر میں مولانا قاضی احسان احمد نے خطاب فرمایا اور خطبہ جمعہ اور نماز جمعہ کی اقتداء بھی فرمائی ۔ حاضرین میں جماعت کا لٹریچر بھی تقسیم کیا گیا اور شرکاء نے جماعت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی رکنیت سازی بھی کرائی ۔ (قاری عبداللہ فیض)
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۹ء ص ۵۱)
ختم نبوت کانفرنس سکھر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سکھر کے زیر اہتمام ۲ / مارچ ۲۰۱۹ء بروز ہفتہ بعد نماز مغرب مرکزی جامع مسجد بندر روڈ سکھر میں ختم نبوت کانفرنس زیر صدارت قاری جمیل احمد بندھانی ، زیر انتظام مولانا محمد حسین ناصر اور زیر نگرانی مولانا عبداللطیف اشرفی منعقد ہوئی ۔ کانفرنس میں مولانا تجمل حسین ، مولانا ظفر اللہ سندھی ، مفتی محمد سہیل سندھی ، مولانا مسعود احمد سومرو ، مولانا سائیں عبدالمجیب قریشی ، مولانا عزیز الرحمن ثانی ، مولانا اللہ وسایا کے بیانات ہوئے ۔ ہدیہ نعت معروف نعت خواں جناب سید عزیز الرحمن شاہ صدر بزم حسان پاکستان نے پیش کی ۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
رات دو بجے قاری جمیل احمد نے اختتامی دعاء کروائی۔ کانفرنس کو کامیاب کرنے میں مولانا عبداللطیف اشرفی، مولانا محمد حسین ناصر، مولانا سہیل احمد سندھی اور حافظ محمد اویس نے بھر پور محنت کی۔ (محمد مبشر حسین)
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۹ء ص ۵۲)
ختم نبوت کانفرنس دریا خان بھکر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۲؍مارچ ۲۰۱۹ء بروز ہفتہ تحفظ ناموس رسالت کانفرنس جامع مسجد فردوس میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز قاری محمد عارف رحیمی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ محمد عمر انصاری، حافظ محمد ابراہیم احراری اور حافظ فیصل بلال حسان گوجرانوالہ نے نعتیہ کلام پیش کیا۔ مولانا محمد ساجد، مولانا نور محمد ہزاروی، مولانا مفتی محمد راشد مدنی کے بیانات ہوئے۔ مقررین نے کہا کہ قادیانی آئین پاکستان کے غدار ہیں۔ کانفرنس میں مفتی شفاء اللہ، مولانا عبدالرؤف، محمود الحسن جہان خان نے خصوصی شرکت کی۔ کانفرنس کی کامیابی میں قاری محمد ساجد و دیگر کارکنان نے بھر پور کردار ادا کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۹ء ص ۵۲)
ختم نبوت کانفرنس رستم سندھ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت رستم کے زیر اہتمام ۳؍مارچ بروز اتوار بعد نماز عشاء جامع مسجد میں ختم نبوت کانفرنس زیر سرپرستی درگاہ سومرانی شریف کے سجادہ نشین مولانا سائیں عبداللہ مہر، زیر صدارت مولانا غلام اللہ مہر، زیر انتظام مولانا عبدالحکیم مہر منعقد ہوئی۔ کانفرنس سے مولانا ظفر اللہ سندھی، مولانا محمد حسین ناصر، مولانا عزیز الرحمن ثانی کے بیانات ہوئے۔ ہدیہ نعت سید عزیز الرحمن شاہ نے پیش کی۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا عبدالحلیم مہر نے انجام دیئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۹ء ص ۵۲)
ختم نبوت کانفرنس شکار پور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت شکار پور کے زیر اہتمام ۴؍مارچ بروز پیر بعد نماز مغرب جامع مسجد و مدرسہ جامعہ اشرفیہ میں ختم نبوت کانفرنس زیر صدارت مولانا علی نواز بروہی، زیر انتظام مولانا محمد یوسف سومرو، زیر نگرانی حافظ ظفر اللہ سندھی منعقد ہوئی۔ بعد نماز مغرب تلاوت ونعت کے بعد درگاہ عالیہ پیر شریف کے چشم و چراغ ولی ابن ولی سائیں عبدالمجیب قریشی کا بیان ہوا۔ حضرت نے عقیدہ ختم نبوت پر تفصیلی خطاب فرمایا اور مسلمانوں سے قادیانی فتنہ سے بائیکاٹ کا عہد لیا۔ بعد نماز عشاء تلاوت کے بعد سکھر کے مبلغ مولانا محمد حسین ناصر نے بیان کرتے ہوئے اکابرین کی اس محاذ پر قربانیوں کا ذکر کیا۔ مولانا عزیز الرحمن ثانی نے تفصیلی بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ہم نے قانونی طریقے سے قادیانیوں کا تعاقب کیا۔ پاکستان کی سیشن کورٹ سے لے کر سپریم کورٹ تک صوبائی اسمبلیاں، سینٹ آف پاکستان، برطانیہ، جرمنی اور ساؤتھ افریقہ کی سپریم کورٹ تک اس فتنہ کا تعاقب کیا۔ آخری بیان و درس حدیث مولانا محمد اسماعیل قاسمی نے دیا اور دستار بندی ہوئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۹ء ص ۵۲)
حجرہ شاہ مقیم میں ختم نبوت کورس
۴، ۵؍مارچ ۲۰۱۹ء کو جامعہ فاطمۃ الزہرا میں ظہر سے عصر تک دو روزہ ختم نبوت کورس منعقد ہوا۔ جس میں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور مولانا عبدالرزاق مجاہد نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت وفضیلت، حیات اور رفع ونزول عیسیٰ علیہ السلام، خروج دجال، ظہور امام مہدی علیہ الرضوان اور قادیانی عقائد کا رد پیش کیا۔ کورس میں سینکڑوں بنات اور خواتین نے شرکت کی۔ ۵؍مارچ ۲۰۱۹ء کی صبح کو نماز فجر کے بعد مولانا شجاع آبادی نے جامع مسجد داؤد میں درس دیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۹ء ص ۵۶)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تحفظ ختم نبوت کانفرنس کوٹ ابدان
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرہ کے زیر اہتمام ۵؍مارچ ۲۰۱۹ء بروز منگل بعد نماز مغرب جامع مسجد فاروقیہ چک نمبر ۹۶ ج ب کوٹ گوجرہ ضلع ٹوبہ میں تحفظ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت سید محمد اجمل شاہ نے فرمائی۔ تلاوت سید عبدالرزاق شاہ نے، ہدیہ نعت حافظ حسام نے پیش فرمائی۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا محمد حبیب اور مولانا عبدالخالق کشمیری نے بیان کیا۔ کانفرنس کی کامیابی میں پورے گاؤں کی شرکت اور مکمل تعاون رہا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۹ء ص ۵۳)
ختم نبوت کانفرنس پاکپتن
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام دارالعلوم حنفیہ فریدیہ نزد میونسپل کمیٹی پاکپتن میں ۷؍مارچ ۲۰۱۹ء کو سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس سے جمعیت علماء اسلام کے مرکزی رہنماء مولانا خان محمد شیرانی، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں مولانا محمد قاسم رحمانی، مولانا عبدالحکیم نعمانی، مولانا طلحہ ایوب حیدری کے علاوہ قاری بشیر احمد عثمانی، جناب محمد جہانگیر، قاری محمد ابوبکر صدیق سمیت متعدد مذہبی و دینی شخصیات نے شرکت و خطاب کیا۔ کانفرنس میں پاکپتن شہر اور مضافاتی علاقوں سے کارکنان ختم نبوت نے جوق در جوق شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۹ء ص ۵۵)
لاہور میں تین روزہ ختم نبوت کورس
جامع مسجد آسٹریلیا لاہور کی قدیم مسجد ہے۔ ۷، ۸، ۹؍مارچ کو تین روزہ ختم نبوت کورس منعقد ہوا۔ جس میں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا علیم الدین، مولانا قاری عبدالعزیز، مولانا عبدالنعیم اور مولانا عزیز الرحمٰن ثانی نے قادیانیت سے متعلق مسائل پر لیکچر دیئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۹ء ص ۵۶)
ختم نبوت کورس پتوکی
عالمی مجلس کے زیر اہتمام جامعہ مسجد رحمتہ للعالمین فاروق اعظم ٹاؤن پتوکی ضلع قصور میں ۹، ۱۰؍مارچ بروز ہفتہ اتوار کو کورس منعقد ہوا۔ جس میں تلاوت قاری جان محمد اور صدارت استاذ القراء قاری محمد ابراہیم مفید نے کی۔ حافظ شاہ، رانا محمد عرفان اور مولانا محمود الحسن لاہور نے ہدیہ نعت پیش کئے۔ مولانا خالد زبیر خانکے موڑ، شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد اشفاق، قاری نور محمد شاکر، مولانا عبدالرزاق مجاہد اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے اسباق پڑھائے۔ مولانا عبدالرحیم ہارونی خطیب امام مسجد نے نقابت کی۔ پیر مسعود قادری نے خوب محنت کی۔ کورس سے قبل ۸؍مارچ بروز جمعتہ المبارک کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کا مدرسہ تعلیم القرآن قصبہ جیوکہ میں جمعہ کا بیان ہوا۔ بعد ازاں عربیہ اسلامیہ سکول پتوکی ضلع قصور ساڑھے آٹھ بجے اسمبلی میں بھی بیان ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۱۹ء ص ۵۵)
ننکانہ صاحب میں ختم نبوت کورس
۱۱؍مارچ ۲۰۱۹ء جامع مسجد ننکانہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ختم نبوت کورس منعقد ہوا۔ کورس میں محکمہ اوقاف کے صوبائی خطیب مولانا محمد اسحاق ساقی، مولانا خالد عابد اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے مرزا قادیانی کے دعاوی باطلہ کا رد کیا۔ کورس صبح ساڑھے آٹھ بجے سے ظہر تک جاری رہا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۹ء ص ۵۶)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تحفظ ناموس رسالت کنونشن شیخوپورہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۲؍ مارچ ۲۰۱۹ء بروز منگل صبح دس بجے تا ایک بجے دن جامع مسجد مہک مدینہ شیخوپورہ میں تحفظ ناموس رسالت کے عنوان سے علماء کنونشن منعقد ہوا۔ کنونشن کی صدارت مولانا مشرف حسین نے کی۔ قاری عطا اللہ نے تلاوت کلام پاک سے پروگرام کا آغاز کیا۔ مولانا محمد خالد عابد نے نقابت کے فرائض انجام دیئے۔ کنونشن سے مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا زاہد الراشدی گوجرانوالہ، مولانا نور محمد ہزاروی سرگودھا اور نومسلم پروفیسر طاہر احمد ڈار نے خطابات کئے۔ چوہدری شفقت علی، سید تجمل حسین شاہ، سید راشد حسین شاہ، محمد اجمل اور محمد عرفان نے انتظامی امور سرانجام دیئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۹ء ص ۳۷)
ختم نبوت کانفرنس سید والا
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۳؍ مارچ ۲۰۱۹ء بروز بدھ بعد نماز عشاء چوک سیدنا فاروق اعظم ؓ میں بازار سید والا ننکانہ میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی صدارت مولانا صاحبزادہ خلیل احمد نے کی۔ تلاوت کلام پاک قاری احمد حسن نے کی۔ ہدیہ نعت قاری سعید مدنی نے پیش کیا۔ نقابت کے فرائض مولانا محمد خالد عابد نے انجام دیئے۔ مولانا ابوبکر سعید، مولانا غلام محی الدین، مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا محمد رفیق جامی، مولانا مفتی عبدالشکور رضوی، مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری کے بیانات ہوئے۔ کانفرنس کا اختتام صاحبزادہ خواجہ خلیل احمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کی دعاء سے ہوا۔ کانفرنس کی تیاری کے لئے مقامی احباب نے بھرپور محنت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۹ء ص ۳۷)
ختم نبوت کانفرنس دوڑ ضلع نواب شاہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت دوڑ کے زیر اہتمام ۱۵؍ مارچ ۲۰۱۹ء بروز جمعۃ المبارک مدرسہ دارالعلوم حقانیہ، جامع مسجد خالد بن ولید دبئی بنگلوز سوسائٹی دوڑ شہر میں ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد جناب قاری جمیل احمد کی زیر صدارت کیا گیا۔ کانفرنس کی کارروائی بعد نماز مغرب شروع ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز قاری بلال صفدر لاہور نے تلاوت قرآن کریم سے کیا۔ حافظ حسین احمد، غلام علی شاہ (پڈعیدن) نے حمد ونعت کا ہدیہ پیش کیا۔ جب کہ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا محمد اسجد جمیل نے سرانجام دیئے۔ نواب شاہ کے مبلغ مولانا تجمل حسین نے بیان فرمایا۔ ان کے بعد پیر طریقت مولانا عبید اللہ ہالیجوی اور مولانا قاضی احسان احمد نے خطاب فرمایا۔ جناب قاری جمیل احمد نے دعاء کرائی۔ آخر میں ختم نبوت کا لٹریچر بھی تقسیم کیا گیا۔ (قاری عبداللہ فیض نواب شاہ)
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۹ء ص ۵۳)
ختم نبوت کانفرنس ساہیوال
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۶؍ مارچ ۲۰۱۹ء کو جامع مسجد نور ہائی سٹریٹ ساہیوال میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ صدارت عالمی مجلس کے مقامی امیر اور جامعہ رشیدیہ کے مہتمم مولانا کلیم اللہ رشیدی نے کی۔ کانفرنس سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ مفکر ختم نبوت مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا محمد اسحاق ساقی، مولانا عبدالحکیم نعمانی، قاری عبدالجبار، مولانا نور محمد، قاری بشیر احمد، مفتی ذکاء اللہ، قاری منظور احمد طاہر، پیر جی عبدالباسط، مولانا محمد عمران اشرفی، میئر بلدیہ مجاہد علی، جماعت اسلامی کے امیر جناب رحمت اللہ وٹو کے علاوہ قاری عتیق الرحمن، قاری نصیر احمد، قاری نوید احمد سمیت شہر بھر کی مذہبی قیادت نے شرکت و خطابات کئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۹ء ص ۵۵)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تحفظ ناموس رسالت کانفرنس لیہ
جامعہ اشرف المدارس کے زیر اہتمام ۱۸؍مارچ ۲۰۱۹ء بروز پیر بعد نماز مغرب جامعہ اشرف المدارس چوبارہ روڈ لیہ میں تحفظ ناموس رسالت و ختم بخاری کانفرنس منعقد ہوئی۔ تلاوت قاری محمد ساجد جب کہ ہدیہ نعت کی سعادت طاہر بلال چشتی، غلام حسین تونسوی اور جناب عبدالغنی نے حاصل کی۔ کانفرنس سے مولانا قاضی احسان احمد کراچی، مولانا محمد احمد شاہ جمالی، مولانا سید عطاء اللہ شاہ ثالث کے بیانات ہوئے۔ بعد ازاں شیخ الحدیث مولانا زبیر احمد صدیقی نے بخاری شریف کا درس ارشاد فرمایا۔ مہمان خصوصی خانقاہ سراجیہ کے سجادہ نشین مولانا صاحبزادہ خلیل احمد نے فضلاء کرام کو دستار فضیلت پہنائی اور اختتامی دعاء فرمائی۔ کانفرنس کی نگرانی قاری عبدالشکور نے کی۔ مولانا عبدالرحمن جامی اور ان کے رفقاء نے پروگرام کی کامیابی میں بھر پور کردار ادا کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۹ء ص ۵۵)
ختم نبوت کانفرنس خانیوال
۱۹؍مارچ ۲۰۱۹ء بروز منگل بعد نماز عشاء سالانہ ختم نبوت کانفرنس خانقاہ مالکیہ خانیوال میں پیر طریقت خواجہ عبد الماجد صدیقی کی زیر صدارت منعقد ہوئی۔ قاری ذوالفقار احمد وحافظ محمد انس فاروقی نے تلاوت کی۔ محمد حسن آزاد، قاری حبیب الرحمن قمر اور قاری مظہر حسین نے نعتیہ کلام پیش کیا۔ مفتی محمد زاہد، مولانا نصرت علی جھنگ، مولانا عطاء المنعم نعیم، مولانا عبد الستار گورمانی، مولانا قاضی احسان احمد اور مولانا محمد رفیق جامی نے بیانات کئے۔ خواجہ عبدالماجد صدیقی کی دعاء پر کانفرنس کا اختتام ہوا۔ ۲۰ تا ۲۲؍مارچ خانقاہ مالکیہ خانیوال کا سالانہ روحانی اجتماع منعقد ہوا۔ جس میں ملک بھر سے متعلقین، متوسلین اور جید علماء کرام نے شرکت فرمائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۹ء ص ۵۴)
ختم نبوت کانفرنس کرک
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۹؍مارچ ۲۰۱۹ء بروز منگل کو تنگوڑی سر چوک کرک میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا دورانیہ دو پہر ایک بجے تا عصر تھا۔ کانفرنس کی صدارت مولانا محمود الرحمن حقانی نے، جب کہ سرپرستی مولانا حافظ ابن امین نے فرمائی۔ کانفرنس کا آغاز قاری غلام فرید شاکر کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ ہدیہ نعت پیش کرنے کی سعادت قاری واصف رحیمی نے حاصل کی۔ بعد ازاں مولانا محمد عابد کمال، مولانا محمد زکریا ٹیکسلا، مولانا محمد رضوان عزیز اور مولانا مفتی محمد شہاب الدین پوپلزئی کے بیانات ہوئے۔ اس موقع پر مولانا میر زقیم خان، مولانا صاحب نور، مولانا عبدالرحمن، مولانا عبدالحمید، مولانا پروفیسر علی عثمان، شیخ الحدیث مولانا سیف اللہ، مولانا سکندر یار، مولانا عبدالرحیم سمیت علاقہ بھر کے علماء کرام اور عوام الناس نے جوق در جوق شرکت کی۔ کانفرنس کا اختتام مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی کی دعاء سے ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۱۹ء ص ۵۵)
ختم نبوت کانفرنس یوسی پگئی پشاور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پشاور کے زیر اہتمام ۲۱؍مارچ بروز جمعرات بعد نماز ظہر یوسی پگئی اصحاب بابا روڈ پر ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت شیخ الحدیث مولانا عزیز الدین نے فرمائی۔ تلاوت کلام پاک قاری صفی اللہ حقانی جب کہ ہدیہ نعت حافظ نادر شاہ نے پیش کیا۔ کانفرنس سے مولانا پیر حزب اللہ جان چارسدہ، قاری اکرام الحق مردان، مولانا حسین احمد مدنی ایڈووکیٹ پشاور اور مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی کے بیانات ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۹ء ص ۵۴)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مبلغین حضرات کا سہ ماہی اجلاس ملتان
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغین کا سہ ماہی اجلاس ۲۱؍مارچ کو مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ کی زیر صدارت مرکزی دفتر ملتان میں منعقد ہوا۔
اجلاس میں مندرجہ ذیل مرحومین کے ایصال ثواب کے لئے قرآن خوانی اور دعائے مغفرت کی گئی۔ مرحومین: مولانا بشیر احمد فاضل پوری، قاری محمد حنیف عثمانی، مولانا محمد عارف گوجرانوالہ، آغا سید محمد شاہ، قاری حبیب اللہ ارشد شجاع آباد، جناب قمر حجازی اوکاڑہ، حافظ محمد رفیع قصور، قاری محمد رفیق شاہ نیندر، مولانا ذکاء اللہ، محمد افضل نمبردار گوجرہ، مولانا محمد عمران چیچہ وطنی، مولانا خالد محمود مدنی کہروڑ پکا، مولانا محمد عبداللہ منکیرہ، والدہ محترمہ مولانا اجود حقانی علی پور، والدہ محترمہ مفتی محمد عبداللہ ہاشمی رحیم یار خان، والدہ قاری محمد صادق تھہیم، برادر مولانا ابو ہریرہ کامونکی، برادر عبدالرحمن باجوہ کنگنی گوجرانوالہ، والد نبیل بلوچ گوادر، ہمشیرہ چوہدری شفقت، مولانا عبدالمنان ٹوبہ، فرزند مولانا محمد جان عابد شہداد کوٹ، ہمشیرہ عبدالسمیع شیخ گمبٹ، والدہ قاری محمد اسلم رحیمی قصور، ملک محمد عاشق شجاع آباد، جناب فیصل خان زمان اخوند زادہ کے چاروں بچوں اور ہمشیرہ کی وفات پر افسوس کا اظہار کیا گیا اور پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دعاء کی گئی۔
اجلاس میں بہت سے انتظامی امور اور اشاعت لٹریچر اور کتب کے فیصلے کئے گئے۔ آل پاکستان ختم نبوت کورس چناب نگر جو ۱۳؍اپریل سے شروع ہو کر ۲؍مئی کو ختم ہوگا کے انتظامات کو آخری شکل دی گئی۔
منڈی بہاؤالدین، کوہاٹ، تاندلیانوالہ، حافظ آباد، ڈیرہ اسماعیل خان، سلانوالی، اوکاڑہ، قصور، کوٹلی، بھمبر، جام پور، رینالہ خورد میں شارٹ کورسز کا فیصلہ کیا گیا۔ کندھ کوٹ، ساہیوال، بہاولنگر، حافظ آباد، ملک وال، منڈی بہاؤالدین، پھالیہ میں کانفرنس کے فیصلے کئے گئے۔
چناب نگر کورس میں درجہ رابعہ اور اس سے اوپر کے درجات کے طلباء کرام، علماء کرام، مساجد کے ائمہ و خطباء، عصری تعلیمی اداروں سے کم از کم میٹرک پاس طلباء شریک ہو سکتے ہیں۔ شرکاء کورس کو حضرت لدھیانوی شہیدؒ کی تحفہ قادیانیت چھ جلد، مولانا محمد ادریس کاندھلوی کے رسائل، اسلام اور قادیانیت ایک تقابلی مطالعہ، الخلیفۃ المہدی فی الاحادیث الصحیحہ، قادیانی شبہات کے جوابات تین جلد سمیت تقریباً پانچ ہزار روپے کی کتب فری تقسیم کی جائیں گی۔ شرکاء کورس کے اسباق میں مسلسل اور باضابطہ شرکت یقینی بنانے کے لئے اساتذہ کرام نگرانی فرمائیں گے۔ پروجیکٹر کے ذریعہ بھی اسباق پڑھائے جائیں گے۔ نیز شرکاء کورس کو جدید فتنوں سے متعلق نہ صرف آگاہ کیا جائے گا بلکہ ان کے ملک وملت کے سازشوں کا توڑ اور ان کے شبہات کے جوابات کے نوٹس تیار کرائے جائیں گے۔ کرائسٹ چرچ نیوزی لینڈ کی جامع مسجد میں جنونی یہودی کا پچاس مسلمانوں کے قتل کی پرزور مذمت کی گئی اور نیوزی لینڈ کی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اس سانحہ کی سازش کو طشت از بام کرے اور مجرم کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ راولپنڈی اور لاہور میں مبلغ رکھنے کی اجازت دی گئی۔ کئی ایک دفاتر کے تعمیری منصوبہ جات کو فی الفور مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی۔ نیز عقیدہ ختم نبوت اور ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن کی مساعی جمیلہ کا خیر مقدم کیا گیا اور اس سلسلہ میں بھر پور تعاون کا یقین دلایا گیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۹ء ص ۵۰)
مرکزی ناظم اعلیٰ و دیگر مبلغین کے گوجرہ میں خطبات جمعہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرہ کے زیر اہتمام ۲۲؍مارچ کا خطبہ جمعہ مرکزی جامع مسجد کپڑا بازار میں مولانا اسعد مدنی کی صدارت میں مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے ارشاد فرمایا، جامع مسجد عائشہ نیو ماڈل ٹاؤن میں مولانا قاری ارشد کی صدارت میں
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مولانا قاضی احسان احمد نے ارشاد فرمایا۔ جامعہ سعدیہ امامیہ کالونی میں مولانا عبیدالرحمن شاہ جمالی کی صدارت میں مولانا عبدالرشید غازی نے ارشاد فرمایا۔ جامع مسجد اللہ اکبر عبداللہ پور کالونی مولانا اعظم کی صدارت میں ضلعی مبلغ مولانا محمد حبیب نے ارشاد فرمایا۔ عقیدہ ختم نبوت وناموس رسالت، عقائد و نظریات اور ۲۳؍ مارچ یوم قرارداد پاکستان جیسے اہم عنوانات پر پڑھائے۔ لٹریچر تقسیم کیا اور قادیانیت کا سوشل بائیکاٹ کا وعدہ بھی لیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۹ء ص ۱۵)
ختم نبوت کانفرنس پشاور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پشاور کے زیر اہتمام پانچویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس ۲۳؍ مارچ ۲۰۱۹ء کو چپل غازی بابا گراؤنڈ ورسک روڈ پر منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز بعد نماز ظہر قاری صفی اللہ حقانی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ حافظ واصف احمد کوہاٹی نے ہدیہ نعت پیش کیا۔ کانفرنس کی صدارت حضرت شیخ الحدیث عزیز نے کی۔ نقابت کے فرائض قاری محمد اسحاق نے ادا کئے۔ خصوصی مہمان مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی، مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا قاری اکرام الحق کے بیانات ہوئے۔ قاری محمد اسحاق نے قراردادیں پیش کیں۔ کانفرنس کے انعقاد کے لئے کے پی ۶۶ کی اکثر مساجد میں بیانات ہوئے۔ کانفرنس میں جوق در جوق حضرات شریک ہوئے۔ مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی کی رقت آمیز دعاء سے کانفرنس کا اختتام ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۹ء ص ۵۴)
سیرت خاتم الانبیاء کانفرنس کہروڑ پکا
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کہروڑ پکا و انتظامیہ جامع مکی مسجد پرانا بہاولپور روڈ کے زیر اہتمام سیرت خاتم الانبیاء ﷺ کانفرنس ۲۹؍ مارچ ۲۰۱۹ء بروز جمعتہ المبارک بعد نماز عشاء منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی صدارت مولانا حبیب احمد مدظلہ جامعہ باب العلوم نے، سرپرستی مولانا منیر احمد ریحان نے جب کہ نگرانی مولانا محمد وسیم اسلم نے کی۔ کانفرنس میں مولانا حبیب الرحمن مدنی نگران اعلیٰ جامعہ باب العلوم اور شیخ الحدیث مفتی محمد اسماعیل دار القرآن نے خصوصی شرکت کی۔ کانفرنس کا آغاز حافظ محمد عمار بلال کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ خصوصی تلاوت مولانا قاری محمد ناصر اور ہدیہ نعت آصف برادران و مہمان خصوصی ملک مبشر صائم علوی نے پیش کیا۔ نقابت کے فرائض مولانا محمد وسیم اسلم نے سرانجام دیئے۔ کانفرنس سے مولانا مختار احمد، مولانا محمد اسحاق ساقی، حافظ محمد نواز اور خصوصی مہمان مولانا محمد یوسف اورکزئی علی خیل کراچی کے بیانات ہوئے۔ اس موقع پر مولانا عبدالرزاق، مولانا قاری محمد رفیق، حاجی محمد اکبر، بھائی محمد عبداللہ، بھائی عمر فاروق موجود رہے۔ کانفرنس کی تیاری کے لئے حاجی محمد اسلم بھٹی، حاجی محمد بلال بھٹی، بھائی محمد عارف اور بھائی احمد نواز عاربی نے بھرپور کردار ادا کیا۔ کانفرنس کا اختتام شیخ الحدیث مولانا حبیب احمد مدظلہ کی دعاء سے ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۹ء ص ۵۵)
مانسہرہ میں ختم نبوت کانفرنسوں کی بہاریں
(جناب عبدالباسط) بھائی عبدالرؤف روفی مرحوم نے جنوری کے پہلے عشرے میں مولانا اللہ وسایا سے مانسہرہ کے لئے موسم بہار کی آمد پر سالانہ ختم نبوت کانفرنسوں کے لئے مارچ کے آخری ہفتے کا وقت لیا۔ جماعتی دوستوں میں تحریک پیدا کی، کانفرنسوں کی تیاری کے لئے لائحہ عمل طے کیا گیا، مختلف مساجد اور قصبوں میں پروگرامز منعقد کرنے کی تیاری شروع ہوئی، اشتہارات ڈیزائن کرنے کا سوچ ہی رہے تھے کہ قضاء و قدر کے بادل برس پڑے اور اچانک بھائی عبدالرؤف روفی مرحوم کا وصال ہو گیا، ہر چیز بکھرتی محسوس ہونے لگی، مگر اس ذات باری تعالیٰ کی کروڑوں رحمتیں ہوں ہمارے اکابرین عالمی مجلس پر کہ مولانا عزیز الرحمن جالندھری اور مولانا اللہ وسایا نے خود اپنے ہاتھوں
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سے بھائی عبدالرؤف مرحوم کو قبر میں اتارنے کے بعد سب سے پہلا کام یہ کیا کہ مانسہرہ میں جماعتی نظم قائم کیا۔ دفتر ختم نبوت کو وجود بخشا گیا، نئے اور پرانے ساتھیوں کو اکٹھا کیا گیا۔
سالانہ کانفرنسوں کے سلسلے کا پہلا جلسہ مانسہرہ کے ملحقہ گاؤں دبیگراں میں ۲۷/ مارچ کو بعد نماز مغرب مولانا مفتاح الہدیٰ کی صدارت میں انہی کی مسجد میں رکھا گیا۔ ختم نبوت یوتھ فورس کے صدر بھائی عابد لغمانی اور ان کے رفقاء نے ہر دروازے کو کھٹکھٹایا، انفرادی ملاقاتیں کیں، گلیوں اور محلوں میں عشق مصطفیٰ اور غیرت ایمانی کے آلاؤ روشن کئے، ساتھیوں کی محنت رنگ لائی اور بھر پور حاضری رہی۔ مولانا توصیف احمد مبلغ حیدر آباد بھی اسی دبیگراں گاؤں کے ہیں، انہوں نے بھی پورے گاؤں میں خوب محنت کی۔
کانفرنسوں کے سلسلے کا دوسرا پروگرام بروز جمعرات ۲۸/ مارچ ۲۰۱۹ء بعد نماز مغرب مولانا نور عالم شاہ کے ہاں دارالعلوم محمدیہ ڈھوڈیال کے مقام پر ہوا۔ مولانا اللہ وسایا کا پُر مغز بیان ہوا۔ حضرت نے تحفظ ختم نبوت یوتھ فورس کے ضلعی دفتر کا باقاعدہ افتتاح کیا، دفتر ختم نبوت بھائی عبدالرؤف مرحوم کی جائے کار جس میں انہوں نے ایک طویل عرصے تک عالمی مجلس کے کام کو آگے بڑھایا کی بالائی منزل پر قائم کیا گیا۔ بروز جمعہ ۲۹/ مارچ ۲۰۱۹ء کو مسجد خاتم النبیین میں مفتی مسعود الرحمن مدظلہ نے مولانا اللہ وسایا کے بیان سے نماز جمعہ کا اجراء کیا۔ بعد نماز جمعہ جامع مسجد نائری میں مولانا حفیظ الرحمن کی زیر صدارت ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں شہر بھر سے علماء کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ خصوصی بیان مولانا اللہ وسایا کا ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۹ء ص ۳۶)
ختم نبوت کانفرنس ہری پور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حطار انڈسٹری ہری پور کے زیر اہتمام ۳۱/ مارچ بروز اتوار دن ایک بجے عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی سرپرستی مولانا ہارون الرشید اور صدارت مولانا فدا محمد خان نے کی۔ تلاوت کلام پاک کا شرف قاری عبدالخالق محمدی کو حاصل ہوا۔ ہدیہ نعت جناب اسماعیل تنولی اور جناب مطیع الرحمن اطہر ہاشمی نے پیش کیا۔ جب کہ مولانا محمد طیب فاروقی، علامہ مفتی شبیر احمد عثمانی اور مولانا عبدالحنان صدیقی نے خصوصی بیانات کئے۔ کانفرنس میں مجاہدین ختم نبوت نے پروانہ وار شرکت کی۔ کانفرنس کے انتظامات میں مفتی شفاقت، مولانا نور الحق، مفتی زاہد خان، مفتی شکیل احمد، مولانا شریف اللہ، مولوی اورنگ زیب، مولانا احمد سید، بھائی رضوان، حافظ ولی الرحمن نے بھر پور کردار ادا کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۲۰۱۹ء ص ۵۵)
ختم نبوت کانفرنس اوکاڑہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام یکم اپریل ۲۰۱۹ء کو مدرسہ حنفیہ بصیر پور ضلع اوکاڑہ میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی صدارت مولانا محمد مشتاق احمد مہتمم مدرسہ ہذا نے فرمائی۔ کانفرنس کا آغاز قاری عبدالرؤف کی تلاوت کلام مجید سے ہوا۔ جناب محمد احمد مدنی نے نعت رسول مقبول ﷺ کا نذرانہ پیش کیا۔ کانفرنس سے مولانا عبدالرزاق مجاہد اور مولانا عزیز الرحمن ثانی لاہور نے بیانات کئے۔ مولانا محمد حسن نے مدرسہ کی کارگزاری پیش کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۹ء ص ۳۷)
تحفظ ختم نبوت کانفرنس کروڑ لعل عیسن
عالمی مجلس تحفظ نبوت کروڑ لعل عیسن ضلع لیہ کے زیر اہتمام چاہ رانجھے والا میں ۳/ اپریل ۲۰۱۹ء بروز بدھ بعد نماز ظہر تحفظ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ تلاوت کلام پاک کی سعادت قاری محمد ارشد نے حاصل کی۔ نعتیہ کلام حافظ ملک محمد مبشر صائم، جناب محمد نواز فردوسی، حافظ
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
محمد صفدر اور جناب محمد بشیر نے پیش کئے۔ نقابت کے فرائض ضلعی مبلغ مولانا محمد ساجد نے انجام دیئے۔ کانفرنس سے پیر طریقت مولانا حبیب اللہ نقشبندی، مولانا عبد الماجد، مولانا محمد عارف اور مولانا اللہ نواز کروڑی کے بیانات ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۹ء ص ۵۶)
تحفظ ختم نبوت کانفرنس جوآنہ بنگلہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام پیر کمال جوآنہ بنگلہ ضلع مظفر گڑھ کے زیر اہتمام مدرسہ فیض القرآن میں ۴؍ اپریل ۲۰۱۹ء بروز جمعرات بعد نماز ظہر کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز قاری محمد زاہد کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ ہدیہ نعت سید احمد الحسینی نے پیش کیا۔ نقابت کے فرائض مولانا محمد ساجد مبلغ عالمی مجلس نے انجام دیئے۔ کانفرنس سے مولانا اللہ وسایا، شیخ الحدیث مولانا محمد کریم بخش مہتمم جامعہ عمر بن خطاب ملتان، شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید فاروقی، مولانا انیس الرحمن، مولانا خالد مکی کے بیانات ہوئے۔ ضلع بھر سے علماء کرام اور عوام الناس نے بھر پور شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۹ء ص ۵۶)
دوروزہ ختم نبوت کورس اوکاڑہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام ۹، ۱۰؍ اپریل ۲۰۱۹ء کو مدرسہ انوار مدینہ خان کالونی اوکاڑہ میں دوروزہ ختم نبوت کورس کا انعقاد کیا گیا۔ کورس کا دورانیہ بعد نماز مغرب تا عشاء رہا۔ پہلے دن مولانا عبدالحکیم نعمانی ساہیوال اور مولانا عبدالرزاق مجاہد نے اسباق پڑھائے۔ دوسرے دن مولانا عزیز الرحمن ثانی نے مرزا قادیانی کے کردار پر مفصل لیکچر دیا۔ کورس میں ملٹی میڈیا پروجیکٹر کے ذریعہ قادیانی کتب کے اصل حوالہ جات بھی دکھائے گئے۔ مولانا عبدالرحمن قادری نے بیان کیا۔ طلباء کرام میں اسناد و شیلڈز بھی تقسیم کی گئیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۹ء ص ۳۸)
ختم نبوت کانفرنس سمندری
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سمندری کے زیراہتمام ۱۱؍ اپریل بروز جمعرات بعد نماز عشاء جامعہ دارالعلوم فیض عام میں زیر صدارت فخر السادات قاری سید احمد رضا شاہ مدیر جامعہ ہذا و زیر قیادت قاری محمد یونس سمندری منعقد ہوئی۔ تلاوت کلام پاک کا آغاز آیات ختم نبوت سے قاری غلام مصطفیٰ نے فرمایا۔ ثناء خواں مولانا قاری آصف رشیدی لاہور نے اپنے کلام سے کانفرنس کو چار چاند لگائے۔ مولانا اللہ وسایا، مولانا عبدالقدوس گجر ماموں کانجن، مولانا محمد حبیب مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے عقیدہ ختم نبوت اور ناموس رسالت کے تحفظ پر امت مسلمہ کی ذمہ داری کے عنوانات پر خطابات فرمائے۔ مقررین نے کہا کہ ناموس رسالت پر کبھی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔ یہ قانون کسی کو بھی چھیڑنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ مولانا امجد، جناب فرید اللہ خان، قاری عثمان شیرازی، قاری اعجاز، قاری سرفراز، عبدالرؤف بٹ، مفتی مقصود و دیگر رفقاء کرام کی محنت و کاوش سے بھر پور کانفرنس ہوئی۔ الحمد للہ !
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۹ء ص ۳۸)
سالانہ ختم نبوت کورس چناب نگر کی رپورٹ
(مولانا محمد وسیم اسلم) محض اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے ”چھبیس واں سالانہ ختم نبوت کورس چناب نگر“ ۱۳؍ اپریل ۲۰۱۹ء سے شروع ہو کر ۲؍ مئی کو اختتام پذیر ہوا۔ فالحمد للہ علی ذالک اولاً و اخراً! قارئین کرام بخوبی جانتے ہیں کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا قیام جنوری ۱۹۴۹ء میں ہوا۔ باقاعدہ انتخابات ۱۹۵۲ء میں ہوئے۔
تحریک ختم نبوت جلد (١٠) ٢٠١٩ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اس کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مرکزی شعبہ ”دارالمبلغین“ معرض وجود میں آیا۔ مولانا عبدالرحیم اشعر، مولانا محمد یوسف لدھیانوی، مولانا بشیر احمد الحسینی، مولانا اللہ وسایا، مولانا بشیر احمد فاضل پوری، مولانا محمد لقمان علی پوری، مولانا خدا بخش شجاع آبادی، مولانا جمال اللہ الحسینی اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ایسے حضرات اسی دارالمبلغین سے فیض یافتہ ہیں۔
اس زمانہ میں فاتح قادیان مولانا محمد حیات اور مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر ایسے اساتذہ کرام اس دارالمبلغین کی زینت تھے۔ شیخ التفسیر حضرت لاہوری، حافظ الحدیث حضرت درخواستی اور شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان کے دورہ تفاسیر قرآن سمیت ملک بھر کے دینی مدارس میں مولانا محمد حیات اور مولانا لال حسین اختر رد قادیانیت پر طلباء کرام کو تربیت دیتے رہے۔ جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی میں اسی زمانہ سے تا حال ”دورہ تدریبیہ“ منعقد ہوتا چلا آرہا ہے۔ جس میں پہلے پہل مولانا لال حسین اختر پھر مولانا عبدالرحیم اشعر اور اب مولانا اللہ وسایا عرصہ سے تحفظ ختم نبوت کے موضوع پر طلباء کرام کی تربیت کرتے چلے آرہے ہیں۔ اس کے علاوہ تنظیم اہل سنت پاکستان کے دفتر اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر سمیت دیگر کئی دفاتر میں بھی کورس کا اہتمام ہوتا رہا۔
١٩٩٥ء مطابق ١٤١٥ھ میں پہلی مرتبہ چناب نگر کی سرزمین پر ”مدرسہ عربیہ ختم نبوت مسلم کالونی“ میں سالانہ پندرہ روزہ ”تحفظ ختم نبوت“ کورس منعقد ہوا۔ کورس کا آغاز ١٨/ جنوری ١٩٩٥ء مطابق ١٥/ شعبان کو ہوا۔ چناب نگر کے اس ابتدائی کورس میں مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید، مولانا محمد امین صفدر، مولانا عبداللطیف مسعود، مولانا اللہ وسایا، مولانا زاہد الراشدی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور جناب محمد متین خالد ایسے اساتذہ کرام نے عقیدہ ختم نبوت، حیات مسیح علیہ السلام، ظہور مہدی علیہ الرضوان وغیرہ دلائل کے ساتھ پڑھائے اور قادیانیت کے اوہام باطلہ سے طلباء کرام کو آگاہ کیا۔ اس وقت سے مسلسل چناب نگر میں شعبان المعظم کے مہینہ میں کورس منعقد ہوتا چلا آرہا ہے۔ اس سال یہ چھبیسواں کورس تھا۔ ذیل میں چھبیس کورسز کے انعقاد کی مختصر فہرست ملاحظہ فرمائیں:
- ١...... ١٥/ شعبان ١٤١٥ھ مطابق ١٨/ جنوری ١٩٩٥ء تا ٢٨/ شعبان ١٤١٥ھ مطابق ٣١/ جنوری ١٩٩٥ء
- ٢...... ١٥/ شعبان ١٤١٦ھ مطابق ٢/ جنوری ١٩٩٦ء تا ٢٧/ شعبان ١٤١٦ھ مطابق ١٩/ جنوری ١٩٩٦ء
- ٣...... ١١/ شعبان ١٤١٧ھ مطابق ٢٢/ دسمبر ١٩٩٦ء تا ٢٨/ شعبان ١٤١٧ھ مطابق ٨/ جنوری ١٩٩٧ء
- ٤...... ١٠/ شعبان ١٤١٨ھ مطابق ١١/ دسمبر ١٩٩٧ء تا ٢٧/ شعبان ١٤١٨ھ مطابق ٢٧/ دسمبر ١٩٩٧ء
- ٥...... ١٠/ شعبان ١٤١٩ھ مطابق ٣٠/ نومبر ١٩٩٨ء تا ٢٨/ شعبان ١٤١٩ھ مطابق ١٨/ دسمبر ١٩٩٨ء
- ٦...... ١٠/ شعبان ١٤٢٠ھ مطابق ١٤/ نومبر ١٩٩٩ء تا ٢٥/ شعبان ١٤٢٠ھ مطابق ٥/ دسمبر ١٩٩٩ء
- ٧...... ٧/ شعبان ١٤٢١ھ مطابق ٥/ نومبر ٢٠٠٠ء تا ٢٨/ شعبان ١٤٢١ھ مطابق ٢٦/ نومبر ٢٠٠٠ء
- ٨...... ٥/ شعبان ١٤٢٢ھ مطابق ٢٣/ اکتوبر ٢٠٠١ء تا ٢٥/ شعبان ١٤٢٢ھ مطابق ١٣/ نومبر ٢٠٠١ء
- ٩...... یکم شعبان ١٤٢٣ھ مطابق ٨/ اکتوبر ٢٠٠٢ء تا ٢٤/ شعبان ١٤٢٣ھ مطابق ٣١/ اکتوبر ٢٠٠٢ء
- ١٠...... ٥/ شعبان ١٤٢٤ھ مطابق ٢/ اکتوبر ٢٠٠٣ء تا ٢٦/ شعبان ١٤٢٤ھ مطابق ٢٣/ اکتوبر ٢٠٠٣ء
- ١١...... ٩/ شعبان ١٤٢٥ھ مطابق ٢٤/ ستمبر ٢٠٠٤ء تا ٢٤/ شعبان ١٤٢٥ھ مطابق ٩/ اکتوبر ٢٠٠٤ء
- ١٢...... ٦/ شعبان ١٤٢٦ھ مطابق ١١/ ستمبر ٢٠٠٥ء تا ٢٥/ شعبان ١٤٢٦ھ مطابق ٣٠/ ستمبر ٢٠٠٥ء
- ١٣...... یکم شعبان ١٤٢٧ھ مطابق ٢٦/ اگست ٢٠٠٦ء تا ٢٥/ شعبان ١٤٢٧ھ مطابق ١٩/ ستمبر ٢٠٠٦ء
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۱۴....... ۴؍شعبان ۱۴۲۸ھ مطابق ۱۸؍اگست ۲۰۰۷ء تا ۲۷؍شعبان ۱۴۲۸ھ مطابق ۱۰؍ستمبر ۲۰۰۷ء
- ۱۵....... ۶؍شعبان ۱۴۲۹ھ مطابق ۹؍اگست ۲۰۰۸ء تا ۲۶؍شعبان ۱۴۲۹ھ مطابق ۲۹؍اگست ۲۰۰۸ء
- ۱۶....... یکم شعبان ۱۴۳۰ھ مطابق ۲۵؍جولائی ۲۰۰۹ء تا ۲۴؍شعبان ۱۴۳۰ھ مطابق ۱۶؍اگست ۲۰۰۹ء
- ۱۷....... ۴؍شعبان ۱۴۳۱ھ مطابق ۱۷؍جولائی ۲۰۱۰ء تا ۲۵؍شعبان ۱۴۳۱ھ مطابق ۷؍اگست ۲۰۱۰ء
- ۱۸....... ۶؍شعبان ۱۴۳۲ھ مطابق ۹؍جولائی ۲۰۱۱ء تا ۲۲؍شعبان ۱۴۳۲ھ مطابق ۲۹؍جولائی ۲۰۱۱ء
- ۱۹....... ۲؍شعبان ۱۴۳۳ھ مطابق ۲۳؍جون ۲۰۱۲ء تا ۲۶؍شعبان ۱۴۳۳ھ مطابق ۱۷؍جولائی ۲۰۱۲ء
- ۲۰....... ۶؍شعبان ۱۴۳۴ھ مطابق ۱۵؍جون ۲۰۱۳ء تا ۲۷؍شعبان ۱۴۳۴ھ مطابق ۷؍جولائی ۲۰۱۳ء
- ۲۱....... یکم شعبان ۱۴۳۵ھ مطابق ۳۱؍مئی ۲۰۱۴ء تا ۲۴؍شعبان ۱۴۳۵ھ مطابق ۲۳؍جون ۲۰۱۴ء
- ۲۲....... ۴؍شعبان ۱۴۳۶ھ مطابق ۲۳؍مئی ۲۰۱۵ء تا ۲۶؍شعبان ۱۴۳۶ھ مطابق ۱۴؍جون ۲۰۱۵ء
- ۲۳....... ۶؍شعبان ۱۴۳۷ھ مطابق ۱۴؍مئی ۲۰۱۶ء تا ۲۶؍شعبان ۱۴۳۷ھ مطابق ۳؍جون ۲۰۱۶ء
- ۲۴....... ۲؍شعبان ۱۴۳۸ھ مطابق ۲۹؍اپریل ۲۰۱۷ء تا ۲۳؍شعبان ۱۴۳۸ھ مطابق ۲۰؍مئی ۲۰۱۷ء
- ۲۵....... ۴؍شعبان ۱۴۳۹ھ مطابق ۲۱؍اپریل ۲۰۱۸ء تا ۲۵؍شعبان ۱۴۳۹ھ مطابق ۱۲؍مئی ۲۰۱۸ء
امسال چھبیس واں سالانہ ختم نبوت کورس ۷؍شعبان المعظم ۱۴۴۰ھ مطابق ۱۳؍اپریل ۲۰۱۹ء تا ۲۶؍شعبان المعظم مطابق ۲؍مئی ۲۰۱۹ء منعقد ہوا۔ ۱۳؍اپریل بروز جمعہ کو بعد از نماز جمعۃ المبارک داخلہ کا آغاز ہوا۔ رات گئے تک چار سو سے زائد طلباء کرام نے داخلہ لے لیا۔ رات بھر طلباء کرام کی آمد کا سلسلہ جاری رہا۔ بروز ہفتہ بعد نماز فجر داخلہ کا عمل دوبارہ شروع کیا گیا۔ آٹھ بجے کورس کا آغاز ہوا۔ اس سے قبل تقریباً پانچ صد طلباء کرام کی حاضری ہوچکی تھی۔ دوپہر کو کراچی اور اندرون سندھ سے قافلہ مدرسہ عربیہ ختم نبوت مسلم کالونی میں پہنچا۔ قافلہ میں تقریباً پانچ صد طلباء کرام تشریف لائے۔ یوں ہفتہ کے روز ہی شرکاء کورس کی تعداد ایک ہزار کے ہندسہ کو عبور کرگئی۔ ماہنامہ لولاک ملتان اپریل کے شمارہ میں مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ مدظلہ نے داخلہ کے لئے جن شرائط کا ذکر کیا ،حتی الامکان انہیں شرائط پر داخلے دیئے گئے۔ گیارہ سو باون افراد نے داخلہ لیا۔ جن میں مدارس کے طلباء، اسکول و کالجز کے سٹوڈنٹس، ٹیچرز اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے شامل تھے۔ امسال شرکاء کورس نے سابقہ تمام ریکارڈ توڑ دیئے۔ فالحمد للّٰہ!
کورس کا آغاز بروز ہفتہ صبح آٹھ بجے جامعہ اشرفیہ مان کوٹ ملتان سے تشریف لائے ہوئے معزز مہمان مولانا محمد احمد انور کے ابتدائی کلمات و دعاء سے ہوا۔ مولانا اللہ وسایا نے طلباء کرام کو حسب سابق ہدایات ارشاد فرمائیں۔ بعد ازاں اسباق کا آغاز ہوا۔ مولانا اللہ وسایا، مولانا غلام رسول دین پوری، مولانا محمد رضوان عزیز نے کورس کے پورے دورانیہ میں اسباق پڑھائے۔ علاوہ ازیں پہلے ہفتہ میں مولانا محمد شاہد ندیم، مولانا محمد احمد بہاول پوری، مولانا مفتی محمد راشد مدنی، مولانا غلام مرتضیٰ ڈسکہ کے اسباق ہوئے۔ دوسرے ہفتہ میں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا مفتی محمد انور اوکاڑوی، مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ کراچی، مولانا مفتی خالد محمود کراچی، مولانا مفتی محمد حسن لاہور، مولانا محمد الیاس گھمن سرگودھا، مولانا نور محمد ہزاروی سرگودھا، مولانا عزیز الرحمن رحیمی فیصل آباد، جناب متین خالد لاہور کے اسباق و لیکچرز ہوئے۔ تیسرے اور آخری ہفتہ میں مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا محمد قاسم رحمانی، شیخ الحدیث مولانا محمد زاہد الراشدی، مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا قاضی احسان احمد کراچی، جناب خالد مسعود ایڈووکیٹ تلہ گنگ اور دیگر کئی ایک اکابر علماء کرام نے عقیدہ ختم نبوت، حیات
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سیدنا مسیح علیہ السلام، سیدنا امام مہدی علیہ الرضوان، فتنہ دجال، کذبات مرزا، حجیت حدیث، فتنہ غامدیت، فتنہ گوہر شاہیت اور جدید فتن سمیت اہم موضوعات پر اسباق پڑھائے۔ مولانا محمد عادل خورشید نے جدید تقاضوں کے مطابق پروجیکٹر پر لیکچرز بھی دیئے۔
کورس کے مکمل نظم کی نگرانی مولانا اللہ وسایا، مولانا عزیز الرحمٰن ثانی اور مولانا غلام مصطفیٰ نے فرمائی۔ شرکاء کورس کی خدمت مولانا محمد اسحاق ساقی بہاول پور، مولانا عبدالرشید سیال فیصل آباد، مولانا محمد حبیب ٹوبہ ٹیک سنگھ، مولانا محمد خالد عابد شیخوپورہ اور مولانا صغیر احمد چناب نگر نے سرانجام دی۔ تمام اساتذہ وقراء حضرات بمع طلباء کرام، خدمت میں پیش پیش رہے۔
طلباء کرام کے علاج ومعالجہ کے لئے مدرسہ کے اندر ”ختم نبوت فری ڈسپنسری“ قائم ہے۔ سارا سال طلباء کرام کے علاوہ اہل علاقہ بھی اس سے بھر پور استفادہ کرتے رہتے ہیں۔ شرکاء کورس کے لئے خصوصیت کے ساتھ جناب ڈاکٹر محمد محسن اور مولانا قاری محمد اصغر نے خوب خدمات سرانجام دیں۔ کورس کے ایام میں ہی ”چوتھا ختم نبوت فری میڈیکل کیمپ“ بھی لگایا گیا۔ جس میں ڈاکٹر صولت نواز فیصل آباد اور ان کے رفقاء کی پوری ٹیم نے اس کیمپ میں شرکت کی۔ شرکاء کورس سمیت چناب نگر ومضافاتی علاقوں سے سینکڑوں افراد نے اس فری کیمپ سے فائدہ حاصل کیا کیمپ میں ای سی جی، الٹراساؤنڈ، بلڈ پریشر، شوگر، کولیسٹرول، ہیپاٹائٹس بی اور سی، لیبارٹری کے مکمل ٹیسٹ اور جدید مشینوں کے ذریعہ آنکھوں کے معائنہ سمیت دیگر سہولیات موجود تھیں۔
نعمت غیر مترقبہ:
اللہ رب العزت کے خصوصی فضل و کرم سے اس سال قائد ملت اسلامیہ مولانا فضل الرحمٰن صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی صورت میں منتظمین کورس وشرکاء کورس کو پہلی مرتبہ یہ نعمت غیر مترقبہ حاصل ہوئی۔ جس پر اللہ رب العزت کا جتنا شکر ادا کیا جائے وہ کم ہے۔ مولانا اللہ وسایا کی مساعی اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی نائب امیر مولانا صاحبزادہ عزیز احمد مدظلہ العالی کی خصوصی شفقت سے قائد جمعیت کی چناب نگر آمد متوقع ہوئی۔
۲۶؍اپریل بروز جمعتہ المبارک آپ کی آمد کی یقینی اطلاع موصول ہوئی تو مولانا عزیز الرحمٰن ثانی اور آپ کے رفقاء نے فی الفور انتظامات کو عملی جامہ پہنانا شروع کیا اور آپ کی آمد سے قبل تمام انتظامات بخیر و خوبی انجام دے دیئے گئے۔ مولانا سیف اللہ خالد ناظم اعلیٰ جامعہ امدادیہ چنیوٹ نے حسب سابق شفقت فرماتے ہوئے انتظامات میں دلچسپی لے کر منتظمین کی حوصلہ افزائی فرمائی۔ بعد نماز مغرب قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہ جامعہ عربیہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر تشریف لائے۔ صاحبزادہ خواجہ عزیز احمد صاحب مدظلہ بھی آپ کے ہمراہ تھے۔ تمام شرکاء کورس مسجد میں بڑی شدت سے انتظار میں تھے۔ مولانا اللہ وسایا شرکاء کورس کو مصروف رکھے ہوئے تھے کہ اچانک قائد محترم مسجد میں جلوہ افروز ہوئے۔ تمام شرکاء کورس نے کھڑے ہو کر ہاتھوں کو لہراتے ہوئے اللہ کی تکبیر کے فلک شگاف نعروں سے اپنے پیارے قائد کا استقبال کیا۔ آپ کی آمد سے تمام شرکاء کورس، منتظمین حضرات کا دل باغ باغ ہو گیا۔ مولانا اللہ وسایا نے خود مائیک کو سنبھالا، عقیدت بھی تھی، موقع بھی تھا، دستور بھی تھا اور رسم دنیا بھی تھی کہ مولانا اللہ وسایا نے اپنے قائد کی شان میں نثری قصیدہ پڑھتے ہوئے ایسے انداز میں آپ کو دعوت سخن دی کہ اکابر کی یاد تازہ کر دی۔ قائد محترم کی خصوصی تشریف آوری پر آپ کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہا۔
مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدظلہ نے تقریباً ایک گھنٹہ بیان فرمایا اس کے بعد صحافی حضرات نے مسجد سے باہر سوال و جواب کے لئے گھیر لیا۔ دس پندرہ منٹ کی پریس کانفرنس کے بعد آپ خصوصی مہمان خانہ میں تشریف لائے۔ کچھ دیر توقف کیا۔ نماز عشاء ادا کی اور پھر
تحریک ختم نبوت جلد (١٠) ٢٠١٩ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اسلام آباد کے لئے عازم سفر ہو گئے۔
یکم مئی بروز بدھ بعد نماز ظہر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری صاحب مدظلہ بھی مدرسہ عربیہ ختم نبوت مسلم کالونی میں تشریف لے آئے حافظ محمد انس بھی آپ کے ہمراہ تھے۔ بعد از نماز عشاء شرکاء کورس سے مفصل بیان فرمایا اور طلباء کرام کو قیمتی ہدایات سے بھی نوازا۔
آخری دو روز مجلس کے مکتبہ پر ڈیوٹی مولانا محمد قاسم مبلغ منڈی بہاؤالدین اور مولانا شفیق الرحمن مدرس مدرسہ جامعہ ہذا نے سرانجام دی۔ طلباء کرام کے نتائج، اسناد کی تیاری اور رجسٹروں پر ریکارڈ درج کرنے کے لئے مولانا غلام رسول دین پوری اور آپ کے رفقاء مولانا محمد قاسم اور بالخصوص مولانا شیر عالم نے خدمات سر انجام دیں۔
گزشتہ تین، چار سالوں سے کتابوں کے گفٹ پیک کے لئے مولانا سید حبیب احمد شاہ فیصل آباد کے برادران کارٹن پرنٹ کر کے ارسال کر رہے ہیں۔ اس مرتبہ بھی انہوں نے ساڑھے گیارہ سو طلباء کرام کے لئے خصوصی کارٹن تیار کروائے۔ مجموعی طور پر تمام شرکاء کو ”تحفہ قادیانیت“ کا چھ جلدوں پر مشتمل سیٹ، مجموعہ رسائل از مولانا محمد ادریس کاندھلوی، اسلام اور قادیانیت ایک تقابلی مطالعہ از مولانا عبد الغنی پٹیالوی اور دیگر منتخب کتب پر مشتمل سیٹ دیئے گئے۔ فالحمد لله!
