ناموس محمد ﷺ کے پاسبان · محمد طاہر رزاق
Namos Muhammad kay Pasban · Tahir Abdul Razzaq
PDF 1

انا خاتم النبیین

لا نبی بعدی

صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

ناموس مُحمّد

کے پاسبان

ترتیب و تحقیق

مُحمّد طاھر رزّاق

PDF 2

تاریخ

تحفظ ختم نبوت

سیریز 13

ناموس محمدﷺ کے پاسبان

ترتیب وتحقیق

محمد طاہر رزاق

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

حضوری باغ روڈ ملتان

PDF 3

انتساب

ایک سیماب صفت مجاہد...... جو تنہا ایک لشکر کا کام کرتا رہا۔

تحفظ ختم نبوت کی ایک توانا آواز..... جو کچی بستیوں سے لیکر...... پنجاب اسمبلی...... اور...... ایوان صدر تک گونجتی رہی۔

ایک شاہ دماغ...... جس نے چنیوٹ میں بیٹھ کر ربوے کا پنجر ہلا دیا۔

ایک پیکر عشق...... جو قوت عشق سے ہوا کے دوش پر سوار ہو کر پوری دنیا میں تحفظ ختم نبوت کا پیغام پھیلاتا رہا۔

فاتح ربوہ....... جس نے ایک طویل اور صبر آزما جنگ لڑ کر ربوہ کا نام تبدیل کر کے چناب نگر رکھوایا۔

مولانا منظور احمد چنیوٹی

کے نام...... بصد احترام

جن کا ستر سال کا بڑھاپا...... آج بھی جوانوں کو جواں عزم عطا کرتا ہے

PDF 4

آئینہ مضامین

کیا ایسا شخص مسلمان ہے؟ (محمد طاہر رزاق) 9

وقت شہادتیں نوٹ کر رہا ہے (الحاج محمد نذیر مغل) 11

وکیل ختم نبوت (صاحبزادہ سید خورشید گیلانی) 12

عشق رسالت مآبؐ 17

حوصلے کا پہاڑ 18

علامہ اقبالؒ نے مرزا بشیر الدین کو چلتا کیا 19

مردان میں مرزائیہ کی اینٹ سے اینٹ بجادی گئی 20

مولانا محمد علی جالندھریؒ کا جیل میں معمول 22

آخر اس نے قادیانی کو کمرے سے نکال دیا 24

عشق رسولؐ اور جیل 25

ایک یادگار اجتماع 26

حیات عیسیٰ علیہ السلام—— حضرت مولانا لال حسین اخترؒ

ایک یادگار تقریر 28

چالیس مرزا 34

چالیس ہزار قادیانیوں کا قبول اسلام 35

ہنستا بستا قادیان ایک ویران سی بستی نظر آتی تھی 39

بنگلہ دیش میں قادیانیوں کا سب سے مضبوط قلعہ فتح کر لیا گیا 47

مجلس احرار کا رعب 48

قاضیؒ صاحب کا ایثار 49

حضرت مولانا شاہ سلیمان پھلواریؒ کا مرزا قادیانی سے مباحثہ 51

PDF 5

مولانا فضل الرحمٰنؒ احرار 55 ایک عجیب سازش 56 مولانا تاج محمود کی وفات 59 قادیانی مردہ کو شادن لنڈ کی زمین نے قبول نہیں کیا 60 مشہور قادیانی مبلغ جلال الدین شمس کی عبرت ناک موت کا علمی واقعہ 61 کوئٹہ میں حضور تاجدار ختم نبوت کا تازہ معجزہ 65 استیصال مرزائیت کے لیے مولانا ہزارویؒ کی خدمات 67 جب مرزائی غیر مسلم قرار دیے گئے 81 ربوہ میں منفی سوچ والے دانشور —— مرزا طاہر کی پریشانی سوشل بائیکاٹ کی تلقین —— دو دانشوروں کی قادیانیت سے علیحدگی 83 انگریز اور قادیانی 84 اکابرین کا اخلاص 84 قادیانی کتابیں 85 مولانا شاہ احمد نورانی کی باتیں 86 دار الکفر ربوہ میں اسلام کا داخلہ 88 موریشس کے مسلمانوں کی جرات مندی 103 مجاہد تحریک ختم نبوت خطیب الاسلام حضرت صاحبزادہ سید فیض الحسن شاہ قدس سرہ 106 تحریک ختم نبوت میں حضرت بہلویؒ کا کردار 116 ابوالفضل مولانا کرم الدین دبیر رحمتہ اللہ علیہ 117 مسلمانو! آنکھیں کھولئے 120 صاحب جنوں 124 احرار کے خطباء 124 مرزائی اصطلاحات متعلقہ نبوت 125 ناپاک مرزا 129 بیمار مرزا 130

PDF 6

ڈبل سٹار 132 قاضی صاحب کا ٹوٹا ہوا بازو 134 حکیم محمد ذوالقرنین سے ایک ملاقات 135 مولانا ثناء اللہ امرتسری کی قادیانیت پر تحقیق 148 ایک بیرونی شہادت 149 قادیانی ووٹ کا اندراج اور اس کا انجام 151 اور قادیانیت کی تبلیغ رک گئی 154 چھ مرزائی مسلمان ہو گئے 156 بدر منیر احرار کی یاد 156 تحریک ختم نبوت میں مولانا مودودی کے دو واقعات 158 تحریک ختم نبوت میں اسلامی جمعیت طلبہ کا کردار 160 مولانا محمد صاحب انوری کی گرفتاری 168 اور مرزائی سازش ناکام ہو گئی 170 شاہ جی کی تلاوت سے دشمن چوکڑی بھول گئے 172 نواب آف بہاولپور کو عمر حیات ٹوانہ کی نصیحت 173 رد قادیانیت پر رسالہ 173 ختم نبوت کانفرنس قادیان کی ایک جھلک 174 قادیان کے حالات 176 امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی تڑپ 179 اک مجاہدہ ختم نبوت کا ایثار 180 سرور کائنات کا پیر مہر علی شاہ گولڑوی کو حکم 180 باطل کو چیلنج 181 دربار رسالت سے فرمان 181 پیغام سوچ 181 عزت رسول 182 عظیم انعام 182

PDF 7

قبر سے خوشبو 182 ایسے جذبے کو سلام 182 ایک عاشق رسول کا جواب 183 حق گوئی و بے باکی 183 ختم نبوت کانفرنس ربوہ 184 خواجہ قمر الدین سیالوی کی للکار 184 آغا شورش کاشمیریؒ نے فرمایا 186 مہمان رسولؐ و دعوت خدا 187 اور مرزا قادیانی پکڑا گیا 188 جب بخاریؒ آئے گا 189 یہ بڑے نصیب کی بات ہے 189 غیرت اقبالؒ 190 موت و حیات 190 کفن بدوش قائد 191 زندگی 191 اگر فیصلہ خلاف ہوا تو 191 بندوقوں کے سائے میں آواز حق 192 فرض کفایہ اور فرض عین 193 ایک بہن کا مکتوب بھائی کے نام 194 یہ فریادیں ہیں مصطفیٰؐ کے لیے 195 آرزو شہادت 196 پھولوں کی بارش 196 نجات آخرت 197 دل مصطفیٰؐ 197 عظیم وظیفہ 198

صفحہ 8

حرفِ سپاس

ابتدائے کتاب سے لے کر تکمیل کتاب تک تمام مرحلوں میں میرے محترم دوست جناب محمد فیاض اختر ملک' جناب محمد متین خالد' جناب محمد صدیق شاہ بخاری' جناب سید علمدار حسین شاہ بخاری' جناب طارق اسماعیل ساگر' جناب حافظ شفیق الرحمٰن' جناب عبدالرؤف روفی' جناب ممتاز اعوان' جناب محمد سلیم ساقی کا تعاون ہر دم مجھے میسر رہا اور ان دوستوں کی جدوجہد اور دعاؤں سے یہ کتاب منصۂ شہود پر طلوع ہوئی۔ میں ان تمام دوستوں کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکر گزار ہوں اور اللہ تعالیٰ کے حضور بدست دعا ہوں کہ اللہ پاک انہیں اجر عظیم سے نوازے۔ (آمین)

میں ممنون ہوں خواجہ خواجگان حضرت مولانا خان محمد مدظلہ' خطیب ختم نبوت حضرت مولانا محمد اجمل خان مدظلہ' فقیہ العصر مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ' نمونہ اسلاف حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری مدظلہ' فدائے ختم نبوت حضرت مولانا سید نفیس شاہ الحسینی مدظلہ' جانثار ختم نبوت الحاج محمد نذیر مغل مدظلہ' سفیر ختم نبوت مولانا منظور احمد چنیوٹی مدظلہ' پروانہ ختم نبوت جناب ارشاد احمد عارف مدظلہ' میر صحافت ختم نبوت جناب حامد میر مدظلہ' مجاہد ختم نبوت صاحبزادہ طارق محمود مدظلہ' متکلم ختم نبوت مولانا زاہد الراشدی مدظلہ' محب ختم نبوت جناب جاوید مغل مدظلہ' مجاہد ختم نبوت جناب طارق مغل' مجاہد ختم نبوت جناب جمشید مغل مدظلہ وکیل ختم نبوت جناب سید محمد کفیل شاہ بخاری مدظلہ کا' جن کی سرپرستی کا سحاب کرم میرے سر پر چھایا رہا۔ اللہ تعالیٰ ان تمام بزرگوں کا سایہ ہمارے سروں پر تادیر سلامت رکھے۔ (آمین ثم آمین)

محمد طاہر رزاق

صفحہ 9

کیا ایسا شخص مسلمان ہے؟

میں نے ایک خبر پڑھی۔ ایک پولیس کے سپاہی کو نوکری سے برطرف کر دیا گیا۔۔۔ کیونکہ وہ ایک ڈاکو کے ساتھ کھانا کھاتے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا تھا۔۔۔ پھر۔۔۔ میں نے ایک مسلمان کو دیکھا۔۔۔ وہ ایک قادیانی کے ساتھ کھانا کھا رہا تھا۔۔۔ یہ صورت حال دیکھ کر۔۔۔ میرے جسم کو ایک کرنٹ سا لگا۔۔۔ کیا۔۔۔ اس مسلمان کو بھی اسلام سے برطرف کر دیا گیا ہے۔۔۔؟ دماغ نے پوچھا کیوں؟ دل نے جواب دیا ”ہر وہ شخص۔۔۔ جس نے کلمہ طیبہ

”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“

پڑھا ہے۔۔۔ اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا رسول۔۔۔ اور آخری رسول مانا ہے۔۔۔ اس لیے تاج و تخت ختم نبوت کی پاسبانی اس کا ایمانی فریضہ ہے۔۔۔ قادیانی۔۔۔ جو تاج و تخت ختم نبوت کے ڈاکو ہیں۔۔۔ یہ مسلمان سپاہی۔۔۔ اس ڈاکو کے ساتھ بیٹھا کھانا کھا رہا ہے۔۔۔ اس لیے اس کا جرم بھی وہی ہے۔۔۔ جو پولیس کے سپاہی کا تھا“۔ پولیس کے محافظ نے ڈاکو کے ساتھ کھانا کھا لیا۔۔۔ تو۔۔۔ اسے پولیس سے نکال دیا گیا۔۔۔ ختم نبوت کے محافظ نے ختم نبوت کے ڈاکو کے ساتھ کھانا کھایا۔۔۔

صفحہ 10

کیا اسے اسلام سے نکال دیا گیا؟ کیا وہ رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت سے خارج ہو گیا ہے؟ علمائے کرام! جواب چاہتا ہوں۔ مفتیان عظام! جواب سے نوازیئے۔

خاکپائے مجاہدین ختم نبوت محمد طاہر رزاق بی ایس سی، ایم اے (تاریخ) 2 مارچ 2000ء لاہور

صفحہ 11

وقت شہادتیں نوٹ کررہا ہے!

مسئلہ ختم نبوت دین اسلام کی رفیع الشان عمارت کا بنیادی پتھر ہے۔ اگر اس پتھر کو اپنی جگہ سے سرکادیا جائے تو پوری عمارت چشم زدن میں زمین بوس ہو جاتی ہے۔ مسئلہ ختم نبوت دین اسلام کے جسد میں دھڑکتا ہوا دل ہے۔ اس دھڑکن کی خاموشی اسلام کا خاتمہ ہے۔ مسئلہ ختم نبوت دین اسلام کی روح ہے۔ اس روح کے نکل جانے سے اسلام مردہ ہو جاتا ہے۔ مسئلہ ختم نبوت سے انکار اس بات کا اعلان ہے کہ نعوذ باللہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دین اسلام سے نکال دیا گیا ہے۔ اگر نعوذ باللہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دین اسلام سے نکال دیا جائے تو باقی قبرستان بچتا ہے۔

اس مسئلہ کی نزاکت اور اہمیت کی وجہ سے کفار نے اس مسئلہ پر ہمیشہ بڑی شدت سے حملہ کیا ہے۔ عصر حاضر میں یہ ابلیسی ذمہ داری مرزا قادیانی اور اس کی غلیظ ذریت کے سپرد ہے، جو عالمی کفار کے عطا کردہ کفریہ ہتھیاروں سے پوری شدت سے اسلام کی اس بنیاد پر حملہ آور ہے۔ ان حالات میں ہر مسلمان کا فرض بنتا ہے کہ وہ دفاع ختم نبوت کا مجاہد بن جائے۔ تاج و تخت ختم نبوت کا پاسبان بن جائے، قادیانیوں کے لیے شمشیر غیرت بن جائے۔ وقت ہماری شہادتیں نوٹ کررہا ہے تاکہ قیامت کے دن سند رہے کہ کون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وفادار تھا اور کون خاموش تماشائی تھا؟

خاکپائے مجاہدین ختم نبوت الحاج محمد نذیر مغل

صفحہ 12

وکیل ختم نبوت

صاحبزادہ خورشید احمد گیلانی

خطہ ہند کی اس سے بڑی توہین اور تحقیر کیا ہو سکتی ہے کہ یہاں مرزا قادیانی جیسا بدحواس‘ بدزبان‘ بد اطوار اور بددماغ شخص پیدا ہوا۔ یہ اس سرزمین کے روشن و براق دامن پر بہت بڑا داغ ہے۔ داغ ملامت اور داغ ندامت‘ ورنہ یہ خطہ تو ہر اعتبار سے مردم خیز‘ علم افروز اور یقین انگیز رہا ہے۔ تاریخ اسلامی کی شان و شوکت کا بڑا گہوارہ اور گواہ‘ ایک ہزار سال تک یہاں مسلمانوں نے حکومت کی۔ اسی خطے پر محمد بن قاسمؒ کا قافلہ اترا‘ خواجہ معین الدین چشتیؒ جیسا صوفی اس سرزمین کا باسی تھا جس نے ہند کے شبستان کو بقعہ نور و ایمان بنا دیا۔ خواجہ فرید الدین گنج شکرؒ جیسے لوگ یہیں سے اٹھے جن کے دم قدم سے پنجاب اسلام سے سیراب ہوا۔ حضرت مجدد الف ثانیؒ بھی اسی خطے کے سپوت ہیں جو دو ہزاری کے افق پر مجدد بن کر طلوع ہوئے۔

سلاطین و صوفیاء اور علماء و صلحاء کے اس خطے پر اس نابغہ عصر اور عبقری دہر نے قدم رکھا جو پورے ہندوستان کی علمی پہچان بن گیا اور ملت اسلامیہ کی متاع آبرو ٹھہرا۔ وہ ہے شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نہ معلوم اس دھرتی سے وہ کون سا جرم سرزد ہوا‘ اس دھرتی کی اجتماعی ہیئت وہ کیا لغزش کھا بیٹھی اور اس دھرتی نے کیا پاپ کر لیا کہ قدرت نے سزا کے طور پر غلام احمد قادیانی کو اس خاک سے پیدا کر دیا جو دین کے نام پر دھبہ‘ علم کے ماتھے پر کالک‘ فکر کے دامن پر داغ‘ شرافت کے چہرے پر طمانچہ اور انسانیت کے سر پر بوجھ ہے۔ عقابوں کے نشیمن سے نہ جانے یہ زاغ کہاں سے نکل آیا؟ یہ بدفطرت‘ بدصورت اور بدکلام شخص ہے تو کسی نہ کسی گناہ کی سزا‘ لیکن

صفحہ 13

اس گناہ کا کفارہ کئی صورتوں میں ادا کیا گیا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کفارے کی قبولیت کے کئی اشارے سامنے آئے ہیں۔ ایک تو یہ کہ کذب و دجل کا یہ فرعون جوں ہی پیدا ہوا، علم و فضل کے موسیٰ فوراً ہی اس کے تعاقب میں لگ گئے۔ ان میں علامہ اقبالؒ علامہ سید انور شاہ کشمیریؒ سید عطا اللہ شاہ بخاریؒ حضرت پیر مہر علی شاہؒ مولانا مودودیؒ مولانا ابو الحسنات قادریؒ قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ مولانا محمد داؤد غزنویؒ مولانا عبد الستار خان نیازیؒ مولانا ظفر علی خانؒ اور آغا شورش کشمیریؒ ایسے بے شمار علماء و صلحاء اور ارباب قلم اور اصحاب خطابت رد قادیانیت کے میدان میں اترے۔ نثر و شعر دونوں حوالوں سے اس فتنے کی سرکوبی کی۔ مرزا قادیانی کے بیچ بازار وہ کپڑے دھلے کہ ایک ایک بخیہ ادھڑ کر لوگوں کے سامنے آگیا۔ یہ تحریک و تاریخ ایک صدی پر محیط ہے۔ اس میں بڑے پیچ و خم اور دار و رسن کے مرحلے بھی آئے اور کچھ اپنوں اور کچھ غیروں کی طرف سے حادثے بھی رونما ہوئے۔ یہ داستان سادہ بھی ہے اور رنگین بھی۔

پاکستان میں دو تحریکیں اس آن بان سے اٹھیں کہ قادیانیوں کے سان گمان میں نہ تھا۔ ۱۹۵۳ء اور ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت آج بھی تاریخ کا معتبر اور روشن حوالہ ہے۔ پہلی تحریک تو سیاہ باطن حکمرانوں کی سیاسی مصلحتوں کی نذر ہوگئی لیکن بنیاد کی اینٹ ثابت ہوئی اور ۱۹۷۴ء میں قصر ختم نبوت بن کر کھڑی ہوئی اور قادیانی کسی فتوے کے نہیں، پارلیمنٹ کے فیصلے کے مطابق غیر مسلم قرار پائے اور یہ وہ مہر ہے جو اب کبھی نہ کھل سکتی ہے اور نہ ٹوٹ سکتی ہے۔

حیرت ہوتی ہے ان لوگوں پر جو مرزا قادیانی کو نبی یا مصلح مانتے ہیں۔ میں کسی دینی تعصب، مذہبی عناد، علمی کبر، معاشرتی دباؤ یا گرد و پیش کی فضا سے متاثر ہو کر نہیں بلکہ پوری قلبی وسعت، علمی دیانت، مذہبی بصیرت، فکری اصابت اور ذہنی بلوغت کے ساتھ کہتا ہوں کہ مرزا قادیانی نبی و مصلح تو کجا، عالم و صوفی تو کجا اور ذہین و متین تو کجا وہ شخص تو فاتر العقل اور مخبوط الحواس تھا۔ اس کی کوئی ایک تحریر سامنے لائی

صفحہ 14

جائے جو اس کے صحیح الدماغ ہونے کی گواہی دیتی ہو۔ اس کی باتیں ہفوات اور تحریریں خرافات سے زیادہ کچھ نہیں ہیں۔ میں سچ کہتا ہوں کہ اس کی کتاب پڑھنا مطالعے کی توہین دماغ کی بے وجہ کھپت، وقت کا ضیاع اور آنکھوں کا گناہ ہے۔ نہ علم، نہ معلومات، نہ زبان، نہ اسلوب، نہ موضوع، نہ حاصل اور نہ عقل نہ دین۔ اس کے باوجود قادیانیوں کے پاس وسائل کی ریل پیل اور ان کے لٹریچر کی توسیع اور تعلیم کا فروغ خود اس بات کا پتہ دیتا ہے کہ یہ اپنے عقیدہ و عمل، علم و دلیل اور پیغام و تنظیم کے زور پر نہیں بلکہ کسی گہری عالمی سرپرستی کے نتیجے میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ یہ باتیں اور حقیقتیں اب تکرار کے زمرے میں آتی ہیں کہ آخر قادیانیت کے پاس وہ کون سا سرمایہ علم ہے جس سے دنیا متاثر ہوتی ہے اور وہ کون سا اثاثہ عمل ہے جو لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ ان کے علم کی بے مائیگی اور عمل کی تہی دامنی پر ہزاروں لاکھوں صفحات قلم بند ہوچکے اور دلائل و شواہد پیش کیے جاچکے ہیں۔ مختصر بات یہ ہے کہ قادیانیت ایک عالمی فتنہ، مذہبی المیہ، علمی حادثہ اور سماجی لطیفہ ہے۔ اس سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ چونکہ تاریخ میں بعض لطیفے بڑے حادثے رونما کر چکے ہیں اور بعض خرافات بڑی آفات بن چکی ہیں اس لیے اس کا تعاقب ضروری ہے۔

قادیانیت کا تعاقب ہر دور، ہر اسلوب اور ہر لہجے میں مسلسل ہو رہا ہے۔ تقریر و خطابت کے میدان میں بھی اور نثر و نظم کی صورت میں بھی۔

میں کھلے دل اور واضح الفاظ میں اس امر کا اعتراف کرتا ہوں کہ بڑے بڑے علماء اور نامور اہل قلم کے برابر صرف ایک شخص نے تنہا کام کیا ہے اور میں اس شخص کو بجا طور "وکیل ختم نبوت" کہتا اور لکھتا ہوں اور وہ ہیں ہمارے نہایت ہی جری، پرجوش، مخلص اور مجاہد جناب محمد طاہر رزاق۔ جن کی فکر واضح، عقیدہ پختہ، خلوص بے میل اور کارکردگی قابل داد ہے۔ اب تک وہ ڈیڑھ درجن کتابیں لکھ چکے ہیں۔ دفاع ختم نبوت، دجال قادیان، مرگ مرزائیت، قادیانیت کش، قادیانیت شکن،

صفحہ 15

قادیانی افسانے اور فتنہ قادیانیت کو پہچاننے ایسی وقیع و ضخیم کتابیں ان کے قلم سے نکل چکی ہیں۔ ”نغمات ختم نبوت“ ان کی ایک ایسی کتاب ہے جو اسی حوالے سے نظموں پر مشتمل ہے جس میں علامہ اقبالؒ مولانا ظفر علی خانؒ علامہ طالوتؒ آغا شورش کاشمیریؒ سے لے کر جانباز مرزا، نعیم صدیقی، امین گیلانی اور امین نقوی کے رشحات فکر شامل ہیں۔ ہمارے ممدوح محمد طاہر رزاق قادیانیت کے بارے میں ایک چلتا پھرتا انسائیکلوپیڈیا ہیں۔ اور اک ہمہ وقتی مجاہد ختم نبوت۔ نہ تو ان کی معلومات ادھوری ہیں اور نہ ہی ان کا کام پارٹ ٹائم۔ مجھے ان کی دو ادائیں بطور خاص پسند ہیں۔

ایک تو یہ کہ یہ سارا کام بغیر کسی ذاتی و مالی منفعت کے بغیر سرانجام دیتے ہیں۔ یہ ہر حال میں کارکن رہنا چاہتے ہیں، لیڈر بننے کا دماغ نہیں رکھتے۔ ان کی ساری تحریریں دانشور بننے اور دانشوروں کی صف میں گھسنے اور جگہ پانے کے لیے نہیں ہیں بلکہ اسلام اور رسول اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے عہد وفا نبھانے اور دینی و ملی فریضہ ادا کرنے کے لیے ہیں۔ انہوں نے بعض مواقع پر اپنے دفتر سے بغیر تنخواہ کے چھٹی لے کر کئی کئی مہینے اس کام میں صرف کیے ہیں اور اندوختہ سے اپنے گھر کا نظام چلایا ہے مگر جب کتاب تیار ہو گئی تو نہ ناشر سے رائلٹی مانگی ہے اور نہ کتاب کے حقوق اپنے لیے محفوظ کیے ہیں بلکہ اپنی ہی کتابیں پلے سے خرید کر ایسے لوگوں تک پہنچائی ہیں جن تک پہنچنی چاہئیں تھیں۔ یہ انداز پیشہ ورانہ نہیں بلکہ عاشقانہ اور والہانہ ہے۔

ان کا دوسرا وصف جو دل لبھاتا ہے ان کا غیر فرقہ وارانہ مزاج۔ یہ آج کے دور کی اور بالخصوص مذہبی حلقوں کی بہت بڑی ضرورت اور خوبی ہے۔

میں نے ان کی جتنی کتابیں دیکھی ہیں کسی ایک کتاب میں بھی فرقہ واریت کا کوئی عکس نہیں دیکھا۔ ختم نبوت پر علمی یا تحریکی جتنا بھی کام، جس نے کیا ہے، اس کا برملا اعتراف اور احترام ایک ایک سطر سے جھلکتا ہے۔ مختلف مکاتب فکر کے ارباب و

صفحہ 16

اصحاب اور اعاظم اور اکابر نے اس موضوع پر لکھا ہے۔ اس تحریک میں شامل رہے ہیں اور اس تاریخی جدوجہد کا حصہ رہے ہیں۔ ان سب کا تذکرہ بڑے اہتمام و احترام کے ساتھ کتابوں میں ملتا ہے۔ خواہ وہ سنی ہے یا شیعہ، مقلد ہے یا غیر مقلد یا دوسرے حلقوں کے لوگ ہیں مثلاً وکلاء، شعراء، صحافی اور دانشور، سبھی کی خدمات کا اعتراف موجود ہے۔ یہ میرے نزدیک بہت بڑی اور مبارک بات ہے اور اس کلچر کو مذہبی حلقوں میں فروغ پانا چاہیے۔ برادرم طاہر رزاق کوئی مولوی، مدرس، خطیب، پیرزادے اور مفتی نہیں۔ ایک ادارے میں ملازم ہیں مگر دین سے گہرا شغف انہیں اس میدان میں لے آیا ہے اور وہ پوری جرات اور استقامت کے ساتھ کھڑے اور جمے ہوئے ہیں۔ ہر ترغیب اور ترہیب سے بے نیاز۔

زیر نظر کتاب ”ناموس محمدؐ کے پاسبان“ ایک اور ایمان افروز اور خوبصورت کتاب ہے جس میں انہوں نے مختلف علماء، صوفیاء، وکلاء، طلبہ اور کارکنان کے وہ عشق پرور اور وجد آفریں واقعات نقل کیے ہیں کہ کوئی صفحہ آنسوؤں کا خراج لیے بغیر نہیں رہتا۔ ان عاشقان پاک طینت اور جان نثاران ختم نبوت میں تمام جماعتیں، تمام مسالک اور تمام طبقے شامل ہیں۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، مولانا مودودیؒ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ، صاحبزادہ فیض الحسن، سید مظفر علی شمسی، مولانا خلیل احمد قادری، غرضیکہ سبھی کی فدویت و عقیدت، وارفتگی و شیفتگی، جرات و استقامت اور محبت و عزیمت کی داستانیں اس کتاب میں موجود ہیں جن کا ایک ایک لفظ اور ایک ایک حرف یقین و ایمان کا شاہد ہے۔ میں جناب محمد طاہر رزاق کو اس کاوش پر محبت آمیز مبارک باد پیش کرتا ہوں اور ان کی توفیقات خیر میں اضافے کے لیے دعا گو ہوں اور ان کی صحت و سلامتی کا بے حد خواستگار تاکہ ان کے شغف اور انہماک میں خلل نہ پڑے اور ان کا طائر عشق برابر محو پرواز رہے۔

خورشید احمد گیلانی ۲۲۔ ایچ، مرغزار کالونی ملتان روڈ، لاہور

صفحہ 17

بسم اللہ الرحمن الرحیم

عشق رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم

حکومت کو یاد رکھنا چاہیے کہ جو شخص بھی ختم نبوت کے تخت کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے گا، ہم اُس پر قہر الٰہی اور صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انتقام بن کر ٹوٹ پڑیں گے۔ اگر حکومت کوئی اور ہاتھ دیکھنا چاہتی ہے تو اس کی مرضی۔ ہم اس کے لیے بھی ہر گھڑی تیار ہیں۔ تم نے ہمیں بیسیوں مرتبہ آزمایا ہے۔ تحریک خلافت ہو یا مقامات مقدسہ کے احترام کا مسئلہ ، راج پال ایجی ٹیشن ہو کہ میکلیگن کالج کا قبضہ ۔ جب بھی کسی بدبخت ازلی نے رسول اللہ کی عظمت و وقار کے ماہتاب پر تھوکنے کی کوشش کی ہے ۔ ہم نے اس خبیث کا منہ توڑا اور حکومت کے جبر و تشدد کے باوجود ہمارے جذبہ مزاحمت میں کبھی کمی نہیں آئی۔ جو قدم اٹھا، آگے تو بڑھا ہے، پیچھے کبھی نہیں ہٹا۔

(خطاب: امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ)

ریاض خلد کے پھولوں سے بہتر اس کو سمجھوں گا
کوئی کانٹا جو چبھ جائے گا طیبہ کے بیاباں میں

(مؤلف)

صفحہ 18

حوصلے کا پہاڑ

مولانا محمد علی جالندھری بھی ان رہنماؤں میں شامل تھے، جنہیں گرفتار کیا گیا تھا۔ دوسرے قائدین کی طرح آپ پر بھی مقدمہ چلا۔ مجلس نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا اور صرف اس مختصر بیان پر اکتفا کیا: "کہ مجھے اس حکومت سے انصاف کی توقع نہیں ہے۔" (روداد مجلس، سال ۱۹۹۱ء، ص ۹)

مولانا مجرم قرار پائے، سزا ہو گئی۔ جالندھر جیل کے بعد زیادہ وقت امرتسر گزرا۔ اس جیل کے دوران مولانا مرحوم کو بڑے صبر آزما اور کٹھن حالات سے دوچار ہونا پڑا، جس کی تفصیل مجلس کے ایک ناظم اعلیٰ مولانا محمد شریف مرحوم جالندھری نے یوں تحریر کی ہے۔

"جیل میں آپ کے برادر خورد میاں احمد علی کی وفات حسرت آیات کی خبر پہنچی تب مولانا مع اہل و عیال چک نمبر ۱۹۵ باڑہ، تحصیل صادق آباد، ضلع رحیم یار خان میں ریاستی حکومت سے اراضی خرید کر رہائش اختیار کر چکے تھے۔ والد مرحوم جناب ابراہیم تاحال بقید حیات تھے۔ میاں احمد علی نے بہت اولاد چھوڑی۔ والد پیرانہ سالی میں کمزور ہو چکے تھے۔ مولانا آٹھ دن کے لیے پیرول پر رہا ہوئے۔ ولہار اسٹیشن سے اتر کر چک نمبر ۱۹۵ء پیدل جا رہے تھے۔ راستہ میں گاؤں کا ایک آدمی بغل گیر ہو کر رونے لگ گیا۔ مولانا بھی آبدیدہ تھے۔ اس نے کہا کہ آپ ایک بھائی کی وفات کا سن کر آئے ہیں۔ ادھر آپ کے دوسرے بھائی میاں محمد اسماعیل بھی فوت ہو چکے ہیں۔ مولانا نے اپنے دونوں چھوٹے بھائیوں کی قبروں پر حاضری دی۔ بوڑھے باپ کی خدمت میں حاضری دی۔ باپ نے صبر و استقامت کے لیے دعا کی۔ اسی شب والد صاحب بھی راہی ملک بقا ہوئے۔ مولانا نے جنازہ پڑھا اور واپس امرتسر جیل جانے کی تیاری شروع کر دی۔ اس طرح آپ اپنے گھر میں بیوہ بھاوجوں اور یتیم و خردسال برادر زادیوں کو چھوڑ کر دوبارہ جیل میں پہنچ گئے۔ مولانا مرحوم چار بھائی تھے۔ ستم ظریفی ملاحظہ فرمائیے کہ چوتھے بھائی جو سب میں بڑے تھے، حاجی محمد عبداللہ

صفحہ 19

صاحب‘ وہ ۱۹۵۶ء میں اس وقت فوت ہوئے جب کہ مولانا حکومت پاکستان کے حکم سے ملتان میں چھ ماہ کی نظربندی کے ایام پورے کر رہے تھے۔

(سوانح مولانا محمد علی جالندھریؒ‘ ص ۵۹‘ از محمد سعید الرحمٰن علوی)

طوفان آئے حشر اٹھے آندھیاں چلیں
لیکن قدم کچھ اور سنبھلتے چلے گئے (مؤلف)

علامہ اقبالؒ نے مرزا بشیر الدین کو چلتا کیا

ابھی ہماری پست فکری کسی منزل پر نہ پہنچی تھی کہ کچھ عاقبت کوش مسلمان شملے کی بلندیوں سے بادل کی طرح گرجے اور حکومت کشمیر پر بجلی بن کر گرنے کی دھمکیاں دینا شروع کیں اور ایک درخواست بھیج کر تحقیقاتی کمیشن کی اجازت چاہی۔ ریاستی حکومت جانتی تھی کہ یہ گرجنے والے برسیں گے نہیں۔ اس لیے درخواست پر نامنظور لکھ کر بھیجا۔ بہت اچھلے‘ بہت کودے مگر کچھ دیر بعد تھک کر بیٹھ گئے۔ ان خانہ برباد رؤسا اور امراء نے غضب یہ ڈھایا کہ مرزا بشیر محمود قادیانی کو اپنا قائد تسلیم کرلیا۔ ”جمعیت العلماء“ نے یہ ستم کیا کہ اس بشیر کمیٹی سے تعاون کا اعلان کردیا۔ اس شخص نے اہل خطہ کی یہ ”خدمت“ کی کہ مرزائی مبلغ بھیج کر سرکاری نبوت کی اشاعت شروع کردی اور دنیا بھر میں ڈھنڈورا پیٹا کہ پورے اسلامی ہند نے اسے لیڈر مان کر اس کے باپ کی نبوت کی تصدیق کردی ہے۔ کشمیر کا سادہ دل اور مصیبت زدہ مسلمان ہر کس و ناکس کو اپنا ہمدرد سمجھ کر اس کی طرف متوجہ ہوتا تھا۔ اس لیے باخبر اہل مذہب کو مرزائی مبلغوں کے ہاتھوں مسلمانان کشمیر کے ارتداد کا خطرہ لاحق ہوگیا۔

میں ان دنوں اپنے گاؤں گڑھ شنکر میں بیٹھا ان واقعات اور حالات کا جائزہ لے رہا تھا۔ اس پیدا شدہ صورت حال سے گھبرا گیا اور لاہور پہنچا۔ میں نے دیکھا کہ مولانا داؤد غزنوی تانگے پر سوار پریشان سے جارہے ہیں۔ پوچھا‘ کدھر کا عزم ہے! کہا کہ ”مرزائی قیادت مسلمانوں کی تباہی کا باعث ہوگی۔ میں شہر کے علماء سے مل کر ان کی قیادت کے خلاف

صفحہ 20

اعلان کرانا چاہتا ہوں۔ ”میں نے کہا کہ بھائی محض کاغذی بم قوموں کی قسمت کا فیصلہ کرنے کو کافی نہیں۔ اب تو بڑی قربانی ہی مشکلات کا حل ہے۔ سواری چھوڑو تاکہ دفتر میں بیٹھ کر تدبر کے گھوڑے دوڑائیں اور ہمت مردانہ سے قسمت پر کمند پھینکیں اور تدبر سے تقدیر کو بدلیں۔“ اسی دن یا اگلے دن علامہ ڈاکٹر سر محمد اقبال کی صدارت میں میکڈن ہال میں عمائدین شہر کا جلسہ تھا جس میں کشمیر کی اوس پڑی قسمت زیر غور تھی۔ مولانا مظہر علی غالباً مولانا داؤد غزنوی بھی اور میں بھی میکڈن ہال گئے۔ خیال یہ تھا کہ کوئی تدبیر لڑا کر مرزا بشیر کی کشمیر کمیٹی کے مقابلے میں احرار کے حق میں ان لوگوں کی تائید حاصل کی جائے۔ باقی حاضرین طبقہ اولیٰ سے متعلق تھے۔ وہ احرار کے نام پر حقارت سے منہ بسورتے تھے۔ مگر ڈاکٹر صاحب احرار کو آگے بڑھانے پر بضد تھے۔ بہر حال ہم بزوری و بزاری ان کا اعلان اپنے حق میں کروانے میں کامیاب ہو گئے۔

(تاریخ احرار، ص ۹۵‘ ۹۷‘ چوہدری افضل حق)

سکھا دیتی ہے قدرت جن کو انداز جہانبانی
وہ ہر الجھی ہوئی گتھی کو سلجھایا ہی کرتے ہیں (مؤلف)

مردان میں مرزاڑے کی اینٹ سے اینٹ بجادی گئی

اہل مردان بازی لے گئے... ہم انہیں سلام کرتے ہیں

از قلم: محمد حنیف ندیم

پشاور سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن اور ممتاز راہنما حضرت مولانا نور الحق نے اطلاع دی ہے کہ صوبہ سرحد میں اکثر مقامات پر علماء کے فیصلے کے مطابق عید الاضحیٰ ہفتہ کو منعقد ہوئی۔ لیکن مردان کے قادیانیوں نے اتوار کو اپنے مرزاڑے میں عید منانے اور وہیں جانور ذبح کرنے کا پروگرام بنایا۔ قادیانیوں نے یہ فیصلہ

صفحہ 21

ریٹائرڈ اکبر خان کے مکان پر کیا جس میں مردان میں مقیم پنجاب رجمنٹ کا انچارج مرزا منور احمد بھی موجود تھا۔ غیور مسلمانوں کو اس کا علم ہوا تو عالمی مجلس بگوٹ گنج کے امیر مولانا محمد یونس نے غیرت اسلامی کا ثبوت دیتے ہوئے اس حرکت کا نوٹس لیا اور مقامی انتظامیہ کو اس کی اطلاع دی۔ انتظامیہ نے قادیانیوں کو اس اشتعال انگیز حرکت سے باز رہنے کی ہدایت بھی کی، مگر قادیانیوں کو پنجاب رجمنٹ کے مرزا منور کی پشت پناہی حاصل تھی۔ جس کے باعث قادیانیوں کے سرغنہ میجر مشتاق اور اکبر اپنے چند غیر مسلم قادیانیوں کے ہمراہ بگوٹ گنج بازار سے اشتعال دلاتے ہوئے اور اعلان کرتے ہوئے گزرے۔ وہ گندی زبان استعمال کر رہے تھے اور دھمکیاں دے رہے تھے کہ کوئی ہے ماں کا لال جو ہمیں روکے۔ قریب تھا کہ مسلم نوجوان ان پر ٹوٹ پڑتے لیکن علماء پر امن رہنے کی تلقین کرتے رہے۔

مولانا محمد یونس اس صورت حال کو مقامی پولیس کے نوٹس میں لائے اور کہا کہ یہ اشتعال انگیزی ہے۔ اگر حالات خراب ہوئے تو اس کی ذمہ داری قادیانیوں پر عائد ہوگی۔ اسی اثناء میں ۷۰ / ۶۰ قادیانی مرزاڑے میں جمع ہو چکے تھے اور بالکونی میں کھڑے ہو کر مسلمانوں کو اشتعال دلا رہے تھے کہ ایک اے ایس آئی پولیس نفری کے ہمراہ وہاں پہنچ گئے۔ قادیانیوں کی اشتعال انگیز حرکتوں کا یہ نتیجہ نکلا کہ ہزاروں کی تعداد میں غیور مسلمان جمع ہونا شروع ہو گئے۔ ہزاروں کے اجتماع کے لیے پولیس کی نفری ناکافی تھی۔ چنانچہ مزید پولیس طلب کر لی گئی۔ علاقہ مجسٹریٹ اور اے سی مردان بھی موقع پر پہنچ گئے، جنہوں نے قادیانیوں کو سمجھانے کی بہت کوشش کی لیکن مرزا منور فوجی نشے میں اس قدر بدمست تھا کہ اس نے اے سی صاحب سے بھی غلط رویہ اختیار کیا اور انہیں دھکے دے کر مرزاڑے سے نکال دیا۔ جب یہ حالت دیکھی تو مسلمان بے قابو ہو گئے۔ ہزاروں کے مجمع نے شور مچا دیا کہ انتظامیہ اور پولیس درمیان سے ہٹ جائے۔ یہ صورت حال دیکھی تو انتظامیہ نے مرزاڑے میں موجود تمام قادیانیوں کی گرفتاری کا اعلان کیا۔ چنانچہ مرزائیوں کو وہاں سے نکال کر پولیس اسٹیشن پہنچایا گیا۔ جس سے کوئی ناخوشگوار واقعہ ظہور پذیر نہ ہوا تاہم مسلمانوں کی ایمانی غیرت اور پٹھانوں کی روایتی غیرت کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا۔ گو وہ نہتے اور خالی ہاتھ تھے۔ اس کے باوجود انہوں نے مرزاڑے پر ہلہ بول دیا اور مرزاڑے کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ لاٹھی چارج ہوا لیکن وہ اسے خاطر میں نہ لائے۔

صفحہ 22

بعد میں عوام نے بتایا کہ ہم پر لاٹھیاں برس رہی تھیں۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ جیسے گلاب کے پھولوں کی بارش ہو رہی ہے۔ مرزا ڈے کے انہدام کے ساتھ ہی شہد کی مکھیوں کا ایک چھتہ بھی منہدم ہو گیا۔ جو عوام کے سروں پر منڈلا رہا تھا لیکن اس نے کوئی نقصان نہیں پہنچایا بلکہ حفاظت کا فریضہ انجام دیا۔ مکھیوں کی وجہ سے پولیس ہچکچاتی تھی۔ ایک پولیس والے سے دریافت کیا تو اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور اس نے قسمیہ کہا کہ جب میں نے ایک مسلمان پر لاٹھی لہرائی تو ہزاروں مکھیوں کی بھنبھناہٹ سے میرے اوسان خطا ہو گئے اور لاٹھی میرے ہاتھ سے گر گئی۔ مرزا ڈے کے انہدام کے بعد ہزاروں لوگ انہدام کا منظر دیکھنے وہاں آتے رہے۔ سچ ہے کہ اہل مردان نے اپنی دینی غیرت کا ثبوت دیتے ہوئے بازی جیت لی۔ ہم سب کی طرف سے انہیں مبارکباد اور سلام ہو۔

(ہفت روزہ 'ختم نبوت' کراچی، جلد ۲، شمارہ ۱۶)

اس دور پر آشوب میں میرا ہے یہ فتویٰ
ظالم کا جو دشمن ہے، وہ اللہ کا ولی ہے (مؤلف)

مولانا محمد علی صدیقیؒ کا جیل میں معمول

رات کے درمیان اٹھتا ہوں، اٹھتے ہوئے دعائے مسنون اللهم لك الحمد، انت قيم السموت ۔۔۔الخ سورہ آل عمران کا آخری رکوع اور مسبعات عشر پڑھتا ہوں۔ استنجاء، چائے اور وضو سے فراغت کے بعد تہجد میں لگ جاتا ہوں۔ تین پارے آٹھ رکعت میں پڑھتا ہوں، آٹھ رکعت کے بعد تین وتر بقرأت مسنونہ پڑھتا ہوں۔ وتروں کے بعد طویل دعا مانگتا ہوں۔ دعا سے فراغت کے بعد سلطان الاذکار میں لگ جاتا ہوں۔ جس قدر ہو جائے، میرے نصیب۔ پھر ایک سو بار کلمہ سوم، ایک سو بار استغفار اور ایک سو بار درود بعد صبح و شام کے مسنون اذکار یعنی بسم الله الذی لا يضر ۔۔۔الخ تین بار۔ اعوذ بكلمات الله تین بار۔ اعوذ بالله السمیع ۔۔۔الخ تین بار۔ سورہ حشر کی آخری آیات۔ سورہ روم کی آیات

صفحہ 23

سبحان اللہ۔ اخلاص اور معوذتین تین بار اور اصبحنا و اصبح الملک۔۔۔ الخ ایک بار۔ رضیت باللہ۔۔۔۔ الخ تین بار اللھم عافنی فی بدنی۔۔۔ الخ تین بار اللھم انی اعوذبک من الکفر۔۔۔۔ الخ تین بار۔ سیدالاستغفار ایک بار۔ حسبی اللہ لا الہ الا ھو۔۔۔ الخ سات بار۔

سنت فجر کے بعد ذرا دائیں کروٹ لیتا ہوں اور پھر نماز روشنی میں باجماعت پڑھتا ہوں۔ جی چاہتا ہے کہ طویل قرأت کے ساتھ منہ اندھیرے پڑھوں مگر ساتھیوں کا ساتھ ہے، اس لیے مجبور ہوں۔ نماز کے بعد کلمہ چہارم سو بار۔ طلوع آفتاب پر دو رکعت، نماز اشراق، نماز کے بعد غسل اور کھانا۔ کھانے سے فراغت کے بعد کچھ دیر سلطان الاذکار۔ پھر مطالعہ۔ دس بجے سے ساڑھے گیارہ بجے تک قیلولہ۔ ساڑھے گیارہ بجے کے بعد استنجا وغیرہ سے فارغ ہو کر چائے کا دور اور پھر تا نماز ظہر سلطان الاذکار۔ نماز ظہر ایک بجے کے بعد پڑھتا ہوں۔ نماز کے بعد کچھ لکھنا پڑھنا۔ ڈھائی بجے تک قرآن حکیم کی تلاوت اور اذکار۔ عصر پونے چار بجے پڑھتا ہوں۔ بعد نماز عصر کھانے سے فارغ ہو کر سو بار درود، سو بار استغفار، سو بار کلمہ سوم اور صبح والے مسنون اذکار۔ بعد از نماز مغرب اوابین چھ رکعت میں نصف پارہ پڑھتا ہوں۔ اوابین سے فراغت ہوئی تو ایک ہزار اسم ذات کا معمول ہے۔ اسم ذات اب تک ایک لاکھ سے متجاوز ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ عشاء تک اخبار کا مطالعہ ہے۔

اخبار سول اینڈ ملٹری گزٹ ملتا ہے۔ اگرچہ میں انگریزی میں کچھ ادبی صلاحیت نہیں رکھتا مگر شدھ بدھ اتنی ضرور ہے کہ کچھ الفاظ، کچھ ملحوظات اور کچھ دلالت الحال کی مدد سے بات کی تہہ تک پہنچ جاتا ہوں۔ مقالہ افتتاحیہ ضرور پڑھتا ہوں۔ بیچارہ ایڈیٹر اپنی جدت طرازی کی وجہ سے گھونٹ گھونٹ پر علماء کے منہ آتا ہے۔ خیر یہ ہارن ہے، مائیکروفون تو کسی اور کے قبضہ میں ہے۔

نماز عشاء کے بعد مسنون اذکار اور سورہ ملک، سورہ سجدہ اور سورہ دخان کی تلاوت کے بعد سو جاتا ہوں۔ یہ ہے میرا روز کا معمول اور میرے سارے مشاغل کا پروگرام۔

مجھے علم نہیں کہ اس میں کہاں کہاں غلطی ہے اور کیونکر ہے۔ افسوس کہ کام کے لیے وقت ملا تو راہبر نہیں۔ اللہ جل شانہ میرے حال زار پر رحم فرمائیں اور دعاؤں کے

صفحہ 24

ساتھ اس کمی کے متعلق بھی اللہ جل شانہ سے دعا کرتا ہوں۔

(نقوش زنداں، ص ۱۹۳ تا ۱۹۵، از مولانا محمد علی صدیقی)

مغرور نہ ہو فصل خزاں آ کے چمن میں
ایسے بھی ہیں کچھ پھول جو مرجھا نہیں سکتے (مؤلف)

آخر اس نے قادیانی کو کمرے سے نکال دیا

جنگ لاہور کے جاوید جمال ڈسکوی کا ایمان افروز مکتوب

ختم نبوت میں مباہلے کا جواب پڑھا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اجر دے اور تادیر سلامت رکھے۔ یہ نہایت معقول اور مدلل جواب ہے۔ مرزا طاہر کی میں نے حالیہ تقریر سنی ہے، اس میں اس نے بطور خاص آپ کو رگیدا ہے۔ آپ کی اس قسم کی کوششوں سے وہ خائف ہے۔

ایک واقعہ آپ کو لکھ رہا ہوں۔

کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کے آخری سال میں میرا ایک دوست غلام مرتضیٰ عدیم پڑھتا ہے۔ کچھ دن پہلے اس نے خواب میں دیکھا کہ ایک سفید باریش بزرگ اسے حقارت کی نظر سے دیکھ رہا ہے اور چیخ چیخ کر کہتا ہے: "تم گستاخ رسول ہو۔"

اس کی آنکھ کھل جاتی ہے۔ وہ بہت پریشان ہوتا ہے اور اس روز سے نماز میں باقاعدگی لاتا ہے۔ دو تین روز بعد پھر خواب میں وہ بزرگ آئے اور پھر وہی کہا: "تم گستاخ رسول ہو۔"

میرا دوست کہتا ہے کہ اب تو میں بے حد پریشان ہوا۔ اس خواب کے بعد میرے پسینے چھوٹ گئے۔ (یاد رہے کہ میرا دوست ماڈرن شخص ہے، جس کا مذہب سے اتنا زیادہ لگاؤ نہیں۔)

صفحہ 25

ڈاکٹر مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ میں نے وہ دن کرب اور تکلیف سے گزارا۔ میں نے سمجھا کہ میں کبھی نماز وغیرہ نہیں پڑھتا۔ شاید اس لیے مجھے وارننگ دی جارہی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ میں نے مسجد جانا شروع کر دیا۔ تمام دوسری سرگرمیاں یکسر ختم کر دیں۔ لیکن خواب تیسری دفعہ اسی قسم کا آیا۔ وہ کہتا ہے کہ اب تو میں بے حد پریشان ہوا۔ میں نے اپنے گزرے ہوئے دن یاد کیے کہ مجھ سے کون سا ایسا فعل ہوا ہے۔ جس پر مجھے یہ ڈانٹ پڑ رہی ہے۔

سوچتے سوچتے میرا ذہن اپنے اس دوست کی طرف گیا جو چند دن کا کہہ کر گزشتہ آٹھ ماہ سے میرے کمرے میں رہ رہا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ بحیثیت دوست بہت اچھا انسان تھا لیکن مذہبًا قادیانی تھا۔ کہتا ہے کہ احتیاطًا میں نے اس وارڈن کے ہاتھ سے ایک لیٹر اسے جاری کرا دیا کہ آپ غیر قانونی رہ رہے ہیں۔ اس روز سے وہ شخص کمرہ خالی کر گیا۔

اسی رات کو خواب میں پھر وہی بزرگ آئے اور شفقت سے میرے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا:

”بیٹا تم نے بہت اچھا کام کیا۔“

ڈاکٹر مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ اگلے روز میں نے پورا کمرہ اچھی طرح دھلوایا۔

(آپ کا مخلص، جاوید، ہفت روزہ ختم نبوت، کراچی، جلد ۷، شمارہ ۲۷)

عشق رسولؐ اور جیل

ان کے غیر متزلزل عزم و ہمت کا ایک واقعہ ۱۹۵۳ء میں پیش آیا۔ مولانا تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ملتان جیل میں نظربند تھے۔ اسی دوران ان کے والد ماجد انتقال کر گئے۔ جیل کے حکام نے مولانا سے کہا کہ اگر آپ اعلیٰ حکام سے معافی مانگ لیں تو آپ کو رہا کیا جاسکتا ہے اور آپ اپنے والد ماجد بزرگوار کی نماز جنازہ میں شرکت کرسکتے ہیں۔ مولانا نے غمگین انداز میں کہا ”کہ میں نے یہ جیل رسول اکرمؐ کے نام کے تحفظ کی خاطر قبول کی ہے، آپ یہ چاہتے ہیں کہ میں رسول اکرمؐ کو بھول جاؤں اور والد کی محبت سے متاثر ہو کر

صفحہ 26

آقائے نامدار کو دھوکہ دے جاؤں۔ میں عاشق رسولؐ ہوں‘ مجھ پر اس جیسی ایک ہزار مصیبتیں بھی اگر نازل ہو جائیں تو بھی میں اف نہ کروں گا۔ جیل کے حکام مولانا کے اس دلیرانہ جواب کو سن کر اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔

(قاضی احسان احمد شجاع آبادی ’ص ۴۴۰-۴۴۱‘ از نور الحق قریشی)

ہجوم رنج و غم‘ دار و رسن‘ صدمے زمانے کے
یہ سب ٹکڑے ہیں اک میری محبت کے فسانے کے (مولف)

ایک یادگار اجتماع

۱۶ فروری ۱۹۵۳ء کو لاہور اور پنجاب بھر کے شہروں میں ہڑتال تھی۔ لاہور کی تاریخ میں اتنی زبردست ہڑتال کبھی نہ ہوئی ہو گی۔ یہ ہڑتال تحریک تحفظ ختم نبوت کے سلسلہ میں تھی اور اس کا پس منظر یہ تھا کہ جب تحریک کے لیڈروں اور خواجہ ناظم الدین کے درمیان مذاکرات ناکام ہو گئے تو تحریک کے قائدین نے خواجہ ناظم الدین کو ایک ماہ کا نوٹس دے دیا۔ اس نوٹس کی میعاد فروری کے آخری ہفتہ میں ختم ہو رہی تھی۔ خواجہ ناظم الدین وسط فروری میں سرگودھا پہنچے۔ بتایا یہ گیا کہ وہ ایک یا دو دن سرگودھا کے ضلع میں شکار کھیلنے آ رہے ہیں۔ در حقیقت وہ ملک خضر حیات ٹوانہ سے ملنے آئے تھے‘ وہ انہیں ملے اور انہیں آئی آئی چندریگر کی جگہ گورنر پنجاب بنا دینے کی پیشکش کی کہ وہ آئیں اور حالات کو سنبھالیں۔ ملک خضر حیات نے خواجہ صاحب کی پیشکش قبول نہ کی‘ وہ بے نیل و مرام ۱۶ فروری کو لاہور پہنچے۔ ان کی آمد کی خبر پہلے معلوم ہو چکی تھی۔ اس لیے ہڑتال کی اپیل کی گئی‘ جو کامیاب ہوئی۔ اسی روز دہلی دروازہ میں مجلس عمل تحریک تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام عظیم الشان جلسہ میں لاکھوں کی حاضری تھی۔ شاہ جی کی تقریر میں لوگ ہوش و حواس کھو کر بیٹھے ہوئے تھے۔ تقریر کرتے کرتے اچانک شاہ جی نے اپنی ٹوپی سر سے اتاری اور فرمایا۔ اس لاکھوں کے مجمع میں کوئی شخص ایسا ہے جو میری یہ ٹوپی لے جائے اور ان کے قدموں پر ڈال دے۔ میری طرف سے ہی یہ بھی کہہ دے کہ میں اپنی باقی زندگی ان کے

صفحہ 27

سُوروں کا گلہ چرا لیا کروں گا بشرطیکہ وہ ہمارے سب کے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے ناموس کا تحفظ کریں اور ان سارقین ختم نبوت کا قلع قمع کریں۔ شاہ جی نے یہ جملے کچھ اس طرح جذبات میں ڈوب کر فرمائے کہ مجمع زار و قطار رو رہا تھا اور بعض لوگ دھاڑیں مار کر رو رہے تھے۔

دوسرا واقعہ اس دن کا یہ ہے کہ جب شاہ جی کی تقریر شروع ہوئی تو مولانا اختر علی خان سٹیج پر سے اٹھ کر چلے گئے۔ کچھ دیر گزرنے کے بعد وہ اپنے والد محترم مولانا ظفر علی خان کو ساتھ لے کر دوبارہ جلسہ گاہ میں آئے۔ مولانا ظفر علی خان سٹیج کی پچھلی طرف سے آ رہے تھے۔ شاہ جی کا دھیان سامنے تھا۔ مجمع سے نعرے بلند ہونے لگے۔ مولانا ظفر علی خان زندہ باد۔ شاہ جی نے مڑ کر دیکھا تو فرمایا نعرہ میں لگواتا ہوں اور پھر زور سے کہا ۱۹۱۶ء میں اخبار ”ستارہ صبح“ نکال کر میرے جگر میں انگریز کے خلاف آگ لگانے والا ظفر علی خان“ لوگوں نے جواب دیا زندہ باد۔ اتنے میں مولانا سٹیج پر آگئے۔ شاہ جی نے مولانا کو سینے سے لگایا، دونوں بزرگ دیر تک ایک دوسرے کو گلے لگا کر مل رہے تھے۔ مولانا اختر علی خان سسکیاں لے لے کر رونے لگے۔ شاہ جی اور مولانا، دونوں پہلے اکٹھے رہے تھے۔ مل کر مجلس احرار کی بنیاد رکھی تھی۔ مسجد شہید گنج کے سلسلہ میں ایک دوسرے سے بچھڑ گئے۔ آج پورے اٹھارہ برس بعد بچھڑے ہوئے دو ساتھی مل رہے تھے۔ یہ منظر بڑا ہی رقت انگیز تھا۔ شاید ہی کوئی آنکھ ہو گی، جو پرنم نہ ہوئی ہو گی۔

اس منظر کی تصویر اخبارات میں کئی بار چھپ چکی ہے۔ مولانا اختر علی خان، ماسٹر تاج الدین انصاری اور راقم الحروف اس تصویر میں سٹیج پر شاہ جی کے ساتھ کھڑے ہیں، اس وقت ہم سب کی آنکھیں اشکبار تھیں۔

”یا رب یہ ہستیاں، اب کس دیس بستیاں ہیں۔“

(ہفت روزہ ’لولاک‘ مولانا تاج محمود نمبر، ص۳۲، از مولانا تاج محمود)

ہم نے پیا ہے محبت کا خمار ابدی
کیسے ہوتے ہیں وہ نشے جو اتر جاتے ہیں (مؤلف)
صفحہ 28

حیات عیسیٰ علیہ السلام

تقریر: حضرت مولانا لال حسین اخترؒ

”حضرت مولانا لال حسین اخترؒ کے مسودہ جات سے ہمیں یہ تقریر دستیاب ہوئی ہے۔ اس پر عنوان اور مقرر کا نام تقریر ضبط کرنے والے بزرگ کے ہاتھ سے لکھا ہوا ہے۔ رسم الخط سے محسوس ہوتا ہے کہ یہ تقریر حضرت مولانا عبدالجبار ابوھریؒ کی تحریر کردہ ہے، جو دارالعلوم دیوبند کے مبلغ تھے۔ ظاہر ہے کہ یہ تقریر پاکستان کے قیام سے قبل کی ہے۔ کہاں اور کب ہوئی، اس بارے میں معلوم نہ ہو سکا۔ تاہم تقریر دریا کو کوزہ میں بند کیا گیا ہے کے مصداق ہے۔ محسوس ایسے ہوتا ہے کہ علماء کرام کے کسی خاص اجتماع میں یہ تقریر ہوئی ہوگی۔ اس لیے کہ عوامی سے کہیں زیادہ علمی تقریر ہے۔

حضرت مولانا عبدالجبار ابوھریؒ ”حضرت قطب الارشاد شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ“ کے متعلقین میں سے تھے اور حضرت رائے پوریؒ کے حلقہ کے لوگ جانتے ہیں کہ آپ اکثر و بیشتر ختم نبوت کے رہنماؤں مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ مولانا محمد علی جالندھریؒ مولانا محمد حیاتؒ مولانا لال حسین اخترؒ کو گاہے بگاہے اس مجلس میں کچھ بیان کرنے کے لیے حکم فرما دیتے تھے۔ کیا عجب ہے کہ حضرت رائے پوریؒ کے حکم سے یہ تقریر ان کے حلقہ میں کی گئی ہو۔ بہرحال یہ اندازہ ہے، یقینی نہیں۔ تاہم تقریر سے آپ حضرات بھی مستفیض ہوں۔“

(ادارہ)

خطبہ مسنونہ کے بعد فرمایا!

حضرات! عقیدہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ موجود ہیں۔ قیامت سے پہلے زمین پر اتریں گے۔ سو سے زیادہ احادیث اس پر شاہد ہیں۔ حضرت صدیق اکبر ؓ سے حضرت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ تک جمیع صحابہ کرام ؓ تمام ائمہ

صفحہ 29

عظامؒ بزرگان دین اور پوری امت محمدیہ کا اتفاق ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور قیامت کے قریب آسمان سے اتریں گے۔ یہ عقیدہ بھی ختم نبوت کی طرح اٹل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قادیانیوں کو اس عقیدہ سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے۔ اس لیے وہ قسم قسم کی چہ مگوئیاں کرتے رہتے ہیں۔ مرزا غلام قادیانی نے وفات عیسیٰ علیہ السلام پر تیس اور اس کے مریدوں نے کچھ مزید آیات پیش کی ہیں۔ اگر بالفرض محال قادیانیوں کے اس عقیدہ کو تسلیم کر لیا جائے تو لازم آئے گا کہ حضور ﷺ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور امت محمدیہ کے تمام علمائے کرام نے آج تک قرآن مجید کو نہیں سمجھا۔ کیونکہ یہ لوگ قرآن کو پڑھتے تھے اور پھر بھی حیات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قائل تھے۔

حضور ﷺ نے فرمایا کہ قیامت سے کچھ پہلے عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے مگر مرزا قادیانی نازل نہیں ہوا بلکہ پیدا ہوا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ اس کی ماں کا نام مریم ہو گا، مگر مرزا قادیانی کی ماں کا نام چراغ بی بی ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ وہ دمشق کے مینار پر اتریں گے، مگر مرزا قادیانی بغیر مینار کے ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا۔

الغرض جو کچھ حضور ﷺ نے فرمایا اور جس قدر علامات بیان کیں، وہ سب کی سب قادیانیوں کے مذہب کی رو سے غلط ہوتی ہیں۔ هل ھو الا الضلال ۔

یاد رکھئے دین کے مسائل میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، حضور ﷺ سے کسی نہ کسی طریق سے استفسار کر لیا کرتے تھے۔ یعنی حضور ﷺ کے بیان پر تو یقین ہوتا تھا لیکن توضیح و مزید اطمینان و وضاحت کے لیے کچھ باتیں معلوم کر لیا کرتے تھے۔ جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو احیاء موتیٰ کا یقین تھا اور کامل علم تھا کہ اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر ہیں، لیکن پھر بھی کیف تحی الموتی سے اطمینان قلب کے لیے سوال کر ہی دیا۔ اسی طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی کبھی کبھی اطمینان قلب کے لیے حضور ﷺ سے سوال پوچھا کرتے تھے۔

چنانچہ ایک مرتبہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص میرے روضہ پر قریب آکر درود پڑھے، وہ میں خود سنوں گا۔ ایک صحابی نے اطمینان قلب کی بناء پر سوال کیا کہ آپ کیسے سنیں گے، جب آپ مٹی میں ہوں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ:

"ان اللہ حرم علی الارض ان تاکل اجساد الانبیاء"۔

صفحہ 30

ترجمہ : (اللہ تعالیٰ نے زمین پر یہ بات حرام کر دی ہے کہ وہ انبیاء کرام کے اجساد و اجسام کو کھائے)

یہاں پر بھی اطمینان قلب کے لیے سوال کیا تھا۔ لیکن حیات مسیح علیہ السلام کا عقیدہ اتنا مشہور تھا کہ کسی صحابی ؓ نے کسی وقت بھی شبہ کر کے حضور ﷺ سے استفسار نہ کیا۔

یہود کا عقیدہ ہے : ”انا قتلنا المسيح .... (الخ) (ہم نے عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کر دیا ہے) چنانچہ اناجیل اربعہ میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو سولی پر لٹکایا گیا۔ ان کے منہ پر تھوکا گیا اور ایلی ایلی لما سبقتنی کہتے ہوئے جان دے دی۔ مگر قرآن نے اس قصہ کو یوں بیان کیا:

”اذ كففت بنى اسرائيل عنك“۔

یہودیوں کو عیسیٰ علیہ السلام کے قریب جانے سے روکا‘

قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اپنے احسانوں میں سے ایک احسان یہ بھی جتائے گا کہ وہ وقت یاد کر جبکہ میں نے بنی اسرائیل کو تجھ سے روکے رکھا اور قرآن میں یہ بھی فرمایا:

”ومکر و مکر اللہ ۔“ بنی اسرائیل نے حضرت مسیح کے قتل اور سولی کی تجویزیں کیں اور اللہ تعالیٰ نے مسیح علیہ السلام کے بچانے کی تدبیر فرمائی اور یوں فرما دیا : ”وما قتلوہ یقینا بل رفعہ اللہ الیہ ۔“ یہود کی تجویزوں سے بچا کر مسیح علیہ السلام کو میں نے اپنی طرف اٹھا لیا ہے۔ گویا وہ وعدہ پورا کر دیا ہے جو پہلے ان الفاظ میں کیا گیا تھا۔

”اذ قال اللہ یعیسیٰ انى متوفيك ورافعك الى ۔“ (اے عیسیٰ میں تم کو پورا پورا اٹھانے والا ہوں اور کافروں کے بد ارادوں سے آپ کو پاک رکھوں گا ۔ ) ظاہر ہے کہ کافروں کا ارادہ موت عیسیٰ علیہ السلام تھی ، جس سے حضرت مسیح علیہ السلام کو بچا لیا گیا۔

یاد رکھیے توفی کے معنی جمیع اہل لغت نے پورا پورا کے کیے ہیں۔ موت معنی کسی نے نہیں کیے۔ توفی اسم جنس ہے ، جس میں موت اور نیند دونوں داخل ہیں۔ اب توفی کے ساتھ موت کا قرینہ ہو گا تو مراد موت ہو گی۔ اگر نیند کا قرینہ ہو گا تو مراد نیند ہو گی۔ توفی کے معنی موت ہرگز نہیں ، جیسے قرآن میں موجود ہے۔ ”حتى يتوفهن الموت۔“

صفحہ 31

دیکھیے اگر توفی کے معنی موت ہو تا تو لفظ موت کو ذکر کرنے کی ضرورت نہ ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ توفی کا فاعل اللہ تعالیٰ اور ملائکہ اور رسل ہے۔ لیکن موت کا فاعل صرف اللہ ہے۔

قاعدہ

جہاں اللہ تعالیٰ، نفس توفی اور ارسال جمع ہوں تو وہاں توفی سے مراد نیند ہوگی اور جہاں اللہ تعالیٰ، نفس توفی اور امساک ہو‘ وہاں مراد موت ہوگی۔ جیسے: ”ھو الذی توفاکم باللیل۔“ میں موت مراد نہیں اسی طرح: ”انی متوفیک“ میں بھی موت مراد نہیں ہے۔ یہ کہنا غلط ہے کہ بخاری میں حضرت ابن عباس ؓ نے متوفیک معنی ممیتک کیا ہے۔ جو کہ موت پر دال ہے‘ کیونکہ ممیتک اسم فاعل ہے‘ جو کہ استقبال پر دلالت کرتا ہے۔ دوسرے خود ابن عباس ؓ نے حضور ﷺ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ: ”ینزل ابن مریم من السماء“ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے۔ یہ اصول بھی ہے کہ فعل‘ قول سے اشد ہوتا ہے۔ جیسے ایک شخص یہ کہے کہ میں فلاں کو گالی دوں گا پھر اس کو گالی دے دے تو اس کا فعل‘ قول سے اشد تر ہوا۔

اس اصول کے بعد غور کیجئے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں یہود کو ملعون قرار دیا ہے اور ان کی حکایت ان الفاظ سے بیان کی ہے: ”وقولہم انا قتلنا المسیح ابن مریم۔“ یعنی یہود اس لیے ملعون قرار دیے گئے کہ وہ یہ قول کرتے رہتے تھے کہ ہم نے مسیح علیہ السلام کو قتل کر دیا ہے۔ اندازہ کیجئے کہ یہود کو صرف قول کی وجہ سے ملعون ٹھہرایا گیا۔ اگر واقعی انہوں نے یہ فعل کیا بھی ہوتا تو یقیناً اس کا بھی ذکر قرآن مجید میں ہوتا۔ حالانکہ اس کا ذکر قرآن میں کسی جگہ موجود نہیں ہے۔ تو معلوم ہوا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو یہود نے قطعاً قتل نہیں کیا بلکہ یہود کو اشتباہ میں ڈالا گیا۔ جیسا کہ قرآن میں ہے: ”ولکن شبہ لہم۔“ احادیث میں بھی کثرت سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات ثابت ہے۔ بخاری کی حدیث میں ہے: ”کیف انتم اذ نزل فیکم ابن مریم وامامکم منکم۔“ اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب کہ تم میں حضرت مریم کے بیٹے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے‘ جب کہ تم میں تمہارا امام (مہدی) موجود

صفحہ 32

ہوگا۔

ایک اور حدیث میں ہے: ”وینزل عیسی بن مریم فیتزوج ویولد لہ و یمکث خمس واربعون سنتہ ثم یموت فیدفن معی فی قبری فاقوم انا و عیسی بن مریم فی قبر واحد بین ابی بکر و عمر۔“ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین پر نازل ہوں گے۔ معلوم ہوا کہ اب وہ زمین پر موجود نہیں ہیں۔ پھر نکاح کریں گے‘ اولاد پیدا ہوگی اور پینتالیس برس زمین پر قیام کریں گے۔ پھر فوت ہو جائیں گے اور میرے ساتھ دفن کیے جائیں گے۔ قیامت کے روز میرے ساتھ ابو بکر ؓ و عمر ؓ کے درمیان اٹھیں گے۔ ایک اور روایت میں آتا ہے کہ ایک وفد عیسائیوں کا حضور ﷺ کے پاس مناظرہ کے لیے آیا تو اس میں حضرت مسیح علیہ السلام کی الوہیت کا ذکر بھی آیا تو حضور ﷺ نے فرمایا: ”الستم تعلمون ان ربنا حی لا یموت وان عیسی یاتی علیہ الفناء۔“ یعنی نہیں جانتے کہ اللہ رب العزت زندہ ہیں اور ہمیشہ زندہ رہیں گے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایک دن فنا ضرور آئے گی۔ معلوم ہوا کہ حضرت مسیح علیہ السلام ابھی تک زندہ ہیں‘ ورنہ تو حضور ﷺ یوں فرماتے کہ وہ فوت ہو چکے ہیں۔

اعتراضات

کہا جاتا ہے کہ اگر عیسیٰ علیہ السلام نے دنیا میں دوبارہ تشریف لانا ہے تو کب تشریف لائیں گے؟ حالانکہ انہیں انیس سو برس گزر چکے ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر کیا کھاتے ہیں حالانکہ کھانے کی اشیاء تو زمین پر ہیں؟

اگر قرآن کو ذرا بھی غور سے پڑھا جائے تو جواب معلوم ہو جاتا ہے۔ جب عیسیٰ علیہ السلام کی دعا سے مائدہ نازل ہو سکتا ہے تو کیا آسمان پر ان کو کھانا نہیں مل سکتا اور یہ بھی معلوم نہیں کہ وہاں کھانے کی ضرورت ہوتی ہے کہ نہیں۔ کیونکہ وہ ایک اور عالم ہے۔ جس کے حالات اور نظام کا کوئی علم نہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وہاں

