جہاد ختم نبوت کے جانثار · محمد طاہر رزاق
Jehad Khatm-e-Nubuwwat kay Janisar · Tahir Abdul Razzaq
PDF 1

الله

جہاد ختم نبوت

کے جانثار

قادیانیت

انا خاتم النبین لا نبی بعدی

ترتیب و تحقیق

مُحَمَّد طَاھِر رَزَّاق

PDF 2

تاریخ

تحفظ ختم نبوت

سیریز 12

جہاد ختم نبوت کے جانثار

ترتیب و تحقیق

محمد طاہر رزاق

عالمی مجلس تحفظِ ختم نبوت

حضوری باغ روڈ ملتان

PDF 3

انتساب

کے چہرے پر شبنم کے موتی چمک رہے ہوں۔

دلوں کا طبیب اور مجروح روحوں کا ڈاکٹر ہے

گرج، چیتے کی لپک اور شاہین کی جھپٹ ہے۔

زندگیاں تابناک اور خوشبودار ہو جاتی ہیں

کے راستے کو اپنی پلکوں سے آراستہ کرتے ہیں ...... اور اپنے دلوں میں بہاروں کے موسم اتارتے ہیں۔

مولانا محمد رفیق مدظلہ العالی

کے نام جن کی رفاقت اور سنگت پہ مجھے ناز ہے

PDF 4

حرف سپاس

ابتدائے کتاب سے لے کر تکمیل کتاب تک تمام مرحلوں میں میرے محترم دوست جناب محمد فیاض اختر ملک‘ جناب محمد متین خالد‘ جناب محمد صدیق شاہ بخاری‘ جناب سید علمدار حسین شاہ بخاری‘ جناب طارق اسماعیل ساگر‘ جناب حافظ شفیق الرحمٰن‘ جناب عبدالرؤف روفی‘ جناب ممتاز اعوان‘ جناب محمد سلیم ساقی کا تعاون ہر دم مجھے میسر رہا اور ان دوستوں کی جدوجہد اور دعاؤں سے یہ کتاب منصہ شہود پر طلوع ہوئی۔ میں ان تمام دوستوں کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکر گزار ہوں اور اللہ تعالیٰ کے حضور بدست دعا ہوں کہ اللہ پاک انہیں اجر عظیم سے نوازے۔ (آمین)

میں ممنون ہوں خواجہ خواجگان حضرت مولانا خان محمد مدظلہ‘ خطیب ختم نبوت حضرت مولانا محمد اجمل خان مدظلہ‘ فقیہ العصر مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ‘ نمونہ اسلاف حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری مدظلہ‘ فدائے ختم نبوت حضرت مولانا سید نفیس شاہ الحسینی مدظلہ‘ جانثار ختم نبوت الحاج محمد نذیر مغل مدظلہ‘ سفیر ختم نبوت مولانا منظور احمد چنیوٹی مدظلہ‘ پاسبان ختم نبوت جنا ب ہارون الرشید مدظلہ محب ختم نبوت جناب جاوید مغل مدظلہ‘ مجاہد ختم نبوت جناب طارق مغل‘ مجاہد ختم نبوت جناب جمشید مغل مدظلہ پروانہ ختم نبوت جناب ارشاد احمد عارف مدظلہ‘ میر صحافت ختم نبوت جناب حامد میر مدظلہ‘ مجاہد ختم نبوت صاحبزادہ طارق محمود مدظلہ‘ متکلم ختم نبوت مولانا زاہد الراشدی مدظلہ‘ وکیل ختم نبوت جناب سید محمد کفیل شاہ بخاری مدظلہ کا‘ جن کی سرپرستی کا سحاب کرم میرے سر پر چھایا رہا۔ اللہ تعالیٰ ان تمام بزرگوں کا سایہ ہمارے سروں پر تادیر سلامت رکھے۔ (آمین ثم آمین) محمد طاہر رزاق

صفحہ ٥

فہرست

دلچسپ روداد

صفحہ ٦
صفحہ ٧

سمجھتے ہیں 156

صفحہ ٨

میں انصاف مانگتا ہوں!

صفحہ ہستی پہ بسنے والے انسانو!
انسانی حقوق کے علمبردارو!
عالمی عدالت کے منصفو!
روشن خیال دانشورو!
ظلم کے خلاف جہاد کرنے والے ادیبو!
سچ کا درس دینے والے شاعرو!
مظلوم کے حق میں صدا بلند کرنے والے وکیلو!
امن کے پیغامبرو!
صفحہ ٩

اہل دنیا یہ میرے مذہبی عقائد ہیں۔۔۔۔۔ اور تم ان عقائد سے بخوبی آشنا ہو۔۔۔۔۔ لیکن۔۔۔۔۔ اے اہل دنیا۔۔۔۔۔ ہندوستان کے ضلع گورداسپور کی تحصیل بٹالہ کے ایک گاؤں قادیان سے ایک شخص مرزا قادیانی اٹھا۔۔۔۔۔ اس نے پوری دنیا کو مخاطب کر کے اعلان کیا۔

مجھے لو۔

اس نے کہا۔۔۔۔۔

صفحہ ١٠

اہلِ دنیا ! قادیانی عقائد کے مطابق:

چاہتا ہے ، وہ قادیان سے حاصل کرے۔

خدا کی دھرتی پر رہنے والے باشعور انسانو ! کیا تم نے خدا کی دھرتی پر اس سے بڑا ظلم اور فراڈ دیکھا ہے ؟

کیا تم نے قادیانیوں سے بڑا قبضہ گروپ دیکھا ہے ؟

کیا تم نے اس سے بڑھ کر بھی انسانی حقوق کی پامالی دیکھی ہے ؟

کیا تم نے اس سے بڑھ کر بھی سرورِ کائنات جناب محمد عربی ﷺ اور ان کے دینِ مبین کی توہین دیکھی ہے ؟

دنیا کی سپر پاور ” امریکہ “ کے صدر جناب کلنٹن صاحب ! فرض کریں آپ اپنے وائٹ ہاؤس (صدارتی محل) میں داخل ہوتے ہیں۔۔۔۔۔ وہاں آپ اندر ایک شخص کو کھڑا

صفحہ ١١

جاتے ہیں۔۔۔۔۔ وہ رعب و تمکنت سے آپ کو کہتا ہے: "میں کلنٹن ہوں۔ یہ وہائیٹ ہاؤس میرا ہے۔"

پھر وہ اپنے ساتھ کھڑی ایک عورت کی طرف اشارہ کر کے آپ سے کہتا ہے: "یہ ہیلری کلنٹن ہے، یہ میری بیوی ہے۔"

پھر وہ اپنے ساتھ کھڑی ایک لڑکی کی طرف اشارہ کر کے کہتا ہے: "یہ چیلسی کلنٹن ہے، یہ میری بیٹی ہے۔"

پھر وہ آپ کی قیمتی ترین گاڑی کی طرف انگلی اٹھا کر کہتا ہے: "یہ میری گاڑی ہے۔ یہ بڑی نفیس اور قیمتی گاڑی ہے کیونکہ میں امریکہ کا صدر ہوں۔"

پھر وہ آپ کی تعلیمی اسناد اور ڈگریاں آپ کو دکھا کر کہتا ہے: "یہ میری تعلیمی اسناد اور ڈگریاں ہیں، جنہیں میں نے رات دن کی محنت شاقہ کے بعد حاصل کیا ہے۔"

پھر وہ آپ کو آپ کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد کے کاغذات دکھاتے ہوئے کہتا ہے: "یہ میری جائیداد کے کاغذات ہیں اور دیکھیے میں کتنا امیر آدمی ہوں۔"

پھر وہ آپ کو آپ کے بنک اثاثوں کے بارے میں بتاتے ہوئے کہتا ہے: "یہ دیکھیے، یہ میرا بنک اثاثہ ہے اور اسے میں نے بڑی جدوجہد سے کمایا ہے۔"

پھر وہ آپ کو وہائیٹ ہاؤس کی سیکیورٹی سٹاف دکھاتے ہوئے کہتا ہے: "یہ میرا سیکیورٹی سٹاف ہے جو ہر وقت میری حفاظت کے لیے مستعد رہتا ہے۔"

پھر وہ آپ کو انتہائی غصہ میں جھڑکتے ہوئے کہتا ہے: "میں کلنٹن تمہیں حکم دیتا ہوں یعنی صدارتی آرڈر جاری کرتا ہوں کہ تم

صفحہ ١٢

ابھی وائٹ ہاؤس اور امریکہ سے نکل جاؤ۔ کیونکہ تمہارا امریکہ سے کوئی تعلق نہیں۔“

جناب کلنٹن! کیا یہ ہولناک صورت حال دیکھ کر آپ کے پاؤں تلے سے زمین نہیں نکل جائے گی؟

کیا آپ کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا نہیں چھا جائے گا؟

فرط غم سے کیا آپ کی آنکھوں سے آنسو نہیں نکل آئیں گے؟

اس ظلم پر کیا آپ بے اختیار چیخ نہیں اٹھیں گے؟

مسٹر کلنٹن! قادیانیوں کے ایسے ہی ظلم کے خلاف ہم ایک صدی سے رو رہے ہیں۔

شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے
ہمیں خبر ہے لٹیروں کے ہر ٹھکانے کی

خاکپائے مجاہدین ختم نبوت محمد طاہر رزاق بی ایس سی، ایم اے (تاریخ) لاہور 30 اکتوبر 2000ء

صفحہ ١٣

جہاد ختم نبوت کا اسلحہ

اس کے ایک ہاتھ میں ختم نبوت کا پرچم ہے اور وہ دوسرے ہاتھ سے دشمنان اسلام کے خلاف جنگ کا طبل بجا رہا ہے۔ اس مجاہد ختم نبوت کا نام محمد طاہر رزاق ہے۔ ختم نبوت کے منکرین کے خلاف محمد طاہر رزاق کی کتابیں پڑھ کر ہر سچے مسلمان کا ضمیر اسے جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے۔ ضروری نہیں کہ ختم نبوت کے جہاد میں ہم منکرین کے جسمانی وجود کو مٹانے کا فوری آغاز کر دیں، سب سے پہلے ہمیں فتنہ قادیانیت کا نظریاتی وجود مٹانا ہے اور محمد طاہر رزاق کا قلم فتنہ قادیانیت کا سر اُڑانے کے لیے تلوار کا کام کر رہا ہے۔ اس فتنے کا نظریاتی وجود پارہ پارہ کرنے کے بعد قادیانیوں کے خلاف عملی جہاد کا وقت آئے گا۔ محمد طاہر رزاق کے قلم سے جنم لینے والی کتابیں عملی جہاد کے لیے بنیادیں فراہم کر رہی ہیں۔ ان کی زیر نظر کتاب ”جہاد ختم نبوت کے جانثار“ کا مطالعہ کرنے کے بعد دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ اے کاش! ہم بھی جہاد ختم نبوت میں وہ کردار ادا کرنے کی سعادت حاصل کر سکیں جو ہمارے بزرگوں کو نصیب ہوئی۔ کچھ لوگ قادیانیت کے متعلق محمد طاہر رزاق کے موقف کو انتہا پسندانہ قرار دیتے ہیں لیکن میری ناچیز رائے میں ہمارے محترم دوست محمد طاہر رزاق کا موقف تاریخی حقائق، ٹھوس دلائل اور سچائی کی روشنی سے مالا مال ہے۔ ان کا موقف سچائی کی انتہاؤں کو چھوتا دکھائی دیتا ہے اور قادیانیوں کا موقف جھوٹ کی انتہاؤں کو چھوتا دکھائی دیتا ہے لہذا محمد طاہر رزاق کو قادیانیوں کے بارے میں اپنی انتہا پسندی پر فخر کرنا چاہیے۔

صفحہ ١٤

قادیانیت ایک ایسا فتنہ ہے جسے ختم کرنے کے لیے ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہوگا۔ یہ فتنہ پاکستان کی سلامتی کے علاوہ جہاد کشمیر کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ کشمیر میں قادیانیوں کی دن بدن بڑھتی ہوئی دلچسپی قابلِ غور ہے۔ ’جہاد ختم نبوت کے جانثار‘ کشمیر میں قادیانیوں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کا نوٹس لیں۔ حال ہی میں قادیانی پس منظر رکھنے والے ایک امریکی دانشور منصور اعجاز کی حزب المجاہدین کے سپریم کمانڈر سید صلاح الدین سے ملاقات نے کئی سوالات پیدا کیے۔ منصور اعجاز نے سید صلاح الدین سے قبل سری نگر میں فاروق عبداللہ سے بھی ملاقات کی۔ سید صلاح الدین نے اعتراف کیا کہ منصور اعجاز نے کلنٹن کے نام ان سے ایک ایسا خط لکھوانے کی کوشش کی جس میں اٹل بہاری واجپائی کے لیے اظہار عقیدت شامل تھا۔ لیکن سید صلاح الدین نے اس خط پر دستخط کرنے کی بجائے خود ایک نیا خط تیار کیا۔ یہ پہلو قابل غور ہے کہ سری نگر میں منصور اعجاز کے قادیانی رشتہ دار بھی رہائش پذیر ہیں۔ یقیناً منصور اعجاز تقسیم کشمیر کے امریکی منصوبے پر عمل پیرا ہے۔ منصور اعجاز کی شان میں قلمی گستاخیاں کرنے پر پاکستان کی قادیانی لابی میرے خلاف بھی سرگرم عمل ہے۔ قادیانیوں کی مخالفت کے منفرد اور اچھوتے انداز نے مجھے انہیں مزید سمجھنے کا موقع دیا۔ قادیانی حضرات اپنے جعلی عقیدے میں موجود کمزوریوں اور خرابیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے جھوٹ کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں اور اپنے مخالفین کے خلاف بھی جھوٹ سے مدد لیتے ہیں۔ پاکستان کے اخبارات میں اگر کوئی کالم نگار قادیانیوں پر تنقید کرے تو یہ اخبار کے ایڈیٹر کو کالم نگار کے خلاف جعلی ناموں سے خطوط لکھتے ہیں اور اگر ایڈیٹر ان کے خلاف اداریہ لکھ دے تو چیف ایڈیٹر کے سامنے دُہائی دیتے ہیں کہ ہم آپ کے اخبار کو اشتہار دیتے ہیں لیکن آپ ہمارے ساتھ زیادتی کرتے ہیں۔ قادیانی مختلف حیلے بہانوں اور طریقوں سے اخبارات کو دباتے ہیں اور کوئی نہ دبے تو پھر اس پر طرح طرح کے الزامات کی بارش کر دیتے ہیں۔ مادیت پرستی کے اس دور میں قادیانی لالچ اور طمع کے ذریعے سادہ لوح مسلمانوں کو بے وقوف بناتے ہیں اور اگر کوئی لالچ میں نہ آئے تو پھر مکاری‘ دھونس‘ دھاندلی سے کام لیتے ہیں۔ جب سے محمد طاہر رزاق نے اپنی کتابوں کے ذریعہ قادیانیت کے خلاف دلائل کے انبار لگائے‘ اکثر پاکستانی اخبارات کی بزدلی اور مفاد

صفحہ ١٥

پڑھنے کے بعد میری وہ علمی ضروریات پوری ہونے لگیں جن کی کمی محسوس کی جارہی تھی اور جن کی اہمیت جہاد ختم نبوت میں کسی اسلحے سے کم نہیں۔ آغا شورش کاشمیری نے کہا تھا ؎

کرۂ ارض کی ہر عنوان سے تذلیل ہے
قادیان! مابین ہند و پاک اسرائیل ہے
میرا یہ لکھنا کہ ربوہ کی خلافت ہے فراڈ
خواجہ کونینؐ کے ارشاد کی تعمیل ہے

محمد طاہر رزاق نے بھی ’جہاد ختم نبوت کے جانثار‘ لکھ کر خواجہ کونینؐ کے ارشاد کی تعمیل کی اور قادیانیوں کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی حقیقت کو بھی طشت از بام کیا۔ اللہ تعالیٰ ہر غیرت مند مسلمان کو محمد طاہر رزاق کی طرح جہاد ختم نبوت کا جانثار بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین) اس وقت آپ کے ہاتھ میں صرف ایک کتاب نہیں بلکہ جہاد ختم نبوت کا اسلحہ ہے۔ یہ اسلحہ زیادہ سے زیادہ مسلمانوں تک پہنچانا آپ کا فرض ہے۔

حامد میر ٤ ستمبر ٢٠٠٠ء اسلام آباد

صفحہ ١٦

باسمہ تعالیٰ

ناتمام

محمد طاہر رزاق مجھے معاف کر دیں، میں ان کی دل شکنی کا مرتکب ہوا اور انہیں تادیر منتظر رکھا۔ اس نجیب اور شائستہ آدمی کو جو تین ماہ پہلے اس گھر میں نجات کی ایک نوید اور رحمت کی ایک کرن بن کے آیا تھا۔ ختم نبوت کے عظیم اور اہم موضوع پر اکیس عدد کتابوں کا تحفہ اٹھائے، وہ اس غریب خانے میں داخل ہوا اور اسے منور کر دیا۔ پھر برادرانہ بے ساختگی سے، جو برسوں کی رفاقت سے پروان چڑھتی ہے، فرمائش کی کہ میں اس کی تازہ کتاب کا دیباچہ لکھوں۔

محمد طاہر رزاق مجھے جذبات کے ایک کبھی نہ ختم ہونے والے بھنور میں چھوڑ گئے۔ اللہ اللہ، یہ معمولی محرر اتنا معتبر کیسے ہو گیا کہ سرکار ختم المرسلین ﷺ کی مدح اور دفاع میں لکھی جانے والی کتاب پہ اظہار خیال کرے۔ عالم دین تو کجا میں تو ڈھنگ کا ایک طالب علم بھی نہیں، پھر اس اعزاز کا مستحق کیسے ہو گیا۔ ایک کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری شب گزرتی گئی۔ اسلام آباد سے لاہور، لاہور سے نیویارک اور نیویارک سے حجاز مقدس کے سفر میں جب بھی ارادہ کیا اکثر آنکھ بھر آئی اور میں نے خود کو سبک اور شرمسار پایا۔ اس کے سوا کہ میں انہی ﷺ کا نام لیوا ہوں، اس کے سوا کہ کبھی ان ﷺ کی سیرت کا مطالعہ کرنے اور اس پر تھوڑا سا غور

صفحہ ١٧

وہ فخر کرنے کی سعادت نصیب ہوئی تھی، کوئی ہنر نہیں رکھتا کہ اس نازک موضوع پر زبان کھولنے کی جسارت کروں مگر جناب طاہر کو اصرار ہے۔ مکرم و محترم ڈاکٹر محمود غازی سے کہا ہوتا۔ جسٹس تقی عثمانی سے گزارش کی ہوتی۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے خانوادے میں کسی کی خدمت میں حاضر ہوئے ہوتے۔ اس غریب پہ یہ بوجھ کیوں لاد دیا جو ارادہ کرتا ہے تو سر سے پاؤں تک کانپ اٹھتا ہے۔

جگر مراد آبادی کی قبر کو اللہ نور سے بھر دے۔ علی گڑھ یونیورسٹی کے ایک طالب علم کا سنایا واقعہ یاد آتا ہے تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ مشاعرے کی شب یونیورسٹی کے طالب علم شوخی پہ اتر آئے اور غزل کے منفرد شاعر سے نعتؐ کی فرمائش کی۔ مجمع مصر ہو گیا۔ مجمع نے عملاً شاعر کا گھیراؤ کر لیا۔ اس نے ٹالنے کی کوشش کی مگر نوجوان کہاں ٹلتے ہیں۔ کہا: ٹوپی لاؤ، ٹوپی سر پہ رکھی، مودب ہو کر بیٹھے اور مصرعہ پڑھا ع

اک رند قدح خوار اور مدحت سرکار مدینہ؟

مصرعہ دہرایا اور رو دیئے، پھر دہراتے اور روتے رہے، شاعر مصرعہ پڑھتا اور روتا رہا، ایک ایک کر کے سارے لوگ چلے گئے۔ وہ روتا رہا ع

اک رند قدح خوار اور مدحت سرکار مدینہ؟

مدحت سرکار مدینہ کوئی کھیل نہیں۔ یہ انہی کو زیبا ہے جو سرکار ﷺ کے مقام و مرتبے سے کسی نہ کسی درجے میں آشنا ہوں۔ غالبؔ ایسا عبقری بے بس ہو گیا تھا اور کہا تو فقط یہ کہا ؎

غالبؔ ثنائے خواجہ ﷺ بہ یزداں گزاشتم
کاں ذات پاک مرتبہ دان محمد ﷺ است

یہ کچھ محمد طاہر رزاق ایسے نیک نفس لوگوں کو زیبا ہے کہ ان پاکیزہ موضوعات پر بات کریں۔ جس کے ہاتھ میلے ہوں، وہ سفید براق پوشاک کو نہیں چھوتا۔ یہ عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے معنوی فرزندوں ہی کو زیبا ہے کہ ختم نبوت کا علم لہرائیں اور اس شان سے لہرائیں کہ دنیا حیرت کرتی رہے۔

صفحہ ١٨
رفعت شان رفعنا لک ذکرک دیکھے
چشم اقوام یہ نظارہ ابد تک دیکھے

محمد طاہر رزاق نے اپنے لہجے کی بشاشت، یقین اور یکسوئی سے مجھے حیران کر دیا اور حیران کیے رکھا۔ ان کے ساتھ میری ایک ہی قدر مشترک ہے کہ انہی کی طرح میں بھی سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کا دل و جان سے مداح ہوں۔ ہرچند کہ پوری یکسوئی سے سیاسی طور پر میرا تعلق قائد اعظمؒ کے قبیلے سے واقع ہوا ہے لیکن بیس پچیس برس کے مطالعے اور غور و فکر کے بعد میرا احساس یہ ہے کہ حریت کیش دیوبند، تحریک احرار، تحریک ختم نبوت اور سید ابوالاعلیٰ مودودی کی جماعت اسلامی کا اثاثہ ہمارا ملی اور قومی اثاثہ ہے۔ ان عظیم الشان علمی اور سیاسی تحریکوں کے بغیر ہم پرلے درجے کے مفلس ہوتے۔ یوں تو علمی اور نظری اعتبار سے پوری امت ختم نبوت پہ متحد اور یکسو ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ اعزاز دیوبندی مکتب فکر ہی کو عطا کیا کہ وہ جعلی نبوت کے خلاف خم ٹھونک کے لڑے حتیٰ کہ یوم حساب آ پہنچا۔

برصغیر کی سیاسی تاریخ کا ہر سنجیدہ طالب علم جانتا ہے کہ حضرت انور شاہ کاشمیریؒ تھے جنہوں نے اقبالؒ کو اس موضوع پر واضح ہونے میں مدد دی ورنہ ہمارا دردمند اور خوش گمان شاعر تو قادیانیوں کے ساتھ کشمیر کمیٹی میں شامل تھا۔ انور شاہ کاشمیریؒ کے دوسرے کمالات بھی کم نہیں لیکن اگر انہوں نے زندگی میں یہی ایک کارنامہ انجام دیا ہوتا شاید تب بھی تاریخ اور قادر مطلق کی بارگاہ میں وہ سرخرو اور سرفراز ہوتے۔

لیکن سب سے بڑھ کر، سب سے زیادہ لگن اور یکسوئی کے ساتھ اگر کسی شخصیت نے اس جہاد میں جان کھپائی تو وہ سید صاحب تھے۔۔۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وہ منفرد اور تابناک امتی، جن کی مکمل سوانح اب تک نہیں لکھی جا سکی اور شاید کوئی بڑے سے بڑا انشا پرداز بھی لکھ نہیں سکتا۔ تاریخ کی بساط پہ ایسی نادر و نایاب شخصیات کم ہی ابھرتی ہیں۔ لغات کے سانچے ان کے لیے محدود ہو جاتے ہیں اور ان کے تذکرے میں یوں لگتا ہے کہ لفظ کم پڑنے لگے ہیں۔

صفحہ ١٩

نئی نسلوں کو کیا خبر کہ یہ لوگ کیا تھے۔ کیا ان کا خیال یہ ہے کہ برصغیر کی آزادی مسلم لیگ نے ممکن بنائی؟ بے شک پاکستان کا وجود قائد اعظم کی بے لوث قیادت اور ان کے رفیقوں کی بے کراں ریاضت کا ثمر ہے لیکن وہ کون لوگ تھے جو حالات کو یہاں تک کھینچ لے آئے تھے، جو ایک صدی تک میدان کارزار میں جمع رہے، حتیٰ کہ ہندوستان کی فضا سے استعمار کا خوف دھل گیا اور در و بام کو حریت کے جذبات نے منور کر دیا۔ مسلسل قربانیوں، بے حساب قربانیوں سے انہوں نے سامراج کو تھکا دیا بلکہ اس کے زیر اثر پیدا ہونے والے مذہبی، نظریاتی اور سماجی فتنوں کے سدباب کو ممکن بنایا۔ یہ ابوالکلام آزادؒ تھے، دیوبند تھا، احرار تھے، اقبال تھے، مولانا محمد علی جوہرؒ تھے اور آخر کار سید ابوالاعلیٰ مودودی تھے، جنہوں نے ملک کے ایک ایک گوشے میں محمد مصطفےٰ ﷺ کا پرچم لہرایا۔ کبھی اور کسی صورت میں یہ مسلم لیگ نہیں تھی۔ اگر مولانا شبیر احمد عثمانیؒ تھے اور حکیم الامت اشرف علی تھانویؒ تھے تو غور کرو کہ انہوں نے اپنا چراغ کس چراغ سے روشن کیا تھا۔

آدمی حیرت زدہ اور مبہوت رہ جاتا ہے، جب وہ سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی للکار سنتا ہے۔ ”لوگو! میں کسی کا نہیں، اپنا نہ پرایا، میں صرف محمد ﷺ کا ہوں۔“ کہا جاتا ہے کہ برصغیر کی سرزمین نے سید جیسا خطیب کبھی نہ دیکھا۔ دنیا کی کسی سرزمین نے کبھی نہ دیکھا۔ کبھی خطابت کی تاریخ کا کوئی طالب علم برطانیہ کے چرچل، روم کے انطونی یا یونان کے ڈیماتھینز کے ساتھ ان کا تقابل کرتا ہے۔ چرچل کی تقاریر ریکارڈ پر موجود ہیں۔ ان کی آواز اب بھی سنی جا سکتی ہے لیکن ان میں کوئی ایک بھی ایسا دل گداز اور چمک دار جملہ تلاش نہیں کیا جا سکتا۔ یہ سوز، یہ وارفتگی اور یہ جلال عشق مصطفےٰ سے پیدا ہوتا ہے، کسی اور چیز سے کبھی نہیں۔ ابوالکلام اسی کا معجزہ تھے۔ محمد علی جوہر کو اسی نے بے پناہ کر دیا تھا اور عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اسی کی کرامت تھے۔ ایک زندہ کرامت جو برصغیر کے سیاسی اور دینی مطلع پر پچاس برس تک، آفتاب کی طرح دمکتی رہی۔۔۔ ڈیماتھینز ایک کہانی ہے اور کون جانتا ہے کہ اس کہانی میں صداقت کتنی ہے۔ انطونی کی تقاریر شیکسپیئر کے قلم کا شاہکار ہیں، کسے خبر کہ ہزاروں برس پہلے اس جنگجو کے اصل الفاظ کیا تھے؟ البتہ عرب خطیبوں کے بارے میں بعض

صفحہ ٢٠

روایات کسی قدر صحت کے ساتھ موجود ہیں اور اگر کوئی موازنہ ممکن اور موزوں ہے تو انہی سے موزوں ہے۔

کہا جاتا ہے کہ امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کوفہ میں وارد ہوئے تو انہوں نے درجن بھر خطیبوں کو خطبہ دینے سے روک دیا کہ زبان اور دین کے مزاج سے آشنا نہ تھے لیکن حسن بصریؒ کو سنا تو اجازت عطا کی اور تحسین فرمائی۔ ان کے بعض مختصر خطبے تاریخ نے محفوظ رکھے ہیں، اللہ کسی کو توفیق دے تو ان کا مطالعہ کرے اور دیکھے کہ روشنی لفظوں میں کیسے گوندھی جاتی ہے۔ لوگ اقتدار اور جلال سے مرعوب ہوتے ہیں۔ حجاج بن یوسف کے ایک خطبے کا خاص طور پر تذکرہ ہوتا ہے، جو لوگ عرب خطیبوں کے لہجے سے آشنا نہیں، ان کی مرعوبیت قابل فہم ہے لیکن جنہوں نے حسن بصریؒ کے الفاظ پڑھے ہیں، وہ حجاج کو خطابت کا شہسوار نہیں مان سکتے۔ حجاج میں جلال اور ہیبت ہے، تراشیدگی اور ابلاغ بھی بہت ہے، خوف زدہ کر دینے والا طنطنہ ہے، الفاظ کی ندرت بھی لیکن حسن بصری کا سا حسن کہاں۔ وہ دل کشا نُور اور جمال کہاں۔ دربار میں طلب کیے گئے۔ حجاج نے قتل کی دھمکی دی تو فرمایا: تم میری دنیا برباد کر سکتے ہو مگر میں تمہاری آخرت برباد کر دوں گا۔ اگر حجاج کو پابہ زنجیر تلواروں کے سائے میں لایا جاتا تو کیا اس کی زبان اسی روانی سے کلام کرتی؟

سچی اور اُجلی، رُوحوں کو گرمانے اور دلوں کو بے قرار کر دینے والی خطابت، نثار ہو جانے کی آرزو سے پھوٹتی ہے۔ غیرت و حمیت سے جنم لیتی ہے اور ایمان کے نُور سے برگ و بار لاتی ہے۔ اس پر کوئی تعجب نہیں کہ دنیا کا بہترین ادب دینی ادب ہے۔ اصحابؓ رسول اور تابعین کا تو ذکر ہی کیا، دنیا بھر کے پیشہ ور ادیبوں کی کتابیں اٹھا لائیے اور نظام الدین اولیاءؒ کے جملے ایسا ایک جملہ نکال کر دکھا دیجئے۔ ”اگر کسی نے کانٹا رکھ دیا اور تم نے بھی کانٹا رکھ دیا تو یہ دنیا کانٹوں سے بھر جائے گی ۔“ کیا کسی نے حضرت مجدد الف ثانیؒ اور شیخ شرف الدین یحییٰ منیریؒ کے مکتوب پڑھے ہیں۔ کیا محمد حسین آزاد اور رشید احمد صدیقی کی نثر ان کے مقابل کوئی معنی رکھتی ہے۔ ابوالکلامؒ ہی سب سے بڑے نثر نگار اور اقبالؒ ہی سب سے بڑے شاعر کیوں ہیں؟ انگریزی محمد علی جوہرؒ کی مادری زبان نہ تھی، اس کے باوجود یہ کیونکر ممکن ہوا کہ وہ

صفحہ ٢١

اپنے عہد کے عظیم ترین انشا پرداز مانے گئے۔ افسوس کہ لوگ غور نہیں کرتے۔ وہ یوں غور نہیں کرتے کہ ابوالکلام آزاد اور محمد علی جوہرؒ تو کجا برصغیر کے ہندوؤں اور سکھوں میں ظفر علی خاںؒ اور شورش کاشمیریؒ کے مرتبے کا کوئی اخبار نویس بھی پیدا نہ ہو سکا۔۔۔ بھلے لوگو، سوچو تو سہی ابوالاعلیٰؒ کی نثر اتنی اُجلی کیسے ہو گئی؟ عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے ساتھ لوگ شب بھر جاگتے کیوں تھے۔ حسین احمد مدنیؒ اور اشرف علی تھانویؒ پہ پروانوں کی طرح کیوں گرتے تھے؟

کسی نے حضرت انور شاہ کاشمیریؒ کے بارے میں سیّد صاحب سے سوال کیا تو فرمایا: وہ صحابہ کے قافلے سے بچھڑ گئے تھے۔ کوئی چاہے تو اسے شاعری قرار دے کر نظر انداز کر دے۔ بخدا یہ شاعری نہیں ہے۔ روایت کے مطابق سرکار ﷺ کے ایک صحابی نے سوال کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم آپ کے بھائی نہیں۔ فرمایا: تم تو میرے رفیق ہو، میرے بھائی تو میرے بعد آئیں گے۔ (او کما قال) ایک دوسری روایت ہمیں سرکار ﷺ کے اس ارشاد سے آشنا کرتی ہے کہ امت محمدیہ کے علماء بنی اسرائیل کے انبیاء کی طرح ہیں۔ افسوس کہ امت نے ان کی قدر نہ کی۔ اگر وہ کرتی تو زوال، پستی اور پسماندگی سے دوچار نہ ہوتی۔

ایک بد بخت مشرک نے غلیظ کتاب لکھی، جس کا نام نقل کرتے کوفت ہوتی ہے۔ شاہ جیؒ نے احتجاج کی فلک شگاف آواز بلند کی اور اس نکتے کو بانداز دگر بیان کیا۔ فرمایا:

”مسلمانو! میں تمہاری سوئی ہوئی غیرت کو جھنجوڑنے آیا ہوں۔ آج کفار نے توہین پیغمبرؐ کا فیصلہ کر لیا ہے۔ انہیں شاید یہ غلط فہمی ہے کہ مسلمان مر چکا ہے۔ آؤ اپنی زندگی کا ثبوت دیں۔ عزیز نوجوانو! تمہارے دامن کے سارے داغ صاف ہونے کا وقت آ پہنچا ہے۔ گنبد خضرا کے مکین تمہاری راہ دیکھ رہے ہیں۔ ان کی آبرو خطرے میں ہے۔ ان کی عزت پر کتے بھونک رہے ہیں۔ اگر قیامت کے روز محمد ﷺ کی شفاعت کے طالب ہو تو پھر نبیؐ کی توہین کرنے والی زبان نہ رہے یا پھر سننے والے کان نہ رہیں“۔

”آج آپ لوگ جناب فخر رسل رسول عربی ﷺ کی عزت و ناموس کو برقرار

صفحہ ٢٢

رکھنے کے لیے جمع ہوئے ہیں۔ آج اس جلیل القدر ہستی کا وجود معرض خطر میں ہے۔ جس کی دی ہوئی عزت پر تمام موجودات کو ناز ہے۔ میں گیارہ سال سے آپ لوگوں میں تقریریں کر رہا ہوں۔ آج مفتی کفایت اللہ صاحب اور مولانا احمد سعید صاحب (یہ دونوں حضرات سٹیج پر موجود تھے۔ شاہ صاحب نے ان کی طرف اشارہ کر کے یہ فقرہ ادا کیا) کے دروازے پر ام المومنین عائشہ صدیقہؓ اور ام المومنین خدیجہؓ آئیں اور فرمایا کہ ہم تمہاری مائیں ہیں۔ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ کفار نے ہمیں گالیاں دی ہیں؟"

ارے دیکھو تو کہیں ام المومنین عائشہؓ دروازے پر تو نہیں کھڑی ہیں؟

(یہ سن کر مجمع پلٹا کھا گیا۔ لوگوں میں کہرام مچ گیا اور مسلمان دھاڑیں مار مار کر رونے لگے) تمہاری محبت کا تو یہ عالم ہے کہ عام حالتوں میں کٹ مرتے ہو لیکن کیا تمہیں معلوم نہیں کہ آج سبز گنبد میں رسول اللہ ﷺ تڑپ رہے ہیں۔ آج خدیجہؓ اور عائشہؓ پریشان ہیں۔ بتاؤ تمہارے دلوں میں امہات المومنینؓ کی کیا وقعت ہے؟

آج ام المومنین عائشہؓ تم سے اپنے حق کا مطالبہ کر رہی ہے۔ وہی عائشہؓ جنہیں رسول اللہ ﷺ "حمیرا" کہہ کر پکارتے تھے۔ جنہوں نے سید عالمؐ کی رحلت کے وقت مسواک چبا کر دی تھی۔ اگر تم خدیجہؓ اور عائشہؓ کے ناموس کی خاطر جانیں دے دو تو کچھ کم فخر کی بات نہیں ہے۔ یاد رکھو جس روز یہ موت آئے گی، پیامِ حیات لے کر آئے گی۔

ڈیما تھیز؟ انطونی؟ چرچل؟--- خدا کے بندو، کیا ان میں سے کوئی ایسا ایک بھی جملہ کبھی کہہ سکا؟--- وہ کیسے کہہ سکتے تھے--- جن لوگوں پہ کائنات کی سب سے بڑی صداقت آشکار نہ ہو سکی اور جو عمر بھر خود ظلمتوں میں بھٹکتے رہے، وہ کیونکر چراغ روشن کرتے۔

مہاتما بدھ کے آخری خطبے کا ایک جملہ یہ ہے: سب چراغ بجھ جائیں گے، صرف ایک چراغ جلتا رہے گا، جو خلوص اور ایمان سے روشن کیا گیا۔

ازلی اور ابدی صداقت کیا ہے؟ جمعۃ المبارک کے ہر خطبے میں ہم سنتے اور پھر بھول جاتے ہیں۔ اللہ کی کتاب اور اللہ کے آخری رسول ﷺ --- سب سے زیادہ

صفحہ ٢٣

افضل کتاب اور سب سے زیادہ افضل انسان۔۔۔ صرف اسلام ہی نہیں، انسانی تہذیب و تمدن کی ہر عمارت انہی پہ استوار ہے اور اگر ان میں سے کسی ایک کو مجروح کر دیا گیا تو بنی نوع انسان اپنی ساری متاع سے محروم ہو جائے گی۔۔۔ سب چراغ گل ہو جائیں گے۔

مرزا غلام احمد قادیانی کی سرکاری نبوت پہ بحث ہوتے ایک صدی ہونے کو آئی۔۔۔ اب اس بحث کے تمام گوشے منور اور آشکار ہوچکے۔ اب اگر کوئی آدمی اندھا ہو تو اس کا کیا علاج، ورنہ سامنے کا سوال یہ ہے کہ کیا کوئی پیغمبر اپنے عہد کے سامراج کا ثنا خواں ہوتا ہے۔ سوال صرف اتنا سا نہیں، سوال یہ بھی ہے کہ انگریزی استعمار نے مرزا کی سرپرستی کیوں کی۔۔۔ اس کم شکل، بے اصل اور کم سواد آدمی کی؟۔۔۔ اس لیے کہ استعمار کو اہل ایمان کی حمیت و غیرت سے خطرہ درپیش تھا جو جہاد کے عمل میں متشکل ہوتی اور پہاڑوں کو سرکا سکتی ہے۔

اب ایک لمحے کو رک جائیے اور اس مفروضے پر غور کر لیجئے کہ کیا یہ انڈین نیشنل کانگریس تھی جس نے آزادی کے لیے راستہ ہموار کیا۔ پروپیگنڈہ سے مرعوب ہو جانے والے سادہ دلوں اور سطحی لوگوں کی بات دوسری ہے ورنہ کوئی بتائے کہ ١٨٥٧ء میں بروئے کار آنے والوں میں ہندو جرنیل، سکالر اور خطیب کتنے تھے۔ ہزاروں علماء پھانسیوں پر جھول گئے۔ ان میں کانگریس کا پیش رو کون تھا۔ خیر، اس سوال کو بھی چھوڑ دیجئے، یہ فرمائیے کہ وہ کون لوگ تھے جنہوں نے ہند کے خس و خاشاک میں آگ بھڑکائی؟ عام لوگوں میں انگریزی اقتدار کی مرعوبیت تمام کر دی اور لاکھوں کروڑوں لوگوں کو متحرک کر کے سامراج کو اپنی بساط لپیٹنے پر آمادہ کیا؟ ایک بار پھر عرض ہے کہ یہ قاسم نانوتویؒ اور شیخ محمود الحسنؒ کا قافلہ تھا، یہ ابوالکلام آزادؒ، محمد علی جوہرؒ اور عطاء اللہ شاہ بخاریؒ تھے۔

یہی قبیلہ انگریز کا سب سے بڑا مسئلہ تھا اور اس سے نجات حاصل کرنے کے لیے، مسلمانوں کی دینی حمیت کا خاتمہ کرنے کے لیے شاطر انگریز کو دوسری چیزوں کے علاوہ ایک جعلی نبوت سازگار تھی۔ اگر قادیانی ٹولے کو نظر انداز کر دیا جاتا، جیسا کہ مذہب کو بندے اور خدا کا ذاتی معاملہ قرار دینے والا انگریزی طبقہ بالعموم کرتا ہے تو

صفحہ ٢٤

اس کا نتیجہ کیا نکلتا؟

سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ سے کسی نے سوال کیا کہ آخر قادیانیوں کے خلاف تحریک سے انہوں نے کیا حاصل کیا؟ فرمایا: تمہاری پچھلی نسل کے بہت سے لوگ قادیانی ہوگئے لیکن ہم نے تمہیں اور تمہارے بھائیوں کو بچا لیا۔۔۔ ایک دوسرے موقع پر ارشاد کیا: ہم نے جعلی نبوت کے خلاف ایک ٹائم بم نصب کر دیا ہے جو وقت آنے پر لازماً پھٹے گا۔ سید صاحبؒ کی وفات کو صرف تیرہ برس گزرے تھے کہ ان کی پیش گوئی بکمال و تمام پوری ہوئی اور ذرا غور تو کرو کہ کس حکمران کے ہاتھوں پوری ہوئی۔ وہ آدمی جس کی سیاست کو قادیانیوں کی مکمل مالی اور سیاسی مدد حاصل تھی۔ افسوس کہ لوگ اللہ کی نشانیوں پر تدبر نہیں کرتے۔

امریکی اخبارات نے غل مچا رکھا ہے کہ پاکستان کے فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف بنیاد پرستوں سے نمٹ نہیں سکے۔ اگر میرے ذرائع درست ہیں تو امریکہ بہادر دو صاحب حمیت جنرلوں کی اہم مناصب پر تقرری سے ناخوش ہے اور اس کے لے پالک جنرل کو مشورہ دیتے رہے کہ وہ جماعت اسلامی اور دوسری دینی جماعتوں کو کچل ڈالیں۔ جنرل دینی تعلیم سے بے بہرہ ہی کیوں نہ ہو اور خواہ مصطفےٰ کمال اتاترک ہی اس کے ہیرو واقع ہوئے ہوں، آخر وہ اسی معاشرے میں جی رہا ہے۔ اس کے ذاتی احساسات اور ترجیحات خواہ مختلف ہوں لیکن وہ ایک پختہ عمر آدمی تھا، جب اس نے سوشلزم کے نعرے پر برسر اقتدار آنے اور برسر عام تھوڑی سی پینے کا اعتراف کرنے والے ذوالفقار علی بھٹو کو حج کی عام اجازت دینے، قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے، جمعہ کی چھٹی کا اعلان فرمانے، لائل پور کو شاہ فیصل سے موسوم کرتے، قمار بازی اور شراب نوشی پہ پابندی عائد کرتے دیکھا۔۔۔ آخر کس چیز نے اس شہ زور اور قہرمان سیکولر کو اس راہ پر آمادہ کیا؟۔۔۔ اس قوم کے اجتماعی شعور نے اور یہ اجتماعی شعور کن لوگوں نے تشکیل دیا تھا؟

ختم نبوت کے مسئلے کو نظر انداز کرنے کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کے پیکر میں بلکہ امت مسلمہ کے پیکر میں ہلاک کر دینے والے کینسر کو قبول کر لیا جائے۔ اگر امت نے ایک جعلی نبی کو اور استعمار کی حاشیہ برداری کرنے والی ذریت کو برداشت

صفحہ ٢٥

کر لیا تو وہ اس طرح کے دوسرے فتنوں کو بھی برداشت کرنے پر آمادہ ہو جائے گی۔ وہ غیرت و حمیت سے محروم ہو جائے گی۔ وہ اپنی ہستی، شناخت، شخصیت اور پہچان کھو دے گی اور کارگہ حیات میں اس کا کوئی جواز ہی باقی نہ رہے گا۔

اسلام کی ساری عمارت ختم نبوت پہ استوار ہے۔ حجاز میں فرشتے نہیں اترے تھے، ریگ زار کے سرکش مکینوں نے اللہ کا پیغام ابو قاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زبان سے سنا اور ان کی میلی رُوحیں اُجلی ہو گئیں۔ یہ انہی کی تعلیم اور رہنمائی کا ثمر تھا کہ بیٹیوں کو زندہ گاڑ دینے والے وحشی، حیوانوں اور درختوں کی حفاظت کرنے لگے۔ انہی کے دہنِ مبارک اور نمونہ عمل سے روشنی پا کر خاندان کا ادارہ محترم و مقدس ٹھہرا۔ پڑوسی اور رشتہ دار کا حق فائق ہوا۔ اجنبیوں اور مسافروں کی حفاظت بستیوں کی ذمہ دار قرار پائی۔ بندوں کے حقوق اللہ کے حقوق کی طرح معتبر اور لازم ہو گئے۔ وہی تھے جنہوں نے تعلیم کو لازم ٹھہرایا اور آشکار کیا کہ خدا کی بارگاہ میں ذرہ برابر نیکی اور ذرہ برابر برائی کا بدلہ دیا جائے گا۔ انسانی زندگیوں کا احترام انہی نے قائم فرمایا اور اللہ کے حکم سے اس کے بندوں کو آشنا کیا کہ ایک انسان کا قتل تمام بنی نوع انسان کے قتل کے مترادف اور ایک معصوم جان کی حفاظت تمام آدمیت کی حفاظت کے مترادف ہے۔

انہی کے قائم کردہ تمدن سے نُور لے کر دوسری اقوام نے وحشت سے نجات حاصل کی۔ شہر آباد ہوئے، مدرسے اور جامعات وجود میں آئیں۔ سائنسی تحقیقات کے دروازے کھلے اور محنت کو اکرام حاصل ہوا۔ اللہ کی زمین پر کوئی بشر سانس نہیں لیتا جس کی گردن پر اللہ کے آخری رسولؐ کا احسان نہ ہو۔

اگر کوئی شخص ایک عمارت کے سینکڑوں ستونوں میں سے ایک ستون گرا دینا چاہے، جس کے نیچے بندگانِ خدا پناہ پاتے ہوں تو اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا؟ پھر وہ کِس سلوک کا مستحق ہے، جو آدمیت اور تہذیب کی عالمگیر عمارت کے دو ستونوں میں سے ایک ستون کو ڈھانے پر تلا ہو؟۔۔۔ اور یہ دو ستون باہم جڑے ہیں۔ معراج کی شب ان کے درمیان دو کمانوں سے بھی کم فاصلہ تھا اور سدرۃ المنتہیٰ سے آگے جبرئیل امین کے پر جلتے تھے۔

صفحہ ٢٦

کمال شوق اور محبت کے ساتھ محمد طاہر رزاق نے کہا: حضرت مولانا یوسف لدھیانویؒ نے فرمایا تھا: ”ختم نبوت کے نگہبان، رسول اللہ ﷺ کے ذاتی محافظوں میں شمار کیے جائیں گے- جب جواں سال آدمی یہ جملہ دہرا رہا تھا تو اس کے لہجے میں ایک عجیب سرخوشی اور سرشاری تھی۔ میں نے اس پہ رشک کیا اور تائید کی- اس وقت دنیا کے سارے مفکر، دانشور، معلم اور رہنما مجھے اس سادہ سے آدمی کے مقابل حقیر نظر آئے۔

آدمی کیا ہے؟ ناشکرا اور جلدباز آدم زاد کیا ہے؟ خدا کی کائنات میں وہ کیا معنی رکھتا ہے، اگر وہ جانوروں کی طرح محض کھانے پینے، اوڑھنے اور اپنا حصہ طلب کرنے میں لگا رہے۔ اگر وہ ازلی و ابدی صداقتوں کا نگہبان نہیں اور اگر وہ ان کے لیے آمادہ ایثار نہیں۔

مجھ بے خبر کو کیا خبر کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا مقام و مرتبہ کیا ہے لیکن قرآن مجید بار بار ان کا ذکر کرتا ہے اور ہر نماز میں پڑھے جانے والے درود میں ان کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ قاری کا ذہن سوال کرتا ہے کہ ان کا وصف کیا تھا، جس نے انہیں اللہ کے دوست (خلیل اللہ) کا مقام عطا کیا۔ قرآن مجید ارشاد کرتا ہے: کان ابراہیم حنیفہ ابراہیم یکسو تھے۔ شک و شبہ، ژولیدہ خیالی اور پراگندہ ذہنی نام نہاد دانشوروں کو مبارک ہو۔ اسلام کی عمارت یقین، ایمان اور یکسوئی پہ استوار ہے۔ اللہ پہ ایمان، اس کے فرشتوں اور نبیوں پہ ایمان، یوم آخرت پہ یقین۔ یہ منزل مراد تک جانے والا سیدھا، سچا اور یقینی راستہ ہے۔ اگر کسی کو نجات مطلوب ہے تو اس راہ پر چلتے جاؤ۔ اگر تم اس کائنات میں ایک زندہ انسان کی طرح جینے اور اپنا کردار ادا کرنے کے آرزومند ہو تو محمد طاہر رزاق کی طرح ایک واضح عقیدہ اور نصب العین اختیار کرو۔ اور اگر تم محض تماشائی ہو، حجر اور شجر کی طرح ہو، چرند اور پرند کی طرح عارضی، سطحی اور بے معنی ہو تو ”دانشوروں“ کے ساتھ خیالات اور شکوک کی وادیوں میں بھٹکتے پھرو۔ لیکن پھر تم حشر کے میدان میں جمع کیے جاؤ گے تو تمہارے پاس ملال کے سوا کوئی اندوختہ نہ ہوگا اور یہ کیسا ہلاک کر دینے والا اثاثہ ہے۔

یہ سطور برادرم طاہر رزاق کی کتاب پہ براہ راست تبصرہ نہیں، جو شاید زیادہ

صفحہ ٢٧

موزوں اور زیبا ہوتا۔ جیسا کہ میں نے عرض کیہ غریب خانے میں امید اور امکان کا چراغ جلا کر وہ مجھے جذبات کے ایک بھنور میں چھوڑ گئے اور بھنور میں الجھا ہوا آدمی سیدھا نہیں تیر سکتا۔

دل کی عمیق گہرائیوں سے میں ان کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھے ختم نبوت کے موضوع پر چند سطور لکھنے کا موقع عنایت فرمایا۔ ایک معمولی سے اخبار نویس کو ختم نبوت کے سرفراز قافلے میں شرکت کی سعادت عطا کی۔ میرا دل ہمیشہ ان کا شکر گزار رہے گا۔ اللہ ان کی کتاب کو قبول عام عطا فرمائے۔ دنیا اور آخرت کی ساری بھلائیاں ان پہ ارزاں کر دے۔

احقر ہارون الرشید روزنامہ ”جنگ“ 1271 ماڈل ٹاؤن، کہوٹہ روڈ، اسلام آباد

صفحہ ٢٨

عشق کی کہانیاں

اللہ رب العزت نے دین اسلام کی بنیاد قربانی پہ رکھی ہے۔ اس کے لیے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر صحابہ کرام تک اور صحابہ سے لے کر تابعین و تبع تابعین تک اور تابعین سے لے کر اولیائے کرام اور علمائے امت تک سب کو ہی حسب مقدور قربانیوں کی بہت سی وادیاں عبور کرنا پڑی ہیں۔ جس دور میں بھی اسلام پہ فتنوں نے یلغار کی اور حصن اسلام میں شگاف ڈالنے کی کوشش کی‘ امت نے اپنے جسموں سے اس شگاف کو پر کر ڈالا۔ نتیجتاً آج پورے عالم میں یہ اعزاز صرف مسلمانوں کے پاس ہے کہ ان کا دین نکھری‘ اجلی اور خالص شکل میں آج بھی ان کے پاس محفوظ و سلامت ہے۔ قلعہ اسلام کو نیست و نابود کرنے کی ایسی ہی اک سازش بیسویں صدی کے اوائل میں برصغیر میں قادیانیت کے نام سے پروان چڑھی۔ امت نے جونہی اس کی خطرناکی کو محسوس کیا‘ حسب سابق اس کے آگے جواں جسموں اور پاکیزہ روحوں سے اک بند باندھ دیا جس کا ثمرہ ہے کہ آج قادیانیت اپنے والیان نعمت کے گھر کے ایک کونہ میں محصور ہو کر رہ گئی ہے اور اپنے مکمل خاتمہ کے لیے امت مسلمہ کی طرف سے ایک بار پھر جواں جذبوں اور نیک و سعید روحوں کی منتظر ہے۔

ماضی میں کی گئی لازوال قربانیاں وقت کے صفحات پہ بکھری پڑی تھیں۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ انہیں یکجا کر کے نئی نسلوں کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ قربانیوں کا وہ تسلسل ان تک بھی منتقل ہو سکے۔ یہ اہم فریضہ حسب سابق محترم محمد طاہر رزاق صاحب نے بہ طریق احسن پورا فرما دیا ہے جس کے لیے وہ نہ صرف لائق تحسین ہیں بلکہ اللہ کے حضور اجر و ثواب کے مستحق بھی ہیں۔ اے اللہ انہیں نواز دے۔ آمین۔

خاکپائے مجاہدین ختم نبوت محمد نذیر مغل

صفحہ ٢٩

مولانا بدر عالم میرٹھی کا

قادیانیت کے خلاف جہاد

فخر المحدثین حضرت مولانا انور شاہ صاحب کشمیری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے ممتاز تلامذہ کو یہ حدیث سنا کر قادیانیت کے استیصال پر لگا دیا کہ :

"سيكون فى اخر هذه الامه قوم لهم مثل ا اولهم يامرون بالمعروف وينهون عن المنك ويقاتلون اهل الفتن۔ (دلائل النبوة)

ترجمہ : ”اس امت کے آخری حصہ میں کچھ ایسے لوگ اٹھیں گے ، جنہیں اپنے دینی کاموں کا اجر پہلے لوگوں کے اجر کے مطابق ملے گا۔ وہ نیکی کا امر کریں گے اور اہل فتن سے مقابلہ کریں گے۔ (او کما قال)

اس سے واضح ہوتا ہے کہ فرقہ باطلہ کے خلاف علمی اور قلمی جہاد کرنے والے صحابہ کرام کے اجور میں سے حصہ پائیں گے۔

حضرت شاہ صاحب کا موضوع علم حدیث تھا اور آپ ہمیشہ اسی کی گہرائیوں میں اترتے رہے۔ لیکن آپ کا ہاتھ وقت کی نبض پر بھی پڑا رہا، جو چیز دین کے لیے ضرر رساں ہوتی‘ آپ کا دل اس پر تڑپ اٹھتا۔ مولانا بدر عالم لکھتے ہیں :

جو شخص استاد مرحوم کے جلوت و خلوت کا شریک رہا‘ وہی جان سکتا ہے کہ یہ محدث جو امت میں امام بخاری کی طرح فن حدیث میں شہرت رکھتا تھا۔ وہ امت کی اصلاح کے لیے کتنی دلسوزی رکھتا ہے اور اس کی دردمندی کے لیے کتنا مضطرب تھا۔ (ترجمان السنہ‘ ص ١٨)

یہ حضرت شاہ صاحب کی ترغیب کا نتیجہ تھا کہ حضرت مولانا محمد ادریس اور مولانا بدر عالم جیسے اساتذہ حدیث قادیانیوں کے خلاف مناظروں میں اترے اور کسی نے ان کو نہ کہا کہ مناظروں سے کچھ نہیں ہوتا۔ ان میں کیوں وقت ضائع کرتے ہو۔ ٨۔٩۔١٠ فروری

صفحہ ٣٠

١٩٣٢ء کو ضلع مظفر نگر میں قادیانیوں سے جو مناظرہ ہوا۔ اس میں قادیانیوں کی طرف سے مولوی عمردین اور جلال الدین شمس تھے اور مسلمانوں کی طرف سے مولانا محمد ادریس کاندھلوی اور مولانا بدر عالم تھے۔ مولانا بدر عالم کی قوت استدلال ایسی قوی تھی کہ مخاطب بالکل مبہوت نظر آنے لگتا۔ یہی حال اس مناظرے میں عمردین اور جلال الدین شمس کا ہوا۔ ٢٢ فروری ١٩٣٢ء کے ”الفضل“ کے آخری صفحہ پر مناظرہ کے آخری دن کی یہ خبر پڑھیں:

”مولوی بدر عالم دیوبندی مقابلے پر کھڑے ہوئے، مابین مولوی جلال الدین اور مولوی بدر عالم چار بجے تک مناظرہ جاری رہا مگر وہ بھی جواب نہ دے سکے اور جلال دین نے رخصت چاہی اور واپس ہو گئے۔“

موضوع مناظرہ کیا تھا۔ اسے اس رپورٹ کے ان الفاظ میں دیکھیں:

”مولوی جلال الدین صاحب نے صداقت مسیح موعود پر قرآنی دلائل قائم کیے۔“

اس سے پتہ چلا کہ ان دنوں مسلمانوں اور قادیانیوں میں بڑا موضوع مرزا غلام احمد کا سچا اور جھوٹا ہونا تھا اور اسی پر مناظرے ہوتے تھے۔ مولانا بدر عالم نے جب مرزا غلام احمد کو چند باتوں میں بے نقاب کر دیا تو حاضرین ہنسنے لگے۔ قادیانی اپنے اس انجام کا الزام مولانا بدر عالم کے تمسخر پر ڈالتے ہیں اور مانتے ہیں کہ اس کا تمسخر اول سے بڑھ چڑھ کر رہا۔ قارئین اس سے مولانا کی زبردست قوت استدلال کا اندازہ کر سکتے ہیں۔

قادیانیت کے خلاف آپ کا قلمی جہاد

مولانا مرحوم نے اپنی مایہ ناز تالیف ”ترجمان السنہ“ کی جلد اول میں صفحہ ٣٩٠ سے لے کر صفحہ ٤١٨ تک ختم نبوت پر بڑی بصیرت افروز بحث کی ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع اور نزول پر صفحہ ٥٢١ سے صفحہ ٥٩٢ تک مفصل بحث کی ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ حدیث پڑھاتے ہوئے بھی آپ کی ان مذاہب باطلہ پر کتنی گہری نظر ہوتی تھی۔ پھر آپ نے ان دونوں موضوعات پر مستقل رسائل بھی تصنیف فرمائے ہیں۔

7

صفحہ ٣١

المسک الختام فی ختم النبوہ لخیر الانام----- الکلام الفصیح فی نزول المسیح"

نزول عیسیٰ بن مریم پر یہ بڑی دلچسپ اور مفید کتاب ہے۔ اس کا انگریزی ترجمہ بھی ہوچکا ہے۔ قادیانیوں کے خلاف مولانا کی زبردست جدوجہد کا ثمرہ تھا کہ آپ کے حلقہ درس کے طالب علم مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ، فتنہ قادیانیت پر تیغ براں بن کر لہرائے اور ان سے مباحثہ و مناظرہ کی جملہ حدود پار کر کے قادیانیوں کے خلاف مباہلہ کے عنوان سے اپنی جان پیش کرنے کا اعلان کر دیا۔ مولانا چنیوٹی کی دعوتِ مباہلہ سے دم بخود ہو کر مرزا محمود نے دم توڑا۔ مرزا ناصر اپنے انجام کو پہنچا اور اب مولانا چنیوٹی مرزا طاہر کے مقابل ختم نبوت کی جدوجہد میں پیش پیش ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ اس تمام کار خیر کا ثواب حضرت مولانا بدر عالم کے نام لکھا جا رہا ہے۔

(ماہنامہ الہلال مانچسٹر، جولائی اگست ' ١٩٩٨ء)

ختم نبوت پر بخاریؒ کی دلیل

امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کا ایک نکتہ یاد آیا۔ فرمایا کرتے تھے۔ لا الہ لا نبی ”بڑی علمی بات ہے۔ فرمایا ”جو لا الہ پر ہے وہی لا نبی پر ہے۔ جس طرح لا کے بعد کوئی جھوٹا بروزی، ظلی، شیخ چلی، الہ نہیں بن سکتا اسی طرح لا نبی کے بعد کوئی بروزی، ظلی، انگریزوں کی پلی نبی نہیں بن سکتا۔ اگر کوئی لا کے بعد الہ آئے گا تو فرعون جیسا حال ہوگا۔ اگر کوئی لا کے بعد نبی آئے گا تو ٹٹی خانے میں قادیانی کو موت آئے گی۔

(خطاب : مولانا عبد الشکور دین پوریؒ )

چمک تیری عیاں بجلی میں، آتش میں، شرارے میں
جھلک تیری ہویدا، چاند میں، سورج میں، تارے میں (مؤلف)
صفحہ ٣٢

اور مرزا ناصر مردار ہو گیا

جب مرزا ناصر کا ہارٹ فیل ہوا، اس وقت میں تقریر کر رہا تھا۔ میں جب اسلام آباد میں مولانا خان محمد صاحب کندیاں والوں کی صدارت میں تقریر کر رہا تھا، سامنے مرزا ناصر کا مکان تھا۔ میں نے کہا، اسلام آباد کے در و دیوارو! رضاکارو، تابعدارو، جانثارو، وفادارو! اگر میں حکم دوں کہ یہاں ناصر کے بنگلے کی اینٹ سے اینٹ بجا دو تو کیا کرو گے؟ اگر میں کہوں کہ نعرہ تکبیر لگا کر میدان جہاد میں اٹھو، تو لوگوں نے اتنے زور سے نعرہ لگایا کہ تھوڑی دیر کے بعد اطلاع آئی کہ ناصر خاسر ہو گیا ہے۔ ناصر فی النار ہو گیا۔ ناصر جہنم میں ذلیل و خوار ہو گیا۔ ہمارے ایک ہی نعرے سے بزدل کا جگر بھی پھٹ گیا۔ مومن بہادر ہوتا ہے۔

(خطاب: مولانا عبدالشکور دین پوریؒ)

خنجر نہیں تو نوک زباں ہی کو آب دے
ہر بوالہوس کو اینٹ کا پتھر جواب دے

(مؤلف)

ربوہ میں قادیانیوں کا مناظرہ سے راہ فرار

شکست کا اعتراف، دلچسپ روداد

محمد نواز بھٹی

تاریخ مناظرہ: ١٩ اگست ١٩٩٧ء بروز منگل صبح ٧ بجے۔ موضوع: مرزا سچا ہے یا جھوٹا۔ (یعنی صدق و کذب مرزا) مناظرہ گاہ: الحاج ملک خدا بخش صاحب نمبردار کا ڈیرہ (ڈاھر، متصل ربوہ)

صفحہ ٣٣

مسلمان مناظر: مولانا عبدالواحد مخدوم صاحب، خطیب جامع مسجد محمدیہ ڈاور (ربوہ) معاونین: مولانا محمد صغیر صاحب، خطیب مسجد احرار ربوہ، مولانا غلام مصطفیٰ صاحب، مبلغ مجلس تحفظ ختم نبوت ربوہ۔ قادیانی مناظر: مربی عبدالمجیب شاہد (فاضل جامعہ احمدیہ ربوہ) معلم قادیانی، ڈاور۔ معاون: مربی محمد حیات کھٹکہ (قادیانی) امام قادیانی، ڈاور۔ وغیرہ۔

مناظرہ کی مختصر روداد

مرزائیوں کے مربیان نے خود اور اپنی قادیانی جماعت سمیت بہت سے افراد نے مولانا عبدالواحد مخدوم اور بہت سے مسلمانوں کے ساتھ تاریخ مناظرہ طے کی اور تفصیلی مناظرہ کا دن ١٩ اگست ١٩٩٧ء بروز منگل صبح ٧ بجے کا اعلان کر دیا گیا۔ مسلمان مناظرین وقت مقررہ پر مناظرہ گاہ میں کتابوں سمیت پہنچ گئے۔ مگر مرزائی ہمت ہار گئے۔ ایک گھنٹہ کے انتظار کے بعد لاؤڈ سپیکر میں مرزائیوں کو بلایا گیا اور کہا گیا کہ مسلمان مناظرین مناظرہ گاہ میں پہنچ چکے ہیں اور تم بھی جلد از جلد مناظرہ گاہ پہنچو۔ یہ اعلان بھی کیا گیا کہ آدھ گھنٹہ مناظرہ گاہ میں آپ کا مزید انتظار کریں گے، اگر آپ نہ پہنچے تو پھر ڈاور سکول کے کھلے صحن میں آپ کا فلاں وقت سے فلاں وقت تک انتظار کریں گے۔ اگر آپ وہاں بھی نہ آئے تو پھر آپ کے گھر آ کر آپ کو دعوت مناظرہ اور اس کے بعد دعوت اسلام دیں گے، مگر مرزائی نہ آئے۔ پھر مسلمانوں کا ایک وفد مرزائیوں کے گھر گیا۔ اس وفد میں ملک حاجی سکندر حیات رئیس ڈاور، حاجی عبدالستار، صوفی محمد اشرف وغیرہ شامل تھے۔ انہوں نے مرزائیوں کو گھر جا کر کہا کہ ہمارے علماء مناظرہ گاہ میں پہنچ چکے ہیں۔ آپ بھی پہنچیں۔ تمام قادیانی مع مرزائیوں کے مربی صاحبان محمد شفیع قادیانی کے گھر جمع تھے۔ مرزائیوں کے ایک مربی حیات کھٹکہ قادیانی نے کہا کہ رات مجھے اشارہ ہوا ہے کہ میدان مناظرہ میں ہم ہرگز نہ پہنچیں۔ اس لیے کہ مرزائیوں کا مرزائیت چھوڑ جانے کا شدید اندیشہ ہے۔ اس لیے ہم مناظرہ نہ کریں گے۔

صفحہ ٣٤

اس کے بعد مسلمانوں نے ایک جلوس نکالا۔ وہ جلوس ملک خدا بخش کے ڈیرہ (مقام مناظرہ) سے روانہ ہوا اور سکول ڈاور کے صحن میں پہنچا۔ پھر دوسری جامع مسجد محمدیہ میں بذریعہ لاؤڈ سپیکر اعلان کیا گیا کہ اے قادیانیو! اگر تم ملک خدا بخش کے ڈیرہ پر مناظرہ کے لیے نہیں آئے تو آؤ ڈاور سکول کے بڑے صحن میں مسلمان پہنچ چکے ہیں، وہاں مناظرہ کر لیں۔ مولانا عبد الواحد مخدوم نے للکارتے ہوئے اعلان کیا کہ قادیانیو! تم جہاں کہو، ہم وہاں مناظرہ کے لیے تیار ہیں۔ اگر ربوہ میں چاہو تو ہم وہاں بھی جا کر مناظرہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ مگر مرزائی پھر بھی نہ آئے اور خاموش ہو گئے۔ سکول میں آدھ گھنٹہ انتظار کے بعد دوبارہ جلوس روانہ ہوا اور وہ جلوس مرزائیوں کے محلہ میں پہنچا اور مرزائیوں کو دعوت مناظرہ دی۔ قادیانیوں کے انکار پر مباہلہ کے لیے کہا گیا مگر مرزائیوں نے بیک زبان ہو کر کہا کہ ہم اقرار کرتے ہیں کہ آپ جیت گئے اور ہم ہار گئے۔ اس کے بعد مرزائیوں کو مسلمانوں نے دعوت اسلام دی۔ بالآخر مولانا عبد الواحد مخدوم نے جلوس واپس ہونے کا اعلان کر دیا۔ جلوس میں ختم نبوت زندہ باد۔ مرزائیت مردہ باد کے پرجوش نعرے بلند ہو رہے تھے۔ جلوس مناظرہ گاہ میں پہنچ کر اختتام پذیر ہوا۔ مسلمانوں کی اس زبردست فتح کی خوشی میں مسلمانوں نے دو دو نوافل شکرانہ ادا کیے اور جامع مسجد میں ١١ بجے فتح مناظرہ کی خوشی میں جلسہ کا انعقاد ہوا۔

جلسہ میں ربوہ کے تمام اہلسنت والجماعت علماء نے خطاب کیا۔ ان میں مولانا محمد مغیرہ اور مولانا غلام مصطفیٰ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ آخر میں مولانا عبد الواحد مخدوم نے کذب مرزائیت اور عقائد مرزائیت پر بڑا دلچسپ بیان فرمایا اور دعا کی گئی۔ تمام حضرات جو دور دراز کا سفر کر کے آئے ہوئے تھے، واپس چلے گئے۔ (الحمد لله علی ذلک)

(ماہنامہ نقیب ختم نبوت ملتان، فروری ١٩٩٨ء)

صفحہ ٣٥

دو مجاہد مسلمان

ہماری تقریر سے مرزائیوں کے خلاف سخت نفرت پھیل گئی۔ تھوڑے دنوں بعد مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی مرحوم کوئٹہ تشریف لے گئے۔ ان کی تقریر کے دوران ایک مرزائی ڈاکٹر (اغلبا محمود نام تھا) نے اٹھ کر کہا۔ مولوی صاحب بکواس بند کرو۔ اس کا یہ کہنا تھا کہ دو مسلمانوں نے اس کو پکڑا، دور لے گئے اور مار مار کر ختم کر دیا اور نعش نالے میں بہا دی۔ باقی مجمع امن و سکون سے بیٹھا تقریر سنتا رہا۔ مرزا محمود کوئٹہ میں ہی تھا۔ پولیس نے کہا کہ بہتر ہے کہ تم یہاں سے چلے جاؤ، مشتعل مسلمان تم پر برس پڑے تو ہم ذمہ دار نہیں ہوں گے۔ چنانچہ مرزا کو راتوں رات پولیس کے پہرہ میں وہاں سے نکلنا پڑا اور مرزائی خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔ وہ مسلمان دندناتے رہے اور کسی کو ان پر ہاتھ اٹھانے کی جرأت نہ ہو سکی۔

(خطاب: مولانا محمد علی جالندھریؒ)

ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن

(مؤلف)

قادیانی نبوت اور احرار

احرار دنیا میں مٹنے کے لیے نہیں بلکہ ظلم اور سرکشی کو مٹانے کے لیے پیدا ہوئے ہیں۔ پس احرار رضا کاروں کا دنیا میں ایک ہی کام ہے کہ حق بات کہیں اور اس کی پاداش میں مٹ جائیں۔ اس فنا کے بعد بقا کا جدید دور شروع ہوتا ہے۔ احرار کے لیے فنا کے بدلے میں بقا کا راز مضمر ہے۔

تم نبوت کی بحث کس سے کرتے ہو؟ جو سرے سے مرزا غلام احمد کو مسلمان ہی نہیں سمجھتا۔ آؤ! تم کو مدنی ﷺ کی نبوت کا حال سناؤں کہ ریگستان کے لق و دق صحرا میں تنہا

صفحہ ٣٦

بیچارگی کے عالم میں علم توحید بلند کرتے ہیں۔ اپنے پرائے دشمن ہو گئے۔ قتل کے منصوبے کیے گئے۔ وطن سے نکلنا پڑا۔ اس پر بھی کفار مکہ سے کسی قسم کی درخواست نہیں کی۔ کفار آئے اور انہوں نے صرف اس قدر کہا کہ آپ ہمارے بتوں کو برا نہ کہیں۔ ہم تمہارے خدا کو برا نہیں کہتے۔ اگر کوئی قادیان کا نبی ہوتا تو کہتا کہ تجویز بہت اچھی ہے۔ چلو مان لیا مگر سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا: ”میرے دائیں ہاتھ پر سورج اور بائیں ہاتھ پر چاند رکھ دیا جائے پھر بھی اعلائے کلمتہ الحق سے باز نہیں آؤں گا۔“

یہ ہے شان نبوت، تم ہی بتلاؤ کہ قادیان کی نوزائیدہ نبوت پولیس کے بغیر دو قدم بھی چلی ہے؟ ایک دن بتاؤ کہ فلاں دن قادیان کی نبوت انگریزی سہارے کے بغیر چلی ہو۔ پس یہ نبوت تو پولیس کے ہاتھ میں ہے۔ جس کو چاہے، وہ نبی بنا دے۔

یاد رکھو! کہ سچا جب کمزور ہوتا ہے تو وہ اپنی بہادری اور شجاعت کا عظیم الشان مظاہرہ کرتا ہے اور جب وہ طاقتور ہوتا ہے تو اپنے دشمنوں تک کے لیے رحیم ہوتا ہے۔ میں قادیان کے مسلمانوں کو پھر کہتا ہوں کہ جرات اور بہادری سے خدا پر بھروسہ رکھتے ہوئے پرامن طور پر علم توحید بلند رکھیں۔ میں قادیان کے مسلمانوں کو یہ یقین دلانے آیا ہوں کہ حکومت بے شک اپنے منافق اور وفادار ٹولے کو پستول، ریوالور اور دوسری قسم کے ہتھیار ہمارے سینوں کو چھلنی کرنے کے لیے دے۔ اس کی مطلق پرواہ نہیں۔ کیونکہ ہم مانتے ہیں کہ آج ہمارے سینے ان نشانوں کی آماجگاہ بنے ہوئے ہیں، تو آنے والا کل ان گولیوں کا منہ دوسری طرف پھیر دے گا۔ منافقت ایک عرصے تک چھپائی جاسکتی ہے۔ لیکن ہمیشہ کے لیے نہیں۔

مرزائیت ۔۔۔۔۔ اسلام میں ایک فتنہ کھڑا کیا گیا ہے۔ قادیان کے مسلمانو! تمہارا فرض ہے کہ اس فتنے کو جس قدر جلد مٹا سکتے ہو، مٹا دو۔ چاہے اس کے عوض تمہارے سر پھوڑے جائیں یا تمہیں گولی کا نشانہ بنا دیا جائے۔ تم بے تابانہ موت سے بغلگیر ہو جاؤ۔ خدا کی قسم میں اس وقت کا منتظر ہوں کہ قادیان کی گلیوں میں احرار رضاکاروں کے خون کی نہریں چلیں تو سمجھوں گا کہ میں اپنے مقصد میں کامیاب ہو گیا۔

اگر میں یا میرے رفقاء اس مشن کو پورا کرتے ہوئے مرزا محمود کے حواریوں کے ہاتھوں قتل ہو جائیں مگر رسول اللہ ﷺ کی نبوت اس کفر کے ہاتھوں محفوظ ہو جائے تو یہ

صفحہ ٣٧

سودا مہنگا نہیں ہے۔

رئیس الاحرار مولانا حبیب الرحمن لدھیانویؒ صدارتی خطاب قادیان (٢٣ مارچ ١٩٣٤ء)

جیل سے مولانا تاج محمودؒ کے دو خط

ارسال کنندہ کا پورا نام: تاج محمود مکتوب الیہ کا پورا نام: مولوی محمد صادق مکتوب نگار کا مکتوب الیہ سے رشتہ: بھائی پتہ: نئی لائن نمبر ٢ کوارٹرز کاٹن ملز، پتلی گھر، لائل پور۔ نظر بند بمقام کیمبل پور ڈسٹرکٹ جیل۔

برادرم مولوی محمد صادق صاحب!