اختتامی تقریب ۲ مئی ۲۰۱۹ء مطابق ۲۷ شعبان المعظم ۱۴۴۰ھ بروز جمعرات کو صبح نو بجے تا گیارہ بجے منعقد ہوئی۔ چارسدہ، مانسہرہ، مردان، پشاور، خانقاہ سراجیہ، لاہور، چنیوٹ، سیالکوٹ، فیصل آباد، چیچہ وطنی و دیگر شہروں سے مہمانان گرامی نے تقریب میں شرکت کی۔ نماز فجر کے بعد تمام شرکاء کورس اور مہمانان گرامی کو ناشتہ کرایا گیا۔ پھر تقریب کا آغاز کیا گیا۔ مولانا صاحبزادہ خلیل احمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ نے خصوصی شرکت فرمائی۔ رول نمبروں کی ترتیب سے طلباء کو مجلس کے منتخب کتب کے کارٹن اور اسناد تقسیم کی گئیں۔ جن حضرات نے تقریب میں شرکت کی اور اپنے دست مبارک سے طلباء کو انعامات دیئے ان کے اسماء گرامی یہ ہیں:
مولانا صاحبزادہ خلیل احمد خانقاہ سراجیہ، جناب پیر رضوان نفیس لاہور، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ملتان، مولانا سیف اللہ خالد چنیوٹ، جناب قاری عبدالحمید حامد چنیوٹ، مولانا غلام رسول دین پوری چناب نگر، مولانا مفتی ظفر اقبال چیچہ وطنی، مولانا محمد خالد لاہور، جناب قاری ظہور الحق لاہور، مولانا سعید احمد لاہور، جناب محمد خالد مسعود ایڈووکیٹ تلہ گنگ، مولانا غلام مرتضیٰ ڈسکہ، جناب حاجی محمد منشاء چنیوٹ، جناب حاجی عبدالرحمن چارسدہ، مولانا فقیر اللہ اختر سیالکوٹ، مولانا غلام مصطفیٰ چناب نگر اور رانا امان اللہ چناب نگر وغیرہ۔
کورس کے دوران تحریری امتحانات کا سلسلہ بھی شروع سے قائم ہے۔ اس سال بھی تین تحریری امتحانات ہوئے۔ اسی طرح تیسرے اور آخری ہفتہ میں پینتیس (۳۵) طلباء کرام کے مابین تقریری مقابلہ بھی ہوا۔ تحریری امتحانات میں اوّل، دوم اور سوم آنے والے طلباء کرام اور تقریری امتحانات میں اول، دوم اور سوم آنے والے طلباء کرام کو مزید کتب کے سیٹ سے نوازا گیا۔
تقریری مقابلہ میں پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء کرام کی فہرست درج ذیل ہے:
نمبر شمار رول نمبر نام مع ولدیت ضلع حاصل کردہ نمبر 1 267 محمد تیمور اسامہ بن حافظ محمد منشاء خانیوال 86 اوّل 2 435 محمد معاویہ قاسم بن مولانا محمد قاسم بہاول پور 85 دوم 3 463 محمد آصف بن ملک اللہ دتہ مظفر گڑھ 84 سوم
تحریک ختم نبوت جلد (١٠) ۲۰۱۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تحریری مقابلہ میں پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء کرام کی فہرست درج ذیل ہے:
نمبر شمار رول نمبر نام مع ولدیت ضلع حاصل کردہ نمبر 1 133 محمد حسین بن محمد موسیٰ رحیم یار خان 245 اوّل 2 222 فیاض علی بن نیاز علی مردان 243 دوم 3 551 محمد افتخار بن نصیر الدین شاہ کوئٹہ 242 سوم
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۹ء ص ۳ تا ۸)
چھبیسویں سالانہ ختم نبوت کورس چناب نگر کے شرکاء
بفضلہٖ تعالیٰ امسال گیارہ سو باون (۱۱۵۲) حضرات نے شرکت کی۔ ان میں سے چالیس (۴۰) طلباء کرام کثرت غیر حاضری ودیگر وجوہ کی بناء پر خارج کر دیئے گئے۔ گیارہ سو بارہ طلباء کرام نے اسناد اور کتب حاصل کیں۔ ذیل کی فہرست میں خارج شدہ طلباء کے اضلاع والے خانہ میں ”خارج شد“ لکھ دیا گیا ہے۔ طلباء کرام کی فہرست ملاحظہ فرمائیں:
نمبر شمار نام ولدیت ضلع نمبر شمار نام ولدیت ضلع 1 محمد حذیفہ یوسف حافظ محمد یوسف لودھراں 2 محمد ابراہیم احسان زیب صوابی 3 محمد اسحق محمد جان نوشہرہ 4 محمد امین داد خان داد مردان 5 محمد عرفان نور اسلام نوشہرہ 6 سید وسیم علی شاہ سید فیض الرحمن نوشہرہ 7 محمد عمر محمد جہان میر نوشہرہ 8 محمد حسین محمد حنیف نوشہرہ 9 کامران اکرم خان نوشہرہ 10 عمیر اللہ میر عالم ایبٹ آباد 11 محمد ذیشان فلک شیر نوشہرہ 12 محمد الیاس نوروز خان اسلام آباد 13 عبدالباسط حافظ فقیر شاہ نوشہرہ 14 بشیر احمد مولانا فقیر محمد مردان 15 فیاض اللہ خان گوہر علی اپر دیر 16 محمد عبداللہ فضل الحکیم راولپنڈی 17 حفیظ اللہ نور محمد نوشہرہ 18 شاہ انعام الرحمن شاہ عبدالرحمن عزر 19 فضل مولیٰ عبدالرحمن صوابی 20 عادل الرحمن عیسیٰ خان راولپنڈی 21 احمد فضل ہادی صوابی 22 اورنگزیب حاجی فضل مولیٰ پشاور 23 شہزاد مرزا احمد پشاور 24 محمد زکریا خان شہنشاہ اسلام آباد 25 اعظم طارق عبدالسلام گلگت 26 محمد اسماعیل امان اللہ خان کرم ایجنسی 27 رحمت اللہ وزیر خان راولپنڈی 28 اسد خان الفت اللہ شبقدر 29 فیضان پرویز پرویز اختر ایبٹ آباد 30 عطاء اللہ گل حسین صوابی 31 شفقت حسین شکر خان دیامیر 32 سہراب الدین محی الدین چترال
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
33 محمد سلیمان محمد عالم سوات 34 عبادالرحمٰن خلیل الرحمٰن صوابی 35 محمد جلال حضرت بلال صوابی 36 عتیق الرحمٰن محمد رفیق ایبٹ آباد 37 شاہ روم خام دل صوابی 38 شمس الرحمٰن ممتاز احمد ایبٹ آباد 39 سید الیاس باچا سید احمد علی شاہ صوابی 40 فرہاد علی گل رحمٰن دیر لوئیر 41 احسان اللہ اورنگزیب مالاکنڈ 42 نواز علی سید فیروز صوابی 43 سعید الرحمٰن حافظ عتیق الرحمٰن نیلم 44 خلیل الرحمٰن بنیامین بٹ گرام 45 عباد اللہ سید حسین اپر دیر 46 کامران خان فیض اللہ کوہاٹ 47 محمد جواد اسلم محمد اسلم چکوال 48 عزیر رشید عبدالرشید ہٹیاں بالا 49 عبدالغفور محمد جان ہنگو 50 عبدالرحمٰن عبدالعزیز باغ 51 یاسر زمان خان زمان اٹک 52 میر فضل علی احمد خان غذر 53 محمد فاروق گلفراز خان سوات 54 حسین الرحمٰن گل رحمٰن خارج شد 55 خلیق الرحمٰن محمد دلاور نیلم 56 محمد عبدالرب محمد عثمان راولپنڈی 57 گل نواز افسر خان کوہستان 58 عزیز الرحمٰن شیر زمان اٹک 59 سید اکبر شاہ حسن شاہ ڈیرہ اسماعیل خان 60 عبدالصمد محمد اکبر سوات 61 عبداللہ جمروز سوات 62 سہیل احمد تاج ولی خان مردان 63 مطیع الرحمٰن گل احمد کرم ایجنسی 64 محمد طیب محمد حفیظ بٹ گرام 65 محمد جمال محمد زمین صوابی 66 محمد داؤد محمد مشکور چکوال 67 عمر فاروق فضل واحد سوات 68 محمد ادریس شرافت علی مردان 69 آصف الحق سراج الحق چترال 70 غلام ابوبکر غلام حسن بارکھان 71 داؤد خان عامل خان راولپنڈی 72 عبید اللہ انور بیگ لوئیر دیر 73 محمد فیاض نور محمد راولپنڈی 74 محمد شیراز اجرم خان راولپنڈی 75 عبدالسمیع عبدالغفور چترال 76 منظور عالم محمد مشروف استور 77 نعیم اللہ ذوالفقار صوابی 78 محمد عرفان محمد اسلم بھکر 79 ذیشان تنویر اختر عباسی ایبٹ آباد 80 عظیم اللہ محمد صدیق جنوبی وزیرستان 81 عبدالوہاب عبدالرشید سوات 82 محمد فہیم ہاشم خان چارسدہ 83 انعام اللہ نواب الدین نیلم 84 عاقب محمد ایوب بٹ گرام 85 محمد لقمان نور قلم خان جنوبی وزیرستان 86 ذاکر اللہ غلام محمد بٹ گرام
تحریک ختم نبوت جلد (١٠) ۲۰۱۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
87 محمد ذوالفقار شربت خان کوہاٹ 88 ارمان الدین شمیر جنوبی وزیرستان
89 شاہد محمود کستور خان جنوبی وزیرستان 90 سید باچا عقل زرین چارسدہ
91 سمیع الحق بخت زادہ باجوڑ ایجنسی 92 محمد عارف موسیٰ گل کوہاٹ
93 محمد راشد شاہ زمان مانسہرہ 94 عبدالرحمن مثل خان مردان
95 محمد سلمان ساز گل باجوڑ ایجنسی 96 گل زادہ شہران شاہ کوہستان
97 بلال احمد عبدالجلیل مانسہرہ 98 محمد عدنان محمد یونس خان سدھنوتی
99 شیران احمد ارسل محمود راولپنڈی 100 عمر خطاب ولایت خان کوہاٹ
101 عبدالرحمن حاجی خان محمد چاغی 102 محمد محمد انور نوشکی
103 صفی اللہ محمد عارف گھوٹکی 104 محمد نعیم نعمانی غلام سرور نصیر آباد
105 حبیب اللہ ڈاکٹر حیات اللہ پشین 106 ثقلین احمد شوکت حسین خان ملتان
107 رحیم اللہ حاجی عبدالمالک چاغی 108 نصر اللہ اللہ رکھیہ جعفر آباد
109 محمد اکرم غلام رسول گھوٹکی 110 موسیٰ کلیم حاجی یار محمد لورالائی
111 محمد اعجاز الحق غلام رسول ڈیرہ بگٹی 112 شاہ زیب عبداللطیف رحیم یار خان
113 محمد یونس شاہ نواز گھوٹکی 114 اسد اللہ عبداللہ کشمور
115 عبدالرؤف غلام علی شکار پور 116 محمد دانیال ملک محمد اقبال میانوالی
117 امام حسین فضل محمد نوشہرہ 118 سید گوہر شاہ سید عمر بادشاہ کرک
119 اشتیاق اللہ خان نعمت اللہ خان کرک 120 گل شیروان گل بت خان کرک
121 محمد عامر منظور منظور احمد بہاول نگر 122 ضیاء الرحمن عبدالخالق بھکر
123 محمد ابوبکر محمد اکرم میر پور 124 عمیر احمد حفیظ الرحمن اسلام آباد
125 طاہر علی باز گل مردان 126 عبدالرحمن محمد رمضان باغ
127 شفاقت مشتاق محمد مشتاق راولپنڈی 128 محمد منیب راجہ بابر خان راولپنڈی
129 رحمت اللہ محمد صادق لیہ 130 عبدالکریم قسمت خان بنوں
131 محمد عمران سردار علی لکی مروت 132 سیف الرحمن محمد ابراہیم ڈیرہ اسماعیل خان
133 محمد حسین محمد موسیٰ رحیم یار خان 134 سنگین شاہ مکمل شاہ چارسدہ
135 گل حمید رکیب خان خیبر ایجنسی 136 محمد عامر سعید الرحمن خیبر ایجنسی
137 قمر زمان دریا خان کرک 138 شربت اللہ عطاء محمد شمالی وزیرستان
139 ابو طلحہ محمد اشفاق گل محمد ٹانک 140 محمد امین ملازم حسین مظفر گڑھ
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
141 عامر شہزاد عبدالرشید اٹک 142 محمد فواد اسلام محمد نوشہرہ 143 محمد عباس خان منہاج خان نوشہرہ 144 محمد اسماعیل تاج ولی خان نوشہرہ 145 ضیاء اللہ ملک عبدالحئی سرگودھا 146 راحت اللہ عبدالستار خان منڈی بہاؤالدین 147 عبدالصبور عبدالمجید خارج شد 148 محمد وقاص اختر علی نوشہرہ 149 بابر رشید رشید احمد خارج شد 150 نعیم اللہ محمد طارق علی بھکر 151 امیر عبداللہ اللہ یار چنیوٹ 152 عبدالوہاب عبدالجبار خارج شد 153 روز الدین جلات خان خارج شد 154 نواب شاہ زاہد شاہ ڈیرہ اسماعیل خان 155 محمد سلیمان نور محمد جان دیر بالا 156 عجب خان احمد خان جنوبی وزیرستان 157 زاہد اقبال محمد شریف خانیوال 158 محمد بلال حقانی محمد سلیم خان ہنگو 159 ہدایت اللہ عنایت اللہ رحیم یار خان 160 محمد زاہد شمس الدین رحیم یار خان 161 محمد آصف عاشق حسین خانیوال 162 محمد عامر مختار احمد سانگھڑ 163 اکرام اللہ الہداد خیر پور میرس 164 محمد معروف محمد عمر سانگھڑ 165 محمد راشد محمد حسین خیر پور میرس 166 راحیل احمد میمن محمد علی میمن خیر پور میرس 167 مظہر علی گل محمد خیر پور میرس 168 نعیم علی الف خان تھر پارکر 169 محمد فیضان شرافت علی کوئٹہ 170 صدام حسین احسان اللہ خیر پور میرس 171 نظیم احمد ولی محمد خیر پور میرس 172 ذکاء اللہ عرض محمد خیر پور میرس 173 محمد اسحق محمد اسماعیل ڈیرہ اسماعیل خان 174 محمد حسنین معاویہ نور زمان شاہ ڈیرہ اسماعیل خان 175 محمد سلیم اللہ رکھیو خارج شد 176 شفیع محمد عبدالقدوس نوشہروفیروز 177 محسن عبدالرشید نوشہروفیروز 178 علی محمد ذوالفقار علی گھوٹکی 179 عبدالواجد حاجی امیر احمد نوشہروفیروز 180 توفیق الرحمن محمد شفیق خیر پور میرس 181 محمد عبداللہ دوستین خیر پور میرس 182 عبدالوہاب نواب نوشہروفیروز 183 قدیر احمد در محمد نوشہروفیروز 184 ولی اللہ قاری ضمیر احمد خیر پور میرس 185 عادل ابراہیم متین عباسی خیر پور میرس 186 انور خان امیر زادہ اپر دیر 187 محمد عثمان ضیاء الدین صوابی 188 زاہد حسین شہروز خان سانگھڑ 189 ساجد علی شیر محمد نوشہروفیروز 190 کلیم اللہ علی نواز نوشہروفیروز 191 دین محمد اسد اللہ نوشہروفیروز 192 بلاول ولی بخش نوشہروفیروز 193 عبدالستار غلام مصطفیٰ نوشہروفیروز 194 محمد عبداللہ نوشہروفیروز
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
195 ارسلان احمد قادر بخش جھل مگسی 196 امیر بخش غلام محمد ولسان مٹیاری
197 محمد احسان ارشاد احمد سانگھڑ 198 عمر فاروق بشیراحمد بینظیر آباد
199 محمد علی مست علی خیرپور میرس 200 عبدالجبار نیاز حسین نواب شاہ
201 ظفر اللہ محمد یوسف نواب شاہ 202 سمیع اللہ عبدالغنی نواب شاہ
203 محمد عمران علی نواز نواب شاہ 204 شکیل احمد محمد شریف نواب شاہ
205 امداد اللہ ذکاء اللہ نوشہروفیروز 206 اظہر الدین علاؤ الدین عمرکوٹ
207 محمد شعبان محمد رمضان گھوٹکی 208 شیراز احمد خادم حسین سانگھڑ
209 عبد الماجد محفوظ علی سانگھڑ 210 محمد توصیف الرحمن محمد انور سرگودھا
211 محمد معاویہ سلیم محمد سلیم سرگودھا 212 سعد صادق خارج شد
213 محمد ظریف محمد یاسین لیہ 214 محمد عبداللہ کامل نواز ڈیرہ اسماعیل خان
215 محمد اعجاز ممتاز احمد ڈیرہ اسماعیل خان 216 محمد عثمان محمد صادق ڈیرہ اسماعیل خان
217 عمادالدین اعوان سمیع الدین اعوان لودھراں 218 محمد مزمل عمر حیات چنیوٹ
219 جاوید انور مظفر خان لکی مروت 220 شہزاد علی حضرت علی لکی مروت
221 مدثر اعجاز اعجاز احمد قصور 222 فیاض علی نیاز علی مردان
223 محبوب الہی رنگ الہی قصور 224 محمد علی حمزہ محمد سلیم اختر بہاول پور
225 محمد حسنین ریاض احمد بہاول پور 226 محمد ابرار محمد فیاض بخش بہاول پور
227 طفیل احمد محمد اقبال خارج شد 228 نصیر احمد امیر محمد مظفرگڑھ
229 محمد رمضان کلیار ملازم حسین جھنگ 230 محمد وقاص محمد الیاس بھکر
231 محمد حنظلہ قاری احتشام الحق فیصل آباد 232 توقیر رضا بشارت علی شیخوپورہ
233 محمد عمر خالد محمود فیصل آباد 234 محمد اسامہ محمد اکرم لیہ
235 محمد عامر صوبہ قصور 236 محمد ارشد نذیر احمد قصور
237 غلام مجتبیٰ بلال حسین لیہ 238 محمد عامر عبدالرحمن لیہ
239 محمد اسامہ مطیع الرحمن فیصل آباد 240 محمد سلیمان جمعہ خان ڈیرہ اسماعیل خان
241 عبدالمنان محمد زکریا بہاول نگر 242 تیمور اقبال محمد اقبال رحیم یارخان
243 محمد اسامہ محمد رمضان شیخوپورہ 244 عبدالصمد رانا ذوالفقار علی شیخوپورہ
245 محمد عمران کوڑو لیہ 246 مجید اللہ خان افضل کرک
247 نصیب الرحمن خواجہ حسن کرک 248 محمد ندیم فیض بخش مظفرگڑھ
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
249 محمد یونس ریاض حسین مظفر گڑھ 250 محمد یاسر محمد صادق ڈیرہ غازیخان 251 محمد ارشاد خدا بخش مظفر گڑھ 252 محمد ولید منظور احمد سرگودھا 253 محمد بلال محمد نواز خارج شد 254 محمد عادل محمد اشفاق خوشاب 255 سید شاہ حسین سید ندیم شاہ خانیوال 256 محمد اقرار محمد ربنواز خوشاب 257 محمد اقبال حسین صابر خان چترال 258 محمد وقاص محمد طاہر فیصل آباد 259 محمد سلیمان قطب خان جنوبی وزیرستان 260 عبدالواحد عبدالامین باجوڑ ایجنسی 261 محمد نعیم محمد بوٹا خارج شد 262 سعید احمد سعید اللہ خان کرک 263 محمد وقاص احمد حافظ خالد محمود راجن پور 264 محمد صیام زبیر احمد وہاڑی 265 محمد طاہر محمد اسلم پاکپتن شریف 266 محمد اظہر مجاہد محمد انور ساہیوال 267 محمد تیمور اسامہ غوری حافظ محمد منشاء خانیوال 268 محمد عثمان شاد رحیم بخش خارج شد 269 محمد عمر قاسم مانسہرہ 270 کامران خان نسیم خان صوابی 271 محمد زکریا محمد احسن لاہور 272 اعجاز الحق محمد ساون لاہور 273 محمد یسین غفاری کلیم اللہ اٹک 274 سلمان دواخان اٹک 275 شاہ فیصل حبیب الرحمن مردان 276 محمد عمیر احسان الحق مردان 277 اکرام اللہ غلام محمد مردان 278 عمر زیب اورنگزیب مردان 279 سید حماد علی شاہ سید حکمت شاہ پشاور 280 محمد جان عبدالحلیم مردان 281 شہریار مسعود مسعود اقبال خارج شد 282 محمد سلطان اللہ وسایا خارج شد 283 عبیدالرحمن محمد رفیق لودھراں 284 محمد نواز محمد شریف بہاولنگر 285 محمد جہانزیب جنید اقبال لودھراں 286 امجد علی مقبلی خان پشاور 287 فضل واحد فضل نبی پشاور 288 سعید اقبال غلام حسین پشاور 289 سمیع اللہ حسین اکبر کوہاٹ 290 محمد اکرم عبدالمالک ایبٹ آباد 291 محمد احمد عبدالرحمن مہمند ایجنسی 292 خالد عثمان دولت خان چارسدہ 293 زبیر علی شاکر اللہ چارسدہ 294 عبداللہ نواب پشاور 295 محمد اسرار محمد اسلام نوشہرہ 296 کامران رحیم رحیم گل چارسدہ 297 عثمان غنی ایوب خان پشاور 298 محمد ضیاء الرحمن سکندر شاہ پشاور 299 صدام حسین میر حسن خان پشاور 300 عبدالرحمن خائستہ رحمٰن چارسدہ 301 فہیم محمد ایاز چارسدہ 302 عبدالرحمن عالمگیر مردان
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
303 محمد اسرار نذر علی خان پشاور 304 وصال احمد نور زمان چارسدہ 305 محمد عثمان محمد عمر پشاور 306 محب اللہ ناصر خان خیبر ایجنسی 307 محمد اسامہ عبدالحنان نوشہرہ 308 مصباح اللہ شاہ فیصل چارسدہ 309 تاجدار خان فضل سبحان چارسدہ 310 سجاد احمد سیفور خان چارسدہ 311 محمد ساجد سردار حسین نوشہرہ 312 شوکت خان امیر خان چارسدہ 313 محمد اسلم اورکزئی مولانا عزیز الرحمن اورکزئی ایجنسی 314 انیس الحکیم حکیم خان سوات 315 ذاکر حسین نیک محمد خان اپر دیر 316 محمد عاصم شاد محمد پشاور 317 امجد علی محمد علی خان نوشہرہ 318 محمد عامر نور صاحب خان بونیر 319 محمد سلیمان امیر بادشاہ چارسدہ 320 محمد سرتاج خان نیاز محمد پشاور 321 عرفان اللہ داؤد خان لکی مروت 322 محمد طاہر محمد سعید لکی مروت 323 صفت اللہ شمس الدین بنوں 324 ضیاء الدین تعلیم گل کوہاٹ 325 محمد صادق گل حسین پشاور 326 سردار حسین فضل خالق اپر دیر 327 مکمل غلام علی چارسدہ 328 جمشید خان مظفر خان پشاور 329 محمد اسحاق محمد افضل پشاور 330 فیض اللہ مناور خان خیبر ایجنسی 331 فضل داد امداد پشاور 332 بنیامین شہید مدار خان مالاکنڈ 333 معراج خان عنایت اللہ پشاور 334 محمد شیراز احمد عظمت علی پشاور 335 مجیب الرحمن پور دل خان پشاور 336 محمد خبیب مولانا عبدالحلیم پشاور 337 محمد یعقوب حاجی اعظم گل خیبر ایجنسی 338 ظفر خان فضل نعیم پشاور 339 محمد ابراہیم مظفر خان پشاور 340 محمد یونس غلام محمد مہمند ایجنسی 341 ہارون الرشید خیر محمد مردان 342 غفران اللہ مولانا محب علی شاہ بونیر 343 حامد حسین محمد ابراہیم اٹک 344 حنیف اللہ سید نواز نوشہرہ 345 نور محمد حقانی گل حسن سوات 346 ارشاد اللہ دلاور خان دیر 347 شفیق الرحمن نقیب اللہ فاروقی سدھنوتی 348 صغیر احمد محمد نصیر نوشہرو 349 ثناء اللہ حقانی عبدالحکیم قلعہ سیف اللہ 350 آمین خالق محمد علی نوشہرہ 351 محمد ایاز نور محمد مہمند ایجنسی 352 عرفان اللہ وحید گل مالاکنڈ ایجنسی 353 عبیدالرحمن غلام داؤد اسلام آباد 354 نور اللہ شوکت علی پشاور 355 حافظ محمد تنویر فیض محمد راجن پور 356 محمد عمیر سیف اللہ راجن پور
تحریک ختم نبوت جلد (١٠) ٢٠١٩ء ٦١٣ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
357 ذبیح اللہ سید رحمن کرم ایجنسی 358 عثمان ارشاد محمد ارشاد پونچھ 359 کلیم شیرانی سلیم شیرانی استور 360 محمد طیب ہزاروی حبیب الرحمن مانسہرہ 361 منیب خان بخت محمد راولپنڈی 362 تعریف شاہ مذکر شاہ اسلام آباد 363 محمد عباس محمد الیاس مظفر آباد 364 عبید الرحمن محمد گلشن پونچھ 365 شاکر اللہ عبد الواحد بٹگرام 366 محمد ایاز ہزاروی عبد الرزاق بٹگرام 367 شاہ زیب علی اکبر نوشہرہ 368 محمد ابراہیم ممتاز خان راولپنڈی 369 شیر خان امیر زادہ سوات 370 سمیر جمیل الرحمن بٹگرام 371 توقیر احمد محمد قدیر کوہاٹ 372 نور سلیم خان کبیر خان لکی مروت 373 عبید الرحمن سعید حسین شاہ پونچھ 374 اخلاق احمد اکبر رحمن خارج شد 375 شہزاد خان شمروز خان چارسدہ 376 محمد صالح گل مرجان کرم ایجنسی 377 عبد الرزاق سید محمد مہمند ایجنسی 378 حسین اللہ درویش خان چارسدہ 379 نعیم جاوید حبیب الرحمن صوابی 380 مصباح اللہ بسم اللہ خان خارج شد 381 عبد اللہ نور فراز خان کرک 382 شیر خان گل امین باجوڑ 383 عاصم اللہ نادر خان مردان 384 سمیع اللہ شہروز خان باجوڑ ایجنسی 385 محمد منیر نیاز محمد مردان 386 محمد شہزاد واحد زمان سوات 387 احسان الحق حق نواز لودھراں 388 شفیع الرحمن شیراز گل ہنگو 389 حبیب اللہ محمد رضا خان لکی مروت 390 زاہد الرحمن محمد شیر خان لکی مروت 391 حضرت عثمان علی رحمن مہمند ایجنسی 392 سعید الرحمن محمد ضیاء شانگلہ 393 شبیر احمد ثواب گل پشاور 394 محمد فیصل محمد قیوم ہنگو 395 عبد الوہاب خان نور بادشاہ لکی مروت 396 رحمن شیر محمد شاہ مہمند ایجنسی 397 محمد عمر قاری محمد امین پاکپتن 398 ابوبکر محمد رفیق وہاڑی 399 عثمان علی ولایت شیر صوابی 400 حمزہ احمد ممتاز احمد صوابی 401 محمد سعد مختیار احمد راجن پور 402 عطاء الرحمن محمد ابراہیم مظفر گڑھ 403 محمد احمد عبد الرحیم مظفر گڑھ 404 محمد نعیم اللہ شاہ سید مطیع اللہ بہاول پور 405 محمد ابراہیم معاویہ اللہ بخش شاہ مظفر گڑھ 406 محمد انوار الحق عبد المجید مظفر گڑھ 407 محمد مبشر عبد اللطیف مظفر گڑھ 408 محمد طیب علی احمد رحیم یار خان 409 محمد اسد اللہ شاہ محمد انور شاہ مظفر گڑھ 410 محمد امجد ایاز ایاز احمد مظفر گڑھ
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
411 محمد شعیب منیر احمد مظفرگڑھ 412 محمد عزیز اللہ رحمانی محمد یوسف رحیم یارخان 413 غلام محمد عبدالحمید رحیم یارخان 414 محمد عالمگیر عبدالرحیم ڈیرہ غازی خان 415 امیر نواز عبیداللہ رحیم یارخان 416 دلشاد احمد حافظ یعقوب بہاول پور 417 محمد فہیم محمد رفیق بہاول پور 418 محمد جبران جاوید محمد جاوید بہاول پور 419 محمد یونس محمد بلال ملتان 420 محبوب احمد وزیر احمد بہاول پور 421 محمد حبیب غلام شبیر بہاول پور 422 محمد عارف عبدالخالق بہاول پور 423 رفیق الرحمن نذیر احمد بہاول پور 424 محمد وسیم عبدالرحمن ملتان 425 محمد نادر نصیر احمد بہاول پور 426 محمد عمران عباسی محمد اکرم عباسی رحیم یارخان 427 محمد صدیق محمد حاجی بہاول پور 428 ظفر اللہ حاجی سعید اللہ ڈیرہ غازی خان 429 محمد اشرف رحیم بخش ڈیرہ غازی خان 430 محمد یاسر عبدالکریم ڈیرہ غازی خان 431 احمد عزیر حیات خان پشاور 432 سعید احمد فیض احمد بہاول پور 433 اسد محمود غلام حیدر بہاول پور 434 حافظ محمد سعید حاجی اللہ رکھا بہاول پور 435 محمد معاویہ قاسم مولانا محمد قاسم بہاول پور 436 محمد حبیب طیب مولانا عبدالرحمن بہاول پور 437 محمد علی شان رحمانی محمد رمضان رحمانی بہاول پور 438 محمد آصف اللہ ڈیوایا بہاول پور 439 محمد سلمان جمیل محمد جمیل بہاول پور 440 احمد نواز عزیز اللہ خان رحیم یارخان 441 محمد عامر محمد علی رحیم یارخان 442 محمد جہانگیر مہربان موسیٰ خیل 443 محمد جمیل ملک ساون ڈیرہ اسماعیل خان 444 سمیع اللہ ثناء اللہ جھل مگسی 445 ابو غفاری عبدالستار مظفرگڑھ 446 جعفر علی محمد سمی چنیوٹ 447 نعمان معاویہ منظور حسین چنیوٹ 448 محمد عمر فاروق مولانا عبدالمجید جھنگ 449 محمد مشتاق حبیب خان اٹک 450 شفیع محمد محمد اسلم بہاول پور 451 محمد عمران محمد صدیق بہاول پور 452 محمد معاویہ محمد رفیق ٹوبہ ٹیک سنگھ 453 اعجاز حسین امیر محمد لیہ 454 عبدالحفیظ حافظ فیض محمد رحیم یارخان 455 رحمت جان ولی الرحمن مانسہرہ 456 محمد عادل سید بادشاہ بونیر 457 محمد فہیم الدین خلیل احمد چنیوٹ 458 محمد فیضان محمد اشفاق ٹوبہ ٹیک سنگھ 459 مجاہد اقبال محمد اقبال ٹوبہ ٹیک سنگھ 460 فاروق ارشاد ارشاد علی فیصل آباد 461 محمد زبیر افضل محمد افضل ٹوبہ ٹیک سنگھ 462 عبیداللہ عابد حاجی نور اللہ خان شیرانی 463 محمد آصف ملک اللہ دتہ مظفرگڑھ 464 اللہ ورایو اللہ داد چنہ نوشہروفیروز
تحریک ختم نبوت جلد (١٠) ۲۰۱۹ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
465 محمد بلال محمد امیر جھنگ 466 اسداللہ فضل اللہ کچھی
467 صلاح الدین محمد دین زیارت 468 محمد ابراہیم عتیق الرحمن چکوال
469 سید نصیر الدین سید نور محمد شاہ خارج شد 470 حمداللہ حاجی محمد عمر قلعہ عبداللہ
471 نقیب اللہ نیک نام قلعہ سیف اللہ 472 عبدالقدیم عبدالحلیم شیرانی
473 محمد اشرف مولوی نوراللہ پشین 474 سیف الدین خان محمد ژوب
475 حافظ نوراللہ عبدالباقی زیارت 476 عبدالواجد حافظ محمد ایوب کشمور
477 غلام اللہ محمد امین کشمور 478 اسامہ زاہد خان کراچی
479 رحیم اللہ حاجی خان محمد کوئٹہ 480 ضیاء الرحمن برک خان پشین
481 سید سمیع اللہ سید حاجی علی شاہ قلعہ عبداللہ 482 محمد موسیٰ عبدالحنان ژوب
483 محمد ابراہیم فضل دین کراچی 484 روح اللہ عبدالنبی قلعہ سیف اللہ
485 سید سلیم شاہ سید عظیم شاہ کوئٹہ 486 سعید احمد جان محمد خارج شد
487 محمد ناصر حاجی غلام قادر کوئٹہ 488 اسداللہ خان بادشاہ پشاور
489 ظہور الحق منظور الحق مانسہرہ 490 ہدایت اللہ محمد ایوب کراچی
491 کمال مجید عبدالمجید کیچ 492 حارث برکت برکت علی کیچ
493 حشمت علی یعقوب خان مردان 494 سمیر احمد جمعہ کیچ
495 محمد خالد شیر بادشاہ ساؤتھ وزیرستان 496 اسلام ودود فضل ودود کراچی
497 شیر عالم حاجی قبلہ خان کراچی 498 احمد محمد حیات پنجگور
499 رحمت سلام مایخ خان تورغر 500 عثمان غنی محمد حسین کراچی
501 محسن امین روح الامین خارج شد 502 منیر احمد عبدالقیوم مانسہرہ
503 صفی اللہ ثناء اللہ قلات 504 محمد تیمور نور محمد کراچی
505 صدیق اللہ الحاج حبیب اللہ قلعہ عبداللہ 506 محمد سلیمان عبدالرحمن کراچی
507 نصیب اللہ خیر الدین لورالائی 508 سیف اللہ صلاح الدین چترال
509 خطیب اللہ طوطی الرحمن لوئر دیر 510 علی المرتضیٰ مفتی محفوظ احمد لودھراں
511 محمد اسامہ مولانا نور الحکیم کراچی 512 محمد عمر محمد الیاس گھوٹکی
513 محمد شیراز سلطان علی میرپورخاص 514 محمد توقیر محمد فرید ایبٹ آباد
515 حکمت اللہ حمداللہ کوئٹہ 516 زاہد حسین محمد شریف میرپورخاص
517 راشد نور نور اسلام کراچی 518 فتح اللہ محمد عالم سکھر
تحریک ختم نبوت جلد (١٠) ٢٠١٩ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
519 عبدالحنان سلیم آفتاب لیہ 520 حمزہ محمد شریف میر پور خاص 521 علی حسین عبدالغفور کراچی 522 محمد اکرم حاجی محمد صدیق کوئٹہ 523 لقمان خان فضل اللہ کراچی 524 نظر علی خمیسو بدین 525 اعجاز الحق حاجی احتشام الحق گوادر 526 عزیر اللہ حافظ ذاکر اللہ خاران 527 محمد اسلام محمد دوست خان کراچی 528 منیر الرحمن سلیم امران ٹھٹھہ 529 محمد نعمان تاج محمد کراچی 530 محمد عارف محمد اسماعیل کراچی 531 عبدالصمد غلام مصطفیٰ سکھر 532 نجیب اللہ خدا بخش قلات 533 محمد یحییٰ بخش علی کراچی 534 محمد سجاد عبدالشکور میر پور خاص 535 توصیف احمد گل شکر خان مردان 536 علی دلدار حسین ٹھٹھہ 537 اعجاز شیر بہادر کراچی 538 محمد آصف عطاء عطاء محمد سانگھڑ 539 تاج عالم علاؤالدین کراچی 540 اظہر علی علی بخش بدین 541 محمد میمن غلام مصطفیٰ میمن سجاول 542 سید وکیل احمد سید علاؤالدین قلعہ عبداللہ 543 راز محمد عباس خان کراچی 544 انعام اللہ عبدالولی قلعہ عبداللہ 545 شکور احمد نور احمد خضدار 546 نظام الدین جوہر الدین کراچی 547 اسفندیار عبدالخالق پشین 548 یحییٰ حنیف محمد حنیف ٹھٹھہ 549 عنایت اللہ عبدالواحد قلعہ سیف اللہ 550 محمد عارف حاجی سید خان پشین 551 محمد افتخار شاہ نصیر الدین شاہ کوئٹہ 552 محمد عمر عبدالباری دکی 553 محمد ثاقب زمان بدری زمان کراچی 554 محمد اسماعیل حاجی ابو احمد کراچی 555 عنایت اللہ سربلند خارج شد 556 ولی امان محمد سلیمان ہری پور 557 محمد اسحاق عین الدین قلعہ سیف اللہ 558 عبدالرشید جانس خان کراچی 559 محمد یونس عبدالستار پشین 560 محمد اسامہ صدیقی محمد حامد صدیقی کراچی 561 محمد معاویہ عبدالرزاق کراچی 562 شوکت علی حاجی گل حسن جام شورو 563 عبداللہ مولوی محمد مبارک نصیر آباد 564 طارق محمود عبدالغفور دادو 565 محمد رمضان ثناء اللہ دادو 566 محمد توثیق محمد رفیق خضدار 567 قربان علی قادر بخش دادو 568 محمد رمضان احمد خان دادو 569 محمد احسان ثناء اللہ جنوبی وزیرستان 570 گل شیر چانڈیو نبت چانڈیو شہداد کوٹ 571 محبوب علی محمد مٹھل شہداد کوٹ 572 عبدالقدیر عبدالقادر دادو
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
573 محمد اشرف خیر محمد نصیر آباد 574 محمد عثمان خالد فاروق نوشہرہ 575 شمس الدین سراج الدین حیدر آباد 576 عبدالوہاب خان محراب خان تھر پارکر 577 سراج الدین عبدالکبیر کوئٹہ 578 محمد عمران حاجی عبدالغنی کوئٹہ 579 عبدالستار عبدالرحمن لسبیلہ 580 حامد علی عمران خان مردان 581 عبدالرحمن ستار خان کراچی 582 فضل الرحمن عمر زیب بونیر 583 عبدالغفار امیر بخش عمر کوٹ 584 وحید اللہ میر دل خان لکی مروت 585 جمشید خان حضرت اسحاق مالاکنڈ 586 حنیف اللہ استانہ مد خان لکی مروت 587 محمد یونس حبیب مولانا عبدالکریم قلات 588 سجاد خان محمد رحمان سوات 589 منظور احمد گل محمد خضدار 590 محمد رحیم محمد حسین کراچی 591 لقمان اللہ گل خمین ہری پور 592 ضیاء اللہ شوکت علی خان سوات 593 محمد لقمان محمد فاروق کراچی 594 محمد ارشاد محمد فاضل چترال 595 محمد یوسف گل میر خان کراچی 596 ماجد خان عبدالوہاب کراچی 597 عبداللہ محمد یحییٰ خان کراچی 598 نصر اللہ علی نواز بدین 599 علی نواز محمد رفیق بارن سجاول 600 عبدالرزاق خشک ہوت خان ٹھٹھہ 601 عبدالہادی محمد حسن بدین 602 ممتاز علی نور محمد بدین 603 الیاس چانڈیو میر محمد ٹھٹھہ 604 علی گل ولاسیو سکھے لدھو سجاول 605 شکیل احمد محمد عثمان بدین 606 حیدر علی بائی خان مٹھی 607 عبدالعلیم عبدالرزاق تھر پارکر 608 ملک عاقب فاروق ملک امان کراچی 609 حزب الرحمن محمد ولی کوہستان 610 خبیر اللہ عبداللہ خان جنوبی وزیرستان 611 محمد ہاشم میر حسین جنوبی وزیرستان 612 نذیر احمد منیب عبدالواسع کوئٹہ 613 سراج الدین شیر علی کوئٹہ 614 عبداللہ عبدالرحمن پنجگور 615 ثناء اللہ محمد یٰسین گوادر 616 صفی اللہ حیدر علی کیچ 617 جمشید احمد پھلان کیچ 618 شفیق الرحمن نصیب محمد بونیر 619 محمد آصف خٹک بصیر الدین خٹک کراچی 620 مدثر نواز خان گل نواز خان مانسہرہ 621 محمد اسحاق پروش خان خارج شد 622 محمد بلال عبدالحمید رحیم یار خان 623 محمد یونس نور احمد رحیم یار خان 624 حشمت علی محمد منشاء اوکاڑہ 625 محمد عبداللہ خدا بخش کراچی 626 ابرار زمان خان زمان کراچی
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
627 محمد طیب گل نمروز خان کراچی 628 کامران خان حاجی رحمٰن صوابی 629 محمد حماد محمد سجاد کراچی 630 سعد محمد الطاف کراچی 631 محمد شاہ رخ عبدالقیوم کراچی 632 احمد سعید ماتون شاہ شانگلہ 633 احسن حامد حامد انیس کراچی 634 محمد عرفان عبدالخالق خضدار 635 عبدالسلام محمد یوسف کراچی 636 سکندر حیات حیات خان کوہاٹ 637 عبدالوہاب عبدالواحد نوشکی 638 احسان اللہ عبدالقیوم کراچی 639 حمزہ مشتاق حسین کراچی 640 محمد زبیر مومن خان خارج شد 641 مبشر احمد عبدالشکور کراچی 642 شاہد اللہ غلام جان کراچی 643 سمیع اللہ غلام علی پشین 644 امام دین شفیع محمد لسبیلہ 645 نعیم اللہ شاکر قاری سلطان روم کراچی 646 نجیب اللہ محمد زمان کراچی 647 عثمان حیدر معاویہ محمد افسر کراچی 648 احتشام الحق معراج احمد خارج شد 649 نجیب اللہ فیض محمد کراچی 650 عبدالقدیر عبدالشکور شکار پور 651 زبیر احمد عبدالجبار نصیر آباد 652 عرفان اللہ گل بادشاہ سوات 653 محمد مجاہد سمیع گل حیدر آباد 654 نذیر احمد نور محمد شکار پور 655 محمد صدام حسین شاہ حسین جام شورو 656 مبشر علی اللہ لوک میر پور خاص 657 رفیع اللہ نوروز خان جام شورو 658 عبدالمتین عبدالحسن سکھر 659 عبدالرحیم حاجی مہران کراچی 660 عبدالقاہر ظاہر خان ارگو 661 محمد ابراہیم عوض خان کراچی 662 کریم خان دین محمد خارج شد 663 علی شیر محمد صالح عمر کوٹ 664 امان اللہ محمد سومار تھر پارکر 665 امیر علی محمد قاسم عمر کوٹ 666 عبدالقادر محمد اقبال تھر پارکر 667 اصغر علی سراج الدین عمر کوٹ 668 ابوبکر محمد یعقوب تھر پارکر 669 محمد ابرار حسین حسین الدین خارج شد 670 شہزاد یوسف عبدالغفور سجاول 671 عثمان علی زینت الرحمٰن شانگلہ 672 محمد طلحہ آمین شاہ ہنگو 673 ثناء اللہ محمد حسن کیچ 674 سردار حسین غلام شیر کراچی 675 عبدالصمد حاجی عبدالعزیز کوئٹہ 676 فیض اللہ بخت محمد قلعہ سیف اللہ 677 نقیب اللہ راز محمد شیرانی 678 فرید اللہ عبدالرؤف قلعہ عبداللہ 679 عبدالاحد عبدالواحد کراچی 680 نقیب الرحمٰن خان ولی جنوبی وزیرستان
تحریک ختم نبوت جلد (١٠) ٢٠١٩ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
681 رشید احمد نور احمد قلات 682 سید محمد ادریس عبداللہ شاہ لورالائی 683 عیسیٰ نعیم نعیم الہادی کراچی 684 فداء الرحمٰن درخواستی عبدالکریم پشین 685 عطاء الرحمٰن داد محمد قلعہ عبداللہ 686 مجیب الرحمٰن محمد یوسف زیارت 687 سمیع اللہ عبدالغفار قلعہ عبداللہ 688 محمد رمیز محمد راشد کراچی 689 سید حفیظ اللہ سید عبدالمنان پشین 690 محمد ادریس محمد عالم کوئٹہ 691 محمد عزیز عزیز الرحمٰن بگرام 692 محی الدین عبدالغنی پشین 693 انعام اللہ ترین زین الدین پشین 694 امان اللہ رحیم بخش ڈیرہ اسماعیل خان 695 مطیع اللہ رجب علی کوہاٹ 696 محمد ابوبکر عبدالرحمٰن خضدار 697 محب اللہ حاجی عبدالرزاق کوئٹہ 698 میر وائس عبدالغنی چمن 699 محمد عثمان غنی ثناء اللہ کوئٹہ 700 سید محمد عابد سید علی احمد پشین 701 محمد یوسف انصاری جنید ارشد انصاری خارج شد 702 عبدالرحمٰن محمد اکرم وہاڑی 703 صادق الاسلام شیر جہان خان چترال 704 صبغت اللہ سلیم اللہ چترال 705 اختر الدین مسافر خان چترال 706 اویس قرنی شیخ عطاء اللہ چترال 707 عبدالغفور حافظ سیف الرحمٰن سکھر 708 محمد عمران اللہ شاکر اللہ چترال 709 محمد صابر عبدالجلیل چترال 710 اعجاز الرحمٰن کفایت الرحمٰن چترال 711 ہدایت الحق مطاہر الحق چترال 712 محمد حذیفہ عبدالستار خانیوال 713 محمد یوسف گل زمان مانسہرہ 714 سرتاج احمد رشید احمد شہداد کوٹ 715 سید حسیب حسین سید الطاف حسین خارج شد 716 غلام معز الدین غلام محمد حیدر آباد 717 سید حیات اللہ سید نظام الدین پشین 718 ملک محمد شریف حاجی رحیم بخش جھنگ 719 مہدی حسن ڈاکٹر محمد حسن عمر کوٹ 720 عبدالجبار ستار بخش نوشہرو فیروز 721 صبغت اللہ محمد پریل نصیر آباد 722 جمیل الرحمٰن فداء حسین مٹیاری 723 عبدالرؤف عبدالستار مٹیاری 724 دھنی بخش قادر بخش جام شورو 725 ابوبکر اختر بن کراچی 726 ابوبکر صدیق محمد زبیر ہنگو 727 اسامہ عبداللہ قاری عبدالواحد مٹیاری 728 علی شیر غلام نبی سانگھڑ 729 سیف الرحمٰن مولانا عبداللطیف خضدار 730 محمد آصف غلام نبی لسبیلہ 731 ظہور احمد نور احمد خضدار 732 اویس خان محبوب الرحمٰن دیر 733 صبغت اللہ عبدالرحمٰن خضدار 734 محمد حسین مصنف خان باجوڑ ایجنسی
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
735 محمد وسیم عبدالعزیز ملتان 736 واجد ریاض احمد ریاض چنیوٹ 737 خبیب احمد عزیز احمد حیدرآباد 738 احسان الحق گل حسن حیدرآباد 739 محمد علی محمد عبداللہ ملیر 740 عطاء اللہ نادر حسین شہداد کوٹ 741 محمد یاسر خان نادر شاہ کوئٹہ 742 عبداللہ وحید وحید اسحاق کراچی 743 محمد گلاب مولا بخش تربت 744 رشید احمد سندھی قاری عزیز اللہ عمر کوٹ 745 نجیب اللہ رحمت اللہ پشین 746 محمد شاہد نذیر خان تورغر 747 شکیل احمد محمد نذیر کراچی 748 محمد اکرام اللہ عطاء اللہ کراچی 749 سیف اللہ عمر فاروق نیو کراچی 750 ضیاء الرحمن شیر غازی کوہستان 751 محمد صدیق دلاور خان مانسہرہ 752 عبداللہ محمد حسین کراچی 753 محمد آصف غلام رسول کراچی 754 عمر فاروق رانا محمد یسین شیخوپورہ 755 محمد یاسر اعجاز علی نوشہرو فیروز 756 محمد جنید عباسی عبدالرحمن عباسی نوشہرو فیروز 757 نظام الدین عطاء محمد ٹھٹھہ 758 غلام مرتضیٰ شیر محمد ٹھٹھہ 759 عبدالخالق محمد اکرم نوشہرو فیروز 760 اللہ ڈنو مصری تھرپارکر 761 عبدالوحید عبدالرزاق سجاول 762 بلال حاکم خان سانگھڑ 763 شمشاد علی خان محمد ساجد خان حیدرآباد 764 طالب حسین غلام حسین جام شورو 765 محمد یونس سید عبداللہ جام شورو 766 ذبیح اللہ دریا خان ٹنڈو الہ یار 767 ایوب علی محسن تھرپارکر 768 حماد علی علی زمان حیدرآباد 769 عبدالحمید خان عبدالغفار خان حیدرآباد 770 محمد زید ذاکر حسین سانگھڑ 771 عمران اللہ سمیع اللہ حیدرآباد 772 سیف اللہ بسم اللہ حیدرآباد 773 محمد سہیل مشتاق احمد میر پور خاص 774 نصر الدین فضل محمد کاکڑ خارج شد 775 احسان اللہ بسم اللہ دین سانگھڑ 776 محمد سمیر محمد حسین حیدرآباد 777 محمد خان عبدالرحیم بدین 778 سلیم اللہ حاجی ہیبت خان ٹانک 779 محمد علی محمد صدیق کراچی وسطی 780 شاہ نواز برہان الدین سوات 781 محمد بلال عبدالسلام کراچی 782 حافظ محمد سعد صدیقی شرف الدین کراچی 783 منصور احمد منظور احمد میر پور خاص 784 امیر معاویہ عزیز الرحمن بدین 785 عبدالوحید محمد حسین بدین 786 عبدالقدیر محمد ساون میر پور خاص 787 وقاص احمد میرن خان بدین 788 ظفر اللہ محمد رمضان ٹنڈو محمد خان
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
789 محمد رفیق محمد لقمان مٹھی 790 غلام شبیر آفتاب احمد میر پور خاص 791 ثاقب علی محمد صدیق بدین 792 محمد عثمان حافظ غلام اکبر میر پور خاص 793 راجہ ظفر کریم ڈنو مٹھی 794 خلیل الرحمن محمد سلیمان کوئٹہ 795 صغیر احمد قلندر بخش بدین 796 حق نواز علی نواز حیدر آباد 797 محمد مبشر غلام سرور میر پور خاص 798 محمد عظیم خان دوائی خان باجوڑ ایجنسی 799 محمد زکریا خالد محمود ایبٹ آباد 800 منصور خان جمشید خان مردان 801 عبدالسلام عبدالرحیم چارسدہ 802 محمد بلال مطیع اللہ کراچی 803 حسیب الرحمن سابق الرحمن صوابی 804 محمد یٰسین ملک عبدالسلام جنوبی وزیرستان 805 محمد نواز خان محمد سلیم پشین 806 محمد جان نور بخش خضدار 807 ثناء اللہ سہراب احمد بدین 808 صدام خان اللہ داد پشین 809 محمد ابراہیم مولوی محمد نسیم قلعہ عبداللہ 810 فیض اللہ بہرام خان جنوبی وزیرستان 811 شیر قیوم سید عالم خان جنوبی وزیرستان 812 محمد یونس باز محمد جنوبی وزیرستان 813 عبدالحلیم عبدالرزاق بدین 814 شیر احمد دوردانہ زار چترال 815 محمد موسیٰ محمد حسین عمر کوٹ 816 احمد علی ہارون عمر کوٹ 817 امین اللہ محمد یوسف قلعہ عبداللہ 818 محب اللہ عبدالغفور مستونگ 819 لیاقت ولی خان عبدالغنی چترال 820 فضل اللہ خلیل اللہ بے نظیر آباد 821 محمد پام جان بٹگرام 822 سیف اللہ حاجی دین محمد قلعہ عبداللہ 823 شفیع اللہ گل بادشاہ ٹانک 824 عبدالقیوم راحب خشک جام شورو 825 عبدالوہاب عبدالرحیم ٹنڈوالہ یار 826 سعید اکبر مرزا علی حیدر آباد 827 اعجاز علی محمد حنیف میر پور خاص 828 امجد علی محمد منٹھل مٹھی 829 وقاص احمد شوکت علی ٹنڈوالہ یار 830 محمد فاروق جعفر حسین حیدر آباد 831 عبدالغفار عطاء حسین خارج شد 832 علی محمد غلام محمد خارج شد 833 ثناء اللہ فضل کریم شیرانی 834 محمد عیسیٰ محمد ہارون ٹنڈوالہ یار 835 خادم حسین عبدالغفور میر پور خاص 836 محمد نعیم علی حسن میر پور خاص 837 یار محمد دین محمد ٹنڈوالہ یار 838 دلاور علی مراد بدین 839 نظام الدین اللہ جڑیو ٹنڈو محمد خان 840 ابوبکر محمد عثمان حیدر آباد 841 احسان اللہ محمد قاسم بدین 842 ایاز علی امیر علی بدین 843 حبیب اللہ حمل خان میر پور خاص 844 نذیر احمد محمد عمر بدین
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
845 رجب علی سومرو سانگھڑ 846 معوذ عبداللہ پڑھیاڑ حیدر آباد
847 محمد خان احمد فقیر ٹنڈو محمد خان 848 ابوبکر بشیر احمد حیدر آباد
849 عزیز الرحمن محمد نواز حیدر آباد 850 محمد مچل چانھیوں شریف عمر کوٹ
851 نسیم احمد محمد سومار ٹھٹہ 852 عبیداللہ رسول بخش حیدر آباد
853 اظہار احمد مولا بخش حیدر آباد 854 عبدالغفور محمد خان حیدر آباد
855 محمد زبیر شمس الدین حیدر آباد 856 امیر حمزہ جمیل احمد حیدر آباد
857 منظور احمد سید محمود جام شورو 858 محمد عاقب عبدالجبار سانگھڑ
859 محمد اسحاق معاویہ ذوالفقار علی حیدر آباد 860 عبدالستار علی اصغر گھوٹکی
861 سعید احمد منظور احمد شکار پور 862 اسعد اللہ بہاول الدین حیدر آباد
863 محمد کاشف نور محمد مٹیاری 864 گوہر علی عبدالرؤف باجوڑ ایجنسی
865 عبدالواحد شیر زمان ٹنڈو محمد خان 866 محمد وجیہ الدین نثار احمد کراچی
867 غلام رسول فتح محمد حافظ آباد 868 امیر محمد خان مثل زادہ بونیر
869 نعیم اللہ اجمیر رحمان لوئر دیر 870 حامد حسین کرم حسین پھوڑ شکار پور
871 نعیم اللہ عبدالواحد جیکب آباد 872 نصر اللہ منظور علی میر پور خاص
873 فخر الدین گل بہار سکھر 874 عبدالستار گلزار علی میر پور خاص
875 محمد یونس محبوب علی جیکب آباد 876 سراج احمد سلطان احمد خیر پور میرس
877 حبیب اللہ لیاقت علی شکار پور 878 عبدالحق کانڈہڑو کانڈہڑو گلاب سکھر
879 محمد صدیق محمد رمضان سکھر 880 محمود الحسن احمد علی شیخ خیر پور میرس
881 ہدایت اللہ پھوڑ عبید اللہ پھوڑ جیکب آباد 882 تنویر احمد ابڑو محمد نواز ابڑو شکار پور
883 محمد شوکت علی بخش جیکب آباد 884 عبدالحمید علی بخش کندھ کوٹ
885 رحمت اللہ محمد زمان عمر کوٹ 886 سرفراز شیر محمد گھوٹکی
887 رضوان اللہ عزیز اللہ کراچی 888 امان اللہ فضل وہاب سوات
889 رحیم اللہ حاجی وزیر جام شورو 890 علی اکبر امتیاز احمد کراچی
891 محمد یونس محمد اسحاق خیر پور 892 دلاور شیر محمد تھر پارکر
893 عطاء محمد یعقوب لاشاری ٹنڈو محمد خان 894 عمر فاروق محمد اشرف ٹنڈو محمد خان
895 غلام حیدر رضا محمد ٹنڈو محمد خان 896 اسد اللہ سائیں ڈنو سکھر
897 عبد الہادی فخر الدین جتوئی گھوٹکی 898 علی المرتضی احمد سکھر
899 ذیشان احمد محمد اسلم حیدر آباد 900 عبدالباسط محمد عالم تھر پارکر
تحریک ختم نبوت جلد (١٠) ٢٠١٩ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- 901 مختیار احمد عتیق الرحمن کوہاٹ
- 902 خان محمد سراج الدین موسیٰ خیل
- 903 محمد معصوم محمد خان قلعہ عبداللہ
- 904 ذیشان احمد صاحب شاہ پشاور
- 905 عبدالرقیب محمد عتیق خارج شد
- 906 نبیل احمد محمد عرفان کراچی
- 907 محمد نعمان انصاری نعیم الدین کراچی
- 908 محمد مکی سعید احمد رحیم یار خان
- 909 محمد لقمان ریشم خان مانسہرہ
- 910 رانا رضوان عالم محمد عالم میر پور خاص
- 911 محمد امجد مشتاق احمد کراچی
- 912 زبیر احمد محمد ایوب خیر پور میرس
- 913 محمد عرفان محمد شریف شہداد کوٹ
- 914 غلام عمر حبیب اللہ خارج شد
- 915 عبدالماجد کلہوڑو محمد صابر حسین کلہوڑو شہداد کوٹ
- 916 شفیق الرحمن در محمد کلہوڑو شہداد کوٹ
- 917 محمد داؤد رب رکھیو شہداد کوٹ
- 918 عطاء اللہ وزیر احمد ڈول جیکب آباد
- 919 روشن الدین ہزار احمد مہر شکار پور
- 920 عبدالرشید قریشی حافظ محمد علی خیر پور میرس
- 921 عبدالصمد جان مونگی شکار پور
- 922 محمد یعقوب محمد ہارون جیکب آباد
- 923 عبدالمجید محمد اسلم ٹھیم قمبر شہداد کوٹ
- 924 محمد احمد حافظ خالد محمود قصور
- 925 عبدالسلام حنیف حنیف اللہ نیلم
- 926 عبداللہ عامر حسین کراچی
- 927 شفیع اللہ شریف اللہ کراچی
- 928 قاضی طیب اعجاز اعجاز احمد مظفر آباد
- 929 محمد نعمان اللہ دتہ چنیوٹ
- 930 محمد حیات پنہوں تھر پارکر
- 931 ریاض احمد اللہ بچایو بدین
- 932 عاصم علی حافظ غلام علی چنیوٹ
- 933 محمد نعمان نظام الدین میر پور خاص
- 934 محمد عدنان احمد عبدالغفار میر پور خاص
- 935 عطاء اللہ لاکھو محمد سلیمان لاکھو جام شورو
- 936 عبدالوقار عبدالستار سانگھڑ
- 937 محمد علی تاج محمد مٹیاری
- 938 محمد حذیفہ مولوی غلام اللہ نوشہرو فیروز
- 939 طلحہ عاشق عاشق علی سانگھڑ
- 940 محمد مصعب علی محمد سانگھڑ
- 941 غلام علی خیر محمد سانگھڑ
- 942 علی اصغر علی اکبر بدین
- 943 محمد ادریس محمد دراز قصور
- 944 سہیل عبدالجلیل باڑہ
- 945 علی حیدر مشتاق مشتاق احمد چنیوٹ
- 946 محمد مظہر محمد افضل خارج شد
- 947 محمد انیس اورنگزیب راولپنڈی
- 948 عطاء الرحمن احمد جان لکی مروت
- 949 ذکاء اللہ امیر شاہ لکی مروت
- 950 شمس الرحمن شمس شیر محمد شاکر کوئٹہ
- 951 محمد اسلم مجنون موسیٰ خیل
- 952 مرسلین خان مصری جان پشاور
- 953 عبدالماجد گلزار علی گوپانگ شہداد کوٹ
- 954 محمد سلیم غلام صدیق خشک شہداد کوٹ
- 955 عبدالرزاق گلزار علی خشک شہداد کوٹ
- 956 احمد اللہ فضل محمد قلعہ عبداللہ
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
957 حافظ عبدالحکیم مولوی گل محمد قلعہ عبداللہ 958 نثار احمد محمد عمر خان جیکب آباد 959 عطاء اللہ محمد فرید سوات 960 محمد عمر محمد حنیف کوئٹہ 961 خلیل احمد حاجی عبدالرحیم کوئٹہ 962 محمد معاویہ بختور سید شانگلہ 963 عبدالقیوم مولوی ضیاء الدین قلعہ عبداللہ 964 سید ندیم احمد شاہ سید ظاہر شاہ کوئٹہ 965 حیات حسین گل برخان سوات 966 شبیر اللہ ساجد سید شانگلہ 967 ذوالفقار احمد احسان اللہ جیکب آباد 968 فضل الرحمن حاجی جمعہ خان چاغی 969 ماجد قمر محمد رفیق مستونگ 970 محمد کامران مطلوب خان لکی مروت 971 علی احمد محمد رحیم نوشکی 972 زبیر احمد سلطان محمد نوشکی 973 محمد گلریز محمد خورشید سیالکوٹ 974 عبدالرحمن رفاقت علی سیالکوٹ 975 محمد ہاشم خیال خان کوہاٹ 976 محمد زاہد نور شاہ بند کوہاٹ 977 محمد عمران مومن خان لیہ 978 محمد احمد عارف عزیز کراچی 979 سعد اللہ خان حاجی محمد خیر کوئٹہ 980 اسامہ غیاث ذاکر غیاث غذر 981 محمد حذیفہ اعجاز الحق منڈی بہاؤ الدین 982 حکمت اللہ خان امان اللہ خان ڈیرہ اسماعیل خان 983 عبدالرحیم خان عبدالکریم خان ڈیرہ اسماعیل خان 984 محمد عمیر خان خضر حیات خان ڈیرہ اسماعیل خان 985 حفیظ الرحمن محمد شریف بہاول نگر 986 ابوبکر حسین ثناء اللہ راولپنڈی 987 عبدالحق مرے خان کرم ایجنسی 988 محمد شعیب محمد اسماعیل پشاور 989 محمد شاہزیب محمدی تاج برخان گوجرانوالہ 990 محمد صبیر تاج میر خان گوجرانوالہ 991 طلحہ محمد فاضل گوجرانوالہ 992 محمد نسیم حاجی امان اللہ قلعہ عبداللہ 993 بشیر احمد احمد خضدار 994 محمد صدیق محمد صادق بہاول پور 995 شریف اللہ سید بادشاہ لکی مروت 996 عبدگل سلام گل ٹانک 997 امیر معاویہ عطاء الرحمن لکی مروت 998 مطیع اللہ حاجی سید محمد قلعہ سیف اللہ 999 سراج احمد غوث بخش شکار پور 1000 عبدالباقی عبدالقیوم گھوٹکی 1001 محمد اظہر نور الدین کراچی 1002 حذیفہ فیصل محمد فیصل کراچی 1003 داؤد خان یوسف خان کراچی 1004 اطہر علی اصغر علی کراچی 1005 محمد مبشر رضوان احمد کراچی 1006 امیر حمزہ فضل الرحمن کراچی 1007 طلال نسیم نسیم فاروق کراچی 1008 عبدالرافع سلطان احمد کراچی 1009 محمد کاشف عبدالمجید کراچی 1010 محمد مسعود محمد شاہد کراچی 1011 محمد ہارون محمد اسلم کراچی 1012 اسامہ محمد علی کراچی
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
1013 عبدالغفار غلام محمد آوران 1014 عبدالناصر محمد کریم خضدار 1015 محمد عمر محمد انور کراچی 1016 محمد نظر محمد منور کراچی 1017 امجد علی محمد وکیل شانگلہ 1018 شاہ غفور الدین شاہ محی الدین غذر 1019 محمد عمر محمد زمان مظفرگڑھ 1020 وحید اللہ محمد انور کراچی 1021 محمد عباس نظیر احمد سوات 1022 ضیاء الدین یار محمد کراچی 1023 محمد حماد محمد نذیر پشاور 1024 عمیر خان فتح الرحمٰن سوات 1025 شہریار خان جاوید اقبال سوات 1026 سید امین شاہ انور شاہ مردان 1027 محمد روف خان گوجرانوالہ 1028 حیات اللہ حاجی عبداللہ کوئٹہ 1029 محمد بلال گل زمان مانسہرہ 1030 عزیز الرحمٰن عزیز شیر محمد شاکر کوئٹہ 1031 مجیب الرحمٰن نثار احمد کوئٹہ 1032 عبدالمنان ولیت نور کرک 1033 سعود محمد عمل محمد کرک 1034 محمد تنویر احمد بخش مظفرگڑھ 1035 محمد وسیم اختر نعیم اختر مظفرگڑھ 1036 شیر زمان گل خان بھکر 1037 محمد منور اقبال محمد بخش ڈیرہ غازیخان 1038 محمد ثاقب محمد حسین مظفرگڑھ 1039 محمد عمران ذوالفقار علی خانیوال 1040 عبدالرشید محمد صالحین مظفرگڑھ 1041 محمد نعیم قریشی خان زمان قریشی خارج شد 1042 شاہ علی جوہر علی بونیر 1043 عابد حسین شیر محمد بونیر 1044 فضل اللہ شاہ سیدان شاہ صوابی 1045 حمزہ طیب محمد طیب قصور 1046 عبدالرؤف عبدالباسط بہاول پور 1047 عبدالجبار مشتاق احمد بہاول نگر 1048 محمد مزمل غلام یاسین انور بہاول پور 1049 محمد آصف محمد یوسف بہاول پور 1050 فضل الرحمٰن فیض محمد خارج شد 1051 حسن معاویہ محمد سلمان سیالکوٹ 1052 اسجد شہزاد محمد خان خارج شد 1053 جمشید احمد محمد ہمایوں مظفرگڑھ 1054 علی المرتضیٰ عبدالقیوم ڈیرہ غازیخان 1055 عبدالستار عبدالغفور ڈیرہ غازیخان 1056 زاہد احمد حاجی عبدالمنان وہاڑی 1057 محمد شریف اللہ بخش رحیم یار خان 1058 عبدالقیوم تونسوی محمد عظیم ڈیرہ غازیخان 1059 محمد ثناء اللہ نذیر احمد ڈیرہ اسماعیل خان 1060 امیر معاویہ رحیم بخش لیہ 1061 میاں سید حسن مصطفیٰ سوات 1062 ابرار اللہ آفرین سوات 1063 محمد عرفان غلام فرید سرگودھا 1064 عبدالمتین خان گلاب خان سرگودھا 1065 محمد عاقب صدیقی اسلام دین سرگودھا 1066 محمد شفیق محمد اشرف سرگودھا 1067 محمد عبداللہ عبدالجبار خوشاب 1068 مجیب الرحمٰن محمد رفیق وہاڑی
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا ثناءاللہ وسایا
1069 حنیف اللہ مولوی محمد سعید لورالائی 1070 سمیع اللہ شاہد اللہ اپر دیر 1071 محمد احمد غلام رسول قصور 1072 محمد نوید انجم محمد اسحق قصور 1073 فاروق اعظم فرزند علی فیصل آباد 1074 محمد وسیم محمد اسلم بھکر 1075 شاہد مجید عبدالمجید پاکپتن 1076 محمد وقاص وزیر احمد ملتان 1077 محمد امیر حمزہ عبدالرزاق ملتان 1078 محمد بلال شفیع اللہ میانوالی 1079 محمد عمر ایوب محمد یوسف خان خانیوال 1080 رضوان اللہ عبدالغنی چترال 1081 امتیاز حسین محمد یاسین نوشہرو فیروز 1082 امیر معاویہ فیض محمد خارج شد 1083 محمد سفیان مولانا حبیب اللہ پشین 1084 محمد ابرار محمد نثار بنوں 1085 ساجد نعیم شبیر احمد گوجرانوالہ 1086 حمزہ بختیار احمد گجرات 1087 محمد ثاقب خان عصمت اللہ خان بنوں 1088 حمید اللہ محمد نور ژوب 1089 محمد مجاہد امیر حمزہ پشاور 1090 سید محمد اویس قاسم سید قاسم علی خارج شد 1091 شاہ رخ امتیاز محمد امتیاز سرگودھا 1092 محمد خرم عبدالستار سرگودھا 1093 شاہد الرحمٰن محمد چمن خارج شد 1094 بلال خان گل میر خان خیبر ایجنسی 1095 محمد مبشر شماں خارج شد 1096 محمد اعجاز حافظ رحم علی راجن پور 1097 اسد اللہ جان ناصر خان مردان 1098 محمد عبداللہ ہستم خان مانسہرہ 1099 محمد کاشف عبدالجبار بہاول نگر 1100 حامد اللہ امجد خان خیبر ایجنسی 1101 محمد محمود انور محمد انور ٹوبہ ٹیک سنگھ 1102 اصغر علی محمد ریاض ٹوبہ ٹیک سنگھ 1103 صلاح الدین اسم خان سوات 1104 شیر حریم شیر غازی چترال 1105 شفیق الرحمٰن احمد بخش مظفرگڑھ 1106 تنویر حیدر نذیر احمد مظفرگڑھ 1107 عمار عبدالناصر عباسی احمد علی عباسی ملتان 1108 نصیب الرحمٰن آمیل خان بنوں 1109 عبداللہ حقانی محمد ریاض خان بنوں 1110 محمد عمران سہیل غلام مصطفیٰ بہاول نگر 1111 محمد نعمان اکبر حافظ محمد اکبر ساہیوال 1112 عبدالعزیز خواج محمد ہری پور 1113 محمد نعیم نور شاہ رحیم یارخان 1114 محمد ذوالقرنین بشیر احمد وہاڑی 1115 محمد فاضل غلام قادر خارج شد 1116 عبدالرحمٰن رئیس اللہ خان بنوں 1117 ارشاد اللہ خانواز خان بنوں 1118 سیف الرحمٰن محمد یوسف سرگودھا 1119 حمزہ حمزہ سلیم کراچی 1120 رحمان اللہ شاہی یار سوات 1121 اسد الرحمٰن ابراہیم شاہ چترال 1122 عمار احمد رحیم خان چارسدہ 1123 واجد علی محمد امجد گجرات 1124 عبداللہ سردار خان پشاور
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ۶۲۷ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
1125 نیاز محمد حیات خان خیبر ایجنسی 1126 عظمت علی محمد اسماعیل خان پشاور 1127 اختر نواز زرنواز کرک 1128 طارق حسین غلام نبی پاکپتن 1129 محمد بلال ڈاکٹر مظہر جمیل رحیم یار خان 1130 سرفراز احمد اللہ بخش ٹنڈو محمد خان 1131 ذوہیب شریف محمد شریف کراچی 1132 محمد وائل محمد طارق کراچی 1133 محمد ارسلان انوار الحق کراچی 1134 محمد شاہ گلاب شاہ کراچی 1135 صابر خان اختر منیر خان کراچی 1136 غلام نبی عبدالصمد تھر پارکر 1137 محمد خالد زرنوش خان مہمند ایجنسی 1138 محمود محمد قاسم کراچی 1139 شاکر اللہ حمدرد غلام بادشاہ جنوبی وزیرستان 1140 عبداللہ ابوالبشر کراچی 1141 محمد ارشاد ابوشمع کراچی 1142 محمد زکریا ہنگل محمد افضل ہنگل سیالکوٹ 1143 محمد اسلم علی اکبر سجاول 1144 محمد اسماعیل محمد ہاشم کراچی 1145 فاروق الرحمٰن خیر الرحمٰن کراچی 1146 عبدالغنی منیر احمد کراچی 1147 محمد عمر محمد صالح خضدار 1148 زبیر احمد سید حاجی امان اللہ کراچی 1149 محسن اجمیر گل کراچی 1150 عبدالرحمٰن محمد زکی سجاول 1151 شفیع اللہ شاکر اللہ خارج شد 1152 محمد حنظلہ محمد ابراہیم کراچی
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۹ء ص ۴۱ تا ۵۶)
تحفظ ختم نبوت کورس گوجرانوالہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ کے زیر اہتمام چھ روزہ ختم نبوت کورس بتاریخ ۲۳؍اپریل تا ۲۸؍اپریل ۲۰۱۹ء بوقت مغرب تا عشاء جامع مسجد فیروزی نعمانیہ روڈ گوجرانوالہ میں منعقد ہوا۔ جس میں مولانا اللہ وسایا ملتان، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا عزیر الرحمٰن ثانی لاہور، مولانا زاہد الراشدی، محترم جناب شمس الدین نومسلم لاہور، مولانا محمد قاسم رحمانی بہاولنگر، مولانا محمد طیب اسلام آباد نے لیکچر دیے۔ اختتام کورس پر تحریری امتحان ہوا۔ پوزیشن ہولڈر طلباء کو انعامات اور امتحان میں کامیابی پر تمام طلباء کو سند اعزاز بھی دی گئیں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ کے ضلعی مبلغ مولانا محمد عارف شامی نے اس کورس کے لئے بھرپور کوشش کی۔ (ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۹ء ص ۳۹)
ختم نبوت کانفرنس کوٹ رادھاکیشن ضلع قصور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۲۷؍اپریل ۲۰۱۹ء کو بعد نماز مغرب کوٹ رادھاکیشن ضلع قصور میں کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی سرپرستی مولانا عبدالحق امیر مجلس کوٹ رادھاکیشن نے جب کہ صدارت مولانا عبدالغنی نے کی۔ تلاوت کلام پاک مولانا قاری محمود احمد جامعہ مدنیہ جدید لاہور اور ہدیہ نعت مولانا نفیس احمد نفیس و مولانا غلام اللہ میواتی نے پیش کیا۔ مولانا اسامہ نصیر نے نقابت کے فرائض انجام دئیے۔ کانفرنس سے مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا محمد رضوان عزیز اور مولانا عبدالرزاق مجاہد نے بیانات کئے۔ کانفرنس کے انتظامات میں امتیاز برادران نے بھرپور تعاون کیا۔ کانفرنس کا اختتام مولانا عبدالغنی کی دعاء سے ہوا۔ (ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۹ء ص ۳۸)
تحریک ختم نبوت جلد (١٠) ۲۰۱۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دو روزہ ختم نبوت کورس قصور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام دو روزہ ختم نبوت کورس ۲۸، ۲۹ / اپریل ۲۰۱۹ء کو جامع مسجد سیدنا علی المرتضیٰ قصور میں منعقد ہوا۔ کورس کی سرپرستی قاری سیف اللہ رحیمی نے کی۔ پہلے دن حافظ افتخار احمد فخر نے تلاوت کلام پاک اور ہدیہ نعت پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔ بعد ازاں مولانا عبد الرزاق مجاہد اور مولانا عبد الشکور حقانی لاہور کے لیکچرز ہوئے۔ دوسرے دن حافظ محمد وسیم نے تلاوت اور جناب احسان بلال نے نعت رسول ﷺ پیش کی۔ مولانا عبد النعیم لاہور اور مولانا عبد العزیز لاہور کے لیکچرز ہوئے۔ عقیدہ ختم نبوت، حیات سیدنا مسیح علیہ السلام، ظہور امام مہدی علیہ الرضوان اور کذبات مرزا جیسے اہم موضوعات پر تمام لیکچر دیئے گئے۔ پروجیکٹر کے ذریعہ قادیانی کتابوں کے حوالہ جات کا مشاہدہ بھی کرایا گیا۔ میاں معصوم انصاری و حاجی شبیر احمد مغل نے اس کورس کے لئے تعاون کیا۔ قاری مشتاق احمد نے اختتامی پروگرام میں صدارت فرمائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۲۰۱۹ء ص ۳۹)
دارالعلوم دیوبند میں چھ روزہ تحفظ ختم نبوت تربیتی کیمپ
(مولوی رفیق الاسلام) گذشتہ بارہ سالوں سے دارالعلوم دیوبند میں تحفظ ختم نبوت تربیتی کیمپ، کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند کی زیر نگرانی منعقد ہورہا ہے۔ آغاز میں یہ کیمپ صرف تین دن کا تھا پھر رفتہ رفتہ پانچ دن اور اب چھ دن پر مشتمل یہ تربیتی نظام چل رہا ہے۔ جس میں فضلائے مدارس اسلامیہ کو اسلامی عقائد کے خلاف اٹھنے والے فتنوں بطور خاص قادیانیت اور شکیلیت کے سدباب کے لئے رجال کار کی تیاری پر زور دیا جاتا ہے۔ اکابر دارالعلوم کے حسب ہدایت اس کیمپ کے مربی خصوصی مولانا شاہ عالم گورکھپوری ہوتے ہیں۔ امسال بھی یہ تربیتی کیمپ ۱۹ تا ۲۴ شعبان ۱۴۴۰ھ مطابق ۲۵ تا ۳۰ / اپریل ۲۰۱۹ء بمقام دارالحدیث (فوقانی) منعقد ہوا۔ کیمپ کی پہلی نشست کی صدارت کرتے ہوئے مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی زیدمجدہم مہتمم دارالعلوم دیوبند نے اس کا افتتاح فرمایا۔ اس کے بعد شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند مولانا مفتی سعید احمد پالن پوری مدظلہ نے خصوصی طور پر عقائد کے تحفظ کے لئے علم کلام کی ضرورت واہمیت کے موضوع پر خطاب کیا۔
کیمپ کی روزانہ تین نشستیں (صبح ۸ تا ۱۲ بجے، بعد نماز ظہر تا عصر اور بعد نماز مغرب تا عشاء) منعقد ہوتی رہیں اس طرح چھ دنوں میں کل ۱۵ نشستیں ہوئیں۔ دوران بیان پیش کئے گئے حوالوں کی مراجعت اور مطالعہ و مشاہدہ کا نظم بھی مرکز التراث الاسلامی دیوبند کی جانب سے الیکٹرانک پروجیکٹر کے ذریعہ کیا گیا تھا تاکہ حوالوں کو اپنی یادداشت میں محفوظ کرنے اور مشاہدہ کرنے میں شرکاء کیمپ کو آسانی ہو۔
اس خصوصی اور یادگار تربیتی کیمپ میں دارالعلوم دیوبند، دارالعلوم وقف دیوبند، دارالعلوم شیخ زکریا دیوبند، مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور و دیگر مدارس عربیہ کے فضلاء سمیت کل ۱۸ صوبوں سے پچھتر (۷۵) اضلاع کے ساڑھے چار سو علمائے کرام و فضلاء مدارس عربیہ نے شرکت کی۔ کل ہند مجلس کی جانب سے آویزاں اعلان کے مطابق متعینہ عنوانات پر ایک ایک نشست میں مولانا قاری سید محمد عثمان ناظم کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند، جناب مولانا اشتیاق احمد مہراج گنجی مبلغ کل ہند مجلس، جناب حافظ اقبال احمد ملی ناظم احیاء السنۃ اسلامک سینٹر مالیگاؤں، جناب مولانا محمد راشد استاذ جامعہ مظاہر علوم سہارنپور کے اور بقیہ تمام نشستوں میں مولانا شاہ عالم گورکھپوری کے تربیتی اسباق اور پرمغز بیانات ہوئے۔ گاہے گاہے کیمپ کی مختلف نشستوں میں جناب مفتی اکمل یزدانی بھوپال، مفتی محمد حسن قاسمی اورنگ آباد، ڈاکٹر عزیر عالم ممبئی اور مولانا بادشاہ قاسمی کیرالہ کے بھی بصیرت افروز خطابات ہوئے۔ ایک نشست میں مفتی محمد اکمل یزدانی کی کتاب
تحریک ختم نبوت جلد (١٠) ٢٠١٩ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
”شکیلی غلط فہمیوں کا ازالہ“ (جو مولانا شاہ عالم گورکھپوری کی نگرانی میں ترتیب دی گئی) کا رسم اجراء بدست مولانا مفتی ابوالقاسم و جناب قاری محمد عثمان عمل میں آیا۔
مولانا شاہ عالم نے تربیتی کیمپ کے اصول وضوابط اور فوائد بیان کرتے ہوئے ہندوستان میں کل ہند مجلس کی زیر نگرانی منعقد ہونے والے تربیتی کیمپوں کی ایک مفصل و مربوط تاریخ سے حاضرین و سامعین کو روشناس کرایا۔ آپ نے بتایا کہ ہندوستان کے بیشتر اضلاع میں شعبہ تحفظ ختم نبوت کے فضلاء کے ساتھ ساتھ تربیتی کیمپ سے استفادہ کرنے والوں میں ایک بڑی تعداد ہے جو اپنے اپنے علاقوں میں فرقہائے باطلہ کے خلاف محاذ سنبھال کر ملت وامت کی عقائد کے باب میں رہنمائی کا فریضہ انجام دے رہی ہے۔ تفصیلات اگر کسی کو درکار ہوں تو وہ کل ہند مجلس کی جانب سے شائع ہونے والی روئدادوں اور مساعی جمیلہ کو دیکھ سکتا ہے۔ مولانا نے حالیہ مطبوعہ مساعی جمیلہ ٢٠٠٣ء تا ٢٠١٩ء کے حوالے سے بتایا کہ صرف اس دوران پورے ملک میں رد قادیانیت و رد شکیلیت کے موضوع پر قابل ذکر ٣٨ تربیتی کیمپ اور تقریباً ٩٠ سے زائد اجلاس ہائے عام منعقد کئے جا چکے ہیں اور ان کیمپوں کو منعقد کرنے والوں میں بیشتر افراد وہی ہیں جن کو تربیتی کیمپ سے کام کرنے کا سنجیدہ اور ٹھوس راستہ ملا ہے۔