صفحہ 33

کھاتے پیتے ہیں تو پیشاب پاخانہ کہاں کرتے ہیں۔ ان لوگوں سے پوچھا جائے کہ کھاتے ہوں اور پاخانہ پیشاب کی ضرورت ہوتی ہی نہ ہو۔ اس لیے کہ وہاں غذا اور اس کے تقاضے اور ہیں۔ وہ نورانی اور روحانی ماحول اور غذا بھی روحانی ہے۔ اس ماحول کو دنیا کے ماحول پر قیاس کرنا غلط ہے۔

یہ کہنا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر نماز کس جانب منہ کر کے پڑھتے ہیں اور وہ زکوۃ کس کو دیتے ہیں۔ ان کو معلوم نہیں کہ وہاں بیت اللہ کے عین برابر بیت المعمور ہے اور فرشتے وہاں عبادت کرتے ہیں۔ حضرت مسیح اسی کی جانب منہ کر کے نماز پڑھتے ہیں۔ رہا زکوۃ کا معاملہ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر مال ہی نہیں رکھتے، جس کی زکوۃ دینی پڑے۔

یہ کہنا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر ہیں اور حضور ﷺ زمین پر، تو اس سے حضور ﷺ کی (العیاذ باللہ) توہین ہوتی ہے۔ اس کا جواب شاہ عبد العزیز صاحب دہلویؒ نے دیا ہے:

کسے بگفت کہ عیسیٰ ز مصطفیٰ اعلیٰ است
کہ ایں در زمین دفن آں باوج سما است
بگفتمش کہ نہ ایں حجت قول باشد
حباب بر سر آب گوہر تہ دریا است

یعنی دریا میں حباب اوپر اور موتی اس کے نیچے ہونے سے موتی کی قدر و قیمت کم نہیں ہوتی۔ یہ سوال کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرح دیگر انبیاء کرام کو دشمن سے بچاؤ کی خاطر آسمان پر کیوں نہیں اٹھایا گیا۔ جواب یہ ہے کہ ہر نبی کو شریروں کے شر سے مختلف طریقوں سے بچایا گیا تاکہ پتہ چل جائے کہ اللہ رب العزت ہر طریق پر قادر ہے۔ آگ میں بچالے یا غار میں یا آسمان میں لے جاکر محفوظ کرلے۔ وما علینا الا البلاغ۔

(ماہنامہ لولاک‘ جون ۱۹۹۵ء)

صفحہ 34

چاپلوس مرزا

مرزا غلام قادیانی نے ایک کتاب "تحفہ قیصریہ" اور ایک اور کتاب "ستارہ قیصریہ" لکھی ہیں، ان دونوں کتابوں میں اس نے برطانیہ کی اس وقت کی ملکہ کی تعریف میں زمین آسمان ایک کیے ہیں۔ مثلاً:

"میرے والد انگریزی سلطنت کے آنے کے ایسے منتظر تھے، جیسے کوئی سخت پیاسا پانی کا منتظر ہو۔"

"میں نے جو انگریز سرکار کی خدمت کی، وہ یہ تھی کہ پچاس ہزار کے قریب کتابیں اور رسائل، اشتہارات چھپوا کر اس ملک اور دوسرے اسلامی ملکوں میں اس مضمون کے شائع کیے کہ گورنمنٹ انگریزی ہم مسلمانوں کی محسن ہے، لہٰذا ہر ایک مسلمان کا فرض ہونا چاہیے کہ اس گورنمنٹ کی سچی اطاعت کرے۔"

"میری ان کتابوں سے لاکھوں انسانوں نے جہاد کے خیال چھوڑ دیے۔"

"میں یہ خدمت انگریز کی بائیس برس تک کرتا رہا۔"

"اس بابرکت گورنمنٹ کے آنے سے ہم نے اور ہمارے بزرگوں نے ایک لوہے کے جلتے تنور سے نجات پائی ہے۔"

"اس لیے میں دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کرتا ہوں کہ یا الٰہی اس مبارک قیصر ہند کو دیر تک ہمارے سروں پر سلامت رکھ اور اس کے ہر قدم کے ساتھ اپنی مدد کا سایہ شامل حال فرما۔"

"اس وقت اے ملکہ تیرے عہد میں، جو نیک نیتی سے بھرا ہوا ہے، مسیح موعود کا آنا خدا کی طرف سے، یہ گواہی ہے کہ تمام بادشاہوں میں سے تیرا وجود امن پسندی اور اچھے انتظام اور رعایا کی ہمدردی اور انصاف سے بڑھ کر ہے۔"

"اس لیے تیرے عہد کے سوا کوئی بھی عہد ایسا نہیں جو مسیح موعود کے ظہور کے لیے موزوں ہو۔"

اس قسم کی اور بھی بہت سی باتیں اس نے ملکہ کی چاپلوسی میں لکھی ہیں۔ لیکن

صفحہ 35

دوسری طرف مرزا نبوت کا دعویدار ہے..... اس نبوت کے جھوٹے دعویدار نے انگریز ملکہ کی تعریف میں زمین و آسمان تو ایک کیے لیکن اسے اپنی نبوت پر ایمان لانے کے لیے نہیں کہا۔

کیا یہ بات حیران کن نہیں..... اس کے جھوٹا ہونے کا سب سے بڑا ثبوت نہیں‘ اور آخر مرزائی لوگ کس قسم کا ثبوت چاہتے ہیں۔

(ماہنامہ ’لولاک ملتان‘ دسمبر ۱۹۹۷ء از قلم‘ اشتیاق احمد)

تم امن کے دشمن ہو محبت کے ہو قاتل
دنیا سے مٹانا تمہیں ارمان ہے اپنا (مؤلف)

چالیس ہزار قادیانیوں کا قبول اسلام

براعظم افریقہ کے اکثر ممالک میں جہاں غربت‘ افلاس اور قحط نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں‘ ایک سازش کے تحت نہ صرف عیسائی مشنریاں بلکہ قادیانیوں کی جماعت احمدیہ بھی سماجی خدمات کے نام پر اور دولت کے بل بوتے پر پانی کی طرح روپیہ بہا کر ان غریب ممالک کے سادہ لوح مسلمانوں کو دھوکہ دینے میں مصروف ہے۔ ان ممالک میں مقیم مسلمان عیسائیت اور قادیانیت کے لیے ترنوالہ ثابت ہو رہے ہیں۔

کچھ عرصہ پیشتر ۱۱ تا ۱۳ اگست ۱۹۸۹ء میں برطانیہ کے مقام ٹلفورڈ میں قادیانیوں کے ایک اجتماع میں یہ مژدہ سنایا گیا کہ ان کا گروہ مغربی افریقہ کے ایک مسلمان ملک جمہوریہ مالی میں پینتیس ہزار مسلمانوں کو قادیانی بنانے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ اس خبر سے دردمند مسلمانوں کے تمام حلقوں میں انتہائی تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی۔ چنانچہ عالمی مجلس ختم نبوت کے مرکزی امیر حضرت مولانا خان محمد نے ایک نمائندہ وفد جو مولانا عبدالرحمن باوا اور مولانا منظور احمد الحسینی پر مشتمل تھا‘ حالات کا جائزہ لینے اور صحیح صورت حال معلوم کرنے کے لیے جمہوریہ مالی کے دارالحکومت بماکو بھیجا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے اس وفد نے ۱۸ جنوری ۱۹۹۰ء سے یکم فروری ۱۹۹۰ء تک جمہوریہ مالی کا دورہ کیا‘ جہاں انہوں نے

صفحہ 36

جمہوریہ مالی کے وزیر داخلہ جناب عیسیٰ انگو بنیا، مسلمان تنظیموں کے رہنماؤں اور منحرف شدہ مسلمانوں کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کی اور سادہ لوح مسلمانوں کو قادیانیوں کے ناپاک عزائم سے آگاہ کرتے ہوئے انہیں اسلامی تعلیمات پر دوبارہ ایمان لانے پر تیار کیا۔ چنانچہ مرتد قادیانیوں کی اسلام دشمن سرگرمیوں کے باعث جو پینتیس ہزار مسلمان قادیانیوں کے جال میں پھنس گئے تھے، انہوں نے قادیانیت سے اپنی برات کا اعلان کرتے ہوئے اسلام کے تمام عقائد خصوصاً ختم نبوت پر اپنے پختہ ایمان کا اعلان کیا۔

جمہوریہ مالی کا دورہ کرنے والے وفد نے پینتیس ہزار مسلمانوں کے قادیانی ہو جانے اور پھر دوبارہ اپنے دین پر واپس پلٹنے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ جمہوریہ مالی کے مسلمان انتہائی مفلوک الحال ہیں۔ قادیانی تنظیم اسرائیل کے یہودیوں کی مانند دنیا میں ایک قادیانی اسٹیٹ بنانا چاہتی ہے۔ وہ کسی ایسے خطے کی تلاش میں ہیں، جہاں ان کی حکومت قائم ہو سکے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے پاکستان سے مایوس ہو کر ان کی نظر اب افریقی ممالک پر ہے۔ جہاں عام غربت و افلاس سے فائدہ اٹھا کر دولت کے بل پر لوگوں کو گمراہ کر دینا آسان معلوم ہوتا ہے۔ چنانچہ قادیانی سربراہ مرزا طاہر احمد نے قادیانیوں پر زور دیا ہے کہ وہ افریقہ کی جانب متوجہ ہوں، قادیانی تاجروں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے کارخانے افریقہ میں لگائیں اور مشنری طرز پر اسپتال، اسکول، کالجز، سڑکیں بنانے اور کارخانے لگانے کے بہانے وہاں کے بھولے بھالے مسلمانوں کو قادیانی بنا کر قادیانی اسٹیٹ بنانے کی راہ ہموار کریں۔

اس منصوبے کو عملی جامہ پہناتے ہوئے گزشتہ دنوں قادیانیوں نے مغربی افریقہ کے مسلمان ملک جمہوریہ مالی کے دیہاتوں میں اپنی ارتدادی سرگرمیوں کا آغاز کیا، کیونکہ دیہاتوں کے لوگ شہروں کی بہ نسبت زیادہ سادہ لوح ہوتے ہیں۔ ان دیہاتوں میں اسلام کا لبادہ اوڑھ کر قادیانیوں کے اس گروہ نے احمدیت یعنی قادیانیت کی دعوت دی اور اس کے عوض انہیں طرح طرح کے لالچ دیئے گئے کہ ہم تمہاری سڑکیں بنادیں گے، تمہارے لیے زراعت کے جدید آلات فراہم کریں گے، تمہارے دیہاتوں میں بجلی پہنچادی جائے گی۔ یہاں اسپتال، اسکول، کالجز، تعمیر کرائے جائیں گے۔ اس کے علاوہ علاقوں میں ٹرانسپورٹ کے لیے مفت گاڑیاں فراہم کرنے اور مفت سائیکلوں کی فراہمی کے وعدے کیے گئے۔ ان

صفحہ 37

سب کے ساتھ ساتھ انہیں یہ جھانسہ بھی دیا گیا کہ دین احمدیہ اور دین محمدی میں کوئی فرق نہیں ہے۔ ایک جانب عام لوگوں میں اس مہم کا آغاز کیا گیا اور دوسری جانب جمہوریہ مالی کی حکومت کو اپنی تنظیم جماعت احمدیہ کے رجسٹر کرنے کی درخواست دی۔ جس میں تنظیم کا مقصد قرآن کی تعلیمات کو عام کرنا اور انسانی فلاح و بہبود کے کام انجام دینا قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ جمہوریہ مالی کے مسلمانوں کی تنظیم جمعیت مالی اتحاد و تقدم الاسلام کے صدر کو بھی ایک خط لکھا گیا اور اس میں جماعت احمدیہ کو بطور ایک تنظیم قبول کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے اپنے مقاصد کی تفاصیل سے آگاہ کیا گیا۔ اس خط کے ساتھ جماعت احمدیہ، جمہوریہ مالی کے مسلمانوں کے لیے مختلف قلیل المیعاد اور طویل المیعاد فلاحی منصوبوں کی طویل فہرست بھی جاری کی جو وہ جمہوریہ مالی میں پایہ تکمیل تک پہنچانا چاہتے تھے۔

جمہوریہ مالی کی حکومت نے جماعت احمدیہ کو رجسٹرڈ کرنے سے انکار کر دیا اور ان کی درخواست کو رد کرتے ہوئے ایک اعلان جاری کیا، جس میں مسلمانوں کو خبردار کیا گیا کہ یہ امن وامان کی فضا کو خراب کرنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا ان سے ہوشیار رہا جائے۔ ان لوگوں کو یہ کام کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

اس کے باوجود قادیانیوں نے اپنی زیر زمین سرگرمیاں جاری رکھیں اور وہ جمہوریہ مالی کے دارالحکومت بماکو سے ایک سو اسی کلومیٹر کے فاصلے پر ایک چھوٹے سے قصبے میں جس کا نام جیغنی ہے، ایک مذہبی رہنما شیخ عمر کانتے کو قادیانی بنانے میں کامیاب ہو گئے۔ اس مذہبی رہنما نے، جس کا ایک وسیع علاقے پر اثر تھا، مختلف دیہاتوں کے تقریباً پینتیس ہزار مسلمانوں کو اپنے ساتھ ملا لیا اور اس مقصد کے لیے قادیانیوں نے پانی کی طرح روپیہ بہایا اور مسلمانوں کو یہ بھی باور کراتے رہے کہ احمدیت یعنی قادیانیت اور اسلام میں کوئی فرق نہیں ہے۔ انہی شیخ کانتے کو مرزا طاہر احمد نے قادیانیوں کے سالانہ جلسے منعقدہ لندن میں پیش کیا اور بتایا کہ ان کے ذریعے مالی میں تیس سے چالیس ہزار مسلمانوں نے قادیانیت کو قبول کر لیا ہے۔ مرزا طاہر احمد نے اس کامیابی کو قادیانیت کے لیے نئے سال کا عظیم الشان تحفہ قرار دیا۔

جمہوریہ مالی کا دورہ کرنے والے وفد نے بتایا کہ آج ہم پاکستان کے مسلمانوں کو یہ خوشخبری سنانا چاہتے ہیں کہ علماء کرام اور تمام مسلمانوں کی دعا سے جن مسلمانوں کے

صفحہ 38

قادیانیت قبول کرنے پر مرزا طاہر احمد نے قادیانیوں کے لیے نئے سال کا عظیم الشان تحفہ قرار دیا تھا‘ اب وہ تیس سے چالیس ہزار قادیانی‘ قادیانیت پر لعنت بھیجتے ہوئے اور قادیانیت کا طوق اپنی گردنوں سے نکال کر شیخ عمر کانتے کے ہمراہ دوبارہ داخل اسلام ہو چکے ہیں۔

وفد جمہوریہ مالی کے دارالحکومت بماکو پہنچا تو سب سے پہلے اس کی ملاقات جمہوریہ مالی کے وزیر داخلہ جناب عیسیٰ انگونیا سے کرائی گئی۔ اس ملاقات میں وفد نے اپنی آمد کا مقصد بتایا اور جمہوریہ مالی میں قادیانیوں کی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کیا‘ جس پر وزیر داخلہ نے ختم نبوت و رسالت پر ایمان کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے وفد کو بتایا کہ حکومت نے قادیانیوں کی تنظیم کی رجسٹریشن کے لیے دی گئی درخواست مسترد کر دی ہے۔ ہم غریب ضرور ہیں لیکن اپنا دین نہیں چھوڑ سکتے۔ انہوں نے وفد کی آمد پر شکریہ بھی ادا کیا۔ بعد ازاں وفد بماکو سے بذریعہ جیپ نیجنی پہنچا۔ جہاں پہنچنے کے فوراً بعد وفد نے شیخ عمر کانتے سے تفصیلی ملاقات کی اور اس ملاقات میں انہیں مسلمانان عالم کی تشویش سے آگاہ کیا اور دین اسلام میں عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت کو تفصیل سے واضح کیا اور دین احمدیت اور اسلام کا فرق بیان کرنے کے علاوہ فتنہ قادیانیت اور اس کے سیاسی مقاصد کو شیخ کانتے پر واضح کیا گیا۔ شیخ کانتے نے بڑی دلجمعی سے وفد کی گفتگو کو سنا اور حقیقت حال واضح ہو جانے پر وفد کو بتایا کہ قادیانیوں نے ہمیں بتایا کہ دین احمدی اور دین محمدی ﷺ میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اس بناء پر ہم نے ان کی تنظیم میں شمولیت اختیار کی۔ اس گفتگو کے بعد طے پایا کہ لوگوں کو جمع کر کے قادیانیوں کے عزائم اور ان کے عقائد کو کھول کر واضح کیا جائے۔ لہٰذا ایک بہت بڑے اجتماع کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔

اس اجتماع میں شیخ عمر کانتے نے حاکم بلدیہ کی موجودگی میں ہمارے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر پوری جماعت کے ہمراہ قادیانیت سے توبہ کے الفاظ دہرائے۔ غلام احمد قادیانی‘ اس کے پیروکاروں اور مرزا طاہر کی تکفیر کا اعلان کیا۔ شیخ عمر کانتے نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ انہوں نے پچھتر گاؤں کے پینتیس ہزار سے زیادہ لوگوں کو قادیانی بنایا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اب ہم سمجھ چکے ہیں کہ قادیانیوں کا مذہب اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہم سب قادیانیوں کے مرتد اور کافر ہونے کا اعلان کرتے ہیں۔ ہم لوگ ان کے

صفحہ 39

دھوکے میں آگئے تھے۔ شیخ عمر کانتے کے اس بیان کے بعد تمام جماعت نے توبہ کے الفاظ دہرائے۔ اس موقع پر تمام حاضرین نے نعرہ ہائے تکبیر کی گونج میں دین اسلام پر پابند رہنے کا عہد کیا۔

(شکریہ 'ہفت روزہ تکبیر' کراچی)

ہنستا بستا قادیان

ایک ویران سی بستی نظر آتی تھی

اپریل ۱۹۸۰ء کے اوائل میں مجھے گورو نانک دیو یونیورسٹی امرتسر سے ایک سیمینار میں شرکت کا دعوت نامہ موصول ہوا اور میں ۷ اپریل کو امرتسر پہنچ گیا۔ مندوبین کو یونیورسٹی کے مہمان خانے میں ٹھہرایا گیا اور اگلے روز سے سیمینار شروع ہو گیا۔ تین دن تک یونیورسٹی میں خوب گہما گہمی رہی اور ۲۰ اپریل کو قبل دوپہر سیمینار ختم ہو گیا۔

مجھے بٹالہ جانے اور وہاں ”تاریخ ہندوستان“ کے مصنف احمد شاہ بٹالوی کی قبر دیکھنے کی بڑی آرزو تھی۔ میں نے ڈاکٹر گریوال سے بٹالہ جانے کی خواہش کا اظہار کیا تو انہوں نے کہا کہ بٹالہ کا ایک ریسرچ اسکالر شری پروین پال ان کے شعبہ میں موجود ہے۔ اگر اسے ساتھ لے جاؤں تو وہ مجھے بٹالہ کے اہم مقامات دکھا دے گا۔ میں نے پال کو ساتھ لیا اور ہم بذریعہ بس ایک گھنٹہ میں بٹالہ پہنچ گئے۔ وہاں ہم نے شمشیر خان کا مقبرہ، اس کا بنوایا ہوا تالاب، بھگت حقیقت رائے کی سمادھی اور خانقاہ فاضلیہ میں احمد شاہ بٹالوی کا مزار دیکھا۔

ہم دونوں شمشیر خان کے تالاب کے کنارے کھڑے تھے کہ اتنے میں بٹالہ سے قادیان جانے والی بس آگئی۔ پال نے مجھ سے کہا ”سرا قادیان چلو گے؟“ میں نے پوچھا، ”قادیان یہاں سے کتنی دور ہے؟“ اس نے کہا ”یہاں سے بس میں کوئی پندرہ بیس منٹ کا راستہ ہے اور ایک روپیہ کرایہ ہے۔“ میں نے اس موقع کو غنیمت جانا اور ہم لپک کر بس

صفحہ 40

میں سوار ہو گئے۔

بس ایک قصبہ وڈالہ گرنتھیاں سے گزرتی ہوئی تقریباً بیس منٹ میں قادیان پہنچ گئی۔ بس سے اترتے ہی میں نے اردگرد کا جائزہ لیا تو ایک اونچا سا مینار نظر آیا، جس پر اسپیکر نصب تھے۔ میں سمجھ گیا کہ یہ ”مسجد اقصیٰ“ کا مینار ہے۔ میں اور پال راستہ پوچھتے پوچھتے اس بازار میں داخل ہوئے، جہاں صرف قادیانیوں کی دکانیں تھیں۔ یہ بازار ویران نظر آتا تھا اور دکانداروں کے چہروں پر بھی کلونس اور ویرانی نظر آتی تھی۔ ان میں سے بیشتر کے قد لمبے اور جسم دبلے پتلے تھے اور چہروں پر فرنچ کٹ داڑھیاں تھیں۔ بازار تو موجود تھا، لیکن گاہک نظر نہ آتے تھے۔ ایک قادیانی ریڈیو مرمت کرنے کی دکان کھولے بیٹھا تھا۔ دوسرا مرتد چائے کا ہوٹل چلا رہا تھا، ایک دکاندار آئس کریم بنانے والی مشین لیے بیٹھا تھا۔ باقی دکانداروں کی بھی یہی کیفیت تھی۔ ان میں سے بیشتر بہاری تھے۔ جو بہار کی سکونت ترک کر کے ”قادیان“ میں آ بسے تھے۔

میں نے اپنے دل میں کہا، یا اللہ ! یہ کوئی ویرانی سی ویرانی ہے، پندرہ ہزار کی آبادی کا قصبہ اور اس کے جنوب مغربی گوشہ میں قادیانیوں کا مرکز اور ان کے رہائشی مکانات، مرد، عورتیں، بوڑھے، بچے سبھی ملا کر پندرہ ہزار نفوس پر مشتمل اس قصبہ قادیان کے بارے میں تو متنبی قادیانی کو یہ الہام ہوا تھا کہ اس کی آبادی بڑھ کر لاہور سے جا ملی ہے۔ اس طویل و عریض شہر میں اس کو ایک بازار دکھایا گیا تھا۔ جس میں کھوے سے کھوا چھلتا تھا اور بگھیاں، ٹم ٹم، وکٹوریہ اور خدا جانے کون کون سی سواریاں رواں دواں تھیں۔ اس بازار میں سونے، چاندی اور جواہرات کا کاروبار ہوتا تھا اور بڑی بڑی توندوں والے سیٹھ گدیوں پر بیٹھے تھے۔ متنبی قادیانی بربنائے الہام لکھتا ہے کہ ایک وقت ایسا بھی آنے والا ہے کہ لوگ لاہور کے بارے میں استفسار کریں گے تو انہیں بتایا جائے گا کہ اب وہ قادیان کا ایک محلہ بن گیا ہے۔

میں قادیان کے ویران بازار میں کھڑا جب اس الہام پر غور کر رہا تھا تو مجھے متنبی قادیانی کے الہام کے تار و پود تار عنکبوت کی طرح ہوا میں ہچکولے کھاتے نظر آرہے تھے یہاں بڑی بڑی توندوں والے جواہرات کا کاروبار کرنے والے سیٹھوں کی بجائے خالی شکم، مرجھائے ہوئے چہروں والے ٹٹ پونجیے دکاندار نظر آرہے تھے، جو قادیان کے ایک گوشے

صفحہ 41

میں سمٹ آئے تھے۔ قادیان پھیلنے کی بجائے، اب سکڑ چکا تھا۔

میں اور میرا رفیق نام نہاد مسجد اقصیٰ کا راستہ پوچھتے ہوئے آگے بڑھتے گئے۔ جب ہم انجمن کے مرکزی دفتروں کے درمیان سے گزرے تو سامنے ایک لحیم و شحیم ادھیڑ عمر قادیانی آتا دکھائی دیا۔ اس نے ہمیں غور سے دیکھا اور ہمارے قریب آکر رک گیا اور خود ہی اپنا تعارف کراتے ہوئے کہا ”میرا نام عبدالرحیم عاجز ہے۔ میں گورنمنٹ ملازم تھا۔ اب پنشن لے کر یہاں آگیا ہوں، کافی عرصہ سرکاری ملازمت کی ہے۔ اب دین کی خدمت کا جذبہ لے کر یہاں آگیا ہوں اور میں انجمن کا سیکرٹری ہوں۔“ میں نے اپنا نام اور پتہ بتایا اور اس سے کہا کہ میں نام نہاد مسجد اقصیٰ اور نام نہاد بہشتی مقبرہ دیکھنا چاہتا ہوں۔

عاجز نے کہا ”وہ تو آپ دیکھ ہی لیں گے، میں ان کے علاوہ بھی بہت کچھ دکھانا چاہتا ہوں۔“ میں نے کہا کہ ہمارے پاس وقت کم ہے اور ہم نے رات کے کھانے پر امرتسر پہنچنا ہے اور سوا سات بجے یہاں سے آخری بس روانہ ہوتی ہے۔ عاجز نے کہا ”آپ اس بات کی فکر نہ کریں۔ رات یہاں مہمان خانہ میں بھی گزار سکتے ہیں۔ اگر جانا ضروری ٹھہرا تو ہم آپ کو ٹمپو پر بٹالہ پہنچادیں گے۔ اس لیے اطمینان کے ساتھ جو دیکھنا چاہیں، وہ دیکھ لیجئے۔

عاجز ہمیں متنبی قادیانی کی رہائش گاہ پر لے گیا۔ ان دنوں متنبی کا ایک پوتا مرزا وسیم احمد وہاں مقیم تھا۔ اتفاق سے وہ ان دنوں حیدر آباد دکن گیا ہوا تھا۔ اس لیے اس سے ملاقات نہ ہوسکی۔ وسیم احمد کی رہائش گاہ کے احاطے میں چند دروازے کھلتے ہوئے نظر آئے۔ پہلے وقتوں میں یہاں مرزا غلام احمد کی بیویاں رہا کرتی تھیں۔ ان کے ایک ”صحابی“ سے روایت ہے کہ انہیں کسی سے یہ پوچھنے کی ضرورت پیش نہیں آیا کرتی تھی کہ حضور کس زوجہ کے ہاں قیام پذیر ہیں، جس دروازے کے باہر باداموں کے چھلکے اور انڈوں کے خول پڑے نظر آئے۔ نام نہاد اصحاب سمجھ جاتے کہ حضور نے رات یہیں داد عیش دی ہے۔

عاجز نے ہمیں ایک کمرہ دکھایا، جس کا طول و عرض ۱۲ × ۱۲ فٹ ہوگا۔ اس کی چار دیواروں کے وسط میں طاقچے (مشکوٰۃ) بنے ہوئے تھے۔ عاجز نے ہمیں بتایا کہ مرزا صاحب نے اس کمرہ میں پچاس کتابیں تحریر کی تھیں۔ حضرت صاحب کو چل پھر کر لکھنے کی عادت تھی۔ پین کا اس وقت رواج نہ تھا۔ ان چاروں طاقچوں میں ایک ایک دوات پڑی رہتی

صفحہ 42

تھی اور حضور چلتے پھرتے ان میں ڈبکیاں لگا لیتے تھے۔ میں نے کہا یہ تو مشائین کا طریقہ ہے۔ عاجز نے مسکراتے ہوئے کہا۔ یہی سمجھ لیجئے۔ یہ کمرہ قادیانیوں کے نزدیک مہبط وحی اور بقعہ انوار نبوت تھا۔ عاجز نے تو صرف پچاس کتابوں کا ذکر کیا تھا جو مرزا نے اس کمرہ میں چل پھر کر لکھی تھیں۔ لیکن وہ کمرہ نہ دکھایا جہاں چل پھر کر مرزا نے انگریزوں کی حمایت میں اتنی کتابیں لکھی تھیں، جن سے پچاس الماریاں بھر گئی تھیں۔ یہ الماریاں بھی کہیں نظر نہ آئیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ تقسیم ملک کے وقت انہیں مرزا محمود ربوہ لے گئے ہوں یا پھر انگریز یہاں سے کوچ کرتے وقت یہ متاع گراں بہا اپنے ساتھ لندن لے گئے ہوں۔

اس کمرہ سے جانب غرب ایک کھڑکی نظر آتی ہے۔ عاجز نے اس کے پٹ کھولے تو معلوم ہوا کہ یہ ایک چھوٹا سا دروازہ ہے۔ اس سے گزر کر تین چار سیڑھیاں چڑھ کر ایک چھوٹے سے کمرے میں داخل ہوتے ہیں۔ اس کمرہ کا رقبہ ٦x٨ فٹ ہو گا۔ عاجز نے خود ہی بتایا کہ مرزا اس کمرے میں تہجد ادا کرتے اور دعائیں مانگا کرتے تھے۔ حضرت اقدس کی برکت سے یہ کمرہ اب بھی مستجاب الدعوۃ ہے۔ اس کمرے سے جانب جنوب اسی طرح کی ایک کھڑکی تھی۔ عاجز نے اس کے پٹ کھولے تو معلوم ہوا کہ یہ بھی تہجد گاہ کے سائز کا ایک کمرہ ہے۔ اس کے بارے میں عاجز نے بتایا کہ یہ دارالفکر ہے۔ ہمارے حضرت صاحب اس کمرہ میں امت کے بارے میں سوچا کرتے تھے اور ان کی حالت پر رویا کرتے تھے۔ ہم عاجز کے ساتھ اس دارالفکر اور بیت الحزن میں داخل ہوئے تو گرمی کی وجہ سے دم گھٹنے لگا۔ اس کمرہ کی جانب جنوب ایک کھڑکی تھی۔ عاجز نے پٹ کھولے تو سامنے ایک دالان نظر آیا۔ تین چار سیڑھیاں چڑھ کر اس میں داخل ہوئے تو عاجز نے ہمیں بتایا کہ یہ نام نہاد مسجد مبارک ہے۔ حضرت اقدس عموماً اس مسجد میں نماز ادا کیا کرتے تھے۔ جب نماز کا وقت آتا تو حضرت صاحب بیت الحزن سے اس کھڑکی کے راستے داخل ہو کر جماعت میں شریک ہو جایا کرتے تھے۔ قادیانیوں کے نزدیک اس میں نماز ادا کرنے کا بڑا ثواب ہے۔

اس گورکھ دھندے سے نکل کر ہم تنگ اور پیچیدہ گلیوں سے گزرتے ہوئے نام نہاد مسجد اقصیٰ پہنچے۔ اس وقت اس کے صحن کو پانی ڈال کر ٹھنڈا کیا جا رہا تھا۔ ہمارے استفسار پر عاجز نے بتایا کہ نماز مغرب کے بعد تمام مرد و زن یہاں جمع ہوتے ہیں اور یہ تار جو ہم دیکھ رہے ہیں، اس پر پردہ ڈال دیا جاتا ہے۔ عشاء کی نماز تک وعظ و تذکیر کا سلسلہ جاری رہتا

صفحہ 43

ہے۔

میں نے ہنوز عصر کی نماز ادا نہیں کی تھی۔ عاجز اپنے ساتھیوں کو ہدایات دینے لگا تو میں نام نہاد مسجد اقصیٰ کے اندر نماز ادا کرنے چلا گیا۔ (اللہ تعالیٰ اس نماز کو قبول فرمائے۔ میرے نزدیک قادیان کی ”نام نہاد مسجد اقصیٰ“ اور سومنات کا مندر ایک برابر ہیں۔

اس کے صحن میں جانب جنوب مشرق ایک پختہ قبر نظر آئی۔ عاجز نے ہمیں بتایا کہ یہ حضرت اقدس کے والد بزرگوار مرزا غلام مرتضیٰ کی قبر پرنور ہے۔ میرا دھیان فوراً ”تذکرہ رؤسائے پنجاب“ کی طرف گیا۔ جس میں یہ مرقوم ہے کہ ”اس خاندان نے غدر ۱۸۵۷ء کے دوران بہت اچھی خدمات انجام دیں۔ غلام مرتضیٰ نے بہت سے آدمی بھرتی کیے اور اس کا بیٹا غلام قادر جنرل نکلسن صاحب بہادر کی فوج میں اس وقت تھا جب کہ افسر موصوف نے تریمو گھاٹ پر نمبر ۴۶ نیٹو انفنٹری کے باغیوں کو، جو سیالکوٹ سے بھاگے تھے، تہہ تیغ کیا۔“

تذکرہ رؤسائے پنجاب میں یہ بھی مرقوم ہے کہ ”۱۸۵۷ء میں یہ خاندان ضلع گورداسپور کے تمام دوسرے خاندانوں سے زیادہ نمک حلال رہا۔ والد بزرگوار مرزا غلام مرتضیٰ کی قبر پرنور کے قریب (گرفن و میسی، تذکرہ رؤسائے پنجاب، مطبوعہ لاہور ۱۹۳۰ء، جلد ۲، ص ۶۸) ”منارۃ المسیح“ واقع ہے۔ یہ وہی مینار ہے۔ جو میں نے بس اسٹینڈ سے دیکھا تھا۔ لطف کی بات یہ ہے کہ مسیح موعود پہلے آیا اور مینار بعد میں تعمیر ہوا۔ ان دنوں اس مینار کے گرد سنگ مرمر کی سلیں لگائی جا رہی تھیں۔ عاجز نے ہمیں بتایا کہ اس پر قلعی کرتے کرتے وہ عاجز آ گئے ہیں۔ ہر سال برسات کے موسم میں مینار کی دیواروں پر پھپھوندی سی لگ جاتی ہے۔ اس لیے اب سنگ مرمر لگا رہے ہیں تاکہ بار بار قلعی کرنے کی زحمت سے نجات ملے۔

میں نے مینار کے گرد گھوم کر اس کا جائزہ لیا اور دل میں کہا کہ مرزائیوں کو چاہیے کہ اب اس مینار کو منہدم کر دیں۔ مسیح موعود کا نزول تو ہو چکا ہے۔ اگر یہ مینار باقی رہا تو شاید کوئی اور بلا نازل ہو جائے۔ میں آگے بڑھنا چاہتا تھا کہ عاجز نے کہا ”ایسے کام نہیں چلے گا۔ آپ مینار پر ضرور چڑھیں۔ اس کے اصرار پر میں مینار پر چڑھا تو میرا سانس اس قدر پھول گیا کہ دل کی دھڑکن بند ہو جانے کا خطرہ پیدا ہو گیا۔

صفحہ 44

کافی دیر بعد میرے حواس درست ہوئے تو میں نے کھڑے ہو کر قادیان کا جائزہ لیا۔ جانب شمال کافی فاصلے پر تعلیم الاسلام کالج کی عمارت نظر آ رہی تھی۔ یہ کالج اب غیر قادیانیوں کی تحویل میں ہے۔ میری مراد ہے کہ ہندوؤں کے قبضہ میں ہے۔ جانب جنوبی ذرا فاصلے پر ایک باغ نظر آیا تو میں نے دل میں کہا کہ ہو نہ ہو ”یہی بہشتی مقبرہ ہے“۔ میرا قیافہ درست نکلا اور وہ باغ بہشتی مقبرہ ہی تھا۔

عاجز ہمیں ساتھ لے کر باہر نکلا۔ انجمن کے دفاتر اس وقت بند ہو چکے تھے۔ ہم دفاتر کے سامنے سے گزر کر دوبارہ بازار میں آگئے۔ بازار کے دوسری جانب مہمان خانہ تھا اور اس کے قریب ہی جامعہ احمدیہ تھی۔ جہاں مرزائیت کی تبلیغ کے لیے مبلغ تیار کیے جاتے ہیں۔ جب ہم جامعہ دیکھ چکے تو عاجز کا بیٹا عبدالحفیظ وہاں پہنچ گیا۔ عاجز نے اس سے کہا ”انہیں بہشتی مقبرہ لے جاؤ، دروازے پر چوکیدار (رضوان) ملے گا۔ اس نے اگر کوئی اعتراض کیا تو اس سے کہنا کہ اس وقت انہیں خصوصی اجازت دی گئی ہے اور ہاں انہیں گھر ضرور لانا، میں ان کے لیے چائے بنواتا ہوں“۔

عبدالحفیظ ہمیں ساتھ لے کر آگے بڑھا۔ میرے استفسار پر اس نے بتایا کہ شام چار بجے سے سات بجے تک بہشتی مقبرہ صرف عورتوں کے لیے کھولا جاتا ہے۔ مرد اس وقت اندر نہیں جاسکتے۔ ابا نے آپ کو خصوصی اجازت دی ہے۔

بہشتی مقبرہ کی جانب بڑھے۔ راستے میں برقع پوش مرزائیوں کی کئی ٹولیاں بہشتی مقبرہ جاتی یا وہاں سے آتی ہوئی نظر آئیں۔ بہشتی مقبرہ کے دروازے پر ایک بوڑھا چوکیدار دیوار سے ٹیک لگائے ہوئے بیٹھا تھا۔ عبدالحفیظ نے اس سے کہا کہ انہیں اس وقت بہشتی مقبرہ دیکھنے کی خصوصی اجازت ملی ہے۔ اس پر چوکیدار نے ہاتھ سے اندر جانے کا اشارہ کیا۔ ہمیں داخل ہوتے دیکھ کر روسیاہ مرزائیں منہ پھیر کر کھڑی ہو گئیں۔ میں نے بہشتی مقبرہ کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ وہ بڑا سر سبز باغ ہے۔ چار دیواری کے ساتھ ساتھ سفیدے کے درخت لگائے گئے تھے جو آسمان سے باتیں کر رہے تھے۔ مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ بھی چپکے چپکے سرگوشیاں کر رہے ہوں۔ مقبرے کے اندر پھولوں کے تختے بڑے سلیقے کے ساتھ بنائے گئے تھے اور نالیوں میں گلاب کے پودے بڑے قرینے کے ساتھ لگائے گئے تھے۔

صفحہ 45

بہشتی مقبرہ کی جانب جنوب مشرق، ایک وسیع چار دیواری میں بہت سی قبریں تھیں۔ ان میں سے نمایاں قبریں صرف دجال قادیانی اور نور الدین بھیروی کی تھیں۔ قبروں کے سرہانے الواح نصب تھیں اور قبریں کچی تھیں۔ البتہ ان کے گرد اینٹوں کا گھر بنایا ہوا تھا۔ زائرین کو اس مخصوص احاطے میں داخل ہونے کی ممانعت ہے۔ اس کا لوہے کی سلاخوں سے بنا ہوا پھاٹک ، جو دجال قادیانی کی قبر سے جانب مغرب چند گز کے فاصلے پر ہے، مقفل تھا۔ چند عورتیں اس سے چمٹ کر اپنے سینوں کو ”نور“ سے بھر رہی تھیں اور سسکیاں لے لے کر دعائیں کر رہی تھیں۔ ہمیں دیکھ کر وہ پرے ہٹ گئیں اور دیوار کی طرف منہ کر کے کھڑی ہو گئیں۔

سنا ہے کہ برطانوی عہد میں یہ پھاٹک کھلا رہتا تھا اور مرزائی اپنے مسیح موعود علیہ ما علیہ کی قبر کی پر شرر مٹی کو خاک شفا سمجھ کر اٹھا لے جاتے تھے۔ مجاورین ہر صبح کو اس پر تازہ مٹی ڈال دیتے اور شام تک قبر میں دو بار گڑھا سا بن جاتا۔ لاعلاج مردانہ بیماریوں کے لیے یہ مٹی اکسیر اعظم کا حکم رکھتی تھی۔ ایسے مریض قبر کے قریب بیٹھ جاتے اور دائیں بائیں نظر دوڑا کر مساس اور تقبیل کر لیتے ۔ بس پہلی ہی رگڑ سے تمام روگ دور ہو جایا کرتے تھے۔ ایک بار چند احراری بزرگ یہ نسخہ آزماتے ہوئے دیکھے گئے تو پھر یہ پھاٹک عام زائرین کے لیے بند کر دیا گیا۔ اب دور ہی سے استلام کی اجازت ہے۔

اس ”مقدس“ چار دیواری کے باہر ہزاروں قبریں ہیں جو سیدھی لائنوں میں بڑے قرینے سے بنائی گئی ہیں۔ ان میں سے اکثر و بیشتر قبریں موصیوں کی ہیں۔ یہاں وہ بد بخت دفن ہیں ، جنہوں نے اپنی جائیداد میں سے ۱/۱۰ حصہ کی وصیت انجمن کے نام کی تھی۔ کئی جگہ صرف الواح نصب ہیں اور قبر کا نشان نہیں ہے۔ میرے استفسار پر جواب ملا کہ یہ ان موصیوں کے نام کی الواح ہیں، جنہیں یہاں دفن ہونا تھا لیکن کسی وجہ سے ان کی میت یہاں تک نہ پہنچ سکی۔ اب صرف ان کے نام الواح پر کندہ ہیں اور قادیانی جب آسودگان بہشتی مقبرہ کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں تو وہ بھی اس دعا میں شامل ہو جاتے ہیں۔

مقدس ”چار دیواری“ کے قریب ”مواجہہ“ کے سامنے چند لائنوں میں حضرت اقدس کے ”اصحابیوں“ کی قبریں ہیں۔ ہر ”صحابی“ کی لوح مزار پر اس کی خدمات منقوش ہیں۔ ”مثلاً یہ فلاں مباہلہ میں حضرت مسیح موعود کے ساتھ تھا اور یہ فلاں مناظرہ میں موجود

صفحہ 46

تھا اور یہ خوش نصیب حضرت مسیح موعود کے غسل و کفن میں شریک تھا۔ ایک ”صحابی“ نے یہ وصیت کی تھی کہ اس کی لوح مزار پر لکھ دینا کہ یہ حضرت صاحب کا خادم خاص تھا۔ وغیرہ وغیرہ۔

بہشتی مقبرہ میں جانب مغرب ایک جگہ جنازہ ادا کرنے کے لیے خالی جگہ رکھی گئی ہے۔ عبد الحفیظ نے مجھے بتایا کہ جنازہ کے لیے شرکاء کم ہوں یا زیادہ‘ نماز جنازہ میں سات سطریں بنانا ضروری ہے‘ کیونکہ حضرت کی نماز جنازہ میں بھی سات سطریں بنی تھیں۔ اس لیے اب سات سطریں بنانا سنت مرزا سمجھا جاتا ہے۔

بہشتی مقبرہ سے ہم عاجز کے مکان کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں باپردہ مرزائیوں کی کئی ٹولیاں مقبرہ کی طرف جاتی ہوئی نظر آئیں۔ جب ہم عاجز کے مکان پر پہنچے تو وہاں ایک دبلا پتلا سانولے رنگ کا قادیانی موجود تھا۔ جس کے چہرے پر ایک عجیب قسم کی پھٹکار نظر آتی تھی۔

مجھے یہ ماحول بڑا عجیب سا معلوم ہوا۔ تھوڑی دیر میں عاجز بھی وہاں پہنچ گیا اور عبد الحفیظ چائے لے آیا۔ چائے نوشی کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ وہ ہونق مرزائی لندن میں رہتا ہے۔ ان کی بیوی چند روز پہلے مرزا جی کو پیاری ہو گئی تھی اور وہ اس کی میت ربوہ میں دفن کر کے قادیان آیا ہے۔ میں نے اس سے پوچھا کہ وہ اپنی اہلیہ کی میت قادیان کیوں نہ لے آیا؟ اس نے کہا کہ ربوہ میں اس کے اور بھی رشتے دار دفن ہیں۔ اس لیے اس نے مرنے سے قبل وہیں دفن ہونے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ یوں بھی لندن سے ربوہ میت لے جانا آسان ہے۔ قادیان لانے میں حکومت ہند کا قانون آڑے آتا ہے‘ ورنہ ظاہر ہے کہ تقدس کے اعتبار سے مکہ و مدینہ کے بعد قادیان ہی کا نمبر ہے۔ یہ بات راقم الحروف اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا بلکہ مرزا بشیر الدین محمود نے تقسیم ہند کے موقعہ پر قادیان کو پاکستان میں شامل کرنے کے لیے جو درخواست ریڈ کلف کے حضور میں پیش کی تھیں۔ اس میں یہی موقف دہرایا گیا تھا کہ قادیان ایک مقدس مقام ہے۔ یہ ایک نبی کی جائے ولادت ہے اور یہی اس کی آخری آرام گاہ ہے۔ اس لیے ہمارے نزدیک تقدس کے اعتبار سے مکہ و مدینہ کے بعد قادیان ہی کا نمبر ہے۔ (اس درخواست کی فوٹو اسٹیٹ کاپی پروفیسر منظور الحق صدیقی ساکن سیٹلائٹ ٹاؤن‘ راولپنڈی کی تحویل میں ہے)

صفحہ 47

عاجز کے ہاں سے اٹھ کر ہم بس اسٹینڈ کی طرف روانہ ہوئے۔ وہیں میں نے نماز مغرب ادا کی اور بس میں سوار ہو کر امرتسر کی جانب روانہ ہوا۔

(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ جلد ۷‘ شمارہ ۱۵۰‘ از قلم پروفیسر محمد اسلم)

بنگلہ دیش میں قادیانیوں کا سب سے مضبوط قلعہ

فتح کر لیا گیا

گزشتہ ماہ برہمن باڑیہ‘ گاندھی پاڑہ جہاں قادیانی جماعت کا بنگلہ دیش کی مشرقی سرحد کا مرکزی دفتر‘ بہت بڑا مرزائیہ اور لائبریری وغیرہ قائم ہے۔ اس کو بھر پور اور زبردست تحریک کے بعد مسلمانوں نے اپنے قبضہ میں لے لیا۔ اس دوران تحفظ ختم نبوت کے ۳۲ کارکن پولیس لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے استعمال سے زخمی ہوئے۔ جب کہ دو جانباز گولیوں سے شدید زخمی ہوئے۔ تاہم شمع ختم نبوت کے پروانوں نے قادیانی مرکز پر قبضہ کر لیا۔ برہمن باڑیہ میں قادیانی تبلیغ پوری شدت سے جاری تھی۔ بنگلہ دیش بننے کے بعد انہوں نے یہاں تین منزلہ دفتر بنایا جہاں عبادت خانہ اور لائبریری بھی تھی۔ اس دفتر کے تحت پورے علاقے میں بہت سے ذیلی دفتر تھے۔

قادیانیوں کے مقابلہ میں تحفظ ختم نبوت کے نوجوانوں کی تنظیم بھی پوری شدت کے ساتھ سرگرم عمل تھی جس کے نتیجہ میں تھوڑے ہی عرصہ میں ۸۹ قادیانی خاندانوں نے جو کہ تعلیم یافتہ تھے۔ جامعہ اسلامیہ یونسیہ کے شیخ الحدیث اور مہتمم حضرت مولانا سراج الاسلام کے دست حق پرست پر فتنہ قادیانیت کو چھوڑ کر اسلام قبول کر لیا‘ جنہوں نے قبول اسلام کے بعد عدالت میں دعویٰ کر دیا۔ نو مسلموں نے اپنے دعویٰ میں کہا کہ جن عبادت خانوں میں اذان دی جائے اور جس کو مسجد کا نام دیا جائے‘ ان مساجد کے تحفظ کی ذمہ داری مسلمانوں کا شرعی حق ہے اور یہ مسلمانوں کے شعائر ہیں۔ انہوں نے اپنے دعویٰ میں کہا کہ قادیانیوں کو اذان دینے اور اپنے عبادت خانوں کو مسجد کا نام دینے سے روکا جائے۔ ان کے

صفحہ 48

مطالبہ پر ڈی سی برہمن باڑیہ نے قادیانیوں کو اذان دینے سے منع کر دیا۔ دو ماہ بعد پھر قادیانیوں نے غیر قانونی حرکتیں شروع کر دیں۔ اذان بھی دی گئی اور لاؤڈ اسپیکر بھی استعمال کیا گیا۔ چنانچہ نو مسلموں نے مجلس تحفظ ختم نبوت سے امداد کی درخواست کی کہ چونکہ یہاں مسجد کا بورڈ لگا ہوا ہے اور اذان بھی دی جاتی ہے۔ لہٰذا یہ قادیانیوں کا نہیں ہمارا حق ہے۔ ہم وہاں جائیں گے اور نماز پڑھیں گے۔ چنانچہ نو مسلموں کی اپیل پر وہاں پانچ ہزار مسلمان قبضے اور نماز کے لیے پہنچ گئے۔ جن کو روکنے کے لیے اڑھائی صد پولیس کی مسلح نفری تھی۔ مسلمانوں کو روکنے کے لیے ۱۰۰ راؤنڈ آنسو گیس اور دس راؤنڈ گولیاں استعمال کی گئیں۔ جن سے تحفظ ختم نبوت کے ۳۴ کارکن زخمی ہو گئے۔ جن میں سے ۲ شدید زخمی تھے۔ جب صورتحال سنگین ہو گئی اور معاملہ پولیس کے کنٹرول سے باہر چلا گیا تو مقامی ڈی سی، قومی اسمبلی کے ممبر اور میونسپل چیئرمین نے قادیانیوں کو وہاں سے بے دخل کر دیا اور وہ قادیانیوں کا مرکزی دفتر، عبادت خانہ اور لائبریری نو مسلموں کے حوالے کر دی گئی۔ جسے اب باقاعدہ مسجد کی شکل دے دی گئی ہے۔ پنج وقتہ نماز باجماعت، اذان اور جمعہ ہو رہا ہے۔ تراویح میں قرآن پاک سنانے کا انتظام کیا گیا ہے۔ الغرض بنگلہ دیشی قادیانیوں کا سب سے مضبوط قلعہ فتح ہو گیا ہے۔ اس واقعہ کے بعد یکم مئی کو ۳۱ خاندانوں نے اور ۲ مئی کو ۲۳ قادیانی خاندانوں نے اسلام قبول کر لیا۔ اس واقعہ کے اثرات پورے بنگلہ دیش میں پھیل چکے ہیں اور نوجوان تحفظ ختم نبوت کے ساتھ مل کر ہر طرح کی قربانی دینے کو تیار ہیں۔ (ہفت روزہ ’ختم نبوت‘ جلد ۶ شمارہ ۲ جون ۱۹۸۷ء)

مجلس احرار کا رعب

مولانا خلیل الرحمن لدھیانوی فرماتے ہیں کہ میں جب قادیان میں جاتا اور کبھی بازار میں نکلتا تو دو قادیانی مسلسل میری نگرانی کرتے رہتے۔ ایک دفعہ احرار کے چند ورکروں نے ان قادیانیوں سے اس سلسلہ میں باز پرس کی تو انہوں نے کہا کہ یہ شخص (مولانا خلیل الرحمن لدھیانوی) جب بھی قادیان آتا ہے تو ہماری قادیانی انتظامیہ کو ان کی حفاظت کے

صفحہ 49

لیے پریشانی لاحق ہو جاتی ہے۔ کیونکہ ایک تو یہ مجلس احرار اسلام کے صدر کا بیٹا ہے۔ دوسرے یہ مجلس احرار اسلام کا ڈکٹیٹر بھی ہے۔ اگر اس کو قادیان میں کچھ ہو گیا تو یہ بات ہمارے لیے بڑی پریشانی کا باعث بنے گی۔ اس لیے ہم ان سے دور رہ کر ان کی حفاظت کرتے ہیں۔

(مرزا غلام احمد قادیانی کے ارتداد پر سب سے پہلا فتوائے تکفیر‘ ص ۴۷

از مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی)

صفحہ وقت نے محفوظ کر لیے ہیں وہ نام
جو چراغوں کی طرح سب کے لیے جلتے تھے (مؤلف)

قاضیؒ صاحب کا ایثار

چودھری محمد علی صاحب کے ایک لڑکے کی شادی ایم‘ ایچ‘ صوفی‘ سی ایس پی کی دختر نیک اختر سے ہوئی۔ قاضی صاحب کا تعلق صوفی صاحب سے نہایت دوستانہ رہا ہے۔ صوفی صاحب نہایت متین‘ ذہین اور قابل افسر ہیں۔ ان کا دامن کبھی داغدار نہیں رہا ہے۔ جن دنوں صدر ایوب خان تازہ تازہ مارشل لاء لائے تھے۔ ان دنوں یہ بات مشہور تھی کہ ملک بھر میں کوئٹہ کا کمشنر ہی رات کو چین کی نیند سوتا ہے۔ صوفی محمد حسین ان دنوں کوئٹہ کے کمشنر تھے۔ اس بات کا میں خود گواہ ہوں کہ جن دنوں صوفی صاحب‘ چیف سیٹلمنٹ کمشنر مغربی پاکستان تھے۔ میں‘ قاضی صاحب کے ساتھ صوفی صاحب کو ملنے ان کے بنگلے پر گیا ہوا تھا۔ تو قاضی صاحب کے ساتھ صوفی صاحب کے ڈرائیور کی بات چل نکلی۔ ڈرائیور نے کہا کہ آج ہی کئی لاکھ روپے مل رہے تھے‘ اگر صوفی صاحب ایک کلیم پر دستخط کر دیتے۔ مگر انہوں نے انکار کر دیا۔ صوفی صاحب سے جب کبھی ہماری ملاقات ہوئی تو انہوں نے قاضی صاحب کا نام نہایت احترام سے لیا اور ان کی خیریت دریافت کی۔ خیر چودھری صاحب کے لڑکے کی شادی کی تقریب میں قاضی صاحب بھی مدعو تھے‘ بلکہ نکاح بھی قاضی صاحب نے

صفحہ 50

ہی پڑھایا۔

چودھری محمد علی‘ تحریک ختم نبوت کے دوران حکومت پاکستان کے سیکرٹری جنرل تھے۔ ظاہر ہے کہ وہ ایک اہم عہدے پر فائز تھے اور یہ عہدہ ایسا تھا کہ جس کا تعلق پالیسی میٹر (Policy Matter) سے براہ راست تھا۔ قاضی صاحب نے چودھری صاحب سے ملاقات کے لیے وقت مانگا۔ چودھری صاحب نے وقت دے دیا۔ قاضی صاحب اپنے ساتھ کتابوں کا ایک صندوق لے کر چودھری صاحب کی کوٹھی پر تشریف لے گئے۔ خادم ساتھ تھا۔ سب سے پہلے چودھری صاحب کو مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت بتائی۔ اس کے بعد قادیانیوں کی سازشوں کی نقاب کشائی کی۔ پاکستان‘ اسلام اور مسلمانوں سے ان کی دشمنی کا پس منظر واضح کیا۔ اکھنڈ بھارت کے سلسلہ میں مرزا محمود کے رؤیا دکھائے۔ مرزا غلام احمد کی تمام تحریریں دکھائیں۔ جن سے انبیاء کرام علیہ السلام‘ اہل بیت اطہار اور اہل اللہ کی توہین کے پہلو نکلتے تھے۔ چودھری صاحب بہت متاثر ہوئے۔ یہ ملاقات رات کے دو بجے جا کر کہیں ختم ہوئی۔ سخت سردی کا عالم تھا۔ دوستوں نے خیال کیا کہ چودھری صاحب‘ اب قاضی صاحب کو واپس جانے نہیں دیں گے‘ اور اصرار کریں گے کہ وہ چودھری صاحب کی سرکاری کوٹھی پر ہی آرام فرمالیں۔ مگر چودھری صاحب کو شاید ظفر اللہ خاں‘ وزیر خارجہ کی خشمگیں نگاہیں نظر آ رہی تھیں۔ چنانچہ انہوں نے قاضی صاحب کو اپنے ہاں رات کے باقی حصہ کے لیے بستر اور چارپائی مہیا نہ کی۔ نتیجتاً قاضی صاحب کو اپنے ساتھی سمیت رات کے دو بجے چودھری صاحب کی کوٹھی سے نکلنا پڑا۔ جب قاضی صاحب رخصت ہونے لگے تو چودھری صاحب نے از راہ شفقت اپنی سٹاف کار پیش کرنا چاہی‘ جسے قاضی صاحب نے بڑی ”شرافت“ سے ٹھکرا دیا اور بس سٹاپ پر پہنچ گئے۔ دو گھنٹے تک بس سٹاپ پر‘ بس کے انتظار میں سردی سے ٹھٹھرتے رہے۔ چونکہ کوئی کمبل یا اوور کوٹ ساتھ نہیں لائے تھے۔ اس لیے سخت سردی کے عالم میں بس سٹاپ پر رکے رہے۔ صبح ۴ بجے پہلی بس ملی تو قاضی صاحب دفتر ختم نبوت پہنچے۔ یہ تھی چودھری محمد علی صاحب سابق وزیر اعظم سے ایک تاریخی اور یادگار ملاقات کی تفصیل۔

(قاضی احسان احمد شجاع آبادی‘ ص ۳۷۳ تا ۳۷۵‘ از قلم قاری نور الحق قریشی)

صفحہ 51
بند کلیاں چمن میں کھل جائیں
تم ذرا مسکرا کے دیکھ تو لو (مؤلف)

حضرت مولانا شاہ سلیمان لاجپوری سورتیؒ

مولانا شاہ سلیمان کا مرزا قادیانی سے مباحثہ

آپؒ نے ایک مرتبہ مرزا قادیانی سے ملاقات کی۔ آپؒ نے فرمایا کہ جب میں قادیان گیا تو بارش کا زمانہ تھا اور مرزا صاحب مکان کی تیسری منزل پر رہا کرتے تھے اور نماز کے لیے اوپر جایا کرتے تھے۔

وہاں اس کے حواری حکیم نور الدین بھی موجود تھے۔ ان کا دستور تھا کہ نماز کے بعد اپنے الہامات بیان کرتے تھے۔ حکیم نور الدین نے ان سے میری نسبت کہا کہ یہ ایک نقشبندی درویش ہیں چونکہ میرے پاس صرف ایک کملی تھی اور ظاہری شان و شوکت کچھ نہیں تھی۔ اس لیے اولاً تو میری طرف متوجہ نہیں ہوئے اور لوگوں کی طرف مخاطب ہو کر کہنے لگے کہ انبالہ والے میری نسبت کیا اعتقاد رکھتے ہیں۔ تو سب نے دست بستہ کہا کہ حضور آپ کو برحق سمجھتے ہیں۔ میں نے دل میں کہا کہ بھاری کام ہے۔

اس میں سے ایک شخص نے کہا کہ حضور میں نے آپ کی اور توکل شاہ صاحب کی نسبت استخارہ دیکھا تو آپ کو مقبول پایا اور اس کو مردود۔ بس اس کہنے سے میرے بدن میں آگ لگ گئی۔ اس واسطے کہ توکل شاہ پنجاب میں ایک نہایت قابل قدر بزرگ ہیں۔ میں ان سے ملا ہوں اور وہ مجھ سے بہت محبت رکھتے تھے۔

پس فوراً میں نے کہا کہ تم نے کس طرح استخارہ کیا۔ اس نے کہا کہ ایک کتاب کھول کر دیکھا۔ میں نے کہا کہ کیا اسے استخارہ کہتے ہیں۔ تو مرزا صاحب کہنے لگے کہ سائیں یہ جاہل لوگ ہیں۔ فال کو استخارہ کہتے ہیں۔ اسی وقت ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا کہ مجلس برخاست۔ سب اٹھ کر نیچے چلے آئے۔

صفحہ 52

میں نے حکیم نور الدین سے کہا کہ مجھ کو مرزا صاحب سے تنہائی میں ملنا ہے تو وہ کہنے لگے کہ آپ تنہائی میں کسی سے نہیں مل سکتے۔

خیر دوسرے وقت بعد نماز کے کہنے لگے کہ بخاری لاؤ۔ معالم التنزیل لاؤ۔ لوگوں نے خدا تعالیٰ کو بخیل بنا ڈالا۔ خدا تعالیٰ سخی ہے، جواد ہے۔ انسانی استعداد میں کوئی رتبہ ایسا نہیں جو انسان پیدا نہیں کر سکتا۔ میرے دل میں آیا کہ یہ شاید ختم نبوت کے قائل نہیں ہیں۔ میں نے کہا اگر اجازت ہو تو عرض کروں۔ انہوں نے کہا، کہو۔ میں نے کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ زمانہ کے فقیر جاہل ہوتے ہیں۔ میں بھی نہ عالم ہوں اور نہ مباحث۔ صرف تسلی و تشفی کے لیے عرض کرتا ہوں کہ میں نے سنا ہے کہ مراتب انسانی میں پہلا رتبہ مثلاً مومن ہے۔ پھر ذاکر، پھر عابد، پھر زاہد، پھر ابدال، پھر اقطاب، پھر غوث، پھر فرد الافراد، پھر نبی، پھر رسول، پھر اولوالعزم۔ تو کیا انسان اپنی استعداد و کوشش سے نبوت بھی حاصل کر سکتا ہے۔ تو انہوں نے سر بزانو ہو کر بہت دیر تک مراقبہ کیا۔ پھر سر اٹھا کر کہنے لگے کہ میرا کلام ولایت کے مقام میں ہے۔ نبوت تو ختم ہو چکی۔ میں نے کہا الحمد للہ میرا سوء ظن جاتا رہا اور معلوم ہو گیا کہ آپ رسول ﷺ کو خاتم النبیین مانتے ہیں۔

بس ایک شخص نے کہا، مجلس برخاست۔ وہ اٹھ کر اندر حجرہ میں چلے گئے اور سب لوگ نیچے اتر آئے۔ پھر دوسرے وقت بھی اسی طرح ایک شخص نے کہا مجلس برخاست کہ حضور کی طبیعت مکدر ہوتی ہے۔ سب اٹھ کر چلتے ہوئے مگر میں بیٹھا رہا۔ مجھ کو لوگوں نے کہا کہ اٹھو! میں نے کہا نہیں اٹھتے۔ تب انہوں نے یعنی مرزا صاحب نے کہا کہ بیٹھنے دو۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ میری جانب متوجہ ہوئے۔ تب میں نے کہا

سوال: میں لوگوں کو آپ کی کیا خبر دوں؟ جواب: کہ عیسیٰؑ بیٹے مریم کے مرگئے۔ سوال: تو کیا آپ ان کے اوتار ہیں، کیا تناسخ باطل نہیں ہے؟ جواب: یہ مطلب نہیں بلکہ خدائے تعالیٰ ان کا کام میرے ہاتھ سے لے گا۔ سوال: وہ تو دجال کو قتل کریں گے۔ آپ نے کون سے دجال کو مارا؟ جواب: یہ نصاریٰ جن کی ایک آنکھ حق کی پھوٹی ہوئی ہے۔ یہ گویا دجال ہیں۔ ان کو رد کرنا گویا قتل کرنا ہے۔

صفحہ 53

سوال: آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام وفات پاگئے؟

جواب: قرآن مجید میں ہے: ”فلما توفیتنی“

سوال: پھر ”وما قتلوہ وما صلبوہ“ کے کیا معنی ہوں گے؟

جواب: بس ساکت ہو کر بہت دیر تک سر بہ جیب مراقبہ کر کے فرمایا:

”یا احمد انی مبشرک“

سوال: وحی اور الہام میں کیا فرق ہے؟

جواب: کچھ فرق نہیں۔

سوال: میں نے سنا ہے کہ وحی میں فرشتہ روبرو ہوتا ہے اور الہام میں صرف پس پردہ ایک آواز ہوتی ہے۔ اس لیے وحی میں خطا نہیں ہوتی اور الہام میں خطا ممکن ہے؟

جواب: سنی ہوئی بات کا کیا اعتبار ہے؟

سوال: کیا الہام رحمانی اور شیطانی بھی ہوتا ہے؟

جواب: ہاں ہوتا ہے۔

سوال: پھر تو الہام میں غلطی ہو سکتی ہے۔

جواب: مگر اہل اللہ کے پاس ایک مقیاس ہوتا ہے، جس سے وہ خطا اور صواب کی پہچان لیتے ہیں۔

سوال: مقیاس کے کیا معنی؟

جواب: ترازو اور کانٹا۔

سوال: ترازو یا کانٹا خراب ہو گیا ہو تو پھر خطا اور صواب کو کیسے تمیز کریں گے۔ بس ساکت ہو کر سر بہ جیب مراقب ہو گئے۔ پھر سر اٹھا کر کہا:

جواب: اہل اللہ اسے پہچان لیتے ہیں۔

سوال: شیخ محی الدینؒ بن عربی کا کشف کیسا ہے؟

جواب: صحیح ہے۔

سوال: وہ اپنے الہام میں فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام زندہ ہیں پھر سر بہ جیب مراقبہ ہو کر بہت دیر کے بعد سر اٹھا کر کہا۔

صفحہ 54

جواب: قرآن کے سامنے سب کا الہام باطل ہے۔ ”فلما توفیتنی“

سوال: اس کے معنی موت کے کیسے ثابت ہوئے جبکہ معارض آیت میں موجود ہے؟

جواب: بخاری میں حضرت ابن عباس تفسیر کرتے ہیں کہ اے تمیتنی۔

سوال۱: بخاری نے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے شام میں نزول ہونے کا ایک باب باندھا ہے۔ وہاں آپ کے قادیان کا تو ذکر نہیں ہے۔ بس ساکت ہو گئے اور غصہ سے پسینہ پسینہ ہو گئے۔

جواب: نہایت غصہ سے کہنے لگے کہ عیسیٰؑ بیٹے مریم کے مرچکے۔ پس مجھ کو بھی جوش آگیا اور میں نے کہا۔

سوال۲: اچھا اس پر فیصلہ ہے کہ تم اور ہم دونوں یہاں بیٹھ جائیں اور یا تم ہم کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس لے جاؤ یا میں تم کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس لے جاؤں اور بذات خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے دریافت کرلیں کہ آپ حیات ہیں یا وفات پاچکے ہیں۔ بس وہ ٹھنڈے ہو گئے۔ پھر میں نے کہا کہ آپ کو خاتمہ کا ڈر ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ خاتمے کا تو سب کو ڈر ہے۔ میں نے کہا کہ بس دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ تمہارا ہمارا خاتمہ ایمان پر کرے۔ آمین ثم آمین۔

الغرض‘ پھر بعد اس مباحثہ کے ایک رقعہ نیچے لکھا کہ ان کو فلاں فلاں کتاب دینا۔ پھر مجھے کہا کہ میری کتاب دیکھو۔ میں نے کہا کہ بس میں آپ سے مل چکا۔ اب کتاب دیکھنے سے کیا حاصل۔ میں کتاب کو کہاں اٹھاتا پھروں گا۔

جب میں نیچے آیا تو یہاں کھلبلی مچی ہوئی تھی کہ خدا جانے اوپر کیا کیا باتیں ہوئیں ہوں گی۔ پھر میں نے حکیم نور الدین سے کہا کہ تم نے مرزا صاحب کو کہاں جاکر بٹھا دیا۔ کوئی غوث قطب بنا دیتے تو کوئی بات بھی مانتے۔ جیسی ہوتی۔ لیکن تم نے تو نبی ہی بنا ڈالا۔ تو انہوں نے کہا کہ آپ نے ان کی کتابیں دیکھی ہیں۔ میں نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ سب آپ کی تصنیف کردہ ہیں۔

(ہفت روزہ ’ختم نبوت‘ جلد ۳، شمارہ ۴۱، از قلم: مولانا منظور احمد الحسینی)

صفحہ 55

مولانا فضل الرحمان احرار

سید فضل الرحمان احرار بھی ان بزرگوں کی لڑی کے ایک سچے موتی تھے۔ جو ۱۹۱۲ء میں ”جگراؤں“ ضلع لدھیانہ میں سید بہادر علی شاہ گیلانی کے گھر پیدا ہوئے۔ والد مرحوم ایک درویش صفت بزرگ اور علاقے کے مشہور پیر تھے۔ ابتدائی دینی تعلیم مولانا محمد ابراہیم سلیم پوری‘ خلیفہ حضرت اقدس شاہ عبدالقادر رائپوریؒ سے حاصل کی۔ پھر لدھیانہ رئیس الاحرار مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانوی کے ہاں حصول تعلیم کے لیے چلے گئے۔ بچپن ہی سے تحریکی مزاج تھا۔ ۱۴ سال کی عمر میں جگراؤں میں گائے کی قربانی دے کر قانون کی خلاف ورزی کی۔ اس کی پاداش میں جیل کاٹی اور انگریزوں‘ ہندوؤں اور سکھوں سے نبرد آزما رہے۔ ۱۹۲۹ء میں مجلس احرار اسلام کے قیام کے موقع پر اس میں شمولیت اختیار کی۔ مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانوی کے ساتھ کام کا آغاز کیا۔ ہندوستان کے بیشتر علاقوں میں امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری‘ مولانا حبیب لدھیانوی رحمہم اللہ علیہم و دیگر اکابر کے ہمراہ سفر کیا۔ بیعت کا سلسلہ شیخ العرب والعجم مولانا سید حسین احمد مدنیؒ سے تھا۔ بیعت کے لیے حضرت امیر شریعت کے ہمراہ دارالعلوم دیوبند تشریف لے گئے۔ ۱۹۳۹ء میں فیصل آباد میں احرار کانفرنس میں حضرت امیر شریعت‘ مولانا لدھیانوی‘ مولانا مظہر علی اظہر اور شورش کاشمیری کے ہمراہ شرکت کی‘ دو روز بعد جڑانوالہ میں تقریر کی۔ وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے۔ مغربی پنجاب کا سفر مکمل کر کے مشرقی پنجاب میں اپنے آبائی شہر ”جگراؤں“ پہنچے تو محاصرہ میں آگئے۔ انگریز اور گورکھا کا محاصرہ توڑ کر نکل گئے۔ خود طے شدہ پروگرام کے مطابق دفتر احرار جگراؤں کے سامنے سٹیج بنا کر تقریر کی۔ پھر دو نفل شکرانہ کے ادا کیے اور گرفتاری پیش کی۔ ہتھکڑی لگی تو نعرہ تکبیر لگا کر ہتھکڑی کو توڑ ڈالا۔

(ہفت روزہ ’نقیب ختم نبوت‘ ملتان۔ فروری ۱۹۹۷ء)

صفحہ 56

ایک عجیب سازش

حضرت مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی مدظلہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مسلم کالونی (ربوہ) میں منعقد ہونے والے سالانہ رد قادیانیت و رد عیسائیت کورس پر گزشتہ شعبان ۱۴۱۸ھ کو (ربوہ) تشریف لائے۔ جمعہ کو عصر کے قریب پہنچے، عصر کے بعد مجلس لگی۔ فقیر راقم الحروف اور مولانا عبد اللطیف مسعود سے حضرت مولانا محمد امین اوکاڑوی نے فرمایا:

کہ جب ۱۹۸۴ء میں سیالکوٹ اسلم قریشی کے اغوا کے رد عمل میں قادیانیوں کے خلاف تحریک چل رہی تھی تو مجھے گوجرانوالہ سے بہت زیادہ دعوتیں ملنا شروع ہو گئیں۔ غیر مقلدین کے خلاف تقریروں کا گوجرانوالہ میں بھرپور مربوط سلسلہ چل نکلا۔ غیر مقلدین کے شمشاد سلفی بھی میدان میں آ دھمکے۔ تو اب مناظرہ، چیلنج، اشتہار بازی، تقریر، دھواں دھار بیانات ہوئے۔ کچھ عرصہ بعد گوجرانوالہ میں میرا داخلہ بند کر دیا گیا۔ مگر تعمیل نہ ہوئی تھی۔ میں چھپ چھپ کر جا پہنچا۔ گکھڑ جاگھ کی مسجد میں تقریر ہونا تھی۔ مگر مسجد انتظامیہ نے ضلعی حکام کے پریشر پر تقریر کرانے سے انکار کر دیا۔ ساتھیوں نے جامع مسجد نور نصرۃ العلوم میں جمعہ کا اہتمام کر دیا۔ میں وہاں گیا۔ جمعہ پر بیان شروع ہوا تو مجسٹریٹ، ڈی ایس پی، دیگر پولیس عملہ سمیت تعمیل کے لیے آ موجود ہوئے۔

