احتساب قادیانیت جلد 3 · مولانا حبیب اللہ امرتسری
Ahtasab-e-Qadyaniat · Vol. 3 · Maulana Habibullah Amritsar
PDF 1
PDF 1

رَدِّ قادیانیت

رسائل

حضرت مولانا حبیب اللہ امرتسریؒ

اِحتِسابِ قادیانیت

سوم

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوة

حضوری باغ روڈ، ملتان - فون: 4514122

PDF 2

احتساب قادیانیت

جلد سوم

مجموعہ رسائل

حضرت مولانا حبیب اللہ امرتسریؒ

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوۃ

حضوری باغ روڈ ملتان

☎ 514122

PDF 3

بسم اللہ الرحمن الرحیم

پیش لفظ

نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم . اما بعد!

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے ”احتساب قادیانیت جلد اول“ کے نام سے رد قادیانیت پر مناظر اسلام مولانا لال حسین اخترؒ کے مجموعہ رسائل کو شائع کیا۔ اور ”احتساب قادیانیت جلد دوم“ میں محقق العصر شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ کے رسائل کو شائع کیا گیا۔ حضرت کاندھلویؒ کے رسائل کی ترتیب و تخریج کے دوران میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر حکیم العصر حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی دامت برکاتہم نے تحریراً حکم فرمایا کہ اس کے بعد مولانا حبیب اللہ امرتسریؒ کے رسائل کو شائع کیا جائے۔ چنانچہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد کے مبلغ مولانا قاضی احسان احمد صاحب کے ذمہ لگایا گیا کہ وہ ان رسائل کی تخریج و تحقیق کا کام کریں۔ انہوں نے بڑی جانفشانی و تندہی سے ان رسائل پر کام کیا۔ قادیانی کتب کے جدید ایڈیشنوں کے صفحات لگائے‘ سن اشاعت کے اعتبار سے ترتیب قائم کی‘ ان کا کام مکمل ہوا تو تفسیر و حدیث‘ تاریخ و سیرت وغیرہ کے حوالہ جات کا کام مولانا اللہ وسایا مدظلہ کے ذمہ لگایا گیا۔ عزیز محترم ماسٹر عزیز الرحمن رحمانی نے بھی آپ کا ہاتھ بٹایا۔ یوں تقریباً سال بھر کی محنت کے بعد یہ مجموعہ رسائل مولانا حبیب اللہ امرتسریؒ ”احتساب قادیانیت جلد سوئم“ کے نام سے آپ حضرات کی خدمت میں پیش کرنے کا عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اعزاز حاصل کررہی ہے۔

مولانا حبیب اللہ امرتسریؒ کا تعلق امرتسر سے تھا۔ انہوں نے دینی تعلیم

صفحہ ٤

مولانا مفتی محمد حسنؒ بانی جامعہ اشرفیہ سے حاصل کی اور انہی کے زیر اثر انہوں نے حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ (ماہنامہ شمس الاسلام بھیرہ ج ٢٣ ش ١١ ص ٨) اور محکمہ نہر میں کلرک تھے۔ مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کے ساتھ رد قادیانیت پر کام کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے قوت حافظہ کی نعمت سے نوازا تھا۔ آپ کو حافظ مرزائیات کہا جاتا تھا۔ تحریر اور تقریر میں خاص ملکہ حاصل تھا اور صوبہ پنجاب میں ان کی تقاریر کو بڑی مقبولیت حاصل تھی۔ مرزا غلام احمد قادیانی اور دوسرے قادیانی مصنفین کی کتابیں ان کو ازبر تھیں۔ قادیانیت کی تردید میں آپ نے بے شمار مضامین اخبار اہل حدیث امرتسر میں لکھے۔ اس کے علاوہ آپ نے آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی کے افکار و نظریات کے خلاف تقریباً ١٨ کتابیں لکھیں۔ آپ کی یہ کتابیں حجم کے لحاظ سے گو مختصر ہیں۔ لیکن اپنے موضوع کے اعتبار سے بہت بھاری ہیں۔ ان کتب کی تفصیل یہ ہے :

صفحہ ٥

نوٹ: ان کے علاوہ ایک رسالہ کا ایک کتاب میں نام ملا ”مرزا قادیانی کی کذب بیانی“ جو مل نہیں سکا۔ باقی بحمدہ تعالیٰ تمام رسائل اس مجموعہ میں شامل ہیں۔ حضرت مرحوم کے اس زمانہ کے اخبارات و رسائل میں جو مضمون شائع ہوئے وہ اس میں شامل نہیں۔ تاہم جو کچھ ان رسائل کی شکل میں شائع ہوا وہ سب جمع کر دیا ہے۔ جو رسالہ نہیں مل سکا یہ بھی کوئی مضمون معلوم ہوتا ہے نامعلوم کتابی شکل میں شائع بھی ہوا یا نہیں؟ بحمدہ تعالیٰ یہ مجموعہ انتہائی جامع و مکمل ہے جو پیش خدمت ہے۔ اللہ رب العزت ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کی خدمات کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت سے سرفراز فرمائیں۔

مطالعہ کرتے وقت خیال رہے کہ جہاں کہیں ایک کتابچہ کا دوسرے کتابچہ کے کسی مضمون سے تکرار تھا تو اسے ایک جگہ سے حذف کردیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ مصنف مرحوم پر اپنی رحمتوں کی بارش نازل فرمائیں۔

آمین !بجاہ النبی الامی الکریم خاتم النبیینﷺ عزیز الرحمن جالندھری خادم عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

صفحہ ٦

دفتر مرکزیہ ملتان پاکستان ٢٥ شوال ١٤٢٠ھ ٢ فروری ٢٠٠٠ء

نوٹ: کتاب کی تیاری کے آخری مراحل میں دو مضامین ”انجیل برنباس“ اور ”مرزائیت میں یہودیت اور نصرانیت“ شائع شدہ در شمس الاسلام بھیرہ ستمبر ١٩٤٢ء و دسمبر ١٩٤٣ء کو ان کی اہمیت وافادیت کے پیش نظر مجموعہ ہذا میں شامل کر دیا گیا ہے۔ کتاب کی کمپوزنگ کا تمام کام عزیز محترم یوسف ہارون اور طباعت واشاعت کا کام برادر محترم قاری محمد حفیظ اللہ نے نہایت ہی جانفشانی سے انجام دیا۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کی اشاعت میں کسی بھی طرح حصہ لینے والے رفقاء کو دارین میں جزائے خیر نصیب فرمائیں۔ آمین!

PDF 7

فہرست مضامین

باب اول: کیا مسیح مصلوب ہوئے، مرہم عیسیٰ کی حقیقت ٣٢ باب دوم: حدیث ظہور مہدی ٣٨ باب سوم: قادیانی مغالطہ سے بچو ٤٣ باب چہارم: کنز العمال کی روایت اور قادیانی مطلب پرستی ٤٧ باب پنجم: مسیح کا ظہور ہند میں نہیں بلکہ شام میں ٥١ باب ششم: حضرت مسیح کا مہد میں کلام کرنا ٥٨ باب ہفتم: معجزہ شق القمر ٦٣

صفحہ ٨

١٤.......روضۃ الصفاء کے حوالہ میں قادیانی بد دیانتی ١٣٥

١٥.......حضرت مریم کی قبر ١٤٠

١٦.......کوہ مری اصل میں کوہ مریم‘ قادیانی دلیل ١٤١

١٧.......ممکن ہے؟ ممکن ہے؟ ممکن ہے؟ کی تردید ١٤٣

٤.......عمر مرزا ١٤٧

فصل اول : الہامات مرزا ١٤٨

فصل دوم : پیدائش مرزا ١٥٠

فصل سوم : عمر مرزا ١٥٣

فصل چہارم : عمر مرزا اور مرزائیوں کی پریشانی ١٥٩

فصل پنجم : پیدائش ١٦١

فصل ششم : مرزائیوں کی تحریروں کی تردید ١٦٢

٥.......بشارت احمد ﷺ ١٦٩

بشارت احمد ﷺ : قادیانی اقوال کی تردید ١٧٧

بشارت احمد ﷺ : اور اقوال صحابہ کرامؓ ٢١٣

حکیم نور الدین دو کشتیوں پر ٢١٦

آنحضرت ﷺ کا مرزا مثیل نہیں ٢١٨

قادیانی مغالطوں کی تردید ٢٢٣

شیخ مبارک مرزائی کا نامبارک عقیدہ ٢٣٨

کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے مثیل کی خبر دی تھی؟ ٢٤٤

مرزا قادیانی نہ نبی نہ رسول ٢٤٨

نبی اور مراقی میں فرق ٢٥٣

صفحہ ٩

٦...... مرزا قادیانی نبی نہ (ایک مناظرہ) ٢٥٧ ٧...... نزول مسیح علیہ السلام ٢٦٩ پہلا باب : وانہ لعلم للساعۃ کا معنی ٢٧١ دوسرا باب : مرزا غلام احمد کی تفسیر ٢٧٢ تیسرا باب : سرور شاہ و احسن امروہی مرزائی کی تفسیر ٢٧٥ چوتھا باب : قرآن مجید کی تفسیر ٢٧٧ پانچواں باب : احادیث نبویہ ﷺ ٢٨٠ چھٹا باب : حضرات صحابہ کرامؓ کی تفسیر ٢٨٤ ساتواں باب : حضرات تابعینؒ کی تفسیر ٢٨٥ آٹھواں باب : حافظ ابن کثیرؒ کی تفسیر ٢٨٦ نواں باب : حضرات مفسرینؒ کے اقوال ٢٨٧ دسواں باب : مرزائیوں کے اعتراضات کے جوابات ٢٩٣ گیارہواں باب : حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع و آمد ثانی‘ عبدالوہاب شعرانیؒ ٣١٠ ٨....... حلیہ مسیح مع رسالہ ایک غلطی کا ازالہ ٣١٧ مسیح کے دو حلیے ٣١٨ لو کان موسی وعیسی حییین کی تحقیق ٣٢٦ اقوال مرزا قادیانی‘ خلاف آیات قرآنی ٣٣١ ٩...... معجزہ اور مسمریزم میں فرق ٣٣٧ حالات و معجزات مسیح ٣٣٨ معجزات مسیح علیہ السلام سے مرزا قادیانی کا انکار ٣٤٩ یہودی اور مرزائی ٣٥٢

صفحہ ١٠

تقدیس مسیح علیہ السلام پر مرزا قادیانی کا طعن ٣٦٠ ١٠...... عیسیٰ علیہ السلام کا حج کرنا مرزا قادیانی کا بغیر حج کے مرنا ٣٦٩ مرزائیوں کا جواب ناصواب ٣٧٥ ١١...... مرزا قادیانی مثیل مسیح نہیں ٣٨٩ پہلا باب : مسیح کا نزول ہند میں نہیں بلکہ شام میں ٣٩٠ دوسرا باب : مرزا قادیانی مثیل مسیح نہیں ٣٩٧ ١٢...... سنت اللہ کے معنی مع رسالہ واقعات نادرہ ٤٠٥ سنت اللہ اور آیت اللہ میں فرق ٤٠٦ خدا کی قدرت کے نشان اور مرزا غلام احمد رئیس قادیان ٤١٤ ١٣...... مرزا قادیانی کی کہانی! مرزا اور مرزائیوں کی زبانی ٤٢٩ خاندان مرزا ٤٣٠ پیدائش مرزا ٤٣٣ جوانی مرزا ٤٣٧ بیماری ہائے مرزا ٤٣٩ ١٤...... مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی قرآن دانی ٤٤٣ ١٥...... حضرت عیسیٰ کا رفع اور آمد ثانی ابن تیمیہ کی زبانی مرزا کی کذب بیانی ٤٦١ ١٦...... مرزا غلام احمد رئیس قادیان اور اس کے بارہ نشان ٤٨١ ١٧...... اختلافات مرزا ٤٨٩ ١٨...... سلسلہ بہائیہ و فرقہ مرزائیہ ٥٠٧ ١٩...... انجیل برنباس اور حیات مسیح ٥٢١ ٢٠...... مرزائیت میں یہودیت و نصرانیت ٥٢٩

PDF 11

مراق مرزا

صفحہ ١٢

بسم الله الرحمن الرحيم

دیباچہ

قرآن مجید میں صاف صاف الفاظ میں ذکر ہے کہ کافر لوگ آنحضرت ﷺ کے حق میں مسحور و مجنون وغیرہ کے الفاظ بولتے تھے جن کو خدا تعالیٰ نے بڑی سختی سے رد فرمایا۔ چنانچہ ارشاد ہے :

” ن ٠ والقلم ٠ وما يسطرون ٠ ماانت بنعمة ربك بمجنون ٠ وان لك لاجرا غير ممنون ٠ وانك لعلى خلق عظيم ٠ (سورۃ القلم آیت نمبر ١،٤) ”﴾قسم ہے قلم کی اور جو کچھ قلم کے ساتھ لکھتے ہیں تو اے نبیؐ اللہ کے فضل سے مجنون نہیں۔ تیرے لئے غیر منقطع اجر ہے اور تو خلقِ عظیم پر ہے۔﴿

اس آیت نے مجنون اور نبی میں فرق بتایا ہے۔ وہ یہ کہ مجنون کی حرکات منظم اور باقاعدہ نہیں ہوتیں۔ ایک وقت اگر کسی پر خفا ہوتا ہے تو فوراً خوشی کا اظہار کرنے لگ جاتا ہے۔ ایک وقت گالیاں دیتا ہے تو معاً قرآن پڑھنے لگ جاتا ہے۔ اس لئے اس کی حرکات اور افعال کسی نتیجہ کا موجب نہیں ہوتے۔ حضور ﷺ کے حق میں فرمایا تیرے لئے بہت بڑا اجر ہے۔ یہ اسی طرف اشارہ ہے کہ تیری حرکات اور افعال منظم ہیں۔ اس لئے تو بہت بڑے بدلے کا مستحق ہے۔ ثابت ہوا کہ جنون اور نبوت میں بہت بڑا تضاد و تخالف ہے۔

مراق

ابتداء میں معمولی تغیر کا نام ہے لیکن ترقی کر کے اس کا نام ملنخولیا مراقی ہو جاتا ہے۔ (طب اکبر) اس امر پر قادیانی جماعت کو بھی اتفاق ہے کہ : ”مرضِ مراق میں

صفحہ ١٣

مریض کو بد ہضمی اور تخیل (بد حواسی) ہو جاتی ہے۔"

چنانچہ قادیانی رسالہ ریویو میں ایک معتبر قادیانی ڈاکٹر شاہ نواز خان اسسٹنٹ سرجن کی رائے یوں چھپی تھی :

"یونانی میں مراق اس پردے کا نام ہے جو احشاء الصدر کو احشاء البطین سے جدا کرتا ہے۔ اور معدے کے نیچے واقع ہوتا ہے اور فعل تنفس میں کام آتا ہے۔ پرانے سوء ہضم کی وجہ سے اس پردے میں تشنج سا ہو جاتا ہے۔ بد ہضمی اور اسہال بھی اس مرض میں پائے جاتے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس مرض میں تخیل بڑھ جاتا ہے اور مرگی اور ہسٹیریا والوں کی طرح مریض کو اپنے جذبات اور خیالات پر قابو نہیں رہتا۔"

(بابت اگست ١٩٠٦ء ص ٦ ج ٢٥ نمبر ٨)

"مراق کی یہ تشریح از روئے طب قدیم ہے۔ ڈاکٹر صاحب موصوف لکھتے ہیں :

تشریح مراق از روئے طب جدید

مراق کا دوسرا نام عربی میں جمود ہے اور انگریزی میں اس علامت کو CAT- ALAPSY (قاتالپسی) کہتے ہیں۔ یہ بعض علامات کو مجموعی طور پر پکارنے کے لئے بولا جاتا ہے اور اس میں بڑی متعین علامات پائی جاتی ہیں۔ یعنی بازو اچانک بالکل سن ہو جاتا ہے اور جہاں رکھا ہو وہیں پڑا رہتا ہے یعنی اس میں اپنے ارادہ سے حرکت دینے کی طاقت نہیں رہتی۔ بازو بعض دفعہ تشنج ہو کر سخت ہو جاتا ہے اور بعض دفعہ نرم رہتا ہے۔ دل کی حرکت کمزور ہو جاتی ہے۔ نبض سست ہو جاتی ہے سانس مدھم پڑ جاتا ہے اور سخت ضعف ہو جاتا ہے۔ بالعموم اس کا حملہ اچانک ہو جاتا ہے مگر بعض دفعہ سر درد اور متلی وغیرہ پہلے شروع ہو جاتی ہے۔ ........ الخ۔

(رسالہ ریویو قادیان اگست ١٩٠٦ء ج ٢٥ نمبر ٨ ص ٨)

صفحہ ١٤

مرض مراق کی تشریح کے بعد یہی ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں:

”یہ تو امر واقعہ ہے کہ حضرت (مرزا قادیانی) کو بد ہضمی‘ اسہال اور دوران سر کی عموماً شکایت رہتی تھی۔“

(حوالہ مذکور ص ٦)

پس مطلع صاف ہے۔

مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ تھا کہ میں: ”بروز اور عکس محمد ہوں۔“

(چشمہ معرفت ص ٣٢٤ خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٤ حاشیہ)

اس کا لازمی نتیجہ یہ ہونا چاہئے تھا کہ مرزا قادیانی ان جملہ عوارض سے پاک وصاف ہوتا جن سے حضور پیغمبر خدا ﷺ پاک وصاف تھے۔ کیونکہ جو عوارض اور امراض صورت محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والتحیہ میں خدا کی طرف سے نبوت کے مطلقاً متضاد قرار دیئے گئے ہیں وہ صورت مرزائیہ میں نبوت سے متحد کیسے ہو سکتے ہیں؟۔

پس شکل اول

کبریٰ تو مدلل اور فریقین میں مسلم ہے۔ اب صغریٰ کا ثبوت باقی ہے یعنی:

”مرزا صاحب مراقی تھے۔“

اس کا ثبوت اخبار ”اہل حدیث“ امرتسر میں بارہا دیا گیا۔ رسالہ ہٰذا میں عزیزی مولوی حبیب اللہ سلمہ اللہ امرتسری نے جو حوالجات جمع کئے ہیں ناظرین سے امید ہے کہ ان کو غور سے پڑھیں گے اور نبوت مرزائیہ کی حقیقت سے آگاہ ہوں گے۔ ابو الوفاء ثناء اللہ عفی اللہ عنہ امرتسر شوال ١٣٤٧ھ

مراق مرزا

مرزا غلام احمد قادیانی کا مراقی اعتراف

صفحہ ١٥

تھی جو اسی طرح وقوع میں آئی۔ آپ نے فرمایا تھا کہ مسیح آسمان پر سے جب اترے گا تو دو زرد چادریں اس نے پہنی ہوئی ہوں گی۔ تو اسی طرح مجھ کو دو بیماریاں ہیں ایک اوپر کے دھڑ کی اور ایک نیچے کے دھڑ کی۔ یعنی مراق اور کثرت بول۔“

(اخبار بدر قادیان ٧ جون ١٩٠٦ء ص ٥‘ ملفوظات ص ٤٤٥ ج ٨)

خانگی شہادت

”بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو پہلی دفعہ دوران سر اور ہسٹیریا کا دورہ بشیر اول ...... کی وفات کے چند دن کے بعد ہوا تھا۔ رات کو سوتے ہوئے آپ کو اٹھو آیا اور پھر اس کے بعد طبیعت خراب ہو گئی۔ مگر یہ دورہ خفیف تھا۔ پھر اس کے کچھ عرصہ بعد آپ ایک دفعہ نماز کے لئے باہر گئے اور جاتے ہوئے فرما گئے کہ آج کچھ طبیعت خراب ہے۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ تھوڑی دیر کے بعد شیخ حامد علی ...... نے دروازہ کھٹکھٹایا کہ جلدی پانی کی ایک گاگر گرم کر دو۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ میں سمجھ گئی کہ حضرت صاحب کی طبیعت خراب ہو گئی ہو گی۔ چنانچہ میں نے کسی ملازم عورت کو کہا کہ اس سے پوچھو میاں کی طبیعت کا کیا حال ہے ؟ شیخ حامد علی نے کہا کہ کچھ خراب ہو گئی ہے۔ میں پردہ کرا کے مسجد میں چلی گئی تو آپ لیٹے ہوئے تھے۔ میں جب پاس گئی تو فرمایا کہ میری طبیعت بہت خراب ہو گئی تھی لیکن اب افاقہ ہے۔ میں نماز پڑھ رہا تھا کہ میں نے دیکھا کہ کوئی کالی کالی چیز میرے سامنے سے اٹھی ہے اور آسمان تک چلی گئی ہے پھر میں چیخ مار کر زمین پر گر گیا اور غشی کی سی حالت ہو گئی۔ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ اس کے بعد سے آپ کو باقاعدہ دورے پڑنے شروع ہو گئے خاکسار نے پوچھا دورہ میں کیا ہوتا تھا؟ والدہ صاحبہ نے کہا ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو جاتے تھے اور بدن کے پٹھے کھنچ جاتے تھے۔ خصوصاً گردن کے پٹھے اور

صفحہ ١٦

سر میں چکر ہوتا تھا اور اس حالت میں آپ اپنے بدن کو سہار نہیں سکتے تھے۔ شروع شروع میں یہ دورے بہت سخت ہوتے تھے پھر اس کے بعد کچھ تو دوروں کی ایسی سختی نہیں رہی اور کچھ طبیعت عادی ہو گئی۔ خاکسار نے پوچھا اس سے پہلے تو سر کی کوئی تکلیف نہیں تھی

صفحہ ١٧

خواب‘ تشنج دل اور بدہضمی‘ اسہال‘ کثرت پیشاب اور مراق وغیرہ کا صرف ایک ہی باعث تھا اور وہ عصبی کمزوری تھا۔“

(رسالہ ریویو قادیان بابت ماہ مئی ١٩٢٧ء ص ٢٦ ج ٢٦ نمبر ٥)

(٨)...... مرزا قادیانی کو مراق کیوں ہوا؟

مرض مراق حضرت (مرزا قادیانی) صاحب کو ورثہ میں نہیں ملا۔ پس حضرت صاحب کی زندگی کے حالات کے مطالعہ سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ ان میں مراقی علامات کے دو بڑے سبب تھے۔ اول کثرت دماغی محنت‘ تفکرات‘ قوم کا غم اور اس کی اصلاح کی فکر۔ دوسرے غذا کی بے قاعدگی کی وجہ سے سوء ہضم اور اسہال کی شکایت۔“

(رسالہ ریویو قادیان اگست ١٩٢٦ء ص ٩ ج ٢٥ نمبر ٨)

(٩)...... مرزا قادیانی کی بیوی کو مراق (یک نہ شد دو شد)

خوب گزرے گی جب مل بیٹھیں گے مراقی دو

مرزا قادیانی خود لکھتا ہے :

”میری بیوی کو مراق کی بیماری ہے۔ کبھی کبھی وہ میرے ساتھ ہوتی ہے کیونکہ طبی اصول کے مطابق اس کے لئے چہل قدمی مفید ہے۔

(اخبار الحکم مورخہ ١٠ اگست ١٩٠١ء ص ١٤ کتاب منظور الہی ص ٢٤٤)

(١٠)...... مرزا قادیانی کے بیٹے خلیفہ قادیان کو مراق

یک نہ شد دو شد بلکہ سہ شد
این خانہ ہمہ آفتاب است

”حضرت خلیفۃ المسیح ثانی (میاں محمود قادیانی) نے فرمایا کہ مجھ کو بھی کبھی کبھی مراق کا دورہ ہوتا ہے۔“

(ریویو قادیان اگست ١٩٢٦ء ص ١١ ج ٢٥ نمبر ٨)

صفحہ ١٨

(١١)...... نبی اور مراقی میں فرق عظیم

”نبی میں اجتماع توجہ بالارادہ ہوتا ہے۔ جذبات پر قابو ہوتا ہے۔“

(ریویو ماہ مئی ١٩٢٧ء ص ٣٠، ٣١ ج ٢٦ نمبر ٥)

مریض مراق

”اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس مرض (یعنی مراق) میں تخیل بڑھ جاتا ہے اور مرگی اور ہسٹیریا والوں کی طرح مریض کو اپنے جذبات اور خیالات پر قابو نہیں رہتا۔“

(ریویو بابت ماہ اگست ١٩٢٦ء ص ٦ ج ٢٥ نمبر ٨)

(١٢)...... مراق ایک برا مرض ہے

”پیسہ اخبار کے کسی پچھلے پرچہ میں قاضی عبدالعزیز تھانیسری نے اس امر کا اعلان کیا ہے کہ میں خلیفہ وقت ہوں۔ جب میں نے اس شخص کا یہ مضمون دیکھا تو ہنس کر ٹال دیا تھا کہ ایسے مراقی اور کمزور طبع آدمی کی بے ربط اور بے سر و پا باتوں کا کیا نوٹس لیا جائے۔“

(منشی احمد حسین قادیانی فرید آبادی کے الفاظ مندرجہ اخبار بدر مورخہ ٦ دسمبر ١٩٠٦ء ص ٤ کالم ١ نمبر ٤٩ ج ٦)

لاہوری شہادت

”بدقسمتی سے ہمارے قادیانی بھائی اس حد تک مرض بحث مباحثہ میں مبتلا ہو چکے ہیں کہ میں کہوں گا کہ MONOMONIA (مونو مونیا) تک حد پہنچ چکی ہے۔ یہ وہ عارضہ ہے جسے غالباً مراق کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے اور اس کا خاصہ یہ ہے کہ جب ایک بات نے دل و دماغ پر قبضہ جمالیا تو باقی تمام دنیا جہان کی چیزیں اسی رنگ میں رنگین نظر آتی ہیں۔“

(پیغام صلح مورخہ ١٤ اکتوبر ١٩٢٥ء ص ٤)

صفحہ ١٩

(١٣)...... پشاوری شہادت

قاضی یوسف پشاوری لاہوری مرزائی کو مخاطب کر کے بطور حقارت لکھتے ہیں :

بگوش ہوش بشنو اے مراقی
بہ میخانہ نخوابی جام ساقی

(اخبار الفضل ٢٠ اپریل ١٩٢٨ء ص ٧)

(١٤)...... مراقی شخص نبی یا ملہم نہیں ہو سکتا

ڈاکٹر شاہ نواز خان صاحب اسسٹنٹ سرجن قادیانی لکھتے ہیں :

”ایک مدعی الہام کے متعلق اگر یہ ثابت ہو جائے کہ اس کو ہسٹیریا‘ مالیخولیا‘ مرگی کا مرض تھا تو اس کے دعویٰ کی تردید کے لئے پھر کسی اور ضرب کی ضرورت نہیں رہتی۔ کیونکہ یہ ایسی چوٹ ہے جو اس کی صداقت کی عمارت کو بیخ و بن سے اکھیڑ دیتی ہے۔“

(رسالہ ریویو قادیان بابت ماہ اگست ١٩٢٦ء ص ٦‘ ٧ ج ٢٥ نمبر ٨)

مرزا قادیانی کو اپنے خیالات پر قابو نہیں تھا

مثال نمبر ١

مرزا قادیانی لکھتا ہے :

”ایلی ایلی لما سبقتنی ایلی اوس ...... اے میرے خدا! اے میرے خدا! تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔ آخری فقرہ اس الہام کا یعنی ایلی اوس بباعث سرعت ورود مشتبہ رہا ہے اور نہ اس کے کچھ معنے کھلے۔ واللہ اعلم بالصواب۔“

(براہین احمدیہ ص ٥١١ حاشیہ‘ خزائن ص ٦١٣ ج ١)

”پھر اس کے بعد (خدا نے) فرمایا : ”ھوشعنا نعسا“ یہ دونوں فقرے

صفحہ ٢٠

شاید عبرانی ہیں اور ان کے معنے ابھی تک اس عاجز پر نہیں کھلے۔“

(براہین احمدیہ ص ٥٥٦ حاشیہ خزائن ص ٦٦٣ ج١)

”بعض الہامات مجھے ان زبانوں میں بھی ہوتے ہیں جن سے مجھے کچھ بھی واقفیت نہیں۔ جیسے انگریزی یا سنسکرت یا عبرانی وغیرہ جیسا کہ براہین احمدیہ میں کچھ نمونہ ان کا لکھا گیا ہے۔“

(نزول المسیح ص ٥٧ خزائن ص ٤٣٥ ج ١٨)

اس کے متضاد

”یہ بالکل غیر معقول اور بیہودہ امر ہے کہ انسان کی اصل زبان تو کوئی ہو اور الہام اس کو کسی اور زبان میں ہو جس کو وہ سمجھ بھی نہیں سکتا کیونکہ اس میں تکلیف مالا یطاق ہے اور ایسے الہام سے فائدہ کیا ہوا جو انسانی سمجھ سے بالاتر ہے۔“

(چشمہ معرفت ص ٢٠٩ خزائن ص ٢١٨ ج ٢٣)

تضاد کا نتیجہ

”ظاہر ہے کہ ایک دل سے دو متناقض باتیں نکل نہیں سکتیں کیونکہ ایسے طریق سے یا انسان پاگل کہلاتا ہے یا منافق۔“

(ست بچن ص ٣١ خزائن ص ١٤٣ ج ١٠)

”ہر ایک کو سوچنا چاہئے کہ اس شخص کی حالت ایک مخبوط الحواس انسان کی حالت ہے کہ ایک کھلا کھلا تناقض اپنے کلام میں رکھتا ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ١٨٢ خزائن ص ١٩١ ج ٢٢)

مثال نمبر ٢

مرزا قادیانی کی تحریر

آیت : ”فلما توفیتنی“ سے پہلے یہ آیت ہے : ”وإذ قال الله يا عيسى أأنت قلت للناس ........... الخ“ اور ظاہر ہے کہ قال کا صیغہ ماضی کا ہے

صفحہ ٢١

اور اس کے اول ”اذ“ موجود ہے جو خاص واسطے ماضی کے آتا ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ قصہ وقت نزول آیت زمانہ ماضی کا ایک قصہ تھا نہ زمانہ استقبال کا۔“

(ازالہ اوہام حصہ ٢ ص ٦٠٢، خزائن ص ٤٢٥ ج ٣)

”یہ سوال حضرت مسیح سے عالم برزخ میں ان کی وفات کے بعد کیا گیا تھا۔ نہ یہ کہ قیامت میں کیا جائے گا۔“ (ازالہ اوہام حصہ ٢ ص ٤٧٧، ٤٧٨، خزائن ص ٥٠٣ ج ٣) یعنی واقعہ ماضی کا ہے۔

اس کے متضاد

اس تمام آیت : ”اذ قال اللہ“ کے اول و آخر کی آیتوں کے ساتھ یہ معنی ہیں کہ خدا قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کہے گا کہ کیا تو نے ہی لوگوں کو کہا تھا۔“ (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٤٠، خزائن ص ٥١ ج ٢١) یعنی واقعہ مستقبل کا ہے۔

دوسرا متضاد

”جس شخص نے کافیہ یا ہدایت النحو بھی پڑھی ہو گی وہ خوب جانتا ہے کہ ماضی مضارع کے معنوں پر بھی آجاتی ہے بلکہ ایسے مقامات میں جبکہ آنے والا واقعہ متکلم کی نگاہ میں یقین الوقوع ہو مضارع کو ماضی کے صیغہ پر لاتے ہیں۔........ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ونفخ فی الصور فاذا ھم من الاجداث الیٰ ربھم ینسلون“ اور جیسا کہ فرماتا ہے : ” واذقال اللہ یا عیسیٰ ابن مریم أأنت قلت للناس اتخذونی وامیی الھین من دون اللہ ۔ قال اللہ ھذا یوم ینفع الصادقین صدقھم “ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ ٥ ص ٦، خزائن ص ١٥٩ ج ٢١)

صفحہ ٢٢

مثال نمبر ٣

مرزا قادیانی کی تحریر

”آخر انجام یہ ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پر چڑھائے جانے کے بعد خدا نے مرنے سے بچا لیا اور ان کی وہ دعا منظور کر لی جو انہوں نے درد دل سے باغ میں کی تھی۔ جیسا کہ لکھا ہے کہ جب مسیح کو یقین ہو گیا کہ یہ خبیث یہودی میری جان کے دشمن ہیں اور مجھے نہیں چھوڑتے تب وہ ایک باغ میں رات کے وقت جاکر زار زار رویا۔ اور دعا کی کہ یا الٰہی اگر یہ پیالہ مجھ سے ٹال دے تو تجھ سے بعید نہیں تو جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اس جگہ عربی انجیل میں یہ عبارت لکھی ہے : ” نبکی بدموع جارية وعبرات متحدرة فسمع لتقواہ “ یعنی یسوع مسیح اس قدر رویا کہ دعا کرتے کرتے اس کے منہ پر آنسو رواں ہو گئے اور وہ آنسو پانی کی طرح اس کے رخساروں پر بہنے لگے اور وہ سخت رویا اور سخت درد ناک ہوا۔ تب اس کے تقویٰ کی وجہ سے اس کی دعا سنی گئی۔

(تذکرۃ الشہادتین ص ٢٦، ٢٧ خزائن ص ٢٨ ج ٢٠)

اس کے خلاف

”حضرت مسیح علیہ السلام نے ابتلا کی رات میں جس قدر تضرعات کئے وہ انجیل سے ظاہر ہیں۔ تمام رات حضرت مسیح جاگتے رہے اور جیسے کسی کی جان ٹوٹتی ہے غم و اندوہ سے ایسی حالت ان پر طاری تھی۔ وہ ساری رات رو رو کے دعا کرتے رہے تاکہ وہ بلا کا پیالہ جو ان کے لئے مقدر تھا ٹل جائے۔ پر باوجود اس قدر گریہ زاری کے پھر بھی دعا منظور نہ ہوئی۔ کیونکہ ابتلا کے وقت کی دعا منظور نہیں ہوا کرتی۔“

(تبلیغ رسالت ج اول ص ١٤٢، ١٤٣ مجموعہ اشتہارات ص ٧٥ حاشیہ ج ١)

صفحہ ٢٣

مثال نمبر ٤

مرزا قادیانی کی تحریر

”اللہ جل شانہ نے آنحضرت ﷺ کو صاحب خاتم بنایا یعنی آپ کو افاضہ کمال کے لئے مہر دی جو کسی اور نبی کو ہرگز نہیں دی گئی۔ اسی وجہ سے آپ کا نام خاتم النبیین ٹھہرا۔ یعنی آپ کی پیروی کمالات نبوت بخشتی ہے اور آپ کی توجہ روحانی نبی تراش ہے اور یہ قوت قدسیہ کسی اور نبی کو نہیں ملی۔ یہی معنے اس حدیث کے ہیں کہ : ”علماء امتی کا انبیاء بنی اسرائیل “یعنی میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے نبیوں کی طرح ہوں گے اور بنی اسرائیل میں اگرچہ بہت نبی آئے مگر ان کی نبوت موسیٰ کی پیروی کا نتیجہ نہ تھا بلکہ وہ نبوتیں براہ راست خدا کی موہبت تھیں۔ حضرت موسیٰ کی پیروی کا اس میں ایک ذرہ کچھ دخل نہ تھا۔ اس وجہ سے میری طرح ان کا یہ نام نہ ہوا کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی۔ بلکہ وہ انبیاء مستقل نبی کہلائے اور براہ راست ان کو منصب نبوت ملا۔“

(حقیقت الوحی ص ٩٧ حاشیہ‘ خزائن ج ٢٢ ص ١٠٠)

اس کے خلاف

مرزا قادیانی کا قول ہے :

”حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی اتباع سے ان کی امت میں ہزاروں نبی ہوئے۔“

(الحکم مورخہ ٢٤ نومبر ١٩٠٢ء ص ٥ کالم ٢)

نتیجہ

قول اول میں حضرت موسیٰ کے اتباع سے نبی بننے کا انکار ہے۔ قول دوم میں اقرار : ”ضدان مفترقان ای تفرق“

صفحہ ٢٤

شرعی نصاب شہادت دو ہے۔ صرف ایک معاملہ میں چار گواہوں کی ضرورت ہے کیونکہ اس کی سزا بہت سخت ہے اور بدنامی بھی بہت زیادہ۔ یعنی جرم زنا، ہم نے شرعی نصاب کی اعلیٰ حد اختیار کر کے مرزا قادیانی کی مراقیت پر چار گواہ پیش کئے ہیں۔ لہٰذا ہمارا دعویٰ ثابت ہونے میں کسی کو مجال سخن نہیں۔

قرآن شریف میں مجنونوں اور مراقیوں کا جیسے محل نبوت ہونے انکار کیا گیا ہے۔ مختلف القول اشخاص کے حق میں بھی یہی فیصلہ ہے کہ وہ مورد الہام اور محل نزول وحی اور مخاطب الٰہی نہیں ہو سکتے۔ چنانچہ ارشاد ہے :

” لوکان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافاً کثیرا (سورۃ النساء آیت ٨٢)“ ﴿یعنی قرآن اگر غیر خدا کی طرف سے ہوتا تو لوگ اس میں بہت اختلاف پاتے۔﴾

نتیجہ

ان سارے حوالجات کا خلاصہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی نہ نبی تھے، نہ رسول، نہ مجدد، نہ مسیح، نہ ملہم، نہ محدث۔ ہاں کچھ تھے تو مراقی تھے۔ جس کا انہیں خود اعتراف ہے۔

مرزا قادیانی کی وحی پر مراق کا اثر

پنجاب کی سرزمین بھی عجیب ہے۔ یہ زمین زرخیز ہونے کے علاوہ ایسی ہے کہ اس کے مختلف ضلعوں میں اس زمانہ میں بعض لوگ نبوت و رسالت کے مدعی گزرے ہیں۔ ان مدعیان میں سے مرزا غلام احمد قادیانی کا نمبر سب سے بڑھا ہوا تھا۔ آپ نے مسیح موعود، مہدی مسعود، نبی، رسول، مجدد، کرشن اوتار وغیرہ ہونے کے دعوے کئے۔ آپ نے ١٨٨٠ء سے ١٩٠٨ء تک کے عرصہ میں تیس سے زیادہ دعوے

صفحہ ٢٥

گئے ۔ (اس سے بھی کہیں زیادہ، مراتب) آپ کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ مجھ پر خدا کی وحی نازل ہوتی ہے۔ آپ کی وفات کے بعد آپ کے مریدوں میں سے ایک مرید محمد منظور الٰہی قادیانی نے آپ کی وحی کو اکٹھا کیا اور ”البشریٰ“ نامی کتاب میں اس کو شائع کیا۔ اس میں سے کچھ وحی ذیل میں لکھی جاتی ہیں :

اے میرے خدا ! تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔ آخری فقرہ اس الہام کا یعنی ایلی اوس بباعث سرعت ورود مشتبہ رہا ہے اور نہ اس کے کچھ معنے کھلے۔ واللہ اعلم بالصواب۔“

(براہین احمدیہ ص ٥١٣ خزائن ص ٦١٣ ج ١، البشریٰ ج ١ ص ٣٦)

معلوم نہیں ہوئے ۔

(براہین احمدیہ ص ٥٥٥، ٥٥٦ خزائن ص ٦٦٢، ٦٦٣ ج ١، البشریٰ ج اول ص ٤٣)

گستاخ کر دیا۔﴾

(براہین احمدیہ ص ٥٥٥، ٥٥٦ خزائن ص ٦٦٢ ج ١، البشریٰ ج اول ص ٤٣)

مرزا قادیانی کے بیٹے مرزا محمود احمد کہتے ہیں : نادان ہے وہ شخص جس نے کہا : ”کرمہائے تو مارا کرد گستاخ“ کیونکہ خدا کے فضل انسان کو گستاخ نہیں بنایا کرتے اور سر کش نہیں کر دیا کرتے۔

(الفضل ٢٢ جنوری ١٩١٧ء ص ١٣)

احمدیو ! باپ نادان یا بیٹا؟ سچ کہتے ہوئے جھجھکنا نہیں۔

فقرے شاید عبرانی ہیں اور ان کے معنے ابھی تک اس عاجز پر نہیں کھلے۔“

(براہین احمدیہ ص ٥٥٦ خزائن ص ٦٦٤ ج ١)

اسود منم“

(البشریٰ ج اول ص ٤٨‘ تذکرہ ص ٤٦)

صفحہ ٢٦

پلاطوس ہے۔ بباعث سرعت الہام دریافت نہیں ہوا۔ اور نمبر ٢ میں عمر عربی لفظ ہے۔ اس جگہ براطوس اور پریشن کے معنے دریافت کرنے ہیں کہ کیا ہیں اور کس زبان کے یہ لفظ ہیں ؟۔

(از مکتوبات احمدیہ ج اول ص ٦٨ تاریخ نزول الہام ہفتہ مختتمہ ١٢؍ دسمبر ١٨٨٣ء تذکرہ ص ١١٥)

رودر گوپال“ (پرانا الہام ہے)

(البدر ٢٨ اکتوبر‘ ٨ نومبر ١٩٠٣ء کشف نمبر ٥٤‘ البشریٰ ج اول ص ٥٦‘ تذکرہ ص ٣٨١)

مورخہ ١٠ نومبر ١٩٠٢ء ص ١‘ تذکرہ ص ٤٣٧‘ البشریٰ ج اول ص ٥٦)

مراد ہے۔ گیارہ دن یا گیارہ ہفتے یا کیا؟ یہی ہندسہ ”١١“ کا دکھایا گیا۔

(البشریٰ ج ٢ ص ٦٥‘ ٦٦‘ الحکم ج ٤ نمبر ٤٥‘ تذکرہ ص ٤٠١)

پتہ نہیں کہ یہ الہام کس امر کے متعلق ہے۔

(البشریٰ ج ٢ ص ٧٤‘ ٧٥‘ تذکرہ ص ٤٣٧)

پکارا۔ (البدر ١٢ دسمبر ١٩٠٢ء جمعہ قبل از عصر) (نوٹ) حضرت اقدس نے فرمایا کہ اس کے ساتھ ایک اور عجیب اور مبشر فقرہ تھا وہ یاد نہیں رہا۔“

(البشریٰ ج ٢ ص ٧٦‘ تذکرہ ص ٤٤٦)

تعالیٰ کا نیا نام ہے۔

(البشریٰ ج ٢ ص ٧٦‘ تذکرہ ص ٤٤٧)

رسول کے ساتھ کھڑا ہوں گا اور نماز پڑھوں گا اور روزہ رکھوں گا۔“

(البشریٰ ج ٢ ص ٧٨‘ ٧٩)

صفحہ ٢٧

روزہ رکھوں گا جاگتا ہوں اور سوتا ہوں۔“

(البشریٰ ج ٢ ص ٧٩‘ تذکرہ ص ٤٦٠)

نوٹ : قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ کی شان میں آیا ہے : ”لا تأخذه سنة ولا نوم“ اور مرزا قادیانی کے الہام میں خدا کہتا ہے۔ میں سوؤں گا۔ چہ عجب؟۔

الفاظ الہام ہوئے ہیں مگر معلوم نہیں کہ کس کی طرف اشارہ ہے۔ یاد نہیں رہا کہ یا کے آگے کیا تھا؟۔

(البدر‘ البشریٰ ج ٢ ص ٨٢‘ تذکرہ ص ٤٧٣)

تقول له كن فيكون“ ﴿تحقیق تیرا ہی یہ حکم ہے جب تو کسی شے کا ارادہ کرے تو اسے کہہ دیتا ہے کہ ہو جا۔ پس وہ ہو جاتی ہے۔﴾

(البدر ج ٤ نمبر ٧‘ البشریٰ ج ٢ ص ٩٤‘ حقیقت

الوحی ص ١٠٥‘ خزائن ص ١٠٨ ج ٢٢‘ نصرۃ الحق ص ٩٥‘ خزائن ص ١٤٢ ج ٢١‘ تذکرہ ص ٥٢٧)

(البشریٰ ج ٢ ص ٩٤‘ تذکرہ ص ٥٢٧)

ہے : ”مکذبوں کو نشان دکھایا جائے گا۔

(الحکم ج ٩ نمبر ١٠‘ البشریٰ ج ٢ ص ٩٤)

(بدر‘ ج ١ نمبر ٧‘ البشریٰ ج ٢ ص ٩٧‘ تذکرہ ص ٥٥٠)

(البشریٰ ج ٢ ص ١٠٠‘ تذکرہ ص ٥٦٦)

(البشریٰ ج ٢ ص ١٠٧‘ تذکرہ ص ٥٩٥)

(البشریٰ ج ٢ ص ١١٤‘ تذکرہ ص ٦١٥)

صفحہ ٢٨

فرمایا کہ آج رات مجھے ایک (مندرجہ بالا) الہام ہوا۔ اس کے پورے الفاظ یاد نہیں رہے اور جس قدر یاد رہا وہ یقینی ہے مگر معلوم نہیں کہ کس کے حق میں ہے لیکن خطرناک ہے۔ یہ الہام ایک موزوں عبارت میں ہے مگر ایک لفظ درمیان میں سے بھول گیا ہے۔“

(بدر ج ٢ نمبر ٣١ ص ٢‘ البشریٰ ج ٢ ص ١١٧‘ تذکرہ ص ٦٦٦)

کس کے متعلق ہے۔

(البشریٰ ج ٢ ص ١١٩‘ تذکرہ ص ٦٧٢)

میں یہ الہام ہے۔ (البشریٰ ج ٢ ص ١١٩‘ تذکرہ ص ٦٧٢)

تیرہ ماہ حال کو“ (نوٹ) قطعی طور پر معلوم نہیں کہ کس کے متعلق ہے۔

(بدر ج ٢ نمبر ٣٩ ص ٣‘ البشریٰ ج ٢ ص ١٢٠‘ تذکرہ ص ٦٧٥)

(حقیقت الوحی ص ١٠٥ خزائن ص ١٠٨ ج ٢٢‘ البشریٰ ج ٢ ص ١٢٣‘ تذکرہ ص ٦٦٢)

یہ الہام ہے۔

(البشریٰ ج ٢ ص ١٢٤‘ تذکرہ ص ٦٧٩)

لاہوری مرزائیو! یہ کون ہے؟۔

(البشریٰ ج ٢ ص ١٢٧‘ تذکرہ ص ٧٠٩)

صفحہ ٢٩

فیصلہ

واقعات اور اقوال مرزا غلام احمد قادیانی پیش کر کے فیصلہ ناظرین پر ہم چھوڑتے ہیں کہ مرزا قادیانی کون تھا؟ :

میرے دل کو دیکھ کر میری وفا کو دیکھ کر
بندہ پرور منصفی کرنا خدا کو دیکھ کر
PDF 30

مرزائیت کی تردید

بطرز جدید

صفحہ ٣١

بسم الله الرحمن الرحيم

حمد و صلوٰۃ کے بعد واضح ہو کہ آج کل مرزائی تعلیم پر مختلف اقسام کی کتابیں لکھی جاچکی ہیں مگر جن چند مضامین کو راقم پیش کرنا چاہتا ہے وہ اپنی نوعیت میں اپنی نظیر آپ ہی ہیں۔ کیونکہ ان مضامین پر اہل قلم مصنفین نے بہت کم توجہ دی ہے اور یا ان کو نظر انداز کیا ہوا ہے۔ مگر چونکہ آج کل ایسے مضامین کی اہمیت بڑھ گئی ہے اس لئے راقم نے اپنی تمام طاقت علمی خرچ کر کے یہ رسالہ لکھا ہے جس کا نام ہے ” مرزائیت کی تردید بطرز جدید“ امید ہے کہ ناظرین اس سے مستفید ہو کر تردید مشن قادیانی میں پہلے سے زیادہ جدوجہد کرنے کی جرات کر سکیں گے اور مؤلف کے حق میں دعائے خیر فرماویں گے کہ خدا تعالیٰ اس کتاب کو باقیات صالحات میں داخل فرما کر کفارہ گناہ بنائے۔ آمین!

خداوند تعالیٰ مسلمانان مگاڈی (کینیا کالونی برٹش ایسٹ افریقہ) کو جزائے خیر عطا کرے کیونکہ انہوں نے ایک کثیر رقم سے اس کار خیر میں عاجز کی مدد کی ہے۔

خادم دین رسول اللہ ﷺ

عاجز حبیب اللہ امرتسری

صفحہ ٣٢

باب اول

کیا حضرت مسیح علیہ السلام مصلوب ہوئے ؟

اور ان کے زخموں کو مرہم عیسیٰ سے اچھا کیا گیا؟

مرہم عیسیٰ کی حقیقت

مرزا غلام احمد قادیانی کے جہاں اور بہت سے حیرت انگیز دعاوی ہیں۔ ان میں یہ بھی کوئی کم حیثیت نہیں رکھتا جس پر آج ہم سرسری نظر ڈال رہے ہیں۔ مرزا قادیانی نے اپنے دعویٰ مسیحیت کی بنیاد اس پر رکھی ہے کہ حضرت مسیح ناصری فوت ہوگئے اور ان کی قبر کشمیر میں ہے۔ آج ہم اسی سلسلہ میں مرزا قادیانی کے اس دعویٰ پر روشنی ڈالنا چاہتے ہیں کہ :

”حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر فوت نہیں ہوئے بلکہ ان پر غشی کی حالت طاری ہوگئی۔ بعد میں دو تین روز کے بعد غشی دور ہوگئی اور ہوش میں آگئے اور ان کے زخم مرہم عیسیٰ سے اچھے ہو گئے۔“

امید ہے ناظرین مرہم عیسیٰ کی حقیقت کا دلچسپی کے ساتھ مطالعہ کریں گے۔

مرزا غلام احمد قادیانی کا مذہب

گئے تھے۔ یہود اور نصاریٰ دونوں اس بات پر یک زبان متفق ہیں کہ مسیح ناصری ہی پکڑا گیا اور اسی کو صلیب پر چڑھایا گیا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ٣٣ برس کی عمر میں، مصلوب کئے گئے۔“ (ازالہ اوہام ص ٣٧٨ تا ٣٨١ خزائن ص ٢٩٢‘٢٩٤ ج ٣‘ نزول المسیح ص ١٥١‘ خزائن

صفحہ ٣٣

ص ٥٢٩ ج ١٨‘ کتاب مسیح ہندوستان میں ص ٤٩‘ خزائن ص ٥٠ ج ١٥‘ اخبار بدر مورخہ ٢ جون ١٩٠٨ء ص ٧‘ کتاب البریہ ص ٢٤٢‘ ٢٤٣ حاشیہ‘ خزائن ص ٢٧٩ ج ١٣‘ اخبار الحکم مورخہ ١٠ نومبر ١٩٠٢ء ص ٦‘ الحکم مورخہ ٢٨ مئی ١٩٢٥ء ص ٦‘ کتاب ایام الصلح ص ١٤٥‘ خزائن ص ٣٩١ ج ١٤‘ راز حقیقت ص ٣ حاشیہ‘ خزائن ص ١٥٥ ج ١٤‘ تحفۃ

الندوہ ص ١٠‘ خزائن ص ١٠٢ ج ١٩‘ تحفہ گولڑویہ ص ٢١٠‘ خزائن ص ٢٩٥ ج ١٧)

(٢)....... ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام صلیب پر فوت نہیں ہوئے مگر غشی کی حالت ان پر طاری ہو گئی تھی بعد میں دو تین روز تک ہوش میں آگئے اور مرہم عیسیٰ کے استعمال سے ان کے زخم بھی اچھے ہو گئے۔“ (حقیقۃ الوحی ص ٣٦‘ خزائن ص ٣٩ ج ٢٢‘ ضمیمہ براہین احمدیہ ج ٥ ص ١٠٠ حاشیہ‘ خزائن ص ٢٦٢ ج ٢١‘ اور ایسے ہی ایام الصلح‘ راز حقیقت‘ ست بچن‘ مسیح ہندوستان میں

‘سراج منیر‘ تریاق القلوب‘ لیکچر سیالکوٹ‘ تحفہ گولڑویہ‘ مواہب الرحمٰن‘ کشف الغطاء‘ چشمہ مسیحی اور کتاب البریہ)

(٣)....... ”ایک اعلیٰ درجہ کی شہادت جو حضرت مسیح کے صلیب سے بچنے پر ہم کو ملی ہے اور جو ایسی شہادت ہے کہ بجز ماننے کے کچھ بن نہیں پڑتا وہ ایک نسخہ ہے جس کا نام مرہم عیسیٰ ہے جو طب کی صدہا کتابوں میں لکھا ہوا پایا جاتا ہے۔.......... اور یہ خدا کی عجیب قدرت ہے کہ ہر ایک مذہب کے فاضل طبیب نے کیا عیسائی اور کیا یہودی اور کیا مجوسی اور کیا مسلمان سب نے اس نسخہ کو اپنی کتابوں میں لکھا ہے اور سب نے اس نسخہ کے بارے میں یہی بیان کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ کے لئے ان کے حواریوں نے تیار کیا تھا۔.......... بہر حال اس دوا کے استعمال سے حضرت مسیح کے زخم چند روز ہی میں اچھے ہو گئے اور اس قدر طاقت آگئی کہ آپ تین روز میں یروشلم سے جلیل کی طرف ستر کوس تک پیادہ پا گئے۔“ (کتاب مسیح ہندوستان میں ص ٥٤‘ ٥٥‘ ٥٦‘ خزائن ص

٥٦‘ ٥٨ ج ١٥‘ رسالہ ریویو آف ریلیجنز بابت ماہ اکتوبر ١٩٠٣ء ص ٣٩٦‘ ٣٩٧ پر جو کچھ لکھا گیا ہے اس کا خلاصہ)

جواب : ١....... حق بات یہ ہے کہ قرآن مجید کی آیات مقدسہ ‘ احادیث صحیحہ نبویہ ﷺ ‘ روایات صحابہؓ ‘ اقوال تابعینؒ وائمہ اربعہؒ ‘ اسلامی تاریخوں اور اسلامی تفسیروں میں مرہم عیسیٰ کا کوئی ذکر نہیں ہے اور نہ ہی حضرت مسیح علیہ السلام کے

صفحہ ٣٤

صلیب پر چڑھائے جانے اور مرہم عیسیٰ سے ان کا علاج ہونے کا کوئی ذکر ہے۔

مصری) ج سوم فصل مرہموں کے بیان ص ٤٠٥) پر الفاظ یوں ہیں :

”مرہم الرسل وہوشلیحا ای مرہم الحواریین ویعرف بمرہم الز ہرة ومرہم مندیا وہومرہم یصلح بالرفق النواصیرالصعبۃ والخنازیر الصعبۃ لیس شئی مثلہ وینقی الجراحات من اللحم المیت والقیح ویدمل یقال انہ اثنا عشر دواء لاثنی عشر حواریا“

﴿ مرہم رسل اس مرہم کو مرہم شلیحا کہتے ہیں۔ یعنی مرہم حوارین کا‘ اور مرہم زہرہ‘ اور مرہم مندیا کے نام سے مشہور ہے۔ یہ ایسا مرہم ہے کہ بآسانی نواصیر سخت اور خنازیر سخت کی اصلاح کرتا ہے اور کوئی دوا مثل اس کے نہیں ہے اور پھوڑوں کے مردار گوشت اور پیپ کو نکال ڈالتا ہے اور اندمال کرتا ہے لوگ کہتے ہیں کہ یہ بارہ دوائیں بارہ حواریوں کی طرف منسوب ہیں۔ ﴾

نوٹ : شیخ بوعلی سینا نے اس مرہم کو ”مرہم عیسیٰ“ کے نام سے یاد نہیں کیا ۔ نہ ہی اس نے یہ کہا کہ اسے حواریوں نے حضرت مسیح کے لئے یعنی آپ کے زخموں کے لئے بنایا۔ بلکہ اس نے یہ لکھا ہے کہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ بارہ دوائیں‘ بارہ حواریوں کی طرف منسوب ہیں۔ اس کو شیخ کا اپنا مذہب لکھنا سراسر دھوکہ دینا ہے۔ پس مرزا قادیانی کا یہ لکھنا کہ :

”ہر ایک مذہب کے فاضل طبیب نے کیا عیسائی اور کیا یہودی اور کیا مجوسی اور کیا مسلمان سب نے اس نسخہ کو اپنی کتابوں میں لکھا ہے اور سب نے اس نسخہ کے بارہ میں یہی بیان کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ کے لئے ان کے حواریوں نے تیار کیا تھا۔“ (مسیح

صفحہ ٣٥

ہندوستان میں ص ٥٥ خزائن ص ٥٧ ج ١٥) سراسر غلط ہے۔

مرزا قادیانی نے کتاب (مسیح ہندوستان میں، ص ٥٦، خزائن ص ٥٨ ج ١٥، ریویو آف ریلیجنز بابت ماہ اکتوبر ١٩٠٣ء ص ٣٩٧) پر بعنوان فہرست ان طبی کتابوں کی جن میں مرہم عیسیٰ کا ذکر ہے کہ وہ مرہم حضرت عیسیٰ کے لئے ان کے بدن کے زخموں کے لئے بنائی گئی تھی۔ سب سے پہلے کتاب ”قانون“ شیخ الرئیس بو علی سینا کا نام لکھا ہے۔ حالانکہ اس کتاب میں شیخ الرئیس بو علی سینا نے یہ کہیں نہیں لکھا ہے کہ یہ مرہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے یعنی ان کے بدن کے زخموں کے لئے بنائی گئی تھی۔

(٣)...... مرزاغلام احمد قادیانی نے اپنی کتاب (مسیح ہندوستان میں ص ٥٧، خزائن ص ٥٩ ج ١٥) پر کتاب: ” منهاج الدکان بدستور الاعيان في اعمال وتركيب النافعه للابدان تالیف افلاطون زمانه ابوالمنا ابن ابي نصر العطار الاسرائیلی الهارونی “ (یعنی یہودی) کا حوالہ بھی دیا ہے۔ حالانکہ اس کتاب (منہاج الدکان (مطبوعہ مصر) ص ٨٣) پر یوں لکھا ہے :

” مرهم الرسل وهو مرهم الحواريين ومرهم الشلاحين ومعنی هذا اللفظة بالعبرانی الرسل“ ﴿یعنی مرہم رسل کو مرہم حواریین اور مرہم شلاحین بھی کہتے ہیں اور لفظ شلاحین کے معنے عبرانی میں رسل کے ہیں۔﴾

نوٹ: اس اسرائیلی طبیب نے اس مرہم کا نام ”مرہم عیسیٰ“ نہیں لکھا اور نہ ہی یہ لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ کے لئے ان کے حواریوں نے تیار کیا تھا۔ بلکہ اس بات کا ذکر بھی نہیں کیا کہ مرہم عیسیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بدن کے زخموں کے لئے بنائی گئی تھی۔ چونکہ یہ طبیب اسرائیلی تھا زبان عبرانی کا عالم۔ اس نے لفظ شلاحین کے صحیح معنے رسل بتلادیئے۔ پس مرزا قادیانی کا یہ لکھنا کہ یہ عبرانی یا یونانی لفظ ہے جس کے معنی بارہ کے ہیں۔ (ست بچن حاشیہ متعلقہ ص ١٦٢، خزائن ص ٣٠٤ ج ١٠، تبلیغ رسالت ج ٤ ص ٨٥)

صفحہ ٣٦

اور یہ کہ شلیخا کا لفظ جو یونانی ہے جو بارہ کو کہتے ہیں ان کتابوں میں اب تک موجود ہے۔ (مسیح ہندوستان ص ٦٠، خزائن ص ٦٢ ج ١٥، ریویو بابت ماہ اکتوبر ١٩٠٣ء ص ٤٠٠) سراسر غلط ہے۔ چنانچہ جناب منشی خادم حسین قادیانی ساکن بھیرہ نے اس امر کو تسلیم کیا ہے کہ شلیخا عبرانی لفظ ہے جس کے معنے رسل کے ہیں۔

(دیکھو اخبار الحکم ٧ نومبر ١٨٩٩ء ص ٥)

و ترجمہ کردہ شد در قرابادین رومی بمرہم سلیخا و معروف بہ مرہم زہرہ گفتہ کہ ایں مرہم دوازدہ دواست از دوازدہ حواری حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ السلام کہ ہر یک یک دوا را اختیار کردہ ترکیب نمودند و ایں مرہم بہترین مرہم ہاست“

(کتاب قرابادین کبیر ج ٢ ص ٥٠٨‘ ٥٠٩)

اس کے بعد کتاب میں یہ بھی لکھا ہے :

”و گفتہ کہ ایں مرہم را مرہم بخار و اثنا عشری نیز نامند“

نوٹ : اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مرہم کا کوئی نام نہیں بلکہ متعدد نام ہیں۔ شلیخا یا سلیخا‘ رسل‘ حواریین‘ مندیا‘ اثنا عشری‘ زہرہ‘ بخار‘ سب سے کم مشہور نام مرہم عیسیٰ ہے جس کو نہ شیخ نے ذکر کیا‘ نہ رومی نے‘ اور نہ اسرائیلی نے‘ اور نہ صاحب قرابادین کبیر نے اور سب سے قدیم اور مشہور نام شلیخا یا سلیخا اور رسل ہے اور یہ تو بالکل غلط ہے کہ یہ نسخہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے بنایا گیا۔

کے ایسے ہی شاعرانہ نام وہاں بھی مشہور تھے۔ ایک تریاق تھا جس کا یونانی نام ”ڈوویکا تھیون“ ہے بمعنی بارہ دیوتا اس میں بھی بارہ اجزا تھے جو یونان کے بارہ دیوتاؤں سے منسوب ہوئے۔ مرہم رسل جس کا بھی یونانی نام ”ڈوویکا فار میکم“ یعنی بارہ دوائیں

صفحہ ٣٧

ہے عیسائی اطباء نے یونانیوں کے تریاق ”بارہ دیوتا“ کے مد مقابل اس کو بارہ رسول کے نام سے منسوب کر کے ”انگوئنٹم اپاسٹولورم“ زبان لاطینی کہنا شروع کر دیا (دیکھو ڈاکٹر ہوپر کی میڈیکل ڈکشنری) جس کے معنی ہیں ”مرہم رسل“ اور اس نام میں محض ١٢ عدد کی رعایت منظور تھی۔ مسلمان اطباء نے اسی بارہ عدد کی رعایت سے اس کو ”اثنا عشری“ کہا اور مجوسیوں نے اس کا نام مرہم زہرہ رکھا اور اب مسلمانوں کو بھی حق ہو گیا کہ وہ اس کو بارہ اماموں سے منسوب کریں۔ مگر نہ قرص کوکب (قرابادین کبیر ج ٢ ص ٣٤٦) زحل کا دیا ہوا نسخہ تھا اور نہ عطیۃ اللہ نامی دوائی (قرابادین کبیر ج ٢ ص ٣٤٦) خدا نے الہام کی تھی اور نہ مرہم عیسیٰ، مرہم رسل، مرہم اثنا عشری حضرت مسیح یا حواریوں یا اماموں کا دیا ہوا ہے۔

(٦)...... ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سب سے قدیم نام اس کا باسم ”دوڈیکا فارمیکم“ ہی تھا یعنے بارہ دوائیں (موم سفید، راتینج، زنگار، جاؤشیر، اشق، زراوند طویل، کندر، مر مکی، بیروزہ، مقل، مردارسنگ، روغن زیت) جس کا ترجمہ اثنا عشری ہوا مگر یونانیوں کے تریاق کی ریس میں مجوسیوں نے جو منجم ہوتے تھے اپنے عقیدے کی رعایت سے اس کو مرہم زہرہ کہا۔ یہودیوں نے اس کو مرہم شلیخا کہا۔ عیسائیوں نے مرہم حواریین یا مرہم رسل اور مسلمانوں نے اثنا عشری۔ غرض جتنے منہ اتنی باتیں۔ حالانکہ دوائیوں میں معجون مسیحی مشہور ہے اور مفرح مسیحی بھی (قرابادین شفائی ص ١٧٤، ١٨٣) اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ یہ دوائیں بھی مسیح نے یا حواریوں نے تیار کی تھ

صفحہ ٣٨

باب دوم

حدیث ظہور مہدی

مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھا ہے کہ :

”پس رسول اللہ ﷺ نے خبر دی کہ سورج گرہن مہدی کے ظہور کے وقت ایام کسوف کے نصف میں ہوگا۔ یعنی اٹھائیسویں تاریخ میں دوپہر سے پہلے اور اسی طرح پر ظاہر ہوا جیسا کہ آنکھوں والوں پر پوشیدہ نہیں۔ پس دیکھو کہ ہمارے نبی ﷺ کی بات کیسی ٹھیک ٹھیک پوری ہو گئی۔“ (نورالحق ص ١٩ حصہ دوم ، خزائن ص ٢٠٩ ج ٨)

ماسٹر عبدالرحمن قادیانی اپنے رسالہ (اسلام کی پہلی کتاب ص ٢٤ اور رسالہ ”حضرت مسیح موعود و علماء زمانہ“ حصہ اول ص ٣٠) پر لکھتے ہیں :

”حضرت ﷺ نے فرمایا کہ جب امام مہدی کا ظہور ہوگا تو اس زمانہ میں ایک ہی رمضان میں نشان کے طور پر چاند گرہن اور سورج گرہن ہوگا اور ایسا گرہن جب سے زمین و آسمان پیدا کئے گئے کبھی کسی مدعی کے وقت میں ظہور میں نہیں آئے گا۔ چنانچہ فرمایا : ” ان لمهدينا آيتين لم تكونا منذ خلق السموات والارض ينكسف القمر لاول ليلة من رمضان وتنكسف الشمس في النصف ”فرمایا رسول ﷺ نے کہ ہمارے مہدی کی سچائی اور ثبوت کے لئے دو نشانیاں مقرر ہیں کہ اس کے زمانہ میں گرہن کی راتوں میں سے چاند کو پہلی رات میں گرہن ہوگا اور سورج کو دوسری تاریخ میں گرہن لگے گا۔“

مولوی محمد دلپذیر مرزائی اپنے رسالہ (نیزہ احمدی مطبوعہ ١٣٤٠ھ روز بازار پریس امرتسر ص ١٤،١٣) کے حاشیے پر لکھتے ہیں :

”یہ حدیث دارقطنی میں موجود ہے : ” عن محمد بن الباقر بن زین

صفحہ ٣٩

العابدين قال قال رسول الله ﷺ ان لمهدينا آيتين لم تكونا منذ خلق السموات والارض ينكسف القمر لاول ليلة من رمضان وتنكسف الشمس فى النصف منه واخرج مثله البيهقى وغيره

المحدثين ”روایت ہے محمد باقر کے بیٹے زین العابدینؒ سے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہمارے مہدی کے لئے دو نشان ہیں جو کبھی نہیں ہوئے جب سے کہ زمین و آسمان پیدا ہوئے ہیں (یعنی وہ کبھی کسی دوسرے نبی یا امام کے لئے نہیں ہوئے اور نہ ہوں گے اور وہ یہ ہیں) چاند گرہن ہوگا اول رات میں (یعنی جن راتوں میں چاند گرہن ہوتا ہے ان کی اول رات میں) رمضان سے اور سورج گرہن ہوگا نصف میں (یعنی اس مدت کے نصف میں جس میں سورج گرہن ہوتا ہے) اسی ماہ رمضان میں اور اسی کی مانند بیہقی ”اپنی کتاب میں ایک حدیث لایا ہے اور ایسا ہی بعض دوسرے محدث بھی۔“

اقول

بن نوفل ثنا عبید بن یعیش ثنا یونس بن بکیر عن عمرو بن شمر عن جابر عن محمد بن علی قال ان لمهدینا آيتين لم تكونا منذ خلق السموات والارض تنكسف القمر لاول ليلة من رمضان وتنكسف الشمس فى النصف منه ولم تكونا منذ خلق الله السموات والارض“

(سنن دارقطنی ج١ حصہ اول (مطبع انصاری دہلی) باب صفۃ الخسوف والکسوف وھیئتھا ص١٨٨)

٭ کہا امام محمد باقرؒ بن امام علی زین العابدین نے کہ تحقیق واسطے مہدی ہمارے کے دو نشان ہیں نہیں ہوئے یہ دونوں جب سے آسمان اور زمین پیدا ہوئے۔ گرہن لگے گا چاند کو واسطے پہلی رات کے رمضان سے اور گرہن لگے گا سورج کو رمضان کے نصف میں اور نہیں ہوئے یہ جب سے اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین پیدا

صفحہ ٤٠

کئے۔

حسین شہید کربلا ابن علیؓ کے ہیں نہ کہ رسول خدا ﷺ کے ہیں۔ دراصل یہ روایت موضوع ہے کسی صورت میں صحیح نہیں۔ اس میں ایک راوی عمرو بن شمر ہے جس کی نسبت یحییٰ نے کہا ہے کہ وہ کچھ شے نہیں ہے۔ جوزجانی نے کہا وہ بہت جھوٹا ہے۔ ابن حبان نے کہا رافضی تھا، صحابہ کو گالیاں دیا کرتا تھا۔ موضوع روایتیں بیان کرتا ہے۔ غیر ثقات سے، امام بخاری نے فرمایا منکر الحدیث ہے۔ یحییٰ نے کہا نہ لکھ اس کی حدیث کو۔ نسائی و دار قطنی نے اس کو متروک الحدیث کہا ہے۔ (دیکھو میزان الاعتدال ج دوم ص ٢٦٢) اس روایت کی سند میں دوسرا راوی جابر بن یزید جعفی ہے۔ کہا امام ابو حنیفہؒ نے کہ نہیں دیکھا میں نے جابر جعفی سے بڑھ کر کسی کو جھوٹا۔ کہا یحییٰ بن یعلیٰ سے کہا گیا کہ تم کیوں نہیں روایت کرتے ان تین آدمیوں سے کہ جو ابن ابی لیلیٰ و جابر جعفی و کلبی ہیں۔ کہا اس نے اللہ کی قسم جابر جھوٹا تھا۔ رجعت کے ساتھ ایمان رکھتا تھا۔ کہا احمد نے چھوڑ دیا جابر کو عبدالرحمن بن مہدی نے۔ نسائی نے کہا متروک الحدیث ہے اور کہا وہ ثقہ نہیں ہے۔ (اور نہ لکھی جاوے حدیث اس کی) حاکم نے کہا وہ بھول جانے والا ہے حدیث کا۔ کہا جریر بن عبدالحمید بن ثعلبہ نے میں نے اس کا ارادہ کیا۔ پس کہا لیث بن ابی سلیم نے نہ آنا پاس اس کے۔ پس وہ کذاب ہے۔ کہا جریر نے نہیں ہے جائز یہ کہ اس سے روایت کی جاوے۔ تھا ایمان رکھتا ساتھ رجعت کے۔ کہا ابو داؤد نے نہیں ہے نزدیک میرے وہ قوی بیچ حدیث کے۔ کہا یحییٰ بن یعلیٰ نے سنا میں نے زائدہ سے کہ کہتا تھا کہ جابر جعفی رافضی تھا اور صحابہ کو گالیاں دیا کرتا تھا۔ کہا ابن سعد نے کہ وہ مدلس تھا اور ضعیف تھا اپنی رائے اور روایت میں۔ جھوٹا کہا اس کو سعید بن جبیر نے۔ کہا عجلی نے غالی شیعہ تھا اور مدلس تھا۔ جھوٹا کہا اس کو ابن عینیہ نے۔ ابن حبان نے کہا وہ سبائی تھا۔

صفحہ ٤١

عبداللہ بن سبا کے یاروں میں سے تھا۔

(تہذیب التہذیب ج ٢ ص ٤٦ تا ٥٠)

پس حق بات یہ ہے کہ یہ روایت موضوع ہے۔ اس سے استدلال کرنا سراسر غلط ہے۔

ہیں :

ہوئے۔

مرزا قادیانی کے وقت ١٣١١ھ میں ١٣ر رمضان کو چاند گرہن اور ٢٨ر رمضان کو سورج گرہن ہوئے تھے۔ اس لئے مرزا جی نے ان ہر دو واقعات کو مد نظر رکھ کر لوگوں کو دھوکہ دیتے ہوئے (چشمہ معرفت ص ٣١٤‘ خزائن ص ٣٢٩ ج ٢٣ پر) مندرجہ بالا روایت کا ترجمہ یوں کیا ہے :

”چاند اپنی مقررہ راتوں میں سے (جو اس کے خسوف کے لئے خدا نے راتیں مقرر کر رکھی ہیں یعنی تیرہویں‘ چودھویں‘ پندرہویں) پہلی رات میں گرہن پذیر ہو گا اور سورج اپنے مقررہ دنوں میں سے (جو اس کے کسوف کے لئے خدا نے دن مقرر کر رکھے ہیں یعنی ٢٧‘٢٨‘٢٩) درمیانی دن میں کسوف پذیر ہوگا اور یہ دونوں خسوف و کسوف رمضان میں ہوں گے۔“

اس لئے اب میں ذیل میں دو مسلمہ بزرگوں کے ترجمہ کو درج کرتا ہوں۔ ذرا غور سے سنئے :

صفحہ ٤٢

”نور ظہور سلطنت او درچہاردہم شہر رمضان کسوف شمس خواہد شد و دراول آن ماہ خسوف قمر برخلاف عادت زمان وبرخلاف حساب منجمان“

(دفتر دوم کے مکتوب شصت وہفتم ١٦٧ مطبع روز بازار امرتسر) ص ٥٠‘ ٥١)

” ومحمد بن علی گفته مهدی رادوآیت است که نبوده از روزیکه خدا آسمانها وزمین آفرید کسوف گیر ماہتاب درشب اول ازماه رمضان و آفتاب درنصف رمضان واجتماع ایں ہر دو کسوف درماہے گاہے نبوده“

(حجج الکرامہ ص ٣٤٤)

٢٨ رمضان کو سورج گرہن ہوا اور بعد اس کے ١٣١٢ھ میں ١٣رمضان کو چاند گرہن اور ٢٨رمضان کو گرہن پھر دوبارہ ہوا۔ اس پر مرزا قادیانی لکھتا ہے : ”اور ایک حدیث میں ہے کہ مہدی کے وقت میں یہ دو مرتبہ واقع ہوں گے۔ چنانچہ یہ دونوں دو مرتبہ میرے زمانہ میں رمضان میں واقع ہوگئے۔ ایک مرتبہ ہمارے اس ملک میں دوسری مرتبہ امریکہ میں۔“

(حقیقت الوحی ص ١٩٥ خزائن ص ٢٠٢ ج ٢٢ اور چشمہ معرفت ص ٣١٤ حاشیہ خزائن ص ٣٢٩ ج ٢٣)

عرض حبیب

مرزائی‘ علماء حدیث کی کسی کتاب سے صحیح مرفوع روایت نکال کر دکھائیں جس میں لکھا ہو کہ سورج گرہن مہدی کے ظہور کے وقت اٹھائیسویں تاریخ کو ماہ رمضان میں ہوگا۔ جیسا کہ مرزا قادیانی نے لکھا ہے : ”دوسری عرض یہ ہے کہ حدیث کی کسی کتاب سے صحیح مرفوع یا موقوف

صفحہ ٤٣

روایت نکال کر دکھائیں جس میں آیا ہو کہ مہدی کے وقت یہ دو مرتبہ ماہ رمضان میں ہوں گے۔“

(نور الحق حصہ ٢ ص ١٩‘ خزائن ص ٢٠٩ ج ٨)

باب سوئم

قادیانی مغالطے سے بچو

(الف) ...... مرزا قادیانی لکھتا ہے :

”شیخ علی حمزہ بن علی ملک الطوسی اپنی کتاب جواہر الاسرار میں جو ٨٢٠ھ میں تالیف ہوئی تھی مہدی موعود کے بارے میں مندرجہ ذیل عبارت لکھتے ہیں :

” دراربعین آمدہ است کہ خروج مہدی از قریہ کدعہ باشد قال النبی ﷺ یخرج المہدی من قریة یقال لہاكَدعَة ويصدقه الله تعالىٰ ويجمع اصحابه من اقصى البلاد علىٰ عدة اهل بدر بثلاث مأة وثلاثة عشر رجلا ومعه صحيفة مختومة (اى مطبوعة) فيها عدد اصحابه باسمائهم وبلادهم وخلالهم“ یعنی مہدی اس گاؤں سے نکلے گا جس کا نام کدعہ ہے (یہ نام دراصل قادیان کے نام کا معرب کیا ہوا ہے) اور پھر فرمایا کہ خدا اس مہدی کی تصدیق کرے گا اور دور دور سے اس کے دوست جمع کرے گا جن کا شمار اہل بدر کے شمار سے برابر ہو گا یعنی تین سو تیرہ ہوں گے اور ان کے نام بقید مسکن و خصلت چھپی ہوئی کتاب میں درج ہوں گے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٠‘ خزائن ص ٣٢٤ ج ١١)

(ب) ...... ”ایسا ہی احادیث میں یہ بھی بیان فرمایا گیا ہے کہ وہ مہدی موعود ایسے قصبہ کا رہنے والا ہو گا جس کا نام کدعہ یا کدیہ ہو گا۔ اب ہر ایک دانا سمجھ سکتا ہے کہ یہ لفظ کدعہ دراصل قادیان کے لفظ کا مخفف ہے۔“

(کتاب البریہ ص ٢٢٥‘ ٢٢٦ حاشیہ‘ خزائن ص ٢٦١‘ ٢٦٠ ج ١٣ حاشیہ)

صفحہ ٤٤

(ج)...... ”اور حدیثوں میں کدعہ کے لفظ سے میرے گاؤں کا نام موجود ہے ۔“

(رسالہ ریویو آف ریلیجنز ج ٢ نمبر ١١‘١٢ بابت ماہ نومبر، دسمبر ١٩٠٣ء ص ٤٣٧)

(د)...... ”احادیث میں کدعہ لفظ سے میرے گاؤں کا نام موجود ہے۔“

(رسالہ تذکرۃ الشہادتین ص ٣٨‘ خزائن ص ٢٠ ج ٢٠)

(٢)...... مولوی جلال الدین سیکھوانی قادیانی لکھتے ہیں :

”اور جواہر الاسرار میں ایک حدیث ہے کہ : ”یخرج المہدی من قریۃ یقال لھا قدہ“ مہدی قادیان گاؤں میں خروج کرے گا۔“

(التشریع الصحیح لحدیث نزول المسیح نتیجۃ الاذہان بابت ماہ اگست ١٩٢٠ء ص ٤٤)

(ب)...... ”شیخ علی بن حمزہ بن علی ملک الطوسی نے اپنی کتاب جواہر الاسرار میں لکھا ہے : ”در اربعین آمدہ است کہ خروج مہدی از قریہ کدہ باشد قال النبی ﷺ یخرج المہدی من قریۃ یقال لھا کدہ“ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مہدی ایک ایسی بستی میں ظاہر ہو گا جس کو لوگ کدہ کہیں گے لفظ کدہ بتا رہا ہے کہ اس کا نزول قادین میں ہو گا۔“

(رسالہ ریویو بابت ماہ مئی ١٩٢٢ء ص ١٥١)

اقول : واضح ہو کہ مرزا قادیانی نے ضمیمہ انجام آتھم ص ٥١ ‘ خزائن ص ٣٢٥ ج ١١ اور ریویو آف ریلیجنز بابت ماہ نومبر، دسمبر ١٩٠٣ء ص ٤٣٧ پر لفظ ”کدعہ“ لکھا ہے۔ کتاب البریہ ص ٢٢٥‘ ٢٢٦ حاشیہ ‘ خزائن ص ٢٦١‘ ٢٦٠ ج ١٣ حاشیہ پر لفظ ”کدیہ“ لکھا ہے۔ تذکرۃ الشہادتین فارسی ص ٣٨ ‘ خزائن ص ٤٠ ج ٢٠ پر لفظ ”کدعہ“ لکھا ہے۔ مجھے سیکھوانی صاحب کی حالت پر بھی تعجب آتا ہے کہ اس نے لفظ ”قدہ“ اپنے رسالہ التشریع الصحیح لحدیث نزول المسیح ص ٦٤ پر اور لفظ ”کدہ“ رسالہ ریویو آف ریلیجنز بابت ماہ مئی ١٩٢٢ء ص ١٥١ پر لکھا ہے۔

صفحہ ٤٥

حالانکہ حوالہ ایک ہی کتاب ”جواہر الاسرار“ کا دیتے ہیں۔ اب میں بتلاتا ہوں کہ حدیث میں لفظ ”کرعہ“ ہے، نہ کہ ”کدعہ“ یا ”قدہ“ اور در حقیقت یہ روایت موضوع ہے:

(١) ...... ”يخرج المهدى من قرية باليمن يقال لها كرعه(ميزان اعتدال ج ٢ ص ١٦١ پر حوالہ کتاب کامل، ابن عدی) ﴿یعنی مہدی یمن کے ایک گاؤں سے نکلے گا جس کا نام کرعہ ہو گا۔﴾

نوٹ : اس روایت کے ایک راوی عبدالوہاب بن الضحاک کی نسبت لکھا ہے ”كذبه ابوحاتم وقال النسائي وغيره متروك وقال الدارقطنى منكرالحديث“(میزان الاعتدال ج ٢ ص ١٦٠) ﴿یعنی اس کے ایک راوی عبدالوہاب کو امام ابو حاتم وغیرہ نے جھوٹا، نسائی نے متروک اور دار قطنی نے منکر الحدیث کہا ہے۔﴾

(٢) ...... ” واخرج ابونعيم وغيره انه قال يخرج المهدى من قرية يقال لها كرعة“(فتاویٰ حدیثیہ لابن حجر مکی ص ٣٣)

(٣) ...... ”درارشاد المسلمین گفتہ مولد وے در د ہے باشد که آں راکر عہ گویند امام مستغفری دردلائل النبوة باسناد خودمثل آں از ابن عمر آورده وابوبکر مقری گفتہ برآیداز قریہ کہ آں را کرعہ خوانند“

(حجج الکرامہ فی آثار القیامۃ ص ٣٥٨)

(٤) ...... ” عن ابن عمر قال يخرج المهدى من قرية باليمن يقال لها كرعة“

(ينابيع المودة ص ٣٦٣)

صفحہ ٤٦

کرے گا مہدی ایک قصبہ سے کہ کہا جاتا ہے کرعہ “

(فرائد السمطین کے حوالہ سے ینابیع المودة ص٤٧٥)

کہ : قال النبی ﷺ یخرج المهدی عن قرية يقال لها كرعه“

مے گویند“

(نجم ثاقب ص٢٨٤‘ ٢٤٥)

”کرعہ یمن میں ایک بستی ہے وہاں امام مہدی پیدا ہوں گے۔“

(احوال الآخرت (مطبوعہ ١٩٢٠ء کیکسٹن پریس لاہور) ص ٢٣)

فرماتے ہیں : ”اخرج ابونعیم ...... عن ابن عمرؓ قال قال النبی ﷺ یخرج المهدى من قرية يقال لها كرعة“

(كتاب الحاوى للفتاوى ص ٦٦ ج ٢)

نتیجہ یہ نکلا کہ روایت میں لفظ ”کرعہ “ ہے اور ساتھ ہی یہ بھی بتلایا گیا ہے کہ ”کرعہ “ ملک یمن کا ایک گاؤں ہے۔

مگر دراصل یہ روایت صحیح نہیں ہے جیسا کہ اوپر ثابت کیا گیا ہے ۔ حدیث میں نہ تو لفظ ”کدعه “ ہے نہ ”قده “ اور نہ لفظ ” کده “ ہے نہ ”کریه“۔ یہ سب الفاظ قادیانی امت کی ایجاد ہیں جو خود غرضی پر مبنی ہیں۔

صفحہ ٤٧

باب چہارم

کتاب کنز العمال میں ایک غلطی

اور مرزا قادیانی اور مرزائیوں کی مطلب پرستی

حدیث نبوی : ”روایت ہے حضرت عمران بن حصینؓ سے فرمایا کہ سنا میں نے رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے۔ نہیں درمیان پیدائش آدم کے اور روز قیامت کے کوئی امر بڑا دجال سے۔“

(مشکوٰۃ باب العلامات بین یدی الساعۃ وذکر الدجال ص ٤٧٢ حوالہ مسلم روایت)

مرزا قادیانی کا مذہب

(دعویٰ مرزا) نصاریٰ کے علماء ہی بے شک دجال معہود ہیں۔

(حمامۃ البشریٰ ص ٢٢ حاشیہ خزائن ص ٢٠٢ ج ٧)

دجال ایک گروہ ............ و ایک جماعت کا نام ہے۔

(تحفہ گولڑویہ ص ١٤١ خزائن ص ٢٣٦ ج ١٧)

دلیل مرزا

”وہ احادیث واضحہ جو قرآن کے منشاء کے موافق دجال کی حقیقت ظاہر کرتی ہیں وہ اگرچہ بہت ہیں مگر ہم اس جگہ بطور نمونہ ایک ان میں سے درج کرتے ہیں وہ حدیث یہ ہے : ”يخرج في آخر الزمان دجال يختلون الدنيا بالدين يلبسون للناس جلود الضان من اللين السنتهم احلى من العسل وقلوبهم قلوب الذياب يقول الله عزوجل ابى يغترون ام على يجترؤن حتى حلفت لابعثين على اولئک منهم فتنة ...... الخ . (کنز العمال)

صفحہ ٤٨

(ج ٧ ص ١٧٤) ”یعنی آخری زمانہ میں دجال ظاہر ہوگا۔ وہ ایک مذہبی گروہ ہو گا جو زمین پر جا بجا خروج کرے گا اور وہ لوگ دنیا کے طالبوں کو دین کے ساتھ فریب دیں گے۔ یعنی ان کو اپنے دین میں داخل کرنے کے لئے بہت سا مال پیش کریں گے اور ہر قسم کے آرام اور لذات دنیوی کی طمع دیں گے اور اس غرض سے کہ کوئی ان کے دین میں داخل ہو جائے۔ بھیڑوں کی پوستین پہن کر آئیں گے ان کی زبانیں شہد سے زیادہ میٹھی ہوں گی اور ان کے دل بھیڑیوں کے دل ہوں گے اور خدائے عزوجل فرمائے گا کہ کیا یہ لوگ میرے حلم پر مغرور ہو رہے ہیں۔ کہ میں ان کو جلد تر نہیں پکڑتا اور کیا یہ لوگ میرے پر افترا کرنے میں دلیری کر رہے ہیں۔ یعنی میری کتابوں کی تحریف کرنے میں کیوں اس قدر مشغول ہیں۔ میں نے قسم کھائی ہے کہ میں انہی میں سے اور انہی کی قوم میں سے ان پر ایک فتنہ برپا کروں گا۔ (دیکھو کنزالعمال ج ٧ ص ١٧٤) اب بتلاؤ کہ کیا اس حدیث سے دجال ایک شخص معلوم ہوتا ہے اور کیا یہ تمام اوصاف جو دجال کے لکھے گئے ہیں۔ یہ آج کل کسی قوم پر صادق آرہے ہیں یا نہیں اور ہم پہلے اس سے قرآن شریف سے بھی ثابت کر چکے ہیں۔ کہ دجال ایک گروہ کا نام ہے۔ نہ یہ کہ کوئی ایک شخص اور اس حدیث مذکورہ بالا میں جو دجال کے لئے جمع کے صیغے استعمال کئے گئے ہیں۔ جیسے یختلون اور یلبسون اور یفترون اور یغترون اور اولئك اور منھم یہ بھی بہ آواز بلند پکار رہے ہیں کہ دجال ایک جماعت ہے نہ ایک انسان۔

(تحفہ گولڑویہ ص ١٤٠‘ ١٤١‘ خزائن ص ٢٣٥‘ ٢٣٦ ج ١٧)

نوٹ : یہی روایت (عسل مصفےٰ حصہ دوئم ص ٢٧٢ اور خزینۃ المعارف ج اول ص ٢٠١‘ ٢٠٢) پر درج ہے :

اقول : ”حدثنا سوید ثنا ابن المبارك ثنا یحییٰ بن عبیدالله قال

صفحہ ٤٩

سمعت ابی یقول سمعت اباہریرۃ یقول قال رسول اللہ ﷺ یخرج فی آخرالزمان رجال یختلون الدنیا بالدین یلبسون للناس جلود الضان من الین السنتہم احلی من السکروقلوبہم قلوب الذیاب یقول اللہ أبی تغترون ام علی تجترؤن فبی حلفت لابعثن علیٰ اولئک منہم فتنۃ تدع الحلیم منہم حیراناً

(سنن ترمذی ابواب الزہد باب ماجاء فی ذہاب البصر ص ٦٦ ج ٢)

﴿کہتے تھے حضرت ابو ہریرہؓ کہ فرمایا رسول خدا ﷺ نے نکلیں گے آخری زمانہ میں کتنے اشخاص، طلب کریں گے دنیا کو ساتھ دین کے پہنیں گے واسطے لوگوں کے چمڑے دنبے کے، واسطے اظہار نرمی کے، زبانیں ان کی شیریں زیادہ شکر سے ہونگی اور ان کے دل بھیڑیوں کے سے ہوں گے۔ فرماتا ہے اللہ کیا بسبب مہلت دینے میرے کو ان کو مغرور ہوتے ہیں یا اوپر میرے جرات کرتے ہیں پس اپنی قسم کھاتا ہوں کہ البتہ مسلط کروں گا ان لوگوں پر انہیں میں سے ایک فتنہ کہ چھوڑے گا مرد عاقل کو ان میں سے حیران۔﴾

نوٹ : یہی روایت ان الفاظ کے ساتھ (جائزۃ الاحوذی ج ٢ ص ١٥٦، مشکوٰۃ مترجم ج ٤ ص ٥٠، مرقاۃ ج ٥ ص ١٠٠، ١٠١، اشعۃ اللمعات ج ٤ ص ٢٦٨، ٢٦٩، مظاہر حق ج ٤ ص ٢٧٤، منتخب کنز العمال ج ٦ ص ١١، کتاب الترغیب والترہیب ج ١ ص ١٨، تیسیر الوصول الی جامع الاصول ج ٢ ص ٥٥، ٥٦ پر) موجود ہے۔

(کنز العمال نامی ج ٧ (مطبوعہ ١٣١٤ھ مطبع دائرہ المعارف حیدر آباد دکن) ص ١٧٤ پر) ایک روایت ان الفاظ میں لکھی ہے :

”يخرج في آخر الزمان دجال يختلون الدنيا بالدين يلبسون للناس جلود الضان من الدين السنتهم احل من العسل وقلوبهم قلوب الذياب يقول اللّٰه عزوجل ابی يفترون ام على

صفحہ ٥٠

يجترون حتي حلفت لابعثن على اولئك منهم فتنة تدع الحليم منهم حيران عن ابى هريره “

غرض یہ کہ (کنز العمال ج ٧ ص ١٧٤ پر) مندرجہ بالا عبارت لکھنے میں مطبع والوں سے چھ غلطیاں ہوئی ہیں۔ مرزا قادیانی اور ان کے مریدوں نے تحقیق سے کام نہیں لیا بلکہ اپنا مطلب سیدھا کرنے کی غرض سے یہی غلط چھپی ہوئی عبارت اپنی کتابوں میں نقل کر دی ہے۔

غلطی نمبر ١ : سنن ترمذی ص ٣٢٦ پر لفظ (رجال بالراء) ہے مگر کنز العمال ج ٧ ص ١٧٤ پر غلطی سے (دجال بلدال) چھپ گیا ہے۔ دیکھئے جائزۃ الشعوذی ج ٢ ص ١٥٦ منتخب کنز العمال علیٰ مسند احمد ج ٦ ص ١١‘ مشکوٰۃ مترجم ج ٤ ص ٥٠‘ مرقاۃ ج ٥ ص ١٠٠‘ اشعۃ اللمعات ج ٤ ص ٢٦٨‘ مظاہر حق ج ٤ ص ٢٧٤‘ کتاب الترغیب والترہیب ج ١ ص ١٨ اور کتاب تیسیر الوصول ج ٢ ص ٥٥ پر لفظ (رجال بالراء) ہی موجود ہے۔

غلطی نمبر ٢ : سنن ترمذی ص ٣٢٦ پر لفظ (اللين) ہے۔ مگر کنز العمال ج ٧ ص ١٧٤ پر لفظ (الدین) چھپ گیا ہے۔

غلطی نمبر ٣ : سنن ترمذی ص ٣٢٦ پر لفظ ( السکر ) ہے۔ مگر کنز العمال ج ٧ ص ١٧٤ پر لفظ (العسل ) چھپ گیا ہے۔

غلطی نمبر ٤ : سنن ترمذی ص ٣٢٦ پر لفظ (فبی) ہے۔ مگر کنز العمال ج ٧ ص ١٧٤ پر لفظ (حتی) چھپ گیا ہے۔

غلطی نمبر ٥ : سنن ترمذی ص ٣٢٦ پر لفظ (یقول اللہ) ہیں۔ مگر

صفحہ ٥١

کنز العمال ج ٧ ص ١٧٤ پر الفاظ (یقول اللہ عزوجل) ہیں۔

غلطی نمبر ٦ : کنز العمال ج ٧ ص ١٧٤ پر لکھا ہے (ن عن ابی ہریرہ) یعنی نسائی نے روایت کیا ہے حضرت ابو ہریرہؓ سے۔ حالانکہ یہ روایت سنن نسائی میں نہیں ہے بلکہ سنن ترمذی میں ہے۔ دیکھئے منتخب کنز العمال ج ٦ ص ١١ پر صحیح کر کے لکھا گیا ہے کہ (ت عن ابی ہریرہ)

افسوس صد افسوس مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے مریدوں پر ہے کہ انہوں نے تحقیق سے کام نہیں لیا بلکہ اپنا مطلب سیدھا کرنے کی غرض سے کنز العمال ج ٧ ص ١٧٤ پر غلط عبارت نقل کی ہے اور کسی نے عقل و فکر سے کام نہیں لیا۔

باب پنجم

مسیح کا ظہور ہند میں نہیں بلکہ شام میں

گرمی کا موسم ہے۔ جون کا مہینہ ہے۔ موسم گرما اپنے عالم شباب پر ہے۔ گرمی کی بڑی شدت ہے۔ شہر امرتسر کے مشرقی حصہ دروازہ مہاں سنگھ کے قریب ایک کوچے میں صبح کے قریب دس بجے اتوار کے دن ایک مکان میں چند دوستوں کا مجمع ہے۔ ان میں مذہبی گفتگو ہو رہی ہے۔ ایک مرزائی اس کا مد مقابل ایک اہل سنت ہے۔ چند احباب اور بھی تشریف فرما ہیں۔ گفتگو میں سختی اور درشتی نہیں ہے بلکہ سنجیدگی اور متانت ہے زیر بحث یہ مسئلہ ہے کہ آیا مسیح موعود ملک ہند میں ہوں گے یا شام میں؟۔ مرزائی کا اس پر اصرار ہے کہ مسیح موعود ملک ہندوستان میں ہوا ہے۔ چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی مہدی مسعود و مسیح موعود ہیں۔ اہل سنت کا یہ عقیدہ ہے کہ مسیح موعود ملک شام میں نازل ہوگا۔ مرزائی نے جو دلائل دعویٰ کے اثبات میں پیش کئے اور اہل سنت نے جو جوابات دیئے ان کو ناظرین کی دلچسپی کے لئے درج ذیل کیا جاتا ہے :

صفحہ ٥٢

مرزائی (١).......: اس مہدی کے لئے جو مسیح بھی ہے مشرقی جانب مخصوص ہے ان مثل عیسیٰ عنداللہ کمثل آدم عیسیٰ کو آدم سے تشبیہ دی گئی ہے اور آدم کا نزول ہند میں ہوا۔ پس عیسیٰ بھی ہند میں نازل ہوگا۔ (٢)....... کنز العمال ج ٧ ص ٣ باب غزوۃ الہند میں امام نسائی نے دو گروہوں کا ذکر کیا ہے۔ ایک وہ جو ہند میں جہاد کرے گا وعصابة معه عیسیٰ ابن مریم اور ایک وہ جو ہند میں مسیح موعود کے ساتھ ہوگا۔ (٣)....... تمام مفسرین کا اس پر اجماع ہے کہ پیشگوئی : ” لیظهره علی الدین کلہ “ کا ظہور امام مہدی مسیح موعود کے ہاتھ پر ہوگا۔ پس اس کے ظہور کے لئے وہ ملک مناسب ہے جس میں ہر مذہب نمونہ موجود ہو اور سب کو آزادی بھی ہو اور یہ خصوصیت محض ہند کو ہے اور ایک صاحب نے مہدی پنجاب ہند کے اعداد یکساں بیان کئے ہیں تاکہ مناسبت ظاہر ہو۔ (٤)....... دجال کے ظہور کا مقام بھی مشرق ہے پس اس فتنہ کا دور کرنے والا بھی مشرق ہی میں چاہئے۔ (٥)....... پھر ایک حدیث میں جو جواہر الاسرار محررہ ٨٤٠ھ میں ہے اس میں صاف لکھا ہے : ”یخرج المہدی من قرية یقال له قده “ یعنی قادیاں اور یہ دمشق کی شرق میں بھی ہے۔“

نوٹ : مذکورہ بالا مضمون قادیان کے رسالہ (تشحیذ الاذہان ج ٧ نمبر ٧ ص ٢٩٩‘ ٣٠٠ اور تشحیذ الاذہان بابت ماہ اگست ١٩٤٠ء ص ٦٤) پر ہے :

جواب از اہل سنت

مرزائی کے پیش کردہ پانچ دلائل کی تردید کرنے سے پیشتر میں چند دلائل اپنے عقیدہ کی تائید میں عرض کرتا ہوں اور میرا یہ عقیدہ ہے کہ مسیح موعود عیسیٰ بن مریم ملک شام میں ہوں گے۔ ان مندرجہ ذیل احادیث نبویہ کو غور سے سنئے :

صفحہ ٥٣

دلیل نمبر ١: (الف)...... ”حضرت مجمع بن جاریہؓ صحابی روایت کرتے ہیں کہ میں نے سنا رسول اللہ ﷺ سے کہ آپ فرماتے تھے کہ ابن مریم دجال کو باب لد پر قتل کرے گا۔“ (سنن ترمذی شریف ص ٤٩ ج ٢ باب ماجاء فی قتل عیسیٰ بن مریم الدجال اور کتاب جائزہ

الشعوذی شرح سنن ترمذی ج ٢ ص ١١١)

(ب)....... حضرت نواسؓ بن سمعان سے ایک حدیث نبوی آئی ہے جس کا ایک حصہ یوں ہے :

”مسیح دجال کو تلاش کریں گے۔ اس کو پائیں گے باب لد پر۔ پس اس کو قتل کر ڈالیں گے۔“ (صحیح مسلم شریف ج ٢ ص ٤٠١‘ سنن ابن ماجہ ص ٣٠٦ ترمذی ص ٤٨ ج ٢ باب ماجاء فی فتنہ الدجال)

نوٹ نمبر ١: ”لد علاقہ فلسطین میں ایک گاؤں ہے۔“ (نووی شرح صحیح مسلم ج ٢ ص ٤٠١‘ جائزہ الشعوذی ج ٢ ص ١١٠ رفع العجاجۃ عن سنن ابن ماجہ ج ٣ ص ٤٢٨‘ مرقاۃ المفاتیح ج ٥ ص ١٨٧‘١٨٨ اشعۃ اللمعات ج ٤ ص ٣٥١‘ مظاہر حق ج ٤ ص ٣٥٧‘ مجمع البحار ج ٤ ص ٤٩٠ (طبع مدینہ ١٩٩٤) قاموس ج ١ ص ٣٤٨‘ تاج العروس ج ٢ ص ٤٩٣‘ منتہی الارب ج ٤ ص ٨٠‘ لسان العرب ج ٤ ص ٣٩٦)

نوٹ نمبر ٢: ”حضرت ابن مریم دجال کی تلاش میں لگیں گے اور لد کے دروازہ پر جو بیت المقدس کے دیہات میں سے ایک گاؤں ہے اس کو جا پکڑیں گے اور قتل کر ڈالیں گے۔“

(ازالہ اوہام ص ٢٢٠‘ خزائن ص ٢٠٩ ج ٣)

دلیل نمبر ٢: حضرت ابو ہریرہؓ سے منقول ہے کہ روایت کی حضرت رسول خدا ﷺ سے کہ آپ نے فرمایا کہ مسیح الدجال جانب مشرق سے نکلے گا اور قصد اس کا مدینہ مطہرہ میں آنے کا ہوگا۔ یہاں تک کہ کوہ احد کے پیچھے ٹھہرے گا۔ پھر فرشتے اس کا منہ (ملک) شام کی طرف پھیر دیں گے اور وہاں ہی وہ ہلاک ہوگا۔ (مشکوٰۃ شریف ص ٤٧٥ باب العلامات بین یدی الساعۃ وذکر الدجال‘ فصل اول مرقاۃ المفاتیح ج ٥ ص ٢٠٤‘ اشعۃ اللمعات ج ٤ ص ٣٥٧‘ مظاہر حق ج ٤ ص ٣٦٢)

صفحہ ٥٤

دلیل نمبر ٣ : حضرت علیؓ سے ایک روایت ہے جس کا ایک حصہ یہ ہے ” يقتله الله تعالى بالشام على عقبة يقال لها عقبة افيق ثلاث ساعات يمضين من النهار على يدى عيسى ابن مريم “

(کنز العمال ج ٧ ص ٢٦٧)

﴿اللہ تعالیٰ دجال کو ملک شام میں ایک ٹیلے پر جس کو افیق کہتے ہیں دن کے تین ساعت میں عیسیٰ ابن مریم کے ہاتھ سے قتل کرائے گا۔ (عسل مصفے حصہ دوم ص ٧٦)﴾

دلیل نمبر ٤ : ” عن ابى هريرة قال قال رسول الله ﷺ وذكر الهند يغزو الهند بكم جيش يفتح الله عليه حتى ياتوا بملوكهم مغللين بالسلاسل يغفر الله ذنوبهم فينصرون حين ينصرفون فيجدون ابن مريم بالشام ٠ نعيم بن حماد “

(کنز العمال ج ٧ ص ٢٦٧ کتاب حجج الکرامہ ص ٣٤٣)

دلیل نمبر ٥ : ” حدثنا عبدالله حدثنى ابى ثنا سليمان بن داؤد قال ثنا حرب بن شداد عن يحيى بن ابى كثير قال حدثنى الحضرمى بن لاحق ان ذكوان ابا صالح اخبره ان عائشة اخبرته قالت دخل على رسول الله ﷺ وانا ابكى فقال لى ما يبكيك قلت يا رسول الله ذكرت الدجال فبكيت فقال رسول الله ﷺ ان يخرج الدجال وانا حى كفيتكموه وان يخرج الدجال بعدى فان ربكم عزوجل ليس باعور انه يخرج فى يهودية اصبهان حتى يأتى المدينة ينزل ناحيتها ولها يومئذ سبعة ابواب على كل نقب منها ملكان فيخرج اليه شرار اهلها حتى الشام مدينة بفلسطين بباب لد قال

صفحہ ٥٥

ابوداؤد مرة حتى يأتي بفلسطين باب لد فينزل عیسیٰ عليه السلام فيقتله ثم يمكث عيسى عليه السلام في الارض اربعين سنة اماما عدلا وحكما مقسطا“ (مسند احمد مطبوعہ بیروت ج ٦ ص ٧٥)

۞ مختصر ترجمہ : دجال مدینے سے شام میں چلا جائے گا وہاں حضرت عیسیٰ اتریں گے تو اس کو قتل کر ڈالیں گے.....................الخ ۞

دلیل نمبر ٦ : حضرت ابو امامہ الباہلیؓ سے ایک لمبی روایت مرفوعاً آئی ہے

جس کا ایک حصہ یوں ہے : ”عرب میں سے اکثر لوگ بیت المقدس میں ہوں گے ان کا امام ایک نیک شخص ہو گا ایک روز ان کا امام آگے بڑھ کر صبح کی نماز پڑھانا چاہے گا اتنے میں حضرت عیسیٰ صبح کے وقت اتریں گے تو یہ امام ان کو دیکھ کر الٹے پاؤں پیچھے ہٹے گا تا کہ حضرت عیسیٰ آگے ہو کر نماز پڑھا دیں لیکن حضرت عیسیٰ اپنا ہاتھ اس کے دونوں مونڈھوں کے درمیان رکھ دیں گے۔ پھر اس سے فرمائیں گے تو ہی آگے بڑھ اور نماز پڑھا۔ اس لئے کہ یہ نماز تیرے ہی لئے قائم ہوئی تھی۔ خیر وہ امام لوگوں کو نماز پڑھاوے گا جب نماز سے فارغ ہو گا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے دروازہ کھول دو۔ دروازہ کھول دیا جائے گا۔ وہاں پر دجال ہو گا ستر ہزار یہودیوں کے ساتھ جن میں سے ہر ایک کے پاس تلوار ہو گی۔ جب دجال حضرت عیسیٰ کو دیکھے گا تو ایسا گھل جاوے گا جیسے نمک پانی میں گھل جاتا ہے اور دجال بھاگے گا اور حضرت عیسیٰ فرمادیں گے میرا ایک وار تجھ کو کھانا ہے تو اس سے بچ نہ سکے گا۔ آخر باب لد کے پاس اس کو پاویں گے اور اس کو قتل کریں گے ۔ پھر اللہ تعالیٰ یہودیوں کو شکست دے گا۔“ (سنن ابن ماجہ ص ٢٩٧‘٢٩٨ باب فتنہ الدجال و خروج عیسیٰ بن مریم و خروج یاجوج ماجوج اور رفع العجاجہ عن سنن ابن ماجہ ج سوم ص ٣٣٨)

صفحہ ٥٦

نوٹ: اس حدیث نبوی نے تو مرزا قادیانی کی مسیحیت اور باطلہ تاویلات پر پانی پھیر دیا ہے۔

دلیل نمبر ٧ : حضرت قتادہؒ تابعی نے بھی فرمایا ہے کہ ملک شام ارض محشر ہے اس جگہ لوگ جمع ہوں گے اور اس جگہ عیسیٰ نازل ہو گا اور اس جگہ اللہ گمراہ جھوٹے دجال کو ہلاک کرے گا۔

(ابن جریر ج ٧، ص ٣١)

عرض حبیب

ملک شام ہی میں آپ کا نزول ہو گا۔

یہود اور دجال کو قتل کریں گے۔

کر تلوار اٹھائیں گے۔ دجال کے قتل کے بعد جنگ بند ہو جائے گی۔ (سنن ابن ماجہ)

کریں گے۔

گے۔ (طبقات ابن سعد ج ١ ص ٢٦)

آنحضرت ﷺ کے دین پر ہوں گے۔

صفحہ ٥٧

(رسالہ انتباہ الاذکیا س ١٤ و الحج الکرامہ ص ٤٢٨)

ان کی قبر چوتھی ہو گی۔ (الحج الکرامہ ص ٤٢٩‘ ٤٣٠)

مرزائی کے دلائل کا جواب

کمثل آدم خلقہ من تراب ثم قال لہ کن فیکون“ میں حضرت مسیح ناصری کی مثال حضرت آدم سے پیش کی گئی ہے۔ یعنی آپ بن باپ پیدا ہوئے اور حضرت آدم بن باپ و بن ماں۔

اس آیت میں کسی ”مثیل مسیح“ کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

ج ٧ ص ٢٠٢ کے حوالہ سے جو روایت پیش کی گئی ہے اس میں لفظاً یا اشارتاً اس بات کا کوئی ذکر نہیں ہے کہ مسیح موعود ہند میں ہو گا۔ البتہ کنز العمال ج ٧ ص ٢٦٧ اور حج الکرامہ ص ٤٢٣ کے حوالہ سے جو روایت میں نے بطور دلیل چہارم لکھی ہے اس کے الفاظ : ”فیجدون ابن مریم بالشام“ صاف ظاہر کرتے ہیں کہ ابن مریم ملک شام میں ہوں گے۔

ہیں اور وہاں مذہبی آزادی بھی ہے۔

صفحہ ٥٨

جانب سے ملک خراسان سے خروج کرے گا۔ مگر نصاریٰ یورپ (پادری اور فلاسفر) تو مغرب سے آئے ہیں اور یورپ ایشیاء کے مغرب میں ہے۔

(مشکوٰۃ شریف مترجم ص ٤٧٧ باب العلامات بین یدی الساعۃ وذکر الدجال)

محدث ابن عدی نے ”کامل“ میں یہ روایت لکھی ہے :

” يخرج المهدى من قرية باليمن يقال لها كرعة “

مگر اس روایت میں ایک راوی عبدالوہاب بن ضحاک ہے جس کو ابو حاتم نے جھوٹا کہا۔ نسائی وغیرہ نے متروک کہا۔ دارقطنی نے منکر الحدیث کہا ہے۔

(میزان الاعتدال ج ٢ ص ١٦٠‘١٦١)

کتاب فصل الخطاب قلمی ‘ غایت المقصود ج ١ ص ١٦٤‘ ١٦٥‘ لجج الکرامہ ص ٣٥٨ پر حوالہ دلائل النبوت لفظ ”کرعہ “ لکھا ہے۔ لفظ کدہ ‘ کدیہ ‘ کدعہ ‘ صحیح نہیں ہے۔ بلکہ لفظ ”کرعہ “ ہے۔ (نیز دیکھو احوال الآخرت حافظ محمد صاحب ص ٢٣)

باب ششم

حضرت مسیح ناصری کا مہد میں کلام کرنا

آیات قرآنی :

اسمہ المسیح عیسی ابن مریم وجیھاً فی الدنیا والآخرۃ ومن المقربین ویکلم الناس فی المھد وکھلا ومن الصلٰحین“

(سورۃ آل عمران آیت ٤٥‘ ٤٦)

﴿جس وقت فرشتوں نے کہا اے مریم تحقیق اللہ تعالیٰ تجھ کو اپنی طرف سے ایک کلمہ کی خوشخبری دیتا ہے کہ اس کا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم ہوگا اور دنیا اور آخرتِ

صفحہ ٥٩

میں آبرو والا اور خدا کے مقرب بندوں میں سے اور لوگوں سے باتیں کرے گا جھولے میں اور ادھیڑ عمر میں اور صالح بندوں میں سے ہو گا۔﴿

(٢)......”اذقال الله ياعيسى ابن مريم اذكر نعمتى عليك وعلى والدتك اذ ايدتك بروح القدس تكلم الناس فى المهدوكهلا“

(سورۃ المائدہ آیت ١١٠)

﴿قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے عیسیٰ ابن مریم یاد کر میری نعمت تجھ پر اور تیری ماں پر جس وقت کہ میں نے تیری روح القدس (جبرائیل علیہ السلام) کے ساتھ مدد کی تھی اور تو باتیں کرتا تھا جھولے میں اور ادھیڑ عمر میں ۔﴾

(٣)......”فأتت به قومها تحمله قالوا يامريم لقدجئت شيئاً فريا يا خت هارون ماكان ابوك امرء سوء وماكانت امك بغيا فاشارت اليه قالوا كيف نكلم من كان فى المهد صبيا قال انى عبد الله...... الخ“

(سورۃ مریم آیت ٢٧ تا ٣٠)

﴿پس حضرت مریم صدیقہ ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی گود میں اٹھائے ہوئے اپنی قوم میں آئی لوگوں نے کہا اے مریم ! تو ایک عجیب چیز لائی۔ اے ہارون کی بہن ! تیرا باپ برا آدمی نہ تھا اور تیری ماں بدکار نہ تھی۔ پس حضرت مسیح علیہ السلام کی طرف حضرت مریم نے اشارہ کیا۔ انہوں نے کہا ہم اس سے کیونکر کلام کریں جو مہد میں ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا تحقیق میں اللہ تعالیٰ کا بندہ ہوں خدا مجھے کتاب عطا فرمائے گا اور مجھے نبی کرے گا۔ اور کرے گا مجھ کو برکت والا جہاں میں ہوں اور مجھ کو حکم کرے گا نماز کا اور پاکیزہ زندگی بسر کرنے کا جب تک میں زندہ رہوں اور اپنی ماں کے ساتھ خوش سلوک۔ اور مجھ کو سرکش بدبخت نہ کرے گا اور مجھ پر سلام ہے جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مروں گا اور جس دن میں زندہ ہو کر اٹھوں گا۔﴾

صفحہ ٦٠

حدیث رسول اللہ ﷺ : "عن ابی ہریرۃ عن النبی ﷺ قال

لم یتکلم فی المہد الا ثلاثۃ عیسیٰ وکان فی بنی اسرائیل رجل یقال لہ جریج (الی آخر )"

(صحیح بخاری شریف باب واذکر فی الکتاب مریم کتاب الانبیاء ج اول ص ٤٨٨‘

٤٨٩‘ فتح الباری ج ٦ ص ٤٤٤‘ ٤٤٨ عمدۃ القاری ج ٧ ص ٢٤٢ ارشاد الساری ج ٥ ص ٤١١‘ ٤١٢ کتاب حجیۃ

الاخیار ترجمہ مشارق الانوار ص ٢٥٤‘ ٢٥٥)

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضرت نبی کریم ﷺ نے فرمایا تین بچوں کے سوا کسی نے ماں کی گود میں شیر خوارگی کی حالت میں کلام نہیں کیا۔ ایک حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور دوسرا بنی اسرائیل میں ایک مرد تھا اس کو لوگ جریج کہتے ہیں۔ ایک دفعہ جریج نماز پڑھتا تھا کہ اس کی ماں آئی اور اس نے جریج کو بلایا۔ جریج نے کہا کہ میں ماں کو جواب دوں یا نماز پڑھوں سو وہ اپنی نماز میں متوجہ رہا۔ اس کی ماں ناراض ہوئی اور اس نے بددعا کی کہ الٰہی اس کو مت ماریو جب تک کہ اس کو بدکار عورتوں کا منہ نہ دکھلائیو۔ اور جریج اپنے عبادت خانے میں تھا۔ سو ایک عورت اس کے سامنے آئی اور اس سے کلام کیا تو جریج نے نہ مانا۔ اس کے بعد وہ عورت ریوڑ چرانے والے کے پاس آئی۔ سو اس عورت نے اس کو اپنی ذات پر قادر کیا۔ سو وہ لڑکا جنی۔ کسی نے اس کو کہا کہ یہ لڑکا کس کے نطفے سے ہے۔ اس نے کہا جریج کے نطفے سے۔ لوگ اس کے پاس آئے۔ اس کے عبادت خانے کو توڑ ڈالا۔ اور اس کو عبادت خانے سے اتار ڈالا اور برا کہا اس پر جریج نے وضو کیا اور نماز پڑھی پھر لڑکے کے پاس آیا اور کہا کہ اے لڑکے تیرا باپ کون ہے؟۔ لڑکے نے کہا فلاں ریوڑ چرانے والا۔ لوگوں نے کہا کہ ہم تیرے واسطے سونے کا عبادت خانہ بنا دیتے ہیں۔ جریج نے جواب دیا نہیں مگر مٹی کا۔ اور تیسرا یہ کہ بنی اسرائیل میں ایک عورت اپنے بچے کو دودھ پلاتی تھی تو ایک مرد ادھر سے گزرا سنہری پوشاک والا۔ سو اس کی ماں نے کہا کہ الٰہی میرے بیٹے کو اس مرد کے برابر

صفحہ ٦١

کر دیجئیو۔ تو لڑکے نے اس کی چھاتی چھوڑ دی اور سوار کی طرف متوجہ ہوا سو کہا الٰہی مجھ کو ایسا نہ کیجئیو۔ پھر اپنی ماں کی چھاتی پر جھک کر پھر دودھ پینے لگا۔ حضرت ابو ہریرہؓ نے کہا گویا میں دیکھتا ہوں کہ نبی کریم ﷺ کی طرف کہ اپنی انگلی مبارک چوستے تھے۔ پھر لوگ ایک لونڈی کو لے کر نکلے تو اس لڑکے کی ماں نے کہا الٰہی میرے بیٹے کو اس لونڈی کی طرح نہ کیجئیو۔ تو اس لڑکے نے دودھ پینا چھوڑا اور اس لونڈی کی طرف دیکھا۔ سو کہا الٰہی مجھ کو ایسا ہی کیجئیو تو اس لڑکے کی ماں نے کہا کہ تو نے یہ کیوں کہا؟ تو لڑکے نے کہا کہ سوار ایک ظالم تھا ظالموں سے اور اس لونڈی کو کہتے ہیں تو نے زنا کیا تو نے چوری کی اور حالانکہ اس نے حرام کاری اور چوری نہیں کی تھی۔ ﴾

نوٹ: ایک دوسری روایت میں چار بچوں کے ماں کی گود میں کلام کرنے کا ذکر ہے۔ تین یہ جو اوپر ذکر ہوئے۔ چوتھے جس نے یوسف علیہ السلام کی برأت پر گواہی دی۔ (مرتب)

تفسیر از ابن عباسؓ

”عن ابن جريج قال قال ابن عباسؓ (ويكلم الناس فى المهد) قال مضجع الصبى فى رضاعه“

(تفسیر ابن جریر طبری ج ٣ ص ١٧١ ، ١٧٢ و درمنثور ج ٢ ص ٢٥)

نوٹ: ”واما المهد فانه يعنى به مضجع الصبى فى رضاعه“

(حافظ ابو جعفر محمد بن جریر طبری کی تفسیر جامع البیان ج ٣ ص ١٧١)

تحریر مرزا قادیانی

”اور یہ عجیب بات ہے کہ حضرت مسیح نے تو صرف مہد میں ہی باتیں کیں مگر اس (مرزا کے) لڑکے نے پیٹ میں دو مرتبہ باتیں کیں۔“

(تریاق القلوب ص ١٥٧ خزائن ص ١٥٧ ج ١٥)

صفحہ ٦٢

محمد علی لاہوری کا مذہب

”فاتت بہ قومھا تحملہ“ لازماً حضرت عیسیٰ کے زمانہ نبوت سے تعلق رکھتا ہے اور حضرت عیسیٰ اس وقت حضرت مریم کی گود میں نہ تھے بلکہ سوار ہو کر یروشلم میں داخل ہوئے تھے اور سوار ہو کر داخل ہونا کسی خاص غرض سے تھا جیسا کہ انجیل میں ہے۔“

(بیان القرآن ص ٨٥٧ سورہ مریم)

”حضرت عیسیٰ تیس سال کے نوجوان تھے پرانے بزرگوں کے سامنے وہ بچہ ہی تھے۔ اس لئے انہوں نے کہا کہ جو ہمارے سامنے کا بچہ ہے ہم اس سے کیا خطاب کریں۔ اس کے سوائے : ”من کان فی المھد“ کے کچھ معنے نہیں بنتے۔“

(بیان القرآن ص ٨٥٨ سورہ مریم)

”یہ زمانہ نبوت کا کلام ہے نہ پیدائش کے فوراً بعد کا۔“

(بیان القرآن ص ٨٥٨ سورہ مریم)

سر سید احمد خان کا عقیدہ

”قرآن مجید سے صاف پایا جاتا ہے کہ یہ واقعہ ایسے وقت میں واقع ہوا تھا جب حضرت عیسیٰ نبی ہو چکے تھے۔ کیونکہ آپ نے فرمایا ہے کہ : ”انی عبداللہ آتانی الکتاب وجعلنی نبیا“ تاریخ پر اور انجیلوں پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ کی بارہ برس کی عمر تھی۔

(تفسیر القرآن ج ٢ ص ٣١)

”غرض اس قدر تو جملہ علمائے مفسرین تسلیم کرتے ہیں کہ یہ واقعہ ولادت کے زمانہ کے متصل واقع نہیں ہوا تھا اس کے بعد ہوا۔ کوئی مدت مابعد کے زمانہ کی چالیس دن اور کوئی قریب عمر مراہق یعنی بارہ برس کے قرار دیتا ہے اور ہم باستدلال قرآن مجید زمانہ نبوت قرار دیتے ہیں۔“

(تفسیر القرآن ج ٢ ص ٣١)

صفحہ ٦٣

نوٹ : حضرت مسیح علیہ السلام کا والدہ کی گود میں حالت صغر سنی باتیں کرنا قرآن وسنت سے ثابت ہے جیسا کہ آپ نے مطالعہ کیا۔ محمد علی لاہوری مرزائی اور سرسید نیچری کا عقیدہ اسلام اور اہل اسلام کی تصریحات کے خلاف ہے۔ (مرتب)

باب ہفتم

شق القمر للمعجزه سید البشر

شق القمر کے معجزہ پر مرزا قادیانی اور اس کی امت

کے مختلف خیالات

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

”اقتربت الساعة وانشق القمر وان يروا آية يعرضوا ويقولوا سحر مستمر وكذبوا واتبعوا اهواء هم وكل امر مستقر“

(سورۃ القمر آیت ١‘ ٣)

﴿قیامت نزدیک آگئی اور چاند پھٹ گیا اور مشرک و کافر جب کوئی نشان دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ تو ہمیشہ کا قوی جادو ہے اور مخالفوں نے جھٹلایا اور اپنی خواہشوں کی پیروی کی اور ہر بات قرار پکڑنے والی ہے۔﴾

اقوال مرزا قادیانی

المشرقان اتنكر“ ﴿اس (آپ ﷺ) کے لئے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے (مرزا قادیانی) لئے چاند اور سورج دونوں کا۔ اب کیا تو انکار کرے گا۔﴾

(کتاب اعجاز احمدی ص ٧١‘ خزائن ص ١٨٣ ج ١٩)

صفحہ ٦٤

(٢)......”یہ آیت یعنی: ”وان یروا آیة یعرضوا ویقولوا سحر مستمر“ یہ آیت سورۃ قمر کی آیت ہے شق القمر کے معجزہ کے بیان میں اس وقت کافروں نے شق القمر کے نشان کو ملاحظہ کر کے جو ایک قسم کا خسوف تھا۔ یہی کہا تھا کہ اس میں کیا انوکھی بات ہے۔ قدیم سے ایسا ہی ہوتا آیا ہے کوئی خارق عادت امر نہیں ۔“

(کتاب نزول المسیح ص ٢٨ خزائن ص ٥٠٦ ج ١٨)

(٣)......”کیا ممکن نہیں کہ اس میں حکیم مطلق نے انشقاق واتصال کی دونوں خاصیتیں رکھی ہوں ۔ جن کا ظہور اوقات مقررہ سے وابستہ ہو اور ازلی ارادہ سے وہی وقت ظہور مقرر ہو جبکہ ایک نبی سے ایسا ہی معجزہ مانگا گیا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ نبی کی قوت قدسیہ کے اثر سے دیکھنے والوں کو کشفی آنکھیں عطا کی گئی ہوں اور جو انشقاق قرب قیامت میں پیش آنے والا

صفحہ ٦٥

بطور پیشگوئیوں کے ہیں۔ اس صورت میں شق کا لحاظ محض استعارہ کے رنگ میں ہو گا۔ کیونکہ خسوف کسوف میں جو حصہ پوشیدہ ہوتا ہے گویا وہ پھٹ کر علیحدہ ہو جاتا ہے۔ ایک استعارہ ہے۔“

(کتاب چشمہ معرفت ص ٢٢٣‘ خزائن ص ٢٣٢ ج ٢٣)

قادیانی) کیا فرماتے ہیں۔ فرمایا ہماری رائے میں یہی ہے کہ وہ ایک قسم کا خسوف تھا۔ ہم نے اس کے متعلق اپنی کتاب چشمہ معرفت میں لکھ دیا ہے۔“

(اخبار بدر قادیان مورخہ ٢٤؍مئی ١٩٠٨ء‘ ج ٧‘ نمبر ١٩، ٢٠‘ ص ٥ کالم ٣‘ ملفوظات ج ١٠ ص ٧٥٣)

خسوف کا تھا۔ مولوی سید محمد احسن صاحب امروہی (قادیانی) نے جواب دیا کہ عبداللہ بن عباس کا بھی یہی مذہب ہے اور ہمارا مذہب بھی یہی ہے کہ از قسم خسوف تھا۔ کیونکہ بڑے بڑے علماء اس طرف گئے ہیں۔“

(اخبار الحکم مورخہ ٢٤؍جنوری ١٩٠٣ء‘ ص ١٣‘ اخبار بدر مورخہ ١٣؍فروری ١٩٠٣ء ص ٢٦‘ ملفوظات ص ٣٩١ ج ٤)

مذہب مرزا محمود احمد قادیانی

سوال: ”کیا شق القمر کا معجزہ کفار کی خواہش پر دکھایا گیا؟۔ فرمایا اس میں ایک پیشگوئی تھی کہ عرب کی حکومت مٹا دی جائے گی۔ چاند فی الواقع دو ٹکڑے نہیں ہوا تھا۔ بلکہ کشف میں ایسا دکھایا گیا تھا اور کشف ایسے ہو سکتے ہیں کہ دوسرے بھی ان میں شامل ہوں۔ چنانچہ اس مجلس والوں نے چاند کو دو ٹکڑے ہوتے دیکھا اور ہندوستان کے ایک راجہ نے بھی اس کو دیکھا تاکہ آئندہ کے لئے گواہی ہو۔ یہ خیال کہ فی الواقع چاند دو ٹکڑے ہو گیا تھا صحیح نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو علم نجوم والے جو رصد گاہوں میں بیٹھے تھے وہ ضرور دیکھتے۔ لیکن انہوں نے اس کو ریکارڈ نہیں کیا۔“

(اخبار الفضل قادیان مورخہ ١٧؍جولائی ١٩٢٢ء ص ٧ کالم ٣ ج ١٠ نمبر ٥)

صفحہ ٦٦

جواب

چاند گرہن نہیں بلکہ انشقاق قمر

مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ : ”اس کے لئے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا۔“

(اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ١٨٣ج ١٩)

مرزا قادیانی کا یہ موقف کہ انشقاق قمر دراصل خسوف تھا۔ سو یہ صحیح نہیں ہے۔........... اس لئے کہ قرآن مجید کی آیات مقدسہ اور صحیح حدیثوں سے یہ بات ثابت نہیں ہے کہ آپ ﷺ کے لئے چاند کے گرہن کا نشان ہوا تھا۔ بلکہ فرقان حمید کی آیت مبارکہ اور صحیح حدیثوں سے آپ کے لئے چاند کے ٹکڑے ہونے کا نشان ظاہر ہونا ثابت ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

”يسئل ايان يوم القيامة فاذا برق البصر وخسف القمر“ ﴿پوچھتا ہے کہ کب ہو گا قیامت کا دن پس جبکہ آنکھیں پتھرا جاویں گی اور چاند گرہن جاوے گا۔﴾

(سورۃ القیامہ آیت ٦‘٧‘٨)

اللہ تعالیٰ نے سورۃ القمر کے رکوع اول میں الفاظ :”اقتربت الساعة وانشق القمر“ بیان فرمائے ہیں اور الفاظ :”اقتربت الساعة وخسف القمر“ نہیں فرمائے۔

غرض ثابت ہوا کہ چاند گرہن اور چیز ہے اور چاند کا شق ہونا اور چیز ہے۔

لفظ شق کا استعمال

(سورۃ الانشقاق آیت نمبر ١)

صفحہ ٦٧

پھاڑنا۔﴾

(سورۃ عبس آیت نمبر ٢٦)

لما يشقق فيخرج منه الماء"﴿اور تحقیق بعض پتھروں میں سے وہ ہیں کہ پھٹ جاتی ہیں اس سے نہریں اور تحقیق بعض ان میں وہ ہیں کہ پھٹ جاتا ہے۔ پس اس میں سے پانی نکلتا ہے۔﴾

(سورۃ البقرہ آیت نمبر ٧٤)

شق القمر کشفی واقعہ نہیں تھا

سورۃ القمر کی آیت مبارکہ : ” اقتربت الساعة وانشق القمر“ صاف ظاہر کر رہی ہے کہ چاند فی الواقع دو ٹکڑے ہو گیا تھا۔ اس آیت مبارکہ سے اور کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہوتا کہ یہ ایک کشف تھا۔ قرینہ صارفہ کے بغیر آیت کو ظاہر سے پھیرنا جائز نہیں ہے۔

پادری عماد الدین کا مغالطہ

پادری عماد الدین مشرک نے لکھا ہے :

”مفسروں نے لکھا ہے کہ اکثروں کے نزدیک شق القمر ہو گیا۔ مگر بعضوں کے نزدیک نہیں ہوا۔ چنانچہ علامہ زمخشری نے تفسیر کشاف میں لکھا ہے : وعن بعض الناس ان معناه ينشق يوم القيامة“ یعنی بعض آدمیوں نے یوں کہا ہے کہ معنی اس کے یہ ہیں کہ قیامت کو شق القمر ہو گا اور بیضاوی نے کہا : ”وقيل معناه سينشق يوم القيامة“

(تحقیق الایمان باب اول فصل اول ص ٣٢)

مسیحی کے مغالطے کا جواب

سورۃ القمر کی آیت مقدسہ بلحاظ الفاظ و معانی کے بالکل صاف اور واضح ہے

صفحہ ٦٨

منکرین کو بجز اس کے کوئی موقع ہاتھ پاؤں مارنے کا نہیں ملا کہ انشق کو جو صیغہ ماضی ہے اور جس کا ترجمہ ”پھٹ گیا“ ہے۔ صیغہ مستقبل کے معنی میں لیتے ہیں اور اس کا ترجمہ کرتے ہیں ”پھٹ جائے گا“ مگر اس کی تردید خود آیت شریفہ کے الفاظ کر رہے ہیں۔

اول لفظ اقتربت جو صیغہ ماضی ہے حقیقۃً ماضی کے معنوں میں ہے اگر صیغہ انشق کو مستقبل میں لیا جائے تو اقتربت کو بھی مستقبل کے معنی میں لینا چاہیے ورنہ ترجمہ بالکل غلط ہو جائے گا کیونکہ اقتربت کو بصیغہ ماضی اور انشق کو بمعنی مستقبل لینے سے یہ مطلب حاصل ہو گا کہ قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ جائے گا۔ مگر غور کرنے سے معلوم ہو گا کہ یہ ترجمہ بلاغت قرآن شریف کے بالکل منافی ہے اور اسلوب آیات قرآنیہ ہر گز اس کا مقتضی نہیں بلکہ اسلوب صحیح کے مطابق جو جابجا قرآن مجید کی آیات میں خصوصاً سورۃ تکویر اور سورۃ انفطار میں ملحوظ رکھا گیا ہے یوں چاہیے تھا : ”اذا اقتربت الساعة وانشق القمر“ یعنی جب قیامت نزدیک آئے گی تو چاند پھٹ جائے گا۔ مگر یہ تو بالکل بے معنی بات ہے کہ قیامت آگئی اور چاند پھٹ جائے گا۔ کیونکہ قیامت کے نزدیک آنے کا تو حقیقۃً بزمانہ ماضی دعویٰ کیا گیا ہے اور چاند کے پھٹ جانے کا بزمانہ استقبال۔ ہاں اگر لفظ یوں ہوتے : ”وقعت الساعة وانشق القمر“ یعنی قیامت ہو گئی اور چاند پھٹ گیا تو بے شک یہ توجیہہ ہو سکتی تھی کہ چونکہ قیامت کا وقوع اور چاند کا پھٹنا ہر دو یقینی امر ہیں۔ اس لئے ہر دو کے وقوع کو جو بزمانہ استقبال ہو گا۔ صیغہ ماضی کے ساتھ تعبیر کر دیا ہے مگر لفظ اقتربت کی صورت میں وہ توجیہہ صحیح نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ گو ابھی قیامت نزدیک نہیں ہوئی اور آئندہ کبھی نزدیک ہو گی مگر اس کے یقینی ہونے کی وجہ سے کہہ دیا گیا کہ نزدیک آئی۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ نزدیک آنے کی زمانہ مستقبل میں خبر دینا بالکل فضول

صفحہ ٦٩

امر ہے کیونکہ قرآن مجید میں بار بار نفس قیامت کے وقوع کو بصیغہ ماضی ذکر کیا گیا ہے نہ اس کے نزدیک آجانے کے وقوع کو مثلاً : ”اتی امراللہ فلا تستعجلوہ“ یا : ” اقترب للناس حسابہم“ کیونکہ : ”اقترب“ بمعنی نزدیک آجانا تو بزمانہ مبارک نبویؐ واقع ہو چکا تھا۔ چنانچہ احادیث صحیحہ اس امر پر دال ہیں یہ بات ذرا غور طلب ہے کیونکہ وقوع کی خبر صیغہ ماضی کے ساتھ دینا اور معنی مستقبل کے مراد رکھنا اور قرب وقوع کی خبر بصیغہ ماضی دینا اور معنی مستقبل کے مراد لینا ہر دو ایک امر نہیں۔ پہلی صورت جو آیت مذکورہ بالا میں موجود نہیں صحیح ہے اور عین بلاغت اور دوسری بالکل غلط اور منافی بلاغت جو بزعم منکرین یہاں موجود ہے۔ ذرا غور کرو اور انصاف سے کام لو کہ آیا مقام تحذیر اور تہدید اس امر کا مقتضی ہے کہ منکرین کو یوں کہا جائے کہ قیامت آگئی اور چاند پھٹ گیا۔ یا اس امر کا مقتضی ہے کہ انہیں یوں سنایا جائے کہ قیامت قریب آجاوے گی اور چاند پھٹ جاوے گا؟۔ اس پچھلی لغو اور بے معنی تقریر کو تو کوئی وہی شخص مانے گا کہ جس کا دماغ قانون قدرت نے مختل کر رکھا ہو۔ ورنہ عقل و ہوش کا آدمی تو ایسی بے سروپا بات منہ سے نہ نکالے گا۔

ثانیاً سورۃ القمر کے الفاظ : ”وان یروا آیة یعرضوا ویقولوا سحر مستمر“ منکر کی کسی کٹ حجتی کو چلنے نہیں دیتے۔ کیونکہ یہ الفاظ صاف صاف اس امر کی شہادت دے رہے ہیں کہ منکرین نے کسی خرق عادت کو دیکھا ہے اور ضد اور ہٹ سے اس کو سحر سے تعبیر کردیا۔ تعجب ہے کہ منکرین ایسے اندھے ہوگئے ہیں کہ انہیں ان الفاظ پر مطلقاً توجہ نہیں۔ کیونکہ اگر بزعم منکر یہ تسلیم کیا جاوے کہ قرب قیامت میں بزمانہ مستقبل چاند پھٹے گا تو اسے سحر کہنے کا کیا مطلب ہے؟۔

(از رسالہ صوفی بابت ماہ نومبر ١٩١٢ء ص ٢٤‘ ٢٥)

صفحہ ٧٠

احادیث صحیحہ

صحیح بخاری شریف ج ٢ ص ٧٢١، ٧٢٢، کتاب التفسیر باب قوله وانشق القمر، فتح الباری ص ٤٧٤ ج ٨، ارشاد الساری ج ٧ ص ٣٦٤، ٣٦٥، عمدہ القاری ج ٩ ص ١٨٤، اعظم التفاسیر ج ٢٧ ص ٤٦٩، ٧٠ پر ہے :

کریم ﷺ کے زمانے میں چاند پھٹ کے دو ٹکڑے ہو گیا۔ ایک ٹکڑا پہاڑ کے اوپر اور ایک ٹکڑا نیچے تو حضرت نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ گواہی دو۔

حالانکہ ہم حضرت نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے سو ہو گیا چاند دو ٹکڑے تو حضرت نبی کریم ﷺ نے فرمایا گواہی دو، گواہی دو۔

حضرت نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں۔

ان کو کوئی نشانی دکھلا دیں۔ سو حضرت نبی کریم ﷺ نے ان کو چاند کا پھٹنا دکھلایا۔

نوٹ : تفسیر ابن جریر ج ١١ ص ٨٧، ٨٨، ابن کثیر ص ١٢٦، ١٣٠ ج ٤، فتح البیان ج ٩ ص ١٤٩، ١٥٠، ١٥١، درمنثور ج ٦ ص ١٣٢، ١٣٣، ١٣٤، خصائص الکبریٰ ج ١ ص ٣١٢، ٣١٤، کتاب الشفاء ج ١ ص ١٨٣، ١٨٤، ١٨٥، شرح الشفاء ج ١ ص ٥٨٤، ٥٨٩، مواہب لدنیہ ج ١ ص ٣٥٦، ٣٥٧، شرح مواہب للزرقانی ص ١٠٦، ١١٤ ج ٥ میں بھی معجزہ شق القمر کا بیان موجود ہے۔

مرزا قادیانی کا دوسرا عقیدہ

صفحہ ٧١

”اور اس جگہ یہ بھی واضح رہے کہ مسئلہ شق القمر ایک تاریخی واقعہ ہے جو قرآن شریف میں درج ہے اور ظاہر ہے کہ قرآن شریف ایک ایسی کتاب ہے جو آیت آیت اس کی بروقت نزول ہزاروں مسلمانوں اور منکروں کو سنائی جاتی تھی اور اس کی تبلیغ ہوتی تھی اور صد ہا اس کے حافظ تھے۔ مسلمان لوگ نماز اور خارج نماز میں اس کو پڑھتے تھے۔ پس جس حالت میں صریح قرآن شریف میں وارد ہوا کہ چاند دو ٹکڑے ہو گیا اور جب کافروں نے یہ نشان دیکھا تو کہا کہ جادو ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ”اقتربت الساعۃ وانشق القمر وان یروا آیۃ یعرضوا ویقولوا سحر مستمر“ تو اس صورت میں اس کے منکرین پر لازم تھا کہ آنحضرت ﷺ کے مکان پر جاتے اور کہتے کہ آپ نے کب اور کس وقت چاند کو دو ٹکڑے کیا اور کب اس کو ہم نے دیکھا۔ لیکن جس حالت میں بعد مشہور اور شائع ہونے اس آیت کے سب مخالفین چپ رہے اور کسی نے بھی دم نہ مارا۔ تو صاف ظاہر ہے کہ انہوں نے چاند کو دو ٹکڑے ہوتے ضرور دیکھا تھا۔ تب ہی تو ان کو چون و چرا کرنے کی گنجائش نہ رہی۔“

(کتاب سرمہ چشم آریہ ص ٤٨، ٤٩، خزائن ص ٦٢ ج ٢)

(ب)....... مرزا قادیانی لکھتا ہے : ” قرآن شریف میں مذکور ہے کہ آنحضرت ﷺ کی انگلی کے اشارہ سے چاند دو ٹکڑے ہو گیا اور کفار نے اس معجزہ کو دیکھا اس کے جواب میں یہ کہنا کہ ایسا وقوع میں آنا خلاف علم ہیئت ہے۔ یہ سراسر فضول باتیں ہیں کیونکہ قرآن شریف تو فرماتا ہے کہ : ”اقتربت الساعۃ وانشق القمر وان یروا آیۃ یعرضوا ویقولوا سحر مستمر“ یعنی قیامت نزدیک آگئی اور چاند پھٹ گیا اور کافروں نے یہ معجزہ دیکھا اور کہا کہ یہ پکا جادو ہے۔ جس کا آسمان تک اثر چلا گیا۔ اب ظاہر ہے کہ یہ نرا دعویٰ نہیں بلکہ قرآن شریف تو اس کے ساتھ ان کافروں کو گواہ قرار دیتا ہے جو سخت

صفحہ ٧٢

دشمن تھے اور کفر پر مرے تھے۔ اب ظاہر ہے کہ اگر شق القمر وقوع میں نہ آیا ہوتا تو مکہ کے مخالف لوگ اور جانی دشمن کیونکر خاموش بیٹھ سکتے تھے۔ وہ بلاشبہ شور مچاتے کہ ہم پر یہ تہمت لگائی ہے۔ ہم نے تو چاند کو دو ٹکڑے ہوتے نہیں دیکھا اور عقل تجویز نہیں کر سکتی کہ وہ لوگ اس معجزہ کو سراسر جھوٹ اور افتراء خیال کر کے پھر بھی چپ رہے۔ بالخصوص جبکہ ان کو آنحضرت ﷺ نے اس واقعہ کا گواہ قرار دیا تھا۔ تو اس حالت میں ان کا فرض تھا کہ اگر یہ واقعہ صحیح نہیں تھا تو اس کا رد کرتے نہ یہ کہ خاموش رہ کر اس واقعہ کی صحت پر مہر لگا دیتے۔ پس یقینی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ ظہور میں آیا تھا اور اس کے مقابل پر یہ کہنا کہ یہ قواعد ہیئت کے مطابق نہیں یہ عذرات بالکل فضول ہیں۔ معجزات ہمیشہ خارق عادت ہی ہوا کرتے ہیں ورنہ وہ معجزے کیوں کہلائیں اگر وہ صرف ایک معمولی بات ہو اور علاوہ اس کے علم ہیئت کی کسی نے ابتک حدبست کر لی ہے؟۔“

(کتاب چشمہ معرفت ضمیمہ ص ٤١‘ ٤٢‘ خزائن ص ٤١١ ج ٢٣)

اعتراض

”خود شق القمر کے متعلقہ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک قسم کا چاند گرہن تھا۔ حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ چاند کے دونوں ٹکڑوں میں سے ایک نظر آتا تھا اور دوسرا غائب تھا۔ جس سے پتہ لگتا ہے کہ یہ چاند گرہن تھا۔“

(اخبار پیغام صلح لاہور مورخہ ٧ شوال ١٣٤٠ھ ص ٦)

جواب

(صحیح بخاری شریف ج ٢ ص ٧٢١‘ ٧٢٢ پر) روایت یوں آئی ہے: ”عن ابن عباسؓ قال انشق القمر فی زمان النبی ﷺ“ یعنی حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ حضرت نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں چاند پھٹ گیا۔

صفحہ ٧٣

نوٹ : اس صحیح روایت سے صاف ظاہر ہے کہ چاند پھٹ گیا تھا۔

محمد علی ایم اے امیر جماعت مرزائیہ لاہور کا قول

محمد علی لاہوری نے لکھا ہے :

”ان تمام روایات سے جس نتیجہ پر ہم پہنچتے ہیں وہ اس حد تک یقینی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں انشقاق قمر دیکھا گیا۔ یعنی چاند کا پھٹنا دیکھا گیا...... ......لیکن جہاں تک اصل واقعہ کا تعلق ہے ایک طرف احادیث اس بارہ میں تواتر کو پہنچ گئی ہیں اور دوسری طرف قرآن کریم کے صریح الفاظ بھی اس پر دال ہیں کہ انشقاق قمر وقوع میں آیا۔“