السلام علیکم ! مزاج شریف۔ میں نے پندرہ اپریل کو لاہور سنٹرل جیل سے ایک خط آپ کے نام تحریر کیا تھا۔ ٢٠ اپریل کو مجھے کیمبل پور جیل لایا گیا ہے۔ ملاقات بڑی مشکل ہے۔ لہٰذا ملاقات کے لیے کوئی نہ آئے۔ البتہ خط تحریر کر کے گھر کے حالات، والد صاحب کی صحت، طارق محمود صاحب کے حالات تحریر کریں۔ گھر، گاؤں آپ کے جانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ لفافے کے ذریعہ میرا خط والد صاحب کو بھیج دیا کریں۔ کیمبل پور سے ٢٢ اپریل کو میں نے والد صاحب کو خط لکھا تھا۔ نہ ان کا اور نہ آپ کا کوئی جواب موصول ہوا ہے۔ مجھے ہر ہفتے بچوں کی، اپنی، والدین کی خیریت کی اطلاع دیتے رہیں۔ والد صاحب کو میں نے تحریر کیا تھا کہ دو کرتے، دو ٹوپیاں ململ، ایک شلوار تیار کروا کر بھیج دیں۔ محمد ربانی نزدیک ہے۔ لیکن ملاقاتی وہاں اپنے تھانہ کے تھانیدار سے تحریر کرا کے لائے کہ میں اس کا حقیقی بھائی ہوں۔ تب جا کر جیل والے ملاقات کی اجازت دیں گے۔ وہ بھی

صفحہ ٣٨

جمعرات کی صبح کو۔

سب عزیزوں‘ رشتہ داروں اور میرے ذاتی دوستوں کو السلام علیکم قبول ہو۔ مسجد ریلوے میں جمعہ وغیرہ کا کیا انتظام ہے: سب نمازیوں کو السلام علیکم قبول ہو۔ خط جلدی تحریر کریں۔ میں بالکل خیریت سے ہوں۔ عزیز فاطمہ کو اور بچوں کو پیار۔ شمیموں اور اشفاق کا کیا حال ہے؟ والسلام۔

ارسال کنندہ کا نام تاج محمود تاریخ: ٥٣-٤-٢٩

○ ☆ ○

ارسال کنندہ کا نام: تاج محمود مکتوب الیہ کا نام: مولوی محمد صادق مکتوب الیہ سے مکتوب نگار کا رشتہ: بھائی پتہ: مولوی محمد صادق‘ نئی لائن نمبر ٢‘ کوارٹرز کاٹن مل‘ لائل پور۔ نظربند سنٹر جیل لاہور

برادرم مولوی محمد صادق!

السلام علیکم! مزاج شریف‘ لاہور سنٹرل جیل میں چھ ماہ کے لیے نظربند ہوں اور خیریت سے ہوں۔ صرف ضعیف اور بیمار والدین کی پریشانی کے خیال سے پریشان ہو جاتا ہوں۔ انہیں جا کر سلام کہنا اور تسلی کے لیے کہنا۔ ان کی بیماری‘ بچوں کی عزت آبرو اور رزق کے لیے خدا کو کفیل یقین کرتا ہوں۔

طارق محمود‘ رانی‘ سلیمہ کنیز اور فریحہ کو پیار‘ عزیز فاطمہ کو السلام علیکم‘ چھوٹی بچی کو اور مشتاق کو پیار۔ غلام سردار‘ ادریس کے بچوں کو‘ چاند بی بی کو‘ سب کو السلام علیکم۔ مسجد کے سب دوستوں کو سلام پہنچا دیں۔ محمد زمان اور قاضی بھائیا‘ محمد اشرف‘ نواب سب کو

صفحہ ٣٩

السلام علیکم۔ طارق محمود کی سائیکل گاؤں پہنچا دیں۔ اقبال اور غلام مرتضیٰ کو پیار۔ مجھے آپ سب لوگ خط لکھ سکتے ہیں لیکن صرف ذاتی باتیں لکھیں۔ ملکی حالات نہ لکھیں۔ میرے لیے ململ کے دو کرتے اور ململ کی دو صوفیانہ ٹوپیاں بنوا کر بھیج دیں۔ وہ باہر سے اندر بھیج دے گا۔ اس کی اجازت ہے۔ آپ خود اندر آنے کی کوشش نہ کریں۔ صرف غلام سرور مجھ سے مل سکتا ہے۔ لیکن وہ بھی نہ آئے۔ یہاں مارشل لاء وغیرہ ہے اور وہ ناواقف ہے۔ حکیم محمد حسین (امین پور بازار) سے بھی پتہ کرلیں۔ شیخ فیروز الدین (کشمیر ہاؤس ریل بازار) کو مل کر انہیں، حسن ظفر، اقبال فیروز، افضال محمود، نذر، سیف سب کو السلام علیکم۔

ارسال کنندہ کا نام تاج محمود عفا اللہ عنہ دستخط افسر مجاز------- تاریخ ٢٥-٤-٥٣ ٢-٥-٥٣

نوٹ: یہ خطوط ١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت کے دوران جیل سے لکھے گئے۔

(مولانا تاج محمود، ص ١٠٧ تا ١٠٩، از زاہد منیر عامر)

تحریک ختم نبوت اور

پیران تونسہ شریف

شیخ غلام محمد نظامی

حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان چشتی تونسوی قدس سرہ نے جس بیدار مغزی اور دور اندیشی سے اعدائے دین کی سرکوبی کرتے ہوئے خدمت اسلام کا فریضہ انجام دیا وہ ماضی قریب کی اسلامی تاریخ کا بہترین سرمایہ ہے۔ اگر ایک طرف انہوں نے سلسلہ چشتیہ نظامیہ کے پلیٹ فارم سے افسردہ اسلامی معاشرے میں انقلاب برپا کیا تو دوسری طرف سینکڑوں

صفحہ ٤٠

مبلغین اسلام تیار کر کے زمین کے کونے کونے میں پہنچا دیے۔ تاریخ مشائخ چشت میں ہے کہ لاکھوں گم کردہ راہوں کو آپ کے وجود با مسعود سے دولت عرفان نصیب ہوئی اور تقریباً ایک لاکھ کفار آپ کے دست حق پرست پر ایمان لائے۔ آپ کی ان زریں اسلامی خدمات کو دیکھ کر آپ کے معاصر سرسید احمد خان بھی یہ لکھنے پر مجبور ہو گئے۔ ”شاہ سلیمانؒ کی اسلامی شہرت نے قاف سے لے کر قاف تک کو گھیرے میں لے لیا ہے“۔ (اثار الصنادید‘ صفحہ ٤٧٨)

حضرت خواجہ اللہ بخش تونسویؒ

پون صدی کی احیاء اسلام کی کامیاب جدوجہد کے بعد ١٢٦٧ھ میں جب آپ نے وصال فرمایا تو آپ کے نامور پوتے حجۃ الاسلام حضرت خواجہ اللہ بخش کریم تونسویؒ نے مسند ارشاد سنبھالی اور اپنے جد امجد کی چلائی ہوئی اسلامی تحریک کو آگے بڑھانے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ تونسہ شریف میں قائم شدہ قدیم دارالعلوم نے اسلام سے والہانہ محبت رکھنے والے نوجوان پیدا کیے۔ پھر خود پیر بن کر بیٹھ نہیں گئے بلکہ سلطنت مغلیہ کے زوال کے باعث مسلمانان برصغیر پر جو یاس و قنوطیت کا غلبہ ہو گیا تھا۔ اس کے خاتمہ کے لیے ہندوستان بھر کے دورے کیے۔

فرنگی سے آپ کو بڑی نفرت تھی۔ آپ عموماً فرمایا کرتے تھے کہ سیاہ قلب (انگریز) کے کرتوت سے اگر ہم بچ گئے تو پھر کسی بلا کو ہم منہ نہیں لگائیں گے۔ فرنگی کا خود کاشتہ پودا آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی علیہ ماعلیہ آپ کا ہم عصر تھا۔ آپ نے اس کے عقائد باطلہ کی منظم طریقے سے تردید کی۔ پورے ملک میں معتقدین کی طرف خصوصی مراسلے جاری کر کے اس کے کفر و ارتداد سے لوگوں کو آگاہ کیا۔ خصوصاً متحدہ پنجاب میں تبلیغ و ارشاد کے ذریعے اس کا ایسا گھیراؤ کیا کہ قادیانی چیلوں کو سکون سے کام کرنا نصیب نہ ہوا اور یہ کہا نہیں جاسکتا، اس طوفان بد تمیزی کے امت مسلمہ پر کیا اثرات مرتب ہوتے۔

حضرت خواجہ حسن نظامی نے اپنی معرکہ آرا کتاب ”نظامی بنسری“ میں آپ کی تبلیغی

صفحہ ٤١

جدوجہد کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ تاریخ مشائخ چشت میں مرقوم ہے:

”مرزا غلام احمد قادیانی نے اس وقت اپنے عقائد کی ترویج شروع کی اور اکثر علماء کو مباحثہ کی دعوت دی۔ خواجہ اللہ بخش صاحب نے اپنی جگہ پر بیٹھ کر نہایت سختی کے ساتھ ان فتنوں کی تردید کی اور کوشش کی کہ مسلمانوں کا مذہبی احساس اور وجدان گمراہ کن تحریکوں سے متاثر نہ ہو“۔

(تاریخ مشائخ چشت‘ صفحہ ٧٢٢)

”نصف صدی تک اپنی بہترین صلاحیتیں اسلام کے نام پر قربان کر کے حضرت خواجہ اللہ بخش تونسویؒ نے ١٣١٩ھ میں انتقال فرمایا“۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مرزا نے جب دعویٰ نبوت کیا تو آپ بستر علالت پر تھے۔ لیکن مرزا کا دعویٰ سنتے ہی بستر مرگ سے یوں اٹھ کھڑے ہوئے جیسے کوئی شیر نیند سے بیدار ہو جاتا ہے۔ زندگی کی آخری سانس تک آپ مرزا قادیانی کے خلاف نبرد آزما رہے۔

آپ کے وصال کے بعد آپ کے صاحبزادے حضرت خواجہ محمود رحیم سلیمانی چشتی نے دردمند دل کے ساتھ بندگان خدا کی خدمت شروع کر دی۔ انتہائی رحمدل ہوتے ہوئے بھی انگریز دشمنی آپ کی طبیعت میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ آپ نے پوری قوت سے قادیانی فتنے کا مقابلہ کیا۔ آخری وقت میں اپنے شہرہ آفاق فرزند خواجہ نظام الدین تونسویؒ کو مخاطب کر کے فرمایا: نظام‘ میں نہیں رہوں گا، جس دن یہ منحوس فرنگی ہندوستان سے اپنی نحوست لے کر روانہ ہو تو میری قبر پر آ کر مبارکباد دینا۔

آپ نے اپنے بزرگوں کی طرح قادیانیت کا قلع قمع کرنے میں مقدور بھر کوشش کی۔ اگر مشرقی جانب حضرت غوث الثقلینؒ کا فرزند دلبند حضرت علامہ پیر مہر علی شاہ گولڑوی ”مرزائیت سے نبرد آزما تھا تو مغربی طرف پیر پٹھان کا نڈر پوتا قصر قادیانیت پر دلائل و برہان سے بمباری کر رہا تھا۔ آپ کے حالات میں ہے کہ آپ مثنوی شریف کے درس میں بھی آنجہانی قادیانی کی نہایت سختی سے تردید فرمایا کرتے تھے۔

١٣٤٨ھ میں آپ کے انتقال کے بعد آپ کے شیر دل بیٹے حضرت مولانا خواجہ غلام نظام الدین نعیم تونسویؒ مسند سلیمانی پر رونق افروز ہوئے۔ آپ نے جس سج دھج اور بے

صفحہ ٤٢

خوبی و جگر داری سے اسلامی نظام کے قیام کی جنگ لڑی‘ اس پر جتنا فخر کیا جائے‘ کم ہے۔ آپ کو خدا نے بے شمار خوبیوں سے مالا مال فرمایا تھا۔ علامہ اقبالؒ نے راجہ حسن اختر اور دیگر مقتدر احباب سے متعدد مرتبہ فرمایا تھا کہ ”یہ تونسہ شریف کے صاحبزادے بہت بلند مقام کے مالک ہیں۔“

آپ کو بھی اپنے بزرگوں کی طرح فرنگی اور اس کے چیلے چانٹوں سے حد درجہ نفرت تھی۔ مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی زبانی روایت ہے کہ جب فرنگی یہاں سے بوریا بستر باندھ کر چلنے لگا تو اپنی پالتو اولاد کو آزادی کے متوالوں کی فہرست دے گیا۔ جنہوں نے اس کی زندگی اجیرن کر رکھی تھی‘ ان میں حضرت مولانا غلام نظام الدین تونسویؒ کا نام صف اول کے رہنماؤں میں تھا۔ جب ١٩٥٣ء میں تحریک ختم نبوت کا آغاز ہوا تو آپ کو ایک لمحہ کے لیے بھی چین نہ تھا۔ مجھے اور دیگر مخلص ساتھیوں کو ساتھ لیا‘ ملتان آکر مقامی مشائخ سے متفقہ لائحہ عمل طے کرنے کے لیے رابطہ قائم کیا۔ ائیر پورٹ پر پیر صاحب گولڑہ شریف سے طویل مذاکرات کیے۔ پھر ملک بھر کا طوفانی دورہ شروع کر دیا۔

ایک بار کوٹ قیصرانی تحصیل تونسہ شریف میں احراری مبلغ مولانا محمد شریف بہاول پوری نے مسئلہ ختم نبوت پر تقریر کی۔ وہاں کے بااثر قادیانیوں نے مولانا کی سخت اہانت اور تذلیل کی۔ آپ کو معلوم ہوا تو اس قدر رنجیدہ ہوئے‘ جیسے آپ کی ہی بے حرمتی ہوئی ہے۔ ساتھیوں سے فرمایا کہ یہ معمولی بات نہیں۔ ہم قادیانیوں کو ایسی سزا دیں گے کہ زندگی بھر یاد رکھیں گے۔ چند روز بعد معلوم ہوا کہ وہی قادیانی خان صاحب بڑے کروفر سے تونسہ شریف میں آئے ہیں۔ آپ نے حکم دے دیا کہ جہاں نظر آئے‘ بچھا دیا جائے۔ نام لیواؤں نے خان جی کو بھری سڑک پر للکارا کہ غلامان نظامؒ عالم دین کی توہین کا بدلہ لینے آ رہے ہیں۔ پھر اس کو ہمراہیوں سمیت ایسی عبرت ناک سزا دی کہ قادیانی آج بھی اسے نہ بھولے ہوں گے۔ قادیانی آپ کی ذات سے اس قدر خائف تھے کہ رات دن تونسہ شریف کو نقصان پہنچانے کی تدبیریں سوچتے رہتے تھے۔

(ماہنامہ ضیائے حرم‘ ختم نبوت نمبر‘ ١٩٧٤ء)

صفحہ ٤٣

حضور کی نبوت ہمیشہ کے لیے

ثابت اور نافذ ہے

ختم نبوت کا یہ مطلب نہیں کہ نبوت ختم ہو گئی۔ آنحضرت ﷺ کی نبوت ہمیشہ کے لیے باقی اور جاری و ساری ہے جو کبھی ختم نہ ہو گی۔ ختم نبوت کا مطلب یہ ہے کہ اب نبوت کا ملنا ختم ہے اور خاتم الانبیاء کے بعد اب کسی شخص کو نبوت نہیں ملے گی۔ پہلے سے کسی کو ملی ہو تو اس کی بقائے حیات کا حضور ﷺ کی نبوت سے کوئی تصادم نہیں۔ ہم نبوت کے ملنے کو تو حضور ﷺ پر ختم مانتے ہیں لیکن آپ کی نبوت کو باقی اور جاری سمجھتے ہیں۔ حضور ﷺ کی نبوت ہمیشہ ہمیشہ کے لیے متحقق اور جاری ہے۔ جبکہ اللہ تعالیٰ کی یہ سنت رہی ہے کہ ہر زمانے میں پیغمبر مبعوث فرماتے ہیں۔ اس عہد کے لیے بھی آنحضرت ختمی مرتبت (صلی اللہ علیہ وسلم) رسول اور اس عہد کے نبی اور رسول صرف اور صرف آنحضرت ﷺ ہی ہیں۔ اس عہد نبوت کی ابتدا حضور تاجدار مدینہ کی بعثت سے ہوئی اور اس عہد کا دوسرا کنارہ قیامت سے متصل ہے۔ اس دوران کسی اور نبی کی بعثت نہیں۔

(مفکر اسلام حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود صاحب دامت برکاتہم)

رسول خاتم ﷺ

جہان کا سردار آگیا۔ اب کوئی رسول یا نبی نہیں آئے گا۔ دنیا اسی کے زیر رسالت و سیادت ختم ہو جائے گی۔ عالم کی آبادی کا دارو مدار اس کی ہدایت پر ہے۔ اور کارخانہ ہدایت تمام کا تمام رسولوں کی ذات سے وابستہ ہے۔ اس لیے عالم کی ابتدا و انتہا میں بڑا گہرا ربط ہے۔ پروردگار عالم نے جب ایک طرف عالم کی بنیاد رکھی تو اسی کے ساتھ ساتھ دوسری طرف قصر نبوت کی پہلی اینٹ بھی رکھ دی۔ یعنی عالم میں جس کو اپنا خلیفہ بنایا تھا۔ اسی کو قصر نبوت کی خشت اول قرار دے دیا۔ ادھر عالم بتدریج پھیلتا رہا، ادھر قصر نبوت کی

صفحہ ٤٤

تعمیر ہوتی رہی۔ آخر کار عالم کے لیے جس عروج پر پہنچنا مقدر تھا، پہنچ گیا۔ ادھر قصر نبوت بھی اپنے جملہ محاسن اور خوبیوں کے ساتھ مکمل ہو گیا۔ اور اس لیے ضروری ہوا کہ جس طرح عالم کی ابتداء میں رسولوں کی بعثت کی اطلاع دی گئی تھی۔ اسی کی انتہاء پر رسولوں کے خاتمہ کا بھی اعلان کر دیا جائے تاکہ قدیم سنت کے مطابق آئندہ اب کوئی شخص رسول کی آمد کا انتظار نہ کرے۔ قرآن کریم میں آپ کی ختم نبوت کا اعلان ان الفاظ میں کیا گیا ہے: ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ و خاتم النبیین۔

یعنی اب تک جتنے رسول آئے، وہ صرف رسول اللہ تھے۔ آپ رسول اللہ ہونے کے علاوہ خاتم النبیین بھی ہیں۔ اس بناء پر آنحضرت ﷺ کے تصور کے لیے دو باتوں کا تصور ہونا ضروری ہے۔ یہ کہ آپ رسول اللہ ہیں اور یہ کہ آپ خاتم النبیین بھی ہیں۔ آپ کے متعلق صرف رسول اللہ کا تصور آپ کی ذات کا ادھورا اور ناتمام تصور ہے، بلکہ ان ہر دو تصورات میں آپ کا امتیازی تصور خاتم النبیین ہی ہے۔

(محدث کبیر مولانا سید بدر عالم مہاجر مدنی رحمتہ اللہ علیہ)

قادیان... شاہ جیؒ کی یلغار

مولانا ظفر علی خان اور میں اور ہمارے ہزاروں بہادر ساتھی، علماء اور عوام پہلی مرتبہ قادیان میں داخل ہوئے ہیں۔ ہم نے مرزائیوں کا چیلنج قبول کیا ہے۔ وہ جگہ جگہ پر چیلنج دیا کرتے تھے کہ ہندوستان کے کسی مولوی کو قادیان میں آنے کی جرات نہیں اور ہم آ گئے ہیں۔ یہ کسی اکیلے آدمی کا کام نہیں۔ یہ ایک جماعت کی طاقت ہے اور جماعت کے سر پر خدا کا ہاتھ ہوتا ہے۔ ید اللہ علی الجماعتہ (الحدیث)

آج حکومت کی آنکھیں بھی کھل جانی چاہیں کہ جماعت مرزائیہ کی مخالفت اور سازش اور حکومت کی طرف سے لگائی گئی ان پابندیوں کے باوجود غلامان محمد ﷺ نشہ عشق محمد ﷺ سے سرشار ہو کر اتنی کثیر تعداد میں یہاں پہنچے ہیں۔

صفحہ ٤٥

"نشہ عشق محمد ﷺ میں خدا ملتا ہے"

یہ اس سچے جذبے کی طاقت ہے جو حضور کی ختم نبوت کے صدقہ میں امت کے خون میں گردش کرتی ہے۔ فرنگی اور مرزائیوں کی ساری جنگ ہی یہ ہے کہ مسلمانوں کے دل سے حضور ﷺ کا والہانہ عشق نکال دیا جائے اور ہماری ساری جنگ یہ ہے کہ محمد ﷺ کے ان غداروں کو پوری کائنات میں نفرت کی علامت بنا دیا جائے۔

(بخاری کے زمزمے‘ مؤلفہ‘ سید عطاء الحسن بخاری)

میرے ویرانے سے کوسوں دور ہے تیرا وطن
ہے مگر دریائے دل تیری کشش سے موجزن (مؤلف)

ایک سچا واقعہ

جس نے میری کایا پلٹ دی

از: شاہد تبسم سیالکوٹی‘ خانیوال

میں ختم نبوت کے تمام رسالے جو شائع ہوتے ہیں‘ ان کو بڑے شوق اور محبت اور دل کی گہرائیوں سے پڑھتا ہوں۔ میں پہلے پانچ وقت کی نماز پابندی سے پڑھتا تھا۔ ایک رات مجھے خواب آیا کہ آسمان سے بجلی گری جس نے میرے جسم کو بالکل ہلا کر رکھ دیا۔ نماز فجر کا وقت تھا۔ آنکھ کھلی تو میں نے لاحول ولا قوۃ پڑھا اور بہت پریشان ہوا کہ یہ خواب کیسا تھا تو میرے دل میں بہت ہی خوف طاری ہو گیا۔ دن گزرتے گئے۔ ایک دن مجھے ملتان آنے کا اتفاق ہوا تو میں قلعہ کے اندر مزارات پر گیا تو وہاں ایک بزرگ ملے۔ میں نے اس بزرگ کو خواب سنایا۔ اس بزرگ نے کہا‘ بیٹا تمہارے عنقریب تعلقات غیر مسلم مرزائیوں کے ساتھ ہو جائیں گے۔ اتنے گہرے ہو جائیں گے کہ تم خود کو بھول جاؤ گے۔ مگر میں نے اس بزرگ کی بات پر غور نہ کیا اور خواب کو بھی بھول گیا۔ دن گزرتے گئے۔ تقریباً چھ

صفحہ ٤٦

سات ماہ کے بعد میرے تعلقات مرزائیوں سے ہو گئے اور میں ان کے ساتھ گھل مل گیا۔ اتنا گھل مل گیا کہ میں خود کو بھی بھول گیا اور نماز کی پابندی بھی جاتی رہی اور آہستہ آہستہ ہمارے تعلقات تقریباً ٢ سال کے عرصے تک چلتے رہے۔ اس دو سال کے عرصہ میں مجھے پھر وہی خواب آیا اور میں سمجھ گیا کہ واقعی وہ خواب سچا تھا اور جو بزرگ ملے تھے، انہوں نے بالکل میرے خواب کی صحیح تعبیر بتائی۔ پھر میں نے قادیانیوں کے ساتھ مکمل بائیکاٹ کر دیا اور نماز بھی پابندی کے ساتھ ادا کر رہا ہوں۔ ختم نبوت کے رسالے بھی پڑھتا ہوں اور اب میں نے قسم کھالی ہے کہ اب ختم نبوت کا سپاہی بنوں گا اور اس مسئلہ کی خاطر کسی بھی قربانی دینے سے گریز نہ کروں گا۔ اس علاقے میں قادیانیوں کے ١٥ گھرانے ہیں۔ ان مرتدوں کی ناپاک حرکتوں کو قطعاً نہ بڑھنے دوں گا اور ان کا پورا پورا محاصرہ کروں گا اور اس مسئلہ کی خاطر اگر میری جان بھی چلی جائے تو کوئی پرواہ نہیں۔

محمد کی محبت دین حق کی شرط اول ہے
اسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نامکمل ہے

(ہفت روزہ ختم نبوت، کراچی، جلد ٧، شمارہ ٤٠)

مرزا قادیانی جہلم میں

جامع مسجد خاتم النبیین کے تبلیغی جلسہ کے موقع پر ایک بار دعوت طعام سیٹھ نثار کے گھر میں تھی، وہاں اتفاقاً بات ان کے ساتھ سابقہ مذہب (قادیانیت) پر چل نکلی اور بالآخر ان کی تان مرزا غلام احمد قادیانی کی ذات پر ٹوٹی۔ انکشاف ہوا کہ ١٩٠٣ء اور ١٩٠٤ء میں جب رئیس المناظرین حضرت مولانا کرم الدین دبیرؒ نے (والد محترم، قائد اہلسنت حضرت مولانا قاضی مظہر حسین مدظلہ) نے مرزا قادیانی کے خلاف ازالہ حیثیت عرفی کا کیس کیا، جس میں مرزا صاحب کو چھ ماہ قید یا پانچ سو روپے جرمانہ کی سزا سنائی گئی۔ مرزا صاحب مقدمہ کی پیروی کے لیے جب جہلم آتے تو اسی مکان میں ٹھہرتے، انہوں نے وہ بڑی بڑی پلنگ نما چارپائیاں بھی دکھائیں، جن پر مرزا صاحب بیٹھتے اور آرام کرتے تھے۔

صفحہ ٤٧

(ماہنامہ حق چار یار، حضرت جہلمی نمبر، ص ١٤٠)

مولانا عبداللطیف جہلمی کی للکار

خان محمد اکبر برکی (جو پرانے احراری رضا کار اور حضرت جہلمیؒ کے انتہائی قابل اعتماد رفیق سفر، زندہ دل اور محنتی آدمی ہیں، خدا تعالیٰ انہیں صحت و عافیت کے ساتھ سلامت رکھے، آمین) اشکبار آنکھوں کے ساتھ حضرت جہلمیؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت اس وقت جامعہ مسجد حنفیہ کے دفتر میں تشریف فرما تھے، برکی صاحب نے فرمایا، حضرت، ختم نبوت کے نام پر جلوس پولیس نے منتشر کر دیا۔ ہماری زندگیوں کا کیا فائدہ ہے؟ چونکہ پرانے احراری تھے، اور ختم نبوت کا مسئلہ حضرت امیر شریعتؒ نے ہر احراری کے رگ و ریشہ میں خون کی طرح دوڑا دیا تھا۔ اس لیے وہ برداشت نہ کر سکے۔ حالانکہ اگر کوئی اور ہوتا تو اپنے مخالفین کی پسپائی پر خوش ہوتا۔ چونکہ یہ صورت حال خلاف توقع تھی۔ خیال تھا کہ رکاوٹ کی صورت میں کچھ نہ کچھ مزاحمت ہوگی۔ لیکن جب پتہ چلا کہ جلوس بلا مزاحمت منتشر ہو گیا ہے، تو حضرت کو بھی دلی تکلیف پہنچی۔

حضرتؒ اسی وقت گنبد والی مسجد پہنچے اور فوری ہنگامی جلسہ کا اعلان کر دیا، لوگ فوراً جمع ہو گئے۔ حضرت مرحوم نے قادیانیت کے خلاف انتہائی موثر و جذباتی تقریر کی اور دو دن کے بعد جمعہ کے دن نماز جمعہ کے بعد جلوس کا اعلان کر دیا۔ چنانچہ جمعہ کے بعد حضرت مرحوم کی قیادت میں شاندار جلوس نکلا، پولیس نے رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کی۔ لیکن مولانا مرحوم مجلس عمل کی قیادت کی طرح بیک پر نہیں بلکہ فرنٹ پر تھے، انتظامیہ بخوبی واقف تھی کہ اس شخص کے آگے بڑھتے ہوئے قدم پسپائی کے مفہوم سے نا آشنا ہیں۔ دو تین بار روایتی وارننگ دینے کے بعد خود ہی راستہ چھوڑ دیا۔ چونکہ مولانا مرحوم نے اس جلوس کے لیے بریلوی اور اہلحدیث مکاتب فکر کو بھی دعوت دی تھی، اس لیے خطیب اہل حدیث مولانا حافظ عبد الغفور مرحوم بھی جلوس میں شامل تھے۔

صفحہ ٤٨

جامع مسجد خاتم النبیین ﷺ

اسی تحریک ختم نبوت کے دوران قادیانی بکثرت مسلمان ہو کر حضرت مرحوم کے ہاتھ پر دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔ مقامی قادیانی گھرانوں میں سیٹھ نثار کا گھرانہ بھی تھا۔ وہ ان دنوں انگلینڈ میں تھے، چونکہ وہ قادیانیوں کی مسجد احمدیہ کے متولی تھے، اس لیے وہ مسجد کی چابی لے کر آئے اور مسجد کا انتظام حضرت جہلمیؒ کے حوالہ کر دیا۔ حضرت مرحوم شورکوٹ ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کے لیے تشریف لے جا چکے تھے۔ قاری خبیب احمد صاحب نے چابی وصول کی، اس وقت مغرب کی نماز کا وقت قریب تھا، قاری محمد جاوید صاحب تلہ گنگلی (جو اس وقت گنبد والی مسجد کے مدرس تھے) کو بھیجا، اور انہوں نے اذان دے کر نماز مغرب پڑھائی۔ دوسرے دن حضرت مرحوم سفر سے واپس تشریف لائے اور مسجد احمدیہ میں رات کے جلسہ کا اعلان کر دیا گیا۔ حضرت مرحوم نے مفصل خطاب فرمایا اور اعلان فرمایا کہ آج کے بعد اس مسجد کا نام ”جامع مسجد خاتم النبیین ﷺ“ ہے۔ مولانا قاری خبیب احمد عمر خطیب مقرر کر دیے گئے۔ حضرت مرحوم کی زندگی میں انہوں نے ہی خطابت کے فرائض سرانجام دیے اور ان کے بعد قاری صاحب کے فرزند مولوی محمد ابوبکر صدیق خطابت کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

(ماہنامہ حق چار یار، مولانا جہلمیؒ نمبر، ص ١٢٨، ١٢٩)

ایک قادیانی پر غلاظت کی بارش

راقم الحروف سے ایک بار ایک ”قادیانی“ اسلام اور نبوت محمد ﷺ سے بغاوت اور غداری پر مبنی ”قادیانی مذہب“ کی حمایت میں بحث و مباحثہ کرنے لگا۔ ہماری گفتگو سن کر اور دیگر حضرات بھی آگئے۔ شام کا وقت تھا۔ ہم لوگ اس وقت ایک درخت کے نیچے

صفحہ ٤٩

کھڑے مصروف گفتگو تھے۔ درخت پر پرندے بیٹھے چہچہا رہے تھے۔ جب مذکورہ قادیانی مذہب کا وکیل صفائی بنا اس کے حق میں دلائل دے رہا تھا تو اچانک درخت پر بیٹھے ہوئے کسی پرندے کا پاخانہ اس کے منہ پر آ گرا۔ جس سے وہ قادیانی حواس باختہ ہو گیا۔ پھر وہ سنبھلا اور اس نے اپنے ہاتھ سے اپنا منہ اس غلاظت سے صاف کیا اور پھر دوبارہ اپنے اس فعل خبیثہ یعنی قادیانیت کی حمایت میں بکواس کرنے لگا۔ ابھی اس کی گفتگو شروع ہی ہوئی تھی کہ دوبارہ اس کے سر پر درخت پر بیٹھے کسی پرندے نے اپنی غلاظت بکھیر دی۔ مذکور قادیانی نے اس بار بھی اپنے ہاتھ سے اپنا غلاظت میں لتھڑا سر صاف کیا اور پھر سہ بارہ کتے کی طرح قادیانیت کی حمایت میں بھونکنے لگا۔ ابھی اسے شروع ہوئے کچھ دیر بھی نہ ہوئی تھی کہ تیسری بار پھر کسی پرندے نے اس پر پاخانہ کر دیا۔ گویا قدرت خداوندی قادیانیت سے اپنی بیزاری و نفرت ظاہر کر رہی تھی۔ جملہ حاضرین مجلس نے اس بات کو خصوصی طور پر نوٹ کیا۔ ہنسے اور پھر دہشت زدہ ہو گئے۔ سب پر اس بات کا بہت اثر ہوا۔ میں نے اس قادیانی کی بھی اس طرف توجہ دلائی اور اسے کہا کہ ”دیکھو، جھوٹ بولنے کے جرم میں اللہ تعالیٰ آسمان سے تم پر غلاظت کی بارش برسا رہا ہے۔ اب بھی سنبھلو اور اس واقعہ سے عبرت پکڑو۔“ یہ سن کر وہ قادیانی سخت لاجواب اور شرمندہ ہوا اور وہاں سے دم دبا کر بھاگا۔“

(عبدالناصر خان شاہراہ فیصل، کراچی، پاکستان، ہفت روزہ ختم نبوت، جلد ٥، شمارہ ٢٨)

بہاول پور کیس اور حضرت دین پوریؒ

میرے محترم دوستو! تقریر تو میں کر نہیں رہا ہوں۔ آپ کے ذوق اور شوق کے لیے ایک بات سنا دیتا ہوں۔ علامہ انور شاہ کشمیریؒ بہاولپور تشریف لائے تھے اور دارالعلوم دیوبند سے بہاولپور میں ٩ یا ١١ علماء کرام کا وفد یہاں آیا تھا۔ جب ایک مسلمان بچی ایک قادیانی کے نکاح میں گئی تو اب تنسیخ نکاح کا مسئلہ تھا۔ رخصتی تو ہو نہیں سکتی تھی، طلاق چاہیے تھی۔ کیس اور یہ بچی خان پور علاقے کی تھی۔ خان پور میں ہمارے ایک بہت بڑے

صفحہ ٥٠

بزرگ رہتے تھے۔ ان کا نام تھا ’میاں غلام محمد‘۔ میں نے ان کے صاحبزادے دیکھے ہیں، میاں عبد الہادی دین پوریؒ۔ ایک منزل یومیہ قرآن مجید کی تلاوت ان کا معمول تھا اور چالیس سال سے زیادہ وقت ان کا اس معمول کے ساتھ گزرا ہے۔ ایک منزل ظہر تا عصر۔ ہماری جماعت ختم نبوت کے ایک بزرگ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ دین پور تشریف لے گئے۔ حضرت کا معمول یہ تھا کہ جب تلاوت کا آغاز کر دیں تو مصافحہ نہیں کرتے تھے اور بات نہیں کرتے تھے اور یہ بہت بڑا مجاہدہ ہے۔ سات پارے منزل دیکھ کر پڑھنا اور بات نہیں کرنی۔ تو مجلس کے بزرگ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ ان کی زیارت کے لیے تشریف لے گئے تو مسجد میں قرآن کریم پڑھ رہے تھے۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ اس صف میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے مولانا محمد علی جالندھریؒ آکے بیٹھ گئے ہیں تو قرآن کریم میں کپڑا رکھ کر اس کو بند کر دیا اور اس طرف دیکھ کر فرمانے لگے کہ اٹھنے سے تو میں معذور ہوں، اٹھانے والا کوئی نہیں۔ آپ مصافحہ کر سکتے ہیں۔ آئیں میں آپ سے مصافحہ کرنا چاہتا ہوں۔

یہ جن کے ساتھ گزری۔ یہ صاحب واقعہ ہیں۔ میں نے ان سے یہ خود واقعہ سنا۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ قرآن کریم کی تلاوت، رات کی تہجد، ذکر اور اللہ اللہ کرنا یہ اللہ کی رضا اور خوشنودی کا سبب ہے اور ان تمام اعمال سے بڑھ کر وہ جماعت جو حضور ﷺ کے ناموس کی عزت کی حفاظت کرتی ہے۔ آپ ﷺ کے مقام ختم نبوت کا تحفظ کرنے والی جماعت ہے وہ جماعت اور اس کا کام کرنے والا بندہ یہ اجر و ثواب میں آگے ہو گا تو تلاوت روک کر ان سے مصافحہ کیا اور جب مصافحہ ختم ہو گیا تو تلاوت شروع کر دی۔

یہ تو تھے میاں عبد الہادیؒ۔ کیس جو ہوا تھا، مرزائیوں کے خلاف وہ ہوا تھا میاں غلام محمدؒ کے زمانے میں۔ میاں غلام محمدؒ بھی اٹھ نہیں سکتے تھے۔ بڑھاپے کی وجہ سے گھٹنے کام نہیں کرتے تھے۔ انہیں اٹھا کے مسجد میں لاتے تھے۔ جب کیس کا آغاز ہوا تو میاں غلام محمدؒ فرمانے لگے کہ ایک تو علمائے کرام کیس کے دفاع کے لیے آ رہے ہیں۔ کیس بھی حضور ﷺ کی ختم نبوت کے سلسلے میں ہے۔ مجھے اٹھا کے بہاولپور لے چلیں تو خان پور سے چارپائی پر اٹھائے گئے۔ اسٹیشن پر لائے گئے۔ گاڑی میں سوار کرائے گئے۔ بہاولپور اسٹیشن پر اتار کر پھر چارپائی پر بٹھایا گیا اور کیس کی تاریخوں کے دنوں میں میاں غلام محمدؒ بہاولپور میں

صفحہ ٥١

رہتے تھے اور بہاولپور میں رات تو گزارتے شہر میں‘ جب عدالت کا وقت ہوتا تو فرماتے کہ چارپائی اٹھا کر مجھے لے چلیں۔ اندر سماعت ہوتی تھی‘ عدالت کے دروازہ کے باہر ان کی چارپائی رکھی ہوتی تھی۔ یہ اتنے بڑے بزرگ تھے اور وہ یہ اتنی محنت اس واسطے کرتے تھے کہ ختم نبوت کی حفاظت کرنے والی جو جماعت ہوگی‘ قیامت کے دن میرا نام بھی ان میں شامل ہو جائے اور میں بھی ان میں شمار کیا جاؤں۔

(ماہنامہ لولاک‘ ملتان‘ جنوری ١٩٩٩ء‘ تقریر مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری)

زندگانی تھی تری مہتاب سے تابندہ تر
خوب تر تھا صبح کے تارے سے بھی تیرا سفر (مؤلف)

علماء مانسہرہ زندہ باد‘ نماز کے اجتماع سے اعلان کر کے

قادیانیوں کو نکل بھاگنے پر مجبور کر دیا

مانسہرہ کے مشہور سیاسی اور سماجی رہنما حکیم عبد الغفور صاحب کے جواں سال بیٹے عطاء الرحمٰن صاحب ١٣ جنوری کو ایک حادثے میں وفات پاگئے۔ چونکہ قادیانیوں کے ساتھ کچھ رشتہ داریاں بھی رہیں۔ رات کو قاضی رفیق الرحمٰن صاحب خطیب جامع مسجد گنگڑہ حکیم صاحب کے ہاں تعزیت کے لیے گئے تو دیکھا کہ چند قادیانی بھی براجمان ہیں۔ قاضی صاحب نے حکیم صاحب سے کہا کہ آپ ان قادیانیوں کو جنازہ میں شامل نہ ہونے دیں کیونکہ یہ ہمارے جنازوں میں شرکت نہیں کرسکتے۔ حکیم صاحب نے کہا کہ ہم انہیں کہہ دیں گے کہ جنازہ میں نہ جائیں‘ یہ گھر پر ہی رہیں گے۔ قاضی صاحب نے کہا کہ اگر یہ جنازہ میں شریک ہوئے تو میں بحیثیت خطیب محلہ اعلان کروں گا کہ کوئی مسلمان جنازہ میں شرکت نہ کرے کیونکہ قادیانی بھی شریک ہیں۔ حکیم صاحب نے یقین دہانی کرائی کہ قادیانی جنازہ میں شرکت نہیں کریں گے۔ جب جنازہ صبح اٹھایا گیا اور پولیس گراؤنڈ مانسہرہ میں لا کر رکھ دیا گیا تو ہزاروں کا اجتماع تھا۔ جس میں معززین شہر‘ افسران پولیس اور دیگر ہر شعبہ

صفحہ ٥٢

زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ موجود تھے۔

مولانا رفیق الرحمن صاحب اور مولانا خالد خطیب مرکزی جامع مسجد و امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مانسہرہ نے حکیم صاحب سے کہا کہ آپ خود اعلان کر دیں کہ اگر کوئی قادیانی جنازہ میں موجود ہو تو نکل جائے۔ حکیم صاحب نے کہا’ اعلان کی ضرورت نہیں ہے۔ چونکہ یہاں کوئی قادیانی جنازہ میں شریک نہیں۔ لہٰذا اعلان سے کیا فائدہ۔ چنانچہ اس کے بعد قاضی رفیق الرحمن صاحب نے کہا کہ اگر کوئی قادیانی جنازہ میں شریک ہو تو اسے نکال دیا جائے۔

مانسہرہ میں علماء کا یہ دستور ہے کہ جب کوئی بھی جنازہ ہو تو جنازہ شروع ہونے سے قبل اعلان بلند آواز میں کیا جاتا ہے کہ کسی مرزائی کو جنازہ میں نہ چھوڑا جائے۔ خواہ جنازہ میں کوئی قادیانی ہو یا نہ ہو، لیکن اعلان ضرور کیا جاتا ہے۔ اس اعلان سے مرزائی نوازوں کو بہت تکلیف ہوتی ہے۔ چنانچہ یہاں بھی اعلان کیا گیا اور ساتھ ساتھ مرزا قادیانی کے عقائد کفریہ اور مغلظات اور تحریرات کو سنایا گیا۔ اسی اثناء میں خطیب مرکزی جامع مسجد مولانا عبداللہ خالد صاحب کی نظر ایک قادیانی پر پڑی جو پہلی یا دوسری صف میں کھڑا تھا، انہوں نے کہا کہ تم قادیانی ہو، مرزا قادیانی کو مانتے ہو تو مذکورہ قادیانی نے بات کو گول مول کیا۔ خطیب صاحب نے کہا مرزا قادیانی پر لعنت بھیجو اور کہو وہ کافر اور مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج تھا۔ مذکورہ قادیانی نے انکار کر دیا۔ چنانچہ قاضی رفیق الرحمن صاحب نے مذکورہ قادیانی سے کہا، یہاں سے فوراً کھسکو ورنہ تمہاری خیر نہ ہو گی۔ چنانچہ مذکورہ قادیانی نہایت تیزی سے صفوں سے بھاگ کر نکل گیا اور یوں وہ ”جان چھوٹی سو لاکھوں پائے، لوٹ کے بدھو گھر کو آئے ۔“ کا مصداق بن گیا۔

اگر قادیانی چند لمحے بھی ٹھہرتا تو عوام یقیناً مرمت کر دیتے اور خوب ٹھکائی ہو جاتی۔ لیکن اس کی خوش بختی تھی کہ بچ نکلا۔ اس کو جاتے ہوئے جب دیگر قادیانیوں نے دیکھا تو وہ بھی چپکے سے پچھلی صفوں سے کھسکنا شروع ہو گئے اور آٹھ نو دوسرے قادیانی بھی نکل بھاگے۔ لیکن عوام کو پتہ بعد میں چلا کہ قادیانی بھی آئے تھے۔ یہ خدائے لم یزل کا فضل و کرم ہے کہ قادیانیت آج مانسہرہ میں ایک گالی سمجھی جاتی ہے۔ ورنہ ایک وقت تھا کہ قادیانیت کے خلاف مانسہرہ شہر میں بات کرنا بھی شیر کے منہ میں ہاتھ ڈالنا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی

صفحہ ٥٣

کروڑوں رحمتیں نازل ہوں اس مرد قلندر‘ مجاہد‘ مرد درویش میر کاروان بخاریؒ جس کو دنیا غلام غوث ہزارویؒ کے نام سے یاد کرتی ہے۔ اگر حضرت ہزارویؒ قادیانیت کا مقابلہ نہ کرتے تو آج مانسہرہ میں اکثر خوانین انگریز کے ٹوڈی جاگیردار‘ رئیس اور سواتی خاندان کے بڑے بڑے خان بہادر‘ سر بہادر قادیانیت کی آغوش میں ہوتے لیکن مولانا ہزارویؒ نے تمام مصلحتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے‘ مصائب و آلام کو جھیلتے ہوئے‘ اپنوں اور بیگانوں کی تلخ نوائیوں کا سامنا کرتے ہوئے قادیانیت کا پوسٹ مارٹم کیا۔ سفر میں‘ حضر میں‘ مناظروں سے اور دیگر مجالس میں ہر طرح سے سیاسی اور مذہبی طور پر قادیانیت کا تعاقب جاری رکھا۔ جس کا نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے۔ بڑے بڑے لوگ اس کا اعتراف کرتے ہیں کہ اگر مولانا ہزارویؒ نہ سمجھاتے تو ہم قادیانی ہو جاتے کیونکہ قادیانیوں کے پاس جو ہتھکنڈے ہیں‘ ملازمت کا لالچ دے کر اور شادی کے چکر میں الجھا کر ایمان کو لوٹ لینا ان کا شیوہ ہے۔ لیکن مولانا نے تمام مصلحت آمیز باتوں کو چھوڑ کر اور اپنے اسلاف کے طریق کو اپناتے ہوئے حق بات کو منبر و محراب سے بیان بھی کیا اور وقت آیا تو دار و رسن کو چوم کر بھی حق کا اظہار کیا۔ بقول شاعر۔

مجھے حق بیانیوں نے جہاں دار پر چڑھایا
وہیں مصلحت نے واعظ تیرے ہونٹ سی دیئے ہیں

اللہ کی کروڑوں رحمتیں اس مرد قلندر کی قبر پر ہوں۔ اللھم ارزقنا اتباعہ۔ (آمین)

(ہفت روزہ ’ختم نبوت‘ جلد ٥‘ شمارہ ٣٥)

آغا شورش کا عشق رسولؐ

جناب زیڈ اے سلہری بیان کرتے ہیں کہ بیماری کے دنوں میں ہم آغا صاحبؒ سے ہسپتال ملنے گئے۔ کافی دیر ہو گئی تو ڈاکٹر صاحب نے کہا۔ آپ اٹھ جائیں۔ لیکن آغا صاحب کو ہماری موجودگی میں اتنا انہماک تھا کہ اجازت لینے کی جسارت نہ تھی۔ پھر ڈاکٹر افتخار نے

صفحہ ٥٤

ہمیں مخاطب کر کے کہا کہ وہ آغا صاحب کو انجکشن دینا چاہتے ہیں تاکہ وہ سو کر کچھ آرام کر لیں۔ اس پر ہم فوراً اٹھ کھڑے ہوئے لیکن میں ابھی سلام کر کے دروازے کی طرف بڑھا ہی تھا کہ آغا صاحب نے مجھے اپنے قریب بلایا اور کہا کہ میں اپنے ہاتھ کو ان کے سر پر رکھ دوں۔ جب میں نے ان کے حکم کی تعمیل میں اپنا ہاتھ ان کے سر پر رکھ دیا تو انہوں نے انتہائی رقت بھری آواز میں کہا:

"سلہری صاحب! آپ گواہی دینا کہ میں مسلمان ہوں۔ "لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ" اور میں رسول اللہ ﷺ کا عاشق ہوں"۔

یہ سن کر میں کانپ گیا۔ گو میں نے انہیں تسلی دینے کو کہا کہ آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں۔ ابھی تو آپ نے علامہ اقبالؒ کے متعلق عشق رسولؐ پر کتاب لکھنی ہے۔ (اقبالؒ کی صد سالہ سالگرہ کی جشن کمیٹی نے آغا صاحب کو اس کام پر مامور کیا تھا) لیکن مجھے یکلخت محسوس ہوا کہ آغا صاحبؒ کی آنکھیں آئندہ کا وہ نقشہ دیکھ رہی ہیں۔ جو ہماری نظروں سے ماورا ہے۔ میرا دل بھاری ہو گیا۔ میں گھر چلا آیا۔ نماز پڑھی اور آغا صاحب کی صحت کے لیے دعا کی۔ مجھ گنہگار کی دعا کیا لیکن ایک دوست کی تعمیل فرمائش ضروری تھی۔ اور پھر میں قریب ساری رات ان کے خیال میں مستغرق رہا اور زیر لب ان کی صحت یابی کے لیے دعا کرتا رہا۔ لیکن سخت متفکر رہا۔ صبح پانچ بجے ایک دوست کا ٹیلیفون آیا کہ آغا صاحب اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ ہم انہیں سوا سات بجے چھوڑ کر آئے تھے اور وہ سوا گیارہ بجے فوت ہو گئے۔

(ہفت روزہ لولاک، فیصل آباد)

ہزاروں بار اس پر عشرت کونین صدقے ہو
غم عشق نبیؐ رہ جائے جس دل میں مکیں ہو کر

(مؤلف)

صفحہ ٥٥

ایک قادیانی کی قبر میں سانپ لہرانے لگے

گورکن رمضان کا چشم دید مشاہدہ: محمد فاروق شہزاد ننکانہ صاحب

رمضان گجرات کا رہنے والا ہے۔ اب سیالکوٹ میں قیام کیا ہوا ہے۔ اس نے اپنی زبانی ہمیں بتایا ہے کہ سیالکوٹ میں ایک بہت بڑا گستاخ قادیانی رہتا تھا اور اس کا کاروبار بھی بہت زیادہ تھا۔ میں اکثر قبروں کی کھدائی کیا کرتا تھا۔ ایک دن کچھ قادیانی میرے پاس آئے اور مجھے ایک قبر کھودنے کو کہا۔ مجھے پہلے نہیں پتہ تھا کہ قادیانی کیا ہوتے ہیں۔ میں نے اس گستاخ کی قبر کھود دی۔ لیکن وہ جب قادیانی کو دفنانے لگے تو میں نے اور سب جنازے والوں نے دیکھا کہ قبر میں سانپ ہی سانپ ہوتے جارہے ہیں۔ اور یکا یک آندھی آگئی اور قبر میں شعلے بلند ہونے لگے۔ میں یہ سب کچھ دیکھ کر حیران ہونے لگا اور وہ مرزائی استغفار پڑھنے لگے۔ پھر جب دوسری جگہ قبر کھودی گئی تو وہ قبر بھی گونجنے لگی اور اس قبر میں بھی ڈراؤنی آوازیں آنے لگیں۔ یہ سب ماجرا دیکھ کر قبرستان سے بھاگ آیا اور وہ قادیانی بھی آہستہ آہستہ کھسکنے لگے اور اس قادیانی کے بیٹے بھی یہ حال دیکھ کر بھاگ آئے۔

اس گستاخ کی میت کے پاس اب کوئی نہیں تھا اور نہ ہی کسی کی جرات پڑتی تھی کہ وہ میت کے قریب جائے۔ تین دن تک اس کی میت قبرستان ہی میں پڑی رہی اور چوتھے دن اس کی میت کو دوسرے گاؤں میں دفنایا گیا۔ اس دن کے بعد میں نے آج تک کسی بھی گستاخ رسولؐ کی قبر نہیں کھودی اور تمام مسلمانوں کے آگے میری یہ درخواست ہے کہ وہ کبھی بھی کسی قادیانی کے جنازے میں شریک نہ ہوں اور نہ ہی ان کو اپنے جنازوں میں شریک ہونے دیں۔

ہفت روزہ ختم نبوت، کراچی، جلد ٥، شمارہ ٤٢)

صفحہ ٥٦

حضرت اقدس مولانا محمد عبداللہ صاحب قدس سرہ

خانقاہ سراجیہ اور۔۔۔۔ ختم نبوت

از جمعہ خان ۔۔۔ بھکر

حضرت اقدس رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اسلام اور داعی اسلام علیہ الصلوۃ والسلام کی حرمت و ناموس کو عقیدہ ختم نبوت کی اساس سمجھتے تھے۔ چنانچہ آپ اس عقیدہ کو ایمان کا موقوف علیہ تصور فرماتے ہوئے اس کے تحفظ کے سلسلے کو حرز جان کی طرح اولین اہمیت دیتے تھے۔ ختم نبوت کے منکروں، اس عقیدہ میں من گھڑت تاویلات کرنے والوں اور جعلی نبوت کے قائلین کو اسلام کا سب سے بڑا دشمن گردانتے تھے۔ ١٩٥٣ء میں جب تحریک ختم نبوت ابھری، تو آپ نے اس کی پوری طرح پشت پناہی فرمائی۔ عقیدہ حق کا اعلان کرنے والوں کی گرفتاریاں شروع ہوئیں اور ان پر گولیاں برسنے لگیں۔ جہاں جہاں آپ کے متوسلین تھے۔ انہوں نے اس تحریک میں سرگرمی سے حصہ لیا۔ خود آپ نے مرکز میں رہ کر اس تحریک کی قیادت فرمائی۔ موجودہ سجادہ نشین قطب الاقطاب حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ کو برملا اعلان حق کرنے اور میانوالی اجلاس منعقد کرنے کے لیے بھیجا۔ حضرت قبلہ، تعمیل ارشاد کے پیش نظر قید و بند کی صعوبتوں سے بے نیاز میانوالی تشریف لے گئے اور خود کو گرفتاری کے لیے پیش کر دیا۔ پہلے میانوالی جیل میں رہے۔ پھر بورسٹل جیل لاہور منتقل کر دیے گئے۔ بعد ازاں اس تحریک کو دبانے کے لیے اس دور کے وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین نے حدود لاہور میں جو تحریک کا سب سے بڑا عملی مرکز تھا، مارشل لاء نافذ کر دیا۔

حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ کے متعلق حکم دے دیا گیا کہ جہاں ملیں، انہیں گولی مار دی جائے۔ مولانا ہزارویؒ حضرت اقدس کے حلقہ ارادت میں شامل تھے۔ آپ کو ان کی حفاظت جان کی فکر ہوئی۔ انہیں لاہور سے خانقاہ شریف خاص حکمت عملی سے لایا

صفحہ ٥٧

گیا۔ پھر کسی محفوظ و مخفی مقام پر حالات درست ہونے تک رکھا گیا۔ پھر جب لاہور میں اس تحریک کے سلسلے میں تحقیقاتی کمیشن بیٹھا تو منکرین ختم نبوت کے خارج از اسلام ہونے اور عقیدہ ختم نبوت کو اسلام کا بنیادی عقیدہ ثابت کرنے کے لیے علماء اسلام کا بورڈ حکیم عبدالمجید سیفی کے مکان بیڈن روڈ پر بیٹھا، متعلقہ کتب فراہم کی گئیں۔ تحریک مرزائیت سے متعلق تمام لٹریچر جمع کیا گیا۔ علمائے کرام ختم نبوت کے عظیم الشان مسئلہ کے اثبات میں کتابوں سے حوالے تلاش کر کے فراہم کرتے رہے۔ حتیٰ کہ مودودی جماعت کے افراد بھی حکیم عبدالرحیم اشرف لائلپوری کی سرکردگی میں اس مرکز تحقیق سے اپنے لیے کارآمد مواد حاصل کر کے لے جایا کرتے تھے۔

(ہفت روزہ ’ختم نبوت‘ کراچی‘ جلد ٥‘ شمارہ ١٩)

حضرت خطیب الاسلام رحمتہ اللہ علیہ

کا سوانحی خاکہ

تحریر: ابوالبیان علامہ محمد سعید احمد مجددی

قافلہ سالار تحریک ختم نبوت‘ پاسدار ناموس رسالت‘ سلطان سلاطین اقالیم خطابت‘ نازش اولیائے آلومہار‘ گلشن مجددیت کی بہار‘ میر کاروان احرار‘ عشق کا بانکپن‘ اقبال کا مرد مومن‘ قائد حریت‘ پیر طریقت‘ خطیب مجیب‘ ادیب لبیب‘ ادب و انشاء کا امام‘ خطیب الاسلام‘ ایسے نظر افروز اور دل آویز رنگا رنگ اوصاف حمیدہ سے تشکیل پانے والی حسین و جمیل‘ سرو قامت شخصیت کا نام نامی‘ اسم گرامی صاحبزادہ سید فیض الحسن ہے۔ خوش قسمتی سے آپ کو آلومہار شریف کی وہ مقدس سرزمین میسر آئی جو ہمیشہ سے اولیاء کرام کا مرکز و محور رہی ہے۔ آلومہار شریف شہر اقبال سیالکوٹ کے قرب و جوار میں ڈسکہ سے سیالکوٹ روڈ پر واقع بظاہر ایک چھوٹا سا گاؤں ہے۔ مگر حقیقتاً بڑے بڑے شہروں

صفحہ ٥٨

کا جاہ و جلال اور حسن و جمال اس کی دیواروں میں پوشیدہ ہے۔ یہاں ایسے ایسے صاحبان کمال پیدا ہوئے جن کی ایمانی اور روحانی یادیں قلب گیتی پر ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو کر رہ گئی ہیں۔ اس قصبہ آلو مہار کی سرزمین کے ذروں نے زمانے کے اقطاب و ابدال کے قدم چومے۔ اس مے خانہ سے روحانیت اور رشد و ہدایت کے سوتے پھوٹے اور یہاں بادہ نوشوں کو ساقی کی کوتہ دستی کی کبھی شکایت نہ ہوئی۔

ولادت اور تعلیم

خطیب الاسلام حضرت صاحبزادہ سید فیض الحسن رحمتہ اللہ علیہ اسی روحانی مرکز آلو مہار شریف میں ١٩١١ء میں پیدا ہوئے۔ آپ نقوی سادات کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کے اسلاف خراسان میں اعلیٰ ترین حکومتی عہدوں پر فائز تھے۔ بعد میں ہجرت کرکے پہلے بھکر اور پھر آلو مہار شریف میں آباد ہو گئے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے گھر اور اپنے گاؤں میں ہی حاصل کی۔ میٹرک کے بعد مرے کالج سیالکوٹ سے امتیازی حیثیت سے بی۔ اے کا امتحان پاس کیا۔

دینی تعلیم اس وقت کے جید علماء مولانا عبدالمجید سنبھلیؒ اور مولانا لطف اللہ کیرت پوریؒ سے حاصل کی۔ اپنے والد ماجد حضرت قبلہ پیر سید محمد حسین شاہ (سالک) رحمتہ اللہ علیہ کے وصال کے بعد ١٩٣٣ء میں سجادہ نشینی کی مسند سنبھالی، مشائخ چورہ شریف نے دستار بندی فرمائی۔ مسند ارشاد پر متمکن ہوتے ہی دینی اور ملی خدمات انجام دینے کے لیے کمر بستہ ہو گئے۔

خانقاہ سے نکل کر میدان عمل میں کودے تو تحریک آزادی اور تحریک ختم نبوت کے ہیرو بن گئے۔ بارہا قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ ان کی زندگی کا کچھ حصہ جیل میں اور کچھ ریل میں گزرا۔ برصغیر کا شاید ہی کوئی شہر اور قصبہ ایسا ہو جہاں آپ نے پیغام حق نہ سنایا ہو۔ کلکتہ اور بمبئی سے لے کر سلہٹ کے میدانوں تک' سندھ کے ریگستانوں سے لے کر وادی خیبر کی ترائیوں تک' آپ کی مومنانہ للکار اور مجاہدانہ یلغار سے فرنگی حکمران لرز

صفحہ ٥٩

اٹھے۔ آپ گفتار اور کردار کے غازی تھے اور برصغیر پاک و ہند میں سلسلہ خطابت کی آخری کڑی تھے۔ آپ کی تقریر موجہ کوثر و سلسبیل تھی، سلاست، متانت، فصاحت، بلاغت اور ظرافت کا سیل بے کراں، استعارات، مترادفات، تمثیلات و اشارات کا یہ عالم کہ بڑے بڑے ادیب، خطیب اور اہل سخن تصویر حیرت بن جاتے۔ آپ کے لیے ہر موضوع ہاتھ کی چھڑی اور جیب کی گھڑی تھا۔ ان کے جملے دریائی لہروں کی مانند رواں دواں ہوتے۔ انہیں وقت ٹھہر کر اور ہوائیں رک کر سنتی تھیں۔ وہ بولتے تو موتی رولتے، کوثر و تسنیم سے دھلی ہوئی زبان اور عشق رسالت علی صاحبہا الصلوات والتسلیمات میں ڈوبا ہوا بیان گویا:

بلبل چہک رہا ہے ریاض رسول میں

مجاہد اول تحریک ختم نبوت

تحریک ختم نبوت میں سول نافرمانی کے پہلے ڈکٹیٹر آپ ہی تھے۔ ١٩٣٣ء میں مرزا محمود کی صدارت میں کشمیر کمیٹی بنی۔ جس کے رکن حضرت علامہ اقبال بھی تھے۔ چنانچہ حضرت خطیب الاسلام نے علامہ اقبال کو صورت حال سمجھا کر کمیٹی سے علیحدہ ہونے پر مجبور کر دیا۔ قادیان میں جلسہ عام کر کے مرزائیت کو آپ نے ہی للکارا تھا۔ جہاں ختم نبوت کے لیے پچاس ہزار رضا کاروں کی بھرتی کا اعلان بھی آپ نے فرمایا تھا۔ کئی رضا کاروں نے اپنے خون سے حلف نامے لکھ کر پیش کیے تھے۔ (تفصیلات کے لیے جسٹس منیر کی تحقیقاتی رپورٹ ملاحظہ فرمائیں) ختم نبوت کے لیے آپ کی قربانیاں دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ آپ مجاہدین جنگ یمامہ کے لشکر کے ایک سپاہی ہیں جو بچھڑ کر اس دور میں آگئے ہیں۔ آپ کی ایمان آفرین للکار نے باطل کے ایوانوں کو اس طرح سے لرزا دیا کہ پھر کبھی انہیں استحکام نصیب نہ ہو سکا۔ بالآخر تاریخ کے عمل نے انہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے زمین بوس کر دیا۔ حضرت خطیب الاسلامؒ تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء کے مجاہد اول تھے۔ عشق رسولؐ

صفحہ ٦٠

آپ کو ورثے میں ملا تھا۔ شمع رسالت کا یہ پروانہ کسی خانہ ساز نبوت کا وجود کیسے برداشت کر سکتا تھا۔ آپ کی زندگی کے تین اہم مقاصد تھے۔

انگریز کے خلاف تحریک آزادی میں آپ کا نام حریت اور جدوجہد عمل کی علامت بن گیا اور فرنگی سامراج آپ کی آواز حق سے لرز اٹھا۔

قادیانیت کے سحر باطل کے خاتمے کے لیے آپ نے نصف صدی تک جدوجہد فرمائی۔ ١٩٥٣ء میں تحریک ختم نبوت کا آغاز آپ کی تقریر سے ہوا۔ اس تحریک میں پہلا قافلہ جو کراچی روانہ ہوا اور گرفتار ہو گیا، اس کی قیادت آپ فرما رہے تھے۔ ختم نبوت کے نام پر مجموعی طور پر آپ نے ساڑھے تین سال قید کاٹی۔ جیل میں آپ پر تشدد کی انتہا کر دی گئی۔ آپ کو برف پر لٹایا گیا۔ آپ نے یہ سب کچھ تقاضائے ایمان سمجھ کر قبول کیا۔ راہ حق میں ہر افتاد کو سینے سے لگایا مگر اف تک نہ کی۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ ١٩٧٤ء (بھٹو کے دور اقتدار) میں تحریک ختم نبوت آپ کے ایماء پر شروع ہوئی تھی جو بالآخر کامیابی سے ہمکنار ہوئی اور مرزائیوں کو آئینی طور پر دائرہ اسلام سے خارج قرار دے کر غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ تحریک ختم نبوت کی تاریخ سے واقف ہر صاحب ہوش جانتا ہے کہ ختم نبوت کے لیے سب سے پہلے گرفتاری دینے والے بھی آپ ہیں اور تحریک کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے سلسلے میں تمام تاریخ ساز جدوجہد میں آپ کا کردار شمع نور کی صورت جگمگاتا نظر آتا ہے۔ آپ کی زندگی کا جو عرصہ مجلس احرار میں گزرا وہ بھی عقیدہ تحفظ ختم نبوت کے لیے وقف رہا۔ تحریک پاکستان میں وہ حامیان پاکستان میں شامل رہے اور قیام پاکستان کے مطالبے کے سلسلے میں قائد اعظم مرحوم کی پر زور حمایت کرتے رہے۔

علامہ اقبال کے پنجابی کے الفاظ یوں تھے کہ:

”بند کر لے اغیار ولوں تے کھول لے یار ول“

جب پہلی بار حضرت خطیب الاسلام کو عارضہ قلب لاحق ہوا تو آپ ماہر امراض

صفحہ ٦١

قلب ڈاکٹر رؤف یوسف (لاہور) کے پاس ای سی جی کے لیے تشریف لے گئے ۔ یہ عاجز (راقم الحروف) بھی وہاں پہنچا۔ دوران گفتگو ڈاکٹر رؤف صاحب نے بتایا کہ حضرت علامہ اقبالؒ کے ساتھ میرے بہت گہرے تعلقات تھے ۔ ایک دن میں نے پوچھا 'علامہ صاحب! میں کچھ دنوں سے آپ کے مزاج میں نمایاں تبدیلی دیکھ رہا ہوں ۔ آپ کے اشعار و افکار عشق رسول اللہ ﷺ اور تصوف کے سانچے میں ڈھلتے جارہے ہیں ۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ تو علامہ صاحب نے فرمایا: بعض بزرگوں کی زیارت اور صحبت نے میرے دل میں روحانی انقلاب پیدا کر دیا ہے ۔ ان میں سے ایک بزرگ قطب الاقطاب حضرت خواجہ سید محمد امین شاہؒ آلو مہار شریف والے ہیں اور دوسرے بزرگ حضرت میاں شیر محمد شرقپوریؒ ہیں ۔ جب میں آلو مہار شریف میں حاضر ہوا تو حضرت خواجہ نے مجھے اپنے ساتھ بٹھا لیا اور نگاہ مسرت سے میری طرف دیکھا اور سر اور پشت پر ہاتھ پھیرا اور زبان سے فرمایا کہ بیٹا تم بڑے خوش نصیب ہو‘ اللہ تعالیٰ تم سے ملت اسلامیہ کی خدمت کا کام لیں گے ۔ میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ روزانہ کثرت سے درود خضری پڑھا کرو ۔ علامہ اقبالؒ نے کہا کہ اچانک یوں محسوس ہونے لگا کہ میرے جسم سے بوجھ اتر رہا ہے ۔ سینے میں ایک ہیجانی کیفیت پیدا ہو رہی ہے اور اس کے بعد میری آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ۔ اس دن سے میرا معمول ہے کہ روزانہ پانچ ہزار مرتبہ درود شریف خضری پڑھتا ہوں ۔ اسی فیضان کا اثر ہے کہ میرے سینے میں عشق رسولؐ کا سمندر موجزن ہے اور میں الحمدللہ یقین کی حد تک اس امر کا قائل ہوں کہ واقعی اہل اللہ کی نظر کیمیا ہوتی ہے اور ان کی توجہات کا فیضان قلب و نظر میں انقلاب پیدا کر دیتا ہے ۔ غالباً اسی فیضان کے مشاہداتی نتیجے کا اعتراف کرتے ہوئے علامہ اقبالؒ نے کہا تھا:

نہ پوچھ ان خرقہ پوشوں کی ارادت ہو تو دیکھ ان کو
یدِ بیضا لیے بیٹھے ہیں اپنی آستینوں میں

آپ پندرہ برس تک دل کے عارضے میں مبتلا رہنے کے بعد ٢٣ فروری ١٩٨٤ء بروز جمعرات سرائے فانی سے عالم باقی کی طرف سدھارے۔ آپ کے آخری الفاظ کلمہ طیبہ و ذکر کے بعد یہ تھے ۔ ”روشنی آ رہی ہے‘ پردے ہٹا دو“

صفحہ ٦٢

آپ کی نماز جنازہ پہلے گوجرانوالہ میں اور پھر آلو مہار شریف میں ادا کی گئی۔ آپ کو آلو مہار شریف میں اپنے آباؤ اجداد کے پہلو میں دفن کیا گیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔

ہمارے بعد اندھیرا رہے گا محفل میں

حضرت خطیب الاسلام کے وصال کے ساتھ ہی زندگی اپنی رعنائیوں سے محروم ہوتی ہوئی محسوس ہونے لگی۔ مشائخ ایک روحانی پیشوا سے محروم ہو گئے۔ علماء کی آرزوؤں کا سہاگ اجڑ گیا۔ عشق رسالت مآب کی محفلیں سونی ہو گئیں۔ حاملان دین متین بے سہارا ہو گئے۔ منبر و محراب پر قیامت گزر گئی۔ تحریک آزادی کا قافلہ سالار چل بسا۔ تحریک ختم نبوت کا مجاہد اول رخصت ہو گیا۔ حقوق اہلسنت کا محافظ جاتا رہا۔ برصغیر پاک و ہند میں نصف صدی تک خطابت کے لولوئے لالہ لٹانے والا‘ آخری خطیب چل بسا۔ ارباب منبر و محراب‘ ایسا خطیب کہاں سے لائیں گے۔ اصحاب سلوک و طریقت ایسا شیخ کہاں سے لائیں گے۔ اب فرقہ باطلہ کی یورشوں اور شورشوں کی مدافعت کون کرے گا؟ اب عقیدت مند آنسوؤں کے چراغ جلا کر اپنے محبوب رہنما کی راہ دیکھا کریں گے۔

ہمارے بعد اندھیرا رہے گا محفل میں
بہت چراغ جلاؤ گے روشنی کے لیے

وہ سرزمین پنجاب میں حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کی بزم سلوک و تصوف کی آخری شمع اور طریقت نقشبندیہ مجددیہ کی سند کے آخری مسیحا تھے۔

رو رہی تھی آج اک ٹوٹی ہوئی مینا اسے
کل تلک گردش میں جس ساقی کے پیمانے رہے

(ماہنامہ دعوت تنظیم الاسلام گوجرانوالہ‘ فروری ١٩٩٧ء)

صفحہ ٦٣

محمد ابراہیم صاحب میرسیالکوٹی کا

جہاد ختم نبوت

حضرت شیخ الکل سید محمد نذیر حسین صاحب محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے ایک اور نامور لائق ترین شاگرد محدث کبیر عالم شہیر حضرت مولانا محمد ابراہیم صاحب میر سیالکوٹی رحمۃ اللہ علیہ المتوفی ١٩٥٦ء نے بھی مرزا غلام احمد قادیانی کی زندگی ہی میں ان کے ساتھ خوب مقابلہ کیا اور بالآخر کامیاب رہے۔

حیات مسیح کے موضوع پر مرزائے قادیان کی

زندگی میں شہادۃ القرآن لکھنا

مرزا غلام احمد اور ان کے پیروکاروں کا دل پسند موضوع وفات مسیح ہے۔ چنانچہ مرزا صاحب نے بھی اس سلسلہ میں ایک کتاب ”ازالہ اوہام“ لکھی ہے۔ اس کتاب کا جواب دو حصوں میں بنام ”شہادۃ القرآن“ حضرت مولانا سیالکوٹی رحمۃ اللہ علیہ نے مرزا صاحب کی زندگی میں لکھا۔ پہلا حصہ جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی رفع آسمانی نو آیات قرآنیہ سے ثابت کی گئی ہے۔ ماہ رجب ١٣٢١ھ میں طبع ہوا۔ اس کے بعد اس کا دوسرا حصہ جس میں ان ٣٠ دلائل کا جواب ہے جو مرزا غلام احمد مدعی مسیحیت نبوت نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات قبل النزول پر بزعم خود قرآن شریف سے پیش کیے ہیں۔ مرزا کی زندگی ہی میں رمضان المبارک ١٣٢٣ ہجری میں طبع ہوا۔ مرزا ٢٤ ماہ ربیع الاخر ١٣٢٦ھ مطابق ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو بروز منگل ہیضہ بھدر کالی کے دن بمقام لاہور فوت ہوئے۔

صفحہ ٦٤

مرزا قادیانی شہادۃ القرآن کا جواب نہ لکھ سکے

اس سے صاف ظاہر ہے کہ مرزا کو شہادۃ القرآن کا جواب لکھنے کے لیے کئی سال کی مہلت ملی لیکن نہ تو مرزا کو ہمت ہوئی اور نہ ان کی زندگی میں ان کی جماعت کے کسی نام نہاد عالم یا مدعی علم کو جرات ہوئی۔

علمائے دیوبند کا شہادۃ القرآن کو پسند کرنا

اور اپنے شاگردوں کو اس کی رغبت دلانا

حضرت مولانا سیالکوٹی رحمۃ اللہ علیہ کی بلند پایہ کتاب ”شہادۃ القرآن“ کو ہر مکتب فکر کے علماء نے پسندیدگی کی نظر سے دیکھا، چنانچہ دیوبند کے جید عالم دین حضرت مولانا حبیب الرحمٰن صاحب استاد دارالعلوم دیوبند ہمیشہ اپنے طلباء، محققین اور زیر اثر شائقین کی اس کتاب کی طرف توجہ دلاتے رہے۔

حضرت مولانا رائے پوری کا اس کتاب کو

حرف بحرف سن کر چھپوانے کا حکم فرمانا

حضرت مولانا عبدالقادر صاحب رائے پوری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی زندگی میں اس کتاب کو حرف بحرف سنا اور اس کے طبع کا حکم فرمایا۔ چنانچہ شعبہ نشر و اشاعت مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان ملتان شہر نے آپ ہی کے ارشاد گرامی پر اس کی طباعت کا انتظام کیا۔