اخیر کی ایک نشست میں ”علمی اور عملی میدان میں فتنہ قادیانیت کا تعاقب کس طرح کیا جائے اور اس میں پیش آنے والی دشواریوں کا ازالہ کس طرح ہو“ کے عنوان پر بیان کرتے ہوئے علمی اور عملی میدانوں میں کام کرنے کے طور وطریق اور اصول بیان کئے۔
سولہویں اور اختتامی نشست : ٢٤/شعبان المعظم مطابق ٣٠/اپریل بروز منگل صبح ١١ بجے منعقد ہوئی۔ شرکاء کیمپ میں سے منتخب علماء نے اپنے تأثرات پیش کئے۔ بعدہ مولانا شاہ عالم گورکھپوری نے مفصل خطاب کیا۔ بعد ازاں مولانا ابوالقاسم نعمانی مہتمم دارالعلوم دیوبند اور قاری سید محمد عثمان منصور پوری نے خطاب کیا اور شرکائے کیمپ کو پند ونصائح سے نوازا۔ اخیر میں مہتمم صاحب کے بدست تمام شرکاء کو بصورت کتب قیمتی انعامات اور سند شرکت سے نوازا گیا۔ اس آخری نشست میں جناب حافظ اقبال احمد مکی مالیگاؤں ، جناب مولانا محمد راشد سہارنپور، جناب مولانا اشتیاق احمد دیوبند، جناب مولانا شاہد انور قاسمی دیوبند ، ماسٹر محمد احمد گورکھپوری دیوبند، ڈاکٹر عزیر عالم ممبئی، مولانا بادشاہ قاسمی کیرالہ، مولانا محمد مظہر گجرات ، مفتی محمد انوار مدرسہ جامعۃ القاسم نوح میوات، مولانا محمد شکیل و مفتی محمد ساجد سوہانہ ہریانہ، مولوی شہباز اختر سیوان، مولوی حسن احمد کشن گنج، مولوی عاشق الہی تملناڈ ، مولوی محمد صابر تلنگانہ وغیرہ متعلقین شعبہ تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند شریک رہے، قاری سید محمد عثمان منصور پوری مدظلہ کی دعاء پر پروگرام کا اختتام ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جون ٢٠١٩ء ص ٣٤، ٣٥)
تین روزہ تحفظ ختم نبوت کورس برائے خواتین کراچی
مدرسہ خیر المنازل للبنات (بالمقابل جامع مسجد عائشہ باوانی شاہراہ فیصل بزرتہ لائن کراچی نمبر٤) میں مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ صاحب مدظلہ (امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی و مہتمم مدرسہ ہذا) کی زیر سرپرستی مدرسہ کی طالبات و محلہ کی خواتین کے لئے تین روزہ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ ٢/مئی ٢٠١٩ء بروز جمعرات مولانا محمد اسحاق مصطفیٰ (مسئول عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع ملیر) نے ”عقیدہ ختم نبوت قرآن وحدیث کی روشنی میں“ کے عنوان پر صبح ١١ سے ١٢ بجے تک درس دیا۔ ٣/مئی بروز ہفتہ مولانا عبدالحی مطمئن نے ”حیات عیسیٰ علیہ السلام وظہور امام مہدی علیہ الرضوان“ کے موضوع پر ایک گھنٹہ سبق پڑھایا۔ ٥/مئی بروز اتوار مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ صاحب مدظلہ نے آخری اور خصوصی خطاب میں خواتین کو تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر چادر اور چار دیواری کے ماحول میں آگے بڑھنے اور حصہ لینے کی ترغیب دی۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ٢٣ تا ٣١/مارچ ٢٠١٩ء ص ٢٧)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تحفظ ختم نبوت کوئز کورس ملتان
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامع مسجد الفلاح حسن آباد گیٹ نمبر ۲ نزد کمہاراں والا چوک ملتان میں دو روزہ تحفظ ختم نبوت کوئز کورس ۳۰، ۳۱؍ مئی ۲۰۱۹ء مطابق ۲۵، ۲۶؍ رمضان المبارک ۱۴۴۰ھ بروز جمعرات و جمعہ بعد نماز عصر جناب حافظ فیض احمد کی زیر سرپرستی منعقد ہوا۔ شرکاء کورس میں اکثر تعداد سکول و کالج کے طلباء کی تھی۔ اس کے علاوہ کاروباری و ملازمین حضرات دل چسپی سے کورس میں شریک ہوئے۔ کورس میں ”تحفظ ختم نبوت، حیات ونزول مسیح علیہ السلام، ظہور امام مہدی علیہ الرضوان اور رد قادیانیت“ یہ چار عنوانات سوالاً و جواباً پڑھائے۔ کورس کے دونوں روز عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا محمد وسیم اسلم نے اسباق پڑھائے گئے۔ کورس کے دوسرے روز اختتام پر ایک انعامی تقریب بھی منعقد کی گئی جس میں سوالوں کے صحیح جوابات دینے والوں میں سینکڑوں روپے کے انعامات تقسیم کئے گئے۔ علاوہ ازیں تمام شرکاء کورس میں جماعت کی طرف سے لٹریچر کے پیکٹ بھی تقسیم کئے۔ کورس کی کامیابی میں جامع مسجد الفلاح کے خطیب مولانا حبیب الرحمن نقشبندی نے بھر پور کردار ادا کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۹ء ص ۵۶)
مبلغین حضرات کا سہ ماہی اجلاس ملتان
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغین حضرات کا سہ ماہی اجلاس ۱۳، ۱۴ جون ۲۰۱۹ء کو مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ کی زیر صدارت مرکزی دفتر ملتان میں منعقد ہوا۔
اجلاس میں مندرجہ ذیل مرحومین کے ایصال ثواب کے لئے قرآن خوانی اور دعائے مغفرت کی گئی۔ مرحومین: حاجی غلام قاسم ڈیرہ غازی خان، حاجی محمد افضل اوکاڑہ، نجیب الرحمن چونیاں، مولانا عبدالحکیم الہ آباد قصور، قاری مزمل احمد نقشبندی، والد قاری بشیر احمد قصور، حاجی غلام سرور، محمد نواز شجاع آباد، حکیم فتح محمد میانوالی، حاجی بشیر احمد کراچی، مولانا مفتی عبدالرشید فتح پور، والد مفتی شہزاد احسان پور، والد مولانا محمد ادریس کوٹ ادو، مولانا حبیب اللہ کھوسو نواب شاہ، والد محمد آصف میر پور خاص، ملک غلام فرید موہانہ شجاع آباد۔ اجلاس میں آئندہ سہ ماہی کے لئے چار درجن سے زائد شہروں میں ختم نبوت کورسز منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ علاوہ ازیں منڈی بہاؤالدین، ملکوال، فیصل آباد، چک جھمرہ، ستیانہ، تاندلیاں والا، حیدرآباد، ٹنڈوالہ یار، نواب شاہ، گوجرانوالہ، کولو تارڑ، گکھڑ، راولپنڈی، نصیر آباد، عمر کوٹ، سناواں، نواں کوٹ، جی الیون اسلام آباد، سلاں والی، جام پور، راجن پور، موسیٰ خیل، منڈی فیض آباد، اوکاڑہ، حویلی لکھا، اسلام پورہ، ظفروال، چونڈہ، کوٹلی، بھمبر، پلندری میں کانفرنسیں بھی منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ نیز ۲۱؍ ستمبر کو سالانہ ختم نبوت کانفرنس لاہور اور ۲۴، ۲۵؍ اکتوبر ۲۰۱۹ء بروز جمعرات و جمعہ سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کی تاریخ بھی متعین کی گئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۲۰۱۹ء ص ۵۴)
تحفظ ختم نبوت کنونشن لاہور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مرکز ختم نبوت جامع مسجد عائشہ مسلم ٹاؤن لاہور میں ۲۹؍ جون ۲۰۱۹ء کو تحفظ ختم نبوت علماء کنونشن منعقد ہوا۔ کنونشن کی صدارت امیر مجلس ضلع لاہور شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد حسن نے فرمائی۔ کنونشن کا مقصد ۲۱؍ ستمبر ۲۰۱۹ء کو وحدت روڈ کرکٹ گراؤنڈ لاہور میں منعقد ہونے والی تاریخ ساز ختم نبوت کانفرنس کے سلسلہ میں تیاری کی مہم کا آغاز کرنا تھا۔ کنونشن میں مولانا اللہ وسایا، جمعیت علماء اسلام کے شیخ الحدیث مولانا محب النبی، مولانا محمد امجد خان، جامعہ مدنیہ رائے ونڈ کے مہتمم مولانا سید محمود میاں، جامعہ اشرفیہ لاہور کے مولانا محمد یوسف خان، مولانا مفتی شیر محمد علوی، خطیب بادشاہی مسجد مولانا سید عبد الخبیر آزاد، وفاق المدارس کے مولانا مفتی
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عزیز الرحمٰن، شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمٰن، مولانا مفتی شاہد عبید، مولانا عزیز الرحمٰن ثانی، مولانا اسد اللہ فاروق، مولانا عبدالنعیم، ڈاکٹر عبدالواحد قریشی، میاں رضوان نفیس، قاری ظہور الحق، مولانا حافظ محمد اشرف گجر، مولا عبدالشکور حقانی، مولانا خالد محمود، مولانا قاری عبدالعزیز، مولانا قاضی عبدالودود، مولانا زبیر جمیل، حکیم راشد عمران، حکیم حافظ محمد ندیم، مولانا عمر اعوان سمیت دیگر کثیر تعداد میں علماء نے شرکت کی۔ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت دین کا اساسی اور بنیادی عقیدہ ہے۔ عقیدہ ختم نبوت اور ناموس رسالت کی حفاظت کے لئے امت مسلمہ نے ہمیشہ اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کیا ہے۔ ۲۱ ستمبر کو وحدت روڈ کرکٹ گراؤنڈ لاہور میں تاریخ ساز ختم نبوت کانفرنس ہوگی جس کی تیاری ابھی سے شروع کرنی ہوگی۔ ختم نبوت کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لئے ہر جماعت اپنا بنیادی کردار ادا کرے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اگست ۲۰۱۹ء ص ۵۶)
ختم نبوت کورس پاکپتن
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام مدنی مسجد فرید نگر میں ۳۰؍ جون اور یکم جولائی ۲۰۱۹ء کو دو روزہ ختم نبوت کورس منعقد ہوا۔ مولانا محمد قاسم رحمانی، مولانا عبدالحکیم نعمانی اور مولانا محمد یوسف محمودی کے لیکچرز ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۱۹ء ص ۵۱)
شعور ختم نبوت کورس سنانواں
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام سنانواں تحصیل کوٹ ادو میں دو روزہ کورس یکم و ۲؍ جولائی ۲۰۱۹ء بروز سوموار و منگل بعد نماز مغرب تا عشاء جامع مسجد المجاہد میں منعقد ہوا۔ کورس میں لیہ اور کوٹ ادو کے مبلغ مولانا محمد ساجد نے عقیدہ ختم نبوت، حیات سیدنا عیسیٰ علیہ السلام، ظہور امام مہدی علیہ الرضوان وخروج دجال جیسے اہم موضوعات پر گفتگو کی۔ کورس میں سنانواں کے علماء کرام مولانا ارشاد گورمانی، مولانا ابوبکر معاویہ، مولانا عبدالحمید حقانی، مولانا عبدالعزیز، مولانا ابوبکر، مولانا عبدالباسط اور مفتی آصف عزیز سمیت تاجر حضرات نے شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۱۹ء ص ۵۲)
ختم نبوت کورس ساہیوال
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام جامعہ رشیدیہ ساہیوال میں ۲، ۳؍ جولائی ۲۰۱۹ء کو دو روزہ سالانہ تحفظ ختم نبوت کورس منعقد کیا گیا۔ کورس کی صدارت مولانا کلیم اللہ رشیدی نے فرمائی۔ کورس میں رد قادیانیت کی بابت تمام موضوعات پر اور فتنہ قادیانیت کی تازہ ترین صورتحال پر جاندار بیانات ہوئے۔ مولانا محمد قاسم رحمانی، مولانا عبدالحکیم نعمانی اور دیگر علماء کرام کے وجد آفریں بیانات ہوئے۔ کورس کے آخر میں سوال و جواب کی بھی نشست ہوئی۔ تمام پروگراموں میں قاری عبدالجبار، مولانا محمد عمران اشرفی اور قاری نصیر احمد کی معیت و تعاون ساتھ ساتھ رہا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۱۹ء ص ۵۱)
ختم نبوت کورس ہڑپہ شہر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامع مسجد مولانا ولی محمد والی میں ۴؍ جولائی ۲۰۱۹ء کو ختم نبوت کورس منعقد ہوا۔ صدارت قاری محمد معاویہ نے کی۔ کورس میں مولانا محمد قاسم رحمانی اور مولانا عبدالحکیم نعمانی کے ایمان پرور بیانات ہوئے۔ جناب محمد رمضان بگھیلا کی کاوشوں سے ہڑپہ شہر کے مضافاتی علاقوں سے کثیر تعداد میں مسلمانوں نے شرکت کی۔ بعد ازاں ۵؍ جولائی ۲۰۱۹ء کو مولانا محمد قاسم رحمانی چک نمبر ایک میں قاری محمد سعید کے ختم نبوت اور ہماری ذمہ داری کے عنوان پر خطبہ جمعۃ المبارک ارشاد فرمایا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۱۹ء ص ۵۲)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کورس جنڈانوالہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام دوروزہ کورس ۵ ، ۶؍ جولائی ۲۰۱۹ء بروز جمعہ ، ہفتہ جامع مسجد سنہری جنڈانوالہ ضلع بھکر میں منعقد ہوا۔ کورس میں مولانا محمد الیاس گھمن، مولانا نور محمد ہزاروی، مولانا محمد عثمان، مولانا محمد شفقت علی اور مولانا محمد ساجد کے اسباق ہوئے۔ عقیدہ ختم نبوت، حیات عیسیٰ علیہ السلام اور قادیانی اور دوسرے کافروں کے درمیان فرق ایسے عنوانات پر اسباق پڑھائے گئے۔ کورس میں علماء کرام، طلباء عظام، سکول ٹیچرز اور تاجر حضرات سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے شرکت کی۔ کورس کی کامیابی کے لئے مولانا مفتی محمد ادریس اور ان کے رفقاء کرام نے بھر پور محنت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۱۹ء ص ۵۲)
ختم نبوت کورس گوجرانوالہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ کے زیراہتمام سہ روزہ ختم نبوت کورس ۵، ۶ ، ۷؍ جولائی ۲۰۱۹ء کو جامع مسجد جڑ محلہ بازار دیگاں والا گوجرانوالہ میں منعقد کیا گیا۔ کورس کا دورانیہ نماز مغرب تا عشاء کیا گیا۔ کورس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور مولانا عزیز الرحمٰن ثانی لاہور، مولانا مفتی رشید احمد علوی، مولانا محمد عارف شامی اور قاری احتشام الحق علوی نے اسباق پڑھائے۔ کورس میں تاجر برادری اور عوام الناس نے بھر پور شرکت کی۔ اختتام کورس پر تمام افراد کو ختم نبوت کا لٹریچر اور دعوت دی گئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۹ء ص ۴۹)
صراطِ مستقیم وتحفظ ختم نبوت کورس جوہرآباد
جامعہ محمودیہ بلاک نمبر ۱ جوہرآباد اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت خوشاب کے زیراہتمام ۱۵؍ روزہ کورس ۵؍ جولائی تا ۱۸؍ جولائی کو منعقد ہوا۔ کورس میں مختلف علماء کرام نے مختلف موضوعات پر اسباق پڑھائے۔ اس دوران مولانا نور محمد ہزاروی، مولانا محمد نعیم مبلغ خوشاب اور مولانا عبدالحکیم نے عقیدہ ختم نبوت، عقیدہ حیات و نزول مسیح اور رد قادیانیت پر مفصل اسباق پڑھائے۔ کورس کے اختتام پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے تمام طلباء میں جماعت کا لٹریچر اور انعامات تقسیم کئے گئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۱۹ء ص ۵۲)
ختم نبوت کورس گوجرانوالہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام سالانہ بارہواں چالیس روزہ ختم نبوت کورس کا آغاز ۸؍ جولائی ۲۰۱۹ء تا ۱۴؍ اگست جامع مسجد ختم نبوت ہاشمی کالونی کنگنی والہ گوجرانوالہ میں کیا گیا۔ جس میں شیخ الحدیث مولانا زاہد الراشدی نے اہمیت اور حساسیت ختم نبوت کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ ختم نبوت اتنا اہم ہے کہ خود جناب نبی کریم ﷺ نے دوسو سے زائد مرتبہ اعلان فرمایا کہ :’’میں خاتم النبیین ہوں‘‘ اس لئے مفکر اسلام علامہ اقبال نے سب سے پہلے گورنمنٹ برطانیہ سے مطالبہ کیا کہ منکرین ختم نبوت قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ ۱۴؍ اگست کو چالیس روزہ کورس کی اختتامی تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور جمعیت علماء اسلام ضلع گوجرانوالہ کے رہنماؤں نے خطابات کئے۔ تقریب میں پوزیشن ہولڈر طلباء میں انعامات بھی تقسیم کئے گئے۔ واضح رہے کہ ہر گرمیوں میں مدرسہ ختم نبوت کنگنی والا میں سمر کیمپ لگتا ہے۔ جس میں اسکولوں کے طلباء کو ختم نبوت کورس کروایا جاتا ہے۔ ختم نبوت کورس کے تمام تر انتظامات مبلغ ختم نبوت گوجرانوالہ مولانا محمد عارف شامی، قاری محمد یوسف عثمانی ناظم اعلیٰ گوجرانوالہ، مفتی غلام نبی نائب امیر ختم نبوت گوجرانوالہ، سید احمد حسن زید احسن طریقے سے نبھارہے ہیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۹ء ص ۴۹)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کورس میانہ سرگودھا
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام سہ روزہ ختم نبوت کورس ۹، ۱۰، ۱۱؍ جولائی ۲۰۱۹ء کو مدنی مسجد لاری اڈا میانی میں منعقد ہوا۔ کورس میں مولانا محمد رفیق، مولانا محمد قاسم مبلغ عالمی مجلس منڈی بہاؤ الدین نے تحفظ ختم نبوت کی اہمیت و ضرورت اور ہماری ذمہ داریاں، حیات و نزول مسیح علیہ السلام، رد قادیانیت و رد عیسائیت ایسے موضوعات پر اسباق پڑھائے۔ تیسرے اور آخری روز خانقاہ سراجیہ کے سجادہ نشین صاحبزادہ خواجہ خلیل احمد نے بھی شرکاء کو وعظ فرمایا۔ قاری عبدالرحمن ضیاء بھی ہمراہ تشریف لائے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۱۹ء ص ۵۳)
ختم نبوت کورس کوٹ رادھا کشن
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۹، ۱۰؍ جولائی ۲۰۱۹ء بروز منگل، بدھ کو مدرسہ فضیلت للبنات کوٹ رادھا کشن ضلع قصور میں دو روزہ ختم نبوت کورس منعقد ہوا۔ کورس کا دورانیہ ظہر تا عصر مقرر کیا گیا۔ کورس کی صدارت مدرسہ ہذا کے مہتمم مولانا عبدالحق نے کی۔ کورس میں مولانا عبدالرزاق مجاہد، مولانا عبدالحکیم نعمانی ساہیوال اور مولانا عزیز الرحمن ثانی لاہور نے عقیدہ ختم نبوت، حیات و نزول سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور کذبات مرزا سمیت مختلف موضوعات پر اسباق پڑھائے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۱۹ء ص ۵۳)
ختم نبوت کورس رینالہ خورد اوکاڑہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۹، ۱۰؍ جولائی ۲۰۱۹ء بروز منگل و بدھ کو بعد نماز مغرب تا عشاء جامعہ محمودیہ رینالہ خورد میں ختم نبوت کورس کا اہتمام کیا گیا۔ کورس کی صدارت قاری محمد رمضان نے جب کہ سرپرستی مولانا سید اکرام اللہ شاہ نے فرمائی۔ کورس میں مولانا عزیز الرحمن ثانی لاہور، مولانا عبدالرزاق مجاہد اور مولانا عبدالحکیم نعمانی ساہیوال کے لیکچرز ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۱۹ء ص ۵۳)
تحفظ ختم نبوت کورس بدین
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مدرسہ بدرالعلوم و مسجد امام اعظم بدین سٹی میں ۱۰، ۱۱؍ جولائی ۲۰۱۹ء کو دو روزہ شعور ختم نبوت فہم دین کورس منعقد ہوا، جس کا دورانیہ ظہر تا عصر رہا۔ کورس کی سرپرستی جامعہ ہذا کے مہتمم مولانا محمد اسماعیل صاحب نے اور نگرانی محمد حنیف سیال مبلغ ختم نبوت بدین نے کی۔ پہلے دن شرکاء کورس کو راقم اور مولانا عبدالحی مطمئن صاحب مبلغ ختم نبوت کراچی نے عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت پر لیکچر دیا۔ دوسرے دن حیات عیسیٰ علیہ السلام، ظہور امام مہدی علیہ الرضوان اور رد قادیانیت پر لیکچر دیئے۔ کورس میں شہر کے معززین، طلباء و دیگر حضرات نے شرکت کی۔ کورس کے کامیاب انعقاد میں جامعہ بدرالعلوم کے اساتذہ کا بھر پور تعاون شامل حال رہا۔ جامعہ ہذا و بدرالعلوم کی بنیاد مولانا عبدالستار چاوڑو نے رکھی، موصوف فقیر منش انسان تھے۔
شعور ختم نبوت و فہم دین کورس مدینہ مسجد بدین
سچ ٹرسٹ کے زیر اہتمام تربیت معلمین کورس منعقد کیا گیا، جس میں ۱۰ تا ۱۳؍ جولائی کو تین روزہ تحفظ ختم نبوت کورس منعقد ہوا، جس کا دورانیہ بعد عشاء رہا۔ کورس کی سرپرستی مولانا عبدالغفار جمالی صاحب نے فرمائی۔ پہلے دن شرکاء کورس کو مولانا عبدالحی مطمئن نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت پر لیکچر دیا۔ دوسرے اور تیسرے دن مولانا محمد حنیف سیال نے حیات حضرت عیسیٰ علیہ السلام، ظہور امام مہدی علیہ الرضوان اور رد قادیانیت پر لیکچر دیئے۔ آخر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا لٹریچر تقسیم کیا گیا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۳ تا ۳۱ اگست ۲۰۱۹ء ص ۱۷، ۱۸)
تحریک ختم نبوت جلد (١٠) ۲۰۱۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کراچی حلقہ ملیر کی جماعتی سرگرمیاں
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حلقہ ضلع ملیر کراچی کا اجلاس ۱۱/ جولائی بروز جمعرات جامع مسجد اقصی شاہ لطیف ٹاؤن میں مولانا قاضی احسان احمد کی زیر صدارت منعقد کیا گیا ، جس میں بن قاسم ٹاؤن ، ملیر ٹاؤن ، لانڈھی ٹاؤن کے رفقاء کرام نے شرکت کی ۔
اس موقع پر چھ نکاتی ایجنڈا پیش کیا گیا : (۱) تمام اضلاع میں تحفظ ختم نبوت سیمینار کا انعقاد ، (۲) عمومی رکنیت سازی ، (۳) تین روزہ کورسز کا اہتمام ہر ٹاؤن کی سطح پر ، (۴) ماہ ستمبر میں شعور ختم نبوت مہم ، (۵) ۷/ ستمبر کے حوالہ سے ہفت روزہ ختم نبوت کی خصوصی اشاعت کی ترغیب ، (۶) ضلعی سطح پر کانفرنس کا انعقاد ۔
الحمد للہ ! اس ایجنڈے کو سامنے رکھتے ہوئے عمومی رکنیت سازی کا بھی اہتمام کیا گیا ۔ بن قاسم ٹاؤن میں ساتھیوں کی مشاورت سے شاہ ٹاؤن واحد غنی مسجد میں تین روزہ تحفظ ختم نبوت کورس کا اہتمام کیا گیا ، جس کی تیاری کے لئے مختلف مساجد کے ائمہ کرام کا اجلاس واحد غنی مسجد میں منعقد ہوا ، جس میں علاقہ بھر کے علماء کرام مولانا عزیز اللہ ، قاری برہان ، مولانا افضل شاہ ، مولانا سلیم ، مولانا ادریس اور مفتی عمران نے شرکت کی اور کورس کی بھر پور کامیابی کے لئے اہم مشوروں سے نوازا ۔
کورس کے حوالے سے مختلف مساجد میں بیانات اور اعلانات کئے گئے ۔ راقم الحروف نے پہلا بیان بیت المکرم مسجد میں بعد عصر ، دوسرا بیان بعد مغرب مریم مسجد اور تیسرا بیان بعد نماز عشاء نور الاسلام مسجد کیا ۔ اسی طرح بعد عصر مدینہ مسجد میں اور عمر بن حصین مسجد میں راقم کے ترغیبی بیانات ہوئے ۔ علاقہ کے اسکولز میں بھی کورسز کے حوالے سے تحفظ ختم نبوت پر بات کرنے کا مشورہ ہوا تو گلشن حدید اور شاہ لطیف ٹاؤن کے علاقے میں مولانا عدنان شیخ ، مولانا عبدالباسط جتوئی اور بھائی عباد کی معیت میں بیانات کا موقع ملا ۔
۲۲/ جولائی برائٹ اسکالر کوچنگ سینٹر میں فاروق گل کے ہاں راقم نے گیارہویں کلاس کے طلباء میں ۴۰ منٹ تک عقیدہ ختم نبوت پر لیکچر دیا ۔ اسی کوچنگ سینٹر میں بارہویں کلاس کے طلباء کو اساتذہ کرام کی موجودگی میں ۴۵ منٹ لیکچر دیا ۔ الخیر اقرا اسلامک اسکول میں کلاس ۵ سے لے کر میٹرک تک کے طلباء میں بیان ہوا ۔
۲۳/ جولائی کو مولانا عبدالباسط نے ری کمپلیکس کالج میں سر عمیر شاہد کی معیت میں گیارہویں اور بارہویں کے طلباء میں ختم نبوت پر بہت عمدہ لیکچر دیا ۔ وی ٹی ایف اسکول میں عباد اور سر عبداللہ کی معیت میں اسمبلی کے دوران ختم نبوت پر بات کا موقع ملا ۔ الخیر اسلامک برانچ ۲ میں بھی بیان کا موقع ملا ۔ رائل عسکری اسکول اور سر عارف خان کے اسکول پرائم عسکری میں بھی بھائی عباد کے توسط سے بات کا موقع ملا ۔
۲۶/ جولائی بروز جمعہ کو واحد غنی مسجد میں تین روزہ تحفظ ختم نبوت کورس کا آغاز ہوا ۔ راقم الحروف نے ایک گھنٹہ عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور محبت رسول پر بیان کیا ۔
۲۷/ جولائی بروز ہفتہ مولانا عبدالحئی مطمئن نے حیات مسیح اور ظہور مہدی علیہ الرضوان اور دجال پر تفصیلی بیان کیا ۔
۲۸/ جولائی بروز اتوار کورس کے آخری دن ضلع وسطی کے ذمہ دار مولانا محمد رضوان نے تحریک ختم نبوت اور قادیانیوں کی شرعی اور آئینی حیثیت کو واشگاف الفاظ میں بیان کیا ۔ کورس کے اختتام پر مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید کے خلیفہ مجاز مولانا اقبال اللہ صاحب کے اختتامی کلمات اور دعاء پر کورس کا اختتام ہوا ، تمام شرکاء میں لٹریچر تقسیم کیا گیا اور حمزہ اسلامک اسکول کے مدیر مولانا محمد اسداللہ نے تمام مہمانوں کا پر تکلف کھانے سے اکرام کیا اللہ پاک مولانا عزیز اللہ ، امام واحد غنی مسجد اور تمام جماعتی رفقاء کی کاوش کو قبول فرمائے ۔ آمین !
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
حلقہ لانڈھی ٹاؤن کے زیر اہتمام حافظ عبدالوہاب پشاوری نے ۲۷/ جولائی بروز ہفتہ دس بجے شاہد آفریدی فاؤنڈیشن اسکول میں بیان کیا۔ ۲۸/ جولائی بروز اتوار بعد نماز مغرب زمزمہ ریسٹورنٹ لانڈھی نمبر ۲ خرم آباد میں تربیتی نشست کا اہتمام کیا گیا۔ ۲/ اگست بروز جمعہ صبح دس بجے ہلال پبلک اسکول ارکان آباد نزد ابراہیم حیدری کراچی میں بیان ہوا۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۸ تا ۱۵ ستمبر ۲۰۱۹ء ص ۲۶)
ختم نبوت کورس بصیر پور اوکاڑہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۱، ۱۲/ جولائی ۲۰۱۹ء بروز جمعرات و جمعہ کو جامعہ مدرسہ حنفیہ مدنی مسجد بصیر پور ضلع اوکاڑہ میں دو روزہ ختم نبوت کورس صبح آٹھ بجے تا گیارہ بجے اور ظہر تا عصر منعقد ہوا۔ کورس کی نگرانی جناب عزیر خلیل اور صدارت قاری محمد زبیر فہیم نے کی۔ کورس میں عقیدہ ختم نبوت اور حیات ونزول سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو قرآن وسنت کی روشنی میں بیان کیا گیا۔ مرزا قادیانی کے کفریہ عقائد کو اس کی اپنی کتابوں کی روشنی میں سامعین کے سامنے الم نشرح کیا گیا۔ کورس میں مولانا عبدالحکیم نعمانی، مولانا عبدالرزاق مجاہد اور مولانا عزیز الرحمن ثانی نے اسباق پڑھائے۔ کورس کے اختتام پر سوال و جواب کی نشست منعقد کی گئی۔ شرکاء کورس کو انعامات سے بھی نوازا گیا۔ نیز ۱۲ جولائی ۲۰۱۹ء بروز جمعۃ المبارک کو قاری منیر والی مسجد دیپال پور میں مولانا عبدالرزاق مجاہد نے جب کہ مدرسہ انوار القرآن دیپال پور میں مولانا عبدالحکیم نعمانی نے حافظ محمد شعبان صدیقی کی زیر صدارت خطبات جمعہ ارشاد فرمائے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۱۹ء ص ۵۳)
ختم نبوت کانفرنس ہڈالی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۲/ جولائی ۲۰۱۹ء کو جامع مسجد کلیریاں والی میں بعد از نماز عشاء ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی نگرانی ماسٹر محمد یونس نے کی۔ تلاوت کلام پاک مفتی محمد ناصر نے جب کہ ہدیہ نعت کی سعادت حافظ محمد احمد نے حاصل کی۔ کانفرنس سے مولانا مفتی معاویہ اسلم ہڈالی، مفتی محمد ناصر، مولانا محمد نعیم، مولانا نور محمد ہزاروی نے بیانات کئے۔ علاقہ بھر کے علماء وعوام الناس نے بھر پور شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۱۹ء ص ۵۰)
ختم نبوت کانفرنس جوہر آباد
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۳/ جولائی ۲۰۱۹ء کو جامعہ سعدیہ جوہر آباد میں بعد نماز عشاء ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ تلاوت کی سعادت قاری محمد اکراش نے حاصل کی۔ حافظ محمد حذیفہ نے ہدیہ نعت پیش کیا۔ مولانا محمد سجاد نے نقابت کے فرائض سرانجام دیئے۔ مولانا مفتی زاہد محمود، مولانا عبدالحکیم مکی مروت، مولانا محمد نعیم خوشاب اور مولانا محمد اظہار الحسن کے بیانات ہوئے۔ کانفرنس کا اختتام مولانا اظہار الحسن کی دعاء سے ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۱۹ء ص ۵۰)
ختم نبوت کانفرنس خوشاب
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۴/ جولائی ۲۰۱۹ء بعد نماز عشاء حسین آباد خوشاب میں ختم نبوت کانفرنس منعقد کی گئی۔ کانفرنس کا آغاز قاری حماد پشاوری کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ ہدیہ نعت پیش کرنے کی سعادت حافظ شیراز احمد کے حصہ میں آئی۔ نقابت کے فرائض مولانا محمد عبداللہ روڈہ نے انجام دیئے۔ مولانا تنویر احمد خانیوال، مولانا محمد نعیم خوشاب اور مولانا غلام محمد شیخ الحدیث جامعہ عبیدیہ فیصل آباد نے بیانات کئے۔ کانفرنس مولانا غلام محمد فیصل آباد کی پر سوز دعاء سے اختتام پذیر ہوئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۱۹ء ص ۵۰)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
شعور ختم نبوت و فہم دین کورس دوڑ ضلع نواب شاہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت دوڑ کے زیر اہتمام جامعہ دارالعلوم حقانیہ دوڑ میں چھ روزہ کورس ۱۳ تا ۱۸ / جولائی ۲۰۱۹ء بروز ہفتہ سے بروز جمعرات منعقد ہوا۔ کورس کا دورانیہ مغرب تا عشاء رہا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت دوڑ کے مقامی ذمہ دار مولانا محمد اسجد نے مختلف موضوعات پر سیر حاصل گفتگو کی۔ کورس کے اختتامی روز مبلغ مولانا تجمل حسین نے بیان کیا۔ اختتامی دعا قاری جمیل احمد نے کرائی۔ کورس میں دوڑ کے ساتھیوں نے بھر پور شرکت کی۔ شرکاء میں جماعت کا لٹریچر بھی تقسیم کیا گیا۔
(قاری عبداللہ فیض) (ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۹ء ص ۵۰)
شعور ختم نبوت کورس منڈی چھونا والا
تحصیل حاصل پور کے علاقہ چھونا والا میں علماء کرام واحباب نے ایک اجلاس بلایا۔ جس میں یہ طے پایا کہ عقیدہ ختم نبوت، حیات عیسیٰ علیہ السلام، ظہور مہدی علیہ الرضوان اور مرزا قادیانی کے دجل وفریب پر کورس کروایا جائے۔ آٹھ دن کا کورس ۱۵ / جولائی تا ۲۲ / جولائی ۲۰۱۹ء کو بمقام مدرسہ جامعۃ الاظہر مسجد سیدنا صدیق اکبر چھونا والا میں بوقت صبح ۱۰ بجے تا ۱۱ بجے تشکیل پایا۔ جس میں درج ذیل علماء کرام نے درس دیا: مولانا مفتی السید محمد مظہر اسعدی، مولانا محمد زمان احراری چک ۱۵۶ مراد، مولانا منظور احمد فاروقی چھونا والا، مولانا مفتی محمد یوسف خیر پور ٹامیوالی، مولانا محمد اسحاق ساقی مبلغ بہاول پور، مولانا محمد عمر اعوان ہارون آباد، مولانا محمد اعجاز احمد چھونا والا اور مولانا محمد قاسم رحمانی مبلغ مجلس تحفظ ختم نبوت بہاول نگر۔ بحمداللہ! اس پروگرام میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی اور اس پروگرام کے انتظامی امور میں تمام حضرات نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ خاص کر قاری محمد اطہر جمیل جامعۃ الاظہر، مولانا منظور احمد فاروقی مدرسہ سیدنا علی المرتضیٰ چھونا والا، مولانا اعجاز احمد دارالعلوم حنفیہ چھونا والا، بھائی محمد سعید انور چھٹہ لائف کیئر میڈیکل سٹور چھونا والا اور حاصل پور سے بھائی محمد عامر، بھائی محمد سہیل اور بھائی محمد زاہد نے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۹ء ص ۵۰)
تین روزہ تبلیغی دورہ راولپنڈی، اسلام آباد
راولپنڈی اسلام آباد میں مولانا اللہ وسایا کے طے شدہ پروگرامات تکمیل پذیر ہوئے۔ ۱۹/ جولائی ۲۰۱۹ء کو خطبہ جمعۃ المبارک جامع مسجد باب الاسلام F7 مرکز اسلام آباد میں، جب کہ بعد نماز مغرب جامع مسجد حنفیہ G7/1 اسلام آباد میں شیخ الحدیث مولانا عبدالرؤف کی زیر صدارت ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ ۲۰/ جولائی بروز ہفتہ بعد نماز مغرب جامع مسجد صدیق اکبر الہ آباد مولانا پیر عزیز الرحمن ہزاروی کی زیر صدارت ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ ۲۱/ جولائی بروز اتوار بعد نماز ظہر جامع مسجد اسلامیہ ہائی سکول مری روڈ لیاقت باغ میں ختم نبوت کنونشن ہوا۔ کنونشن میں مضافاتی شہروں کے علماء نے شرکت کی۔ پروگرام کے اختتام پر پریس کلب راولپنڈی میں پریس کانفرنس کی جس کے اندر مطالبہ کیا گیا ناموس رسالت کے قانون میں کسی قسم کی ترمیم برداشت نہیں کی جائے گی۔ اس موقعہ پر تاجر رہنما بھی موجود تھے۔ بعد نماز مغرب جامع مسجد مرحبا کری روڈ میں شیخ الحدیث مولانا قاضی مشتاق احمد کی زیر صدارت ختم نبوت کانفرنس ہوئی۔ درج بالا کانفرنسوں میں مولانا اللہ وسایا، مولانا پیر عزیز الرحمن ہزاروی، شیخ الحدیث مولانا عبدالرؤف، شیخ الحدیث مولانا قاضی مشتاق احمد، مولانا محمد ظہور علوی، مولانا محمد نذیر فاروقی، مفتی عبدالسلام، مولانا عبدالغفار، مولانا محمد طیب، مولانا محمد طارق مبلغ ختم نبوت راولپنڈی کے بیانات ہوئے۔ جب کہ نعت رسول مقبول ﷺ فاروق معاویہ اور بابا خورشید احمد نے پیش کیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۱۹ء ص ۵۴)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
علماء ومشائخ کنونشن بسلسلہ تحفظ ختم نبوت بنوں
عالمی مجلس تحفظ ختم و جمعیت علماء اسلام بنوں کے زیراہتمام ۱۹/ جولائی ۲۰۱۹ء بروز جمعہ بوقت بعد از ظہر تا عصر بمقام جامع مسجد حافظ جی بنوں میں مشترکہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت مولانا مفتی عظمت اللہ سعدی نے کی۔ مہمان خصوصی مرکزی اکابرین کے معتمد خاص، صوبائی مبلغ مولانا محمد عابد کمال تھے۔ اجلاس میں بنوں کے ۹۴ یونین کونسلوں کے اراکین ختم نبوت و جمعیت علماء اسلام، دینی مدارس کے شیوخ و علمائے کرام، ائمہ و خطباء کرام کے علاوہ کرک، ڈومیل، لکی مروت، سرائے نورنگ، میرعلی، میراں شاہ، بکا خیل، جانی خیل، زونی خیل کے نمائندوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ شرکاء کی کثرت کی وجہ سے اجلاس کانفرنس میں تبدیل کیا گیا۔ وقت کی کمی اور علماء و شیوخ کی کثرت کی وجہ سے بیان کا دورانیہ دس، دس منٹ منتخب کیا گیا۔ اجلاس میں بنوں میں عقیدہ ختم نبوت کے پرچار اور قادیانی مصنوعات کی بائیکاٹ اور ۲۵/ جولائی کو پشاور میں ہونے والے تحفظ ناموس رسالت ملین مارچ کی کامیابی کے لئے مشترکہ طور پر دس دس افراد پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دی گئیں۔ جنہوں نے تمام یونین کونسلوں میں بیانات کی ترتیب کو عملی جامہ پہنایا۔ اجلاس پیر طریقت شیخ الحدیث مولانا قاری عبدالرزاق مجددی کی دعا سے اختتام پذیر ہوا۔ (عبدالحسیب سنجل)
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۹ء ص ۵۵)
ختم نبوت کورس سیالکوٹ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سیالکوٹ کے زیراہتمام تین روزہ ختم نبوت کورس ۱۹، ۲۰، ۲۱/ جولائی ۲۰۱۹ء کو جامعہ فاروقیہ امام صاحب روڈ میں منعقد کیا گیا۔ شہر بھر کے علماء کرام و خطباء حضرات نے ختم نبوت کورس کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے عوام الناس کو کورس میں شرکت کی ترغیب دی۔ مولانا فقیر اللہ اختر نے اپنے رفقاء کے ہمراہ ختم نبوت کورس کو کامیاب بنانے کے لئے شبانہ روز محنت کی۔ ۱۹/ جولائی کورس کے پہلے روز بعد نماز مغرب تلاوت قرآن مجید اور نعت رسول مقبول ﷺ کے بعد مولانا فقیر اللہ اختر مبلغ عالمی مجلس سیالکوٹ نے کورس کے اغراض ومقاصد بیان کئے ۔ بعد ازاں مولانا غلام مرتضیٰ آف ڈسکہ نے حیات سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور سیدنا امام مہدی علیہ الرضوان پر مفصل گفتگو فرمائی ۔ ۲۰/ جولائی کو مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت، تحریکات ختم نبوت کا تاریخی پس منظر اور فتنہ قادیانیت کے گمراہ کن عقائد پر مفصل گفتگو فرمائی ۔ ۲۱/ جولائی کو مشہور مذہبی وقانونی سکالر جناب محمد متین خالد تشریف لائے۔ انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں فتنہ قادیانیت اور مرزا غلام احمد قادیانی ملعون کے کردار پر سیر حاصل گفتگو فرمائی۔ اختتامی روز سوالات وجوابات کی نشست کا بھی اہتمام کیا گیا۔ جس میں کامیاب ہونے والے طلباء میں انعامات بھی تقسیم کئے گئے۔ کورس کا اختتام مولانا قاری نذیر احمد کے اختتامی کلمات ودعاء پر ہوا۔ (اویس احمد فاروقی)
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۹ء ص ۵۱)
مبلغین ختم نبوت کا چار روزہ دورہ نواب شاہ ڈویژن
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا قاضی احسان احمد چار روزہ دورہ پر نواب شاہ تشریف لائے۔ ۱۹/ جولائی ۲۰۱۹ء کو خطبہ جمعۃ المبارک جامع مسجد فاروق اعظم فوجی کالونی سانگھڑ روڈ نواب شاہ میں اور مولانا تجمل حسین مبلغ نواب شاہ نے مسجد عمر فاروق میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔ بعد نماز عشاء جامع مسجد باب جنت، پاک کالونی میں جلسہ ختم نبوت سے قاضی صاحب نے خطاب فرمایا۔ ۲۰/ جولائی کی صبح ۱۰ تا ۱۱ بجے گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری اسکول دوڑ کے بڑے طلباء میں عقیدہ ختم نبوت پر مدلل گفتگو ہوئی۔ بیان کے بعد سوال وجواب کی نشست بھی ہوئی۔ طلباء سے عقیدہ ختم نبوت، حیات عیسیٰ علیہ السلام اور امام مہدی علیہ الرضوان سے متعلق سوالات کئے گئے درست جواب دینے
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
والے طلباء کو نقد انعام دیا گیا اور جماعت کا سندھی لٹریچر بھی دیا گیا۔ بعد ازاں ۱۲ بجے جامعہ دارالعلوم عزیزیہ حسینیہ دوڑ میں حاضری ہوئی اور ادارے کے مہتمم مولانا محمد اشرف سے ملاقات ہوئی۔ بعد نماز عصر مرکزی جامع مسجد مدرسہ عربیہ انوار الرحمن دریا خان مری میں شعور ختم نبوت تربیتی کورس میں بیانات ہوئے۔ بعد نماز مغرب تا رات بارہ بجے جامع مسجد فاروق اعظم قاسمیہ لائبریری کنڈیارو میں تحفظ ختم نبوت کانفرنس میں بیانات ہوئے۔ ۲۱؍ جولائی صبح ۱۰ بجے سندھ کی معروف درسگاہ جامعہ عربیہ شمس العلوم کھرڑاہ میں حاضری ہوئی۔ مدرسہ کے اکابر علماء کرام سے ملاقات کے بعد طلباء سے قاضی صاحب نے خطاب فرمایا۔ بعد عشاء ڈیڑھ گھنٹہ جامع محمدی مسجد محراب پور میں شعور ختم نبوت وفہم دین کورس میں بیانات ہوئے۔ ۲۲؍ جولائی صبح ۱۰ بجے تا ۱۲ بجے مدرسہ عربیہ مدینۃ العلوم محراب پور کے اساتذہ وطلباء سے قاضی صاحب نے خطاب فرمایا۔ بعد نماز ظہر حضرت قاری اسلام الدین کے ادارے جامعہ دارالعلوم محمدیہ میں علماء کرام وطلباء سے خطاب ہوا۔ بعد نماز عصر جامع مدینہ مسجد عمر فاروق کلاتھ مارکیٹ محراب پور میں قاضی صاحب نے عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت پر درس دیا۔ بعد نماز مغرب سے رات ۱۱ بجے تک محمدی مسجد میں شعور ختم نبوت وفہم دین کورس میں بیانات ہوئے۔ (قاری عبداللہ فیض)
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۹ء ص ۵۴، ۵۵)
تحفظ ختم نبوت کانفرنس کنڈیارو
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کنڈیارو کے زیر اہتمام ۲۰؍ جولائی ۲۰۱۹ء بروز اتوار کو جامع مسجد فاروق اعظم نزد قاسمیہ لائبریری میں تحفظ ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس کی سرپرستی مولانا مفتی محمد ادریس سومرو نے اور صدارت مولانا عبدالعلیم گھانگرو نے کی۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا کلیم اللہ ہالیجوی نے سرانجام دیئے۔ تلاوت کی سعادت حافظ عبدالقادر بروہی نے اور نعت کی سعادت معروف نعت خواں حاجی امداد اللہ پھلپوٹو نے حاصل کی۔ مولوی عظیم پنہور، مولانا تجمل حسین، مولانا محمد قاسم سومرو، منظور احمد سومرو دادو اور مولانا عبدالمحیط سومرو نے بیانات کئے۔ آخر میں مولانا قاضی احسان احمد نے تفصیلی خطاب اور اختتامی دعاء کرائی۔ کانفرنس کے اختتام پر شرکاء میں جماعت کا لٹریچر تقسیم کیا گیا۔ کانفرنس میں سائیں محمد رمضان خاصخیلی، مولانا خان محمد کیریو، مولانا محمد ایوب پیرزادہ، مولانا عطاء اللہ عباسی، مولانا سلیم اللہ سومرو سمیت مقامی علماء کرام اور عوام الناس نے بھر پور شرکت کی۔ (قاری عبداللہ فیض)
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۹ء ص ۴۶)
شعور ختم نبوت کورس ٹوبہ ٹیک سنگھ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ٹوبہ کے زیر اہتمام جامعہ رحمۃ اللعالمین بنین نزد ۸۴ پھاٹک و جامعہ رحمۃ اللعالمین للبنات چک نمبر ۲۸۵ ج ب میں قاری عبداللطیف منتظم جامعات ہذا کی زیر نگرانی چھ روزہ شعور ختم نبوت کورس ۲۰ تا ۲۵؍ جولائی بروز ہفتہ سے جمعرات تک منعقد ہوا۔ جس میں مختلف موضوعات پر لیکچرز ہوئے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ساہیوال کے مبلغ مولانا عبدالحکیم نعمانی، ماموں کانجن کے جنرل سیکرٹری مولانا عطاء اللہ نقشبندی، پیرمحل کے ناظم اعلیٰ مولانا مجاہد مختار اور ٹوبہ کے مبلغ مولانا محمد خبیب نے شرکائے کورس کو لیکچرز دیئے۔ کثیر طلباء و طالبات نے کورس میں شرکت کر کے کورس کو کامیاب کیا۔ الحمد للہ! اوّل، دوم، سوم آنے والوں اور ان کے علاوہ تمام شرکائے کورس کو انعامات سے نوازا گیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۹ء ص ۵۱)
شعور ختم نبوت کورس دریا خان مری
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت یونٹ دریا خان مری سندھ کے زیر اہتمام بروز ہفتہ ۲۰؍ جولائی ۲۰۱۹ء کو بعد نماز ظہر تا عصر مدرسہ عربیہ انوار الرحمن میں ”شعور ختم نبوت تربیتی کورس“ منعقد ہوا۔ کورس کی صدارت قاری محمد حسن مورو جو نے جب کہ سرپرستی مولانا عبدالمجید خاصخیلی
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نے کی۔ کورس کا آغاز قاری عبدالماجد کی تلاوت کلام پاک سے کیا گیا۔ قاری زاہد حسین مورو جو نے ختم نبوت پر نظم پیش کی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نواب شاہ کے مبلغ مولانا تجمل حسین سندھی زبان میں تفصیلی بیان کیا۔ آخر میں مولانا قاضی احسان احمد نے خطاب اور دعاء فرمائی۔ حاضرین میں جماعت کا اردو اور سندھی زبان کا لٹریچر بھی تقسیم کیا گیا۔ کورس کی کامیابی کے لئے مقامی ذمہ دار قاری نیاز احمد خاصخیلی اور ان کے رفقاء راشد حسین خاصخیلی، عبدالرؤف انصاری، بھائی محمد نعیم نے بھر پور محنت کی۔ (قاری عبداللہ فیض)
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۹ء ص ۵۱)
شعور ختم نبوت وفہم دین کورس محراب پور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت محراب پور کے زیر اہتمام ۲۱، ۲۲/ جولائی ۲۰۱۹ء کو جامع محمدی مسجد نزد سندھی پرائمری اسکول محراب پور میں شعور ختم نبوت وفہم دین کورس کا انعقاد کیا گیا۔ کورس کی صدارت مقامی امیر مولانا عبدالصمد نے کی اور نگرانی جماعت کے جنرل سیکرٹری مولانا خالد محمود نے کی۔ پہلے روز تلاوت مفتی محمد شاہد نے کی۔ مولانا تجمل حسین نے ’’عقیدہ ختم نبوت قرآن وحدیث کی روشنی میں‘‘ کے عنوان پر بیان کیا، مولانا قاضی احسان احمد نے آیت خاتم النبیین کی تفسیر اور قادیانیوں کے عقائد پر سیر حاصل گفتگو فرمائی۔ دوسرے روز بعد نماز مغرب مولانا تجمل حسین نے ’’امام مہدی علیہ الرضوان اور اوصاف نبوت‘‘ کے عنوان پر گفتگو کی۔ جب کہ مولانا قاضی احسان احمد نے حیات عیسیٰ علیہ السلام پر تفصیلی گفتگو فرمائی۔ آخر میں سوال وجواب کی نشست رکھی گئی سامعین سے سوال کئے گئے اور درست جواب دینے والوں کو کتاب ’’تذکرہ مجاہدین ختم نبوت‘‘ انعام میں دی گئی اور جماعت کا لٹریچر بھی تقسیم کیا گیا۔ اختتامی دعاء قاضی صاحب نے کرائی۔ کورس میں محراب پور کے ساتھیوں نے بھر پور شرکت کی۔ کورس کی کامیابی کے لئے محمدی مسجد کے امام مفتی محمد شاہد، حافظ تاج محمد مالک، مولانا خالد محمود اور دیگر ساتھیوں نے بھر پور محنت کی۔ (قاری عبداللہ فیض)
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۹ء ص ۵۲)
ختم نبوت کانفرنس فیصل آباد
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۲ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس ۲۵/ جولائی ۲۰۱۹ء کو الفتح گراؤنڈ سلیمی چوک ستیانہ روڈ فیصل آباد میں بعد از نماز عشاء منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی صدارت مولانا حافظ پیر ناصر الدین خاکوانی، مولانا صاحبزادہ خواجہ عزیز احمد اور مولانا سید جاوید حسین شاہ نے فرمائی۔ کانفرنس کا آغاز قاری محمود صدیق کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ نعتیہ کلام پیش کرنے کی سعادت مولانا قاری محمود مدنی، مفتی شاہد محمود، فیصل بلال حسان اور مولانا محمد شاہد عمران عارفی نے حاصل کی۔ نقابت کے فرائض مولانا سید حبیب احمد شاہ اور مولانا عبدالرشید سیال نے انجام دیئے۔ کانفرنس سے مولانا صاحبزادہ مبشر محمود، مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا مفتی عبدالشکور رضوی، مولانا ضیاء اللہ شاہ بخاری، مولانا محمد یحییٰ عباسی اور مولانا اللہ وسایا کے بیانات ہوئے۔ کانفرنس کا اختتام رات دو بجے مولانا حافظ پیر ناصر الدین خاکوانی مدظلہ کی رقت آمیز دعاء سے ہوا۔ کانفرنس کی کامیابی کے لئے مقامی جماعت کے کارکنان وضلعی انتظامیہ نے بھر پور محنت و تعاون کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۲۰۱۹ء ص ۵۱)
مبلغین ختم نبوت کی اندرون سندھ جماعتی سرگرمیاں
تھر پارکر ( مولانا مختار احمد ) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغین کے ضلع تھر پارکر اور عمر کوٹ میں چار دن کے پروگرام طے ہوئے، جس میں شعور ختم نبوت کورس اور کانفرنسوں کا انعقاد کیا گیا، جس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا قاضی احسان احمد، حیدر آباد کے مبلغ ختم نبوت مولانا توصیف احمد، میر پور خاص کے مبلغ مولانا مختار احمد، بدین تھر پارکر کے مبلغ مولانا محمد حنیف سیال کے بیانات ہوئے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اسلام کوٹ: مدرسہ عثمانیہ اسلام کوٹ میں دو روزہ شعور ختم نبوت کورس ہوا، بھر پور پروگرام ہوا۔ آخر میں سندھی زبان میں لٹریچر تقسیم کیا گیا۔
عمر کوٹ ڈگری کالج میں لیکچرز: ۲۵؍جولائی کو یہ قافلہ پروفیسر نور محمد اور ڈگری کالج کے لیکچرار مولانا عبد القادر کی دعوت پر ڈگری کالج پہنچا۔ کالج میں اسٹوڈنٹس کی حاضری بھر پور تھی، مولانا قاضی احسان احمد کا لیکچر عقیدۂ ختم نبوت پر ہوا، مولانا توصیف احمد نے موجودہ فتنوں کے حوالے سے بیان کیا اور مولانا مختار احمد کا تحفظ ناموس رسالت اور تحفظ پاکستان کے موضوع پر بیان ہوا۔ یاد رہے کہ تھر پارکر اور عمر کوٹ میں مسلمانوں کی نسبت ہندو آبادی زیادہ ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب: ۲۵؍ جولائی دن دس بجے جمعیت علماء اسلام کی طرف سے یوم سیاہ کے موقع پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے نمائندگی کرتے ہوئے مولانا قاضی احسان احمد نے پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔
ساڈرا اسٹیشن جامع مسجد میں ختم نبوت کورس: مدرسہ منبع العلوم عمر کوٹ میں درس ختم نبوت کے بعد جامع مسجد ساڈرا اسٹیشن میں شعورِ ختم نبوت کورس ہوا۔ اس کورس کا مولانا قاضی عبد الرحمن پلی اور جناب حافظ خالد آریسر نے اہتمام کیا۔ کورس میں مدارس کے طلباء کے علاوہ علاقے کے لوگوں نے بھی شرکت کی۔ مولانا محمد حنیف سیال نے ظہور مہدی علیہ الرضوان پر سبق پڑھایا، مولانا توصیف احمد نے حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام کے موضوع پر جب کہ مولانا مختار احمد نے اوصاف نبوت پر درس دیا۔ آخر میں مولانا قاضی احسان احمد (مرکزی مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی) نے عقیدۂ ختم نبوت پر تفصیل سے بیان کیا، دعاء کے بعد قافلہ جالو چنورو کھوکھرا پار کی طرف روانہ ہوا۔
جالو چنورو میں پروگرام: ۲۵؍جولائی بعد نمازِ مغرب جالو چنورو میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ تھر کے دور دراز علاقوں سے لوگ شریک ہوئے قاری محمد رمضان نے تلاوت اور مولانا توصیف احمد نے بیان کیا، ان کے بعد مولانا مختار احمد نے علاماتِ قیامت پر بیان کیا۔ آخر میں مولانا قاضی احسان احمد نے تفصیلی بیان کیا اور سندھی میں لٹریچر تقسیم ہوا اور رات کو آرام قاری محمد رمضان کے مدرسے میں ہوا۔
عمر کوٹ میں خطبات جمعہ: ۲۶؍ جولائی ۲۰۱۹ء عمر کوٹ شہر کی تمام بڑی مساجد میں عقیدۂ ختم نبوت کے موضوع پر بیانات ہوئے۔ مدینہ مسجد شاہی بازار میں مولانا قاضی احسان احمد نے بیان کیا، زکریا مسجد میں مولانا توصیف احمد، عرفات مسجد میں مولانا مختار احمد، قباء مسجد میں مولانا محمد حنیف سیال نے جمعہ پڑھایا اور تمام مساجد میں لٹریچر بھی تقسیم ہوا، بعد از جمعہ یہ قافلہ اپنی منزل کی طرف روانہ ہوا۔
تحفظ ختم نبوت کورس سمبڑیال ضلع سیالکوٹ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سیالکوٹ کے زیرِ اہتمام تین روزہ ختم نبوت کورس ۲۶، ۲۷، ۲۸؍جولائی ۲۰۱۹ء کو مرکزی جامع مسجد عثمانیہ رسول پورہ سمبڑیال میں منعقد کیا گیا۔ ۲۶؍جولائی کو بعد نمازِ مغرب مولانا فقیر اللہ اختر نے کورس کے اغراض و مقاصد بیان کئے۔ بعد ازاں مولانا عزیز الرحمن ثانی نے جناب لیاقت علی خان کے قتل سے اب تک ہونے والی تمام قادیانی دہشت گردیوں سے متعلق عوام کو آگاہ کیا کہ کس طرح قادیانی پاکستان کے غدار ہیں۔ ۲۷؍جولائی کو مولانا غلام مرتضیٰ آف ڈسکہ نے حیات سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور سیرت سیدنا امام مہدی علیہ الرضوان پر مفصل بیان فرمایا۔ ۲۸؍جولائی کو مولانا محمد داؤد نفیس ناظم تبلیغ سیالکوٹ نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت، تحفظ ناموس رسالت، جنگ یمامہ اور تحریک ختم نبوت کے متعلق بیان فرمایا۔ کورس کے اختتام پر سوالات و جوابات کی نشست کا بھی اہتمام ہوا۔ جس میں کامیاب ہونے والے طلباء میں انعامات بھی تقسیم کئے گئے۔ کورس کا اختتام مولانا سعید احمد خان کی دعاء پر ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۹ء ص۵۲)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس بہاول پور
ہر سال کی طرح امسال بھی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامع مسجد الصادق بہاول پور میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس ۳؍ اگست ۲۰۱۹ء بروز ہفتہ بعد نماز عشاء منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا باقاعدہ آغاز قاری محمد اقبال کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ ملک کے معروف نعت خواں الحاج سید سلمان گیلانی اور مقامی نعت خواں جناب حضور احمد عصر نے ہدیہ نعت پیش کیا۔ کانفرنس کی صدارت نائب امیر مرکزیہ صاحبزادہ مولانا عزیز احمد نے فرمائی۔ نقابت کے فرائض مولانا محمد اسحاق ساقی نے انجام دیئے۔ کانفرنس سے پیر طریقت حافظ ناصر الدین خاکوانی، مفکر ختم نبوت مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا اللہ وسایا اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطابات کئے۔ مقررین حضرات نے کہا کہ حضور ﷺ سے محبت کرنا ایمان کی شرط اوّل اور حضور ﷺ کی ختم نبوت کا کام کرنا آپ ﷺ کی شفاعت کا ذریعہ ہے۔ آپ ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا دائرہ اسلام سے تو کیا دائرہ انسانیت سے بھی خارج کر دیتا ہے۔ کانفرنس کا اختتام حافظ پیر ناصر الدین خاکوانی کی دعاء سے ہوا۔ کانفرنس میں مولانا مفتی عطاء الرحمن نے خصوصی شرکت فرمائی۔ انتظامات کے حوالہ سے مولانا محمد خبیب، مولانا محمد اقبال، مولانا محمد صہیب اور مولانا عبدالرزاق اسلامی مشن نے بھر پور محنت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۹ء ص ۴۶)
ختم نبوت کانفرنس ٹوبہ ٹیک سنگھ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ٹوبہ کے زیر اہتمام جامعہ رحمۃ اللعالمین نزد ۸۲ پھاٹک ۴؍ اگست ۲۰۱۹ء بروز اتوار کو بعد نماز ظہر ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت مولانا محمد اسعد مدنی اور نگرانی مولانا قاری عبداللطیف مدیر جامعہ ہذا نے فرمائی۔ کانفرنس سے مولانا اللہ وسایا، مولانا مفتی محمد اعجاز فیصل آباد، مسلک اہل حدیث کے مولانا برق التوحیدی، جماعت اسلامی کے مولانا رحمت اللہ ارشد اور ضلعی مبلغ مولانا محمد خبیب نے خطابات فرمائے۔ کانفرنس میں علماء اور کثیر عوام الناس نے شرکت فرمائی۔ جماعت کا لٹریچر بھی تقسیم کیا گیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۹ء ص ۴۷)
تحفظ ختم نبوت انعام گھر لکی مروت
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لکی مروت کے زیر اہتمام ۱۴؍ اگست کو دینی مدارس سکول اور کالج کے طلباء کے درمیان ’’ختم نبوت انعام گھر‘‘ کے نام سے انعامی مقابلے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ امسال عید الاضحیٰ کی وجہ سے ۱۷؍ اگست ۲۰۱۹ء بروز ہفتہ کو پانچواں ’’ختم نبوت انعام گھر‘‘ جامع مسجد مجیدی نورنگ میں منعقد ہوا۔ مولانا محمد ابراہیم ادہمی نے دینی مدارس، سکولز اور کالجز کے طلباء کے لئے ختم نبوت کے موضوع پر چالیس سوالات و جوابات کا ایک پمفلٹ تحریر کیا ہے جو کہ تمام طلباء وطالبات میں پہلے سے ہی تقسیم کیا گیا۔ ۱۷؍ اگست صبح آٹھ بجے جامع مسجد مجیدی نورنگ میں بڑی تعداد میں طلباء وطالبات نے ختم نبوت انعام گھر میں شرکت کی۔ سوالات و جوابات کی نشست کی گئی۔ اول، دوم، سوم آنے والے طلباء میں خصوصی انعامات تقسیم کئے گئے۔ اول: محمد شاہان سکنہ ٹانچی آباد، دوم دو طلباء: محمد حذیفہ سکنہ کالا خان اور حسن خان سکنہ شیر علی کلہ جب کہ سوم: والی رحمٰن سکنہ کوٹکہ اطلس خان رہے۔ علاوہ ازیں دیگر تمام شرکاء میں کتابیں تقسیم کی گئیں۔ اس موقع پر مولانا عبدالرحیم، مفتی ضیاء اللہ، مولانا محمد ابراہیم ادہمی، مولانا طیب طوفانی، مولانا ماسٹر محمد عمر خان، صاحبزادہ امین اللہ جان، مولانا بشیر احمد حقانی، مولانا عبدالحمید، پیر طریقت مولانا ظہور احمد نقشبندی اور مولانا امجد طوفانی سمیت و دیگر حضرات موجود رہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۹ء ص ۵۳)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مانسہرہ میں آواز ختم نبوت کی گونج
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مانسہرہ کو یہ سعادت حاصل رہی کہ ۲۰۱۹ء ایسا رہا کہ کوئی بھی ماہ ختم نبوت کی کانفرنسوں سے خالی نہیں گزرا۔ سب سے بڑھ کر تحفظ عزت و ناموس رسالت ﷺ کے عنوان سے ہونے والے ملین مارچ میں مانسہرہ کی فضائیں تاجدار ختم نبوت کے نعروں سے خوب آشنا رہیں۔ ان تمام پروگراموں کو احسن انداز میں انجام دہی کے لئے ذمہ داران ختم نبوت یقیناً مبارک باد کے مستحق ہیں۔ ۱۵؍اگست کو مولانا توصیف احمد مبلغ عالمی مجلس حیدر آباد کی مانسہرہ آمد ہوئی۔ شہر بھر کی مساجد میں خطبات اور پروگراموں کی ترتیب قائم کی گئی۔ علاوہ ازیں مانسہرہ میں تعلیم کے شعبے میں کام کرنے والے ایک بڑے ادارے مانسہرہ پبلک سکول و کالج میں مسئلہ ختم نبوت اور فتنہ قادیانیت کی ہند و پاک میں سو سالہ تاریخ کے موضوع پر تربیتی نشست کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں طلباء و طالبات نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ ادارے میں موجود نہ صرف طلباء نے بلکہ معلمین ، منتظمین اور دوسرے حضرات نے مولانا توصیف احمد کے بیان سے استفادہ کیا۔ اسی سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے ۲۳؍اگست ۲۰۱۹ء کو مولانا توصیف احمد نے سکونتی گاؤں دیگراں کی جامع مرکزی مسجد میں تاجدار ختم نبوت کانفرنس سے تفصیلی بیان کیا۔ دیگراں گاؤں میں پے درپے ہونے والی کانفرنسوں سے مرزائیت کی کہانی ختم ہونے کو ہے اور ہمارے اکابرین یہ فرما چکے کہ وہ وقت دور نہیں کہ پوری روئے زمین پر تمہیں ڈھونڈنے سے ایک بھی قادیانی نہیں ملے گا اور ہمارے نبی ﷺ کی ختم نبوت کا تاج ہمیشہ چمکتا رہے گا۔ ان شاء اللہ ! ( جناب عبدالباسط )
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۹ء ص ۵۳، ۵۴)
بارہواں سالانہ تحفظ ختم نبوت تربیتی کورس دفتر کراچی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے زیر اہتمام عید الاضحیٰ کی تعطیلات میں حسب سابق دفتر ختم نبوت پرانی نمائش میں ’’تحفظ ختم نبوت تربیتی کورس‘‘ کا اہتمام گزشتہ ۱۲ سالوں سے تسلسل کے ساتھ چل رہا ہے الحمد للہ ! اس کورس کا آغاز ۲۰۰۷ء میں جامعہ فاروقیہ کراچی کے طلباء جن میں مولانا محمد جنید اور مولانا محمد عدنان شیخ سرفہرست ہیں کے مشورہ پر ترتیب دیا گیا۔ مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ نے اسباق پڑھائے۔ انعامات کی تقریب میں مولانا محمد اکرم طوفانی مدظلہ نے بھی شرکت کی۔
امسال کورس کا آغاز ۱۶؍اگست ۲۰۱۹ء صبح آٹھ بجے حافظ محمد اکرم مؤذن جامع مسجد باب رحمت کی تلاوت سے ہوا۔ ابتدائی اور تعارفی گفتگو راقم الحروف نے کی۔
پہلا سبق: مولانا عبدالحی مبلغ ختم نبوت نے پڑھایا جن کا عنوان ’’لفظ خاتم پر قادیانی تاویلات کے جوابات‘‘ بحمد اللہ ! مختصر وقت میں مولانا نے جامع گفتگو فرمائی۔
دوسرا سبق: مولانا محمد رضوان نگران عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع شرقی نے ’’عقیدۂ ختم نبوت : قرآن کریم اور احادیث کی روشنی میں‘‘ کے عنوان پر پڑھایا طلباء کو آیات اور احادیث نوٹ کروائیں اور انہیں یاد کرنے کی ترغیب بھی دی۔
بیان جمعہ: راقم الحروف کے ذمہ تھا، ’’عقیدۂ ختم نبوت اور اکابرین امت کی قربانیوں‘‘ کے عنوان پر پڑھایا۔
بعد نماز جمعہ چوتھا سبق: مولانا محمد شعیب کمال نگران عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع غربی نے ’’مرزا غلام احمد قادیانی کی پیشنگوئیاں‘‘ کے عنوان پر پڑھایا اور طلباء کو نوٹ بھی کروایا اور مرزا غلام احمد قادیانی کے جھوٹ اور دجل کو آشکارا کیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پانچواں سبق: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع کورنگی کے نگران مولانا محمد عادل غنی نے ”دعاویٰ مرزا“ کے عنوان پر پڑھایا، ان دعاویٰ کی روشنی میں مرزا غلام احمد قادیانی کے کفر کو ثابت کیا اور واضح کیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی قرآن وسنت کا تو منکر ہے ہی، یہ شخص اپنی تحریرات کے آئینہ میں بھی کافر ہے۔
۱۷؍ اگست: حسب سابق تلاوت قرآن کریم سے سبق کی مجلس کا آغاز ہوا، آج کا پہلا سبق عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے مبلغ مولانا عبدالحی مطمئن نے ”جماعۃ المسلمین“ سے متعلق پڑھایا اور آیات و احادیث کی روشنی میں اہل سنت والجماعت کے نظریات کو پیش کر کے باطل کا رد کیا۔
دوسرا سبق: دیگر اسباق کی طرح بہت ہی اہمیت کا حامل تھا، جس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے قانونی مشیر وکیل ناموس رسالت جناب منظور احمد میو صاحب نے لیکچر بعنوان ”آئین تحفظ ختم نبوت، آئین پاکستان کی رو سے قادیانی دائرہ اسلام سے خارج ہیں“ دفعات کی نشان دہی کی اور طلباء کی توجہ اس بات کی طرف مبذول کرائی کہ جس قدر یہ قانون مضبوط ہے اس کا کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا۔
تیسرا سبق: دورِ حاضر کا جدید فتنہ جسے لوگ بدقسمتی سے فتنہ سمجھنے میں عار محسوس کرتے ہیں، وہ جاوید احمد غامدی کا فتنہ ہے۔ فتنۂ غامدیت کی حقیقت، افکار و عزائم سے متعلق مولانا مفتی امداد اللہ مدظلہ نے تفصیلی سبق پڑھایا اور بہت ہی دلنشین انداز میں دلائل وبراہین سے اپنا موقف ثابت کیا اور طلباء کو اسلاف کی تحقیقات پر دلجمعی سے برقرار رہنے کی تاکید فرمائی۔
چوتھا سبق: بعد نماز ظہر راقم الحروف کا بعنوان ”مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ نبوت اور اس کی حقیقت“ پر بیان ہوا، مرزا غلام احمد قادیانی کے جھوٹے دعویٰ نبوت کے دجل کو طلباء کے سامنے پیش کیا اور دلائل کے ساتھ قادیانی عقائد کا پوسٹ مارٹم کیا۔
پانچواں سبق: مولانا محمد قاسم نے ”عقیدہ ختم نبوت اور اکابرین امت کی تحریرات“ کی روشنی میں پڑھایا۔ فتنہ قادیانیت کی بنیاد ہی دجل وفریب، الحاد و زندقہ پر مبنی ہے۔ اکابر کی تحریرات کے سیاق وسباق کو بدل کر کذب بیانی سے کام لیتے ہیں، مولانا نے تمام اکابر کی عبارات کی وضاحت شرح وبسط کے ساتھ پیش کی۔
چھٹا سبق: قبل از عصر مولانا عبدالحی مطمئن نے قادیانی وساوس کے جوابات کے عنوان پر پڑھایا۔ قادیانیوں کا وطیرہ ہے کہ قرآن کریم کی آیت، نبی کریم ﷺ کی حدیث پیش کر کے مسلمانوں کو غلط تاثر دیتے ہیں، اپنے قادیانیوں کو کفر والحاد پر پکا رکھنے کے لئے قرآن کریم کا سہارا لیتے ہیں، لہٰذا جب بھی کوئی قادیانی ایسا حربہ استعمال کرے تو اس کے دجل سے بچنا ضروری ہے۔
۱۸؍ اگست: گزشتہ دنوں کی طرح آج بھی مولانا محمد کلیم اللہ نعمان نے سبق کا آغاز ”قادیانیوں سے چند سوال“ کے عنوان سے کیا اور مرزائیوں کی گمراہ کن تاویلات کا پردہ چاک کیا۔
مولانا عبدالحی مطمئن نے ”عقیدہ ختم نبوت پر قادیانی شکوک وشبہات کے جوابات“ پیش کئے۔
راقم الحروف نے ”سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام کی حیاتِ طیبہ پر قرآن کریم اور احادیث سے دلائل“ پیش کئے۔ سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش، قبل از رفع کی زندگی، آسمان پر تشریف بری بعد نزول کی زندگی تمام مراحل پر تفصیلی گفتگو کی۔
تیسرا سبق: استاذ العلماء شیخ الحدیث جامعہ قرطبہ مولانا الطاف الرحمٰن صاحب نے فتنۂ انکارِ حدیث پر پڑھایا۔ مولانا نے نہایت علمی انداز میں اس فتنہ کی حقیقت کو آشکارا کیا، اس فتنہ کے علل اور اسباب پر گفتگو کی۔ نبی کریم ﷺ کی حدیث ایک مسلمان کے لئے
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ایمان کا درجہ رکھتی ہے۔ انکار حدیث درحقیقت آنحضرت ﷺ سے رشتہ کاٹنے کی ایک ناکام کوشش ہے۔ خوبصورت نعرہ لگا کر ایمان سلب کرنے کی تحریک کا نام ہے انکار حدیث۔ اللہ کریم نبی کریم ﷺ کی پکی سچی محبت ہمیں نصیب فرمائے۔ آمین !