(تفسیر بیان القرآن ص ١٣٢١ (سورۃ القمر)

PDF 74

حضرت مسیح کی قبر

کشمیر میں نہیں

صفحہ ٧٥

بسم اللہ الرحمن الرحیم

فرقہ مرزائیہ کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی ١٨٣٩ء مطابق ١٢٥٥ھ میں پیدا ہوئے تھے۔ آپ نے شروع میں تین استادوں سے علم حاصل کیا۔ ١٨٨٠ء سے ١٨٨٤ء تک ”براہین احمدیہ“ نامی ضخیم کتاب لکھی۔ آپ نے مسیح موعود، مہدی معہود، محدث، امام الزماں، مجدد، ملہم، مامور، نبی، رسول، کرشن اوتار وغیرہ ہونے کے تیس سے زیادہ دعاوی کئے۔ آپ نے اپنی اکثر کتابوں میں حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات پر زیادہ زور دیا ہے اور دعویٰ مسیحیت کی بنیاد اسے ٹھہرایا ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں :

”یاد رہے کہ ہمارے اور ہمارے مخالفین کے صدق وکذب آزمانے کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات وحیات ہے۔ اگر حضرت عیسیٰ درحقیقت زندہ ہیں تو ہمارے سب دعوے جھوٹے اور سب دلائل ہیچ ہیں اور اگر وہ درحقیقت قرآن کی رو سے فوت شدہ ہیں تو ہمارے مخالف باطل پر ہیں۔ اب قرآن درمیان میں ہے اس کو سوچو۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٦٦ حاشیہ، خزائن ص ٢٦٢ ج ١٧)

اس وقت ناظرین کی توجہ ایک اور امر کی طرف مبذول کراتا ہوں اور وہ یہ کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی کتابوں (مثلاً ایام الصلح، کشتی نوح، اعجاز احمدی، تذکرۃ الشہادتین، حقیقت الوحی، ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم، مواہب الرحمٰن، کتاب البریہ، ست بچن، راز حقیقت، کشف الغطاء، تحفہ گولڑویہ، مسیح ہندوستان میں، الہدیٰ، تحفہ غزنویہ اور نور القرآن) میں لکھا ہے کہ :

”جو سری نگر میں محلہ خانیار میں یوز آصف کے نام سے قبر موجود ہے وہ درحقیقت بلاشک وشبہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر ہے۔

(راز حقیقت ص ٢٠، خزائن ص ١٦٢ ج ١٤)

صفحہ ٧٦

اس عقیدے اور دعویٰ پر جو دلائل مرزا قادیانی اور ان کے مریدوں کی طرف سے پیش کئے جاتے ہیں ان کو نمبر وار درج کر کے ساتھ ہی ان کا جواب لکھا جاتا ہے: ”وماتوفيقي الا بالله عليه توكلت واليه انيب۔“

قادیانی دلیل نمبر ١

”خدا کا کلام قرآن شریف گواہی دیتا ہے کہ وہ (یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام) مر گیا اور اس کی قبر سری نگر کشمیر میں ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ” واويناهما الى ربوة ذات قرار ومعين“ یعنی ہم نے عیسیٰ اور اس کی ماں کو یہودیوں کے ہاتھوں سے بچا کر ایک ایسے پہاڑ میں پہنچا دیا جو آرام اور خوشحالی کی جگہ تھی اور مصفے پانی کے چشمے اس میں جاری تھے۔ سو وہی کشمیر ہے اسی وجہ سے حضرت مریم کی قبر زمین شام میں کسی کو معلوم نہیں اور کہتے ہیں کہ وہ بھی حضرت عیسیٰ کی طرح مفقود ہے۔“ (کتاب کشتی نوح ص ١٦ حاشیہ ص ٦٩‘ اعجاز احمدی ص ١٩‘ تذکرۃ الشہادتین ص ٧‘ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٢٢٨‘ ٢٢٩‘ حقیقت الوحی ص ١٠١ حاشیہ ص ٢٣٢‘ رسالہ ریویو آف ریلیجنز بابت ماہ نومبر ١٩٠٣ء ص ٤٢٩‘ ریویو بابت ماہ نومبر ١٩٠٢ء ص ٤٣٦‘ ریویو بابت ماہ دسمبر ١٩٠٢ء ص ٤٩١‘ اخبار الحکم مورخہ ٢١‘ ٢٨ مئی ١٩١١ء ص ١٠‘ اخبار الحکم مورخہ ١٤ اپریل ١٩١٥ء ص ١١‘ الحکم مورخہ ٢٤ ستمبر ١٩٠٢ء ص ٨‘ الحکم مورخہ ١٧ اکتوبر ١٩٠٢ء ص ٥‘ اخبار بدر مورخہ ١٢ دسمبر ١٩٠٢ء ص ٥٦‘ الحکم مورخہ ٢٤ دسمبر ١٩٠٣ء ص ٤ کا خلاصہ مطلب‘ حقیقت الوحی ص ١٠١ حاشیہ‘ خزائن ص ١٠٤ ج ٢٢)

قادیانی دلیل کی تردید

الزامی جواب: مرزا غلام احمد قادیانی نے یہ کیا لکھ دیا کہ حضرت مریم علیہا السلام کی قبر زمین شام میں کسی کو معلوم نہیں۔ حالانکہ مرزا قادیانی کے ایک مرید سید محمد السعید طرابلسی نے ان (مرزا قادیانی) کی طرف ایک خط لکھا تھا جس کا خلاصہ مطلب یہ تھا:

”جو کچھ آپ نے عیسیٰ علیہ السلام کی قبر اور دوسرے حالات کے متعلق

صفحہ ٧٧

سوال کیا ہے سو میں آپ کی خدمت میں مفصل بیان کرتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بیت اللحم میں پیدا ہوئے اور بیت اللحم اور بلدہ قدس میں تین کوس کا فاصلہ ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر بلدہ قدس میں ہے اور اب تک موجود ہے اور اس پر ایک گرجا بنا ہوا ہے اور وہ گرجا تمام گرجاؤں سے بڑا ہے اور اس کے اندر حضرت عیسیٰ کی قبر ہے اور اسی گرجا میں حضرت مریم صدیقہ کی قبر ہے اور دونوں قبریں علیحدہ علیحدہ ہیں اور بنی اسرائیل کے عہد میں بلدہ قدس کا نام یروشلم تھا اور اس کو اور شلم بھی کہتے ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے فوت ہونے کے بعد اس شہر کا نام ایلیا رکھا گیا اور پھر فتوح الامیہ کے بعد اس وقت تک اس شہر کا نام قدس کے نام سے مشہور ہے اور عجمی لوگ اس کو بیت المقدس کے نام سے بولتے ہیں۔“

(اتمام الحجۃ ص ٢١‘ ٢٢ حاشیہ خزائن ص ٢٩٩‘ ٣٠٠ ج ٨)

نوٹ نمبر ١....... : سید محمد سعید مرزائی کے خط سے معلوم ہوا کہ حضرت مریم صدیقہ علیہا السلام کی قبر شہر یروشلم کے بڑے گرجے میں ہے اور حضرت مسیح ناصری بیت اللحم نامی قصبہ میں پیدا ہوئے تھے۔ اس سے ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی کا (حقیقت الوحی ص ١٠١‘ خزائن ص ١٠٤ ج ٢٢ حاشیہ پر) یہ لکھنا کہ : ”حضرت مریم کی قبر زمین شام میں کسی کو معلوم نہیں۔“ سراسر غلط ہے۔ اس طرح مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ مسیح ابن مریم اسرائیلی ناصرہ کی بستی میں پیدا ہوا تھا۔ (کتاب منظور الٰہی ص ٤٩‘ ٢٥٤) صحیح نہیں ہے۔

نوٹ نمبر ٢...... اس سے پیشتر مرزا قادیانی نے لکھا تھا کہ : ”یہ تو سچ ہے کہ مسیح اپنے وطن گلیل میں جا کر فوت ہو گیا۔ لیکن یہ ہرگز سچ نہیں کہ وہی جسم جو دفن ہو چکا تھا پھر زندہ ہو گیا۔“

(ازالہ اوہام ص ٤٧٣‘ خزائن ص ٣٥٣ ج ٣)

سو میں ذیل میں مرزا غلام احمد قادیانی کا ایک قول درج کرتا ہوں :

صفحہ ٧٨

”ہاں ہم نے کسی کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت مسیح کی بلاد شام میں قبر ہے مگر اب صحیح تحقیق ہمیں اس بات کے لکھنے کے لئے مجبور کرتی ہے کہ واقعی قبر وہی ہے جو کشمیر میں ہے اور ملک شام کی قبر زندہ درگور کا نمونہ تھا جس سے وہ نکل آئے۔“

(ست بچن حاشیہ ص ز خزائن ص ١٧٠ ج ١٠)

تحقیقی جواب

میں سے حکیم خدا بخش مرزائی نے کتاب ”عسل مصفے“ قاضی ظہور الدین اکمل نے اپنی کتاب ”ظہور المسیح“ اور ”ظہور المہدی“ سید صادق حسین مرزائی مختار عدالت اٹاوہ نے رسالہ کشف الاسرار مولوی غلام رسول فاضل راجپوتے نے رسالہ ”التنقید“ اور ان کے علاوہ (رسالہ ریویو آف ریلیجنز بابت ١٩٠٣ء‘ ١٩٠٤ء‘ ١٩٠٦ء‘ ١٩٠٧ء‘ ١٩٢٥ء‘ اخبار الحکم‘ بدر‘ فاروق‘ نور الفضل کے) متعدد پرچوں میں اس امر پر زور دیا ہے کہ حضرت عیسیٰ ابن مریمؑ کی قبر ملک کشمیر کے شہر سری نگر کے محلہ خانیار میں ہے۔ اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ دل کھول کر دلائل قویہ کے ساتھ قادیانی مذہب کا باطل ہونا لکھوں۔ اب قادیانی دلیل کی تردید کی جاتی ہے۔ ذرا غور سے سنئے :

” وجعلنا ابن مریم وامه آیة وآوینا هما الیٰ ربوة ذات قرار ومعین“ ﴿اور ہم نے حضرت ابن مریم علیہ السلام (یعنی مسیح علیہ السلام) اور اس کی ماں کو نشانی کیا۔ اور ہم نے ان دونوں کو ایسی بلند زمین کی طرف پناہ دی جو رہنے کی جگہ تھی اور جہاں پانی جاری تھا۔﴾

(سورۃ المومنون آیت نمبر ٥٠)

وقت کے بادشاہ نے نجومیوں سے سنا کہ بنی اسرائیل کا بادشاہ پیدا ہوا۔ وہ دشمن ہوا۔

صفحہ ٧٩

ان کو بشارت ہوئی کہ اس ملک سے نکل جاؤ۔ نکل کر مصر کے ملک میں گئے ایک گاؤں کے زمیندار نے حضرت مریم علیہا السلام کو اپنی بیٹی کر رکھا جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام جوان ہوئے اس وطن کا بادشاہ مر چکا تب پھر آئے اپنے وطن کو وہ گاؤں تھا ٹیلے پر اور پانی وہاں کا خوب تھا۔

(موضح القرآن سورۃ مومنون آیت ٥٠)

(٤)...... ”عیسیٰ بن مریم ولادت او بعد مضی سہ صدوسہ سال از سکندر است وقتل یحییٰ قبل از رفع او بہ سہ سال شد و نصاریٰ یحییٰ را یوحنا نامند و قصۂ ولادت عیسیٰ منصوص قرآن است و وے روح و کلمہ و عبد خدا است و نبی مرسل صاحب انجیل است و مریم عیسیٰ را اول بمصر برد و بعد دوازدہ سال بشام آورد در قریہ ناصرہ نزول کرد و بہا سمیت النصاریٰ چوں عیسیٰ دریں جا سی سالہ شد اور اوحی آمدن گرفت“

(کتاب حج الکرامہ فی آثار القیامہ (مطبوعہ ١٢٩٠ھ مطبع شاہجہانی بھوپال) ص ٢٩)

(٥)...... حضرت امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری کی کتاب (تاریخ الامم والملوک ج ٢ ص ٢٠‘ ٢١‘ تاریخ کامل لابن اثیر ج ١ ص ١٣٥‘ ١٣٦‘ عماد الدین ابوالفداء کی تاریخ ج ١ ص ٣٥‘ تاریخ ابن خلدون ج ٢ ص ١٤٦) پر بھی حضرت مریم صدیقہ علیہا السلام کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے بعد ان کے ہمراہ ملک شام کو چھوڑ کر ملک مصر کی طرف جانا اور پھر وہاں سے واپس آکر شہر ناصرہ میں قیام پذیر ہونا لکھا ہے۔

(٦)...... ”اصل میں بات یہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام ملک شام کے ایک قصبہ بیت اللحم نامی میں پیدا ہوئے تھے۔“

(اتمام الحجۃ ص ١٩‘ ٢٠‘ ٢١‘ حاشیہ خزائن ص ٢٩٩ ج ٨‘ رسالہ المنتقد ص ٤٢‘ ٤٣)

آپ کی پیدائش کے وقت ہیرودیس ایک ظالم بادشاہ حکمران تھا وہ حضرت مسیح کے قتل کرنے کے در پے ہوا۔ حضرت مریم صدیقہ علیہا السلام اور حضرت مسیح

صفحہ ٨٠

علیہ السلام ملک شام کو چھوڑ کر ملک مصر کو چلے گئے۔ وہاں بارہ سال تک رہے بادشاہ ہیرودیس کے مرنے کے بعد دونوں اپنے وطن واپس آئے چونکہ ان دنوں یروشلم وغیرہ پر ہیرودیس کے بیٹے ارخلاوس کی حکومت تھی۔ اس لئے حضرت مریم صدیقہ علیہا السلام اور حضرت عیسیٰ دونوں صوبہ یہودیہ میں کوہ کارمل کے ایک فرحت افزا مقام ”ناصرہ“ نامی کی طرف تشریف لے گئے وہاں اٹھارہ سال تک رہے۔

(طبقات الکبریٰ لابن سعد ص ٢٦ ج ١)

حضرت مسیح تیس سال کی عمر میں ان قوموں کی تبلیغ کے لئے مامور ہوئے تھے۔ (عسل مصفے حصہ اول ص ٥٧٠) اسی واسطے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مسیح ناصری بھی کہتے ہیں۔

”انجیل متی میں لکھا ہے کہ خداوند کے ایک فرشتہ نے یوسف کو خواب میں دکھائی دے کے کہا۔ اٹھ اس لڑکے اور اس کی ماں کو ساتھ لے کر مصر کو بھاگ جا اور وہاں جب تک میں تجھے خبر نہ دوں ٹھہرا رہ۔ کیونکہ ہیرودیس اس لڑکے کو ڈھونڈے گا کہ مار ڈالے۔“

(رسالہ ریویو بابت ماہ جنوری ١٩٠٣ء ص ١٤‘ مسیح ہندوستان میں ص ٧١‘ خزائن ص ٧٣ ج ١٥)

پہاڑی پر بستا تھا۔ لوقا ٤ / ٢٩ اس جگہ کو مریم مقدسہ نے مصر سے واپس آکر اپنا جائے قرار بنایا تھا۔ ناصرہ بستی کا نام ناصرہ اس لئے ہوا کہ یہ لفظ نصر سے مشتق ہے جس کے معنے ہیں چھو ٹا پودا۔ چنانچہ یسعیاہ ١١ / ١ میں بعینہ یہ لفظ عبرانی میں موجود ہے۔ چونکہ مسیح اور اس کی والدہ مقدسہ مریم ایک مدت تک اس بستی میں رہے تھے۔ اس لئے مسیح بھی مسیح ناصری کہلایا۔ (یوحنا ١ ، ٤٥)“

(رسالہ ریویو بابت ماہ اگست ١٩١٦ء ص ٢٩٢)

صفحہ ٨١

قادیانی دلیل نمبر ٢

”حضرت عیسیٰ علیہ السلام افغانستان سے ہوتے ہوئے پنجاب کی طرف آئے اس ارادہ سے کہ پنجاب اور ہندوستان دیکھتے ہوئے پھر کشمیر کی طرف قدم اٹھاویں یہ تو ظاہر ہے کہ افغانستان اور کشمیر کی حد فاصل چترال کا علاقہ اور کچھ حصہ پنجاب کا ہے۔ اگر افغانستان سے کشمیر میں پنجاب کے رستے سے آویں تو قریباً اسی کوس یعنی ١٣٠ میل کا فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے اور چترال کی راہ سے سو کوس کا فاصلہ ہے لیکن حضرت مسیح نے بڑی عقلمندی سے افغانستان کا راہ اختیار کیا تا اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑیں جو افغان تھے فیض یاب ہو جائیں اور کشمیر کی مشرقی حد ملک تبت سے متصل ہے اس لئے کشمیر میں آکر بآسانی تبت میں جاسکتے تھے اور پنجاب میں داخل ہو کر ان کے لئے کچھ مشکل نہ تھا کہ قبل اس کے جو کشمیر اور تبت کی طرف آویں۔ ہندوستان کے مختلف مقامات کی سیر کریں۔ سو جیسا کہ اس ملک کی پرانی تاریخیں بتلاتی ہیں کہ یہ بات بالکل قرین قیاس ہے کہ حضرت مسیح نے نیپال اور بنارس وغیرہ مقامات کا سیر کیا ہوگا اور پھر جموں سے یا راولپنڈی کی راہ سے کشمیر کی طرف گئے ہوں گے چونکہ وہ ایک سرد ملک کے آدمی تھے اس لئے یہ یقینی امر ہے کہ ان ملکوں میں غالباً وہ صرف جاڑے تک ہی ٹھہرے ہوں گے اور اخیر مارچ یا اپریل کے ابتداء میں کشمیر کی طرف کوچ کیا ہوگا اور چونکہ وہ ملک بلاد شام سے بالکل مشابہ ہے اس لئے یہ بھی یقینی ہے کہ اس ملک میں سکونت مستقل اختیار کرلی ہوگی اور ساتھ اس کے یہ بھی خیال ہے کہ کچھ حصہ اپنی عمر کا افغانستان میں بھی رہے ہوں گے اور کچھ بعید نہیں کہ وہاں شادی بھی کی ہو۔ افغانوں میں ایک قوم عیسیٰ خیل کہلاتی ہے کیا تعجب ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ کی ہی اولاد ہوں۔“

(مسیح ہندوستان میں ص ٦٧‘ ٦٨ خزائن ص ٢٩‘ ٧٠ ج ١٥)

صفحہ ٨٢

متعلق ایک پیشگوئی یسعیاہ باب ٥٣ میں اس طرح پر ہے اور اس کے بقائے عمر کی جو بات ہے سو کون بیان کر کے جائے گا۔ کیونکہ وہ علیحدہ کیا گیا ہے زندوں کی زمین سے اور اس کی گئی شریروں کے درمیان اس کی قبر‘ وہ دولتمندوں کے ساتھ ہوا اپنے مرنے میں‘ جبکہ تو گناہ کے بدلے میں اس کی جان کو دے گا (تو وہ بیج دیکھے گا) اور صاحب اولاد ہو گا۔ اس کی عمر لمبی کی جائے گی۔ وہ اپنی جان کی نہایت سخت تکلیف دیکھے گا۔“ (یعنی صلیب پر بے ہوشی سے‘ وہ پوری عمر پائے گا۔)

(تحفہ گولڑویہ ص ٢١٣‘ ٢١٤ خزائن ص ٣١٤‘ ٣١٥ ج ١٧)

مردوں کی طرح قبر میں رکھا جائے گا مگر چونکہ وہ حقیقی طور پر مردہ نہیں ہو گا اس لئے اس قبر میں سے نکل آئے گا اور آخر عزیز اور صاحب شرف لوگوں میں اس کی قبر ہو گی اور یہی بات ظہور میں آئی۔ کیونکہ سری نگر محلہ خانیار میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اسی موقعہ پر قبر ہے۔ جہاں بعض سادات کرام اور اولیاء اللہ مدفون ہیں۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٢١٣ حاشیہ خزائن ص ٣١٤ ج ١٧)

’حصہ دوم۔ اکیسواں۔ یہ کہ مسیح صاحب اولاد ہو گا۔ جس کی تصدیق توریت سے یوں ہوتی ہے۔ جب کہ تو گناہ کے بدلے میں اس کی جان کو دے گا تو وہ بیج دیکھے گا اور صاحب اولاد ہو گا اس کی عمر لمبی کی جائے گی۔ وہ اپنی جان کی نہایت سخت تکلیف دیکھے گا۔ دیکھو کتاب یسعیاہ باب ٥٣ درس ١٠ جس سے صاف ظاہر ہے کہ کسی لغزش کی وجہ سے مسیح پر ایک جانکاہ دکھ آئے گا۔ بہ منطوق آیت : ”ما اصابکم من مصیبة فبما کسبت ایدیکم“ مگر وہ بفضل خدا اس مصیبت سے بچ جائے گا اور اس کی عمر دراز ہو گی۔

صفحہ ٨٣

بست دوم۔ یسعیاہ باب ٥١ درس ١٥ میں ہے جھکایا ہوا بندہ جلد کھولا جائے گا وہ غار میں نہ مرے گا اور اس کی روٹی کم نہ ہو گی۔ چنانچہ احادیث ذیل سے ظاہر ہے کہ اس واقعہ صلیب کے بعد ٨٧ برس اور زندہ رہا اور صاحب اولاد بھی ہوا۔ چنانچہ افغانستان میں اب تک عیسیٰ خیل قوم موجود ہے۔

(کتاب عسل مصفے (طبع ثانی) حصہ اول ص ٤٥١‘ ٤٥٢)

قادیانی دلیل کی تردید

(الف)...... مرزا قادیانی نے اپنی کتاب (مسیح ہندوستان میں ص ٦٨‘ خزائن ص ٧٠ ج ١٥) میں یہ تو لکھ دیا کہ : ”اس ملک کی پرانی تاریخیں بتلاتی ہیں۔“ مگر یہ نہ بتایا کہ پرانی تاریخیں کس زبان میں ہیں۔ ان کے مصنف کون ہیں اور کس زمانے میں ہوئے ہیں اور کہاں ہوئے ہیں ؟۔ خالی زبانی باتیں کون مان سکتا ہے۔ ذرا ان پرانی تاریخوں کی اصلی عبارتیں تو نقل کر دیتے جو بتلاتی ہیں کہ (بقول آپ کے) حضرت مسیح نے نیپال اور بنارس وغیرہ مقامات کا سیر کیا ہو گا۔

(ب)...... مرزا قادیانی کے الفاظ بھی قابل غور ہیں۔ مرزا قادیانی کہتا ہے : ”سیر کیا ہو گا‘ گئے ہوں گے‘ ٹھہرے ہوں گے‘ کوچ کیا ہو گا‘ کر لی ہو گی‘ رہے ہوں گے۔“ واہ صاحب واہ! کیسے زبردست دلائل مرزا قادیانی پیش کر رہے ہیں۔ ساتھ یہ بھی ملاحظہ ہو کہ : ”اور کچھ بعید نہیں کہ وہاں شادی کی ہو۔ افغانوں میں ایک قوم عیسیٰ خیل کہلاتی ہے کیا تعجب ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ ہی کی اولاد ہوں۔“ (تحفہ گولڑویہ ص ٢١٤‘ خزائن ص ٣١٥ ج ١٧) قربان جائیے ایسے استدلال پر۔ افغانوں میں تو محمد زئی‘ عمر زئی اور یوسف زئی قومیں بھی تو ہیں۔ واضح ہو کہ : ”ایک امر کا ممکن ہونا اور چیز ہے اور فی الواقع اس امر کا واقع ہونا اور چیز ہے۔“

(دیکھو رسالہ ریویو بابت ماہ ستمبر ١٩١٠ء ج ٩ ص ٣٤٨)

(ج)...... واضح ہو کہ پرانے عہد نامے میں سے یسعیاہ نبی کے صحیفہ کا

صفحہ ٨٤

باب ٥٣ حضرت مسیح ناصری کے حق میں نہیں ہے جیسا کہ مرزا قادیانی اور ان کے مرید حکیم خدا بخش مصنف ”عسل مصفےٰ“ نے لکھا ہے بلکہ اگر بغور دیکھا جائے تو سارا باب ٥٣ یسعیاہ کی کتاب کا سیدنا محمد ﷺ کے حق میں ہے۔ (دیکھو رسالہ تشحیذ الاذہان بابت ماہ دسمبر ١٩١٩ء ص ٢٠) آج سے کئی سال پیشتر جناب امام فن مناظرہ اہل کتاب سیدنا نصر الدین محمد ابوالمنصور نے اپنی مشہور و معروف کتاب (میزان المنیر ان در جواب میزان الحق ص ١٨١، ١٧) پر دلائل سے ثابت کیا تھا کہ یسعیاہ ٥٣ باب میں کہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر نہیں ہے۔ بلکہ وہ حضرت پیغمبر اسلام ﷺ کے حق میں ایک پیشگوئی ہے۔

خود مرزا قادیانی اور ان کے مریدوں کی تحریروں سے اس امر کو ثابت کیا جاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نہ کوئی بیوی تھی اور نہ آپ کی کوئی اولاد تھی۔

(ریویو ج ١ نمبر ٣ ص ١٤٤)

السلام کی کوئی آل نہیں تھی۔“

(تریاق القلوب ص ٩٩ حاشیہ، خزائن ص ١٥٣ ج ١٥)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کوئی ظاہری اولاد نہ تھی۔“

(الفضل مورخہ ٢٩ جنوری ١٩٢٥ء ص ٦)

دنیا کے ایک عام آدمی کے لئے کامل نمونہ ہو سکتا ہے۔“

(ریویو بابت ماہ اگست ١٩٢٦ء ص ٣١)

ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے شادی نہیں کی۔ پھر کس طرح معلوم ہو کہ وہ اپنی

صفحہ ٨٥

بیوی بچوں سے اچھا سلوک کر سکتے تھے۔“

(الفضل ضمیمہ ٨ مئی ١٩٢٨ء نمبر ٩٤)

(٦)...... ”عام خیال حضرت مسیح کے متعلق یہی تھا کہ انہوں نے نکاح نہیں کیا۔“

(ریویو ج ٤ نمبر ٦ ص ٢٧٣)

(٧)...... ”دیکھو مسیح نے ایک بھی بیوی نہیں کی۔“

(٨)...... ”یسوع فرقہ صوفیا بنام اسین میں داخل تھا جو شادی نہ کرتے تھے۔“

(اخبار بدر ٢٠ جولائی ١٩١١ء ص ٤)

(٩)...... ”حضرت عیسیٰ بلا باپ تھے۔ صاحب اولاد ہونا معلوم نہیں۔ غالباً نہ تھے۔“

(الفضل مورخہ ٧ جولائی ١٩١٧ء ص ٥)

(١٠)...... ”اگر کوئی عیسائی شادی کرے اور حضرت عیسیٰ سے پوچھے کہ حضرت میں نے شادی کی ہے۔ بیوی بچوں سے کیا سلوک کروں تو وہ کیا جواب دے سکتے ہیں۔ جبکہ خود انہوں نے شادی نہیں کی۔“

(الفضل مورخہ ١٠ جنوری ١٩٢٨ء ص ٤)

(١١)...... ”مسیح کا شادی نہ کرنا دلالت کرتا ہے کہ آپ کی تعلیم ناقص ہے وجہ یہ کہ انبیاء اور مرسلین دوسروں کے لئے نمونہ بن کر آتے ہیں۔“

(تشحیذ الاذہان ج ١٦ نمبر ١١ ص ٤)

(١٢)...... حضرت مسیح نے نہ صرف تجرد کو تاہل پر ترجیح دی بلکہ اسے آسمانی بادشاہت میں داخل ہونے کا ذریعہ بتایا ہے اور خود بھی انہوں نے شادی نہیں کی۔“

(الفضل مورخہ ١٢ جون ١٩٢٨ء ص ٥٢)

(١٣)...... ”اصلی مسیح نے نکاح نہیں کیا تھا اور نہ اس کی کوئی اولاد ہوئی۔“

(اعلام الناس حصہ ١ ص ٥٩)

(١٤)...... ”دیلمی اور ابن النجار نے حضرت جابرؓ سے روایت کی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام سفر کرتے تھے جب شام پڑ جاتی تو جنگل کا ساگ پات کھا لیتے اور چشموں کا پانی پی لیتے اور مٹی کا تکیہ بناتے (یعنی زمین پر ہی بلا بستر کے لیٹ رہتے) پھر کہتے کہ نہ تو

صفحہ ٨٦

میرا گھر ہے کہ جس کے خراب ہونے کا اندیشہ ہو اور نہ کوئی اولاد ہے کہ جن کے مرنے کا کوئی غم ہو ۔“ (عسل مصفے حصہ اول ص ١٩١‘ ٥٨٣ مصنفہ خدا بخش مرزائی بحوالہ کنز العمال ج ٦ ص ٧١) نتیجہ یہ نکلا کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم نے نہ شادی کی اور نہ ان کی کوئی بیوی تھی اور کتاب (تکملہ مجمع البحار ص ٨٥‘ در منثور ج ٢ ص ٢٩‘ حیات القلوب ص ٤٦١ ج ١‘ تاریخ روضۃ الصفا ج ١ ص ١٣٢) کے مطالعہ سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے۔ پس افغانوں کی قوم عیسیٰ خیل کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اولاد قرار دینا سراسر غلط ہے۔

قادیانی دلیل نمبر ٣

(الف)...... مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھا ہے :

(١)...... ”حال ہی میں جو روسی سیاح نے ایک انجیل لکھی ہے جس کو لندن سے میں نے منگوایا ہے وہ بھی اس رائے میں ہم سے متفق ہے کہ ضرور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس ملک میں آئے تھے۔“

(ملخص راز حقیقت ص ٧ حاشیہ‘ خزائن ص ١٦١ ج ١٤)

(٢)...... ”تحقیقات سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے صلیبی واقعہ سے نجات پا کر ضرور ہندوستان کا سفر اختیار کیا ہے اور نیپال سے ہوتے ہوئے آخر تبت تک پہنچے اور پھر کشمیر میں ایک مدت تک ٹھہرے اور وہ بنی اسرائیل جو کشمیر میں بابل کے تفرقہ کے وقت میں سکونت پذیر ہوئے تھے ان کو ہدایت کی اور آخر ایک سو بیس برس کی عمر میں سری نگر میں انتقال فرمایا اور محلہ خانیار میں مدفون ہوئے اور عوام کی غلط بیانی سے یوز آسف نبی کے نام سے مشہور ہوگئے۔ اس واقعہ کی تائید وہ انجیل بھی کرتی ہے جو حال ہی میں تبت سے برآمد ہوئی ہے یہ انجیل بڑی کوشش سے لندن سے ملی ہے۔ ہمارے مخلص دوست شیخ رحمت اللہ تاجر قریباً تین ماہ تک لندن میں رہے اور اس انجیل کو تلاش کرتے رہے۔ آخر ایک جگہ سے میسر آگئی۔ یہ انجیل بدھ مذہب کی ایک پرانی کتاب کا گویا ایک حصہ ہے۔ بدھ مذہب کی کتابوں سے

صفحہ ٨٧

یہ شہادت ملتی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ملک ہند میں آئے۔“

(راز حقیقت ص ٩ حاشیہ ‘ خزائن ص ١٦١ ج ١٤)

شائع بھی ہو چکی ہے۔ بلکہ حضرت مسیح کے کشمیر میں آنے کا یہ ایک دوسرا قرینہ ہے۔ ہاں یہ ممکن ہے کہ اس انجیل کا لکھنے والا بھی بعض واقعات کے لکھنے میں غلطی کرتا ہو۔ جیسا کہ پہلی چار انجیلیں بھی غلطیوں سے بھری ہوئی ہیں مگر ہمیں اس نادر اور عجیب ثبوت سے کلی منہ نہیں پھیرنا چاہیے‘ جو بہت سی غلطیوں کو صاف کر کے دنیا کو صحیح سوانح کا چہرہ دکھلاتا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب“

(ست بچن ص ١٦٤ حاشیہ ‘ خزائن ص ٣٠٧ ج ١٠)

جس کو ایک روسی فاضل نے کمال جدوجہد سے چھپوا کر شائع کر دیا ہے۔ جس کے شائع کرنے سے پادری صاحبان بہت ناراض پائے جاتے ہیں یہ واقعہ بھی کشمیر کی قبر کے واقعہ پر ایک گواہ ہے۔“

(ایام الصلح ص ١١٨ حاشیہ ‘ خزائن ص ٣٥٦ ج ١٤)

ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ضرور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہندوستان اور تبت اور کشمیر میں آئے تھے اور حال میں جو ایک روسی سیاح نے بدھ مذہب کی کتابوں کے حوالہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اس ملک میں آنا ثابت کیا ہے وہ کتاب میں نے بھی دیکھی ہے اور میرے پاس ہے وہ کتاب بھی اس رائے کی مؤید ہے۔“

(کشف الغطاء ص ٢٥ ‘ خزائن ص ٢١١ ج ١٤)

نسبت لکھ کر شائع کی ہے اس میں وہ بھی تسلیم کرتا ہے کہ ٣٦ سال کی عمر میں حضرت مسیح نیپال میں تھے تبت و کشمیر و ہندوستان آئے تھے۔“

صفحہ ٨٨

(کتاب عسل مصفے حصہ اول ص ٥٨٥‘ نیز دیکھو رسالہ احمدی بابت ١٩١٩ء ص ٢٥)

مسیح علیہ السلام کے مباحثے ہوئے اور جب نیپال میں تھے تو اس وقت ان کی عمر ٣٦ برس کی تھی۔“

(عسل مصفے حصہ اول ص ١٩٢‘ ١٩٣)

قادیانی دلیل کی تردید

مرزا غلام احمد قادیانی کا حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کے بارے میں یہ عقیدہ ہے کہ :

صلیب پر چڑھائے گئے تھے۔

تھے۔

ہجرت کی۔

کی طرف صلیبی واقعہ کے بعد تشریف لائے۔

کشمیر میں وفات پائی۔

یہ ہے مرزا قادیانی کا مذہب۔ اب روسی سیاح مسٹر نکولسن نوٹووچ کی سنو۔ اس

صفحہ ٨٩

میں کچھ شک نہیں کہ مسٹر نکوسن نوٹووچ روسی سیاح نے ”یسوع مسیح کی نامعلوم زندگی کے حالات“ بودھوں مٹھ واقع مقام لیہ دارالخلافہ سے دریافت کر کے فرانسیسی اور انگریزی زبان میں شائع کئے تھے۔ اس کا ترجمہ اردو زبان میں لالہ جے چند سابق منتری آریہ پرتی ندھی سبھا پنجاب نے کیا۔ مطبع ست دھرم پرچارک جالندھر شہر میں ١٨٩٩ء میں یہ اردو ترجمہ چھپا تھا۔ مسٹر ناٹووچ روسی سیاح لکھتا ہے کہ یسوع مسیح کے یہ حالات ١٨٨٧ء میں بودھوں کے مٹھ واقعہ مقام لیہ کے بدھ لامہ نے مجھے بتلائے تھے۔ اب ذیل میں اس کتاب ”یسوع مسیح کی نامعلوم زندگی کے حالات“ کا خلاصہ درج کیا جاتا ہے :

اس کتاب میں ١٤ باب ہیں۔ باب اول شامی تجار کی زبانی مسیح علیہ السلام کے صلیب دیئے جانے کی خبر۔ باب دوم بنی اسرائیل کے حالات۔ باب سوم بنی اسرائیل کے جاہ و جلال کے واقعات۔ اس کے بعد یوں لکھا ہے :

باب چہارم

کے ذریعہ گناہوں سے نجات حاصل کرنے کی ترغیب دے کر ایک خدا کا وعظ کرنے لگا۔

وعظ کو سن کر حیران ہوا کرتے۔ قوم اسرائیل کے تمام لوگ اس بات میں متفق الرائے تھے کہ روح ابدی اس بچہ میں موجود ہے۔

شادی کیا کرتے تھے۔

صفحہ ٩٠

جہاں وہ اپنے گزارہ کے لئے بیوپار کرتے تھے۔ آکر جمع ہونے لگے تا کہ وہ نوجوان عیسیٰ کو جو قادر مطلق خدا کے نام کا وعظ کرنے میں مشہور ہو چکا تھا اپنا داماد دیں۔

یروشلم سے نکل گیا۔ اور سوداگروں کے ساتھ سندھ کی طرف روانہ ہوا۔

قوانین کا مطالعہ کرے۔

(ص ٤١، ٤٠ یسوع مسیح کی نامعلوم زندگی کے حالات)

باب پنجم

سندھ کے اس پار آیا اور الیشور کی پیاری سرزمین میں آریوں کے درمیان رہنے لگا۔

پنجاب اور راجپوتانہ میں سے گزرا تو جین دیو کے پیروؤں نے اس سے درخواست دی کہ وہ ان کے پاس رہے۔

ملک اڑیسہ کو چلا گیا۔ جہاں ویاس کرشن کے پھول (استخوان) مدفون تھے یہاں کے برہمنوں نے اس کا بہت آدر ستکار کیا۔

ذریعے شفا بخشنا‘ لوگوں کو دید اور شاستروں کا پڑھانا اور سمجھانا اور آدمیوں سے بھوت‘ پریت نکال کر ان کو تندرست کرنا سکھلایا۔

رہا۔

(ص٤١)

صفحہ ٩١

باب ششم

دیا کرتا تھا سن کر عیسیٰ کے قتل کی ٹھانی۔ چنانچہ انہوں نے اس مطلب کے لئے اپنے نوکروں کو نوجوان پیغمبر کی تلاش میں بھیجا۔

رات کو ہی جگن ناتھ سے نکل گیا اور گوتم کے پیروؤں کو کوہستانی ملک میں جہاں کہ ساکی منی بدھ دیو پیدا ہوئے تھے اور جہاں کہ لوگ آپ کو مانتے تھے جا بسا اور ان لوگوں کے درمیان رہنے لگا۔ (ص ٤٤)

متبرک خرطوم کو پڑھنے لگا۔

کے لئے منتخب کر رکھا تھا ان متبرک خرطوموں کی تشریح کرنے میں کامل مہارت حاصل کر لی تھی۔

آنکلا اور مختلف قوموں کو اس بات کا وعظ کرتا ہوا کہ انسان کمالیت حاصل کرنے کی قابلیت رکھتا ہے مغرب کی طرف چلا گیا۔ (ص ٤٥)

باب ہشتم

جب وہ ملک فارس میں داخل ہوا تو پجاریوں نے ڈر کر لوگوں کو اس کا اپدیش سننے سے منع کر دیا۔ (ص ٤٨،٤٩)

صفحہ ٩٢

باب نہم

پیدا کیا تھا ٢٩ برس کی عمر میں ملک اسرائیل میں واپس آیا۔

(ص ٥١)

باب دہم

والے تھے خدا کے کلام سے مضبوط کرتا ہوا گاؤں بہ گاؤں پھرا اور ہزاروں آدمی اس کا اپدیش (یعنی وعظ) سننے کے لئے اس کے پیچھے ہولئے۔

باب سیزدہم

ہر شہر میں سڑکوں پر اور میدانوں میں ہدایت کرتا رہا اور جو کچھ اس نے کہا وہی وقوع میں آیا۔

(ص ٦١)

باب چہار دہم

کو پھانسی کی جگہ پر لے گئے اور ان صلیبوں پر جو زمین میں گاڑی گئی تھیں چڑھا دیا۔

نظارہ تھا اور سپاہیوں کا ان پر برابر پہرہ رہا۔ لوگ چاروں طرف کھڑے رہے۔ پھانسی یافتوں کے رشتہ دار دعا مانگتے رہے اور روتے رہے۔

روح جسم سے علیحدہ ہو کر خدا میں جاملی۔

(ص ٦٥)

صفحہ ٩٣

نوٹ : اخبار (الفضل قادیان مورخہ ١٠ نومبر ١٩٢٦ء ص ٨) پر مذکورہ بالا کتاب کا

خلاصہ مطلب یوں لکھا ہے :

”اس کتاب میں چودہ باب ہیں۔ باب اول شامی تجار کی زبانی مسیح کے صلیب دیئے جانے کی خبر ۔ باب دوم بنی اسرائیل کے حالات۔ باب سوم بنی اسرائیل کے جاہ و جلال کے واقعات۔ باب چہارم مسیح کی پیدائش۔ باب پنجم مسیح کا ہندوستان کے ملک سندھ میں چودہ سال کی عمر میں آنا اور پھر سیاحت ہند۔ باب ششم برہمنوں کی مسیح پر خفگی۔ باب ہفتم بت پرستوں کا بت پرستی چھوڑ کر مسیح کے پیرو بننا اور برہمنوں سے مباحثات مذہبی۔ باب ہشتم مسیح کا ہندوستان سے ایران جانا۔ باب نہم مسیح کا ٢٩ سالہ عمر میں شام پہنچنا اور تین سال تک تبلیغ کرنا۔ باب دہم مسیح کے تبلیغی حالات اور یہودیوں کا مسیح کو دکھ دینا۔ باب یازدہم یہودیوں کا حاکم وقت کے پاس فریاد کرنا اور مسیح کو عدالت میں جوابدہی کے لئے مجبور کرنا۔ باب دوازدہم مسیح کے پیچھے جاسوسوں کا پھرنا۔ باب سیزدہم تین سال مختلف ممالک شام کے شہروں میں مسیح کے تبلیغی حالات۔ باب چہاردہم ٣٣ سالہ عمر میں مسیح کا صلیب دیا جانا اور پھر خاتمہ۔ نہ تین دن قبر میں رہنے کا ذکر نہ آسمان پر جانے کا ذکر ۔“

بھلا انصاف سے بتاؤ کہ مرزا قادیانی کے مذہب و عقیدہ کو اس سے کیا تعلق ہے۔ مرزا قادیانی کا مذہب تو یہ ہے کہ واقعہ صلیبی کے بعد یعنی ٣٣ سال کے بعد مسیح نے مشرقی ملکوں کی سیاحت کی مگر اس افسانہ میں لکھا ہے کہ صلیبی واقعہ سے بیس سال پہلے عیسیٰ ہندوستان وغیرہ میں آیا۔

مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ :

”یہ بات ہرگز صحیح نہیں ہے کہ حضرت مسیح صلیب کے واقعہ سے پہلے ہندوستان کی طرف آئے تھے۔“

(کتاب مسیح ہندوستان میں ص ٣۔ خزائن ص ١٥ ج ١٥)

صفحہ ٩٤

قادیانی دلیل نمبر ٤

مرزا قادیانی اور اس کی کذب بیانی

شہزادہ یوز آسف کے حالات

کتاب اکمال الدین کے حوالے : واضح ہو کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی بعض کتابوں مثلاً کتاب البریۃ، راز حقیقت، ایام الصلح، نور القرآن، ست بچن، کشف الغطاء ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم، مسیح ہندوستان میں، حقیقت الوحی، تحفہ قیصریہ، تذکرۃ الشہادتین، الہدیٰ، تحفہ گولڑویہ، کشتی نوح، اعجاز احمدی وغیرہ میں اس بات پر بہت زور دیا ہے کہ :

”جو سری نگر میں محلہ خانیار میں یوز آسف کے نام سے قبر موجود ہے وہ در حقیقت بلاشک و شبہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر ہے۔“

(راز حقیقت ص ٢٠، خزائن ص ١٧٢ ج ١٤)

اپنے اس دعوے کے ثبوت کے لئے مرزا قادیانی نے تحریر کیا ہے :

” وتواتر علیٰ لسان اهلها انه قبر نبی کان ابن ملک وکان من بنی اسرائیل وکان اسمه یوزأسف فلیسئلهم من یطلب الدلیل واشتهر بین عامتهم ان اسمه الاصل عیسیٰ صاحب وکان من الانبیاء وهاجر الیٰ کشمیر فی زمان مضیٰ علیه من نحو ١٩٠٠ سنة واتفقوا علی هذه الانبیاء بل عندهم کتب قدیمة توجد فیها هذه القصص فی العربیة والفارسیة ومنها کتاب سمی اکمال الدین وکتب اخری کثیرة الشهرة ............ ثم معذلك کان یوزأسف سمی کتاب الانجیل وما کان صاحب الانجیل الا عیسیٰ فخذ ما حصحص

صفحہ ٩٥

من الحق واترك الاقاويل وان كنت تطلب التفصيل فاقرؤا كتاباً سمی باكمال الدين تجد فيه كلما تسكن الغليل“

(کتاب الہدیٰ ص ١٠٩ خزائن ص ٣٦١ ج ١٨)

نوٹ: اس کتاب اکمال الدین کا حوالہ کتاب راز حقیقت ص ١٨‘ اخبار بدر مورخہ ٧ نومبر ١٩٠٧ء ص ٣‘ رسالہ ریویو آف ریلیجنز بابت ماہ ستمبر ١٩٠٣ء ص ٣٤٩‘ اخبار الحکم مورخہ ١٠ اکتوبر ١٩٠٥ء ص ٥ اور حکیم خدا بخش مرزائی کی کتاب عسل مصفےٰ حصہ اول ص ٥٧٢‘ ٥٧٥‘ ٥٨٥‘ غلام رسول مرزائی آف راجیکی رسالہ التنقید ص ٢٦٥‘ ٢٧٢‘ سید صادق حسین مرزائی مختار عدالت اٹاوہ کی کتاب کشف الاسرار ص ١٤‘ رسالہ دروس الصلیب ص ٣٨٧‘ رسالہ واقعات صلیب از اناجیل مروجہ ص ٢٨‘ ٢٩‘ رسالہ مباحثہ سارچور ص ٤٢ پر بھی دیا گیا ہے :

جواب : واضح ہو کہ کتاب اکمال الدین واتمام النعمة فی اثبات الغیبة وکشف الحیرة کے مصنف شیخ السعید ابی جعفر محمد بن علی بن الحسین بن موسیٰ بن بابویہ القمی ہیں۔ یہ کتاب ایران میں ناصر الدین شاہ ایرانی کے عہد میں چھپی ہے۔ تاریخ طبع ١٣٠١ھ ضخامت کتاب علاوہ تقریظات وغیرہ کے تین سو تراسی صفحہ ہے۔

(اخبار الفضل قادیان مورخہ یکم مئی ١٩١٧ء ص ٤)

میں نے اس کتاب کا عربی نسخہ چار دفعہ دیکھا ہے اور بڑے غور سے اس کے ص ٣٧١ تا ٣٥٩ کا مطالعہ کیا ہے۔ ماہ مئی ١٩٢٠ء میں اور ٢٩ مارچ ١٩٣٠ء بروز ہفتہ جناب مولوی سید علی حائری صاحب مجتہد اہل تشیع لاہور کے پاس یہ کتاب دیکھی تھی اور ماہ دسمبر ١٩٢٢ء میں جمعہ کے دن قادیان میں فضل الدین مرزائی وکیل کی مہربانی سے مجھے یہ کتاب ملی تھی۔ پھر ١٩٣١ء میں یہ کتاب دیکھی تھی۔ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے مریدوں نے اس کے بارے میں خدا کے بندوں کو بہت دھوکہ دیا ہے اور

صفحہ ٩٦

جھوٹ بولا ہے۔ اب میں اسی کتاب ”اکمال الدین“ اور اس کے اردو ترجمے کتاب ”شہزادہ یوز آسف اور حکیم بلوہر“ مطبوعہ ١٨٩٦ء مفید عام پریس آگرہ (جس کا حوالہ کتاب راز حقیقت ص ٢٠ پر بھی دیا گیا ہے) کے حوالے سے شہزادہ یوز آسف اور اس کے باپ کے حالات مختصر طور پر ذیل میں لکھتا ہوں : ” وماتوفیقی الا باللّہ علیہ توکلت والیہ انیب“

یوز آسف کے باپ کا حال

” ان ملکا من ملوك الهند كان كثير الجند واسع المملكة مهيبا فى النفس مظفرا على الاعداء وكان مع ذالك عظيم النهمة فى شهوات الدنيا ولذاتها وملاهيها موثر الهواه مطيعا له وكان اكرم الناس عليه وانصحهم له فى نفسه من ذين له وحسن لائہ وابغض الناس اليه وأغشهم له فى نفسه من امره بغير ما وترك أمره فيها وقد كان اصاب الملك فيها في حداثة سنة وعنفوان شبابه“

(اکمال الدین ص ٣١٧‘ ٣١٨)

”اگلے زمانہ میں ایک بادشاہ صاحب لشکر جرار و مالک ملک وسیع ہندوستان میں گزرا ہے۔ بڑا رعب اس کا رعایا پر چھایا ہوا تھا اور ہمیشہ دشمنوں پر ظفریاب رہتا تھا۔ اس پر بھی اس کی طبیعت میں حرص بہت تھی۔ دنیوی لذتیں حاصل کرنے میں اور مزے اڑانے میں اور کھیل کود میں اور اپنی خواہشیں پوری کرنے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھتا تھا اور اس کا بڑا خیر خواہ اور دوست صادق وہ شخص تھا جو اس کی بدافعالیوں کی تعریف کرتا رہے اور اس کی بدکاریوں کو اچھا ظاہر کرے اور بڑا بدخواہ اور دشمن اس کے نزدیک وہ شخص تھا جو اسے ایسی حرکتیں ترک کرنے کو کہے اور یہ بادشاہ ابتدائے جوانی اور کمسنی میں تخت نشین ہو گیا تھا اور بہت صاحب فہم اور خوش بیان تھا اور تدبیر ملک اور

صفحہ ٩٧

بندوبست رعایا سے خوب ماہر تھا اور سب لوگ اس کے ان اوصاف کو جانتے تھے۔ اس سبب سے اس کے فرمانبردار تھے اور بڑے بڑے سرکش اور اہل رائے اس کے تابع حکم و بندہ فرمان تھے اور کچھ جوانی کی بے ہوشی میں کچھ بادشاہی و حکمرانی کے نشہ میں کچھ شہوت و خود بینی کی مستی میں وہ سرشار تو تھا ہی۔ دشمنوں پر فتحیاب ہونے سے اور رعایا کے مطیع اور فرمانبردار رہنے سے یہ سب نشہ اور بھی چوگنا ہو گیا تھا اور بہت غرور و تکبر کیا کرتا تھا اور سب کو حقیر سمجھتا تھا اور لوگوں کی تعریف اور خوشامد سے اس کو اپنے کمال عقل و خوبی رائے پر بھروسہ بڑھتا ہی جاتا تھا اور تحصیل دنیا کے سوا اس کی کوئی آرزو اور مقصد نہ تھا اور دنیا کو جس طرح سے وہ چاہتا تھا۔ اسی طرح بآسانی اسے حاصل ہو جاتی تھی لیکن اس کے یہاں کوئی لڑکا نہیں ہوا تھا لڑکیاں ہی تھیں اور اس کے بادشاہ ہونے سے پیشتر اس کے ملک میں دینداری بہت پھیلی ہوئی تھی اور بہت سے دیندار لوگ تھے۔ شیطان نے اس کے دل میں دین سے عداوت اور دینداروں سے دشمنی پیدا کر دی اور اہل دین کو ایذا رسانی کرنے لگا اور اپنے زوال سلطنت کے ڈر سے ان لوگوں کو اپنے ملک سے نکال دیا اور بت پرستوں کو اپنا مقرب کیا اور ان کے لئے چاندی سونے کے بت بنوائے اور ان کو اور سب پر بزرگی دی اور ان بتوں کو سجدہ کیا۔ جب لوگوں نے یہ حال دیکھا تو وہ بھی بتوں کو پوجنے لگے اور دینداروں کی توہین کرنے لگے۔“

(شہزادہ یوز آسف اور حکیم بلوہر ص ٢‘ ٣‘ ٤)

شہزادہ یوز آسف کی پیدائش

” فولد للملك في تلك الايام بعد اياسه من الذكور غلام لم ير الناس مولودا مثله قط حسنا وجمالا وضياء فبلغ السرور من الملك مبلغا كادان يشرف منه على هلاك نفسه من الفرح وزعم ان الاوثان التي كان يعبدها هي التي وهبت له الغلام فقسم عامة ماكان في

صفحہ ٩٨

بيوت امواله على بيوت اوثانه وعمّ الناس بالاكل والشرب سنة وسمی الغلام یوزاسف............ الخ“

(اکمال الدین ص ٣٢١، ٣٢٢)

”اور اسی زمانہ میں جبکہ بادشاہ کو کوئی امید لڑکا ہونے کی باقی نہ رہی تھی اس کے یہاں ایک ایسا خوش جمال لڑکا پیدا ہوا جس کا ثانی چشم روزگار نے نہ دیکھا ہو گا۔ اس لڑکے کے پیدا ہونے سے اتنی خوشی بادشاہ کو ہوئی کہ قریب تھا کہ شادی مرگ ہو جائے اور اس نے یہ گمان کیا کہ جن بتوں کی ان دنوں میں پرستش کیا کرتا ہے انہوں نے یہ فرزند اسے عنایت کیا ہے۔ اسی خیال سے اس نے تمام خزانہ اپنا بت خانوں پر تقسیم کر دیا اور رعایا کو حکم دیا کہ سال بھر تک خوشی کریں اور اس لڑکے کا نام یوزآسف رکھا اور اس کے طالع دیکھنے کے لئے منجموں کو اور اہل علم کو جمع کیا۔ ان سب نے غور و تامل کے بعد عرض کیا کہ اس کے طالع سے ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ اس قدر شرف و بزرگی اسے حاصل ہو گی کہ ہندوستان میں کبھی کسی کو حاصل نہ ہوئی ہو گی اور جتنے منجم تھے سب نے ہمزبان ہو کر یہی بات کہی لیکن ان میں سے ایک منجم نے یہ کہا کہ میرا ایسا گمان ہے کہ اس لڑکے کے طالع میں جو شرف و بزرگی معلوم ہوتی ہے وہ شرف آخرت ہے اور مجھے یہ گمان ہے کہ یہ لڑکا عابدوں کا اور اہل دین کا پیشوا ہونے والا ہے اور عقبیٰ کے مرتبوں میں سے مرتبہ بلند پر یہ فائز ہونے کو ہے۔ اس لئے کہ جو بزرگی اس کے طالع میں مجھے معلوم ہوتی ہے ۔ بزرگی دنیا کو اس سے کوئی نسبت نہیں ہے۔“

(شہزادہ یوزآسف و حکیم بلوہر ص ١٤)

بلوہر کا لنکا سے یوزآسف کے پاس آنا

”وشاع خبره فى آفاق الارض وشهر بتفكره وجماله وكما له وفهمه وعقله وزهادته فى الدنيا وهوانها عليه فبلغ ذلك رجلا من النساك يقال له بلوهر بارض يقال له سرانديب وكان

صفحہ ٩٩

رجلا ناسکا حکیما فرکب البحر حتی اتی ارض سولابط ثم عمد الی باب ابن الملک فلزمہ وطرح عنہ زی النساك ولبس زی التجار وتردد الی باب ابن الملک حتی عرف الاھل والاحیاء“

(اکمال الدین ص ٣٢٥)

”اس لڑکے کی عقل و علم و کمال و فکر و تدبیر و فہم و زہد و ترک دنیا کا شہرہ دور دور پھیل گیا اور ایک شخص نے جو کہ اہل دین واہل عبادت میں سے تھا اور اس کا نام بلوہر تھا یہ خبر لنکا میں سنی اور یہ شخص بڑا عابد اور حکیم دانا تھا۔ اس نے دریا کا سفر کیا اور سولابط کی زمین کی طرف آیا اور شہزادہ کی ڈیوڑھی کا ارادہ ٹھان لیا اور عابدوں کا لباس اتار ڈالا‘ تاجروں کی سی وضع بنائی اور اس لڑکے کی ڈیوڑھی پر آمد و رفت شروع کی۔ یہاں تک کہ بہت سے ایسے لوگوں سے جو بادشاہ کے لڑکے کے دوست و رفیق تھے اور اس کے پاس آیا جایا کرتے تھے اس سے جان پہچان ہو گئی۔“

(شہزادہ یوز آسف و حکیم بلوہر ص ٢٧٦)

کتاب (اکمال الدین ص ٣٢٦ تا ٣٥٥ اور کتاب شہزادہ یوز آسف و حکیم بلوہر ص ٢٨ تا ١٢٣) میں بلوہر کی ملاقات اور گفتگو کا مفصل حال لکھا ہے۔ اس کے آگے جو کچھ درج ہے اس کا خلاصہ ذیل میں لکھا جاتا ہے :

حکیم بلوہر کا رخصت ہونا

”جب بلوہر کی گفتگو یہاں پہنچی تو یوز آسف سے رخصت ہوا اور اپنے گھر کی طرف پلٹ گیا اور چند روز اور اس کی خدمت میں آمد و رفت کرتا رہا۔ یہاں تک کہ اسے معلوم ہو گیا کہ بہتری و فلاح اور ہدایت و صلاح کے دروازے اس کے کھل گئے اور راہ حق اور دین روشن کی ہدایت اسے ہو گئی پھر اس سے بالکل ہی رخصت ہوا اور اس شہر سے چلا گیا اور یوز آسف غمگین و دل گیر و تنہا رہ گیا یہاں تک کہ وہ وقت آگیا کہ وہ دینداروں اور عابدوں میں مل جائے اور تمام خلق کو ہدایت کرے۔“

(اکمال الدین ص ٣٥٦ شہزادہ یوز آسف و حکیم بلوہر ص ١٢٣)

صفحہ ١٠٠

ص ٣٧٥ پر لکھا ہے کہ یوز آسف کے پاس خدا کی طرف سے ایک فرشتہ آیا۔ ص ٣٥٨ پر لکھا ہے کہ یوز آسف نے شاہانہ پوشاک گلے سے اتار ڈالی اور وزیر کو دیدی۔ اسی صفحہ پر یہ بھی لکھا ہے کہ وزیر شہر کی طرف پلٹ گیا اور یوز آسف نے اپنی راہ لی۔

یوز آسف کا پھر ارض سولابط میں آنا

” فمکث فی تلک البلاد حین ثم اتی ارض سولابط فلما بلغ والدہ قدومہ خرج یسیر ھو والاشراف فاکرموہ ووقروہ واجمع الیہ اھل بلدہ مع ذوی قرابتہ وحشمہ وقعدوا بین یدیہ وسلموا علیہ وکلمھم الکلام الکثین “

(اکمال الدین ص ٣٥٨)

اور ایک مدت تک اس ملک میں یوز آسف رہا اور لوگوں کو دین حق کی ہدایت کی اس کے بعد پھر سر زمین سولابط پر آیا جو کہ اس کے باپ کا ملک تھا جب اس کے باپ نے اس کے آنے کی خبر سنی۔ رؤساء وامراء وبزرگانِ ملک کو لئے ہوئے استقبال کے لئے آیا اور سب نے اس کی عزت و توقیر کی اور سب عزیز و آشنا واہلِ فوج واہلِ شہر اس کی خدمت میں آئے۔ بعد اس کے ان لوگوں سے یوز آسف نے بہت باتیں کیں اور سب لوگوں سے مہربانی ولطف سے پیش آیا۔

(شہزادہ یوز آسف و حکیم بلوہر ص ١٢٨)

یوز آسف کا ملک کشمیر میں آنا

” ثم انتقل من ارض سولابط وسار فی بلاد مدائن کثیرة حتی اتی ارضا تسمی قشمیر فسار فیھا واحیا منھا ومکث حتی اتاہ الاجل الی خلع الجسد وارتفع الی النور وقبل موتہ دعا تلمیذا لہ اسمہ یابد الذی کان یخدمہ ویقدم علیہ وکان رجلا کاملا فی الامور

صفحہ ١٠١

كلها فاوحى اليه فقال له قدرنا ارتفاعى عن الدينا فاحفظوا بفر ائضكم ولا تزيغوا عن الحق وخذ وابالنسك ثم امر يابدان يبنى له مكانا وبسط هو رجليه وهيئا راسه الى الغرب وجهه الى الشرق ثم قضى نحبه“

(اکمال الدین ص ٣٥٩)

”پھر یوز آسف نے ارض سولابط سے انتقال کیا اور بہت سے شہروں میں گیا اور لوگوں کو ہدایت کی۔ آخر ایک ایسی زمین میں آیا جس کا نام کشمیر ہے اور اس ملک کے لوگوں کو ہدایت کی اور وہیں رہا یہاں تک کہ اس کا وقت مرگ آپہنچا۔ تو پہلے ایک مرید کو اپنے پاس بلایا کہ اسے لوگ یابد کہا کرتے تھے اور وہ اس بزرگوار کی خدمت و ملازمت میں برابر رہا کرتا تھا اور علم و عمل میں صاحب کمال ہو گیا تھا۔ اس سے وصیت کی اور کہا کہ میری روح کا عالم قدس کی طرف پرواز کرنا قریب ہے۔ چاہئے کہ آپس میں فرائض الہی کا خیال رکھو اور حق کو چھوڑ کر باطل کی طرف توجہ نہ کرو اور عبادت و بندگی الہی کو ہاتھ سے نہ چھوڑو۔ یہ کہہ کر اس بزرگ نے عالم بقا کی طرف رحلت کی۔“

(شہزادہ یوز آسف و حکیم بلوہر ص ١٣٣)

نوٹ : اسی شہزادہ یوز آسف کی قبر شہر سری نگر کے محلہ خانیار میں پیر سید نصیر الدین صاحب کی قبر کے پاس ہے۔

(تاریخ کشمیر اعظمی ص ٨٢)

یوز آسف کے متعلق یہ کہیں نہیں لکھا کہ وہ بن باپ کے پیدا ہوا تھا۔ نہ یہ لکھا ہے کہ اس کی ماں کا نام مریم تھا اور نہ ہی یہ الفاظ آئے ہیں کہ اس کو خدا نے انجیل دی تھی۔ یہ بھی نہیں لکھا کہ وہ ملک شام کی طرف سے آیا تھا۔ جبکہ یہ چاروں باتیں اس میں نہیں پائی جاتیں۔ تو یوز آسف کی قبر کو حضرت مسیح ناصری کی قبر قرار دینا سراسر جھوٹ بولنا ہے۔

صفحہ ١٠٢

حضرت مسیح از روئے لٹریچر مرزائیہ

افغانستان، پنجاب، ہندوستان وغیرہ کا سفر کیا۔

شہزادہ یوز آسف

صفحہ ١٠٣

قادیانی دلیل نمبر ٥

”اور یہ کہ وہ مسیح مختلف ملکوں کی سیر کرتا ہوا آخر کشمیر میں چلا گیا اور تمام عمر وہاں سیر کر کے آخر سری نگر کے محلہ خانیار میں بعد وفات مدفون ہوا۔ اس کا ثبوت اس طرح پر ملتا ہے کہ عیسائی اور مسلمان اس بات پر اتفاق رکھتے ہیں کہ یوز آصف نام ایک نبی جس کا زمانہ وہی زمانہ ہے جو مسیح کا زمانہ تھا دور دراز سفر کر کے کشمیر میں پہنچا اور وہ نہ صرف نبی بلکہ شہزادہ بھی کہلاتا ہے اور جس ملک میں یسوع مسیح رہتا تھا اس ملک کا وہ باشندہ تھا اور اس کی تعلیم بہت سی باتوں میں مسیح کی تعلیم سے ملتی تھی بلکہ بعض مثالیں اور بعض فقرے اس کی تعلیم کے بعینہ مسیح کے ان تعلیمی فقرات سے ملتے ہیں جو اب تک انجیلوں میں پائے جاتے ہیں۔

(ریویو بابت ماہ ستمبر ١٩٠٣ء ص ٣٣٨ ج ٢ نمبر ٩)

نسبت بیان کیا جاتا ہے کہ وہ قریباً انیس سو برس سے ہے یہ اس امر کے لئے نہایت اعلیٰ درجہ کا ثبوت ہے۔“

(کتاب راز حقیقت ص ١١ خزائن ص ١٦٣ ج ١٤ حاشیہ)

”حال میں مسلمانوں کی تالیف کی چند پرانی کتابیں دستیاب ہوئی ہیں جن میں صریح یہ بیان موجود ہے کہ یوز آصف ایک پیغمبر تھا جو کسی ملک سے آیا تھا اور شہزادہ بھی تھا اور کشمیر میں اس نے انتقال کیا اور بیان کیا گیا ہے کہ وہ نبی چھ سو برس پہلے ہمارے نبی ﷺ سے گزرا ہے۔“

(کتاب راز حقیقت ص ١٢ حاشیہ خزائن ص ١٦٤ ج ١٤)

صفحہ ١٠٤

قادیانی دلیل کی تردید

ہیں کہ یوز آسف نام کا ایک نبی جس کا زمانہ وہی زمانہ ہے جو مسیح کا زمانہ تھا۔ دور دراز سے سفر کر کے کشمیر میں پہنچا اور وہ نہ صرف نبی بلکہ شہزادہ بھی کہلاتا تھا اور جس ملک میں یسوع مسیح رہتا تھا اس ملک کا وہ باشندہ تھا۔ صحیح نہیں ہے کیونکہ عیسائی اور مسلمان ہرگز اس بات پر اتفاق نہیں رکھتے کہ :

یہ دونوں باتیں مرزا قادیانی نے اپنے دل سے بنالی ہیں تاکہ ثابت کرے کہ یوز آسف کی قبر یسوع مسیح کی قبر ہے۔

”یہ بات بھی ثابت شدہ ہے کہ ضرور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہندوستان میں آئے تھے اور حضرت عیسیٰ کی قبر سری نگر کشمیر میں موجود ہے ....... ایک اور امر تعجب انگیز ہے کہ یوز آسف کی قدیم کتاب (جن کی نسبت اکثر محقق انگریزوں کے یہ بھی خیالات ہیں کہ وہ حضرت عیسیٰ کی پیدائش سے بھی پہلے شائع ہو چکی ہے ) جس کے ترجمے تمام ممالک یورپ میں ہو چکے ہیں انجیل کو اس کے اکثر مقامات سے ایسا توارد ہے کہ بہت سی عبارتیں باہم ملتی ہیں۔ مگر ہماری رائے تو یہ ہے کہ خود حضرت عیسیٰ کی یہ انجیل ہے جو ہندوستان کے سفر میں لکھی گئی ۔ “ (کتاب چشمہ مسیحی ص ٢ خزائن ص ٣٤٠‘ ٣٣٩

ج ٢٠ اخبار بدر مورخہ ٢٩ مارچ ١٩٠٦ء ص ٢ اخبار الحکم مورخہ ٧ مارچ ١٩٠٦ء ص ٤)

جناب ! آپ کی رائے کیا حیثیت رکھتی ہے ؟۔ آپ کی یہ رائے کہ خود حضرت عیسیٰ کی یہ انجیل ہے جو ہندوستان کے سفر میں لکھی گئی بے دلیل ہے واقعات

صفحہ ١٠٥

کا ثبوت دلائل سے ہوتا ہے نہ کہ قیاسات سے اگر عیسیٰ نے ہندوستان کے سفر میں یہ انجیل لکھی تھی تو آپ نے یہ نہ بتایا کہ کس مقام پر لکھی تھی اور کس زبان میں لکھی تھی بہر حال اس عبارت سے یہ تو معلوم ہو گیا کہ یوز آسف کی قدیم کتاب کی نسبت اکثر محقق انگریزوں کے یہ بھی خیالات ہیں کہ وہ حضرت عیسیٰ کی پیدائش سے بھی پہلے شائع ہو چکی ہے۔ پس ثابت ہوا کہ شہزادہ یوز آسف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے بہت پہلے ہوا ہے۔

(٣)...... کتاب یوز آسف وبلوہر (مطبع شمسی دہلی کی چھپی ہوئی) کے ص ٣ پر لکھا ہے کہ : ”کتاب سوانح یوز آسف حضرت عیسیٰ کے زمانہ سے کچھ ہی پہلے لکھی گئی تھی۔“ اس سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ شہزادہ یوز آسف حضرت مسیح سے پہلے ہوا ہے۔ اس کتاب یوز آسف وبلوہر کے اسی ص ٣ پر لکھا ہے کہ :

”پھون جب یوز آسف پر ایمان لایا تھا تو اس وقت تین سو برس بدھ کو ہو چکے تھے۔ مہاتما گوتم رشی بدھ ٥٥٠ سال قبل مسیح پیدا ہوئے تھے اور ٤٨٧ قبل مسیح فوت ہوئے تھے۔“

(تاریخ ہند مؤلفہ لتھبرج ص ٣٠)

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ شہزادہ یوز آسف حضرت یسوع مسیح سے کئی سو سال پیشتر گزرا ہے۔

(٤)...... سید صادق حسین مرزائی مختار عدالت اٹاوہ کی کتاب (کشف الاسرار (مطبوعہ ١٩١١ء مطبع بدر قادیاں) ص ٢) پر یہی الفاظ لکھے ہیں کہ :

”پھون جب یوز آسف پر ایمان لایا ہے تو اس وقت تین سو برس بدھ کو ہو چکے تھے۔ یوز آسف کے زمانہ کے دو سو برس کے بعد یہ کتاب لکھی گئی ہے اور چونکہ بدھ حضرت عیسیٰ سے قریباً پانچ سو برس پہلے گزرا ہے اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ کتاب غالباً حضرت عیسیٰ کے زمانہ سے کچھ ہی پہلے لکھی گئی تھی۔“

صفحہ ١٠٦

اس سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ یوز آسف شہزادہ سے کئی سو سال بعد حضرت یسوع ہوئے ہیں :

برس کے قریب سے یہ مزار سری نگر محلہ خانیار میں ہے ۔ “

(کتاب راز حقیقت ص ١١٧ ، ١١٨ خزائن ص ٧١ ج ١٤)

اور اسی کتاب پر ہے :

”اور پھر انیس سو سال تک اس کے مزار کی مدت بیان کئے جانا ۔ “

(راز حقیقت ص ١٨ حاشیہ‘ خزائن ص ٧٠ ج ١٤)

حضرت مسیح ابن مریم کی نسبت مرزا قادیانی نے یہ لکھا ہے کہ ان کی عمر ١٢٠ برس کی ہوئی ہے۔ (راز حقیقت ص ٧٢ حاشیہ‘ خزائن ص ١٥٤ ج ١٤) اور کتاب راز حقیقت نومبر ١٨٩٨ء میں لکھی گئی تھی اگر سری نگر کشمیر کے محلہ خانیار والی قبر حضرت مسیح کی قبر ہوتی اور حضرت مسیح نے ١٢٠ برس عمر پائی ہوتی تو اس مزار کی مدت ١٧٧٨ سال ہوتی نہ کہ انیس سو سال۔ انیس صدیاں تو مسیح کی پیدائش پر ہوئیں۔ اب مرزا قادیانی کے پیش کردہ گواہوں کی اور گواہی سنئے۔ مرزا قادیانی کہتے ہیں :

” یہ مقام جہاں یسوع مسیح کی قبر ہے خطہ کشمیر ہے یعنی سری نگر محلہ خانیار ہے۔ اس بارے میں پرانی کتابیں دستیاب ہوئی ہیں جو اس قبر کا حال بیان کرتی ہیں۔ پرانے کتبہ کے دیکھنے والے بھی شہادت دیتے ہیں کہ یہ یسوع مسیح کی قبر ہے۔ علاوہ ازیں سری نگر اور اس کے نواح کے کئی لاکھ آدمی ہر ایک فرقہ کے بالاتفاق گواہی دیتے ہیں کہ صاحب قبر کو عرصہ انیس سو سال کا ہوا ہے کہ ملک شام کی طرف سے اس ملک میں آیا تھا اور اسرائیلی نبی اور شہزادہ نبی کے نام سے شہرت رکھتا تھا۔ قوم نے قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ اس لئے بھاگ آیا تھا۔ “

(ریویو آف ریلیجنز ج اول نمبر ١٠ ص ٤١٩‘ اکتوبر ١٩٠٢ء)

یہاں مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ سری نگر اور اس کے نواح کے کئی لاکھ آدمی

صفحہ ١٠٧

ہر ایک فرقہ کے بالاتفاق گواہی دیتے ہیں کہ صاحب قبر انیس سو سال کا عرصہ ہوا ہے کہ ملک شام کی طرف سے اس ملک میں آیا تھا۔ مرزا قادیانی کے پیش کردہ گواہوں کے بیانات میں سخت اختلاف ہے۔ کجا انیس سو سال تک اس کے مزار کی مدت بیان کئے جانا کجا یہ بیان کہ صاحب قبر عرصہ انیس سو سال کا ہوا ہے کہ ملک شام کی طرف سے اس ملک میں آیا تھا۔ پس ثابت ہوا کہ حضرت مسیح کی قبر سری نگر محلہ خانیار میں بتلانا سراسر جھوٹا قصہ ہے۔

”اور کشمیر کی تاریخی کتابیں جو ہم نے بڑی محنت سے جمع کی ہیں جو ہمارے پاس موجود ہیں ان سے بھی مفصلاً یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک زمانہ میں جو اس وقت شمار کی رو سے دو ہزار برس کے قریب گزر گیا ہے۔ ایک اسرائیلی نبی کشمیر میں آیا تھا جو بنی اسرائیل میں سے تھا اور شہزادہ نبی کہلاتا تھا۔ اسی کی قبر محلہ خانیار میں ہے جو یوز آسف کی قبر کر کے مشہور ہے۔

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٢٢٧ خزائن ص ٤٠٣ ج ٢١)

دعویٰ تو اتنا بڑا ہے کہ : ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کشمیر کی طرف سفر کرنا ایسا امر نہیں ہے کہ جو بے دلیل ہو بلکہ بڑے بڑے دلائل سے یہ امر ثابت کیا گیا ہے۔“(حوالہ بالا ص ٢٢٦) مگر دلائل قوی اس پر پیش نہیں کرتے ہیں اور نہ ہی یہ بتلاتے ہیں کہ کشمیر کی تاریخی کتابیں کس زبان میں ہیں ان کے مصنف کون ہیں اور کس زمانے میں ہوئے ہیں؟۔ مرزا قادیانی نے کشمیر کی تاریخی کتابیں کے الفاظ لکھ کر حوالہ تو خوب دیا ہے مگر نہ تو صفحہ لکھا ہے اور نہ ان کی اصل عبارتیں لکھی ہیں معلوم نہیں کہ اس قدر اخفا کیوں کیا گیا ہے؟۔ صرف یہ الفاظ لکھنے سے کہ کشمیر کی تاریخی کتابیں جو ہم نے بڑی محنت سے جمع کی ہیں جو ہمارے پاس موجود ہیں۔ مخالف مان نہیں سکتا ہے جب تک اصل عبارت مع حوالہ و صفحہ درج نہ کی جائے۔

صفحہ ١٠٨

قادیانی دلیل نمبر ٦

”کتاب سوانح یوز آسف جس کی تالیف کو ہزار سال سے زیادہ ہو گیا ہے اس میں صاف لکھا ہے کہ ایک نبی یوز آسف کے نام سے مشہور تھا اور اس کی کتاب کا نام انجیل تھا اور پھر اسی کتاب میں اس نبی کی تعلیم لکھی ہے اور وہ تعلیم مسئلہ تثلیث کو الگ رکھ کر بعینہ انجیل کی تعلیم ہے۔ انجیل کی مثالیں اور بہت سی عبارتیں اس میں بعینہ درج ہیں۔ چنانچہ پڑھنے والے کو کچھ بھی اس میں شک نہیں رہ سکتا کہ انجیل اور اس کتاب کا مؤلف ایک ہی ہے اور طرفہ تر یہ کہ اس کتاب کا نام بھی انجیل ہی ہے اور استعارہ کے رنگ میں یہودیوں کو ایک ظالم باپ قرار دے کر ایک لطیف قصہ بیان کیا ہے جو عمدہ نصائح سے پر ہے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ١٣، ١٤ خزائن ص ١٠٠ ج ١٧)

”اور یوز آسف کی کتاب میں صریح لکھا ہے کہ یوز آسف پر خدا تعالیٰ کی طرف سے انجیل اتری تھی۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٢٢٨ خزائن ص ٤٠٤ ج ٢١)

”اور یوز آسف کے حالات کے بیان کرنے کے بارے میں مسلمانوں کی کتابوں میں بعض ہزار برس سے زیادہ زمانہ کی تالیف ہیں جیسا کہ کتاب اکمال الدین جس میں یہ تمام باتیں درج ہیں اور اس کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ یوز آسف نے جو شہزادہ نبی تھا اپنی کتاب کا نام انجیل رکھا تھا۔ ماسوا اس کتاب کے خاص سری نگر میں جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر ہے ایسے پرانے نوشتے اور تاریخی کتابیں پائی گئی ہیں جن میں لکھا ہے کہ یہ نبی جس کا نام یوز آسف ہے اور اسے عیسیٰ نبی بھی کہتے ہیں اور شہزادہ نبی کے نام سے بھی موسوم کرتے ہیں۔ یہ بنی اسرائیل کے نبیوں میں سے ایک نبی

صفحہ ١٠٩

ہے جو اس پرانے زمانہ میں کشمیر میں آیا تھا جس کو ان کتابوں کی تالیف کے وقت قریباً سولہ سو برس گزر گئے تھے یعنی اس موجودہ زمانہ تک انیس سو برس گزرا ہے۔“

(ریویو آف ریلیجنز بابت ماہ ستمبر ١٩٠٣ء ص ٣٣٩)

”اکمال الدین نام کتاب میں جو گیارہ سو برس کی ہے لکھا ہے کہ یسوع جب کشمیر وغیرہ کی طرف آیا تو اس کے پاس کتاب انجیل تھی جس کا اصل نام بشورٰی ہے۔“

(کتاب عسل مصفے حصہ اول ص ٥٨٥، رسالہ التعقیہ ص ٢٧)

سے ثابت ہوتا ہے کہ شہزادہ نبی جو غیر ملک سے آیا اور کشمیر میں وفات پائی حضرت مسیح علیہ السلام ہی تھے اور کوئی نہیں تھا۔............ مذکورہ بالا بیان میں لفظ بشریٰ قابل توجہ ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت یوز آسف یسوع مسیح ہی تھے عبرانی میں انجیل کو بشورٰی کہتے ہیں اور انگریزی میں گاسپل اور تینوں لفظوں کے معنی ایک ہی ہیں۔ یعنی خوشخبری اصل عبرانی نام بشورٰی ہے اور چونکہ عبرانی عربی سے پیدا ہوئی ہے اس لئے بشورٰی وہی لفظ ہے جس کو عربی میں بشریٰ کہتے ہیں۔ پس معلوم ہوا کہ حضرت یوز آسف علیہ السلام انجیل کی طرف لوگوں کو بلاتے تھے اور جو کتاب ان پر اتاری گئی تھی اس کا نام بشریٰ تھا جو انجیل کا عبرانی نام ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ حضرت یوز آسف حضرت یسوع مسیح علیہ السلام کا ہی دوسرا نام ہے اور دونوں نام ایک ہی شخص کے ہیں جس پر بشریٰ یعنی انجیل اتاری گئی تھی۔“

نوٹ : یہی دلیل (رسالہ ریویو بابت ماہ مئی ١٩٠٣ء ص ١٨٤، رسالہ ریویو بابت ماہ مئی ١٩٠١ء ص ٧٧، رسالہ ریویو بابت ماہ جنوری ١٩٠٧ء ص ٣٣، رسالہ کشف الاسرار ص ١٤) پر پیش کی گئی ہے۔

صفحہ ١١٠

قادیانی دلیل کی تردید

النعمۃ ، کتاب شہزادہ یوز آسف و حکیم بلوہر اور کتاب یوز آسف وبلوہر‘ میں لکھے ہوئے ہیں مگر ان کتابوں میں یہ الفاظ نہیں ہیں کہ یوز آسف پر انجیل اتری تھی۔ پہلی کتاب کے ص ٣١٧ لغایت ٣٥٩ کو بغور پڑھا گیا۔ ان صفحوں میں نہ تو لفظ یسوع کہیں آیا ہے اور نہ ہی کہیں لفظ انجیل لکھا ہوا ہے۔ مرزا قادیانی اور ان کے مرید حکیم خدا بخش مصنف کتاب عسل مصفےٰ خدا کے بندوں کو سخت دھوکہ دے رہے ہیں۔

”وتقدم يوز آسف امامه حتى بلغ فضاء واسعاً فرفع رأسه فرأى شجرة عظيمة على عين ماء احسن مايكون من الشجر واكثرها فرعا و غصنا واملاها ثمر وقد اجتمع اليه من الطير مالا يعد كثرة فسر بذالك المنظر وفرح به وتقدم اليه حتى دنى منه وجعل يعبر فى نفسه ويفسره الشجرة بالبشرى التى دعا اليه وعين الماء بالحكمة والعلم والطير بالناس الذين يجتمعون اليه ويقبلون منه الدين“

(کتاب اکمال الدین و اتمام النعمۃ ص ٣٥٨)

”اور شہزادہ یوز آسف نے اپنی راہ لی یہاں تک کہ ایک صحرائے وسیع میں پہنچا پس اس نے اپنا سر اٹھایا اور وہاں ایک بڑا سا درخت دیکھا کہ ایک چشمہ کے کنارہ پر لگا ہوا ہے جب قریب پہنچا تو دیکھا کہ نہایت ہی پاکیزہ شفاف چشمہ ہے اور نہایت ہی خوبصورت و شاداب درخت ہے کہ کبھی ایسا درخت خوبصورت اس نے نہیں دیکھا تھا اور اس درخت میں شاخیں بہت تھیں اور جب اس درخت کے میوہ کو چکھا تو دنیا بھر کے میوؤں سے زیادہ شیریں پایا اور یہ دیکھا کہ درخت پر بے حد و بے شمار پرندے بیٹھے ‘

صفحہ ١١١

ہوئے ہیں ان باتوں کے دیکھنے سے یہ بہت ہی خوش ہوا اور اس درخت کے نیچے کھڑا ہو گیا اور اپنے دل میں ان باتوں کا مطلب سوچا تو درخت کو اس نے مثال دی خوشخبری ہدایت سے جو اسے پہنچی تھی اور پانی کے چشمہ کو علم و حکمت سے اور پرندوں کو ان لوگوں سے جو اس کے پاس جمع ہوں گے اور اس سے عقل و حکمت سیکھیں گے اور اس سے ہدایت پائیں گے ۔“

(شہزادہ یوز آسف و حکیم بلوہر ص ١٢٧)

کتاب ”اکمال الدین واتمام النعمۃ“ ص ٣٥٨ پر جو لفظ بشریٰ آیا ہے۔ اس سے یہ لوگ (مرزائی) یہ سمجھے کہ یوز آسف پر انجیل اتری تھی حالانکہ ایسا استدلال سراسر غلط ہے۔ کتاب اکمال الدین عبرانی زبان میں نہیں ہے بلکہ عربی زبان میں ہے۔ پس یہاں لفظ بشریٰ سے مراد کتاب انجیل نہیں ہے بلکہ اس کے معنے خوشخبری کے ہیں۔ مثال کے طور پر دیکھ لیجئے کہ اس کتاب (اکمال الدین ص ٣٥٧) پر لکھا ہے کہ فرشتے نے شہزادہ یوز آسف کے پاس آکر کہا کہ :

”درگاہ الٰہی کی طرف سے خیر و سلامتی تجھے نصیب ہو۔ تو انسان ہے اور ایسے جانوروں اور حیوانوں میں تو پھنسا ہوا ہے جو سب کے سب بدکاری و گنہگاری و نادانی میں پھنسے ہوئے ہیں۔ میں تیرے پاس اس لئے آیا ہوں کہ رحمت الٰہی کی تجھے مبارک باد دوں اور امور دنیا و آخرت کی چند باتیں جو تجھے معلوم نہیں ہیں وہ تعلیم کروں۔ (فاقبل بشارتی) تو میری خوشخبری کو یقین کر اور میرے مشورہ کو اختیار کر اور میرے کہنے سے باہر نہ ہو ......... الخ۔

(کتاب شہزادہ یوز آسف و حکیم بلوہر ص ١٢٣ ، ١٢٤)

اس جگہ اردو الفاظ تو میری خوشخبری کو یقین کر عربی الفاظ ( فاقبل بشارتی) کا ترجمہ ہیں۔ دیکھئے بشارت کا معنی خوشخبری کے ہیں نہ کہ کتاب انجیل۔

مؤمنون ، زخرف ، حدید ، صف ، میں حضرت عیسیٰ ابن مریم کا ذکر خیر آیا ہے اور سورۃ

صفحہ ١١٢

مائدہ آیت نمبر ٤٦ اور سورۃ حدید آیت نمبر ٢٧ میں صاف اور کھلے طور پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”وآتينه الانجيل“ ﴿اور ہم نے عیسیٰ کو انجیل دی﴾ غرض یہ کہ قرآن مجید میں انجیل کا لفظ آیا ہے۔ اور کئی بار آیا ہے لیکن انجیل کے لئے لفظ بشریٰ فرقان حمید میں کہیں نہیں آیا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ قرآن مجید میں لفظ بشریٰ استعمال ہوا ہے مگر اس کے معنی اس جگہ خوشخبری ہے نہ کہ کتاب انجیل۔

سورۃ البقرہ آیت نمبر ٩٧ میں ہے : ”وبشریٰ للمومنین“ اسی طرح سورۃ النحل آیت نمبر ٨٩‘ ١٠٢ میں قرآن شریف کے بارہ میں ہے : ” وبشریٰ للمسلمین“ سورۃ یونس آیت نمبر ٦٤ میں اولیاء اللہ کا ذکر کرتے ہوئے اللہ فرماتا ہے : ”لهم البشریٰ فی الحیوة الدنیا وفى الاخرة“ ﴿ان کے واسطے خوشخبری ہے دنیا کی زندگانی میں اور آخرت میں﴾ سورۃ الانفال آیت نمبر ١٠ میں ملائکہ کا ذکر خیر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ” وماجعله الله الا بشریٰ“ ﴿اور نہیں کیا ہم نے اس کو مگر خوشخبری﴾ غرض یہ کہ قرآن مجید میں لفظ بشریٰ کتاب انجیل کے معنوں میں نہیں آیا ہے البتہ اس کے معنی ان مقامات میں خوشخبری کے ہیں۔

(٤)...... الزامی جواب: خود مرزا غلام احمد قادیانی نے ١٣١١ھ میں عربی میں ایک کتاب لکھی تھی جس کا نام انہوں نے ”حمامۃ البشریٰ“ رکھا تھا۔ اس کے معنی ہیں ” خوشخبری کا کبوتر“ نہ کہ ”انجیل کا کبوتر“ مرزا قادیانی کے مرنے کے بعد نور الدین قادیانی بھیروی کے زمانے میں محمد منظور الٰہی مرزائی نے مرزا غلام احمد قادیانی کے الہامات کو ایک کتاب میں اکٹھا کر کے شائع کیا تھا اور اس کا نام رکھا تھا ”البشریٰ“ یہ کتاب دو حصوں میں ہے۔

پھر اور سنئے اسی کتاب (البشریٰ حصہ دوم ص ١٣٤) پر مرزا قادیانی کا ایک الہام یوں لکھا ہے: ” لکم البشریٰ فی الحیوة الدنیا“ ﴿تمہارے لئے اس دنیا کے زندگی

صفحہ ١١٣

میں خوشخبری ہے ٭ نیز دیکھو البشریٰ حصہ دوم ص ٦١ بشریٰ لک خوشخبری ہووے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ کتاب (اکمال الدین ص ٣٥٨) پر جو لفظ بعرٰی آیا ہے اس سے کتاب انجیل مراد لینا غلط ہے۔

قادیانی دلیل نمبر ٧

(١)...... مرزا قادیانی لکھتا ہے :

”اور جب میں نے اس قصہ کی تصدیق کے لئے ایک معتبر مرید اپنا جو خلیفہ نورالدین کے نام سے مشہور ہیں کشمیر سری نگر میں بھیجا تو انہوں نے کئی مہینے رہ کر بڑی آہستگی اور تدبر سے تحقیقات کیں۔ آخر ثابت ہو گیا کہ فی الواقع صاحب قبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی ہیں۔ جو یوز آسف کے نام سے مشہور ہوئے یوز کا لفظ یسوع کا بگڑا ہوا یا اس کا مخفف ہے اور آسف حضرت مسیح کا نام تھا۔ جیسا کہ انجیل سے ظاہر ہے جس کے معنی ہیں یہودیوں کے متفرق فرقوں کو تلاش کرنے ولا یا اکٹھے کرنے والا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ کشمیر کے بعض باشندے اس قبر کا نام عیسیٰ صاحب کی قبر بھی کہتے ہیں اور ان کی پرانی تاریخوں میں لکھا ہے کہ یہ ایک نبی شہزادہ ہے جو بلادِ شام کی طرف سے آیا تھا جس کو قریباً انیس سو برس آئے ہوئے گزر گئے اور ساتھ اس کے بعض شاگرد تھے اور وہ کوہِ سلیمان پر عبادت کرتا رہا اور اس کی عبادت گاہ پر ایک کتبہ تھا جس کے یہ لفظ تھے کہ یہ ایک شہزادہ نبی ہے جو بلادِ شام کی طرف سے آیا تھا۔ نام اس کا یوز ہے پھر وہ کتبہ سکھوں کے عہد میں محض تعصب اور عناد سے مٹایا گیا اب وہ الفاظ اچھی طرح پڑھے نہیں جاتے اور وہ قبر بنی اسرائیل کی قبروں کی طرح ہے اور بیت المقدس کی طرف منہ ہے اور قریباً سری نگر کے پانسو آدمی نے اس محضر نامہ پر بدیں مضمون دستخط اور مہریں لگائیں کہ کشمیر کی پرانی تاریخوں سے ثابت ہے کہ صاحب قبر ایک اسرائیلی نبی تھا اور شہزادہ کہلاتا تھا۔ کسی بادشاہ کے ظلم کی وجہ سے کشمیر میں آگیا تھا اور بہت بڑھا

صفحہ ١١٤

ہو کر فوت ہوا اور اس کو عیسیٰ صاحب بھی کہتے ہیں اور شہزادہ نبی بھی اور یوز آصف بھی۔ اب بتلاؤ کہ اس قدر تحقیقات کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مرنے میں کسر کیا رہ گئی۔"

(تحفہ گولڑویہ ص ١٤ خزائن ص ١٠٠ ج ١٧، نیز دیکھو اخبار فاروق مورخہ ٢٠ اکتوبر ١٩٢٦ء ص ٦)

قادیانی دلیل کی تردید

پیٹ بھر کر جھوٹ بولا ہے۔ مرزا قادیانی کا لکھنا کہ ان کی پرانی تاریخوں میں لکھا ہے کہ یہ ایک نبی شہزادہ ہے جو بلاد شام کی طرف سے آیا تھا سراسر غلط اور جھوٹ ہے۔ مرزا قادیانی دعویٰ تو کر دیتے ہیں مگر اس پر دلیل پیش نہیں کرتے۔ ان کا فرض تھا کہ اہل کشمیر کی پرانی تاریخوں کا نام لکھتے اور یہ بتلاتے کہ ان کے مصنف کون تھے اور کس زمانے میں ہوئے ہیں اور اہل کشمیر کی یہ پرانی تاریخیں کس زبان میں ہیں اور اصل عبارت معہ حوالہ لکھتے۔ تب آپ کی تحقیقات کا پتہ چلتا اور اگر سری نگر کے قریباً پانسو آدمی نے یہ بیان دیا ہے کہ کشمیر کی پرانی تاریخ سے ثابت ہے کہ صاحب قبر ایک اسرائیلی نبی تھا تو یہ بیان بھی بے دلیل ہے۔ ذرا کشمیر کی پرانی تاریخ کا نام ، صفحہ ، اصل عبارت تو لکھ دی ہوتی۔ آپ کی وہی مثل ہوئی ، جھوٹ اوڑھنا، جھوٹ بچھونا ، جھوٹ ہی ان کا سرہانا ہے۔ خود مرزا قادیانی نہ کبھی سری نگر (کشمیر) تشریف لے گئے جو کچھ مریدوں وغیرہ نے لکھا اور کہا آپ نے اس کو سچ مان لیا۔ میں کہتا ہوں کہ اگر مرزا قادیانی اور ان کے مریدوں کو کہا جاتا کہ پچھلی صدیوں میں قریباً سب دنیا کے مسلمانوں میں مسیح کے زندہ ہونے پر ایمان رکھا جاتا تھا اور بڑے بڑے بزرگ اسی عقیدہ پر فوت ہوئے۔

(حقیقت النبوۃ ص

١٤٢) تو کیا مرزا قادیانی اور ان کے مرید حضرت مسیح کے زندہ ہونے پر ایمان لے آتے۔ وہ بجائے ماننے کے یہ سوال کرتے کہ قرآن مجید اور حدیث شریف سے حیات مسیح کا ثبوت دو ہم تب مانیں گے۔ ٹھیک اسی طرح میں کہتا ہوں کہ مرزا قادیانی اور سری نگر

صفحہ ١١٥

کے قریباً پانسو آدمی کے بے دلیل دعویٰ کو کون مان سکتا ہے۔

ستمبر ١٩٢٦ء کے اخبار اہل حدیث امرتسر میں علماء مرزائیہ کو چیلنج دیا تھا کہ اہل کشمیر کی پرانی تاریخوں سے یہ الفاظ مجھے دکھا دو کہ :

”یوز آسف بلاد شام کی طرف سے آیا تھا۔“

میرا یہ مطالبہ تھا جس کا صحیح جواب آج تک مرزائی علماء نہ دے سکے اور انشاء اللہ نہ دے سکیں گے۔ البتہ غلام احمد مرزائی مولوی فاضل ساکن بدوملی نے یہ جواب ناصواب لکھا کہ حضرت صاحب نے یہ پانچ سو آدمیوں کی روایت بیان کی ہے اور کشمیریوں میں جو بات مشہور ہے یا خود کشمیریوں نے جس بات کو اپنی پرانی تاریخوں کی طرف منسوب کر کے بیان کیا ہے اس کو حضور نے بیان کیا ہے۔ جبکہ ان لوگوں کا دستخطی محضر نامہ بھی حضور کے پاس پہنچا۔“

(فاروق مورخہ ٢٠ اکتوبر ١٩٢٦ء ص٦)

اس جواب کے لکھنے سے یہ بہتر تھا کہ مولوی فاضل غلام احمد مرزائی اس بارے میں قلم نہ اٹھاتے یہ میرے مطالبے کا جواب نہیں ہے میرا سوال صرف اس قدر ہے کہ اہل کشمیر کی پرانی تاریخوں سے یہ الفاظ دکھاؤ کہ یوز آسف بلاد شام کی طرف سے آیا تھا۔ پانچ سو کشمیریوں نے اگر یہ بیان دیا ہے تو جھوٹ بولا ہے جھوٹ کی تائید کرنے والا جھوٹا ہوتا ہے۔ پھر یہی مولوی فاضل اس اخبار کے ص ٦ پر تاریخ طبری، کتاب اکمال الدین اور کتاب کنز العمال کا ذکر کرتا ہے۔ حالانکہ یہ کتابیں اہل کشمیر کی پرانی تاریخوں میں سے نہیں ہیں۔ تاریخ طبری اور کنز العمال میں لفظ ”یوز آسف“ کہیں نہیں آیا ہے اور نہ یہ الفاظ آئے ہیں۔ کہ یوز آسف بلاد شام سے آیا تھا۔ کتاب اکمال الدین ص ٣١٧ تا ٣٥٩ میں شہزادہ یوز آسف کے حالات بے شک درج ہیں مگر یہ الفاظ کہیں نہیں کہ یوز آسف بلاد شام کی طرف سے آیا تھا۔ بہر حال میرا مطالبہ قائم

صفحہ ١١٦

ہے اور اس کا صحیح جواب دینے سے مرزائی علماء قاصر ہیں۔

١٣٠٣ھ مطبع محمدی لاہور) ص ٨٢ پر حضرت سید نصیر الدین کا ذکر خیر کرتے ہوئے لکھا ہے :

” در جوار ایشان سنگ قبرے واقع شدہ در عوام مشہورہ است کہ آنجا پیغمبرے آسودہ است کہ درزمان سابقہ درکشمیر مبعوث شدہ بود۔ ایں مکان بمقام پیغمبر معروف است در کتابے از تواریخ دیدہ شدہ کہ بعد قضیہ درود راز حکایتے مے نویسد کہ یکے از سلاطین زادہا براہ زہد وتقویٰ آمدہ ریاضت و عبادت بسیار کرد برسالت مردم کشمیر مبعوث شدہ درکشمیر آمدہ بدعوت خلائق اشتغال نمودو بعد رحلت درمحلہ انزہ مرہ آسود دراں کتاب نام آں پیغمبررا یوزآسف نوشت ............ الخ (نیز دیکھو تاریخ کبیر کشمیر ص ٢٤) “

مرزا قادیانی کی کتاب (راز حقیقت ص ٢٠‘ خزائن ص ٧٢ ج ١٤‘ رسالہ کشف الاسرار ص ١٣‘ رسالہ ریویوبابت ماہ نومبر‘ دسمبر ١٩٠٣ء ص ٤٧٠‘ رسالہ ریویو ج ٣ نمبر ٥ ص ١٧٨‘ رسالہ ریویوبابت مئی ١٩٠٦ء ص ١٧٦) پر مندرجہ بالا عبارت کا خلاصہ مطلب اردو میں یوں لکھا ہے :

”سید نصیر الدین کی قبر کے ساتھ ایک نبی کی قبر مشہور ہے وہ ایک شہزادہ تھا جو غیر ملک سے کشمیر میں آیا وہ زہد ‘ تقویٰ اور عبادت میں کامل تھا۔ خدا کی طرف سے نبی بنایا گیا اور اہل کشمیر کی دعوت میں مشغول ہوا اس کا نام یوز آسف تھا۔ بہت سے اہل کشف اور خصوصاً میرے مرشد نے شہادت دی ہے کہ اس قبر سے برکات نبوت ظاہر ہوتے ہیں۔“

دیکھئے یہاں یہ نہیں لکھا کہ یوز آسف شہزادہ مغرب سے آیا نہ یہ لکھا ہے کہ

صفحہ ١١٧

وہ اسرائیلی نبی تھا۔ یہ بھی نہیں لکھا ہے کہ وہ بلاد شام کی طرف سے آیا تھا۔ صرف اس قدر درج ہے کہ یوز آسف شہزادہ تھا نبی تھا غیر ملک سے کشمیر میں آیا۔

قادیانی دلیل نمبر ٨

”فی الواقع صاحب قبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی ہیں جو یوز آسف کے نام سے مشہور ہوئے۔ یوز آسف کا لفظ یسوع کا بگڑا ہوا یا اس کا مخفف ہے اور آسف حضرت مسیح کا نام تھا جیسا کہ انجیل سے ظاہر ہے جس کے معنی ہیں یہودیوں کے متفرق فرقوں کو تلاش کرنے والا یا اکٹھا کرنے والا۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ١٤ خزائن ص ١٠٠ ج ١٧)

”ماسوا اس کے وہ لوگ شہزادہ نبی کا نام یوز آسف بیان کرتے ہیں یہ لفظ صریح معلوم ہوتا ہے کہ یسوع آسف کا بگڑا ہوا ہے۔ آسف عبرانی زبان میں اس شخص کو کہتے ہیں جو قوم کو تلاش کرنے والا ہو۔ چونکہ حضرت عیسیٰ اپنی اس قوم کو تلاش کرتے کرتے جو بعض فرقے یہودیوں میں سے گم تھے کشمیر میں پہنچے تھے۔ اس لئے انہوں نے اپنا نام یسوع آسف رکھا تھا۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٢٢٨ خزائن ص ٤٠٤ ج ٢١)

آسف کا بگڑا ہوا ہے۔ آسف بھی حضرت مسیح کا عبرانی میں ایک نام ہے جس کا ذکر انجیل میں بھی ہے اور اس کے معنی ہیں متفرق قوموں کو اکٹھا کرنے والا۔“

(تبلیغ رسالت ج ٩ ص ١٩، مجموعہ اشتہارات ص ٣٢٧ ج ٣)

”ہاں اس کتاب (یعنی کتاب اکمال الدین) میں بجائے یسوع کے یا عیسیٰ کے یوز آسف ہے۔ جو مخفف اور مرکب ہے دو ناموں سے یعنی یسوع بن یوسف۔

صفحہ ١١٨

(دیکھو رسالہ ریویو آف ریلیجنز بابت ماہ اگست ١٩٢٥ء ص ٣٢)

”یوز آسف کا وجہ تسمیہ یوز کی ”ز“ حرف ”س“ سے تبدیل شدہ ہے اور ”س “ کے آگے ”و“ حذف ہو چکی ہے۔ پس اصل میں ”یوسو“ تھا جو سریانی میں عیسیٰ کو کہتے ہیں اور آج کل ”یسو“ کہتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ عیسیٰ کا اصل نام عبرانی میں ”یوسع“ ہو کیونکہ عبرانی میں اس وقت یہ نام عام مروج تھا اور بائبل میں ایسے نام آج بھی ہم کو نظر پڑتے ہیں۔ پس ”یوسع“ کا ”یوز“ بن جانا آسان ہے اور یوزا، سے یوسا بنا ہے اور صف یا آصف سے سف اور آصف مخفف ہے یوسف کا۔ پس سارا نام یوز آسف مخفف ہے ”یوسو یوسف“ کا جس کا مطلب یہ ہے کہ یسوع بن یوسف چونکہ یوسف اس شخص کا نام تھا جس کے ساتھ حضرت مریم صدیقہ کا نکاح ہوا تھا اور حضرت عیسیٰ یوسف کے ربیب تھے۔ اس لئے حضرت عیسیٰ کو بیٹا ہی کہتے تھے۔ چنانچہ انجیل اس بات کی شہادت دیتی ہے۔“

(رسالہ ریویو آف ریلیجنز بابت ماہ دسمبر ١٩٢٥ء ص ٣٢)

قادیانی دلیل کی تردید

جو کچھ مرزا غلام احمد قادیانی نے (تحفہ گولڑویہ ص ١٤، خزائن ص ١٠٠ ج ١٧، ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٢٢٨، خزائن ص ٤٠٤ ج ٢١) یوز آسف کے معنوں پر لکھا ہے اس کی تردید میں میں اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتا بلکہ مرزا قادیانی کی چند ایک دوسری تحریریں ذیل میں درج کئے دیتا ہوں۔ ناظرین ذرا غور سے پڑھیں :

جس کو یوز آسف نبی کی قبر کہتے ہیں۔ اس نام پر ایک سرسری نظر کر کے ہر ایک شخص کا ذہن ضرور اس طرف منتقل ہو گا کہ یہ قبر کسی اسرائیلی نبی کی ہے کیونکہ یہ لفظ عبرانی زبان سے مشابہ ہے مگر ایک عمیق نظر کے بعد نہایت تسلی بخش طریق کے ساتھ کھل جائے گا کہ دراصل یہ لفظ یسوع آسف ہے یعنی یسوع غمگین، آسف اندوہ اور غم کو کہتے

صفحہ ١١٩

ہیں چونکہ مسیح نہایت غمگین ہو کر اپنے وطن سے نکلے تھے اس لئے اپنے نام کے ساتھ آسف ملا لیا مگر بعض کا بیان ہے کہ دراصل یہ لفظ یسوع صاحب ہے پھر اجنبی زبان میں بکثرت استعمال ہو کر یوز آسف بن گیا۔ مگر میرے نزدیک یسوع اسم با مسمیٰ ہے اور ایسے نام جو واقعات پر دلالت کریں عبرانی نبیوں اور دوسرے اسرائیلی راستبازوں میں پائے جاتے ہیں۔ چنانچہ یوسف جو حضرت یعقوب کا بیٹا تھا۔ اس کی وجہ تسمیہ بھی یہی ہے کہ اس کی جدائی پر اندوہ اور غم کیا گیا جیسا کہ اللہ جل شانہ نے اس بات کی طرف اشارہ فرما کر کہا: ”یا اسفا علٰی یوسف“ پس اس سے صاف نکلتا ہے کہ یوسف پر اسف یعنی اندوہ کیا گیا اس لئے اس کا نام یوسف ہوا۔“

(ست بچن ص ١٦٤ حاشیہ، خزائن ص ٣٠٦ ج ١٠)

(ب)...... ”جیسا کہ تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے وہ (مسیح) کشمیر میں آکر فوت ہوئے اور اب تک نبی شہزادہ کے نام پر کشمیر میں ان کی قبر موجود ہے اور لوگ بہت تعظیم سے اس کی زیارت کرتے ہیں اور عام خیال ہے کہ وہ ایک شہزادہ نبی تھا جو اسلامی ملکوں کی طرف سے اسلام سے پہلے کشمیر میں آیا تھا اور اسی شہزادہ کا نام غلطی سے بجائے یسوع کے کشمیر میں یوز آسف کر کے مشہور ہوئے جس کے معنی ہیں یسوع غمناک۔“

(کتاب البریہ مقدمہ ص ٢٦٢، خزائن ص ٢١‘ ٢٢ ج ١٣)

(ج)...... ” فرجع موسٰی غضبان اسفا“ پس موسٰی علیہ السلام غضب اور تاسف کی حالت میں واپس ہوا۔

(حمامة البشریٰ ص ٩٩)

(د)...... ” یااسفا عليهم انهم اتفقوا على الضلالة جميعاً“ ﴿برایشان افسوس کہ ایں مردم ہمگناں طریق ضلالت اختیار نمودند﴾

(انجام آتھم ص ٨٣‘ خزائن ص ٨٣ ج ١١)

(س)...... لغت کی مشہور و معروف کتاب (مجمع البحار ج اول ص ٣٢١‘ ٣٢، قاموس ج ٣ ص ١٢١‘ لسان العرب ج ١٠ ص ٤٦‘ ٤٧ صراح ص ٤٠‘ ٤١ ج ٢‘ تاج العروس ج ٦ ص ٤٠‘ منتہی الارب ج اول ص ٣٦‘

صفحہ ١٢٠

مفردات امام راغب ص ١٥‘ المصباح المنیر ج اول ص ١٠) پر لفظ آسف کے معنے اندوہ غم ،حزن اور غصے کے آئے ہیں۔“

(ش)...... نظام الدین مرزائی کا یہ لکھنا کہ سارا نام یوز آسف مخفف ہے یوسو یوسف کا جس کا مطلب یہ ہے کہ یسوع بن یوسف۔ ایک مضحکہ آمیز بات ہے اور کوئی دانا اسے قبول نہ کرے گا۔ کتاب اکمال الدین و اتمام النعمۃ عربی زبان میں ہے اور اس میں یہ کہیں نہیں لکھا ہے کہ یوز آسف کی ماں کا نام مریم تھا اور نہ ہی اس میں کہیں اس یوسف کا ذکر آیا ہے۔ نظام الدین مرزائی کی اس توجیہہ سے بڑھ کر مفتی محمد صادق مرزائی کی توجیہہ سنئے :

”پنجابی میں قدیم سے ایک ضرب المثل مشہور چلی آتی ہے : ”ایسو گول تے کچھ نہ پھول“ غالباً مرور زمانہ سے اور اصلیت مثل کے بھولنے سے کول کا لفظ بدل کر گول بن گیا۔ اور اصل یوں تھا کہ ایسو کول یعنی یسوع ہمارے پاس ہی ہے پنجاب کے متصل کشمیر میں مدفون ہے لیکن کچھ اس کی بابت کھول کر دریافت نہ کرو۔ کیونکہ یہ امر پردے میں رکھنے کے لائق ہے کہ یسوع اہل پنجاب کے پاس ہی ہے۔“

(دیکھو اخبار فاروق مورخہ ١٨‘٢٥ مئی ١٩١٦ء ص ١١)

واہ صاحب کیا کہنے مفتی صاحب نے تو کمال کر دیا۔ جو بات آپ کے پیر و مرشد کو نہ سوجھی وہ آپ کو سوجھی اب ناظرین خود ہی انصاف سے فرمائیں کہ ایسی بے دلیل اور من گھڑت باتوں کا جواب ہم کیا دیں۔

قادیانی دلیل نمبر ٩

مرزا قادیانی کہتا ہے :

”یوز آسف حضرت مسیح ہی تھے جو صلیب سے نجات پا کر پنجاب کی طرف گئے اور پھر کشمیر میں پہنچے اور ایک سو بیس برس کی عمر میں وفات پائی۔ اس پر بڑی دلیل یہ

صفحہ ١٢١

ہے کہ یوز آسف کی تعلیم اور انجیل کی تعلیم ایک ہے اور دوسرے یہ قرینہ کہ یوز آسف اپنی کتاب کا نام انجیل بیان کرتا ہے تیسرا قرینہ یہ کہ اپنے تئیں شہزادہ نبی کہتا ہے چوتھا قرینہ یہ کہ یوز آسف کا زمانہ اور مسیح کا زمانہ ایک ہی ہے۔ بعض انجیل کی مثالیں اس کتاب میں بعینہ موجود ہیں جیسا کہ ایک کسان کی مثال۔“

(تبلیغ رسالت ج ٩ ص ١٨‘ ١٩‘ مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٦٦)

”اور اس کی (یعنی یوز آسف کی) تعلیم بہت سی باتوں میں مسیح کی تعلیم سے ملتی تھی۔ بلکہ بعض مثالیں اور بعض فقرے اس کی تعلیم کے بعینہ مسیح کے ان تعلیمی فقرات سے ملتے ہیں جو اب تک انجیلوں میں پائے جاتے ہیں۔“

(ریویو بابت ماہ ستمبر ١٩٠٣ء ص ٣٣٨)

نوٹ: ”یوز آسف کی تعلیم یسوع کی تعلیم سے بہت ملتی جلتی ہے۔“ (رسالہ ریویو بابت ماہ نومبر‘ دسمبر ١٩٠٣ء ص ٤٧٢‘ ٤٧٣‘ ریویو بابت ماہ مئی ١٩٠٦ء ص ١٧٧ ریویو بابت ماہ جنوری ١٩٠٧ء ص ٣٣ کا خلاصہ مطلب)

قادیانی دلیل کی تردید

مرزا قادیانی اور ان کے مریدوں کا یہ مذہب ہے کہ : ”جو سری نگر محلہ خانیار میں یوز آسف کے نام سے قبر موجود ہے وہ در حقیقت بلاشک و شبہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر ہے۔“

(راز حقیقت ص ٢٠‘ خزائن ص ١٦٢ ج ١٤)

”اور اس پر دلیل یہ پیش کی ہے کہ یوز آسف کی تعلیم بہت سی باتوں میں مسیح کی تعلیم سے ملتی تھی۔“

(ریویو ج ٢ نمبر ١٢ ص ٣٣٨)

حالانکہ یہ دلیل بھی کمزور ہے کیونکہ مرزا قادیانی اس امر کو لکھ چکے ہیں کہ : ”حضرت مسیح کی تعلیم اور بدھ کی تعلیم میں نہایت شدید مشابہت ہے۔“

(کتاب مسیح ہندوستان میں ص ٨٢‘ خزائن ص ٨٧ ج ١٥)

تو اس سے معلوم ہوا کہ حضرت یوز آسف کی تعلیم بدھ کی تعلیم میں نہایت

صفحہ ١٢٢

شدید مشابہت ہے۔ مثلاً خط الف ب خط ج د کے متوازی ہے اور خط ر س خط ج د کے متوازی ہے تو ثابت ہوا کہ خط الف ب اور خط ر س آپس میں متوازی ہیں :

الف ج ر

ب د س

باوجود اس بات کے حضرت یوز آسف کو بدھ نہیں کہہ سکتے ذرا غور سے سنو۔ یورپ کے بعض مصنفوں نے جوزافٹ اور گوتم بدھ کو ایک ہی شخص ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔

(دیکھو ریویو آف ریلیجنز بابت ماہ نومبر و دسمبر ١٩٠٣ء ص ٤٧٤)

اور چونکہ اس قصہ کے بعض واقعات گوتم بدھ کی زندگی کے واقعات سے مشابہت رکھتے ہیں اس لئے اکثر عیسائی صاحبان کا ہمیشہ یہ خیال رہا ہے کہ شہزادہ یوز آسف گوتم بدھ کا ہی دوسرا نام ہے۔

(ریویو بابت ماہ جون ١٩١٠ء ص ٢٣٨‘٢٣٩)

ان باتوں کا جواب مرزائیوں کی طرف سے یوں دیا گیا کہ : ”اگر یوز آسف کے قصہ کے بعض واقعات گوتم بدھ کے حالات سے ملتے ہوں تو اس سے ثابت نہیں ہو سکتا کہ دونوں ایک ہی شخص کے نام ہیں۔

(ریویو ج ٢ نمبر ١١‘ ١٢ ص ٤٧٤)

”اگر سری نگر کی قبر بدھ کی قبر ہوتی تو وہ دنیا کے کل بدھ مذہب کے پیرووں کا مرجع ہونی چاہئیے تھی۔“

(ریویو بابت ماہ جون ١٩١٠ء ص ٢٣٩)

ٹھیک اسی طرح میں عرض کرتا ہوں کہ اگر یوز آسف کے قصہ کے بعض واقعات یسوع مسیح کے حالات سے ملتے ہیں تو اس سے ثابت نہیں ہو سکتا کہ دونوں ایک ہی شخص کے نام ہیں۔ دوسری گزارش یہ ہے کہ اگر سری نگر کی قبر یسوع مسیح کی قبر ہوتی تو وہ دنیا کے کل مسیحی مذہب کے پیروؤں کا مرجع ہونا چاہئیے تھی۔ بقول مرزا قادیانی حضرت مسیح کی تعلیم اور بدھ کی تعلیم میں نہایت شدید مشابہت ہے۔ اس بات

صفحہ ١٢٣

کو دیکھ کر یہ نہیں کہہ سکتے کہ دونوں ایک ہی شخص کے نام ہیں اور لطف یہ ہے کہ : ”وہ خطاب جو بدھ کو دیئے گئے مسیح کے خطابوں سے مشابہ ہیں اور ایسا ہی وہ واقعات جو بدھ کو پیش آئے مسیح کی زندگی کے واقعات سے ملتے ہیں۔ (مسیح ہندوستان میں ص ٧٠‘ خزائن ص ٧٢ ج ١٥) پھر بھی یہ دونوں الگ الگ ہستیاں ہیں۔ دونوں ایک ہی شخص کے نام نہیں ہیں۔“

قادیانی دلیل نمبر ١٠

”واضح ہو کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو ان کے فرض رسالت کی رو سے ملک پنجاب اور اس کے نواح کی طرف سفر کرنا نہایت ضروری تھا۔ کیونکہ بنی اسرائیل کے دس فرقے جن کا نام انجیل میں اسرائیل کی گم شدہ بھیڑیں رکھا گیا ہے۔ ان ملکوں میں آگئے تھے جن کے آنے سے کسی مؤرخ کو انکار نہیں ہے۔ اس لئے ضروری تھا کہ حضرت مسیح علیہ السلام اس ملک کی طرف سفر کرتے اور ان گم شدہ بھیڑوں کا پتہ لگا کر خدا تعالیٰ کا پیغام ان کو پہنچاتے اور جب تک وہ ایسا نہ کرتے تب تک ان کی رسالت کی غرض بے نتیجہ اور نامکمل تھی۔“

(مسیح ہندوستان میں ص ٩١‘ خزائن ص ٩٣ ج ١٥)

قادیانی دلیل کی تردید

مانا کہ بنی اسرائیل کے دس فرقے ان مشرقی ملکوں میں آگئے تھے اور یہ بھی تسلیم کیا کہ افغان اور کشمیری لوگ بنی اسرائیل ہیں۔ (مسیح ہندوستان میں ص ٩٢‘ خزائن ص ٩٤ ج ١٥) مگر یہ لکھنا کہ ضروری ہے کہ حضرت مسیح ناصری علیہ السلام ایران‘ افغانستان‘ ہندوستان اور کشمیر میں آئے ہوں۔ دلائل قویہ اور تاریخوں سے ثابت نہیں ہے۔ واقعات کا ثبوت دلائل سے ہوتا ہے نہ کہ قیاسات سے دیکھو یہ بات بھی تسلیم کی گئی ہے کہ یہودی لوگ تاتار‘ بخارا‘ مرو اور خیوا کے متعدد علاقوں میں بڑی تعداد میں موجود تھے۔ یہودی لوگ چین‘ ایران‘ تبت میں آباد ہیں۔ بنی اسرائیل ملک عرب

صفحہ ١٢٤

میں بھی تھے۔ (مسیح ہندوستان میں ص ٩٢ تا ١٠٠) اس کے علاوہ بعض یہود یونان میں جاکر آباد ہوگئے تھے۔ (ریویو ج اول ص ١٠٢ نمبر ٣ ص ٩٨‘ ١٠٠) تو کیا حضرت مسیح علیہ السلام یونان ‘عرب‘ تاتار اور چین میں بھی تشریف لے گئے تھے ؟۔

قادیانی مغالطے کا جواب

مرزا قادیانی لکھتا ہے :

”اور ایک کتاب تاریخ طبری کے ص ٣٩٧ میں ایک بزرگ کی روایت سے حضرت عیسیٰ کی قبر کا بھی حوالہ دیا ہے جو ایک جگہ دیکھی گئی یعنی ایک قبر پر پتھر پایا جس پر یہ لکھا ہوا تھا کہ یہ عیسیٰ کی قبر ہے یہ قصہ ابن جریر نے اپنی کتاب میں لکھا ہے جو نہایت معتبر اور ائمہ حدیث میں سے ہے۔“ (چشمہ معرفت ص ٢٥٠‘ خزائن ص ٢٦١ ج ٢٣ حاشیہ)

”ہمارے پاس ابن حمید نے ان کے پاس مسلمہ نے محمد بن اسحٰق سے ان کے پاس عمر بن عبداللہ بن عروہ بن زبیر نے ان کے پاس ابن سلیم انصاری زرقی نے بیان کیا کہ ہم میں سے ایک عورت نے منت مانی تھی کہ راس الجماء پر جو مدینہ کے نواحی میں ایک پہاڑ عقیق میں ہے جاکر نذر ادا کرے گی۔ راوی کہتا ہے کہ میں بھی اس عورت کے ساتھ گیا جب ہم پہاڑ کی چوٹی پر پہنچ گئے تو کیا دیکھا کہ ایک بڑی قبر ہے جس پر دو بھاری پتھر پڑے ہیں ایک پتھر تو سرہانے ہے اور ایک پتھر اس کی پائیں کی طرف ہے جن پر کچھ لکھا ہے لیکن میں نہیں جانتا کہ وہ کیا لکھا ہوا ہے۔ میں دونوں پتھروں کو اپنے ہمراہ اٹھا لایا جب میں بعض حصہ پہاڑ پر سے نیچے اترنے لگا تو بوجھ سنگین کی وجہ سے ایک پتھر کو میں نے پھینک دیا اور دوسرے کو لے کر نیچے اترا اور پھر میں نے سریانی لوگوں کے آگے اس کو پیش کیا کہ کیا وہ اس کو پڑھ سکتے ہیں ؟۔ مگر وہ اس کی تحریر کو نہ سمجھ سکے۔ پھر میں نے زبور کے زبان دانوں کے آگے اس کو پیش کیا جو یمن میں رہتے تھے اور جو

صفحہ ١٢٥

لکھنا جانتے تھے۔ مگر وہ بھی اس کی تحریر کو نہ پہچان سکے۔ تو جب مجھے کوئی شخص بھی اس کو پہچاننے والا نہ ملا تو میں نے اس کو ایک صندوق کے نیچے رکھ دیا اور کئی سال تک وہ وہاں پڑا رہا۔ پھر کچھ مدت کے بعد فارسیوں میں سے اہل ماہ ہمارے ہاں آئے جو موتی خریدنے آئے تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ تمہارے ہاں بھی کوئی لکھائی ہوتی ہے تو انہوں نے کہا ہاں ہوتی ہے۔ تو میں نے وہ پتھر نکالا ان کے آگے پیش کیا تو اس کو دیکھ کر پڑھنے لگے اور اس پر لکھا ہوا تھا۔ رسول اللہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی یہ قبر ہے جو ان بلاد کے لوگوں کی طرف بھیجا گیا تھا اور جب وہ لوگ اس زمانہ میں اس کے پیرو ہو گئے تو ان میں رہتا تھا اور ان کے ہاں فوت ہو گیا اور اس کی وفات پر انہوں نے اس کو پہاڑ کی چوٹی پر دفن کر دیا۔ اس روایت سے صرف اس قدر ثابت ہوتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام مر گیا خواہ کہیں مرا۔

(کتاب عسل مصفے حصہ اول ص ٥١٩‘ ٥٢٠‘ ٥٢١‘ ٤٦٦‘ ٤٦٧ پر حوالہ تاریخ الرسل والملوک ص ٧٣٨‘ ٧٣٩)

نوٹ : اخبار الحکم مورخہ ٣٠ نومبر ١٩٠٧ء ص ٨ اخبار بدر مورخہ ٢١ نومبر ١٩٠٧ء ص ٦‘ فاروق مورخہ ٢٠ اکتوبر ١٩٢٦ء ص ٦‘ رسالہ تشحیذ الاذہان ج ١٥ نمبر ٣ ص ٢٢‘ رسالہ تشحیذ الاذہان بابت ماہ دسمبر ١٩١٣ء ص ٤٥‘ ٤٦‘ کتاب محقق ص ١١٨‘ کتاب نعم الوکیل ص ٤٠ اور کتاب مرآۃ الحقائق ج ٣ ص ٣٠٤‘ ٣٠٥‘ ٣٠٦ پر بھی یہی روایت پیش کی گئی ہے :

جواب : اس روایت میں ایک راوی محمد بن اسحاق ہے جو جھوٹا ہے دراصل یہ روایت صحیح نہیں ہے بلکہ موضوع ہے۔ محمد بن اسحاق راوی کی نسبت علماء مرزائیہ میں سے سید سرور شاہ مقیم قادیان لکھتے ہیں :

”نسائی نے کہا قوی نہیں اور دارقطنی نے کہا اس کے ساتھ حجت نہیں پکڑی جاتی ابو داؤد نے کہا قدری ہے معتزلہ ہے‘ سلیمان تیمی نے کہا کذاب ہے‘ وہب نے کہا سنا میں نے ہشام بن عروہ سے وہ کہتا تھا کذاب ہے‘ اور وہب نے کہا پوچھا میں

صفحہ ١٢٦

نے مالک سے ابن اسحق کے متعلق تو اس نے اس پر تہمت لگائی عبد الرحمن بن مہدی نے کہا یحییٰ بن سعید انصاری اور امام مالک ابن اسحق پر جرح کرتے تھے، اور کہا یحییٰ بن آدم نے حدیث بیان کی کہ ہم کو ابن ادریس نے کہا میں مالک کے پاس تھا تو اس کو کہا گیا ابن اسحق کہتا ہے کہ مالک کا علم مجھ پر پیش کرو۔ میں اس کا طبیب ہوں پس مالک نے کہا دیکھو اس دجال کی طرف جو کہ دجالوں میں سے ہے، اور یحییٰ نے کہا تعجب ہے ابن اسحق پر حدیث بیان کرتا ہے اہل کتاب سے اور بے رغبتی کرتا ہے شرجیل بن سعید سے، اور احمد بن حنبل نے کہا یہ بیاضی فرقہ ہے، اور کہا ابن ابی فدیک نے کہ میں نے ابن اسحق کو دیکھا لکھتا ہے اہل کتاب کے آدمی سے، اور امام احمد نے کہا کہ وہ بہت ہی ملانے والا تھا۔ ابو قلابہ الرقاشی نے کہا ہے حدیث بیان کی ابو داؤد سلیمان بن داؤد نے کہا کہ یحییٰ بن قطان نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد بن اسحق کذاب ہے، ابو داؤد الطیالسی نے کہا کہ میرے پاس حدیث بیان کی میرے ایک دوست نے کہا میں نے ابن اسحق کو یہ کہتے سنا تھا کہ حدیث بیان کی میرے پاس مضبوط راوی نے، پس کہا گیا اس کو (کس نے) اس نے کہا یعقوب الیسودی نے۔“

(کتاب القول المحمود فی شان الموعود ص ١٢٢‘ ١٢٣‘ ١٧٣‘ ١٧٤‘ و دیکھو کتاب میزان الاعتدال ج ٣ ص ٢١‘ ٢٢)

اس سے ثابت ہوا کہ روایت مندرجہ تاریخ طبری ایک موضوع روایت ہے صحیح نہیں ہے۔ خود حکیم خدا بخش مرزائی اس قبر کے بارے میں لکھتے ہیں :

” یہ قبر فرضی ہے اور بلاشک فرضی ہے۔“ (کتاب عسل مصفے حصہ اول ص ٤٦٨)

عسل مصفے حصہ اول میں حکیم صاحب مذکور نے وفات مسیح پر بہت زور دیا ہے اور یہ بات بھی لکھی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی قبر ملک کشمیر کے شہر سری نگر کے محلہ خانیار میں ہے۔ حالانکہ یہ دونوں باتیں سراسر غلط ہیں۔ قادیانی دلائل کا رد کرتے ہوئے میں نے ثابت کر دیا ہے کہ حضرت شہزادہ یوز آسف کی جو قبر سری نگر

صفحہ ١٢٧

کے محلہ خانیار میں ہے وہ حضرت یسوع مسیح کی قبر نہیں ہے۔

جھوٹ بولنا سخت گناہ ہے

الحمد للہ کہ خدا کے فضل و کرم کے ساتھ میں نے ثابت کر دیا کہ ملک کشمیر کے شہر سری نگر محلہ خانیار میں جو شہزادہ یوز آسف کی قبر ہے وہ حضرت یسوع مسیح ابن مریم کی قبر نہیں ہے۔ مرزا قادیانی کا اپنی کتابوں مثلاً ایام الصلح، کشف الغطاء، رازِ حقیقت، مسیح ہندوستان میں، نورالقرآن، ست بچن، تحفہ گولڑویہ، کشتی نوح، حقیقت الوحی، ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم وغیرہ میں یہ لکھنا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر شہر سری نگر کے محلہ خانیار میں ہے۔ صریح جھوٹ ہے اور جھوٹ بولنا سخت گناہ ہے۔ چنانچہ جھوٹ بولنے والے کے بارے میں خود مرزا قادیانی یوں لکھتا ہے :

دوسری باتوں میں بھی اس پر اعتبار نہیں رہتا۔“

(چشمہ معرفت ص ٢٢٢‘ خزائن ص ٢٣١ ج ٢٣)

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٩ حاشیہ ‘ خزائن ص ٥٦ ج ١٧)

(حقیقت الوحی ص ٢٠٦‘ خزائن ص ٢١٥ ج ٢٢)

(نزول المسیح ص ٢‘ خزائن ص ٣٨٠ ج ١٨)

(الحکم ٧ اپریل ١٩٠٥ء ص ١٣)

(تبلیغ رسالت ص ٣٠ ج ٧‘ مجموعہ اشتہارات ص ٤٤ ج ٣)

صفحہ ١٢٨

(تبلیغ رسالت ج ٧ ص ٢٨، مجموعہ اشتہارات ص ٣١ ج ٣)

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٢٦ خزائن ص ٤٥٩ ج ٢٢)

قادیانی دلیل نمبر ١١

غلام رسول مرزائی کہتے ہیں :

”علاوہ اس کے قرآن کریم کا حسب ارشاد : ” ان مثل عیسیٰ عندالله کمثل آدم“ حضرت مسیح کو حضرت آدم کی مماثلت میں پیش کرنا مماثلت کے ایک پہلو کے لحاظ سے لطیف طور پر اس بات کی طرف بھی اشارہ پایا جاتا ہے کہ جس طرح حضرت آدم کی ہجرت گاہ سر زمین ہند ہوئی اسی طرح مسیح کے لئے بھی ہجرت گاہ سر زمین ہند ہی قرار دی گئی۔ یہ آیت قرآن کریم میں آنحضرت ﷺ پر نازل ہوئی جس سے ایک نیا علم آپ کو دیا گیا اور جس میں علاوہ اور مماثلت کے پہلوؤں کے ایک پہلو مماثلت کا یہ بھی ثابت ہوا کہ مسیح، آدم کا اس بات میں بھی مثیل ہے کہ دونوں کی ہجرت گاہ سر زمین ہند بنائی گی ۔ بلکہ مرزا قادیانی جو مسیح ، محمدی ہیں اور جو آنحضرت ﷺ کے کامل بروز اور کامل مظہر ہونے کی وجہ سے آنحضرت ﷺ کے ہی قائم مقام ہیں۔ آپ کا بھی سر زمین ہند میں ظہور فرمانا ہوتا مناسب تھا کیا بوجہ اس مرتبہ مماثلت کے جو آپ کو آدم اور مسیح سے ہے اور کیا بوجہ اس کے کہ آنحضرت ﷺ بہ مماثلت آدم سر زمین ہند میں ہجرت فرما ہوئے آپ کے قائم مقام اور آپ کی نیابت میں ہو کر دونوں طرح کی مماثلت کے مصداق بنے۔“

(رسالہ التشحیذ ص ٣١‘ ٣٢)

قادیانی دلیل کی تردید

” ان مثل عیسیٰ عندالله کمثل آدم خلقه من تراب ثم قال له

صفحہ ١٢٩

کن فیکون . ﴿تحقیق مثال حضرت عیسیٰ کی اللہ کے نزدیک مانند حضرت آدم کے ہے کہ اس کو اللہ نے مٹی سے پیدا کیا پھر فرمایا اس کو ہو پس ہو گیا۔﴾

(سورۃ آل عمران آیت نمبر ٥٩)

نوٹ: نصاریٰ اس بات پر حضرت رسول خدا ﷺ سے بہت جھگڑے کہ عیسیٰ بندہ نہیں اللہ کا بیٹا ہے آخر کہنے لگے کہ وہ اللہ کا بیٹا نہیں تو تم بتاؤ کس کا بیٹا ہے اس کے جواب میں یہ آیت اتری کہ آدم کا تو نہ ماں نہ باپ‘ عیسیٰ کا باپ نہ ہو تو کیا عجب۔

(موضح القرآن ص ٧٥)

بات یہ ہے کہ یہود نامسعود حضرت مریم صدیقہ پر (معاذ اللہ) زنا کاری کا الزام و بہتان لگاتے ہیں۔ (سورۃ النساء آیت نمبر ١٥٦‘ سورۃ مریم آیت نمبر ٢٧) اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش بن باپ نہیں مانتے۔ اس کے بر خلاف عیسائی لوگ حضرت مسیح کو بن باپ مانتے ہوئے ان کو خدا اور خدا کا حقیقی بیٹا مانتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ حکیم و علیم نے مندرجہ بالا آیت میں حضرت آدم علیہ السلام کی مثال دے کر دونوں فرقوں کا رد فرمایا‘ یہود اور نصاریٰ دونوں فرقے بائبل کی رو سے حضرت آدم علیہ السلام کی بابت تسلیم کرتے ہیں کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے ماں باپ کے بغیر اپنی قدرت سے پیدا کیا۔ پس یہود نا مسعود کے عذر کو یوں توڑا کہ جب تم خود حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش ماں باپ کے بغیر مانتے ہو تو حضرت مسیح علیہ السلام کے بن باپ کے پیدا کئے جانے میں کیوں شک کرتے ہو۔ نصاریٰ کو یوں جواب دیا گیا کہ اگر حضرت مسیح علیہ السلام کو خدا یا خدا کا حقیقی بیٹا اس جہت سے مانتے ہو کہ وہ بن باپ ہیں تو حضرت آدم علیہ السلام کو کیا کہو گے جن کا نہ باپ تھا اور نہ ماں تھی۔ پس جس قادر مطلق نے حضرت آدم علیہ السلام کو ماں باپ کے بغیر پیدا کیا تھا۔ اسی قادر مطلق نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بن باپ پیدا کیا ہے۔

صفحہ ١٣٠

(٢)......اس آیت مقدسہ سے مسیح علیہ السلام ناصری کے ہندوستان کی طرف آنے پر استدلال کرنا اور مرزا قادیانی (جو مثیل مسیح علیہ السلام ہونے کے مدعی تھے) کے ہند میں پیدا ہونے پر استدلال کرنا سراسر غلط ہے۔ حدیث نبوی ﷺ مندرجہ کتاب (مسند احمد ج ٦ ص ٧٥ کتاب کنز العمال ج ٧ ص ٢٦٧ کتاب حج الکرامہ ص ٣٤٣) کے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام ملک شام میں نازل ہوں گے۔

قادیانی دلیل نمبر ١٢

”اور لاکھوں انسانوں نے اس جسم کی آنکھ سے دیکھ لیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر سری نگر کشمیر میں موجود ہے اور جیسا کہ گلگت یعنی سری کے مکان پر حضرت مسیح کو صلیب پر کھینچا گیا تھا۔ ایسا ہی سری کے مکان پر یعنی سری نگر میں ان کی قبر کا ہونا ثابت ہوا ۔ یہ عجیب بات ہے کہ دونوں موقعوں میں سری کا لفظ موجود ہے۔ یعنی جہاں حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر کھینچے گئے اس مقام کا نام بھی گلگت یعنی سری ہے اور جہاں انیسویں صدی کے اخیر میں حضرت مسیح علیہ السلام کی قبر ثابت ہوئی ۔ اس مقام کا نام بھی گلگت یعنی سری ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ وہ گلگت جو کشمیر کے علاقہ میں ہے یہ بھی سری کی طرف ایک اشارہ ہے۔ غالباً یہ شہر حضرت مسیح علیہ السلام کے وقت میں بسایا گیا ہے اور واقعہ صلیب کی یادگار مقامی طور پر اس کا نام گلگت یعنی سری رکھا گیا ۔“

(مرزا قادیانی کی کتاب مسیح ہندوستان میں ص ٥٣‘ خزائن ص ٥٥ ج ١٥)

قادیانی دلیل کی تردید

انجیل متی کے باب ٢٧ آیت ٣٣ میں جو لفظ ”گلگتا“ آیا ہے اس کے معنی ہیں ”کھوپڑی کی جگہ “ (دیکھو انجیل متی مع مختصر شرح از پادری ایچ یو دیمر حصہ ص ١٣٩ حاشیہ) اور ملک

صفحہ ١٣١

کشمیر کے شہر سری نگر میں جو لفظ ”سری“ آیا ہے اس سے مراد ”کھوپری“ نہیں ہے بلکہ یہ نام دو لفظوں سے مرکب ہے ”سری“ اور ”نگر“۔ ہندوؤں کی زبان میں ”نگر“ سے مراد آبادی ہے اور لفظ ”سری“ ہندوؤں میں تعظیم و تکریم کے موقعہ پر بولا جاتا ہے۔ جیسا کہ ہندو لوگ کہا کرتے ہیں سری رامچندر جی‘ سری لچھمن جی‘ سری ہنومان جی‘ سری کرشن جی‘ سری مہا دیو جی‘ سری گنیش جی‘ سری نارائن جی وغیرہ۔ ہمارے ہاں کسی بزرگ و نیک کے لئے لفظ ”حضرت“ استعمال ہوتا ہے۔ اور ہندوؤں میں لفظ ”سری“۔

قادیانی دلیل نمبر ١٤

”اور احادیث میں معتبر روایتوں سے ثابت ہے کہ ہمارے نبی ﷺ نے فرمایا کہ مسیح علیہ السلام کی عمر ایک سو پچیس برس کی ہوئی ہے اور اس بات کو اسلام کے تمام فرقے مانتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام میں دو ایسی باتیں جمع ہوئی تھیں کہ کسی نبی میں وہ دونوں جمع نہیں ہوئیں :

رہے۔

سیاح کہلائے۔ اب ظاہر ہے کہ اگر وہ صرف تینتیس برس کی عمر میں آسمان کی طرف اٹھائے جاتے تو اس صورت میں ایک سو پچیس برس کی روایت صحیح نہیں ٹھہر سکتی تھی اور نہ وہ اس چھوٹی سی عمر میں یعنی تینتیس برس میں سیاحت کر سکتے تھے اور یہ روایتیں نہ صرف حدیث کی معتبر اور قدیم کتابوں میں لکھی ہیں بلکہ تمام مسلمانوں کے فرقوں میں اس تواتر سے مشہور ہیں کہ اس سے بڑھ کر متصور نہیں۔ کنز العمال جو احادیث کی ایک جامع کتاب ہے اس کے ص ٣٤ ج ٢ میں ابو ہریرہؓ سے یہ حدیث لکھی ہے : ”اوحی الله تعالیٰ الی عیسیٰ ان یعیسیٰ انتقل من مکان لئلا تعرف فتؤذی“

صفحہ ١٣٢

یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی بھیجی کہ اے عیسیٰ! ایک مکان سے دوسرے مکان کی طرف نقل کرتا رہ، یعنی ایک ملک سے دوسرے ملک کی طرف جا‘ تاکہ کوئی تجھے پہچان کر دکھ نہ دے اور پھر اسی کتاب (ج٢ص٧١) میں حضرت جابرؓ سے روایت کر کے یہ حدیث لکھی ہے : ” کان عیسیٰ بن مریم یسیح فاذا امسی اکل بقل الصحراء ویشرب الماء القراح“ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہمیشہ سیاحت کیا کرتے تھے اور ایک ملک سے دوسرے ملک کی طرف سیر کرتے تھے اور جہاں شام پڑتی تھی تو جنگل کے بقولات میں سے کچھ کھاتے تھے اور خالص پانی پیتے تھے اور پھر اسی کتاب (ج٦ص٥١) میں عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے جس کے یہ لفظ ہیں : ” قال احب شئی الی اللہ الغرباء قیل ای شئی الغرباء قال الذین یفرون بدینہم ویجتمعون الیٰ عیسیٰ ابن مریم“ یعنی فرمایا رسول اللہ ﷺ نے سب سے پیارے خدا کی جناب میں وہ لوگ ہیں جو غریب ہیں۔ پوچھا گیا کہ غریب کے کیا معنے ہیں کہا وہ لوگ ہیں جو عیسیٰ علیہ السلام کی طرح دین لے کر اپنے ملک سے بھاگتے ہیں۔“

(مسیح ہندوستان میں ص ٥٣‘ ٥٤ خزائن ص٥٦‘ ٥٥‘ ج١٥)

قادیانی دلیل کی تردید

کہ ہمارے نبی ﷺ نے فرمایا کہ مسیح کی عمر ایک سو پچیس برس کی ہوئی ہے صحیح نہیں ہے۔ ایسی کوئی صحیح مرفوع متصل حدیث نہیں ہے۔ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ اپنی کتاب (ما ثبت من السنۃ ص٤٩) پر آنحضرت ﷺ کی عمر شریف کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

” من قال خمساً وستین حسب السنۃ التی ولد فیہا والسنۃ التی قبض فیہا ومن قال ثلثا وستین وہو المشہور اسقطہما ومن

صفحہ ١٣٣

قال ستین اسقط الکسورومن قال اثنین ونصف کانہ اعتمدعلی حديث فى الاکلیل وفیہ کلام لم يكن نبی الاعاش نصف عمراخیہ الذی قبلہ وقد عاش عیسیٰ علیہ السلام خمسا وعشرین ومائة“

حکیم خدا بخش مرزائی کی خیانت ملاحظہ ہو۔ اس نے اپنی کتاب (عسل مصفی ج اول ص ٥١٩) پر حضرت شیخ کی اس کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے صرف الفاظ: ”وعاش عیسیٰ علیہ السلام خمس وعشرین سنة ومائة“ نقل کر دیئے ہیں اور الفاظ: ”وفیہ کلام“ نقل نہ کئے۔

(٢)...... (تفسیر ابن جریر ج ٣ ص ١٦٤ پر) ایک روایت ہے جس میں حضرت مسیح علیہ السلام کی عمر ١٢٠ برس بتلائی گئی ہے مگر یہ روایت بھی صحیح نہیں ہے کیونکہ اس میں ایک راوی عبداللہ بن لہیعہ ہے جس کی بابت کہا گیا ہے کہ :

”ضعیف تھا اور معروف الحال ہے اور امام احمد بن حنبلؒ نے فرمایا ہے کہ جابر سے قابل انکار اور اوپری باتیں اس نے روایت کی ہیں اور مجھے معلوم ہوا ہے کہ وہ جھوٹ بولتا تھا اور نسائی نے کہا ہے کہ وہ معتبر نہیں ہے اور اس نے کہا ہے کہ ابن لہیعہ بوڑھا اور احمق اور ضعیف العقل آدمی تھا اور وہ کہتا تھا کہ حضرت علیؓ بادلوں میں ہے اور ہمارے ساتھ بیٹھتا تھا اور بادل دیکھتا تو کہتا کہ وہ علیؓ بادل میں سے گزرے جارہے ہیں۔“

(رسالہ ریویو بابت ماہ مارچ ١٩٢٥ء ص ١٧ حوالہ تاریخ ابن خلدون ص ٢٢٦)

(٣)...... مقتداء اہل حدیث امام حافظ ابن کثیرؒ (مسک العارف ص ٤٢ از سید محمد احسن امروہی مرزائی نے (اپنی تفسیر ج ٣ ص ٢٤٥ پر) لکھا ہے کہ صحیح امر) ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا رفع اس وقت ہوا کہ جب آپ کی عمر ٣٣ برس کی تھی۔ پھر اس تفسیر (ابن کثیر ج ٩ ص ٣٨٠) پر بحوالہ ابن ابی الدنیا ایک حدیث نبوی ﷺ لکھی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کی عمر ٣٣ سال کی

صفحہ ١٣٤

ہوئی ہے۔

تمام فرقے ہرگز نہیں مانتے ہیں۔ مرزا قادیانی پر ضروری تھا کہ کتابوں کے حوالوں اور دلائل سے اس امر کو ثابت کرتے۔ حضرت مسیح علیہ السلام سے پیشتر حضرت نوح علیہ السلام ہوئے ہیں جن کی عمر ٩٥٠ سال قرآن کریم سے ثابت ہے۔

اور حضرت ابراہیم کی سیاحت و سفر ملاحظہ ہو۔ ملک عراق عرب میں آپ پیدا ہوئے۔ شام کی طرف ہجرت کی ملک مصر میں بھی گئے اور سرزمین حجاز کو بھی اپنے قدم سے مشرف فرمایا۔