صفحہ ٦٥

شہادۃ القرآن پر حضرت پیر مہر علی

شاہ صاحب گولڑوی کی تقریظ و تصدیق

سید العلماء حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی کی تقریظ اس کتاب کے صفحہ نمبر ٢٢٨ پر ان لفظوں میں موجود ہے:

ترجمہ عربی عبارت: ”رسالہ مؤلفہ جناب مولوی محمد ابراہیم صاحب سیالکوٹی کا نظر ناقص سے گزرا، جس نے اہل اسلام کو الحاد اور تحریف سے بچانے کی وجہ سے ممنون و مامون فرمایا:

حضرت پیر صاحب کا مولوی محمد ابراہیم صاحب کے حق میں دعا فرمانا

”یا اللہ! مولوی محمد ابراہیم کو لمبی زندگی عطا فرما کر اسلام اور مسلمانوں کی مدد فرما اور بے دینوں، بد نیتوں کو ذلیل فرما۔ ان (مولوی صاحب) کے گناہ معاف فرما اور نیکیاں بڑھا۔

(مرزائے قادیانی اور علماء اہلحدیث، ص ٤٢-٤٣-٤٤، از قلم مولانا محمد حنیف یزدانی)

محسن احرار محدث العصر علامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ

مجلس احرار اسلام کے قیام میں ان کا مشورہ اور کوششیں دونوں شامل تھیں

برصغیر کی تاریخ میں علامہ محمد انور شاہ کشمیری قدس سرہ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ وہ بیک وقت محدث بھی تھے اور فقیہ بھی۔ اپنے علم، تقویٰ اور اخلاص کے اعتبار سے وہ اپنے ہم عصر علماء میں منفرد و ممتاز نظر آتے ہیں۔ ان کے ہاں بے پناہ وسعت

صفحہ ٦٦

نظریہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شخصیت غیر متنازعہ بھی ہے‘ علماء تو ان کے مقام و مرتبہ کے معترف تھے ہی‘ مگر جدید تعلیم یافتہ طبقہ بھی ان سے بے حد متاثر ہوا۔ جن میں سرفہرست جناب ڈاکٹر علامہ محمد اقبال مرحوم ہیں جو نہ صرف آپ کی شخصیت سے متاثر ہوئے بلکہ فدائی و شیدائی تھے۔ اقبال مرحوم کے فکر و نظر اور عقائد و اعمال میں انقلاب محمد انور شاہ کشمیریؒ کی کوششوں کا ہی نتیجہ ہے۔ خصوصاً قادیانیت کے مسئلہ میں اقبال مرحوم کی اصلاح انہی کی محنت کے نتیجہ میں ہوئی۔ علامہ انور شاہ کشمیریؒ نابغہ عصر تھے۔ وہ کیا کرنا چاہتے تھے؟ کن لوگوں کے ذریعہ سے چاہتے تھے؟ اور اس سلسلہ میں انہوں نے کس طرح جدوجہد کی؟ ذیل میں ان کے فرزند ارجمند علامہ انظر شاہ مسعودی مدظلہ کی تحریروں کے اقتباسات درج کیے جاتے ہیں جو دراصل آپ کی تصنیف ”نقش دوام“ (سوانح انور شاہ کشمیریؒ) اور پندرہ روزہ ”احرار“ لاہور میں شائع ہونے والے آپ کے ایک انٹرویو سے مرتب کیے گئے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں:

”والد مرحوم کی آرزو تھی کہ پنجاب میں ایک منظم عوامی تنظیم کا قیام عمل میں آئے جو قادیانیت کے محاذ پر سرفروشانہ کام کرے اور استخلاص وطن کے لیے بھی جدوجہد کرے۔ مجلس احرار اسلام انہی کے ایماء اور اشارہ پر قائم ہوئی اور انہوں نے اپنے مخلص و فداکار شاگردوں اور عقیدت مندوں کو اس جماعت میں شامل ہونے اور تعاون کرنے کی ہدایت فرمائی تھی“۔

کانگریس نے اپنی ورکنگ کمیٹی میں نمائندگی دینے کے سلسلہ میں پنجاب کو بالکل نظر انداز کر دیا تو یہ مسئلہ بھی احرار کے قیام کا پس منظر بن گیا۔ انہوں نے سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور مولانا حبیب الرحمن لدھیانویؒ کے متعلق یہ سمجھا کہ اگر انہیں قادیانیت کے خلاف تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر کھڑا کر دیا گیا تو یقینی طور پر اسلام کے بہترین سپاہی اور عظیم مجاہد ثابت ہوں گے۔ انہوں نے فتنہ قادیانیت کے استیصال اور سرکوبی کے لیے یہ مشن ان حضرات کے سپرد کیا۔

سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور باقی علماء میں ایک خاص فرق ہے۔ ہندوستان میں امارت شرعیہ کا مسئلہ تو شروع ہو چکا تھا۔ لیکن امیر کا انتخاب نہیں ہوا تھا۔ والد مرحوم کی اس پر نظر تھی کہ عطاء اللہ شاہ بخاری کو اللہ نے خطابت کا ایسا ملکہ عطا فرمایا ہے کہ اگر یہ

صفحہ ٦٧

عظیم ترین ذمہ داری ان کے سپرد کی گئی تو وہ ہندوستان میں احکام شرعیہ کی تبلیغ و اشاعت میں تو حصہ لیں گے ہی۔ اس کے ساتھ مرزائیت کے محاذ پر وہ کام انجام دیں گے جو دوسروں سے ممکن نہیں۔ گویا شاہ جی کی انفرادیت و امتیاز کے پیش نظر یہ جلیل عہدہ ان کے سپرد کیا گیا۔

احرار نے جو سب سے بڑی اسلام کی خدمت کی ہے‘ وہ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کا معاملہ ہے اور یہ اتنی عظیم خدمت ہے کہ اگر احرار کے دامن میں اور کچھ بھی نہ ہو تو صرف اس محاذ پر انہوں نے جس سراپا اخلاص انداز سے جنگ لڑی وہ دوسری جماعتوں کی بہت سی خدمات پر بھاری ہے۔ خصوصاً پنجاب میں انگریز کو بہترین سپاہی اور دائمی وفادار ملتے تھے۔ یہاں اس کے خلاف بغاوت اور انگریز دشمنی کا جذبہ صرف احرار نے پیدا کیا۔

مجھے کئی مرتبہ شاہ جی سے ملاقات کا موقع ملا۔ وہ دیوبند تشریف لائے تو مجھے وہاں بھی زیارت و ملاقات کا موقع میسر آیا۔ پھر جب میں دہلی میں تھا تو وہاں احرار کانفرنس میں ان کا خطاب سننے اور تین دن تک ان کے ساتھ قیام کا شرف بھی حاصل ہوا۔ مسلم لیگ کا ہندوستان میں دور شباب تھا۔ اور قوم پرور مسلمانوں کو اپنی بات کہنے اور سنانے کا موقع نہیں ملتا تھا۔ جمعیت علماء ہند اپنی تمام تر جدوجہد کے باوجود دہلی میں کوئی کامیاب جلسہ کرنے میں ناکام ہو گئی تو پھر شاہ جی کو بلایا گیا۔ یہ دہلی کے لیے ان کا آخری سفر تھا۔ اس وقت جو انہوں نے معرکہ کا خطاب کیا‘ مجھے آج بھی یاد ہے۔

اس تقریر میں جواہر لعل نہرو‘ پٹیل اور کانگریس کی کئی اہم ترین شخصیات بھی موجود تھیں۔ شاہ جی نے اپنی جادو بیانی ہی سے دہلی والوں کو کنٹرول کیا اور جمعیت علماء ہند کو بڑے زمانہ کے بعد اس کا موقع ملا کہ شاہ جی کی خطابت کے نام پر دہلی والوں کو جمع کریں اور اپنی بات ان تک پہنچائیں۔

احرار اور جمعیت کے موقف میں بھی واضح فرق تھا۔ احرار صرف آزادی وطن کے لیے کانگریس کے ساتھ تعاون کی پالیسی اختیار کیے ہوئے تھے لیکن انفرادی طور پر دینی محاذ پر بھی بھرپور کام کرتے تھے۔ (اقتباس انٹرویو مولانا محمد انظر شاہ مسعودی فرزند محمد انور شاہ کشمیریؒ پندرہ روزہ ”الاحرار“ لاہور جلد ١٥‘ شمارہ ١٩-٢٠‘ یکم تا ٣١ جنوری ١٩٨٦ء)

تصنیف و تالیف‘ تحریر و تقریر اور قادیانیت کے مقابلہ کے لیے بعض مناسب افراد و

صفحہ ٦٨

اشخاص کی خصوصی تربیت کے باوجود والد مرحوم کی رائے تھی کہ اس فتنہ کی مکمل بیخ کنی کے لیے ایک ایسے مستقل ادارہ کی ضرورت ہے جو اپنی تمام توانائیاں اور قوت کار قادیانیت کی تردید میں صرف کرے۔ اس کے لیے آپ نے بار بار ”جمعیتہ العلماء ہند“ کو بھی توجہ دلائی بلکہ کلکتہ جمعیتہ العلماء ہند کے اجلاس میں جب اس مسئلہ پر غور ہو رہا تھا کہ جمعیتہ العلماء ہند کی رکنیت کے لیے خود اسلامی فرقوں میں سے کس کس کے لیے اجازت ہونی چاہیے۔ آپ نے یہ سوال اٹھایا کہ پہلے قادیانیوں کے کفر و ایمان کا فیصلہ ہونا چاہیے تاکہ ان کے لیے حق رکنیت یا عدم رکنیت کی بات طے ہو سکے لیکن ”جمعیتہ العلماء ہند“ نے ہندوستان کی آزادی کی تحریک میں جس سرگرمی سے حصہ لیا، کسی دوسرے محاذ پر تندہی سے اس کے لیے کام ممکن بھی نہیں تھا۔ پھر پنجاب جو اس فتنہ کی جائے پیدائش تھی، وہاں پر اس کے مقابلہ کے لیے کسی ادارہ کا قیام سب سے زیادہ ضروری تھا۔ پنجاب کے لوگوں کو خدا تعالیٰ نے قوت عمل، جوش و خروش کی جن دولتوں سے نوازا ہے۔ اس کی بنیاد پر بھی آپ کی بار بار نظر پنجاب پر ہی اٹھتی۔ انہی وجوہ و اسباب کے پیش نظر اپنے خصوصی تلامذہ و متعلقین کو ایک ادارہ کے قیام کی طرف متوجہ کیا۔ اسی زمانہ میں قوم پرور مسلمانوں کا ایک عنصر کانگریس ورکنگ کمیٹی میں مسلم پنجاب کی نمائندگی کے سوال پر ناراض ہو کر کانگریس سے ٹوٹا اور مجلس احرار کے نام سے جس ادارہ کی تشکیل کی، وہ حضرت شاہ صاحب کی تمناؤں کے مطابق تھی۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاری، چودھری افضل حق، مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانوی، شیخ حسام الدین، مولانا داؤد غزنوی اور مولانا ظفر علی خان، ان سب نے قادیانیت کے استیصال میں جو کام کیا، وہ احرار کی تاریخ کا ایک سنہری باب ہے۔

بخاری کی ساحرانہ خطابت نے اس ملک کو آتشیں فضا میں دھکیل دیا۔ شاہ صاحبؒ نے انہیں ”امیر شریعت“ کے خطاب سے نواز کر قادیانیت کے مقابلہ میں لا کھڑا کیا اور پھر جاننے والے جانتے ہیں کہ عطاء اللہ شاہ بخاری کی تگ و دو سے قادیانیت کا قلعہ مسمار ہو گیا۔ ظفر علی خان کی ہنگامہ خیز شاعری نے مرزائے قادیانی کی زندگی تلخ کر دی۔ اس طرح مجلس احرار کی تعمیر میں قادیانیت کی تردید کا جو تخم ڈالا گیا تھا، وہ احرار کی پوری زندگی میں بروئے کار رہا۔ پاکستان بن جانے کے بعد بھی قادیانیت سے ایک بھرپور مقابلہ مجلس احرار نے کیا۔ اگرچہ سر ظفر اللہ قادیانی کی سازشوں کے نتیجہ میں احرار کے سینکڑوں کارکن تہ

صفحہ ٦٩

صرف قید و بند کی صعوبتوں بلکہ گولیوں کا نشانہ بن گئے۔ آج بھی احرار کے ”بقیۃ السیف“ ”تحفظ ختم نبوت“ کے نام سے قادیانیت کے استیصال کو اپنا مقصد حیات بنائے ہوئے ہیں۔ قادیانیت کے خلاف بے پناہ کام کے اجلے عنوانات اس ادارہ کا وہ کارنامہ ہے۔ جس کی بنیاد پر یہ ادارہ عند اللہ و عند الناس انشاء اللہ سرخرو رہے گا۔ ہزاروں رضاکار، سینکڑوں کارکن اور سینکڑوں آتش نوا مقررین نے احرار کے پلیٹ فارم سے اٹھ کر ملک کو یہ شعور دیا کہ قادیانیت کفر کا دوسرا نام ہے۔ عوامی سطح پر اس شعور کی بالیدگی ”احرار“ کے بغیر ناممکن تھی اور اس میں بھی شک نہیں کہ خاص اس محاذ پر علامہ کشمیریؒ احرار کی پرجوش قیادت فرما رہے تھے۔ اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ موصوف نے اس مقصد کے لیے احرار ہی کو اپنا مکتبہ فکر اور دائرہ عمل بنایا۔

کشمیر کمیٹی

١٩٣٠ء میں مسائل کشمیر سے نمٹنے کے لیے ایک کمیٹی قائم کی گئی۔ جس کا سربراہ خلیفہ قادیان کو بنادیا گیا۔ اس کمیٹی کے ایک رکن علامہ اقبالؒ بھی تھے۔ چونکہ کشمیر میں مسلم اکثریت ہے اور انہی کے مطالبہ پر اس کمیٹی کا قیام عمل میں آیا تھا۔ اس لیے مسلم حلقوں میں خلیفہ قادیان کے تقرر سے ہیجان برپا ہو گیا۔ اول تو اس وجہ سے کہ مسلمانوں کے تصفیہ طلب مسائل کے لیے ایک قادیانی کو مقرر کرنا اس بات کا اعلان تھا کہ قادیانی مسلمان ہیں۔ حالانکہ تمام امت متفقہ طور پر قادیانیوں کو مرتد قرار دے چکی تھی۔ دوسرے عام قادیانیوں کے بارے میں یہ تجربہ سے ثابت ہے کہ وہ اپنے دائرہ کار میں قادیانیت کی پرجوش تبلیغ کرتے ہیں۔

سر ظفر اللہ خان کی اس سلسلہ کی کوششوں سے جو لوگ واقف ہیں۔ وہ اس امر کی تصدیق کریں گے۔ اس لیے یا تو بشیر الدین محمود کشمیر کے مسلم اکثریت کے ایمان کو تباہ و برباد کرتا یا اپنے تبلیغی مشن میں ناکامی کے باعث مسلمانوں کے مسائل کو کمیٹی کی سطح پر خوفناک نقصان پہنچاتا اور عجب نہیں کہ ۔۔۔۔۔ کچھ ایسے ہی سیاسی مقاصد کے پیش نظر سوچ سمجھ کر یہ

صفحہ ٧٠

تقرر کیا گیا ہو۔ علامہ کشمیریؒ اس صورت حال سے مضطرب ہو گئے۔ مذکورۃ الصدر خطرات و اندیشوں کے تحت آپ نے اس تقرر کے خلاف اول تو خود مہاراجہ کشمیر کو اور کشمیر کے بعض ذمہ دار اشخاص کو اجتماعی خطوط لکھے اور ساتھ ہی مجلس احرار کو ہمہ گیر احتجاج پر آمادہ و تیار کیا۔ ڈاکٹر اقبال جن سے آپ کے تعلقات پہلے سے تھے‘ وہ اب تک قادیانیت کے مضر پہلوؤں سے تقریباً ناواقف تھے۔ اسی زمانہ میں علامہ نے موصوف کو طویل خط لکھ کر فتنہ قادیانیت کی زہر چکانیوں سے مطلع کیا۔ ڈاکٹر اقبال نے بعد میں کشمیر کمیٹی سے استعفیٰ بھی دے دیا۔ بلکہ وہ فتنہ قادیانیت کے استیصال کے محاذ پر ایک پرجوش داعی بن گئے۔ چنانچہ اس زمانہ میں انڈین نیشنل کانگریس کے صدر نے اپنے ایک مضمون میں ہندوستانی مسلمان کو قادیانیت کی تائید کا مشورہ دیا‘ اور اس دلیل کے ساتھ کہ قادیان کا پیغمبر ہندوستانی ہے اور ان کے مقدس مقامات بجائے مکہ اور مدینہ کے خود ہندوستان میں ہیں۔ ان سے وابستگی کے نتیجہ میں وطن پروری کے جذبات پیدا ہوں گے اور ایک غیر ملکی مذہب سے دلچسپیاں کٹ کر وطن میں پیدا ہونے والے مذہب سے راہ و رسم بڑھے گی۔ جس کا منطقی نتیجہ وطنیت کے جذبات سے معمور ہونا ہے۔

اس نظریہ کے آخری محرک ڈاکٹر شنکر داس مہراتھے‘ جو حال ہی میں سرگباش ہوئے ہیں۔ صدر کانگریس کے اس مضمون پر علامہ اقبالؒ نے انگریزی زبان میں مسلسل کئی قسطوں میں بھرپور تنقید کی۔ کم لوگوں کو اس کا علم ہے کہ اقبال کے ان دین پرور خیالات کی تعمیر میں حضرت شاہ صاحبؒ کا بڑا حصہ تھا۔

(نقش دوام‘ سوانح علامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ‘ از انظر شاہ مسعودی‘ ص ١٨٧ تا ١٨٩)

صفحہ ٧١

تحاریک ختم نبوت میں

مولانا محمد رمضان میانوالی کا تاریخ ساز کردار

منکرین ختم نبوت کے خلاف ابھرنے والی شخصیتیں،

١٤ سو سالہ تاریخ میں درخشندہ ستاروں کی طرح چمک رہی ہیں

تحریر: کلیم اللہ ملک

رسالت مآب ﷺ کے علاوہ جتنے انبیاء مبعوث ہوئے۔ ان تمام کی نبوتیں ایک خاص علاقہ یا خاص قوم کے لیے تھیں۔ وہ اپنی اپنی اقوام یا بستیوں کے لیے سراپا رحمت تھے۔ وہ خیر کا حکم دیتے اور بدی سے روکتے تھے۔ لیکن آپ کو نہ صرف شاہد مبشر و نذیر بنا کر بھیجا گیا۔ بلکہ رحمت اللعالمین بنا کر بھیجا گیا۔ جن کی بشارت حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے بعد آنے والے ایک ہی نبی "اسمہ احمد" کی اپنی قوم کو دی تھی۔ کیونکہ حضرت عیسیٰؑ کے بعد ایک ہی نبی کا ظہور ہونا تھا اور انسانیت کے لیے خلافت کے اصول قواعد و ضوابط کی تکمیل کر دی گئی تھی، اس لیے رسول اللہ ﷺ کو تمام عالموں کے لیے رحمت بنا کر نبوت کا راستہ بند کر دیا گیا۔ دین کی تکمیل کر دی گئی تھی، اس لیے رسول اللہ ﷺ کو تمام عالموں کے لیے رحمت بنا کر نبوت کا راستہ بند کر دیا گیا۔ دین کی تکمیل اور رحمت اللعالمین کے لقب کو باہم جوڑ کر دیکھا جائے تو کسی باشعور فرد کے لیے نبوت کی نقب زنی کا راستہ کھولنا ممکن نہیں۔ نبوت کی ضرورت دین کی تکمیل سے ختم کرتے ہوئے وراثت کا راستہ محمدؐ کی اولاد نرینہ کو باقی نہ رکھ کر ہمیشہ کے لیے بند کر دیا گیا۔ سورۃ الاحزاب آیت ٤٠ میں ارشاد ہوتا ہے۔ ”محمدؐ تمہارے مردوں میں سے کسی کے والد نہیں ہیں بلکہ خدا کے پیغمبر اور نبیوں (کی نبوت) کی مہر (یعنی اس کو ختم کرنے والے ہیں) اور خدا ہر چیز سے واقف ہے۔“ اس آیت کی تشریح میں مصدقہ احادیث کی بھرپور تائید بھی ہے۔ ایک نکتہ جس کی وضاحت حضرت

صفحہ ٧٢

مولانا امین احسن اصلاحی نے سورۃ الاحزاب کی تفسیر میں نبی اور رسول کے درمیان نسبت کے باب میں کی ہے، اس سے نبوت پر ڈاکے کے تمام امکانات ختم ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ ”نبی اور رسول کے درمیان نسبت عام اور خاص کی ہے۔ ہر رسول نبی لازماً ہوتا ہے۔ لیکن ہر نبی کا رسول ہونا لازمی نہیں۔ اس وجہ سے اگر حضورؐ خاتم الانبیاء ہیں تو ”خاتم الرسل“ بدرجہ اولیٰ ہوئے۔ بعض گمراہ مذہب نے یہ شوشہ جو نکالا ہے کہ قرآن میں نبی کو خاتم الانبیاء بتایا گیا ہے۔ خاتم الرسل نہیں کہا گیا۔ اس وجہ سے سلسلہ رسالت کے اجراء کی نفی نہیں ہوئی، یہ محض ان کی جہالت ہے۔“

علمی تشریحات، احکامات قرآنی اور احادیث نبویؐ نے ہمیشہ علماء اور اہل علم و دانش کو ناموس مصطفیٰؐ کی حفاظت کے لیے کمربستہ رکھا۔ جہاں انہوں نے ١٤ سو سال میں مختلف محاذوں پر ہر لحاظ سے نبرد آزما ہو کر شان مصطفیٰؐ کی حفاظت کی، وہاں تعجب خیز بات یہ ہے کہ ایک سیدھا سادھا مسلمان جو ان پیچیدگیوں سے واقف نہ تھا اور اس کی ذہنی و علمی وسعت اتنی نہ تھی، اس نے بھی ١٤ سو سال میں عزت و ناموس مصطفیٰؐ پر حملہ آوروں کو نہ صرف مار بھگایا بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ان کا صفایا کر دیا۔ شاتمان رسولؐ اور جھوٹے مدعیان نبوت کے حصہ میں ہمیشہ ذلت و خواری آئی۔ عاشقان مصطفیٰؐ نے ان کا جینا حرام کر دیا۔ گنہگار سے گنہگار مسلمان بھی ایسی تحریک کا ہمیشہ ہراول دستہ ثابت ہوا۔ اس نے اپنی بدعملی کو عشق مصطفیٰؐ کی چاشنی سے بدل دیا۔

محمد مصطفیٰؐ کی عزت و ناموس کی خاطر
مسلماں جان دینے پر بھی ہیں ہر دم کمر بستہ
ہمارے دل نہ کیوں ہوں گنبد خضرا سے پیوستہ
مسلمانوں کا اطمینان ہے اس در سے وابستہ

١٤ سو سال میں تاریخ اسلامی میں ہر تحریک کا اپنا انداز ہے۔ اور یہ تحریکیں کئی شخصیتوں کو جنم دیتی رہی ہیں۔ لیکن منکرین ختم نبوت کے خلاف ابھرنے والی شخصیتیں ایسی امر ہوئیں کہ ١٤ سو سالہ تاریخ میں درخشندہ ستاروں کی طرح چمک رہی ہیں۔ بعض مقامات پر تو ایک ایک فرد شاتمان رسولؐ کے سامنے ایسی پختہ دیوار ثابت ہوا کہ پھر مدتوں کسی کو رسولؐ کی شان مبارکہ کو تضحیک کا نشانہ بنانے کا حوصلہ نہیں ہوا۔ اغیار کی سازشوں

صفحہ ٧٣

اور دشمنان اسلام کی سازشوں سے مسلمانوں کے دلوں سے روح محمدؐ نکالنے کے لیے کئی حربے اختیار کیے گئے۔ سب سے کڑا زخم انگریزوں نے مرزا غلام احمد سے نبوت کا دعویٰ کرا کے جسد نبوت پر لگانے کی کوشش کی لیکن غیور مسلمانوں نے اس کے خلاف ہمیشہ مستعد رہنے کا ثبوت فراہم کیا۔ علمی محاذ پر اس کا مقابلہ کرنے والے بھی قابل ستائش ہیں۔ اس کے خلاف ایک بھرپور تحریک ١٩٥٣ء میں شروع ہوئی جو اگرچہ تتر بتر ہو گئی۔ لیکن اس نے قادیانیت کی بنیادیں ہلا ڈالیں۔ پورے پاکستان میں اس تحریک میں مسلمانوں نے بھرپور حصہ لیا۔ لیکن پنجاب اور پھر میانوالی میں عاشقان مصطفیٰؐ کا انداز نرالا تھا۔ اس کی وجہ مولانا گل شیر شہیدؒ، مولانا عبد الرحمٰنؒ میانوالی مرحوم، حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ، حضرت مولانا لال حسین اخترؒ، مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانویؒ و دیگر علماء عظام کی محنتیں اور پر اثر تقاریر تھیں، جنہوں نے مسلمانان ضلع میانوالی کے خون کے ذرہ ذرہ میں عشق رسول بیدار کر دیا تھا۔ میانوالی میں جذبہ جہاد اور جذبہ حریت سے لبریز ان علماء کی خدمت کا شرف جناب صوفی شیر محمد کو حاصل رہا۔ ان کی مسجد اور مدرسہ کے مہتمم حضرت مولانا محمد رمضانؒ تھے، جو صوفی محترم کے بھتیجے تھے۔ اگرچہ تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء میانوالی میں ضلع بھر کے مجاہدین ختم نبوت نے بھرپور حصہ لیا لیکن قدرتی طور پر اس تحریک کا محوری پوائنٹ مولانا محمد رمضان رہے۔ انہوں نے تحریک کے رگ و پے میں، عشق مصطفیٰ ﷺ کی ایسی سرمستی داخل کر دی کہ اس کے جذبہ و جوش میں آئے روز اضافہ ہوتا گیا۔ انہوں نے دیوانہ وار کشتیاں جلا کر تحریک کو ایک نئی زندگی دی۔ مولانا محمد رمضان کے ارد گرد بزرگ، نوجوان سبھی عمر کے مسلمان توقیر مصطفیٰؐ پر جان دینے کے عزم کے ساتھ جمع رہتے جو لمحہ لمحہ زبان حال سے خاتم النبیینؐ کے حضور نعت سرا رہتے۔ ان کا دل، قول و فعل عشق مصطفیٰؐ کے رنگ میں رنگا ہوا تھا۔

تم فخر رسولاں ہو، شہ کون و مکاں ہو
تم حاصل کل، باعث تخلیق جہاں ہو
تم سارے زمانے کے لیے سایہ رحمت
تم درس اخوت ہو محبت کا بیاں ہو
ہو نام محمد ﷺ لب کیفی پہ الٰہی!
صفحہ ٧٤
جب طائر جاں گلشن ہستی سے رواں ہو

میانوالی تحریک ختم نبوت کا ایک مرکز بن گیا تھا۔ لاہور کے بعد تحریک سب سے زیادہ یہاں دیکھنے میں آتی تھی۔ اس کی وجوہات میں ایک وجہ یہ تھی کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا پوتا ایم ایم احمد میانوالی کا ڈپٹی کمشنر تھا اور وہ زمانہ ڈپٹی کمشنر کے عہدے کے رعب کا زمانہ تھا کہ انگریز نے اپنی ساری قوت کا محور اسے بنا دیا تھا اور آزادی کے بعد بھی انگریز کی اولاد قابض تھی۔ ایم ایم احمد الاٹمنٹوں و دیگر دنیاوی کاموں کے لالچ دے کر مسلمانوں کو مرزائی بنانے کے لیے بھرپور کام کر رہا تھا۔ میانوالی میں جلسے، جلوس، قراردادوں کے ذریعے پر زور احتجاج جاری تھا کہ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان نے ہدایت کی کہ ٢٠ جون ١٩٥٣ء جمعۃ الوداع کو یوم احتجاج منایا جائے اور کراچی جہانگیر پارک کے جلسہ میں مرزائی وزیر خارجہ سر ظفر اللہ کی تقریر پر احتجاجی قراردادیں منظور کرائی جائیں۔ مجلس عمل ضلع میانوالی کے سربراہ مولانا محمد رمضان تھے۔ انہوں نے جب پروگرام ترتیب دیا تو ڈپٹی کمشنر نے تقاریر اور قراردادوں کو پیش کرنے پر پابندی لگا دی کہ ختم نبوت اور رد مرزائیت پر کوئی تقریر نہیں ہو سکے گی۔ جس پر ایک خوف سا طاری ہو گیا۔ لیکن مولانا محمد رمضان اور مولانا علی محمد (والد فضل الرحمٰن) خطیب مسجد قصاباں وانڈھی گھنڈوالی نے حکومت کی مرزائیت نوازی کی مذمت کرتے ہوئے اور قراردادیں منظور کرا کے اس ناجائز حکم اور خوف کی دھجیاں اڑا کر رکھ دیں۔ ٢١ جون کو میلہ گراؤنڈ کے مجوزہ جلسہ سے ایک دن قبل مولانا محمد رمضان گرفتار کر لیے گئے۔ لیکن دوسرے روز جلسہ ہوا اور ان کی کمی مولانا گلزار احمد مظاہری اور مولانا علی محمد صاحبان نے پوری کی۔ دونوں گرفتار ہوئے، ان گرفتاریوں سے اشتعال پیدا ہوا۔ میانوالی میں سرفروشان مصطفیٰ ﷺ کی کمی نہیں تھی۔ لیکن اس تحریک میں بزرگوں نے بھی مولانا محمد رمضان کو مرکز و محور بنایا۔ ٧ جولائی کو مجلس تحفظ ختم نبوت کے عہدیداروں کا از سر نو چناؤ کیا گیا تو میاں اصغر علی صدر، صوفی محمد ایاز خان نائب صدر، مولانا محمد رمضان ناظم اعلیٰ، مولانا محمد عبداللہ ناظم اور مولانا علی محمد خطیب مسجد قصاباں خازن منتخب ہوئے۔ مجلس عاملہ کی نئی تشکیل کے ساتھ نیا نظم و ضبط پیدا کیا گیا۔ مولانا محمد رمضانؒ نے ایک متحرک، فعال اور جانفروش عاشق مصطفیٰ کی حیثیت سے تحریک ختم نبوت کو منظم کیا۔ وہ ایسے شخص تھے، جن کے ضمیر و ذہن کو سیراب کرتی آبجوئے

صفحہ ٧٥

رسولؐ جب ان کے لبوں سے گزرتی تو انہیں عجیب لطف و سرور حاصل ہوتا۔ جن لوگوں نے انہیں تحریک ختم نبوت میں سرگرداں دیکھا ہے، وہ اس وقت بھی محسوس کرتے تھے۔ اور آج بھی اس کا ذکر کرتے ہیں کہ یوں محسوس ہوتا جیسے روئے رسولؐ ان کی نگاہوں نے حفظ کر رکھا ہو۔ سراپائے مصطفیٰؐ اور خدوخال خاتم النبیینؐ ان کے سامنے ہوں۔ جیسے وہ روبروئے رسولؐ ہوں۔ عمر بھر کے سجدوں کے غسل کروانے کے لیے قطرہ وضوئے رسول ؐ کے طلبگار ہوں۔ وہ قرآن سے گفتگوئے رسولؐ جیسے سن رہے ہوں کہ اٹھو اور جھوٹے مدعین نبوت کے خلاف اس طرح اٹھو جس طرح حضرت ابو بکر صدیقؓ اٹھا تھا۔ جس نے ننھی اسلامی ریاست کی حفاظت چھوڑ کر نبوت کا دعویٰ کرنے والوں کی عملی سرکوبی کی تھی۔ جس نے اپنی قوت، مصطفیٰؐ کی عزت و ناموس کی حفاظت میں جھونک دی تھی۔

چلے نہ ایمان اک قدم بھی اگر تیرا ہم سفر نہ ٹھہرے
ترا حوالہ دیا نہ جائے تو زندگی معتبر نہ ٹھہرے
تجھے میں چاہوں اور اتنا چاہوں کہ سب کہیں تیرا نقش پا ہوں
ترے نشان قدم کے آگے کوئی حسیں رہ گزر نہ ٹھہرے
یہ میرے آنسو خراج میرا، مرا تڑپنا علاج میرا
مرض مرا اس مقام پر ہے، جہاں کوئی چارہ گر نہ ٹھہرے

تحریکوں میں ہمیشہ چند افراد اس کو منظم و مربوط طریقے سے چلانے والے ہوتے ہیں اور مولانا محمد رمضانؒ ان کے سرخیل تھے۔ انہوں نے جیل سے بھی تحریک کے لیے ہدایات جاری رکھیں۔ وہ درجنوں مرتبہ گرفتار ہوئے لیکن تحریک ختم نبوت میں اپنی گرفتاری کو جس طرح حضرت مزے لے لے کر بیان کرتے ہیں کہ کاش میں ناموس مصطفیٰؐ کی حفاظت کرتے ہوئے گرفتار ہوں۔ پھر رہا کیا جاؤں، پھر گرفتار ہوں، اسی طرح یہ سلسلہ جاری رہے اور میری عمر بیت جائے۔

تحریک ٢٢ جنوری ١٩٥٣ء کو ایک اہم موڑ پر پہنچی۔ جب مرکزی مجلس عمل نے وزیر اعظم کو الٹی میٹم دیا کہ ایک مہینہ میں مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو راست اقدام کیا جائے گا۔ ٢٣ فروری کو الٹی میٹم کی میعاد پوری ہونے پر میانوالی میں تحریک کو ایک نئی جلا ملی۔ ٢٨ فروری کو مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع میانوالی کے اجلاس میں راست اقدام کمیٹی بنائی گئی۔

صفحہ ٧٦

میاں اصغر علی، پیر شاہ عالم، مولانا محمد رمضان، مولانا گلزار احمد مظاہری، صوفی محمد ایاز خان اور ایک شیعہ راہنما کو اس کمیٹی کا ممبر رکھا گیا۔ جلسوں و جلوسوں کے بعد ٥ مارچ کو ہماری راست اقدام کمیٹی کی اپیل پر رضا کاروں نے گرفتاریاں دینی شروع کیں۔ تحریک کا مرکز موتی مسجد بنی اور مولانا محمد رمضان ہر جلوس میں اکثر چوکوں پر خطاب فرماتے۔ لاوہ کی ایک تقریر پر مولانا محمد رمضان کے وارنٹ گرفتاری آئے تو ٣٠ مارچ کو مولانا گرفتاری دینے کے لیے جلوس میں جا رہے تھے کہ میاں اصغر علی اور پیر شاہ عالم نے بھی اچانک ان کے ساتھ گرفتاری دینے کا فیصلہ کیا۔ مولانا محمد رمضان کی تقاریر نے جو آگ لگائی اور عشق مصطفیٰ کی شمع کو جو لو بخشی، اس سے انتظامیہ کے لیے رضا کاروں کو گرفتار کرنا ممکن نہ رہا کہ جیل میں ان کے لیے گنجائش ختم ہو گئی۔ مولانا محمد رمضانؒ تحریک کے دنوں میں ایسے عظیم جہاد کے ولولوں سے لبریز تھے کہ جس نے نصرت حق پر ان کے اعتماد کو گہرا اور ان کے حوصلوں کو بلند کر دیا تھا۔ ضلع میانوالی سے سرفروشان مصطفویٰ، جس عزم و خروش سے اٹھے، اس میں پیر و جواں کفن بدوش ہو گئے۔ پورے ضلع کی فضا میں جو پاکیزگی ان دنوں دیکھنے میں آئی، اس کا اندازہ بھی پھر کبھی نہ ہو سکا کہ بڑے بڑے جواری جوا خانوں کو چھوڑ کر سیدھے ختم نبوت کے منصب کی حفاظت کے لیے دین کے جانباز سپاہی اور مشعل حق کا نور بن کر زندانوں کو آباد کرتے رہے۔ انہوں نے ظلم کی طنابیں توڑنے کے لیے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں اور رشک چراغ طور بن گئے۔

تحریک تحفظ ختم نبوت ١٩٧٤ء میں وہ فضا اس لیے پیدا نہ ہو سکی کہ بھٹو حکومت نے اس تحریک پر ١٩٥٣ء جیسا ظلم نہیں کیا۔ اس وقت بھی مسلمان تیار تھے کہ راقم تحریک تحفظ ختم نبوت ١٩٧٤ء میں سیکرٹری جنرل مولانا محمد رمضانؒ کے ساتھ اس کا جوائنٹ سیکرٹری رہا۔ مولانا محمد رمضانؒ کے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ١٩٧٤ء میں ضلع بھر میں تحریک کو منظم کیا گیا۔ انہوں نے اپنی تقاریر میں جب خالق کے شاہکار، اور خلقت کے تاجدارؐ کی شان بیان کی۔ انہوں نے فخر انبیاء کے الطاف شمار کیے۔ انہوں نے انگریز کی سازش سے جھوٹے مدعی نبوت کی چالبازیاں بیان کیں تو ضلع بھر کا ہر شخص ختم نبوت کی حفاظت کے لیے ہمارے ساتھ چلنے پر تیار ہو گیا۔ دونوں تحریکوں میں مولانا محمد رمضانؒ کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ وہ ایک عزم، ایک محبت، ایک جہد، ایک عشق میں زندگی گزارتے۔ ان کے

صفحہ ٧٧

دل و دماغ پر غالب خاتم نبوت‘ خاتم المرسلین کی شان تھی۔ وہ روضے کی سنہری جالیوں سے منسلک رہنے کے لیے ہمیشہ یہ تصور قلب پر غالب رکھتے۔

مشعل ختم نبوت کو بجھا سکتا ہے کون
پھونک مارو گے تو بڑھ جائے گی اس مشعل کی لو
آج بھی قصر نبی کے نقب زن موجود ہیں
مسلم خوابیدہ! از خواب گراں بیدار شو
اس خدا کا آخری سچا نبی بس ایک ہے
حشر تک جھوٹے نبی بے شک چلے آئیں گے سو
کس کی آمد سے زمانے کے اندھیرے چھٹ گئے
کس کے فیض عام سے بڑی یہاں پھوٹی ہے پو

(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی‘ جلد ١٢‘ شمارہ ٣٠)

ایک انگریز کی داستان‘ قبول اسلام

قادیانیوں نے اپنی چکنی چپڑی باتوں سے اسے جال

میں پھانسنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے

مرزا جی کا خواب کہ قادیان مکہ ہو گا‘ شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا

از: سید محمود اختر

یہ جون کا گرم اور خشک مہینہ تھا اور ہر طرف جھلسا دینے والی گرمی پڑ رہی تھی۔ درجہ حرارت ایک سو بیس درجے فارن ہائٹ تھا۔ اٹک کی پانی کو ترستی بنجر زمین اور سنگلاخ پہاڑیاں گرمی کی شدت میں اور بھی اضافہ کر رہی تھیں۔ میجر البرٹ ریزرے میسی اپنے دفتر

صفحہ ٧٨

میں بیٹھا ضروری کاغذات دیکھ رہا تھا۔ کوئی دو بجے کا عمل ہو گا۔ میجر نے کام سے اکتا کر ایک اچٹتی سی نظر سامنے پھیلے پریڈ کے میدان پر ڈالی۔ اس کی نظریں وہیں جم کر رہ گئیں۔ ایک ہندوستانی فوجی تپتی دوپہر میں میدان کے چکر کاٹ رہا تھا۔ اگرچہ اس قسم کے مناظر اس وقت برطانوی فوج میں معمولی سی بات تھی مگر ایک نامعلوم جذبے کے تحت میجر اس منظر سے نگاہیں نہ ہٹا سکا۔ غالباً اس نوجوان فوجی سے کسی فاش غلطی کا ارتکاب ہوا تھا۔ جس کی سزا میں اس چلچلاتی دھوپ میں دوڑ لگوا کر سزا دی جا رہی تھی۔ فوجی کی پشت پر ایک بڑا سا وزنی تھیلا لٹک رہا تھا۔ جس میں اینٹیں اور پتھر تھے۔ وہ کولہو کے بیل کی طرح مسلسل چکر کاٹے جا رہا تھا۔ اس کی سزا کی نگرانی ایک سکھ افسر کر رہا تھا۔ میجر کے دل میں اس معتوب فوجی کے لیے ہمدردی کے جذبات ابھر آئے۔ وہ بنیادی طور پر ایک رحمدل آدمی تھا اور اس رحم دلی کی کئی بار بھاری قیمت ادا کر چکا تھا۔ اسے نو سال قبل کا واقعہ یاد آگیا۔ جب اس کو ہمدردی کرنے کی سخت سزا ملی تھی۔

١٣ اپریل ١٩١٩ء کو انڈین نیشنل کانگریس اور تحریک خلافت کا ایک مشترکہ جلسہ عام جلیانوالہ باغ (امرتسر) میں ہونا تھا۔ جلسے کا مقصد حکومت کے خلاف قرار داد کی منظوری تھی کہ عوام برطانوی راج کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ اس مجوزہ جلسے کی بھنک جب گورنر پنجاب کو ملی تو اس نے لاہور ڈویژن کے کمانڈنگ آفیسر جنرل ڈائر کو حکم دیا کہ جلسہ کرنے پر پابندی لگا دی جائے اور حکم عدولی کی صورت میں بلا رعایت گولی چلا دی جائے۔ اس مقصد کے لیے مشین گنوں سے مسلح ایک برطانوی دستہ بھی مہیا کر دیا گیا۔ جس کا کمانڈر میجر البرٹ ریزے ہیمی تھا۔ آخر جلسے کا دن آ پہنچا۔ لوگوں کا ایک ہجوم تھا کہ امڈا چلا آ رہا تھا۔ ہر سمت سے لوگ جلسہ گاہ کی طرف جوق در جوق چلے آ رہے تھے۔ عوام کا جوش و خروش دیدنی تھا۔ لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر موجزن تھا۔ جلسہ گاہ سے حکومت کے خلاف نعرے بلند ہو رہے تھے۔

جلیانوالہ باغ کے قرب و جوار میں زیادہ تر رہائشی عمارتیں تھیں۔ گورنر پنجاب کے احکامات کے مطابق برطانوی فوجیوں نے تین مختلف سمتوں میں پھیل کر پوزیشنیں سنبھال لیں اور عوام پر فائر کھول دیا گیا۔ ہر طرف بھگڈر مچ گئی اور آن کی آن میں سینکڑوں افراد اس درندگی کی بھینٹ چڑھ گئے۔ یہ ہندوستان کے عوام پر روا رکھے جانے والے برطانوی

صفحہ ٧٩

راج کے مظالم کا ایک بد ترین اور وحشیانہ مظاہرہ تھا۔ اس دلدوز سانحے کی خبر جنگل کی آگ کی طرح ملک کے طول و عرض میں پھیل گئی۔ رد عمل کے طور پر عوام میں زبردست اشتعال پھیل گیا۔ برطانوی راج کے خلاف نفرت کا لاوا ابل پڑا۔ لوگوں نے بینک، ڈاک خانے اور دیگر سرکاری عمارتیں نذر آتش کرنا شروع کر دیں۔ ریل کی پٹڑیاں اکھاڑ دی گئیں۔ گوجرانوالہ ریلوے اسٹیشن کو آگ لگادی گئی۔ اگلے ہی دن لاہور، گوجرانوالہ اور امرتسر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا۔ اس دلدوز سانحے کی صدائے بازگشت لندن تک پہنچی۔ جنرل ڈائر اور میجر البرٹ ریزے میسی کو واپس انگلستان بلایا گیا۔ جنرل ڈائر نہتے اور معصوم شہریوں کے قتل عام کا ہی ذمہ دار نہیں تھا بلکہ ان انگریز مردوں اور عورتوں کا خون بھی اس کی گردن پر تھا جو ہندوستانی عوام کے جوابی انتقام کا نشانہ بن گئے تھے اور میجر اے آر میسی کا جرم یہ تھا کہ اس نے نہتے عوام پر فائرنگ کو غیر انسانی فعل قرار دیتے ہوئے گولی چلانے سے انکار کیا تھا۔ لہٰذا اس کے عہدے میں کمی کر کے انگلستان کے کسی دوسرے یونٹ میں اس کا تبادلہ کر دیا گیا تھا۔ نو سال کے بعد اسے سابقہ عہدے پر بحال کرتے ہوئے ہندوستان بھیجا گیا تھا۔ اب وہ قلعہ اٹک میں تعینات تھا۔

فوجی ابھی تک میدان میں چکر کاٹ رہا تھا۔ یہ کٹھن اور صبر آزما مشقت ایک گھنٹے تک جاری رہی۔ گھڑی نے تین بجائے تو سکھ نگران نے اس کو رکنے کا اشارہ کیا۔ اسے بیس منٹ کے لیے آرام کی مہلت دی گئی تھی۔ رکنے کا اشارہ پاتے ہی فوجی تیزی سے پانی کے نل کی طرف لپکا۔ اس نے پہلے ہاتھ دھوئے اور پھر تین مرتبہ چلو میں پانی لے کر منہ میں ڈالا اور کلیاں کیں۔ انگریز میجر بغور اس کی حرکات و سکنات کا مشاہدہ کر رہا تھا۔ فوجی نے کہنیوں تک ہاتھ دھوئے اور پھر پاؤں دھونے کے بعد قبلہ رو ہو کر نماز کے لیے کھڑا ہو گیا۔ اس نے بمشکل نماز ختم کی ہو گی کہ سکھ نگران پھر موت کے فرشتے کی طرح نازل ہوا اور سزا پھر شروع ہو گئی۔

میجر میسی یہ تمام کارروائی اپنے دفتر کی کھڑکی سے دیکھ رہا تھا۔ وہ دل ہی دل میں فوجی کے حوصلے اور قوت برداشت کی داد دیے بغیر نہ رہ سکا۔ وہ عجلت میں اٹھا اور انڈین یونٹ کی طرف روانہ ہو گیا۔ اس نے ہندوستانی یونٹ کے میجر سے جو اس کا ہم مرتبہ تھا، استفسار کیا کہ آخر اس نوجوان فوجی سے کون سی ایسی بھیانک غلطی سرزد ہوئی ہے، جس کی اسے

صفحہ ٨٠

اتنی کڑی سزا دی جا رہی ہے۔ اس نے اس نوجوان سے ملنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا کہ جس نے جلتی ہوئی دھوپ میں اتنی سخت سزا کے بعد بھی پانی کا ایک قطرہ تک اپنے حلق میں انڈیلنے سے گریز کر کے اپنے غیر معمولی ہونے کا ثبوت دیا تھا۔ میجر اے آر میسی نے سفارش کی کہ اس نوجوان کی باقی سزا منسوخ کر کے اس کے دفتر میں بھیج دیا جائے۔

نوجوان فوجی، میجر میسی کے روبرو پیش ہوا تو میجر نے اس سے وہ غلطی دریافت کی، جس کی اسے اس قدر سخت سزا دی جا رہی تھی۔ فوجی نے جواباً کہا کہ وہ اپنی پی ٹی میں دو منٹ دیر سے گراؤنڈ میں پہنچا تھا۔ اس کا کمپنی کمانڈر ایک سکھ کیپٹن ہے، جسے مسلمان فوجیوں سے خدا واسطے کا بیر ہے اور وہ معمولی غلطیوں پر بھی مسلمان فوجیوں کو کڑی سے کڑی سزائیں دیتا ہے۔ میجر نے اس سے شدید پیاس کے باوجود پانی نہ پینے سے گریز کا سبب دریافت کیا تو اس نے جواب دیا کہ وہ مسلمان ہے اور ہر بالغ مسلمان کو رمضان کے مہینے میں سحری سے لے کر غروب آفتاب تک کھانے پینے کی ممانعت ہے۔ میجر نے کہا کہ اس وقت تمہیں کوئی بھی دیکھ نہیں رہا تھا، لہٰذا تم کلی کے بہانے اپنی پیاس بجھا سکتے تھے۔ نوجوان فوجی نے کہا "گو مجھے کوئی نہیں دیکھ رہا تھا مگر وہ ذات باری تعالیٰ جس کے احکام کی بجا آوری میں، میں نے روزہ رکھا ہے، اس سے میرا کوئی عمل بھی مخفی نہیں۔ اس نے اللہ پر اپنے ایمان و عقیدے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ میرے لیے چنداں مشکل نہیں کہ میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی جان نذر کروں مگر یہ ناممکن ہے کہ میں احکام خداوندی سے سرتابی کروں۔ نوجوان فوجی نے پانچ بنیادی ارکان اسلام کی تفصیلاً وضاحت کی۔

اب میجر میسی نے تیسرا اور آخری سوال کر ڈالا کہ سزا کے دوران اسے آرام کرنے کے لیے جو قلیل سی مہلت دی گئی تھی۔ اس سے فائدہ اٹھانے کے بجائے اس نے نماز پڑھنے کو کیوں ترجیح دی؟ نوجوان فوجی نے جواب دیا کہ دین اسلام میں نماز کی حیثیت ستون کی سی ہے۔ نماز اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے۔ اگر وہ اس دی گئی قلیل سی مدت میں آرام کرنے کو ترجیح دیتا تو نماز کا وقت نکل جاتا۔ لہٰذا اس نے نماز پڑھنے کو ترجیح دی۔ کیونکہ اس کے نزدیک اس قلیل وقت کا بہترین مصرف یہی تھا۔

نوجوان فوجی کی باتوں کا میجر میسی پر گہرا اثر ہوا تھا۔ وہ سوچوں میں گم اپنی بیرک میں چلا آیا۔ وہ ہر وقت گہری سوچوں میں غرق نظر آتا۔ اس کے ساتھی افسروں نے چند ہی دنوں

صفحہ ٨١

میں اس میں ایک نمایاں تبدیلی دیکھی۔ وہ ایک بدلا ہوا شخص نظر آتا تھا۔ دراصل اسے اسلام کے فلسفہ عبادت نے بے حد متاثر کیا تھا اور اس کا متجسس ذہن اسلام کو مکمل طور پر سمجھنے کا خواہاں تھا۔ اس نے اپنی رجمنٹ سے دو ماہ کی رخصت لی اور اٹک سے راولپنڈی چلا آیا۔ اس نے اسلام کے متعلق انگریزی میں دستیاب کتابوں کی شد و مد سے تلاش شروع کردی۔ اسلامی موضوعات پر درجنوں کتابیں اکٹھی کیں اور قرآن مجید کا انگریزی میں ترجمہ بھی حاصل کر لیا۔ وہ ان کتابوں کے مطالعے میں ڈوب گیا۔ دن ہو یا رات‘ وہ تھا اور کتابوں کی ایک دنیا۔ ایک ماہ میں اس نے بڑی حد تک اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا کہ دائرہ اسلام میں داخل ہونے کے بعد میں اللہ سے اپنے پچھلے گناہوں کی معافی مانگوں گا اور اپنے آپ کو تبلیغ اسلام کے لیے وقف کر دوں گا۔ میجر نے دل میں اپنے پختہ عزم کا اظہار کیا۔

جمعہ کے دن میجر میسی نے غسل کر کے نئے کپڑے پہنے اور جب اذان کی صدا بلند ہوئی تو وہ مسجد کی طرف روانہ ہوا۔ امام مسجد نے ابھی خطبہ شروع نہیں کیا تھا اور نمازیوں کی آمد جاری تھی۔ میجر مسجد میں داخل ہوا اور سیدھا منبر کے پاس جا پہنچا۔ اس نے نہایت پرعزم انداز میں امام صاحب سے درخواست کی کہ اسے دائرہ اسلام میں داخل کیا جائے کیونکہ اسلام کی سچائی اور ابدیت اس پر آشکار ہو چکی ہے اور وہ اس کے پیروکاروں کی صف میں داخل ہونا چاہتا ہے۔ امام مسجد کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا۔ اس کے سامنے ایک انگریز فوجی افسر اسلام قبول کرنے کا کہہ رہا تھا۔ امام صاحب نے کچھ کہنے میں پس و پیش کیا‘ وہ انڈین آرمی کا نامزد کردہ امام مسجد تھا۔ اسے ڈر تھا کہ برطانوی افسر کو مسلمان بنانے کے جرم میں اسے نوکری ہی سے ہاتھ دھونا پڑیں گے۔ بلکہ شاید سخت سزا کا بھی سامنا کرنا پڑے۔ امام خالی نظروں سے اس برطانوی افسر کو دیکھ رہا تھا کہ اچانک مسجد کی فضا اللہ اکبر کے فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھی۔ نمازیوں نے امام مسجد پر زور دیا کہ وہ اس برطانوی افسر کو کلمہ پڑھا کر فرزند اسلام بنائیں۔ امام مسجد نے میجر البرٹ ریزے میسی کو کلمہ پڑھایا اور اس کا نیا نام عبدالرحمن میسی رکھا۔

ایک برطانوی افسر کے مسلمان ہونے کی خبر برطانوی کیمپ میں پہنچی تو اس کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی گئی۔ اسے فوری طور پر ملازمت سے برطرف کر کے نظر

صفحہ ٨٢

بند کر دیا گیا۔ اس سے تمام اعزازات واپس لے لیے گئے اور اس کا بینک بیلنس منجمد کر دیا گیا۔ اگلے ہی دن مذہب تبدیل کرنے کے ”جرم“ میں اس کا کورٹ مارشل ہو گیا۔ اسے سپاہیوں کی نگرانی میں لاہور روانہ کر دیا گیا۔

لاہور کے ریلوے اسٹیشن پر اس نے قدم رکھا تو جسم کے کپڑوں میں تھوڑی سی جمع پونجی کے سوا اس کے پاس کچھ نہ تھا۔ اسے اپنی برطرفی کا کچھ غم نہ تھا۔ بس قلق تھا تو اس بات کا کہ اس کا جو سامان ضبط کیا گیا ہے۔ اس میں وہ کتابیں بھی شامل تھیں جو اس نے اسلام کو سمجھنے کے لیے بڑی تلاش کے بعد اکٹھی کی تھیں۔ لاہور اس کے لیے ایک اجنبی شہر تھا اور اسے اپنی منزل کی کچھ خبر نہ تھی۔ جیسے تیسے اس نے اسٹیشن کے قریب ایک قدرے سستے ہوٹل میں کمرہ کرائے پر لیا اور اپنے آپ کو اس میں بند کر لیا۔ وہ کھانے کے وقت باہر نکلتا اور ڈائننگ ہال کے ایک کونے میں خاموشی سے کھانا کھا کر اپنے کمرے میں لوٹ جاتا۔ کئی دن گزر گئے۔ اس کے معمولات میں کوئی فرق نہ آیا۔ ایک دن وہ حسب معمول الگ تھلگ بیٹھا کھانا کھا رہا تھا کہ ایک اجنبی آدمی اس کے قریب آیا۔ اس نے بڑی خوش اخلاقی سے دریافت کیا کہ وہ کون ہے اور کہاں سے آیا ہے؟ میجر عبدالرحمن عیسیٰ نے اس کے ہمدردانہ لہجے سے متاثر ہو کر ساری بپتا سنا ڈالی۔ اس اجنبی نے میجر سے وعدہ کیا کہ وہ اسے ایک ایسی مذہبی اسلامی تبلیغی تنظیم سے ملا دے گا جو اس کے لیے روزگار کا بندوبست کر دے گی اور وہ باعزت طریقے سے اس پر زندگی گزار سکے گا۔ اجنبی کی باتوں سے میجر کی ڈھارس بندھ گئی۔

اگلے دن وہ آدمی میجر کو مذکورہ تنظیم کے دفتر لے گیا۔ متعلقہ آدمیوں سے تبادلہ خیالات کے بعد میجر کو اطمینان ہو گیا کہ وہ صحیح جگہ پہنچا ہے اور یہ لوگ ہیں جو مشنری جذبے کے تحت اسلام کی خدمت میں مصروف ہیں۔ ایک دن وہ لائبریری میں مطالعے میں مصروف تھا کہ اچانک اس کی نظر ساتھ کے میز پر پڑے ہوئے ایک پمفلٹ پر پڑی اس نے ہاتھ بڑھا کر اسے اٹھایا اور پڑھنا شروع کر دیا۔ یہ پمفلٹ مرزا غلام احمد قادیانی کے (جھوٹے) دعویٰ نبوت کے بارے میں تھا۔ پمفلٹ کا متن پڑھ کر میجر ششدر رہ گیا۔ اسلام سے متعلق اس کے مطالعے کے مطابق محمد مصطفیٰ ﷺ آخری نبی تھے۔ وہ شدید ذہنی کشمکش میں مبتلا ہو گیا۔ اس نے لائبریرین سے اس بارے میں پوچھا مگر اس کی تشفی نہ ہو

صفحہ ٨٣

سکی۔ اس کی ذہنی کشمکش اگلے دن اسے قادیانیوں کی عبادت گاہ میں لے گئی۔ اس نے اپنا مسئلہ بیان کیا تو قادیانیوں نے اسے قائل کرنے کی کوشش کی مگر چونکہ سوجھ بوجھ والا اور راست فکر تھا۔ اس لیے قائل نہ ہوسکا اور کسی نتیجے پر پہنچے بغیر واپس آگیا۔ اسے یقین تھا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ نبوت جال ہے مگر وہ کسی ایسے عالم دین سے ملنا چاہتا تھا جو اس کے ذہنی الجھاؤ کو دور کر سکے۔

ان دنوں لاہور سے ایک انگریزی روزنامہ ”ایسٹرن ٹائمز“ شائع ہوتا تھا۔ ایک دن اس روزنامے کا ایک شمارہ میجر عبدالرحمٰن کے ہاتھ لگ گیا۔ اس شمارے میں اسلامیہ کالج لاہور کے اس وقت کے پرنسپل علامہ عبداللہ یوسف علی کا ایک بصیرت افروز مضمون چھپا تھا۔ میجر اس نام سے شناسا تھا۔ چند ماہ پیشتر اسلام قبول کرنے سے قبل اس نے قرآن مجید کے جس انگریزی ترجمے کا مطالعہ کیا تھا۔ وہ علامہ صاحب ہی کا کیا ہوا تھا۔ میجر نے علامہ صاحب کی خدمت میں حاضری دی اور مرزا غلام احمد قادیانی کے بارے میں اپنی ذہنی کشمکش سے انہیں آگاہ کیا۔ علامہ صاحب عربی کے بہت بڑے عالم تھے اور انگریزی زبان پر بھی مکمل دسترس رکھتے تھے۔ علامہ صاحب کی صحبت میں رہ کر میجر کو قرآن فہمی میں بڑی مدد ملی اور اس کا ذہنی تکدر دور ہو گیا۔ علامہ صاحب کا علمی و ادبی حلقہ بہت وسیع تھا اور ان کی قربت سے میجر کو لاہور کی اعلیٰ سوسائٹی میں ایک نمایاں مقام مل گیا مگر وہ اپنے روزگار اور مستقبل کے بارے میں پریشان تھا۔ اس نے علامہ صاحب سے اپنی اس پریشانی کا ذکر کیا تو انہوں نے شیخ سر عبدالقادر سے جو اس وقت انجمن حمایت اسلام کے صدر تھے‘ بات کی۔ شیخ صاحب نے اس سلسلے میں کچھ نہ کچھ کرنے کی حامی بھر لی۔

اسی برس دسمبر میں انجمن حمایت اسلام کا لاہور میں سالانہ اجلاس ہوا۔ صدر جلسہ نواب آف بہاولپور سر صادق محمد خان عباسی تھے۔ سر عبدالقادر نے میجر عبدالرحمٰن میسی کا نواب صاحب سے تعارف کرایا اور ان سے معاشی مدد کی درخواست کی۔ نواب صاحب نے میجر میسی کو بہاولپور اسٹیٹ فورس میں لفٹیننٹ کرنل کے عہدے کی پیشکش کی‘ جسے میجر نے بخوشی قبول کر لیا اور یوں میجر البرٹ ریمزے میسی جو قبول اسلام کے بعد میجر عبدالرحمٰن میسی بن گئے تھے۔ ایک عرصے تک اس منصب پر فائز رہے۔

قارئین! آخر میں اگر اس نوجوان مسلمان فوجی کا ذکر نہ کیا جائے ۔ جس کی اسلام

صفحہ ٨٤

سے گہری وابستگی اور احکام خداوندی پر سختی سے عملدرآمد کی عادت نے ایک غیر مسلم کے قلب کو اسلام کی روشنی سے منور کیا‘ تو زیادتی ہوگی۔ ہم اس نامعلوم فوجی کے نام سے تو واقف نہیں‘ لیکن رب کریم سے دعا ہے کہ وہ اپنی بے پایاں رحمتیں اس فرزند اسلام پر نازل فرمائے‘ جس کے عزم اور حوصلے نے اسے ہماری نظروں میں عظیم بنا دیا ہے۔ (آمین)

(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی‘ جلد ١٢‘ شمارہ ٣٤)

قادیان بیت الشیطان کا سفر

از: مولانا محبوب الرحمٰن ازھری

قادیان ایک قصبہ ہے جو اب ضلع گورداسپور (پنجاب) کی تحصیل بٹالہ میں ہے۔ پہلے صرف گاؤں تھا۔ ایک متمول شخص مرزا غلام مرتضیٰ کے گھر میں ایک لڑکے کی ولادت ہوئی جس کا نام مرزا غلام احمد رکھا گیا۔ اسی لڑکے نے آگے چل کر قادیان کو شہرت بخشی اور قادیان کو پہلے دمشق کا ہمسر کہا پھر بیت المقدس اور مکہ کا مقابل بنا دیا۔ وہاں کا سفر‘ سفر حج سے افضل قرار دیا گیا۔ بظاہر وہاں کے باشندے اسی مناسبت سے قادیانی کہلائے اور خود مرزا غلام احمد کے ساتھ قادیانی کا لفظ ایسا چپکا کہ وہ ایک دین‘ ایک مذہب‘ ایک جماعت کا لقب ہو گیا اور کسی کو بھی قادیانی کہنے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ وہاں کا باشندہ ہے بلکہ ایک خاص عقیدہ کا حامل ہونے سے ہی قادیانی کہلاتا ہے۔

سفر قادیان بھی اسی مناسبت سے عنوان قائم کیا گیا ہے۔ ورنہ اس سر زمین کا خواب و خیال میں بھی میں نے نظارہ نہیں کیا۔ اتنا جانتا ہوں کہ امرتسر سے ایک برانچ لائن بٹالہ قادیان جاتی ہے۔ بس اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ مرزا جی کا خواب کہ قادیان مکہ کا شہر ہوگا‘ شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔ خاص گورنمنٹ برطانیہ نے‘ جس کی خدمت کے لیے مرزا جی نے زندگی گزاری تھی‘ تقسیم ہند کے وقت خط کھینچنے میں قلم کو ایسی جنبش دی کہ قادیان ہندوستان کی طرف پڑ گیا۔ برطانیہ کی مصلحت جو بھی رہی ہو مگر قدرت نے اس کو پاکستان

صفحہ ٨٥

میں جانے سے روک لیا اور قادیان کا نام و نشان رہ گیا ورنہ ربوہ کی طرح یہ بھی طاق نسیان کا شکار ہو جاتا۔

مرزا جی کی پیدائش کی تاریخ کے بارے میں جہاں تک تلاش کیا گیا ١٨٣٥ء۔ ١٨٤٥ء کے درمیان معلوم ہوتی ہے۔ اس کو صیغہ راز میں رکھنے کی وجہ یہی تھی کہ ان کی پیشین گوئی ”اسی سال یا اس سے کچھ کم یا زیادہ عمر ہو گی“ کو مرتے وقت صحیح کر لیا جائے لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شد۔ دوسری پیشین گوئیوں کی طرح اس میں بھی مرزا جی فیل ہو گئے اور مئی ١٩٠٨ء میں تشریف لے گئے۔ یعنی اگر ١٨٣٥ء ہی مان لیا جائے تو بھی ٧٣ سال ہوئے جو کسی طرح بھی اس کے قریب نہیں کہے جاویں گے۔

ایک جملہ معترضہ لکھنا ضروری ہے کہ اپنے بچپن میں جب بھی مرزائی کا لفظ سنتا تھا (اس وقت یہی لقب رائج تھا) تو میرا تخیل یہ کہتا تھا کہ کچھ لوگ مرزائی (جو روئی کی بنڈی یا جاکٹ ہوتی تھی) پہنتے ہوں گے‘ ان کو مرزائی کہا جاتا ہے۔

دھیرے دھیرے سمجھ میں آیا کہ ایک مذہب ہے اور سب سے پہلے مصر پہنچ کر کلیہ اصول الدین میں دو قادیانی داخل ہونا چاہتے تھے تو اندازہ ہوا کہ یہ کوئی مذہب ہے جو ناپسندیدہ ہے۔ شیخ الکلیہ نے داخلہ کی مخالفت کی اور ان دونوں نے توبہ کا اعلان شائع کیا تب بھی کلیہ اصول الدین میں داخل نہیں ہو سکے۔ یہ میرا ابتدائی تعارف تھا۔

ہندوستان واپس آکر ذہن میں کچھ بھی باقی نہیں تھا۔ صرف یہ تصور کہ دوسرے فرقوں (چشتی‘ قادری‘ مجددی وغیرہ) کی طرح یہ بھی کوئی فرقہ ہے۔ کلکتہ پہنچ کر ١٩٦٠ء کے بعد معلوم ہوا کہ قادیانیوں اور مسلمانوں میں مناظرہ ہوا جس کو غیر ضروری سمجھ کر میں اس سے الگ رہا حالانکہ میرے ساتھی علماء اس میں شریک ہوتے رہے لیکن مجھے اس سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اتفاق سے مولانا لال حسین اختر مشہور عالم کو کلکتہ بلایا گیا اور وہ دوماہ کلکتہ میں ہماری ہی بلڈنگ میں مقیم رہے۔ ان کے پاس جانا تھا اور وہاں بعض قادیانی کتابیں دیکھتا تھا جن کو میں نے دین کے اصول کے خلاف سمجھا۔ اس کے بعد پھر ایک خاموشی کا وقفہ۔

١٩٦٤ء میں ایک بنگالی مولوی عبد المنان عبقری نامی شخص سے ملاقات ہوئی اور اس کی گفتگو کا مجھ پر اتنا اثر ہوا کہ میں اس کے یہاں آنے جانے لگا۔ وہ کلکتہ سے دور مٹیا برج کے آگے بڑتلہ میں رہتا تھا۔ اور میں کافی متاثر ہوا کہ اس سے مرید ہونے کے لیے سوچنے

صفحہ ٨٦

لگا۔

اپریل ١٩٦٤ء کے قریب ایک ملاقات میں ان سے پوچھا کہ آپ مولانا تھانوی کے خلاف ہیں یا ان سے بیعت ہیں؟ اس کا جواب ٹال کر ختم نبوت پر ایک تقریر کی، میرے ساتھ میرے دوست مولانا معصومی صاحب بھی تھے، جو ہمیں ناپسند ہوئی۔ لیکن وقت کی تنگی کی وجہ سے ہم نے رخصت چاہی اور یہ طے ہوا کہ آئندہ نشست میں اس موضوع پر گفتگو ہوگی۔ چھ ماہ گزر گئے اور ملاقات کا موقع نہ مل سکا۔

اکتوبر ١٩٦٤ء میں معلوم ہوا کہ عبدالحنان عبقری قادیانی ہو گیا ہے۔ اپنے تعلق کی وجہ سے میں نے سخت انکار کیا کہ ایسا ہو نہیں سکتا اور دو تین دن میں، میں نے فیصلہ کیا کہ مجھ سے گہرا تعلق ہے۔ خود ہی اس سے جا کر کیوں نہ معلوم کروں اور دوسروں سے جھگڑنے سے کوئی فائدہ نہیں ہے۔ چنانچہ میں گیا اور گفتگو کی تو انہوں نے صریح جواب کے بجائے مرزا کے فضائل اور کارنامے گنوائے اور یہ کہ ان کا مطالعہ بہت وسیع ہے اور اس پر کافی مباحثہ کے لیے تیار ہیں۔

میں نے صرف ایک ہی بات کہی کہ: "اگر مرزا جی مومن ہیں تو ان کے ہزاروں گناہ معاف ہیں اور اگر ایمان نہیں تو تمام فضائل خاک ہیں اور وہ ذرہ برابر فضیلت کے مستحق نہیں"۔

بات ایمان اور عدم ایمان پر ٹھہری اور دوسری نشست کے لیے ہم لوگ اٹھ گئے۔ انہوں نے مجھے "نور الحق، حمامتہ البشریٰ" وغیرہ مرزا کی کتابیں دیں کہ ان کا مطالعہ کیجئے۔ میں لایا اور چند صفحات سے ہی اندازہ ہو گیا کہ کتاب پڑھنے کے قابل ہی نہیں اور اسی طرح میں دو ہفتہ بعد ان کے یہاں پہنچ گیا۔ عصر سے قبل ان کا کلام جاری ہوا اور عصر کا وقت ہوتے ہی ہم لوگ مسجد میں نماز کے لیے چلے آئے۔ بعد عصر پہنچتے ہی میں نے عبقری سے پوچھا کہ آپ کی عمر کیا ہے؟ کہنے لگا عمر نہیں بتاؤں گا (اتباع مرزا کی عظیم الشان مثال) اس لیے کہ اگر دوسرے کا اندازہ اس سے کم یا زیادہ ہو گا تو مجھ کو جھوٹا قرار دے گا۔ میں عمر نہیں بتاؤں گا۔ گفتگو آگے بڑھی میں نے کہا کہ پوری گفتگو صرف دو لفظوں میں محدود رہے گی۔ ایمان اور کفر اور صرف دو آدمیوں کے درمیان محدود ہوگی میں خود اور مرزا جی۔ اس پر اتفاق کے بعد میں نے اپنے سے ہی گفتگو شروع کی کہ میرا عقیدہ ہے:

صفحہ ٨٧

اليوم اكملت لكم دينكم واتممت عليكم نعمتى و رضيت لكم الاسلام دينا۔

انہوں نے ٹوکنا چاہا تو میں نے کہا کہ میرا عقیدہ ہے۔ آپ سن لیجئے پھر فیصلہ کیجئے۔ اس تفصیل کے بعد میں نے پوچھا کہ ایسے عقیدہ والے کو مرزا جی کیا کہیں گے۔ مسلمان یا کافر؟ کہا کہ مسلمان ہی کہا جاوے گا۔ میں نے کہا کہ مرزا جی مجھے کافر کہتے ہیں۔ اس لیے مرزا جی میرے پیچھے نماز نہیں پڑھتے وغیرہ آپ بھی میرے پیچھے نماز نہیں پڑھتے۔ مرزا جی نے اپنے بڑے صاحبزادے فضل احمد کے جنازہ کی نماز نہیں پڑھی کیونکہ وہ ان کو نبی نہیں مانتا تھا۔

سر ظفر اللہ خان نے قائد اعظم محمد علی جناح کے جنازہ کی نماز نہیں پڑھی اور بھی بہت سی مثالیں ہیں۔ آخر ہم میں کیا عیب ہے؟ یہاں پر قادیانی اور احمدی کا فرق بھی ظاہر کرنا ضروری ہے۔ اگرچہ اب خلط مبحث میں قادیانی اپنے کو احمدی ہی کہتے ہیں۔ قادیانی وہ ہیں جو مرزا کی نبوت کے قائل ہیں اور احمدی لاہوری جماعت وہ کہلاتے ہیں جو مرزا کو نبی نہیں مانتے بلکہ مجدد مانتے ہیں۔ ایک مرتبہ مرزا محمود سے پوچھا گیا کہ احمدی لاہوری کے پیچھے نماز کا کیا حکم ہے تو اس نے جواب دیا تھا کہ افضل کی نماز مفضول کے پیچھے جائز نہیں ہے۔ جو نبی مانتے ہیں، وہ افضل ہیں اور جو مجدد مانتے ہیں وہ مفضول ہیں۔ اس طرح احمدی لاہوری بھی قادیانیوں کے نزدیک کافر ہیں۔

اس کے بعد میں نے مرزا جی کے بارے میں سوال کیا کہ وہ کیا ہیں؟ مومن یا کافر؟ انہوں نے کہا کہ وہ ایک عالم ہیں۔ میں نے کہا کہ ہمارے درمیان صرف دو لفظوں پر اتفاق تھا۔ آپ نے تیسرا لفظ استعمال کیا ہے۔ بہرحال وہ عالم بھی نہیں۔ اس کے لیے صحیح لفظ عدو اللہ عدو الرسول، عدو الدین ہی صحیح ہے۔ اس لیے کہ وہ جانتے ہوئے بھی حق کا انکار کرتا ہے۔ حیات مسیح علیہ السلام پر اس کو اعتراض ہے کہ وہ دو ہزار سال کیسے زندہ رہ سکتے ہیں اور کیا کھاتے پیتے ہیں وغیرہ۔ مجھے تو تعجب ہوا کہ دو ہزار سال تک زندہ رہنا تو عقل کے خلاف ہے۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام جو ان سے بھی ایک ہزار سال پہلے ہیں وہ تین ہزار سال کیسے زندہ ہیں؟ مرزا جی جواب دیں۔ جنہوں نے ”نور الحق ص 42 پر لکھا ہے ان اللہ افترض علینا۔