حضرت مولانا فاروق صاحب مدظلہ نے مجسٹریٹ سے کہا کہ مولانا کی تقریر شروع ہو چکی ہے، وہ مکمل ہو جائے۔ جمعہ کے بعد ہم تعمیل کرا دیں گے۔ اس پر ڈی ایس پی نے کہا کہ ہم نے ان کو ضلع کی حدود سے بھی باہر کرنا ہے۔ فاروق صاحب نے فرمایا، ٹھیک ہے، جمعہ کے بعد مولانا کو ہم اپنی گاڑی میں بٹھا دیں گے۔ ان کے ساتھ آپ اپنی پولیس کی گاڑی لگا دیں۔ وہ ضلع کی حدود سے باہر چھوڑ آئے۔ ڈی ایس پی نے کہا کہ نہیں، میں تو ابھی تعمیل کراؤں گا۔ اس پر فاروق صاحب نے اس کے منہ پر طمانچہ جڑ دیا۔ مجسٹریٹ نے بیچ بچاؤ کرا دیا۔ مگر ڈی ایس پی کاغذات پابندی لے کر منبر کے قریب آکر بیٹھ گیا۔ میری تقریر جاری تھی مجھے خیال بھی نہ تھا کہ باہر کیا ہوا، یا اب کیا ہونے والا ہے۔ جمعہ ہوا تو محراب کے دروازے

صفحہ 57

سے مجھے نکالا گیا۔ پیچھے سے کسی نے میری قمیض پکڑ لی۔ مگر میں سمجھا کہ کوئی عقیدت مند مصافحہ کے لیے متوجہ کرنا چاہتا ہو گا۔ میں اس پر توجہ دیے بغیر محراب سے باہر آیا تو گلی میں گاڑی کھڑی تھی۔ مجھے اس پر بٹھا کر شہر سے چلتا کیا گیا۔ جمعہ کے بعد پولیس نے جب تیاری کی تو میں ان کے ہاتھ سے باہر نکل چکا تھا۔

اب ہم پر مقدمہ قائم ہو گیا۔ گوجرانوالہ کے دوستوں نے ضمانتیں کرا لیں۔ میں بھی قبل از گرفتاری عبوری ضمانت کرانے میں کامیاب ہو گیا۔ ضمانت کنفرم کرانے کے لیے پیشی پر پیشی پڑ رہی تھی۔ مجھے ملتان سے جانا پڑتا، پولیس ریکارڈ ہی پیش نہ کرتی، تو ایک پیشی پر میں اس ڈی ایس پی کو ملنے چلا گیا۔ مجھے دیکھتے ہی اٹھ کھڑا ہوا۔ تپاک سے ملا۔ فرمائیے مولانا، کیسے مزاج ہیں؟ آپ کی تقریر سنی۔ آپ بہت اچھا اور مدلل کلام کرتے ہیں۔ آپ کی تقریر سے اس دن بہت متاثر ہوا۔ بس وہ بد مزگی ہو گئی۔ پرچہ ناگزیر ہو گیا۔ تاہم میرے دل میں آپ کا بڑا احترام ہے۔ آپ (مولانا) گورنمنٹ ملازم رہے ہیں۔ میں (ڈی ایس پی) اب بھی ملازم ہوں۔ ہم پیٹی بند بھائی ہیں۔ میں نے ضمانت کنفرم کرانے کے لیے مشکل پیش کی۔ آپ کی پولیس کاغذات پیش نہیں کرتی۔ کاغذات پیش ہو جائیں تو ضمانت کنفرم ہو جائے۔ اس نے اسی وقت معلوم کیا کہ تفتیشی کون ہے۔ معلوم ہوا کہ ایک شیعہ اے ایس آئی ہے۔ اسے بلا کر ڈی ایس پی نے ہدایت کی کہ آج عدالت میں کاغذات پیش کر کے مولانا کی ضمانت کنفرم کرادیں۔ بہت اچھا کہہ کر وہ تفتیشی افسر چلا گیا۔

ڈی ایس پی صاحب میری تقریر سن چکے تھے۔ میری سادگی سے بھی متاثر ہوئے۔ ویسے بھی کوئی اچھے دیندار آدمی تھے۔ باتوں میں کھل گئے، ادھر ادھر کی ایک آدھ بات چیت کے علاوہ اس نے زور سے قہقہہ مارا اور میری طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا کہ مولانا محمد امین صاحب آپ تو ہمارے ہاتھ بک چکے ہیں۔ یہ سنتے ہی میرا رنگ فق ہو گیا۔ اس نے یہ کیفیت دیکھی تو کہا، ہاں مولانا اس میں پریشانی کی کیا بات ہے۔ واقعی ہم آپ کو خرید چکے ہیں۔ آپ کا سودا ہو گیا، ادائیگی ہو گئی ہے۔ آپ ہمارے ہاتھوں بک چکے ہیں۔ اس نے اتنی جلدی میں یہ باتیں اس اعتماد کے ساتھ کہہ ڈالیں کہ میرا سانس رک گیا۔

سوچوں کہ اے اللہ یہ شخص کیا بک رہا ہے، پاگل تو نہیں یا مجھے ماؤف کرنا چاہتا ہے۔ میں کچھ فیصلہ نہ کر پایا۔ اس کی بات ختم ہوئی تو میں نے پوچھا، اللہ کے بندے میں ایک فقیر

صفحہ 58

درویش آدمی ہوں۔ دین کی خدمت کرتا ہوں، مجھے خرید لیا، میں بک گیا۔ یہ کیا چکر ہے۔ میں تو اس کا تصور بھی گناہ سمجھتا ہوں۔ تو اس نے کہا، مولانا! دراصل بات یہ ہے کہ جب اسلم قریشی کے اغوا کے ردعمل میں قادیانیوں کے خلاف تحریک چل رہی تھی تو وقوعہ سیالکوٹ کا تھا مگر اس کی نسبت گوجرانوالہ میں تحریک کا زور تھا۔ تمام مکاتب فکر اکٹھے ہو گئے تھے۔ ہمیں تحریک بنتی اور پورے ملک میں پھیلتی ہوئی نظر آئی تو اوپر صوبائی حکومت سے ہدایت آئی کہ اسے روکا جائے۔ صوبائی مرکزی ایجنسیوں کی ہدایات میں اجلاس ہوا کہ یہاں غیر مقلدین اور حنفی مسئلہ زیادہ ہے۔ اسے ہوا دیں تو تحریک ختم نبوت کا رخ مڑ جائے گا۔ چنانچہ طے ہوا کہ مولانا شمشاد سلفی اور مولانا محمد امین اوکاڑوی کو بلایا جائے اور غیر مقلدین و احناف کے خلاف ان سے تقریریں کرائی جائیں۔ چیلنج، اشتہار غرض یہ کہ اس مسئلہ کو اتنی ہوا دی جائے کہ تحریک ختم نبوت کے لیے اتحاد کمزور پڑ جائے اور تحریک کمزور ہو جائے۔

چنانچہ میٹنگ میں ایجنسیوں نے کہہ دیا کہ مولانا سلفی تو شاید؟ لیکن مولانا اوکاڑوی کے متعلق تو تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ رقم لے لیں یا اس کے لیے آمادہ ہو جائیں تو میٹنگ میں طے ہوا کہ ایک دیوبندی اور ایک غیر مقلد تیار کیا جائے۔ ان کو اسی اسی ہزار روپیہ دیا جائے۔ وہ اپنے اپنے طور پر دیوبندی اور غیر مقلد بن کر اخلاص سے مولانا شمشاد و مولانا اوکاڑوی کو بلائیں۔ چنانچہ ہم نے آدمی آپ کے پیچھے لگائے۔ خرچہ ہمارا (گورنمنٹ کا) تھا۔ وہ مخلص خادم بن کر آپ لوگوں کے بستے اٹھاتے رہے۔ آپ کو انہوں نے بلوایا۔ اشتہار چھپوائے۔ خرچہ کیا، دونوں طرف سے دھواں دھار تقریریں ہوئیں۔ مناظرہ کے چیلنج ہوئے، فضا میں تلخی آئی لیکن تحریک ختم نبوت کے لوگوں نے اس کو سنبھال لیا۔ مگر ہمارے کاغذات میں آپ کا سودا ہو چکا ہے۔ اس پر (مولانا اوکاڑوی) فرماتے ہیں کہ میری حیرت کی انتہا نہ رہی۔ میں تو بس میں، ریل کے تھرڈ کلاس ڈبے میں، سفر کر کے صرف ٹکٹ کے پیسے لے کر آتا رہا۔ مگر جو داعی تھا وہ اندر سے اس طرح کا عیار نکلا۔ مولانا فرماتے ہیں کہ واقعہً وہ آدمی نیا نیا مخلص بن کر ساتھ لگا تھا۔ ورنہ اس سے قبل یا اس کے بعد پھر کبھی قریب نہیں آیا۔ یہ فرما کر حضرت مولانا محمد امین صاحب اوکاڑوی مدظلہ نے فرمایا کہ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ کس طرح قومی دینی تحریکوں کو فرقہ واریت میں الجھا کر حکومتی

صفحہ 59

ایجنسیاں یا قادیانی ناکام کرتے ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ ہم کو اخلاص سے دین سمجھ کر کام کرتے ہوئے نظر رکھنی چاہیے کہ ہماری کاوش سے کوئی غلط کار بے دین' غلط براری کے لیے تو فائدہ نہیں اٹھا رہا۔ اس پر فقیر راقم الحروف نے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا۔

(ماہنامہ لولاک' جلد ۲' شمارہ ۶۰' از قلم: مولانا اللہ وسایا)

مولانا تاج محمود کی وفات

۲۰ جنوری ۱۹۸۲ء کو علی الصبح طبیعت میں خرابی کے آثار نمودار ہوئے تو مولانا کے صاحبزادے نے ڈاکٹر کو بلانا چاہا۔ جس پر مولانا نے یہ کہہ کر منع کر دیا کہ اب ڈاکٹر کو بلانے کا وقت نہیں ہے۔ لیکن ڈاکٹر صاحب کو بلایا گیا' انہوں نے مولانا کا معائنہ کیا اور فوراً ہسپتال پہنچانے کے لیے کہا۔

ہسپتال روانہ ہونے سے پہلے مولانا نے اپنی بیٹی سے آب زم زم مانگا اور کھڑے ہو کر آب زم زم پینے کے بعد گھر سے روانہ ہوئے دروازے تک پہنچ کر رک گئے اور باآواز بلند کلمہ شہادت پڑھا۔ پھر فرمایا "اچھا اللہ! میرا یہ بھولا بھالا گھرانہ تیرے حوالے ۔"

ہسپتال پہنچنے کے فوراً بعد نظام تنفس کو بحال رکھنے کے لیے آکسیجن لگا دی گئی۔ مگر چند گھنٹوں کے بعد سر کو دائیں جانب کر کے تین بار کسی کو آنے کا اشارہ کیا اور کلمہ شریف پڑھتے ہوئے۔ جان' جان آفرین کے سپرد کر دی۔ -(انا للہ وانا الیہ راجعون-)

(مولانا تاج محمود' ص ۴۵' ۴۶' از زاہد منیر عامر)

چھپے کچھ ایسے کہ تا زیست پھر نہ نظر آئے
رہین حسرت دیدار کر کے چھوڑ دیا (مؤلف)
صفحہ 60

قادیانی مردہ کو شادن لنڈ کی زمین نے قبول نہیں کیا

اس واقعہ کے بعد چالیس قادیانیوں نے اسلام قبول کیا

قصبہ شادن لنڈ تحصیل و ضلع ڈیرہ غازی خان میں چند قادیانی رہتے ہیں۔ انہوں نے کچھ عرصہ پہلے اپنے اثر و رسوخ سے ایک مسلمان کی زمین اپنے لیے بطور قبرستان الاٹ کروالی۔ جب مسلمانوں کو اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے عدالت عالیہ سے رجوع کیا۔ اس بارے میں کیس چل رہا ہے اور آج تک فیصلہ نہیں ہوا جبکہ اس اراضی پر قادیانیوں نے چار دیواری بھی تعمیر کرلی تھی۔

اب جبکہ ۵-۵-۸۷ کو عبدالقادر قادیانی مر گیا تو قادیانیوں نے سوچا کہ رات کے وقت چونکہ مسلمان نماز تراویح میں مصروف ہوں گے اس لیے چوری چھپے لاش کو متنازعہ اراضی میں دفن کر دیں گے۔

لہٰذا انہوں نے اندھیرے میں جاکر قبر کھودنا شروع کر دی۔ ادھر مسلمانوں کو جب علم ہوا تو انہوں نے سب سے پہلے انہیں اطلاع دی کہ آپ ایسا نہ کریں۔ لیکن قادیانی اپنی اس حرکت سے نہ رکے اور بضد ہو گئے کہ ہم لاش یہیں دفن کریں گے۔ آخر کار مسلمان مجاہد ختم نبوت زندہ باد کے نعرے بلند کرتے ہوئے روانہ ہوئے۔ مرزائی وہاں سے بھاگ گئے۔ مسلمانوں نے اپنے قائد مجاہد ختم نبوت مولانا محمد بخش کی قیادت و امامت میں نماز عشاء وہاں میدان میں ادا کی اور تراویح بھی اسی میدان میں پڑھی۔ تقریباً ایک بجے شب یہ فدایان ختم نبوت جن کی تعداد تقریباً دو ہزار کے لگ بھگ بیان کی جاتی ہے‘ اس چار دیواری کو گرا کر کامیاب و کامران واپس ہوئے۔ صبح سویرے قادیانیوں نے عبد القادر قادیانی کی لاش کو ڈیرہ غازی خان میں جاکر قادیانی مرگھٹ میں دفن کیا۔

میں اہلیان شادن لنڈ اور تحریک ختم نبوت کے مجاہد مولانا محمد بخش صاحب کو اس کامیاب کارروائی پر مبارکباد دیتا ہوں اور اللہ تعالیٰ کے حضور دعا گو ہوں کہ رب کائنات اپنے پیارے حبیب ﷺ کے طفیل ختم نبوت کے عقیدہ پر ہمیں تادم زیست قائم رکھے اور مسلمانوں کی اس محنت کو منظور فرما کر آخرت میں اجر عظیم عطا فرمائے۔

صفحہ 61

(ہفت روزہ ’ختم نبوت‘ کراچی‘ جلد ۶‘ شمارہ ۲‘ جون ۱۹۸۷ء‘ از قلم عبدالاحد لنڈ)

مشہور قادیانی مبلغ جلال الدین شمس کی

عبرت ناک موت کا علمی واقعہ

یہ شخص ملت مرزائیہ کا ایک بالا ترین اور چوٹی کا مبلغ تھا اور تمام مرزائی مبلغین میں مثل الشمس بین النجوم کا مقام رکھتا تھا۔ صدر انجمن احمدیہ ربوہ کی طرف سے اس کو شمس المبلغین کا خطاب ملا ہوا تھا اور بلاد غربیہ، عربیہ میں بطور رئیس التبلیغ کے کافی مدت تک متعین رہا اور وہاں کے تمام مشہور شہروں میں تبلیغی مراکز برائے ملت مرزائیہ قائم کیے ہیں۔ میں اس شخص سے اس وقت متعارف ہوا جبکہ یہ شخص بہاولپور کے تاریخی مقدمہ تنسیخ نکاح (غلام عائشہ بنام عبدالرزاق مرزائی) متدائرہ بعدالت سیشن جج میں بطور گواہ مدعاعلیہ کے پیش عدالت ہوا اور مرزائیت کو عین اسلام ثابت کرنے میں اپنا بیان پوری جرات مندی اور بے باکی سے قلمبند کرایا لیکن ہمارے اہل علم و فضل گواہان مدعیہ نے اپنی جرح کے دوران اس کے مغرور و متکبر بیان کا سر اپنے دلائل قاطعہ اور براہین حقہ سے توڑ پھوڑ دیا اور اس کی دھجیاں فضائے عدالت میں اڑا دیں اور اس کی جرات و بے باکی کو ذلت و خجالت کا جامہ پہنا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ عدالت عالیہ نے مقدمہ کا فیصلہ بحق مدعیہ اور برخلاف مدعاعلیہ صادر کر دیا اور یہی فیصلہ دو صد صفحات پر مشتمل ہے اور کتابی صورت میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفاتر ملتان و کراچی سے دستیاب ہے۔

آمد بر سر مطلب! میں نے سال ۱۹۶۶ء میں مرزا قادیانی کی کتاب ”ازالہ اوہام“ مطبوعہ سال ۱۸۹۱ء برائے مطالعہ کسی شخص سے حاصل کی اور اسی کو از ابتداء تا انتہا بغور و فکر پڑھا اور درمیان میں ایک انعامی چیلنج قیمتی ایک ہزار روپے درج تھا اور چیلنج کا مطالبہ یہ تھا کہ اگر دنیائے اسلام یا غیر اسلام کا کوئی اہل علم فاضل یہ بات ثابت کردے کہ لفظ ”توفی“ کا فاعل خدا تعالیٰ اور مفعول ذی روح انسان ہو اور معنی قبض جسم مع الروح ہوا تو میں

صفحہ 62

ایسے شخص کو ایک ہزار روپیہ انعام دوں گا۔ عبارت چیلنج اصلی شکل میں حسب ذیل ہے: اگر کوئی شخص قرآن کریم یا احادیث رسول اللہ سے یا اشعار و قصائد نظم و نثر قدیم و جدید عرب سے یہ پیش کر دے کہ کسی جگہ توفی کا لفظ خدا تعالیٰ کا فعل ہونے کی حالت میں جو ذی روح کی نسبت استعمال کیا گیا ہو ، وہ بجز قبض روح اور وفات دینے کے لیے کسی اور معنی پر بھی اطلاق پا گیا ہے ۔ یعنی قبض جسم کے معنوں میں بھی استعمال ہوا ہے تو میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر اقرار صحیح شرعی کرتا ہوں کہ میں ایسے شخص کو اپنا کوئی حصہ ملکیت فروخت کر کے مبلغ ایک ہزار روپے نقد دوں گا اور آئندہ کے لیے اس کے کمالات حدیث دانی و قرآن دانی کا اقرار کرلوں گا۔

اس پر میں نے اس شخص کو لکھا کہ اگر میں بفضل ایزدی اس مغرور و متکبر چیلنج کو تغلیط و تضلیل کردوں تو کیا آپ لوگ مجھے موعود انعام ادا کرو گے یا نہیں۔ اس نے مجھے جواباً لکھا کہ اگر تمہاری چیلنج شکن مثال شرائط چیلنج کے مطابق درست اور تیر بہدف ثابت ہوئی تو صدر انجمن احمدیہ ربوہ کو موعود انعام دینے میں قطعاً کسی قسم کا دریغ و گریز نہیں ہو گا اور اس کے ساتھ ساتھ وہ تمہاری غالبیت اور اپنی مغلوبیت کو بخوشی تسلیم کرے گی لیکن شرط یہ ہے کہ آپ اپنی چیلنج شکن مثال شرائط چیلنج کے مطابق پیش کریں.... ورنہ آپ اپنا اور ہمارا قیمتی وقت بے فائدہ بحث و جدال میں ضائع نہ کریں۔

دراصل بات یہ ہے کہ ان لوگوں کو یقین کامل تھا کہ ایک گمنام اور بے علم آدمی کس طرح ایک علمی چیلنج کا میدان جیت سکتا ہے۔ لیکن ان کو معلوم نہ تھا کہ گاہ باشد کہ کودک ناداں بہ ہدف میزند تیرے۔ بہرحال میں نے جواب چیلنج میں قرآن حکیم کی درج ذیل آیت قضیہ زمین بر سرزمین کی بنیاد پر متوکلاً علی اللہ پیش کر دی۔

”یعیسی انی متوفیک ورافعک الی ومطهرک من الذین کفروا“۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبض روحی اور رفع روحی کے لیے استدلالاً پیش کیا ہے اور میں نے بھی اسی آیت کو عیسیٰ علیہ السلام کے قبض جسمی اور رفع جسمی کے معنی میں لیا ہے۔ گویا کہ مرزا صاحب اسی آیت سے وفات عیسیٰ علیہ السلام اور میں اسی آیت سے حیات مسیح ثابت کرتا ہوں۔ بنابراں قضیہ زمین بر سرزمین کی بنیاد صحیح اور درست ہے اور

صفحہ 63

اسی کو اصطلاح مناظرہ میں مصادرہ علی المطلوب کہا جاتا ہے۔ میری نو ایجاد توجیہہ بالاختصار بطرز ذیل ہے۔ جس کو آج تک کسی مفسر یا محدث یا فقیہہ نے نہیں لیا اور آیت مذکور کا اصل مفہوم کسی نحوی ضابطہ کے تحت کھل کر سامنے نہ آسکا اور آیت مذکور فریقین میں محل نزاع بن گئی اور میری چیلنج شکن توجیہہ یوں ہے کہ آیت ہذا کا جار مجروری فقرہ : من الذین کفروا علی سبیل التنازع ما قبل کے تینوں اسمائے فاعل متوفیک و رافعک الی و مطہرک کے متعلق ہے اور آیت کی اصل عبارت یوں ہے۔

”یعیسی انی متوفیک من الذین کفروا“ اے عیسیٰ تجھے کافروں سے بچا کر پورا پورا وصول کرنے والا ہوں۔

ورافعک الی من الذین کفروا اور میں تجھے کافروں سے بچا کر اپنی طرف اٹھانے والا ہوں۔

ومطہرک من الذین کفروا اور میں تجھے کافروں سے تیری تطہیر اور بچاؤ کرنے والا ہوں۔

جاننا چاہیے کہ جب توفی اور رفع اور تطہیر کا صلہ حرف من ہو تو ہر سہ استعمالات کا معنی قبض جسمی اور رفع جسمی اور تطہیر جسمی ہوگا۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے :

توفیت فلوس قرضی من فلان میں نے فلاں آدمی سے اپنے قرضہ کے سب پیسے لے لیے۔

”رفعت زیدا الی سقف البیت من اعداہ“ میں نے اپنے کپڑے کو پاک صاف کر لیا۔

لیکن اس وقت میرا رابطہ صرف لفظ توفی سے ہے کیونکہ مرزائی چیلنج صرف اسی لفظ کے متعلق ہے۔ باقی دو لفظوں کو چیلنج میں نہیں لیا گیا۔ اب میری نو ایجاد توجیہہ کا لب لباب اور خلاصہ یہ ہے :

آیت بالا کے نو ترتیب فقرہ اول میں لفظ توفی کا فاعل خدا تعالیٰ ہی اور مفعول ذی روح انسان عیسیٰ علیہ السلام ہے۔ در معنی قبض جسم مع الروح یعنی زندہ رکھنا ہے اور معنی قبض الروح فقط یعنی مارنا، وفات دینا نہیں ہے۔ چنانچہ تمام لغات عرب میں یہ بات

صفحہ 64

بالوضاحت مذکور و مسطور ہے کہ لفظ توفی بصلہ ”من“ کا معنی قبض جسمی بمعنے زندہ رکھنا ہے اور قبض روحی بمعنی مارنا اور موت دینا نہیں ہے۔ جیسا کہ مشہور عربی لغت ”المنجد“ میں مذکور ہے۔

”توفیت من فلان مالی علیہ“ میں نے فلاں آدمی سے اپنا قرض پورا وصول کر لیا جو اس کے ذمہ واجب الادا تھا۔

خلاصۃ الباب یہ ہے کہ میری نو ایجاد توجیہہ نے مرزائی چیلنج کو شرائط چیلنج کے مطابق توڑ دیا ہے اور مجھے موعودہ انعام لینے کا استحقاق دے دیا ہے۔ اب آپ یا تو میرے جواب چیلنج کو غلط ثابت کریں یا حسب وعدہ موعود انعام میرے حوالے کریں۔ میں نے جلال الدین صاحب کو متعدد بار یاد دہانی کرائی لیکن وہ مبہوت ہو کر ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا اور شہر خموشاں کا مکین بن گیا۔ آخر کار میں نے تنگ آکر اپنا آخری خط مورخہ ۴ نومبر ۱۹۶۶ء اس کو بھجوایا جو اس کی عبرتناک موت کی پیشگوئی فارسی اشعار کی صورت میں تھی، جو بطور ذیل ہیں:

گر جلال دین خواہی از خدا خویش را از دین مرزا کن رہا

اگر تو خدا سے دین کی عظمت چاہتا ہے تو خود کو مرزا کے دین سے آزاد کر لے۔

نزد ایں مرزا جلال دیں کجاست کہ جلال دین از بندہ جداست ۔

اس مرزا کے پاس دین کی عظمت کہاں ہے۔ جبکہ دین کی عظمت غلام سے الگ رہتی ہے۔

دامن مرزات جملہ تیرگی است شمس را تقلید بندہ خیرگی است

تیرے مرزا کا دامن سیاہی سے پر ہے۔ شمس کو غلام کی پیروی کرنے سے شرم آنی چاہیے

از من مسکین نور دین بگیر گر نہ گیری مرگ را گردی اسیر

مجھ مسکین سے دین کی روشنی حاصل کر۔ اگر حاصل نہیں کرے گا تو موت کا قیدی بن جائے گا۔

گر تو پذیری قول من یابی حیات ور روی از من روی اندر ممات

اگر تو میری بات کو قبول کرے گا تو زندگی پائے گا۔ اور اگر مجھ کو چھوڑے گا تو موت

صفحہ 65

کے منہ میں جائے گا۔

قول من جویان حق را حق نمود ہر کہ از حق رفت شد قوم ثمود

میری بات نے طالبان حق کو حق دکھا دیا۔ اور جس نے حق کو چھوڑا وہ قوم ثمود کی طرح ہلاک ہوا۔

قول من حق است قول من بگیر ورنہ اندر کذب ماں در کذب میر

میری بات سچی ہے‘ میری بات کو لے لے ورنہ جھوٹ میں رہ کر مرجا۔

میرے اسی آخری تنذیری خط (محررہ ۴ نومبر ۱۹۶۶ء) کے ترسیل پانے کے ۱۱ دن بعد اس پر ناگہانی مرض کا حملہ ہوا یا میری نو ایجاد توجیہہ کی صداقت نے اس کے دل کا گلہ دبا لیا۔ جس سے اس کو دل کا دورہ پڑا اور وہ بحالت اضطراب ربوہ کو چھوڑ کر اپنے سکونتی گھر سرگودھا میں چلا گیا اور وہ جاتے ہی ہلاک ہو گیا اور میری تنذیری پیشگوئی حرف بحرف پوری ہو گئی۔ وللہ الحمد اور اس کی ہلاکت ۱۶\۱۵ نومبر ۱۹۶۶ء کی درمیانی شب کو واقع ہوئی اور اس کو جہنم کی راہ دکھائی۔ ۸-۱۰-۲۲

(ہفت روزہ ’ختم نبوت‘ جلد ۶‘ شمارہ ۲۷‘ دسمبر ۱۹۸۷ء‘ از قلم: حکیم میر محمد ربانی)

کوئٹہ میں حضور تاجدار ختم نبوت ﷺ

کا تازہ معجزہ

مولانا اللہ وسایا صاحب کا ایک اہم مکتوب

مکرم محترم بھائی محمد حنیف صاحب ندیم‘ زید عنایتکم

سلام مسنون‘ مزاج گرامی۔ سندھ میں ہفتہ بھر کے مولانا جمال اللہ الحسینی اور مولانا احمد میاں حمادی نے پروگرام رکھے ہوئے ہیں۔ اوباڑو‘ پنوں عاقل‘ شکار پور‘ ٹھل‘ نواب شاہ کے پروگرام الحمد للہ کامیاب رہے۔ اس وقت کنڈیارو کے لیے روانگی ہے۔ حضرت اقدس امیر مرکزیہ دامت برکاتہم بہ نفس نفیس شرکت فرمارہے ہیں۔ آج حضرت مولانا

صفحہ 66

نذیر احمد صاحب تونسوی نے ایک "ایمان پرور" واقعہ سنایا۔

کوئٹہ ایڈیشنل سیشن جج جناب جمیل شیروانی کی عدالت میں مرزائیوں کی طرف سے کلمہ طیبہ کی توہین کے سلسلے میں کیس زیر سماعت تھا۔ اہل اسلام کے وکیل نے جب دلائل دیے تو قادیانیوں کی کتب کی رو سے قادیانیوں کے نزدیک "محمد" سے مراد "مرزا قادیانی" ہوتا ہے تو اس پر مرزائیوں کے وکیل کے چہرے پر اداسی چھا گئی، سخت بدحواس ہوا۔ یاد رہے کہ یہی مرزائی وکیل احسان مرزائیوں کی طرف سے کیس کی ہمیشہ پیروی میں پیش پیش تھا۔ مسلمان وکیل کے دلائل اور حوالہ جات کا اپنے پاس جواب نہ پا کر سخت بدحواسی کے عالم میں اس نے پینترا بدلا اور ایسا ڈرامہ اختیار کیا کہ مسلمان وکیل کا اثر ختم ہو سکے۔

ڈرامائی انداز میں اپنے اٹھارہ بیس سال کے لڑکے کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا کہ خدا مجھے اس لڑکے سے محروم کرے، اگر میں جھوٹ بولوں کہ ہماری مراد کلمہ طیبہ میں "محمد" سے مرزا قادیانی نہیں ہوتا۔ اس کا عدالت نے یہ جواب دیا کہ تمہاری بات کی تمہاری اپنی کتابیں تردید کرتی ہیں۔ مرزائیوں کی اپیل خارج ہو گئی۔ فیصلہ اہل اسلام کے حق میں ہو گیا۔ لیکن خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ چند ہفتوں بعد اس کا یہی لڑکا ایک اور قادیانی لڑکے کے ساتھ جھیل میں ڈوب کر مر گیا اور یوں قدرت نے مرزائی وکیل کی غلط قسم کا نقد صلہ ان کو دے دیا۔ کوئٹہ جماعت کے ناظم اعلیٰ حاجی تاج محمد فیروز نے مرزائی وکیل کو خط لکھا کہ تم نے غلط قسم اٹھائی تھی، ختم نبوت کا معجزہ دیکھیے۔ یہ واقعہ دیدہ عبرت ہے۔ اب تو مسلمان ہو جاؤ۔ اس کا اس نے تاحال جواب نہیں دیا۔

طالب دعا فقط اللہ وسایا حال وارد نواب شاہ، سندھ ۱۶-۱۱-۸۷

صفحہ 67

استیصال مرزائیت کیلئے مولانا ہزارویؒ کی خدمات

مولانا ہزارویؒ ایسے وقت میں آکر بفہ میں اقامت پذیر ہوئے جب مانسہرہ کے بڑے بڑے خوانین اور جاگیردار مرزائیت کے دام تزویر میں پھنس چکے تھے۔ وہ صرف اپنی محفلوں اور حجروں میں ہی نہیں، جلسوں اور عوامی مجمعوں میں بھی مرزا خبیث کو ”حضرت صاحب“ کہہ کر پکارا کرتے تھے اور سرکاری افسر جو مرزائی ہوتے اپنے اس مذہب اور عقیدہ کی کھل کر تبلیغ کرتے۔ ان حالات کا مشاہدہ کرنے سے آپ کو بڑا دکھ ہوا اور بڑے تدبر کے ساتھ حالات کا تجزیہ کیا۔ اس بات کو نوٹ کر لیا کہ ضلع مانسہرہ میں جنبہ ہرا اور پارٹی کی سیاست ہے۔ اس سے عقیدہ بھی متاثر ہو رہا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ مسلمان خوانین کے ساتھ مل کر مرزائی گروہ کا اثر زائل کیا جائے۔ آپ نے دوسری کئی وجوہ کے ساتھ اس عظیم مقصد کے پیش نظر کانگریس میں شرکت اختیار کر لی۔ خدائی خدمت گار پارٹی کانگریس کی ذیلی پارٹی تھی اور اس کے منشور کے مطابق ملک میں سیاسی جدوجہد جاری تھی۔ یہاں کے آزادی پسند اور انگریز دشمن خوانین اسی پارٹی میں شامل تھے۔ مولانا نے اس پارٹی میں شامل ہو کر انہیں یہ حقیقت سمجھائی کہ انگریز اور مرزائی دو قالب یک جان ہیں۔ یہ مرزائی خوانین اور جاگیردار ہی انگریزوں کی تقویت اور استحکام کا باعث بنے ہیں۔ وہ ایسے حرام خوروں اور زرخرید بندوں کے بل بوتے پر یہاں حکومت کر رہے ہیں۔ اگر یہ نمک حلال نہ ہوں تو انگریزوں کی کیا مجال کہ وہ ہم پر حکومت کر سکیں۔ اسی طرح انہوں نے ان مسلمانوں اور دیندار خوانین کو جمعیت العلماء ہند میں شامل کر لیا۔ یا کم از کم انہیں دینی معاملات میں اپنا ہمنوا بنا لیا۔ پھر اس یکجہتی اور قوت اتحاد سے فائدہ اٹھا کر آپ نے انگریزوں کے ساتھ مرزائیت کو بھی بانگ دہل پکارا اور ان کو ناکوں چنے چبوائے۔ مذہبی اور سیاسی میدان میں ایسی شکست فاش دی کہ ان کی نسلیں بھی یاد رکھیں گی۔ اس سلسلہ میں چند واقعات کا ذکر کرنا مناسب ہو گا۔

صفحہ 68

مناظرہ بھگلہ اور مرزائی مبلغ کی شکست فاش

۱۳۵۲ھ بمطابق ۱۹۳۴ء میں مرزا بشیر الدین محمود نے ہزارہ کو فتح کرنے اور اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے اور مزید پختہ کرنے کے لیے ان خوانین کی دعوت یا سازش پر اپنے تیز و طرار اور شاطر قسم کے مناظر اللہ دتہ کو ہزارہ بھیجا۔ ہزارہ میں بڑے بڑے جید علماء کرام موجود تھے۔ مگر یہ مدرس اور مفتی قسم کے لوگ تھے۔ مناظرہ کے فن میں انہیں مہارت نہ تھی اور نہ ہی مرزائیت کے مغالطوں اور چالاکیوں سے کماحقہ آگاہ تھے چنانچہ مرزائی مناظر مختلف جگہوں پر تقریر کرتا ہوا علمائے کرام کو چیلنج دیتا اور اپنی فضا بناتا ہوا بھگلہ آپہنچا۔ بھگلہ مانسہرہ اور بالاکوٹ کے درمیان ایک پر فضا مقام ہے۔

یہاں کے بااثر سادات اور بالاکوٹ کا ایک بااثر خان قلیچ خان مرزائیت سے وابستہ ہو کر سب کچھ اس پر نچھاور کرنے کے لیے تیار تھا۔ ان سب کی ملی بھگت اور سازش سے اللہ دتہ بھگلہ پہنچا تھا۔ ان لوگوں نے مختلف دیہاتوں میں دعوت نامے بھیج کر لوگوں کو بلایا اور بہت بڑے جلسے کا انتظام کیا۔ دوسرے دن اللہ دتہ پروگرام کے مطابق پولیس کی نفری اور اپنے مسلح محافظوں کے جھرمٹ میں سٹیج پر آیا اور مرزا کے قصیدے پڑھنے لگا۔ جب اس پروگرام کا علم علماء کرام کو ہوا تو وہ سخت پریشان ہوئے اور عوام کے ایمان کو خطرہ میں محسوس کیا۔ پھر مرزائی مناظر کا جواب دینا ان کے بس میں نہ تھا اور اتنے جاگیرداروں، خوانین اور حکام کو مخالف کرنا اور ان کے روبرو بات کرنا ان کی طاقت سے باہر تھا۔ یہ کسی بیٹھک یا مسجد کی بات نہ تھی بلکہ میدان مبارزت میں جوہر دکھانے کا مرحلہ تھا۔ اللہ تعالیٰ قاضی محمد یونس صاحب بالاکوٹی کو جزائے خیر دے کہ ان حالات کو سن کر مولانا مرحوم کے پاس بنہ حاضر ہوئے اور صورت حال سے آگاہ کیا۔

صفحہ 69

اکلوتا فرزند زین العابدین موت وحیات کی کشمکش میں

مگر مولانا کے گھر حالت یہ تھی کہ ان کا نہایت ہی ذہین و فطین اور جی دار بیٹا موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا تھا کہ ابھی فوت ہوا‘ ابھی دم نکلا‘ سب اہل خانہ اس کے فراق میں دردمند اور آزردہ تھے اور آنسوؤں کا سیلاب آنکھوں سے جاری تھا۔ مولانا نے چند منٹ سوچا اور قاضی صاحب سے فرمایا۔ ذرا ٹھہریں میں کتابیں لے کر آتا ہوں۔ آپ اندر آئے‘ چند کتابیں لیں اور اپنے لخت جگر کو خدا کے حوالے کر کے گھر سے جانے لگے۔ آپ کی والدہ مرحومہ نے فرمایا زین العابدین مر رہا ہے اور آپ کتابیں لے کر گھر سے جا رہے ہیں۔ آپ نے بے تکلف فرمایا ”اماں جان! یہاں ایک زین العابدین کی موت کی بات ہے اور ادھر نبی کریم ﷺ کی امت کے ایمان کی بات ہے۔ اگر ایک آدمی بھی مرتد ہو گیا تو اللہ تعالیٰ کو کیا جواب دوں گا؟ مجھے زین العابدین کے مقابلہ میں امت کا ایمان زیادہ عزیز ہے۔ یہ کہہ کر آپ گھر سے رخصت ہو گئے۔ اڈہ پر اطلاع پہنچی کہ بچہ فوت ہو گیا ہے۔ نماز جنازہ پڑھ کر جائیں۔ آپ نے فرمایا نماز جنازہ فرض کفایہ ہے اور مسلمانوں کے ایمان کو بچانا فرض عین ہے۔ اگر میرے پہنچنے سے پہلے اللہ دتہ واپس چلا گیا تو بہت سے مسلمانوں کا ایمان خراب کر جائے گا۔ بچے کو دفن کرنے کے لیے عزیزان اور اہل محلہ کافی ہیں۔ مگر اللہ دتہ کے زہر کا تریاق میرے سوا کسی کے پاس نہیں ہے۔ یہ کہہ کر آپ قاضی محمد یونس کے ہمراہ بھگہ روانہ ہو گئے اور ایسے وقت پر وہاں پہنچے جب اللہ دتہ بڑے جوش و خروش سے سٹیج پر براجمان پولیس کی نفری اور مسلح گارڈ کے گھیرے میں تقریر کر رہا تھا۔ لوگوں کو ہم خیال بنانے کے لیے علماء پر چوٹیں کرتا ہوا انہیں چیلنج دے رہا تھا۔

مولانا ہزارویؒ کا سٹیج پر قبضہ

سارے گھیراؤ کو توڑ کر مولانا سٹیج پر چڑھ گئے اور صاعقہ الٰہی بن کر اس پر ٹوٹ

صفحہ 70

پڑے اور کڑک کر اللہ دتہ سے فرمایا: او اللہ دتہ! لوگوں کے ایمان کو خراب نہ کرو، تم مرزا کی نبوت کی بات کرتے ہو، نبوت اور ولایت تو بڑی چیز ہے۔ میں تم سے کہتا ہوں کہ مرزا آنجہانی کو ایک شریف انسان بھی ثابت کرنے کے لیے مجھ سے مناظرہ کر لو! خدا کی قسم کہ مرزا نہایت ہی کمینہ اور بداخلاق انسان تھا۔ تم اس خبیث کی بات کرتے ہو۔ اللہ دتہ کو جان کے لالے پڑ گئے کہ یہ مولانا ہزاروی کہاں سے آ دھمکا۔ اس کی قوت گویائی جواب دے گئی اور مولانا نے سٹیج سے دھکا دے کر اس کو نیچے گرا دیا۔ اس نے اپنے حواریوں کے ساتھ بھاگنے ہی میں خیر سمجھی اور قادیان پہنچ کر دم لیا۔ مولانا نے اسی اسٹیج پر کھڑے ہو کر ختم نبوت کے موضوع پر زبردست تقریر کی۔ ختم نبوت زندہ باد کے نعرے لگوائے۔ لوگوں کے ایمانی ولولوں کو گرماتے ہوئے فرمایا کہ ان مرزائیوں سے سوشل بائیکاٹ کرو۔ ان کی شادی، غمی اور نماز جنازہ میں شرکت نہ کرو۔

چنانچہ مرزائیوں کا ناطقہ بند کر دیا۔ الحمد للہ آج تک یہ لوگ خانہ بدر ہیں اور کبھی کبھار چوری چھپے آ کر اپنی جائیداد پر نگاہ حسرت ڈال کر چلے جاتے ہیں۔

قارئین کرام: غور فرمائیں کہ حضرت مولانا کی شخصیت کے جوہر نکھر نکھر کر نظروں کے سامنے آتے ہیں۔ ان کی غیرت ایمانی، ان کی جرات و جانبازی، ان کی حاضر جوابی، ان کا توکل، ان کی ہیبت و شوکت، غرض ایک مجاہد جرنیل اور مدبر جانباز کی قربانی کی تصویر بالکل سامنے آتی ہے۔

زیدہ کی مرزائیت کا استیصال اور آپ کی کرامات

زیدہ تحصیل صوابی ضلع مردان کا ایک قصبہ ہے۔ یہاں کے خوانین مرزائی ہو گئے تھے اور ان کا علاقہ بھر میں اس قدر اثر تھا کہ لوگ مرزا کو حضرت صاحب کہتے تھے۔ ان حالات کا علم آپ کو ہوا تو ایک چھوٹی سی مسجد میں جلسہ کا انتظام کرایا۔ اس کی تفصیل کے سلسلہ میں مولانا عبد الحنان مرحوم جہانگیروی فاضل دیوبند رقمطراز ہیں۔

صفحہ 71

محترم حضرت مولانا ہزارویؒ مرحوم کی تمام زندگی گوناگوں واقعات اور مجاہدانہ کارناموں سے بھری ہوئی ہے۔ ان کی کون کون سی ادا اور جرات‘ للہیت کا واقعہ ذکر کیا جائے۔ غالباً ۱۳۵۴ھ بمطابق ۱۹۳۶ء کا واقعہ ہے کہ صوبہ سرحد میں خاص کر تحصیل صوابی میں انگریزوں کے خود کاشت پودے کے منحوس اثرات بہت زیادہ پھیلنے لگے تھے۔ خاص کر خوانین طبقہ اور سرکار انگریزی کے ملازمین میں یہ زہر روز بروز بڑھ رہا تھا۔ موضع زیدہ میں خوانین تمام علاقے میں سب سے زیادہ حکومت کے ہاں باوقعت اور بارسوخ‘ اونچے پائے کے سمجھے جاتے تھے اور کافی زور کے مالک تھے۔ ان میں چند افراد مرزا لعنۃ اللہ علیہ کے پیرو بن گئے اور علاقہ میں موضع ٹوپی‘ زاروبی اور اسمعیلہ کے دیہات میں بھی یہ مرض پھیل گیا۔ زیدہ میں تو یہاں تک ان کا رعب قائم تھا کہ کسی کو مرزا کا نام بھی بے ادبی سے لینے کی جرات نہ تھی اور عوام کو احساس اور خبر تک نہ تھی کہ یہ بھی خلاف اسلام و مذہب کوئی فرقہ ہے۔ انہی دنوں میں انہی خوانین کے ایک قریبی رشتہ دار اور خدا ترس مسلمان مرد مومن مسمی شیر محمد خان آف زیدہ جہانگیرہ آیا اور اس بات کی استدعا کی کہ زیدہ میں مرزائیت بہت زیادہ قوی ہو رہی ہے اور یہ اثرات روز بروز علاقہ میں پھیلتے جا رہے ہیں۔ اگر ان کا انسداد نہ کیا گیا تو خطرہ ہے کہ یہ ارتداد تمام علاقہ میں پھیل جائے گا۔ چنانچہ حضرت مولانا ہزارویؒ مرحوم جو بعض دیگر ہم خیال علماء مثلاً مولانا عبد القیوم پوپلزئی اور مولانا لطف اللہ جہانگیرہ اور حکیم فضل حق آف نوشہرہ وغیرہ کے ساتھ پہلے سے اس فرقہ کے خلاف پشاور‘ مردان وغیرہ میں برسرپیکار تھے۔ انہوں نے مشورہ کیا اور سب اکٹھے ہو کر شیر خان کی معیت میں زیدہ پہنچے۔

پہلے پہل تو لوگوں نے اپنی اپنی مساجد وغیرہ میں مرزائیوں کے خلاف جلسہ کرنے کی اجازت سے پہلو تہی کی۔ مگر بعد میں سمجھانے اور شیر محمد خان کی کوششوں سے آئندہ جمعہ کو مسجد محلہ ہنکڑ میں جلسہ مقرر ہوا۔ تمام علاقہ میں تشہیر کی گئی۔ جمعہ کو لوگ کافی تعداد میں جمع ہوئے۔ کئی لوگ تو تماشہ کے خیال سے آئے تھے کہ خانوں کے خلاف ان کے قصبہ میں جلسہ کیسے ہوگا۔ بہرحال جلسہ شروع ہوا۔ سب سے پہلے تقریر مولانا لطف اللہ صاحب نے شروع کی۔ مخالفین بھی مجمع کے باہر قطار باندھ کر کھڑے تھے۔ ان مخالفین میں خوانین کی ایک سرکردہ شخصیت مسمی عجب خان جو ان دنوں ضلع ہزارہ اوگی میں پولیٹیکل تحصیلدار تھا

صفحہ 72

اور تھا بھی کٹر مرزائی۔ جس نے ہزارہ میں بھی کافی تخم بویا تھا، وہ بھی جلسہ گاہ کے باہر ایک چبوترے پر چارپائی ڈال کر بیٹھا تھا۔ نیز اس کا ایک لڑکا یوسف خان بھی قطار میں کھڑا تھا۔ مولانا لطف اللہ صاحب نے مرزا غلام احمد کا ذکر کیا اور اس کے دعوؤں کے بارے میں کہنا شروع کیا تو پہلے تو مرزائیوں نے گڑبڑ شروع کی مگر بعد میں جب مولانا لطف اللہ نے کافر کا لفظ کہا تو عجب خان اچانک کھڑا ہوا اور شور و شغب شروع کر دیا اور اس کے بیٹے یوسف خان نے پستول نکال کر دھمکی دی کہ اگر مرزا کے متعلق ایک لفظ بھی زبان سے نکالا تو گولی مار دوں گا۔

جب یہ کیفیت دیکھی تو مولانا ہزاروی یکدم کھڑے ہو گئے اور مولانا لطف اللہ کو بٹھا دیا اور خود اپنا گریبان کھول کر اور سینہ ننگا کر کے کہنے لگے کہ تم میں غیرت ہے تو مارو میرے سینے میں گولی، تمہارے اس موعود پیغمبر میں تو اتنی غیرت نہیں تھی، تم میں اتنی غیرت کہاں سے آگئی۔ چنانچہ مولانا اپنی عادت کے مطابق اور جوش ایمانی سے ایسے گرجے اور ایسے برسے جس سے تمام حاضرین اس قدر متاثر ہوئے کہ نوجوانوں نے عجب خان کے لیے جو چارپائی رکھی تھی وہ فوراً اٹھا کر باہر پھینک دی اور ہر طرف نعرہ تکبیر کی صدا گونجنے لگی۔ ادھر پولیس کا تھانیدار، اس وقت کوئی سکھ تھا، وہ موجود تھا۔ حضرت مولانا نے اس تھانیدار کو للکار کر کہا، اگر پولیس والے اس مجمع کو کنٹرول نہیں کر سکتے تو ہٹ جائیں۔ ہم مسلمان خود کنٹرول کرلیں گے۔ چنانچہ تھانیدار نے بھی مجبوراً یوسف خان کے ہاتھ سے پستول چھین لیا اور باقی شریروں کو جو چند ایک آدمی تھے، بھگا دیا۔ اس کے بعد حضرت مولانا نے ڈیڑھ گھنٹہ تقریر کی اور مرزائیت کے تار و پود کو بکھیر دیا۔ مسلمانوں سے کہا کہ ان کو اپنے قبرستان میں دفن ہونے سے منع کر دو وغیرہ وغیرہ۔ چنانچہ اس جلسے کے بعد قصبہ زیدہ بلکہ علاقہ میں کایا پلٹ گئی اور مرزائی الو پرندہ جیسے دن کو باہر نکلنے سے رہے۔ قدرت خداوندی سے ایک مرزائی مسمی گلاب کا چھوٹا بچہ فوت ہو گیا۔ مسلمانوں نے مسمی شیر محمد کی سرکردگی میں قبرستان پر پہرہ لگا دیا۔ اس کے بعد گلاب مرزائی نے ارادہ کیا کہ اپنی ملکیت کی زمین پر جو بھائیوں کے ساتھ مشترک تھی۔ اس میں قبر کھودنے کا ارادہ کیا تو اس کے بھتیجوں نے جو کہ مسلمان تھے کہا کہ ہمارا دوسرا چچا مسمی عبد المنان جو کہ پشاور میں ملازم ہے، اس کو منگواؤ اور زمین تقسیم کرو، بعد ازاں اپنے حصہ کی زمین میں دفن کرو۔ چنانچہ اسی کشمکش میں

صفحہ 73

تین دن تک مردہ پڑا رہا۔ بعد ازاں ایک اور مرزائی‘ شاید اس کا نام گل محمد تھا‘ نے اپنی زمین میں دفن کرنے کو کہا مگر کوئی قبر کھودنے والا زیدہ میں نہ ملا اور ٹوپی وغیرہ سے اپنے رشتہ دار مرزائیوں کو بلایا اور قبر کھودی اور دفن ہوا۔ کچھ مدت کے بعد اس عجب خان کا انتقال ہو گیا۔ اس کے جنازہ اور قبر کا بھی یہی حشر ہوا۔ زیدہ میں ایک بچہ مسلمان بھی اس کے (عجب خان) نزدیک نہیں ہوا۔ دو چار مرزائیوں نے (مل کر) سپرد خاک کر دیا۔

شاید ان دنوں خان عبدالغفور خان صاحب آف زیدہ جو کہ خوانین کے چیف اور صوبہ سرحد کے لیجسلیٹو اسمبلی کے سپیکر تھے‘ ان کو عجب خان کی موت کی اطلاع ہوئی۔ چونکہ رشتہ دار تھے‘ شام کو کار میں سوار ہو کر پہنچے۔ اڈہ کے پاس لوگوں سے پوچھتے ہیں کہ جنازہ ہو گیا۔ لوگوں نے کہا کہ دفن کر دیا گیا۔ پھر عبدالغفور خاں پوچھتا ہے کہ جنازہ ہو گیا؟ لوگوں نے کہا کہ دفن کر دیا گیا ہے۔ وہ غصہ سے بکنے لگا کہ میں جنازہ کے متعلق پوچھتا ہوں؟ لوگوں نے کہا کہ گاؤں کے لوگ نزدیک بھی نہیں ہوئے۔ شاید کچھ مرزائیوں نے کچھ کیا ہو‘ تو خان موصوف کہنے لگے اگر یہ بات ہے تو پھر میں کیوں جاؤں اور ان تمام لوگوں سے مخالفت مول لوں۔ چنانچہ وہ اسی کار میں واپس چلے گئے۔ کچھ عرصہ بعد اسی خان عبدالغفور صاحب کا انتقال ہو گیا۔ چونکہ بہت بڑا خان تھا اور سیشن جج بھی رہ چکا تھا اور اسمبلی کا سپیکر بھی‘ لوگ بہت بڑی تعداد میں آئے۔ حسب روایت شیر محمد خان نے عبدالرحیم خان کو جو خان عبدالغفور خان کا لڑکا تھا اور اس وقت سیشن جج تھا لکھا کہ چونکہ تمہارا بھائی عبدالحمید خان مرزائی ہے۔ اگر وہ اپنے والد کے جنازہ میں شریک ہو گا تو ہم مسلمان شریک نہ ہوں گے۔ اگر وہ شریک نہ ہو نیز اور مرزائی (بھی) تو پھر جنازہ پڑھیں گے۔ چنانچہ عبدالرحیم خان نے لکھا کہ عبدالحمید وغیرہ نہیں ہوں گے۔ چنانچہ جب جنازہ رکھا گیا تو شیر محمد خان اور خان موصوف مرحوم کا چھوٹا لڑکا عبدالرؤف خان صفوں میں پھرے اور لوگوں سے کہا کہ اگر کوئی مرزئی ہو تو اس کو نکال دو۔ چنانچہ چند ایک مرزئی ایک طرف نکل کر بیٹھ گئے اور مسلمانوں نے نماز جنازہ ادا کیا۔ اسی جنازہ میں نواب ہوتی‘ نواب محمد اکبر خان بھی موجود تھے۔ اس نے خان مرحوم کے بیٹے عبدالحمید مرزائی کو بہت برا بھلا کہا۔ تیسرے روز عبدالحمید خان نے اپنے حجرے میں جبکہ لوگ تیسرے روز فاتحہ کے لیے آئے ہوئے تھے‘ مرزائیت سے بیزاری کا اعلان کیا۔

صفحہ 74

مگر وہ اعلان بھی مصنوعی اور دھوکا تھا مگر بہر حال یہ تمام معرکہ سر کرنے اور لوگوں میں مرزائیت کی حقیقت آشکار کرنے اور مسلمانوں کے ایمانوں کو محفوظ کرنے کا سہرا بھی انہی مجاہد کبیر مولانا مرحوم کے سر ہے۔ تھوڑا عرصہ پہلے عبد السلام مرزائی جو کہ عبدالحمید خان کا بیٹا ہے جو کہ ہزارہ میں ڈی۔سی رہ چکا ہے اور جس نے مولانا مرحوم پر ہزارہ میں کئی مقدمات بنا رکھے تھے، ان کی بیوی کا انتقال ہو گیا تھا اور جو اسی شیر محمد خان کی چچا زاد بہن تھی کے جنازے کا بھی یہی حشر ہوا۔ (کوئی مسلمان نزدیک نہیں گیا ۔)

زیدہ کے واقعات کے بعد مولانا مرحوم نے ٹوپی نیز اسمعیلیہ میں بڑے زور دار جلسے کیے اور مرزائیوں کی اچھی طرح خبر لی، جس کی وجہ سے عوام کے بچے بچے کے دل میں مرزائیت سے نفرت پیدا ہو گئی۔ (بحوالہ خط مولانا عبد الحنان صاحب، جہانگیرہ، فاضل دیوبند ) یہ اصل خط احقر کے پاس محفوظ ہے۔

ایک اور واقعہ

ضلع مانسہرہ کا ایک بڑا معتبر خان مرزائی ہو گیا تھا اور معزز خوانین کے ہاں اس کی شادی ہوئی تھی۔ مولانا کو کسی معتبر ذریعہ سے پتہ چلا کہ اس خان کی بیوی ابھی تک مسلمان ہے۔ اس نے عقیدہ نہیں بدلا۔ مولانا کچھ علماء کو لے کر عورت کے بھائی سے ملے جو کہ مسلمان تھا اور اسے متوجہ کیا کہ اپنی بہن کو کسی طرح اپنے پاس بلالو۔ ورنہ اس بدکاری میں تم بھی شریک ہو گے مگر اس نے کوئی توجہ نہ دی اور باتوں میں ٹال دیا۔ مولانا نے مانسہرہ میں ایک عظیم الشان جلسہ کیا اور مرزائیت کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے اس خان کا نام لے کر فرمایا کہ مجھے باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ فلاں خان کی بیوی ابھی تک مسلمان ہے۔ وہ مرزائی ہو کر مرتد نہیں ہوئی۔ میں اس خاتون سے کہتا ہوں کہ خدارا اس جہنم کی زندگی سے کسی نہ کسی طرح اپنے آپ کو نکالے۔ اس کا مرزائی کے گھر رہنا بالکل حرام ہے اور اگر وہ نہیں نکلتی تو مولانا نے بڑے زور دار لہجے میں فرمایا کہ ہے کوئی مسلمان جو اس کو اٹھا کر لے جائے، میں اس کا نکاح اس مسلمان کے ساتھ پڑھاؤں گا۔ مولانا ایسے برسے کہ کسی کو دم

صفحہ 75

مارنے کی ہمت نہ ہوئی‘ اور زندگی بھر ان خوانین سے ختم نبوت کی بنیاد پر لڑتے رہے اور انہیں سیاسی میدان میں بھی مسلمانوں کی نمائندگی کا موقعہ نہیں دیا۔ وہ ہمیشہ ناکام رہے اور مولانا کے خلاف سازشیں کرتے رہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کی نصرت اور حمایت مولانا کے ساتھ تھی‘ یہ کچھ نہ کرسکے۔

۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں مولانا کا کردار

اس تحریک کے ابتدائی معاملات طے کرنے علماء کرام‘ اولیاء عظام اور سیاسی زعماء کو دعوت دے کر انہیں ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے‘ ناموس رسالت اور تحفظ ختم نبوت کے موضوع پر سوچنے اور ملکی صورت حال کو پیش نظر رکھ کر پالیسی طے کرنے کی ذمہ داری مولانا ہزارویؒ کے سپرد تھی۔ انہوں نے ہی دعوت نامے بھیج کر ان حضرات کو بلایا۔

پھر مجلس عمل بنی۔ مطالبات طے ہوئے اور ان کے تسلیم نہ ہونے کی صورت میں سول نافرمانی کر کے جیل جانے کا فیصلہ ہوا۔ مجلس عمل نے اپنے مطالبات پیش کیے کہ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے اور سر ظفر اللہ خان کو وزارت خارجہ سے الگ کیا جائے‘ وغیرہ۔ مگر حکومت نے مطالبات کو تسلیم کرنے کی بجائے مرکزی قائدین کو کراچی میں گرفتار کر لیا۔ جس کے ردعمل میں تحریک چل پڑی۔ تحریک سے پہلے احرار رہنماؤں نے اس مسئلے کے لیے اتنا کام کیا تھا اور اس قدر احساس دلایا تھا کہ بس اشارہ کی دیر تھی۔ ملک کے کونے کونے سے علمائے کرام‘ صوفیائے عظام‘ ارباب خانقاہ و طلباء و عوام میدان عمل میں آگئے۔ مگر تحریک کا اصل میدان پنجاب خصوصاً لاہور تھا۔ تحفظ ختم نبوت کے لیے لاہور والوں کی قربانیاں تاریخ کا ایک سنہرا اور ناقابل فراموش باب ہے۔ مولانا ہزارویؒ کے سپرد صوبہ سرحد‘ خصوصاً ضلع ہزارہ تھا۔ اس سلسلہ میں انہوں نے اس وقت کے وزیر اعلیٰ خان عبدالقیوم خان مرحوم سے بات کر کے تحریک کا ہمنوا بنا لیا تھا اور اس نے حامی بھری تھی کہ وہ کسی قسم کی رکاوٹ کھڑی نہیں کرے گا مگر جب تحریک زور سے چل پڑی اور ہزاروں علماء‘ صلحاء‘ طلباء اور دیندار مسلمان میدان عمل میں آگئے تو مرکزی حکومت کے

صفحہ 76

کہنے پر خان عبد القیوم خان نے اپنے قول و قرار کی خلاف ورزی کرتے ہوئے رکاوٹ پیدا کر کے تحریک کو صوبہ سرحد میں کمزور کر دیا۔

اس دوران مولانا ہزاروی کو باوثوق ذریعہ سے مولانا محمد علی جالندھری کا پیغام ملا کہ لاہور کے حالات سخت ہوتے جارہے ہیں۔ آپ بہت جلد وہاں پہنچ کر تحریک کی قیادت اپنے ہاتھ میں لے لیں تاکہ تحریک ناکامی کا شکار نہ ہونے پائے۔ آپ گرفتاری نہ دیں ورنہ پیچھے رہ کر کوئی کام کرنے والا نہ ہوگا۔ آپ ہی نے پیچھے رہ کر کام کرنا ہے۔ یہ پیغام سن کر آپ لاہور پہنچ گئے اور تحریک کی قیادت اپنے ہاتھ میں لے لی۔ گرفتاری کے لیے پروگرام کے مطابق دستے بھیجتے رہے۔ مولانا عبد الستار خان نیازی آپ کے مستقل معاون رہے۔ حکومت نے جب دیکھا کہ حالات کنٹرول سے باہر ہو رہے ہیں تو لاہور میں مارشل لاء نافذ کر کے اسے فوج کے حوالے کر دیا۔ جنرل اعظم مارشل لاء ایڈ منسٹریٹر مقرر ہوا۔ مگر اس کے باوجود تحریک پروگرام کے مطابق جاری رہی اور منظم طریقہ سے چلتی رہی۔ ارباب مارشل لاء نے معلوم کیا کہ یہ تحریک ایسے منظم اور مخفی طریقہ سے کون چلا رہا ہے۔ انہیں معلوم ہوا کہ یہ سارا نظام مولانا ہزاروی کے ہاتھ میں ہے اور وہ کسی غیر معروف جگہ میں روپوش ہیں کہ پتہ تک نہیں چلتا۔ فوجی حکام نے اعلان کر دیا کہ جو مولانا ہزاروی کو گرفتار کرنے میں مدد دے گا اسے دس ہزار روپے انعام دیا جائے گا۔ اس پر بھی کامیابی نہ ہوئی تو مرکزی کابینہ میں فیصلہ ہوا کہ جہاں ملیں، انہیں گولی سے اڑا دیا جائے گا۔ مولانا ایسے حالات میں جب باہر گولیاں برس رہی تھیں، فوجی جس کو چاہتے برسٹ مار کر ختم کر دیتے اور جس کو چاہتے جیل بھیج دیتے، اپنے تدبر اور عزم و حوصلہ سے تحریک کا کام جاری رکھے ہوئے تھے۔ آپ کا لباس بہت سادہ تھا۔ پتہ ہی نہیں چلتا تھا کہ یہ بھی کوئی لیڈر ہے۔ اس وقت لاہور میں آپ کا ایک داماد محمد یوسف خان اپنی بیوی مسمات خدیجہ بی بی کے ہمراہ رہتا تھا اور اس وقت بالکل غیر معروف آدمی تھا اور کسی جگہ ملازم تھا۔ مولانا اکثر ان کے گھر میں رہتے اور ہدایات لکھ کر یوسف خان کے ذریعے ذمہ دار لوگوں تک پہنچاتے۔

ختم نبوت کا یہ مجاہد مولانا کی ہدایات اور خطوط لے کر ایک پرانے سے تھیلے میں ڈال لیتا اور سائیکل پر سوار ہو کر فوجیوں کی گاڑیوں کے سامنے سے گزر کر متعلقہ لوگوں تک پہنچا آتا اور کسی کو شک نہ گزرتا۔ ماشل لاء دور میں یہ ڈیوٹی جان پر کھیل کر یوسف خان ہی ادا

صفحہ 77

کرتا رہا۔ مولانا کبھی بیڈن روڈ پر حضرت سیفی صاحبؒ کے ہاں تشریف لے جاتے‘ کبھی حضرت لاہوریؒ کے ہاں پہنچ جاتے۔ اس طرح رات دن جگہ بدلتے رہتے۔ جب مارشل لاء کی سختی عروج پر پہنچ گئی اور آپ کی گرفتاری کے لیے جگہ جگہ چھاپے پڑنے لگے تو آپ نے گرفتاری دینے کا فیصلہ کیا۔ کیونکہ خیال آیا اگر اس طرح گولی سے مارا گیا تو بزدلی تصور ہوگی۔ آپ گرفتاری کے ارادہ سے آ رہے تھے کہ مولانا عبید اللہؒ حضرت لاہوریؒ کے خلف الرشید راستہ میں ملے اور گرفتاری کی مخالفت کی اور آپ کو کار میں بٹھا کر لاہور سے کئی میل باہر لے گئے اور وہاں چھوڑ آئے۔ چند دنوں کے بعد آپ پھر لاہور آگئے اور پھر گرفتاری دینے کا فیصلہ کیا مگر اس بار بھی مولانا عبید اللہ کو پتہ چلا‘ وہ آ کر راستہ سے آپ کو کار میں بٹھا کر لاہور سے تقریباً بارہ میل دور چھوڑ آئے اور فرمایا‘ گرفتاری نہیں دینی۔ (اس میں کیا حکمت تھی‘ پھر کبھی عرض کروں گا۔ انشاء اللہ) کچھ دنوں کے بعد پھر لاہور آئے۔ اور مولانا داؤد غزنویؒ سے مشورہ کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ اب کسی اشتعال کی ضرورت نہیں ہے۔ لوگوں پر مارشل لاء کا اثر پڑا ہوا ہے۔ آپ لاہور سے باہر چلے جائیں اور گرفتاری نہ دیں۔ آپ نے لاہور سے باہر جانے کا فیصلہ کر لیا مگر مارشل لاء کے دوران لاہور سے باہر جانا بے حد مشکل تھا۔ سب راستوں پر فوجی چوکیاں تھیں۔ آنے جانے والوں کو وہ پوری طرح چیک کرتے۔ پھر پاس بنا کر دیتے۔ لاہور سے جانے کی وجہ دریافت کرتے۔ واپسی کا وقت پوچھتے اور اسے ایک کارڈ حوالے کرتے۔ واپسی پر وہ کارڈ چیک پوسٹ والوں کے حوالے کر کے جانا پڑتا۔ اس کارروائی کا مقصد یہ تھا کہ لوگ تحریک میں قربانی دینے کے لیے نہ آ سکیں اور مطلوبہ لوگوں کو پکڑا جاسکے۔ مولانا کے لیے یہ مرحلہ بڑا مشکل تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اس کا بندوبست بھی فرما دیا۔ مولانا خداداد مرحوم جو مولانا کے ہم زلف تھے اور شیخوپورہ چک نمبر ۱۶ میں زمین خرید کر آباد ہو گئے تھے اور یوسف خان کے والد ماجد تھے۔ انہوں نے بڑی زبردست قربانی اور بے مثال جرات کا مظاہرہ کیا۔ وہ مولانا کی بچی اور اپنی بہو کو لے کر شیخوپورہ چک نمبر ۱۶ چلے گئے۔ وہاں سے ہو کر بچی کو لے کر پھر لاہور آئے اور بچی کا برقعہ مولانا کو اوڑھا کر انہیں اپنے ہاں شیخوپورہ چک نمبر ۱۶ لے گئے۔ پندرہ‘ بیس دن آپ وہاں ٹھہرے رہے۔ مگر یہاں سب سہولتوں کے باوجود یہ پریشانی تھی کہ ملک کی صورت حال صحیح طور پر معلوم نہیں ہو سکتی تھی۔ آپ نے مولانا خداداد مرحوم

صفحہ 78

سے فرمایا کہ مجھے اسی طرح بحفاظت میرے شیخ و مرشد کے پاس خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف پہنچادیں۔ انہوں نے پھر جان پر کھیل کر یہ ڈیوٹی سرانجام دی اور بحفاظت مولانا کو برقع پہنا کر خانقاہ سراجیہ پہنچا دیا۔ یہاں آپ تین ماہ تک رہے۔ پھر گرمی اور حبس وغیرہ کی وجہ سے آپ نے تنگی محسوس کی تو آپ کو حضرت رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے خاص مرید کے پاس بھلوال بھیج دیا۔ جہاں ان کے پاس بستی سے باہر وسیع زمین تھی اور اس میں ان کی آبادی تھی۔ اس طرح آپ سات ماہ تک ان کے پاس بڑی آزادی سے رہے۔ آپ کے پاس پابندی سے اخبارات پہنچائے جاتے اور آپ ان کی روشنی میں مرکزی قائدین تک اپنے خیالات کو پہنچاتے رہتے۔ ۵۳ء تحریک ختم نبوت میں وہ جرح درج ہے‘ جو آپ نے سر ظفر اللہ خان پر جرح کرنے کے لیے لکھ کر بھیجی تھی۔ آپ کی سلامتی اور حفاظت کے بارے میں دو واقعات بیان کرنے مناسب ہوں گے۔ ایک بار خود میرے استفسار پر مولانا نے فرمایا:

کہ میں لاہور میں جہاں مقیم تھا۔ وہاں پولیس کی چوکی قریب ہی تھی اور پولیس والے آتے جاتے تھے۔ مارشل لاء حکام کا تشدد زوروں پر تھا۔ ایک دن مجھے کچھ پریشانی سی لاحق ہوئی۔ اسی حالت میں میری نیم سی آنکھ لگ گئی اور میں نے بین النوم والیقظہ‘ دیکھتا ہوں کہ رسول اکرم ﷺ تشریف فرما ہیں اور میری پیشانی پر اپنا دست مبارک رکھ کر ارشاد فرماتے ہیں:

غلام غوث فکر نہ کرو۔ تم نے جو کچھ کیا ہے‘ محض ناموس رسالت کے تحفظ کے لیے کیا ہے۔ خداوند تعالیٰ تیری ضرور حفاظت فرمائے گا۔ اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی اور میں اللہ تعالیٰ کا شکر بجالایا اور حضور انور ﷺ کی زیارت سے دل مسرت سے بھر گیا‘ پھر مجھے کسی حال میں بھی پریشانی لاحق نہیں ہوئی۔

دوسرا واقعہ آپ کے مرشد قطب وقت حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب خانقاہ سراجیہ کا ہے کہ آپ نے آسمان کی طرف دیکھا۔ آنکھیں بند کیں اور قلب پر نظر جما کر (یعنی مراقبہ کر کے) ارشاد فرمایا: کہ میں مولانا غلام غوث کو اپنی تحویل میں لیتا ہوں‘ انشاء اللہ دشمن ان کا بال بیکا نہیں کر سکے گا۔

اور الحمد للہ ایسا ہی ہوا۔ ان واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ ملاء اعلیٰ میں آپ کی

صفحہ 79

حفاظت کا فیصلہ ہو چکا تھا اور آئندہ کے لیے آپ سے دینی خدمت لینا مقدر تھا، ورنہ اس موقعہ سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کر لیا گیا تھا۔ قاضی شمس الدین صاحب درویش ہری پور کا بیان ہے کہ جنرل ضیاء الدین قادیانی جو راولپنڈی میں متعین تھا، محض اس غرض کے لیے لاہور پہنچا اور پنجاب کے جملہ قادیانیوں نے مل کر مولانا غلام غوث ہزاروی کی تلاش میں چپہ چپہ چھان مارا۔ گھر گھر تلاشی لی گئی۔ حتیٰ کہ سیفی صاحب کے ہاں بھی چھاپا پڑا، مگر خداوند تعالیٰ کی حفاظت غالب آئی اور حضرت مدنی نور اللہ مرقدہ کی کرامت اپنا کام کر گئی ورنہ سکندر مرزا جو ہزارے کا ڈی۔ سی رہ چکا تھا اور مولانا کے کارناموں سے واقف تھا، اور اسے مولانا سے سخت چڑ تھی۔ ان سب نامرادوں، بے دینوں اور ملحدوں کی دلی خواہش تھی کہ مولانا جہاں ملیں، انہیں گولی سے اڑا دیا جائے مگر جسے اللہ رکھے، اسے کون چکھے۔ مولانا زندہ رہے اور ان کے سینوں پر زندگی بھر مونگ دلتے رہے۔ فالحمد للہ علیٰ ذالک۔

(ہیں مردان حق، ص ۶۱۵ تا ۶۲۳، از مولانا عبد الرشید ارشد)

آیا نہ دل میں خوف کسی بھی مقام پر
چھوڑا کبھی نہ ساتھ رسالت پناہ کا (مؤلف)

اتحاد امت

اسی ضمن میں ایک اور واقعہ حضرت والد گرامی مولانا محمد رمضان علوی کے عزیز ترین دوست اور احقر کے منہ بولے چچا حافظ ریاض احمد اشرفی رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ نے بتلایا جن کے والد حضرت امام العصر علامہ سید انور شاہ صاحب قدس سرہ کے مرید تھے۔ حافظ صاحب خود دار العلوم دیوبند کے فیض یافتہ، پنجاب یونیورسٹی کے گریجویٹ اور حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب نقشبندی مجددی سجادہ نشین خانقاہ عالیہ سراجیہ کندیاں ضلع میانوالی کے تربیت یافتہ تھے۔ روزنامہ جنگ راولپنڈی کے مدتوں سینئر ایگزیکٹو رہے۔ چند سال قبل اللہ کو پیارے ہو گئے۔ مرحوم کی والدہ نے جو بہت ہی نیک خاتون تھیں، مسجد پٹولیاں والی لاہور میں حضرت امیر شریعت کی تقریر سے متاثر ہو کر انہیں حافظ قرآن بنایا۔

صفحہ 80

مرحوم کے تعلقات مولانا غلام غوث ہزاروی، مولانا محمد علی جالندھری اور مولانا عبید اللہ انور سے مثالی تھے۔ والد بزرگوار مولانا محمد رمضان علوی کی موجودگی میں حافظ اشرفی صاحب مرحوم نے مبلغ پچاس روپیہ مجلس کی امداد کے لیے پیش کیا، جس کی رسید کاٹ دی گئی تو بعد میں حافظ صاحب نے پچاس روپیہ بطور ہدیہ مولانا کو پیش کیا۔ مولانا جالندھری نے اس کی رسید کاٹ دی اور حافظ صاحب کے تعجب پر فرمایا کہ مجھ میں اور مجلس میں کیا فرق ہے؟

حافظ صاحب کے تعلقات کا سلسلہ بڑا وسیع تھا۔ مولانا سید محمد داؤد غزنوی اور مولانا ابوالحسنات سے بہت اچھے مراسم تھے اور حضرت لاہوری قدس سرہ کو تو اپنا محسن سمجھتے۔ جس کا اظہار کئی بار احقر کے سامنے کیا۔ مولانا ابوالحسنات ان کی معیت میں تھانہ بھون تشریف لے گئے۔ حضرت حکیم الامت تھانوی قدس سرہ کے دو دن مہمان رہے..... حضرت تھانوی خود ان کے لیے وضو کے پانی کا اہتمام کرتے۔ کھانا لے کر خود آتے ان کی اقتدا میں نمازیں پڑھیں اور چلتے ہوئے مولانا کی خدمت میں ہدیہ پیش کیا..... اللہ اکبر کیا لوگ تھے۔

جن کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے احترام کے یہ جذبات تھے۔ بہر طور ماضی کے ان واقعات کے پیش نظر مولانا کی طبیعت میں کافی انقلاب آچکا تھا۔ اب حضور ختمی مرتبت علیہ السلام کی عزت و ختم نبوت کے لیے میدان میں آگئے۔ جیل میں شاہ جی کے سلوک اور اس کا نتیجہ کیا نکلا۔ اس کا جواب حیات امیر شریعت میں جانباز مرزا کے قلم سے سنیں.....