الغرباء قال الذین یفرون بدینہم ویجتمعون الی عیسیٰ بن مریم “ ﴿آنحضرت ﷺ نے فرمایا سب سے پیارے خدا کی جناب میں غریب لوگ ہیں۔ پوچھا گیا کہ غریب کے کیا معنی ہیں؟۔ حضور پرنور نے فرمایا وہ لوگ جو بھاگیں گے اپنے دین کے ساتھ اور عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم علیہ السلام کی طرف جمع ہوں گے۔﴾

(کتاب کنزالعمال ج ششم ص ٥١)

مرزا قادیانی کی چالاکی ملاحظہ ہو الفاظ : ”الیٰ عیسیٰ بن مریم“ کا ترجمہ کرتے ہیں : ﴿عیسیٰ مسیح کی طرح﴾ حالانکہ صحیح ترجمہ یہ ہے : ﴿عیسیٰ ابن مریم کی طرف﴾ غرض یہ کہ جملہ : ”الذین یفرون بدینہم ویجتمعون الیٰ عیسیٰ بن مریم“ کا ترجمہ یہ کرنا کہ : ”وہ لوگ ہیں جو عیسیٰ مسیح کی طرح دین لے کر اپنے ملک سے بھاگے ہیں۔“ سراسر غلط ہے اور مسلمانوں کو دھوکہ دینا ہے۔ بھاگنے والے جمع ہونے والے لوگ ہیں‘ نہ کہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ۔ مرزا قادیانی غلط ترجمہ کر کے استدلال پیش کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام اپنا دین لے کر

صفحہ ١٣٥

اپنے ملک سے بھاگے تھے۔

٤٣١) پر لکھا ہے :

” قیل سمی عیسیٰ بمسیح لانہ کان سائحا فی الارض لایستقر“ یعنی عیسیٰ کا نام مسیح اس لئے رکھا گیا کہ وہ زمین میں سیر کرتا تھا اور کہیں اور کسی جگہ اس کو قرار نہ تھا یہی مضمون تاج العروس شرح قاموس میں بھی ہے۔“

(مسیح ہندوستان میں ص ٦٩‘ خزائن ص ٧١ ج ١٥)

حضرت مسیح علیہ السلام کا وطن ملک شام تھا۔ علاقہ فلسطین شام کا ایک حصہ ہے موجودہ اناجیل اربعہ اور انجیل برنباس کے مطالعہ سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح تبلیغ کے لئے سفر کیا کرتے تھے۔ آپ کی بیوی بچے نہ تھے اور نہ گھر بار تھا۔ ملک شام ملک پنجاب سے بہت بڑا ہے کوئی ضلع گورداسپور کے برابر علاقہ نہیں ہے اور تاریخ روضۃ الصفا کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح ملک عراق کے شہر نصیبین کی طرف بھی گئے تھے جو بیت المقدس سے قریباً ٤٥٠ کوس دور ہے۔ پس مسیح ناصری نے اپنے رفع سے پیشتر خوب سفر کئے ہیں۔

قادیانی مغالطے سے بچو تاریخ روضۃ الصفا کا حوالہ

”بہر حال اگر روضۃ الصفا کی روایت پر اعتبار کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا نصیبین کی طرف سفر کرنا اس غرض سے تھا کہ تا فارس کی راہ سے افغانستان میں آویں اور ان گم شدہ یہودیوں کو جو آخر افغان کے نام سے مشہور ہوئے حق کی طرف دعوت کریں۔“

(کتاب مسیح ہندوستان میں ص ٦٧‘ خزائن ص ٦٩ ج ١٥)

صفحہ ١٣٦

پر لکھا ہے :

”واقعہ صلیب سے ٤٠ روز تک مسیح حواریوں سے ملتا بھی رہا لیکن خفیہ دروازہ بند کر کے ملا کرتا تھا جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حواریوں کو افشاء راز سے ممانعت کی گئی تھی اس واسطے ان کو مصنوعی بات بنانی پڑی کہ وہ آسمان پر چلا گیا ہے اور بعض نے محض یہودیوں کے خیال کو پھیرنے کے لئے کہ وہ تعاقب نہ کریں مصنوعی قبریں بنالیں تاکہ یہودیوں کو یقین ہو جائے کہ مسیح مر گیا حالانکہ مسیح علیہ السلام اس پہاڑ سے اتر کر دوسری سمت کو چل دیئے اور کئی سو میل کی مسافت طے کر کے نصیبین میں پہنچے چنانچہ (کتاب روضۃ الصفا ج اول ص ١٣٣ میں) لکھا ہے : ”ملك را حديث شمعون مستحسن افتاد باحضار روح اللہ فرمان داد عیسے آمد“ یعنی بادشاہ کو شمعون کی بات اچھی لگی حضرت روح اللہ کے بذات خود تشریف لانے کا حکم دیا۔ اور سرخی میں یہ لکھا ہے : ”در ذکر رفتن عیسیٰ علیہ السلام ناحية نصيبين“ یعنے عیسیٰ علیہ السلام کے جانے کا ذکر نصیبین میں ۔ پھر اسی (کتاب کے ص ١٣٢) پر لکھا ہے : ”ارباب اخبار گفته اند که درزمان عیسیٰ باد شاہے بود وولایت نصیبین بغایت متکبر وجبار حضرت نبوی بدعوت او مامور شده متوجه نصیبین گشته“ اس تمام عبارت سے ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ضرور نصیبین میں گئے۔“

(٢)...... سید صادق مرزائی اٹاوى نے لکھا ہے :

”صاحب روضۃ الصفا نے یہ بھی لکھا ہے کہ سفر نصیبین میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ آپ کی والدہ اور حواری بھی تھے اور ان میں سے تین حواریوں کا نام یعقوب تومان، شمعون بتایا ہے واضح ہو کہ یہ تومان حواری جس کا ذکر روضۃ الصفا میں لکھا ہے اور جو سفر نصیبین میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھا وہی تھوما حواری

صفحہ ١٣٧

ہے جس کی نسبت انسائیکلوپیڈیا ببلیکا میں لکھا ہے کہ وہ ہندوستان میں آیا جیسا کہ ہم اوپر بھی دکھلا چکے ہیں۔ اب جب توماں یا تھوما حواری اس مہاجرانہ سفر میں حضرت مسیح علیہ السلام کے ساتھ تھا اور اس کی یعنی تھوما کی نسبت یہ امر مسلم ہے کہ وہ ہندوستان میں آیا تو ایسی حالت میں عقلاً یہ امر واجب التسلیم قرار پاتا ہے کہ ملک کشمیر میں پہنچ کر خان یار میں وفات پانے والا یوز آسف فی الحقیقت یسوع آسف ہے نہ کوئی اور۔“

(کتاب کشف الاسرار ص ٣٨)

جواب

چھاپہ بمبئی ج اول ص ١٣٠ پر عنوان یوں قائم کیا گیا ہے۔ ذکر احوال عیسیٰ ابن مریم علیہا السلام :

”اس کے بعد ان کی ولادت کا ذکر خیر ہے۔ ص ١٣٠‘١٣١ پر لفظ مسیح پر بحث کی گئی ہے۔ ص ١٣٢ پر ان کے معجزات مندرجہ سورۃ آل عمران مثلاً اندھے اور برص والے کو اچھا کرنا اور مردے زندہ کرنا باذن اللہ درج ہیں۔ ص ١٣٢ پر عنوان یوں ہے :” ذکر رفتن عیسیٰ علیہ السلام بناحیہ نصیبین وزندہ شدن سام ابن نوح علیہ السلام بدعائے آنحضرت علیہ السلام“ص ١٣٣ پر عنوان ہے :”ذکر نزول مائدہ از آسمان بدعای حضرت عیسیٰ علیہ السلام“ص ١٣٤ پر عنوان ہے : ” ذکر مہاجرت عیسیٰ از بیت المقدس وظہور بعضے از معجزات او دراں سفر“ ص ١٣٥ پر عنوان یوں ہے :” ذکر رفع حضرت عیسیٰ از دار یہوداں برآسمان بحکم ایزدمنان“ ص ١٣٦ پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جگہ کسی اور شخص کا ان کا ہم شکل ہو کر مارا جانا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر اٹھایا جانا لکھا ہے پھر اس کے آگے یوں لکھا ہے :

صفحہ ١٣٨

”وکثیرے از ثقات روایت کرده اند که عیسیٰ در بیت المعمور مقیم است وایزد تعالیٰ سبحانه بشری ازوے انتزع نموده است وطبع ملائکه کرامت فرموده وآنحضرت باایشان درآں مقام تادامن آخرالزمان بعبادت قیام خواهد نمود وچوں حضرت مہدی علیه السلام درآخرالزمان خروج کند عیسیٰ بامر خدا وند عالمیاں از آسمان بمکه معظمه نزول فرماید درمسجد الحرام ودروقتیکه مردم صفوف راست کرده باشندتا بامهدی علیه السلام فریضئہ بامدادبگزار ند درآں حال منادی ندا کندکه ایں شخص عیسیٰ بن مریم است که از آسمان فرود آمده وخلایق متوجه عیسیٰ شده از نزول اومسرورگرد ند ومہدی ازوے التماس نماید که امت احمد را امامت فرماید وعیسیٰ گوید که توپیش روکه ماآمروز متابعت شما باید نمائیم ومہدی درمحراب رفته وسائر مسلمین باو اقتدا نموده نماز بگزار ند گفته اندکه عیسیٰ علیه السلام بعد از نزول از عالم علوی چہل سال دیگر زندگانی کند وبتزویج میل فرماید وفرزندان ازوے متولد گرد ند وباعداے ملت احمدی محاربه فرمایند ومجموع امم مختلفه راکه از دین بیگانه باشند بقتل آورد ودرزمان اوشیر وشتر وپلنگ بابقر وگرگ باگوسفند زیست مے کنند وکودکان بامار بازی کنند وچوں بعالم بقا آخر آمد مسلمانان برویے نماز گذار ند درحجره عائشة که مدفن حضرت رسالت ﷺ وشیخین است مدفونش ساز ند وصلی الله علی نبینا وعلیه وعلی سائر الانبیاء والمرسلین الی یوم الدین ذکر مقتل بنی اسرائیل

صفحہ ١٣٩

ورفتن حواریان بدعوت خلق اطراف چوں عیسیٰ علیہ السلام بآسمان رفت یہود اصحاب او را گرفتہ در تعذیب کشیدند“

(ص ١٣٦‘ ١٣٧)

ناظرین نے دیکھ لیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے مریدوں نے کس قدر مغالطہ دیا ہے۔ کتاب تاریخ الصفا میں تو حضرت مسیح ابن مریم کا آسمان پر اٹھایا جانا اب تک آسمان میں زندہ رہنا اور قیامت کے قریب آسمان سے نازل ہونا اور فوت ہو کر آنحضرت ﷺ کے روضہ مبارک میں دفن ہونا صاف طور پر لکھا ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ حضرت مسیح ابن مریم علیہما السلام اور آپ کے تین حواری نصیبین کی طرف ان کے رفع سے پہلے تشریف لے گئے تھے۔ مرزا قادیانی اور ان کے مریدوں کا مذہب یہ ہے کہ حضرت مسیح ٣٣ سال کی عمر میں صلیب پر (ملک شام میں) کھینچے گئے تھے۔ مرہم عیسیٰ سے ان کے زخموں کا علاج ہوا پھر اس صلیبی واقعہ کے بعد آپ نے عراق ‘ایران‘ افغانستان‘ پنجاب و کشمیر کا سفر کیا۔ ١٢٠ برس کی عمر پائی۔ سری نگر محلہ خانیار میں ان کی قبر ہے۔ تاریخ روضۃ الصفا کا مضمون اس سے بالکل الگ ہے۔ اس کتاب میں یہ کہیں نہیں لکھا ہے کہ واقعہ صلیبی کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی والدہ کے ساتھ مشرقی ممالک کا سفر کیا اور یہ بھی نہیں لکھا کہ مسیح کشمیر میں آکر فوت ہوا تھا۔

رفع کے وقت ٣٣ سال تھی۔ (دیکھو تفسیر ابن کثیر بر حاشیہ فتح البیان ج ٣ ص ٤٤٥) اور ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئیے کہ حضرت مسیح علیہ السلام ناصری کی والدہ حضرت مریم علیہا السلام صدیقہ کی قبر بیت المقدس میں ہے۔ (تفسیر درمنثور ج ٤ ص ١٥٧ و نیز سید محمد سعید مرزائی کا خط مندرجہ کتاب اتمام الحجۃ ص ١٤٠ حاشیہ) اس سے صاف ظاہر ہے کہ واقعہ صلیبی کے بعد حضرت مسیح علیہ السلام اور حضرت مریم علیہا السلام کا مشرقی ملکوں کی طرف آنا سراسر غلط ہے۔

صفحہ ١٤٠

عیسائیوں اور مسلمانوں کی تاریخوں اور تفسیروں میں یہ کہیں نہیں لکھا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام اور حضرت مریم علیہا السلام صلیبی واقعہ کے بعد کشمیر میں تشریف لائے اور نہ یہ لکھا ہے کہ مسیح کشمیر میں مر گیا۔

(٣)......بے شک تھوما حواری کی قبر مدراس (میلا پور) میں موجود ہے۔ مگر تھوما حواری حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع کے بعد ہندوستان میں آیا تھا اور شہر کا لمین واقع احاطہ مدراس میں وہاں کے راجہ کے حکم سے شہید ہوا تھا۔ (کاتھولک کلیسا کی مختصر تواریخ ص ٢٠‘٢١‘٢٨)

قادیانی خبط العشواء، حضرت مریم علیہا السلام کی قبر

سید محمد سعید مرزائی ساکن طرابلس کی تحریر

”حضرت عیسیٰ علیہ السلام بیت اللحم میں پیدا ہوئے اور بیت اللحم اور بلدہ قدس میں تین کوس کا فاصلہ ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر بلدہ قدس میں ہے اور اب تک موجود ہے اور اس پر ایک گرجا بنا ہوا ہے اور وہ گرجا تمام گرجاؤں سے بڑا ہے اور اس کے اندر حضرت عیسیٰ کی قبر ہے اور اسی گرجا میں حضرت مریم صدیقہ کی قبر ہے اور دونوں قبریں علیحدہ علیحدہ ہیں اور بنی اسرائیل کے عہد میں بلدہ قدس کا نام یروشلم تھا۔“

(کتاب اتمام الحجۃ ص ٢٠‘ حاشیہ، خزائن

ص ٢٩٩ ج ٨)

(٢)......”معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مریم علیہ السلام واقعہ صلیب کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ممالک مشرقیہ میں آئیں کیونکہ ان کی قبر بھی ارض مقدسہ میں نہیں............ حضرت مریم کی قبر اب تک کاشغر میں موجود ہے جس کو شک ہو جا کر دیکھ لے۔“

(حکیم خدا بخش مرزائی کی کتاب عسل مصفے حصہ اول ص ٤٥٣)

صفحہ ١٤١

(٣)...... مرزا بشیر احمد ایم اے کے الفاظ : "آخر کار مسیح کی قبر بھی محلہ خانیار سری نگر میں مل گئی۔ اس قبر کے متعلق بھی لوگوں سے دریافت کیا گیا اور تاریخ سے پتہ لیا گیا تو یہی معلوم ہوا کہ یہ اسی یوز آسف کی قبر ہے جو انیس سو سال ہوئے کشمیر میں آیا تھا۔ مزید ثبوت یہ ملا کہ وہ قبر اور اس کے ساتھ والی مسیح کی ماں کی قبر ٹھیک اسی طرز پر ہیں جس طرح بنی اسرائیل کی قبریں ہوتی تھیں۔"

(رسالہ ریویو آف ریلیجنز بابت ماہ جولائی ١٩١٧ء ص ٥٦ کا حاشیہ)

نوٹ : سری نگر کے محلہ خانیار میں ایک قبر تو شہزادہ یوز آسف کی ہے اور دوسری قبر پیر سید نصیر الدین کی ہے۔

(تاریخ کشمیر ص ٨٢)

مرزائی مولویوں کے عجیب و غریب اقوال

(١)...... مولوی غلام رسول راجیکی فرماتے ہیں : "اور شام سے کشمیر کی طرف آتے ہوئے در میان کے سفر میں نصیبین سے درے کی طرف راستہ میں عیسیٰ خیل اور کوہ مری جو دراصل کوہ مریم ہے ایسے نشانوں کا پایا جانا ضرور اس طرف توجہ دلاتا ہے کہ حضرت مسیح اور حضرت مریم کو ضرور ان مقامات سے کوئی تعلق اور نسبت ہے۔"

(رسالۃ التنقید ص ٣٣)

نوٹ : قوم عیسیٰ خیل کے علاوہ موسیٰ زئی، محمد زئی، عمر زئی، یوسف زئی، قومیں بھی تو سرحد پر ہیں اور کوہ سلیمان کو کیوں بھول گئے۔ کیا حضرت سلیمان نبی علیہ السلام یہاں آئے تھے۔

(٢)...... منشی محمد اسماعیل دہلوی قادیانی لکھتا ہے : "معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مریم علیہا السلام کشمیر میں لنڈ ڈوئی (علی نبی للہ) کے نام سے مشہور ہیں یہ نام آپ کا عبرانی کے الماہ سے بگڑ کر بنا ہے۔ عبرانی میں جوان

صفحہ ١٤٢

عورت کو الہام کہا کرتے ہیں۔“

(رسالہ اعجاز احمدی ص ١٢ حاشیہ و ص ١٨ حاشیہ)

نوٹ : حضرت للہ دویؒ ایک مجذوبہ کشمیر میں گزری ہیں اور آپ حضرت امیر کبیر سید علی ہمدانیؒ کے زمانے میں ہوئی ہیں اور حضرت امیر کبیر سید علی ہمدانیؒ کی پیدائش ٧١٢ھ میں اور وفات شریف ٧٨٦ھ میں ہوئی تھی۔ ان کو حضرت مریم علیہ السلام قرار دینا سراسر غلط ہے۔

”اور یہ جو بعض تواریخ میں آیا ہے کہ یوز آسف ”شولاپت“ سے آیا تھا اور عربی تحریروں میں اصل لفظ ”شولات“ آیا ہے یعنی اصل میں ”ب“ کے ساتھ ہے اور فارسی تحریروں میں حرف ”پ“ کے ساتھ آیا ہے یہ دراصل ”صلیب“ کی بگڑی ہوئی صورت ہے اور کشمیری ملاں آج بھی ”صلیب“ کو ”صولیب“ کہتے ہیں باوجود اس کے کہ ان کو تنبیہ کی گئی پھر بھی ”صلیب“ ان کے منہ سے نہیں نکلتی۔“

(ریویو آف بات ماہ دسمبر ١٩٢٥ء ص ٢٣)

کتاب اکمال الدین ص ٣٢١‘٣١٧، اور کتاب شہزادہ یوز آسف و حکیم بلوہر ص ٤،٢ پر لکھا ہے کہ شہزادہ یوز آسف کا باپ ہندوستان میں ایک حکمران تھا اور اکمال الدین ص ٣٢٥‘٣٥٨‘٣٥٩ اور کتاب شہزادہ یوز آسف ص ٢٦‘٢٨ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ شہزادہ یوز آسف کا وطن سر زمین ”سولابط“ تھا۔ اسی لفظ کو لفظ ” صلیب“ سے کیا تعلق ہے ؟۔

”پس کیا تعجب کہ اجنبی زبان کا نام ہونے اور مرور زمانہ اور کثرت استعمال کے سبب سے ہندوستان میں برتھولما حواری کا نام بگڑ بگڑا کر بلوہر ہو گیا ہو۔“

(کشف الاسرار ص ٤٦)

صفحہ ١٤٣

یہ بات سراسر غلط ہے کیونکہ کتاب اکمال الدین ص ٣٢٥ اور کتاب شہزادہ یوز آسف و حکیم بلوہر ص ٢٦ پر لکھا ہے کہ یوز آسف کی عقل و علم و کمال و فکر و تدبیر و فہم وزہد و ترک دنیا کا شہرہ دور دور پھیل گیا اور ایک شخص نے جو کہ اہل دین واہل عبادت میں سے تھا اور اس کا نام بلوہر تھا یہ خبر لنکا میں سنی اور یہ شخص بڑا عابد اور حکیم دانا تھا۔ اس نے دریا کا سفر کیا اور سولا بط کی طرف آیا حواری بر تھولما تو ملک شام میں ہوا ہے۔

”پکی روٹی وڈی میں لکھا ہے : ”جیکوئی پچھے عمر حضرت عیسیٰ علیہ السلام دی کتنی ہوئی تو آکھ جی ہک سو تریہہ ورے“ اب خیال فرمائیے کہ واقعہ صلیب تو ٣٣ سال کی عمر میں پیش آیا پس یقیناً اس کے بعد زمین پر زندہ رہے ہیں اور ١٢٠ سال سے زیادہ عمر پائی۔“

(ضمیمہ ظہور المسیح ص ٢٢‘ ٢٣)

قادیانی الفاظ ممکن ہے کی تردید

”ہر ایک نبی کے لئے ہجرت مسنون ہے اور مسیح نے بھی اپنی ہجرت کی طرف انجیل میں اشارہ فرمایا ہے اور کہا کہ نبی بے عزت نہیں مگر اپنے وطن میں مگر افسوس کہ ہمارے مخالفین اس بات پر بھی غور نہیں کرتے کہ حضرت مسیح نے کب اور کس ملک کی طرف ہجرت کی بلکہ زیادہ تر تعجب اس بات سے ہے کہ وہ اس بات کو تو مانتے ہیں کہ احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ مسیح علیہ السلام نے مختلف ملکوں کی بہت سیاحت کی ہے بلکہ ایک وجہ تسمیہ اسم مسیح کی یہ بھی لکھتے ہیں۔ لیکن جب کہا جائے کہ وہ کشمیر میں بھی گئے تھے تو اس سے انکار کرتے ہیں حالانکہ جس حالت میں انہوں نے مان لیا کہ حضرت مسیح نے اپنی نبوت کے ہی زمانہ میں بہت سے ملکوں کی سیاحت بھی کی تو کیا وجہ کہ کشمیر جانا ان پر حرام تھا۔ کیا ممکن نہیں کہ کشمیر میں بھی گئے ہوں اور وہیں

صفحہ ١٤٤

وفات پائی ہو اور پھر جب صلیبی واقعہ کے بعد ہمیشہ زمین پر سیاحت کرتے تو آسمان پر کب گئے۔ اس کا کچھ بھی جواب نہیں دیتے۔“ (تحفہ گولڑویہ ص ٢٠ حاشیہ‘ خزائن ص ١٠٦ ج ١٧)

نوٹ : یہ جو مرزا نے لکھا ہے کہ : ”ہر ایک نبی کے لئے ہجرت مسنون ہے۔“ صحیح نہیں ہے۔ قرآن مجید کی کسی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایسا نہیں فرمایا‘ کسی صحیح حدیث نبوی میں بھی یہ نہیں ہے۔ اناجیل اربعہ مروجہ کے الفاظ ہم مسلمانوں کے لئے حجت نہیں ہیں۔ احادیث صحیحہ سے یہ ثابت نہیں ہے کہ حضرت مسیح نے صلیبی واقعہ کے بعد مختلف ملکوں کی بہت سیاحت کی ہے۔ (تاریخ روضۃ الصفا ج اول ص ١٣٠‘ ١٣٥) میں یہ لکھا ہے کہ واقعہ صلیبی سے پہلے حضرت مسیح علیہ السلام نصیبین کی طرف گئے تھے پھر ملک شام میں واپس آئے اور آسمان پر اٹھائے گئے۔

مسیحی تاریخوں‘ اسلامی تاریخوں و تفسیروں اور اہل کشمیر کی تاریخی کتابوں میں یہ کہیں نہیں لکھا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام اور حضرت مریم علیہا السلام صلیبی واقعہ کے بعد شام سے ہجرت کر کے کشمیر میں چلے آئے اور یہ بھی نہیں لکھا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی قبر سری نگر میں ہے۔

”مولوی ابراہیم صاحب سیالکوٹی کی کتاب اکمال الدین جس میں یوز آسف کا ذکر ہے اس کو حضرت مسیح نہیں سمجھتے بلکہ ہندوستان کے شہزادوں سے ایک شہزادہ سمجھتے ہیں ممکن ہے کہ کوئی یوز آسف کے نام کا شہزادہ بھی ہو چکا ہو۔ جس کا نام مسیح علیہ السلام ہے۔ اس کے نام پر رکھا گیا ہو جیسا کہ سینکڑوں آدمیوں کا نام انبیاء کے نام پر ابراہیم‘ اسحق‘ اسماعیل‘ یعقوب‘ یوسف‘ داؤد‘ سلیمان‘ عیسیٰ‘ محمد وغیرہ بطور تفاؤل رکھا جاتا ہے۔“

(رسالہ تشحیذ ص ٢٥)

صفحہ ١٤٥

”اور کچھ عرصہ ہوا ہمارے ایک دوست مولوی دستگیر صاحب احمدی کو جو میلا پور میں رہتے ہیں ایک لیڈی مسز فرڈنام نے یہ بھی کہا تھا کہ ایک روایت یہ بھی ہے کہ خود حضرت مسیح بھی ہندوستان آئے تھے اور ممکن ہے کہ تھوما کا کام دیکھنے گئے ہوں۔ تھوما خود بھی کہتے ہیں کہ مسیح نے مجھے یہاں بھیجا ہے۔“

(اخبار فاروق قادیان مورخہ ١٧ اپریل‘ ٤ مئی ١٩١٦ء ص ١٥)

(٤)......”جیسا کہ بعض مورخین کی رائے ہے تھوما اور اس کے بعد بار تھولو میو ہر دو صاحبان ہندوستان تشریف لائے اور مرقس نے بھی اپنے ایلچی بھیجے اور ممکن ہے کہ بعض دیگر حواری بھی آئے ہوں۔“

(اخبار فاروق قادیان مورخہ ١١‘ ١٨‘ ٢٥ مئی ١٩١٦ء ص ١٠)

(٥)......شیر علی مرزائی کی تحریر : ”اگر یوز آسف کے قصہ کے بعض واقعات گوتم کے حالات سے ملتے ہوں تو اس سے ثابت نہیں ہو سکتا کہ دونوں ایک ہی شخص کے نام ہیں۔ ممکن ہے کہ جس طرح گوتم کو بدھ (یعنی حکیم) کا خطاب دیا گیا حضرت مسیح علیہ السلام کو بھی یہی خطاب دیا گیا ہو۔ بدھ صرف گوتم کا ہی نام نہیں گوتم سے پہلے بھی اور پیچھے بھی کئی بدھ ہوئے . ہیں۔ حضرت مسیح کے ہند میں آنے پر ممکن ہے کہ اہل ہند نے ان کو بدھ کا خطاب دیا ہو۔“

(رسالہ ریویو آف ریلیجنز بابت ماہ نومبر‘ دسمبر ١٩٠٣ء ص ٧٧٤)

جواب

الفاظ ”ممکن ہے“ کوئی دلیل نہیں ہو سکتے۔ دلیل کے بغیر کوئی بات قابلِ تسلیم نہیں ہوتی :

”ایک امر کا ممکن ہونا اور چیز ہے اور فی الواقع اس امر کا واقع ہونا اور چیز ہے۔“

(رسالہ ریویو آف ریلیجنز بابت ماہ ستمبر ١٩١٠ء ج ٩ نمبر ٩ ص ٣٤٨)

صفحہ ١٤٦

نتیجہ

نتیجہ یہ نکلا کہ ملک کشمیر کے شہر سری نگر میں جو شہزادہ یوز آسف کی قبر ہے وہ حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کی قبر نہیں ہے اور قادیانی مذہب باطل ہے۔

PDF 147

عمر مرزا

صفحہ ١٤٨

بسم اللہ الرحمن الرحیم

فصل اول

الہامات مرزا

حولا او قریبا من ذالک“

(البشریٰ ج ٢ ص ٤٩ ازالہ اوہام ص ٦٣٥‘ خزائن ص ٤٤٣ ج ٣)

ہوں۔ خدا تعالیٰ نے مجھے خبر دی کہ تیری عمر اسی برس یا اس سے کچھ کم یا کچھ زیادہ ہو گی۔“

(سراج منیر ص ٧٩‘ خزائن ص ٨١ ج ١٢)

(تریاق القلوب ص ١٣ حاشیہ‘ خزائن ص ١٥٢ ج ١٥)

(حقیقت الوحی ص ٩٦‘ خزائن ص ١٠٠ ج ٢٢)

صاف لفظوں میں فرمایا کہ تیری عمر اسی برس یا دو چار اوپر یا نیچے ہو گی۔“

(کتاب منظور الہٰی ص ٢٢٨)

یہ نتیجہ نکالیں کہ جھوٹا تھا تبھی جلد مر گیا۔ اس لئے پہلے ہی سے خدائے مجھے مخاطب کر کے فرمایا : ”ثمانین حولا او قریباً من ذالك او تزید علیہ سنینا وترٰی نسلا بعیدا“ یعنی تیری عمر اسی برس کی ہو گی یا دو چار کم یا چند سال زیادہ اور تو اس قدر عمر پائے گا کہ ایک دور کی نسل دیکھ لے گا۔“

(براہین نمبر ٥ ص ٣٦‘ خزائن ص ١٩٤ ج ١٧‘ ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٩‘ خزائن ص ٢٦ ج ١٧)

صفحہ ١٤٩

حولا او قريباً من ذالك وترى نسلا بعيدا.........” ہم تجھے ایک پاک اور آرام کی زندگی عنایت کریں گے۔ اسی برس یا اس کے قریب قریب یعنی دو چار برس کم یا زیادہ اور تو ایک دور کی نسل دیکھے گا۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ٣٩ خزائن ص ٤٢٢ ج ١٧‘ ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٣٢ خزائن ص ٧٢ ج ١٧‘ البشریٰ ص ٢ ج ٢)

وعدہ دیا کہ میں اسی برس یا دو تین برس کم یا زیادہ تیری عمر کروں گا۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ١٠ خزائن ص ٣٩٤ ج ١٧‘ ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٨ خزائن ص ٤٤ ج ١٧)

(رسالہ تحفۃ الندوہ ص ٢ خزائن ص ٩٣ ج ١٩)

اس کے لئے موجود ہوتا ہے اور ایسے مرضوں کے انجام کی نظیریں بھی موجود ہیں تو وہ ایسی خطرناک حالت کے ساتھ کیونکر افتراء پر جرات کر سکتا ہے اور وہ کس صحت کے بھروسہ پر کہتا ہے کہ میری عمر اسی برس کی ہوگی۔“

(ضمیمہ اربعین نمبر ٤ ص ٥ خزائن ص ٤٧١ ج ١٧)

گزر گئی کہ خدا تعالیٰ نے مجھے صریح لفظوں میں اطلاع دی تھی کہ تیری عمر اسی برس کی ہوگی اور یا یہ کہ پانچ چھ سال زیادہ یا پانچ چھ سال کم۔“

(براہین احمدیہ حصہ پنجم‘ ضمیمہ ص ٩٧ خزائن ص ٢٥٨ ج ٢١)

١٩٠٥ء میں مرزا کی عمر ٦٧ سال تھی۔

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٩ خزائن ص ١١٨ ج ٢١)

نوٹ: ”اور جو ظاہر الفاظ وحی کے وعدہ کے متعلق ہیں وہ تو چھہتر اور

صفحہ ١٥٠

چھیاسی کے اندر عمر کی تعین کرتے ہیں۔“

(کتاب ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٩٧‘ خزائن ص ٢٥٩ ج ٢١)

فصل دوم

پیدائش مرزا

”میری پیدائش ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء میں سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی ہے“

(کتاب البریہ ص ١٤٦‘ خزائن ص ١٧٧ ج ١٣ حاشیہ)

”سن پیدائش حضرت صاحب مسیح موعود و مہدی مسعود ١٨٣٩ء“

(کتاب نور الدین ص ١٧٠)

١٨٣٩ء)

(رسالہ تشحیذ الاذہان ج ٣ نمبر ٢‘ ٣ بابت ماہ فروری‘ مارچ ١٩٠٨ء ص ٥٦)

ہوئی (نہ کہ ماموریت) کیونکہ آپ کی ولادت ١٢٥٥ ہجری کو ہوئی ہے۔“ (یعنی ١٨٣٩ء)

(اخبار الحکم مورخہ ٦ جنوری ١٩٠٨ء ص ٦‘ رسالہ تشحیذ الاذہان بابت ماہ فروری‘ مارچ ١٩٠٨ء ص ٩١)

سکونت ہے توام پیدا ہوئے۔“

(اخبار بدر ج ١ نمبر ١ مورخہ ٣١ اکتوبر ١٩٠٢ء ص ٢)

وقت میں ہوئی۔“

(اخبار الحکم ج ٨ نمبر ٣٣‘ ٣٤ مورخہ ١٧‘ ٢٤ دسمبر ١٩٠٤ء ص ١٤)

(اخبار بدر مورخہ ١٣ دسمبر ١٩٠٦ء ص ٥‘ اخبار الحکم مورخہ ١٠ دسمبر ١٩٠٦ء ص ٧ پر حوالہ رسالہ سرستی)

صفحہ ١٥١

(٨)......”اس فرقہ (احمدیہ) کے بانی مرزا غلام احمد صاحب قادیانی ہیں۔ قادیان تحصیل بٹالہ ضلع گورداسپور پنجاب میں ایک گاؤں ہے۔ آپ ١٨٣٩ء میں پیدا ہوئے۔“

(اخبار پیغام صلح مورخہ ٢١ جولائی ١٩٢٣ء ص ١ کالم نمبر ٢)

(٩)......”آپ کی پیدائش ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء میں ہوئی تھی۔“

(کتاب عسل مصفے حصہ دوئم (مطبوعہ ١٩١٢ء الہ بخش پریس قادیان) ص ٦٣٢ (بحوالہ اخبار علیگڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ)

(١٠)......”١٨٣٩ء ١٢٥٥ھ وہ مبارک سال ہے جب آپ کی پیدائش ہوئی۔“

(رسالہ سوانح حضرت مسیح موعود ص ٧ اور اخبار پیغام صلح مورخہ ٢٩ شوال و ٣ ذیقعدہ ١٣٤٣ھ ص ٩)

(١١)......”١٨٣٩ء اور ١٢٥٥ھ دنیا کی تواریخ میں بہت بڑا مبارک سال ہے جس میں خدا تعالیٰ نے مرزا غلام مرتضیٰ کے گھر قادیان میں وہ موعود مہدی پیدا فرمایا جس کے لئے اتنی تیاریاں زمین و آسمان پر ہو رہی تھیں۔“

(کتاب براہین احمدیہ (مطبوعہ

١٩٠٦ء بدر پریس لاہور) کے ساتھ شائع ہونے والے رسالہ ”مسیح موعود کے حالات“ مرتبہ معراج الدین عمر

قادیانی ص ٦٠‘ ٦١)

(١٢)......”اور مسیح موعود کی ولادت اور رنجیت سنگھ کی موت کا ایک ہی سال میں واقعہ ہونا مرسلانہ بعثت کے نشانات کا مظہر ثابت ہوتا ہے۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ سکھ سلطنت کا تاج تھا جو مسیح موعود کے پیدا ہوتے ہی ٢٧ جون ١٨٣٩ء کو گر کر خاک میں مل گیا۔“

(کتاب براہین احمدیہ کے ساتھ شائع ہونے والے رسالہ مسیح موعود کے حالات ص ٦١)

(١٣)......”حضرت مرزا قادیانی نے بموضع قادیان ضلع گورداسپور ١٨٣٩ء میں پیدا ہو کر نزول جلال فرمایا اور ١٩٠٨ء میں دار فانی سے رحلت فرمائی۔“

(صوفی ابو عنایت الرحمٰن مرزائی مالیر کوٹلوی اپنے رسالہ استفتائے لاثانی بر قاتلین ممات حضرت مسیح آسمانی (گلزار

ہند سٹیم پریس لاہور) ص ١٥)

(١٤)......”مرزا غلام احمد کی پیدائش ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء میں ہوئی۔“

(کتاب مذاہب الاسلام (مطبوعہ ١٩١٣ء خادم التعلیم سٹیم پریس لاہور) ص ١٧٠)

(١٥)......”مرزا غلام احمد قادیانی ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء میں توام پیدا

صفحہ ١٥٢

ہوئے۔“

(اخبار وکیل مورخہ ٣ جون ١٩٠٨ء ص ٨ کالم نمبر ١)

مسلمانوں کے ایک مشہور مذہبی فرقہ احمدیہ کا بانی ہوا۔ یہ شخص ١٨٣٩ء میں پیدا ہوا۔“

(اخبار بدر قادیان مورخہ ١٤ جون ١٩١٢ء ص ٢، کتاب رؤسائے پنجاب ج دوم ص ٦٩ رسالہ ریویو آف

ریلیجنز بابت ماہ ستمبر ١٩١٦ء ص ٣٢٥)

(عسل مصفےٰ ج ٢ ص ٦٧٥)

قادیان سکھوں کے عہد حکومت کے آخری ایام میں قریباً ١٨٣٩ء ١٨٤٠ء میں پیدا ہوئے۔ خاندان کے لحاظ سے آپ مغل تھے۔“

(احمدیہ جنتر ی ١٩٢١ء مولفہ محمد منظور الٰہی مرزائی ص ٣٥)

وقت یعنی ١٨٣٩ یا ١٨٤٠ء میں ہوئی۔“

(عسل مصفےٰ ص ٥٧٥)

نوٹ: ان ١٩ تحریروں سے معلوم ہوا کہ مرزا غلام احمد قادیانی ١٨٣٩ء یعنی ١٢٥٥ھ میں پیدا ہوئے تھے۔

ایک عجیب بات

مرزا قادیانی کے الفاظ:

”میری پیدائش اس وقت ہوئی جب چھ ہزار میں سے گیارہ برس رہتے تھے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ١٥٤‘ خزائن ص ٢٥٢ ج ١٧ حاشیہ رسالہ ریویو بابت ماہ اپریل ١٩٢٤ء ص ٣٣‘ ٣٦)

نوٹ: واضح ہو کہ الف ششم ١٢٧٠ ہجری کو ختم ہوا تھا۔ (اخبار الحکم مورخہ ٦ جنوری ١٩٠٨ء ص ٦ کالم نمبر ٣) پس اس تحریر کی رو سے مرزا قادیانی کا سنہ پیدائش ١٢٥٩ھ

صفحہ ١٥٣

یعنی ١٨٣٤ء بنتا ہے۔ چنانچہ (رسالہ ریویو آف ریلیجنز بابت ماہ مئی ١٩٢٢ء ص ١٥٤) پر ہے :

”اور ١٢٦٠ھ پیدائش مسیح موعود کا سال“

فصل سوئم

مرزا قادیانی کی عمر

قوی دلائل سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ مرزا قادیانی کی عمر چوہتر سال سے کم ہوئی ہے۔ جس کے لئے ذیل میں بیس سے زیادہ دلائل لکھے جاتے ہیں :

دلیل نمبر ١ : مرزا قادیانی کے الفاظ :

”میری پیدائش ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء میں سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی ہے۔“ (کتاب البریہ ص ١٤٦ حاشیہ خزائن ص ١٧٧ ج ١٣ حاشیہ‘ اخبار بدر قادیان مورخہ ١٨ اگست ١٩٠٤ء ص ٥‘ کتاب حیات النبی ص ٤٩ ج ١‘ ریویو آف ریلیجنز بابت ماہ جون ١٩٠٦ء ص ٢١٩‘ اخبار الحکم مورخہ ٢١‘ ٢٨ مئی ١٩١١ء ص ٤)

نوٹ : مرزا قادیانی ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو فوت ہوئے تھے۔

(عسل مصفیٰ ج ٢ ص ٦١٤)

پس آپ کی عمر ٦٩ سال شمسی حساب سے اور ٧١ سال قمری حساب سے ہوئی ہے۔

دلیل نمبر ٢ : ”اور میں ١٨٥٧ء میں سولہ برس یا سترھویں برس میں تھا۔“ (کتاب البریہ ص ١٤٦ حاشیہ خزائن ص ١٧٧ ج ١٣‘ ریویو آف ریلیجنز بابت ماہ جون ١٩٠٦ء ص ٢٢٠‘ اخبار بدر مورخہ ١٨ اگست ١٩٠٤ء ص ٥‘ اخبار الحکم مورخہ ٢١‘ ٢٨ مئی ١٩١١ء ص ٤)

نوٹ : اس حساب سے مرزا قادیانی کی عمر ٦٩ سال شمسی حساب کی رو سے بنتی ہے۔

صفحہ ١٥٤

دلیل نمبر ٣: ”میری عمر قریباً چونتیس پینتیس برس کی ہو گی جب

حضرت والد صاحب کا انتقال ہوا۔“

(کتاب البریہ ص ١٥٩ حاشیہ خزائن ص ١٩٢ ج ١٣ حاشیہ‘ رسالہ ریویو

بابت ماہ جون ١٩٠١ء ص ٢٢٣‘ اخبار الحکم مورخہ ٢١‘ ٢٨ مئی ١٩٠١ء ص ٥‘ کتاب حیاۃ النبی ج اول ص ٤٣)

نوٹ : مرزا غلام مرتضیٰ ١٨٧٦ء میں فوت ہوئے تھے۔ (نزول المسیح ص ١١٦‘ ١١٧‘ ١١٨‘ خزائن ص ٤٩٤‘ ٤٩٥ ج ١٨) اس وقت مرزا قادیانی ٣٥ برس کے تھے۔ پس کل عمر ٦٩ سال ہوئی۔

دلیل نمبر ٤: ”١٦ مئی ١٩٠١ء حضرت مسیح موعود کا بیان جو آپ نے

عدالت گورداسپور میں بطور مدعا علیہ مرزا نظام الدین کے مقدمہ بند کرنے راستہ شارع عام جو مسجد کو جاتا تھا۔ میں حسب ذیل دیا۔ اللہ تعالیٰ حاضر ہے۔ میں سچ کہوں گا۔ میری عمر ساٹھ سال کے قریب ہے۔“

(کتاب منظور الٰہی ص ٢٤١)

نوٹ : مئی ١٩٠١ء میں مرزا قادیانی کی عمر ساٹھ کے قریب تھی۔ پس مئی ١٩٠٨ء میں آپ کی عمر ٦٧‘ ٦٨ سال ہوئی۔

دلیل نمبر ٥: ”١٨٥٩ء یا ١٨٦٠ء کا ذکر ہے کہ مولوی گل علی شاہ

صاحب کے پاس جو ہمارے والد صاحب نے خاص کر ہمارے لئے استاد رکھے ہوئے تھے پڑھا کرتا تھا۔ اور اس وقت میری عمر سولہ سترہ برس کی ہو گی۔“

(اخبار الحکم مورخہ ٣١ اکتوبر ١٩٠١ء ص ٦‘ کتاب منظور الٰہی ص ٣٢٨)

نوٹ : اگر ١٨٥٩ء یا ١٨٦٠ء میں مرزا قادیانی کی عمر ١٧ برس ہو تو ١٩٠٨ء میں آپ کی عمر ٦٧‘ ٦٨ سال بنتی ہے۔

دلیل نمبر ٦: ”حضرت مسیح موعود فرماتے تھے کہ جب سلطان احمد پیدا

صفحہ ١٥٥

ہوا۔ اس وقت ہماری عمر صرف سولہ سال کی تھی۔“

(کتاب سیرت المہدی ص ٥٦ ج ١ نمبر ٢٨٣‘ منظور الٰہی ص ٣٤٣)

نوٹ : خان بہادر مرزا سلطان احمد صاحب ١٩١٣ء بکرمی یعنی ١٨٥٦ء عیسوی میں پیدا ہوئے تھے۔ (سیرت المہدی ص ١٩٦ ج ٢ روایت ٤٦٧) پس اس حساب سے بھی مرزا قادیانی کی عمر ١٩٠٨ء میں ٦٨‘ ٦٩ سال بنتی ہے۔)

دلیل نمبر ٧ : ”مشیر اعلیٰ! اب جناب کی عمر کیا ہو گی؟۔ حضرت اقدس! ٦٥ یا ٦٦ سال۔“

(اخبار الحکم ج ٨ نمبر ٩ مورخہ ١٧؍ مارچ ١٩٠٤ء ص ٢)

نوٹ : ماہ مارچ ١٩٠٤ء میں مرزا قادیانی کی عمر ٦٥ یا ٦٦ سال تھی۔ پس ١٩٠٨ء میں ٦٩ سال ہوئی۔

دلیل نمبر ٨ : ١٩٠٥ء مرزا قادیانی نے مقام جالندھر تقریر کرتے ہوئے کہا تھا : ”خدا تعالیٰ ایک مفتری‘ کذاب انسان کو اتنی لمبی مہلت نہیں دیتا کہ وہ آنحضرت ﷺ سے بڑھ جاوے۔ میری عمر ٦٧ سال کی ہے اور میری بعثت کا زمانہ ٢٣ سال سے بڑھ گیا ہے۔“

(رسالہ پیغام صلح ص ٣٥)

نوٹ : ١٩٠٥ء میں مرزا قادیانی ٦٧ سال کے تھے۔ پس سال وفات ١٩٠٨ء میں کل عمر ٧٠ سال تھی۔

دلیل نمبر ٩ : ”میری عمر اس وقت تقریباً ٦٨ سال کی ہے۔“

(کتاب حقیقت الوحی ص ٢٠١ خزائن ص ٢٠٩ ج ٢٢ حاشیہ)

نوٹ : کتاب حقیقت الوحی ١٩٠٦ء و ١٩٠٧ء میں لکھی گئی تھی۔ اس وقت

صفحہ ١٥٦

مرزا قادیانی کی عمر ٦٨ سال تھی۔ پس سال وفات ١٩٠٨ء میں کل عمر ٦٩ سال تھی۔

دلیل نمبر ١٠: ”اور انہوں نے (یعنی کریم بخش نے) نہایت رقت سے چشم پر آب ہو کر کئی جلسوں میں میرے روبرو اس زمانہ میں جبکہ چودھویں صدی میں سے ابھی آٹھ برس گزرے تھے یہ گواہی دی کہ مجذوب گلاب شاہ صاحب نے آج سے تیس برس پہلے یعنی اس زمانہ میں جبکہ یہ عاجز قریباً بتیس سال کی عمر کا تھا۔ خبر دی کہ عیسیٰ جو آنے والا تھا وہ پیدا ہو گیا ہے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٥٩، خزائن ص ١٦٩ ج ١٧ حاشیہ)

نوٹ: اس جگہ مرزا قادیانی اپنی عمر ١٣٠٨ھ میں تقریباً پچاس سال تحریر فرماتے ہیں۔ پس کل عمر ٦٨، ٦٩ سال ہوئی۔

دلیل نمبر ١١: (الف)...... ”اگر وہ ساٹھ برس الگ کر دیئے جائیں جو اس عاجز کی عمر کے ہیں تو ١٣٠٥ھ تک بھی اشاعت کے وسائل کاملہ گویا کالعدم تھے۔“

(کتاب تحفہ گولڑویہ ص ١٦٣، خزائن ص ٢٦٠ ج ١٧)

(ب)...... ”اس ساٹھ سال سے پہلے جو اس عاجز کی گزشتہ عمر کے دن ہیں ان تمام اشاعت کے وسیلوں سے ملک خالی پڑا تھا۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ١٦٦، خزائن ص ٢٦٣ ج ١٧)

نوٹ: کتاب تحفہ گولڑویہ ١٣١٧ھ میں لکھی تھی۔ اس وقت مرزا قادیانی کی عمر ساٹھ سال کی تھی۔ پس سال وفات ١٣٢٦ھ میں کل عمر ٦٩ سال تھی۔

دلیل نمبر ١٢: (الف)...... ”اور میں چالیس سال کا تھا کہ الہام کا دروازہ مجھ پر کھولا گیا۔“

(حمامة البشریٰ ص ٢٧، خزائن ص ٢٠٩ ج ٧)

(ب)...... ”میرے اس دعوے وحی اور الہام پر پچیس سال سے زیادہ گزر چکے ہیں جو آنحضرت ﷺ کے ایام بعثت سے بھی زیادہ ہیں کیونکہ وہ تئیس برس تھے

صفحہ ١٥٧

اور یہ تیس سال کے قریب۔" (حقیقت الوحی ص ٢٠٦ خزائن ص ٢١٤ ج ٢٢) یہ یاد رہے کہ اگر میرے زمانہ الہام کو اس تاریخ سے لیا جائے جب اول حصہ براہین احمدیہ کا لکھا گیا تھا تب تو اس سال سے میرے الہام کے زمانہ کو ستائیس سال کے قریب ہوتے ہیں۔ اور جب براہین احمدیہ کے چہارم حصہ سے شمار کیا جائے تو تب پچیس سال گزر گئے ہیں اور جب وہ زمانہ لیا جائے کہ جب پہلے الہام شروع ہوا تب تیس سال ہوتے ہیں۔"

(حقیقت الوحی ص ٢٠٦ حاشیہ خزائن ص ٢١٥ ج ٢٢)

نوٹ: کتاب حقیقت الوحی ١٩٠٦ء / ١٩٠ء میں لکھی گئی تھی اس وقت مرزا قادیانی کی عمر ستر برس قمری (٤٠+٣٠) تھی۔ پس کل عمر ٧١ سال قمری ہوئی۔

دلیل نمبر ١٣: "میں سچ سچ کہتا ہوں کہ جب سلسلہ الہامات کا شروع

ہوا تو اس زمانہ میں میں جوان تھا۔ اب بوڑھا ہوا اور ستر سال کے قریب عمر پہنچ گئی اور اس زمانہ پر قریباً پینتیس سال گزر گئے۔"

* (تتمہ حقیقت الوحی ص ٢٩ خزائن ص ٤١ ج ٢٢)

دلیل نمبر ١٤: "آتھم کی عمر تو میری عمر کے برابر تھی یعنی قریب ٦٤

سال کے"

(کتاب اعجاز احمدی ص ٣ خزائن ص ١٠٩ ج ١٩)

نوٹ: اخبار بدر مورخہ ٨ اگست ١٩٠٣ء ص ٥ کالم نمبر ٣ میں ہے : "اس عبارت سے یہ امر صاف عیاں ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے کتاب اعجاز احمدی کی تصنیف کے وقت جو آپ کی عمر تھی اس کا مقابلہ عبداللہ آتھم کی عمر سے کیا ہے۔ اعجاز احمدی دسمبر ١٩٠٢ء کی تصنیف ہے اور کتاب البریہ ص ١٢٦ حاشیہ میں آپ تحریر فرماتے ہیں کہ اب میرے ذاتی سوانح یہ ہیں کہ میری پیدائش ١٨٣٩ء یا

صفحہ ١٥٨

١٨٤٠ء میں سکھوں کے اخیری وقت میں ہوئی اور میں ١٨٥٧ء میں سولہ یا سترھویں برس میں تھا۔ اب حساب کر لو کہ ١٩٠٢ء میں آپ کی عمر ٦٤ سال کی ہونی چاہئے تھی یا کہ نہیں۔“

نوٹ : ١٩٠٢ء میں مرزا کی عمر ٦٤ سال تھی۔ پس ١٩٠٨ء میں کل عمر ٧٠، ٧١ سال قمری ہوئی۔

دلیل نمبر ١٥ : مرزا غلام احمد قادیانی نے ایک دفعہ کہا :

”میں ابتدائی عمر سے اس وقت تک جو قریباً ساٹھ برس کی عمر تک پہنچا ہوں اپنی زبان اور قلم سے اس اہم کام میں مشغول رہا ہوں کہ تا مسلمانوں کے دلوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی محبت اور خیر خواہی اور ہمدردی کی طرف پھیروں۔ (مجموعہ اشتہارات ص ١١ ج ٣، خزائن ص ٣٣٩ ج ١٣، اشتہار بحضور نواب لفٹیننٹ گورنر بہادر دام اقبالہ مورخہ ٢٤ فروری ١٨٩٨ء ص ٣)

فروری ١٨٩٨ء میں مرزا قادیانی کی عمر قریباً ساٹھ برس ہوئی تو مئی ١٩٠٨ء میں ستر برس کی عمر ہوئی۔

دلیل نمبر ١٦ : ”اور اب حضرت کی عمر ٦٥ سال کی ہے۔ (اخبار الحکم مورخہ ١٠، ١٧ نومبر ١٩٠٤ء ص ١٣) نومبر ١٩٠٤ء میں مرزا صاحب ٦٥ سال کے تھے تو مئی ١٩٠٨ء میں آپ کی عمر ٦٨، ٦٩ سال ہوئی۔

دلیل نمبر ١٧ : ”اس زمانہ میں مرزا صاحب کی عمر راقم کے قیاس میں تخمیناً ٢٤ سے کم اور ٢٨ سے زیادہ نہ تھی۔ غرضیکہ ١٨٦٢ء میں آپ کی عمر ٢٨ سے متجاوز نہ تھی۔“ (راقم امیر حسن)

(کتاب حیاۃ النبی یعنی سیرت مسیح موعود حصہ اول ص ٦٢)

١٨٦٢ء میں مرزا قادیانی کی عمر کا ٢٨ سال سے زیادہ نہ ہونا ثابت کرتا ہے

صفحہ ١٥٩

کہ ١٩٠٨ء میں آپ کی عمر ٧٢ سے کم تھی۔

دلیل نمبر ١٨: ”سب سے پہلے ١٨٦٦ء میں اندرمن مراد آبادی نے جب ہمارے سید و مولا امام حضرت مسیح موعود کی عمر کوئی بیس برس سے بھی کم ہو گی۔ پاداش اسلام نام ایک گندی سے گندی کتاب شائع کر کے مسلمانوں کو ستایا۔“

(اخبار الحکم مورخہ ٢١ فروری ١٩٠٤ء ص ١٢)

اگر ١٨٦٦ء میں مرزا قادیانی کی عمر بیس برس سے بھی کم ہو تو کل عمر آپ کی اس حساب سے ٦٢ سال سے کم بنتی ہے۔

دلیل نمبر ١٩: ”مرزا صاحب جنہوں نے ستر برس عمر پائی قادیان ضلع گورداسپور میں جاگیر دار تھے اور ذات کے مغل تھے۔“

(کتاب عسل مصفےٰ حصہ دوم ص ٦٣٢ پر (حوالہ سول اینڈ ملٹری گزٹ) اور ریویو بابت ماہ اگست ١٩٠٨ء ص ٣٢٢)

دلیل نمبر ٢٠: ”مرزا غلام احمد خان صاحب ساکن قادیان ضلع گورداسپور جن کی وفات گزشتہ منگل کو ٦٩ برس کی عمر میں لاہور ہوئی۔“

(ریویو بابت ماہ اگست ١٩٠٨ء ص ٣٢١ کتاب عسل مصفےٰ حصہ دوم ص ٦٣٣)

فصل چہارم

عمر مرزا قادیانی اور مرزائی مولویوں کی پریشانی

کے وقت مئی ١٩٠٨ء میں آپ کی عمر ٨٢‘ ٨٣ ہوئی۔“

(رسالہ ریویو بابت ماہ ستمبر ١٩١٨ء ص ٣٤٤)

بھی وعدہ الٰہی جو عمر کے متعلق تھا پورا سمجھا جاتا۔ لیکن حکمت الٰہی نے حضرت مسیح

صفحہ ١٦٠

موعود کو ٨٠ سال عمر عنایت فرمائی۔“

(ریویو بابت ماہ ستمبر ١٩١٨ء ص ٣٤١)

(٣)...... ”قاضی عبداللہ صاحب فرماتے ہیں کہ یوز آسف (یسوع مسیح) دوبارہ دنیا میں آئے اور ٨٧ سال ہندوستان میں رہ کر پھر خداوند تعالیٰ کے پاس چلے گئے۔ وہ مرزا غلام احمد کے وجود میں ظاہر ہوئے اور مئی ١٩٠٨ء تک زندہ رہے۔ یہاں تک کہ خدا نے ان کو اپنے پاس بلا لیا۔“

(ریویو بابت ماہ نومبر ١٩١٦ء ص ٢٣٩)

(٤)...... ”معلوم ہوا کہ ١٢٩٠ھ میں آپ کی عمر چالیس سال تھی اور ١٣٢٦ھ میں آپ نے وفات پائی تو آپ کی عمر اس لحاظ سے ٧٦ سال ہوئی۔“

(ریویو آف ریلیجنز بابت ماہ اپریل ١٩٢٤ء ص ١٦٤)

(٥)...... ”جب حضرت اقدس نے وفات پائی تو آپ اس وقت ٧٤ سال کے تھے۔“

(تشحیذ الاذہان بابت ماہ جون، جولائی ١٩٠٨ء ص ٢٨٨)

(٦)...... (کتاب نورالدین ص ١٧١ سطر ١٩) میں مرزا قادیانی کا ١٩٠٨ء میں ٦٩ سال عمر پانا لکھا ہے :

(٧)...... ”رسالہ ریویو بابت ماہ مئی ١٩٢٢ء ص ١٥٤ پر مرزا قادیانی کا سن پیدائش ١٢٦٠ھ لکھا ہے اور وفات ١٣٢٦ھ میں ہے۔ اس سے مرزا قادیانی کی عمر ٦٦ سال قمری بنتی ہے۔

(٨)...... ”اسی وقت یعنی ١٢٨٨ھ میں حضرت مرزا قادیانی کی عمر عین شباب کی تھی۔ یعنی ٣١ برس۔“

(کتاب عسل مصفےٰ حصہ دوم ص ٥٢٢)

نوٹ : مرزا قادیانی کی وفات ١٣٢٦ھ‘ تو اس حساب سے مرزا قادیانی کی عمر ٥٩ سال بنتی ہے۔

صفحہ ١٦١

فصل پنجم

پیدائش مرزا قادیانی اور مرزائی مولویوں کی پریشانی

ہوئی۔“

(مرزائی اخبار الحق دہلی مورخہ ٢٠‘ ٢٧ فروری ١٩١٣ء ص ٤)

لکھی ہے اس سے آپ کی پیدائش کا سنہ ١٨٣٠ء بنتا ہے۔

١٨٣٢ء میں پیدا ہوئے تھے۔“

(اخبار بدر مورخہ ١٧ اگست ١٩٠٨ء ص ٦)

بدر مورخہ ١١ جون ١٩٠٨ء ص ٤‘ بدر مورخہ ٢٠ اگست ١٩٠٨ء ص ٩‘ ریویو بابت ماہ مارچ ١٩٢٤ء ص ٨‘ ریویو بابت ماہ جولائی ١٩٠٨ء ص ٢٧١‘ ریویو بابت ماہ ستمبر ١٩١٧ء ص ٣٣٣‘ تشحیذ الاذہان بابت ماہ دسمبر ١٩١٨ء ص ٦‘ بدر ٢٥ جون ١٩٠٨ء ص ٢‘ ریویو بابت ماہ مئی ١٩٢٥ء ص ١٩٢)

١٨٣٩ء“

(کتاب نور الدین ص ٧٠ کی سطر ١١)

(ریویو بابت ماہ مئی ١٩٢٢ء ص ١٥٢)

نوٹ: اس حساب سے مرزا قادیانی کا سنہ پیدائش ١٨٤٤ء بنتا ہے۔ اب دیکھئے ان چھ حوالہ جات میں قادیانیوں نے مرزا کی پیدائش ١٨٢٨ء سے ١٨٤٤ء تک پھیلادی ہے۔ اب خود مرزائی فیصلہ کریں کہ کون سا سن صحیح ہے۔

صفحہ ١٦٢

فصل ششم

مرزائیوں کی تحریروں کی تردید

قادیانی : حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں :

”اب میری عمر ستر برس کے قریب ہے اور تیس برس کی مدت گزر گئی کہ خدا تعالیٰ نے مجھے صریح لفظوں میں اطلاع دی تھی کہ تیری عمر اسی برس کی ہو گی اور یا یہ کہ پانچ چھ سال زیادہ یا پانچ چھ سال کم۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٩٧ خزائن ص ٢٥٨ ج ٢١)

اور (تریاق القلوب ص ١٥٨ خزائن ص ٢٨٣ ج ١٥) سے ظاہر ہے کہ آپ کی عمر چالیس برس کی تھی کہ مکالمہ مخاطبہ شروع ہوا تو ٤٠، ٣٠ مل کر کل ستر برس ہوئے اور یہ کتاب ١٩٠٥ء میں لکھی گئی ہے تو تہتر سال شمسی لحاظ سے جو قمری لحاظ سے ٧٥ سال ہوئی۔

(رسالہ ریویو بابت ماہ اپریل ١٩٢٤ء ص ٢٣)

مسلمان : مرزا غلام احمد قادیانی نے (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم کے ص ٩٧ خزائن ص ٢٥٨ ج ٢١) پر الفاظ (ستر برس کے قریب) لکھے ہیں نہ کہ ستر برس۔ یہ کتاب ١٩٠٥ء میں لکھی گئی تھی اور مرزا قادیانی کی پیدائش ١٨٣٩ء میں ہوئی تھی۔ پس ١٩٠٥ء میں ان کی عمر ٦٦ سال تھی اور (تحفہ گولڑویہ ص ١٥٤ خزائن ص ٢٥٢ ج ١٧ کے حاشیہ) کے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ چھٹے ہزار یعنی الف ششم میں گیارہ برس رہتے تھے کہ مرزا قادیانی پیدا ہوئے تھے۔ (نیز دیکھو ریویو بابت ماہ اپریل ١٩٢٤ء ص ٣٣، ٣٦) الف ششم ١٢٧٠ھ کو ختم ہوا۔ اس حساب سے مرزا صاحب کی پیدائش کا سال ١٢٥٩ھ بنتا ہے اور ١٩٠٥ء یعنی ١٣٢٣ھ میں مرزا صاحب کی عمر ٦٤ سال قمری تھی۔ پس کل عمر ١٣٢٦ھ میں ٦٧ سال قمری ہوئی۔

صفحہ ١٦٣

قادیانی : ”آتھم کی عمر میری عمر کے برابر تھی۔ قریب ٦٤ سال کے۔ اور آتھم ١٨٩٦ء میں مرا اس کے مرنے کے بعد آپ بارہ برس زندہ رہے۔ اس لحاظ سے آپ کی عمر ٧٦ کے قریب ہوئی۔

(اعجاز احمدی ص ٣‘ خزائن ص ١٠٩ ج ١٩‘ رسالہ ریویو بابت ماہ اپریل ١٩٢٤ء ص ٢٣)

مسلمان : ”مرزا قادیانی نے کتاب اعجاز احمدی کی تصنیف کے وقت جو آپ کی عمر تھی اس کا مقابلہ عبداللہ آتھم کی عمر سے کیا ہے۔ اعجاز احمدی دسمبر ١٩٠٢ء کی تصنیف ہے اور (کتاب البریہ ص ١٤٦ حاشیہ خزائن ص ٢٧١ ج ١٣) کی سطر ٧ میں آپ تحریر فرماتے ہیں کہ اب میری ذاتی سوانح یہ ہیں کہ میری پیدائش ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء میں سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی ہے۔ اور میں ١٨٥٧ء میں سولہ برس یا سترھویں برس میں تھا اب حساب کر لو کہ ١٩٠٢ء میں آپ کی عمر ٦٤ سال کی ہونی چاہئے تھی یا کہ نہیں۔“

(قادیانی اخبار بدر مورخہ ٨ اگست ١٩٠٤ء ص ٥ کالم نمبر ٣)

١٩٠٢ء کے ماہ دسمبر میں مرزا قادیانی ٦٤ برس کے تھے۔ پس مئی ١٩٠٨ء میں ٦٨ یا ٦٩ برس عمر تھی۔

قادیانی : ”یہ عجیب امر ہے اور میں اس کو خدا تعالیٰ کا ایک نشان سمجھتا ہوں کہ ٹھیک ١٢٩٠ھ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ عاجز شرف مکالمہ و مخاطبہ پا چکا تھا۔“ (حقیقت الوحی ص ١٩٩‘ خزائن ص ٢٠٨ ج ٢٢) اور (تریاق القلوب ص ٦٨‘ خزائن ص ٢٨٣ ج ١٥ میں) فرماتے ہیں : پھر جب میری عمر چالیس برس تک پہنچی تو خدا تعالیٰ نے اپنے الہام اور کلام سے مجھے مشرف کیا۔ معلوم ہوا کہ ١٢٩٠ھ میں آپ کی عمر چالیس کی تھی اور ١٣٢٦ھ میں آپ نے وفات پائی۔ تو آپ کی عمر اس لحاظ سے ٧٦ سال ہوئی۔

(رسالہ ریویو بابت ماہ اپریل ١٩٢٤ء ص ٢٣)

صفحہ ١٦٤

مسلمان: مرزا قادیانی کا ایک قول:

”میری پیدائش اس وقت ہوئی تھی جب چھ ہزار میں گیارہ برس رہتے تھے۔“

(ریویو ج ٢٢ نمبر ٤ ص ٣٣‘ ٣٤‘ تحفہ گولڑویہ ایڈیشن اول حاشیہ ص ٩٥‘ خزائن ص ٢٥٢ ج ١٧)

اس حساب سے مرزا کا سن ولادت ١٢٥٩ھ بنتا ہے۔ کیونکہ الف ششم ١٢٧٠ھ کو ختم ہوا تھا۔ پس ١٢٩٠ھ میں مرزا صاحب کی عمر ٣١ برس قمری تھی اور کل عمر ٧٦ برس قمری تھی نہ کہ ٧٦ سال۔ ٧٦ کو الٹا دینے سے ٦٧ بنتا ہے۔

قادیانی: اور خلیفہ اول نے سن پیدائش ١٨٣٩ء لکھا ہے نہ کہ ١٨٤٠ء۔ جیسا کہ مولوی صاحب لکھتے ہیں اور اگر ١٨٣٩ء کو بھی شامل کیا جائے تو آپ کی کل عمر ستر برس بنتی ہے جو قمری لحاظ سے قریباً ٧٢ برس بنتی ہے جو مولوی صاحب کے نزدیک مصداق الہام ہو سکتی ہے۔

(ریویو ج ٢٢ نمبر ٤ ص ٤٤)

مسلمان: ”سن پیدائش حضرت صاحب مسیح موعود ومہدی مسعود ١٨٣٩ء۔“

(مولوی نور الدین صاحب بھیروی کی کتاب نور الدین (مطبوعہ فروری ١٩٠٤ء مطبع ضیاء الاسلام

قادیان) ص ٧٠ سطر ١٢)

اور اس کتاب کے ص ٧١ کی سطر ١٩ میں مرزا قادیانی کا ١٩٠٨ء میں ٦٩ برس کی عمر پانا لکھا ہے۔ ٦٩ برس شمسی ٧١ برس قمری بنتا ہے۔ ٧٤ سال سے کم عمر ہوئی۔

قادیانی: چنانچہ ہم خلیفہ اول کی دوسری شہادت پیش کرتے ہیں۔ آپ (ریویو آف ریلیجنز ج ٧ ص ٢٠٠ میں) تحریر کرتے ہیں:

”مرزا صاحب مغفور کی کیا عمر تھی۔ جب آپ کا انتقال ہوا۔ اس کے لئے میں کوشش میں ہوں کہ پتہ لگے مرزا سلطان احمد صاحب نے تولد کا سن ٣٦‘ ٣٧ بتایا

صفحہ ١٦٥

ہے ۔ پس اس شمسی حساب سے آپ کی عمر قمری حساب میں چوہتر پچھتر ہوئی ہے اور کوئی اعتراض باقی نہیں رہتا اور حضرت نے نصرۃ الحق میں قریباً یہی لکھا ہے ۔“

(ریویو ج ٢٢ نمبر ٤ ص ٢٤)

مسلمان : مرزا غلام احمد قادیانی ٢٦ مئی ١٩٠٨ء (مطابق ١٣٢٦ھ) کو فوت ہوئے تھے۔ مولوی حکیم نور الدین کی کتاب نور الدین نامی فروری ١٩٠٤ء میں شائع ہوئی تھی۔ اس کے چار سال اور چار ماہ بعد یعنی مرزا قادیانی کے مرنے کے بعد ان کے مریدوں نے اس اعتراض کو دور کرنا چاہا۔ چنانچہ خود مولوی صاحب کے الفاظ (اس کے لئے میں کوشش میں ہوں کہ پتہ لگے) سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ مولوی حکیم نور الدین نے مرزا قادیانی کی زندگی میں فروری ١٩٠٤ء میں کچھ اور لکھا تھا اور ان کے مرنے کے بعد کچھ اور لکھا۔

قادیانی : مرزا سلطان احمد کی روایت صحیح معلوم ہوتی ہے اور اب ہم دوسرے طریق سے مرزا سلطان احمد کی روایت پیش کرتے ہیں۔ جسے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد نے اپنی کتاب (سیرۃ المہدی ص ١٩٦‘ ١٩٧ ج اول قدیم‘ جدید ج اول ص ٢١٥) میں لکھا ہے :

”خاکسار عرض کرتا ہے کہ میں نے عزیزم مرزا رشید احمد (جو مرزا سلطان احمد کا چھوٹا لڑکا ہے) کے ذریعے مرزا سلطان احمد سے دریافت کیا تھا کہ آپ کو حضرت مسیح موعود کے سن ولادت کے متعلق کیا علم ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ جہاں تک مجھے معلوم ہے ١٨٣٦ء میں آپ کی ولادت ہوئی تھی۔“

(رسالہ ریویو بابت ماہ اپریل ١٩٢٤ء ص ٢٤)

مسلمان : مرزا سلطان احمد کی روایت غلط ہے کیونکہ :

صفحہ ١٦٦

”میری پیدائش ١٨٣٩ء ١٨٤٠ء میں سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی ہے۔“ (کتاب البریہ ص ١٤٦ حاشیہ ، رسالہ ریویو ج ٥ نمبر ٦ ص ٢١٩، اخبار بدر مورخہ ٨ اگست ١٩٠٤ء ص ٥، کتاب حیات النبی ج ١ ص ٤٩، الحکم ٢١، ٢٨ مئی ١٩١١ء)

وقت ہماری عمر صرف سولہ سال کی تھی۔“

(کتاب سیرۃ المہدی ص ٢٥٦ حصہ اول قدیم ، جدید اول ص ٢٧٣)

خان بہادر مرزا سلطان احمد ١٩١٣ء، بعمر ٥٧ یعنی ١٨٥٦ء میں پیدا ہوئے تھے۔ اس حساب سے مرزا قادیانی کا سن پیدائش ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء بنتا ہے۔

قادیانی : ایڈیٹر زمیندار مسٹر ظفر علی خان کے والد نے اخبار زمیندار میں آپ کی وفات پر لکھا تھا کہ :

”مرزا غلام احمد صاحب ١٨٦٠ء یا ١٨٦١ء کے قریب ضلع سیالکوٹ میں محرر تھے۔ اس وقت آپ کی عمر ٢٢ یا ٢٤ سال ہو گی اور ہم چشم شہادت سے کہہ سکتے ہیں کہ جوانی میں نہایت صالح اور متقی بزرگ تھے۔“

اس شہادت کی رو سے حساب قمر ٧٤ سال بنتی ہے۔

(ریویو بابت ماہ اپریل ١٩٢٤ء ص ٢٥)

مسلمان : مرزا قادیانی نے ایک بار کہا :

”١٨٥٩ء یا ١٨٦٠ء کا ذکر ہے کہ مولوی گل علی شاہ کے پاس جو ہمارے والد صاحب نے خاص ہمارے لئے استاد رکھے ہوئے تھے پڑھا کرتا تھا اور اس وقت میری عمر سولہ سترہ برس کی ہو گی............الخ۔“

(اخبار الحکم ج ٥ نمبر ٢٠ ص ١٦، کتاب منظور الہی ص ٣٨٢)

صفحہ ١٦٧

١٨٥٩ء میں مرزا قادیانی سترہ برس کے تھے تو ١٩٠٨ء میں ٦٦‘ ٦٧ سال عمر ہوئی نہ کہ ٧٤ سال۔

قادیانی : ملک دین محمد صاحب افسر انہار ریاست بہاول پور فرماتے ہیں کہ ١٨٩١ء کے حصہ اولین میں وہ دہلی میں حضرت مرزا قادیانی کو ملے تھے اور اس وقت انہوں نے مرزا قادیانی سے ان کی عمر کے متعلق سوال کیا تھا کہ کتنی ہے تو آپ نے جواب دیا تھا کہ چونسٹھ یا پینسٹھ سال کی عمر ہوگی۔ اس واقعہ کے سترہ سال بعد آپ فوت ہوئے ہیں اور اس حساب سے آپ کی عمر اکاسی بیاسی سال بنتی ہے۔ (الفضل مورخہ ٣١ مارچ ١٩٢١ء ص ٤‘ فاروق مورخہ ٨‘ ١٥ جولائی ١٩٢١ء ص ٩‘ ریویو بابت ماہ ستمبر ١٩١٨ء ص ٤٢‘ ٤٣‘ ٤٤‘ اخبار بدر مورخہ ١٠ دسمبر ١٩٠٨ء ص ٨)

مسلمان : مرزا قادیانی کی عمر ١٨٩١ء یا ١٣٠٨ھ میں ٦٤ یا ٦٥ برس نہ تھی بلکہ قریباً پچاس سال کی تھی۔

”اگر وہ ساٹھ برس الگ کر دیئے جائیں جو اس عاجز کی عمر کے ہیں تو ١٢٥٧ ہجری تک بھی اشاعت کے وسائل کاملہ گویا کالعدم تھے۔“

(تحفہ گولڑویہ (جو ١٩٠٠ء میں لکھی گئی تھی) ص ١٦٣‘ خزائن ص ٢٦١ ج ١٧)

١٩٠٠ء (١٣١٨ھ) میں مرزا قادیانی کی عمر ساٹھ برس تھی۔ پس ١٨٩١ء میں مرزا قادیانی ٥١ برس عمر رکھتے تھے۔

ہوگی۔ اس پر مرزا صاحب نے جواب دیا کہ ٦٥ یا ٦٦ سال۔

(اخبار الحکم مورخہ ١٧‘ ٣١ مارچ ١٩٠٣ء ص ٢)

١٩٠٣ء میں مرزا قادیانی ٦٥ یا ٦٦ سال کے تھے تو ١٨٩١ء میں ٥٢ یا ٥٣ سال

صفحہ ١٦٨

عمر تھی اور ١٩٠٨ء میں ٦٩ سال شمسی۔ یہ تو ناممکن ہے کہ ١٨٩١ء میں عمر ٦٤ یا ٦٥ سال ہو اور تیرہ سال کے بعد ١٩٠٤ء میں ٦٦ سال۔

نتیجہ

ان تمام دلائل کا نتیجہ یہ نکلا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی عمر ٧٤ سال سے کم ہوئی ہے۔

مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھا ہے :

”جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اس پر اعتبار نہیں رہتا۔“

(چشمہ معرفت ص ٢٢٢ خزائن ص ٢٣١ ج ٢٣)

PDF 169

بشارت احمد ﷺ

صفحہ ١٧٠

بسم اللہ الرحمن الرحیم

عرض حال

اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے مجھے دین اسلام کی خدمت کی توفیق دی اور میری مدد فرمائی۔ میری کتابیں مراق مرزا‘ مرزائیت کی تردید بطرز جدید‘ حضرت مسیح کی قبر کشمیر میں نہیں اور عمر مرزا‘ پنجاب کے اہل سنت والجماعت اور اہل حدیث مسلمانوں میں مقبول ہوئیں اور چند مہینوں میں (یعنی ماہ دسمبر ١٩٣٢ء اور جنوری تا اپریل ١٩٣٣ء) ان کی اشاعت کثرت سے ہوئی۔ خصوصاً پنجاب کے دارالسلطنت لاہور‘ نوشہرہ چھاؤنی‘ پشاور چھاؤنی‘ ضلع جالندھر اور امرتسر کے مسلمانوں نے ان کتابوں کو پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا۔

فرقہ مرزائیہ کی تردید کے لئے اللہ تعالیٰ نے مجھے خاص توفیق و مدد عطا کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے خاص حافظہ اور خاص دماغ و ذہن عطا کیا ہے۔

جماعت مرزائیہ کے نام نہاد خلیفہ ثانی مرزا بشیر الدین محمود احمد قادیانی نے لکھا ہے :

”ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خدا تعالیٰ کے ایک نبی کے منکر ہیں۔“

(کتاب انوار خلافت ص٩٠)

مرزا قادیانی کے نبی ہونے کی دلیل یہ لکھی ہے :

”اول دلیل حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے نبی ہونے پر یہ ہے کہ جس طرح خدا تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ اور حضرت نوح اور حضرت

صفحہ ١٧١

ابراہیم اور حضرت یعقوب اور حضرت یوسف کو نبی کہہ کر پکارا ہے۔ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو بھی قرآن کریم میں رسول کے نام سے یاد فرمایا ہے۔ چنانچہ ایک تو آیت : ”مبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد“ سے ثابت ہے کہ آنے والے مسیح کا نام اللہ تعالیٰ رسول رکھتا ہے۔“

(حقیقت النبوۃ ص ١٨٨)

میاں محمود قادیانی نے (کتاب انوار خلافت ص ١٨‘ ٢٠‘ ٢١‘ القول الفصل ص ٣١‘ حقیقت النبوۃ ص ١٨٨ اور اخبار الفضل مورخہ ٢‘ ٥ دسمبر ١٩١٦ء ص ٣ میں) اس بشارت کا اصل اور حقیقی مصداق مرزا غلام احمد قادیانی کو ٹھہرایا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ یہ ایک گمراہ کن عقیدہ ہے اور قرآن مجید کی نصوص قطعیہ، احادیث صحیحہ، اقوال صحابہؓ اور اجماع مفسرین کے خلاف ہے۔ شیعہ، سنی، حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی اور اہل حدیث سب فرقے اس بات کو مانتے ہیں کہ اس بشارت عیسیٰ علیہ السلام کے مصداق حضرت محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ ﷺ ہیں۔ اہل سنت تفسیروں میں سے تفسیر ابن کثیر، ابن جریر، غرائب القرآن، فتح البیان، مواہب الرحمٰن، در منثور، خازن، مدارک، بیضاوی، جلالین، کمالین، فتوحات الٰہیہ، بحر المحیط، روح البیان، روح المعانی، معالم التنزیل، حسینی، قادری، مفاتیح الغیب، ابی السعود، عرائس البیان، سراج منیر، تبصیر الرحمٰن، جامع البیان، فوز الکبیر، ترجمان القرآن، اکسیر اعظم، فتح المنان، اعظم التفاسیر، اتقان، بحر مواج، الدر اللقیط، تفسیر الوجیز، حاشیہ شیخ صاوی علی جلالین، النہر الماد، تاج التفاسیر، تفسیر محمدی اور کتب معتبرہ مثلاً کنز العمال، مسند احمد، مشکوٰۃ، مرقاۃ، لمعات، مظاہر حق، فتح الباری، ارشاد الساری، عمدۃ القاری، خصائص الکبریٰ، کتاب الشفاء، نسیم الریاض، مواہب اللدنیہ، شرح مواہب، الجواب الصحیح وغیرہ میں لکھا ہے کہ : ”حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کی یہ بشارت آنحضرت ﷺ کے لئے ہے۔ چونکہ میاں محمود احمد قادیانی اور ان کے مریدوں کا عقیدہ قرآن مجید، احادیث

صفحہ ١٧٢

صحیحہ‘ اقوال صحابہؓ اور اجماع امت کے خلاف ہے۔ اس لئے اس کی تردید میں یہ کتاب لکھی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ مرزائی لوگ باطل عقیدے سے توبہ کر کے اسلام کو قبول کریں۔ اور اس آخری نبی کا دامن پکڑیں جو رحمۃ اللعالمین‘ سید المرسلین اور شفیع المذنبین ہے۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔

خادم دین رسول اللہ ﷺ عاجز: حبیب اللہ امرتسری

صفحہ ١٧٣

بسم اللہ الرحمن الرحیم

بشارت اسمہ احمد ﷺ

الحمد للہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علیٰ خاتم النبیین وعلیٰ آلہ واصحابہ اجمعین ۔

آیت قرآنی : اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

” واذا قال عیسیٰ ابن مریم یبنی اسرائیل انی رسول اللہ الیکم مصدقا لما بین یدی من التوراۃ ومبشرا برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد ۔ فلما جآء ہم بالبینت قالوا ہٰذا سحر مبین ۔ “

(سورۃ الصف آیت نمبر ٦)

﴿اور جس وقت حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہماالسلام نے فرمایا اے بنی اسرائیل ! تحقیق میں خدا کا رسول ہوں تمہاری طرف ماننے والا اس چیز کو کہ آگے میرے ہے توریت سے اور خوشخبری دینے والا ساتھ اس ایک رسول کے کہ میرے بعد آوے گا۔ (صفاتی نام اس کا احمد ہے) پس جب وہ احمد ان لوگوں کے پاس کھلی کھلی دلیلوں کے ساتھ آیا تو انہوں نے کہا یہ تو کھلا کھلا جادو ہے۔﴾

احادیث رسول ربانی

(١)......” عن جبیر بن مطعم قال سمعت النبی ﷺ یقول ان لی اسمآء انا محمد وانا احمد وانا الماحی الذی یمحو اللہ بی الکفر وانا الحاشر الذی یحشر الناس علیٰ قدمی وانا العاقب (والعاقب الذی لیس بعدہ نبی)“

(صحیح بخاری شریف ج١ ص٥٠١ باب ماجاء فی اسماء رسول اللہ ‘ ترمذی ج٢ ص ١١٧ فتح الباری پارہ ١٤ ص ٣١٢ عمدۃ القاری ج ٧ ص ٥٠٩‘ ارشاد الساری ج٦

صفحہ ١٧٤

ص ٢١، فیض الباری پارہ نمبر ١٤ ص ٥٣، مسند احمد ج ٤ ص ٨٠، ٨٤، صحیح مسلم ج ٢ ص ٢٦١، مواہب الرحمن پارہ ٢٨ ص ٣٧٢، مشکوٰۃ المصابیح ص ٥١٥ ج ٢ باب اسماء النبی وصفاتہ، مرقاۃ المفاتیح ج ٥ ص ٣٧٦ اشعۃ اللمعات ج ٤ ص ٥٠٦، مظاہر حق ج ٤ ص ٥٠٠، ابن کثیر ج ٨ ص ٩١، ابن کثیر ج ٩ ص ٤٤٩، کتاب الشفاء ج اول ص ١٤٤، شرح الشفاء ج اول ص ٤٨٥، ٤٨٦، دلائل النبوۃ ج اول ص ١٢، ترجمان القرآن ج ١٥ ص ٣٩٣ اور درمنثور ج ٦ ص ٢١٣ مصفے شرح موطا ج دوم ص ٢٤٧، نسیم الریاض ج ٢ ص ٣٨١)

حضرت جبیر بن مطعمؓ سے روایت ہے کہ کہا میں نے نبی ﷺ سے سنا آپ ارشاد فرماتے تھے کہ میرے لئے نام ہیں۔ میں محمد ہوں اور میں احمد ہوں اور میں ماحی ہوں مٹاوے گا اللہ میرے ساتھ کفر کو، اور میں حاشر ہوں کہ اٹھائے جائیں گے لوگ میرے قدم پر اور میں عاقب ہوں (اور عاقب وہ ہے کہ اس کے پیچھے کوئی شخص نبوت کے خلعت سے سرفراز نہ کیا جائے)(یعنی آپ کے بعد کوئی نبی نہ پیدا ہوگا) والعاقب الذی لا نبی بعدہ یہ تفسیر امام زہری تابعی کی ہے جیسا کہ (مسند احمد ج ٤ ص ٨٤ سے واضح ہے لیکن ترمذی مطبع مجتبائی ص ١٠٧ ج ٢ باب ما جاء فی اسماء النبی) کے تحت جبیر ابن مطعمؓ کی روایت وانا العاقب الذی لیس بعدی نبی سے ثابت ہے کہ یہ حدیث نبوی کا حصہ ہے اور اپنے نام عاقب کی حضور علیہ السلام نے: ”الذی لیس بعدی نبی“ سے تفسیر فرمائی ہے۔

انہ قال انی عنداللہ مکتوب خاتم النبیین وان آدم لمنجدل فی طینۃ وساخبرکم باول امری دعوۃ ابراہیم علیہ السلام وبشارۃ عیسیٰ ورویا امی التی رأت حین وضعتنی وقد خرج لہا نور اضاء لہا منہ قصور الشام“ (مسند احمد ج ٤ ص ١٢٧، ١٢٨، مسند احمد ج ٥ ص ٢٦٢، تفسیر ابن جریر پ ٢٨ ص ٨٧، تفسیر ابن کثیر ج ٩ ص ٤٤٩، درمنثور ج اول ص ١٣٩، درمنثور ج ٦ ص ٢١٣، ٢١٤ ترجمان القرآن ج اول ص ١٦١، ١٦٨، ١٦٩، ترجمان القرآن ج ١٥ ص ٣٩٦، ٣٩٧، مواہب الرحمن ج ١ ص ٣٢٢، ج ٢ ص ٤٤، ج ٢٨ ص ٣٧٢، نسیم الریاض ج ٢ ص ٢١٦، ٢١٧، مشکوٰۃ المصابیح ج ٢ ص ٥١٣ باب فضائل سید المرسلین، مرقاۃ المفاتیح

صفحہ ١٧٥

ج ٥ ص ٣٧٦ اشعۃ اللمعات ج ٤ ص ٤٩٩‘ مظاہر حق ج ٤ ص ٤٩٣‘ فتح الباری پارہ ١٤ ص ٣٢٥‘ فیض الباری پارہ ١٤ ص ٨٠‘ کتاب الشفاء ج اول ص ١٠٢‘ ١٠٣‘ شرح الشفاء ج اول ص ٧١‘ ٧٢‘ ٣٧٦‘ ٣٧٧‘ مواہب للدنیہ ج اول ص ٢٠‘ ٢٢‘ زرقانی شرح مواہب ج ١ ص ٦٧‘ خصائص الکبریٰ ج اول ص ٤‘ ٩‘ ٤٥‘ ٤٦)

حضرت عرباض بن ساریہؓ سے روایت ہے کہ اس نے نقل کی حضرت رسول اللہ ﷺ سے کہ آپ ﷺ نے فرمایا تحقیق میں اللہ کے نزدیک لکھا ہوا تھا ختم کرنے والا نبیوں کا‘ اس حال میں کہ تحقیق حضرت آدم علیہ السلام اپنی گوندھی ہوئی مٹی میں تھے اور میں خبر دوں تم کو ساتھ اول امر کے کہ وہ دعا حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ہے اور حضرت عیسیٰ روح اللہ کا خوشخبری دینا ہے اور میری ماں کا خواب دیکھنا ہے کہ دیکھا اس نے جب مجھ کو جنا اور تحقیق میری ماں کے لئے ظاہر ہوا ایک نور جس سے اس کے لئے ملک شام کے محل ظاہر ہوئے۔

نوٹ : حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا : ” ربنا وابعث فيهم رسولا منهم يتلوا عليهم آيتك ويعلمهم الكتاب والحكمة ويزكيهم انك انت العزيز الحكيم . سورة بقرہ آیت نمبر ١٢٩ “ میں ہے

مذہب محمود احمد قادیانی

”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے اپنے آپ کو احمد لکھا ہے اور لکھا ہے کہ اصل مصداق اس پیشگوئی کا میں ہی ہوں۔ کیونکہ یہاں صرف احمد کی پیشگوئی ہے اور آنحضرت ﷺ احمد اور محمد دونوں تھے۔ چنانچہ آپ ازالہ اوہام میں لکھتے ہیں : ”اور اس آنے والے کا نام جو احمد رکھا گیا ہے وہ بھی اس کے مثیل ہونے کی طرف اشارہ ہے کیونکہ محمد جلالی نام ہے اور احمد جمالی اور احمد اور عیسیٰ اپنے جمالی معنوں کی رو سے ایک ہی ہیں۔ اسی کی طرف اشارہ ہے : ”ومبشرا برسول یأتی من بعدی اسمه

صفحہ ١٧٦

احمد ”مگر ہمارے نبی ﷺ فقط احمد ہی نہیں بلکہ محمد بھی ہیں یعنی جامع جلال و جمال ہیں۔ لیکن آخری زمانہ میں بر طبق پیشگوئی مجرد احمد جو اپنے اندر حقیقت عیسویت رکھتا ہے بھیجا گیا۔“ (ازالہ اوہام ج دوم ص ٦٧٣، خزائن ص ٤٦٣ ج ٣) اسی طرح اعجاز المسیح میں لکھتے ہیں: ”اور عیسیٰ علیہ السلام نے كزرع اخرج شطأہ الآیۃ میں وآخرین منھم والی جماعت اور ان کے امام کی طرف اشارہ کیا ہے بلکہ اسمہ احمد کہہ کر صریح طور پر اس امام کا نام بھی بتا دیا ہے اور اس مثال میں (یعنی کزرع اخرج شطأہ میں) جو قرآن کریم میں مذکور ہوئی ہے حضرت عیسیٰ نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ مسیح موعود کا ظہور نرم و نازک پودے کے مشابہ ہوگا۔ سخت چیز سے مشابہت نہیں رکھتا ہوگا۔ پھر منجملہ قرآنی لطائف کے ایک نکتہ یہ ہے کہ احمد نام کا تو عیسیٰ علیہ السلام کی پیشگوئی میں ذکر کیا ہے اور محمد کا حضرت موسیٰ کی پیشگوئی میں تاکہ پڑھنے والے کو یہ نکتہ معلوم ہو جائے کہ جلالی نبی یعنی موسیٰ نے ایسا نام پیشگوئی میں اختیار کیا جو اس کے اپنے حال کے موافق تھا یعنی محمد جو جلالی نام ہے اور اسی طرح حضرت عیسیٰ نے اسم احمد کو پیشگوئی میں ظاہر کیا جو جمالی نام ہے کیونکہ حضرت عیسیٰ جمالی نبی تھے اور قہر و قتال سے انہیں کچھ حصہ نہیں دیا گیا تھا۔ خلاصہ کلام یہ کہ (موسیٰ و عیسیٰ میں سے) ہر ایک نے اپنے مثیل نام کی طرف اشارہ کیا۔ اس نکتہ کو یاد رکھو کیونکہ یہ تمام اوہام سے نجات دینے والا ہے اور جلال اور جمال دونوں کو خوب واضح کرتا ہے اور پردہ اٹھا کر اصل حقیقت دکھا دیتا ہے اور جب تم اس کو تسلیم کر لوگے اور اسے مان لوگے تو اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں داخل ہو کر ایک دجال سے بچ جاؤ گے اور ہر ایک گمراہی سے نجات پا جاؤ گے۔“ (اعجاز المسیح ص ٤٣، ٤٤، خزائن ص ١٧ ج ١٨) ان حوالوں سے آپ کو یہ تو معلوم ہو گیا ہو گا کہ اس پیشگوئی کا مصداق حضرت نے اپنے آپ کو قرار دیا ہے...... آنحضرت ﷺ احمد تھے اور اس پیشگوئی کے اول مظہر وہ تھے لیکن چونکہ اس میں ایک ایسے رسول کی

صفحہ ١٧٧

پیشگوئی ہے جس کا نام احمد ہے اور آنحضرت ﷺ کی صفت احمد تھی۔ نام احمد نہ تھا اور دوسرے جو نشان اس کے بتائے گئے ہیں وہ اس زمانہ میں پورے ہوئے ہیں اور مسیح موعود پر پورے ہوئے ہیں اور آپ کا نام احمد تھا اور آپ احمد کے نام پر ہی بیعت لیا کرتے تھے اور خدا نے بھی آپ کا نام احمد رکھا اور آپ نے اپنے نام کا یہی حصہ اپنی اولاد کے ناموں کے ساتھ ملایا۔ اس لئے سب باتوں پر غور کرتے ہوئے وہ شخص جس کی نسبت خبر دی گئی تھی مسیح موعود ہی ہے۔

ﷺ کا‘ اور کیا سورۃ صف کی آیت جس میں ایک رسول کی جس کا نام احمد ہو گا بشارت دی گئی ہے آنحضرت ﷺ کے متعلق ہے یا حضرت مسیح موعود کے متعلق۔

اسمہ احمد کی پیشگوئی کے مصداق حضرت مسیح موعود ہیں

”میرا یہ عقیدہ ہے کہ یہ آیت مسیح موعود کے متعلق ہے اور احمد آپ ہی ہیں لیکن اس کے خلاف کہا جاتا ہے کہ احمد نام رسول کریم ﷺ کا ہے اور آپ کے سوا کسی اور شخص کو احمد کہنا آپ کی ہتک ہے لیکن میں جہاں تک غور کرتا ہوں میر ایقین بڑھتا جاتا ہے اور میں ایمان رکھتا ہوں کہ احمد کا جو لفظ قرآن کریم میں آیا ہے وہ حضرت مسیح موعود (مرزا) کے متعلق ہی ہے۔“

(انوار خلافت ص ١٨)

آنحضرت ﷺ صرف احمدیت کی وجہ سے اس کے مصداق ہیں ورنہ جس احمد کے نام کے انسان کے متعلق خبر ہے وہ حضرت مسیح موعود ہی ہیں۔“

(انوار خلافت ص ٢٠)

علیہ السلام کے بعد آیا اور اس کا نام احمد ہے۔ میرا اپنا دعویٰ ہے اور میں نے یہ دعویٰ یونہی نہیں کر دیا بلکہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی کتابوں میں بھی اسی طرح

صفحہ ١٧٨

لکھا ہوا ہے اور حضرت خلیفۃ المسیح اول نے بھی یہی فرمایا ہے کہ مرزا قادیانی ’احمد‘ ہیں چنانچہ ان کے درس کے نوٹوں میں یہی چھپا ہوا ہے اور میرا ایمان ہے کہ اس آیت کے مصداق حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) ہی ہیں۔“

(انوار خلافت ص ٢١)

آنحضرت ﷺ نہیں ہو سکتے۔ ہاں اگر وہ تمام نشانات جو اس احمد نام رسول کے ہیں آپ کے وقت میں پورے ہوں تب بیشک ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس آیت میں احمد نام سے مراد احمدیت کی صفت کا رسول ہے کیونکہ سب نشانات جب آپ میں پورے ہو گئے تو پھر کسی اور پر اس کے چسپاں کرنے کی کیا وجہ ہے لیکن یہ بات بھی نہیں جیسا کہ میں آگے چل کر ثابت کروں گا۔“

(انوار خلافت ص ٢٣)

پیشگوئی خاتم النبیین کے متعلق ہے نہ کوئی اور ایسا لفظ ہے جس کی وجہ سے ہمیں یہ پیشگوئی ضرور آنحضرت ﷺ پر چسپاں کرنی پڑے سوم باوجود آپ کا نام احمد نہ ہونے کے آپ پر یہ پیشگوئی چسپاں کرنے کی یہ وجہ ہو سکتی تھی کہ آپ نے خود فرمایا ہو تا کہ اس آیت میں جس احمد کا ذکر ہے وہ میں ہی ہوں لیکن احادیث سے ایسا ثابت نہیں ہوتا۔ نہ سچی نہ جھوٹی‘ نہ وضعی نہ قوی نہ ضعیف نہ مرفوع نہ مرسل‘ کسی حدیث میں بھی یہ ذکر نہیں کہ آنحضرت ﷺ نے اس آیت کو اپنے اوپر چسپاں فرمایا ہو اور اس کا مصداق اپنی ذات کو قرار دیا ہو۔ پس جب یہ بھی بات نہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ ہم خلاف مضمون آیت کے اس پیشگوئی کو آنحضرت ﷺ پر چسپاں کریں۔“

(انوار خلافت ص ٢٣)

خبر اس آیت میں دی گئی ہے“

(انوار خلافت ص ٣١)

صفحہ ١٧٩

پیشگوئی کے مصداق حضرت مسیح موعود ہی ہو سکتے ہیں نہ اور کوئی۔“

(انوار خلافت ص ٣٣)

آیت کا مصداق اپنے آپ کو ہی قرار دیتے ہیں کیونکہ آپ نے اس میں دلیل کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ اگر رسول کریم ﷺ اس جگہ مراد ہوتے تو محمد اور احمد کی پیشگوئی ہوتی لیکن یہاں صرف احمد کی پیش گوئی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی اور شخص ہے جو مجرد احمد ہے۔ پس یہ حوالہ صاف طور پر ثابت کر رہا ہے کہ آپ (مرزا قادیانی) احمد تھے بلکہ یہ کہ اس پیشگوئی کے آپ ہی مصداق ہیں۔“

(انوار خلافت ص ٣٧)

موعود ہی احمد تھے اور آپ ہی کی نسبت اس آیت میں خبر دی گئی تھی۔“

(انوار خلافت ص ٣٩)

بلکہ ہمارے نزدیک آپ (مرزا) اس کے حقیقی مصداق ہیں۔“

(الفضل مورخہ ٢،٥ دسمبر ١٩١٦ء ص ٥ کالم ٣)

کے اصل مصداق ہیں اور آپ کا نام احمد تھا۔“

(الفضل ٢،٥ دسمبر ١٩١٦ء ص ٧ کالم ٢)

ذکر ہے، دو کا نہیں۔ اور اس شخص کی تعین ہم حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر کرتے ہیں تو اس سے خود نتیجہ نکل آیا کہ دوسرا اس کا مصداق نہیں اور جب ہم یہ ثابت کر دیں کہ حضرت مسیح موعود اس پیشگوئی کے مصداق ہیں تو یہ بھی ثابت ہو گیا کہ دوسرا کوئی شخص اس کا مصداق نہیں۔“

(الفضل مورخہ ٢،٥ دسمبر ١٩١٦ء ص ٥ کالم ٣)

(انوار خلافت ص ٣٧)

صفحہ ١٨٠

نوٹ : ذیل میں میاں صاحب کے پیش کردہ دلائل کا جواب ایک مکالمہ کی صورت میں دیا جاتا ہے۔ غور سے پڑھئے۔

قادیانی : ”آپ (یعنی مرزا غلام احمد) کا نام آپ کے والدین نے احمد رکھا ہے۔“

(انوار خلافت ص ٣٣)

مسلمان : حق بات یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا نام آپ کے والدین نے ”غلام احمد“ رکھا تھا نہ کہ ”احمد“ جیسا کہ ذیل میں ثابت کیا جاتا ہے :

رکھ کر آپ کا نام غلام احمد رکھا۔“ (کتاب براہین احمدیہ مطبوعہ ١٩٠٦ء بدر پریس لاہور کے ساتھ ملحقہ ”حضرت مسیح موعود کے مختصر حالات“ مصنفہ معراج الدین عمر ص ٦٢)

(کتاب حیاۃ النبی ج اول ص ٥١ سطر ٥ مصنفہ یعقوب علی تراب)

(تحفہ شاہزادہ ویلز ص ٢٩ مصنفہ مرزا محمود)

رکھا۔“

(الفضل مورخہ ١٥؍١٩ مئی ١٩١٧ء ص ٨)

(الفضل مورخہ ٢٧ نومبر یکم دسمبر ١٩١٧ء ص ٩)

(الفضل مورخہ ٦ ستمبر ١٩١٤ء ص ٦)

کر رہے ہیں۔ ہم تو اسلام کے مزدور ہیں۔ میرا نام جو غلام احمد رکھا ہے میرے والدین

صفحہ ١٨١

کو کیا خبر تھی کہ اس میں کیا راز ہے۔“

(الحکم مورخہ ٣٠ اپریل ١٩٠٢ء ص ٨)

ہے۔“

(اخبار الحکم ج ٦ نمبر ١٨ مورخہ ١٧ مئی ١٩٠٢ء ص ١٢)

ہے۔“

(اخبار الحکم ج ٦ نمبر ١٨ مورخہ ١٧ مئی ١٩٠٢ء ص ١٣)

قادیانی : حضرت مسیح موعود کا اصلی نام احمد ہے۔

(تشحیذ الاذہان بابت ماہ ستمبر

١٩١٤ء ص ١٥ تا ١٨) آپ کا نام احمد ہی تھا۔

(انوار خلافت ص ٣٤، القول الفصل ص ٢٩)

مسلمان : مرزا قادیانی نے خود اس بات کو لکھا ہے کہ میرا نام غلام احمد ہے جیسا کہ ذیل میں ثابت کیا جاتا ہے :

قادیان ضلع گورداسپور پنجاب کا رہنے والا ایک مشہور فرقہ کا پیشوا ہوں۔“

(رسالہ کشف الغطاء ص ٢ خزائن ص ١٧٩ ج ١٤)

کا نام عطا محمد اور میرے پڑدادا صاحب کا نام گل محمد تھا۔“ (کتاب البریہ ص ١٣٤ حاشیہ خزائن ص ١٦٢ ج ١٣، ریویو آف ریلیجنز بابت ماہ جون ١٩٠٦ء ص ٢١٥، اخبار الحکم مورخہ ٢١، ٢٨ مئی ١٩١١ء ص ٢)

مرتضیٰ صاحب ابن مرزا عطاء محمد صاحب ابن مرزا گل محمد صاحب۔“

(ریویو آف ریلیجنز بابت ماہ جون ١٩٠٦ء ص ٢١٨ حاشیہ)

میرزا غلام مرتضیٰ“

(الاستفتاء، ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٧٧، خزائن ص ٧٠٣ ج ٢٢)

صفحہ ١٨٢

اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے اور اس نے اس دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا۔“

(دافع البلاء ص ١٣‘ خزائن ص ٢٣٣ ج ١٨)

”یا احمد جعلت مرسلا“ اے احمد تو مرسل بنایا گیا یعنی جیسا کہ تو بروزی رنگ میں احمد کے نام کا مستحق ہوا حالانکہ تیرا نام غلام احمد تھا۔ سو اسی طرح بروز کے رنگ میں نبی کے نام کا مستحق ہے کیونکہ احمد نبی ہے۔“

(تذکرۃ الشہادتین ص ٤٣‘ خزائن ص ٤٥‘ ٤٦ ج ٢٠)

قادیانی : حضرت مسیح موعود نے اپنے آپ کو احمد لکھا ہے۔ (القول الفصل ص ٢٧) حضرت صاحب کے الہامات میں کثرت سے احمد ہی آتا ہے۔ (انوار خلافت ص ٣٥)

مسلمان :اس بات کے جواب میں ذیل میں خود مرزا قادیانی کے اقوال درج کرتا ہوں :

طور پر اس عاجز کا نام ہے) خدا نے تجھ میں برکت رکھ دی۔“

(حقیقۃ الوحی ص ٢٤٤‘ خزائن ص ٢٥٧ ج ٢٢)

محمد اور احمد ہوں۔“

(حقیقۃ الوحی ص ٧٢ حاشیہ خزائن ص ٧٦ ج ٢٢)

احمد“ کے یہی معنی ہیں کہ مہدی موعود جس کا نام آسمان پر مجازی طور پر احمد ہے جب مبعوث ہو گا تو اس وقت وہ نبی کریم جو حقیقی طور پر اس نام کا مصداق ہے اس مجازی احمد کے پیرایہ میں ہو کر اپنی جمالی تجلی ظاہر فرمائے گا۔ یہی وہ بات ہے جو اس سے پہلے میں نے اپنی کتاب ازالہ اوہام میں لکھی تھی یعنی یہ کہ میں اسم احمد میں آنحضرت ﷺ کا شریک ہوں۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ١٥٦‘ خزائن ص ٢٥٢ ج ١٧)

صفحہ ١٨٣

غرض مرزا قادیانی نے اپنے آپ کو ظلی‘ مجازی اور بروزی طور پر احمد لکھا ہے نہ کہ حقیقی طور پر۔

قادیانی : ”آنحضرت ﷺ کا نام در حقیقت احمد نہ تھا........ آپ کی والدہ نے ہرگز آپ کا نام احمد نہیں رکھا۔“

(القول الفصل ص ٢٩)

مسلمان : مرزا قادیانی کا نام دراصل احمد نہ تھا اور آپ کے والدین نے آپ کا نام غلام احمد رکھا تھا نہ کہ احمد۔ خود مرزا قادیانی نے اس بات کو لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ کا نام احمد تھا۔

سے اعلیٰ درجہ کا جواں مرد نبی اور زندہ نبی اور خدا کا اعلیٰ درجہ کا پیارا نبی صرف ایک مرد کو جانتے ہیں یعنی وہی نبیوں کا سردار‘ رسولوں کا فخر‘ تمام مرسلوں کا سرتاج‘ جس کا نام محمد مصطفیٰ اور احمد مجتبیٰ ﷺ ہے۔“

(سراج منیر ص ٨٠‘ خزائن ص ٨٢ ج ١٢)

ہمارے نبی ﷺ کے دو نام تھے۔ ایک محمد ﷺ دوسرا احمد ﷺ۔“

(اشتہار واجب الاظہار مورخہ ٤ نومبر ١٩٠٠ء ص ٤‘ مجموعہ اشتہارات ص ٣٦٥ ج ٣)

زندگی بخش جام احمد ہے
کیا ہی پیارا یہ نام احمد ہے
لاکھو ہوں انبیاء مگر خدا
سب سے بڑھ کر مقام احمد ہے
صفحہ ١٨٤
باغ احمد سے ہم نے پھل کھایا
میرا بستان کلام احمد ہے
ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے

(رسالہ دافع البلاء ص ٢٠ خزائن ص ٢٤٠ ج ١٨)

شریعت ہے جیسا کہ اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے : ”محمد رسول اللہ والذین معه اشداء على الكفار رحماء بينهم ............ ذلك مثلهم فی التورة“

تعلیم الٰہی ہے جیسا کہ اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے : ”ومبشرا برسول یأتی من بعدی اسمه احمد“ اور ہمارے نبی ﷺ جلال اور جمال دونوں کے جامع تھے۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ١٥ خزائن ص ٤٣٤ ج ١٧)

کیا : ” یأتی من بعدی اسمه احمد “ من بعدی کا لفظ ظاہر کرتا ہے کہ وہ نبی میرے بعد بلا فصل آئے گا۔ یعنی میرے اور اس کے درمیان اور کوئی نبی نہ ہوگا۔

(ملفوظات احمد ص ٧٧ مرتبہ فخر الدین قادیانی)

قادیانی: حضرت مسیح تو کہتے ہیں کہ : ”من بعدی اسمه احمد“ یعنی میرے بعد جو آئے گا اس کا نام احمد ہوگا۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ احمد کس کا نام ہے۔ احمد وہ ہے جس نے کہا کہ کہو کہ احمد کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہوں اور اپنے بیعت کنندوں کو کہا

صفحہ ١٨٥

کہ تم احمدی کہلاؤ۔ اگر کوئی کہے کہ ان کا نام تو غلام احمد تھا تو اس کا جواب یہ ہے کہ غلام تو ایک خاندانی لفظ ہے جو نام کے ساتھ شروع سے چلا آتا ہے ............ اصل نام وہی ہے جو غلام کو علیحدہ کر کے ہے۔“

(الفضل ١٨ اپریل ١٩١٢ء ص ٦)

مسلمان: مرزا قادیانی کے الفاظ :

”میرا نام غلام احمد ۔ میرے والد کا نام غلام مرتضیٰ اور دادا صاحب کا نام عطا محمد اور میرے پڑدادا صاحب کا نام گل محمد تھا اور جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے ہماری قوم برلاس ہے۔“

(اخبار الحکم مورخہ ٢١‘ ٢٨ مئی ١٩١١ء ص ٣ کالم اول)

اگر ہم یہ بات مان لیں کہ (اصل نام وہی جو غلام کو علیحدہ کر کے ہے) تو اس سے لازم آئے گا کہ مرزا صاحب کے والد ماجد کا اصل نام ”مرتضیٰ“ ہو۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے اور واضح ہے کہ مرزا صاحب کے ایک بھائی کا نام ”غلام قادر“ تھا۔ (ازالہ اوہام ص ٧٦‘ خزائن ص ١٤٠ ج ٣ حاشیہ) اس قادیانی جدید اصلاح کی رو سے لازم آئے گا کہ مرزا صاحب کے بھائی کا اصل نام ”قادر“ ہو۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے اسی طرح اگر کسی اسلامی خاندان کے مردوں کا نام غلام اللہ‘ غلام محمد‘ غلام رسول‘ غلام نبی‘ غلام علی‘ غلام حسن اور غلام حسین ہو تو کیا اس کے یہ معنی ہوں گے کہ ان لوگوں کے اصل نام وہی ہیں جو غلام کو علیحدہ کر کے ہیں۔“

قادیانی : آپ کا نام آپ کے والدین نے احمد رکھا ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ آپ کے والد صاحب نے آپ کے نام پر ایک گاؤں بسایا ہے۔ اس کا نام احمد آباد رکھا ہے۔ اگر آپ کا نام غلام احمد رکھا گیا تھا تو چاہئے تھا کہ اس گاؤں کا نام بھی غلام احمد آباد ہوتا۔“

(انوار خلافت ص ٣٣)

مسلمان : ”انہوں نے (یعنی مرزا غلام مرتضیٰ) نے اپنے دونوں لڑکوں

صفحہ ١٨٦

کے ناموں پر دو گاؤں آباد کئے ہیں جن میں سے ایک کا احمد آباد اور دوسرے کا قادر آباد نام رکھا۔“

(اخبار الفضل ١٨ اپریل ١٩١٤ء ص ٦ کالم ٢)

قادیانی اصلاح جدید کی رو سے یہ بات لازم آتی ہے کہ مرزا قادیانی کے بھائی کا نام بھی والدین نے ”قادر“ رکھا ہو کیونکہ ان کا نام غلام قادر رکھا گیا تھا تو چاہئیے تھا کہ اس گاؤں کا نام بھی غلام قادر آباد ہوتا۔ پھر مرزے کی بات (انوار خلافت ص ٣٣) پر یہ لکھی ہے :

”اسی طرح آپ کے بھائی کے نام پر بھی ایک گاؤں بسایا گیا ہے جس کا نام قادر آباد ہے۔ حالانکہ ان کو غلام قادر کہا جاتا تھا۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا نام بھی قادر تھا“

سبحان اللہ کیا کہنا اس بات کا۔ اگر کسی خاندان میں نام مردوں کے عبداللہ ‘عبیداللہ‘ حمید اللہ‘ عنایت اللہ‘ حبیب اللہ‘ ثناء اللہ‘ عطاء اللہ‘ رضاء اللہ‘ ذکاء اللہ‘ ہوں تو کیا ان کا یہ مطلب ہو گا کہ ان کے نام کا پہلا حصہ الگ کر کے ان کا اصلی نام دوسرا حصہ سمجھا جائے۔ نعوذ باللہ من ذالك

مرزا قادیانی تو اپنے بھائی کا نام ”غلام قادر“ لکھتے ہیں۔ (ازالہ اوہام ص ٧٦ حاشیہ خزائن ص ١٤٠ ج ٣) اور مرزا محمود احمد قادیانی کہتے ہیں کہ ان کا نام بھی قادر تھا۔ کیا خوب۔ میاں صاحب کو بہت دور کی سوجھی۔

قادیانی : حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے اپنے آپ کو احمد لکھا ہے اور لکھا ہے کہ اصل مصداق اس پیشگوئی کا میں ہی ہوں۔ کیونکہ یہاں صرف احمد کی پیشگوئی ہے اور آنحضرت ﷺ احمد اور محمد دونوں تھے۔“

(القول الفصل ص ٢٧)

مسلمان : بے شک آنحضرت ﷺ احمد اور محمد دونوں تھے۔ مگر آپ کا محمد

صفحہ ١٨٧

اور احمد دونوں ہونا اس بات کے منافی نہیں ہے کہ آپ اس پیشگوئی کے اصل اور حقیقی مصداق ہوں۔ دیکھئے کہ مرزا قادیانی خود لکھتے ہیں کہ میں محمد اور احمد ہوں :

منم مسیح زمان و منم کلیم خدا
منم محمد و احمد کہ مجتبیٰ باشد

(تریاق القلوب ص ٣، خزائن ص ١٣٤ ج ١٥)

بار بار میرا نام نبی اللہ اور رسول اللہ رکھا مگر بروزی صورت میں۔ میرا نفس درمیان نہیں ہے بلکہ محمد مصطفیٰ ﷺ ہے اس لحاظ سے میرا نام محمد اور احمد ہوا۔“

(حقیقت النبوۃ حصہ اول ص ٢٦٩ پر (حوالہ ایک غلطی کا ازالہ)

محمد اور احمد ہوں۔“

(کتاب حقیقت الوحی ص ٧٢ حاشیہ خزائن ص ٧٦ ج ٢٢)

قادیانی : آنحضرت ﷺ احمد تھے اور اس پیشگوئی کے اول مظہر وہ تھے لیکن چونکہ اس میں ایک ایسے رسول کی پیشگوئی ہے جس کا نام احمد ہے اور آنحضرت ﷺ کی صفت احمد تھی نام احمد نہ تھا اور دوسرے جو نشان اس کے بتائے گئے ہیں وہ اس زمانہ میں پورے ہوئے ہیں اور مسیح موعود پر پورے ہوئے ہیں اور آپ کا نام احمد تھا اور آپ احمد کے نام پر ہی بیعت لیا کرتے تھے اور خدا نے بھی آپ کا نام احمد رکھا اور آپ نے اپنے نام کا یہی حصہ اپنی اولاد کے ناموں کے ساتھ ملایا۔ اس لئے سب باتوں پر غور کرتے ہوئے وہ شخص جس کی نسبت خبر دی گئی تھی مسیح موعود ہی ہے........... آنحضرت ﷺ کا نام در حقیقت احمد نہ تھا........... آپ کی والدہ نے ہرگز آپ کا نام احمد نہیں رکھا۔“

(القول الفصل ص ٢٩)

صفحہ ١٨٨

مسلمان: (١)...... ”آنحضرت ﷺ کی والدہ ماجدہ نے خواب دیکھا اور اسے خواب میں کہا گیا کہ تو خیر البریہ و سید العالمین سے حاملہ ہے۔ جب پیدا ہوں تو آپ کا نام محمد اور احمد رکھنا۔ دیکھو دلائل النبوۃ ج اول ص ٤٠ مطبوعہ حیدر آباد دکن۔“

(رسالہ عصائے حق (جس کو انجمن احمدیہ امرتسر نے وزیر ہند پریس میں چھاپا ہے) ص ٩ سطر ٤‘ ٥‘ ٦)

(٢)...... ”احمد اور ابن ابی شیبہ اور بیہقی نے حضرت علیؓ سے روایت کی ہے کہ کہا انہوں نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھ کو وہ شے دی گئی جو انبیاء میں سے کسی کو نہیں دی گئی۔ مجھ کو رعب کے ساتھ نصرت دی گئی اور مجھ کو روئے زمین کی کنجیاں دی گئیں اور میرا نام احمد رکھا گیا اور میرے لئے زمین پاک کی گئی اور میری امت خیر الامم کی گئی۔“ (خصائص الکبریٰ ج ٢ ص ١٩٣‘ معجزات نبی الوریٰ ج ٢ ص ٥٠٦‘ زرقانی شرح مواہب ج ٥ ص ٢٠٥‘ شرح الشفاء ج ١ ص ٣٦٦‘ مواہب لدنیہ ج ١ ص ٨٤‘ ٣٩٤‘ در منثور ج ٦ ص ٢١٤)

قادیانی: ”باوجود آپ کا نام احمد نہ ہونے کے آپ پر یہ پیشگوئی چسپاں کرنے کی یہ وجہ ہو سکتی تھی کہ آپ نے خود فرما دیا ہوتا کہ اس آیت میں جس احمد کا ذکر ہے وہ میں ہی ہوں لیکن احادیث سے ایسا ثابت نہیں ہوتا نہ سچی نہ جھوٹی نہ وضعی نہ قوی نہ ضعیف نہ مرفوع نہ مرسل کسی حدیث میں بھی یہ ذکر نہیں کہ آنحضرت ﷺ نے اس آیت کو اپنے اوپر چسپاں فرمایا ہو اور اس کا مصداق اپنی ذات کو قرار دیا ہو۔“

(انوار خلافت ص ٢٣)

مسلمان: آنحضرت ﷺ نے اس بشارت کو اپنے اوپر چسپاں فرمایا ہے اور اس کا مصداق اپنی ذات کو قرار دیا ہے۔ (دیکھو تفسیر در منثور ج اول ص ٩١ اور تفسیر ابن جریر ج اول ص ٢٣٩ پر) لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے یہ بھی فرمایا تھا : ”قد بشرنی عیسیٰ ان یاتیکم رسول اسمه احمد“

صفحہ ١٨٩

قادیانی : اور الہامات میں سے الہام بشریٰ لک یا احمدی سے تو اس کی اور بھی توضیح ہوتی ہے کہ احمد موعود کی پیشگوئی اور حضرت عیسیٰ کی بشارت اور بشریٰ کے مصداق حضرت مرزا صاحب ہی ہیں کیونکہ اس میں صاف بتایا گیا ہے کہ اے میرے احمد بشارت یعنی وہ بشارت جو عیسیٰ کی وحی کے ذریعہ دی گئی وہ تیرے لئے ہے۔ اس الہام میں بشریٰ اور احمدی کا لفظ نہایت ہی قابل غور ہے کیونکہ بشریٰ کا لفظ حضرت عیسیٰ کی پیشگوئی مبشرا برسول یاتی بعدی اسمہ احمد کے الفاظ سے لفظ مبشر کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ جو بشارت اور بشریٰ سے نکلا ہے اور احمد کا لفظ اسمہ احمد کی طرف اور احمد کی یائے تکلم اس بات کی طرف کہ خدا کا وہ موعود کہ جس کی خدا نے عیسیٰ کی معرفت بشارت دی۔ وہ یہی احمد ہے۔ جس کے احمد ہونے کی نسبت کسی غیر کی طرف نہیں بلکہ اس کے موعود ہونے کی وجہ سے خدا کی طرف ہے اور لک کا لفظ تو اور بھی اس کو نور علی نور کر دیتا ہے جس سے حقیقت کا انکشاف بتمام و کمال ظہور میں آ جاتا ہے کیونکہ لک سے ظاہر ہے یہ مرکب اضافی ہے اور اسم علم کبھی یائے متکلم کی طرف بحالت علمیت مضاف نہیں ہوتا۔ کہ احمد موعود ہونے کی بشارت محض آپ (مرزا قادیانی) ہی کے لئے ہے نہ کسی اور کے لئے۔“

(الفضل مورخہ ١٢ اکتوبر ١٩١٧ء ص ٦ مولوی غلام رسول راجیکی)

مسلمان : بے شک قرآن مجید کی سورۃ الصف میں حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام کے یہ الفاظ ہیں : ”ومبشرا برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد“ ﴿اور میں خوشخبری دینے والا ہوں ساتھ ایک نبی کے جو میرے بعد آئے گا جس کا اسم احمد ہے۔﴾

ایک مرفوع روایت کے الفاظ یوں ہیں :

صفحہ ١٩٠

” وساخبركم باول امرى دعوة ابراهيم وبشارة عيسىٰ “ ﴿ اور اب خبر دوں میں تم کو ساتھ اول امر اپنے کے‘ کہ وہ دعا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ہے اور خوشخبری دینا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ہے۔ ﴾

(مشکوٰۃ المصابیح باب فضائل سید المرسلین ص ٥١٣)

ایک مرفوع روایت کے الفاظ یوں ہیں : ” وسميت احمد “ ﴿ اور میرا نام احمد رکھا گیا۔ ﴾

(تفسیر در منثور ج ٦ ص ٢١٤)

ایک مرفوع روایت کے الفاظ یوں ہیں : ” اسمى فى القرآن محمد وفى الانجيل احمد “ ﴿ نام میرا قرآن میں محمد ہے اور انجیل میں احمد ہے۔ ﴾

(خصائص الکبریٰ ج اول ص ١٩٢‘ نسیم الریاض شرح الشفاء ج ٢

ص ٢٠٨‘ ترجمان القرآن ج ١٥ ص ٤٩٤‘ مواہب اللدنیہ ج اول ص ١٩٤)

ان تحریروں کو غور کے ساتھ پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ احمد موعود کی پیشگوئی یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت کے اصلی اور حقیقی مصداق حضرت محمد مدنی ہی ہیں نہ کہ مرزا قادیانی۔ ان میں الفاظ : ” وبشارة عيسىٰ “ ﴿ اور خوشخبری دینا عیسیٰ علیہ السلام کا ﴾ اور : ” سميت احمد “ ﴿ میرا نام احمد رکھا گیا ﴾ نہایت ہی قابل غور ہیں۔ کیونکہ بشارة کا لفظ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیشگوئی : ” مبشرا برسول يأتى من بعدى اسمه احمد “ کے الفاظ میں سے لفظ ” مبشرا “ کی طرف اشارہ کرتا ہے جو بشارت سے نکلا ہے اور ” سميت احمد “ کے الفاظ ” اسمه احمد “ کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

قادیانی : ” نرا بعدى نہیں بلکہ من بعدى کہنے کا یہ مطلب ہے کہ بعد ظرف کے علاوہ اسم بھی ہے جیسے جاعل الذین اتبعوك فوق الذین کفروا میں فوق باوجود ظرف ہونے کے اسم واقع ہوا اور بعد اسم ہونے کی صورت میں

صفحہ ١٩١

آنحضرت ﷺ مراد ہوں گے اور اس صورت میں یأتی من بعدی اسمه احمد کا یہ مطلب ہوگا کہ میں اس رسول کی بشارت دینے والا ہوں کہ جو میرے بعد کا نہیں بلکہ میرے بعد آنے والے رسول سے ہوگا۔ یعنی آنحضرت کا امتی اور آپ کے فیض سے فیض یافتہ ہوگا۔

(الفضل مورخہ ١٢؍اکتوبر ١٩١٧ء ص ٧ ‘اخبار الفضل مورخہ ٢٨؍فروری ١٩٣٣ء ص ٦)

مسلمان: جو بات نہ مرزا غلام احمد قادیانی کو سوجھی تھی اور نہ مرزا محمود احمد قادیانی کو۔ وہ مولوی غلام رسول مرزائی راجیکی کو سوجھی ہے۔

”حضرت رسول کریم ﷺ کا نام احمد وہ ہے جس کا ذکر حضرت مسیح علیہ السلام نے کیا: ”یأتی من بعدی اسمه احمد“ من بعدی کا لفظ ظاہر کرتا ہے کہ وہ نبی میرے بعد بلافصل آئے گا یعنی میرے اور اس کے درمیان اور کوئی نبی نہ ہوگا۔“

(مرزا غلام احمد قادیانی کے الفاظ کتاب ملفوظات احمدیہ مرتبہ فخر الدین قادیانی یعنی ڈائری ١٩٠١ء ص ٧٧‘ ملفوظات

احمدیہ ج ٢ ص ٢٠٨)

ایک مرفوع روایت کے الفاظ یوں آئے ہیں:

”انا اولی الناس بابن مریم والانبیاء اولاد علات لیس بینی وبینہ نبی“ ﴿میں لوگوں میں سے قریب تر ہوں ابن مریم سے اور پیغمبر علاتی بھائی ہیں میرے اور اس کے درمیان کوئی نبی نہیں۔﴾

(صحیح بخاری شریف ج اول ص ٤٨٩ باب فی قول اللہ واذکر فی الکتاب مریم)

قادیانی: اگر آنحضرت ﷺ اس آیت کو اپنے اوپر چسپاں فرماتے تو بھی کوئی بات تھی لیکن آپ نے نہیں فرمایا کہ یہ آیت مجھ پر چسپاں ہوتی ہے بلکہ فرمایا کہ انا بشارة عیسٰی میں عیسٰی کی بشارت ہوں اور اس میں کیا شک ہے کہ حضرت مسیح موعود نے دو خبریں دیں تھیں۔ ایک اپنی دوبارہ بعثت کی اور ایک عظیم الشان نبی کی جسے ”وہ نبی“ کر کے پکارا ہے اور ہمارے آنحضرت ﷺ ”وہ“ نبی تھے اور مسیح موعود کی

صفحہ ١٩٢

آمد حضرت مسیح کی دوبارہ بعثت تھی۔“

(القول الفصل ص ٣١،٣٠)

ہے یعنی ارشاد فرمایا ہے کہ یہ آیت مجھ پر چسپاں ہوتی ہے۔

(دیکھو در منثور ج ١ ص ٩١ و ابن جریر ج ١ ص ٤٣٩)

الفاظ یوں ہیں :

” وسأخبركم بأول أمرى دعوة إبراهيم عليه السلام وبشارة عيسى عليه السلام“ جس طرح آنحضرت ﷺ نے ”دعوة ابراهيم“ فرما کر اس دعائے خلیل کی طرف اشارہ کیا ہے جو سورۃ البقرہ آیت ١٢٩ میں یوں مذکور ہے :

” ربنا وابعث فيهم رسولا منهم “ ﴿اے ہمارے رب بھیج ان (عربوں) میں ایک رسول ان میں سے۔﴾

اسی طرح آپ ﷺ نے ”وبشارة عيسى“ فرما کر اس نوید مسیحا کی طرف اشارہ کیا جو سورۃ الصف میں ہے :

سے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے آنحضرت ﷺ کی تین طور پر خبر دی تھی۔ اول یہ فرما کر کہ : ” ومبشرا برسول يأتى من بعدى اسمه احمد “ (سورۃ صف آیت نمبر ٦) ﴿اور میں خوشخبری دینے والا ہوں ساتھ اس ایک نبی کے جو میرے پیچھے آنے والا ہے اور اس کا نام احمد ﷺ ہے۔﴾

دوم : حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے برنباس سے فرمایا کہ : ”یہ بدنامی (یسوع مسیح کا مصلوب ہونا) اس وقت تک باقی رہے گی جبکہ محمد

صفحہ ١٩٣

رسول اللہ آئے گا جو کہ آتے ہی اس فریب کو ان لوگوں پر کھول دے گا جو کہ اللہ کی شریعت پر ایمان لائیں گے۔“

(انجیل برنباس ص ٣٩٧ (مطبوعہ ١٩١٦ء لاہور آرٹ پریس لاہور) فصل ٢٢٠ آیت ٢٠)

سوم: حضرت مسیح نے (فارقلیط) تسلی دینے والے یعنی روح حق کے آنے کی خبر دی ہے۔

(انجیل یوحنا باب ١٤ آیت ١٦‘ ٣٠ باب ١٥ آیت ٢٦‘ ٢٧ باب ١٦ آیت ٧ تا ١٥)

چہارم : ”اور یوحنا (یعنی حضرت یحییٰ علیہ السلام) کی گواہی یہ ہے کہ جب یہودیوں نے یروشلم سے کاہن اور لاوی یہ پوچھنے کو اس کے پاس بھیجے کہ تو کون ہے۔ اس نے اقرار کیا اور انکار نہ کیا بلکہ اقرار کیا کہ میں تو مسیح نہیں ہوں۔ انہوں نے اس سے پوچھا پھر کون ہے۔ کیا تو ایلیاہ ہے۔ اس نے کہا میں نہیں ہوں۔ کیا تو ”وہ نبی“ ہے۔ اس نے جواب دیا کہ نہیں۔ پس انہوں نے اس سے کہا کہ پھر تو ہے کون۔ تاکہ ہم اپنے بھیجنے والوں کو جواب دیں۔ تو اپنے حق میں کیا کہتا ہے۔ اس نے کہا میں جیسا یسعیا علیہ السلام نبی نے کہا ہے بیابان میں ایک پکارنے والے کی آواز ہوں کہ تم خداوند کی راہ کو سیدھا کرو۔“

(انجیل یوحنا مطبوعہ ١٩٥١ء باب اول آیت ١٩ تا ٢٣)

میں کہتا ہوں کہ ”وہ نبی“ کے آنے کی بشارت حضرت مسیح علیہ السلام نے نہیں دی تھی بلکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دی تھی جیسا کہ لکھا ہے :

”اور خداوند نے مجھ سے کہا کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں سو ٹھیک کہتے ہیں۔ میں ان کے لئے ان ہی کے بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اسے حکم دوں گا وہی وہ ان سے کہے گا۔“

(کتاب استثنا باب ١٨ آیت ١٧‘ ١٨)

اللہ تعالیٰ اس بشارت کی طرف اشارہ کر کے فرماتا ہے :

”انا ارسلنا الیکم رسولاً شاهداً علیکم کما ارسلنا الی فرعون رسولا (سورۃ المزمل آیت ١٥)“ ﴿ہم نے تمہاری طرف ایک نبی بھیجا جو تم پر گواہ

صفحہ ١٩٤

ہے جیسا بھیجا تھا ہم نے طرف فرعون کے (موسیٰ علیہ السلام) نبی

قادیانی : حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) نے اپنے آپ کو احمد لکھا ہے اور لکھا ہے کہ اصل مصداق اس پیشگوئی کا میں ہی ہوں۔

(القول الفصل ص ٢٧)

آپ اس آیت کا مصداق اپنے آپ کو ہی قرار دیتے ہیں۔‘‘

(انوار خلافت ص ٧٣)

مسلمان : گو مرزا غلام احمد قادیانی رئیس قادیان نے (ازالہ اوہام ص ٦٧٣، خزائن ص ٤٦٣ ج ٣، اعجاز المسیح ص ١٢٤، ١٢٥، خزائن ص ١٢٦ ج ١٨ پر) اس آیت یعنی بشارت ”اسمہ احمد“ کا مصداق اپنے آپ کو قرار دیا ہے مگر مرزا قادیانی نے آئینہ کمالات اسلام اور اربعین میں اس بشارت ”اسمہ احمد“ کو آنحضرت ﷺ پر چسپاں کیا ہے۔ (الف) ...... ”مسیح کی گواہی قرآن کریم میں اس طرح پر لکھی ہے کہ : ”مبشرا برسول یأتی من بعدی اسمه احمد“ یعنی میں ایک رسول کی بشارت دیتا ہوں جو میرے بعد یعنی میرے مرنے کے بعد آئے گا اور نام اس کا احمد ہوگا۔ پس اگر مسیح اب تک اس عالم جسمانی سے گزر نہیں گیا تو اس سے لازم آتا ہے کہ ہمارے نبی ﷺ بھی اب تک اس عالم میں تشریف فرما نہیں ہوئے۔ کیونکہ نص اپنے کھلے کھلے الفاظ سے بتلا رہی ہے کہ جب مسیح اس عالم جسمانی سے رخصت ہو جائے گا تب آنحضرت ﷺ اس عالم جسمانی میں تشریف لائیں گے۔ وجہ یہ کہ آیت میں آنے کے مقابل پر جانا بیان کیا گیا ہے۔ اور ضرور ہے کہ آنا اور جانا دونوں ایک ہی رنگ کے ہوں یعنی ایک اس عالم کی طرف چلا گیا اور ایک اس عالم کی طرف سے آیا۔‘‘

(کتاب آئینہ کمالات اسلام (مطبوعہ جولائی ١٨٩٣ء وزیر ہند پریس امرتسر) ص ٣٤٢ خزائن ص ٣٤٢ ج ٥)

نوٹ : اگر اس دلیل کے ساتھ یہ اضافہ بھی لگایا جائے کہ بقول مرزا قادیانی جس طرح اس دنیا سے جانا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بغیر واپسی کے ہے اسی

صفحہ ١٩٥

طرح اس میں آنا آنحضرت ﷺ کا بھی بغیر واپسی کے ہو گا تو اس دلیل (دعوٰی مرزا بعثت ثانی) کا سارا بھرم وپ کھل جائے گا۔

(ب) ۔۔۔۔۔۔”تم سن چکے ہو کہ ہمارے نبی ﷺ کے دو نام ہیں: ایک محمد ﷺ اور یہ نام توریت میں لکھا گیا ہے جو ایک آتشی شریعت ہے جیسا کہ اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے: ”محمد رسول اللہ والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینہم ذلک مثلہم فی التوراة“ دوسرا نام احمد ﷺ ہے اور یہ نام انجیل میں ہے جو ایک جمالی رنگ میں تعلیم الٰہی سے ہے جیسا کہ اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے : ”ومبشراً برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد“ اور ہمارے نبی ﷺ جلال اور جمال دونوں کے جامع تھے۔

(رسالہ اربعین نمبر ٤ ص ١٣‘ خزائن ص ٤٣٣ ج ١٧)

(ج) ۔۔۔۔۔۔”حضرت رسول کریم ﷺ کا نام احمد ہے جس کا ذکر حضرت مسیح نے کیا : ”یأتی من بعدی اسمہ احمد“ من بعدی کا لفظ ظاہر کرتا ہے کہ وہ نبی میرے بعد بلافصل آئے گا۔ یعنی میرے اور اس کے درمیان اور کوئی نبی نہ ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے آپ کا نام احمد بتلایا۔ کیونکہ وہ خود بھی ہمیشہ جمالی رنگ میں تھے۔“ (رسالہ ملفوظات احمدیہ مرتبہ فخر الدین یمنی ڈائری ١٩٠١ء حصہ اول ص ١٧٧ ‘ملفوظات احمدیہ ص ٢٠٨ ج ٢‘ اخبار الحکم مورخہ ٣١ جنوری ١٩٠١ء ص ١١)

قادیانی: ”خدا تعالیٰ فرماتا ہے : ”فلما جاء ھم بالبینت قالوا ھذا سحر مبین“ پس جب وہ رسول کھلے کھلے نشانات کے ساتھ آگیا تو ان لوگوں نے کہا کہ یہ تو سحر مبین ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب وہ رسول آئے گا تو لوگ ان دلائل وبراہین کو سن کر جو وہ دے گا کہیں گے کہ یہ تو سحر مبین ہے۔ یعنی کھلا کھلا فریب یا جادو ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود سے یہی سلوک ہوا ہے۔ جب آپ نے زبردست دلائل اور فیصلہ کن براہین اپنے مخالفوں کے سامنے پیش

صفحہ ١٩٦

کئے تو بہت سے لوگ چلا اٹھے کہ باتیں بہت دلربا ہیں لیکن ہیں جھوٹ۔“

(انوار خلافت ص ٤٠)

مسلمان: میں کہتا ہوں کہ بشارت ”اسمہ احمد“ کے حقیقی اور اصلی مصداق حضرت محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ ﷺ ہی ہیں۔ اور آپ ﷺ کے سوا کسی اور پر اس بشارت ”اسمہ احمد“ کو چسپاں کرنا گمراہی ہے۔

نشانیاں ظاہر ان پر پڑھی جاتی ہیں............. اور کہا ان لوگوں نے جو کافر ہوئے واسطے حق کے۔ جس وقت کہ ان کے پاس آیا۔ نہیں یہ مگر جادو ظاہر ہے۔﴾

پڑھی جاتی ہیں اوپر ان کے نشانیاں ہماری ظاہر‘ کہتے ہیں وہ لوگ کہ کافر ہوئے واسطے حق کے جب آیا ان کے پاس۔ یہ جادو ہے ظاہر۔﴾

ان آیات مقدسہ میں بتلایا ہے کہ مخالفین اسلام نے آنحضرت ﷺ کے متعلق صریح طور پر لفظ ”سحر مبین“ استعمال کیا ہے۔ ان آیات میں ”بینت“ کا لفظ بھی ہے اور ”لما جاء ھم“ بھی ہے اور ”سحر مبین“ بھی ہے۔ پس بشارت ”اسمہ احمد“ کا اصلی اور حقیقی مصداق آنحضرت ﷺ ہی ہیں۔

قادیانی: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ : ”ومن اظلم ممن افتریٰ علی اللّٰہ کذبا وھو یدعیٰ الی الاسلام واللّٰہ لا یھدی القوم الظالمین“ یعنی اور اس سے زیادہ اور کون ظالم ہو سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ پر افتراء کرتا ہے درآں حالیکہ وہ اسلام کی طرف بلایا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ تو ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔ اس آیت میں اس بات کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ پر افتراء کرے وہ تو سب سے

صفحہ ١٩٧

زیادہ سزا کا مستحق ہے پھر اگر یہ شخص جھوٹا ہے جیسا کہ تم بیان کرتے ہو تو اسے ہلاک ہونا چاہئے نہ کہ کامیاب ۔ اللہ تعالیٰ تو ظالموں کو بھی ہدایت نہیں کرتا تو جو شخص خدا تعالیٰ پر افتراء کر کے ظالموں سے بھی ظالم ترین بن چکا ہے اس کو وہ کب ہدایت دے سکتا ہے۔ پس اس شخص کا ترقی پانا اس بات کی علامت ہے کہ یہ شخص خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور جھوٹا نہیں جیسا کہ تم لوگ بیان کرتے ہو۔ اس آیت میں خدا تعالیٰ نے اس احمد رسول کی ایسی تعیین کر دی ہے کہ ایک منصف مزاج کو اس بات کے ماننے میں کوئی شک ہی نہیں ہو سکتا کہ یہ احمد رسول کریم ﷺ کے بعد آنے والا ہے اور نہ آپ خود رسول ہیں نہ آپ سے پہلے کوئی اس نام کا رسول گزرا ہے کیونکہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی شرط لگا دی ہے جو نہ آنحضرت ﷺ میں پوری ہوتی ہے نہ آپ سے پہلے کسی اور نبی میں پوری ہو سکتی ہے اور وہ شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہو سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ پر افتراء کرے حالانکہ اسے اسلام کی طرف بلایا جاتا ہے۔ اور یہ شرط کہ حالانکہ اسلام کی طرف اسے بلایا جاتا ہے۔ ایک ایسی شرط ہے جو رسول کریم ﷺ میں نہیں پائی جاتی۔ (انوار خلافت ص ٤١) غرض یدعٰی الی الاسلام کی شرط ظاہر کر رہی ہے کہ یہ شخص رسول کریم کے بعد آئے گا اور اس وقت کے مسلمان اسے کہیں گے کہ میاں تو کافر کیوں بنتا ہے اپنا دعویٰ چھوڑ اور اسلام سے منہ نہ موڑ۔ (ص ٤٢) غرض اس آیت میں صاف طور پر بتا دیا گیا ہے کہ یہ احمد رسول‘ رسول کریم ﷺ کے بعد آئے گا اور اس وقت کے مسلمان اسے کہیں گے کہ اسلام کی طرف آ۔“

(انوار خلافت ص ٤٤، ضمیمہ اخبار الفضل مورخہ ٢٧ جنوری ١٩٢٨ء ص ٤٦)

مسلمان : قرآن کریم میں ہے :

” ومن اظلم ممن افتریٰ علی اللہ الکذب وھویدعی الی الاسلام واللہ لا یھدی القوم الظلمین (سورۃ الصف آیت نمبر ٧) “ اور کون ہے

صفحہ ١٩٨

بہت ظالم اس (مشرک) شخص سے جو باندھ لیتا ہے اوپر اللہ کے جھوٹ (یعنی شرک کرتا ہے) اور وہ (یعنی حالانکہ) مشرک شخص بلایا جاتا ہے طرف اسلام کے (یعنی اس دین اسلام کی طرف جو آنحضرت ﷺ پر نازل ہوا ہے) اور اللہ تعالیٰ نہیں ہدایت کرتا قوم مشرکوں کو۔﴾

حق اور صحیح بات یہ ہے کہ الفاظ : ” وهو يدعى الى الاسلام“ حالانکہ اسے اسلام کی طرف بلایا جاتا ہے۔ احمد رسول کی نسبت نہیں ہیں بلکہ آنحضرت ﷺ کے دشمن (مشرکین مکہ ‘ یہود‘ نصاریٰ ‘مجوسی) کی نسبت ہیں یعنی اللہ تعالیٰ اس آیت میں مشرک شخص کا ذکر کرتا ہے کیونکہ مشرک آدمی بھی اللہ تعالیٰ پر افتراء کرنے والا ہوتا ہے۔

مرزا محمود نے لکھا ہے افتراء کہتے ہیں اس بات کو جو جان بوجھ کر بنائی جائے اور کذب اور افتراء میں یہ فرق ہے کہ کذب اس کو بھی کہیں گے جو بات غلط ہو خواہ اس نے خود نہ بنائی ہو بلکہ کسی سے سنی ہو۔

(انوار خلافت ص ٤٣)

اب ذیل میں آیات مقدسہ کے نمبرات درج کرتا ہوں جن میں مشرکین مکہ اور نصاریٰ کو اللہ تعالیٰ پر افتراء کرنے والے کہا گیا ہے :

نوٹ : اس جگہ ان کافروں کو مفتری علی اللہ قرار دیا ہے جو بے حیائی کا کام

صفحہ ١٩٩

کرتے تھے اور پھر کہتے تھے کہ اللہ نے ہمیں ایسا کام کرنے کا حکم دیا ہے۔ ان کو کہا گیا کہ : ”اتقولون علی اللہ مالا تعلمون“

(٧)...... سورۃ طہ آیت نمبر ٦١

نوٹ : فرعون مصر کا دعویٰ یہ تھا کہ میں تمہارا رب ہوں اور ان کے متبعین اس کو خدا مانتے تھے۔ فرعون مدعی رسالت و نبوت نہ تھا اور نہ وحی و الہام کا مدعی تھا۔ اس آیت میں اس کو اور اس کے متبعین کو مفتری علی اللہ قرار دیا گیا ہے۔

(٨)...... سورۃ یونس آیت نمبر ١٧

(٩)...... سورۃ یونس آیت ٦٨‘ ٦٩

(١٠)...... سورۃ النحل آیت نمبر ١١٦

(١١)...... سورۃ الکہف آیت ١٣‘ ١٥

ان آیات مقدسہ میں ”مشرک“ اور کافر شخص کو ”مفتری علی اللہ“ یعنی اللہ تعالیٰ پر افترا کرنے والا کہا گیا ہے۔ عرب کا بت پرست، روم و مصر کا عیسائی، شام کا یہودی اور ایران کا مجوسی، مشرک شخص ہے اور شرک کو سورۃ لقمان آیت ١٣ میں ”ظلم عظیم“ کہا گیا ہے اور اسلام وہ پاک مذہب ہے جو خدا نے ایمان والوں کے لئے چن لیا تھا۔ (سورۃ المائدہ) اور آنحضرت ﷺ : ”داعیاً الی اللہ باذنہ“ تھے (سورۃ الاحزاب) پس آیت مقدسہ کا صحیح مطلب یہی ہے کہ :

کون بڑا ظالم ہے اس مشرک شخص سے (خواہ وہ عیسائی ہو یا عرب کا بت پرست) جو اللہ پر جھوٹ بولتا ہے (یعنی عیسائی مسیح کو اللہ وابن اللہ، مشرک لوگ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں اور یہودی، عزیر ؑ کو ابن اللہ کہتا ہے) شرک کر کے۔ حالانکہ نبی پاک ﷺ اس مشرک کو اسلام کی طرف بلاتا ہے۔

صفحہ ٢٠٠

قادیانی : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” يريدون ليطفئوا نورالله بافوا ھھم“ لوگ چاہیں گے کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھا دیں مگر اللہ اپنے نور کو پورا کر کے ہی رہے گا۔ اگرچہ کافر لوگ اسے ناپسند ہی کرتے ہوں۔ یہ آیت بھی حضرت مسیح موعود کے احمد ہونے پر ایک بہت بڑی دلیل ہے اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ اس پیشگوئی کے اول مصداق نہیں ہیں۔ کیونکہ اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ اس رسول کے وقت لوگ اس کے سلسلہ کو مونہوں سے مٹانا چاہیں گے لیکن رسول کریم ﷺ کے زمانہ کے حالات ہمیں بتا رہے ہیں کہ آپ کے سلسلہ کو منہ سے نہیں بلکہ تلوار سے مٹانے کی کوشش کی گئی اور ایسے ایسے مظالم کئے گئے کہ الامان۔“

(انوار خلافت ص ٤٥٤)

مسلمان : واضح ہو کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿مشرک چاہتے ہیں کہ بجھا دیں اللہ کے نور کو اپنے مونہوں کے ساتھ اور اللہ پورا کرنے والا ہے اپنے نور کو اور اگرچہ ناخوش رکھیں کافر۔﴾

(سورۃ الصف آیت ٨)

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ارادہ کرتے ہیں یہ کہ بجھا دیں نور اللہ کے کو‘ ساتھ مونہوں اپنے کے اور نہیں قبول رکھتا اللہ مگر یہ کہ پورا کرے روشنی اپنی کو اور اگرچہ ناخوش رکھیں کافر۔﴾

(سورۃ التوبہ آیت ٣٢)

اب سوال یہ ہے کہ اس آیت کے پہلے مسیح علیہ السلام ناصری کا ذکر خیر موجود ہے کیا اس آیت میں ”قادیانی سلسلہ“ کا ذکر مراد سمجھا جائے گا۔ گویا جہاں مسیح علیہ السلام ناصری کا ذکر ہو رہا ہے وہاں بھی (بقول مرزائیوں) مرزا قادیانی کا ذکر ہوتا ہے۔ سورۃ البقرہ‘ سورۃ آل عمران‘ سورۃ نساء‘ سورۃ المائدہ‘ سورۃ توبہ‘ سورۃ مریم‘ سورۃ

صفحہ ٢٠١

الانبیا‘ سورۃ مؤمنون‘ سورۃ زخرف‘ سورۃ حدید‘ سورۃ صف میں حضرت مسیح علیہ السلام کا ذکر خیر موجود ہے۔ کیا یوں سمجھنا چاہئے کہ قرآن کریم میں جہاں مسیح علیہ السلام کا ذکر ہے وہاں مرزا قادیانی کا بھی ذکر ہے۔ (معاذ اللہ)

آیات مندرجہ بالا میں ”نور اللہ“ سے مراد ”قرآن مجید“ ہے جیسا کہ : ﴿تحقیق آئی ہے تمہارے خدا کی طرف سے ایک نور یعنی کتاب بیان کرنے والی۔﴾

(سورۃ المائدہ آیت ١٥)

اسی طرح سورۃ الاعراف‘ سورۃ الشوریٰ‘ سورۃ التغابن میں قرآن مجید فرقان حمید کو ”نور“ کہا گیا ہے۔

قادیانی : ”والله متم نوره ولو كره الكافرون“ اور اللہ تعالیٰ اپنے نور کو پورا کر کے چھوڑے گا۔ گو کہ کفار ناپسند ہی کریں۔ یہ آیت بھی احمد رسول کی ایک علامت ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت مسیح موعود کے متعلق ہے کیونکہ اس میں بتایا گیا ہے کہ احمد کا وقت اتمام نور کا وقت ہے اور گو قرآن کریم سے ہمیں یہ تو معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کے ہاتھ پر شریعت کامل کر دی گئی مگر اتمام نور آپ کے وقت میں معلوم نہیں ہوتا بلکہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسیح موعود کے وقت میں ہو گا اور رسول کریم ﷺ کے وقت میں اس کی بنیاد ڈالی گئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پس اتمام نور مسیح موعود کے ہی وقت میں ہونا مقرر تھا۔

(انوار خلافت ص ٤٦٥)

مسلمان : افسوس کہ اس قدر جرات کے کلمات (یعنی الفاظ احمد کا وقت اتمام نور کا وقت ہے اور اتمام نور رسول کریم ﷺ کے وقت میں معلوم نہیں ہوتا اور یہ مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے وقت میں ہوگا) منہ سے نکالنے کے باوجود مرزا محمود نے ایک حدیث بھی نقل نہ کی جس میں یہ لکھا ہو کہ اتمام نور مسیح موعود کے وقت میں ہو گا

صفحہ ٢٠٢

اور اتمام نور رسول کریم ﷺ کے وقت میں معلوم نہیں ہوتا۔ جو روایت مرزا محمود نے پیش کی ہے اس کے الفاظ صرف اس قدر ہیں: ”وہ امت کس طرح گمراہ ہو سکتی ہے جس کے ابتدا میں میں ہوں اور آخر میں مسیح ہے۔“ (ص ٤٦) اس میں کہاں لکھا ہے کہ اتمام نور میرے وقت میں نہیں ہوا۔ مسیح کے وقت میں ہوگا۔ قرآن مجید کو اللہ تعالیٰ نے بار بار نور کہا ہے اور اس کے بارے میں پیچھے بحث ہو چکی ہے۔ اس کا اتمام اللہ نے فرمایا ہے یہ کہنا کہ اتمام نور رسول کریم ﷺ کے وقت میں معلوم نہیں ہوتا بلکہ احمد (جس سے مرزا محمود کی مراد مرزا قادیانی ہیں) کا وقت اتمام نور کا وقت ہے۔ سخت جرات ہے۔

نوٹ: افسوس ہے کہ تکمیل دین تو حضور ﷺ کے عہد میں ہو اور اتمام نور قادیان کا منتظر رہا ہو۔ خوب!!!