چوتھا سبق: بعد نماز ظہر مولانا محمد اسحاق مصطفیٰ مبلغ ختم نبوت نے ”اسلام اور قادیانیت کا اصولی اختلاف“ کے عنوان پر پڑھایا جس میں مولانا نے اس اختلاف کی حقیقت واضح کی کہ اسلام اور قادیانیت کا اختلاف اصولی اختلاف ہے نہ کہ فروعی اختلاف، اصولی اختلاف کفر کا باعث ہوتا ہے فروعی اختلاف باعث کفر نہیں ہوتا۔
پانچواں سبق: دورِ حاضر کا ایک اور خطرناک فتنہ جسے فتنہ گوہر شاہی کہا جاتا ہے، جس کا بانی آنجہانی ریاض احمد گوہر شاہی تھا۔ اس کے نظریات وافکار کو مولانا محمد رضوان نے طشت از بام کیا اور نوجوان طلباء کی خوب ذہن سازی کی اور فتنوں کے مقابلے میں اسلامی عقائد پر ڈٹ جانے کی ترغیب دی۔
آج کا چھٹا اور آخری سبق مولانا محمد قاسم نے ”قادیانی تحریفات“ کے عنوان پر پڑھایا۔ قادیانیت اسلام اور پیغمبر اسلام کے نام پر ایک نہایت خطرناک سازش کا نام ہے۔ قادیانی قرآنی آیات اور احادیث مبارکہ میں من مانی تحریفات کر کے اپنا الو سیدھا کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔
۱۹؍ اگست: بروز پیر کورس کا آخری دن تھا، جس میں طلباء کو بقیہ اسباق بھی پڑھائے گئے۔ آج کا پہلا سبق مولانا عبدالحئی مطمئن نے ”ذکری فتنہ کے رد میں“ پڑھایا۔ فتنوں کے اس تلاطم میں ایمان اور عقیدہ کی حفاظت انتہائی ضروری ہے۔
دوسرا سبق: ”عقیدۂ رفع ونزول مسیح علیہ السلام“ سے متعلق مولانا محمد قاسم نے پڑھایا۔ قادیانی، اکابرین امت کی عبارات کو مسخ کر کے پیش کرتے ہیں۔ اللہ کریم ہمارے اکابرین کی قبروں پر اپنی رحمت کی بارش نازل فرمائے، انہوں نے نہایت علمی انداز میں ایمان اور عقیدہ کی تشریحات قرآن وسنت کی روشنی میں پیش کی ہیں۔ نیز حضرت امام مہدی علیہ الرضوان کے تعارف پر بھی روشنی ڈالی۔
تیسرا سبق: جامعہ معہد الخلیل الاسلامی کے استاذ الحدیث مولانا محمد سلمان یٰسین مدظلہ نے ”قادیانیوں کی شرعی اور آئینی حیثیت کیا ہے؟“ کے عنوان پر پڑھایا اور خوب دلائل وبراہین سے مدلل پرمغز گفتگو فرمائی۔
اس کے بعد شرکاء کورس کو امتحان کی تیاری کے لئے وقت دیا گیا۔ ساڑھے تین بجے امتحانی مرحلہ شروع ہوا۔ طلباء نے چار دن کی شبانۂ روز پڑھائی خوب محنت ولگن سے کی اور جوش وخروش سے امتحان میں پرچہ حل کیا، جوابی کاپی دیکھنے کا مرحلہ مولانا عبدالحئی مطمئن، مولانا محمد کلیم اللہ نعمان، مولانا احمد شاہ، قاری ابرار زمان، مولانا شعیب کمال، مولانا رمیض شہزاد نے مکمل کیا، جب کہ نمبرات کی پڑتال حافظ محمد بن قاضی احسان احمد نے کی، یوں چار روز پرمشتمل کورس اپنے اختتام کو پہنچا۔
تقریب انعامات:
بعد ازاں ۲۲؍ اگست بروز جمعرات ماہانہ تربیتی نشست میں نتائج کا اعلان اور تقریب انعامات طے پایا، جس کی صدارت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے امیر مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ نے فرمائی، طلباء کی خوش بختی اور سعادت مندی کہ اسی روز حضرت امیر محترم حج سے واپس تشریف لائے تھے، خطبۂ صدارت بھی پیش کیا اور کورس کے شرکاء کو پند ونصائح سے بھی نوازا۔ اس موقع پر جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے استاذ مولانا عبدالشکور مدظلہ نے ”عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت اور فتنۂ قادیانیت کا سدباب“ کے عنوان پر سیرحاصل گفتگو فرمائی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پروگرام کے اختتام پر ان خوش نصیب طلباء میں انعامات تقسیم کئے گئے، جنہوں نے امتحان میں نمایاں اور اچھے نمبرات حاصل کئے ۔ علاوہ ازیں تمام کامیاب طلباء کو اعزازی اسناد بھی دیں۔ امتحان میں پہلی پوزیشن جامعہ اسلامیہ امدادالعلوم درجہ سادسہ کے طالب علم محمودالحسن بن محمد ظفر نے حاصل کی، دوسری جامعہ اشرف المدارس کے درجہ دورۂ حدیث شریف کے طالب علم قاضی محمد طیب بن محمد اعجاز نے حاصل کی، جب کہ دوسری پوزیشن ایک اور طالب علم محمد ادریس بن شیر محمد نے بھی حاصل کی ، جس کا تعلق جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کے درجہ دورۂ حدیث شریف سے تھا۔ تیسری پوزیشن بھی جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن درجہ سادسہ کے طالب علم محمد علی بن فیض محمد نے حاصل کی جب کہ چوتھی سے دسویں پوزیشن تک کے طلباء کو بھی انعامات دیئے گئے ۔
انعامات میں تذکرہ مجاہدین ختم نبوت ، محبوب خدا، برکات ختم نبوت، فتنہ قادیانیت کا تعاقب، تفہیم الفقہ اور سوٹ دیئے گئے ۔ اللہ کریم جملہ احباب کی محنت و کوشش کو قبول فرمائے، آمین اختتامی دعاء مولانا محمد نعمان ارمان مدنی مدظلہ خطیب جامع مسجد سپریم کورٹ آف پاکستان کراچی نے کروائی۔ (مولانا محمد اسحاق)
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۶ تا ۲۲ ستمبر ۲۰۱۹ء ص ۱۲ تا ۱۴)
تحفظ ختم نبوت تربیتی کورسز لانڈھی ٹاؤن کراچی
کراچی (محمد عبدالوہاب پشاوری) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حلقہ لانڈھی ٹاؤن کے زیر اہتمام خواتین کے لئے تین مختلف مقامات پر تحفظ ختم نبوت تربیتی کورسز رکھے گئے ۔
پہلا کورس: ۱۷ تا ۱۹؍ اگست بروز ہفتہ سے پیر مدرسہ امیر حمزہ للبنات حسن پھنور گوٹھ نزد اقصیٰ مسجد میں رکھا گیا، جس میں مولانا مفتی محمد اسحاق مصطفیٰ (مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع ملیر) ، مفتی محمد عادل غنی (مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع کورنگی) ، مفتی سمیع الحق (مدرس جامعہ تحفیظ القرآن شیر پاؤ کالونی) ، مولانا احسن راجہ الحسینی (امام و خطیب جامع مسجد طیبہ قائد آباد) اور راقم الحروف نے عقیدۂ ختم نبوت پر بیانات کئے ۔
دوسرا کورس: ۲۰ تا ۲۳؍ اگست بروز منگل سے جمعرات صبح ۱۰ سے ۱۲ بجے تک جامعہ عائشہ صدیقہ للبنات مانسہرہ کالونی میں رکھا گیا، جس میں مولانا قاضی احسان احمد (مرکزی مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت) ، مولانا عبدالحی مطمئن (مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی) مفتی محمد اسحاق مصطفیٰ، مفتی محمد عادل غنی ، مولانا احسن راجہ الحسینی اور راقم الحروف نے رد قادیانیت پر درس دیئے۔
تیسرا کورس: ۲۰ تا ۲۳؍ اگست بروز منگل تا جمعرات دوپہر ۲ سے ساڑھے چار بجے تک جامعہ صفہ للبنات ظفر ٹاؤن میں رکھا گیا، جس میں مفتی محمد اسحاق مصطفیٰ، مفتی محمد عادل غنی، مولانا محمد طارق محمود قاسمی، مولانا محمد قاسم (مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی) ،مفتی سمیع الحق، مولانا قاضی احسان احمد، مولانا عبدالحی مطمئن اور راقم الحروف نے ختم نبوت کے موضوع پر لیکچر دیئے۔ تینوں کورسز میں عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت وفضیلت، عقیدۂ ختم نبوت قرآن وحدیث کی روشنی میں، حیات ونزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام، ظہور مہدی علیہ الرضوان، تحفظ ختم نبوت کی برکتیں وفضیلت، تحریک ختم نبوت، فتنہ قادیانیت، قادیانی اور دوسرے کافروں میں فرق، قادیانی مصنوعات کے بائیکاٹ کی شرعی حیثیت، تعارف عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، فتنہ گوہر شاہی، فتنہ زید حامد جیسے اہم موضوعات پر درس دیئے گئے۔ تمام کورسز میں علاقہ بھر کی خواتین نے کثیر تعداد میں شرکت کی ۔
(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۲۳ تا ۳۰ ستمبر ۲۰۱۹ء ص ۲۱)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس گوجرہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرہ کے زیر اہتمام چک نمبر ۳۳۲ ج.ب دھنی کی مرکزی جامع مسجد میں ختم نبوت کانفرنس ۱۹؍اگست ۲۰۱۹ء بروز سوموار بعد نماز مغرب منعقد ہوئی۔ جس میں مولانا اسماعیل شجاع آبادی اور مولانا فیاض احمد نے خطابات فرمائے۔ کانفرنس کے اختتام پر جماعتی لٹریچر بھی تقسیم کیا گیا۔ بھائی محمد احمر اور ان کے رفقاء کی محنت و کوشش سے کانفرنس کامیاب ہوئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر۲۰۱۹ء ص ۴۷)
ختم نبوت کورس قائد آباد خوشاب
مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۲۰ تا ۲۸؍اگست ۲۰۱۹ء کو مرکزی جامع مسجد چک نمبر ۳ قائد آباد ضلع خوشاب میں تحفظ ختم نبوت کورس کا انعقاد کیا گیا۔ کورس کا دورانیہ بعد نماز عصر تا عشاء مقرر کیا گیا۔ کورس میں دینی مدارس، سکولز کے طلباء سمیت تاجر اور ملازمین حضرات نے بھرپور تعداد میں شرکت کی ۔ اسباق پڑھانے والے حضرات میں مولانا محمد آفتاب ۸ چک، مولانا عزیز احمد ۴ چک، مولانا مفتی زاہد، مولانا فداء الرحمن، امام مسجد ہذا مولانا قاری محمد ندیم اور مولانا محمد نعیم مبلغ ختم نبوت خوشاب شامل ہیں۔ (ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۹ء ص ۵۳)
تحفظ ختم نبوت کانفرنس سلانوالی ضلع سرگودھا
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر انتظام ۲۲؍اگست ۲۰۱۹ء بروز جمعرات بعد نماز عشاء بینظیر پارک سلانوالی ضلع سرگودھا میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی صدارت صاحبزادہ عزیز احمد اور مولانا مفتی سید عبد القدوس ترمذی شاہ نے فرمائی۔ سرپرستی ختم نبوت تحصیل سلانوالی کے امیر پیر جی محمد افضل حسینی نے کی۔ تلاوت کلام پاک کی سعادت قاری حماد اللہ ساجد نے، جب کہ ہدیہ نعت پیش کرنے کی سعادت حافظ محمد وسیم سرگودھا اور حافظ طاہر بلال چشتی نے حاصل کی۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض حافظ جنید شاہد نے انجام دیئے۔ بیانات سرگودھا کے مبلغ مولانا فضل الرحمٰن منگلا، مولانا مفتی سید عبد القدوس ترمذی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا نور محمد ہزاروی، مولانا سید کفیل شاہ بخاری (مجلس احرار اسلام)، مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری (جمعیت اہل حدیث)، مولانا شبیر احمد عثمانی (فیصل آباد)، جناب پروفیسر عرفان محمود برق (سابق قادیانی لاہور) و دیگر حضرات کے بیانات ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۹ء ص ۴۷)
تحفظ ختم نبوت کانفرنس سناواں
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سناواں کے زیر اہتمام ۲۹؍اگست ۲۰۱۹ء بروز جمعرات جامع مسجد المجاہد میں چھٹی سالانہ ختم نبوت کانفرنس بعد از نماز ظہر منعقد ہوئی۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا ارشاد گورمانی نے سرانجام دیئے۔ کانفرنس کا آغاز قاری محمد شعیب کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ ہدیہ نعت قاری محمد شہباز نے پیش کیا۔ کانفرنس سے مولانا قاری تاج محمد ثاقب، مولانا محمد حذیفہ شاکر جمعیت علماء اسلام مظفر گڑھ، مولانا عبد المعبود آزاد، مولانا محمد ساجد مبلغ ختم نبوت عالمی مجلس اور مولانا اللہ وسایا اور پیر طریقت مولانا سیف الرحمٰن درخواستی کے بیانات ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۹ء ص ۴۸)
ختم نبوت کانفرنس موسیٰ خیل میانوالی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت موسیٰ خیل ضلع میانوالی کے زیر اہتمام ۳۰؍اگست ۲۰۱۹ء کو مرکزی جامع مسجد میں بعد نماز عشاء تحفظ ختم
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ تلاوت کلام پاک حافظ حماد نے جب کہ ہدیہ نعت حافظ محمد زمان نے پیش کیا۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا محمد الیاس نے انجام دیئے۔ کانفرنس سے مولانا اکرام اللہ، مولانا عبدالرزاق، مولانا محمد نعیم مبلغ ضلع خوشاب اور مولانا نور محمد ہزاروی کے بیانات ہوئے۔ کانفرنس کا اختتام مولانا محمد رفیق کی پرسوز دعاء سے ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۹ء ص ۴۸)
ختم نبوت کانفرنس میانی ضلع سرگودھا
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۳۱؍اگست ۲۰۱۹ء بروز ہفتہ بعد از نماز عشاء جامع مسجد مدنی لاری اڈا میانی تحصیل بھیرہ ضلع سرگودھا میں بصدارت قاری محمد عثمان اور مولانا سر بلند الرحمن ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کا آغاز حافظ ابوبکر اور قاری محمد عمران نے قرآن کریم کی تلاوت سے کیا، اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا محمد بلال میانی اور ناظم تبلیغ مولانا عمیم الاحسان نے انجام دیئے۔ حافظ شعیب عباس تلہ گنگ اور رانا محمد عثمان قصوری نے حمد و نعت کی سعادت حاصل کی۔ عالمی مجلس سرگودھا کے مبلغ مولانا فضل الرحمن سرگودھوی، مولانا نور محمد ہزاروی سرگودھا اور مولانا شبیر احمد عثمانی فیصل آباد کے بیانات ہوئے۔ کانفرنس میں میانی شہر، بھیرہ، ملکوال و مضافات سے بھرپور شرکت ہوئی۔ کانفرنس کے قابل ستائش انتظامات قاضی عبید اللہ سعیدی کی زیر نگرانی، قاری محمد آصف، قاری محمد نصیر، بھائی عمر فاروق، بھائی محمد قیصر، رانا محمد وقاص نے کئے۔ آخر میں مولانا شبیر احمد عثمانی کی دعاء کے ساتھ کانفرنس اختتام پذیر ہوئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۹ء ص ۴۸)
تحفظ ختم نبوت اجلاس بسلسلہ عشرہ ختم نبوت لوئر دیر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لوئر دیر کے ضلعی مجلس عاملہ کا اہم اجلاس ۳۱؍اگست ۲۰۱۹ء کو دارالعلوم مظہر الاسلام اوچ میں ہوا۔ اجلاس کی صدارت ضلعی امیر شیخ القرآن مولانا عمران حقانی نے کی۔ اجلاس میں مولانا فضل وہاب، مولانا طاہر علی، مولانا غنی الرحمن، مولانا کریم اللہ، مفتی عرفان الدین، مولانا حاجی محمد اور راقم سمیت دیگر حضرات نے شرکت کی۔ مقررین حضرات نے کہا کہ ستمبر کا مہینہ پاکستان کی تاریخ میں اہمیت رکھتا ہے۔ ۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کو پاکستان کی دستور ساز اسمبلی نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا۔ جو ایک تاریخ ساز فیصلہ ہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لوئر دیر کی ضلعی تنظیم ستمبر کے پہلے دس دن کو بطور عشرہ ختم نبوت منانے کا اعلان کرتی ہے۔ تحصیل، یونین کونسل سطح پر کنونشن کا انعقاد کیا جائے گا۔ ضلع کے تمام یونین کونسل میں ۳، ۳ روزہ ختم نبوت کورس بھی منعقد کئے جائیں گے۔ (محسن محمود مبارک زئی لوئر دیر)
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۹ء ص )
ختم نبوت کانفرنس ڈسکہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام یکم ستمبر ۲۰۱۹ء بعد نماز مغرب جامع مسجد حاجی سلمان والی ڈسکہ شہر ضلع سیالکوٹ میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ صدارت مولانا حافظ محمد اسحاق، نگرانی مولانا فقیر اللہ اختر اور نقابت مولانا مفتی مبشر بدر نے کی۔ کانفرنس سے خصوصی خطاب مولانا اللہ وسایا نے فرمایا۔ علاوہ ازیں مولانا فضل شاکر، مولانا ایوب خان ثاقب، مولانا ارشد محمود خان، مولانا محمد طیب خان نے شرکت و بیانات کئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۱۹ء ص ۵۱)
ختم نبوت کانفرنس خوشاب
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام یکم ستمبر ۲۰۱۹ء کو چک نمبر ۱۰ خوشاب میں بعد نماز مغرب ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب وتوثیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کانفرنس کی نقابت مولانا محمد اشرف نے کی۔ تلاوت کلام مجید کی سعادت قاری عبداللہ نے جب کہ نعت رسول مقبول ﷺ کی سعادت جناب اسحاق مدنی نے حاصل کی۔ مولانا عبدالحکیم، مولانا محمد نعیم مبلغ ضلع خوشاب اور مولانا نور محمد ہزاروی کے بیانات ہوئے۔ کانفرنس کا اختتام مولانا مفتی محمد ساجد کی دعاء سے ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۹ء ص ۴۸)
ختم نبوت کانفرنس قائد آباد
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۲؍ستمبر ۲۰۱۹ء کو جامع مسجد مکی قائد آباد ضلع خوشاب میں بعد نماز عشاء ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز قاری عبدالرحمٰن کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ ہدیہ نعت پیش کرنے کی سعادت حافظ طاہر منیر کو حاصل ہوئی۔ نقابت کے فرائض مولانا تنویر احمد نے سرانجام دیئے۔ کانفرنس سے مولانا مفتی محمد زاہد، مولانا محمد نعیم مبلغ خوشاب اور مرکزی رہنما مولانا محمد اکرم طوفانی کے بیانات ہوئے۔ کانفرنس کا اختتام مولانا محمد اسماعیل کی دعاء پر ہوا۔ علاقہ بھر کے علماء کرام اور تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۹ء ص ۴۹)
ختم نبوت کانفرنس منڈی بہاؤ الدین
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام سالانہ ختم نبوت کانفرنس ۴؍ستمبر ۲۰۱۹ء بروز بدھ کو مرکزی جامع مسجد ریلوے روڈ میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی نقابت مسعود حجازی نے کی۔ ہدیہ نعت جناب حافظ فیصل بلال حسان نے پیش کیا۔ کانفرنس سے مولانا اللہ وسایا، مولانا نور محمد ہزاروی، مولانا محمد قاسم سیوطی، مولانا عبدالماجد شہیدی، قاری عبدالواحد اور مفتی طاہر مسعود نے خطابات کئے۔ کانفرنس میں منڈی بہاؤالدین کے علاوہ جہلم، گجرات اور سرگودھا سے بھی افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ کانفرنس کے تمام شرکاء کی میزبانی و انتظام پر خادم ختم نبوت بھائی مختار گجر کا شکریہ ادا کیا گیا۔ بھائی مختار گجر نے آئندہ سال منعقد ہونے والی کانفرنس میں پانچ عمرے کے ٹکٹ دینے کا بھی اعلان کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۱۹ء ص ۵۱)
ختم نبوت کانفرنس اسلام آباد
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۶؍ستمبر ۲۰۱۹ء بروز جمعۃ المبارک دن دس بجے مرکزی جامع مسجد لال اسلام آباد میں ختم نبوت کانفرنس شروع ہوئی۔ جس کی صدارت شیخ الحدیث مولانا عبدالرؤف نے فرمائی۔ کانفرنس میں قاری عبدالوحید قاسمی، مفتی تحسین اللہ، مولانا محمد طیب اور مولانا اللہ وسایا کے بیانات ہوئے۔ کانفرنس میں راولپنڈی واسلام آباد سے کثیر تعداد میں علماء کرام اور عوام الناس نے شرکت کی۔ (مولانا محمد زاہد وسیم)
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۹ء ص ۴۹)
ختم نبوت کانفرنس راولپنڈی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۷؍ستمبر بروز ہفتہ بعد نماز مغرب جامع مسجد موتی لیاقت روڈ راولپنڈی میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ مغرب کے بعد نشست کی صدارت شیخ الحدیث مولانا قاضی مشتاق احمد نے جب کہ بعد نماز عشاء دوسری نشست کی صدارت صاحبزادہ خواجہ عزیز احمد نے فرمائی۔ ہدیہ نعت عبدالباسط حسانی، حافظ محمد عمار علوی، بابا خورشید احمد اور حافظ اسامہ خالد علوی نے پیش کیں۔ کانفرنس میں مولانا اللہ وسایا، مولانا عزیز الرحمٰن ثانی، مولانا قاضی احسان احمد، مولانا قاضی عبدالرشید، مولانا عبدالمجید ہزاروی،
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مفتی اویس عزیز، مولانا محمد طیب اور مولانا محمد طارق کے بیانات ہوئے۔ کانفرنس کے انتظامات کی نگرانی مولانا محمد آدم خان اور مفتی ریاض محمد نے کی۔ کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لئے مولانا قاضی ہارون الرشید، مولانا محمد خرم، قاری محمد اسماعیل، مفتی مبارک شاہ، مفتی محمد ریحان شیخ، مفتی محمد انور شاہ، قاری محمد علی زمان نے اپنے رفقاء کے ساتھ دن رات خوب محنت کی۔ کانفرنس میں کثیر تعداد میں تاجر برادری نے بھی شرکت کی۔ چنانچہ تاجران راولپنڈی کے قائدین شاہد غفور پراچہ، شیخ محمد صدیق، شرجیل میر، شیخ آصف ادریس، ڈاکٹر محمد جمال ناصر نے ایمان افروز بیانات کئے اور یقین دہانی کرائی کہ تاجر برادری تحفظ ختم نبوت کے لئے ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے علماء کرام کے شانہ بشانہ ہوں گے۔ (مولانا زاہد وسیم)
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۹ء ص ۴۹)
تحفظ ختم نبوت سیمینار بسلسلہ یوم ختم نبوت ملتان
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام چوتھا سالانہ تحفظ ختم نبوت سیمینار بسلسلہ یوم تحفظ ختم نبوت ۷؍ ستمبر ۲۰۱۹ء بروز ہفتہ بعد نماز مغرب جامع مسجد اللہ اکبر گلبرگ کالونی ملتان میں منعقد ہوا۔ سیمینار کی صدارت مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ نے فرمائی۔ مولانا حافظ محمد سعد جالندھری نے ہدیہ نعت رسول مقبول ﷺ جب کہ محمد ابوبکر جالندھری نے ترانہ ختم نبوت پیش کیا۔ سیمینار سے مولانا محمد وسیم اسلم، مولانا منیر احمد جالندھری اور مولانا عزیز الرحمن جالندھری مرکزی ناظم اعلیٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان نے بیانات فرمائے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۹ء ص ۵۴، ۵۵)
ختم نبوت کنونشن بسلسلہ یوم ختم نبوت سکھر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع سکھر کے زیر اہتمام ۷؍ ستمبر ۲۰۱۹ء بعد نماز عشاء اقصیٰ مسجد نواں گوٹھ سکھر میں ختم نبوت کنونشن منعقد ہوا۔ امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سکھر قاری جمیل احمد بندھانی، مبلغ مولانا محمد حسین ناصر، ناظم مولانا عبداللطیف اشرفی نے خطاب کیا۔ (حافظ محمد اویس گجر)
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۹ء ص ۵۵)
یوم تحفظ ختم نبوت ریلی سرگودھا
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سرگودھا کے زیر اہتمام مولانا محمد اکرم طوفانی کی سرپرستی میں ۷؍ ستمبر ۲۰۱۹ء کو پاکستان کی نیشنل اسمبلی میں ہونے والے تاریخی فیصلہ کی یاد میں سرگودھا میں ہر سال ریلی کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ امسال بھی ۷؍ ستمبر ۲۰۱۹ء بروز ہفتہ ایک پروقار روڈ کارواں (ریلی) کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ضلع بھر سے موٹر سائیکلوں، سائیکلوں، گاڑیوں کے ایک ہجوم کی صورت میں ختم نبوت کے ہزاروں پروانوں نے شرکت کی، مولانا نور محمد ہزاروی، مولانا حیدر علی حیدر، مولانا ثناء اللہ ایوبی، مولانا عبدالرشید، پروفیسر عاصم اشتیاق، مولانا فضل الرحمن، مفتی جہانگیر، مولانا رحمت اللہ اور دیگر علماء مشائخ نے بھی ریلی کو پرامن بنانے میں قابل قدر کوششیں کیں۔ ریلی کی روانگی تقریباً صبح دس بجے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر لکڑ منڈی سے ہوئی۔ پرانا پل، سیٹلائٹ ٹاؤن، لاری اڈا، قینچی موڑ، ۴۷ پل، ۴۷ اڈا، سرگودھا یونیورسٹی روڈ سے گزرتا ہوا خیام چوک پر پہنچا۔ جہاں پر مجاہد ختم نبوت مولانا محمد اکرم طوفانی نے شرکاء ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ۷؍ ستمبر ہمارے ملک خداداد پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کے تحفظ کی یادگار ہے اور ۷؍ ستمبر ملک و اسلام کی ختم نبوت کے حوالے سے نظریاتی سرحدوں کے تحفظ کی یادگار ہے۔ ۱۹۵۳ء سے تحریک تحفظ ختم نبوت کا آغاز ہوا اور ہزاروں مسلمانوں نے خون کے نذرانے پیش کئے اور آخر ان کا خون رنگ لایا اور ۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کو پوری قومی اسمبلی نے جس میں تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام اور ممبران اسمبلی موجود تھے۔ جہاں تمام ممبران نے متفقہ طور
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پر قادیانیوں، مرزائیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دے کر ہمیشہ کے لئے ان کی ذلت و رسوائی کا اعلان کیا۔ ریلی کا اختتام مولانا طوفانی مدظلہ کی دعاء سے ہوا اور تمام شرکاء پرامن طور پر اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہو گئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۹ء ص ۵۵)
تحفظ ختم نبوت و یوم تشکر ریلی سرائے نورنگ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سرائے نورنگ ضلع لکی مروت کے زیر اہتمام ہر سال کی طرح امسال بھی ۷؍ ستمبر بروز ہفتہ کو یوم تشکر کے نام سے ایک ریلی بڑے جوش و خروش اور عقیدت و احترام سے نکالی گئی۔ ریلی کی کامیابی کے لئے روزانہ کی بنیاد پر تقریباً سو سے زائد چھوٹے بڑے پروگرامز منعقد کئے گئے۔ وسیع تعداد میں پمفلٹ تقسیم ہوئے۔ سکول، کالج اور دینی مدارس کے ساتھ ساتھ تمام سرکاری دفاتر اور معززین علاقہ کو خصوصی دعوت دی گئی۔ یہ ریلی جامع مسجد میناری نورنگ سے نکالی گئی۔ جو کہ بازار کے مختلف گزرگاہوں سے ہوتی ہوئی پاسبان پلازہ کے مقام پر جلسے کی صورت اختیار کر گئی۔ ریلی کی قیادت مولانا مفتی عبدالغفار، شیخ الحدیث مولانا محمد انور، شیخ الحدیث مولانا حسین احمد، مولانا عبدالرحیم، مفتی ضیاء اللہ، مولانا محمد ابراہیم ادہمی، مولانا محمد طیب طوفانی، مولانا عمر خان اور صاحبزادہ امین اللہ جان نے کی۔ اس موقع پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور جمعیت علماء اسلام کے درجنوں رہنماؤں اور کارکنوں سمیت بڑی تعداد میں سکول کالجز و دینی مدارس کے طلباء، علماء، خطباء، آئمہ مساجد، معززین علاقہ اور شہری حضرات موجود تھے۔ یوم تشکر ریلی پیر طریقت مولانا عبدالصبور نقشبندی کی دعاء پر اختتام پذیر ہوئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۹ء ص ۵۶)
ختم نبوت کانفرنس رستم
۷؍ ستمبر بروز ہفتہ پورے ملک کی طرح رستم گاؤں صادق وانڈ شکار پور میں یوم ختم نبوت کے حوالہ سے مولانا عبدالحکیم اور ان کے برادر مولانا عبدالحلیم کی زیر نگرانی بعد ظہر تا عصر جامع مسجد میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع سکھر کے ناظم مولانا عبداللطیف اشرفی، سکھر کے مبلغ مولانا محمد حسین ناصر اور مجاہد جمعیت مولانا محمد رفیق توحید کے خصوصی بیانات ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۹ء ص ۵۰)
ختم نبوت کانفرنس سیالکوٹ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۴؍ ستمبر ۲۰۱۹ء بروز ہفتہ کو بعد نماز مغرب جامع مسجد یوسف بنوری ہادی ٹاؤن سیالکوٹ میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ صدارت پیر سید شبیر احمد گیلانی امیر عالمی مجلس سیالکوٹ اور نگرانی مولانا فقیر اللہ اختر نے کی۔ کانفرنس کا آغاز قاری محمد بلال کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ جناب رانا محمد عثمان قصوری نے ہدیہ نعت پیش کیا۔ نقابت کے فرائض مولانا مفتی محمد داؤد نفیس نے انجام دیئے۔ کانفرنس سے اہل سنت بریلوی مکتب فکر کے مولانا سید علی رضا شاہ، جمعیت اہلحدیث کے مولانا ڈاکٹر عبدالحفیظ مظہر اور مولانا اللہ وسایا کے خصوصی بیانات ہوئے۔ علاوہ ازیں سید محبوب احمد گیلانی، مولانا محبوب الٰہی ہزاروی، مولانا قاری نذیر احمد، حافظ احمد مصدق قاسمی اور مولانا حماد انور قاسمی نے بھی بیانات و شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۱۹ء ص ۵۲)
ختم نبوت کانفرنس نارووال
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۵؍ ستمبر ۲۰۱۹ء جامع مسجد عثمانیہ گیلانی کالونی نارووال میں بعد نماز مغرب ختم نبوت
کانفرنس منعقد ہوئی۔ فخر القراء قاری محمد طلحہ عثمان نے تلاوت جب کہ رانا محمد عثمان قصوری نے نعت رسول محمد عربی ﷺ پیش کی۔ نقابت کے فرائض مولانا راشد محمود قاسمی نے سرانجام دیئے۔ صدارت مولانا مفتی محمد عصمت اللہ امیر نارووال اور نگرانی مولانا فقیر اللہ اختر نے فرمائی۔ بیانات مولانا محمد طیب زاہد اعوان، مولانا افتخار اللہ شاکر، مولانا نور الحسن انور، پروفیسر علامہ شکیل احمد، مولانا اللہ وسایا کے ہوئے۔ مولانا اللہ وسایا کی دعاء پر کانفرنس اختتام پذیر ہوئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۱۹ء ص ۵۲)
ختم نبوت کورس سکھر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سکھر کے زیر اہتمام دو روزہ تحفظ ختم نبوت کورس ۱۷، ۱۸؍ستمبر ۲۰۱۹ء جامعہ اشرفیہ سکھر میں صبح دس تا بارہ جب کہ ظہر تا عصر جامعہ دارالعلوم سکھر میں منعقد ہوا۔ ان دو دن کے کورس میں سینکڑوں طلباء کرام نے شرکت کی۔ مجلس کی طرف سے کاپیاں اور قلم مفت دی گئیں۔ مولانا محمد حسین ناصر مبلغ سکھر نے ابتدائی بیان وکورس کی غرض وغایت بیان کی۔ مفتی محمد راشد مدنی نے جامعہ اشرفیہ، جامعہ دارالعلوم سکھر، جامعہ فاطمۃ الزہراء للبنات، جامعہ اشرفیہ للبنات کے طلباء وطالبات کے دو دن کے لیکچروں میں بھرپور ذہن سازی کرتے ہوئے کہا کہ قادیانیت کسی مذہب کا نام نہیں بلکہ یہ یہود ونصاریٰ کے ایجنٹوں کا ایک گروہ ہے۔ جو اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں کو نقصان پہنچارہے ہیں۔ عالمی مجلس سکھر کے امیر قاری جمیل احمد بندھانی، ناظم مولانا عبداللطیف اشرفی نے بھر پور سرپرستی کی جامعہ اشرفیہ کے استاذ الحدیث مفتی محمد شفیع صاحب مدظلہ و دیگر اساتذہ کرام دارالعلوم سکھر کے اساتذہ نے بھر پور تعاون کیا۔ (حافظ اویس گجر)
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۹ء ص ۵۳)
ختم نبوت کانفرنس اوکاڑہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اوکاڑہ کے زیر اہتمام ختم نبوت کانفرنس ۱۸؍ستمبر ۲۰۱۹ء جامعہ اشرفیہ رحمان کالونی میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی صدارت مولانا قاری الیاس۔ سرپرستی مولانا قاری غلام محمود انور۔ نگرانی مولانا قاری سعید احمد عثمانی ومولانا عبدالقدیر مہتمم جامعہ اشرفیہ نے کی۔ تلاوت کی سعادت قاری عاصم اور عبدالودود نے حاصل کی۔ قاری عبدالرحیم، حافظ محمد عثمان فاروقی، چوہدری خالد محمود، مولانا یاسین تائب نے ہدیہ نعت پیش کیا۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور مولانا شبیر احمد عثمانی فیصل آباد کے خصوصی بیانات ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۹ء ص ۵۰)
ختم نبوت کورس حویلی لکھا ضلع اوکاڑہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۸، ۱۹؍ستمبر ۲۰۱۹ء بروز بدھ، جمعرات حویلی لکھا ضلع اوکاڑہ میں مدرسہ جامعہ اشرفیہ پارسا کالونی میں ختم نبوت کورس منعقد ہوا۔ جس میں مفتی وارث علی اور مولانا عبدالرزاق مجاہد اور مرکزی ناظم تبلیغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کے لیکچر ہوئے اور لٹریچر تقسیم کیا گیا۔ نیز ۲۰؍ستمبر ۲۰۱۹ء جمعۃ المبارک کا خطبہ مرکزی جامع مسجد بلقیسہ میں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے اور جامع مسجد ڈھکی والی حویلی لکھا میں عبدالرزاق مجاہد نے ارشاد فرمایا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۹ء ص ۵۳)
ختم نبوت کانفرنس قصور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۲۰؍ستمبر ۲۰۱۹ء بعد نماز عشاء ختم نبوت کانفرنس قصور شہر کی مرکزی جامع مسجد کمبوہاں والی
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
میں مولانا مفتی محمد احمد کی نگرانی و سرپرستی میں منعقد ہوئی۔ تلاوت کی سعادت استاذ القراء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت قصور کے امیر قاری مشتاق احمد رحیمی نے جب کہ نعت کی سعادت قاری حسان بلال اور افتخار احمد فخر نے حاصل کی۔ مولانا قمر سلیم امام جامع مسجد کمبوہاں والوں نے مہمانوں کا خوب استقبال کیا۔ کانفرنس سے مولانا نور عباس ، مولانا عبدالرزاق مجاہد اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کے بیانات ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۹ء ص ۵۰)
تاریخ ساز ختم نبوت کانفرنس لاہور کی تیاری کا آغاز
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے زیر اہتمام آل پارٹیز سالانہ ختم نبوت کانفرنس ۲۱؍ ستمبر ۲۰۱۹ء کو وحدت روڈ کرکٹ گراؤنڈ لاہور میں بڑے تزک واحتشام سے منعقد ہورہی ہے۔ جس کی تیاری کے لئے رابطہ کمیٹی جو کہ مولانا عزیز الرحمن ثانی ، مولانا قاری علیم الدین شاکر ، پیر محمد رضوان نفیس ، مولانا حافظ محمد اشرف گجر ، مولانا نصیر احمد احرار ، قاری ظہور الحق ، مولانا خالد محمود ، مولانا عبدالنعیم ، قاری عبدالعزیز ، مولانا سعید وقار دیگر حضرات پر مشتمل ہے ، نے شہر بھر میں اجلاسات ، کنونشنز و کانفرنسوں کا آغاز کر دیا ہے۔ ۲۴؍ اگست ۲۰۱۹ء بروز ہفتہ کو عالمی مجلس لٹن روڈ کے زیر اہتمام مہند آٹوز مزنگ لاہور میں بعد نماز عصر اجلاس منعقد ہوا۔ ۲۵؍ اگست بروز اتوار کو جامع مسجد مدینہ جمیل ٹاؤن میں زیر سرپرستی مولانا محب النبی ، ۲۶؍ اگست بروز سوموار کو بعد نماز عشاء جامع مسجد بلال اے بلاک سبزہ زار۔ ۲۷؍ اگست بروز منگل جامع مسجد الرفیق گلستان کالونی مصطفیٰ آباد لاہور کینٹ اور بعد نماز عشاء جامع مسجد عمر بن خطاب ایچ بلاک سبزہ زار مولانا مفتی عزیز الرحمن کی زیر صدارت کنونشن ، ۲۹؍ اگست بروز جمعرات بعد نماز عشاء جامع مسجد رحمۃ للعالمین کھاڑک ، ۳۰؍ اگست بروز جمعۃ المبارک بعد نماز عشاء جامع مسجد دارالعلوم حسانیہ رانا ٹاؤن میں پروگرام منعقد ہوئے۔
ان پروگراموں میں مولانا محمد یعقوب فیض ، مولانا حسام الدین ، مولانا دوست محمد ، مولانا قادر بخش اعوان ، مولانا اللہ یار ، مولانا قاری محمد شریف ، مولانا سعید الرحمن ، قاری عبدالرحمن ، مولانا عابد حنیف ، مولانا شبیر احمد ، مفتی عبدالعزیز ، مولانا راؤ آصف ، مولانا خبیب ، مولانا عبدالرحمن ، مولانا شکیل ، مولانا عبدالغفور ، مولانا محمد بلال ، مولانا محمد قاسم ، مولانا مشتاق ، قاری محمد ادریس رحیمی ، مفتی رشید احمد العلوی ، قاری عمران رحیمی ، قاری محمد زکریا ، مولانا عبد الحکیم قاسمی ، مولانا داؤد ، قاری محمد نفیس رحیمی ، سید افتخار گیلانی ، ملک عمران ، مولانا یونس ، مولانا طاہر نذیر ، مولانا سلیم ، قاری غلام اللہ فاروقی ، مولانا غلام مصطفیٰ ، ایڈووکیٹ حاجی نذیر میئو و دیگر سینکڑوں حضرات شریک ہوئے۔ مقررین نے کہا کہ ختم نبوت کانفرنس میں بھر پور انداز میں شرکت کریں گے۔ ۲۱؍ ستمبر ختم نبوت کانفرنس اتحاد امت کا عملی نمونہ ثابت ہوگی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۲۰۱۹ء ص ۵۶)
عظیم الشان تحفظ ختم نبوت کانفرنس لاہور
تقریباً دو ماہ قبل عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے عہدیداروں ، اہم ذمہ داروں اور رابطہ کمیٹی کا اجلاس مرکز ختم نبوت جامع عائشہ نیو مسلم ٹاؤن لاہور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ گزشتہ سالوں میں (۱) بادشاہی مسجد ، (۲) شالامار باغ ، (۳) جامعہ اشرفیہ فیروز پور روڈ ، (۴) جامعہ مدنیہ رائے ونڈ اور (۵) چونگی امرسدھو لاہور کی طرح ایک تاریخ ساز ختم نبوت کانفرنس ۲۱؍ ستمبر ۲۰۱۹ء کو کرکٹ گراؤنڈ وحدت روڈ لاہور میں منعقد کی جائے۔ اس کے لئے لاہور اور گردونواح میں عوامی رابطہ مہم کے حوالے سے قائم کی گئی مرکزی رابطہ کمیٹی نے ماتحت قائم کی گئیں۔ پچاس رابطہ کمیٹیوں کے ممبران کے ہمراہ مختلف علاقوں ، مساجد و مدارس ، تاجر برادری ، وکلاء
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اور عصری تعلیمی اداروں میں چھوٹے بڑے ایک سو سے زائد پروگرام، کانفرنسیں اور اجتماعات جمعہ منعقد کئے۔ عوامی رابطہ مہم کے سلسلہ میں عوام الناس کو اس تاریخ ساز ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی۔ بالخصوص جامعہ اشرفیہ، جامعہ مدنیہ، جامعہ قاسمیہ، دارالعلوم مدنیہ، امدادالعلوم، جامعہ محمدیہ چوبرجی، جامعہ عثمانیہ آسٹریلیا مسجد، جامعہ محمدیہ کاہنہ، جامعۃ الازہر، جامعہ احیاء العلوم، جامعہ عبداللہ بن عمر، جامعہ منظور الاسلامیہ، جامعہ دارالعلوم اسلامیہ، سیشن کورٹ بار روم، حفیظ سنٹر مارکیٹ، لٹن روڈ مارکیٹ، کریم مارکیٹ، اچھرہ مارکیٹ، برانڈ رتھ روڈ مارکیٹ، شاہ عالم مارکیٹ، سمیت مختلف مارکیٹوں میں تاجروں سے رابطہ کئے گئے اور اسی طرح لاہور کے گردونواح شہروں وعلاقوں گوجرانوالہ، ڈسکہ، سیالکوٹ، نارووال، ننکانہ، شیخوپورہ، قصور، پتوکی، رائے ونڈ، مانگا منڈی، نیا و پرانا کاہنہ، راجہ بولا، ہیر، چاچووالی، شاہدرہ، کوٹ عبدالمالک، سبزہ زار، انارکلی، گلشن راوی، سمن آباد، رسول پارک، نیومزنگ، سعدی پارک، لاہور کینٹ، ماڈل ٹاؤن، ہربنس پورہ، منہالہ، شادی پورہ، باغبانپورہ، ٹھوکر نیاز بیگ، نشاط کالونی، جوہر ٹاؤن، چونگی امرسدھو، قینچی، والٹن، گلبرگ، غازی آباد، مصطفیٰ آباد، گجر کالونی سمیت درجنوں مقامات پر اجلاسات و اجتماعات کئے گئے۔
عوامی اجتماعات میں لوگوں کو کانفرنس میں شرکت کی دعوت اور ترغیب دی گئی۔ الحمدللہ! اس دوماہ کی شبانہ روز کاوشوں سے وحدت روڈ کی کانفرنس ایک فقید المثال وعدیم النظیر کانفرنس بن گئی۔ ہزاروں لوگوں کی شرکت سے کرکٹ گراؤنڈ کا وسیع وعریض میدان تنگی دامن کی شکایت کرنے لگا اور عوام نے گراؤنڈ کے باہر چوکوں چوراہوں سڑکوں پر میدان سجا لئے۔ لاہور وقرب جوار کے علاقوں سے ہزاروں عاشقان رسول بسوں اور چھوٹی بڑی گاڑیوں میں قافلوں کی شکل میں جوق در جوق کانفرنس میں شریک ہوئے اور شہر کے مختلف علاقوں سے نوجوانوں نے موٹرسائیکلوں ریلیوں کی شکل میں ختم نبوت زندہ باد کے فلک شگاف نعرے لگاتے ہوئے کانفرنس کو رونق بخشی۔ گزشتہ چند ماہ سے منکرین ختم نبوت فتنہ قادیانیت کی بالخصوص وطن عزیز پاکستان اور بالعموم بیرون ممالک میں اسلام و پاکستان دشمن سرگرمیوں اور فتنہ قادیانیت کی ناپاک ارتدادی ریشہ دوانیوں سے غیور مسلمانوں میں جو اضطراب پیدا ہورہا تھا اس تاریخ ساز ختم نبوت کانفرنس سے جہاں فتنہ قادیانیت کی ناپاک دشمن سرگرمیوں اور فتنہ قادیانیت کی ناپاک مہمات کا اثر زائل ہوا وہاں پر شمع ختم نبوت کے پروانوں کے ایمان کو ایک نئی جلاء ملی اور ایمانی جوش وجذبہ میں اضافہ ہوا اور شمع رسالت کے پروانوں کے چہرے خوشی سے جگمگا اٹھے۔
یہ تاریخی ختم نبوت کانفرنس اس حوالہ سے بھی تاریخ ساز ہے کہ اس کانفرنس میں امت مسلمہ کے تمام مکاتب فکر کے علماء کرام ومشائخ عظام اور دینی وسیاسی رہنماؤں نے شریک ہوکر اس کانفرنس کو اتحاد امت کا گہوارہ بنایا اور یہ ثابت کردیا کہ اسلام کے بنیادی عقیدہ تحفظ ختم نبوت اور انسداد فتنہ قادیانیت کے لئے امت مسلمہ ہمیشہ کی طرح متحد ہے۔ امت عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار ہے۔ واضح رہے کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام سالانہ تحفظ ختم نبوت کانفرنس وحدت روڈ کرکٹ گراؤنڈ لاہور میں نئے جوش وخروش سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی دونشستیں ہوئیں۔ پہلی نشست مغرب تا عشاء اور دوسری نشست عشاء کے بعد سے رات گئے تک۔
پہلی نشست:
نشست کا آغاز تلاوت قرآن مجید سے ہوا۔ اس کے بعد حمد باری تعالیٰ پیش کی گئی۔ پہلی نشست کی صدارت مجلس لاہور کے نائب امیر پیر میاں محمد رضوان نفیس نے کی۔ سالانہ ختم نبوت کانفرنس سے مجلس کے مرکزی ناظم تبلیغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے کہا کہ قادیانی اور ان کے آلہ کاروں کا خطرناک کھیل ملکی سلامتی کے لئے زہر قاتل ہے۔ قادیانی اسرائیل و بھارت کے ساتھ سیاسی گٹھ جوڑ پاکستان
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
اور ملت اسلامیہ کے خلاف ایک بہت بڑی سازش ہے قادیانیوں کی پاکستان کے خلاف سازشوں کا راستہ روکیں۔ جنرل سیکرٹری لاہور مولانا علیم الدین شاکر نے کہا کہ یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے کہ قادیانیوں نے پاکستان کو تسلیم ہی نہیں کیا اور وہ اکھنڈ بھارت کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔ مجلس کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولانا عزیز الرحمن ثانی نے کہا کہ ہماری تاریخ گواہ ہے وطن کی سلامتی اور دفاع کے لئے ہم نے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا ۱۹۷۴ء کو پاکستان کی قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو متفقہ طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا تھا۔ علماء و شمع رسالت کے پروانوں کی عظیم ولازوال قربانیاں رنگ لائیں۔ مبلغ ختم نبوت لاہور مولانا عبد النعیم نے کہا کہ سول وملٹری بیوروکریسی کی کلیدی پوسٹوں اور حساس عہدوں پر قادیانیوں کا براجمان ہونا ملکی سلامتی کے لئے سنگین خطرہ ہے۔ جن کا محاسبہ بہت ضروری ہے۔ قادیانیوں کو تمام کلیدی عہدوں سے الگ کیا جائے۔ قادیانیوں کا تمام لٹریچر ضبط کیا جائے۔ تحفظ ناموس رسالت اور تحفظ ختم نبوت کے قانون کا ہر صورت تحفظ کریں گے۔ شیخوپورہ مجلس کے مبلغ مولانا خالد عابد نے کہا کہ پاکستان کی مذہبی قوتیں دینی جماعتیں پاکستان کی محبت کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں۔ عقیدہ ختم نبوت اسلام کی روح ہے اس کی عظیم عمارت اس بنیاد پر قائم ہے۔ آئین پاکستان میں قادیانیت کے بارے میں دفعات کے خلاف ہر سازش کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا۔ مولانا عبدالعزیز نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قادیانیت کوئی مذہبی فرقہ نہیں۔ بلکہ عالم اسلام کے خلاف استعمار کا خود کاشتہ پودا ہے اور استعمار کے ایجنڈے پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں ۱۹۷۴ء کی قومی اسمبلی کے ممبران اور تحریک ختم نبوت کے قائدین کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینا، اس وقت کی اسمبلی کا عظیم کارنامہ ہے۔ عالمی مجلس سیالکوٹ کے مبلغ مولانا فقیر اللہ اختر اور گوجرانوالہ کے مبلغ مولانا عارف شامی نے کہا کہ سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں قادیانیوں کی غیر قانونی اور اشتعال انگیز سرگرمیاں قابل تشویش اور لمحہ فکریہ ہیں۔ حکومت پاکستان نوجوان نسل کا ایمان بچانے کے لئے ملک کے تمام تعلیمی اداروں کے داخلہ فارموں میں ختم نبوت کا حلف نامہ داخل کرے۔ مولانا جمیل الرحمن اختر نے کہا کہ ختم نبوت کے غیر متنازعہ اور مشترکہ مسئلہ کو فرقہ واریت سے جوڑنے کے لئے یہودی و قادیانی ایجنڈہ کو پروان چڑھایا جارہا ہے۔ اسلامیان پاکستان اس گھناؤنی سازش کا ادراک کرکے اتفاق و یک جہتی سے ناکام بنانے میں ہراول دستے کا کردار ادا کررہے ہیں۔ کانفرنس کی پہلی نشست سے مولانا خالد محمود، مولانا سعید وقار، مفتی عزیز الرحمن، مولانا عتیق الرحمن، مولانا محمد قاسم گجر، مولانا صوفی عبید اللہ، مولانا قاضی عبدالودود، مولانا عبدالرحمن، قاری معاویہ محمود مکی، قاری عبداللہ نفیس، مفتی عمر یونس، پیر زبیر جمیل، مولانا غضنفر عزیز ودیگر نے بھی خطابات کئے۔
دوسری نشست:
دوسری نشست کا آغاز عشاء کی نماز کے بعد ہوا اور یہ کانفرنس رات گئے تک جاری رہی۔ کانفرنس میں ہزاروں عاشقان مصطفیٰ نے شرکت کی۔ اس نشست کی صدارت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی نائب امراء مولانا پیر حافظ ناصر الدین خاکوانی، صاحبزادہ مولانا عزیز احمد اور خانقاہ سراجیہ کندیاں کے سجادہ نشین مولانا صاحبزادہ خلیل احمد نے کی۔ اس نشست کے مہمان خصوصی جمعیۃ علماء اسلام و متحدہ مجلس عمل پاکستان کے مرکزی امیر قائد جمعیۃ، قائد اسلامی انقلاب مولانا فضل الرحمن تھے۔
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی قیادت کا مشکور ہوں جنہوں نے مجھے اس بابرکت محفل میں شرکت کی دعوت دی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے ختم نبوت کے دشمنوں کا جس طرح تعاقب کیا اور اسلام کے قلعہ کی حفاظت کی وہ تاریخ کا انمٹ حصہ ہے۔ اس پر میں انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ برصغیر میں عقیدہ ختم نبوت کا انکار انگریز استعمار کی وہ فتنہ گری ہے۔ جو آج پوری دنیا میں پھیل چکا ہے۔ جس کا تحفظ اور نگرانی آج مغرب کر رہا ہے کوئی بھی مسلمان عقیدہ ختم نبوت پر کسی قسم کی نرمی نہیں برت سکتا میں
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سلام عقیدت پیش کرتا ہوں اپنے اکابر کو جنہوں نے ہمیں شعور دیا ۔ اگر ہم واقعتاً اپنے اکابر کے نام لیوا ہیں اور ان کے وارث ہیں تو اس کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی صلاحیتوں کو اس فتنہ کی سرکوبی کے لئے وقف کر دیں۔ آج ملک میں سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ یہ ایک نظریاتی کشمکش ہے۔ یہ معاملہ آج کا نہیں چودہ سو سال سے یہ حق و باطل کی کشمکش جاری ہے۔ اگر بے دین طبقہ اپنے آقاؤں سے وفاداری کا مظاہرہ کر سکتا ہے تو ہم بھی اپنے اکابر کے نقش قدم پر چل سکتے ہیں۔ ٹی وی کے پروپیگنڈوں کا شکار مت ہوں یہ وقت استقامت کا متقاضی ہے ہم ٹی وی اور میڈیا کے تبصروں سے مرعوب نہیں ہونے والے۔ جعلی حکومت آنے کے بعد مدارس سے متعلق کس قسم کی سوچ کا اظہار کیا گیا۔ توہین رسالت کی مرتکب خاتون کو عالمی دباؤ پر رہا کیا گیا۔ ایک نظریاتی ریاست میں توہین رسالت کے مرتکب کو تحفظ فراہم کیا گیا۔
آج ٹکراؤ نظریات کا ہے۔ ہم معذرت خواہانہ رویہ کیوں اختیار کریں۔ ہم نے اس ملک میں عالمی دباؤ کے نتیجہ میں ہونے والے فیصلے کے خلاف پندرہ ملین مارچ کئے جمہوریت کو آئین تحفظ دیتا ہے۔ تو ہم اس کے تحفظ کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ آئین ختم نبوت کے قانون کو بھی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ جو بات ہم کر رہے ہیں یہ ملک کے آئین کے عین مطابق ہے پوری دنیا کو بتانا چاہتا ہوں کہ تم نے ختم نبوت کو لاوارث سمجھ رکھا ہے۔ مگر یاد رکھو اس کے محافظ پوری دنیا میں موجود ہیں اس قانون کی حفاظت کرنا بخوبی جانتے ہیں اس ملک میں اسلام اور ناموس رسالت لاوارث نہیں ۔ میں پیغام دینا چاہتا ہوں کہ پاکستانی عوام کسی سے مرعوب نہیں یہ اسلام اور عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ کرنا جانتی ہے۔ میری تاریخ جدوجہد آزادی سے بھری پڑی ہے میں غلامی سے انکار کرتا ہوں میں آج بھی آزادی کا علمبردار ہوں تم نے الیکشن میں دھاندلی کرائی اور بیرون دنیا کو پیغام دیا کہ اس ملک میں مذہبی طبقے کی اہمیت نہیں۔ ہم نے پندرہ ملین مارچ کر کے ثابت کیا کہ مذہبی طبقہ آج بھی ثابت قدم ہے۔ اگر جمہوریت مانتے ہو تو دیکھ لو ہمارے ملین مارچ جس میں لاکھوں عوام نے جمع ہو کر اپنا وجود ثابت کر دیا اب ان روایات کو تبدیل کرنا ہوگا۔ جمعیت علماء اسلام ایک مضبوط سیاسی قوت ہے اگر ہمارا راستہ روکا گیا تو کسی کو بھی چلنے نہیں دیں گے۔ آج ملک میں ہر طبقہ بے چین ہے۔ انسانی حقوق کے ادارے بھی پریشان ہیں۔ نوجوانوں کو نوکریوں کا وعدہ کر کے بے روزگار کر دیا گیا۔ پاکستان کی موجودہ حکومت نے گزشتہ تمام حکومتوں کے ریکارڈ توڑ دیئے۔ قرضوں میں ریکارڈ اضافہ ہو چکا آج ملک میں کاروباری طبقہ عدم اطمینان کا شکار ہے۔ سرمایہ سمٹ چکا۔ کوئی بندہ سرمایہ کاری کرنے کو تیار نہیں۔
کرتار پورہ کوریڈور کو کھول کر سکھوں اور قادیانیوں کو راستہ فراہم کیا جارہا ہے یہ کیا کھیل کھیلا جارہا ہے۔ جعلی وزیر اعظم ایران میں جاکر اس بات کا اعترافی بیان دے رہا ہے کہ ہمارا ملک دہشتگردی میں ملوث ہے آج وزیر اعظم وعدہ معاف گواہ بن چکا۔ پوری دنیا میں قادیانی نیٹ ورک متحرک ہوا اور پاکستان سے امیدیں وابستہ کر لی گئیں۔ قادیانی اطمینان کا اظہار کر رہا ہے کہ پاکستان کا آئین تبدیل ہوگا ربوہ ٹائمز کرتار پور منصوبہ پر خوشی کا اظہار کر رہا ہے کیا ہم اس سے کیا معنی اخذ کر سکتے ہیں ایسے فیصلے باعث تشویش ہیں کیا اس ملک میں ایسی سازشیں ہوتی رہیں گی اور ہم خاموش رہیں گے۔ صاف کہنا چاہتا ہوں کہ ایسے گھناؤنے اقدام کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے آج جمہوریت پسند اور مذہب پسند طبقہ خدشات کا شکار ہے ہم تمام طبقات کی آواز بن کر آئے ہیں۔ ہم عام آدمی کے حقوق کی خاطر لڑ رہے ہیں۔ عام آدمی مہنگائی کے ہاتھوں مجبور ہو چکا اگر آج ہم میدان میں آئے ہیں تو آئین اور قانون کے دائرہ میں رہ کر کام کر رہے ہیں مذہب لاوارث نہیں ہم تنہا نہیں، قوم ہمارے ساتھ ہے۔ آج چائنہ جیسا دوست ملک ہم سے ناراض ہو چکا، ایران سے بھی تعلقات کچھ اچھے نہیں، اسرائیل سے دوستی کی فکر ہے اور اسے تسلیم کرنے کی باتیں جاری ہیں کسی بھی ملک کو تسلیم کرنے کا تعلق اس کے وجود سے ہوتا ہے اسرائیل کو تسلیم کرنا فلسطین کے قبضے کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔ فاٹا انضمام کے وقت عجلت سے کام لیا گیا اس موقع پر میں تنہا
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پکارتا رہا کشمیر کا انضمام بھی فاٹا انضمام کی طرز پر کیا گیا ہے۔ جعلی وزیر اعظم نے آزاد کشمیر میں سرکاری ملازمین جمع کر کے جلسہ کیا۔ جسے وہاں کی عوام نے مسترد کیا۔ ہم نے آزاد کشمیر میں جلسہ کیا اور ثابت کیا کہ ہم حقیقی عوام کے ترجمان ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہر میدان میں سرخرو کیا عوام کی جانب سے اٹھنے والے شور و غوغا میں ان کشمیر فروشوں کے عیب چھپ گئے ہم کشمیری عوام کے ساتھ ہیں یہ میدان میں کھڑے ہونے والے حکمران نہیں جو کچھ کرنا ہے میں اور آپ نے کرنا ہے۔ چائنہ نے ۷۰ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی مگر اس کو ناراض کر دیا گیا یہ ناجائز حکومت ہے، اس کا وجود عوام کے ووٹ کے نتیجہ میں نہیں ہوا اس نا اہل اور ناجائز حکومت کا خاتمہ ضروری ہے تمام سیاسی جماعتوں نے متفقہ طور پر الیکشن کو دھاندلی زدہ قرار دیا ہے ہم اس دھاندلی زدہ الیکشن کے خلاف اسلام آباد کی جانب آ رہے ہیں پوری قوم ہمارے ساتھ ہے، ہر جماعت کا کارکن ہمارے ساتھ آئے گا تاجر ، ڈاکٹر اور صحافی سب ہمارے ساتھ ہیں آج میڈیا پر بھی قدغن لگائی جارہی ہے۔ ہم مظلوم طبقات کی آواز بن کر آزادی مارچ کر رہے ہیں۔