صفحہ ٨٨

جواب مرزا جی کو دینا ہے۔ وہ تو ہر اس عقیدہ اور یقین کی مخالفت کرتے ہیں جو اسلام میں ہے اور خود اس سے عجیب حکم دیتے ہیں وغیرہ۔ اب مجھے یقین ہو گیا کہ وہ پکا قادیانی مبلغ ہے۔ اس کے خلاف کوشش کی گئی اور ایک بہت بڑا جلسہ اس علاقہ میں کیا گیا۔ جس میں اس کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا گیا۔ کافی نشستیں ہوئی اور قادیانیوں نے مجھے گھیرنا شروع کیا۔ مختلف موقعوں پر میں نے اپنی تقریروں میں کہا کہ مرزا جی کے پاس کافی مال و دولت تھا اور استطاعت بھی۔ پھر وہ حج کے لیے کیوں نہیں گئے۔ یہ ایک چیلنج تھا جس کو میں اعلان کرتا تھا۔ قادیانیوں نے اس کا عملی جواب یہ دیا کہ ١٩٦٥ء کے حج میں علی الاعلان سولہ احمدی حج کے لیے تیار ہوئے اور ”بدر“ میں ان کے ناموں کا اعلان کیا گیا۔ کلکتہ کے مسلمانوں نے مجھے تیار کیا کہ میں ان کو حج سے روکوں۔ اس کے لیے میں ندوہ آیا اور مولانا علی میاں صاحب مدظلہ سے رجوع کیا۔ ان کا اشارہ تھا کہ شاہ فیصل مرحوم کو خط لکھوں اور کوشش کروں۔ چنانچہ وہ خط لکھا گیا اور شاہ فیصل مرحوم کو روانہ کیا گیا۔ اس کے بعد عملی جدوجہد کے لیے مجھ کو بمبئی بھیجا گیا کہ وہاں سے کوشش جاری رکھوں۔ بمبئی پہنچ کر میں نے سربراہان جمعیات اسلامیہ سے ملاقاتیں کیں، ہر طرف سے مایوسی کے سوا کچھ نہ ملا۔ بعض نے تو مجھے برا بھلا بھی کہا مگر مجھے اپنے دیوانگی میں جواب دینے کی فرصت نہیں تھی۔

تین دن کی پریشانی اور تگ و دو کے بعد جب مایوسی نظر آ رہی تھی تو خبر ملی کہ مولانا علی میاں صاحب مدظلہ رابطہ عالم اسلامی کے جلسہ میں شرکت کے لیے تشریف لے جا رہے ہیں اور بمبئی سے گزریں گے۔ شاہ فیصل کے نام کا خط چھپوا لیا گیا تھا اس کو بھی حجاز بھیجنا تھا۔ مولانا کی تلاش میں نکلا۔ معلوم ہوا کہ مولانا تبلیغی جماعت کی مسجد میں ٹھہرتے ہیں۔ مسجد کی تلاش کی اور پہنچتے پہنچتے عصر کی نماز ہو چکی تھی۔ نمازی نکل رہے تھے اور میں ہر ایک سے پوچھ رہا تھا کہ مولانا کب تشریف لا رہے ہیں؟ لوگ دیوانہ سمجھ کر خاموشی سے گزر جاتے تھے اور اسی طرح سب نکل گئے۔ مسجد میں داخل ہوا، نماز عصر ادا کی۔ ایک صاحب صحن مسجد میں ٹہل رہے تھے۔ نماز کے بعد قریب آئے اور مجھ سے پوچھا کہ آپ کا کیا کام ہے؟ میں نے اپنی ضرورت بیان کی۔ پوچھا کس سلسلے میں؟ میں نے بتلایا کہ قادیانیت کا معاملہ ہے۔ وہ مجھ کو لے کر باہر نکلے اور ایک صاحب کو بلا کر ان کے حوالہ کیا کہ احمد غریب سیٹھ کے یہاں لے جاؤ اور ان کی مدد کرو۔ وہ مجھ کو لے چلے۔ راستہ میں انہوں نے بھی غرض و

صفحہ ٨٩

غایت کا سوال کیا تو ان کو ذرا تفصیل سے میں نے بتایا۔

احمد غریب سیٹھ تو مصروف آدمی تھے۔ انتظار کرتے رہے۔ کافی اصرار کے بعد اتنا کہا کہ ابھی یقین نہیں ہے۔ دس بجے رات کو فون آئے گا تو معلوم ہو گا اور ممکن ہے کہ وقت کی تنگی کے پیش نظر وہ ائیر پورٹ پر ہی چند گھنٹے رکیں۔ جو شخص میرے ہمراہ تھے انہوں نے میرے مقصد کے پیش نظر خود ہی ذمہ داری لی کہ اگر مولانا آئیں گے تو میں آپ کو ائیر پورٹ پر لے چلوں گا اور یہ کہ اس کام کے سلسلہ میں وہ مجھے دوسرے دن احمد القاضی جو سعودی سفارت خانہ کی طرف سے بمبئی میں مامور تھے‘ ان سے ملاقات کرانے کا انتظام کیا۔ احمد القاضی سے کافی طویل ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اگر مجھ سے پہلے مل لیتے تو کام آسان تھا اور ہمیں اختیار ہے کہ حج کا ویزہ دیں یا نہ دیں۔ لیکن آپ بہت آگے جا چکے ہیں۔ شاہ کو اور سفارت خانہ کو لکھ چکے ہیں۔ اس لیے اب ہمیں سفارتخانہ سے کوئی اطلاع آنے کا انتظار کرنا پڑے گا۔

دوسرے دن احمد القاضی نے مجھے مبارکباد دی اور مجھ سے کہا کہ آپ ہماری مدد کریں کہ نامزد اشخاص کو تلاش کیا جائے۔ چنانچہ مزید معلومات ہونے پر ان کی نشاندہی ہو گئی اور سب گرفت میں آگئے۔ پہلے میرا مذاق اڑا رہے تھے اور مسائل حج مجھ سے پوچھ رہے تھے‘ اب مجھ سے منہ چھپانے لگے۔ اس طرح ١٩٦٥ء کا مرحلہ طے ہو گیا۔

کلکتہ واپسی پر بہت کوششیں کی گئیں کہ میرے خلاف کیس دائر کیا جائے لیکن اس کی گنجائش نہیں نکل سکی۔ اسی سال ہبلی سے بھی دو قادیانی گئے تھے وہ گرفتار ہوئے اور بالآخر توبہ کرنے پر وہ واپس آسکے۔ ان لوگوں نے مولانا ریاض احمد صاحب پر مقدمہ دائر کر دیا۔ کئی سال تک وہ مقدمہ کے چکر میں پھنسے رہے اور کافی مدت کے بعد ہبلی کی عدالت نے بھی قادیانیوں کو اسلام سے خارج قرار دے دیا (جو ایک دوسرے مقدمہ کے سلسلہ میں تھا) ظاہر ہے کہ قادیانی میرے پیچھے لگ گئے اور مجھ سے مباحثہ کی کوششیں بھی کی گئیں لیکن وہ اس میں بھی ناکام رہے۔ فالحمد للہ علی ذالک۔

(ہفت روزہ ختم نبوت، کراچی، جلد ٦، شمارہ ٤٤)

صفحہ ٩٠

مرزائی جواب۔۔۔۔۔ ڈھاک کے تین پات

گورنمنٹ کالج کے ایک پروفیسر میری ہومیو پیتھک کی دکان پر اکثر دوائیں خریدنے آتے رہے ہیں۔۔۔۔۔ اپنا اور اپنے بیوی بچوں کا علاج بھی کراتے رہے ہیں۔۔۔۔۔ ایک بار انہوں نے دبے لفظوں میں کہا تھا کہ ہمیں آرام صرف آپ کی دکان سے آتا ہے۔

میں اکثر سوچا کرتا تھا‘ ان صاحب کو تبلیغ کس طرح کروں ۔۔۔۔۔ کالج میں پروفیسر ہیں۔ پڑھے لکھے ہیں۔۔۔۔۔ میری بات کا فوراً گھڑا گھڑایا جواب دیں گے ۔۔۔۔۔ پھر میں سوچتا ۔۔۔۔۔ تبلیغ تو کرنی چاہیے ۔۔۔۔۔ آخر ایک دن میں نے ایک کاغذ پر چند جملے لکھ کر ایک لفافے میں بند کیے اور لفافہ جیب میں رکھ لیا۔ اب وہ جب آئیں گے تو یہ لفافہ انہیں دے دوں گا ۔۔۔۔۔ وہ خود ہی گھر جا کر پڑھ لیں گے۔ میں نے اس کاغذ پر یہ الفاظ لکھے:

”پروفیسر صاحب! آپ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ کالج میں پڑھاتے ہیں۔ آپ جیسے پڑھے لکھوں پر حیرت ہوتی ہے‘ تعجب ہوتا ہے کہ آپ ایک ایسے شخص کو نبی مانتے ہیں۔۔۔۔۔ جس نے خود اپنے قلم سے ایک کتاب میں لکھا ہے کہ میں انگریز کا خود کاشتہ پودا ہوں ۔۔۔۔۔ یعنی انگریز نے مجھے نبی بنایا تھا ۔۔۔۔۔ ان الفاظ کے باوجود آپ اسے نبی مانتے ہیں۔۔۔۔۔ حیرت ہے‘ کمال ہے“۔

دو تین دن بعد وہ پھر دوا لینے دکان پر آئے اور مسکرا کر کہنے لگے:

”آپ کا رقعہ میں نے پڑھا تھا۔۔۔۔۔ ایسی تمام باتوں کے جوابات ہمارے علماء آپ کے علماء کو دے چکے ہیں“۔

میں ان کا جواب سن کر دھک سے رہ گیا۔ پھر میں نے پوچھا:

”کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ کے علماء نے میری اس بات کا کیا جواب دیا ہے“۔

نہیں مجھے نہیں معلوم اور نہ مجھے معلوم کرنے کی ضرورت ہے“۔

یہ تھا ان کا جواب اور اس کے بعد وہ میری دکان پر آنا بھی چھوڑ گئے ۔۔۔۔۔ معلوم ہوا ۔۔۔۔۔ مرزائیوں نے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر رکھی ہیں ۔۔۔۔۔ ابو جہل کو مات کر دیا ہے۔۔۔۔۔ ان لوگوں نے ۔۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ اپنا رحم فرمائے۔

صفحہ ٩١

(ماہنامہ لولاک‘ ملتان‘ فروری ١٩٩٩ء از قلم اشتیاق احمد)

وہ جن کے جسم پہ چہرے بدلتے رہتے ہیں
انہیں بھی ضد ہے کہ ان کا بھی احترام کروں (مؤلف)

میرے والد گرامی

صاحبزادہ طارق محمود

میں نے جب ہوش سنبھالا تو والد مرحوم پر جوانی کا عالم تھا۔ سیاہ گھنی داڑھی‘ با رعب چہرہ‘ مضبوط جسم‘ دراز قد‘ سر پر قراقلی ٹوپی‘ گرمیوں میں ٹھنڈی سردیوں میں گرم اچکن ان کی پرکشش شخصیت کو اور جلا بخشتی۔ جب بھی کبھی کسی اہم دینی یا سیاسی شخصیت سے ملنے جاتے‘ مجھے اکثر ساتھ لے جاتے‘ اکلوتا بیٹا ہونے کے ناطے وہ مجھ سے بے پناہ محبت کرتے تھے لیکن اس کے باوجود میرے اور ان کے درمیان حجاب حائل رہا جو انہی کی تربیت کا نتیجہ تھا۔ والد گرامی بتایا کرتے تھے کہ ان کا بھی اپنے والد یعنی دادا جان کے ساتھ ادب کا یہی معاملہ رہا۔

تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء

یہ ١٩٥٣ء کا زمانہ تھا۔ میری ہوش اور سوچ کے دائرے وسیع ہو رہے تھے۔ والدہ صاحبہ مجھے والد صاحب کی بیٹھک کی کھڑکی کھول کر اس میں کھڑا کر دیتیں اور میں سامنے سڑک پر ”پولیس سے بھرے ٹرکوں کی نقل و حرکت دیکھتا رہتا۔ بعد ازاں یہ پولیس محلے کا محاصرہ کرنے کے بعد ہمارے غریب خانہ میں داخل ہو جاتی۔ یہ درویش کا گھر تھا۔ جو دو کمروں‘ ایک باورچی خانہ اور محدود صحن پر مشتمل تھا۔ پولیس والے اکثر رات کو اور کبھی کبھار علی الصبح گھیراؤ کر کے ہماری میٹھی نیندوں کو اچاٹ اور سکون کو برباد کر ڈالتے۔

صفحہ ٩٢

ہمارے گھر پولیس کے اچانک چھاپے روزمرہ کا معمول بن گئے تھے۔ والد مرحوم بھی گھر سے غائب رہتے تھے۔ میں کم سنی کے باعث پولیس اور اپنے والد کا تعلق سمجھنے سے قاصر تھا۔ البتہ اتنا یاد ہے کہ ایک روز اپنے گھر کے صحن کی دیواروں کے ساتھ لگی کھڑی پولیس کی لاتعداد رائفلیں دیکھ کر میں نے اپنی حوصلہ مند ماں سے معصومیت بھرے انداز میں پوچھا کہ امی جان یہ پولیس ہمارے گھر کا روزانہ کیوں چکر لگاتی ہے۔ والدہ نے بتایا کہ تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں پولیس تمہارے ابا کو گرفتار کرنا چاہتی ہے۔ جب کہ وہ تحریک جاری رکھنے کی خاطر گرفتاری دینے کے لیے آمادہ نہیں ہیں۔ اسی دور کی کچھ باتیں میرے کم سن ذہن پر اس طرح رقم ہو گئیں کہ ان کا ہر ایک نقش ابھی تک باقی ہے۔

تحریک کے دنوں میں والد صاحب بہت متحرک رہتے تھے۔ کبھی کبھار رات کے پچھلے پہر گھر آئے۔ ہمیں سوتے میں پیار کرتے اور چلے جاتے۔ اگر دن میں آتے تو تھوڑی دیر ٹھہرتے۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ والد صاحب اپنے کمرے میں سو رہے تھے۔ ان کا کمرہ گلی والے دروازے کے سامنے تھا۔ پولیس کو مخبری ہوئی تو انہوں نے اچانک آکر چھاپہ مارا۔ ان دنوں ہمارے ہاں میرے ماموں زاد بھائی نواب رہا کرتے تھے جو کوہ نور ملز میں ملازم تھے۔ وہ ایک نہایت تیز طرار اور حاضر جواب جوان تھے۔ جونہی دروازے پر دستک ہوئی۔ وہ سمجھ گئے کہ پولیس آگئی ہے۔ انہوں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ‘ جھٹ سے بیرونی دروازہ کھولا‘ پردہ اوپر اٹھایا اور انچارج افسر سے کہا کہ تشریف لائیں۔ انہوں نے کہا‘ آپ پہلے پردہ کروالیں۔ بھائی نواب نے کہا۔ آپ بھی بچیوں بیٹیوں والے ہیں۔ ہم اس پردہ سے تنگ آگئے ہیں۔ پردہ کی ضرورت نہیں۔ آپ اندر تشریف لائیں اور گھر کی تلاشی لے لیں۔ ڈیوٹی افسر انتہائی خود اعتمادی دیکھ کر نواب کے داؤ میں آگیا۔ انہوں نے کہا کہ بھئی ہم تو ساری رات سے مولانا کو تلاش کر رہے ہیں۔ اگر وہ اندر ہیں تو بتاؤ۔ نواب نے کہا سامنے ہی تو مولانا کا کمرہ ہے۔ جس کا دروازہ بھی کھلا ہے۔ ذرا چیک کرلیں۔ اندر کمرے میں والد مرحوم مزے سے سو رہے تھے۔ پولیس مطمئن ہو کر واپس چلی گئی۔ اس طرح والد صاحب گرفتاری سے بچ گئے۔

والد صاحب نے ١٩٥٣ء کی تحریک میں جس جگر داری‘ جرات و ہمت‘ صبر و استقامت‘ عالی حوصلگی‘ مردانگی اور شاندار قیادت کا فقید المثال مظاہرہ کیا۔ یہ مسئلہ ختم

صفحہ ٩٣

نبوت سے والہانہ عشق میں آزمائش کی پہلی منزل تھی۔ جس میں وہ سرخرو ہو کر نکلے۔ اسی تحریک میں ان کی خداداد صلاحیتیں پہلی بار کھل کر منظر عام پر آئیں۔ مرکزی جامعہ مسجد کچہری بازار، تحریک ختم نبوت کی سرگرمیوں کی آماجگاہ تھی۔ جامعہ مسجد کا مینار والد صاحبؒ کا اہم مورچہ ہوا کرتا تھا۔ جس میں بیٹھ کر وہ تحریک کی قیادت کیا کرتے تھے۔ یہ ایک اور طویل داستان ہے۔ والد صاحبؒ کی گرفتاری سے قبل پولیس ہمارے گھر کا تمام اثاثہ اٹھا کر لے گئی۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ان دنوں ہم زمین پر سویا کرتے تھے اور گھر میں کھانے کو کچھ نہ ہوتا۔ والدہ نے کسی کے آگے اپنی حالت بیان کرنا گوارا نہ کی۔ نوبت فاقوں تک جا پہنچی۔ تب چچا مولوی غلام سرور مرحوم آئے اور ہمیں اپنے ہمراہ چنیوٹ کے دامن میں واقع گاؤں لے گئے۔ والد صاحبؒ کی رہائی تک ہم اپنے چچا مرحوم کے ہاں مقیم رہے‘ جہاں انہوں نے ہمارے آرام و آرائش کا ہر طرح خیال رکھا۔ مجھے یاد ہے کہ میں ان دنوں مجلس احرار اسلام کے ترجمان روزنامہ آزاد میں والد صاحب کی چھپی ہوئی تصویر دیکھ کر اپنے ابو کو یاد کیا کرتا تھا۔

وقت گزرتا رہا۔ والد صاحب نے ایام اسیری اٹک (کیمبل پور) جیل میں گزارے۔ اس سے قبل شاہی قلعہ لاہور کے عقوبت خانہ میں آزمائشوں کے مرحلے طے کیے۔ جہاں بڑے بڑوں کے پتے پانی ہو جاتے ہیں۔ لیکن الحمد للہ والد صاحب کے پائے ثبات میں لغزش نہ آئی اور انہوں نے عقیدہ ختم نبوت سے قلبی و ذہنی وابستگی کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ وہ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے دنیا میں جتنی عزت، شہرت اور تکریم ملی ہے۔ وہ سبھی رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے مسئلہ ختم نبوت سے والہانہ لگاؤ کا نتیجہ ہے۔ والد صاحبؒ رہا ہو کر واپس لائل پور (موجودہ فیصل آباد) پہنچے تو ان کا فقید المثال استقبال ہوا۔ دوسری طرف گھر کا یہ عالم تھا کہ مسجد کی انتظامیہ نے ایک ہزار روپیہ والد صاحب کو پیش کیا کہ یہ آپ کی جمع شدہ تنخواہ ہے۔ اس زمانہ میں ایک ہزار روپیہ بہت بڑی رقم سمجھی جاتی تھی لیکن آپ نے شکریے کے ساتھ واپس کر دی کہ جب آپ لوگوں نے میری گرفتاری کے بعد میرے بچوں کا خیال نہیں رکھا تو مجھے اب اس رقم کی ضرورت نہیں۔ اس کے بعد سے والد مرحوم نے مسجد سے تنخواہ وصول کرنا بھی چھوڑ دی اور اپنی وفات تک بلا معاوضہ خدمت دین کرتے رہے۔

صفحہ ٩٤

رہائی کے چند سالوں بعد والد صاحب گاؤں تشریف لائے۔ ان کی صحت اچھی ہو گئی تھی۔ وہ ہمیں دوبارہ گھر لے آئے۔ اب ان کا کمرہ دوستوں‘ ساتھیوں‘ رضا کاروں اور وقت کے رہنماؤں کی آمد و رفت کی آماجگاہ بن گیا تھا۔ رات گئے تک کھانا‘ چائے کا دور چلتا۔ قہقہے بلند ہوتے تھے۔ جلسے جلوسوں کے پروگرام مرتب ہوتے۔ یوں ان کی زندگی ہمیں ہوش سنبھالنے کے بعد ہر وقت مصروف نظر آئی۔ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے حکم پر اپنی پوری توجہ‘ صلاحیتیں اور توانائیاں عقیدہ ختم نبوت میں صرف کر دیں۔ سیاست کی بجائے اپنے مشن کی تکمیل اور وقت کے تقاضے کی خاطر انہوں نے ایک علوم شرقیہ کا ادارہ کھولا۔ جس کا نام اردو فارسی کالج تھا۔ جو دن کو طارق مسلم پرائمری سکول اور رات کو اردو‘ عربی‘ فارسی جیسی عظیم دانش گاہ کے پیکر میں ڈھل جاتا۔ اس ادارے کی تعمیر اور ترقی میں انہوں نے اپنی محنت اور توجہ صرف کی کہ یہ ادارہ علم و فضل کا مرکز بن گیا۔ ان دنوں والد صاحب سائیکل چلایا کرتے تھے۔ بعض اوقات شب دو ڈھائی بجے گھر لوٹتے۔ اردو فارسی کالج جہاں درس و تدریس اور خدمت انسانی کا عظیم ادارہ بنا۔ وہاں رزق حلال کا ذریعہ بھی بنا۔ ان دنوں والد صاحب آسودہ حال ہو گئے تھے۔

امیر شریعتؒ اور والد صاحبؒ

امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ والد گرامی پر بہت مہربان اور شفیق تھے۔ جب بھی فیصل آباد تشریف لاتے‘ ہمارے غریب خانہ کو شرف میزبانی بخشتے جو ہمارے لیے وجہ سعادت اور اعزاز سے کم نہ تھا۔ ایک دفعہ شاہ صاحبؒ ہمارے ہاں تشریف لائے۔ گرمیوں کا موسم تھا۔ رات کے گیارہ بجے کا وقت۔ گھر سے ملحقہ احاطہ میں ان کے آرام کے لیے چار پائی بچھا دی گئی۔ شاہ صاحبؒ نے بلند آواز سے پوچھا ”تاج محمود کھانے کو کچھ ہے؟ والد صاحب نے کہا کہ شاہ جی‘ کھانا ابھی آجاتا ہے۔ آپ تھوڑی دیر آرام فرمائیں۔ اس دن گھر میں مسور کی دال پکی ہوئی تھی۔ والدہ نے ابا جان سے کہا کہ میں دال کو تڑکا لگاتی ہوں۔ آپ تنور سے گرم گرم روٹیاں لے آئیں کیونکہ گھر میں آٹا موجود نہیں۔ خدا

صفحہ ٩٥

جانے یہ شاہ جی کا وجدان تھا یا ان کی سماعت کا کمال تھا۔ فوراً جلال بھری آواز دی ”تاج محمود ذرا باہر آؤ۔ پھر پوچھا 'اس وقت کہاں جا رہے ہو؟ والد صاحب نے کہا 'شاہ جی تنور سے روٹی لینے جا رہا ہوں۔ فرمایا 'نہیں ! گھر میں جو کچھ ہے ' لے آؤ ورنہ میں ابھی یہاں سے چلا جاؤں گا۔ ابا جان نے لاکھ جتن کیے لیکن شاہ صاحب ان کی کہاں ماننے والے تھے۔ فرمایا 'مجھے خوب معلوم ہے بچوں والے گھر روٹی کے ٹکڑے ضرور ہوتے ہیں ' وہی لے آؤ۔ ناچار اور مایوس ہو کر بادل نخواستہ والد صاحب نے بگھاری ہوئی دال اور روٹی کے ٹکڑوں کے ساتھ کھانا کھلایا۔ نصف صدی تک لوگوں کے دماغوں کو مسخر کرنے اور روحوں میں انقلاب پیدا کرنے والا خطیب بچے ہوئے روٹی کے ٹکڑے کھا رہا تھا۔ جب کہ ان سے لوگوں کی عقیدت اور عشق کا یہ عالم تھا کہ وہ بخاری کی ریزہ خوری میں فخر محسوس کرتے تھے۔ شاہ صاحب کھانا کھا چکے تو اپنے افسردہ میزبان سے کچھ اس طرح مخاطب ہوئے۔ فرمایا ”تاج محمود جو لطف اور مزہ اس دال اور خشک ٹکڑوں میں آیا ہے 'خدا کی قسم بڑے سے بڑے رئیس کے دستر خوان پر بھی کبھی نہیں آیا“۔ امیر شریعت دراصل تاج محمود کو عظمت انسانی کی معراج تک پہنچا رہے تھے۔ والد صاحب فرمایا کرتے تھے کہ اگر میں نے شاہ صاحب کو دیکھا اور سنا نہ ہوتا تو شاید بلکہ یقیناً میرا نام آج گوشہ گمنامی میں ہوتا۔

وہ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ ”کیا عرض کروں ' ہم گونگے تھے ' شاہ جی نے ہمیں زبان دی“۔ والد صاحب نے اپنے نوعمری کی زمانہ میں چنیوٹ میں حضرت امیر شریعت کی تقریر سنی تھی۔ بس پھر انہی کے ہو کر رہ گئے۔ اور معاملہ یہاں تک پہنچا کہ:

”مجھ کو اپنا بنا کے چھوڑ دیا“

شاہ جی کی اس تقریر سے والد صاحب کیونکر متاثر ہوئے۔ اس کی تمام تر تفصیل ان کی خود نوشت کے خاکہ میں موجود ہے۔

امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کا ذکر چلا تو ان کے اعزازی کلمات بھی بیان کر دوں ' جو انہوں نے والد صاحب کے لیے ارشاد فرمائے۔ ذاتی تعلق خاطر کے علاوہ شاہ جی جماعتی طور پر والد صاحب پر بے پناہ اعتماد رکھتے تھے۔ جب شاہ صاحب نے مجلس تحفظ ختم نبوت کی بنیاد رکھی تو شاہ جی کے مکان کی چھت پر منعقد ہونے والی خصوصی نشست میں والد صاحب موجود تھے۔ یہ اعزاز انہیں اس لیے حاصل تھا کہ وہ جماعت کے بانی ارکان میں سے

صفحہ ٩٦

تھے۔ امیر شریعت فرمایا کرتے تھے۔ میرے دو بازو ہیں۔ ایک قاضی احسان احمد شجاع آبادی اور دوسرا تاج محمودؒ۔ شاہ صاحب اکثر و بیشتر ابا جان کو ملتان مدعو کرتے۔ جب کبھی والد مرحوم کی طبیعت اداس ہو جاتی وہ از خود ملتان کا رخ کرتے اور شاہ جیؒ کی لازوال محبت کے چشمے سے سیراب ہوتے رہتے۔ جب دل کا پیمانہ محبت شفقت اور خلوص سے بھر جاتا تو مسرت کا زاد راہ لیے واپس لوٹ آتے۔ ایک مرتبہ والد صاحب مجھے بھی اپنے ساتھ لے گئے۔ شاہ جیؒ کو نمک پارے بہت پسند تھے۔ اس لیے والد صاحب مرحوم جب بھی شاہ جیؒ سے ملاقات کے لیے ملتان جاتے تو نمک پارے ساتھ ضرور لے جاتے۔

شاہ صاحبؒ کی وفات حسرت آیات پر صوفی دلدار احمد کی سفارش پر والد صاحب مجھے ساتھ لے گئے۔ وہاں مجھے محترم قاری محمد اکبر کے سپرد کر کے خود ہجومِ غم میں کھو گئے۔ شاہ جیؒ کی وفات پر جہاں دیگر رہنماؤں اور اکابر نے گہرا اثر لیا۔ وہاں والد محترم رحمۃ اللہ علیہ بھی اس عظیم سانحہ سے نڈھال تھے۔

آغا شورش کاشمیریؒ اور والد صاحبؒ

ملک کے مایہ ناز خطیب، صاحب طرز ادیب اور معروف صحافی آغا شورش کاشمیریؒ اور والد صاحبؒ بہترین دوست تھے۔

یوں تو آغا صاحب اور والد صاحب کے تعلقات کا سلسلہ کافی مدت سے چلا آ رہا تھا۔ لیکن ١٩٦٥ء کے بعد دونوں کا یہ حال تھا کہ وہ ایک دوسرے کے بغیر نہ رہ سکتے تھے۔ جب ہمارے ہاں ٹیلی فون لگا تو آغا صاحب سے والد مرحوم کا رابطہ اور تعلق زیادہ گہرا اور مستحکم ہو گیا۔ علی الصبح جو گھنٹی بجتی ۔۔۔۔۔ وہ لاہور سے اسی مرد قلندر کی کال ہوتی۔ دورِ ایوبی کے آخری حصہ میں یہ برادرانہ اور دوستانہ تعلقات یک جان دو قالب کا محاورہ بن گئے۔ والد صاحب ہفتہ کے زیادہ دن لاہور گزارتے۔ آغا صاحب بھی جب کبھی فیصل آباد تشریف لاتے۔ ہمارے غریب خانہ کو شرف پذیرائی بخشتے۔

آغا صاحب کی سیمابی طبیعت کے باوجود والد صاحب نے دوستی کا حق ادا کیا۔ یہاں

صفحہ ٩٧

تک کہ آغا شورش کاشمیری اپنے نجی اور ذاتی معاملات میں ان سے مشورہ لینا ضروری سمجھتے تھے۔ والد صاحب آغا مرحوم کے ایسے قابل اعتماد دوست تھے کہ ان پر انہیں بھروسہ بھی تھا اور مان بھی۔۔۔۔۔ والد صاحبؒ انہیں دل و جان سے چاہتے تھے۔ ان کی وفات کے بعد والد مرحوم دل گرفتہ ہو گئے تھے۔ انہیں اپنے بہادر، غیور اور مخلص ساتھیوں کے اٹھ جانے کا بہت قلق تھا۔ آخری دنوں میں والد صاحب کہا کرتے تھے کہ میں ایک قافلے کی بچھڑی ہوئی کونج ہوں۔

(ہفت روزہ لولاک، فیصل آباد، مولانا تاج محمود نمبر، ص ٧٧٥-٧٧٦)

مولانا محمد علی جالندھری کی خطابت

مولانا خطابت کی دنیا کے بادشاہ تھے۔ بقول مفتی محمود مرحوم، میں نے شاہ جی سے کہا کہ آپ کا خطیب ہونا کون سا کمال ہے۔ خطیب تو مولانا محمد علی ہیں اور اس کی وضاحت یوں کی کہ آپ حسنی سید، جوان رعنا، گلے میں سوز، بر محل اشعار کی آمد سب خوبیاں آپ میں موجود ہیں۔ جبکہ مولانا دیہاتی آدمی، نہ گلا، نہ سوز لیکن جب سٹیج پر آتے ہیں تو ساری دنیا ان کی مٹھی میں ہوتی ہے۔ اس سلسلہ میں ایک تحریر پیش خدمت ہے جو مجھے اپنے والد بزرگوار مولانا محمد رمضان علوی کی وساطت سے موصول ہوئی۔ والد گرامی کا کرم نامہ ٣ جنوری ١٩٦٢ء پیش خدمت ہے۔ اس سے آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ میدان خطابت میں ان کا کیا مقام تھا اور ہر موضوع کا وہ کس طرح حق ادا کرتے تھے۔

حاجی احسان الحق میرٹھی سابق ناظم مدرسہ امداد الاسلام میرٹھ راوی ہیں: تقسیم سے قبل غالباً ١٩٤٤ء میں مدرسہ کی انتظامیہ کے تحت سیرت النبیؐ کے جلسہ کی تجویز ہوئی۔ لاہور دفتر میں خط لکھا کہ آپ ایک اچھا مقرر جسے سیرت پر مکمل عبور ہو۔ بہتر ہو گا کہ دیوبند سے فارغ ہو، بھیج کر ممنون فرمائیں۔ جواب آیا، تاریخ مقررہ پر مولانا محمد علی جالندھری فلاں گاڑی پر پہنچ جائیں گے۔ تاریخ مقررہ پر ہم لوگ اسٹیشن پر گئے۔ خیال یہ تھا کہ مولانا محمد علی قد آور شخصیت، جبہ پوش، با رعب آدمی ہوں گے۔ گاڑی آئی تو ہمارا

صفحہ ٩٨

خیالی بزرگ کوئی سامنے نہ آیا۔ مسافر تقریباً جا چکے تھے۔ اچانک ایک آدمی پر نظر پڑی۔ دوپلی ٹوپی‘ میلا سا کرتہ ‘تہبند باندھے پست قامت یوں معلوم ہوتا تھا جیسے پنجاب کا کوئی دیہاتی ہو۔ ہم نے سلام کے بعد پوچھا‘ آپ کہاں سے تشریف لائے ہیں۔ فرمایا ‘لاہور سے حاضر ہوا ہوں۔ پوچھا اسم گرامی۔ فرمایا ‘مجھے محمد علی جالندھری کہتے ہیں۔ میرٹھ کے کچھ بزرگوں کا دفتر احرار میں گرامی نامہ پہنچا تھا کہ مدرسہ امداد الاسلام میں سیرت کا جلسہ ہے۔ کوئی آدمی بھیجا جاوے۔ جماعت نے مجھے حکم دیا ‘ حاضر ہو گیا ہوں۔ حاجی صاحب فرماتے ہیں ‘ہم نے محض اخلاقاً کہا کہ آئیے تشریف لائیے۔ ہم نے ہی آپ کو تکلیف دی ہے۔ لیکن ہم سخت پریشان کہ احرار والوں نے ہمارے ساتھ زیادتی کی۔ جلسہ سیرت النبی ﷺ کا اور یو۔پی کا شہر‘ ایک دیہاتی آدمی کیا کرے گا۔ پھر وضع قطع کے لحاظ سے با رعب شخصیت ہوتی تو شاید کچھ بات بن جاتی۔ ہم سخت پریشان ہوئے اور تنہائی میں باہم مشورہ کے لیے بیٹھے کہ کوئی عذر کر کے مولوی صاحب کو واپسی کا ٹکٹ لے کر دے دیا جائے اور جلسہ ملتوی کر دیں۔ یہ اس سے اچھا ہے کہ اسٹیج پر توہین ہو۔ لیکن بعض دوستوں کی رائے ہوئی کہ ظاہری حالت کو چھوڑئیے لاہور سے ایک ذمہ دار جماعت ‘جس کا ہندوستان میں مقررین کے لحاظ سے طوطی بولتا ہے ‘ایک ناسمجھ آدمی کو کیسے یو۔پی بھیج سکتی ہے۔ اب جو ہو سو ہو‘ جلسہ ملتوی نہ کیا جائے۔ کھانا کھایا ‘ باتیں بھی مولوی صاحب سے کرتے رہے لیکن ہمارے دل پریشان۔ آخر ایک موقع پر علماء دیوبند کا کسی انداز میں خود ہی ذکر چھیڑا۔ حضرت شاہ صاحب ‘حضرت مدنی ‘حضرت تھانوی کے اسماء گرامی کا تذکرہ ہوا۔ مولانا نے گفتگو میں حصہ لیا تو ہم حیران ہوئے لیکن ہم ابھی تک مطمئن نہیں تھے۔ یہ خیال کیا کہ یہ ضروری نہیں کہ آدمی عام نشست میں مدلل گفتگو کرلے تو وہ اسٹیج پر بھی بہادر ہو۔

بہر حال سٹیج پر پہنچے‘ تلاوت و نظم کے بعد مولانا کا نام سامنے آیا ‘خطبہ پڑھا تو ایک دفعہ پھر سابقہ پریشانی عود کر آئی۔ کہ یہ شخص تو خطبہ بھی کسی سلیقہ سے نہیں پڑھ سکتا۔ ہم باہمی کھسر پھسر کر رہے تھے۔ پانچ منٹ بمشکل گزرے ہوں گے کہ پورا مجمع مولانا کے قبضہ میں تھا۔ ہماری پریشانی آناً فاناً کافور ہو گئی۔ پھر کیا تھا۔ قرآن و حدیث ‘ تاریخی واقعات ‘اور خداداد ملکہ الہامی بیان مولانا کا سن کر لوگ عش عش کر رہے ہیں۔ اڑھائی گھنٹے مولانا نے تقریر فرمائی۔ ہم اپنی سابقہ غلطی پر اندر ہی اندر نادم ہوتے رہے۔ بلکہ اپنی

صفحہ ٩٩

بیوقوفی پر پریشان ---- عوام کا یہ تاثر تھا کہ مولانا نے سیرت بیان کر کے حق ادا کر دیا۔ ایسے علوم اور یہ انداز بیان۔ یہ محض اللہ کا کرم مولانا پر ہے۔ اختتام جلسہ پر اعلان کیا گیا کہ مولانا کی کل بھی اسی جگہ تقریر ہو گی۔ لیکن مولانا نے فرمایا ”میں ایک جماعت کے ساتھ منسلک ہوں۔ جماعت کا حکم ایک دن کا تھا‘ جو پورا ہو گیا۔ اب دوسری جگہ جانا ہو گا۔ لیکن ہم نے عوام کو یقین دلایا کہ ہم لاہور میں رابطہ قائم کر کے اجازت حاصل کرلیں گے۔

لوگ مصر تھے کہ کل تقریر ضرور ہو۔ اسی وقت ڈبل چارج برداشت کر کے واپسی تار لاہور دیا اور بڑی لجاجت سے اجازت لی۔ مولانا کو رات نہ جانے دیا کہ اگر اجازت نہ ملی تو صبح چلے جانا۔ صبح گاڑی سے قبل لاہور سے تار مل گیا۔ اگلے روز کل سے کہیں زیادہ پبلک تھی اور مولانا کا بیان ایک تاریخی تھا۔ اگر ہمارے اختیار میں ہوتا تو ایک مہینہ مولانا کی تقاریر کرواتے‘ تاکہ سیرت کے مفہوم سے لوگ آشنا ہو جاتے۔ اس سے آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ میدان خطابت میں ان کا کیا مقام تھا اور ہر موضوع کا وہ کس طرح حق ادا کرتے تھے؟

(سوانح مولانا محمد علی جالندھریؒ‘ ص ٤٨ تا ٥٠‘ محمد سعید الرحمٰن علوی)

برطانیہ اسلام کا سب سے بڑا دشمن

حضرت شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیوبندیؒ کا مقولہ اپنے اساتذہ سے سنا تھا کہ ”اسلام کے خلاف دنیا میں کہیں بھی کوئی سازش کی گئی ہو اس میں برطانیہ کا ہاتھ ضرور ہوگا“۔ واقعہ یہ ہے کہ برصغیر پر غاصبانہ تسلط کے دوران اسلام کو جتنا نقصان حکومت برطانیہ نے پہنچایا‘ اتنا نقصان شاید تمام طاغوتی طاقتوں کی مجموعی قوت سے بھی نہیں پہنچا‘ ماضی قریب میں اسلام کا سب سے بڑا دشمن‘ سب سے بڑا حریف اور سب سے بڑا مجرم انگریز رہا ہے۔ اسلامی تہذیب و معاشرت‘ اسلامی قلب و قالب اور اسلام کی روح و معنویت کو اس ”سفید دشمن“ نے جیسا مسخ کیا‘ اس کی نظیر تاریخ میں نہیں ملتی۔ یہی دشمن ہے جس نے خلافت عثمانیہ کے عظیم و وسیع اسلامی قلعہ کو مسمار کر کے عالم اسلام کو چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں میں

صفحہ ١٠٠

تقسیم کر ڈالا۔ جس نے اسلامی ممالک کے درمیان شقاق و نفاق کے کانٹے بوئے۔ جس نے اسلام کے مقامات مقدسہ کی حرمت کو پامال کیا۔ جس نے اسلامی شعائر کو مغربیت کی کند چھری سے ذبح کیا۔ جس نے مسلمانوں کی اسلامی وملی غیرت کو کچل ڈالا۔ جس نے انسانیت کو بہیمیت و درندگی اور مکاری و عیاری کا درس دیا۔ جس نے خواتین اسلام کے سر سے رداۓ عفت چھین لی‘ جس نے صنف نازک کو بازار فسق کا بکاؤ مال بنا ڈالا۔

ہاں‘ یہی طاغوت ہے جس نے لاکھوں مسلمانوں کو شہید کیا۔ جس نے ہزاروں اولیاء اللہ کو تختہ دار پر کھینچا۔ جس نے معصوم بچوں کے خاک و خون میں تڑپنے کا تماشہ دیکھا۔ جس نے پردہ نشینان اسلام کو درندگی و بہیمیت کا نشانہ بنایا۔ جس کی سازش نے عالم اسلام کے جگر میں ”اسرائیل“ کا صہیونی خنجر گھونپا۔ جس نے لاکھوں فلسطینیوں کو خانہ بدوشی کی سزا دی۔ خدا کی زمین میں کون سی جگہ ہے جہاں انگریز کے جور وستم اور سازشوں کے نقش ثبت نہیں؟ عالم اسلام کے چپے چپے پر اس کے دندان حرص و آز کے زخم موجود ہیں۔“

قادیانی انگریزوں کے جانشین ہوں گے تو اس سے دوہرا مقصد حاصل ہو گا۔ ایک طرف انگریزی و برطانوی حکومت کے حق میں ظل اللہ فی الارض کا قادیانی تصور قائم رہے گا اور دوسری طرف قادیانی نبوت انگریزی داشتہ کی حیثیت سے کام کرے گی۔ برطانیہ کو ”جہاد کے خطرہ“ سے نجات ملے گی اور اسلام کی جگہ قادیانیت کو پنپنے کا موقع ملے گا۔

قادیانیت انگریز کا خود کاشتہ پودا

اس مقصد کے لیے افریقی ممالک میں جس طرح عیسائیوں کے لیے سکول‘ ہسپتال اور گرجے قائم کیے گئے۔ ٹھیک اسی طرح قادیانیوں کے ہسپتال‘ اسکول اور نئے گرجے بنائے گئے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہاں مسلمانوں کو عیسائیت اور مرزائیت کی چکی کے دو پاٹوں کے درمیان پیس ڈالا گیا اور حیرت ہے کہ قیام پاکستان کے بعد قادیانیوں نے ان ممالک میں

صفحہ ١٠١

سادہ لوح عوام کو یہ تاثر دیا کہ پاکستان میں مرزائیوں کی حکومت قائم ہے۔ ربوہ دارالخلافہ ہے اور پاکستان کا امیر المومنین "خلیفہ ربوہ" ہے۔ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس نئے حربے سے بھولے بھالے مسلمانوں کو کتنی آسانی سے شکار کیا گیا ہو گا؟ اس لیے شدید ضرورت ہے کہ ان شیاطینی تدابیر کا توڑ کیا جائے اور ختم نبوت کے جھنڈے تلے حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کے دین کی صحیح نشر و اشاعت کی جائے۔ یہ مسئلہ تمام اسلامی ممالک کی توجہ کا اولین مستحق ہے۔ خصوصاً پاکستان کی حکومت پر اس کی سب سے بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اس کے لیے بہترین صلاحیتوں کے مخلص، پرعزم اور باہمت نوجوانوں کی ضرورت ہے جو پرچم اسلام کو سربلند کرنے کے لیے اپنی تمام صلاحیتیں اللہ تعالیٰ کے راستہ میں وقف کر سکیں۔

(بصائر و عبر‘ حصہ دوم‘ ٢٤٤‘ ٢٤٣‘ از علامہ یوسف بنوریؒ)

شیخ بنوریؒ کا دندان شکن جواب

مرزا ناصر نے دورہ یورپ سے واپسی پر کراچی کی ایک پریس کانفرنس میں یہ وعظ فرمایا ہے کہ "مسلمانوں کے تمام فرقے اپنے فروعی اختلافات کو بھول کر سات سال کے لیے تبلیغ اسلام میں مشغول ہو جائیں"۔

"چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد"

مرزا ناصر یہ وعظ فرماتے وقت شاید یہ بھول گئے کہ ان کا دادا مرزا غلام احمد تمام مسلمانوں کو ذریته البغایا وخنازیر الفلا (کنجریوں کی اولاد، حرامزادے اور جنگل کے سور) سے نوازتا تھا۔ ان کا دادا مرزا محمود "ہر شخص بڑے سے بڑا مرتبہ پا سکتا ہے‘ حتیٰ کہ رسول اللہ سے بھی بڑھ سکتا ہے" کے تمغے تقسیم کیا کرتا تھا۔ مرزا کی امت عیسیٰ علیہ السلام کو "شرابی" کے لقب سے ملقب کرتی تھی اور قائد اعظم سمیت تمام مسلمانوں کو کافر تصور کرتے ہوئے ان کا جنازہ جائز نہیں سمجھتی تھی۔ وغیر ذالک کیا یہ سب فروعی اختلافات تھے؟

صفحہ ١٠٢

(بصائر و عبر‘ حصہ دوم‘ ص ٢٧٠‘ از علامہ یوسف بنوریؒ )

مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کا مناظرہ رام پور (جون ١٩٠٩ء)

یہ بڑا اہم اور تاریخی مناظرہ گزرا ہے۔ اس کا پس منظر سمجھنے کے لیے یہ حقیقت نگاہ میں رکھنی چاہیے کہ مولانا امرتسریؒ کے جیتے جی جب مرزا صاحب فوت ہو گئے تو ایوانِ قادیانیت میں دیر تک زلزلہ برپا رہا اور قادیانی عمائد و اساطین ساکت و مبہوت اور ششدر و دم بخود رہ گئے۔ چونکہ انہوں نے کسی غلطی کی بناء پر مرزا صاحب کی پیروی نہ کی تھی بلکہ ایک مخصوص سامراجی اسکیم کے تحت کچھ موہوم دنیاوی مفادات کے عوض جان بوجھ کر دین و ایمان کی متاع عزیز و گرانمایہ کو فروخت کر ڈالا تھا‘ اس لیے انہوں نے اپنی پر فریب چالبازیوں کو نیا روپ عطا کرنا شروع کیا۔

اب ان کے دام تزویر کا نشانہ وہ لوگ تھے جو مسلم نوجوانوں اور حکمرانوں کے دربار سے تعلق رکھتے تھے۔ قادیانی حضرات نہایت خفیہ طریق سے ایسے لوگوں پر ڈورے ڈالتے تھے اور انہیں اپنے زیر اثر لا کر قادیانی حکومت کی داغ بیل ڈالنے کے خواب دیکھ رہے تھے۔ اسی سلسلے میں انہوں نے نواب رام پور کے ملازمین خاص میں سے ایک شخص منشی ذوالفقار علی کو قادیانیت کے دام میں پھنسا لیا۔ اس شخص نے قادیانی مذہب اختیار کرنے کے بعد کافی شر انگیزی کی۔ بالآخر نواب صاحب رام پور نے اپنے خرچ پر ایک عظیم الشان مناظرہ کا اہتمام کیا۔ اس مناظرے کے لیے ہندوستان کے ہر طبقہ خیال کے بڑے بڑے علماء مدعو کیے گئے۔ جن کی تعداد ایک سو سے زیادہ تھی۔

جبہ و دستار زیب تن کیے ہوئے شیعوں کے مجتہدین اور اہل سنت کے پیران طریقت‘ علمائے امت اور مشائخ ملت کی اس عظیم تعداد اور بے نظیر اجتماع میں عین وقت پر اہل اسلام کی طرف سے مناظرے کے لیے جس شخص کا انتخاب عمل میں آیا وہ شیر پنجاب‘ فاتح قادیان‘ شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسریؒ کی شخصیت تھی۔ قادیانی گروپ کی طرف سے مرزاجی کے خاص الخاص مرید اور خلیفہ نور الدین کے دست راست مولوی محمد

صفحہ ١٠٣

احسن امروہوی مناظر منتخب ہوئے تھے۔ اہل اسلام کی تجویز تھی کہ مرزا صاحب کے صدق و کذب کے موضوع پر بحث ہوگی۔ مگر قادیانیوں کے شدید اصرار پر نواب صاحب نے حکم دیا کہ اولاً حیات و وفات مسیح کے موضوع پر ہی بحث ہو جائے۔ اس کے بعد دوسرے موضوعات پر بحث ہوگی۔

١٥‘ ١٦ اور ١٩ جون ١٩٠٩ء کو مناظرہ ہوا۔ پہلے دن مولوی احسن صاحب اسٹیج پر آئے۔ لیکن دوبارہ آنے کی جرات نہ ہوئی اور بقیہ دنوں میں قاسم علی نے ان کی نیابت کی۔ ١٧ اور ١٨ جون کو مناظرہ اس لیے نہ ہو سکا کہ ١٧ کو نواب صاحب کی طبیعت ناساز تھی اور ١٨ کو قادیانی گروہ بلا اجازت مراد آباد چلا گیا تھا۔ ١٥ اور ١٦ جون کو ”حیات و وفات مسیح“ کے موضوع پر کافی بحث ہو چکی تھی۔ اس لیے ١٩ جون کو نواب صاحب نے نئے موضوع ”صدق و کذب مرزا“ پر مباحثہ کرانا چاہا لیکن قادیانی گروہ کسی طرح تیار نہ ہوا۔ ٢٠ جون کو قادیانی حضرات میدان مناظرہ میں حاضر ہی نہ ہوئے اور نواب صاحب کی اجازت کے بغیر رام پور سے نکل بھاگے۔

مولانا امرتسریؒ کا اس مناظرہ میں جو عالمانہ کمال ظاہر ہوا۔ اس کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ نواب صاحب شیعہ تھے لیکن مولانا جیسے ”وہابی“ کے زور بیان‘ انداز استدلال اور عالمانہ وقار سے اس قدر متاثر ہوئے کہ آپ کی پذیرائی میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا۔ مولانا کی تقریر و بحث کے دوران نواب صاحب کی محویت اور مسحوریت کا یہ عالم ہوتا تھا کہ رو رو کر پھڑک پھڑک اٹھتے تھے اور اٹھ اٹھ کر پیٹھ ٹھوکتے اور شاباشی دیتے تھے۔

٢٢ جون کو ہندوستان کے کبار علماء نے مناظرہ کا فیصلہ لکھا اور متفقہ طور پر مولانا کو فتح یاب قرار دیا۔ نواب صاحب رام پور نے بھی مولانا کو فتحیابی کا ایک سرٹیفکیٹ عطا فرمایا‘ جس کے الفاظ یہ ہیں:

”رام پور میں قادیانی صاحبوں سے مناظرہ کے وقت ابو الوفا محمد ثناء اللہ صاحب کی گفتگو ہم نے سنی۔ مولوی صاحب نہایت فصیح البیان ہیں اور بڑی خوبی یہ ہے کہ برجستہ کلام کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنی تقریر میں جس امر کی تمہید کی۔ اسے بدلائل ثابت کیا۔ ہم ان کے بیان سے محظوظ و مسرور ہوئے“۔

دستخط خاص حضور نواب صاحب بہادر

صفحہ ١٠٤

محمد حامد علی خان

اس مناظرہ پر پورے ملک کی نگاہیں لگی ہوئی تھیں۔ اس میں قادیانیوں کی شکست فاش کا یہ اثر ہوا کہ رام پور میں تو قادیانی فتنے نے اس کے بعد سر ہی نہ اٹھایا اور ملک کے باقی اطراف واکناف میں بھی اس تحریک کے حاملین عرصہ تک دبکے رہے۔

(فتنہ قادیانیت اور مولانا ثناء اللہ امرتسری، ص ١٠٥ تا ١٠٨ از صفی الرحمٰن الاعظمی)

کورا مرزا

مرزا بالکل ناکارہ تھا ۔۔۔۔۔ اسے یہ بھی یاد نہیں رہتا تھا کہ وہ اپنی فلاں کتاب میں کیا لکھ آیا ہے اور فلاں میں کیا اور دعوی تھا نبوت کا ۔۔۔۔۔ لیجئے اس بات کا ثبوت ملاحظہ فرمائیے:

مرزا نے اپنی کتاب ”ازالہ اوہام“ کے صفحہ ٧٠ پر لکھا ہے:

”مسیح موعود سے یہی عاجز مراد ہے“۔

یعنی میں مسیح موعود ہوں اور یہ بات مجھے کشف اور الہام سے معلوم ہوئی ہے۔ اب لطیفہ یہ ہے کہ اسی کتاب کی اسی جلد میں صرف چند صفحات آگے یعنی صفحہ ٩٣ پر مرزا لکھتا ہے:

”جو لوگ یہ خیال کرتے ہیں، میں نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے، وہ کم فہم ہیں، میں نے تو مثل موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے“۔

آپ نے دیکھا ۔۔۔۔۔ مرزا کو اتنا بھی یاد نہ رہا کہ چند صفحات پہلے وہ کیا دعویٰ کر کے آیا ہے اور اب اسی دعوے کی نفی کر رہا ہے ۔۔۔۔۔ اب مرزا کی ایک کتاب ”تذکرۃ الشہادتین“ کا صفحہ ٤٣ پیش ہے ۔۔۔۔۔ اس ایک صفحے کے چند جملے ملاحظہ ہوں:

”میں وہ ہوں جس کے ہاتھ پر صد نشان ظاہر ہوئے، یعنی سینکڑوں“۔

چند سطر بعد لکھتا ہے:

”اور شاید دس ہزار کے قریب یا اس سے زیادہ نشان ظاہر ہوچکے ہیں“۔

صفحہ ١٠٥

اور کتاب ”حقیقۃ الوحی“ کے صفحہ ٦٧ پر لکھا: ”میرے ہاتھ پر تین لاکھ نشان ظاہر ہو چکے ہیں“۔

اب ہم مرزائیوں سے پوچھتے ہیں کہ ان میں سے کون سی بات درست ہے اور کون سی غلط۔۔۔۔ اگر ایک بات کو وہ درست مانتے ہیں تو دوسری لازمی غلط ہے۔۔۔۔ نہ صرف دوسری۔۔۔۔ بلکہ باقی چاروں غلط ہیں۔۔۔۔ اور مرزا کا قول ہے۔۔۔۔ کوئی ایک بات میں جھوٹ ثابت ہو جائے تو اس کی باقی باتوں کا بھی کوئی اعتبار نہیں رہا۔۔۔۔ لہٰذا مرزا کی کسی بات کا اعتبار نہیں۔۔۔۔ مرزائیوں کو چاہیے۔۔۔۔ ایسے جھوٹے سے کنارہ کشی کرکے آخری سچے رسول ﷺ کے دامن میں آجائیں۔۔۔۔ یہ مان لیں کہ یادداشت نام کی کوئی چیز مرزا کے پاس نہیں تھی۔۔۔۔ حافظے کے لحاظ سے وہ کورا تھا۔

(ماہنامہ لولاک‘ ملتان‘ مارچ ١٩٩٨ء‘ از قلم‘ اشتیاق احمد)

اپنی سوچوں کو بھی پہناؤ شرافت کا لباس
ورنہ چہروں سے اتارو یہ دکھاوے کے نقاب (مولف)

حضرت مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی صاحب

کا ایک ایمان پرور اور باطل شکن خطاب

خطبہ مسنونہ کے بعد ارشاد فرمایا! آج کچھ متفرق باتیں عرض کرنی ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی عادت تھی کہ وہ مسلمانوں کو گالیاں دیتا تھا، عیسائیوں کو گالیاں دیتا تھا، ہندوؤں سے مناظرے کے بہانے ان کے کرشن کو گالیاں دیتا تھا، اور وہ مقابلے میں حضرت محمد ﷺ کو گالیاں دیتے تھے۔ (نعوذ باللہ)

اس میں شک نہیں کہ مرزا قادیانی کے پیدا ہونے سے پہلے دنیا میں کافر موجود تھے اور مرزا (ملعون) کے مرنے کے بعد بھی دنیا میں کافر موجود رہے۔ لیکن پہلے کافروں نے بھی اتنی گالیاں نہیں بکیں اور نہ بعد والوں نے، جتنی مرزا کے زمانے میں اسلام اور محمد ﷺ

صفحہ ١٠٦

کودی گئیں۔ اس پر ایک لطیفہ یاد آیا۔ مسلمانوں اور قادیانیوں کے درمیان ایک مناظرہ طے ہو گیا۔ وہ جگہ ایسی رکھی گئی جس کے دائیں بائیں دونوں جانب اسٹیشن تھے۔ ان کے اسٹیشن ماسٹر قادیانی تھے، انہوں نے اپنے قادیانیوں کو آگاہ کر دیا کہ تم ایک دن پہلے پہنچ جاؤ۔ جب مناظرہ کی تاریخ آئی تو انہوں نے گاڑیاں لیٹ کر دیں۔ مسلمان مناظر پہنچ ہی نہ سکے۔ علاقے بھر کے لوگ اکٹھے ہوئے، بڑے پریشان کہ مرزائیوں کے سارے مناظر آئے بیٹھے ہیں اور ہمارا یہاں کوئی مناظر بھی نہیں۔ مرزائی بڑے طعنے وغیرہ دیں۔ آخر ایک ماسٹر صاحب کھڑے ہو گئے کہ چلو اب وقت تو نکالنا ہے ناں، تو میں مناظرہ کروں گا۔ لوگوں نے کہا نہ تو نے کبھی مناظرہ کیا نہ دیکھا، کہنے لگا کہ آج تو میں نے وقت نکالنا ہی نکالنا ہے۔ اب جب کوئی بھی مناظر نہیں تھا اور ایک جرات کر رہا ہے تو لوگوں نے کہا کہ ٹھیک ہے بھائی آپ بات کریں، مناظرہ کر لیں۔ تو وہ کھڑا ہو گیا۔ پہلی باری اس کی تھی اور دس منٹ وقت تھا۔ اس نے دس منٹ میں جو گالی اس کو آتی تھی، وہ دے دی۔ اب مسلمان بڑے پریشان، منہ نیچے چھپائیں کہ دیکھو اس نے ہمیں ذلیل کر دیا۔ قادیانی بھی اشارے کریں کہ یہ ہے مسلمان، دیکھو گالیاں دے رہا ہے۔

لیکن اس نے پورے دس منٹ اسی کام میں صرف کر دیے اور بیٹھ گیا۔ اب قادیانی مناظر اٹھا اور اس نے کہا کہ مسلمانو! تمہارے پاس کوئی شریف انسان نہیں ہے جس کو مناظرے کے لیے لاتے، کس کو لائے ہو جس نے تمہیں ذلیل کر دیا۔ وہ ماسٹر صاحب اٹھے اور ناچنے لگے۔ الحمد للہ الحمد للہ، الحمد للہ میں جیت گیا، میں جیت گیا، میں جیت گیا۔ لوگوں نے کہا کہ بھائی کس بات پر جیت گیا تو؟ وہ تو بس یہی کہے جا رہا تھا کہ میں جیت گیا۔ اس نے کہا کہ میں نے صرف دس منٹ گالیاں دی ہیں اور مرزائی مناظر نے فیصلہ دیا ہے کہ میں شریف انسان نہیں ہوں تو ان کا نبی جو ستر سال گالیاں دیتا رہا، وہ شریف انسان کیسے ہو سکتا ہے؟ وہ کیسے شریف انسان ہوا کہ دس منٹ گالیاں دینے والا جب شریف انسان نہیں، یہ فیصلہ خود ان کے مناظر نے کیا ہے اور جس کی ساری عمر گالیاں دینے میں گزری ہے تو وہ شریف انسان ہی نہیں ہو سکتا۔ جب شریف انسان نہیں، تو وہ نہ مجدد ہو سکتا ہے کیونکہ مجدد آخر شریف انسان ہی تو ہوتا ہے نا! نہ وہ مہدی ہو سکتا ہے نہ وہ مسیح ہو سکتا ہے۔ اب مسلمانوں نے سمجھا کہ ماسٹر صاحب نے واقعی ایسا کام نبھایا ہے، تو مقصد یہی ہے کہ اس کی

صفحہ ١٠٧

اصل پہچان جو ہے جیسے مولانا ظفر علی خان صاحب نے فرمایا ہے کہ گالی اس کی پہچان تھی، جھوٹ اس کا ایمان تھا اور کفر و شرک کی باتیں جو ہیں، یہی وہ کرتا تھا، آپ نے سنا ہو گا کہ بعض لوگ بہروپیے ہوتے ہیں۔ مرزا ایک مذہبی بہروپیہ تھا۔ عیسائیوں میں مسیح بن جاتا تھا۔ مسلمانوں میں امام مہدی بن جاتا تھا۔ ہندوؤں میں جاتا تو کرشن جی مہاراج بن جاتا تھا۔ سکھوں میں جاتا تو امیر الملک جے سنگھ بہادر بن جاتا تھا۔ یہاں اور روپ ہے، وہاں اور بہروپ ہے۔ بعض جگہ تو اس کی اچھی مرمت بھی ہوئی، کہتا تھا کہ میں عیسائیوں کا مسیح ہوں۔

علامات مسیح علیہ السلام اور مرزا قادیانی

چنانچہ عیسائیوں نے اس کو مناظرے کا چیلنج دے دیا کہ بھئی مناظرہ کرو۔ امرتسر میں مناظرہ ہوا۔ ”جنگ مقدس“ کتاب میں اس نے خود بھی اس کا ذکر کیا ہوا ہے اور کتابوں میں بھی مسلمانوں نے اس کا ذکر کیا ہے۔ اب یہ کہتا تھا کہ میں مسیح موعود ہوں، عیسائیوں نے کہا کہ مسیح کی کچھ نشانیاں وہ ہیں جو قرآن، حدیث اور انجیل وغیرہ میں آئی ہیں۔ کچھ نشانیاں وہ ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کا معجزہ تھا کہ مردہ زندہ ہو جاتا ہے۔ انجیل میں ایک واقعہ مذکور ہے کہ ایک شخص کا جنازہ جا رہا تھا۔ اس کی والدہ مریم بہت پیچھے روتی پیٹتی آ رہی تھی۔ اس نے درخواست کی کہ حضرت میرا یہ ایک بیٹا تھا جو فوت ہو گیا ہے۔ مسیح علیہ السلام نے فرمایا کہ چارپائی نیچے رکھو اور قم باذن اللہ کہا اور مردہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔ اسی طرح ایک بیمار کوڑھی کو لایا گیا۔ کوڑھی تھا وہ، تو مسیح علیہ السلام نے اس پر ہاتھ پھیرا تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کو کوڑھی کی بیماری سے شفا عطا فرمادی۔ تو امرتسر کے عیسائی بھی ایک کوڑھی لے آئے، ایک اندھا لے آئے، ایک لنگڑا لے آئے، ایک مردہ لے آئے کہ بھائی اگر تو مسیح ہے تو آخر کوئی نشانی تو مسیح والی دکھا۔ یہ مردہ زندہ کر کے دکھا، یہ لنگڑا ٹھیک ہو جائے، یہ اندھا درست ہو جائے، اور یہ جو کوڑھی ہے، یہ صحیح اور تندرست ہو جائے تو پھر ہم مانیں گے کہ واقعی تجھ میں مسیح والی شرائط موجود ہیں۔ اس لیے چلو ہم آپ کو مسیح مان لیں۔ اب

صفحہ ١٠٨

مرزا قادیانی میں کیا تھا‘ کچھ بھی نہیں۔ اب جب اس کے آگے مریض لائے گئے تو مرزا قادیانی نے بہانہ یہ بنایا کہ میں استخارہ کیے بغیر کوئی کام نہیں کرتا۔ آج رات استخارہ کروں گا‘ اگر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اجازت دی تو پھر معجزہ دکھاؤں گا‘ ورنہ میں معجزہ نہیں دکھا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اچھا تو استخارہ تو ہوتا رہے گا۔ مسیح علیہ السلام کا ایک نقشہ تو نے اپنی کتاب میں یوں کھینچا ہے کہ مسیح گالیاں دیتے تھے‘ مسیح علیہ السلام جھوٹ بولتے تھے‘ مسیح علیہ السلام کی تین نانیاں اور دادیاں زناکار اور بدکار عورتیں تھیں تو کم از کم تم اپنی تین نانیوں اور دادیوں کے نام تو لکھوا دو جو زناکار اور بدکار عورتیں تھیں‘ کوئی نشانی مسیح والی تو تم میں ملے جو تو نے اپنے قلم سے لکھا‘ وہی اپنے میں دکھا دو۔

پتوکی میں مناظرہ

پتوکی میں مناظرہ تھا تو بھی یہی پیش کیا کہ مرزا قادیانی گالیاں دیتا تھا اور مسیح علیہ السلام کے بارے میں اس نے یہ لکھا تو ان کا مناظر کہنے لگا کہ یہ تو ٹھیک ہے کہ مسیح علیہ السلام گالیاں دیتے تھے۔ آپ نے اگر انجیل پڑھی ہو تو آپ کو پتہ چلے گا‘ میں نے کہا‘ اچھا آپ انجیل سے نکال کر دکھائیں۔ اس نے کہا کہ دیکھ لکھا ہے یوحنا کی انجیل میں کہ یہودیوں کے فقیہہ اور فریسی جیسے ہمارے ہاں کچھ علماء ظاہر ہیں کچھ علماء باطن ہیں‘ یہودیوں میں بھی اسی طرح کے آدمی تھے۔ وہ علماء آئے اور انہوں نے عیسیٰ علیہ السلام سے معجزہ مانگا تو مسیح علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ زناکار لوگ مجھ سے نشانیاں مانگتے ہیں تو انہوں نے ان علماء کو زناکار جو کہا یہ گالی ہے یا نہیں؟ ساتھ ہی مجھے کہنے لگا کہ اگر میں تجھے کہوں کہ تو زناکار ہے تو گالی ہوگی یا نہیں؟ میں نے کہا بالکل ہوگی۔ میں تجھے کہوں پھر بھی ہوگی لیکن مسیح علیہ السلام نے گالی نہیں دی۔ وہ کہے جی زناکار کہا ان کو‘ میں نے کہا کہ آپ مجھے تو کہتے ہیں کہ آپ نے انجیل نہیں پڑھی۔ میں نے کہا‘ آپ نے پڑھی؟ میں نے تو پڑھی ہوئی ہے۔ اس کے پاس بائبل تھی۔ میں نے پکڑ لی‘ میں نے کہا پورا واقعہ کیا ہے؟ واقعہ تو اصل میں یہ ہے کہ جو تھے فقیہہ اور فریسی یہودیوں کے‘ وہ ایک عورت کو لے کر آئے کہ اس عورت کو عین حالت زنا میں

صفحہ ١٠٩

ہم نے گرفتار کیا ہے، تو اس پر آپ حد جاری کریں، شریعت کی حد کیا ہے؟ مسیح علیہ السلام نے فرمایا کہ تم میں سے جس نے کبھی زنا نہیں کیا وہ اس کو پتھر مارے، اب وہ سارے زنا کار تھے، کوئی پتھر نہ مارے۔ مسیح علیہ السلام نے فرمایا کہ پہلا پتھر وہ مارے جس نے کبھی زنا نہیں کیا۔ اب وہ آہستہ آہستہ سارے کھسک گئے اور ایک بھی ان میں سے باقی نہ رہا۔ وہ عورت اکیلی بیٹھی رہ گئی۔ کچھ وقت بعد مسیح علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ زناکار لوگ مجھ سے نشانیاں مانگتے ہیں، تو ان کو زناکار ایک فیصلہ کی حیثیت سے کہا، جیسے ایک جج فیصلہ کرے کہ ان کا زنا ثابت ہو گیا ہے، یہ لوگ زناکار ہیں۔ گالی اور چیز ہے اور فیصلہ جج کا اور چیز ہے۔ کسی کو ویسے کہہ دینا، زانی ہے۔ یہ واقعی گالی ہے۔ لیکن یہ کہ ان کا اعتراف جب پایا گیا کہ وہ واقعی سارے زناکار تھے اس کے بعد جناب مسیح علیہ السلام نے فیصلہ سنایا ہے۔ گالی نہیں دی۔ عجیب بات ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو اس بات کا فرق بھی معلوم نہیں تھا کہ فیصلہ کیا ہوتا ہے اور گالی کیا ہوتی ہے؟ اس پر جب میں نے وہ حوالہ پیش کیا تو انہوں نے کہا کہ جی آج ہماری تیاری نہیں ہے، دو مہینے آپ ہمیں مہلت دیں پھر ہم مناظرہ کریں گے۔ میں نے کہا دو مہینے کے بعد پھر مناظرہ نہیں ہوگا۔ یہ پیشگوئی میں لکھ دیتا ہوں اور میری پیشگوئی بالکل سچی ہوگی۔ مرزے کی ساری پیشگوئیاں جھوٹی تھیں۔

مرزا قادیانی کے مختلف بہروپ

تو مقصد یہ ہے کہ یہ جو عیسائیوں میں عیسیٰ علیہ السلام ”مسیح“ کا روپ اس نے دھارا تو انہوں نے اس کی اچھی خبر لی کہ تجھ میں نہ وہ نشانیاں موجود ہیں مسیح علیہ السلام کی، جو قرآن پاک میں ہیں۔ نہ وہ جو انجیل میں ہیں۔ نہ ہی وہ جو احادیث کی کتابوں میں ہیں اور نہ وہ نشانیاں ہیں جو تو اپنے آپ میں ثابت کرتا ہے اور جو تو نے اپنے قلم سے لکھی ہیں۔ کہ مسیح گالیاں دیا کرتا تھا، مسیح جھوٹ بولا کرتا تھا اور مسیح علیہ السلام کی دادیاں اور نانیاں اس قسم کی تھیں۔ تو کیسا مسیح ہے۔ خیر اب مرزا اگلے دن آیا اور کہا کہ میں نے رات اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی تھی، اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ مناظرہ بند کر دو، اس لیے آج کے بعد میں مناظرہ

صفحہ ١١٠

نہیں کروں گا۔ پندرہ دن تو مناظرے کے ہو گئے ہیں لیکن یہ فرمایا اللہ تعالیٰ نے پندرہ دن کا مطلب پندرہ مہینے ہیں۔ یہ جو مخالف مناظر ہے۔ پندرہ مہینوں میں عیسائی مناظر مر جائے گا۔ بس سزائے موت ہاویہ میں گرایا جائے گا اور اس پر پھر پورا زور دیا کہ اگر یہ میری پیشنگوئی پوری نہ ہو سکی تو میں تمام یہودیوں سے بدتر ہوں گا‘ میں تمام بدکاروں سے بدتر ہوں گا‘ میرا منہ کالا کیا جائے‘ مجھے پھانسی دی جائے‘ میں ہر سزا اٹھانے کو تیار ہوں گا اور یہ اردو میں کتاب ہے۔ اردو کتابوں کو اس لیے چھپانے کی کوشش کرتے ہیں‘ جب بھی قادیانیوں سے بات ہو تو ہوتا کیا ہے جی صرف قرآن و حدیث سے بات کرنی ہے۔ یہ نہیں کہ وہ قرآن کو مانتے ہیں بلکہ مقصد یہ ہے کہ کہیں مرزے کی کتاب سامنے نہ آجائے۔ اردو میں ہے۔ لوگ پڑھ کر مرزا کو پہچان لیں گے۔ اس لیے مرزے کو چھپانے کے لیے قرآن و حدیث کا نام لیتے ہیں۔ تو یہ لوگ جو ہیں‘ اسی انداز میں قرآن و حدیث کا نام لے کر اپنی باتوں کو چھپاتے ہیں۔ خیر اس کے بعد وہ پندرہ مہینے تو گزر گئے۔ حالانکہ عبداللہ آتھم مرتد تھا‘ نام دیکھو نا مسلمانوں والا ہے۔ مرتد تھا لیکن اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس مرتد کے مقابلے میں بھی اس (مرزا قادیانی) کو ذلیل کیا۔

مرزا مرتد سے بدتر

اس کا مقصد یہ ہے کہ خدا کی بارگاہ میں یہ (مرزا) اس مرتد سے بھی زیادہ ذلیل ہے۔ اس نے پیشین گوئی تو کر دی اس کے بعد کوشش کی‘ پہلے تو دو چار سانپ پکڑوائے اس کے گھر میں کہ چلو کوئی سانپ ہی لڑے گا‘ یہ مرجائے گا۔ پھر حملہ کروایا‘ اس کا داماد آیا ہوا تھا۔ رات کو اٹھا تو دیکھا کہ کچھ آدمی دیوار پھلانگنا چاہتے ہیں۔ اس نے شور مچا دیا۔ وہ فوراً بھاگ گئے۔ پھر جو آخری تاریخ تھی۔ قادیانی مرزا اور اس کے سارے ماننے والے بیٹھ کر چنوں پر سورۃ فیل کا وظیفہ پڑھنے لگے کہ یا اللہ آتھم مر جائے‘ یا اللہ آتھم مرجائے‘ یا اللہ آتھم مرجائے۔ عبداللہ سنوری کہتا ہے کہ پھر وہ چنے مجھے دیے گئے کہ کسی اندھے کنویں میں پھینک کر تین مرتبہ کہنا آتھم مرگیا‘ آتھم مرگیا‘ آتھم مرگیا اور پھر واپس آجانا‘ پیچھے مڑ کر

صفحہ ١١١

نہیں دیکھنا۔ اب یہ بھی سارے پاپڑ بیلے لیکن ان پندرہ مہینوں میں آتھم کے سر میں درد بھی نہیں ہوا۔ مرنا تو کیا‘ اور پھر خود لکھتا ہے اپنی کتاب ”سراج منیر“ میں کہ وہ جو دن تھا‘ وہ میرے لیے بڑا پریشان کن دن تھا کہ پشاور سے لے کر کلکتہ تک ہر شہر میں عیسائیوں نے اپنی فتح کے جلوس نکالے۔ امرتسر میں آتھم کو ریڑھی پر بٹھالیا۔ آگے آگے لے جا رہے تھے پیچھے پیچھے نعرے لگ رہے تھے۔ بہت سے اشتہار شائع ہوئے۔ ایک اشتہار کا عنوان یہ تھا کہ:

پنجہ آتھم سے رہائی مشکل ہے آپ کی
توڑ ڈالے گا یہ آتھم اب نازک کلائی آپ کی

اس قسم کی نظم میں بھی‘ نثر میں بھی جو کچھ ہو سکا اور بہت سے پادری اور عیسائی جو تھے وہ کالک لے کر منہ کالا کرنے کے لیے اس (مرزا غلام قادیانی) کے دروازے پر جا بیٹھے۔ انہوں نے پھانسی بھی کھڑی کرلی۔ اس پر (مرزا قادیانی) نے لکھا تھا کہ میرا منہ کالا کرنا اور پھانسی پر لٹکانا۔ اس نے ”یا پولیس المدد“ پولیس کو اطلاع دی تو پادری اب کچھ نہیں کر سکتے تھے۔ پولیس نے روک لیا۔

مرزا اور کسر صلیب

وہ بار بار یہی طعنہ دے رہے تھے کہ تو کہتا ہے کہ میں کسر صلیب ہوں۔ صلیب کو توڑنے آیا ہوں۔ آج یہ صلیب والی پولیس تجھے بچا رہی ہے۔ اگر یہ نہ آتی تو‘ تو بچ نہیں سکتا تھا ہمارے ہاتھوں۔ تو اچھا کسر صلیب ہے کہ جب تک صلیب کی پولیس تیری حفاظت نہیں کرتی‘ تیری جان ہی محفوظ نہیں ہے۔ تو اس لیے یہ بہروپ تھا جو اس نے عیسیٰ علیہ السلام کا دھارا اور عیسائیوں نے اس کی خبر لی۔