امیر شریعت کے اخلاق اور تواضع نے مولانا ابوالحسنات کو ان کا اس قدر گرویدہ کیا کہ وہ بے اختیار کہنے لگے:

"شاہ جی! آپ تو اس دور کے ولی ہیں، مجھے تو آپ سے متعلق بہت کچھ کہا سنا گیا تھا۔ لیکن آپ سے قرابت داری نے میری ساری غلط فہمیاں دور کر دیں، الحمد للہ۔

امیر شریعت یہ سن کر مسکرائے اور استغفر اللہ پڑھتے رہے۔

(صفحہ ۳۶۳-۶۴)

(سوانح مولانا محمد علی جالندھری، ص ۱۹۷ از محمد سعید الرحمٰن علوی)

صفحہ 81
جو گزرتے ہیں آہ تیرے بغیر
ایسے شام و سحر کو کیا کہئے (مؤلف)

جب مرزائی غیر مسلم قرار دیئے گئے

میاں محمد شفیع (راولپنڈی)

پچھلے دنوں ایک روزنامہ میں جناب میاں نظیر احمد صاحب کا ایک ایمان افروز مضمون بعنوان ”جنگ افغانستان‘ کچھ باتیں امور تکوینی کی“ شائع ہوا تھا۔ اس میں ایک خواب کا ذکر تھا، جس سے معلوم ہوتا تھا کہ فتح بالآخر مجاہدین کے قدم چومے گی۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور احادیث نبویؐ سے بھی ثابت ہے کہ رؤیا صالح کو دین میں خاص اہمیت حاصل ہے۔

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نبوت کے آثار میں سے اب کچھ باقی نہیں رہا مگر مبشرات۔ (یعنی نبوت میرے بعد ختم ہو جائے گی اور آئندہ ہونے والے واقعات معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ مبشرات کے سوا باقی نہ رہے گا) صحابہ کرام ؓ نے دریافت کیا کہ مبشرات کیا ہیں؟ حضور ﷺ نے فرمایا‘ اچھے خواب۔ (یعنی خوشخبری دینے والے)

رؤیا صالح کے حوالے سے میں ایک خواب کو جو مرزائیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے متعلق ہے‘ قارئین کرام کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔ ممکن ہے کہ یہ چند سطور پڑھ کر کسی کی قسمت جاگ اٹھے۔

میری ایک رشتہ دار عمر رسیدہ نیک سیرت خاتون ہیں۔ نماز و روزہ کی پابند ہیں اور حج کی سعادت حاصل کر چکی ہیں۔ وہ اس لحاظ سے بڑی خوش قسمت ہیں کہ انہیں خواب میں سید المرسلین‘ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت با برکت کا شرف حاصل ہوا۔ جس رات انہوں نے یہ مبارک خواب دیکھا‘ اس سے اگلی صبح مجھ سے کہنے لگیں: ”گزشتہ شب میں خواب میں اپنے آپ کو مسجد نبویؐ میں پاتی ہوں‘ وہاں تھوڑی دیر

صفحہ 82

قیام کے بعد دیکھتی ہوں کہ بعض نمازی آپس میں الجھ رہے ہیں۔ وجہ معلوم کی تو پتہ چلا کہ صحن میں جو قالین بچھے ہوئے ہیں‘ ان کے پاس کوئی شخص ایک میلی کچیلی دری بچھا گیا ہے۔ بعض حضرات چاہتے ہیں کہ اس دری کو ہٹا دیا جائے جبکہ بعض کا خیال ہے کہ یہ ایک طرف پڑی رہے۔ ابھی تکرار جاری تھی کہ نبی اکرم ﷺ تشریف لاتے ہیں۔ حضورؐ کے چہرہ اقدس سے نور کی کرنیں پھوٹ رہی تھیں۔ پاس ادب سے میری نظریں حضورؐ کے مبارک قدموں پر جمی رہیں۔ حضورؐ نے دریافت فرمایا کہ آپ کس بات پر جھگڑ رہے ہیں۔ ایک صاحب نے واقعہ بیان کیا اور وہ غلیظ دری بھی دکھائی جو پچھلی جانب پڑی تھی۔ حضورؐ نے فرمایا کہ اس دری کو اٹھا کر مسجد سے باہر پھینک دیا جائے۔ اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔“

محترمہ موصوفہ جب خواب بیان کر چکیں تو مجھ سے اس کی تعبیر پوچھی۔ میں علم تعبیر کی ابجد سے بھی واقف نہ تھا۔ لیکن ان دنوں کے واقعات کے تناظر میں جب میں نے اس خواب پر غور کیا تو اس کی تعبیر بہت سہل نظر آئی۔ ان دنوں مسٹر بھٹو کا دور اقتدار تھا۔ ختم نبوت کی تحریک کو عوام کی زبردست حمایت حاصل ہو چکی تھی۔ قومی اسمبلی میں یہ مسئلہ زیر بحث تھا کہ مرزائی اپنے عقائد کے اعتبار سے دائرہ اسلام سے خارج ہیں یا نہیں۔ ان واقعات کی روشنی میں خواب میں جو اشارہ موجود تھا‘ وہ نہایت واضح تھا۔

میں نے خواب کی تعبیر یہ بتائی کہ مرزائی‘ انشاء اللہ عنقریب غیر مسلم قرار دیے جائیں گے۔ میں نے ان ایام میں یہ خواب اپنے کئی عزیزوں اور دوستوں کو سنایا اور اس کی تعبیر بھی بتائی۔ لیکن اس خواب کو صفحہ قرطاس پر منتقل کرنے کا فریضہ اب سر انجام دے رہا ہوں۔ ابھی تھوڑے ہی دن گزرے تھے کہ حکومت نے ایک تاریخ ساز فیصلہ صادر کیا۔ جس کی رو سے مرزائی غیر مسلم قرار دیے گئے۔ اس فیصلہ نے خواب کی سچائی اور تعبیر کی درستگی پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔

(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ جلد ۷‘ شمارہ ۲۳)

صفحہ 83

ربوہ میں منفی سوچ والے دانشور ، مرزا طاہر کی پریشانی

سوشل بائیکاٹ کی تلقین

دو دانشوروں کی قادیانیت سے علیحدگی

محمد حنیف ندیم

ربوہ میں افراتفری اور کھلبلی مچی ہوئی ہے۔ وہاں کی منفی سوچ والے دانشوروں کا طبقہ اٹھ کھڑا ہوا جو رائل فیملی اور اس کے کارندوں کی شہ خرچیوں اور عیاشیوں پر تنقید کرتا ہے۔ مرزا طاہر اس صورت حال سے لندن میں بیٹھا کڑھ رہا ہے اور نصیحت کر رہا ہے کہ جماعت والے ایسے دانشوروں کے پاس نہ جایا کریں اور نہ ان کے پاس بیٹھا کریں۔ گویا صاف لفظوں میں ان کا سوشل بائیکاٹ کریں۔ مرزا طاہر کے بیان سے دو اقتباس ملاحظہ ہوں۔

”جماعت کو میں نے نصیحت کی تھی کہ ہم میں جو دانشوروں کا طبقہ منفی سوچ والا پیدا ہو رہا ہے ، ان کو اپنی فکر کرنی چاہیے۔ اگر انہوں نے فکر نہ کی تو ان کی اولادوں کی بھی کوئی ضمانت نہیں۔“

”ایسے دانشور ، جو اس حد تک پہنچ جاتے ہیں کہ اڈوں کے سردار بن جاتے ہیں ، وہ چونکہ جذام پھیلانے لگتے ہیں۔ اس لیے میں نوجوان نسلوں کو آج نصیحت کرتا ہوں کہ پھر ان لوگوں کے پاس نہ جایا کریں۔ ان کے پاس نہ بیٹھا کریں۔“

(الفضل ، ربوہ ۲۸ نومبر ۱۹۸۸ء ، ص ۵ ، ص ۶)

اس کی تصدیق ”الفضل ۲۱ جنوری ۱۹۸۹ء میں شائع ہونے والی اس اطلاع عام سے بھی ہوتی ہے ، جس میں ناظر امور عامہ ربوہ نے اعلان کیا ہے کہ ربوہ کے دو افراد نے جن

صفحہ 84

میں ایک محلہ دار الفضل کا اور دوسرا فیکٹری ایریا کا رہائشی ہے۔ جماعت سے علیحدگی اختیار کرلی ہے (ہم ان دونوں کے نام حذف کر رہے ہیں۔ الفضل کے شمارہ میں ان کے نام دیکھے جاسکتے ہیں۔)

(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی، جلد ۷، شمارہ ۳۷، از قلم: محمد حنیف ندیم)

انگریز اور قادیانی

مسلمان بھائیو! ذرا اپنے ماضی کے اوراق کو پلٹو، گزرے ہوئے دنوں کو آواز دو۔ ان پر آج ہمارے اجداد کے خون کے چھینٹے ہیں۔ معصوم عصمتوں کے جھلسے ہوئے داغ ہیں اور وہ بھیانک قہقہے ہیں جو ۱۸۵۷ء کی جنگ جیتنے کے بعد مسلمان کے خون سے بھرے ہوئے جاموں کو حلق میں انڈیلتے ہوئے انگریز نے لگائے تھے۔ ذرا ہندوستانی مسلمان کے تمدنی ارتقاء کی کڑیاں جوڑ کر دیکھو کہ انگریز کے منحوس سائے نے اسلام کی زندگی کو کس طرح مرجھا دیا اور غلام احمد کہتا ہے کہ اسلام کی زندگی ہی انگریز کی سلطنت سے پیدا ہوئی۔

(خطاب: امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ)

اکابرین کا اخلاص

”جب ملتان میں مجلس کے دفتر کا معاملہ طے ہوا تو حضرت امیر شریعت علالت کے سبب اجلاس میں موجود نہ تھے۔ مجھ سمیت سہ رکنی کمیٹی حضرت شاہ صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اجلاس کا فیصلہ سنایا کہ زمین کی الاٹ منٹ حضرت امیر شریعت کے نام ہوگی۔“

”شاہ جی نے فرمایا کہ نہیں۔۔۔۔ کام بھائی محمد علی نے کرنا ہے تو دفتر کی زمین بھی انہی کے نام الاٹ ہو۔ میں نے عرض کیا کہ وہ اجلاس کا فیصلہ ہے تو فرمایا بھائی زندگی کا پتہ نہیں

صفحہ 85

کل خدانخواستہ میرے وارثوں کی نیت میں فتور آجائے تو میرے لیے اور ان کے لیے اخروی بوجھ ہو گا۔ اس لیے رجسٹری مولانا محمد علی جالندھری ہی کے نام ہو۔"

"چنانچہ میں نے آبدیدہ ہو کر عرض کیا کہ شاہ جی اپنی اولاد و ورثاء کے لیے جس خطرہ کا آپ اظہار فرما رہے ہیں۔ وہ میرے ورثاء کے ساتھ بھی ممکن ہے اور مجھے افسوس ہے کہ اپنی اولاد کی آپ کو فکر ہے۔ میری اولاد کو آپ نے اپنی اولاد نہیں سمجھا۔ اس پر مجلس میں سب آبدیدہ ہو گئے اور دیر تک خاموشی سے بہت آنسو بہاتے رہے۔ آخر یہ طے ہوا کہ اجلاس بلا کر فیصلہ کرایا جائے کہ زمین کی ملکیت کے کاغذات فرد واحد کے نام نہ ہوں بلکہ مجلس و جماعت کے نام ہوں۔

(سوانح مولانا محمد علی جالندھریؒ‘ ص ۱۲۶‘ از مولانا محمد سعید الرحمن علوی)

نظر نواز نظاروں میں جی نہیں لگتا
وہ کیا گئے کہ بہاروں میں جی نہیں لگتا (مؤلف)

قادیانی کتابیں

تم اپنے مخالفین کو جنگل کا سور اور ان کی عفت ماب خواتین کو کتیاں کہتے ہو۔ تمہاری کتابوں میں اتنی عفونت اور سڑانڈ ہے کہ کوئی شریف آدمی ناک پر کپڑا رکھے بغیر انہیں دیکھ نہیں سکتا۔ میں حکومت سے پوچھتا ہوں کہ ایسے غلیظ و متعفن جملے تمہاری پبلشنگ کے ضابطوں کی زد میں نہیں آتے؟ تم نے آج تک ان کتابوں کو ضبط کیوں نہیں کیا؟ کیا یہ کھلم کھلا جانب داری اور مرزائی خاندان کی خدمات کا صلہ نہیں؟

ہمارے مسلمانوں کے اخبارات حکومت پر جائز تنقید کریں تو احرار‘ زمیندار‘ احسان‘ سیاست فوراً ضبط کر لیے جاتے ہیں۔ ان سے خطیر رقموں کی ضمانتیں لی جاتی ہیں۔

(خطاب: امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ)

صفحہ 86

مولانا شاہ احمد نورانی کی باتیں

۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت شروع ہوئی تو میں اس وقت سکول میں پڑھتا تھا۔ شاید نویں یا دسویں میں۔ مجھے یاد ہے تحریک شروع ہونے کے بعد میرا دھیان کتابوں کے بجائے تحریک کی طرف ہو گیا تھا۔ ان دنوں مسجد وزیر خان اور دہلی دروازے کے باہر میدان میں تقریباً ہر روز جلسے ہوتے تھے۔ اکابر دھواں دھار تقریریں کرتے اور بعد میں زور و شور سے جلوس نکالے جاتے۔ ان جلسے جلوسوں میں شرکت میرا معمول بن گیا تھا۔ لاہور کے علاوہ دوسرے شہروں میں بھی تحریک زوروں پر تھی۔ اخبارات سے معلوم ہوتا تھا جیسے پورا ملک مرزائیوں کو اقلیت قرار دلانے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا ہے۔

مولانا شاہ احمد نورانی کا نام پہلے پہل میں نے اسی زمانے میں سنا۔ وہ کراچی میں تحریک کے لیے بڑی سرگرمی سے کام کر رہے تھے۔ پھر بعد میں جب منیر رپورٹ شائع ہوئی تو اس میں بھی ان کا نام نظر سے گزرا۔

اس کے بعد ایک عرصہ گزر گیا۔ نورانی میاں کا نام کبھی سننے میں نہیں آیا۔ ۱۹۷۰ء کے انتخابات سے کچھ عرصہ قبل وہ اچانک ایک بار پھر اخبارات کے ذریعے سامنے آئے اور الیکشن کے بعد تو دیکھتے ہی دیکھتے ہر طرف چھا گئے۔ ۱۹۵۴ء سے ۱۹۶۸ء تک وہ کہاں رہے؟ میرے اس سوال کے جواب میں نورانی میاں نے بتایا کہ اس دوران وہ تبلیغی مشن کے سلسلے میں ملک سے باہر رہے ہیں۔ یورپ' امریکہ اور افریقہ وغیرہ کے ملکوں میں شاید ہی کوئی مقام ایسا ہو گا جہاں وہ نہ پہنچے ہوں اور اسلام کی دعوت نہ پہنچائی ہو۔ بعض مقامات پر قادیانیوں سے ان کی مڈبھیڑ ہوئی۔ مثلاً نیروبی' دارالسلام' ماریشس اور لاطینی امریکہ میں سرینام' برٹش گیانا اور ٹرینی ڈاڈ میں انہوں نے بڑے کامیاب مناظرے کیے اور وہاں مرزائیوں کا ناطقہ بند کر دیا۔ ان مناظروں کے نتیجے میں تقریباً چھ سو سے زائد مرزائیوں نے توبہ کی اور از سر نو حلقہ اسلام میں داخل ہوئے۔

اس دوران انہوں نے قادیانیت کے متعلق انگریزی زبان میں ایک ضخیم کتاب بھی لکھی جس میں ایک سو سے زیادہ آیات قرآنی اور تین سو سے زیادہ احادیث نبوی سے

صفحہ 87

حضرت رسول کریم ﷺ کو آخری نبی ثابت کیا۔ نورانی میاں کی تبلیغی زندگی پر نظر ڈالیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے گویا انہوں نے تمام عمر مرزائیت کے رد میں گزاری ہے اور ایسا کیوں نہ ہوتا۔ ان کے والد ماجد حضرت شاہ عبد العلیم صدیقی بھی بیرونی ممالک میں یہی اہم فریضہ انجام دیتے رہے۔

مجھے یاد ہے‘ پاکستان آنے کے بعد ۱۹۶۹ء میں انہوں نے سب سے پہلا بیان قادیانیوں ہی کے بارے میں جاری کیا تھا۔ انہوں نے سب سے پہلا بیان یحییٰ خان کو مخاطب کرتے ہوئے صاف کہا تھا کہ تمہارا قادیانی مشیر ایم ایم احمد پاکستان کی معیشت کو تباہ کر رہا ہے۔ جس کے نتیجے میں مشرقی پاکستان تک ہمارے ہاتھوں سے نکل سکتا ہے۔ افسوس شاہ احمد نورانی کی یہ آواز صدا بصحرا ثابت ہوئی بعد میں ہم نے دیکھا کہ شیخ مجیب نے معاشی بے انصافی کا نعرہ لگا کر مشرقی پاکستان کے مسلمانوں میں تعصب کا بیج بویا اور بنگالی یہ تک کہنے لگے کہ مشرقی پاکستان کی تمام تر آمدنی مغربی پاکستان کی ڈیویلپمنٹ پر خرچ ہو رہی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ مشرقی پاکستان کو الگ کرنے کے لیے شیخ مجیب الرحمٰن کو کچھ "پاسبان" یہاں کے صنم خانوں سے بھی مل گئے تھے۔ لیکن نورانی میاں کے بروقت انتباہ سے ایسا معلوم ہوتا تھا۔ جیسے قدرت نے ۱۹۶۹ء میں انہیں وطن اسی لیے واپس بھجوایا تھا کہ وہ اہل وطن کو آنے والے عظیم خطرہ سے آگاہ کریں۔

نورانی میاں جن دنوں قومی اسمبلی میں مرزائیوں کو اقلیت قرار دلانے کے لیے دن رات جدوجہد کر رہے تھے۔ میں کئی بار اسلام آباد میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ جب بھی ان سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے بڑی محبت سے ضروری حالات و واقعات بتائے۔ جن سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ اس فتنہ کی ہلاکت آفرینی سے پوری طرح آگاہ ہیں اور اپنی تمام تر صلاحیتیں اس کے لیے وقف کیے ہوئے ہیں۔

آپ کو شاید یہ سن کر حیرت ہو کہ تحریک ختم نبوت کے دوران قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی اور رہبر کمیٹی کے اجلاسوں میں پوری ذمہ داری سے شرکت کرنے کے علاوہ انہوں نے تقریباً ڈیڑھ سو شہروں، قصبوں اور دیہات میں عام جلسوں سے خطاب بھی کیا۔ کسی نے سچ کہا ہے۔

ایں سعادت بزور بازو نیست
صفحہ 88

مسلسل گیارہ روز تک مرزا ناصر سے جرح ہوتی رہی اور سوال اور جوابی سوال کیا جاتا رہا۔ مرزا کو صفائی پیش کرتے کرتے پسینہ چھوٹ جاتا اور آخر تنگ آکر کہہ دیتا کہ بس اب میں تھک گیا ہوں۔ ائیر کنڈیشنڈ کمرے میں پچاس سے زائد گلاس پانی کے مرزا ناصر روزانہ پیتا تھا۔ اسے یہ گمان نہیں تھا کہ اس طرح عدالتی کٹہرے میں بٹھا کر اس پر جرح کی جائے گی۔ سوالات اور جرح کی کارروائی کیونکہ ابھی پوشیدہ رکھی گئی ہے۔ اس لیے اس کی وضاحت یہاں نہیں کی جاسکتی۔ ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ وہ اپنا عقیدہ خود اراکین اسمبلی کے سامنے بیان کر گیا اور اس بات کا اعلان کر گیا کہ مرزا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مسیح موعود اور امتی نبی ہے۔ جن اراکین اسمبلی کو قادیانیوں کے متعلق حقائق معلوم نہیں تھے۔ انہیں بھی معلوم ہو گئے اور انہیں اس بات کا یقین ہو گیا کہ دراصل یہ لوگ کافر‘ مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔

مرزا ناصر الدین ایک محضر نامہ کے ساتھ حاضر ہوا۔ خدا کی قدرت اور نبی کریم ﷺ کا معجزہ دیکھیے کہ جس وقت مرزا نے محضر نامہ پڑھنا شروع کیا۔ اسمبلی کے اس بند ائیر کنڈیشنڈ کمرے میں اوپر کے چھوٹے پنکھے سے ایک پرندے کا پر جو غلاظت سے بھرا ہوا تھا۔ سیدھا اس محضر نامہ پر آ کر گرا۔ جس پر وہ ایک دم چونکا اور گھبرا کر کہا: I am disturbed. سارے اراکین اسمبلی یہ تماشا دیکھ رہے تھے۔ اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی چیز اوپر چھت سے اس طریق سے گری ہو۔

(ماہنامہ ضیائے حرم‘ ختم نبوت نمبر‘ ۱۹۷۴ء)

دارالکفر ربوہ میں اسلام کا داخلہ

۲۹ مئی ۱۹۷۴ء کے سانحہ ربوہ کے بعد حکومت نے ربوہ کو سب تحصیل کا درجہ دے دیا۔ جس میں آر۔ایم مقرر ہوئے۔ پولیس‘ ڈاک‘ فون‘ بجلی‘ ریلوے‘ بلدیہ اور دوسرے محکموں کے قادیانی افسران کو تبدیل کر کے ان کی جگہ مسلمان افسر مقرر ہوئے۔ یہ سب کچھ اس دور میں ہوا۔ جس میں مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ

صفحہ 89

مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ تھے۔ آپ کی دور رس فکر نے یہ سوچا کہ یہی وہ موقعہ ہے ۔ جس کے لیے امیر شریعت حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاری‘ مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھری‘ خطیب پاکستان مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی‘ مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر اور دوسرے اکابر ترستے ہوئے اللہ کو پیارے ہوگئے۔ ان تمام حضرات نے اپنے اپنے دور میں بے پناہ کوشش کی کہ ربوہ میں کام کرنے کی کوئی سبیل نکل آئے تو ان اکابر کی سالہاسال کی امنگوں اور آرزوؤں کو عملی جامہ پہنایا جائے مگر قدرت کو منظور نہ تھا۔ یہ سعادت رب العزت نے مولانا محمد یوسف بنوری کے لیے مقرر کر رکھی تھی۔

چنانچہ آپ نے اپنے مکتوب کے ذریعے مجلس تحفظ ختم نبوت کے جنرل سیکرٹری مولانا محمد شریف جالندھری کو ہدایت کی کہ جس مناسب وقت کا مدت سے انتظار تھا‘ وہ آپہنچا ہے۔ آپ ربوہ جاکر کام کرنے کی راہیں تلاش کریں اور ربوہ میں اس مہم کا نگران مولانا تاج محمود کو مقرر کریں۔ مولانا محمد شریف جالندھری کا پیغام لے کر مولانا خدا بخش‘ مولانا قاری عبدالسلام حاصل پوری اور راقم الحروف ۵ دسمبر ۱۹۷۴ء کو جناب آر۔ایم سے ان کی عدالت میں ملے اور ان سے درخواست کی کہ اگر آپ اجازت دیں تو آپ کے احاطہ عدالت کے ایک کونہ میں مسجد نما تھڑا پر نماز باجماعت ادا کرنے کے لیے کسی آدمی کو متعین کردیں‘ جو یہاں آپ کی عدالت میں مقدموں کے سلسلہ میں آنے والے مسلمانوں کو بلا معاوضہ نماز باجماعت پڑھا دیا کرے۔ موصوف نے کہا کہ مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ مگر چند دنوں بعد آپ دوبارہ مجھ سے رابطہ قائم کریں۔ ۲۶ دسمبر ۱۹۷۴ء کو مولانا محمد اشرف جالندھری اور مولانا عزیز الرحمن خورشید‘ جو ان دنوں مجلس تحفظ ختم نبوت سرگودھا کے مبلغ تھے‘ دوبارہ ربوہ میں آر۔ایم سے ملے۔ موصوف نے ظہر اور عصر کی نماز باجماعت پڑھانے کی اجازت دے دی۔ کیونکہ عدالت کے اوقات میں یہی دو نمازیں آتی تھیں۔

چنانچہ اسی دن مجلس تحفظ ختم نبوت کھرڑیانوالہ ضلع فیصل آباد کے مبلغ حافظ سید ممتاز الحسن نے ظہر کی نماز ربوہ میں جاکر پڑھائی۔ خود اذان کہی۔ جماعت کرائی۔ پہلے دن امام صاحب کے علاوہ دو نمازی تھے۔ ربوہ میں مسلمانوں کی یہ پہلی جماعت تھی۔ بعد میں مولانا عزیز الرحمن خورشید روزانہ سرگودھا سے ربوہ تشریف لاتے اور یہ دونوں نمازیں پڑھاتے اور یہ سلسلہ چار ماہ تک جاری رہا۔ اس کے بعد کراچی سے مولانا محمد شریف احرار

صفحہ 90

کا چنیوٹ تبادلہ کر دیا گیا۔ ربوہ میں نمازیں اور جمعہ پڑھانے کا فرض انہیں تفویض کیا گیا۔

قبرستان شہداء کی حد براری

اس دوران رانا فضل الرحمن صاحب چنیوٹ کے تحصیلدار تھے۔ مولانا محمد شریف نے انہیں درخواست دی کہ ربوہ میں لاری اڈہ کے قریب مرزائیوں کا خود ساختہ بہشتی مقبرہ کے مشرقی جانب کا قبرستان جو کاغذات میں قبرستان شہداء مقبوضہ اہل اسلام ہے۔ اس کی حد براری ہونی چاہیے۔ یہ سولہ ایکڑ رقبہ پر محیط ہے اور مسلمانوں کا ہے۔ قادیانی آئین پاکستان کی رو سے غیر مسلم ہیں۔ لہٰذا اس کی حد براری کر کے نشان لگا دیے جائیں تاکہ مرزائی اس میں اپنے مردے دفنا نہ سکیں۔ یہ ربوہ میں مسلمانوں کی دوسری کامیابی تھی۔

یہ تمام کام انتہائی آہستگی سے کیا گیا۔ اس کا کہیں پروپیگنڈہ تو درکنار ذکر تک نہ کیا گیا۔ پانچ ماہ بعد ہفتہ وار ”لولاک“ کی اشاعت ۱۲ مئی ۱۹۷۵ء میں بعنوان ”کفرستان ربوہ میں اسلام کی پہلی آواز“ مسلمانوں نے ربوہ میں جمعہ ادا کرنا شروع کر دیا۔ خبر شائع کی۔ ملک بھر کے جماعتی احباب نے اس پر خوشی کا اظہار کیا۔ اب ہمارے قدم مضبوط تھے۔ دشمن کو کسی قسم کی کارروائی کرنے کی جرات نہ ہوئی۔

مسلم ٹی سٹال

آر۔ایم صاحب کی عدالت سے ملحق مسلم ٹی سٹال کے نام سے ایک چھوٹا سا کھوکھا بنوایا۔ جس میں مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے محمد اعظم کشمیری نگران مقرر ہوئے۔ عدالت میں آنے والے مسلمان یہاں سے چائے پیتے تھے۔ اس سلسلہ میں مسلمان وکلاء نے بڑا تعاون کیا۔ سب سے زیادہ لالیاں ضلع جھنگ کے جواں سال کارکن جناب محمد اشرف نے بہت محنت کی۔

صفحہ 91

مولانا خدا بخش ربوہ میں

مولانا محمد شریف کے جہلم چلے جانے کے بعد مولانا خدا بخش شجاع آبادی کو مجلس نے ربوہ کے امور کا انچارج مقرر کیا۔ موصوف نے گرمی، سردی، بارش، آندھی کی پرواہ کیے بغیر اپنا سفر جاری رکھا۔ اسی عدالت کے احاطے میں نمازیں اور جمعے ہوتے رہتے تھے۔ مولانا محمد خان مبلغ سیالکوٹ، مولانا قاضی محمد اللہ یار، مولانا منظور احمد شاہ، مولانا محمد یوسف لودھیانوی اور مولانا خلیل الرحمٰن نے کبھی کبھار مولانا خدا بخش کی عدم موجودگی میں جمعہ پڑھانے کی سعادت حاصل کی۔

ریلوے مسجد محمدیہ کی تعمیر

ریلوے کا ایک وفد غالباً ۲۵ جنوری ۷۶ء کو ربوہ ریلوے اسٹیشن کے لیے آیا۔ اس کے آفیسر نیک آدمی تھے۔ نماز پڑھنا چاہی، مسلمانوں کی وہاں کوئی مسجد نہ تھی۔ انہوں نے تحریک پیدا کی۔ اللہ رب العزت نے فضل فرمایا۔ ریلوے اسٹیشن ربوہ کا مسلمان عملہ کمر بستہ ہو گیا۔ مولانا تاج محمود نے ان کی حوصلہ افزائی کی۔ آپ نے فیصل آباد کے دوستوں کو توجہ دلائی۔ ملک بھر کے مجاہدین ختم نبوت اور اہل اسلام نے معاونت کی۔ مسجد کی تعمیر شروع ہو گئی۔ کبھی کبھار رقم کی دقت پیش آتی تو مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکز ملتان سے تعاون حاصل ہو جاتا۔ دیکھتے ہی دیکھتے مسجد بن گئی۔ مولانا تاج محمود صاحب دامت برکاتہم نے اس کا نام مسجد محمدیہ اہل سنت والجماعت تجویز کیا۔ اس کے سائن بورڈ پر جاء الحق وزھق الباطل آیت تحریر کی گئی۔ یہ مسجد مختلف مراحل سے گزر کر آج اصلھا ثابت وفرعھا فی السماء کے مصداق ہے۔ اس کی چھت پڑنے کے بعد عدالت کی بجائے جمعہ کی نماز اس مسجد میں شروع کر دی گئی۔ حضرت مولانا خدا بخش

صفحہ 92

مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے اس کے خطیب مقرر ہوئے جبکہ پنجگانہ نمازوں، اذان اور مسلمان بچوں کی دینی تعلیم کے لیے مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان نے قاری شبیر احمد عثمانی کو مقرر کیا۔ موصوف شجاع آباد سے تعلق رکھتے ہیں۔ امام اور خطیب دونوں مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی کے علاقہ کے رہنے والے ہیں۔ جو حضرت مرحوم کی نمائندگی کا حق ادا کر رہے ہیں۔ آج کل اس مسجد کی انتظامیہ کے سربراہ مولانا خدا بخش صاحب ہیں۔ پچھلے دنوں رائے ونڈ کا تبلیغی اجتماع تھا۔ حضرت مولانا تاج محمود صاحب کے توجہ دلانے پر تبلیغی جماعت کے ارباب بست و کشاد نے اپنی جماعتوں کو اس علاقہ میں بھیجنے کا اہتمام کیا۔ اللہ تعالیٰ ان حضرات کے خلوص کا صدقہ اس جگہ کو مزید آباد فرمائے۔

ربوہ میں قبول اسلام

۲۹ رمضان المبارک ۱۳۹۶ھ مطابق ۲۴ ستمبر ۱۹۷۶ء کو بروز جمعتہ الوداع مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ خطیب ربوہ مولانا خدا بخش صاحب کے دست حق پرست پر ایک مرزائی نے قبول اسلام کا شرف حاصل کیا۔ ۴ شوال ۱۳۹۶ھ کے جمعہ پر مولانا موصوف کے دست مبارک پر قصبہ احمد نگر کے حکیم غلام حسین نے اسلام قبول کیا۔ ۱۳ شوال کے جمعہ پر مسماۃ سیدہ بشریٰ اور اس کی والدہ ساکنان ربوہ نے مولانا کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ ۲۴ ستمبر ۱۹۷۶ء کی ہفت روزہ ”لولاک“ کی اشاعت کے مطابق ریلوے مسجد کے امام حافظ قاری شبیر احمد کے ہاتھ پر مزید آٹھ افراد نے اسلام قبول کیا۔

ہمیں یقین ہے کہ ان خبروں سے کل مسلمانوں کو عظیم خوشی ہوگی۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے خادموں اور مبلغوں کی پر امن، خاموش اور موثر خدمات ربوہ میں رنگ لا رہی ہیں اور ربوہ کے بھولے بھٹکے مرزائی حقیقت حال سے آگاہ ہونے پر اسلام قبول کر رہے ہیں۔ ”الحمد للہ علی ذالک حمدا کثیرا طیبا کما امر۔“

ایک زمانہ تھا کہ ربوہ میں کوئی مسلمان داخل نہیں ہو سکتا تھا۔ اگر کسی کو وہاں جانا ہوتا تو وہ ربوہ سرکار سے اجازت حاصل کیا کرتا تھا۔ کئی بے گناہ لوگ ربوہ کو ملک کا ایک

صفحہ 93

حصہ سمجھ کر داخل ہوتے تو ان کی ٹانگیں اور بازو توڑ دیے جاتے اور جان بحق کر دیا جاتا۔ لیکن اب ایک زمانہ ہے وہاں مسلمانوں کی مساجد بن رہی ہیں۔ اذان، جماعت، جمعہ اور عیدین ہو رہی ہیں۔ ربوہ اور احمد نگر کے لوگ مرزائیت سے علی الاعلان تائب ہو رہے ہیں۔ لیکن کسی مرزائی کو جرات نہیں کہ وہ ان کو ہاتھ لگا سکے۔

ربوہ میں مسلمانوں کی پہلی باجماعت نماز تراویح

رمضان المبارک ۱۳۹۶ھ ربوہ میں دو جگہ پر پہلی دفعہ مسلمانوں کی باجماعت نماز تراویح ہوئی۔ جس میں ربوہ کے رہنے والے مسلمان شریک ہوتے تھے اور نماز تراویح پڑھنے اور قرآن شریف سننے کی سعادت حاصل کرتے رہے۔ نماز تراویح مسجد تحفظ ختم نبوت کی زیر تعمیر جامع مسجد ختم نبوت مسلم کالونی میں مولانا عبد الرزاق رحیمی نے پڑھائی اور دوسری نماز تراویح ریلوے مسجد ربوہ میں ہوتی رہی۔ جہاں مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے قاری شبیر احمد نے قرآن مجید سنایا۔ حضرت اقدس مولانا سید محمد یوسف بنوری نور اللہ مرقدہ کے حکم خاص پر رمضان المبارک ۱۳۹۶ھ کے آخری عشرہ میں قاری شبیر احمد نے ریلوے مسجد میں اعتکاف کی سنت ادا کی۔ نماز عید الفطر پڑھائی اور اسی طرح عید الاضحیٰ بھی باجماعت قاری صاحب موصوف نے پڑھائی۔

اس سال ۱۳۹۷ھ میں بھی دونوں جگہوں پر باجماعت تراویح ہوئیں۔ ۲۷ رمضان المبارک ۱۳۹۷ھ کو قاری شبیر احمد صاحب نے اکیلے ہی عشاء کی نماز سے لے کر فجر تک سارا قرآن مجید سنایا۔ پوری رات مسجد اللہ رب العزت کے کلام پاک سے گونجتی رہی۔ اس سال بھی عید الفطر اور عید الاضحیٰ مسلمانوں نے ریلوے مسجد میں قاری صاحب کی امامت میں ادا کی۔

صفحہ 94

ربوہ میں مجلس کے لیے قطعہ اراضی کا حصول

اوائل ۱۹۷۶ء میں حضرت مولانا تاج محمود صاحب نے درخواست گزاری۔ مولانا محمد شریف جالندھری نے جنرل سیکرٹری ہونے کی حیثیت سے وہ درخواست محکمہ ہاؤسنگ اینڈ فیملی پلاننگ فیصل آباد کو ارسال کی کہ آپ ربوہ کی زیر تجویز رہائشی کالونی میں مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کو جامع مسجد اور مدرسہ کے لیے پلاٹ عنایت کریں۔ ہفتہ بعد ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ ہاؤسنگ جھنگ کی طرف سے جواب ملا کہ آپ کی درخواست موصول ہو گئی ہے۔ مئی ۱۹۷۶ء کے اواخر میں جناب بلال زبیری مرحوم‘ مولانا خدا بخش اور راقم الحروف ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ ہاؤسنگ جھنگ سے ملے۔ اپنی درخواست کی یاددہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ آپ ربوہ میں ایک ٹرسٹ قائم کریں۔ اسے رجسٹر کرائیں تاکہ قانونی تقاضے پورے ہوں اور آپ کو زمین دی جاسکے۔ ۱۵ جون ۱۹۷۶ء کو مولانا محمد شریف جالندھری‘ بلال زبیری مرحوم اور مولانا خدا بخش ڈپٹی ڈائریکٹر سے ملے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ اور لوگوں کی طرف سے بھی ہمیں درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ لیکن ہم زمین ان کو دیں گے جن کی پارٹی رجسٹرڈ ہو۔ مولانا محمد شریف جالندھری نے ان کو بتایا کہ مجلس ختم نبوت پاکستان کا ایک رجسٹرڈ ادارہ ہے۔ ہم تحفظ ختم نبوت کے عنوان سے اندرون اور بیرون ملک کام کرتے ہیں۔ ہمارا حساب باقاعدہ گورنمنٹ کی منظور شدہ اتھارٹی آڈٹ کرتی ہے۔ ہماری درخواست بھی پہلے آئی ہے۔ ہمارا ترجیحی حق بنتا ہے کہ زمین ہمیں ملنی چاہیے۔ اس وضاحت کے بعد موصوف مطمئن ہو گئے اور وعدہ کیا کہ عنقریب ہماری ضلعی میٹنگ ہو گی۔ آپ کی درخواست پر ہمدردانہ غور کیا جائے گا۔

مولانا محمد علی جالندھری کی فراست ایمانی

تاریخ سے زیادتی ہو گی‘ اگر اس جگہ مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھری نور اللہ مرقدہ

صفحہ 95

کی روح پرفتوح کو دل کھول کر خراج عقیدت پیش نہ کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ ان کی تربت پر کروڑہا رحمتیں نازل فرمائے۔ جنہوں نے اس دن سے ربع صدی قبل مجلس کو رجسٹرڈ کرا دیا تھا۔ گو اس وقت بعض احباب چیں بہ جبیں تھے، معترض تھے، طعنے دیتے تھے کہ مولانا نے جماعت کو رجسٹرڈ کروا کر حکومت کی مداخلت کی راہ ہموار کر دی ہے۔ حکومت جب چاہے گی۔ حساب چیک کرنے کے بہانے روڑے اٹکائے گی۔ مگر آج کے حالات نے ثابت کر دیا ہے کہ مولانا مرحوم کی دور رس نگاہوں، مومنانہ بصیرت اور مجاہدانہ فراست نے جو کام کیا تھا۔ سو فیصد درست تھا۔ چنانچہ ربوہ میں زمین ملنے کا ایک سبب جماعت کا رجسٹرڈ ہونا بھی ہے۔

زمین کا قبضہ

درخواست مختلف مراحل سے گزرتی رہی۔ حتیٰ کہ ۲۶ جون ۱۹۷۶ء کو ملتان دفتر میں محکمہ ہاؤسنگ کا ایک حکم نامہ موصول ہوا کہ محکمہ نے آپ کی درخواست منظور کر لی ہے۔ آپ جلدی حاضر ہو کر قبضہ لے سکتے ہیں۔ چنانچہ ۲۸ جون ۱۹۷۶ء مطابق ۲۹ جمادی الثانی ۱۳۹۶ھ بروز پیر مولانا محمد شریف جالندھری دامت برکاتہم نے ربوہ پہنچ کر جناب ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ ہاؤسنگ سے ۹ کنال زمین برائے جامع مسجد و مدرسہ کے پلاٹ کا قبضہ لے لیا۔ والحمد لله حمدا كثيرا

حضرت مولانا خان محمد صاحب سجادہ نشین

خانقاہ سراجیہ ربوہ میں

۷ جولائی ۱۹۷۶ء مطابق ۸ رجب ۱۳۹۶ھ بروز بدھ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے

صفحہ 96

امیر مرکزیہ، ان دنوں نائب امیر تھے۔ شیخ طریقت مولانا خان محمد صاحب دامت برکاتہم سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف تشریف لائے۔ اس پلاٹ پر عصر کی باجماعت نماز پڑھائی اور دعا کی کہ اللہ رب العزت اس مسجد کو رشد و ہدایت اور تعلیم و تبلیغ کا مرکز بنائے اور ہم سب کو اس کی تعمیر اور آباد کرنے کی توفیق ارزاں فرمائے۔ اس تقریب سعید کا گو پہلے سے اعلان نہ کیا گیا تھا۔ اس کے باوجود ربوہ میں رہنے والے تمام مسلمان نماز میں شریک ہوئے۔ حضرت الامیر کے علاوہ مولانا محمد شریف جالندھری مرکز کی نمائندگی کر رہے تھے۔

فیصل آباد سے مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما مولانا تاج محمود، مولانا فقیر محمد، حاجی بشیر احمد، رانا نصر اللہ خان، جناب برکت دارا پوری، نمائندہ نوائے وقت شریک ہوئے۔ چوہدری ظہور احمد، شیخ مقبول احمد، شیخ منظور احمد، سالار فیروز اور بیسیوں کارکن چنیوٹ سے تشریف لائے۔ چک جھمرہ سے سید ظفر علی شاہ کی قیادت میں ایک دستہ رضا کاروں اور کارکنوں کا پہنچ گیا تھا۔ گوجرہ کے احباب بھی شریک ہوئے۔ یہ سادہ اور پر خلوص تقریب ۲ گھنٹے تک جاری رہی۔ حضرت امیر شریعت کے پرانے رفیق کار مولانا عبد الرحمن میانوی اجتماعی دعا میں شریک نہ ہو سکے۔ لیکن بعد میں انہوں نے بھی اسی پلاٹ میں نماز پڑھی اور پر خلوص دعا کی۔ یہ ایمان پرور تقریب دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔ حضرت مولانا تاج محمود صاحب پاؤں کی چوٹ کی وجہ سے چل نہیں سکتے تھے۔ کار سے نماز کی جگہ تک چوہدری ظہور احمد آپ کو کندھوں پر اٹھا کر لائے۔ اس حالت کو دیکھ کر ساتھیوں کو اس دن ہی یقین ہو گیا تھا کہ ان حضرات کے اس خلوص کے صدقے اللہ رب العزت اس جگہ کو ضرور آباد فرمائیں گے۔

حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری، خطیب پاکستان حضرت قاضی صاحب، مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھری، مولانا لال حسین اختر اور دوسرے ہزاروں بزرگوں کی تمنا تھی کہ اللہ رب العزت اسی دار الکفر ربوہ میں مسلمانوں کو محمد عربی ﷺ کا جھنڈا لہرانے کی سعادت سے بہرہ مند فرمائیں۔ وہ حضرات گو اس تقریب میں موجود نہ تھے۔ لیکن ان کی روحیں یقیناً شادمان ہوں گی کہ ان کے جانشین حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری کے حدی خوان حضرت مولانا خان محمد صاحب سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ، ان کے ساتھی حضرت مولانا تاج محمود صاحب، مولانا محمد شریف جالندھری، مولانا محمد حیات، مولانا

صفحہ 97

عبدالرحمن میانوی کے ہاتھوں ان کی دیرینہ خواہش و تمنا کو عملی جامہ پہنایا جا رہا ہے۔ اسی دن عارضی مسجد اور حجرہ کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا اور نیت یہ تھی کہ اس عارضی مسجد کی شرعی حیثیت ایک ہوگی۔ مستقل نقشہ کے مطابق ردو بدل کیا جائے گا۔ اب اس جگہ کو آباد کرنے کا مسئلہ تھا۔ چنانچہ گوجرانوالہ سے مولانا حافظ عبدالرزاق کا ربوہ تبادلہ کر دیا گیا۔ چھ ماہ تک آپ نے یہاں کام کیا۔ اس کے بعد مولانا عبدالحمید آزاد تشریف لائے۔

مولانا عبدالحمید آزاد

موصوف ڈیرہ غازی خان کے علاقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ حضرت امیر شریعت کے تربیت یافتہ ہیں۔ ان کو فنا فی الاحرار کا مقام حاصل ہے۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک میں مولانا تاج محمود‘ حافظ حکیم عبدالمجید مرحوم نابینا کے ہمراہ مہینوں کیمبل پور جیل میں رہے۔ حضرت شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوری رحمتہ اللہ علیہ سے بیعت ہیں۔ آپ کے جاری کردہ ہفت روزہ ”خدام الدین“ کے سیلز منیجر رہے ہیں۔ چنیوٹ میں ۱۰‘ ۱۱‘ ۱۲ دسمبر ۱۹۷۲ء کو چوبیسویں ختم نبوت سالانہ کانفرنس تھی۔ اس میں شرکت کے لئے آئے ہوئے تھے۔ مولانا محمد شریف جالندھری نے ربوہ میں ڈیرہ لگانے کا حکم دے دیا۔ سنتے ہی تیار ہو گئے۔ ۱۰ دسمبر ۱۹۷۲ء سے ۱۴ جون ۱۹۷۷ء تک ۴ سال چھ ماہ قیام کیا۔ دیانت داری کی بات ہے کہ اس قسم کے بے لوث مجاہد ورکر بہت کم ملتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی عمر میں برکت فرمائے۔ ان کے بعد قاری اللہ وسایا غوری علی پور سے تشریف لائے جو تاحال اس مسجد کے انچارج ہیں۔

مبارک باد کے خطوط

۷ جولائی کو حضرت مولانا خان محمد صاحب نے افتتاح کیا تھا۔ ۸ جولائی کو اخبار میں خبر

صفحہ 98

چھپی۔ اہل اسلام کو جب اس کامیابی کا علم ہوا تو خطوط، تاریں، فون، پیغامات کے ذریعہ مجلس کے نمائندوں سے بے پناہ محبت و شفقت کا مظاہرہ کیا گیا۔ مسلمانوں کو کس قدر خوشی ہوئی، اس کا بیان کرنا کم از کم میرے جیسے کم علم آدمی کے لیے مشکل ہے۔

شکر گزار ہوں

اس عنوان سے مولانا محمد شریف جالندھری نے ۲۸ اگست ۱۹۷۴ء کو درج ذیل بیان جاری کیا ”پچھلے ماہ پیر طریقت حضرت مولانا خان محمد صاحب کندیاں شریف نے عصر کی نماز اس پلاٹ پر پڑھائی۔ جس میں سینکڑوں کارکنوں اور رہنماؤں نے شرکت کی۔ وہاں پر عارضی مسجد کا حجرہ بنا دیا گیا۔ تاکہ ابتدائی کام شروع ہو۔ مستقل تعمیر حضرت اقدس مولانا سید محمد یوسف بنوری دامت برکاتہم (رحمتہ اللہ علیہ) امیر مرکزیہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے دست مبارک سے سنگ بنیاد رکھنے کے بعد شروع کرنا ہے۔ ختم نبوت کے محاذ پر کام کرنے والوں کو قیامت تک یہ افسوس رہے گا کہ حضرت مرحوم کے ہاتھوں ربوہ میں مسجد کا سنگ بنیاد نہ رکھا جا سکا۔ حضرت دامت برکاتہم (رحمتہ اللہ علیہ) کی طبیعت ناساز ہو گئی اور ہم فوری طور پر سنگ بنیاد کی تقریب منعقد نہ کر سکے۔ اللہ تعالیٰ حضرت الامیر دامت برکاتہم (رحمتہ اللہ علیہ) کو صحت کاملہ اور عاجلہ عطا فرمائے اور ان کا سایہ ہمارے سروں پر تادیر قائم رکھے۔ (اے بسائے آرزو کہ خاک شد) حقیقت یہ ہے کہ جو تحریک ختم نبوت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ کی الف سے شروع ہوئی تھی وہ حضرت بنوری کی یا پر تکمیل پذیر ہوئی۔ حضرت کا وجود پوری امت مسلمہ کے لیے بالعموم اور ختم نبوت کے محاذ پر کام کرنے والوں کے لیے بالخصوص غنیمت ہے۔ حضرت کے صحت یاب ہونے پر ہم وہاں سنگ بنیاد کی تقریب منعقد کرائیں گے جس میں ملک بھر کے جماعتی احباب کو مدعو کیا جائے گا۔ جس کے بعد مسلسل تعمیر شروع ہو جائے گی۔ اس کامیابی پر ملک بھر کے جماعتی احباب اور بزرگوں نے بے پناہ جوش و خروش، محبت و عقیدت خوشی و انبساط کا مظاہرہ کیا۔ دعاؤں سے نوازا۔ خطوط لکھے۔ تاریں دیں۔ فون کیے، پیغامات ارسال کیے۔ ایسا لامتناہی سلسلہ شروع ہوا جو

صفحہ 99

اب تک جاری ہے۔ ان میں سے بعض احباب کے خطوط مجلس کے آرگن ہفتہ وار ”لولاک“ میں بھی شائع ہوئے۔ سینکڑوں خطوط کا جواب دینا میرے لیے مشکل امر ہے۔ میں ملک بھر کے جماعتی احباب اور بزرگوں کا شکر گزار ہوں‘ جنہوں نے اپنی دعاؤں سے ہماری سرپرستی فرمائی۔

”لولاک“ کے ذریعہ تمام احباب سے فرداً فرداً جواب نہ دینے کی معذرت چاہتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت‘ آقائے نامدارؐ کی شفاعت کے صدقے‘ شہدائے ختم نبوت کے خون کے بدلے‘ حضرت انور شاہ کشمیری‘ حضرت امیر شریعت‘ حضرت قاضی صاحب‘ حضرت مولانا جالندھری مرحوم‘ مولانا لال حسین اختر رحمہم اللہ اور دوسرے بزرگوں کی قربانیوں کے طفیل اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ کامیابی عنایت فرمائی ہے۔ ہر وہ شخص مبارک باد کا مستحق ہے جس نے ختم نبوت کے لیے تھوڑا بہت کام کیا ہے۔ حضرت اقدس مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ‘ حضرت اقدس مولانا خان محمد سجادہ نشین کی قیادت باسعادت‘ مولانا تاج محمود‘ مولانا محمد حیات‘ مولانا عبدالرحمٰن میانوی‘ مولانا عبدالرحیم اشعر‘ مولانا غلام محمد‘ سردار میر عالم خان لغاری کی رفاقت و اعانت کے صدقے یہ مشن پایہ تکمیل کو پہنچا ہے۔ ملک بھر کے مبلغین ختم نبوت اور کارکنان بھی ان کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے تمام دوستوں سے گزارش ہے کہ وہ اپنی جدوجہد کو تیز کردیں تاکہ جلد از جلد منزل مقصود کو حاصل کریں۔ والسلام۔ دعاؤں کا محتاج۔ محمد شریف جالندھری۔

ربوہ میں پلاٹ حاصل کریں

فیصل آباد کے معروف سماجی رہنما مولانا فقیر محمد صاحب نے اس پلاٹ کے حصول کے لیے مولانا تاج محمود‘ مولانا محمد شریف جالندھری سے بھرپور تعاون کیا۔ ۹ جولائی ۱۹۷۶ء کے ”لولاک“ میں آپ کا ایک تفصیلی بیان شائع ہوا۔ جس میں پنجاب بھر کے مسلمانوں سے اپیل کی گئی تھی کہ وہ ربوہ میں پلاٹ حاصل کریں۔ چنانچہ جو احباب محکمہ ہاؤسنگ کی شرائط کے مطابق درخواست دینے کے مستحق تھے۔ انہوں نے پلاٹ حاصل کرنے کے لیے

صفحہ 100

درخواستیں دیں تاحال ان کی قرعہ اندازی نہیں ہوئی۔

ملکی وغیر ملکی معروف رہنماؤں کی

ربوہ میں تشریف آوری

۱۳ اکتوبر ۱۹۷۶ء کو کراچی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سربراہ سردار عالم خان لغاری، مولانا تاج محمود، حاجی محمد صدیق، چوہدری محمد صدیق، فیصل آباد تشریف لائے۔ ربوہ میں مجلس مشاورت ہوئی، جس میں طے پایا کہ جامع مسجد کے ارد گرد دارالعلوم ختم نبوت کی عمارت، مدرسین و عملہ کی رہائش گاہیں، لائبریری، دارالحدیث اور دارالقرآن تعمیر کیے جائیں گے۔ نقشہ میں اس بات کو ملحوظ خاطر رکھا جائے کہ مسجد کا ایمان پرور نظارہ دریائے چناب کے پل پر سرگودھا، فیصل آباد سڑک پر سفر کرنے والے اہل اسلام کو دکھائی دے۔ اس جگہ کا معائنہ کرنے کے بعد وفد نے ریلوے مسجد محمدیہ کا معائنہ کیا۔ ۲۱ اکتوبر ۱۹۷۶ء کو حضرت فاتح قادیان مولانا محمد حیات صاحب ربوہ میں جامعہ مسجد ختم نبوت میں مستقلاً رہائش کے لیے تشریف لائے۔ آج سے نصف صدی قبل امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے حکم پر آپ شعبہ تبلیغ کے انچارج کی حیثیت سے قادیان تشریف لے گئے تھے۔ جہاں احرار رہنما ماسٹر تاج الدین انصاری، مولانا عنایت اللہ اور دوسرے احباب کے ہمراہ امت مسلمہ کی طرف سے فرض کفایہ ادا کیا تھا۔ اب خود مولانا کے اصرار اور احباب کی تجویز پر مجلس نے فیصلہ کیا کہ آپ قادیان کی طرح ربوہ کے کام کی سرپرستی فرمائیں۔ جماعتی ضرورت کے مطابق آپ کو ملتان، کراچی، گوجرانوالہ، لاہور کے سفر بھی کرنے پڑتے مگر آپ کا صدر مقام ربوہ میں ہے۔ وعظ و تبلیغ اور رشد و ہدایت کی محفلیں منعقد ہوتی رہتی ہیں اور علاقہ کے لوگ مولانا کے علم اور تجربہ سے بہرہ ور ہو رہے ہیں۔

۲۴ اکتوبر کو مجلس تحفظ ختم نبوت، ابوظہبی، عرب امارات کے جنرل سیکرٹری جناب محمد رفیق صابری ربوہ میں تشریف لائے۔ مولانا محمد شریف جالندھری اور راقم الحروف آپ

صفحہ 101

کے ہمراہ تھے۔ ربوہ میں مولانا محمد حیات‘ مولانا خدا بخش‘ شیخ منظور احمد‘ قاری شبیر احمد مولانا عبدالرزاق رحیمی اور دوسرے احباب نے آپ کا خیر مقدم کیا۔ مولانا محمد حیات نے مسجد کے حجرہ میں جناب صابری کے اعزاز میں استقبالیہ دیا۔ سادہ مگر پر خلوص تقریب قابلِ دید تھی۔ مولانا محمد حیات نے ربوہ میں کام کی تفصیل سے صابری صاحب کو باخبر کیا۔ صابری صاحب نے ابو عیسیٰ کی طرف سے کامل تعاون کا یقین دلایا۔ ظہر کی اذان صابری صاحب نے کہی۔ مولانا عبدالرزاق نے امامت کرائی۔ مولانا محمد شریف جالندھری نے ایمان پرور دعا کرائی۔ صابری صاحب ریلوے مسجد کے معائنہ کے بعد فیصل آباد اور ملتان کے سفر پر روانہ ہو گئے۔

۳۰ اکتوبر ۱۹۷۶ء کو حسن عامر آرکی ٹیکٹس اینڈ کمپنی کراچی کے سربراہ کرنل حسین صاحب کراچی سے ہوائی جہاز کے ذریعہ فیصل آباد تشریف لائے۔ مولانا محمد شریف جالندھری‘ سردار میر عالم خان لغاری‘ مولانا تاج محمود‘ حاجی نذر حسن کے ہمراہ ربوہ تشریف لے گئے۔ موصوف کو آنحضرت ﷺ سے والہانہ عشق ہے۔ حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ کے خاص معتقدین میں سے ہیں۔ ملتان کے عالمی تبلیغی مرکز کا نقشہ انہوں نے بنایا ہے۔

ربوہ میں سنگ بنیاد کی تقریب کا التوا

ربوہ میں جامع مسجد ختم نبوت کے سنگ بنیاد کے لیے پروگرام بنتا رہا۔ بھٹو گورنمنٹ کی مہربانی سے اجازت نہ ملنے کے باعث ملتوی ہوتا رہا۔ بالآخر طے پایا کہ ۹ جنوری ۱۹۷۷ء کو سنگ بنیاد رکھنے کے انتظامات کیے جائیں۔ ابتدائی انتظامات کر لیے گئے۔ ۲۶‘ ۲۷‘ ۲۸ دسمبر ۱۹۷۶ء کی چنیوٹ کانفرنس میں اس کا اعلان کر دیا گیا۔ اب بھی بھٹو گورنمنٹ مانع آئی اور یہ پروگرام بھی بالآخر طوعاً و کرہاً ملتوی کر دیا گیا۔

اس کے بعد فروری ۱۹۷۷ء میں طے پایا کہ پلاٹ کی چار دیواری کر لی جائے تاکہ چار دیواری کے اندر شاید اجلاس منعقد کرنے کی منظوری مل جائے۔ فیصل آباد کے

صفحہ 102

معروف سماجی رہنما ٹھیکیدار الحاج نذر حسن نے جا کر چار دیواری کے نشانات کر دیے۔ ہدایات دیں، کام شروع ہوا۔ چار دیواری مکمل ہوئی، پلاٹ کے جنوب مشرقی کونہ میں ٹیوب ویل لگایا گیا۔ جنوب مغرب کے کونہ میں دو عالیشان کمرے تعمیر کر دیے گئے۔ بجلی مل گئی، ٹیلیفون مل گیا جس کا نمبر ۴۶۶ ہے۔ مگر بھٹو گورنمنٹ نے پھر بھی اجازت نہ دی۔ اس طرح شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف بنوری کے ہاتھوں اس پلاٹ میں جامع مسجد کا سنگ بنیاد نہ رکھا جا سکا۔ مرحوم اللہ رب العزت کو پیارے ہو گئے۔ ختم نبوت کے محاذ پر کام کرنے والے ساتھیوں کو قیامت تک اس بات کا دکھ رہے گا کہ حضرت موصوف اپنے پودے کو ربوہ میں پھلتے پھولتے نہ دیکھ سکے۔ اب حضرت مولانا تاج محمود صاحب اس کا نقشہ بنوا رہے ہیں۔ انتظامات مکمل ہونے پر مجلس کے امیر مرکزیہ حضرت پیر طریقت مولانا خان محمد صاحب نقشبندی، مجددی، سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ اس کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت بنوری کے ہاتھوں لگائے اس پودے کو دن دگنی رات چوگنی ترقی نصیب فرمائے اور پوری امت کو آپ کے نقش قدم پر چل کر تحفظ ختم نبوت کا کام کرنے کی توفیق ارزاں فرمائے۔ وما ذالک علی اللہ العزیز۔

حضرت مولانا محمد یوسف بنوری کا

ربوہ کے متعلق مکتوب

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت ملت اسلامیہ پر واضح ہو چکی ہے کہ یہ دین اسلام کا بنیادی ستون ہے اور اس کی حفاظت دین کی اہم ترین خدمت ہے۔ گزشتہ دو سالوں میں مجلس تحفظ ختم نبوت مرکزی کی قیادت میں جس انداز سے تحریک چلائی گئی تھی، اسے حق تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے مثمر فرمایا۔ وہ ظاہر ہے لیکن اب ضرورت ہے کہ یہ بنیادیں پختہ کی

صفحہ 103

جائیں اور مزید بقیہ امور کی تکمیل کی جائے۔

ربوہ، جو قادیانیت کا عظیم مرکز تھا۔ وہاں مرکزی مجلس تحفظ ختم نبوت کو ۹ کنال برائے تعمیر مسجد و مدرسہ دی گئی ہے۔ اس لیے مسلمانوں سے درخواست ہے کہ وہ جلد سے جلد اس کی تکمیل میں ہمارا ہاتھ بٹائیں۔

ابتدائی مراحل طے کرنے کے لیے کچھ رقم بھی آگئی ہے اور کام بھی شروع ہو چکا ہے۔ جب کہ نماز جمعہ اور وعظ و تبلیغ کا کام تقریباً دو سال سے شروع ہو چکا ہے۔ مجھے حق تعالیٰ سے امید ہے کہ احباب توجہ فرمائیں گے اور ان کے ہاتھوں اس بنیادی کار خیر کی تکمیل ہو جائے گی۔ حق تعالیٰ اس کی توفیق عطا فرمائے اور صالحین کے ہاتھوں سے اور مخلصین کی کوشش سے اس کی تکمیل ہو جائے۔ وما ذالک علی اللہ العزیز

(مولانا سید محمد یوسف بنوری عفا اللہ عنہ)

(بحوالہ لولاک فیصل آباد، ۱۴ ستمبر ۱۹۷۲ء مطابق ۱۸ رمضان المبارک ۱۳۹۲ھ)

موریشس کے مسلمانوں کی جرات مندی

اور مرزا طاہر کا مایوس کن فرار

موریشس سے جناب اخلاص احمد کا ایک تفصیلی مکتوب

پچھلے دنوں موریشس میں مرزا طاہر کی آمد سے کچھ دن قبل قادیانی جماعت نے ”چیلنج مباہلہ“ نامی ایک پمفلٹ تقسیم کیا۔ ”سنی مسجد روز ہل“ کی طرف سے ہم نے اس کا جواب شائع کر دیا۔ جس میں مرزا طاہر کے چیلنج کو منظور کرتے ہوئے مباہلہ کے وقت اور جگہ کا تعین کیا گیا تھا۔ یہ جوابی پمفلٹ مسلمانوں کے ایک وفد نے قادیانی جماعت کے صدر کے ذریعے مرزا طاہر تک بھی پہنچا دیا۔ چنانچہ مباہلہ کے لیے متعینہ جگہ وقت مقررہ سے پہلے ہی بھر گئی۔ دور دور سے لوگ اور مسلمان بڑے جوش و خروش سے جمع ہوئے۔ دس بج کر دس منٹ پر قادیانیوں کا وفد نمودار ہوا۔ جس نے یہ اطلاع دی کہ دس بجے ایک دوسری

صفحہ 104

جگہ پر پروگرام ہونے کے باعث مرزا طاہر صاحب ساڑھے گیارہ بجے تشریف لائیں گے۔ مزید انتظار کیا گیا۔ لیکن ساڑھے گیارہ بج چکے تو قادیانیوں کا ایک دوسرا وفد قادیانی جماعت کے صدر کا خط لے کر آیا۔

خط میں یہ تحریر تھا کہ مرزا طاہر کا یہاں آنا ضروری نہیں۔ البتہ جو مسلمان مباہلہ کرنا چاہیں۔ وہ اپنا نام‘ پتہ اور شناختی کارڈ دیں اور ہمارا ایک فارم بھی پر کریں۔ ہم نے قادیانی وفد کو یہ جواب دے دیا کہ مرزا طاہر نے بذات خود چیلنج دیا۔ جسے ہم نے منظور کیا۔ لہٰذا اب مرزا طاہر کو بغیر شرائط کے سامنے آ جانا چاہیے۔ لوگوں نے نماز ظہر ادا کی اور مرزا طاہر کو لعن طعن کرتے ہوئے چلے گئے۔ اگلے روز دو قادیانی آئے اور مجھے کہا کہ حضور (مرزا طاہر) اس وقت موجود ہیں۔ اگر آپ سوالات کرنا چاہیں تو آ جائیں۔ میں نے کہا کہ اس وقت تو مجھے ایک سیمینار میں تقریر کے لیے جانا تھا۔ لیکن بہرحال اب میں مرزا طاہر سے کچھ سوالات کرنا زیادہ اہم سمجھتا ہوں لیکن اس بارے میں بھی اگر آپ کی کوئی شرائط ہیں تو پہلے بتا دیں۔ ایسا نہ ہو کہ میں اپنا پروگرام کینسل کر کے وہاں پہنچوں تو آپ شرائط نامہ میرے سامنے رکھ دیں‘ جیسا کہ آپ لوگوں نے مباہلہ کے معاملہ میں کیا۔

قادیانیوں نے کہا کہ سوالات کے لیے کوئی شرائط نہیں۔ میں نے کہا اگر ایسا ہے تو میں چلنے کے لیے تیار ہوں۔ مگر میری دو شرائط ہیں: پہلی یہ کہ میں مرزا طاہر کی تقریر نہیں سنوں گا اور مجھے انتظار کے بغیر سوالات کا موقع دیا جائے گا۔ دوسری شرط یہ ہے کہ میں مجرموں کی طرح نیچے کھڑا نہیں ہوں گا بلکہ اوپر مرزا طاہر کے ساتھ بیٹھوں گا۔ قادیانیوں نے میری شرائط منظور نہ کیں۔ چنانچہ میں نے دوسرے نوجوان کو سوالات کرنے کے لیے بھیج دیا۔ لیکن ان کو اندر بھی داخل نہیں ہونے دیا گیا۔ بمشکل انہیں تیسرے روز مرزا طاہر سے سوالات کرنے کا موقع ملا۔

ایک موقع پر مرزا طاہر نے کہا کہ میں اس کلمہ کو نہیں مانتا۔ کلمہ تو صرف لا الہ الا اللہ ہے۔ اور محمد رسول اللہ تو حضرت عمر ؓ کا اضافہ ہے۔

ایک روز حضرت ابو ہریرہ ؓ لا الہ الا اللہ بار بار پڑھ رہے تھے۔ حضرت عمر ؓ نے دیکھا تو فرمایا: محمد رسول اللہ بھی کہو۔ ان کے انکار پر حضرت عمر ؓ نے انہیں ڈرایا دھمکایا اور پھر اسی دن سے کلمہ ”لا الہ الا اللہ محمد رسول

صفحہ 105

اللہ" بن گیا۔ ایک اور مسلمان کے سوال کرنے پر مرزا طاہر نے پورا سوال سنے بغیر جواب دینا شروع کر دیا تو اس مسلمان نے بھرے مجمع میں مرزا طاہر کو کہا۔ آپ تو بڑے بد تمیز ہیں، پہلے میرا پورا سوال تو سن لو، پھر جواب دینا۔ چنانچہ اس مسلمان کو وہاں سے نکال دیا گیا۔ ایک جگہ قادیانیوں نے مرزا طاہر کا پروگرام رکھا تو مسلمانوں نے بھی قریب ہی اپنے پروگرام کا اعلان کر دیا۔ قادیانیوں نے مسلمانوں کے پروگرام کو فیل کرنے کے لیے بڑا زور لگایا، مگر ناکام ہوئے اور مجبوراً مرزا طاہر کو بھی مسلمانوں کا جلسہ سننا پڑا۔ ایک موقع پر مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر کی ایک پریس کانفرنس ہوئی۔ جس میں ممبر پارلیمنٹ "شوکت علی سودن" بھی موجود تھے۔ پریس کانفرنس میں حکومت موریشس سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ قادیانیوں کو اسلام کے نام پر دعوت و تبلیغ سے روکا جائے۔ اس سلسلہ میں ایک اور پارلیمنٹیرین جناب قاسم ایتم کا اسٹار اخبار میں ایک مضمون شائع ہوا۔ جس میں انہوں نے مرزا بشیر الدین کے اقوال نقل کرتے ہوئے لکھا کہ وہ خود اپنے آپ کو مسلمانوں سے علیحدہ ایک فرقہ شمار کرتے ہیں۔ تو پھر قادیانی کیوں دھوکہ دینے کے لیے خود کو مسلمان ظاہر کرنے پر بضد ہیں۔

ان دنوں میرے ہاں بہت سے قادیانی آتے رہے اور مجھ سے جواب لیتے رہے اور جب میں نے ان سے سوالات کیے تو وہ جواب نہ دے سکے اور لکھ کر لے گئے کہ ہم حضور (مرزا طاہر) سے پوچھیں گے۔ بعض مرزائیوں کو تو یہ بھی معلوم نہ تھا کہ مباہلہ کا ذکر قرآن مجید میں ہے؟ وہ مجھ سے سورت کا نام اور آیت نمبر پوچھنے لگے، جو میں نے بتا دیا۔ چند قادیانیوں نے اصرار کیا کہ مباہلہ کے لیے اپنا نام، پتہ، شناختی کارڈ اور فارم پر کر کے دے دوں۔ حضور (مرزا طاہر) گھر بیٹھ کر بددعا کریں گے۔ میں نے کہا، ٹھیک ہے۔ لیکن اپنے حضور سے کہو وقت کا تعین بھی ساتھ کرے کہ اتنے ایام کے اندر اندر مجھ پر عذاب نازل ہو جائے گا اور اگر ایسا نہ ہوا تو پھر مرزا طاہر، اس کا باپ اور اس کے دادا سب جھوٹے ہوں گے۔ قادیانیوں نے میری یہ بات بھی نہ مانی۔ پھر ایک مرتبہ کہنے لگے کہ ایک فرد سے مباہلہ نہیں ہوتا۔