جمعیۃ علماء پاکستان کے مرکزی رہنما علامہ شاہ محمد اویس نورانی نے کہا کہ ۱۲۶ دن قوم کی بیٹیوں کو سر میدان نچانے والے آج ہمارے آزادی مارچ کو مذہب کارڈ کا طعنہ دے رہے ہیں۔ علماء اور مساجد سے وابستہ افراد اور تبدیلی والوں کے دھرنے کا فرق قوم بخوبی جانتی ہے۔ ہم اسلام آباد آزادی مارچ میں اس ملک کے تحفظ کی خاطر آئیں گے۔ ہمارا آزادی مارچ کسی قسم کے تصادم کے لئے نہیں ہم پر امن لوگ ہیں اس ملک کو مزید تباہ نہیں دیکھنا چاہتے ہیں۔ آج قادیانیت کی پشت پناہی کی جا رہی ہے۔ جو کام ستر سال میں نہیں ہو سکے آخر کیوں ایک سال میں کئے جا رہے ہیں۔ مولانا ثابت قدم ہیں اور ہمارے اکابر نے میدان میں ثابت قدمی کا سبق دیا ہے۔ ختم نبوت تا قیامت محفوظ رہے گی ہم اس کا تحفظ ہر حال میں کرنا جانتے ہیں اس سر زمین پر علماء و مشائخ کا خون شامل ہے اس سر زمین کا تحفظ ہم پر فرض ہے یہ ملک اسلام کے چاہنے والوں کا ہے اس ملک میں گولڈ اسمتھ کی اولاد کے لئے کوئی جگہ نہیں جب مولانا فضل الرحمن آزادی مارچ کی حتمی تاریخ کا اعلان کریں گے تو قوم دیکھے گی کہ قافلے کیسے نکلتے ہیں قوم مطمئن رہے مولانا نہ ڈیل کریں گے نہ ڈھیل دیں گے۔
جمعیۃ علماء اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ ختم نبوت کے کارکنان اور قیادت کا شکرگزار ہوں، جنہوں نے اس بابرکت محفل کا انعقاد کیا۔ پاکستان اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا، چاہئے تو یہ تھا کہ اس مملکت خداداد میں ہمارے عقائد اور مذہب کا تحفظ کیا جاتا مگر بد قسمتی سے اسلام کے نام پر معرض وجود میں آنے والی ریاست میں بھی شعائر اسلام محفوظ نہیں مذہبی جماعتوں کا وجود اسی لئے ہے کہ اسلامی شعائر کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ علماء کا احسان ہے۔ جنہوں نے قادیانیت کو آشکارہ کیا اور انکا دجل وفریب دنیا کے سامنے لائے ہمارے اکابر کی کوششوں کے نتیجہ میں پارلیمنٹ سے قادیانیت کو کافر قرار دیا گیا اور اسے آئین کا حصہ بنایا گیا ہمارے ملک کا آئین ، قادیانیت کو اس ملک میں کسی بھی کلیدی عہدے پر آنے کی اجازت نہیں دیتا۔ ہم نے پارلیمان میں اقلیت کے باوجود ان سازشوں کا تنہا مقابلہ کیا ۱۹۷۴ء میں بھی علماء کی مختصر جماعت نے سیکولر جماعتوں سے بھی ان کے کفر پر دستخط کرائے ماضی میں بھی سلمان تاثیر نے جب آسیہ کیس میں ایسے بیانات دیئے جن سے مذہبی طبقے کے جذبات مجروح ہوئے۔ گزشتہ حکومت میں بھی ختم نبوت قانون میں ترمیم کی کوشش کی گئی جسے مولانا نے عمرہ کے سفر میں ہی کوششوں کے بعد واپس کرایا اللہ کا فضل ہے پارلیمنٹ نے ۱۹۷۴ء میں قادیانیت کو کافر قرار دیا تھا۔ ۲۰۱۸ء میں بھی حلف نامہ کی بحالی پر ہماری پارلیمنٹ نے اس پر مہر ثبت کی۔ جب آئین سے اسلام کو نکالنے کی بات آئی تو مولانا فضل الرحمن نے تنہا اس کا مقابلہ کیا اور اس کو محفوظ بنایا قائد اعظم اور علامہ اقبال نے تو اسلام اور مذہب کی بات کی تھی اگر مذہب قبول نہیں تو بانیان پاکستان سے علیحدگی کا اعلان کریں آخر کیوں نام قائد اعظم کا لیا جاتا ہے۔ مگر سیکولر نظریات کی ترویج کی جارہی
تحریک ختم نبوت جلد (١٠) ٢٠١٩ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن اس وقت پوری قوم کی آواز ہیں جب مولانا نے کال دی تو سلیکٹڈ کا جینا حرام کر دیں گے سلیکٹڈ کو کہنا چاہتا ہوں فوری مستعفی ہو جائے وگرنہ آزادی مارچ کا جلد اعلان کر دیا جائے گا۔
جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی نائب امیر جناب لیاقت بلوچ نے کہا کہ قادیانیت ایک مرتبہ پھر عالمی استعمار کی سرپرستی میں پھر متحرک ہے انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ پاکستان میں ختم نبوت اور مذہبی معاملات اور ناموس مصطفیٰ ﷺ کے قانون کو بدلنا نہ ممکن ہے اور تم نے اس کو بار بار آزما لیا ہے۔ ہم ناموس رسالت کے سپاہی ہیں عقیدہ ختم نبوت پر ایمان رکھنے والے ایک ہیں۔ حکمرانوں نے کشمیر کا سودا کر دیا ہے اور یہ جہاد سے منہ موڑ چکے ہیں ہم اپنے اس فرض منصبی کو پہچانتے ہیں۔ پاکستان قادیانیت کے مستقبل کا قبرستان بن کر رہے گا اور ملک عزیز میں قرآن وسنت کا نظام غالب ہو کر رہے گا۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا اللہ وسایا نے کہا کہ قانون توہین رسالت اور ٢٩٥-سی اس وقت امریکہ اور عالمی طاقتوں کی زد میں ہے۔ اس قانون میں ترمیم یا خاتمہ کی کوئی جسارت نہیں کر سکتا۔ اکھنڈ بھارت کا مذہبی عقیدہ رکھنے والے پاکستان کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے۔ آئین پاکستان کے باغی قادیانی آئین کی مکمل پاسداری کریں۔ پاکستان کی سلامتی دل و جان سے زیادہ عزیز ہے۔ پاکستان ایک عظیم مملکت اور ایٹمی قوت سے سرشار ملک ہے پاکستان کا بچہ بچہ اپنے وطن عزیز کی سالمیت کے لئے جانوں کے نذرانے پیش کرنے سے دریغ نہیں کریں گے۔ دنیا بھر کے مسلمانوں پر مظالم یہود و ہنود و عالمی کفر کی گہری سازش ہے لاکھوں بے گناہ مسلمانوں کی قربانیاں رنگ لائیں گی۔
جمعیت علماء اسلام کے مولانا محمد امجد خان نے کہا کہ قادیانی اور ان کے آلہ کاروں کا خطرناک کھیل ملکی سلامتی کے لئے زہر قاتل ہے۔ قادیانیوں کی پاکستان کے خلاف سازشوں کا راستہ روکیں۔ کیونکہ یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے کہ انہوں نے پاکستان کو تسلیم ہی نہیں کیا اور وہ اکھنڈ بھارت کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔
جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت اور دینی تعلیمات و اسلامی اقدار اور علماء کرام کو دیوار سے لگانے کی سازشیں امت مسلمہ کے لئے لمحہ فکریہ ہیں۔ امتناع قادیانیت ایکٹ کی روشنی میں قادیانیوں کو اسلامی شعائر، کلمہ طیبہ اور قرآنی آیات کے استعمال سے منع کیا جائے۔ جب تک قادیانی کلیدی عہدوں پر براجمان ہیں اس وقت تک ملک میں امن قائم ہونا ناممکن ہے۔ عالمی اتحاد اہلسنت کے مرکزی رہنما مولانا محمد الیاس گھمن نے کہا کہ قادیانی بیوروکریٹس ملک کے اسلامی و نظریاتی تشخص کو ختم کر کے سیکولر سٹیٹ بنانے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔ قانون تحفظ ناموس رسالت ختم کرنے کی سازشیں کی جا رہی ہیں۔ ان حالات کے پیش نظر ہمیں ان کے خطرناک عزائم کا ادراک کرنا ہوگا۔ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے۔ ہم ١٩٧٣ء کے آئین کے دفاع کی جنگ لڑ کے ملک کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کر رہے ہیں۔
متحدہ جمعیۃ اہل حدیث کے مرکزی رہنما مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری نے کہا کہ جو قانون ١٩٧٤ء میں پاکستان کی قومی اسمبلی نے پاس کیا تھا آج ہم نے اس کو اور زیادہ مضبوط کر دیا ہے۔ آج ہم عہد کرتے ہیں کہ ہم اپنے اکابرین کے مشن کو آگے بڑھائیں گے، قادیانیوں کا ہر فورم پر راستہ روکیں گے۔ خفیہ طاقتیں قادیانی لابی کو سپورٹ کر رہی ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت اپنی صفوں سے قادیانی اور قادیانی نوازوں کو نکال باہر پھینکے۔ ہم مجاہدین ختم نبوت کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے تحفظ ناموس رسالت کا فریضہ سرانجام دیتے ہوئے جھوٹے مدعیان نبوت کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملایا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مولانا پیر عزیز الرحمن ہزاروی نے کہا کہ قوانین ختم نبوت اور قانون توہین رسالت کے خلاف سازشیں قادیانی و استعماری ایجنڈا ہے۔ قادیانیت کے متعلق غیر مسلم اقلیت کے قوانین کو ختم کرنے والوں کی سازشوں کا مردانہ وار مقابلہ کیا جائے گا۔ ہمیں اتحاد ویگانگت سے غداران ختم نبوت کا جرأت مندی سے مقابلہ کرنا ہوگا۔ قانون تحفظ ناموس رسالت ختم کرنے کی سازشیں کی جارہی ہیں، تمام سازشیں ناکام ہوں گی۔
حفیظ سنٹر یونین کے صدر ملک کلیم احمد نے کہا امت مسلمہ کی کامیابی حضور ﷺ کی پیروی میں ہے۔ عقیدہ ختم نبوت دین کی اساس اور بنیاد ہے انہوں نے کہا کہ مرزا غلام قادیانی نے گمراہی پھیلا کر بہت سارے لوگوں کو فتنہ میں ڈالا ہے قادیانی جہاں بھی جائیں گے وہاں پر ان کا تعاقب کیا جائے گا، ناموس رسالت کے لئے کسی بھی قسم کی قربانی دینے سے گریز نہیں کریں گے بیرونی دنیا میں بھی قادیانی فتنہ کو شکست فاش ہوگی قادیانی گستاخ رسول ہیں ان کے ساتھ ہر قسم کا بزنس ختم کرنا چاہئے۔
مولانا نور محمد ہزاروی نے کہا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا فیصلہ صرف علماء کرام اور مفتیان عظام کا نہیں تھا بلکہ پاکستان کی دستور ساز اسمبلی سیشن کورٹوں ، ہائیکورٹوں ، سپریم کورٹ اور وفاقی شرعی عدالت سے لے کر کینیا ، رابطہ عالم اسلامی ، انڈونیشیا اور جنوبی افریقہ کی عدالتوں نے بھی قادیانیوں کے کفر و ارتداد پر مہر تصدیق ثبت کرچکی ہے پوری دنیا میں پاکستان کو بدنام کرنے کے عوض قادیانیوں کو ڈالر اور پونڈ ملتے ہیں۔ ختم نبوت کا پیغام پہنچانا وقت کا تقاضا اور ہماری ذمہ داری ہے۔
خانقاہ عالیہ تونسہ شریف کے چشم و چراغ پیر طریقت خواجہ مدثر محمود نے کہا کہ قادیانی بلاشبہ عالمی فتنہ ہے یہ ہمارے لئے ایک چیلنج ہے۔ علامہ اقبال نے کہا تھا کہ قادیانیوں کی سرگرمیوں اور ریشہ دوانیوں کو برطانوی سامراج کی پشت پناہی حاصل ہے۔ اس لئے قادیانیوں کو ملت اسلامیہ سے علیحدہ کیا جائے۔
کانفرنس میں مرکزی جمعیت علماء اسلام کے مرکزی رہنما مولانا ڈاکٹر میاں محمد اجمل قادری ، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے امیر مولانا مفتی محمد حسن ، جمعیت علماء اسلام ضلع لاہور کے امیر شیخ الحدیث مولانا محب النبی ، مولانا سید محمود میاں ، مولانا رشید میاں ، حافظ صغیر احمد ، خواجہ محمد اکمل اویسی ملتان ، پیر اختر رسول قادری لاہور ، مولانا قاری مشتاق احمد رحیمی ، مولانا انیس احمد مظاہری ، پاکستان مسلم لیگ (نون) کے رہنما اور سابق ڈپٹی میئر لاہور میاں محمد طارق ، وفاق المدارس العربیہ پاکستان لاہور کے مسئول مولانا مفتی عزیز الرحمن ، مولانا اسد اللہ فاروق ، مولانا مفتی عبدالحفیظ ، مولانا نصیر احمد احرار ، بلال میر ، منظور آفریدی ، میاں محمد معصوم ، مولانا محبوب الحسن طاہر ، مولانا علیم الدین شاکر اور مولانا محمد یاسین صدیقی سمیت لاہور بھر کے مدارس کے مہتممین ، علماء اور خطباء نے شرکت کی۔ شعراء کرام میں مولانا شاہد عمران عارفی ، مولانا محمد قاسم گجر ، صوفی عبیداللہ انور نے نعت رسول مقبول سے سامعین کے دلوں کو منور کیا۔ رات کے آخری حصہ میں عالمی مجلس کے مرکزی نائب امیر مولانا حافظ پیر ناصر الدین خاکوانی کی رقت آمیز دعاء پر کانفرنس کا اختتام ہوا۔ انہوں نے عالم اسلام اور استحکام پاکستان، کشمیری عوام اور دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کے لئے خصوصی دعاء کروائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۹ء ص ۳۷ تا ۴۴)
تاریخ ساز ختم نبوت کانفرنس لاہور میں منظور کی گئی قراردادیں:
- ☆...... یہ اجتماع بھارتی حکومت کی جانب سے کشمیر میں انسانیت سوز مظالم کی بھر پور مذمت کرتا ہے اور کشمیری بھائیوں کو اپنے مکمل تعاون
کا یقین دلاتا ہے اور اقوام متحدہ و دیگر عالمی اداروں سے مطالبہ کرتا ہے کشمیر میں کرفیو فی الفور ختم کیا جائے اور کشمیری عوام کو
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بنیادی سہولیات میسر کی جائیں اور وہاں بھارتی جارحیت کو ختم کرتے ہوئے قتل عام رکوا کر بھارت کے خلاف مقدمہ درج کرایا جائے۔
- یہ اجتماع برما، فلسطین، کشمیر، شام، روہنگیا میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور اقوام متحدہ
اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ برما میں مسلمانوں پر ہونے والے وحشیانہ مظالم کا نوٹس لیں اور وہاں قتل عام رکوائیں۔
- اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کے مطابق مرتد کی شرعی سزا نافذ کی جائے۔
- یہ اجتماع مطالبہ کرتا ہے کہ تعلیمی نصاب میں عقیدہ ختم نبوت کے متعلق مضامین اور اسباق شامل کئے جائیں تاکہ نسل نو میں تحفظ ختم
نبوت اور ناموس رسالت کے سلسلہ میں شعور پیدا کیا جاسکے۔
- ملک بھر کے تمام سول اور فوج کے محکموں سے قادیانیوں کو کلیدی عہدوں سے الگ کیا جائے۔
- یہ اجلاس ملک بھر کے خطباء سے اپیل کرتا ہے کہ ہر ماہ کا ایک جمعہ عقیدہ ختم نبوت کے بیان کے لئے وقف کریں تاکہ نئی نسل
کو قادیانی عقائد کی سنگینی کا احساس ہو۔
- قادیانی خود کو مسلمان ظاہر کر کے اسلامی شعائر اور مسلمانوں کے مذہبی علامات کا بے دریغ استعمال کررہے ہیں یہ اجتماع حکومت
سے مطالبہ کرتا ہے کہ امتناع قادیانیت آرڈیننس پر مؤثر عمل درآمد کرایا جائے اور قادیانیوں کو اسلام کا ٹائٹل استعمال کرنے سے روکا جائے۔
- عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کانفرنس لاہور کا سالانہ یہ عظیم الشان اجتماع اللہ پاک کے حضور سجدہ شکر بجا لاتے ہوئے تمام مدعوین
ومندوبین اور شرکاء کانفرنس کا شکریہ ادا کرتا ہے۔ کہ آپ حضرات کی تشریف آوری سے یہ کانفرنس کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۹ء ص ۴۵)
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سبزہ زار لاہور کی رپورٹ
۲۱؍ستمبر ۲۰۱۹ء کو منعقد ہونے والی عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس وحدت روڈ لاہور کی تیاری کے لئے پورے لاہور اور گردونواح میں محنت کی گئی۔ لیکن سبزہ زار سکیم کالا کھو چوک کے یتیم خانہ سے لے کر ٹھوکر نیاز بیگ تک بڑے منظم انداز سے کانفرنس کی تیاریاں کی گئیں۔ اس علاقہ کو مقامی مجلس کے ساتھیوں سے مشاورت کے بعد چھ حصوں میں تقسیم کیا۔ ہر سیکٹر کے انچارج و معاونین کی تجدید کی گئی۔ (۱) حاجی محمد شفیق، (۲) قاری ظہیر احمد قمر، (۳) قاری محمد شفیق، (۴) قاری فضل الرحمن، (۵) مولانا ضیاء الرحمن، (۶) مفتی حبیب اللہ اور مولانا محمد قاسم صاحب مقرر کئے گئے۔ ان سیکٹروں کو فعال رکھنے کے لئے مولانا عبدالشکور یوسف اور حاجی محمد یاسین فاروقی کا تقرر کیا گیا۔ یہ سارا نظم مولانا محب النبی کی مشاورت و نگرانی سے کیا گیا۔ ہر سیکٹر میں درجنوں میٹنگز اور پروگرامز ہوئے۔ آخر میں تمام سیکٹروں کی ایک بڑی کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں عالمی مجلس کے مرکزی اکابرین نے خطابات کئے۔ جناب ارشاد ڈوگر نے خصوصی شرکت کی۔ کانفرنس سے ایک دن پہلے ۲۰؍ستمبر کو بعد نماز جمعہ ایک بڑی ریلی نکالی گئی، اس میں سینکڑوں نوجوانوں نے اپنی موٹر سائیکلوں گاڑیوں اور رکشوں کے ذریعہ شرکت کی۔ ریلی کی قیادت مولانا محب النبی، مولانا عبدالعزیز، مولانا عبدالشکور یوسف، حاجی محمد یاسین فاروقی، حاجی محمد شفیق، مولانا محمد عابد، قاری محمد شفیق نے کی۔ ختم
تحریک ختم نبوت جلد (١٠) ٢٠١٩ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نبوت چوک میں گل خان اور مولانا محمد عابد اور ان کے ساتھیوں نے ریلی کا بھرپور استقبال کیا۔ ان سیکٹروں کی اہم اہم تمام مساجد میں تقریباً پچاس کے قریب پروگرام منعقد کئے گئے۔ ٢١؍ستمبر کو دارالعلوم مدنیہ رسول پارک سے اجتماعی روانگی ختم نبوت زندہ باد کے نعروں کے ساتھ ہوئی۔ کانفرنس کی کامیابی کے بعد ٢٧؍ستمبر کو محمد یاسین فاروقی کے دفتر میں اجلاس منعقد کیا گیا جس میں یہ فیصلے طے پائے کہ:
- ☆...... اورنج ٹرین اسٹیشن نمبر ١٩ کو باقاعدہ منظور شدہ ختم نبوت اسٹیشن اور ختم نبوت چوک کی کامیابی کے بعد ختم نبوت چوک سے نکلنے والا
روڈ ختم نبوت روڈ کے نام سے منظور کرایا جائے۔
- ☆...... ختم نبوت کورس جو کم از کم ہر سیکٹر میں ایک ہوگا مجموعی طور پر چھ ختم نبوت کورس کروائے جائیں۔
- ☆...... سوشل میڈیا ٹیم کا اجراء جس کے انچارج (راقم) ظہیر احمد قمر ہوں گے۔
- ☆...... تاجر وکلاء اور عام دوکانداروں سے ملاقاتوں کا سلسلہ بڑھایا جائے۔ عقیدہ ختم نبوت کی آگاہی اور عوام الناس کو مرزائیوں کی
سازشوں سے آگاہ کیا جائے۔
- ☆...... عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور رابطہ کمیٹی کے تمام ممبران علاقے کے علماء کرام اور کارکنان معززین کے اعزاز میں ٣٠؍ستمبر کو
دارالعلوم مدنیہ رسول پارک میں کانفرنس کی کامیابی پر عشائیہ دیا گیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ٢٠١٩ء ص ٤٧)
ختم نبوت کانفرنس گڑھی یاسین
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت شکار پور کے زیر انتظام ٢٢؍ستمبر بعد نماز عشاء جامع مسجد مدرسہ مجیدیہ میں تحفظ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس سے مولانا محمد حسین ناصر، مولانا ظفر اللہ سندھی، مولانا قاضی احسان احمد، مولانا محمد طیب میکو، مولانا رشد اللہ شاہ امروٹی، مولانا مفتی محمد طاہر ہالیجوی نے اپنے خطاب میں عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت اور فتنہ قادیانیت کی سنگینی سے مسلمانوں کو آگاہ کیا۔ حاجی امداد اللہ پھلپھوٹو نے ہدیۂ نعت پیش کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ٢٠١٩ء ص ٥١)
تحفظ ختم نبوت کورس پیر محل
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پیر محل کے زیر اہتمام چار روزہ شعور ختم نبوت کورس ٢٢ تا ٢٥؍ستمبر ٢٠١٩ء بروز اتوار تا بدھ بعد نماز مغرب تا عشاء منعقد ہوا۔ کورس کی صدارت عالمی مجلس پیر محل کے امیر مولانا مفتی محمد شیراز اور نگرانی مولانا قاری عتیق الرحمٰن نے کی۔ کورس میں مولانا محمد قاسم رحمانی، مولانا مجاہد مختار، ضلعی مبلغ مولانا محمد خبیب، مولانا غلام مصطفیٰ چناب نگر اور مولانا قاضی احسان احمد کراچی نے مختلف عنوانات پر لیکچر دیئے۔ کثیر تعداد میں طلباء و طالبات اور عوام الناس نے شرکت فرمائی۔ اختتام پر لٹریچر بھی تقسیم کیا گیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ٢٠١٩ء ص ٥٢)
شعور ختم نبوت کورس ماموں کانجن
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام یونٹ چک ٤٥٠ گ، ب میں چار روزہ شعور ختم نبوت کورس بتاریخ ٢٢ تا ٢٥؍ستمبر ٢٠١٩ء بروز اتوار تا بدھ صبح دس تا بارہ بجے اور بعد نماز ظہر تا عصر منعقد ہوا۔ کورس کی صدارت علاقائی امیر مولانا قاری عبدالناصر نے کی۔ کورس میں عالمی مجلس تحفظ بہاول نگر کے مبلغ مولانا محمد قاسم رحمانی، عالمی مجلس پیر محل کے جنرل سیکرٹری مولانا مجاہد مختار، ضلعی مبلغ مولانا محمد خبیب، مولانا غلام مصطفیٰ چناب نگر اور مولانا قاضی احسان احمد کراچی نے مختلف عنوانات پر لیکچر دیئے۔ کثیر طلباء و طالبات اور عوام الناس نے شرکت فرمائی۔ اختتام کورس پر لٹریچر بھی تقسیم کیا گیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ٢٠١٩ء ص ٥٢)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس سانگی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سکھر کے زیر اہتمام ۲۳؍ ستمبر بعد نماز مغرب جامع مسجد سانگی میں ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا قاضی احسان احمد اور مولانا محمد حسین ناصر نے کہا کہ قادیانی مرزائی اور یہود و نصاریٰ مسلمانوں کے دلوں سے حضور ﷺ کی محبت نکالنا چاہتے ہیں۔ لیکن مسلمان سب کچھ برداشت کر سکتا ہے، حضور ﷺ سے بے وفائی نہیں کر سکتا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۹ء ص ۵۱)
ختم نبوت کانفرنس سکھر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سکھر کے زیر اہتمام آدم شاہ کالونی سکھر میں ۲۳؍ ستمبر ۲۰۱۹ء بعد نماز عشاء ختم نبوت کانفرنس زیر صدارت قاری جمیل احمد بندھانی، زیر نگرانی مولانا عبداللطیف اشرفی منعقد ہوئی۔ کانفرنس سے مولانا قاضی احسان احمد کراچی، مولانا محمد حسین ناصر، مولانا حافظ عبدالغفار شیخ، مولانا محمد امان اللہ جمالی، مولانا قاری جمیل احمد بندھانی، مولانا عبداللطیف اشرفی اور دیگر علماء کرام کے بیانات ہوئے۔ مقررین نے اپنے بیان میں عقیدہ ختم نبوت حیات عیسیٰ علیہ السلام ، ظہور مہدی علیہ الرضوان کے حوالہ سے تفصیلی گفتگو کی۔ حافظ محمد ابوبکر صفدر نے ہدیہ نعت پیش کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۹ء ص ۵۱)
ختم نبوت کانفرنس چیچہ وطنی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامع مسجد بلاک نمبر بارہ چیچہ وطنی میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس ۲۴؍ ستمبر ۲۰۱۹ء بروز منگل منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی صدارت پیر جی عبدالحفیظ رائے پوری اور پیر محمد رضوان نفیس نے کی۔ قاری محمد اجمل نے تلاوت کلام پاک اور حافظ عبدالرحمن و حافظ محمود احمد نے ہدیہ نعت پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔ کانفرنس میں مولانا قاضی احسان احمد کراچی، مولانا قاری علیم الدین شاکر لاہور، پیر جی عبدالجلیل رائے پوری، مولانا عبدالحکیم نعمانی، مولانا ریاض احمد، مفتی محمد ساجد، مفتی عبدالرحمن، قاری محمد دین، مفتی ظفر اقبال، مولانا کفایت اللہ حنفی، پروفیسر جاوید منیر، شیخ عبدالغنی، حاجی محمد ایوب، جناب زین الحسن، ملک محمد اصغر گلزار، مولانا محمد عبدالباقی سمیت چیچہ وطنی کی مذہبی، سیاسی و سماجی قیادت نے بھر پور شرکت و خطابات فرمائے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۹ء ص ۵۲)
تاریخ ساز سالانہ ختم نبوت کانفرنس سرگودھا
(مولانا فضل الرحمن منگلا) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۲۶؍ ستمبر ۲۰۱۹ء بروز جمعرات بعد نماز عشاء ۳۲ ویں سالانہ تحفظ ختم نبوت کانفرنس مولانا محمد اکرم طوفانی کی زیر نگرانی مرکزی عیدگاہ سرگودھا میں منعقد ہوئی۔ جس میں پورے ملک سے علماء کرام و مشائخ عظام نے شرکت فرمائی۔ صدارت مولانا صاحبزادہ خواجہ خلیل احمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی نائب امراء مولانا صاحبزادہ خواجہ عزیز احمد و پیر طریقت مولانا حافظ ناصر الدین خاکوانی نے فرمائی۔ کانفرنس کا آغاز قاری احسان اللہ فاروقی لاہور کی تلاوت سے ہوا۔ نعتیہ کلام مولانا شاہد عمران عارفی اور حافظ وسیم احمد نے پیش کیا۔ بیانات کا سلسلہ بھلوال سے مولانا محبوب احمد طاہر کے پر جوش خطاب سے شروع ہوا اور رات گئے تک جاری رہا، خصوصی آمد مولانا مفتی محمد حسن لاہور کی ہوئی۔ علاوہ ازیں مولانا مفتی عبدالقدوس ترمذی، مفتی محمد طاہر مسعود، مولانا قاضی عبدالرشید راولپنڈی، مولانا پیر عزیز الرحمن ہزاروی، مولانا قاضی احسان احمد کراچی، مفتی ظہیر احمد چکوال، مولانا عبدالشکور شاکر ٹیکسلا، مولانا حافظ حمد اللہ کوئٹہ اور مولانا عبدالکریم ندیم خانپور وغیرہ نے خطابات کئے۔ نقابت کے
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
فرائض مولانا نور محمد ہزاروی اور مولانا حیدر علی حیدر نے انجام دیئے۔ کانفرنس میں قادیانیوں کو دعوت اسلام کے ساتھ ساتھ قادیانیوں کے کفر اور سرگرمیوں کو برملا بیان کیا گیا، مسلمانوں کو قادیانیوں کی مصنوعات سے بائیکاٹ کرنے اور ان کا تعاقب کرتے رہنے کی ترغیب دی گئی۔ مولانا صاحبزادہ عزیز احمد نے مولانا محمد اکرم طوفانی اور ان کی پوری ٹیم (مولانا نور محمد ہزاروی، مولانا ثناء اللہ ایوبی خازن، مولانا عبدالرشید جنرل سیکرٹری، مولانا محمد افضل فاروقی، پروفیسر عاصم اشتیاق، بھائی محمد زبیر جٹھول، مفتی جہانگیر اور راقم الحروف) تمام اراکین و کارکنان ختم نبوت سرگودھا کی حوصلہ افزائی فرمائی۔ الحمد للہ! اس مرتبہ مرکزی عید گاہ کا پنڈال اپنی تمام تر وسعتوں کے باوجود خاصی تنگی کی شکایت کرتا رہا۔ سرگودھا کے تاجران نے تمام شرکاء کے لئے بازار میں فی سبیل اللہ چائے، کھانے، فروٹ، شربت اور دیگر اشیاء کا بے مثال انتظام کیا۔ کانفرنس میں سرگودھا و مضافات سے قافلے بے شمار بسوں کی صورت میں شریک ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۹ء ص ۴۷)
عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس عارف والا
مولانا محمد رضوان عزیز نے چند ماہ قبل عارف والا میں ختم نبوت کانفرنس کے انعقاد کا ارادہ کیا۔ جہد مسلسل اور محنت شاقہ سے اللہ نے ۲۸؍ ستمبر ۲۰۱۹ء کا دن دکھایا جس دن یہ عارف والا جیسے پسماندہ علاقے سے عشاق ختم نبوت کا جم غفیر دیوانہ وار ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کے لئے امڈ آیا۔ کانفرنس کے انتظامی امور کی مشاورت کے لئے عارف والا کے مقامی علماء کرام کا اجلاس بلایا اور ذمہ داریاں تفویض کی گئیں۔ سب سے پہلے سرکاری طور پر اجازت کے حصول کا مرحلہ جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔ اللہ جزائے خیر دے قاری عبدالباسط اور مولانا اللہ دتہ کو جن کی شب و روز کی محنت سے اجازت نامہ مل گیا۔ کانفرنس مائدہ میرج ہال میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے تمام مہمانان گرامی بروقت تشریف لائے۔ مولانا صاحبزادہ عزیز احمد نے عارف والا کو بھر پور رونق بخشی۔ علاوہ ازیں مولانا اللہ وسایا، مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی، مولانا محمد راشد مدنی، مولانا عبد الشکور حقانی اور مولانا محمد شاہد عمران عارفی نے شرکت کی۔ شاہین ختم نبوت کے وجد آفرین بیان نے مجمع کی کایا پلٹ دی۔ دل نشین انداز میں انہوں نے تحریک ختم نبوت کا تعارف کرایا۔ مولانا محمد راشد مدنی نے آپ ﷺ کی شان عظمت کو دیگر کتب سماوی سے ثابت کیا۔ مولانا عبد الشکور حقانی نے اپنے خاص مفسرانہ ذوق کے تحت عقیدہ ختم نبوت کو واضح کیا۔ مولانا شاہد عمران عارفی نے کانفرنس کے آغاز اور درمیان میں نعت رسول مقبول ﷺ سے مجمع پر سحر طاری کر دیا۔ بالخصوص جب ختم نبوت کا ترانہ پیش کیا تو عوام عش عش کر اٹھی۔ بعد ازاں پشاور کے چاند مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی تشریف لائے جن کی زیارت کے لئے عوام بے تاب تھی۔ ان کے بیان سے قبل مولانا محمد رضوان عزیز نے چند منٹ کا کلیدی بیان کیا۔ جس میں عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت کی ضرورت اور فتنوں سے بچنے کی اہمیت کو بیان کیا۔ مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی مدظلہ نے عشق رسالت اور ختم نبوت کے عنوان سے سامعین کو محظوظ کیا۔ کانفرنس ہر اعتبار سے کامیاب ہوئی۔ کانفرنس کے اختتام پر تجاویز وصول کی گئیں جن سے آئندہ کے لئے ختم نبوت کے کام کو منظم کرنے میں رہنمائی ملے گی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۱۹ء ص ۴۷)
ختم نبوت کانفرنس اوچ شریف ضلع بہاول پور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع بہاول پور کے زیر اہتمام اوچ شریف میں ۲۹؍ ستمبر ۲۰۱۹ء بروز اتوار بعد نماز ظہر تا عصر جنازہ گاہ موضع رسول پور اوچ شریف میں ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس کی صدارت مولانا رشید احمد عباسی نے فرمائی۔ مولانا محمد اسحاق ساقی بہاول پور، مولانا مفتی محمد راشد مدنی رحیم یار خان اور مولانا اللہ وسایا کے خصوصی خطابات ہوئے۔ مقررین نے حکومت سے مطالبہ
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کیا کہ قادیانی پاکستان کے خلاف عالمی سطح پر جو سازشیں کر رہے ہیں اس کا نوٹس لیا جائے۔ حکومت قادیانیوں کے بارے میں ۱۹۷۴ء کے قانون پر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۹ء ص ۵۲)
ختم نبوت کانفرنس احمد پور شرقیہ ضلع بہاول پور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع بہاول پور کے زیر اہتمام مدرسہ ابو ہریرہ احمد پور شرقیہ میں ۲۹؍ستمبر ۲۰۱۹ء بروز اتوار کو بعد نماز عشاء ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی صدارت سید عبدالحلیم شاہ نے جب کہ نگرانی مولانا محمد اسحاق ساقی نے فرمائی۔ ہدیہ نعت رسول مقبول ﷺ ملک منظور احمد عنصر نے پیش کیا۔ کانفرنس سے مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد راشد مدنی اور مولانا محمد اسحاق ساقی کے خطابات ہوئے۔ مقررین نے کہا کہ قادیانی اپنی آئینی حیثیت تسلیم نہ کر کے آئین پاکستان سے بغاوت کے مرتکب ہو رہے ہیں ان پر آئین اور ملک سے غداری کے مقدمات قائم کئے جائیں اور انہیں آئین کا پابند بنایا جائے۔ اسلام کے نام سے معرض وجود میں آنے والے ملک پاکستان میں قادیانی اور یہودی ایجنڈا نہیں چلنے دیا جائے گا۔ قادیانی جو اکھنڈ بھارت کا مذہبی عقیدہ رکھتے ہوں وہ بھلا پاکستان کے وفادار کیسے ہو سکتے ہیں؟
(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۲۰۱۹ء ص ۵۳)
ختم نبوت کانفرنس جنڈانوالہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جنڈانوالہ کے زیر اہتمام مؤرخہ ۲۷؍اکتوبر بروز بدھ بعد نماز عشاء عید گاہ شمالی مسجد علی المرتضیٰ میں ایک عظیم الشان تحفظ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت مولانا صاحبزادہ عزیز احمد صاحب نے کی۔ کانفرنس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ تلاوت کی سعادت جناب قاری رضوان گل نے حاصل کی۔ بعد ازاں قاری محمد خالد عبداللہ اور حافظ کلیم حسانی نے نعت مقبول پیش کی۔ مولانا محمد طارق مبلغ مجلس راولپنڈی، مولانا مفتی رضوان عزیز، مولانا عزیز الرحمٰن ثانی اور مولانا غلام رسول دین پوری شیخ الحدیث مدرسہ عربیہ ختم نبوت چناب نگر مسلم کالونی کے خطابات ہوئے۔ آخر میں مولانا مفتی عبدالواحد قریشی کا خطاب ہوا۔ آخر میں مولانا صاحبزادہ عزیز احمد مدظلہ کی دعاء سے یہ پروگرام اختتام پذیر ہوا۔ نقابت کے فرائض عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع بھکر کے مبلغ مولانا محمد ساجد نے سرانجام دیئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۱۹ء ص ۵۲، ۵۳)
ختم نبوت کانفرنس محراب پور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام بروز جمعرات ۳۱؍اکتوبر ۲۰۱۹ء کو بعد نماز مغرب مرکزی جامع مسجد محراب پور میں ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس کی صدارت مقامی امیر مولانا عبدالصمد، نگرانی مقامی جنرل سیکرٹری مولانا خالد محمود نے کی جب کہ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا تجمل حسین نے سرانجام دیئے۔ کانفرنس کا آغاز قاری فتح محمد کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ مشہور نعت خواں الحاج امداد اللہ پھلپوٹو نے ہدیہ حمد و نعت پیش کیا۔ مولانا عبدالرحمٰن ڈنگراج امیر جمعیت نوشہرو فیروز، مولانا قاری کامران احمد، مولانا قاضی احسان احمد اور مولانا اللہ وسایا کے خصوصی خطابات ہوئے۔ کانفرنس کے اختتام پر جماعت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا اردو و سندھی لٹریچر بھی تقسیم کیا گیا۔ (قاری عبداللہ فیض)
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۱۹ء ص ۵۳)
فقید المثال ختم نبوت کانفرنس حیدرآباد
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی مرکزی قیادت کے فیصلوں کے مطابق حیدرآباد ڈویژن کے زیر اہتمام ۱۴؍اکتوبر ۲۰۱۹ء
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بروز جمعہ کو حیدرآباد کے تاریخی مقام میانی روڈ، ٹاور مارکیٹ میں دوسری فقید المثال ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ میانی روڈ حیدرآباد قیامِ پاکستان سے موجودہ وقت تک دینی تحریکوں کا مرکز رہا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت، جمعیت علماء اسلام، متحدہ مجلس عمل کے اکابرین مولانا محمد علی جالندھری، مولانا غلام غوث ہزاروی، مولانا مفتی محمود، مولانا عبداللہ درخواستی، مولانا سمیع الحق شہید، علامہ شاہ احمد نورانی، قاضی حسین احمد، مولانا فضل الرحمن ایسے اکابرین کے ایمان پرور بیانات، وانقلابی خطابات کی حسین یادیں آج بھی میانی روڈ، ٹاور مارکیٹ سے وابستہ ہیں۔ اسی تسلسل کو زندہ وجاوید رکھنے کے لئے تاریخی کانفرنس کے لئے اس جگہ کا انتخاب کیا گیا۔ ۲۰۱۵ء میں میانی روڈ پر پہلی جب کہ ۱۴؍اکتوبر ۲۰۱۹ء کو دوسری عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ بعد نماز مغرب پہلی نشست میں حافظ محمد ابراہیم نے تلاوت جب کہ حافظ صبغت اللہ، حافظ سعید مسعود نے نعت کی سعادت حاصل کی، اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا مختار احمد مبلغ میر پورخاص نے انجام دیئے۔ بعد از نماز عشاء قاری محمد اسامہ حقانی کی تلاوت سے دوسری نشست کا آغاز ہوا، حمد ونعت حافظ محمد اشفاق کراچی، حافظ محمد یمان رحیمی، محمد عمار شفقت نے پیش کیں۔ مدرسہ مظاہر العلوم کے حافظ بدرالدین نے عربی میں جب کہ محمد حذیفہ نے انگلش میں تقریر کی۔ بعد ازاں کانفرنس کے جملہ مہمانانِ گرامی اسٹیج کی زینت بنے اور ہر ایک نے اپنے اپنے انداز میں خوب خطابات فرمائے۔ مہمانان گرامی میں مولانا قاری محمد حنیف جالندھری ناظم اعلیٰ وفاق المدارس، مولانا اللہ وسایا، سائیں مولانا عبدالمجیب قریشی پیر شریف، مولانا حافظ حمداللہ سابق سینیٹر، مولانا ناصر خالد محمود سومرو، مولانا محمد رفیق جامی، مولانا قاضی احسان احمد اور مولانا تجمل حسین شامل ہیں۔ راقم توصیف احمد نے قراردادیں پیش کیں، جن میں خصوصی مطالبہ کیا گیا کہ ریاض احمد گوہر شاہی کی تنظیم انجمن سرفروشان اسلام پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔ عالمی مجلس حیدرآباد کے امیر مولانا عبدالسلام قریشی کی دعاء پر کانفرنس رات سوا دو بجے اختتام پذیر ہوئی، کانفرنس کی محنت دو ماہ جاری رہی، حیدرآباد ڈویژن کے جملہ مدارس کے مہتممین، اساتذہ طلباء، علماء، قراء، وعوام الناس نے کانفرنس کی کامیابی کے لئے شب و روز خوب محنت کی، خوب دعاؤں کا اہتمام کیا، کئی مستورات نے روزے رکھے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۱۹ء ص ۴۸)
ختم نبوت کانفرنس صوابی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت یونین کونسل جھنڈا ضلع صوابی کے زیر اہتمام دوسری سالانہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس مورخہ ۱۸؍اکتوبر ۲۰۱۹ء بروز منگل بعد از نماز ظہر منعقد ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے کانفرنس انتہائی کامیاب رہی۔ جس میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کی صدارت مولانا مفتی فتح محمد حقانی امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت یوسی جھنڈا نے فرمائی۔ کانفرنس سے مولانا مفتی عابد وہاب اور پیر طریقت رہبر شریعت مولانا شیخ ابن شیخ اعزاز الحق شمس شاہ منصوری مدظلہ امیر عالمی مجلس ضلع صوابی نے خصوصی بیان فرمایا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۲۰ء ص ۴۲)
اڑتیسویں آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کی رپورٹ
امسال ۲۰۱۹ء میں ۲۴، ۲۵؍ اکتوبر کو آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس چناب نگر میں منعقد کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس کے لئے ہفت روزہ ’’ختم نبوت‘‘ کراچی اور ماہنامہ ’’لولاک‘‘ ملتان میں اعلانات واشتہارات اور شرکت کی ترغیب کے لئے مضامین وشذرات بھی شائع ہونا شروع ہوگئے۔ اس دوران میں قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن صاحب نے اکتوبر کے آخر میں ’’آزادی مارچ‘‘ کرنے کا اعلان کر دیا۔ ہمیں بھنک پڑگئی تھی کہ ۲۷؍ اکتوبر کے لگ بھگ یہ مارچ منعقد ہوگا۔ ہرچند کہ ابھی تک حضرت موصوف مدظلہ نے ۲۷؍ اکتوبر کا
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
باضابطہ اعلان نہیں کیا تھا۔ لیکن انہی تاریخوں میں مارچ متوقع تھا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے شعبہ تبلیغ سے وابستہ قیادت کا ۲۷، ۲۸/ستمبر جمعہ، ہفتہ کو ملتان دفتر مرکزیہ میں اجلاس منعقد ہوا۔ ۲۸/ ستمبر ۲۰۱۹ء قبل از ظہر فیصلہ کیا گیا کہ ہمیں کانفرنس بجائے ۲۴، ۲۵/اکتوبر کے ۱۰، ۱۱/ اکتوبر ۲۰۱۹ء کو منعقد کر لینی چاہئے۔ جونہی تاریخوں کی تبدیلی کا فیصلہ ہوا تو اب تیاری کے لئے صرف دس دن باقی تھے۔ سندھ و بلوچستان، آزاد کشمیر کے جن مبلغین حضرات نے کانفرنس کی تبلیغی و دعوتی مہم پر جانا تھا ان سے عرض کیا گیا کہ آپ ملتان سے سیدھے چناب نگر چلیں۔ پنجاب کے جن مبلغین حضرات نے اس مہم میں حصہ لینا تھا انہیں یکم/ اکتوبر کو چناب نگر پہنچنے کا عرض کیا گیا۔ ملتان سے مولانا عزیز الرحمن ثانی نے لاہور فون کر کے ۱۰، ۱۱/ اکتوبر کے اشتہارات شائع کرنے کا کہہ دیا۔ ۲۸/ ستمبر کی رات گیارہ بجے تک اشتہارات چھپ گئے اور اگلے دن چناب نگر پہنچ گئے۔
مولانا عزیز الرحمن ثانی نے فون سے ہی نئی تاریخوں کا جناب خالد مبین صاحب گجر خان، جناب حافظ محمد الیاس صاحب سے راولپنڈی عرض کیا کہ اس تبدیل شدہ شیڈول کو سامنے رکھ کر آپ سامان کی ترسیل قبل از وقت یقینی بنائیں۔ مولانا عزیز الرحمن ثانی نے مولانا قاری عزیز الرحمن رحیمی کو فیصل آباد فون کر کے کہا کہ آپ آج شام کو سیکورٹی کے حضرات کی باغ والی مسجد میں میٹنگ رکھ لیں۔ سپیکر، لائٹنگ اور جنریٹر والوں سے بھی آج شام میٹنگ رکھ لیں۔ چنانچہ مولانا ثانی ملتان میٹنگ سے فارغ ہوتے ہی فیصل آباد روانہ ہو گئے۔ سب سے پہلے ہمارے مخدوم و بزرگ مولانا قاری محمد یٰسین مدیر جامعہ دارالقرآن فیصل آباد و رکن مرکزی مجلس شوریٰ عالمی مجلس سے دعاء کرائی۔ یوں شام تک ان میٹنگوں سے بالکل بخیر و خوبی فارغ البال ہو گئے۔
فیصل آباد سے چناب نگر کے لئے نکلے تو جھنگ کھانا پکانے والے حضرات کو نئی تاریخوں کی اطلاع کر کے اس کے مطابق نظم کرنے کا فرمایا۔ چناب نگر جاتے ہوئے راستہ میں جامعہ اسلامیہ امدادیہ چنیوٹ میں مولانا سیف اللہ خالد سے روٹی پکانے والے اور برتنوں کی دھلائی کرنے والے کی بابت حتمی نظم طے کر لیا۔ ادھر نئی تاریخوں کا ساتھیوں نے وٹس ایپ اور انٹرنٹ پر اعلان شروع کیا۔ سوشل میڈیا پر نئی تاریخوں کا اعلان ہوتے ہی ملک بھر سے تصدیق کے لئے کالیں آنا شروع ہو گئیں۔ ان تمام حضرات سے یہی کہا گیا کہ نئی تاریخوں کا آپ بھی سوشل میڈیا پر اپنے اپنے لنکس سے اعلان کرنا شروع کر دیں۔
مولانا غلام مصطفیٰ بھی میٹنگ سے فارغ ہوتے ہی چناب نگر تشریف لے گئے۔ رات گئے مولانا ثانی صاحب چناب نگر آن حاضر ہوئے۔ اگلی صبح اشتہارات بھی لاہور سے آ گئے۔ اولمپیاء پریس لاہور کے جناب میاں منصور صاحب نے ہمیشہ کی طرح پچیس ہزار کے لگ بھگ کانفرنس کے بڑے سائز کے سٹیکرز تیار کر کے چناب نگر بھجوا دیئے۔ کراچی اور لاہور کے دوستوں نے پندرہ صد فلیکس بنوانے کا اہتمام کر دیا جو بازاروں میں کھمبوں پر اور مساجد اور اہم چوکوں پر لگنے تھے، وہ بھجوا دیئے۔ جناب رانا محمد انور نے کراچی کے ایک فیکٹری کے مالک جناب بھائی شمس صاحب سے کہہ کر پینتالیس ٹب پلاسٹک کے چاول بھگونے کے لئے اور دو ہزار گلاس بھجوا دیئے۔ یوں جس جس ساتھی نے کانفرنس کی تیاری کے لئے جو جو کام اپنے ذمہ لیا، بڑی مستعدی سے اس کی تکمیل کے لئے مرد میدان بن گئے۔ چناب نگر میں امسال مسجد کے صحن پر ماربل کا فرش لگوایا گیا تھا۔ مسجد کے سابقہ وضوخانہ کی چھت اور دیواریں سیم کے باعث بوسیدہ ہو گئیں تھیں تو اسے گرا کر نیا بنوایا۔ وضوخانہ پر پہلے واش روم اٹھائیس تھے۔ اب مسجد کے وضوخانہ اور ٹینکی کے درمیان کے حصہ کو بھی چھت ڈال کر دوسری منزل پر نئے واش روم بنا دیئے گئے۔ پہلے اگر اس حصہ میں واش روم کی تعداد اٹھائیس تھی تو اب پچاس ہو گئی۔ اسی طرح پہلے مسجد کے وضوخانہ کے مغرب کی طرف ایک خالی نکر بچی ہوئی تھی۔ اس میں وضوخانہ بنا دیا گیا جو پہلے وضوخانہ کے برابر ہے۔ پہلے اگر وضوخانہ میں ایک سو آدمی کے وضو
تحریک ختم نبوت جلد (١٠) ٢٠١٩ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کرنے کی گنجائش تھی تو اب دو سو نمازیوں کے بیک وقت وہاں وضو کرنے کی سہولت حاصل ہو گئی۔ اس وضو خانہ کے برآمدہ اور اوپر نیچے کے واش روموں کو فوری طور پر رنگ کرانا شروع کر دیا گیا۔ ٢٩؍ستمبر کو فیصل آباد سے جتنا سامان خریدنا تھا اس کی خریداری کے عمل کو مکمل کر دیا گیا۔ ٣٠؍ستمبر کی شام تک بہت سارے کاموں کا منہ متھا مکمل ہونے کے مرحلہ میں داخل ہو گیا۔ استاذ الحدیث مولانا محمد امین اور ناظم تعلیمات مدرسہ ختم نبوت چناب نگر مولانا محمد الیاس الرحمن نے پرالی منگوانے کا نظم سیٹ کر لیا۔
مجلس شوریٰ کا اجلاس:
پہلے سے مجلس کی مرکزی مجلس شوریٰ کا اجلاس حضرت الامیر قبلہ ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر کے بڑھاپے کے باعث بجائے ملتان کے کراچی میں ٧؍اکتوبر ٢٠١٩ء کو طے تھا۔ اس طرح ۴؍اکتوبر سے ٧؍اکتوبر تک کراچی میں تبلیغی پروگرام وسیع پیمانہ پر منعقد کرنے کا پہلے سے نظم طے تھا۔ اب جب کانفرنس کی تاریخیں تبدیل ہوئیں تو مجلس شوریٰ کے اجلاس اور کراچی کے پروگراموں کو بھی علیٰ حالہٖ باقی رکھا گیا۔ کسی ایک پروگرام کو بھی ملتوی نہ کیا گیا۔ البتہ اتنی تبدیلی کی کہ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور مولانا عزیز الرحمن ثانی کو کراچی مجلس شوریٰ کے اجلاس میں شمولیت کی بجائے کانفرنس کی تیاری کے لئے وقف کر دیا گیا۔
چنانچہ ٧؍اکتوبر ٢٠١٩ء کو جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی کی نئی غربی بلڈنگ میں عالمی مجلس کی مرکزی مجلس شوریٰ کا بھرپور اجلاس منعقد ہوا۔ کراچی سے خیبر تک ممبران شریک ہوئے۔ حضرت الامیر دامت برکاتہم نے صدارت فرمائی۔ ٧؍اکتوبر کی شام کو مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا قاضی احسان احمد، مولانا مفتی محمد راشد مدنی، مولانا حافظ محمد انس ملتان کے لئے روانہ ہوئے۔ ۸؍اکتوبر ظہر کے بعد ملتان سے چناب نگر کے لئے ان حضرات کی روانگی طے تھی۔
مولانا محمد حسین ناصر کو صدمہ:
سکھر مجلس کے مبلغ مولانا محمد حسین ناصر بھی ۸؍اکتوبر کو ۱۲؍بجے فیصل آباد پہنچے۔ انہیں دوران سفر ٹرین میں اطلاع ملی کہ ان کی والدہ محترمہ مخدومہ کا انتقال ہو گیا ہے۔ چنانچہ وہ خود اور ان کے دو صاحبزادے جو چناب نگر میں زیر تعلیم ہیں وہ فیصل آباد سے مرحومہ کے جنازہ میں شرکت کے لئے چک ۱۸ دنیا پور روانہ ہوئے۔ ملتان سے ناظم اعلیٰ صاحب اور آپ کے رفیقانِ سفر نے بھی ملتان سے چناب نگر آنے کی بجائے جنازہ میں شرکت کے لئے تشریف لے گئے۔ جہاں ۸؍اکتوبر کی شام ناظم اعلیٰ صاحب کی امامت میں مرحومہ کا جنازہ پڑھا گیا۔ اللہ رب العزت مرحومہ کی بال بال مغفرت فرمائیں اور جملہ پسماندگان کو صبر جمیل نصیب ہو۔ فقیر راقم نے کراچی کے پروگرام مولانا قاضی احسان احمد کی حسب ہدایت مکمل کئے۔ فقیر ۸؍اکتوبر کو قبل از دوپہر چناب نگر حاضر ہوا اور ناظم اعلیٰ صاحب ۹؍اکتوبر کی صبح چناب نگر تشریف لائے۔
مبلغین حضرات کا تبلیغی دورہ:
حسب پروگرام یکم؍اکتوبر کو مبلغین حضرات کی میٹنگ ہوئی تمام حضرات اشتہارات، سٹیکرز، فلیکس، دعوت نامے لے کر اپنے اپنے حلقہ جات کو روانہ ہو گئے۔ پہلے ان حضرات کو پندرہ دن کام کی تیاری کے لئے ملتے تھے اس بار صرف ایک ہفتہ ملا۔ ان تمام حضرات کو اللہ تعالیٰ جزائے خیر دیں کہ انہوں نے دن رات ایک کر کے دو ہفتوں کا کام ایک ہفتہ میں مکمل کر لیا۔ چنانچہ فقیر جب ۸؍اکتوبر کو قبل از دوپہر چناب نگر حاضر ہوا تو تمام تیاریاں مکمل تھیں۔ پنڈال پر سائبان لگ چکا تھا۔ پرالی موجود تھی۔ صفائیاں، رنگ روغن کا کام مکمل تھا۔ غرض ہر جہت سے تیاری ایسے مکمل ہو گئی کہ پتہ تک بھی نہ چلا۔ یہ سب رفقاء کی محنت اور ختم نبوت کی برکت اور حق تعالیٰ شانہ کے کرم کے طفیل ہوا۔
تحریک ختم نبوت جلد (١٠) ٢٠١٩ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پنڈال یعنی مدرسہ کی نئی بلڈنگ کے مین گیٹ سے داخل ہوں تو دائیں جانب کا پہلا کمرہ مکتبہ کے لئے استعمال ہوتا تھا۔ سارا سال مکتبہ کی کتب کا سٹاک یہاں رکھا جاتا تھا۔ عالمی مجلس کے مرکزی نائب امیر مولانا صاحبزادہ عزیز احمد نے دوران سال اس مکتبہ کے ہال کے لئے نیا کارپٹ، پلنگ، میز و کرسیاں بھجوادیں تو پورے ہال کو نیا رنگ و روغن کر کے نیا کارپٹ بچھوایا گیا۔ اس پر عمدہ خوبصورت پھولوں والی چادر ڈالی گئی۔ میز، کرسیاں لگائیں تو یہ اچھا صاف ستھرا نیا مہمان خانہ بن گیا۔ کتب کا سٹاک والماریاں مرکزی لائبریری میں منتقل کر دی گئیں۔ کانفرنس کے موقعہ پر لائبریری سے دوبارہ ان کتب کو اس کمرہ میں ٨؍ اکتوبر کی شام کو منتقل کیا گیا۔ اس لئے کہ دوران کانفرنس لائبریری سے کتابوں کے کارٹن لانے بہت مشکل تھے۔ تمام سٹاک مکتبہ کو لائبریری سے مکتبہ کے سابقہ ہال میں لایا تو گیا لیکن اس کام میں شریک تمام ساتھیوں کے پسینے نکل گئے۔
مکتبہ کا نیا نظام:
کانفرنس کے موقعہ پر تو حسب سابق مکتبہ کا نظم چلایا گیا۔ لیکن یہ بات دماغ میں گھومتی رہی کہ مکتبہ کی کتب لائبریری میں رکھنے سے لائبریری کا حسن ماند پڑ جاتا ہے۔ اس لئے کانفرنس کے دوران فیصلہ کر لیا کہ اسٹیج کے مد مقابل جانب غربی کمرہ اٹھارہ جو پہلے سامان کے لئے مختص ہے وہاں مکتبہ کی کتب بھی منتقل کر دی جائیں۔ کانفرنس کے بعد ایسے کیا گیا۔ لائبریری سے مکتبہ کی جگہ مین گیٹ اور پھر یہاں سے کمرہ نمبر ١٨ میں لے جانے سے کتب کے کارٹون بہت ہی متاثر ہو گئے۔ چنانچہ اگلے روز ہفتہ کو ظہر کے بعد مولانا غلام رسول دین پوری، مولانا شیر عالم، مولانا عزیز الرحمن ثانی نے باہمی مشاورت سے طے کیا کہ نئے مدرسہ کی بجائے مکتبہ کو پرانے مدرسہ کے احاطہ میں مین گیٹ کے قریب کمرہ نمبر ١ میں منتقل کر دیا جائے۔ مدرسہ کے محاسب جناب غلام یٰسین صاحب نئے مدرسہ کے مین گیٹ کے ساتھ والے کمرہ کو اپنا دفتر بنالیں تو دفتر بھی پورا دن کھلا رہے گا۔ کتب بھی ایک نمبر کمرہ پرانی بلڈنگ میں سٹاک ہو جائیں گی۔ نیز یہ کہ کانفرنس، کورس، عیدین کے موقعہ پر مسجد کے سامنے اسی کمرہ کے باہر مکتبہ کا سٹال لگ جائے گا۔ ان شاء اللہ آئندہ کتب لے جانے، واپس لانے، پھر لے جانے کی زحمت سے بھی جان چھوٹ جائے گی اور یہ کہ آسانی کے ساتھ وہاں مکتبہ کا سٹال لگ سکتا ہے اور گزشتہ بیس سال وہاں ہی مکتبہ لگتا رہا ہے۔ فقیر رپورٹنگ کرتے کرتے کہاں سے کہاں چلا گیا۔ اب واپس آتے ہیں پنڈال اور کانفرنس کی طرف۔ ٩؍ اکتوبر ٢٠١٩ء کو قبل از دو پہر ناظم اعلیٰ صاحب اپنے رفقاء کے ساتھ تشریف لائے۔
کانفرنس کے انتظامات:
٩؍ اکتوبر ٢٠١٩ء دوپہر تک تمام مبلغین حضرات بھی اپنے اپنے حلقوں سے تبلیغی دعوتی دورہ مکمل کر کے تشریف لا چکے تھے۔ دونوں عمارتوں قدیم و جدید کی صفائی کا عمل بھی مکمل ہو چکا تھا۔ لائٹنگ، جنریٹر، سپیکر والے حضرات بھی دن رات کر کے اپنے اپنے کاموں کو تکمیل پذیر کر رہے تھے۔ ناظم اعلیٰ صاحب کی آمد پر تمام رفقاء کی حسب سابق ڈیوٹیاں لگائی گئیں۔ کمروں کی تقسیم کا عمل مکمل ہوا۔ کالونی میں بہت سارے کمرے بھی مہمانوں کے لئے حاصل کر لئے گئے تھے۔ ظہر کے بعد پنڈال میں پرالی بچھائی گئی۔ عصر کے بعد صفیں بچھا کر پنڈال کو سو فیصد تیار کر دیا گیا۔ بجلی و سکرینوں کی تنصیب وغیرہ سب امور ریڈی تھے۔ اتنے مختصر وقت میں تمام امور کے ہمہ جہت تکمیل کی طرف رواں دواں رہنے کی قابل رشک رفتار محض فضل ایزدی تھا اور بس۔ اب بدھ کو ظہر کے بعد قافلوں کی آمد بھی شروع ہو گئی۔ جھنگ سے پکاوے بھی پہنچ گئے۔ مدرسہ ختم نبوت چناب نگر کے ہمسایہ و بہی خواہ جناب محمد عارف صاحب گوشت کا کاروبار کرتے ہیں۔ ان کا علاقہ بھر میں
تحریک ختم نبوت جلد (١٠) ٢٠١٩ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
زمینداروں کے ہاں جانوروں کی خریداری کے لئے جانے کا معمول سال بھر رہتا ہے۔ وہ جہاں جاتے ہیں مدرسہ کے لئے بکرے، چھترے، بچھڑے، کٹوے وغیرہ کی خاطر زمینداروں کو متوجہ کرتے رہتے ہیں۔ یوں سال بھر کبھی کبھار اور کانفرنس کے موقعہ پر اکثر و بیشتر وہ گوشت کے چھوٹے جانور مہیا کر دیتے ہیں۔ امسال انہوں نے ١٥/عدد کٹوے و بچھڑے لاکر مدرسہ میں کھڑے کرا دیئے۔ بدھ کی شام، جمعرات کی صبح کھانا کے لئے یوں گوشت کا اللہ تعالیٰ نے نظم کرا دیا۔ جمعہ کے دن انہی کی طرف سے دو بکروں کا اہتمام ہو گیا۔ فالحمد للہ! راولپنڈی سے خوردونوش کا سامان، جھنگ سے مصالحہ جات آگئے۔ راولپنڈی سے سامان دوست اکٹھا کر کے ٹرک سے بھجوا دیتے ہیں۔ گھی، چاول، دالیں، البتہ جھنگ سے مصالحہ جات خریدنے پڑتے ہیں۔ خیال ہے کہ اگلے سال مصالحہ جات بھی لاہور یا راولپنڈی سے ہمت کریں تو مہیا ہو جائیں۔ ان شاء اللہ!