قادیانی: ”هو الذی ارسل رسوله بالهدی ودین الحق ليظهره على الدين كله “ یعنی وہ خدا ہی ہے کہ جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اس کو غالب کر دے باقی سب دینوں پر۔ اس آیت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہاں مسیح موعود ہی کا ذکر ہے کیونکہ اکثر مفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ آیت مسیح موعود کے حق میں ہے کیونکہ اسی کے وقت میں اسلام کو باقی ادیان پر غلبہ مقدر ہے۔“

(انوار خلافت ص ٤٦)

مسلمان: (الف)...... ”هو الذی ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله ولوكره المشرکون(سورۃ التوبہ آیت ٣٣)“ اللہ وہ ہے جس نے بھیجا اپنے رسول (احمد مجتبیٰ ﷺ) کو ہدایت کے ساتھ اور دین حق کے ساتھ تاکہ غالب کرے اس کو اوپر سب دین کے۔

صفحہ ٢٠٣

(ب)......”ھوالذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ وکفٰی باللّٰہ شہیدا(سورۃ الفتح آیت ٢٨)“ ﴿اللہ وہ ہے جس نے بھیجا اپنے نبی (احمد مجتبیٰ ﷺ) کو ساتھ ہدایت کے اور دین حق تاکہ غالب کرے اس کو سب دینوں پر اور کفایت ہے اللہ گواہی دینے والا۔﴾

(ج)......”ھوالذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین ولوکرہ المشرکون(سورۃ الصف آیت ٩)“ ﴿اللہ وہ ذات ہے کہ جس نے بھیجا اپنے نبی کو ساتھ ہدایت کے اور دین حق کے۔ تاکہ غالب کرے اس کو سب دینوں پر اور اگرچہ مشرک ناخوش رہیں۔﴾

نوٹ: مرزا محمود کے الفاظ (اکثر مفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ آیت مسیح موعود کے حق میں ہے) کے صاف معنی ہیں کہ جس رسول کا ہدیٰ اور دین حق دے کر بھیجے جانے کا ذکر ہے وہ محمد رسول اللہ ﷺ نہیں۔ بلکہ مسیح موعود (جو مرزا محمود کے خیال میں مرزا قادیانی ہیں) مگر مرزا محمود نے مفسرین میں سے ایک مفسر کا بھی قول نقل نہ کیا۔ میں کہتا ہوں کہ اکثر مفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ مسیح ناصری نہ صلیب پر چڑھائے گئے اور نہ مرے بلکہ زندہ ہی اٹھائے گئے اور آج تک آسمان پر زندہ ہیں مگر آپ اکثر مفسرین کا اس بات پر اتفاق کرنا نہیں مانتے کیونکہ آپ کے مطلب کے خلاف ہے اور مرزا قادیانی کی مسیحیت پر پانی پھیرتا ہے۔ سب مفسرین نے بشارت اسمہ احمد کا مصداق آنحضرت ﷺ ہی کو قرار دیا ہے مگر مرزائی اسے نہیں مانتے۔ واضح ہو کہ حضرات مفسرین نے صرف اس قدر لکھا ہے کہ آیت کے الفاظ : ”لیظہرہ علی الدین کلہ“ یعنی (تاکہ خدا غالب کرے دین اسلام کو سب دینوں پر) میں جو وعدہ ہے وہ مسیح علیہ السلام کے وقت میں پورا ہو گا یعنی دین اسلام حضرت مسیح علیہ السلام کے نزول کے بعد تمام ادیان باطلہ پر غالب آجائے گا۔ ورنہ جس رسول کا ذکر خیر

صفحہ ٢٠٤

الفاظ : ”هو الذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق“ میں ہے وہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہی ہیں کیونکہ آپ ہدایت (یعنی قرآن مجید) اور دین حق (یعنی اسلام) کے ساتھ مبعوث کئے گئے تھے۔

” عن ابی ھریرة فی قولہ لیظهرہ علی الدین کلہ قال خروج عیسیٰ بن مریم (تفسیر ابن جریر ج ٢٨ ص ٨٨) “ ﴿ حضرت ابو ہریرہؓ نے آیت لیظهرہ علی الدین کلہ کی نسبت کہا کہ وہ بوقت ظہور حضرت عیسیٰ بن مریم ہو گا۔ ﴾

” یقول لیظهرہ دینہ الحق الذی ارسل بہ رسولہ علی کل دین سواء وذلك عند نزول عیسیٰ ابن مریم (تفسیر ابن جریر ج ٢٨ ص ٨٨) “ ﴿اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نبی ﷺ کے سچے دین کو جس کے لئے اس نے اپنا رسول بھیجا تمام دینوں پر یکساں غالب کرے اور یہ غلبہ عیسیٰ بن مریم کے نزول کے وقت ہو گا۔ ﴾

قادیانی : ” ھل ادلکم علیٰ تجارۃ تنجیکم من عذاب الیم “ وہ آنے والا رسول لوگوں کو کہے گا کہ اے لوگو تم جو دنیا کی تجارت کی طرف جھکے ہوئے ہو کیا میں تمہیں وہ تجارت بتاؤں جس کی وجہ سے تم عذاب الیم سے بچ جاؤ۔ یہ آیت بتاتی ہے کہ اس زمانہ میں تجارت کا بہت زور ہو گا۔ لوگ دین کو بھلا کر دنیا کی تجارت میں لگے ہوں گے چنانچہ یہی وہ زمانہ ہے جس میں دنیا کی تجارت کی اس قدر کثرت ہے کہ پہلے کسی زمانہ میں نہیں ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود نے ان الفاظ میں بیعت لی کہ کہو میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔ پس یہ آیت بھی ثابت کرتی ہے کہ ان آیات میں حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا ہی ذکر ہے۔“

(انوار خلافت ص ٢٨)

مسلمان : مرزا محمود قادیانی کی اس عبارت کا مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے زعم میں گویا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے تو یہ نہیں کہا : ” یٰایھا الذین آمنوا

صفحہ ٢٠٥

هل ادلكم على تجارة تنجيكم من عذاب اليم ”مگر مرزا قادیانی نے کہا اور آپ کا یہ استدلال کہ : ”یہ آیت بتاتی ہے کہ اس زمانہ میں تجارت کا بہت زور ہوگا۔“ کس قدر داد دینے کے قابل ہے اور اس پر یہ الفاظ : ”چنانچہ یہی وہ زمانہ ہے جس میں دنیا کی تجارت کی اس قدر کثرت ہے کہ پہلے کسی زمانہ میں نہیں ہوئی“ اور اس پر مزید دلیل کہ : ”یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود نے ان الفاظ میں بیعت لی کہ کہو میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔“ سلسلۂ استدلال کی تمام کڑیاں کیسی سخت فولاد کی بنی ہوئی ہیں اور کیسے پر حکمت استدلال ہیں۔ صرف ایک بات کا انتظام مرزا محمود قادیانی کو کر لینا چاہئے کہ اب دنیا کی تجارت بڑھنے نہ پائے۔ کیونکہ اگر بڑھ گئی تو کل کو ایک شخص ”احمد نور“ اٹھ کر یہ نہ کہہ دے کہ وہ احمد رسول تو میں ہوں کیونکہ احمد کے ساتھ ان آیات میں نور بھی آیا ہے اور میرے زمانے میں تجارت اس قدر بڑھی ہے کہ اس قدر تجارت پہلے دنیا میں کبھی نہیں ہوئی۔

اب میں بتاتا ہوں کہ آنحضرت ﷺ نے ایمان والوں سے اس بات کا بھی عہد لیا تھا کہ ہم دین کو دنیا پر مقدم رکھیں گے اور آپ ﷺ کے زمانے میں بھی تجارت ہوتی تھی۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

”في بيوت اذن الله ان ترفع ويذكر فيها اسمه . يسبح له فيها بالغدوا والاصال رجال لاتلهيهم تجارة ولا بيع عن ذكر الله (سورۃ النور آیت ٣٦‘٣٧)“ ﴿بیچ گھروں کے کہ حکم کیا اللہ نے یہ کہ بلند کیا جاوے اور یاد کیا جاوے بیچ اس کے نام اللہ کا‘ تسبیح کرتے ہیں واسطے اللہ کے بیچ اس کے صبح و شام کو۔ وہ مرد‘ کہ نہیں غافل کرتی ان کو سوداگری اور بیچنا یاد خدا کی سے۔﴾

”واذا راؤ تجارة او لهوان انفضوا اليها وتركوك قائماً قل

صفحہ ٢٠٦

ماعنداللہ خیرمن اللهو ومن التجارة (سورۃ الجمعہ آیت:١١) ”اور جس وقت دیکھتے ہیں سوداگری یا تماشا دوڑے جاتے ہیں طرف اس کے اور چھوڑ جاتے ہیں تجھ کو کھڑا فرمادیجئے جو کچھ نزدیک اللہ کے ہے بہت بہتر ہے تماشے اور تجارت سے۔﴾

قادیانی: اس کے بعد خدا نے فرمایا............ اے وہ لوگو ! جو رسول پر ایمان لائے ہو اللہ تعالیٰ کے دین کے لئے مدد کرنے والے بن جاؤ۔ جیسا کہ عیسیٰ بن مریم نے حواریوں کو کہا تھا کہ تم میں سے کون ہے جو انصار اللہ ہو۔ تو انہوں نے کہا کہ ہم سب کے سب انصار اللہ ہیں۔ پس ایمان لایا بنی اسرائیل میں سے ایک گروہ۔ اور ایک گروہ نے کفر کیا۔ پس ہم نے ان کی مدد کی جو ایمان لائے اوپر ان کے دشمنوں کے۔ پس وہ غالب ہو گئے۔ اس میں دلیل ہے کہ آنے والا رسول کو کہے گا کہ انصار اللہ بن جاؤ لیکن رسول کریم ﷺ کی یہ آواز نہ تھی کہ اے لوگو ! انصار بن جاؤ۔ بلکہ آپ کے وقت میں مہاجرین وانصار دو گروہ تھے اور مہاجرین کا گروہ انصار پر فضیلت رکھتا تھا۔“

(انوار خلافت ص ٤٩)

مسلمان: کسی بھوکے شخص سے پوچھا گیا کہ دو اور دو کتنے ہوتے ہیں۔ اس بھوکے شخص نے جواب دیا کہ چار روٹیاں۔ اس طرح مرزا محمود قادیانی کی حالت ہے۔ آیات مندرجہ بالا میں مسیح موعود قاتل دجال کا کوئی ذکر نہیں ہے مگر موصوف کہتے ہیں :

”اس میں دلیل ہے کہ آنے والا رسول لوگوں کو کہے گا کہ انصار اللہ بن جاؤ“

ان آیات مقدسہ میں تو اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ (اے ایمان والو! انصار اللہ بن جاؤ) جس طرح آنحضرت ﷺ سے پہلے حضرت مسیح ناصری علیہ السلام نے حضرات حوارین سے کہا تھا کہ :”من انصاری الی اللہ“ یعنی کون ہے میرا ساتھ دینے والا خدا

صفحہ ٢٠٧

کے دین میں۔

آنحضرت ﷺ کے مبارک زمانے میں بھی ایمان والوں (مسلمانوں) نے ” نور“ یعنی قرآن مجید کی پیروی کی اور انہوں نے آپ کی مدد کی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ کی جو نبی ﷺ ہے ان پڑھا۔ وہ جو پاتے ہیں نبی کو لکھا ہوا نزدیک اپنے بیچ توریت کے اور انجیل کے ...... پس جو لوگ ایمان لائے ساتھ اس نبی کے اور قوت دی اس کو اور مدد کی اس کی اور پیروی کی اس نور (قرآن مجید) کی جو اتارا گیا ہے ساتھ اس کے یہ لوگ وہ ہیں فلاح پانے والے۔﴾

(سورۃ الاعراف آیت ١٥٧)

قادیانی : ”اس سورۃ صف سے اگلی سورۃ میں جو اس کے ساتھ ہی ہے خدا تعالیٰ فرماتا ہے : ” ھوالذی بعث فی الامین رسولا منھم یتلوا علیھم آیتہ ویزکیھم ویعلمھم الکتاب والحکمۃ وان کانوا من قبل لفی ضلل مبین “ اور اس کے بعد فرماتے ہیں : ” وآخرین منھم لما یلحقوا بھم ۔ وھوالعزیز الحکیم “ اور اس رسول کو ایک اور جماعت میں مبعوث کرے گا جو اب تک تم سے نہیں ملی۔ ان آیات میں آنحضرت ﷺ کی دو بعثتوں کا ذکر ہے اور چونکہ احادیث سے آپ کے بعد ایک مسیح کا ذکر ہے جس کی نسبت آپ نے یہاں تک فرمایا ہے کہ وہ میری قبر میں دفن ہوگا۔ یعنی وہ اور میں ایک ہی وجود ہوں گے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دوسری بعثت سے مراد مسیح موعود ہی ہے۔“

(انوار خلافت ص ٥٠)

مسلمان : (١)...... اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿اللہ وہ ہے جس نے بھیجا ان پڑھوں (عربوں) میں ایک نبی انہیں میں سے۔

صفحہ ٢٠٨

وہ رسول ان لوگوں پر خدا کی آیتیں پڑھتا ہے اور ان کو پاک کرتا ہے اور ان کو کتاب وحکمت سکھاتا ہے اور تحقیق (عرب کے لوگ) اس سے پہلے البتہ گمراہی ظاہر میں تھے۔ اور لوگوں کو کہ ان میں سے جو ابھی نہیں ملے ساتھ ان کے اور وہ خدا غالب اور حکمت والا ہے۔ ﴿

(سورۃ الجمعہ آیت ٢‘٣)

ف...... یعنی یہی رسول دوسرے لوگوں کے لئے بھی ہے اور وہ فارس کے لوگ ہیں۔

المنذرؒ وابن مردویہ وابو نعیمؒ و بیہقیؒ (دلائل النبوۃ میں) حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا ہم نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے جبکہ سورۃ جمعہ نازل ہوئی۔ پس آپ نے اس کو پڑھا پس جب آپ ان الفاظ پر پہنچے : ”وآخرین من لما یلحقوا بھم“ تو ایک آدمی نے آپ ﷺ سے پوچھا۔ یا رسول اللہ ﷺ یہ لوگ کون ہیں جو ابھی تک ہم سے نہیں ملے۔ پس آپ ﷺ نے اپنا دست مبارک حضرت سلمان فارسیؓ کے سر پر رکھا اور فرمایا : ” لوکان الایمان عند الثریا لناله رجال من ھولاء“ یعنی اگر ایمان ثریا پر بھی ہوتا تو ان فارسیوں میں سے کئی مرد اس کو پاجاتے۔

(تفسیر درمنثور ج ٦ ص ٢١٥)

اس حدیث میں فارسیوں کی باریک بینی اور استعداد ایمانی بیان فرمائی گئی ہے۔

(فتح الباری پارہ ٢٠ ص ٣٦٤ فیض الباری پارہ ٢٠ ص ١٠٢)

بعثتوں کا ذکر ہے) اور یہ کہ (دوسری بعثت سے مراد مسیح موعود (مرزا قادیانی) ہی ہے) سراسر غلط ہے۔ اس لئے کہ ان آیات کی تفسیر میں کسی حدیث صحیح یا مرفوع یا اقوال صحابہؓ و تابعینؒ یا اقوال مفسرینؒ سے یہ بات ثابت نہیں ہے کہ ان آیات میں

صفحہ ٢٠٩

آنحضرت کی دو بعثتوں کا ذکر ہے۔ اور جن احادیث صحیحہ مرفوعہ یا موقوفہ میں آپ کے بعد ایک مسیح کا ذکر ہے ان احادیث صحیحہ میں عیسیٰ، مسیح، عیسیٰ ابن مریم، مسیح ابن مریم، ابن مریم اور روح اللہ کے ناموں سے خبر دی گئی ہے۔

مرزا غلام احمد قادیانی کی نسبت یہ بات بیان کی جاتی ہے کہ آپ مغل تھے۔ (تریاق القلوب ص ١٥٨، خزائن ص ٢٨٢ ج ١٥، اخبار الحکم مورخہ ٢١، ٢٨ مئی ١٩١١ء ص ٣، حیات النبی ج اول ص ١٨) آپ کے بزرگ مرزا ہادی بیگ برلاس مشہور قوم مغل کے تھے اور آپ کے شجرہ نسب یافث بن حضرت نوح علیہ السلام تک جاملتا ہے۔

(احمدیہ جنوری ١٩٢١ء یا ١٣٣٩ھ ص ٣٦)

واضح ہو کہ اہل فارس حضرت اسحٰق علیہ السلام کی اولاد ہیں۔ اور حضرت اسحٰق علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام، حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی اولاد ہیں۔ (عسل مصفے حصہ ٢ ص ٢٨) اور حضرت نوح علیہ السلام کے تین بیٹے تھے سام اور حام اور یافث، سام کی اولاد عرب، فارس اور روم ہیں۔ اور یافث کی اولاد یاجوج و ماجوج، ترک اور صقال لوگ ہیں۔ اور حام کی اولاد بربری، قبطی، سوڈانی ہیں۔

(دیکھو کنز العمال ج ٦ ص ١٢٩)

چونکہ مرزا قادیانی کا شجرہ نسب مرزا ہادی بیگ مغل کے واسطہ سے یافث بن حضرت نوح علیہ السلام تک جاملتا ہے نہ کہ سام بن نوح علیہ السلام تک۔ اس لئے آپ مغل تھے نہ کہ فارسی النسل اور حکیم خدا بخش قادیانی کا یہ لکھنا کہ مرزا قادیانی فارسی الاصل ہیں اور محض ترکستان میں رہنے اور وہاں رشتہ قرابت پیدا کرنے کی وجہ سے مغل مشہور ہو گئے تھے۔ سراسر غلط ثابت ہوا۔

(عسل مصفے حصہ دوم ص ٤٦)

پیدا ہوئے تھے۔ (کتاب حضرت بہاء اللہ کی تعلیمات ص ٤) اور میرزا حسین علی بہاء اللہ مدعی مسیحیت ایران کے کیانی بادشاہوں کی نسل میں سے تھے اور ملک ایران کے شہر تہران

صفحہ ٢١٠

کے قریب ایک گاؤں ”نور“ میں پیدا ہوئے تھے۔ (کتاب حضرت بہاء اللہ کی تعلیمات ص ١٧) اور سید مصطفے البہائی نے بھی اس آیت اور اس مندرجہ بالا حدیث صحیح کو ”باب“ کے متبعین پر چسپاں کیا ہے کیونکہ وہ سب کے سب فارسی النسل تھے۔ (دیکھو کتاب المعیار الصحیح ص ٣٥ تا ٣٧) اور مرزا قادیانی اور ان کے مریدوں کا اس آیت اور اس حدیث صحیح کو اپنے اوپر چسپاں کرنا فرقہ بابیہ و بہائیہ کے راستے پر قدم مارنا ہے۔

قادیانی : ہمارے مخالف ہمارے مقابلہ پر ایک اور رنگ بھی اختیار کرتے ہیں اور وہ یہ ہیں کہ انجیل میں فارقلیط کی جو خبر دی گئی ہے اس سے اسمہ احمد کی پیشگوئی ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ فارقلیط سے احمد نام ثابت ہوتا ہے ...... سو اس کا جواب یہ ہے کہ فارقلیط کی پیشگوئی آنحضرت ﷺ کے متعلق ہی ہے۔ اور ہمارے نزدیک آپ ہی اس پیشگوئی کے مصداق ہیں۔ (انوار خلافت ص ٢٥) اسمہ احمد کے ساتھ فارقلیط والی پیشگوئی کا کوئی تعلق نہیں ...... ان دونوں میں کوئی تعلق دلائل سے ثابت نہیں کہ ہم ان دونوں پیشگوئیوں کو ایک ہی شخص کے حق میں سمجھنے کے لئے مجبور ہوں۔

(انوار خلافت ص ٧٢)

مسلمان : اگر مرزا محمود قادیانی اپنے اس اقرار پر قائم ہیں کہ فارقلیط کی پیشگوئی آنحضرت ﷺ کے متعلق ہی ہے تو فارقلیط اور احمد کی پیشگوئیوں کا ایک ہی ذات اقدس حضرت احمد مجتبیٰ ﷺ کے لئے ہونا خود اس شخص کی زبانی (یعنی مرزا قادیانی کی زبانی) ثابت ہے۔ جس کی طرف احمد کی پیشگوئی کا حقیقی اور اصل مصداق ہونا منسوب کیا جاتا ہے۔

مرزا غلام احمد قادیانی کے مندرجہ ذیل الفاظ بڑی صفائی سے اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ آپ نے اس پیشگوئی کا مصداق حضرت نبی کریم ﷺ کو سمجھا ہے؎

صفحہ ٢١١

”بعد ادائے نماز مغرب حضرت اقدس (مرزا قادیانی) حسب معمول شہ نشین پر اجلاس فرما ہوئے تو کسی شخص کا اعتراض پیش کیا گیا کہ وہ کہتا ہے کہ جب فارقلیط کے معنے حق و باطل میں فرق کرنے والا ہے تو قرآن شریف میں جو : ”مبشرا برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد“ والی پیشگوئی مسیح علیہ السلام کی زبانی بیان فرمائی گئی ہے وہ انجیل میں کہاں ہے؟۔

فرمایا یہ ہمارے لئے ضروری نہیں کہ ہم انجیل میں سے یہ پیشگوئی نکالتے پھریں وہ محرف مبدل ہوئی ہے جو حصہ اس کا قرآن مجید کے خلاف نہیں اور قرآن نے اس کی تصدیق کی ہے وہ ہم مان لیں گے۔ فارقلیط کی پیشگوئی انجیل میں ہے اور اس کے معنی حق و باطل میں فرق کرنے والا ہے اور یہ آنحضرت ﷺ کا نام ہے کیونکہ قرآن کا نام اللہ تعالیٰ نے فرقان رکھا ہے اور آپ صاحب القرآن ہیں۔

اور پھر اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم میں لفظ یط بھی آگیا ہے جس کے معنی شیطان کے ہیں۔ بہر حال فارقلیط آنحضرت ﷺ کا نام ہے اور آپ کا نام جو احمد ہے۔ احمد کے معنے ہیں خدا تعالیٰ کی بہت حمد کرنے والا اور آنحضرت ﷺ سے بڑھ کر خدا کی حمد کرنے والا اور کون ہو گا؟ کیونکہ حق اور باطل میں آپ فرق کرنے والے ہیں اور سب سے بڑھ کر وہی حمد کر سکتا ہے جو حق و باطل میں فرق کرے۔ احمد وہی ہے جو شیطان کا حصہ دور کرے۔ خدا تعالیٰ کی عظمت و جلال قائم کرنے والا ہو۔ پس آپ فارقلیط ٹھہرے اور دوسرے الفاظ میں یوں کہو کہ آپ احمد ہی ہیں۔ گویا فارقلیط والی پیشگوئی بھی احمد ہی کے حق میں ہے۔

(اخبار الحکم قادیان ج ٦ نمبر ٤١ مورخہ ١٧ نومبر ١٩٠٢ء ص ٥)

قادیانی : ”جس انجیل میں آنحضرت ﷺ کو محمد کے نام سے یاد کیا گیا ہے وہ برنباس کی انجیل ہے اور نواب صدیق حسن خان مرحوم بھوپالی اپنی تفسیر فتح البیان ج ٩ میں اسمہ احمد والی پیشگوئی کے نیچے لکھتے ہیں کہ برنباس کی انجیل میں جو خبر دی گئی

صفحہ ٢١٢

ہے اس کا ایک فقرہ یہ ہے : ” لکن ھذہ الاھانۃ والاستھزا بتقیان الی ان یجبی محمد رسول اللہ“ یعنی حضرت مسیح نے فرمایا کہ میری یہ اہانت اور استہزاء باقی رہیں گے یہاں تک کہ محمد رسول اللہ تشریف لائیں۔ یہ حوالہ ہمارے موجودہ اختلاف سے پہلے کا ہے اور نواب صدیق حسن خان صاحب کی قلم سے نکلا ہے۔ پس یہ حوالہ نہایت معتبر ہے بہ نسبت ان حوالہ جات کے جو اب ہم کو مد نظر رکھ کر گھڑے جاتے ہیں اور اس حوالہ سے ثابت ہے کہ رسول کریم ﷺ کا نام انجیل میں محمد آیا ہے پس جبکہ اگر کوئی نام رسول کریم ﷺ کا انجیل میں بھی آیا تو وہ محمد نام ہے۔“

(انوار خلافت ص ٤٤‘ ٤٥)

مسلمان : کتاب برنباس کی انجیل (مطبوعہ ١٩١٠ء حمیدیہ پریس لاہور) ص ٢٩٧ تا ٣٠٧ میں لکھا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام دشمنوں کے ہاتھوں سے قتل نہیں ہوئے بلکہ صلیب پر چڑھائے بھی نہ گئے۔ آپ کی جگہ یہودا اسکریوطی مارا گیا اور خدا نے آپ کو زندہ ہی جسم کے ساتھ آسمان پر اٹھا لیا اور ص ٣٠٦ فصل ٢٢٠ آیت ١٩‘ ٢٠ میں لکھا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ :

”یہ بدنامی اس وقت تک باقی رہے گی جبکہ محمد رسول اللہ آئے گا جو کہ آتے ہی اس فریب کو ان لوگوں پر کھول دے گا جو کہ اللہ کی شریعت پر ایمان لائیں گے۔“

اور یہ الفاظ آپ نے اس وقت بیان فرمائے تھے جبکہ آپ اپنی ماں کو تسلی دینے کے لئے آسمان سے زمین پر تشریف لائے تھے اور یہ بات بھی اسی کتاب میں لکھی ہے اس سے تو صرف اتنا ثابت ہوتا ہے کہ برنباس کی انجیل میں آپ کا اسم مبارک محمد آیا ہے۔

صفحہ ٢١٣

اقوال حضرات صحابہ کرامؓ

پچھلے صفحوں میں قرآن مجید کی آیات مقدسہ اور احادیث صحیحہ نبویہ سے یہ بات ثابت کی گئی ہے کہ بشارت اسمہ احمد کے اصل اور حقیقی مصداق حضرت احمد مجتبیٰ ﷺ ہی ہیں۔ اب بعض صحابہ کرامؓ کے اقوال مبارکہ اس بارے میں ذیل میں درج کئے جاتے ہیں :

انہوں نے فرمایا پانچ نبی ایسے ہوئے ہیں کہ جن کی پیدائش سے پہلے ان کے آنے کی بشارت دی گئی (اول) اسحٰق علیہ السلام۔ (دوم) یعقوب علیہ السلام جیسا کہ لکھا ہے کہ ہم نے ابراہیم علیہ السلام کو بشارت دی ساتھ اسحٰق علیہ السلام کے اور اسحٰق علیہ السلام کے پیچھے یعقوب علیہ السلام کی۔ (سوم) یحییٰ علیہ السلام تحقیق‘ اللہ تجھے اے زکریا ! بشارت دیتا ہے ساتھ حضرت یحییٰ علیہ السلام کے۔ (چہارم) حضرت عیسیٰ علیہ السلام تحقیق‘ اللہ تجھے اے مریم ! بشارت دیتا ہے اپنے ایک کلمہ کے ساتھ (پنجم) حضرت محمد ﷺ (جیسا کہ مسیح نے فرمایا تھا) اور میں خوشخبری دینے والا ہوں ایک رسول کے ساتھ جو میرے بعد آئے گا اور اس کا اسم مبارک احمد ہے۔ پس یہ وہ بزرگ ہیں جن کی نسبت ان کی پیدائش کے پہلے خبر دی گئی۔

(خصائص الکبریٰ ج اول ص ٤١ مکتبہ المدنی)

نبی کریم ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم نجاش کے ملک کی طرف حضرت جعفر بن ابو طالبؓ کے ہمراہ ہجرت کر جاویں۔ نجاشی نے پوچھا کہ مجھے سجدہ کرنے سے تمہیں کس چیز نے روکا؟۔ میں نے کہا ہم سوائے اللہ کے کسی کو سجدہ نہیں کرتے۔ اس نے پوچھا کہ یہ کیا ہے میں نے کہا تحقیق اللہ نے ہم میں اپنا نبی مبعوث کیا اور وہ نبی وہ ذات اقدس ہے جس کی نسبت حضرت مسیح نے فرمایا تھا کہ میرے بعد ایک رسول آئے گا

صفحہ ٢١٤

اس کا نام احمد ہے۔ پس اس نبی نے ہم کو خدا کی عبادت کرنے کا حکم دیا اور اس بات کا بھی حکم دیا کہ ہم کسی کو اللہ کا شریک نہ کریں۔“

(تفسیر درمنثور ج ٦ ص ٢١٤‘ امام ابو نعیمؒ کی کتاب دلائل النبوۃ ج اول ص ٨٤)

نے ہم کو نجاشی کی طرف بھیجا اور ہم قریب ٨٠ مرد کے تھے۔ ان میں سے عبداللہ بن مسعودؓ و جعفرؓ و عبداللہ بن رواحہؓ و عثمان بن مظعونؓ وابو موسیٰ اشعریؓ تھے اور قریش نے عمرو بن عاص و عمارہ بن ولید کو ہدیہ دے کر بھیجا۔ پھر جب یہ دونوں نجاشی کے پاس آئے تو انہوں نے نجاشی کو سجدہ کیا پھر اس کی طرف مبادرت کی اس کے داہنے اور بائیں طرف پھر اس سے کہا کہ ایک گروہ ہمارے بنی عم سے تیری زمین میں آیا ہے اور ہم سے اور ہماری ملت سے منہ پھیر لیا ہے۔ نجاشی نے کہا پھر وہ کہاں ہیں۔ کہا کہ وہ تیری زمین میں ہیں۔ پس تو ان کی طرف آدمی بھیج دے۔ پس ان کی طرف آدمی بھیجا تو جعفرؓ بولے کہ میں آج تمہارا خطیب ہوں پھر وہ ان کے تابع ہوئے۔ پس جعفرؓ نے سلام کیا اور سجدہ نہ کیا تو ان لوگوں نے ان سے کہا تجھے کیا ہے کہ تو بادشاہ کو سجدہ نہیں کرتا ہے۔ جعفرؓ بولے کہ ہم تو سجدہ نہیں کرتے ہیں مگر واسطے اللہ کے۔ کہا یہ کیا ہے جعفرؓ نے کہا بے شک اللہ نے ہماری طرف اپنا رسول بھیجا سو اس نے ہم کو حکم دیا ہے کہ ہم سجدہ نہ کریں واسطے کسی کے مگر واسطے اللہ کے اور ہم کو امر کیا ہے نماز وزکوٰۃ کا۔ عمرو بن عاص بولے پس بے شک یہ مخالفت کریں گے تیری ‘عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے حق میں۔ نجاشی نے کہا تم کیا کہتے ہو حق میں عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کے اور ان کی ماں کے۔ جعفرؓ کے ساتھیوں نے کہا ہم کہتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ اللہ کا کلمہ ہے اور خدا کی طرف سے ایک پاک روح ہے جس کو اللہ نے القا کیا طرف عذرا ‘ بتول‘ (حضرت مریم علیہا السلام) کے کہ جس کو نہ چھوا کسی بشر نے اور نہ عارض ہوا

صفحہ ٢١٥

اس کو کوئی ولد ۔ پس نجاشی نے ایک لکڑی زمین سے اٹھائی پھر فرمایا : او حبشہ وقسیسین ورہبان کے گروہ ! واللہ نہیں زیادہ کرتے اس پر جو ہم اس کے حق میں کہتے ہیں۔ اتنا جو اس کے برابر ہے۔ مرحبا ہے تم کو اور اس کو جس کے پاس سے تم آئے ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک وہ اللہ کا نبی ہے اور بے شک وہ وہی ہے۔ جس کو ہم انجیل میں پاتے ہیں اور بے شک وہ وہی ہے جس کی عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے بشارت دی ہے۔ تم ٹھہرو اور رہو جہاں چاہو۔ واللہ اگر نہ ہوتا وہ ملک جس میں میں ہوں تو البتہ میں اس کے پاس جاتا یہاں تک میں خود اس کی جوتیاں اٹھاتا اور اس کو وضو کراتا اور دوسرے ان دو شخصوں کے ہدیہ کے متعلق حکم دیا۔ تو وہ ان کی طرف پھیر دیا گیا۔“

(مسند احمد ج اول ص ٤٦١ ترجمان القرآن ج ١٥ ص ٣٩٦‘ ٣٩٧ ابن کثیر ج ٩ ص ٤٥٠)

(٤)......”اخرج ابن ابی حاتم عن عمر وبن مرة قال خمسة سموا قبل ان يكونوا محمد . ومبشرا برسول يأتى من بعده اسمه احمد ويحيىٰ عليه السلام انا نبشرك بغلام اسمه يحيىٰ عليه السلام وعيسىٰ عليه السلام مصداقا بكلمة من الله واسحق ويعقوب فبشرنا هاباسحق ومن وراء اسحق يعقوب “

(تفسیر اتقان ج دوم ص ٢٣٩ طبع مصر)

نتیجہ

قرآن مجید کی آیات مقدسہ ‘احادیث نبویہ اور آثار صحابہؓ سے یہ بات روز روشن کی طرح صاف ظاہر کرتی ہے کہ آنحضرت ﷺ کا اسم مبارک احمد تھا اور حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام نے : ” ومبشرا برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد“ کہہ کر آپ ﷺ ہی کے لئے بشارت دی تھی۔

صفحہ ٢١٦

حکیم نور دین بھیروی کا پاؤں دو کشتیوں پر

مرزائی جماعت میں مرزا غلام احمد قادیانی کے بعد حکیم نور دین بھیروی بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ حکیم صاحب کی پیدائش ١٢٥٨ھ میں ہوئی تھی۔ آپ کا وطن بھیرہ ضلع شاہ پور تھا۔ مرزا قادیانی نے جب بیعت کا اعلان کیا تو سب سے پہلے لدھیانہ میں حکیم صاحب نے آن کر بیعت کی۔ جب مرزا قادیانی نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تو سب سے پہلے حکیم صاحب نے ہی لبیک کی آواز نکالی اور ان کو مسیح موعود تسلیم کر لیا۔ بقول حکیم خدا بخش مرزائی حکیم صاحب کو مرزا قادیانی سے بے حد عشق تھا۔ (عسل مصفے حصہ ٢ ص ٧٠٩، ٧١٠) مرزا قادیانی ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو لاہور میں فوت ہوئے تھے۔ (عسل مصفے حصہ ٢ ص ٧١١) ان کے بعد حکیم صاحب مرزائی جماعت کے (پہلے نام نہاد) خلیفہ بنائے گئے تھے۔ ١٣ مارچ ١٩١٤ء کو جمعہ کے روز ٢ بج کر ١٠ منٹ پر آپ فوت ہوئے تھے۔

(عسل مصفے حصہ ٢ ص ٧٣١)

اب ذیل میں اس بات کو لکھا جاتا ہے کہ بشارت اسمہ احمد کے متعلق حکیم نور دین صاحب کا کیا عقیدہ تھا۔ حکیم صاحب نے ایک کتاب ”فصل الخطاب لمقدمۃ اہل کتاب“ نامی لکھی تھی۔ یہ کتاب ١٣٠٥ھ میں مطبع مجتبائی دہلی میں دو جلدوں میں شائع ہوئی تھی۔ اس کتاب میں (جو مرزا قادیانی کے دعویٰ مسیحیت سے پہلے لکھی گئی تھی) حکیم صاحب نے بشارت اسمہ احمد کو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر چسپاں کیا تھا۔ اور جب حکیم صاحب مرزائی ہو گئے اور مرزا قادیانی کے مرنے کے بعد مرزائی جماعت کے پہلے نام نہاد خلیفہ مقرر ہوئے تو قادیان میں درس قرآن مجید دیتے ہوئے اس بشارت کا مصداق مرزا غلام احمد قادیانی کو قرار دیا۔

صفحہ ٢١٧

کشتی نمبر ١

” اذ قال عیسیٰ ابن مریم یبنی اسرائیل انی رسول الله الیکم مصدقاً لما بین یدی من التورات ومبشراً برسول یأتی من بعدی اسمه احمد“ اور جب کہا عیسیٰ مریم کے بیٹے نے اے بنی اسرائیل میں بھیجا آیا ہوں اللہ کا تمہاری طرف سچا کرتا اس کو جو مجھ سے آگے ہے توراۃ اور خوشخبری سناتا ایک رسول کی جو آوے گا مجھ سے پیچھے اس کا نام ہے احمد ۔ (سورۃ صف پارہ ٢٨ رکوع ٩) اس بشارت کو یوحنا نے اپنی انجیل میں لکھا ہے ۔ دیکھو یوحنا ١٤ باب درس ١٥‘ ١٧ میرے کلموں پر عمل کرو۔ میں اپنے باپ سے درخواست کروں گا اور وہ تمہیں دوسرا تسلی دینے والا بخشے گا کہ ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے ۔ قرآن نے کہا ہے مسیح علیہ السلام نے احمد کی بشارت دی اور یہ بشارت نبی عرب نے عیسائیوں کے سامنے پڑھ سنائی اور کسی کو انکار کرنے کا موقع نہ ملا۔

(فصل الخطاب حصہ ٢ ص ٧٤)

کشتی نمبر ٢

میں :” مبشراً برسول یأتی من بعدی اسمه احمد“ کی پیشگوئی حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے متعلق مانتا ہوں۔ کہ یہ صرف حضرت مسیح موعود ہی کے متعلق ہے اور وہی (مرزا) احمد رسول ہیں۔“

(الحکم ١٤، ٢١ ستمبر ١٩١١ء ص ١٠)

صفات تھے۔ ایک جلالی جس کے لحاظ سے نام محمد تھا اور دوم جمالی جس کے اعتبار سے نام احمد تھا۔ اس دوسری شان کا ظہور اخیر زمانہ میں حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے ذریعے ہوا جس کا نام ہے (احمد) ھوالذی ارسل رسولہ مفسرین نے بالاتفاق لکھا

صفحہ ٢١٨

ہے کہ اس رسول سے مراد مسیح موعود ہے یہ بھی قرینہ ہے اس بات پر کہ اوپر کی پیشگوئی مسیح موعود کے بارے میں ہے۔“

(ضمیمہ بدر مورخہ ٧ اگست ١٩١١ء ج ١٠ نمبر ٤٢ ص ٢٦٢)

مرزا قادیانی آنحضرت ﷺ کا مثیل نہیں

مرزا کا دعویٰ: ایک غلطی کا ازالہ نامی اشتہار کے حوالے سے لکھا ہے کہ مرزا قادیانی نے کہا :

”میں بار ہا بتلا چکا ہوں کہ میں بموجب آیت :” وآخرین منهم لما یلحقوا بهم“ بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں۔“

(کتاب حقیقت النبوۃ حصہ اول ص ٢٦٥)

”جبکہ میں بروزی طور پر آنحضرت ﷺ ہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدی مع نبوت محمدیہ کے میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں تو پھر کونسا الگ انسان ہوا جس نے علیحدہ طور پر نبوت کا دعویٰ کیا۔“

(ص ٢٦٦)

اس لئے آپ کے بروز میں بھی سب کمال پائے جائیں گے اسی وجہ سے اس کی آمد کے متعلق سب نبی یہی کہتے رہے کہ میں ہی آؤں گا گویا میرے کمال اس آنے والے میں ہوں گے۔ یہ سب کمال مسیح موعود میں پائے گئے۔ چنانچہ آپ نے دعویٰ کیا کہ میں مہدی ہوں، میں مسیح ہوں، میں کرشن ہوں، میں زرتشت ہوں۔ پس ہمارا ایمان اور یقین یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود تمام کمالات کے جامع تھے۔ اس لئے آپ رسول کریم ﷺ کے عکس تھے۔“

(اخبار الفضل مورخہ ٣٠ مئی ١٩٢١ء ص ٧)

مسیح موعود (مرزا قادیانی) ہیں۔“

(اخبار الفضل مورخہ ١٠ جنوری ١٩٢٨ء ص ٥ کالم ١)

صفحہ ٢١٩

مندرجہ ذیل نقشہ سے ثابت ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی حضور ﷺ کے مثیل نہیں ۔

ظاہری علم کسی استاد سے نہیں پڑھا تھا ۔“

(ایام الصلح ص ١٤٧، خزائن ص ٣٩٤ ج ١٤)

کہ جب چھ سات سال کا تھا تو ایک فارسی خواں معلم میرے لئے نوکر رکھا گیا جنہوں نے قرآن شریف اور چند فارسی کتابیں مجھے پڑھائیں اور اس بزرگ کا نام فضل الٰہی تھا اور جب میری عمر قریباً دس برس کے ہوئی تو ایک عربی خواں مولوی صاحب میری تربیت کے لئے مقرر کئے گئے جن کا نام فضل احمد تھا۔“

(کتاب البریہ ص ١٤٨، ١٤٩ حاشیہ خزائن ص ١٧٩، ١٨٠ حاشیہ ج ١٣)

ایک ایسا بدیہی امر ہے کہ کوئی تاریخ دان اسلام کا اس سے بے خبر نہیں ۔“

(براہین احمدیہ ص ٢٧١، ٢٧٢ خزائن ص ٥٦٢ ج ١)

شاہ) سے میں نے نحو اور منطق اور حکمت وغیرہ علوم مروجہ کو جہاں تک خدا تعالیٰ نے چاہا حاصل کیا اور بعض طبابت کی کتابیں میں نے اپنے والد صاحب سے پڑھیں ۔“

(کتاب البریہ ص ١٥٠ حاشیہ، خزائن ص ١٨١ ج ١٣ حاشیہ)

سے فیض حاصل نہیں کیا ۔“

(اخبار الفضل مورخہ ٢٣ فروری ١٩٢٢ء ص ٦)

صفحہ ٢٢٠

سب کچھ حاصل کیا ہے۔“

(کتاب حقیقت النبوۃ ص ١٣٧)

کے جامع تھے مکہ کی زندگی جمالی رنگ میں تھی اور مدینہ کی زندگی جلالی رنگ میں۔“ (ملخص)

(اربعین نمبر ٤ ص ١٥ خزائن ص ٤٤٦ ج ١٧)

نمونہ ظاہر کرنا چاہا یعنی جمالی رنگ کا دکھلانا چاہا سو اس نے قدیم وعدہ کے موافق اپنے مسیح موعود کو پیدا کیا۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ١٧، ١٨ خزائن ص ٤٤٨، ٤٥٠ ج ١٧)

ہمارے نبی ﷺ) نے اپنی آمد اول میں ہی کافروں کو وہ ہاتھ دکھائے جو اب تک یاد کرتے ہیں اور پوری کامیابی کے ساتھ آپ کا انتقال ہوا۔“

(ص ١٢٥ خزائن ص ٢٩٣ ج ٢١)

اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال
دین کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٣٩ خزائن ص ٧٧ ج ١٧)

کافروں اور مشرکوں کے ساتھ جہاد کیا۔ حضور ﷺ نے سلطنت اور حکومت بھی کی۔“

صفحہ ٢٢١

مسیحی) حکومت کے ماتحت رہا۔ اس نے کبھی سلطنت نہ کی۔

(اخبار الحکم قادیان مورخہ ٧؍اگست ١٩٠٧ء ص ١٠ کالم نمبر ٣)

آنے کے ساری عمر حج نصیب نہ ہوا۔

(حقیقت الوحی ص ٢١١‘ خزائن ص ٢٢١ ج ٢٢)

نہیں فرمایا۔

اچھا نہیں۔ یاد نہیں رہا۔“

(کتاب نسیم دعوت ص ٧١ حاشیہ‘ خزائن ص ٤٣٩ ج ١٩؍ رسالہ ریویو بابت ماہ اپریل ١٩٠٣ء ص ١٥٣ حاشیہ)

مصطفیٰ احمد مجتبیٰ ﷺ نے کبھی ایسا نہیں فرمایا۔

اور کثرت بول ہے۔

(رسالہ تشحیذ الاذہان بابت ماہ جون ١٩٠٦ء ص ٥‘ اخبار بدر مورخہ ٧ جون ١٩٠٦ء ص ٥)

مبارک اس مرض سے پاک تھی۔

کہ مرزا قادیانی کو مرض ہسٹیریا کا دورہ پڑا تھا۔

(کتاب سیرت المہدی حصہ اول ص ١٣)

صفحہ ٢٢٢

ان سب بیماریوں سے محفوظ رکھا تھا۔

دل‘ بد ہضمی‘ اسہال‘ کثرت پیشاب اور مراق وغیرہ مرض تھے اور ان کا صرف ایک ہی باعث تھا اور وہ عصبی کمزوری تھی۔

(رسالہ ریویو بابت ماہ مئی ١٩٢٧ء ص ٢٦)

المریض آدمی ہوں۔

(ضمیمہ اربعین نمبر ٣‘ ٤ ص ٤‘ خزائن ص ٤٧٠ ۔ ج ١٧)

ایسے تھے کہ : ”انک لعلیٰ خلق عظیم“ قرآن میں وارد ہوا۔ خود اس انسان کامل ہمارے نبی ﷺ کو بہت بری طرح تکلیفیں دی گئیں اور گالیاں بد زبانی اور شوخیاں کی گئیں مگر اس خلق مجسم نے اس کے مقابلہ میں کیا کیا ان کے لئے دعا کی۔

(رپورٹ جلسہ سالانہ ١٨٩٧ء ص ٩٩)

مقابل پر تحریری مباحثات میں کسی قدر میرے الفاظ میں سختی استعمال میں آئی تھی لیکن وہ ابتدائی طور پر سختی نہیں ہے بلکہ وہ تمام تحریریں نہایت سخت حملوں کے جواب میں لکھی گئیں ہیں۔

(تبلیغ رسالت ج ٦ ص ١٦٥‘ مجموعہ اشتہارات ص ٢٦٦ ج ٢)

صفحہ ٢٢٣

ہمارے نبی ﷺ کا نام خاتم الانبیاء رکھا ہے اور کسی کو مستثنیٰ نہیں کیا اور آنحضرت ﷺ نے طالبوں کے لئے بیان واضح سے اس تفسیر کی ہے : ” لانبی بعدی “ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔

(حمامۃ البشریٰ مترجم ص ٦٦‘ ٦٧ خزائن ص ٢٠٠ ج ٧)

میرے بعد کوئی ولی نہیں مگر وہ جو مجھ سے ہو گا اور میرے عہد پر ہو گا۔

(خطبہ الہامیہ ص ٣٥ خزائن ص ٧٠ ج ١٦)

پہلے نبی کی وفات پر نہ تھی۔

ہے۔

(لیکچر سیالکوٹ ص ٥٦ خزائن ص ٢٢٦ ج ٢٠)

قادیانی مغالطے اور ان کی تردید

مغالطہ نمبر ١ : ” پھر سوال کیا جاتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ” انا بشارت عیسیٰ “ فرمایا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت مسیح کی : ”مبشرا برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد “ والی پیشگوئی اور بشارت کے مصداق آنحضرت ﷺ ہی ہیں تو اس کے جواب میں یہ عرض ہے کہ اس میں کلام نہیں کہ آنحضرت ﷺ بشارت عیسیٰ کے مصداق ہیں لیکن چونکہ حضرت عیسیٰ نے دو موعودوں کے متعلق پیشگوئی کی تھی جن میں سے ایک کے مصداق آنحضرت ﷺ ہیں اور دوسری کے مصداق حضرت مسیح موعود اس لئے آنحضرت ﷺ کا انا بشارت عیسیٰ فرمانا اس پیشگوئی کے متعلق ہے جو حضرت مسیح موعود کی نسبت فرمائی گئی۔ کیا

صفحہ ٢٢٤

کوئی بتا سکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے کہیں یہ فرمایا ہو کہ میں احمد والی پیشگوئی کا مصداق ہوں۔ جب یہ کہیں یہ ثابت نہیں تو اپنی طرف سے بات بنا کر پیش کرنا کیونکر قابل اعتبار ٹھہرا۔ ہاں اس میں کلام نہیں کہ آنحضرت ﷺ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ایک پیشگوئی کے مصداق ہیں لیکن وہ احمد والی پیشگوئی نہیں بلکہ وہ وہی پیشگوئی ہے جو انجیل یوحنا کے باب اول آیت ٢١ میں یوں لکھی ہے : ”تب انہوں نے اس (یوحنا) سے پوچھا تو اور کون ہے کیا تو الیاس ہے اس نے کہا میں نہیں ہوں۔ پس آیا تو وہ نبی ہے اس نے جواب دیا نہیں...... انہوں نے اس سے سوال کیا کہ اگر تو نہ مسیح ہے‘ نہ الیاس‘ اور نہ وہ نبی۔ پس کیوں بپتسمہ دیتا ہے۔“

”انجیل کے ان الفاظ میں ”وہ نبی“ کا لفظ آنحضرت ﷺ کی پیشگوئی میں ہے جس کے متعلق یوحنا باب ١٤ آیت ١٦‘ ٢٦ میں ”تسلی دینے والا“ اور یوحنا باب ١٤ آیت ٣٠ میں ”اس جہان کا سردار آتا ہے“ اور لوقا باب ٢٤ آیت ٤٩ میں ”اپنے باپ کے اس موعود کو تم پر بھیجتا ہوں“ وغیر ہا الفاظ میں بھی پیشگوئی کی گئی یہ وہ پیشگوئی ہے کہ جس کے مصداق آنحضرت ﷺ ہی ہیں اور جس کے مصداق ہونے کی وجہ سے آنحضرت ﷺ نے انا بشارت عیسیٰ کا فقرہ فرمایا۔ اب اس پیشگوئی کے متعلق ہم مبائعین میں سے خدا کے فضل سے کسی کو بھی کلام نہیں لیکن حضرت مسیح کی دوسری پیشگوئی کہ جس میں انہوں نے اپنے دوبارہ آنے کے متعلق پیشگوئی فرمائی جیسا کہ متی باب ٢٤‘ ٢٥ وغیرہ مقامات سے ظاہر ہے۔ چنانچہ مثال کے طور پر متی باب ٢٥ آیت ٣١ کو دیکھو وہاں لکھا ہے کہ جب ابن آدم اپنے جلال سے آوے گا اور سب فرشتے اس کے ساتھ تب وہ اپنے جلال کے تخت پر بیٹھے گا اور سب قوم اس کے آگے حاضر کی جائے گی.........الخ۔

اب اس مسیح کی آمد ثانی کی پیشگوئی جو العود احمد کی مصداق ہے اس کا مصداق

صفحہ ٢٢٥

حضرت مسیح موعود کا وجود ہے۔

(اخبار الفضل مورخہ ١٢ اکتوبر ١٩١٧ء ص ٦‘٧)

جواب : قرآن مجید میں سورۃ صف میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ حضرت عیسٰی ابن مریم علیہ السلام نے : ”ومبشرا برسول یأتی من بعدی اسمه احمد“ کہہ کر اپنے بعد ایک رسول کی خبر دی تھی نہ کہ دو کی۔ حضرت مسیح نے یہ نہ کہا کہ : ”میں دو رسولوں کی بشارت دینے والا ہوں ان میں سے ایک کا نام احمد اور دوسرے کا نام غلام احمد ہوگا۔“ حضرت مسیح نے اسمه احمد کہا اسمهما نہیں کہا۔ مرزا قادیانی کے پہلے بھی ایک شخص احمد نامی نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا اور کہا تھا کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کی بشارت میرے لئے ہے۔ (دیکھو امام ابن حزمؒ کی کتاب الفصل ج ٣ ص ١٩٨) خداوند تعالیٰ نے فلما جاءهم بالبينت قالوا هذا سحر مبین فرما کر اس بات کی تصریح کر دی کہ احمد رسول ﷺ آچکا ہے۔

(٢)...... (مسند احمد ج ٤ ص ١٢٧‘ ١٢٨‘ مسند احمد ج ٥ ص ٢٦٢‘ مشکوٰۃ‘ لمعات‘ مرقاۃ‘ مظاہر حق‘ تفسیر ابن جریر‘ تفسیر ابن کثیر‘ تفسیر کبیر‘ غرائب القرآن‘ ابی السعود‘ روح المعانی‘ روح البیان‘ خازن‘ مدارک‘ فتح البیان‘ ترجمان القرآن‘ مواہب الرحمٰن‘ بیضاوی‘ جامع البیان‘ جلالین‘ بحر المحیط‘ الدر اللقیط‘ تفسیر سراج منیر‘ کتاب الوجیز‘ اتقان‘ جمل‘ عرائس البیان‘ معالم التنزیل‘ بحر مواج‘ حسینی‘ قادری‘ درمنثور‘ اکسیر اعظم‘ فتح المنان‘ اعظم التفاسیر‘ تفسیر محمدی‘ کتاب الجواب الصحیح لمن بدل دین المسیح‘ زرقانی‘ شرح مواہب‘ شرح الشفاء‘ فتح الباری‘ شرح صحیح بخاری‘ خصائص الکبرٰی وغیرہ) کتب اہل سنت میں بشارت عیسٰی علیہ السلام اسمه احمد کا مصداق حضرت احمد مجتبیٰ ﷺ کو مانا گیا ہے۔

(٣)...... آنحضرت علیہ السلام نے وانا بشارة عیسیٰ (مشکوٰۃ) فرما کر صاف طور پر اپنے آپ کو اس بشارت اسمه احمد کا مصداق قرار دیا۔ اگر قادیانی لوگ ان صریح حوالوں کے ہوتے ہوئے بھی بشارت اسمه احمد کا مصداق آنحضرت ﷺ کو نہ مانیں تو کہنا پڑے گا کہ : ”بل هم قوم خصمون“ سچی بات یہ ہے کہ نیچری اور مرزائی لوگ بڑے ضدی ہوتے ہیں۔

صفحہ ٢٢٦

(٤)......بے شک انجیل یوحنا باب اول آیت ٢١ میں ”وہ نبی“ کے الفاظ آئے ہیں مگر اسی مقام پر حاشیہ پر تورات کے پانچویں حصے کتاب استثنا باب ١٨ آیت ١٥، ١٨‘ کا حوالہ دیا گیا ہے۔ جہاں موسیٰ علیہ السلام کی مانند ایک نبی کے آنے کی خبر دی گئی ہے۔ اور یہ بشارت حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دی تھی۔ حضرت مسیح علیہ السلام کی بشارت انجیل یوحنا باب ١٤‘ ١٦ میں ہے۔ انجیل برنباس میں ”محمد رسول اللہ“ کے الفاظ بھی موجود ہیں۔

(٥)......انجیل متی باب ٢٤ حوالہ تو مرزائی مولوی نے دے دیا مگر اصل عبارت پوری نقل نہ کی۔ انجیل متی باب ٢٤ میں ہے :

(٣)......اور جب یسوع زیتون کے پہاڑ پر بیٹھا تھا اس کے شاگردوں نے خلوت میں اس کے پاس آکے کہا ہم سے کہہ کہ یہ کب ہوگا اور تیرے آنے کا اور زمانے کے آخر ہونے کا نشان کیا ہے۔ (٤) تب یسوع نے جواب میں ان سے کہا خبردار کوئی تمہیں گمراہ نہ کرے۔ (٥) کیونکہ بہتیرے میرے نام پر آئیں گے اور کہیں گے کہ میں مسیح ہوں اور بہتوں کو گمراہ کریں گے۔ (٦) اور تم لڑائیوں اور لڑائیوں کی افواہوں کی خبر سنو گے۔ خبردار مت گھبرائیو کیونکہ ان سب باتوں کا ہونا ضرور ہے پر اب تک اخیر نہیں ہے۔ (٧) کہ قوم پر قوم اور بادشاہت پر بادشاہت چڑھ آئے گی اور کال اور مری پڑے گی اور جگہ جگہ بھونچال آئیں گے۔ (٨) یہ سب کچھ مصیبتوں کا شروع ہے ............ (٢٣) تب اگر کوئی تم سے کہے کہ دیکھو مسیح یہاں یا وہاں ہے تو اسے نہ ماننا۔ (٢٤) کیونکہ جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اٹھیں گے اور ایسے بڑے نشان اور کرامتیں دکھائیں گے کہ اگر ہو سکتا تو وہ برگزیدوں کو بھی گمراہ کرتے۔“

نوٹ : حکیم خدا بخش مرزائی کتاب (عسل مصفیٰ ج ٢ ص ٢١٥‘ ٢١٢) پر جو کچھ لکھا ہے کہ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ :

صفحہ ٢٢٧

(١)...... ”دسویں صدی ہجری میں شیخ محمد خراسانی نے دعویٰ کیا کہ میں عیسیٰ بن مریم ہوں جس کے آنے کا احادیث نبویہ میں وعدہ دیا گیا ہے۔“

(٢)...... ”دائرہ میاں نعمت میں ایک شخص ابراہیم بزلہ نامی نے دسویں صدی ہجری میں عیسیٰ ابن مریم ہونے کا دعویٰ کیا۔“

(٣)...... ”دسویں صدی ہجری میں شیخ بھیک نے بھی مسیح کا دعویٰ کیا۔ ایک مدت تک اس دعویٰ پر جما رہا مگر بالآخر اپنی غلطی کا اعتراف کر کے دعویٰ سے رجوع کر لیا۔“

(٤)...... ”تھوڑا عرصہ ہوا ہے کہ شہر لندن میں ایک شخص کھڑا ہوا جس کا نام مسٹر وارڈ تھا۔ چونکہ یہ شخص فصاحت و بلاغت میں ید طولیٰ رکھتا تھا۔ اس کی تقریر کا اثر لوگوں کے دلوں پر پڑتا تھا۔ اس بنا پر اس نے دعویٰ کیا کہ میں مسیح موعود ہوں۔“

(٥)...... ”جزیرہ جمیکا میں ایک حبشی شخص نے دعویٰ کیا کہ وہ عیسیٰ ابن مریم ہے۔ جس کی انتظار میں ایک مخلوق لگی ہوئی ہے۔“

(ص ١٢٦)

(٦)...... ”ملک روس میں بھی ایک فرنگی نے دعویٰ کیا کہ وہ عیسیٰ بن مریم ہے۔“

(٧)...... ”پجٹ نے شہر لندن میں مسیح ہونے کا دعویٰ کیا۔“

(٨)...... ”ایسا ہی ایک شخص چراغ دین نامی جموں میں ہوا ہے۔ اس نے بھی دعوے کیا کہ میں مسیح ہوں۔“

(ص ٢١٥‘٢١٢)

(٩)...... ”حال میں ایک اور شخص یورپین لوگوں میں سے اٹھا ہے جس نے اول اول الیاس ہونے کا دعویٰ کیا پھر کچھ عرصہ کے بعد کہنے لگا کہ میں مسیح موعود ہوں۔“

(ص ٢١٦)

(١٠)...... ابھی تھوڑے دن ہوئے کہ فرانس میں ایک شخص نے مسیح موعود

صفحہ ٢٢٨

ہونے کا دعویٰ کیا۔“ (ص ٢١٨)

میں کہتا ہوں کہ تیرھویں اور چودھویں ہجری میں فرقہ بہائیہ اور جماعت مرزائیہ دو بڑے بھاری فتنے ہوئے ہیں۔ مرزا حسین علی بہاء اللہ ایرانی (جس کی پیدائش ١٨١٧ء میں، دعویٰ ١٨٥٣ء میں اور وفات ١٨٩٢ء میں ہوئی تھی) اور مرزا غلام احمد قادیانی (جس کی پیدائش ١٨٣٩ء میں اور وفات ١٩٠٨ء میں ہوئی تھی) نے مسیحیت، رسالت اور وحی و کلام الٰہی پانے کے دعوے کئے تھے۔ اور آج ١٩٣٣ء یعنی ١٣٥٢ھ تک فرقہ بہائیہ اور جماعت مرزائیہ کے لوگ موجود ہیں۔ ذیل میں ایک نقشہ کے ذریعہ اس بات کو ثابت کیا جاتا ہے کہ جن جھوٹے مدعیوں کی بابت یسوع یعنی مسیح علیہ السلام ناصری نے خبر دی تھی۔ ان میں سے ایک مرزا قادیانی بھی ہیں۔

نوٹ : مرزا حسین علی بہاء اللہ بھی مدعی مسیحیت تھا۔

(مرزا کی کتاب لیکچر لاہور ٹائٹل پیج ص ب، خزائن ص ١٢٦ ج ٢٠)

آنے کے متعلق ہیں ایک وہ جو آخری زمانہ میں آنے کا وعدہ ہے۔ وہ وعدہ روحانی طور پر ہے اور وہ آنا اس قسم کا ہے جیسا کہ ایلیا نبی مسیح کے وقت میں دوبارہ آیا تھا۔ سو وہ ہمارے اس زمانہ میں ایلیا کی طرح آچکا اور وہ یہی راقم ہے جو خادم نوع انسان ہے جو مسیح موعود ہو کر مسیح علیہ السلام کے نام پر آیا اور مسیح نے میری نسبت انجیل میں خبر دی ہے۔

(مسیح ہندوستان میں ص ٣٦، خزائن ص ٣٨ ج ١٥)

میں ہی ہوں۔ (حقیقت الوحی ص ١٤٩، خزائن ص ١٥٣ ج ٢٢) مسیح ابن مریم فوت ہو گیا ہے اور

صفحہ ٢٢٩

آنے والا مسیح میں ہوں۔

(حقیقت الوحی ص ١٥٥‘ خزائن ص ١٥٩ج ٢٢)

منم مسیح ببانگ بلند مے گوئم

(تریاق القلوب ص ٢‘ خزائن ص ١٣٢ج ١٥)

(مرقس ١٣ : ٦)

(کشتی نوح ص ١٣‘ خزائن ص ١٤ج ١٩)

بھر گیا۔

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٧٤‘ خزائن ص ٩٥‘ ٩٦ج ٢١)

منم مسیح زمان و منم کلیم خدا
منم محمد و احمد کہ مجتبیٰ باشد

(تریاق القلوب ص ٣‘ خزائن ص ١٣٢ج ١٥)

نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا۔

(حقیقت الوحی ص ٣٩١‘ خزائن

ص ٤٠٦ج ٢٢) ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔

(اخبار بدر ٥ مارچ ١٩٠٨ء‘ ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٢٧٢)

سے جو ١٦ جولائی ١٩٠٦ء ہے اگر میں ان کو فرداً فرداً شمار کروں تو میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ وہ تین لاکھ سے بھی زیادہ ہیں۔

(حقیقت الوحی ص ٦٧‘ خزائن ص ٧٠ج ٢٢)

صفحہ ٢٣٠

مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی غلط بیانی

مغالطہ نمبر ٢: مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھا ہے :

’’اور ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ اس وقت جو ظہور مسیح موعود کا وقت ہے کسی نے بجز اس عاجز کے دعویٰ نہیں کیا کہ میں مسیح موعود ہوں بلکہ اس مدت تیرہ سو برس میں کبھی کسی مسلمان کی طرف سے ایسا دعویٰ نہیں ہوا کہ میں مسیح موعود ہوں۔ ہاں عیسائیوں نے مختلف زمانوں میں مسیح موعود ہونیکا دعویٰ کیا تھا اور کچھ تھوڑا عرصہ ہوا ہے کہ ایک عیسائی نے امریکہ میں بھی مسیح ابن مریم ہونے کا دم مارا تھا لیکن ان مشرک عیسائیوں کے دعویٰ کو کسی نے قبول نہیں کیا۔ ہاں ضرور تھا کہ وہ ایسا کرتے۔ تا انجیل کی وہ پیشگوئی پوری ہو جاتی کہ بہتیرے میرے نام پر آئیں گے اور کہیں گے کہ میں مسیح ہوں۔ پر سچا مسیح ان سب کے اخیر میں آئے گا اور مسیح نے اپنے حواریوں کو نصیحت کی تھی کہ تم نے آخر کار منتظر رہنا میرے آنے کا یعنی میرے نام پر جو آئے گا۔ اس کا نشان یہ ہے کہ اس وقت سورج اور چاند تاریک ہو جائے گا اور ستارے زمین پر گر جائیں گے۔

(ازالہ اوہام حصہ دوم ص ٦٨٣‘٦٨٤‘ خزائن ص ٤٦٨ ج ٣)

جواب : (١)...... مرزا غلام احمد قادیانی کا یہ لکھنا کہ اس مدت تیرہ سو برس میں کبھی کسی مسلمان کی طرف سے ایسا دعویٰ نہیں ہوا کہ میں مسیح موعود ہوں سراسر غلط ہے اور خلاف واقعہ ہے۔ حکیم خدا بخش مرزائی کی کتاب (عسل مصفےٰ حصہ ٢ ص ١٢٥‘ ١٢٦) پر لکھا ہے کہ کئی ایک مسلمانوں نے بھی مسیح موعود ہونے کے دعوے کئے تھے جیسا کہ میں پیچھے لکھ آیا ہوں۔

(٢)...... مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھا ہے کہ :

’’شیخ محمد طاہر صاحب مصنف مجمع البحار کے زمانہ میں بعض ناپاک طبع لوگوں

صفحہ ٢٣١

نے محض افتراء کے طور پر مسیح اور مہدی ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔“

(حقیقت الوحی ص ٤٠، خزائن ص ٥٣ ج ٢٢)

(٣)...... ”آج پرچہ پیسہ اخبار ٧ اگست ١٩٠٢ء کے پڑھنے سے مجھے معلوم ہوا کہ حکیم مرزا محمود نام ایرانی لاہور میں فروکش ہیں وہ بھی ایک مسیحیت کے مدعی کے حامی ہیں۔ دعویٰ کرتے ہیں اور مجھ سے مقابلہ کے خواہشمند ہیں۔“

(تقریروں کا مجموعہ (یعنی لیکچر لاہور مطبع ضیاء الاسلام قادیان تاریخ طبع ٢٨ دسمبر ١٩٠٤ء) خزائن ص ١٣٦ ج ٢٠)

مرزا غلام احمد قادیانی نے اس جگہ فرقہ بہائیہ کے بانی مرزا حسین علی بہاء اللہ ایرانی کو مسیحیت کا مدعی مانا ہے۔ (قادیانی اخبار الحکم مورخہ ٢٤ اکتوبر ١٩٠٢ء ص ٤ ، الحکم مورخہ ١٠ ١٧ نومبر ١٩٠٣ء ص ١٩ پر بھی لکھا ہے کہ) بہاء اللہ نے ١٢٦٩ھ میں مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تھا اور ١٣٠٩ھ تک زندہ رہا۔

(٤)...... مرزا غلام احمد قادیانی نے الفاظ ”یعنی میرے نام پر جو آئے گا“ اپنے پاس سے زیادہ کئے ہیں۔ ورنہ انجیل متی باب ٢٤ میں اصل عبارت یوں ہے۔

(٣)...... ”اور جب یسوع زیتون کے پہاڑ پر بیٹھا تھا اس کے شاگردوں نے خلوت میں اس کے پاس آکے کہا ہم سے کہہ کہ یہ کب ہو گا اور تیرے آنے کا اور زمانے کے آخر ہونے کا نشان کیا ہے۔ (٤) تب یسوع نے جواب میں ان سے کہا خبر دار کوئی تمہیں گمراہ نہ کرے۔ (٥) کیونکہ بہیترے میرے نام پر آئیں گے اور کہیں گے کہ میں مسیح ہوں اور بہتوں کو گمراہ کریں گے...... (٢٣) تب اگر کوئی تم سے کہے کہ دیکھو مسیح یہاں یا وہاں ہے تو اسے نہ ماننا کیونکہ جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اٹھیں گے۔“

پس اس خبر کے مطابق ایرانی اور قادیانی اپنے دعویٰ مسیحیت و رسالت میں سچے نہیں ہیں۔

مغالطہ نمبر ٣: ”پیغام صلح ١٩ جنوری کے پرچہ میں انہوں نے از

صفحہ ٢٣٢

مولوی عمر الدین شملوی بھیکھی غیر احمدیوں کے قائم مقام ہو کر اور ان کے روح رواں اور ان کا قلب اور زبان بن کر ہم پر سوالات کئے ہیں ان سوالات کی عبارت گو بہت سی لغو اور بے معنی ہے لیکن ہم نے کوشش کی ہے کہ قریباً سب کی سب نقل کر دی جائے تا جوابات کو سمجھنے میں آسانی ہو۔

(اخبار الفضل مورخہ ٢٨ فروری ١٩٣٣ء ص ٥)

سوال نمبر ١ : حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے احمد کی بشارت دیتے ہوئے فرمایا کہ : ”ومبشرا برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد“ سب سے پہلے لفظ رسول قابل توجہ ہے قرآن مجید کی اصطلاح میں یہ لفظ مستقل اور تشریعی نبیوں کے لئے آیا ہے اور عیسیٰ کی زبان میں رسالت سے مراد ظلی رسالت ہو ہی نہیں سکتی اور صف اولیٰ میں نبوت ورسالت سے جو مراد ہے وہی نبوت ورسالت حضرت عیسیٰ کی مراد ہے۔ پس اس پیشگوئی کا مصداق بھی صاحب رسالت حقیقی حضرت محمد ﷺ ہی ہیں نہ کہ حضرت مرزا قادیانی جو اصطلاح صف اولیٰ میں نہ نبی ہیں نہ رسول۔

جواب : اس سوال کا خلاصہ دو امر ہیں ایک یہ کہ حضرت عیسیٰ کی زبان میں رسالت سے مراد ظلی رسالت ہو نہیں سکتی۔ دوم یہ کہ جب صف اولیٰ میں نبوت ورسالت سے مراد ظلی نبوت ورسالت ہو ہی نہیں سکتی بلکہ حقیقی ہے تو اس پیشگوئی کا مصداق بھی صاحب رسالت حقیقی یعنی آنحضرت ﷺ ہی ہو سکتے ہیں۔ جواباً عرض ہے کہ آنحضرت ﷺ نے صحیح مسلم کی حدیث میں جو نواس بن سمعان سے مروی ہے کہ آنے والا مسیح نبی اللہ ہو گا اور ایک ہی حدیث میں اسے چار دفعہ نبی اللہ کے لقب سے یاد فرمایا اور یہ ثابت ہے کہ اس آنے والے مسیح موعود سے مراد مسیح اسرائیلی جو فوت شدہ ثابت ہیں وہ تو ہو نہیں سکتے تو اس صورت میں کیا مسیح موعود سے جو آیت استخلاف کے الفاظ منکم اور کما کی رو سے اور حدیث امامکم منکم کی رو سے مسیح

صفحہ ٢٣٣

محمدی اور امت محمدیہ کا ایک فرد ثابت ہوتا ہے اس لحاظ سے کہ قرآن کی اصطلاح میں لفظ نبی اور رسول مستقل اور تشریعی نبیوں کے لئے آیا ہے اسے مسیح موعود پر چسپاں ہونے نہیں دیں گے۔

اقول : (١) ...... قرآن مجید میں الفاظ عیسیٰ ابن مریم‘ مسیح ابن مریم‘ ابن مریم‘ عیسیٰ اور مسیح اس نبی و رسول کے لئے آئے ہیں جو مریم صدیقہ کے بیٹے تھے اور جن پر انجیل شریف اتری تھی۔ قرآن مجید کی سورہ بقرہ‘ آل عمران‘ نساء‘ مائدہ‘ مریم‘ توبہ‘ الانبیاء‘ مؤمنون‘ احزاب‘ زخرف‘ حدید‘ صف‘ میں ان کا ذکر خیر آیا ہے۔ صحاح ستہ شریف‘ مسند احمد‘ مستدرک‘ حاکم‘ کتاب الاسماء والصفات‘ کنز العمال‘ مشکوٰۃ وغیرہ کتب حدیث میں جو حدیثیں مسیح موعود کے آنے کے بارے میں ہیں ان میں بھی الفاظ عیسیٰ ابن مریم‘ مسیح ابن مریم‘ ابن مریم‘ عیسیٰ‘ مسیح‘ روح اللہ‘ موجود ہیں۔ کسی صحیح حدیث مرفوع یا موقوف میں مثیل مسیح کے الفاظ نہیں آئے ہیں اور نہ کسی مثیل مسیح نبی کے آنے کی خبر دی گئی ہے۔

(٢) ...... اس میں کوئی شک نہیں کہ صحیح مسلم شریف ج ٢ ص ٤٠٠‘ ٤٠١ میں حضرت نواس بن سمعان صحابی سے ایک مرفوع روایت حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام کے دمشق کے شرقی طرف سفید مینارہ کے نزدیک نازل ہونے اور باب لد پر دجال کے قتل ہو جانے کے بارے میں موجود ہے مگر فرقہ مرزائیہ کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھا ہے کہ :

(الف) ...... ”یہ وہ حدیث ہے جو صحیح مسلم میں امام مسلم صاحب نے لکھی ہے جس کو ضعیف سمجھ کر رئیس المحدثین امام محمد اسماعیل بخاری نے چھوڑ دیا ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٢٢٠‘ خزائن ص ٤١٠ ج ٣)

(ب) ...... ”آخری زمانہ میں دجال معہود کا آنا سراسر غلط ہے۔ اب حاصل

صفحہ ٢٣٤

کلام یہ ہے کہ وہ دمشقی حدیث جو امام مسلم نے پیش کی ہے خود مسلم کی دوسری حدیث سے ساقط الاعتبار ٹھہرتی ہے اور صریح ثابت ہوتا ہے کہ نواس راوی نے اس حدیث کے بیان کرنے میں دھوکہ کھایا ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٤٢٧ خزائن ص ٣٢٠ ج ٣)

(ج)...... از انجملہ ایک یہ ہے کہ مسیح موعود جو آنے والا ہے اس کی علامت یہ لکھی ہے کہ وہ نبی اللہ ہوگا یعنی خدائے تعالیٰ سے وحی پانے والا لیکن اس جگہ نبوت تامہ کاملہ مراد نہیں کیونکہ نبوت تامہ کاملہ پر مہر لگ چکی ہے بلکہ وہ نبوت مراد ہے جو محدثیت کے مفہوم تک محدود ہے جو مشکوٰۃ نبوت محمدیہ سے نور حاصل کرتی ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٧٠١‘ خزائن ص ٤٧٨ ج ٣)

(د)...... اور مسلم میں اس بارہ میں حدیث بھی ہے کہ مسیح نبی اللہ ہونے کی حالت میں آئے گا۔ اب اگر مثالی طور پر مسیح یا ابن مریم کے لفظ سے کوئی امتی شخص مراد ہو جو محدثیت کا مرتبہ رکھتا ہو تو کوئی بھی خرابی لازم نہیں آتی۔“

(ازالہ اوہام ص ٥٨٦‘ ٥٨٧ خزائن ص ٤١٦ ج ٣)

(٣)...... مرزا قادیانی کی کتابوں میں اور مرزائی لٹریچر میں الفاظ تشریعی نبی ’غیر تشریعی نبی‘ نبوت تامہ‘ نبوت کاملہ‘ نبوت جزوی‘ بروزی نبی‘ امتی نبی‘ ظلی نبی‘ مجازی نبی وغیرہ آئے ہیں مگر حق بات یہ ہے کہ یہ الفاظ قرآن کریم اور کسی صحیح حدیث میں نہیں آئے ہیں۔

مغالطہ نمبر ٤ : ”پس یہ معنی کہ احمد رسول بعد والا رسول نہیں بلکہ بعد والے رسول محمد سے بشان احمدیت ظاہر ہونے والا ہے تو یہ معنی درست ثابت ہوتے ہیں۔ ہاں احمد کی احمدیت چونکہ اس بات کی مقتضی ہے کہ اس کے لئے کوئی محمد ہو۔ اور محمد کی محمدیت چاہتی ہے کہ اس کے لئے کوئی احمد ہو۔ پس اس لزوم کے لحاظ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ احمد رسول کی پیشگوئی بوجہ تعلق و لزوم کے محمد کی پیشگوئی پر بھی مشعر اور

صفحہ ٢٣٥

دال ہے۔ لیکن احمد رسول جو محمد رسول کا نائب ہے مسیح علیہ السلام نے اپنی مماثلت کے لحاظ سے اسے ظاہریت کے ساتھ ذکر کیا ہے اور محمد رسول کی جو غیبت ہے اس کا ذکر اشارہ اور کنایہ کے طور پر اور اس کا سبب یہ ہے کہ احمد رسول اسرائیلی اور محمد رسول اسماعیلی خاندان کا رسول ہے۔ پس مسیح اپنی قوم بنی اسرائیل کو مخاطب کرتا ہوا انہی معنوں میں اسرائیلیوں کے لئے مبشر ہو سکتا تھا کہ جس احمد رسول کی وہ بشارت دیتا ہے وہ بنی اسرائیل کے ساتھ تعلق رکھنے والا ہو لیکن اگر احمد رسول سے محمد رسول مراد لیا جائے جو نہ نسلی لحاظ سے اسرائیلی ہیں نہ ہی مذہبی اور ملی لحاظ سے تو اس صورت میں مسیح کا اسرائیلیوں کو مخاطب کر کے ایسے احمد رسول کی بشارت سنانا جس کے آنے پر اسرائیلیوں کی شریعت کا خاتمہ ہو جانا تھا اور نسل کے لحاظ سے بھی وہ اسرائیلی نہ تھا ان کے لئے خوش کن نہ ہو سکتی تھی۔ پس اس سے ظاہر ہے کہ مسیح کی بشارت کا صحیح مصداق وہی شخص ہو سکتا ہے جو اگرچہ مذہبی اور ملی لحاظ سے اسرائیلی نہ ہو لیکن کسی دوسری صورت کے لحاظ سے تو بنی اسرائیل کے لئے باعث بشارت ہو سکتا ہو۔ جیسے کہ مسیح موعود (مرزا قادیانی) جو نسلاً بنی اسرائیل سے ہیں ان کا احمد رسول ہونا اسرائیلیوں کے لئے واقعی ایک خوش کن بشارت ہے اور العود احمد کا فقرہ بھی آپ ہی کو بشارت احمد رسول کا مصداق ٹھہراتا ہے۔ اس طرح پر کہ مسیح اسرائیلی قوم کے رسول ہیں اور مسیح اسرائیلی کی آمد ثانی کے مسلمان اور عیسائی سب منتظر ہیں جس سے ظاہر ہے کہ آمد ثانی والا رسول ہی اپنے عود کی وجہ سے احمد رسول کے معنوں کا مصداق ہو سکتا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ مسیح کی آمد ثانی کا مصداق کسی نے بھی آنحضرت ﷺ کو نہیں ٹھہرایا بلکہ اس رسول کو ٹھہرایا ہے جس نے آنحضرت ﷺ کے بعد آنا ہے اور پھر اسے مسیح کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اب اگر یہ امر واقع ہے کہ مسیح اسرائیلی فوت ہو چکے ہیں اور انہوں نے بعینہ نہیں آنا بلکہ ایلیا کی دوبارہ آمد کی طرح ان کا آنا مثیل کی صورت میں ہے

صفحہ ٢٣٦

ہوتا ہے تو اس صورت میں مسیح کا دوبارہ آنا العود احمد کا مصداق اس شخص کو ٹھہرائے گا جو مسیح کی دوبارہ آمد کا مظہر ہوگا۔ اور اس کا خاندانی اور نسلی لحاظ سے اسرائیلی سلسلہ سے تعلق رکھنا اور پہلے مسیح کی طرح اسرائیلی قوم سے ہی ظاہر ہونا یہ امر بھی اس کو العود احمد کا مصداق ٹھہراتا ہے جو خونی اور نسلی رشتہ کے لحاظ سے پہلے مسیح کی طرح اسرائیلی ہو نہ کہ اسماعیلی۔‘‘

(اخبار الفضل مورخہ ٢٨ فروری ١٩٣٣ء ص ٦)

اقول : (١) ..... ”تحقیق اللہ دوست رکھتا ہے ان لوگوں کو کہ جو خدا کی راہ میں صف باندھ کر لڑتے ہیں گویا کہ وہ عمارت ہیں سیسہ پلائی ہوئی اور جس وقت حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اپنی قوم کو اے میری قوم ! تم مجھے کیوں ایذاء دیتے ہو اور حالانکہ تم جانتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں تمہاری طرف۔ پس جب ٹیڑھے ہو گئے خدا نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کر دیا۔ اور اللہ فاسقوں کی قوم کو ہدایت نہیں کرتا اور جس وقت حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام نے فرمایا اے بنی اسرائیل تحقیق میں خدا کا رسول ہوں تمہاری طرف۔ ماننے والا اس چیز کو کہ میرے آگے توریت سے ہے اور میں خوشخبری دینے والا ہوں ایک رسول کی کہ میرے بعد آئے گا اس کا (صفاتی) نام ہوگا احمد۔ پس جب وہ احمد رسول ان کے پاس کھلے کھلے دلائل لے کر آیا تو مخالفوں نے کہا کہ یہ جادو ہے ظاہر۔“

(پارہ ٢٨ سورہ صف رکوع اول)

نوٹ : پہلے اللہ تعالیٰ نے جہاد کرنے والے لوگوں کی تعریف کی ہے۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام کا ذکر خیر کیا ہے جنہوں نے جہاد کیا‘ تلوار اٹھائی‘ کافروں کا مقابلہ کیا‘ حکومت کی‘ یعنی آپ جلالی نبی تھے۔ پھر اللہ نے حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کا ذکر خیر کیا جو جمالی نبی تھے۔ انہوں نے تلوار نہ اٹھائی‘ جہاد نہ کیا‘ حکومت نہ کی‘ پھر حضرات حوارین کی تعریف کی۔ یہ سیاق و سباق چاہتا ہے کہ

صفحہ ٢٣٧

احمد رسول حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد آنے والا ایسا نبی ہو جس میں جلال اور جمال دونوں صفتیں ہوں۔

حضرت موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام جلالی نبی تھے اور حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام جمالی نبی تھے ۔ میں کہتا ہوں کہ ان دونوں میں سے ہر ایک نبی نے اپنی اپنی صفت کو مد نظر رکھتے ہوئے آپ ﷺ کے لئے خبر دی تھی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضور پر نور کے جلالی نام محمد کے ساتھ خبر دی اور حضرت مسیح ناصری علیہ السلام نے حضور پر نور کے جمالی اسم احمد کے ساتھ خبر دی۔ واضح ہو کہ آنحضرت ﷺ کی مقدس زندگی کے دو حصے ہیں ایک مکی اور دوسرا مدنی۔ مکہ شریف میں صبر کیا گیا۔ مخالفوں کا مقابلہ تلوار سے نہ کیا گیا نرمی اختیار کی گئی۔ ہجرت فرمانے کے بعد مدینہ طیبہ میں جہاد کا حکم آیا ۔ حضور ﷺ نے اسلام کو بچانے کے لئے مشرکوں کا مقابلہ کیا۔ تلوار اٹھائی۔ حکومت و سلطنت کی ۔ سارے عرب میں اسلام پھیل گیا۔ آپ کی مکی زندگی جمالی تھی اور جمالی اسم احمد کو ظاہر کرتی تھی۔ حضور ﷺ کی مدنی زندگی جلالی رنگ کی تھی اور اسم محمد کا ظہور تھا۔ غرض یہ کہ حضرت خاتم النبیین‘ رحمۃ اللعالمین‘ شفیع المذنبین‘ سید المرسلین‘ حضرت محمد مصطفیٰ‘ احمد مجتبیٰ ﷺ جلالی اور جمالی دونوں صفات اپنے اندر رکھتے تھے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے کبھی تلوار نہ اٹھائی۔ نہ کبھی حکومت و سلطنت کی بلکہ ساری عمر غیر مسلم (یعنی مسیحی) حکومت کے تابع رہے۔ پس بشارت اسمہ احمد کے حقیقی اور اصل مصداق آنحضرت ﷺ ہی ہیں۔

صف:٦)“ اس بات پر نص قطعی ہے کہ وہ احمد رسول صرف حضرت محمد ﷺ ہی ہیں جو اس کے خلاف کہے وہ حق سے دور ہے۔

صفحہ ٢٣٨

(٤)....... مرزائی مولوی نے (الفضل مورخہ ٢٨ فروری ١٩٣٣ء ص ٦ کے کالم نمبر ٢ میں) الفاظ ”اسمہ احمد“ تین دفعہ لکھے ہیں سو واضح ہو کہ یہ تو نہ قرآن شریف میں کسی آیت کے الفاظ ہیں اور نہ کسی صحیح حدیث میں ہیں۔

(٥)....... مرزائی مولوی کے الفاظ احمد رسول جو محمد ﷺ کا نائب ہے۔ قابل غور ہیں سورۃ صف میں یہ کہیں نہیں نہ لفظاً نہ اشارۃً کہ احمد رسول محمد رسول کا نائب ہے۔

(٦)....... مرزائی مولوی کے الفاظ احمد رسول اسرائیلی ہے۔ بے دلیل ہیں قرآن مجید کی سورۃ صف میں یہ قید اور شرط نہیں ہے کہ احمد رسول اسرائیلی ہو گا۔

(٧)....... مرزائی مولوی کے الفاظ مسیح موعود جو نسلاً بنی اسرائیل سے ہے بھی سراسر غلط ہے۔ قرآن مجید میں (لفظاً یا اشارۃً) اور کسی صحیح حدیث میں یہ نہیں آیا کہ مسیح کا ایک مثیل اس امت میں سے ہو گا اور وہ مثیل مسیح بنی اسرائیل میں سے ہو گا۔

(٨)....... مرزائی مولوی مرزا غلام احمد قادیانی کو مسیح موعود اور مثیل مسیح یقین کرتا ہے اور بنی اسرائیل میں سے لکھتا ہے حالانکہ (کتاب تریاق القلوب ص ١٥٨ خزائن ص ٤٨٢ ج ١٥ میں) مرزا قادیانی نے اپنے آپ کو قوم مغل میں سے مانا ہے۔ در حقیقت مرزا قادیانی مغل تھے نہ کہ فارسی النسل اس پر کافی بحث ہو چکی ہے۔

(٩)....... قرآن مجید اور احادیث صحیحہ نبویہ میں حضرت ایلیا (یعنی الیاس) نبی علیہ السلام کے رفع اور نزول روحانی کا کوئی ذکر نہیں ہے اور یہ بھی ذکر نہیں کہ حضرت یحییٰ نبی مثیل ایلیا نبی تھے۔ پہلے اس بات کو قرآن اور حدیث نبوی سے ثابت کرو پھر بطور نظیر کے اہل اسلام کے سامنے پیش کرو۔

شیخ مبارک احمد مرزائی کا نامبارک عقیدہ اور اس کی تردید

عرض یہ ہے کہ ٣١ مئی ١٩٣٣ء بدھ کے دن مجھے دفتر اخبار اہل حدیث

صفحہ ٢٣٩

امرتسر میں جانے کا اتفاق ہوا۔ جب میں نے اخبار فاروق قادیان کا فائل دیکھنا شروع کیا تو ٢١ مارچ کے پرچے کے ص ٤ پر نظر پڑی۔ ایک مرزائی شیخ مبارک احمد مولوی فاضل جامعہ کا ایک مضمون بہ عنوان ”بشارت احمد کا مصداق“ ص ٤ پر شائع ہوا ہے۔ یہ مضمون ظاہری طور پر لاہوری مرزائیوں کے مقابل پر لکھا گیا ہے مگر در حقیقت قرآن مجید کی آیت قطعیۃ الدلالت نص صریح اور احادیث صحیحہ نبویہ اور اجماع امت کے خلاف ایک گمراہ کن کفریہ عقیدہ کی اشاعت کی گئی ہے۔ ذیل میں اس کی تردید کی جاتی ہے : ” وما توفیقی الا باللّٰہ علیہ توکلت والیہ انیب “

قادیانی : مبائعین اور غیر مبائعین میں منجملہ اور اختلافات کے ایک اختلاف : ” ومبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد “ میں جس رسول کی بشارت دی گئی ہے اس کے مصداق کے متعین کرنے میں بھی ہے۔ غیر مبائعین کے نزدیک جس احمد رسول کی بشارت اس آیت میں دی گئی ہے اس کے مصداق حضرت رسول کریم ﷺ ہیں لیکن مبائعین کے نزدیک حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) اس بشارت کے مصداق ہیں۔

مسلمان : ہم مسلمانوں اور مرزائیوں میں منجملہ اور اختلافات کے ایک اختلاف : ” ومبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد “ میں جس احمد رسول کی بشارت دی گئی ہے اس کے مصداق کے متعین کرنے میں بھی ہے مرزائیوں کے نزدیک جس احمد رسول کی بشارت اس آیت میں دی گئی ہے اس کے اصل مصداق مرزا غلام احمد قادیانی ہی ہیں لیکن ہم مسلمانوں کے نزدیک اس بشارت کے اصل و حقیقی مصداق حضرت احمد مجتبیٰ ﷺ ہی ہیں نہ اور کوئی۔

قادیانی : پیشتر اس کے کہ اصل مدعا کو ثابت کیا جائے اس بحث کو صحیح طور

صفحہ ٢٤٠

پر چلانے کے لئے ضروری ہے کہ یہ معلوم کیا جائے کہ اس پیشگوئی میں اسمہ احمد میں لفظ اسم سے کیا مراد ہے کیونکہ عربی زبان میں اسم بمعنی نام اور اسم بمعنی وصف دونوں طریق پر استعمال ہوا ہے۔

مسلمان : پارہ ٢٨ (سورۃ صف کے رکوع اول) میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا تھا : ” ومبشرا برسول یاتی من بعدی اسمه احمد“ احادیث صحیحہ نبویہ (جو صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن ترمذی، مسند احمد، موطا امام مالک، مشکوٰۃ میں آئی ہیں) سے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ احمد، حاشر، ماحی اور عاقب آنحضرت ﷺ کے صفاتی نام ہیں۔ پس اس پیشگوئی میں اسمہ احمد میں لفظ اسم سے مراد وصفی نام ہے اور عربی زبان اور قرآن مجید میں اسم بمعنی نام اور اسم بمعنی وصف دونوں طریق پر استعمال ہوا ہے۔

قادیانی : ہمارے نزدیک ایک اسمہ احمد کی بشارت میں اسم سے مراد وصف نہیں بلکہ نام ہے کیونکہ یہ پیشگوئی یہودیوں، عیسائیوں اور مسلمانوں میں سے صرف عیسائی کے لئے قرآن مجید نے بیان کی ہے۔

مسلمان : (١) ہمارے نزدیک اسمہ احمد کی بشارت میں اسم سے مراد صفاتی نام ہے کیونکہ حدیث صحیح نبوی میں آچکا ہے کہ میرا نام احمد ہے۔

(٢)” واذقال عیسیٰ ابن مریم یبنی اسرائیل انی رسول اللہ الیکم مصدقا لما بین یدی من التوراة ومبشرا برسول یاتی من بعدی اسمه احمد (سورۃ صف آیت ٦)“ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو مخاطب کر کے تین باتیں بیان کیں : (١) میں تمہاری طرف اللہ کا پیغمبر ہوں۔ (٢) میں توریت کو خدا کی کتاب مانتا ہوں۔ (٣) میں بشارت دیتا ہوں کہ میرے بعد

صفحہ ٢٤١

ایک رسول آئے گا جس کا صفاتی نام احمد ہے۔ پس حضرت مسیح علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو مخاطب کر کے خبر دی تھی نہ کہ صرف عیسائیوں کے لئے۔

(٣) ...... مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ وہی نبی ہے جس کا انجیل متی میں فارقلیط کے لفظ سے وعدہ دیا گیا ہے اور جس کا صاف اور صریح نام محمد رسول اللہ انجیل برنباس میں موجود ہے۔

(سرمہ چشم آریہ ص ٢٤ حاشیہ، خزائن ص ٢٩٣ ج ٢)

واضح ہو کہ فارقلیط کے آنے کی خبر انجیل متی میں نہیں ہے بلکہ انجیل یوحنا باب ١٤، ١٥، ١٦ میں ہے۔ اور فارقلیط آنحضرت ﷺ کا صفاتی نام ہے۔ آنحضرت ﷺ کا اسم ذاتی یا علم، محمد ﷺ ہے۔

قادیانی : جاننا چاہئے کہ اسم اور نام سے مراد وہ لفظ ہے جو کسی پر بولا جائے اور وہاں پر اس لفظ کے معنے مد نظر نہ ہوں اور اس کی کئی قسمیں ہیں۔ مثلاً قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ”مبشرا بکلمة منہ اسمہ المسیح عیسیٰ ابن مریم“ اس آیت میں لفظ اسم علم یعنی عیسیٰ لقب یعنی مسیح اور کنیت یعنی ابن مریم پر بولا گیا ہے۔ اس طرح اسم کا لفظ تخلص اور ان تمام الفاظ کو کہا جاتا ہے جہاں کوئی مسمیٰ معانی سے قطع نظر کرتے ہوئے مراد لیا جائے۔ اسم اور نام کی اس تعریف کے بعد ہمیں یہ معلوم کرنا ہے کہ کیا حضرت رسول کریم ﷺ کا نام دعویٰ سے قبل احمد تھا یا نہیں کیونکہ دعویٰ کے بعد کا نام عیسائیوں پر حجت نہیں ہو سکتا لیکن باوجود پوری تحقیق و تفتیش کے آنحضرت ﷺ کا نام کنیت، علم، لقب کسی طرح بھی احمد ثابت نہیں ہوتا۔ پس جب لفظ احمد نہ آپ کا علم ہے اور نہ ہی کنیت اور لقب تو کس طرح اسمہ احمد کی بشارت کا مصداق آنحضرت ﷺ کو قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہمیں آپ کے احمد ہونے سے انکار ہے بلکہ انکار اس امر کا ہے کہ ایسے طریق پر آپ کا نام احمد نہیں جس سے عیسائیوں پر حجت پوری ہو سکے۔ پس جب آنحضرت ﷺ کا نام احمد ثابت

صفحہ ٢٤٢

نہیں ہے تو لازماً اس پیشگوئی کو آپ کی طرف منسوب نہیں کیا جاسکتا۔

مسلمان : ” اذقالت الملائكة يٰمريم ان الله يبشرك بكلمة منه اسمه المسيح عيسى ابن مريم (سورة آل عمران آیت ٤٥)“ ﴿جس وقت کہا فرشتوں نے اے مریم علیہا السلام تحقیق اللہ تجھے بشارت دیتا ہے اپنی طرف سے ایک کلمہ کی کہ اس کا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم ہے۔﴾

اس آیت میں لفظ اِسم آیا ہے حالانکہ حضرت روح اللہ کا اسم علم عیسیٰ ہے اسم صفاتی مسیح ہے اور کنیت ابن مریم۔

اسم اور نام کی اس تعریف اور قادیانی تحریف کے بعد ہمیں یہ معلوم کرنا ہے کہ کیا مرزا غلام احمد قادیانی کا نام براہین احمدیہ نامی کتاب لکھنے سے قبل احمد تھا یا نہیں کیونکہ دعویٰ کے بعد کا قول ان کے مخالفوں پر حجت نہیں ہو سکتا لیکن باوجود پوری تحقیق و تفتیش کے مرزا قادیانی کا نام کنیت‘ علم‘ لقب کسی طرح بھی احمد ثابت نہیں ہوتا۔ پس جب لفظ احمد نہ مرزا غلام احمد کا علم ہے اور نہ ہی کنیت اور لقب تو کس طرح اسمہ احمد کی بشارت کا مصداق مرزا کو قرار دیا جا سکتا ہے۔ پس جب مرزا قادیانی کا نام احمد ثابت نہیں ہے تو لازماً اس پیشگوئی کو مرزا قادیانی کی طرف منسوب نہیں کیا جاسکتا۔

قادیانی : اب ہمیں یہ معلوم کرنا ہے کہ آیا لفظ احمد حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا نام ہے یا نہیں۔ تو ظاہر ہے کہ آپ کا علم غلام احمد اور آپ کے والد کا نام غلام مرتضیٰ‘ بھائی کا نام غلام قادر اور چچاؤں یا چچازاد بھائیوں کے نام غلام محی الدین اور غلام جیلانی وغیرہ ہیں۔ ان تمام افراد کے ناموں میں مشترک لفظ غلام ہے۔............ پس ہم احمد کو آپ کا علم نہیں قرار دیتے بلکہ ہمارا دعویٰ ہے کہ احمد حضرت مسیح موعود کا اسم ہے۔

صفحہ ٢٤٣

مسلمان: اب ہمیں یہ معلوم کرنا چاہئے کہ آیا لفظ احمد آنحضرت ﷺ کا نام ہے یا نہیں تو ظاہر ہے کہ آپ کا نام جو پیدائش کے وقت رکھا گیا تھا وہ محمد ہے۔ پس ہم احمد کو آپ ﷺ کا علم نہیں قرار دیتے بلکہ ہمارا دعویٰ ہے کہ احمد آنحضرت ﷺ کا صفاتی اسم ہے۔

قادیانی: مزید برآں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے احمد ہونے کا واضح اور روشن ثبوت یہ بھی ہے کہ آپ کے والد ماجد نے دو نئے گاؤں بسائے اور دونوں کا نام اپنے بیٹوں کے نام پر رکھا جن میں سے ایک کا نام احمد آباد اور دوسرے کا نام قادر آباد رکھا جانا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ لفظ احمد سے مرزا قادیانی ہی مراد ہیں۔

مسلمان: گاؤں کا نام رکھنے میں اختصار منظور ہوتا ہے دیکھ لیجئے دوسرے گاؤں کا نام قادر آباد رکھا گیا تو کیا اس سے یہ لازم آسکتا ہے کہ مرزا قادیانی کے بھائی کا اصل نام قادر تھا؟ مرزا قادیانی کے بھائی کا نام غلام قادر تھا۔

(ازالہ اوہام حصہ ١ ص ٦٧٦، ٦٧٧ حاشیہ، خزائن ص ٤٦٠ ج ٣)

قادیانی: اس کے بعد ایک اور مثال بھی قابل غور ہے۔ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے اپنے صاحبزادوں کے نام سلطان احمد‘ محمود احمد‘ بشیر احمد اور شریف احمد رکھے اب ان تمام ناموں میں جو لفظ مشترک ہے وہ احمد ہے ............ ان تمام ناموں میں لفظ احمد کا مشترک ہونا بھی حضرت موعود (مرزا قادیانی) کے احمد ہونے کی دلیل ہے کیونکہ اگر نام احمد نہ ہوتا تو آپ کے صاحبزادوں کے ناموں میں لفظ مشترک احمد نہ بنایا جاتا۔

صفحہ ٢٤٤

مسلمان: شہر امرتسر میں اخبار اہل حدیث کے ایڈیٹر جناب مولانا ابو الوفا ثناء اللہ صاحب ہیں۔ ان کے صاحبزادے کا نام عطاء اللہ ہے۔ عطاء اللہ صاحب کے بیٹوں کے نام ہیں رضاء اللہ ، ذکاء اللہ ، بہاء اللہ ، ضیاء اللہ ، میرا نام ہے حبیب اللہ اور میرے خسر کا نام تھا عبد اللہ ان کے بیٹوں کے نام عبید اللہ اور عنایت اللہ (عنایت اللہ فوت ہو چکا ہے) اب ان تمام ناموں میں جو لفظ مشترک ہے وہ اللہ ہے۔

قادیانی : اس کے علاوہ قرآن میں جہاں اس بشارت اور پیشگوئی کو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے وہاں کا سیاق اور سباق خود حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے احمد ہونے پر دلالت کرتا ہے۔

مسلمان : قرآن مجید میں جہاں اس بشارت اور پیشگوئی کو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے وہاں کا سیاق اور سباق خود حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے احمد ہونے پر دلالت کرتا ہے اور حق بات یہ ہے کہ اس بشارت کے اصل اور حقیقی مصداق آنحضرت ﷺ ہی ہیں۔ حضور پرنور ﷺ نے خود فرمایا : ” وبشارة عیسیٰ “ (مسند احمد ص ٢٦٢ ج ٥ ، مشکوٰۃ شریف ص ٥١٣) چنانچہ اخبار فاروق قادیان مورخہ ٧ دسمبر ١٩١٥ء ص ٥ پر ہے)

”مسیح کی بشارت میں باپ سے درخواست کروں گا تو وہ تمہیں دوسرا تسلی دینے والا بخشے گا کہ ابتک تمہارا ساتھ رہے یعنی روح حق ، یوحنا باب ١٤ آیت ١٥ ، ١٧ قرآن مجید اس کی تصدیق فرماتا ہے : ” مبشرا برسول یأتی من بعدی اسمه احمد “

کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے مثیل کی خبر دی تھی ؟

آج مورخہ ٣ جون ہفتہ کے روز دفتر نہر امرتسر میں تعطیل تھی بادشاہ

صفحہ ٢٤٥

جارج پنجم حکمران دولت برطانیہ کی پیدائش کے دن کے سبب دفتر بند تھا اور میں گھر پر ایک مضمون لکھ رہا تھا۔ (قادیانی اخبار الفضل مورخہ ١٦ ستمبر ١٩٣٠ء ص ٦ پر) ایک عنوان ”احمد کی بعثت“ میری نظر سے گزرا۔ اس کو درج کر کے ساتھ ہی جواب بھی لکھا جاتا ہے مرزائی مولوی نے لکھا ہے :

”قرآن مجید سے پتہ چلتا ہے اور بائیبل کے دیکھنے سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے لوگوں کو اپنے مثیل کی خبر دی۔ آپ نے فرمایا میرے بعد وہ نبی مبعوث ہو گا۔ لوگوں کو سخت انتظار رہا حتیٰ کہ یہود نے مسیح ناصری سے یہ بھی سوال کیا تھا کہ کیا تو وہ نبی ہے مگر آپ نے اس کا انکار کیا۔ پس حضرت موسیٰ علیہ السلام نے رسول کریم ﷺ کے ظہور کی خبر لوگوں کو مدت سے سنا دی تھی۔ آپ کے تیرہ سو برس بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام مبعوث ہوئے آپ نے فرمایا : ” ومبشرا برسول یاتی من بعدی اسمه احمد“ اے لوگو! میں تمہیں احمد رسول کی خوشخبری سناتا ہوں۔ نہ قرآن میں نہ حدیث میں نہ تاریخ میں۔ غرض کسی جگہ بھی رسول کریم ﷺ کا ذاتی نام احمد نہیں آتا۔ البتہ صفاتی نام احمد ضرور تھا۔ مگر وہ ایسا ہی تھا جیسے عاقب وغیرہ صفاتی نام آپ کو عطا کئے گئے تھے۔ پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے احمد رسول کی خوشخبری دی اگر احمد سے مراد رسول کریم ﷺ ہوتے تو کس طرح ہو سکتا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس خبر کو خوشخبری کے طور پر سناتے۔ کیا کہنے والے نہیں کہہ سکتے کہ یہ کونسی خوشخبری ہے یہ تو ہمیں پہلے ہی معلوم ہے۔ دنیا میں کبھی ایسا نہیں ہوا ہے کہ ہمارے پاس ایک شخص آئے اور وہ ہمیں کوئی خوشخبری سنائے لیکن اس کے بعد دوسرا آئے اور کہے تو یہ کہ میں تمہیں ایک عظیم الشان خوشخبری سناتا ہوں مگر سنائے وہی بات جو پہلا سنا چکا ہے۔ پس اگر احمد رسول سے مراد صرف رسول کریم ﷺ ہیں تو یہ خبر بہت پہلے حضرت موسیٰ علیہ السلام دے تھے۔

صفحہ ٢٤٦

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کونسی بشارت دی۔ حق یہی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے مثیل کی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے مثیل کی بشارت دی۔ پس اُس لئے سنت اللہ کے مطابق بشارت الہیہ کے عین موافق حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود ہوئے آپ کا اسم مبارک بھی احمد تھا۔“

(الفضل مورخہ ١٦ ستمبر ١٩٣٠ء ص ٦)

جواب: (١) تورات کے پانچویں حصے میں صاف اور صریح الفاظ میں آیا ہے کہ :

”اور خداوند نے مجھ سے کہا کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں سو ٹھیک کہتے ہیں۔ میں ان کے لئے ان ہی کے بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اسے حکم دوں گا وہی وہ ان سے کہے گا۔“

(کتاب استثنا باب ١٨ آیت ١٧‘ ١٨)

آیت ١٥ میں الفاظ ہیں : ”میری مانند ایک نبی“ اور آیت ١٨ میں الفاظ ہیں : ”تجھ سا ایک نبی“ پارہ ٢٩ سورۃ مزمل کی آیت : ”انا ارسلنا الیکم رسولا شاہدا علیکم کما ارسلنا الی فرعون رسولا“ میں بھی لفظ کما آیا ہے۔ توریت کے اس مقام میں یہ الفاظ نہیں ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام ابن عمران دوبارہ آئے گا۔ قرآن مجید میں بھی کسی آیت میں حضور پرنور کو موسیٰ علیہ السلام ابن عمران نہیں کہا بلکہ لفظ کما فرما کر آپ کو موسیٰ علیہ السلام کی مانند ایک نبی قرار دیا گیا ہے۔

(٢) ....... ”اور یوحنا کی گواہی یہ ہے کہ جب یہودیوں نے یروشلم سے کاہن اور لاوی یہ پوچھنے کو اس کے پاس بھیجے کہ تو کون ہے ؟ تو اس نے اقرار کیا اور انکار نہ کیا بلکہ اقرار کیا کہ میں تو مسیح نہیں ہوں۔ انہوں نے اس سے پوچھا پھر کون ہے کیا تو ایلیا ہے ؟ اس نے کہا میں نہیں ہوں۔ کہا تو وہ نبی ہے اس نے جواب دیا کہ نہیں۔“

(انجیل یوحنا باب اول آیت ١٩ تا ٢١)

صفحہ ٢٤٧

اس سے معلوم ہوا کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام نبی اللہ سے یہود نے سوال کیا تھا کہ کیا تو وہ نبی ہے۔ حضرت مسیح ناصری سے یہود نے یہ سوال نہیں کیا تھا جس طرح کہ مرزائی مولوی نے لکھا ہے۔

میں تو پڑھنا نہیں جانتا۔“

(صحیفہ یسعیاہ نبی باب ٢٩ آیت ١٢)

قرآن مجید کی سورۃ الاعراف پارہ ٩ میں آنحضرت ﷺ کو رسول نبی امی (یعنی ان پڑھ) کہا گیا ہے۔ سورۃ بقرہ کے رکوع اول میں قرآن مجید کو کتاب کہا گیا ہے۔ تیسویں پارہ میں ہے : ”اقراء باسم ربک الذی خلق“ مشکوٰۃ شریف باب المبعث وبدء الوحی فصل اول ص ٥٢١ میں ہے کہ غار حرا میں حضرت علیہ السلام کے پاس فرشتہ آیا : ”فقال اقرا فقال ما انا بقاری “ پس کہا پڑھ آپ ﷺ نے فرمایا میں پڑھ نہیں سکتا۔“

ان دلائل سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ صحیفہ یسعیاہ نبی باب ٢٩ آیت ١٢ میں جس ایک ان پڑھ کی خبر دی گئی ہے وہ حضرت احمد مجتبیٰ ﷺ ہی ہیں۔

(یعنی فارقلیط) کے آنے کی بشارت حضرت مسیح ناصری علیہ السلام نے دی ہے اور مرزا غلام احمد نے تسلیم کیا ہے کہ فارقلیط کے آنے کی پیشگوئی آنحضرت ﷺ کے حق میں ہے۔

(سرمہ چشم آریہ ص ١٨٦ خزائن ص ٢٩٣ ج ٢)

”اور یہ بدنامی اس وقت تک باقی رہے گی جبکہ محمد رسول اللہ ﷺ آئے گا جو کہ آتے ہی اس فریب کو ان لوگوں پر کھول دے گا جو کہ اللہ کی شریعت پر ایمان لائیں گے۔“ (انجیل برنباس (جس کا ذکر خود مرزا قادیانی نے سرمہ چشم آریہ تریاق القلوب کشف الغطاء میں

صفحہ ٢٤٨

(ہندوستان میں اور چشمہ مسیحی میں کیا ہے) کی فصل ٢٢٠ ص ٣٦٧ مطبوعہ ١٩١٦ء)

حضرت مسیح نے فرمایا رسول اللہ کے بعد خدا کی طرف سے بھیجے ہوئے سچے نبی کوئی نہیں آئیں گے مگر جھوٹے نبیوں کی ایک بڑی بھاری تعداد آئے گی۔“

(انجیل برنباس ص ١٤٥ سٹیم پریس لاہور طباعت ١٩١٦ء)

(٦)...... ” واذ قال عیسیٰ ابن مریم یٰبنی اسرائیل انی رسول اللّٰہ الیکم مصدقا لما بین یدی من التوراۃ ومبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد فلما جاء ہم بالبینت قالوا ھٰذا سحر مبین“

(پارہ ٢٨ سورۃ صف آیت نمبر ٦)

ان آیات سے کسی طور پر (نہ لفظاً نہ اشارۃً) یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ حضرت عیسیٰ نے اپنے مثیل ہونے کی بشارت دی تھی۔ کسی صحیح حدیث نبوی میں یا قول صحابی میں بھی کسی مثیل عیسیٰ کے آنے کی خبر نہیں دی گئی۔ مرزا قادیانی مثیل مسیح بھی نہ تھے اور مرزا قادیانی کو مسیح سے مشابہت تامہ نہیں ہے۔

(٧)...... حضرت کلیم اللہ نے میری مانند ایک نبی کہا تھا۔ حضرت یسعیاہ نبی علیہ السلام نے ایک ان پڑھ کے آنے کی خبر دی۔ حضرت روح اللہ نے فارقلیط محمد رسول اللہ اور احمد رسول کے الفاظ فرما کر آپ ﷺ کے آنے کی بشارت دی تھی۔

مرزا قادیانی نہ نبی تھا نہ رسول

نقلی دلیل: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

” وماکان لنبی ان یغل(سورۃ آل عمران آیت نمبر ١٦١)“ ﴿اور نہیں لائق کسی نبی کو یہ کہ خیانت کرے۔﴾

صفحہ ٢٤٩

دعویٰ مرزا قادیانی

(اخبار بدر قادیان مورخہ ٥ مارچ ١٩٠٨ء اور مرزا محمود احمد کی کتاب حقیقت النبوۃ حصہ اول ص ٢١٣)

لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔“

(حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ص ٤٠٦، ٤٠٧ ج ٢٢)

اللہ رکھا ہے۔“

(نزول المسیح ص ٥١، خزائن ص ٤٣٢ ج ١٨)

( دافع البلاء ص ١١، خزائن ص ٢٣١ ج ١٨)

نام نبی اور رسول رکھا ہے۔“

(نزول المسیح ص ٤٨، خزائن ص ٤٢٦ ج ١٨)

امتی بھی ہوں اور نبی بھی۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٨٩، خزائن ص ٣٤١ ج ٢١)

قادیانی مندرجہ اخبار عام ٢٦ مئی ١٩٠٨ء)

(کتاب حقیقت النبوۃ ص ٢١٢)

نوٹ : مرزا قادیانی مدعی نبوت ورسالت تھے۔ قرآن مجید میں ہے کہ خدا کا نبی امانت دار ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص نبوت ورسالت کا مدعی ہو اور پھر امانت سے کام نہ لے تو وہ اپنے دعویٰ میں سچا نہیں ہے۔

حدیث رسول ربانی

”وفی حدیث ابن عباسؓ ذکرہ صاحب کنزالعمال بلفظِ

صفحہ ٢٥٠

سمعت رسول الله يقول ينزل اخى عيسى ابن مريم من السماء على جبل افيق اماما هاديا وحكما وعادلا عليه برنس له مربوع الخلق أصلت سبط الشعر بيده حربة يقتل الدجال تضع الحرب اوزارها“

(کتاب حجج الکرامہ (مطبوعہ ١٢٩٠ھ مطبع شاہجہانی بھوپال) ص ٤٢٣)

نوٹ : یہ حدیث (بحوالہ ابن عساکر واسحق بن بشیر کتاب کنز العمال ج ١٤ ص ٦١٩ حدیث نمبر ٣٩٧٢٦ اور کتاب منتخب کنز العمال بر حاشیہ مسند احمد ج ٦ ص ٥٦) پر بھی ہے :

اقوال مرزا قادیانی

”وكذلك اختلف فى موضع نزوله وفى حديث ابن عباس قال سمعت رسول الله صلى الله يقول ينزل اخى عيسى ابن مريم على جبل افيق اماما هاديا حكما عادلا بيده حربة لقتل الدجال وتضع للحرب اوزارها“

(کتاب حمامۃ البشریٰ ص ٨٨ (مطبوعہ ١٣١١ھ مطبع منشی غلام قادر صاحب سیالکوٹی) خزائن ص ٣١٢ ج ٧)

” فلاشك ان حربة قتل الدجال حربة روحانية منزلة من السماء كما يدل عليه حديث روى عن ابن عباس قال قال رسول الله صلى الله ينزل اخى عيسى بن مريم على جبل افيق اماما حاديا حكما عادلا بيده حربة يقتل به الدجال“

(حمامۃ البشریٰ ص ٧٩، خزائن ص ٣١٣ ج ٧)

نوٹ : مرزا قادیانی نے اس جگہ امانت سے کام نہیں لیا ہے۔ حدیث نبوی کو نقل کرتے ہوئے ” من السماء “ اور الفاظ ” عليه برنس له مربوع الخلقة اصلت سبط الشعر “ نہیں لکھے ہیں۔ پس امانت سے کام نہ لینے والا شخص نبی اور رسول نہیں ہو سکتا ہے۔

صفحہ ٢٥١

مکتوبات امام ربانی مجدد الف ثانی

مکتوبات امام ربانی حضرت شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی (دفتر دوم مطبع ایجوکیشنل سعید ایچ ایم کمپنی کراچی مکتوب ٥١ ص١٤٢) پر ہے :

” الحمدلله وسلام على عباده الذين اصطفى اعلم ايها الاخ الصديق ان كلامه سبحانه مع البشر قد يكون شفاها وذلك لافراد من الانبياء عليهم الصلوات والتسليمات وقد يكون ذلك لبعض الكمل من متابعيهم بالتبعية والوراثة ايضاً واذا كثر هذا القسم من الكلام مع واحد منهم سمى محدثا كما كان اميرالمومنين عمر“

﴿بداں اے برادر محب کہ بہ تحقیق کلام حق سبحانہ وتعالیٰ بابشر گاہے روبارو بود وایں نوع از کلام مر آحاد انبیاء راست علیہم الصلوات والتسلیمات وگاہے ایں نعمت عظمی بعضے را از کمل متابعان ایشاں نیز بہ تبعیت ووراثت میسر مے گردد وایں قسم از کلام بایکے ازیشاں ہرگاہ بکثرت واقع گردد آنکس محدث(بفتح دال وتشدیدان) نامیدہ مے شود چنانچہ امیرالمومنین عمرؓ محدث این امت بوده﴾

الفاظ مرزا قادیانی

”اصل میں ان کی اور ہماری تو نزاع لفظی ہے۔ مکالمہ مخاطبہ کا تو یہ لوگ خود بھی اقرار کرتے ہیں۔ مجدد صاحب بھی اُس کے قائل ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ جن اولیاء اللہ کو کثرت سے خدا کا مکالمہ مخاطبہ ہوتا ہے وہ محدث اور نبی کہلاتے ہیں۔“

(اخبار الحکم قادیان ج ١٢ نمبر ٤١ مورخہ ١٤ جولائی ١٩٠٨ء ص ١٢‘ ملفوظات ص ٤٢١ ج١٠)

صفحہ ٢٥٢

نوٹ: مکتوبات شریف میں الفاظ ”وہ محدث اور نبی کہلاتے ہیں“ نہیں ہیں۔ صرف یہ الفاظ ہیں : ”واذا كثر هذا القسم من الكلام مع واحد منهم سمى محدثا“ مرزا قادیانی نے الفاظ ”اور نبی“ اپنے پاس سے زیادہ کئے ہیں۔

عقلی دلیل

خدا کے نبی اور رسول کا دماغ اعلیٰ ہوتا ہے۔ ان کا حافظہ صحیح ہوتا ہے۔ خدا کے نبی اور رسول دماغی امراض مثلاً جنون، مالیخولیا، مرگی، سوداء، مراق اور ہسٹریا (یعنی باؤگولہ) سے پاک ہوتے ہیں۔ کسی نبی ورسول نے خود کبھی یہ اقرار نہیں کیا کہ مجھے مراق ہے۔ قرآن مجید میں یہ لکھا ہے کہ دشمنوں نے نبی ورسول کو مجنون و ساحر وغیرہ کہا لیکن قرآن مجید میں یہ کہیں نہیں آیا ہے کہ کسی نبی یا رسول نے خود اقرار کیا ہو کہ مجھے جنون ہے یا مراق ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ مرزائی لٹریچر سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی نے خود اقرار کیا کہ مجھے مراق ہے۔ دشمنوں کا طعن کرنا اور چیز ہے اور ایک مدعی نبوت ورسالت کا خود اقرار کرنا اور چیز ہے۔

مراق اور مرزا قادیانی

کی تھی جو اس طرح وقوع میں آئی آپ نے فرمایا تھا کہ مسیح آسمان پر سے جب اترے گا تو دو زرد چادریں اس نے پہنی ہوئی ہوں گی۔ تو اسی طرح مجھ کو دو بیماریاں ہیں ایک اوپر کے دھڑ کی اور ایک نیچے کے دھڑ کی یعنی مراق اور کثرت بول۔“ (رسالہ تشحیذ الاذہان بابت ماہ جون ١٩٠٦ء ص ٥، اخبار بدر قادیان ج ٢ نمبر ٢٣ مورخہ ٧ جون ١٩٠٥ء ص ٥، ملفوظات ص ٤٤٥ ج ٨)

مبتلا رہتا ہوں۔ تاہم آج کل کی مصروفیت کا یہ حال ہے کہ رات کو مکان کے دروازے

صفحہ ٢٥٣

بند کر کے بڑی بڑی رات تک بیٹھا اس کام کو کرتا رہتا ہوں حالانکہ زیادہ جاگنے سے مراق کی بیماری ترقی کرتی ہے اور دوران سر کا دورہ زیادہ ہو جاتا ہے۔“ (کتاب منظور الہی

(جس میں منظور الہی نے مرزا قادیانی کے اقوال اکٹھے کئے ہیں) مطبوعہ ١٣٢٢ھ مفید عام پریس لاہور ص ٣٤٨)

ہے کہ مجھ کو مراق ہے۔“

(رسالہ ریویو آف ریلیجنز بابت اگست ١٩٢٦ء ص ٦)

درد سر، کمی خواب، تشنج دل اور بد ہضمی، اسہال، کثرت پیشاب اور مراق وغیرہ کا صرف ایک ہی باعث تھا اور وہ عصبی کمزوری تھا۔“

(رسالہ ریویو آف ریلیجنز بابت ماہ مئی ١٩٢٧ء ص ٢٦)

نوٹ : واضح ہو کہ رسالہ تشحیذ الاذہان کے ایڈیٹر میاں محمود احمد (مرزا قادیانی کے بیٹے) تھے اور اخبار بدر قادیان کے مدیر مفتی محمد صادق مرزائی تھے۔ کتاب منظور الہی کے مرتب کرنے والے محمد منظور الہی لاہوری مرزائی ہیں۔ (رسالہ ریویو آف ریلیجنز ج ٢٥ نمبر ٨ اور ج ٢٦ نمبر ٥ میں) مضامین لکھنے والے ڈاکٹر محمد شاہ نواز خان قادیانی مرزائی ہیں۔ اگر کوئی مرزائی کہے کہ مغرب کے پادریوں نے آنحضرت ﷺ کو مجنون کہا ہے۔ (ریویو ج ٢٦ نمبر ٥ ص ٣٢) تو جواب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے خود ایسا ہونے کا اقرار نہیں کیا ہے۔ مغرب کے پادری یا دوسرے مسیحی لوگ تو آنحضرت ﷺ کے دشمن اور سخت مخالف ہیں۔ مگر جن لوگوں کے نام میں نے لکھے ہیں یہ سب مرزا قادیانی کے مرید ہیں اور مرزا قادیانی نے خود اقرار کیا ہے کہ مجھے مراق ہے۔

نبی اور مراقی میں فرق

طرح مریض کو اپنے جذبات اور خیالات پر قابو نہیں رہتا۔“

(رسالہ ریویو بابت ماہ اگست ١٩٢٦ء ص ٦)

صفحہ ٢٥٤

(رسالہ ریویو بابت ماہ مئی ١٩٢٧ء ص ٣٠)

مرزا کی بیوی کو مراق

”میری بیوی کو مراق کی بیماری ہے۔ کبھی کبھی وہ میرے ساتھ ہوتی ہے کیونکہ طبی اصول کے مطابق اس کے لئے چہل قدمی مفید ہے۔“

(اخبار الحکم قادیان ج ٥ نمبر ٢٩ مورخہ ١٠ اگست ١٩٠١ء ص ١٤)

مرزا کے بیٹے کو مراق

”حضرت (مرزا محمود) نے فرمایا کہ مجھ کو بھی کبھی کبھی مراق کا دورہ ہوتا ہے۔“

(رسالہ ریویو آف ریلیجنز بابت ماہ اگست ١٩٢٦ء ص ١٩)

مرض ہسٹیریا اور مرزا

مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے قادیانی مرزائی نے لکھا ہے کہ :

”بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو پہلی دفعہ دوران سر اور ہسٹیریا کا دورہ بشیر اول (ہمارا ایک بڑا بھائی ہوتا تھا جو ١٨٨٨ء میں فوت ہو گیا تھا) کی وفات کے چند دن بعد ہوا تھا۔ رات کو سوتے ہوئے آپ کو غش آیا اور پھر اس کے بعد طبیعت خراب ہو گئی مگر یہ دورہ خفیف تھا۔ پھر اس کے کچھ عرصہ بعد آپ ایک دفعہ نماز کے لئے باہر گئے اور جاتے ہوئے فرما گئے کہ آج کچھ طبیعت خراب ہو گئی ہے۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ تھوڑی دیر کے بعد شیخ حامد علی (حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا پرانا مخلص خادم تھا اب مر گیا ہے) نے دروازہ کھٹکھٹایا کہ جلدی پانی کی ایک گاگر گرم کر دو۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ میں سمجھ گئی کہ حضرت صاحب کی طبیعت خراب ہو گئی ہو گی۔ چنانچہ میں نے کسی ملازم عورت کو کہا

صفحہ ٢٥٥

کہ اس سے پوچھو میاں کی طبیعت کا کیا حال ہے۔ شیخ حامد علی نے کہا کہ کچھ خراب ہو گئی ہے۔ میں پردہ کرا کے مسجد میں چلی گئی تو آپ لیٹے ہوئے تھے۔ جب میں پاس گئی تو فرمایا کہ میری طبیعت بہت خراب ہو گئی تھی لیکن اب افاقہ ہے میں نماز پڑھ رہا تھا کہ میں نے دیکھا کہ کوئی کالی کالی چیز میرے سامنے سے اٹھی ہے اور آسمان تک چلی گئی ہے پھر میں چیخ مار کر زمین پر گر گیا اور غشی کی حالت ہو گئی۔“

(سیرت المہدی حصہ اول ص ١٦)

اس کے ساتھ ہی یہ عبارت بھی پڑھ لیجئے :

”ایک مدعی الہام کے متعلق اگر یہ ثابت ہو جائے کہ اس کو ہسٹیریا‘ مالنخولیا‘ مرگی کا مرض تھا تو اس کے دعویٰ کی تردید کے لئے پھر کسی اور ضرب کی ضرورت نہیں رہتی۔ کیونکہ یہ ایسی چوٹ ہے جو اس کی صداقت کی عمارت کو بیخ وبن سے اکھیڑ دیتی ہے۔“

(رسالہ ریویو بابت ماہ اگست ١٩٢٦ء ص ٧٦)

نتیجہ خود ہی نکال لیں۔ اگر کوئی اعتراض کرے کہ مرض ہسٹیریا (یعنی باؤگولہ) تو عورتوں کو ہوا کرتا ہے تو جواب یہ ہے کہ کتاب مخزن حکمت ج دوم ص ٦٦٩ پر لکھا ہے کہ اس مرض میں شاذونادر طور پر مرد بھی مبتلا ہو جاتے ہیں۔

اگر کوئی سوال کرے کہ مرض مراق‘ ہسٹیریا‘ مرگی‘ مالنخولیا‘ نبوت ورسالت کے کیوں منافی ہیں؟۔ تو جواب یہ ہے کہ : ”ان امراض میں مریض کو اپنے خیالات اور جذبات پر قابو نہیں رہتا۔“ (رسالہ ریویو بابت ماہ نومبر ١٩٢٩ء ص ٩‘ ریویو ج ٢٥ نمبر ٦‘ ریویو ج ٢٦ نمبر ٥ ص ٣٠) اور نبی کو جذبات پر پورا پورا قابو ہوتا ہے۔ (رسالہ ریویو ج ٢٦ نمبر ٥ ص ٣٠) اگر کوئی سوال کرے کہ کیا مراق مرض مالنخولیا کی ایک نوع ہے؟۔ تو جواب یہ ہے :

”مراق ایک قسم کا مالنخولیا ہے۔“

(کتاب مخزن حکمت ج ٢ ص ١٠٠٢‘ کتاب اصل بیاض نور الدین ج ٢ ص ٤١١)

واضح ہو کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو مندرجہ ذیل بیماریاں تھیں :

صفحہ ٢٥٦

نتیجہ

اس تمام بحث کا نتیجہ یہ نکلا کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کی بشارت یعنی آیت مقدسہ : ” ومبشرا برسول یاتی من بعدی اسمه احمد“ کے اصل اور حقیقی مصداق خاتم النبیین، رحمۃ اللعالمین، شفیع المذنبین، سید المرسلین، محمد مصطفیٰ، احمد مجتبیٰ ﷺ ہی ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی اس بشارت کے ہرگز مصداق نہیں ہیں۔ اور جو شخص حضور پرنور ﷺ کے سوا کسی اور شخص کو اس بشارت کا مصداق ۔ مانے وہ شخص حق سے دور ہے اور گمراہ ہے۔ اہل اسلام کو چاہئے کہ اس کتاب کا مطالعہ کریں اور قرآن مجید اور احادیث نبویہ کی رو سے جو دلائل پیش کئے گئے ہیں ان کو یاد کرلیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ جماعت مرزائیہ کو ہدایت نصیب ہو اور وہ باطل کو چھوڑ کر حق کو قبول کریں۔

خادم دین عاجز حبیب اللہ

صفحہ ٢٥٧

مرزا قادیانی نبی نہ

(ایک مناظرہ)

صفحہ ٢٥٨

عرض حال

الحمد للہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علیٰ خاتم النبیین وعلیٰ آلہ واصحابہ اجمعین

فرقہ مرزائیہ کے بانی مرزاغلام احمد قادیانی کی پیدائش ١٨٣٩ء میں ہوئی تھی۔ اور وفات ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو لاہور میں ہوئی تھی۔ مرزا غلام احمد نے محدث ، ملہم، مامور من اللہ، مجدد، رجل فارسی، مسیح موعود، امام مہدی، نبی، رسول، کرشن، اوتار وغیرہ کے تیس سے زائد دعویٰ کئے۔ مرزاغلام احمد قادیانی اور اس کے مریدوں نے بابیوں، بہائیوں کی طرح قرآن مجید کی آیات مبارکہ اور احادیث نبویہ کی باطل تاویلیں اور غلط معنے کر کے خدا کے بندوں کو بڑا دھوکہ دیا ہے۔ مجھے خدا تعالیٰ نے خاص دماغ اور خاص حافظہ عطا فرمایا اور اس باطل فرقے کی تردید کی توفیق عطا کی : ” ذالک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء واللہ ذوالفضل العظیم “ اس کتاب میں مرزائیت کے بانی مرزاغلام احمد قادیانی کے دعویٰ نبوت و رسالت کی تردید نقلی اور عقلی دلائل سے کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ خدا اس کتاب کو مرزائیوں کی ہدایت کا ذریعہ بنائے۔

خادم دین رسول اللہ ﷺ عاجز : حبیب اللہ کلرک محکمہ انہار امرتسر

مرزا قادیانی نبی نہ

گرمی کا موسم ہے اور گرمی شدت کی ہے۔ ابھی بارش کا آغاز نہیں ہوا ہے۔ شہر امرتسر کے مشرقی حصہ میں دروازہ مہاں سنگھ واقع ہے۔ دروازہ کے اندر داخل

صفحہ ٢٥٩

ہونے کے بعد ایک وسیع جگہ ہے۔ اس جگہ پہلے ایک بڑا کنواں ہوتا تھا اور یہ کنواں ١٩٠٨ء میں بند کیا گیا تھا۔ اس کو ”چوڑا چاہ“ کے نام سے پکارتے تھے۔ اس جگہ سے ایک بازار سیدھا کوتوالی کی طرف جاتا ہے اور دوسرا بازار بائیں طرف کوچہ غزنویہ کی طرف جاتا ہے۔ اس راستے کو یہاں کے رہنے والے لوگ ”کچی سڑک“ کے نام سے پکارتے ہیں۔ دوپہر کے وقت ایک جوان آدمی اس کچی سڑک پر جارہا ہے۔ اس کے دائیں ہاتھ میں لاٹھی ہے‘ سر پر ٹوپی ہے‘ آنکھوں پر عینک لگائے ہوئے ہے‘ چہرے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پنجاب کا باشندہ نہیں بلکہ اس کا وطن یوپی ہے۔ یہ جوان ایک مکان کے دروازے پر جاکر بلند آواز سے کہتا ہے: بابو صاحب! بابو صاحب!

دروازہ کھلتا ہے اور ایک بتیس سالہ جوان باہر آتا ہے۔ اس کا چہرہ گورے رنگ کا ہے‘ قد لمبا ہے‘ سر پر سفید پگڑی ہے‘ پاؤں میں سلیپر‘ سیاہ داڑھی ہے‘ اس کو دیکھ کر نو وارد آدمی بلند آواز سے کہتا ہے: بابو صاحب! السلام علیکم!