مہدی کا جب روپ دھارا تو کچھ مراٹھی پہنچ گئے اس کی خبر لینے‘ پتہ چلا کہ کوئی مہدی بنا ہے‘ وہ مدرسہ میں گئے مولوی صاحب کے پاس کہ حضرت وہ حدیثیں لکھ دیں جن میں امام مہدی کا ذکر ہے۔ مولوی صاحب نے حدیثوں کا ترجمہ لکھ دیا۔ انہوں نے اچھی طرح

صفحہ ١١٢

دو چار مرتبہ مولوی صاحب سے پڑھا اور پھر قادیان چلے آئے۔ آگے مرزا غلام احمد قادیانی بیٹھا تھا۔ مراثیوں نے جا کے پوچھا کہ مہدی کہاں ہے؟ مرزا قادیانی نے کہا کہ میں مہدی ہوں۔ اچھا‘ آپ مہدی ہیں! جی ہاں‘ اچھا یہ پھر حدیثیں پڑھ لیں۔ آپ ان حدیثوں کے مطابق ہی آئے ہیں ناں‘ امام مہدی کا نام محمد ہو گا‘ آپ کا بھی نام محمد ہے۔ مرزا خاموش رہا۔ امام مہدی کی والدہ کا نام آمنہ ہو گا‘ آپ کی والدہ کا نام بھی آمنہ ہے۔ وہ خاموش۔ امام مہدی کے والد کے نام عبداللہ ہو گا‘ آپ کے والد کا نام بھی عبداللہ ہے۔ امام مہدی حسنی حسینی ہوں گے تو آپ بھی سید ہیں‘ یا مغل ہیں۔ مرزا کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ ایک مراثی نے کہا کہ اتنی لمبی چوڑی باتیں کرنے کا کیا فائدہ۔ اس نے کہا کہ چادریں بچھاؤ۔ یہ حدیث میں لکھا ہے کہ امام مہدی اتنے سخی ہوں گے کہ کوئی غریب آئے گا‘ اٹھ کر نہیں دیں گے بلکہ کہیں گے کہ چادریں بچھالو اور یہاں سے بھر بھر کے لے جاؤ۔ مراثیوں نے کہا‘ ہمیں پتہ نہیں تھا‘ سوچا ابھی پکا کر لو سچا امام مہدی ہے یا۔۔۔۔؟ چھوٹی چادریں لائے ہیں۔ چادریں بچھانی شروع کر دیں اور کہا کہ یہ بھر دو ”روپوؤں“ کی‘ ہم یہ لے جائیں گے اور پھر دوسروں کو بھیجتے جائیں گے اور اگلی دفعہ بڑی چادریں لے کر آئیں گے۔ اب مرزا قادیانی نے ساری زندگی میں کبھی دو آنے کی زکوٰۃ نہیں دی‘ وہ مراثیوں کو کہاں سے دے۔ بڑا پریشان ہوا۔ کہنے لگا کہ بھائی کوئی اور امام مہدی ہو گا جو دینے والا ہو گا‘ میری تو خود مہدیت چندے پر چلتی ہے‘ لوگوں سے چندہ مانگتا ہوں پھر گزارہ کرتا ہوں۔ مراثیوں نے کہا کہ ہمیں تو نہیں پتہ تھا کہ تو منگتا امام مہدی ہے۔ چندہ مانگنے کے لیے آیا ہوا ہے۔ ہم تو یہ اللہ کے نبی کی حدیثیں پڑھ کر آئے کہ امام مہدی دیں گے۔ آپ دینے والے امام مہدی نہیں‘ مانگنے والے امام مہدی ہیں۔

اب بات یہ ہے کہ ہمیں جانے کا کرایہ دے دو‘ ہم چلے جاتے ہیں اور اعلان کرتے جائیں گے کہ یہ وہ امام مہدی نہیں ہے‘ جس کا ذکر حدیثوں میں آیا ہے۔ یہ تو کوئی منگتا امام مہدی آگیا ہے کہ پیسے دینے کو تیار نہیں۔ کسی کو چادریں بھر کے کیا دے گا یہ۔ اب مرزا مراثیوں کے قابو میں آگیا کہ جیب سے کرایہ بھی دوں اور اعلان بھی مراثی یہ کرتے جائیں کہ وہ امام مہدی نہیں ہے۔ پیسہ بھی جیب سے دوں‘ آخر غصہ میں آکر کہا کہ نکل جاؤ یہاں سے۔ کوئی پیسہ نہیں ہے میرے پاس۔ انہوں نے کہا کہ ہم کہاں جائیں۔ کرایہ تو ہمارے

صفحہ ١١٣

پاس نہیں ہے۔ ہم تو اتنے ہی پیسے لے کر آئے تھے کہ امام مہدی کے پاس جارہے ہیں۔ وہاں سے گٹھڑیاں باندھ کر لائیں گے‘ واپسی کے کرایہ کی کیا ضرورت ہے۔ ہمیں کیا پتہ تھا کہ تو منگتا امام مہدی ہے۔ مراثیوں نے کہا کہ اچھا پھر آپ یہ تو اجازت دیں گے ناں‘ کہ ہم آپ کی نقل اتاریں اور لوگوں سے پیسہ پیسہ اکٹھا کر کے کرایہ تو بنالیں نا۔ ہم نے واپس بھی تو جانا ہے۔ کہا ٹھیک ہے۔ اب وہ باہر بیٹھ گئے۔ ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔ ایک دائیں طرف بیٹھ گیا۔ باقی سب سامنے بیٹھ گئے۔ ایک نے آدھا منہ کالا کر لیا اور ایک طرف ہو کے الگ بیٹھ گیا۔ ایک نے سارا ہی منہ کالا کر لیا اور ایک ٹوکرے کے نیچے چھپ کے بیٹھ گیا۔ تو جن کو قادیان کے بارے میں پتہ ہے۔ قادیان کی ایک گلی میں مرزا کی دکان تھی جھوٹی نبوت کی‘ اور دوسری گلی میں ایک ہندو کی دکان تھی۔ اس نے اوپر بورڈ لگا رکھا تھا۔ رب قادیان ”قادیان کا رب“ تھا۔ ہندو بس دکان پر بیٹھا رہتا جب کوئی قادیانی گزرتا تو شور مچاتا کہ جھوٹا ہے تمہارا نبی‘ میں نے نہیں بنایا کیونکہ قادیان کا رب میں ہوں ناں‘ تمہارا نبی جھوٹا ہے۔ میں نے نہیں بنایا۔ یہ قادیانی ساری عمر اس کا بورڈ نہیں اتروا سکے۔ عدالت میں درخواست بھی دی۔ ڈگلس کے سامنے پیش بھی ہوئے‘ ڈگلس نے بطور سفارش کہا کہ چلو میرے کہنے سے آپ بورڈ اتار لیں۔ ہندو نے کہا‘ اس کو بھی کہو کہ یہ بھی اپنا بورڈ اتار لے جو جھوٹی نبوت کا لگایا ہوا ہے۔ اس نے کہا کہ بات یہ ہے کہ انگریزی قانون میں جھوٹا نبی بننا کوئی جرم نہیں ہے۔

قادیان کا رب

اس نے کہا‘ جھوٹا رب بننا جرم ہے؟ مجھے وہ قانون دکھاؤ تو۔ جرم تو وہ بھی نہیں ہے‘ پھر رہنے دو دونوں۔ اب یہ جو مراثی کرسی پر بیٹھا تھا‘ یہ رب قادیان بن گیا‘ یہ جو ادھر بیٹھا تھا۔ اس نے کہا‘ جبرئیل! ہاں رب جلیل۔ وہ رجسٹر لانا نبیوں کی حاضری لگا لیں ذرا۔ اس نے ایک گتہ سا دے دیا۔ اب اس مراثی کو جو نام آتے تھے۔ مثلاً آدم‘ حاضر جناب‘ موسیٰ‘ حاضر جناب‘ عیسیٰ‘ حاضر جناب‘ نوح‘ حاضر جناب‘ جو نام اسے آتے تھے۔ بولتا گیا۔

صفحہ ١١٤

اور جو سامنے بیٹھے تھے، وہ حاضری بولتے گئے۔ آخر اس کو جتنے نام آتے تھے۔ اس نے بولے اور پھر گتہ جبرئیل کو واپس کر دیا۔ اور جس کا آدھا منہ کالا تھا۔ وہ کھڑا ہوا کہ جناب آپ نے میری حاضری نہیں بولی۔ تو کون ہے؟ کہاں سے آیا ہے؟ کہا، جی میں مرزا غلام احمد قادیانی ہوں۔ تجھے میں نے کب نبی بنایا تھا۔ کہا جی کہیں کچی میں نام ہو گا چلو پکی میں نہ سہی، تو کہیں کچی جماعت والوں میں نام ہو گا۔ اس نے کہا نہ تیرا کچی میں نہ پکی میں تو آیا کہاں سے؟ جب تین مرتبہ کہا نہیں جی ہو گا، کہیں کسی گتے کے باہر لکھا ہو گا، اندر نہ سہی۔ اتنے میں وہ جو ٹوکرے کے نیچے چھپا ہوا تھا سارا منہ کالا کر کے، وہ شیطان بنا ہوا تھا۔ وہ ٹوکرا اٹھا کے آگیا اور ہاتھ باندھ کے کھڑا ہو گیا۔ کہ جی اگر جان بخشی ہو تو کچھ عرض کروں۔ کہا ہاں، کیا کہنا چاہتے ہو۔ کہا کہ آپ نے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر بنائے تھے۔ میں نے اعتراض کیا تھا؟ میں نے یہ ایک ہی بنایا ہے اور اس کا بھی آپ نے دل توڑ دیا۔ چلو دل رکھنے کے لیے کچھ تو کرتے ناں۔ اب مرزا دیکھ رہا تھا سارا سین۔ جلدی سے اس نے دس کا نوٹ نکال کر کہا کہ کمبختو یہاں سے نکل جاؤ۔ دفع ہو جاؤ اور کوئی نقل نہ اتارنا بس اتنا ہی کافی ہو گیا ہے۔

تو مقصد یہ ہے کہ یہ بہروپ تو بڑے دھارتا تھا کبھی کچھ بن جاتا تھا، کبھی کچھ بن جاتا تھا۔ لیکن مہدی کے مسئلے پر مراثیوں نے اس کی اچھی خبر لی اور ویسے اس کو سمجھنا بھی کوئی مشکل نہیں ہے۔ آدمی سفر میں ہوتا ہے۔ کوئی بات چیت شروع کرتا ہے تاکہ سفر کٹ جائے اور ہمارے تبلیغی بھائی تبلیغ کے چھ نمبر شمار کرنا شروع کرتے ہیں تاکہ بات بھی ہوتی رہے۔ کوئی مولوی صاحب بیٹھے ہوں تو دین کی باتیں شروع ہو جاتی ہیں۔ ایک مولوی صاحب بیٹھے تھے۔ لوگ مسائل پوچھ رہے تھے۔ ایک قادیانی بھی ان کے ساتھ بیٹھا تھا۔ اسے بھی خارش ہو گئی مسئلہ پوچھنے کی کہ مولانا، مرزا صاحب کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں۔ مولانا سوچنے لگے کہ کس انداز سے بات شروع کروں تاکہ لوگوں کو بات سمجھ میں آئے۔ ایک دیہاتی بیٹھا تھا سامعین میں، اس نے کہا کہ مولانا اس کا جواب نہ دیں، میں جواب دیتا ہوں۔ ہاں بھائی! آپ نے پوچھا ہے کہ مرزا صاحب کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں۔ کون سے مرزا صاحب؟ دو مرزے مشہور گزرے ہیں۔ ایک مرزا صاحبہ کا عاشق تھا اور ایک محمدی بیگم کا۔ (دونوں رن مرید عاشقوں کا سن رکھا ہے) دونوں عورتوں

صفحہ ١١٥

کے عاشق تھے۔ تو دو مرزے گزرے ہیں۔ تو کس مرزے کے متعلق پوچھ رہا ہے؟ اب اس نے کیا پوچھنا تھا۔ اس کا جواب تو اس نے ایک فقرہ میں پورا کر دیا "اب وہ تو پوچھے نا" وہ کہے عورتوں کے عاشق دو مرزے گزرے ہیں، ہمیں اور کا علم نہیں۔ اب وہ مرزا کی تو نہ بولا مگر دوسرے کہنے لگے کہ دونوں کے متعلق کچھ کچھ بتا دیں۔ اس نے کہا میں نے کون سا گھنٹے دو گھنٹے کا درس دینا ہے۔ ہم تو پنجابی لوگ ہیں "سوتھہ رستہ تے سرتے گنڈ" کہتا ہے! جو تھا ناں صاحبہ کا عاشق، آدمی کم از کم تھا بہادر، برات آ کے بیٹھی ہوئی تھی اور وہ صاحبہ کو اٹھا کر بھاگ گیا۔ اس کے بھائیوں نے تعاقب کیا، اس کو مار دیا گولیوں سے۔ تو چلو مردوں کی طرح مرا ناں۔ بھائی، یہ جو تھا ناں محمدی بیگم کا عاشق، پرلے درجے کا بزدل تھا۔ ساری عمر چیختا رہا کہ عرش پر اللہ نے میرا نکاح پڑھ دیا ہے۔ یہاں مولوی صاحب جس کو جمراتی ملاں کہتے ہیں، یہ نکاح پڑھ دے تو عدالت سے نہیں ٹوٹتا اور وہ کہتا تھا! اللہ نے میرا نکاح عرش پر پڑھ دیا ہے۔ لیکن کہتے ہیں، جس طرح وہ بے غیرت تھا، اسی طرح اس کی امت بھی بے غیرت ہے۔ نکاح مرزا کے ساتھ ہوا اور رہی وہ ساری عمر ہمارے ہاں مسلمانوں کے پاس۔ جن کی ام المومنین تھی، ان میں سے کسی کو غیرت نہیں آئی اور وہ مرزا بیچارہ یہی پڑھتا پڑھتا مرگیا:

ہم انتظار وصل میں وہ آغوش غیر میں
قدرت خدا کی درد کہیں اور دوا کہیں

وہ بیچارہ یہی شعر پڑھتا پڑھتا مر گیا۔ یہی اس کی کیفیت تھی۔ تو بہرحال یہ ایک مذہبی بہروپ اس نے دھارا تھا تاکہ چندہ بھی مسلمانوں سے اکٹھا کرے کہ میں عیسائیوں سے مناظرہ کرتا ہوں اور مخالفت بھی اسلام ہی کی کرے، تو دیکھیے اختلاف جو ہوتا ہے، اس کی بنیادی قسمیں تین ہوتی ہیں:

ایک ہے کفر و اسلام کا اختلاف۔

ایک ہے سنت و بدعت کا اختلاف۔

اور ایک اجتہادی اختلاف۔

یہ جو ہمارا اختلاف قادیانیوں کے ساتھ ہے، یہ پہلے درجے کا اختلاف ہے۔ اسلام اور کفر کا اختلاف ہے۔ بعض اوقات لوگ سمجھتے ہیں کہ اختلاف سنت و بدعت کا بھی ہوتا

صفحہ ١١٦

ہے‘ شاید یہ ایسا اختلاف ہو۔ اختلاف آئمہ مجتہدین میں بھی ہوا تو شاید یہ اسی قسم کا اختلاف ہو۔ لیکن یہ اختلاف پہلے درجے کا ہے۔ اسلام اور کفر کا اختلاف۔ ایک دفعہ قادیانیوں سے میرا مناظرہ ہوا اسی بات پر کہ یہ مسلمان ہیں یا کافر‘ مجھے انہوں نے پوچھا کہ تو قادیانیوں کو کافر کہتا ہے‘ تجھے کفر کی تعریف آتی ہے؟ میں نے کہا‘ آتی ہے۔ کفر کی تعریف بتاؤ‘ کیا ہے؟ میں نے کہا دین کے وہ ضروری عقائد جو اللہ کے پاک پیغمبر ﷺ سے اتنے عظیم الشان اجماع سے پہنچے کہ سارے مسلمان پڑھے ہوئے اور ان پڑھ‘ ان عقائد کو جانتے ہیں بلکہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے لیے ضروری عقائد ہیں۔ ان عقیدوں کو ضروریات دین کہا جاتا ہے‘ ان میں سے سب کو ماننا‘ اس کا نام اسلام ہے‘ ایمان ہے اور ان میں سے کسی ایک کا انکار کر دینا یا باطل تاویل کر دینا کہ معنی اٹھ جاتے ہیں‘ اس کا نام کفر ہے۔ تو وہ جلدی سے بولا کہ یہ تو بات غلط ہے۔ عقل اور نقل دونوں کے خلاف ہے۔ میں نے کہا یہ بات وہی کہے گا‘ جس کے پاس نہ عقل ہو نہ نقل ہو‘ اگر تیرے پاس عقل یا نقل ہے تو بیان کر تیرے پاس عقلی دلیل کون سی ہے اس چیز کے غلط ہونے کی اور نقلی دلیل کون سی ہے؟ میں نے کہا تو نے یہ دو الفاظ یاد کر لیے ہیں عقل اور نقل۔ لیکن خود تجھے پتہ نہیں کہ عقل کسے کہتے ہیں اور نقل کسے کہتے ہیں۔ وہ جس طرح کسی دیہاتی زمیندار کو شوق ہو گیا انگریزی پڑھنے کا۔ اس نے دو لفظ یاد کر لیے ”یس“ اور ”نو“۔ اب جب بھی بولتا ”یس“ ”نو“۔ تو کچھ دنوں بعد اس کے کھیت میں سے ایک لاش ملی۔ پولیس اس کو پکڑ کر تھانے لے گئی۔ وہاں اس سے پوچھا کہ یہ قتل آپ نے کیا ہے۔ کہا ”یس“۔ اس کا کوئی گواہ بھی تھا کہنے لگا ”نو“۔ تو جج نے پھانسی کی سزا سنادی۔ جب پھانسی کا سنا تو رونے لگا کہ جی کس جرم میں پھانسی؟ کہا تو نے اس کو قتل نہیں کیا؟ کہنے لگا‘ نہیں۔ پہلے پوچھا تو کہتا ہے ”یس“۔ روتے ہوئے کہنے لگا کہ مجھے تو پتہ نہیں‘ ”یس“ کا معنی کیا ہوتا ہے‘ میں نے پوچھا کوئی گواہ ہے۔ تو تو نے ”نو“ کہا تھا۔ کہنے لگا مجھے تو پتا نہیں کہ ”نو“ کا کیا معنی ہوتا ہے۔ اس جج بیچارے کو نہیں پتا تھا ناں کہ یہ اس پنجاب کا رہنے والا ہے جس کے نبی کو اپنی وحی کا ترجمہ بھی نہیں آتا۔ ہندو لڑکی سے ترجمہ کرایا کرتا تھا‘ انگریزی میں جو وحی آتی تھی۔ اس کی زبان پنجابی تھی۔ وحی کبھی فارسی میں آ گئی‘ کبھی عربی میں آگئی‘ کبھی انگریزی میں آگئی۔ اس لیے سائیں محمد حیات صاحبؒ نے لکھا تھا:

صفحہ ١١٧
پنجابی نبی تے وحی انگریزی وچ
ہر کم اس اوت دے اوت دا اے
دیسی ٹٹو تے مٹیاں خراسانی دیاں
لتاں تریٹ دیاں نے تے سر پوت دا اے

قادیانی وحی

”تریاق القلوب“ صفحہ ١٢٩ میں الہام ہے۔ دس دن کے بعد موج دکھاتا ہوں۔ اس دن کے بعد موج دکھاتا ہوں: Then you will go to Amretser ’آئل‘ بائل‘ شائل۔ دیکھو اردو سے الہام شروع ہوا۔ پھر انگریزی میں پہنچا اس کے بعد ایسی زبان میں ہوا جو مرزے کو ساری عمر نہیں آئی۔ بالکل ایک لفظ بھی نہیں آتا۔ تو دیکھو جس کے الہامات ایسے تھے نہ کسی کو سمجھ ہے نہ کچھ۔

حضرت حکیم الامتؒ نے لطیفہ لکھا ہے کہ حج کے لیے کوئی پنجابی گئے۔ میاں بیوی دونوں وہاں لڑ پڑے۔ اس نے غصہ میں ذرا اس کی پٹائی کر دی‘ وہاں مقدمہ بن گیا۔ اب جو گواہ دیکھنے والے تھے۔ وہ بھی پنجابی۔ یہ میاں بیوی بھی پنجابی۔ وکیل اب گواہوں کو بیان یاد کرا رہا ہے کہ عدالت میں بیان عربی میں ہوتا ہے‘ پنجابی میں نہیں ہوتا۔ تو مرد کی طرف اشارہ کر کے کہنا ’ھذا‘۔ عورت کو کہنا ھذہ۔ تو چار مکے اس نے مارے ہیں تو چار کو عربی میں اربعہ کہتے ہیں۔ پانچ لاتیں ماری ہیں تو پانچ کو خمسہ کہتے ہیں۔ اس بیچارے کو یاد کراتا رہا‘ رٹواتا رہا بیان۔ عدالت میں پہنچے تو جج نے پوچھا ’گواہ ہے؟‘ کہا‘ جی ہے۔ ہاں بھائی دو گواہی۔ کہتا ہے ھذا ماری ھذی کو‘ اربعہ مکے و خمسہ لاتیں۔ اب وہ جج بیچارہ دیکھے کہ بھائی یہ کیا بیان ہو رہا ہے۔ بھائی گواہی کیا ہے۔ تو وکیل نے کہا یہ اس علاقے کا رہنے والا ہے جہاں کے نبی پر وحی تین زبانوں میں آتی تھی۔ یہ تو ابھی دو بول رہا ہے‘ اس لیے یہ بیچارہ معذور اور مجبور ہے۔ تو میں نے کہا اس نے ”یس“ اور ”نو“ یاد کیے ہوئے تھے‘ تو نے عقل اور نقل کا لفظ یاد کیا ہوا ہے۔ تجھے تو نہیں معلوم‘ اب مجھ سے سنو:

صفحہ ١١٨

ماننے کے لیے پوری باتوں کا ماننا ضروری ہے اور کفر کے لیے کسی ایک کا انکار کرے تو آدمی کافر ہو جاتا ہے۔ تو میں نے کہا کہ دیکھو! پہلی مثال تو مسیلمہ کذاب کی ہے کہ مسیلمہ پنجاب کی طرح مسیلمہ کذاب نے بھی ختم نبوت کا انکار کیا تھا۔ باقی ساری باتیں مانتا تھا۔ تو کسی نے یہ نہیں کہا کہ اس کی پہلے ایمانیات گنو پھر ایک کفر کو دیکھو اور اس کو مومن کہو۔ بالاتفاق اس کو کافر کہا، منکرین زکوٰۃ نے زکوٰۃ کا انکار کیا، ان کو کافر کہا گیا، قرآن پاک نے صاف لفظوں میں کہا "وقالوا كلمة الكفر و كفروا بعد اسلامهم" کہ تھے وہ مسلمان اور اسلام کی ساری باتیں مانتے تھے۔ ایک کلمہ کفر کا کہا، اور ان کو کافر کہا گیا۔ شیطان سارے حکم مانتا رہا، ساری عبادت کرتا رہا، ایک حکم کا انکار کیا۔ ایک حکم تو کان من الکفرین اور وہ کافر قرار دے دیا گیا، میں نے کہا یہ تو ہیں نقلی دلائل ہیں۔ اب عقلی سنیں۔ یہ رومال ہے میرے ہاتھ میں اس کو پاک کرنے کے لیے شرط ہے کہ کوئی گندگی اس پر نہ لگی ہو۔ لیکن ناپاک کرنے کے لیے اگر کوئی کہے کہ ابھی صرف ایک نجاست لگی ہے باقی تو سینکڑوں نجاستیں باقی ہیں، جب تک ساری دنیا کی نجاستیں اس کو نہ لگیں۔ اس کو ناپاک نہیں کہا جائے گا۔ کوئی آدمی یہ بات مانے گا؟ پاک ہونے کے لیے تو پاکی کی ساری شرائط ضروری ہیں لیکن ناپاک ہونے کے لیے ایک ناپاکی لگنے سے یہ رومال ناپاک ہو جائے گا۔ میں نے کہا، تندرست ہونے کے لیے ضروری ہے کہ صحت کی ساری شرطیں ہوں۔ ایک بھی بیماری نہ ہو لیکن بیمار ہونے کے لیے کبھی شرط نہیں لگی کہ ابھی ہیضہ، ٹی بی، دو چار بیماریاں ہیں۔ اس کو بیمار نہیں کہا جائے گا۔ ابھی تو سینکڑوں بیماریاں رہتی ہیں۔ جب ساری دنیا کی بیماریاں اس کو لگیں گی۔ تب اس کو بیمار کہا جائے گا۔ یہ بحث ٥٣ء میں ہوئی تھی۔ جب قادیانیوں والی تحریک چل رہی تھی تو اصل میں جسٹس منیر نے یہ سوال چھیڑا تھا۔ جو بھی جاتا، اس سے پوچھتا کہ کفر کی تعریف کیا ہے۔

کفر و ایمان کی تعریف

ایمان کی تعریف کیا ہے اور پھر مذاق اڑاتے یہ لوگ کہ یہ مولوی ہیں ان کو نہ کفر کی

صفحہ ١١٩

تعریف آتی ہے، نہ ایمان کی۔ ویسے ہی کافر کافر کہتے رہتے ہیں۔ بڑی شورش تھی، اخبارات میں جب یہ باتیں شائع ہوئیں تو حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس صاحب کاندھلویؒ نے درخواست دی کہ مجھے طلب کیا جائے۔ میں کفر و ایمان کی تعریف آپ کو سمجھاؤں گا۔ حضرت تشریف لے گئے۔ جج نے پوچھا۔ انہوں نے یہی تعریف سمجھائی اچھی طرح کہ ایمان کہتے ہیں تمام ضروریات دین کو ماننا اور کفر کہتے ہیں ضروریات دین میں سے کسی ایک کا انکار کرنا یا اس کی غلط تاویل کرنا۔ جب اچھی طرح بات سمجھائی، جج کو بات سمجھ آگئی تو اس نے کہا یہ ویسے ہی کافر کہتے رہے ہیں۔

حضرت نے فرمایا کہ نہیں، ان کو پوری پہچان ہے کفر و اسلام کی لیکن تعریف کرنا ہر آدمی کا کام نہیں ہوتا۔ جتنی بات زیادہ پھیلائی جائے اس کی تعریف جو ہے ناں وہ مشکل ہوگی کیونکہ تعریف جامع مانع ہوتی ہے ناں، اس کا ایک حصہ جنس ہے دوسرا فصل ہے۔ تاکہ جنس سے جامعیت آئے اور فصل سے مانعیت آئے تو تعریف مشکل ہوتی ہے۔ جج صاحب نے کہا میں یہ بات نہیں مانتا۔ حضرت نے فرمایا کہ اچھا، آپ گلاس کو پہچانتے ہیں ناں۔ کہا، جی ہاں! ذرا تعریف کریں اس کی جامع مانع، وہ مصیبت میں پھنس گیا۔ دیکھیں جس میں پانی پیتے ہیں، اگر کوئی بوتل میں پانی پی رہا ہو تو اس کو بھی گلاس کہو گے؟ کولی میں پی رہا ہو پھر، کہا نہیں ویسے جس میں پانی پیتے ہیں، کہا اچھا میں یوں ہاتھوں کو جوڑتا ہوں کیا ہم گلاس سے پانی پی رہے ہیں؟ کہنے لگا وہ تو لمبا سا ہوتا ہے۔ مولانا نے فرمایا، بوتل بھی لمبی ہوتی ہے۔ ایسی تعریف بیان کر کہ گلاس کے علاوہ اس میں کوئی اور چیز شامل نہ ہوسکے۔ اب اسے تعریف نہ آئے۔ حضرت نے فرمایا، جیسے تو نے علماء کا مذاق اڑایا ہے۔ مجھے بھی حق ہے ناں کہ میں اخبار میں بیان دے دوں کہ پاکستان نے جج اس کو بنایا ہے، جس کو گلاس کی تعریف نہیں آتی۔ اس نے کہا، جی تعریف تو مجھے نہیں آتی لیکن پہچان پوری ہے مجھے کہ یہ گلاس ہے۔ میں بھول نہیں سکتا۔ فرمایا اسی طرح علماء اور مسلمانوں کو پوری پہچان ہے کفر اور ایمان کی لیکن تعریف ہر آدمی نہیں کرسکتا۔ اچھا پھر جج صاحب ذرا پاجامہ کی تعریف فرمادیں۔ اب وہ پھر مصیبت میں پھنس گیا، کہنے لگا جو نیچے باندھا جائے۔ فرمایا چادریں بھی ہوتی ہیں، انڈر ویئر بھی ہوتا ہے۔ کئی چیزیں ہوتی ہیں، شلوار بھی ہوتی ہے۔ صرف پاجامہ رہے تعریف میں باقی سب چیزیں نکل جائیں۔ اب وہ کیا تعریف کرے بیچارہ، مولانا پوچھیں۔ آپ کو پاجامہ کی

صفحہ ١٢٠

پہچان ہے۔ وہ کہے بالکل پہچان ہے۔ فرمایا، پھر تعریف کرو، کہا جی تعریف میں نہیں کر سکتا۔ مولانا نے فرمایا، اب میں کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان نے جج اس کو بنایا جس کو پاجامہ کی تعریف کا پتہ نہیں۔

مقصد یہ ہے کہ یہ اختلاف ایمان و کفر کا اختلاف ہے۔ سنت و بدعت کا اختلاف نہیں، اجتہادی اختلاف بھی نہیں اور اسلام کے جو ضروری عقائد ہیں۔ ان کو ماننے کا نام اسلام ہے۔ جب میں نے یہ بیان کیا اب وہ قادیانی تھا، کہنے لگا۔ اچھا۔ مرزا کے کفر کی وجوہات کیا ہیں۔ میں نے کہا کہ شاید وہ آسمان کے ستاروں سے زیادہ ہوں، لیکن جب میں نے تعریف میں بیان کیا کہ وجہ ایک بھی ثابت ہو جائے تو آدمی کافر ہو جاتا ہے۔ میں اس وقت چار رکھوں گا اور وہ چاروں وہ ہوں گی، جس پر خود مرزا قادیانی کے دستخط کراؤں گا کہ مرزا قادیانی جو ہے، اس نے بھی ان کو وجہ کفر مانا ہے۔ سب سے پہلا انکار ختم نبوت، دعویٰ نبوت، توہین انبیاء علیہم السلام اور تکفیر مسلمین یعنی سب مسلمانوں کو کافر کہنا۔ یہ دو تین مہینوں کی بات ہے کہ ہمیں ایک جگہ مناظرہ کے لیے جانا پڑا۔ وہ آئے پہلے جی موضوع طے ہو جائے۔ اب ان کی کوشش ہوتی ہے کہ مرزا کی کتابوں کا ذکر ہی نہ آئے۔ اچھا جی، یہ موضوع طے ہے۔ میں نے کہا، موضوع یہی ہے کہ ہمارا عقیدہ ہے مسلمانوں کا کہ رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے میں کامل نجات ہے۔ آپ ﷺ کے ساتھ کسی اور کو ماننا قطعاً ضروری نہیں بلکہ ماننا ہی نہ چاہیے۔ جو آپ ﷺ پر ایمان لے آیا وہ پکا مومن ہے اور نجات اس کا حق ہے۔ یہ ہے ہمارا عقیدہ۔ اس لیے جو لوگ حضرت محمد ﷺ پر ایمان نہیں لاتے ہم ان کو کافر کہتے ہیں۔ میں نے کہا آپ بھی کہتے ہو ناکہ یہودی کافر ہیں، جی ہاں۔ میں نے کہا کہ آپ یہ بھی کہتے ہیں کہ عیسائی کافر ہیں، کہا جی ہاں۔ میں نے کہا کیوں؟ کہا جی وہ حضور پاک ﷺ پر ایمان نہیں لاتے۔ میں نے کہا، آپ یہ بھی کہتے ہو کہ مجوسی کافر ہیں، کہا جی ہاں، کافر ہیں۔ میں نے کہا سکھ کافر ہیں، کافر ہیں، میں نے کہا، کیوں؟ کہنے لگا حضور پاک ﷺ پر ایمان نہیں لاتے۔ میں نے کہا، پتہ چلا کہ یہ اس لیے کافر ہیں کہ ہمارے نبی پاک ﷺ پر ایمان نہیں لاتے۔ ایک کفر اس سے بڑا ہے۔ جی وہ کونسا؟ میں نے کہا، یہودیوں نے ہمارے نبی پاک ﷺ کا کلمہ نہیں پڑھا لیکن کسی اور کو محمد رسول اللہ ﷺ نہیں بنایا۔ عیسائی کافر ہیں اس لیے کہ ہمارے نبی پر ایمان نہیں لائے۔ لیکن عیسائیوں نے

صفحہ ١٢١

نبی پاک ﷺ کے مقابلے میں کسی اور کو محمد رسول اللہ ﷺ نہیں بنایا۔ سکھوں نے نہیں بنایا۔ اس لیے قادیانیوں کا کفر عیسائیوں کے کفر سے بڑا ہے، یہودیوں کے کفر سے بڑا ہے، ہندوؤں، سکھوں کے کفر سے بڑا ہے۔ انہوں نے ہمارے نبی پاک ﷺ کے مقابلے میں باقاعدہ ایک محمد رسول اللہ بنا لیا اور ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ پر ایمان نجات کے لیے کافی وافی ہے۔ جبکہ تمہارا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ کی ساری باتوں کو ایک آدمی مانے، نمازیں پڑھے، حج کرے، جہاد کرے، سارے عقیدے اس کے صحیح ہوں لیکن مرزا کو نہیں مانتا تو وہ کنجری کا بیٹا ہے۔ ان کے مرد خنزیر ہیں، ان کی عورتیں کتیوں سے بدتر ہیں۔ حالانکہ وہ اللہ کے نبی کو مان رہا ہے، حضور پاک ﷺ پر، تمام ضروریات دین پر اس کا ایمان ہے، تہجد گزار ہے۔ بہت نیک اور بااخلاق انسان ہے۔ صرف مرزا کو نہ ماننے کی وجہ سے، اب چونکہ یہ حوالے بھی مرزے کی کتابوں سے پیش کر رہا تھا۔ کہنے لگا، آپ الزامات لگاتے ہیں، میں نے کہا، جی کتابیں حاضر ہیں، اب میں نے ”ایک غلطی کا ازالہ“ کتاب نکال کر رکھی۔ ”محمد رسول اللہ والذین معہ“۔ اس وحی الٰہی میں مجھے محمد کہا گیا اور رسول اللہ بھی۔ خطبہ الہامیہ میں لکھا کہ جس نے مجھ میں اور حضور پاک ﷺ میں فرق سمجھا، اس نے مجھے نہیں پہچانا۔ جب میں نے دو چار حوالے پیش کیے تو مجھے کہتا ہے جی پیچھے سے پڑھو نا پیچھے سے۔ آگے سے بھی پڑھو۔ میں نے کہا قادیانی مناظر کے اصول ہی دو ہیں۔ تیسرا ہے ہی نہیں کہ اگر کتاب نہ ہو تو شور مچاتے ہیں۔ کتاب دکھاؤ جی کتاب دکھاؤ اور اگر کتاب ہو تو دس صفحے پیچھے پڑھو۔ دس صفحے آگے پڑھو تاکہ آگے پیچھے پڑھتے ہوئے بات ہی ان کو بھول جائے کہ اصل بات شروع کہاں سے ہوئی۔

میں نے کہا، یہ دو اصول ہیں قادیانیوں کے پاس، تیسرا کوئی اصول ہے ہی نہیں، میں نے کہا، چلو ”ایک غلطی کے ازالہ“ کے دو صفحے پڑھیں۔ اب جب اس نے پڑھنا شروع کیا اور وہاں تک پہنچا تو جتنے لوگ بیٹھے تھے وہ سارے کہنے لگے کہ بات تو یہی ہے جو مولانا نے کہی تھی ناں کہ مرزا نے محمد رسول اللہ ﷺ ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور تم اس کو مانتے ہو۔ پھر تو نے اتنا ہمارا وقت بھی ضائع کیا کہ آگے سے پڑھو، یہ کرو وہ کرو، یہ بات تو بالکل صاف ہے اور اردو میں لکھی ہوئی ہے۔ کہا یہ کوئی موضوع نہیں ہے، موضوع یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر بٹھا رکھا ہے اور اپنے نبی پاک ﷺ کو زمین میں دفن کر رکھا

صفحہ ١٢٢

ہے ۔ کتنی بڑی توہین کی بات ہے ۔ میں نے کہا ’ اس میں کیا ہو گا فائدہ ۔ کہنے لگا جی ان کو آسمان پر بٹھایا ہوا ہے ۔ میں نے کہا ’ اگر مسلمانوں نے ان کو آسمان پر بٹھایا ہے تو مرزا نے موسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر بٹھایا ہوا ہے ۔ زندہ ’ اب جو تو پڑھے گا ”ازالہ اوہام“ سے آیت اس سے موسیٰ علیہ السلام کو نکالنا ہے ’ میں بعد میں عیسیٰ علیہ السلام کو نکال دوں گا ۔ بات تو یہی ہو گی ناں اور اس سے زیادہ کیا ہو گا ’ مجھے کہتا ہے کہ جیسے مرزا صاحب نے موسیٰ علیہ السلام کو زندہ مانا ہے اگر ایسے ہی آپ عیسیٰ علیہ السلام کو مانتے ہیں تو جھگڑا ہی نہیں ۔ میں نے کہا ’ کیسے زندہ مانا ہے ۔ کہا ’ جی وہ جسم مثالی میں زندہ مانتے ہیں ’ اس جسم کے ساتھ زندہ نہیں مانتے ’ دیکھ کر اس نے تاویل کر لی فوراً لیکن کتابیں ہمارے پاس تھیں ۔ میں نے ”نور الحق“ نکال کر رکھ دی ترجمہ بھی ساتھ تھا ۔ میں نے کہا ’ یہ اس موسیٰ علیہ السلام کا ذکر ہے جنہوں نے کسی اور عورت کو منہ نہیں لگایا صرف اپنی والدہ کا دودھ پیا تو جسم مثالی دودھ نہیں پیا کرتا ۔ یہ ان موسیٰ علیہ السلام کا ذکر ہے جن پر تورات نازل ہوئی ہے ۔ یہ وہی موسیٰ علیہ السلام جسد عنصری والے موسیٰ علیہ السلام کے خاتم ہیں نہ کہ جسم مثالی والے ۔ اب تو وہ بڑا پریشان ’ اسے کیا پتہ تھا کہ اس نے بات اس طرح واضح کر دینی ہے ۔ ”تحفہ گولڑویہ“ میں نے کھولی اس میں اردو نوٹ پڑھوایا ۔ یہی تو میں نے کہا ’ چلو کسی بات پر تم نے موسیٰ علیہ السلام کو بٹھایا ہوا ہے ’ کہتا ہے جی کہ بس یہ جو تم کافر کافر کہتے ہو نا ’ اس میں ذرا نرمی کریں ۔ میں نے کہا یہ تو اتفاقی بات ہے اس میں تو اختلاف ہی کوئی نہیں ۔ اختلاف صرف اس بات کا ہے کہ مرزا کی زندگی کا کونسا حصہ کفر والا ہے ۔ آپ بھی مانتے ہیں کہ مرزا نے لکھا کہ حیات مسیح کا عقیدہ شرکیہ عقیدہ ہے ۔ پہلے وہ خود مانتا رہا کہ عیسیٰ علیہ السلام حیات ہیں اور انہیں کتابوں میں لکھتا رہا ۔ اس نے کہا وہ ایسا لکھتا رہا مسلمانوں سے سن سنا کر ۔ میں نے کہا ’ جی وہ ایسی ویسی کتاب نہیں ہے ۔ میں نے ”آئینہ کمالات اسلام“ اٹھائی ۔ میں نے کہا ’ دیکھو یہ کتابوں کا نام لکھ کر آگے لکھتا ہے کہ ان کو مسلمان قبول کرتے ہیں مگر کنجریوں کی اولاد نہیں کرتی ۔ تو مرزا کی کتاب سے ثابت ہو گیا کہ جو مسیح علیہ السلام کو زندہ نہیں مانتا وہ کنجری کا بیٹا ہے ۔ یہ تو مرزا کی کتاب سے ثابت ہے اور اگر اس کو شرک کہتا ہے ۔ فرق یہی ہے کہ تیرے نزدیک مرزا اس زمانہ تک قرآن کی تیس آیتوں کا منکر تھا اور قرآن کا منکر کافر ہوتا ہے یا نہیں ہوتا ۔ اب لوگوں نے کہا ’ ہاں جی ! ہوتا ہے ۔ تو میں نے پھر کہا وہ زمانہ بھی کفر کا

صفحہ ١٢٣

ہے۔ بعد والا زمانہ بھی کفر کا ہے۔ اب بہرحال اس میں اتفاق ہے کہ تھا وہ کافر۔ اب پہلے وہ لکھتا تھا کہ حضرت آخری نبی ہیں۔ بعد میں کہتا ہے کہ قرآن میں ہے کہ نبی آسکتا ہے‘ اب پہلے زمانے میں وہ ان آیتوں کا انکار کرتا تھا ناں‘ آپ کے عقیدے کے مطابق‘ ہمارے عقیدے کے مطابق بعد میں اس نے قرآن کی آیتوں کا انکار کیا‘ تو تھا وہ بہرحال منکر قرآن ہی‘ اس لیے اس کا کفر تو آپ کے ہاں پکا سکہ بند کفر ہے اور ہمارے ہاں بھی پکا کفر ہے‘ کفر سے اس کو کوئی نہیں نکال سکتا۔ ہاں زمانے میں اختلاف ہے کہ کفر کا زمانہ اس کا کونسا۔ آپ کہتے ہیں کہ وہ پہلا زمانہ ہے‘ ہم کہتے ہیں کہ بعد والا زمانہ ہے۔ اس لیے کفر کی طرف سے تو آپ نہ گھبرائیں۔ یہ تو مرزا کے ساتھ ایسے لازم ہے جیسے سورج کے ساتھ روشنی‘ رات کے ساتھ اندھیرا‘ بلکہ یہ مثال دینی چاہیے۔ تو میں نے کہا یہ اس سے جدا نہیں ہو سکتا تو مقصد یہی ہے۔ اس پر جب اس نے دیکھا کہ یہاں تو اس نے مجھے جلدی پکڑ لیا۔ موسیٰ علیہ السلام کا حوالہ دے کر اور واقعی میں پڑھوں گا تو یہ کہے گا کہ موسیٰ علیہ السلام کو نکالو۔ پھر میں بعد میں بات کرتا ہوں۔ پھر گھبرا گیا‘ کہتا ہے خاتم النبیین کا معنی کرو‘ کیا ہوتا ہے؟ خاتم النبیین کا‘ میں نے کہا‘ وہی جو مرزا نے خاتم اولاد کا کیا ہے۔ وہ تو تیرا نبی بتا گیا ناں کہ مرزا نے جو کہا کہ میں بعد میں سب سے آخر میں ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہوں۔ اس لیے میں اپنے والدین کے لیے خاتم اولاد ہوں۔ اس طرح جو نبی اس دنیا میں سب سے آخر میں پیدا ہوا ہے۔ وہ خاتم النبیین ہے۔ ان کے بعد کوئی نبی کسی ماں کے پیٹ سے قیامت تک پیدا نہیں ہو گا‘ میں نے کہا‘ ختم نبوت کے معنی تو واضح ہیں۔ اردو میں لکھا ہے مرزا نے‘ اور تجھے اس کا بھی پتہ نہیں۔ اب کبھی ادھر دیکھے‘ یہ موضوع تو نہیں ہے ناں۔ میں نے کہا کفر و ایمان کوئی موضوع نہیں ہے تیرے نزدیک۔ میں نے کہا عجیب بات ہے آخر کتابیں سمیٹیں اور اٹھ کے باہر نکلا۔ لوگوں نے کتابیں چھین لیں‘ دیکھا کہ اس میں تھا کیا ”ایک الہام الرحمٰن تفسیر‘ ایک فتح محمد جالندھری کا ترجمہ‘ ایک احمدیہ پاکٹ بک اور دو اور کتابیں تھیں۔ جن میں حیات مسیح کے کچھ حوالے تھے۔ ان کی کتابیں مرزا قادیانی کی‘ مرزا محمود وغیرہ کی۔ تو مقصد یہ ہے کہ ان لوگوں کا طریقہ کار یہی ہوتا ہے۔

دنیا میں جتنے بھی مذاہب ہیں‘ وہ اپنے بانی کو سب سے پہلے آگے لاتے ہیں کہ یہ ہیں ہمارے بانی‘ دیکھو۔ لیکن قادیانی جو ہیں یہ سب سے زیادہ اسی کو چھپاتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ

صفحہ ١٢٤

اس میں جو خامیاں ہیں، کفریات اور گندی گالیاں ہیں۔ ان کو پتہ ہے کہ یہ ایک نہایت متعفن لاش ہے۔ خود مرزا کا اپنا اعتراف ہے۔ ”وما انا الا مثل ذرق یعفر“ ”اعجاز احمدی“ صفحہ ٤٠۔ اور میں نہیں مگر ایک سرگین کی طرح جو مٹی میں ملایا جاتا ہے۔ ”اعجاز احمدی“ کے اشعار میں لکھتا ہے کہ میں تو گندگی کا ڈھیر ہوں جس کو اوپر سے ڈھانپا ہوا ہے۔ جب مرزا کا اپنا اعتراف یہی ہے پھر ایک سے میں نے پوچھا بھئی اصل بات یہ ہے کہ جھوٹے بھی دنیا میں گزرے ہیں، سچے بھی گزرے ہیں۔ مرزا کے بارے میں یہ پتہ لینا کہ وہ تھا کیا، یہ بڑا مسئلہ ہے وہ کبھی مرد بنتا ہے، کبھی عورت بنتا ہے، کبھی ہندو بنتا ہے، کبھی سکھ بنتا ہے، کبھی یہودی بنتا ہے، کبھی عیسائی بنتا ہے، کبھی درخت بنتا ہے، کبھی پتھر بنتا ہے حجر اسود کا، کبھی کہتا ہے میں مجدد ہوں، کبھی کہتا ہے کچھ ہوں، مجھے کہنے لگا، دیکھو جی بات یہ ہے کہ ٹھیک ہے مرزا صاحب نے بہت سے دعوے کیے ہیں لیکن آخری دعویٰ مانا جاتا ہے۔ آخری دعویٰ تو جیسے انسان پرائمری سے پڑھتا ہے پھر مڈل میں جاتا ہے پھر میٹرک میں جاتا ہے۔ پھر ایف۔اے، بی۔اے کرتا ہے۔ ایم۔اے کرتا ہے تو آخری درجے کی تعلیم مانی جاتی ہے ناں اس کی، تو اس لیے یہ پہچاننے کے لیے سب سے زیادہ ضروری ہے کہ مرزا صاحب کے دعویٰ ترتیب وار تھے۔ آخری دعویٰ تلاش کیا جائے میں نے کہا وہ آخری دعویٰ اس پر تو میرا بھی ایمان ہے، کیونکہ مرزا قادیانی کی کتاب ”براہین احمدیہ“ حصہ پنجم۔ اس کا ضمیمہ یہ مرزا نے آخر میں لکھا ہے اور وہ اس کے مرنے کے بعد چھپا۔ اس نے اپنا آخری دعویٰ بیان کیا ہے:

کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں
ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار

کہ میں مٹی کا کیڑا ہوں، بندے دا پتر نہیں، میں ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار، کہ میں انسانوں کی شرم کی جگہ ہوں۔ میرا ایک شاگرد تھا۔ قادیانیت کے مسئلے میں تو بعض اوقات شاگرد بھی استادوں سے مناظرہ شروع کر دیتے ہیں۔ مجھے کہنے لگا کہ پڑھا ہوا کچھ نہیں تھا مرزا، میں نے کہا نہیں حافظ صاحب پڑھا ہوا تھا، وہ کیسے، میں نے کہا اس نے لکھا ہے ”چشم معرفت“ میں کہ آریوں کا پرمیشر ناف سے دس انگل نیچے ہے۔ آخر وہ ماپ سکتا ہے گن سکتا ہے تو دس انگلیاں گنی ناں اس نے، تو وہاں یہ لکھا کہ آریوں کا پرمیشر ہے

صفحہ ١٢٥

لیکن ”براہین احمدیہ“ میں اپنے بارے میں یہی کچھ لکھا کہ :

کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں
ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار

ان دنوں مجھ سے میرا شاگرد کہنے لگا کہ دیکھو فرعون کا بھی ایک خواب سچا ہوا‘ نمرود کا بھی ایک خواب سچا ہوا‘ اس کا تو کوئی خواب بھی سچا نہیں ہوا۔ یہ تو اس سے بھی گیا گزرا ہے۔ بات تو ویسے بڑی وزنی ہے لیکن میں نے کہا کہ اس سے مجھے اتفاق نہیں اس کے دو کشف سچے ہوئے ہیں۔ اس سے اس کا سچا ہونا ثابت نہیں ہو تا جیسے فرعون کا خواب سچا ہونے سے اس کا سچا ہونا ثابت نہیں ہو تا‘ نمرود کا خواب سچا ہونے سے اس کا سچا ہونا ثابت نہیں ہو تا۔ خود مرزا لکھتا ہے کہ بدکار اور کنجریاں جو ہیں وہ اس رات بھی سچے خواب دیکھتی ہیں جب انہوں نے بدکاری کی۔ تو سچا تو ثابت نہیں ہو تا لیکن جیسے فرعون کا ایک خواب سچا ہوا‘ اس کا بھی ایک کشف سچا ہوا‘ مجھے کہنے لگا کہ ایک بھی سچا نہیں ہوا۔ میں نے کہا تذکرہ نمبر ٤٣٥ اٹھا کے لاؤ۔ تو میں نے کشف دکھایا‘ کہتا ہے کہ میں نے کشف دیکھا کہ میں جنگل میں بیٹھا ہوں اور میرے ارد گرد صرف بندر اور خنزیر ہیں اور کوئی نہیں‘ تو میں نے کہا‘ آپ کو قادیانیوں کے بندر و خنزیر ہونے میں کوئی شک ہے؟ اس نے صاف بتایا ہے کہ میں نے کشف میں یہی دیکھا ہے کہ اس کے ارد گرد‘ اس کے ماننے والے بندر اور خنزیر ہیں۔ میں نے کہا‘ یہ کشف تو صحیح معلوم ہو تا ہے‘ تو کم از کم یہ کشف بھی مرزا قادیانی کا صحیح نکلا ہے تو اس میں شک نہیں کرنا چاہیے۔ دو کشف اس کے ایسے ہیں لیکن دونوں کشفوں سے مرزا کا اور مرزائیوں کے مقام کا پتہ چلتا ہے کہ جو اس کو مانتے ہیں‘ وہ بندر اور خنزیر ہیں۔ یہ تو خود مرزا کہتا ہے جب ہم اس قسم کی باتیں سناتے ہیں پھر کہتے ہیں‘ جی کیا تھا دس گالیاں دی تھیں۔ ہم تو مرزا کی سنا رہے ہیں ناں۔ ہم خود تو گالیاں نہیں دے رہے ناں اور جناب وہ جیسے سب کو پتہ ہے کہ عزرائیل علیہ السلام نے استنجا بھی نہیں کرنے دیا کہ خبیث اس طرح گندے کو گندے طریقے سے ہلاک کر کے اللہ کی بارگاہ میں پیش کرنا ہے تو یہ ایک ایسا فتنہ ہے جس کو سمجھنا کوئی مشکل نہیں اور ان کا کفر جو ہے‘ باقی سارے کافروں سے بد تر کفر ہے‘ کیونکہ عیسائی‘ مجوسی وغیرہ وہ (معاذ اللہ) حضرت محمد ﷺ کو کرسی سے اٹھا کر کسی اور کو بٹھانے کے لیے تیار نہیں۔ ان کا کفر صرف حضرت محمد ﷺ پر ایمان نہ لانا ہے اور

صفحہ ١٢٦

قادیانیوں نے باقاعدہ محمد رسول اللہ بنا ڈالا وہ بھی کہتا ہے۔

منم مسیح زماں منم کلیم خدا
منم محمد احمد کہ مجتبیٰ باشد

تو بہرحال بھاگتے ہیں ایک طرف ہیں۔ میں نے بہت ان کو سمجھایا یہ جب بھی آئیں گے جی حیات مسیح پر بات ہو گی‘ وفات مسیح پر بات ہو گی‘ میں کہتا ہوں کہ بھائی عیسیٰ علیہ السلام پر اور ان کی حیات مسیح پر بہت کچھ لکھا گیا ہے‘ اب ہم چاہتے ہیں کہ آپ کے مسیح کی حیات و وفات پر بات ہو۔ جس کو آپ مسیح مانتے ہیں اور میں لکھ دیتا ہوں کہ اس کی حیات بھی لعنتی حیات تھی۔ اس کی موت بھی لعنتی موت تھی۔ آئیے اس موضوع پر بات کریں اگر یہی موضوع آپ کو پسند ہے تو چلو اس موضوع پر بات کریں۔ لیکن آپ اپنے مسیح کی بات کریں‘ دوسروں کی پھر کرلیں گے بعد میں‘ تو قطعاً اس بات پر آنے کو تیار نہیں ہوتے۔ کیونکہ پھر ہم وہ لے لیتے ہیں نا جو مرزا نے نشانیاں لکھی ہیں۔ خود مسیح علیہ السلام کی۔ ایک ایک پوچھتے جاتے ہیں کہ یہ ثابت کرو کہ مرزا میں یہ نشانیاں تھیں۔ لیکن نہ مرزا کی حیات پر بحث کرتے ہیں‘ نہ موت پر۔ جیسا میں نے شروع میں بتایا کہ مرتدوں کے سامنے خدا نے اس کو ذلیل کیا ہے۔ عبداللہ آتھم کے سامنے‘ انوار الاسلام میں لکھتا ہے کہ جس دن یہ دن گزرا سب عیسائیوں نے جلوس نکالے۔ انوار الاسلام میں لکھا ہے کہ میں بیٹھا تھا‘ بڑا پریشان‘ کفر ناچ رہا تھا گلیوں میں‘ اسلام کا مذاق اڑا رہا تھا کہ ایک فرشتہ نازل ہوا جو سرتاپا خون میں لتھڑا ہوا تھا‘ تو میں بھی اس کو دیکھ کر حیران ہو گیا۔ میں نے پوچھا کیا بات ہے؟ کہتا ہے‘ آج آسمان پر بھی سارے فرشتے ماتم کر رہے ہیں۔ اسی کتاب کے چند صفحے آگے جاکر لکھتا ہے جو اس پیشین گوئی کو جھوٹا کہتا ہے‘ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے تو اس کو یہ نہیں پتہ کہ میں نے پچھلے صفحے پر کیا لکھا ہے‘ اگلے صفحے پر کیا لکھ رہا ہوں‘ اللہ تعالیٰ اس فتنہ سے مسلمانوں کو محفوظ فرمائے۔ آمین!

صفحہ ١٢٧

علامہ محمد شفیع اوکاڑوی کی خدمات

١٩٥٣ء میں تحریک ختم نبوت میں محض سید عالم، ختم مرتبت حضور ﷺ کی عزت و ناموس کے لیے بھر پور حصہ لیا۔ ضلع منٹگمری (ساہیوال) اور پنجاب کی سرکردہ شخصیت تھے۔ حکومت نے قید کر دیا۔ دس ماہ منٹگمری جیل میں رہے۔ اسیری کے ان ایام میں حضرت مولانا کے دو فرزند تنویر احمد اور منیر احمد‘ جن کی عمر بالترتیب تین سال اور ایک سال تھی‘ انتقال کر گئے۔ یہ دونوں مولانا کے پہلے فرزند تھے۔ ان کی وفات کے سبب گھریلو حالات پریشان کن تھے۔ کچھ بااثر لوگوں نے ڈپٹی کمشنر ساہیوال سے مل کر سفارش کی۔ ڈپٹی کمشنر نے جیل کا دورہ کیا۔ گرفتار شدگان سے ملاقات کی اور مولانا اوکاڑوی کو بالخصوص الگ بلا کر کہا ”بچوں کی وفات کی وجہ سے آپ کے گھر کے حالات ٹھیک نہیں ہیں۔ میرے پاس آپ کے لیے بہت سی سفارشیں ہیں۔ آپ معافی نامے پر دستخط کر دیں۔ آپ کا معافی نامہ عوام سے پوشیدہ رکھا جائے گا اور آج ہی آپ کو رہا کر دیا جائے گا“۔ مولانا نے جواباً کہا کہ میں نے عزت و ناموس مصطفیٰ ﷺ کے لیے کام کیا ہے اور میرا عقیدہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ آخری نبی ہیں۔ لہٰذا معافی مانگنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بچے اللہ کو پیارے ہو گئے‘ میری جان بھی چلی جائے‘ تب بھی اپنے عقیدے پر قائم رہوں گا‘ معافی نہیں مانگوں گا۔ اس جواب پر حکومت برہم ہوئی اور مزید سختی کی گئی۔ دفعہ ٣ میں نظر بند کر دیا گیا اور ملاقات وغیرہ پر بھی سختی سے پابندی تھی۔ مولانا نے آخر وقت تک صبر و استقلال سے تمام صعوبتیں برداشت کیں۔ (انوار رسالت‘ ص٧‘ از علامہ محمد شفیع اوکاڑوی)

خطیب پاکستان سے میری آخری ملاقات

تحریر: شیخ عبدالحمید امرتسری گوجرانوالہ

بات تو مختصر سی ہے کہ حضرت قاضی احسان احمد شجاع آبادی مرحوم سے شیخ عبدالحمید

صفحہ ١٢٨

کی پہلی ملاقات کیسے ہوئی۔ مجلس احرار اسلام نے فوجی بھرتی کے خلاف تحریک چلائی تو احرار کارکنوں پر کیا بیتی۔ اسی تحریک کے سلسلہ میں قاضی صاحب پنجاب بھر کا دورہ کرنے کے بعد امرتسر میں داخل ہوئے تو پولیس شکاری کتوں کی طرح ان کی تلاش میں سرگرداں ہو گئی۔ لیکن قاضی صاحب بھی ہر دو تین گھنٹہ کے بعد ٹھکانہ بدل دیتے۔ امرتسر میں قاضی صاحب کے داخلے، ان کی آمد، مسجد خیر دین میں خطبہ جمعہ پڑھانے کی منادی، پولیس کی پھرتیاں، احرار کارکنوں کی شامت، پولیس اور قاضی صاحب کی آنکھ مچولی، مسجد کو پولیس نے نماز فجر کے بعد ہی گھیرے میں لے لیا لیکن قاضی صاحب کس طرح مسجد میں داخل ہوئے اور تقریر کرنے میں کامیاب ہو گئے اور گرفتاری کس شان بے نیازی سے دی۔ گرفتار ہونے کے بعد بھی ایس پی کس بری طرح سٹ پٹایا۔ یہ تمام واقعات شیخ صاحب نے اتنے سادہ، دل نشین انداز، دل پذیر، ولولہ انگیز اور جذبات بھرے الفاظ میں بیان کیے ہیں کہ جنہیں آپ کا ذوق مطالعہ ایک ہی نشست میں پڑھ جائے گا۔ پڑھئے اور آزادی وطن کے مجاہدوں کو سلام عقیدت پیش کیجئے۔ (مرتب)

اگست ١٩٦٥ء میں سید ابوذر شاہ بخاریؒ نے ملتان میں حضرت امیر شریعت مرحوم کے یوم وصال پر ایک جلسہ عام کا اہتمام کیا تو مولانا عبید اللہ احرار کو بھی جلسہ میں شرکت کا دعوت نامہ ارسال کیا۔ میں ان دنوں کسی نجی کام سے فیصل آباد گیا ہوا تھا۔ مولانا سے ملنے ان کے مکان پر گیا تو وہاں مرزا نیاز بیگ مرحوم جو فیصل آباد میں مجلس احرار اسلام کے سیکرٹری جنرل تھے، بیٹھے ہوئے تھے۔ مسئلہ زیر بحث تھا کہ ملتان کے جلسے میں شرکت کے لیے کون جائے۔ مولانا چونکہ بیمار تھے اور پاؤں کی تکلیف کی وجہ سے چلنے پھرنے سے معذور تھے، طے یہ پایا کہ مرزا نیاز بیگ اور ”شیخ عبدالحمید“ (راقم) ملتان جائیں اور جلسہ میں شرکت کریں۔ چنانچہ مقررہ دن سے ایک روز پہلے ہم دونوں ملتان پہنچ گئے۔ رات دفتر میں قیام کیا۔ باہم مشورہ سے حضرت قاضی صاحب مرحوم سے ملاقات کا پروگرام بنا جو ان دنوں مرض یرقان میں مبتلا اور گھر میں ہی مقیم تھے۔ چنانچہ صبح نماز فجر کے بعد حافظ جی سے اجازت لے کر شجاع آباد کے لیے روانہ ہو گئے۔ جلسہ چونکہ رات کو تھا اس لیے حافظ جی مانع نہ ہوئے۔ جلد واپسی کی تاکید کر دی اور قاضی صاحب کو سلام بھی بھیجا۔ جمعہ کی نماز سے کچھ دیر پہلے ہم شجاع آباد شاہی مسجد میں پہنچ گئے۔ قاضی عبداللطیف صاحب سے مل کر حضرت

صفحہ ١٢٩

خطیب پاکستان سے ملنے کی استدعا کی۔ لیکن انہوں نے عذر کیا۔ مرض کی شدت کے پیش نظر ڈاکٹر نے سختی سے منع کیا ہے کہ کوئی ملاقاتی ملنے نہ پائے۔ میں نے کہا۔ آپ میرا رقعہ لے جائیں۔ حضرت کو دیں اگر وہ بھی منع کر دیں تو ہمارا سلام عرض کر دیں، ہم واپس چلے جائیں گے، آپ سے کوئی شکوہ نہ ہوگا۔ سو میں نے اپنا تعارفی رقعہ لکھ دیا۔ تھوڑی دیر بعد عبد اللطیف صاحب واپس آئے اور اپنے ساتھ آنے کا اشارہ کیا، میں اور مرزا بیگ ساتھ ہو لیے۔ گھر میں داخل ہوئے تو برآمدے میں قاضی صاحب مرحوم چارپائی پر لیٹے ہوئے تھے۔ اللہ اللہ وہ لحیم شحیم اور قد آور شخصیت، مردانہ وجاہت کا نادر پیکر اب ایسے معلوم ہوا جیسے سات سال کے بچے کو ڈاڑھی لگا دی گئی ہو۔ سوکھ کر کانٹا ہو گئے تھے۔ شدت مرض سے نڈھال، صابر و شاکر اپنے اللہ سے لو لگائے ہوئے۔ میں نے سلام عرض کیا، مجھے دیکھتے ہی بازو پھیلا دیے۔ معانقہ کرتے ہوئے میرے بے اختیار آنسو رواں ہو گئے۔ ان کی پلکیں بھی بھیگ گئیں۔ مرزا صاحب بھی ملے، بیٹھنے کو کہا، فرمانے لگے میں تندرست ہوتا تو یہ دن میرے لیے عید کا دن ہوتا۔ انتہائی خوشی کا دن۔ میں تو اکثر آپ کے پاس آتا رہا۔ آپ پہلی بار آئے ہیں۔ بڑی شفقت کا اظہار کیا۔ حافظ جی کا سلام عرض کیا۔ انہوں نے تمام احباب سے دعا کی درخواست کی اور جلسہ عام میں بھی دعا کے لیے کہا۔ تھوڑی دیر باتیں ہوتی رہیں۔ پھر فرمایا کہ جمعہ کی نماز کے بعد کھانا کھا کر جائیں۔ معذرت کرنا چاہی تو فرمانے لگے، انکار مت کرنا۔ میری دل شکنی ہو گی۔ جو ساگ ستو تمہاری اماں نے پکائے ہیں، کھا کر جانا۔ اب جائیں نماز کے بعد مسجد میں ہی کھانا پہنچ جائے گا۔ بیماری کی وجہ سے زیادہ گفتگو بھی نہیں کر سکتا۔ چنانچہ سلام عرض کیا اور واپس مسجد میں آگئے۔ نماز کے بعد ایک ہجوم تھا جو خطیب پاکستان سے ملاقات اور سلام و دعا کا متمنی اور بضد تھا کہ بغیر ملاقات کے نہ جائیں گے۔ چنانچہ یوں کیا گیا کہ حضرت کی چارپائی صحن میں لائی گئی اور لوگوں کو اجازت دی گئی کہ ایک طرف سے آئیں اور سلام کر کے دوسری طرف سے باہر نکل جائیں۔ یہ ترکیب کارگر رہی۔ اتنے میں قاضی عبد اللطیف صاحب کھانا لے کر آگئے۔ پر تکلف کھانا تھا، گوشت روٹی، سویاں اور کئی قسم کی کھجوریں ایک طشتری میں الگ الگ باہتمام رکھی گئی تھیں۔ کھانے کے بعد اجازت لی اور واپس ملتان روانہ ہوئے۔ ٹرین میں زیادہ رش نہ تھا۔ سکون سے بیٹھتے ہی پرواز خیال کہاں سے کہاں لے گئی۔ ستائیس سال پیشتر جب قاضی صاحب

صفحہ ١٣٠

مرحوم سے میری پہلی ملاقات امرتسر میں ہوئی۔

قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ سے پہلی ملاقات

خیر مذکورہ بالا تحریک کے سلسلہ میں دورہ کرتے ہوئے قاضی صاحب مرحوم اچانک امرتسر دفتر مجلس احرار اسلام میں شام کے وقت آگئے۔ ہم دو چار کارکن بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے قاضی صاحب کو پہلی مرتبہ دیکھا تھا۔ یہ قاضی صاحب سے میری پہلی ملاقات تھی۔ جو مصافحہ تک محدود تھی۔ قاضی صاحب کو فوراً دفتر سے کسی دوسری جگہ پہنچادیا گیا۔ پولیس کو سن گن مل گئی تھی۔ رات بھر معروف احرار کارکنوں کے گھروں پہ چھاپے پڑتے رہے۔ قاضی صاحب نہ ملے۔ صبح کو جمعرات کا دن تھا۔ ایک رضا کار تانگے میں نوبت سجائے آیا۔ ہر چوک پر نوبت بجاتا، لوگ اکٹھے ہوتے تو اعلان کرتا کہ حضرات ایک ضروری اعلان سنئے۔ کل بروز جمعتہ المبارک جمعہ کی نماز جامع مسجد خیر دین ہال بازار میں قاضی احسان احمد شجاع آبادی پڑھائیں گے۔ آپ سے اپیل ہے کہ جوق در جوق جامع مسجد خیر دین میں آکر نماز ادا کریں اور احرار رہنما کے خیالات سے مستفید ہوں۔

سارے شہر میں منادی ہوتی رہی۔ پولیس نے جگہ جگہ تانگہ روک کر منادی کرنے والے سے سخت باز پرس کی بلکہ مارا پیٹا کہ بتاؤ قاضی صاحب کہاں ہیں؟ رضا کار معصوم صورت بنا کر کہتا، جناب مجھے کیا پتہ میں تو مزدور آدمی ہوں دیہاڑی کر رہا ہوں۔ نوبت میری اپنی ہے۔ تانگہ کا کرایہ اس نے دے دیا ہے اور میری دیہاڑی بھی دے دی ہے۔ شام تک مجھے یہی کام کرنا ہے۔ تھانیدار نے کہا ”بس اب بند کرو اور بھاگ جاؤ۔“ وہ کہتا نہیں جی، ایمانداری بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ جی میں نے شام تک کے پیسے لیے ہیں، بے ایمانی کیوں کروں۔ اور نوبت بجاتا یہ جا وہ جا۔ بہر حال اعلان ہوتا رہا اور پولیس شکاری کتوں کی طرح قاضی صاحب کی تلاش میں سرگرداں رہی۔ ادھر قاضی صاحب ہر دو تین گھنٹہ کے بعد اپنا ٹھکانہ بدل دیتے۔ شام کو وہ چٹہ کٹڑہ (سفید کٹڑہ) میں شیخ ابراہیم سبزی اور پھل فروش کی دکان کے اوپر پھلوں کے خالی کریٹوں اور ٹوکروں کے ڈھیر میں چھپے بیٹھے

صفحہ ١٣١

تھے۔ (شیخ ابراہیم صاحب جھنگ میں مقیم ہیں اور بقید حیات ہیں) قاضی صاحب کے ساتھ حکیم عبدالجبار صاحب کے رشتہ کے بھائی فیروز الدین تھے، ان کا گزشتہ سال انتقال ہو گیا۔ حضرت امیر شریعتؒ سے بڑی عقیدت و محبت رکھتے تھے۔ احرار کے شیدائی تھے۔ رات گیارہ بجے اطلاع ملی کہ یہ جگہ بھی غیر محفوظ ہو گئی ہے۔

برقعہ پہن کر جگہ تبدیل کرنا

چنانچہ قاضی صاحب کو وہاں سے بھی نکالا گیا اور سفید لمبا برقعہ اوڑھا کر زنانہ سینڈل پہنا دیا۔ ساتھ میں دھان پان سے ایک مولوی صاحب جو معمر بھی تھے، دوپلی شیروانی میں ملبوس تنگ پاجامہ ایک چھوٹا سا ٹرنک ہاتھ میں لیے آگے آگے اور قاضی صاحب زنانہ لباس میں پیچھے پیچھے۔ ابھی بازار ورق کٹال کے ایک طرف مڑے ہی تھے کہ پولیس کی گاڑیاں وہاں آگئیں اور پولیس پورے بازار میں اٹینشن ہو گئی اور قاضی صاحب اس ہیئت کذائی میں چلتے ورق کٹال سے مچھی ہٹہ میں پہنچ گئے۔ بازار صابونیاں میں پھر پولیس سے مڈبھیڑ ہو گئی۔ اصل میں کسی نے مخبری کی تھی کہ بازار کے اندر روشنی ڈیوڑھی میں ایک چھوٹی سی مسجد تھی، جس کا امام احراری تھا، قاضی صاحب اس مسجد میں ٹھہرے ہوئے ہیں۔ یہ تمام علاقہ ہندوؤں کا تھا۔ خال خال مسلمانوں کی دکانیں تھیں۔ اس لیے پولیس کو یقین آگیا کہ چھپنے کے لیے معقول ٹھکانہ ہے۔ اب اتفاق کہئے کہ قاضی صاحب خود ہی اس راستے پر ہو لئے۔ یہ راستہ اس لیے اختیار کیا گیا تھا کہ رات کو بازار بند ہونے کی وجہ سے آمد و رفت کم ہو جاتی اور سارا علاقہ ہندوؤں کا تھا، کوئی شبہ نہ کرتا۔ بہرحال اب تو پھنس گئے۔ جانا مسجد خیر الدین میں ہی تھا۔ وہاں انتظام ہو چکا تھا۔ راستہ متعین تھا۔ پولیس نے پورا بازار گھیر رکھا تھا۔ لیکن ٹارگٹ تو مسجد ہی تھا۔ بس مولوی صاحب کو سوجھ گئی۔ تھانیدار ہی سے جا کر پوچھنے لگے ”تھانیدار صاحب! یہاں کوئی تانگہ وغیرہ اسٹیشن کے لیے مل جائے گا۔“ اس نے کہا ”بڑے میاں ادھر کرموں ڈیوڑھی چوک میں تانگہ مل جائے گا، بے فکر رہیں۔ اچھا میاں اللہ آپ کا بھلا کرے۔ اری بیگم! تم پھر پیچھے رہ گئیں۔ جلدی چلو، یوں چلتے چلاتے

صفحہ ١٣٢

ہوئے کٹڑہ بھیل سنگھ سے ہوتے ہوئے۔ چوک فرید اور پیلا ہسپتال کے قریب سے ہو کر کریال بازار کے قریب ایک گلی میں ایک پریس تھا۔ اس میں داخل ہو گئے۔ مسجد کا ایک چھوٹا دروازہ اسی طرف کھلتا تھا، جو اب بند رکھا جاتا تھا۔ اس طرف کوئی آمد و رفت بھی نہ تھی۔ اس لیے کسی کا دھیان اس طرف نہ تھا۔ طالب علموں کے لیے اس طرف غسل خانے بنا دیے گئے تھے۔ رہائشی کمرے بھی ادھر ہی تھے۔ اس دروازے سے قاضی صاحب اندر داخل ہوئے اور کمبل اوڑھ کر لیٹ گئے۔ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ صبح فجر کے بعد شہر میں پھر اعلان شروع ہو گیا کہ حضرت قاضی صاحب شہر میں تشریف لاچکے ہیں اور مسجد خیر الدین میں جمعہ کی نماز سے پہلے خطاب فرمائیں گے۔ دو چار جگہ اعلان کرنے والوں کی پولیس نے پٹائی بھی کی۔ جہاں جہاں شبہ ہو سکتا تھا پولیس چھاپے مار رہی تھی۔ کئی کارکنوں کو کوتوالی میں بٹھائے رکھا۔ تلاشیاں بھی ہوئیں۔ قاضی صاحب پنجاب کے تمام معروف شہروں کا دورہ کر چکے تھے۔ نصف درجن کے قریب وارنٹ گرفتاری ان کے تعاقب میں تھے۔ امرتسر ان کی آخری رزم گاہ تھا۔ ہر جگہ یہی ہوتا رہا کہ قاضی صاحب بگولے کی طرح آتے، طوفان کی طرح چھا جاتے اور چھلاوے کی طرح نکل جاتے۔ پولیس ہاتھ ملتے رہ جاتی۔ امرتسر میں بھی پولیس جھک مار رہی تھی۔ سی آئی ڈی کو جھاڑیں پڑ رہی تھیں۔ احرار کارکنوں میں آنکھ مچولی ہو رہی تھی۔ سکندر حیات نے انا کا مسئلہ بنالیا تھا۔ پنجاب پولیس کے لیے شرم کا مقام تھا۔ آئی جی صاحب ماتحتوں پر برس رہے تھے کہ چوبیس گھنٹوں سے اعلان ہو رہا ہے۔ قاضی صاحب شہر میں موجود ہیں لیکن ٹریس نہیں ہو رہے۔ آخر انہیں زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا۔ جیسے جیسے نماز کا وقت قریب ہو رہا تھا۔ پولیس کی سرگرمیاں بڑھ رہی تھیں۔ کارکن مار کھا رہے تھے، لیکن بتاتے کیا؟ جن دو چار کارکنوں کو اصل بات کا پتہ تھا وہ شہر سے غائب تھے۔

بضد ہے عزرائیل کہ جاں لے کے ٹلوں گا
سر بسجود مسیحا کہ میری بات رہے!