بدھ کی شام رات قریباً دو بجے مولانا مفتی محمد حسن صاحب تشریف لائے۔ ان کو ڈاکٹروں نے سفر سے روک رکھا ہے۔ ان کی علالت بھی سفر کی متحمل نہیں۔ لیکن ان کا جذبہ عشق رسالت مآب ﷺ ملاحظہ ہو کہ دو روز پہلے کراچی مجلس شوریٰ کے اجلاس میں تشریف لائے اور آج کانفرنس کے لئے تمام مدعوین حضرات سے پیش تر تشریف لائے۔
تاریخوں کی تبدیلی کے باعث دو بک شدہ ٹرین کی بوگیوں کی کراچی سے آمد نہ ہوسکی۔ نئی بکنگ نہ مل سکی۔ اس لئے ساتھیوں کا خیال تھا کہ شاید حاضری متاثر ہوگی۔ چنانچہ صبح کی نماز پنڈال میں ادا کرنے کی بجائے مسجد میں ادا کرنے کا اعلان ہو گیا۔ صبح نماز سے قبل مولانا محمد قاسم رحمانی کو فون کر کے فقیر نے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ مولانا ثانی صاحب کا خیال ہے کہ اس بار حاضری شاید متاثر ہوگی۔ اس لئے پنڈال کی بجائے مسجد میں جماعت کرائی جائے اور وہاں ہی درس کا اہتمام ہوگا۔ فقیر چپ ہو گیا۔ لیکن جب مسجد میں جماعت ہوئی تو مسجد کا ہال، دونوں برآمدے، صحن، مدرسہ کے پلاٹ نمازیوں سے اٹ گئے۔ مولانا مفتی محمد حسن نے نماز کی امامت فرمائی اور صبح کا درس ارشاد فرمایا۔ حسب سابق ان کی امامت و درس سے کانفرنس کا آغاز ہو گیا۔ اب آئیے کانفرنس کے پنڈال کی طرف چلتے ہیں۔ درس کے بعد ساتھیوں کا ناشتہ، اس کے بعد آرام۔ وفود، قافلے آتے گئے، لوگ ملتے گئے....... کارواں بنتا گیا۔ صبح کے ناشتہ سے نظم مہمان داری شروع ہوا تو رات عشاء کے بعد کے کھانے پر پہلا مرحلہ اختتام پذیر ہوا۔ مولانا سیف اللہ خالد صاحب کے جامعہ اسلامیہ امدادیہ میں دیگوں کا سامان بھجوا دیا جاتا ہے۔ وہ جمعرات شام اور جمعہ صبح ٩/ بجے پچیس پچیس دیگیں پکی ہوئیں، نمکین چاول کی بھجوا دیتے ہیں۔ امسال کالونی کے مسلمانوں نے آنے والے مہمانوں کے نظم میں شریک مہمانداری کا شرف حاصل کرنے کے جمعرات شام اور جمعہ صبح پچیس پچیس چاولوں کی تیار شدہ دیگیں بھجوائیں۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو جزائے خیر دیں۔ چنیوٹ کے ایک صاحب خیر نے پچیس دیگ کے لئے چنے، گھی اور مصالحہ جات بھجوا دیئے۔ کانفرنس پر سینکڑوں دیگوں کے حساب سے جو کھانا پکتا ہے وہ علاوہ ازیں۔ الحمد للہ! امسال حاضری بھی خوب سے خوب تر تھی۔ ایک ہفتہ کی قلیل مدت میں تیاری، رفقاء کی تشریف آوری اور سابق سے بھی زیادہ رش اسے محض کرم خداوندی سے ہی تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ فالحمد للہ!
قارئین کرام! لیجئے فقیر کی دیوانگی زیر نظر رہے کہ کانفرنس کے پنڈال کا کہہ کر آپ کو کھانا کے پنڈال لے چلا۔ چلئے واپس پنڈال چلتے ہیں۔ ٩/ بجے کانفرنس کے لئے سپیکر چالو کر دیئے گئے۔ وضو کرنے، کانفرنس کی تیاری کے لئے اعلانات ہونے لگے۔ اب ذرا پنڈال کی رپورٹ عرض کرتے ہیں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ۶۶۹ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
صبح درس جامع مسجد ختم نبوت میں مولانا مفتی محمد حسن صاحب نے ارشاد فرمایا۔
نشست اوّل: ۱۰؍اکتوبر ۲۰۱۹ء بروز جمعرات صبح دس بجے
صدارت: مولانا عزیز الرحمن جالندھری۔
افتتاحی دعاء: مولانا صاحبزادہ خلیل احمد صاحب۔
تلاوت: حسنین معاویہ متعلم دارالقرآن فیصل آباد۔
صدارتی خطاب: مولانا عزیز الرحمن جالندھری۔
نعت: جناب اطہر ہاشمی ایبٹ آباد، مولانا عمران نقشبندی۔
خطاب: مفتی وقار عثمان مانسہرہ، مولانا ضیاء الدین آزاد، مولانا محمد حبیب ٹوبہ، مولانا فضل الرحمن سرگودھا، مولانا عبدالحکیم نعمانی ساہیوال، مولانا محمد ساجد لیہ، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا سمیع اللہ، مولانا مہتاب احمد، مولانا محمد انور انصر چونڈہ، مولانا عبدالرشید فیصل آباد، مولانا غلام حسین جھنگ۔
اسٹیج سیکرٹری: مولانا محمد قاسم رحمانی بہاول نگر۔
وقفہ برائے نماز ظہر۔ ظہر کی نماز پنڈال میں مولانا محمد شاہد ندیم استاذ الحدیث جامعہ عربیہ ختم نبوت نے پڑھائی اور پھر بمعہ عصر تک تمام نمازوں کے آپ ہی امام رہے۔
دوسری نشست: ۱۰؍اکتوبر ۲۰۱۹ء جمعرات بعد از ظہر
صدارت: مولانا صاحبزادہ خلیل احمد صاحب۔
تلاوت: محمد داؤد نقشبندی لاہور۔
نعت: حافظ محمد عقیل سرگودھا، حافظ امتیاز پشاور، حافظ محمد عثمان اوکاڑہ۔
خطاب: مولانا محمد سلمان خالد چنیوٹ، مولانا محمد خالد عابد شیخوپورہ، مولانا محمد طارق راولپنڈی، مولانا مفتی محمد دین ٹل، مولانا قاری جمیل احمد بندھانی سکھر، مولانا مفتی ذکاء اللہ ساہیوال، مولانا محمد انیس نواب شاہ، مولانا محمد ایوب خان ڈسکہ، صاحبزادہ مبشر محمود فیصل آباد، سید نور الحسن چنیوٹ، قاری جمیل الرحمن اختر لاہور، مولانا عبدالرؤف چشتی۔
اسٹیج سیکرٹری: مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی۔
تیسری نشست: ۱۰؍اکتوبر ۲۰۱۹ء بروز جمعرات بعد از عصر
صدارت: مولانا مفتی محمد حسن صاحب۔
نعت: مولانا عبید اللہ۔
سوالات کے جوابات: اللہ وسایا راقم۔
چوتھی نشست: ۱۰؍اکتوبر ۲۰۱۹ء بروز جمعرات بعد از مغرب
تلاوت: قاری مقصود خان ربانی فاروق آباد۔
نعت: حافظ محمد احمد چارسدہ۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
خطاب و مجلس ذکر: مولانا قاضی ارشد الحسینی اٹک ۔
پانچویں نشست: ۱۰/ اکتوبر ۲۰۱۹ء بروز جمعرات بعد از عشاء
صدارت: مولانا ڈاکٹر صاحبزادہ سعید اسکندر کراچی ۔
تلاوت: ارباب سکندر ، قاری محمد زکریا۔
نعت: حافظ ابو ہریرہ ، رانا محمد عثمان قصوری ، حافظ اسامہ حسان ، مفتی شاہد عمران عارفی ساہیوال ، جناب طاہر بلال چشتی ، سید سلمان گیلانی ، سید فضل امین چارسدہ ۔
خطاب: مولانا عمر فاروق نواسہ امام اہل سنت مولانا سرفراز خان صفدر ، قاری مولانا علیم الدین شاکر لاہور ، مولانا قاضی عبدالرشید راولپنڈی ، مولانا محمد رضوان عزیز مدرس درجہ تخصص جامعہ عربیہ ختم نبوت چناب نگر ، مولانا قاضی مشتاق الرحمٰن امیر مجلس راولپنڈی ، مولانا ڈاکٹر صاحبزادہ سعید اسکندر کراچی ، شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید فاروقی چوک سرور شہید ، مولانا نور محمد ہزاروی امیر مجلس سرگودھا ، مولانا عزیز الرحمن ثانی لاہور ، حافظ سید محمد کفیل بخاری نائب صدر مجلس احرار اسلام پاکستان ، حافظ پیر ناصر الدین خاکوانی مرکزی نائب امیر عالمی مجلس ، خواجہ مدثر محمود خانقاہ عالیہ سلیمانیہ تونسہ شریف ، صاحبزادہ پیر غلام نظام الدین سیال شریف سرگودھا ، سید ضیاء اللہ شاہ بخاری ناظم اعلیٰ مرکزی جمعیۃ اہل حدیث پاکستان ، مولانا اکرام الحق امیر عالمی مجلس مردان ، جناب لیاقت بلوچ مرکزی نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان ، مولانا امجد خان لاہور سیکرٹری جمعیۃ علماء اسلام پاکستان ۔
اس اجلاس کی آخری دعاء و مجلس ذکر: صاحبزادہ میاں محمد اجمل قادری لاہور ۔
اس اجلاس میں بطور خاص مندرجہ ذیل حضرات نے از راہ نوازش شرکت سے سرفراز فرمایا ۔
مہمانان خصوصی: مولانا محمد عمر مکی فیصل آبادی مکہ مکرمہ ، مولانا مفتی عبدالواحد قریشی ڈیرہ اسماعیل خان ، مولانا مفتی محمد معاذ امیر مجلس چکوال ، مولانا اللہ داد کاکڑ ژوب ، مولانا ظفر احمد قاسم وہاڑی ، مولانا اعجاز مصطفیٰ کراچی ، مولانا محمد عابد خیر المدارس ملتان ، مولانا مفتی عظمت اللہ بنوں ، چاچا عنایت علی پشاور ، پیر طریقت سید جاوید حسین شاہ فیصل آباد ، مولانا محب اللہ لورالائی خلیفہ مجاز مولانا خواجہ خان محمد مرحوم ، جناب صاحبزادہ نجیب احمد ، مولانا صاحبزادہ خلیل احمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ ، مولانا صاحبزادہ عزیز احمد نائب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ۔
اسٹیج سیکرٹری: مولانا قاضی احسان احمد ۔
درس قرآن: ۱۱/ اکتوبر ۲۰۱۹ء بروز جمعہ بعد از نماز فجر
درس: شیخ الحدیث مولانا منیر احمد منور باب العلوم کہروڑ پکا ۔
دعاء: مولانا مفتی محمد حسن ۔
چھٹی نشست: ۱۱/ اکتوبر ۲۰۱۹ء قبل از جمعہ
صدارت: مولانا صاحبزادہ عزیز احمد صاحب ۔
تلاوت: جناب قاری احسان اللہ فاروقی لاہور ۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نعت: قاری عثمان اجمل پھلور، رشیدی برادران، قاری شفیق الرحمن جھنگ۔
خطاب: مولانا مختار احمد میر پور خاص، ڈاکٹر دین محمد فریدی بھکر، مولانا محمد اویس کوئٹہ، مولانا صاحبزادہ مفتی محمد احمد کوئٹہ، مولانا مفتی عبدالرزاق طوبیٰ مسجد کوئٹہ، مولانا تجمل حسین نواب شاہ، مولانا مفتی عظمت اللہ بنوں، مولانا مفتی محمد راشد مدنی رحیم یار خان، مولانا محمد ابراہیم ادہمی لکی مروت، مولانا خورشید عادل پشاور، مولانا مفتی مسعود احمد سومرو، مولانا راشد مدنی ٹنڈو آدم، مولانا مفتی محمد حسن لاہور، راقم اللہ وسایا، مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی پشاور۔
مہمانان خصوصی: شیخ الحدیث مولانا محمد مکی حبیب المدارس علی پور، محترم مولانا محمد مکی مکہ مکرمہ۔
اسٹیج سیکرٹری: مولانا قاضی احسان احمد، معاونین مولانا محمد قاسم رحمانی، مولانا خبیب احمد ٹوبہ۔
دستار بندی:
اس موقعہ پر جامعہ عربیہ ختم نبوت چناب نگر میں درجہ تخصص اور دورۂ حدیث شریف کے فضلاء اور قرآن مجید کے حفاظ کی بھی دستار بندی کرائی گئی۔ اس سے قبل تفصیل سے مولانا قاضی احسان احمد نے جامعہ کا تعارف کرایا۔ دستار بندی کرانے والے بزرگان گرامی قدر کے اسماء مبارک یہ ہیں:
مولانا صاحبزادہ خلیل احمد، مولانا صاحبزادہ عزیز احمد، مولانا مفتی محمد حسن لاہور، شیخ الحدیث مولانا خلیل اللہ رحیم یار خان، صاحبزادہ نجیب احمد خانقاہ سراجیہ کندیاں، شیخ الحدیث مولانا منیر احمد منور کہروڑ پکا، مولانا اعجاز مصطفیٰ کراچی، مولانا محب اللہ لورالائی، مولانا محمد عابد خیر المدارس ملتان، مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی پشاور، شیخ الحدیث مولانا غلام رسول دین پوری، مولانا اللہ داد کاکڑ خطیب جامع مسجد ژوب، مولانا ظہور احمد علوی اسلام آباد، محترم جناب صاحبزادہ سعید احمد خانقاہ سراجیہ، مولانا غلام اللہ ہالیجوی فرزند سائیں عبدالصمد ہالیجوی، مولانا محمد مکی علی پور۔
تخصص فی علوم ختم نبوت:
تخصص فی علوم ختم نبوت کے رفقاء سال سوم ۲۰۱۷ء کی تعداد مسلسل نمبر کے حساب سے ۷۷ تھی۔ ۲۰۱۷ء میں تخصص فی الفقہ کے سال اوّل (۱۴۳۸-۳۹ھ) کی تعداد ۹ تھی۔ تخصص فی علوم ختم نبوت کل تعداد ۷۷ میں تخصص فی الفقہ کے ۹ ساتھیوں کو شامل کریں تو کل تخصص کرنے والے حضرات کی تعداد چھیاسی (۸۶) بنتی ہے۔ جس کی فہرست لولاک جنوری ۲۰۱۹ء کے ص ۱۱، ۱۲ پر ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔ (۱۴۳۹-۴۰ھ) میں دونوں تخصصات کو ایک کر دیا گیا۔ اس سال کل گیارہ حضرات نے تخصص کیا۔ جن کی دستار بندی ۳۸ ویں سالانہ آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس کے موقعہ پر ۱۱؍اکتوبر ۲۰۱۹ء قبل از جمعہ کرائی گئی۔ ان متخصصین حضرات علماء کرام کے اسماء گرامی یہ ہیں:
مسلسل نمبر شمار اسم گرامی ضلع ۸۷ ۱ مولوی اللہ ودھایا خیر پور میرس ۸۸ ۲ مولوی امیر حمزہ خیر پور میرس ۸۹ ۳ مولوی سمیع اللہ کوئٹہ ۹۰ ۴ مولوی اعجاز خان مردان ۹۱ ۵ مولوی طفیل احمد لوئر دیر
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ۶۷۲ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۹۲ ۶ مولوی فہیم اللہ پشاور ۹۳ ۷ مولوی محمد طارق معاویہ مظفر گڑھ ۹۴ ۸ مولوی محمد مدثر چنیوٹ ۹۵ ۹ مولوی طارق عزیز فیصل آباد ۹۶ ۱۰ مولوی سجاد الرحمٰن محراب پور ۹۷ ۱۱ مولوی عصمت اللہ نوشہرو فیروز
دورۂ حدیث شریف کے فضلاء کرام کی دستار بندی:
۱۴۳۷ھ کے شوال میں دورۂ حدیث شریف کا جامعہ عربیہ ختم نبوت میں آغاز کیا گیا۔ سال اوّل کے فضلاء کی تعداد ۱۲ تھی۔ سال دوئم کے فضلاء کی تعداد ۱۶ تھی۔ کل تعداد دو سالوں کی اٹھائیس بنتی ہے جن کی فہرست ماہنامہ لولاک جنوری ۲۰۱۹ء کے ص ۱۲، ۱۳ پر موجود ہے۔ دورۂ حدیث کے سال سوم (۱۴۳۹ھ، ۱۴۴۰ھ) کی تعداد بیس تھی۔ ۱۱؍ اکتوبر ۲۰۱۹ء کو قبل از جمعہ دستار بندی کرائی گئی۔ جن کی فہرست یہ ہے:
مسلسل نمبر شمار اسم گرامی ضلع ۲۹ ۱ مولوی محمد سلمان ولد نذیر احمد رحیم یار خان ۳۰ ۲ مولوی محمد مظہر ولد محمد افضل مظفر گڑھ ۳۱ ۳ مولوی محمد عامر سلطان ولد کریم بخش چنیوٹ ۳۲ ۴ مولوی محمد امین ولد محمد ابراہیم رحیم یار خان ۳۳ ۵ مولوی شعیب احمد ولد عبد اللہ رحیم یار خان ۳۴ ۶ مولوی عتیق الرحمٰن ولد عبدالرحمٰن چنیوٹ ۳۵ ۷ مولوی محمد عرفان ولد محمد رمضان سرگودھا ۳۶ ۸ مولوی محمد وسیم ولد گلزار احمد چنیوٹ ۳۷ ۹ مولوی محمد اطہر ولد قاری محمد طاہر چنیوٹ ۳۸ ۱۰ مولوی محمد علی ولد احمد علی چنیوٹ ۳۹ ۱۱ مولوی محمد سلیم ولد محمد اقبال کراچی ۴۰ ۱۲ مولوی عبدالقدیر ولد غلام محمد مظفر گڑھ ۴۱ ۱۳ مولوی عبدالغنی ولد محمد ظریف بلوچستان ۴۲ ۱۴ مولوی محمد فیصل ولد محمد صادق چنیوٹ ۴۳ ۱۵ مولوی محمد عامر شہزاد ولد رفیق الدین منڈی بہاؤ الدین ۴۴ ۱۶ مولوی حفیظ الرحمٰن ولد محمد شریف بہاول نگر ۴۵ ۱۷ مولوی محمد عثمان شاد ولد رحیم بخش بہاول پور
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۴۶ ۱۸ مولوی اللہ ورایا ولد اللہ داد سندھ ۴۷ ۱۹ مولوی محمد یونس ولد نور احمد رحیم یار خان ۴۸ ۲۰ مولوی محمد بلال ولد عبدالحمید رحیم یار خان
شعبہ تحفیظ القرآن الکریم (۴۰-۱۴۳۹ھ):
جامعہ عربیہ ختم نبوت چناب نگر درجہ حفظ و گردان سے فارغ ہونے والے طلباء کی تعداد ۳۰۶ کی فہرست لولاک جنوری ۲۰۱۹ء کے ص ۱۳،۱۲ پر چھپ چکی ہے۔ اس سال ۴۰-۱۴۳۹ھ میں حفظ و گردان کے طلباء کی تعداد ۲۳ تھی۔ جن کی ۳۸ ویں سالانہ آل پاکستان کانفرنس میں ۱۱؍ اکتوبر ۲۰۱۹ء قبل از جمعہ دستار بندی کرائی گئی۔ ان کی فہرست یہ ہے:
مسلسل نمبر شمار اسم گرامی ضلع ۳۰۷ ۱ حافظ محمد عفان ولد محمد نصیر لاہور ۳۰۸ ۲ حافظ محمد زبیر ولد محمد عظیم چنیوٹ ۳۰۹ ۳ حافظ محمد نعمان ولد مہر لیاقت علی چنیوٹ ۳۱۰ ۴ حافظ محمد عرفان ولد اللہ دتہ چنیوٹ ۳۱۱ ۵ حافظ محمد رمیز ولد محمد وارث چنیوٹ ۳۱۲ ۶ حافظ عادل حسن ولد محمد یوسف چنیوٹ ۳۱۳ ۷ حافظ محمد حسین معاویہ ولد محمد افضل چنیوٹ ۳۱۴ ۸ حافظ محمد اصغر ولد سونا خان ڈیرہ غازی خان ۳۱۵ ۹ حافظ احسان احمد ولد عبدالغفار ملتان ۳۱۶ ۱۰ حافظ جمیل خان ولد تاج خان چنیوٹ ۳۱۷ ۱۱ حافظ محمد بلال ولد خضر حیات چنیوٹ ۳۱۸ ۱۲ حافظ معین الدین ولد مولانا غلام رسول رحیم یار خان ۳۱۹ ۱۳ حافظ اکرام حیدر ولد محمد نواز سرگودھا ۳۲۰ ۱۴ حافظ محمد عمر فاروق ولد غلام شبیر مظفر گڑھ ۳۲۱ ۱۵ حافظ محمد علی ولد محمد لطیف چنیوٹ ۳۲۲ ۱۶ حافظ محمد حسان ولد غلام عباس خانیوال ۳۲۳ ۱۷ حافظ محمد احمد ولد امتیاز احمد چنیوٹ ۳۲۴ ۱۸ حافظ ذیشان معاویہ ولد محمد ابراہیم چنیوٹ ۳۲۵ ۱۹ حافظ مستقیم ولد عبید اللہ چنیوٹ ۳۲۶ ۲۰ حافظ یحییٰ وقاص ولد محمد عارف چنیوٹ
تحریک ختم نبوت جلد (١٠) ٢٠١٩ء ٦٧٤ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا ۳۲۷ ۲۱ حافظ امیر حمزہ ولد عمر فاروق چنیوٹ ۳۲۸ ۲۲ حافظ سلیم اللہ خان ولد ریاض احمد جھنگ ۳۲۹ ۲۳ حافظ حسن جلال ولد محمد حیات چنیوٹ
خطبہ و نماز جمعہ:
ان بیانات و دستار بندی کے بعد جمعہ کی ادائیگی کا مرحلہ تھا۔ اسٹیج پر بیٹھے بیٹھے خیال آیا مولانا عزیز الرحمٰن ثانی، مولانا قاضی احسان احمد سے مشورہ کیا کہ امام صاحب خطبہ و جماعت کے لئے پنڈال میں کھڑے ہوتے ہیں۔ اگر خطبہ جمعہ جامعہ کے غربی برآمدہ میں لائبریری کے دروازہ کے سامنے ہو جائے۔ نماز جمعہ کے لئے امام صاحب کا مصلیٰ لائبریری کے دروازہ میں بچھوا دیا جائے اور وہ وہاں امامت کرائیں تو غربی برآمدہ مکمل دو صفیں، غربی برآمدہ کی دوسری منزل پر دو صفیں اور پہلے والی جگہ پنڈال میں امام صاحب والی صف، مکمل پانچ صفوں کا اضافہ ہو جائے گا۔ مگر آدھ گھنٹہ میں انتظام کرنا ذرا مشکل امر تھا۔ مولانا عزیز الرحمٰن ثانی نے انتظام کی ذمہ داری اٹھالی۔ مولانا محمد وسیم اسلم کو بمعہ سیکورٹی کے لائبریری کے پاس کھڑا کر دیا۔ مولانا قاضی احسان احمد نے اعلان کر دیا۔ یوں اس سال جمعہ کی نماز کے لئے اوپر نیچے پانچ مزید صفوں کا اضافہ ہو گیا۔
قارئین کرام! جامعہ کی بلڈنگ کی دوسری منزل غربی جانب گزشتہ سال مکمل تھی۔ فرش، رنگ، بجلی، پانی کے مراحل باقی تھے۔ گزشتہ سال کانفرنس پر جزوی فائدہ تو اس منزل سے اٹھایا گیا۔ اس سال فرش، رنگ و روغن، پانی، بجلی سب کام مکمل تھے۔ الحمد للہ! بہت سہولت ہو گئی۔ رات کے اجلاس میں دوسری منزلوں کے دونوں برآمدوں اور کمروں میں بیٹھ کر سامنے اسٹیج سے براہ راست یا سکرین کے ذریعہ کانفرنس کی مکمل کارروائی دیکھی گئی۔ فالحمد للہ! اس سے اس سال بہت سہولت رہی۔ جمعہ پر بھی اس نئے انتظام سے غربی جانب کے اوپر نیچے کے برآمدے، مکمل پنڈال اور شرقی جانب اوپر نیچے کے دونوں برآمدے اور تمام کمرے اور شرقی جانب کی چھت پر بھی نمازیوں کی صفیں ہی صفیں تھیں۔ کانفرنس کے اجتماع گاہ میں خطبہ جمعہ اور جماعت کی امامت و دعاء کے فرائض مولانا صاحبزادہ خلیل احمد صاحب نے سرانجام دیئے۔ جمعہ کی اذان ڈیڑھ بجے ہوئی۔ سنتوں کی ادائیگی کے بعد خطبہ و جماعت ہوئی۔ مسجد میں دوسری جمعہ کی نماز ہوئی۔ حسب سابق وہ پنڈال بھی اور دائیں بائیں کے گراسی پلاٹ، کھانے کا پنڈال سمیت نمازیوں سے اٹے ہوئے تھے۔ فالحمد للہ!
آخری نشست: ١١؍اکتوبر ٢٠١٩ء بعد از جمعہ
صدارت: مولانا صاحبزادہ خلیل احمد صاحب مہمانان خصوصی: مولانا حافظ پیر ناصر الدین خاکوانی، مولانا محمد مکی علی پور، مولانا ظہور احمد علوی اسلام آباد، پیر صاحبزادہ عبد القادر رائے پوری سرگودھا، جناب رضوان نفیس لاہور، جناب قاری محمد یاسین فیصل آباد۔ تلاوت: قاری مشتاق احمد امیر مجلس قصور۔ نعت: فضل امین شاہ، جناب سید سلمان گیلانی۔ قراردادیں: مولانا اعجاز مصطفیٰ امیر مجلس کراچی۔ خطاب: جناب محمد اسلم کچھیلا سرگودھا، مولانا محمد الیاس گھمن، مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی، جناب علامہ شاہ محمد اویس نورانی۔ آخری خطاب: قائد انقلاب اسلامی، مفکر اسلام مولانا فضل الرحمٰن امیر متحدہ مجلس عمل پاکستان۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دعائے اختتام: جناب پیر ذوالفقار احمد نقشبندی۔ عصر کی اذان و جماعت اور پھر آخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین!
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۱۹ء ص ۳ تا ۱۶)
ختم نبوت کانفرنس دھنی دیو گوجرہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامع مسجد ختم نبوت چک نمبر ۳۳۲ ج ب دھنی دیو گوجرہ ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ۱۲؍ اکتوبر ۲۰۱۹ء بروز ہفتہ بعد نماز مغرب ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ مولانا خورشید امام و خطیب جامع مسجد ہذا نے نگرانی اور مولانا عبدالمجید فاروقی چوک سرور شہید ضلع مظفر گڑھ نے صدارت فرمائی۔ مولانا اللہ وسایا کا خصوصی خطاب ہوا۔ آپ نے فرمایا کہ قادیانیت کے بدبودار شجر خبیثہ کی آبیاری ہمیشہ جھوٹ فریب دھوکہ دہی اور کذب ودجل پر قائم رہی اس سے بچنا ایمان اور عقیدہ کی سلامتی ہے اور آنحضرت ﷺ سے محبت وعقیدت کا تقاضا ہے کہ مرزائیت کا بائیکاٹ کرنا چاہیے۔ ضلعی مبلغ مولانا محمد حبیب، مولانا فیاض مدنی، مولانا خورشید نے بھی خطاب فرمایا۔ مولانا عبدالمجید فاروقی کی وعظ ونصائح اور دعاؤں سے کانفرنس کا اختتام ہوا۔ محمد فاروق نمبردار، محمد احمر، محمد وقاص اور ان کے رفقاء کرام نے کانفرنس کی تیاری میں بھر پور محنت و کاوش کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۱۹ء ص ۵۳، ۵۴)
سالانہ ختم نبوت کانفرنس بھلوال
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بھلوال کے زیر اہتمام ۱۳؍ اکتوبر ۲۰۱۹ء بروز اتوار بعد نماز عشاء تیسری سالانہ ختم نبوت کانفرنس مولانا محمد اکرم طوفانی کی زیر سرپرستی منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی صدارت مرکزی نائب امیر مولانا صاحبزادہ عزیز احمد مدظلہ اور نگرانی مولانا محبوب الحسن طاہر نے فرمائی۔ کانفرنس کی پہلی نشست کا آغاز قاری احمد سعید کی تلاوت سے ہوا۔ ہدیہ نعت قاری محمد راشد سراجی، قاری اکرام اللہ مدنی نے پیش کیا۔ نقابت کے فرائض مولانا محمد ہارون نے انجام دیئے۔ دوسری نشست کا آغاز فخر القراء قاری حماد انور نفیسی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ ہدیہ نعت حافظ ناصر میلسی اور حافظ طاہر بلال چشتی نے پیش کیا۔ کانفرنس سے مولانا عبدالکریم ندیم خانپور، مولانا قاری علیم الدین شاکر لاہور، مولانا نور محمد ہزاروی سرگودہا، مفتی محمد شاہد مسعود سرگودہا، مولانا عبدالرشید سرگودہا، مولانا سیف اللہ کبیر پوری ترجمان مسلک اہلحدیث سمیت دیگر حضرات نے خطاب فرمایا۔ کانفرنس میں استاذ العلماء مولانا محمد یعقوب احسن نے خصوصی جب کہ مولانا محمد بلال میانی، مولانا ظفر بلال بھیرہ، مولانا مفتی شہاب زاہد جھاوریاں، مولانا عبدالشہید ۱۹ چک شمالی، قاری گلزار تصور آباد نے قافلوں کی صورت میں شرکت کی۔ علاوہ ازیں مقامی علماء کرام سمیت سیاسی وسماجی شخصیات نے بھر پور شرکت کی۔ مولانا صاحبزادہ عزیز احمد نے مولانا محبوب الحسن طاہر اور ان کی پوری ٹیم حافظ عبداللہ منصور، شیخ زاہد، رانا محمد اعظم، شیخ شیراز احمد، ڈاکٹر مطلوب الحسن، ڈاکٹر منظور الحسن ناصر، خواجہ عرفان، حافظ منصور، شہباز ذوالفقار، حمزہ فہیم، خواجہ اختر سعید، محمد انصر، خالد افضل، صاحبزادہ صہیب حسن، محمد علی، عمر اکرم سمیت دیگر اراکین و کارکنان کی حوصلہ افزائی فرمائی اور کانفرنس کی شاندار کامیابی پر مجاہد ختم نبوت مولانا محبوب الحسن طاہر کو اعزازی شیلڈ سے نوازا۔ الحمدللہ کانفرنس کا پنڈال اپنی تمام وسعتوں کے باوجود خاصی تنگی کی شکایت کرتا رہا۔ صاحبزادہ عزیز احمد کی دعاء سے کانفرنس کا اختتام ہوا۔ (حافظ عبداللہ منصور)
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۲۰ء ص ۴۲، ۴۳)
ختم نبوت کانفرنس سکھر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام نیو تعلقہ سکھر زیر تعمیر جامع مسجد ختم نبوت نزد فراش گوٹھ میں ختم نبوت کانفرنس مؤرخہ
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۱۷؍اکتوبر بروز جمعرات بعد نماز مغرب منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی نگرانی: مولانا محمد حسین ناصر اور اہتمام: فقیر عبدالحمید نے کیا۔ کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے مولانا قاری جمیل احمد بندھانی امیر مجلس سکھر، مبلغ مولانا محمد حسین ناصر ،مولانا عبدالقیوم ہالیجوی مرکزی نائب امیر جے یو آئی ، مولانا صبغت اللہ جوگی ، مولانا اسد اللہ کھوڑو و دیگر علماء کرام نے اپنے خطاب میں عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور قادیانی فتنہ کی سنگینی سے مسلمانوں کو آگاہ کیا۔ کانفرنس رات ۱۲ بجے مولانا اسد اللہ کھوڑو کے بیان ودعاء پر اختتام پذیر ہوئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۲۰ء ص ۴۳)
ختم نبوت کانفرنس گاڑھی موری ضلع خیر پور میرس
جامع مسجد گاڑھی موری ضلع خیر پور میرس میں ۱۸؍اکتوبر ۲۰۱۹ء بروز جمعہ بعد نماز عشاء عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس صاحبزادہ مولانا عبدالواسع ہالیجوی کی زیر نگرانی و زیر انتظام منعقد ہوئی۔ تلاوت ونعت کے بعد مولانا عبدالواسع ہالیجوی نے کانفرنس کی غرض وغایت اور قادیانی فتنہ سے حاضرین کو آگاہ کیا۔ علماء کرام میں مولانا محمد حسین ناصر مبلغ ختم نبوت سکھر اور مولانا غلام مصطفیٰ ہڑڑو نے اپنے بیان میں کہا کہ حضور ﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔ اب آپ ﷺ کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آئے گا۔ اب اگر کوئی نبوت کا دعویٰ کرے گا تو وہ کذاب ودجال ہوگا۔ کانفرنس رات بارہ بجے مولانا غلام مصطفیٰ کے بیان ودعاء کے ساتھ مکمل ہوئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۲۰ء ص ۴۴)
ختم نبوت کورس عارف والا
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مدرسہ عربیہ فاروقیہ قبولہ روڈ عارف والا میں ۲۳؍اکتوبر کو ایک روزہ ختم نبوت کورس منعقد ہوا۔ مولانا محمد قاسم رحمانی مبلغ عالمی مجلس بہاول نگر نے عقیدہ ختم نبوت اور ہماری ذمہ داری کے موضوع پر شاندار لیکچر دیتے ہوئے منکرین ختم نبوت کی مصنوعات کے بائیکاٹ کا بھی عہد لیا۔ کورس میں مولانا عبدالحکیم نعمانی ، مفتی عبیداللہ ، اور دیگر علماء کرام کا بھر پور تعاون شامل حال رہا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۲۰ء ص ۵۳)
ملتان کی ڈائری
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان دفتر میں مولانا محمد وسیم اسلم کو لائبریرین اور ماہنامہ لولاک ملتان کا معاون مدیر مقرر کیا گیا تھا۔ موصوف کو باضابطہ ملتان کا مبلغ بھی مقرر کیا گیا ہے۔ سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کے بعد انہوں نے ملتان کے شرقی کنارے خانیوال روڈ اور سمیجہ آباد کی مساجد کا سروے شروع کیا۔ ان دنوں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی بھی بیرون ملتان پروگرام نہ ہونے کی وجہ سے دفتر مرکزیہ میں تھے۔ چنانچہ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور مولانا محمد وسیم اسلم نے ۱۸؍اکتوبر کے خطبات جمعۃ المبارک اپنے مرحوم بزرگ، تحریک ختم نبوت کے بے باک مجاہد، ہزاروں علماء کرام کے استاذ گرامی مولانا عبدالرحیم اشعر کے علاقہ عنایت پور تحصیل جلالپور پیروالہ میں ارشاد فرمائے۔ مولانا اشعر کے قائم کردہ مدرسہ مطالب العلوم کی جامع مسجد میں مولانا محمد وسیم اسلم اور قریبی بستی بستی آرائیاں کی مرکزی جامع مسجد میں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کیا اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے مولانا اشعر کی عظیم الشان خدمات پر انہیں زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ بعد ازاں دونوں علماء کرام نے جلالپور پیروالہ شہر کی چار مساجد میں بیانات کئے۔ علاوہ ازیں مولانا محمد وسیم اسلم نے مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کے اور اپنے دروس ترتیب دیئے۔ چنانچہ ایک ہفتہ میں انتیس (۲۹) مساجد میں بیانات ہوئے۔ جن علاقوں میں دروس ختم نبوت کی صدا بلند کی گئی ان میں پیراں غائب ، باغ حسین ، ۴۰فٹی ، ۲۰فٹی ، کپڑا مارکیٹ ، زیڈ ٹاؤن ، شاہ ٹاؤن ، مکہ
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ٹاؤن، فیصل کالونی، دین پورہ، باقرہ آباد، حسن آباد سمیت دیگر کئی علاقے شامل ہیں۔ جامع مسجد کوثر کے مولانا عطاء الرحمن نے علاقہ کی رہبری میں بھر پور کردار ادا کیا۔ ملتان کے درودیوار عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت وفضیلت کے سلسلہ میں گونج اٹھے۔ ملتان شہر کی مضافاتی آبادیوں میں قائم ہونے والی نئی مساجد میں ختم نبوت اور تحریک ختم نبوت سے متعلق بیانات سن کر اہل ملتان نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر کا شکریہ ادا کیا کہ مجاہدین ختم نبوت نے انہیں یاد کیا۔ بیانات سن کر سامعین نے کہا کہ وہ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے ناموس رسالت پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان دسمبر ۲۰۱۹ء ص ۵۴)
کنڈ احمد اثڑ کہروڑ پکا میں جلسہ ختم نبوت
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام کنڈ احمد اثڑ میں یکم نومبر ۲۰۱۹ء کو عشاء کی نماز کے بعد ختم نبوت کے عنوان پر جلسہ منعقد ہوا۔ جس میں کہروڑ پکا مجلس کے امیر مولانا منیر احمد ریحان اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کے بیانات ہوئے۔ مدرسہ حفظ القران کہروڑ پکا کے مہتمم مولانا قاری عبد الرحمن نے بھی شرکت کی۔ جامع مسجد تالاب والی بخاری چوک کہروڑ پکا اہل حق کا قدیمی مرکز ہے۔ نماز ظہر کے بعد اس مسجد میں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب فرمایا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۲۰ء ص ۵۲)
ختم نبوت کانفرنس جوہر آباد
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۵؍نومبر ۲۰۱۹ء بروز جمعہ بعد نماز عشاء شبیر کالونی جوہر آباد میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ نقابت کے فرائض مفتی زاہد نے انجام دیئے۔ تلاوت قاری عبد الرحمن نے کی۔ بیانات مولانا عبد الغفار بریلوی، مولانا عبد الغفار اہل حدیث لاہور، مولانا نور محمد ہزاروی سرگودھا، مولانا سیف اللہ قادری لاہور، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا شبیر احمد عثمانی فیصل آباد، مولانا محمد نعیم مبلغ خوشاب اور مولانا فیض اللہ نے کئے۔ نعت حافظ منیر احمد کراچی نے پیش کی۔ کانفرنس کی صدارت نائب امیر مرکزیہ مولانا عزیز احمد نے فرمائی۔ دعاء مولانا عبد الجبار، مولانا اظہار الحسن مولانا جنید احمد خوشاب نے کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۲۰ء ص ۳۹)
شعور ختم نبوت کورس سمندری
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام تین روزہ ۵، ۶، ۷؍نومبر بروز منگل، بدھ، جمعرات دن دس تا بارہ بجے تک جامعہ دارالعلوم الاسلامیہ سمندری میں شعور ختم نبوت کورس منعقد ہوا۔ مولانا عطاء اللہ نقشبندی مامونکانجن، مولانا مجاہد مختار پیر محل اور مولانا محمد حبیب نے عقیدہ ختم نبوت، سیرت امام مہدی علیہ الرضوان، حیات سیدنا عیسیٰ علیہ السلام، کردار آنجہانی مرزا قادیانی پر لیکچر دیئے۔ کورس میں ۷۰؍ طلباء وطالبات نے شرکت کی۔ امتحان میں اوّل، دوم، سوم آنے والوں کو خصوصی کتب اور ان کے علاوہ تمام شرکائے کورس کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے آئینہ قادیانیت کتاب لٹریچر اور دیگر انعامات سے نوازا گیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۲۰ء ص ۵۳)
شعور ختم نبوت کورس گوجرہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام تین روزہ ۵، ۶، ۷؍نومبر ۲۰۱۹ء بروز منگل، بدھ، جمعرات بعد نماز مغرب تا عشاء مرکزی جامع مسجد احیاء العلوم گوجرہ میں شعور ختم نبوت کورس منعقد ہوا۔ کورس کی صدارت: مولانا اسعد مدنی امیر عالمی مجلس گوجرہ نے فرمائی۔ کورس میں مولانا عطاء اللہ نقشبندی مامونکانجن، مولانا مجاہد مختار پیر محل اور ضلعی مبلغ مولانا محمد حبیب نے عقیدہ ختم نبوت، سیرت امام مہدی علیہ
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء
ترتیب وتوثیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
الرضوان، حیات سیدنا عیسیٰ علیہ السلام، کردار آنجہانی مرزا قادیانی پر لیکچر دیئے۔ کثیر عوام الناس نے کورس میں شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۲۰ء ص ۵۳)
ختم نبوت کانفرنس نوتک محمد ضلع ڈیرہ غازی خان
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۸؍ نومبر ۲۰۱۹ء نوتک محمد ڈیرہ غازی خان مدرسہ عطاء العلوم میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی صدارت مولانا صاحبزادہ اسعد حبیب شاہ جمالی نے کی۔ کانفرنس سے شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید فاروقی چوک سرور شہید، مولانا محمد اسلم سلیمی اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کے بیانات ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۲۰ء ص ۴۴)
میلاد مصطفیٰ ﷺ کانفرنس ڈیرہ غازی خان
۸؍نومبر ۲۰۱۹ء کو بعد نماز مغرب جامع مسجد الفرحان پل ڈاٹ ڈیرہ غازی خان میں میلاد مصطفیٰ ﷺ کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں راجن پور کے معروف خطیب خوش الحان مولانا عمر حیدری اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے سرور دو عالم ﷺ کی ولادت باسعادت اور آپ ﷺ کی سیرت طیبہ پر بیانات فرمائے۔ صدارت مولانا قاری انعام اللہ نے کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۲۰ء ص ۴۴)
جامع مسجد ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں جلسہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۲؍ ربیع الاول مطابق ۱۰؍ نومبر ۲۰۱۹ء کو عشاء کی نماز کے بعد جامع مسجد ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں مولانا غلام مصطفیٰ کی زیر نگرانی رحمت کائنات ﷺ کی سیرت طیبہ پر سالانہ جلسہ منعقد ہوا۔ پروگرام کی صدارت جامعہ کے شیخ الحدیث مولانا غلام رسول دین پوری نے فرمائی۔ پروگرام میں چنیوٹ سے خطیب شیریں بیان مولانا غلام شبیر اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خصوصی بیان فرمائے۔ علاقہ کے مسلمانوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۲۰ء ص ۵۳)
شان مصطفیٰ ﷺ و تحفظ ختم نبوت کانفرنس لاہور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اچھرہ لاہور کے زیر اہتمام ۱۰؍ نومبر ۲۰۱۹ء کو جامع مسجد مولانا احمد علی لاہوری اچھرہ میں تاریخ ساز شان مصطفیٰ و ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی سرپرستی مولانا میاں محمد اجمل قادری اور صدارت پیر رضوان نفیس نے کی۔ کانفرنس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ کانفرنس میں قاری ادریس آصف، حماد انور نفیسی کی تلاوت ہوئی۔ مولانا شبیر احمد عثمانی، مولانا عبدالکریم ندیم، قاضی مطیع اللہ سعیدی، مولانا قاری علیم الدین شاکر، مبلغ لاہور مولانا عبدالنعیم نے بیانات اور ملک عزیز کے نامور نعت خواں حافظ ابوبکر مدنی نے ہدیہ نعت پیش کیا۔ آخر میں قرعہ اندازی کے ذریعے نام نکلنے والے خوش نصیب افراد کو عمرے کے ٹکٹ دیئے گئے: (۱) کریم خان ولد عبداللطیف۔ (۲) محمد حسنین ولد شیر احمد۔ (۳) محمد قاسم ولد انتظار احمد۔ (۴) محمد جمیل ولد محمد سعید۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۲۰ء ص ۴۵)
سیرت خاتم الانبیاء ﷺ پروگرام سکھر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سکھر کے زیر انتظام ۱۰؍ نومبر ۲۰۱۹ء بمطابق ۱۲؍ ربیع الاوّل ۱۴۴۱ھ بروز اتوار بعد نماز عشاء مدنی مسجد آدم شاہ کالونی سکھر میں سیرت خاتم الانبیاء ﷺ کانفرنس منعقد ہوئی۔ مولانا مفتی محکم الدین خطیب مسجد ہذا نے نگرانی فرمائی۔ تلاوت ونظم
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کے بعد مبلغ ختم نبوت سکھر ڈویژن مولانا محمد حسین ناصر نے عقیدۂ ختم نبوت وسیرت النبی ﷺ کے عنوان سے بیان کیا۔ اس کے بعد صاحبزادہ عبدالقیوم اشرفی، پھر مولانا عبداللطیف اشرفی ناظم جماعت ضلع سکھر اور آخری بیان مولانا قاری جمیل احمد بندھانی خطیب مرکزی جامع مسجد سکھر کا ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۲۰ء ص ۴۴، ۴۵)
سیرت خاتم الانبیاء ﷺ کانفرنس سکھر
۱۱؍ نومبر ۲۰۱۹ء بعد نماز عشاء اہل بیت مسجد شالیمار کالونی سکھر میں حافظ عبدالحنان کے زیرانتظام خاتم الانبیاء ﷺ کانفرنس منعقد ہوئی۔ تلاوت ونظم کے بعد مبلغ ختم نبوت مولانا محمد حسین ناصر نے تفصیلی خطاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۲۰ء ص ۴۶)
تحفظ ختم نبوت کورس لاہور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت شاہدرہ کے زیراہتمام تین روزہ ختم نبوت کورس جامع مسجد نمرہ بھلے ڈسنوال شاہدرہ لاہور میں ۱۰ تا ۱۲؍ نومبر ۲۰۱۹ء کو منعقد ہوا۔ کورس میں مرکز ختم نبوت چناب نگر کے شیخ الحدیث مولانا غلام رسول دین پوری، مبلغ ختم نبوت مولانا عبدالنعیم، مولانا خالد محمود، مولانا سعید وقار، مولانا سید جنید بخاری، مولانا محمد رفاقت و دیگر علماء اور عوام نے شرکت کی۔ ختم نبوت کورس میں عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت وفضیلت، حیات سیدنا عیسیٰ علیہ السلام، کذبات مرزا و دیگر مختلف موضوعات پر علماء نے لیکچرز دیئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۲۰ء ص ۵۴)
تحفظ ختم نبوت تربیتی نشست لاہور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام ۱۱؍ نومبر ۲۰۱۹ء کو جامعہ مسجد عبداللہ بن مسعود باگڑیاں گرین ٹاؤن میں ختم نبوت تربیتی نشست منعقد ہوئی۔ جس میں مدرسہ عربیہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر کے شیخ الحدیث مولانا غلام رسول دین پوری، مبلغ ختم نبوت لاہور مولانا عبدالنعیم، مولانا محمد آصف انبالوی سمیت کئی علماء کرام نے شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۲۰ء ص ۵۵)
تحفظ ختم نبوت کانفرنس نور پور تھل ضلع خوشاب
۱۲؍ نومبر ۲۰۱۹ء جامعہ رحیمیہ تعلیم القرآن روڈہ شہر تحصیل نور پور تھل ضلع خوشاب میں تحفظ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ تلاوت قاری سمیع اللہ نے کی۔ ہدیہ نعت قاسم گجر آف لاہور نے پیش کیا۔ بیانات مولانا فیض اللہ ہرنولی شہر اور مولانا زاہد چکڑالہ، مولانا نور محمد ہزاروی، مولانا یحییٰ عباسی، مولانا محمد نعیم مبلغ ختم نبوت خوشاب نے کئے۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض قاری حفیظ اللہ نے ادا کئے۔ صاحبزادہ خواجہ خلیل احمد نے کانفرنس کی سرپرستی فرمائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۲۰ء ص ۳۹)
ختم نبوت کورس چیچہ وطنی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام مدرسہ تجویدالقرآن المعروف درس پیر جی بلاک نمبر ۶ چیچہ وطنی میں ۱۳، ۱۴؍ نومبر ۲۰۱۹ء کو دو روزہ ختم نبوت کورس منعقد ہوا۔ صدارت خانقاہ عزیزیہ چک ۱۱ گیارہ ایل کے سجادہ نشین جناب پیر جی عبدالحفیظ رائے پوری نے فرمائی۔ مولانا محمد حبیب، مولانا محمد قاسم رحمانی، مولانا عبدالحکیم نعمانی اور پیر جی حفظ الرحمن نے رد قادیانیت کے موضوعات پر بیانات ولیکچرز دیئے۔ کورس کے اختتام پر شرکاء میں لٹریچر بھی تقسیم کیا گیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۲۰ء ص ۵۶)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس موسیٰ خیل ضلع میانوالی
کانفرنس ۱۴؍نومبر ۲۰۱۹ء بروز جمعرات بعد از نماز ظہر جامع مسجد صدیق اکبر سرمہ والہ شہر تحصیل موسیٰ خیل ضلع میانوالی میں منعقد ہوئی۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا جاوید چھدرو نے انجام دیئے۔ تلاوت قاری سعادت اللہ جب کہ نعت جاوید رانا قائد آباد نے پیش کی۔ کانفرنس سے مولانا اصغر سرگودھا، مفتی اکبر اللہ میانوالی، مولانا فیض اللہ، مولانا محمد نعیم خوشاب، مولانا نور محمد ہزاروی، مولانا عبدالرزاق صمدانی نے عقیدہ تحفظ ختم نبوت کے عنوان سے خطابات کئے۔ دعاء مولانا نعمت اللہ امیر عالمی مجلس سرووالہ نے کرائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۲۰ء ص ۳۹)
ختم نبوت کانفرنس سمندری
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سمندری کے زیر اہتمام ۱۴؍نومبر ۲۰۱۹ء بروز جمعرات بعد نماز ظہر جامعہ دارالعلوم الاسلامیہ سمندری میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی صدارت قاری سید احمد رضا شاہ امیر عالمی مجلس سمندری، قاری محمد یونس جنرل سیکرٹری سمندری نے جب کہ نگرانی قاری محمد نوید نے فرمائی۔ کانفرنس سے عالمی مجلس کے مرکزی رہنما مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا ظفر احمد قاسم وہاڑی۔ مولانا محمد حبیب مبلغ ٹوبہ ٹیک سنگھ اور مولانا عبدالرحیم چاریاری نے خطاب فرمایا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۲۰ء ص ۴۶)
ختم نبوت کانفرنس گوجرہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۴؍نومبر ۲۰۱۹ء بروز جمعرات بعد نماز مغرب جامع مسجد عائشہ نیو ماڈل ٹاؤن گوجرہ میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ صدارت صوفی محمد دین گوجرہ اور نگرانی مولانا محمد اسعد مدنی گوجرہ نے فرمائی۔ تلاوت کلام پاک قاری عمر حسنین گوجرہ نے کی، کانفرنس سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا عزیز الرحمن ثانی لاہور، مولانا مفتی عبدالواحد قریشی ڈیرہ اسماعیل خان، مولانا محمد حبیب ٹوبہ نے خطاب فرمایا۔ مولانا ذوالقرنین ٹوبہ، قاری شرافت علی مجددی گوجرہ، محمد ارسلان گوجرہ نے حمد و نعت پیش فرمائی، کانفرنس کی کامیابی کے لئے قاری محمد ارشد، مولانا سفیان، قاری عبدالرشید ڈوگر، بھائی ذوالفقار نے خوب محنت کی دن رات ایک کر دیا۔ بھائی مکرم اینڈ مدثر سعادت، دیگر احباب معاون رہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۲۰ء ص ۴۶)
مولانا حافظ پیر ناصر الدین خاکوانی کا دورہ چیچہ وطنی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی نائب امیر پیر طریقت مولانا پیر ناصر الدین خاکوانی حفظہ اللہ ۱۵؍نومبر کو ایک روزہ تبلیغی دورہ پر چیچہ وطنی تشریف لائے۔ مولانا عبدالحکیم نعمانی، بھائی محمد جعفر اور پیر جی انیس الرحمن، پیر جی حفظ الرحمن سمیت کارکنان ختم نبوت نے آپ کا استقبال کیا۔ پیر جی عبدالحفیظ رائے پوری کی دعوت پر حضرت خاکوانی صاحب نے جمعتہ المبارک کا خطبہ مدرسہ تجوید القرآن المعروف درس پیر جی بلاک نمبر ۶ میں ارشاد فرمایا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۲۰ء ص ۵۶)
ختم نبوت کانفرنس مصطفیٰ آباد لاہور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور جامعہ صدیقیہ و جامع مسجد الرفیق مصطفیٰ آباد صدر کینٹ لاہور کے زیر اہتمام سالانہ ختم نبوت کانفرنس ۱۶؍نومبر ۲۰۱۹ء کو منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی صدارت وفاق المدارس لاہور ڈویژن کے صدر مولانا مفتی عزیز الرحمن اور مجلس تحفظ ختم نبوت
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
لاہور کے نائب امیر پیر میاں رضوان نفیس نے کی۔ کانفرنس میں مولانا عبدالقدوس گجر، مولانا محمد رضوان عزیز، مولانا عبدالنعیم مبلغ ختم نبوت لاہور اور مولانا صوفی محمد اکرم سمیت ملک عزیز کے ممتاز علماء کرام نے شرکت و بیانات کئے۔ کانفرنس کے منتظم مولانا محمد یعقوب فیض، مولانا حسام الدین، معروف قاری قاری عبدالرشید، نعت خوان مولانا محمد آصف رشیدی، مولانا قادر بخش اعوان، مولانا محمد عمران نقشبندی، حافظ افتخار احمد قصوری، قاری خالد حبیب، مولانا نعیم قریشی، قاری محمد عثمان، مولانا دوست محمد سمیت بڑی تعداد میں عوام نے شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۲۰ء ص ۴۷، ۴۸)
ختم نبوت کانفرنس ہرنولی ضلع میانوالی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۶؍ نومبر ۲۰۱۹ء کو جامعہ اشرف العلوم حنفیہ ہرنولی میانوالی میں جلسہ منعقد ہوا۔ جس کی صدارت مولانا سیف اللہ ناصر نے کی۔ مقامی حضرات کی تلاوت کلام پاک اور ہدیہ نعت کے بعد مولانا محمد نعیم مبلغ خوشاب اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کے خطابات ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۲۰ء ص ۴۷)
ختم نبوت کانفرنس پاکپتن
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مدرسہ حنفیہ فریدیہ نزد میونسپل کمیٹی میں ۱۷؍ نومبر ۲۰۱۹ء کو بعد نماز مغرب ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ مولانا عزیز الرحمن ثانی اور مولانا محمد قاسم رحمانی سمیت دیگر علماء کرام کے وجد آفریں بیانات ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۲۰ء ص ۴۸)
ختم نبوت کانفرنس پرووا ضلع ڈیرہ اسماعیل خان
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۷؍ نومبر ۲۰۱۹ء عشاء کی نماز کے بعد پرووا ڈیرہ اسماعیل خان کی جامع مسجد عربی میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی صدارت ضلعی امیر مولانا قاری محمد طارق نے کی۔ کانفرنس سے تلاوت ونعت کے علاوہ مولانا محمد نعیم، مولانا قاری محمد طارق اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے بیانات کئے۔ ڈیرہ اسماعیل خان سے مولانا محمود الحسن شیخ نے خصوصی شرکت کی۔ عالمی مجلس تحصیل پرووا کے سرپرست مولانا محمد عمر، سیکرٹری مولانا سید اللہ بخش شاہ اور ان کے رفقاء نے شب و روز محنت کر کے اس کانفرنس کو کامیاب کرایا۔ کانفرنس کا اختتام مولانا قاری محمد طارق کی دعاء سے ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۲۰ء ص ۴۸)
ختم نبوت کانفرنس ساہیوال
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامع مسجد یٰسین ذیلدار کالونی ساہیوال میں ۱۸؍ نومبر کو بعد نماز مغرب ایک عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ تلاوت قاری محمد عثمان المالکی نے کی جب کہ کانفرنس میں مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا محمد قاسم رحمانی، قاری عبدالجبار، مولانا عبدالحکیم نعمانی، قاری نصیر احمد، قاری نذیر احمد، مولانا محمد عمران اشرفی اور قاری محمد نوید سمیت علماء کرام نے شرکت وخطاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۲۰ء ص ۴۹)
ختم نبوت کانفرنس سکھر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سکھر کے زیر انتظام ۱۸؍ نومبر ۲۰۱۹ء بعد نماز عشاء عثمان غنی مسجد سکھر میں مولانا الٰہی بخش ٹانوری مدظلہ کی
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سرپرستی میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ تلاوت کی سعادت مولانا عبد الرشید ٹانوری نے حاصل کی۔ ہدیہ نعت حافظ حبیب اللہ شیخ اور جناب محمد راشد منگی نے پیش کیا۔ علماء کرام میں مولانا محمد حسین ناصر، مولانا مفتی محکم الدین مہر، مولانا عبد اللطیف اشرفی اور امیر محترم مولانا قاری جمیل احمد بندھانی کے بیانات ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۲۰ء ص ۴۹)
ختم نبوت کانفرنس ڈیرہ اسماعیل خان
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۸؍ نومبر ۲۰۱۹ء کو عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس مدرسہ ابی بن کعب میں منعقد ہوئی۔ مولانا قاری محمد طارق نے صدارت جب کہ مولانا قاضی عبد الحلیم اور مولانا محمود الحسن شیخ نے خصوصی شرکت کی۔ جناب خدا بخش نے نعتیہ کلام پیش کیا۔ کانفرنس سے مولانا محمد نعیم مبلغ میانوالی، مولانا عبد المجید قاسمی اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے بیانات کئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۲۰ء ص ۵۰)
تحفظ ختم نبوت و محفل حسن قرأت کانفرنس
۲۰؍ نومبر ۲۰۱۹ء بروز بدھ بعد نماز عشاء جامع شاہی مسجد پرانا سکھر میں عظیم الشان تحفظ ختم نبوت و محفل حسن قرأت کانفرنس شاہی مسجد کے خطیب مولانا جمیل احمد لغاری کی سرپرستی میں منعقد ہوئی۔ پہلی تلات قاری محمد امین نے فرمائی۔ ہدیہ نعت حافظ حبیب اللہ شیخ اور حافظ محمد راشد منگی نے پیش کیا۔ علماء کرام میں مبلغ ختم نبوت مولانا محمد حسین ناصر، ناظم مولانا عبد اللطیف اشرفی اور امیر مولانا قاری جمیل احمد بندھانی کے بیانات ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۲۰ء ص ۵۰)
ختم نبوت کورس کروڑ لعل عیسن لیہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کروڑ لعل عیسن ضلع لیہ کے زیر اہتمام دارالعلوم عید گاہ میں دو روزہ ختم نبوت کورس ۲۰، ۲۱؍ نومبر ۲۰۱۹ء کو مولانا محمد عمر کی نگرانی میں منعقد ہوا۔ ۲۰؍ نومبر کو ضلعی مبلغ مولانا محمد ساجد نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت و ضرورت اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے مسلمانوں اور قادیانیوں میں بنیادی اختلافات، قادیانیوں کے شبہات اور ان کے جوابات بیان کئے۔ ۲۱؍ نومبر کو مولانا محمد ساجد نے امام مہدی علیہ الرضوان کے ظہور پر اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حیات و نزول اور دجال کے خروج پر لیکچرز دیئے۔ کورس کا دورانیہ مغرب تا عشاء تھا۔ دوسرے روز عشاء کے بعد مقامی یونٹ مولانا امان اللہ کی امارت میں تشکیل دیا گیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۲۰ء ص ۵۲)
ختم نبوت کانفرنس جامعہ قادریہ رحیم یار خان
۲۱؍ نومبر ۲۰۱۹ء جمعرات کو شہر رحیم یار خان کی عظیم دینی روحانی قدیمی درسگاہ جامعہ قادریہ جو ہر دور میں ختم نبوت کا یہ مرکز رہی ہے۔ ایک مرتبہ پھر شان وشوکت کے ساتھ ختم نبوت زندہ آباد کے نعروں سے گونجنے کے لئے تیار تھی۔ اسٹیج پر شہر بھر کے علماء اور دینی جماعتوں کی قیادت جلوہ افروز تھی۔ کانفرنس کی صدارت جمعیت علماء اسلام کے مرکزی رہنما جناب علامہ عبد الرؤف ربانی نے کی۔ جانشین حضرت درخواستی مولانا صاحبزادہ فضل الرحمٰن درخواستی بھی طبیعت کی علالت کے باوجود تشریف لائے۔ کانفرنس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ نعت رسول مقبول ﷺ پیش کرنے کے لئے حضرت نائب امیر مرکزیہ کے خادم خاص بھائی جعفر تشریف لائے تو سماں باندھ دیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بعد ازاں خطیب ختم نبوت قاضی احسان احمد نے ولولہ انگیز خطاب کیا اور ایمان تازہ کر دیا اکابر کے واقعات سنائے تو ہر آنکھ اشکبار تھی۔ چند لمحوں بعد جامعہ قادریہ کا صحن ختم نبوت زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھتا۔ بعد ازاں دو طلباء نے انگلش اور عربی میں ختم نبوت کے عنوان سے خطاب کیا۔ جامع الناصر کے طلباء نے اولاً عربی میں خطاب کیا۔ محمد بن خالد نے کمال عربی خطاب کیا۔ اسٹیج پر موجود بہت سارے اکابرین نے انعام سے نوازا۔ انگلش میں خطاب ختم نبوت جماعت رحیم یار خان کے خازن و بنیادی رکن جناب مدثر شہزاد نے کیا۔ بعد ازاں خصوصی خطاب نائب امیر مرکزیہ حضرت ناصر الدین خاکوانی مدظلہ نے فرمایا شہر بھر سے ائمہ حضرات اور علماء کرام کی بہت بڑی تعداد موجود تھی۔ ماحول کی مناسبت سے حضرت والا نے کمال علمی بیان فرمایا۔ آخر میں جانشین حضرت درخواستی صاحبزادہ مولانا فضل الرحمٰن درخواستی نے دعاء فرمائی۔ ہر آنکھ اشکبار تھی۔ کانفرنس کامیاب بنانے میں قاضی شفیق الرحمٰن اور قاضی خلیل الرحمٰن سراجی ، قاضی جواد الرحمٰن کی بھر پور محنتیں شامل تھیں۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا مفتی محمد راشد مدنی نے سرانجام دیئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۲۰ء ص ۴۰)
ختم نبوت کانفرنس ٹبی کورائیاں خانپور
خانپور ضلع رحیم یار خان کے نواحی علاقہ ٹبی کورائیاں کے قریب چند علاقوں میں قادیانیت کے جراثیم پائے جاتے ہیں۔ وہاں نوجوان نسل کے ایمان کے تحفظ کے لئے ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں جناب شبیر احمد ، جناب نذیر احمد ، حافظ سلمان جٹ وغیرہ نے لنگر تیار کیا اور ۲۲؍ نومبر ۲۰۱۹ء کو قاضی احسان احمد نے اجتماع سے بہترین خطاب فرمایا۔ جسے سامعین نے ایمان پرور قرار دیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۲۰ء ص ۴۰)
ختم نبوت کانفرنس لیاقت پور
تحصیل لیاقت پور ضلع رحیم یار خان کے چند چکوک قادیانیت سے متاثر ہیں۔ چنانچہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام وقتاً فوقتاً وہاں پروگرام کئے جارہے ہیں۔ نومبر ۲۰۱۹ء میں چک ۶ لیاقت پور میں ایک روزہ ختم نبوت کانفرنس کا اہتمام کیا گیا جس کی صدارت جانشین حضرت درخواستی مولانا فضل الرحمٰن درخواستی نے فرمائی۔ کانفرنس کے لئے بھر پور محنت مفتی زبیر احمد نے کی۔ کانفرنس سے شمس الدین سابق قادیانی ، مولانا اسحاق ساقی اور مفتی محمد راشد مدنی کے خطابات ہوئے۔ بعد ازاں لنگر بھی تقسیم کیا گیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۲۰ء ص ۴۱)
ختم نبوت کانفرنس شورکوٹ کینٹ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۲۵؍ نومبر ۲۰۱۹ء بروز پیر بعد نماز عشاء مرکزی جامع مسجد مکی مین بازار شورکوٹ کینٹ ضلع جھنگ میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی صدارت خانقاہ سراجیہ مجددیہ نقشبندیہ کندیاں کے سجادہ نشین قبلہ خواجہ خلیل احمد نے اور نگرانی جناب ڈاکٹر محمد شفیق نے فرمائی۔ تلاوت کلام پاک قاری محمد ایمن اور قاری ذکریا خالد نے جب کہ حافظ طاہر بلال چشتی اور مولانا شاہد عمران عارفی نے حمد و نعت پیش کیں۔ کانفرنس سے مولانا عزیز الرحمٰن ثانی لاہور۔ مولانا عبد الخبیر آزاد لاہور ، مولانا ربنواز ہراج میاں چنوں ، مولانا غلام حسین جھنگ ، مولانا کفیل شاہ بخاری ملتان ، مولانا محمد حبیب مبلغ ٹوبہ ٹیک سنگھ نے خطابات فرمائے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۲۰ء ص ۵۰)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس کمالیہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام ۲۶؍نومبر ۲۰۱۹ء بروز منگل بعد نماز مغرب جامعہ شریفیہ تعلیم القرآن سرفراز موڑ کمالیہ ضلع ٹوبہ میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی صدارت مولانا پیر جی عتیق الرحمٰن کمالیہ اور جناب قاری محمد انور مہتمم جامعہ دارالعلوم ربانیہ پھلور نے فرمائی۔ زیرنگرانی مولانا محمد حبیب مبلغ ٹوبہ اور جناب مولانا قاری محمد عدیل ارشد کمالیہ نے فرمائی۔ تلاوت کلام پاک قاری عبیدالرحمٰن دارالعلوم ربانیہ پھلور اور قاری محمد عدیل رجانہ نے فرمائی۔ قاری عبدالرشید مغل گوجرہ، قاری شرافت علی مجددی گوجرہ اور بھائی کامران نے حمد ونعت رسول مقبول ﷺ سے کانفرنس کو چار چاند لگائے۔ کانفرنس سے مولانا پیر عزیز الرحمٰن ہزاروی مدظلہ، مولانا عزیز الرحمٰن ثانی مرکزی رہنما عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، مولانا ضیاء الدین آزاد مامونکانجن، مسلک اہل حدیث کے ترجمان مولانا ندیم گجر۔ کمالیہ بار کونسل کے ترجمان جناب ریاض طاہر ایڈووکیٹ، مولانا محمد حبیب مبلغ ٹوبہ ٹیک سنگھ نے خطابات فرمائے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۲۰ء ص ۵۰)