علاوہ ازیں اس سے پہلے ہم نے ایک پمفلٹ شائع کیا تھا۔ جس میں قادیانیوں کے غیر مسلم ہونے کی وجوہات، اور ان سے کچھ سوالات بھی کیے گئے تھے مگر قادیانیوں کی طرف

صفحہ 106

سے کوئی جواب نہ آیا۔ پھر ہم نے چند قادیانی نوجوانوں کی مدد سے وہ پمفلٹ مرزا طاہر تک پہنچا دیا اور قادیانیوں کے ایک پاکستانی مبلغ نے بھی مرزا طاہر سے اس پمفلٹ کا جواب دینے کا مطالبہ کیا۔ مگر تاحال، قادیانی جماعت کے امیر سے جواب نہیں بن پڑا۔ غرض یہ کہ وہ کسی صورت بھی سامنے نہ آئے۔

بہر حال الحمد للہ مرزا طاہر یہاں چند دن سے زیادہ نہ ٹھہر سکا۔ مسلمانوں نے توقع سے زیادہ قادیانیت سے بیزاری، غم و غصہ اور نفرت کا اظہار کیا اور مرزا طاہر ناکام و نامراد واپس لوٹ گیا۔ قادیانیت کے خلاف مسلمانوں میں یہ دینی بیداری عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے پیدا کی ہے۔ ورنہ اس سے پہلے مسلمانوں میں ایسا جوش و خروش دیکھنے میں نہیں آیا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اجر دے۔ تمام احباب اور کارکنوں کو سلام۔

(ہفت روزہ ختم نبوت، کراچی، جلد ۷، شمارہ ۳۹)

مجاہد تحریک ختم نبوت

خطیب الاسلام حضرت صاحبزادہ سید فیض الحسن شاہ قدس سرہ

از قلم: علامہ محمد نوید اقبال مجددی

ختم نبوت کا عقیدہ اسلام کے ان چند بنیادی عقائد میں سے ہے۔ جن پر امت مسلمہ کا اجماع ہے۔ چنانچہ گزشتہ چودہ صدیوں میں جس نے بھی نبی بننے کا دعویٰ کیا۔ مسلمانوں نے اس کو کافر و مرتد قرار دے کر اس کے خلاف علم جہاد بلند کیا۔ مسیلمہ کذاب سے لے کر مسیلمہ پنجاب تک سب کا یہی حشر ہوتا رہا ہے۔

انگریز کے دور غلامی میں برصغیر کے مسلمانوں کو جس طرح دوسرے کئی مصائب سے دوچار ہونا پڑا۔ اسی طرح ایک جھوٹی نبوت قائم کر کے امت میں انتشار پیدا کیا گیا۔ انگریز نے اس کی نبوت کو اپنی سنگینوں کے سائے میں پروان چڑھنے کا موقع دیا اور اس کو قبول کرنے والوں کے لیے نوازشات کے دروازے کھول دیے۔ اس دور میں انگریزوں کے

صفحہ 107

پروردہ جھوٹے نبی غلام احمد قادیانی کی سرکوبی اور فتنہ مرزائیت کو ختم کرنے کے لیے کسی ایسی جلیل القدر شخصیت کی ضرورت تھی۔ جس کا خمیر عشق رسالت سے اٹھا ہو۔ جس کی نگاہوں میں نور صدیقیت کی جھلک ہو، جس کی ادائیں شجاعت علی رضی اللہ عنہ کی مظہر ہوں۔ جس کی خطابت سے باطل لرزہ براندام ہو۔ چنانچہ برصغیر پاک و ہند میں قدرت نے مسلمانوں کو خطیب الاسلام حضرت صاحبزادہ سید فیض الحسن شاہ رحمۃ اللہ علیہ کی صورت میں ایک ایسی باکمال شخصیت عطا فرمائی جو اسی سانچے میں ڈھلی ہوئی تھی، حضرت خطیب الاسلام دنیائے روحانیت کے عظیم خانوادہ مشائخ آلو مہار شریف کے فرزند ارجمند تھے۔ عشق رسول ﷺ آپ کو ورثے میں ملا تھا۔ شمع رسالت کا یہ پروانہ کسی خانہ ساز نبوت کا وجود کیسے برداشت کر سکتا تھا۔ آپ کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد وحید عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ تھا۔ قادیانیت کے سحر باطل کے خاتمے کے لیے آپ نے ۱۹۳۱ء سے ۱۹۸۰ء تک مسلسل جہاد کیا۔ مجلس احرار میں آپ کی شمولیت صرف اسی مقصد کے لیے تھی۔

آپ کے کردار کے بارے میں روزنامہ "امروز" کا اداریہ نویس لکھتا ہے:

"قیام پاکستان سے قبل اگرچہ وہ مجلس احرار کے رکن تھے۔ مگر حامیان پاکستان میں شامل تھے۔ ان کا موقف یہ تھا کہ قیام پاکستان کا مطالبہ درست ہے۔ اس کے حصول کے لیے ہر مسلمان کو جدوجہد کرنی چاہیے۔ وہ ہندوستان کے نیشنلسٹ مسلمانوں کے اس نظریے کے خلاف تھے کہ پہلے انگریز کو ہندوستان سے نکالو۔ بعد میں پاکستان کا مطالبہ کرو۔ صاحبزادہ فیض الحسن اس نظریے کے کٹر مخالف تھے۔ ان کا موقف تھا کہ انگریز اور ہندو، دونوں کی بالادستی سے بیک وقت نجات حاصل کی جائے۔ اپنے نظریے کی پرجوش تبلیغ کی اور مخالفوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ ان کی علمی، دینی اور ملی خدمات کا اعتراف ہر مکتب فکر کے لوگوں نے کیا۔

۱۹۵۳ء میں تحریک ختم نبوت کا آغاز ان کی تحریک سے ہوا۔ انہوں نے شہید گنج تحریک، شدھی تحریک اور شاتم رسول راجپال کے خلاف تحریک میں بھرپور حصہ لیا۔ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ مجموعی طور پر چار سال قید کاٹی۔"

(امروز ۲۵ فروری ۱۹۸۴ء)

صفحہ 108

مجاہد تحریک ختم نبوت

۱۹۳۰ء میں تحریک کشمیر چلی تو ۲۵ جولائی ۱۹۳۱ء کو آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا قیام عمل میں آیا۔ مرزا بشیر الدین محمود اس کمیٹی کا صدر بنا۔ مجلس احرار نے پوری تحریک اپنے ہاتھ میں لینے کے لیے رام تلائی سیالکوٹ میں بہت بڑے جلسہ کا انتظام کیا۔ جس میں حضرت خطیب الاسلام نے اعلان فرمایا:

”ہم مسلمان اس کمیٹی میں حصہ نہیں لے سکتے، جس کمیٹی کا صدر ایک کافر مرزا بشیر الدین محمود ہو“۔

کشمیر کمیٹی کے رکن علامہ اقبالؒ بھی تھے۔ چنانچہ حضرت خطیب الاسلام نے علامہ اقبالؒ کو صورت حال سمجھا کر کمیٹی سے علیحدہ ہونے پر مجبور کیا۔ خطیب الاسلام صاحبزادہ سید فیض الحسن شاہؒ کی خاندانی وجاہت اور ان کے دلائل کی اصابت دیکھ کر علامہ اقبال مرحوم نے استعفیٰ لکھا اور کمیٹی کو توڑنے کا اعلان کیا اور یہ شعر کہا:

پس خدا برما شریعت ختم کرد
بر رسول ما رسالت ختم کرد

اس دن سے علامہ اقبالؒ مرحوم کی قادیانیت کے خلاف کھلی لڑائی کا آغاز ہوا اور پھر وہ وقت بھی آیا کہ علامہ نے قادیانیت کو برگ حشیش‘ غارت گر اقوام‘ فتنہ ملت بیضا‘ یہودیت کا مثنی اور مرزائیوں کو اسلام کا غدار قرار دے کر مسلمانوں سے الگ کر دینے کے مطالبے کی پرزور حمایت شروع کر دی اور یوں کہا:

فتنہ ملت بیضا ہے امامت اس کی
جو مسلماں کو سلاطیں کا پرستار کرے
وہ نبوت ہے مسلماں کے لیے برگ حشیش
جس نبوت میں نہیں قوت و شوکت کا پیام

یہ مرزائیت پر حضرت خطیب الاسلام کی وہ کاری ضرب تھی‘ جس کے بعد مرزائیت

صفحہ 109

سنبھل نہ سکی۔ ۱۹۳۴ء میں مجلس احرار اسلام کے مرکزی عاملہ کے انتخابات ہوئے۔ جن میں حضرت خطیب الاسلام بھی رکن منتخب ہوئے۔ مجلس احرار میں شمولیت کے بعد حضرت خطیب الاسلامؒ نے ناموس رسالت اور عظمت ختم نبوت کے لیے بھرپور اور بے مثال جدوجہد کا آغاز کر دیا۔ اس سلسلے میں آپ نے جو خدمات سرانجام دیں وہ تاریخ میں آب زر سے لکھی جائیں گی۔

قادیان سے خطیب الاسلامؒ کی للکار

آپ نے مرزا بشیر الدین کے گھر کے سامنے جلسہ منعقد کیا اور مرزا بشیر کے مکان کو بطور اسٹیج استعمال کیا۔ کیونکہ آپ کی آمد کی خبر سن کر مرزا بشیر اپنے گھر سے بمعہ اہل و عیال بھاگ گیا تھا۔ قانون الٰہی ہے جاء الحق وزھق الباطل جہاں حق آجائے، باطل کو راہ فرار اختیار کرنا ہی پڑتی ہے۔ حضرت خطیب الاسلامؒ حق کی للکار تھے۔ آپ نے خطاب فرمایا:

”قادیانیو! سن لو، فیض الحسن تمہارے چیلنج کا جواب دینے آگیا ہے۔ میں حسینؓ کا بیٹا ہوں۔ ناموس رسالت اور عظمت ختم نبوت کے لیے ایک اور چھوٹی سی کربلا آباد کردوں گا۔ لیکن اپنے آقا کی عظمت ختم نبوت پر آنچ نہ آنے دوں گا“۔

۲۵‘ ۲۶ مئی ۱۹۵۱ء کو لاہور میں (مرزائیوں کو مجلس قانون ساز میں کوئی سیٹ نہ ملنے پر) یوم تشکر کے سلسلہ میں ایک عظیم الشان جلسہ عام ہوا، جس میں حضرت خطیب الاسلام نے تقریر کرتے ہوئے فرمایا:

”میں مطالبہ کرتا ہوں کہ قادیانیوں کو اقلیت قرار دیا جائے یا انہیں مجبور کیا جائے کہ وہ اس ملک کو چھوڑ دیں اور بھارت میں آباد ہو جائیں۔ گویا حضرت خطیب الاسلام پہلے مجاہد ہیں، جنہوں نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا برملا مطالبہ کیا“۔

صفحہ 110

قارئین کرام! پاکستان میں تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء میں چلی، جبکہ حضرت خطیب الاسلام کی خدمات ختم نبوت کا آغاز ۱۹۳۱ء میں ہو چکا تھا۔ ان شواہد کی روشنی میں حضرت خطیب الاسلام کو مجاہد اول تحریک ختم نبوت مانے بغیر چارہ نہیں۔

تحریک ختم نبوت اور پاکستان

قیام پاکستان کے بعد ہمارے عاقبت نااندیش حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کے سبب قادیانی ملک پاکستان میں کلیدی عہدوں پر فائز ہو گئے۔ اور درپردہ ملک کو کمزور کرنے اور اپنے مذموم عزائم کو پروان چڑھانے کی عملی کوششوں میں مصروف ہو گئے۔ ان حالات سے حضرت خطیب الاسلامؒ اغماض نہیں برت سکتے تھے۔ چونکہ آپ نے سرگرمی کے ساتھ اس صورت حال کے خلاف جدوجہد کا آغاز کیا اور اس سلسلے میں ہراول دستے کی قیادت خود سنبھالی۔

۲۰ جون ۱۹۵۲ء میں جامع مسجد شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ میں ایک عظیم الشان جلسے کی صدارت فرمائی۔ اس جلسہ کی کارروائی کا آغاز ان نعروں سے ہوا:

خطیب الاسلام کو گرفتار کر لیا گیا۔ لیکن ملک بھر میں پرزور احتجاجی مظاہروں کی وجہ سے آپ کو جلد رہا کر دیا گیا۔ رہا ہونے کے بعد بھی عظمت نبوت کا یہ شیدائی، ختم نبوت کا یہ فدائی، علم ختم نبوت کو پوری آب و تاب کے ساتھ لہراتا رہا۔ چنانچہ اسی سلسلے میں ۲۱-۲۲ ستمبر ۱۹۵۲ء کو آل مسلم پارٹیز کنونشن کا ڈسکہ میں اجلاس ہوا تو آپ نے خصوصی خطاب فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:

صفحہ 111

”جس طرح ہم یہ تسلیم نہیں کر سکتے کہ گیدڑ سے خربوزہ اور بلی سے گوشت محفوظ رہ سکتا ہے۔ اسی طرح ہم یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ ملک کے اعلیٰ ترین عہدے پر ایک قادیانی ظفر اللہ کی خباثت سے اور دوسرے قادیانیوں کی غلیظ حرکتوں اور مذموم مقاصد سے پاکستان سلامت رہ سکتا ہے۔

میں اس بات کا بھی آج یہاں اقرار کرتا ہوں کہ اگر مرزائی اپنے باطل نظریے کے بیہودہ پن کو ترک کر کے اسلام کی پناہ میں نہیں آتے تو پھر رب العزت کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اپنی تمام تر قوت ان کے خلاف صرف کروں گا اور ہر محاذ پر ان کے مذموم مقاصد کے خلاف رکاوٹ پیدا کروں گا“۔

حضرت خطیب الاسلامؒ نے حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ: ”مرزائیوں کی تمام زمینوں‘ کارخانوں اور دوسری املاک کو ضبط کر لیا جائے اور ان کے شیطانی گڑھ ربوہ کا خاتمہ کیا جائے“۔

حضرت خطیب الاسلامؒ نے ختم نبوت کی جدوجہد کو تیز تر کرنے کا اعلان کیا اور ملک بھر میں جلسے شروع کیے۔ حکومت پاکستان کو مطالبہ پیش کیا کہ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ ۱۶ اکتوبر ۱۹۵۲ء میں خطیب الاسلام صاحبزادہ سید فیض الحسن شاہ رحمتہ اللہ علیہ نے شیخوپورہ میں خطاب فرماتے ہوئے اور حکومت کو جھنجوڑتے ہوئے فرمایا: ”ایک آدمی جو منصب ختم نبوت کا تحفظ نہیں کر سکتا‘ وہ اپنی ماں بہن کی عزت کا بھی تحفظ نہیں کر سکتا۔ پھر اس سے یہ کیسے امید رکھی جاسکتی ہے کہ وہ اسلامی مملکت کا تحفظ کر سکے گا“۔

مرزا غلام قادیانی یہ بکواس کرتا ہے کہ جس شخص نے اسے نبی نہ مانا‘ وہ ایک ناچنے والی کے بطن سے پیدا ہوا گویا اس حساب سے پنجاب اور ملک بھر کے تمام وزراء اور حکومت کا سربراہ جو یقیناً اس بیہودہ اور بدکردار شخص کو نبی تسلیم نہیں کرتے‘ وہ ناچنے والی ماں کی اولاد قرار پائیں گے۔

میں ان وزراء اور حکومت کے سربراہ سے کہتا ہوں کہ اگر وہ حضور ﷺ کی ناموس کا تحفظ نہیں کر سکتے تو کم از کم اپنی ماؤں‘ بہنوں کو تو اس لعنتی کردار والے کی لغو باتوں سے محفوظ رکھیں۔ ان کا تو تحفظ کریں۔

صفحہ 112

خطیب الاسلامؒ کی گرفتاری اور مارشل لاء

۱۹۵۳ء میں ملک بھر میں حضرت خطیب الاسلامؒ کے اعلان پر تحریک ختم نبوت کا آغاز ہوا۔ اس تحریک کا آغاز آپ ہی کی تقریر سے ہوا۔ جسٹس منیر کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تحریک ختم نبوت میں جو پہلا دستہ ۲۶ فروری کو زیر سرکردگی صاحبزادہ سید فیض الحسن روانہ ہوا‘ وہ کراچی پہنچنے میں کامیاب ہو گیا اور وہاں گرفتار کر لیا گیا۔ ان گرفتاریوں سے پورے ملک میں برہمی اور لاقانونیت کی ایک لہر دوڑ گئی اور لاہور میں بد نظمی اور ابتری کا سیلاب اس قدر بے قابو ہو گیا کہ ۶ مارچ کو فوج شہر میں داخل ہو گئی اور مارشل لاء کا اعلان کر دیا گیا۔ ۱۴ فروری ۱۹۵۳ء میں انٹیلی جنس بیورو گورنمنٹ آف پاکستان کراچی نے سی۔ آئی۔ ڈی پنجاب کو ایک مراسلہ روانہ کیا۔ جس میں یہ انکشاف کیا گیا تھا:

The first person who will offer himself for arrest in connection with this agitation in Punjab will possibly be Sahib Zada Pir Faiz-ul-Hassan, who had about 30,000 Murids. It is said all his Murids will follow suit.

Intelligence Bureau Government of Pakistan Karachi, Feb. 14, 1953

”تحریک ختم نبوت کے سلسلے میں سول نافرمانی کے لیے پنجاب میں جو شخص سب سے پہلے خود کو گرفتاری کے لیے پیش کرے گا‘ وہ صاحبزادہ فیض الحسن ہوں گے۔ ان کے ہمراہ تقریباً ۳۰ ہزار مرید بھی خود کو گرفتاری کے لیے پیش کریں گے“۔

صفحہ 113

مجاہد اول تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء سے چند اقتباسات

تحریک سول نافرمانی اور پچاس ہزار رضا کاروں کی پیش کش۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں حضرت خطیب الاسلام کے منفرد مجاہدانہ کردار کی ایک جھلک ملاحظہ ہو۔

شہباز خطابت، فدائے ختم نبوت، حضرت صاحبزادہ افتخار الحسن شاہ فیصل آبادی رحمۃ اللہ علیہ (جو تحریک ختم نبوت میں آپ کے ساتھ تھے) نے مرکزی جامعہ مسجد نقشبندیہ ماڈل ٹاؤن گوجرانوالہ میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

”دیکھیے، جسٹس منیر کی عدالتی تحقیقاتی رپورٹ میرے ہاتھ میں ہے، ص ۱۴۳، اور ص ۲۵۹، ڈائریکٹ ایکشن اختیار کرنے کی قرارداد آل پاکستان مسلم پارٹیز کنونشن اجلاس منعقدہ ۱۸ جنوری ۱۹۵۲ء (بمقام کراچی) میں منظور کی گئی۔ اور ایک مجلس عمل کا قیام عمل میں لایا گیا۔ ۲۲ جنوری کو خواجہ ناظم الدین کو یہ الٹی میٹم ایک غیر فوجی بغاوت کے نوٹس سے کم نہ تھا۔ خواجہ ناظم الدین اور ارباب حکومت اس عقدے کا حل تلاش نہ کر سکے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ۲۶ فروری کو مجلس عمل نے گورنر جنرل اور وزیر اعظم کی کوٹھیوں پر ختم نبوت کے فدائی رضا کاروں کے دستے بھیجنے کا فیصلہ کر لیا۔ ملک بھر میں رضا کاروں کی بھرتی کے لیے ایک مہم کا آغاز کر دیا گیا۔ صاحبزادہ سید فیض الحسن شاہ کو پہلا ڈکٹیٹر مقرر کیا گیا۔ رضا کاروں کی تعداد پچاس ہزار کی اس مقررہ تعداد سے بڑھ چکی تھی۔ جس کی بھرتی کا ذمہ صاحبزادہ سید فیض الحسن شاہ نے لے رکھا تھا۔ رضا کاروں سے حلف ناموں پر دستخط کرائے جاچکے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ بعض رضا کاروں نے حلف نامے اپنے خون سے لکھ کر پیش کیے تھے...... صاحبزادہ سید فیض الحسن کا رویہ خصوصاً ”جارحانہ ہو رہا ہے“۔

صفحہ 114

الحسن۔

تحریک آزادی کا آغاز بھی شیرانوالہ باغ میں اس کی پہلی تقریر سے ہوا اور تحریک ختم نبوت کا آغاز بھی رام تلائی سیالکوٹ میں اس کی پہلی تقریر سے ہوا۔ وہ تحریک آزادی کا بھی مجاہد اول ہے اور تحریک ختم نبوت کا بھی مجاہد اول ہے:۔

مرزا دجال اور کذاب ہے

دیکھیے‘ یہ ہے میرے پاس رپورٹ تحقیقاتی عدالت صفحہ ۱۸۰۔ گوجرانوالہ ایک مقبول عام احراری صاحبزادہ فیض الحسن کا وطن ہے۔ گوجرانوالہ ‘ جولائی ۱۹۵۲ء میں ایک کانفرنس ہوئی‘ جس میں صاحبزادہ فیض الحسن نے یہ اعلان کیا کہ: ’’کسی احمدی کو قتل کرنا رضائے الٰہی کا موجب ہے‘‘۔

احمدیوں نے ڈپٹی کمشنر سے شکایت کی کہ اس کانفرنس میں ایک مقرر نے حاضرین کو امام جماعت احمدیہ کے قتل پر اکسایا تھا۔ یہی معاملہ سیالکوٹ میں پیش آیا۔ سیالکوٹ کے ڈپٹی کمشنر نے صاحبزادہ صاحب کو بلایا اور پوچھا‘ صاحبزادہ صاحب! آپ مرزا صاحب کو برا کیوں کہتے ہیں۔ اس نے ان لوگوں کو سور کی اولاد کہا ہے جو اسے نبی نہیں مانتے‘ خواجہ ناظم الدین اور مسٹر دولتانہ بھی اسی قبیل میں آتے ہیں اور تم بھی انہی میں شامل ہو۔

ڈپٹی کمشنر نے کہا: صاحبزادہ صاحب! بس آپ جائیں‘ میں آپ کو کچھ نہیں کہہ سکتا۔

تقریباً یہی الفاظ آپ نے ۱۰ نومبر کے سیالکوٹ کنونشن ‘ میں دہرائے۔ دیکھیے رپورٹ‘ تحقیقاتی عدالت‘ ص ۲۶۵-۲۶۷۔ ۲۷ ستمبر کو لائل پور اور ۲۶ ستمبر کو سمندری میں کنونشن ہوا تھا۔ جس میں صاحبزادہ سید فیض الحسن نے کہا:

مرزا صاحب پست چال چلن کے آدمی تھے اور اس قابل تھے کہ ان کے خلاف غنڈہ ایکٹ کے تحت مقدمہ قائم کیا جاتا۔

صفحہ 115

دیکھیے رپورٹ تحقیقاتی عدالت، ص ۳۶۲۔ ۱۹ اکتوبر ۱۹۵۲ء شیخوپورہ، ۱۰ اکتوبر چوہڑ کانہ میں کنونشن کے اجلاس ہوئے، جس میں خطیب الاسلام صاحبزادہ سید فیض الحسن شاہ نے تقریر کرتے ہوئے کہا:

مرزا قادیانی اور ظفر اللہ دونوں غنڈے ہیں، جو شخص نبوت کی عزت اور دختر رسول کی ناموس کو نہیں بچا سکتا، وہ پاکستان کو بھی نہیں بچا سکتا۔ مرزا غلام احمد نے کہا ہے کہ جو لوگ اس کو نبی نہیں مانتے وہ بازاری عورتوں کی اولاد ہیں۔ پنجاب کے وزیروں نے اور خواجہ ناظم الدین نے بھی اس کو نہیں مانا۔ انہیں چاہیے کہ اگر وہ ناموس رسالت کی حفاظت نہیں کر سکتے تو کم از کم اپنی ماؤں کی ناموس کی حفاظت تو کریں۔

۲۱-۲۲ ستمبر ۱۹۵۲ء ڈسکہ میں آل مسلم پارٹیز کنونشن ہوا۔ اس سے خطاب کرتے ہوئے صاحبزادہ سید فیض الحسن نے کہا:

جس طرح گیدڑ کو خربوزوں اور بلی کو گوشت کی رکھوالی سپرد نہیں کی جا سکتی۔ اسی طرح ظفر اللہ اور دوسرے مرزائیوں پر پاکستان کے متعلق اعتبار نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ دغا باز ہیں۔ مرزا غلام احمد واہیات تھا۔ اس نے گڑ کو مٹی سمجھ کر اس سے استنجا کر لیا تھا۔

(رپورٹ، تحقیقاتی عدالت، ص ۳۶۱)

آج ہر کوئی مجاہد ختم نبوت اور مجاہد نظام مصطفیٰ ﷺ بنا پھرتا ہے، پوچھو تاریخ والوں سے!

پہلے تھا ہندوستانیوں سے خطاب ”انگریزوں کو یہاں سے نکال دو“۔ پھر سیدھا خطاب ”انگریزو یہاں سے نکل جاؤ“۔ یہ تھا ڈائریکٹ ایکشن۔

سیالکوٹ رام تلائی میں بہت بڑا جلسہ تھا۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاری، قاضی احسان احمد شجاع آبادی، شورش کاشمیری سب اسٹیج پر موجود تھے۔ ہزاروں کا اجتماع، خطیب الاسلام کا خطاب تھا۔ انگریزوں کی حکومت، ڈی۔ سی، ایس پی اور سی آئی ڈی کے افسران بالا جمع تھے۔ محمدی کچھار کے شیر نے للکارتے ہوئے کہا:

”انگریز کتو! یہاں سے نکل جاؤ“۔

”یہ ہے میرا خطیب الاسلام، جس کی مجاہدانہ للکار سے فرنگی ایوانوں میں زلزلہ آ گیا“۔ وہ بلاشبہ اسلام کی ننگی تلوار تھا۔ وہ ترجمان فطرت اور پاسبان حریت تھا۔ وہ

صفحہ 116

مصلحت اور نتائج کی پروا کیے بغیر نصف صدی سے زیادہ عرصہ تک باطل قوتوں سے نبرد آزما رہا۔

یہ ہے ختم نبوت کا مجاہد اول صاحبزادہ سید فیض الحسن شاہ رحمتہ اللہ علیہ، جس کی جرات رندانہ نے تحفظ ختم نبوت کا حق بھی ادا کیا اور مشائخ و علماء کی لاج بھی رکھی۔

هل جزاء الاحسان الا الاحسان۔

میں سنی، بریلوی اور دیوبندی، احراری علماء اور پاکستانی عوام سے پوچھتا ہوں کہ تم نے اپنے عظیم محسن کے ساتھ کیا وفا کی ہے؟ کیا تمہاری نسلیں بھی صاحبزادہ فیض الحسن کا حق ادا نہیں کر سکتیں؟

(ماخوذ از خطاب صاحبزادہ سید افتخار الحسن شاہ فیصل آبادی، بموقع خطیب الاسلام

کانفرنس، ماہنامہ دعوت تنظیم الاسلام، فروری ۱۹۹۸ء)

تحریک ختم نبوت میں حضرت جہلمی کا کردار

پاکستان معرض وجود میں آیا تو اس کا پہلا وزیر خارجہ مرتد چودھری ظفر اللہ قادیانی بنا۔ وزارت خارجہ کے عملہ میں قادیانیوں کی بھرتی شروع کی۔ ملک میں جگہ جگہ قادیانیوں کے مراکز قائم ہونے لگے۔ اس طرح قادیانیت کی تبلیغ کھلے بندوں ہونے لگی۔ یہ صورت حال پاکستانی مسلمانوں کے لیے ناقابل برداشت تھی۔ چنانچہ علمائے کرام نے قادیانیوں کی بڑھتی ہوئی چیرہ دستیوں کے خلاف آواز اٹھائی۔ تمام مسالک کے علماء و مشائخ نے مل کر تحریک ختم نبوت کا آغاز کیا۔ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے اور ان کی خلاف اسلام سرگرمیوں پر پابندی لگانے کا حکومت سے مطالبہ کیا، لیکن حکومت وقت مسلمانوں کے اس متفقہ مطالبہ کو ماننے کے لیے تیار نہ ہوئی۔ بلکہ حکومت کا رویہ تحریک سے متعلق، نہایت جابرانہ اور متشددانہ ہو گیا۔ لاہور میں مارشل لاء لگا، تحریک کو دبانے کے لیے گولی، لاٹھی کا بے دریغ استعمال ہوا۔ مسلمانوں کو گرفتار کیا گیا اور علماء کو جیلوں میں بند کر دیا گیا۔ اس موقع پر، مولانا نے علماء کے ساتھ مل کر عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے نمایاں کردار ادا

صفحہ 117

کیا۔ پر تاثیر خطبات اور محفلوں کے ذریعے سے عوام الناس کو عقیدہ ختم نبوت کی حقیقت واہمیت سے روشناس اور قادیانیوں کے عزائم سے آگاہ کیا۔ انہیں تحریک میں شمولیت کی دعوت دی اور ان میں جوش و ولولہ پیدا کیا۔

واقعہ یہ ہے کہ جہلم اور اس کے مضافات میں، مولانا ہی اس تحریک کے روح رواں تھے۔ اس جدوجہد کے دوران آپ دو دفعہ گرفتار ہوئے۔ پہلی بار ۱۹۵۲ء میں اور دوسری بار ۱۹۵۳ء میں۔ قید کا زیادہ تر حصہ سنٹرل جیل ساہیوال میں گزرا۔ تقریباً ۹ ماہ آپ نے قید و بند کی صعوبتیں نہایت خندہ پیشانی سے برداشت کیں۔ ۱۹۷۴ء میں قادیانیوں کے خلاف جو ملک گیر تحریک چلی، اس میں بھی آپ کا کردار منفرد رہا۔

(ماہنامہ ”حق چار یار“ مولانا جہلمی نمبر، ص ۸۹)

وفا سے باز آ جاؤں تو جھوٹا
ستانا ہے ستا کر دیکھ لینا (مؤلف)

ابوالفضل مولانا کرم الدین دبیر رحمۃ اللہ علیہ

تحریر : خالد محمود فاروقی

مولانا ابوالفضل محمد کرم الدین دبیرؒ کا شمار پنجاب کے ان اہل حق علماء میں ہوتا ہے جو ہمہ وقت باطل قوتوں کی سرکوبی کے لیے کمر بستہ رہتے ہیں۔ علماء حق کے کارواں کے روح رواں مولانا کرم الدین دبیرؒ کی ولادت بمطابق ۱۸۵۳ء میں سپہ گروں کے مسکن چکوال سے چند میل کے فاصلے پر نمازیوں، شہیدوں اور ولیوں کی بستی ”بھیں“ میں ہوئی۔ بچپن سے آپ کا مزاج شریف، جذبہ جہاد اور خدمت اسلام سے سرشار تھا۔ آپ نے ابتدائی دینی تعلیم اپنے وطن میں ہی حاصل کی اور بعد میں امرتسر اور لاہور کے مختلف دینی مدارس میں علوم و فنون کی تکمیل فرمائی۔ ادب کی بعض کتابیں آپ نے مولانا فیض الحسن تلمیذ خاص حجۃ الاسلام مولانا محمد قاسم نانوتویؒ بانی دارالعلوم دیوبند سے لاہور میں پڑھیں۔ فن حدیث

صفحہ 118

کی تعلیم کے لیے کچھ عرصہ مولانا احمد علی سہارنپوری کے حلقہ درس حدیث میں شامل رہے۔ پھر امرتسر میں بقیہ کتب مکمل فرمائیں۔

حضرت مولانا محمد کرم الدین دبیرؒ علوم وفنون خصوصاً فن حدیث اور درس نظامی سے فراغت کے بعد اپنے وطن مالوف میں مشغول تدریس رہے اور چند سال تک کامیاب درس دیتے رہے۔ انہی دنوں مولانا فقیر محمد جہلمی نے ہفت روزہ اخبار ”سراج الاخبار“ جاری کر رکھا تھا۔ مولانا فقیر محمد جہلمی سے آپ کے گہرے دوستانہ روابط تھے۔ ان کے ایماء پر ”ہفت روزہ“ سراج الاخبار کے ایڈیٹر مقرر ہو گئے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مرزا غلام قادیانی آنجہانی کی کذب بیانیاں اور کفریات عیاں ہو چکے تھے۔ مرزائیت‘ جو کہ ظالم انگریزوں اور یہودیوں کا پھیلایا ہوا جال‘ گمراہی اور کفریات سے پر ایک فتنہ ہے اور اب تو دجال مرزا قادیانی آنجہانی کے پیروکاروں کو مملکت خدا داد پاکستان اور دوسرے اسلامی ممالک میں غیر مسلم اقلیت قرار دیا جا چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ دین اسلام پاکستان اور ممالک اسلامی کو اس فتنہ کذاب کے شر سے محفوظ رکھے۔ آمین۔

بہر کیف مولانا دبیرؒ نے بہت جلد ہی کاذب مرزا قادیانی کے عزائم کو بھانپ لیا اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں تحفظ ختم نبوت کے لیے مرزائیت کے خلاف لسانی اور قلمی جہاد زور و شور سے شروع کر دیا اور آپ نے ”سراج الاخبار“ میں مرزا قادیانی کے خلاف مضامین لکھنے شروع کر دیے۔ آپ کے دلائل میں قوت اور صداقت تھی۔ تحریر و تقریر کے ذریعے مرزا کے دجل و فریب کے پردوں کو چاک کر دیا۔ مولانا دبیرؒ کو اردو‘ فارسی اور عربی نظم و نثر میں خدا داد قدرت و صلاحیت حاصل تھی۔ آپ نے رحمۃ اللعالمین‘ خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کے تحفظ میں جب دلائل دیے تو مرزائی آپ کے سامنے عاجز آگئے۔ حتیٰ کہ مرزا قادیانی بھی مقابلہ کی تاب نہ لا کر گھبرا اٹھا۔ مولانا دبیرؒ کے دلائل براہین کا جواب تو نہ بن سکتا تھا مگر مرزائیت اپنی خفت مٹانے کے لیے حسب عادت انگریزی حکومت کی طرف بھاگی اور مولانا دبیرؒ کی تحریروں کو بہانہ بنا کر آپ کے خلاف مقدمات کی ابتداء کر دی اور مرزا قادیانی کے حکم سے حکیم فضل دین بھیروی مرزائی کی طرف سے ۱۶ نومبر ۱۹۰۲ء کو دفعہ ۵۰۰ تعزیرات ہند گورداسپور میں مقدمہ دائر ہوا مگر اللہ تعالیٰ کی مدد شامل حال ہوئی اور آپ اس مقدمہ میں صاف بری ہو گئے۔ دوسرا فوجداری

صفحہ 119

مقدمہ بھی فضل دین بھیروی مذکور نے ۲۹ جون ۱۹۰۳ء کو گورداسپور میں دائر کیا۔ اس مقدمہ میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے کامیابی نے مولانا کرم الدین دبیرؒ کے قدم چومے اور مرزائیوں کا مقدمہ خارج ہو گیا۔

اس کے بعد مولانا دبیرؒ کے خلاف کذاب مرزا قادیانی اپنی پیش گوئیاں جو کہ جھوٹ اور خرافات کا پلندہ ہوتی تھیں، شائع کرتا رہتا تھا۔ حتیٰ کہ ۱۶ جنوری ۱۹۰۳ء میں مطبوعہ کتاب مواہب الرحمٰن تقسیم کی، جس میں مولانا دبیرؒ کے خلاف توہین آمیز باتیں تحریر کیں۔ چونکہ مرزائیوں کی طرف سے پہلے مقدمات کی ابتداء ہو چکی تھی۔ اس لیے مولانا دبیرؒ نے انتقاماً مرزا قادیانی اور فضل الدین بھیروی کے خلاف استغاثہ دائر کر دیا جو بعد میں حق و باطل کے مابین ایک عظیم الشان معرکہ کی صورت اختیار کر گیا اور مرزا کے لیے سوہان روح بن گیا۔ اس مقدمہ میں مولانا دبیرؒ کئی کئی گھنٹے عدالت میں اتنی زبردست جرح کرتے تھے کہ مخالف مرزا قادیانی اور مرزائی تلملا اٹھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر مرحلہ پر آپ کی امداد فرمائی، تقریباً دو سال تک یہ مقدمہ چلتا رہا۔ آخر کار ۸ اکتوبر کو گورداسپور کی عدالت سے مجرم مرزا قادیانی کو پانچ سو روپے جرمانہ یا چھ ماہ قید اور حکیم فضل دین مجرم نمبر ۲ کو دو سو روپے جرمانہ یا پانچ ماہ قید کا حکم سنایا گیا۔ یہ سب تفصیلات مقدموں کے بارے میں مولانا دبیرؒ کی کتاب ”تازیانہ عبرت“ میں درج ہیں۔

پھر مرزا نے ایک انگریز وکیل کی وساطت سے اپیل کی اور بمشکل رہائی حاصل ہوئی مگر یہ حقیقت ہے کہ اس مقدمہ میں مرزا قادیانی اور اس کے حامیوں کو بہت ذلت کا سامنا کرنا پڑا۔ پیشگوئیاں بھی غلط ثابت ہوئیں اور مولانا ابوالفضل کرم الدین دبیرؒ جیسے شیر دل فاضل مجاہد نے اللہ تعالیٰ کی مدد سے مرزائیوں کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ ان تمام مقدمات کی تفصیل مولانا دبیرؒ نے اپنی کتاب ”تازیانہ عبرت“ المعروف بہ متبنیٰ قادیان قانونی شکنجہ میں بیان کر دی ہے۔

حضرت مولانا محمد کرم الدین دبیرؒ ایک بلند پایہ عالم تھے اور حاضر جوابی کا اللہ تعالیٰ نے آپ کو خاص ملکہ عنایت فرمایا تھا۔ آپ نے اس میدان میں نہایت مضبوط قدم رکھا اور اس ضمن میں خاص شہرت حاصل ہوئی۔ آپ بلند قامت اور وجیہہ شکل انسان تھے۔ آواز بھی بلند اور پر صولت تھی۔ حوصلہ وسیع تھا۔ کسی سے مرعوب نہیں ہوتے تھے۔ آپ نے

صفحہ 120

اپنی زندگی میں مختلف باطل قوتوں کے ساتھ متعدد مناظرے کیے اور غالب رہے۔ مرزائیت کی بیخ کنی میں آپ نے زندگی کا بیشتر حصہ خرچ کر دیا۔ مرزا قادیانی کے بعد اللہ دتہ وغیرہ مرزائی مناظرین کے ساتھ مولانا دہر کے مناظرے ہوئے اور ان کو ہر مرتبہ شکست فاش دی۔ جب قادیانی مشن کے بانی ہی کو پچھاڑ دیا تھا تو اس کے پیروکار مرزائیوں میں اتنی ہمت ہو ہی نہیں سکتی تھی کہ مولانا کے سامنے ٹھہر سکتے اس لیے ہمیشہ ہی منکرین ختم نبوت کو ذلت کا سامنا کرنا پڑا۔ (روزنامہ مرکز‘ ۸۸-۲-۲۸‘ اسلام آباد)

مسلمانو! آنکھیں کھولیے

آج یہ فرقہ دنیا کا مالدار ترین فرقہ ہے۔ اس کے دو مرکزی دفاتر ہیں۔ ایک ہندوستان کے شہر قادیان میں ہے۔ یہیں سے اس کے اشاعتی لٹریچر تیار کر کے پورے ملک میں مفت تقسیم کیے جاتے ہیں اور ایک ہفتہ وار اخبار ”بدر“ کے نام سے نکلتا ہے۔ اس مرکز کے ماتحت کئی درجن با تنخواہ مشنری ادارے پورے ملک میں اپنے مذہب کی تبلیغ و اشاعت میں شب و روز مصروف رہتے ہیں۔

ان کا دوسرا مرکزی دفتر پاکستان میں چنیوٹ کے قریب اپنے آباد کردہ شہر ”ربوہ“ میں ہے۔ اس دفتر میں عالمی پیمانے پر قادیانیت کی نشر و اشاعت کے پروگرام بنائے جاتے ہیں۔ یہیں کی تربیت گاہ سے نکلے ہوئے قادیانی دنیا کے مختلف ملکوں میں جاکر اپنے مذہب کی تبلیغ کا فرض انجام دیتے ہیں۔ وہاں ان کے بہت سے مدارس اور کالج ہیں۔ ان میں سب سے اہم احمدیہ مشنری کالج ہے۔ جس میں قادیانیت کے مشنری تیار کیے جاتے ہیں۔ قادیان اور ربوہ دونوں مرکزی دفاتر کا سالانہ بجٹ گیارہ کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔

(سیرت و سوانح مرزا غلام احمد قادیانی‘ ص ۶۰‘ شائع کردہ مرکز قادیان)

یہی دونوں مرکز اپنے عالمی مشنریوں کو منظم کرتے ہیں‘ ہدایات دیتے ہیں۔ ان کے دفاتر کا بجٹ پورا کرتے ہیں۔ ایک سو سے زائد مرکزی مشنری ہیں اور ۱۴۱ لوکل مشنری کام کرتے ہیں۔ اس طرح ۲۶۴ پرجوش‘ بااختیار‘ مالیات کی فراہمی سے بے نیاز داعی اور

صفحہ 121

مشنری عالمی پیمانے پر تبلیغ قادیانیت کے نظام کو پوری قوت سے چلا رہے ہیں۔ یہ طریقہ انہوں نے عیسائی مشنریوں سے لیا ہے اور ٹھیک اسی نہج پر وہ کام کرتے ہیں۔ ان کے نظام تبلیغ و اشاعت مذہب کی وسعت اور پھیلاؤ کا اندازہ مندرجہ ذیل تفصیل سے کیا جاسکتا ہے۔ امریکہ کی چار ریاستوں میں ۹ مشن کام کرتے ہیں۔ ان کی ۱۴ مسجدیں ہیں اور تین مدرسے، پانچ اخبارات و رسائل شائع ہوتے ہیں۔ یورپ کے ملکوں میں کینیڈا، انگلینڈ، ہالینڈ، سوئٹزرلینڈ، جرمنی، ڈنمارک، سویڈن، ناروے، بیلجیم، سپین اور اٹلی میں ان کے ۲۴ مشن، ۱۳۰ مسجدیں، ۷۲ مدرسے ہیں اور ۹ رسالے اور اخبارات جاری ہیں۔ مشرق وسطی میں فلسطین، شام، لبنان، عدن، مصر، کویت، بحرین، مسقط، دوبئی اور اردن میں ۱۰ مشن، چار مسجدیں اور ایک مدرسہ ہے اور ایک رسالہ ”البشریٰ“ عربی زبان میں شائع ہوتا ہے۔ مشرقی افریقہ میں کینیا، تنزانیہ، یوگنڈا، زامبیا، میں ۲۶ مشن، ۷۱ مسجدیں، ۵ مدرسے ہیں اور ۵ اخبارات و رسائل شائع ہوتے ہیں۔ سب سے زیادہ کامیابی ان کو مغربی افریقہ میں ملی ہے۔ وہاں نائجیریا، گھانا، سیرالیون، گیمبیا، آئیوری کوسٹ، لائیبیریا، ٹوگولینڈ، نائیجر، بنین اور صومالیہ میں ۲۴۷ مشن ۴۶۹ مسجدیں، ۱۵۴ مدارس اور ۲۵ ہسپتال ہیں اور ۱۴ اخبارات و رسائل شائع کیے جاتے ہیں۔

ممالک بحر ہند میں ماریشس، لنکا، برما میں ۷ مشن، ۱۳ مسجدیں اور ایک مدرسہ ہے۔ ۳ اخبارات و رسائل جاری ہیں۔ مشرق بعید میں انڈونیشیا، ملیشیا، فجی آئی لینڈ، جاپان، فلپائن، جنوبی افریقہ میں کیپ ٹاؤن میں ۷۳ مشن ۷۲ مسجدیں اور ۶ مدرسے ہیں۔ ۱۶ اخبارات و رسائل ہیں۔ مشرق بعید میں سب سے زیادہ کامیابی ان کو انڈونیشیا میں حاصل ہوئی جو ایک مسلم ملک کہا جاتا ہے۔ صرف انڈونیشیا میں ۳۰ مشن مصروف کار ہیں اور ۱۱۵ مسجدیں اس کے مختلف شہروں میں موجود ہیں۔

مذکورہ بالا تفصیل سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ قادیانیت کی تبلیغ میں کتنی منظم اور کتنی بڑی فوج لگی ہوئی ہے اور یہ ساری فوج صرف امت محمدیہ پر حملہ آور ہے اور اس کی مدافعت میں کوئی منظم جماعت ہماری نگاہوں میں نہیں ہے۔

ان کی سب سے کاری ضرب اسلام پر ان کے ترجمہ قرآن سے پڑتی ہے۔ وہ اپنی تائید میں مسلمانوں کی کتاب قرآن کو استعمال کرتے ہیں۔ اس کا دنیا کی تمام اہم ترین زبانوں

صفحہ 122

میں ترجمہ کرتے ہیں اور ہزاروں نہیں لاکھوں کی تعداد میں شائع کرتے ہیں۔ تمام مترجمین قادیانی ہیں۔ انہوں نے ترجمہ میں کیا کیا بددیانتیاں کی ہوں گی۔ اس کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ ان تراجم کو اتنے بڑے پیمانے پر تمام ممالک میں پھیلا چکے ہیں، جن کا آپ اندازہ نہیں لگا سکتے۔

قرآن کے انگریزی ترجمہ کے متعدد ایڈیشن کئی لاکھ کی تعداد میں وہ شائع کر چکے ہیں۔ انگریزی زبان میں پانچ جلدوں میں ایک تفسیر بھی شائع کی ہے جو ۳۳۰۰ صفحات پر مشتمل ہے۔ اس تفسیر کا خلاصہ بھی انگریزی میں شائع کر دیا گیا ہے جو ۱۵۰۰ صفحات پر مشتمل ہے۔ ہالینڈ کی ڈچ زبان میں قرآن کے ترجمے کے تین ایڈیشن اب تک وہ شائع کر چکے ہیں۔ جرمنی ترجمے کے تین ایڈیشن، مشرقی افریقہ میں کینیا کی سواحلی زبان میں ترجمہ قرآن کے تین ایڈیشن یعنی تین ہزار نسخے شائع ہو چکے ہیں۔ نائجیریا کی زبان یوروبا میں قرآن کا ترجمہ کیا گیا۔ اس کے بھی تین ایڈیشن نکل چکے ہیں۔ ڈنمارک کی زبان ڈینش میں ترجمہ کر کے اس کو دس ہزار کی تعداد میں طبع کر کے تقسیم کیا گیا۔ یوگنڈا کی زبان یوگنڈی، یورپ کی جدید زبان اسپرانٹو میں انڈونیشیا کی انڈونیشین میں، فرانس کی زبان فرنچ میں، روسی، اٹالین، سپینش اور بنگلہ زبان میں قرآن کے ترجمے کرائے گئے ہیں۔ مشرقی افریقہ کی بعض دوسری زبانوں کیکویو، لوؤ، کیکامیہ میں بھی قرآن کا ترجمہ کیا جا چکا ہے۔ آسامی، پنجابی اور ہندی زبانوں میں ترجمے ہو چکے ہیں۔ جن میں سے بعض شائع ہو چکے ہیں۔ بعض طباعت کے مرحلے میں ہیں۔ عنقریب وہ بھی شائع ہو جائیں گے۔ مغربی افریقہ کی مقامی زبانوں میں مثلاً سیرالیون کی زبان مینڈی، گھانا کی زبان فنٹے، ٹوائی، نائجیریا کی ایک زبان ہاؤسا اور فجی کی زبان فجین میں ترجمہ کا کام جاری ہے۔ مستقبل قریب میں وہ بھی شائع ہو جائیں گے۔ چینی زبان میں بھی ترجمہ کی تیاریاں ہیں۔

ان حالات کے پیش نظر آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ قادیانیت کی جڑیں کتنی گہرائی تک پہنچی ہوئی ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ اس کی مدافعت میں جتنی توانائیاں ہمیں لگانی چاہیے تھیں۔ ہم نے نہیں لگائیں۔ ہم چند دلچسپ مباحثوں، مناظروں اور اشتہار بازیوں میں مصروف رہے۔ اور اسے ایک حقیر اور مختصر سی جماعت سمجھ کر اس کی طرف سے بے نیازی برتتے رہے اور وہ خاموشی سے مسلمانوں کے ایمانوں پر ڈاکے ڈالتے رہے

صفحہ 123

اور ہم خاموش تماشائی بنے رہے۔ قادیانیت کی جنم بھومی ہندوستان کی سرزمین ہے۔ یہیں کے علماء کا سب سے پہلا فریضہ تھا کہ اس نئے مذہب کی تباہ کاریوں اور ہلاکت آفرینیوں سے تمام عالم اسلام کو باخبر کرتے اور ابتداء ہی سے اس کے خلاف ایک متفقہ اجتماعی پالیسی اختیار کر کے اپنے فیصلہ سے اسلامی دنیا کو باخبر رکھتے تو شاید اتنے بڑے پیمانے پر یہ تباہی نہ پھیلتی‘ یہ ہماری کوتاہی تھی۔ اسلام نے ہمارے اوپر اپنی حفاظت کی جو ذمہ داری عائد کی تھی۔ اس کو کماحقہ ہم نے پورا نہیں کیا اور ہزاروں‘ لاکھوں‘ مسلمانوں کے ایمان کی پونجی ہماری غفلت سے لٹ گئی۔ خدا ہماری کوتاہیوں اور لغزشوں کو معاف فرمائے۔

تلافی مافات کے لیے ضروری ہے کہ آج ہم ایک غیر متزلزل لائحہ عمل لے کر اٹھیں اور قادیانیت کے بارے میں غیر مبہم الفاظ میں اپنی رائے دنیائے اسلام کے سامنے پیش کردیں‘ اس سلسلہ میں میری تجویز ہے کہ :

نہیں بلکہ یہ اسلام دشمن ایک مستقل مذہب ہے‘ جس کا اسلام سے قطعاً کوئی تعلق نہیں۔

ان کو روکا جائے۔

سا سلوک کیا جائے۔

کو مدعو کیا جائے۔

کے روابط سے روکا جائے۔

فہرست میں نہ شمار کیا جائے۔

کرے‘ ان کے مقدمات نکاح و طلاق‘ وراثت وغیرہ کا فیصلہ عام قوانین ہند کے تحت کیا جائے اور مسلم پرسنل لاء کو ان پر نافذ العمل نہ تسلیم کیا جائے۔

صفحہ 124

اردو، عربی اور انگریزی میں طبع کراکے تمام اہم اور ضروری مقامات، اداروں اور مسلم تنظیموں کو ارسال کیا جائے۔

(ماہنامہ دارالعلوم دیوبند، ختم نبوت نمبر، مضمون مولانا نظام الدین اسیر)

یاد رہے کہ یہ مضمون آج سے بارہ سال قبل لکھا گیا ۔ آج صورت حال کیا ہوگی؟

صاحب جنوں

”پہلا شخص، جس نے خواجہ ناظم الدین وزیر اعظم کی توجہ قادیانی تحریک کی سنگینی کی طرف مبذول کرائی۔ وہ قاضی احسان احمد شجاع آبادی تھا۔ قادیانیت کی مخالفت اس شخص کی زندگی کا واحد مقصد معلوم ہوتا ہے۔ اور وہ جہاں کہیں جاتا ہے، اپنے ساتھ ایک بڑا چوبی صندوق لے جاتا ہے۔ جس میں احمدیوں کا اور احمدیوں کے خلاف لٹریچر بھرا ہوتا ہے۔ زیادہ اہم سیاسی واقعات کا ذکر تو درکنار، پاکستان یا کسی اور شخص کو کوئی آفت پیش آجائے، کوئی افسوسناک واقعہ رونما ہو جائے، قائد ملت قتل کر دیے جائیں یا ہوائی جہاز گر پڑیں۔ قاضی احسان احمد شجاع آبادی کے نزدیک وہ ہمیشہ احمدیوں ہی کی سازش کا نتیجہ ہوتا ہے“۔

(رپورٹ تحقیقاتی عدالت ۱۹۵۳ء، ص ۱۴۷)

ہمارے بعد کہاں یہ وفا کے ہنگامے
کوئی کہاں سے ہمارا جواب لائے گا (مؤلف)

احرار کے خطباء

”خدا نے ہمارے خیالات کی نشر و اشاعت کے لیے ان لوگوں کو جماعت سے وابستہ کر دیا ہے۔ جن کا گلا اور آواز پروپیگنڈہ کا موثر ترین ذریعہ ہیں۔ شیخ حسام الدین، سید عطاء

صفحہ 125

اللہ شاہ بخاری، مولانا حبیب الرحمٰن، مولانا مظہر علی اظہر، صاحبزادہ فیض الحسن، مولانا عبدالقیوم کان پوری، حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی، مولانا عبدالقیوم پوپلزئی، عبدالرحیم عاجز، حافظ علی بہادر خاں بمبئی، قاضی احسان احمد، یہ کون ہیں؟ مجلس احرار کو قدرت کے عطا کردہ لاؤڈ سپیکر ہیں۔ اسی سبب سے دنیا خار کھاتی ہے۔ اسی باعث ہمارے مخالفوں کی آواز نقار خانے میں طوطی کی آواز بن کے رہ جاتی ہے۔ یہ خدا کا فضل ہے کہ جو نیا ادیب اور خطیب حوصلہ مندی سے اٹھتا ہے۔ اسے احرار میں شامل ہونے کی راہنمائی ہوتی ہے۔ آخری سول نافرمانی پر ہماری قوت میں اور اضافہ ہوا ہے۔ کیا جانے قدرت کو اس جماعت سے کیا کام لینا ہے؟

(تاریخ احرار، صفحہ ۴۶۸) امیر افضل حق مرحوم

ہر لحظہ ہے مومن کی نئی آن، نئی شان
گفتار میں کردار میں اللہ کی برہان (مؤلف)

مرزائی اصطلاحات متعلقہ نبوت

از: مولانا لال حسین اخترؒ

ختم نبوت کا عقیدہ بنیادی، قطعی، اجماعی اور اس قدر واضح تھا کہ مسلمان اس عقیدہ کے خلاف ایک لفظ تک سننے کے لیے تیار نہ تھے۔ مسیلمہ کذاب سے بہاء اللہ ایرانی تک مدعیان نبوت کاذبہ کا انجام غلام احمد قادیانی کے پیش نظر تھا۔ اپنے سوچے سمجھے پروگرام کے مطابق اس نے اپنے دعویٰ کے ابتدائی ایام کی تصانیف میں ختم نبوت کا اقرار کیا لیکن اس کے ساتھ ہی انہی تصانیف میں اپنے لیے ’ظلی نبی‘ ’بروزی نبی‘ ’مجازی نبی‘ کی اصطلاحات وضع کیں۔ حالانکہ قرآن مجید اور حدیث شریف میں قطعاً ان اصطلاحات کا کوئی ذکر نہیں۔ ان اصطلاحات کو استعمال کرنے سے مرزا غلام احمد قادیانی کی غرض یہ تھی کہ ’ظلی‘ ’مجازی‘ بروزی وغیرہ الفاظ دیکھ کر عامۃ المسلمین اس کے دعویٰ نبوت کو برداشت کر لیں اور خیال

صفحہ 126

کریں کہ شرعاً یہ کوئی ممنوع دعویٰ نہیں۔ حقیقی نبوت کا دعویٰ موجب کفر ہے اور ”ظلی و بروزی نبوت“ سے مراد فنا فی الرسول کا مقام ہے۔ اس سلسلہ میں چند ضروری گزارشات حسب ذیل ہیں۔

ذکر نہیں۔ نہ ہی تیرہ سو سال میں کسی مفسر قرآن نے اپنی تفسیر میں آیت خاتم النبیین یا کسی اور آیت کی تفسیر کے تحت غلام احمد قادیانی کی بیان کردہ ان اقسام نبوت میں سے کسی کا ذکر کیا ہے۔ قرآن مجید کے سب سے پہلے مفسر حضور خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی چچازاد بھائی حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ تک ایک بھی مفسر کا نام نہیں لیا جاسکتا جس نے اپنی تفسیر میں نبوت کی مذکورہ بالا اقسام تسلیم کی ہوں۔

رازی، امام جلال الدین سیوطی، قاضی نصیر الدین بیضاوی، علامہ علاؤ الدین خازن، حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی ایسے بلند پایہ مفسرین میں سے کسی نے اپنی تفسیر میں ظلی، بروزی، مجازی ختم نبوت وغیرہ کی تقسیم نہیں کی۔ ان مفسرین میں سے بعض کو مرزا غلام احمد قادیانی اور مرزائیوں نے مجدد اور ملہم تسلیم کیا ہے اور مجددین و ملہمین کی نسبت لکھا ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ فہم قرآن عطا کرتا ہے۔ وہ قرآن مجید کے معارف بیان کرتے ہیں۔ انہیں علوم لدنیہ و سماویہ دیے جاتے ہیں۔ ان کی مخالفت کرنے والا فاسق ہوتا ہے۔

(ازالہ اوہام طبع اول، ص ۱۵۴‘ شہادت القرآن ص ۴۸‘ ایام الصلح ص ۵۵‘ حمامۃ

البشریٰ ص ۷۵‘ تصنیفات مرزا غلام احمد قادیانی)

”سچے پیرو اس کے (قرآن مجید کے) ظلی طور پر الہام پاتے ہیں“۔

(تبلیغ رسالت جلد اول ۹۶)

بقول لاہوری مرزائیوں کے ظلی نبوت، نبوت نہیں تو ظلی الہام بھی الہام نہیں۔ لہٰذا مرزا غلام احمد قادیانی کے ”الہام“ حدیث النفس، اضغاث احلام اور اپنے نفس کا افترا ہیں اور اگر اس کے ”ظلی الہام“ حقیقی الہام ہیں تو اس کی ظلی نبوت بھی حقیقی نبوت ہے۔

صفحہ 127

انبیاء سابقین ظلی نبی تھے

مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنا عقیدہ بیان کیا ہے: ”پہلے تمام انبیاء ظلی تھے نبی کریم کی خاص خاص صفات میں اور اب ہم ان تمام صفات میں نبی کریم کے ظلی ہیں“۔

(اخبار الحکم ‘ قادیان ۲۴ اپریل ۱۹۰۳ء)

مرزا آنجہانی کی اس عبارت سے ثابت ہوا کہ تمام انبیاء علیہم السلام ”ظلی نبی“ تھے اور غلام احمد قادیانی بھی ”ظلی نبی“ تھے۔ پہلے انبیاء علیہم السلام سے غلام احمد قادیانی کی شان بڑھ کر ہے کیونکہ انبیاء سابقین حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاص خاص صفات کے ظل تھے اور غلام احمد قادیانی خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات کا ظل ہے۔ چنانچہ مرزا غلام احمد کا بیٹا ‘ بشیر احمد ایم۔ اے لکھتا ہے: ”پس ظلی نبوت نے مسیح موعود کے قدم کو پیچھے نہیں ہٹایا بلکہ آگے بڑھایا اور اس قدر آگے بڑھایا کہ نبی کریم کے پہلو بہ پہلو لا کھڑا کیا“۔

(کلمتہ الفضل‘ مندرجہ ریویو آف ریلیجنز‘ جلد ۱۴‘ نمبر ۳‘ ص ۱۱۳)

مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی تصنیفات میں ”ظلی نبی‘ بروزی نبی‘ مجازی نبی‘ لغوی نبی‘ امتی نبی“ کی اصطلاحات مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لیے استعمال کیں تاکہ ان اصطلاحات سے عام مسلمان یہ سمجھیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت گھٹیا قسم کی نبوت ہے۔ حالانکہ انہی تصانیف میں ان اصطلاحات کا ایسا مفہوم بیان کیا گیا جس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ اصطلاحات غلام قادیانی کے درجہ نبوت کو گھٹیا قسم کی نبوت ثابت نہیں کرتیں۔ ان اصطلاحات کا مفہوم حسب ذیل ہے۔

صفحہ 128

ظلی نبی

لاہوری مرزائیوں کے نفس ناطقہ اور ان کی انجمن کے سابقہ امیر محمد علی ایم۔اے نے لکھا ہے:

”پھر اس کو ظلی نبوت کہہ کر یہ بھی بتا دیا کہ نبوت نہیں کیونکہ ظل کا لفظ ساتھ لگانے سے اصلیت کا انکار مقصود ہوتا ہے“۔ (مسیح موعود اور ختم نبوت‘ ص ۲)

لاہوری مرزائیوں کے صدر کی دھوکہ دہی ہے کہ ”لفظ ظل سے اصلیت کا انکار“ مقصود ہوتا ہے۔ ان کے نبی مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھا ہے:

اللہ علیہ وسلم ہم ہرگز حاصل نہیں کر سکتے۔ ہمیں جو کچھ ملتا ہے ظلی اور طفیلی طور پر ملتا ہے“۔ (ازالہ اوہام‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی‘ ص ۱۳۸)

لاہوری مرزائیوں کو چاہیے تھا کہ محولہ بالا تحریر کے پیش نظر غلام احمد قادیانی کو مجدد‘ محدث‘ مسیح موعود اور مہدی تسلیم نہ کرتے کیونکہ مرزا غلام احمد قادیانی کو سب کچھ ظلی طور پر ملا۔ بقول محمد علی ایم۔اے امیر جماعت احمدیہ لاہور ”ظلی نبوت“ نبوت نہیں تو غلام احمد قادیانی کی مجددیت‘ محدثیت‘ مہدویت‘ مسیحیت اور اس کا ایمان سب ظلی تھے۔ لہٰذا غلام احمد قادیانی نہ مجدد تھا‘ نہ محدث‘ نہ مہدی‘ نہ مسیح موعود اور نہ مومن تھا۔

بروزی نبی

مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھا ہے:

رنگ کی نبوت مجھے عطا کی گئی“۔ (مرزا غلام احمد قادیانی کا اشتہار‘ ایک غلطی کا ازالہ)

دوسری جگہ مرزا غلام احمد نے لکھا ہے:

صفحہ 129

اور مدنی زندگی حضرت موسیٰ سے مشابہ ہے اور چونکہ تکمیل ہدایت کے لیے آپ نے دو بروزوں میں ظہور فرمایا ہے کہ ایک بروز موسوی اور دوسرے بروز عیسوی“۔

(تحفہ گولڑویہ، ص ۱۵۹)

غلام احمد قادیانی کی اس عبارت کا صاف مفہوم ہے کہ جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام کا بروز ہو کر حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقی نبوت تھی اسی طرح غلام احمد قادیانی کی بروزی نبوت حقیقی نبوت ہے۔ غلام احمد قادیانی نے لکھا ہے:

”بروزی تصویر پوری نہیں ہو سکتی جب تک کہ یہ تصویر ہر ایک پہلو سے اپنے اصل کے کمال اپنے اندر نہ رکھتی ہو۔ پس چونکہ نبوت بھی نبی میں ایک کمال ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ تصویر بروزی میں وہ کمال بھی نمودار ہو۔ تمام نبی اس بات کو مانتے چلے آ رہے ہیں کہ وجود بروزی اپنے اصل کی پوری تصویر ہوتی ہے“۔ (مرزا غلام احمد قادیانی کا اشتہار ’ایک غلطی کا ازالہ)

اس عبارت میں مرزا غلام احمد قادیانی نے صاف الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ بروزی اپنے اصل کی پوری تصویر ہوتی ہے اور پھر خود کو حضور علیہ السلام کا بروز قرار دیتا ہے۔ جس کا معنی یہ ہے کہ وہ (مرزا) اپنے آپ کو حضور علیہ السلام کی پوری تصویر قرار دیتا ہے۔ (معاذ اللہ)

(ماہنامہ ”لولاک“ ملتان، اکتوبر ۱۹۹۷ء)

ناپاک مرزا

مرزا قادیانی نے اپنی کتاب میں واضح طور پر لکھا ہے:

”جو مجھے نہیں مانتا اور میری کتابوں کو نہیں مانتا‘ وہ بد کار عورتوں کی اولاد ہے“۔

جس کتاب کے یہ الفاظ ہیں ..... اس کا نام ”آئینہ کمالات اسلام“ ہے ..... لیکن ہم

صفحہ 130

اس کتاب کو ”آئینہ کمالات اسلام“ نہیں کہتے ..... ہاں ”آئینہ کمالات مرزا“ ضرور مانتے ہیں ..... اس لیے کہ اس کا یہ دعویٰ خود اسے لے ڈوبا۔

مرزا کا ایک بیٹا تھا ”فضل احمد“ ..... وہ مرزا پر ایمان نہیں لایا تھا‘ اس نے مرزا کو نہیں مانا تھا‘ نہ مرزا کی کتابوں کو مانا تھا .... جب وہ مرا تو مرزا نے اس کا جنازہ بھی نہیں پڑھا تھا ..... کیونکہ ان لوگوں کا کہنا تھا ..... غیر مرزائیوں کا جنازہ نہ پڑھو۔

ثابت ہوا کہ مرزا فضل احمد بدکار عورت کی اولاد تھا ..... مرزائیوں سے جب ہم یہ بات کہتے ہیں تو ان کے مبلغ اور مربی فوراً کہہ اٹھتے ہیں ..... جی نہیں! ..... ذریتہ البغایا کا مطلب ہے کہ سرکش‘ ایسا کہہ کر وہ خود کو دھوکہ دیتے ہیں۔ اس لیے کہ مرزا نے خود اس لفظ کا ترجمہ بدکار عورت کیا ہے .... اور ان لوگوں نے جو قرآن کریم کی تفسیر لکھی ہے‘ اس میں بھی سورہ مریم کے باب میں یہ ترجمہ اور تفسیر دیکھی جاسکتی ہے۔

لہٰذا یہ بات غلط ثابت ہو جاتی ہے اور مرزا کی بیوی بدکار عورت مرزا کے اپنے قول سے ثابت ہو جاتی ہے .... اب آپ قرآن کریم کی سورہ نور کی آیت ملاحظہ فرمائیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ واضح طور پر فرما رہے ہیں:

”ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لیے اور ناپاک مرد ناپاک عورتوں کے لیے ہیں“۔

آپ نے ملاحظہ فرمایا .... مرزا اپنے اعلان کے مطابق ناپاک مرزا ثابت ہو گیا‘ ایک بدکار عورت کا بدکار شوہر ثابت ہو گیا ..... آخر یہ قادیانی لوگ ہم سے اور کیا ثابت کرانا چاہتے ہیں ..... یوں ثابت کرنے کو ہم بہت کچھ ثابت کریں گے اور آپ پڑھ کر سر دھنیں گے .... انشاء اللہ۔

(ماہنامہ لولاک‘ ستمبر ۱۹۹۷ء‘ از قلم‘ اشتیاق احمد)

بیمار مرزا

یہ بات ہم سب جانتے ہیں کہ مرزا کو روزانہ سو مرتبہ پیشاب آتا تھا ..... یہ بات

صفحہ 131

صرف ہم ہی نہیں جانتے‘ تمام مرزائی بھی جانتے ہیں..... اس لیے کہ یہ الفاظ خود مرزا کے ہیں.... لہٰذا وہ یہ بات ماننے پر مجبور ہیں..... کہ مرزا قادیانی کو روزانہ سو مرتبہ پیشاب آتا تھا..... اب کیوں نہ ہم ریاضی کے قاعدے سے اس بات کا جائزہ لیں..... یعنی مرزائیوں کے جھوٹے نبی کا کتنا وقت صرف پیشاب کرنے میں گزرتا تھا۔

اگر ہم ایک محتاط اندازہ لگائیں‘ ایک عام شخص ایک مرتبہ پیشاب کرنے میں کم از کم تین منٹ ضرور لگاتا ہے..... لیکن پیشاب کا مریض اس سے زیادہ وقت لگاتا ہے.... تاہم ہم اس کو پانچ منٹ مقرر کر لیتے ہیں..... اس کا مطلب یہ بھی بنتا ہے کہ اسے ہر پندرہ منٹ بعد پیشاب آتا تھا۔

اس کا ایک مطلب یہ بھی نکلتا ہے کہ مرزا کے ایک دن میں پانچ سو منٹ تو صرف پیشاب کرنے میں گزر جاتے تھے۔ یعنی قریباً آٹھ گھنٹے..... جس شخص کے روزانہ آٹھ گھنٹے صرف پیشاب کرنے میں گزر جاتے تھے..... وہ زندگی کے دوسرے کام کیا بخیرو خوبی انجام دے پاتا ہوگا..... اور پھر مرزا کو یہی ایک بیماری نہیں تھی..... اور بھی بے شمار بیماریوں نے مرزا کا گھیراؤ کیا ہوا تھا..... جن کا ذکر خود مرزا اپنی کتابوں میں جگہ جگہ کرتا ہے..... ان سب بیماریوں کی موجودگی میں آٹھ گھنٹے پیشاب کرنے میں صرف کرنے کے بعد بھی مرزا یہ کہتا تھا‘ میں نبی ہوں‘ اور حیرت اس پر کم اور اس کے ماننے والوں پر زیادہ ہے۔ جو ہر پندرہ منٹ بعد اسے پیشاب کرنے کے لیے جاتے ہوئے دیکھتے تھے.... اور پھر بھی اسے نبی مانتے تھے..... جب کہ انبیاء کی شان میں یہ بات بھی شامل ہے کہ نبی قطعاً بے عیب ہوتے ہیں..... کردار کے لحاظ سے بھی‘ شکل وصورت کے لحاظ سے بھی اور جسمانی صحت کے لحاظ سے بھی۔

اس وضاحت کے جواب میں اگر کوئی قادیانی یہ کہے کہ نہیں صاحب‘ یہ غلط ہے..... مرزا کو ہر پندرہ منٹ بعد پیشاب نہیں آتا تھا تو اسے یہ وضاحت کرنا پڑے گی کہ پھر دن میں سو مرتبہ پیشاب مرزا کس طرح کرتا تھا۔ کتنے وقفے کے بعد کرتا تھا..... اور اگر قادیانی یہ کہیں‘ یہ غلط ہے..... مرزا کو دن میں سو مرتبہ پیشاب نہیں آتا تھا تو پھر قادیانیوں نے خود مرزا کی کتابوں کو نہیں مانا.... اس طرح ذریتہ البغایا ٹھہرتے ہیں.... لہٰذا ہم یہ ان کی مرضی پر چھوڑتے ہیں کہ وہ کیا مانتے ہیں اور کیا نہیں مانتے.... ہمیں کوئی اعتراض نہیں..... وہ پوری طرح آزاد ہیں..... ان باتوں میں سے کس بات کو درست مانتے ہیں اور کس کو غلط۔

صفحہ 132

آپ نے دیکھا...... مرزائی کس منجدھار میں پھنس گئے۔

(ماہنامہ لولاک‘ ملتان‘ اکتوبر ۱۹۹۷ء از قلم‘ اشتیاق احمد)

ڈبل سٹار

میں ۱۹۵۳ء کی تحریک میں قید سے رہا ہو کر آیا تو حکومت نے مجھے ڈبل سٹار قرار دے دیا۔ ایک آدمی ہر وقت مسجد کے باہر موجود۔ اب میں جدھر جاؤں‘ وہ سائے کی طرح میرے ساتھ ساتھ۔ اگر کبھی میں گھر کے دوسرے دروازے سے نکل کر ادھر ادھر ہو جاؤں تو اس کے لیے قیامت آجاتی ہے۔ ارے مولانا کہاں گئے‘ کدھر چلے گئے۔ کدھر کو گئے۔ خدا کے لیے بتاؤ۔ کہاں گئے۔ محلے والے تنگ آجاتے تھے۔ گھر کا کنڈا کھٹکھٹایا جارہا ہے۔ بی بی جی مولانا کہاں چلے گئے۔ کس لیے چلے گئے‘ کدھر چلے گئے۔ کب آئیں گے۔ گھر والے بھی تنگ آجاتے۔ کوئی مجھے ملنے آجاتا۔ اس کے پیچھے لگ جاتے۔ آپ کہاں سے آئے؟ آپ کون ہوتے ہیں؟ کیا نام ہے؟ کیسے ملنے آئے؟ کیا باتیں ہوئیں؟ مولانا سے آپ کا کیا تعلق ہے؟ کب سے تعلق ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔

میں ان باتوں سے تنگ آگیا تو ایک دن مرزا نعیم الدین ایس ایس پی کو پیغام بھیجا کہ میں ملنے کے لیے آنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے از راہ مہربانی فرمایا کہ دفتر میں نہیں۔ آپ میرے گھر شام ۵ بجے آئیے۔ میں وہاں پہنچا‘ میرا بہت احترام کیا۔ چائے وغیرہ منگوائی۔ تحریک کے متعلق تفصیلات پوچھتے رہے۔ مرزا نعیم الدین تحریک کے دنوں لاہور کے ایس۔ پی تھے۔ تحریک سے ہمدردی رکھتے اور اس کا اظہار کرنے کے جرم میں معتوب ہو گئے تھے۔ پریشان کیے گئے۔ ہم رہا ہو کر آئے تو وہ لائل پور آچکے تھے۔ ادھر ادھر کی باتوں کے بعد میں نے اپنا مدعا بیان کیا کہ یہ آپ کی سی آئی ڈی مجھے بہت پریشان کرتی ہے۔ یا تو انہیں روکیے ورنہ مجھے پھر جیل بھیج دیجئے۔ انہوں نے فرمایا‘ ہرگز ایسا نہیں ہوگا۔ میں اپنے آدمیوں کو سمجھا دوں گا۔ دراصل حکومت کی طرف سے ہمیں ہدایت ہے کہ جب لائل پور کے ضلع سے کہیں باہر جائیں تو جس ضلع میں آپ جارہے ہوں۔ ہم نے انہیں وائرلیس یا

صفحہ 133

فون پر مطلع کرنا ہوتا ہے۔

آپ سے ہمیں کوئی خطرہ نہیں اور نہ ہم آپ کو پریشان کرنا چاہتے ہیں۔ پھر تھوڑی دیر سوچ کر کہنے لگے۔ مولانا ایسا کریں شہر میں آپ ایک دفتر لے لیں۔ میں پولیس کی ڈیوٹی لگا دوں گا۔ وہ آپ کے گھر نہ جائے بلکہ آپ کا اور دفتر کا پروگرام وہاں سے دریافت کریں۔ میں نے عرض کیا 'بہت اچھا۔

وہ کون تھا؟

یہ ۱۹۶۹ء کا واقعہ ہے۔ کراچی ائرپورٹ پر چیف سیکرٹری مسٹر حق نے آغا شورش کاشمیری کے متعلق کہا کہ اس کی حالت خراب ہے۔ ایوب خان نے ناراضگی کے لہجہ میں فرمایا ”مرنے دو‘ مرتا ہے تو میں کیا کروں“۔

یہ وہ سارے شواہد اور قرائن تھے، جس سے یقین ہو رہا تھا کہ آغا صاحب کو یہ اندر ہی مارنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ اب مجھے یہ فکر تھی کہ آغا صاحب کو مارنے کے بعد یہ آغا صاحب کی میت ہمارے حوالے نہیں کریں گے۔ آغا صاحب کی بیگم اور میں ' دونوں وہاں موجود رہتے تھے۔ آغا صاحب کی حالت ہمارے سامنے تھی لیکن میں اپنے دل کی بات آغا صاحب کی بیگم کے سامنے بھی ظاہر نہ کر سکتا تھا۔

جونہی مجھے ڈاکٹر لطیف منہاس نے بورڈ کی رپورٹ سے مطلع کیا اور قاضی فضل اللہ کی معرفت جناب محمد ایوب خان صاحب کا جواب ہمیں معلوم ہوا۔ میں ایک دن کے لیے آغا صاحب اور بیگم آغا سے اجازت لے کر ہوائی جہاز کے ذریعہ فیصل آباد آگیا۔

آغا شورش کاشمیری کی رہائی کی تحریک کے لیے جو کمیٹی بنی ہوئی تھی، جس میں مفتی زین العابدین ' مولانا عبدالرحیم اشرف ' شیخ محمد بشیر ' خلیل احمد ' مولانا عبید اللہ احرار ' صاحبزادہ افتخار الحسن ' مولانا محمد صدیق صاحب اور بہت سے دوست شامل تھے۔ انہیں آگاہ کیا۔ انہیں عرض کیا کہ جتنا زور دار اجتماع ہو سکتا ہے، کیا جائے اور کراچی میرے ساتھ رابطہ رکھا جائے اور دوسرے شہروں میں بھی لوگوں کو صورت حال سے آگاہ کر دیا جائے۔

صفحہ 134

میں اس میٹنگ سے فارغ ہو کر گھر واپس آنے کے لیے شہر سے نکلا۔ اسی روز مجھے ہوائی جہاز سے کراچی چلے جانا تھا۔ میرے دل و دماغ پر اس وقت سخت بوجھ تھا، طرح طرح کے وساوس آجارہے تھے۔ کمپنی باغ فیصل آباد کی سڑک پر میں جا رہا تھا۔ سامنے سے ایک سرخ و سفید رنگ، لمبا قد، ننگے پاؤں، پھٹے ہوئے کپڑے اور بکھرے ہوئے بال خوبصورت نقش و نگار کا درویش شکل انسان چلا آرہا ہے۔ جب میں اس کے پاس سے گزرنے لگا تو میں نے اسے دیکھا۔ اس نے مجھے غور سے دیکھا اور ایک دوسرے کے پاس سے گزر گئے۔ اس کی حالت اور اس کی شکل و صورت کی جاذبیت نے میرے دل پر کچھ اثر کیا۔ وہ مجھ سے دس قدم گیا ہو گا تو میں نے ایک دفعہ پھر مڑ کر اسے دیکھا تو وہ بھی مجھے دیکھ رہا تھا۔ اب جبکہ ہماری آنکھیں چار ہوئیں تو اس نے قلندرانہ گونجتی اور گرجتی ہوئی آواز میں کہا۔ میاں بے فکر رہو۔ شورش کاشمیری کو کوئی نہیں مار سکتا۔ میں اپنے اور وہ اپنے رخ پر چلا گیا۔ کوئی سو قدم آگے جانے تک میں یہی سوچتا رہا کہ یہ شخص کون ہو گا اور اسے شورش کاشمیری کے حالات کی کیسے خبر ہوئی اور اسے یہ کیسے معلوم ہو گیا کہ میرا شورش سے اخلاص ہے اور میں اس وقت اس کی موت کے خطرے کی وجہ سے فکر مند ہوں۔ مجھے یقین ہو گیا کہ یہ کوئی مجذوب ہے یا کوئی مرد غیب ہے جو مجھے بشارت دے گیا ہے۔ میں فورا واپس لوٹا اور پیچھے کی طرف تیز تیز چلنے لگا۔ بلکہ ہر طرف دوڑا اور اسے ہر چند تلاش کیا لیکن وہ مجھے کہیں نظر نہ آیا۔ کھلی سڑکیں تھیں۔ نزدیک کوئی مکان وغیرہ بھی نہ تھا۔ بڑی حیرانی ہوئی کہ یہ شخص کہاں غائب ہو گیا!