کسی بھی طرح مخبری ہو جاتی تو کیے کرائے پر پانی پھر جاتا۔ اللہ تعالیٰ مسبب الاسباب ہے۔ بس اس کی حکمت سے اسباب بنتے چلے گئے۔ نماز فجر کے وقت سے ہی پولیس نے مسجد کا صدر دروازہ گھیر رکھا تھا۔ ایک ایک آدمی کی شناخت ہو رہی تھی۔ چھت پر الگ پہرہ

صفحہ ١٣٣

تھا۔ قریب کے گھروں پر بھی پولیس موجود تھی۔ ہال بازار دروازہ سے لے کر گول ہٹی تک ارد گرد کی تمام گلیوں کی ناکہ بندی ہو چکی تھی۔ نمازیوں کا اتنا اژدھام تھا کہ پہلے کبھی نہ ہوا تھا۔ مسجد کا صحن اور چھت بھر گئی تو بازار میں صفیں لگ گئیں۔ مسجد کے صدر دروازے پر ڈی ایس پی اور اعلیٰ افسر موجود تھے گرفتاری کے تمام لوازمات کرلیے گئے تھے لٹھ بند دستہ تیار۔ تا آنکہ اذان کی آواز گونجی‘ لوگ نماز کے لیے تیار ہو گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد سپیکر پر آواز آئی ”حضرات میں قاضی صاحب اور آپ کے درمیان حائل نہیں ہونا چاہتا۔ آیئے قاضی صاحب خطاب شروع کیجئے۔“ قاضی صاحب منبر کے قریب ہی کمبل اوڑھے بیٹھے تھے اٹھ کر مائیک پر آئے۔ خطبہ مسنونہ کے بعد قاضی صاحب نے تقریر کا آغاز اس شعر سے کیا۔

نشہ پلا کے گرانا تو سب کو آتا ہے
مزہ تو تب ہے کہ گرتوں کو تھام لے ساقی

ادھر قاضی صاحب نے شعر پڑھا‘ ادھر آئی جی نے بے اختیار سی آئی ڈی انسپکٹر کے منہ پر چانٹا رسید کر دیا۔ قاضی صاحب نے آدھ پون گھنٹہ تقریر کی۔ انگریز حکومت‘ مردہ باد‘ سر سکندر حیات مردہ باد کے نعرے گونجتے رہے۔ نماز کا وقت ہوا تو قاضی صاحب نے اعلان کیا۔ حضرات باقی باتیں بعد میں ہوں گی۔ تشریف رکھیں۔ نماز کے بعد جب تقریر کے لیے قاضی صاحب نے ابتدائی کلمات ہی ادا کیے تھے کہ پولیس جو پہلے سے بھری پڑی تھی‘ اس نے بلا اشتعال اور بغیر وارننگ کے لاٹھی چارج کر دیا تاکہ لوگ بھاگ جائیں اور گرفتاری میں رکاوٹ نہ ہو۔ عجیب افراتفری کا عالم تھا۔ لوگ پولیس سے لاٹھیاں چھین کر مقابلہ پر اتر آئے۔ ممکن تھا کہ بہت نقصان ہوتا گولی چلنے کی نوبت آجاتی‘ قاضی صاحب نے للکارتے ہوئے پولیس کو وارننگ دی۔ او بزدلو! کیوں نہتے عوام کو مارتے ہو‘ میں باہر آ رہا ہوں۔ چاہوں تو یہاں بھی گرفتاری نہ دوں۔ آپ کچھ نہیں کر سکتے۔ تجربہ تو آپ کر ہی چکے ہیں لیکن پروگرام میں ہے کہ مجھے امرتسر میں گرفتاری دینا ہے اور میں باہر آ رہا ہوں۔ چنانچہ قاضی صاحب ملتے ملاتے‘ مصافحہ کرتے ہوئے مسجد سے باہر تشریف لائے۔ لوگوں نے قاضی صاحب کو پھولوں کے ہار سے لاد دیا۔ ہجوم چونکہ بپھر چکا تھا۔ گورنمنٹ برطانیہ اور پولیس کے خلاف شدید نعرے بازی ہو رہی تھی۔ ایس پی نے موٹر سائیکل‘ جس کے ساتھ

صفحہ ١٣٤

ایک پھٹپھٹی سائیڈ کار لگی ہوئی تھی مسجد کی سیڑھیوں کے ساتھ لگا دی اور قاضی صاحب کو بیٹھنے کے لیے کہا۔ لوگوں نے موٹر سائیکل کو راستہ دینے سے انکار کر دیا اور سامنے لیٹ گئے۔ ایس پی اپنی بے بسی پر سٹپٹا گیا اور قاضی صاحب سے ملتجی ہوا کہ آپ ان لوگوں کو سمجھائیں، ہماری ڈیوٹی ہے، ہم مجبور ہیں۔ چنانچہ قاضی صاحب نے دس پندرہ منٹ خطاب کیا اور کہا کہ یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم آزادی کے لیے جدوجہد کریں، سو ہم کر رہے ہیں۔ اس میں جیل کا مرحلہ بھی آتا ہے جس کو ہمیں خندہ پیشانی سے قبول کرنا چاہیے۔ آپ کی محبت، آپ کی ہمدردی، آپ کا یہ جذبہ اور انگریز سے بیزاری سب قابل قدر ہیں۔ انگریز سے گلو خلاصی کے لیے جیل کی صعوبتیں برداشت کرنا بھی ہماری جدوجہد کا حصہ ہے۔ آپ اس میں رکاوٹ نہ بنیں۔ شکریہ۔

اب تو جاتے ہیں میکدے سے میر
پھر ملیں گے اگر خدا لایا

یہ تمام واقعات فلم کی ریل کی طرح میرے دماغ کی سکرین پر آتے گئے اور میں گم صم گرد و پیش سے بے نیاز انہی مناظر میں کھویا جا رہا تھا۔ تا آنکہ مرزا نیاز بیگ نے مجھے جھنجھوڑا۔ شیخ صاحب کہاں کھوئے ہوئے ہیں، ملتان آگیا ہے۔ میں تصوراتی دنیا سے باہر آ گیا۔

نوٹ: قاضی صاحب کی گرفتاری کے بیرونی مناظر تو میرے سامنے تھے۔ اندرونی کہانی میں نے ابراہیم صاحب امرتسری (جھنگ والے) سے بالمشافہ سنی تھی۔

"خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را"

(ماہنامہ نقیب ختم نبوت، ملتان، اکتوبر ١٩٩٤ء)

بے حساب مرزا

مرزا حساب میں کمزور تھا، اگر کمزور نہ ہوتا تو تحصیل داری کے امتحان میں فیل نہ ہوتا۔۔۔۔ ہم یہاں اس کے حساب میں کمزور ہونے کا ثبوت پیش کریں گے اور یہ مزے کی

صفحہ ١٣٥

بات آپ کو بتائیں گے کہ مرزا کے حساب میں کمزور ہونے کا اثر مرزائیوں میں بھی سرایت کر کے رہا۔۔۔۔۔ اس بات کا ثبوت بھی پیش کریں گے۔۔۔۔ کیونکہ بات بغیر ثبوت کے مزا نہیں دیتی۔۔۔۔ تو لیجئے۔۔۔۔ مرزا کی حساب میں کمزوری کا ثبوت ملاحظہ ہو۔

مرزا نے اپنی کتاب ”کشتی نوح“ میں صفحہ ٣٧ پر لکھا ہے :

”دیکھو زمین پر ہر روز خدا کے حکم سے ایک ساعت میں کروڑ ہا انسان مر جاتے ہیں اور کروڑہا اس کے ارادے سے پیدا ہو جاتے ہیں“۔

آپ جانتے ہیں۔۔۔۔ ساعت ایک گھڑی کو کہتے ہیں۔۔۔۔ ایک پل یا ایک سیکنڈ کو کہتے ہیں۔۔۔۔ اب ذرا حساب لگائیں۔۔۔۔ ایک سیکنڈ میں کروڑ ہا کی بجائے صرف ایک کروڑ ہی گن لیں۔۔۔۔ کیونکہ کروڑہا میں تو ان گنت کروڑ شامل ہوتے ہیں۔۔۔۔ لہٰذا مرزائی اعتراض کر سکتے ہیں۔۔۔۔ چنانچہ ہم بہت محتاط انداز میں ایک کروڑ گن لیتے ہیں۔۔۔۔ ایک سیکنڈ میں ایک کروڑ اگر مریں تو چوبیس گھنٹے میں کتنے ہوئے۔۔۔۔ صرف چھتیں ارب۔۔۔۔ جب کہ کل دنیا کی آبادی اتنی ہے بھی نہیں۔۔۔۔ یہ سب تو مرزا کے بقول مر گئے، ایک دن میں۔۔۔۔ اب ساعت میں کروڑہا پیدا بھی ہوتے ہیں۔۔۔۔ چوبیس گھنٹوں میں ارب ہا پیدا ہو گئے۔۔۔۔ لیکن، یہ جو ارب انسان پیدا ہوتے ہیں۔۔۔۔ یہ فوری طور پر اولاد پیدا کرنے کے قابل نہیں ہیں۔۔۔۔ پندرہ بیس سال بعد کہیں اولاد پیدا کرنے کے قابل ہوں گے۔۔۔۔ جب کہ دوسرے دن میں پھر چھتیں ارب کا صفایا ہو جائے گا۔۔۔۔ یعنی صرف تین دن میں ایک کھرب کے قریب بچے مر جائیں گے۔۔۔۔ اور دنیا سے انسان ناپید ہو جائیں گے۔۔۔۔ لیکن ایسا دنیا میں آج تک نہیں ہوا، لہٰذا مرزا جھوٹا تھا۔۔۔۔ بلکہ اس کے تو جھوٹ کے پاؤں تک نہیں تھے اور حساب میں کورا تھا۔

اب مرزائیوں کی سنئے کہ وہ حساب میں کورے کیسے ہیں۔۔۔۔ مرزا نے لکھا ہے کہ میری پیدائش ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء میں ہوئی۔۔۔۔ مرزا مرا ١٩٠٨ء میں۔۔۔۔ اور اس کی پیش گوئی یہ تھی کہ میری عمر ٨٠ سال ہو گی۔ اس سے دو چار سال کم یا زیادہ۔۔۔۔ لیکن پیدائش کے سن اور وفات کے سن کے حساب سے مرزا کی عمر صرف ٦٨ سال ہو سکی۔۔۔۔ جب کہ مرزائی کہتے ہیں۔۔۔۔ مرزا کی عمر ٧٤ یا ٧٥ سال تھی۔

ہوئے نا حساب میں کورے۔۔۔۔ ایسے کوروں سے اللہ بچائے۔ آمین۔۔۔۔ ثم

صفحہ ١٣٦

آمین۔۔۔۔

(ماہنامہ لولاک، ملتان، فروری ١٩٩٨ء، از قلم اشتیاق احمد)

جسے میرے نبی ﷺ سے بیر ہوگا
وہ انسان کب ہے کوئی خنزیر ہوگا
پیغمبر کا عدو جو کچھ لکھے گا
کہاں اس کا کوئی سر پیر ہوگا

(مؤلف)

سائیں محمد حیات پسروری رحمۃ اللہ علیہ

ضلع سیالکوٹ احرار کا گڑھ اور مرکز کہلاتا رہا ہے۔ سیالکوٹ کی تحصیل پسرور میں پنجابی کے قادر الکلام شاعر بابائے پنجابی، مجلس احرار اسلام کے مجاہد، امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے رفیق، جلسوں کی جان، تحریک ختم نبوت کی پرجوش آواز، آزادی کا متوالا، جمعیتہ علماء اسلام پاکستان کا حدی خواں، سائیں محمد حیات پسروری زندگی بخشتے بخشتے خود زندگی ہار بیٹھے اور طویل علالت کے بعد اپنے رب کے پاس جا پہنچے۔ انہیں پسرور میں سپرد خاک کر دیا گیا ہے۔ ان کی نماز جنازہ جمعیت علماء اسلام ضلع سیالکوٹ کے جنرل سیکرٹری مولانا رشید احمد پسروری نے پڑھائی۔ ان کی وفات پر قومی اخبارات نے جس بے حسی کا مظاہرہ کیا ہے۔ وہ قابل صد افسوس اور تنگ نظری کا مظہر ہے۔ قومی شخصیات کا انتقال نا قابل تلافی نقصان ہے۔ اس لیے اخبارات کو اپنی روش پر نظر ثانی کرتے ہوئے قوم کو اس نقصان سے آگاہ کرنا چاہیے۔

سائیں محمد حیات پسروری نے حیات فانی کا آغاز ١٩١٢ء کو دادو باجوہ تحصیل پسرور میں میاں محمد جیون کے گھر پیدائش سے کیا۔ لیکن ابتدائی عمر میں ہی شفقت پدری سے محروم ہو کر سنت نبوی کو اپنایا اور یتیمی کے آلام و مصائب اور کیفیات کا سامنا کیا۔ انہیں تعلیم کو خیر باد کہنا پڑا اور درزی بن کر اپنا اور قوم کا تن ڈھانپنے کا مستقل کام کرنا پڑا۔ انہیں ابتداء ہی سے شعری ذوق ودیعت ہوا تھا۔ اس لیے وہ بچپن میں ہی شعر و

صفحہ ١٣٧

شاعری کی طرف راغب ہوئے اور انہوں نے پنجاب بلکہ برصغیر کے نامور استاد شاعر ”استاد دامن“ کو اپنا استاد بنا کر باقاعدہ اصلاح لی اور ادبی حلقوں میں اپنا تعارف پیدا کیا۔

انہوں نے اپنی تمام عمر جہد مسلسل کو مدنظر رکھا۔ تحریک آزادی ہو یا تحریک کشمیر، تحریک خلافت ہو یا تحریک ترک موالات، تحریک ختم نبوت ہو یا تحریک نفاذ شریعت، وہ ہمیشہ سرگرم عمل رہے اور انہوں نے اپنی آواز سے لوگوں کو بیدار کر کے ہر تحریک میں جان ڈالنے کا قومی فریضہ ادا کیا۔

سائیں حیات پسروری نے اپنے فن کو قوم کی امانت جانا اور اسے دال روٹی کے لیے سرکاری حکام کے قصیدے لکھ کر ناپاک کرنے کی بجائے ہمیشہ اس کی عظمت و عصمت کو مدنظر رکھا۔

انہوں نے خود کو مجلس احرار اسلام سے منسلک کر کے ہمیشہ غریب اور پسماندہ طبقہ کی آزادی و خود مختاری اور دین اسلام کی سربلندی کو مدنظر رکھا اور ہمیشہ اس کے مقاصد کی تکمیل کے لیے سرگرم کردار ادا کیا۔

جب تحریک کشمیر شروع ہوئی تو ان کا اضطراب اور جنون شوق قابل دید تھا۔ آل انڈیا کانگریس سے بھی منسلک رہے اور تقسیم سے قبل سیالکوٹ کے نائب صدر رہے۔

١٩٧٩ء کے بلدیاتی انتخابات میں وہ بلدیہ پسرور کے بلا مقابلہ کونسلر بھی رہے علالت کے باعث ١٩٨٣ء کے انتخابات میں عوامی اصرار کے باوجود معذرت کر گئے۔

انہوں نے فاضل پنجابی کا امتحان بامتیاز پاس کرنے کے بعد گیانی کا کورس بھی کیا اور اس وقت دنیا بھر میں گیانی ذیل سنگھ صدر بھارت کے بعد وہ دوسرے گیانی تھے۔

سائیں حیات پسروری مرحوم نے اپنی تصنیفات کے ذریعے پنجابی ادب کو بہت مالا مال کیا۔ ان میں ”ڈونگھیاں سوچاں، کھریاں گلاں، ہسدے اتھرو، سجرے روسے، نوری کرناں، بھڑکدے شعلے“ کے علاوہ ”شجرہ“ کے عنوان سے قاسم العلوم مولانا محمد قاسم نانوتویؒ سے لے کر مولانا مفتی بشیر احمد پسروریؒ تک کے علمائے حق کے قافلے کے ہر اہم فرد کا مجاہدانہ تذکرہ موجود ہے۔ انہوں نے ١٩٥٣ء کے مجاہدین کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ”روشن ستارے“ کے عنوان سے بھی منظوم کتاب ترتیب دی ہے۔

انہوں نے ان مجاہدوں کو قوم کے سامنے روشنی کے مینار کی حیثیت سے پیش کرنے

صفحہ ١٣٨

کے ساتھ ساتھ ان سیاہ بختیوں کا تذکرہ بھی کیا ہے‘ جنہوں نے انگریز کی خودکاشتہ جعلی نبوت کو تسلیم کیا اور قادیان کے دجال کو اپنا امام بنا کر اپنی عاقبت خراب کی۔ ان کا محاسبہ ”مذہب دا ڈاکو“ اور ”نبوت دا ڈاکو“ کے عنوان سے دو مرتبہ منظوم کتابوں میں کیا گیا ہے۔ انہوں نے مسلم کا مقدس اور قابل صد ستائش نام استعمال کر کے قادیانیوں کا تحفظ کرنے والے ان دین دشمن اور غدار عناصر کا مسلسل نظم ”وطن دشمن“ کے عنوان کے تحت پوسٹ مارٹم کیا۔ تمام تنگ نظری اور تعصب کے باوجود سب طبقات سائیں محمد حیات پسروری کو پنجابی کا استاد اور قادر الکلام شاعر تسلیم کرنے پر مجبور ہیں۔ سائیں محمد حیات پسروری کا ایک شعر ہے:

سنیا کروڑ دا ویکھیا تے لکھ دا
واہ پیاں سو دا تے راہ پیاں ککھ دا

سائیں محمد حیات پسروری بدیہہ گو اور بہت حاضر دماغ تھے۔ انہوں نے ١٩٨١ء میں ربیع الاول میں ریڈیو پاکستان کے نعتیہ مشاعرہ کی صدارت فرمائی۔ اس موقع پر تمام نامی گرامی شعراء اور نعت گو افراد نے ہدیہ نعت بحضور سرور کونین ﷺ پیش کرتے ہوئے خود کو ”مدینہ کا کتا“ قرار دے دیا۔ سائیں محمد حیات پسروری نے صدارتی نعت سے قبل ایک فی البدیہہ بند پڑھا‘ جس کو سن کر دوسرے تمام افراد کو شرمندگی سی محسوس ہوئی۔ بند ملاحظہ ہو:

سجدے ڈگ کے شاہی دربار اندر
التجا کرناں دن تے رات ہاں میں
ماراں ٹکراں اتھرو پیا کیراں
رو رو لبھناں راہ نجات ہاں میں
مینوں کتا مدینے دا کہوے کوئی ناں
کیونکہ ذات اشرف المخلوقات ہاں میں
لکھی نعت حضور ﷺ پرنور دی اے
ایسے واسطے اجے حیات ہاں میں

یہ سچا عاشق رسول ﷺ لوگوں میں زندگی بانٹتے بانٹتے خود سو گیا ہے اور اپنے کلام اور

صفحہ ١٣٩

افکارات کے ذریعے خود کو امر بنا گیا ہے۔

”خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را“ (ہفت روزہ ”ختم نبوت“ جلد ٦‘ شمارہ ٢٢‘ از قلم: گلزار احمد آزاد)

ختم نبوت اور مرزائیت

عقیدہ ختم نبوت‘ اساس اسلام اور روح قرآن ہے۔ اگر مسلمان اس میں بال برابر بھی ادھر ادھر ہو جائیں‘ تو پھر محمد عربی ﷺ کا قرآن باقی رہتا ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کی وہ تنزیہہ و تقدیس کہ جس پر آدم ؑ سے لے کر نبی ختمی مرتبت ﷺ تک تمام انبیاء متفق ہیں۔

مرزائیت اسی اساس دین‘ روح قرآن اور جان اسلام پر مردانہ ضرب لگا رہی ہے۔ اس کے استیصال کو ہر مسلمان کے لیے فرض نہیں افرض جانتا ہوں۔ میں عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے اپنی زندگی کی آخری بازی لگا دوں گا۔

مرزائیت پاکستان کے مقدس جسم کا سیاسی ناسور ہے۔ اگر حکمرانوں نے اس کا آپریشن نہ کیا تو یہ ناسور سارے جسم کو خدانخواستہ تباہ کر دے گا۔

(امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ)

جھوٹی نبوتوں کی تباہی ہے لازمی
اس راہ کے ہر صنم کو گراتا رہوں گا میں (مؤلف)
صفحہ ١٤٠

تحریک سنہ ٥٣ء کے بعد

حضرت امیر شریعتؒ کی ایک تقریر

مرسلہ: محمد شریف سکنہ ٹنڈو غلام علی

تحریک ختم نبوت کے بعد امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی پہلی تقریر تھی۔ عوام اور حکام دونوں کے کان اس تقریر کے منتظر تھے۔ خطبہ مسنونہ سے پہلے فرمایا: ارشاد خداوندی ہے ما كان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين اور حدیث رسول اللہ انا خاتم النبيين لانبى بعدی کے بعد میں کیسے کہہ دوں کہ کوئی دوسرا نبی آسکتا ہے۔ میری اب بھی یقینی رائے ہے کہ حضور خاتم الانبیاء ہیں اور ان کے بعد جو نبوت کا دعویٰ کرے گا‘ میں اسے انسان بھی کہنے کے لئے تیار نہیں۔ میں تختہ دار پر بھی یہی کہوں گا کہ حضورؐ خاتم النبیین ہیں۔ تمہارا قانون میرا کیا بگاڑ سکتا ہے۔ اب رہ بھی کیا گیا ہے (بڑھا پا تھا) جو بگاڑ لو گے‘ ہڈیوں کا ایک ڈھانچہ ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ یہ بھی میاں (ﷺ) کی عزت پر نثار ہو جائے تو جان چھوٹے۔

اس کے بعد آپ نے خطبہ مسنونہ پڑھا اور فرمایا:

”جس دھندے کو ہم لے کر بیٹھے ہیں یہ کیا چیز ہے؟ مثال کے طور پر عرض کرتا ہوں کہ کسی کے مکان کی چھت ٹپکنے لگے تو اس نے اپنے مکان کی پچھلی طرف سے لیپنا شروع کیا ہے۔ یہ آج کی نئی بات نہیں‘ چودہ سو برس سے امت اس پر ڈٹی رہی ہے۔ اس وقت (١٩٥٥ء) دنیا کی آبادی میں مسلمان تقریباً پچھتر کروڑ ہیں۔ حضورؐ کے عہد سے لے کر اس وقت تک کتنے پیوست خاک ہو گئے۔ ان میں کتنے صحابی‘ تابعی‘ ولی‘ قطب‘ فقیر‘ امام اور بزرگ گزرے۔ تمام امت کے اولیاء لاکھوں صحابہ سب اس عقیدے پر ڈٹے رہے کہ حضور ﷺ کے بعد نبوت کسی کو نہیں ملی‘ کوئی ماں نہیں ہے جو نبی جنتی۔“

صفحہ ١٤١

اللہ ایک ہے‘ وہ کسی کا محتاج نہیں۔ ہم سب اس کے محتاج ہیں۔ یہ بنیادی عقیدہ ہے۔ آمنہ کا بیٹا‘ عبداللہ کے گھر کا چاند‘ عبدالمطلب کا پوتا‘ صدیق اکبرؓ اور عمر ابن خطابؓ کا داماد‘ عثمانؓ اور علیؓ کا خسر‘ حسینؓ کا نانا‘ فاطمہؓ کا ابا‘ جس کا نام نامی ہے محمد ﷺ‘ جن کے بعد کوئی نبی نہیں۔ پچھتر کروڑ مسلمان اس وقت اس عقیدے پر کھڑے ہیں اور اربوں پیوند خاک ہوچکے ہیں۔ صاحب فکروعمل‘ علم و ہمت‘ صاحب فہم و فراست پیدا ہوئے اور پیوند خاک ہوگئے۔ وہ اس عقیدے پر قائم رہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا‘ ہم نے آپ کو تمام آدمیوں کے لئے خوشخبری سنانے اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے اور فرمایا کہ اے نبی! اعلان کرو کہ مسلمان جہاں کہیں بھی ہوں‘ اور جس زمانے میں بھی ہوں اور جب بھی ہوں‘ زمین پر‘ چاند پر‘ مریخ پر‘ مشرق میں‘ مغرب میں‘ اوپر‘ تحت الثریٰ میں اعلان کر دیجئے‘ اے نبی ﷺ کہ میں تو سب کی طرف پیغمبر بن کر آیا ہوں‘ جی چاہے مانو‘ جی چاہے نہ مانو۔ یہ ہے اصل عقیدہ۔

اب اگر قرآن میں خاتم النبیین کی آیات نہ بھی ہوں تو یہ بھی لفظ کافی تھا۔ عقیدہ عقد سے اور عقد کہتے ہیں دل کی گرہ کو۔ قرآن سینہ بہ سینہ حضور سے صحابہؓ تک پڑھتے پڑھاتے ہمیں وراثت میں ملا ہے۔ عقیدے کے بغیر عمل بھی نہیں ہوتا۔ برا ہو یا بھلا اور عشق نام ہی عقیدہ کا ہے۔ نماز کی فوقیت دل میں نہ ہو تو وضو کیوں کرے۔ توحید بڑی چیز ہے۔ لیکن ختم نبوت اگر اس سے نکال دو تو کچھ بھی نہیں رہتی۔ ماننے کو تو مکے کے لوگ بھی خدا کو مانتے تھے۔ چاہے عیسائی عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا اور یہودی عزیر علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا‘ کعبے میں تین سو ساٹھ (٣٦٠) خدا رکھتے تھے اور ننگے ہو کر طواف کعبہ کرتے تھے۔

جب اللہ تعالیٰ کی رحمت جوش میں آئی تو اللہ کے گھر میں چاند نکلا‘ کعبہ میں جھاڑو دی۔ اللہ کا نام بلند کیا اور فرمایا کہ تم یوں بڑھ چڑھ کر ان کو خدا بناتے ہو‘ یہ سب جھوٹے ہیں۔ نبوت کا مقام تو بہت ہی بڑا مقام ہے۔ ذرا کریکٹر تو دیکھ‘ حیا کے مارے کبھی نگاہ نہیں اٹھتی۔ یہ تو نبوت کی بات تھی۔ میرے مرشد حضرت مولانا رائے پوریؒ دس سال کے بعد ضلع سرگودھا میں اپنے گھر آئے تو بڑی حقیقی ہمشیرہ کو نہ پہچانا جب تک انہوں نے بات نہ کی۔ حضرت فرماتے تھے بچپن ہی سے میں نے انہیں نظر اٹھا کر نہیں دیکھا۔ یہ شرم و حیا کی بات ہے۔

صفحہ ١٤٢

ہم خدا کو تو جانتے ہی نہیں، محمد کو جانتے ہیں۔ ابو جہل، صدیق اکبرؓ کے پاس آیا اور کہا، کبھی کوئی آسمان پر گیا ہے۔ صدیق اکبرؓ نے فرمایا ”نہیں۔“ ابو جہل نے کہا ”تیرا یار کہتا ہے، میں وہاں سے ہو کر آیا ہوں۔“ صدیق اکبر نے فرمایا: ”تو وہ سچ کہتا ہے، اس نے کبھی جھوٹ نہیں کہا۔“

اسلام کی بنیاد مسئلہ ختم نبوت پر ہے، جب حضورؐ نے فرمایا: لا نبی بعدی لا رسول بعدی ولا امت بعد کم شروع سے لے کر آج تک اور آج سے لے کر حشر کے گرم ہونے تک کوئی نہیں جو عقیدہ بدلے۔ ہم اس کو لے کر اٹھے ہیں۔ اس کا کسی ملکی معاملات سے کوئی تعلق نہیں۔

کفر کا پروگرام کوئی آج کا نہیں ہے۔ جب سے حضور ﷺ تشریف لائے۔ تب سے مسیلمہ کذاب پیدا ہونے شروع ہوئے۔ حضرت ابو بکرؓ نے سات ہزار حافظ قرآن صحابہؓ کو ختم نبوت کی خاطر شہید کروایا تھا۔ امیر شریعت عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے فرمایا کہ ١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت میں ہزاروں شہید ہوئے۔ ماؤں کے سہاگ لٹے، کئی یتیم ہوئے، کئی اجڑ گئے۔ آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے فرمایا:

”اے اللہ، میں ذمہ دار ہوں، آج بھی ذمہ دار ہوں، آنے والے کل کو بھی ذمہ دار ہوں گا۔ میں نے یہ سب کچھ تیرے نبیؐ کے نام کی خاطر کیا ہے۔ خدا میری بھی لاج رکھے جو کیا ہے، اور جو کر رہا ہوں، اسی پر قائم رکھے۔ آمین۔

(ماخوذ حیات امیر شریعتؒ )

ڈگیاں کا نام ربوہ کیسے؟

سید منظور احمد شاہ آسی، مانسہرہ

اگر قادیانی مذہب کا لبادہ نہ اوڑھتے تو آج اپنی موت آپ مرجاتے لیکن اس خالص سیاسی اور سازشی جماعت نے مذہب کا لبادہ اوڑھ کر سیاسی مفادات حاصل کئے اور اقتدار

صفحہ ١٤٣

کے لئے ہاتھ پاؤں مارے اور کلیدی آسامیوں پر فائز قادیانیوں نے رائل فیملی کے ہاتھ مضبوط کئے۔

فیصل آباد سے صرف ٢٥ میل کے فاصلے پر دریائے چناب کے اس پار ایک نیا شہر آباد ہوا جو کسی زمانے میں خالص قادیانی بستی تھا۔ آخر اس شہر کے باسیوں نے الگ تھلگ بسنے کا ارادہ کیوں کیا؟ وہ دوسرے لوگوں سے الگ ہو کر یہاں کیوں آباد ہوئے اور کسی دوسرے فرد کو یہاں کیوں نہ رہنے دیا؟ اس کے پیچھے آخر کیا حقائق کار فرما تھے۔ ہر ذی عقل و فہم کے دماغ میں یہ بات ضرور کھٹکتی ہے اور اس کا جواب آپ کو ان کالموں میں دوں گا‘ جیسا کہ الیاس برنی صاحب مرحوم نے اس کا تجزیہ پیش کیا:

١٠ اگست ١٩٤٩ء کو ربوہ میں تار لگ گئی اور تاروں کی آمد و رفت کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ ١٤ ستمبر ١٩٤٩ء کو ربوہ میں ڈاک خانہ بھی باقاعدہ کھل گیا۔ ڈاک خانے کے پہلے انچارج ایک احمدی مقرر ہوئے۔ ١٩ ستمبر ١٩٤٩ء بروز دوشنبہ امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ (لعنت اللہ علیہ) ربوہ میں مستقل سکونت اختیار کرنے کے لئے مع حضرت ام المومنین مدظلہا العالیٰ (لعنت اللہ علیہا) و دیگر اہل خانہ رتن باغ لاہور سے بذریعہ کار ربوہ تشریف لے گئے۔

راستے میں حضور مع دیگر اہل قافلہ خصوصیت سے قرآنی دعا رب ادخلنی مدخل صدق واجعل لی من لدنک سلطانا نصیرا پڑھتے رہے۔

جب ربوہ کی سرزمین شروع ہوئی‘ حضور نے اتر کر یہ دعا پڑھی۔ ربوہ پہنچ کر سب سے پہلے ظہر کی نماز ادا فرمائی اور پھر تقریر فرمائی‘ اس وقت ربوہ کی آبادی ایک ہزار نفوس پر مشتمل تھی۔ صدر انجمن احمدیہ اور تحریک جدید کے دفاتر کے علاوہ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ (لعنت اللہ علیہ) کی رہائش گاہ‘ لنگر خانہ‘ مہمان خانہ اور نور ہسپتال کی عارضی عمارتیں تیار ہو چکی تھیں اور بازار بن چکے ہیں اور مسجد تعمیر ہو چکی ہے۔ (ربوہ کی روداد مندرجہ قادیانی اخبار ”الرحمت“ لاہور جلد ١‘ مورخہ ٢١ نومبر ١٩٤٩ء)

ربوہ کی تعمیر سے قبل انجمن احمدیہ اصول طے کر چکی تھی۔

صفحہ ١٤٤

تجدید اس لئے ہر سال ہو گی کہ اگر کسی مکین کے بارے میں شک و شبہ پیدا ہو جائے کہ قادیانیت پر چار حرف بھیجنے کے لئے تیار ہے تو اس کو فوراً ربوہ سے نکال دیا جائے جیسا کہ بیسیوں واقعات اس طرح کے پیش آئے اور غیر احمدی حضرات کا داخلہ بند کرنا مقصود تھا۔ ربوہ میں ٧٤ء سے پہلے سخت احتیاط برتی گئی حالانکہ خود قادیان میں ١٩٤٧ء سے قبل اور بعد میں بھی سکھ، مسلمان، قادیانی اکٹھے اور مخلوط طور پر آباد تھے۔ آج بھی قادیان کی بستی میں مسلمان، ہندو، سکھ مشترکہ طور پر آباد ہیں۔ ہر صاحب عقل کے ذہن میں یہ سوال ابھرتا ہے کہ آخر ربوہ پر یہ پابندی کیوں لگائی گئی کہ کوئی مسلمان وہاں زمین خرید کر آباد نہ ہو سکے۔ اس کا مطلب صاف ظاہر ہے، ورنہ قادیان میں نہ تو پہلے ایسی کوئی بات تھی، نہ اب ہے۔ یہی وجہ تھی کہ ١٩٥٣ء اور ١٩٧٤ء کی ختم نبوت کی تحریکوں میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مطالبات میں یہ مطالبہ بھی شامل تھا کہ ”ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے“ اب ذرا جسٹس صمدانی کی مرتب کردہ رپورٹ کی طرف آئیے جو انہوں نے ٧٤ء میں عدالتی تحقیقات کے مقرر کردہ کمیشن کو پیش کی۔ واقعہ ربوہ کی تحقیقات کرنے والے ٹربیونل کے واحد ممبر جسٹس صمدانی ٢٠ جولائی کو ربوہ تشریف لے گئے تاکہ جائے وقوعہ کا معائنہ کر سکیں اور دوسری معلومات حاصل کر سکیں۔ وہاں ساڑھے پانچ گھنٹے کے قریب تشریف فرما رہے جبکہ ان کے ساتھ ایڈووکیٹ جنرل، وکلاء اور صحافی بھی تھے۔ اس قیام کے دوران جو خاص باتیں دیکھنے میں آئیں، ان کا خلاصہ ملاحظہ ہو۔

صفحہ ١٤٥

طاری تھا۔ اس کے رشتہ داروں نے جھروکوں سے دیکھ کر محض آنسو بہائے۔ لیکن ”قادیانی جرم“ کے پیش نظر بات کرنے کی جرات نہ کی۔

”آج ملاقات کا دن نہیں۔“

نہیں ۔ اس موقعہ پر تھانہ ”لائیاں کے ایس ایچ او نے اعتراف کیا کہ ہم محکمہ ”امور عامہ“ کے تحت کچھ نہیں کر سکتے (یعنی امور داخلہ پچھلی قسط میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ قادیانیوں نے تمام محکمے قائم کئے ہوئے تھے اور اب بھی ہیں ۔)

مرزا غلام احمد کی جے ۔ نیز مرزا صاحب کا مشہور انگریزی الہام جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ”خدا بادلوں کی اوٹ میں اپنی فوجیں لے کر تمہاری مدد کو آ رہا ہے۔“

لیں۔

دیکھیں تو آپ کو بتلایا گیا کہ اختلافات کی صورت میں آخری فیصلہ خلیفہ ربوہ کا ہوتا ہے۔

دفتر امور عامہ پر دیکھا ۔ جس کو پرچم ”لوائے احمدیت“ کہا جاتا ہے ۔ اس پر مینار چاند ستاروں کے علاوہ قرآن حکیم کی اس آیت کا ترجمہ بھی ہے کہ ”خدا نے بدر میں تمہاری امداد کی جب کہ تم کمزور تھے“۔ آپ کو بتایا گیا کہ جماعت کی شاخ کسی بھی ملک میں ہو ، ملکی جھنڈے کے ساتھ یہ جھنڈا لازمی ہے ۔ (جب کہ ربوہ میں کسی بھی قادیانی دفتر پر پاکستانی پرچم لہرایا نہیں گیا)

بیرون ممالک میں مبلغ نہیں بھیجے جاسکے ۔

صفحہ ١٤٦

(قادیانیوں کے کل پانچ پرچم ہیں) اس پرچم پر چاند ستاروں اور مینار کی تصویر کے علاوہ برطانوی طرز کے جھنڈے کی طرح لکیریں بھی ہیں۔

عبادت گاہ کے محراب کی جانب دروازہ دیکھ کر بڑا تعجب کیا گیا۔

قادیانیوں کو اس دوزخی مقبرہ میں خاص فیس کی ادائیگی کے بعد ہی دفن کیا جاتا ہے) بھی دیکھا، جہاں ”خاندان خباثت“ کی قبروں پر کندہ وصیتیں بڑی تعجب خیز تھیں۔ ان میں مرزا محمود کا قول درج تھا کہ جو نہی موقع ملے یہ نعشیں قادیان (بھارت) لے جائی جائیں، یاد رہے کہ جسٹس صمدانی صاحب کو ربوہ کے اس وقت کے پوپ مرزا مبارک نے چائے کی دعوت دی جو جسٹس صاحب نے رد کر دی تھی۔ قارئین حضرات! مندرجہ بالا حقائق ہیں۔ یہ باتیں سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں اور ٧٤ء کے اخبارات میں بھی آچکی ہیں۔ اسی سے آپ جائزہ لیں کہ عالم اسلام اور پاکستان کے خلاف سازشوں کے جال کیسے ربوہ میں تیار کئے جاتے ہیں۔

(ہفت روزہ ختم نبوت، جلد ٦، شمارہ ٢٠)

آہ! چوہدری محمد خلیل گجرات، مجاہد ختم نبوت

قارئین کرام! آپ گزشتہ شمارہ میں چوہدری محمد خلیل صاحب، مجاہد ختم نبوت کی وفات حسرت آیات کی خبر پڑھ چکے ہیں۔ چوہدری صاحب گجرات میں رہائش پذیر تھے۔ قدرت حق نے انہیں بڑی خوبیوں سے نوازا تھا۔ الیکٹریشن کالج قائم کر کے ملک کی خدمت کے لئے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے لئے اہتمام کیا اور اپنے لئے رزق حلال کا ذریعہ نکالا مگر یہ مصروفیات ان کے دینی کاموں کی انجام دہی کے لئے کبھی رکاوٹ نہیں بنیں۔

صفحہ ١٤٧

موصوف دنیوی تعلیم سے مناسب حد تک بہرہ ور تھے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے پلیٹ فارم سے زندگی بھر عقیدہ ختم نبوت کی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ کبھی لمحہ بھر بھی اس مقدس مشن سے غفلت نہیں برتی۔ قادیانیت و رد قادیانیت کی کتب پر انہیں عبور حاصل تھا۔ گوجرانوالہ ڈویژن میں قادیانیت کے خلاف سینکڑوں گفتگوئیں اور مناظرے کیے۔ تقسیم کے وقت جنونی قادیانی ایم۔ ایم احمد سیالکوٹ کا ڈپٹی کمشنر تھا۔ گورداسپور اور سیالکوٹ کی سرحد ملتی ہے۔ قادیانی گورداسپور سے نکلے تو سیالکوٹ، گوجرانوالہ، گجرات میں رہائش کے لئے ان کو آسانیاں مل گئیں۔ اس علاقہ میں قادیانیت نے پر پرزے نکالے تو ان کے اثرات بد کو زائل کرنے میں چوہدری صاحب مرحوم کی خدمات کو بڑا دخل تھا۔ جہاں کہیں قادیانی شرانگیزیاں سنتے، قادیانی کتب کا بستہ اٹھائے اس علاقہ میں پہنچ جاتے۔ بڑی نپی تلی معلوماتی تقریر کرتے تھے۔ ان کی قادیانی کتب پر گہری نظر تھی۔ قادیانی مناظر کو مرزا قادیانی کی کتب کے گورکھ دھندے میں ایسا جکڑتے کہ وہ پھڑپھڑانے لگ جاتا۔ یوں ہر معرکہ میں میدان مار لینے کا قدرت نے ان کو اعزاز بخشا۔

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گجرات کے ہمیشہ امیر رہے۔ اللہ رب العزت نے جہاں ان کو بڑی خوبیوں سے نوازا تھا، وہاں چوہدری صاحب نے ان تمام خوبیوں کو عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے وقف کر دیا تھا۔ آخری عمر میں تصوف کی طرف مائل ہوئے۔ خلافت بھی اپنے مرشد بزرگ سے مل گئی تھی۔ ابتدائی دینی تعلیم کے لئے مدرسہ بھی بڑی کامیابی سے چلا رہے تھے کہ حق تعالیٰ کی طرف سے بلاوا آگیا۔ اپنے اعزاء، جماعتی رفقاء اور اولاد کو غمزدہ چھوڑ کر عالم آخرت کو سدھار گئے۔ چوہدری صاحب کی خوبیوں اور کمالات کے اعتراف کا بہترین حق یہ ہے کہ تمام جماعتی رفقاء ان کے لئے دعا فرمائیں کہ حق تعالیٰ ان کی حسنات کو قبول فرما کر سیئات سے درگزر فرمائیں۔ رحمت حق کا ان پر سایہ ہو، شفاعت محمدؐ کے حقدار بنیں۔ اللہ رب العزت ہم سب کو بھی فکر آخرت نصیب فرمائیں۔ آمین بحرمت النبی الامی الکریم۔

(ہفت روزہ ختم نبوت، کراچی، جلد ١٢، شمارہ ٣٠)

صفحہ ١٤٨

قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے پر مبشرات

قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جانا بہت ہی عظیم برکات کا کارنامہ ہے۔ آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت کے منکروں کا مسلمانوں میں خلا ملا نہ صرف مسلمانوں کے حق میں ایک ناسور تھا بلکہ اس سے آنحضرت ﷺ کی روح مبارک بھی بے تاب تھی۔ قادیانی مسئلہ کے حل پر جہاں تمام ممالک کی جانب سے تہنیت و مبارک باد کے پیغامات آئے‘ وہاں منامات و مبشرات کے ذریعے عالم ارواح میں اکابر امت اور خود آنحضرت ﷺ کی مسرت و بہجت بھی محسوس ہوئی۔ آنحضرت ﷺ سے متعلق مبشرات ذکر کرنے کی ہمت نہیں ہوتی تاہم اہل ایمان کی خوشخبری کے لئے اپنے دو بزرگوں سے متعلق بشارات منامیہ بعض مخلصین کے اصرار پر عرض کرتا ہوں۔

جمعہ ٣ رمضان المبارک ١٣٩٤ھ صبح کی نماز کے بعد خواب دیکھتا ہوں کہ حضرت امام العصر مولانا محمد انور شاہ صاحب کشمیری رحمہ اللہ گویا سفر سے تشریف لائے اور خیر مقدم کے طور پر لوگوں کا بہت ہجوم ہے۔ لوگ مصافحے کر رہے ہیں۔ جب ہجوم ختم ہو گیا اور تنہا شیخ رہ گئے تو دیکھتا ہوں کہ بہت وسیع چبوترہ ہے۔ جیسے اسٹیج بنا ہوا ہو‘ اس پر فرش ہے اور اوپر جیسے شامیانہ ہو‘ بالکل درمیان میں شیخ تنہا تشریف فرما ہیں۔ دو تین سیڑھیوں پر چڑھ کر ملاقات کے لئے پہنچا۔ حضرت شیخ اٹھے اور گلے لگا لیا۔ میں ان کی ریش مبارک اور چہرہ مبارک کو بوسے دے رہا ہوں۔ حضرت شیخ میری داڑھی اور چہرے کو بوسے دے رہے ہیں۔ دیر تک یہ ہوتا رہا۔ چہرہ و بدن کی تندرستی زندگی کے آخری ایام سے بہت زیادہ ہے‘ بے حد خوش اور مسرور ہیں‘ بعد ازاں میں دو زانو ہو کر فاصلہ سے باادب بیٹھ گیا اور آپ سے باتیں کر رہا ہوں۔ اسی سلسلہ میں یہ بھی عرض کیا کہ بھول گیا ورنہ ”معارف السنن“ حاضر کرتا‘ فرمایا: میں نے خوشی اور مسرت کے ساتھ اس کا مطالعہ کیا ہے۔ اب چھٹی جلد کا مطالعہ کر رہا ہوں۔ میں نے عرض کیا کہ میرے پاس تو علم نہیں جو کچھ آپ نے فرمایا تھا بس اس کی تشریح و توضیح و خدمت کی ہے‘ بہت مسرت کے لہجے میں فرمایا کہ ”بہت عمدہ ہے ۔“

شوال ١٣٩٤ھ میں لندن کے قیام کے دوران خواب دیکھا کہ ایک بہت بڑا وسیع

صفحہ ١٤٩

مکان ہے گویا ختم نبوت کا دفتر ہے‘ بہت سے لوگوں کا مجمع ہے۔ میں ایک طرف جا کر سفید چادر جس طرح کہ احرام کی چادر ہو‘ باندھ رہا ہوں۔ بدن کا اوپر کا حصہ برہنہ ہے‘ کوئی چادر یا کپڑا نہیں۔ اتنے میں حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اسی ہیئت میں کہ احرام والی سفید چادر کی لنگی باندھی ہوئی ہے اور اوپر کا بدن مبارک بغیر کپڑے کے ہے‘ میرے داہنے کندھے کی جانب سے تشریف لائے‘ آتے ہی مجھ سے چمٹ گئے‘ پہلا جملہ یہ ارشاد فرمایا‘ ”واہ میرے پھول۔“ پھر دیر تک معانقہ فرمایا‘ میں خواب ہی کی حالت میں خیال کرتا ہوں کہ مبارک باد کے لئے تشریف لائے ہیں‘ انتہی‘ منامات کی حیثیت‘ مبشرات کی ہے۔ اس سے زیادہ ان کی کوئی حیثیت نہیں‘ بہر حال قادیانی ناسور کے علاج سے نہ صرف زندہ بزرگوں کو مسرت ہوئی بلکہ جو حضرات دنیا سے تشریف لے گئے ہیں‘ معلوم ہوتا ہے کہ انہیں بھی اس سے بے حد و پایاں خوشی ہوئی ہے۔ والحمد للہ۔

(بصائر و عبر‘ حصہ دوم‘ ص ٣٩٥ تا ٣٩٧‘ از علامہ یوسف بنوریؒ)

حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ اور مرزا قادیانی کی ہجو

افسوس ہے کہ مشرقی پاکستان کے مشہور عالم دین مولانا تاج الاسلام کا ٢٢ ذی الحجہ ١٣٨٦ھ کو انتقال ہو گیا۔ موصوف دیوبند کے ممتاز فارغ التحصیل حضرت الاستاذ امام العصر مولانا محمد انور شاہ رحمہ اللہ کے تلمیذ رشید‘ بنگال کے عمدہ عربی ادیب اور شاعر‘ مخلص اور بے لوث خادم دین اور اچھے واعظ تھے۔ عرصہ دراز تک علوم نبوت (قرآن و حدیث) کا درس دیا۔ برہمن باڑیہ میں ایک مدرسے کے بانی اور صدر تھے۔ طالب علمی کے زمانے میں مرزا غلام احمد قادیانی کی ہجو میں ایک بلند پایہ عربی قصیدہ لکھا تھا جسے حضرت امام العصر اور دیگر اساتذہ نے بے حد پسند فرمایا اور بڑی قدر فرمائی۔ اس کے چند شعر جو علمی اعتبار سے بہت اونچے تھے‘ مجھے بھی سنائے۔

(بصائر و عبر‘ حصہ دوم‘ ص ٦٠٤‘ از علامہ یوسف بنوریؒ)

صفحہ ١٥٠

قاضی صاحبؒ کی نماز جنازہ

از : جانباز مرزا‘ ایڈیٹر ماہنامہ ”تبصرہ“ لاہور

گزشتہ سال ٢٣ نومبر ١٩٦٦ء کا منحوس ترین دن تھا۔ جب دین دار قسم کے مسلمانوں کی قریباً آخری پونجی موت کے ہاتھوں لٹ گئی۔ موت کو یہ قدرت حاصل ہے کہ وہ اپنے دامن کی ہواؤں سے جب چاہے‘ کسی کا چراغ زندگی گل کر دے۔ شہنشاہوں کی دولت اور اطباء کی رائے‘ دونوں اس کے سامنے اس طرح سپر انداز ہوتی ہیں کہ ساری شیخی کرکری ہو جاتی ہے۔

قاضی احسان احمد گزشتہ آٹھ ماہ سے زندگی کے سہارے موت سے نبرد آزما رہے۔ اس عرصہ میں وہ سب کچھ کیا گیا جو زندہ رہنے کے لئے کیا جا سکتا ہے لیکن موت کا ایک دن معین ہے۔ شجاع آباد کے ڈاکٹر‘ نشتر ہسپتال کے سرجن‘ لاہور کے بڑے بڑے دانشور‘ میانوالی کے حکیم سب نے اپنے حوصلے آزما کر دیکھے اور سب نے اپنی رائے کا امتحان کر لیا‘ مگر زندگی کا سلسلہ منقطع ہو چکا تھا۔ یہ شاخ اپنے تنے سے ٹوٹ چکی تھی۔ دن کی سفید چادر پر رات کے داغ ابھر آئے تھے اور موت عمر کی دیواریں عبور کر چکی تھی۔ آٹھ ماہ کی تمام جدوجہد پانی پانی ہو کر زندگی کے راستے سے ہٹتی ہوئی موت کے سامنے جا کر ہار گئی۔ آخر وہی ہوا جس کا انتظار تھا۔ خطیب پاکستان اپنی خطابت کے تمام زور‘ اپنی شخصیت کی تمام رعنائیاں اور اپنی محبت کی زلف ہائے دراز کو چھوڑ کر‘ ہزاروں چاہنے والوں کے آنسوؤں میں اس طرح گم ہو گئے کہ آج ان کے نشان پا تو ملتے ہیں مگر بہار زندگی نہ جانے کہاں گم ہو گئی کہ اب قیامت تک اس کا انتظار رہے گا۔ پانچ بجے تھے کہ مجھے اچانک سرراہ قاضی صاحب کی موت کی اطلاع ملی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

اس خیال سے کہ صبح خیبر میل پر جاؤں گا تو یقیناً جنازہ مل جائے گا‘ اور اسی ارادہ سے رات کے سفر میں بہتری نہ سمجھی۔ صبح اسٹیشن پر معلوم ہوا کہ پشاور اور ٹیکسلا کے احباب بھی

صفحہ ١٥١

خیبر میل میں جا رہے ہیں، جس سے تسلی ہوئی، خیبر میل اپنے مسافروں کو ٹھیک وقت پر پہنچا رہی تھی۔ جیسے جیسے شجاع آباد قریب آ رہا تھا، راستے کی ہر شے غمناک دکھائی دے رہی تھی۔ سرسوں کے پھول پیلے زرد چہرے لئے کھیتوں کے کنارے مرجھائے کھڑے تھے۔ آموں کے پودے شجاع آباد جانے والوں کو آخری نظر سے دیکھ رہے تھے کہ ساڑھے تین بجے گاڑی شجاع آباد پہنچی۔ تانگہ پر بیٹھتے ہی سوگواروں کا ایک دستہ ملا، اب کہاں جا رہے ہو؟ خاک کی امانت خاک کے سپرد کر دی گئی۔ دل دھک سے رہ گیا۔ ٣٦ سالہ زندگی کے ساتھی نے آدھ گھنٹہ انتظار نہ کیا۔ زمانہ کے رسم و رواج اور دین کے رہنماؤں نے اپنے سفر کی سہولت کے پیش نظر کئی دوستوں کو نماز جنازہ کی سعادت سے محروم کر دیا۔

تانگہ لے کر قبرستان پہنچے۔ لاکھوں دلوں کو سلانے والا منوں مٹی کے نیچے آخری نیند سو چکا تھا۔ گرد و پیش کو دیکھا کہ کہیں پھول ہوں تو یار کی قبر پر چڑھا دوں مگر وہ سب مرجھا چکے تھے۔ آخر آنسوؤں نے ساتھ دیا اور خشک دریا سے وہ طوفان امڈا کہ قبر پر پانی کے چھڑکاؤ کی حاجت نہ رہی۔ جیل و ریل کے ٣٦ سالہ رفیق سفر ! تو نے بھی لوگوں سے نہ کہا کہ جانثار کا انتظار کر لو، وہ آتا ہی ہو گا۔ قاضی صاحب اتنی بھی کیا جلدی تھی کہ منہ تک نہ دکھا سکے۔ یہ درست ہے کہ میرا منہ تیرے ایسے اچھے دوست کے قابل نہیں تھا۔ تاہم میرا شوق دیکھتا اور میرا انتظار کرتا۔۔۔۔ خیر، تمہاری مرضی۔ خدا تمہارے آئندہ سفر کو آسان بنائے۔ آمین۔

یہ کہہ کر آنسو سمیٹ لیے۔ پھر قاضی صاحب کی مسجد میں آیا تو یہاں سوگواروں کا ہجوم تھا۔ دوست دوستوں سے تعزیت کر رہے تھے، اور کرتے بھی کس سے، جو بد قسمت نرینہ اولاد سے محروم مرتے ہیں، ان کی میتوں کو دوست ہی اٹھاتے ہیں۔ کاش! قاضی صاحب مرحوم کی کوئی نشانی ہوتی۔ لیکن آہ......! قاضی صاحب کے دونوں داماد قاضی عبداللطیف اور قاری نور الحق سوگواروں سے ملتے ملاتے رہے۔ شام فضا پر اپنے سائے پھیلا رہی تھی۔ دھوپ مغرب کی جانب اٹھتی ہوئی نظروں سے دیکھتی ہوئی غائب ہو چکی تھی۔ میں نے اہل خانہ سے اجازت چاہی۔ وہ روکتے رہے کہ رات کی بات ہے، صبح چلے جانا لیکن شجاع آباد میں میرے لیے اب کوئی کشش نہیں تھی۔

صفحہ ١٥٢
وہ جو بیچتے تھے دوائے دل
وہ دکان اپنی بڑھا گئے

١٩٣٢ء میں پہلی دفعہ قاضی صاحب کے والد محترم قاضی محمد امین صاحب کی دعوت پر شجاع آباد آیا تھا اور یہ سلسلہ زلف جاناں کی طرح ایسا دراز ہوا کہ قاضی صاحب کے ساتھ برادرانہ رسم و راہ نے گھر کی دیواریں بھی ایک دوسرے کے لیے گرا دیں۔

ان دنوں شجاع آباد کی شاہی مسجد کی وسعت کھجور کے درخت کے برابر تھی۔ نمازیوں کی تعداد بھی محدود تھی اور شہر کی آبادی غیر مسلموں پر مشتمل تھی۔ لیکن آج مسجد کی رونق اور شہر کی آبادی جب دونوں پر شباب آیا تو خطیب رخصت ہو گیا۔

ع یار پہ جو آیا تو قضا بھی آئی

اب ایسا کبھی گاڑی پر شجاع آباد سے گزر ہوا تو تصور کر لیا جائے کہ قاضی احسانؒ اسٹیشن پر کھڑے ہیں اور تقاضا کر رہے ہیں کہ جانباز اب کی بار آموں کے موسم میں شجاع آباد نہیں آؤ گے؟

ایک روحانی پیشوا کی طرف سے خلعت فاخرہ

مولانا محمد علی مونگیری کی شخصیت سے ہندوستان کا کون سا لکھا پڑھا شخص ناواقف ہو گا۔ آپ ندوہ کے بانی و ناظم، مولانا فضل رحمٰن گنج مراد آبادی کے خلیفہ، بہار کے امیر شریعت اور عیسائیوں کے مقابلے میں ایک بڑے مناظر مصنف تھے۔ مونگیر سے قادیانی فتنہ کے استیصال میں آپ کی مساعی کو بڑی اہمیت حاصل تھی۔ مولانا امرتسری کی حیدر آبادی خدمات سے آپ جس قدر متاثر ہوئے، اس کا اندازہ مولانا امرتسری کے اس بیان سے کیا جا سکتا ہے:

”حضرت ممدوح نے جب حیدر آباد میں خاکسار (یعنی مولانا امرتسری) کی ناچیز خدمات سنیں تو اپنے سر کی خاص پگڑی (شملہ) اور کرتہ کا کپڑا بذریعہ ڈاک

صفحہ ١٥٣

پارسل اس خادم کو بھیجا جو بلحاظ مذہبی تقدس کے حیدر آبادی منصب سے زیادہ قابل فخر ہے۔ دونوں (مادی اور روحانی) طرح سے معلوم ہوتا ہے کہ حیدر آباد میں میری خدمات خدا کے ہاں قبول ہوئی ہیں۔ ولہ الحمد۔

(فتنہ قادیانیت از مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ ، ص ١٧٥، ١٧٦ و از فضل الرحمن الاعظمی)

حضورؐ تاجدار ختم نبوتؐ کی بشارت سے

میں ارتداد سے بچ گیا

ایک نیوی افسر محمد امین محمود آباد کے تاثرات

میرا تعلق سنی مسلمان گھرانے سے ہے اور ملازمت کا تعلق پاکستان نیوی سے ہے دوران ڈیوٹی ایک دینی بھائی کے پاس ہفت روزہ ختم نبوت دیکھا جو کہ ١٠ تا ١٦ اپریل کا تھا۔ بخدا یقین جانیئے، بہت پسند آیا۔ مضامین، واقعات، تبصرے اور لطائف غرض کہ ہر چیز اپنی جگہ پر اپنی مثال آپ تھی۔

میں نے ابھی تک ایک کاپی آپ کی پڑھی ہے۔ آپ لوگوں کو جس طرح کافروں (مرزائیوں) کے بارے میں بتاتے ہیں، اللہ اور اس کا نبی آخری الزمانؐ بہت خوش ہیں۔

ایک گزارش ہے کہ مسلمانوں کو قادیانیوں کی مذموم حرکات سے بچایا جائے۔ وہ سیدھے سادھے مسلمانوں کو ورغلا کر گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ میرے ساتھ خود یہ ناپاک حرکت ہو چکی ہے۔ ان کے گماشتے ہر جگہ پھیلے ہوئے ہیں۔ میں بچپن میں والد کے سایہ سے محروم ہو گیا تھا۔ بہت دکھ اٹھائے ہیں میں نے۔ میں روتا تھا اور خدا سے پوچھتا تھا کہ میں یتیم کیوں ہوں۔ پھر خواب میں پیارے نبی محمد مصطفیٰؐ نے دیدار نصیب کرایا، پاگل ہو تم، مجھے دیکھو، میں بھی تو یتیم پیدا ہوا۔ حوصلہ نہ ہارو، اللہ بہتر کرے گا۔ پھر کچھ دنوں کے بعد حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے بھی خواب میں ملاقات بخشی، سفید گھوڑے پر سفید نورانی

صفحہ ١٥٤

چہرہ تھا۔ انہوں نے حوصلہ دیا۔ واضح ہو کہ حضور ﷺ نے بھی سفید لباس زیب تن کیا ہوا تھا‘ نورانی چہرہ اور سیاہ چمکدار ریش مبارک تھی۔ ابھی تین چار سال پہلے کی بات ہے کہ ایک مرزائی سے ناظم آباد میں ملاقات تھی‘ جس کی شکل ہی شیطانی تھی اس کا نام اسماعیل ہے اور گلیکسو فیکٹری کے پیکنگ ڈیپارٹمنٹ میں ہے۔

بڑے اچھے اخلاق کا مظاہرہ کیا۔ میٹھی میٹھی باتوں کا جال پھیلایا۔ میں اس کی میٹھی باتوں کا گرویدہ ہو گیا تو مجھے ایک دن پتہ چلا کہ ان کا سالانہ جلسہ ربوہ میں ہونے والا تھا۔ اس نے مجھے قائل کرنے کی کوشش کی‘ یعنی آفر کی کہ میں ربوہ چلوں اور مشاہدہ کروں۔ اس نے میری کسی بات سے اختلاف نہ کیا البتہ اتنا کہا کہ میں نے آپ کی سب باتیں مانی ہیں۔ اب میری بھی مانیں اور میرے ساتھ ربوہ چلیں۔ میں نے تھک ہار کے کہا کہ میرے جب عقائد ہی آپ سے ملتے نہیں تو میں آپ کے ساتھ کیسے جاسکتا ہوں۔ تو اس نے جواب دیا کہ آپ لوگوں کے بڑے بڑے علماء بھی ہمارے جلسے میں شرکت کرتے ہیں۔ اس نے کہا کہ آپ اگر میری باتیں نہیں مانتے تو ایسا کریں کہ میرے ساتھ چلیں بائی ایئر۔ ٹکٹ اور دوسرے خرچ کا ذمہ ہمارا۔ وہاں چل کر بس یہ اعلان کر دیں کہ میں قادیانی مذہب میں آگیا ہوں۔ (خدانخواستہ) بس پھر انعام واکرام‘ شادی‘ بونس اور عیش وعشرت ہمارے ذمہ اور مجھے بھی فائدہ ہوگا۔ اگر دل نہ لگا تو واپس اپنے مذہب میں آجانا۔

میں تھوڑا ڈگمگا گیا۔ چلو جھوٹ موٹ بننے سے کیا فرق پڑتا ہے۔ اسی رات میرے پیارے آقا ﷺ خواب میں آئے۔ صرف آواز مبارک سنائی دی‘ دیدار نصیب نہیں ہوا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ میں بہت پریشان ہوں‘ ذلیل وخوار ہوں۔

حضور ﷺ کی آواز مبارک سنائی دی کہ اے نادان! جس راستے پر چلنے والے ہو‘ وہاں سے تمہیں پریشانیوں اور تکلیفوں کے علاوہ کچھ نہیں ملے گا۔ گمراہیوں کی دلدل میں پھنس جاؤ گے۔ میری سنتوں کو تم نے چھوڑ دیا ہے اور اب دجال کے پجاریوں کے جال میں پھنس رہے ہو۔ وہاں سے تمہیں وہ نکلنے نہیں دیں گے۔ میں خواب میں رونا شروع کر دیتا ہوں اور کہتا جاتا ہوں‘ یا رسول اللہ‘ میں آپ کی سنتوں کو کبھی نہیں چھوڑوں گا‘ مجھے گمراہیوں کی دلدل سے بچالیں۔ اس کے بعد روتے روتے میری آنکھ کھل گئی اور میں بھی دنیا اور آخرت میں بھٹکنے اور ذلیل وخوار ہونے سے بچ گیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس

صفحہ ١٥٥

کے رسول ﷺ کا مجھ پر احسان عظیم ہے۔ اللہ تعالیٰ سب مومنوں کو اپنی پناہ میں رکھے۔

(آمین)

(ہفت روزہ ختم نبوت‘ کراچی‘ جلد ٦‘ شمارہ ١٧)

بے علم مرزا

میں نے اپنے ایک ملازم کے پاس نو عمر لڑکے کو اکثر دیکھا۔ وہ کافی دیر اس سے باتیں کرتا اور پھر چلا جاتا۔۔۔۔ ملازم بہت توجہ سے اس کی باتیں سنتا۔۔۔۔ ایک دن میں نے ملازم سے پوچھ لیا۔ ”بھئی عمران‘ یہ لڑکا کون ہے۔۔۔۔ اور تم سے کیا باتیں کرتا رہتا ہے۔“

یہ میرے پڑوس میں رہتا ہے۔۔۔۔ مرزائی ہے اور اپنے مرزا غلام احمد قادیانی کی باتیں کرتا رہتا ہے۔۔۔۔ عرفان احمد نام ہے۔“

”اور تم سنتے رہتے ہو؟“ میں نے حیران ہو کر پوچھا۔

”اور کیا کروں۔۔۔۔ پڑوسی ہے نا جناب۔“

پڑوسی بن کر کہیں وہ تمہیں مرزائی نہ بنالے۔۔۔۔ اچھا‘ اب وہ آئے تو اسے ذرا میرے پاس لانا۔ میں اس سے ایک آدھ سوال پوچھوں گا۔

”جی اچھا۔“ عمران نے کہا۔

دوسرے دن وہ لڑکا پھر آیا۔۔۔۔ عمران نے اسے میرے بارے میں بتایا کہ میں اس سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں۔ وہ بے دھڑک میرے پاس چلا آیا۔ میں نے اسے کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔۔۔ اور پوچھا:

”آپ مرزائی ہیں۔۔۔۔ یعنی مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانتے ہیں۔“

اس نے جواب میں کہا ”ہاں! ہم مرزا صاحب کو نبی مانتے ہیں۔۔۔۔ مسیح موعود مانتے ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام؟“

”وہ فوت ہو گئے۔۔۔۔ ان کی تو قبر کشمیر میں ہے۔“ اس نے فوراً کہا۔ میں نے جواب میں اسے کہا۔

صفحہ ١٥٦

”کیا آپ کو پتہ ہے۔۔۔۔ مرزا صاحب نے اپنی کتاب ”کشتی نوح“ میں کیا لکھا ہے۔ اس نے لکھا ہے کہ آپ ﷺ کی حدیث ہے۔۔۔۔ یعنی آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام میری قبر کے ساتھ دفن ہوں گے اور وہ مسیح میں ہی ہوں اور اس میں دو رنگی نہیں ہے۔ یعنی دھوکا فریب نہیں ہے۔۔۔۔ وہ مسیح میں ہی ہوں جو آپ ﷺ کی قبر میں دفن ہو گا۔۔۔۔ لیکن مرزا تو قادیان میں دفن ہے۔۔۔۔ اور بقول آپ کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کشمیر میں دفن ہیں۔ تو اب روضہ نبوی میں جو چوتھی قبر کی جگہ موجود ہے۔۔۔۔ اس کو کون پر کرے گا؟ اس نے سوال کا فوراً یہ جواب دیا:

”وہاں چوتھی قبر کے لئے قطعاً کوئی جگہ خالی نہیں ہے۔“

”بہت خوب! مرزا نے تو لکھا ہے کہ میں وہاں دفن ہوں گا۔۔۔۔ یعنی وہاں دفن کی جگہ موجود ہے اور آپ کہتے ہیں کہ وہاں چوتھی قبر کے لئے کوئی جگہ نہیں۔۔۔۔ اب دو باتوں میں سے ایک مان لیں یا تو مرزا نے جھوٹ لکھا تھا کیونکہ آپ کے بقول وہاں چوتھی قبر کی جگہ نہیں ہے یا آپ کا علم مرزا سے زیادہ ہے۔۔۔۔ تب آپ مرزا کو نبی مان سکتے ہیں۔۔۔۔ بلکہ مرزائیوں کو چاہیے کہ آپ کو نبی مان لیں۔“

اس دن کے بعد وہ پھر عمران کے پاس نظر نہیں آیا۔

(ماہنامہ لولاک‘ ملتان‘ مارچ 1999ء‘ از قلم اشتیاق احمد)

صفات میں تو درندوں سے کم نہیں ازہر
اگرچہ شکل سے انساں دکھائی دیتا ہے (مؤلف)

موضع ڈگیاں کا نام ربوہ کیسے؟

قادیانی‘ قادیان کو مکہ اور مدینہ کے برابر سمجھتے ہیں

منظور احمد شاہ آسی‘ مانسہرہ

ربوہ کے معنی ”ٹیلا“ یا ”تودہ“ کے ہیں۔ قرآن میں حضرت عیسیٰؑ اور حضرت مریمؑ

صفحہ ١٥٧

کے ذکر میں ربوہ لفظ آیا ہے چونکہ آنجہانی مرزا قادیانی کا دعویٰ بھی تھا کہ میں مثل مسیح ہوں یا عیسیٰ ابن مریم ہوں جبکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم نے مریم کے بیٹے عیسیٰ اور اس کی ماں کو نشانی بنایا۔ سیدنا عیسیٰ جب بغیر باپ کے پیدا ہوئے تو یہودی ان پر اتہام لگاتے تھے اور حضرت مریم صدیقہ کی توہین کرتے، جبکہ عیسائی حضرت عیسیٰ کی اس خلاف عادت پیدائش پر انہیں اللہ کا بیٹا قرار دیتے تھے۔ ظالم یہودی بادشاہ اور اس کے حاشیہ نشین، حضرت عیسیٰ کے قتل کے درپے تھے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ اور ان کی والدہ کو ایک سرسبز و شاداب ٹیلے پر لے جاکر پناہ دی۔ یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ نہایت امن و سکون سے جوان ہوئے۔ اس ٹیلے کا ذکر سورۃ مومنون آیت نمبر ٥٠ میں ہے۔ وہ کہاں تھا، مفسرین نے مصر، دمشق، بیت المقدس قرار دیا۔ یہی وہ جگہیں ہیں، جہاں حضرت مریم ”اپنے لخت جگر حضرت عیسیٰ“ کو لئے پھرتی رہیں۔ وہ ایسی جگہ تھی جہاں کی آب و ہوا نہایت خوشگوار تھی۔

قیام پاکستان کے بعد گورنمنٹ برطانیہ نے اپنے ”خود کاشتہ پودے“ کو قادیان کے بجائے بعض سیاسی مصلحتوں کے تحت ”جہیز میں پاکستان کو دے دیا۔“ حالانکہ ان کی جنم بھومی قادیان تھا۔ لیکن جو کام انگریز پاکستان میں قادیانیوں کو منتقل کر کے لے سکتا تھا، وہ اس کو بھارت میں کہاں نصیب ہو سکتا تھا حالانکہ قادیان کو مرزائی مکہ اور مدینہ کے برابر سمجھتے ہیں جیسا کہ مرزا قادیانی خود کہتا ہے۔

زمین قادیاں اب محترم ہے
ہجوم خلق سے ارض حرم ہے

انگریز کا واحد مقصد چونکہ مسلمانوں میں انتشار پیدا کرنا تھا۔ لہٰذا یہ شجر خبیثہ بھی ہمارے حصہ میں دیا گیا۔ انگریز گورنر سر فرانس موڈی نے قادیانی جماعت کو ١٠٣٣ (دس سو تینتیس) ایکڑ، سات کنال آٹھ مرلے زمین چھ پیسے فی مرلے کے حساب سے ٩٠ سال کی لیز پر دلوائی۔ اس وقت اس جگہ کا نام ”چکیاں“ تھا۔ چونکہ پاکستان کا اہم فضائی اڈہ سرگودھا اس مقام کے قریب تھا۔ انگریز نے قادیانیوں کو جاسوسی کرنے کے لئے اس اہم جگہ بٹھایا۔ بظاہر یہ جگہ اس وقت غیر اہم اور بے وقعت تھی، خشک پہاڑیوں کے درمیان واقع تھی۔ چنانچہ بعد میں قادیانیوں نے اعلیٰ حکام سے مل کر اس زمین کا انتقال ٢٩ نومبر ١٩٤٩ء کو انجمن

صفحہ ١٥٨

احمدیہ کے نام کرالیا اور ڈگیاں کا نام ربوہ رکھ دیا۔ چونکہ مرزا قادیانی نے بھی یہ دعویٰ کیا ہے کہ میں مسیح موعود ہوں۔ حضرت عیسیٰؑ کے ذکر میں قرآن پاک میں لفظ ”ربوہ“ بھی آیا ہے تو گویا مرزا نے یہ ظاہر کیا ہے کہ یہی وہ ربوہ ہے، جس کا ذکر قرآن میں ہے حالانکہ ایسی بات نہ تھی۔ یہ قرآنی آیات کی توہین اور غلط تشریح کی گئی۔ اسی وجہ سے ہماری جماعت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے اہم مطالبات میں سے ایک مطالبہ یہ بھی ہے کہ ربوہ کا نام ختم نبوت کے قافلہ کے پہلے سپہ سالار سیدنا صدیق اکبرؓ کی مناسبت سے صدیق آباد رکھا جائے۔ جنہوں نے جھوٹے مدعیان نبوت کے خلاف جہاد کیا اور انہیں جہنم رسید کیا۔ فروری ١٩٨٤ء میں وزیر اعظم پاکستان جونیجو مرحوم سے جو تحریری معاہدہ ہوا، جس میں اس مطالبے کو تسلیم کیا گیا کہ ربوہ کا نام تبدیل کر کے صدیق آباد رکھ دیا جائے گا، جو تاحال تشنہ تکمیل ہے۔