ختم نبوت کانفرنس ملکوال ضلع منڈی بہاؤالدین
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام ساتویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس مقامی میرج ہال ملکوال ضلع منڈی بہاؤالدین میں ۲۷؍نومبر ۲۰۱۹ء کو منعقد ہوئی۔ کانفرنس سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا مفتی طاہر مسعود، مولانا نور محمد ہزاروی اور معروف خطیب مولانا شاہ نواز فاروقی نے بیانات کئے۔ نعتیہ کلام مولانا محمد آصف رشیدی نے پیش کیا جب کہ نقابت راقم الحروف (مولانا مسعود حجازی) نے کی۔ کانفرنس کی صدارت مولانا خواجہ خلیل احمد نے کی۔ کانفرنس کے حسن انتظام اور بھرپور کامیابی پر شرکاء نے قاری عبدالواحد، قاری عمر فاروق، مولانا محمد اکرام اللہ، قاری طاہر، قاری ایاز سمیت دیگر ختم نبوت کے عہدیداران و کارکنان کو خراج تحسین اور مبارک باد پیش کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۲۰ء ص ۵۱)
خاتم الانبیاء ﷺ کانفرنس کہروڑ پکا
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کہروڑ پکا کے زیر اہتمام ۲۷؍نومبر ۲۰۱۹ء کو پرانا بہاول پور روڈ چاہ ٹبی والا پر سیرت خاتم الانبیاء ﷺ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس کی نگرانی مقامی امیر مولانا منیر احمد ریحان نے فرمائی۔ تلاوت کلام پاک قاری نصیر الدین نے کی۔ نقابت کے فرائض مولانا امجد ساقی نے انجام دیئے۔ کانفرنس سے مولانا محمد تقی، مولانا ضیاء الرحمٰن گجر، مولانا ناصر نواز، مولانا محمد اعظم طارق مدرس جامعہ باب العلوم، مولانا محمد وسیم اسلم مبلغ ملتان، مولانا منیر احمد ریحان، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور مولانا حبیب احمد جامعہ باب العلوم کہروڑ پکا کے بیانات ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۲۰ء ص ۵۱)
ختم نبوت کانفرنس پتوکی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۲۷؍نومبر ۲۰۱۹ء کو جامع مسجد رحمۃ للعالمین پتوکی ضلع قصور میں ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس کی صدارت قاری محمد ابراہیم، نگرانی مولانا عبدالرحیم ہارونی نے کی۔ کانفرنس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ بعد ازاں مقامی نعت خوانان کے علاوہ معروف نعت گو رانا عثمان قصوری نے ہدیہ نعت پیش کیا۔ نقابت کے فرائض مولانا عبدالرحمٰن نے انجام دیئے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ۶۸۵ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کانفرنس سے ساہیوال کے مبلغ مولانا عبدالحکیم نعمانی، مولانا عبدالرزاق مجاہد اور مولانا عبدالغفار تونسوی کے بیانات ہوئے۔ کانفرنس کی کامیابی میں پیر مسعود قادری اور ان کے رفقاء نے بھر پور کردار ادا کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۲۰ء ص ۴۱)
تحفظ ختم نبوت کورس الہ آباد
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام دو روزہ تحفظ ختم نبوت کورس ۲۷، ۲۸ نومبر ۲۰۱۹ء کو جامعہ رحمانیہ الہ آباد ضلع قصور میں منعقد ہوا۔ کورس کے دونوں روز دو، دو نشستیں منعقد ہوئیں۔ پہلی نشست صبح ۸ تا ۱۱ بجے اور دوسری نشست ظہر تا عصر منعقد ہوئی۔ کورس کی صدارت مولانا مفتی عبدالعزیز عزیزی نے کی۔ پہلے روز مولانا عبدالحکیم نعمانی اور مولانا عبدالرزاق مجاہد نے جب کہ دوسرے روز مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے لیکچرز دیئے۔ کورس کے اختتام پر سوال و جواب کی نشست بھی قائم کی گئی اور انعامات بھی تقسیم کئے گئے۔ طلباء و طالبات نے سینکڑوں کی تعداد میں شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۲۰ء ص ۴۱)
تحفظ ختم نبوت کورس چونیاں
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام دو روزہ تحفظ ختم نبوت کورس ۲۷، ۲۸ نومبر ۲۰۱۹ء بعد نماز مغرب تا عشاء جامع مسجد محمد خان والی چونیاں ضلع قصور میں منعقد ہوا۔ کورس میں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا عبدالحکیم نعمانی ساہیوال اور مولانا عبدالرزاق مجاہد نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت و ضرورت، حیات ونزول سیدنا عیسیٰ علیہ السلام، ظہور سیدنا امام مہدی علیہ الرضوان اور فتنہ خروج دجال ایسے اہم عنوانات پر لیکچرز دیئے۔ کورس کے اختتام پر سوال وجواب کی نشست قائم کی گئی اور انعامات بھی تقسیم کئے گئے۔ اہل علاقہ نے بھر پور شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۲۰ء ص ۴۱، ۴۲)
ختم نبوت کانفرنس رینالہ خورد
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۲۹ نومبر ۲۰۱۹ء بروز جمعتہ المبارک کو جامع مسجد اہل سنت بلال چک نمبر ۱۰ / ون ایل رینالہ خورد ضلع اوکاڑہ میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی صدارت حاجی عبدالرشید اور نگرانی مولانا محمد ارشد نے کی۔ حافظ محمد عثمان فاروقی کی تلاوت ونعت سے پروگرام کا آغاز ہوا۔ بعد ازاں مولانا عبدالرزاق مجاہد اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کے خصوصی خطابات ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۲۰ء ص ۴۲)
ختم نبوت کانفرنس ضلع قصور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام نومبر ۲۰۱۹ء میں جامع مسجد حسین بن علیؓ قطبہ ضلع قصور میں کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت قاری مشتاق احمد رحیمی امیر عالمی مجلس قصور اور نگرانی مولانا طاہر ندیم کھڈیاں نے کی۔ کانفرنس سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، مرکزی رہنما مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا محمد عقیل اور مولانا عبدالرزاق مجاہد کے بیانات ہوئے۔ مولانا محمد امجد نے میزبانی کے فرائض انجام دینے کے علاوہ کانفرنس کی کامیابی کے لئے علاقہ بھر میں تگ و دو کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۲۰ء ص ۴۲)
ختم نبوت کورس شاہ نکڈر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۲۹ نومبر تا یکم دسمبر ۲۰۱۹ء بروز جمعہ، ہفتہ، اتوار جامع مسجد مدرسہ حنفیہ شاہ نکڈر تحصیل
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سلانوالی میں بعد از نماز مغرب تا عشاء تین روزہ ختم نبوت کورس بذریعہ پروجیکٹر پڑھایا گیا۔ کورس کے پہلے روز سرگودھا کے مبلغ مولانا فضل الرحمٰن منگلا، مدرسہ ہذا کے مہتمم مولانا مفتی عبدالرؤف نے عقیدہ ختم نبوت پر تفصیلی لیکچر دیئے۔ دوسرے روز مدرسہ کے صدر مدرس مولانا رضاء الرحمٰن اور مولانا فضل الرحمٰن منگلا نے حیات مسیح (علیہ السلام) کو آسان انداز میں بیان کیا اور پروجیکٹر پر اصل حوالہ جات بھی دکھائے۔ تیسرے دن مولانا فضل الرحمٰن منگلا اور ضلع جھنگ کے مبلغ مولانا غلام حسین نے عقیدہ ختم نبوت اور امام مہدی علیہ الرضوان کے عقیدہ کو مفصلاً بیان فرمایا۔ بعد ازاں بعد نماز عشاء سرگودھا کے امیر مولانا نور محمد ہزاروی نے اختتامی بیان میں مرزا قادیانی کے کردار کو اپنے خاص انداز میں بیان کیا اور شرکائے کورس کو سوالات کے صحیح جوابات دینے پر مجلس کی کتب انعام کے طور پر عنایت فرما کر اختتامی دعا فرمائی۔ کورس میں الحمد للہ کثیر تعداد میں نمازیوں نے شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۲۰ء ص ۵۲)
آزاد کشمیر میں مولانا محمد خالد عابد کا تبلیغی دورہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت شیخوپورہ و ننکانہ کے مبلغ مولانا محمد خالد عابد نے ۲۹/ نومبر تا ۷/ دسمبر ۲۰۱۹ء آزاد کشمیر کے اضلاع کوٹلی، پونچھ، باغ اور مظفر آباد میں تبلیغی دورہ کیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت آزاد کشمیر کے مبلغ مولانا مفتی خالد میر نے اپنے اور مولانا خالد عابد کے نو روزہ پروگرامات طے کر رکھے تھے۔ چاروں اضلاع کی اہم جامع مساجد، مدارس دینیہ اور عوامی حلقوں میں روزانہ چار، پانچ پروگرام ترتیب دیئے گئے۔ ان پروگراموں میں ہر دو حضرات نے عقیدہ ختم نبوت اور اس کی اہمیت وفضیلت پر روشنی ڈالتے ہوئے کام کی ضرورت پر زور دیا۔ فتنہ قادیانیت اور اس کی سنگینی سے عوام الناس کو آگاہ کیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مشن سے وابستگی کی دعوت دی۔ علاوہ ازیں جماعتی رفقاء سے ملاقاتیں بھی کی گئیں۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۲۰ء ص ۳۰)
ختم نبوت کانفرنس راوی روڈ لاہور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام نویں سالانہ تحفظ ختم نبوت کانفرنس رحمت فلور ملز راوی روڈ قصور پورہ لاہور میں ۳۰/ نومبر ۲۰۱۹ء کو مولانا مفتی محمد حسن کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں مولانا اللہ وسایا، مرکزی جمعیۃ اہلحدیث کے انجینئر علامہ ابتسام الٰہی ظہیر، سرپرست مجلس لاہور مولانا مفتی نعیم الدین، مرکزی ناظم نشر و اشاعت مولانا عزیز الرحمٰن ثانی، مبلغ ختم نبوت لاہور مولانا عبدالنعیم، ناظم تبلیغ مولانا عبدالعزیز، مولانا جمیل الرحمٰن اختر، معروف ثناء خوان مصطفیٰ مولانا محمد قاسم گجر، حامد بلوچ، قاری مومن شاہ، مسلم بلوچ، حکیم ارشاد حسین، عبدالولی، رانا محمد قیصر، ملک محمد یونس، کاشان مرزا، مولانا عبدالحفیظ، مولانا محمد صدیق طارق، مسلم بلوچ، قاری محمد حنیف، قاری محمد صدیق توحیدی اور متعدد دیگر رہنماؤں اور ممتاز شخصیات نے شرکت و خطاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۲۰ء ص ۵۲)
دروس ختم نبوت بسلسلہ سیرت النبی ﷺ سیالکوٹ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سیالکوٹ کے زیر اہتمام حسب سابق امسال بھی ربیع الاول مطابق نومبر ۲۰۱۹ء دروس ختم نبوت بسلسلہ سیرت النبی ﷺ منعقد کئے گئے۔ ان پروگرامات کی سرپرستی سیالکوٹ کے امیر پیر سید شبیر احمد گیلانی اور نگرانی ضلعی مبلغ مولانا فقیر اللہ اختر نے کی۔ جامع مسجد عائشہ، جامع مسجد مدینہ، جامعہ فاروقیہ، جامع مسجد عمر فاروق، جامع مسجد دارالسلام، جامع مسجد الہدیٰ، جامع مسجد علی المرتضیٰ، جامع مسجد امیر معاویہ، جامع مسجد یوسف بنوری، جامع مسجد امیر حمزہ، جامع مسجد بن والی، جامع مسجد نور، جامع مسجد کوثر، جامع مسجد خاص، جامع مسجد جہانگیری، جامع مسجد خالد بن ولید، جامع مسجد ختم نبوت اور جامع مسجد حیدر پارک سمیت شہر بھر کی مساجد ختم نبوت کے
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
پیغام کو پہنچایا گیا۔ ان پروگراموں میں جن حضرات نے بیانات کئے ان کے نام یہ ہیں: مولانا فقیر اللہ اختر، مولانا عزیز الرحمٰن ثانی، مولانا محبوب الٰہی ہزاروی، مولانا سجاد احمد، مولانا عاصم شہزاد، مولانا حافظ اسلم، مولانا محمد عمیر فاروقی، مولانا حماد انذر قاسمی، مولانا عبد القدیر، مولانا شہباز قادری، مولانا قاری امتیاز، مولانا شہباز حنفی، مولانا قاری محمد نذیر اور علامہ اویس احمد فاروقی۔ مقررین نے سیرت النبی ﷺ، عقیدہ ختم نبوت، حیات ونزول سیدنا عیسیٰ علیہ السلام، ظہور امام مہدی علیہ الرضوان، فتنہ دجال اور فتنہ قادیانیت سے متعلق عوام الناس کو آگاہ کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۲۰۲۰ء ص ۴۰)
ڈیرہ اسماعیل خان شہر میں ختم نبوت کی صدائیں
حسب روایت ماہ ربیع الاوّل ۱۴۴۱ھ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ڈیرہ اسماعیل خان کے زیر اہتمام سیرت خاتم الانبیاء ﷺ کے عنوان پر ۵۰ سے زائد پروگرامز منعقد ہوئے، جو کہ پچھلے تمام پروگرامز کا ریکارڈ توڑتے ہوئے حاضری اور انتظام کے حوالے سے اپنی مثال آپ تھے۔ پورے ماہ میں یومیہ ۲ سے ۳ پروگرام ہوتے رہے، جن میں عوام کی ایک کثیر تعداد ان محافل کی زینت بنتی رہی۔ پروگراموں میں عقیدہ ختم نبوت، سیرت طیبہ اور عہد حاضر میں اس کی تطبیق، ردّ قادیانیت، حیات، رفع آسمانی ونزول ارض سیدنا عیسیٰ علیہ السلام، سیدنا امام مہدی علیہ الرضوان جیسے موضوعات کو خاص طور پر بیانات کا حصہ بنایا گیا۔ موجودہ حالات اور ناموس رسالت ﷺ کی اہمیت جیسے عنوانات پر گفتگو ہوتی رہی، جن کے ذریعے عوام و خواص میں ختم نبوت کے کاز کو اُجاگر کیا جاتا رہا۔ ان پروگراموں کی سرپرستی ڈیرہ اسماعیل خان کے جید علماء کرام بالخصوص مولانا قاری محمد طارق اور مولانا پروفیسر وحید الدین فرماتے رہے۔ بیانات کے حوالے سے مولانا قاضی عبد الحلیم، مولانا قاری محمد رفیق، مولانا اللہ بخش، مولانا قاری حفیظ اللہ، مولانا قاری احسان اللہ احسان، مولانا مفتی نوید احمد، مولانا قاری عنایت اللہ عثمانی اور محمد اسلم معاویہ کا تعاون شامل حال رہا۔ باہر سے تشریف لانے والے مہمانان گرامی میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا محمد قاسم رحمانی بہاول نگر، مولانا نور محمد ہزاروی سرگودھا، مولانا محمد حمزہ لقمان مظفر گڑھ، مولانا محمد انس ملتان، مولانا محمد نعیم خوشاب، مولانا عبد الحمید تونسوی اور مولانا عبدالمجید قاسمی جیسے حضرات شامل رہے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۲۰ء ص ۵۵)
کراچی میں عشرۂ ختم نبوت کی بہاریں
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے زیر انتظام عشرۂ ختم نبوت کا اہتمام کیا گیا۔ الحمد للہ! شہر کراچی میں منظم طریقہ سے جماعتی سرگرمیاں عروج پر ہیں، زندگی کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد کی بھر پور ذہن سازی کی جارہی ہے کہ وہ کس طرح فتنۂ قادیانیت سے اپنے ایمان کا تحفظ کر سکتے ہیں۔ شاید ہی کوئی دن ہو جس میں درس ختم نبوت نہ ہو روزانہ شہر کی کسی نہ کسی مسجد میں درس ختم نبوت کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس تمام تر نظم کے روح رواں خطیب ختم نبوت مولانا قاضی احسان احمد ہیں جن کی دن رات کی محنت لگن اور کڑھن نے آج جماعتی کام کو ملک کے دیگر شہروں سے ممتاز کر دیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کراچی جیسے مصروف اور اہم شہر میں اتنی خوبصورتی کے ساتھ کام کو آگے بڑھانا اور پھیلانا یہ مولانا قاضی صاحب کے اخلاص اور کارکنوں سے محبت و شفقت ان کی دلجوئی کا نتیجہ ہے۔ گزشتہ دنوں مجلس کے مرکزی رہنما مولانا اللہ وسایا اور مولانا مفتی محمد راشد مدنی دس روزہ دورہ پر تشریف لائے۔ مشاورت کے بعد پروگراموں کی ترتیب بنائی گئی۔ دس دنوں میں مدارس کے طلباء واساتذہ میں لیکچرز اور شام میں ختم نبوت کانفرنسوں کے ۳۵ پروگرام ہوئے،
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جن کی تفصیل قارئین کے لئے پیش کی جاتی ہے۔ ۲۸؍ نومبر بروز جمعرات: بعد نماز مغرب تا رات گئے آفریدی چوک اتحاد ٹاؤن میں ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ مہمان خصوصی مولانا محمد رفیق جامی اور مولانا قاضی احسان احمد تھے۔ کانفرنس کے منتظم مولانا ہارون الرشید، مولانا احسان اللہ اور ان کے رفقاء تھے۔
۳۰؍ نومبر بروز ہفتہ: بعد نماز مغرب جامع مسجد فاروق اعظم میں ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ مہمان حضرات میں مولانا محمد رفیق جامی مدظلہ اور مولانا قاضی احسان احمد مدظلہ تھے۔ آخر میں پشتو زبان کے معروف نعت خواں احسان اللہ فاروقی نے مخصوص انداز میں کلام پڑھا۔ کانفرنس کے منتظم گڈاپ ٹاؤن کے نگران قاری محمد ظفر اور مولانا عبدالکلیم تھے۔
یکم؍ دسمبر بروز اتوار: بعد نماز ظہر جامعہ انوار القرآن ناگن چورنگی میں طلباء و اساتذہ میں مفتی محمد راشد مدنی مدظلہ کا بیان ہوا اور بعد نماز عشاء شمیم مسجد دہلی کالونی میں مفتی صاحب کا درس ختم نبوت ہوا۔ بعد نماز عشاء سالانہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس اسکاؤٹ کالونی میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس سے مولانا اللہ وسایا ، مولانا قاضی احسان احمد اور مولانا مفتی محمد راشد مدنی نے خطاب کیا۔
۲؍ دسمبر بروز پیر : صبح ۱۱ بجے جامعہ اشرف المدارس پہلوان گوٹھ میں مولانا اللہ وسایا نے طلباء و اساتذہ کرام کو لیکچر دیا۔ مولانا مفتی محمد راشد مدنی نے ۱۱ بجے صبح مدرسہ قرآن کریم یوسفیہ للبنات ڈالمیا میں طالبات اور علاقہ سے تشریف لائی ہوئی خواتین کو عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور فتنہ قادیانیت کی سنگینی سے آگاہ کیا۔ بعد نماز عشاء چاندنی چوک بلدیہ ٹاؤن میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس سے مولانا اللہ وسایا ، مولانا رفیق جامی ، مولانا قاضی احسان احمد ، مولانا مفتی محمد راشد مدنی نے خطاب کیا۔ کانفرنس کے منتظمین میں مفتی فیض الحق ، حافظ محمد نعیم ، عزیز الرحمٰن ذیشانی ، صابر خان اور ان کے رفقاء شامل تھے۔
۳؍ دسمبر بروز منگل: مولانا اللہ وسایا مدظلہ نے دارالعلوم کورنگی میں درجہ تخصص کے طلباء سے خطاب کیا۔ صبح ۱۰ بجے جامعہ قرطبہ کلفٹن میں مفتی محمد راشد مدنی نے طلباء و اساتذہ کرام سے خطاب کیا ، بعد نماز عشاء جامعۃ الرشید احسن آباد میں طلباء سے خطاب کیا۔ اسی روز بعد نماز عشاء جامع مسجد گلشن جامی ماڈل کالونی میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس سے مولانا اللہ وسایا ، مولانا محمد رفیق جامی نے خطاب کیا۔
۴؍ دسمبر بروز بدھ : صبح ۱۱ بجے دارالعلوم صفہ بلدیہ ٹاؤن میں طلباء کرام سے مولانا اللہ وسایا مدظلہ نے خطاب کیا۔ مفتی محمد راشد مدنی مدظلہ نے ۱۰ بجے جامعہ معہد الخلیل الاسلامی بہادر آباد میں طلباء کے اجتماع سے خطاب کیا۔ ۱۱ بجے مفتی محمد راشد مدنی صاحب نے جامعۃ السعید پی ای سی ایچ سوسائٹی میں حضرات اساتذہ کرام اور طلباء سے فکر انگیز خطاب کیا۔ مفتی محمد راشد مدنی نے بعد نماز مغرب اللہ والی مسجد اورنگی ٹاؤن نمبر ۱۱ اور بعد نماز عشاء طاہری مسجد فرنٹیئر کالونی میں درس ختم نبوت دیا۔ اسی روز بعد نماز عشاء گودھرا کالونی میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ مہمان خصوصی مولانا اللہ وسایا اور مولانا قاضی احسان احمد تھے۔
۵؍ دسمبر بروز جمعرات : صبح ۱۰ بجے اشرف العلوم کورنگی میں مفتی محمد راشد مدنی نے طلباء و اساتذہ کرام سے خطاب کیا۔ بعد نماز ظہر جامعہ فاروقیہ فیز II میں مولانا اللہ وسایا نے طلباء و اساتذہ کرام سے خطاب کیا۔ اسی روز بعد نماز مغرب دفتر ختم نبوت نمائش میں کل کراچی بین المدارس کا فائنل مسابقہ ہوا۔ شہر سے مختلف مدارس کے ۱۸ طلباء منتخب ہو کر اس مسابقہ کا حصہ بنے۔ مسابقہ میں علماء ، طلباء عوام الناس کی کثیر تعداد شریک ہوئی۔ مسابقہ کے مہمان خصوصی محبوب العلماء پیر طریقت مولانا ذوالفقار احمد نقشبندی مدظلہ اور مولانا اللہ وسایا تھے۔ ان کے علاوہ شہر کے کئی جید علماء کرام شریک ہوئے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
۶؍دسمبر بروز جمعہ : مولانا اللہ وسایا نے جامعہ بنوری ٹاؤن میں جمعہ کے اجتماع سے خطاب کیا۔ مفتی محمد راشد مدنی مدظلہ نے یحییٰ مسجد حبیب بینک چورنگی سائٹ ایریا کی مسجد میں عوام کے جم غفیر سے ایمان افروز خطاب کیا۔ بعد نماز مغرب مفتی صاحب نے جامع مسجد دہلی بلدیہ ٹاؤن نمبر ۳ میں درس ختم نبوت دیا، بعد نماز عشاء شافعی مسجد شیر شاہ میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ مہمان حضرات میں مولانا اللہ وسایا، مولانا قاضی احسان احمد تھے۔
۷؍دسمبر بروز ہفتہ : مولانا اللہ وسایا نے صبح ۱۱ بجے مدرسہ دارالہدیٰ گلستان جوہر میں طلباء و اساتذہ سے خطاب کیا، بعد نماز ظہر جامعہ فاروقیہ شاہ فیصل کالونی میں درجہ سابعہ اور دورۂ حدیث شریف کے طلباء سے دو گھنٹہ گفتگو کی۔ مولانا مفتی محمد راشد مدنی مدظلہ نے صبح ۱۱ بجے جامعہ سعیدیہ زمزمہ کلفٹن میں طلباء و اساتذہ کرام سے فکر انگیز گفتگو کی۔ بعد نماز عشاء بانگی مسجد رنچھوڑ لائن میں درس ختم نبوت دیا۔ اسی روز بعد نماز عشاء فتح مسجد پٹیل پاڑہ میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس میں عوام اور علماء و طلباء کی کثیر تعداد شریک ہوئی۔ کانفرنس کے مہمان خصوصی مولانا محمد رفیق جامی تھے۔ بعد نماز عشاء عظیم الشان سالانہ ختم نبوت کانفرنس عیدگاہ گراؤنڈ میٹروول میں منعقد ہوئی۔ کثیر تعداد میں عاشقان مصطفیٰ جمع ہوئے۔ مہمان حضرات میں مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد رفیق جامی، مفتی محمد زبیر حق نواز اور مولانا قاضی احسان احمد تھے۔ کانفرنس کے منتظمین میں مولانا محمد شعیب کمال، مولانا سید مشتاق شاہ، مفتی محمد اور ان کے رفقاء شامل تھے۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مبلغ ختم نبوت کراچی مولانا عبدالحی مطمئن نے ادا کئے۔
۸؍دسمبر بروز اتوار : جامعہ مسجد قدسیہ ناظم آباد نمبر ۲ میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ بعد نماز مغرب تلاوت کلام پاک سے آغاز ہوا۔ کانفرنس کے مہمان مولانا اللہ وسایا اور مولانا قاضی احسان احمد تھے۔ کانفرنس کے منتظمین میں مسجد کے امام و خطیب مولانا خیر الحق ابرار، مولانا خالد محمود مدظلہ، مولانا محمد جاوید اور ان کے رفقاء تھے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۲۰ء ص ۴۲ تا ۴۴)
شانِ مصطفیٰ کانفرنس گھوٹکی شہر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت و سیرت کمیٹی کے زیر اہتمام ۶؍دسمبر ۲۰۱۹ء بروز جمعۃ المبارک بعد نماز مغرب سرکاری باغ گھوٹکی عظیم الشان شانِ مصطفیٰ کانفرنس زیر صدارت امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع گھوٹکی مولانا محمد یوسف شیخ منعقد ہوئی۔ تلاوت و نعت شریف کے بعد علماء کرام کے بیانات کا سلسلہ شروع ہوا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ڈویژن سکھر کے مبلغ مولانا محمد حسین ناصر، مولانا حسن شاہ حیدری اباڑو، مولانا مفتی عتیق الرحمٰن لاہور، مولانا مفتی محمد طاہر ہالیجوی، مولانا سائیں عبدالمجیب پیر شریف والوں کے بیانات ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۲۰ء ص ۴۵)
ختم نبوت کورس لاہور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام دوروزہ تحفظ ختم نبوت کورس جامع مسجد الریاض اسلامیہ پارک لاہور میں ۶، ۷؍دسمبر ۲۰۱۹ء کو منعقد ہوا۔ کورس میں مختلف عنوانات پر مبلغین ختم نبوت نے لیکچرز دیئے۔ کورس کی اختتامی تقریب مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے نائب امیر پیر میاں محمد رضوان نفیس کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ تقریب میں مولانا عزیز الرحمٰن ثانی، مولانا علیم الدین شاکر، مبلغ ختم نبوت مولانا عبدالنعیم، مولانا عبدالعزیز، مفتی محمد عقیل، امام قاری محمد عبداللہ، بھائی ابراہیم و دیگر علماء کرام نے شرکت و بیانات کئے۔ حاضرین میں تحفظ ختم نبوت کے بارے میں معلوماتی لٹریچر فری تقسیم کیا گیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۲۰ء ص ۴۵)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کورس سکھر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سکھر کے زیر اہتمام اسلامیہ کالج کی اہل بیت مسجد میں تین روزہ ختم نبوت کورس ۸ تا ۱۰/ دسمبر ۲۰۱۹ء کو منعقد ہوا۔ سکھر کے مبلغ مولانا محمد حسین ناصر نے ۸/ دسمبر کو تحفظ ختم نبوت پر ۹/ دسمبر کو حیات عیسیٰ علیہ السلام پر اور ۱۰/ دسمبر کو کذب مرزا پر لیکچر دیا۔ ۱۱/ دسمبر کو شرکائے کورس میں اسناد وانعامات تقسیم کئے گئے۔ کورس کے انعقاد میں کالج کی انتظامیہ مسجد اہل بیت کے امام صاحب ، حافظ عبد الحنان اور بھائی منیر احمد مہر نے بھر پور محنت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۲۰ء ص ۴۵)
ختم نبوت کورس سلانوالی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۷، ۱۸ اور ۱۹ دسمبر ۲۰۱۹ء بروز ہفتہ، اتوار، اور پیر جامع مسجد عمرؓ اسلام نگر روڈ سلانوالی میں تین روزہ ختم نبوت کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس کی سرپرستی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سلانوالی کے امیر پیر جی محمد افضل الحسینی نے اور صدارت مسجد ہذا کے منتظم اعلیٰ جناب محمد افضل شاہ نے فرمائی ، کورس کے تمام اسباق مولانا فضل الرحمن منگلا نے بذریعہ پروجیکٹر پڑھائے ۔مولانا نے شرکائے کورس کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ ہر ماہ اپنے اپنے محلے کی مساجد میں تحفظ ختم نبوت و ناموس رسالت ماب ﷺ کے حوالہ سے پروگرامز منعقد کیا کریں گے۔ تیسرے دن بعد از نماز عشاء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سرگودھا کے امیر حضرت مولانا نور محمد ہزاروی نے بیان اور انعامات کی تقسیم کے بعد اختتامی دعا فرمائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۲۰ء ص ۵۲)
سیرت خاتم الانبیاء کانفرنس شہداد پور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مکہ مسجد شہداد پور میں ۹/ دسمبر ۲۰۱۹ء بروز پیر سیرت خاتم الانبیاء کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس کی سرپرستی مولانا محمد سلیم شیخ الحدیث ومہتمم جامعہ دارالعلوم الحسینیہ نے فرمائی۔ کانفرنس کی صدارت شیخ المشائخ خواجہ خواجگان مولانا خواجہ خان محمد کے جانشین مولانا خواجہ خلیل احمد مدظلہ نے فرمائی۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مفتی محمد اسلم شاکر نے انجام دیئے ۔ تلاوت کی سعادت مولانا یاسر اسلام نے حاصل کی۔ حافظ عمار اور حافظ وقاص نے حمد ونعت پیش کی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نوابشاہ کے مبلغ مولانا تجمل حسین اور مولانا قاضی احسان احمد نے خصوصی خطاب فرمایا۔ آخر میں شیخ الحدیث مولانا محمد سلیم نے اختتامی کلمات کہے اور مولانا خواجہ خلیل احمد نے دعاء کرائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۲۰ء ص ۴۶)
ختم نبوت تربیتی پروگرام گمبٹ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گمبٹ کے زیر اہتمام ۱۰/ دسمبر بروز منگل بعد نماز عشاء جامع مسجد رحمانی نزد فاروق اعظم چوک گمبٹ میں ختم نبوت تربیتی نشست کے عنوان سے پروگرام منعقد کیا گیا۔ زیر سرپرستی مولانا نعمت اللہ شیخ ، زیر صدارت حافظ ظہور احمد شیخ ، زیر نگرانی حکیم عبد الواحد بروہی ، اسٹیج سیکرٹری کے فرائض امام رحمانی مسجد مولانا عبدالصمد نے ادا کئے۔ تلاوت کلام پاک کی سعادت قاری عبدالاحد بروہی نے حاصل کی۔ قاری صبغۃ اللہ پنہور نے حمد ونعت پیش کی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گمبٹ ، نواب شاہ کے مبلغ مولانا تجمل حسین اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے بیان کیا۔ آخر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا قاضی احسان احمد نے بیان کیا اور دعاء کرائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۲۰ء ص ۴۶)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دوروزہ تحفظ ختم نبوت کورس کنڈیارو
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کنڈیارو کے زیر اہتمام جامعہ عربیہ دارالقرآن سرہیہ مسجد اقبال محلہ کنڈیارو میں ۱۱، ۱۲/ دسمبر ۲۰۱۹ء صبح ۹ سے ۱۲ بجے دوپہر تک ختم نبوت کورس کا انعقاد کیا گیا۔ کورس کے جملہ انتظامات مولانا عطاء اللہ عباسی و دیگر اراکین جامعہ دارالقرآن نے کئے۔ ۱۱/ دسمبر کو کورس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نواب شاہ ڈویژن کے مبلغ مولانا تجمل حسین نے کورس کی غرض وغایت اور عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت وفضیلت بیان کی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم تبلیغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے ”اوصاف نبوت اور کذبات مرزا“ پر گفتگو کی۔ مجلس کے مرکزی مبلغ مولانا قاضی احسان احمد نے ”عقیدہ ختم نبوت قرآن وحدیث سے“ کے عنوان پر درس دیا۔ ۱۲/ دسمبر کو مولانا تجمل حسین نے ”عقیدۂ حیات مسیح، رفع ونزول مسیح“ کے عنوان پر درس دیا۔ مولانا مفتی محمد ادریس سومرو نے شرکاء کورس سے خطاب کیا۔ آخر میں مولانا شجاع آبادی نے ”امام مہدی علیہ الرضوان اور کفریات مرزا“ کے عنوان پر درس دیا۔ کورس کے آخر میں شرکاء سے ان موضوعات پر سوال پوچھے گئے درست جواب دینے والوں کو انعام میں مجلس کی کتب دی گئیں اور لٹریچر بھی دیا گیا۔ کورس میں دینی مدارس اور اسکول وکالج کے طلباء نے بھرپور شرکت کی۔ دریں اثنا ۱۲/ دسمبر کو جامعہ دارالقرآن کے زیرانتظام مدرسۃ البنات جامعۃ الحسنہ دارالقرآن میں طالبات وخواتین سے مولانا قاضی احسان احمد اور مولانا تجمل حسین نے بیانات کئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۲۰ء ص ۴۶)
سیرت خاتم الانبیاء کانفرنس نواب شاہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۲/ دسمبر بروز جمعرات بعد نماز عشاء جامع مسجد نور موتی بازار نواب شاہ میں عظیم الشان سیرت خاتم الانبیاء کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس زیر سرپرستی: مولانا حزب اللہ کھوسو، زیر صدارت: مولانا پیر عبد الحمید، مولانا حافظ مطیع اللہ خالد، زیرنگرانی: مولانا محمد انیس ہوئی۔ تلاوت حافظ محمد حاشر، قاری محمد غفران نے کی۔ حافظ محمد اعظم قریشی نے حمد ونعت پیش کی۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا قاضی احسان احمد اور مولانا قاری کامران احمد نے بیان کیا اور دعاء کرائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۲۰ء ص ۴۷)
ختم نبوت کانفرنسیں ضلع چکوال
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ضلع چکوال میں ۱۲/ دسمبر کو دو کانفرنسیں منعقد کی گئیں۔ پہلی کانفرنس ملیال مغلاں میں نماز ظہر کے بعد تا عصر منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس کے مہمان خصوصی مولانا اللہ وسایا تھے۔ اس کانفرنس سے مولانا مفتی محمد معاذ، مفتی خالد میر، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع چکوال کے سرپرست صاحبزادہ عبد القدوس نقشبندی نے خطاب کیا۔ یہ کانفرنس عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مغلاں کی یونٹ نے منعقد کروائی۔ جن میں مولانا ارشد، مولانا خرم رشید، قاری عبد الستار اور مولانا لیاقت کے علاوہ ان کے تمام ساتھی شامل تھے۔ جنہوں نے کانفرنس کی تیاری کی۔ پورے علاقے میں گشت کر کے لوگوں کو دعوت دی اور میزبانی کا شرف بھی حاصل کیا۔ ملیال مغلاں میں یہ پہلی ختم نبوت کانفرنس تھی جس میں عوام نے بارش کے باوجود بھرپور شرکت کی۔ دینہ سے جمعیت علماء اسلام ضلع جہلم کے امیر قاری خالق داد اور گوجر خان سے ختم نبوت جماعت کے ذمہ دار خالد مبین نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ نیز تحصیل سوہاوہ کے علماء کرام بھی کثیر تعداد میں شریک ہوئے۔ مغرب کے بعد انوار مدینہ مسجد میں دوسری کانفرنس کا انعقاد تھا۔ اس کانفرنس سے صاحبزادہ عبد القدوس نقشبندی، مولانا مفتی
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
محمد معاذ امیر عالمی مجلس ضلع چکوال نے خطاب کیا۔ جب کہ مہمان خصوصی مولانا اللہ وسایا تھے۔ ۱۳؍دسمبر بروز جمعتہ المبارک مولانا اللہ وسایا نے گنبد والی جامع مسجد جہلم میں جمعہ کے اجتماع سے خطاب کیا۔ مولانا ابوبکر مدرسہ جامعہ حنفیہ ضلع جہلم کے مہتمم نے خطبہ جمعہ دیا اور نماز پڑھائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۲۰ء ص ۴۷)
ختم نبوت کانفرنس دینہ، جہلم
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۳؍دسمبر ۲۰۱۹ء بعد نماز مغرب مدنی مسجد دینہ میں بازار میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جمعیت علماء اسلام ضلع جہلم کے امیر مولانا قاری خالق داد نے اس کانفرنس کی صدارت کی جو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت دینہ کے سرپرست بھی ہیں اور جامعہ حسینہ مدرسہ نکودر کے مہتمم بھی ہیں۔ اس کانفرنس سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سیالکوٹ کے مبلغ مولانا فقیر اللہ اختر، مفتی خالد میر مبلغ ختم نبوت جہلم، چکوال، کشمیر، مولانا شفیق الرحمن راولپنڈی اور مجلس دینہ کے امیر مولانا خالد محمود ضیغم نے خطاب کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۲۰ء ص ۴۸)
ختم نبوت کانفرنس ٹنڈو آدم
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۳؍دسمبر ۲۰۱۹ء کو ٹنڈو آدم میں مولانا احمد میاں حمادی مدظلہ کی سرپرستی میں عظیم الشان کانفرنس منعقد ہوئی۔ جمعہ کی نماز سے قبل عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا محمد اسحاق ساقی بہاولپور نے خطاب کیا۔ عشاء کی نماز کے بعد دوسری نشست بازار میں منعقد ہوئی۔ جس سے مولانا راشد مدنی، مولانا تجمل حسین، مولانا توصیف احمد، مولانا محمد طاہر مکی، مولانا حبیب الرحمن، مولانا قاضی احسان احمد، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور مولانا قاری کامران احمد نے خطاب کیا۔ کانفرنس رات گئے تک جاری رہی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۲۰ء ص ۴۸)
ختم نبوت کانفرنس لاہور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت یونٹ گلشن راوی لاہور کے زیر اہتمام ۱۳؍دسمبر ۲۰۱۹ء کو سالانہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس جامع مسجد بیگماں صدیق اکبر کالونی بند روڈ لاہور میں زیر صدارت مولانا مسعود احمد منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں مولانا عبد العزیز ، مولانا عبدالنعیم، قاری عزیز الرحمن، معروف قاری عبدالغفار ڈیروی، مولانا مشہود احمد، مولانا حبیب الرحمن ضیاء، صوبائی ایوارڈ یافتہ نعت خواں حافظ احمد حسینی، بھائی محمد ابراہیم، قاری محمد ظفر، قاری خلیل الرحمن، بھائی محمد عمران، محمود سمیت تمام طبقات نے بھر پور انداز میں شرکت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۲۰ء ص ۴۸)
ختم نبوت کانفرنس جوہر آباد
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۳؍دسمبر ۲۰۱۹ء بروز ہفتہ بعد نماز عشاء جامع مسجد فاروق اعظم ٹاپیچ کالونی جوہر آباد میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس تلاوت قاری عبید الرحمن جوہر آباد نے کی۔ ہدیہ نعت حافظ محمد اسحاق نے پیش کیا۔ جبکہ نقابت کے فرائض مفتی زاہد محمود صاحب نے سرانجام دیئے۔ حضرت مولانا نور محمد ہزاروی، مولانا حکیم رشید ربانی، مولانا محمد نعیم مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت خوشاب، مولانا عبدالحکیم امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جوہر آباد، مولانا سید محمد اسماعیل شاہ کاظمی لاہور کے بیانات ہوئے۔ کانفرنس کی
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سرپرستی قاری محمد عبداللہ صاحب نے فرمائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۲۰ء ص ۵۲)
ناظم اعلیٰ صاحب کا دورہ میر پور خاص کنری
۱۳؍ دسمبر بروز جمعہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری ملتان سے ٹنڈو آدم تشریف لائے جمعہ ٹنڈو آدم پڑھایا اور جمعہ نماز کے بعد میر پور خاص تشریف لائے عصر اور مغرب کی نماز مرکز ختم نبوت میر پور خاص میں ادا کی نئے تعمیر شدہ مرکز کے لئے دعاء فرمائی اور کنری کے لئے روانہ ہوئے حضرت کے ساتھ ملتان سے مولانا اسحاق ساقی اور میر پور خاص سے مولانا مختار احمد اور حافظ منظور نے سفر کیا۔ تمام جماعتی رفقاء نے حضرت سے ملاقات کی۔ ۱۴؍ دسمبر بروز ہفتہ بعد نماز ظہر طوبیٰ مسجد کنری کے لئے افتتاحی تقریب منعقد ہوئی۔ حضرت نے افتتاح کیا۔ مبلغ ختم نبوت کنری مولانا مختار احمد نے اسٹیج سیکرٹری کے فرائض سرانجام دیتے ہوئے مبلغ ختم نبوت ضلع بہاولپور مولانا اسحاق ساقی کو بیان کی دعوت دی۔ آخر میں ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے تفصیل سے مساجد کی اہمیت اور ضرورت پر بیان کیا۔ ایک نئی مسجد کے لئے سنگ بنیاد رکھا جو کہ مکہ ٹاؤن کنری میں مسجد علی المرتضیٰ کے نام سے بنائی جائے گی۔ عصر کی نماز حضرت نے مدرسہ محمدیہ کنری میں پڑھی اور نماز کے بعد طلباء میں مختصر بیان کیا اور مسجد اور مدرسے کے لئے دعاء فرمائی۔ بعد نماز مغرب بخاری مسجد کنری میں حضرت نے سیرت خاتم الانبیاء کانفرنس میں بیان فرمایا۔ حضرت نے عقیدہ ختم نبوت اور آنے والے فتنوں پر تفصیل سے گفتگو فرمائی اور قادیانی مصنوعات کے بائیکاٹ کا بھر پور اعلان کیا۔ حضرت نے فرمایا قادیانی ہمارے نبی مکرم ﷺ کے دشمن ہیں۔ ۱۵؍ دسمبر بعد نماز مدینہ مسجد میر پور خاص میں ناظم اعلیٰ صاحب نے بیان فرمایا اور سانحہ تیزگام میں شہید ہونے والے مسافران آخرت کے لئے دعاء فرمائی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۲۰ء ص ۴۹)
ختم نبوت کانفرنس حیدر آباد
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۴؍ دسمبر ۲۰۱۹ء کو حیدر آباد کے سائٹ ایریا کے ایک شادی ہال میں کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی صدارت مولانا سیف الرحمن آرائیں نے کی۔ مولانا توصیف احمد نے نقابت کے فرائض سرانجام دیئے۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کا تفصیلی بیان ہوا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۲۰ء ص ۴۹)
ختم نبوت کانفرنس جھڈو
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۶؍ دسمبر ۲۰۱۹ء کو جامع مسجد نور الاسلام میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی صدارت حافظ عمر دین نے کی۔ مولانا مختار احمد اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کے مفصل بیانات ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۲۰ء ص ۴۹)
ختم نبوت کورس چیچہ وطنی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامع مسجد انوریہ محمد پورہ چیچہ وطنی میں ۱۵، ۱۶؍ دسمبر ۲۰۱۹ء بعد نماز مغرب تا عشاء دو روزہ ختم نبوت کورس منعقد ہوا۔ صدارت پیر جی عبدالحفیظ رائے پوری، جناب حاجی محمد امین سیٹھی اور جناب حاجی ظفر اقبال نے کی۔ کورس سے مولانا محمد حبیب، مولانا عبدالحکیم نعمانی، مفتی عبدالرحمن اور مولانا غلام حسین کے بیانات ہوئے۔ اختتامی تقریب میں مولانا محمد
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ریاض، مفتی محمد ساجد اور پیر جی حفظ الرحمن سمیت شہر بھر کی مذہبی قیادت نے شرکت کی۔ کورس کے اساتذہ نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت وفضیلت اور رفع ونزول عیسیٰ علیہ السلام کے موضوعات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۲۰ء ص ۵۰)
ختم نبوت کانفرنس ماتلی ضلع بدین
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۱۷/دسمبر ۲۰۱۹ء کو عشاء کے بعد گوٹھ غلام نبی کمبوہ تحصیل ماتلی میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس سے مولانا محمد حنیف سیال، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا قاضی احسان احمد کے ایمان پرور بیانات ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۲۰ء ص ۵۰)
ختم نبوت کانفرنس سانگی ضلع سکھر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سکھر و جمعیت علماء اسلام سانگی کے زیر اہتمام ۱۸/دسمبر بروز بدھ بعد نماز عشاء جامع مکی مسجد سانگی میں عظیم الشان تحفظ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ قاری فہد علی کورائی کی تلاوت سے کانفرنس کا آغاز ہوا۔ محمد مبشر حسین نے ہدیہ نعت پیش کیا۔ علماء کرام میں سکھر کے مبلغ مولانا محمد حسین ناصر، حافظ عبدالغفار شیخ اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اطلاعات ونشریات مولانا عزیز الرحمن ثانی نے اپنے اپنے بیانات عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے قادیانی مرزائی فتنہ سے مسلمانوں کو آگاہ کیا۔ مولانا محمد حامد نے اسٹیج سیکرٹری کے فرائض سرانجام دیئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۲۰ء ص ۵۰)
ختم نبوت کانفرنس روہڑی
۱۹/دسمبر ۲۰۱۹ء بروز جمعرات بعد نماز ظہر کندھرا تعلقہ روہڑی میں تحفظ ختم نبوت و دستار فضیلت کانفرنس مولانا غلام مصطفیٰ توصیف کی نگرانی میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عبدالقیوم ہالیجوی امیر جمعیت علماء اسلام ضلع سکھر مولانا محمد صالح انڈھڑ جنرل سیکرٹری جمعیت علماء اسلام شیخ الحدیث مولانا میر محمد میرک، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ونشریات مولانا عزیز الرحمن ثانی، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاڑکانہ کے امیر مولانا مسعود احمد سومرو و دیگر علماء کرام نے اپنے بیانات میں عقیدہ ختم نبوت وعظمت قرآن پر بیان کیا۔ ( محمد عمیر گجر)
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۲۰ء ص۵۰، ۵۱)
ختم نبوت کانفرنس نواں گوٹھ تعلقہ لکھی غلام شاہ ضلع شکار پور
۱۹/دسمبر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نواں گوٹھ یونٹ سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے زیر اہتمام بعد عصر تا عشاء جامع مسجد میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ تلاوت کے بعد پاکستان کے مشہور نعت خواں محمد طاہر بلال چشتی نے ہدیہ نعت پیش کیا۔ مولانا محمد حسین ناصر، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا عزیز الرحمن ثانی کے بیانات ہوئے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۲۰ء ص ۵۱)
تحفظ ختم نبوت کانفرنس ضلع شکار پور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام تحصیل لکھی غلام شاہ رستم شہر میں ۱۹/دسمبر ۲۰۱۹ء کو کانفرنس کا آغاز بعد نماز مغرب قاری محمد اکرم کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ جس کی صدارت مولانا سائیں عبداللہ مہر سومرانی شریف نے کی۔ مولانا محمد حسین ناصر، مولانا ظفر اللہ سندھی، مولانا طیب میکھو، مولانا رفیق احمد توحیدی، مولانا غلام اللہ مہر درگاہ سومرانی شریف، مولانا نظام الدین کے سندھی زبان میں بیانات
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ہوئے۔ نعت خواں حافظ اشفاق احمد شکار پوری، قاری آصف ندیم لاہوری، جناب حافظ طاہر بلال چشتی تھے۔ دیگر علماء کرام میں مولانا اسماعیل شجاع آبادی، وکیل ختم نبوت مولانا عزیز الرحمن ثانی شامل تھے۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۲۰ء ص ۵۱)
تحفظ ختم نبوت کانفرنس جھونگل
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۲۰؍ دسمبر ۲۰۱۹ء کو جامع مسجد جھونگل میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت استاذ العلماء مولانا عبدالحئی نے فرمائی۔ تلاوت کے بعد قاری محمد آصف ندیم، جناب طاہر بلال چشتی جھنگ نے ہدیہ نعت پیش کیا۔ جمعہ کی نماز سے قبل مولانا محمد حسین ناصر، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا سید مسعود شاہ رحیم آباد، مولانا امین، مولانا ناظم الدین پہوڑ امیر ختم نبوت جھونگل کے بیانات ہوئے۔ بعد نماز جمعہ مولانا امین سومرو، مولانا عزیز الرحمن ثانی نے خطاب فرمایا۔ یہ کانفرنس زیر نگرانی مبلغ ختم نبوت مولانا ظفر اللہ سندھی اور زیر اہتمام حاجی منظور احمد پہوڑ، مولانا آفتاب احمد، فاروق احمد، مولانا ضمیر احمد سومرو، حافظ منیر احمد، حافظ نعیم اللہ حافظ عطاء اللہ ڈول منعقد ہوئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۲۰ء ص ۵۱)
ختم نبوت کانفرنس خان پور ضلع شکار پور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت و جمعیت علماء اسلام کے زیر اہتمام خان پور مین بازار میں ۲۰؍ دسمبر ۲۰۱۹ء بعد نماز مغرب کانفرنس کا اہتمام کیا۔ کانفرنس میں ہزاروں مسلمانوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کی صدارت مولانا سائیں عبداللہ پہوڑ درگاہ جرار شریف نے کی۔ کانفرنس کی پہلی نشست سے مولانا محمد یوسف بروہی، مولانا غلام قادر بروہی، مولانا عبداللہ کھڑو، مولانا عبدالرحیم بروہی، مولانا عبید اللہ، مولانا عنایت اللہ، قاری اسرار احمد نے خطاب فرمایا۔ دوسری نشست سے جناب حافظ آصف ندیم لاہوری، حافظ طاہر بلال چشتی جھنگ، حافظ نعمت اللہ سونگی خیر پور، قاری سعد اللہ، قاری سہیل احمد زین کوئٹہ، مکتب اہل تشیع کے رہنما سید ظفر حسین شاہ، مکتب بریلوی کے رہنما مولانا عبدالخالق قاسمی اسکندری، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، آخری خطاب مولانا عزیز الرحمن ثانی کا ہوا۔ زیر نگرانی مولانا مفتی لطف اللہ عادل، مفتی شاہد علی، جناب ندیم، جناب سرور، جناب ظہور جان، جناب زبیر ابڑو، جناب اعجاز زہری یہ کانفرنس منعقد ہوئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۲۰ء ص ۵۲)
ختم نبوت کانفرنس پنو عاقل ضلع سکھر
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پنوعاقل کے زیر اہتمام عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۲۰؍ دسمبر ۲۰۱۹ء بعد نماز مغرب عید گاہ میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی صدارت درگاہ ہالیجوی شریف کے چشم و چراغ سائیں غلام اللہ نے کی۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض حافظ عبدالغفار شیخ نے انجام دیئے۔ مقررین میں مولانا قاری خلیل الرحمن سرپرست عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پنوعاقل مولانا محمد حسین ناصر، مولانا مفتی محمد طاہر ہالیجوی، مولانا قاضی احسان احمد کراچی، مولانا مفتی محمد راشد مدنی رحیم یار خان اور مجاہد جمعیت مولانا حافظ حمد اللہ کے بیانات ہوئے۔ علماء کرام نے کہا کہ ملک پاکستان کے اندر نام نہاد حکمران قادیانیوں کی سرپرستی کر رہے ہیں۔ یاد رکھو یہ خود تو ڈوبے ہیں، بیڑا تمہارا بھی غرق ہونے والا ہے۔ ان شاء اللہ! کانفرنس کو کامیاب کرنے کے لئے پنوعاقل جماعت کے امیر قاری عبدالقادر چاچڑ، غلام شبیر شیخ، حافظ عبدالغفار شیخ، مولوی فہد علی، مولانا محمد حسین جتوئی، بھائی عبید اللہ محمد ایاز شیخ، بھائی بشیر لنجار، بھائی محمد زمان نے بھر پور محنت کی۔ کانفرنس رات ساڑھے بارہ بجے مولانا غلام اللہ ہالیجوی کی دعاء پر مکمل ہوئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۲۰ء ص ۵۲)
تحریک ختم نبوت جلد (١٠) ٢٠١٩ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مفکر ختم نبوت مولانا عزیز الرحمن جالندھری کے تبلیغی اسفار
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری ۲۰؍ دسمبر کو ایک روزہ تبلیغی دورہ پر عارف والا تشریف لائے۔ آپ نے مدرسہ عربیہ فاروقیہ قبولہ روڈ عارف والا میں عقیدہ ختم نبوت اور ہماری ذمہ داریاں کے عنوان پر خطبہ جمعۃ المبارک ارشاد فرمایا۔ جمعۃ المبارک کے خطبہ و نماز کے بعد منتظمین مدرسہ کی طرف سے دیے گئے ظہرانہ میں شرکت کی۔ بعد ازاں رات کا قیام جامعہ حنفیہ بورے والا میں فرمایا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۲۰ء ص ۵۳)
ختم نبوت کورس فاروکہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامع مسجد عائشہ صدیقہؓ، مدرسہ ربیع القرآن فاروکہ (تحصیل ساہیوال) میں ۲۰، ۲۱، ۲۲ دسمبر ۲۰۱۹ء بروز جمعہ، ہفتہ، اتوار ساہیوال کے امیر قاری محمد یوسف کی زیر سرپرستی تین روزہ ختم نبوت کورس کا انعقاد ہوا۔ پہلے دن کا سبق مولانا فضل الرحمن منگلا نے بذریعہ پروجیکٹر پڑھایا۔ جس میں عقیدہ توحید و رسالت کے حوالہ سے قادیانیوں کے باطل نظریات کو عوام الناس کے سامنے روشناس کرایا۔ دوسرے دن ضلع خوشاب کے مبلغ مولانا محمد نعیم نے عقیدہ ختم نبوت اور مرزا قادیانی کے کفریات کو بیان کیا، جبکہ تیسرے دن کے سبق میں مولانا فضل الرحمن منگلا نے حیات سیدنا عیسیٰ علیہ السلام و ظہور امام مہدی علیہ الرضوان کو بذریعہ پروجیکٹر تفصیل سے بیان کیا۔ بعد از نماز عشاء مولانا نور محمد ہزاروی کے مفصل خطاب اور تقسیم انعامات کے ساتھ اختتامی دعا ہوئی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان مارچ ۲۰۲۰ء ص ۵۳)
مولانا پیر ناصر الدین خاکوانی کا تین روزہ دورہ سندھ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر مرکزیہ مولانا پیر ناصر الدین خاکوانی تین روزہ دورہ پر سندھ تشریف لائے۔ ۲۰؍ دسمبر محراب پور۔ ۲۱؍ دسمبر نواب شاہ اور ۲۲؍ دسمبر بروز اتوار کو سکھر میں آپ کی آمد ہوئی۔ بعد نماز عشاء سکھر کی مرکزی جامع مسجد بندر روڈ میں حضرت کا بیان ہوا۔ حضرت کے تمام پروگراموں کا نظم و ترتیب حضرت کے معتمد خاص و خلیفہ مجاز سید امین الدین پاشا نے دیا۔ سکھر میں حضرت اقدس کے متعلقین میں سے احباب نے جن میں مولانا عبداللطیف اشرفی، مولانا عبدالقادر، مولانا مفتی محکم الدین و دیگر حضرات نے بھرپور محنت کی مرکزی جامع مسجد کے خطیب اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع سکھر کے امیر مولانا قاری جمیل احمد بندھانی نے بھرپور سرپرستی و تعاون کیا۔ (محمد حسین ناصر)
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۲۰ء ص ۵۳)
تحفظ ختم نبوت سیمینار سنانواں
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سنانواں تحصیل کوٹ ادو کے زیر اہتمام تحفظ ختم نبوت سیمینار جامع مسجد مدنیہ اڈیوالی میں مورخہ ۲۱؍ دسمبر ۲۰۱۹ء بروز ہفتہ کو بعد از نماز مغرب منعقد ہوا۔ جس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری تشریف لائے اور بہت خوبصورت انداز میں عقیدہ ختم نبوت، ظہور امام مہدی علیہ الرضوان اور معاشرتی رہن سہن سے متعلق نورانی خطاب فرمایا۔ سامعین خطاب سن کر اشکبار ہوئے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کوٹ ادو کے مبلغ مولانا محمد ساجد نے مجلس تحفظ ختم نبوت کی تبلیغی سرگرمیاں،
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
جماعتی لٹریچر، جماعت کے ماہنامہ ترجمان لولاک کا تعارف کروایا۔ مولانا قاری ابوبکر امیر یونٹ سناواں، مولانا عبدالباسط، مولانا عبدالحمید حقانی نے بھرپور معاونت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۲۰ء ص ۵۳)
ختم نبوت کورس کندھ کوٹ ضلع کشمور
کندھ کوٹ مدرسہ بحر العلوم میں تین روزہ ختم نبوت کورس ۲۱، ۲۲، ۲۳؍ دسمبر ۲۰۱۹ء کو منعقد ہوا۔ دو دن جامعہ دارالفیوض کے استاذ الحدیث مولانا عبدالعزیز سمجو اور اسی ادارہ کے طالب علم مولانا ظہیر احمد نے حیات عیسیٰ علیہ السلام اور کذب مرزا پر بیان کئے۔ ۲۳؍ دسمبر کو مولانا محمد حسین ناصر نے ختم نبوت اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے اوصاف نبوت پر تفصیلی بیان کئے علاقہ کے احباب تاجر، علماء کرام وطلباء نے کثیر تعداد میں شرکت کی اس کورس کو کامیاب کرنے کے لئے مولانا ظہیر احمد کے ساتھ اس مدرسہ کی انتظامیہ مولانا عبدالعزیز سمجو، مولانا عبدالصمد، مولانا مفتی محمود نے بھرپور تعاون کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۲۰ء ص ۵۳)
سالانہ ختم نبوت کانفرنس کندھ کوٹ ضلع کشمور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کندھ کوٹ کے زیراہتمام ۲۳؍ دسمبر ۲۰۱۹ء بعد نماز عشاء مسجد ابوعبیدہ میں ختم نبوت کانفرنس زیرصدارت مولانا رحیم بخش چاچڑ امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کندھ کوٹ میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس سے مولانا محمد حسین ناصر، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور مولانا عبدالغفور بھٹو نے خطاب کیا۔ اس کانفرنس کو کامیاب کرنے کے لئے مولانا رحیم بخش چاچڑ، مولانا محمد اسعد ساوند، مولانا مسعود احمد، مولانا عبیداللہ اور مولانا عطاء اللہ سمجو نے بھرپور محنت کی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۲۰ء ص ۵۴)