اس کے جواب میں دوسرے جوان نے کہا: وعلیکم السلام! گھر کے دروازے کے سامنے ایک چارپائی پر دونوں جوان بیٹھ گئے اور آپس میں کچھ مذہبی باتیں کرنے لگے۔ ان میں سے نو وارد آدمی مرزا غلام احمد قادیانی کے مریدوں میں سے ہے اور دوسرا جوان اہل سنت والجماعت حنفی المذہب ہے۔ ان کی گفتگو میں متانت اور نرمی ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے مرید کو ”قادیانی“ اور اس کے مخالف کو ”مسلمان“ کے نام سے لکھا جاتا ہے اور جو گفتگو ان دونوں کے در میان ہوئی اس کو ناظرین کی دلچسپی کے لئے ذیل میں درج کیا جاتا ہے:

مسلمان : حافظ صاحب آپ اور آپ کی جماعت اپنے مخالفوں کو کیا سمجھتی ہے؟۔

صفحہ ٢٦٠

قادیانی: حضرت خلیفہ (نام نہاد) دوم مرزا محمود نے کہا ہے کہ : ”ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں کیونکہ وہ خدا کے ایک نبی کے منکر ہیں۔“

(انوار خلافت ص ٩٠)

مسلمان: میں تو مرزا قادیانی کو نہ نبی مانتا ہوں نہ رسول۔ کسی دعویٰ میں ان کو سچا نہیں مانتا۔

قادیانی: آپ نے اب تک مرزا قادیانی کو خدا کا نبی اور رسول نہ مانا کیا آپ کے پاس اس انکار پر کوئی دلیل ہے؟۔

مسلمان: میرے پاس خدا کے فضل و کرم سے بہت دلائل ہیں۔ مگر اس وقت میں ایک نئی اور عجیب و غریب دلیل پیش کرتا ہوں۔

قادیانی: وہ نئی دلیل کیا ہے؟ بیان تو کیجئے۔ میں بھی سنوں۔

مسلمان: فرقہ مرزائیہ کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی نے خود تسلیم کیا ہے کہ : ”مجھے مراق کی بیماری ہے۔“ مراقی آدمی خدا کا نبی و رسول و ملہم نہیں ہو سکتا۔

قادیانی: احمدیہ لٹریچر میں ایسا کہیں نہیں لکھا ہے۔ اگر سچے ہو تو حوالہ پیش کرو۔

مسلمان: میرے پاس بہت حوالے ہیں ذرا غور سے سنئے :

آنحضرت ﷺ نے پیشگوئی کی تھی جو اس طرح وقوع میں آئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ مسیح آسمان پر سے جب اترے گا تو دو زرد چادریں اس نے پہنی ہوئی ہوں گی۔ تو

صفحہ ٢٦١

اسی طرح مجھ کو دو بیماریاں ہیں ایک اوپر کے دھڑ کی اور ایک نیچے کے دھڑ کی یعنی مراق اور کثرت بول۔“

(رسالہ تشحیذ الاذہان ج اول نمبر ٢ بابت ماہ جون ١٩٠٦ء ص ٥ اور اخبار بدر قادیان ج ٢ نمبر ٢٣

مورخہ ٧ جون ١٩٠٦ء ص ٥ کالم نمبر ٢‘ ملفوظات ص ٤٢٥ ج ٨)

بیماریوں میں ہمیشہ سے مبتلا رہتا ہوں تاہم آج کل کی مصروفیت کا یہ حال ہے کہ رات کو مکان کے دروازے بند کر کے بڑی بڑی رات تک بیٹھا اس کام کو کرتا رہتا ہوں۔ حالانکہ زیادہ جاگنے سے مراق کی بیماری ترقی کرتی ہے اور دوران سر کا دورہ زیادہ ہو جاتا ہے مگر میں اس بات کی پرواہ نہیں کرتا اور اس کام کو کئے جاتا ہوں۔“

(اخبار الحکم قادیان ج ٥

نمبر ٤٠ مورخہ ٣١ اکتوبر ١٩٠١ء ص ٦ کالم نمبر ١ اور کتاب منظور الٰہی (مرتبہ و شائع کردہ محمد منظور الٰہی مرزائی) ص

٣٤٨‘ ملفوظات ص ٣٧٦ ج ٢)

(رسالہ ریویو آف ریلیجنز ج ٢٤ نمبر ٤ بابت ماہ اپریل ١٩٢٥ء ص ٤٥)

کو مراق ہے۔“

(رسالہ ریویو آف ریلیجنز بابت ماہ اگست ١٩٢٦ء ص ٦)

سر‘ درد سر‘ کمی خواب‘ تشنج دل‘ بدہضمی‘ اسہال‘ کثرت پیشاب اور مراق وغیرہ کا صرف ایک ہی باعث تھا اور وہ عصبی کمزوری تھا۔“

(رسالہ ریویو آف ریلیجنز بابت ماہ مئی ١٩٢٧ء ج ٢٦ نمبر ٥ ص ٢٦)

قادیانی: ممکن ہے کہ مرض مراق سے مراد دوران سر کی بیماری ہو۔

مسلمان: مرزا غلام احمد قادیانی کو مراق بھی تھا اور دوران سر کی بیماری بھی تھی۔ بات یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو مندرجہ ذیل بیماریاں تھیں:

صفحہ ٢٦٢

(ضمیمہ اربعین نمبر ٣، ٤ ص ٤ خزائن ص ٧١ ج ١٧)

(رسالہ ریویو آف ریلیجنز ج ٢٥ نمبر ٨ ص ٦)

(اربعین نمبر ٣، ٤ ضمیمہ ص ٤ روحانی خزائن ص ٧١ ج ١٧)

(نسیم دعوت ص ٦٩ حاشیہ خزائن ص ٣٩ ج ١٩)

(فتح اسلام ص ٧ حاشیہ خزائن ص ٧ ج ٣)

(ریویو ج ٢٥ نمبر ٨ ص ٦)

(سیرت المہدی حصہ اول ص ١٣ نمبر ١٩)

(ضمیمہ اربعین نمبر ٣، ٤ ص ٤ خزائن ص ٧٠ ج ١٧)

حافظ صاحب! بتلائیے کہ خدا کے کسی نبی ورسول نے کبھی خود اقرار کیا کہ مجھے مراق ہے۔ قرآن وحدیث سے جواب دیجئے۔

قادیانی: قرآن مجید کی سورۃ یٰسین آیت نمبر ٣٠ میں ہے :

”يٰحسرۃ علی العباد ما یاتیھم من رسول الا کانوا بہ یستھزؤن“ بندوں پر افسوس کہ نہیں آیا ان کے پاس کوئی پیغمبر مگر تھے ساتھ اس کے استہزا کرتے۔

صفحہ ٢٦٣

سورۃ المومنون آیت نمبر ٧٠ میں ہے : ”ام یقولون بہ جنۃ“ یعنی مخالف کہتے ہیں کہ اس کو جنون ہے۔ قرآن مجید میں آیا ہے کہ آنحضرت ﷺ اور آپ سے پہلے نبیوں کو لوگوں نے ساحر، مسحور اور مجنون کہا۔

مسلمان : حافظ صاحب ! یہ تو بتلائیے کہ قرآن مجید میں یہ بھی کہیں آیا ہے کہ خدا کے کسی نبی و رسول نے کبھی خود اقرار کیا ہو کہ (معاذ اللہ) مجھ میں جنون ہے یا یہ کہ مجھے مراق کی بیماری ہے۔

قادیانی : قرآن مجید میں صرف اتنا آیا ہے کہ مخالفوں یعنی کافروں اور مشرکوں نے ایسا کہا۔ مگر یہ تو کسی آیت میں نہیں ہے کہ خدا کے کسی نبی و رسول نے خود ایسا ہونے کا اقرار کیا ہو۔

مسلمان : شاباش حافظ صاحب ! پس یہ بات خوب یاد رکھئے کہ دشمنوں کا کہنا اور بات ہے اور کسی مدعی نبوت و رسالت کا خود تسلیم کرنا کہ مجھے مراق کی بیماری ہے اور بات ہے۔ اب آپ سمجھے کہ میں نے کیا عرض کیا ہے ؟۔

قادیانی : طب کی رو سے مراق کی تشریح کیجئے۔

مسلمان : ” یونانی میں مراق اس پردے کا نام ہے جو احشاء الصدر کو احشاء البطن سے جدا کرتا ہے اور معدہ کے نیچے واقع ہوتا ہے اور فعل تنفس میں کام آتا ہے۔ پرانے سوء ہضم کی وجہ سے اس پردے میں تشنج سا ہو جاتا ہے بدہضمی اور اسہال بھی اس مرض میں پائے جاتے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس مرض میں تخیل بڑھ جاتا ہے۔ مرگی اور ہسٹیریا والوں کی طرح مریض کو اپنے جذبات اور خیالات پر قابو نہیں

صفحہ ٢٦٤

رہتا۔“ (رسالہ ریویو آف ریلیجنز ج ٢٥ نمبر ٨ بابت ماہ اگست ١٩٢٦ء ص ٦)

قادیانی: کیا مراقی آدمی نبی نہیں ہو سکتا؟ اگر نہیں ہو سکتا تو بتلائیے نبی اور مراقی میں کیا فرق ہے؟۔

مسلمان: حافظ صاحب بات یہ ہے کہ خدا کے نبی ورسول کو جنون، مرگی، مالیخولیا، مراق اور ہسٹیریا جیسی دماغی مرض نہیں ہو سکتی۔ خدا کا نبی اور رسول ان مرضوں سے پاک ہوتا ہے۔ جس مدعی نبوت ورسالت میں ان مرضوں میں سے ایک مرض بھی ہو وہ اپنے دعوؤں میں جھوٹا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے خود تسلیم کیا ہے کہ مجھے مراق کی بیماری ہے۔ پس مرزا قادیانی نہ نبی ہیں نہ رسول اور نہ ملہم۔

تھا۔“ (کتاب البریہ ص ٢٣٨، ٢٣٩ کے حاشیہ، خزائن ص ٢٧٤ ج ١٣ پر مرزا قادیانی نے یسوع مسیح علیہ السلام کے آسمان پر چلا جانے کی بابت لکھا ہے)

جب مراقی عورت کی بات قابل اعتبار نہیں تو مراقی آدمی کے دعوؤں کا کیا اعتبار ہو سکتا ہے؟۔

طرح مریض کو اپنے جذبات اور خیالات پر قابو نہیں رہتا۔“

(رسالہ ریویو آف ریلیجنز ج ٢٥ نمبر ٨ اگست ١٩٢٦ء ص ٦)

”نبی میں اجتماع توجہ بالارادہ ہوتا ہے جذبات پر قابو ہوتا ہے۔“

(رسالہ ریویو آف ریلیجنز ج ٢٦ نمبر ٥ مئی ١٩٢٧ء ص ٣٠)

قادیانی: میں تو قادیان سے کسی کام کے لئے امرتسر آیا تھا۔ دل میں خیال آیا کہ بابو حبیب اللہ کلرک دفتر نہر سے ملوں۔ آپ تو میرے پیچھے ایسے پڑے ہیں کہ اب چھوڑتے نہیں۔

صفحہ ٢٦٥

مسلمان: حافظ صاحب! اب اور سنئے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی بیوی کو بھی مراق کی بیماری تھی۔

قادیانی: اگر سچے ہو تو حوالہ بتاؤ۔ کس کتاب یا کس احمدی اخبار میں لکھا ہے

مسلمان مرزا قادیانی نے کہا: ”میری بیوی کو مراق کی بیماری ہے کبھی کبھی وہ میرے ساتھ ہوتی ہے کیونکہ طبی اصول کے مطابق اس کے لئے چہل قدمی مفید ہے۔“ (قادیانی اخبار الحکم قادیان ج ٥ نمبر ٢٩ مورخہ ١٠ اگست ١٩٠١ء ص ١٤ پر زیر عنوان ”حضرت اقدس گورداسپور میں“ کالم نمبر ٣)

قادیانی: یہ باتیں میں نے آج سنی ہیں۔ اس سے پیشتر ہمارے کسی مخالف نے مراق کی بیماری کے متعلق کچھ نہ لکھا۔ حالانکہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی‘ مولوی محمد صاحب لدھیانوی‘ مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری ایڈیٹر اخبار اہل حدیث وغیرہ نے ہمارے خلاف کتابیں‘ اخبار اور رسالے لکھے اور شائع کئے مگر جو کچھ آپ نے بیان کیا ہے یہ کسی نے نہ بیان کیا۔

مسلمان: بات یہ ہے کہ مولوی ابوالوفاء ثناء اللہ صاحب مدیر اخبار اہل حدیث امرتسر کی مہربانی سے مجھے اخبار بدر قادیان کا فائل بابت ١٩٠٦ء مطالعہ کے لئے ملا تھا۔ (٧ جون ١٩٠٦ء کے پرچہ ص ٥ کالم نمبر ٢) میں مراق کی بیماری کا ذکر آیا ہے۔

حافظ صاحب اب اور سنئے آپ کے موجودہ (نام نہاد) خلیفہ قادیان نے بھی تسلیم کیا ہے کہ مجھ کو بھی کبھی کبھی مراق کا دورہ ہوتا ہے۔

قادیانی: یہ کہاں لکھا ہے۔ حوالہ بتاؤ۔

مسلمان: ”حضرت خلیفۃ (نام نہاد) المسیح ثانی ایدہ اللہ بنصرہ (لعنہ

صفحہ ٢٦٦

اللہ) نے فرمایا کہ مجھ کو بھی کبھی کبھی مراق کا دورہ ہوتا ہے۔“

(رسالہ ریویو آف ریلیجنز ج ٢٥ نمبر ٨ بابت ماہ اگست ١٩٢٦ء ص ١١)

قادیانی : ”حضرت صاحب کو کبھی ہسٹیریا کا دورہ نہ ہوا تھا۔“

(رسالہ ریویو ج ٢٥ نمبر ٨ بابت ماہ اگست ١٩٢٦ء ص ٩)

مسلمان : مرزا غلام احمد قادیانی کو ہسٹیریا کا دورہ ہوا تھا۔

قادیانی : مرض ہسٹیریا یعنی بادگولہ تو عورتوں کو ہوا کرتا ہے۔

مسلمان : ”یہ مرض عموماً عورتوں کو ہوا کرتا ہے اگرچہ شاذونادر مرد بھی اس میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔“

(کتاب مخزن حکمت ج دوم (طبع چہارم) ص ٩٦٩)

قادیانی : اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ مرزا قادیانی کو ہسٹیریا کا دورہ پڑا تھا۔

مسلمان : مرزا غلام احمد قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر احمد ایم اے قادیانی مرزائی نے لکھا ہے کہ : ”مرزا قادیانی کو ہسٹیریا کا دورہ پڑا تھا۔“

(سیرت المہدی حصہ اول ص ١٣ نمبر ١٩)

قادیانی : کتاب سیرت المہدی کی اس روایت سے صرف اس قدر معلوم ہوا کہ آپ کو ہسٹیریا کا دورہ پڑا تھا لیکن اس کی کیا دلیل ہے کہ مرض ہسٹیریا نبوت و رسالت کے منافی ہے؟۔

مسلمان : (١)...... ”ایک مدعی الہام کے متعلق اگر یہ ثابت ہو جائے کہ اس کو ہسٹیریا، مالیخولیا، مرگی کا مرض تھا تو اس کے دعوے کی تردید کے لئے پھر کسی اور ضرب کی ضرورت نہیں رہتی کیونکہ یہ ایسی چوٹ ہے جو اس کی صداقت کی عمارت کو بیخ و بن سے اکھیڑ دیتی ہے۔“

(رسالہ ریویو آف ریلیجنز ج ٢٥ نمبر ٨ بابت ماہ اگست ١٩٢٦ء ص ٦، ٧)

صفحہ ٢٦٧

(رسالہ ریویو بابت ماہ نومبر ١٩٢٦ء ص ٩)

خیالات اور جذبات پر قابو نہیں رہتا اور تخیل بڑھ جاتا ہے۔“

(رسالہ ریویو ج٢٥ نمبر ٨ اگست ١٩٢٦ء ص ٥)

قادیانی: اب میں جاتا ہوں اور جو کچھ آپ نے بیان کیا یہ میرے لئے بالکل نئی باتیں ہیں ان پر غور کروں گا۔

PDF 268

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوۃ ﷺ

ملت اسلامیہ کی بین الاقوامی تنظیم ہے

جو حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے قائم فرمائی، مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ نے چار چاند لگائے اور شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ نے اس تحریک کو کامیابی سے ہمکنار کیا اور اب شیخ المشائخ حضرت مولانا خان محمد دامت برکاتہم کی قیادت میں قادیانیت کے خاتمہ کی مہم پر ہے۔

اغراض و مقاصد

اسلام کی دعوت و تبلیغ، ناموس ختم نبوت کی پاسبانی، قادیانی و قادیانی نوازوں کی سرکوبی، باطل قوتوں کا مقابلہ، مجلس کا عظیم اور مقدس مقصد ہے، قادیانیوں کے سرپرستانہ نظام کے پیش نظر مجلس تحفظ ختم نبوت کی ذمہ داریوں میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے۔ اندرون و بیرون ملک مجلس کے مبلغ، دفاتر، مدارس، مساجد ان ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کے لیے وقف ہیں مجلس کا سالانہ میزانیہ کئی لاکھ کا ہے ۔ لاکھوں روپے کا صرف لٹریچر اندرون و بیرون ملک تقسیم کیا جاتا ہے، جامع مسجد ربوہ، جامع مسجد کراچی اور دیگر شہروں میں مجلس کے تعمیری منصوبے تشنہ تکمیل تھے جبکہ لندن اور دوسرے ممالک میں بھی دفاتر قائم کیے جارہے ہیں ۔ اندرون و بیرون ملک قادیانیوں کے ساتھ مقدمات کی وجہ سے مجلس کی ذمہ داریاں بہت بڑھ گئی ہیں ختم نبوت کی خدمت اور مالی اعانت اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا ذریعہ ہے۔ آنجناب سے توقع رکھتے ہیں کہ آپ اس کارِ خیر میں ضرور شریک ہوں گے

واجركم على الله ۔ والسلام عليكم ورحمۃ اللہ فقیر خان محمد امیر مرکز، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوۃ، حضوری باغ روڈ ملتان پاکستان، فون ٤٠٩٧٨

PDF 269

نزول مسیح علیہ السلام

صفحہ ٢٧٠

عرض حال

الحمد للہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علیٰ خاتم النبین و علیٰ آلہ واصحابہ اجمعین .

اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے مجھ کو دین اسلام کا خادم بنایا اور مجھے خاص حافظہ و خاص ذہن عطا فرما کر تحریر و تقریر کے ذریعے دین کی خدمت کی توفیق دی۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے صوبہ پنجاب کے مختلف شہروں اور قصبوں میں میری تقریریں اور تحریریں مقبول ہوئیں۔ میری پہلی تصنیف ”عمر مرزا“ کے نام سے ایک رسالہ انجمن اہل سنت والجماعت گوجرانوالہ نے جون ١٩٢٤ء میں شائع کیا تھا۔ میری دوسری تصنیف رسالہ ”مراق مرزا“ ماہ اپریل ١٩٢٩ء میں دفتر اہلحدیث امرتسر سے شائع ہوا۔ میری تیسری تصنیف ”مرزائیت کی تردید بطرز جدید“ نامی کتاب ماہ دسمبر ١٩٣٢ء میں شائع ہوئی اور لوگوں میں مقبول ہوئی۔ میری چوتھی تصنیف ”حضرت مسیح علیہ السلام کی قبر کشمیر میں نہیں“ نامی کتاب ماہ فروری ١٩٣٣ء میں شائع ہوئی ہے اور پانچویں تصنیف ”بشارت احمد“ نامی جولائی ١٩٣٣ء میں چھپ گئی ہے۔ چھٹی تصنیف رسالہ واقعات نادرہ“ نامی نومبر ١٩٣٣ء میں شائع ہوئی۔ اب ساتویں ”نزول مسیح علیہ السلام“ کے نام سے ایک کتاب پیش کرتا ہوں۔ اس کتاب میں : ”وانہ لعلم للساعۃ (سورہ زخرف آیت نمبر ٦١)“ کی تفسیر کی گئی ہے۔ اور احادیث نبویہ اور حضرات صحابہؓ و تابعینؒ و مفسرینؒ کے اقوال سے حضرت مسیح عیسیٰ ابن مریم نبی اللہ علیہ السلام کا قیامت سے پہلے نازل ہونا ثابت کیا گیا ہے۔ ناظرین میری کتابوں کو پڑھ کر میرے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے دین کا سچا خادم بنائے۔ حبیب اللہ

صفحہ ٢٧١

پہلا باب

آیت کریمہ ”وانہ لعلم للساعة“ کی تفسیر

قرآن مجید کی آیات مقدسہ‘ احادیث صحیحہ نبویہ اور اقوال صحابہؓ و تابعینؒ سے عیسیٰ ابن مریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دوبارہ نازل ہونے پر کچھ لکھا جاتا ہے : ” وما توفيقي الا بالله عليه توكلت واليه انيب“

آیات قرآنی : اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

” ولما ضرب ابن مريم مثلا اذا قومك منه يصدون . وقالوا الهتنا خير ام هو ما ضربوه لك الا جدلا بل هم قوم خصمون . ان هو الا عبد انعمنا عليه وجعلناه مثلا لبنی اسرائيل . ولونشاء لجعلنا منكم ملائكة فی الارض يخلفون . وانه لعلم للساعة فلا تمترن بها واتبعون . هذا صراط مستقيم . (سورۃ الزخرف آیت ٥٧ تا ٦١)“

﴿اور جب حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ الصلوٰۃ والسلام مثال کے طور پر بیان کیا گیا۔ ناگہاں تیری قوم کے لوگ اس سے تالیاں بجاتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ ہمارے معبود بہتر ہیں۔ یا (حضرت) ابن مریم! تیری قوم کے لوگ اس بات کو تیرے واسطے بیان نہیں کرتے مگر جھگڑنے کو۔ بلکہ وہ لوگ جھگڑالو ہیں۔ نہیں (حضرت) مسیح علیہ السلام مگر ایک بندہ کہ جس پر ہم نے انعام کیا۔ اور ہم نے مسیح علیہ السلام ابن مریم کو قوم بنی اسرائیل کے واسطے نمونہ بنایا۔ اور اگر ہم چاہتے تو البتہ تم میں سے فرشتے کرتے کہ زمین میں جائے نشین ہوتے : ”وانہ لعلم للساعة“ اور تحقیق حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم البتہ قیامت کی نشانی ہے۔ پس قیامت کے ساتھ شک مت کرو۔ اور میری پیروی کرو۔ یہ سیدھی راہ ہے۔﴾

صفحہ ٢٧٢

نوٹ: ان آیات مقدسہ میں حضرت مسیح ناصری علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ہی ذکر خیر ہے۔ ضمیریں جو : ”منہ‘ ھو‘ ماضربوہ‘ علیہ‘ وجعلناہ“ میں آئی ہیں۔ سب حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ہی کی طرف پھرتی ہیں۔ پس سیاق و سباق اور قرائن کے لحاظ سے آیت مقدسہ : ” وانہ لعلم للساعۃ “ کا صحیح ترجمہ یوں ہے : ﴿اور تحقیق حضرت عیسیٰ ابن مریم البتہ قیامت کی نشانی ہے۔﴾ اس آیت مطہرہ کی صحیح تفسیر انشاء اللہ آگے چل کر لکھی جائے گی۔ پہلے قادیانی تفسیر ذیل میں درج کی جاتی ہے۔

دوسرا باب

اقوال مرزا قادیانی

کے متعلق یوں گوہر افشانی کی ہے : ”حق بات یہ ہے کہ انہ کا ضمیر قرآن شریف کی طرف پھرتا ہے۔ اور آیت کے یہ معنی ہیں۔ کہ قرآن شریف مردوں کے جی اٹھنے کے لئے نشان ہے۔ کیونکہ اس سے مردہ دل زندہ ہورہے ہیں۔ قبروں میں گلے سڑے ہوئے باہر نکلتے آتے ہیں۔ اور خشک ہڈیوں میں جان پڑتی جاتی ہے۔

(ازالہ اوہام ص ٤٢٤ خزائن ص ٣٢٢ ج ٣)

سيكون علما للساعة فالآية تدل على انه علم للساعة من وجه كان حاصلا له بالفعل لا ان يكون من بعد في وقت من اوقات والوجه الحاصل هو تولده من غير اب والتفصيل فى ذالك ان فرقة من اليهود اعنى الصدوقين كانوا كافرين بوجود القيامة فاخبر هم الله

صفحہ ٢٧٣

على لسان بعض انبيائه ان ابنا من قومهم يولد من غيراب وهذا يكون أيته لهم على وجود القيامة فالى هذا اشار فى آية وانه لعلم للساعة وكذالك فى آية ولنجعله آية للناس اى للصدوقين“

(حمامة البشریٰ ص٩٠ خزائن ص٣١٦ ج٧)

(٣)......”سيقول الذين لايتدبرون ان عيسى علم للساعة وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته ذالك قول سمعوا من الا باء وما تدبروه كالعقلاء مالهم لا يعلمون ان المراد من العِلم تولده من غيراب على طريق المعجزة كما تقدم ذكره فى الصحف السابقة“

(ضمیمہ حقیقت الوحی ص٤٩ خزائن ص٧٢٦ ج٢٢)

(٤)......حضرت مسیح کے متعلق جو قرآن شریف میں آیا ہے کہ : ”انه لعلم للساعة“ اس پر فرمایا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ حضرت مسیح، حضرت رسول کریم ﷺ کے آنے کی خوش خبری دینے والا ایک پیش خیمہ تھا۔ ساعت سے مراد ہے ایک عظیم الشان امر آئندہ آنے والا، یعنی مسیح کا ظہور اس بات کا نشان تھا کہ یہ اسرائیلیوں میں آخری نبی ہے اور اب خاتم النبیین اس کے بعد آئے گا۔“

(اخبار الحکم مورخہ ١٠ فروری ١٩٠١ء ص١١ ج ٥ نمبر ٥ اور رسالہ ملفوظات احمدیہ نئی ڈائری ١٩٠١ء ص ٧)

(٥)......”پھر کہتے ہیں کہ عیسیٰ کی نسبت ہے : ”انه لعلم للساعة“ جن لوگوں کی یہ قرآن دانی ہے ان سے ڈرانا چاہئے۔ کہ نیم ملاں خطرہ ایمان۔ اے بھلے مانسو کیا آنحضرت ﷺ علم للساعة نہیں ہیں۔ جو فرماتے ہیں کہ بعثت انا والساعة کہاتین اور خدا تعالیٰ فرماتا ہے : ”اقتربت الساعة وانشق القمر“ یہ کیسی بدبودار نادانی ہے۔ جو اس جگہ لفظ ساعة سے قیامت سمجھتے ہیں۔ اب مجھ سے سمجھو کہ ساعة سے مراد اس جگہ وہ عذاب ہے جو حضرت عیسیٰ کے بعد طیطوس رومی کے ہاتھ سے یہودیوں پر نازل ہوا تھا۔ اور خود خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں سورہ بنی اسرائیل

صفحہ ٢٧٤

میں اُس ساعت کی خبر دی ہے۔ اسی آیت کی تشریح اس آیت میں ہے کہ : ”مثلا لبنی اسرائیل“ یعنی عیسیٰ کے وقت سخت عذاب سے قیامت کا نمونہ یہودیوں کو دیا گیا اور ان کے لئے وہ ساعت ہو گئی۔ قرآنی محاورہ کی رو سے ساعۃ عذاب ہی کو کہتے ہیں۔ سو خبر دی گئی تھی کہ یہ ساعۃ حضرت عیسیٰ کے انکار سے یہودیوں پر نازل ہو گی۔ پس وہ نشان ظہور میں آگیا۔ اور وہ ساعۃ یہودیوں پر نازل ہو گئی۔ اور نیز اس زمانہ میں طاعون بھی ان پر سخت پڑی۔ اور در حقیقت ان کے لئے وہ واقعہ قیامت تھا۔ جس کے وقت لاکھوں یہودی نیست و نابود ہو گئے، ہزار ہا طاعون سے مر گئے۔ اور باقی ماندہ بہت ذلت کے ساتھ متفرق ہو گئے۔ قیامت کبریٰ تو تمام لوگوں کے لئے قیامت ہو گئی۔ مگر یہ خاص یہودیوں کے لئے قیامت تھی۔ اس پر ایک اور قرینہ قرآن شریف میں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ : ”انّہ لعلم للساعۃ فلا تمترن بھا“ یعنی اے یہودیو! عیسیٰ کے ساتھ تمہیں پتہ لگ جائے گا۔ کہ قیامت کیا چیز ہے اس کے مثل تمہیں دی جائے گی یعنی : ” مثلا لبنی اسرائیل“ وہ قیامت تمہارے پر آئے گی۔ اس میں شک نہ کرو۔ صاف ظاہر ہے کہ قیامت حقیقی جو اب تک نہیں آئی۔ اس کی نسبت غیر موزوں تھا کہ خدا کہتا کہ اس قیامت میں شک نہ کرو اور تم اس کو دیکھو گے۔ اس زمانہ کے یہودی تو سب مر گئے۔ اور آنے والی قیامت انہوں نے نہیں دیکھی۔ کیا خدا نے جھوٹ بولا۔ ہاں طیطوس رومی والی قیامت دیکھی۔ سو قیامت سے مراد وہی قیامت ہے۔ جو حضرت مسیح کے زمانہ میں طیطوس رومی کے ہاتھ سے یہودیوں کو دیکھنی پڑی۔“

(اعجاز احمدی ص ٢٠، ٢١ خزائن ص ١٢٩، ١٣٠ ج ١٩)

نوٹ : بڑے تعجب کی بات ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی (حمامتہ البشریٰ ص ٩٠ پر) آیت : ” انہ لعلم للساعۃ “ کے لفظ ”ساعۃ “ کے معنی ”قیامت“ کے کرتے ہیں۔ اور (اعجاز احمدی ص ٢١ خزائن ص ١٢٩ ج ١٩ پر) لکھتے ہیں :

صفحہ ٢٧٥

”یہ کیسی بد بو دار نادانی ہے۔ جو اس جگہ ساعۃ سے قیامت سمجھتے ہیں۔“ مرزا قادیانی نے سچ لکھا ہے۔ اور اپنی نسبت شکایت کی ہے کہ ”حافظہ اچھا نہیں، یاد نہیں رہا۔“

(ریویو ج ٢ نمبر ٤ ص ٥٣ حاشیہ اور نسیم دعوت ص ٦٩ حاشیہ خزائن ص ٤٣٩ ج ١٩)

مرزا قادیانی کے بیان کردہ چاروں معانی ایک دوسرے سے مختلف ہیں اصل میں بات وہی ہے۔ جو مرزا قادیانی نے اپنی نسبت خود تسلیم کی ہے کہ مجھے مراق کی بیماری ہے۔

(بدر مورخہ ٧ جون ١٩٠٦ء ص ٥‘ رسالہ تشحیذ الاذہان ج ١ نمبر ٢ ص ٥ ملفوظات ص ٤٤٥ ج ٨)

اور اس مرض مراق میں مریض کو اپنے جذبات اور خیالات پر قابو نہیں رہتا۔ (ریویو ج ٢٥ نمبر ٨ اگست ١٩٢٦ء ص ٦) حالانکہ نبی میں اجتماع توجہ بالارادہ ہوتا ہے۔ جذبات پر قابو ہوتا ہے۔

(ریویو ج ٢٦ نمبر ٥ مئی ١٩٢٧ء ص ٣٠)

تیسرا باب

سید سرور شاہ مرزائی کی تفسیر بالرائے

مسیح علامت ہے قیامت کے لئے‘ تو بھی نزول کہاں سے ثابت ہوگا۔ اور پھر بعض مفسرین نے کہا ہے کہ مسیح کی بے باپ ولادت دلیل قیامت ہے۔ ہزار ہا سال بعد ہونے والی بات دلیل کس طرح بن سکتی ہے۔ اور ہمارے نزدیک تو اس کے معنی آسان ہیں۔ کہ وہ مثیل‘ مسیح ساعت کا علم ہے۔“

(ضمیمہ اخبار بدر مورخہ ١٦ اپریل ١٩١١ء)

مثلاً...... الخ“ میری یہ تحقیق ہے کہ یہ مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے متعلق ہے۔“

(الفضل قادیان ٤ جنوری ٢٣ء ص ٢ کالم ٣)

فرماتا ہے جب مسیح بن مریم کو بطور مثال کے پیش کیا جاتا ہے۔ اور کہا جاتا ہے کہ اس کا

صفحہ ٢٧٦

مثیل آخری زمانہ میں آئے گا۔ تو مخالف لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں تو کہا جاتا ہے کہ خدا انسان میں حلول نہیں کر سکتا۔ مگر خود یہ کہا جاتا ہے۔ کہ مسیح کا بروز آئے گا۔“

(الفضل ٤ جنوری ١٩٢٤ء ص ٥)

نوٹ : سید سرور شاہ قادیانی نے جو تفسیر آیت : ”وانه لعلم للساعة “ کی یہ کی ہے کہ :

”مسیح کا مثیل آخری زمانہ میں آئے گا“۔

سو یہ مطلب اس آیت کا نہ تو حضرت رسول خدا ﷺ نے بیان فرمایا اور نہ آپ ﷺ کے کسی صحابیؓ نے بلکہ سید سرور شاہ کے پیرو مرشد کو بھی یہ تفسیر نہ سوجھی۔

سید محمد احسن امروہی کی تفسیر بالرائے

”دوستو! یہ آیت (یعنی آیت : ” وانه لعلم للساعة....... عدو مبین “) ٢٥ پارہ سورہ زخرف میں ہے۔ اور بالاتفاق تمام مفسرین کے حضرت عیسیٰ کے دوبارہ آنے کے واسطے ہے۔ اس میں کسی مفسر کو اختلاف نہیں۔ البتہ ان کے نزول ثانوی کے شانِ نزول میں اختلاف ہے.......اور ہم تسلیم کرتے ہیں۔ کہ اس آیت میں بالضرور مسیح محمدی (مرزا قادیانی) ہی کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے۔ .......چونکہ اس سورۃ میں مسیح محمدی (مرزا قادیانی) کے دوبارہ آنے کا ذکر بالاتفاق مفسرین کے ہے۔ اسی لئے اس کے زمانہ کی طرف ایک بڑے اشارہ لطیفہ کے ساتھ نشان دہی بھی کی گئی ہے۔ تاکہ مومن عبرت پکڑنے والے کو سورۃ کے نام سے ہی پتہ لگ جائے۔ کہ مسیح محمدی اس وقت آئے گا۔ کہ اس زخارف دنیوی کی ایسی کثرت اور ترقی اس آخر زمانہ میں ہو گی۔ کہ کبھی پہلے ویسی ترقی نہ ہوئی ہو گی۔

(اخبار الحکم مورخہ ٢٨ فروری ١٩٠٩ء ص ٢)

صفحہ ٢٧٧

نوٹ: مرزائی کے ”مسیح محمدی“ کے الفاظ سے مرزا غلام احمد قادیانی مراد ہیں۔ جن کو وہ مسیح موعود اور مثیل مسیح مانتے ہیں۔ اوپر کا اقتباس سید محمد احسن مرزائی امروہی کی اس تقریر کا ہے۔ جو اس نے ٢٧دسمبر ١٩٠٨ء کو سالانہ جلسہ پر کی تھی۔

کسی بھوکے سے پوچھا گیا تھا کہ دو اور دو کتنے ہوتے ہیں۔ اس نے جواب دیا کہ ”چار روٹیاں“ یہی حالت ان مرزائی مولویوں کی ہے۔ جو تفسیر بالرائے کی وعید سے نہ ڈرتے ہوئے آیت : ” وانه لعلم للساعة “ سے مرزا قادیانی کے آنے پر استدلال کرتے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہی سید محمد احسن مرزائی امروہی دسمبر ١٩٠٨ء سے کئی سال پہلے آیت مقدسہ کی تفسیر یوں کر چکے ہیں کہ :

”آیت دوم میں تسلیم کیا کہ ضمیر انه طرف قرآن مجید یا آنحضرت ﷺ کے راجع نہیں۔ حضرت عیسیٰ ہی کی طرف راجع ہے۔ تو اس کے ظاہری معنی یہی ہیں۔ کہ حضرت عیسیٰ کا بغیر باپ کے پیدا ہونا مفید ہے۔ علم ساعۃ کو یا حضرت عیسیٰ کا مردوں کو زندہ کرنا جو دلالت کرتا ہے اللہ کے احیاء موتیٰ پر قیامت میں دلیل و موجب علم ہے بعث و نشر قیامت کے وغیرہ وغیرہ۔“

(اعلام الناس حصہ دوم ص ٢٥)

دیکھئے کہ (اعلام الناس نامی کتاب حصہ دوم ص ٥ پر) آیت مقدسہ : ”وانه لعلم للساعة “ سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بغیر باپ کے پیدا ہونا یا آپ کا مردوں کو زندہ کرنا لکھا گیا ہے۔

چوتھا باب

قرآن مجید کی تفسیر کے اصول

اس زمانہ میں سرسید احمد خاں صاحب، عبداللہ چکڑالوی، مرزا غلام احمد قادیانی، میاں بشیر الدین محمود احمد خلیفہ جماعت قادیانی، محمد علی ایم اے امیر جماعت

صفحہ ٢٧٨

مرزائیہ لاہوریہ اور مولوی احمد الدین امرتسری نے اہل سنت والجماعت کے عقائد کے خلاف تفسیریں کی ہیں۔ اور ایسے معنی کئے ہیں۔ جو احادیث نبویہ اور اقوال صحابہؓ و تابعینؒ کے مطابق نہیں ہیں۔ اس لئے (تفسیر ابن کثیر ج اول ص ٤ تا ٧‘ تفسیر ترجمان القرآن بلطائف البیان ج اول ص ١٦‘ ١٧‘ ١٨ اے) ذیل میں قرآن مجید کی تفسیر کے اصول لکھے جاتے ہیں۔

بیان کرے۔ اس لئے کہ جو بات ایک جگہ قرآن میں مجمل آئی ہے۔ وہ دوسری جگہ تفصیل سے بیان کی گئی ہے۔

ہے۔ وہ ہر چیز پر مقدم ہے بلکہ وہی تفسیر ساری امت پر حجت ہے۔ اس کے خلاف ہر گز کھنا یا کرنا نہ چاہئے۔ اس کی پیروی سب پر واجب ہے۔ حضرت امام شافعیؒ نے کہا ہے۔ کہ حضرت رسول خدا ﷺ نے جو حکم دیا ہے۔ وہ قرآن سے سمجھ کر دیا ہے۔

حضرات صحابہؓ کے اقوال سے لینا چاہئے۔ اس لئے کہ انہوں نے احوال و قرائن اس وقت کے دیکھے بھالے ہیں۔ جس وقت نزول قرآن کے وہ حاضر و موجود تھے۔ فہم تام‘ علم صحیح‘ عمل صالح رکھتے تھے۔

میں نہ ملے تو اکثر علماء کا یہ قول ہے کہ تابعین کے قول کو لیوے۔

ہی سے کرے۔ پھر سنت مطہرہ سے‘ پھر قول صحابیؓ سے‘ پھر اجماع تابعینؒ سے‘ پھر لغت عرب سے‘ یہ پانچ مرتبے ہوئے۔ اپنی طرف سے ہر گز کوئی بات نہ کرے۔ اگرچہ اچھی ہی کیوں نہ ہو۔ رائے سے تفسیر کرنے والے کو جہنمی فرمایا ہے۔

صفحہ ٢٧٩

میں اپنی رائے سے یعنی عقل و قیاس سے یا جو بات وہ نہیں جانتا تھا۔ تو وہ شخص اپنی جگہ آتش دوزخ میں مقرر کرے۔ اس کو ترمذی نے حسن کہا ہے۔ نسائی اور ابو داؤد نے بھی روایت کیا ہے۔

(ترجمان القرآن ج اول ص ١٨)

مرزا قادیانی کے مقرر کردہ معیار

...... ہم قرآن کریم کی ایک آیت کے معنی کریں تو ہمیں دیکھنا چاہئے کہ ان معنوں کی تصدیق کے لئے دوسرے شواہد قرآن کریم سے ملتے ہیں یا نہیں......

(کتاب برکات الدعاء ص ١٣‘ ١٤‘ ١٥‘ خزائن ص ١٧ تا ١٩ ج ٦)

کہ سب سے زیادہ قرآن کریم کے سمجھنے والے ہمارے پیارے اور بزرگ نبی حضرت رسول اللہ ﷺ تھے۔ پس اگر آنحضرت ﷺ سے کوئی تفسیر ثابت ہو جائے تو مسلمان کا فرض ہے۔ کہ بلا توقف اور بلا دغدغہ قبول کرے۔ نہیں تو اس میں الحاد اور فلسفیت کی رگ ہو گی۔

صحابہؓ آنحضرت ﷺ کے نوروں کے حاصل کرنے والے اور علم نبوت کے پہلے وارث تھے۔ اور خدا تعالیٰ کا ان پر بڑا فضل تھا۔ اور نصرت الٰہی ان کی قوت مدرکہ کے ساتھ تھی کیونکہ ان کا نہ صرف قال بلکہ حال تھا۔

مسائل آپ اسقدر قائم کر دیئے ہیں کہ چنداں لغت عرب کی تفتیش کی حاجت نہیں۔

صفحہ ٢٨٠

الحمد للہ کہ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب (برکات الدعاء ص ١٣‘ ١٤‘ ١٥) پر اہل سنت کے مقرر کردہ معیاروں میں سے چار معیار تسلیم کر لئے ہیں۔ صرف تابعینؒ کی فرمودہ تفسیر کا ذکر نہیں کیا۔ باقی معیار اول‘ دوم‘ سوم‘ پنجم کو مانا ہے۔ بلکہ یہ بھی لکھا ہے۔ کہ ”تفسیر بالرائے سے نبی ﷺ نے منع فرمایا ہے۔ قرآن کی تفسیر کی‘ اور اپنے خیال میں اچھی کی‘ تب بھی اس نے بری تفسیر کی۔ (برکات الدعاء ص ١٤‘ ١٥ خزائن ص ١٩ ج ٦)

پانچواں باب

احادیث نبوی

حضرت مسیح علیہ السلام کا نزول قیامت کی نشانی

(١)...... ”حضرت حذیفہؓ بن اسید غفاری سے روایت ہے کہ ہم پر حضرت رسول خدا ﷺ نے جھانکا۔ اس حال میں کہ ہم آپس میں باتیں کرتے تھے۔ آپ نے ارشاد فرمایا تم کیا باتیں کرتے ہو۔ صحابہؓ نے عرض کیا کہ ہم قیامت کا ذکر کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا۔ قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک تم اس سے پیشتر دس نشانیاں دیکھو گے۔ پس آپ ﷺ نے ان نشانیوں کا ذکر کیا۔ دجال کا نکلنا‘ دابۃ الارض کا نکلنا‘ اور مغرب کی طرف سے سورج کا نکلنا‘ حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کا نازل ہونا‘ یا جوج ماجوج کا نکلنا‘ اور تین خسفوں کا ہونا‘ ایک خسف مشرق میں‘ ایک خسف مغرب میں‘ ایک عرب میں‘ اور وہ نشانی کہ سب کے بعد ہو گی‘ ایک آگ ہو گی۔ جو عدن کے پرلے کنارے سے نکلے گی۔ اور لوگوں کو زمین حشر کی طرف ہانکے گی۔“ (مسلم شریف

ج ٢ ص ٣٩٣ کتاب الفتن و اشراط الساعۃ‘ مشکوٰۃ ص ٤٧٢ کتاب الفتن باب علامات بین یدی الساعۃ و ذکر

الدجال‘ منتخب کنز العمال بر حاشیہ مسند احمد ج ٦ ص ٤٢‘ مسند احمد ج ٤ ص ٧‘ مظاہر حق ج ٤ ص ٤٤٨‘ کنز العمال

ج ١٤ ص ٢٦١ حدیث نمبر ٣٨٦٥٠)

(٢)...... ”عن ابن شہاب ان سعیدٍ بن المسیب سمع

صفحہ ٢٨١

ابوهريرة قال قال رسول الله ﷺ والذي نفسي بيده ليوشكن ان ينزل فيكم ابن مريم حكما عدلا فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الحرب ويفيض المال حتى لا يقبله احد حتى تكون السجدة والواحدة خير من الدنيا وما فيها ثم يقول ابو هريرة واقرؤا ان شئتم وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته ويوم القيمة يكون عليهم شهيداً “ (صحیح بخاری شریف ج ١ ص ٤٩٠ صحیح مسلم ج ١ ص ٨٧‘ فتح الباری پارہ ١٣ ص ٢٨١‘ عمدۃ القاری ج ٧ ص ٤٥١‘ ارشاد الساری ج ٥ ص ٤١٨‘ ٤١٩‘ مشکوٰۃ باب نزول عیسیٰ السلام ص ٤٧٩‘ مظاہر حق ج ٤ ص ٣٧٦)

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ فرمایا حضرت رسول خدا ﷺ نے قسم ہے اس خدا کی کہ میری جان اس کے ہاتھ میں ہے۔ تحقیق تم میں نازل ہونگے۔ حضرت ابن مریم علیہ السلام اس حال میں کہ وہ حاکم عادل ہونگے۔ پس صلیب کو توڑ دیں گے۔ اور قتل کریں گے سور کو۔ اور جنگ کو بند کردیں گے۔ (اور مسلم میں ہے کہ جزیہ رکھ دیں گے) اور بہت مال ہوگا یہاں تک کہ ایک سجدہ بہتر ہوگا دنیا سے اور ہر چیز سے کہ دنیا میں ہے۔ پھر حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں۔ پس پڑھ لو اگر تم چاہو (یہ آیت کہ) اور نہیں کوئی اہل کتاب میں مگر یہ کہ البتہ ضرور ایمان لاوے گا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مرنے کے پہلے اور وہ ان پر دن قیامت کے گواہ ہوگا۔

بيده ليهلن ابن مريم بفج الروحاء حاجا او معتمرا او ليثنيهما“

(صحیح مسلم شریف ج اول ص ٤٠٨ کتاب الحج باب جواز التمتع فی الحج والقرآن)

حضرت ابو ہریرہؓ حضرت نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم علیہ السلام نے فرمایا۔ مجھے اس خدا کی قسم ہے کہ جس کے دست قدرت میں میری جان ہے البتہ ضرور گزرے گا ابن مریم علیہ السلام روحاء کے راستے سے حج کرتے

صفحہ ٢٨٢

ہوئے یا عمرہ کرتے ہوئے یا دونوں۔ ﴾

(نیز دیکھو کنز العمال ج ١١ ص ٥٠٣ حدیث ٣٢٣٥٢ و مسند احمد ج دوم ص ٢٧٢)

(٤).......”ابو یعلیٰؒ نے حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے حضرت رسول خدا ﷺ کو یوں فرماتے سنا ہے کہ قسم ہے اس ذات پاک کی کہ جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ کہ ضرور حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام اتریں گے پھر میری قبر پر کھڑے ہو کر پکاریں گے۔ کہ اے محمد ﷺ ! تو میں ضرور ان کو جواب دونگا۔“ (کتاب انتباہ الاذکیا فی حیاۃ الانبیاء ص ٥٤ مجمع الزوائد ج ٨ ص ٢١٤ الحاوی ج ٢ ص ١٦٣ روح المعانی تفسیر آیت خاتم النبیین ج ٢٢ ص ٣٣‘ التصریح ص ٢٤٤ طبع مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان)

نوٹ: اگر کوئی مرزائی یہ کہے کہ آنے والے ابن مریم علیہ السلام سے حدیث میں مسیح ناصری مراد نہیں ہو سکتا بلکہ کوئی اور ہے۔ کیونکہ مسیح ناصری فوت ہو چکے ہیں۔ بلکہ ابن مریم علیہ السلام سے مراد کوئی اور ابن مریم علیہ السلام ہے۔ جس کو بوجہ مشابہت تامہ ہونے کے ابن مریم کا نام دیا گیا ہے۔ کیونکہ عربی زبان کا قاعدہ ہے کہ دو چیزوں میں مشابہت کے پا جانے سے مشبہ کو مشبہ بہ کا نام دیدیا کرتے ہیں۔ اور مرزا غلام احمد قادیانی وہ مسیح موعود ہیں۔ (رسالہ تشحیذ الاذہان بابت ماہ اگست ١٩٢٠ء ص ١٦‘ ٢١‘ ٣٠ کا خلاصہ) تو اس کا جواب یہ ہے کہ احادیث (مندرجہ صحیح بخاری ج ١ ص ٤٩٠‘ صحیح مسلم ج ١ ص ٨٧‘ صحیح مسلم ج ١ ص ٢٠٨‘ وانتباہ الاذکیا ص ٥٤) میں الفاظ : ”والذی نفسی بیدہ“ ﴿قسم ہے اس خدا کی جس کے دست قدرت میں میری جان ہے﴾ اور قسم صاف بتاتی ہے کہ یہ خبر ظاہری معنوں پر محمول ہے۔ نہ اس میں کوئی تاویل ہے و نہ استثناء ہے۔ ورنہ قسم میں کونسا فائدہ ہے؟۔ چنانچہ اس امر کو مرزا قادیانی ان الفاظ میں تسلیم کرتے ہیں :

آنحضرت ﷺ کے ایسے ارشاد کا کب خلاف ہو سکتا ہے جو وحی الٰہی ہے اور مؤکد بہ حلف ہو اور قسم صاف بتاتی ہے کہ یہ خبر ظاہری معنوں پر محمول ہے نہ اس میں

صفحہ ٢٨٣

کوئی تاویل ہے اور نہ استثناء اور نہ قسم میں کونسا فائدہ۔

(حمامتہ البشریٰ مترجم ص ٤١، ٤٢ حاشیہ خزائن ص ١٩٢ ج ٧)

(٥)......”قال ابن عباسؓ قال رسول الله ﷺ فعند ذالك ينزل اخي عيسىٰ ابن مريم من السماء على جبل افيق اماما هاديا وحكما عادلاعليه برنس له مربوع الخلق اصلت سبط الشعر بيده حربة يقتل الدجال فاذا قتل لدجال يضع الحرب وزارها فكان السلم فليقى الرجل الاسد فلا يهيجه وياخذالحية فلا تضره وتنبت الارض كنبا تها على عهد أدم يومن به اهل ارض ويكون الناس اهل ملة واحدة ٠ ( روایت کیا اس کو اسحاق بن بشیرو ابن عسا کرنے نیز دیکھو حجج الکرامه ص ٤٢٣)“

(کنز العمال ج ١٤ ص ٦١٩ حدیث ٣٩٧٢٦، کتاب منتخب کنز العمال بر حاشیہ مسند احمد ج ٦ ص ٥٦)

نوٹ نمبر ١ : اس حدیث نبوی میں ”آسمان“ کا لفظ موجود ہے۔ اس سے مرزا قادیانی کا یہ قول کہ ”اس قوم پر سخت تعجب ہے کہ نزول مسیح سے یہی خیال کرتی ہے کہ وہ آسمان سے اترے گا اور آسمان کا لفظ اپنی طرف سے ایزاد کر دیتے ہیں اور کسی حدیث میں اس کا کوئی اثر و نشان نہیں ۔“ (حمامتہ البشریٰ ص ٨١ حاشیہ، خزائن حاشیہ ص ١٩٢ ج ٧) ہاں بعض احادیث میں عیسیٰ بن مریم کے نزول کا لفظ پایا جاتا ہے لیکن کسی حدیث میں یہ نہیں پاؤ گے کہ اس کا نزول آسمان سے ہو گا۔ (خزائن ص ٢٠٢ ج ٧، حمامتہ البشریٰ ص ٢١) سراسر غلط ٹھہرا۔

صفحہ ٢٨٤

چھٹا باب

تفسیر صحابہؓ

حضرت ابن عباسؓ کی تفسیر

ذیل میں آیت مقدسہ: ”وانه لعلم للساعة“ کی صحیح تفسیر جو حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے مروی ہے درج کی جاتی ہے۔ اور ناظرین پر واضح ہوگا کہ حضرت ابن عباسؓ قرآن کریم کے سمجھنے میں اول نمبر والوں میں سے ہیں اور اس بارے میں ان کے حق میں آنحضرت ﷺ کی ایک دعا بھی ہے۔

(ازالہ اوہام ص ٢٤٧ خزائن ص ٢٢٥ ج ٣)

معنی یہ بیان فرمائے کہ یہ قیامت سے پیشتر حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم کا آنا ہے۔“

(مسند احمد ج اول ص ٣١٨‘ ٣١٧‘ ابن کثیر ج ٩ ص ١٤٤‘ درمنثور ج ٦ ص ٢٠‘ فتح البیان ج ٨ ص ٣١١‘ ٣١٢‘

ترجمان القرآن ج ١٣ ص ٦٦ مواہب الرحمٰن پارہ ٢٥ ص ١٤٤‘ مستدرک حاکم ج ٢ ص ٤٤٨)

کی تفسیر یہ کی۔ کہ قیامت سے پیشتر حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم نازل ہوں گے۔“

(تفسیر ابن جریر ج ٢٥ ص ٤٨‘ ٤٩ کا خلاصہ)

ابی حاتم و طبرانیؒ نے حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت کی ہے کہ: ”وانه لعلم للساعة“ کے معنی قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آنا ہے۔“

(تفسیر درمنثور ج ٦ ص ٢٠)

عيسىٰ عليه السلام قبل يوم القيامة“ حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ اس

صفحہ ٢٨٥

آیت : ”وانہ لعلم للساعة“ کے معنی یہ ہیں قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام خروج کریں گے یعنی نکلیں گے۔“

(نظام الدین مرزائی کی کتاب المسیح الموعود والامام المہدی المسعود حصہ اول ص ٤٠)

ان مندرجہ بالا چار تحریروں سے یہ بات روزِ روشن کی طرح ظاہر ہوتی ہے کہ حضرت سید المفسرین عبداللہ بن عباسؓ کا یہی مذہب تھا کہ آیت : ”وانہ لعلم للساعة“ مراد قیامت سے پیشتر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آنا ہے۔“

حضرت ابو ہریرہؓ کی تفسیر

کہ : ”وانہ لعلم للساعة“ سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آنا ہے وہ زمین میں چالیس سال رہیں گے۔“

(تفسیر در منثور ج ٦ ص ٢٠)

وانہ لعلم للساعة“ سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آنا لیتے ہیں۔

(کتاب المسیح الموعود والامام مہدی المسعود حصہ اول ص ٤٠، ٤١)

ساتواں باب

اقوال تابعین

اب میں ذیل میں تابعین میں سے حضرت حسن بصریؒ، حضرت مجاہدؒ، حضرت قتادہؒ، حضرت ضحاکؒ، حضرت ابن زیدؒ کا مذہب درج کرتا ہوں :

مریم علیہ السلام کا نازل ہونا ہے۔

(تفسیر ابن جریر جز ٢٥ ص ٩٠ در منثور ص ١٢٠ ج ٦)

صفحہ ٢٨٦

قیامت سے پہلے آنا علامت ہے قیامت کی۔

(ابن جریر ج ٢٥ ص ٩٠‘ درمنثور ص ٢٠‘ ج ٦)

ہے کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم آئیں گے اور قیامت سے پہلے آسمان سے نازل ہوں گے۔

(ابن جریر ج ٢٥ ص ٩١)

نازل ہونا قیامت کی نشانی ہے۔

(ابن جریر ج ٢٥ ص ٩١ و درمنثور ج ٦ ص ٢٠)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا ہے۔

(ابن جریر ج ٢٥ ص ٩١)

آٹھواں باب

حافظ ابن کثیرؒ کا فیصلہ

”قول صحیح یہ ہے کہ ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف پھرتی ہے۔ اس لئے سیاق کلام انہیں کے ذکر میں ہے پھر مراد اس سے ان کا نزول ہے قبل قیامت کے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور نہیں کوئی اہل کتاب میں سے مگر البتہ ایمان لائے گا ساتھ اس کے پہلے موت اس کی‘ کے یعنی موت عیسیٰ کی‘ کے اور دن قیامت کے ہو گا عیسیٰ ان پر گواہی دینے والا اس معنی کی مؤید دوسری قرات وانہ لعلم للساعة ہے۔ یعنی وہ علامت و نشانی و دلیل ہے قیامت کے وقوع پر‘ مجاہدؒ نے فرمایا یعنی نشانی ہے واسطے قیامت کے خروج حضرت عیسیٰ ابن مریم کا قبل روز قیامت کے‘ اور اسی طرح حضرت ابو ہریرہؓ ‘ حضرت ابن عباسؓ ‘ وابو العالیہ وابو مالک وعکرمہ ‘ حضرت حسنؓ و قتادہ و ضحاکؒ سے بھی مروی ہے رسول اللہ ﷺ سے حدیثوں سے تواتر ہوا ہے اس بات پر کہ آپ ﷺ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی خبر دی ہے قبل روز قیامت کے‘

صفحہ ٢٨٧

کہ وہ امام عادل و حکم مقسط ہو کر نازل ہوں گے۔“

(تفسیر ابن کثیر مع البغوی ج ٩ ص ٤٠٨‘ ترجمان القرآن ج ١٤ ص ٦٢‘ مواہب الرحمن ج ٢٥ ص ١٤٥)

نواں باب

مفسرین کے اقوال

اب ذیل میں حضرات مفسرین اہل سنت والجماعت کے اقوال درج کئے جاتے ہیں :

من علامات القيامة كما جاء فى الحديث انا اولى الناس بعيسىٰ ليس بينى وبينه نبى وانه نازل يكسر الصليب ويقتل الخنزير ويقاتل الناس على الاسلام“

(تفسير غرائب القرآن ج ٢٥ ص ٢٤)

على عيسىٰ اذ الظاہر فى الضمائر السابقة انها عائدة عليه وقال ابن عباس و مجاہد وقتادة والحسن والسدی والضحاك وابن زيد ای وان خروجه لعلم للساعة يدل على قرب قيامها اذ خروجه شرط من اشراطها وهو نزوله من السماء فى آخرالزمان“

(بحرالمحيط ج ٨ ص ٢٥)

على عيسىٰ اذا الظاہر فى عائدة عليه وقراء ابن عباس وجماعة لعلم اى لعلامة للساعته يدل على قرب ميقاتها اذ خروجه شرط من اشراطها وهو نزوله من السماء فى آخرالزمان“

(النهر الماد ج ٨ ص ٢٤)

صفحہ ٢٨٨

بنزوله شرط من اشراطها“

(روح المعانی جزء ٢٥ ص ٨٧)

الزمان (لعلم للساعة) شرط من اشراطها يعلم به قربها“

(روح البیان ج ٣ ص ٥٨٢)

نزوله سبب للعلم بقرب الساعة التى تعم الخلائق كلهم بالموت فنزوله من اشراط الساعة يعلم به قربها“

(سراج منیر ج ٣ ص ٥٧٠)

اى بنزوله يعلم قيامة الساعة“

(کتاب الوجیز ج ٢ ص ٢٧٨)

اشراط الساعة والمعنى ان نزول عيسىٰ من السماء علامة على قرب الساعة “

(مراح لبید ج ٢ ص ٢٧٨)

نزول عيسىٰ يدل على قرب القيٰمة و ذالك لان اكثر المفسرين على ان الضمير (وانه) راجع الى عيسىٰ المذكور سابقاً“

(التفسیر الاحمدیہ ص ٦٥٢)

(جامع البیان جزء ٢٥ ص ٩٠)

بنزوله والمعنى وان نزوله علامة على قرب الساعة “

(فتوحات الٰهیہ ج ٤ ص ٩٥)

من اشراطها يعلم به فسمی الشرط علما لحصول العلم به و قراء

صفحہ ٢٨٩

ابن عباس لعلم وهو العلامة"

(کشاف ج ٤ ص ٢٦١ طبع بیروت زیر آیت لعلم للساعة)

(١٣)......" (وانه) يعنى عيسى عليه السلام (لعلم للساعة) يعنى نزوله من اشراط الساعة يعلم به قربها"

(خازن ج ٤ ص ١١٦)

(١٤)......" (وانه لعلم للساعة) وان عيسى مما يعلم به مجيئ الساعة و قرا ابن عباس لعلم للساعة وهو العلامة اى وان نزوله لعلم للساعة"

(مدارک التنزیل ج ٤ ص ١٠٩)

(١٥)......" ( قوله وانه لعلم للساعة) اى نزوله علامة على قرب الساعة"

(الجزء الرابع حاشية العالم علامة بالله تعالى الشيخ احمد الصاوى المالكى على تفسير الجلالين ص ٤٤)

(١٦)......"(وانه) الضمير لعيسى عليه السلام (لعلم) وقرى لعلم بفتح العين واللام (للساعة) فعلى الاولى علم يعلم بنزوله قرب الساعة وعلى الثانية علامة على الاخرى"

(تاج التفاسیر ج ٢ ص ١٤١)

(١٧)......" ( وانه ) عيسى عليه السلام ( لعلم الساعة ) اى علامة القيامة وقال الله تعالى وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته اى قبل موت عيسى بعد نزوله عند قيام الساعة فيصير الملل واحدة وهى ملة الاسلام الحنيفة"

(شرح فقه اكبر المعروف به شرح ملا على قارى ص ١٣٦)

(١٨)......"(وانه) وان عيسى عليه السلام (لعلم للساعة) اى انه بنزوله شرط من اشراطها"

(ابى السعود ج ٨ ص ٥٢)

(١٩)......"(وانه) وان عيسى عليه السلام (لعلم للساعة) لان حدوثه او نزوله من اشراط الساعة يعلم به دنوها ولان احياء الموتى يدل على قدرة الله تعالى عليه"

(بیضاوی ج ٢ ص ٢٨٤)

(٢٠)......" (وانه) يعنى عيسى عليه السلام ( لعلم للساعة)

صفحہ ٢٩٠

يعنى نزوله من اشراط الساعة يعلم به قربها“

(معالم التنزيل ج٤ ص٥٠)

(٢١).......” ان عیسیٰ عليه السلام لم يمت بل يموت فى آخر الزمان ويؤمن به كل اهل الكتاب وقد ذكر الله تعالى فى كتابه ان نزوله الى الارض من علامات الساعة قال الله تعالى وانه لعلم للساعة وقال الامام ابن كثير فى تفسيره الصحيح ان الضمير عائد الى عيسىٰ فان السياق فى ذكره وان المراد نزوله قبل يوم القيامة كما قال تعالى وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته اى قبل موت عيسىٰ“

(عون المعبود شرح سنن ابی داؤد ج٤ ص٢٠٣)

(٢٢).......”وفى التنزيل فى صفته عيسىٰ صلوات الله على نبينا وعليه وانه لعلم للساعة وهى قرأة اكثر القراء وقرء بعضهم وانه لعلم للساعة المعنى ان ظهور عيسى و نزوله الى الارض علامة تدل على اقترب الساعة “

(لسان العرب ج١٥ ص٣١٤)

(٢٣).......”وان عيسىٰ لعلم للساعة اى شرط من اشراطها تعلم به فسمى الشرط الدال على الشئ علما لحصول العلم به و قرأ ابن عباس لعلم وهو العلامة و قرى للعلم وقراء أبى الذكر وفى الحديث ان عيسىٰ ينزل على ثنية فى الارض المقدسة يقال لها افيق وبيده حربة وبها يقتل الدجال فيأتى بيت المقدس والناس فى صلاة الصبح والامام يؤم بهم فيتا اخرالامام فيقدمه عيسىٰ ويصلى خلفه على شريعة محمد ﷺ ثم يقتل الخنازير ويكسر الصليب ويخرب البيع والكنائس ويقتل النصارى الا من آمن به “

(مفاتیح الغیب ج٢٧ ص٢٠٧)

(٢٤).......”(وانه لعلم للساعة) قال مجاهد والضحاك

صفحہ ٢٩١

والسدی وقتادة ان المراد المسيح وان خروجه ای نزوله مما يعلم به قيام الساعة اى قربها لكونه شرطا من اشراطها لان الله سبحانه ينزله من السماء قبيل قيام الساعة“

(فتح البیان ج ٢ ص ٢١٢)

(٢٥)...... ”وانه“ اور تحقیق وہ عیسیٰ علیہ السلام :”لعلم للساعة“ البتہ علم ہے واسطے قیامت کے کہ نزدیک ہونا قیامت کا اس سے جانا جائے گا۔ اس واسطے کہ اترنا اس کا آسمان سے قیامت کے نزدیک ہونے کی علامتوں میں سے ہے۔

(اہل تشیع کی تفسیر عمدۃ البیان ج ٢ ص ٤٢٢)

(٢٦)...... امام عبدالوہاب شعرانی لکھتے ہیں: ”اگر تو سوال کرے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول پر کیا دلیل ہے تو جواب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول پر دلیل اللہ تعالیٰ کا قول: ”وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته “ ہے یعنی جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے تو اہل کتاب ان پر جمع ہوں گے اور انکار کیا معتزلہ اور فلاسفہ اور یہود اور نصاریٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جسم کے ساتھ آسمان پر جانے سے اور کہا اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں: ”وانه لعلم للساعة“ اور لفظ علم کو عین کی زبر کے ساتھ پڑھا گیا ہے۔ اور ضمیر بیچ ”انه“ کے راجع ہے طرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے، اور حق بات یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے جسم سمیت آسمان کی طرف اٹھائے گئے ہیں۔ اور اس کے ساتھ ایمان لانا واجب ہے کما اللہ تعالیٰ نے: ” بل رفع الله اليه“ بلکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی طرف اٹھا لیا۔“

(کتاب الیواقیت والجواہر فی بیان عقائد الاکابر ج دوم مبحث ٦٥ ص ١٤٦)

(٢٧)...... ” (وانه لعلم للساعة) فيه نزول عيسى قربها روى الحاكم عن ابن عباس فی قوله وانه لعلم للساعة قال خروج عيسى عليه السلام “

(اکلیل بر حاشیہ جامع البیان ص ٣٥٩)

صفحہ ٢٩٢

(٢٨)...... ”(وانه لعلم للساعة) و قرى (لعلم) بالتحريك اى امارة دليل على اقتراب الساعة و ذالك لانه ينزل بعد خروج المسيح الدجال فيقتله الله على يديه كما ثبت في الصحيح ان الله ما انزل داء الا انزل له شفاء“

(تفسیر ابن کثیر ج سوم ص ٢٣)

(٢٩)...... ”(وانه لعلم للساعة) اى ان عيسى عليه السلام مما يعلم به القيامة الكبرى وذلك ان نزوله من اشراط الساعة “

(عرائس البیان ج ٢ ص ٣٦٢)

(٣٠)...... ”باب هفتم دربیان نزول حضرت روح الله عيسىٰ ابن مريم عبداللّٰه وكلمته عليه السلام وایں یکے از اشراط قريبه قيام ساعت قال تعالى وان اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته وقال تعالى وانه لعلم للساعة فلا تمترن بها“

(حجج الکرامہ ص ٤٢٢)

(٣١)...... ”(وانه) اى عيسىٰ (لعلم للساعة) تعلم بنزوله“

(تفسیر جلالین ص ٤٠٩)

(٣٢)...... ”(وانه لعلم للساعة) اى من اشراطها ينزل بقربها“

(تفسیر صمیم الرحمان و تفسیر المنان ج ٢ ص ٢٥٧)

(٣٣)...... ”وانه لعلم للساعة فلا تمترن بها“ یعنی عیسیٰ قیامت کے لئے علم ہے کہ ان کے سبب سے قیامت کا نزدیک اور قریب ہونا جانا جائے گا کیونکہ قیامت کی علامت میں سے ایک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نزول کرنا ہے۔

(معظم التفاسیر حصہ ٥ ص ٣١٨)

(٣٤)...... (اور البتہ عیسیٰ جو ہے تو قیامت کی ایک نشانی ہے) اور نیز وہ قیامت کی نشانی ہے کہ قریب قیامت کے دنیا پر اترے گا جیسا کہ احادیث صحیحہ میں آیا ہے۔

(فتح المنان ج ششم ص ٤٢٣)

صفحہ ٢٩٣

(٣٥)....... ”ثم رجع سبحانہ الی ذکر عیسیٰ فقال (وانہ لعلم للساعة) یعنی ان نزول عیسیٰ من اشراط الساعة یعلم بھا قربھا (فلاتمترن بھا) ای بالساعة فلاتکذبوا بھا ولا تشکوا فیھا“

(تفسیر مجمع البیان ج٢ ص٣٣٢ یہ تفسیر اہل تشیع کی ہے)

(٣٦)....... ”وانہ“ اور بیشک عیسیٰ علیہ السلام : ”علم للساعة“ علم ہے ساعت کے واسطے یعنی ان کے سبب سے جانو گے کہ قیامت نزدیک ہے اس واسطے کہ قیامت کی علامات میں سے ایک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اترنا ہے۔“

(تفسیر قادری ج٢ ص٤٠٨)

حضرات مفسرین رحمۃ اللہ علیہم اجمعین کے اقوال سے بھی یہی امر ثابت ہوتا ہے کہ آیت : ” وانہ لعلم للساعة “ کی تفسیر یہ ہے کہ قیامت کی علامتوں میں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم کا نازل ہونا بھی ہے۔

دسواں باب

قادیانی مغالطوں کا جواب

آیت مقدسہ : ” وانہ لعلم للساعة “ کی تفسیر صحیح لکھنے کے بعد اب ذیل میں مرزائیوں کے مغالطوں کا جواب درج کیا جاتا ہے :

قادیانی : ” بعض علماء اور بعض مفسرین یہ بھی کہتے ہیں کہ آیت : ”وانہ لعلم للساعة “ مسیح کے حق میں ہے اور وہ اس کا مفہوم یہ بتاتے ہیں کہ مسیح قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشان ہے۔ بنابریں وہ مانتے ہیں کہ ان کا نزول قیامت کے قریب ہوگا لیکن ہمارے نزدیک یہ بات بالکل قابل تسلیم نہیں۔

(عسل مصفیٰ حصہ اول ص ٤٩٣)

صفحہ ٢٩٤

مسلمان : حضرت امام عبدالوہابؒ شعرانی لکھتے ہیں کہ : ”اگر تو سوال کرے کہ عیسیٰ کے نزول پر کیا دلیل ہے تو جواب یہ ہے کہ مسیح کے نزول پر دلیل یہ آیت ہے : ” وان من اھل الکتب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ “ یعنی جب مسیح نازل ہو گا اور لوگ اس پر اکٹھے ہوں گے اور معتزلہ وفلاسفہ و یہود و نصاریٰ نے حضرت مسیح کے جسم سمیت آسمان کی طرف اٹھائے جانے سے انکار کیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں : ”وانہ لعلم للساعۃ“ اور قرآن کے لفظ علم کو عین اور لام کی زبر کے ساتھ پڑھا گیا ہے اور انہ میں جو ضمیر ہے وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف پھرتی ہے۔“

(الیواقیت والجواہر ج ٢ ص ١٤٦)

آیت : ” وانہ لعلم للساعۃ “ سے حضرت مسیح ابن مریم کے نزول پر استدلال کرنا حضرت عبداللہ بن عباسؓ اور حضرت ابو ہریرہؓ جیسے جلیل القدر صحابہ سے ثابت ہے۔ جیسا کہ مسند احمد کی ج اول ص ٣١٨‘٣١٧ پر ابن عباسؓ سے بسند صحیح روایت آئی ہے۔ اور آپ کو معلوم ہے کہ حضرت ابن عباسؓ کوئی معمولی انسان نہیں ہیں۔ بلکہ وہ بزرگ ہیں جن کو رسول ﷺ نے اپنے سینہ مبارک سے لگا کر یہ دعا کی تھی : ” اللهم فقه فی الدین وعلمه التاویل “ یعنی اے اللہ ابن عباسؓ کو دین کی سمجھ اور قرآن شریف کی حقیقی تفسیر سکھلا دے جس شخص کے حق میں خود رسول ﷺ دعا کریں۔ وہ کیونکر رد ہو سکتی ہے۔ لہذا حضرت ابن عباس کے معنی اور تمام لوگوں سے بڑھ کر قابل سند ہیں۔

(عسل مصفے حصہ اول ص ٢٢٤)

اور تابعین میں سے حضرت مجاہدؒ‘ حضرت قتادہؒ‘ حضرت ابی مالکؒ‘ حضرت حسن بصریؒ اور حضرت ضحاکؒ سے بھی یہی تفسیر ثابت ہے اور حافظ ابن کثیر جیسے جلیل القدر اور بزرگ مفسر (جن کو سید محمد احسن مرزائی امروہی اپنی کتاب مسک العارف ص ٢٢ پر مقتداء اہل حدیث تسلیم کرتے ہیں) بھی انہی معنوں کو مانتے ہیں اور یہ سب

صفحہ ٢٩٥

بزرگان دین چودہویں صدی کے مرزائی حکیم خدا بخش مصنف عسل مصفے سے زیادہ عالم اور دیندار تھے۔

قادیانی :اور ضمیر انہ کی جب مسیح کی طرف پھیری جائے۔ تو مسیح قیامت کا علم قرار پاتا ہے اور آیت :” وعنده علم للساعة واليه ترجعون“ ظاہر کرتی ہے کہ قیامت کا علم خدا کے ہاں ہے تو پھر مسیح خدا کے پاس ہوئے اور خدا کے پاس وہی ہوتا ہے جو دنیا سے بالکل قطع تعلق کر کے اس بشری لوازمات سے پاک ہوتا ہے جس کا نام موت ہے۔

(عسل مصفے حصہ اول ص ٢٩٣)

مسلمان : بے شک قرآن مجید کی سورہ زخرف میں ہے : ” وعنده علم للساعة واليه ترجعون“﴿ یعنی قیامت کا علم خدا کے پاس ہے اور اللہ کی طرف پھیرے جائیں گے۔﴾

اس کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کا علم یعنی قیامت کے آنے کا وقت اللہ ہی جانتا ہے خدا کے سوا کوئی اس وقت کو نہیں جانتا حضرت مسیح کا نزول قیامت کی نشانیوں میں ایک نشانی ہے۔ حضرت مسیح کے نزول سے پتہ لگ جائے گا کہ اب قیامت قریب ہے۔ اس کا یہ مطلب تو نہیں ہے کہ مسیح کو قیامت کے آنے کا علم ہے اور اسکے دن کی خبر ہے۔ جس طرح سورج کا مغرب کی طرف سے نکلنا قیامت کی علامتوں میں سے ہے۔ اسی طرح حضرت مسیح ابن مریم کا نازل ہونا بھی ایک علامت ہے۔

(سنن ابن ماجہ شریف ص ٢٩٩ باب خروج الدجال و خروج عیسیٰ بن مریم) حضرت عبداللہ بن مسعود سے ایک روایت آئی ہے۔ اس کا خلاصہ مطلب یہ ہے کہ شب اسرا میں حضرت رسول خدا ﷺ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ملاقات کی اور قیامت کا ذکر ہوا۔ ان تینوں نبیوں نے صاف

صفحہ ٢٩٦

صاف فرمادیا کہ قیامت کا علم تو خدا ہی جانتا ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اتنا زیادہ کیا کہ دنیا میں دجال خروج کرے گا۔ اور فتنہ پھیلائے گا پھر میں اتروں گا اور اس کو قتل کروں گا۔ یہ روایت مرفوعاً (مسند احمد مطبوعہ مصر ج ١ ص ٣٧٥) ابن مسعودؓ سے آئی ہے۔ اس حدیث شریف سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ قیامت سے پیشتر دجال کو قتل کرنے کے لئے وہی عیسیٰ نازل ہوگا۔ جو آنحضرت ﷺ کو شب اسرا میں آسمان میں ملا تھا۔

قادیانی : جب خود مفسرین کا اتفاق نہیں کہ مسیح علیہ السلام کی طرف انہ کی ضمیر راجع ہے تو پھر اس زمانہ کے علماء کس برتے پر زور دیتے ہیں کہ ضمیر مسیح کی طرف راجع ہے۔

(عسل مصفے حصہ اول ٤٩٦)

انہ کی ضمیر قرآن شریف کی طرف ہے مسیح کا یہاں کوئی ذکر نہیں۔

(عسل مصفے حصہ اول ٤٩٥)

مسلمان : جب خود مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی کتابوں (مثلاً ازالہ اوہام ص ٢٤٤، حمامۃ البشریٰ ص ٩٠ اور اعجاز احمدی ص ٢١) پر تین مختلف معنی کئے ہیں۔ (جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے) تو حکیم خدا بخش مرزائی نے اہل سنت والجماعت مفسرین پر کس طرح اعتراض کر دیا ہے۔ پھر لطف کی بات یہ ہے کہ اسی کتاب (عسل مصفے حصہ اول ص ٤٩٣، ٤٩٤، ٤٩٥، ٤٩٨، ٤٩٩) پر : ”وانہ لعلم للساعة“ کی ضمیر کو قرآن شریف کی طرف پھیرا گیا ہے اور پھر اسی کتاب (ص ٤٩٥، ٤٩٧، ٤٩٩) پر وانہ کی ضمیر کو حضرت مسیح کی طرف پھیرا گیا ہے۔

سورہ زخرف رکوع ١، ٣، ٤ میں بے شک قرآن مجید کا ذکر خیر آیا ہے۔ مگر رکوع ٦ جہاں یہ آیت واقع ہے میں قرآن شریف کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

قادیانی : ”غیر احمدیوں کا اس آیت سے استدلال یہ ہے کہ انہ کی ضمیر کا

صفحہ ٥٩٧

مرجع ابن مریم ہے وہی قیامت کے نزدیک دنیا میں تشریف لائیں گے پس وہ زندہ ہیں۔“

الجواب الاول : انه کی ضمیر کا مرجع ابن مریم یا المسیح لینے سے بہت سی

قباحتیں لازم آئیں گی۔ مثلاً :

یعنی یہ صراط مستقیم ہے اور صراط مستقیم سے ہٹنے والا شخص ضال اور گمراہ ہوتا ہے۔ پس اگر انه کی ضمیر کا مرجع ابن مریم لیا جائے اور یہ مان لیا جائے کہ نعوذ باللہ حیات مسیح کا عقیدہ صراط مستقیم ہے۔ تو گویا اس کا منکر ضال اور گمراہ ہو گا حالانکہ غیر احمدیوں کے مسلمات کی رو سے حیات و وفات مسیح کا عقیدہ ایمان کی جزئیات میں سے نہیں اور اس کے مان لینے سے تو حضرت امام مالکؒ ، حضرت امام ابن حزمؒ ، حضرت عبدالحق صاحب محدث دہلویؒ ، حضرت محی الدین صاحب ابن عربیؒ ، حضرت عائشہ صدیقہؓ ، حضرت ابن جریرؒ ، حضرت امام جبائی وغیرہم اجمعین حتیٰ کہ رسول اللہ ﷺ خود حضرت ابو بکرؓ و حضرت امام حسنؓ کو جنہوں نے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔ نعوذ باللہ ضال اور گمراہ ماننا پڑے گا۔ پس ثابت ہوا کہ انه کی ضمیر کا مرجع کچھ اور ہی ہے جس کے انکار سے کفر لازم آتا ہے۔ فافہم۔

(الفضل ١٠ ستمبر ١٩٢٦ء ص ٨ ج ١٤ ش ٢١)

مسلمان : قادیانی نامہ نگار کے ان مغالطوں کا جواب ذیل میں مختصر طور پر دیا جاتا ہے : ” وما توفیقی الا بااللہ علیہ توکلت والیہ انیب “

صفحہ ٢٩٨

(١) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی

حضرت احمد مجتبیٰ ﷺ کی زبانی

قادیانی نامہ نگار نے آپ ﷺ کی طرف یہ بات منسوب کی ہے۔ کہ آپ نے فرمایا حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔ ”حالانکہ آپ نے کبھی یہ نہ فرمایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں (صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن ترمذی، سنن ابن ماجہ، سنن ابو داؤد، سنن نسائی، مسند احمد، کتاب الاسماء والصفات، مستدرک حاکم، مشکوٰۃ، مرقاۃ، لمعات، مظاہر حق، فتح الباری، عمدۃ القاری، ارشاد الساری، کنز العمال، منتخب کنز العمال وغیرہ کتب حدیث اور اہل سنت کی تفسیروں مثلاً ابن کثیر و تفسیر ابن جریر و در منثور) میں بہت سی صحیح مرفوع حدیثیں اس بارے میں آئی ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم قیامت کے پہلے نازل ہوں گے۔ ان احادیث نبویہ میں کہیں مثیل مسیح کے الفاظ نہیں ہیں۔ احادیث صحیحہ نبویہ میں الفاظ عیسیٰ ابن مریم، مسیح ابن مریم، ابن مریم، عیسیٰ مسیح، روح اللہ، عیسیٰ آئے ہیں۔ آپ ﷺ نے یہ کبھی نہ فرمایا کہ ایک مثیل مسیح پیدا ہوگا۔

(الف)...... ”قال الحسن قال رسول الله ﷺ لليهود ان عیسیٰ لم يمت وانه راجع اليكم قبل يوم القيامة“ ﴿حضرت حسنؓ نے فرمایا کہ حضرت رسول خدا ﷺ نے فرمایا یہود کے واسطے کہ تحقیق عیسیٰ نہیں مرے اور تحقیق وہ تمہاری طرف قیامت سے پہلے دوبارہ تشریف لائیں گے۔﴾ (تفسیر جامع البیان ج سوم ص ٢٨٩ تفسیر ابن کثیر ج ١ ص ٣٦٦ من طریق آخر ابن کثیر ج ١ ص ٥٧٦ ابن جریر فی تفسیرہ جامع البیان ج ٣ ص ٢٨٩، تفسیر در منثور ج ٢ ص ٣٦)

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہودی کہتے تھے کہ عیسیٰ وفات پا گئے ہیں اور قیامت سے پہلے نہ آئیں گے اور حضرت رسول خدا ﷺ نے یہود کی تردید کی۔

(ب)...... ”الستم تعلمون ان ربنا حیی لا یموت وان عیسیٰ

صفحہ ٢٩٩

یأتی علیہ الفناء“ ﴿یعنی ہمارا رب ہمیشہ زندہ ہے کبھی نہ مرے گا اور تحقیق حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر موت آئے گی۔﴾

(تفسیر ابن جریج سوم ص ١٦٣ تفسیر در منثور ج دوم ص ٣ پر ہے

کہ آنحضرت ﷺ نے نجران کے نصاریٰ کے مقابل پر فرمایا تھا)

نزل ابن مریم من السماء فیکم وامامکم منکم “ ﴿تحقیق حضرت ابو ہریرہؓ نے کہا کہ حضرت رسول خدا ﷺ نے فرمایا تمہارا اس وقت کیا حال ہو گا جب ابن مریم آسمان سے اترے گا تم میں اور تمہارا امام، تم میں سے ہو گا۔﴾

(کتاب الاسماء والصفات ص ٣٠١)

قرآن کریم کی سورۃ المومنون کی آیت : ” وجعلنا ابن مریم وامہ آیة واوینھما الی ربوة ذات قرار ومعین“ اور سورہ زخرف کی آیت :” ولما ضرب ابن مریم مثلا اذا قومک منہ یصدون“ میں ابن مریم سے مراد حضرت مسیح عیسیٰ ابن مریم ہی ہیں۔

میں قریب تر ہوں عیسیٰ ابن مریم سے اور پیغمبر علاتی بھائی ہیں میرے اور اس کے درمیان کوئی نبی نہیں ہوا ہے (صحیح بخاری ج اول ص ٤٨٩) دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا : ” لیس بینی وبین “یعنی” عیسیٰ علیہ السلام نبی وانہ نازل فاذا رأیتموہ فاعرفوہ رجل مربوع الی الحمرة والبیاض“

(ابو داؤد ج ٢ ص ٢٣٨ کتاب الفتن باب خروج الدجال)

ان دونوں روایتوں کے ملانے سے معلوم ہوا کہ آنے والا عیسیٰ وہی مسیح ابن مریم ہے جو آپ ﷺ سے پہلے تھا اور جس کے اور آپ ﷺ کے درمیان کوئی نبی نہیں ہوا۔

صفحہ ٣٠٠

(٢) حضرت امام حسنؓ کا قول

" ان عليا قتل صبيحة احدی و عشرين من رمضان قال فسمعت الحسن بن على يقول وهو يخطب وذكر مناقب على فقال قتل ليلة انزل القرآن وليلة اسرى بعيسى وليلته قبض موسى قال وصلى عليه الحسن بن على “ تحقیق حضرت علی ماہ رمضان کی ٢١ کی صبح کو شہید ہوئے تھے۔ راوی حدیث نے کہا کہ میں نے امام حسنؓ سے سنا اور وہ وعظ کرتے تھے اور حضرت علیؓ کے مناقب بیان کرتے تھے۔ پس امام حسنؓ نے فرمایا کہ حضرت علیؓ اس رات شہید ہوئے جس میں قرآن شریف اترا اور جس رات میں حضرت عیسیٰ اٹھائے گئے۔ اور اس رات میں حضرت موسیٰ نے وفات پائی۔ راوی نے کہا کہ حضرت امام حسنؓ نے آپ پر نماز جنازہ پڑھی۔“

(کتاب مستدرک حاکم ج ٣ ص ١٧٣)

(٣) حضرت امام مالکؒ کا قول

اگر کوئی مرزائی کہے کہ ان حوالہ جات سے جو مالکی مذہب کے آئمہ کی مشہور و مستند کتب میں سے ہیں صاف ظاہر ہوتا ہے۔ کہ امام مالکؒ نے اپنی کتاب عتیبیہ میں شائع کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نبی ناصری وفات پا چکے ہیں۔ (عسل مصفےٰ ج اول ص ٥١) تو اس کا جواب یہ ہے کہ مرزائی (کتاب اکمال المعلم شرح صحیح مسلم ج اول ص ٢٦٥ کی) عبارت تو پیش کر دیتے ہیں۔ مگر (ص ٢٦٦ کی) عبارت نقل نہیں کرتے۔ حالانکہ وہاں یہ بھی لکھا ہے۔

” وفي العتبية قال مالك بينا الناس قيام يستمعون لاقامة الصلوة فتغشاهم غمامة فاذا عيسى قد نزل...........الخ “

اور واضح ہو کہ کتاب عتیبیہ حضرت امام مالکؒ کی نہیں ہے۔ بلکہ امام

صفحہ ٣٠١

عبدالعزیز اندلسی قرطبی کی ہے جس کی وفات ٢٥٤ ہجری میں ہوئی ہے۔

(دیکھو کتاب کشف الظنون ج اول ص ١٠٦‘ ١٠٧)

(٤) ابن حزم کا مذہب

(١)...... "(١٢) مسالة الا ان عیسیٰ ابن مریم عليه السلام سینزل عن ابن جریج قال اخبرنا ابوالزبیرانه سمع جابرؓ بن عبدالله يقول سمعت النبى ﷺ يقول ولا تزال طائفة من امتى يقاتلون على الحق ظاهرين الى يوم القيمة قال فينزل عیسیٰ بن مريم فيقول امير هم تعال صل لنا فيقول لا ان بعضكم على بعض امرأ تكرمة الله هذه الامة"

(کتاب المحلی ج اول ص ٩٨)

(٢)...... ”قد صح عن رسول ﷺ بنقل الكواف التي نقلت بنبؤة واعلامه و كتابه انه اخبر انه لا نبى بعده الا ما جأت الاخبار الصحاح من نزول عیسیٰ علیه السلام الذی بعث الی بنی اسرائیل وادعى اليهود قتله وصلبه وجب الا قرار بهذه الجملة وصح أن وجود النبوة بعده عليه السلام باطل“

(کتاب الفصل فی الملل ولا هواء والنحل ج ١ ص ٧٧)

(٣)...... ”ولکن رسول الله و خاتم النبيين وقول رسول ﷺ لانبى بعدى فكيف يستجيز مسلم ان يثبت بعده عليه السلام نبياً فى الارض حاشاما استثناه رسولﷺ فى الآثار المسندة الثابة فى نزول عیسیٰ بن مريم عليه السلام فى آخر الزمان“

(کتاب الفصل ج ٤ ص ١٨٠)

نوٹ: ابو محمد علی بن احمد بن سعید بن حزم حضرت عیسیٰ مریم علیہ السلام

صفحہ ٣٠٢

کے دوبارہ آنے کے قائل ہیں۔

(٥) حضرت شیخ عبدالحقؒ محدث دہلوی کا عقیدہ

معراج میں بالا تر اس سے اُس جگہ لے گئے کہ کسی کو نہ لے گئے تھے۔“

(کتاب منہاج النبوت ترجمہ مدارج النبوۃ ج اول ص ٢٤٠)

آنحضرت ﷺ فرو آمدن عیسیٰ از آسمان بزمین“

(کتاب اشعۃ اللمعات ج ٤ ص ٤٤٤)

عیسیٰ السلام فرو مے آید از آسمان بزمین ومے باشد تابع دین محمدﷺ را وحکم مے کند بشریعت آنحضرت ﷺ“

(اشعۃ اللمعات ج ٤ ص ٤٧٣)

قدرت اوست ہر آئینہ نزدیک ست کہ فرو آید از آسمان در اہل دین وملت شما عیسیٰ پسر مریم علیہا السلام“

(اشعۃ اللمعات ج ٤ ص ٤٧٣)

(٦) شیخ اکبر محی الدین ابن عربیؒ کا مذہب

وقال وقیل لہ فلما دخل اذا بعیسیٰ علیہ السلام بجسد عینہ فانہ لم یمت الی الآن بل رفعہ اللّٰہ الی ہذہ السماء واسکنہ بھا وحکمہ فیھا............الخ“

(فتوحات مکیہ ج سوم باب ٣٦٧ ص ٣٤١)

صفحہ ٣٠٣

وعيسى لم يمت بل رفعه الله الى السماء فسره رضى الله تعالى عنه بقوله (اى رفعتنى اليك) “

(کتاب فصوص الحکم مع شرح جامی ص ٤١٣)

(ج)...... حضرت مہدی کے ذکر میں ہے : ”ينزل عليه عيسى ابن مريم بالمنارة البيضاء بشرقى دمشق مهروزتين متكأ على ملكين ملك عن يمينه و ملك عن يساره يقطر راسه ماء مثل الجمان يتحدر كانما خرج من ديماس والناس فى الصلاة العصر“

(فتوحات ج سوم باب ٣٦٦ ص ٣٤٧)

نوٹ : کتاب (فتوحات مکیہ ج ٢ باب ٣٧٣ ص ٣ ج اول باب ٤٢٢ ص ١٨٥ ج اول ٢٢٢ ج ١ باب ١٠ ص ١٣٥، ص ١٤٤ ج ٢ ص ٤٩، ج ٢ ص ١٢٥ ج سوم، ص ٤١، ٥١٣، ٥١٤) میں بھی حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کے نزول کا ذکر موجود ہے۔

(٧) حضرت عائشہؓ صدیقہ کی روایت

حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کبھی نہیں فرمایا کہ عیسیٰ ابن مریم فوت ہوگئے ہیں۔ اور یہ بھی نہ فرمایا کہ مسیح نازل نہ ہوگا۔ بلکہ آپ سے (مسند احمد ج ششم ص ٧٥ پر) روایت ہے :

”حدثنا عبدالله حدثنى ابى ثنا سليمان بن داؤد قال ثنا حرب بن شداد عن يحيى بن ابى كثير قال حدثنى الحضرمى بن لاحق ان ذكوان ابا صالح اخبره ان عائشة اخبرته قالت دخل على رسول الله ﷺ وانا ابكى فقال مايبكيك قلت يارسول الله ذكرت الدجال فبكيت فقال رسول الله ﷺ ان يخرج الدجال وانا حيى كفيتكموه وان يخرج الدجال بعدى فان ربكم عزوجل ليس باعور انه يخرج فى يهودية اصبهان حتى ياتى المدينة فينزل ناحيتها ولها

صفحہ ٣٠٤

يومئذ سبعة ابواب على كل نقب منها ملكان فيخرج اليه شرا اهلها حتى الشام مدينه بفلسطين، باب لد قال ابوداؤد مرة حتى ياتى فلسطين بباب لد فينزل عيسى عليه السلام فيقتله ثم يمكث عيسى عليه السلام فى الارض اربعين سنة اماما عدلا وحكما مقسطاً “ (نیز دیکھو کنز العمال ج ١٤ ص ٣١٣ حدیث نمبر ٣٨٧٨٩ مجمع الزوائد ج ٧ ص ٣٤١ اقامۃ البرہان ص ٥٥، درمنثور ج ٢ ص ٢٤٢)

(٨) حافظ ابو جعفرؒ محمد بن جریر کا عقیدہ

اخبار (الفضل مورخہ ١٠ ستمبر ١٩٢٦ء ص ٨ کالم ٢ حاشیہ) پر صرف اتنی عبارت نقل کی گئی ہے:

”قدمات عيسى“ (ابن جریر ج ٣ ص ١٠٩ طبع مصر ١٣٥٤ ص ١٦٢)

حالانکہ ( تفسیر ابن جریر ج سوم ص ١٠١ پر ) اصل عبارت یوں ہے:

”حدثنا محمد بن حميد قال حدثنا مسلمة بن الفضل قال ثنى محمد بن اسحاق عن محمد بن جعفر بن الزبير الحي الذى لا يموت وقدمات عيسى وصلب في قولهم “

(از عسل مصفے حصہ اول ص ٩١٥)

یہاں تو صاف لکھا ہے کہ نصارٰی کے قول کے مطابق حضرت عیسٰی علیہ السلام مر گیا۔ اور صلیب پر چڑھایا گیا۔

(الف)…… اب رہا حافظ ابو جعفر محمد بن جریر طبریؒ کا اپنا عقیدہ۔ سو اس کی بابت ان کی ( تفسیر ابن جریر حصہ ششم ص ١٨) ملاحظہ ہو۔ جہاں انہوں نے آیت : ”وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته “ پر بحث کی ہے۔ اور حضرت عیسٰی ابن مریم علیہما السلام کے نزول کو مانا ہے۔

(ب)…… ”عن ابي هريرة ان نبى الله صلی اللہ علیہ وسلم قال الا نبياء

صفحہ ٣٠٥

اخوة لعلات امهاتهم شتی ودینهم واحد وانی اولی الناس بعیسیٰ بن مریم لانه لم یکن بینی و بینه نبی وانه نازل فاذا رایتموه فاعرفوه فانه رجل مربوع الخلق الی الحمرة والبیاض سبط الشعر کان راسه یقطر وان لم یصبه بلل بین ممصرتین فیدق الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الجزیة ویفیض مال ویقاتل الناس علی الاسلام حتیٰ یهلک الله فی زمانه مسیح الضلالة الکذاب الدجال وتقع الامنة فی الارض فی زمانه حتیٰ ترتع الاسود مع الابل والنمور مع البقر والذئاب مع الغنم وتلعب الغلمان والصبیان بالحیات لایضر بعضهم بعضا ثم یلبث فی الارض ماشاء الله وربما قال اربعین سنة ثم یتوفیٰ ویصلی علیه المسلمون ویدفونه“

(تفسیر ابن جریر حصہ ٦ ص ٢٢‘ حصہ سوم ص ٢٩١)

(ج)...... ”قال الحسنؓ قال رسول الله ﷺ للیهود ان عیسیٰ لم یمت وانه راجع الیکم قبل یوم القیامة“

(تفسیر ابن جریر حصہ سوم ص ٢٨٩)

(و)...... حضرت نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”الستم تعلمون ان ربنا حی لا یموت وان عیسیٰ علیہ السلام یأتی علیہ الفناء“

(تفسیر ابن جریر حصہ سوم ص ١٦٣)

(ر)...... ”عن ابن عباسؓ انه کان یقراء وانه لعلم للساعة قال نزول عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام“

(تفسیر ابن جریر حصہ ٢٥ ص ٩٠)

(س)...... ”وقوله لیظهره علی الدین كله‘ یقول لیظهر دینه الحق الذی ارسل به رسوله علی کل دین سواه وذالک عند نزول عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم وحین تصیر الملة واحدة فلایکون

صفحہ ٣٠٦

دین غیر الاسلام“

(تفسیر ابن جریر حصہ ٢٨ ص ٨٨)

(ش)....... ”قال ابو جعفر واولی هذا الاقوال بالصحة عندنا قول من قال معنى ذلك انى قابضك من الارض ورافعك الى لتواتر الاخبار عن رسول الله ﷺ انه قال ينزل عيسى بن مريم عليه السلام فيقتل الدجال ثم يمكث فى الارض مدة ذكرها اختلفت الرواية فى مبلغها ثم يموت فيصلى عليه المسلمون ويدفنونه“

(تفسیر ابن جریر حصہ سوم ص ٢٩١)

نوٹ : امام جبائی معتزلی تھا اور فرقہ معتزلہ حیات و نزول مسیح علیہ السلام کا منکر تھا۔

(دیکھو کتاب الیواقیت والجواہر ج ٢ ص ١٤٥، ص ١٤٦ اور نووی شرح صحیح مسلم ج ٢ ص ٤٠١)

قرآن مجید، احادیث صحیحہ نبویہ، اقوال صحابہؓ و تابعینؒ، اہل سنت واہل تشیع مفسرین کی تفسیروں سے حضرت مسیح عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کا قیامت سے پیشتر نازل ہونا ثابت ہے۔ پس جو اس عقیدہ کا منکر ہے وہ گمراہ ہے۔

قادیانی : دوسری قباحت یہ ہے کہ آگے چل کر فرمایا : ” لا تمترن بھا واتبعون “ کہ تم آپس میں شک نہ کرو۔ اور میری پیروی کرو۔ کیوں؟۔ اس لئے کہ اس کا ثبوت یکساں تعداد زمانہ کے بعد دیا جائے گا۔ گویا دعویٰ تو اس وقت منوایا جاتا ہے۔ اور دلیل ١٩٠٠ء سال کے بعد دینے کا وعدہ ہے۔ چہ خوب۔

(الفضل قادیان مورخہ ١٠ ستمبر ١٩٢٦ء ص ٨)

مسلمان : آیت : ”وانه لعلم للساعة “ کی تفسیر خود حضرت عبداللہؓ بن عباسؓ صحابی نے یہی کی ہے کہ یہ قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کا نزول ہے۔ (مسند احمد ج ٢ ص ٣١٧، ص ٣١٨ اور تفسیر ابن جریر ج ٢٥ ص ٩٠ در منثور ج ٦ ص ٣٠) پس

صفحہ ٣٠٧

حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام نبی اللہ کا نزول قیامت کی نشانی ہے: ”وانہ لعلم للساعة“ میں عین اور لام کو زبر کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے۔ (الیواقیت والجواہر ج ٢ مبحث ٦٥ ص ١٦٦) اور قیامت کا ماننا ضروری ہے۔

قادیانی : تیسری قباحت یہ لازم آئے گی۔ کہ اس آیت کے ساتھ والی آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ”ولما جاء عیسیٰ بالبینت“ اگر انہ کی ضمیر کا مرجع ابن مریم ہوتا تو پھر ضمیر کے بعد دوبارہ مرجع کے نام لینے کے کیا معنی؟ اور یہ تو فصاحت وبلاغت کے بھی صریح خلاف ہے۔ پس ثابت ہوا کہ انہ کی ضمیر کا مرجع ابن مریم نہیں کچھ اور ہے۔ چنانچہ تفسیر مجمع البیان میں اس آیت کے نیچے لکھا ہے : ”وقيل ان معناه ان القرآن لدليل للساعة لانه آخر الكتاب“ کہا گیا ہے۔ اس کے یہ معنی ہیں کہ قرآن شریف قیامت کی دلیل ہے۔ کیونکہ وہ آخری کتاب ہے۔ پھر تفسیر معالم التنزیل میں بھی اس آیت کے نیچے لکھا ہے : ”قال الحسن و جماعة وانه يعنى ان القرآن لعلم للساعة“ کہ امام حسن اور ایک جماعت نے کہا ہے کہ قرآن علم للساعة ہے۔ پھر تفسیر جامع البیان میں بھی اس کے ماتحت لکھا ہے : ”وقيل الضمير للقرآن“ پس انہ کا مرجع القرآن ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ فرمایا : ”هذا صراط مستقيم“

(الفضل مورخہ ١٠ ستمبر ١٩٢٦ء ص ٨)

مسلمان : ابی علی فضل بن حسن بن فضل طبرسی نے لکھا ہے

”قوله عزوجل وانه لعلم للساعة القراءة فى اشواذ قراءة ابن عباس وقتادة والضحاك وانه لعلم بفتح العين واللام اى امارة وعلامة والمعنى ثم رجع سبحانه الى ذكر عيسى عليه السلام فقال انه لعلم للساعة يعنى ان نزول عيسى عليه السلام من اشراط

صفحہ ٣٠٨

الساعة يعلم بها قربها (فلا تمترن بها) اى بالساعة فلا تكذبوا بها ولا تشكوا فيها عن ابن عباس وقتادة ومجاهد والسدى وقال ابن جريج اخبرنى ابو الزبير انه سمع جابر بن عبدالله يقول سمعت النبى صلی اللہ علیہ وسلم يقول ينزل عيسىٰ بن مريم فيقول اميرهم تعال صل بنا فيقول ان بعضكم على بعض امراء تكرمة من الله هذه الامة رواه مسلم فى الصحيح وفى حديث آخر كيف انتم اذا نزل فيكم ابن مريم وامامكم منكم وقيل ان الهاء فى قوله وانه يعود الى القران ومعناه ان القران لدلالة على قيام الساعة والبعث يعلم به ذالك عن الحسن وقيل معناه ان القرآن لدليل الساعة لانه آخر الكتب انزل على آخر الانبياء عن ابى مسلم“ (تفسیر مجمع البیان مطبوعہ ایران ج دوم ص ٤٣٤)

نوٹ : تفسیر مجمع البیان کی اصل عبارت آپ نے ملاحظہ کی۔ مرزائی نامہ نگار کی لیاقت علمی ملاحظہ ہو کہ مفسر کا جو اپنا مذہب تھا۔ اس کو نقل نہیں کیا۔ اور جو عبارت نقل کی اس کے بعد کے الفاظ : ”انزل علی آخر الانبیاء عن ابی مسلم“ بھی چھوڑ دیئے۔ الفاظ ”وقیل“ کے معنی مرزا غلام احمد نے خود یہ کئے ہیں :

”اور ایک قول ضعیف یہ بھی ہے۔“ (الحق مباحثہ دہلی ص ٥٦ خزائن ص ١٨٦ ج ٤) پس الفاظ ”وقیل“ آپ کے لئے مفید نہیں ہے۔ اور یہی جواب تفسیر جامع البیان کے الفاظ : ”وقيل الضمير للقرآن“ کے متعلق ہیں۔

قادیانی : الجواب الثانی : ”لما ضرب ابن مریم مثلا“ میں مثیل مسیح مراد ہے نہ کہ اصل مسیح کیونکہ مثل کے معنی مانند، مساوی سب صفتوں میں (کریم اللغات ص ١٣٥) کے مانند و ہمتا کے ہیں۔ (منتہی الارب فی لغات العرب ج ٤ ص ١٦٢) پس اس آیت میں

صفحہ ٣٠٩

مسیح کی مانند کسی شخص کے آنے کی پیش گوئی ہے۔ یعنی حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی ملعون) کی چنانچہ ہمارے ان معنوں کی تصدیق شرح عقائد کی مندرجہ ذیل سے بھی ہوتی ہے :

” قال مقاتل بن سليمان ومن تابعه من المفسرين في تفسير قوله تعالى (وانه لعلم للساعة) قال هو المهدی یكون فی آخر الزمان وبعد خروجه تكون امارات الساعة “ (دیکھو نبراس شرح عقائد ص ٤٧٧ حاشیہ) علامہ مقاتل بن سلیمان اور دیگر مفسرین نے کہا ہے کہ : ” انه لعلم للساعة “ سے مراد مہدی ہے۔ جو آخری زمانہ میں ہوگا۔ اور اس کے ظہور کے بعد قیامت کے نشانات ہونگے۔ پس اس سے مراد حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) ہیں نہ کہ عیسیٰ بن مریم جن کی وفات شمس النہار کی طرح واضح ہے۔

(الفضل مورخہ ١٠ ستمبر ١٩٢٦ء ص ٨ کالم نمبر ٣)

مسلمان : سورہ زخرف کی ان آیات مقدسہ میں ” مسیح کی مانند کسی شخص کے آنے کی پیش گوئی “ نہیں ہے۔ بلکہ اس میں حضرت ” ابن مریم “ کے قیامت سے پیشتر تشریف لانے کی خبر دی گئی ہے۔ جن کا نام نامی اسم گرامی ” عیسیٰ “ ہے۔ صفاتی نام ” مسیح “ ہے۔ جن کو خدا نے بنی اسرائیل کے واسطے نمونہ بنایا تھا۔ جیسا کہ اس جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ” وجعلنه مثلاً لبنی اسرائیل “ سورۃ آل عمران آیت نمبر ٤٩ میں اسی مسیح عیسیٰ ابن مریم کے بارے میں آیا ہے : ” ورسولاً الی بنی اسرائیل “ یعنی اللہ نے اس کو بنی اسرائیل کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا۔ سورۃ الصف آیت ٦ میں آیا ہے : ” واذ قال عیسیٰ ابن مریم یٰبنی اسرائیل انی رسول اللہ الیکم “ یعنی جب حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام نے فرمایا کہ اے بنی اسرائیل میں تمہاری طرف خدا کا رسول ہوں۔ آیت مقدسہ : ” ولما ضرب ابنُ

صفحہ ٣١٠

مریم مثلاً ”میں مثیل مسیح مراد نہیں ہے۔ بلکہ وہی نبی مسیح‘ عیسیٰ ابن مریم مراد ہے جس کا ذکر خیر سورۃ المومنون کی آیت نمبر ٥٠ : ”وجعلنا ابن مريم وامه آية وآوينهما الىٰ ربوة ذات قرار ومعين“ میں ہے۔ یہ جو کہا گیا ہے۔ کہ ”مثل کے معنے‘ مانند۔ مساوی‘ سب صفتوں میں سو واضح ہو کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ اور یہ لکھا تھا کہ : ”اس مسیح کو ابن مریم سے ہر ایک پہلو سے تشبیہ دی گئی ہے۔“ (کشتی نوح ص ٤٩ خزائن ص ٥٣ ج١٩) اور یہ کہ : ”اس عاجز کو حضرت مسیح سے مشابہت تامہ ہے۔“ (براہین احمدیہ ص ٤٩٩ خزائن ٥٩٤ ج١) حق بات یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی مثیل مسیح نہیں ہے۔ نہ اس کو حضرت مسیح سے مشابہت تامہ ہے۔ اور نہ ہر ایک پہلو سے تشبیہ دی گئی ہے۔ مقاتل بن سلیمان کی تفسیر سراسر غلط ہے۔ اور صحابہؓ تابعینؒ کی تفسیر کے خلاف ہے۔

حضرت مسیح علیہ السلام کا رفع اور آمد ثانی

حضرت امام عبد الوہابؒ شعرانی کی زبانی

مرزا غلام احمد قادیانی کا اعتراض

”آیت جو عام استدلال کے طریق سے مسیح ابن مریم کے فوت ہو جانے پر دلالت کرتی ہے یہ آیت ہے : ”وما جعلنا هم جسدالا ياكلون الطعام وما كانوا خالدین“ یعنی کسی نبی کا ہم نے ایسا جسم نہیں بنایا جو کھانے کا محتاج نہ ہو اور وہ سب مر گئے کوئی ان میں سے باقی نہیں۔“ (مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی کتاب ازالۃ اوہام ص ٣٢٥‘ ٤٤٨‘ ٤٤٩‘ ٦٠٤‘ ٦٠٥‘ ٦١٢‘ ٦١٣ تحفہ گولڑویہ ص ١٥ دافع الوساوس ص ٤٥ اور ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٢١٦‘ ٢١٧ پر جو کچھ لکھا ہے اس کا خلاصہ)

مرزا قادیانی کے اس اعتراض کا جواب دینے سے پیشتر میں ناظرین کی توجہ کو

صفحہ ٣١١

مرزا قادیانی کے مریدوں میں سے حکیم خدا بخش لاہوری مرزائی مصنف کتاب عسل مصفے کے ایک دھوکے کی طرف منعطف کرتا ہوں۔ حکیم خدا بخش مرزائی کے دھوکے کی تردید کرتے ہوئے .......... مرزا قادیانی کے مندرجہ بالا اعتراض کا جواب بھی ساتھ ہی آجائے گا : ”وما توفیقی الا بااللہ علیہ توکلت والیہ انیب“

حکیم خدا بخش مرزائی کا دھوکہ

حکیم خدا بخش مرزائی اپنی کتاب عسل مصفے حصہ اول (مطبوعہ اگست ١٩١٣ء مطبع وزیر ہند امرتسر) کے باب آٹھویں کی سترھویں فصل میں بعنوان ”مسیح کی وفات پر دیگر اشخاص کی شہادت“ ص ٥٢٣ پر لکھتے ہیں :

”شہادت امام شعرانیؒ “ لکھتے ہیں : ” وكان يقول ان علی بن ابی طالب رفع كما رفع عیسیٰ علیہ السلام وسینزل عیسیٰ علیہ السلام“ وہ کہتے تھے کہ علی ابن ابی طالب بھی اسی طرح اٹھائے گئے جس طرح عیسیٰ علیہ السلام اٹھائے گئے۔ اس سے ظاہر ہے کہ جیسے حضرت علی کرم اللہ وجہ اس دنیا سے وفات پا کر اٹھائے گئے ہیں۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی لعنت کی موت سے بچ کر طبعی موت کے بعد آسمان پر گئے۔“ (طبقات جلد ثانی ص ٤٤) (نیز دیکھو کتاب محقق ص ١١٩، پیغام صلح مورخہ ١٧ صفر ١٣٤٠ھ ص ٩، رسالہ تشحیذ بابت نومبر ١٩٢١ء ص ٢٣)

جواب : خداوند کریم کے فضل و کرم سے حکیم خدا بخش مرزائی کے اس دھوکہ اور مغالطہ کی تردید ذیل میں درج کی جاتی ہے۔ یہاں غور سے سنئے :

حضرت امام عبدالوہاب شعرانیؒ اپنی کتاب (طبقات الکبریٰ نامی (مطبوعہ ١٣١٥ھ مطبع عامرہ مصر) ج دوم ص ٣٩) پر ایک بزرگ حضرت سید علی الخواصؒ کا ذکر کرتے ہوئے ان کا مذہب یوں نقل کرتے ہیں :

”وكان يقول ان علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ رفع

صفحہ ٣١٢

کمارفع عیسیٰ علیہ السلام وسینزل کماینزل عیسیٰ علیہ السلام“ سید علی الخواصؒ کہا کرتے تھے۔ کہ تحقیق حضرت علیؓ بیٹے ابو طالب کے اٹھائے گئے جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اٹھائے گئے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نازل ہونگے جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہونگے۔“

مندرجہ بالا عبارت تو بتا رہی ہے کہ حضرت سید علی الخواص نامی کسی بزرگ کا قول امام عبدالوہاب شعرانیؒ نقل فرماتے ہیں۔ یہ نہیں کہ یہ ان کا اپنا عقیدہ ہے۔ ان الفاظ سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ سید علی الخواص حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے رفع اور نزول کے قائل تھے۔ خیر یہ اس بزرگ کا اپنا عقیدہ تھا۔ امام عبدالوہاب کا یہ عقیدہ نہ تھا۔ کہ حضرت علیؓ کا رفع ہوا اور وہ نازل ہونگے۔ امام عبدالوہاب شعرانیؒ کا اپنا مذہب دیکھنا ہو تو ان کی مشہور و معروف کتاب (الیواقیت والجواہر فی بیان عقائد الاکابر ج دوم مبحث ٦٥) میں خوب غور سے پڑھو۔

حضرت مسیح علیہ السلام کا رفع اور آمد ثانی

امام عبدالوہابؒ شعرانی کی زبانی

اب میں ذیل میں حضرت امام عبدالوہاب شعرانیؒ کا عقیدہ اس بارے میں ان کی کتاب (الیواقیت والجواہر فی بیان عقائد الاکابر ج دوم مبحث ٦٥ ص ١٤٦) سے نقل کرتا ہوں۔ امام صاحب فرماتے ہیں :

”اگر تو سوال کرے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول پر کیا دلیل ہے تو جواب یہ ہے کہ اس کے نزول پر دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے : ” وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته “ یعنی جس وقت نازل ہو گا۔ اور لوگ اس پر ایمان لائیں گے۔ اور معتزلہ اور فلاسفر اور یہود اور نصاریٰ جو عیسیٰ علیہ السلام کے جسم

صفحہ ٣١٣

کے ساتھ آسمان پر جانے کے منکر ہیں۔ اس وقت یہ سب لوگ ایمان لائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرمایا : ” وانه لعلم للساعة “ اور عیسیٰ البتہ قیامت کی نشانی ہے اور قرآن کے لفظ علم کو عین اور لام کے زبر کے ساتھ پڑھا گیا ہے اور انہ میں جو ضمیر ہے وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف پھرتی ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے : ” ولما ضرب ابن مريم مثلاً “ اور اس کے معنی یہ ہیں کہ تحقیق مسیح علیہ السلام کا نازل ہونا قیامت کی نشانی ہے۔ اور حدیث میں دجال کی صفت میں آیا ہے۔ کہ لوگ نماز میں ہونگے۔ کہ ناگہاں اللہ بھیجے گا حضرت مسیح ابن مریم کو وہ اتریں گے دمشق کی مشرقی طرف سفید منارہ کے پاس۔ حضرت مسیح علیہ السلام نے زرد رنگ کی دو چادریں پہنی ہوئی ہونگی۔ دو فرشتوں کے بازوؤں پر اپنے ہاتھ رکھے ہونگے۔ پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا کتاب وسنت کے ساتھ ثابت ہو گیا۔ حق یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اپنے جسم کے ساتھ آسمان کی طرف اٹھائے گئے ہیں۔ اور اس کے ساتھ ایمان لانا واجب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ” بل رفعه الله اليه “ ﴿بلکہ اللہ نے اس کو اپنی طرف اٹھا لیا﴾ حضرت ابو طاہر قزوینیؒ نے کہا ہے جان کہ عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان میں جانے کی کیفیت اور اس کے اترنے اور آسمان میں ٹھہرنے کی کیفیت اور کھانے پینے کے سوا اس قدر ٹھہرنا یہ اس قبیل سے ہے کہ عقل اس کے جاننے سے قاصر ہے۔ اور ہمارے لئے اس میں بجز اس کے کوئی راستہ نہیں کہ ہم اس کے ساتھ ایمان لائیں اور اللہ کی اس قدرت کو تسلیم کریں۔ پس اگر کوئی سوال کرے کہ اس قدر عرصہ تک کھانے پینے سے بے پرواہ رہنا یہ کس طرح ہو سکتا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ” وما جعلنا هم جسداً لا ياكلون الطعام “ یعنی ہم نے نبیوں کا ایسا جسم نہیں بنایا جو کھانے پینے سے مستغنی ہو۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ طعام کھانا اس شخص کے لئے ضروری ہے جو زمین میں ہے۔ کیونکہ اس پر ہوا

صفحہ ٣١٤

گرم و سرد غالب ہے۔ اس لئے اس کا کھانا پینا تحلیل ہو جاتا ہے۔ جب پہلی غذا ہضم ہو جاتی ہے۔ تو اللہ تعالیٰ اس کو اور غذا اس کے بدلے میں عنایت کرتا ہے۔ کیونکہ اس دنیا غبار آلود میں اللہ کی یہی عادت ہے۔ لیکن جس شخص کو اللہ آسمان کی طرف اٹھا لے۔ اللہ اس کے جسم کو اپنی قدرت سے لطیف اور نازک کر دیتا ہے۔ اور اس کو کھانے اور پینے سے ایسا بے پرواہ کر دیتا ہے جیسے اس نے فرشتوں کو ان سے بے پرواہ کر دیا ہے۔ پس اس وقت اس کا کھانا تسبیح ہو گا اور اس کا پینا تہلیل ہو گا۔ جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے اس سوال کے جواب میں فرمایا جبکہ آپ سے یہ پوچھا گیا کہ یارسول اللہ ﷺ آپ کھانے پینے کے بغیر پے در پے روزے رکھتے ہیں۔ اور ہم لوگوں کو اجازت نہیں دیتے۔ یعنی روزے وصال کی ہم کو اجازت نہیں دیتے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں اپنے رب کے پاس رات گزارتا ہوں۔ میرا رب مجھ کو کھانا دیتا ہے۔ اور پانی پلاتا ہے اور مرفوع حدیث میں ہے۔ کہ دجال کے پہلے تین سال قحط کے ہونگے۔ پہلے سال میں آسمان تیسرا حصہ بارش کم کر دیگا۔ اور زمین تیسرا حصہ زراعت کا کم کر لے گی۔ اور دوسرے سال میں دو حصے بارش کے کم ہو جائیں گے۔ اور دو حصے زراعت کے کم ہو جائیں گے۔ اور تیسرے سال میں بارش بالکل بند ہو جائے گی۔ پس اسماء بنت زید نے عرض کی۔ یارسول اللہ اب تو ہم آٹا گوندھنے سے پکنے تک بھوک سے صبر نہیں کر سکتے۔ اس دن کیا کریں گے۔ فرمایا جو چیز اہل سماء کو کفایت کرتی ہے۔ یعنی اللہ کی تسبیح اور تقدیس کرنا۔ شیخ ابو طاہر نے فرمایا کہ ہم نے ایک شخص نامی خلیفہ فراط کو دیکھا ہے کہ وہ شہر ابہر میں (جو مشرقی بلاد سے ہے) مقیم تھا۔ اس نے ٢٣ سال کچھ نہیں کھایا اور دن رات اللہ کی عبادت میں مشغول رہا تھا۔ اور اس سے اس میں کچھ ضعف نہیں آیا تھا۔ پس جب یہ بات ممکن ہے تو عیسیٰ علیہ السلام کے لئے آسمانوں میں تسبیح و تہلیل کی غذا ہو تو کیا بعید ہے۔ اور ان باتوں کا اللہ ہی عالم ہے۔“

صفحہ ٣١٥

نوٹ : اس مندرجہ بالا عبارت سے یہ امر روز روشن کی طرح ثابت ہوتا ہے کہ حضرت امام عبدالوہاب شعرانیؒ وفات مسیح علیہ السلام کے قائل نہ تھے۔ بلکہ حیات مسیح علیہ السلام کے قائل تھے۔ چنانچہ ان کے یہ الفاظ قابل غور ہیں : ”حق یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اپنے جسم کے ساتھ آسمان کی طرف اٹھائے گئے ہیں۔ اور اس کے ساتھ ایمان لانا واجب ہے۔“

(الیواقیت ج ٢ ص ١٤٦ مبحث ٦٥)

واضح ہو کہ اصحاب کہف بھی تو کئی سال سوئے رہے تھے بغیر کھانے پینے کے۔ جب سو کر اٹھے تو پھر ان کو طعام کی ضرورت پڑی تھی۔ سورۃ کہف میں ہے : ” فضربنا علی اذا نهم فی الکھف سنین عدداً ثم بعثنا ھم“ اور حضرت یونس علیہ السلام نبی مچھلی کے پیٹ میں زندہ رہے تھے۔ اور ان کی تسبیح یہ تھی : ” لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین“

خادم دین رسول اللہ عاجز حبیب اللہ

PDF 316

کیا آپ نے کبھی غور کیا

کہ ۔۔۔ قادیانی

جب آپ حق پر ہیں تو

اپنے ناموس رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کیلئے کیا انتظام کیا، کیا یہ آپ کی ذمہ داری نہیں کہ قادیانیوں کی خطرناک

ہفت روزہ ختم نبوت مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی بھر پور ترجمانی کرتا ہے اور مجلس کے پیغام کو دنیا کے کونے کونے میں پہنچاتا ہے۔

معیاری مضامین جس میں مرزائیت کا جدید انداز میں تجزیہ کیا جاتا، دینی و اصلاحی مضامین بھی شائع کئے جاتے ہیں

سرگرمیوں کے بارے میں معلومات حاصل کریں؟ اگر ہے تو آج ہی

مجلس اسلامیہ کا بین الاقوامی ہفت روزہ ختم نبوت کراچی کا مطالعہ کریں

الحمد للہ یہ ہفت روزہ امریکہ، برطانیہ اسپین، ماریشس جنوبی افریقہ، نائجیریا، سعودی عرب قطر، بنگلہ دیش آسٹریلیا بھی جاتا ہے

ہر جمعہ کو پابندی سے شائع ہوتا ہے

تعاون کا ہاتھ بڑھائیے

خریدار بنیے ۔۔۔ بنائیے اشتہارات دیجئے۔ مالی امداد فراہم کیجئے۔

انشاء اللہ اس میں دنیا و آخرت کا فائدہ ہے

ملنے کا پتہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مسجد باب الرحمت (ٹرسٹ) ایم اے جناح روڈ کراچی ۔٣۔ پاکستان

PDF 317

حلیہ مسیح مع رسالہ ایک غلطی کا ازالہ

صفحہ ٣١٨

بسم الله الرحمن الرحيم

مرزا قادیانی کا اعتراض

اللہ کہلاتی ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا حلیہ سرخ رنگ لکھا ہے۔ جیسا کہ عام طور پر شامی لوگوں کا ہوتا ہے۔ ایسا ہی ان کے بال بھی خمدار لکھے ہیں۔ مگر آنے والے مسیح کا رنگ ہر ایک حدیث میں گندم گوں لکھا ہے اور بال سیدھے لکھے ہیں اور تمام کتاب میں یہی التزام کیا ہے کہ جہاں کہیں حضرت عیسیٰ نبی علیہ السلام کے حلیہ لکھنے کا اتفاق ہوا ہے تو ضرور بالالتزام اس کو احمر یعنی سرخ رنگ لکھا ہے اور اس احمر کے لفظ کو کسی جگہ چھوڑا نہیں اور جہاں کہیں آنے والے مسیح کا حلیہ لکھنا پڑا ہے تو ہر ایک جگہ بالالتزام اس کو آدم یعنی گندم گوں لکھا ہے۔ یعنی امام بخاریؒ نے جو لفظ آنحضرت ﷺ کے لکھے ہیں ۔ جس میں ان دونوں مسیحوں کا ذکر ہے۔ وہ ہمیشہ اس قاعدہ پر قائم رہے ہیں کہ حضرت عیسیٰ بنی اسرائیلی کے لئے احمر کا لفظ اختیار کیا ہے اور آنے والے مسیح کی نسبت آدم یعنی گندم گوں کا لفظ اختیار کیا ہے۔ پس اس التزام سے جس کو کسی جگہ صحیح بخاری کی حدیثوں میں ترک نہیں کیا گیا۔ بجز اس کے کیا نتیجہ نکل سکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے نزدیک عیسیٰ ابن مریم بنی اسرائیلی اور تھا اور آنے والا مسیح جو اسی امت میں سے ہو گا اور ہے۔ ورنہ اس بات کا کیا جواب ہے کہ تفریق حلیتین کا پورا التزام کیوں کیا گیا۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٣٢‘ ٣٣ خزائن ص ١١٩ ج ١٧)

”جب انبیاء سابقین کی ذیل میں مسیح علیہ السلام کا ذکر کیا گیا ہے تو ان کا حلیہ

صفحہ ٣١٩

یوں ذکر کیا ہے کہ وہ سرخ رنگ‘ گھونگروالے بال اور فراخ صدر ہیں اور جب کبھی مسیح کو دجال کے ساتھ بیان کیا ہے تو اس کا حلیہ الگ ظاہر کیا ہے۔ یعنی وہ گندم گوں ہے‘ بال سیدھے لٹکے ہوئے اور میانہ قد ہیں جس سے صاف عیاں ہے کہ بخاری کے نزدیک رسول اللہ ﷺ کے خیال میں دو الگ شخصوں سے مراد ہے۔ جو ایک ہی نام سے موسوم کئے گئے ہیں۔‘‘ (عسل مصفےٰ حصہ اول ص ٥٠٨‘ نیز دیکھو کتاب مسک العارف ص ٤٤‘ کتاب تبلیغ ہدایت حصہ اول ص ٣٩)

قادیانی اعتراض کا جواب

خدا کے فضل و کرم کے ساتھ ذیل میں مندرجہ بالا قادیانی اعتراض کا جواب بطریق احسن لکھا جاتا ہے۔ سب سے پہلے یہ بتایا جاتا ہے کہ حضرت مسیح ناصری علیہ السلام اور آنے والے مسیح قاتل دجال کے حلیے میں کوئی فرق نہیں ہے۔

صحیحین کی حدیثیں مسیح ناصری علیہ السلام کا حلیہ

”عن ابی عالیة قال حدثنا ابن عم نبیکم ﷺ قال رایت لیلة اسریٰ بی موسیٰ رجل آدم طوالا جعدا کأنہ من رجال شنؤة ورایت عیسیٰ رجلا مربوعا مربوع الخلق الی الحمرة والبیاض سبط الراس“ ﴿حضرت ابوالعالیہؒ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہؓ بن عباسؓ نے کہا کہ نبی ﷺ نے فرمایا‘ دیکھا میں نے شب معراج میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو‘ ایک مرد ہیں گندم گوں دراز قد بدن کے سخت اور مضبوط۔ گویا کہ وہ (یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام) قبیلہ شنوہ کے مردوں میں سے ہیں اور دیکھا میں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ایک مرد متوسط پیدائش مائل بسرخی و سفیدی سر کے بال سیدھے لمبے﴾ (صحیح بخاری شریف ج اول ص ٤٥٩‘ فتح الباری پارہ ١٣‘ ص ١٩٩‘ عمدة القاری ج ٧ ص ٢٤٩‘ ارشاد الساری ج ٥ ص ٤٧٨‘ صحیح مسلم شریف ج اول ص ٩٤)

صفحہ ٣٢٠

اس حدیث نبوی سے معلوم ہوا کہ حضرت مسیح ناصری علیہ السلام اسرائیلی نبی کا حلیہ یوں ہے کہ متوسط پیدائش‘ سر کے بال لمبے اور سیدھے‘ رنگ مائل بسرخی وسفیدی یعنی گندم گوں اور الی الحمرۃ والبیاض جو فرمایا گیا اس کے معنے صاف ظاہر ہیں کہ اسمر اللون یعنی گندم گوں ہیں۔ کیونکہ جب کوئی رنگ مائل بسرخی و سفیدی ہوتا ہے اسی کو آدم یا اسمر اللون کہتے ہیں۔‘‘ (محمد احسن مرزائی امروہی کی کتاب مسک العارف ص ٤١)

حضرت مسیح علیہ السلام قاتل دجال کا حلیہ

” عن سالم عن ابيه قال لا والله ما قال النبى صلی اللہ علیہ وسلم لعيسى احمر ولكن قال بينما انا نائم اطوف بالكعبة فاذا رجل آدم سبط الشعر يهادى بين رجلين ينطف رأسه ماء او يهراق راسه ماء فقلت من هذا قالوا ابن مريم فذهبت التفت فاذا رجل احمر جسيم جعد راسه اعور عينه اليمنى كان عينه عنبة طافئة فقلت من هذا قالو اهذا الدجال واقرب الناس به شبها ابن قطن قال الزهرى رجل من خزاعة هلك فى الجاهيلة “ روایت ہے سالم بن عبداللہ بن عمرؓ بن خطاب سے کہ اس نے روایت کی اپنے باپ حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے کہ کہا اللہ کی قسم ہے کہ نبی ﷺ نے ہرگز نہیں کہا کہ حضرت عیسیٰؑ سرخ رنگ ہے۔ لیکن فرمایا کہ میں سویا ہوا تھا اور میں خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ خانہ کعبہ کا طواف کر رہا ہوں۔ اس وقت ایک گندم گوں آدمی پر نظر پڑی جس کے بال کندھوں تک لٹکے ہوئے تھے۔ یعنی سیدھے لمبے تھے اور دو آدمیوں کے درمیان چلتا تھا۔ اس کے سر سے پانی ٹپکتا تھا یا اس کے سر پر سے پانی کے قطرات گرتے تھے۔ میں نے پوچھا یہ کون ہے تو جواب ملا کہ ابن مریم علیہ السلام ہے۔ پھر میں آگے چلا گیا تو پھر میری نظر ایک سرخ رنگ بھاری جسم والے پر پڑی جس کے بال گھونگروالے ہیں۔ اس کی داہنی آنکھ کانی ہے۔ گویا ٹینٹ نکلا ہوا ہے۔ میں

صفحہ ٣٢١

نے پوچھا کہ وہ کون ہے تو جواب ملا یہ دجال ہے اور اس کی شکل ابن قطن سے بہت ملتی جلتی تھی۔ زہریؒ راوی فرماتے ہیں کہ ابن قطن قبیلہ خزاعہ کا ایک آدمی تھا جو جاہلیت میں مر گیا۔ (صحیح بخاری شریف ج اول ص ٤٨٩‘ فتح الباری پارہ ١٣ ص ٤٨ تا ٤٩‘ عمدۃ القاری ج ٧ ص ٤٧٧‘ ارشاد الساری ج ٥ ص ٤١٤‘ ٤١٥‘ ٤١٦‘ صحیح مسلم ج ١ ص ٩٦ (واللفظ للبخاری))

نوٹ : اس حدیث نبوی میں بتلایا گیا کہ آنے والے مسیح علیہ السلام جو قاتل دجال ہیں گندمی رنگ کا ہے اور اس کے سر کے بال سیدھے لمبے ہیں۔ امام ابو جعفر محمد ابن جریرؒ طبری کی تفسیر (کے پارہ سوم ص ٢٩١ و پارہ ششم ص ٢٢) پر ہے :

” عن ابی ھریرۃؓ قال قال رسول اللّٰہﷺ الانبیاء اخوۃ لعلات امھاتھم شتی ودینھم واحد وانا اولیٰ الناس بعیسی بن مریم لانہ لم یکن بینی وبینہ نبی وانہ خلیفتی علی امتی وانہ نازل فاذا رأ تیموہ فاعرفوہ فانہ رجل مربوع الخلق الیٰ الحمرۃ والبیاض سبط الشعر کان راسہ یقطر وان لم یصبہ بلل بین ممصر تین فیدق الصلیب ویقتل الخنزیر ویفیض المال ویقاتل الناس علی الاسلام حتی یھلک اللّٰہ فی زمانہ الملل کلھا غیر الاسلام ویھلک اللّٰہ فی زمانہ مسیح الضلالۃ الکذاب الدجال وتقع فی الارض الامانۃ حتی ترتع الاسود مع الابل والنمر مع البقر والذأب مع الغنم وتلعب الغلمان والصبیان بالحیات لا یضر بعضھم بعضا ثم یلبث فی الارض ماشاء اللّٰہ وربما قال اربعین سنۃ ثم یتوفی ویصلی علیہ المسلمون ویدفنونہ“

دیکھئے اس روایت میں بھی آنے والے مسیح عیسیٰ بن مریم کا حلیہ یوں بیان کیا گیا ہے کہ متوسط پیدائش‘ مائل بسرخی وسفیدی یعنی گندمی رنگ اور سر کے بال سیدھے

صفحہ ٣٢٢

لمبے اور یہی حلیہ (صحیح بخاری شریف ج اول ص ٤٥٩ اور صحیح مسلم ج اول ص ٩٢ پر) حضرت مسیح علیہ السلام ناصری کا آیا ہے جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آنے والا عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام مسیح ناصری ہی ہے۔

صحیح مسلم کی روایتیں مسیح ناصری علیہ السلام کا حلیہ

" عن جابرؓ ان رسول الله ﷺ قال عرض علی الانبیاء فاذا موسٰی ضرب من الرجال کانہ من رجال شنوة ورایت عیسیٰ ابن مریم فاذا اقرب من رایت بہ شبھا عروۃ بن مسعود “

(صحیح مسلم شریف ج اول ص ٩٥ کتاب المعلم ج ١ ص ٣١٩‘ مشکوٰۃ ص ٥٠٨ باب بدء الخلق و ذکر الانبیاء)

﴾ روایت ہے حضرت جابرؓ سے کہ تحقیق حضرت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے روبرو انبیاء لائے گئے۔ پس ناگہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام دبلے پتلے ہیں۔ گویا کہ وہ قبیلہ شنوۃ کے مردوں میں سے ہیں اور دیکھا میں نے حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کو پس ناگہاں قریب ترین ان شخصوں کا کہ دیکھے میں نے مناسب مشابہت میں ساتھ اس کے عروہ بن مسعودؓ ہے۔ ﴿

نوٹ: اس حدیث نبوی میں حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کی مشابہت حضرت عروہ بن مسعودؓ صحابی کے ساتھ دی گئی ہے۔ نیز مرزائیوں کے رسالہ (ریویو آف ریلیجنز ج ٢٢ نمبر ١٠ بابت ماہ اکتوبر ١٩٢٣ء ص ١٧) پر اس امر کو تسلیم کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کو عروہ بن مسعودؓ سے مشابہت دی تھی۔

آنے والے عیسیٰ علیہ السلام کا حلیہ

" عن عبدالله بن عمرؓ قال قال رسول الله ﷺ یخرج الدجال فیمکث فی امتی اربعین لاادری اربعین یوما اوشهرا اوعاما

صفحہ ٣٢٣

فيبعث الله عيسىٰ ابن مريم كأنه عروة بن مسعود فيطلبه فيهلكه

(صحیح مسلم شریف ج دوم ص ٤٠٣ کتاب العلم ج ٦ ص ٢٨٠٤‘ ٢٨٠٣، مشکوٰۃ ص ٤٨١ باب لا تقوم الساعة الا علی اشرار الناس)

﴿حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ فرمایا حضرت رسول خداﷺ نے کہ دجال نکلے گا۔ پس رہے گا چالیس (عبداللہ بن عمرؓ کا قول ہے) میں نہیں جانتا چالیس سے چالیس دن مراد ہیں یا چالیس ماہ یا چالیس برس (نبیﷺ نے فرمایا) پس اللہ بھیجے گا حضرت عیسیٰ ابن مریم کو گویا وہ عروہ بن مسعود ہیں۔ پس وہ تلاش کریں گے دجال کو اور اس کو ہلاک کرڈالیں گے۔﴾

نوٹ : اس حدیث صحیح میں آنے والے حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کی مشابہت حضرت عروہ بن مسعودؓ کے ساتھ دی گئی ہے۔ چنانچہ مرزائیوں کے رسالہ (تشحیذ الاذہان ج ١٥ نمبر ٨ بابت ماہ اگست ١٩٢٠ء ص ٣٨) پر اس امر کو تسلیم کیا گیا ہے کہ عروہ بن مسعودؓ کے ساتھ آپﷺ نے مشابہت اس ابن مریم علیہ السلام کی دی ہے جو کہ آئندہ آنے والا ہے جیسے حدیث مسلم میں آیا ہے۔ پس نتیجہ یہ نکلا کہ آنے والا عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام قاتل دجال حضرت مسیح ناصری ہی ہے۔

اب مرزا قادیانی اور ان کے مریدوں کے سوال کا جواب تحقیقی اور التزامی طور پر لکھا جاتا ہے :

قادیانی : ابن مریم کے آنحضرتﷺ نے دو حلیے بیان فرمائے ہیں۔ ملاحظہ ہو کتاب بدء الخلق بخاری مجاہد نے ابن عمر سے روایت کی ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ میں نے عیسیٰ ، موسیٰ ، ابراہیم کو دیکھا۔ عیسیٰ سرخ رنگ ، گھنگرالے بال ، چوڑے سینے والے تھے۔ اس ابن مریم کا حلیہ جسے آپ نے اسراء کی رات میں دیکھا سرخ رنگ والے گھنگرالے بال اور چوڑا سینہ فرمایا ہے اور جس کو دجال کے پیچھے طواف کرتے دیکھا

صفحہ ٣٢٤

اس کا حلیہ آپ نے گندمی رنگ اور سیدھے بال بتلایا ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے ابن مریم کے دو حلیے بتائے ہیں۔ اس لئے وہ شخص دو ہیں۔

(رسالہ تشحیذ الاذہان بابت ماہ اگست ١٩٢٠ء ص ٣٥٤‘ ٣٥٣ خلاصہ)

مسلمان : مسیح علیہ السلام کے دو حلیوں سے جو حدیثوں میں مذکور ہیں دو شخصوں کے مسیح ہونے پر استدلال کرنا غلط ہے ورنہ اس طرح تو حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی دو ہو سکتے ہیں کیونکہ معراج والی جو حدیث میں موسیٰ کا حلیہ ایک مرد گندم گوں‘ دراز قد جعد مذکور ہے اور ذکر الانبیاء میں جو حدیث ہے اس میں لکھا ہے کہ ایک مرد ہے مضطرب‘ رجل الشعر وہ بال کہ نہ بہت سیدھے ہوں اور نہ بہت گھنگرالے ہوں۔ یعنی ایک روایت میں رجل الشعر‘ آیا ہے اور دوسری میں جعد۔

قادیانی : حضرت موسیٰ علیہ السلام کے آپ نے دو حلیے نہیں بتائے۔ بلکہ وہ حلیہ ایک ہی ہے کیونکہ دونوں حدیثوں میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تشبیہ رجال شنؤۃ کے ساتھ دی گئی ہے۔ یہ بات بھی دلالت کرتی ہے کہ وہ ایک ہی ہیں۔

رہا یہ سوال کہ ایک حدیث میں حضرت موسیٰ کے لئے جعد آیا ہے اور دوسری حدیث میں رجل آدم اور ایک میں جسیم اور طوال آیا ہے۔ ان کے درمیان فتح الباری والے نے یوں تطبیق دی ہے نووی نے کہا کہ جعودۃ جو صفت موسیٰ علیہ السلام میں ہے اس سے جعودت جسم کی ہے یعنی جسم سخت اور مجتمع الخلق ہونا جعودت شعر مراد نہیں ہے کیونکہ اس کے متعلق آچکا ہے کہ آپ رجل الشعر تھے۔

(تشحیذ الاذہان بابت ماہ اگست ١٩٢٠ء ص ٣٦٥‘ ٣٦٤ کا خلاصہ)

مسلمان : جس طرح حافظ ابن حجر عسقلانیؒ اور امام نوویؒ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں حلیوں میں تطبیق دی ہے اسی طرح انہوں نے حلیہ

صفحہ ٣٢٥

مسیح علیہ السلام میں بھی تطبیق دی ہے۔ ذرا غور سے سنئے کتاب ( فتح الباری پارہ ١٣ ص ٢٧٧ اور نووی شرح صحیح مسلم ج اول ص ٩٤ اور کتاب المعلم ج اول ص ٣١) پر لکھا ہے :

" واما قوله ﷺ فى عيسى عليه السلام جعد ووقع فى اكثر الروايات فى صفة سبط الراس فقال العلماء المراد بالجعد هنا جعودة الجسم وهو اجتماعه واكتنازه وليس المراد جعودة الشعر"

﴿اور آپ ﷺ کا قول عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں کہ وہ جعد تھے اور واقع ہوا ہے اکثر روایتوں میں کہ عیسیٰ علیہ السلام کے سر کے بال لمبے سیدھے ہیں۔ پس علماء نے کہا ہے کہ اس جگہ جعودۃ سے مراد جعودۃ جسم کی ہے یعنی سخت اور مجتمع الخلق ہونا اور بالوں کا گھنگریالے ہونا مراد نہیں ہے۔﴾

اس سے صاف معلوم ہوا کہ (صحیح بخاری شریف ج اول ص ٤٨١‘ ٤٨٩ پر) حضرت عیسیٰ کے لئے جو لفظ جعد آیا ہے۔ اس سے مراد بالوں کا گھنگریالے ہونا نہیں ہے بلکہ جسم کا سخت و مضبوط ہونا ہے۔

(٢)...... مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ : ”صحیح بخاری میں جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ کہلاتی ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا حلیہ سرخ رنگ لکھا ہے جیسا کہ عام طور پر شامی لوگوں کا ہوتا ہے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٣٢ خزائن ص ١١٩ ج ١٧)

اور نیز مرزا قادیانی نے لکھا ہے : ”اور بدھ نے اپنی پیشگوئی میں اس آنے والے بدھ کا نام بگوایتا اس لئے رکھا کہ بگوا سنسکرت زبان میں سفید کو کہتے ہیں اور حضرت مسیح چونکہ بلاد شام کے رہنے والے تھے اس لئے وہ بگوا یعنی سفید رنگ تھے۔“

(مسیح ہندوستان میں ص ٨١‘ خزائن ص ٨٣ ج ١٥)

حضرت مسیح علیہ السلام ناصری کے بارے میں ان ہر دو بیانوں میں تطبیق

صفحہ ٣٢٦

کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ سفید رنگ سے مراد دودھ کی مانند نہیں ہے اور سرخ رنگ سے مراد خون کی مانند سرخ نہیں ہے بلکہ شامی آدمی کو سرخ رنگ والا اور سفید رنگ والا بھی کہہ سکتے ہیں۔

ایک غلطی کا ازالہ

لو كان موسى وعيسى حيين لما وسعهما الا

اتباعی کی تحقیق

مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے مرید وفات مسیح علیہ السلام پر ایک دلیل یہ بھی دیا کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اگر حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے تو میری پیروی کرتے۔ چنانچہ ذیل میں مرزا قادیانی اور ان کے مریدوں کی کتابوں سے عبارتیں لکھی جاتی ہیں اور اس کے بعد ان کا جواب بھی دیا جاتا ہے: ”وما توفیقی الا بالله عليه توكلت واليه انيب“

مرزا غلام احمد قادیانی کی تحریر

”ایک حدیث میں آنحضرت ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ اگر موسیٰ اور عیسیٰ زندہ ہوتے تو میری پیروی کرتے۔“ (تحفہ گولڑویہ ص ١٩٥‘ خزائن ص ٣٩٥ ج ١٧‘ ایام الصلح اردو

ص ٤٤‘ خزائن ص ٢٧٣ ج ١٤‘ اربعین نمبر ٢ ص ٢٦‘ خزائن ص ٣٧٤ ج ١٧‘ اتمام الحجۃ ص ٦‘ خزائن ص ٢٧٩ ج ٨‘

حمامة البشریٰ ص ١٢٧‘ خزائن ص ٢٥٤ ج ٧ کا خلاصہ مطلب)

حکیم خدا بخش مرزائی کی تحریر

حکیم خدا بخش مرزائی نے لکھا ہے : ”بعض حدیثوں میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ اگر موسیٰ اور عیسیٰ زندہ ہوتے تو ان کو بجز ہماری اطاعت کے اور کچھ چارہ نہ ہوتا۔“ (اپنی کتاب عسل مصفے

صفحہ ٣٢٧

(طبع ثانی) حصہ اول ص ٢٦٨‘ ٢٦٩‘ ٢٧٠ پر بحوالہ تفسیر ابن کثیر‘ تفسیر ترجمان القرآن‘ فصل الخطاب‘ الیواقیت والجواہر مدارج السالکین‘ زرقانی شرح مواہب اللدنیہ)

جلال الدین سیکھوانی کی تحریر

تیسری حدیث جس میں حضرت عیسیٰ کا ذکر ہے جو (فقہ اکبر مطبوعہ مصر ایڈیشن اول ص ١٠٠) پر لکھی ہوئی ہے : ”ویقتدی بہ لیظہر متابعتہ لنبینا ﷺ کما اشار الی ھذا المعنی ﷺ لوکان عیسیٰ حیا لما وسعہ الا اتباعی “ یعنی مسیح موعود مہدی کی اقتدا کریں گے تا یہ ظاہر کریں کہ آپ آنحضرت ﷺ کے پیرو ہیں جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے اپنی حدیث میں اس مدعا کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ اگر عیسیٰ زندہ ہوتا تو اسے میری پیروی کے سوا چارہ نہ ہوتا۔ پس ان کا پیروی نہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ زندہ نہیں ہیں۔“

(رسالہ مباحثہ میانی ص ٥٣‘ ٥٤)

سید مصطفےٰ بھائی کی تحریر

سید مصطفےٰ بھائی لکھتا ہے : ”رسول اکرم ﷺ فرماتے ہیں : ”لوکان عیسیٰ حیا لما وسعہ دینی (کتاب المعیار الصحیح لمعرفۃ ظہور المہدی والمسیح (مطبوعہ ١٣٢٨ مطبع انوار محمدی کلکتہ) ص ٩١) “ ﴿اگر عیسیٰ مسیح جیتے رہتے اور میرے زمانہ (بعثت) میں موجود ہوتے تو ان کو ضرور میری شریعت اور دین کی پیروی کرنی پڑتی۔ ﴾

جواب : واضح ہو کہ حدیث کی کتابیں دو قسم کی ہیں۔ ایک قسم کی وہ کتابیں ہیں جن میں محدثین نے اپنی اپنی سندوں سے آنحضرت ﷺ کی حدیثیں لکھی ہیں جس میں صحاح ستہ شریف‘ مسند احمد شریف‘ موطا امام مالک‘ موطا امام محمد‘ مستدرک حاکم‘ تصانیف امام بیہقی‘ وامام طبرانی‘ سنن دارمی‘ دلائل النبوت‘ ابو نعیم ان کو مسندات

صفحہ ٣٢٨

کہتے ہیں۔ دوسری قسم کی وہ کتابیں ہیں جن کے لکھنے والوں نے پہلی قسم کی کتب حدیث سے حدیثیں نقل کی ہیں اور راوی کا نام اور حدیث کی کتاب کا حوالہ بھی لکھ دیا ہے جیسے مشکوٰۃ شریف‘ کتاب الترغیب والترہیب‘ ان کو مخرجات کہتے ہیں۔ مرزائی اور بہائی مولوی کے پیش کردہ الفاظ : ” لوکان موسٰی وعیسٰی حیین لما وسعہما الاتباعی“ اور الفاظ : ” لوکان عیسٰی حیا لما وسعہ الا اتباعی “ حدیث کی کسی مسند یا مخرج میں آنحضرت ﷺ سے نہیں آئے ہیں۔

صحیح کی تعریف یہ ہے کہ ” ماثبت بنقل عدل تام الضبط “ جو عادل تام الضبط کی نقل سے ثابت ہو یعنی جس کے راوی عادل تام الضبط ہوں۔

مرفوع اس کو کہتے ہیں : ” ماانتھی الی النبی ﷺ “ جس کی سند رسول اللہ ﷺ تک پہنچتی ہو۔

متصل کی تعریف یہ ہے : ” فان لم یسقط راومن الرواۃ من البین فالحدیث متصل “ یعنی اگر راویوں میں سے کوئی راوی درمیان سے نہ گیا ہو تو حدیث متصل کہلاتی ہے۔

(دیکھو جلال الدین شمس سیکھوانی مرزائی کی کتاب تنقید صحیح ص ٥٣‘٥٤‘٥٥)