٧٤ء سے پہلے ربوہ کے اندر باقاعدہ ایک حکومتی نظام قائم تھا۔ ربوہ شہر کی پچیس، تیس ہزار آبادی تھی۔ جو صرف قادیانیوں پر مشتمل تھی۔ اندرون اور بیرون ملک بسنے والے قادیانیوں نے ربوہ میں اپنے اپنے مکانات تعمیر کئے ہوئے تھے۔ ملبہ تو قادیانیوں کا تھا لیکن نیچے زمین انجمن احمدیہ کی ملکیت ہے۔ جو قادیانی بھی ربوہ میں ہے، وہ ربوہ کی ایک انچ زمین کا مالک بھی نہیں۔ انجمن احمدیہ جب بھی چاہے، ربوہ میں موجود قادیانیوں کے مکان خالی کرا سکتی ہے۔ ٧٤ء سے قبل ربوہ میں کوئی مسلمان آباد نہیں ہو سکتا تھا۔ جب بھی کوئی قادیانی مکان بنانے کی درخواست کرتا تو انجمن احمدیہ بڑی چھان پھٹک کے بعد اسے جگہ دیتی۔ پاکستان میں ایک ایسی ریاست بنانا مقصود تھا جو بقول مرحوم آغا شورش کاشمیری ”مرزائیل“ کے نام سے موسوم ہوتی۔ جس طرح یہودیوں نے باقاعدہ منصوبے کے تحت دوسرے ممالک مثلاً روس، امریکہ، برطانیہ، جرمنی، فرانس اور دیگر ممالک سے مذہب پرست یہودی لا کر بسائے اور عربوں کی زمین کوڑیوں کے بھاؤ خریدتے رہے۔ اور عربوں کو ڈرا دھمکا کر بے دخل کرتے رہے اور جب فلسطین میں یہودیوں نے قدم جما لئے اور طاقت پکڑ لی تو ایک یہودی ریاست کے قیام کا مطالبہ کر دیا۔ جس کو مغربی ممالک نے فوراً تسلیم کر لیا اور یوں اسرائیل کا قیام عمل میں آگیا۔ بعینہ یہی منصوبہ قادیانیوں کا تھا۔ ورنہ کیا وجہ تھی کہ ٧٤ء تک کوئی بھی مسلمان ایک انچ زمین خریدنے کا مجاز نہ تھا اور عجیب تر بات

صفحہ ١٥٩

تو یہ کہ ربوہ میں سرکاری دفاتر میں کام کرنے والا عملہ بھی قادیانی تھا۔ کسی سرکاری محکمہ میں مسلمان عملہ نہ تھا اور نہ ہی ربوہ میں کسی سرکاری مسلمان افسر کی تبدیلی یا تبادلہ کرایا جاسکتا تھا۔ ربوہ کے اندر مرزائیوں نے اپنی ریاست قائم کی ہوئی تھی۔ ہر محکمہ کا ایک ناظر تھا۔ اس کا انچارج تھا۔ گویا وہ ان کا وزیر تھا‘ اس کے نیچے سیکرٹری ہوتا ہے یہی حال ریاست ربوہ کا تھا۔ مندرجہ ذیل نقشہ دیکھئے۔

١۔ ناظر اعلیٰ (وزیراعلیٰ) ٢۔ ناظر امور عامہ (وزیر داخلہ) ٣۔ ناظر امور خارجہ (وزیر خارجہ) ٤۔ ناظر ضیافت (وزیر خوراک) ٥۔ ناظر تجارت (وزیر تجارت) ٦۔ ناظر حفاظت مرکز (وزیر دفاع) قادیانی مسلح تنظیموں مثلاً خدام احمدیہ‘ انصار احمدیہ‘ فرقان فورس وغیرہ کا نگران اور ربوہ کی حفاظت اور دفاع۔ ٧۔ ناظر صنعت (وزیر صنعت) ٨ ۔ ناظر تعلیم‘ (وزیر تعلیم) ٩۔ ناظر اصلاح و ارشاد (وزیر نشریات و مواصلات) ١٠۔ ناظر بیت المال (وزیر خزانہ و مال) ١١۔ نظارت قانون (وزارت قانون) ١٢۔ ناظر زراعت (وزیر زراعت)

ناظر اعلیٰ سے مراد وہ ناظر ہے جو ان سب کا انچارج ہو۔ دوسرے الفاظ میں وزیر اعلیٰ مراد ہے۔ یہ میں اپنی طرف سے نہیں کہتا بلکہ خود مرزا محمود کے پلان کو ذرا غور سے پڑھیں ۔

”تیسری بات اس تنظیم کے لئے یہ ضروری ہوگی کہ اس مرکزی کام کو مختلف ڈیپارٹمنٹوں میں اس طرح تقسیم کیا جائے‘ جس طرح گورنمنٹوں کے محکمے ہوتے ہیں۔ سیکرٹری شپ کا طریق نہ ہو‘ بلکہ وزراء کا طریق ہو ایک انچارج ہو ۔“

(الفضل‘ ١٨ جولائی ١٩٢٥ء)

”اب اسی انتظامیہ کو بجائے وزارت کے نظارت کہا جاتا ہے تاکہ عوام اور حکومت کو پتہ نہ چل سکے اور نہ ہی محاسبہ ہو سکے۔ اس کا نام نہاد خلیفہ ہر محکمہ کے ناظر (وزیر) کو خود منتخب کرتا ہے۔ جیسا کہ مرزا محمود نے کہا:

”ناظر ہمیشہ میں خود نامزد کرتا ہوں۔“

(الفضل ٢٤ اگست ١٩٣٠ء)

صفحہ ١٦٠

ربوہ میں باقاعدہ اسٹیٹ میں عدالتیں ہوتی تھیں اور ہر قسم کے مقدمات کی سماعت خود قادیانی قاضی اور جج جن کو قادیانی پوپ نامزد کرتا تھا اور جو فیصلہ وہ کرتے‘ ہر قادیانی کو ماننا پڑتا تھا۔ آخری فیصلہ قادیانیوں کے پیشوا کا ہوتا تھا‘ چنانچہ ١٩٧٤ء میں تحریک ختم نبوت کے دوران جب ہائی کورٹ کے جج جسٹس صمدانی ربوہ میں تحقیقات کے لئے تشریف لے گئے اور تھانہ ربوہ کے روزنامچے اور رجسٹر دیکھے تو اس میں ایک مقدمہ کا اندراج بھی نہ کیا گیا تھا۔ کیا ١٩٤٨ء سے لے کر ١٩٧٤ء تک ربوہ میں کسی قسم کا کوئی جرم نہ ہوا تھا اور قادیانی ‘فرشتے تھے۔ یہ بات صمدانی کمیشن رپورٹ میں درج ہے۔ اصل بات ہی یہ تھی کہ قادیانی ریاست کے اندر ریاست بنائے ہوئے تھے اور وہ باقاعدہ اس کا نظام چلا رہے ہیں‘ جس کا کسی حد تک خاتمہ ١٩٧٤ء تک ہوا۔

(ہفت روزہ ختم نبوت‘ کراچی‘ جلد ١٢‘ شمارہ ١٩)

بے علم مرزا

مرزا کا علم ایک عام آدمی جتنا بھی نہیں تھا۔۔۔ ہم یہ بات اس کی اپنی تحریر سے ثابت کریں گے‘ انشاء اللہ۔ بلکہ مرزا کو تو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ نبی اور رسول میں کوئی فرق ہے بھی یا نہیں۔ اس سے بھی آگے بڑھ کر ہم دعویٰ کرتے ہیں کہ مرزا کو تو یہ تک معلوم نہیں تھا کہ قبلے صرف دو ہیں‘ قبلہ اول یعنی بیت المقدس اور قبلہ دوم یعنی خانہ کعبہ۔۔۔۔ پہلے مسلمان بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھا کرتے تھے۔۔۔ پھر جب اللہ تعالیٰ کا حکم آیا تو نماز کی حالت میں ہی قبلے کا رخ تبدیل کر دیا گیا اور رخ خانہ کعبہ کی طرف مقرر ہوا۔

یہ سب باتیں عام آدمی کو تو معلوم ہیں لیکن مرزا کو قطعاً معلوم نہیں تھیں اور دعویٰ تھا اسے نبوت کا۔ ہم تو اسے عام آدمی کے برابر بھی نہیں مانتے۔۔۔۔ لیکن اس نہ ماننے میں ہمارا کوئی قصور نہیں۔ یہ سب کیا دھرا تو اس کی اپنی تحریروں کا ہے۔۔۔ ہم تو مرزا کو اس کی

صفحہ ١٦١

اپنی تحریر کے آئینے میں دیکھتے ہیں اور اگر ایسا کرتے ہیں تو کیا جرم کرتے ہیں۔۔۔۔ لیجئے، ثبوت ملاحظہ فرمائیں۔۔۔۔ مرزا مکتوبات احمدیہ ضمیمہ نمبر چہارم کے صفحہ ٤٢ پر لکھتا ہے:

"انبیاء اس لئے آتے ہیں کہ ایک دین سے دوسرے دین میں داخل کردیں اور ایک قبلہ سے دوسرا قبلہ مقرر کردیں۔"

آپ نے ملاحظہ فرمایا۔۔۔۔ مرزا کو یہ تک نہیں معلوم تھا کہ انبیاء ایک دین سے دوسرے دین میں داخل نہیں کرتے۔۔۔ نہ ہر نبی قبلہ تبدیل کرتا ہے۔

اگر ہر نبی نے قبلہ تبدیل کرایا تو مرزائی بتائیں، کس نبی کا کون سا قبلہ تھا اور کس نبی کا کون سا قبلہ تھا۔۔۔۔ اور یہ بھی بتائیں کہ ہر نبی کون سا نیا دین لے کر دنیا میں آئے۔

مرزائی اگر ان باتوں کا جواب دے دیں تو ہم انہیں مرزائی تسلیم کر لیں گے۔۔۔۔ لیکن ہم جانتے ہیں۔۔۔۔ ان تلوں میں تیل کہاں۔۔۔۔ مرزائیوں سے جب ہم کوئی بات پوچھتے ہیں تو وہ ڈھاک کے وہی تین پات کی طرح جواب دیتے ہیں۔۔۔۔

حضرت خطیب اسلام

پروفیسر محمد اقبال جاوید

جن کے سائے میں صبا چلتی تھی
پھر نہ وہ لوگ پلٹ کر آئے

خطیب الاسلام صاحبزادہ سید فیض الحسنؒ "برصغیر کی اس تابناک تاریخ کا ایک زریں ورق ہیں، جس پر فکر و نظر اور علم و ادب کی کہکشاں بجا طور پر ناز کر سکتی ہے۔ تب علامہ اقبال کی مفکرانہ عظمتوں، مولانا ابوالکلام آزاد کی عالمانہ وجاہتوں، مولانا ظفر علی خان کی

صفحہ ١٦٢

ادیبانہ رفعتوں اور سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے خطیبانہ زمزموں سے برصغیر گونج رہا تھا۔ صاحبزادہ سید فیض الحسن شاہؒ نے ان دیو قامت شخصیتوں کے ہالے میں اپنی انفرادیت کو منوایا۔ وہ ان شخصیتوں سے یقیناً متاثر بھی ہوئے مگر رنگ‘ ڈھنگ اور آہنگ ان کا اپنا رہا بلکہ اپنی گفتار اور اپنے کردار سے انہیں بھی متاثر کیا۔

وہ ایک خطیب تھے‘ بولتے تھے تو یوں لگتا تھا کہ ایک تختہ چمن کھلا ہوا ہے اور رنگا رنگ پھول شاخ گفتار سے جھڑتے چلے جا رہے ہیں۔ ایک ادیب تھے کہ قلم اٹھاتے تو لو لوئے لالہ بکھرتے چلے جاتے تھے‘ ایک طبیب تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ میں شفا رکھ دی تھی‘ ایک شاعر تھے کہ جب بھی خلوت میسر آتی تھی تو جملوں کی موزونیت‘ مصرعوں میں تبدیل ہو جاتی تھی۔ ایک صوفی تھے کہ عالم کثرت میں‘ حسن وحدت کے تمنائی اور تماشائی رہتے تھے‘ وہ خانقاہی مزاج رکھنے کے باوجود وقت کی ہر کربلا میں رسم شبیری ادا کرنا فرض سمجھتے تھے۔

اک شخص جس میں جمع تھا گلزار‘ اب کہاں

وہ برصغیر کی سیاسی اور دینی تحریکوں میں حسن استقامت کے والہانہ پن کے ساتھ شریک رہے۔ ان کی سوچ سے اختلاف تو ہو سکتا ہے مگر ان کے خلوص عمل اور جوش عمل دونوں سے انکار مشکل ہے۔ اختلاف کے باوصف‘ عظمت کا اعتراف‘ خود عظمت کی دلیل ہوا کرتا ہے۔

صاحبزادہ سید فیض الحسن کی خطابت کی نمایاں خصوصیت خوبصورت لفظی مترادفات کا ایک رواں دواں دھارا ہے۔ اس دھارے کی روانی اور خروش دیکھ کر وہ دریا یاد آ جاتے ہیں جو سنگلاخ راستوں میں بھی موج خرام یار کی طرح گل کترتے چلے جاتے ہیں۔ لفظوں میں شبنم کی لطافت اور تلوار کی کاٹ اس وقت تک نہیں آ سکتی جب تک وسعت مطالعہ کے ساتھ ساتھ کسی نگاہ کا فیض شامل نہ ہو۔

تصوف کی گھلاوٹ صاحب موصوف کی گھٹی میں پڑی ہوئی تھی‘ حضور ﷺ کی محبت ان کی فطرت کا ایک گراں بہا عنصر تھی‘ نتیجہ معلوم کہ ان کے سیمابی پیکر کو طمانیت کی وہ عظمت مل گئی‘ جہاں دنیا بھر کی محبتیں‘ ایک محبت میں ضم ہو جاتی اور جگر کے زخم کیف دینے لگ جاتے ہیں۔

صفحہ ١٦٣
سرشت عشق طلب اور حسن بے پایاں
حصول تشنہ لبی ہے شدید تشنہ لبی

اس عشق طلب فطرت کو ”جمال ختم نبوت“ نے یوں جلا بخشی کہ وہ عمر بھر انگریز اور اس کے خودکاشتہ پودے کا تعاقب کرتے رہے۔

پہلے ہی خاک دل تھی مری فخر کائنات
اب پوچھتا ہی کیا کہ تیری رہگزر میں ہے

سارقین نبوت اور ان کے سر پرستوں کے لئے ان کا شعلہ گفتار ہر آن بھڑکتا اور لپکتا رہا۔ یہاں تک کہ حضور ﷺ کی ختم المرسلینی کا پرچم بے روک ٹوک لہرانے لگا۔ ”نبی کریم ﷺ کا عشق ہمارا قبلہ مراد اور کعبہ ذوق ہے۔ ان کی ختم المرسلینی پر ساڑھے تیرہ سو برس میں کئی رہزنوں نے دست درازی کرنا چاہی لیکن وقت کی غیرت نے انہیں نقش آب کی طرح محو کر دیا، اور ان کی قبروں کے نشان فطرت کی دستبرد سے غبار معصیت ہو کر اڑ گئے“ یہ ایک بے غبار صداقت ہے کہ اسی عشق مصطفیٰ ﷺ نے سید مرحوم کی ذات کو وقار اور ان کی بات کو اعتبار عطا کر رکھا تھا کہ یہی جذبہ وجہ وجود کائنات ہے اور اسی اساس پر ہمارے ایمان کے ایوان قائم ہیں ورنہ؎

رکھا ہی کیا ہے سوچ، جہان خراب میں

خطیب الاسلام صاحبزادہ فیض الحسنؒ کی بے ساختہ نثر میں بھی اس قدر منطقی ربط ہے کہ ہر لفظ اپنے اپنے مقام پر ایک نگینہ ہے کسی حک و اضافے اور تغیر و تبدل سے کسی مزید خوشنمائی کا کوئی امکان نظر نہیں آتا بلکہ یوں لگتا ہے کہ وہ لفظ اسی مقام کے لئے آسمان سے اترا تھا۔ آپ کے لفظی مترادفات اور تراکیب میں کوئی مشکل پسند پیچیدگی نہیں ہے بلکہ ایک نوع کا نغماتی حسن ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ تغزل اور ایمائیت نے ان کی نثر کے تیور سنوار دیئے ہیں۔ اسے شعر منثور کہہ لیجئے یا نثری نظم کا نام دے لیجئے ان کے ہاں آمد کی ایک بے پناہ کیفیت ہے۔ لفظوں کی مترنم شگفتگی اور جملوں کا صوتی حسن، بات بات میں اک بات پیدا کرتا چلا جاتا ہے۔ ایسے ہی لب اعجاز پر نطق ناز کیا کرتا ہے۔

خطیب الاسلام فیض الحسن شاہ نے بھرپور سیاسی زندگی گزاری، دینی تحریکوں میں بھی حصہ لیا، ظاہر ہے کہ ان میدانوں میں ہر مکتب فکر، ساتھ نہیں دیا کرتا۔ لوگ مخالف بھی

صفحہ ١٦٤

ہوتے ہیں، یہاں اظہار کی معمولی سی شدت اور بیان کی ہلکی سی حدت بھی دست و بازو کے تصادم تک پہنچ جاتی ہے۔ مگر شاہ صاحب نے اس میدان میں بھی قدم قدم لفظ کی عصمت اور زبان کی آبرو کو قائم رکھا۔ نہ زبان کو بے اعتبار ہونے دیا نہ بیان کو بے وقار۔ انہوں نے مخالفت میں بھی شرافت کے معیار کو قائم رکھا۔ اور کہیں بھی لفظوں کو خفیف نہیں ہونے دیا۔ گالیاں سن کر وہ بے مزہ ضرور ہوتے تھے، کہ انسانی فطرت کا تقاضا ہے مگر گالی کا جواب گالی سے نہیں دیا کرتے تھے۔ انہوں نے ہر مقام پر اعتدال کے حسن کو قائم رکھا وہ خوب سمجھتے تھے کہ بے اعتدالیاں انسانوں اور زبان دونوں کو سبک بنا دیتی ہیں۔ الفاظ خود نہ برمحل ہوتے ہیں نہ بے محل، نہ فصیح نہ بلیغ، طرز استعمال انہیں سلیقہ اور قرینہ عطا کرتا ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ لفظی رعنائیوں میں الجھ کر، قلم مفاہیم و مطالب نظر انداز کر جاتا ہے مگر سید فیض الحسنؒ کے ہاں خوبصورت الفاظ کے خزانے بھی ہیں اور دلائل و براہین کے انبار بھی اور انہی کے امتزاج سے ان کی تحریر و تقریر، قلب و نظر اور ہوش و خرد شکار کرتی ہے۔ ان کے ہاں جوش کے ساتھ ساتھ تاثیر بھی نمایاں نظر آتی ہے۔ یہ الگ بات کہ لفظی شکوہ سے مسحور ہو کر قاری یا سامع دلائل کی طرف متوجہ نہیں ہوتا غالباً یہی وجہ ہے کہ بطور مقرر تو انہیں ایک دنیا جانتی اور پہچانتی ہے۔ مگر بطور ادیب و شاعر ان سے بہت کم لوگ متعارف ہیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ:

"بعض جامع الصفات شخصیات اپنے تمام تر علمی تجربے اور فضیلت کے باوجود ایک المیے سے دوچار رہتی ہیں وہ یہ کہ ان شخصیات کا وہ پہلو جو دوسرے پہلوؤں کی نسبت زیادہ فعال اور پر اثر ہوتا ہے۔ اس قدر غالب حیثیت اختیار کر جاتا ہے کہ دوسرے پہلو شخصیت کی صدائے بازگشت بن کر رہ جاتے ہیں حالانکہ غالب تاثیر رکھنے والے پہلو سے دب جانے والے دوسرے پہلو بھی اپنے اپنے مقام پر جامعیت اور ہمہ گیری کے حامل ہوتے ہیں۔"

اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ صلاحیت عطا کی تھی کہ وہ خشک موضوعات کو بھی حسن ادا سے رعنا بنا سکتے تھے۔ ان کی خطابت میں ایک امنڈتے ہوئے سیلاب، ایک لپکتی ہوئی بجلی اور ایک برستے ہوئے بادل کی سی کیفیت ہوتی تھی۔ ان کے طنز میں شگوفوں کی چٹک اور جملوں میں گیسوؤں کی گندھاوٹ ہوتی تھی۔ گو ذاتی طور پر وہ ایک شعلے کی طرح سلگتے رہتے تھے،

صفحہ ١٦٥

زمانے کی ناقدری کے پیش نظر آخری عمر میں سوچا کرتے تھے کہ اب وہ محض ماضی کی ایک سبکدوش عظمت ہیں۔ مولا کریم نے انہیں ذہانت و خطابت کے بہت سے جوہر کچھ ایسے تناسب سے دیئے تھے کہ اب ان جیسا لانے کے لئے زمانے کو صدیوں کا سفر طے کرنا پڑے گا۔ وہ اپنی انفرادیت کا جمال، آنکھوں اور کانوں کے راستے دلوں تک اتار دینے کی صلاحیت سے بہرہ ور تھے۔ صاحبزادہ سید فیض الحسن کی زندگی انتہائی ہنگامہ خیز رہی۔ وہ اپنے پورے خطیبانہ شکوہ کے ساتھ استعماری اور لادینی قوتوں سے ٹکراتے رہے۔ انہیں ہنگاموں میں بھی خلوت کا لطف ملتا رہا اور انہی ہنگاموں میں ان کا ادب نکھرتا اور فکر سنورتا رہا۔ وہ بجا طور پر یہ کہہ سکتے تھے کہ ؎

اپنی تقریروں کو سوز جاودانی بخش کر
پانچ دریاؤں کے پانی کی روانی بخش کر
میں نے شاہوں کے تبختر روند ڈالے دوستو
میں نے تاج و تخت نیزوں پر اچھالے دوستو

ان کے ہاں ایک عجیب بے قراری کی سی کیفیت تھی۔ میں سمجھتا ہوں کہ انسان کو دل حساس اور دیدہ بیدار عطا ہو اور منزل کا نور بھی دور سے نظر آ رہا ہو تو رگ رگ میں ایک سیمابی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ حسرت موہانی نے گفتار محبوب میں جس ”تاثیر برق حسن“ کا ذکر کیا ہے، وہ تاثیر شاہ صاحب کو ودیعت ہوئی تھی اور اس کے ساتھ ایک ایسی ”لرزش خفی“ بھی عنایت ہوئی تھی جسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا ؎

ہر چند بگولا مضطر ہے اک جوش تو اس کے اندر ہے
اک رقص تو ہے، اک وجد تو ہے، بے چین سہی، برباد سہی

حضرت خطیب الاسلام صاحبزادہ فیض الحسن شاہ رحمتہ اللہ علیہ کے بارے میں یہ تصور کہ ان کا مبلغ علم ان کی صرف چند تقریروں تک محدود تھا، ناانصافی ہے۔ ان سے مل کر اور انہیں سن کر (اور اب انہیں پڑھ کر) ان کے فکری بلوغ اور عملی رسوخ کا اندازہ ہوتا تھا اور بعض اوقات یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ان کا وجود عناصر اربعہ سے نہیں، فنون لطیفہ سے بنا ہوا ہے۔ ان کے مطالعہ کی وسعت کا اندازہ اس امر سے لگا لیجئے کہ وہ قرآن وحدیث کے غائر مطالعے کے ساتھ ساتھ اردو اور فارسی شعر و ادب کا ایک قابل قدر ذوق رکھتے تھے

صفحہ ١٦٦

اور یہ بات قارئین کے لئے خوشگوار حیرت کا باعث ہو گی کہ وہ بدوی شعور ہی سے انگریزی ادب بالخصوص فکشن کے مطالعہ کے لئے انتہائی شائق تھے۔ ایک بار جب ان سے اس بارے میں استفسار کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ انگریزی فکشن میں منظر کشی کا کمال مجھے دوران تقریر انتہائی مدد دیا کرتا ہے۔ گویا ان میں "مطالعاتی تعصب" نہیں تھا بلکہ وہ ہر حکمت کے شیدائی تھے۔ جہاں بھی ہو، جس رنگ اور جس شکل میں ہو، وہ اسے اپنا ہی ورثہ سمجھتے تھے۔

گفت حکمت را خدا خیر کثیر
ہر کجا ایں خیر را بینی بگیر

مطالعہ کے اسی تنوع کا فیض تھا کہ وہ جدید معاشی، سائنسی اور نفسیاتی مسائل سے کما حقہ آگاہ تھے۔ اسی لئے ان کی خطابت کے مواد اور انداز دونوں میں یکسانیت نہیں ہوتی تھی بلکہ موقع اور محل کے مطابق ان میں بوقلمونی، رعنائی اور کشش ہوتی تھی۔ ان کا طرز تخاطب، مساجد میں عالمانہ، حکماء کی محفل میں فلسفیانہ، کالجوں میں فاضلانہ اور سیاسی جلسوں میں والہانہ ہوا کرتا تھا۔ وہ حاضرین کی نگاہوں کے زاویوں سے مضمون چنتے اور ان کی جبینوں کی سلوٹوں سے اپنی تقریر کا تار و پود تیار کرتے تھے۔ خود فرمایا کرتے تھے کہ وہ مقرر ہی کیا جو خود موقع کے مطابق ڈھل کر سامعین کو اپنے ذوق مطالعہ کے مطابق ڈھالنا نہ جانتا ہو۔

"ان کے چھوٹے چھوٹے جملوں میں بچوں کی معصوم مسکراہٹ لو دیتی تھی۔ ان کے فقروں میں برنائی اور رعنائی ہوتی تھی جیسے کسی نے مروارید کی لڑیاں پرو دی ہوں۔ ان کی ہر تقریر کہکشاں معلوم ہوتی تھی۔ الفاظ قوس و قزح، مطالب عقد ثریا، وہ سامعین کو سوچنے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ جس تیزی سے خود بہتے، اسی تیزی سے سامعین کو ساتھ لئے جاتے تھے۔ وہ دماغوں کو پرسش نہیں، پرستش سکھاتے تھے، ان کے ہاں عقیدہ غالب تھا اور اس عقیدت ہی کے زور پر وہ دلوں کو شکار کرتے ہوئے، ایک شہسوار کی طرح اڑے چلے جاتے تھے، ان کی زبان ادیب کی، لہجہ خطیب کا اور اسلوب شاعر کا تھا۔"

"خطیب الاسلام حضرت صاحب زادہ فیض الحسن" ایک روح دلنواز، ایک گلشن لازوال اور ایک پیکر جمال و کمال تھے، وہ آسمان خطابت کا نیر تاباں، ہمت و جرات کا کوہ

صفحہ ١٦٧

گراں، محبت و مروت کا تابندہ نشاں، علوم طریقت کا بحر بیکراں اور سادات کے قافلے کے حدی خواں تھے۔“

کاش اوہ اپنی کیفیات، اپنے تجربات اور اپنے حالات ارادی طور پر سپرد قلم کر جاتے تو مستقبل کے مؤرخ کو ماضی کے حقائق تک پہنچنے میں بہت آسانی ہوتی۔

صاحبزادہ فیض الحسن شاہؒ کے اٹھ جانے کے بعد، معلوم ہوتا ہے کہ اب فطرت نے وہ سانچا ہی توڑ دیا ہے، جس میں ادب کی شگفتگی اور فکر کی شادابی ڈھلا کرتی تھی۔ اب وہ لوگ کہاں جن کی شکوہ گفتار اور جن کے اعتبار کردار کے سامنے وجدان و شعور دونوں دو زانو ہو جایا کرتے تھے۔۔۔ دور دور تک سناٹا ہے۔

ضرورت جتنی جتنی بڑھ رہی ہے صبح روشن کی
اندھیرا اور گہرا اور گہرا ہوتا جاتا ہے

(ماہنامہ دعوت تنظیم الاسلام، گوجرانوالہ، فروری ١٩٩٧ء)

۔۔۔۔۔ اور مرزائی بھاگ گیا

دین محمد فریدی بھکر

یہ واقعہ ١٩٨٦ء کا ہے۔ ”ہرنولی“ میں ایک حافظ اللہ بخش مرزائی ہو گیا۔ ہرنولی میں ٹوڈی قسم کے لوگ مذہبی قیادت پر چھائے ہوئے تھے۔ واعظین حضرات آتے، وعظ کرتے اور چلے جاتے۔ کوئی منظم تحریک نہیں تھی۔ ١٩٥٧ء سے جمعیتہ علماء اسلام قائم تھی مگر چند حضرات تھے جو اپنے تک محدود رہتے تھے۔ محترم مولوی یٰسین صاحب اصغر آبادی جمعیتہ کے امیر منتخب ہوئے۔ ہمارا صحن مشترکہ تھا۔ انہی کی تحریک پر بندہ اپنے ساتھیوں سمیت جمعیتہ علماء اسلام میں شامل ہوا۔ پیشہ طب سے منسلک ہونے کی وجہ سے میرا حلقہ احباب وسیع تھا۔ ان ہی دنوں ہم نے قادیانیت کے خلاف مہم شروع کی اور ہرنولی میں قادیانیت کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے سامنے بند باندھ دیا۔ الحمد للہ ہمارا سب سے بڑا

صفحہ ١٦٨

حسیب بائیکاٹ تھا۔ حب رسول ﷺ کا جذبہ بیدار کرتے تھے اور قادیانیوں کے بائیکاٹ کی تحریک آگے بڑھاتے تھے۔ میرے ساتھی میرے دائیں بائیں موجود رہتے۔ ہم نے قادیانیوں کے جنازے اور فاتحہ تک کا بائیکاٹ کر رکھا تھا۔ آج تو ڈاکٹروں اور نرسوں کی بھر مار ہے۔ اس وقت ہرنولی میں‘ جو کہ ایک بڑا قصبہ ہے‘ صرف چار طبیب تھے۔ اردگرد کا علاقہ خالی تھا۔ میرا یہ طریقہ رہا کہ میں نے کم قیمت پر دوائی دی۔ پیسے کا بھی سختی سے مطالبہ نہیں کیا۔ رات دن گھروں میں جانے کی بھی کوئی فیس نہیں لی اور نہ کسی کو انکار کیا۔ اس وجہ سے وہاں کے رہائشی میری ناراضگی مول لینا نہیں چاہتے تھے۔ طب کے شعبے کے ذریعے خدمت خلق کر کے میں اپنا مذہبی کام بحسن و خوبی سرانجام دے رہا تھا۔ ہرنولی میں بائیکاٹ کی مہم اتنی کامیاب رہی کہ مرزائیت کا نام گالی بن گیا۔ ہر طبقہ خیال کے لوگوں نے ساتھ دیا۔ ہرنولی شیعوں کا صدر سید فدا حسین شاہ تھا۔ اس کی والدہ فوت ہو گئی۔ حافظ اللہ بخش قادیانی فاتحہ خوانی کے لئے پہنچ گیا۔ مسلمان ہوتے ہوئے وہ وہاں کے علاقہ کا امام بھی رہا تھا۔ مگر قادیانی ہونے کے بعد لوگوں نے تعلقات بالکل ختم کر دیئے۔ جب وہ قادیانی اس جگہ پہنچا جہاں فاتحہ خوانی کے لئے لوگ بیٹھے تھے‘ کسی نے بھی قادیانی کے سلام کا جواب نہیں دیا۔ قادیانی نے فاتحہ خوانی کے لئے کہا تو سید فدا حسین نے کہا کہ تم مرزائی مرتد ہو‘ لہٰذا ہم تم سے فاتحہ خوانی نہیں کرواتے۔ پھر اس نے وہاں بحث شروع کر دی اور قرآن پاک سے قادیانیت کی سچائی بیان کرنے لگا۔

سید امیر حسین فوجی نے اسے روکا مگر وہ ڈھیٹ بن کر کہنے لگا کہ میں فاتحہ خوانی کروں گا۔ انہوں نے مرزا کے حوالے بیان کئے تو کہنے لگا‘ ثبوت پیش کرو۔ سید مرید حسین نے اپنے لڑکے سے کہا کہ دین محمد فریدی کو بلا لاؤ۔ اللہ بخش قادیانی کہنے لگا کہ اسے نہیں اس کے علاوہ شہر ہرنولی سے جسے چاہو بلا لو۔ لوگوں نے کہا کہ تمہاری کتابیں تو اس کے پاس ہیں‘ کوئی دوسرا حوالے کیسے دے سکتا ہے۔ قادیانی کہنے لگا‘ کتابیں منگوا لو۔ بہرحال میرے پاس عصر کی نماز سے کچھ پہلے سید فدا حسین کا لڑکا آیا اور مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابیں مانگیں‘ ساتھ یہ تمام حالات بتائے۔ میں نے کہا کہ میں کتابیں کسی کو نہیں دوں گا‘ البتہ کتابیں ساتھ لے کر چلتا ہوں۔ قصہ مختصر بندہ عصر کی نماز پڑھ کر کتابیں لے کر پہنچ گیا۔ اللہ بخش قادیانی نے مجھے دیکھا تو کہنے لگا کہ آپ لوگوں نے زیادتی کی‘ اسے بلایا۔ میں نے کہا کہ ان کی طرف

صفحہ ١٦٩

سے میرے پاس افطار کیا تھا۔ میں خود آیا ہوں۔ تم نے جو ادھم چوکڑی مچا رکھی ہے آج ان لوگوں کے سامنے وہ ختم کرنی ہے۔ بہر حال گفتگو شروع ہوئی۔ میں نے اللہ بخش قادیانی سے سوال کیا کہ تم یہاں صرف یہ وضاحت کر دو کہ تم مرزا غلام احمد قادیانی کو کیا مانتے ہو اور اس کے کون سے دعوے کو صحیح سمجھتے ہو؟ اللہ بخش کہنے لگا کہ اس کا کیا مطلب۔ میں نے کہا کہ ہم سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کو آخری نبی مانتے ہیں، افضل الانبیاء تسلیم کرتے ہیں۔ قرآن پاک کو آخری کتاب اور غیر محرف کتاب تسلیم کرتے ہیں۔ ہمارے نبی ﷺ کا کوئی متضاد دعویٰ نہیں۔ غار حرا کی پہلی وحی کے ساتھ آپ ﷺ نے دعوائے نبوت اور رسالت کیا اور اس دنیا سے تشریف لے جانے تک اسی دعویٰ کی تبلیغ کی اور لوگوں کو دعوت دی اور اسی دعویٰ کو تسلیم کر کے جو لوگ ایمان لائے وہ صحابی کا درجہ پا گئے۔ تم مرزا کے کسی ایک دعویٰ کو بغیر تاویل کے جو مانتے ہو، بیان کرو۔ میں یہاں ان لوگوں کے سامنے مرزا کے متضاد دعوے اس کی کتابوں سے ثابت کر دوں گا۔

تم صرف ایک دعویٰ جس میں کوئی تاویل اور تضاد نہ ہو، بتاؤ؟ اللہ بخش قادیانی کو میری اس گفتگو سے چکر آگیا اور کہنے لگا کہ میں پہلے نہیں کہتا تھا کہ دین محمد کو بات کرنے کا سلیقہ نہیں، یہ گالیاں دیتا ہے۔ سید فدا حسین نے کہا کہ اب تک دین محمد نے جو گفتگو کی، اس میں نہ گالی ہے اور نہ کوئی غلط بات ہے۔ اس نے جو بات کہی وہ بڑی بااصول ہے۔ تم مقابلے میں مرزا کا کوئی ایک دعویٰ پیش کرو۔ قادیانی ہکا بکا تھا کہ کیا جواب دوں۔ پھنس گیا، مگر ڈھیٹ بن کر ہی، ہی، ہی کرتا رہا۔ اب وہ کیا بات کرتے۔ میں نے جواباً کشتی نوح، آئینہ کمالات، ایک غلطی کا ازالہ، مرزا غلام احمد کی کتابیں پیش کرنی شروع کر دیں۔ اللہ بخش قادیانی نے ڈھیٹ بن کر کتابوں کی اصلیت سے ہی انکار کر دیا۔ اور کہا کہ یہ کتابیں مرزا غلام احمد کی نہیں۔ لوگوں کو بڑی حیرت ہوئی کہ یہ آدمی اپنی ہی کتابوں کو ماننے سے انکار کر رہا ہے۔ ایک نے یہ سوال مجلس میں کر بھی دیا۔ میں نے کہا کہ قادیانیت ہے ہی انکار کا دوسرا نام۔ مرزا نے نبی کریم ﷺ کی توہین کی۔ اللہ بخش نے کہا، نہیں ”حضرت صاحب“ نے تو کہا ہے ”ہم تو ہیں دل سے خدام ختم المرسلین، محمد راہنما پیشوا“ میں نے برجستہ کہا کہ نہیں مرزا قادیانی نے کہا ہے کہ:

صفحہ ١٧٠
منم مسیح زماں منم کلیم خدا
محمد و احمد کہ مجتبیٰ باشد

میں نے جب جواباً مرزا کا یہ شعر پڑھا تو اللہ بخش قادیانی نے اپنے سینہ پر بے ساختہ ہاتھ مارا اور جھوم کر کہنے لگا کہ واہ سبحان اللہ حضور کے اندر ہو بہو نبی کریم کے کمالات۔ مرزا غلام احمد ہو بہو محمد رسول ﷺ اور وہ یہ فقرہ بار بار کہتا رہا اور جھومتا رہا۔ میں ششدر تھا۔ خدا نے رہبری کی۔ میں نے للکار کر کہا کہ اللہ بخش تو مانتا ہے کہ کمالات تبدیل ہو سکتے ہیں۔ قادیانی کہنے لگا ہاں میں نے پوچھا تیرا یہ عقیدہ ہے کہ چودہ سو سال کے بعد نبی کریم ﷺ کے کمالات تبدیل ہو کر مرزا غلام احمد قادیانی میں آسکتے ہیں اور وہ محمد رسول اللہ ﷺ بن سکتا ہے اور وہ ہے ہی عین محمد۔ میں نے کہا کہ تیرے باپ کا نام غلام احمد پاولی ہے نا۔ وہ کہنے لگا ہاں۔ میں نے جواباً اسی کی طرح سینے پر ہاتھ مارا اور جھومنے لگا۔ واہ سبحان اللہ میں ہو بہو غلام احمد پاولی۔ میں ہوں تیرا باپ اور تیرے باپ کا کمال یہ ہے کہ اس نے تیری ماں سے نکاح کیا تو اس کے نطفے سے تو پیدا ہوا۔ وہ کمال پچاس سال بعد میرے اندر آیا اور میں تیرا باپ بن گیا۔ کمال تبدیل کرنا ہے تو پہلے مجھے اپنا باپ مان پھر مرزا کو محمد رسول اللہ ﷺ کا درجہ دے۔ مجلس میں بیٹھا ایک شخص کہنے لگا کہ ڈاکٹر صاحب آپ اس طرح کی سخت بات نہ کریں۔ میں نے کہا کہ میرے بھائی آپ سن نہیں رہے کہ سرور کائنات ﷺ کے کمالات تبدیل کر کے یہ شخص مرزا غلام احمد جیسے بد طینت انسان کو محمد رسول ﷺ کا درجہ دے رہا ہے تو پھر میرا یہ کمال آپ کو سخت کیوں لگا۔ یہ ہرلولی کا پاولی ہے۔ اس کے باپ کا‘ اس کے سوا اور کوئی کمال نہیں کہ اس نے اس کی ماں کے ساتھ نکاح کیا۔ اور یہ اس کے نطفے سے پیدا ہوا۔ میں اسے حرامی تو نہیں بتا رہا البتہ اس کا عقیدہ کمالات کی تبدیلی کا ہے تو کمال تبدیل ہو کر کیا میں اس کا باپ نہیں بن سکتا۔ اپنے عقیدے کے مطابق پہلے مجھے باپ تسلیم کرے‘ تمام حاضرین مجلس نے زبردست نعرہ مارا‘ اس کے ساتھ ہی اللہ بخش قادیانی وہاں سے فرار ہو گیا۔

(ماہنامہ نقیب ختم نبوت‘ جنوری ١٩٩٩ء‘ ص ٢٩ تا ٣١)

صفحہ ١٧١

آہ! مولانا محمد حیات صاحبؒ

از قلم: مولانا محمد شریف جالندھریؒ

فاتح قادیان‘ مبلغ و مناظر اسلام حضرت مولانا محمد حیات مورخہ ٢٨‘ ٢٩ رمضان ١٤٠١ھ کی درمیانی شب دس گیارہ بجے اپنے آبائی گاؤں کوٹلی بارے خاں تحصیل شکر گڑھ ضلع سیالکوٹ میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون

مرحوم نے طویل عمر پائی اور عمر کی ایک ایک ساعت تبلیغ اسلام اور تردید باطل میں بسر ہوئی۔ موصوف نے پہلا کامیاب مناظرہ ١٩٢٠ء میں گوجرانوالہ میں آریوں کے ساتھ کیا اور دم واپسی تک یہی شغل جاری رہا۔ اس لحاظ سے ان کی زندگی کے پچپن سال دین کی خدمت میں گزرے جو ایک پاکستانی کی اوسط عمر سے بھی زائد ہیں۔

موصوف ١٨٩٥ء میں کوٹلی بارے خان میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام فضل داد خان تھا۔ پٹھانوں کے داؤد خان قبیلہ سے متعلق تھے۔ اسلامی دور میں بیرونی ممالک سے جو لوگ ہندوستان آباد ہوئے تو خصوصاً پنجاب میں آباد ہونے کے لئے ضروری تھا کہ نو وارد خاصی جمعیت کے ساتھ آباد ہوں کیونکہ سکھ جارحیت کے باعث یہ لوگ ہمیشہ اپنے کو غیر مامون سمجھتے تھے۔ اسی قاعدہ کلیہ کے تحت راوی کے کنارے دونوں طرف اس جگہ بارہ دیہات پٹھانوں کے ہیں۔

مولانا مرحوم چار بھائیوں اور دو بہنوں میں سب سے بڑے تھے۔ سب سے چھوٹے بھائی کا نام محمد یوسف خاں ہے۔ جن کی عمر اس وقت ٧٠ برس ہے۔ انہی کی تیمار داری میں مولانا مرحوم نے وصال فرمایا۔ مولانا کی ابھی سکول کی تعلیم جاری ہی تھی کہ والد ماجد کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ کمسن بچوں کی کفالت بیوہ ماں کے سپرد ہوئی۔ فضل داد خان مرحوم بہت کم زرعی اراضی کے مالک تھے۔ والدہ مرحومہ نے محنت مزدوری کر کے بچوں کی پرورش شروع کی۔ مولانا مرحوم کا حساس دل اس قدر متاثر ہوا کہ والدہ اور کمسن بہن بھائیوں کی خاطر دسویں جماعت سے تعلیم کا سلسلہ ختم کر دیا۔ کچھ عرصہ ڈیرہ بابا نانک میں بطور محرر چونگی ملازمت کی۔ مرحوم بے پناہ سادہ اور کفایت شعار تھے۔ اس چھوٹی سی

صفحہ ١٧٢

ملازمت سے ملنے والا تمام مشاہرہ بچا لیتے۔ گھر سے آٹا لے جا کر خود کھانا پکاتے اور جو ملتا‘ وہ والدہ کی خدمت میں پیش کر دیتے۔ ڈیرہ بابا نانک سے ملازمت چھوڑ کر رینالہ خورد ضلع ساہیوال تشریف لائے۔ جہاں سر گنگا رام نے حکومت برطانیہ سے سینکڑوں ایکڑ بنجر اراضی جس کی سطح اونچی ہونے کے باعث نہری پانی نہ لگ سکتا تھا‘ مستاجری پر لی تھی۔ سر گنگا رام ایک معمولی اوورسیئر تھے لیکن طبیعت کے فیاض اور غریب پرور تھے۔ ان کا قول تھا کہ ”دھن (مال) دان (خیرات) کرنے سے بڑھتا ہے“۔ اراضی کا نہری پانی منظور کرایا۔ اسے بہت گہرے کنوئیں کھود کر ان میں گرایا۔ پانی کی اس رفتار سے پن چکی کے اصول کے تحت جنریٹر چلائے اور ان کی بجلی کے ذریعے گہرائی سے پانی اٹھا کر اراضی کی سطح تک لے گئے۔ یہیں سے انہیں مال ملا۔ پھر گنگا رام نے لاہور میں مشہور گنگا رام ہسپتال بنایا اور ایک ٹرسٹ کے ذریعے اس کے اخراجات کا انتظام کیا۔

مولانا مرحوم نے بحیثیت ایک کلرک ملازمت اختیار کر لی۔ یہ 1915ء‘ 1916ء کی بات ہے۔ طبیعت میں بے پناہ سادگی تھی اور دین اسلام سے لگاؤ تھا۔ تب بھی مذہبی کتب کا مطالعہ کرتے تھے۔ ایک دن ان کا ایک عیسائی ساتھی‘ جو اکثر عیسائیت اور اسلام کے موضوع پر ان سے باتیں کیا کرتا تھا‘ ایک پادری کو لے آیا۔ مولانا نے اپنی محدود دینی واقفیت کے ساتھ اس سے گفتگو کی۔ اس گفتگو میں ان کے اندر سوئی ہوئی قوت بیدار ہوئی اور خیال مستحکم ہوا کہ مجھے تبلیغ اسلام و صداقت اسلام کے لئے کام کرنا چاہئے۔ اس وقت عید گاہ ساہیوال میں مولانا محمد عبداللہؒ مشہور عالم دین قیام فرما تھے۔ ملازمت کے ساتھ ہی ان سے پڑھنا شروع کر دیا۔ اسی اثناء میں چھوٹے بھائی کام کاج کے قابل ہو چکے تھے۔ ادھر ملازمت دینی تعلیم میں رکاوٹ تھی۔ سلسلہ تعلیم منقطع کر کے گوجرانوالہ تشریف لے گئے۔ مشہور عالم دین حضرت مولانا چراغ صاحب دامت برکاتہم اور محدث وقت مولانا عبد العزیز صاحب شیخ الحدیث سے سلسلہ تلمذ قائم ہوا۔ یہیں 1925ء میں آریوں کے ساتھ کامیاب مناظرہ ہوا۔ طالب علمی کے دور میں بھی محنت مزدوری کر کے والدہ مرحومہ اور بہن بھائیوں کی خدمت کرتے رہے۔ گوجرانوالہ میں قیام کافی عرصہ رہا۔ وہاں سے بحکم امیر شریعتؒ قادیان تشریف لے گئے۔

صفحہ ١٧٣

قادیان

مشرقی پنجاب (بھارت) کے ضلع گورداسپور میں واقع ہے اور غلام احمد مدعی نبوت کاذبہ کا مولد و مدفن ہے۔ تقسیم سے قبل وہاں قادیانیوں بالخصوص خاندان غلام احمد قادیانی کا دبدبہ تھا۔ حکومت اندر حکومت کی بدترین مثال تھی۔ کوئی ہندو، سکھ، مسلمان جب تک بشیر الدین محمود سے لائسنس حاصل نہ کرلے، قادیان میں دکان نہ کر سکتا تھا۔ قادیانی جماعت کے اپنے اسٹامپ و جوڈیشل فارم تھے۔ عدالتیں تھیں، باقاعدہ مقدمات سن کر فیصلے ہوتے تھے۔ آخری اپیل کی عدالت خود خلیفہ قادیانی بشیر الدین محمود کی عدالت تھی۔ حضرت امیر شریعت قدس سرہ کے ایک فیصلہ میں مسٹر کھوسلہ سیشن جج گورداسپور تحریر کرتے ہیں ”قادیان میں رضا کاروں کا ایک دستہ (والنٹیر کور) مرتب ہوا اور اس کی ترتیب کا مقصد غالباً یہ تھا کہ قادیان میں ”لمن الملک الیوم“ کا نعرہ بلند کرنے کے لئے طاقت پیدا کی جائے۔ انہوں نے عدالتی اختیارات بھی اپنے ہاتھ میں لے لئے۔ دیوانی اور فوج داری مقدمات کی سماعت کی۔ دیوانی مقدمات میں ڈگریاں صادر کیں اور ان کی تعمیل کرائی گئی۔ کئی اشخاص کو قادیان سے نکالا گیا۔ یہ قصہ یہیں ختم نہیں ہوتا۔ بلکہ قادیانیوں کے خلاف کھلے طور پر یہ کہا گیا ہے کہ انہوں نے مکانوں کو تباہ کیا، جلایا اور قتل تک کے مرتکب ہوئے۔“ مرزائی مدعی نبوت کاذبہ غلام احمد قادیانی کا نام جو جپتے تھے اور سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا کہ کوئی مسلمان قادیان میں ختم نبوت کا مسئلہ بیان کر سکے یا مرزائی اعتراضات کا جواب دے سکے۔ زیادہ سے زیادہ علماء حق قادیان کی سمت میں بٹالہ تک جا سکتے تھے، جہاں تحصیل کا دفتر تھا۔ اس سے آگے جانے کا امکان ہی نہ تھا۔ ایسے میں مجلس احرار نے وہاں دفتر قائم کیا، مدرسہ اور مسجد تعمیر کی، اراضی خریدی۔ ابتداء میں کچھ عرصہ حضرت ماسٹر تاج الدین، مولوی خلیل الرحمن، مولوی عنایت اللہ نے قیام کیا۔ پھر قرعہ فال مولانا محمد حیات صاحب کے نام نکلا۔ آپ ١٩٣٥ء میں وہاں تشریف لے گئے۔ کوہ ہمالیہ کی سی استقامت کے ساتھ قیام فرمایا۔ درس قرآن اور خطبہ جمعہ کا اہتمام کیا گیا۔ مرزائی سٹ پٹائے لیکن سرفروشان احرار کے سامنے جو مولانا محمد حیات کی قیادت میں کام کر رہے تھے، ان کی ایک نہ چلی۔

صفحہ ١٧٤

ایک تقریر میں مولانا محمد حیات صاحب نے بشیر الدین محمود خلیفہ قادیان کے کریکٹر کے متعلق اعلان فرمایا۔ پولیس نے مقدمہ درج کر لیا کہ ایک بہت بڑے مذہبی راہنما و مصلح کی توہین ہوئی ہے۔ مولانا نے صفائی میں وہ عورتیں پیش کیں ۔ جو اس درندہ کا شکار ہوئی تھیں۔ مجسٹریٹ نے شہادت لینے سے انکار کر دیا۔ مولانا کہاں جھکنے والے تھے، ماتحت عدالت کے اس جزوی فیصلہ کے خلاف اپیل کردی۔ سیشن جج نے مجسٹریٹ کا فیصلہ بحال رکھا۔ مولانا عدالت میں پہنچ گئے تو حکومت وقت نے کیس ہی واپس لے لیا۔ مولانا کی تبلیغ کا میدان قادیان اور قادیان کے اطراف و جوانب تھے۔ جہاں کسی وقت مرزائیوں کے مبلغین دندنایا کرتے تھے ”پھر نوبت بایں جا رسید“ کہ حضرت فاتح قادیان کے ساتھ مناظرہ کے بعد مرزائی مبلغ و مناظر میدان سے دم دبا کر بھاگ گئے۔

قادیان میں قیام کے وقت ہی اطلاع آئی کہ جموں و کشمیر کے بعض دیہاتی پہاڑی علاقوں میں مرزائی مبلغین کی ایک ٹیم اسلامیان کشمیر کو مرتد بنارہی ہے۔ اس وقت مولانا کے پاس مدرسہ میں جو طالب علم زیر تعلیم تھے۔ ان میں سے ایک نسبتاً بڑی عمر کے جفاکش طالب علم کو بلایا۔ فرمایا ”کیا میرے ساتھ ایسے تبلیغی سفر میں جانے کا حوصلہ رکھتے ہو، جس میں کھانا اپنا ہوگا۔ اگر کھانا پکانے کی نوبت نہ آئے تو بھنے ہوئے چنے اور گڑ، جو ہمراہ ہوں گے، وہی غذا ہوگی۔ کسی سے مانگ کر کھانے کی کوئی اجازت نہ ہوگی۔ نہ کسی سے کرایہ لینا ہوگا۔ وہ طالب علم مولانا سے تربیت یافتہ تھا، فوراً بول اٹھا۔ اس سفر میں شرکت کے لئے تیار ہوں۔

قادیان سے پیدل سفر شروع ہوا۔ راوی کے کنارے پسرور وغیرہ سے آگے پہاڑی علاقہ آگیا۔ مولانا مرحوم نے اس سفر میں تین ماہ خرچ کئے۔ کپڑے خراب ہوئے، ایک دن کا سفر ملتوی کر کے خود دھوئے۔ روٹی پکائی، اگر نہ پکا سکے تو چنے اور گڑ کے راشن سے کام چلایا۔ جہاں پتہ چلا کہ فلاں وادی مرزائی مبلغین کی آماجگاہ ہے۔ مولانا پہاڑوں کے خطرناک راستہ سے سفر کر کے اس وادی میں پہنچے۔ مرزائی مبلغین کو جب پتہ چلا کہ مولانا محمد حیات پہنچ گئے ہیں تو انہوں نے راتوں رات رخت سفر باندھ لیا۔ واپسی ایسی حالت میں ہوئی کہ مولانا کے جوتے اور کپڑے پھٹ چکے تھے، پاؤں زخمی تھے لیکن کشمیر اور جموں کی ان وادیوں کے مسلمانوں کا ایمان محفوظ تھا اور مرزائی مبلغ واپس آچکے تھے۔ مولانا یہ سب کام

صفحہ ١٧٥

شعبہ تبلیغ مجلس احرار اسلام ہند کے تحت انجام دیتے رہے تھے۔ قادیان میں زمین خرید کر مذکورہ رقبہ میں کنواں لگایا گیا۔ مدرسہ اور مسجد قائم ہوئے۔ مولانا مظہر علی صاحب اظہر کی صدارت میں ان امور کو چلانے اور آئندہ منصوبوں پر عمل کرتے ہوئے ٹرسٹ قائم کیا گیا۔ ان تمام انتظامات میں مولانا کی سادگی‘ کفایت شعاری‘ انتظامی امور کی پابندی ہی بنیادی بات تھی۔ مقابلے میں قادیانیوں کی ظالم و جابر منظم جماعت ہی نہ تھی بلکہ اس کی پشت پر برطانیہ کی کل ہند قوت موجود تھی۔ جو وقتاً فوقتاً مولانا محمد حیات اور دوسرے بزرگوں کو پریشان کرنے کے لئے پابندیوں اور مقدمات کی بھرمار رکھتی تھی۔

حضرت امیر شریعتؒ کے جمعہ پڑھانے کا اعلان ہوا تو سرکار برطانیہ نے قادیان میں داخلہ پر پابندی لگادی۔ حضرت امیر شریعتؒ گرفتار ہوئے تو احرار نے ہر جمعہ قادیان جانے اور خلاف ورزی کر کے گرفتار ہو جانے کا اعلان کر دیا۔ گرفتاریاں شروع ہوئیں تو وائسرائے ہند نے اعلان کیا کہ چونکہ قادیان میں اکثریت مرزائیوں کی ہے اس لئے ان کے مخالفین کو وہاں جا کر تقریر کرنے کی اجازت نہیں۔ تب حضرت مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانوی کل ہند مجلس احرار اسلام کے صدر تھے۔ مولانا نے فوراً ایک پریس بیان جاری کیا اور تحریک بند کرنے کا اعلان کر دیا اور فرمایا کہ میں وائسرائے کی بات کی تصدیق کرتا ہوں کہ کسی اکثریتی فرقے کے عقائد کے خلاف ان کے قصبہ میں مخالف فریق کو جلسہ نہ کرنا چاہئے۔ اس لئے احرار اپنی سول نافرمانی بند کر دے اور ساتھ ہی احرار رضا کاروں کو حکم دیتا ہوں کہ چونکہ قادیان کے باہر ہر جگہ مرزائی اقلیت میں اور مسلمان اکثریت میں ہیں۔ اس لئے ہندوستان بھر میں کسی جگہ مرزائیوں کا جلسہ نہ ہونے دیا جائے۔ تب مرزائی سیرت رسول ﷺ کے نام پر پبلک جلسہ کرنے کے عادی تھے۔ مولانا کا یہ اعلان مرزائیوں اور انگریز حکومت کے لیے چیلنج تھا۔ ہندوستان میں جگہ جگہ جلسوں کا اعلان ہوا اور تاریخ شاہد ہے کہ باوجود انگریز کی سرپرستی کے ملک بھر میں کسی جگہ بھی احراریوں نے چوہدری عبدالستار سالار رضا کاران احرار کی قیادت میں نہ صرف مرزائیوں کا جلسہ الٹ دیا بلکہ ان کے سٹیج پر قبضہ کر کے اسے مجلس احرار کے جلسہ میں تبدیل کر دیا۔ شعبہ تبلیغ مجلس احرار اسلام ہند نے جس کے سب سے بڑے کارکن فاتح قادیان تھے‘ ملک بھر میں تردید مرزائیت کا جال بچھا دیا۔ امام العصر مولانا سید محمد انور شاہ قدس سرہ‘ جنہیں مرزائی ارتداد کا فکر

صفحہ ١٧٦

دامن گیر تھا مجلس احرار کو بذریعہ حضرت امیر شریعت قدس سرہ تردید مرزائیت کے کام پر لگا کر سکون خاطر نصیب ہوا۔ حضرت امیر شریعت اور اکابر احرار نے ہندوستان بھر میں جملہ احرار ورکرز کو تردید مرزائیت کے کام پر لگا دیا۔

قادیان میں قیام کے دوران حضرت مولانا محمد حیات، مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر صاحب اور دوسرے مسلمان علماء کے ساتھ مرزائی مناظر جلال الدین شمس (قادیانی)، عبدالرحمن (قادیانی)، احمد علی شاہ (قادیانی)، اللہ دتہ جالندھری (قادیانی)، قاضی نذیر احمد (قادیانی)، قاضی عبدالغفور (قادیانی)، کے ساتھ ملک بھر میں سینکڑوں مناظرے ہوئے، جن میں قادیانی مبلغین نے شکست کھائی۔ مولانا مظہر علی صاحب اظہر شیعہ مکتب فکر سے تعلق رکھتے تھے۔ مجلس احرار کے چوٹی کے راہنما تھے۔ تردید مرزائیت کا خاص ذوق تھا۔ ایثار و قربانی میں اپنی مثال آپ تھے۔ مولانا محمد حیات کے زمانہ میں قادیان تشریف لے گئے۔ مرزائیوں نے جلسہ میں گڑ بڑ کی۔ بغیر احباب سے مشورہ کئے محض اپنے جذبہ ایمانی کے باعث بشیر الدین محمود خلیفہ قادیانی کو مباہلے کا چیلنج دے دیا۔ مقررہ تاریخ پر قادیان تشریف لے گئے۔ مگر خلیفہ قادیان کو مباہلہ میں آنے کی جرات نہ ہوئی۔ قادیانیوں نے خلیفہ کے ایماء پر اپنے ہی ہم عقیدہ لوگوں پر قادیان میں عرصہ حیات تنگ کر دیا۔

مشہور مرزائی عبدالرحمن مصری اور مولانا عبدالکریم مباہلہ (جو بعد میں مسلمان ہوئے اور مرزائیوں کے ساتھ مناظرے کئے) کے گھروں پر قاتلانہ حملے کئے۔ ان کے مکانات کو نذر آتش کیا۔ ان کا اختلاف مرزا غلام احمد قادیانی کے دعاوی میں اس وقت ہرگز نہ تھا۔ بشیر الدین محمود کے اخلاقی جرائم پر معترض ہونا ان کے مصائب کا باعث بنا۔ فاتح قادیان نے اپنے احباب سمیت، امداد مظلوم کے نظریہ کے تحت، ان کے مکانوں، مستورات اور بچوں کی حفاظت کی۔ مولانا عبدالکریم مباہلہ اور عبدالرحمن مصری (قادیانی) کو بحفاظت قادیان سے نکالا۔ مباہلہ صاحب اب پاکستان میں فوت ہوئے۔ قادیان سے انخلاء کے بعد تائب ہوئے اور تلافی مافات کے طور پر تردید مرزائیت کے محاذ پر بہت خدمات سرانجام دیں۔ -رحمتہ اللہ ورحمہ واسعہ-

قادیانیوں نے انہیں قتل کرنے کے لئے، تاریخ سے واپسی پر لاری سے نکال کر حملہ کیا تھا لیکن یہ بچ کر نکل گئے اور ان کے ضامن حاجی محمد حسین بٹالوی شہید ہو گئے۔ قاتل

صفحہ ١٧٧

گرفتار ہوا‘ اسے پھانسی ہوئی اور قادیانیوں نے اس کی لاش کا جلوس نکالا۔ غرض یہ کہ قتل وغارت‘ مخالفین کا بائیکاٹ کرنا‘ ڈرانا دھمکانا‘ آگ لگانا‘ قادیان میں قادیانی لاٹ پادری مرزا محمود کا محبوب ترین مشغلہ تھا۔ ان حالات میں جس طرح بے جگری سے حضرت مولانا محمد حیات صاحب مرحوم نے قادیان میں کلمہ حق بلند کیا۔ یہ آپ کی جرات ایمانی کا منہ بولتا ثبوت تھا۔

تقسیم کے وقت

حضرت مولانا محمد حیات ١٩٣٥ء سے ١٩٤٧ء تک قادیان میں اعلائے کلمہ حق کی علامت سمجھے جاتے تھے۔ پرانے قادیان کے دفتری کاغذات و رجسٹر اور مولانا مرحوم کی ڈائریاں دیکھی جائیں تو ان کی عظمت اور کارہائے نمایاں کے وہ پہلو سامنے آئیں گے جس سے ہر شخص بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ وہ کتنی خوبیوں کے مالک تھے۔ قادیان کے گردونواح کے سادہ لوح مسلمان دیہاتیوں کے ایمان کو بچانا آپ کے کارہائے نمایاں ہیں‘ جن پر بجا طور پر وہ امت کی طرف سے مبارکباد کے مستحق تھے۔ تحریک آزادی کے نعرہ حق سے جب ہندوستان کے در و دیوار میں زلزلہ بپا ہوا۔ انگریز جانے کی تیاری کر رہا تھا۔ لیکن انگریز کے پروردہ دم بریدہ سگان برطانیہ قادیانی گروہ اور ان کا گرو‘ انگریز کا دلال و زلہ خوار ہونے کے باعث اس امید پر تھا کہ شاید انگریز ہندوستان سے جاتے ہوئے ہمیں اپنا جانشین بنا جائے گا۔ (منیر رپورٹ صفحہ نمبر ٢٠٩) ”بلی کو خواب میں چھچھڑے“ والا معاملہ تھا۔ مرزا محمود کی حماقت دیکھئے کہ جب انگریز نے تقسیم کی طرح ڈالی تو مرزا محمود نے ”جاتے چور کی پگڑی سہی“ پر عمل پیرا ہو کر قادیان کو ویٹی کن سٹی بنانے کے خواب دیکھنے لگا۔ قادیان اور گورداسپور کو شامل کرا کر ہندوستان کے لئے کشمیر کا راستہ صاف کر دیا۔ لیکن جب ملک تقسیم ہوا تو اسے احساس ہوا کہ یہاں ہماری دال نہیں گلے گی۔ جھٹ سے قادیان میں اعلان کر دیا کہ کچھ ہو جائے‘ ہمیں اپنے مقدس شہر قادیان میں رہنا ہے۔

قادیان کی ذلیل و منحوس بستی کے رہائشی قادیانی اس اعلان پر واہ واہ کے ڈونگرے برسانے لگے۔ قادیانی شاطر قیادت نے ان پر دوسرا وار یہ کیا کہ ایک دن قادیان میں اعلان کرایا کہ آج میں بلدیو سنگھ وزیر دفاع انڈیا سے مل کر آیا ہوں وہ ہیلی کاپٹر پر قادیان کا

صفحہ ١٧٨

معاینہ کریں گے۔ قادیان کے لوگ دروازے بند کر کے گھروں میں بیٹھے رہیں تاکہ وہ اوپر سے دیکھ سکیں کہ واقعی لوگ تنگ ہیں۔ دشمن کے حملوں کا سخت خطرہ ہے، اس لئے گھروں میں نظر بند ہیں۔ تمام قادیانی گھروں میں نظر بند ہو گئے۔ مرزا بشیر الدین برقع پہن کر خفیہ طور پر قادیان سے لاہور آگیا۔ جب مرزائیوں کو پتہ چلا تو سخت سٹپٹائے اپنی قیادت پر، کہ وہ بڑی بزدل اور کمینی نکلی۔ مگر کیا کرتے، مجبور تھے۔ دوسرے قادیانی افسروں نے کچھ دنوں بعد قادیان میں فوجی ٹرک بھجوائے تاکہ لوگوں کو وہاں سے نکالا جائے۔ ٹرک لوڈ ہو رہے تھے، مولانا محمد حیات وہاں قادیان میں موجود تھے۔ مرزائیوں نے کہا کہ ٹرک میں جگہ ہے، آپ آجائیں۔ آپ نے فرمایا، آپ چلیں میرا انتظام ہے۔ جب تمام قادیان کے مرزائی قادیان چھوڑ کر لاہور آگئے تب کہیں جا کر قریب کے کسی گاؤں کے کارکن، غلام فرید کو آپ نے پیغام بھجوایا۔ وہ ایک بیل گاڑی لایا، اس پر کتابیں لادیں اور سفر کر کے کئی دنوں بعد لاہور دفتر آگئے۔ آپ کے عزیز و اقارب خیر پور میرس سندھ میں تھے، ان کی اطلاع پا کر آپ وہاں چلے گئے اور وہاں جا کر زراعت کا کام شروع کر دیا۔

ایک دن حضرت امیر شریعتؒ و حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کو کسی کا خط ملا کہ آپ لوگ تقسیم سے قبل رد قادیانیت کا کام کرتے تھے۔ قادیانیت آپ کے احتساب سے سہمی ہوئی تھی۔ آپ لوگوں نے توجہ کم کر دی، مرزائی دن رات اپنی تبلیغ میں لگے ہوئے ہیں، سرکاری عہدوں سے ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ یہی حال رہا تو پاکستان پر یہ لوگ چھا جائیں گے۔ شاہ جیؒ نے یہ خط پڑھا تو تڑپ گئے۔ مولانا محمد علی جالندھریؒ کو بلا کر فرمایا کہ سندھ سے مولانا محمد حیات کو ملتان بلوائیں۔ مولانا محمد حیات کے بھائی آمادہ نہ ہو رہے تھے۔ مولانا محمد علیؒ نے ان کو ایک ملازم رکھ دیا جو ان کے ساتھ کھیتی باڑی کے کام میں مولانا محمد حیات کی نیابت کرتا تھا اور یوں مولانا محمد حیات صاحب ملتان آگئے۔ حضرت امیر شریعت سے ملے، دوسرے ہی دن کچہری روڈ ملتان کی ایک دکان پر چوبارہ کرایہ پر لیا اور کام شروع کر دیا۔ پہلی علماء کی تربیتی کلاس لگی۔ مولانا محمد حیات استاذ مقرر ہوئے۔ تقسیم کے بعد پہلی کلاس میں یہ علماء شامل تھے مولانا عبدالرحیم اشعر، مولانا قائم دین علی پوری، مولانا محمد لقمان علی پوری، مولانا غلام محمد خانپوری، قاضی عبداللطیف اختر شجاع آبادی، مولانا محمد عبداللہ سندھی، مولانا محمد یار چیچہ وطنی۔ ان حضرات نے رد مرزائیت کا کورس مکمل کیا۔

صفحہ ١٧٩

کورس کے مکمل کرتے ہی ان حضرات کو اس ترتیب سے جماعت کا مبلغ مقرر کیا گیا۔ مولانا عبدالرحیم اشعر فیصل آباد، مولانا محمد لقمان ننکانہ صاحب، مولانا یار محمد چنیوٹ، قاضی عبداللطیف چیچہ وطنی، مولانا غلام محمد ملتان، مولانا محمد عبداللہ سندھ، ان حضرات نے کام شروع کیا اور تقسیم کے بعد جماعت کے یہ حضرات پہلے مبلغین قرار پائے۔ یوں عشق رسالت مآب ﷺ میں غرقاب یہ کاروان ختم نبوت اپنی منزل کی طرف پھر سے رواں دواں ہو گیا۔ اس وقت پاکستان میں جتنے مناظر و مبلغ رد قادیانیت پر کام کر رہے ہیں، سوائے ایک آدھ کے باقی تمام تر ٹیم مولانا محمد حیات کی شاگرد ہے۔

تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء

١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت میں ملتان دفتر ختم نبوت قدیر آباد سے مولانا محمد شریف جالندھری اور مولانا عبدالرحیم اشعر، سائیں محمد حیات صاحبؒ کے ساتھ گرفتار ہو کر سنٹرل جیل گئے، وہاں پر اکابر و اصاغر کے ساتھ بڑی بہادری سے جیل کاٹی۔ جیل میں بی کلاس کی سہولت حاصل ہو گئی تو مزاحاً مولانا محمد علی جالندھریؒ سے فرماتے تھے کہ حضرت دیکھ لیں، جو یہاں مل رہا ہے، دفتر جا کر وہی دینا ہو گا۔ مولانا محمد علی جالندھریؒ فرماتے تھے کہ مولانا حیات! جو کھانا ہے، یہیں کھا لو، دفتر میں تو وہی دال روٹی ملے گی۔ جیل کی سزا کاٹنے میں اتنے بہادر تھے کہ وہاں جا کر گویا دنیا کو بالکل بھول جایا کرتے تھے۔ اتنا بہادر انسان کہ اس پر جتنا فخر کیا جائے، کم ہے۔

ملتان جیل میں ایک دفعہ مولانا خدا بخش نے چنے منگوائے اور عصر کے بعد نمازیوں کے سامنے چادر پر ڈال کر پڑھوانے شروع کر دیئے۔ مولانا محمد حیات نے پوچھا تو جواب ملا، اس لئے تاکہ مصیبت کم ہو۔ آپ نے فرمایا، آپ پڑھیں میں تو نہیں پڑھتا، جو لکھا ہے، وہی ہو گا۔ جتنے دن جیل میں رہنا ہے بہرحال رہیں گے۔ رہے اور بڑی بہادری سے رہے۔ ملتان سے لاہور بورسٹرل و سنٹرل جیل میں منتقل ہوئے۔ دس ماہ بعد رہا ہوئے تو لاہور میں سلطان فاؤنڈری میں ملازمت اختیار کر لی۔ ادھر ہائی کورٹ میں رسوائے زمانہ جسٹس منیر کی سربراہی میں عدالتی کمیشن نے تحریک کے اسباب پر انکوائری شروع کر دی۔ چھ ماہ تک یہ سلسلہ چلتا رہا۔ آپ نے انکوائری میں نمایاں کردار ادا کیا اور حکیم صاحب سیفی مرحوم اور

صفحہ ١٨٠

سلطان فاؤنڈری والے حضرات نے تحریک میں حصہ لینے والے علماء و وکلاء کے لئے اپنے دروازے کھول دیئے۔ مولانا محمد حیات صاحب نے انکوائری کمیشن میں قادیانی فتنہ سے متعلق حوالہ جات کی ترتیب میں اپنے رفقاء سمیت بھرپور حصہ لیا۔ انکوائری ختم ہوئی۔ آپ سلطان فاؤنڈری میں حسب سابق ملازمت سے وابستہ رہے۔

جب حضرت امیر شریعتؒ اور آپ کے گرامی قدر رفقاء نے مجلس تحفظ ختم نبوت کے پلیٹ فارم سے دوبارہ اپنے سفر کے آغاز کا عزم کیا تو سب کچھ چھوڑ کر مجلس تحفظ ختم نبوت میں شامل ہو گئے۔ پھر زندگی بھر اس پلیٹ فارم سے وابستہ رہے۔ مسئلہ ختم نبوت کے لئے اپنی صلاحیتوں کو وقف کر دیا۔ کراچی سے خیبر تک شاید کوئی اہل حق کا ایسا جامعہ یا دارالعلوم ہو، جہاں آپ نے رد قادیانیت پر علماء اور طلباء کی تیاری نہ کرائی ہو۔ ملک بھر میں مناظرین کی بہت بڑی تعداد آپ کی شاگرد ہے۔ مجلس کے دارالمبلغین کے ہمیشہ انچارج رہے۔ تحریک ١٩٥٣ء کے بعد ملک بھر میں قادیانیوں سے مناظرہ کرنے میں آپ اہل اسلام کے متفقہ مناظر ہوتے تھے۔ گفتگو میں دشمن کو گھیرے میں لے کر بند کرنا آپ کا وہ امتیاز تھا، جس کی اس زمانہ میں مثال ملنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔

ایک دفعہ ایک مرزائی مناظر نے کہا کہ مولانا ”آپ نے قادیان چھوڑ دیا“۔ آپ نے فرمایا کہ مرزا بشیرالدین کے فرار کے بعد۔ مرزائی نے کہا ”نہیں اس وقت بھی قادیان میں ہمارے تین سو تیرہ افراد موجود ہیں“۔ مولانا نے فرمایا کہ میں نے تو سنا ہے کہ ان کی تعداد ٤٢٠ ہے۔ یہ سنتے ہی مرزائی نے غصہ سے لال پیلا ہو کر کہا ہم آپ کے دیوبند پر پیشاب بھی نہیں کرتے۔ مولانا نے بڑے دھیمے انداز میں جواب دیا کہ ”میں جتنا عرصہ قادیان رہا، کبھی بھی پیشاب کو نہیں روکا۔“ اس پر مرزائی اول فول بکتا ہوا یہ جا وہ جا۔

ایک دفعہ مرزائیوں نے مناظرہ میں شرط رکھ دی کہ مناظر مولوی فاضل ہو گا۔ مولانا مناظرہ کے لئے تشریف لے گئے تو مرزائی مناظر نے مولوی فاضل کی سند مانگی۔ مولانا نے فرمایا ”افسوس کہ آج ہم سے وہ لوگ سند مانگتے ہیں، جن کا نبی پٹوار گیری کے امتحان میں فیل ہو گیا تھا“۔ مولانا نے کچھ اس انداز میں بیان فرمایا کہ مرزائی مناظر، مناظرہ کے بغیر ہی بھاگ گیا۔

مطالعہ کتب کا اتنا شوق تھا کہ فرائض و سنن کے علاوہ باقی تمام تر وقت مطالعہ میں

صفحہ ١٨١

گزرتا تھا۔ وظائف و نوافل کے زیادہ عامل نہ تھے‘ وہ تسبیح و دانہ کے آدمی نہ تھے‘ کتابوں کے رسیا تھے۔ آخری عمر میں کمزوری‘ ناتوانی و ضعف بصر کے باوجود بھی یومیہ کئی سو صفحات کا مطالعہ کر جاتے تھے۔ ان کے سرہانے کتاب ضرور ہوتی تھی۔ خواب سے بیدار ہوئے‘ مطالعہ میں لگ گئے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کو حوالہ جات ازبر تھے۔ آپ کو قدرت نے بلا کا حافظہ دیا تھا۔ حافظہ و مطالعہ‘ تقوی و اخلاص‘ جذبہ ایثار و قربانی‘ جادو بیانی جیسی صفات و خوبیاں مولانا میں ایسی تھیں‘ جن کا دشمن بھی اعتراف کرتے تھے۔