(ہفت روزہ 'لولاک' فیصل آباد ' مولانا تاج محمود نمبر ' ص ۳۴-۳۵ ' از مولانا تاج

محمودؒ)

قاضی صاحب کا ٹوٹا ہوا بازو

اچانک میری نظر دائیں بازو کی کہنی پر پڑی۔ کہنی کی ہڈی ایک طرف کو نکلی ہوئی تھی اور بازو میں ٹیڑھا پن بھی موجود تھا۔ میں نے اس کا سبب پوچھا تو فرمایا: برخوردار یہ

صفحہ 135

انگریزی استبداد اور ظلم کی نشانیاں ہیں۔ شاید قیامت کے روز یہی بخشش کا سبب بن جائیں۔ معلوم ہوا کہ جیلوں میں جسمانی سزا کے نتیجے میں جسم کی کئی ہڈیاں اپنی جگہ سے ہٹ گئی تھیں۔ چند ایک باتیں ہوئیں اور پھر ہم جلسہ گاہ کی طرف چل پڑے۔

(ہفت روزہ 'لولاک' فیصل آباد، ۲۵ جنوری ۱۹۷۴ء)

اترتے ہیں جو راہِ حق کے بے پایاں سمندر میں
تلاطم خیز موجوں سے وہ گھبرایا نہیں کرتے (مؤلف)

حکیم محمد ذوالقرنین سے ایک ملاقات

حکیم محمد ذوالقرنین صاحب.... مجلس احرار اسلام کے عہد رفتہ کی یادگار ہیں۔ ۱۹۲۹ء میں امرتسر میں پیدا ہوئے۔ اسی سال مجلس احرار اسلام کا قیام عمل میں آیا۔ ابتدائی دینی تعلیم امرتسر میں اپنے محلہ کی مسجد میں حاصل کی اور وہیں سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ پھر لاہور آگئے اور طب کی تعلیم حاصل کی۔ آپ کے والد ماجد مولوی حبیب اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ محکمہ انہار میں کلرک تھے۔ مگر علم و فضل میں بلند مقام پر فائز تھے۔ ان کی محبت و شفقت نے موصوف کی تعلیم و تربیت میں بنیادی کردار ادا کیا۔ انہوں نے رد مرزائیت کے موضوع پر بے پناہ مضامین لکھے اور اہل علم و دانش سے خراج وصول کیا۔

حکیم صاحب قیام پاکستان کے بعد مجلس احرار اسلام لاہور کے سیکرٹری رہے۔ ۱۹۵۳ء میں مجلس احرار اسلام کی برپا کردہ تحریک تحفظ ختم نبوت میں مجاہدانہ کردار ادا کیا۔ اس حوالے سے ان کی یادداشتیں ماضی کا سرمایہ ہیں۔ آج کل لاہور میں مطب کرتے ہیں اور اب ہومیو پیتھک ڈاکٹر بھی ہیں۔

۲۹ نومبر ۱۹۹۴ء کو ان کے مطب لاہور میں ان سے ایک یادگار نشست ہوئی۔ ہمارے رفیق مکرم مہدی معاویہ بھی شریک مجلس تھے اور حضرت صوفی کاشمیری بھی۔ اس مجلس میں حکیم صاحب نے جو گفتگو فرمائی وہ نذر قارئین ہے۔

صفحہ 136

میرے والد مولوی حبیب اللہ صاحب حضرت شاہ جی (امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ) کے بڑے معتقد تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ مرزائیت کے بہت خلاف تھے۔ رد مرزائیت کے حوالے سے انہوں نے کئی رسائل لکھے اور مشہور اہل حدیث عالم مولانا ثناء اللہ امرتسری کے ساتھ مل کر مختلف مقامات پر مرزائیوں سے مناظرے بھی کیے۔ قادیان میں مجلس احرار کے زیر اہتمام اکتوبر ۱۹۳۴ء میں تبلیغ کانفرنس منعقد ہوئی تو اس کا دعوت نامہ والد صاحب کو بھی آیا۔ اس وقت سر ظفر اللہ قادیانی گورنمنٹ آف انڈیا کا سیکرٹری تھا۔ اس نے اوپر کی سطح پر یہ بات چلائی کہ سرکاری ملازمین اس اینٹی قادیانی موومنٹ میں شریک نہ ہوں، چنانچہ سرکاری ملازمین پر وہاں کانفرنس میں شرکت پر پابندی لگ گئی۔ چھٹیاں بند ہو گئیں۔ والد صاحب محکمہ انہار میں ملازم تھے۔ چنانچہ انہوں نے اس پابندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا اور قادیان میں احرار تبلیغ کانفرنس میں شریک ہوئے۔ اس کے بعد والد صاحب کشمیر چلے گئے اور وہاں فرصت کے لمحات میں مرزائیوں کے خلاف مختلف رسائل لکھے۔ یہ ایک رد عمل تھا جس کا اظہار اس صورت میں ہوا۔ اس وقت صرف مجلس احرار ہی تھی جو قادیانیوں کے خلاف کام کر رہی تھی اور ان کی اسلام کے خلاف سازشوں کو بے نقاب کر رہی تھی۔ اس پس منظر کی بنا پر میں مجلس احرار میں شامل ہوا۔ لیکن فعال ہو کر قیام پاکستان کے بعد جماعت کے لیے کام کیا۔

میں نے بچپن میں چودھری افضل حق صاحب کی تقریر سنی۔ چودھری صاحب امرتسر میں ایک انتخابی جلسہ میں کٹڑہ مہاسنگھ میں تشریف لائے تھے۔ میرا بچپن تھا۔ اتنا یاد ہے کہ چودھری صاحب کو جلوس کی شکل میں لایا گیا تھا۔ ساتھ بینڈ بھی تھا۔ جس نے انہیں سلامی دی۔ بس ایک مرتبہ ہی ان کی زیارت کی ہے۔ شخصیت بڑی رعب دار تھی۔ گلا ان کا خراب تھا۔ آواز کو ذرا کھینچ کر نکالتے تھے۔ گورنمنٹ برطانیہ نے ان کو بہت تکلیفیں دی تھیں۔ کھانے میں سرمہ ملا کر کھلانے سے ان کا گلا خراب ہو گیا۔ ویسے بھی بہت سن رکھا تھا کہ یہ گورنمنٹ برطانیہ کے بہت بڑے باغی ہیں اور مجھے ان کی زیارت کا شوق بھی تھا۔ بعد میں جب میں نے چودھری صاحب کی کتابیں پڑھیں تو میں چودھری صاحب سے بہت زیادہ متاثر ہوا۔ کسی شادی میں شرکت کروں تو وہاں تحفہ میں چودھری صاحب کی کتابیں ہی پیش کرتا ہوں۔ ان کی ہر کتاب آب زر سے لکھنے کے قابل ہے۔

صفحہ 137

شیخ حسام الدین صاحب سے میری پہلی ملاقات یوں ہوئی کہ میں پاکستان بننے سے پہلے امرتسر سے لاہور آرہا تھا۔ لاہور میں عیسائیوں کا ایک رسالہ نکلتا تھا ”المعاہدہ“ اس کا ایڈیٹر ”موسیٰ خان“ نامی آدمی تھا۔ بیڈن روڈ پر دفتر تھا اس کا‘ وہیں قاضی عبدالحق پادری آئے تھے۔ وہ کہنے لگے کہ میں مختلف سیاسی لیڈروں سے ملاقاتیں کر رہا ہوں کہ پاکستان کے قیام کی جو تحریک چلائی جا رہی ہے۔ اس پر مسلمان رہنماؤں کے خیالات کیا ہیں۔ میں نے یو۔پی کے لیڈروں سے بھی ملاقاتیں کی ہیں۔ اب پنجاب کی لیڈر شپ سے ملاقاتیں کرنے کا خیال ہے۔ میں اس سلسلہ میں مجلس احرار اسلام کے لیڈروں سے پہلے ملنا چاہتا ہوں۔ وہ مجھے کہنے لگے کہ تم ملاقات کراؤ۔ مجلس احرار سے اس وقت بھی میرا تعلق تھا‘ چنانچہ میں دفتر احرار آیا۔ اس وقت لاہور کے سیکرٹری مجلس احرار چودھری عبدالحمید آزاد تھے۔ ان سے میں نے تمام مدعا بیان کیا اور کہا کہ یہ صاحب شاہ جی سے ملنا چاہتے ہیں۔ وہ مجھے آغا شورش کے پاس لے گئے۔ جو اس وقت روزنامہ ”آزاد“ کے ایڈیٹر تھے۔ انہوں نے بتایا کہ فی الوقت تو نہیں‘ البتہ شام کو شاہ جی‘ شیخ صاحب‘ مولانا محمد علی جالندھری‘ قاضی احسان احمد شجاع آبادی‘ یہ سب حضرات تشریف لا رہے ہیں۔ تو ملاقات ہو جائے گی۔ یہ ۴۷ء قیام پاکستان سے قبل کی بات ہے۔

شام چار بجے کا وقت طے ہوا۔ موسیٰ خاں اور قاضی عبدالحق دفتر احرار آئے‘ ملاقات ہوئی۔ میرا چونکہ تعارف نہیں تھا۔ اس لیے وہ سمجھتے رہے کہ یہ بھی عیسائی ہے۔ بہر حال مختلف سوال و جواب ہوئے۔ ملاقات کر کے یہ لوگ چلے گئے۔ اسی شام ورکروں کی میٹنگ تھی‘ میں بھی اس میٹنگ میں شریک ہوا۔ شیخ صاحب مجھے بلا کر کہنے لگے۔ تو چار بجے مل کے گیا ہے؟ میں نے بتایا کہ جی ہاں ایسا ہی ہے۔ شیخ صاحب ہنس کے کہنے لگے کہ میں تو اس وقت یہی سمجھتا رہا کہ تو بھی عیسائی ہے۔ شاہ جی ناراض ہوئے کہ تم نے اس وقت کیوں نہیں بتایا۔ یہی میری پہلی ملاقات ہے۔ ان تمام حضرات سے۔

احرار رضاکاروں کا کیا کردار رہا؟

احرار رضاکاروں خصوصاً احرار سٹوڈنٹس یونین نے اس سلسلہ میں بہت نمایاں کام کیا۔ مہاجرین کی ہر ممکن خدمت کی۔ قیام پاکستان سے قبل امرتسر اور لاہور میں بہت زیادہ

صفحہ 138

ہندو مسلم فسادات ہوئے تو ان دنوں احرار نے کئی جگہوں پر ریلیف کیمپ لگائے۔ احرار رضا کاروں کو پرمٹ ملے ہوئے تھے۔ کرفیو کے دوران وہ فساد زدہ علاقوں میں مسلمانوں کے لیے امدادی سامان لے کر جاتے تھے۔ لاوارث شہداء کی شناخت کر کے ‘ان کے لواحقین کو اطلاع دی جاتی۔ انہیں نہلا کر نماز جنازہ پڑھ کر دفنایا جاتا۔ یہاں لاہور میں ہم ایسے لاوارث شہداء کو میانی صاحب لا کر دفن کرتے تھے۔

ہے کہ یہ غیر سیاسی شعبہ ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟

اصل میں بہت سے لوگ ایسے تھے جو احرار کے پروگرام سے متفق تھے لیکن بعض وجوہات کی بناء پر وہ کام نہیں کر سکتے تھے۔ مثلاً سرکاری ملازمین۔ ان کے لیے احرار کے نام پر کام کرنے میں ایک طرح سے دقت تھی۔ چنانچہ ایسے لوگوں کے لیے علیحدہ شعبہ بنایا گیا تاکہ وہ پوری دلجمعی سے کام کر سکیں۔ لہٰذا اس شعبہ کے قیام سے بڑی کامیابی ہوئی تھی اور تحریک ختم نبوت کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔

پالیسی کے حوالے سے نہایت اہم تھی۔ اس کے متعلق آپ کیا کہیں گے؟

اس وقت میں لاہور شہر کی جماعت کا جنرل سیکرٹری تھا۔ دفاع پاکستان کانفرنس کے بعد ایک بہت بڑا جلسہ یومِ تشکر کے عنوان سے منعقد ہوا اور ان دنوں ہم نے مرزائیوں کے خلاف کھل کر کام کیا۔ حتیٰ کہ ۵۱ء میں کچھ ضمنی انتخابات تھے۔ مسلم لیگ نے ان انتخابات میں چھ مرزائیوں کو ٹکٹ دے دیے۔ چنانچہ ہم نے ان کے خلاف زبردست تبلیغی مہم چلائی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ تمام مرزائی امیدوار شکست کھا گئے۔ دراصل دفاع پاکستان کانفرنس، قیام پاکستان کے بعد مجلس احرار کی عوامی قوت کا ایک زبردست مظاہرہ تھا اور جماعت کے رہنماؤں نے ایک نئی حکمتِ عملی کے ساتھ کام کرنے کا پروگرام دیا تھا۔ ۵۰ء کے الیکشن میں مرزائیوں کو شکست کے بعد لاہور میں احرار کی جانب سے غالباً ۵۱ء میں یومِ تشکر منایا گیا۔ اس کے بڑے بڑے اشتہار بھی شائع ہوئے تھے۔ ہم نے مختلف سیاسی اور دینی جماعتوں کو شرکت کی دعوت دی تھی۔ اس میں بہت سے مسلم لیگی دوست بھی آئے تھے۔ بلکہ بہت سی جگہوں پر مسلم لیگ کے عہدیداروں کی صدارت میں ختمِ نبوت

صفحہ 139

کانفرنسیں بھی منعقد ہوئیں۔ کراچی میں وہاں کی مسلم لیگ کے صدر ہاشم گزدر کی صدارت میں جلسہ ہوا۔

لاہور کے دلی دروازے میں احرار کا ایک بہت بڑا جلسہ ہوا تھا۔ جس میں حضرت شاہ جی نے ”مرزا قادیانی کا قصیدہ ملکہ وکٹوریہ کے نام“ ”ستارہ قیصریہ“ لہرا کر دکھایا تھا۔ یہیں مولانا ظفر علی خاں، مولانا اختر علی خاں اور ماسٹر تاج الدین انصاری بھی آئے۔ یہ اس وقت تحریک کا ابتدائی ماحول تھا۔ مولانا ابوالحسنات، مولانا خلیل احمد اور دیگر بریلوی زعما بھی ہمارے ساتھ تھے اور انہوں نے بھی کانفرنسوں کی صدارتیں کیں۔ جماعت اسلامی والے ہمارے ساتھ کام کرتے رہے۔

یہ جو کہا جاتا ہے کہ شاہ جی رحمہ اللہ نے ۴۹ء میں مجلس احرار کو ختم کر کے مجلس تحفظ ختم نبوت قائم کر دی تھی تو پھر ۴۹ء سے ۵۳ء تک کس نام سے کام ہوتا رہا؟

یہ بالکل غلط اور صریحاً کذب بیانی ہے۔ شاہ جی نے احرار کو ختم نہیں کیا تھا، یہ ایک بڑا مغالطہ دیا جاتا ہے۔ اصل میں ایک اجلاس ملتان میں شاہ جی کے گھر پر منعقد ہوا تھا۔ اس اجلاس میں، میں خود شامل تھا۔ شاہ جی نے فرمایا تھا کہ بھئی بات یہ ہے کہ جن دوستوں کو سیاست کا شوق تھا، وہ سیاست میں چلے گئے ہیں۔ ہم فی الحال مجلس احرار کی سرگرمیوں کو تبلیغی مقاصد تک محدود رکھنا چاہتے ہیں۔ وقتی حالات اس کا تقاضہ کرتے ہیں اور شاہ جی کی یہ پالیسی ان کی فراست کی آئینہ دار تھی۔ مجلس کو ختم نہیں کیا تھا۔ (شیخ حسام الدین صاحب، باقاعدہ مسلم لیگ سے تعاون کرتے رہے۔ ۵۶ء میں جب جماعت پر پابندی تھی تو عوامی لیگ میں سہروردی کے ساتھ شامل ہو گئے۔ جانباز مرزا مسلم لیگ میں چلے گئے۔ ماسٹر جی بھی انہی میں شامل تھے۔)

جو رضا کار اور کارکن باقاعدہ جماعت میں شامل تھے۔ وہ تو احرار کے نام سے الگ ہونے کو تیار نہیں تھے۔ اس لیے کہ انہوں نے اس نام پر بے پناہ قربانیاں دی تھیں۔ وہ تو احرار کے نام پر ہی کام کرتے رہے۔ دراصل شاہ جی نے جماعت ختم نہیں کی تھی۔ بلکہ یہ کہا تھا کہ جو لوگ سیاست میں حصہ لینا چاہتے ہیں وہ اپنا کوئی اور مقام منتخب کرلیں۔ کسی اور جماعت میں شامل ہو جائیں۔ مجلس احرار بحیثیت جماعت الیکشن میں حصہ نہیں لے گی۔ شاہ جی نے صرف کام کا رخ تبدیل کیا تھا۔ کہ اب احرار تبلیغی محاذ پر کام کرے گی اور سیاسیات

صفحہ 140

سے علیحدہ رہے گی۔ اس پر کچھ دوست مسلم لیگ اور دیگر جماعتوں میں چلے گئے۔ مگر ان میں سے بہت سے جلد ہی واپس آگئے۔

مولانا محمد علی جالندھری تو پاکستان بننے کے بعد کافی عرصہ تک مجلس احرار کے پلیٹ فارم پر کام کرتے رہے۔ وہ مجلس احرار اسلام کے صوبائی صدر رہے۔ اسی نام سے انہوں نے کام کیا۔ لیکن زیادہ تر وہ مجلس احرار کے شعبہ تبلیغ و تحفظ ختم نبوت کا کام کرتے رہے اور ان کی شروع سے خواہش رہی کہ میں اسے جماعت سے علیحدہ کرکے الگ جماعت بنا لوں اور بالآخر وہ اپنی اس خواہش میں کامیاب ہو گئے اور ۱۹۵۳ء میں مجلس تحفظ ختم نبوت بنا کر مجلس احرار سے علیحدگی اختیار کر لی۔ اگر چہ شاہ جی مجلس تحفظ ختم نبوت کے صدر رہے۔ اس کی وجہ یہی تھی کہ تمام لوگ احرار ہی کے تربیت یافتہ تھے۔

۱۹۵۳ء کی تحریک تحفظ ختم نبوت میں احرار کے ہی پلیٹ فارم سے سارا کام ہوا۔ مجلس احرار نے تمام پارٹیوں کو اکٹھا کیا اور مجلس احرار نے ہی تحریک چلائی۔ تحریک کے سلسلے میں ہم نے مختلف دینی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔ سب سے پہلی ملاقات ہم نے (بریلوی مکتبہ فکر کے) مولانا ابوالحسنات سے کی۔ اس ملاقات میں میرے ساتھ حاجی جہانگیر صاحب جو لاہور جماعت کے صدر تھے۔ ایک ساتھی محمد شریف صاحب تھے اور بھی چند ساتھی شریک تھے۔ یہ ۱۹۵۲ء کی بات ہے۔ تحریک میں شمولیت کے حوالے سے ہم نے مولانا ابوالحسنات مرحوم سے بات کی۔ انہوں نے فرمایا کہ ہم اپنے دوستوں کی میٹنگ بلا کر اس میں کوئی فیصلہ کریں گے۔

چنانچہ انہوں نے اپنے دوستوں کی میٹنگ بلائی۔ جس میں قریبا سبھی علماء تھے۔ علماء میں انہوں نے یہ بات ان کے سامنے رکھی۔ مولانا غلام محمد ترنم مرحوم نے تحریک کی زبردست تائید کی اور شمولیت پر اصرار کیا۔ ان سب کا تعلق جمعیت علماء پاکستان سے تھا۔

انہوں نے کہا کہ ہم بالکل تیار ہیں اور تمہارے ساتھ ہیں۔ تم کام شروع کرو۔ اسی طرح دیگر جماعتوں کے رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں ہوئیں۔ ان ملاقاتوں میں ماسٹر تاج الدین انصاری اور دیگر احرار رہنما ہماری سرپرستی کرتے ہوئے ساتھ شامل رہے۔ تمام جماعتوں کی تائید کے بعد ہم نے احرار کی طرف سے باقاعدہ دعوت نامے چھاپے، جو سیاسی اور دینی جماعتوں کے رہنماؤں، مشائخ کرام اور پیران عظام سب کو جاری کیے گئے۔ سب

صفحہ 141

نے ہماری بڑی حوصلہ افزائی کی اور تحریک میں شمولیت اختیار کی۔ تب مولانا غلام غوث ہزاروی مجلس احرار اسلام کے مرکزی جنرل سیکرٹری تھے۔ اس دعوت نامے پر ان کے اور مولانا محمد علی جالندھری کے دستخط تھے۔

ان ملاقاتوں کے نتیجہ میں تحریک کے لیے سازگار فضا قائم ہوئی اور احرار کی دعوت پر سب جماعتیں اکٹھی ہوگئیں۔

گورنمنٹ سمجھتی تھی کہ اس ساری تحریک کی کرتا دھرتا مجلس احرار ہے۔ اسی لیے اس نے مجلس احرار پر پابندی لگا دی۔ چونکہ مجلس احرار نے تقسیم ہند کی مخالفت کی تھی اور یہ اس کا اپنا ایک نقطہ نظر تھا اور پاکستان میں احرار کا بہت بڑا حلقہ موجود تھا۔ حکومت نے اس خدشے کے پیش نظر کہ کل کلاں مجلس احرار سیاسی میدان میں ہمارے سامنے نہ آ کھڑی ہو۔ اس لیے تحریک کا بہانہ بنا کر اس پر پابندی لگادی۔ حالانکہ مجلس احرار کا مقصد یہ نہیں تھا کہ وہ تحریک ختم نبوت کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرے۔ اس کا مقصد بڑا واضح اور مطالبات بالکل جائز تھے کہ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے اور سر ظفراللہ کو وزارت خارجہ سے ہٹایا جائے۔ پاکستان میں مرزائی جو تبلیغ کر رہے ہیں اور اسی طرح بیرون ملک پاکستان کا فنڈ استعمال کرکے مرزائیت کی تبلیغ کرتے ہیں‘ اس کی روک تھام کی جائے۔ ۵۰ء میں ہم نے مرزائی امیدواروں کی بھرپور مخالفت کی جہاں جہاں انہیں مسلم لیگ کی طرف سے ٹکٹ ملا۔ اور اس سے بڑھ کر ہم نے یہ کیا کہ ان مرزائی امیدواروں کے مقابلہ میں مسلم لیگ کے آزاد امیدوار کھڑے کر کے انہیں کامیابی دلائی۔ سیاست ہمارے لیے شجر ممنوعہ نہیں تھی۔ ہم اپنی جماعت کے امیدوار کھڑے کر سکتے تھے۔ مگر ہمارا یہ مقصد نہیں تھا۔ ہم تو یہ چاہتے تھے کہ مرزائی نہ جیت سکیں اور کوئی مسلمان‘ جس کا ختم نبوت پر ایمان ہے۔ ان مرزائیوں کو ووٹ دے کر ایمان ضائع نہ کرے۔ مرزائیت مسلمانوں کی نمائندہ بن کر اسمبلی میں نہ جائے۔ مرزائی اسمبلی کے ذریعے مسلمانوں کی نمائندہ جماعت بن کر بیرون ممالک اپنا اجتماع منعقد کرنا چاہتے تھے۔ الحمدللہ ہم نے زبردست مزاحمت کی اور مرزائیوں کو ناکامی ہوئی۔ نتیجتاً مرزائی مسلم لیگ سے خود بخود علیحدہ ہو گئے۔

OO تحریک ختم نبوت کے حوالے سے آپ کی یادداشتیں؟

صفحہ 142

لاہور میں ہم نے تحریک شروع کرنے کے لیے دفتر احرار دہلی دروازہ کے باہر کیمپ لگایا تاکہ رضا کاروں کی بھرتی ہو سکے۔ اسی کیمپ کے ذریعے ہم نے مسئلہ ختم نبوت کو عام کیا۔ لوگوں کو بتایا کہ ہم کیا چاہتے ہیں۔ تحریک چلانے کے سلسلے میں انتظامات وغیرہ سب یہیں طے پاتے۔

گورنمنٹ کے تشدد کی وجہ سے لوگوں نے گاڑیوں، بسوں میں سفر کرنا ترک کر دیا۔ بڑی سخت چیکنگ ہوتی تھی، تشدد بے بہا کیا گیا، بے پناہ گولی چلی، لاہور میں کرفیو لگا دیا گیا۔ پولیس ہمارے کیمپ اکھاڑ کر لے گئی۔ ہم نے اپنا بچا کھچا سامان اٹھایا اور مسجد وزیر خان لے گئے۔ اس وقت ہم تین آدمی تھے۔ ایک میں تھا۔ دوسرے ماسٹر سعید صاحب تھے۔ تیسرے ایک شیخ لال دین صاحب ہوا کرتے تھے۔ ٹائر ٹیوب کا کاروبار کرتے تھے۔ ہم تین آدمیوں نے مسجد وزیر خاں میں کیمپ لگایا اور بیرونی شہروں میں اطلاعات بھجوا دیں کہ اگر کسی نے ملنا ہو تو مسجد وزیر خاں آئے۔

مجھے یاد ہے کہ رات گیارہ بجے ہمارے رضا کاروں کا پہلا دستہ اوکاڑہ سے آیا تھا۔ پھر دیہاتوں اور دیگر شہروں سے بھی دستے آنے لگے۔ بارہ بجے تک ہمارے کیمپ میں دو سو آدمی آچکے تھے۔ ان رضا کاروں کو پولیس نے راستے میں ہی اتار لیا تھا اور دور دراز کے مقامات پر چھوڑ آئی تھی۔ پھر کوئی پیدل آیا تو کسی کو سواری ملی، کسی کو نہ ملی۔ میں نے شیخ لال دین سے کہا کہ ان کے لیے کھانے کا انتظام کرو۔ وہ گیا۔ اپنے علاقے اور اپنے جاننے والے دکانداروں کو جگا کر نان اور پکوڑے وغیرہ تیار کرائے۔ ڈیڑھ بجے جب وہ واپس آیا تو ۳۰۰ آدمی اور آچکے تھے۔ بہرحال ہم نے رات کو جو مل سکا، اسی پر مل بیٹھ کر گزارہ کیا۔ صبح ہوئی تو مسجد وزیر خاں کے محلہ والوں نے ہمارے لیے چائے اور ناشتے کا انتظام کیا۔

دن کو ہم نے پانچ پانچ آدمیوں کے گروپ تشکیل دیے۔ انہیں کہا کہ شہر جاؤ کرفیو کی خلاف ورزی کرو اور اپنی گرفتاریاں پیش کرو۔

یہ سلسلہ شروع ہو گیا۔ بیرون لاہور سے اور بھی رضا کار دستے آنے شروع ہو گئے۔ لاہور انتظامیہ نے شہر کی ناکہ بندی کر دی۔ لاٹھی چارج، آنسو گیس شروع ہو گیا۔ اس کے ساتھ ہمیں یہ اطلاعات بھی ملنے لگیں کہ مختلف جگہوں پر گولیاں چلنی شروع ہو گئی ہیں۔ ہر طرف سے رضا کار مسجد وزیر خاں کے گرد جمع ہونے شروع ہو گئے۔ اس دوران

صفحہ 143

مولانا عبدالستار نیازی بھی آگئے۔ مسجد وزیر خاں کے خطیب مولانا خلیل احمد صاحب بھی آ گئے۔ مولانا عبدالستار نیازی نے اپنی تقریروں کے ذریعے لوگوں میں بڑا جذبہ اور ولولہ پیدا کیا۔ وہ اس وقت مسلم لیگ کے بڑے سرگرم رکن اور صوبائی اسمبلی کے ممبر تھے۔ احرار کے ترجمان روزنامہ ”آزاد“ کے ایڈیٹر مولانا مجاہد الحسینی صاحب تشریف لائے ہوئے تھے۔ ان سب نے مل کر تحریک کو بڑی تقویت پہنچائی۔ اس دوران دوستوں کا مشورہ ہوا کہ کراچی میں تحریک کا کام کچھ کمزور ہے۔ کچھ سرکردہ رضا کاروں کو وہاں جانا چاہیے۔ ہم نے پروگرام یہ بنایا کہ لاہور سے نکل کر ہر شہر سے ہو کر گزریں گے اور وہاں کے لوگوں کو اس بات پر آمادہ کریں گے کہ وہ اپنے اپنے شہر میں تحریک شروع کریں اور ہو سکے تو کراچی پہنچیں۔ ہم نے جب یہ پروگرام بنایا تو پتہ چلا کہ فوج آگئی ہے اور مارشل لاء لگ گیا ہے۔ جنرل اعظم خان کو ایڈمنسٹریٹر بنا دیا گیا ہے۔ میں اور مجاہد الحسینی صاحب لاہور سے باہر دریائے راوی کے پل پر پہنچے تو ہمیں بس ملی۔ یہاں سے ہم لائل پور گئے۔ وہاں پہنچے تو معلوم ہوا کہ بہت سے احرار ساتھی گرفتار ہو چکے ہیں۔ جو ملے انہیں ہم نے تیار کیا کہ کوشش کر کے رضا کاروں کا دستہ کراچی بھیجیں۔

فیصل آباد سے ہم چنیوٹ، جھنگ، ملتان، شجاع آباد سے ہوتے ہوئے کراچی جو پہنچے تو معلوم ہوا کہ یہاں بھی تمام ساتھی گرفتار ہو چکے ہیں اور داخل زنداں ہیں۔ بہرحال فیصل آباد اور گوجرانوالہ کے کافی ساتھی کراچی پہنچ گئے۔ ہم نے مل بیٹھ کر پروگرام طے کیا۔ احرار کا دفتر وہاں تھا۔ مگر پولیس اور فوج کے مسلسل چھاپوں کی وجہ سے ہم ایک ہوٹل میں ٹھہرے۔ ہم میں سے کچھ ساتھی بیرونی شہروں اور پنجاب میں آتے اور رضا کاروں کو لے کر یہاں پہنچتے۔ پروگرام کے مطابق دس دس آدمیوں کا گروپ بن کر گورنمنٹ ہاؤس کے سامنے مظاہرہ کرتا اور گرفتار ہو جاتا۔

ایک روز ہم مولانا احتشام الحق تھانوی کے پاس پہنچے کہ تمام رہنما گرفتار ہیں۔ آپ کوئی پروگرام بنائیں اور تحریک کو سنبھالیں۔ پروگرام بننے کے بجائے ہمارے تمام ساتھی ”مولانا کے ہاں گرفتار ہو گئے!“ ہم چند ایک ساتھی بچ گئے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے تحریک چل پڑی۔ کارکنوں نے حوصلہ نہ ہارا۔ تحریک کی قیادت خود سنبھال لی۔ ۲۱ اپریل کو یوم اقبال کا جلسہ تھا۔ میں بھی وہاں گیا۔ ایک اشتہار ”علامہ اقبال کا

صفحہ 144

پیغام" کے نام سے چھپوایا تھا۔ جسے دوست تقسیم کر رہے تھے۔ ایک مولوی صاحب نے جو بعد میں معلوم ہوا کہ پولیس کے مخبر تھے۔ انہوں نے پولیس کو اطلاع کر کے ہمیں گرفتار کرا دیا۔ میں بھی گرفتار ہو گیا۔ مجھے پہلے تو سی آئی اے لے گئے۔ بعد میں لاہور بھجوا دیا۔ یہاں قلعہ میں رکھا گیا۔ جہاں تین ماہ رہا۔ اس دوران تفتیش کے ساتھ ساتھ تشدد بھی ہوتا رہا۔ اس کے بعد مجھے سنٹرل جیل بھیج دیا گیا۔

کراچی میں مہاجر آباد بستی کے ایک امام مسجد تھے۔ وہ ہمیں کہنے لگے تم نوجوان ہو‘ ایک نیک کام کے لیے گھروں سے نکلے ہو۔ میرا خیال ہے کہ ظفر اللہ قادیانی اور دیگر مرزائی نواز لیڈروں کو قتل کرنا چاہیے۔ میں نے ان سے کہا کہ مجلس احرار کا یہ پروگرام نہیں ہے۔ وہ پر امن طریقے سے جدوجہد کرنا چاہتی ہے لیکن وہ ہمیں مجبور کرتے رہے اور کہا کہ میرے پاس اسلحہ بہت ہے۔ میرے ساتھ ایک مولوی رشید صاحب بھی تھے‘ ایک دن ان امام صاحب نے پستول لاکر مولوی رشید صاحب کے بیگ میں رکھ دیا۔ اور دوسری طرف پولیس کو اطلاع دے دی کہ یہ اسی طرح قتل کے منصوبے بنا رہے ہیں۔ خیر پولیس آگئی لیکن قدرتی طور پر وہ بیگ ان کے ہاتھ نہ لگا۔ البتہ پولیس نے گرفتار کر لیا اور مجھے لاہور بھیج دیا۔

انہی دنوں کراچی میں ظفر اللہ خاں کا جلسہ بھی لٹایا گیا تھا۔ ظفر اللہ نے بڑا چیلنج دیا‘ جلسہ کے موقعہ پر وہ کوٹ پتلون اور ہیٹ پہن کر آیا۔ تقریر سے پہلے اس نے احمدیہ جماعت زندہ باد کا نعرہ لگوایا‘ احرار رضاکار پہلے ہی تیار تھے۔ انہوں نے سوچا کہ آج اگر جلسہ ہوتا ہے تو پھر کل کلاں کو بہت کچھ ہو گا۔ چنانچہ احرار کارکنوں نے آناً فاناً جلسہ الٹ دیا۔ اصل میں بات یہ ہے کہ پاکستان کے قیام کے بعد مسلم لیگ کی مخالف جماعتیں سیاسی طور پر شکست کھا گئیں‘ وہ مفلوج ہو کر رہ گئیں‘ مسلم لیگ اس وقت قوت حاکمہ تھی۔ مرزائی لوگوں کا طریقہ واردات یہ تھا کہ جہاں کوئی عرس یا میلہ وغیرہ ہوتا اور جہاں اور سٹال لگتے‘ وہیں یہ اپنی کتابوں کا سٹال لگا لیتے۔ اسی طرح انہوں نے سرکاری کاموں میں مختلف حیلوں بہانوں سے جلسوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔ جب مجلس احرار نے پروگرام بنایا کہ مرزائیوں کا محاسبہ کیا جائے کہ یہ حد سے گزر رہے ہیں تو سب سے پہلا ٹکراؤ ہمارا وائی ایم سی ہال لاہور میں ہوا‘ ہم سب احرار ورکروں نے میٹنگ کی۔ سالار معراج دین مرحوم نے صدارت کی۔

صفحہ 145

میٹنگ میں فیصلہ ہوا کہ وائی ایم سی ہال میں مرزائیوں کے جلسے بند کیے جائیں۔ میں نے وائی ایم سی ہال کے سیکرٹری کو فون کیا کہ سنا ہے وائی ایم سی ہال میں مرزائی دو تین سال سے جلسے کر رہے ہیں؟ آئندہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ جلسہ ہوا تو ہم آگ لگا دیں گے۔ پھر نہ کہنا کہ ہماری املاک تباہ ہو گئیں۔ جلسہ کے موقع پر احرار ورکر بھی پہنچ گئے۔ نعرے وغیرہ لگائے۔ جلسہ الٹ کر رکھ دیا۔ مرزائی وہاں سے بھاگ گئے۔ اس کے بعد پھر کبھی وہاں مرزائیوں کا جلسہ نہیں ہوا۔

اسی طرح پٹیالہ گراؤنڈ میں کوئی نمائش لگی ہوئی تھی۔ وہاں بھی مرزائیوں نے سٹال لگایا۔ ہم نے نمائش کے منتظمین سے کہا کہ اس سٹال کو ختم کیا جائے۔ اس پر منتظمین نے کہا کہ اب تو سٹال لگ گیا ہے۔ آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔ اس پر احرار ساتھیوں نے از خود کارروائی کر کے سٹال ختم کر دیا۔ پشاور یونیورسٹی میں مرزائیوں کا ایک جلسہ ہوا‘ وہاں بھی احرار ورکروں نے اسی انداز سے کارروائی کر کے جلسہ الٹ دیا۔ مرزائی سمجھتے تھے کہ مسلم لیگ ہمارے ساتھ ہے‘ ہمیں کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا۔ لیکن ان کا یہ خیال خام ثابت ہوا۔ دو چار واقعات کے بعد ہی ان کو پھر ہمت نہیں ہوئی کہ وہ اس طرح کھلے عام کوئی پروگرام کر لیں۔ اسی طرح جب مرزائیوں کو دریائے چناب کے ساتھ کوڑیوں کے بھاؤ زمین ملی‘ جہاں آج ربوہ آباد ہے تو ہم ایک وفد کی شکل میں نواب ممدوٹ سے ملے جو اس وقت پاکستان کے وزیر اعظم تھے۔ وفد میں‘ میں‘ بشیر احمد چوہان صاحب‘ اکاؤنٹنٹ روزنامہ ”آزاد“ حاجی سردار صاحب صدر مجلس احرار یوتھ ونگ‘ منظور احمد بھٹی مرحوم ایڈووکیٹ سابق ایڈیٹر روزنامہ ”آزاد“ شامل تھے۔ یہ یوم تشکر کے موقع کی بات ہے۔ ہم نے انہیں کہا کہ یہ آپ نے مرزائیوں کو اتنی کھلی چھٹی کیوں دے رکھی ہے؟ آپ مہاجرین کو تو ضلع وار بسا نہیں سکے۔ مرزائیوں کو معمولی داموں ضلع جھنگ میں جگہ دے دی ہے۔ نواب ممدوٹ رو کر کہنے لگے کہ میں بھی مسلمان ہوں اور ختم نبوت پر یقین رکھتا ہوں‘ یہ سب میرے پوچھے بغیر‘ میری اجازت اور مرضی کے بغیر ہوا ہے اور یہ سب گورنر فرانس موڈی نے کرایا ہے۔ ظفر اللہ خاں اس وقت وزیر خارجہ تھا۔ اس نے اپنا سیاسی اثر و رسوخ استعمال کیا۔ کچھ عرصہ بعد ہم نوائے وقت کے ایڈیٹر حمید نظامی سے بھی ملے اور ان سے کہا کہ حکومت نے ایک قوم کو جو مسلمانوں کا حصہ نہیں‘ انہیں علیحدہ بنا دیا ہے‘ اور

صفحہ 146

مہاجرین کو ابھی تک وہ ضلع وار نہیں بسا سکی۔ چنانچہ حمید نظامی وہاں گئے، دورہ کیا اور واپس آکر انہوں نے ”نوائے وقت“ میں ایک دو مضمون لکھے۔ اس میں حمید نظامی نے لکھا کہ ایک نیا اسرائیل تشکیل دیا جارہا ہے۔

○○ شاہی قلعہ میں آپ کے ساتھ اور کون کون تھے؟

وہاں ہمیں علیحدہ رکھا گیا تھا۔ پہلی رات جب گیا ہوں تو میرے ساتھ والے کمرے میں مولانا کوثر نیازی اور مولانا فقیر محمد جماعت اسلامی کے، مولانا عبد الرحمن آزاد گوجرانوالہ کے، لاہور میں مجلس احرار کے سالار تھے میر محمد حسین، وہ بھی تھے۔ علامہ سلطان محمد، ماسٹر سعید صاحب اور مجلس احرار کے مرکزی رہنما شیخ حسام الدین صاحب سے بھی یہیں ملاقات ہوئی۔ جس دن میں قلعہ میں پہنچا ہوں تو مودودی صاحب، اور نصر اللہ خاں عزیز بھی موجود تھے۔ لیکن اس دن ان کو یہاں سے فارغ کر دیا گیا تھا۔ سبھی آہستہ آہستہ یہاں سے نکلتے گئے۔ لیکن مجھے تین ماہ تک قلعہ میں رکھا گیا۔ مولانا غلام غوث ہزاروی کے تحریک سے قبل ہی وارنٹ جاری ہوگئے تھے۔ تحریک سے قبل میں نے اور مولانا عبید اللہ انور نے پروگرام بنایا کہ مولانا غوث ہزاروی کو شہر سے باہر لے جائیں۔ لاہور سے باہر مولانا عبید اللہ صاحب کی کچھ زمینیں تھیں اور جاننے والے بھی تھے۔ مولانا غلام غوث کو ہم نے یہاں رکھا۔ تحریک کے دوران ملاقاتیں بھی کرتے رہے اور ان سے ہدایات بھی لیتے رہے۔

دورانِ تفتیش مجھ سے مولانا غلام غوث کے متعلق زیادہ سوالات ہوتے کہ وہ کہاں ہیں؟ کہاں کہاں جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ مولانا کے ساتھ میں زیادہ رہتا تھا۔ ویسے بھی اکثر مولانا ہمارے گھر ٹھہرا کرتے تھے۔ بہر حال اللہ کا فضل شامل حال رہا اور کسی قسم کی بات بتانے سے میں ٹال جاتا۔

شاہی قلعہ سے مجھے سنٹرل جیل پہنچایا گیا۔ یہاں مجھے بم احاطہ میں رکھا گیا۔ غالباً یہ بھگت سنگھ کے حوالے سے مشہور تھا۔ جو تحریک آزادی کا بڑا پرجوش کارکن تھا۔ یہاں بہت سارے ساتھیوں سے ملاقات ہوئی۔ یہیں ایک بارک میں حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا ابو الحسنات محمد احمد قادری، شیخ حسام الدین اور دیگر بڑے بڑے حضرات یہیں تھے۔

صفحہ 147

OO تحریک ختم نبوت میں بعض علماء کا کردار مشکوک سمجھا جاتا ہے؟

جی ہاں! اس معاملے میں بہت سے نام آتے ہیں۔ کئی ایک نے گورنمنٹ کو تحریر لکھ کر دے دی کہ ہمارا اس تحریک کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ آپ ان ناموں کو آف دی ریکارڈ ہی رہنے دیں۔ اس وقت ہر کسی کو اپنی پڑی ہوئی تھی، کسی کا بھائی شہید ہو چکا تھا تو کسی کا باپ۔ کئی ایک پولیس کے تشدد کی وجہ سے اپاہج ہو گئے۔ کمزور طبیعت والے علماء تشدد سے گھبرا گئے۔ لیکن ڈٹ جانے والے ڈٹ گئے۔ اگر معافی نامے داخل کرنے والوں کے نام منظر عام پر لائے جائیں تو ایک طوفان کھڑا ہو جائے۔ اکثر وفات پا چکے ہیں۔ بس ان کی مغفرت کی دعا کیجئے۔

OO یہ جو روایت ہے کہ لاہور میں شہید ہونے والوں کی لاشوں کو چھانگا مانگا کے جنگلات میں جلایا گیا، اس کے متعلق آپ کی کیا معلومات ہیں؟

دیکھیں جی، یہ تو ہر دور میں ہوتا ہے۔ جب حکومت کسی کو کچلتی ہے تو ایسے ہتھکنڈے بھی استعمال کرتی ہے۔ پولیس کی روایت رہی ہے کہ وہ ایسے موقعوں پر لاشوں کو غائب کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ کسی تحریک میں اتنا تشدد نہیں ہوا، جتنا اس تحریک میں مسلمانوں کے ہاتھوں مسلمانوں پر ہوا۔ بہت زیادہ گولی چلی تھی۔

ہمارے ایک مولوی ابراہیم ڈنڈے والے مشہور آدمی ہیں۔ اسی طرح برکت صاحب قتلے والے، ان کا بھائی شہید ہو گیا تھا۔ ایک شیخ لال دین صاحب تھے۔ بوڑھے آدمی تھے۔ ان لوگوں نے اس تحریک میں ورکر کی حیثیت میں بڑا تاریخی کردار ادا کیا۔ جلوسوں کو روکنے کے لیے حکومت نے سڑکوں پر ریڈ لائنیں لگا دیں۔ لیکن لوگوں نے ریڈ لائنیں کراس کیں اور کہا کہ ہمیں گولی مارو۔ ہمارے سینے چھلنی کرو۔ اس پر ملٹری نے بھی گولی چلا دی۔ اس نے کوئی لحاظ نہیں کیا۔

OO کہتے ہیں کہ ملٹری میں مرزائی بھی تھے، جو گولیاں چلا رہے تھے؟

مرزائی بھی تھے، اور بہت سوں کو تو معلوم ہی نہیں تھا کہ مسئلہ کیا ہے۔ انہیں بتایا گیا تھا کہ یہ حکومت کے باغی ہیں۔ لیکن جب انہیں اصل حقیقت معلوم ہوئی کہ یہ تو ختم نبوت کی تحریک چلا رہے ہیں تو بہت شرمندہ ہوئے کہ ہمیں غلط استعمال کیا گیا۔ بہت سی جگہوں پر یہ بھی اطلاعات ملیں کہ فوج اور پولیس نے گولی چلانے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ

صفحہ 148

ہم ڈنڈے مار دیتے ہیں، آنسو گیس چلا دیتے ہیں۔ گرم پانی پھینک دیتے ہیں لیکن گولی نہیں چلائیں گے۔

OO موجودہ حالات میں آپ کیا محسوس کرتے ہیں؟

اب ہم کام کرنے کی عمر میں نہیں۔ یہ جوانی کی باتیں اور جذبے ہوتے ہیں کہ آدمی ناممکن کو ممکن بنا دیتا ہے۔ سیاست دانوں کے رویوں کو دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ ان کا کردار ملک کے لیے نقصان کا باعث بن رہا ہے۔ میں اب بھی احرار ورکر ہوں۔۔۔۔۔ اور نئے دوستوں کے لیے دعا گو ہوں۔ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلائے۔

(انٹرویو ‘سید محمد کفیل بخاری‘ مہدی معاویہ۔۔۔۔ ماہنامہ نقیب ختم نبوت ملتان۔ نومبر

۱۹۹۳ء

مولانا ثناء اللہ امرتسری کی

قادیانیت پر تحقیق

”میں نے اس بارے میں۔۔۔۔ یعنی قادیانی مذہب کی تحقیق کے بارے میں اتنی محنت کی ہے کہ خود مرزا صاحب کے کسی مرید نے بھی نہ کی ہوگی۔ بلکہ میں نے بھی کسی اور مذہب (آریہ وغیرہ) کی جانچ پڑتال کے لیے اتنی محنت نہ کی ہوگی۔ اسی محنت کا نتیجہ یہ رسالہ ”الہامات مرزا“ ناظرین کے سامنے موجود ہے۔“

(فتنہ قادیانیت اور مولانا ثناء اللہ امرتسری‘ ص ۲۲۶‘ از صفی الرحمٰن الاعظمی)

تیرے بغیر عجب بزم دل کا عالم ہے
چراغ سینکڑوں جلتے ہیں روشنی کم ہے (مؤلف)
صفحہ 149

ایک بیرونی شہادت

میں ۱۹۳۳ء سے ۱۹۳۵ء تک ضلع کرنال میں سینئر جج تعینات تھا۔ اس دوران غالباً مجھے کسی موقع کے معائنہ کے لیے ”پونڈری“ کے ڈاک بنگلہ میں دو روز قیام کرنا پڑا۔ ”پونڈری‘ کرنال اور کیتھل“ کی درمیانی سڑک پر واقع ایک مشہور قصبہ ہے۔ ڈاک بنگلہ میں ایک الماری ہے۔ جس میں پرانی کتابیں رکھی ہوئی تھیں۔ میں نے ایک کتاب لی جو مجلد تھی۔ دراصل اس میں ”لندن“ کے رسالے کے کئی حصے یکجا کیے ہوئے تھے۔ میں نے ایک حصہ کے مضامین کی ہیڈنگ پڑھنا شروع کیں۔ اس خیال سے کہ جو ہیڈنگ میری دلچسپی کا باعث ہو گی‘ اسے پڑھوں گا۔ اتفاق سے ایک ہیڈنگ ”مہدی“ تھا۔ اس مضمون کو کسی پادری نے لکھا تھا۔ جس کا نام ”ریورنڈر“ لکھا تھا۔ میں نے اس مضمون کو بغور پڑھا‘ بلکہ دو مرتبہ پڑھا۔ کئی صفحوں کا یہ دقیق مقالہ تھا۔ مجھے پورے پورے الفاظ تو یاد نہیں مگر یہ ضرور یاد ہے کہ پادری صاحب نے مضمون کو اس طرح شروع کیا تھا کہ آج کل مسلمانوں کے سنہ ہجری کی چودھویں صدی شروع ہو رہی ہے۔ اور مسلمانوں میں یہ خیال مذہبی حیثیت کی حد تک پہنچ گیا ہے کہ اس صدی ہجری میں ایک مہدی آئے گا جو مسلمانوں کی گئی ہوئی عظمت پھر بحال کرے گا۔ مسلمانوں کی فتح ہو گی اور مذہب اسلام تمام دنیا میں پھیل جائے گا۔ پھر پادری صاحب نے اس آنے والی مصیبت کی روک تھام کے لیے دو تجاویز پیش کی تھیں۔ اول یہ کہ نہایت غور اور صحت سے معلوم کرو کہ کہاں اور کس جگہ یہ مہدی پیدا ہو رہا ہے اور اس کو وہیں کچل ڈالو۔ دوسری تجویز یہ پیش کی کہ ہم خود مسلمانوں میں کوئی مہدی بنائیں اور اس کی ہر طرح امداد کریں۔ اس وفاداری کا عہد لے کر اس کی اس طرح شہرت کریں کہ مسلمان اصلی مہدی کو بھول کر اسے قبول کر لیں۔ پادری صاحب نے دوسری تجویز کی حمایت کی تھی۔ میں نے مطالعہ کے بعد کتاب اس الماری میں رکھ دی اور واپس کرنال چلا آیا۔ اس مضمون کا میرے دل پر گہرا اثر رہا۔ میں اکثر اس مضمون کا ذکر اپنے دوستوں بلکہ غلام احمدی صاحبان سے بھی کرتا تھا۔

۱۹۳۸ء میں ملازمت کے بعد میں نے دہلی قرول باغ میں مستقل سکونت اختیار کر لی

صفحہ 150

اور وہاں ایک اپنا مکان تعمیر کرلیا۔ ایک روز کا ذکر ہے کہ میرے پاس دو صاحب تشریف لائے۔ انہوں نے کہا کہ ان کو غلام احمد صاحب پرویز نے بھیجا ہے۔ پرویز صاحب ان ایام میں گورنمنٹ آف انڈیا میں کسی اچھے عہدے پر فائز تھے۔ ان دونوں صاحبان نے مجھ سے کہا کہ پرویز صاحب ایک کتاب ختم نبوت پر لکھ رہے ہیں اور ان کو معلوم ہوا ہے کہ اس امر میں آپ کے پاس کچھ مواد ہے۔ وہ یہ مواد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے ان کو ”پونڈری“ ڈاک بنگلہ کا حوالہ دیا اور پتہ بتایا تاکہ وہاں الماری میں جو کتابیں پڑی ہیں۔ ان میں سے یہ مضمون تلاش کر کے حوالہ نوٹ کرلیں یا نقل کرلیں۔ چند روز کے بعد وہ صاحبان میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ہم نے پونڈری ڈاک بنگلہ سے وہ کتاب تلاش کر لی ہے۔ مگر اس میں جو مضمون ”مہدی“ پر تھا۔ وہ غائب ہے اور نکالا ہوا ہے اور باقی کتاب قائم ہے۔ ہمارا یہ خیال ہوا کہ جس کے خلاف یہ مضمون ہوگا۔ اسی نے نکالا ہے۔ بعد ازاں یہ معاملہ کم از کم میرے لیے کوئی دلچسپی کا باعث نہ رہا۔ مگر میں اس کا ذکر کبھی کبھی دوستوں میں کر دیا کرتا تھا۔

۱۹۵۳ء میں جب مرزائیوں کے خلاف ایجی ٹیشن ہوئی تو پھر اس معاملہ کا خیال خصوصیت سے آیا اور میں نے خود بھی غلام احمد صاحب پرویز کو خط لکھا۔ وہ ان دنوں کراچی میں تھے، ان کا جواب آیا کہ دہلی میں ہی انہوں نے اس رسالے کے ناشران کو لندن میں لکھا تھا کہ اس رسالے کی کاپیاں پرویز صاحب کو مہیا کریں اور قیمت وصول کرلیں۔ میں رسالے کا نام بھول گیا تھا۔ مگر پرویز صاحب کو معلوم تھا رسالہ ”بلیک وڈ میگزین“ لندن تھا۔ ناشران رسالہ نے پرویز صاحب کو جواب دیا کہ ان کے پاس اتنی پرانی کاپیاں نہیں ہیں۔ میں نے یہ سارا قصہ مولانا مظہر علی صاحب اظہر کو بیان کیا تھا۔

سوانح مولانا محمد علی جالندھریؒ، ص ۸۹ تا ۹۰ از محمد سعید الرحمٰن علوی)

آج تک سر سبز ہے اشکوں سے تیری یاد میں
گلشن دل میں جو تیرے پیار کی جاگیر تھی (مؤلف)
صفحہ 151

قادیانی ووٹ کا اندراج اور اسکا انجام

فیض محمد فیض (خانقاہ بہاولپور)

اللہ تعالیٰ کا احسان عظیم ہے کہ اس نے ہمیں امت محمدیہ میں پیدا فرمایا اور پھر اپنے نبی ﷺ کی پہچان کے سلسلے میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے لے کر بعد کے ہر دور میں صالح لوگوں کے ذریعہ سے، علماء کرام کی تبلیغ سے اور مصلح اشخاص سے خاتم الانبیاء ﷺ کی توقیر و ناموس کی اہمیت اجاگر کی۔ اس کے باوجود کہ ہر دور میں جھوٹے مدعیان نبوت اور کرائے کے مجدد کبھی مجددیت کا لبادہ اوڑھ کر اور کبھی مسیح موعود کی چادر لپیٹ کر دنیا میں نمودار ہوئے لیکن بالآخر ذلت و رسوائی کی کھائی میں ایسے اترے کہ مٹنے والوں کا نشان تک نہ رہا۔ لیکن اللہ پاک نے خاتم الانبیاء ﷺ کی عزت و ناموس کی خاطر ہر دور میں صدیق اکبر جیسے بے باک اور نڈر انسان پیدا فرما کر ان لوگوں کا قلع قمع کیا اور ان کی دکانداری کو ٹھپ کیا۔

زیر نظر واقعہ میرے عزیز ماسٹر اعجاز صاحب کے ساتھ پیش آیا جو چک نمبر DB-67 تحصیل یزمان کے رہائشی ہیں اور چک نمبر DB-65 میں تقریباً سات برس بطور P.T.C ٹیچر تعینات رہا ہے اور مدرس بشارت احمد، راقم کے ساتھ کچھ عرصہ ایک ہی اسکول میں تعینات رہا۔ مدرس بشارت احمد قادیانی ہے۔ یہ عقدہ راقم پر تقریباً چھ ماہ اکٹھی ملازمت کرنے کے بعد کھلا۔

ووٹوں کے اندراج کے سلسلے میں جناب ماسٹر اعجاز انور صاحب جب چک نمبر D-66 میں پہنچے تو ایک قادیانی گھرانے کے فرد نے کہا کہ میں قادیانی ہوں اور مسلمانوں میں اپنے ووٹ درج نہیں کراتا۔

ماسٹر صاحب نے اقلیتی فارم پیش کیے اور کہا کہ بھائی اگر تم قادیانی ہو تو آؤ اقلیتی فارم پر دستخط کرو تاکہ بطور ووٹر آپ کا اندراج ہو جائے۔ اسی طرح نبی احمد نام کے ایک نوجوان نے بطور قادیانی ووٹر اپنا فارم پر کیا اور دستخط کر کے رسید لے لی۔ کیونکہ چک نمبر DB-66 میں ایک ہی گھرانہ قادیانی ہے۔ لہٰذا اقلیتی فارم محض ایک ہی پر ہوا۔ ووٹوں

صفحہ 152

کے اندراج کے بعد جناب اعجاز انور صاحب نے فارم مکمل کیے اور اپنے A.R.O کے پاس جمع کروا دیے۔

جانے کس طرح قادیانی ووٹ کے اندراج کا پتہ ماسٹر بشارت احمد کو لگا جو کہ چک نمبر DB-63 کا رہائشی ہے۔ مذکورہ چک میں تقریباً چھ سات گھرانے قادیانی ہیں اور ماسٹر بشارت احمد ان کا جماعتی لیڈر ہے اور ربوہ سے مربوط ہے۔ جب بشارت احمد کے کانوں میں قادیانی ووٹ کے اندراج کی بھنک پڑی تو انہیں مرزا غلام احمد کی نبوت کی کشتی ہچکولے کھاتی نظر آئی۔ بشارت احمد اپنی تگ و دو سے اسے بچانے میں مصروف تھا۔ میں ہرگز نہیں سمجھ سکا کہ ایک جھوٹے نبی کا پیروکار اپنے ضمیر کی آواز کے تحت ووٹ درج کراتا ہے اور اس کے نبی کی شریعت ایک ووٹ کے اندراج سے ڈگمگاتی ہے۔ حالانکہ مذکورہ جھوٹے نبی کا اور ووٹ کا تعلق تو جنم جنم کا ہے۔ یعنی دونوں کا قبلہ ایک ہی "برطانیہ" محسن ہے۔

تو بشارت احمد فوراً چک نمبر DB-66 میں نبی احمد نامی قادیانی کے پاس پہنچا اور کہا کہ تم نے یہ کیا کیا۔ ہم تو تمہارے ایک آدمی کے قادیانی تسلیم کیے جانے پر اور ووٹ کے اندراج پر سخت پریشان ہیں بلکہ ربوہ سے اطلاع آئی ہے کہ بہاولپور ہی سب سے پہلے ہمارے مذہب کے جنازے پر کیل ٹھونک چکا ہے اور ایک کیل تم قادیانی ہو کر ٹھونک رہے ہو۔ وہ اس نبی احمد کو لے کر جناب ماسٹر اعجاز انور کے پاس گیا اور کہا ہمارا قادیانی ووٹر خارج کرو۔ ماسٹر صاحب نے بتایا کہ میں تو فارم مکمل کر کے ARO کے پاس جمع کروا چکا ہوں۔ اب تمہارے مسئلے کا حل میرے پاس نہیں ہے۔ یہ دونوں پریشان جناب ہیڈ ماسٹر گورنمنٹ ہائی سکول DB-117 کے پاس پہنچے تو انہوں نے صاف جواب دیا کہ یہ کام میرے بس کا نہیں۔ اب تم جو کچھ کرنا چاہتے ہو، عدالت میں جاکر کرو۔ اگلے دن ماسٹر بشارت احمد نے نبی احمد کو ساتھ لیا اور یزمان میں سول جج جناب شریف جنجوعہ صاحب کے پاس ووٹ کے اخراج کی درخواست گزار دی۔ انہوں نے درخواست گو اور شمار کنندہ کو مع ARO مقررہ تاریخ پر عدالت کا پابند کر دیا۔

پیشی کے دن نبی احمد قادیانی کے ساتھ بطور معاون بشارت احمد قادیانی بھی عدالت میں موجود تھا۔ دیگر ووٹروں کے بعد جب قادیانی ووٹر کی باری آئی تو اعجاز انور صاحب بطور شمار کنندہ موجود تھے۔ شریف جنجوعہ سول جج یزمان نے ان سے پوچھا

صفحہ 153

سول جج: درخواست گزار نبی احمد کون ہے؟

درخواست گزار: میں ہوں نبی احمد ' جناب۔

سول جج: آپ کس مذہب سے تعلق رکھتے ہیں؟

درخواست گزار: جناب میں قادیانی ہوں۔

سول جج: (حیرت زدہ ہو کر) بڑے افسوس کی بات ہے کہ تم لوگ اچھی طرح جانتے ہو کہ قادیان ایک جگہ کا نام ہے اور تم لوگوں نے اپنے مذہب کو علاقائی نسبت دے رکھی ہے۔ تم کیسے لوگ ہو کہ ایک جگہ کے حوالے سے اپنا مذہب بنائے پھرتے ہو۔ تمہارے مذہب کی کیا بات ہے کہ علاقے اور ایک جگہ کے حوالے سے مذہب کا نام لیتے ہو۔ بہت افسوس ہے۔

سول جج: تم کس نبی کے پیرو ہو؟

درخواست گزار: جناب میں مرزا غلام احمد کو نبی مانتا ہوں اور اسی کا پیروکار ہوں۔

سول جج: (سر پکڑے ہوئے) بے حد افسوس ہے۔ میں نے تاریخ کا اور مذہب کا کافی مطالعہ کیا ہے۔ لیکن آج تک کسی نبی کے نام کے دو لفظ نہیں ملے۔ نبی کا ہمیشہ ایک نام ہوتا ہے۔ 'عیسیٰ' 'موسیٰ' 'نوح' وغیرہ لیکن یہ غلام احمد کیسا نام ہے۔ یہ تو احمد کا غلام ہو گیا۔ احمد کے غلام کو نبوت کے دعویٰ کا کیا حق ہے؟ تم لوگ کچھ تو سوچو ' یہ عدالت ہے۔ غلام احمد جو کہ احمد کا غلام کہلواتا ہے ' نبی کیسے ہو سکتا ہے؟ (دونوں قادیانی خاموش ' سکتہ طاری) سول جج صاحب نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ:

اچھا یہ بتاؤ کہ مرزا غلام احمد نے باقاعدہ تعلیم حاصل کی یعنی سکول میں پڑھنے کی غرض سے بھیجے گئے؟

درخواست گزار: بشارت احمد نے جواب دیا کہ: ہاں۔

سول جج: اور آج تک تاریخ گواہ ہے کہ نبی کا کوئی استاد نہیں ہوتا۔ نبی اپنی تعلیم روحانی طور پر اللہ تعالیٰ سے حاصل کرتے ہیں اور پوری دنیا گواہ ہے کہ مرزا غلام احمد نے سکول میں جاکر اپنے استاد سے الف ب پڑھی اور استادوں کی جھڑکیاں سنتے رہے۔

میں بات لمبی کرنا نہیں چاہتا لیکن بے حد افسوس کی بات ہے کہ تم لوگوں نے کس طرح کا علیحدہ فرقہ بنا ڈالا ہے۔ بہرحال اگر تم لوگ ووٹ خارج کرانا چاہتے ہو تو وہ تمہارا

صفحہ 154

قانونی حق ہے۔ آپ لوگ جائیں۔ آپ کا ووٹ خارج ہو گیا۔ اس کے ساتھ ماسٹر اعجاز انور صاحب، ہیڈ ماسٹر گورنمنٹ ہائی سکول جناب رشید مجاہد صاحب اور دونوں قادیانی اپنے مذہب پر سے قادیانی ووٹ کا بوجھ اتار کر عدالت سے باہر آ گئے۔

عدالت سے باہر آکر ماسٹر اعجاز انور صاحب نے بشارت احمد سے پوچھا کہ باہر تم بڑی باتیں کرتے ہو لیکن جج صاحب سے تو تم نے اپنے مذہب کے دفاع میں کوئی بات نہیں کی۔ بشارت احمد نے جواب دیا کہ ہم بات لمبی کرنا نہیں چاہتے تھے۔ اس جج کو کیا پتہ کہ مرزا غلام کیا شے ہے۔

(ہٹ دھرمی اور بے شرمی کی انتہا ہے) لعنۃ اللہ علی الکاذبین

(ماہنامہ نقیب ختم نبوت، ملتان، دسمبر ۱۹۹۶ء)

اور قادیانیت کی تبلیغ رک گئی......