ختم نبوت کانفرنس گھوٹکی
۲۴؍ دسمبر بروز منگل بعد نماز ظہر جامع مسجد فخر الدین گھوٹکی میں ختم نبوت کانفرنس زیرصدارت امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع گھوٹکی سائیں سید نور محمد شاہ۔ زیرانتظام ناظم اعلیٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع گھوٹکی مولانا محمد یوسف شیخ منعقد ہوئی۔ تلاوت و ہدیہ نعت کے بعد مولانا محمد حسین ناصر، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کے بیان ہوئے۔ (محمد عزیز گجر)
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۲۰ء ص ۵۴)
تحفظ ختم نبوت کانفرنس میلسی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام ۲۵؍ دسمبر ۲۰۱۹ء بروز بدھ کو جامع مسجد عدالت والی میلسی ضلع وہاڑی میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی نگرانی قاری خلیل الرحمٰن اور سرپرستی مولانا مفتی محمود احمد امیر عالمی مجلس میلسی نے فرمائی۔ حافظ محمد وقاص کی تلاوت کلام پاک سے کانفرنس کا آغاز کیا گیا۔ حافظ امیر حمزہ، ذوالقرنین قریشی، ملک جعفر خادم خاص حضرت خاکوانی اور مولانا قاری آصف رشیدی نے ہدیہ نعت پیش کرنے کی سعادتیں حاصل کیں۔ مولانا محمد مکی، مولانا عبدالستار گورمانی، مولانا خواجہ عبدالماجد صدیقی اور مرکزی نائب امیر حافظ پیر ناصر الدین خاکوانی مدظلہ کے مفصل خطابات ہوئے۔ کانفرنس میں مولانا مفتی ظفر اقبال چیچہ وطنی، شیخ الحدیث مولانا محمد یاسین جامعہ ابوہریرہ، مولانا غلام یاسین، مولانا عبدالعزیز حسانی، مولانا محمد رمضان، مولانا قاضی عبدالخالق، مولانا محمد عمیر شاہین، مولانا نور محمد شاہین اور قاری محبوب احمد سمیت علاقہ بھر کے مذہبی، سیاسی اور سماجی رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔ مسجد کی انتظامیہ نے کانفرنس کی کامیابی کے لئے بھرپور کردار ادا کیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۲۰ء ص ۵۴)
تحریک ختم نبوت جلد (١٠) ٢٠١٩ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
ختم نبوت کانفرنس راجن پور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۲۶/ دسمبر ۲۰۱۹ء کو دارالعلوم محمودیہ جامع مسجد فاروق اعظم راجن پور میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت ضلعی امیر عالمی مجلس صاحبزادہ جلیل الرحمن صدیقی نے کی اور نگرانی مولانا محمد عمر فاروقی نے کی۔ کانفرنس میں مولانا عزیز الرحمن ثانی لاہور، مولانا عبدالحکیم نعمانی اور مولانا قاری محمد اقبال نے خصوصی خطابات فرمائے۔ اس موقع پر جناب مولانا قاری یاسین شاکر، مولانا کفایت اللہ درخواستی، مولانا انیس الرحمن فاروقی، مولانا نعمت الرحمن فاروقی، مولانا قاری شاہد منظور، قاری عبدالغنی، ندیم چوہدری، عمر فاروق تنگہ، زبیر خان گوپانگ، راؤ دانیال حسن، راؤ عدیل، رانا سکندر، رانا زین، چوہدری لیاقت احمد کریم، مشتاق احمد رضوی، شبیر مہروی، سردار زاہد محمود خان مزاری، زاہد انجم بھٹی، جناب راول خان بزدار اور اہلیان راجن پور کی بڑی تعداد موجود تھی۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۲۰ء ص ۵۶)
سہ ماہی اجلاس مبلغین حضرات ملتان
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغین کا سہ ماہی اجلاس ۲۷/ ۲۸/ دسمبر ۲۰۱۹ء کو مرکزی دفتر میں زیر صدارت مولانا اللہ وسایا منعقد ہوا۔ اجلاس میں گزشتہ سہ ماہی میں وفات پا جانے والے علماء کرام اور دیگر جماعتی رفقاء جن کے نام درج ذیل ہیں، کی رحلت پر افسوس کا اظہار کیا گیا اور مرحومین کی مغفرت اور پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دعاء کی گئی۔ پیر سیف الرحمن درخواستی راجن پور، مولانا عبدالحمید وٹو قلعہ دیدار سنگھ، مولانا بشیر احمد الحسینی شورکوٹ، صوفی محمد یعقوب منڈی بہاؤالدین، جناب حاجی عبدالقیوم مہاجر مدنی، مولانا مجاہد الحسینی فیصل آباد، والدہ محترمہ مولانا محمد حسین ناصر مبلغ سکھر، قاری محمد قاسم کوٹ سلطان، سید ہدایت رسول شاہ فیصل آباد، مولانا عاشق الٰہی کھاکھی، والد محترم مولانا عبدالمجید گوجرانوالہ، برادر مکرم بھائی طلحہ قدوسی گوجرانوالہ، برادر حاجی احسان اللہ گوجرانوالہ، والد محترم مولانا عبدالستار نیازی خانیوال، محمد اجمل شاہ کھگہ خانیوال، صوفی محمد یعقوب منڈی بہاؤالدین، مولانا فضل الحق ڈیرہ غازی خان، ہمشیرہ محترمہ حکیم عبدالرحمن جعفر تونسہ، والدہ محترمہ حکیم عبدالقادر جعفر تونسہ، قاری محمد صدیق پیر کمال، ڈاکٹر احمد خان نیازی چوک اعظم، ابن مولانا محمد قاسم فتح پور لیہ، چچا مولانا محمد ساجد مبلغ بھکر، مولانا عبداللطیف تلمبہ، والدہ محترمہ مولانا قاری محمد اسلم نوشہرہ، والد محترم قاری علم الدین قصوری، والد محترم جناب نعیم الرحمن قصوری، والد محترم جناب کوثر حلوائی قصور، والد محترم قاری محمد اشرف دیپال پور، والدہ محترمہ قاری ابوبکر رحیمی دیپال پور، والدہ محترمہ مولانا غلام محمود انور اوکاڑہ اور شہداء سانحہ تیزگام میرپور خاص۔
سالانہ ختم نبوت کورس چناب نگر کے اشتہارات مبلغین کے سپرد کرتے ہوئے انہیں ہدایت کی گئی کہ اپنے اپنے اضلاع کے جامعات کا دورہ فرما کر طلباء کرام کو زیادہ سے زیادہ شرکت کی درخواست کریں۔ کورس میں دینی مدارس کے کم از کم درجہ رابعہ کے طلباء کرام سے منتہی طلباء کرام اور عصری تعلیمی اداروں سے کم از کم میٹرک پاس طلباء شرکت فرماسکتے ہیں۔ شرکاء کورس کو رہائش وخوراک کے علاوہ تقریباً پانچ پانچ ہزار روپے کی کتب دی جائیں گی۔ اجلاس میں آئندہ سہ ماہی میں کم از کم تیس مقامات پر کورسز اور پچاس تحصیل ہیڈکوارٹرز میں ختم نبوت کانفرنسیں منعقد کرنے کا طے کیا گیا۔ آنے والی سہ ماہی میں پانچ مقامات پر ڈویژنل سطح پر ختم نبوت کانفرنسز منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۲۰۲۰ء ص ۳۶ و ۵۶)
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء تا ۲۰۱۹ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
کی
مرکزی شوریٰ کے اجلاسوں
کی
کارروائیاں
۲۰۱۷ء تا ۲۰۱۹ء
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء تا ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
عالمی مجلس کی مرکزی مجلس شوریٰ اور مجلس عمومی ومجلس عاملہ کے اجلاسات
نمبر شمار مقام اجلاس تاریخ صدر اجلاس ۱۲۲ دفتر مرکزیہ ملتان (اجلاس مجلس منتظمہ) ندارد حضرت صاحبزادہ عزیز احمد ۱۲۳ دفتر مرکزیہ ملتان (اجلاس مجلس شوریٰ) ۱۱/نومبر ۲۰۱۷ء، مطابق ۲۱/صفر الخیر ۱۴۳۹ھ حضرت ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر ۱۲۴ دفتر مرکزیہ ملتان (اجلاس مجلس منتظمہ) ۲/اپریل ۲۰۱۸ء، مطابق ۱۵/رجب المرجب ۱۴۳۹ھ حضرت صاحبزادہ عزیز احمد ۱۲۵ دفتر مرکزیہ ملتان (اجلاس مجلس منتظمہ) ۲۱/جولائی ۲۰۱۸ء، مطابق ۷/ذیقعدہ ۱۴۳۹ھ // // // ۱۲۶ دفتر مرکزیہ ملتان (اجلاس مجلس شوریٰ) ۲۹/ستمبر ۲۰۱۸ء، مطابق ۱۸/محرم الحرام ۱۴۴۰ھ حضرت ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر ۱۲۷ دفتر مرکزیہ ملتان (اجلاس مجلس منتظمہ) ۱۴/جولائی ۲۰۱۹ء، مطابق ۱۰/ذیقعدہ ۱۴۴۰ھ حضرت صاحبزادہ عزیز احمد ۱۲۸ جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی ۷/اکتوبر ۲۰۱۹ء، مطابق ۷/صفر الخیر ۱۴۴۱ھ حضرت ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر
(۱۲۲واں) اجلاس مجلس منتظمہ
اجلاس مرکزی مجلس منتظمہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بمقام دفتر مرکزیہ ملتان۔
زیر صدارت: صاحبزادہ عزیز احمد صاحب دامت برکاتہم۔
شرکاء: (۱) صاحبزادہ عزیز احمد، (۲) مولانا عزیز الرحمن جالندھری، (۳) مولانا اللہ وسایا، (۴) مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، (۵) مولانا عزیز الرحمن ثانی، (۶) حافظ محمد انس، (۷) مولانا مفتی محمد راشد مدنی، (۸) مولانا قاضی احسان احمد۔
درجہ تخصص فی علوم ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر کے شرکاء میں سے پانچ فضلاء نے مجلس کے شعبہ تبلیغ میں تبلیغی کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ ان حضرات سے کہا گیا کہ آپ حضرات ملتان کا سفر کریں۔ تین روز مرکزی دفتر ملتان میں رہ کر تبلیغی کام کی تفصیلات سے باخبر ہوں۔ مجلس کے اکابرین آپ کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے آپ کو مجلس کے شعبہ تبلیغ میں تبلیغی کام کرنے کا موقع دیں گے۔
دو فضلاء کی مجلس کے شعبہ تبلیغ میں شمولیت: مولانا بدرالاسلام عباسی کی خواہش پر انہیں راولپنڈی کا حلقہ سپرد کیا گیا۔ مولانا اویس غنی جو کہ کراچی کے رہائشی ہیں انہیں کوئٹہ کا حلقہ سپرد کیا گیا۔ ان دونوں حلقوں کے قدیم مبلغین نے خانگی ضروریات کی بناء پر مجلس میں مزید کام کرنے سے معذرت کی تھی۔
مخدوم ومکرم صاحبزادہ خلیل احمد صاحب دامت برکاتہم کے حکم پر خانقاہ سراجیہ کے قدیم خادم محترم حکیم صاحب کے صاحبزادہ مولانا محمد ساجد کو مجلس کے شعبہ تبلیغ میں رکھا گیا۔ انہیں مظفرگڑھ اور لیہ کا حلقہ سپرد کیا گیا۔
شعبہ تعلیم مسلم کالونی میں چار مدرسین کا جدید تقرر: مسلم کالونی چناب نگر میں درجہ تخصص فی الافتاء کا اجراء کیا گیا۔ اس شعبہ کے لئے مولانا مفتی عبدالواحد صاحب کا تقرر کیا گیا۔ درجہ کتب میں جناب مولانا محمد شیر عالم صاحب کا نیا تقرر کیا گیا۔ درجہ حفظ میں دو مدرسین کا اضافہ کیا گیا۔ جن کے نام یہ ہیں: (۱) قاری محمد عمران کبیر، (۲) قاری محمد عاقب جاوید۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء تا ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نواب شاہ میں جدید طرز کا مجلس کا دفتر ایک مقامی تاجر نے تعمیر کرانا شروع کیا۔ پلاٹ خریدا، نقشہ بنوایا۔ سنگ بنیاد رکھا اور تعمیر کا آغاز کیا۔ مجلس نے حسابات کو درست رکھنے کے لئے مقامی مبلغ نواب شاہ مولانا تجمل حسین کو ۱۵ مقامی بکیں دیں تاکہ مقامی حضرات تعمیر دفتر کے سلسلہ میں جو معاونت کریں ان کو مقامی بک سے رسید دے دی جائے تاکہ آمد، صرف کا حساب قاعدے اور اصول کے مطابق رکھا جاسکے۔
کنری ضلع تھر پارکر میں مقامی جماعت ۱۹۴۹ء سے قائم ہے۔ ۱۹۷۴ء میں مسجد تعمیر کی جس کا نام بخاری مسجد رکھا اور مسجد کے غربی جانب دوکانیں تعمیر کیں۔ اس چوک کا نام بخاری چوک رکھا۔ دوکانوں کے بالائی حصے پر دفتر ختم نبوت بنایا۔ چھت گارڈر ٹی آئرن کی تھی۔ عرصہ ۵۰ سال سے چھت قابل استعمال نہ رہی۔ دوکانیں نشیب میں، سڑک اونچی۔ جماعت کنری نے مسجد اور دوکانیں نئی تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا۔ تعمیراتی چندہ کے لئے انہیں مقامی بکیں دی گئیں تاکہ تعمیرات میں حصہ لینے والے اور معاونت کرنے والے ہر ساتھی کو رسید بک دی جاسکے اور آمد و خرچ کا صحیح صحیح حساب رکھا جاسکے۔
مولانا محمد یوسف صاحب لدھیانوی شہیدؒ کی خصوصی توجہ سے آرٹ سکول روڈ کوئٹہ میں دفتر خریدا گیا۔ خریداری دفتر پر عرصہ ۲۰ سال گزر چکا ہے۔ پرانے طرز کی عمارت تھی جو اب بہت بوسیدہ ہوگئی ہے۔ کوئٹہ جماعت، کوئٹہ دفتر کو نئے سرے سے تعمیر کرنے کا ارادہ کر چکی ہے۔ انہیں مقامی طور پر تعمیراتی چندہ کے لئے مقامی بکیں دی جائیں گی۔
(۱۲۳ واں) اجلاس مجلس شوریٰ
اجلاس مرکزی مجلس شوریٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بمقام دفتر مرکزیہ ملتان۔
مؤرخہ ۱۱؍نومبر ۲۰۱۷ء، مطابق ۲۱؍صفرالمظفر ۱۴۳۹ھ، بروز: ہفتہ منعقد ہوا۔
زیر صدارت: امیر مرکزیہ مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر صاحب دامت برکاتہم۔
شرکاء: (۱) مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، (۲) مولانا حافظ ناصرالدین خاکوانی، (۳) صاحبزادہ عزیز احمد، (۴) مولانا مفتی خالد محمود، (۵) مولانا سمیع اللہ جان، (۶) مولانا عبدالرؤف، (۷) مولانا قاضی محمد ابراہیم، (۸) مولانا اعجاز مصطفیٰ، (۹) مولانا عبیدالرحمن، (۱۰) مولانا مفتی محمد حسن، (۱۱) مولانا قاری محمد یٰسین، (۱۲) مولانا انوار الحق، (۱۳) جناب میاں خان محمد سرگانہ، (۱۴) جناب حافظ محمد یوسف عثمانی، (۱۵) مولانا سعید اسکندر، (۱۶) مولانا عزیز الرحمن جالندھری، (۱۷) مولانا اللہ وسایا، (۱۸) مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، (۱۹) مولانا عزیز الرحمن ثانی، (۲۰) مولانا محمد انس، (۲۱) مولانا قاضی احسان احمد، (۲۲) مولانا مفتی محمد راشد مدنی۔
۱۰ بجے اجلاس زیر صدارت امیر مرکزیہ مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق صاحب اسکندر زید مجدہ شروع ہوا۔ حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم نے مرحومین کے لئے، مریضوں کے لئے، دینی جماعتوں اور دینی مدارس کے لئے دعاء فرمائی۔
سابقہ کارروائی پر توثیقی دستخط کئے۔
مولانا اعجاز مصطفیٰ صاحب نے قرآن کریم کی تلاوت کی۔
شعبہ تبلیغ: مجلس کے شعبہ تبلیغ کے طرز کی تفصیلات ناظم اعلیٰ صاحب نے بیان کیں۔ حضرات مبلغین کے اسماء گرامی اور حلقہ ہائے
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء تا ۲۰۱۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تبلیغ کی فہرست پیش کی۔ جس کا خلاصہ یہ کہ کورس ہائے رد قادیانیت یک روزہ، دوروزہ، سہ روزہ، پندرہ روزہ اور چناب نگر میں ۲۰ روزہ خصوصی بیانات، خطبات جمعہ، تقسیم لٹریچر، بحالات موجودہ بقدر ممکن ہر مبلغ اپنے حلقے میں مصروف ترین انداز میں تبلیغی خدمات سرانجام دیتا ہے۔ چھ ، سات قسم کے بیس بیس صفحات کے پمفلٹ شائع کئے جاتے ہیں۔ جسے مبلغین حضرات کورسز میں، خطبات جمعہ میں، سکول کے بچوں میں فری تقسیم کرتے ہیں۔ تبلیغی اجتماعات کی سابقہ کیفیت بدل گئی ہے۔ اشتہارات چھاپنا، مساجد میں تبلیغی پروگراموں کا اعلان کرنا، کسی مسجد میں اجتماع رکھنا پولیس نے ناممکن بنادیا ہے۔ اس کے باوجود خاموشی سے تبلیغی طرز کو باقی رکھا اور چلایا جارہا ہے۔ چناب نگر میں ختم نبوت کے عنوان پر شعبہ تخصص قائم کیا گیا۔ جس کے فضلاء میں سے چار مبلغین نئے رکھے گئے ہیں۔
مدارس ، مساجد : مدرسہ تعلیم القرآن ختم نبوت چناب نگر میں مکمل درس نظامی پڑھایا جاتا ہے۔ مزید برآں تخصص فی ختم نبوت، تخصص فی الافتاء، درجہ کتب وتخصصات میں ۱۱؍ اساتذہ کرام ہیں ...... درجہ حفظ میں ۶؍ اساتذہ کرام ہیں ...... پرائمری تا مڈل کے شعبہ میں ۳؍ اساتذہ کرام ہیں ...... ڈسپنسری جس میں ایک ڈاکٹر اور ایک ڈسپنسر کام کرتے ہیں ...... مدرسہ دارالہدیٰ چوک پرمٹ علی پور میں ۶؍ اساتذہ وخدام ...... محمدیہ مسجد ریلوے اسٹیشن چناب نگر میں خطیب، مدرس ...... جامع مسجد عائشہ لاہور میں خطیب ...... مسجد خاتم النبیین گوجرانوالہ میں خطیب ...... مسجد ختم نبوت جابہ میں امام ...... مسجد ختم نبوت ملتان میں امام، خادم، چوکیدار ...... مسجد الصادق بہاول پور میں مدرس ...... مسجد ختم نبوت کوٹری میں خطیب، امام ...... مسجد ختم نبوت ٹالہی میں خطیب، امام ...... بخاری مسجد کنری میں خطیب، امام ...... جامع مسجد اقصیٰ کراچی میں خطیب ...... جامع مسجد بارانی کراچی میں خطیب، امام ...... جامع مسجد خاتم النبیین کراچی میں خطیب، امام۔
کھانا اور وظائف : مدرسہ عربیہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں حاضری طلباء کرام ۴۹۰۔ ناشتہ، کھانا دو وقت کا بہتر انتظام ہے۔ طلباء کے وظائف تخصص میں ۱۵۰۰ روپے ...... دورہ حدیث میں ۱۰۰۰ روپے ...... متوسطہ سے اوپر ۳۵۰ روپے ...... ابتدائیہ اور درجہ حفظ میں ۲۰۰ روپے۔ مدرسہ دارالہدیٰ چوک پرمٹ میں حاضری طلباء ۶۰۔ ناشتہ اور کھانا دو وقت کا بہتر نظم ہے۔
تجویز از مولانا سعید اسکندر کراچی:
- ۱...... مولانا سعید اسکندر صاحب نے حلف نامہ ختم نبوت میں ترمیم کے بعد کراچی کے دینی، سیاسی اور وکلاء کی جدوجہد، مشاورت کی
صورتحال بتائی اور سوشل میڈیا پر آنے والے سوالات، جوابات کی تفصیل بتائی۔ جواباً حکومت کی طرف سے جو فوری کارروائی ہوئی اس پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور بتایا کہ حکومت کا حلف نامہ ختم نبوت بحال کرنے کا صرف اعلان ہوا ہے۔ حلف نامہ کی عبارت آئندہ کیا ہوگی۔ اس پر بہت شکوک وشبہات ہیں۔ مولانا سعید اسکندر صاحب کے خدشات کی روشنی میں مولانا اللہ وسایا نے مزید وضاحت کی اور فرمایا کہ اصل جدوجہد یہ ہے کہ ختم نبوت کے حلف نامہ جن جن امور کے لئے رکھا گیا تھا، تمام حلف نامے بحال ہوں اور سب حلف ناموں میں ۷۔بی، ۷۔سی آخری حلف نامہ کی قدیم عبارت سب حلف ناموں میں یہی ایک عبارت رکھی جائے۔ طے ہوا کہ صاحبزادہ عزیز احمد اور مولانا اللہ وسایا دونوں مولانا فضل الرحمن صاحب سے ملاقات کر کے ان سے تازہ معلومات حاصل کریں۔ حلف نامہ کی بحالی کے بعد اب حلف نامہ کی عبارت بعینہ سابقہ حلف نامہ کی ہو۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن صاحب سے یہ درخواست کریں اور ساتھ ہی راجہ ظفر الحق صاحب سے بھی ملاقات کریں اور تازہ معلومات حاصل کریں۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء تا ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
تجاویز از مولانا اللہ وسایا:
- ......۱ خرید سکینر، پرنٹر، فوٹوسٹیٹ مشین۔ مجلس کی ضروریات کے لئے ضروری ہیں۔ ان مشینوں کے خریدنے کی اجازت دی جائے۔
- ......۲ مدرسہ تعلیم القرآن ختم نبوت چناب نگر کی ضروریات کے لئے نئی سوزوکی پک اپ کی ضرورت کا بتایا کہ تمام اشیاء خوردونوش وہ چنیوٹ سے لائی جاتی ہیں۔ جس کے لئے گاڑی کی ضرورت ہے۔ نئی گاڑی خریدنے کی اجازت دی گئی۔
- ......۳ چناب نگر مسلم کالونی میں عیدگاہ کا پلاٹ مجلس کے زیر قبضہ ہے۔ چار دیواری، ہال، جائے وضو گزشتہ سال تعمیر ہوچکی ہیں۔ برآمدہ نما ہال کے دروازے اور برآمدہ اور مینار بنانے بقایا ہیں۔ اس کی منظوری دی گئی۔
- ......۴ مدرسہ مسلم کالونی کی جدید عمارت کی غربی سائیڈ کے کمروں پر دوسری منزل تعمیر کرنے کی اجازت چاہی گئی۔ مجلس شوریٰ نے اس کی اجازت دی۔
- ......۵ لائبریری دفتر مرکزیہ ملتان کی موجودہ الماریاں کتب کی تعداد کے لحاظ سے کم ہیں۔ لائبریری کے شمالی ملحقہ کمرہ کو لائبریری میں شامل کرنے اور نئی الماریاں لکڑی کی لگانے کی اجازت چاہی گئی۔
- ......۶ گوجرانوالہ کنگنی والا کالونی میں مدرسہ ختم نبوت قائم ہے۔ جس میں درجہ حفظ اور درجہ بنات اور دفتر ختم نبوت قائم ہے۔ عمارت تقریباً ۳۵ سال پہلے تعمیر ہوئی۔ پلستر نہ ہوسکا۔ پوری عمارت جو سات بڑے کمروں اور برآمدہ پر مشتمل ہے۔ فرش اور پلستر کی ضرورت ہے۔ پوری عمارت کی مرمت کرانے کی اجازت دی گئی اور اس کام کے لئے محترم جناب حافظ نذیر احمد صاحب، مولانا محمد اشرف امیر مجلس گوجرانوالہ، حافظ محمد یوسف عثمانی رکن شوریٰ مقامی مبلغ مولانا محمد عارف۔ یہ ساتھی باہم مشورہ سے پوری عمارت کی مرمت کا جائزہ لے کر جیسے جیسے عمدہ طریقے سے مرمت کرانی ہے۔ اس کا خاکہ تیار کرکے دفتر ملتان اطلاع دیں۔ مزید ضرورت محسوس کریں تو مولانا عزیز الرحمن ثانی کو لاہور سے شریک مشورہ کرلیں اور تفصیلی پرچہ بنالیں۔ مثلاً چھت کا بالائی اور اندرونی فرش، کمروں کا اندرونی فرش، برآمدے کا فرش، برآمدے کا پلستر، دیواروں کا پلستر دیگر امور تعمیراتی ان سب چیزوں کا تخمینہ لگائیں۔
- ......۷ چیچہ وطنی سے جنوباً پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر چک نمبر ۳۰ ہے۔ اس چک میں تین چار گھرانے قادیانیوں کے ہیں۔ باقی تمام زمیندار مسلمان ہیں۔ مولانا اللہ وسایا نے اجازت چاہی کہ مسلمانوں نے جدید مسجد تعمیر کی ہے۔ مسجد کے دروازے تاحال نہیں لگ سکے۔ دروازے مجلس کی طرف سے لگوا دیئے جائیں۔
تجاویز کے دورانیہ کے اخیر میں مولانا مفتی خالد محمود از کراچی نے یہ تجویز رکھی کہ ملتان دفتر میں کام کرنے والوں کے لئے بھی رہائشی مکان ہونے چاہئیں۔ بالائی منزل پر گنجائش نکال کر مکانات تعمیر کر لینے چاہئیں۔
اجلاس صبح ۱۰؍ بجے سے ۱؍ بجے تک جاری رہا۔ حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم نے اختتامی دعاء فرمائی۔ والحمد للہ!
کارروائی شوریٰ کے اختتام اور دعائیہ کلمات کے آغاز سے قبل صاحبزادہ مخدوم ومکرم مولانا عزیز احمد نائب امیر مرکزیہ نے فرمایا کہ کراچی کے مبلغ مولانا قاضی احسان احمد کے تبلیغی اسفار بہت بڑھ گئے ہیں۔ اب ان کے تبلیغی سفر ویگن اور بسوں کے ذریعہ ہونا بہت دشوار ہوگیا ہے۔ ان کے لئے گاڑی خریدنے کی انہیں اجازت دے دیں۔ جماعت کراچی کے مشورے سے گاڑی خرید لی جائے۔ چنانچہ اجازت اور منظوری دی گئی۔ اس کے بعد حضرت امیر مرکزیہ کی دعاء پر اجلاس بخیر و خوبی انجام پذیر ہوا۔ عبدالقدوس
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء تا ۲۰۱۹ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
(۱۲۴ واں) اجلاس مجلس منتظمہ
اجلاس مرکزی مجلس منتظمہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بمقام دفتر مرکزیہ ملتان ۔
مؤرخہ ۲؍ اپریل ۲۰۱۸ء بمطابق ۱۵؍ رجب المرجب ۱۴۳۹ھ بروز سوموار منعقد ہوا ۔
زیر صدارت: صاحبزادہ عزیز احمد صاحب دامت برکاتہم ۔
شرکاء: (۱) صاحبزادہ عزیز احمد، (۲) مولانا عزیز الرحمن جالندھری، (۳) مولانا اللہ وسایا، (۴) مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، (۵) مولانا مفتی محمد راشد مدنی، (۶) مولانا قاضی احسان احمد، (۷) مولانا عزیز الرحمن ثانی، (۸) مولانا حافظ محمد انس ۔
- ۱...... بوقت ضرورت اجلاس مبلغین کے ساتھ منتظمہ کا اجلاس بھی رکھ لیا کریں ۔
- ۲...... فروختگی دفتر گوجرانوالہ کے متعلق مقامی بزرگوں کی دو رائیں ہیں ۔ حافظ نذیر احمد رکن شوریٰ از گوجرانوالہ کی رائے ہے کہ قدیم دفتر شہر کے سینٹر میں واقع ہے ۔ احباب کے آنے جانے کے لئے بہت سہولت ہے ۔ یہ قدیم دفتر عمومی رابطہ کا ذریعہ ہے ۔ اسے فروخت نہ کیا جائے ۔ صدر اجلاس منتظمہ صاحبزادہ عزیز احمد نائب امیر مرکزیہ نے فرمایا کہ میں حافظ صاحب سے گفتگو کر کے انہیں راضی کروں گا ۔ اتفاق رائے ہونے پر فروختگی کی طرف قدم بڑھائیں گے ۔
- ۳...... محکمہ سی ڈی اے اسلام آباد کے کاغذات میں خریداری بذریعہ محمد شریف کے محمد اشرف کلرک کی غلطی سے لکھا گیا ۔ اس کی تصحیح کے لئے مولانا عبد الرؤف مرحوم نے رجسٹری کے کاغذ منگوائے ۔ مولانا موصوف انہی دنوں وفات پاگئے تو محمد اشرف سے محمد شریف لکھوانا بھی رہ گیا اور رجسٹری دفتر اسلام آباد کے کاغذات بھی دفتر سی ڈی اے میں رہ گئے تو پہلے کاغذات کی تلاش پھر فروختگی کی تجویز پر غور ۔ صاحبزادہ عزیز احمد نے فرمایا کہ یہ کام میں کسی ساتھی کے ذمہ لگاؤں گا ۔
- ۴...... دفتر بہاول پور کی عمارت بہت قدیم ہے حسب ضرورت اس کے اندر مناسب جدت پیدا کی جاتی رہی ۔ دوکانیں اور ایک بالا خانہ بہتر کرایہ پر ہیں ۔ اس لئے جدید تعمیر کا خیال چھوڑ دیا جائے ۔ البتہ دفتر ختم نبوت کی اگر چاہیں تو مناسب مرمت کرالیں ۔
- ۵...... کوئٹہ دفتر کے ساتھی قدیم کی فروختگی اور جدید دفتر کے حصول یا جدید تعمیر کی جدوجہد میں ہیں ۔ ان کو عجلت کی توجہ دلائی جائے ۔
- ۶...... گوادر میں مجلس کے دفتر کی تعمیر صاحبزادہ عزیز احمد نائب امیر مرکزیہ ، مولانا اللہ وسایا، مولانا اعجاز مصطفیٰ، رانا محمد انور ، مولانا قاضی احسان احمد ۔ یہ حضرات باہم مشورہ سے جو منصوبہ بنائیں یہ معاملہ انہیں بزرگوں کے سپرد ہے اور انہیں اجازت ہے ۔
- ۷...... چنیوٹ شہر میں فیصل آباد روڈ پر برلب سڑک پلاٹ میں مکان یا مسجد یا دونوں چیزیں مسجد اور مکان عارضی نقشہ طول وعرض اور تعمیری خاکہ تیار کرانا عزیز الرحمن ثانی کے سپرد کیا گیا ۔ آئندہ اجلاس میں اس پر مزید مشاورت کر لی جائے ۔
- ۸...... مسلم کالونی چناب نگر میں قابل فروخت دونوں مکان یا جو مناسب قیمت پر ملے مولانا اللہ وسایا، مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا غلام مصطفیٰ ان دونوں مکانوں کو خریدنے کا فیصلہ کرلیں تو انہیں خرید لیا جائے ۔
- ۹...... مدرسہ عربیہ ختم نبوت مسلم کالونی میں درس نظامی کی تعلیم وفاق المدارس کے نصاب کے مطابق ہے ۔ تمام تعلیمی درجات کی کارکردگی بہت بہتر ہے ۔ البتہ درجہ تخصص فی ختم نبوت اور درجہ تخصص فی الفقہ کا مجلس کا اپنا مجوزہ نصاب ہے ۔ طلباء کی حاضری
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء تا ۲۰۱۹ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
سے تخصصات کی زیر تعلیم کتب پر اطمینان ہے۔ صاحبزادہ عزیز احمد اگر ضرورت محسوس کریں تو مولانا غلام رسول دین پوری شیخ الحدیث ختم نبوت سے مزید معلومات اور مشاورت کر سکتے ہیں۔ تعلیمی امور پر کمیٹی کی ضرورت نہ ہے۔
- ۱۰...... ڈسپنسری کا درجہ ابتدائی طبی امداد، بخار، سر درد اور دیگر عارضی قسم کی امراض کا علاج ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے ناغہ سے اس میں فرق
نہیں آتا جو نظم چل رہا ہے بہتر ہے۔
- ۱۱...... تغلق روڈ سڑک اور گلی جس میں دفتر کا رہائشی حصہ واقع ہے۔ اس کی اونچائی کی وجہ سے پانی صحن میں، شدید بارش ہو تو پانی تہہ
خانہ میں اور ایک سٹور جو صحن سے دو فٹ گہرا ہے پانی چلا جاتا ہے۔ اس وقت گزارا ہے۔ جب ضرورت محسوس ہوگی تو دوبارہ مشورہ کرلیں گے۔ ان شاء اللہ !
- ۱۲...... دفتر عالمی مجلس حضوری باغ روڈ کی صفائی زائد المیعاد پڑی ہوئی چیزوں کی فروخت، ٹوٹا پھوٹا کوئی شیشہ، ونڈو، دروازہ وغیرہ
درست کرالیا جائے۔ ضرورت محسوس ہو تو ریگمال سے اندرون کمرہ جات کے داغ دھبے صاف کرالئے جائیں۔ حافظ محمد انس، عزیز الرحمن رحمانی، محمد بلال، یوسف ہارون کام کے طریقہ کو باہم سوچ لیں اور پورے دفتر کی ظاہری شکل و شباہت درست کرلیں۔
- ۱۳...... زیر استعمال دفتر عالمی مجلس حضوری باغ روڈ کی اندرونی وائرنگ اور کچھ حصے میں اوپن وائرنگ زیر استعمال ہے۔ جہاں جہاں
اوپن وائرنگ ہے اس کے بٹن صاف اور درست کرالئے جائیں۔ اسی طرح اندرونی وائرنگ پر بھی نظر ڈال لی جائے۔ اس کام کے بعد جو حصہ اندرونی اور اوپن وائرنگ سے تاحال محروم ہو، تیسرے نمبر پر اس سلسلے میں مشاورت کر لی جائے۔
- ۱۴...... مردان، پشاور اور مقدمہ شال کے زیر غور اور زیر اصلاح امور کے لئے مولانا اللہ وسایا، مولانا عزیز الرحمن ثانی دونوں حضرات
دیگر سرحدی شہروں کے امور پر باہم غور کرلیں اور جو مناسب ہو اس پر عمل کی انہیں اجازت ہے۔ اگر ضرورت محسوس کریں تو صاحبزادہ عزیز احمد صاحب نائب امیر مرکزیہ سے مشورہ کرلیں۔
(۱۲۵ واں) اجلاس مجلس منتظمہ
اجلاس مرکزی مجلس منتظمہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بمقام دفتر مرکزیہ ملتان۔
مؤرخہ ۲۱؍ جولائی ۲۰۱۸ء بمطابق ۷؍ ذیقعدہ ۱۴۳۹ھ بروز ہفتہ منعقد ہوا۔
زیر صدارت: صاحبزادہ عزیز احمد صاحب دامت برکاتہم ۔
شرکاء: (۱) صاحبزادہ عزیز احمد، (۲) مولانا عزیز الرحمن جالندھری، (۳) مولانا اللہ وسایا، (۴) مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، (۵) مولانا عزیز الرحمن ثانی، (۶) مولانا قاضی احسان احمد، (۷) مولانا مفتی محمد راشد مدنی، (۸) مولانا حافظ محمد انس۔
اجلاس منتظمہ زیر صدارت صاحبزادہ عزیز احمد صاحب مدظلہ نائب امیر مرکزیہ شروع ہوا۔
مجلس کے مبلغین، اساتذہ درس نظامی مسلم کالونی، اساتذہ درجات تحفیظ، خطباء، ائمہ کرام، خدام مقامی دفاتر کے مشاہرات میں اضافہ کیا گیا۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء تا ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مدرسہ تعلیم القرآن چوک پرمٹ: مدرسہ تعلیم القرآن چوک پرمٹ کے نگران مولانا عبدالکریم تھے۔ طویل عمر اور مختلف بیماریوں کی وجہ سے اٹھنے بیٹھنے سے معذور ہوئے۔ فوری طور پر دو اساتذہ تلاش کئے گئے۔ تعلیمی آغاز کا اشتہار چھاپا گیا۔ حافظ محمد انس کو ملتان سے پرمٹ بھیجا گیا اور مولانا حمزہ لقمان کو بلا کر نئے سرے سے نظم کو درست کرنے کی بہتر کوشش کی۔ مدرسہ کی صفائی، دروازوں کی مرمت، باورچی خانہ کی نئی تعمیر، گری ہوئی چار دیواری، رنگ و روغن، بجلی کے بورڈ، پنکھے سب درست کرائے گئے۔ مقامی لوگوں سے میل ملاپ اور رابطہ بحال ہوا۔ اس وقت ماحول ٹھیک ہے۔
مولانا ثانی صاحب نے بتایا کہ درجہ کتب، درجہ حفظ مسلم کالونی میں مزید ایک ایک استاد رکھے گئے ہیں۔ ساتھیوں نے انہیں اختیار دیا کہ بوقت ضرورت مدرس، ملازم رکھ سکتے ہیں۔
گوجرانوالہ کے رکن شوریٰ حافظ محمد یوسف صاحب نے مرمت دفتر گوجرانوالہ کی گزشتہ شوریٰ سے اجازت حاصل کی۔ ان سے عرض کیا گیا تھا کہ تخمینہ مرمت لگوا کر ارسال کریں۔ جماعت گوجرانوالہ نے مرمت کا تخمینہ مبلغ ۳۶۰۰۰۰/- روپے لگوا کر بھجوایا۔ مولانا ثانی سے عرض کیا گیا کہ لاہور کے کسی جماعتی انجینئر کو گوجرانوالہ لے جائیں۔ دفتر دکھائیں اور مرمت کی جو صورت وہ بنائیں، اس سے آگاہ کریں۔
مولانا قاضی احسان احمد دفتر ختم نبوت نواب شاہ اور مسجد اور دفتر مجلس میر پور خاص کے لئے یہ کہا کہ ہر وہ تعمیراتی منصوبے مرکز مکمل کرائے تو ان سے عرض کیا گیا کہ فی الحال جو ممکن ہو، جیسے ممکن ہو کام جاری رکھیں۔ اجلاس شوریٰ میں منظوری کے بعد آپ کو تکمیل تعمیر کے لئے ان شاء اللہ فنڈ دیں گے۔
مقدمہ گوجرانوالہ میں ماخوذ ایک نوجوان جس کی اپیل ہائیکورٹ میں ہے، فیس کی ادائیگی کی اجازت دی گئی۔
سالانہ کانفرنس چناب نگر کے مقررین کا چناؤ اور انتخاب مولانا ثانی صاحب، مولانا اسماعیل صاحب سابقہ فہرست سے کر لیں۔ حالات و واقعات کے پیش نظر خطباء کے چناؤ میں ان کے مزاجوں کا خیال رکھیں۔
دفتر فیصل آباد میں چوری ہونے والی رقم مولانا عبدالرشید ادا کریں۔
ضروریات تبلیغ کے پیش نظر لٹریچر شائع کرنے کی اجازت دی گئی۔ مولانا ثانی، مولانا قاضی احسان احمد، مولانا مفتی محمد راشد مدنی رسائل منتخب کر لیں اور ثانی صاحب چھاپ لیں۔
این ٹی این نمبر حاصل کرنے کے لئے کوشش کی گئی اور حسابات انگریزی مہینوں میں مجبوراً لکھنے شروع کئے تو جنوری تا جون ۲۰۱۸ء ۶ ماہ کا حساب آڈٹ کرایا گیا اور جولائی ۲۰۱۸ء تا جون ۲۰۱۹ء کا سال الگ سے شروع کیا گیا۔
سن ۱۴۳۸ھ، سن ۱۴۳۹ھ محرم الحرام تا ۱۳ / ربیع الثانی ۱۴۳۹ھ انگریزی سال یکم جنوری ۲۰۱۸ء تا جون ۲۰۱۸ء الگ الگ آڈٹ کرا لئے گئے۔
(۱۲۶ واں) اجلاس مجلس شوریٰ
اجلاس مرکزی مجلس شوریٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بمقام دفتر مرکزیہ ملتان۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء تا ۲۰۱۹ء
ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
مؤرخہ ۲۹؍ستمبر ۲۰۱۸ء، مطابق ۱۸؍محرم الحرام ۱۴۴۰ھ، بروز: ہفتہ صبح ۱۰ بجے منعقد ہوا۔
زیر صدارت: امیر مرکزیہ مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر صاحب دامت برکاتہم۔
شرکاء: (۱) مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، (۲) صاحبزادہ عزیز احمد، (۳) مولانا حافظ محمد ناصر الدین خاکوانی، (۴) صاحبزادہ خلیل احمد، (۵) مولانا سید سلیمان بنوری، (۶) مولانا مفتی خالد محمود، (۷) مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی، (۸) مولانا سمیع اللہ جان، (۹) مولانا قاضی محمد ابراہیم، (۱۰) مولانا اعجاز مصطفیٰ، (۱۱) مولانا عبدالرحمٰن، (۱۲) مولانا عبدالرؤف، (۱۳) مولانا مفتی محمد حسن، (۱۴) مولانا قاری محمد یٰسین، (۱۵) مولانا انوار الحق، (۱۶) جناب حاجی فیض احمد، (۱۷) جناب حافظ محمد یوسف، (۱۸) جناب میاں خان محمد سرگانہ، (۱۹) مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری، (۲۰) مولانا اللہ وسایا، (۲۱) مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، (۲۲) مولانا عزیز الرحمٰن ثانی، (۲۳) مولانا حافظ محمد انس، (۲۴) مولانا قاضی احسان احمد، (۲۵) مولانا مفتی محمد راشد مدنی۔
مؤرخہ ۲۹؍ستمبر ۲۰۱۸ء بمطابق ۱۸؍محرم الحرام ۱۴۴۰ھ بروز ہفتہ دفتر مرکزیہ ملتان میں صبح ۱۰ بجے اجلاس منعقد ہوا۔ مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر صاحب دامت برکاتہم نے صدارت فرمائی اور حضرات امراء مجلس نے سابقہ اجلاس شوریٰ و منتظمہ کی کارروائی پر توثیقی دستخط فرمائے۔
تلاوت: محترم جناب حافظ محمد یوسف عثمانی صاحب کی تلاوت سے اجلاس کا باقاعدہ آغاز ہوا۔
دعائے مغفرت: حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم نے گزشتہ سال میں وفات پانے والے مرحومین کے لئے دعائے مغفرت و بلندی درجات کی دعاء فرمائی۔
این. ٹی. این (نیشنل ٹیکس نمبر): صاحبزادہ عزیز احمد نائب امیر مرکزیہ کی تجویز پر محترم جناب خالد مسعود صاحب ناظم مجلس تلہ گنگ کے ذریعہ سے عالمی مجلس کا این. ٹی. این نمبر حاصل کیا گیا۔ جس کی وجہ سے مجلس کے حسابات کو اسلامی سن پر موقوف کر کے عیسوی سن کے مطابق شروع کیا گیا۔
اسلامی سال ۱۴۳۹ھ کے تین ماہ محرم الحرام، صفر الخیر، ربیع الاوّل اور ربیع الثانی کے ۱۲؍ یوم اور سن عیسوی ۲۰۱۸ء جنوری تا جون کے حسابات ترتیب دیئے گئے اور ۹ ماہ کے حسابات آڈٹ کروائے گئے۔
مرکزی حسابات آڈٹ شدہ: سابقہ سالوں کی طرح امسال بھی محترم جناب عبدالستار اینڈ کمپنی سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان کے حسابات آڈٹ کروائے گئے۔ تمام حسابات کے گوشوارے آمدہ صفحات (رجسٹر کارروائی) پر درج ہیں۔ آڈٹ فیس مبلغ ۵۵۰۰۰ روپے سال ۲۰۱۸ء میں درج ہوئے۔
تجویز از صاحبزادہ عزیز احمد صاحب زید مجدہم: صاحبزادہ عزیز احمد صاحب نائب امیر مرکزیہ نے اراکین مجلس شوریٰ کے سامنے یہ تجویز رکھی کہ چیچہ وطنی ضلع ساہیوال کے قریب چک نمبر ۷-۱۱/ ۳۰ میں قادیانی آبادی بہت زیادہ ہے اور وہاں کے قادیانی مالی طور پر بہت مضبوط ہیں اور مسلمان انتہائی غریب اور مفلوک الحال ہیں۔ اس چک کے مسلمانوں نے جذبہ ایمانی کے تحت ایک قطعہ اراضی پر مسجد تعمیر کی فنڈ کی کمی کی وجہ سے مسجد کی تعمیر مکمل نہ کراسکے۔ بقیہ تعمیر اگر مجلس کروا دے تو وہاں کے مسلمان بہت ہی مشکور ہوں گے۔ چنانچہ حضرت
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء تا ۲۰۱۹ء
ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
نائب امیر صاحب کی اس تجویز پر بقیہ تعمیر مکمل کرانے کی منظوری دی گئی اور مجلس کی طرف سے مبلغ ۱۵۰۰۰۰۰ روپے مسجد کی تعمیر کے لئے مفتی ظفر اقبال صاحب امیر مجلس چیچہ وطنی کے نام جاری کر دیئے گئے اور انہی کو ہی تعمیر کا نگران مقرر کیا گیا۔
تجویز از مولانا مفتی محمد شہاب الدین صاحب پوپلزئی زید مجدہم: مولانا مفتی محمد شہاب الدین پوپلزئی نے اراکین مجلس شوریٰ کو گلگت بلتستان کے حالات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہاں قادیانیت کے جراثیم موجود ہیں اور وہاں کے لئے ایک مبلغ کی منظوری دی جائے ۔ چنانچہ مفتی صاحب کی تجویز پر مولانا عبدالسلام صاحب کو مبلغ مجلس گلگت بلتستان مقرر کیا گیا۔
اختتام اجلاس: حضرت الامیر دامت برکاتہم نے اجلاس کے آخر میں اراکین مجلس شوریٰ سے مختصر اور جامع خطاب فرمایا اور اس بات پر زور دیا کہ قادیانیت کا رد قادیانیت کے لٹریچر اور مرزا غلام احمد قادیانی کے کردار کو زیر بحث لا کر کیا جائے ۔ بعد ازاں حضرت امیر مرکز یہ دامت برکاتہم کی رقت آمیز دعاء پر اجلاس اختتام پذیر ہوا۔
(۱۲۷واں) اجلاس مجلس منتظمہ
اجلاس مرکزی مجلس منتظمہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بمقام دفتر مرکزیہ ملتان ۔
مؤرخہ ۱۴؍ جولائی ۲۰۱۹ء ، مطابق ۱۰؍ ذیقعدہ ۱۴۴۰ھ ، بروز : اتوار منعقد ہوا۔
زیر صدارت: نائب امیر مرکز یہ مولانا صاحبزادہ عزیز احمد صاحب دامت برکاتہم ۔
شرکاء: (۱) مولانا صاحبزادہ عزیز احمد ، (۲) مولانا عزیز الرحمن جالندھری ، (۳) مولانا اللہ وسایا ، (۴) مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ، (۵) مولانا عزیز الرحمن ثانی ، (۶) مولانا قاضی احسان احمد ، (۷) مولانا مفتی محمد راشد مدنی ، (۸) مولانا محمد انس ۔
اجلاس منتظمہ زیر صدارت صاحبزادہ عزیز احمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ شروع ہوا۔ اجلاس کا آغاز مولانا مفتی محمد راشد مدنی کی تلاوت سے ہوا۔ بعد ازاں مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ نے مرحومین کے لئے دعائے مغفرت فرمائی ۔
۱...... محکمہ تعلیم پنجاب جماعت نہم کے مطالعہ پاکستان میں ترمیم پر اظہار تشویش :
اخباری رپورٹ کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب کی طرف سے جو کتاب مطالعہ پاکستان برائے جماعت نہم شائع ہو کر عرصہ سے پنجاب بھر میں فری تقسیم ہو رہی ہے اس کے ص ۵ پر عبارت یہ ہے : ’’حضرت محمد ﷺ کو اللہ تعالیٰ کا آخری رسول ماننا عقیدہ رسالت کا لازمی جزو ہے ۔‘‘ جب کہ ٹیکسٹ بورڈ پنجاب کی طرف سے یہی کتاب ’’مطالعہ پاکستان‘‘ برائے جماعت نہم جی . ایف . ایچ پبلشرز اردو بازار لاہور کی طرف سے شائع ہوئی ہے ۔ ترمیم کر کے یہ الفاظ درج کئے گئے ہیں: ’’اسوۂ رسول اکرم ﷺ کو سرچشمہ ہدایت ماننا عقیدہ رسالت کا لازمی تقاضا ہے ۔‘‘ تمام اعلیٰ حکومتی و محکمہ تعلیم کے نمائندگان کو خطوط لکھے گئے کہ اس فرق کو ختم کیا جائے اور ٹیکسٹ بورڈ کی طرف سے شائع ہونے والی کتاب کی عبارت بھی وزیر اعلیٰ سکیم کے تحت شائع ہونے والی کتاب کے مطابق کی جائے جو یہ ہے: ’’حضرت محمد ﷺ کو اللہ تعالیٰ کا آخری رسول ماننا عقیدہ رسالت کا لازمی جز ہے ۔‘‘ اس لئے کہ اس سے ہر دو کتب میں تفاوت ختم ہوگا یہ کہ یہ عبارت زیادہ واضح ہے ۔ یہ کہ آئین پاکستان میں آپ ﷺ کی ختم نبوت کا جو قانونی تحفظ ہے اس کے یہ مطابق ہے ۔ یہ کہ جن قوتوں نے اس فرق کی بنیاد رکھ کر صوبے
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء تا ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
کے طلباء میں تفریق و انتشار پیدا کیا ہے اس کا تدارک ہو جائے گا۔ بعد ازاں معلوم ہوا کہ حکومت نے نوٹس لے کر ذمہ داران کے خلاف کیس دائر کر دیا ہے اور شائع شدہ کتب کو بھی ضبط کیا جا رہا ہے۔
- ......۲ گوجرانوالہ دفتر کی تعمیر و مرمت:
حسب فیصلہ مجلس شوریٰ عالمی مجلس دفتر ختم نبوت گوجرانوالہ کی تعمیر و مرمت کے لئے مولانا عزیز الرحمن ثانی صاحب سے درخواست کی گئی کہ وہ دفتر کے کام کو مرحلہ وار اپنی نگرانی میں شروع کرا دیں۔ پہلے بخاری ہال کا کام مکمل کرائیں۔ بعد ازاں دیگر حصوں کو بھی مرحلہ وار مکمل کرائیں اور وہاں کے مقامی جماعتی ساتھیوں کو بھی اعتماد میں رکھیں۔
- ......۳ قادیانیوں کی اعلیٰ عہدوں پر تعیناتی پر تشویش کا اظہار:
جناب عمران خان صاحب کی حکومت کے قائم ہوتے ہی قادیانیوں کے پر پرزے نکالنے کی خبریں زیر گردش ہیں۔ موجودہ حالات میں قادیانیوں کا سرگرم ہونا ذاتی طور پر نہیں ہے، بلکہ حکومتی ایماء پر ہے۔ جس پر اسلامیان پاکستان کا تشویش میں مبتلاء ہونا فطری امر ہے اور اس پر مزید یہ کہ قادیانیوں کو اعلیٰ عہدوں پر فائز کرنا یہ گورنمنٹ کی بدنیتی کی کھلی دلیل ہے۔ قادیانی افسر ابوبکر خدا بخش نتھوکہ جو کہ سکہ بند قادیانی ہے اس کو اعلیٰ عہدہ دینا یہ آئین اور قانون کی خلاف ورزی ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ اگر حکومتی سطح پر اس طرح کی کوشش کی گئی تو مجلس تمام ایسے اقدامات کی ہر سطح پر مزاحمت کرے گی۔
- ......۴ ضلعی و ڈویژنل سطح پر ختم نبوت کانفرنسز کا انعقاد:
موجودہ حالات میں جب کہ قادیانی بذات خود بھی اور حکومتی سطح پر بھی ان کو فعال کرنے کی مذموم کوشش کی جا رہی ہے تو ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لئے ابھی سے ہی ضلعی اور ڈویژنل سطح پر بڑے بڑے اجتماعات منعقد کئے جائیں تاکہ گورنمنٹ کسی قسم کا کوئی بھی انتہائی قدم اٹھانے سے باز رہے۔
- ......۵ اجلاس مجلس شوریٰ ملتان یا کراچی کرانے کی تجویز:
مجلس شوریٰ عالمی مجلس کے اجلاس کے انعقاد کے لئے حضرت الامیر دامت برکاتہم کی منشاء اور طبیعت کے مطابق کرانے کی تجویز دی گئی۔ اگر حضرت الامیر زید مجدہ مکمل انشراح قلبی سے تشریف لائیں تو ٹھیک ورنہ اجلاس کراچی میں منعقد کر لیا جائے۔
- ......۶ مجلس کے تمام اثاثہ جات کے کاغذات کی درستگی:
تیزی سے ملکی سطح پر بدلتی ہوئی صورتحال اور ملکی سطح پر جانچ پڑتال کی وجہ سے یہ طے کیا گیا کہ مجلس کے تمام تر اثاثہ جات کے کاغذات مکمل طور پر کمپیوٹر کاغذات حاصل کر کے تمام ریکارڈ کو ازسرنو جدید طریقے سے ترتیب دیا جائے، تاکہ بعد میں کسی قسم کی کوئی پریشانی نہ ہو۔
- ......۷ مضامین برائے لولاک از حضرات مبلغین:
مولانا صاحبزادہ عزیز احمد صاحب کی رائے مبارک پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ حضرات مبلغین کو یہ ہدایات جاری کی جائیں کہ وہ ہر ماہ لولاک میں اشاعت کے لئے مضامین لکھیں تاکہ ان کی لکھنے کی صلاحیت بھی اجاگر ہو اور لولاک کے اندر زیادہ سے زیادہ مواد رد قادیانیت پر اپنے ہی ساتھیوں کا شائع ہو سکے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء تا ۲۰۱۹ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
دوران اجلاس مولانا مفتی محمد راشد مدنی صاحب نے اس رائے کا اظہار کیا کہ بعض مدارس اور دینی ادارے اپنے مدرسین اور ملازمین کو سال بھر میں ایک مرتبہ عموماً رمضان المبارک میں مساوی مشاہرہ کے ایک مہنگائی الاؤنس دیتے ہیں۔ ان کی رائے تھی کہ مجلس بھی اپنے مبلغین، مدرسین اور ملازمین کو رمضان میں مشاہرہ کے ساتھ مساوی مشاہرہ ایک مہنگائی الاؤنس دے۔ مفتی صاحب کی تجویز کا عملی جائزہ اور معلومات حاصل کر کے اگر ایسا ہی ہے تو ان کی تجویز مجلس شوریٰ میں پیش کر دی جائے گی اور اراکین منتظمہ اجلاس شوریٰ میں تائید بھی کریں گے۔
سرکاری ادارہ TNT اسلام آباد نے کہا کہ مجلس کا حساب اب انگریزی تاریخوں میں لے آئیں۔ جنوری ۲۰۱۸ء سے حسابات مجلس انگریزی تاریخوں میں تحریر کئے جانے لگے۔ جون ۲۰۱۸ء میں پھر انہوں نے کہا کہ انگریزی سال کو بینکوں کے سال کے مطابق کر لیں۔ چنانچہ ایسا کیا گیا۔ جولائی تا دسمبر ۲۰۱۸ء ۶ ماہ اور جنوری تا جون ۲۰۱۹ء ۶ ماہ اب مجلس کے حسابات کا سال جولائی ۲۰۱۸ء تا جون ۲۰۱۹ء ہے۔ مشاہرات کے متعلق یہ کہا گیا کہ سال کے شروع میں اضافہ جات کریں تا کہ مشاہرات سال کے ہر کارکن کے برابر ہوں۔ ان باتوں پر عمل کرنے کے لئے منتظمہ کا اجلاس بلایا گیا۔ طے پایا کہ سال ہائے گزشتہ میں جو اضافے کئے گئے تھے تقریباً اسی کے مطابق نئے سال جولائی ۲۰۱۹ء تا جون ۲۰۲۰ء کے اضافے کئے جائیں۔
(۱۲۸ واں) اجلاس مجلس شوریٰ
اجلاس مرکزی مجلس شوریٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بمقام جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی۔ مؤرخہ ۱۷/ اکتوبر ۲۰۱۹ء، مطابق ۱۷/ صفر المظفر ۱۴۴۱ھ، بروز: سوموار منعقد ہوا۔
زیر صدارت: امیر مرکزیہ مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر صاحب دامت برکاتہم۔
شرکاء: (۱) مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر، (۲) مولانا پیر ناصر الدین خاکوانی، (۳) مولانا صاحبزادہ عزیز احمد، (۴) مولانا صاحبزادہ خلیل احمد، (۵) مولانا سید محمد سلیمان بنوری، (۶) مولانا مفتی خالد محمود، (۷) مولانا مفتی شہاب الدین پوپلزئی، (۸) مولانا سمیع اللہ جان، (۹) مولانا عبد الرؤف، (۱۰) مولانا قاضی محمد ابراہیم، (۱۱) مولانا عبید الرحمن، (۱۲) مولانا محمد حسن، (۱۳) مولانا قاری محمد یسین، (۱۴) مولانا انوار الحق، (۱۵) مولانا اعجاز مصطفیٰ، (۱۶) مولانا سعید اسکندر، (۱۷) جناب قاری محمد یوسف عثمانی، (۱۸) مولانا محمد اکرم طوفانی، (۱۹) مولانا عزیز الرحمن جالندھری، (۲۰) مولانا اللہ وسایا، (۲۱) مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، (۲۲) مولانا محمد انس، (۲۳) مولانا قاضی احسان احمد، (۲۴) مولانا مفتی محمد راشد مدنی، (۲۵) جناب رانا محمد انور، (۲۶) جناب خالد مسعود ایڈووکیٹ۔
اجلاس شوریٰ جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی کے جدید ہاسٹل میں صبح ۱۰ بجے شروع ہوا۔
تلاوت: شیخ القراء قاری محمد یسین صاحب فیصل آباد۔
حافظ محمد انس نے سابقہ اجلاس شوریٰ کی کارروائی پڑھ کر سنائی اور امیر مرکزیہ کے توثیقی دستخط کرائے۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء تا ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
شعبہ تبلیغ: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضرت امیر شریعت کے ارشادات کی روشنی میں اور اکابرین کے طرز پر تبلیغ دین خصوصاً عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ کرنے والی غیر سیاسی مذہبی جماعت ہے۔ اللہ رب العزت کے خاص فضل و کرم سے قادیانیت کے خلاف ہر محاذ پر عالمی مجلس کو کامیابی حاصل ہوئی اور قادیانیت کو رب کریم نے ہر محاذ پر رسوا کیا۔ الحمدللہ! عالمی مجلس کی جدوجہد سے ہی قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ قانونی طور پر قادیانیوں کو شعائر اسلام کے استعمال سے روک دیا گیا۔ حضرت نے مزید بتایا کہ اس وقت مجلس کے شعبہ تبلیغ کے تحت تقریباً ۴۰ حضرات مبلغین خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ حضرات مبلغین کا ہر تین ماہ بعد دفتر مرکزیہ میں اجلاس منعقد ہوتا ہے۔ جس میں سابقہ کارکردگی کا جائزہ لے کر آئندہ کے سہ ماہی پروگرام ان کے ذمہ لگائے جاتے ہیں۔ ان پروگرامات میں مقامی و ضلعی سطح پر کانفرنسز کا انعقاد، ماہنامہ لولاک، ہفت روزہ ختم نبوت کی تقسیم، یومیہ بنیاد پر دروس، لٹریچر و اسٹیکرز کی تقسیم کا اہتمام، سکول، کالج، مدارس میں یک روزہ، سہ روزہ کورسز کا انعقاد، ناموس رسالت کے متعلق کیسز کی پیروی، نومسلم حضرات کی رہنمائی اور قادیانیوں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنا، اگر خدانخواستہ کہیں خفیہ طور پر قادیانی تبلیغ کر رہے ہوں تو اس کا بروقت تدارک کرنا۔
سالانہ رد قادیانیت کورس چناب نگر کی تشہیر و ترغیب، سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کی دعوت دینا وغیرہ شامل ہے۔ مبلغین کرام ہمہ وقت اس جہادی جدوجہد میں اپنے اوقات کو مصروف رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ قبول و منظور فرمائیں اور قادیانیوں و دیگر گمراہ طبقوں کو ہدایت نصیب فرمائیں۔ آمین!
شعبہ تعلیم: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام شعبہ ہائے تعلیم القرآن کے مدارس اور مساجد بھی قائم ہیں۔
- ۱....... مسلم کالونی چناب نگر مکمل درس نظامی، درجہ تخصص، شعبہ حفظ اور شعبہ اسکول میں تقریباً ۳۵۰ طلباء، علماء اور حفاظ تعلیم حاصل کر
رہے ہیں۔ طلباء کے لئے مناسب وظیفہ، رہائش، خوراک کا نظم موجود ہے۔
- ۲....... چوک پرمٹ میں مدرسہ تعلیم القرآن قائم ہے۔ یہاں جید قراء کرام قرآن پاک (حفظ و ناظرہ) کی تعلیم دیتے ہیں۔ یہ بھی
اقامتی ادارہ ہے۔ ناشتہ اور خوراک کا انتظام بھی ہے۔
- ۳....... اسی طرح کنگنی والا گوجرانوالہ میں بنات اور بنین کی تعلیم کا انتظام ہے اور مقیم طلباء کے لئے خوراک کا انتظام ہے۔
- ۴....... بہاول پور شہر میں درجہ حفظ ۔
- ۵....... لاہور میں مسجد ختم نبوت ۔
- ۶....... گوجرانوالہ میں مسجد ختم نبوت ۔
- ۷....... ریلوے اسٹیشن چناب نگر میں مسجد ختم نبوت ۔
- ۸....... کوٹری سندھ میں مسجد ختم نبوت ۔
- ۹....... کنری سندھ میں مسجد ختم نبوت ۔
- ۱۰....... ٹالہی سندھ میں مسجد ختم نبوت ۔
تحریک ختم نبوت جلد (۱۰) ۲۰۱۷ء تا ۲۰۱۹ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا
- ۱۱...... کراچی میں جامع مسجد اقصیٰ۔
- ۱۲...... کراچی میں مسجد خاتم النبیین۔
ان مذکورہ ۸ مساجد میں خطیب مجلس کی طرف سے ہیں۔ ان مراکز میں مدرسین کتب، حفظ اور خطباء کی تعداد ۱۱۶ ہے۔
تعمیر دفتر اسلام آباد : دفتر عالمی مجلس اسلام آباد فیملی کوارٹر کے طرز پر ہے۔ اسلام آباد کے رہائشی طارق حمید صاحب نے دفتری طرز پر اس کی تجدید و مرمت کا مشورہ دیا اور اخراجات میں تعاون کا وعدہ کیا۔ ان کے مشورہ کو قبول کر لیا گیا کہ موصوف تعمیری اخراجات ادا کریں۔ تعمیر و مرمت کا کام کرانے کے لئے اسلام آباد عالمی مجلس کے مبلغ اور امیر بمع دیگر اراکین کے مشورہ سے نومبر میں شروع کرائیں گے۔ ان شاء اللہ! موسم سرما کے اثرات سے بچنے کے لئے کمروں میں ٹائل، دروازے نئے، اور غسل خانہ اور بیرونی دروازہ کے ساتھ بالائی منزل کے لئے جستی سیڑھی، نئی گٹر لائن اور سیلنگ یہ کام کرائے جائیں گے۔ مجلس شوریٰ نے تعمیر و مرمت کی اجازت دی۔
تعمیر دفتر کوئٹہ : کوئٹہ دفتر کا محل وقوع بہت قیمتی اور عمارت پرانی اور بوسیدہ ہے۔ تعمیر دفتر کوئٹہ کے لئے مقامی جماعت کو اختیار دیا گیا کہ باہم مشورہ سے پرانے دفتر کی نئی تعمیر کرالیں۔ اس کی بھی اجازت ہے۔ تعمیر کے ابتدائی اخراجات کے لئے مناسب رقم جو مجلس منتظمہ عالمی مجلس منظور کرلے آغاز کام کے لئے رقم دینے کی اجازت دی گئی۔ رقم عالمی مجلس کوئٹہ کے بینک اکاؤنٹ میں بھجوادی جائے۔ بحالات موجودہ اگر ایسا ممکن نہ ہو تو ضرورت کے تحت قسطوں کی صورت میں رقم دے دی جائے۔ اس کی بھی اجازت دی گئی۔ ملتان میں رقم کی ترسیل بذریعہ بینک اکاؤنٹ عالمی مجلس کوئٹہ کو ترجیح دی جائے۔
دفتر گوجرانوالہ : گوجرانوالہ دفتر الاٹ شدہ بالا خانہ ہے جو کسی الاٹی سے خریدا گیا۔ جو بالائی منزل پر ہے۔ نچلے حصہ کے مالک تین حضرات ہیں۔ بالائی منزل مجلس تحفظ ختم نبوت کی خریدی ہوئی ہے۔ جناب حافظ یوسف عثمانی صاحب آف گوجرانوالہ جو ناظم عالمی مجلس گوجرانوالہ ہیں اور رکن شوریٰ ہیں موصوف اگر اس پرانے دفتر کو فروخت کرنا چاہیں تو اس شرط پر انہیں اجازت ہے کہ مقامی جماعت کے قدیم اور جدید اراکین کو فروختگی پر راضی کرلیں۔ دیگر امور پر مجلس منتظمہ سے منظوری لے لیں۔ عبدالحفیظ مکی
............ ۞ ............ ۞ ............ ۞ ............
تحریک ختم نبوت پر ایک تاریخی دستاویز
نابغہ و عبقری شخصیت کے مالک حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب کو تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر ایک جری، دلیر اور تہور پیشہ سپہ سالار کی حیثیت حاصل ہے۔ تقریر و تحریر ہو یا مباحثہ و مناظرہ، دونوں میں انہیں لاثانی خداداد ملکہ حاصل ہے۔ مطالعہ و تحقیق اور تصنیف و تالیف ان کے محبوب و مرغوب مشاغل ہیں۔ ان کی گرانقدر مطبوعہ کتب ”قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر بحث کی مصدقہ رپورٹ، چمنستان ختم نبوت کے گلہائے رنگارنگ، دروس و بیانات ختم نبوت، آئینہ قادیانیت، یاد دلبراں اور قادیانی شبہات کے جوابات“ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ یہ ایک غیر مختتم سلسلۃ الذہب ہے۔ ؎ اللہ کرے یہ مرحلہ شوق نہ ہو طے
حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب کی نئی کتاب ”تحریک ختم نبوت“ نہایت مبسوط، مدلل، مربوط، جامع اور تحقیقی کتاب ہے۔ ۱۸۹۷ء کی ختم نبوت کانفرنس قادیان سے دسمبر ۲۰۱۹ء تک تحریک ختم نبوت جن مراحل سے گزرتی رہی اس کی لمحہ بہ لمحہ رپورٹ کو جمع کر دیا گیا ہے، دس ضخیم جلدوں کے ساڑھے چھ ہزار صفحات پر مشتمل قریباً ایک صدی کی عشق و محبت کی داستان لازوال جو ایمان پرور، جہاد آفرین بھی ہے اور حقائق افروز بھی۔ اس کی ترتیب و تہذیب اور تالیف و تدوین بڑی عرق ریزی، دقت نظر اور حسن عقیدت سے کی گئی ہے۔ انداز نگارش ایسا سحر انگیز ہے کہ اس کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے جیسے مولانا خود ان تمام حالات و واقعات کے عینی شاہد ہیں۔
یہ کتاب کارکنان تحفظ ختم نبوت کے لیے ایک دستور العمل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس میں ایمان پرور واقعات، اکابرین کے ولولہ انگیز خطابات، پس پردہ حقائق، ہوش ربا انکشافات، حکمرانوں کی قادیانیت نوازی اور مختلف اعلیٰ عدالتی فیصلوں کا بھر پور تذکرہ ہے جس کے مطالعہ سے دلوں میں عقیدت و محبت کی ایک برقی رو دوڑ جاتی ہے۔ دینی غیرت و حمیت کی ایسی پر سوز و گداز کیفیت پیدا ہوتی ہے کہ خون جوش مارتا اور آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں۔ ایسی کیفیات اور احساسات کو جاننے اور سمجھنے کے لیے اس تاریخی کتاب کا مطالعہ ناگزیر ہے۔ امید ہے کہ یہ کتاب کارکنان تحفظ ختم نبوت کے لیے انمول سوغات اور سدا بہار گلدستہ ثابت ہو گی۔ مزید برآں اس اہم موضوع پر ریسرچ کرنے والے سکالرز اور طالب علموں کے لیے بھی چراغ راہ کا کام کرے گی۔ دعا ہے کہ رب کائنات حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب کی ہمت کو جواں اور ان کے قلم کو رواں دواں رکھے۔ آمین
محمد متین خالد لاہور