صحیح مرفوع متصل کی آپ جب تعریف معلوم کر چکے تو اس کے ساتھ یہ بھی سمجھ لینا چاہئے کہ کس حدیث کو اس وقت تک محل استدلال میں پیش نہیں کیا جاسکتا۔ تاوقتیکہ اس کا صحیح‘ مرفوع‘ متصل‘ ہونا نہ پایا جائے۔ اب میں ذیل میں یہ دکھانا چاہتا ہوں کہ حدیث کی مستند کتابوں میں حدیث نبوی ان الفاظ کے ساتھ ہے : ” لوکان موسیٰ حیا ما وسعہ الا اتباعی “ ” لوکان عیسٰی حیا لما وسعہ الا اتباعی “ نہیں آئے ہیں۔

خدا ﷺ سے‘ اس وقت کہ آپ ﷺ کے پاس حضرت عمرؓ آئے اور عرض کیا کہ ہم

صفحہ ٣٢٩

یہودیوں کی باتیں سنتے ہیں اور ہم کو اچھی لگتی ہیں۔ کیا آپ اجازت دیں گے کہ ہم ان میں سے بعض لکھ لیں۔ اس وقت حضرت رسول خدا ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم حیران ہو جیسے یہود اور نصاریٰ حیران ہیں؟۔ تحقیق میں لایا ہوں تمہارے پاس روشن اور صاف شریعت : ”ولوكان موسى حيا ماوسعه الا اتباعی“ اور اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے تو ان کو میری پیروی کے سوا چارہ نہ ہوتا۔ (اس روایت کو محدث امام بیہقی نے بھی اپنی کتاب شعب الایمان میں لکھا ہے۔) (مسند احمد شریف

ص ٣٨٧‘ ٣٨٤ ج سوم‘ مشکوٰۃ المصابیح ص ٣٠‘ کتاب الایمان باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ‘ مظاہر حق ج ١ ص ٨٣

طبع کراچی)

(٢)...... ”حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطابؓ حضرت رسول خدا ﷺ کے پاس توریت کا ایک نسخہ لے کر آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ یہ توریت کا نسخہ ہے۔ پس حضرت رسول خدا ﷺ چپ رہے۔ حضرت عمرؓ تورات پڑھنے لگے اور حضرت رسول خدا ﷺ کا چہرہ انور متغیر ہوا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے کہا اے عمرؓ کیا تو آنحضرت ﷺ کے چہرہ مبارک کو نہیں دیکھتا۔ حضرت عمرؓ نے آنحضرت ﷺ کی طرف دیکھا اور عرض کیا میں اللہ کی پناہ پکڑتا ہوں۔ اللہ کے غصے سے‘ راضی ہوئے ہم اللہ کے ساتھ جو رب ہے اور حضرت محمد ﷺ کے ساتھ جو نبی ہے اور اسلام کے ساتھ جو ہمارا دین ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اس خدا کی قسم جس کے ہاتھ میں (حضرت) محمد ﷺ کی جان ہے۔ اگر تمہارے واسطے حضرت موسیٰ ظاہر ہوویں۔ پس تم اس کی پیروی کرنے لگ جاؤ تو گمراہ ہو جاؤ سیدھے راستہ سے : ”لوكان موسى حيا وادرك نبوتى لا تبعنى“ اور اگر حضرت موسیٰ زندہ ہوتے اور میری نبوت کو پاتے تو ضرور میری اتباع کرتے۔ (سنن دارمی شریف

ص ١١٥ ج ١‘ باب مایتقى من تفسير حديث النبى ﷺ وقول غيره عندقوله‘ مشكوٰة المصابيح

ص ٣٢ کتاب الایمان باب اعتصام بالکتاب والسنة)

صفحہ ٣٣٠

(٣).......”عن عمر بن الخطاب قال اتیت النبی صلی اللہ علیہ وسلم ومعی کتاب اصبتہ من بعض اہل الکتب فقال والذی نفس محمد بیدہ لو ان موسیٰ کان حیا ما وسعہ الا ان یتبعنی“

(محدث ابو نعیم اصفہانی کتاب دلائل النبوت ج اول ص ٨ اور کتاب خصائص الکبریٰ ج دوم ص ١٨٧)

(٤)....... ”محدث ابو یعلیٰ موصلیؒ حضرت جابرؓ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا ﷺ نے فرمایا کہ اہل کتاب سے کچھ مت پوچھو وہ تم کو کیا خاک ہدایت دیں گے جب کہ وہ خود گمراہ ہوگئے ہیں۔ تم یا تو باطل کی تصدیق کرو گے یا سچ کو جھٹلاؤ گے۔ واللہ حال یہ ہے کہ اگر موسیٰ تمہارے درمیان زندہ ہوتے تو ان کو میری پیروی کرنے کے سوا کچھ چارہ نہ ہوتا۔“

(تفسیر ابن کثیر (بر حاشیہ تفسیر فتح البیان مطبوعہ مصر) ج دوم ص ٤٦ اور تفسیر ترجمان القرآن ج ٢ ص ٤٦١)

(٥)....... ”احمد و ابن شیبہ و بزار نے حضرت جابرؓ سے روایت کیا کہ تحقیق حضرت عمرؓ ایک کتاب لے کر آئے جس کو انہوں نے بعض اہل کتاب سے پایا تھا۔ حضرت عمرؓ نے وہ کتاب پڑھی۔ پس آنحضرت ﷺ غصے ہوئے اور آپ ﷺ نے فرمایا میں تمہارے پاس لایا ہوں صاف روشن شریعت۔ اہل کتاب سے کچھ نہ پوچھو کیونکہ تم کو حق کی خبر دیں گے پس تم اس کی تکذیب کرو گے یا خبر دیں گے باطل کے ساتھ پس تم اس کی تصدیق کرو گے۔ قسم ہے اس خدا کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ اگر موسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے تو ان کو میری پیروی کے بغیر چارہ نہ ہوتا۔“

(کتاب عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری ج ١١ ص ٥٠٧)

غرض

حدیث کی کتابوں (مثلاً مسند احمد‘ سنن دارمی‘ امام بیہقیؒ کی کتاب شعب الایمان‘ دلائل النبوت‘ بزار‘ ابو یعلیٰ‘ ابن ابی شیبہ‘ مشکوٰۃ شریف) میں صحیح مرفوع متصل روایت میں الفاظ :” لوکان

صفحہ ٣٣١

موسیٰ حیا ماوسعه الا اتباعی“ آئے ہیں۔ حضرت عیسیٰ کا اسم گرامی نہیں۔

حدیث کی کسی مستند کتاب میں الفاظ :” لوکان موسیٰ وعیسیٰ حیین لما وسعهما الا اتباعی“ نہیں آئے ہیں۔ جس کتاب میں ایسے الفاظ لکھے گئے ہیں بے ثبوت ہیں۔ مرزا قادیانی اور ان کے مریدوں نے خود غرضی کی وجہ سے تحقیق سے کام نہیں لیا۔

اعتراض : (کتاب الیواقیت والجواہر فی بیان عقائد الاکابر ص ٢٤ پر) حدیث ان الفاظ میں آئی ہے :” لوکان موسیٰ وعیسیٰ حیین ماوسعهما الا اتباعی“

(عسل مصفے حصہ ١ ص ٢٢٩ خلاصہ)

جواب : کتاب الیواقیت والجواہر میں فتوحات مکیہ کے باب دس کا حوالہ دیا گیا ہے۔ حالانکہ اس کتاب (یعنی فتوحات مکیہ) میں یہ عبارت نہیں ملتی بلکہ (فتوحات مکیہ کی ج اول باب ١٠ ص ١٣٥ پر) اصل عبارت یوں مرقوم ہے :

” وقد ابان صلی اللہ علیہ وسلم عن هذا المقام بامور منها قوله صلی اللہ علیہ وسلم والله لوکان موسیٰ حیا ماوسعه الا ان یتبعنی وقوله فی نزول عیسیٰ بن مریم فی آخر الزمان انه یؤمنا ای یحکم فینا بسنۃ نبینا صلی اللہ علیہ وسلم ویکسر الصلیب ویقتل الخنزیر“

مختصر یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نام کسی قابل سند روایت میں نہیں ملتا۔

اقوال مرزا غلام احمد قادیانی خلاف آیات قرآنی

واضح ہو کہ قرآن مجید کی سورۃ بقرہ‘ سورۃ آل عمران‘ نساء‘ مائدہ‘ انعام‘ مریم‘ انبیاء‘ مؤمنون‘ احزاب‘ زخرف‘ حدید اور صف میں حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہما

صفحہ ٣٣٢

السلام کا ذکر خیر آیا ہے اور یہ بیان کیا گیا ہے کہ آپ بن باپ کے پیدا ہوئے تھے۔ آپ نے اللہ کے حکم سے معجزات دکھائے۔ آپ اللہ کے نبی ورسول تھے۔ آپ اللہ کے پیارے مقرب اور صالح بندے تھے۔ آپ اللہ کی طرف سے ایک روح تھے۔ آپ خدا کی طرف سے ایک کلمہ تھے۔ اللہ نے آپ کو دشمنوں (یعنی یہود) کے ہاتھوں سے بچایا اور اپنی طرف اٹھایا اور یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اللہ نے آپ کو کتاب وحکمت تورات شریف اور انجیل شریف سکھائی۔ آپ نے مہد میں باتیں کیں آیت : ” وانه لعلم للساعة“ میں آپ کا قیامت سے پیشتر دوبارہ آنے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اور حضرت عبداللہ بن عباس صحابیؓ نے اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ یہ حضرت عیسیٰ کا قیامت سے پیشتر تشریف لانا ہے۔ (دیکھو مسند احمد ج اول ص ٣١٨‘٣١٧) اب میں بتاتا ہوں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے اقوال قرآن مجید کی آیتوں کے خلاف ہیں اور مرزا غلام احمد قادیانی کے یہ اقوال ایسے ہیں کہ ان کا ثبوت نہ قرآن مجید سے ملتا ہے اور نہ احادیث صحیحہ نبویہ سے۔

” اذ قالت الملئكة يامريم ان الله يبشرك بكلمة منه اسمه المسيح عيسىٰ ابن مريم وجيهاً فى الدنيا والآخرة ومن المقربين ويكلم الناس فى المهد وكهلا ومن الصالحين قالت رب انى يكون لى ولد ولم يمسسنى بشر قال كذالك الله يخلق مايشاء اذا قضى امراً فانما يقول له كن فيكون ويعلمه الكتاب والحكمة والتوراة والانجيل ورسولا الى بنى اسرائيل (سورۃ آل عمران آیت ٤٥ تا ٤٩)“ ﴿جس وقت فرشتوں نے کہا اے مریم تحقیق اللہ تعالیٰ تجھ کو اپنی طرف سے ایک کلمہ سے بشارت دیتا ہے۔ اس کا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم ہے دنیا اور آخرت میں

صفحہ ٣٣٣

آبرو والا اور مقرب بندوں میں سے ہوگا اور لوگوں سے باتیں کرے گا مہد میں۔ اور ادھیڑ عمر میں‘ صالح بندوں میں سے ہوگا۔ حضرت مریم صدیقہ نے فرمایا اے میرے رب میرے واسطے لڑکا کیونکر ہوگا‘ مجھے کسی مرد نے ہاتھ نہیں لگایا۔ کہا اسی طرح اللہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے اور عیسیٰ کو اللہ تعالیٰ لکھنا اور حکمت اور تورات اور انجیل سکھاوے گا اور اس کو بنی اسرائیل کی طرف رسول کرے گا۔﴾

” اذقال الله ياعيسى ابن مريم اذكر نعمتى عليك وعلى والدتك اذايدتك بروح القدس تكلم الناس فى المهد وكهلا واذعلمتك الكتاب والحكمة والتوراة والانجيل (سورۃ المائدہ آیت نمبر ١١٠) “

﴿جس وقت اے عیسیٰ بیٹے مریم صدیقہ کے یاد کر میری نعمت تجھ پر اور تیری ماں پر جس وقت کہ قوت دی میں نے تجھ کو روح القدس کے ساتھ تو باتیں کرتا تھا لوگوں سے مہد میں اور ادھیڑ عمر میں اور جس وقت کہ میں نے تجھ کو لکھنا اور حکمت اور تورات اور انجیل سکھائی تھیں۔﴾

نوٹ : سورۃ آل عمران اور سورۃ مائدہ کی ان آیات مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابن مریم کو لکھنا اور حکمت اور توریت اور انجیل سکھائی تھی اور قرآن مجید اور احادیث صحیحہ نبویہ میں یہ کہیں نہیں آیا ہے کہ حضرت مسیح نے لکھنا اور توریت کسی یہودی استاد سے سیکھی تھی۔

اقوال مرزا قادیانی

سبقاً توریت پڑھی تھی اور طالمود کو بھی پڑھا تھا۔“ (کتاب نزول المسیح ص ٦٠‘ خزائن ص ٤٣٨ ج ١٨)

صفحہ ٣٣٤

انہوں نے ساری بائبل پڑھی اور لکھنا بھی سیکھا۔“

(کتاب اربعین نمبر ٢ ص ١٠، خزائن ص ٥٨ ج ١٧)

عیسیٰ پر کس قدر اعتراض ہوں گے جنہوں نے ایک اسرائیلی فاضل سے توریت کو سبقاً سبقاً اور یہودیوں کی تمام کتابوں تالمود وغیرہ کا مطالعہ کیا تھا۔“

(کتاب چشمہ مسیحی ص ١٧، خزائن ص ٣٧٥ ج ٢٠)

کے مقابل ہمارے سید و مولیٰ ہادی کامل امی تھے۔ آپ کا کوئی استاد بھی نہ تھا۔“

(رپورٹ سالانہ جلسہ ١٨٩٧ء ص ٥٤ کتاب منظور الٰہی ص ٤٦)

پڑھا تھا............. عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا............. اور آپ کے ہاتھ میں سوائے مکر و فریب کے اور کچھ نہیں تھا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦، خزائن ص ٢٩٠‘٢٩١ ج ١١)

نہیں پڑھا تھا۔ مگر حضرت عیسیٰ اور حضرت موسیٰ مکتبوں میں بیٹھے تھے اور حضرت عیسیٰ نے ایک یہودی استاد سے تمام توریت پڑھی تھی۔“

(کتاب ایام صلح اردو ص ١٤٧ خزائن ص ٣٩٤ ج ١٤)

نوٹ: قرآن مجید کی آیات مبارکہ اور احادیث صحیحہ نبویہ میں یہ کہیں نہیں آیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ایک یہودی استاد سے توریت اور لکھنا سیکھا تھا۔

چیلنج: میں مرزائیوں کو چیلنج دیتا ہوں کہ قرآن مجید کی کسی آیت یا کسی صحیح

صفحہ ٣٣٥

حدیث نبوی سے ثابت کریں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے لکھنا اور توریت ایک یہودی استاد سے سیکھا تھا۔

یہودیت : اللہ دتہ مرزائی جالندھری نے اپنی کتاب (تفہیمات ربانیہ طبع ٦ ص ١٧١ ضمیمہ) پر لکھا ہے کہ یہود کی تاریخی روایت ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے ایک استاد سے سبقاً سبقاً تورات پڑھی تھی۔“

دشمن کی بات قابل اعتبار نہیں

مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھا ہے : ”جو بات دشمن کے منہ سے نکلے وہ قابل اعتبار نہیں۔“

(اعجاز احمدی ص ٢٥ خزائن ص ١١٤ ج ١٩)

PDF 336

عَقِیْدَۃ خَتْمِ نُبُوَّتْ پَرْ

مولانا محمد یوسف لدھیانوی کی تصانیف

PDF 337

معجزہ اور مسمریزم میں فرق

صفحہ ٣٣٨

بسم اللہ الرحمن الرحیم

باب اول

جبرائیل فرشتے کا کنواری مریم صدیقہ کے پاس آنا

”جس وقت فرشتوں نے کہا اے مریم ! تحقیق اللہ تعالیٰ تجھ کو بشارت دیتا ہے اپنی طرف سے ایک کلمہ کی۔ اس کا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم ہے۔ وہ دنیا اور آخرت میں آبرو والا ہو گا اور خدا کے مقرب بندوں میں سے ہو گا۔ اور عیسیٰ لوگوں سے کلام کرے گا مہد میں (یعنی ماں کی گود میں شیر خوارگی کی حالت میں) اور ادھیڑ عمر میں اور صالح بندوں میں سے ہو گا حضرت مریم صدیقہ نے فرمایا کہ اے میرے رب ! میرے ہاں لڑکا کیسے پیدا ہو گا۔ حالانکہ مجھے کسی مرد نے چھوا نہیں۔ فرشتے جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا۔ اسی طرح اللہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے۔ جب اللہ کچھ کام مقرر فرماتا ہے پس سوائے اس کے نہیں کہ اس کو فرماتا ہے ہو‘ پس وہ ہو جاتا ہے۔ اور اللہ مسیح کو کتاب اور حکمت اور تورات اور انجیل سکھا دے گا۔ اور اللہ اس کو بنی اسرائیل کی طرف رسول کرے گا۔“

”اور کتاب میں حضرت مریم صدیقہ کو یاد کر جب وہ اپنے لوگوں سے شرقی مکان میں دور چلی گئی۔ پس ان سے ورے پردہ پکڑا۔ پس ہم نے اس کی طرف اپنی روح

صفحہ ٣٣٩

(یعنی فرشتہ جبرائیل) کو بھیجا۔ پس اس نے اس کے واسطے تندرست آدمی کی صورت پکڑی۔ حضرت مریم صدیقہ نے فرمایا تحقیق میں تجھ سے رحمٰن کی پناہ پکڑتی ہوں۔ اگر تو پرہیزگار ہے۔ فرشتے نے جواب دیا۔ سوائے اس کے نہیں کہ میں تیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں۔ تجھ کو ایک پاکیزہ لڑکا پیدا ہونے کی خوشخبری دوں۔ حضرت مریم نے فرمایا میرے ہاں لڑکا کس طرح پیدا ہو گا حالانکہ مجھے کسی مرد نے ہاتھ نہیں لگایا اور میں بدکار عورت بھی نہیں ہوں۔ جبرائیل فرشتے نے جواب دیا کہ اسی طرح تیرے رب نے فرمایا ہے کہ وہ میرے پر آسان ہے اور تاکہ کریں اس کو نشانی لوگوں کے واسطے اور اپنے پاس سے رحمت اور ہے امر مقرر کیا ہوا۔“

باب دوم

حضرت مسیح علیہ السلام کی پیدائش

سورہ مریم آیت ٢٦‘٢٣ میں ہے :

”پس درد زہ حضرت مریم صدیقہ علیہا السلام کو درخت خرما کے تنے کی طرف لے گیا۔ آپ نے فرمایا اے کاش میں اس سے پہلے مر گئی ہوتی۔ اور بھولی بھلائی ہوتی پس مریم کو اس کے نیچے سے پکارا یہ کہ اے مریم مت غم کھا تحقیق تیرے رب نے تیرے نیچے ایک چشمہ جاری کر دیا ہے۔ اور تو اپنی طرف ہلا کھجور کے تنے کو تجھ پر کھجور تر و تازہ گرائے گا۔ پس کھجور کھا اور آب سرد و شیریں پی اور (اپنے ننھے بچے عیسیٰ کو دیکھ کر) اپنی آنکھوں کو ٹھنڈی رکھ۔ پس اگر تو آدمیوں میں سے کسی کو دیکھے پس کہہ کہ میں نے رحمٰن کے واسطے روزہ نذر کیا ہے۔ پس میں آج کے دن کسی انسان سے بات نہ کروں گی۔“

صفحہ ٣٤٠

باب سوم

حضرت مسیح کا شیر خوارگی کی حالت میں کلام کرنا

سورۃ مریم آیت ٢٧ تا ٣٤ میں ہے :

”پس حضرت مریم صدیقہ حضرت عیسیٰ کو اپنی گود میں اٹھائے ہوئے اپنی قوم میں آئی یہود نا مسعود نے کہا اے مریم! تحقیق تو عجیب چیز لائی۔ اے ہارون کی بہن! تیرا باپ برا آدمی نہ تھا اور تیری ماں بدکار عورت نہ تھی۔ پس حضرت مریم صدیقہ علیہا السلام نے اپنے بچے حضرت مسیح کی طرف اشارہ کیا۔ یہود نے کہا کہ ہم کیونکر اس بچے سے کلام کریں۔ جو ابھی تیری گود میں بچہ ہے۔ حضرت عیسیٰ نے (ماں کی چھاتی چھوڑ کر لوگوں کی طرف منہ کرتے ہوئے اللہ کے حکم سے) فرمایا انی عبداللہ تحقیق میں خدا کا پیارا بندہ ہوں۔ اللہ مجھے کتاب (انجیل شریف) عطا فرمائے گا اور مجھے نبی کرے گا۔ اور مجھے برکت والا کرے گا جہاں کہیں میں ہوں۔ اور اللہ مجھے حکم کرے گا نماز پڑھنے کا اور پاکیزہ زندگی بسر کرنے کا جب تک میں زندہ رہوں اور میں اپنی ماں کے ساتھ خوش سلوک ہوں گا اور اللہ مجھے سرکش بدبخت نہیں کرے گا۔ اور سلامتی ہے مجھ پر جس دن میں زندہ ہو کر اٹھوں گا۔ یہ ہے عیسیٰ بیٹا مریم کا۔ بات حق ہے وہ جو اس میں شک کرتے ہیں۔“

باب چہارم

حضرت مریم حضرت مسیح علیہما السلام کی جائے قرار

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

” وجعلنا ابن مریم وامہ آیۃ وآوینہما الیٰ ربوۃ ذات قرار و

صفحہ ٣٤١

معین (سورۃ المومنون آیت ٥٠) ﴿اور ہم نے ابن مریم (یعنی عیسیٰ) اور اس کی ماں کو نشانی بنایا اور ہم نے ان دونوں کو پناہ دی طرف بلند زمین کے‘ جگہ رہنے کی اور پانی جاری کئے۔﴾

نوٹ : جب حضرت عیسیٰ ماں (یعنی حضرت مریم صدیقہ) سے پیدا ہوئے اس وقت کے بادشاہ (یعنی ہیرودیس) نے نجومیوں سے سنا کہ اسرائیل کا بادشاہ پیدا ہوا۔ وہ دشمن ہوا۔ ان کی تلاش میں پڑا۔ ان کو بشارت ہوئی کہ اس ملک سے نکل جاؤ۔ نکل کر مصر کے ملک میں گئے۔ ایک گاؤں کے زمیندار نے حضرت مریم کو اپنی بیٹی کر رکھا۔ جب حضرت عیسیٰ جوان ہوئے۔ اس وطن کا بادشاہ (ہیرودیس) مرچکا‘ تب پھر آئے اپنے وطن کو وہ گاؤں (یعنی مقام ناصرہ) ٹیلے پر تھا اور وہاں کا پانی خوب تھا۔

(موضح القرآن ص ٧٥)

باب پنجم

حضرت مسیح علیہ السلام کے معجزات

سورۃ آل عمران آیت ٤٩ میں ہے : ”حضرت مسیح نے فرمایا تحقیق میں تمہارے پاس تمہارے خدا کی طرف سے نشان لے کر آیا ہوں۔ یہ کہ میں مٹی سے تمہارے واسطے جانور کی صورت کی مانند بناتا ہوں۔ پس میں اس میں پھونکتا ہوں پس خدا کے حکم کے ساتھ وہ پرندہ ہوتا ہے۔ اور میں پیٹ کے جنے اندھے کو اور برص (کوڑھی) والے کو اچھا کرتا ہوں۔ اور مردے کو زندہ کرتا ہوں ساتھ اس چیز کے کہ جو تم کھاتے ہو اور جو تم اپنے گھروں میں اکٹھا کرتے ہو۔ تحقیق اسی میں البتہ نشانی ہے تمہارے واسطے اگر تم ایماندار ہو۔“

صفحہ ٣٤٢

باب ششم

حضرت مسیح علیہ السلام کی تعلیم

”حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اور میں سچا کرنے والا ہوں اس چیز کو جو میرے آگے ہے تورات سے اور تاکہ میں تمہارے واسطے حلال کروں بعض وہ چیز کہ حرام کی گئی ہے تم پر اور میں تمہارے خدا کی طرف سے تمہارے پاس نشان کے ساتھ آیا ہوں پس خدا سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ تحقیق اللہ تعالیٰ میرا رب ہے اور تمہارا پروردگار ہے۔ یہ سیدھا راستہ ہے۔“

”اور حضرت مسیح نے فرمایا اے بنی اسرائیل عبادت کرو اللہ کی کہ میرا پروردگار ہے اور تمہارا پروردگار ہے۔ تحقیق بات یہ ہے کہ جو کوئی شریک لائے ساتھ اللہ کے۔ پس اللہ نے اس پر بہشت حرام کی اور اس کی جگہ آگ ہے اور مشرکوں کے واسطے کوئی مددگار نہ ہوگا۔“

باب ہفتم

حضرات حواری

”پس جب حضرت مسیح نے یہود نا مسعود سے کفر دیکھا تو فرمایا۔ کہ مجھ کو اللہ کی طرف مدد دینے والا کون ہے۔ حواریوں نے جواب دیا کہ ہم اللہ کے دین کی مدد کرنے والے ہیں۔ ہم اللہ کے ساتھ ایمان لائے اور تو اس بات پر گواہ رہ کہ ہم تیرے

صفحہ ٣٤٣

مطیع ہیں۔ اے ہمارے رب ہم ایمان لائے ساتھ اس چیز کے کہ تو نے اتاری اور ہم نے تیرے پیغمبر کی پیروی کی پس ہم کو شاہدوں کے ساتھ لکھ۔“

”واذ اوحیت الی الحواریین ان آمنوا بی وبرسولی قالوا آمنا واشہد باننا مسلمون“ ﴿اور جس وقت ہم نے حواریوں کی طرف وحی بھیجی یہ کہ ایمان لاؤ ساتھ میرے اور ساتھ رسولوں میرے کے انہوں نے عرض کیا ہم ایمان لائے اور تو گواہ رہ کہ ہم مسلمان ہیں۔﴾

”اے ایماندار لوگو اللہ کے دین کے مددگار بن جاؤ جیسا کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم نے کہا تھا حواریوں کو ، کہ کون ہے میری مدد کرنے والا طرف اللہ کے، حواریوں نے جواب دیا کہ ہم خدا کے دین کی مدد کرنے والے ہیں۔ پس بنی اسرائیل میں سے ایک گروہ ایمان لایا۔ اور ایک جماعت نے کفر (یعنی انکار) کیا پس ہم نے ایمانداروں کی مدد کی ان کے دشمنوں پر۔ پس مومن غالب آگئے۔“

باب ہشتم

نزول مائدہ

سورۃ المائدہ آیت ١١٣‘ ١١٥ میں ہے : ”جس وقت حواریوں نے عرض کیا اے عیسیٰ بیٹے مریم کے کیا تیرا پروردگار کر سکتا ہے یہ کہ ہم پر اتارے مائدہ (خوان) آسمان سے حضرت مسیح نے جواب دیا کہ خدا سے ڈرو۔ اگر تم ایماندار ہو۔ حواریوں نے عرض کیا۔ ہم ارادہ کرتے ہیں یہ کہ ہم اس میں سے کھاویں اور ہمارے دل اطمینان پکڑیں اور ہم جانیں یہ کہ البتہ آپ نے ہم

صفحہ ٣٤٤

سے سچ فرمایا ہے۔ اور ہم اس پر گواہ ہو جائیں۔ حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام نے دعا کی یا اللہ ہمارے پروردگار آسمان سے ہم پر خوان اتار ہمارے واسطے‘ ہووے عید ہمارے پہلوں اور پچھلوں کے واسطے اور تیری طرف سے نشانی اور ہم کو رزق عطا فرما اور تو بہتر ہے رزق دینے والا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تحقیق میں مائدہ تم پر اتارنے والا ہوں۔ پس اس کے بعد جو کوئی تم میں سے کفر کرے۔ پس میں اس کو وہ عذاب دوں گا کہ ایسا عذاب جہانوں میں سے کسی کو نہ دوں گا۔“

(صحیح بات یہ ہے کہ مائدہ نازل ہوا تھا۔ ابن کثیر سوم ص ٢٧٩)

باب نہم

احمد رسول اللہ ﷺ کے آنے کی بشارت

سورۃ صف آیت ٦ میں ہے :

”اور جس وقت حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام نے فرمایا اے بنی اسرائیل تحقیق میں اللہ کا رسول ہوں تمہاری طرف ماننے والا اس چیز کو کہ میرے آگے ہے تورات سے اور میں خوشخبری دینے والا ہوں ساتھ ایک رسول کے کہ میرے بعد تشریف لائے گا۔ اس کا (جمالی و صفاتی) نام احمد ہو گا پس جب وہ احمد رسول لوگوں کے پاس کھلے کھلے نشانات لے کر آیا۔ مخالفوں نے کہا یہ جادو ہے ظاہر۔“

باب دہم

یہود کی تدبیر اور خدا کے چار وعدے

سورۃ آل عمران آیت ٥٤‘ ٥٥ میں ہے :

”اور یہود نا مسعود نے تدبیر کی اور خدا نے تدبیر کی اور اللہ بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔ جس وقت اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے عیسیٰ میں تجھے بچانے والا ہوں۔ اور تجھے اپنی

صفحہ ٣٤٥

طرف اٹھانے والا ہوں اور تجھے پاک کرنے والا ہوں ان لوگوں سے کہ کافر ہوئے اور تیری پیروی کرنے والوں کو تیرے منکروں پر قیامت تک غلبہ دینے والا ہوں پھر میری طرف تم سب پھر آؤ گے پھر حکم کروں گا تمہارے درمیان اس میں کہ تم اختلاف کرتے تھے۔“

باب یازدہم

حضرت مسیح علیہ السلام کا رفع

سورة النساء آیت ١٥٧‘ ١٥٩ میں ہے :

”اور (یہود پر لعنت ہوئی) بسبب کہنے ان کے کہ تحقیق ہم نے مار ڈالا مسیح عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کو جو رسول خدا ہونے کا مدعی تھا اور یہود نے نہ مارا اس کو اور نہ اس کو پھانسی پر چڑھایا اور لیکن شبیہ ڈالا گیا واسطے ان کے‘ ان کو اس کا کچھ علم نہیں مگر گمان کی پیروی کرنا‘ اور یہود نے مسیح کو یقیناً قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے عیسیٰ کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ اور اللہ غالب ہے اور حکمت والا ہے اور نہیں کوئی اہل کتاب میں سے مگر البتہ ایمان لائے گا ساتھ مسیح کے اس کی وفات سے پہلے اور قیامت کے دن عیسیٰ ان پر گواہی دے گا۔“

باب دوازدہم

حضرت مسیح علیہ السلام قیامت کی نشانی ہے

سورۃ الزخرف آیت ٥٧‘ ٦١ میں ہے :

”اور جب حضرت ابن مریم (یعنی مسیح) مثال بیان کیا گیا ناگہاں تیری قوم کے لوگ اس سے تالیاں بجاتے ہیں۔ اور کہتے ہیں ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ نہیں بیان

صفحہ ٣٤٦

کرتے اس کو تیرے واسطے مگر جھگڑا کرنے کو۔ بلکہ وہ قوم ہیں جھگڑالو نہیں عیسیٰ مگر ایک بندہ کہ ہم نے اس پر انعام کیا۔ اور کیا اس کو نمونہ بنی اسرائیل کے واسطے اور اگر ہم چاہتے البتہ ہم کرتے تم میں سے فرشتے کہ زمین میں جانشین ہوتے‘ اور تحقیق مسیح ابن مریم البتہ نشانی قیامت کی ہے۔ پس اس کے ساتھ شک مت لاؤ اور میری پیروی کرو یہ سیدھی راہ ہے۔“

نوٹ : ایک قرات میں عَلَم بھی آیا ہے۔ (الیواقیت والجواہر ج ٢ ص ١٤٦)

آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم کا نزول قیامت کی نشانی ہے۔ (دیکھو صحیح مسلم ج ٢ ص ٣٩٣ ترمذی ج ٢ ص ٤٣ سنن ابن ماجہ ص ٢٩٩) حضرت عبداللہ بن عباسؓ صحابی نے آیت : ” وانہ لعلم للساعۃ“ کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ قیامت سے پیشتر حضرت عیسیٰ کا تشریف لانا ہے۔

(دیکھو مسند احمد ج ١ ص ٣١٨‘ درمنثور ج ٦ ص ٢٠‘ ابن جریر ج ٢٥ ص ٩١)

حضرت ابن عباسؓ نے روایت کی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ میرا بھائی عیسیٰ آسمان سے نازل ہو گا۔ (کنز العمال ج ١٤ ص ٦١٩ حدیث ٣٩٧٢٦‘ مسند احمد ج ٦ ص ٧٥‘ مجمع البحار ص ٤٣) ایک حدیث نبوی سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسیح ملک شام میں نازل ہوں گے اور فلسطین میں باب لد پر دجال کو قتل کریں گے۔ (مسند احمد ج ٦ ص ٧٥) حضرت مسیح حج کریں گے۔ حضرت ﷺ کے روضہ اقدس پر حاضر ہوں گے اور سلام کریں گے اور آپ ﷺ ان کو جواب عطا فرمائیں گے۔ (حجج الکرامہ ص ٤٢٩) آخر حضرت عیسیٰ فوت ہونے کے بعد مدینہ طیبہ میں آنحضرت ﷺ کے پاس دفن کئے جائیں گے۔

صفحہ ٣٤٧

باب سیزدہم

حضرت مسیح علیہ السلام مثیل آدم علیہ السلام ہے

سورۃ آل عمران آیت ٥٩ میں ہے :

”ان مثل عیسیٰ عنداللہ کمثل آدم خلقہ من تراب ثم قال لہ کن فیکون “ ﴿ تحقیق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مثال اللہ کے نزدیک مانند مثال حضرت آدم علیہ السلام کے ہے۔ اللہ نے اس کو مٹی سے پیدا کیا۔ پھر اس کو فرمایا ہو پس وہ ہو گیا۔ ﴾

نوٹ : نصاریٰ اس بات پر حضرت ﷺ سے بہت جھگڑے کہ عیسیٰ بندہ نہیں‘ اللہ کا بیٹا ہے۔ آخر کہنے لگے کہ اللہ کا بیٹا نہیں تو تم بتاؤ کہ کس کا بیٹا ہے۔ اس کے جواب میں یہ آیت اتری کہ آدم کا تو نہ ماں نہ باپ‘ عیسیٰ کا باپ نہ ہو تو کیا عجیب ہے۔

(موضح القرآن ص ٧٧)

باب چہاردہم

اللہ کے انعامات مسیح پر

سورۃ المائدۃ آیت ١١٠ میں ہے :

”جس وقت (قیامت کے دن) اللہ تعالیٰ فرمادے گا۔ اے عیسیٰ ابن مریم یاد کر نعمت میری تیرے پر اور تیری ماں پر جس وقت میں نے تیری مدد کی تھی۔ ساتھ روح القدس کے تو لوگوں سے باتیں کرتا تھا جھولے میں اور ادھیڑ عمر میں اور جس وقت کہ سکھائی میں نے تجھ کو کتاب اور حکمت اور توریت اور انجیل اور جس وقت تو مٹی سے جانور کی صورت کی طرح بناتا تھا۔ میرے حکم سے پس اس میں پھونکتا تھا۔ پس وہ پرندہ

صفحہ ٣٤٨

ہو جاتا میرے حکم کے ساتھ اور تو اچھا کرتا تھا مادر زاد اندھوں کو اور کوڑھی کو میرے حکم کے ساتھ اور جس وقت تو زندہ کرتا تھا مردوں کو میرے حکم کے ساتھ اور جس وقت کہ روک رکھا تھا۔ میں نے بنی اسرائیل کو تجھ سے جب تو ان کے پاس معجزات لایا تھا۔ پس کافروں نے کہا نہیں یہ مگر جادو ظاہر ۔“

باب پانزدہم

اللہ تعالیٰ کا سوال اور حضرت عیسیٰ کی بریت

سورۃ المائدہ آیت ١١٦‘ ١١٩ میں ہے :

”اور جب (قیامت کے دن) اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ اے عیسیٰ بیٹے مریم کے کیا تو نے لوگوں کو یہ تعلیم دی تھی کہ مجھ کو اور میری ماں کو اللہ کے سوا دو معبود پکڑو۔ حضرت عیسیٰ جواب دیں گے یا اللہ تو پاک ہے۔ میرے واسطے زیبا نہیں یہ کہ میں کہوں وہ چیز کہ میرے واسطے حق نہیں ہے۔ اگر میں نے کہا ہو گا ان کو پس تحقیق آپ جانتے ہوں گے آپ جانتے ہیں جو کچھ میرے جی میں ہے اور میں نہیں جانتا جو کچھ آپ کے جی میں ہے۔ تحقیق آپ ہی ہیں غیبوں کے جاننے والے‘ میں نے ان کو نہیں کہا مگر جو کچھ کہ آپ نے مجھے حکم فرمایا تھا ساتھ اس کے‘ یہ کہ عبادت کرو اللہ کی‘ کہ میرا پروردگار ہے اور تمہارا رب ہے۔ اور میں ان پر شاہد تھا جب تک میں ان میں رہا پس جب آپ نے مجھے اپنی طرف اٹھا لیا تو آپ ہی ان لوگوں پر نگہبان (محافظ) رہے اور آپ ہر چیز پر گواہ ہیں۔ اگر آپ عذاب کریں ان کو پس تحقیق وہ آپ کے بندے ہیں۔ اور اگر آپ ان کو بخش دیں پس آپ غالب اور دانا ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ یہ دن ہے کہ سچوں کو فائدہ دے‘ ان کا سچ ان کے واسطے بہشت ہیں چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں ہمیشہ رہیں گے ان میں‘ ہمیشہ اللہ راضی ہوا ان سے اور وہ راضی ہوئے اللہ سے یہ ہے مراد پانا بڑا۔“

صفحہ ٣٤٩

معجزہ اور مسمریزم میں فرق

معجزات حضرت عیسیٰ رسول ربانی

اور اقوال مرزا غلام احمد قادیانی

بسم الله الرحمن الرحيم

(الف)...... سورہ آل عمران آیت ٤٩ میں ہے کہ مسیح ابن مریم نے فرمایا :

”انى قد جئتكم بآية من ربكم انى اخلق لكم من الطين كهيئة الطير فانفخ فيه فيكون طيراً باذن الله وابرى الا كمه والا برص واحيى الموتى باذن الله وانبئكم بما تاكلون وما تدخرون فى بيوتكم ان فى ذالك لآية لكم ان كنتم مؤمنين“

﴿یہ کہ تحقیق میں اپنے رب کی طرف سے نشان لے کر تمہارے پاس آیا ہوں (١) یہ کہ میں تمہارے واسطے مٹی سے جانور کی صورت کی مانند بناتا ہوں۔ پس اس پر پھونکتا ہوں پس ہو جاتا ہے پرندہ جانور اللہ کے حکم کے ساتھ (٢) اور اچھا کرتا ہوں پیٹ کے جنے اندھے کو (٣) اور سفید داغ والے کو (٤) اور اللہ کے حکم کے ساتھ مردے کو زندہ کرتا ہوں (٥) اور تم کو خبر دیتا ہوں اس چیز کی کہ تم کھاتے ہو اور جو کچھ تم اپنے گھروں میں ذخیرہ کرتے ہو، تحقیق اس میں البتہ تمہارے واسطے نشانی ہے اگر تم ایمان والے ہو۔﴾

(ب)...... سورہ مائدہ آیت ١١٠ میں ہے :

” اذ قال الله يعيسى بن مريم اذكر نعمتى عليك وعلى والدتك اذ ايدتك بروح القدس تكلم الناس فى المهد وكهلا واذ علمتك الكتاب والحكمة والتوراة والانجيل واذ تخلق من الطين كهيئة الطير باذنى

صفحہ ٣٥٠

. فتنفخ فيها فتكون طيرا باذنى وتبرئ الاكمه والا برص باذنی واذ تخرج الموتى باذنى“

﴿جس وقت (قیامت کے دن) اللہ فرمائے گا۔ اے عیسیٰ ابن مریم یاد کر میری نعمت جو میں نے تجھ پر اور تیری ماں پر کی جس وقت میں نے تیری مدد کی تھی روح القدس کے ساتھ، تو باتیں کرتا تھا لوگوں سے جھولے میں اور ادھیڑ عمر میں، اور جب سکھلائی میں نے تجھ کو کتاب اور حکمت اور توریت اور انجیل اور جس وقت تو مٹی سے پرندہ کی صورت کی مانند بناتا تھا میرے حکم سے پس اس میں پھونکتا تھا۔ پس وہ ہو جاتا تھا پرندہ میرے حکم سے، اور تو اچھا کرتا تھا مادر زاد اندھے کو اور سفید داغ والے کو میرے حکم سے، اور جس وقت تو مردے کو میرے حکم کے ساتھ زندہ کرتا تھا۔﴾

حدیث رسول ربانی

(صحیح مسلم شریف ج ٢ ص ٢١٥) حضرت صہیبؓ رومی صحابی سے ایک روایت نبی کریم ﷺ سے آئی ہے کہ ایک ولی اللہ بندہ آپ سے پیشتر تھا۔ جس کو مشرک و ظالم بادشاہ نے پھانسی پر لٹکا کر مار دیا تھا۔ ایک ٹکڑا اس حدیث نبوی کا یوں ہے :

”وكان الغلام يبرئ الاكمه والابرص ويداوى الناس سائرالا دواء“ ﴿وہ لڑکا اندھے اور برص والے کو اچھا کرتا تھا اور ہر قسم کی بیماری سے لوگوں کے علاج کرتا تھا۔﴾

نوٹ نمبر ١ : کتاب (نووی شرح صحیح مسلم ج ٢ ص ٢١٥، فیض الباری حصہ ١٣ ص ١٦٥، تفسیر ابن جریر پارہ سوم ص ١٧٣، تفسیر ابن کثیر ج ٢ ص ١٤٣، روح المعانی ج ٣ ص ١٤٨) پر لکھا ہے کہ : ”اکمہ مادر زاد“ اندھے کو کہتے ہیں۔

صفحہ ٣٥١

نوٹ نمبر ٢ : اہل سنت والجماعت کی تفسیروں (مثلاً ابن کثیر ، ابن جریر ، غرائب القرآن ، در منثور ، روح البیان ، روح المعانی ، بحر المحیط ، الدر اللقیط ، النہر الماد ، مظہری ، خازن ، مدارک ، معالم ، ترجمان القرآن ، فتح البیان ، حسینی ، جلالین ، فتوحات الہیہ ، تفسیر کبیر ، تفسیر ابی السعود ، بیضاوی ، سراج منیر ، اکسیر اعظم ، اعظم التفاسیر ، فتح المنان ، مراح لبید) میں آیت مندرجہ بالا کی تفسیر کرتے ہوئے حضرت عیسیٰ ابن مریم کے معجزات کو لکھا گیا ہے۔ اور تسلیم کیا گیا ہے کہ خداوند تعالیٰ کے حکم سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام مادر زاد اندھے اور سفید داغ والے کو اچھا کرتے تھے اور باذن الٰہی مردہ کو زندہ کرتے تھے۔

نوٹ نمبر ٣ : (ابن کثیر ج دوم ص ١٣٣‘١٣٤) پر لکھا ہے : ”قال كثير من العلماء بعث الله كل نبى من الانبياء بما يناسب اهل زمانه فكان الغالب على زمان موسى عليه السلام السحر و تعظيم السحرة فبعثه الله بمعجزات بهرت الابصار وحيرت كل سحار فلما استيقنوا انها من عند العظيم الجبار انقادوا للاسلام وصاروا من عباد الله الابرار“

”واما عيسى عليه السلام فبعث فى زمن الاطباء واصحاب علم الطبيعت فجاء هم من الآيات بما لا سبيل لاحد اليه الا ان يكون مؤيد امن الذى شرع الشريعة فمن اين اللطبيب قدرة على احياء الجماد وعلى مداواة الاكمه والابرص وبعث من هو فى قبره رهين الى يوم التناد“

”وكذالك محمد صلی اللہ علیہ وسلم بعث فى زمان الفصحاء والبلغاء و تجاريد الشعراء فاتاهم بكتاب من الله عزوجل فلوا اجتمعت الانس والجن على ان يأتوا بمثله او بعشر سور من مثله او بسورة من مثله

صفحہ ٣٥٢

لم یستطیعوا ابدا لوکان بعضهم لبعض ظهیرا وما ذاك الا ان کلام الرب عزوجل لا یشبہ کلام الخلق ابداً“

﴿بہت سے علماء نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک نبی کو نبیوں میں سے ایسے معجزات دیئے جو کہ اس زمانہ کے مناسب تھے پس موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں جادو کا غلبہ اور اس کی تعظیم تھی پس بھیجا اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو ایسے معجزات کے ساتھ جو آنکھوں پر غالب آگئے۔ اور ہر ایک بڑے جادوگر کو حیرت میں ڈال دیا پس جب ان کو یقین ہو گیا کہ یہ معجزات جبار عظیم کے پاس سے ہیں تو اسلام کے تابعدار ہو گئے اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں سے ہو گئے۔ اور لیکن عیسیٰ علیہ السلام کے پاس بھیجا ان کو طبیبوں اور ماہرین علم طبعیات کے زمانہ میں پس وہ ایسے معجزات لائے کہ کسی کو قدرت نہیں ہو سکتی مگر اسی کو ہو سکتی ہے جو مؤید من اللہ ہو‘ جمادات کے زندہ کرنے پر اور نابینوں کو بینا کرنے اور برص والے کو اچھا کرنے اور مردوں کے اٹھانے پر بھلا طبیب کو کیسے قدرت ہو سکتی ہے؟ اور اسی طرح محمد ﷺ ایسے زمانہ میں مبعوث ہوئے جبکہ بڑے بڑے فصیح اور بلیغ اور فضلاء شعراء کا غلبہ تھا پس ان کے پاس اللہ سے ایسی کتاب لائے کہ اگر جن اور انس جمع ہو جائیں کہ اس جیسی کتاب‘ یا دس سورتیں یا ایک ہی سورت لائیں تو کبھی اس کی قدرت نہیں پاسکتے۔ اگرچہ ایک دوسرے کے مددگار ہوں۔ اس لئے کہ کلام الٰہی سے مخلوق کا کلام کبھی مشابہ نہیں ہو سکتا۔﴾

مرزا غلام احمد قادیانی کے اقوال

”اور چونکہ قرآن شریف اکثر استعارات سے بھرا ہوا ہے۔ اس لئے ان آیات کے روحانی طور پر یہ معنی بھی کر سکتے ہیں۔ کہ مٹی کی چڑیوں سے مراد وہ امی اور نادان لوگ ہیں جن کو حضرت عیسیٰ نے اپنا رفیق بنایا۔ گویا اپنی صحبت میں لے کر پرندوں کی صورت کا خاکہ کھینچا پھر ہدایت کی روح ان میں پھونک دی جس سے وہ

صفحہ ٣٥٣

پرواز کرنے لگے۔“

(ازالہ اوہام ص ٣٠٤ حاشیہ خزائن ج ٣ ص ٢٥٥)

مسمریزم

”ماسوا اس کے یہ بھی قرین قیاس ہے۔ کہ ایسے ایسے اعجاز طریق عمل الترب یعنی مسمریزی طریق سے بطور لہو و لعب نہ بطور حقیقت ظہور میں آسکیں۔ کیونکہ عمل الترب میں جس کو زمانہ حال میں مسمریزم کہتے ہیں۔ ایسے ایسے عجائبات ہیں کہ اس میں پوری پوری مشق کرنے والے اپنی روح کی گرمی دوسری چیزوں پر ڈال کر ان چیزوں کو زندہ کے موافق کر دکھاتے ہیں ؟۔

(ازالہ اوہام ص ٣٠٥ حاشیہ خزائن ج ٣ ص ٢٥٥)

بقول مرزا حضرت مسیح مسمریزم کرتے تھے

”اور یہ بات بھی یقینی طور پر ثابت ہو چکی ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم باذن و حکم الٰہی الیسع نبی کی طرح اس عمل الترب میں کمال رکھتے تھے گو الیسع کے درجہ کاملہ سے کم رہے ہوئے تھے۔“

(ازالہ اوہام حصہ اول ص ٣٠٨ و ص ٣٠٩ خزائن ج ٣ ص ٢٥٧)

”اور یہ جو میں نے مسمریزی طریق کا عمل الترب نام رکھا جس میں حضرت مسیح بھی کسی درجہ تک مشق رکھتے تھے۔ یہ الہامی نام ہے اور خدا تعالیٰ نے مجھ پر یہ ظاہر کیا کہ یہ عمل الترب ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٣١٢ حاشیہ خزائن ج ٣ ص ٢٥٩)

”عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں۔ مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦ حاشیہ خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)

”اور آپ کے ہاتھ میں مکر و فریب کے اور کچھ نہیں تھا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ حاشیہ خزائن ج ١١ ص ٢٩١)

صفحہ ٣٥٤

یہود نامسعود کی بکواس

”حسب بیان یہود مسیح سے کوئی معجزہ ظہور میں نہیں آیا۔“

(رسالہ ریویو آف ریلیجنز بابت ماہ جنوری ١٩٣٠ء ص ٢٩)

دشمن کا بیان قابل اعتبار نہیں

”جو بات دشمن کے منہ سے نکلے وہ قابل اعتبار نہیں۔“

(اعجاز احمدی ص ٢٥ خزائن ج ١٩ ص ١٣٢)

مرزائیت

مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھا ہے : ”یسوع در حقیقت بوجہ بیماری مرگی دیوانہ ہو گیا تھا۔“

(ست بچن ص ١٧١ حاشیہ‘ خزائن ص ٢٩٥ ج ١٠)

یہودیت

”اور بہتیرے تو کہنے لگے کہ اس (یعنی یسوع) میں بدروح ہے اور دیوانہ ہے۔“

(انجیل یوحنا باب ١٠ درس ٢٠) (اخبار فاروق قادیان مورخہ ٢٤ اگست ١٩٣٢ء ص ١٠)

عمل الترب (مسمریزم) اور مرزا قادیانی

”بہر حال مسیح کی یہ تربی کارروائیاں زمانہ کے مناسب حال بطور خاص مصلحت کے تھیں۔ مگر یاد رکھنا چاہئے کہ یہ عمل ایسا قدر کے لائق نہیں۔ جیسا کہ عوام الناس اس کو خیال کرتے ہیں۔ اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خدا تعالیٰ کے فضل و توفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان عجوبہ نمائیوں میں حضرت ابن مریم سے کم نہ رہتا۔“

(ازالہ اوہام ص ٣٠٩ حاشیہ‘ خزائن ج ٣ ص ٢٥٧)

صفحہ ٣٥٥

محمود احمد قادیانی اور مسمریزم

”عمل مسمریزم کا یہی اصول ہے کہ توجہ ڈال کر اپنا اثر دوسرے پر ڈال دیا جاتا ہے۔ چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح ثانی (مرزا محمود) نے فرمایا کہ مجھ کو بھی یہ علم آتا ہے۔“

(الفضل ٢١ مئی ١٩٢٦ء ص ٨)

معجزہ اور مسمریزم میں فرق

ذریعہ سے صادر ہوں ان کو معجزات کہا جاتا ہے۔ اور خلقت ان کا مقابلہ کرنے سے عاجز آجاتی ہے اور دوسرے لوگوں کے طلسمات جو بذریعہ مشق حاصل ہو سکتے ہیں عمل مسمریزم کہلاتے ہیں۔ پھر نجومی اور مسمریزم اقتداری پیشگوئیاں نہیں کر سکتے۔ اور نہ آج تک کسی غیر نبی نے کیں۔ پھر نبیوں کے کاموں میں ثبوت ہستی باری تعالیٰ کا جلوہ نظر آتا ہے۔ اور مسمریزم کے اپنے اخلاق ایسے اعلیٰ نہیں ہوتے۔ اور نہ ہی اپنے طلسمات سے ثبوت ہستی باری تعالیٰ دے سکتا ہے۔ بلکہ ایک دہریہ بھی مسمریزم کی مشق کر سکتا ہے مسمریزم کی مشق ہر ایک صاحب استعداد حاصل کر سکتا ہے۔ مگر معجزات کا دعویٰ ہر ایک نہیں کر سکتا۔ بلکہ مشاہدہ بتلا رہا ہے کہ خدا پر افتراء کرنے والا جلدی خائب و خاسر ہو جاتا ہے اور پھر آپ یہ بھی یاد رکھیں کہ مسمریزروں کو معجزہ دکھلانے کا دعویٰ بھی نہیں ہوتا۔ کیا آپ کو کسی مسمریزم والے نے یہ کہا ہے کہ یہ نشانی میں خدا تعالیٰ کی طرف سے لے کر آیا ہوں۔ اگر ایسا ہے تو اس عاجز کو بھی مطلع کریں۔ میرے خیال ناقص میں وہ تو یہی کہا کرتے ہیں کہ یہ ہماری اپنی مشق کا نتیجہ ہے۔ مسمریزم اور معجزہ میں وہی فرق ہے جو چراغ اور سورج کی روشنی میں فرق ہے۔“

(بدر قادیان مورخہ ١٣ جون ١٩٠٧ء ص ٧ ج ٦ ش ٢٤)

صفحہ ٣٥٦

مرزا محمود نے کہا ١٣٢ ’مسمریزم والا جب چاہتا ہے یہ تماشا کر سکتا ہے۔ اور اس کو ہر ایک شخص کر سکتا ہے لیکن معجزہ ہر وقت نہیں دکھایا جاسکتا اور نہ ہر شخص دیکھا سکتا ہے۔ مسمریزم سکھلایا جاسکتا اور معجزہ نہیں سکھایا جاسکتا ہے اور علمی فرق بھی ہیں۔

(اخبار الفضل مورخہ ١٧ جولائی ١٩٢٢ء ص ٧ ج ١٠ نمبر ٥)

سحریہ کا فرق“ کے عنوان سے ایک مضمون خطیب میں ١٩١٥ء میں چھپوایا تھا جس کا خلاصہ مطلب ذیل میں لکھا جاتا ہے :

کہ بدون تکمیل ضبط و خیال کے اپنا پورا اثر کسی معمول پر ڈال سکے اور انبیاء کے لئے یہ شرط نہیں۔

تشویش ظنون، تردد خاطر سے دور ہونی چاہئے لیکن بر خلاف اس کے انبیاء علیہم السلام کے ہزاروں معجزات اضطراب اور پریشانی خاطر کی حالت میں رونما ہوئے، بلکہ محاصرہ اور نرغہ اعداء میں خاص طور سے ان کا ظہور ہوا۔

آج تک معلوم ہوئے ہیں۔ انبیاء علیہم السلام ان میں سے کسی کے محتاج نہ تھے۔

امراض پہنچانا چاہتا ہے۔ تو اس کو کسی واسطہ و رابطہ کی ضرورت ہوتی ہے لیکن انبیاء علیہم السلام اس کے محتاج نہ تھے۔ ان کو خدا نے یہ طاقت دی تھی کہ ادھر منہ سے کہا اور ادھر ہو گیا۔

صفحہ ٣٥٧

جاتے ہیں لیکن برخلاف اس کے انبیاء علیہم السلام کسی امر غائب کا معائنہ کراتے تھے۔ تو وہ شخص اپنی معمولی حالت میں رہتا تھا۔

جائے۔ اثر یا موثر کا منکر نہ ہو لیکن انبیاء علیہم السلام جو جس قدر زیادہ منکر ہوتا تھا اُسی قدر زیادہ اظہار اعجاز کرتے تھے۔

عالم کیوں نہ ہو لیکن انبیاء پر اس کے علم و عمل کا اثر نہیں ہو سکتا اور انبیاء کا اثر اعجاز کوئی عامل نہیں روک سکتا۔

(از رسالہ تشحیذ الاذہان ماہ اکتوبر و نومبر ١٩١٥ء ص ٢)

ہندو سادھو مسمریزم کرتے تھے

تعلق ہے۔؟

مرزا محمود احمد قادیانی نے کہا کچھ تعلق نہیں میں نے غور کیا ہے کہ جب مسلمان ہندوستان میں وارد ہوئے اور انہوں نے ہندو سادھوؤں میں دیکھا کہ وہ توجہ اور مسمریزم کرتے ہیں اور لوگوں میں ان کی وجہ سے اصل معجزات اور کرامات کے متعلق اشتباہ اور شک پیدا ہو سکتا ہے۔ تو اس شک و اشتباہ کو دور کرنے کیلئے اولیاء امت نے جو ہندوستان میں آئے۔ اس کام کو بھی کیا تا کہ بتائیں کہ یہ کوئی کرامت نہیں۔ در حقیقت اس کا تصوف سے کوئی تعلق نہ تھا۔

(الفضل ٧ جولائی ١٩٢٢ء ص ٧)

(الفضل ٢٠ مارچ ١٩٢٢ء ص ٦)

اس علم میں پڑنے سے منع فرمایا ہے۔

(الفضل ١٥ جولائی ١٩١٦ء ص ٢)

صفحہ ٣٥٨

مسمریزم کرے اور اس کو مکروہ جانتے تھے۔

(بدر قادیان ١٨ فروری ١٩٠٩ء ص ٣)

مسمریزم کا عمل کرنے والا

معمول کے حواس ظاہری کو اپنے قابو میں کر کے اس کی قوت ارادی کو سلب کر دیتا ہے اور اس طرح جو اثر چاہے معمول پر ڈال سکتا ہے۔ اسی طرح ملہم کے حواس ظاہری کو بھی اللہ تعالیٰ اپنی قدرت اور حکمت سے اپنے قبضہ میں کر لیتا ہے۔“

(رسالہ ریویو ستمبر ١٩٢٩ء ص ٣)

مسمریزم کسبی ہے

مسمریزم سیکھتے اور اس کی مشق کرتے پھریں اور یہ بھی یاد رہے کہ حضرت مسیح نے اسے باذن و حکم الٰہی شروع کیا تھا۔

(دیکھو ازالہ ص ٣٠٨‘ تشحیذ الاذہان بابت ماہ جون ١٩١٣ء ص ٨١‘ ٢٨٢)

ہو، قرآن شریف سے ناممکن ہے اور دوسری خلق مسمریزم والی ہے۔ اس سے ایک نبی کی کوئی ایسی عظمت نہیں۔ ہاں تیسری طرز سے وہ خالق طیراً باذن اللہ ہو سکتے ہیں۔ اور وہ سب نبیوں کا کام ہے۔“

(تشحیذ الاذہان ١٩١٣ء ص ٨٩ بابت ماہ اپریل ج ٨ نمبر ٣)

مسمریزم اور علم روحانیت

خدمت میں بیعت کے لئے حاضر ہوئے وہ علم توجہ اور مسمریزم کے بڑے ماہر تھے۔

صفحہ ٣٥٩

عرض کی کہ میرا دل چاہتا ہے کہ علم توجہ اور مسمریزم پر ایک کتاب لکھوں‘ مرزا قادیانی فرمانے لگے۔ کہ صوفی صاحب اس علم سے خدا ملتا ہے؟ عرض کی نہیں‘ فرمایا آگے ہی لوگ لہو ولعب میں مشغول ہیں۔ اب اس نئے کھیل تماشا میں ڈال کر خدا سے غافل رکھنے کی راہیں کیوں پیدا کرتے ہیں۔“

(پیغام صلح ٧ ذی الحجہ ١٣٤٥ھ ص ٦)

مسمریزم اچھی چیز نہیں ہے

مخالف مولوی فضل حق صاحب حنفی کو مخاطب کر کے فرمایا : ”اگر آپ کے نشانات خارق عادت ثابت نہ ہوں بلکہ وہ مسمریزم اور شعبدہ بازی کے ثابت ہوں تو کیا آپ اپنی مخالفت ابن مریم سے توبہ کر کے مامور من اللہ حضرت مسیح موعود کے ہاتھ پر بیعت کرلیں گے۔“

(الحکم ٧ فروری ١٩٠٢ء ص ١١)

نتیجہ

یہ نکلا کہ معجزہ اور مسمریزم میں بڑا بھاری فرق ہے حضرت عیسیٰ ابن مریم کی نسبت مرزا قادیانی کا یہ لکھنا کہ مسمریزم میں آپ بھی کسی درجہ تک مشق رکھتے تھے۔ سراسر جھوٹ ہے بھلا نبی اللہ کو مسمریزم جیسے شعبدے سے کیا تعلق ہو سکتا ہے اور یہ لکھنا بھی صحیح نہیں کہ حضرت مسیح ابن مریم باذن و حکم الٰہی اس عمل الترب (مسمریزم) میں کمال رکھتے تھے جس طرح کسی نبی یا ولی کی نسبت یہ کہنا ناجائز ہوگا۔ کہ وہ باذن وحکم الٰہی شعبدہ بازی میں کمال رکھتا تھا قرآن کریم کی سورۃ آل عمران و سورۃ مائدہ میں حضرت مسیح کے معجزات کا اقرار ہے۔

صفحہ ٣٦٠

تقدیس حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام رسول ربانی

از طعن مرزا غلام احمد قادیانی

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

”اذ قالت الملائکۃ یٰمریم ان اللہ یبشرک بکلمۃ منہ اسمہ المسیح عیسیٰ بن مریم وجیھاً فی الدنیا والاخرۃ ومن المقربین ویکلم الناس فی المہد وکھلاً ومن الصالحین(سورۃ آل عمران آیت ٤٥‘٤٦)“

﴿جس وقت فرشتوں نے کہا کہ اے مریم تحقیق اللہ تعالیٰ تجھ کو بشارت دیتا ہے اپنی طرف سے ایک کلمہ کی کہ اس کا نام مسیح عیسیٰ بیٹا مریم کا ہے دنیا میں اور آخرت میں عزت والا ہے اور خدا کے مقرب بندوں میں سے ہے اور لوگوں سے باتیں کرے گا۔ جھولے میں اور ادھیڑ عمر میں اور صالح بندوں میں سے ہوگا۔﴾

نوٹ : قرآن مجید کی (سورۃ البقرۃ‘ آل عمران‘ نساء‘ مائدہ‘ انعام‘ مریم‘ الانبیاء‘ مؤمنون‘ احزاب‘ زخرف‘ حدید‘ صف) میں حضرت عیسیٰ کا ذکر خیر آیا ہے۔ اور بیان کیا گیا ہے کہ آپ بن باپ پیدا ہوئے۔ آپ نے مہد میں باتیں کیں۔ آپ اللہ کے مقرب وصالح بندے ہیں‘ آپ نبی ہیں‘ آپ رسول ہیں‘ اللہ کی طرف سے ایک کلمہ ہیں‘ اللہ کی طرف سے ایک روح ہیں‘ آپ سے معجزات صادر ہوئے‘ آپ کو اللہ تعالیٰ نے کتاب وحکمت وتورات و انجیل سکھائی۔ آپ کو یہود قتل نہ کر سکے۔ اللہ نے آپ کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ اور سورۃ زخرف کی آیت : ”وانہ لعلم للساعۃ“ میں آپ کے قیامت سے پیشتر دوبارہ آنے کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عباس نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا ہے۔

(دیکھو مسند احمد ج ١ ص ٣١٨‘٣١٧‘ تفسیر ابن جریر تفسیر درمنثور ج ٦ ص ٢٠)

صفحہ ٣٦١

مرزا غلام احمد قادیانی کے اقوال

”یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا ہے۔ اس کا سبب تو یہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔ شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے مگر اے مسلمانو! تمہارے نبی علیہ السلام تو ہر ایک نشہ سے پاک اور معصوم تھے۔ جیسا کہ وہ فی الحقیقت معصوم ہیں.............. قرآن انجیل کی طرح شراب کو حلال نہیں ٹھہراتا۔ پھر تم کس دستاویز سے شراب کو حلال ٹھہراتے ہو۔ کیا مرنا نہیں۔“

(کشتی نوح ص ٦٥ حاشیہ خزائن ص ٧١ ج ١٩ اور اخبار الحکم قادیان مورخہ ٣٠ مئی ١٩٠٥ء ص ٤)

(ب)...... ”یحییٰ علیہ السلام جو نشہ نہیں پیتے تھے۔ تو اس سے معلوم ہوا کہ اس وقت بھی منع تھی مسیح نے مرشد کی تقلید کیوں نہ کی۔“

(اخبار بدر قادیان مورخہ ٧ نومبر ١٩٠٢ء ص ١٠)

محمود احمد قادیانی کا قول

”عرض کیا گیا حضرت مسیح موعود نے اپنی تصنیفات میں انجیل کی ایک یہ تعلیم بیان کی ہے کہ اتنی شراب مت پیو کہ مست ہو جاؤ مگر انجیل میں یہ نہیں، حضور نے فرمایا حضرت مسیح موعود نے یہ انجیل سے استنباط فرمایا ہے۔ انجیل میں لکھا ہے شراب میں متوالے نہ ہو۔ اس کا یہی مطلب ہے کہ اتنی شراب نہ پیو جو بدمست کر دے۔ دوسری طرف یسوع کا شراب پینا بھی انجیل سے ثابت ہے۔

عرض کیا گیا انجیل میں شیرہ انگور پینے کا ذکر ہے شراب کا نہیں فرمایا شیرہ انگور عیسائیوں کی اصطلاح ہے۔ اسی کو شراب کہتے ہیں۔ ایک صاحب نے عرض کیا۔ انجیل کے انگریزی تراجم میں شیرہ انگور کی جگہ وائن کا لفظ ہے۔ جو ایک قسم کی شراب کا نام ہے۔ حضور نے فرمایا یسوع مسیح کا معجزہ کے طور پر شراب بنانا بھی انجیل میں لکھا ہے۔“

(اخبار الفضل مورخہ ١٠ دسمبر ١٩٢٩ء ص ٧٠ ج ١٧ نمبر ٧٤)

صفحہ ٣٦٢

پہنچایا ہے لیکن یہ ہر گز سچ نہیں کہ اس کا سبب یہ تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام (بقول مرزا قادیانی) شراب پیا کرتے تھے۔

تثلیث پرستی اور لحم خنزیر نے بھی نقصان پہنچایا تھا۔ مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دامن مبارک ان تمام عیبوں سے پاک تھا۔

ہے۔ مگر (کشتی نوح ص ٦٥ کے حاشیہ‘ خزائن ص ٧١ ج ١٩ پر) مرزا قادیانی نے الفاظ عیسیٰ علیہ السلام لکھے ہیں لفظ یسوع نہیں لکھا ہے۔

الفاظ پیا کرتے تھے صیغہ ماضی استمراری کے ہیں اور دوام اور ہمیشگی پر دال ہیں۔

کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔ مرزا قادیانی نے یہ نہ بتلایا کہ یہ عادت ان میں دعویٰ نبوت سے پہلے تھی یا دعویٰ رسالت کے بعد تھی اور وہ بیماری کیا تھی۔ اور اس بیماری کا علاج کسی سے کیوں نہ کرایا؟۔

شریعت موسوی میں شراب کی حرمت

”اسلام سے پہلے شریعت موسوی میں شراب کی حرمت موجود تھی۔ چنانچہ بائیبل بھی اس کی گواہ ہے۔ احبار باب ١٠ آیت ٨ تا ١١ میں لکھا ہے۔ پھر خداوند نے خطاب کر کے ہارون کو فرمایا کہ جب تم جماعت کے خیمے میں داخل ہو تو تم کوئی چیز جو نشہ کرنے والی ہو نہ پینا نہ تو اور نہ تیرے بیٹے تا نہ ہو کہ تم مر جاؤ اور یہ تمہارے لئے

صفحہ ٣٦٣

تمہارے قرنوں میں ہمیشہ تک قانون ہے۔ تاکہ تم حلال اور حرام اور پاک اور ناپاک میں تمیز کرو۔“

(اخبار الفضل مورخہ ٢٩؍ اگست ١٩١٦ء ص ١٢ کالم نمبر ١ ج ٤ ش ١٦)

حضرت سلیمان نبی اللہ کا قول

”مے مسخرہ بناتی ہے اور مست کرنے والی ہر ایک چیز غضب آلودہ کرتی ہو جو ان کا فریب کھاتا وہ دانش مند نہیں ہے۔“

(کتاب امثال سلیمان نبی کے باب ٢٠ ویں کے درس اول)

حضرت عیسیٰ نے شراب منع کی

حضرت عیسیٰ نے شراب کی برائی کا ان الفاظ میں اظہار فرمایا ہے :

”دنیا کی محبت گناہوں کی جڑ ہے۔ عورتیں شیطان کا جال ہیں۔ اور شراب برائی کی طرف لے جاتی ہے۔“

(اخبار پیغام صلح مورخہ ٢٣ مئی ١٩٣٠ء ص ٤)

(٢)....... "اخرج عبدالله فى زوائده عن جعفر بن حرفاس ان عيسى بن مريم قال رأس الخطيّة حب الدنيا والخمر مفتاح كل شر والنساء حبالة الشيطن (تفسیر در منثور ج دوم ص ٤٧)“

﴿جعفر بن حرفاس سے روایت ہے کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام فرماتے ہیں دنیا کی محبت ہر گناہ کی جڑ اور شراب ہر برائی کی چابی اور عورت شیطان کا پھندا ہے۔﴾

انجیل میں شراب کی ممانعت

”انجیل‘ وید‘ مشرق اور مغرب کے علماء نے بھی شراب کی برائی خیال کرتے ہوئے اس کے استعمال سے منع فرمایا ہے۔“

(اخبار پیغام صلح مورخہ ٢٣ مئی ١٩٣٠ء ص ٤)

صفحہ ٣٦٤

نئے عہد نامے میں شرابی کی مذمت

”فریب نہ کھاؤ کیونکہ حرامکار اور بت پرست اور زناء کرنے والے اور عیاش اور لونڈے باز اور چور اور لالچی اور شرابی اور گالی بکنے والے اور لٹیرے خدا کی بادشاہت کے وارث نہ ہوں گے“

(پولوس کا پہلا خط قرنتیوں کو باب ٦ درس ٩‘ ١٠)

قرآن مجید کا فرمان

شراب پینا شیطانی فعل ہے

”اور شراب پینا تو یقیناً شیطانی افعال میں سے ہے : ”انما الخمر والميسر والانصاب ولازلام رجس من عمل الشيطن فاجتنبوا (٥‘٩٠)“

(اخبار فاروق قادیان مورخہ ٢٨ اپریل ٧ مئی ١٩٣٠ء ص ١٠)

رسول اللہ ﷺ کا ارشاد

”رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ شراب ام الخبائث ہے۔ یعنی تمام برے کاموں کے ارتکاب کی دعوت دینے والی۔“

(رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان بابت ماہ دسمبر ١٩٢٩ء ص ٢٩ حاشیہ)

شرابی لوگوں کی حالت

”شرابی لوگ روحانی عزم شجاعت اور تمام اعلیٰ قابلیتوں کو کھو بیٹھتے ہیں۔“

(رسالہ ریویو بابت ماہ ستمبر ١٩٣١ء ص ٣٠)

شراب در حقیقت ایک سخت زہر ہے

مسٹر الیگزینڈر میکڈاس ایم ڈی ڈی پی ایچ ماہر علم الاغذیہ نے شراب کے متعلق اپنی تحقیقات ان الفاظ میں بیان کی ہے :

صفحہ ٣٦٥

”اس میں کچھ شبہ باقی نہیں رہا کہ شراب در حقیقت ایک سخت زہر ہے جو باریک ریشوں کو تباہ کر دیتا ہے۔“

(اخبار الفضل قادیان مورخہ ١٦ اکتوبر ١٩٣١ء ص ٧)

شراب ام الخبائث ہے

”شراب جو ام الجرائم اور ام الخبائث ہے۔ اس کی یورپ میں اس قدر کثرت ہے۔ کہ اس کی نظیر کسی دوسرے ملک میں نہیں ملتی۔“

(اخبار الحکم قادیاں ٢١ جون ١٩٢٥ء ص ٢)

انجیل برنباس میں بریت عیسیٰ

”تب فرشتہ نے کہا تو اس نبی کے ساتھ حاملہ ہو جا جس کو آئندہ یسوع کے نام سے پکارے گی۔ پھر اس کو شراب نشہ لانے والی چیز اور ہر ایک ناپاک گوشت سے باز رکھ۔ کیونکہ بچہ اللہ کا قدس ہے۔“

(انجیل برنباس (مطبوعہ ١٩١٦ء حمیدیہ سٹیم پریس لاہور) کی پہلی فصل ص ٢ آیت ٨‘ ٩)

نوٹ : انجیل برنباس وہ کتاب ہے جس کو مرزا غلام احمد نے اپنی کتاب (سرمہ چشم آریہ بحوالہ پیغام صلح‘ مسیح ہندوستان میں تریاق القلوب‘ چشمہ مسیحی) میں معتبر مانا ہے۔

یہودیت

یہود نامسعود کی بکواس

”یہودیوں نے اُسے مے خوار یعنی شرابی کہا“

(رسالہ کسر صلیب نمبر ١ ص ٢٢‘ ریویو آف ریلیجنز بابت ماہ دسمبر ١٩٢٩ء ص ٣٢‘ ریویو آف ریلیجنز بابت ماہ اگست ١٩٠٢ء ص ٣٠٨)

مرزائیت

(رسالہ سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب ص ٤٧ خزائن ج ١٢ ص ٣٧٣)

صفحہ ٣٦٦

(٢)...... ”عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔ شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے“

(کشتی نوح ص ٦٥ حاشیہ خزائن ج ١٩ ص ٧١)

دشمن کی بات معتبر نہیں

”جو بات دشمن کے منہ سے نکلے وہ قابلِ اعتبار نہیں“

(اعجاز احمدی ص ٢٥ خزائن ج ١٩ ص ١٣٤)

انجیل متی میں دشمنوں کا قول

”اور وہ کہتے ہیں کہ اس پر ایک دیو ہے۔ ابنِ آدم کھاتا پیتا آیا اور وہ کہتے ہیں کہ دیکھو ایک کھاؤ اور شرابی اور محصول لینے والوں اور گنہگاروں کا یار پر حکمت اپنے فرزندوں کے آگے راست ٹھہری۔“

(انجیل متی باب ١١ ورس ١٨‘ ١٩)

انجیلوں میں الفاظ انگور کا رس نہ شراب

یسوع نے کہا : ”میں تم سے کہتا ہوں کہ انگور کے پھل کا رس پھر نہ پیؤں گا۔ اس دن تک تمہارے ساتھ اپنے باپ کی بادشاہت میں نیا نہ پیؤں۔“

(انجیل متی باب ٢٦ ورس ٢٩‘ انجیل مرقس ١٤ ورس ٢٥‘ انجیل لوقا باب ٢٢ ورس ١٨)

نوٹ : اس جگہ انگریزی انجیل میں الفاظ ہیں FUIT OF VINE WINE........... (وائن) ہے۔ اس کے معنی شراب ہیں۔ دوسرا لفظ (وائن) ہے جس کے معنی انگور ہیں انجیل انگریزی میں اس مقام پر لفظ WINE نہیں ہے۔ اگر کوئی مرزائی یہ کہے کہ انجیل یوحنا کے باب ٢ میں لکھا ہے کہ یسوع نے قانائے جلیل میں ایک شادی کے موقعہ پر پانی سے شراب بنادی تھی۔ تو عرض یہ ہے کہ وہاں یہ نہیں لکھا ہے کہ یسوع شراب پیا کرتے تھے۔

صفحہ ٣٦٧

سخت بیہودہ اور شرمناک امر

”خدا کے پاک نبی حضرت نوح علیہ السلام پر مئے نوشی کا الزام لگانا‘ سخت بے ہودہ اور شرمناک امر ہے۔ بھلا وہ شخص جو خود نشے میں چور ہو کر اپنے آپ کو بھول جاتا ہو۔ دوسروں کی کیا اصلاح کرے گا۔“ (اخبار فاروق مورخہ ٢١ اپریل‘ ٧ مئی ١٩٣٠ء ص ٩ میں بائبل کتاب پیدائش باب ٩ درس ٢٠ تا ٢٤ کا حوالہ دیتے ہوئے زیر عنوان ’خدا کے نبیوں پر بائبل کے ناروا الزامات)

عرض حبیب

مرزا غلام احمد قادیانی کا خدا کے پاک نبی حضرت عیسیٰ کی نسبت یہ لکھنا کہ وہ شراب پیا کرتے تھے۔ شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔ (کشتی نوح ص ٦٥ حاشیہ خزائن ص ٧١ ج ١٩) سخت بے ہودہ اور شرمناک امر ہے۔ بھلا وہ شخص جو پرانی عادت میں مبتلا ہو۔ دوسروں کی کیا اصلاح کرے گا؟۔

جاہل مسلمان کا کام

بعض دفعہ مرزائی لوگ یہ بھی کہہ دیا کرتے ہیں کہ چونکہ عیسائی پادریوں نے آنحضرت محمد ﷺ کی شان میں گستاخی کی ہے۔ اس لئے مرزا قادیانی نے بعض جگہ الزامی طور پر حضرت عیسیٰ کی نسبت سخت الفاظ لکھے ہیں۔ سو اس کے جواب میں مرزا قادیانی کا کلام مندرجہ (کتاب تبلیغ رسالت ج ١٠ ص ١٠٢ مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٤٤) ذیل میں لکھتا ہوں۔ ذرا غور سے پڑھئے۔ مرزا قادیانی نے کہا :

”بعض جاہل مسلمان کسی عیسائی کی بد زبانی کے مقابل پر جو وہ آنحضرت ﷺ کی شان میں کرتا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت کچھ سخت الفاظ کہہ دیتے ہیں۔“

PDF 368
PDF 369

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا حج کرنا

اور مرزا قادیانی کا بغیر حج کے مرنا

صفحہ ٣٧٠

بسم الله الرحمن الرحيم

احادیث رسول ﷺ ربانی

(1)......" عن حنظلة الاسلمیّ قال سمعت ابوهریرة یحدث عن النبی ﷺ قال والذی نفسی بیده لیهلن ابن مریم بفج الروحاء حاجااو معتمرا اولیثنیهما"

(صحیح مسلم شریف ج اول ص ٤٠٨ و حج الکرامہ ص ٤٢٩)

﴿ حضرت ابوہریرہؓ حضرت نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں۔ کہ حضور پر نور نے ارشاد فرمایا مجھے اس پاک ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے البتہ ضرور ابن مریم علیہ السلام روحاء کی گھاٹی میں لبیک پکاریں گے۔ حج کی‘ یا عمرہ کی‘ یا قران‘ کریں گے اور دونوں کی لبیک پکاریں گے ایک ہی ساتھ۔ ﴾

(نیز دیکھو کتاب المعلم ج سوم ص ١٢٨٧)

(٢)......" عن حنظلة الاسلمیّ سمع اباهریرة قال قال رسول الله ﷺ والذی نفس محمد بیده لیهلن ابن مریم بفج الروحاء حاجا او معتمرا اولیثنیهما"

(مسند احمد ج دوم ص ٢٤٠‘ ص ٢٧٢‘ ٥١٣‘ ٥٤٠ اور تفسیر درمنثور ج ٢ ص ٢٤٢)

(٣)......" عن حنظلة عن ابی هریرة قال رسول الله ﷺ ینزل عیسیٰ ابن مریم فیقتل الخنزیر ویمحوا لصلیب وتجمع له الصلوة ویعطی المال حتی لایقبل ویضع الخراج وینزل الروحاء فیحج منها اویعتمر اویجمعهما قال وتلا ابوهریرة وان من اهل

صفحہ ٣٧١

الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ ویوم القیامۃ یکون علیہم شہیدا فزعم حنظلۃ ان اباہریرة قال یومن بہ قبل موتہ عیسیٰ فلا ادری ہذا کلہ حدیث النبی ﷺ او شئ قالہ ابوہریرة” (مسند احمد ج ٢ ص ٢٩٠ تفسیر ابن کثیر (بر حاشیہ فتح البیان) ج سوم ص ٢٣٥ در منثور ج ٢ ص ٢٤٢ حج الکرامہ ص ٤٢٩)

﴿حضرت حنظلہ تابعیؒ سے روایت ہے کہ اس نے حضرت ابو ہریرہؓ صحابی سے روایت کی ہے کہ حضور پر نور نے ارشاد فرمایا حضرت عیسیٰ بن مریم اتریں گے۔ پس خنزیر کو قتل کریں گے اور صلیب کو مٹا دیں گے اور ان کے واسطے نماز اکٹھی کی جائے گی اور دے گا مال‘ یہاں تک کہ اسے کوئی قبول نہ کرے گا اور خراج (جزیہ) کو بند کریں گے اور روحاء میں تشریف لائیں گے۔ پس وہاں سے حج کریں گے یا عمرہ یا دونوں کو اکٹھا کریں گے۔ حضرت حنظلہ راوی نے کہا اور حضرت ابو ہریرہؓ نے آیت پڑھی : ”وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ ویوم القیامۃ یکون علیہم شہیدا“ پس حنظلہ نے گمان کیا کہ حضرت ابو ہریرہؓ نے کہا کہ اہل کتاب ایمان لائیں گے حضرت عیسیٰ کے ساتھ ان کے مرنے سے پہلے۔ پس میں نہیں جانتا کہ یہ سارا کلام نبی ﷺ کا ہے یا ابو ہریرہؓ کا کلام ہے۔﴾

یقول قال رسول اللہ ﷺ لیہبطن عیسیٰ ابن مریم حکما عدلا واماما مقسطا ولیسلکن فجا حاجا اومعتمرا اولیاء تین قبری حتیٰ یسلم علیٰ ولاردن علیہ یقول ابوہریرة ای بنی اخی ان رأیتموہ فقولوا اوہریرة یقرئک السلام“ (مستدرک حاکم ج ٢ ص ٥٩٥‘ حج الکرامہ ص ٤٢٩‘ در منثور ج ٢ ص ٢٤٥‘ کنز العمال ج ٧ ص ٢٠٢‘ منتخب کنز العمال بر حاشیہ مسند احمد ج ٦ ص ٥٥‘ کنز العمال ج ١٤ ص ٣٣٥ نمبر ٣٨٨٥١)

﴿حضرت عطاء تابعیؒ سے روایت ہے کہ حضرت ابو ہریرہؓ نے کہا کہ

صفحہ ٣٧٢

حضرت رسول خدا ﷺ نے فرمایا البتہ ضرور اترے گا۔ حضرت عیسیٰ بن مریم حاکم عادل ہوگا اور امام انصاف کرنے والا اور البتہ ضرور گزرے گا ایک راہ سے حج یا عمرہ کرتا ہوا‘ اور البتہ ضرور میری قبر پر تشریف لائے گا اور مجھے سلام کرے گا اور میں اسے جواب دوں گا۔ حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ اے میرے بھتیجے اگر تم ان کو دیکھو تو کہو کہ ابو ہریرہؓ آپ کو سلام کہتا ہے۔﴾

(٥)...... ”محدث ابو یعلیٰؒ نے حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یوں فرماتے سنا ہے کہ قسم ہے اس ذات پاک کی کہ جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ ضرور حضرت عیسیٰ بن مریم اتریں گے۔ پھر میری قبر پر کھڑے ہو کر پکاریں گے کہ اے محمد ﷺ تو میں ان کو ضرور جواب دوں گا۔“ (امام جلال الدین سیوطیؒ کے رسالہ انتباہ الاذکیا فی حیاۃ الانبیاء ص ٤‘ ٥‘ الحاوی ص ١٤٨ ج ٢‘ مجمع الزوائد ج ٨ ص ٢١٤‘ الحاوی ج ٢ ص ١٦٣‘ روح المعانی ج ٢٢ ص ٣٣)

پیشگوئی از قاضی محمد سلیمان منصور پوری

مشہور و معروف کتاب ”رحمۃ اللعالمین“ کے مصنف حضرت مولانا مولوی قاضی محمد سلیمان صاحب نے اپنی کتاب (تائید الاسلام حصہ دوم ص ١١٦ طبع دوم سن تصنیف ١٨٩٨) پر تحریر فرمایا تھا :

”مرزا قادیانی کے مسیح موعود نہ ہونے پر حدیث ابو ہریرہؓ جو احمد اور ابن جریر کے نزدیک ہے شاہد ہے کہ حضرت مسیح مقام روحاء میں آکر حج و عمرہ کریں گے۔ میں نہایت جزم کے ساتھ بآواز بلند کہتا ہوں کہ حج بیت اللہ مرزا قادیانی کے نصیب میں نہیں میری اس پیشگوئی کو سب صاحب یاد رکھیں۔“

اقوال مرزا قادیانی

(الف)...... مرزا قادیانی لکھتا ہے : ”ماسوا اس کے میں آپ لوگوں سے پوچھتا

صفحہ ٣٧٣

ہوں کہ آپ اس سوال کا جواب دیں کہ مسیح موعود جب ظاہر ہوگا۔ تو کیا اول اس کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ مسلمانوں کو دجال کے خطرناک فتنوں سے نجات دے یا یہ کہ ظاہر ہوتے ہی حج کو چلا جائے۔ اگر بموجب نصوص قرآنیہ و حدیثیہ پہلا فرض مسیح موعود کا حج کرنا ہے نہ دجال کی سرکوبی تو وہ آیات اور احادیث دکھلانی چاہئے تا ان پر عمل کیا جائے اور اگر پہلا فرض مسیح موعود کا جس کے لئے وہ بااعتقاد آپ کے مامور ہو کر آئے گا قتل دجال ہے جس کی تاویل ہمارے نزدیک ہلاک ملل باطلہ بذریعہ حجج و آیات ہے۔ تو پھر وہی کام پہلے کرنا چاہئے اگر کچھ دیانت اور تقویٰ ہے تو ضرور اس بات کا جواب دو کہ مسیح موعود دنیا میں آکر پہلے کس فرض کو ادا کرے گا کیا پہلے حج کرنا اس پر فرض ہوگا یا کہ پہلے دجالی فتنوں کا قصہ تمام کرے گا۔ یہ مسئلہ کچھ باریک نہیں ہے صحیح بخاری یا مسلم کے دیکھنے سے اس کا جواب مل سکتا ہے۔ اگر رسول اللہ ﷺ کی یہ گواہی ثابت ہو کہ پہلا کام مسیح موعود کا حج ہے تو لو ہم بہر حال حج کو جائیں گے ہرچہ باداباد لیکن پہلا کام مسیح موعود کا استیصال فتن دجالیہ ہے۔ تو جب تک اس کام سے ہم فراغت نہ کر لیں حج کی طرف رخ کرنا خلاف پیشگوئی نبوی ہے۔ ہمارا حج تو اس وقت ہو گا جب دجال بھی کفر اور دجل سے باز آکر طواف بیت اللہ کرے گا۔ کیونکہ بموجب حدیث صحیح کے وہی وقت مسیح موعود کے حج کا ہو گا۔ دیکھو وہ حدیث جو مسلم میں لکھی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے مسیح موعود اور دجال کو قریب قریب وقت میں حج کرتے دیکھا یہ مت کہو کہ دجال قتل ہو گا کیونکہ آسمانی حربہ جو مسیح موعود کے ہاتھ میں ہے کسی کے جسم کو قتل نہیں کرتا۔ بلکہ وہ اس کے کفر اور اس کے باطل عذرات کو قتل کرے گا اور آخر ایک گروہ دجال کا ایمان لا کر حج کرے گا۔ سو جب دجال کو ایمان اور حج کے خیال پیدا ہوں گے ۔ وہی دن ہمارے حج بھی ہوں گے۔“

(کتاب ”ایام الصلح“ اردو ١٦٨‘ ١٦٩‘ خزائن ص ٤١٦ ج ١٤)

صفحہ ٣٧٤

(ب)...... ”ایک شخص نے عرض کی کہ مخالف مولوی اعتراض کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی حج کو کیوں نہیں جاتے۔ فرمایا! یہ لوگ شرارت کے ساتھ ایسا اعتراض کرتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ دس سال مدینہ میں رہے۔ صرف دو دن کا راستہ مدینہ اور مکہ میں تھا۔ مگر آپ نے دس سال میں کوئی حج نہ کیا۔ حالانکہ آپ سواری وغیرہ کا انتظام کر سکتے تھے لیکن حج کے واسطے صرف یہی شرط نہیں کہ انسان کے پاس کافی مال ہو بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ کسی قسم کے فتنہ کا خوف نہ ہو وہاں تک پہنچنے اور امن کے ساتھ حج کرنے کے وسائل موجود ہوں۔ جب وحشی طبع علماء اس جگہ ہم پر قتل کا فتویٰ لگا رہے ہیں۔ اور گورنمنٹ کا بھی خیال نہیں کرتے تو وہاں یہ لوگ کیا نہ کریں گے لیکن ان لوگوں کو اس امر سے کیا غرض ہے کہ ہم حج نہیں کرتے۔ کیا اگر ہم حج کریں گے تو وہ ہم کو مسلمان سمجھ لیں گے اور ہماری جماعت میں داخل ہو جائیں گے۔ اور ہمارے مرید ہو جائیں گے۔ اگر وہ ایسا لکھ دیں اور اقرار حلفی کریں تو ہم حج کر آتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے واسطے اسباب آسانی کے پیدا کر دے گا۔ تاکہ آئندہ مولویوں کا فتنہ رفع ہو‘ ناحق شرارت کے ساتھ اعتراض کرنا اچھا نہیں ہے۔ یہ اعتراض ان کا ہم پر نہیں پڑتا بلکہ آنحضرت ﷺ پر بھی پڑتا ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ نے بھی صرف آخری سال میں حج کیا تھا۔“ (اخبار الحکم مورخہ ١٧ اگست ١٩٠٧ء ص ١٠ کالم نمبر ٣ ملفوظات ج ٩ ص ٣٢٤‘ ٣٢٥)

نوٹ: مرزا غلام احمد قادیانی کی وفات ٢٦ مئی ١٩٠٨ء (١٣٢٦ھ) کو ہوئی تھی اور بیت اللہ شریف کا حج مرزا قادیانی کو نصیب نہ ہوا۔ پس دیکھئے کہ کس طرح جناب قاضی محمد سلیمان صاحب مرحوم و مغفور کی پیش گوئی پوری ہوئی۔ مرزائی صاحبان غور کریں۔

صفحہ ٣٧٥

ایک اعتراض

”حضرت پیغمبر خدا ﷺ کی ایک حدیث (صحیح مسلم ج ١ ص ٤٠٨ میں ہے) جس کے الفاظ یہ ہیں: ”والذی نفسی بیدہ لیھلن ابن مریم بفج الروحا حاجاً او معتمرا اویثنیھما“ یعنی آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں خدا کی قسم ہے جس کے قبضے میں میری جان ہے حضرت عیسیٰ ابن مریم فج الروحا (مکہ و مدینہ کے درمیان) سے حج کا احرام باندھیں گے۔ اس حدیث سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ مسیح موعود ضرور حج کریں گے۔ یہاں تک کہ آنحضرت ﷺ نے ان کے احرام باندھنے کی جگہ بھی بتادی جس کے دیکھنے سے یقین ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں یہ وقوعہ ضرور ہو گا یعنی حضرت مسیح موعود حج کریں گے۔ مرزا قادیانی نے حج نہیں کیا۔ وجہ اس کی یہ بتائی گئی ہے کہ ان کے حق میں امن نہ تھا لیکن حدیث شریف بتارہی ہے کہ مرزا قادیانی اگر مسیح موعود ہوتے تو ان کے لئے ہر طرح خدا کے حکم اور پیغمبر خدا ﷺ کی خبر سے راستہ صاف اور ہر طرح امن ہوتا۔ کیا خدا قادر قیوم اس پر قادر نہیں کہ وہ اپنے مسیح موعود کے لئے ہر قسم کی رکاوٹیں اٹھائے! وھو علی کل شیء قدیر٭

(رسالہ ریویو آف ریلیجنز ج ٢٣ نمبر ٩ بابت ماہ ستمبر ١٩٢٤ء ص ٤٠ بحوالہ اخبار اہل حدیث یکم جون ١٩٢٣ء)

اللہ دتہ مرزائی مولوی فاضل کا جواب ناصواب

”ناظرین! ابھی آپ پر منکشف ہو جائے گا کہ یہ اعتراض کس پایہ کا ہے :

جواب اول : مولوی ثناء اللہ نے : ”والذی نفسی بیدہ ..... الخ“ کو آنحضرت ﷺ کا قول قرار دے کر لکھا ہے کہ آپ ﷺ نے مسیح موعود کا یہ نشان قرار دیا ہے حالانکہ معاملہ بالکل دگرگوں ہے۔ الفاظ اس حدیث کے صراحۃً بتلاتے ہیں

صفحہ ٣٧٦

کہ یہ آنحضرت ﷺ ہی کے الفاظ نہیں، چنانچہ مکمل حدیث یوں ہے: ”عن حنظلة الاسلمی قال سمعت اباهريرة يحدث عن النبىﷺقال والذى نفسی بيده ليهلن ابن مريم بفج الروحاء حاجاً او معتمراً ويثنيهما“ جس کے اس جگہ مناسب عبارت یہ معنی بھی ہیں۔ کہ حنظلہ اسلمی بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہؓ کو آنحضرت ﷺ سے باتیں بیان کرتے سنا۔ ابوہریرہؓ نے کہا کہ مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے مسیح ضرور فج الروحاء سے احرام حج یا عمرہ یا قران باندھیں گے۔ گویا حضرت ابو ہریرہؓ نے یہ کلمات مندرجہ آنحضرت ﷺ سے نقل نہیں کئے۔ بلکہ دیگر بیانات سے استنباط کر کے انہوں نے اپنی طرف سے بطور قیاس بیان کئے ہیں۔ پس جب یہ الفاظ حضرت ابوہریرہؓ کے اپنے الفاظ ہیں۔ تو امر تسری کی بنیاد ہی سرے سے اکھڑ جاتی ہے۔

(ریویو آف ریلیجنز بابت ماہ ستمبر ١٩٢٤ء ص ٢٠ ج ٢٣ ش ٩)

اقوال: (١)...... ”حنظلة الاسلمیّ قال سمعت اباهريرة عن النبیﷺ قال والذى نفسى بيده ليهلن ابن مريم بفج الروحاء حاجا او معتمرا او لیثنيهما“

(صحیح مسلم شریف اول ص ٤٠٨ ج ١)

﴿حضرت حنظلہ اسلمی سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابوہریرہؓ سے سنا کہ وہ حضرت نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے تھے کہ حضور ﷺ پر نور نے ارشاد فرمایا، مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے البتہ ضرور حضرت ابن مریم روحاء کے راستے سے احرام حج یا عمرہ و قران باندھیں گے۔﴾

قادیانی مولوی فاضل کی لیاقت علمی ملاحظہ ہو لکھتا ہے : ” یہ آنحضرت ﷺ ہی کے الفاظ نہیں“ پھر لکھتا ہے ”ابو ہریرہؓ نے کہا کہ مجھے اس ذات کی قسم ہے۔ گویا حضرت ابو ہریرہؓ نے یہ کلمات مندرجہ آنحضرت ﷺ

صفحہ ٣٧٧

سے نقل نہیں کئے۔ ”یہ الفاظ حضرت ابو ہریرہؓ کے اپنے الفاظ ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ الفاظ : ”والذی نفسی بیدہ لیهلن ابن مریم“ حضرت ابو ہریرہؓ کے اپنے الفاظ نہیں ہیں بلکہ آنحضرت ﷺ کے الفاظ ہیں۔ (دیکھو صحیح بخاری ج اول ص ٤٩٠ پر لکھا ہے) : ”ان سعید بن المسیب سمع اباہریرة قال قال رسول الله ﷺ والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم (الحدیث)“ تحقیق حضرت سعید تابعیؒ نے حضرت ابو ہریرہؓ صحابی سے سنا کہ اس نے کہا کہ حضرت رسول خدا ﷺ نے فرمایا، مجھے اس اللہ کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے البتہ ضرور تم میں حضرت ابن مریم نازل ہوں گے۔“

اس حدیث نبوی کے الفاظ ہیں : ”والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم“ صحیح مسلم شریف ج ١ ص ٢٠٨ پر الفاظ ہیں : ”والذی نفسی بیدہ لیهلن ابن مریم“ پس یہ الفاظ حدیث نبوی کے ہیں۔ اب رہا کہ ”ابن مریم“ سے کیا مراد ہے تو سورۃ المومنون آیت ٥٠ : ”وجعلنا ابن مریم وامہ آیة وآوینہما الی ربوة ذات قرار ومعین“ اور کیا ہم نے حضرت ابن مریم کو اور اسکی ماں کو نشانی اور ان دونوں کو پناہ دی تھی ایک اونچی جگہ پر جو جائے قرار تھی اور جہاں پانی جاری تھا اور سورۃ الزخرف آیت ٥٧ : ”ولما ضرب ابن مریم مثلاً“ اور جب حضرت ابن مریم مثال کے طور پر بیان کیا گیا، صاف ظاہر کرتی ہے کہ ”ابن مریم“ سے مراد حضرت مسیح عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ہیں۔ کسی صحیح حدیث نبوی یا اقوال صحابہؓ یا تابعینؒ میں یہ نہیں آیا ہے کہ ایک مثیل مسیح پیدا ہوگا۔

(٢)...... کسی نے کہا ہے کہ دروغ گو را حافظہ نہ باشد، مولوی اللہ دتہ جالندھری مرزائی مولوی فاضل نے رسالہ ریویو بابت ماہ ستمبر ١٩٢٤ء ص ٢٠ پر صحیح مسلم شریف کی اس روایت کے حدیث نبوی ہونے سے انکار کیا ہے اور اخبار الفضل

صفحہ ٣٧٨

مورخہ ١٩ مارچ ١٩٢٩ء ص ٧ کالم نمبر ٢‘ ٣ میں اس روایت کو حدیث نبوی قرار دیتے ہیں۔ ایک اور عجیب بات سنئے رسالہ ریویو بابت ماہ ستمبر ١٩٢٤ء ص ٢٠ پر حدیث نبوی کے الفاظ بفج الروحاء کا ترجمہ ”فج الروحاء سے“ کیا ہے اور اخبار الفضل مورخہ ١٩ مارچ ١٩٢٩ء ص ٧ کالم ٢ پر لکھا ہے :

” نیز عربی زبان کے لحاظ سے لیھلن بفج الروحاء کا ترجمہ ” فج الروحاء سے“ غلط ہے بلکہ ”فج الروحاء میں“ چاہئے۔“

(٣)...... ” عن حنظلة الاسلمی انه سمع اباھریرۃ یقول قال رسول اللہ ﷺ والذی نفسی بیدہ لیھلن ابن مریم من فج الروحاء باالحج اوالعمرۃ اولیثنیھما“

(مسند احمد شریف (چھاپہ مصری) ج ٢ ص ٢٧٢)

﴿حضرت حنظلہ تابعیؒ سے روایت ہے کہ اس نے سنا حضرت ابو ہریرہؓ صحابی سے کہ وہ کہتے تھے کہ حضرت رسول خدا ﷺ نے فرمایا۔ مجھے اس اللہ کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے البتہ ضرور حضرت ابن مریم روحاء کے راستے سے احرام حج یا عمرہ یا قران باندھیں گے۔﴾

(٤)...... ” عن ابی ھریرۃ ان رسول اللہ ﷺ قال لیھلن عیسیٰ بن مریم بفج الروحاء باالحج اوالعمرۃ اولیثنیھما جمیعاً“

(مسند احمد شریف ج ٢ ص ٥١٣)(نیز دیکھو مسند احمد ج ٢ ص ٥٢٠)

ان دونوں حدیثوں میں الفاظ ہیں : ”قال رسول اللہ ﷺ ان رسول اللہ ﷺ قال“ پس قادیانی مولوی فاضل کی تحریر سراسر غلط ثابت ہوئی۔

قادیانی : اگر بالفرض یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی علامت قرار بھی دی جائے تو اسی مسلم اور بخاری کی دوسری حدیث کو ساتھ ملانے سے نہ صرف مسیح ہی کی علامت حج کرنا بتائی گئی ہے بلکہ دجال ملعون کے لئے بھی ایسا ہی حج طواف ثابت ہوتا

صفحہ ٣٧٩

ہے۔

(رسالہ ریویو آف ریلیجنز بابت ماہ ستمبر ١٩٢٤ء ص ٢٢)

مسلمان : حدیث نبوی کے الفاظ یہ ہیں :

” وانی اللیل عند الکعبته فی المنام “ اور مجھ کو خواب میں ایک رات معلوم ہوا کہ میں کعبے کے پاس ہوں۔

(صحیح بخاری شریف ج اول ص ٤٨٩)

اور دوسری حدیث کے الفاظ ہیں :

” قال بینما انا نا ئم اطوف بالکعبته “ ﴿ فرمایا میں خواب میں کعبے کا طواف کرتا تھا۔ ﴾

ان دونوں حدیثوں میں حضور پر نور ﷺ نے اپنا خواب مبارک بیان کیا ہے اس واسطے شارحین حدیث نے اس حدیث کی تعبیر و تاویل بیان کی ہے مگر (صحیح مسلم شریف ج ١ ص ٢٠٨‘ مسند احمد ج ٢ ص ٢٤٠‘ ٢٧٢‘ ٥١٣‘ ٢٩٠‘ مستدرک حاکم ج ٢ ص ٥٩٥ پر) جو حدیثیں حضرت مسیح ابن مریم کے حج کے بارے میں آئی ہیں ان میں حضور پر نور ﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا۔

قادیانی : آپ ثابت کریں کہ آپ (مرزا قادیانی) کو فارغ البالی اور مرفہ الحالی حاصل تھی۔

(رسالہ ریویو بابت ماہ فروری ١٩٢٣ء ص ٢٨)

مسلمان : مرزا قادیانی کے دعوے کے بعد ہزاروں ، لاکھوں روپے کی آمدنی ہوئی تھی۔ سنئے اور غور سے سنئے۔ مرزا قادیانی نے خود تحریر کیا ہے کہ :

(نزول المسیح ص ٣٢ خزائن ج ١٨ ص ٤١٠)

ہیں ۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ٤ خزائن ج ١٧ ص ٣٥١ حاشیہ)

صفحہ ٣٨٠

روپیہ بھی ماہوار آئیں گے۔ مگر خدا تعالیٰ جو غریبوں کو خاک میں اٹھاتا اور متکبروں کو خاک میں ملاتا ہے۔ اس نے ایسی میری دستگیری کی کہ میں یقیناً کہہ سکتا ہوں کہ اب تک تین لاکھ کے قریب روپیہ آچکا ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ٢١١ خزائن ج ٢٢ ص ٢٢١)

زیادہ وہ ہیں جو خود مخلص لوگوں نے آکر دیئے اور جو خطوط کے اندر نوٹ آئے اور بعض مخلصوں نے نوٹ یا سونا اس طرح بھیجا جو اپنا نام بھی ظاہر نہیں کیا اور مجھے اب تک معلوم نہیں کہ ان کے نام کیا کیا ہیں۔“

(حقیقت الوحی ص ٢١١ حاشیہ خزائن ج ٢٢ ص ٢٢١)

ہر ایک طرف سے تحائف آئے کہ اگر وہ سب جمع کئے جاتے تو کئی کوٹھے ان سے بھر جاتے۔“

(حقیقت الوحی ص ٢٤٢ خزائن ج ٢٢ ص ٢٥٣)

(حقیقت الوحی ص ٣٤٢ خزائن ج ٢٢ ص ٣٥٥)

قادیانی: سنئے آپ (مرزا قادیانی) کو دنیا سے تو فارغ البالی تھی۔ لیکن دین کے معاملے میں آپ فارغ البال نہ تھے۔ آپ نے دین کی خدمت کیلئے رات اور دن ایک کر دیا تھا۔

(ریویو آف ریلیجنز ج ٢٢ ش ٢ بابت ماہ فروری ١٩٢٣ء ص ٢٩)

مسلمان: دین کی خدمت کرنا حج کرنے کے منافی نہیں ہے۔ دین کی خدمت کرنے والا‘ تقریریں کرنے والا‘ مخالفوں کے مقابل پر کتابیں لکھنے والا شخص حج بھی کر سکتا ہے۔ دیکھئے حنفی علماء میں سے جناب مولانا مولوی محمد اشرف علی صاحب چشتی تھانویؒ اور مولانا مولوی احمد علی صاحبؒ قادری لاہوری‘ جناب مولانا مولوی احمد رضا خاں صاحب حنفی قادری بریلوی مرحوم اور اہل حدیث میں سے جناب قاضی

صفحہ ٣٨١

محمد سلیمان صاحب مرحوم و مغفور اور جناب مولانا مولوی ابوالوفاء ثناء اللہ صاحب امرتسریؒ (جنہوں نے ستر کے قریب کتابیں عیسائیوں، آریوں، مرزائیوں، نیچریوں، اور چکڑالویوں کی تردید میں لکھی ہیں) نے دین کی خدمت تحریروں اور تقریروں سے کی ہے اور حج بیت اللہ کا بھی کیا ہے۔

قادیانی: مخفی نہ رہے کہ آپ (مرزا قادیانی) کے نزول کی غرض جو قرآن مجید و احادیث میں بتائی گئی ہے صلیبی مذہب کا دلائل سے پاش پاش کرنا اور دین اسلام کا ادیان باطلہ پر غالب کر کے دکھانا ہے۔ اس لئے آپ پر لازم ہی یہی تھا کہ آپ اس اہم کام کی طرف پہلے متوجہ ہوتے۔

(ریویو ج ٢٢ ش ٢ فروری ١٩٢٣ء ص ٢٩)

مسلمان: قرآن مجید اور احادیث صحیحہ سے پتہ لگتا ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے صلیبی مذہب کو دلائل سے پاش پاش کیا ہے اور یہود اور مشرکین عرب کے عقائد کی خوب تردید کی ہے اور بیت اللہ شریف کا حج بھی کیا ہے۔ مرزا قادیانی کو حج نصیب نہ ہوا۔

قادیانی: ”قرآن مجید و احادیث صحیحہ سے حضرت مرزا قادیانی کا مسیح موعود اور ابن مریم ہونا اظہر من الشمس ہے۔ اور دوسری طرف سے حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ مسیح موعود نہیں ہیں کیونکہ آپ نے حج نہیں کیا تو یہ حدیث بوجہ معارض ہونے قرآن مجید اور احادیث صحیحہ کے ساقط عن الاعتبار ہے۔ اس لئے قابل قبول نہیں ہو سکتی، کیونکہ جو حدیث قرآن مجید کے مخالف و معارض ہو اس کے متعلق آنحضرت ﷺ کا فیصلہ ہے کہ اس کو رد کرو۔“

(ریویو ج ٢٢ ش ٢ ص ٣٤ فروری ١٩٢٣ء، ریویو ج ٢٣ ش ٤ ص ٦، اپریل ١٩٢٤ء)

مسلمان: مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ تھا کہ ”میں مسیح موعود ہوں“

صفحہ ٣٨٢

(نزول المسیح ص ٤٨، خزائن ج ١٨ ص ٤٢٦) اس کی تشریح مرزا قادیانی نے یوں کی کہ ”مجھے مسیح ابن مریم ہونے کا دعویٰ نہیں اور نہ میں تناسخ کا قائل ہوں۔ بلکہ مجھے مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ ہے۔“ (اشتہار مورخہ ٢ اکتوبر ١٨٩١ء تبلیغ رسالت ج ٢ ص ٢١، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٠، عسل مصفے ج ٢ ص ٥٢٨) اس کے علاوہ مرزا قادیانی نے یہ بھی لکھا ہے کہ : ”اس مسیح کو ابن مریم سے ہر ایک پہلو سے تشبیہ دی گئی ہے۔“

(کشتی نوح ص ٤٩، خزائن ج ١٩ ص ٥٣)

میں کہتا ہوں کہ قرآن مجید کی کسی آیت قطعیۃ الدلالت، نص صریح میں اور کسی حدیث صحیح مرفوع متصل میں کسی مثیل مسیح کے آنے کی کوئی خبر نہیں ہے۔ مثیل مسیح کے الفاظ کسی صحیح حدیث مرفوع یا موقوف میں نہیں آئے ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے کبھی یہ نہیں فرمایا کہ ایک مثیل مسیح اس امت میں سے آئے گا۔ البتہ قرآن مجید اور احادیث صحیحہ نبویہ میں الفاظ عیسیٰ، مسیح، ابن مریم، عیسیٰ ابن مریم، مسیح ابن مریم اس نبی و رسول کے لئے آئے ہیں جن کی والدہ ماجدہ حضرت مریم صدیقہ تھیں۔ جو بن باپ پیدا ہوئے تھے، جن پر انجیل اتری تھی، صحاح ستہ، مسند احمد، کنز العمال، اور مشکوٰۃ وغیرہ کتب احادیث میں تیس یا اس سے زیادہ حدیثوں میں مسیح موعود کے آنے کی خبر دی گئی ہے۔ مگر الفاظ مسیح ابن مریم، عیسیٰ بن مریم، ابن مریم، مسیح، عیسیٰ، روح اللہ عیسیٰ آئے ہیں۔ اور یہ الفاظ ”یاتی مثیل المسیح منکم“ آنحضرت ﷺ نے نہیں فرمائے جب بنیاد ہی پکی نہیں تو عمارت کب کھڑی ہو سکتی ہے۔ اگر حضرت مسیح ابن مریم وفات یافتہ ہوتے تو آنحضرت علیہ السلام ان کے آنے کی خبر نہ دیتے اور مرزا قادیانی مثیل مسیح نہیں ہیں۔ اور آپ کو ان کے ساتھ ہر ایک پہلو سے تشبیہ بھی نہیں ہے۔

قادیانی : یہ حدیث صحیح مسلم کتاب الحج میں مذکور ہے۔ تمام الفاظ یہ ہیں : ”والذی نفسی بیدہ لیھلن ابن مریم بفج الروحاء حاجاً او معتمرا

صفحہ ٣٨٣

اولیتنیھما“ ان الفاظ میں کہیں مذکور نہیں کہ بعد نزول یہ واقعہ ہو گا یا آمد ثانی میں وہ حج کریں گے۔“

(الفضل ١٩؍مارچ ١٩٢٩ء ص ٧ کالم نمبر ١‘ ٢)

مسلمان : ”اور آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے : ”کلامی یفسر بعضه بعضا“ کہ میرے کلام کے بعض حصے دوسرے بعض کی تفسیر کرتے ہیں۔“

(اخبار الفضل مورخہ ١٩؍مارچ ١٩٢٩ء ص ٧ کالم نمبر ٣)

سو ذرا غور سے سنئے کہ :

” عن حنظلۃ عن ابی ھریرۃ قال قال رسول الله ﷺ ینزل عیسیٰ بن مریم فیقتل الخنزیر ویمحوا الصلیب وتجمع لہ الصلوٰۃ ویعطی المال حتیٰ لا یقبل ویضع الخراج وینزل الروحاء فیحج منھا اویعتمر ویجمعھما قال وتلا ابوھریرۃ ان من اھل الکتاب الا یؤمنن بہ قبل موتہ فزعم حنظلۃ ان ابا ھریرۃ قال یؤمن قبل موت عیسیٰ فلا ادری ھذا کلہ حدیث النبی ﷺ اوشئ قالہ ابوھریرۃ“

(مسند احمد شریف ج دوم ص ٢٩٠)

اس حدیث نبوی سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ بن مریم بعد نزول حج کریں گے۔

قادیانی : حضرت ابو ہریرہؓ اس کے راوی ہیں۔ اور الفاظ : ”حاجا او متعمرا اولیتنیھما“ میں ” یا . یا “ کے تکرار سے اس کی محفوظیت ظاہر ہے۔

(الفضل ایضاً ص ٧ کالم نمبر ١)

مسلمان : ذرا اپنے گھر کی بھی خبر لیجئے۔ کتاب (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٢٧٩ خزائن ج ٢١ ص ٢٥٨) میں ہے : ”اور تیس برس کی مدت گذر گئی کہ خدا نے مجھے صریح لفظوں میں اطلاع دی تھی کہ تیری عمر اسی برس کی ہو گی اور یا یہ کہ پانچ چھ سال زیادہ یا

صفحہ ٣٨٤

پانچ چھ سال کم ۔“

قادیانی : حدیث نبوی کا ہرگز یہ منشاء نہیں کہ مسیح موعود فج الروحاء سے احرام باندھیں گے اور یہ بات بعد نزول من السماء ہو گی۔ اگر یہ مطلب ہوتا تو اس حدیث میں کوئی لفظ تو ایسا ہوتا جو آمد ثانی یا بعد نزول پر صراحتاً یا اشارۃً دلالت کرتا۔ نیز عربی زبان کے لحاظ سے لیہلن بفج الروحاء کا ترجمہ فج الروحاء سے غلط ہے بلکہ فج الروحاء میں‘ چاہئے اگر حضور علیہ السلام کا منشاء مبارک یہ ہوتا کہ فج الروحاء سے تلبیہ شروع کریں گے یا کرتے ہیں تو من فج الروحاء فرماتے۔

(الفضل مورخہ ١٩ مارچ ١٩٢٩ء ص ٧ کالم نمبر ٢)

مسلمان : ...... (الف) امام نوویؒ نے لکھا ہے :

” وهذا يكون بعد نزول عيسى من السماء فى آخر الزمان“

(شرح صحیح مسلم ج ٢ ص ٤٠٨)

(ب)...... ” احمد بن حنبل نے ابوہریرہؓ سے روایت بیان کی ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا کہ ابن مریم اترے گا اور خنزیر کو قتل کرے گا اور صلیب کو محو کرے گا اور نماز اس کے لئے جمع کی جائے گی اور مال دے گا لیکن قبول کوئی نہیں کرے گا اور خراج اٹھادے گا اور روحا میں اترے گا۔ اور وہاں حج یا عمرہ کرے گا یا دونوں کو جمع کرے گا۔“ (مرزائیوں کی مشہور و معروف کتاب عسل مصفے حصہ اول ص ٦٠٦ پر حوالہ تفسیر روح المعانی ج ٣ ص ٢١٣ اور کنز العمال ج ٧ ص ٢٢٨)

پس ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم نزول فرمانے کے بعد حج کریں گے۔

(ج)...... دوسرے اعتراض کا جواب یہ ہے کہ حدیث نبوی میں من فج الروحاء بھی آیا ہے ۔ جیسا کہ (مسند احمد شریف ج ٢ ص ٢٧٢) پر ہے : ”عن حنظلة

صفحہ ٣٨٥

الاسلمی انه سمع ابا هريرة يقول قال رسول ﷺ والذی نفسی بیده لیهلن ابن مریم من فج الروحاء بالحج او العمرة اوليثنيهما“

قادیانی: ”حضرت خلیفہ المسیح اول (نورالدین نامی) اس کی تطبیق یوں فرماتے تھے کہ اس حدیث میں مضارع بمعنی ماضی استعمال ہوا ہے جیسا کہ عربی زبان میں استعمال ہوتا ہے اور اس سے مراد آنحضرت ﷺ کا وہ کشف ہے جس میں آپ نے حضرت موسیٰ اور حضرت یونس علیہ السلام کو حج کرتے ہوئے دیکھا ہے ویسے ہی ان میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی آپ نے احرام باندھے ہوئے دیکھا ہے“

(رسالہ ریویو بابت ماہ اپریل ١٩٢٤ء ص ٢‘ ریویو بابت ماہ فروری ١٩٢٣ء ص ٤٣‘ الفضل مورخہ ١٩ مارچ ١٩٢٩ء ص ٧)

مسلمان: بے شک (مشکوٰة شریف ص ٥٠٨ باب بدءالخلق و ذکر الانبیاء فصل اول میں) حضرت ابن عباسؓ سے حوالہ صحیح مسلم ایک روایت آئی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے وادی ارزق میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اور وادی ہرشے میں حضرت یونس علیہ السلام کو لبیک کہتے ہوئے دیکھا ہے۔ مگر یہ آپ نے کشفی حالت میں دیکھا جیسا کہ الفاظ: ”قال کانی انظر الی موسیٰ“ (گویا میں دیکھتا ہوں حضرت موسیٰ کی طرف) اور الفاظ : ” قال کانی انظر الی یونس“ (فرمایا گویا میں دیکھتا ہوں حضرت یونس کی طرف) اس پر دال ہیں۔ مگر (صحیح مسلم اول ص ٢٠٨‘ مسند احمد ج ٢ ص ٢٧٢‘ ٢٩٠‘ ٥١٣‘ ٥٢٠‘ مستدرک حاکم ج ٢ ص ٥٩٥‘ کنز العمال ج ١٤ ص ٦١٩ نمبر ٣٩٧٢٦) کسی جگہ یہ الفاظ نہیں ہیں: ”قال کانی انظر الی عیسیٰ“ پس حضرت موسیٰ کلیم اللہ اور حضرت یونس نبی اللہ کا واقعہ پیش کرنا صحیح جواب نہیں ہے۔

قادیانی: ”آنحضرت ﷺ نے جس طرح وادی ارزق سے گزرتے ہوئے حضرت موسیٰ کو حج کے لئے جاتے دیکھا۔ ثنیہ ہرشے میں حضرت یونس کو

صفحہ ٣٨٦

لبیک کہتے سنا ایسا ہی حضور نے فج الروحاء سے گزرتے حضرت مسیح کو لبیک کہتے سنا اور ذکر فرمایا جسے راوی نے مسلم شریف کے مندرجہ بالا الفاظ میں ذکر کیا ہے۔ اس صورت میں حدیث مذکور کے صحیح لفظی معنی بغیر کسی تاویل کے یہ ہوں گے کہ بخدا ابن مریم فج الروحاء میں حج یا عمرہ یا ہر دو کے لئے لبیک لبیک کہتے ہیں؟

(الفضل ١٩ مارچ ١٩٢٩ء ص ٧)

مسلمان : ” آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے : كلامي يفسر بعضه بعضا“ کہ میرے کلام کے بعض حصے دوسرے بعض کی تفسیر کرتے ہیں“ (الفضل ١٩ مارچ ١٩٢٩ء ص ٧ کالم نمبر ٣) مسند احمد شریف اور مستدرک حاکم میں جو روایتیں آنحضرت ﷺ سے اس بارے میں آئی ہیں وہ ثابت کرتی ہیں کہ قادیانی مولوی کا ترجمہ صحیح نہیں ہے۔ حضرت عیسیٰ ابن مریم نزول کے بعد حج کریں گے۔ (کنز العمال ج ١٤ ص ٦١٩ حدیث نمبر ٣٩٧٢٦ منتخب کنز العمال ج ٦ ص ٥٦‘ حجة الکرامہ ص ٤٢٤ میں) حدیث نبوی ہے کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم آسمان سے اتریں گے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ خود مرزا قادیانی نے (اپنی کتاب حمامة البشریٰ ص ٨٨‘ ٨٩ خزائن ج ٧ ص ٣١٢ پر) یہ حدیث نقل کی ہے مگر الفاظ : ”من السماء“ نقل نہیں کئے ہیں۔ اس جگہ مرزا قادیانی نے امانت سے کام نہیں لیا ہے اور قرآن مجید میں اللہ نے فرمایا ہے : ”وما كان لنبی ان یغل“ یعنی کسی نبی کے لئے یہ جائز نہیں کہ خیانت کرے۔ اس معیار قرآنی کی رو سے مرزا قادیانی اپنے دعوؤں میں جھوٹے ثابت ہوتے ہیں۔

قادیانی : ”فج کے معنی راستہ کے ہیں اور روحاء سے مراد راحت والا یعنی آرام کا راستہ مراد اسلام ہے۔ یعنی مسیح موعود اسلام کے راستہ میں کمر باندھے گا۔ ، عمرہ اور حج میں آپ نے تردد ظاہر کیا ہے۔ یعنی آیا مسیح کے ذریعہ جلالی تکمیل ہو گی یا جمالی یا دونوں جمع کرے گا۔ جمالی اور جلالی دونوں رنگ میں آئے گا۔ اول یہ ایک

صفحہ ٣٨٧

آنحضرت ﷺ کا کشف ہے جو تعبیر طلب ہے ........ پس آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ جب مسیح ابن مریم آئے گا تو اس پر خدا تعالیٰ کی طرف سے فیوض وانوار نازل ہوں گے۔ اور اسے علم لدنی عطا کیا جائے گا اور اسرار شریعت اس پر کھولے جائیں گے۔ جس کی وجہ سے کوئی مخالف آپ پر غالب نہیں آسکے گا۔ اور آپ کے ذریعہ سے دین اسلام کا ادیان باطلہ پر غلبہ ظاہر ہو گا اور آپ کو دو بیماریاں ہوں گی جیسا کہ حدیث میں ان بیماریوں کو دو زرد چادروں سے تعبیر کیا گیا ہے۔

(ریویو بابت ماہ فروری ١٩٢٣ء ص ٣٥ تا ٣٦ ج ٢٢ ش ٢)

مسلمان : مرزائی مولوی کے الفاظ ہیں۔ ”جمالی اور جلالی دونوں رنگ میں آئے گا۔“ مگر مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھا ہے۔

”اب اسم محمد کی تجلی ظاہر کرنے کا وقت نہیں۔ یعنی اب جلالی رنگ کی کوئی خدمت باقی نہیں کیونکہ مناسب حد تک وہ جلال ظاہر ہو چکا ہے سورج کی کرنوں کی اب برداشت نہیں۔ اب چاند کی ٹھنڈی روشنی کی ضرورت ہے اور وہ احمد کے رنگ میں ہو کر میں ہوں ........ اور کوئی شخص زمین پر ایسا نہ رہا۔ کہ مذہب کے لئے اسلام پر جبر کرے۔ اس لئے خدا نے جلالی رنگ کو منسوخ کر کے اسم احمد کا نمونہ ظاہر کرنا چاہا۔ یعنی جمالی رنگ دکھلانا چاہا سو اس نے قدیم وعدہ کے موافق اپنے مسیح موعود کو پیدا کیا جو عیسیٰ کا اوتار اور احمدی رنگ میں ہو کر جمالی اخلاق کو ظاہر کرنے والا ہے۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ١٧ خزائن ص ٤٤٦، ٤٤٥ ج ١٧)

(٢)...... صحیح مسلم اور مسند احمد میں ............ حدیث نبوی میں الفاظ ”والذی نفسی بیدہ“ آئے ہیں اور مرزا قادیانی حدیث نبوی : ”واقسم بالله ما على الارض من نفس منفوسة يأتى عليها مائة سنة وهي حية يومئذ“ پر بحث کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں۔

صفحہ ٣٨٨

”اور قسم صاف بتاتی ہے کہ یہ خبر ظاہری معنوں پر محمول ہے نہ اس میں کوئی تاویل ہے اور نہ استثناء ہے ورنہ قسم میں کونسا فائدہ ہے۔ (حمامتہ البشریٰ مترجم ص ٢٤ حاشیہ‘ خزائن ص ١٩٢ ج ٧) میں کہتا ہوں کہ صحیح مسلم شریف اور مسند احمد شریف کی روایتوں میں قسم صاف بتاتی ہے کہ یہ خبریں ظاہری معنوں پر محمول ہیں نہ اس میں کوئی تاویل ہے اور نہ استثناء ہے۔

PDF 389

مرزا قادیانی مثیل مسیح نہیں

صفحہ ٣٩٠

بسم الله الرحمن الرحيم

پہلا باب

مسیح علیہ السلام کا نزول ہند میں نہیں بلکہ شام میں

گرمی کا موسم ہے، جون کا مہینہ ہے، موسم گرما اپنے عالم شباب میں ہے گرمی کی بڑی شدت ہے۔ شہر امرتسر کے مشرقی حصہ دروازہ مہاں سنگھ کے قریب ایک کوچے میں قریب دس بجے اتوار کے دن ایک مکان میں چند دوستوں کا مجمع ہے ان میں مذہبی گفتگو ہو رہی ہے۔ ایک مرزائی ہے۔ اس کا مد مقابل ایک اہل سنت ہے۔ چند احباب اور بھی تشریف فرما ہیں۔ گفتگو میں سختی اور درشتی نہیں ہے بلکہ سنجیدگی اور متانت ہے۔ زیر بحث یہ مسئلہ ہے کہ آیا عیسیٰ علیہ السلام ہندوستان میں ہوں گے یا ملک شام میں۔ مرزائی کا اس پر اصرار ہے کہ مسیح موعود ہندوستان میں ہوا ہے۔ چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی مدعی مہدی موعود مسیح موعود ہیں۔ اہل سنت کا یہ عقیدہ ہے کہ مسیح علیہ السلام ملک شام میں نازل ہوں گے۔ مرزائی نے جو دلائل دعوے کے اثبات میں پیش کئے ہیں اور اہل سنت نے جو جوابات دیئے ان کو ناظرین کی دلچسپی کے لئے درج ذیل کیا جاتا ہے :

مخصوص ہے : ” ان مثل عيسى عندالله كمثل آدم “ عیسیٰ کو آدم سے تشبیہ دی گئی ہے اور آدم کا نزول ہند میں ہوا ہے۔ پس عیسیٰ بھی ہند میں نازل ہوگا۔

صفحہ ٣٩١

ذکر کیا ہے۔ ایک وہ جو ہند میں جہاد کرے گا : ”وعصابة معه عيسى ابن مریم“ اور ایک وہ جو ہند میں مسیح موعود کے ساتھ ہو گا۔

الدین کلّہ “ کا ظہور امام مہدی مسیح موعود کے ہاتھ پر ہو گا۔ پس اس کے ظہور کے لئے وہ ملک مناسب ہے جس میں ہر مذہب کا نمونہ موجود ہو اور سب کو آزادی بھی ہو اور یہ خصوصیت محض ہند کو ہے اور ایک صاحب نے مہدی پنجاب ہند کے اعداد یکساں بیان کئے ہیں تاکہ مناسبت ظاہر ہو۔

والا بھی مشرق ہی میں چاہئے۔

میں صاف لکھا ہے : ” يخرج المهدی من قرية يقال له قده “ یعنی قادیان‘ اور یہ دمشق کی مشرق میں بھی ہے۔

نوٹ : یہ مضمون قادیان (کے رسالہ تشحیذ الاذہان ج ٧ ش ٧ ص٢٩٩‘ ٣٠٠‘ تشحیذ الاذہان بابت ماہ اگست ١٩٢٠ء ص ٦٤) پر ہے۔

جواب اہل سنت : مرزائی کے پیش کردہ پانچ دلائل کی تردید کرنے سے پیشتر میں چند دلائل اپنے عقیدہ کی تائید میں لکھتا ہوں اور میرا یہ عقیدہ ہے کہ مسیح موعود عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ملک شام میں ہوں گے۔ ان مندرجہ ذیل احادیث نبویہ کو غور سے سنئے :

سنا رَسُول اللہ ﷺ سے کہ آپ فرماتے تھے کہ ابن مریم دجال کو باب لد پر قتل کرے

صفحہ ٣٩٢

گا۔“ (سنن ترمذی شریف ج ٢ ص ٤٨ باب ما جاء فی قتل عیسیٰ ابن مریم الدجال اور کتاب جائزۃ الشعو ذی شرح سنن ترمذی ج ٢ ص ١١١)

(ب)....... (صحیح مسلم شریف ج ٢ ص ٤٠١، سنن ابن ماجہ ص ٢٩٧ باب فتنۃ الدجال پر) حضرت نواس بن سمعان سے ایک حدیث نبوی آئی ہے جس کا ایک حصہ یوں ہے : ”مسیح علیہ السلام دجال کو تلاش کریں گے اس کو پالیں گے باب لد پر۔ پس اس کو قتل کر ڈالیں گے۔“

نوٹ نمبر ١ : ”لد علاقہ فلسطین میں ایک گاؤں ہے۔“ (نووی شرح صحیح مسلم ج ٢ ص ٤٠١، جائزۃ الشعوذی ج ٢ ص ١١٠، رفع العجاجۃ عن سنن ابن ماجہ ج ٣ ص ٣٢٨، مرقاۃ المفاتیح ج ٥ ص ١٨٧، ١٩٨، اشعۃ اللمعات ج ٤ ص ٣٥١، مظاہر حق ج ٤ ص ٣٥٧، مجمع البحار ج ٤ ص ٤٩٠ باب لد، قاموس ج ١ ص ٣٤٨، تاج العروس ج ٢ ص ٤٩٣، منتہی الارب ج ٤ ص ٨٠، لسان العرب ج ٤ ص ٣٩٦)

نوٹ نمبر ٢ : ”حضرت ابن مریم دجال کی تلاش میں لگیں گے اور لد کے دروازہ پر جو بیت المقدس کے دیہات میں سے ایک گاؤں ہے اس کو جا پکڑیں گے اور قتل کر ڈالیں گے۔“

(مرزا قادیانی کی کتاب خزائن ص ٢٠٩ ج ٣ ازالہ اوہام ص ٢٢٠)

دلیل نمبر ٢ : ”حضرت ابو ہریرہؓ سے منقول ہے کہ روایت کی حضرت رسول خداﷺ سے کہ آپﷺ نے فرمایا کہ مسیح الدجال جانب مشرق سے نکلے گا اور قصد اس کا مدینہ مطہرہ میں آنے کا ہو گا یہاں تک کہ کوہ احد کے پیچھے ٹھہرے گا۔ پھر فرشتے اس کا منہ ملک شام کی طرف پھیر دیں گے اور وہاں ہی وہ ہلاک ہو گا۔“ (مشکوٰۃ شریف ص ٤٧٥ باب العلامات بین یدی الساعۃ وذکر الدجال فصل اول، مرقاۃ المفاتیح ج ٥ ص ٢٠٤، اشعۃ اللمعات ج ٤ ص ٣٥٧، مظاہر حق ج ٤ ص ٣٦٢)

دلیل نمبر ٣ : ”يقتله الله تعالى بالشام على عقبة يقال لها عقبة افيق لثلاث ساعات يمضين من النهار على يدى عيسى ابن

صفحہ ٣٩٣

مریم“ (کتاب کنز العمال ج ٧ ص ٢٦٧ پر حضرت علیؓ سے ایک لمبی روایت آئی ہے۔ جس کا ایک حصہ یہ ہے)

﴿اللہ تعالیٰ دجال کو ملک شام میں ایک ٹیلے پر جس کو افیق کہتے ہیں دن کے تین ساعت میں عیسیٰ ابن مریم کے ہاتھ سے قتل کرائے گا۔ (عسل مصفےٰ حصہ دوم ص ٧٦)﴾

دلیل نمبر ٤ : " عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ ﷺ

وذكروا الهند يغزو الهند بكم جيش يفتح الله عليهم حتى ياتوا بملوكهم مغللين بالسلاسل يغفر الله ذنوبهم فينصرفون حين ينصرفون فيجدون ابن مريم عليهما السلام بالشام (نعیم بن حماد)

(کنز العمال ج ٧ ص ٢٦٧ اور کتاب حجج الکرامہ ص ٤٢٤)

دلیل نمبر ٥ : " حدثنا عبدالله حدثنی ابی ثنا سليمان بن

داؤد قال ثنا حوب بن شداد عن يحيى بن ابی كثير قال حدثنی الحضرمی بن لاحق ان ذكوان ابا صالح اخبره ان عائشة اخبرت قالت دخل على رسول الله وانا ابكی فقال لی ما يبكيك قلت يا رسول الله ذكرت الدجال فبكيت فقال رسول الله ﷺ ان يخرج الدجال وانا حیى كفيتكموه وان يخرج الدجال بعدی فان ربكم عزوجل ليس باعور وانه يخرج فى يهودية اصفهان حتى ياتی المدينة ينزل ناحيتها ولها يومئذ سبعة ابواب على كل نقب منها ملكان فيخرج اليه شرار اهلها حتى الشام مدينة بفلسطين باب لد قال ابو داؤد مرة حتى ياتی بفلسطين باب لد فينزل عيسى عليه السلام فيقتله ثم يمكث عيسى عليه السلام فى الارض اربعين سنة اماما عدلا وحكما مقسطا"

(مسند احمد (مطبوعہ مصر) ج ٦ ص ٧٥)

﴿حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ حضرت رسول خدا ﷺ میرے پاس

صفحہ ٣٩٤

تشریف لائے۔ اس حال میں کہ میں رو رہی تھی۔ حضور پر نور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کس چیز نے تجھے رلایا۔ میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ میں نے دجال کا ذکر پایا پس میں رو پڑی حضور پر نور ﷺ نے فرمایا۔ اگر دجال نے خروج کیا میری زندگی میں، تو میں تمہاری طرف سے اس کو کافی ہوں گا۔ اور اگر اس نے خروج کیا میرے بعد تو جان لو کہ تمہارا رب کانا نہیں۔ دجال شہر اصفہان کے یہود سے خروج کرے گا۔ یہاں تک کہ مدینہ طیبہ کی طرف آئے گا۔ اور اس کے قریب کسی جگہ ٹھہرے گا۔ اس روز مدینہ طیبہ کے سات دروازے ہوں گے اور ہر راستے پر دو فرشتے ہوں گے۔ پس دجال کی طرف شریر لوگ نکلیں گے یہاں تک کہ دجال ملک شام میں آئے گا۔ فلسطین میں مقام لد کے دروازے پر، ابو داؤد نے کہا فلسطین میں آئے گا لد مقام پر۔ پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے اور اس کو قتل کریں گے پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین میں چالیس برس رہیں گے امام ہوں گے، عادل اور حاکم ہوں گے انصاف کرنے والے۔ ﴾

دلیل نمبر ٦ : ”عرب میں اکثر لوگ بیت المقدس میں ہوں گے۔ ان کا امام ایک نیک شخص ہوگا۔ ایک روز ان کا امام آگے بڑھ کر صبح کی نماز پڑھانا چاہے گا۔ اتنے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام صبح کے وقت اتریں گے تو یہ امام ان کو دیکھ کر الٹے پاؤں پیچھے ہٹے گا تاکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آگے ہو کر نماز پڑھا دیں۔ لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنا ہاتھ اس کے دونوں مونڈھوں کے درمیان رکھ دیں گے پھر اس سے فرمائیں گے تو ہی آگے بڑھ۔ اس لئے کہ یہ نماز تیرے ہی لئے قائم ہوئی تھی۔ خیر وہ امام لوگوں کو نماز پڑھا دے گا۔ جب نماز سے فارغ ہو گا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے دروازہ کھول دو۔ دروازہ کھول دیا جائے گا۔ وہاں پر دجال ہو گا۔ ستر ہزار یہودیوں کے ساتھ جن میں سے ہر ایک کے پاس تلوار ہو گی جب دجال حضرت عیسیٰ

صفحہ ٣٩٥

علیہ السلام کو دیکھے گا گھل جائے گا جیسے نمک میں پانی گھل جاتا ہے اور دجال بھاگے گا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرماویں گے میرا ایک وار تجھ کو کھانا ہے تو اس سے بچ نہ سکے گا۔ آخر باب لد کے پاس اس کو پاویں گے اور اس کو قتل کریں گے پھر اللہ تعالیٰ یہودیوں کو شکست دے گا۔“ (سنن ابن ماجہ ص ٢٩٨ باب فتنۃ الدجال اور رفع العجاجہ عن سنن ابن ماجہ ج سوم ص ٣٣٨ پر حضرت ابو امامہ الباہلیؓ سے ایک لمبی روایت مرفوعاً آئی ہے جس کا ایک حصہ یوں ہے)

نوٹ : اس حدیث نبوی نے تو مرزا قادیانی کی مسیحیت اور باطلہ تاویلات پر پانی پھیر دیا ہے۔

دلیل نمبر ٧ : حضرت قتادہ تابعی نے بھی فرمایا ہے کہ ملک شام ارض محشر ہے۔ اس جگہ لوگ جمع ہوں گے اور اس جگہ عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے اور اس جگہ اللہ تعالیٰ گمراہ جھوٹے دجال کو ہلاک کرے گا۔

(تفسیر ابن جریر ج ٧ ص ١٣١)

عرض حبیب

ملک شام ہی میں آپ کا نزول ہوگا۔

لا کر یہود کو اور دجال کو قتل کریں گے۔

کر تلوار اٹھائیں گے۔ دجال کے قتل کے بعد جنگ بند ہو جائے گی۔

کریں گے۔

(تکملہ مجمع البحار ص ٨٥)

صفحہ ٣٩٦

(طبقات ابن سعد ج ١ ص ٢٦)

آنحضرت ﷺ کے دین پر ہوں گے۔

(صحیح مسلم و مسند احمد)

(رسالہ انتباہ الاذکیا ص ٢٥٤ و حج الکرامہ ص ٤٢٩)

ان کی قبر چوتھی ہو گی۔

(حج الکرامہ ص ٤٢٩، ٤٣٠)

مرزائی کے دلائل کا جواب

كمثل آدم خلقه من تراب ثم قال له كن فيكون“ میں حضرت مسیح ناصری کی مثال حضرت آدم کی سی پیش کی گئی ہے یعنی آپ بن باپ پیدا ہوئے اور حضرت آدم بن باپ و بن ماں۔ اس آیت میں کسی مثیل مسیح کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

ص ٢٠٢ کے حوالہ سے جو روایت پیش کی گئی ہے۔ اس میں لفظاً یا اشارتاً اس بات کا کوئی ذکر نہیں ہے کہ مسیح موعود علیہ السلام ہند میں ہوگا۔ البتہ کنز العمال ج ٧ ص ٢٦٧ اور حج الکرامہ کے ص ٤٢٣ کے حوالہ سے جو روایت میں نے بطور دلیل چہارم لکھی ہے۔ اس کے الفاظ: ”فيجدون ابن مريم بالشام“ صاف ظاہر کرتے ہیں کہ ابن

صفحہ ٣٩٧

مریم علیہا السلام ملک شام میں ہوں گے۔

ہیں اور وہاں مذہبی آزادی بھی ہے۔

آئی ہے کہ دجال مشرق کی جانب سے ملک خراسان سے خروج کرے گا مگر نصارٰی یورپ (پادری اور فلاسفر) تو مغرب سے آئے ہیں اور یورپ ایشیاء کے مغرب میں ہے۔

عدی نے کامل میں یہ روایت لکھی ہے :

”يخرج المهدی من قرية باليمن يقال لها كرعة“

مگر اس روایت میں ایک راوی عبد الوہاب ضحاک ہے جس کو ابو حاتم نے جھوٹا کہا۔ نسائی وغیرہ نے متروک کہا، دار قطنی نے منکر الحدیث کہا۔

(میزان الاعتدال ج ٢ ص ١٦٠‘ ١٦١)

کتاب فصل الخطاب قلمی‘ غایت المقصود ج ١ ص ١٦٤‘ ١٦٥‘ حج الکرامہ ص ٣٥٨ پر بحوالہ دلائل النبوۃ لفظ ”کَرعہ“ لکھا ہے۔ لفظ قَدہ‘ کَدہ‘ کَدیہ‘ کَدعہ صحیح نہیں ہے بلکہ لفظ کرعہ ہے۔

(نیز دیکھو احوال الآخرت حافظ محمد صاحب ص ٢٣)

دوسرا باب

مرزا غلام احمد قادیانی مثیل مسیح علیہ السلام نہیں

مرزا قادیانی کا دعویٰ

”وہ مسیح موعود جس کے آنے کا قرآن کریم میں وعدہ کیا گیا ہے یہ عاجز ہی

صفحہ ٣٩٨

ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٦٨٢‘ خزائن ص ٤٦٨ ج ٣)

”سو مسیح موعود جس نے اپنے تئیں ظاہر کیا وہ یہی عاجز ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٦٨٦‘ خزائن ص ٤٧٠ ج ٣)

دعویٰ کی تشریح

”اور مجھے مسیح ابن مریم ہونے کا دعویٰ نہیں اور نہ میں تناسخ کا قائل ہوں بلکہ مجھے تو فقط مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ ہے۔“ (تبلیغ رسالت ج ٢ ص ٢١‘ مجموعہ اشتہارات ص ٣١ ج ١‘ کتاب عسل مصفےٰ ج ٢ ص ٢٨ پر حوالہ اشتہار مورخہ ٢ اکتوبر ١٨٩١ء)

مشابہت تامہ : (١)...... مرزا غلام احمد نے لکھا :

”اس عاجز کو حضرت مسیح سے مشابہت تامہ ہے۔“

(براہین احمدیہ ص ٤٩٩ حاشیہ‘ خزائن ص ٥٩٣ ج ١)

(کشتی نوح ص ٤٩‘ خزائن ص ٥٣ ج ١٩)

اقوال : حق بات یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام سے مشابہت تامہ نہیں ہے اور مرزا قادیانی حضرت مسیح ناصری کے مثیل نہ تھے جیسا کہ مندرجہ ذیل نقشہ سے ثابت ہوتا ہے :

پیدا ہوئے تھے۔

(ازالہ اوہام ص ٦٦٩‘ خزائن ص ٤٦١ ج ٣)

(کشف الغطا ص ٢٦‘ خزائن ص ١٧٩ ج ١٤)

صفحہ ٣٩٩

باتیں کیں۔

(تریاق القلوب ص ٤١ خزائن ص ١٧٢ ج ١٥)

(٢) مرزا قادیانی: مرزا قادیانی نے مھد میں باتیں نہیں کیں۔

(٣) سیدنا عیسیٰ علیہ السلام: حضرت مسیح علیہ السلام کی کوئی بیوی نہیں تھی۔

(رسالہ ریویو بابت ماہ اپریل ١٩٠٢ء ص ١٤٢)

(٣) مرزا قادیانی: مرزا قادیانی کی شادی ہوئی تھی اور آپ کی دو بیویاں تھیں۔

(٤) سیدنا عیسیٰ علیہ السلام: حضرت مسیح علیہ السلام کی کوئی آل (اولاد) نہ تھی۔

(تریاق القلوب ص ٩٩ حاشیہ، خزائن ص ٣٦٣ ج ١٥)

بودن عیسیٰ بے پدر و بے فرزندان

(مواہب الرحمٰن ص ٧٦، خزائن ص ٢٩٥ ج ١٩)

(٤) مرزا قادیانی: مرزا قادیانی کے ہاں کئی لڑکے اور لڑکیاں ہوئی ہیں۔

(٥) سیدنا عیسیٰ علیہ السلام: بقول مرزا قادیانی عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔ شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔

(کشتی نوح ص ٦٥ حاشیہ، خزائن ص ٧١ ج ١٩)