فنانس بزنس کارپوریشن جہلم برانچ میں منیجر قادیانی آگیا اور اس نے عملہ پر اپنے مصنوعی اخلاق کا اثر ایسا جمایا کہ تمام عملہ اس کا گرویدہ ہو گیا۔ جب یہ کام بہ حسن و خوبی سرانجام پا گیا تو قادیانیت کا اصل کام شروع کر دیا۔ یعنی مسلمان فرقوں کے اختلاف بڑھا چڑھا کر بیان کرنے شروع کر دیے۔ وہیں مسلمان علماء سے متنفر کرنے کی مہم بھی شروع کر دی۔ جب یہ کام بھی بہ طریق احسن سرانجام دے چکا تو پھر قادیانیت کی تبلیغ کا اصل کام شروع کیا۔ دفتر میں اور پروگرام پر جاتے وقت مرزا طاہر کی تقریر کی کیسٹ سنانی شروع کر دی اور جب کسی پروگرام میں باہر کے دورہ پر ہوتا تو ڈرائیور کے ذریعے وہی کیسٹیں چلواتا جس سے عملہ اور خاص کر گاڑی ڈرائیور قادیانیت سے اچھے خاصے متاثر نظر آنے لگے اور علماء سے متنفر ہونے لگے۔ مرزا غلام احمد قادیانی اور مرزا طاہر کے نام کا بڑا احترام کرنے لگے۔ منیجر بڑا خوش تھا۔ اتفاق سے ڈویژن کا ایڈمن منیجر جہلم کے دورے پر آیا۔ ایڈمن منیجر کے دورے میں وہی گاڑی اس کے زیر استعمال رکھی گئی۔ ایڈمن منیجر دورے پر

صفحہ 155

روانہ ہوا تو ڈرائیور نے حسب عادت مرزا طاہر کی تقریر کا کیسٹ چلا دیا۔ ایڈمن منیجر نے جب تقریر پر غور کیا تو یہ تقریر مرزا طاہر کی قادیانیت کی تبلیغ پر تھی۔ اس نے ٹیپ ریکارڈ سے کیسٹ نکال کر رکھ دیا۔ ڈرائیور کہنے لگا کہ سر یہ تو مرزا طاہر کی بہترین تقریر ہے اور ہمارے منیجر صاحب تو بڑی توجہ اور شوق سے سنتے ہیں۔ ایڈمن منیجر نے چند کھری کھری منیجر کو سنا دیں اور مرزا طاہر اور مرزا غلام احمد قادیانی کی شان میں ”قصیدے“ پڑھ دیے۔ ڈرائیور بیچارہ خاموش ہو گیا۔

منیجر گاڑی میں ساتھ نہیں تھا۔ جب دورے سے فارغ ہو کر واپس جہلم پہنچے تو ڈرائیور منیجر کی خدمت میں حاضر ہوا اور تمام واقعہ سنا کر کہا کہ سر ایڈمن منیجر نے آپ کو گالیاں دی ہیں۔ مجھے بڑا غصہ آیا۔ منیجر کہنے لگا۔ تاں کی ہویا جے؟ ڈرائیور نے کہا‘ سر! اس نے جناب مرزا طاہر کو بھی گالیاں دی ہیں۔ منیجر کہنے لگا ”پھیر کی ہویا جے“ ڈرائیور نے کہا کہ جناب بڑا غضب یہ ہوا کہ اس نے حضرت مرزا صاحب کو بھی گالیاں دی ہیں۔ قادیانی منیجر کہنے لگا کہ دیون دیو جی کچھ نئیں ہویا۔ ”اب ڈرائیور بیچارہ ہکا بکا کہ اس کے نبی کو گالیاں دی جا رہی ہیں۔ یہ کہتا ہے کہ کچھ نئیں ہویا۔ عجیب بے غیرت ہے۔ خدا نے اسے بچانا تھا فوراً خیال آیا کہ ہمارے علماء صحیح کہتے ہیں کہ قادیانیت جھوٹی ہے یہ کوئی مذہب نہیں۔ اس نے اتنے دن تک ہمیں قادیانیت کی تبلیغ کر کے ہمارا ایمان خراب کیا۔ مرزا کو سچا نبی ثابت کرتا رہا۔ اب گالیاں سن کر کہتا ہے کہ ”کچھ نئیں ہویا۔“ ڈرائیور کو بہت غصہ آیا اور اس نے منیجر کا گریبان پکڑ کر کرسی سے اٹھایا اور کہنے لگا کہ بے غیرت آدمی تیرے نبی کو گالیاں دی جا رہی ہیں اور تو ”کچھ نئیں ہویا“ کہہ کر ٹال رہا ہے۔ تو میرے نبی ﷺ کے خلاف اشارہ کر کے دیکھ‘ تیرا کیا حشر کرتا ہوں۔ آئندہ اگر تو نے یہاں قادیانیت کی تبلیغ کی تو تیرا برا حشر کروں گا۔ قادیانیت کی تبلیغ بھی میرے نبی ﷺ کی توہین ہے۔ تمہارا مذہب جھوٹا‘ تم جھوٹے‘ طاہر جھوٹا‘ مرزا غلام احمد قادیانی لعنتی جھوٹا۔

ڈرائیور جوش میں زور زور سے بول رہا تھا۔ تمام دفتر والے اکٹھے ہو گئے۔ قادیانی منیجر کو ڈرائیور سے چھڑایا۔ اس کے بعد دفتر میں قادیانیت کی تبلیغ رک گئی۔

(از قلم‘ ڈاکٹر دین محمد فریدی‘ ماہنامہ نقیب ختم نبوت‘ ملتان‘ جولائی ۱۹۹۷ء)

صفحہ 156

چھ مرزائی مسلمان ہو گئے

دوسرے دن (۲۸ فروری ۱۹۲۶ء کو) مولانا نے ختم نبوت پر تقریر فرمائی۔ جس پر مرزائیوں کو مناظرے کے لیے وقت دیا گیا۔ مرزائیوں کی طرف سے مولوی غلام احمد قادیانی پیش ہوئے۔ مگر وہ تو مولانا کے استدلال چھوڑ کر آپ کے انداز بیان اور طرز کلام ہی سے ایسے حواس باختہ ہوئے کہ کوئی معقول بات ہی نہ کر سکے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ چھ مرزائی بھرے جلسہ میں مرزائیت سے تائب ہو کر مشرف باسلام ہو گئے اور اس مناظرہ کا اثر نہ صرف اہل شہر بلکہ قرب و جوار کے لوگوں پر بھی بہت ہی اچھا رہا۔

(فتنہ قادیانیت اور مولانا ثناء اللہ امرتسری‘ ص ۱۸۹‘ از صفی الرحمٰن الاعظمی)

بدر منیر احرار کی یاد

بدر منیر احرار‘ جو کہ صحافتی میدان میں قدم جما چکے تھے‘ نے متذکرہ حالات کو سنجیدگی سے لیا۔ حافظ محمد اکبر کا جماعتی کارکن کی حیثیت سے قلمی محاذ پر بھر پور ساتھ دیا اور ان کے حق میں منظم جدوجہد کا آغاز کر دیا۔ بدر منیر نے ڈی سی رحیم یار خان کو للکارتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ ہم امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمت اللہ علیہ کے سپاہی ہیں۔ ہم طوفان بن کر فرنگی سے ٹکراگئے۔ عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ‘ عظمت و ناموس صحابہ کا دفاع‘ احرار کے ایمان کا جزو ہے۔ ہم نے آزادی وطن کے لیے انگریز اور اس کی روحانی اولاد مرزائیوں کے دانت کھٹے کیے۔ تم حافظ محمد اکبر کو اکیلا مت سمجھو۔ شریفوں کی پگڑیاں اچھالنا اور ان کے خلاف لغو‘ من گھڑت مقدمات قائم کرنا‘ بزدلوں کا کام ہوتا ہے۔ ہوش کے ناخن لو اور بخاری کے سپاہیوں کو مت چھیڑو۔۔۔۔۔‘‘ اس پر ڈی سی نے بدر منیر احرار کے خلاف مقدمہ درج کر دیا۔ بدر منیر گرفتار ہوئے۔ راقم اور مولانا عبد القادر ڈاہر مع

صفحہ 157

ناشتہ لے کر تھانہ سٹی خان پور گئے۔ ۱۹۷۳ء کے سیلاب کے بعد تھانہ سٹی عارضی طور پر ریلوے کالونی میں منتقل ہو چکا تھا۔ تھانہ کا انچارج راجہ ممتاز احمد تھا۔ انتہائی بد دماغ اور گھٹیا ذہن کا آدمی تھا۔ ڈی سی کی پشت پناہی اور حکم کی وجہ سے اس کی گردن بھی تنی ہوئی تھی۔ پہلے تو اس نے ہمیں بدر منیر سے ملنے کی اجازت نہ دی۔ ہم میں بھی احرار کا خون تھا اور اب بھی ہے۔ ایس ایچ او ممتاز احمد سے شدید بحث و مباحثہ ہوا۔ تکرار سے بد مزگی پیدا ہوئی۔ آخر افہام و تفہیم کے بعد ہمیں بدر منیر سے ملنے دیا گیا۔ وہ حوالات میں بند دونوں ہاتھوں میں ہتھکڑیاں پہنے مسکرا رہا تھا۔ اس نے تمام رات اسی حالت کرب میں گزاری مگر پھر بھی خوش تھا۔ ہم نے ایس ایچ او سے کہا کہ وہ ایک ہاتھ کی ہتھکڑی کھلوا دے تاکہ بدر منیر ناشتہ تو کر لے اس پر ایس ایچ او مزید بپھر گیا۔ غصہ میں کانپتے ہوئے بولا کہ وہ تو اس کے پاؤں میں بھی بیڑیاں ڈالنا چاہتا ہے۔ ایس ایچ او کے انداز گفتگو کو دیکھتے ہوئے بدر منیر کا خون جوش سے کھول اٹھا۔ ایس ایچ او کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا۔ تاریخ میں تم جیسے بے شمار کمینے ہو گزرے ہیں جنہیں کبھی اچھے نام سے یاد نہیں کیا گیا۔ یاد رکھ اگر تجھے اپنی وردی پر مان ہے تو مجھے اپنے ایمان پر ناز۔ تم میرے پاؤں جکڑ دو‘ میری زبان کاٹ دو لیکن میرے پیغام کو قید نہیں کر سکتے۔ میں امیر شریعت کی جماعت احرار کا ایک ادنیٰ خادم ہوں۔ اللہ کا بندہ اور رسول کا غلام اور ایک غیرت مند مسلمان ہوں۔ تاریخ تجھے ایک ذلیل‘ کمینے‘ کم ظرف اور گھٹیا آدمی کے نام سے یاد کرے گی اور میرے نام کی تعظیم کرے گی۔ تین روز بعد بدر منیر احرار ضمانت پر رہا ہو گئے۔ خان پور میں ایک نذیر ہوٹل ہوا کرتا تھا۔ جس کی چھت پر شہریوں نے بدر منیر کے اعزاز میں ایک زبردست استقبالیہ دیا۔ جس کے مہمان خصوصی ابن امیر شریعت پیر جی سید عطاء المہیمن بخاری مدظلہ تھے۔ شاہ جی کے مفکرانہ خطاب سے سامعین بہت محظوظ ہوئے اور بدر منیر کے استقامت اور جرات پر اسے زبردست خراج تحسین پیش کیا‘ ایثار و قربانی کے یہ مناظر جب بھی ذہن میں ابھرتے ہیں تو بدر منیر کی وفا بہت تڑپاتی ہے۔

(ماہنامہ نقیب ختم نبوت‘ اگست ۱۹۹۱ء‘ از مرزا عبد القیوم بیگ)

کبھی نہ ختم کیا میں نے روشنی کا محاذ
اگر چراغ بجھا‘ دل جلا لیا میں نے (مؤلف)
صفحہ 158

تحریک ختم نبوت میں

مولانا مودودیؒ کے دو واقعات

جیل کے زمانے کا ایک واقعہ ہے جسے سید نقی علی مرحوم نے قلمبند کیا:

”ایک دن دوپہر کے قریب اچانک ہماری بیرک کا دروازہ بند ہوا اور ساتھ ہی کھٹ کھٹ دوسری بیرکوں کے دروازے بند ہونے کی آوازیں آنا شروع ہوگئیں...... مولانا کے اشارے پر میں نے اپنی بیرک کے پھاٹک پر جاکر دیکھا کہ آئی جی کسی صاحب کے ساتھ ہماری بیرک کے سامنے سے گزر رہے ہیں.... آئی جی سامنے والی بیرک سے نکلنے کے بعد اب ہماری بیرک کی طرف آ رہے تھے.... چند منٹ بعد آئی جی تشریف لائے..... آئی جی صاحب نے کمرے میں داخل ہوتے ہی کہا: مولانا! آپ کو تکلیف رہتی ہے، چلئے، ہم آپ کو ڈاکٹر کو دکھاتے ہیں۔ مولانا کہنے لگے، 'بسم اللہ' مولانا اسی طرح کرتہ پاجامہ پہنے ننگے سر ان کے ساتھ ہو لیے۔ میں اور ملک نصر اللہ خاں عزیز صاحب دونوں کمرے میں بیٹھے سوچتے رہے کہ نجانے مولانا کو لے کر یہ لوگ کہاں گئے ہیں۔ زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ اچانک جنوبی روزن سے کچھ آوازیں سی آتی ہوئی سنائی دیں۔ ملک نصر اللہ خاں عزیز صاحب بولے: مولانا اس جگہ معلوم ہوتے ہیں۔ ہم دونوں نے کان لگا دیے..... کچھ پلے نہ پڑسکا۔

پون گھنٹہ بعد..... مولانا کی زبانی پتہ چلا کہ آئی جی صاحب ممدوٹ صاحب کو لے کر آئے تھے اور یہ کوشش ہو رہی تھی کہ مولانا معافی کی درخواست دے کر صلح کرلیں۔ مولانا نے سختی سے اس پیش کش کو ٹھکرا دیا۔

انہوں نے کہا: اگر براہ راست عدالت میں درخواست پیش کرنے کا کوئی قانونی مسئلہ ہو تا تو اور بات تھی۔ لیکن ہم اس حکومت کے پاس درخواست کریں جس سے ہماری لڑائی ہے، یہ اصولاً غلط ہے۔

باتوں باتوں میں کسی نے کہا: مولانا! یہ حکومت کی عزت کا مسئلہ ہے۔ اس کی ناک

صفحہ 159

کٹ جائے گی۔ مولانا نورا بولے: ”حکومت کی ناک ہے تو میرے بھی ناک ہے۔ آخر یہ کیوں کٹے؟“

آپ کو موت کی سزا دی جاتی ہے

”آپ کو ”قادیانی مسئلہ“ کا پمفلٹ لکھنے کے جرم میں موت کی سزا اور علماء کی گرفتاری پر بیان جاری کرنے کے جرم میں سات سال قید بامشقت کی سزا دی جاتی ہے۔ مارشل لاء کے تحت سزاؤں کے خلاف کوئی اپیل کا حق نہیں ہے۔ آپ چاہیں تو موت کی سزا کے خلاف سات دن کے اندر کمانڈر انچیف سے رحم کی اپیل کر سکتے ہیں۔“

یہ سنتے ہی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کا چہرہ تمتما اٹھا اور آپ نے نہایت باوقار لہجہ میں جواب دیا ۔۔۔۔۔ ”مجھے کسی سے کوئی اپیل نہیں کرنی ہے۔ زندگی اور موت کے فیصلے زمین پر نہیں، آسمان پر ہوتے ہیں۔ اگر وہاں میری موت کا فیصلہ ہو چکا ہے تو دنیا کی کوئی طاقت مجھے موت سے نہیں بچا سکتی اور اگر وہاں سے میری موت کا فیصلہ نہیں ہوا ہے تو دنیا کی کوئی طاقت میرا بال بھی بیکا نہیں کر سکتی۔“

اس کے بعد جیل کے افسروں نے سزایافتہ حضرات سے کہا کہ آپ لوگ جلدی تیار ہو جائیں۔ ملک نصر اللہ خاں عزیز اور سید نقی علی سزایافتہ قیدیوں کی بارک میں جائیں گے اور مولانا مودودی پھانسی گھر میں۔“

مولانا نے افسران جیل سے دریافت کیا کہ وہ اپنا بستر اور کتب وغیرہ ساتھ لیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ ”بس ایک قرآن مجید چاہیں تو لے لیں اور کچھ نہ لیں۔ بستر کپڑے آپ کو وہاں مل جائیں گے۔“ چنانچہ مولانا نے چپل کے بجائے اپنا جوتا اور کپڑے کی ٹوپی کے بجائے اپنی قراقلی پہنی اور ہم لوگوں سے گلے مل کر اس طرح روانہ ہوئے کہ گویا کوئی بات ہی نہیں، معمولاً ایک احاطے سے دوسرے احاطے کی طرف جا رہے ہیں۔ تھوڑی دیر بعد ایک وارڈر آیا اور وہ مولانا کی ٹوپی، قمیض، پائجامہ اور جوتا سب کپڑے واپس دے گیا۔ اس نے بتایا کہ انہیں جیل کے قاعدے کے مطابق کھدر کا کرتہ اور ازار بند کے بغیر

صفحہ 160

کھدر کا پائجامہ اور پھانسی گھر کا فرشی ٹاٹ کا بستر دے دیا گیا ہے۔ رات کے سائے گہرے ہو رہے تھے۔ دیوانی کمرہ وارڈ میں مولانا امین احسن اصلاحی‘ چودھری محمد اکبر اور میں تین آدمی رہ گئے تھے۔ مولانا مودودی صاحب کے ان پارچہ جات کا آنا تھا کہ ان کو دیکھتے ہی مولانا اصلاحی صاحب پر عجب کیفیت طاری ہو گئی۔ وہ ان پارچہ جات کو کبھی آنکھوں سے لگاتے‘ کبھی سینے سے اور کبھی سر پر رکھتے۔ زار و قطار روتے ہوئے فرماتے ۔۔۔۔۔۔ ”مودودی کو میں بہت بڑا آدمی سمجھتا تھا لیکن مجھے اندازہ نہیں تھا کہ خدا کے ہاں اس کا اس قدر بلند مرتبہ ہے۔“

۔۔۔۔۔ اس چشم دید واقعہ کو تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء کے قیدی میاں طفیل محمد (امیر جماعت اسلامی پاکستان) نے بیان کیا۔

(تذکرہ سید مودودیؒ‘ ص ۷۸۱ تا ۷۸۳ از قلم نعیم صدیقی)

تحریک ختم نبوت میں

اسلامی جمعیت طلبہ کا کردار

از قلم: وقار احمد

۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت علماء حق کی طرف سے فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے لیے ایک اہم کوشش تھی‘ لیکن یہ تحریک بہت سا خون دینے کے بعد بھی حکومت کی بے دین ذہنیت کے باعث کسی منطقی انجام تک نہ پہنچ سکی۔ علماء کی قیادت کو پابند سلاسل کر دیا گیا اور سید مودودی کو فتنہ قادیانیت کا مدلل تحریری توڑ کرنے پر سزائے موت سنائی گئی۔ جو بعد میں عمر قید میں بدل دی گئی۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک کے بے نتیجہ رہنے سے قادیانی گروہ کو شہ ملی اور انہوں نے ربوہ کو سازشوں کا مرکز بنانے کے لیے مسلمانوں کی رہائش ناممکن بنادی اور ربوہ کو ایک خود مختار ریاست سمجھنے لگے۔ پاکستان کی فوج‘ انتظامیہ‘ سیاست‘ امور خارجہ اور معیشت میں اپنی جڑیں مضبوط کرلیں اور ان کی سازشوں نے رنگ دکھانے

صفحہ 161

شروع کر دیے۔

اللہ کی غیرت جوش میں آئی اور نبی آخر الزماں ﷺ کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے والوں کو رسوا کرنے کے اسباب مئی ۱۹۷۴ء میں پیدا ہونے شروع ہوئے۔ جب اسلامی جمعیت طلبہ کے پلیٹ فارم سے نشتر میڈیکل کالج ملتان کی طلبہ یونین کے منتخب صدر ارباب عالم کی قیادت میں کالج کے ۱۷۰ طلبہ کا گروپ ۲۲ مئی ۱۹۷۴ء کو چناب ایکسپریس کے ذریعے صوبہ سرحد کے مطالعاتی دورے پر روانہ ہوا۔ دوران سفر جب گاڑی ربوہ ریلوے اسٹیشن پہنچی تو وہاں موجود قادیانیوں نے حسب معمول اپنے ترجمان رسالے ”الفضل“ کے پرچے تقسیم کرنا شروع کر دیے۔ جمعیت کے غیرت مند کارکنان اور طلبہ نے رسالے پھاڑ پھینکے اور اپنی ایمانی غیرت کے مظاہرے کے لیے ”رہبر و رہنما، مصطفیٰ مصطفیٰ“ اور ”ختم نبوت زندہ باد“ کے نعرے بلند کیے۔ قادیانی مشنریوں کے لیے یہ صورت حال انتہائی غیر متوقع تھی۔ ریلوے اسٹیشن کی عمارت ابھی ان نعروں سے گونج رہی تھی کہ گاڑی چل پڑی۔ قادیانیوں نے چلتی گاڑی پر پتھراؤ کی کوشش کی مگر طلبہ کی اس بے باک کارروائی سے اپنے منہ پر پڑنے والے طمانچے کی حدت کو کم نہ کر سکے۔ انجمن احمدیہ ربوہ کے ناظم امور عامہ جو اس خود ساختہ مملکت کے بے تاج بادشاہ تھے‘ کی نگرانی میں طلبہ وفد کی واپسی پر انہیں سبق سکھانے کا فیصلہ کیا گیا۔

ایک طرف قادیانی اپنی ناجائز ریاست کے خود ساختہ قوانین کو چیلنج کیے جانے پر تلملا رہے تھے تو دوسری طرف طلبہ وفد انتہائی پرسکون انداز میں اپنا مطالعاتی دورہ مکمل کر رہا تھا۔ ۲۷ مئی کو خیبر میڈیکل کالج کی سٹوڈنٹس یونین کی جانب سے طلبہ وفد کے اعزاز میں عشائیہ کا اہتمام کیا گیا۔ دونوں کالجوں کے صدور نے خطاب کیا اور اسلامی نظریہ حیات کو نوجوان نسل کے لیے مشعل انقلاب قرار دیتے ہوئے دین دشمن عناصر کے عزائم کو خاک میں ملانے کے عزم کا اظہار کیا۔ اگلے روز پشاور کے طلبہ نے اپنی روایات کے مطابق انتہائی پرتپاک انداز میں مہمانوں کو رخصت کیا۔ میزبان اور مہمان دونوں ہی اس بات سے بے خبر تھے کہ کتنی بڑی سعادت ان کے حصے میں لکھی جا چکی ہے۔

۲۹ مئی کو چناب ایکسپریس کی بوگی نمبر ۴۰۵۵ جو تاریخ کا اہم حصہ بننے والی تھی۔ نشتر میڈیکل کالج کے طلبہ کے وفد کو لیے ملتان کی جانب رواں دواں تھی گاڑی جب سرگودھا

صفحہ 162

ریلوے اسٹیشن پر پہنچی تو ۶۰ کے قریب قادیانی اسی گاڑی کے دوسرے ڈبے میں سوار ہو گئے تاکہ اگلے اسٹیشن ربوہ پر اپنے ڈیڑھ ہزار سے زائد مسلح ساتھیوں کے ساتھ مل کر طلبہ کو مزا چکھا سکیں۔ جونہی گاڑی ربوہ ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر رکی قادیانیوں کا ایک جم غفیر ”احمدیت زندہ باد“ کے نعرے لگاتا ہوا بوگی نمبر ۳۰۵۵ میں ٹوٹ پڑا۔ طلبہ کو پلیٹ فارم پر گھسیٹ کر آہنی سلاخوں، ڈنڈوں اور آہنی مکوں سے زدو کوب کیا گیا۔ گاڑی ایک گھنٹہ تک رکی رہی۔ وفد کے تمام طلبہ اس حملے کا نشانہ بنے۔ ۳۰ مئی کو ”نوائے وقت“ میں شائع ہونے والی ڈاکٹروں کی رائے کے مطابق ۱۳۵ طلبہ کی حالت نازک تھی جبکہ ۷۰ طلبہ شدید زخمی تھے۔ صدر یونین ارباب عالم بھی کئی گھنٹے تک بے ہوشی کے عالم میں رہے۔

اس اشتعال انگیز واقعے کی اطلاع جونہی فیصل آباد پہنچی تو زرعی یونیورسٹی اور میڈیکل کالج کے طلبہ فوراً ایک احتجاجی جلوس کی صورت میں ریلوے اسٹیشن پہنچے اور زخمی طلبہ کا استقبال کیا۔ خبر جب ملتان پہنچی تو پورا شہر سراپا احتجاج بن گیا۔ قادیانیوں کی پشت پناہی کرنے والی انتظامیہ نے نشتر میڈیکل کالج سے جمعیت کے ۱۸ کارکنان کو بغیر وارنٹ دکھائے گرفتار کر لیا تاکہ کوئی بڑی احتجاجی کارروائی نہ ہونے پائے۔ اگلے روز اگرچہ بعض اخبارات نے اس خبر کو شائع نہ کیا لیکن اس کے باوجود یہ سنسنی خیز اور اہم خبر ہر جگہ موضوع گفتگو تھی۔ فضا شدت جذبات سے مشتعل تھی اور چہرے ناموس رسالت ﷺ کے تحفظ کے عزم کی عکاسی کر رہے تھے۔

جمعیت کے ناظم اعلیٰ ظفر جمال بلوچ اور صوبہ پنجاب کے ناظم لیاقت بلوچ ان دنوں بہاولپور کے تنظیمی دورے پر تھے۔ سانحہ کی اطلاع ملتے ہی ناظم صوبہ کو ملتان بھیج دیا گیا کہ وہ زخمی طلبہ کی عیادت کریں اور قادیانیوں کے خلاف بھرپور احتجاج کو منظم کریں تاہم تحریک کی مفصل پلاننگ کا کام مرکزی شوریٰ پر چھوڑ دیا گیا۔ اگلے روز ۳۰ مئی کو پورے ملک میں طلبہ کے اندر اضطرابی لہر ایک طوفان کی صورت اختیار کر چکی تھی۔ سب سے بھرپور احتجاج لاہور میں ہوا۔ گورنمنٹ کالج، ایم اے او کالج اور اسلامیہ کالج سول لائنز کے طلبہ نے مشترکہ احتجاجی جلسہ منعقد کیا اور پھر زبردست جلوس نکالا جو مال روڈ سے گزرتے ہوئے پنجاب اسمبلی کی طرف بڑھ رہا تھا کہ فیڈرل سکیورٹی فورس اور پولیس نے جلوس کا راستہ

صفحہ 163

روک لیا۔ نتیجتاً جھڑپیں شروع ہوگئیں جو شام تک جاری رہیں۔ رات کو انجینئرنگ یونیورسٹی اور کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج میں احتجاجی جلسے منعقد کیے گئے اور قادیانی طلبہ کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا گیا۔ اسی رات پنجاب یونیورسٹی نیو کیمپس کے قائد اعظم ہال میں عظیم الشان احتجاجی جلسہ منعقد کیا گیا۔ بعد ازاں جلوس تمام ہاسٹلز سے ہوتا ہوا اپنے پر امن اختتام کی طرف بڑھ رہا تھا کہ جاوید ہاشمی چیئرمین پنجاب سٹوڈنٹس کونسل اور سابق صدر پنجاب یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کو گرفتار کرلیا گیا۔ اخبارات کی رپورٹ کے مطابق اس روز فیصل آباد اور دیگر شہروں میں بھی احتجاجی مہم اپنے عروج پر تھی۔

۳۰ مئی کو ہی جمعیت کے ذمہ داران نے بڑے پیمانے پر سیاستدانوں اور علماء سے رابطہ کیا اور قادیانیوں کے خلاف ہمہ گیر تحریک شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔ مگر اکثریت کا ایک ہی جواب تھا کہ یہ موقع اس طرح کی تحریک چلانے کا نہیں ہے اور یہ ناممکن بات ہے۔ اس لیے زیادہ سے زیادہ یہی ہوسکتا ہے کہ قراردادیں پاس کرلی جائیں۔ صرف چند ایک نے قادیانیوں کے سوشل بائیکاٹ کی حد تک تجاویز سے اتفاق کیا۔ مگر طلبہ ایسی مصلحتوں سے آشنا نہ تھے۔ جس کے نتیجے میں دینی غیرت کا سودا کرنا پڑے۔ ناظم اعلیٰ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان ظفر جمال بلوچ نے طلبہ کی آواز کو بلند کرتے ہوئے تاریخی الفاظ ادا کیے ”کتنے دکھ کی بات ہے کہ ہر حکومت نے اس مسئلے کو اپنی سیاسی عینک سے دیکھا، ایک مسلمان کی حیثیت سے نہ تو معاملات پر نظر ڈالی اور نہ مسائل کو سلجھانے کی کوشش کی گئی۔ لیکن کارکنان جمعیت اس تحریک کو جلا بخشنے کے لیے ہر قسم کی قربانی دیں گے۔“ ۳۱ مئی کو ناظم صوبہ پنجاب لیاقت بلوچ نے ہڑتال کی اپیل کی جس پر صوبہ بھر میں طلبہ اور عوام نے لبیک کہا۔ یکم جون کو حکومت پنجاب نے ایک حکم جاری کیا جس کے ذریعے اس مسئلہ کے متعلق ہر قسم کے مضامین ، خبریں، کارٹون اور تصاویر شائع کرنے پر مکمل پابندی عائد کردی۔ اس دن تعلیمی ادارے بند کرکے امتحانات تک ملتوی کردیے گئے۔ اس روز گوجرانوالہ میں مسلمانوں اور قادیانیوں کے مابین خونریز تصادم ہوئے۔ جس میں دونوں طرف سے جانی نقصان ہوا اور بعد ازاں شہر میں کرفیو لگا کر فوج طلب کرلی گئی۔

اگرچہ قادیانیوں کے دونوں بڑے مراکز ربوہ اور لاہور پنجاب میں ہونے کی وجہ سے تحریک کا سب سے زیادہ زور اسی صوبے میں تھا تاہم ملک کا کوئی گوشہ ایسا نہ تھا، جہاں

صفحہ 164

سے کلمہ حق بلند نہ ہوا ہو۔

کراچی میں جمعیت نے جہاں ۳۱ مئی ہی سے احتجاجی جلوسوں اور مظاہروں کے ذریعے عوام کو بیدار کر دیا تھا۔ وہاں دو جون کو ناظم کراچی کی اپیل پر عام ہڑتال انتہائی کامیاب رہی حالانکہ حکومت نے اس موضوع پر اخباری بیانات تک چھاپنا ممنوع قرار دیے تھے۔ سندھ حکومت نے خائف ہو کر تعلیمی اداروں کی جبری بندش کا اعلان کر دیا۔ تعلیمی اداروں کی بندش کے بعد جمعیت نے رہائشی حلقہ جات کی بنیاد پر ختم نبوت کمیٹیاں تشکیل دیں اور کارنر میٹنگز کا سلسلہ شروع کر دیا۔ صرف ماہ جون میں کارنر میٹنگز کی تعداد ۳۵۷ تھی۔ اس مہم کے دوران ناظم کراچی اور ۳۰ دیگر طلبہ گرفتار کر لیے گئے۔

بلوچستان اور اندرون سندھ میں جمعیت نے تبلیغی وفود بھیجے اور جلسہ ہائے عام کا سلسلہ شروع کیا اور ساڑھے چار سو سے زائد مقامات پر وفود نے جلسہ ہائے عام سے خطاب کیا۔ کنری (سندھ) کے مقام پر منعقدہ جلسے کے بعد جلوس کے دوران قادیانیوں نے فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں طالب علم رہنما سلیم مغل کے بازو میں گولی لگی اور پولیس نے انہیں زخمی حالت میں گرفتار کر کے اڑھائی ماہ تک جیل میں رکھا۔

صوبہ سرحد‘ ۳۱ مئی کے کامیاب یوم احتجاج اور پشاور میں ۲۸ طلبہ کی گرفتاری کے بعد تحریک شعلہ جوالا بن چکی تھی کہ ناظم صوبہ سرحد خالد محمود کی تجویز پر پشاور میں مجلس عمل ختم نبوت کے قیام کے لیے اجلاس ہوا‘ جس میں جمعیت واحد طلبہ تنظیم کی حیثیت سے شریک تھی جبکہ پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن نے نام نہاد سیکولر پالیسی کو بنیاد بنا کر ساتھ دینے سے انکار کر دیا۔ طلبہ نے ۹ جون کو جناح پارک پشاور میں ختم نبوت طلبہ کنونشن منعقد کرنے کا اعلان کر دیا اور پھر حکومت کی طرف سے تمام رکاوٹوں کے باوجود ۹ جون کو ڈیڑھ لاکھ سے زائد انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر جناح پارک پشاور میں امڈ آیا۔ یہ تاریخی کنونشن رات بارہ بجے تک انتہائی نظم و ضبط سے جاری رہا۔ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے خیبر میڈیکل کالج سٹوڈنٹس یونین کے صدر مطیع اللہ خان نے سرحد اسمبلی سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے ، رواں بجٹ سیشن میں ایک قرار داد کے ذریعے مرکزی حکومت سے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کرے۔ پھر عوام سے حلف لیا گیا کہ اگر یہ مطالبہ منظور نہ ہوا تو سرحد کی زمین اراکین اسمبلی پر تنگ کر دی جائے گی۔ اگلے روز پشاور میں یونیورسٹی جبراً بند

صفحہ 165

کروا کر ہاسٹل خالی کروا دیے گئے اور فیڈرل سکیورٹی فورس نے یونیورسٹی اور ملحقہ کالجز میں ڈیرے ڈال لیے۔ طلبہ نے گھروں کو جانے کی بجائے دیہی اور قبائلی علاقوں میں وفود کی صورت میں جانے کا فیصلہ کیا اور ان علاقوں میں ۹۰۰ کے قریب جلسے منعقد کر کے تحریک ختم نبوت کا پیغام پہنچایا۔ ۱۹ جون کو سرحد اسمبلی نے طلبہ کا مطالبہ منظور کرتے ہوئے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی قرار داد اتفاق رائے سے منظور کر لی تاہم طلبہ نے مرکزی حکومت کے فیصلے تک تحریک جاری رکھنے کا اعلان کیا۔

پنجاب جمعیت نے صوبے کو تین سیکٹروں میں تقسیم کر کے مقررین کی ٹیمیں تشکیل دیں جو ایک ایک قصبے تک پہنچیں اور مسلمانوں کو ختم نبوت کی حفاظت کے لیے بیدار کیا۔ طلبہ قائدین نے حکمت عملی کے تحت گرفتاریوں سے بچتے ہوئے ایک ایک بستی کی مسجد میں جا کر تحریک کا پیغام پہنچایا۔ اس کے باوجود پاکستان کی تاریخ میں طلبہ کی سب سے زیادہ گرفتاریاں اسی تحریک کے دوران ہوئیں۔

۱۴ جون کو جمعیت کی اپیل پر پورے ملک میں عام ہڑتال ہوئی اور قوم کا دینی جذبہ اور اجتماعی جدوجہد کا عزم روز روشن کی طرح عیاں ہو گیا۔ اس روز لاہور کی شاہراہوں پر پاک فوج کی مسلح گاڑیاں گشت کرتی رہیں۔ ۲۶ جون کو ناظم اعلیٰ ظفر جمال بلوچ کو لاہور میں ایک جلسے سے خطاب کے بعد گرفتار کر لیا گیا۔ اگلے روز مرکزی مجلس شوریٰ کا ہنگامی اجلاس مرکز جمعیت 1۔اے ذیلدار پارک اچھرہ لاہور میں طلب کر لیا گیا۔ پولیس نے بلڈنگ کو چاروں طرف سے گھیرے رکھا اور دخل اندازی کی کوشش کی مگر مرکزی مجلس شوریٰ کا اجلاس اطمینان سے ہوتا رہا۔ اس اجلاس میں مظہر معین کو قائم مقام ناظم اعلیٰ منتخب کر لیا گیا۔ ۲۷ جون تک کارکنان و ذمہ داران کی بڑی تعداد گرفتار کی جا چکی تھی۔ اس موقع پر جمعیت کے قائم مقام ناظم اعلیٰ نے عہد کیا کہ ”ہم نے نہ پہلے کبھی حق گوئی سے منہ موڑا ہے۔ نہ اب کسی کو ہمارے متعلق یہ غلط فہمی ہونی چاہیے ۔“ جبری بندش کے بعد پنجاب کے تعلیمی ادارے اگست کے وسط میں دوبارہ کھلنے والے تھے کہ طلبہ سے خوفزدہ حکومت نے اندرون خانہ یہ منصوبہ بنایا کہ ادارے مزید ایک ماہ تک بند رکھے جائیں۔ پنجاب یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کے صدر فرید پراچہ نے حکومت کو للکارتے ہوئے کہا کہ ”طلبہ سے خوفزدہ ہونے کے بجائے تعلیمی اداروں کو کھول کر حقائق کا سامنا کیا جائے۔ صوبائی

صفحہ 166

حکومت نے ۱۶ اگست سے تعلیمی ادارے سوشل ورک پروگرام کے لیے کھولنے اور کلاسز میں پڑھائی یکم ستمبر سے شروع کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس پر جمعیت نے پنجاب بھر سے منتخب طلبہ نمائندوں پر مشتمل پنجاب سٹوڈنٹس کونسل کا تیسرا کنونشن ۱۸ اگست کو نیو کیمپس پنجاب یونیورسٹی میں بلا لیا۔ حکومت نے کنونشن کو روکنے کے لیے نمائندوں کو ارسال کردہ دعوت نامے ڈاک خانوں سے اڑا لیے لیکن ان تمام اوچھے ہتھکنڈوں کے باوجود یہ کنونشن انتہائی کامیابی سے منعقد ہوا۔ اس کنونشن میں فرید پراچہ کو کونسل کا نیا چیئرمین منتخب کیا گیا اور دو اہم فیصلے کیے گئے۔

اساتذہ اور طلبہ کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے۔

مرکزی حکومت اس دوران تین ماہ تک طلبہ کے عزائم اور ولولوں کے آزمانے کے بعد یہ بھانپ چکی تھی کہ طلبہ کے پائے استقامت میں لغزش پیدا کرنا اس کے بس کی بات نہیں۔ چنانچہ ۷ ستمبر کو پارلیمنٹ میں دونوں ایوانوں کا اجلاس بلا لیا گیا تاکہ مسئلہ ختم نبوت پر غور کیا جاسکے۔

اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان نے اس اہم موقع پر اپنا موقف اجاگر کرنے اور حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے ”اسلام آباد چلو“ مہم کا آغاز کر دیا۔ ۵ ستمبر کو جس دن پنجاب کے تعلیمی اداروں میں ہڑتال کا دن تھا، اس روز قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں ملک بھر کے منتخب طلبہ نمائندوں کا کنونشن منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

۵ ستمبر کو پنجاب بھر کے تعلیمی اداروں میں تحریک کی کامیاب ترین ہڑتال ہوئی حتیٰ کہ دور دراز کے علاقوں میں اسکولز بھی بند رہے۔ ادھر جامعہ قائد اعظم میں ملک بھر سے منتخب طالب علم رہنماؤں کا کنونشن منعقد ہوا۔ جس میں اعلان کیا گیا کہ اگر موجودہ قومی اسمبلی سیشن میں مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا فیصلہ نہ ہوا تو ملک بھر کے ارکان قومی اسمبلی کا گھیراؤ کیا جائے گا۔ کنونشن کی کارروائی کے دوران پولیس اور فیڈرل سکیورٹی فورس نے یونیورسٹی کو گھیرے رکھا اور اسلام آباد کی اہم سرکاری عمارات اور چوراہوں پر فوجی اور نیم فوجی دستے متعین رہے۔ اس روز اسلام آباد میں ایک جلوس بھی نکالا گیا جو

صفحہ 167

فیڈرل کالج سے اپنے آغاز کے بعد آب پارہ مارکیٹ سے ہوتا ہوا سفارت خانوں کے سامنے جا پہنچا۔ یہاں پولیس سے تصادم ہوا اور متعدد طلبہ گرفتار کر لیے گئے اور کئی ایک زخمی ہوئے۔ رات کو مرکزی جامع مسجد میں ختم نبوت کانفرنس کا پروگرام تھا۔ پولیس نے پروگرام سے بہت پہلے مسجد کو گھیرے میں لے لیا مگر متعدد طلبہ قائدین کسی نہ کسی طرح مسجد میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ پروگرام کے ختم ہوتے ہی قائم مقام ناظم اعلیٰ مظہر معین کو متعدد طلبہ رہنماؤں سمیت گرفتار کر لیا گیا۔ اس مرحلے پر عبدالملک مجاہد قائم مقام ناظم اعلیٰ مقرر ہوئے۔

١٠٢ روز کی بھرپور تحریک جس میں طلبہ نے دینی حمیت کی حفاظت اور نبی آخر الزماں ﷺ سے محبت کی لاج رکھنے کے لیے بے مثال تاریخی قربانیاں پیش کیں اور پوری قوم کی قیادت کرتے ہوئے عظیم الشان جدوجہد کی اور قومی سیاسی قیادت بھی طلبہ کی جرات و استقامت سے حوصلہ پکڑتے ہوئے ان کے ساتھ چلنے پر مجبور ہوئی اور اس طرح یہ تحریک بالاخر آخری مرحلے میں داخل ہوئی۔ یہ آخری مرحلہ اللہ کے فضل و کرم سے کامیابی کا مرحلہ ثابت ہوا اور قومی اسمبلی اور سینٹ نے بھاری اکثریت سے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی قرارداد منظور کی۔

جمعیت کے قائدین اور کارکنان کی اکثریت نے یہ خوشخبری جیل کے اندر سنی۔ تحریک ختم نبوت کے دوران لاکھوں طلبہ اور کارکنان جمعیت نے انتھک کام کیا۔ ان سب کا تذکرہ شاید کسی بھی روداد میں نہ مل سکے۔ تاہم ان سب کا اجر ان کے رب کے پاس محفوظ ہے اور دنیا کی کوئی طاقت یہ اعزاز ان سے نہیں چھین سکتی کہ رسول کریم ﷺ کی شریعت کو دشمنان اسلام کی سازشوں سے محفوظ کرنے کے لیے سب سے پہلی آواز انہوں نے بلند کی اور علماء سمیت قومی قیادت کو امت کا یہ ناسور کاٹ پھینکنے کا حوصلہ دیا۔

(ماہنامہ ہم قدم، مئی ١٩٩٨ء)

صفحہ 168

مولانا محمد صاحب انوریؒ کی گرفتاری

١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت میں مولانا محمد انوریؒ نے بھر پور حصہ لیا بلکہ ان کے تحریک میں آنے کی وجہ سے جان پڑ گئی۔ ١٩٥٣ء میں مولانا انوریؒ ڈھاکہ گئے ہوئے تھے۔ واپسی پر رئیس الاحرار مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی سے دہلی میں ملاقات کی اور پھر پاکستان پہنچے۔ یہاں حضرت شاہ عبدالقادر رائپوریؒ سرگودھا میں تشریف لائے ہوئے تھے۔ ان کی خدمت میں حاضری دی۔

اس وقت فیصل آباد (جو اس وقت لائل پور تھا) میں بھی تحریک ختم نبوت جاری تھی مگر تحریک میں جوش نہیں پیدا ہو رہا تھا تو مقامی حضرات نے فیصلہ کیا کہ اگر مولانا محمد انوری صاحب گرفتاری پیش کر دیں تو تحریک زور پکڑ سکتی ہے۔ چنانچہ اس فیصلہ پر عملدرآمد کے لیے ان کو سرگودھا سے بلایا گیا۔

جناب حاجی رشید احمد لدھیانوی (جن کی گھنٹہ گھر فیصل آباد میں ہوزری کی دکان ہے) کو سرگودھا حضرت کو لینے کے لیے بھیجا گیا۔

حاجی رشید احمد لدھیانوی بیان کرتے ہیں کہ میرا تعلق مولانا محمد صاحب انوریؒ سے ١٩٥١ء سے چلا آ رہا تھا، جب مسجد نوری سنت پور فیصل آباد کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ مولانا کا میں خدمت گزار تھا۔ اسی لیے مجھے بھیجا گیا۔ ۴ مارچ ١٩٥٣ء کو باقاعدہ تحریک شروع کی گئی۔ میں پانچ مارچ کو ماڑی انڈس ریل کے ذریعہ سرگودھا پہنچا۔ صبح تہجد کے وقت میں پہنچا۔ مولانا محمد صاحب انوریؒ کو ساری صورت حال بتلائی۔ انہوں نے حضرت رائپوریؒ کی خدمت اقدس میں عرض کیا کہ لائل پور سے بلاوا آیا ہے کہ ختم نبوت کی تحریک میں گرفتاری دینی ہے، تو حضرت رائپوریؒ بہت خوش ہوئے اور بڑی گرم جوشی سے حضرت رائپوریؒ نے اٹھ کر مولانا محمد صاحب سے معانقہ کیا۔ حالانکہ حضرت رائپوریؒ اس وقت بیماری کی وجہ سے کمزور تھے۔ پھر بھی بڑی ہمت کے ساتھ اٹھ کر معانقہ کیا اور فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کی ختم نبوت کا معاملہ ہے۔ اس میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔ چنانچہ حضرت رائپوریؒ سے اجازت لے کر ہم ٦ مارچ ١٩٥٣ء کو لائل پور آ گئے اور ٧ مارچ

صفحہ 169

۱۹۵۳ء کو پروگرام کے مطابق جامع مسجد کچہری بازار لائل پور سے مولانا محمد صاحب انوریؒ کی قیادت میں چالیس افراد نے کوتوالی تھانہ میں جاکر گرفتاری پیش کی۔ ان چالیس افراد میں خود حاجی رشید احمد، شیخ بشیر احمد، امین الدین صاحب، مولانا احمد علی (جو کہ داماد تھے) مولانا محمد ابراہیم صاحب آف میاں چنوں شامل تھے۔ ڈسٹرکٹ جیل فیصل آباد میں ہمیں بھیج دیا گیا۔ ۱۰ مارچ ۱۹۵۳ء کو ہمیں مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا۔ جس کا نام لطف اللہ تھا۔ چنانچہ مجسٹریٹ نے دفعہ ۱۴۴ کی خلاف ورزی پر پندرہ افراد کو پانچ پانچ ماہ قید کی سزا سنائی جس میں مولانا محمد صاحب اور ہم چند چیدہ چیدہ افراد شامل تھے۔ پچیس افراد کو رہا کر دیا گیا۔ ۸۔۱۲ نمبر بارک میں ہمیں رکھا گیا پھر پندرہ دن کے بعد ہمیں پھانسی گھر کے ساتھ والی بارک میں رکھا گیا۔ جیل میں مشہور ہو گیا تھا کہ ان حضرات کو پھانسی دی جا رہی ہے۔ مونج کوٹنا اور بان باٹنا ہماری سزا تھی۔

مولانا محمد صاحب انوریؒ کی رہائی

شہر کے حالات کافی خراب ہو گئے تھے۔ ان حالات کو دیکھ کر اس وقت کے ایم این اے میر عبدالقیوم اور چوہدری علی اکبر مولانا محمد صاحب انوریؒ کو جیل میں ملنے کے لیے آئے اور مولانا کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کی کہ آپ اس سزا کے خلاف اپیل دائر کریں۔ مولانا آمادہ نہیں ہوئے لیکن میر عبدالقیوم اور چوہدری علی اکبر نے اپنی طرف سے اپیل دائر کی۔ چنانچہ ۱۰ اپریل ۱۹۵۳ء کو جیل سے ہتھکڑی لگا کر سیشن جج، جس کا نام لطیف شاہ تھا، کے سامنے پیش کیا۔ جج نے مولانا محمد صاحب انوریؒ سے کہا کہ کچھ آزاد خیال اور آوارہ قسم کے لوگ اس تحریک کو چلا رہے ہیں۔ آپ کیوں اس میں شامل ہیں تو مولانا محمد صاحب نے قرآن پاک کی یہ آیت جواب میں پڑھی:

والذي جاء بالصدق و صدق به اولئك هم المتقون۔

ترجمہ: ”اور جو لوگ سچی بات لے کر آئے اور اس کو سچ جانا، وہی لوگ

صفحہ 170

ڈرنے والے ہیں"۔ اس جواب کے بعد جج نے ۱۵ اپریل کی تاریخ دے دی اور حکومت کو نوٹس جاری کر دیا۔ پھر ۵ اپریل ۱۹۵۳ء کو مولانا محمد انورؒ اور ان کے ساتھیوں کو رہا کر دیا گیا۔

(مرزا قادیانی کے ارتداد پر سب سے پہلا فتویٰ تکفیر، ص ۴۶۷، ۴۶۸،

از مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانوی)

مر گئے ہم تو یہ کتبے پر لکھا جائے گا
سو گئے آپ زمانے کو جگانے والے (مؤلف)

اور مرزائی سازش ناکام ہو گئی

تحفظ ختم نبوت کے سلسلہ میں میرا دائرہ کار آئینی رہا ہے یا نجی ملاقاتوں میں ہے۔ اس سلسلہ میں تین اہم مقدمات بھکر، میانوالی اور لاہور ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہیں۔ نجی ملاقاتوں میں مخیر دوستوں کے تعاون سے قادیانیت کے متعلق اہم کتابیں خرید کر اپنے ضلع اور دوسرے اضلاع کے اہم مسلمان آفیسران کو پیش کر کے قادیانی تحریک سے پردہ اٹھاتا ہوں۔ انگریزی تعلیم یافتہ حضرات خود تو ان کتابوں کو خریدتے نہیں۔ البتہ تحفہ میں دی گئی کتب کا مطالعہ ضرور کرتے ہیں۔

احباب کو یاد ہو گا کہ ایک قادیانی کو ملتان میں ایک سٹی مجسٹریٹ نے اپنی عدالت کے سامنے اسلامی طریقہ پر نماز پڑھنے پر دفعہ 298C کے تحت گرفتار کرا کر ایک سال کی سزا سنائی۔ وہ سٹی مجسٹریٹ بھکر رہ کر گیا تھا اور میں نے بار بار ملاقات میں شعائر اسلام کا تحفظ اور قادیانیوں کی قانون شکنی اور اسلام دشمنی کے واقعات ذہن نشین کرا رکھے تھے۔ اس محنت کا نتیجہ تھا جو ملتان میں حاصل ہوا۔ اسی طرح بھکر ریلوے کے ایک سب انجینئر سے میرے تعلقات استوار ہوئے۔ میرا اکثر آنا جانا رہتا۔ اسے ریلوے کی جانب سے ایک کوٹھی ملی ہوئی تھی۔ اس میں پھل دار بوٹے بھی لگے ہوئے تھے۔ ایک دفعہ آم کے موسم میں بعد از دوپہر اس کی کوٹھی پر بیٹھے چائے پی رہے تھے۔ ساتھ ہی آم کا درخت تھا۔ جس پر بہترین

صفحہ 171

قسم کے آم لگے ہوئے تھے۔ میں نے سب انجینئر صاحب سے پوچھا کہ اس کوٹھی میں بوٹوں پر جو پھل آتا ہے۔ وہ صرف آپ کا حق ہے کہ محکمہ ریلوے کی آمدن میں شامل ہے؟ انجینئر صاحب کہنے لگے، ایک بات یاد آگئی وہ آپ کی معلومات کے اضافہ کے لیے بیان کرتا ہوں کہ قادیانی کیسی چال چلتے ہیں۔ کہنے لگے کہ میری ملتان ڈیوٹی تھی۔ میرا اعلیٰ آفیسر قادیانی تھا۔ آپ جانتے ہیں کہ ترقی کے لیے آفیسران کی کیسی خوشامد کی جاتی ہے۔ میں صرف نام کا مسلمان تھا۔ اس قادیانی آفیسر کے قریب رہتا تھا۔ وہ آفیسر مرزا غلام احمد کی سچائی اور قادیانیت کی حقانیت پر میرے سامنے سیر حاصل گفتگو کرتا رہتا تھا۔ بڑے اخلاق سے پیش آتا۔ میرے غلط کام کو بھی صحیح کر دیتا تھا۔ میں اس کے ساتھ کئی مرتبہ ربوہ بھی گیا۔ حالات یہاں تک پہنچ گئے تھے کہ میں قادیانیت کو بالکل سچا ماننے لگ گیا تھا۔ قریب تھا کہ میں بیعت فارم پر کروں کہ اللہ تعالیٰ نے میری غائبانہ امداد کی اور میں قادیانیت کے گڑھے میں گرنے سے بچ گیا۔ ہوا یوں کہ موسم بہار کا تھا۔ شجر کاری کی مہم شروع تھی۔ میں نے دیکھا کہ میرا قادیانی آفیسر ریلوے اسٹیشن کی گراؤنڈ میں آم کا پودا لگا کر اس کو پانی دے رہا ہے۔ میں عقیدت سے آگے بڑھا۔ میں نے ادب سے کہا کہ ”سر“ آپ بڑا نیکی کا کام کر رہے ہیں کہ پھل دار پودا لگا رہے ہیں۔ بالٹی مجھے دیں تاکہ میں بھی ثواب میں حصہ دار بن سکوں۔ میرا قادیانی آفیسر مجھے کہنے لگا کہ ”صدیقی صاحب! یہ کام میں کروں گا۔ کیونکہ اس کام میں ایک راز پوشیدہ ہے۔ میں نے کہا کہ وہ کیا؟ میرے آفیسر کو مجھ پر پورا اعتماد ہو چکا تھا۔ اور وہ مجھے اپنا ہم عقیدہ خیال کرتا تھا۔ اس نے کہا کہ یہ جو سرکاری مسلمان ہیں۔ ہمیں غیر مسلم بنا رہے ہیں۔ چند سال کے بعد یہ آم کا پودا پھل دے گا۔ اس کے پھل میں اسٹیشن ماسٹر اپنا حق جمائے گا۔ پولیس والے اپنا حق۔ قلی اور درجہ چہارم تک کے ملازمین اپنا حق جتائیں گے اور اس کے پھل کے سبب ان میں خوب جوتم پیزار ہو گی۔ ہم سکون سے ہوں گے۔ یہ لڑتے رہیں گے بلکہ ہم ان کی لڑائی کو مزید ہوا دیں گے۔ سب انجینئر صدیقی صاحب نے بتایا کہ مجھے یہ بات سن کر ایک دم شاک سا لگا۔ میرے دل میں اسلام کی دبی ہوئی چنگاری بھڑک اٹھی۔ مسلمانوں میں انتشار کی سازشیں فوراً دماغ میں آگئیں۔ مجھے بڑا غصہ آیا۔ آگے بڑھ کر میں نے غصہ میں آم کا پودا اکھاڑ پھینکا اور اپنے قادیانی آفیسر اور قادیانیت کو بے بھاؤ کی سنا ڈالیں اور کہہ دیا کہ تمہاری اس حرکت کا پول میں تمام اسٹیشن پر ابھی کھول

صفحہ 172

دیتا ہوں۔ میرا قادیانی آفیسر دم دبا کر بھاگ نکلا اور خدا نے میرے اوپر کرم کیا۔ اس آفیسر سے بعد میں یہی ہوا کہ میرا تبادلہ ملتان سے بھکر کروا دیا۔ مگر میں خوش ہوں کہ میرا ایمان بچ گیا۔ اب آپ کی طرف سے کتابوں کا سیٹ ملنے کے بعد میں نے جو قادیانیت کا مطالعہ کیا تو سوچتا ہوں کہ آج جو ملک میں افراتفری مچی ہوئی ہے۔ اس میں کلیدی آسامیوں پر فائز قادیانی آفیسران کا پورا پورا ہاتھ ہے۔ اللہ تعالیٰ پاکستان کی حفاظت فرمائے۔ (آمین)

(ماہنامہ نقیب ختم نبوت‘ ملتان‘ مارچ ۱۹۹۹ء مضمون ڈاکٹر دین محمد فریدی)

شاہ جیؒ کی تلاوت سے دشمن

چوکڑی بھول گئے

صوفی واحد بخش صاحب دوائی فروش کلر والی (مظفر گڑھ) کے بروایت مولوی سلطان محمود بدھیرو نے ذکر کیا کہ گڑھی اختیار خاں علاقہ خان پور ضلع رحیم یار خاں کے ایک شخص نے شاہؒ جی کو تقریر کی دعوت دی جو اس علاقہ کے مشہور بدعتی واعظ مولوی محمد یار فریدی کے لیے ایک زبردست چیلنج کی حیثیت اختیار کر گئی اور اس کا آرام حرام ہو گیا۔ اس نے کثیر تعداد افراد کی ایک باقاعدہ پلٹن تیار کی جس کے ذمہ جلسہ گاہ میں کنکروں اور ڈھیلوں کے تھیلے لے جا کر بیٹھنا اور تقریر کے دوران شاہ جیؒ پر انہیں پھینکنا تھا۔ جلسہ کا آغاز ہوتے ہی ان لوگوں نے اپنی پوزیشن لے لی۔ لیکن شاہ جیؒ نے کسی موضوع پر تقریر کرنے سے قبل نصف گھنٹہ تک مجمع کو تلاوت کلام پاک سے مسحور رکھا۔ جس کا معجزانہ اثر یہ ہوا کہ حملہ آور اپنی چوکڑی بھول گئے۔ پھر کوئی دو گھنٹہ تک تقریر ہوتی رہی اور جب تقریر کا اختتام ہوا تو کم و بیش ۸۰ کی تعداد میں آدمی کنکروں وغیرہ کے تھیلوں سمیت شاہ جیؒ کی خدمت میں حاضر ہو کر معذرت خواہ ہوئے۔

(ناقل‘ مرزا محمد حسن چغتائی رحمتہ اللہ علیہ‘ روایت صوفی واحد بخش صاحب دوران

ملاقات ربوہ ۷۔۸ مارچ ۱۹۹۱ء بموقعہ تیرھویں شہداء ختم نبوت کانفرنس)

صفحہ 173

نواب آف بہاولپور کو

عمر حیات ٹوانہ کی نصیحت

مقدمہ بہاولپور کے جج جناب محمد اکبر خان صاحب کے نواسے جناب معین الدین صاحب کہتے ہیں کہ جب مقدمہ کے فیصلہ کا وقت قریب آگیا اور بظاہر یہ محسوس ہونے لگا کہ کہ یہ فیصلہ مسلمانوں کے حق میں ہو جائے گا تو اس وقت نواب آف بہاولپور محمد صادق کو انگریز گورنمنٹ کی طرف سے کافی دباؤ کا سامنا تھا۔ یہ بات نواب صادق نے خضر حیات ٹوانہ کے والد عمر حیات ٹوانہ سے کی اور مشورہ کیا کہ اس معاملہ میں مجھے کیا کرنا چاہیے تو عمر حیات ٹوانہ نے نواب آف بہاولپور کو نصیحت کی کہ یہ رسول اللہ ﷺ کی ختم نبوت کا مسئلہ ہے۔ اس سلسلہ میں کسی قسم کا کوئی دباؤ قبول نہ کیا جائے۔ یہ ہمارے ایمان اور آخرت کا مسئلہ ہے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔

(روایت حضرت سید انور حسین نفیس رقم شاہ صاحب)

(مرزا غلام احمد قادیانی کے ارتداد پر سب سے پہلا فتویٰ تکفیر از مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی)

رد قادیانیت پر رسالہ

مولانا محمد انوری فرماتے ہیں کہ سفر بہاولپور میں حضرت علامہ انور شاہ صاحب جب ملتان اترے تو دفتر مجلس احرار اسلام میں قیام فرمایا۔ بعد نماز ظہر احقر سے فرمایا وہ رسالہ لائیے جو آپ نے رد قادیانیت میں لکھا ہے۔ احقر نے پیش کیا۔ عصر تک مطالعہ فرماتے رہے۔ بہت مسرت کا اظہار فرمایا، پھر بہاولپور جاکر مولانا غلام محمد گھوٹویؒ اور علماء سے اس کا تذکرہ فرماتے رہے کہ اس نے رسالہ لکھا ہے، جس میں کفریات مرزا مزید جمع کیے ہیں۔ پھر

صفحہ 174

فرمایا، میں اس کو ڈابھیل طبع کرادوں گا تاکہ وہاں کے طلباء یاد کریں۔ احقر نے عرض کیا۔ صاف کر کے ارسال کر دوں گا پھر التواء ہوتا گیا یہاں تک کہ حضرت شاہ صاحب کا وصال ہو گیا۔ افسوس کہ تقسیم ملک کے وقت وہ سب کاغذات ضائع ہو گئے۔

(بحوالہ انوار انوری، صفحہ ۱۲۲)

ختم نبوت کانفرنس قادیان کی ایک جھلک

پنجاب کے مختلف شہروں سے احرار رضا کاروں کے قادیان پہنچنے کے لیے ریلوے حکام نے سپیشل گاڑیاں چلانے کا انتظام کیا۔ دہلی تک کے رضا کار لدھیانہ ریلوے اسٹیشن پر اور پشاور تک کے رضا کار لاہور ریلوے اسٹیشن پر جمع ہو گئے۔ دونوں اسپیشل گاڑیاں جب مقررہ اوقات پر قادیان کو روانہ ہوئیں تو یہ نظارہ بھی دیدنی تھا۔ گاڑی کے انجن اور ہر ڈبے پر مختلف مقام کے رضا کاروں کے سرخ جھنڈے اپنی بہار دکھا رہے تھے۔ جب دونوں اسپیشل گاڑیاں امرتسر پہنچیں تو امیر شریعت ان کے استقبال کے لیے پہلے سے وہاں موجود تھے۔ دونوں کے درمیان امرتسر سے امیر شریعت کے لیے ایک تیسری گاڑی کا علیحدہ انتظام تھا۔ جس میں بٹالہ اور دوسرے اضلاع کے رضا کاروں کو سوار ہونا تھا۔ احرار کا یہ سرخ اژدہام امیر شریعت کی معیت میں جب قادیان پہنچا تو اس سرزمین نے ایک نئی کروٹ لی۔ کفر پر اسلام کی یلغار میں یہ اس عہد کا عظیم واقعہ تھا۔

امیر شریعت قادیان ریلوے اسٹیشن سے ہزاروں رضا کاروں کے جلو میں پیدل پنڈال تک پہنچے، جہاں ایک نیا شہر آباد تھا۔ ہر طرف جھولداریاں اور خیمے نصب تھے، ان پر لہراتے ہوئے سرخ پرچم ہواؤں سے کھیل رہے تھے۔ سرخ دیواروں میں احرار رضا کار اس طرح لگتے تھے، جیسے پیر بہوٹیاں پہاڑوں کی شاہراہوں پر بکھری پڑی ہوں۔

احرار رہنماؤں کے علاوہ ہر مکتب فکر کے علماء نے اس اجتماع میں شرکت کی۔ ۲۱ اکتوبر ۱۹۳۴ء کو لاکھوں انسانوں کی موجودگی میں نماز عشاء کے بعد احرار تبلیغ کانفرنس کا پہلا اجلاس حضرت امیر شریعت کی صدارت میں شروع ہوا۔ حسب عادت امیر شریعت رات

صفحہ 175

دس بجے صدارتی تقریر کے لیے کھڑے ہوئے۔ آسمانوں نے ستاروں کو رات بھر جاگنے کی تاکید کر دی۔ ہواؤں نے مہمانوں پر اپنے سائے پھیلا دیے۔ چاند نے رات کے اندھیرے پر اپنی سفید چادر ڈال کر کفر کا مکروہ چہرہ ڈھانپ دیا۔ امیر شریعت گویا ہوئے تو کفر بھی گوش بر آواز تھا۔ تمام رات دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے اور سنتے رہے۔ صبح کی اذان کے ساتھ امیر شریعت نے اپنی تقریر ختم کی۔ کانفرنس کی باقی کارروائی تین دنوں میں مکمل ہوئی۔

قادیان کانفرنس میں امیر شریعت کی

تقریر کا ایک اقتباس

”وہ (مرزا محمود) نبی کا بیٹا، میں نبی کا نواسہ ہوں۔ وہ آئے اور مجھ سے اردو، پنجابی، فارسی میں ہر معاملہ سے متعلق بحث کرلے۔ یہ جھگڑا آج ہی طے پا جاتا ہے۔ وہ پردے سے باہر نکلے، نقاب اٹھائے، کشتی لڑے، مولا علی کے جوہر دیکھے۔ ہر رنگ میں آئے، وہ موٹر میں بیٹھ کر آئے، میں ننگے پاؤں آؤں۔ وہ حریر و پرنیاں پہن کر آئے۔ میں موٹا جھوٹا پہن کر آؤں۔ وہ مزعفر کباب یاقوتیاں اور اپنے ابا کی سنت کے مطابق پلو مرغی ٹانک وائن پی کر آئے۔ میں نانا کی سنت کے مطابق جو کی روٹی کھا کے آؤں۔ ”ہمی میدان ہمی گو۔“

غرض اس قسم کی سینکڑوں مثالیں ہیں، جن سے شاہ جی علیہ الرحمہ کی خطیبانہ عظمت کا سراغ ملتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی شہادت تحریک ختم نبوت کا وہ بانکپن تھا۔ جس کے نشہ میں لوگوں نے جانیں نچھاور کی تھیں۔

(حیات امیر شریعت، ص ۱۱۱، ۱۱۳، ۲۱۲، از جانباز مرزا۔)

صفحہ 176

قادیان کے حالات

مرزائیوں کے ہسپتال، جس کو وہ ”نور ہسپتال“ کہتے تھے۔ اس ہسپتال کے نائب انچارج کا نام ڈاکٹر محمد عبد اللہ تھا، جو مرزائی تھا۔ نور ہسپتال کا انچارج ڈاکٹر حشمت اللہ تھا جو مرزا محمود خلیفہ قادیان کا فیملی ڈاکٹر تھا۔ ڈاکٹر محمد عبد اللہ کے پسر ڈاکٹر عبد السلام نے مرزائیت کا گہرا مطالعہ کیا تو اس نے گہرے مشاہدات پر غور و فکر کرنے کے بعد مرزائیت سے توبہ کر کے اسلام قبول کیا۔ اس کے قبولیت اسلام سے پہلے مولانا عبد الکریم مباہلہ نے مرزائیت ترک کر کے اسلام قبول کیا۔ اس سے پہلے اخبار ”الفضل“ قادیان کے ایڈیٹر مہر محمد شہاب محفوظ الحق علی اور ہیڈ ماسٹر نے مرزائیت ترک کر کے بہائیت اختیار کر لی تھی۔

مرزا محمود خلیفہ قادیان کے عتاب کی وجہ سے وہ قادیان میں نہ رہ سکتے تھے۔ ان کا بائیکاٹ مقاطعہ (قطع کلامی) بولنا چالنا، ہر قسم کے تعلقات بند کیے۔ ان صاحبان کو قادیان سے مجبوراً نکلنا پڑا۔ یہ داستان بھی عجیب و غریب تھی۔ مولانا عبد الکریم مباہلہ کا مکان جلایا گیا۔ ان پر قاتلانہ حملے ہوئے اور ہر قسم کا جبر و ظلم ان پر روا رکھا گیا۔ یہ انگریز حکومت کی موجودگی میں ہوا، قصہ کوتاہ۔

ڈاکٹر عبد السلام کے لیے بھی قادیان میں رہنا مشکل ہو گیا۔ اس کے باپ ڈاکٹر عبد اللہ نائب انچارج نور ہسپتال قادیان کا بائیکاٹ کر دیا گیا۔ اس کے گھر پر مرزائی جاسوس عملہ کا پہرہ لگا دیا گیا۔ مجلس خدام الاحمدیہ کی یہ لٹھ بند فوج جس کا صدر مرزا ناصر احمد ایم ۔ اے حال خلیفہ ثالث ربوہ ضلع جھنگ تھا، ڈاکٹر عبد اللہ کے مکان کے ہمسایہ احمد الدین زرگر مرزائی، محمد عبد اللہ ولد محمد اسماعیل جلد ساز مرزائی کے مکانوں میں چھپ کر پہرہ اور نگرانی کے فرائض انجام دیتے تھے۔ ہر آنے جانے والے کا نام و پتہ نوٹ کرتے۔ اس طرح کی پکٹنگ نے ڈاکٹر محمد عبد اللہ اور اس کے کنبہ کا ناطقہ بند کر دیا۔ ان سب مصائب کی وجہ ڈاکٹر عبد السلام کا قبول اسلام تھا۔ ڈاکٹر عبد اللہ کا یہ جرم تھا کہ اس کے بیٹے عبد السلام نے مرزائیت ترک کر کے اسلام قبول کر لیا تھا۔ اس وجہ سے ڈاکٹر عبد اللہ پر یہ دباؤ تھا کہ عبد السلام کو یعنی اپنے پسر کو اپنے گھر سے نکال دو یا عبد السلام کو دوبارہ معافی مانگ کر

صفحہ 177

مرزائیت قبول کراؤ۔ ڈاکٹر عبدالسلام اور ڈاکٹر محمد عبداللہ اس کے والد کی فاقہ کشی تک نوبت آگئی۔ مجبور ہو کر اکیلا عبدالسلام گھر سے نکلنے پر مجبور ہو گیا۔

لطف کی بات یہ ہے کہ انہی دنوں سے کچھ پہلے مفتی محمد صادق ناظر امور خارجہ سلسلہ عالیہ احمدیہ قادیان کا پسر عبدالسلام مرزائیت چھوڑ کر عیسائیت اختیار کر چکا تھا۔ وہ بھی قادیان میں نہ رہ سکا۔ اس کو قادیان سے نکلنا پڑا۔ حبیب الرحمٰن عرف خان کابلی پٹھان کو بھی قادیان سے نکلنا پڑا۔

غرضیکہ جو بھی مرزائیت سے توبہ تائب ہوتا‘ وہ قادیان میں نہیں رہ سکتا تھا۔ کیونکہ ہر تائب شخص کو جان کے لالے پڑ جاتے تھے۔ کاروبار ختم ہو جاتا تھا۔ اس کے گھریلو کنبہ پر مصائب کے پہاڑ گرائے جاتے تھے۔ ان واقعات کا مختصر ذکر مسٹر جی ڈی کھوسلہ سیشن جج گورداسپور نے مقدمہ سرکار بنام سید عطاء اللہ شاہ بخاری بہ جرم نمبر ۱۵۳ تعزیرات ہند بوجہ تقریر احرار تبلیغ کانفرنس قادیان میں بخوبی کیا ہے۔

ان قادیان سے نکلنے والوں نے مختلف مقامات پر پناہ حاصل کرنا چاہی لیکن کہیں بھی آسرا نہ ملا کہ وہ اپنی زندگی گزار سکیں تو آخر ڈاکٹر عبدالسلام نے مولانا عبدالغفار صاحب غزنوی امرتسری سے ملاقات کر کے حالات بتائے۔ مولانا عبدالغفار صاحب غزنوی مرحوم ان دنوں مجلس احرار اسلام امرتسر کے صدر تھے۔ انہوں نے شیخ حسام الدین صاحب مرحوم سے مشورہ کیا کہ قادیان کے مسلمانوں کو مصائب سے بچانے کے لیے اور جو لوگ قادیانیت سے توبہ تائب ہوں‘ ان کی جان و مال کی حفاظت کے لیے قادیان میں شعبہ تبلیغ کے نام پر دفتر کھولا جائے۔ اس پر قادیان میں ۱۹۳۳ء کے ابتداء میں علاؤالدین حیدر کپتان احرار محبوب عالم اور سید غریب شاہ کو قادیان بھیجا گیا اور چوہدری فیض اللہ صاحب نے ان کی رہائش کے لیے اور دفتر قائم کرنے کے لیے چھوٹے بازار میں ایک چوبارہ کرایہ پر لے دیا اور وہاں مجلس احرار اسلام قادیان کا بورڈ لگایا گیا۔ ہر شخص کی سرخ وردیاں ہوتی تھیں۔ جب یہ لوگ بازار میں جاتے۔ سرخ وردیاں دیکھ کر لوگ پوچھتے کہ آپ کون لوگ ہیں؟ تو یہ لوگ اپنا تعارف کرواتے۔ مرزائیوں نے اس دفتر کو ہر طرح سے گھیرنا چاہا۔ حکومت نے وہاں سی آئی ڈی کا سفید کپڑوں میں بشیر احمد نامی کانسٹیبل مقرر کر دیا اور مرزائیوں نے اپنی محکمہ جاسوسی کے افراد کو نگرانی کے لیے محمد ظفر مولوی مرزائی انچارج