مولانا محمد علی جالندھریؒ دیگر اکابر کی طرح آپ کے بڑے قدردان تھے۔ مولانا محمد حیات طبیعت میں سخت گیر تھے۔ اپنے مزاج و دھن اور رائے کے پکے تھے۔ بنیادی طور پر مناظر تھے اور مناظر اپنی رائے جلدی سے تبدیل نہیں کرتا۔ اس لئے مولانا محمد حیاتؒ کبھی کبھار گفتگو و اختلاف رائے میں مولانا محمد علی جالندھریؒ سے شدت بھی اختیار کر جاتے تھے۔ ١٩٧٠ء کے الیکشن میں ”مجلس کو کیا کرنا چاہئے“ مولانا محمد علی صاحب کی رائے تھی کہ ہم لوگ غیر سیاسی ہیں‘ اپنی پالیسی پر کاربند رہیں۔ مولانا محمد حیات کی رائے تھی کہ اگر ہماری معاونت سے کچھ علماء اسمبلی میں چلے گئے تو ہمارے مسئلہ کو حل کرانے میں معاون ثابت ہوں گے۔ پالیسی کے لحاظ سے حضرت مولانا محمد علی جالندھری کی رائے وزنی تھی جبکہ مسئلہ کو حل کرانے کے نقطہ نظر سے مولانا محمد حیات کو اپنی رائے پر اصرار تھا۔ دونوں حضرات نے ایک میٹنگ میں اس پر گھنٹوں دلائل دیئے۔ ظہر کے وقت اجلاس کا وقفہ ہوا تو وہی محبت و اخلاص‘ مولانا محمد علی جالندھری صاحب نے چائے پیالی میں ڈال کر پیش کی۔ مولانا محمد حیات صاحب مسکرا اٹھے۔ اللہ رب العزت ان تمام حضرات پر اپنا کرم فرمائیں کہ اخلاص کے پیکر تھے۔

مولانا محمد علی جالندھریؒ نے اسی میٹنگ میں فرمایا کہ مارشل لاء حکومت نے ایک دفعہ کے تحت الیکشن میں مذہبی بنیادوں پر کسی کی مخالفت کو جرم قرار دیا ہے۔ اگر مرزائی کھڑے ہو گئے تو ہم ان کا نام لے کر ان کے مرزائی ہونے کے باعث ان کی مخالفت کریں گے تو اس دفعہ کی خلاف ورزی لازم آئے گی۔ گرفتاریاں ہوں گی تو جو حضرات گرفتاریوں کے لئے اپنے آپ کو پیش کرنا چاہیں‘ اپنے نام لکھوا دیں۔ اب تمام مبلغین احترام میں خاموش تھے کہ پہلے بزرگ نام لکھوائیں تو پھر ہم سب حاضر ہیں۔ چھوٹے پہلے بولیں تو کہیں

صفحہ ١٨٢

سوئے ادب نہ ہو ورنہ ظاہر ہے کہ مشن کے لئے سب گرفتار ہونے کو تیار تھے۔ اتنے میں مولانا محمد حیات بولے ’مولانا محمد علی صاحب‘ بھائی جان! دیکھیں‘ جب شاہ جیؒ ہمیں گرفتاری کے لئے فرماتے تھے تو پہلے اپنا نام لکھواتے تھے‘ آپ پہلے اپنا نام لکھوائیں پھر ہم سب کا نام لکھ لیں۔ ہم سب تیار ہیں۔ مولانا محمد علی صاحب‘ بہت اچھا فرما کر مسکرائے اور مولانا محمد شریف صاحب کو حکم دیا کہ میرے نام سمیت سب حاضرین کے درجہ بدرجہ نام لکھ لو‘ چنانچہ ایسے ہی ہوا۔

مولانا محمد حیات صاحبؒ ارادے کے پکے اور اعصاب کے مضبوط انسان تھے۔ بڑے سے بڑے سانحہ کو وہ بڑی بہادری و جرات سے برداشت کر جاتے تھے لیکن جب مولانا محمد علی جالندھریؒ کا انتقال ہوا تو اس وقت ملتان میں نہ تھے۔ تبلیغ کے لئے سرگودھا کے سفر پر تھے۔ فون پر اطلاع دی گئی۔ پوری رات سفر کر کے علی الصبح دفتر پہنچے۔ دفتر کے صحن میں مولانا محمد علی جالندھریؒ کا جنازہ رکھا تھا۔ دیکھتے ہی دھاڑیں مار مار کر رونے لگے‘ اتنا روئے کہ انتہا کر دی۔ صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ اپنے دل کے ہاتھوں مجبور تھے۔ ایسے محسوس ہوتا تھا کہ وہ مولانا محمد علی جالندھریؒ کی وفات پر اپنی جان گنوا بیٹھیں گے۔ زار و قطار رو رہے تھے اور بار بار کہتے تھے کہ میں بہت نکما ہوں (یہ ان کی کسر نفسی تھی ورنہ وہ تو بہت ہی کام کے آدمی تھے) ہم لوگ دفتر میں بیٹھے رہتے‘ یہ شخص (مولانا محمد علی جالندھری) جفاکش و بہادر انسان تھا‘ دن رات ایک کر کے جان جوکھوں میں ڈال کر دفتر بنایا۔ فنڈ قائم کیا‘ اپنے کلیجہ کو دھیمی آگ پر اپنے ہاتھوں بھون بھون کر ہمیں کھلایا۔ اب ان جیسا بہادر و محنتی دوست و رہنما ہمیں کہاں سے میسر آئے گا۔ ہماری تیز و ترش باتیں سن کر خوش دلی سے نہ صرف ہماری بلکہ پوری جماعت کی خدمت کی۔ ہائے! اب مجھے محمد علی کہاں سے ملے گا‘ جو میری سن کر برداشت کرے گا۔ زار و زار رو رو کر دکھے ہوئے دل سے ایسا خراج تحسین پیش کیا کہ اس وقت دفتر میں موجود تمام ساتھیوں کے دل ہاتھ سے چھوٹ گئے۔ دفتر میں کہرام مچ گیا۔ اس وقت دونوں بزرگ دنیا میں موجود نہیں‘ مگر ان باہمی وفاؤں کی یادوں سے ہمارے دل معمور ہیں۔ اللہ رب العزت ان سب کی قبروں پر رحمت فرمائے۔ آمین۔

ربوہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے لئے مسلم کالونی میں پلاٹ حاصل ہوا تو آپ

صفحہ ١٨٣

خبر سنتے ہی ملتان سے ربوہ منتقل ہونے کے لئے آمادہ ہو گئے۔ کھانا چھوڑ دیا۔ چنے چبانے شروع کر دیئے۔ مولانا محمد شریف جالندھریؒ کے پوچھنے پر جواب دیا کہ میں ریہرسل کر رہا تھا کہ اگر ربوہ میں روٹی نہ ملے تو آیا چنے چبانے کے لائق دانت ہیں یا نہیں۔ اس جذبہ و ایثار سے آپ مسلم کالونی ربوہ تشریف لائے۔ گرم سرد، دکھ سکھ، عسر و یسر میں ربوہ میں اس محاذ کو آخری وقت تک سنبھالے رکھا۔ امت محمدیہ کی طرف سے واحد شخص ہیں، جنہوں نے قادیان سے لے کر ربوہ تک مرزائیت کا تعاقب ان کے گھر پہنچ کر کیا۔ تحریک ختم نبوت میں آپ نے جو کارہائے نمایاں و گراں قدر خدمات انجام دیں، اس کا اندازہ منیر انکوائری رپورٹ سے ہوتا ہے کہ جہاں کہیں مسٹر جسٹس منیر آپ کی کسی تقریر کا حوالہ دیتا ہے، جل بھن کر دیتا ہے۔ گویا مولانا کے طرز عمل نے مرزائیت و مرزائی نواز طبقہ کے خواب و خور حرام کر دیئے تھے۔ آپ انتہائی سادہ اور منکسر المزاج تھے۔ ربوہ میں قیام کے دوران آپ سے گفتگو کے لئے جو بھی مرزائی آتا، منہ کی کھاتا۔ کچھ عرصہ بعد خلافت ربوہ کو اعلان کرنا پڑا کہ اس ”بابا“ کے پاس نہ جایا کرو۔

مولانا شعبان کے آخری دنوں میں معمولی بیمار ہوئے۔ ربوہ چنیوٹ سے لاہور گئے۔ وہاں سے اپنے گاؤں کوٹلہ بارے خان تحصیل شکر گڑھ تشریف لے گئے۔ کچھ عرصہ معمولی بیمار رہ کر رمضان شریف میں اللہ رب العزت کو پیارے ہو گئے۔ ”عاش غریباً و مات غریباً“ کا صحیح مصداق تھے۔ اس دنیا میں فقر ابو ذر غفاری ؓ کے وارث و علمبردار تھے۔ ان کی وفات کے بعد ان کے گاؤں تعزیت کے لئے جانا ہوا۔ قبرستان میں گئے، ان کی قبر کو خود رو بوٹیوں اور جھاڑیوں نے ڈھانپ رکھا تھا۔ ایسے محسوس ہوا جیسے منوں مٹی کے نیچے ان کی میت کو رحمت پروردگار نے ڈھانپ رکھا ہو۔ اللہ رب العزت ان کی قبر پر اپنی رحمتوں کی بارش فرمائے۔ آمین، ثم آمین۔

(ماہنامہ لولاک، ملتان)

صفحہ ١٨٤

مقدمہ بہاولپور اور حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ

بہاول پور کے تاریخی مقدمہ میں شہادت کے لیے رسول اللہ ﷺ کے جانبدار ہو کر جب حضرت شاہ صاحبؒ تشریف لے گئے، احقر حضرت کے ہمراہ تھا۔ مولانا اسعد اللہ صاحب سہارنپوری اور احقر دونوں کو حضرت شاہ صاحبؒ نے مختار مقدمہ بنوایا۔ چنانچہ احقر کو ١٩ یوم سعادت رفاقت نصیب ہوئی، حضرت کو ان ایام میں مرض بواسیر کا دورہ شدید تھا، خون کثرت سے آتا رہا۔ صفرا کا غلبہ ہو گیا تھا، پیاس شدت کی رہتی تھی، ضعف میں قوت اور قوت میں ضعف ہو گیا تھا۔ مولانا مفتی محمد شفیع صاحب دیوبندی کا پہلے بیان ہوا، ایک دن بیان دوسرے دن جرح ہوئی۔ مولانا مرتضیٰ حسنؒ چاند پوری کا دو دن بیان ہوا، تیسرے دن جرح ہو کر پانچویں دن عدالت کا وقت شروع ہونے سے ایک گھنٹہ بعد تک رہی۔ پھر حضرت شاہ صاحبؒ کی خدمت میں اطلاع دی گئی، کار سے تشریف لائے، زائرین کا ہجوم تھا۔ ڈسٹرکٹ جج صاحب مرحوم نے نہایت اعلیٰ انتظام فرمایا تھا تاکہ کارروائی سننے والوں کو دقت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ جب حضرت شاہ صاحبؒ نے کمرہ عدالت میں قدم مبارک رکھا، تمام حاضرین اٹھ کھڑے ہوئے، تا آنکہ مرزائی بھی کھڑے ہوئے۔ احقر نے حضرت کے ضعف و نقاہت کے باعث جج صاحب سے عرض کر کے آرام کرسی کا انتظام کروایا تھا کہ حضرت بیٹھ کر بیان دیں گے۔ ہم دونوں کے لیے بھی کرسیاں رکھی ہوئی تھیں لیکن ہمیں تو ادبا کھڑے ہی رہنا تھا اور کام بھی کرنا تھا، اس لیے دونوں کرسیاں اٹھوا دی تھیں۔ کمال یہ کہ مرزائی ہر دو مختاران مدعا علیہ بھی اپنی اپنی کرسیاں اٹھوا کر زمین پر بیٹھ گئے۔

حضرت کے حکم سے حوالہ جات کتب نکال کر پیش کرنا بھی احقر کے سپرد تھا اور حضرت کی بین کرامت تھی جس عبارت کے متعلق ارشاد فرماتے، احقر فوراً نکال کر پیش کرتا تھا اور حضرت پڑھ کر جج صاحب کو سناتے تھے۔ بیان شروع ہوتے ہی تمام کچہری میں سناٹا چھا گیا تھا، حاضرین ہمہ تن گوش تھے، حضرت کا بیان نہایت سکون واطمینان سے سن رہے تھے۔ باوجود ضعف کے آواز اتنی بلند ہو جاتی تھی کہ عدالت کے اندر باہر سب کو پورا بیان سنائی دیتا تھا۔ مرزائی لوگ مولانا مرتضیٰ حسن کے بیان میں شور مچاتے تھے لیکن حضرت کے بیان میں سب

صفحہ ١٨٥

کی زبانیں گنگ ہو گئی تھیں۔ ایسا منضبط اور اصولی بیان ‘ لا عین رأت ولا اذن سمعت۔

جج صاحب کی آرزو تھی کہ بیان ایسا ہونا چاہیے جس سے مجھے نتیجہ تک پہنچنا آسان ہو جائے کہ کن وجوہ کی بناء پر کسی کی تکفیر کی جاسکتی ہے۔ سو حضرت کا بیان ماشاء اللہ ایسا ہی تھا۔ جج صاحب نہایت محظوظ ہو رہے تھے کہ ان کی مراد بر آئی۔ وہ فرماتے تھے کہ جزئیات منتشرہ کی بھرمار سے کوئی خاص نتیجہ برآمد نہیں ہوتا۔ افسوس ہے کہ ”بیانات علماء ربانی“ کے نام سے جو کتاب شائع ہوئی ہے‘ اس میں وہ تفصیلات درج نہیں ہیں۔ نیز جو جو عبارات اثناء بیان میں تشریحات و تفسیرات کے ساتھ پیش فرمائی جاتی تھیں‘ وہ بھی پوری درج نہیں کی گئیں۔ صرف اتنا بیان طبع ہوا جو حضرت شاہ صاحبؒ جج صاحب کو املاء کرواتے تھے۔ اس میں حوالہ جات کی عبارات کا صرف اول اور آخری لفظ لے لیا گیا ہے‘ حالانکہ حضرت شاہ صاحبؒ پوری عبارات مع تشریح و تفسیر سناتے تھے۔ اگر ذرا تکلیف انجمن موید الاسلام بہاول پور کے منتظمین گوارا فرماتے یا کم از کم احقر لائل پوری کو حکم فرماتے تو حضرت شاہ صاحبؒ کا پورا مشرح مفصل و مبسوط بیان ١٦٠ صفحات پر آ جاتا۔ اس لیے کہ احقر بھی پورا پورا بیان ساتھ ساتھ لکھتا جاتا تھا۔ فیصلہ مقدمہ پڑھیے‘ معلوم ہو جائے گا کہ فاضل جج نے اپنے صادق مصدوق فیصلے کا مدار زیادہ تر حضرت شاہ صاحبؒ ہی کے محققانہ بیان پر رکھا ہے۔ حضرت شاہ صاحبؒ کا بیان سننے کے لیے پنجاب‘ بلوچستان‘ کراچی اور دیگر دور دراز علاقوں کے علماء و فضلاء و رؤساء اور آفیسران ریاست آئے ہوئے تھے۔ انجمن موید الاسلام بہاول پور نے جو تمہیدی الفاظ حضرت کے بیان ”البیان الازہر“ پر لکھے ہیں‘ ملاحظہ فرمائیے:

شیخ الاسلام والمسلمین اسوۃ السلف وقدوۃ الخلف حضرت مولانا سید محمد انور شاہ صاحب کشمیری قدس اللہ اسرارہم کی بلند ہستی کسی تعارف اور توصیف کی محتاج نہیں۔ آپ کو مرزائی فتنے کے رد و استیصال کی طرف خاص توجہ تھی‘ حضرت شیخ الجامعہ صاحب کا خط شاہ صاحبؒ کی خدمت میں دیوبند پہنچا تو حضرت ڈابھیل تشریف لے جانے کا ارادہ فرما چکے تھے اور سامان سفر باندھا جا چکا تھا۔ مگر مقدمہ کی اہمیت کو ملحوظ فرما کر

صفحہ ١٨٦

ڈابھیل کی تیاری کو ملتوی فرمایا اور ١٩ اگست ١٩٣٢ء کو بہاول پور کی سرزمین کو اپنی تشریف آوری سے مشرف فرمایا۔ حضرت کی رفاقت میں پنجاب کے بعض علماء مولانا عبد الحنان خطیب آسٹریلیا مسجد لاہور و ناظم جمیعۃ علماء پنجاب، و مولانا محمد صاحب لائل پوری فاضل دیوبند، و مولانا محمد زکریا صاحب لدھیانوی و غیرہم بھی تشریف لائے۔

ریاست بہاول پور اور ملحقہ علاقہ کے علماء اور زائرین اس قدر جمع ہوئے کہ حضرت کی قیام گاہ پر بعض اوقات بیٹھنے کی جگہ نہ ملتی تھی اور زائرین مصافحہ سے مشرف نہ ہو سکتے تھے۔

٢٥ اگست ١٩٣٢ء کو حضرتؒ کا بیان شروع ہوا، عدالت کا کمرہ امراء و رؤساء ریاست و علماء کی وجہ سے پر تھا۔ عدالت کے بیرونی میدان میں دور تک زائرین کا اجتماع تھا۔ باوجود یہ کہ حضرت شاہ صاحبؒ عرصہ سے بیمار تھے اور جسم مبارک بہت ناتواں ہو چکا تھا مگر متواتر پانچ روز تک تقریباً پانچ پانچ گھنٹے یومیہ عدالت میں تشریف لا کر علم و عرفان کا دریا بہاتے رہے۔ مرزائیت کا کفر و ارتداد اور دجل و فریب کے تمام پہلو آفتاب نصف النہار کی طرح روشن فرما دیئے۔ حضرت شاہ صاحبؒ کے بیان ساطع البرہان میں مسئلہ ختم نبوت اور مرزا کے ادعاء نبوت و وحی و مدعی نبوت کے کفر و ارتداد کے متعلق جس قدر مواد جمع ہے اور ان مسائل و حقائق کی توضیح و تفصیل کے لیے جو ضمنی مباحث موجود ہیں، شاید مرزائی نبوت کے رد میں اتنا علمی ذخیرہ کسی ضخیم کتاب میں یکجا نہیں ملے گا۔

حضرت شاہ صاحبؒ کے بیان پر تبصرہ کرنا خاکسار کے فکر کی رسائی سے باہر ہے۔ ناظرین بہرہ اندوز ہو کر حضرت شاہ صاحبؒ کے حق میں دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ حضرت مرحوم کے اعلیٰ علیین میں مدارج بلند فرمائیں۔ آمین

حضرتؒ کا حافظہ اس وقت قابل دید و شنید تھا جب حوالہ دیتے، کتاب کھولتے ہی فوراً انگلی مبارک عبارت پر ہوتی، جج صاحب لکھئے! عبارت یہ ہے۔ بعض دفعہ احقر کو فرماتے کہ عبارت نکال کر دے تاکہ دکھاؤں۔ بعض دفعہ صفحہ بھی ارشاد فرماتے، بیان بیٹھ کر فرماتے لیکن حوالہ جات پیش فرماتے وقت کھڑے ہو جاتے۔ ”توراۃ شریف“ کی بعض آیات عربی الفاظ میں سنائیں اور اپنے دست مبارک سے لکھ کر جج صاحب کو

صفحہ ١٨٧

دیں۔ چنانچہ ایک آیت احقر کو یاد ہے: نابی مقربخ میحیخ کامرخ یاقیم لغ الوہخ الا وتشماعون---- نبی من قربک من اخیک کاخیک یقیم لک الھک الیہ تسمعون ۔ ارشاد فرمایا کہ حضرت موسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ السلام نے اپنے دست مبارک سے لکھ کر اس آیت کا بنی اسرائیل میں اعلان فرمایا ----- فرمایا، جج صاحب لکھئے! ہمارا دین متواتر ہے اور دنیا میں کوئی دین متواتر نہیں۔ تواتر کی تعریف بیان فرما کر اس کے اقسام، تواتر اسناد، تواتر طبقہ، تواتر قدر مشترک، تواتر توارث بیان فرمائے، فرمایا، تواتر کی ایک قسم معنوی بھی ہے اور تواتر کی کسی ایک قسم کا منکر کافر ہے۔ مرزا غلام احمد نے تواتر کے جمیع اقسام کا انکار کیا ہے، جرح کے روز جلال الدین شمس مرزائی مختار مدعا علیہ نے سوال کیا کہ آپ نے تواتر کے منکر کو کافر کہا ہے، حالانکہ یہ تو ایک اصطلاح ہے جو علماء نے گھڑ رکھی ہے اس کا منکر کیسے کافر ہو سکتا ہے؟ ارشاد فرمایا کہ تم لوگ مانتے ہو یا نہیں کہ یہ قرآن مجید وہی قرآن ہے جو حضور نبی کریم ﷺ پر نازل ہوا اور ہم تک محفوظ چلا آیا۔ جلال دین نے کہا کہ ہم مانتے ہیں، فرمایا کہ اس حالت حفاظت کا نام تمہارے ہاں کیا ہے؟ جلال دین نے کہا، ”تواتر“ فرمایا، اس کا منکر کافر ہو گا یا نہیں؟ مرزائی مختار نے اقرار کیا۔ فرمایا کہ میں یہی تو کہہ رہا ہوں۔

قادیانی مختار نے سوال کیا کہ امام رازیؒ نے تواتر معنوی کا انکار کیا ہے۔ چنانچہ ”فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت“ میں بحرالعلومؒ نے تصریح کی ہے۔ فرمایا، جج صاحب ہمارے پاس ”فواتح الرحموت“ کتاب موجود نہیں ہے، ٤٢ سال ہوئے میں نے یہ کتاب دیکھی تھی، ان صاحب نے حوالہ دینے میں دھوکا دیا ہے۔ بحرالعلومؒ امام رازی ؒ کے متعلق یہ لکھتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا ہے کہ یہ جو حدیث ہے: لا تجتمع امتی علی الضلالہ۔ یہ تواتر معنوی کے درجہ کو نہیں پہنچتی، یہ نہیں کہ تواتر معنوی کے حجت ہونے کا انکار کرتے ہیں۔ چنانچہ جج صاحب نے قادیانی مختار کو حکم دیا کہ اصل عبارت پڑھ کر سنائیے، اس نے ذرا تامل کیا تو حضرت شاہ صاحب نے کتاب اس کے ہاتھ سے چھین لی کہ لاؤ میں عبارت سناتا ہوں۔ اس نے کہا کہ میں ہی سنا دیتا ہوں، جب سنایا تو وہی عبارت تھی جو حضرت نے ارشاد فرمائی تھی---- فرمایا، جج صاحب! یہ

صفحہ ١٨٨

صاحب ہمیں مفحم کرنا چاہتے ہیں، لیکن میں چونکہ طالب علم ہوں، دو چار کتابیں دیکھ رکھی ہیں، میں ان سے انشاء اللہ مفحم نہیں ہونے کا۔

قادیانی مختار نے سوال کیا، آپ نے فرمایا کہ مدعی وحی نبوت واجب القتل ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے ابن صیاد کو کیوں قتل نہ فرمایا بلکہ فاروق اعظم کو بھی روک دیا۔

فرمایا، جج صاحب لکھئے، ابن صیاد نابالغ تھا اور نابالغ کو شریعت میں قتل نہیں کیا جاتا۔

سوال آپ نے فرمایا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں مسیلمہ کذاب کے دو قاصد آئے، حضور ﷺ نے ان سے دریافت فرمایا کہ کیا تم بھی مسیلمہ کا عقیدہ مانتے ہو؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیا، تو فرمایا کہ اگر یہ بات نہ ہوتی کہ قاصدوں کو قتل نہیں کیا جاتا تو میں تم دونوں کو قتل کرتا۔ اب سوال یہ ہے کہ حضور ﷺ نے رواج کا اتباع کیا؟

فرمایا کہ نبی کریم ﷺ کا یہ فرمانا کہ قاصدوں کو قتل نہیں کیا جاتا، یہ بجائے خود تشریعی حکم ہے۔ نبی رواج کا متبع نہیں ہوتا بلکہ حکم خداوندی کا متبع ہوتا ہے۔

حضرت کی قیامگاہ پر زائرین کا ہجوم رہتا تھا۔ ہر وقت کسی نہ کسی موضوع پر تقریر فرماتے رہتے تھے، بہت سے لوگ حضرت سے بیعت بھی ہوئے، رات دن یہی شغل تھا۔ رات کے ایک بجے تک بیٹھے رہتے، قرآن و حدیث و فقہ تصوف وغیر ہا علوم و فنون کے دقیق دقیق مسائل علماء کرام و صوفیاء عظام دریافت کرتے رہتے۔ ہر ایک کے جواب میں ایسی محقق اور مبسوط تقریر فرماتے، گویا ساری عمر اسی میں لگائی ہے۔ ایک عالم دین نے مسئلہ وحدۃ الوجود اور وحدت شہود کے متعلق سوال کیا، بس پھر کیا تھا، تین دن عصر سے مغرب تک اور مغرب سے عشاء تک اسی پر بیان فرماتے رہے۔ حضرت مجدد الف ثانیؒ کی عبارات زبانی سنا رہے ہیں۔ معارف لدنیہ میں یہ فرماتے ہیں۔ مکتوبات شریفہ میں یہ فرماتے ہیں۔ حضرت شاہ ولی اللہؒ کی یہ تحقیق ہے، عبقات میں شاہ اسماعیل شہیدؒ نے یوں فرمایا، حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن العربیؒ نے فتوحات میں یہ فرمایا ہے۔ فصوص الحکم میں یہ ارشاد ہوتا ہے، حضرت مولانا حاجی رحمتہ اللہ تعالیٰ کی نظموں پہ نظمیں وحدۃ الوجود پر طویل طویل پڑھ کر سنا رہے ہیں۔

حضرت مولانا دین پوری نور اللہ مرقدہ بھی مع اپنے خدام کے تشریف فرما رہتے

صفحہ ١٨٩

تھے۔ مولانا غلام محمد صاحب گھوٹوی‘ حضرت مولانا عبداللطیف ناظم مدرسہ مظاہر العلوم‘ مولانا مرتضیٰ حسن صاحب‘ حکیم عبدالرشید افسر الاطباء بہاول پور‘ غرض ہر طبقہ محظوظ ہوتا تھا۔ حضرت ناظم صاحب سہارنپوری بڑی عقیدت کے ساتھ دو زانو سامنے بیٹھے رہتے تھے اور استفادہ فرماتے رہتے تھے۔

مولانا شمس الدین بہاولپوری مرحوم کے کتب خانہ سے معجم کبیر طبرانی کا قلمی نسخہ منگایا۔ حضرت ناظم صاحب لے کر آئے‘ احقر کو حکم فرمایا کہ روزانہ مجھے اس میں سے احادیث نقل کر کے دیا کر‘ چنانچہ نشان دہی فرمائی جاتی اور احقر کو یہ سعادت نصیب ہوئی۔ فرمایا کہ قلمی کتاب کا پڑھنا مشکل ہوتا ہے‘ میں آپ کو طریقہ سکھاتا ہوں۔ چنانچہ تھوڑی سی رہنمائی سے احقر نے خوب سمجھ لیا۔ معجم کے اس نسخہ میں کہیں اعراب و نقاط کا نام و نشان بھی نہیں۔ مولانا مفتی محمد شفیع صاحب اور مولانا محمد مرتضیٰ حسن مرحوم کے بیانات پہلے خود ملاحظہ فرماتے‘ جگہ جگہ رہنمائی فرماتے‘ جب خود تسلی فرما لیتے تو کچہری میں جانے دیتے‘ لیکن خود حضرت کوئی تیاری نہ فرماتے۔ ایک بجے شب تک تو جیسے اوپر گزرا وعظ و تلقین و ارشاد و بیان مسائل ہوتا رہتا‘ صرف ایک گھنٹہ آرام فرماتے۔ دو بجے تہجد کے لیے اٹھتے‘ فجر کی نماز تک مراقب رہتے‘ پاس انفاس میں مشغول رہتے۔ اول وقت نماز فجر کی امامت خود کرتے‘ پھر سورج نکلنے تک کچھ پڑھتے رہتے‘ چائے پی کر موٹر سے کچہری تشریف لے جاتے۔ سات بجے سے ایک بجے تک بیان ہوتا رہتا‘ ضعف و نقاہت بغایت تھا‘ لیکن تکان مطلقاً محسوس نہ فرماتے۔ تمام رفقاء سفر و دیگر علماء کا خوب اہتمام سے تفقد فرماتے رہتے‘ مجلس مشاورت میں خاص خاص علماء کو شامل فرماتے۔ احقر پر اتنی نوازشات و عنایات کی بارش ہوتی رہتی تھی کہ بیان سے باہر ہے۔ احقر نے قادیانیوں کی کتب سے بعض نئی باتیں نکال کر پیش کیں‘ بہت خوش ہوئے اور بار بار علماء کو بلا کر دکھاتے۔ جب تک احقر مجلس مشاورت میں حاضر نہ ہوتا‘ بات شروع نہ فرماتے۔ تخلیہ میں بھی مشورہ فرماتے اور باصرار فرماتے کہ تیری اس میں کیا رائے ہے۔

بہاول پور شہر میں جامع مسجد و دیگر مقامات پر قادیانیت کے خلاف تقریر کرنے کے لیے علماء کو بھیجتے رہتے تھے۔ دو دفعہ احقر کو بھی بھیجا‘ ان ایام میں اس قدر حضرت کے

صفحہ ١٩٠

چہرہ مبارکہ پر انوار ...... کی بارش ہوتی رہتی تھی کہ ہر شخص اس کو محسوس کرتا تھا۔ احقر نے بارہا دیکھا کہ اندھیرے کمرے میں مراقبہ فرما رہے ہیں، لیکن روشنی ایسی جیسے بجلی کے قمقمے روشن ہوں، حالانکہ اس وقت بجلی گل ہوتی تھی۔ بہاول پور جامع مسجد میں جمعہ کی نماز حضرت اقدسؒ پڑھایا کرتے تھے، بعد نماز کچھ بیان بھی ہوتا تھا، ہزاروں ہزار کا مجمع رہتا تھا۔ پہلے جمعہ میں فرمایا کہ ”حضرات! میں نے ڈابھیل جانے کے لیے سامان سفر باندھ لیا تھا کہ یکایک مولانا غلام محمد صاحب شیخ الجامعہ کا خط دیوبند موصول ہوا کہ شہادت دینے کے لیے بہاول پور آئیے۔ چنانچہ اس عاجز نے ڈابھیل کا سفر ملتوی کیا اور بہاول پور کا سفر کیا۔ یہ خیال کیا کہ ہمارا نامہ اعمال تو سیاہ ہے ہی، شاید یہی بات میری نجات کا باعث بن جائے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کا جانثار ہو کر بہاول پور میں آیا تھا“۔ بس اس فرمانے پر تمام مسجد میں چیخ و پکار پڑ گئی، لوگ دھاڑیں مار مار کر اور پھوٹ پھوٹ کر رو رہے تھے، خود حضرت پر ایک عجیب کیفیت وجد طاری تھی۔ ایک مولوی صاحب نے اختتام وعظ پر فرمایا کہ حضرت شاہ صاحب کی شان ایسی ہے اور آپ ایسے بزرگ ہیں، وغیرہ --- حضرت فوراً کھڑے ہو گئے، فرمایا ”حضرات! ان صاحب نے غلط کہا ہے، ہم ایسے نہیں ہیں بلکہ ہمیں تو یہ بات یقین کے درجہ کو پہنچ گئی ہے کہ ”ہم سے گلی کا کتا بھی اچھا ہے، ہم اس سے گئے گزرے ہیں“۔ سبحان اللہ، انکسار اور تواضع کی حد ہو گئی۔

لاہور اسی سفر کے سلسلہ میں دو روز قیام فرمایا تھا۔ آسٹریلین بلڈنگ کی مسجد میں بعد نماز فجر وعظ فرمایا، علماء و فضلاء عوام و خواص بالخصوص ڈاکٹر محمد اقبال اور ان کے ساتھی اہتمام سے حاضر ہوتے تھے۔ بیان ہوتا تھا: ”اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو، مالک تعالیٰ سے علاقہ پیدا کرو“۔ غرض حضرت نے خطبہ شروع فرمایا: الحمد للہ نحمدہ و نستعینہ الخ۔ وعظ کرسی پر بیٹھ کر فرما رہے تھے، احقر کے دل میں وسوسہ سا گزرا کہ مسجد میں تو شاید کرسی بچھانا سوئے ادب ہو۔ حضرت نے فوراً خطبہ بند کر دیا۔ فرمایا کہ مسجد میں کرسی بچھانا نبی کریم ﷺ سے ثابت ہے۔ چنانچہ ”مسلم شریف“ میں روایت ہے کہ ایک سائل کے جواب دینے کے لیے حضور ﷺ کے لیے مدینہ کے بازار سے کرسی لائی گئی۔ راوی کہتا ہے کہ اس کرسی کے پائے سیاہ تھے، غالباً لوہے کے تھے، مصلے کے قریب رکھی گئی۔ حضور نبی کریم ﷺ نے اسی پر بیٹھ کر جوابات

صفحہ ١٩١

دیئے۔ ۔۔۔ یہ فرمایا اور پھر خطبہ شروع فرما کر حضرت نے وعظ کیا‘ احقر ندامت سے پسینہ پسینہ ہو گیا۔

قادیانی مختار نے کہا کہ ”تحذیر الناس“ میں مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے بھی بعد خاتم النبیین نبی کا آنا تجویز کیا ہے۔

فرمایا ’جج صاحب لکھئے۔ حضرت مولانا محمد قاسمؒ نے اپنے الہامی مضمون میں نبی کریم ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کے متعلق دلائل و براہین ساطعہ بیان فرمائے ہیں‘ اور اکثر عبداللہ بن عباسؓ کی علمی توجیہات فرمائی ہیں۔ ان لوگوں پر حیرت ہے جو ”تحذیر الناس“ کو بغور و بالاستیعاب دیکھتے نہیں۔ اسی رسالہ میں جابجا نبی کریم ﷺ کا خاتم النبیین زمانی ہونا اور اس کا اجماعی عقیدہ ہونا اور اس پر اپنا ایمان ہونا ثابت فرمایا ہے۔ رسالہ کے ص ١٠ کی عبارت‘ میں آپ کو لکھوانا چاہتا ہوں۔ حضرت مولانا فرماتے ہیں: ”سو اگر اطلاق اور عموم ہے تب تو ثبوت خاتمیت زمانی ظاہر ہے‘ ورنہ تسلیم لزوم خاتمیت زمانی بدلالتہ التزامی ضرور ثابت ہے۔ ادہر تصریحات نبوی مثل انت منى بمنزله هارون من موسى الا انه لانبى بعدى او كما قال ۔ جو بظاہر بطرز مذکور اسی لفظ خاتم النبیین سے ماخوذ ہے۔ اس بات میں کافی ہے کیونکہ یہ مضمون درجہ تواتر کو پہنچ گیا ہے اور اس پر اجماع بھی منعقد ہو گیا ہے۔ گو الفاظ مذکور بسند تواتر منقول نہ ہوں۔ سو یہ عدم تواتر الفاظ باوجود تواتر معنوی یہاں ایسا ہی ہوگا جیسا تواتر اعداد رکعات فرائض و وتر وغیرہ باوجودیکہ الفاظ حدیث مشعر تعداد رکعات متواتر نہیں۔ جیسا اس کا منکر کافر ہے‘ ایسا ہی اس کا منکر بھی کافر ہو گا۔

اسی رسالہ کے دوسرے صفحات میں بھی جابجا حضور ﷺ کی خاتمیت زمانی کا اقرار فرمایا ہے۔ نیز مناظرہ عجیبہ جو صرف اسی موضوع پر ہے‘ نیز آبحیات‘ قاسم العلوم‘ انتصار الاسلام وغیرہا کتب مصنفہ حضرت نانوتویؒ دیکھنا چاہیے۔ حضرت مولانا مرحوم حضور ﷺ کے لیے تین طرح کی خاتمیت ثابت فرماتے ہیں‘ ایک بالذات یعنی مرتبہ حضور ﷺ کا خاتمیت ذاتی کا ہے۔ کیونکہ نبی کریم ﷺ وصف نبوت کے ساتھ موصوف بالذات ہیں اور انبیاء کرام علیہم السلام موصوف بالعرض اور آپ کے واسطے سے۔ جیسا کہ عالم اسباب میں موصوف بالنور بالذات آفتاب ہے اس کے ذریعے سے

صفحہ ١٩٢

تمام کواکب قمر وغیرہ اور دیگر اشیاء ارضیہ متصف بالنور، یہی حال وصف نبوت کا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ اس سے متصف بالذات ہیں اور اسی وجہ سے آنحضور ﷺ کو سب سے پہلے نبوت ملی۔ حدیث میں ہے: كنت نبيا وادم منجدل بين الماء والطين ۔ اور دوسرے حضرات انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام حضور ﷺ کے واسطہ سے متصف بالنبوۃ ہوئے۔ حدیث میں ارشاد ہے: لو کان موسی حیا لما وسعہ الا اتباعی ۔ ”اگر موسیٰ زندہ ہوتے تو ان کو بھی میرے اتباع کے بغیر چارہ نہ ہوتا“۔

پارہ نمبر ٣ کے آخری رکوع میں ارشاد ہوتا ہے: واذ اخذ اللہ میثاق النبیین لما اتیتکم من کتاب وحکمہ ثم جاء کم رسول مصدق لما معکم لتومنن بہ ولتنصرنہ الایۃ ۔ اس آیت سے صاف واضح ہے کہ نبی کریم محمد مصطفیٰ ﷺ جیسا کہ اس امت کے رسول ہیں، نبی الانبیاء بھی ہیں۔ تمام انبیاء علیہم السلام کی جماعت کو ایک طرف رکھا گیا اور نبی کریم ﷺ کو ایک طرف، اور سب سے حضور ﷺ پر ایمان لانے اور مدد کرنے کا عہد و پیمان لیا گیا۔ آیت میں ثم جاء کم ۔ فرما کر تصریح فرمادی گئی کہ حضور ﷺ کا زمانہ ظہور سب سے آخر میں ہوگا۔

آیت میثاق دروے ثم ہست
ایں ہمہ از مقتضائے ختم ہست

ثم عربی زبان میں تراخی کے لیے آتا ہے، اسی واسطے علی فترہ من الرسل الایۃ ۔ فرمایا، حدیث میں ہے: انا دعوہ ابی ابراہیم ۔ میں اپنے باپ حضرت ابراہیم کی دعا ہوں، تمام انبیاء علیہم السلام حضور ﷺ کی تشریف آوری کی بشارت دیتے آئے۔ چنانچہ ”توراۃ شریف“، ”انجیل شریف“ و دیگر صحف میں باوجود تحریف لفظی و معنوی ہو جانے کے اب بھی متعدد آیات موجود ہیں جو حضور ﷺ کی خاتمیت اور افضلیت کا پتہ دیتی ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دوبارہ تشریف لا کر اتباع شریعت محمدیہ کرنا اسی فضیلت اور خاتمیت کا عملی مظاہرہ ہوگا۔ لیلۃ المعراج میں انبیاء علیہم السلام کا صف بستہ کھڑے ہو کر امام کا منتظر رہنا اور حضور ﷺ کا

صفحہ ١٩٣

امامت کرنا بھی اسی کی طرف مشیر ہے کہ لیلۃ المعراج میں انبیاء علیہم السلام کا اجتماع حضور ﷺ کے ساتھ ہوا اور ابن حبیب عبداللہ ابن عباسؓ سے راوی ہیں کہ یہ آیت لیلۃ المعراج میں نازل ہوئی۔ (اتقان) اور انا خطیبہم اذا انصتوا۔ اور احادیث شفاعت بھی اسی فضیلت محمدیہ کا اعلان کرتی ہیں۔ معلوم ہوا کہ حضور ﷺ پر نبوت کا اختتام ہوا اور پہلے انبیاء علیہم السلام میں سے کسی نہ کسی کا زندہ رہنا ضروری تھا، تاکہ بطور نمائندہ سب کی جانب سے حضور ﷺ کے دین کی نصرت کریں۔ چنانچہ عیسیٰ علیہ السلام کا انتخاب ہوا، اس لیے کہ آپ انبیاء بنی اسرائیل کے خاتم ہیں اور سلسلہ اسحاقی اور اسماعیلی کو جوڑ دینا منظور ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے تین امور کا اعلان فرمایا:

میں فقط تمہاری طرف مبعوث ہو کر آیا ہوں“۔

دوسری جگہ آل عمران میں ‘ورسولا الی بنی اسرائیل’ - فرمایا گیا ہے، ”صرف بنی اسرائیل کی طرف رسول بنا کر“۔

ایک عظیم الشان رسول برحق کی خوشخبری سنانے آیا ہوں جو میرے بعد مبعوث ہوں گے ان کا نام احمد ہے“۔

قرآن عزیز اعلان کرتا ہے کہ وہ رسول برحق جن کے متعلق عالم ارواح میں انبیاء علیہم السلام سے عہد و پیمان ہوا، اور بشارات دی گئی تھیں، آچکا۔ جاء الحق وصدق المرسلین۔

حدیث شریف میں ہے: (١) انی اولی الناس بعیسی بن مریم۔ الحدیث ”مجھے زیادہ قرب ہے، عیسیٰ علیہ السلام سے بہ نسبت تمام لوگوں کے اور بلاشبہ وہ نزول فرمائیں گے“۔

انبیاء بنی اسرائیل کے آخری نبی اولوالعزم کا خاتم النبیین علی الاطلاق کے دین کی نصرت کے لیے تشریف لانا اور شریعت محمدیہ پر عمل فرمانا، حضور ﷺ کے افضل

صفحہ ١٩٤

الانبیاء اور خاتم الانبیاء ہونے کا عملی مظاہرہ ہے۔ فضیلت محمدیہ کو دنیا پر واشگاف کر دینا منظور ہے، آپ کا حضور اکرم ﷺ کے زمانہ میں تشریف لانا ایسا ہی ہے جیسے ایک نبی دوسرے نبی کے علاقہ میں چلا جائے۔ چنانچہ حضرت یعقوبؑ حضرت یوسف علیہ السلام کے علاقہ میں تشریف لے گئے تھے، جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ تشریف لائیں گے تو نبی ہی ہوں گے۔ لیکن بہ حیثیت حکماً عدلاً تشریف آوری ہوگی، بطور ججمنٹ فرمانے کے تشریف آوری ہوگی۔ روایات سے پتہ چلتا ہے کہ قرب قیامت میں عیسائی اقوام کی مسلمانوں سے مڈ بھیڑ رہے گی۔ لہٰذا اہل کتاب کی اصلاح کے لیے تشریف لائیں گے۔ ثالث وہی ہوتا ہے جو ہر دو فریق کے نزدیک مسلم ہو۔ ہماری کتابیں ”عقیدۃ الاسلام“، ”تحیۃ الاسلام“، ”التصریح بما تواتر فی نزول المسیح“، اس باب میں دیکھنا چاہیے۔

دوم خاتمیت زمانی، یعنی آپ کا زمانہ نبوت اس عالم مشاہدہ میں تمام انبیاء علیہم السلام کے آخر میں ہے، آپ کے بعد کسی کو نبوت کی تفویض نہ ہوگی۔ ابی بن کعبؓ سے مرفوعاً روایت ہے: بدئی بی الخلق و کنت اخرہم فی البعث واخرج جماعہ عن الحسن عن ابی ہریرہ مرفوعا کنت اول النبیین فی الخلق واخرہم فی البعث۔ (کذا فی روح المعانی ”ص ١١ ج ٧“)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام آنحضور ﷺ سے پہلے نبی بنائے جا چکے ہیں۔ نزول عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ اسلام کا اجماعی اور متواتر عقیدہ ہے۔

مرزا غلام احمد نے اجماع کو حجت مانا ہے۔ چہ جائیکہ تمام امت محمدیہ کے تواتر سے ثابت شدہ عقیدہ (”تریاق القلوب“) حضرت نانوتویؒ نے تیسری خاتمیت مکانیہ ثابت فرمائی ہے یعنی وہ زمین جس میں نبی کریم ﷺ جلوہ افروز ہوئے۔ وہ تمام زمینوں میں بالاتر اور آخری ہے اور اس کے اوپر کوئی زمین نہیں، اس کو بدلائل ثابت فرمایا ہے۔

قادیانی مختار مقدمہ نے سوال کیا کہ امام مالکؒ سے منقول ہے کہ وہ عیسیٰ علیہ السلام کی موت کے قائل ہیں۔ احقر سے فرمایا کہ ابی کی شرح ”مسلم شریف“ نکالو، چنانچہ ص ٢٢٦، ج ١، مطبوعہ مصر سے ذیل کی عبارت پڑھ کر سنائی: وفی العتبیہ

صفحہ ١٩٥

قال مالک بینا الناس قیام یستمعون لاقامه الصلوہ فتغشاهم غمامه فاذا عیسیٰ قد نزل الخ۔ ”متبہ میں ہے کہ امام مالکؒ نے فرمایا‘ درآنحالیکہ لوگ کھڑے نماز کی اقامت سن رہے ہوں کہ اچانک ان کو ایک بادل ڈھانپ لے گا‘ یکایک حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے“۔

امام مالکؒ کا بھی وہی عقیدہ ہے جو ساری امت محمدیہ کا اجماعی اور متواتر عقیدہ ہے۔ ہم نے تتبع کیا ہے کوئی تیس اکتیس صحابہؓ احادیث نزولِ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے راوی ہیں‘ تابعین کا تو احصاء بھی مشکل ہے۔ امام ترمذیؒ نے پندرہ صحابہؓ گنوائے ہیں‘ ہم نے مزید پندرہ کا اضافہ کیا۔ چنانچہ ”مسند احمد“ و ”کنزالعمال“ و دیگر کتب حدیث کا مطالعہ کرنے والوں سے مخفی نہیں۔ ہمارا رسالہ ”التصریح بما تواتر فی نزول المسیح“ مطالعہ کیا جائے۔

قادیانی نے سوال کیا‘ کہ علماء بریلوی‘ علماء دیوبند پر کفر کا فتویٰ دے رہے ہیں اور علماء دیوبند علماء بریلوی پر۔

ارشاد فرمایا کہ جج صاحب! احقر بطور وکیل تمام جماعت دیوبند کی جانب سے گزارش کرتا ہے کہ ’حضرات دیوبند ان کی تکفیر نہیں کرتے۔ اہل سنت والجماعت اور مرزائی مذہب والوں میں قانون کا اختلاف ہے‘ علماء دیوبند اور علماء بریلی میں واقعات کا اختلاف ہے قانون کا نہیں۔ چنانچہ فقہاء حنفیہؒ نے تصریحات فرمائی ہیں کہ اگر کوئی مسلمان کلمہ کفر کسی شبہ کی بناء پر کہتا ہے تو اس کی تکفیر نہ کی جائے گی۔ دیکھو ”ردالمحتار“ و ”بحرالرائق“۔

(مضمون: مولانا محمد انوریؒ از حیات انورؒ، ص ٣٢١ تا ٣٣٦ مرتبہ سید محمد ازہر شاہ قیصر)

صفحہ ١٩٦

امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کا مقام و مرتبہ

جامعہ رشیدیہ ساہیوال کے شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے مجھ سے یہ واقعہ بیان فرمایا کہ جب حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ بستر علالت پر تھے ان دنوں تبلیغی جماعت کے حضرات کی ایک جماعت کویت گئی ہوئی تھی۔ جب وہ جماعت پاکستان واپس آئی تو ان کے امیر صاحب نے مجھ سے یہ واقعہ بیان کیا۔

امیر صاحب نے بتایا کہ کویت میں ہمارا مرکز کویت کی جامع مسجد میں تھا۔ ایک روز صبح کے وقت ایک سن رسیدہ بزرگ تشریف لائے جن کا نورانی چہرہ ان کی بزرگی کی شہادت دے رہا تھا۔ مجھ سے پوچھنے لگے آپ لوگ پاکستان سے آئے ہیں۔ میں نے اثبات میں جواب دیا تو پھر پوچھا کہ پاکستان میں کوئی سید عطاء اللہ شاہ بخاری نام کے بزرگ ہیں۔ میں نے کہا کہ ہاں واقعی ہیں۔ پھر انہوں نے کہا ان کے متعلق کچھ وضاحت سے بتائیں۔ میں نے مختصراً ان کی شخصیت کا تعارف کرایا اور تعجب سے پوچھا آپ ان کے نام سے کیسے واقف ہوئے۔ اس پر انہوں نے فرمایا رات میں نے ایک عجیب خواب دیکھا ہے۔ وہ سن لیں۔

خواب : فرمایا رات میں نے خواب میں دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک وسیع میدان میں کھڑے ہیں اور ایک طرف یوں دیکھ رہے ہیں جیسے کسی کا انتظار ہو۔ پھر میں نے دیکھا ایک بہت بڑا گروہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آ رہا ہے۔ ہر شخص کا چہرہ نورانی اور دل آویز ہے۔ وہ گروہ آنحضورؐ کے پاس آ کر دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ نصف دائیں جانب اور نصف بائیں جانب۔ ان کے بعد ایک ویسا ہی گروہ نمودار ہوا۔ وہ بھی نہایت خوبصورت اور تابناک چہروں والے لوگ ہیں۔ قریب پہنچ کر وہ بھی پہلے گروہ کی طرح دائیں بائیں دو حصوں میں بٹ گئے مگر حضور علیہ الصلوۃ والسلام اب بھی اسی طرح کھڑے اسی جانب دیکھ رہے تھے جیسے اب بھی کسی کا انتظار ہے اور حضور کے اتباع میں اب تمام حضرات اسی

صفحہ ١٩٧

جانب دیکھ رہے ہیں۔ تھوڑے وقفہ کے بعد صرف ایک شخص اس طرف سے آتا دکھائی دیا جو نہایت وجیہہ اور حسین و جمیل ہے۔ جب وہ کچھ قریب آیا تو رسالت پناہ چند قدم آگے تشریف لے گئے۔ جناب صدیق اکبرؓ اور جناب فاروق اعظمؓ بھی دائیں بائیں تھے۔ آنحضورؐ نے اس آنے والے شخص سے مصافحہ کیا‘ پھر سینے سے لگا کر شفقت سے ان کی پشت پر دست مبارک پھیرتے رہے۔ میرے جی نے کہا پہلا گروہ انبیاء کرام کا تھا‘ دوسرا گروہ صحابہ کرامؓ کا تھا مگر یہ بزرگ کون ہے جن کا حضورؐ انتظار فرماتے رہے اور اب اس قدر پیار فرمایا جا رہا ہے تو ایک آواز بلند ہوئی۔ ”یہ فدائے ختم نبوت عطاء اللہ شاہ بخاری پاکستانی ہے“۔ یہ خواب سنا کر اس بزرگ نے کہا آپ سے معلوم ہوا کہ وہ بیمار تھے۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ وفات پاچکے ہیں۔ امیر جماعت نے کہا جب شاہ صاحب کی وفات کا علم ہوا تو میں نے تاریخ دیکھی۔ وہی دن شاہ صاحب کی وفات کا تھا جس کی رات کو شیخ کویت نے خواب دیکھا تھا۔

(”حدیث خواب“ ص ٢٥-٢٦ از سید امین گیلانی)

تحفظ ختم نبوت کے لیے مولانا محمد علی مونگیری کی تڑپ اور بیتابیاں

مرزا کے نمائندے حکیم نور الدین‘ سرور شاہ اور روشن علی مرزا کی تحریر لے کر آئے کہ ان کی شکست میری شکست ہے اور ان کی فتح میری فتح۔ اس طرف سے مولانا مرتضیٰ حسن صاحبؒ‘ علامہ انور شاہ کشمیریؒ‘ مولانا شبیر احمد عثمانیؒ‘ مولانا عبد الوہاب بہاریؒ‘ مولانا ابراہیم صاحب سیالکوٹیؒ (تقریباً چالیس علما) بلائے گئے تھے۔ لوگوں کا بیان ہے کہ عجیب منظر تھا۔ صوبہ بہار کے اضلاع کے لوگ تماشائی بن کر آئے تھے۔ معلوم ہوتا تھا کہ خانقاہ میں علماء کی ایک بڑی بارات ٹھہری ہوئی ہے۔ کتابیں الٹی جا رہی ہیں‘ حوالے تلاش کیے جا رہے ہیں اور بحثیں چل رہی ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوا کہ مولانا محمد علی کی طرف سے مناظرہ کا وکیل اور نمائندہ کون ہو؟ قرعہ فال مولانا مرتضیٰ حسن صاحب کے نام پڑا۔ آپ نے مولانا مرتضیٰ حسن صاحب کو تحریراً اپنا نمائندہ بنایا۔ علماء کی یہ جماعت میدان مناظرہ میں گئی‘ وقت مقرر تھا۔ اس طرف مولانا مرتضیٰ حسن صاحب اسٹیج پر تقریر کے لیے آئے اور اس طرف آپ سجدہ میں گئے اور اس وقت تک سر نہ اٹھایا جب تک فتح کی خبر نہ آگئی۔

صفحہ ١٩٨

("سیرت مولانا محمد علی مونگیری" ص ٢٩٨ از سید محمد الحسنی)

قادیانی فتنہ اٹھا ہے مسلمانو! اٹھو
خواب سے بیدار ہو للہ دیوانو! اٹھو
حرمت دین محمدؐ کے نگہبانو اٹھو
شعلہ سامانی دکھاؤ، شعلہ سامانو! اٹھو

مولانا محمد علی جالندھری کا معیار امانت

مولانا حبیب اللہ فاضل رشیدی نے راقم کو ایک عجیب واقعہ سنایا۔ کہتے ہیں کہ ایک بار رات کو آپ جماعت کا حساب چیک کر رہے تھے۔ آمدن اور خرچ میں ایک پیسہ کا فرق تھا۔ حساب کو برابر کرنے کے لیے رات بھر جاگتے رہے۔ جب صبح رفقاء کار نے اس شب بیداری کا سبب پوچھا تو راز کھلا کہ جماعت کا ایک پیسہ کہیں ضائع ہو رہا تھا، انہیں اس کی تلاش تھی۔ لہٰذا جب تک وہ مل نہ گیا، ان کی آنکھ سو نہ سکی۔

("حضرت مولانا محمد علی جالندھری" ص ١٣٠ از ڈاکٹر نور محمد غفاری)

پیر مہر علی شاہؒ کی شاہ جیؒ سے محبت

حضرت اقدس نے فرمایا جب سید عطا اللہ شاہ بخاری انگریزی دور حکومت میں انگریزوں کے خلاف تقریریں کرنے کے جرم میں گرفتار ہوئے تو حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی ان کے لیے حاضرین مجلس سے دعا کروایا کرتے تھے۔ فرماتے تھے ”اس شوہدے واسطے دعا کرو“ یعنی اس بے چارہ کے لیے دعا کرو۔

("حیات طیبہ" ص ٢٥٢ از ڈاکٹر محمد حسین انصاری)

عدالت کے ایوان میں حق کی للکار

مولانا محمد صاحب انوری نے فرمایا کہ مقدمہ بہاولپور کے موقعہ پر مرزائیوں کے وکیل

صفحہ ١٩٩

شمس مرزائی نے سرور شاہ کشمیری کو خط لکھا تھا کہ شاہ صاحب (مولانا محمد انور شاہ) سے مقابلہ ہے تم یہاں آجاؤ۔ حضرت شاہ صاحب کو جب معلوم ہوا تو فرمایا وہ لعین نہیں آئے گا۔ شاہ صاحب اس پر بہت ناراض تھے اور فرماتے تھے کہ اس نے اپنے والد کو بھی مرتد کیا۔ اس کے والد نے مرتے وقت اس کو کہا کہ سرور تو نے مجھے بھی مرتد کیا، دین تو وہی حق ہے جو دین محمدی ہے۔ بعد میں معلوم نہیں توبہ کی یا نہیں کی۔ چنانچہ جیسا شاہ صاحب نے فرمایا تھا، ایسا ہی ہوا کہ سرور شاہ نے آنے سے انکار کر دیا۔

جب حضرت شاہ صاحب جج کے سامنے پیش ہوئے تو فرمایا کہ جج صاحب لکھو کہ تواتر کے کئی اقسام ہیں اور ہر ایک قسم کے تواتر کا منکر کافر ہے۔ مرزا غلام احمد نے ہر ایک قسم کے تواتر کا انکار کیا ہے، لہٰذا وہ کافر ہے۔ دوسرے روز مرزائیوں کے وکیل شمس مرزائی نے ”مسلم الثبوت“ کی شرح بحرالعلوم کا حوالہ دے کر بیان کیا کہ شاہ صاحب نے کہا ہے کہ تواتر کے اقسام میں سے ایک تواتر معنوی بھی ہے اور فرمایا کہ ہر قسم کے تواتر کا منکر کافر ہے۔ حالانکہ امام فخرالدین رازی نے تواتر معنوی کا انکار کیا ہے اور کتاب کا حوالہ پیش کیا۔ مولانا محمد انور شاہ صاحب نے فرمایا کہ ہم لوگ بڑے گھبرائے۔ کیونکہ ہمارے پاس اتفاق سے وہ کتاب بھی نہ تھی۔ حضرت شاہ صاحبؒ نے فرمایا جج صاحب لکھئے۔ میں نے ٣٢ سال ہوئے یہ کتاب دیکھی تھی۔ اب ہمارے پاس یہ کتاب موجود نہیں۔ امام رازی نے یہ لکھا ہے کہ یہ جو حدیث ہے لا تجتمع امتی علی الضلالۃ یہ تواتر معنوی کے رتبے کو نہیں پہنچتی۔ انہوں نے صرف اس حدیث کے تواتر معنوی کا انکار کیا ہے۔ نہ یہ کہ وہ سرے سے تواتر معنوی کے حجت ہونے کے منکر ہیں۔ مولانا عبداللطیف صاحب ناظم مظاہرالعلوم سہارنپور اور مولانا مرتضیٰ حسن صاحب جو اس مجلس میں موجود تھے اور حیران تھے کہ کیا جواب دیں گے، سن کر حیران رہ گئے۔ پھر شاہ صاحب نے فرمایا کہ ان صاحب نے حوالہ پیش کرنے میں دھوکہ سے کام لیا ہے۔ اسے کہئے کہ عبارت پڑھے ورنہ میں اس سے کتاب لے کر پڑھتا ہوں۔ چنانچہ قادیانی شاہد نے کتاب پڑھی۔ بعینہ وہی عبارت نکلی جو حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے پہلے حفظ پڑھی تھی۔ جج خوشی سے اچھل پڑا۔ اعلیٰ حضرت دین پوری جو وہاں موجود تھے، ان کا چہرہ مبارک خوشی سے کھل گیا۔

صفحہ ٢٠٠

("حیات طیبہ" ص ٣١٠۔٣١١۔ ٣١٢ از ڈاکٹر محمد حسین انصاری)

کبھی ہوئی مرتب جو خلوص کی تاریخ
لکھیں گے صفحہ اول پہ لوگ نام تیرا

افغانوں کی دینی غیرت

کوئٹہ! اطلاع ملی ہے کہ ایک ہجوم نے کابل کی جیل پر حملہ کر کے ایک افغان باشندے داؤد جان کو اغواء کر لیا اور بعد میں اسے پتھر مار کر ہلاک کر دیا۔ کہا جاتا ہے کہ داؤد جان، جو قادیانی ہے، حال ہی میں ربوہ پاکستان گیا تھا جہاں اس نے قادیانیوں کے سالانہ جلسہ میں شرکت کی۔ جب وہ ربوہ سے واپس کابل آیا تو اسے پولیس نے مرتد ہونے کے الزام میں گرفتار کر لیا۔ علماء نے فتویٰ دیا کہ وہ سزائے موت کا مستحق ہے۔ چنانچہ ہجوم نے جیل پر حملہ کر دیا اور داؤد جان کو باہر نکال کر سنگسار کر کے قتل کر دیا۔

(ہفت روزہ "حکومت" ٣٠؍ اپریل ١٩٥٦ء، بحوالہ "تحریک ختم نبوت ١٩٧٤ء"

ص ٦٤۔٦٥ از مولانا اللہ وسایا)

شاتم سید کونین کا خون جائز ہے
آج تک بھی یہی جذبہ ہے مسلمانوں میں
(شورش)

ادائیگی فرض

ایسا ہی ایک مخلص کارکن نے چنڈ ضلع جھنگ سے اس وقت دفتر مرکزیہ کو خط لکھ کر درخواست کی جب کہ حضرت مولانا محمد لقمان صاحب، مولانا سلطان محمود صاحب، مولانا محمد ابراہیم صاحب چنڈ اسٹیشن اتر کر چودہ میل پر کسی گاؤں میں تبلیغ کے لیے جا رہے تھے۔ بارش زور سے ہو چکی تھی۔ جلسہ کے منتظمین نے راستہ خراب دیکھ کر خیال کیا کہ ایسے میں علماء کرام کیا تشریف لائیں گے۔ اس لیے سواری نہ بھیجی لیکن منتظمین جلسہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ علماء کرام بارش کے پانی اور راستہ کے کیچڑ کا خیال کیے بغیر اپنی اپنی کتابیں سروں پر

صفحہ ٢٠١

اٹھائے تبلیغ و اشاعت اسلام کے لیے موضع میں پہنچ گئے ہیں۔ ایسی کئی مثالیں جملہ مبلغین کو پیش آئیں۔ بالخصوص مولانا محمد شریف صاحب بہاولپوری نے بہت ایثار کا ثبوت دیا۔

(”تحریک ختم نبوت“ ص ١٠٣ از مولانا اللہ وسایا)

صبر و استقامت کا پہاڑ

حضرت مولانا ابو الحسنات پہلی بار جیل گئے تھے۔ ہمارے لیے تو جیل نئی بات نہ تھی مگر حضرت مولانا ایسا نازک اور نفیس مزاج بزرگ جسے لوگ دیکھنے کو ترستے ہوں، جن کے معتقدین کا ان کی دکان پر تانتا بندھا رہے، جدھر آنکھ اٹھے لوگ عقیدت سے جھک جائیں پہلی بار پکڑے گئے تھے اور سنگ آمد و سخت آمد کے مصداق قید بھی ایسی جس کی میعاد کی کچھ خبر نہیں۔ اس پر ستم یہ کہ مولانا ابو الحسنات کا ایک ہی بیٹا جسے والدہ کی محبت بھری گود بھی بچپن ہی میں داغ مفارقت دے گئی، جسے حضرت مولانا نے بڑے لاڈ اور پیار سے خود ہی پالا پوسا ہو، اس جان سے پیارے لخت جگر اور اکلوتے جوان بیٹے کا کچھ پتہ نہیں کہ شہید ہوگیا ہے، پکڑا گیا تو کتنی قید ہوئی۔ مولانا موصوف کے علاوہ ہم سب نے سرگوشیوں سے مولانا کے صاحبزادے خلیل احمد کا تذکرہ کیا اور بار بار آپس میں باتیں کیں کہ اگر خلیل احمد شہید ہوگئے یا لمبی قید میں چلے گئے تو مولانا کا کیا حال ہوگا؟ بے چارے پہلی بار جیل آئے۔ ان کی آزمائش بھی ایسی سخت ہوئی کہ جسے معمولی انسان برداشت نہ کرسکے مگر ہم سب کو حیرت ہوئی کہ مولانا کی پیشانی پر بل تک نہ آیا۔ مولانا نے کبھی ذکر تک نہ کیا، گھر سے کوئی اطلاع بھی نہ آئی۔ کچھ معلوم نہیں کہ خلیل پر کیا گزری، خلیل زندہ بھی ہے یا نہیں مگر مولانا ابو الحسنات نہ گھبراتے ہیں، نہ الگ بیٹھ کر آنسو بہاتے ہیں اور نہ ان کی زبان پر خلیل صاحب کا تذکرہ آتا ہے۔ ہم سب اس صورتحال کو دیکھ کر حیران تھے۔ حضرت امیر شریعت شاہ صاحب نے بارہا فرمایا کہ ”اگر میرے ساتھ یہ واقعہ پیش آتا تو خدا جانے میرا کیا حال ہوتا مگر بھئی مولانا ابو الحسنات صاحب تو بڑی کوہ وقار شخصیت ثابت ہوئے۔ مولانا ہم میں بیٹھ کر خوش گپیاں اڑاتے یا الگ بیٹھ کر تسبیح و وظائف میں مصروف رہتے۔ اللہ جسے حوصلہ دے اور صبر عطا کرے۔ جیل خانہ فخر و غرور کا مقام نہیں، یہاں بڑے بڑوں کے پاؤں ڈگمگا جاتے ہیں۔ مولانا

صفحہ ٢٠٢

اکثر فرمایا کرتے تھے کہ جس کے نام پر آج تک روٹیاں توڑتے رہے اس کے نام کی لاج رکھنے کا وقت آیا تو اب گھبرانا کیا' نمک حرامی تو نہ ہونا چاہیے۔ اللہ اللہ کس جرأت اور حوصلے کے علماء آج بھی موجود ہیں۔ ہم نے حضرت مولانا کو صبر و استقامت کا پہاڑ اور شرافت و خلق کا بہترین نمونہ پایا۔ مولانا موصوف بڑے ہی صاف دل انسان ہیں۔ قریب ہونے سے آدمی کے جوہر کھلتے ہیں ورنہ دور رہ کر اکثر دھوکہ ہوتا ہے۔ ایک روز ہم سب نے مشورہ کیا کہ ہم مولانا کو خلیل صاحب کے بارے میں صاف صاف بتاویں کہ وہ آزمائش میں مبتلا ہے' ابھی کوئی معتبر اطلاع نہیں ہے۔ خدا کرے کہ وہ زندہ ہو۔ اس طرح کی گفتگو کر کے ہم مولانا کو حوصلہ دلائیں کہ موت کا وقت تو مقرر ہے' جسے مرنا ہے اسے کوئی روک نہیں سکتا وغیرہ وغیرہ۔ ان خیالات کو لیے ہم مولانا صاحب کی کوٹھڑی میں جا دھمکے اور باتوں باتوں میں لاہور کا ذکر کیا پھر خلیل صاحب کا تذکرہ آیا تو سوچی سمجھی سکیم کے مطابق ہم جب تسلی بخش الفاظ استعمال کر چکے تو مولانا موصوف نے نہایت آرام سے فرمایا کہ بھئی بات تو ٹھیک ہے' خلیل میرا اکلوتا بیٹا ہے اور مجھے اس سے بے پناہ محبت ہے۔ اس لیے کہ میں ہی اس کا باپ ہوں اور میں نے ہی ماں بن کر اسے پالا ہے۔ یوں بھی اولاد سے کسے محبت نہیں ہوتی مگر اس مقام پر صبر کے سوا اور ہو بھی کیا سکتا ہے۔ پھر اس نیک کام میں اگر خلیل قربان بھی ہوتا ہے تو سعادت دارین ہے۔ وہ بھی تو ماؤں کے لخت جگر تھے جو سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آبرو میں شہید ہوئے' ان میں خلیل بھی ہے تو میرے لیے فخر کی بات ہے۔ اللہ ہماری حقیر قربانی کو قبول فرمائے۔ مولانا کا صبر اور بے نظیر حوصلہ و استقامت دیکھ کر ہمارے حوصلے دگنے ہو گئے اور حقیقت تو یہ ہے کہ اس روز کے بعد ہم سب مولانا کی اور زیادہ بے حد عزت کرنے لگے۔

ہمارے دوسرے بزرگ اور رفیق تو بارہا جیل بھگتتے ہوئے تھے' انہیں تو اس قید و بند کو خندہ پیشانی سے کاٹ ہی لینا تھا مگر مولانا جن کی پہلی آزمائش تھی' اگر گھبراتے یا پریشانی کا اظہار کرتے تو یہ فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق تھا۔ مولانا کے دل میں دوہرا جذبہ تھا' وہ عالم دین بھی تھے اور سید زادے بھی تھے۔ آقائے نامدار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک مخلص عالم دین کے فرائض بھی سامنے تھے اور یہ بات بھی تھی کہ ان کے نانا صلی اللہ علیہ وسلم کی آبرو خطرے میں تھی۔ یہ دوہرا جذبہ کار فرما تھا کہ مولانا ابو الحسنات آخر دم تک صحیح

صفحہ ٢٠٣

مقام پر ڈٹے رہے اور ان کے پاؤں میں لغزش نہیں آئی۔ اللہ جسے توفیق دے۔

(”تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء“ ص ٢٩٤-٢٩٥ از مولانا اللہ وسایا)

چراغ جلنے لگے زیست کے اندھیروں میں
یہ کس کے روئے درخشاں کا ذکر آیا تھا

ختم نبوت کا ایک ننھا مجاہد

یہی افسر کراچی میں ان لاریوں پر ڈیوٹی دیتے رہے جو کراچی کے رضا کاروں کو لاری میں بھر بھر کر دور دراز سنسان علاقوں میں چھوڑ آتے تھے۔ اس افسر پر تحریک میں شامل ہونے والے دس بارہ سال کی عمر کے ایک بچے کے پاکیزہ جذبات کا بڑا گہرا اثر تھا۔ اس واقعہ کا تذکرہ کرتے ہوئے پولیس افسر نے بتایا کہ جب ہم رضا کاروں کو آٹھ دس میل کے فاصلہ پر اتار رہے تھے تو ان میں ایک چھوٹا سا بچہ بھی تھا۔ وہ آخر دم تک ختم نبوت زندہ باد کے نعرے لگا رہا تھا۔ جب رضا کاروں کو اتار کر لاری واپس ہونے لگی تو افسر مذکور جو خود بھی صاحب اولاد تھے‘ نے بچے کی طرف دیکھا۔ کہنے لگا آؤ بیٹا تم لاری میں سوار ہو جاؤ۔ بچے نے جواب دیا وہ کیوں؟ افسر نے کہا کہ تم بچے ہو‘ اتنا لمبا سفر‘ بھوک پیاس کیسے کر سکو گے‘ تھک جاؤ گے۔ آؤ ہم تمہیں شہر میں اتار دیں گے۔ بچے نے بڑی جرات سے جواب دیا کہ ہمارے ساتھی بھی اتنا لمبا سفر کسی طرح طے کریں گے۔ میں تو قید ہونے کے لیے آیا تھا۔ میری اماں نے مجھے اجازت دی کہ جاؤ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر مسلمان قربان ہو رہے ہیں‘ تم بھی جاؤ۔ میں تو اماں کی اجازت سے آیا ہوں مگر تم ہمیں قید نہیں ہونے دیتے اور شہر سے باہر چھوڑ کر جا رہے ہو۔ بچے نے بات ختم کرتے ہی پھر نعرہ لگایا ”تاج و تخت ختم نبوت زندہ باد“ پولیس افسر نے لاری ڈرائیور کو کہا چلو بھئی یہ بچہ نہیں مانتا۔ ابھی لاری چالیس پچاس گز چلی ہوگی کہ پولیس افسر کو پھر خیال آیا کہ معصوم بچہ اتنا طویل سفر کیسے کر سکے گا۔ انسانی ہمدردی‘ اسلامی ہمدردی یا پدرانہ شفقت کے جذبات نے پھر مجبور کیا۔ پولیس افسر نے لاری رکوادی اور پیدل واپس آکر بچے سے پھر کہا آؤ بیٹا ضد نہیں کیا کرتے۔ ساتھی رضا کاروں نے بھی بچے کو سمجھایا کہ بیٹا تم واپس چلے جاؤ ہم تو تمہیں شہر ہی میں منع کرتے تھے مگر تم اچھل کر

صفحہ ٢٠٤

لاری میں سوار ہو گئے تھے۔ اب تم واپس چلے جاؤ۔ بچہ بگڑ کر پھر بولا صاحب آپ زیادہ ایمان دار ہیں اور مجھے آپ کمزور سمجھتے ہیں۔ بہرحال وہ بچہ نہیں مانا۔

(”تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء“ ص ٢٩٨-٢٩٩ از مولانا اللہ وسایا)

رشتہ نہ ہو قائم جو محمدؐ سے وفا کا
پھر جینا بھی برباد ہے مرنا بھی اکارت

حضرت رائے پوریؒ کی شاہ جیؒ سے والہانہ محبت

مولانا سید عطا اللہ شاہ بخاری کے متعلق بڑے بلند کلمات فرماتے تھے اور ان سے اور ان کی وجہ سے ان کے خاندان سے بڑی محبت و شفقت کا برتاؤ فرماتے تھے۔ ایک مرتبہ فرمایا کہ تم بخاری صاحب کو یونہی نہ سمجھو کہ صرف لیڈر ہی ہیں۔ انہوں نے ابتدا میں بہت ذکر کیا ہے اور فرمایا کہ یقین تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسا نصیب فرمایا ہے کہ باید و شاید۔ فرماتے یہاں حالات و کیفیات کیا چیز ہیں اصل تو یقین ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ جس کو عطا فرما دے۔ حضرت کو شاہ صاحب سے جو محبت اور خصوصیت تھی وہ ان کے اخلاص، خود فراموشی، دینی خدمت میں انہماک اور اس نفع کی بنا پر تھی جو ان کی ذات اور ان کی ایمان افروز تقریروں سے عظیم مجمعوں میں پہنچتا تھا۔ خود شاہ صاحب اپنی تقریروں کی روح اور اپنی زبان کے اثر اور محنت و جفاکشی اور قید و بند کے تحمل کا راز اللہ کے ایک مخلص اور مقبول بندہ یعنی حضرت اقدس کے ساتھ تعلق اور ان کی دعاؤں اور محبت کو سمجھتے تھے اور اس پر ان کو بڑا ناز اور اعتماد تھا۔

(”حیات طیبہ“ ص ١٤٠، از ڈاکٹر محمد حسین انصاری)

زندگی جن کے تصور سے جلا پاتی تھی
ہائے کیا لوگ تھے جو دام اجل میں آئے