(٥) مرزا قادیانی: مرزا قادیانی شراب نہ پیا کرتے تھے نہ کسی بیماری کی وجہ سے نہ کسی پرانی عادت کی وجہ سے۔ (بلکہ تقویت .........؟)

(٦) سیدنا عیسیٰ علیہ السلام: بقول مرزا قادیانی یسوع درحقیقت

صفحہ ٤٠٠

(ست بچن ص ٧١ حاشیہ، خزائن ص ٢٩٥ ج١٠)

بوجہ بیماری مرگی کے دیوانہ ہو گیا تھا۔

(٦) مرزا قادیانی : مرزا قادیانی کو مرگی کی بیماری نہ تھی۔

(٧) سیدنا عیسیٰ علیہ السلام : بقول مرزا قادیانی حضرت مسیح

(ازالہ اوہام ص ٣١٢ حاشیہ، خزائن ص ٢٥٩ ج ٣)

مسمریزم میں مشق کرتے تھے۔

(٧) مرزا قادیانی : مرزا قادیانی کو مسمریزم نہ آتا تھا بلکہ آپ اس

(ازالہ اوہام ص ٣٠٩ حاشیہ، خزائن ص ٥٨ ج ٣)

عمل کو قابل نفرت اور مکروہ سمجھتے تھے۔

(٨) سیدنا عیسیٰ علیہ السلام : بقول مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام ١/٢ ٣٣ سال کی عمر میں پھانسی پر چڑھائے گئے تھے۔

(تحفہ گولڑویہ طبع ثانی ص ٢١٠، خزائن ص ١١ ج ١٧)

(٨) مرزا قادیانی : مرزا غلام احمد قادیانی کے ساتھ ایسا واقعہ کبھی پیش نہیں آیا تھا۔

(٩) سیدنا عیسیٰ علیہ السلام : بقول مرزا قادیانی حضرت مسیح صلیب پر مرے نہ تھے البتہ بے ہوش ہو گئے تھے اور مرہم عیسیٰ سے آپ کا علاج کیا گیا

(مسیح ہندوستان میں ص ٥٤، ٥٦، خزائن ص ٥٢، ٥٦ ج ١٥)

تھا۔

(٩) مرزا قادیانی : مرزا قادیانی کے ساتھ ایسے واقعات پیش نہ آئے تھے۔

(١٠) سیدنا عیسیٰ علیہ السلام : کتاب مسیح ہندوستان میں ص ٥٣ پر ہے کہ مسیح علیہ السلام نے دنیا کے اکثر حصوں کی سیاحت کی اس لئے نبی سیاح

صفحہ ٤٠١

کہلائے اور ص ٦٥، ٦٨ کا خلاصہ یہ ہے کہ مسیح نے صلیبی واقعہ کے بعد شام سے نکل کر ملک عراق، عرب، ایران، افغانستان، پنجاب، بنارس، نیپال، کشمیر کا سفر کیا تھا۔

(خلاصہ خزائن ص ٥٣، ٧٠ ج ١٥)

امرتسر، لاہور، ہوشیار پور، جالندھر، دہلی، علی گڑھ، لدھیانہ وغیرہ مقامات کا سفر کیا یا یوں کہو کہ صوبہ پنجاب اور یوپی کے باہر نہ نکلے۔ یہ مرزا قادیانی کی سیاحت ہے۔

پھیلانے میں کسی کو ہو سکتی ہے عیسیٰ علیہ السلام سب سے اول نمبر پر ہیں۔

(نصرۃ الحق ص ٤٥، خزائن ص ٥٨ ج ٢١)

ہماری جماعت سے بھر گیا۔

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٧٤، خزائن ص ٩٥، ٩٦ ج ٢١)

مسیح ناصری نے کبھی یہ اقرار نہ کیا کہ مجھے مراق کی بیماری ہے۔

ہے۔

(اخبار بدر مورخہ ٧ جون ١٩٠٦ء ص ٥ اور رسالہ تشحیذ الاذہان بابت ماہ جون ١٩٠٦ء ص ٥)

نبی اللہ اور رسول اللہ کے ساتھ ایسا واقعہ کبھی نہ پیش آیا تھا۔

مرزا قادیانی کو مرض ہسٹیریا کا دورہ پڑا تھا۔

(سیرت المہدی حصہ اول ص ١٣ روایت نمبر ١٩)

صفحہ ٤٠٢

(١٤) سیدنا عیسیٰ علیہ السلام : حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کی ذات مبارک ان تمام مرضوں سے پاک وصاف تھی۔

(١٤) مرزا قادیانی : مرزا قادیانی کو دوران سر ، درد سر ، کمی خواب ، تشنج دل ، بد ہضمی ، اسہال ، کثرت پیشاب اور مراق تھا۔

(رسالہ ریویو بابت ماہ مئی ١٩٢٧ء ص ٢٦)

(١٥) سیدنا عیسیٰ علیہ السلام : حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام نے کبھی ایسا نہ فرمایا تھا۔

(١٥) مرزا قادیانی : مرزا قادیانی نے اپنی نسبت لکھا ہے کہ حافظہ اچھا نہیں ۔ یاد نہیں رہا۔

(نسیم دعوت ص ٧١ ، خزائن ص ٤٣٩ ج ١٩ حاشیہ)

(١٦) سیدنا عیسیٰ علیہ السلام : اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام توام نہیں تھا۔

(نزول المسیح ص ٤٧ ، خزائن ص ٥٠٥ ج ١٨)

(١٦) مرزا قادیانی : میں آدم کی طرح توام ہوں۔

(نزول المسیح ص ٤٧ ، خزائن ص ٥٠٥ ج ١٨)

(١٧) سیدنا عیسیٰ علیہ السلام : حضرت عیسیٰ علیہ السلام میں محض جمالی رنگ تھا۔

(نزول المسیح ص ٤٧ ، خزائن ص ٥٠٥ ج ١٨)

(١٧) مرزا قادیانی : آدم کی طرح میں جمالی اور جلالی دونوں رنگ رکھتا ہوں۔

(نزول المسیح ص ٤٧ ، خزائن ص ٥٠٥ ج ١٨)

(١٨) سیدنا عیسیٰ علیہ السلام : بقول مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام مکتبوں میں بیٹھے تھے اور حضرت عیسیٰ علیہ

صفحہ ٤٠٣

السلام نے ایک یہودی استاد سے تمام توریت پڑھی تھی۔

(کتاب ایام الصلح ص ١٤٧ خزائن ص ٣٩٤ ج ١٤)

ثابت نہیں کر سکتا کہ میں نے کسی انسان سے قرآن یا حدیث یا تفسیر کا ایک سبق بھی پڑھا ہے۔

(ایام الصلح ص ١٤٧ خزائن ص ٣٩٤ ج ١٤)

برس ہوئی ہے۔

(تحفہ گولڑویہ ص ٢١٠ خزائن ص ٣١١ ج ١٧)

حساب سے تھی۔

(کتاب نور الدین ص ٧١ اسطر ١٩)

و فوائد تفسیریہ ص ١٨٢ کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام صاحب شریعت نبی ہیں۔

(حقیقت النبوۃ ص ١١١)

مسیح علیہ السلام ناصری نے براہ راست فیضان پایا ہے۔

(حقیقت النبوۃ ص ١٣٧)

حضرت محمد ﷺ کی اتباع سے سب کچھ حاصل کیا ہے۔

(حقیقت النبوۃ ص ١٣٧)

سے بھی یہی نکلا کہ میں اسرائیل کی بھیڑوں کے سوا اور کسی کی طرف نہیں بھیجا گیا۔

صفحہ ٤٠٤

(چشمہ معرفت ص ٦٨، خزائن ص ٧٦ ج ٢٣)

(٢٢) مرزا قادیانی: مرزا قادیانی کا الہام ہے: ”قل یاایھاالناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا“

(حقیقت النبوۃ ص ١٩٩‘٢٠٠)

(٢٣) سیدنا عیسیٰ علیہ السلام: دیلمی اور ابن النجار نے حضرت جابرؓ سے روایت کی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سفر کرتے تھے۔ جب شام پڑجاتی تو جنگل کا ساگ پات کھالیتے اور چشموں کا پانی پیتے اور مٹی کا تکیہ بنالیتے (یعنی زمین پر ہی بلا بستر کے لیٹ رہتے) پھر فرماتے کہ نہ تو میرا گھر ہے کہ جس کے خراب ہونے کا اندیشہ ہو اور نہ کوئی اولاد ہے کہ جن کے مرنے کا غم ہو۔ (عسل مصفے حصہ اول ص ١٩١‘١٩٢)

(٢٣) مرزا قادیانی: مرزا غلام احمد قادیانی کی یہ حالت نہ تھی۔ کئی بیویاں تھیں کئی بچے تھے، قریباً تین لاکھ روپے کی آپ کو آمدنی ہوئی تھی۔

(حقیقت الوحی ص ٢١١، خزائن ص ٢٢١ ج ٢٢)

(٢٤) سیدنا عیسیٰ علیہ السلام: بقول مرزا غلام احمد قادیانی آنحضرت ﷺ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد ٢٢ویں صدی میں پیدا ہوئے تھے۔ (ازالہ اوہام ص ٦٨٧، خزائن ص ٤٧١ ج ٣) اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہمارے نبی سے چھ سو برس پہلے گزرے ہیں۔ (راز حقیقت ص ١٥ حاشیہ، خزائن ص ١٦٢ ج ١٤) مطلب یہ نکلا کہ حضرت مسیح علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد سولہویں صدی میں ہوئے ہیں۔

(٢٤) مرزا قادیانی: مرزا غلام احمد قادیانی کی پیدائش ١٢٦٠ھ میں ہوئی تھی۔ (رسالہ ریویو بابت ماہ مئی ١٩٢٢ء ص ١٥٤) دعویٰ مسیحیت ١٣٠٨ھ میں کیا اور وفات ١٣٢٦ھ میں ہوئی۔

PDF 405

سنت اللہ کے معنی

مع

رسالہ واقعات نادرہ

صفحہ ٤٠٦

الحمدلله رب العالمين والصلوٰة والسلام على خاتم النبيين وعلى آلہ واصحابہ اجمعین

واضح ہو کہ مرزائیوں کی طرف سے یہ اعتراض بھی پیش ہوا کرتا ہے کہ آسمان پر جانا سنت اللہ کے خلاف ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی عادت نہیں ہے کہ کبھی کسی کو اس جسم کے ساتھ آسمان پر لے گیا ہو۔ (حکیم خدا بخش مرزائی کی کتاب عسل مصفے حصہ اول ص ٥٠٥‘٥٠٦) اس مرزائی مصنف نے لکھا ہے کہ : ”ولن تجد لسنة الله تبديلا . پارہ ٢٢ سورة الفاطر رکوع ٥“ یعنی اے رسول تمہیں معلوم رہے سنت اللہ میں ہرگز تبدیلی نہیں ہو سکتی۔ پس جو قانون اللہ تعالیٰ نے دیگر بنی آدم کے لئے مقرر فرمایا ہے وہی مسیح علیہ السلام کے لئے ہے۔ کوئی وجہ نہیں ہو سکتی کہ جو سنت دیگر انبیاء ورسل وعامۃ الناس کے لئے جاری وساری ہے۔ اس سے مسیح علیہ السلام مستثنیٰ رکھے جائیں۔

(عسل مصفے حصہ اول ص ٢٨٩)

اقوال : الزامی جواب : حکیم خدا بخش مرزائی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ :

”وہ یہی عیسیٰ علیہ السلام جو بر خلاف عام سنت اللہ کے خارق عادت طور پر بغیر باپ کے پیدا ہوا ہے۔“

(عسل مصفے حصہ اول ص ٤٩٥)

پس میں پوچھتا ہوں کہ جو قانون اللہ تعالیٰ نے دیگر بنی آدم کی پیدائش کے لئے مقرر فرمایا ہے کیا وہی قانون مسیح علیہ السلام کی پیدائش کے لئے ہے کیا وجہ ہے کہ جو سنت دیگر انبیاء ورسل وعامۃ الناس کی پیدائش کے لئے جاری وساری ہے۔ اس سے

صفحہ ٤٠٧

حضرت مسیح علیہ السلام مستثنیٰ رکھے گئے ہیں؟۔

تحقیقی جواب : معلوم ہو کہ کسی قاعدہ کو سنت اللہ یا خدا کا قاعدہ قرار دینے کے دو طریقے ہیں ایک نقلی اور دوسرا عقلی۔ نقلی یہ کہ قرآن شریف یا حدیث صحیح میں اسے سنت اللہ کہا ہو اور عقلی یہ کہ ہم اس کارخانہ قدرت کے انتظام کے سلسلہ پر نظر کر کے کسی امر کو سنت اللہ قرار دے لیں۔ اسے علم منطق میں استقراء کہتے ہیں اور اس کی دو قسمیں ہیں۔ تام اور ناقص۔ تام اسے کہتے ہیں کہ تمام ہم قسم جزئیات پر نظر کریں اور ان میں ایک مشترک نظام پائیں اور اسے قاعدہ قرار دیں۔

ناقص یہ کہ چند جزئیات پر نظر کر کے ایک امر کو قاعدہ قرار دیں۔ استقرائے تام جو عقلاً سب جزئیات کا حصر کرے مفید یقین ہوتا ہے اور استقرائے ناقص مفید ظن ہوتا ہے۔ (مستفاد از ملا مبین بحث استقراء ص ٢٤٩ ج ٢) کیونکہ تمام جزئیات کا حصر نہیں ہوا اور یہ بھی ممکن ہے کہ بعض دیگر جزئیات جو ہمارے علم میں نہیں آئیں اس نظام و قاعدہ کے ماتحت نہ ہو۔ جو ہم نے سمجھ رکھا ہے۔ پس اس قرار داد کو قاعدہ کہنا درست نہیں کیونکہ قاعدہ وہ ہے جو جمیع جزئیات پر منطبق ہو۔ لہٰذا وہ ہمارا سمجھا ہوا قاعدہ سنت اللہ نہ رہا۔

اب سوال یہ ہے کہ جس امر کو ہم نے سنت اللہ قرار دیا ہے آیا اس کے متعلق خدا نے یا اس کے رسول ﷺ نے کہا ہے کہ یہ امر سنت اللہ ہے یا جو قاعدہ ہم نے اپنے استقراء سے بنایا ہے وہ سب جزئیات کو دیکھ بھال کر بنایا ہے اور ہم اس کی مخلوقات کا احاطہ کر چکے ہیں اور اس کی قدرت کے اسرار کو اور اس کے نظام کو کامل طور پر سمجھ چکے ہیں۔

قرآن و حدیث کا واقف اور نظام قدرت پر صحیح نظر رکھنے والا بے شک گردن جھکا دے گا اور اس امر کو تسلیم کرے گا کہ ان قواعد کو جو ہم نے بنائے ہیں خدا اور رسول

صفحہ ٤٠٨

نے ہرگز سنت اللہ نہیں کہا اور ہمارا استقراء بالکل ناقص ہے۔ کیونکہ مخلوقات الہی اور اس کے عجائبات قدرت انسان کے احاطہ علم سے باہر ہیں۔ ہم کو : ” وما يعلم جنود ربك الا هو (سورۃ مدثر پارہ ٢٩) “ یعنی تیرے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور : ” وما اوتيتم من العلم الا قليلا (سورۃ بنی اسرائیل پارہ ١٥) “ یعنی تم کو تو صرف تھوڑا سا علم عطا کیا گیا ہے۔ کو ملحوظ رکھنا چاہئے۔ آیت : ” ولن تجد لسنة اللہ تبدیلا (سورۃ الفتح پارہ ٢٦) “ اور اس کی دیگر نظائر کی صحیح تفسیر یہ ہے کہ ان آیات میں سنت اللہ سے انبیاء کی نصرت اور ان کے دشمنوں کی تعذیب اور خذلان و ناکامی مراد ہے۔ سو اس امر کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میری یہ قدیمی روش ہے۔ اس میں تبدیلی نہیں ہوگی۔ اس بات کے سمجھنے کا آسان طریق یہ ہے کہ یہ آیات جہاں جہاں قرآن مجید میں وارد ہوئی ہیں۔ طالب مشتاق ان مواضع کو نکال کر ما قبل و مابعد پر نظر کرے تو ساتھ ہی انبیاء علیہم السلام کی نصرت اور ان کے دشمنوں کی ناکامی اور ان پر خدا کی مار اور پھٹکار کا ذکر موجود ہوگا۔ پس قاعدہ نظم و ارتباط قرآن حکیم اس کو مجبور کر دے گا کہ وہ تسلیم کرے کہ اس جگہ سنت اللہ سے مراد پیغمبروں کی نصرت اور ان کے دشمنوں کی تعذیب و خذالان ہے۔ چنانچہ وہ سب مواضع علی الترتیب مع ان کے ما قبل کے نقل کر کے فیصلہ ناظرین کے فہم رسا پر چھوڑتے ہیں۔

(از کتاب شہادت القرآن حصہ اول ص ٣٣‘٣٤‘٣٥ از مولانا میر ابراہیم سیالکوٹیؒ)

پہلا مقام : خدا تعالیٰ فرماتے ہیں :

” وان كادو ليستفزونك من الارض ليخرجوك منها واذا لا يلبثون خلافك الا قليلا سنة من قد ارسلنا قبلك من رسلنا ولا تجد لسنتنا تحويلا (سورۃ بنی اسرائیل آیت ٧٦‘٧٧) “ ﴿اور تحقیق نزدیک تھے کہ اکھاڑتے تجھ کو اس زمین سے تاکہ نکال دیوے تجھ کو اس میں سے اور اس وقت نہ رہیں

صفحہ ٤٠٩

گے تیرے پیچھے مگر تھوڑے‘ عادت ان کی کہ تحقیق بھیجا ہم نے تجھ سے پیشتر اپنے رسولوں سے اور تو نہ پاوے گا واسطے عادت جاری کے تغیر ۔﴾

اس مقام پر صاف مذکور ہے کہ کفار مکہ پیغمبر ﷺ کو مکہ شریف سے نکالنا چاہتے تھے ۔ اللہ نے آپ کو تسلی فرمائی کہ اگر آپ کو نکالیں گے تو خود بھی نہ رہیں گے......... کیونکہ انتقام انبیاء از اعداء ہماری سنت قدیمہ ہے اور یہ کبھی تبدیل نہ ہوگی ۔ اس آیت کے ذیل میں تفسیر کبیر میں کہا ہے : ”یعنی ان کل قوم اخرجوا نبيهم سنة الله ان يهلكهم الله“ یعنی خدا تعالیٰ کی اس سے یہ مراد ہے کہ جس کسی قوم نے اپنے نبی کو نکالا ان کے متعلق خدا کی سنت یہی ہے کہ ان کو بس ہلاک ہی کر دیوے۔

دوسرا مقام: ”البتہ اگر منافق اور وہ لوگ کہ جن کے دلوں میں بیماری ہے اور شہر میں بری خبریں اڑانے والے باز نہ رہیں گے۔ البتہ پیچھے لگا دیں گے ہم تجھ کو ان کے۔ پھر نہ ہمسایہ رہیں گے تیرے بیچ اس کے مگر تھوڑے دنوں‘ لعنت کئے جائیں جہاں پائے جائیں پکڑے جائیں اور قتل کئے جائیں۔ خوب قتل کرنا۔ عادت اللہ کی بیچ ان لوگوں کے کہ گزرے پہلے اس سے اور ہرگز نہ پاوے گا تو واسطے عادت اللہ کے بدل ڈالنا۔“

(سورۃ الاحزاب آیت ٦٠‘ ٦٢)

تیسرا مقام: ”اور نہیں گھیرتا مکر برا مکر کرنے والوں کو۔ پس نہیں انتظار کرتے مگر عادت پہلوں کی۔ پس ہرگز نہ پائے گا تو واسطے عادت اللہ کے بدل ڈالنا اور ہرگز نہ پائے گا تو واسطے عادت اللہ کے پھیر دینا۔ کیا نہیں سیر کی‘ انہوں نے بیچ زمین کے پس دیکھ کیونکر ہوا آخر کام ان لوگوں کا کہ پہلے ان سے تھے اور تھے بہت سخت ان سے قوت میں۔“

(سورۃ فاطر آیت ٤٣‘ ٤٤)

صفحہ ٤١٠

نوٹ : تفسیر ابوالسعود میں ہے : ” ای سنته الله فيهم بتعذيب مكذ بيهم “ یعنی ایسے لوگوں کے بارے میں خدا کی سنت ہے کہ مکذبین کو عذاب کرے۔

چوتھا مقام : ”کیا پس نہیں سیر کی انہوں نے زمین میں۔ پس دیکھیں کیونکر ہوا آخر کام ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے زیادہ تر ان سے اور سخت تر قوت میں اور نشانیوں میں زمین میں۔ پس نہ کفایت کیا ان سے اس چیز نے کہ تھے کماتے ۔ پس جب آئے ان کے پاس رسول ان کے ساتھ دلیلوں ظاہر کے خوش ہوئے ساتھ اس چیز کے کہ نزدیک ان کے تھی علم سے اور گھیر لیا ان کو اس چیز نے کہ تھے ساتھ اس کے استہزاء کرتے۔ پس جب دیکھا انہوں نے عذاب ہمارا کہا انہوں نے ایمان لائے ہم ساتھ اللہ کے اور منکر ہوئے ہم ساتھ اس چیز کے کہ تھے ہم ساتھ اس کے شریک کرتے۔ پس نہ تھا کہ نفع کرتا ان کو ایمان ان کا جب دیکھا انہوں نے عذاب ہمارا۔ عادت اللہ کی جو تحقیق گزر گئی ہے اپنے بندوں میں اور زیاں پایا اس جگہ کافروں نے۔“

(سورۃ المومن آیت ٨٤‘ ٨٥)

پانچواں مقام : ” ولو قاتلكم الذين كفروا لولوا الادبار ثم لايجدون وليا ولا نصيرا سنة الله التي قد خلت من قبل ولن تجد لسنة الله تبديلا (سورۃ الفتح آیت ٢٢‘ ٢٣) ﴿اور اگر لڑیں تم سے وہ لوگ کہ کافر ہوئے۔ البتہ پھیر لیتے پیٹھ پھر نہ پاتے کوئی دوست اور نہ مدد دینے والا۔ عادت اللہ کی جو تحقیق گزری ہے اس سے پہلے اور ہر گز نہ پائے گا تو واسطے عادت اللہ کے بدل جانا۔﴾

آیة الله : خوب یاد رکھو کہ عادات الٰہیہ جو بنی آدم سے تعلق رکھتے ہیں دو طور کے ہیں ایک عادات عامہ جو روپوش اسباب ہو کر مسبب پر مؤثر ہوتی ہیں۔ دوسری عادات خاصہ جو بتوسط اسباب خاص تعلق رکھتی ہیں جو اس کی رضا اور

صفحہ ٤١١

محبت میں کھوئے جاتے ہیں اور اسی درجہ میں جب کوئی انسان پہنچ جاتا ہے تو اس سے خرق عادات کا ظہور ہوتا ہے اور اللہ عزوجل جب کوئی کام بتوسط اسباب خاص پیدا فرماتا ہے تو اس کا نام شریعت الہیہ میں آیت اللہ ہے جس کو معجزہ اور کرامت وغیرہ ناموں سے موسوم کرتے ہیں۔ سنت اللہ اور آیت اللہ میں عموم خصوص مطلق کی نسبت ہے۔ قرآن کریم میں جہاں کہیں آیت اللہ کا لفظ کسی امر کے متعلق آیا ہے تو اس سے امور خارق عادات مراد ہے۔ اس کو سنت اللہ کہنا غلط ہے۔

(از کتاب حنفیہ پاکٹ بک حصہ اول ص ٩٣‘٩٤)

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معجزات

”اے موسیٰ علیہ السلام یہ تیرے داہنے ہاتھ میں کیا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا کہ یہ میرا عصا ہے۔ میں اس پر تکیہ کرتا ہوں اور میں اس کے ساتھ اپنی بکریوں کے لئے پتے جھاڑتا ہوں اور اس میں میرے لئے اور بھی فائدے ہیں۔ اللہ نے فرمایا کہ اے موسیٰ اس کو پھینک دے۔ پس حضرت موسیٰ نے اپنی لاٹھی کو پھینکا۔ پس ناگہاں وہ سانپ تھا دوڑتا۔ اللہ نے فرمایا کہ اے موسیٰ اس کو پکڑ لے اور مت ڈر۔ ابھی ہم اس کو پہلی حال میں پھیر دیں گے اور اپنا ہاتھ اپنے بازو کی طرف ملا۔ نکل آئے گا سفید بغیر کسی عیب کے‘ نشانی دوسری تاکہ دکھلادیں ہم تجھ کو نشانیاں اپنی بڑی میں سے۔“

(سورۃ طہٰ آیت ١٧‘٢٣)

حضرت مسیح علیہ السلام کی پیدائش

”اور یاد کر کتاب میں حضرت مریم صدیقہ علیہا السلام کو جس وقت اپنے اہل سے الگ جا پڑی مشرقی جگہ میں پس ان سے پردہ کیا۔ پس ہم نے اپنی روح (یعنی جبرائیل علیہ السلام فرشتے) کو بھیجا۔ پس اس نے اس کے واسطے تندرست آدمی کی صورت اختیار کی۔ حضرت مریم علیہا السلام کہنے لگی میں رحمٰن کے ساتھ پناہ پکڑتی

صفحہ ٤١٢

ہوں تجھ سے اگر تو پرہیزگار بھی ہے۔ جبرائیل علیہ السلام فرشتے نے جواب دیا کہ میں تیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں تاکہ دے جاؤں تجھے بشارت (یعنی خوشخبری) لڑکا پاکیزہ پیدا ہونے کی۔ حضرت مریم نے کہا میرے لڑکا کیونکر ہوگا۔ درحالیکہ کسی آدمی نے مجھے نہیں چھوا اور نہ میں بدکار عورت ہوں۔ جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا اس طرح تیرے رب نے فرمایا ہے وہ میرے پر آسان ہے : ”ولنجعله آية للناس ورحمة منا وكان امرا مقضيا“ اور تاکہ ہم اس کو لوگوں کے واسطے نشانی کریں اور اپنی طرف مہربانی اور ہے کام مقرر کیا ہوا۔“

(سورۃ مریم آیت ١٦‘٢١)

حضرت مریم علیہا السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام

”وجعلنا ابن مریم وامه آية وآوينهما الى ربوة ذات قرار ومعين (سورۃ المؤمنون آیت ٥٠)“ ﴿اور ہم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اور اس کی ماں مریم صدیقہ علیہا السلام کو نشانی اور جگہ دی ہم نے ان دونوں کو طرف زمین بلند کے جگہ رہنے کی اور پانی جاری کیا۔﴾

حضرت مسیح علیہ السلام کے معجزات

(سورۃ آل عمران آیت ٤٩ میں ہے کہ) حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا :

”یہ کہ تحقیق میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نشان کے ساتھ آیا ہوں‘ یہ کہ میں تمہارے واسطے بناتا ہوں مٹی سے مانند صورت جانور کے۔ پس پھونکتا ہوں میں اس میں۔ پس وہ ہو جاتا ہے جانور اللہ کے حکم کے ساتھ اور اچھا کرتا ہوں پیٹ کے جنے اندھے کو‘ اور سفید داغ والے کو‘ زندہ کرتا ہوں مردے کو ساتھ حکم اللہ کے‘ اور تم کو خبر دیتا ہوں اس چیز کی کہ تم کھاتے ہو اور جو کچھ ذخیرہ کرتے ہو تم اپنے گھروں میں۔ تحقیق اس میں البتہ نشانی ہے تمہارے واسطے اگر ہو تم

صفحہ ٤١٣

ایمان والے۔“

مائدہ کا نزول

”حضرت مریم علیہا السلام کے بیٹے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دعا کی یا اللہ ہمارے پروردگار ہم پر آسمان سے خوان اتار ہووے‘ واسطے ہمارے عید اول ہمارے کو‘ اور آخر ہمارے کو‘ اور تیری طرف سے نشانی‘ اور رزق دے ہم کو اور تو بہتر رزق دینے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تحقیق میں اتارنے والا ہوں اس کو تم پر۔ پس جو کوئی کفر کرے اس کے بعد تم میں سے۔ پس تحقیق میں عذاب کروں گا اس کو۔ وہ عذاب کہ نہ عذاب کروں گا وہ کسی کو عالموں میں سے۔“

(سورۃ المائدہ آیت ١١٤‘ ١١٥)

اصحاب کہف کا کئی سال سونا

والے ہماری نشانیوں میں سے عجیب تھے۔“

(سورۃ کہف آیت ٩)

اٹھایا۔“

(سورۃ کہف آیت ١١‘ ١٢)

(سورۃ کہف آیت ١٧)

(سورۃ کہف آیت ٢٥)

معجزہ شق القمر

”قیامت نزدیک آئی اور چاند پھٹ گیا اور اگر کوئی نشان دیکھیں تو منہ پھیر لیویں اور کہتے ہیں جادو ہے۔ ہمیشہ کا قوی اور جھٹلایا انہوں نے اور پیروی کی اپنی خواہشوں کی اور ہر بات قرار پکڑنے والی ہے۔“

(سورۃ القمر آیت ١‘ ٣)

صفحہ ٤١٤

نوٹ : ان سات مختلف واقعات کو آیات اللہ یعنی خدا کی قدرت کے نشانات کہا گیا ہے۔

واقعات نادرہ خدا کی قدرت کے نشان

اور مرزا غلام احمد رئیس قادیان

مرزا قادیانی اور ان کے مرید کہا کرتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا رفع جسمانی سنت اللہ اور قانون قدرت کے خلاف ہے۔ ذیل میں چند ایک ایسے واقعات لکھے جاتے ہیں جو قانون قدرت کے خلاف ہیں اور ان کو مرزا قادیانی اور ان کے مریدوں نے نہ صرف لکھا ہے بلکہ صحیح تسلیم کیا ہے۔

(١) حضرت ابراھیم علیہ السلام پر آگ سرد ہو گئی

”ابراھیم علیہ السلام چونکہ صادق اور خدا تعالیٰ کا وفادار بندہ تھا اس لئے ہر ایک ابتلا کے وقت خدا نے اس کی مدد کی۔ جبکہ وہ ظلم سے آگ میں ڈالا گیا۔ خدا نے آگ کو اس کے لئے سرد کر دیا۔“

(حقیقت الوحی ص ٥٠، خزائن ص ٥٢ ج ٢٢)

(٢) حضرت یونس علیہ السلام نبی مچھلی کے پیٹ میں

”اب ظاہر ہے کہ یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں مرا نہیں تھا اور اگر زیادہ سے زیادہ کچھ ہوا تھا تو صرف بے ہوشی اور غشی تھی اور خدا کی پاک کتابیں یہ گواہی دیتی ہیں کہ یونس علیہ السلام خدا کے فضل سے مچھلی کے پیٹ میں زندہ رہا اور زندہ نکلا اور آخر قوم نے اس کو قبول کیا۔“

(مسیح ہندوستان میں ص ١٤، خزائن ص ١٦ ج ١٥)

(٣) نبی نے مردہ زندہ کیا

”انبیاء سے جو عجائبات اس قسم کے ظاہر ہوئے ہیں کہ کسی نے سانپ بنا کر

صفحہ ٤١٥

دکھلا دیا اور کسی نے مردے کو زندہ کر کے دکھلایا۔ یہ اس قسم کی دست بازیوں سے منزہ ہیں جو شعبدہ باز لوگ کیا کرتے ہیں۔“

(براہین احمدیہ ص ٤٣٤‘ ٤٣٣ خزائن ص ٥١٨‘ ٥١٩ ج ١)

(٤) حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام بے باپ

”ہمارا ایمان اور اعتقاد یہی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام بن باپ تھے اور اللہ تعالیٰ کو سب طاقتیں ہیں اور نیچری جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کا باپ تھا وہ بڑی غلطی پر ہیں۔“

(اخبار الحکم ٢٤ جون ١٩٠١ء ص ١١)

(٥) حضرت مسیح علیہ السلام نے مہد میں باتیں کیں

”یہ عجیب بات ہے کہ حضرت مسیح نے تو صرف مہد میں ہی باتیں کیں مگر اس لڑکے نے پیٹ میں ہی دو مرتبہ باتیں کیں۔“

(تریاق القلوب ص ١٥٧‘ خزائن ص ١٥٧ ج ١٥)

(٦) چاند دو ٹکڑے ہو گیا

”قرآن شریف میں مذکور ہے کہ آنحضرت ﷺ کی انگلی کے اشارہ سے چاند دو ٹکڑے ہو گیا اور کفار نے اس معجزہ کو دیکھا۔ اس کے جواب میں یہ کہنا کہ ایسا وقوع میں آنا خلاف علم ہیئت ہے یہ سراسر فضول باتیں ہیں کیونکہ قرآن شریف تو فرماتا ہے کہ :”اقتربت الساعة وانشق القمر وان يروا آية يعرضوا ويقولوا سحر مستمر“ یعنی قیامت نزدیک آگئی اور چاند پھٹ گیا اور کافروں نے یہ معجزہ دیکھا اور کہا کہ یہ پکا جادو ہے جس کا آسمان تک اثر چلا گیا۔“

(چشمہ معرفت ص ٢١٢‘ ٢١٣ حصہ ٢ خزائن ص ٢٣١ ج ٢٣)

(٧) بعض نادر الوجود عورتیں

”بعض عورتیں جو بہت ہی نادر الوجود ہیں بباعث غلبہ رجولیت اس لائق ہوتی ہیں کہ ان کی منی دونوں طور قوت فاعلی و انفعالی رکھتی ہو اور کسی سخت تحریک

صفحہ ٤١٦

خیال شہوت سے جنبش میں آکر خود بخود حمل ٹھہرنے کا موجب ہو جائے۔“

(سرمہ چشم آریہ ص ٣٧‘ خزائن ص ٩٦ ج ٢)

(٨) بکرے نے دودھ دیا

”کچھ تھوڑا عرصہ گذرا ہے کہ مظفر گڑھ میں ایک ایسا بکرا پیدا ہوا کہ جو بکریوں کی طرح دودھ دیتا تھا۔ جب اس کا شہر میں بہت چرچا پھیلا تو میکالف صاحب ڈپٹی کمشنر مظفر گڑھ کو بھی اطلاع ہوئی تو انہوں نے یہ ایک عجیب امر قانون قدرت کے بر خلاف سمجھ کر وہ بکرا اپنے روبرو منگوالیا۔ چنانچہ وہ بکرا جب ان کے روبرو دوہا گیا تو شاید قریب ڈیڑھ سیر دودھ کے اس نے دیا اور پھر وہ بکرا بحکم جناب ڈپٹی کمشنر عجائب خانہ لاہور میں بھیجا گیا تب ایک شاعر نے اس پر ایک شعر بھی بنایا اور وہ شعر یہ ہے :

مظفر گڑھ جہاں ہے میکالف صاحب عالی
یہاں تک فضل باری ہے کہ بکرا دودھ دیتا ہے

(سرمہ چشم آریہ ص ٣٩‘ خزائن ص ٩٩ ج ٢)

(٩) ایک مرد نے دودھ دیا

”تین معتبر اور ثقہ اور معزز آدمی نے میرے پاس بیان کیا کہ ہم نے بچشم خود چند مردوں کو عورتوں کی طرح دودھ دیتے دیکھا ہے بلکہ ایک نے ان میں سے کہا کہ امیر علی نام ایک سید کا لڑکا ہمارے گاؤں میں اپنے باپ کے دودھ سے ہی پرورش پایا تھا۔ کیونکہ اس کی ماں مرگئی تھی۔“

(سرمہ چشم آریہ ص ٣٩‘ خزائن ص ٩٩ ج ٢)

(١٠) ایڑی میں سے پاخانہ آنا

”ان دونوں طبیبوں میں سے ایک نے اور غالباً قرشی نے خود اپنی ایڑی میں سوراخ ہو کر اور پھر اس راہ سے مدت تک براز یعنی پاخانہ آتے رہنا تحریر کیا ہے۔“

(سرمہ چشم آریہ ص ٤٠‘ خزائن ص ٩٩ ج ٢)

صفحہ ٤١٧

(١١) خدا اپنا قانون بھی بدل لیتا ہے

”یہ تو سچ ہے کہ جیسا کہ خدا غیر متبدل ہے اس کے صفات بھی غیر متبدل ہیں۔ اس سے کس کو انکار ہے مگر آج تک اس کے کاموں کی حد بست کس نے کی ہے اور کون کہہ سکتا ہے کہ وہ اس کی عمیق در عمیق اور بے حد قدرتوں کی انتہا تک پہنچ گیا ہے بلکہ اس کی قدرتیں غیر محدود ہیں اور اس کے عجائب کام ناپیدا کنار ہیں اور اپنے خاص بندوں کے لئے اپنا قانون بھی بدل لیتا ہے مگر وہ بدلنا بھی اس کے قانون میں داخل ہے۔“

(چشمہ معرفت ص ٩٦ خزائن ص ١٠٢ ج ٢٣)

(١٢) روٹی درختوں کو لگتی ہے

”جزائر پیلیٹینک میں پکی پکائی روٹی درختوں کو لگتی ہے۔ اسے بریڈ فروٹ کہتے ہیں۔ ملاحظہ ہو برٹن انسائیکلو پیڈیا، جزائر پالی نیشیا۔“

(فاروق قادیان ١٧ اکتوبر ١٩٤٢ء ص ٨)

(١٣) داڑھی والی عورت

”٩ جنوری ١٨٩٢ء کے رسالہ نیچر میں لکھا ہے کہ ایک گھوڑے کے بال ١٣ فٹ اور دم ١٠ فٹ ناپے گئے۔ ایک عورت مس اوولنس کی داڑھی کے بال ساڑھے آٹھ فٹ ناپے گئے۔“

(صداقت مرسلیہ ص ٩٩)

”ایک عورت کی کمر تک لمبی داڑھی تھی۔ ڈریسٹرن کے ہسپتال میں ایک عورت فوت ہوئی جس کی گھنی داڑھی اور مضبوط مونچھیں تھیں۔“

(صداقت مرسلیہ ص ٩٨)

(١٤) داڑھی والا بچہ

بھیرہ ٣٠ اکتوبر۔ بھیرہ میں ایک عجیب الخلقت بچہ پیدا ہوا ہے جس کے منہ پر پیدا ہوتے ہی داڑھی ہے۔ داڑھی سے اس کی شکل عجیب سی نظر آتی ہے۔ لوگ اس کو

صفحہ ٤١٨

دیکھنے کے لئے آتے ہیں۔“

(الفضل قادیان ج ١٦ نمبر ٤٧‘ ٢ نومبر ١٩٢٨ء ص ١٢)

(١٥) تین ٹانگوں والا بچہ

اخبار سیاست مورخہ ٧ اپریل ١٩٢٥ء میں حسب ذیل خبر شائع ہوئی ہے۔ امرتسر میں ہاتھی دروازہ کے باہر چند روز سے ایک عجیب الخلقت انسان کی نمائش کی جارہی ہے جس کی خلاف معمول تین ٹانگیں ہیں۔ نصف حصہ جسم میں اندر ہی ہے۔“

(الفضل ٢٥ اپریل ١٩٢٥ء ص ٥ ج ١٢ نمبر ١١٨)

(١٦) دانتوں والی مرغی

”نیویارک میں ایک شخص کے پاس ایک مرغی ہے جس کے منہ میں دانت ہیں اور اس کی بناوٹ بھی کسی قدر عجیب ہے۔ اس کی چونچ چپٹی بلکہ بیٹھی ہوئی ہے اور اس کے نیچے منہ کا سوراخ مثل دہن کے ہے جس کے اندر دو مسلسل لڑیاں دانتوں کی ہیں۔“

(بدر قادیان ٢٣ مئی ١٩١٢ء ص ٦)

(١٧) مرد کے ہاں بچہ ہونا

”چند سال گزرے ہیں کہ اخبارات نے شائع کیا کہ یورپ میں کسی جگہ ایک جوان آدمی کے پیٹ میں رسولی پیدا ہو گئی۔ جب وہ بڑھ کر زیادہ تکلیف دینے لگی تو اس پر اپریشن کیا گیا۔ چیرا دینے پر اس میں سے ثابت انسانی بچہ نکلا اگرچہ زندہ نہ تھا مگر اس کے قریباً تمام اعضاء بنے ہوئے اور پورے تھے۔“

(الفضل ج ١٦ نمبر ٨٥‘ ٣٠ اپریل ١٩٢٩ء ص ٦)

(١٨) مرد کے پیٹ میں توام بچے

”بلگریڈ (سربیا) کے شفاخانہ میں ایک کاشتکار اپنی بیوی کو داخل کرانے کی غرض سے لے گیا۔ وہ حاملہ تھی جب کاشتکار کی ڈاکٹر سے ملاقات ہوئی تو ڈاکٹر نے دیکھا کہ اس کاشتکار کے شکم میں ایک غیر معمولی دنبل ہے جس کی وجہ سے اس کو بے

صفحہ ٤١٩

حد تکلیف ہے اس پر عمل جراحی کیا گیا تو دنبل میں سے دو توام بچے برآمد ہوئے۔“

(فاروق قادیان مورخہ ٧ اکتوبر ١٩٢٩ء ص ٤)

(١٩) بے دانت بچے

”ایک یہودی کے دو بچے ایسے پیدا ہوئے تھے کہ ان کی ساری عمر میں نہ تو بال پیدا ہوئے اور نہ ہی ان کے دانت نکلے۔“

(صداقت مریم ص ٥٨)

(٢٠) نو برس کی لڑکی کو لڑکا پیدا ہوا

”ڈاکٹر واہ صاحب کا ایک چشم دید قصہ لیسنٹ نمبر ١٥‘ مطبوعہ یکم اپریل ١٨٨١ء میں اس طرح لکھا ہے کہ انہوں نے ایسی عورت کو جنایا جس کو ایک برس کی عمر سے حیض آنے لگا تھا اور آٹھویں برس حاملہ ہوئی اور آٹھ برس دس مہینہ کی عمر میں لڑکا پیدا ہوا۔“

(آریہ دھرم ص ٥٦‘ خزائن ص ٦٤ ج ١٠)

(٢١) عجیب بچہ جو پیدائشی بوڑھا ہے

”لنڈن کے اخبار مانچسٹر گارڈین میں ایک عجیب و غریب بچہ کے حالات چھپے ہیں یہ ١٩٢٢ء میں کرسمس کی رات کو مسٹر جوزف کاہن سکنہ ٤٨ ہائی سٹریٹ ہائی گیٹ لنڈن کے ہاں پیدا ہوا تھا۔ یہ پیدائش کے وقت سے ہی بوڑھا معلوم ہوتا تھا۔ اس کے چہرے اور جسم پر جھریاں پڑی ہوئی تھیں۔ یہ پیدائش کے دن سے لے کر اب تک رویا ہی نہیں۔“

(فاروق قادیان ٦‘١٣ جنوری ١٩٢٦ء ص ٢)

(٢٢) ١٦ سیر وزنی بچہ

دہلی ٩ ستمبر کل زنانہ ہسپتال میں ایک عورت کے ١٦ سیر وزنی بچہ پیدا ہوا جو عورت کا چار جگہ سے پیٹ چاک کر کے نکالا گیا۔ بچہ اور اس کی ماں دونوں مر گئے۔“

(الفضل قادیان ١٨ ستمبر ١٩٢٨ء ص ١٢ ج ١٦ نمبر ٢٣)

صفحہ ٤٢٠

(٢٣) دودھ دینے والا مرد

”اس کے علاوہ میں نے جموں میں ایک آدمی ایسا دیکھا تھا۔ جس کے پستانوں سے عورتوں کی طرح دودھ نکلتا تھا۔ پھر جب ہم قرآن شریف کی طرف غور کرتے ہیں تو وہاں پر بھی بعض امور نادرہ قسم کے پاتے ہیں۔ مثلاً حضرت یونس علیہ السلام کا مچھلی کے پیٹ میں تین دن تک زندہ صحیح سالم رہنا اور پھر زندہ ہی نکل آنا۔ ایسا ہی حضرت موسیٰ کا صحیح سالم سمندر سے پار چلے جانا اور فرعون کا اسی راستہ پر غرق ہو جانا اور شق القمر کا ہونا。“

(فاروق قادیان ج ١٨ نمبر ١٩ ، ٢١ اگست ١٩٣٣ء ص ٦‘ ٧)

(٢٤) جاپانی مرغی

”ٹوکیو یکم اپریل ناگاساگا کے نزدیک ایک کسان کے پاس ایک مرغی ہے جو باتیں کرتی ہے مرغی چچا سلام‘ الوداع اور چند دیگر الفاظ جاپانی زبان میں بول سکتی ہے۔ (ریفارمر)“

(اخبار فاروق قادیان ج ١٩ نمبر ٤ مورخہ ٢٨ اپریل ١٩٣٤ء ص ٦ کالم نمبر ٣)

(٢٥) ہنگو میں ایک عجیب الخلقت بچہ

ہنگو ٨ ستمبر شہر کے ایک محلہ میں فخر بنگش خان غلام حیدر خان نے ایک ایسے لڑکے کو دیکھا جو دو دن کا تھا۔ دونوں پاؤں کی انگلیاں ایڑیوں کی جگہ تھیں اور دونوں ایڑیاں انگلیوں کی جگہ پر اور دونوں ہاتھوں کی انگلیاں بھی الٹی تھیں۔ لوگ اس بچہ کو دیکھنے آرہے تھے۔“

(اخبار ملاپ لاہور ١١ ستمبر ١٩٤٠ء ص ٥ کالم نمبر ٣)

(٢٦) عجیب و غریب عورت

”پولینڈ میں ”ماریاز دگرسکا“ نام ایک خاتون ہے جس کی عمر تو ٦٥ برس کی ہے مگر وہ دیکھنے میں بیس سال کی معلوم ہوتی ہے اسے شادی کئے ٢٧ سال گزر چکے

صفحہ ٤٢١

ہیں ۔ اب تک پولینڈ کے متعدد ڈاکٹر اس کا معائنہ کر چکے ہیں مگر وہ اس کے شباب جاودانی کی کوئی توجیہہ نہیں کر سکے ان کا بیان ہے کہ خاتون کی جسمانی حالت اور جلد سے بڑھاپے کے آثار بالکل ظاہر نہیں ہوتے۔ ماریا اپنی عمر میں کبھی بیمار نہیں پڑی اس نے نہ کبھی سگرٹ پیا ہے نہ قہوہ۔“

(اخبار مصباح قادیان ج ١١ نمبر ٨‘٩ مورخہ ١٥ اپریل و یکم مئی ١٩٣٧ء ص ٢١)

(٢٧) بہت سونے والی عورت

”اٹلی میں ایک لڑکی مینا میری ١٨٦٢ء میں جبکہ اس کی عمر ١٥ سال کی تھی سوئی اور آج تک اس کی نیند نہیں کھلی۔ اس تمام عرصہ میں وہ سوئی رہی۔ درمیان میں شاذونادر ہی کبھی اس کی آنکھ کھلی ہوگی اب اس کی عمر ٨٨ سال ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔امریکہ میں ایک لڑکی ٦ سال تک متواتر سوئی رہی۔“

(اخبار مصباح قادیان ج ١١ نمبر ٨‘٩ مورخہ ١٥ اپریل و یکم مئی ١٩٣٧ء ص ٢١)

(٢٨) عجیب و غریب دل

”ہنگری کے ایک سٹیشن ماسٹر کی بیوی کا دل نہ صرف الٹی جانب یعنی دائیں جانب ہے بلکہ اس کا رخ بھی الٹا ہے اور اوپر کا حصہ نچلی طرف اور نچلا حصہ اوپر کی طرف ہے۔ اس حیرت انگیز امر واقعہ کا انکشاف اس وقت ہوا جب وہ ایک دن ہسپتال میں ایکسرے معائنہ کے لئے گئی کیونکہ اسے دل کا عارضہ ہو گیا تھا۔ آج تک اس قسم کی مثال دنیا بھر میں کہیں سننے میں نہیں آئی۔ ڈاکٹر بھی حیرت سے انگشت بدنداں رہ گئے لیکن عورت کو کسی قسم کی تکلیف محسوس نہیں ہوتی۔ اس کی صحت بہت اچھی ہے۔

(اخبار مصباح قادیان ج ١١ نمبر ٦ مورخہ ١٥ مارچ ١٩٣٧ء ص ١٧)

(٢٩) حسن بلبا کا حال

”حسن بلبا نامی ایک شخص جو درہ دانیال کے قریب ایک گاؤں میں رہتا ہے

صفحہ ٤٢٢

اس کی عمر ١٢٩ سال ہے۔ اس کی جسمانی اور دماغی حالت نہایت عمدہ ہے۔ اس نے حال ہی میں ایک ٣٧ سالہ عورت فاطمہ خانم سے شادی کی ہے۔ حسن بابا کی بصارت بھی اچھی ہے اور وہ ہفتہ میں تین بار ٢٤ میل چلتا ہے۔ اس کا قول ہے کہ چلنے پھرنے ہی سے میری صحت قائم ہے۔“

(اخبار مصباح قادیان ج ١١ نمبر ٦ مورخہ ١٥ مارچ ١٩٣٧ء ص ١٥)

(٣٠) کھانا نہ کھانے والی عورت

”تریانو میں ایک ٣٨ سال کی جرمن عورت ہے جس کے ہاں کسانی کا پیشہ ہوتا ہے۔ یہ عورت براعظم یورپ میں چودہ سال سے بیحد مشہور ہے کہا جاتا ہے کہ اس تمام مدت میں تریا نے کوئی ٹھوس غذا نہیں کھائی نہ دس سال سے کسی رقیق شے کا ایک قطرہ اس کے ہونٹوں سے مس ہوا۔ مزید برآں وہ اس زمانہ میں بغیر سوئے ہوئے سب کام کاج کرتی رہی۔ ان حالات کے باوجود وہ مستعد خوش نظر اور ہشاش بشاش نظر آتی ہے۔“

(رسالہ ہمدرد صحت دہلی ج ٦ نمبر ٧ بابت ماہ جنوری ١٩٣٨ء ص ٤٤)

(٣١) آگ تنکے کو نہ جلا سکی

”عناصر کی طبعی خاصیتیں چونکہ خداوند کریم نے ہی ان کو عطا فرمائی ہوئی ہیں وہ جس وقت چاہے ان سے واپس لے سکتا ہے اور معطل کر سکتا ہے۔ چنانچہ آریہ شاستروں میں یہ لکھا ہے کہ :

برہم نے آگ کے سامنے ایک تنکا رکھ دیا مگر آگ اپنی پوری طاقت صرف کرنے پر بھی اس تنکے کو نہ جلا سکی۔ تب آگ کو خدا کی طاقت کا پتہ لگا۔“

(اخبار فاروق قادیان

مورخہ ٧ اگست ١٩٢٩ء ص ٦ کالم نمبر ٢) (کین اپنشد تیسرا کھنڈ ترجمہ درشنانند آریہ مطبوعہ ١٩٢٠ء ص ٢١)

(٣٢) ایک لڑکے کے دو دل ہیں

”اوھمیڈ میں ایک لڑکے کے دو دل ہیں۔ ڈاکٹر اس کا معائنہ کر چکے ہیں اور

صفحہ ٤٢٣

اسے نہایت عجیب بات بتاتے ہیں۔ لڑکے کو اس سے ذرہ بھی تکلیف نہیں۔“

(اخبار بدر قادیان ج ١١ نمبر ٤٢ مورخہ ٢٣ مئی ١٩١٢ء ص ٥ کالم نمبر ٣)

(٣٣) دو عجیب و غریب لڑکیاں

ہاڑ پور ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک کمہار کے گھر میں دولڑکیاں پیدا ہوئیں جن کی پشت آپس میں ملی ہوئی تھی۔ دو سر اور چار آنکھیں مگر ٹانگیں دو تھیں۔ لڑکیاں پیدا ہوتے ہی بولنے لگیں مگر ان کی زبان کچھ سمجھ میں نہیں آتی۔ صرف کلمہ سمجھ میں پڑتا تھا۔ لوگ جوق در جوق انہیں دیکھنے آئے تو لڑکیوں نے انہیں دیکھ کر رونا شروع کیا اور ٹھنڈی آہیں بھر کر کچھ کہتی تھیں مگر ایک حرف بھی سمجھ میں نہ آتا تھا اور ایک دن زندہ رہ کر مر گئیں۔ جس کی لاش غائب ہو گئی۔“

(اخبار بدر قادیان مورخہ ١٣ مئی ١٩١٢ء ص ٥)

(٣٤) عجیب و غریب بکری

” موضع کرم آباد تحصیل وزیر آباد ضلع گوجرانوالہ میں ایک زمیندار کے ہاں ایک بکری نے چھ بچے دیئے............. ١٩١١ء کو الہ آباد میں ایک وکیل کی بکری نے ایسا بچہ دیا کہ جس کا سر انسان کی مانند اور دھڑ بکرے جیسا تھا۔ یہ بچہ تھوڑی دیر زندہ رہ کر مر گیا۔“

(اخبار بدر قادیان مورخہ ٢٣ مئی ١٩١٢ء ص ٦)

(٣٥) تین عجیب واقعات

حضور نظام الملک کو ایک مرغ نذر گزارا جس کی چار ٹانگیں تھیں۔

سامنے ایک لڑکی پیش کی جس کے دو منہ‘ چار ہاتھ‘ چار پاؤں‘ چار آنکھیں تھیں۔

صفحہ ٤٢٤

(٣).......١٩١٠ء میں دہلی میں ایک مسلمان سوداگر کے ہاں لڑکا پیدا ہوا جس کی جائے براز ندارد تھی۔

(اخبار بدر قادیان مورخہ ٢٣ مئی ١٩١٢ء ص ٦ کالم نمبر اول)

(٣٦) ایک عجیب و غریب عورت

”حال ہی میں برطانیہ اعظم میں ایک عورت بعمر ایک سو ١٢ سال فوت ہوئی ہے اس کی صرف ایک لڑکی ٩ سال کی عمر کی رہ گئی ہے گویا اس کو جس وقت پہلا حمل ہوا تھا تو اس کی عمر ١٠٣ سال کی تھی۔“

(صداقت مسیحیہ ص ٧٤)

(٣٧) بڑے سر والا انسان

”ٹیونس میں ایک مور بعمر ٣١ سالہ قدر میانہ تھا اس کا سر اتنا بڑا تھا کہ لوگ دور دور سے دیکھنے کے لئے جمع ہوتے رہتے تھے۔ اس کا ناک بھی بہت بڑا تھا۔ اس کا منہ اتنا بڑا تھا کہ وہ ایک تربوز کو آسانی سے کھا جاتا تھا جس طرح عام آدمی سیب کو کھا سکتا ہے۔“

(صداقت مسیحیہ ص ١٠٠)

(٣٨) طویل القامت انسان

”اسی طرح دراز قد ٩ گزے، ہفت گزے، ١٠ فٹے، ٩ فٹے ١١ فٹے اور اسی طرح کے طویل القامت اور عظیم الجثہ انسان پیدا ہوتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ حضرت آدم کا قد ١٢٣ فٹ تھا اور حوا ١١٨ فٹ لمبی تھی۔ اس زمانہ میں بھی مختلف مقامات میں مستند لوگ گواہی دیتے ہیں کہ ١٢ فٹ تک لمبے آدمی ان کے مشاہدے میں آئے ہیں جو ٢٠ سیر سے زیادہ تک ایک وقت کی معمولی غذا میں گوشت کھاتے ہیں۔“

(صداقت مسیحیہ ص ١٠١)

(٣٩) بچہ کے پیٹ میں بچہ

”اوریگان امریکہ سے ایک عجیب و غریب اطلاع موصول ہوئی ہے۔ بار

صفحہ ٤٢٥

ایرا سٹوپی ایک تیرہ مہینے کی لڑکی ہے یہ پیدائش کے وقت صحت کے لحاظ سے اچھی تھی لیکن چند ماہ سے اس کا پیٹ بڑھنا شروع ہوا۔ جب پیٹ بہت بڑھ گیا تو علاج کرایا گیا۔ ڈاکٹروں کی سمجھ میں کوئی بیماری نہ آئی آخر ایکسرے کیا گیا تو معلوم ہوا کہ اس کے پیٹ میں بچہ ہے۔ ڈاکٹروں کی حیرت کی انتہا نہ رہی دو چار ڈاکٹروں نے پورا اطمینان کر کے لڑکی کا پیٹ چاک کیا اور بچہ نکالا جس کا قد سات انچ تھا۔ اس کا چہرہ ابھی نہیں بنا تھا لیکن دماغ اور ہاتھ پاؤں بن چکے تھے۔ ماہر ڈاکٹروں کا بیان ہے کہ اسٹوپی کے ساتھ ایک اور بچہ کا استقرار بھی ہو گیا لیکن اتفاق سے یہ نطفہ اسٹوپی کے اندر چلا گیا اور اس کی نشو و نما جگہ نہ ملنے کی وجہ سے رک گئی اور جب اسٹوپی پیدا ہوئی اور بڑھنے لگی تو اس بچہ کی نشو و نما بھی ہونے لگی۔ ہزار لوگ اس بچی اور بچی کے بچہ کو دیکھنے آ رہے ہیں۔“

(اخبار مدینہ بجنور ج ٢٧ نمبر ٢٦ مورخہ ٢٨ جون ١٩٣٨ء ص ٤ کالم نمبر ٢)

(٤٠) بائیس سال سے نیند نہیں آئی

جنگ کے ایک زخم خوردہ کی حالت

بوڈاپسٹ (ہوائی ڈاک سے) یہاں کے ایک قریبی گاؤں میں ایم پال کرن نامی ایک ریٹائرڈ کلرک اپنی بیوی اور تین بچوں کے ساتھ رہتا ہے۔ اس کی عمر ٥٤ سال ہے اس شخص کا سر جنگ عظیم کے دوران میں جون ١٩١٥ء میں مجروح ہو گیا تھا۔ اس وقت سے لے کر آج تک یعنی کامل ٢٢ سال تک یہ شخص اب تک نہیں سویا۔ حال ہی میں امریکہ کی ایک فرم نے (جس کا کام عجوبہ روزگار چیزوں کو فراہم کرنا ہے) اسے پیشکش کی تھی کہ اس کے مرنے کے بعد اس کا سر فرم حاصل کر سکے۔ یہ شخص چونکہ مذہبی رجحانات رکھتا ہے اور اس کا خیال ہے کہ جسم اور روح خدا کی ملکیت ہے اس لئے اس پیش کش کو ٹھکرا دیا۔ ایم کرن کا بیان ہے کہ میں ٢٤ گھنٹہ میں ٨ مرتبہ روٹی کھاتا ہوں۔ جب میں تھک جاتا ہوں اور آرام کرنا چاہتا ہوں اس وقت چند گھنٹوں کے لئے

صفحہ ٤٢٦

آنکھیں بند کر لیتا ہوں اور خالی الذہن ہونے کی کوشش کرتا ہوں لیکن اس کوشش میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکا۔

(اخبار عصر جدید کلکتہ مورخہ ١٠ فروری ١٩٣٨ء)

(٤١) کیا انسان بائیسکل کھا سکتا ہے

دنیا نے عجیب و غریب انسان پیدا کئے ہیں بعض انسانوں کے واقعات تو اس قدر حیرت انگیز ہیں کہ ان کا یقین کرنا بھی دشوار ہے۔ لندن کی ایک اطلاع ہے کہ وہاں آرتھر ہیولک نامی ایک ایسا عجیب و غریب شخص ہے کہ یہ تین ہفتہ کے اندر اندر فولاد کی بنی ہوئی پوری بائیسکل کھا گیا۔

اسی طرح ارتھر ہیولک کا ڈیڑھ سالہ بچہ جو چیز چاہتا ہے کھا جاتا ہے۔ اس بچہ کی عمر اگرچہ ابھی بہت کم ہے لیکن اس کے پورے دانت نکل آئے ہیں اور دانت نہایت مضبوط اور موتی کی طرح چمکدار ہیں۔

کچھ دن ہوئے یہ بچہ گھوڑے کے کھلونے کی دم کاٹ کر کھا گیا۔ اس کے بعد اس نے ایک بجلی کا لیمپ کھا لیا۔ گراموفون ریکارڈ چبا گیا۔ حال ہی میں اس نے ایک سیفٹی پن کھالی۔

پن کے کھانے کے بعد اس بچہ کو سینٹ میری ہسپتال میں لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اس بچہ کا معائنہ کیا تو پتہ چلا کہ یہ پن بچہ کے معدہ میں پیوست ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ڈاکٹروں نے بتایا کہ پن معدہ میں پیوست ہے مگر خطرہ نہیں۔ بیان کیا جاتا ہے کہ ہر ایک چیز کو کھا جانے اور ہضم کرنے کی صلاحیت اس بچہ کو اپنے باپ سے وراثت میں ملی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ایسے عجیب و غریب ہاضمہ کا بچہ صدیوں سے نہیں دیکھا گیا۔“

(اخبار مدینہ بجنور یوپی ج ٢٧ نمبر ٣٦ مورخہ ٢٨ جون ١٩٣٨ء ص ٤)

صفحہ ٤٢٧

(٤٢) دودھ دینے والا مرد

”ڈاکٹر شینک نے ایک شخص کا ذکر لکھا ہے کہ جسے وہ خوب جانتے تھے وہ اپنے شباب کے زمانہ سے پچاس سال کی عمر تک دودھ دیتا رہا۔“

(رسالہ ہمدرد صحت دہلی بابت ماہ دسمبر ١٩٣٧ء ص ٣٠)

(٤٣) بغیر کان کے سننے والا لڑکا

”پشاور (بذریعہ ڈاک) کابل کے اخبار اصلاح میں ایک خبر شائع ہوئی ہے جس میں درج ہے کہ ہرات کے قریب عبدالرحمن نامی ایک شخص کا لڑکا جس کا نام نذر محمد ہے بغیر کانوں کے سنتا ہے۔ کان کی جگہ اس کے سوراخ تک نہیں ہیں۔ ڈاکٹروں کی رائے ہے کہ اس کے نتھنے کانوں کا بھی کام دیتے ہیں۔“

(اخبار روزنامہ تیج دہلی مورخہ ١٢ جولائی ١٩٤٠ء ص ٦ کالم نمبر ٣)

(٤٤) گھڑیال کے پیٹ سے زندہ آدمی نکلا

لاہور ٢٠ دسمبر ملتان کی ایک اطلاع سے پتہ چلتا ہے کہ ایک گھڑیال کے معدہ سے ایک زندہ آدمی نکالا گیا ہے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ پنجاب کے پانچ دریاؤں کے سنگم میں ایک گھڑیال (مگرمچھ) ایک آدمی کو ہڑپ کر گیا۔ ایک ماہی گیر حادثہ کی اطلاع پاتے ہی موقع پر پہنچا اور اس نے کسی تدبیر سے گھڑیال کو ہلاک کر کے اس کا پیٹ چاک کیا اور وہاں سے اس آدمی کو نکالا۔ یہ شخص اگرچہ بیہوش تھا مگر بتدریج اسے ہوش آگیا۔ ہسپتال میں اس کی حالت اچھی ہو رہی ہے۔“

(الہلال کلکتہ ٢٣ دسمبر ١٩٣٧ء ص ٢ نمبر ٨٤)

نتیجہ

”غرض اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں بنظر غور تامل و تدبر کرنے سے ثابت ہوتا ہے کہ دنیا میں انسانی پیدائش کے ایسے ایسے نمونے ہمارے سامنے پیش ہوتے ہیں

صفحہ ٤٢٨

کہ جن کو دیکھ کر ہم اس کے حضور میں سر بسجود ہونے کے سوا کوئی چارہ نہیں دیکھتے۔ کسی معین طریق پیدائش کو ہم قانون ............ قدرت کی محدود تعریف دائرے میں محیط نہیں کر سکتے۔ ہم کیا اور ہمارا علم کیا۔ دن رات ہمارے سامنے نئے نئے مشاہدے پیش ہوتے رہتے ہیں جبکہ وہ ذات خود وہم و قیاس سے بالا تر ہے اور اس کی قدرت بھی انسانی سمجھ کے دائرے اور وہم و قیاس سے بالا تر ہے۔ تو اس کے قانون پر انسانی علم کہاں احاطہ کر سکتا ہے۔“

(کتاب صداقت مرہمیہ ص ١ مصنفہ میاں معراج الدین صاحب عمر قادیانی)

PDF 429

مرزا قادیانی کی کہانی !

مرزا اور مرزائیوں کی زبانی

صفحہ ٤٣٠

بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لله رب العالمين والصلوٰة والسلام على خاتم النبيين وعلىٰ آله واصحابه اجمعين ٠

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ماہ دسمبر ١٩٣٢ء سے آج تک میں نے چودہ عدد کتابیں اور رسالے فرقہ مرزائیہ اور اس کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی کی تردید میں لکھے اور شائع کئے ہیں۔ اللہ کریم نے حضرت نبی کریم ﷺ کی برکت سے مجھے دین اسلام کی خدمت کی توفیق عطا کی ہے۔ اور خاص دماغ، خاص حافظہ اور خاص طاقت اس کارِ خیر کے لئے عطا کی ہے : ”هذا من فضل ربی“ میں نے ارادہ کیا ہے۔ کہ مرزائی لٹریچر کے حوالوں سے ایک دلچسپ رسالہ لکھوں۔ اور اس میں مرزا غلام احمد قادیانی کا خاندان، شجرہ نسب، پیدائش، بچپن، جوانی اور امراض مختصر طور پر لکھوں۔ خداوند تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ یہ رسالہ مفید ثابت ہو : ” وما توفیقی الا بالله علیہ توکلت والیہ انیب“

مرزا قادیانی کی کہانی مرزا اور مرزائیوں کی زبانی

خاندان مرزا

والد صاحب کا نام غلام مرتضیٰ اور دادا صاحب کا نام عطا محمد اور میرے پردادا صاحب کا نام گل محمد تھا۔ اور جیسا کہ بیان کیا گیا ہے۔ ہماری قوم مغل برلاس ہے۔ اور میرے بزرگوں کے پرانے کاغذات سے جو اب تک محفوظ ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس ملک میں سمرقند سے آئے۔

(کتاب البریہ ص ١٣٤ حاشیہ، خزائن ج ١٣ ص ١٦٢)

صفحہ ٤٣١

ہوں۔ اور اس قول کے مطابق جو حضرت محی الدین ابن عربی لکھتے ہیں کہ خاتم الخلفاء صینئی الاصل ہوگا۔ یعنی مغلوں میں سے۔ اور وہ جوڑہ یعنی توام پیدا ہوگا۔ پہلے لڑکی نکلے گی۔ بعد اس کے وہ پیدا ہوگا۔ ایک ہی وقت میں۔ اسی طرح میری پیدائش ہوئی۔ کہ جمعہ کی صبح کو بطور توام میں پیدا ہوا۔ اول لڑکی اور بعدہ، میں پیدا ہوا۔

(تذکرۃ الشہادتین ص ٣٣ خزائن ج ٢٠ ص ٣٥)

فصوص میں لکھا ہے۔ اور لکھا ہے۔ کہ وہ صینئی الاصل ہوگا۔

(حقیقت الوحی ص ٢٠١ خزائن ج ٢٢ ص ٢٠٩)

ہوگا۔ ہمارا خاندان جو اپنی شہرت کے لحاظ سے مغلیہ خاندان کہلاتا ہے۔ اس پیشگوئی کا مصداق ہے۔ کیونکہ اگر سچ وہی ہے۔ کہ جو خدا نے فرمایا۔ کہ یہ خاندان فارسی الاصل ہے۔ مگر یہ تو یقینی اور مشہور و محسوس ہے۔ کہ اکثر مائیں اور دادیاں ہماری مغلیہ خاندان سے ہیں۔ اور وہ صینی الاصل ہیں۔ یعنی چین کے رہنے والی۔

(حقیقت الوحی ص ٢٠١ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ٢٠٩)

اہلِ فارس یعنی بنی فارس بنی اسحاق میں سے ہیں۔ پس اس طرح پر وہ آنے والا مسیح اسرائیلی ہوا۔ اور بنی فاطمہ کے ساتھ امہاتی تعلق رکھنے کی وجہ سے جیسا کہ مجھے حاصل ہے۔ فاطمی بھی ہوا۔ پس گویا وہ نصف اسرائیلی ہوا۔ اور نصف فاطمی ہوا۔ جیسا کہ حدیثوں میں آیا ہے۔ ہاں میرے پاس فارسی ہونے کے لئے بجز الہام الہی کے اور کچھ ثبوت نہیں۔

(تحفہ گولڑویہ طبع دوم ص ٢٩ خزائن ج ١٧ ص ١١٦)

صفحہ ٤٣٢

انی ابن ابائی كانوا من لجرثومة المغلیة ولكن الله اوحی الی انهم كانوا من بنی فارس لا من الاقوام التركية ومع ذلك اخبرنی ربی بان بعض امهاتی كن من بنی الفاطمة ومن اهل بیت النبوة والله جمع فیهم نسل اسحاق و اسمعیل من کمال الحكمة والمصلحة“

(ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٧٧ خزائن ج ٢٢ ص ٧٠٣)

شجرۂ نسب

مرتضیٰ صاحب۔ ابن مرزا عطا محمد صاحب ابن مرزا گل محمد صاحب‘ ابن مرزا فیض محمد صاحب‘ ابن مرزا محمد قائم صاحب ابن مرزا محمد اسلم صاحب۔ ابن مرزا محمد دلاور صاحب ابن مرزا الہ دین صاحب۔ ابن مرزا جعفر بیگ صاحب ابن مرزا محمد بیگ صاحب ابن مرزا عبد الباقی صاحب ابن مرزا محمد سلطان صاحب ابن مرزا ہادی بیگ صاحب مورث اعلیٰ۔“

(کتاب البریہ ص ١٣٢ حاشیہ خزائن ص ١٦٢ ج ١٣‘ ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٧٧ خزائن ص ٧٠٣ ج ٢٢)

شجرۂ مرزا

مرزا غلام احمد قادیانی کا شجرۂ نسب۔ مرزا ہادی بیگ‘ مغل‘ حاجی برلاس‘ مغل خان کے ذریعے یافث بن حضرت نوح تک پہنچتا ہے۔ اگر مرزا قادیانی فارسی النسل یا بنی اسرائیل یا بنی اسحاق میں سے ہوتا۔ تو چاہئے تھا۔ کہ اس کا شجرۂ نسب حضرت یعقوب علیہ السلام حضرت اسحاق علیہ السلام‘ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذریعے سام بن حضرت نوح علیہ السلام تک پہنچتا۔ مگر معاملہ برعکس ہے۔

صفحہ ٤٣٣

پیدائش مرزا

عیسوی سنہ : مرزا قادیانی نے کہا :

”میری پیدائش ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء میں سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی ہے۔“ (کتاب البریہ ص ١٤٦ حاشیہ خزائن ج ١٣ ص ١٧٧، قادیانی اخبار بدر مورخہ ٨ اگست ١٩٠٤ء ص ٥‘ کتاب حیات النبی (از شیخ یعقوب علی تراب قادیانی ایڈیٹر اخبار الحکم ) ج اول ص ٤٩‘ قادیانی رسالہ ریویو ج ٥ نمبر ٦ بابت ماہ جون ١٩٠٦ء ص ٢١٩‘ قادیانی اخبار الحکم مورخہ ٢١‘ ٢٨ مئی ١٩١١ء ص ٤)

تاریخ اور دن : ”یہ عاجز بروز جمعہ چاند کی چودھویں تاریخ میں پیدا ہوا ہے۔“ (تحفہ گولڑویہ (مطبوعہ ١٩٠٢ء ضیاء الاسلام پریس قادیان) ص ١٨١ حاشیہ‘ خزائن ج ١٧ ص ٢٨١)

وقت : ”میں بھی جمعہ کے روز بوقت صبح توام پیدا ہوا تھا۔“

(حقیقت الوحی ص ٢٠١‘ خزائن ج ٢٢ ص ٢٠٩)

کیفیت ولادت : ”میرے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہوئی تھی۔ جس کا نام جنت تھا۔ اور پہلے وہ لڑکی پیٹ میں سے نکلی تھی۔ اور بعد اس کے میں نکلا تھا۔ اور میرے بعد میرے والدین کے گھر میں اور کوئی لڑکی یا لڑکا نہیں ہوا۔ اور میں ان کے لئے خاتم الاولاد تھا۔“

”تیسرے آدم سے مجھے یہ بھی مناسبت ہے کہ آدم توام کے طور پر پیدا ہوا۔ اور میں بھی توام پیدا ہوا۔ پہلے لڑکی پیدا ہوئی۔ بعدہ‘ میں‘ اور بایں ہمہ میں اپنے والد کے لئے خاتم الولد تھا۔ میرے بعد کوئی بچہ پیدا نہیں ہوا اور میں جمعہ کے روز پیدا ہوا تھا۔“

(تریاق القلوب ص ١٥٧‘ خزائن ج ١٥ ص ٤٧٩‘ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٨٦‘ خزائن ج ٢١ ص ١١٣)

مرزا قادیانی کی ماں کا نام

مرزا بشیر احمد ایم اے نے لکھا ہے :

صفحہ ٤٣٤

”خاکسار عرض کرتا ہے۔ کہ ہماری دادی صاحبہ یعنی حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی والدہ صاحبہ کا نام چراغ بی بی تھا۔ وہ دادا صاحب کی زندگی میں ہی فوت ہو گئی تھیں۔“ (سیرۃ المہدی حصہ اول ص ٧ روایت نمبر ١٠) (ایک اور نام بھی زبان زد خلائق ہے۔ مرتب)

مرزا قادیانی کے استاد

”بچپن کے زمانہ میں میری تعلیم اس طرح پر ہوئی۔ کہ جب میں چھ سات سال کا تھا۔ تو ایک فارسی خواں معلم میرے لئے نوکر رکھا گیا۔ جنہوں نے قرآن شریف اور چند فارسی کتابیں مجھے پڑھائیں۔ اور اس بزرگ کا نام فضل الہی تھا۔ اور جب میری عمر قریباً دس برس کی ہوئی۔ تو ایک عربی خواں مولوی صاحب میری تربیت کے لئے مقرر کئے گئے۔ جن کا نام فضل احمد تھا............. اور میں نے صرف کی بعض کتابیں اور کچھ قواعد نحو ان سے پڑھے۔ اور بعد اس کے جب میں سترہ یا اٹھارہ سال کا ہوا۔ تو ایک اور مولوی صاحب سے چند سال پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ ان کا نام گل علیشاہ تھا۔ ان کو بھی میرے والد صاحب نے نوکر رکھ کر قادیان میں پڑھانے کے لئے مقرر کیا تھا۔ اور ان آخر الذکر مولوی صاحب سے میں نے نحو اور منطق اور حکمت وغیرہ علوم مروجہ کو جہاں تک خدا تعالیٰ نے چاہا۔ حاصل کیا۔ اور بعض طبابت کی کتابیں میں نے اپنے والد صاحب سے پڑھیں۔ اور وہ فن طبابت میں بڑے حاذق طبیب تھے۔“

(کتاب البریہ ص ١٤٨، ١٤٩، ١٥٠ حاشیہ، خزائن ١٧٩، ١٨٠، ١٨١ ج ١٣)

مرزا سلطان احمد کی پیدائش

”بیان کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) فرماتے تھے۔ کہ جب سلطان احمد پیدا ہوا۔ اس وقت ہماری عمر صرف سولہ سال کی تھی۔“

(سیرۃ المہدی حصہ اول ص ٢٥٦ نمبر ٢٨٣)

صفحہ ٤٣٥

نوٹ: حضرت (مرزا قادیانی) ابھی گویا بچہ ہی تھے کہ مرزا سلطان احمد پیدا ہو گئے تھے۔ (سیرۃ المہدی حصہ اول ص ٥٣ نمبر ٥٩) (بچہ کے بچہ پیدا ہو گیا یہ مرزا غلام احمد قادیانی کا معجزہ ہے یا کسی صحابی کی کرامت؟)

مرزا غلام احمد کا بچپن

”چڑیاں پکڑنا“

”بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہا کہ تمہاری دادی ایمہ ضلع ہوشیار پور کی رہنے والی تھیں۔ حضرت صاحب فرماتے تھے۔ کہ ہم اپنی والدہ کے ساتھ بچپن میں کئی دفعہ ایمہ گئے ہیں۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا۔ کہ وہاں حضرت صاحب بچپن میں چڑیاں پکڑا کرتے تھے۔ اور چاقو نہیں ملتا تھا تو سرکنڈے سے ذبح کر لیتے تھے۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا۔ کہ ایک دفعہ ایمہ سے چند بوڑھی عورتیں آئیں۔ تو انہوں نے باتوں باتوں میں کہا۔ کہ سندھی ہمارے گاؤں میں چڑیاں پکڑا کرتا تھا۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا۔ کہ میں نے نہ سمجھا کہ سندھی سے کون مراد ہے۔ آخر معلوم ہوا کہ ان کی مراد حضرت صاحب سے ہے۔“ (کتاب سیرۃ المہدی حصہ اول ص ٤٦ نمبر ٥١)

نیز والدہ صاحبہ فرماتی تھیں۔ کہ حضرت صاحب فرماتے تھے۔ کہ ہم بچپن میں چڑیاں پکڑا کرتے تھے۔ اور چاقو نہ ہوتا تھا۔ تو تیز سرکنڈے سے ہی حلال کر لیتے تھے۔“

(سیرت المہدی حصہ اول ص ٢٣٢ نمبر ٢٥١)

میاں محمود احمد کا چڑیاں پکڑنا

بیان کیا مجھ سے ڈاکٹر میر محمد اسماعیل نے کہ ایک دفعہ میاں (مرزا محمود) دالان کے دروازے بند کر کے چڑیاں پکڑ رہے تھے کہ حضرت (مرزا قادیانی) نے جمعہ

صفحہ ٤٣٦

کی نماز کے لئے باہر جاتے ہوئے ان کو دیکھ لیا۔ اور فرمایا۔ میاں! گھر کی چڑیاں نہیں پکڑا کرتے۔ جس میں رحم نہیں۔ اس میں ایمان نہیں۔“

(سیرت المہدی ص ٧٤ نمبر ١٧٨)

چوری کرنا

”بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ حضرت صاحب سناتے تھے۔ کہ جب میں بچہ ہوتا تھا۔ تو ایک دفعہ بعض بچوں نے مجھے کہا۔ کہ جاؤ۔ گھر سے میٹھا لاؤ۔ میں گھر میں آیا اور بغیر کسی کے پوچھنے کے ایک برتن میں سے سفید بورا اپنی جیبوں میں بھر کر باہر لے گیا۔ اور راستہ میں ایک مٹھی بھر کر منہ میں ڈال لی۔ پس پھر کیا تھا۔ میرا دم رک گیا۔ اور بڑی تکلیف ہوئی۔ کیونکہ معلوم ہوا۔ کہ جسے میں نے سفید بورا سمجھ کر جیبوں میں بھرا تھا۔ وہ بورا نہ تھا۔ بلکہ پسا ہوا نمک تھا۔“

(سیرت المہدی حصہ اول ص ٢٢٦ نمبر ٢٤٤)

روٹی پر راکھ

”بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ بعض بوڑھی عورتوں نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ ایک دفعہ بچپن میں حضرت صاحب نے اپنی والدہ سے روٹی کے ساتھ کچھ کھانے کو مانگا۔ انہوں نے کوئی چیز شاید گڑ بتایا۔ کہ یہ لے لو۔ حضرت صاحب نے کہا نہیں۔ یہ میں نہیں لیتا۔ انہوں نے کوئی اور چیز بتائی۔ حضرت صاحب نے اس پر بھی وہی جواب دیا۔ وہ اس وقت کسی بات پر چڑی ہوئی بیٹھی تھیں۔ سختی سے کہنے لگیں۔ کہ جاؤ پھر راکھ سے روٹی کھا لو۔ حضرت صاحب روٹی پر راکھ ڈال کر بیٹھ گئے۔ اور گھر میں ایک لطیفہ ہو گیا۔ یہ حضرت صاحب کا بالکل بچپن کا واقعہ ہے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ والدہ صاحبہ نے یہ واقعہ سنا کر کہا۔ جس وقت اس عورت نے مجھے یہ بات سنائی تھی۔ اس وقت حضرت صاحب بھی پاس تھے۔ مگر آپ خاموش رہے۔“

(سیرت المہدی حصہ اول ص ٢٢٦‘ ٢٢٧ نمبر ٢٤٥)

صفحہ ٤٣٧

مرزا غلام احمد کی جوانی

باپ کی پنشن !

بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ اپنی جوانی کے زمانہ میں حضرت مسیح موعود تمہارے دادا کی پنشن وصول کرنے گئے۔ تو پیچھے پیچھے مرزا امام الدین بھی چلا گیا۔ جب آپ نے پنشن وصول کر لی۔ تو وہ آپ کو پھسلا کر اور دھوکہ دیکر بجائے قادیان لانے کے باہر لے گیا۔ اور ادھر ادھر پھراتا رہا۔ پھر جب اس نے سارا روپیہ اڑا کر ختم کر دیا۔ تو آپ کو چھوڑ کر کہیں اور چلا گیا۔ حضرت مسیح موعود اس شرم سے واپس گھر نہیں آئے۔“

(سیرت المہدی حصہ اول ص ٤٣‘ ٤٤ نمبر ٤٩)

تلے ہوئے کرارے پکوڑے

بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ حضرت صاحب جب بڑی مسجد میں جاتے تھے۔ تو گرمی کے موسم میں کنوئیں سے پانی نکلوا کر ڈول سے ہی منہ لگا کر پانی پیتے تھے۔ اور مٹی کے تازہ ٹھلیا یا تازہ آبخورہ میں پانی پینا آپ کو پسند تھا۔ اور میاں عبداللہ صاحب نے بیان کیا۔ کہ حضرت صاحب ! اچھے تلے ہوئے کرارے پکوڑے پسند کرتے تھے۔ کبھی کبھی مجھ سے منگوا کر مسجد میں ٹہلتے ٹہلتے کھایا کرتے تھے۔ اور سالم مرغ کا کباب بھی پسند تھا۔“

(سیرت المہدی حصہ اول ص ١٦٣ نمبر ١٦٧)

مرزا قادیانی کا ہاضمہ

بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود کھانوں میں سے پرندہ کا گوشت زیادہ پسند فرماتے تھے۔ شروع شروع میں بٹیر بھی کھاتے تھے لیکن جب طاعون کا سلسلہ شروع ہوا۔ تو آپ نے اس کا گوشت کھانا چھوڑ دیا۔ کیونکہ آپ

صفحہ ٤٣٨

فرماتے تھے کہ اس میں طاعونی مادہ ہوتا ہے۔ مچھلی کا گوشت بھی حضرت صاحب کو پسند تھا۔ ناشتہ باقاعدہ نہیں کرتے تھے ہاں عموماً صبح کو دودھ پی لیتے تھے۔ خاکسار نے پوچھا۔ کہ کیا آپ کو دودھ ہضم ہو جاتا تھا؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ ہضم تو نہیں ہوتا تھا۔ مگر پی لیتے تھے۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا۔ کہ پکوڑے بھی حضرت صاحب کو پسند تھے۔

(سیرت المہدی حصہ اول ص ٣٨ نمبر ٥٦)

مرزا قادیانی کا حافظہ

فرقہ مرزائیہ کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھا ہے کہ : ”حافظہ اچھا نہیں یاد نہیں رہا۔“

(نسیم دعوت ص ٧١ خزائن ج ١٩ ص ٣٦٩ رسالہ ریویو ج ٢ نمبر ٤ بابت ماہ اپریل ١٩٠٣ء ص ٥٣ حاشیہ)

مرزا قادیانی کا ازار بند

اور والدہ صاحبہ بیان فرماتی ہیں کہ حضرت مسیح موعود عموماً ریشمی ازار بند استعمال فرماتے تھے۔ کیونکہ آپ کو پیشاب جلدی جلدی آتا تھا۔ اس لئے ریشمی ازار بند رکھتے تھے۔ تاکہ کھلنے میں آسانی ہو۔ اور گرہ بھی پڑ جاوے تو کھولنے میں دقت نہ ہو۔ سوتی ازار بند میں آپ سے بعض وقت گرہ پڑ جاتی تھی۔ تو آپ کو بڑی تکلیف ہوتی تھی۔“

(سیرت المہدی حصہ اول ص ٤٢ نمبر ٦٥)

مرزا قادیانی کی گرگابی

”ایک دفعہ کوئی شخص آپ کے لئے گرگابی لے آیا۔ آپ نے پہن لی۔ مگر اس کے الٹے سیدھے پاؤں کا آپ کو پتہ نہیں لگتا تھا۔ کئی دفعہ الٹی پہن لیتے تھے۔ اور پھر تکلیف ہوتی تھی۔ بعض دفعہ آپ کا الٹا پاؤں پڑ جاتا۔ تو تنگ ہو کر فرماتے۔ ان کی (انگریز) کوئی چیز بھی اچھی نہیں (اور ان کا خود کاشتہ پودا؟) ہے۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا

صفحہ ٤٣٩

۔ کہ میں نے آپ کی سہولت کے واسطے سیدھے پاؤں کی شناخت کے لئے نشان لگا دیئے تھے۔ مگر باوجود اس کے آپ الٹا سیدھا پہن لیتے تھے۔ اس لئے آپ نے اسے اتار دیا۔"

(سیرت المہدی حصہ اول ص ٥٣ نمبر ٨٣)

مرزا غلام احمد کی بیماریاں

مرض ہسٹیریا کا دورہ

"بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو پہلی دفعہ دوران سر اور ہسٹیریا کا دورہ (بشیر اول ہمارا ایک بڑا بھائی ہوتا تھا۔ جو ١٨٨٨ء میں فوت ہو گیا تھا) کی وفات کے چند دن بعد ہوا تھا۔ رات کو سوتے ہوئے آپ کو اچھو آیا۔ اور پھر اس کے بعد طبیعت خراب ہو گئی۔ مگر یہ دورہ خفیف تھا۔ پھر اس کے کچھ عرصہ بعد آپ ایک دفعہ نماز کے لئے باہر گئے۔ اور جاتے ہوئے فرما گئے۔ کہ آج کچھ طبیعت خراب ہے۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا۔ کہ تھوڑی دیر کے بعد شیخ حامد علی (حضرت مسیح موعود کا پرانا مخلص خادم تھا۔ اب فوت ہو چکا ہے) نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ کہ جلدی پانی کی ایک گاگر گرم کر دو۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا۔ کہ میں سمجھ گئی۔ کہ حضرت صاحب کی طبیعت خراب ہو گئی ہو گی۔ چنانچہ میں نے کسی ملازم عورت کو کہا۔ کہ اس سے پوچھو۔ میاں کی طبیعت کا کیا حال ہے۔ شیخ حامد علی نے کہا کہ کچھ خراب ہو گئی ہے۔ میں پردہ کرا کے مسجد میں چلی گئی۔ تو آپ لیٹے ہوئے تھے۔ میں جب پاس گئی تو فرمایا۔ میری طبیعت بہت خراب ہو گئی تھی لیکن اب افاقہ ہے۔ میں نماز پڑھ رہا تھا۔ کہ میں نے دیکھا۔ کہ کوئی کالی کالی چیز میرے سامنے سے اٹھی ہے۔ اور آسمان تک چلی گئی ہے۔ پھر میں چیخ مار کر زمین پر گر گیا۔ اور غشی کی سی حالت ہو گئی۔ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں۔ اس کے بعد سے آپ کو باقاعدہ دورے پڑنے شروع ہو گئے۔"

(سیرت المہدی حصہ اول ص ١٣ نمبر ١٩)

صفحہ ٤٤٠

(٢).......”بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ اوائل میں ایک دفعہ حضرت مسیح موعود کو سخت دورہ پڑا۔ کسی نے مرزا سلطان احمد اور مرزا فضل احمد کو بھی اطلاع دیدی۔ اور وہ دونوں آگئے۔ پھر ان کے سامنے بھی حضرت صاحب کو دورہ پڑا۔ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں۔ اس وقت میں نے دیکھا۔ کہ مرزا سلطان احمد تو آپ کی چارپائی کے پاس خاموشی کے ساتھ بیٹھے رہے۔ مگر مرزا فضل احمد کے چہرہ پر ایک رنگ آتا تھا اور ایک جاتا تھا۔ اور وہ کبھی ادھر بھاگتا تھا۔ اور کبھی ادھر۔ کبھی اپنی پگڑی اتار کر حضرت صاحب کی ٹانگوں کو باندھتا تھا۔ اور کبھی پاؤں دبانے لگ جاتا تھا اور گھبراہٹ میں اس کے ہاتھ کانپتے تھے۔“

(سیرت المہدی حصہ اول ص ٢٢ نمبر ٣٦)

نوٹ : (١) اس سے معلوم ہوا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو مرض ہسٹیریا کا دورہ پڑا تھا۔ مرض ہسٹیریا سے مراد باؤگولہ ہے۔ اور حکیم ڈاکٹر غلام جیلانی مرحوم کی کتاب (مخزن حکمت ج دوم (طبع چہارم) ص ٩٦٦) پر زیر مرض ہسٹیریا لکھا ہے :

”یہ مرض عموماً عورتوں کو ہوا کرتا ہے۔ اگرچہ شاذ و نادر مرد بھی اس میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔“

نوٹ : (٢) ”ایک مدعی الہام کے متعلق اگر یہ ثابت ہو جائے کہ اس کو ہسٹیریا‘ مالنخولیا‘ مرگی کا مرض تھا تو اس کے دعویٰ کی تردید کے لئے پھر کسی اور ضرب کی ضرورت نہیں رہتی۔ کیونکہ یہ ایسی چوٹ ہے۔ جو اس کی صداقت کی عمارت کو بیخ وبن سے اکھیڑ دیتی ہے۔“

(رسالہ ریویو ج ٢٥ نمبر ٨ بابت ماہ اگست ١٩٢٦ء ص ٧٦)

نوٹ : (٣) ”ہسٹیریا کے مریض کو جذبات پر قابو نہیں رہتا۔“

(قادیانی رسالہ ریویو آف ریلیجنز بابت ماہ نومبر ١٩٢٩ء ص ٩)

صفحہ ٤٤١

”کہ نبی میں اجتماع توجہ بالارادہ ہوتا ہے۔ جذبات پر قابو ہوتا ہے۔“

(رسالہ ریویو آف ریلیجنز ج ٢٦ نمبر ٥ بابت ماہ مئی ١٩٢٧ء ص ٣٠)

کثرت پیشاب

”میں ایک دائم المرض آدمی ہوں۔ اور وہ دو زرد چادریں جن کے بارے میں حدیثوں میں ذکر ہے۔ کہ ان دو چادروں میں مسیح نازل ہوگا۔ وہ دو زرد چادریں میرے شامل حال ہیں۔ جن کی تعبیر علم تعبیر الرؤیا کی رو سے دو بیماریاں ہیں۔ سو ایک چادر میرے اوپر کے حصے میں ہے۔ کہ ہمیشہ سر درد اور دوران سر اور کمی خواب اور تشنج دل کی بیماری دورہ کے ساتھ آتی ہے۔ اور دوسری چادر جو میرے نیچے کے حصہ بدن میں ہے۔ وہ بیماری ذیابیطس ہے۔ کہ ایک مدت سے دامن گیر ہے۔ اور بسا اوقات سو سو دفعہ رات کو یا دن کو پیشاب آتا ہے۔“

(ضمیمہ اربعین نمبر ٣، ٤ ص ٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٧٠)

دوران سر

”ہاں دو مرض میرے لاحق حال ہیں۔ ایک بدن کے اوپر کے حصہ میں اور دوسرے بدن کے نیچے حصہ میں۔ اوپر کے حصہ میں دوران سر ہے۔ اور نیچے کے حصے میں کثرت پیشاب ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ٣٠٧ خزائن ج ٢٢ ص ٣٢٠)

ذیابیطس شکری

”صرف دوران سر کبھی کبھی ہوتا ہے۔ تا دو زرد رنگ چادروں کی پیشگوئی میں خلل نہ آئے۔ دوسری مرض ذیابیطس تخمیناً بیس برس سے ہے۔ جو مجھے لاحق ہے۔ جیسا کہ اس نشان کا پہلے بھی ذکر ہوچکا ہے اور ابھی تک بیس دفعہ کے قریب ہر روز پیشاب آتا ہے۔ اور امتحان سے بول میں شکر پائی گئی۔“

(حقیقت الوحی ص ٣٦٣، ٣٦٤، خزائن ج ٢٢ ص ٣٧٧)

PDF 442
PDF 443

مرزا غلام احمد قادیانی

اور اس کی قرآن دانی

صفحہ ٤٤٤

عرض حال

الحمدلله رب العالمين والصلوة والسلام على خاتم النبيين وعلى آله واصحابه اجمعين .

ماہ اپریل ١٩٣١ء کا ذکر ہے کہ عیدالاضحیٰ کی نماز پڑھ کر گھر کو واپس آرہا تھا میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ فرقہ مرزائیہ کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی کتابوں میں قرآن شریف کی جو آیتیں لکھی ہیں ان کی بابت یہ دیکھنا چاہئے کہ اس نے وہ آیتیں صحیح لکھی ہیں یا نہیں۔ ماہ ذی الحجہ کی ١٠ تاریخ تھی۔ کھانا کھا کر میں بیٹھ گیا۔ میں نے قرآن مجید کو سامنے رکھا اور مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابوں کو دیکھنا شروع کیا۔ مجھے معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی نے پچاس سے زیادہ آیتیں اپنی کتابوں میں غلط لکھی ہیں۔ پھر میں نے اس مضمون کو بعنوان ”مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی قرآن دانی“ ماہ اکتوبر ١٩٣١ء کے حنفی اخبار ”العدل“ گوجرانوالہ میں شائع کیا۔ مرزائی شاطر اس کا ٹھیک جواب نہ دے سکے۔ میں نے اس بات کو حنفی اور اہل حدیث علماء کی خدمت میں پیش کیا۔ علمائے اسلام بہت خوش ہوئے اور یہ ایک نیا مضمون ان سب کے لئے بہت مفید ثابت ہوا۔

اگر کوئی مرزائی مناظر یہ کہے کہ سہو کاتب ہو گیا ہے تو عرض یہ ہے کہ ایک آیت مرزا قادیانی نے پانچ یا چھ جگہ لکھی ہے اور سب جگہ غلط لکھی ہے اور مرزا قادیانی نے خود ترجمہ کیا ہے اور پچاس سے زیادہ آیتیں غلط لکھی ہیں۔ سہو کاتب کا بہانہ غلط ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ مرزا قادیانی آیات قرآن کریم کو صحیح طور پر نہ جانتے تھے۔ یہ رسالہ تین بار شائع ہو چکا ہے۔ اب پھر شائع کیا جاتا ہے۔

خادم دین رسول اللہ ﷺ حبیب اللہ امرتسری ٧ اگست ١٩٣٧ء

صفحہ ٤٤٥

مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی قرآن دانی

بسم الرحمن الرحمن الرحیم

(١) آیت قرآنی : ”فان لم تفعلوا ولن تفعلوا“

(پارہ اول رکوع ٣)

الفاظ مرزا قادیانی : ”وان لم تفعلوا ولن تفعلوا“ اور اگر نہ بنا سکو۔ اور یاد رکھو۔ کہ ہر گز نہیں بنا سکو گے۔ (براہین احمدیہ (مطبوعہ ١٩٠٦ء بدر پریس لاہور) ص ٢٢٠‘ ٢٤٥‘ ٤٩٤‘ سرمہ چشم آریہ ص ١٠ حاشیہ‘ نور الحق حصہ اول ص ١٠٩ حقیقت الوحی ص ٢٣٨)

(٢) آیت قرآنی : ” قل لئن اجتمعت الانس والجن علیٰ ان یأتوا بمثل ھذا القرآن لا یأتون بمثلہ“

(پارہ ١٥‘ رکوع ١٠)

الفاظ مرزا قادیانی : ” قل لئن اجتمعت الجن والانس علیٰ ان یأتو ابمثل ھذا القران لا یأتون بمثلہ“ یعنی ان کو کہہ دے کہ اگر سب جن وانس اس بات پر متفق ہو جائیں۔ کہ قرآن کی کوئی نظیر پیش کرنی چاہئے۔ تو ممکن نہیں کہ کر سکیں۔“ (کرامات الصادقین ص ١٠٨‘ براہین احمدیہ ص ٢١٩‘ ٤٦٢‘ سرمہ چشم آریہ (مطبوعہ ١٨٨٦ء ص ١٣ حاشیہ و ص ٢٢٦‘ جنگ مقدس ص ٤ ازالہ اوہام حصہ ٢ ص ٩٣٦‘ نور الحق حصہ اول ص ١٠٩)

(٣) آیت قرآنی : ”ادع الیٰ سبیل ربک بالحکمة والموعظة الحسنة وجادلھم بالتی ھی احسن “

(پارہ ١٤‘ رکوع ٢٢‘ نحل)

الفاظ مرزا قادیانی : ”جادلھم بالحکمة والموعظة الحسنة“ یعنی عیسائیوں کے ساتھ حکمت اور نیک وعظوں کے ساتھ مباحثہ کر۔ نہ سختی سے۔“ (نور الحق حصہ اول ص ٤٦‘ البلاغ ص ١٠٨‘ ٢٣١‘ تبلیغ رسالت ج سوئم ص ١٩٤‘ ١٩٥ حاشیہ‘ تبلیغ رسالت ج ٧ ص ٣٩)

(٤) آیت قرآنی : ”قال الذین کفروا للحق لما جاء ھم ھذا

صفحہ ٤٤٦

سحر مبین “

(پارہ ٢٦ رکوع اول، احقاف)

الفاظ مرزا قادیانی: ”ان ھذا الا سحر مبین“

(براہین احمدیہ ص ١٩٦ حاشیہ)

(٥) آیت قرآنی: ”عسی ربکم ان یرحمکم “

(پارہ ١٥ رکوع ١)

الفاظ مرزا قادیانی: ”عسی ربکم ان یرحم علیکم“

(براہین احمدیہ ص ٥٠٥ حاشیہ)

(٦) آیت قرآنی: ”الم یعلموا انه من یحاد دالله ورسوله فان له نار جھنم خالداً فیھا ذالك الخزی العظیم“

(پارہ ١٠ رکوع ١٤)

الفاظ مرزا قادیانی: ”الم یعلموا انه من یحاددالله ورسوله یدخله ناراً خالداً فیھا ذالك الخزی العظیم“

(حقیقت الوحی ص ١٣٠)

(٧) آیت قرآنی: ” ولقد اتینك سبعاً من المثانی والقرآن العظیم“

(پارہ ١٤ رکوع ٦ سورہ الحجر)

الفاظ مرزا قادیانی: ”انا اتینك سبعاً من المثانی والقرآن العظیم“

(براہین احمدیہ ص ٤٨٨ حاشیہ)

(٨) آیت قرآنی: ”ویجعلون لله البنات سبحانه ولہم مایشتھون“

(پارہ ١٤ رکوع ١٤)

الفاظ مرزا قادیانی: ”ویجعلون له البنات سبحانه ولہم مایشتھون“

(براہین احمدیہ حاشیہ ص ٤٢٨)

صفحہ ٤٤٧

(٩) آیت قرآنی: ”فمن كان يرجوا لقاء ربه“

(پارہ ١٦ رکوع ٣)

الفاظ مرزا قادیانی: ”فمن يرجوا لقاء ربه“

(براہین حاشیہ ص ٤٢٨ ست بچن ص ١٠٠)

(١٠) آیت قرآنی: ”وهم من خشيته مشفقون“

(پارہ ١٧ رکوع ٢)

الفاظ مرزا قادیانی: ”وهم من خشية ربهم مشفقون“

(براہین ص ٤٢٨ حاشیہ)

(١١) آیت قرآنی: ”لا تسجدوا لشمس ولا للقمر“

(پارہ ٢٤ رکوع ١٩)

الفاظ مرزا قادیانی: ”ولا تسجدوا لشمس ولا للقمر“

(براہین ص ٤٢٩ حاشیہ)

(١٢) آیت قرآنی: ”وان يسلبهم الذباب شيئاً لا يستنقذ وه منه ضعف الطالب والمطلوب“

(پارہ ١٧ رکوع ١٧)

الفاظ مرزا قادیانی: ”وان يسلبهم الذباب شيئاً لا يستنقذ وه ضعف الطالب والمطلوب“

(براہین ص ٤٢٩ حاشیہ)

(١٣) آیت قرآنی: ”وجعلوا لله شركاء الجن وخلقهم وخرقوا له بنين وبنات بغير علم“

(پارہ ٧ رکوع ١٨ الانعام)

الفاظ مرزا قادیانی: ”وجعلوا لله شركاء الجن وخرقوا له بنين وبنات بغير علم“

(براہین ص ٤٢٩ حاشیہ)

صفحہ ٤٤٨

(١٤) آیت قرآنی : ”ماکان للّٰه ان یتخذ من ولد سبحانه“

(پارہ ١٦ رکوع ٥)

الفاظ مرزا قادیانی : ”ماکان لله ان یتخذ ولد سبحانه“

(براہین ص ٤٢٩ حاشیہ)

(١٥) آیت قرآنی : ”ومن لا یجب داعی الله“

(پارہ ٢٦ رکوع ٤)

الفاظ مرزا قادیانی : ”ولا یجب داعی الله“

(براہین احمدیہ ص ٢٢٣)

(١٦) آیت قرآنی : ”کتب الله لا غلبن انا ورسلی ان الله قوی عزیز“

(پارہ ٢٨ رکوع ٣)

الفاظ مرزا قادیانی : ”کتب الله لا غلبن انا ورسلی ان الله لقوی عزیز“

(براہین ص ٢٢٦)

(١٧) آیت قرآنی : ”ان الذی فرض علیک القرآن لرادک الی معاد“

(پارہ ٢٠ رکوع ١٢)

الفاظ مرزا قادیانی : ”وانه لرادک الی معاد“

(براہین احمدیہ ص ٢٣٢)

(١٨) آیت قرآنی : ”ذالک الفوز العظیم“

(پارہ ٢٨ رکوع ١٠)

الفاظ مرزا قادیانی : ”ذالک هو الفوز العظیم“

(براہین ص ٢٣٥)

(١٩) آیت قرآنی : ”واذا قال الله یعیسی ابن مریم ء انت قلت للناس“

(پارہ ٧ رکوع ٦)

صفحہ ٤٤٩

الفاظ مرزا قادیانی: ”واذقال اللہ یا عیسیٰ انت قلت للناس“

(ازالہ اوہام ص ٦٠٢، مواہب الرحمٰن ص ٧٣)

(٢٠) آیت قرآنی: ”لخلق السموات والارض اکبر من خلق الناس“

(پارہ ٢٤‘ رکوع ١١)

الفاظ مرزا قادیانی: قرآن شریف میں جو یہ آیت ہے: ” خلق السموات والارض اکبر من خلق الناس “

(ایام الصلح اردو ص ٦١)

(٢١) آیت قرآنی: ”قد انزل اللہ الیکم ذکراً رسولاً“

(پارہ ٢٨‘ رکوع ١٨)

الفاظ مرزا قادیانی: کیا قرآن میں نہیں ہے: ”انزل ذکراً ورسولاً“

(ایام الصلح اردو ص ٨١ ص ٨٠)

(٢٢) آیت قرآنی: ”ھل ینظرون الا ان یاتیھم اللہ فی ظلل من الغمام“

(پارہ ٢‘ رکوع ٩)

الفاظ مرزا قادیانی: ”یوم یاتی ربک فی ظلل من الغمام“ یعنی اس دن بادلوں میں تیرا خدا آئے گا۔ یعنی انسانی مظہر کے ذریعے سے اپنا جلال ظاہر کرے گا۔“

(حقیقت الوحی ص ١٥٢)

(٢٣) آیت قرآنی: ”فاغرینا بینھم العداوة والبغضاء الی یوم القیامة “

(پارہ ٦‘ رکوع ٧)

الفاظ مرزا قادیانی: ”واغرینا بینھم العداوة والبغضاء الی

صفحہ ٤٥٠

يوم القيامة“ (براہین احمدیہ حصہ پنجم ضمیمہ ص ٢٣٤ تحفہ گولڑویہ ص ٢٠٨ و ٢١٨ مباحثہ الحق دہلی ص ٣٧)

(پارہ ٩‘ رکوع ١٨)

الفاظ مرزا قادیانی : ”ما كان الله ان يعذبهم وانت فيهم“

(انوار الاسلام ص ٤٤)

(پارہ ٣٠‘ رکوع ٢٢)

الفاظ مرزا قادیانی : ”ومن يعمل مثقال ذرة خيرا يره“

(انوار الاسلام ص ٢٩)

(پارہ ١٣‘ رکوع ٥)

الفاظ مرزا قادیانی : ”انك فى ضلاك القديم“

(تحفہ گولڑویہ ص ١٧ حاشیہ)

(پارہ ٢٣‘ رکوع ١٥)

الفاظ مرزا قادیانی : ”وانزلنا من الانعام ثمانية ازواج“ (الحق مباحثہ دہلی ص ٣٥) ”وانزل من الانعام“ (حمامة البشریٰ عربی ص ٧١، ٧٤)

بنوا اسرائيل“ (پارہ ١١‘ رکوع ١٣)

صفحہ ٤٥١

الفاظ مرزا قادیانی: ”آمنت بالذی آمنت به بنوا اسرائیل“

(سراج منیر حاشیہ ص٢٩‘ براہین نمبر ٣ ص ٣٥‘ ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٨) ”امنت بالذی امنوا به بنوا اسرائیل“

(رسالہ استفتاء ص ٢٢ حاشیہ)

(٢٩) آیت قرآنی: ”وما ارسلنا من قبلك من رسول ولا نبی الا اذا تمنى القی الشیطان فی امنیته“

(پاره ١٧ رکوع ١٤)

الفاظ مرزا قادیانی: ”وما ارسلنا من رسول ولا نبی الا اذا تمنى القی الشیطان فی امنیته“

(ازالہ اوہام ص ٦٢٩)

(٣٠) آیت قرآنی: ”وما ارسلنا قبلك من المرسلين“

(پاره ١٨ رکوع ١٧)

الفاظ مرزا قادیانی: ”وما ارسلنا من قبلك من المرسلين“

(ازالہ اوہام ص ٦١٢)

(٣١) آیت قرآنی: ”فان مع العسر يسرا ٠ ان مع العسر یسرا“

(پاره ٣٠ رکوع ١٩)

الفاظ مرزا قادیانی: اور آیت: ”ان مع العسر يسرا ٠ ان مع العسر يسرا“

(تحفہ گولڑویہ ص ٢٢٥)

(٣٢) آیت قرآنی: ”حتیٰ اذا فتحت یاجوج وما جوج“

(پاره ١٧ رکوع ٧)

صفحہ ٤٥٢

الفاظ مرزا قادیانی: ”حتى فتحت ياجوج وما جوج“

(تحفہ گولڑویہ ص ٢١٤)

(پارہ ١٣ رکوع ١٩)

الفاظ مرزا قادیانی: ”یدلت الارض غير الارض“

(تحفہ گولڑویہ ص ١٨٥)

هو كل شئى هالك الا وجهه له الحكم واليه ترجعون“

(پارہ ٢٠ رکوع ١٢)

الفاظ مرزا قادیانی: ”ولا تدع مع الله الها اخر كل شئى هالك الا وجهه له الحكم واليه ترجعون“

(براہین احمدیہ ص ٤٢٨)

من الاشرار“

(پارہ ٢٣ رکوع ١٣)

الفاظ مرزا قادیانی: ”مالنا لا نرى رجالاً كنا نعدهم من الاشرار“

(لیکچر سیالکوٹ ص٢١)

الذين كفروا“

(پارہ اول رکوع ١١)

الفاظ مرزا قادیانی: یہ وہی ہیں جن کے حق میں قرآن شریف میں فرمایا گیا: ” وكانوا يستفتحون من قبل“

(ضرورة الامام ص٥)

صفحہ ٤٥٣

(٣٧) آیت قرآنی : ”فقد لبثت فیکم عمرا من قبلہ“

(پارہ ١١ رکوع ٧)

الفاظ مرزا قادیانی : اللہ جل شانہ قرآن شریف میں فرماتا ہے : ”وقد لبثت فیکم عمرا من قبلہ افلا تعقلون“

(تریاق القلوب ص ٢٨)

(٣٨) آیت قرآنی : ”وہو بکل خلق علیم“

(پارہ ٢٣ رکوع ٤)

الفاظ مرزا قادیانی : ”بلیٰ وہو بکل خلق علیم“

(ازالہ اوہام ص ٢٧٤)

(٣٩) آیت قرآنی : ”وجاہدوا با موالکم وانفسکم فی سبیل اللہ ، (سورہ توبہ رکوع ٦) ان یجاہدوا باموالہم وانفسہم“

(سورہ توبہ رکوع ٧)

الفاظ مرزا قادیانی : ”ان یجاہدوا فی سبیل اللہ یاموالہم وانفسہم“

(جنگ مقدس ص ١٧٦)

(٤٠) آیت قرآنی : ”قد انزلنا علیکم لباساً یواری سوٰتکم وریشاً“

(پارہ ٨ سورہ اعراف رکوع ١٠)

الفاظ مرزا قادیانی : ”ونزلنا علیکم لباساً“ (حمامة البشریٰ مترجم ص٥٢) ”وانزلنا علیکم لباساً“

(حمامة البشریٰ ص ٧١ حاشیہ)

(٤١) آیت قرآنی : ”وجعل منہم القردة والخنازیر“

(پارہ ٦ رکوع ١٣)

صفحہ ٤٥٤

الفاظ مرزا قادیانی: ”وجعلنا منہم القردة والخنازیر“

(ازالہ اوہام ص ٦٧٤)

(٤٢) آیت قرآنی : ”ومنکم من یتوفی ومنکم من یردالی ارذل العمر لکیلا یعلم من بعد علم شیاء“

(پارہ ١٧ رکوع ٨)

الفاظ مرزا قادیانی: ”ومنکم من یتوفی ومنکم من یردالی ارذل العمر لکیلا یعلم بعد علم شیاء“

(الجزء ١٧ سورۃ الحج ازالہ اوہام ص ٣٢٦)

(٤٣) آیت قرآنی : ”فامسکو ھن فی البیوت حتی یتوفھن الموت“

(پارہ ٤ رکوع ١٤)

الفاظ مرزا قادیانی: ”ثم یتوفھن الموت“

(ازالہ اوہام ص ٣٢٩)

(٤٤) آیت قرآنی: ”ولکن اعبد اللہ الذی یتوفکم “

(پارہ ١١ رکوع ١٦)

الفاظ مرزا قادیانی: ”ولکن اعبدالذی یتوفکم“

(ازالہ اوہام ص ٦٠٠)

(٤٥) آیت قرآنی : ”کل من علیھا فان ویبقی وجہ ربک ذوالجلال والاکرام“

(پارہ ٢٧ رکوع ١٢)

الفاظ مرزا قادیانی : ”کل شئی فان ویبقی وجہ ربک ذوالجلال والا کرام“

(ازالہ اوہام ص ١٤٦)

(٤٦) آیت قرآنی : ”لا یسمہ الا المطھرون “

(پارہ ٢٧ رکوع ١٦)

صفحہ ٤٥٥

الفاظ مرزا قادیانی: ”ولایمسہ الا المطہرون“

(پارہ ٢٧ رکوع ١٦ ازالہ اوہام ص ٦٤٦)

(٤٧) آیت قرآنی: ”وما انزلنا علیک الکتاب الا لتبین لہم الذی اختلفوا فیہ“

(پارہ ١٤ رکوع ١٢ سورۃ النحل)

الفاظ مرزا قادیانی: ”وما انزلنا علیک الکتاب الا لتبین الذین اختلفوا فیہ“

(ازالہ اوہام ص ٦٥٤)

(٤٨) آیت قرآنی: ”قد بینا لکم الایات لعلکم تعقلون“

(پارہ ٢٧ رکوع ١٨)

الفاظ مرزا قادیانی: ”قد بینا الایات لعلکم تعقلون“

(الجزء نمبر ٢٧ سورۃ الحدید براہین احمدیہ ص ٥٢٣)

(٤٩) آیت قرآنی: ”کذالک نجزی الظالمین“

(پارہ ١٧ رکوع ٢)

الفاظ مرزا قادیانی: ”وکذالک نجزی الظالمین“

(براہین احمدیہ ص ٤٢٩)

(٥٠) آیت قرآنی: ”محمد رسول اللہ والذین معہ اشداء علی الکفار“

(پارہ ٢٦ رکوع ١٢)

الفاظ مرزا قادیانی: ”محمد رسول اللہ والذین آمنوا معہ اشداء“

(اخبار الحکم مورخہ ٣١ جنوری ١٩٠١ء ص ١١ ملفوظات احمد حصہ اول ص ٥)

صفحہ ٤٥٦

(پارہ ٢٧ رکوع ٦)

الفاظ مرزا قادیانی : "والظن لا یغنی من الحق شیاء"

(ازالہ اوہام ص ٦٥٤)

المطھرین"

(سورہ بقرہ پارہ ٢ رکوع ١٢)

الفاظ مرزا قادیانی : "ان الله یحب التوابین ویحب المطھرین"

(چشمہ معرفت ص ١٦)

وما بینھما فی ستۃ ایام ثم استویٰ علی العرش"

(پارہ ٢١ رکوع ١٣ سورۃ السجدۃ)

الفاظ مرزا قادیانی : "الله الذی خلق السموات والارض فی ستۃ ایام ثم استویٰ علی العرش "

(چشمہ معرفت ص ٢٦٣)

لکم فرقانا"

(پارہ ٩ رکوع ١٨)

الفاظ مرزا قادیانی : "ویجعل لکم فرقانا"

(چشمہ معرفت ضمیمہ ص ٤٠)

سبیلا"

(پارہ ١٩ رکوع ٢)

صفحہ ٤٥٧

الفاظ مرزا قادیانی : ”اولئک کا لانعام بل ہم اضل سبیلا“

(چشمہ معرفت ضمیمہ ص ٢٦)

(٥٦) آیت قرآنی : ”ذالک ازکٰی لھم“

(سورۃ النور پارہ ١٨)

الفاظ مرزا قادیانی : ”ذالک ازکٰی لکم“ (پارہ ١٨) یہ تمہارے لئے بہت ہی بہتر ہے۔“

(منظور الٰہی ص ٧٥)

(٥٧) آیت قرآنی : ”ولا تقف مالیس لک بہ علم“

(سورہ بنی اسرائیل پارہ ١٥ رکوع ٤)

الفاظ مرزا قادیانی : ”لاتقف مالیس لکم بہ علم“

(اربعین نمبر ٤ ص ٧٢ حاشیہ)

(٥٨) آیت قرآنی : ”ان فی خلق السموات والارض واختلاف الیل والنھار لایت لاولی الباب . الذین یذکرون اللہ قیاماً وقعوداً وعلی جنوبھم“

(سورۃ آل عمران پارہ ٤ رکوع ١١)

الفاظ مرزا قادیانی : ”ان فی خلق السموات والارض واختلاف اللیل والنھار لایات لاولی الالباب الذین یذکرون اللہ الیہ“

(رپورٹ جلسہ سالانہ ١٨٩٧ء ص ٧٠ اور کتاب منظور الٰہی (مرتبہ مولوی محمد منظور الٰہی مرزائی) ص ٥٩)

(٥٩) آیت قرآنی : ”قدجاء کم من اللہ نور وکتاب مبین“

(سورۃ المائدہ پارہ ششم رکوع ٧)

الفاظ مرزا قادیانی : ”قد جاء کم نور من اللہ“

(رسالہ سراج دین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب ص ٤٦)

صفحہ ٤٥٨

(٦٠) آیت قرآنی: ”قل إن صلاتی ونسکی ومحیای و مماتی لله رب العالمین“

(سورة الانعام‘ پاره ٨‘ رکوع ٧)

الفاظ مرزا قادیانی: ”قل ان نسکی ومحیایی ومماتی لله رب العالمین“

(رسالہ سراج دین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب ص ٤١‘ ٤٢)

(٦١) آیت قرآنی: ”وتواصوا بالصبر وتواصوا بالمرحمة‘

(سورۃ البلد‘ پاره ٣٠‘ رکوع ١٥)

الفاظ مرزا قادیانی: ”تواصوا بالحق وتواصوا بالمرحمه“

(رسالہ سراج دین عیسائی کے چار سوالوں کے جواب ص ٤٤)

(٦٢) آیت قرآنی: ”انما المسیح عیسی ابن مریم رسول الله وکلمته القها الی مریم“

(پاره ٦‘ رکوع ٣)

الفاظ مرزا قادیانی: ”وکلمة القها الی مریم“

(کتاب کرامات الصادقین ص ١٨‘ رسالہ پیغام صلح ص ٢٦)

(٦٣) آیت قرآنی: ”الله اعلم حیث یجعل رسالته“

(پاره ٨‘ رکوع ٢)

الفاظ مرزا قادیانی: ”ان الله یعلم حیث یجعل رسالة“

(پیغام صلح ص ٣٠)

(٦٤) آیت قرآنی: ”ظهر الفساد فی البر و البحر“

(سورة روم‘ پاره ٢١‘ رکوع ٨)

صفحہ ٤٥٩

الفاظ مرزا قادیانی: ”قد ظهر الفساد فی البر والبحر“

(رسالہ پیغام صلح مطبوعہ ستمبر ١٩٠٨ء رفاہ عام پریس لاہور ص ١٨)

(٦٥) آیت قرآنی: ”یازکریا انا نبشرک بغلم ن اسمه یحییٰ“

(سورۃ مریم پارہ ١٦ رکوع ٣)

الفاظ مرزا قادیانی: خدا تعالیٰ نے جو حضرت زکریا کو بشارت دے کر فرمایا: ” ان نبشرک بغلام حلیم“

(رسالہ برکات الدعاء ص ٢٤)

نوٹ: مسلمان لوگ مرزائیوں سے یہ سوال کریں کہ جو الفاظ مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھے ہیں وہ الفاظ قرآن مجید کی کس سورت، کس پارے اور کس رکوع میں ہیں۔

PDF 460
PDF 461

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع اور آمد ثانی

ابن تیمیہ کی زبانی

اور مرزا قادیانی کی کذب بیانی

صفحہ ٤٦٢

بسم الله الرحمن الرحيم

١٩٣٤ء کا ذکر ہے کہ موسم سرما میں ہفتہ کے روز شہر امرتسر کے مشرقی حصہ دروازہ مہاں سنگھ کے قریب جناب حاجی مولوی حکیم محمد علی صاحب حنفی نقشبندی کے مکان کے سامنے ایک جوان شخص (جس کی عمر ٣٦ سے کچھ زیادہ ہے۔ رنگ گورا، سر پر سفید پگڑی، پاؤں میں سیاہ سلیپر، بدن پر گرم کوٹ ہے) کھڑا ہے اور بلند آواز سے کہتا ہے :

السلام علیکم! اس کے جواب میں حکیم صاحب نے فرمایا وعلیکم السلام! بابو صاحب آج آپ بڑے بشاش نظر آتے ہیں۔ کیا بات ہے :

بابو حبیب اللہ! میں اپنے دفتر سے آیا ہوں۔ راستے میں میں نے ایک شخص سے سنا ہے کہ ماسٹر خیر الدین صاحب نے مرزائیت سے توبہ کی ہے اور اسلام قبول کیا ہے۔

حکیم صاحب! یہ بات سچ ہے۔ کل جمعہ کے روز نماز جمعہ کے بعد ماسٹر خیر الدین صاحب نے میرے سامنے مرزائیت سے توبہ کی : ”الحمد الله علیٰ ذالک“

بابو حبیب اللہ! کاش کہ اس وقت مجھے ماسٹر خیر الدین صاحب ملتے تو میں ایک نئی بات اور سناتا۔ جو انہوں نے پیشتر نہ سنی ہے۔

صفحہ ٤٦٣

اتفاق سے ماسٹر خیر الدین صاحب اس وقت اپنے کسی کام کے لئے حکیم صاحب کے پاس تشریف لائے۔

بابو حبیب اللہ ! ماسٹر صاحب! مجھے یہ سن کر بڑی خوشی ہوئی کہ آپ نے مرزائیت کو ترک کر کے اسلام قبول کر لیا ہے۔ الحمد للہ

ماسٹر خیر الدین صاحب! میں نے کل جمعہ کے روز مسجد شیخ خیر الدین مرحوم میں ترک مرزائیت کا اعلان کر دیا ہے۔ حکیم صاحب وہاں موجود تھے۔

بابو حبیب اللہ ! میں نے ایک رسالہ ”مرزا قادیانی نبی نما“ نامی آپ کو دیا تھا۔ کیا آپ نے اس کا مطالعہ کیا ہے؟۔

ماسٹر خیر الدین صاحب! میں نے اس کا مطالعہ کیا ہے۔ واللہ بڑا دلچسپ اور عمدہ رسالہ ہے۔ اس میں آپ نے مرزائی لٹریچر سے ثابت کیا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے خود اقرار کیا کہ مجھے مراق ہے۔

بابو حبیب اللہ ! اب اور سنئے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھا ہے۔ کہ ابن تیمیہؒ وفات عیسیٰ علیہ السلام کا قائل تھا۔ حالانکہ یہ سراسر جھوٹ ہے۔

ماسٹر خیر الدین صاحب! یہ کس کتاب میں ہے؟۔

بابو حبیب اللہ ! مرزا غلام احمد قادیانی نے (کتاب البریہ ص ١٨٨ حاشیہ‘ خزائن ج ١٣ ص ٢٢١ پر) لکھا ہے : ”ایسا ہی فاضل و محدث و مفسر ابن تیمیہؒ و ابن قیمؒ جو اپنے اپنے وقت کے امام ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے قائل ہیں ۔“

ماسٹر خیر الدین! تو کیا حافظ ابن قیمؒ و ابن تیمیہؒ وفات مسیح کے قائل نہ

صفحہ ٤٦٤

تھے؟۔

بابو حبیب اللہ ! حافظ ابن تیمیہ نے اپنی کتاب الجواب الصحیح لمن بدل دین المسیح اور زیارۃ القبور میں اور حافظ ابن قیم نے اپنی کتاب ہدیۃ الحیاریٰ اور قصیدہ نونیہ میں حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کے رفع جسمانی (حیات) اور نزول کا اقرار کیا ہے۔

ماسٹر خیر الدین ! یہ بات میں نے آج سنی ہے۔ آج سے پہلے کسی نے یہ حوالہ پیش نہیں کیا ہے۔

بابو حبیب اللہ ! یہ دیکھئے میرے پاس حافظ ابن تیمیہؒ کی کتاب زیارۃ القبور (مطبوعہ اسلامیہ پریس لاہور) ہے۔ اس کے ص ٧٥ پر حضرت مسیح کا آسمان سے نازل ہونا لکھا ہے۔ ذیل میں حافظ ابن تیمیہؒ کے اقوال لکھے جاتے ہیں :

حوالہ نمبر ١ : ”وكان الروم اليونان وغيرهم مشركين ليعبدون الهياكل العلوية والاصنام الارضية فبعث المسيح عليه السلام رسله يدعوهم الى دين الله تعالى فذهب بعضهم فى حياته فى الارض وبعضهم بعد رفعه الى السماء فدعوهم الى دين الله تعالى فدخل من دخل فى دين الله“

(الجواب الصحیح ج اول ص ١١٦ طبع مجد التجاریہ)

روم اور یونان وغیرہ میں مشرکین اشکال علویہ اور بتانِ زمین کو پوجتے تھے۔ پس مسیح علیہ السلام نے اپنے نائب بھیجے کہ وہ لوگوں کو دین الٰہی کی طرف دعوت دیتے تھے پس بعض تو حضرت مسیح علیہ السلام کی ارضی زندگی میں گئے اور بعض مسیح علیہ السلام کے آسمان پر اٹھائے جانے کے بعد گئے پس وہ لوگوں کو دین الٰہی کی دعوت دیتے

صفحہ ٤٦٥

تھے۔ ان کی دعوت سے اللہ کے دین میں داخل ہوا۔ جس کسی نے داخل ہونا تھا۔﴾

حوالہ نمبر ٢ : ”والمسيح الدجال يدعى الالهية وياتى

بخوارق ولكن نفس دعواه الالهية دعوى ممتنعة فى نفسها ويرسل الله عليه المسيح ابن مريم فيقتله ويظهر كذبه ومعه يدل على كذبه من وجوه“

(ج ١ ص ١٥٠)

﴿مسیح الدجال دعوٰی خدائی کا کرے گا۔ اور خارقِ عادات لائے گا۔ لیکن صرف دعوٰی خدائی اس کا نفس الامر میں محال ہے۔ اور اللہ تعالٰی اس پر مسیح علیہ السلام کو بھیجے گا۔ وہ دجال کو قتل کرے گا۔ اور اس کے جھوٹ افترا کو ظاہر کرے گا اور اس کے ساتھ ایسی چیزیں ہوں گی۔ جو اس کے کذب پر دلالت کریں گی۔ کئی وجوہ سے۔﴾

حوالہ نمبر ٣ : ”وثبت ايضا فى الصحيح عن النبى صلى الله عليه وسلم

انه قال ينزل عيسى بن مريم من السماء على المنارة البيضاء شرقى دمشق فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويقتل مسيح الهدى عيسى بن مريم مسيح الضلالة الاعور الدجال على بضع عشرة خطوة من باب لد“

(ج اول ص ١٧٧)

﴿اور صحیح میں یہ بھی ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ عیسیٰ بن مریم آسمان سے سفید منارہ شرقی دمشق پر اترے گا۔ پس صلیب کو توڑے گا۔ اور خنزیر کو قتل کرے گا اور جزیہ موقوف کرے گا۔ اور مسیح ہدایت عیسیٰ بن مریم مسیح الضلالۃ کانے دجال کو باب لد سے قریب چند قدموں پر قتل کرے گا۔﴾

حوالہ نمبر ٤ : ”والمسيح عليه السلام ذهب الى انطاكيه

اثنان من اصحابه بعد رفعه الى السماء ولم يعززوا بثالث ولا كان

صفحہ ٤٦٦

حبیب النجار موجوداً انذاك“

(ج اول ص ٢٠٩)

﴿مسیح علیہ السلام کے آسمان کی طرف اٹھائے جانے کے بعد دو صحابی آپ کے انطاکیہ میں گئے اور تیسرے کے ساتھ ان کی نصرت نہیں کی گئی اور نہ اس وقت حبیب النجار موجود تھے۔﴾

حوالہ نمبر ٥: "وقد اخبر ان المسيح عيسىٰ بن مريم مسيح

الهدىٰ ينزل الى الارض على المنارة البيضاء شرقى دمشق فيقتل مسيح الضلالة “

(ج اول ص ٣٢٤)

﴿اور آنحضور ﷺ نے یقیناً خبر دی ہے کہ تحقیقا مسیح ہدایت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام زمین کی طرف سفید منارہ شرقی دمشق پر اترے گا۔ پس مسیح الضلالتہ (دجال) کو قتل کرے گا۔﴾

حوالہ نمبر ٦: " ويقال ان انطاكيه اول المدائن الكبار الذين

آمنو بالمسيح عليه السلام و ذالك بعد رفعه الى السماء“

(ج ١ ص ٢٨٧)

﴿کہا جاتا ہے کہ انطاکیہ ان بڑے شہروں میں سے پہلا شہر ہے جس کے باشندے مسیح علیہ السلام پر ایمان لائے اور یہ مسیح علیہ السلام کے آسمان پر اٹھائے جانے کے بعد تھا۔﴾

حوالہ نمبر ٧: ” والمسلمون واهل الكتاب متفقون على

اثبات مسيحين مسيح هدى من ولد داؤد و مسيح ضلال يقول اهل الكتاب انه من ولد يوسف ومتفقون على ان مسيح الهدى سوف ياتى كما ياتى مسيح الضلالة لكن المسلمون والنصارى يقولون مسيح الهدى هو عيسىٰ بن مريم وان الله ارسله ثم ياتى مرة ثانية

صفحہ ٤٦٧

لكن المسلمون يقولون انه ينزل قبل يوم القيامة فيقتل مسيح الضلالة ويكسر الصليب ويقتل الخنزير ولايبقى ديناً الا دين الاسلام ويومن به اهل الكتاب اليهود والنصارى كما قال تعالى وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته والقول الصحيح الذى عليه الجمہور قبل موت المسيح وقال تعالى وانه لعلم للساعة “

(ج اول ص ٣٢٩)

﴿مسلمان اور اہل کتاب دو مسیحوں کے وجود پر متفق ہیں۔ مسیح ہدایت داؤد کی اولاد میں سے ہے اور اس پر بھی متفق ہیں کہ مسیح ہدایت عنقریب آئے گا۔ جبکہ مسیح ضلالت آئے گا۔ لیکن مسلمان اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ مسیح ہدایت وہ حضرت عیسیٰ ابن مریم ہے کہ خدا نے اس کو رسول بنایا۔ اور وہ پھر دوبارہ آئے گا۔ اور لیکن مسلمان کہتے ہیں کہ وہ اترے گا۔ پہلے قیامت کے پس وہ مسیح ضلالت کو قتل کرے گا اور صلیب کو توڑے گا اور خنزیر کو قتل کرے گا اور کوئی دین باقی نہیں چھوڑے گا۔ سوائے دین اسلام کے اور اہل کتاب یہود اور نصاریٰ اس پر ایمان لائیں گے۔ جیسے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :” وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موتہ “یعنی کوئی اہل کتاب نہیں رہے گا سب کے سب ایمان لائیں گے پہلے موت اس کی کے) اور قول صحیح جس پر جمہور امت ہے وہ یہ ہے کہ موتہ کی ضمیر عیسیٰ علیہ السلام کی طرف ہے۔ اس کی تائید اس آیت سے ہوتی ہے :” وانه لعلم للساعة “یعنی وہ عیسیٰ علیہ السلام قیامت کی نشانی ہے۔﴾

حوالہ نمبر ٨ :” ولہذا اذا انزل المسيح بن مريم فى امته لم يحكم فيهم الا بشرع محمد ﷺ “

(ج اول ص ٣٢٩)

﴿اس لئے جب مسیح علیہ السلام آنحضرت ﷺ کی امت میں نازل ہوں

صفحہ ٤٦٨

گے تو نہیں حکم کریں گے۔ مگر بمطابق شریعت محمدی کے۔ ﴾

حوالہ نمبر ٩ : ” قالوا قد قال الله على افواه الانبياء

المرسلين الذين تنبوا على ولادته من العذراء الطاهرة مريم وعلى جميع افعاله التى فعلها فى الارض و صعوده الى السماء وهذه النبوات جميعها عند اليهود و مقرين و معترفين بها و يقرونها فى كنائسهم ولم ينكروا منها كلمة واحدة فيقال هذا كله مما لا ينازع فيه المسلمون فانه لا ريب انه ولد من مريم العذراء البتول التى لم يمسها بشر قط وان الله اظهر على يديه الآيات وانه صعد الى السماء كما اخبر الله بذلك فى كتابه كما تقدم ذكره “

(ج٢ ص١٨٦)

﴿کہتے ہیں کہ تحقیق اللہ تعالیٰ نے انبیاء مرسلین کی زبان پر فرمایا جنہوں نے مسیح کے پاکیزہ کنواری مریم کے شکم سے پیدا ہونے کی خبر دی تھی۔ اور تمام اس کے افعال جو زمین میں کرتا رہا۔ اور اس کا آسمان کی طرف چڑھ جانے کی خبر دی تھی۔ اور یہ خبریں تمام یہود کے پاس موجود ہیں۔ سب کو مانتے ہیں اپنے ہیکلوں میں اقرار کرتے ہیں۔ ایک کلمہ تک کا بھی انکار نہیں کرتے، پس کہا جائے گا کہ اس امر میں مسلمانوں کو بھی کوئی تنازع نہیں۔ اس میں شک نہیں کہ مسیح علیہ السلام یقیناً مریم کنواری تارک الدنیا کے شکم سے جس کو کسی آدمی نے ہاتھ نہیں لگایا پیدا ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاتھ پر نشانات ظاہر کئے اور تحقیق وہ آسمان کی طرف چڑھ گیا۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں خبر دی جیسے پہلے گزر چکا ہے۔﴾

حوالہ نمبر ١٠ : ” فان بنى اسرائيل كانوا قد خذلوا بسبب

تبديلهم فلما بعث المسيح عليه السلام بالحق كان الله مع من اتبع

صفحہ ٤٦٩

المسيح والمسيح نفسه لم يبق معهم بل رفع الى السماء ولكن الله كان من اتبع با النصر والاعانة“

(ج ٢ ص ٢١٢)

﴿پس تحقیق بنی اسرائیل رسوا ہو چکے تھے۔ بسبب تبدیل و تحریف کے پس جب اللہ تعالیٰ نے مسیح علیہ السلام کو حق کے ساتھ بھیجا تو اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہوا۔ جو مسیح علیہ السلام کے پیرو ہوئے تھے اور مسیح علیہ السلام خود بھی ان کے ساتھ نہیں رہا۔ بلکہ آسمان پر اٹھائے گئے لیکن اللہ تعالیٰ نصرت واعانت کے ساتھ مسیح علیہ السلام کے تابعداروں کے ساتھ تھا۔﴾

حوالہ نمبر ١١: ”ثم قال وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به

قبل موته و هذا عند اكثر العلماء معناه قبل موت المسيح وقد قيل قبل موت اليهودى وهو ضعيف كما قيل انه قبل موت محمد ﷺ وهوا ضعف فانه لو أمن به قبل الموت لنفعه ايمانه به فان يقبل توبة العبد مالم يغرغر وان قيل المراد به الايمان الذى يكون بعد الغرغره لم يكن فى هذا فائدة فان كل احد بعد موته يومن بالغيب الذى كان يجحده فلا اختصاص للمسيح به ولانه قال قبل موته ولم يقل بعد موته ولانه لافرق بين ايمانه بالمسيح بعد وبمحمد صلوات الله عليهما وسلامه واليهودى الذى يموت يموت على اليهودية فيموت كافراً بمحمد والمسيح عليهما الصلواة والسلام ولانه قال وأن من اهل الكتاب الا ليؤمن به قبل موته وقوله ليؤمنن به فعل مقسم عليه وهذا انما يكون فى المستقبل فدل ذالك على ان هذا الايمان بعد اخبار الله بهذا ولو اريد قبل موت الكتابى لقال وان من اهل لكتاب الا من يؤمن به لم يقل ليؤمنن به وايضا فانه قال وأن من اهل الكتاب وهذا يعم

صفحہ ٤٧٠

اليهود و النصارى فدل ذالك على ان جميع اهل الكتاب اليهود والنصارى يؤمنون المسيح قبل موت المسيح و ذالك اذا نزل آمنت اليهود والنصارى بانه رسول الله ليس كاذبا كما يقول اليهودى ولا هو الله كما تقوله النصارى “

(ج ٢ ص ٢٨٣‘ ٢٨٤)

﴿ وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موتہ ﴾ اس کی تفسیر اکثر علماء نے یہ کی ہے کہ مراد قبل موتہ سے حضرت مسیح کی وفات ہے اور یہودی کی موت بھی کسی نے معنی کئے ہیں اور یہ ضعیف ہے جیسا کہ کسی نے موت محمد ﷺ بھی مراد لی ہے اور یہ اس سے بھی زیادہ ضعیف ہے کیونکہ اگر موت سے پہلے ایمان ہو تو نفع دے سکتا ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرتا ہے جب بندہ غرغرہ تک نہ پہنچے، اور اگر یہ کہا جائے کہ ایمان سے مراد ایمان بعد الغرغرہ ہے تو اس میں کوئی فائدہ نہیں۔ اس لئے کہ غرغرہ کے بعد ہر ایک امر جس کا وہ منکر ہے اس پر ایمان لانا ہے پس مسیح علیہ السلام کی کوئی خصوصیت نہیں۔ اور ایمان سے مراد ایمان نافع ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے قبل موتہ فرمایا ہے نہ بعد موت، اگر ایمان بعد غرغرہ مراد ہوتا تو بعد موتہ فرماتا۔ کیونکہ بعد موت کے ایمان بالمسیح یا بمحمد ﷺ میں کوئی فرق نہیں ہے اور یہودی یہودیت پر مرتا ہے اس لئے وہ کافر مرتا ہے مسیح اور محمد علیہ السلام سے منکر ہوتا ہے۔ اور اس آیت میں : ” لیؤمنن بہ “ مقسم علیہ ہے یعنی قسمیہ خبر دی گئی ہے اور یہ مستقبل میں ہو سکتا ہے پس ثابت ہوا کہ یہ ایمان اس خبر کے بعد ہوگا اور اگر موت کتابی مراد ہوتی تو یوں فرماتے : ” وان من اهل الكتاب الا من يؤمن به “ اور لیومنن بہ نہ فرماتے اور نیز وان من اهل الكتاب یہ لفظ عام ہے ہر ایک یہودی و نصرانی کو شامل ہے۔ پس ثابت ہوا کہ تمام اہل کتاب یہود و نصاریٰ مسیح علیہ السلام کی موت سے پیشتر مسیح علیہ السلام پر ایمان لائیں گے اور یہ جب ہو گا جب مسیح

صفحہ ٤٧١

علیہ السلام اتریں گے۔ تمام یہود و نصاریٰ ایمان لائیں گے کہ مسیح ابن مریم اللہ کا رسول ہے۔ کذاب نہیں جیسے یہودی کہتے ہیں اور نہ وہ خدا ہیں۔ جیسے نصاریٰ کہتے ہیں۔﴾

حوالہ نمبر ١٢: "والحافظة على هذا العموم اولى من ان

يدعى ان كل كتابى ليؤمنن به قبل ان يموت الكتابى فان هذا يستلزم ايمان كل يهودى و نصرانى وهذا خلاف الواقع هولما قال وان منهم الا ليؤمنن به قبل موته ودل على ان المراد بايمانهم قبل ان يموت هو علم انه اريد بالعموم من كان موجودا حين نزوله اى لا يختلف منهم احد عن الايمان به لا ايمان من كان منهم ميتاً وهذا كما يقال انه لا يبقى بلدا لا دخله الدجال الا مكة والمدينة اى فى المدائن الموجودة حينئذ وسبب ايمان اهل الكتاب به حنئذ ظاهر فانه يظهر لكل احد انه رسول مؤيد ليس بكذاب ولا هو رب العالمين فالله تعالى ذكر ايمانهم به اذا نزل الى الارض فانه تعالى لما ذكر رفعه الى الله بقوله انى متوفيك ورافعك الى هو ينزل الى الارض قبل يوم القيامة ويموت حينئذ اخبر بايمانهم به قبل موته“

(ج٢ ص٢٨٤)

﴿اس عموم کا لحاظ زیادہ مناسب ہے۔ اس دعویٰ سے کہ موتہ سے مراد موت کتابی ہے۔ کیونکہ یہ دعویٰ ہر ایک یہودی و نصرانی کے ایمان کو مستلزم ہے اور یہ خلاف واقع ہے۔ اس لئے کہ جب اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی کہ تمام اہل کتاب ایمان لائیں گے۔ تو ثابت ہوا کہ اس عموم سے مراد عموم ان لوگوں کا ہے جو وقت نزول موجود ہوں گے کوئی بھی ایمان لانے سے اختلاف نہیں کرے گا۔ اس عموم سے مراد جو اہل کتاب فوت ہو چکے ہیں وہ مراد نہیں ہو سکتے۔ یہ عموم ایسا ہے جیسا کہ یہ کہا جاتا

صفحہ ٤٧٢

ہے کہ :” لايبقى بلد الا دخله الدجال الا مكة والمدينة “ پس مدائن سے مراد وہی مدائن ہو سکتے ہیں۔ جو اس وقت مدائن موجود ہوں گے اور اس وقت ہر ایک یہودی و نصرانی کے ایمان کا سبب ظاہر ہے۔ وہ یہ کہ ہر ایک کو معلوم ہو جائے گا کہ مسیح علیہ السلام رسول اللہ مؤید بتائید اللہ ہے نہ وہ کذاب ہیں نہ وہ خدا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس ایمان کا ذکر فرمایا ہے۔ جو وقت نزول مسیح علیہ السلام کے ہو گا۔ کیونکہ جب اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ کا رفع الی السماء اس آیت میں ذکر فرمایا: ” وانى متوفيك ورافعك الی “ اور مسیح علیہ السلام قیامت سے پیشتر زمین پر اتریں گے۔ اور فوت ہوں گے تو اس وقت کی خبر دی کہ سب اہل کتاب مسیح کی موت سے پیشتر ایمان لائیں گے۔ ؂

حوالہ نمبر ١٣ :” فی الصحیحین عن النبی ﷺ قال

يوشك ان ينزل فيكم ابن مريم حكما عدلا واماما مقسطا فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية وقوله تعالى وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم و ان الذين اختلفوا فيه لفى شك منه ما لهم به من علم الاتباع الظن وما قتلوه يقينا بل رفعه الله اليه وكان الله عزيزا حكيما بيان ان الله رفعه حيا وسلمه من القتل و بين انهم يومنون به قبل ان يموت. وكذلك قوله (ومطهرك من الذين كفروا) ولو مات لم يكن فرق بينه وبين غيره لفظ التوفى فى لغة العرب معناه الاستيفا والقبض و ذالك ثلاثة انواع احدها توفى النوم والثانى الموت والثالث توفى الروح والبدن جميعاً فانه بذالك خرج عن حال اهل الارض الذين يحتاجون الى الاكل والشرب واللباس ويخرج منهم الغائط والبول والمسيح عليه السلام توفاه الله وهو

صفحہ ٤٧٣

فى السماء الثانية الى ان ينزل الى الارض ليست حاله كحالة اهل الارض فى الاكل والشرب واللباس والنوم والغائط والبول ونحو ذالك“

(ج ٢ ص ٢٨٤‘٢٨٥)

﴿صحیحین میں وارد ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ قریب ہے۔ کہ ابن مریم اترے گا حاکم‘ عادل‘ پیشوا‘ انصاف کرنے والا‘ صلیب کو توڑے گا‘ خنزیر کو قتل کرے گا‘ جزیہ موقوف کرے گا۔ (اور آیت قرآنی : ”وما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لھم وان الذین اختلفوا فیہ لفی شک منہ مالھم بہ من علم الا اتباع الظن وما قتلوہ یقیناً بل رفع اللہ الیہ وکان اللہ عزیزاً حکیماً“) میں بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسیح علیہ السلام کو زندہ اٹھا لیا۔ اور قتل سے بچا لیا اور بیان فرمایا کہ مسیح علیہ السلام کے فوت ہونے سے پیشتر ایمان لائیں گے اور اسی طرح : ”قولہ تعالیٰ و مطھرک من الذین کفروا“ اگر عیسیٰ علیہ السلام مر چکے ہوتے تو تطہیر کا کوئی معنی نہیں ہے اس لئے کہ وفات سے تطہیر ہر ایک نبی کی ہو سکتی ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام کی کوئی خصوصیت نہیں ہے اور لفظ توفی لغت عرب میں اس کے معنی پورا لینا اور قبض کرنا ہے اور یہ تین طرح ہو سکتا ہے : (١)...... قبض فی النوم(٢)...... قبض فی الموت(٣)...... قبض روح و بدن تمام‘ پس وہ مسیح علیہ السلام اسی قبض کے سبب سے زمین کے بسنے والوں کے حال کی طرح ان کا حال نہیں ہے۔ زمین میں بسنے والے کھانے پینے پیشاب پاخانہ کی طرف محتاج ہیں پس مسیح علیہ السلام کا قبض (روح و بدن) دوسرے آسمان پر ہے تا کہ اس کے نازل ہونے تک اسی وجہ سے لوازمات بشریہ کی طرف محتاج نہیں ہے۔ جیسے زمین میں بسنے والے محتاج ہیں۔﴾

حوالہ نمبر ١٤ : ”واما المسلمون فامنوا بما اخبرت بہ الانبیاء

صفحہ ٤٧٤

علی وجهه وهو موافق لما اخبربه خاتم الرسل حيث قال فى الحديث الصحيح يوشك ان ينزل فيكم ابن مريم حكما عدلا واماما مقسطا فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية واخبر فى الحديث الصحيح انه اذا اخرج مسيح الضلالة الاعور الكذاب نزل عيسىٰ بن مريم على المنارة البيضا شرقى دمشق بين مهرو ذتين واضعا يديه على منكبى ملكين فاذا راه الدجال انماع كما ينماع الملح فى الماء فيدركه فيقتله بالحربة عند باب لدالشرقى على بضع عشرة خطوة منه وهذا تفسير قوله تعالى (وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته ) اى يؤمن بالمسيح قبل ان يموت حين نزوله الى الارض حينئذ لايبقى يهودى ولا نصرانى ولا يبقى دين الادين الاسلام “

(ج سوم ص ٣٢٥)

لیکن مسلمان صحیح طور پر اس طرح ایمان لائے جیسے کہ انبیاء علیہم السلام نے خبر دی تھی اور یہ ایمان پیغمبر علیہ السلام کے فرمان و پیشگوئی کے مطابق ہے۔ چنانچہ حدیث صحیح میں وارد ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ قریب ہے کہ اترے گا بیچ تمہارے ابن مریم‘ حاکم‘ عادل‘ پیشوا‘ انصاف کرنے والا۔ پس صلیب کو توڑے گا۔ خنزیر کو قتل کرے گا۔ جزیہ موقوف کرے گا‘ اور صحیح میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جس وقت مسیح دجال اور مسیح کاذب مسیح الضلالت نکلے گا تو عیسیٰ ابن مریم سفید منارہ شرقی دمشق پر اترے گا۔ در میان دو چادر زرد رنگ کے دو فرشتوں کے کندھوں پر دونوں ہاتھ رکھنے والا ہو گا۔ پس جب مسیح علیہ السلام کو دیکھ لے گا تو جس طرح نمک پانی میں گھلتا ہے۔ اسی طرح وہ گھلتا جائے گا۔ چنانچہ مسیح علیہ السلام باب لد کے نزدیک اس کو پائے گا۔ اور برچھی سے اس کو قتل کرے گا اور یہ تفسیر ہے قول اللہ تعالیٰ کی : ”وان من اهل

صفحہ ٤٧٥

الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته “یعنی ہر ایک یہودی و نصرانی مسیح علیہ السلام کی وفات سے پہلے مسیح علیہ السلام پر ایمان لائے گا جس وقت مسیح علیہ السلام زمین پر اترے گا۔ اور اس وقت کوئی یہودی و نصرانی باقی نہیں رہے گا اور نہ کوئی دین باقی رہے گا۔ سوائے دینِ اسلام کے۔ ﴿

حوالہ نمبر ١٥: ”قلت وصعود الادمی ببدنہ الی السماء قد

ثبت فی امر المسیح عیسی ابن مریم علیہ السلام فانہ صعد الی السماء وسوف ینزل الی الارض وھذا مما یوافق النصاری علیہ المسلمین فانھم یقولون ان المسیح صعد الی السماء ببدنہ وروحہ کما یقولہ المسلمون ویقولون انہ سوف ینزل الی الارض ایضاً کما یقولہ المسلمون وکما اخبر بہ النبی ﷺ فی الاحادیث الصحیحة ......واما المسلمون وکثیر من النصاری فیقولون انہ لم یصلب ولکن صعد الی السماء بلا صلب والمسلمون ومن وافقھم من النصاری یقولون انہ ینزل الی الارض قبل یوم القیامة وان نزولہ من اشراط الساعة کما دل علی ذالک الکتاب والسنة “

(ج٤ ص١٦٩، ١٧٠)

﴿ میں کہتا ہوں آدمی کا بدن کے ساتھ چڑھ جانا تحقیق ثابت ہو چکا ہے مسیح عیسیٰ ابن مریم کے بارہ میں۔ پس وہ چڑھ گیا طرف آسمان کی اور عنقریب اترے گا طرف زمین کے، اور نصاریٰ بھی مسلمانوں سے اس میں موافق ہیں۔ نصاریٰ بھی کہتے ہیں کہ بدن کے ساتھ آسمان پر چڑھ گیا جیسے مسلمان کہتے ہیں اور عنقریب زمین پر اترے گا۔ جیسے مسلمان کہتے ہیں جیسے کہ نبی کریم محمد رسول ﷺ نے احادیث صحیحہ میں خبر دی ہے لیکن مسلمان اور بہت سے عیسائی قائل ہیں کہ مسیح سولی نہیں دیئے گئے بلکہ آسمان پر بلا سولی چڑھ گئے اور مسلمان اور ان کے ہم خیال نصاریٰ قائل ہیں کہ مسیح

صفحہ ٤٧٦

علیہ السلام زمین پر اترے گا۔ پہلے قیامت کے اور نزول مسیح علیہ السلام قیامت کی علامات سے ہے جیسے کہ کتاب وسنت اس پر دال ہیں۔ ﴾

حوالہ نمبر ١٦:”وقال لهم نبيهم لوكان موسى حياثم

اتبعتموه وتركتمونى لضللتم وعيسى ابن مريم عليهم السلام اذا نزل من السماء انما يحكم فيهم بكتاب ربهم وسنة نبيهم فاى حاجة لهم مع هذا الى الخضر وغيره والنبى ﷺ قد اخبر هم بنزول عيسى من السماء حضوره معه المسلمين وقال كيف تهلك امة انا اولها وعيسى فى آخرها“

(کتاب زیارۃ القبور ص ٧٥)

﴿اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ اگر موسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے اور تم اس کی پیروی کرتے اور مجھ کو چھوڑ دیتے تو تم گمراہ ہو جاتے اور عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام جب اترے گا آسمان سے تو وہ مسلمانوں میں کتاب وسنت کے مطابق حکم کرے گا۔ پس کون سی اور ضرورت ہے باوجود اس کے خضر علیہ السلام وغیرہ کی طرف، حالانکہ نبی ﷺ نے مسلمانوں کو بتایا کہ عیسیٰ بن مریم آسمان سے اتریں گے اور مسلمانوں کے ساتھ شامل ہوں گے اور فرمایا کہ کیسے ہلاک ہو سکتی ہے وہ امت جس کے ابتداء میں ہوں اور آخر میں عیسیٰ علیہ السلام ہو۔﴾

نوٹ: ان ١٦ حوالوں سے یہ بات صاف ظاہر ہے کہ حضرت شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ حضرت مسیح عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کی حیات جسمانی اور نزول من السماء کے قائل تھے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کا ان کو وفات مسیح کا قائل قرار دینا سرا سر جھوٹ اور بہتان ہے :”فاعتبروا یا اولی الابصار“

صفحہ ٤٧٧

جھوٹ بولنا سخت گناہ ہے

(نزول المسیح ص ٢ خزائن ج ١٨ ص ٣٨٠)

دوسری باتوں میں بھی اس پر اعتبار نہیں رہتا۔“

(چشمہ معرفت ص ٢٢٢ خزائن ج ٢٣ ص ٢٣١)

(تبلیغ رسالت ج ٧ ص ٢٨ مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٣١)

(تبلیغ رسالت ج ٧ ص ٣٠ مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٣٤)

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١١١ خزائن ج ٢١ ص ٢٧٥)

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٩ حاشیہ خزائن ج ١٧ ص ٥٦)

(حقیقت الوحی ص ٢٠٦ خزائن ج ٢٢ ص ٢١٥)

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٢٦ خزائن ج ٢٢ ص ٤٥٩)

قادیانی مغالطہ اور اس کا جواب

حکیم خدا بخش مرزائی نے لکھا ہے :

فوت ہو چکے ہیں۔ چنانچہ (مجمع البحار ج ١ ص ٢٨٦ میں) امام محمد طاہر گجراتی لکھتے ہیں۔ یعنی اکثر کا خیال ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نہیں مرے۔ لیکن مالکؒ کہتے ہیں۔ کہ وہ فوت ہوگئے

صفحہ ٤٧٨

ہیں: ”والاکثر ان عیسیٰ علیہ السلام لم یمت وقال مالک مات“

(دیکھو مجمع البحار ج اول مطبوعہ مطبع نولکشور)

(ب) ......اور جواہر الحسان فی تفسیر القرآن۔ شیخ عبدالرحمٰن ثعالبی مطبوعہ مطبع الجزائر کی ج اول ص ٢٧٢ میں حضرت امام مالکؒ کے قول کی نسبت زیر آیت: ” انی متوفیک“ لکھا ہے: ” وقال ابن عباس هی وفاة موت ونحوه مالك فی العتیبة“ اور ابن عباس نے کہا ہے عیسیٰ علیہ السلام حقیقی موت سے وفات پا گئے ہیں۔ اور ایسا ہی امام مالکؒ نے اپنی کتاب عتیبہ نام میں فرمایا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں۔

(ج)......اور لاکمال اکمال المعلم میں جو شرح مسلم ابی عبداللہ محمد بن خلیفۃ الوشتانی المالکی کی ہے۔ اور مطبوعہ مطبع السعادہ مصری ہے۔ اور جس کو سلطان عبدالحفیظ سلطان مغرب نے اپنے مصارف خاص سے طبع کرایا ہے۔ امام مالکؒ کے قول کی یوں تصدیق کی ہے دیکھو شرح مذکورہ ص ٢٦٥: ”وفی العتبيه قال مالك مات عیسیٰ ابن مریم“ عتیبیہ نام کتاب میں امام مالکؒ نے لکھا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔

(د)......اور مکمل اکمال الاکمال شرح صحیح مسلم میں امام ابی عبداللہ محمد بن محمد بن یوسف السنوسی الحسنی نے امام مالکؒ کے قول کی تصدیق کی ہے۔ دیکھو ص ٢٦٥ بر حاشیہ کتاب مذکور الصدر: ”وفی العتیبة قال مالك مات عيسىٰ عليه السلام“ اور عتیبیہ میں امام مالکؒ نے لکھا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں۔

ان حوالہ جات سے جو مالکی مذہب کے آئمہ کی مشہور و مستند کتب میں سے ہیں۔ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ امام مالکؒ نے اپنی کتاب عتیبیہ میں شائع کیا ہے۔ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نبی ناصری وفات پا چکے ہیں۔“

(عسل مصفیٰ حصہ اول (مطبوعہ اگست ١٩١٣ء مطبع وزیر ہند امرتسر) باب ٨ فصل ١٦ ص ٥١٠)

صفحہ ٤٧٩

جواب

(١)......واضح ہو کہ حضرت امام مالکؒ کی پیدائش شریف ٩٣ھ میں ہوئی تھی اور وفات ١٧٩ ہجری میں ہوئی تھی۔ کتاب مؤطا ان کی تصنیف ہے (کتاب بستان المحدثین ص ٢٦) کتاب مؤطا میں حضرت امام مالکؒ نے کہیں نہیں لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ وفات پاچکے ہیں۔

(٢)......کتاب مجمع البحار کے مصنف امام محمد گجراتیؒ کی وفات ٩٨٦ ہجری میں ہوئی تھی (عسل مصفے ج اول ص ١٠٢) یہ حضرت امام مالکؒ کی وفات سے کئی سو برس بعد ہوا ہے۔ اس کتاب کی ج اول ص ٢٨٦ پر نہ تو حضرت امام مالکؒ کی کسی تصنیف کا حوالہ دیا گیا ہے۔ اور نہ کوئی سند لکھی گئی ہے۔

(٣)......کتاب عتبیہ حضرت امام مالکؒ نے نہیں لکھی ہے بلکہ ملک اندلس (سپین) کے فقیہ محمد بن احمد بن عبدالعزیز بن عتبہ بن ابوسفیان قرطبی نے لکھی ہے۔ ان کی وفات ٢٥٥ھ میں ہوئی تھی۔ (دیکھو کتاب نسیم الریاض فی شرح شفاء القاضی عیاض ج سوم ص ٥٢٤ مطبوعہ ١٣٢٦ھ مطبع ازہریہ مصر اور کتاب کشف الظنون ج اول ص ١٠٦ ، ١٠٧)

(٤)......مرزائی مولوی کتاب اکمال لاکمال المعلم شرح صحیح مسلم ج اول ص ٢٦٥ کا حوالہ تو پیش کر دیتے ہیں۔ مگر ص ٢٦٦ کا ذکر نہیں کرتے۔ حالانکہ وہاں حضرت عیسیٰ کے نزول کا ذکر خیر بھی ہے۔

PDF 480
PDF 481

مرزا غلام احمد رئیس قادیان

اور اس کے بارہ نشان

صفحہ ٤٨٢

بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لله رب العالمين والصلوة والسلام على خاتم النبين و على اله واصحابه اجمعين .