صفحہ 178

محکمہ جاسوسی مرزا محمود خلیفہ قادیان عبد العزیز بھامڑی نذر مولوی فاضل کو جاسوس مقرر کر دیا۔ یہ لوگ عرصہ تک جاسوسی کرتے رہے۔

ایک دن غریب شاہ رضا کار بڑے بازار سے آگے ریتی محلہ بازار (ریتی محلہ کی اراضی مرزا اکرم بیگ سکنہ لاہور کی تھی جس پر مرزائیوں نے جبری قبضہ کر لیا تھا اور ریتی محلہ کا نام مرزا محمود خلیفہ قادیان نے دارالفتوح (فتح کیا ہوا) رکھا ہوا تھا) میں گیا۔ مرزائیوں نے اس کو پکڑ کر بے دریغ زدو کوب کیا۔ وہ چوکی میں رپٹ کرانے گیا مگر تھانہ چوکی میں اس کی فریاد نہ سنی گئی۔ وہ ضاربوں کو جانتا نہ تھا۔ غریب شاہ کو شدید چوٹیں آئیں۔ یہ بات امرتسر میں اور لاہور دفتر احرار میں پہنچی تو مجلس احرار نے قادیان میں مستقل تبلیغی دفتر قائم کر دیا۔ جس کے انچارج مولوی عنایت اللہ صاحب چشتی اور امام الصلوۃ حافظ محمد خاں صاحب ضلع میانوالی مقرر کیے۔ یہ حضرات تبلیغ کا کام کرتے تھے اور ماسٹر تاج دین صاحب لدھیانوی انچارج دفتر تھے۔ احرار کے دفتر پر کئی دفعہ مرزائیوں نے حملہ کرنے کی سکیم بنائی۔

اسی دوران مولانا حبیب الرحمن صاحب لدھیانوی صدر مجلس احرار اسلام ہند قادیان پہنچے۔ بے شمار پولیس آگئی۔ جلسہ گاہ کا گھیراؤ کر لیا گیا۔ مولانا حبیب صاحب نے متوازی حکومت ریاست قادیان کے خلاف پروٹسٹ کیا۔ غریب شاہ احرار والنٹیر کو زدو کوب کیے جانے کے خلاف زبردست پروٹسٹ کیا۔ اس کے بعد قادیان میں احرار تبلیغ کانفرنس کرنے کا اعلان کیا۔

(بحوالہ ہفت روزہ ’لولاک‘ فیصل آباد‘ ۲۶ جنوری ۷۹ء‘ جلد نمبر ۱۵‘ شمارہ نمبر ۳۵)

(مرزا غلام احمد قادیانی کے ارتداد پر سب سے پہلا فتویٰ تکفیر‘ ۳۲۷ تا ۳۲۹‘ از مولانا

حبیب الرحمن لدھیانوی)

صفحہ 179

امیر شریعت سید عطا اللہ شاہ بخاری کی تڑپ

شاہ جی پورے جوبن پر تھے‘ بے انداز مجمع گوش بر آواز‘ عشق رسولؐ کی بھٹی گرم‘ اکابر اور اساطین ملت جلوہ افروز‘ شہر میں مکمل ہڑتال اور سناٹا‘ تحریک ختم نبوت کے لیے مسلمان جانیں دینے کے لیے آمادہ۔ کسی نے کہا کہ خواجہ ناظم الدین لاہور پہنچ گئے۔ شاہ جی نے فرمایا ساری باتوں کو چھوڑئیے لاہور والو کوئی ہے اور یہ کہتے ہوئے اپنے سر سے ٹوپی اتاری اور ٹوپی کو ہوا میں لہراتے ہوئے نہایت ہی جذبات انگیز الفاظ میں فرمایا جاؤ میری اس ٹوپی کو خواجہ ناظم الدین کے پاس لے جاؤ۔ میری یہ ٹوپی کبھی کسی کے سامنے نہیں جھکی۔ اسے خواجہ صاحب کے قدموں پر ڈال دو۔ اس سے کہو ہم تیرے سیاسی حریف اور رقیب نہیں ہیں۔ ہم الیکشن نہیں لڑیں گے‘ تجھ سے اقتدار نہیں چھینیں گے۔ ہاں ہاں جاؤ اور میری ٹوپی اس کے قدموں میں ڈال کر یہ بھی کہو کہ اگر پاکستان کے بیت المال میں کوئی سور ہیں تو عطا اللہ شاہ بخاری تیرے سوؤروں کا وہ ریوڑ چرانے کے لیے بھی تیار ہے۔ مگر شرط صرف یہ ہے کہ رسول اللہ فداہ ابی وامی کی ختم رسالت کی حفاظت کا قانون بنادے‘ کوئی آقاؐ کی توہین نہ کرے۔ آپ کی دستار ختم نبوت پر کوئی ہاتھ نہ ڈال سکے۔ شاہ جی بول رہے تھے‘ اور مجمع بے قابو ہو رہا تھا۔ لوگ دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے۔ چشم فلک نے اس جیسا سماں بھی کم دیکھا ہو گا۔ عوام و خواص سب رو رہے تھے۔ شاہ جی پر خاص وجد کی سی کیفیت طاری تھی۔

(”تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء“ ص ۲۵۴‘ مولانا اللہ وسایا)

ہم نے ہر دور میں تقدیس رسالت کے لیے
وقت کی تیز ہواؤں سے بغاوت کی ہے
توڑ کر سلسلۂ رسم سیاست کا فسوں
اک فقط نام محمدؐ سے محبت کی ہے
ہم نے بدلا ہے زمانے میں محبت کا مزاج
ہم نے ہر دل کو نئی راہ و نوا بخشی ہے
مرحلے بند و سلاسل کے کئی طے کر کے
چہرہ دار و رسن کو بھی ضیاء بخشی ہے
صفحہ 180

اک مجاہدہ ختم نبوت کا ایثار

چودھری افضل حق مرحوم و مغفور لاہور میں بیٹھ کر قادیان کی ڈائری سے حالات کا مطالعہ کر رہے تھے۔ مولانا عنایت اللہ انہیں تبلیغی میدان کی کیفیت سے آگاہ کرتے اور کبھی کبھی لاہور آکر مرحوم سے ہدایات حاصل کر کے قادیان واپس چلے جاتے تھے۔ چودھری صاحب نے تبلیغی میدان کو وسعت دینے کا پروگرام بنا لیا۔ ایک مکان مولانا عنایت اللہ صاحب کے نام پر خریدا جاچکا تھا۔ اس سے فائدہ یہ ہوا کہ احرار قادیان کے باشندے بن گئے۔ دل میں خلوص اور ارادے نیک ہوں تو قدرت امداد کرتی ہے۔ انہی دنوں حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری نے دہلی کی تبلیغ کانفرنس میں مسلمانان دہلی سے قادیان کے محاذ کے لیے امداد کی اپیل کی۔ ایک مخیر اور نیک دل معزز خاتون نے زمین خریدنے کے لیے چھ ہزار روپے کا چیک بھیج دیا۔ زمین خریدی گئی، کچھ اور رقم آئی تو کچھ اور زمین خریدی گئی۔ غرضیکہ احرار نے مضبوطی سے کفرستان میں جھنڈا گاڑ دیا۔

(”تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء“ ص ۲۲‘ مولانا اللہ وسایا)

مگر وطن کے امیرو! سوال کرتا ہوں
دیا ہے مال کبھی شاہ دو جہاں کے لئے

سرور کائناتﷺ کا پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ کو حکم..... حضرت پیر مہر علی شاہؒ نے فرمایا کہ ”حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خواب میں حکم فرمایا کہ مرزا غلام احمد قادیانی غلط تاویل کی قینچی سے میری احادیث کو ٹکڑے ٹکڑے کر رہا ہے اور تم خاموش بیٹھے ہو“ (ملفوظات طیبہ ۱۴۶۔۱۴۷)

چنانچہ پیر مہر علی شاہؒ فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے لئے میدان میں نکل آئے اور مسلمانوں کو اس فتنہ کی شرانگیزیوں سے آگاہ کیا۔ آپ کی اس فتنہ کے خلاف دن رات کوششوں سے بدحواس ہو کر قادیانی جماعت کے ایک وفد نے حضرت پیر مہر علی شاہؒ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا کہ آپ مرزا قادیانی سے مباہلہ کرلیں۔ ایک اندھے اور ایک لنگڑے کے حق میں آپ دعا کریں۔ دوسرے اندھے اور لنگڑے کے حق میں مرزا قادیانی دعا کرے جس کی دعا سے اندھا اور لنگڑا ٹھیک ہو جائیں‘ وہ سچا ہے۔ اس طرح حق و باطل کا فیصلہ

صفحہ 181

ہو جائے گا۔ سید پیر مہر علی شاہؒ نے جواب دیا کہ یہ بھی منظور ہے اور جاؤ‘ مرزا قادیانی سے یہ بھی کہہ دو‘ اگر مردے بھی زندہ کرنے ہوں تو آجاؤ۔ مہر علی شاہؒ مردے زندہ کرنے کے لئے بھی تیار ہے۔ سچ ہے کہ جو شخص حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کے تحفظ کے لئے کام کرتا ہے‘ اس کی پشت پر نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام کا ہاتھ ہوتا ہے۔ قادیانی وفد یہ جواب پا کر واپس چلا گیا اور کچھ پتہ نہ چلا کہ مرزا قادیانی اور ان کے حواری کہاں ہیں“۔ (تحریک ختم نبوت از آغا شورش کاشمیریؒ)

باطل کو چیلنج..... حضرت پیر سید مہر علی شاہؒ گولڑوی نے مرزا قادیانی کو چیلنج کرتے ہوئے کہا..... ”حسب وعدہ شاہی مسجد میں آؤ‘ ہم دونوں اس کے مینار پر چڑھ کر چھلانگ لگاتے ہیں۔ جو سچا ہو گا وہ بچ جائے گا‘ جو کاذب ہو گا مرجائے گا۔ مرزا قادیانی نے جواب میں اس طرح چپ سادھی‘ گویا دنیا ہی سے رخصت ہو گیا ہے“۔ (تحریک ختم نبوت ص ۵۲‘ آغا شورش کاشمیریؒ)

دربار رسالتؐ سے فرمان..... حضرت مولانا محمد علی مونگیریؒ صاحب کشف و کرامت بزرگ تھے۔ صوبہ بہار سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کا زیادہ وقت وظائف‘ عبادات‘ مجاہدات میں گزرتا تھا۔ انہوں نے متعدد بار ذکر کیا کہ میں عالم رویاء میں حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار عالی میں پیش ہوا۔ نہایت ادب و احترام سے صلوۃ و سلام عرض کیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا..... ”محمد علی تم وظیفے پڑھنے میں مشغول ہو اور قادیانی میری ختم نبوت کو تخریب کر رہے ہیں۔ تم ختم نبوت کی حفاظت اور قادیانیت کی تردید کرو“۔ حضرت مولانا محمد علی مونگیریؒ فرمایا کرتے تھے۔ اس مبارک خواب کے بعد نماز فرض‘ تہجد اور درود شریف کے علاوہ تمام وظائف ترک کر دیئے‘ دن رات ختم نبوت کے کام میں منہمک ہو گیا“۔ (روئیداد مجلس ص ۱۴‘ ۱۹۸۲ء)

اس دوران یہ واقعہ بھی پیش آیا کہ مراقبہ میں مولانا کو یہ القاء ہوا کہ گمراہی (قادیانیت) تیرے سامنے پھیل رہی ہے اور تو ساکت ہے اگر قیامت کے دن باز پرس ہوئی تو کیا جواب دے گا۔ (سیرت مولانا محمد علی مونگیریؒ ص ۲۹۷)

پیغام سوچ..... حضرت مولانا علامہ انور شاہ کشمیریؒ نے ایک بڑے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا..... ”ہم سے تو گلی کا کتا ہی اچھا ہے‘ ہم اس سے بھی گئے گزرے

صفحہ 182

ہیں‘ وہ اپنی گلی ومحلے کا حق نمک ادا کرتا ہے۔ ہمارے ہوتے ہوئے لوگ ناموس رسالتؐ پر حملہ کرتے ہیں اور ہم حق غلامی و امتی ادا نہیں کرتے۔ اگر ہم ناموس پیغمبرؐ کا تحفظ کریں گے تو قیامت کے دن شفاعت کے مستحق ٹھہریں گے۔ تحفظ نہ کیا یا نہ کر سکے تو ہم مجرم ہوں گے اور کتے سے بھی بدتر“۔ (کمالات انوریؒ)

عزت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ...... خطیب ختم نبوت صاحب زادہ فیض الحسن شاہؒ نے ملت اسلامیہ کی سوئی ہوئی غیرت کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا..... ”جو جناب خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کی حفاظت نہیں کر سکتا وہ اپنی ماں بہن کی عزت کی بھی حفاظت نہیں کر سکتا“۔

عظیم انعام ..... سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ قادیانیت کے لئے درہ عمر فاروقؓ تھے۔ ساری زندگی مرزا قادیانی کی جعلی نبوت کے تعاقب میں صرف کر دی۔ قادیان و ربوہ میں جھوٹی نبوت کے ایوانوں میں زلزلہ برپا کر دیا۔ ان کا ایمان پرور واقعہ جھوم جھوم کر پڑھئے۔

حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ نے فرمایا کہ حضرت مولانا رسول خانؒ نے جو بہت بڑے محدث تھے‘ فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جماعت صحابہؓ میں تشریف فرما ہیں۔ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں (ایک سنہری طشت میں آسمان سے) ایک دستار مبارک لائی گئی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جناب صدیق اکبرؓ کو حکم دیا کہ اٹھو اور میرے بیٹے عطاء اللہ شاہ کے سر پر باندھ دو۔ میں اس سے خوش ہوں کہ اس نے میری ختم نبوت کے لئے بہت سارا کام کیا ہے۔ (تقاریر مجاہد ملتؒ ص ۷)

قبر سے خوشبو ..... مولانا محمد شریف بہاولپوریؒ ختم نبوت کے شیدائی و فدائی تھے۔ حیات مستعار کی ساری بہاریں تحفظ ختم نبوت کے لئے وقف کر دیں۔ سرائیکی زبان کے بہترین خطیب تھے۔ اس مجاہد ختم نبوت کا جنازہ بھی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر سے اٹھا۔ تدفین کے بعد آپ کی قبر سے تین روز تک خوشبو آتی رہی۔

ایسے جذبے کو سلام ..... حضرت پیر سید جماعت علی شاہ صاحبؒ نے محاذ ختم نبوت پر گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔ آپ کی ذات قادیانیوں کی شہ رگ پر نشتر تھی۔ جب مرزا قادیانی کا نام نہاد خلیفہ نور الدین نارووال ضلع سیالکوٹ میں وارد ہوا اور قادیانیت

صفحہ 183

کی تبلیغ شروع کر دی۔ آپ اس وقت صاحب فراش تھے۔ چارپائی سے اٹھا نہیں جاتا تھا لیکن عاشق رسولؐ کی غیرت نے گوارا نہ کیا کہ نور الدین دندناتا پھرے اور میں یہاں لیٹا رہوں۔ فوراً حکم دیا کہ میری چارپائی اٹھا کر نارووال لے چلو، آپ نے وہاں پہنچ کر نور الدین اور اس کے باطل مذہب کی ایسی مرمت کی کہ نور الدین وہاں سے سر پر پاؤں رکھ کر بھاگا۔

ایک عاشق رسولؐ کا جواب..... مولانا ظفر علی خان نے جب عوامی جلسوں میں قادیانیت کے بخیے ادھیڑنے شروع کئے اور مرزا قادیانی کا ریمانڈ لینا شروع کیا تو انگریزی قانون اپنے خود کاشتہ پودے کی حفاظت کے لئے حرکت میں آگیا۔ مولانا اور ان کے ساتھیوں کو ڈرانے دھمکانے کی کوششیں کی گئیں اور پھر ان سے نیک چلنی کی ضمانت طلب کی گئی۔ جھوٹی نبوت کے خالق فرنگی کو عاشق رسولؐ ظفر علی خاں نے جو باغیرت جواب دیا اسے پڑھ کر آج بھی گلشن ایمان میں بہار آجاتی ہے، آپ نے فرمایا..... ”جہاں تک مرزا غلام احمد کا تعلق ہے، ہم اس کو ایک بار نہیں ہزار ہا بار دجال کہیں گے اس نے حضورؐ کی ختم المرسلینی میں اپنی نبوت کا ناپاک پیوند جوڑ کر ناموس رسالتؐ پر کھلم کھلا حملہ کیا ہے۔ اپنے اس عقیدہ سے میں ایک منٹ کے کروڑویں حصہ کے لئے بھی دست کش ہونے کو تیار نہیں اور مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی دجال تھا۔ دجال تھا۔ دجال تھا۔ میں اس سلسلہ میں قانون انگریزی کا پابند نہیں، میں قانون محمدیؐ کا پابند ہوں“

(تحریک ختم نبوت ص ۶۸ از شورش کاشمیریؒ)

حق گوئی و بیباکی..... نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ختم نبوت پر ڈاکہ زنی ہوتے ہوئے دیکھ کر مولانا احمد رضا خان بریلویؒ تڑپ اٹھے اور مسلمانوں کو مرزائی نبوت کے زہر سے بچانے کے لئے انگریز کے ظلم و بربریت کے دور میں علم حق بلند کرتے ہوئے اور شمع جرأت جلاتے ہوئے مندرجہ ذیل فتویٰ دیا۔ جس کا حرف حرف قادیانیت کے سومنات کے لئے گرز محمود غزنویؒ ہے۔ قادیانیوں کے کفریہ عقائد کی بنا پر اعلیٰ حضرت احمد رضا خان بریلویؒ نے مرزائی اور مرزائی نوازوں کے بارے میں فتویٰ دیا کہ ”قادیانی مرتد، منافق ہیں، مرتد منافق وہ کہ کلمہ اسلام اب بھی پڑھتا ہے، اپنے آپ کو مسلمان بھی کہتا ہے اور پھر اللہ عزوجل یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یا کسی نبی کی توہین کرنا

صفحہ 184

یا ضروریات دین میں سے کسی شے کا منکر ہے، اس کا ذبیح محض نجس، مردار اور حرام قطعی ہے، مسلمانوں کے بائیکاٹ کے سبب قادیانی کو مظلوم سمجھنے والا اور اس سے میل جول چھوڑنے کو ظلم ناحق سمجھنے والا اسلام سے خارج ہے اور جو کافر کو کافر نہ کہے وہ بھی کافر۔"

(احکام شریعت ص ۱۱۲، ۱۷۷، ۱۷۸، اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان بریلویؒ)

مزید فرمایا کہ ”اس صورت میں فرض قطعی ہے کہ تمام مسلمان موت و حیات کے سب علاقے ان سے قطع کردیں۔ بیمار پڑے پوچھنے کو جانا حرام، مرجائے تو اس کے جنازے پر جانا حرام، اسے مسلمانوں کے گورستان میں دفن کرنا حرام، اس کی قبر پر جانا حرام"۔

(فتاویٰ رضویہ ص ۵۱ جلد ۶۔ مولانا احمد رضا خان بریلویؒ)

ختم نبوت کانفرنس ربوہ..... طارق محمود صاحب خانیوال کے ایک زاہد و متقی نوجوان ہیں۔ انہوں نے ختم نبوت کانفرنس ربوہ میں اپنا خوش قسمت واقعہ بیان کیا..... ”میں نے خواب میں دیکھا کہ مسلم کالونی ربوہ کی عظیم الشان مسجد کے باہر لوگوں کا کیف و مستی میں ڈوبا ہوا ایک بہت بڑا اجتماع ہے اور کسی کا منتظر ہے۔ میں نے لپک کر کسی سے پوچھا 'کون آرہا ہے۔ مجھے بتایا گیا کہ دریائے چناب کی جانب سے جناب خاتم النبیین محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کانفرنس کے پنڈال کی طرف تشریف لا رہے ہیں، میں پوری قوت سے اس جانب بھاگا، دیکھا تو آقا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تشریف لا رہے ہیں۔ میں نے سلام کی سعادت حاصل کی، عرض کیا 'آقا کدھر کا ارادہ ہے؟ فرمایا میرے کچھ غلاموں نے میری عزت و ناموس کی حفاظت کے لئے کانفرنس کا اہتمام کیا ہے۔ میں بھی شرکت کے لئے آیا ہوں"۔

خواجہ قمر الدین سیالویؒ کی للکار..... تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء میں برکت علی اسلامیہ ہال میں بلائے گئے تمام مکاتب فکر کے کنونشن میں پیکر جرات و غیرت قمر الملت خواجہ قمر الدین سیالویؒ نے انتہائی جذباتی انداز میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا..... ”قادیانیوں کا مسئلہ باتوں سے حل نہیں ہو گا، آپ مجھے حکم دیں، میں قادیانیوں سے نپٹ لوں گا اور چند روز میں ربوہ کو صفحہ ہستی سے مٹا دوں گا"

(تعارف علماء اہل سنت، مولانا محمد صدیق ہزاروی)

مظفر علی شمسی صاحب روایت کرتے ہیں کہ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں ایک عورت اپنے بیٹے کی برات لے کر دہلی دروازہ کی جانب آرہی تھی۔ سامنے سے تڑتڑ کی

صفحہ 185

آواز آئی، معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس کے لئے لوگ سینہ تانے بٹن کھول کر گولیاں کھا رہے ہیں تو برات کو معذرت کر کے رخصت کر دیا۔ بیٹے کو بلا کر کہا کہ بیٹا آج کے دن کے لئے میں نے تمہیں جنا تھا۔ جاؤ آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت پر قربان ہو کر دودھ بخشوا جاؤ۔ میں تمہاری شادی اس دنیا میں نہیں بلکہ آخرت میں کروں گی اور تمہاری برات میں آقائے نامدار صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مدعو کروں گی۔ جاؤ پروانہ وار شہید ہو جاؤ تاکہ میں فخر کر سکوں کہ میں بھی شہید کی ماں ہوں۔ بیٹا ایسا سعادت مند تھا کہ تحریک میں ماں کے حکم پر آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کے لئے شہید ہو گیا۔ جب لاش اٹھائی گئی تو گولی کا کوئی نشان پشت پر نہ تھا۔ سب سینہ پر گولیاں کھائیں۔ - رحمتہ اللہ رحمتہ واسعتہ

۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں ایک طالب علم ہاتھ میں کتابیں لئے کالج جا رہا تھا۔ سامنے تحریک کے لوگوں پر گولیاں چل رہی تھیں۔ کتابیں رکھ کر جلوس کی طرف بڑھا کسی نے پوچھا یہ کیا۔ جواب میں کہا کہ آج تک پڑھتا رہا ہوں۔ آج عمل کرنے جا رہا ہوں۔ جاتے ہی ران پر گولی لگی، گر گیا، پولیس والے نے آکر اٹھایا تو شیر کی طرح گرجدار آواز میں کہا گولی ران پر کیوں ماری ہے۔ عشق مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم تو دل میں ہے یہاں دل پر گولی مارو تاکہ قلب و جگر کو سکون ملے۔ اسی تحریک ختم نبوت میں ایک مسلمان دیوانہ وار ختم نبوت زندہ باد کے نعرے لاہور کی سڑکوں پر لگا رہا تھا۔ پولیس والے نے پکڑ کر تھپڑ مارا۔ اس پر اس نے پھر ختم نبوت زندہ باد کا نعرہ لگایا۔ پولیس والے نے بندوق کا بٹ مارا اس نے پھر نعرہ لگایا۔ وہ مارتے رہے۔ یہ نعرہ لگاتا رہا۔ اسے اٹھا کر گاڑی میں ڈالا یہ زخموں سے چور چور پھر بھی ختم نبوت زندہ باد کے نعرے لگاتا رہا۔ اسے گاڑی سے اتارا گیا تو بھی وہ نعرہ لگاتا رہا۔ اسے فوجی عدالت میں لایا گیا۔ اس نے عدالت میں آتے ہی ختم نبوت کا نعرہ لگایا۔ فوجی نے کہا ایک سال سزا، اس نے سال کی سزا سن کر پھر ختم نبوت کا نعرہ لگایا اس نے سزا دو سال کر دی، اس نے پھر نعرہ لگایا، غرض کہ فوجی سزا بڑھاتا رہا اور یہ مسلمان نعرہ ختم نبوت بلند کرتا رہا۔ فوجی عدالت جب بیس سال پر پہنچی تو دیکھا کہ بیس سال کی سزا سن کر یہ پھر بھی نعرے سے باز نہیں آرہا تو فوجی عدالت نے کہا باہر لے جا کر گولی مار دو، اس نے گولی کا نام سن کر دیوانہ وار رقص شروع

صفحہ 186

کر دیا اور ساتھ ہی ختم نبوت زندہ باد کے فلک شگاف ترانہ سے ایمان پرور وجد آفریں کیفیت طاری کردی۔ یہ حالت دیکھ کر عدالت نے کہا کہ رہا کردو‘ یہ دیوانہ ہے‘ اس نے رہائی کا حکم سن کر نعرہ لگایا، ختم نبوت زندہ باد۔

(قارئین کرام! میں لکھتے ہوئے نعرہ لگاتا ہوں، اور آپ پڑھتے ہوئے نعرہ لگائیں) ختم نبوت زندہ باد

آغا شورش کاشمیریؒ نے فرمایا..... ایک سپرنٹنڈنٹ پولیس نے خود راقم سے بیان کیا تھا کہ ہر روز مظاہروں کو سمیٹنے کے لئے تشدد کی نیو اٹھا کر تحریک کو ختم کیا گیا۔ چنانچہ حکام نے اپنے سفید پوش اہلکاروں کی معرفت پولیس پر پتھراؤ کرایا۔ اس طرح فائرنگ کی بنیاد رکھی۔ بعض منچلے قادیانی اپنی جیپوں میں سوار ہو کر مسلمانوں پر گولیاں داغتے اور انہیں شہید کرتے رہے۔ راقم نے لاہور میں چینیز لنچ ہوم مال روڈ پر اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ۱۵ سے ۲۰ سال کی عمر کے نوجوانوں کا ایک مختصر سا جلوس کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے جا رہا تھا۔ وہ ایک بے ضمیر سپرنٹنڈنٹ پولیس سی آئی ڈی ملک حبیب اللہ کے حکم پر کسی وارننگ کے بغیر فائرنگ کا ہدف بنا۔ آٹھ دس نوجوان شہید ہو گئے۔ ان کی لاشوں کو ملک صاحب نے اپنے ماتحتوں سے ٹرکوں میں اس طرح پھنکوایا جس طرح جانور شکار کئے جاتے ہیں۔ یہ نظارہ انتہائی درد ناک تھا۔ لاہور چھاؤنی میں ایک قادیانی افسر نے گولیوں کی بوچھاڑ کی لیکن گولی کھانے والوں نے انتہائی استقامت اور کردار کی پختگی کا ثبوت دیا۔ ایک نوجوان ملٹری ہسپتال میں زخموں سے چور چور بیہوش پڑا تھا۔ جب اسے قدرے ہوش آیا تو اس نے پہلا سوال سرجن سے یہ کیا کہ میرے چہرے پر کسی خوف یا اضمحلال کے نشان تو نہیں ہیں جب اسے کہا گیا کہ نہیں تو اس کا چہرہ نور مسرت سے تمتما اٹھا۔ جن لوگوں کو علماء سمیت گرفتار کر کے لاہور کے شاہی قلعہ میں تفتیش کے لئے رکھا گیا‘ ان کے ساتھ پولیس نے اخلاق باختگی کا سلوک کیا۔ ایک انتہائی ذلیل ڈی ایس پی کو ان پر مامور کیا۔ وہ علماء کو اس قدر فحش و فاش گالیاں دیتا اور عریاں فقرے کستا کہ

خود خوف خدا تھرا رہا تھا

(تحریک ختم نبوت ص ۱۳۷)

تحریک ختم نبوت ۵۳ء میں دہلی دروازہ لاہور کے باہر صبح سے عصر تک جلوس

صفحہ 187

نکلتے رہے، لوگ دیوانہ وار سینوں پر گولیاں کھا کر آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس پر جان قربان کرتے رہے۔ عصر کے بعد جب جلوس نکلنے بند ہو گئے تو ایک اسی سالہ بوڑھا اپنے معصوم پانچ سالہ بچے کو کندھے پر اٹھا کر لایا۔ باپ نے خود ختم نبوت کا نعرہ لگایا، معصوم بچے نے جو باپ سے سبق پڑھا تھا، اس کے مطابق زندہ باد کا نعرہ لگایا، دو گولیاں آئیں اسی سالہ بوڑھے باپ اور پانچ سالہ معصوم بچے کے سینہ سے پار ہو کر گزر گئیں۔ دونوں شہید ہو گئے مگر تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کر گئے کہ اگر آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس پر مشکل وقت آئے تو مسلمان قوم کے اسی سالہ بوڑھے خمیدہ کمر سے لے کر ۵ سالہ معصوم بچے تک سب جان دے کر اپنے پیارے آقا کی عزت و ناموس کا تحفظ کرتے ہیں۔

معلوم ہوا کہ اسی تحریک میں کرفیو لگ گیا۔ اذان کے وقت ایک مسلمان کرفیو کی خلاف ورزی کر کے آگے بڑھا، مسجد میں پہنچ کر اذان دی، ابھی اللہ اکبر کہہ پایا تھا کہ گولی لگی ڈھیر ہو گیا۔ دوسرا مسلمان آگے بڑھا۔ اس نے اشہد ان لا الہ الا اللہ کہا تھا کہ گولی لگی ڈھیر ہو گیا۔ تیسرا مسلمان آگے بڑھا ان کی لاشوں پر کھڑا ہو کر اشہد ان محمد رسول اللہ کہا کہ گولی لگی ڈھیر ہو گیا۔ چوتھا آدمی بڑھا تینوں کی لاشوں پر کھڑا ہو کر کہا حی علی الصلوۃ کہ گولی لگی ڈھیر ہو گیا۔ پانچواں مسلمان بڑھا۔ غرضیکہ باری باری نو مسلمان شہید ہو گئے مگر اذان پوری کر کے چھوڑی۔

خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را۔

مہمان رسول!..... دعوت خدا!..... مولانا خلیل احمد قادری مجاہد اسلام مولانا ابو الحسنات سید محمد احمد قادریؒ کے فرزند ہیں۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں آپ نے جو مجاہدانہ کردار ادا کیا، اس سے مجاہدین جنگ یمامہ کی یاد تازہ ہو گئی۔ وفائے محبوبؐ کے جرم میں آپ کو سزائے موت دی گئی جب یہ خبر آپ کے والد گرامی تک پہنچی جو کراچی جیل میں سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور دیگر علماء کے ساتھ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے تھے تو بہادر بیٹے کے بہادر باپ نے فوراً سجدہ میں سر رکھ دیا اور فرمایا..... ”میرے اللہ! ناموس رسالتؐ پر ایک خلیل تو کیا میرے ہزاروں فرزند بھی ہوں تو اسوۂ شبیری پر عمل کرتے ہوئے سب کو قربان کر دوں۔“

صفحہ 188

مولانا خلیل احمد قادری فرماتے ہیں کہ دوران قید اندھیری کوٹھڑی میں میرے سامنے زہریلا سانپ چھوڑا گیا۔ نماز پڑھنے سے روکا گیا۔ سارا سارا دن کھڑا رکھا گیا۔ کئی کئی دن کھانا نہ دیا گیا۔ دوران تفتیش گالیوں سے نوازا گیا۔ بھوک اور پیاس کی شدت سے میرے سینے سے درد اٹھتا‘ اسی لمحہ میں خیال آیا کہ یہاں بھوکا مر رہا ہوں‘ گھر میں ہوتا تو اپنی پسند کے کھانے کھاتا لیکن دوسرے ہی لمحے ضمیر نے ملامت کی اور صحابہ کرام کی قربانیوں کا نقشہ آنکھوں کے سامنے آگیا۔ میں نے سر بسجود ہو کر توبہ کی لیکن خدا کی قدرت دیکھئے کہ اندھیرے میں ایک ہاتھ آگے بڑھا اور آواز آئی۔ ”شاہ جی یہ لے لو“..... ایک لفافہ مجھے دیا گیا جس میں کچھ پھل اور مٹھائی تھی‘ میں حیران رہ گیا کہ اتنے سخت پہروں کے باوجود یہ سب کچھ مجھ تک کیسے پہنچ گیا لیکن میرے دل کو یہ یقین ہو گیا کہ یہ غیبی دعوت جناب خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقہ میں ملی ہے۔ وہ پھل اور مٹھائی تین روز تک میں استعمال کرتا رہا۔“

اور مرزا قادیانی پکڑا گیا..... قادیانی فتنہ کے سر اٹھاتے ہی جن علماء حق نے نعرہ جہاد بلند کیا اور انگریزی نبوت سے برسر پیکار ہو گئے ان اولین مجاہدین کی فہرست میں مولانا ثناء اللہ امرتسری کا اسم گرامی نہایت نمایاں ہے۔ مولانا کے تابڑ توڑ حملوں سے انگریزی نبی بوکھلا اٹھا۔ اس مجاہد ختم نبوت نے تحریر و تقریر اور مناظرہ کے میدان میں قادیانیت کو ذلیل و رسوا کیا اور آخر مولانا ہی سے ایک تحریری مباہلہ کے نتیجہ میں مرزا قادیانی ہیضہ کے موذی مرض میں مبتلا ہو کر جہنم واصل ہو گیا۔

مرزا قادیانی نے مولانا ثناء اللہ امرتسری کو ۱۵ اپریل ۱۹۰۷ء کو ایک مطبوعہ اشتہار کے ذریعہ مباہلہ کا چیلنج دیا‘ جس کا عنوان تھا ”مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ“ اس میں مرزا قادیانی نے مولانا صاحب کو مخاطب کر کے لکھا!

”اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں جیسا کہ آپ اکثر اوقات اپنے پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہلاک ہو جاؤں گا مگر اے میرے کامل اور صادق خدا اگر مولوی ثناء اللہ ان تہمتوں میں جو مجھ پر لگاتا ہے حق پر نہیں تو میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ میری زندگی میں ہی ان کو نابود کر مگر نہ انسانی ہاتھوں سے بلکہ طاعون اور ہیضہ کے امراض مہلکہ سے۔“

صفحہ 189

رب ذوالجلال کے باب عدل پر جھوٹے نبی نے خود ہی انصاف کی دستک دے دی۔ پھر کیا تھا رب کائنات نے فیصلہ کر دیا۔ مرزا قادیانی تقریباً ایک سال بعد اپنے منہ مانگے مرض ہیضہ میں مبتلا ہوا اور ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کو سوئے دوزخ روانہ ہو گیا جبکہ حق و صداقت کی علامت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ مرزا قادیانی کی پر ذلت موت کے بعد تقریباً ۴۰ سال تک زندہ و تابندہ رہے اور قادیانیوں کے خلاف مسلسل جہاد میں مصروف رہے۔ جب بخاریؒ آئے گا..... مولانا احمد علی لاہوریؒ نے ساری زندگی مجاہدین ختم نبوت کی سرپرستی فرمائی۔ تحریر و تقریر کے ذریعے اس فتنہ کی سرکوبی فرمائی۔ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ تحفظ ختم نبوت کے سپاہیوں سے عشق کی حد تک لگاؤ تھا۔ خصوصاً ”سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ“ سے انتہائی محبت تھی۔ شاہ جی جیل میں ہوتے یا سفر و حضر میں ہمیشہ اپنے احباب سے ان کی خیریت دریافت کرتے رہتے۔ مولانا عبیداللہ انورؒ فرمایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ آپؒ نے فرمایا محشر کا دن ہو گا، رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم جلوہ افروز ہوں گے۔ صحابہؓ بھی ساتھ ہوں گے۔ بخاریؒ آئے گا۔ حضور نبی کریمؐ معانقہ فرمائیں گے اور کہیں گے بخاریؒ تیری ساری زندگی عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت میں گزری اور کتاب و سنت کی اشاعت میں صرف ہوئی۔ آج میدان حشر میں تیرا شفیع میں ہوں، تیرے لئے کوئی باز پرس نہیں۔ جا اپنے ساتھیوں سمیت جنت میں داخل ہو جا۔ تیرے اور تیری جماعت کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھلے ہیں۔ جس طرف سے چاہو، کھلے بندوں جنت میں داخل ہو سکتے ہو۔

یہ بڑے نصیب کی بات ہے..... قاضی احسان احمدؒ شجاع آبادی ! امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے شاگرد ارجمند، مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر، شعلہ بیاں خطیب، جرات و شجاعت کا مجسمہ، جو ساری زندگی گلی گلی، کوچہ کوچہ، گاؤں گاؤں اور شہر شہر جا کر قوم کو مسئلہ ختم نبوت سمجھاتا رہا اور قادیانیت کی دھجیاں بکھیرتا رہا۔ ختم نبوت کے اس شیدائی و فدائی کی زندگی کے آخری ایام کا واقعہ پڑھئے اور ختم نبوت کا کام کرنے کی اہمیت و افادیت دیکھئے! شیخ عبدالمجید صاحب سابق میونسپل کمشنر شجاع آباد، جو قاضی صاحبؒ کے ساتھ کافی عرصہ ایک بھائی اور دوست کی حیثیت سے رہے ہیں، بیان کرتے ہیں کہ بیماری کے ابتدائی ایام میں قاضی صاحبؒ نشتر ہسپتال ملتان میں ڈاکٹر عبدالرؤف کے زیر علاج

صفحہ 190

تھے، دوپہر کا وقت تھا، میں جاگ رہا تھا۔ قاضی صاحب کو نیند آگئی۔ تھوڑی دیر بعد کیا سنتا ہوں۔ کہ قاضی صاحب بڑی لجاجت سے کہہ رہے ہیں کہ حضور! میں آپ کی ختم نبوت کی خاطر اتنی بار جیلوں میں گیا ہوں، میں نے ملک کے ذمہ دار حکمرانوں کو قادیانی فتنہ سے آگاہ کیا ہے، حضور! یہ سب کچھ میں نے آپ کی خاطر کیا ہے۔" اس کے تھوڑی دیر بعد درود شریف پڑھنے لگے، میں یہ سمجھا شاید قاضی صاحب کا آخری وقت ہے مگر کچھ دیر بعد وہ خود بخود بیدار ہو گئے۔ ہشاش بشاش تھے درود شریف پڑھ رہے تھے۔ (قاضی احسان احمد شجاع آبادی از قاری نور محمد ص ۵۵۵)

غیرت اقبالؒ ..... صاحب زادہ محمد اللہ شاہ استاد مظاہر العلوم سہارن پور بیان کرتے ہیں کہ سید آغا صدر چیف جسٹس ہائیکورٹ نے لاہور کے عمائد اور مشاہیر کو کھانے پر مدعو کیا۔ حضرت علامہ اقبالؒ بھی مدعو تھے، اتفاق سے اس محفل میں جھوٹے نبی کا جھوٹا خلیفہ حکیم نور الدین بھی بلا دعوت آ ٹپکا، جب عاشقِ رسولؐ علامہ اقبالؒ کی نظر اس کذاب کے منحوس چہرہ پر پڑی تو غیرت ایمانی سے علامہ اقبالؒ کی آنکھیں سرخ ہو گئیں اور ماتھے پر شکن چڑھ گئے، فوراً اٹھے اور میزبان کو مخاطب کر کے کہا۔ آغا صاحب! آپ نے یہ کیا غضب کیا کہ باغی ختم نبوت اور دشمن رسالت ماب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بھی مدعو کیا ہے اور مجھے بھی! اور کہا ”میں جاتا ہوں، میں ایسی محفل میں ایک لمحہ بھی نہیں بیٹھ سکتا۔ حکیم نور الدین چور کی طرح فوراً حالات کو بھانپ گیا اور نو دو گیارہ ہو گیا۔ اس کے بعد میزبان نے علامہ اقبالؒ سے معذرت کی اور کہا میں نے اسے کب بلایا تھا یہ تو خود ہی گھس آیا تھا۔

موت و حیات ..... ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں مولانا مودودیؒ کو ”قادیانی مسئلہ“ نامی پمفلٹ لکھنے کی پاداش میں مارشل لاء قوانین کے تحت موت کی سزا سنائی گئی اور پھر بین الاقوامی دباؤ سے گھبراتے ہوئے کہا گیا کہ اگر چاہیں تو سات دن کے اندر اندر کمانڈر انچیف سے رحم کی اپیل کر سکتے ہیں، یہ سن کر مولانا نے باوقار لہجہ میں جواب دیا۔ ”مجھے کسی سے کوئی اپیل نہیں کرنی ہے، زندگی اور موت کے فیصلے زمین پر نہیں، آسمان پر ہوتے ہیں، اگر وہاں میری موت کا فیصلہ ہو چکا ہے تو دنیا کی کوئی طاقت میرا بال بھی بیکا نہیں کر سکتی۔ (تذکرہ سید مودودیؒ) پھانسی کی سزا پر عوامی اور عالمگیر احتجاج کیا گیا۔ جس

صفحہ 191

پر سزائے موت عمر قید میں بدل گئی اور پھر انتہائی قانونی مجبوری کے تحت ۲ سال ۹ ماہ قید رکھ کر رہا کر دیا گیا۔

کفن بدوش قائد.... جب ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت چلی تو حضرت مولانا سید بنوریؒ تحریک کے امیر اور مولانا محمود احمد رضوی سیکرٹری جنرل منتخب ہوئے۔ مولانا یوسف بنوریؒ کے فولادی عزم اور ولولہ انگیز قیادت نے پوری قوم میں جہاد کی روح پھونک دی۔ آپ نے پورے ملک کا طوفانی اور ایمانی دورہ کیا اور مسلمانوں کی رگوں میں خون کی بجائے بجلی دوڑا دی، اور لوگ آپ کے نعرہ جہاد پر لبیک کہتے ہوئے میدان میں کود پڑے۔ جب گھر سے نکلے تو اپنے مدرسہ کے مفتی صاحب کے پاس گئے اور فرمایا کہ حضرت مفتی صاحب! میں تحریک کی رہنمائی کے لئے جا رہا ہوں اور اپنا کفن بھی ساتھ لے کر جا رہا ہوں پھر کفن نکال کر دکھایا۔ مزید فرمایا کہ مرزائیوں کو اس ملک میں آئین کی رو سے کافر ٹھہراؤں گا یا اپنی جان کا نذرانہ پیش کروں گا۔ واپس گھر جانے کا ارادہ نہیں۔ یہ مدرسہ تمہارے ہاتھ میں اللہ تعالیٰ کی امانت ہے۔ اس کی حفاظت کرتے رہنا۔ (اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدقے پوری ملت اسلامیہ کی لاج رکھ لی اور قادیانیوں کو آئین کی رو سے کافر قرار دے دیا گیا)

زندگی..... مجاہد ملت، مرد غازی مولانا عبدالستار خان نیازی کو ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں پروانہ شمع ختم نبوت ہونے کے جرم میں سزائے موت کا حکم دیا۔ جیل میں اور پھر موت کی سزا سن کر مولانا نے جس جرات اور استقامت کا مظاہرہ کیا، وہ عشق رسالتؐ کا ایک روشن باب ہے۔ مولانا فرماتے ہیں ”جب تحریک ختم نبوت کے مقدمہ کے بعد میری رہائی ہوئی تو پریس والوں نے میری عمر پوچھی اس پر میں نے کہا تھا کہ ”میری عمر وہ سات دن اور آٹھ راتیں ہیں جو میں نے ناموس مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے تحفظ کی خاطر پھانسی کی کوٹھڑی میں گزار دی ہیں کیونکہ یہی میری زندگی ہے اور باقی شرمندگی۔ مجھے اپنی اس زندگی پر ناز ہے۔“

اگر فیصلہ خلاف ہوا تو.... ! جس خوش قسمت انسان نے ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت کا آغاز کیا وہ مولانا تاج محمودؒ تھے۔ قادیانی غنڈوں کے ہاتھوں زخموں سے چور طلبہ کی گاڑی جب ربوہ سے فیصل آباد ریلوے اسٹیشن پر پہنچی تو مولانا تاج محمودؒ اسلام کے

صفحہ 192

فرزندوں کے لئے چشم براہ تھے۔ ہزاروں کا مجمع تھا۔ پورا شہر امڈ آیا تھا۔ پلیٹ فارم کی دیوار پر چڑھ کر مولانا نے خون میں نہائے ہوئے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے پرجوش انداز میں کہا ”میرے بچو ! جب تک تمہارے جسم میں سے بہے ہوئے خون کے ایک ایک قطرہ کا حساب نہیں لیں گے‘ اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے۔“ تحریک طوفان کی صورت پورے ملک میں پھیل گئی‘ مولانا نے تحریک کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئے رات دن ایک کر دیا۔ آخر ۷ ستمبر (فیصلے کا دن) آگیا‘ مولانا اکابرین کے ساتھ راولپنڈی میں موجود تھے اور ماہی بے آب کی طرح تڑپ رہے تھے۔ مولانا محمد رمضان علوی راولپنڈی بیان کرتے ہیں کہ اسی دن مولانا میرے مکان میں تشریف لائے‘ بڑے مضطرب تھے‘ کہنے لگے‘ تجھے ایک وصیت کرنے آیا ہوں‘ میری وصیت سن لو آج اگر فیصلہ ہمارے خلاف ہوا تو میری روح قفس عنصری سے یقیناً پرواز کر جائے گی۔ اکابرین راولپنڈی میں جمع ہیں‘ انہیں اطلاع نہ ہونے دینا۔ میرا جنازہ راتوں رات فیصل آباد پہنچانے کی کوشش کرنا۔ میرے اکلوتے بیٹے طارق محمود کو پہلے فون کر دینا کہ تمہارے باپ کو لا رہا ہوں۔ میرے لخت جگر کو ہر طرح سے تسلی دینا اور میری بچیوں کو صبر کی تلقین کرنا۔ متواتر بولے جا رہے تھے میں نے بمشکل چپ کرایا۔ حوصلہ دیا اور کہا کہ اللہ تعالیٰ ضرور مدد فرمائیں گے۔ ابھی آپ کی بہت ضرورت ہے پھر فرمایا ”جہاں میرے آقاؐ کی ناموس کا تحفظ نہ ہو وہاں رہ کر کیا کرنا؟..... نماز مغرب بمشکل نیچے اتر کر مرحوم نے ادا کی۔ میں نے فکر کی وجہ سے کچھ مقوی اشیاء منگوا لیں اور پیش خدمت کیں لیکن کچھ نہ کھایا۔ پھر فرمایا ریڈیو اوپر منگواؤ۔ خبروں کا وقت قریب ہے۔ سوئچ آن کیا‘ سکوت طاری تھا جیسے ہی مرزائیوں مرتدوں کے غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے الفاظ کان میں پڑے‘ شیر کی طرح اٹھ کر بیٹھ گئے اور رات کو مرکزی جلسہ سے پرجوش خطاب فرمایا۔

بندوقوں کے سائے میں آوازِ حق ..... کنری (سندھ) کو قادیانیوں نے ربوہ ثانی بنا رکھا تھا۔ قادیانی مبلغین پورے علاقہ میں مچھروں کی طرح اڑتے پھرتے تھے۔ سینکڑوں مسلمان مرتد ہو چکے تھے۔ قادیانی زمینداروں اور ان کے پالتو غنڈوں کی وجہ سے مسلمان بے بسی کی زندگی گزار رہے تھے۔ ختم نبوت یا رد قادیانیت پر کچھ بیان کرنا اپنی موت کے پروانہ پر دستخط کرنے کے مترادف تھا۔ مجاہد ختم نبوت مولانا محمد علی جالندھریؒ کو جب

صفحہ 193

مسلمانوں کے ان ناگفتہ بہ حالات کا پتہ چلا تو تڑپ اٹھے اور فوراً کنری جانے کا ارادہ فرمایا۔ کنری پہنچتے ہی جلسہ کا اعلان کر دیا، مسلمان اکٹھے ہو گئے، جلسہ گاہ بھر گئی، پولیس انسپکٹر بھاگا بھاگا مولانا صاحب کے پاس آیا اور کہنے لگا مولانا قادیانی خون خرابہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ اس لئے میں آپ کی حفاظت نہیں کر سکتا۔ برائے مہربانی جلسہ نہ کریں۔ مجاہد ختم نبوت مولانا محمد علی جالندھریؒ نے بڑے وقار سے جواب دیا، بھائی زندگی اور موت صرف خدا کے ہاتھ میں ہے۔ مجھے کسی کی حفاظت کی کوئی ضرورت نہیں۔ جلسہ ضرور اور ضرور کروں گا۔ ادھر مولانا تقریر کرنے کے لئے سٹیج پر تشریف لائے، ادھر بیس پچیس قادیانی غنڈے بندوقوں سے مسلح سٹیج پر چڑھ آئے اور سٹیج کو چاروں طرف سے گھیر لیا اور مولانا کو مخاطب کر کے کہا اگر آپ نے مرزا قادیانی کے بارے میں کچھ کہا تو ساری بندوقیں گولیاں اگلیں گی اور آپ کے سینے سے پار ہو جائیں گی۔ مولانا نے بڑی جرات کے ساتھ ان کی دھمکی کو سنا اور پھر بڑی پھرتی کے ساتھ سٹیج سے نیچے اتر گئے اور اپنے ایک دوست کو زندگی کی آخری وصیت لکھوائی۔ بچوں، رشتہ داروں اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے بارے میں باتیں کیں اور پھر جلال میں آتے ہوئے شیر کی طرح جست لگا کر سٹیج پر پہنچ گئے اور قادیانی غنڈوں کو مخاطب کر کے کہا کہ میں مرزا قادیانی کی مرمت کرنے لگا ہوں، تم اپنی بندوقیں سیدھی کر لو۔ محمدؐ عربی کے غلام کا سینہ حاضر ہے۔ دو گھنٹے کی تقریر فرمائی۔ قادیانیت کا پوسٹ مارٹم کیا۔ مرزا قادیانی کی خرافات عوام کو سنائیں لیکن رب العزت کے فضل و کرم سے کسی قادیانی غنڈے کو ہاتھ اٹھانے کی جرات تک نہ ہوئی۔

خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را

فرض کفایہ اور فرض عین..... زین العابدین، مجاہد ملت مولانا غلام غوث ہزارویؒ کا اکلوتا بیٹا تھا۔ شدید بیمار ہو گیا۔ مولانا اپنے لخت جگر کو دوائی دے رہے تھے۔ اس اثناء دروازے پر دستک ہوئی۔ مولانا باہر نکلے تو دیکھا ایک آدمی کھڑا ہے اس نے درخواست کی کہ بالا کوٹ کے مقام پر ایک بدنام زمانہ اور خطرناک قادیانی مبلغ اللہ دتہ گھس آیا ہے اور لوگوں کو اپنے دام فریب میں پھنسا رہا ہے۔ فتنہ پھیلنے کا انتہائی اندیشہ ہے۔ لہٰذا فوراً چلیے۔ مولانا نے کتابوں کا ایک بیگ اٹھایا اور چل پڑے۔ بیوی نے کہا بچے کی حالت

صفحہ 194

سخت خراب ہے‘ فرمایا ضروری کام ہے‘ میرے جانے کے بعد بچہ مر جائے تو دفن کر دینا ابھی بس میں سوار ہوئے ہی تھے کہ گھر کی طرف سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور کہنے لگا آپ کا نور نظر فوت ہو گیا ہے لیکن عاشق رسولؐ نے جواب دیا کہ میرے فرزند کو کفن پہنا کر دفن کر دیں‘ میں اپنے مشن پر جا رہا ہوں اور فرمایا نماز جنازہ فرض کفایہ ہے اور تحفظ ناموس رسالتؐ فرض عین! وہاں پہنچ کر اس مردود کو اس علاقہ سے ذلیل و خوار کر کے نکالا۔

یہ عشق نہ آساں اتنا ہی سمجھ لیجئے
اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے

ایک بہن کا مکتوب بھائی کے نام..... معروف احراری لیڈر اور مجاہد ختم نبوت مظفر علی شمسیؒ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں دیگر رہنماؤں کے ساتھ گرفتار ہو گئے۔ سید عطاء شاہ بخاریؒ اور دیگر اکابرین کے ساتھ سکھر جیل کی ایک کوٹھڑی میں انہیں بند کر دیا گیا۔ عید الفطر کا دن تھا‘ مظفر علی شمسی کی شدید بیمار بہن کا خط بھائی کو جیل میں اسی روز ملتا ہے جسے پڑھ کر آنکھیں پرنم ہو جاتی ہیں۔

”میرے بھیا“

اس امتحان میں آپ کو پریشان کرنا نہیں چاہتی۔ اب قریب المرگ ہوں۔ بخار دامن نہیں چھوڑتا۔ ایک سو چار درجہ حرارت سے گرتا نہیں‘ کھانسی زوروں پر ہے‘ محبوب بھائی ڈاکٹر کو لائے تھے۔ ایکسرے میں ٹی بی کی ابتدائی منزل ہے۔ ماں باپ نے مجھے آپ کے سپرد کیا تھا اور اب موت مجھے لئے جا رہی ہے۔ کاش کہ میرے آخری وقت آپ میرے پاس ہوتے۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام پر جو مصائب برداشت کر رہے ہیں۔ اللہ آپ کو استقلال بخشے اور قیامت کے دن آپ کی قربانی ہمیں دربار رسالتؐ میں سرخرو کرے! آپ بہادری سے قید کاٹیں۔ اگر زندہ رہی تو مل لوں گی۔ ورنہ میری قبر پر تو آپ ضرور آئیں گے۔ سب بچے سلام کہتے ہیں۔ اب ہاتھ میں طاقت نہیں۔ لہٰذا خط ختم کرتی ہوں۔“

بھیا سلام آپ کی بہن

صفحہ 195

اس خط سے میرے دل میں ایک ہوک اٹھی، شاہ صاحبؒ آبدیدہ ہو گئے۔ سب نے عزیزہ کی صحت کے لئے دعا کی۔ اس خط کا مطلب وہی سمجھ سکتا ہے جو وطن سے دور ہو اور پھر قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہا ہو۔

یہ فریادیں ہیں مصطفیٰؐ کے لئے..... آغا شورش کاشمیری! جو قلم اور زبان کا دھنی تھا لیکن قلم اور زبان دونوں تحفظ ختم نبوت کے لئے وقف تھے۔ شورش کا نوک قلم قادیانی کلیجوں میں چبھتا اور شورش نوائیوں سے قادیانی کان جلتے۔ شورش کا ہفت روزہ ”چٹان“ قادیانیت کی یلغار کو روکنے کے لئے چٹان تھا۔

جب ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت چلی، اس وقت مسٹر ذوالفقار علی بھٹو ملک کے وزیر اعظم تھے۔ دوران تحریک آغا شورش کاشمیریؒ اپنے پیارے دوست مولانا تاج محمودؒ کے ساتھ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو سے ملے، اس ملاقات کی روداد ہفت روزہ ”چٹان“ ۲۹ اکتوبر ۱۹۷۹ء میں موجود ہے جو مسٹر بھٹو کی بیان کردہ ہے۔ اس روداد کی تلخیص یوں ہے۔

مسٹر بھٹو کہتے ہیں ”شورش اپنے دوست مولانا تاج محمودؒ کے ساتھ میرے پاس آئے۔ شورش نے چار گھنٹے تک مسئلہ ختم نبوت اور قادیانیوں کے پاکستان کے بارے میں عقائد و عزائم پر گفتگو کی۔ دوران گفتگو شورش نے ایک عجیب حرکت کی۔ شورش نے باتوں کے دوران انتہائی جذباتی ہو کر میرے پاؤں پکڑ لئے۔ شورش جیسے بہادر اور شجاع آدمی کو ایسی حالت میں دیکھ کر میں لرز اٹھا، شورش کی عظمت کو دیکھ کر میں نے اسے اٹھا کر گلے سے لگا لیا۔ مگر وہ ہاتھ ملا کر پیچھے ہٹ گیا اور کہنے لگا:

”بھٹو صاحب! ہم جیسی ذلیل قوم کسی ملک نے آج تک پیدا نہیں کی ہو گی، ہم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تاج و تخت ختم نبوت کی حفاظت نہ کر سکے پھر شورش نے روتے ہوئے میرے سامنے اپنی جھولی پھیلا کر کہا، بھٹو صاحب! میں آپ سے اپنے اور آپ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ختم المرسلینی کی بھیک مانگتا ہوں۔ آپ میری زندگی کی تمام خدمات اور نیکیاں لے لیں، میں خدا کے حضور خالی ہاتھ چلا جاؤں گا۔ خدا کے لئے محبوب خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ختم نبوت کی حفاظت کر دیجئے، اسے میری جھولی نہ سمجھئے بلکہ فاطمہؓ بنت محمدؐ کی جھولی سمجھ لیجئے“۔

صفحہ 196

اب اس سے زیادہ مجھ میں کچھ سننے کی تاب نہ تھی۔ میرے بدن میں ایک جھرجھری سی آگئی..... میں نے شورش سے وعدہ کرلیا کہ میں قادیانی مسئلہ ضرور بالضرور حل کروں گا"۔

آرزوئے شہادت..... مولانا امین گیلانی اسلاف کی یادگار ہیں، شاعر ختم نبوت ہیں، بڑھاپے میں قدم رکھ چکے ہیں لیکن آواز جوان اور جذبات گرم ہیں اور آج بھی اپنی آواز سے لوگوں کے جذبات کو گرما رہے ہیں۔ اپنی کتاب ”عجیب و غریب واقعات“ میں اپنی زندگی کا ایک واقعہ رقم کرتے ہیں۔ پڑھئے اور اپنے بزرگوں کی جرات و شجاعت کے کارنامے دیکھئے۔

جنرل اعظم کے حکم سے لاہور میں کشتوں کے پشتے لگ رہے تھے، تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء اپنے جوبن پر تھی۔ پولیس مجھے اور بہت سے میرے ساتھیوں کو ہتھکڑیاں پہنا کر قیدیوں کی بس میں بٹھا کر شیخوپورہ سے لاہور کی طرف روانہ ہو گئی، اسیران ختم نبوت بس میں نعرے لگاتے ہوئے جب لاہور کی حدود میں داخل ہوئے تو ملٹری نے بس روک لی اور سب انسپکٹر کو نیچے اترنے کا حکم دیا، ایک ملٹری افسر نے اس سے چابی لے کر بس کا دروازہ کھول دیا اور بڑے رعب و جلال سے گرجا، تمہیں معلوم نہیں نعرے لگانے والے کو گولی مارنے کا حکم ہے، کون نعرے لگاتا تھا؟ اس اچانک صورت حال سے سب پر ایک سکوت سا طاری ہو گیا۔ معاً میرا ہاشمی خون کھول اٹھا، میں نے تن کر کہا "میں لگاتا تھا" اس نے بندوق میرے سینے پر تان کر کہا "اچھا اب لگاؤ نعرہ" میں نے پرجوش انداز سے نعرہ لگایا ”میرا کالی کملی والا" سب نے با آواز بلند جواب دیا۔ "زندہ باد" اس کی بندوق کی نالی نیچے ڈھلک گئی۔ منہ پھیر کر کہا "ہاں وہ تو زندہ باد ہی ہے" اور بس سے اتر گیا ایسا معلوم ہوا جنت جھلک دکھا کر اوجھل ہو گئی پھر اس نے سب انسپکٹر سے کچھ کہا۔ اس نے بس کا دروازہ مقفل کر دیا۔ چند منٹوں کے بعد ہم بورسٹل جیل لاہور میں تھے۔"

پھولوں کی بارش..... عظیم مجاہد ختم نبوت اور بلوچستان اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر مولانا سید شمس الدین کو قادیانیوں نے ایک بھیانک سازش کے تحت شہید کردیا۔ اس شہید مصطفیٰؐ کے جسم اطہر سے بہنے والا خون جن افراد کے ہاتھوں کو لگ گیا، ان کے ہاتھوں سے کئی

صفحہ 197

دن خوشبو آتی رہی اور جب انہیں دفن کر دیا گیا تو یکایک آسمان سے پھول برسنے لگے۔ لوگوں نے سمجھا کہ شاید قریبی باغ سے ہوا کے ساتھ بادام کے درختوں کے پھول اڑ کر آ رہے ہیں لیکن جب ان پھولوں کا موازنہ کیا گیا تو قطعی مختلف تھے۔۔۔۔۔ لوگوں نے اسے شہید کی کرامت قرار دیا۔

نجات آخرت: ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت اسلام اور مرزائیت کی ایک زبردست ٹکر تھی۔ یہ ٹکراؤ سڑکوں پر بھی ہوا اور میدانوں میں بھی لیکن اس معرکہ حق باطل کا فیصلہ کن راؤنڈ قومی اسمبلی میں لڑا گیا‘ مرزائیت کی طرف سے قادیانی پیشوا مرزا ناصر وکیل ذلیل بن کر آیا اور اہل اسلام کی طرف سے جو شخص سپہ سالار بن کر آیا‘ وہ صاحب مقام محمود صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت و ناموس و ختم نبوت کا محافظ مفتی محمودؒ تھے‘ جن کے ایمانی اور حقانی دلائل کے سیلاب کے سامنے مرزا ناصر خس و خاشاک کی طرح بہہ گیا اور پاکستان کی منتخب قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو متفقہ طور پر کافر قرار دے دیا۔ اس فرزند اسلام کی وفات کے بعد ان کے ایک عقیدت مند نے انہیں خواب میں دیکھا اور پوچھا کہ حضرت کیسی گزری۔ آپ نے فرمایا ”ساری زندگی قرآن و حدیث کی تبلیغ میں گزری‘ اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے کوشش و کاوش کی۔ وہ سب اللہ رب العزت کے ہاں بحمدہ تعالیٰ قبول ہو گئیں۔ مگر نجات اس محنت کی وجہ سے ہوئی‘ جو قومی اسمبلی میں مسئلہ ختم نبوت کے لئے کی تھی۔ ختم نبوت کی خدمت کے صدقہ اللہ تعالیٰ نے بخشش فرما دی۔

(”ایمان پرور یادیں“ ص ۲۵ از مولانا اللہ وسایا)

دل مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : خطیب اسلام مولانا محمد اجمل خان عہد حاضر میں عہد رفتہ کے مسلمانوں کی درخشاں روایات کے امین ہیں۔ اس دور میں اگر کسی نے میدان خطابت کے شہسوار اور امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی خطابت کی جھلک دیکھنی ہو تو وہ مولانا کی خطابت کی جولانی‘ روانی‘ طغیانی‘ شعلہ بیانی اور گل فشانی کو دیکھے۔ مولانا کی تقریر کا ہر ہر جملہ وادی دل کے لئے باد بہار کا ٹھنڈا جھونکا ہوتا ہے جس کی خوشبو سے قلب و دماغ معطر ہو جاتے ہیں۔ دین محمدیؐ کے اس سپاہی اور فدائی کا عشق خاتم النبیینؐ میں ڈوبا ہوا ایک ایمان پرور واقعہ ہدیہ قارئین ہے۔ ”ربوہ میں سالانہ

صفحہ 195

ختم نبوت کانفرنس سے چند روز قبل آپ کو دل کا شدید دورہ پڑا۔ کمزوری اور نقاہت سے اٹھا نہ جاتا تھا۔ احباب نے کانفرنس میں جانے سے روکا لیکن آپ نے دو ٹوک الفاظ میں فرمایا۔ جان جاتی ہے تو جائے، میں ضرور بالضرور جاؤں گا۔ کانفرنس میں سٹیج پر تقریر کرتے ہوئے فرمایا۔ مجھے بیماری نے اپنے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے۔ دوستوں نے کہا نہ جاؤ لیکن مجھے فخر المحدثین حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ یاد آ گئے۔ شدید بیماری میں شاہ صاحب ڈابھیل سے بہاولپور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کے وکیل بن کر آئے تھے۔ میں بھی کانفرنس میں لاہور سے "ربوہ" اپنے آقا و مولا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ختم نبوت کا وکیل بن کر آیا ہوں۔ شاہ صاحب نے کہا تھا میرے نامہ اعمال میں کچھ نہیں، میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنا شفیع بنانے کے لئے بہاولپور آیا ہوں۔ میرے بھی دفتر اعمال میں کچھ نہیں، میں بھی شفاعت محمدیؐ حاصل کرنے کے لئے ربوہ "صدیق آباد" آیا ہوں۔ پھر فرمایا، گھر سے چلا تو میرے بیمار دل نے میرے قدم روکے۔ لیکن اچانک مجھے گنبد خضرا میں تڑپتا ہوا دل مصطفیٰؐ یاد آیا۔ میں نے کہا میرا دل دھڑکے یا نہ دھڑکے لیکن میرے آقاؐ کا دل نہ تڑپے۔ میرے کروڑوں دل و جان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قربان!"

عظیم وظیفہ : ایک ہستی جس نے ہمیشہ مجاہدین ختم نبوت کے سروں پر اپنا دست شفقت رکھا، جس نے راتوں کو سجدوں میں سر رکھ کر اور گریہ و زاری کر کے کارکنان ختم نبوت کی کامیابی و کامرانی کے لئے دعائیں کیں، جس کی ہر مجلس میں ختم نبوت کا ذکر ہوتا اور وہ اپنے ہزاروں مریدوں کو قادیانیت سے برسرپیکار ہونے کا حکم دیتا۔ اس کی سوچ تحفظ ختم نبوت پر نثار اور اس کا سراپا قادیانیت کے لئے للکار، اس محافظ ختم نبوت کا اسم گرامی شیخ المشائخ امام الاولیاء حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ ہے، عشق رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشبو میں رچا بسا، ان کا درج ذیل واقعہ پڑھئے اور تحفظ نبوت کے کام کی اہمیت و افادیت دیکھ کر قادیانیت کے خلاف میدان جہاد میں کود جائیے۔

"مولانا لال حسین اخترؒ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور حضرت سے کوئی وظیفہ पूछा، فرمایا۔ ختم نبوت کا مسئلہ بیان کرتے رہو، یہی وظیفہ ہے۔ کچھ عرصہ کے بعد میں پھر حاضر خدمت ہوا اور

صفحہ 199

حضرت سے پھر درخواست کی کہ مجھے کوئی وظیفہ بتائیے۔ آپ نے فرمایا۔ ختم نبوت کا کام کرتے رہو۔ ختم نبوت کی حفاظت سب سے بڑا وظیفہ ہے۔ (ہفت روزہ ختم نبوت۔ ۲۶ اپریل ۱۹۸۵ء)

اے شفاعت محمدؐ کے طلب گارو! تم نے کبھی سوچا؟ کبھی تم نے فکر کیا؟ کبھی تم نے دھیان دیا کہ آج اس عظیم ترین نبیؐ کی عظیم ترین نبوت پر قادیانی بھونک رہے ہیں۔ پیارے نبیؐ کی دستار ختم نبوت پر قادیانی گدھیں حملے کر رہی ہیں۔ قادیان کے ایک چمگادڑ مرزا قادیانی جہنم مکانی رحمتہ العالمین (معاذ اللہ) بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ اس کی بکواس کو حدیث مصطفیٰؐ کا درجہ دیا جا رہا ہے۔ (معاذ اللہ) نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی نقل کرتے ہوئے اس ذلیل زمان کے ۹۹ صفاتی نام رکھے گئے ہیں۔ (معاذ اللہ) اس ننگ انسانیت پر یہ قادیانی الو درود و سلام بھیجتے ہیں۔ (معاذ اللہ) اس بد معاش کی عیاش بیویوں کو امہات المومنین کے نام سے متعارف کرایا جا رہا ہے (معاذ اللہ) اس ملعون خلقت کے شرابی ساتھیوں کو صحابی کہا جا رہا ہے (معاذ اللہ) دنیا میں اس مقہور کو مشہور کیا جا رہا ہے۔ اس آلام زماں کو امام زماں کا نام دیا جا رہا ہے۔ اس شیطان کو سب سے اعلیٰ انسان بنایا جا رہا ہے اس قبیح کو مسیح بنایا جا رہا ہے۔ اس غبی کو نبی بنایا جا رہا ہے۔ اس نامعقول کو رسول بنایا جا رہا ہے۔ اور اس کفر گر کو پیغمبر بنایا جا رہا ہے۔

رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا کلمہ پڑھنے والے! قادیانیوں کی زبان پلید سے توہین رسالت سن کر تیری رگ حمیت کیوں نہیں پھڑکتی؟ قادیانی مرتدوں کو اسلام کی فصل برباد کرتے ہوئے دیکھ کر خاموش تماشائی کیوں ہے؟ ہر قادیانی کی خدائی پھٹکار شدہ صورت دیکھ کر تو غصہ و جلال میں کیوں نہیں آتا؟

قادیانی گستاخ رسولؐ کی دکان سے سودا خریدتے وقت تیرا عشق رسولؐ کہاں رہ جاتا ہے؟ بدنام زمانہ قادیانی مشروب ساز فیکٹری شیزان کی بوتل پیتے وقت اور اس کا جام جیلی‘ اچار اور چٹنی وغیرہ کھاتے وقت تیری زبان کیوں نہیں رکتی۔ تیرا گلا کیوں بند نہیں ہوتا؟ اور تجھے قے کیوں نہیں آتی؟ اے مسلمان جب تو قادیانیوں سے گلے ملتا ہے تو گنبد خضراء میں دل مصطفیٰؐ دکھتا ہے۔

لیکن قادیانیو! سن لو‘ رب العزت کا لطف و کرم ہے کہ آج کے اس مادہ پرستی

صفحہ 200

کے دور میں، آج کے اس نفسا نفسی کے عالم میں بھی، نام مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر آواز دی جاتی ہے تو شمع ختم نبوت کے پروانے امڈ امڈ کر آتے ہیں اور اپنے خون ناب کے ساتھ عشق مصطفیٰ کے درخشندہ باب رقم کر جاتے ہیں۔ نبی کی حرمت پر کٹ مرنا اپنا مقصد حیات سمجھتے ہیں اور نام محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر شہید ہو جانا باعث نجات سمجھتے ہیں۔ ختم نبوت کے باغیو! ہم گستاخ رسولؐ کو اس دھرتی پر زندہ نہیں رہنے دیں گے۔ ہم تم پر صدیق اکبرؓ کا قہر بن کر گریں گے۔ تم پر فاروق اعظمؓ کا جلال بن کر گریں گے اور تمہیں جلا کر خاک سیاہ کر دیں گے۔ ہم خالدؓ کی شمشیر لے کر نکلیں گے۔ ہم وحشیؓ کا نیزہ لے کر آئیں گے۔ ہم معاذؓ معوذؓ کا جذبہ لے کر تم پر ٹوٹ پڑیں گے۔ شہدائے یمامہ کی داستان عشق و وفا کو دہرائیں گے۔ ختم نبوت زندہ باد کے فلک شگاف نعرے لگائیں گے۔ عالم کی فضاؤں میں ”لا نبی بعدی“ کا پرچم لہرائیں گے۔ پیر مہر علی شاہؒ کی محبت کے چراغ جلائیں گے، سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی جرات کے گیت گائیں گے، ابو الحسنات شاہ کی محبت رسولؐ کے قصے دنیا کو سنائیں گے۔ باغیان ختم نبوت کو خشکی سے بھگائیں گے اور پھر انہیں پکڑ کر جہاز میں لاد کر بحر اوقیانوس کی گہرائیوں میں غرق کر کے ہمیشہ کے لئے ان کا نام و نشان مٹائیں گے اور آخرت میں اللہ تعالیٰ انہیں جہنم کے درد ناک عذاب کا مزا چکھائیں گے۔ (انشاء اللہ)