واضح ہو کہ فرقہ مرزائیہ کا بانی مرزا غلام احمد قادیانی ١٨٣٩ء میں پیدا ہوا تھا۔ (ریویو ج٢١ نمبر ٥ ص ١٥٤) مرزا قادیانی کی ماں کا نام چراغ بی بی تھا۔ (مرزا بشیر احمد ایم اے قادیانی کی کتاب سیرۃ المہدی حصہ اول ص ٧) مرزا غلام احمد نے مولوی فضل الٰہی صاحب، مولوی فضل احمد صاحب، مولوی گل علی شاہ صاحب، سے قرآن مجید، چند فارسی کتابیں، صرف کی بعض کتابیں، نحو اور منطق سیکھا اور بعض طبابت کی کتابیں اپنے والد حکیم غلام مرتضیٰ صاحب سے پڑھیں (کتاب البریہ ص ١٤٨، ١٤٩، ١٥٠ خزائن ج ١٣ ص ١٨٠، ١٨١ حاشیہ) مرزا قادیانی نے مامور من اللہ، مسیح موعود، مثیل مسیح، مہدی موعود، رجل فارسی، حارث کرشن، اوتار، محدث، مجدد، امام زمان، ابن مریم سے بہتر، نبی اللہ اور رسول اللہ ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ مرزا قادیانی ٦٦ برس کی عمر پا کر ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو فوت ہوا تھا۔ اس کے جھوٹا ہونے پر میں مرزائی لٹریچر سے ذیل میں عجیب و غریب دلائل درج کرتا ہوں :

مراق اور مرزا قادیانی

پیشگوئی کی تھی۔ جو اس طرح وقوع میں آئی۔ آپ نے فرمایا کہ مسیح آسمان پر سے جب اترے گا۔ تو وہ دو زرد چادریں اس نے پہنی ہوئی ہوں گی۔ تو اسی طرح مجھ کو دو بیماریاں

صفحہ ٤٨٣

ہیں ۔ ایک اوپر کے دھڑ کی اور ایک نیچے کے دھڑ کی یعنی مراق اور کثرت بول ۔“ (اخبار بدر قادیان ج ٢ نمبر ٢٣ مورخہ ٧ جون ١٩٠٦ء ص ٥ کالم نمبر ٢ اور رسالہ تشحیذ الاذہان ج ١ نمبر ٢ بابت ماہ جون ١٩٠٦ء ص ٥‘ ملفوظات ج ٨ ص ٤٤٥)

مبتلا رہتا ہوں ۔ پھر بھی آج کل کی مصروفیت کا یہ حال ہے کہ رات کو مکان کے دروازے بند کر کے بڑی بڑی رات تک بیٹھا اس کام کو کرتا رہتا ہوں ۔ حالانکہ زیادہ جاگنے سے مراق کی بیماری ترقی کرتی ہے اور دوران سر کا دورہ زیادہ ہو جاتا ہے ۔ مگر میں اس بات کی پرواہ نہیں کرتا اور اس کام کو کئے جاتا ہوں ۔“ (منظور الٰہی مرزائی کی کتاب منظور الٰہی ص ٣٤٨‘ اخبار الحکم قادیان ج ٥ نمبر ٤٠ مورخہ ٣١ اکتوبر ١٩٠١ء ص ٦‘ ملفوظات ج ٢ ص ٣٧٦)

(رسالہ ریویو آف ریلیجنز ج ٢٤ نمبر ٤ بابت ماہ اپریل ١٩٢٥ء ص ٤٥)

ہے ۔“

(رسالہ ریویو ج ٢٥ نمبر ٨ بابت ماہ اگست ١٩٢٦ء ص ٢)

سر‘ کمی خواب‘ تشنج دل‘ بد ہضمی‘ اسہال‘ کثرت پیشاب اور مراق وغیرہ کا صرف ایک ہی باعث تھا اور وہ عصبی کمزوری تھا ۔“

(رسالہ ریویو ج ٢٦ نمبر ٥ بابت ماہ مئی ١٩٢٧ء ص ٨)

(کتاب اصل بیاض نورالدین حصہ اول ص ٢١١)

سے بڑھ کر یہ کہ اس مرض میں تخیل بڑھ جاتا ہے اور مرگی اور ہسٹیریا والوں کی طرح مریض کو اپنے جذبات اور خیالات پر قابو نہیں رہتا ۔“ (رسالہ ریویو بابت ماہ اگست ١٩٢٨ء ص ٦)

(رسالہ ریویو بابت ماہ مئی ١٩٢٧ء ص ٣٠)

صفحہ ٤٨٤

ہسٹریا (باؤگولہ) کا دورہ

مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر احمد ایم اے لکھتا ہے:

”بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود (یعنی مرزا قادیانی) کو پہلی دفعہ دوران سر اور ہسٹریا کا دورہ بشیر اول (ہمارا ایک بڑا بھائی ہوتا تھا۔ جو ١٨٨٨ء میں فوت ہو گیا تھا) کی وفات کے چند دن بعد ہوا تھا۔ رات کو سوتے ہوئے آپ کو اٹھو آیا۔ اور پھر اس کے بعد طبیعت خراب ہو گئی۔ مگر یہ دورہ خفیف تھا۔ پھر اس کے کچھ عرصہ بعد آپ ایک دفعہ نماز کے لئے باہر گئے اور جاتے ہوئے فرمانے لگے کہ آج کچھ طبیعت خراب ہے۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ تھوڑی دیر کے بعد شیخ حامد علی نے دروازہ کھٹکھٹایا کہ جلدی پانی کی ایک گاگر گرم کر دو۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ میں سمجھ گئی کہ حضرت صاحب کی طبیعت خراب ہو گئی ہو گی۔ چنانچہ میں نے کسی ملازم عورت کو کہا کہ اس سے پوچھو میاں کی طبیعت کا کیا حال ہے؟ شیخ حامد علی نے کہا کہ کچھ خراب ہو گئی ہے۔ میں پردہ کرا کر مسجد میں چلی گئی تو آپ لیٹے ہوئے تھے۔ جب میں پاس گئی تو فرمایا کہ میری طبیعت بہت خراب ہو گئی تھی لیکن اب افاقہ ہے۔ میں نماز پڑھ رہا تھا کہ میں نے دیکھا کہ کوئی کالی چیز میرے سامنے سے اٹھی ہے اور آسمان تک چلی گئی ہے۔ پھر میں چیخ مار کر زمین پر گر گیا۔ اور غشی کی سی حالت ہو گئی۔ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں اس کے بعد سے آپ کو باقاعدہ دورے پڑنے شروع ہو گئے۔“

(سیرۃ المہدی ج ١ ص ١٦ نمبر ١٩)

دفعہ حضرت مسیح موعود سے سنا ہے۔ کہ مجھے ہسٹریا ہے۔ بعض اوقات آپ مراق بھی فرمایا کرتے تھے۔“

(کتاب سیرت المہدی حصہ دوم ص ٥٥ نمبر ٣٦٩)

صفحہ ٤٨٥

حضرت موعود کو سخت دورہ پڑا۔ کسی نے مرزا سلطان احمد اور مرزا فضل احمد کو بھی اطلاع دے دی اور وہ دونوں آگئے۔ پھر ان کے سامنے بھی حضرت صاحب کو دورہ پڑا والدہ صاحبہ فرماتی ہیں۔ اس وقت میں نے دیکھا کہ مرزا سلطان احمد تو آپ کی چارپائی کے پاس خاموشی کے ساتھ بیٹھے رہے۔ مگر مرزا فضل احمد کے چہرہ پر ایک رنگ آتا تھا اور ایک جاتا تھا اور وہ کبھی ادھر بھاگتا تھا، کبھی ادھر کبھی اپنی پگڑی اتار کر حضرت صاحب کی ٹانگوں کو باندھتا تھا اور کبھی پاؤں دبانے لگ جاتا تھا اور گھبراہٹ میں اس کے ہاتھ کانپتے تھے۔“

(کتاب سیرت المہدی حصہ اول ص ٢٢ نمبر ٣٦)

(٤)...... ”ایک مدعی الہام کے متعلق اگر یہ ثابت ہو جائے کہ اس کو ہسٹیریا‘ مالیخولیا‘ مرگی کا مرض تھا تو اس کے دعوے کی تردید کے لئے پھر کسی اور ضرب کی ضرورت نہیں رہتی۔ کیونکہ یہ ایسی چوٹ ہے جو اس کی صداقت کی عمارت کو بیخ وبن سے اکھیڑ دیتی ہے۔“

(رسالہ ریویو آف ریلیجنز ج ٢٥ نمبر ٨ ص ٧٦)

سو سو دفعہ رات کو یا دن کو پیشاب کا آنا

مرزا قادیانی نے لکھا ہے :

”میں ایک دائم المریض آدمی ہوں اور وہ دو زرد چادریں جس کے بارے میں حدیثوں میں ذکر ہے کہ ان دو چادروں میں مسیح نازل ہوگا۔ وہ دو زرد چادریں میرے شامل حال ہیں۔ جن کی تعبیر علم تعبیر الرؤیا کے رو سے دو بیماریاں ہیں۔ سو ایک چادر میرے اوپر کے حصہ میں ہے کہ ہمیشہ سر درد اور دوران سر اور کمی خواب اور تشنج دل کی بیماری دورہ کے ساتھ آتی ہے۔ اور دوسری چادر جو میرے نیچے کے حصے بدن میں ہے۔ وہ بیماری ذیابیطس ہے کہ ایک مدت سے دامن گیر ہے اور بسااوقات سو سو دفعہ رات کو یا دن کو پیشاب آتا ہے اور اس قدر کثرت پیشاب سے جس قدر عوارض ضعف

صفحہ ٤٨٦

وغیرہ ہوتے ہیں۔ وہ سب میرے شامل حال رہتے ہیں۔

(کتاب ضمیمہ اربعین نمبر ٣‘ ٤ ص ٤ خزائن ص ٤٧٠ ج ١٧)

اسہال (دست)

(الف)...... مرزا قادیانی نے کہا : ”باوجود یہ کہ مجھے اسہال کی بیماری ہے اور ہر روز کئی کئی دست آتے ہیں۔ مگر جس وقت پاخانہ کی بھی حاجت ہوتی ہے۔ تو مجھے افسوس ہی ہوتا ہے کہ ابھی کیوں حاجت ہوئی۔“

(مکتوب منظور الہی ص ٤٤٨‘ ٤٤٩ پر حوالہ اخبار الحکم ج ٥ نمبر ٢٠‘ ملفوظات ج ٢ ص ٣٧٦)

(ب)...... ”یہ تو امر واقع ہے کہ حضرت صاحب کو بدہضمی‘ اسہال اور دورانِ سر کی عموماً شکایت رہتی تھی۔“

(رسالہ ریویو آف ریلیجنز ج ٢٥ نمبر ٨ ص ٦)

دوران سر

”ہاں دو مرض میرے لاحق حال ہیں ایک بدن کے اوپر کے حصہ میں اور دوسری بدن کے نیچے کے حصہ میں۔ اوپر کے حصہ میں دوران سر ہے اور نیچے کے حصہ میں کثرت پیشاب ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ٧٠٢ خزائن ص ٧٢٤ ج ٢٢)

”صرف دوران سر کبھی کبھی ہوتا ہے۔ تا دو زرد رنگ چادروں کی پیشگوئی میں خلل نہ آوے۔ دوسری مرض ذیابیطس تخمیناً بیس سال سے ہے جو مجھے لاحق ہے جیسا کہ اس نشان کا پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے اور ابھی تک بیس دفعہ کے قریب ہر روز پیشاب آتا ہے اور امتحان سے بول میں شکر پائی گئی۔“

(حقیقت الوحی ص ٣٦٣‘ ٣٦٤ خزائن ج ٢٢ ص ٣٧٧)

حافظہ اچھا نہیں

”حافظہ‘ اچھا نہیں‘ یاد نہیں رہا۔“

(کتاب نسیم دعوت ص ٧١ خزائن ج ١٩ ص ٤٣٩ حاشیہ

اور رسالہ ریویو آف ریلیجنز ج ٢ نمبر ٣ بابت ماہ اپریل ١٩٠٣ء ص ١٥٣ حاشیہ)

صفحہ ٤٨٧

”میرا حافظہ بہت خراب ہے۔ اگر کئی دفعہ کسی کی ملاقات ہو تب بھی بھول جاتا ہوں۔ یاد دہانی عمدہ طریقہ ہے۔ حافظہ کی یہ ابتری ہے کہ بیان نہیں کر سکتا۔“

(مکتوبات احمدیہ ج ٥ نمبر ٣ ص ٢١)

مرزا قادیانی کی بیوی کو مراق

”میری بیوی کو مراق کی بیماری ہے کبھی کبھی وہ میرے ساتھ ہوتی ہے کیونکہ طبی اصول کے مطابق اس کے لئے چہل قدمی مفید ہے۔“

(اخبار الحکم قادیان ج ٥ نمبر ٢٩ مورخہ ١٠ اگست ١٩٠١ء ص ٤ کالم ٣)

مرزا قادیانی کے بیٹے کو مراق

”حضرت خلیفۃ المسیح ثانی (مرزا محمود) نے فرمایا کہ مجھ کو بھی کبھی کبھی مراق کا دورہ ہوتا ہے۔“

(رسالہ ریویو آف ریلیجنز ج ٢٥ نمبر ٨ بابت ماہ اگست ١٩٢٦ء ص ١١)

میاں محمود احمد قادیانی کا استاد

میاں محمود احمد خلیفہ قادیان نے فرمایا : ”گو مثال تو ایک پاگل کی ہے پھر ایسے پاگل کی جو اب فوت ہو چکا ہے اور گو وہ ایک ایسے پاگل کی مثال ہے جو میرا استاد بھی ہے مگر بہر حال اس سے عشق کی حالت نہایت واضح ہو جاتی ہے ایک میرے استاد تھے جو سکول میں پڑھایا کرتے تھے۔ بعد میں وہ نبوت کے مدعی بن گئے ہیں۔ ان کا نام مولوی یار محمد تھا۔“

(اخبار الفضل ج ٢٢ ش ٧٩ قادیان مورخہ یکم جنوری ١٩٣٥ء ص ٦ کالم ٣)

نتیجہ

(١)...... مرزا قادیانی ایک دائم المریض آدمی تھا۔ (٢)...... اس کو مرض مراق تھا۔ (٣)...... ہسٹیریا کا دورہ پڑا تھا۔ (٤)...... اس کو درد سر تھا۔ (٥)......(...... (٥ Wait, sorry, I did not output the line exactly as I intended. Let me rewrite the last line properly without the thinking artifacts.

صفحہ ٤٨٨

سر تھا۔ (٦)...... کمی خواب۔ (٧)...... تشنج بول۔ (٨)...... اسہال۔ (٩)...... کثرت پیشاب۔ (١٠)...... ہاضمہ خراب تھا۔ (١١)...... حافظہ خراب تھا۔ (١٢)...... مرض ضعف دماغ۔

اگر کوئی مرزائی کہے کہ قرآن شریف میں آیا ہے کہ خدا کے نبیوں اور رسولوں کو ان کے مخالفوں نے مجنون، ساحر، شاعر کہا تھا۔ تو جواب یہ ہے کہ : ”قرآن شریف یا کسی صحیح حدیث نبوی یا موقوف روایت میں یہ نہیں آیا کہ خدا کے کسی نبی و رسول نے خود اقرار کیا ہو کہ مجھے مراق کی بیماری ہے یا باؤگولہ مرض کا دورہ پڑا تھا۔ یہ بات یاد رکھو کہ قرآن مجید میں ہے کہ خدا کے نبیوں اور رسولوں پر دشمنوں نے طعن کیا، لیکن کسی نبی اور رسول نے خود اقرار نہیں کیا۔ مرزا غلام احمد رئیس قادیان نے باوجود مدعی نبوت و رسالت ہونے کے خود تسلیم کیا ہے کہ مجھے مراق کی بیماری ہے اور حافظہ اچھا نہیں ہے اگر کوئی مرزائی کہے کہ مرض مراق اور ہسٹیریا نبوت اور رسالت کے کیوں منافی ہیں۔ تو جواب یہ ہے کہ خدا کے رسول اور نبی کا دماغ اعلیٰ ہوتا ہے حافظہ عمدہ ہوتا ہے خدا کے نبی اور رسول کو مرض جنون، ملنخولیا، مرگی سودا، مراق اور باؤگولہ (ہسٹیریا) نہیں ہو سکتا ہے نہ ہوتا ہے کیونکہ ان مرضوں میں مریض کو اپنے جذبات اور خیالات پر قابو نہیں رہتا ہے مریض کا حافظہ اچھا نہیں رہتا ہے۔ اگر کوئی مرزائی کہے کہ ہسٹیریا (باؤگولہ) تو عورتوں کو ہوا کرتا ہے تو جواب یہ ہے کہ حکیم ڈاکٹر غلام جیلانی مرحوم کی کتاب (مخزن حکمت ج دوم ص ٩٦٩) پر (زیر مرض ہسٹیریا) لکھا ہے۔ یہ مرض عموماً عورتوں کو ہوا کرتا ہے۔ اگرچہ شاذ و نادر مرد بھی اس میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

PDF 489

اختلافات مرزا

صفحہ ٤٩٠

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

حضرت مسیح سے عالم برزخ میں ان کی وفات کے بعد کیا گیا تھا نہ کہ قیامت میں کیا جائے گا۔

(ازالہ اوہام حصہ دوم ص ٤٧٨‘ ٤٧٩‘ خزائن ص ٥٠٣ ج ٣)

تردید : اس تمام آیت کے اول آخر کی آیتوں کے ساتھ یہ معنی ہیں کہ خدا قیامت کے دن حضرت عیسیٰ کو کہے گا کہ کیا تو نے ہی لوگوں کو کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اپنا معبود ٹھہرانا۔

(نصرۃ الحق ص ٤٠ خزائن ص ٥١ ج ٢١)

اول اذ موجود ہے۔ جو خاص ماضی کے واسطے آتا ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ قصہ وقت نزول آیت زمانہ ماضی کا ایک قصہ تھا۔ نہ زمانہ استقبال کا۔

(ازالہ اوہام ص ٦٠٢ خزائن ج ٣ ص ٤٢٥)

تردید : جس شخص نے کافیہ یا ہدایت النحو پڑھی ہوگی۔ وہ خوب جانتا ہے کہ ماضی مضارع کے معنوں پر بھی آجاتی ہے۔ بلکہ ایسے مقامات میں جبکہ آنے والا واقعہ متکلم کی نگاہ میں یقین الوقوع ہو مضارع کو ماضی کے صیغہ پر لاتے ہیں۔ اس امر کا یقین الوقوع ہونا ظاہر ہو اور قرآن شریف میں اس کی بہت نظیریں ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ”ونفخ فی الصور فاذاھم من الاجداث الی ربھم ینسلون“ اور جیسا کہ فرمایا ہے ”واذ قال اللہ یا عیسی بن مریم أأنت قلت للناس اتخذونی وامی الھین من دون اللہ“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ ٥ ص ٦‘ خزائن ص ١٥٩ ج ٢١)

صفحہ ٤٩١

(٣) قول مرزا : دوسرے یہ کہ آیت میں صریح طور پر بیان فرمایا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ عیسائیوں کے بگڑنے کی بابت لاعلمی ظاہر کریں گے۔ اور کہیں گے کہ مجھے تو اس وقت تک ان کے حالات کی نسبت علم تھا جبکہ میں ان میں تھا اور پھر جب مجھے وفات دی گئی تب سے میں ان کے حالات سے محض بے خبر ہوں مجھے خبر نہیں کہ میرے پیچھے کیا ہوا۔

(نصرۃ الحق ص ٤٠ خزائن ص ٥١، ٥٢ ج ٢١)

تردید : اور میرے پر کشفا ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ زہر ناک ہوا جو عیسائی قوم سے دنیا میں پھیل گئی ہے حضرت عیسیٰ کو اس کی خبر دی گئی۔ تب ان کی روح روحانی نزول کے لئے حرکت میں آئی اور اس نے جوش میں آکر اور اپنی امت کو مفسدہ پرداز پاکر زمین پر اپنا قائم مقام اور شبیہ چاہا۔ جو اس کا ہم طبع ہو کر گویا وہی ہو۔

(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٥٤ خزائن ص ٢٥٤ ج ٥)

(٤) قول مرزا : بعض الہامات مجھے ان زبانوں میں بھی ہوتے ہیں جن سے مجھے کچھ واقفیت نہیں جیسے انگریزی یا سنسکرت یا عبرانی وغیرہ جیسا کہ براہین احمدیہ میں کچھ نمونہ ان کا لکھا گیا ہے۔

(نزول المسیح ص ٥٧ خزائن ص ٤٣٥ ج ١٨)

تردید : اور یہ بالکل غیر معقول اور بیہودہ امر ہے کہ انسان کی اصل زبان تو کوئی ہو اور الہام اس کو کسی اور زبان میں ہو جن کو وہ سمجھ بھی نہیں سکتا کیونکہ اس میں تکلیف مالا یطاق ہے اور ایسے الہام سے فائدہ کیا ہوا جو انسانی سمجھ سے بالا تر ہے۔

(چشمہ معرفت ص ٢٠٩ خزائن ص ٢٨٨ ج ٢٣)

(٥) قول مرزا : اور یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ان پرندوں کا پرواز کرنا قرآن شریف سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا بلکہ ان کا ہلنا اور جنبش کرنا بھی پایہ ثبوت نہیں پہنچتا۔

(ازالہ اوہام ص ٣٠٧ حاشیہ خزائن ص ٢٥٦ ج ٣)

صفحہ ٤٩٢

تردید : اور حضرت مسیح کی چڑیاں باوجود یہ کہ معجزہ کے طور پر ان کا پرواز قرآن کریم سے ثابت ہے مگر پھر بھی مٹی کی مٹی ہی تھی اور کہیں خدا تعالیٰ نے یہ نہ فرمایا کہ وہ زندہ بھی ہو گئیں۔

(آئینہ کمالات اسلام ص ٦٨‘ خزائن ص ٦٨ ج ٥)

(٦) قول مرزا : خدا تعالیٰ اپنی ہر ایک صفت میں واحدہ لاشریک ہے

اپنی صفات الوہیت میں کسی کو شریک نہیں کرتا‘ قرآن کریم کی آیات بینات میں اس قدر اس مضمون کی تائید پائی جاتی ہے جو کسی پر مخفی نہیں.......... اور صاف فرماتا ہے کہ کوئی شخص موت اور حیات اور ضرر اور نفع کا مالک نہیں ہو سکتا ہے۔

(ازالہ اوہام ص ٣١٣‘ ٣١٤ حاشیہ ‘ خزائن ص ٢٥٩‘ ٢٦٠ ج ٣)

تردید : ”انما امرك اذا اردت شيئًا ان تقول له كن فيكون“ تو (مرزا) جس بات کا ارادہ کرتا ہے وہ تیرے حکم سے فی الفور ہو جاتی ہے۔

(حقیقت الوحی ص ١٠٥‘ خزائن ص ١٠٨ ج ٢٢‘ براہین حصہ ٥ ص ٩٥‘ خزائن ص ١٢٤ ج ٢١)

”واعطيت صفة الافناء والاحياء من الرب الفعال“ اور مجھ (مرزا قادیانی) کو فانی کرنے اور زندہ کرنے کی صفت دی گئی ہے اور یہ صفت خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھ کو ملی ہے۔

(خطبہ الہامیہ ص ٢٣‘ خزائن ص ٥٥‘ ٥٦ ج ١٦)

(٧) قول مرزا : ہاں بعض احادیث میں عیسیٰ ابن مریم کے نزول کا لفظ

پایا جاتا ہے لیکن کسی حدیث میں یہ نہیں پاؤ گے کہ اس کا نزول آسمان سے ہوگا۔

(حمامۃ البشریٰ مترجم ص ٧٧‘ خزائن ص ٢٩٧ ج ٧)

تردید : فرمایا کہ دیکھو میری بیماری کی نسبت بھی آنحضرت ﷺ نے پیشگوئی کی تھی جو اس طرح وقوع میں آئی۔ آپ نے فرمایا تھا کہ مسیح آسمان پر سے جب اترے گا۔ تو دو زرد چادریں اس نے پہنی ہوئی ہوں گی اور اس طرح مجھ کو دو بیماریاں

صفحہ ٤٩٣

ہیں ایک اوپر کے دھڑ کی اور ایک نیچے کے دھڑ کی یعنی مراق اور کثرت بول۔“ (اخبار بدر قادیاں۔ ٧ جون ١٩٠٦ء ص ٥‘ ملفوظات ج ٨ ص ٤٤٥) صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ مسیح جب آسمان سے اتریں گے۔

(ازالہ ص ٨١‘ خزائن ص ١٤٢ ج ٣)

(٨) قول مرزا : یہ ظاہر کہ حضرت مسیح ابن مریم اس امت کے شمار

میں ہی آگئے ہیں۔

(ازالہ اوہام حصہ دوم ص ٦٢٣‘ خزائن ص ٤٣٦ ج ٣)

تردید : اور جو شخص امتی کی حقیقت پر نظر غور ڈالے گا۔ وہ بیدار ہمت سمجھ لے گا کہ حضرت عیسیٰ کو امتی قرار دینا ایک کفر ہے۔ کیونکہ امتی اس کو کہتے ہیں کہ جو بغیر اتباع آنحضرت ﷺ اور بغیر اتباع قرآن شریف محض ناقص اور گمراہ اور بے دین ہو اور پھر آنحضرت ﷺ کی پیروی اور قرآن شریف کی پیروی سے اس کو ایمان اور کمال نصیب ہو۔

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ ٥ ص ١٩٢‘ خزائن ص ٣٦٢ ج ٢١)

(٩) قول مرزا : وہ (خدا) وعدہ کر چکا ہے کہ بعد آنحضرت ﷺ کے

کوئی رسول نہیں بھیجا جائے گا۔

(ازالہ اوہام حصہ ٢ ص ٥٨٦‘ خزائن ص ٤١٦ ج ٣)

تردید : سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیاں میں اپنا رسول بھیجا۔

(دافع البلاء ص ١١‘ خزائن ص ٢٣١ ج ١٨)

(١٠) قول مرزا : مشاہدہ سے ثابت ہوا ہے کہ بعض نے حال کے زمانہ

میں تین سو برس سے زیادہ عمر پائی ہے جو بطور خارق عادت ہے۔

(سرمہ چشم آریہ ص ٣٨‘ خزائن ص ٩٨ ج ٢)

اور لبید کے فضائل میں سے ایک یہ بھی تھا جو اس نے نہ صرف آنحضرت ﷺ کا زمانہ پایا بلکہ زمانہ ترقیات اسلام کا خوب دیکھا اور ٤١ھ میں ایک سو ستاون (١٥٧) برس کی عمر پا کر فوت ہوا۔

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ ٥ ص ٩‘ خزائن ص ١٦٣ ج ٢١)

صفحہ ٤٩٤

تردید :اس حدیث کے معنی یہ ہیں کہ جو شخص زمین کی مخلوقات سے ہو۔ وہ شخص سو برس کے بعد زندہ نہیں رہے گا اور ارض کی قید سے مطلب یہ ہے کہ تا آسمان کی مخلوقات اس سے باہر نکالی جائے۔ لیکن ظاہر ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم آسمان کی مخلوقات میں سے نہیں ہیں بلکہ وہ زمین کی مخلوقات اور ماعلی الارض میں ہی داخل ہیں............ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جو زمین پر پیدا ہوا اور خاک میں سے نکلا وہ کسی طرح سو برس سے زیادہ نہیں رہ سکتا۔

(ازالہ اوہام حصہ ٢ ص ٦٢٥ خزائن ص ٤٣٧ ج ٣)

(١١) قول مرزا : ماسوا اس کے وہ لوگ شہزادہ نبی کا نام یوز آسف بیان کرتے ہیں۔ یہ لفظ صریح معلوم ہوتا ہے کہ یسوع آسف کا بگڑا ہوا ہے آسف عبرانی زبان میں اس شخص کو کہتے ہیں کہ جو قوم کو تلاش کرنے والا ہو۔ چونکہ حضرت عیسیٰ ا پنی اس قوم کو تلاش کرتے کرتے جو بعض فرقہ یہودیوں میں سے گم تھے کشمیر میں پہنچے تھے۔ اس لئے انہوں نے اپنا نام یسوع آسف رکھا تھا۔

(براہین احمدیہ حصہ ٥ ص ٢٢٨ خزائن ص ٤٠٤ ج ٢١)

تردید : یہ لفظ یسوع آسف ہے یعنی یسوع غمگین آسف اندوہ اور غم کو کہتے ہیں چونکہ حضرت مسیح نہایت غمگین ہو کر اپنے وطن سے نکلے تھے اس لئے اپنے نام کے ساتھ آسف ملا لیا۔

(ست بچن حاشیہ متعلقہ ص ١٦٤، خزائن ص ٣٠٦ ج ١٠)

نوٹ : لغت کی کتابوں مثلاً لسان العرب، قاموس، تاج العروس، منتہی الارب مفردات امام راغب مجمع البحار میں لفظ آسف کے معنی یہ نہیں لکھے ہیں کہ قوم کو تلاش کرنے والا بلکہ اس کے معنی افسوس اندوہ غم و غصہ کے لکھے ہیں۔

(١٢) قول مرزا : یہ بھی یاد رہے کہ قرآن شریف میں بلکہ توریت کے

صفحہ ٤٩٥

بعض صحیفوں میں بھی یہ خبر موجود ہے کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گی۔ بلکہ حضرت مسیح نے بھی انجیل میں خبر دی ہے اور ممکن نہیں کہ نبیوں کی پیشگوئی ٹل جائے۔

(کشتی نوح ص ٥، خزائن ص ٥ ج ١٩)

تردید: ہائے کس کے آگے یہ ماتم لے جائیں کہ حضرت عیسیٰ کی تین پیشگوئیاں صاف طور پر جھوٹی نکلیں اور آج کون زمین پر ہے جو اس عقدہ کو حل کر سکے۔

(اعجاز احمدی ص ١٤ خزائن ص ١٢١ ج ١٩)

(١٣) قول مرزا: اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ مسیح کا مثیل بھی نبی چاہئے کیونکہ مسیح نبی تھا۔ تو اس کا اول جواب تو یہی ہے کہ آنے والے مسیح کیلئے ہمارے سید و مولیٰ نے نبوت شرط نہیں ٹھہرائی۔“

(توضیح مرام ص ٩ خزائن ص ٥٩ ج ٣)

تردید: میں مسیح موعود ہوں۔ اور وہی ہوں جس کا نام سردار انبیاء نے نبی اللہ رکھا ہے اور اس کو سلام کہا ہے۔

(نزول المسیح ص ٤٨ خزائن ص ٤٢٧ ج ١٨)

(١٤) قول مرزا: پھر حضرت ابن مریم دجال کی تلاش میں لگیں گے اور لد کے دروازہ پر جو بیت المقدس کے دیہات میں سے ایک گاؤں ہے اس کو جا پکڑیں گے اور قتل کر ڈالیں گے۔

(ازالہ اوہام ص ٢٢٠، ٢٢١ خزائن ص ٢٠٩ ج ٣)

تردید: پھر آخر (دجال) باب لد پر قتل کیا جائے گا لد ان لوگوں کو کہتے ہیں جو بے جا جھگڑنے والے ہوں۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جب دجال کے بے جا جھگڑے کمال تک پہنچ جائیں گے تب مسیح موعود ظہور کرے گا اور اس کے تمام جھگڑو نکا خاتمہ کر دے گا۔

(ازالہ اوہام ص ٧٣٠ خزائن ص ٤٩٢ ج ٣)

صفحہ ٤٩٦

(١٥) قول مرزا: آخری زمانہ میں دجال معہود کا آنا سراسر غلط ہے۔

(ازالہ اوہام ص ٧٢٢ خزائن ص ٢٢٠ ج ٣)

تردید : دجال معہود یہی پادریوں اور عیسائی متکلموں کا گروہ ہے جس نے زمین کو اپنے ساحرانہ کاموں سے تہہ و بالا کر دیا ہے۔

(ازالہ اوہام ص ٧٢٢ خزائن ص ٤٨٨ ج ٣)

(١٦) قول مرزا : ”له خسف القمرالمنير وان لى خسف

القمران المشرقان اتنکر“ اس کے لئے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا۔ اب کیا تو انکار کرے گا۔

(اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ص ١٨٣ ج ١٩)

نوٹ : قرآن مجید اور کسی صحیح حدیث میں یہ نہیں آیا ہے کہ حضور ﷺ کے لئے چاند کے گرہن کا نشان ظاہر ہوا تھا۔ بلکہ سورۃ القمر کی آیت : ”اقتربت الساعة وانشق القمر“ اور (صحیح بخاری ج دوم ص ٧٢٢‘ ٧٢١، صحیح مسلم، سنن ترمذی، مسند احمد کی) صحیح روایتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ چاند دو ٹکڑے ہو گیا تھا۔

تردید : قرآن شریف میں مذکور ہے کہ آنحضرت ﷺ کی انگلی کے اشارہ سے چاند دو ٹکڑے ہو گیا تھا اور کفار نے اس معجزہ کو دیکھا۔

(چشمہ معرفت ص ٤١، خزائن ص ١١ ج ٢٣)

(١٧) قول مرزا : اور یہ کہنا کہ وہ کتابیں محرف مبدل ہیں۔ ان کا بیان

قابل اعتبار نہیں، ایسی بات وہی کہے گا جو خود قرآن شریف سے بے خبر ہے۔

(چشمہ معرفت ص ٧٥ حاشیہ، خزائن ص ٨٣ ج ٢٣)

تردید : سچ تو یہ بات ہے کہ وہ کتابیں آنحضرت ﷺ کے زمانہ تک روی کی

صفحہ ٤٩٧

طرح ہو چکی تھیں اور بہت جھوٹ ان میں ملائے گئے تھے۔ جیسا کہ کئی جگہ قرآن شریف میں فرمایا گیا ہے کہ وہ کتابیں محرف و مبدل ہیں اور اپنی اصلیت پر قائم نہیں رہیں۔ چنانچہ اس واقعہ پر اس زمانہ میں بڑے بڑے محقق انگریزوں نے بھی شہادت دی ہے پس جبکہ بائبل محرف و مبدل ہو چکی تھی......... الخ

(چشمہ معرفت ص ٢٥٥‘ خزائن ص ٢٦٦ ج ٢٣)

(١٨) قول مرزا :بڑے ہی تعجب اور افسوس کا مقام ہے کہ جب یہ لوگ مانتے ہیں کہ یہ امت خیرالامم ہے تو کیا ایسی ہی امت خیر الامم ہوا کرتی ہے جس میں کسی کو مخاطبات اور مکالمات الہیہ کا شرف حاصل نہ ہو حضرت موسیٰ کی اتباع سے ان کی امت میں ہزاروں نبی ہوئے لیکن اُس امت میں ایک بھی ان کا مثیل نہ ہوا تو پھر یہ امت کیونکر خیر الامم ہوئی۔

(الحکم مورخہ ٤ نومبر ١٩٠٢ء ص ٥)

تردید :اور بنی اسرائیل میں اگرچہ بہت نبی آئے۔ مگر ان کی نبوت موسیٰ کی پیروی کا نتیجہ نہ تھا۔ بلکہ وہ نبوتیں براہ راست خدا کی ایک موہبت تھیں۔ حضرت موسیٰ کی پیروی کا اس میں ایک ذرہ کچھ دخل نہ تھا۔

(حقیقت الوحی ص ٩٧ حاشیہ‘ خزائن ص ١٠٠ج ٢٢)

(١٩) قول مرزا :پس ان دونوں خرابیوں سے محفوظ رکھنے کے لئے خدا تعالیٰ نے مکالمہ مخاطبہ کاملہ تامہ مطہرہ مقدسہ کا شرف ایسے بعض افراد کو عطا کیا جو فنا فی الرسول کی حالت تک اتم درجہ تک پہنچ گئے اور کوئی حجاب درمیان نہ رہا اور امتی ہونے کا مفہوم اور پیروی کے معنی اتم اور اکمل درجہ پر پائے گئے......... پس اس طرح پر بعض افراد نے باوجود امتی ہونے کے نبی ہونے کا خطاب پایا کیونکہ ایسی صورت کی نبوت‘ نبوت محمدیہ سے الگ نہیں۔

(الوصیت ص ١١‘ خزائن ص ٣١٢ ج ٢٠)

تردید : پس اسی وجہ سے نبی کا نام پانے کیلئے میں ہی مخصوص کیا گیا۔ اور

صفحہ ٤٩٨

دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں کیونکہ کثرت وحی اور کثرت امور غیبیہ اس میں شرط ہے اور وہ شرط ان میں پائی نہیں جاتی۔ (حقیقت الوحی ص ٣٩١ خلاصہ، خزائن ص ٤٠٦ ج ٢٢)

لازم غیر منفک ہوتا۔ اور مسیح کے سلسلہ ظہور میں داخل ہوتا تو دو بزرگوار شیخ اور امام حدیث کے یعنی حضرت محمد اسماعیل صاحب صحیح بخاری اور حضرت امام مسلم صاحب صحیح مسلم اپنی صحیحوں سے اس واقعہ کو خارج نہ رکھتے لیکن جس حالت میں انہوں نے اس زمانہ کا تمام نقشہ کھینچ کر آگے رکھ دیا۔ اور حصر کے طور پر دعویٰ کر کے بتلا دیا کہ فلاں فلاں امر کا اس وقت ظہور ہو گا لیکن امام محمد مہدی کا نام تک بھی تو نہیں لیا۔ پس اس سے سمجھا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنی صحیح اور کامل تحقیقات کی رو سے ان حدیثوں کو صحیح نہیں سمجھا۔ جو مسیح کے آنے کے ساتھ مہدی کا آنا لازم غیر منفک ٹھہرا رہی ہیں۔

(ازالہ اوہام حصہ دوم ص ٥١٨، خزائن ص ٤٧٨ ج ٣)

تردید : اگر حدیث کے بیان پر اعتبار ہے تو پہلے ان حدیثوں پر عمل کرنا چاہئے جو صحت اور وثوق میں اس حدیث پر کئی درجے بڑھی ہوئی ہیں۔ مثلاً صحیح بخاری کی وہ حدیثیں جن میں آخری زمانہ میں بعض خلیفوں کی نسبت خبر دی گئی ہے خاص کر وہ خلیفہ جس کی نسبت بخاری میں لکھا ہے کہ آسمان سے اس کی نسبت آواز آئے گی کہ ہذا خلیفتہ اللہ المہدی۔ اب سوچو یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے۔ جو ایسی کتاب میں درج ہے۔ جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے۔ (شہادت القرآن ص ٤٠، خزائن ص ٣٤٣ ج ٦)

قرآن شریف میں کچھ خبر نہیں دی کہ وہ کون تھا۔ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ حاشیہ، خزائن ص ٢٩٣ ج ١١)

تردید : یہ قرآن شریف کا مسیح اور اس کی والدہ پر احسان ہے کہ کروڑہا

صفحہ ٤٩٩

انسانوں کی یسوع کی ولادت کے بارے میں زبان بند کردی اور ان کو تعلیم دی کہ تم یہی کہو کہ بے باپ پیدا ہوا۔

(ریویو ج ١ نمبر ٤ ص ١٥٩)

(٢٢) قول مرزا : عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں مگر حق بات یہ ہے کہ آپ (یعنی یسوع) سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦ حاشیہ‘ خزائن ص ٢٩٠ ج ١١)

تردید : اور سچ صرف اسی قدر ہے کہ یسوع نے بھی بعض معجزات دکھلائے جیسا کہ نبی دکھلاتے تھے۔

(ریویو ج ١ نمبر ٦ ص ٣٤٢)

(٢٣) قول مرزا : انبیاء سے جو عجائبات اس قسم کے ظاہر ہوئے ہیں کہ کسی نے سانپ بنا کر دکھلادیا اور کسی نے مردے کو زندہ کر کے دکھلادیا۔ یہ اس قسم کی دست بازیوں سے منزہ ہیں جو شعبدہ باز لوگ کیا کرتے ہیں۔

(براہین احمدیہ ص ٤٣٣‘ خزائن ص ٥١٨‘ ٥١٩ ج١)

تردید : یہ سچ ہے کہ قرآن کریم کی سولہ آیتوں سے کھلے کھلے طور پر یہی ظاہر ہوتا ہے کہ جو شخص فوت ہو جائے پھر ہرگز دنیا میں نہیں آتا اور ایسا ہی حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے۔

(ازالہ اوہام ص ٩٤٢ حاشیہ‘ خزائن ص ٦١٩‘ ٦٢٠ ج ٣)

(٢٤) قول مرزا : آنحضرت ﷺ نے خود فرمایا ہے کہ جو مہدی آنے والا ہے اس کے باپ کا نام میرے باپ کا نام اور اس کی ماں کا نام میری ماں کا نام ہو گا اور میرے خلق پر ہوگا۔ اس سے آنحضرت ﷺ کا یہی مطلب تھا کہ وہ میرا مظہر ہو گا۔

(الحکم ج ٥ نمبر ٢٧ ١٧ء ١٩٠١ء ص ٧‘ ملفوظات ص ٣١٥ ج ٢)

تردید : پھر مہدی کی حدیثوں کا یہ حال ہے کہ کوئی بھی جرح سے خالی نہیں

صفحہ ٥٠٠

اور کسی کو صحیح حدیث نہیں کہہ سکتے۔

(حقیقت الوحی ص ٢٠٨ حاشیہ، خزائن ص ٢٢١ ج ٢٢)

(٢٥) قول مرزا : اور واقعی یہ سچ اور بالکل سچ ہے کہ امت کے اجماع

کو پیشگوئیوں کے امور سے کچھ تعلق نہیں۔

(ازالہ اوہام ص ٤٠٣، خزائن ص ٣٠٨ ج ٣)

تردید : ہاں تیرہویں صدی کے اختتام پر مسیح موعود کا آنا ایک اجماعی عقیدہ معلوم ہوتا ہے۔

(ازالہ اوہام ص ١٨٥، خزائن ص ١٨٩ ج ٣)

(٢٦) قول مرزا : اگر خدا تعالیٰ کو ابتداء خلق اللہ کا منظور نہ ہوتا اور ہر طرح سے کھلے کھلے طور پر پیشگوئی کا بیان کرنا، ارادہ الٰہی ہوتا، تو پھر اس طرح پر بیان کرنا چاہئے تھا کہ اے موسیٰ میں تیرے بعد بائیسویں صدی میں ملک عرب میں نبی اسماعیل میں سے ایک نبی پیدا کروں گا۔ جس کا نام محمد ﷺ ہوگا۔“

(ازالہ اوہام ص ٦٨٧، خزائن ص ٤٦١ ج ٣)

”وہ نبی جو ہمارے نبی ﷺ سے چھ سو سال پہلے گزرا ہے وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں اور کوئی نہیں۔“

(راز حقیقت ص ١٥ حاشیہ خزائن ص ٢١٧ ج ١٤)

نوٹ: بقول مرزا قادیانی کے آنحضرت ﷺ، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد بائیسویں صدی میں ہوئے ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام آنحضرت ﷺ سے چھ سو برس پہلے ہوئے ہیں۔ پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد سولہویں صدی میں ہوئے ہیں۔

تردید : مسیح ابن مریم موسیٰ کے بعد چودھویں صدی میں ظاہر ہوا تھا۔

(کشتی نوح ص ١٣، خزائن ص ١٤ ج ١٩)

(٢٧) قول مرزا : یعنی کسی نبی کا ہم نے ایسا جسم نہیں بنایا جو کھانے کا

صفحہ ٥٠١

محتاج نہ ہو۔ اور وہ سب مر گئے کوئی ان میں سے باقی نہیں۔

(ازالہ اوہام ص ٤٢٥ خزائن ص ٢٦٥ ج ٣)

تردید : یہ وہی موسیٰ مرد خدا ہے جس کی نسبت قرآن میں اشارہ ہے کہ وہ زندہ ہے اور ہم پر فرض ہو گیا کہ ہم اس بات پر ایمان لائیں کہ وہ زندہ آسمان میں موجود ہے اور مردوں میں سے نہیں۔

(نور الحق ص ٥٠ خزائن ص ٦٩ ج ٨)

(٢٨) قول مرزا : اور ساتھ اس کے یہ بھی خیال ہے کہ کچھ حصہ اپنی عمر کا افغانستان میں بھی رہے ہوں گے۔ اور کچھ بعید نہیں کہ وہاں شادی بھی کی ہو۔ افغانوں میں ایک قوم عیسیٰ خیل کہلاتی ہے۔ کیا تعجب ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ کی ہی اولاد ہوں۔

(مسیح ہندوستان میں ص ٦٨ خزائن ص ٧٠ ج ١٥)

تردید : اور ظاہر ہے کہ دنیاوی رشتوں کے لحاظ سے حضرت عیسیٰ کی کوئی آل نہیں تھی۔ (تریاق القلوب ص ١٥٦ خزائن ص ٣٦٣ ج ١٥) اور کوئی اس کی بیوی نہ تھی۔

(ریویو ج ١ نمبر ٣ ص ١٢٢)

”وبودن عیسیٰ بے پدر بے فرزند آں دلیلے بریں واقعہ بود
بدلالت قطعیہ و اشارت بود سوئے قطع ایں سلسلہ“

(مواہب الرحمٰن ص ٧٦ خزائن ص ٢٩٥ ج ١٩)

(٢٩) قول مرزا : اور پھر قرآن کہتا ہے کہ مسیح کو جو کچھ بزرگی ملی وہ بوجہ تابعداری حضرت محمد ﷺ کی ملی کیونکہ مسیح علیہ السلام کو آنحضرت ﷺ کے وجود کی خبر دی گئی اور مسیح آنجناب پر ایمان لایا۔

(الحکم مورخہ ٣٠ جون ١٩٠١ء ص ٣ کالم ٢ ج ٥ نمبر ٢٤)

تردید : حضرت مسیح کی حقیقت نبوت یہ ہے کہ وہ براہ راست بغیر اتباع آنحضرت ﷺ کے ان کو حاصل ہے۔

(اخبار قادیان مورخہ ١٨ رمضان ١٣٢٠ھ ص ٢٨)

صفحہ ٥٠٢

(کرامات الصادقین ص ٨ خزائن ص ٥٠ ج ٧)

تردید : وہ (خدا) اپنے خاص بندوں کیلئے اپنا قانون بھی بدل لیتا ہے۔ مگر وہ بدلنا بھی اس کے قانون میں ہی داخل ہے۔

(چشمہ معرفت ص ٩٤‘ خزائن ص ١٠٢ ج ٢٣)

تضرعات کئے۔ وہ انجیل سے ظاہر ہیں تمام رات حضرت مسیح جاگتے رہے اور جیسے کسی کی جان ٹوٹتی ہے غم و اندوہ سے ایسی حالت ان پر طاری تھی۔ وہ ساری رات رو رو کے دعا کرتے رہے کہ وہ بلا کا پیالہ کہ جو ان کے لئے مقدر تھا ٹل جائے باوجود یہ کہ اس قدر گریہ وزاری کے پھر بھی دعا منظور نہ ہوئی۔ کیونکہ ابتلاء کے وقت کی دعا منظور نہیں ہوا کرتی۔

(تبلیغ رسالت ج ١ ص ١٣٦‘ مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٥٧١ حاشیہ)

تردید : اور منجملہ ان شہادتوں کے جو حضرت مسیح کے صلیب سے محفوظ رہنے کے بارے میں ہمیں انجیل سے ملتی ہیں وہ شہادت ہے جو انجیل متی باب ٢٦ میں یعنی آیت ٣٦ تا ٤٦ تک مرقوم ہے۔ جس میں بیان کیا گیا ہے کہ حضرت مسیح گرفتار کئے جانے کا الہام پا کر تمام رات جناب الٰہی میں رو رو کر اور سجدے کرتے ہوئے دعا کرتے رہے اور ضرور تھا کہ ایسی تضرع کی دعا جس کے لئے مسیح کو بہت لمبا وقت دیا گیا تھا قبول کی جاتی کیونکہ مقبول کا سوال جو بیقراری کے وقت کا سوال ہو ہر گز رد نہیں ہوتا ........... لہٰذا خدا تعالیٰ کی رحمت کا تقاضا یہی تھا کہ اس دعا کو قبول کرتا۔ یقیناً سمجھو کہ وہ دعا جو گتسیمینی نام مقام میں کی گئی تھی۔ ضرور قبول ہو گئی تھی۔

(مسیح ہندوستان میں ص ٢٩‘ ٢٨ خزائن ص ٣١‘ ٣٠ ج ١٥)

صفحہ ٥٠٣

کہ جب میں چھ سات سال کا تھا تو ایک فارسی خوان معلم میرے لئے نوکر رکھا گیا جنہوں نے قرآن شریف اور چند فارسی کتابیں مجھے پڑھائیں۔ اور اس بزرگ کا نام فضل الٰہی تھا۔

(کتاب البریہ ص ١٤٩‘ خزائن ص ١٨٠ ج ١٣)

تردید : سو میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میرا یہی حال ہے کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ میں نے کسی انسان سے قرآن یا حدیث یا تفسیر کا ایک سبق بھی پڑھا ہو۔

(ایام الصلح ص ١٤٧‘ خزائن ص ٣٩٤ ج ١٤)

(٣٣) قول مرزا : کیا تو نہیں جانتا کہ اس محسن رب نے ہمارے نبی کا نام خاتم الانبیاء رکھا ہے اور کسی کو مستثنیٰ نہیں کیا اور آنحضرت ﷺ نے طالبوں کیلئے بیان واضح سے اس کی تفسیر یہ کی ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں اور اگر ہم آنحضرت کے بعد کسی نبی کا ظہور جائز رکھیں تو لازم آتا ہے کہ راہ نبوت کے دروازہ کا افتتاح بھی بند ہونے کے بعد جائز خیال کریں اور یہ باطل ہے جیسا کہ مسلمانوں پر پوشیدہ نہیں آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی کیونکر آوے حالانکہ آپ کی وفات کے بعد وحی نبوت منقطع ہو گئی ہے اور آپکے ساتھ نبیوں کو ختم کر دیا ہے۔

(حمامۃ البشریٰ ترجمہ ص ٦٦‘ ٦٩‘ خزائن ص ٢٠٠ ج ٧)

تردید : اب بجز محمدی نبوت کے سب نبوتیں بند ہیں۔ شریعت والا نبی کوئی نہیں آسکتا اور بغیر شریعت کے نبی ہو سکتا ہے۔

(تجلیات الٰہیہ ص ٢٥ خزائن ص ٤١٢ ج ٢٠)

(٣٤) قول مرزا : مسیح ایک بیکس کی طرح دنیا میں چند روزہ زندگی بسر کر کے چلا گیا اور یہودیوں نے اس کی ذلت کیلئے بہت سا غلو کیا۔

(ازالہ اوہام ص ٣٨٧‘ خزائن ص ٣٠٠ ج ٣)

تردید : اور احادیث میں معتبر روایتوں سے ثابت ہے کہ ہمارے نبی ﷺ

صفحہ ٥٠٤

نے فرمایا مسیح کی عمر ایک سو پچیس برس کی ہوئی ہے۔

(مسیح ہندوستان میں ص ٥٣ خزائن ص ٥٥ ج ١٥)

”مسیح کو خدا نے ایسی برکت دی ہے کہ جہاں جائے وہ مبارک ہو گا سو ان سکھوں سے ثابت ہوتا ہے کہ اس نے خدا سے بڑی برکت پائی اور وہ فوت نہ ہوا جب تک اس کو ایک شاہانہ عزت نہ دی گئی۔

(مسیح ہندوستان میں ص ٥٢‘ خزائن ص ٥٤ ج ١٥)

(٣٥) قول مرزا : مرزا قادیانی کے مرید سید مولوی محمد سعید صاحب طرابُلسی کے الفاظ مرزا قادیانی کی کتاب (اتمام الحجۃ ص ٢٠‘ ٢١ خزائن ص ٢٩٩ ج ٨) کے حاشیہ پر یوں ہیں : ”اور حضرت عیسیٰ کی قبر بلدہ قدس میں ہے اور اب تک موجود ہے اور اس پر ایک گرجا بنا ہوا ہے اور وہ گرجا تمام گرجوں سے بڑا ہے اس کے اندر حضرت عیسیٰ کی قبر ہے اور اسی گرجا میں حضرت مریم صدیقہ کی قبر ہے۔“

تردید : خدا کا کلام قرآن شریف گواہی دیتا ہے کہ وہ مر گیا اور اس کی قبر سری نگر کشمیر میں ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ”وَآوَیْنٰھُمَا اِلٰی رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّ مَعِیْنٍ“ یعنی ہم نے عیسیٰ اور اس کی ماں کو یہودیوں کے ہاتھ سے بچا کر ایک ایسے پہاڑ میں پہنچا دیا جو آرام اور خوشحالی کی جگہ تھی اور مصفّٰی پانی کے چشمے اس میں جاری تھے سو وہی کشمیر ہے۔ اسی وجہ سے حضرت مریم کی قبر زمین شام میں کسی کو معلوم نہیں۔

(حقیقۃ الوحی ص ١٠١ حاشیہ‘ خزائن ص ١٠٤ ج ٢٢)

(٣٦) قول مرزا : یہودیوں اور عیسائیوں اور مسلمانوں پر باعث ان کے کسی پوشیدہ گناہ کے یہ ابتلا آیا کہ جن راہوں سے وہ اپنے موعود نبیوں کا انتظار کرتے رہے ان راہوں سے وہ نبی نہیں آئے بلکہ چور کی طرح کسی اور راہ سے آگئے۔

(نزول المسیح ص ٣٥ حاشیہ‘ خزائن ص ٤١٣ ج ١٨)

صفحہ ٥٠٥

تردید: اسلام میں کسی نبی کی تحقیر کفر ہے اور سب پر ایمان لانا فرض ہے

پس مسلمانوں کو یہی مشکلات پیش آتی ہیں کہ وہ دونوں طرف ان کے پیارے ہوتے ہیں بہر حال جاہلوں کے مقابل پر صبر کرنا بہتر ہے۔ کیونکہ کسی نبی کی اشارہ سے بھی تحقیر کرنا سخت معصیت ہے اور موجب نزول غضب الٰہی۔

(چشمہ معرفت حصہ دوم ص ١٨ خزائن ص ٣٩٠ ج ٢٣)

PDF 506
صفحہ ٥٠٧

سلسلہ بہائیہ

و

فرقہ مرزائیہ

صفحہ ٥٠٨

بسم الله الرحمن الرحیم

ذیل میں ایک نقشہ کے ذریعہ اس امر کو ثابت کیا جاتا ہے کہ مرزائی مذہب، بہائی مذہب کی نقل ہے۔ غور سے پڑھئے:

١...... بہائی: بہائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے قائل ہیں۔

(الفضل ٨ فروری ١٩٢٣ء ص ٧)

مرزائی: حضرت مسیح ناصری آسمان کی طرف نہیں اٹھائے گئے بلکہ وہ فوت ہو چکے ہیں۔

(تبلیغ ہدایت ص ٣٨ ط ٤)

٢...... بہائی: نازل ہونے والا اسرائیلی نہیں ہو گا بلکہ امت محمدیہ میں سے ہو گا۔

(رسالہ تنقید صحیح ص ١٢ از شمس سہسوانی مرزائی)

مرزائی: جس مسیح کا وعدہ دیا گیا ہے وہ اسی امت میں سے ہو گا۔

(تبلیغ ہدایت ص ٥٩‘ ط ٤)

٣....... بہائی: حضرت سید علی محمد باب کتاب ”بیان“ کے چوتھے باب تیسرے واحد میں لکھتے ہیں کہ میں مثل یحییٰ کے ہوں۔ اور من یظھر الله جل ذکرہ مثل حضرت عیسیٰ کے ہیں۔

(حضرت بہاء اللہ کی تعلیمات ص ٧)

مرزائی: مجھے (مرزا قادیانی) مسیح ابن مریم ہونے کا دعوے نہیں اور نہ میں تناسخ کا قائل ہوں بلکہ مجھے تو فقط مثیل مسیح ہونے کا دعوے ہے۔

(عسل مصفے حصہ ٢ ص ٥٢٨)

٤...... بہائی: حضرت بہاء اللہ نے مسیح موعود ہونے کا دعوے

صفحہ ٥٠٩

١٢٦٩ھ میں کیا اور آپ ١٣٠٩ھ تک زندہ رہے۔

(الحکم ١٤ اکتوبر ١٩٠٢ء ص ٤)

مرزائی : ماہ جمادی الثانی ١٣٠٨ھ میں حضرت مرزا صاحب نے بحکم الٰہی ظاہر کیا۔ کہ قرآن وحدیث میں جس مسیح کے آخری زمانہ میں آنے کا وعدہ دیا گیا ہے وہ میں ہوں۔

(عسل مصفے حصہ ٢ ص ١٣٨)

ہوتی ہے

(کتاب الفرائد ص ١٧ اردو، الحکم ١٠، ١٧ نومبر ١٩٠٣ء ص ٩، الدعیہ محبوب ص ٢٨، الحکم ٢٤ اکتوبر ١٩٠٢ء ص ٤)

مرزائی : مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ تھا کہ مجھ پر خدا کی وحی نازل ہوتی ہے۔

(اربعین نمبر ٤ ص ٦ خزائن ص ٤٣٥ ج ١٧۔ تحفہ گولڑویہ ص ٢٣، ٣٠ خزائن ص ١١٦ ج ١٧)

رہے آپ اپنے دعویٰ پر اخیر دم تک قائم رہے۔

(الحکم ٢٤ اکتوبر ١٩٠٣ء ص ٤، الحکم ١٠، ١٧ نومبر ١٩٠٣ء ص ٩، کتاب الفرائد ص ١٨ اردو)

مرزائی : اس (مرزا کے) دعویٰ اور وحی والہام پر ٢٥ سال سے زیادہ گزر چکے ہیں۔ جو آنحضرت ﷺ کے ایام بعثت سے بھی زیادہ ہیں کیونکہ وہ ٢٣ برس کے تھے اور یہ ٣٠ سال کے قریب۔

(حقیقت الوحی ص ٢٠٦ خزائن ص ٢١٤ ج ٢٢)

بندہ بافترا بجلالت عظمت نسبت دہد حق جل جلالہ بہمیں قدرت اورا اخذ فرماید و ہلاک کند و مہلت ندہد، اورا و کلامش را زائل نمائد چناں کہ در سورۃ مبارکہ حاقہ فرمودہ است ولو تقول علینا بعض الاقاویل لاخذنا منہ بالیمین ثم لقطعنا منہ الوتین، الایہ و مقصود

صفحہ ٥١٠

مراد جل جلاله ازیں آیۃ مبارکہ این است که اگر کلامے رابما بندد بہمیں قدرت او را اخذ فرمائیم و عرق حیوٰۃ اورا اقطع نمائیم واحدے از شما مانع نتواند شد و نفسے حاجز ایں سخط نتواند گشت وایں آیه صریح است براینکه ہرگز خداوند تبارک و تعالیٰ مہلت نخواہند داد نفسے راکه کلامے را بکذب باو نسبت دہد و کتابے راکه خود تصنیف نموده باشد بنام او و وحی آسمانی نہد و آیات الٰہیہ خواند“

(کتاب الفرائد ص ١٨ اردو فارسی ص ٢٤‘ ٢٥)

مرزائی: مفتری علی اللہ کبھی مظفر و منصور نہیں ہوتا بلکہ خدا تعالیٰ اس کو بہت جلد بیخ و بنیاد سے اکھاڑ کر صفحہ دنیا سے اس کا نام و نشان مٹا دیتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ”ولوتقول علینا بعض الاقاویل لاخذنا منه بالیمین ثم لقطعنا منه الوتین“ (سورة الحاقہ) اور اگر تو ہماری طرف کوئی ایسی بات منسوب کرے۔ جو ہم نے نہیں بتائی تو ہم تجھ کو اس جرم میں ماخوذ کر کے تیری رگ جان کاٹ دیں گے۔

(عسل مصفےٰ حصہ ٢ ص ١٩٩)

ص ٢٢) حضرت بہاء اللہ کے مرید جہاد کے قائل نہیں ہیں اور نہ ہی وہ کسی غازی مہدی پر ایمان رکھتے ہیں۔

(الحکم ٣١ مئی ١٩٠٥ء ص ٥‘ الفضل ١٠ اکتوبر ١٩٢١ء تجلیات اردو ص ٧٦)

مرزائی:

اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال
دین کیلئے حرام ہے اب جنگ اور قتال
صفحہ ٥١١
اب آ گیا مسیح جو دین کا امام ہے
دین کے تمام جنگوں کا اب اختتام ہے

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٣٩ خزائن ص ٧ ج ١٧)

٩......بہائی : صحیح بخاری کی حدیث میں وارد ہے کہ مسیح علیہ السلام جہاد کو موقوف کر دیں گے : ”ويضع الحرب اوذارها...............الخ“ اور جہاد شرع محمدی میں جائز ہے۔ پس ایک جائز چیز کو اٹھا دینا سوائے حاکم با اختیار کے کسی کا کام نہیں ہے۔

(عمدہ التصح ص ٨٨)

مرزائی: امام بخاری نے حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت کی ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا......اور مسیح جنگ کو اٹھا دے گا۔

(عسل مصفے حصہ ٣ ص ١٥٠‘١٤٩)

١٠......بہائی : ”لوکان الایمان معلقا “ والی حدیث صاف طور پر بہاء اللہ کے متعلق ہے کیونکہ وہ صاف طور پر فارسی تھے۔ (اخبار الفضل ٢٥‘٢٦ اپریل ١٩٣٢ء ص ٦‘٧) بہاء اللہ تہران کے قریب ”نور“ نامی گاؤں میں پیدا ہوئے تھے اور ایران کے کیانی بادشاہوں کی یادگار ایک خاندان ”نور“ میں آباد تھا۔

(حضرت بہاء اللہ کی تعلیمات ص ١٧)

مرزائی: جب الہام الٰہی نے حضرت مرزا صاحب کو واضح کر دیا کہ تم فارسی الاصل ہو......واقعی حضرت مسیح موعود حدیث : ”لوکان الایمان معلقاً بالثریا لناله رجلا من فارس“ کے عین مصداق ہیں۔

(عسل مصفے حصہ ٢ ص ٤٦)

١١......بہائی : حضرت بہاء اللہ کے مریدوں میں سے کئی اپنے عقائد کی وجہ سے بے رحمی سے شہید کئے گئے ہیں۔

(الحکم ٣١ مئی ١٩٠٥ء ص ٥)

مرزائی: ہندوستان سے باہر احمدیوں کو جان کی قربانی کے مواقع بھی پیش

صفحہ ٥١٢

آئے حضرت مرزا صاحب کے حلقہ بگوشوں نے کس صبر بلکہ خوشی سے اس امتحان کو ...... قبول کیا صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب اور ان کے شاگرد مولوی عبدالرحمان خان کو امیر کے حکم سے قتل کیا گیا۔

(تبلیغ ہدایت ص ٢٦١ تا ٢٦٣)

انتقال کیا۔ ایران، خراسان، ہندوستان، برما، عراق، ترکی، شام، مصر میں بہائی موجود تھے۔ علاوہ ان ملکوں کے یورپ اور امریکہ کے تمام ملکوں میں بہائی موجود تھے اور آج چین و جاپان جنوبی افریقہ و آسٹریلیا بھی بچے ہوئے نہیں ہیں۔

(حضرت بہاء اللہ کی تعلیمات ص ٦١)

مرزائی : اب دنیا کے ہر ایک حصہ میں احمدی موجود ہیں۔ مثلاً افریقہ میں امریکہ میں انگلستان میں مصر میں ماریشس میں چین میں آسٹریلیا میں افغانستان میں غرض ہر ایک جگہ پر احمدی موجود ہیں۔

(الفضل ٨ فروری ١٩٣٣ء ص ٨ کالم ٣)

کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور وہ جو اس کے پاس سے آیا ہے۔ اُس کا پوشیدہ بھید اور رمز مخزون لوگوں کے لئے کتاب اعظم اور اہل عالم کے لئے آسمان کرم ہے۔ مخلوق کے لئے وہی اس کی بڑی نشانی اور دنیا کی چیزوں میں اعلیٰ درجہ کی صفتوں کا مطلع ہے۔ اس سے وہ چیز ظاہر ہوئی جو ازل میں مخفی اور دیکھنے والوں کی نظر سے پوشیدہ تھی۔ وہ وہی شخص ہے جس کے ظہور کی خدا تعالیٰ نے اپنی اگلی پچھلی سب کتابوں میں بشارت دی ہے۔

(ترجمہ الواح مبارکہ تجلیات ص ١٢ اردو)

مرزائی : جناب مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابیں اور ان کے مریدوں کی تحریریں پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا دعویٰ تھا کہ آپ وہ شخص ہیں جس کے

صفحہ ٥١٣

ظہور کی خدا تعالیٰ نے اپنی اگلی پچھلی سب کتابوں میں بشارت دی ہے۔ مثلاً کہا گیا ہے کہ آپ مسیح موعود‘ مہدی‘ رجل فارس‘ حارث‘ بدھ‘ کرشن اوتار‘ رام‘ زردشت کے وعدے کے مصداق ہیں۔

(انوار خلافت ص ١٦٦ تا ١٨٠ خلاصہ الفضل مورخہ ٢٢ اپریل ١٩٢٤ء ص ٥)

١٤...... بہائی: حضرت بہاء اللہ نے فرمایا ہے کہ ان کے مخالفوں میں سے بعض کہتے ہیں کہ یہ شخص خدائی کا دعویٰ کرتا ہے۔

(ترجمہ تجلیات ص ٣)

مرزائی: حضرت مرزا غلام احمد قادیانی لکھتے ہیں کہ آپ کے مخالف مولویوں نے شور مچایا ہے کہ اس شخص نے خدائی کا دعویٰ کیا۔

(چشمہ مسیحی ص ٤٤ حاشیہ‘ خزائن ج ٧ ص ٣٦٠)

١٥...... بہائی: علماء احمدیہ میں سے قاضی ظہور الدین صاحب اکمل نے (تشحیذ الاذہان بابت ماہ دسمبر ١٩٢١ء ص ١٠ تا ١٧‘ ریویو بابت ماہ اکتوبر ١٩٢٤ء ص ٢٠ تا ٢٥‘ ریویو بابت ماہ نومبر ١٩٢٤ء ص ٢٦ تا ٣٢) اور مولوی فضل الدین صاحب وکیل نے (ریویو بابت ماہ جنوری ١٩٢٥ء ص ١٧) پر لکھا ہے کہ : ”بہاء اللہ مدعی الوہیت تھا۔ حالانکہ حضرت بہاء اللہ بار بار خدا کو خالق قرار دیتے ہیں۔...... اور خود حضرت بہاء اللہ نے اس زمانہ میں تمام مخلوقات کے ہادی بننے کا دعویٰ کیا تھا۔“

(ریویو آف ریلیجنز بابت ماہ اپریل ١٩٠٨ء ص ١٤٢‘ ١٤٣ ج ٧ ش ٤)

مرزائی: قاضی اکمل صاحب اور مولوی فضل الدین صاحب وکیل نے لکھا ہے کہ مرزا صاحب کے مخالف لوگوں نے کہا کہ جناب مرزا قادیانی مدعی الوہیت تھے۔ (تشحیذ الاذہان بابت ماہ اگست ١٩١٣ء ص ٣٨٦ نعیم الوکیل ص ٧٨) حالانکہ حضرت مرزا قادیانی بیسیوں جگہ صرف اللہ تعالیٰ وحدہٗ لاشریک کو ہی خالق ارض و سما بیان فرما چکے ہیں۔

(نعیم الوکیل ص ٩٣)

١٦...... بہائی: ”ودیگر تلویح ہمیں یک آیت کافی است

صفحہ ٥١٤

قوله تعالى فى سورة البقروالذين يؤمنون بما انزل اليك وما انزل من قبلك وبالآخرة هم يوقنون يعنی آنچناں کسانی که ایمان آورده اند بانچه فرو فرستاده شده بسوئے تو از او امرنواہی از حكام الٰہی آنچه و بآنچه نازل و فرستاده شده قبل از توو آنچه نازل مے شود بغیر تو یعنی در آخرزمان موقن شوندو درحق چنیں اشخاص مے فرمائے .

اولئك على هدى من ربهم واولئك هم المفلحون و بالآخرة راچوں بحساب ابجد بیروں آمدے مے شود ہزارو دویست وسی و پنج و مطابق مے آيد باسنه تولد حضرت اعلیٰ روح من فى الملك له الفداء وتولد آنحضرت بحسب ظاهر در ملك فارس در سال ١٢٥٣هـ در غره محرم الحرام بوده “

(کتاب بحر العرفان ص ١٤١)

مرزائی : ظاہر ہے کہ : ”ما انزل اليك من قبلك“ کے بعد اس (خدا) نے وبالآخرة کے فقرہ کو لا کر بتا دیا کہ جس طرح قبل والی وحی کے ساتھ ایمان لانا ضروری ہے۔ اسی طرح آخری وحی کے ساتھ ایمان اور ایقان لانا ضروری ہے۔ اب غور کر کے دیکھ لیں کہ آیت : ”والذين يؤمنون بما انزل اليك“ میں زمانہ حال اور ماضی اور مستقبل کی وحی کا ذکر ہے کہ نہیں اليك میں آنحضرت کی وحی جو زمانہ حال کے ساتھ تعلق رکھتی ہے اور قبلك سے پہلے انبیاء کی وحی جو زمانہ ماضی کے ساتھ تعلق رکھتی ہے اور بالاخرة سے مسیح موعود کی وحی جو زمانہ مستقبل کے ساتھ تعلق رکھتی ہے اور یہ وہم کہ بالاخرة مراد قیامت ہے بلحاظ سیاق کلام کے درست نہیں۔

(رسالہ مباحثہ لاہور ص ٢٩ نسیم پریس لاہور ناشر : دارالکتب احمدیہ لاہور)

١٧...... بہائی : وہ عورت جس کا ذکر بارھویں باب کی پہلی آیت میں

صفحہ ٥١٥

ہے اس کو ایسا ظاہر کیا گیا ہے کہ گویا اس کا لباس شمسی ہے اور قمر اس کے پاؤں تلے ہے اور اس کے سر پر بارہ ستاروں کا تاج ہے۔ بابی اس کی تاویل یہ کرتے ہیں کہ اس سے مراد مذہب اسلام ہے اور شمس و قمر سے مراد دو عظیم الشان سلطنتیں ہیں۔ یعنی ایران و روم کیونکہ سورج فارس کا نشان ہے اور چاند ترکی یعنی سلطان روم کا نشان ہے اور بارہ ستاروں سے مراد ١٢ امام لئے گئے ہیں...... پھر چھٹی آیت کے ١٢٦٠ دنوں کو لے کر شمسی سالوں میں تبدیل کیا گیا اور اس طرح وقت ١٨٤٤ء کے مطابق کیا گیا ہے...... جب کہ حضرت باب ظاہر ہوئے تھے۔

(ریویو ج ٧ نمبر ٣ ص ٩٠‘ ٩١ مارچ ١٩٠٨ء)

مرزائی: مکاشفات یوحنا ١٢‘ ١ میں ہے ایک عورت سورج اوڑھے ہوئے چاند اس کے پاؤں تلے اور سر پر بارہ ستاروں کا تاج اور وہ ١٢٦٠ دن تک چھوڑی گئی۔ یہ اسلام کی حالت ہے۔ سورج نبی کریم بارہ ستارے بارہ مجدد اور چاند مسیح موعود (مرزا قادیانی) اور ١٢٦٠ ہجری‘ پیدائش مسیح موعود کا سال

(ریویو ریلیجنز بابت ماہ مئی ١٩٢٢ء ص ١٥٤)

ذیل آیات سے علی محمد (حضرت باب) کی آمد کا اشارہ نکالا گیا ہے: ”یسئل ایان یوم القیامۃ فاذا برق البصر و خسف القمر وجمع الشمس والقمر...... “ حضرت باب (علی محمد) کا نام کھلے طور پر ان آیات مبارکہ میں ذکر کیا گیا ہے۔ خسف قمر سے مراد اسلامی شریعت کا منسوخ ہونا ہے اور جمع شمس و قمر حضرت باب سید علی محمد کے نام کے قائم مقام ہے اس طرح پر کہ شمس سے مراد محمد رسول ﷺ ہیں۔ اور قمر سے مراد علی ہیں اور ان دونوں کے جمع ہونے سے مراد ایسا آدمی ہے۔ جس کا نام محمد اور علی کے الفاظ سے مرکب ہو گا۔

(ریویو آف ریلیجنز ج ٧ نمبر ٣ مارچ ١٩٠٨ ص ٨٦‘ ٨٥)

مرزائی: حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے ثبوت دعویٰ کے لئے ماہ

صفحہ ٥١٦

رمضان میں کسوف و خسوف ہو گا۔ جس کی تائید میں اللہ تعالیٰ اپنے کلام پاک میں یوں فرماتا ہے: ”فاذا برق البصر وخسف القمر وجمع الشمس والقمر يقول الانسان يومئذ اين المفر....... ......“ سو ایسا ہی ہوا

(عسل مصفے حصہ ٢ ص ٣٣٧)

وعدہ ہے کہ اور بھی مظاہر الٰہی دنیا میں آئیں گے۔ سورہ اعراف میں فرمایا ہے: ” یا بنی آدم اما یاتینکم رسل منکم یقصون علیکم آیاتی فمن اتقی واصلح فلا خوف علیہم ولا ھم یحزنون“ اس آیت مبارکہ میں نہایت صراحت سے مستقبل کی خبر دی ہے کیونکہ لفظ یاتینکم کو نون تاکید سے مؤکد کیا ہے اور یاتینکم فرمایا ہے جس کے صاف معنی ہیں کہ ضرور بالضرور آئیں گے تم میں رسول تم میں سے اور میری آیات تم پر پڑھیں گے۔ پس جو پرہیز گاری اور نیکو کاری کرے گا۔ اس کو کوئی خوف نہیں ہے۔

(کتاب الفرائد ص ٣١٢)

مرزائی: ” یابنی آدم اما یاتینکم رسل منکم یقصون علیکم آیاتی فمن اتقی واصلح فلا خوف علیہم ولاھم یحزنون“ اے فرزندان آدم جب کبھی تم میں رسول آئیں میری آیات تم کو پڑھ کر سنائیں۔ پس جو شخص تقویٰ اور اصلاح سے کام لے گا۔ اس پر کوئی خوف اور حزن نہ ہو گا...... ایک وعدہ ہے قانون مستمرہ ہو کر ذکر کر رہی ہے۔ پس رسولوں کی آمد تاقیامت غیر منقطع ہے۔

(کتاب النبوۃ فی القرآن ص ٥٢ باب دوم)

ہے کہ نبوت دو قسم کی ہوتی ہے۔ شرعی اور غیر شرعی (الفضل ٢٩ جولائی ١٩٢٤ء ص ٧ کالم ١)

صفحہ ٥١٧

مرزائی : یہ تو صحیح ہے کہ نبوت دو قسم کی ہوتی ہے۔ شریعت والی اور بغیر شریعت کے۔

(الفضل ٤ جولائی ١٩٤٤ء ص ٨ کالم ٣)

٢١...... بہائی : ” وہکذا یہود منتظر اندکہ بنص صریح خداوند تبارك و تعالی اور اصحاح چهارم کتاب ملاکی ایلیائے پیغمبر یعنی الیاس که باعتقاد یهود و نصاریٰ و مسلمین بآسمان صعود نمود قبل از ظهور مسیح از آسمان نازل شود“

(کتاب الفرائد ص ٣٢٠)

مرزائی : ایلیا نبی کا آسمان سے اترنا اور خلق اللہ کی ہدایت کے لئے دنیا میں آنا بائیبل میں اس طرح پر لکھا ہے کہ ایلیا نبی جو آسمان پر اٹھایا گیا۔ پھر دوبارہ وہی نبی دنیا میں آئے گا۔ ان ظاہری الفاظ پر یہودیوں نے سخت پنجہ مارا ہوا ہے۔

(ازالہ اوہام ص ٧١، ٧٠ خزائن ص ١٣٦ ج ٣)

٢٢...... بہائی : ہر چند حضرت بہاء اللہ عزاسمہ الاعلیٰ کا پبلک ادعا ١٨٦٣ء مطابق ١٢٨٠ھ میں حضرت باب روحی لہ الفداء کے ظہور سے انیس سال بعد تھا لیکن اس اظہار اور ادعا کی ابتداء دارالسلام بغداد میں ہوئی تھی نہ کہ سر زمین بیت المقدس میں لیکن طلعت موعود کا مشی و خرام اس زمین معہود میں جو حضرت دانیال کی ان آیات کا مصداق کامل تھا۔ وہ ١٨٧٣ء مطابق ١٢٩٠ھ میں ظہور حضرت باب کے ٣٠ سال بعد واقع ہوا اور یہ بالکل ٹھیک ہے کیونکہ حضرت دانیال کی یہ تاریخ اور ان کا یہ وعدہ ورود نزول موعود کے وسیلہ سے ارض مقدسہ کی صفائی کے لئے تھا۔

(احقاق الحق حصہ اول ص ٤٦)

مرزائی : دانیال نبی کی کتاب میں مسیح موعود کے ظہور کا زمانہ وہی لکھا ہے

صفحہ ٥١٨

جس میں خدا نے مجھے (مرزا) مبعوث فرمایا لکھا ہے۔ اور جس وقت سے دائمی قربانی موقوف کی جائے گی اور مکروہ چیز جو خراب کرتی ہے۔ قائم کی جائے گی ١٢٩٠ دن ہوں گے۔ مبارک وہ جو انتظار کرتا ہے اور ١٣٣٥ روز تک آتا ہے۔ اس پیشگوئی میں مسیح موعود کی خبر ہے...... ١٢٩٠ء میں یہ عاجز خدا تعالیٰ کی طرف سے شرف مکالمہ و مخاطبہ پا چکا تھا۔ پھر آخری زمانہ اس مسیح موعود کا دانیال ١٣٣٥ برس لکھتا ہے۔

(حقیقت الوحی ص ٢٠٠‘ ١٩٩ خلاصہ خزائن ص ٢٠٨‘ ٢٠٧ ج ٢٢)

کیا تھا۔

(مفسدین کی گرفتاری ص ٤٧)

مرزائی: حضرت مرزا قادیانی نے (اربعین نمبر ٤ ص ٧‘ ٨ پر) صاحب شریعت ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ (النبوۃ فی القرآن ص ٧٤ حاشیہ‘ الفضل ٧ اپریل ٤ مئی ١٩١٦ء ص ٥‘ الفضل ١٩ جولائی ١٩١٤ء ص ٤‘ تشحیذ الاذہان ج ١٠ نمبر ٢ ص ٢٥‘ ٢٤)

لکھا ہے۔ چنانچہ آپ لکھتے ہیں:

” قلم اعلیٰ نظر باستدعائے آنجناب ﷺ مراتب و مقامات عصمت کبریٰ را ذکر نمود و مقصود آنکہ کل بیقین مبین بدانند کہ خاتم الانبیاء روح ماسویہ فداہ در مقام خود شبیہ ومثل و شریک نداشتہ اولیاء صلوات الله علیہم بکلمہ او خلق شدہ اند ایشان بعد از واعظم وافضل عباد بودہ اند و درمنتہی رتبہ عبودیت قائم تقدیس ذات الہی از شبہ و مثل و تنزیہ کینونتش از شریک و شبیہ بآنحضرت ثابت و ظاہر احدیت مقام توحید حقیقی و تفرید معنوی و

صفحہ ٥١٩

حزب قبل ازیں مقام کماھو حقہ محروم وممنوع حضرت نقطہ روح ماسویہ فداہ مے فرماید اگر حضرت خاتم بکلمہ ولائت نطق نمے فرمود ولائت خلق نمے شد“

(عصمت کبریٰ ص ٣٦ کوکب ہند آگرہ مورخہ ١٩؍ اکتوبر ١٩٢٤ء ص ٣)

مرزائی : حضرت مرزا قادیانی نے آنحضرت ﷺ کو خاتم الانبیاء تسلیم کیا ہے۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں : ”جو اخلاق فاضلہ حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کا قرآن شریف میں ذکر ہے۔ وہ حضرت موسیٰ سے ہزار ہا درجہ بڑھ کر ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ حضرت خاتم الانبیاء ﷺ تمام ان اخلاق فاضلہ کا جامع ہے جو نبیوں میں متفرق طور پر پائے جاتے تھے۔ اور نیز آنحضرت ﷺ کے حق میں فرمایا ہے : ”انک لعلیٰ خلق عظیم“ تو خلق عظیم پر ہے اور عظیم کے لفظ کے ساتھ جس چیز کی تعریف کی جائے وہ عرب کے محاورہ میں اس چیز کی انتہائے کمال کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔“

(براہین احمدیہ ص ٥٠٨‘ خزائن ص ٦٠٦ ج ١‘ عسل مصفے حصہ ٢ ص ٥٣١)

٢٥.......بہائی : سب کے عقیدوں میں یہ بات جمی ہوئی ہے کہ ہمارے پیغمبر خاتم ہیں سب پیغمبروں کے ان کے بعد کوئی ظہور نئی شریعت لے کر ظاہر نہیں ہوگا۔ حالانکہ حضرت سرور کائنات کے خاتم النبیین ہونے میں اور حدیث : ”لا نبی بعدی“ کی سچائی میں ذرہ بھر شک نہیں۔

(المعیار الصحیح ص ١٣١‘ ١٣٢)

مرزائی : میں نے حمامۃ البشریٰ کو اول سے آخر تک پڑھا۔ اس میں کہیں بھی ان جھوٹے مولویوں کے دعویٰ کا ثبوت نہ پایا۔ بلکہ حضرت مسیح موعود وہاں

صفحہ ٥٢٠

فرماتے ہیں کہ علماء نے جو میری نسبت یہ مشہور کر رکھا ہے کہ میں آنحضرت ﷺ کو خاتم النبیین نہیں مانتا یہ حدیث : ” لا نبی بعدی“ کو نہیں مانتا۔ یہ سب ان علماء سو کا ہی افتراء ہے۔

(ختم نبوت کی حقیقت ص ٨٣ مصنفہ عمر الدین قادیانی)

PDF 521

انجیل برنباس

اور

حیات مسیح

صفحہ ٥٢٢

بسم الله الرحمن الرحيم

آنحضرت ﷺ جو محمد ہے درج ہے............. جس طرح نوکروں کے آنے اور بیٹے کے آنے سے مراد وہ نبی تھے جو وقتاً فوقتاً آتے گئے۔ اسی طرح اس تمثیل میں مالک باغ کے آنے سے بھی مراد ایک بڑا نبی ہے جو نوکروں اور بیٹوں سے بڑھ کر ہے۔ جس پر تیسرا درجہ قرب کا ختم ہوتا ہے وہ کون ہے۔ وہی نبی ہے جس کا اسی انجیل متی میں فارقلیط کے لفظ سے وعدہ دیا گیا ہے اور جس کا صاف اور صریح نام محمد رسول اللہ انجیل برنباس میں موجود ہے۔

(سرمہ چشم آریہ ص ٢٣٩‘ ٢٤٤ خزائن ص ٢٧٨‘ ٢٩٣ ج ٢)

عیسیٰ کے صلیب پر فوت ہونے سے انکار کیا گیا ہے۔

(کشف الغطاء ص ٢٦ حاشیہ‘ خزائن ص ١١٤ ج ١٤)

بھی لکھا ہے کہ مسیح مصلوب نہیں ہوا اور نہ صلیب پر جان دی۔

(مسیح ہندوستان میں ص ١٢٠‘ خزائن ص ٤١ ج ١٥)

کیا گیا ہے۔

(تریاق القلوب ص ٥٠‘ خزائن ص ٤٧٠ ج ١٥)

کتاب کو جعلی کہہ سکتے ہیں نہ اصلی ٹھہرا سکتے ہیں۔ اپنی اپنی رائیں ہیں اور سخت تعصب کی وجہ سے وہ انجیلیں جو قرآن شریف کے مطابق ہیں ان کو یہ لوگ جعلی قرار دیتے ہیں۔ چنانچہ برنباس کی انجیل جس میں نبی آخرالزمان ﷺ کی نسبت پیشگوئی ہے وہ اسی

صفحہ ٥٢٣

وجہ سے جعلی قرار دی گئی ہے کہ اس میں کھلے کھلے طور پر آنحضرت ﷺ کی پیشگوئی موجود ہے۔ چنانچہ سیل صاحب نے اپنی تفسیر میں اس قصہ کو بھی لکھا ہے کہ ایک عیسائی راہب اسی انجیل کو دیکھ کر مسلمان ہو گیا تھا۔ غرض یہ بات خوب یاد رکھنی چاہئے کہ یہ لوگ (یعنی عیسائی) جس کتاب کی نسبت کہتے ہیں کہ یہ جعلی ہے یا جھوٹی ہے ایسی باتیں صرف دو وجہ سے ہوتی ہیں۔ نمبر ١...... ایک یہ کہ وہ قصہ یا وہ کتاب اناجیل کے مروجہ کے مخالف ہوتی ہے۔ نمبر ٢...... دوسری یہ کہ وہ قصہ یا وہ کتاب قرآن شریف سے کسی قدر مطابق ہوتی ہے۔

(چشمہ مسیحی ص ٣‘ خزائن ص ٣٤١ ج ٢٠)

اقول : جناب مرزا قادیانی نے اپنی کتابوں میں ”انجیل برنباس“ کا ذکر خیر تو کیا ہے مگر جناب نے کھل کر یہ نہیں بتایا کہ اس انجیل میں کیا لکھا ہے۔ صرف اس فقرے پر ہی کفایت کی ہے کہ : ”انجیل برنباس میں حضرت مسیح علیہ السلام کے سولی سے انکار کیا ہے۔“

(تریاق القلوب ص ١٣٠‘ خزائن ص ٤٣٠ ج ١٥)

اب میں ذیل میں انجیل برنباس کے اردو ترجمے (مطبوعہ ١٩١٦ء حمید پریس سٹیم پریس لاہور) سے کچھ اقتباسات درج کرتا ہوں :

فصل ٢١٥ :

(١)...... اور جبکہ سپاہی یہودا کے ساتھ اس جگہ کے نزدیک پہنچے جس میں یسوع تھا۔ یسوع نے ایک بھاری جماعت کا نزدیک آنا سنا۔ (٢)...... تب اس لئے وہ ڈر کر گھر میں چلا گیا۔ (٣)...... اور گیارہوں شاگرد سو رہے تھے۔ (٤)...... پس جب کہ اللہ نے اپنے بندہ کو خطرہ میں دیکھا۔ اپنے سفیروں جبرائیل‘ میخائیل‘ رفائیل‘ اور یوریل کو حکم دیا کہ یسوع کو دنیا سے لے لیویں۔ (٥)...... تب پاک فرشتے آئے اور یسوع کو دکن کی طرف دیکھائی دینے والی کھڑکی سے لے لیا۔ (٦)...... پس وہ اس کو اٹھالے گئے اور

صفحہ ٥٢٤

تیسرے آسمان میں ان فرشتوں کی صحبت میں رکھ دیا۔ جو کہ ابد تک اللہ کی تسبیح کرتے رہیں گے۔“

(انجیل برنباس فصل ٢١٥ ص ٢٩٧)

فصل ٢١٦ :

(١)...... اور یہودا زور کے ساتھ اس کمرہ میں داخل ہوا جس میں سے یسوع اٹھا لیا گیا تھا۔ (٢)...... اور شاگرد سب کے سب سو رہے تھے۔ (٣)...... تب عجیب اللہ نے ایک عجیب کام کیا۔ (٤)...... پس یہودا بولی اور چہرے میں بدل کر یسوع کے مشابہ ہو گیا۔ یہاں تک کہ ہم لوگوں نے اعتقاد کیا کہ وہی یسوع ہے۔ (٥)...... لیکن اس نے ہم کو جگانے کے بعد تلاش کرنا شروع کیا تھا۔ تاکہ دیکھے معلم کہاں ہے۔ (٦)...... اس لئے ہم نے تعجب کیا اور جواب میں کہا اے سید تو ہی تو ہمارا معلم ہے۔ (٧)...... پس تو اب ہم کو بھول گیا۔ (٨)...... مگر اس (یہودا) نے مسکراتے ہوئے کہا۔ کیا تم احمق ہو کہ یہودا اسخریوطی کو نہیں پہچانتے۔ (٩)...... اور اسی اثناء میں کہ وہ یہ بات کہہ رہا تھا۔ سپاہی داخل ہوئے اور انہوں نے اپنے ہاتھ یہودا پر ڈال دیئے۔ اس لئے کہ وہ (یہودا) ہر ایک وجہ سے یسوع کے مشابہ تھا۔ (١٠)...... لیکن ہم لوگوں نے جب یہودا کی بات سنی اور سپاہیوں کا گروہ دیکھا تب ہم دیوانوں کی طرح بھاگ نکلے۔ (١١)...... اور یوحنا جو کہ کتان کے لحاف میں لیٹا ہوا تھا جاگ اٹھا اور بھاگا۔ (١٢)...... اور جب ایک سپاہی نے اسے کتان کے لحاف کے ساتھ پکڑ لیا تو وہ کتان کا لحاف چھوڑ کر ننگا بھاگ نکلا۔۔ اس لئے کہ اللہ نے یسوع کی دعا سن لی اور گیارہ شاگردوں کو آفت سے بچا دیا۔ (ص ٢٩٧)

فصل ٢١٧ :

(٧٧)...... جب کاہنوں کے سرداروں نے معہ کاتبوں اور فریسیوں کے دیکھا کہ یہودا تازیانوں کی ضرب سے نہیں مرا اور جبکہ وہ اس سے ڈرتے تھے کہ

صفحہ ٥٢٥

پیلاطوس یہودا کو رہا کر دے گا۔ انہوں نے حاکم کو روپیوں کا ایک انعام دیا۔ اور حاکم نے وہ انعام لے کر یہودا کو کاتبوں اور فریسیوں کے حوالہ کر دیا۔ گویا کہ وہ مجرم ہے جو موت کا مستحق ہے۔ (٧٨)...... انہوں نے یہودا کے ساتھ ہی دو چوروں پر صلیب دیئے جانے کا حکم لگایا۔ (٧٩)...... تب وہ لوگ یہودا کو جمجمہ پہاڑ پر لے گئے۔ جہاں کہ مجرموں کو پھانسی دینے کی انہیں عادت تھی اور وہاں اس کو ننگا کر کے صلیب پر لٹکایا۔ اس کی تحقیر میں مبالغہ کرنے کے لئے۔ (٨٠)...... اور یہودا نے کچھ نہیں کیا سوا اس چیخ کے کہ اے اللہ تو نے مجھ کو کیوں چھوڑ دیا۔ اس لئے کہ مجرم تو بچ گیا اور میں ظلم سے مر رہا ہوں۔ (٨١)...... میں سچ کہتا ہوں کہ یہودا کی آواز اور اس کا چہرہ اور اس کی صورت یسوع سے مشابہ ہونے میں اس حد تک پہنچ گئی تھی کہ یسوع کے سب شاگردوں اور اس پر ایمان والوں نے اس کو یسوع ہی سمجھا۔ (ص ٣٠٢)

فصل ٢١٩ :

(٥)...... اور وہ فرشتے جو کہ مریم پر محافظ تھے۔ تیسرے آسمان کی طرف چڑھ گئے۔ جہاں کہ یسوع فرشتوں کی ہمراہی میں تھا اور اس سے سب باتیں بیان کیں۔ (٦)...... لہٰذا یسوع نے اللہ سے منت کی کہ وہ اس کو اجازت دے کہ یہ اپنی ماں اور اپنے شاگردوں کو دیکھ آئے۔ (٧)...... تب اس وقت رحمٰن نے اپنے چاروں نزدیکی فرشتوں کو جو کہ جبرائیل اور میخائیل اور رافائیل اور اوریل ہیں حکم دیا کہ یہ یسوع کو اس کی ماں کے گھر اٹھا کر لے جائیں۔ (٨)...... اور یہ کہ متواتر تین دن کی مدت تک وہاں اس کی نگہبانی کریں۔ (٩)...... اور سوا ان لوگوں کے جو یسوع کی تعلیم پر ایمان لائے ہیں اور کسی کو اسے نہ دیکھنے دیں۔ (١٠)...... پس یسوع روشنی سے گھرا ہوا اس کمرہ میں آیا۔ جس کے اندر کنواری مریم معہ اپنی دو بہنوں اور مرتا اور مریم مجدلیہ اور لعازر اور اس لکھنے والے (یعنی برنباس) اور یوحنا اور یعقوب اور پطرس کے مقیم تھی۔ (١١)...... تب یہ

صفحہ ٥٢٦

سب خوف سے بے ہوش ہو کر گر پڑے۔ گویا کہ وہ مردے ہیں۔ (١٢)...... پس یسوع نے اپنی ماں کو اور دوسروں کو یہ کہتے ہوئے زمین سے اٹھایا۔ (١٣)...... تم نہ ڈرو اس لئے کہ میں ہی یسوع ہوں اور نہ روؤ کیونکہ میں زندہ ہوں نہ کہ مردہ۔ (١٤)...... تب ان میں سے ہر ایک دیر تک یسوع کے آجانے کی وجہ سے دیوانہ سا رہا۔ (١٥)...... اس لئے کہ انہوں نے پورا پورا اعتقاد کر لیا تھا کہ یسوع مر گیا ہے۔ (١٦)...... پس اس وقت کنواری مریم نے روتے ہوئے کہا : اے میرے بیٹے ! تو مجھ کو بتا کہ اللہ نے تیری موت کو تیرے قرابت مندوں اور دوستوں پر بدنامی کا دھبہ رکھ کر اور تیری تعلیم کو داغدار کر کے کیوں گوارا کیا ؟ بحالیکہ کہ خدا نے تجھ کو مردوں کے زندہ کر دینے پر قوت دی تھی۔ (١٧)...... پس تحقیق ہر ایک جو کہ تجھ سے محبت رکھتا تھا۔ وہ مثل مردہ کے تھا۔ (ص ٣٠٤)

فصل ٢٢٠ :

(١)...... یسوع نے اپنی ماں سے گلے مل کر جواب دیا : اے میری ماں ! تو مجھے سچا مان کیونکہ میں تجھ سے سچائی کے ساتھ کہتا ہوں کہ میں ہرگز نہیں مرا ہوں (٢)...... اس لئے کہ اللہ نے مجھ کو دنیا کے خاتمہ کے قریب تک محفوظ رکھا ہے۔ (٣)...... اور جبکہ یہ کہا چاروں فرشتوں سے خواہش کی کہ وہ ظاہر ہوں اور شہادت دیں کہ بات کیونکر تھی ؟ ۔(٤)...... تب جونہی فرشتے چار چمکتے ہوئے سورجوں کی مانند ظاہر ہوئے یہاں تک کہ ہر ایک دوبارہ گھبراہٹ سے بے ہوش گر پڑا گویا کہ وہ مردہ ہے۔ (٥)...... پس اس وقت یسوع نے فرشتوں کو چار چادریں کتان کی دیں تاکہ وہ ان سے اپنے تئیں ڈھانپ لیں کہ اس کی ماں اور اس کے رفیق انہیں دیکھ نہ سکیں اور صرف ان کو باتیں کرتے سننے پر قادر ہوں ۔ (٦)...... اور اس کے بعد کہ ان لوگوں میں سے ہر ایک اٹھایا انہیں یہ کہتے ہوئے تسلی دی کہ یہ فرشتے اللہ کے ایلچی ہیں۔

صفحہ ٥٢٧

(٧)…… جبرائیل جو کہ اللہ کے بھیدوں کا اعلان کرتا ہے اور میخائیل جو کہ اللہ کے دشمنوں سے لڑتا ہے۔ (٩)…… اور رافائیل مرنے والوں کی روحیں نکالتا ہے۔ (١٠)…… اور اوریل جو کہ روز اخیر (قیامت) میں لوگوں کو اللہ کی عدالت کی طرف بلائے گا۔ (١١)…… پھر چاروں فرشتوں نے کنواری سے بیان کیا کہ کیونکر اللہ نے یسوع کی جانب فرشتے بھیجے اور یہودا کی (صورت) کو بدل دیا تاکہ وہ اس عذاب کو بھگتے جس کے لئے اس نے دوسرے کو بھیجا تھا۔ (١٢)…… اس وقت اس لکھنے والے (یعنی برنباس حواری) نے کہا : اے معلم کیا مجھے جائز ہے کہ تجھ سے اس وقت بھی اسی طرح سوال کروں جیسے کہ اس وقت جائز تھا جبکہ تو ہمارے ساتھ مقیم تھا۔ (١٣)…… یسوع نے جواب دیا : برنباس تو جو چاہے دریافت کر میں تجھ کو جواب دوں گا۔ (١٤)…… پس اس وقت اس لکھنے والے (یعنی برنباس حواری) نے کہا : اے معلم اگر اللہ رحیم ہے تو اس نے ہم کو یہ خیال کرنے والا بنا کر اس قدر تکلیف کیوں دی؟ کہ تو مردہ تھا؟۔ (١٥)…… تحقیق تیری ماں تجھ کو اس قدر روئی کہ (ص ٣٠٥) مرنے کے قریب پہنچ گئی۔ (١٦)…… اور اللہ نے یہ روارکھا کہ تجھ پر جمجمہ پہاڑ پر چوروں کے مابین قتل ہونے کا دھبہ لگے۔ حالانکہ تو اللہ کا قدوس ہے۔ (١٧)…… یسوع نے جواب میں کہا کہ اے برنباس تو مجھ کو سچا مان کہ اللہ ہر خطا پر خواہ کتنی ہی ہلکی کیوں نہ ہو بڑی سزا دیا کرتا ہے کیونکہ اللہ گناہ سے غضبناک ہوتا ہے۔ (١٨)…… پس اس لئے کہ جب کہ میری ماں اور میرے ان وفادار شاگردوں نے جو کہ میرے ساتھ تھے مجھ سے دنیاوی محبت کی نیک کردار خدا نے اس محبت پر موجودہ رنج کے ساتھ سزا دینے کا ارادہ کیا تاکہ اس پر دوزخ کی آگ کے ساتھ سزا دہی نہ کی جائے۔ پس جبکہ آدمیوں نے مجھ کو اللہ اور اللہ کا بیٹا کہا تھا مگر یہ کہ میں خود دنیا میں بے گناہ تھا۔ اس اللہ نے ارادہ کیا کہ اس دنیا میں آدمی یہودا کی موت سے مجھ سے ٹھٹھا کریں۔ یہ خیال کر کے کہ وہ میں ہی ہوں جو کہ

صفحہ ٥٢٨

صلیب پر مرا ہوں۔ تاکہ قیامت کے دن میں شیطان مجھ سے ٹھٹھا نہ کریں۔

آتے ہی اس فریب کو ان لوگوں پر کھول دے گا جو کہ اللہ کی شریعت پر ایمان لائیں گے۔ (ص ٣٠٦)

فصل ٢٢١ :

آسمان کی طرف اٹھا لے گئے۔ (ص ٣٠٨)

نوٹ: جو کہ کتاب انجیل برنباس سے اوپر لکھا گیا ہے اس کا خلاصہ مطلب یہ ہے کہ :

مارا گیا۔

لوگوں کو مسیح کے بارے میں غلطیوں سے نکالے گا۔

چنانچہ جناب محمد علی صاحب ایم اے لاہوری اپنی کتاب (احمد مجتبیٰ ص ٨٤) پر لکھتے ہیں :

”اسی انجیل برنباس میں مسیح کے زندہ آسمان پر جانے کا قصہ بھی موجود ہے۔“

صفحہ ٥٢٩

مرزائیت

میں

یہودیت و نصرانیت

صفحہ ٥٣٠

بسم اللہ الرحمن الرحیم

رسالہ شمس الاسلام بھیرہ کے قادیان نمبر کے لئے ایک دلچسپ اور نیا مضمون لکھتا ہوں جب سے یہ رسالہ بھیرہ سے جاری ہوا ہے ایسا عجیب و غریب مضمون اس رسالہ میں مجھ سے پیشتر کسی نے نہیں لکھا۔ یہ اللہ کا مجھ پر خاص فضل و کرم ہے کہ خداوند تعالیٰ نے مجھے مرزائیوں کی تردید کے لئے خاص طاقت عطا فرمائی ہے۔ خاص دماغ و ذہن و حافظہ عطا کیا ہے۔ ھذا من فضل ربی ۔

ایں سعادت بزور بازو نیست
تانہ بخشد خدائے بخشندہ

اس مضمون میں یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ مرزائیت کے اکثر مسئلے یہودیت اور عیسویت سے ملتے جلتے ہیں :

(١) یہودیت : یہودی لوگ خدا تعالیٰ کو جسمانی اور مجسم قرار دے کر عالم جسمانی کی طرح اس کا ایک جز سمجھتے ہیں اور ان کی نظر ناقص میں یہ سمایا ہوا ہے کہ بہت سی باتیں جو مخلوق پر جائز ہیں وہ خدا پر بھی جائز ہیں۔ اور اس کو من کل الوجوہ منزہ خیال نہیں کرتے اور ان کی توریت میں جو محرف اور مبدل ہے خدا تعالیٰ کی نسبت کئی طور کی بے ادبیاں پائی جاتی ہیں۔ چنانچہ پیدائش کے ٣٢ باب میں لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ یعقوب علیہ السلام سے تمام رات تک کشتی لڑا گیا۔ اور اس پر غالب نہ ہوا۔

(براہین احمدیہ ص ٣٨٨ حاشیہ خزائن ص ٤٦٤ ج ١)

خداوند خدا کی نیند : (١)...... کیونکہ میں نے تھکی ہوئی جان کو آسودہ کیا۔ اور ہر غمگین روح کو سیر کیا۔ اس پر میں جاگا اور نگاہ کی اور میری نیند مجھے میٹھی

صفحہ ٥٣١

ہوئی۔

(یرمیاہ ٣١ / ٢٦،٢٥)

(٢)...... بیدار ہو کیوں سو رہتا ہے اے خداوند جاگ ہم کو ہمیشہ کے لئے ترک مت کر۔

(زبور ٤٤'٢٣ رسالہ ریویو بابت ماہ فروری ١٩٢٣ء ص ٢٣)

مرزائیت : ٣ فروری ١٩٠٣ء : ” اصلی واصوم اسهر وانام واجعل لك انوار القدوم واعطيك ما يدوم وان الله مع الذين اتقوا “ ﴿میں نماز پڑھوں گا اور روزہ رکھوں گا‘ جاگتا ہوں اور سوتا ہوں اور تیرے لئے اپنے آنے کے نور عطاء کروں گا اور وہ چیز تجھے دوں گا جو تیرے ساتھ ہمیشہ رہے گی۔ خدا ان کے ساتھ ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں۔﴾

(الحکم ج ٧ نمبر ٥ ص ١٦ کالم ١' البشریٰ ج دوم ص ٧٩' تذکرہ ص ٤٦٠)

نوٹ : الفاظ : ” واجعل لك انوار القدوم واعطيك ما يدوم “ صاف ظاہر کرتے ہیں کہ بقول مرزا قادیانی کے‘ یہاں خدا متکلم ہے اور مرزا قادیانی مخاطب ہے۔ پس الفاظ : ” اسهر وانام “ خدا کے متعلق ہیں نہ کہ مرزا قادیانی کے متعلق۔

قرآنی تعلیم : خدا تعالیٰ کے تھکنے اور نیند سے اونگھنے کی کھلی تردید قرآن مجید میں ہے۔

(ریویو ج ٢٢ نمبر ٢ ص ٢٢)

(٢) یہودیت : اور بہتیرے تو کہنے لگے کہ یسوع میں بد روح ہے اور دیوانہ ہے۔

(انجیل باب ١٠ درس ٢٠' اخبار فاروق قادیان مورخہ ١٤ اگست ١٩٣٢ء ص ١٠)

مرزائیت : اور ایک مرتبہ یسوع کے چاروں حقیقی بھائیوں نے اس وقت کی گورنمنٹ میں درخواست بھی دی تھی کہ یہ شخص دیوانہ ہو گیا ہے۔ اس کا کوئی

صفحہ ٥٣٢

بندوبست کیا جاوے۔ یعنی عدالت کے جیل خانہ میں داخل کیا جاوے۔ تاکہ وہاں کے دستور کے موافق اس کا علاج ہو۔ تو یہ درخواست بھی صریح اس بات پر دلیل ہے کہ یسوع در حقیقت بوجہ بیماری مرگی کے دیوانہ ہو گیا تھا۔

(کتاب ست بچن حاشیہ ص ٧١ خزائن ص ٢٩٥ ج ١٠)

نوٹ : انجیل متی و مرقس ولوقا ویوحنا میں یہ کہیں نہیں لکھا ہے کہ (معاذ اللہ) یسوع در حقیقت بوجہ بیماری مرگی کے دیوانہ ہو گیا تھا۔

آیا۔

(رسالہ ریویو ج ٢٩ نمبر ١ ص ٢٩)

مرزائیت : عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں۔ مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦ حاشیہ خزائن ص ٢٩٠ ج ١١)

نہیں ہوا۔ محض فریب اور مکر تھا۔

(چشمہ مسیحی ص ٩ خزائن ص ٣٤٤ ج ٢٠)

مرزائیت : اور آپ کے ہاتھ میں سوا مکر اور فریب کے اور کچھ نہیں تھا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ حاشیہ خزائن ص ٢٩١ ج ١١)

(ریویو ج ١ نمبر ٨ ص ٣٠٨)

مرزائیت : یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا ہے اس کا سبب تو یہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔ شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔

(کشتی نوح ص ٦٥ حاشیہ خزائن ص ٧١ ج ١٩)

صفحہ ٥٣٣

یحییٰ جو نشہ نہیں پیتے تھے تو معلوم ہوا کہ اس وقت بھی منع تھی۔ مسیح نے مرشد کی تقلید کیوں نہ کی۔

(بدر قادیان مورخہ ٧ نومبر ١٩٠٢ء ص ١٠)

نوٹ : انجیل متی و مرقس و لوقا و یوحنا میں یہ کہیں نہیں لکھا ہے کہ یسوع مسیح شراب پیا کرتے تھے۔ شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔ انجیل متی کے باب ٢٦ کے درس ٢٩ میں انگریزی میں لفظ VINE ہے جس کے معنی انگور کے ہیں۔ اُس جگہ لفظ WINE نہیں ہے۔

(٦) یہودیت : یہودی اپنی تاریخ کی رو سے بالاتفاق یہی مانتے ہیں کہ موسیٰ سے چودہویں صدی کے سر پر عیسیٰ ظاہر ہوا، دیکھو یہودیوں کی تاریخ۔

(کشتی نوح ص ١٣ حاشیہ خزائن ص ١٤ ج ١٩)

یہودیوں کی تاریخ سے بالاتفاق ثابت ہے کہ یسوع یعنی حضرت عیسیٰ، موسیٰ کے بعد چودہویں صدی میں ظاہر ہوا تھا اور وہی قول صحیح ہے۔

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٨٧ خزائن ص ٣٥٩ ج ٢١)

مرزائیت : تیسری مشابہت حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے میری یہ ہے کہ وہ ظاہر نہیں ہوئے جب تک کہ حضرت موسیٰ کی وفات پر چودہویں صدی کا ظہور نہیں ہوا۔ ایسا ہی میں بھی آنحضرت ﷺ کی ہجرت سے چودہویں صدی کے سر پر مبعوث ہوا ہوں۔

(تحفہ گولڑویہ ص ١١٥ حاشیہ خزائن ص ٢٠٩ ج ١٧)

نوٹ : قرآن مجید اور احادیث صحیحہ نبویہ سے یہ بات ثابت نہیں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات سے چودہویں صدی میں ظاہر ہوئے تھے۔ عیسائی کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام حضرت مسیح سے ١٧١٥ سال پیشتر پیدا ہوئے تھے اور ١٤٥١ سال قبل مسیح میں فوت ہوئے تھے اور اللہ

صفحہ ٥٣٤

تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔

استاد سے سبقاً سبقاً توریت پڑھی تھی۔

(ضمیمہ تفہیمات ربانیہ ص ١٢)

مرزائیت : اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا استاد ایک یہودی تھا جس سے انہوں نے ساری بائیبل پڑھی اور لکھنا بھی سیکھا۔

(اربعین نمبر ٢ ص ١٠، خزائن ص ٥١ ج ١٧)

یہ ثابت شدہ امر ہے کہ حضرت مسیح نے ایک یہودی استاد سے سبقاً سبقاً توریت پڑھی تھی اور تالمود کو بھی پڑھا تھا۔

(نزول المسیح ص ٦٠، خزائن ص ٤٣٨ ج ١٨)

نوٹ : سورۃ آل عمران پارہ ٣ کے رکوع ١٣ میں ہے : "ويعلمه الكتاب والحكمة والتوراة والانجيل" ﴿اور اللہ سکھائے گا عیسیٰ کو لکھنا اور حکمت اور توریت اور انجیل﴾ قرآن مجید اور صحیح حدیث نبوی میں یہ کہیں نہیں لکھا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے ایک یہودی استاد سے توریت پڑھی تھی۔

ہیں کہ خود مسیح بن مریم ہی کو صلیب پر لٹکایا گیا۔

(عسل مصفے حصہ اول ص ٤٧٩)

دیکھو یہودی اور عیسائی دونوں اس بات کے قائل ہیں کہ مسیح صلیب دیا گیا۔

(بدر مورخہ ٢ جون ١٩١٨ء ص ٧)

مرزائیت : حضرت مسیح علیہ السلام ہی پکڑے گئے اور وہی صلیب ہوئے۔ مگر صلیب کی پوری شرائط ان پر نافذ نہیں ہوئیں۔

(عسل مصفے حصہ اول ص ٤٦٩)

مسیح پر جو یہ مصیبت آئی کہ وہ صلیب پر چڑھایا گیا اور کیلیں اس کے اعضاء میں ٹھوکی گئیں جن سے وہ غشی کی حالت میں ہو گیا۔ یہ مصیبت در حقیقت موت سے کچھ

صفحہ ٥٣٥

کم نہیں تھی۔

(ازالہ اوہام ص ٣٩٢ خزائن ص ٣٠٢ ج ٣)

(٩) یہودیت : یہودی فاضل جو اب تک موجود ہیں اور بمبئی اور کلکتہ میں بھی پائے جاتے ہیں۔ عیسائیوں کے اس قول پر کہ حضرت عیسیٰ آسمان پر چلے گئے ہیں بڑا ٹھٹھا اور ہنسی کرتے ہیں۔ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٧٠ خزائن ص ٤٣٨ حاشیہ ج ٢١) مگر اب تو یہودیوں اور تمام عقلمندوں کے نزدیک مسیح کا آسمان پر محض ایک فسانہ اور گپ ہے۔

(چشمہ مسیحی ص ٨ خزائن ص ٣٤٨ ج ٢٠)

مرزائیت : حضرت مسیح علیہ السلام مصلوب نہیں ہوئے اور نہ آسمان پر گئے۔

(مسیح ہندوستان میں ص ١٢ خزائن ص ١٤ ج ١٥)

نوٹ : یہودی لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع جسمانی کے منکر ہیں مرزائی بھی منکر ہیں۔ یہودی فاضلوں کی طرح مرزائی مولوی فاضل بھی اپنے مخالفوں کے اس قول پر کہ حضرت عیسیٰ آسمان پر چلے گئے بڑا ٹھٹھا اور ہنسی کرتے ہیں۔

مرزائیت : کیا یہ الفاظ جو استثناء باب ٢٣ آیت میں ہیں کہ اس کی لاش رات بھر درخت پر نہ لٹکی رہے کیونکہ وہ جو پھانسی دیا جاتا ہے خدا کا ملعون ہے۔ صاف بتاتا ہے کہ پھانسی دیا ہی وہ جاتا ہے جو مجرم ہو۔ غیر مجرم پھانسی دیا ہی نہیں جاتا۔ اس لئے مصلوب ضرور ملعون عنداللہ ہے۔

(اخبار فاروق قادیان مورخہ ٦،١٣،٢٠،٢٧ جولائی ١٩١٦ء ص ٢١)

یہودیت : توریت میں یہ لکھا تھا کہ جو شخص صلیب پر کھینچا جائے وہ لعنتی ہے۔ یعنی اس کا خدا تعالیٰ کی طرف رفع نہیں ہوتا۔

(کتاب البریہ ص ٧٩ حاشیہ خزائن ص ٢٣١ ج ١٣)

ان مندرجہ بالا دس دلائل کے لکھنے کے بعد اب ذیل میں اس امر کو ثابت کیا

صفحہ ٥٣٦

جاتا ہے کہ مرزائی مذہب کے بعض مسائل عیسائی مذہب کے ساتھ ملتے جلتے ہیں۔

(١) عیسویت : ان دونوں کتابوں یعنی ملاکی نبی اور متی کی کتاب سے ظاہر ہے کہ اول ملاکی نبی نے باالہام وحی الہی خبر دی کہ حضرت عیسیٰ کے آنے سے پہلے اول ایلیا یعنی حضرت الیاس آئیں گے اور حضرت عیسیٰ نے بہ وحی الہی لوگوں پر ظاہر کیا کہ یوحنا یعنی یحییٰ زکریا کا بیٹا وہی ایلیاء ہے۔ چاہو تو قبول کرو۔

(عسل مصفے حصہ اول ص ١٠٩)

مرزائیت : کیا اس (خدا) کو طاقت نہیں کہ ایک آدمی کی روحانی حالت کو ایک دوسرے آدمی کے مشابہ کر کے وہی نام اس کا بھی رکھ دیوے؟ کیا اس نے اسی روحانی حالت کی وجہ سے حضرت یحییٰ کا نام ایلیا نہیں رکھ دیا تھا؟۔

(ازالہ اوہام ص ٤١١ روحانی خزائن ص ٣١٣ ج ٣)

نوٹ : قرآن کریم کی کسی آیت میں اور کسی صحیح حدیث نبوی میں یہ نہیں آیا ہے کہ حضرت یحییٰ حضرت الیاس نبی کے مثیل تھے اور حضرت یحییٰ نے خود بھی کبھی یہ نہیں فرمایا کہ میں مثیل الیاس ہوں۔

(٢) عیسویت : اب یسوع مسیح کی پیدائش اس طرح ہوئی کہ جب اس کی ماں مریم کی منگنی یوسف کے ساتھ ہو گئی تو ان کے اکٹھے ہونے سے پہلے وہ روح القدس کی قدرت سے حاملہ پائی گئی۔

(نیا عہد نامہ انجیل متی باب اول درس ١٨)

مرزائیت : حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ ٢٢ برس کی مدت تک نجاری کا کام بھی کرتے رہے۔

(ازالہ اوہام حصہ اول ص ٣٠٣ حاشیہ خزائن ص ٢٥٥ ج ٣)

صفحہ ٥٣٧

نوٹ: قرآن مجید کی کسی آیت اور کسی صحیح حدیث نبوی میں یوسف نجار کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

(٣) عیسویت : یہود اور نصاریٰ کی تاریخ متواتر سے جس پر یونانی اور رومی کتب تاریخ بھی شہادت دیتی ہیں یہ بات قطعی طور پر ثابت ہو چکی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ٣٣ برس کی عمر میں مصلوب ہوئے اور یہی چاروں انجیلوں کی نصوص صریحہ سے سمجھا جاتا ہے۔

(کتاب البریہ ص ٢٤٣‘٢٤٢ حاشیہ، خزائن ص ٢٨٧‘٢٨٦ ج ١٣)

مرزائیت : ہر ایک کو معلوم ہے کہ واقعہ صلیب اس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پیش آیا تھا جب کہ آپ کی عمر صرف ٣٣ برس اور چھ مہینے کی تھی۔

(تحفہ گولڑویہ ص ٢١٠، خزائن ص ٣١١ ج ١٧)

(٤) عیسویت : نیو لائف آف جیزس ج اول ص ٢١٠ پر ہے۔ پس اگر فرض بھی کر لیا جائے کہ قریب چھ گھنٹہ صلیب پر رہنے کے بعد یسوع جب اتارا گیا تو وہ مرا ہوا تھا تب بھی نہایت ہی اغلب بات یہ ہے کہ وہ صرف ایک موت کی سی بے ہوشی تھی اور جب شفا دینے والی مرہمیں اور نہایت ہی خوشبودار دوائیاں مل کر اسے غار کی ٹھنڈی جگہ میں رکھا گیا تو اس کی بے ہوشی دور ہوئی۔

(تحفہ گولڑویہ ص ٢١٢، خزائن ص ٣١٣ ج ١٧)

مرزائیت : حضرت عیسیٰ صلیب پر فوت نہیں ہوئے۔ مگر غشی کی حالت ان پر طاری ہو گئی تھی۔ بعد میں دو تین روز تک ہوش میں آگئے اور مرہم عیسیٰ کے استعمال سے (جو آج تک صدہا طبّی کتابوں میں موجود ہے جو حضرت عیسیٰ کے لئے بنائی گئی تھی) ان کے زخم بھی اچھے ہو گئے۔

(حقیقت الوحی ص ٣٧‘٣٦، خزائن ص ٣٩ ج ٢٢)

صفحہ ٥٣٨

کہ حضرت موسیٰ صاحب شریعت تھا۔ جس نے ایک کامل مفصل شریعت ایسے امور کے متعلق دی کہ مثلاً کھانے کے لئے حلال کیا ہے اور حرام کیا ہے وغیرہ کوئی شخص انجیل کو بغیر غور کے سرسری نگاہ سے بھی دیکھے تو اس پر ضرور ظاہر ہو جائے گا کہ یسوع مسیح صاحب شریعت نہ تھا۔ (جے اے لیفراے بشپ لاہور کے الفاظ مندرجہ تتمہ حاشیہ ٹائٹل پیج متعلقہ خطبہ الہامیہ) (خزائن ص ١٢ ج ١٦)

مرزائیت : حضرت مسیح ناصری الگ شریعت کے مالک نہ تھے۔ بلکہ متبع شریعت توریت ہو کر آئے تھے اور اسی کے متبع اور مفسر تھے۔ (الہدیٰ فی القرآن ص ٦٥ حاشیہ)

ہیں کہ مسیح کی آمد ثانی الیاس نبی کی طرح بروزی طور پر ہے۔

(تحفہ گولڑویہ ص ٢١٠‘ خزائن ص ١٣١ ج ١٧‘ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٧٢‘ خزائن ص ٣٤٢ ج ٢١)

مرزائیت : نزول کے اجمالی معنوں میں یہ گروہ اہل سنت کا سچا ہے کیونکہ مسیح کا بروزی طور پر نزول ہونا ضروری تھا۔ ہاں نزول کی کیفیت بیان کرنے میں ان لوگوں نے غلطی کھائی ہے۔ نزول صفت بروزی تھا نہ کہ حقیقی۔

(ضرورۃ الامام ص ٢٥‘ خزائن ص ٤٩٦ ج ١٣)

مدت تک عیسائیوں کا یہی عقیدہ تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام درحقیقت فوت ہوگئے ہیں اور ان کا رفع روحانی ہوا ہے۔ (کتاب البریہ ص ٢٢٩ حاشیہ خزائن ص ٢٦٤ ج ١٣)

مرزائیت : مسیح کا ہرگز رفع جسمانی نہیں ہوا۔ نہ اس رفع کا کچھ ثبوت

صفحہ ٥٣٩

ہے اور نہ اس کی کچھ ضرورت تھی۔ ہاں ایک سو بیس برس کے بعد رفع روحانی ہوا ہے۔

(کتاب البریہ ص ٢٤١‘ ٢٤٢ حاشیہ، خزائن ص ٢٧٦‘ ٢٧٧ ج ١٣)

عیسویت : جو کوئی یسوع کے قدم بقدم چلے گا۔ وہ ضرور ناکام ہو گا۔ جیسا کہ یسوع ناکام ہوا۔ تمام دنیا کی تاریخ میں نامرادی کی کوئی مثال یسوع کی نامرادی سے بڑھ کر نہیں ہے۔ یسوع کو کسی امر میں بھی کامیابی حاصل نہ ہوئی۔

(ایک عیسائی کا قول مندرجہ اخبار بدر مورخہ ٢٢ مارچ ١٩٠٦ء ص ١٠)

مرزائیت : غرض جس قدر جھوٹی کرامتیں اور جھوٹے معجزات حضرت عیسیٰ کی طرف منسوب کئے گئے ہیں کسی اور نبی میں اس کی نظیر نہیں پائی جاتی اور عجیب تر یہ کہ باوجود ان تمام فرضی معجزات کے ناکامی اور نامرادی جو مذہب کے پھیلانے میں کسی کو ہو سکتی ہے۔ وہ سب سے اول نمبر پر ہیں۔ کسی اور نبی میں اس قدر نامرادی کی نظیر تلاش کرنا لاحاصل ہے۔

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٤٥‘ خزائن ص ٥٨ ج ٢١)

PDF 540

ضروری اعلان

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر ملتان سے شائع ہونے والا ﴿ماہنامہ لولاک﴾ جو قادیانیت کے خلاف گرانقدر جدید معلومات پر مکمل دستاویزی ثبوت ہر ماہ مہیا کرتا ہے۔ صفحات 64‘ کمپیوٹر کتابت‘ عمدہ کاغذ وطباعت اور رنگین ٹائیٹل‘ ان تمام تر خوبیوں کے باوجود زر سالانہ فقط یک صد روپیہ منی آرڈر بھیج کر گھر بیٹھے مطالعہ فرمائیے۔

رابطہ کے لئے

ناظم دفتر ماہنامہ لولاک ملتان

دفتر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

حضوری باغ روڈ ملتان

PDF 541

احتساب قادیانیت

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اکابرین کے رد قادیانیت پر رسائل کے مجموعہ جات کو شائع کرنے کا کام شروع کیا ہے۔ چنانچہ ”احتساب قادیانیت جلد اول مولانا لال حسین اختر“ ”احتساب قادیانیت جلد دوم مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ ، احتساب قادیانیت جلد سوم مولانا حبیب اللہ امرتسریؒ کے مجموعہ رسائل پر مشتمل ہیں۔

احتساب قادیانیت جلد چہارم

مندرجہ ذیل اکابرین کے رسائل کے مجموعہ پر مشتمل ہوگی۔ مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ : ”دعوت حفظ ایمان حصہ اول و دوم“ مولانا محمد اشرف علی تھانویؒ ”الخطاب الملیح فی تحقیق المہدی والمسیح، رسالہ قائد قادیان“ مولانا شبیر احمد عثمانیؒ : ”الشہاب لرجم الخاطف المرتاب، صدائے ایمان“ مولانا بدر عالم میرٹھیؒ : ختم نبوت، حیات عیسیٰ علیہ السلام، امام مہدی، دجال، نور ایمان، الجواب الفصیح لمنکر حیات المسیح“

ان تمام اکابرین امت کے فتنہ قادیانیت کے خلاف رشحات قلم کا مطالعہ آپ کے ایمان کو جلا بخشے گا۔

رابطہ کے لئے:

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان

PDF 542

ہفت روزہ ختم نبوت کراچی

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا ترجمان ہفت روزہ ختم نبوت کراچی گذشتہ بیس سالوں سے تسلسل کے ساتھ شائع ہورہا ہے۔ اندرون و بیرون ملک تمام دینی رسائل میں ایک امتیازی شان کا حامل جریدہ ہے۔ جو محقق العصر پیر طریقت حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی دامت برکاتہم کی زیر سرپرستی اور مولانا مفتی محمد جمیل خان مدظلہ کی زیر نگرانی شائع ہوتا ہے۔

زر سالانہ صرف =/250 روپے

رابطہ کے لئے:

منیجر ہفت روزہ ختم نبوت کراچی

دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جامع مسجد باب الرحمت پرانی نمائش ایم اے جناح روڈ کراچی نمبر 3

PDF 543

سالانہ رد قادیانیت کورس

عالمی مجلس تحفظ کے زیر اہتمام ہر سال 10 شعبان سے 28 شعبان تک مدرسہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر ضلع جھنگ میں ”رد قادیانیت وعیسائیت کورس“ ہوتا ہے۔ جس میں ملک بھر کے نامور علماء کرام ومناظرین لیکچرز دیتے ہیں۔ علماء‘ خطباء اور تمام طبقہ حیات سے تعلق رکھنے والے اس میں داخلہ لے سکتے ہیں۔ تعلیم کم از کم درجہ رابعہ یا میٹرک پاس ہونا ضروری ہے۔........... رہائش‘ خوراک‘ کتب ودیگر ضروریات کا اہتمام مجلس کرتی ہے۔

رابطہ کے لئے

(مولانا) عزیز الرحمن جالندھری

ناظم اعلیٰ : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

حضوری باغ روڈ ملتان

PDF 544

دنیا بھر کے مناظرین و مبلغین اور فتنہ قادیانیت کے خلاف کام کرنیوالوں کیلئے خوشخبری

قادیانی شبہات کے جوابات

مسئلہ ختم نبوت ، رفع و نزول سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور کذب مرزا پر امت محمدیہؐ کے علماء واہل قلم نے گرانقدر کتب تحریر فرمائیں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے اکابرین کے حکم کی تعمیل میں ان رشحات قلم اور بکھرے ہوئے موتیوں کی ایک مالا تیار کر دی گئی ہے۔ اس نئی ترتیب میں جدید وقدیم قادیانی اعتراضات کے جامع ومانع، مسکت ومدلل ممکن جوابات جمع کر دیئے گئے ہیں۔

خصوصیات

جوابات میں مناظرین اسلام نے جو کچھ ارشاد فرمایا سب کو جمع کر دیا گیا ہے۔

حیاتؒ کی عمر بھر کی ریاضت و فتنہ قادیانیت سے متعلق ان کی علمی محنت کو انہی کی نوٹ بکوں کی مدد سے مرتب کیا گیا ہے۔

مولانا محمد سلیم دیوبندیؒ، مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ، مولانا ابراہیم سیالکوٹیؒ، مولانا عبداللہ معمارؒ نے قادیانی شبہات کے جوابات میں جو کچھ فرمایا وہ سب اس کتاب میں سمودیا گیا ہے۔

نے جو کچھ تحریری طور پر محفوظ کیا اُسی طرح مناظر اسلام فاتح قادیان مولانا محمد حیاتؒ سے حکیم العصر مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ، مولانا عبدالرحیم اشعرؒ، مولانا خدا بخشؒ، مولانا جمال اللہؒ، مولانا منظور احمدؒ، مولانا محمد اسماعیل اور دیگر حضرات نے جو کچھ پڑھا، مطبوعہ یا مخطوط جو بھی میسر آیا موقعہ بموقعہ اس کتاب میں شامل کیا گیا ہے۔

الحمدللہ ! اللہ رب العزت کے فضل وکرم سے یہ ایک ایسی دستاویز تیار ہوگئی ہے جسے قادیانی شبہات کے جوابات کا انسائیکلو پیڈیا قرار دیا جاسکتا ہے۔ پہلا حصہ جو ختم نبوت کے مباحث پر مشتمل ہے شائع ہو گیا ہے۔ قیمت 60 روپے بذریعہ ڈاک 80 روپے وی پی نہ ہوگی۔

نوٹ: پہلے اس کا نام ختم نبوت پاکٹ بک تجویز ہوا تھا مگر اب ”قادیانی شبہات کے جوابات“ نام رکھا گیا ہے۔

ملنے کا پتہ : ناظم دفتر مرکزیہ

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان فون 514122